Top banner image

تحفۂ قادیانیت

(جلد ششم)

شہید اسلام حضرت مولانا محمد یوسف لدھیانوی نور اللہ مرقدہ کو قدرت نے تردید قادیانیت کے لئے منتخب کیا تھا اورقدرت کی طرف سے تردیدقادیانیت کے لئے آپ کو زندگی وقف کرنے کا حکم نامہ محدث العصر علامہ سیدمحمد یوسف بنوری رحمۃ اللہ علیہ کی طرف سے ملا اور آپؒ نے اپنی قلمی جولانیوں کا رُخ تردیدقادیانیت کی طرف ایسا پھیرا کہ آج اس موضوع پر سب سے زیادہ لٹریچر آپؒ کا تحریر کردہ ہے جو ’’تحفۂ قادیانیت‘‘ کی شکل میں ہزاروں صفحات پر مشتمل ہے(مفتی) محمد جمیل خان،خاکپائے حضرت شہیدِ اسلامؒ

بسم اللہ الرحمن الرحیم

نام کتاب: تحفۂ قادیانیت (جلد 6)
مؤلفہ: حضرت مولانا یوسف لدھیانووی شہیدؒ
اشاعت: دسمبر2010
ناشر: عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کراچی
2

فہرست

  1. غدارِ پاکستان ڈاکٹر عبدالسلام قادیانی اور نوبل اِنعام5
  2. قادیانیت...۔۔ ایک دہشت پسند سیاسی تنظیم44
  3. قادیانیت کی نئی دُکان، ڈاکٹر عامر لیاقت حسین کے جواب میں74
  4. جنرل صاحب! کیا یہ صحیح ہے؟80
  5. مغربی جرمنی میں پاکستانی پناہ گزین83
  6. ناشائستہ حرکت!86
  7. قادیانی غنڈوں کو گرفتار کیا جائے!89
  8. سوال وجواب91
  9. ’’احمد رسول‘‘ کی پیش گوئی کا مصداق؟92
  10. مرزائی اخلاق اور اسلامی شائستگی94
  11. قسمیں اُٹھانے کی بجائے دلائل کی ضرورت97
  12. قادیانیوں سے چند سوال105
  13. مرزائی اُمت سے چند سوالات!125
  14. قادیانی اپنا اِنسان ہونا ثابت کریں!133
  15. قادیانی مسائل135
  16. اسلام کے بنیادی عقائد136
  17. قادیانی مسائل218
3
  1. مرزائی اور تعمیرِ مسجد251
  2. اسلام کے ساتھ ایک بدترین مذاق251
  3. قادیانی ذبیحہ287
  4. قادیانی جنازہ314
  5. قادیانی مردہ329
  6. مسلمانوں کے قبرستان میں دفن کرنا جائز نہیں329
  7. قادیانیوں کو دعوتِ اسلام343
  8. اسلام لانے کی شرائط344
  9. قادیانیوں کو دعوتِ اسلام346
  10. قادیانی عقائد...۔۔ اور قادیانیوں سے خیرخواہانہ گزارش401
  11. مرزائیوں کو دعوتِ غور و فکر!406
  12. قادیانیوں سے ہمدردانہ درخواست409
  13. چودھری ظفراللہ خان قادیانی کو دعوتِ اسلام413
  14. ضمیمہ447
  15. عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کا تعارف اور خدمات451
4

غدارِ پاکستان

ڈاکٹر عبدالسلام قادیانی اور نوبل اِنعام

اغراض ــــــ مقاصد ــــــ اِمکانات

ڈاکٹر عبدالسلام قادیانی کو ۱۹۷۹ء کے اَواخر میں نوبل اِنعام ملا، درج ذیل مضمون کے اِبتدائی نقوش اسی وقت لکھ لئے گئے تھے، لیکن ان دنوں پریس پر سنسر کی سخت پابندیاں تھیں، اور ’’بینات‘‘ پر تو ہمارے کرم فرماؤں کی خصوصی عنایت تھی، حتیٰ کہ جو مضامین کراچی ہی میں معاصر پرچوں میں شائع ہوئے، ان کا چربہ ’’بینات‘‘ میں دیا گیا۔ مگر افسرشاہی (جس میں قادیانی نمایاں تھے) کا فرمان نازل ہوا کہ یہ ’’بینات‘‘ میں شائع نہیں ہوسکتا۔ عرض کیا گیا کہ دیکھئے یہ مضمون کراچی ہی کے ایک مؤقر ماہنامے میں شائع ہوچکا ہے، ہم اسی کا چربہ شائع کر رہے ہیں۔ فرمایا گیا کہ کچھ بھی ہو ’’بینات‘‘ اس مضمون کو نہیں چھاپ سکتا۔ ظاہر ہے کہ اس ’’شاہی حکم‘‘ کا کیا جواب ہوسکتا تھا۔ دارالعلوم دیوبند کی صدسالہ تقریبات پر ایک خصوصی اشاعت تین سو صفحات پر مشتمل ’’پاکستان میں فیضانِ دارالعلوم‘‘ مرتب کی گئی تھی، لیکن نہ صرف یہ کہ وہ چھپ نہ سکی، بلکہ اسے ایسا غائب کردیا گیا کہ ڈھونڈنے پر بھی کاپیاں نہ مل سکیں، بلکہ اس کا لکھا ہوا مسوّدہ بھی چُرالیا گیا۔ یہی سانحہ اس مضمون کے ساتھ پیش آیا۔ بعد میں دُوسرے مسائل نے فکر و نظر کا دامن کھینچ لیا، اور یہ مضمون طاقِ نسیاں کی زینت بن کر رہ گیا۔ اس لئے یہ مضمون بہت دیر سے بلکہ شاید بعد اَزوقت شائع کیا جارہا ہے، لیکن اس شر میں خیر کا پہلو بھی نکل آیا کہ اس میں جدید معلومات کو

5

سمونے کا موقع میسر آیا۔ بہرحال اب اسے اَزسرِنو مرتب کرکے ہدیۂ قارئین کیا جارہا ہے۔

محمد یوسف عفا اللہ عنہ

۲؍۵؍۱۴۰۸ھ

۱۵؍اکتوبر ۱۹۷۹ء کو ڈاکٹر عبدالسلام قادیانی کے لئے نوبل اِنعام تجویز ہوا، اور ۱۰؍دسمبر ۱۹۷۹ء کو یہ اِنعام دے دیا گیا۔

یہ اِنعام کیا ہے؟ اور قادیانی اس سے کیا مقاصد حاصل کرنا چاہتے ہیں، ان اُمور پر غور وفکر کی ضرور تھی، مگر ان اُمور پر پردہ ڈالنے کے لئے قادیانی یہودی لابی نے اس کا بے پناہ پروپیگنڈا شروع کیا کہ کسی کو اس پر غور و فکر کا موقع ہی نہ ملا، یہ ثابت کرنے کی کوشش کی گئی کہ نوبل اِنعام کا حصول گویا ایک مافوق الفطرت معجزہ ہے، جو ڈاکٹر عبدالسلام قادیانی کے ذریعے ظہور پذیر ہوا ہے۔ اس کو مرزا غلام احمد قادیانی کی صداقت کی دلیل بنانے کی بھی کوشش کی گئی، بہت سے مسلمان جن کو نہیں معلوم کہ نوبل اِنعام کیا چیز ہے؟ اور جو نہیں جانتے تھے کہ ڈاکٹر عبدالسلام قادیانی کون ہے؟ اس پروپیگنڈے سے متأثر ہوئے بغیر نہ رہ سکے۔ اس لئے ضروری ہوا کہ نوبل اِنعام کی حقیقت واضح کی جائے اور یہ دیکھا جائے کہ ڈاکٹر عبدالسلام قادیانی اور اس کی قادیانی یہودی لابی اس نوبل اِنعام سے کیا مقاصد حاصل کرنا چاہتی ہے اور آئندہ اسلامی ممالک پر اس کے اثرات کیا ہوں گے؟

نوبل اِنعام کیا چیز ہے؟

محمد مجیب اصغر قادیانی نے ڈاکٹر عبدالسلام قادیانی پر ایک کتابچہ ’’پہلا احمدی مسلمان سائنس دان عبدالسلام‘‘ کے نام سے بچوں کے لئے لکھا ہے، جس میں وہ انسائیکلوپیڈیا برٹانیکا کے حوالے سے لکھتا ہے:

’’بچو! نوبل اِنعام ایک سوئیڈش سائنس دان مسٹر الفرڈبن ہارڈ نوبیل کی یاد میں دیا جاتا ہے۔ نوبل ۲۱؍اکتوبر

6

۱۸۳۳ء میں اسٹاک ہوم کے مقام پر جو کہ سوئیڈن کا دارالحکومت ہے، پیدا ہوا، اور ۱۰؍دسمبر ۱۸۹۶ء کو اِٹلی میں فوت ہوا۔ نوبیل ایک بہت بڑا کیمیادان اور انجینئر تھا، اس کی وصیت کے مطابق ایک فاؤنڈیشن بنائی گئی، جس کا نام نوبیل فاؤنڈیشن رکھا گیا۔ یہ فاؤنڈیشن ہر سال ۵ اِنعامات دیتی ہے، ان اِنعامات کی تقسیم کا آغاز دسمبر ۱۹۰۱ء میں ہوا جو کہ الفرڈ نوبیل کی پانچویں برسی تھی۔

نوبل اِنعام فزکس، فزیالوجی، کیمسٹری یا میڈیسن، ادب اور اَمن کے شعبوں اور میدانوں میں نمایاں اور اِمتیازی کارنامہ سرانجام دینے والے کو دِیا جاتا ہے، ہر اِنعام ایک طلائی تمغہ اور سرٹیفکیٹ اور رقم بطورِ اِنعام جو کہ تقریباً ۸۰ہزار پونڈ پر مشتمل ہوتی ہے، دی جاتی ہے۔ نوبیل اِنعام حاصل کرنے والے اُمیدواروں کے نام مختلف ایجنسیوں کے سپرد کردئیے جاتے ہیں اور وہ اِنعام کے صحیح حق دار کا فیصلہ کرتی ہیں، مثلاً فزکس اور کیمسٹری رائل اکیڈمی آف سائنس اسٹاک ہوم کے سپرد ہوتی ہے۔ فزیالوجی یا میڈیسن کیرولین میڈیکل انسٹیٹیوٹ اسٹاک ہوم کے سپرد ہوتی ہے۔ ادب کا مضمون سویڈش اکیڈمی آف فرانس اور اسپین کے سپرد اور اَمن کا اِنعام ایک کمیٹی کے سپرد ہوتا ہے جس کے پانچ ممبر ہوتے ہیں جو کہ نارویجن پارلیمنٹ چنتی ہے۔‘‘

(کتابِ مذکورہ ص:۵۱۴۹)

نوبل اِنعام کے بارے میں مزید معلومات یہ ذہن میں رکھنی چاہئیں:

۱: ... الفریڈ برنارڈ نوبل ڈائنامائٹ کا موجد اور سائنٹسٹ تھا، جنگی آلات، بارُود اور تارپیڈو وغیرہ پر تحقیقات کرتا رہا، بالآخر اس نے جنگی آلات تیار کرنے والی دُنیا کی سب سے ناموَر کمپنی ’’بوفورز کمپنی‘‘ خرید لی۔

۲: ... ڈائنامائٹ کے تجربات کرتے اس کے بھائی کی اور تین اور اَشخاص کی

7

موت واقع ہوئی، جو اس کے تجربات کی بھینٹ چڑھ گئے، اس سے اس شخص پر قنوطیت کی کیفیت طاری ہوئی، اور گویا اس کے کفارے میں اس نے اپنی جائیداد کا بڑا حصہ ’’نوبل اِنعام‘‘ کے لئے وقف کردیا۔

۳: ... وقف کی اصل رقم (اس زمانے کے ایکسچینج کے مطابق) تراسی لاکھ گیارہ ہزار ڈالر تھی۔ وصیت یہ کی گئی کہ اصل رقم بینک میں محفوظ رہے، اور اس کے سود سے اِنعامات کی رقم پانچ شعبوں میں (جن کا تذکرہ مذکورہ بالا اِقتباس میں آچکا ہے) مساوی تقسیم کی جائے۔

ہر شعبے میں اگر ایک ہی آدمی اِنعام کا مستحق قرار دِیا جائے تو اس شعبے کے حصے کی پوری اِنعامی رقم اس کو دی جائے، اور اگر کسی شعبے میں ایک سے زائد اَفراد کے نام (جن کی تعداد تین سے زیادہ کسی صورت نہیں ہونی چاہئے) اِنعام کے لئے تجویز کئے جائیں تو اس شعبے کے حصے کی سودی رقم ان افراد میں برابر تقسیم کردی جائے۔ ایک شرط یہ بھی رکھی گئی کہ اگر مجوّزہ شخص اِنعام وصول کرنے سے اِنکار کردے تو اس کا حصہ اصل زَر میں شامل کردیا جائے۔

چنانچہ ۱۹۴۸ء میں ہر شعبے کے حصے میں سود کی یہ سالانہ رقم بتیس ہزار ڈالر آئی اور ۱۹۸۰ء میں یہ سودی رقم بڑھ کر دو لاکھ دس ہزار ڈالر ہوگئی۔

۴: ... فزکس کے شعبے میں تقریباً سو اَفراد کو یہ سودی اِنعام مل چکا ہے۔ ۱۹۳۰ء میں سرسی وی رمن (ہندوستانی ہندو) واحد شخص تھا جس کو فزکس میں نوبل اِنعام ملا، اور ۱۹۸۳ء میں ایک اور ہندوستانی امریکن کو یہ اِنعام ملا۔

۵: ... ادب کے شعبے میں رابندر ناتھ ٹیگور بنگالی ہندو کو ۱۹۱۳ء میں یہ نوبل اِنعام ملا۔ گزشتہ چند سالوں میں جنوبی امریکا کے چند باشندوں اور جاپان کے ادیب کو نوبل اِنعام ملا۔

۶: ... امن کے شعبے میں ۱۹۷۳ء میں امریکا کے ہنری کسنجر اور شمالی ویت نام کے مسٹر تھو کو نوبل اِنعام ملا۔ لیکن مسٹر تھو کی غیرت نے اس اِنعام کے وصول کرنے سے انکار کردیا، ان دونوں کے لئے یہ اِنعام ویت نام میں جنگ بندی کی بات چیت کی بنا پر تجویز کیا گیا تھا۔

8

۱۹۷۹ء میں ہندی قومیت کی حامل ایک متجردہ خاتون ’’ٹریسا‘‘ کو اَمن کے ’’نوبل اِنعام‘‘ سے نوازا گیا، اور ۱۹۷۸ء میں مصر کے سابق صدر انور السادات اور اِسرائیل کے اس وقت کے وزیراعظم مسٹر بیگن کو ’’امن کا نوبل اِنعام‘‘ عطا کیا گیا۔ محض اس خوشی میں کہ مؤخر الذکر نے اوّل الذکر سے ’’اسرائیل‘‘ کو باقاعدہ تسلیم کرالیا تھا۔

مندرجہ بالا اِشارات سے درج ذیل اُمور معلوم ہوئے:

اوّل: ... یہ کہ اِنعامات اس شخص (مسٹر نوبل) کی یاد میں دئیے جاتے ہیں جس نے دُنیا کو مہلک ہتھیاروں کا سبق پڑھایا، اور جو امریکا، رُوس، فرانس اور برطانیہ وغیرہ کی اسلحہ ساز فیکٹریوں کا باواآدم سمجھا جاتا ہے۔

دوم: ... یہ اِنعامات جس رقم سے دئیے جاتے ہیں، وہ خالص سود کی رقم ہے، جس کے لینے دینے والے کو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ملعون قرار دیا ہے:

’’عن جابر قال: لعن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آکل الربا ومؤکلہ وکاتبہ وشاہدیہ وقال ھم سواء۔‘‘

(صحیح مسلم ج:۲ ص:۲۷)

ترجمہ: ... ’’حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے لعنت فرمائی ہے سود لینے والے پر، اس کے دینے والے پر، اس کے لکھنے والے پر، اس کے گواہوں پر اور فرمایا کہ یہ سب (گناہ میں) برابر ہیں۔‘‘

اور جس کو قرآنِ کریم نے خدا اور رسول کے خلاف اِعلانِ جنگ قرار دیا ہے:

’’فَاِنْ لَّمْ تَفْعَلُوْا فَاْذَنُوْا بِحَرْبٍ مِّنَ اللہِ وَرَسُوْلِہٖ‘‘

سوم: ... یہ اِنعام نہ کوئی خرقِ عادت معجزہ ہے اور نہ اِنسانی تاریخ کا کوئی غیرمعمولی واقعہ ہے، مختلف ممالک میں سرکاری اور نجی طور پر مختلف قسم کے اِنعامات جو ہر سال تقسیم کئے جاتے ہیں، اسی قسم کا ایک اِنعام یہ ’’نوبل اِنعام‘‘ بھی ہے۔ چنانچہ یہ ’’نوبل اِنعام‘‘ ہر سال کچھ لوگوں کو ملتا ہے، ہندوستان اور بنگال کے ہندوؤں کو بھی مل چکا ہے،

9

اِسرائیل کے یہودی کو بھی دیا جاچکا ہے، اور نصرانی مبلغہ ’’ٹریسا‘‘ بھی اس شرف سے (اگر اس کو ’’شرفـ‘‘ کہنا صحیح ہے) مشرف ہوچکی ہے۔

الغرض یہ نوبل اِنعام جو قریباً ایک صدی سے مروّج ہے، سینکڑوں اَشخاص کو مل چکا ہے، کیا یہ کہیں سننے میں آیا ہے کہ سینکڑوں یہودی، نصرانی اور دہریے یہ کہہ کر دُنیا پر پل پڑے ہوں کہ ہمیں نوبل اِنعام کا ملنا ہمارے مذہب کی حقانیت کی دلیل ہے، یہ میرے مذہب کے برحق ہونے کا معجزہ ہے، لہٰذامیرا دِین اور میرا نظریۂ حیات سب سے اعلیٰ و ارفع ہے۔

اور ڈاکٹر عبدالسلام قادیانی کو جو اِنعام دیا گیا تھا وہ ایک مشترکہ اِنعام تھا، جو طبیعات کے شعبے میں ۱۹۷۹ء میں تین اشخاص کو دِیا گیا، جن میں ڈاکٹر عبدالسلام قادیانی بھی تھا۔ اس سے بڑا کارنامہ تو اس ہندو کا تھا، جس نے ۱۹۳۰ء میں طبیعات کا اِنعام تنِ تنہا حاصل کیا۔ اگر ایک قادیانی کو طبیعات کا مشترکہ اِنعام ملنا، اس کے مذہب کی حقانیت کی دلیل ہے تو اس سے نصف صدی قبل ایک ہندو کو تنِ تنہا یہی اِنعام ملنا بدرجہ اَوْلیٰ ہندو مذہب کی حقانیت کی دلیل ہونی چاہئے۔ اس لئے اس اَمر کو غیرمعمولی اور خرقِ عادت واقعے کی حیثیت سے پیش کرنا قادیانی مراق کی شعبدہ کاری ہے۔

چہارم: ... ان اِنعامات کی تقسیم میں تقسیم کنندگان کی کچھ سیاسی و مذہبی مصلحتیں کارفرما ہوتی ہیں، اور جن اَفراد کو ان اِنعامات کے لئے منتخب کیا جاتا ہے، ان کے اِنتخاب میں بھی یہی مصلحتیں جھلکتی ہیں۔

چنانچہ ان سینکڑوں افراد کے ناموں کی فہرست پر سرسری نظر ڈالئے، جن کو نوبل اِنعام سے نوازا گیا، ان میں آپ کو اِلَّا ماشاء اللہ سب کے سب یہودی، عیسائی اور دہریے نظر آئیں گے۔ سویڈن کے منصفوں کی نگاہ میں پوری صدی میں ایک مسلمان بھی ایسا پیدا نہیں ہوا جو طب، ادب، طبیعات وغیرہ کے کسی شعبے میں کوئی اہم کارنامہ انجام دے سکا ہو، ہر شخص منصفانِ سویڈن کی نگاہِ انتخاب کی داد دے گا، جب وہ یہ دیکھے گا کہ رابندر ناتھ ٹیگور ہندو کو بنگالی زبان کی شاعری پر نوبل اِنعام کا مستحق سمجھا گیا۔ جاپانی ادیب کو اپنی زبان میں ادبی کارنامے پر نوبل اِنعام کا اِستحقاق بخشا گیا۔ جنوبی امریکا کی ریاستوں کے باشندوں

10

کے اپنی زبانوں میں ادبی کارناموں کو مستند سمجھتے ہوئے لائقِ اِنعام سمجھا گیا۔ لیکن برکوچک پاک و ہند کے کسی ادیب، کسی شاعر اور کسی صاحبِ فن کی طرف منصفانِ سویڈن کی نظریں نہیں اُٹھ سکیں ـــــ کیوں؟ صرف اس لئے کہ وہ مسلمان تھے۔ مثال کے طور پر ہمارے علامہ ڈاکٹر سر محمد اقبال کو لیجئے! پوری دُنیا میں ان کے ادب و زبان کا غلغلہ بلند ہے، انگلستان کے ناموَر پروفیسروں نے ان کے ادبی شہ پاروں کو انگریزی میں منتقل کیا ہے، اور دانایانِ مغرب، علامہ کے افکار پر سر دھنتے ہیں، لیکن وہ نوبل اِنعام کے مستحق نہیں گردانے گئے ہیں، ان کا جرم صرف یہ تھا کہ وہ مسلمان تھے۔ حکیم اجمل خان مرحوم نے شعبۂ طب میں کیسا نام پیدا کیا، ڈاکٹر سلیم الزمان صدیقی وغیرہ نے سائنسی ریسرچ میں کیا کیا کارنامے انجام دئیے، لیکن نوبل اِنعام کے مستحق نہ ٹھہرے۔ یہ تو چند مثالیں محض برائے تذکرہ زبانِ قلم پر آگئیں، ورنہ ایک صدی کے پوری دُنیائے اسلام کے نابغہ افراد کی فہرست کون مرتب کرسکتا ہے؟ لیکن کسی کو نوبل اِنعام کے لائق نہیں سمجھا گیا، اور ڈاکٹر عبدالسلام میں کوئی خو بی تھی یا نہیں تھی، مگر اس کی یہی ایک خوبی تھی کہ وہ قادیانی تھا، اسلام اور مسلمانوں کا یہودیوں سے بھی بڑھ کر دُشمن تھا، بس اس کی یہی خوبی منصفانِ سویڈن کو پسند آگئی اور نوبل اِنعام اس کے قدموں میں نچھاور کردیا گیا۔

اگر ڈاکٹر عبدالسلام قادیانی ایسا ہی لائق سائنس دان تھا تو جس دن ہندوستان نے ۱۹۷۳ء میں ایٹمی دھماکا کیا تھا، ڈاکٹر عبدالسلام کو اس سے اگلے ہی دن پاکستان میں جوابی ایٹمی دھماکا کردینا چاہئے تھا، یہ اس وقت صدرِ پاکستان کا ایٹمی مشیر تھا، اور ایسا ایٹمی دھماکا اس کے فرائضِ منصبی میں داخل تھا۔ ڈاکٹر عبدالسلام قادیانی کا نام تو ہے نیوکلیئر ایٹمی فزکس کے شعبے میں مہارت کا، لیکن اس کی بے لیاقتی (یا پاکستان دُشمنی) نے پاکستان کو ہندوستان کے مقابلے میں سالوں پیچھے دھکیل دیا۔ اس وقت جبکہ ہندوستانی سائنس دانوں نے اپنی لیاقت کا مظاہرہ کیا تھا، ڈاکٹر عبدالسلام نے اپنی فنی مہارت کا مظاہرہ کردِکھایا ہوتا تو ایٹمی صلاحیت میں پاکستان دریوزہ گر مغرب نہ ہوتا اور بین الاقوامی سیاسی تناظر میں ہندوستان کے مقابلے میں پاکستان کی ایٹمی صلاحیت پر کوئی حرف گیری نہ کی جاتی۔

11

بین الاقوامی سطح پر یہ سمجھا جاتا کہ ہندوستان نے ایٹمی دھماکا کیا تو پاکستان نے بھی کردیا اور یوں بات آئی گئی ہوجاتی، لیکن ڈاکٹر عبدالسلام قادیانی کی اس وقت کی نااہلی، بے لیاقتی اور پاکستان دُشمنی نے یہ دِن دِکھایا کہ آج سارے عالم میں پاکستان کی ایٹمی ریسرچ کے خلاف شور و غوغا کیا جارہا ہے، حتیٰ کہ امریکا بہادر جو پاکستان کا سب سے بڑا ہمدرد اور حلیف تصوّر کیا جاتا ہے، وہ بھی آئے دن ہمیں ایٹمی ریسرچ کے خلاف متنبہ کرتا رہتا ہے اور بھارت پاکستان کی ’’نیوکلیئر انرجی‘‘ کے خلاف دُنیا بھر کے ذہن کو مسموم کرتا رہتا ہے، اور لطف یہ ہے کہ ڈاکٹر عبدالسلام قادیانی کے بھارت کے وزیراعظم راجیو گاندھی سے دوستانہ روابط ہیں، اس پورے تناظر میں دیکھا جائے تو صاف نظر آتا ہے کہ ڈاکٹر عبدالسلام قادیانی کی سائنسی مہارت کا حدودِ اَربعہ کیا ہے؟ اور یہ کہ وہ پاکستان کا کس قدر مخلص ہے۔

پنجم: ... بعض غیور اور باحمیت افراد اس سودی اِنعام کے وصول کرنے سے اِنکار کردیتے ہیں، کیونکہ وہ سمجھتے ہیں کہ یہ بھی ایک خاص قسم کی ’’رِشوت‘‘ ہے۔

ڈاکٹر عبدالسلام کو نوبل اِنعام کیوں دیا گیا؟

۱۹۷۹ء میں دو امریکن سائنس دانوں کے ساتھ ڈاکٹر عبدالسلام قادیانی کو بھی فزکس کے شعبے میں مسٹر نوبل کے وصیت کردہ سودی اِنعام کا مستحق قرار دِیا گیا (اور اس شعبے کا حصہ ان تینوں میں تقسیم ہوا) یقینا اس سے بھی یہودی قادیانی لابی کے تہہ در تہہ مفادات وابستہ ہوں گے، جن کی طرف اہلِ نظر نے دبے الفاظ میں اِشارے بھی کئے ہیں، چنانچہ ہمارے ملک کے ناموَر سائنس دان جناب ڈاکٹر عبدالقدیر صاحب سے ایک انٹرویو میں جب سوال کیا گیا کہ:

’’ڈاکٹر عبدالسلام (قادیانی) کو جو نوبل اِنعام ملا ہے، اس کے بارے میں آپ کی رائے ہے؟‘‘

جواب میں ڈاکٹر صاحب نے فرمایا:

’’وہ بھی نظریات کی بنیاد پر دِیا گیا، ڈاکٹر عبدالسلام

12

۱۹۵۷ء سے اس کوشش میں تھے کہ انہیں نوبل اِنعام ملے، آخرکار آئن اسٹائن کے صدسالہ یومِ وفات پر ان کا مطلوبہ اِنعام دے دیا گیا، دراصل قادیانیوں کا اِسرائیل میں باقاعدہ مشن ہے جو ایک عرصے سے کام کر رہا ہے، یہودی چاہتے تھے کہ آئن اسٹائن کی برسی پر اپنے ہم خیال لوگوں کو خوش کردیا جائے، سو ڈاکٹر عبدالسلام کو بھی اِنعام سے نوازا گیا۔‘‘

(ہفت روزہ ’’چٹان‘‘ لاہور ۶؍فروری ۱۹۸۶ء جلد۲۷ شمارہ۴)

یہودی قادیانی مفادات کی ایک جھلک:

جیسا کہ ڈاکٹر عبدالقدیر صاحب نے اِشارہ کیا ہے، یہودی قادیانی مفادات متحد ہیں، قادیانیت، یہودیت و صہیونیت کی سب سے بڑی حلیف ہے، اور عالمی سطح پر پروپیگنڈا کرنے اور مسلمانوں کے خلاف زہر اُگلنے میں دونوں ایک دُوسرے سے تعاون کر رہے ہیں، اب ذرا جائزہ لیجئے کہ قادیانیوں نے ڈاکٹر عبدالسلام قادیانی کو ملنے والے نوبل سودی اِنعام سے کیا مفادات حاصل کئے؟

۱- سب سے پہلے اس اِنعام کی ایسے غیرمعمولی طریقے پر تشہیر کی گئی اور ڈاکٹر عبدالسلام قادیانی کو ایک مافوق الفطرت شخصیت ثابت کرنے کا بے پناہ پروپیگنڈا کیا گیا، اور اِس اِنعام کو ڈاکٹر عبدالسلام قادیانی نے اپنے رُوحانی پیشوا مرزا غلام احمد قادیانی کی نبوّت کا معجزہ ثابت کرنے کی کوشش کی۔ چنانچہ قادیانی اخبار روزنامہ ’’الفضل‘‘ نے ۱۳؍نومبر ۱۹۷۹ء کی اشاعت میں لکھا:

’’نوبل اِنعام ملنے سے ایک دن پہلے‘‘

’’لندن، جماعتِ احمدیہ برطانیہ کے زیرِ اہتمام لندن مسجد کے محمود ہال میں سنڈے اسکول کے طلباء سے پروفیسر ڈاکٹر عبدالسلام نے جو خطاب فرمایا، اس کے بارے میں ایک دِلچسپ

13

بات یہ ہے کہ اس خطاب میں محترم ڈاکٹر صاحب نے حضرت مسیحِ موعود علیہ السلام کا یہ ارشاد سنایا:

’’میرے فرقے کے لوگ اس قدر علم و معرفت میں کمال حاصل کریں گے کہ اپنی سچائی کے نور اور اپنے دلائل اور نشانوں کی رُو سے سب کا منہ بند کردیں گے۔‘‘

اور اسی موقع پر مکرم شیخ مبارک احمد صاحب نے بھی حضرت مسیحِ موعود علیہ السلام کی اس پیش گوئی کی طرف توجہ دِلائی کہ حضور علیہ السلام نے اپنے ماننے والوں کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے یہ بشارت دی ہے کہ وہ علم و عقل میں اس قدر ترقی کریں گے کہ دُنیا ان کا مقابلہ نہ کرسکے گی۔

یہ تقریب ۱۴؍اکتوبر ۱۹۷۹ء کو ہوئی، اور اس سے اگلے ہی دن ۱۵؍اکتوبر ۱۹۷۹ء کو پروفیسر ڈاکٹر عبدالسلام کو نوبل اِنعام دینے کا اِعلان کردیا گیا، الحمد للہ ثم الحمد للہ علیٰ ذالک۔‘‘

محمود مجیب قادیانی نے اپنے کتابچے ’’ڈاکٹر عبدالسلام‘‘ میں لکھا ہے:

’’ان کے وجود سے بانی جماعتِ احمدیہ حضرت مرزا غلام احمد قادیانی علیہ السلام کی ایک عظیم پیش گوئی پوری ہوئی تھی جیسا کہ اس واقعے سے اَسّی (۸۰) سال پہلے آپ نے خدا سے خبر پاکر اِعلان کیا تھا کہ:

میرے فرقے کے لوگ اس قدر علم و معرفت میں کمال حاصل کریں گے کہ اپنی سچائی کے نور اور اپنے دلائل اور نشانوں کے اثر سے سب کا منہ بند کردیں گے۔‘‘

(ص:۷)

ڈاکٹر عبدالسلام قادیانی نے خود بھی قادیانیوں کے سالانہ جلسے ۱۹۷۹ء میں تقریر

14

کرتے ہوئے مرزا غلام احمد قادیانی کی اس پیش گوئی کا حوالہ دیتا ہوئے کہا:

’’میں اس پاک ذات کی حمد و ستائش سے لبریز ہوں کہ اس نے اِمامِ وقت، میرے والدین کی اور جماعت کے دوستوں کی مسلسل اور متواتر دُعاؤں کو شرفِ قبولیت سے نوازا اور عالمِ اسلام اور پاکستان کے لئے خوشی کا سامان پیدا کردیا۔‘‘

(قادیانی اخبار ’’الفضل‘‘ ربوہ، ۳۱؍دسمبر ۱۹۷۹ء)

اس طرح قادیانیوں نے ڈاکٹر عبدالسلام قادیانی کو دئیے گئے سودی اِنعام کا مسلسل پروپیگنڈا کیا، اسے ایک معجزہ اور اِنسانی تاریخ کے ایک مافوق الفطرت واقعے کے رنگ میں پیش کیا، اور اس کے حوالے سے سادہ لوح لوگوں کو یہ باور کرانے کی ناکام کوشش کی کہ ڈاکٹر عبدالسلام قادیانی کا یہ اِنعام حاصل کرنا گویا مرزا غلام احمد قادیانی کی صداقت کا ایک معجزہ ہے۔ حالانکہ اہلِ نظر جانتے ہیں کہ ان چیزوں سے ...جن کو قادیانی ملاحدہ مابہ الافتخار سمجھتے ہیں... حضراتِ انبیائے کرام علیہم السلام کو کوئی مناسبت نہیں۔ جو ایک یہودی کو، ایک عیسائی کو، ایک ہندو کو، ایک بدھسٹ کو اور ایک چوہڑے چمار کو بھی میسر آسکتی ہے، وہ کسی نبی یا اس کے اُمتی کے لئے مایۂ افتخار کیسے ہوسکتی ہے؟ بلکہ اس کے برعکس اگر یہ کہا جائے تو بے جا نہ ہوگا کہ سود جیسی ملعون چیز کے ملنے پر فخر کرنا قادیانیوں اور ان کے متنبیٔ کذّاب مرزا غلام احمد قادیانی کے جھوٹا ہونے کی ایک مزید دلیل ہے۔

۲- قادیانیوں کے اسلام کش نظریات اور کفریہ عقائد کی بنا پر پوری اُمتِ اسلامیہ قادیانیوں کو مسیلمہ کذّاب کے ماننے والوں کی طرح مرتد اور خارج اَزاِسلام سمجھتی تھی۔ ۷؍ستمبر ۱۹۷۴ء کو پاکستان کی قومی اسمبلی نے آئینی طور پر بھی انہیں غیرمسلم اقلیت قرار دے کر ان کا نام ’’غیرمسلم باشندگانِ مملکت‘‘ کی فہرست میں درج کردیا تھا۔ عالمِ اسلام اور پاکستانی پارلیمنٹ کا یہ فیصلہ قادیانیت پر ایک کاری ضرب کی حیثیت رکھتا تھا، جس سے قادیانیت کے اِرتدادی جراثیم کے پھیلنے اور پھولنے کے راستے ایک حد تک بند ہوگئے تھے، نیز اس سے مرزا غلام احمد قادیانی کی پیش گوئی بھی حرفِ غلط ثابت ہوگئی تھی، مرزا کی

15

پیش گوئی یہ تھی کہ:

’’جو لوگ (قادیانی جماعت سے) باہر رہیں گے ان کی کوئی حیثیت نہ ہوگی، ایسے لوگوں کی حیثیت چوہڑے چماروں کی ہوگی۔‘‘

مرزا محمود احمد قادیانی کے بقول:

’’اس عبارت کا مطلب تو یہ ہے کہ احمدیت کا پودا جو اس وقت بالکل کمزور نظر آتا ہے، اللہ تعالیٰ کے فضل سے ایک دن ایسا تناور درخت بن جائے گا کہ اقوامِ عالم اس کے سایہ میں آرام پائیں گے اور جماعتِ احمدیہ جو اس وقت بالکل معمولی اور بے حیثیت سی نظر آتی ہے، اس قدر اہمیت اور طاقت حاصل کرے گی کہ دُنیا کے مذہب، تہذیب و تمدن اور سیاست کی باگ اس کے ہاتھ میں ہوگی، ہر قسم کا اِقتدار اسے حاصل ہوگا، اور اپنے اثر و رُسوخ کے لحاظ سے یہ دُنیا کی معزز ترین جماعت ہوگی، دُنیا کا کثیر حصہ اس میں شامل ہوجائے گا، ہاں جو اپنی بدقسمتی سے علیحدہ رہیں گے وہ بالکل بے حیثیت ہوجائیں گے، سوسائٹی کے اندر ان کی کوئی قدر و قیمت نہ ہوگی، دُنیا کے مذہبی، تمدنی یا سیاسی دائرے کے اندر ان کی آواز ایسی ہی غیرمؤثر اور ناقابلِ اِلتفات ہوگی جیسی کہ موجودہ زمانے میں چوہڑے چماروں کی ہے۔‘‘ (تو گویا قانونی حکومت کے مجوّزہ دستور و آئین میں مرزا غلام احمد قادیانی کی پیش گوئی کے بموجب غیرقادیانیوں کی یہ حیثیت ہوگی... مؤلف)

(سالانہ جلسہ ۱۹۳۲ء میں مرزا محمود احمد قادیانی کی افتتاحی تقریر مندرجہ اخبار ’’الفضل‘‘ قادیان جلد۲ نمبر۹ مؤرخہ ۲۹؍جنوری ۱۹۳۳ء، قادیانی مذہب طبع پنجم ص:۷۵۸)

لیکن نتیجہ اس کے بالکل برعکس نکلا کہ قادیانیوں کو ’’غیرمسلم‘‘ قرار دِ یا گیا، اور پاکستان کے آئین میں قادیانیوں کی دونوں جماعتوں ...قادیانی اور لاہوری... کا نام شیڈول

16

کاسٹ (چوہڑے چماروں) کے بعد درج کردیا گیا۔

قادیانی یہودی لابی ایک عرصے سے کوشاں تھی کہ قادیانیوں کے ماتھے سے سیاہی کا یہ داغ کسی طرح مٹادیا جائے، اور اس سڑے عضو کو جسدِ ملت سے کاٹ کر جو پھینک دیا گیا تھا، کسی طرح دوبارہ جسد سے اس کا پیوند لگادیا جائے۔ چنانچہ قادیانی یہودی لابی نے ڈاکٹر عبدالسلام قادیانی کو ملنے والے نوبل اِنعام کو اس مقصد کے لئے استعمال کیا، اور اسے مسلمانوں کی عظمتِ رفتہ کا نشان قرار دے کر ڈاکٹر عبدالسلام قادیانی کو ’’مسلمان سائنس دان‘‘ باور کرانے کی کوشش کی، قادیانی اخبار روزنامہ ’’الفضل‘‘ ربوہ کے الفاظ ملاحظہ ہوں:

’’عالمِ اسلام کے قابلِ فخر سپوت اور اَحمدیت یعنی حقیقی اسلام کے فدائی نوبل اِنعام یافتہ سائنس دان ڈاکٹر عبدالسلام صاحب نے کہا کہ سائنس کے میدان میں اسلام کی کھوئی ہوئی عظمت حاصل کرنے کا صرف یہی طریق ہے کہ ہمارے احمدی نوجوان ان علوم میں درجہ کمال کو پہنچیں۔

محترم ڈاکٹر سلام صاحب نے کہا کہ ہماری جماعت اسلام کے احیاء کے لئے کھڑی ہوئی ہے، اس لئے ہمیں چاہئے کہ دیگر علوم کے علاوہ سائنسی علوم میں بھی آگے بڑھیں اور کمال حاصل کریں، اور اسلام کی کھوئی ہوئی عظمت کو دُنیا میں دوبارہ قائم کریں۔‘‘

(’’الفضل‘‘ ربوہ ۱۳؍نومبر ۱۹۷۹ء)

۱۸؍دسمبر ۱۹۷۹ء کو پاکستان کی قومی اسمبلی ہال میں ایک خصوصی اجلاس منعقد ہوا جس میں صدر جنرل محمد ضیاء الحق صاحب نے قائد اعظم یونیورسٹی اسلام آباد کی طرف سے ڈاکٹر عبدالسلام قادیانی کو نوبل اِنعام کی خوشی میں ڈاکٹریٹ کی سند عطا کی۔ اس اجلاس میں تقریر کرتے ہوئے ڈاکٹر عبدالسلام قادیانی نے کہا: ’’میں پہلا مسلمان سائنس دان ہوں جسے یہ اِنعام ملا ہے۔‘‘

17

اس طرح قادیانیوں نے اُٹھتے بیٹھتے ڈاکٹر عبدالسلام قادیانی کے ’’پہلا مسلمان سائنس دان‘‘ ہونے کا وظیفہ رٹنا شروع کردیا، اس پروپیگنڈے کا مقصد ظاہر تھا کہ اگر ڈاکٹر عبدالسلام قادیانی ’’مسلمان‘‘ ہے تو باقی قادیانی بھی اسی کے ہم مذہب ہونے کے ناطے ’’پکے سچے مسلمان‘‘ ہیں۔

اس پروپیگنڈے کا نتیجہ یہ ہوا کہ ہمارے عرب بھائی اور دُوسرے ممالک کے حضرات، جو ڈاکٹر عبدالسلام قادیانی کے مذہب و عقیدے سے واقف نہیں تھے، اس کو واقعتا مسلمان سمجھنے لگے، چنانچہ مراکش کے شاہ حسن نے ڈاکٹر عبدالسلام قادیانی کے نام ایک طویل شاہی فرمان جاری کیا، جس کے ذریعے ڈاکٹر عبدالسلام قادیانی کو مراکش کی قومی اکیڈمی کا کارکن منتخب کیا، اور ڈاکٹر عبدالسلام قادیانی کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے لکھا کہ:

’’آپ کی کامیابی سے اسلامی تہذیب و فکر جگمگا اُٹھے ہیں۔‘‘

(روزنامہ ’’الفضل‘‘ ۲۹؍جون ۱۹۸۰ء)

سعودیہ کے شہزادہ محمد بن فیصل السعود نے اپنے برقیہ میں ڈاکٹر عبدالسلام قادیانی کو تہنیت کا پیغام دیتے ہوئے کہا کہ:/p>

’’ڈاکٹر سلام کے لئے نوبل اِنعام مسلمانوں کے لئے باعثِ مسرّت ہے، اور ہمیں اس پر بڑی مسرّت ہوئی ہے۔‘‘

(قادیانی ہفت روزہ ’’لاہور‘‘ ۱۸؍نومبر ۱۹۷۹ء)

جنوری ۱۹۸۶ء میں مسلم یونیورسٹی علی گڑھ کے ترجمان پندرہ روزہ ’’تہذیب الاخلاق‘‘ نے ’’عبدالسلام نمبر‘‘ نکالا، جس میں ’’اسلام اور سائنس‘‘ کے عنوان سے ڈاکٹر عبدالسلام قادیانی کے ایک انگریزی مضمون کا ترجمہ پروفیسر نسیم انصاری کے قلم سے شائع کیا گیا، جس کی اِبتدا ان الفاظ سے ہوتی ہے:

’’اِبتدا اس اِقرار سے کرتا ہوں کہ میرا عقیدہ اور عمل اسلام پر ہے، اور میں اس وجہ سے مسلمان ہوں کہ قرآنِ کریم پر میرا

18

اِیمان ہے۔‘‘

(ص:۱۱)

اسی شمارے میں ایک مضمون ’’عبدالسلام - ایک مجاہد سائنس دان‘‘ کے عنوان سے پروفیسر آئی احمد (جو غالباً خود بھی قادیانی ہیں) کا ہے، جس میں وہ لکھتے ہیں:

’’وہ (ڈاکٹر عبدالسلام قادیانی) اپنے دِینِ اسلام کی حقانیت پر کامل یقین رکھتے ہیں، اور اس کی ہدایات پر سختی سے عمل بھی کرتے ہیں۔‘‘

(ص:۳۵)

اسی پرچے میں پروفیسر جان نرمیان (یہ صاحب غالباً یہودی ہیں) کی ایک تقریر کا ترجمہ ڈاکٹر عالم حسین کے قلم سے ہے، جس میں کہا گیا ہے:

’’عبدالسلام (قادیانی) دِینِ اسلام پر اِیمان رکھتے ہیں اور انہوں نے اپنی زندگی کو نظریۂ وحدت کے لئے وقف کردیا ہے۔‘‘

(ص:۳۷)

یہ میں نے چند مثالیں ذِکر کی ہیں، ورنہ اس قسم کی بے شمار تحریریں موجود ہیں جن میں مسلمانوں کو دھوکا دینے کے لئے ڈاکٹر عبدالسلام قادیانی کو اِسلام کی سند عطا کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔ گویا نوبل اِنعام کے حوالے سے قادیانی یہودی لابی کی طرف سے قادیانیت کو اِسلام، اور اِسلام کو قادیانیت باور کرانے کی گہری سازش کی گئی، جس کے ذریعے اچھے اچھے سمجھ دار حضرات کو فریب دِیا گیا ہے۔

۳: ... مسٹر نوبل کے وصیت کردہ سودی اِنعام کے ذریعے اسلام کی سند حاصل کرنے کے بعد ڈاکٹر عبدالسلام قادیانی نے خرِ دَجال کی طرح اسلامی ممالک کا دورہ کیا ہے اور جگہ جگہ ’’اسلامی سائنس فاؤنڈیشن‘‘ قائم کرنے کا نعرہ بلند کیا۔ جس سے یہ ثابت کرنا مقصود تھا کہ اس زمانے میں مسلمانوں کا سب سے بڑا خیرخواہ اور ہمدرد عبدالسلام قادیانی ہے، چنانچہ اسلامی ممالک نے ’’اسلامی سائنس فاؤنڈیشن‘‘ کے نعرے سے مسحور ہوکر اس کی منظور دے دی، روزنامہ ’’نوائے وقت‘‘ لکھتا ہے:

’’نوبل پرائز حاصل کرنے والے پاکستانی سائنس دان

19

ڈاکٹر عبدالسلام نے ۱۹۷۳ء میں ایک تجویز پیش کی تھی کہ مسلمان ممالک کو مل کر ایک اسلامی سائنس فاؤنڈیشن قائم کرنی چاہئے، گزشتہ ہفتے جدہ میں ایک کانفرنس ہوئی جس میں اس اِدارے کے قیام کا حتمی فیصلہ کیا گیا، یوں تو اِسلامی سربراہ کانفرنس نے فروری ۱۹۷۴ء میں ہی ڈاکٹر عبدالسلام کی تجویز کی منظوری دے دی تھی، مگر اس پر عمل درآمد کرنے کا فیصلہ اب ہوا ہے۔ جدہ کی جس کانفرنس نے فاؤنڈیشن کے قیام کو عملی صورت دینے کا فیصلہ کیا ہے اس میں دُوسرے اسلامی ملکوں کے سائنس دانوں کے علاوہ ڈاکٹر عبدالسلام نے خود بھی شرکت کی ہے، اس موقع پر تمام مسلمان ملکوں کے سائنس دانوں نے ڈاکٹر عبدالسلام کو نوبل پرائز حاصل کرنے پر مبارک باد دی اور اسے اسلامی دُنیا کے لئے قابلِ فخر کارنامہ قرار دیا۔‘‘

(روزنامہ ’’نوائے وقت‘‘ اِداریہ مؤرخہ ۱۸؍نومبر ۱۹۷۹ء)

سعودی عرب میں قادیانیوں کا داخلہ ممنوع ہے، لیکن ’’اسلامی سائنس فاؤنڈیشن‘‘ کی فسوں کاری دیکھئے کہ جدہ میں ڈاکٹر عبدالسلام کی پذیرائی کی جاتی ہے، اسے سائنسی برات کا دولہا بنایا جاتا ہے، اور اس کو ’’اسلامی دُنیا کے لئے قابلِ فخر‘‘ قرار دیا جاتا ہے:

بسوخت عقل زحیرت کہ ایں چہ بوالعجبیست!

مسلمانوں کی خودفراموشی اور دُشمنانِ اسلام کی عیاری و مکاری کا کمال ہے کہ حجازِ مقدس کی برگزیدہ سرزمین کے شہر جدہ میں یہ باضابطہ تسلیم شدہ کافر و مرتد قادیانی ’’مسلم سائنس فاؤنڈیشن‘‘ کا اجلاس منعقد کرواکر اور اس کے دولہا کی حیثیت سے اس میں شرکت کرکے ’’المملکۃ العربیۃ السعودیۃ‘‘ کے اس قانون کا کس طرح منہ چڑاتا ہے، جس کی رُو سے سعودی عرب میں قادیانیوں کے لئے داخلہ اور ویزا ممنوع ہے۔ اور یہ تو شکر ہوا کہ اس نے یہ کانفرنس حرمین شریفین میں منعقد نہیں کروائی، ورنہ اس کے نجس قدم حرمین شریفین کو گندہ کرتے اور وہ دُنیائے اسلام کے اس فیصلے پر طمانچہ لگاتا کہ قادیانی دائرۂ اسلام سے

20

خارج ہیں، اس لئے حرمین شریفین میں ان کے داخلے پر پابندی ہے۔ اندازہ کیجئے کہ قادیانی یہودی سازشوں کے جال کہاں کہاں تک پھیلے ہوئے ہیں، اور وہ مسلمانوں کو بے وقوف بناکر اپنے مفادات کس طرح حاصل کرتے ہیں...!

ڈاکٹر عبدالسلام قادیانی کی حجاز کی مقدس سرزمین میں پذیرائی ہوئی تو اس نے اپنے سحرآفرین نعرے کو مزید بلند آہنگی سے دُہرانا شروع کردیا، یہاں تک کہ ۵کروڑ ڈالر کی خطیر رقم اسلامی ممالک سے منظور کراکے دم لیا۔

قادیانی اخبار ’’الفضل‘‘ ربوہ میں ڈاکٹر عبدالسلام قادیانی کا انٹرویو شائع ہوا، جس میں ان سے سوال کیا گیا:

’’اسلامی کانفرنس نے جو ’’سائنس فاؤنڈیشن‘‘ قائم کیا تھا، اس کے بارے میں آپ کیا کہتے ہیں؟‘‘

اس کے جواب میں ڈاکٹر عبدالسلام قادیانی نے کہا:

’’یہ اچھی سمت میں ایک حرکت ہوئی ہے، میں اس سے بہت خوش ہوں، درحقیقت ابتدائی تجویز موجودہ صورت سے بہت اعلیٰ تھی، میں نے ۱۹۷۴ء میں مسٹر بھٹو کو اس پر آمادہ کرلیا تھا کہ ایک بلین ڈالر کے سرمایہ سے ایک فاؤنڈیشن قائم کیا جائے اور سربراہی کانفرنس نے اسے تسلیم کرلیا تھا۔ لیکن اس کے بعد اس بارے میں کچھ نہیں ہوا۔ اس کے بعد ۱۹۸۱ء میں جنرل ضیاء الحق اس پر راضی ہوگئے کہ اس معاملے کو طائف سربراہ کانفرنس میں اُٹھائیں۔ فاؤنڈیشن قائم کردیا گیا لیکن اس کی رقم کو گھٹاکر صرف پچاس ملین ڈالر (۵کروڑ ڈالر) کردیا گیا۔ اب مجھے پتا چلا ہے کہ دراصل جو رقم اب تک فاؤنڈیشن کو ملی ہے وہ صرف چھ ملین ڈالر ہیں، آپ مجھ سے اتفاق کریں گے مسلمان حکومتیں اس سے زیادہ دے سکتی ہیں۔‘‘

(روزنامہ ’’الفضل‘‘ ربوہ ۸؍اکتوبر ۱۹۸۴ء)

21

خطیر رقم وصول کرنے کے بعد بھی ڈاکٹر عبدالسلام قادیانی کو مسلم ممالک کے رویہ سے شکایت رہی اور وہ ان سے مایوسی کا اظہار کرتا رہا، چنانچہ روزنامہ ’’جنگ‘‘ لندن لکھتا ہے:

’’نوبل اِنعام یافتہ پاکستانی سائنس دان ڈاکٹر عبدالسلام سائنس فاؤنڈیشن قائم کریں گے، اسلامی کانفرنس نے ایک ارب ڈالر کے بجائے ۵کروڑ ڈالر کی منظوری دی ہے۔‘‘

’’جدہ (جنگ فارن کم) ڈیسک۔ نوبل اِنعام یافتہ پاکستانی سائنس دان ڈاکٹر عبدالسلام اسلامی ملکوں میں سائنس کے فروغ کے لئے فاؤنڈیشن قائم کریں گے تاکہ اسلامی ممالک کے باصلاحیت سائنس دان اپنے علم میں اضافہ کرسکیں۔ گلف ٹائمز کو ایک انٹرویو دیتے ہوئے ڈاکٹر سلام نے کہا کہ اسلامی ملکوں میں سائنسی علوم کے فروغ کے لئے ٹھوس اقدامات نہیں کئے گئے۔ ڈاکٹر سلام نے ٹرسٹی اٹلی میں نظریاتی طبیعات کا بین الاقوامی مرکز قائم کیا ہے جس کے وہ ڈائریکٹر ہیں، اس مرکز سے ایک ہزار سائنس دان طبیعات کی تربیت حاصل کرتے ہیں۔ ڈاکٹر سلام کے مرکز کو بین الاقوامی ایٹمی ادارے اور یونیسکو کا بھی تعاون حاصل ہے، ڈاکٹر سلام نے بتایا کہ فاؤنڈیشن غیرسیاسی ادارہ ہوگا، اور اسے مسلم ممالک کے سائنس دان چلائیں گے، اس کے علاوہ اسے اسلامی کانفرنس کی تنظیم سے منسلک کردیا جائے گا۔ تاہم ڈاکٹر سلام نے اس امر پر افسوس کا اظہار کیا کہ مجوزہ فاؤنڈیشن کے لئے انہوں نے ایک ارب ڈالر کی تجویز رکھی تھی لیکن اسلامی کانفرنس نے اس کے لئے ۵کروڑ ڈالر کی منظوری دی۔‘‘

(’’جنگ‘‘ لندن ۸؍اگست ۱۹۸۵ء)

22

اور روزنامہ ’’نوائے وقت‘‘ کراچی لکھتا ہے:

’’ڈاکٹر عبدالسلام کو اِسلامی طبیعاتی فاؤنڈیشن کے قیام میں مالی دُشواریوں کا سامنا‘‘

’’نیویارک ۱۰؍اگست (اپ پ) نوبل اِنعام یافتہ ڈاکٹر عبدالسلام نے کہا ہے کہ اسلامی ممالک بین الاقوامی سائنس میں بالکل الگ تھلگ ہیں، اور انہیں سائنس کی ترقی کا طریقہ معلوم نہیں، انہوں نے کہا کہ وہ سائنس کے فروغ اور ترقی کے لئے ایک فاؤنڈیشن قائم کرنا چاہتے ہیں۔

اسلامی کانفرنس نے اس منصوبے کی توثیق کی ہے کہ ڈاکٹر سلام کے تجویز کردہ ایک ارب ڈالر کی بجائے مسلم کانفرنس نے ۵کروڑ ڈالر کی منظوری دی ہے، اور ایک سال میں صرف ۶۰لاکھ ڈالر جاری کئے گئے ہیں، جس کی وجہ سے ڈاکٹر سلام مایوس نظر آتے ہیں۔‘‘

(’’نوائے وقت‘‘ کراچی ۱۱؍اگست ۱۹۸۵ء)

مایوسی کا یہ اِظہار مسلم ممالک کو غیرت دِلانے اور مطلوبہ رقم پر انہیں برانگیختہ کرنے کے لئے تھا، بالآخر ’’جویندہ یابندہ‘‘ کے مصداق ڈاکٹر عبدالسلام قادیانی، مسلم ممالک سے اپنی مطلوبہ رقم حاصل کرنے میں کامیاب ہوگیا، چنانچہ قادیانی اخبار ہفت روزہ ’’لاہور‘‘ کی ایک رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ:

’’ڈاکٹر عبدالسلام نے مشرقِ وسطیٰ کے تیل پیدا کرنے والے ممالک پر زور دیا ہے کہ وہ اس خطہ ارض میں سائنسی علوم کے فروغ کے لئے ایک سائنس فاؤنڈیشن کا قیام عمل میں لائیں ......۔ انہوں نے مشورۃً یہ تجویز پیش کی کہ اس فاؤنڈیشن کی تشکیل میں اِبتدائی طور پر ایک بلین ڈالر صَرف کرنے چاہئیں جو مسلم طلبہ کو ایسی سائنسی تعلیم کے حصول میں اِمداد دیں گے ......۔ اس فاؤنڈیشن کو

23

اِسلامی دُنیا کے ممتاز و معروف سائنس دان چلائیں۔

ڈاکٹر سلام نے دُنیائے اسلام میں سائنسی علوم کے فروغ کے سلسلے میں کویت کے رول کو سراہا، انہوں نے کہا کہ کویت کی سائنس فاؤنڈیشن اور کویت یونیورسٹی نے انہیں بڑی دریادِلی سے اتنے فنڈز دئیے ہیں۔‘‘

(قادیانی ہفت روزہ ’’لاہور‘‘ ۲؍اگست ۱۹۸۲ء ص:۵)

غور فرمائیے کہ ڈاکٹر عبدالسلام قادیانی، اِبتدائی مرحلے میں اسلامی ممالک سے لے کر ساٹھ لاکھ ڈالر یعنی گیارہ کروڑ روپے ہضم کرجاتا ہے، دِل میں باغ باغ ہوگا کہ اتنی خطیر رقم مجھے مسلمان نوجوانوں کو قادیانی بنانے کے لئے بلاشرکتِ غیرے مل گئی، لیکن عیاری و مکاری کا کمال دیکھو کہ زَر طلبی کی ہوس ’’ہل من مزید‘‘ پکارتی ہے اور وہ اسلامی ممالک کو غیرت دِلانے کے لئے ان کی سردمہری و نالائقی اور بے توجہی کا مسلسل پروپیگنڈا کرتا رہتا ہے اور ان کے سامنے پانچ کروڑ ڈالر یعنی ۸۵ارب روپے کا ہدف دُہراتا رہتا ہے تاآنکہ اسے مطلوبہ رقم میسر آجاتی ہے۔

قارئین نے ایسے بہت سے واقعات سن رکھے ہوں گے کہ روپیہ پیسہ عورت، دوا علاج اور تعلیم کا لالچ دے کر غریب خاندانوں کو عیسائی یا قادیانی بنالیا گیا، اگر دس ہزار سے ایک خاندان کا ایمان خریدا جاسکتا ہے تو ذرا حساب لگاکر دیکھئے کہ جس شخص کے ہاتھ پچاسی ارب روپے کی رقم تھمادی گئی ہو وہ کتنے نوجوانوں اور کتنے خاندانوں کو اس کے ذریعے قادیانی بنانے کی کوشش کرے گا؟ حیف صد حیف کہ ’’میاں کی جوتی میاں کے سر‘‘ کے مصداق مسلمانوں ہی کے روپے سے مسلمانوں کو کافر و مرتد بنایا جارہا ہے اور مسلمان اس کی تعریف میں رطب اللسان ہیں۔

سائنس فاؤنڈیشن اور قادیانی مقاصد:

مسٹر نوبل کے وصیت کردہ سودی اِنعام کے حوالے سے قادیانیوں نے جو فوائد

24

حاصل کرنے کی کوشش کی اور جن کی طرف سطورِ بالا میں اِشارہ کیا گیا ہے، ان کا خلاصہ یہ ہے:

✡: ... قادیانیوں کو مسلمان ثابت کرنا۔

✡: ... ڈاکٹر عبدالسلام قادیانی کو اِسلامی دُنیا کا ہیرو اور محسن بناکر پیش کرنا۔

✡: ... مسلم ممالک کے پیسے سے ’’اسلامی سائنس فاؤنڈیشن‘‘ کے نام پر ’’قادیانی فاؤنڈیشن‘‘ قائم کرنا۔

دردمند مسلمانوں کی آنکھیں کھولنے کے لئے یہ قادیانی فوائد بھی کافی تھے۔ لیکن ایسا لگتا ہے کہ ’’اسلامی سائنس فاؤنڈیشن‘‘ کے ذریعے یہودی-قادیانی لابی ابھی بہت کچھ حاصل کرنا چاہتی ہے، اور ان کے مقاصد کہیں گہرے ہیں۔ ذیل میں چند نکات پیش کئے جاتے ہیں، ہر وہ شخص جو عالمِ اسلام سے خیرخواہی و ہمدردی رکھتا ہے اس کا فرض ہے کہ ان اِمکانات کو نظر انداز نہ کرے، بلکہ ان پر عقل و دانائی کے ساتھ غور کرے۔

۱- علامہ ڈاکٹر اقبال مرحوم نے پنڈت نہرو کے نام اپنے خط میں تحریر فرمایا تھا:

’’قادیانی، اسلام اور وطن دونوں کے غدار ہیں۔‘‘

علامہ اقبال مرحوم کا یہ تجزیہ ان کے برسہابرس کے تجربے کا خلاصہ اور نچوڑ ہے، جسے انہوں نے ایک فقرے میں قلم بند کردیا۔ ہر وہ شخص جسے قادیانی ذہنیت کا مطالعہ کرنے کی فرصت میسر آئی ہو، یا جسے قادیانیوں سے کبھی سابقہ پڑا ہو، اسے علیٰ وجہ البصیرت اس کا یقین ہوجائے گا کہ قادیانی، اسلام کے، مسلمانوں کے اور اِسلامی ممالک کے غدار ہیں، جس طرح کوئی مسلمان کسی یہودی پر اِعتماد نہیں کرسکتا، نہ اسے ملتِ اسلامیہ کا مخلص سمجھ سکتا ہے، اسی طرح کوئی مسلمان کسی قادیانی کو ملتِ اسلامیہ کا ہمدرد اور بہی خواہ تسلیم نہیں کرسکتا۔

قادیانی، طاغوتی قوّتوں کے جاسوس:

مسلمانوں کی جاسوسی!

قادیانیوں کی اسلام اور مسلمانوں سے غداری کا یہ عالم ہے کہ مرزا غلام احمد قادیانی ’’انگریزوں کی پولیٹکل خیرخواہی‘‘ کی غرض سے مسلمانوں کی مخبری کیا کرتا تھا۔

25

انگریزی دورِ اِقتدار میں ہندوستان کے جو مسلمان حریت پسندانہ جذبات اور آزادیٔ وطن کی لگن رکھتے تھے، مرزا غلام احمد قادیانی ان کے احوال و کوائف ’’پولیٹکل راز‘‘ کی حیثیت سے گورنمنٹ برطانیہ کو پہنچایا کرتا تھا، مرزا قادیانی کے اشتہارات کا جو مجموعہ تین جلدوں میں قادیانیوں نے اپنے مرکز ربوہ سے شائع کیا ہے، اس کی دُوسری جلد کے صفحہ:۲۲۷،۲۲۸ پر اِشتہار نمبر۱۴۵ درج ہے، جس کا متن ذیل میں پیش کیا جاتا ہے:

’’قابل توجہ گورنمنٹ از طرف مہتمم کاروبار تجویز تعطیل جمعہ

مرزا غلام احمد قادیان ضلع گورداسپور پنجاب

چونکہ قرینِ مصلحت ہے کہ سرکار انگریزی کی خیرخواہی کے لئے ایسے نافہم مسلمانوں کے نام بھی نقشہ جات میں درج کئے جائیں جو درپردہ اپنے دِلوں میں برٹش انڈیا کو دارالحرب قرار دیتے ہیں اور ایک چھپی ہوئی بغاوت کو اپنے دِلوں میں رکھ کر اسی اندرونی بیماری کی وجہ سے فرضیتِ جمعہ سے منکر ہوکر اس کی تعطیل سے گریز کرتے ہیں۔ لہٰذا یہ نقشہ اسی غرض کے لئے تجویز کیا گیا تاکہ اس میں ان ناحق شناس لوگوں کے نام محفوظ رہیں کہ جو ایسے باغیانہ سرشت کے آدمی ہیں۔ اگرچہ گورنمنٹ کی خوش قسمتی سے برٹش انڈیا میں مسلمانوں میں ایسے آدمی بہت تھوڑے ہیں جو ایسے مفسدانہ عقیدے کو اپنے دِل میں پوشیدہ رکھتے ہوں، لیکن چونکہ اس امتحان کے وقت بڑی آسانی سے ایسے لوگ معلوم ہوسکتے ہیں، جن کے نہایت مخفی ارادے گورنمنٹ کے برخلاف ہیں۔ اس لئے ہم نے اپنی محسن گورنمنٹ کی پولیٹیکل خیرخواہی کی نیت سے اس مبارک تقریب پر یہ چاہا کہ جہاں تک ممکن ہو ان شریر لوگوں کے نام ضبط کئے جائیں جو اپنے عقیدے سے اپنی مفسدانہ حالت کو ثابت کرتے ہیں۔ کیونکہ جمعہ کی تعطیل کی تقریب پر ان لوگوں کا شناخت کرنا ایسا آسان ہے

26

کہ اس کی مانند ہمارے ہاتھ میں کوئی بھی ذریعہ نہیں۔ وجہ یہ کہ جو ایک ایسا شخص ہو جو اپنی نادانی اور جہالت سے برٹش انڈیا کو دارالحرب قرار دیتا ہے، وہ جمعہ کی فرضیت سے ضرور منکر ہوگا، اور اسی علامت سے شناخت کیا جائے گا کہ وہ درحقیقت اس عقیدے کا آدمی ہے۔ لیکن ہم گورنمنٹ میں بااَدب اطلاع کرتے ہیں کہ ایسے نقشے ایک پولیٹیکل راز کی طرح اس وقت تک ہمارے پاس محفوظ رہیں گے جب تک گورنمنٹ ہم سے طلب کرے۔ اور ہم اُمید رکھتے ہیں کہ ہماری گورنمنٹ حکیم مزاج بھی ان نقشوں کو ایک ملکی راز کی طرح اپنے کسی دفتر میں محفوظ رکھے گی، اور بالفعل یہ نقشے جن میں ایسے لوگوں کے نام مندرج ہیں گورنمنٹ میں نہیں بھیجے جائیں گے۔ صرف اطلاع دہی کے طور پر ان میں سے ایک سادہ نقشہ چھپا ہوا جس پر کوئی نام درج نہیں فقط یہی مضمون درج ہے ہمراہ درخواست بھیجا جاتا ہے، اور ایسے لوگوں کے نام مع پتہ و نشان یہ ہیں۔

مطبع ضیاء الاسلام قادیان (یہ اشتہار ۲۰×۲۶ کے چار صفحوں پر معہ نقشہ درج ہے)۔‘‘

یہ ذہن میں رہے کہ مرزا غلام احمد قادیانی، ایسے حریت پسند مسلمانوں کے کوائف اپنی جماعت کے ذریعے ہی جمع کراتا ہوگا، گویا غلام احمد قادیانی کی نگرانی میں قادیانی جماعت کی پوری ٹیم اسی کام میں لگی ہوئی تھی کہ ہندوستان کے آزادی پسند مسلمانوں کی فہرستیں بنابناکر انگریز کے خفیہ محکمے کو بھیجی جائیں، اور ایسے مسلمانوں کے ’’پولیٹیکل راز‘‘ سفید آقاؤں کے گوش گزار کئے جائیں۔ وہ دن، اور آج کا دن، قادیانی جماعت مسلمانوں کی جاسوسی کے اسی ’’مقدس فریضے‘‘ میں لگی ہوئی ہے کہ مسلمانوں سے گھل مل کر رہا جائے، ظاہر میں اپنے آپ کو مسلمانوں کا خیرخواہ ثابت کیا جائے، اور باطن میں ان کے راز اَعدائے اسلام اور طاغوتی طاقتوں کو پہنچائے جائیں۔

27

قادیانی اور یہودی لابی کے درمیان وجہ اُلفت بھی یہی اِسلام دُشمنی اور اُمتِ اسلامیہ سے غداری ہے، اِسرائیل میں کسی مذہب کا کوئی مشن کام نہیں کرسکتا، اور کسی اسلامی مشن کے قیام کا تو وہاں سوال ہی پیدا نہیں ہوتا، لیکن قادیانی مشن وہاں بڑے اطمینان سے کام کر رہا ہے، اور اِسرائیل کے بڑوں کی مکمل حمایت اور اِعتماد اسے حاصل ہے۔

قادیانی، مسلمانوں کے بھیس میں مسلمان ممالک، خصوصاً پاکستان میں اہم ترین مناصب اور حساس عہدوں پر براجمان ہیں، اس لئے اسلامی ممالک کا کوئی راز ان سے چھپا ہوا نہیں۔

ادھر ایک عرصے سے اسلامی ممالک اپنی ایٹمی صلاحیتوں کو بہتر بنانے اور انہیں پُرامن مقاصد کے لئے استعمال کرنے میں کوشاں تھے، مغربی دُنیا اور یہودی لابی کے لئے اسلامی دُنیا کی یہ تگ و دو موجبِ تشویش تھی، عراق کی ایٹمی تنصیبات پر اِسرائیل کا حملہ اور پاکستان کی ایٹمی تنصیبات کو تباہ کرنے کی اِسرائیلی دھمکیاں سب کو معلوم ہیں۔ پاکستان کے بارے میں ’’اسلامی بم‘‘ کا ہوّا کھڑا کرکے یہودی لابی نے پاکستان کے خلاف بین الاقوامی فضا کو مسموم کرنے کی جس طرح کوششیں کی ہیں وہ بھی سب پر عیاں ہیں۔ اسلامی ممالک کی سائنسی بیداری کو کنٹرل کرنے کی بہترین صورت یہی ہوسکتی تھی کہ ’’اسلامی سائنس فاؤنڈیشن‘‘ کا نعرہ ایک ایسے شخص سے لگوایا جائے جو یہودی لابی کا حلیف اور رازدار ہو، اس نعرے کے ذریعے اسے اسلامی ممالک کا محسن اور ہیرو باور کرایا جائے، ایسی شخصیت ڈاکٹر عبدالسلام قادیانی سے زیادہ موزوں اور کون ہوسکتی تھی، چنانچہ ڈاکٹر عبدالسلام قادیانی نے ’’اسلامی سائنس فاؤنڈیشن‘‘ کا نعرہ بلند کیا، مسلم ممالک نے اسے اپنا محسن سمجھا اور اس عظیم مقصد کے لئے خطیر رقم اس کے قدموں میں نچھاور کردی، اس طرح یہ قادیانی، مسلم ممالک کی دولت پر ’’اسلامی سائنس فاؤنڈیشن‘‘ کا شہ بالا بن گیا۔ علاوہ ازیں مسلم ممالک (پاکستان سے مراکش تک) کے سائنسی ادارے بھی ایک قادیانی کی دسترس میں آگئے۔ اب مسلم ممالک کا کوئی راز، راز نہیں رہے گا،ڈاکٹر عبدالسلام قادیانی کے لئے اپنے مرشد مرزا غلام احمد قادیانی کی سنت کے مطابق اسلامی ممالک کی ایٹمی صلاحیتوں کی رپورٹیں

28

اَعدائے اسلام کو پہنچانا آسان ہوگا، اور مسلم ممالک کی مخبری میں اسے کوئی دِقت پیش نہیں آئے گی۔

۲- ’’اسلام سائنس فاؤنڈیشن‘‘ کے قیام کا ایک فائدہ یہ ہوگا کہ مسلم ممالک کے سائنسی اداروں میں ڈاکٹر عبدالسلام قادیانی کا عمل دخل ہوگا اور ان اِداروں میں قادیانی نوجوانوں کو بھرتی کرنا آسان ہوگا، پاکستان کی وزارتِ خارجہ کا قلم دان جن دنوں ظفراللہ قادیانی آنجہانی کے حوالے تھا، ان دنوں ہمارے بیرونِ ملک سفارت خانوں میں قادیانیوں کی بھرمار تھی، قادیانیوں کو نوکریاں بھی خوب مل رہی تھیں، اور نوکری کے لالچ میں نوجوانوں کو قادیانی بنانا بھی آسان تھا۔ اب اسلامی ممالک کی چوٹی پر سرظفراللہ کی جگہ ڈاکٹر عبدالسلام قادیانی کو بٹھادیا گیا ہے، اب سائنسی اِداروں میں قادیانی نوجوانوں کو بہترین روزگار کے مواقع خوب میسر آئیں گے، اور بھولے بھالے نوجوانوں کو قادیانیت کی طرف کھینچنے کے راستے بھی ہموار ہوجائیں گے۔ اسی کے ساتھ اگر مسلمانوں میں کوئی جوہرِ قابل نظر آیا تو اس کو ’’ناپسندیدہ‘‘ قرار دے کر نکال دینے میں بھی کوئی دُشواری نہیں ہوگی۔ پاکستان میں اس کا تماشا دیکھا جاچکا ہے، بعض افراد، جن میں قادیانی ہونے کے سوا کوئی خوبی نہیں تھی، وہ سائنسی اِدارے کے کرتا دھرتا رہے، اور ریٹائرمنٹ کی عمر کو پہنچ جانے کے بعد بھی ان کی ملازمت میں توسیع ہوتی رہی۔ اس کے برعکس بعض اعلیٰ پائے کے سائنس دان ڈاکٹر عبدالسلام قادیانی کے نزدیک ناپسندیدہ ہونے کی وجہ سے گوشۂ گمنامی میں دھکیل دئیے گئے۔ ہفت روزہ ’’چٹان‘‘ لاہور ۶ ؍ تا ۱۳؍جنوری ۱۹۸۶ء میں اس دِل خراش داستان کی تفصیلات دیکھی جاسکتی ہیں۔

۳- ایک اہم ترین فائدہ قادیانیت کی تبلیغ کا ہے۔ ’’سائنس فاؤنڈیشن‘‘ کو قادیانیت کی تبلیغ کا ذریعہ کیسے بنایا جائے گا؟ اس کے لئے درج ذیل نکات کو ذہن میں رکھنا ضروری ہے:

الف: ... ڈاکٹر عبدالسلام قادیانی کا شمار قادیانی اُمت کے ممتاز ترین افراد میں ہوتا ہے، قادیانیوں کے تیسرے سربراہ مرزا ناصر احمد آنجہانی نے ۱۴؍اگست ۱۹۸۰ کو

29

لندن میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کیا، جس کی رپورٹ ۱۷؍اگست ۱۹۸۰ء کو آئرش اخبار ’’آئرش سنڈے ورلڈ‘‘ میں شائع کرائی گئی، جس کا عنوان تھا:

’’احمدیہ تحریک، آئرلینڈ کو حلقہ بگوش اسلام کرنے کی تیاری کر رہی ہے۔‘‘

اس رپورٹ میں بڑے فخر سے کہا گیا ہے:

’’اس جماعت کے مشہور ارکان میں سے سر ظفراللہ خان ہیں جو کہ پاکستان کے سابق وزیرِ خارجہ اور سابق صدر اقوامِ متحدہ اور عالمی عدالتِ انصاف کے ہیں، اس کے علاوہ پروفیسر عبدالسلام ہیں جنہوں نے فزکس میں نوبل اِنعام حاصل کیا ہے۔‘‘

(قادیانی اخبار روزنامہ ’’الفضل‘‘ ربوہ ۲۶؍اکتوبر ۱۹۸۰ء)

ب: ... قادیانی اُمت کو ڈاکٹر عبدالسلام قادیانی پر یہ فخر بھی ہے کہ وہ جہاں جاتا ہے قادیانیت کی تبلیغ ضرور کرتا ہے:

’’انہوں نے دِین (قادیانیت) کو دُنیا پر ہمیشہ مقدم رکھا، اور سائنس دانوں اور بڑے بڑے لوگوں تک احمدیت کا پیغام پہنچایا، شاہِ سویڈن کو نوبل اِنعام حاصل کرنے کے دنوں میں قرآنِ کریم (کا قادیانی ترجمہ) اور حضرت مسیحِ موعود (مرزا غلام احمد قادیانی) کے اِقتباسات کا انگریزی ترجمہ پہنچاکر آئے۔ اسی طرح شاہ حسن کو مراکش میں (قادیانی) لٹریچر دے کر آئے۔‘‘

(کتابچہ ’’ڈاکٹر عبدالسلام‘‘ از محمود مجیب اصغر ص:۵۶)

اٹلی میں ڈاکٹر عبدالسلام قادیانی نے ایک سائنسی اِدارہ قائم کر رکھا ہے، اس کے ذریعے بھی قادیانیت کی تبلیغ کا کام لیا جاتا ہے، چنانچہ قادیانی ماہنامہ ’’تحریک جدید‘‘ ربوہ بابت ماہ اکتوبر ۱۹۸۵ء میں قادیانیوں کے موجودہ سربراہ مرزا طاہر احمد قادیانی کے دورۂ اِٹلی کی رپورٹ شائع ہوئی ہے، جس میں کہا گیا ہے:

30

’’حضور (مرزا طاہر) نے فرمایا، اٹلی میں پہلے بھی جماعت کے نمائندے بھجوا کر اِٹلی کو جماعت سے متعارف کرانے کی کوشش کی گئی تھی، اور اَب ڈاکٹر عبدالسلام صاحب کے ذریعے سے بھی ایک تقریب کا بندوبست کیا گیا جس میں توقع سے زیادہ معززین تشریف لائے جو کہ پہلے احمدیت سے متعارف نہ تھے، اس میں ٹیلی ویژن کے نمائندے بھی موجود تھے۔‘‘

(تحریک جدید ربوہ ص:۷، اکتوبر ۱۹۸۵ء)

ج: ... قادیانیوں کی طرف سے اعلان کیا جارہا ہے کہ پندرھویں صدی ہجری حقیقی اسلام (قادیانیت) کے غلبے کی صدی ہوگی، اور ان کے منصوبے کے مطابق قادیانیت کا یہ غلبہ سائنس کے ذریعے ہوگا۔ قادیانی اخبار ’’الفضل‘‘ کا یہ اِقتباس جو پہلے نقل ہوچکا ہے، اسے ایک بار پھر پڑھ لیجئے!

’’عالمِ اسلام کے قابلِ فخر سپوت اور اَحمدیت یعنی حقیقی اسلام کے فدائی نوبل اِنعام یافتہ سائنس دان ڈاکٹر عبدالسلام صاحب نے کہا کہ سائنس کے میدان میں اسلام کی کھوئی ہوئی عظمت حاصل کرنے کا صرف یہی طریق ہے کہ ہمارے احمدی نوجوان ان علوم میں درجہ کمال کو پہنچیں ......۔۔

محترم ڈاکٹر سلام صاحب نے کہا کہ ہماری جماعت اسلام کے احیاء کے لئے کھڑی ہوئی ہے، اس لئے ہمیں چاہئے کہ دیگر علوم کے علاوہ سائنسی علوم میں بھی آگے بڑھیں اور کمال حاصل کریں۔‘‘

(’’الفضل‘‘ ربوہ ۱۳؍نومبر ۱۹۷۹ء)

پس ڈاکٹر عبدالسلام قادیانی کی طرف سے ’’اسلامی سائنس فاؤنڈیشن‘‘ کے نام پر جو رقمیں اسلامی ممالک سے وصول کی جارہی ہیں ان کا ایک اہم مقصد خود مسلمانوں ہی کے پیسے سے قادیانیت کی تبلیغ اور اسے دُنیا میں غالب کرنے کی کوشش ہے۔ جتنے نوجوان

31

سائنسی علوم کی تکمیل کے لئے ڈاکٹر عبدالسلام قادیانی کے قائم کردہ، یا اس کے زیرِ اثر اِداروں سے رُجوع کریں گے، ان کو ہر ممکن قادیانیت کا انجکشن دینے کی کوشش کی جائے گی، اور ان کی ترقیات کا معیار یہ قرار دیا جائے گاکہ وہ قادیانیت کے حق میں کتنے مخلص ہیں۔

ڈاکٹر عبدالسلام قادیانی اور پاکستان:

بہت سے مسلمان، قادیانیوں کے بارے میں رواداری اور فراخ دِلی کا مظاہرہ کرتے ہیں، چنانچہ یہی مظاہرہ ڈاکٹر عبدالسلام قادیانی کے بارے میں بھی کیا گیا۔ بعض حضرات کا اِستدلال یہ ہے کہ ڈاکٹر عبدالسلام قادیانی کا عقیدہ و مذہب کچھ ہی ہو، بہرحال وہ پاکستانی ہیں، اور ان کو نوبل اِنعام کا اِعزاز ملنا پاکستان اور اہلِ پاکستان کے لئے بہرصورت لائقِ فخر ہے۔ چنانچہ ہمارے ملک کی ایک معروف سیاسی شخصیت نے روزنامہ ’’جنگ‘‘ کے کالم ’’مشاہدات و تأثرات‘‘ میں اس پر اِظہارِ خیال کرتے ہوئے تحریر فرمایا:

’’پاکستان کے نوبل پرائز اِنعام یافتہ سائنس دان ڈاکٹر عبدالسلام بھی انہیں دنوں عمان میں تھے، ناشتے کی ایک دعوت میں ان سے بھی ملاقات ہوئی، جب وہ پاکستان کی اٹامک انرجی میں کام کر رہے تھے، تو انہیں ایک دو بار کابینہ میں اپنا کیس پیش کرتے ہوئے سنا تھا۔ انتہائی قابل اور فاضل آدمی ہیں، اور خلیق اور متواضع بھی۔ مسلک ان کا کچھ بھی ہو، لیکن پاکستان کے رشتے سے عالمی سطح پر ان کی سائنسی مہارت کا جو اِعتراف ہوا ہے اس سے قدرۃً ہم سب کو خوشی ہونی چاہئے۔ علم، علم ہے، اس پر نہ کسی عقیدہ اور مذہب کی چھاپ لگائی جاسکتی ہے، نہ مشرق و مغرب کی، یہ تو روشنی اور ہوا کی طرح پوری انسانیت کا مشترکہ ورثہ ہے۔‘‘

(’’جنگ‘‘ کراچی ۱۴؍مئی ۱۹۸۱ء)

قادیانی ہفت روزہ ’’لاہور‘‘ میں ایک صاحب کا مراسلہ شائع ہوا ہے جسے

32

’’لاہور‘‘ نے درج ذیل عنوان کے تحت درج کیا ہے:

’’جاہل مولویوں نے سائنس دُشمنی میں پاکستان کے عزت و وقار کو بھی خاک میں رولنا شروع کردیا ہے۔‘‘

مراسلہ نگار نے، جو اپنے آپ کو ایک ’’سیدھا سادا مسلمان‘‘ کہتے ہیں، اس مراسلے میں کچھ زیادہ ہی ’’سیدھے پن‘‘ کا مظاہرہ کیا ہے، ان کا اِقتباس ملاحظہ فرمائیے:

’’ڈاکٹر عبدالسلام کا کس مسلک سے جذباتی تعلق ہے، یہ میرا مسئلہ نہیں، میرا مسئلہ صرف یہ ہے کہ عبدالسلام نے فزکس میں نوبل پرائز حاصل کرکے پاکستان کو بین الاقوامی سطح پر عزت و مرتبہ بخشا ہے۔ انہیں صدر جنرل ضیاء الحق نے مبارک باد کا پیغام دیا ہے۔ اور ہمارے ریڈیو اور ٹیلی ویژن نے بار بار خبرناموں میںکہا ہے کہ وہ پہلے مسلمان ہیں جنہوں نے یہ بین الاقوامی اعزاز حاصل کیا ہے۔ لیکن مجھے تکلیف صرف اس بات کی ہوئی ہے کہ سرکاری مساجد کے اَئمہ کو جو خود بھی باقاعدہ سرکاری ملازم ہیں، کس نے چابی بھردی ہے کہ وہ ڈاکٹر عبدالسلام کی ذات پر کیچڑ اُچھال اُچھال کر بالواسطہ پاکستان کی توہین کے مرتکب ہوں۔

بقر عید پر وزارتِ مذہبی اُمور کے زیرِ اہتمام اسلام آباد کی مرکزی جامع مسجد المعروف ’’لال مسجد‘‘ کے پیش اِمام نے نماز سے قبل اپنی تقریر میں ڈاکٹر عبدالسلام کی ذات پر جو رکیک حملے کئے، معلوم نہیں ان کا سنتِ اِبراہیمی سے کیا تعلق تھا۔ یا سننے والوں کو کتنا ثواب حاصل ہوا۔ پیش اِمام نے (غالباً اس کا نام مولانا عبداللہ ہے) جوشِ خطابت میں یہ تک کہہ دیا کہ:

’’عبدالسلام چونکہ مرزائی ہے، اس لئے وہ کافر ہے، اور اسے یہ نوبل پرائز صرف اس لئے دیا گیا ہے کہ اس نے پاکستان کے

33

بعض اہم راز اسمگل کرکے یہودیوں کے حوالے کردئیے تھے۔‘‘

یہ تو اَب سرکاری اِدارے ہی اس ۱۷ گریڈ کے پیش اِمام سے انکوائری کرسکتے ہیں، اسے یہ انفارمیشن کہاں سے ملی کہ ڈاکٹر عبدالسلام نے راز اسمگل کرکے نوبل پرائز حاصل کیا ہے۔ لیکن صدمے کی بات صرف یہ ہے کہ جاہل مولویوں نے اپنی سائنس دُشمنی میں پاکستان کے عزت و وقار کو بھی منبرِ رسول پر کھڑے ہوکر خاک میں رولنا شروع کردیا ہے۔ اور ان کی کوئی بازپرس نہیں ہوتی۔ آخر عید کے اس اِجتماع میں غیرملکی مسلمان سفارت کاروں کی بھی ایک کثیر تعداد موجود تھی۔

اگر مولویوں کا یہ فتویٰ مان بھی لیا جائے، کہ ڈاکٹر عبدالسلام کافر ہے، تو پھر مولویوں کو یہ اِحساس تو ہونا چاہئے کہ وہ کافر بھی اوّل و آخر پاکستانی ہے، اور اس کو ملنے والا اِعزاز اصل میں پاکستان کو ملنے والا اِعزاز ہے۔‘‘

(ہفت روزہ ’’لاہور‘‘ لاہور ۱۱؍نومبر ۱۹۷۹ء ص۴)

ڈاکٹر عبدالسلام قادیانی واقعی پاکستانی ہے، لیکن اس کی نظر میں خود پاکستان کی کیا عزت و حرمت ہے؟ اس کا اندازہ اس سے ہوسکتا ہے کہ وہ یحییٰ خان اور مسٹر بھٹو کے دور میں صدرِ پاکستان کا سائنسی مشیر تھا، لیکن جب ۱۹۷۴ء میں پاکستان قومی اسمبلی نے آئینی طور پر قادیانیوں کو غیرمسلم اقلیت قرار دیا تو یہ صاحب اِحتجاجاً لندن جابیٹھے اور جب مسٹر بھٹو نے اس کو ایک سائنس کانفرنس میں شرکت کی دعوت بھجوائی تو پاکستان کے بارے میں نہایت گندے اور توہین آمیز ریمارکس لکھ کر دعوت نامہ واپس بھیج دیا۔

ہفت روزہ ’’چٹان‘‘ کا درج ذیل اقتباس ملاحظہ فرمائیے:

’’مسٹر بھٹو کے دور میں ایک سائنسی کانفرنس ہو رہی تھی، کانفرنس میں شرکت کے لئے ڈاکٹر سلام کو دعوت نامہ بھیجا گیا، یہ ان

34

دنوں کی بات ہے جب قومی اسمبلی نے آئین میں قادیانیوں کو غیرمسلم قرار دے دیا تھا، یہ دعوت نامہ جب ڈاکٹر سلام کے پاس پہنچا تو انہوں نے مندرجہ ذیل ریمارکس کے ساتھ اسے وزیراعظم سیکریٹریٹ کو بھیج دیا:

ترجمہ: ... ’’میں اس لعنتی ملک پر قدم نہیں رکھنا چاہتا، جب تک آئین میں کی گئی ترمیم واپس نہ لی جائے۔‘‘

مسٹر بھٹو نے جب یہ ریمارکس پڑھے تو غصّے سے ان کا چہرہ سرخ ہوگیا، انہوں نے اشتعال میں آکر اسی وقت اسٹیبلشمنٹ ڈویژن کے سیکریٹری وقار احمد کو لکھا کہ ڈاکٹر سلام کو فی الفور برطرف کردیا جائے اور بلاتاخیر نوٹیفکیشن جاری کردیا جائے۔ وقار احمد نے یہ دستاویز ریکارڈ میں فائل کرنے کے بجائے اپنی ذاتی تحویل میں لے لی تاکہ اس کے آثار مٹ جائیں۔ وقار احمد بھی قادیانی تھے، یہ کس طرح ممکن تھا کہ اتنی اہم دستاویز فائلوں میں محفوظ رہتی۔‘‘

(ہفت روزہ ’’چٹان‘‘ لاہور شمارہ۲۲ جون ۱۹۸۶ء)

کیا ایسا شخص جو پاکستان کے بارے میں ایسے توہین آمیز اور ملعون الفاظ بکتا ہو، اس کا اِعزاز پاکستان اور اہلِ پاکستان کے لئے موجبِ مسرّت اور لائقِ مسرّت ہوسکتا ہے؟

  1. غنی روز سیاہ پیر کنعان را تماشا کن

    کہ نور نویدہ اش روشن کند چشم زلیخا را

اپریل ۱۹۸۴ء میں صدر جنرل محمد ضیاء الحق نے اِمتناعِ قادیانیت آرڈی نینس جاری کیا، جس کی رُو سے قادیانیوں کو مسلمان کہلانے اور شعائرِ اِسلامی کا اظہار کرکے مسلمانوں کو دھوکا دینے پر پابندی عائد کردی گئی، قادیانیوں کا نام نہاد ’’بہادر خلیفہ‘‘ اس آرڈی نینس کے نفاذ کے بعد راتوں رات بھاگ کر لندن جابیٹھا۔ وہاں پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد کے مقابلے میں ایک جعلی ’’اسلام آباد‘‘ بناکر پاکستان اور اہلِ

35

پاکستان کو ’’دُشمن‘‘ کا خطاب دے کر ان کے خلاف جنگ کا بگل بجارہا ہے، اور قادیانیوں کو پاکستان کے امن کو آگ لگانے کی تلقین کر رہا ہے۔ قادیانیوں کا دوماہی پرچہ جو ’’مشکوٰۃ‘‘ کے نام سے قادیان (انڈیا) سے شائع ہوتا ہے، اس میں ’’پیغامِ اِمام جماعت کے نام‘‘ کے عنوان سے مرزا طاہر قادیانی کا پیغام دُنیا بھر کی جماعت ہائے احمدیہ کے نام شائع ہوا ہے، اس کے چند فقرے ملاحظہ فرمائیے:

’’جس لڑائی کے میدان میں ’’دُشمن‘‘ نے ہمیں دھکیلا ہے یہ آخری جنگ نظر آتی ہے، اور اِن شاء اللہ ہمارے دُشمنوں کو اس میں بُری طرح شکست ہوگی۔‘‘ (اِن شاء اللہ قادیانیوں کی سینکڑوں پیش گوئیوں کی طرح یہ پیش گوئی بھی جھوٹی نکلے گی ...ناقل)۔

(دوماہی ’’مشکوٰۃ‘‘ قادیان ص:۷)

’’دُشمن سے ہماری جنگ کا یہ اِنتہائی اہم اور فیصلہ کن مقام ہے۔‘‘

(ص:۷)

’’یہ وہ آخری مقام ہے جہاں دُشمن پہنچ چکا ہے۔‘‘

(ص:۷)

’’تمام جماعت کو برقی رفتار کے ساتھ اس لڑائی میں شامل ہونا چاہئے۔‘‘

(ص:۸)

’’یہ ایک لڑائی کا بگل ہے جو بجایا جاچکا ہے، اس کی آواز ہمیں ہر طرف پھیلانی ہے، اور اس پیغام کو دُنیا کے ہر کونے میں پہنچانا ہے۔‘‘

(ص:۸)

’اور اسلام آباد (پاکستان) کے حکمران اس آواز کی گونج کو سن کر بے بس اور پسپا ہوجائیں۔‘‘

(ص:۸)

صدرِ پاکستان جنرل محمد ضیاء الحق کو للکارتے ہوئے یہ بہادر ...لیکن بھگوڑا... قادیانی خلیفہ کہتا ہے:

’’پس یہ ناپاک تحریک جو صدر ضیاء الحق کی کوکھ سے جنم

36

لے رہی ہے اور وہ یہاں بھی ذمہ دار ہیں اس کے، اور قیامت کے دن بھی اس کے ذمہ دار ہوں گے، اور نہ کوئی دُنیا کی طاقت ان کو بچاسکے گی، اور نہ مذہب کی طاقت ان کو بچاسکے گی، کیونکہ آج انہوں نے خدا کی عزت و جلال پر حملہ کیا ہے، آج محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاک نام کے تقدس پر وہ شخص حملہ کربیٹھا ہے۔‘‘

(ص:۱۳)

(قارئین! مرزا طاہر قادیانی کو معذور سمجھیں کہ انہیں جوشِ خطابت میں مبتدا کے بعد خبر کا ہوش نہیں رہا، یعنی ’’پس یہ ناپاک تحریک‘‘ سے جو مبتدا شروع ہوا تھا، فرطِ جوش پر اس کی خبر ہی غائب ہوگئی، جوش میں ہوش کہاں...؟)

جملۂ معترضہ کے طور پر مرزا طاہر جس ’’ناپاک تحریک‘‘ کی طرف اشارہ کر رہا ہے، اس کی مختصر وضاحت بھی ضروری ہے۔ اپریل ۱۹۸۴ء میں قادیانیوں پر یہ پابندی عائد کردی گئی تھی کہ چونکہ آئین کی رُو سے وہ غیرمسلم ہیں، اس لئے نہ اسلام کے مقدس الفاظ کا اِستعمال کرسکتے ہیں، اور نہ کسی طریقے سے اپنے آپ کو مسلمان ظاہر کرسکتے ہیں۔ قادیانیوں نے اس آرڈی نینس کی مخالفت کی یہ صورت نکالی کہ اپنی عبادت گاہوں پر، گھروں پر، دُکانوں پر، گاڑیوں پر اور خود اپنے سینوں پر کلمۂ طیبہ کے کتبے لگانے لگے، مسلمانوں کے لئے ان کا یہ طرزِ عمل چند وجہ سے ناقابلِ برداشت ہے۔

اوّل: ... قادیانیوں کی یہ کارستانی اپنے آپ کو مسلمان ظاہر کرنے اور قانون کا منہ چڑانے کے لئے ہے، اس لئے انہیں اس کی اجازت نہیں ہونی چاہئے۔

دوم: ... ان کی عبادت گاہیں جو کفر و اِلحاد کا مرکز ہونے کی وجہ سے نجس ہیں، اور ان کے سینے جو کافر کی قبر سے زیادہ تنگ و تاریک اور سیاہ ہیں، ان پر کلمۂ طیبہ کا آویزاں کرنا اس پاک کلمے کی توہین ہے، اور اس کی مثال ایسی ہے کہ کوئی شخص ...نعوذباللہ... بیت الخلاؤں پر کلمۂ طیبہ لکھنے لگے، یقینا اس کو کلمۂ طیبہ کی توہین کا مرتکب اور لائقِ تعزیر قرار دیا جائے گا، اور گندی جگہوں سے کلمۂ طیبہ کا مٹانا دراصل کلمے کی توہین نہیں بلکہ عین ادب ہے۔

37

سوم: ... مرزا غلام احمد قادیانی کا دعویٰ ہے کہ وہ حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثتِ ثانیہ کا مظہر ہونے کی وجہ سے ...نعوذباللہ... خود ’’محمد رسول اللہ‘‘ ہے، چنانچہ ’’ایک غلطی کا اِزالہ‘‘ میں لکھتا ہے:

’’محمد رسول اللہ والذین معہ اشدآء علی الکفار رحمآء بینھم۔ اس وحیٔ اِلٰہی میں میرا نام محمد رکھا گیا اور رسول بھی۔‘‘

(رُوحانی خزائن ج:۱۸ ص:۲۰۷)

قادیانی، جب کلمۂ طیبہ ’’لا اِلٰہ اِلَّا اللہ محمد رسول اللہ‘‘ پڑھتے ہیں تو لامحالہ ان کے ذہن میں مرزا کا یہ دعویٰ بھی ہوتا ہے، اس لئے وہ مرزا قادیانی کو کلمے کے مفہوم میں داخل جانتے ہیں بلکہ اسے ’’محمد رسول اللہ‘‘ کا مصداق سمجھتے ہیں اور یہی سمجھ کر کلمہ پڑھتے ہیں، چنانچہ مرزا بشیر احمد قادیانی نے لاہوری جماعت کا یہ سوال نقل کرکے کہ ’’اگر مرزا نبی ہے تو تم اس کا کلمہ کیوں نہیں پڑھتے؟‘‘ اس کا یہ جواب دیا ہے:

’’محمد رسول اللہ کا نام کلمے میں تو اس لئے رکھا گیا ہے کہ آپ نبیوں کے سرتاج اور خاتم النبیین ہیں، اور آپ کا نام لینے سے باقی سب نبی خود اندر آجاتے ہیں، ہر ایک کا علیحدہ نام لینے کی ضرورت نہیں ہے۔ ہاں حضرت مسیحِ موعود کے آنے سے ایک فرق ضرور پیدا ہوگیا ہے، اور وہ یہ ہے کہ مسیحِ موعود کی بعثت سے پہلے تو ’’محمد رسول اللہ‘‘ کے مفہوم میں صرف آپ سے پہلے گزرے ہوئے انبیاء شامل تھے، مگر مسیحِ موعود کی بعثت کے بعد ’’محمد رسول اللہ‘‘ کے مفہوم میں ایک اور رسول کی زیادتی ہوگئی، لہٰذا مسیحِ موعود کے آنے سے نعوذباللہ ’’لا اِلٰہ اِلَّا اللہ محمد رسول اللہ‘‘ کا کلمہ باطل نہیں ہوتا بلکہ اور بھی زیادہ شان سے چمکنے لگ جاتا ہے۔ غرض اب بھی اسلام میں داخل ہونے کے لئے یہی کلمہ ہے، صرف فرق اتنا ہے کہ مسیحِ موعود کی آمد نے ’’محمد رسول اللہ‘‘ کے مفہوم میں ایک رسول کی زیادتی کردی ہے اور بس۔

38

علاوہ اس کے اگر ہم بفرضِ محال یہ بات مان بھی لیں کہ کلمہ شریف میں نبی کریمؐ کا اسم مبارک اس لئے رکھا گیا ہے کہ آپ آخری نبی ہیں تو تب بھی کوئی حرج واقع نہیں ہوتا، اور ہم کو نئے کلمے کی ضرورت پیش نہیں آتی کیونکہ مسیحِ موعود نبی کریمؐ سے کوئی الگ چیز نہیں ہے جیسا کہ وہ خود فرماتا ہے: ’’صار وجودی وجودہ‘‘ نیز ’’من فرق بینی وبین المصطفیٰ فما عرفنی وما رایٰ‘‘ اور یہ اس لئے ہے کہ اللہ تعالیٰ کا وعدہ تھا کہ وہ ایک دفعہ اور خاتم النبیین کو دُنیا میں مبعوث کرے گا، جیسا کہ آیت آخرین منہم سے ظاہر ہے، پس مسیحِ موعود خود محمد رسول اللہ ہے، جو اِشاعتِ اسلام کے لئے دوبارہ دُنیا میں تشریف لائے، اس لئے ہم کو کسی نئے کلمے کی ضرورت نہیں، ہاں اگر محمد رسول اللہ کی جگہ کوئی اور آتا تو ضرورت پیش آتی۔‘‘

(کلمۃ الفصل ص:۱۵۸ مؤلفہ مرزا بشیر احمد قادیانی مندرجہ ریویو آف ریلیجنز قادیان مارچ و اپریل ۱۹۱۵ء)

پس چونکہ مرزا غلام احمد قادیانی کا یہ دعویٰ ہے کہ خدا نے اسے ’’محمد رسول اللہ‘‘ بنایا ہے اور چونکہ قادیانی اس کے اس کفریہ دعوے کی تصدیق کرتے ہیں، اور چونکہ وہ کلمۂ طیبہ ’’لا اِلٰہ اِلَّا اللہ محمد رسول اللہ‘‘ کے مفہوم میں مرزا قادیانی کو داخل مانتے ہیں، اور ’’محمد رسول اللہ‘‘ سے مرزا قادیانی مراد یتے ہیں، اس سے معمولی عقل و فہم کا آدمی بھی سمجھ سکتا ہے کہ وہ کلمۂ طیبہ کا بیج لگاکر توہینِ رسالت کے مرتکب ہوتے ہیں۔

آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے منافقوں کی مسجدِ ضرار کو گرانے، جلانے اور اسے کوڑے کرکٹ کے ڈھیر میں تبدیل کرنے کا جو حکم دیا تھا، اگر وہ صحیح ہے ...اوربلاشبہ صحیح ہے، یقینا صحیح ہے، قطعاً صحیح ہے... تو قادیانی منافقوں کی وہ مسجد نما عمارت جس پر کلمۂ طیبہ کندہ ہو اسے منہدم کرنے، جلانے اور کوڑے کرکٹ کے ڈھیر میں تبدیل کرنے کا مطالبہ کیوں غلط ہے؟ اور اس سے بھی کم تر یہ مطالبہ کہ مسجدِ ضرار کے ان چربوں پر کلمۂ طیبہ نہ لکھا جائے، آخر

39

کس منطق سے غلط ہے...؟

الغرض پاکستان میں چونکہ قادیانیوں کا کفر و نفاق کھل چکا ہے، ان کو کلمۂ طیبہ کے کتبے لگالگاکر مسلمانوں کو دھوکا دینے، کلمۂ طیبہ کی توہین کرنے اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی عزّت و حرمت سے کھیلنے میں دُشواریاں پیش آرہی ہیں، مسلمان ان کے غلیظ عقائد پر مطلع ہونے کے بعد ان کی ان مذبوحی حرکات کو برداشت نہیں کرتے اس لئے ڈاکٹر عبدالسلام قادیانی، پاکستان کی سرزمین کو ...نعوذباللہ... ’’لعنتی ملک‘‘ کہنے سے نہیں شرماتا، اور اس کا مرشد مرزا طاہر قادیانی پاکستان کے خلاف ’’جنگ کا بگل‘‘ بجا رہا ہے اور پاکستان میں افغانستان کے حالات پیدا کرنے کی دھمکیاں دے رہا ہے:

’’جماعتِ احمدیہ کے سربراہ مرزا طاہر احمد نے کہا کہ اگر اس خطے میں ظلم جاری رہا (یعنی قادیانیوں کو یہ اجازت نہ دی گئی کہ وہ کلمۂ طیبہ کے کتبے لگاکر مسلمانوں کو دھوکا دیتے رہیں ...ناقل) تو ہوسکتا ہے کہ وہاں ایسے حالات پیدا ہوں جیسے افغانستان میں پیدا ہوئے۔‘‘

(قادیانی اخبار ہفت روزہ ’’لاہور‘‘ ص:۱۳ ۲۰؍اپریل ۱۹۸۵ء)

اسی کے ساتھ وہ پورے عالمِ اسلام کو دعوت دے رہا ہے کہ پاکستان کے خلاف زہر اُگلنے کے کام میں قادیانیوں کے ساتھ شریک ہوجائے، اگر تم نے ایسا نہ کیا تو:

’’ہمیشہ تمہارا نام لعنت کے ساتھ یاد کیا جاتا رہے گا۔‘‘

(قادیانی پرچہ دوماہی ’’مشکوٰۃ‘‘ قادیان مئی وجون ۱۹۸۵ء ص:۱۴)

ان تمام حقائق کو سامنے رکھ کر اِنصاف کیجئے کہ ڈاکٹر عبدالسلام قادیانی کا نوبل اِنعام کسی پاکستانی کے لئے یا عالمِ اسلام کے کسی مسلمان کے لئے لائقِ فخر اور موجبِ مسرّت ہوسکتا ہے...؟

ہمارے جدید طبقے کی رائے یہ ہے کہ عبدالسلام قادیانی کا عقیدہ و مذہب خواہ کچھ ہو، ہمیں اس کی سائنسی مہارت کی تعریف کرنی چاہئے اور اس کے عقیدہ و مذہب سے صَرفِ نظر کرنا چاہئے۔ چنانچہ ہمارے ملک کے ایک معروف اِدارے سے شائع ہونے

40

والے پرچے میں ڈاکٹر عبدالسلام قادیانی کی تعریف میں بہت کچھ لکھا گیا تھا، ایک دردمند مسلمان نے اس پر اس اِدارے کے سربراہ کو خط لکھا، پاکستان کی اس معروف ترین شخصیت کی جانب سے اس کے خط کا جو جواب ملا، اس میں مندرجہ بالا نقطئہ نظر پیش کیا گیا ہے، ضروری تمہید کے بعد جوابی خط کا متن یہ ہے:

’’ڈاکٹر عبدالسلام کے سلسلے میں آپ نے جو لکھا ہے اس میں جذبات کی شدّت ہے، لیکن آپ سوچیں تو ایک مسلمان کی حیثیت سے ہمیں روادار اور کشادہ دِل ہونا چاہئے۔ غیرملکیوں اور غیرمذہب کے سائنس دانوں اور دُوسرے بہت سے ماہرین کے متعلق ہم روزانہ تحریریں پڑھتے رہتے ہیں، ان کی اچھی باتوں کی تعریف کرتے ہیں، ان کے کارناموں کی قدر کرتے ہیں، ان کی ایجادات سے فائدہ اُٹھاتے ہیں، پھر ان کے متعلق دُوسری تمام باتیں لکھتے ہیں، لیکن یہ کہیں نہیں لکھتے کہ ان کا مذہب کیا ہے یا کیا تھا، کیونکہ ہمیں اس سے غرض نہیں ہوتی، ہم تو ان کی صرف ان باتوں سے سروکار رکھتے ہیں جو انہوں نے انسانوں اور دُنیا کے فائدے کے لئے کئے، یقین ہے کہ آپ مطمئن ہوجائیں گے۔‘‘

یہ نقطئہ نظر واقعی اسلامی فراخ قلبی کا مظہر ہے، اور ہم بھی تہہ دِل سے اس کے حامی و مؤید ہیں، لیکن اگر کوئی صاحبِ کمال اسلامی مفادات کی جڑیں کاٹتا ہو، اگر اس کے اور اس کی جماعت کے رویے سے اسلامی ممالک کو خطرات لاحق ہوں، اگر وہ اپنے کمال کو اپنے باطل مذہب کی اشاعت اور مسلمان نوجوانوں کو مرتد بنانے کے لئے استعمال کرتا ہو تو اس کے کمال کے اعتراف کے ساتھ ساتھ اس سے لاحق خطرات سے قوم کو آگاہ کرنا بھی اہلِ فکر و نظر کا فریضہ ہونا چاہئے۔

ڈاکٹر عبدالسلام قادیانی ہے، قادیانیت کا پُرجوش داعی و مبلغ ہے، اس کی جماعت اور اس کا پیشوا ہمیشہ سے مسلمانوں کا حریف اور اَعدائے اسلام کا حلیف رہا ہے، وہ پاکستان

41

کے خلاف جنگ کا بگل بجا رہا ہے، اور وہ پورے عالمِ اسلام کو قادیانیوں کے موقف کی تائید نہ کرنے کی وجہ سے لعنتی قرار دے رہا ہے، اور وہ پوری دُنیا میں یہ جھوٹا شور و غوغا کر رہا ہے کہ پاکستان میں قادیانیوں پر ظلم ہو رہا ہے، کیا مسلمانوں کے ایسے دُشمن کی تعریف کرنا، جس سے عالمِ اسلام کو خطرات لاحق ہوں، اسلامی عزّت و حمیت کا مظہر ہے...؟

مندرجہ بالا خط میں جس طبقے کی نمائندگی کی گئی ہے، ہمیں افسوس ہے کہ وہ جوشِ رواداری میں اِسلامی غیرت و حمیت کے تقاضوں کو پشت انداز کر رہا ہے، اور اس طبقے میں تین قسم کے لوگ شامل ہیں:

اوّل وہ ناواقف اور جاہل لوگ جو نہیں جانتے کہ قادیانیوں کے عقائد و نظریات کیا ہیں؟ اور ان کے دِلوں میں اسلام اور مسلمانوں کے خلاف بغض و عداوت کے کیسے جذبات موجزن ہیں۔

دُوسری قسم وہ تعلیم یافتہ طبقہ ہے، جو ملحد و لادِین ہے، جس کو دِین اور اہلِ دِین سے بغض و نفرت ہے، اور دِین سے بیزاری اس کے نزدیک گویا فیشن میں داخل ہے، وہ مذہب کی بنیاد پر اَفراد او رملتوں کی تقسیم ہی کا قائل نہیں۔ وہ مؤمن و کافر، اِیمان دار اور بے ایمان، اہلِ حق اور اہلِ باطل سب کو ایک ہی آنکھ سے دیکھتا، اور ایک ہی ترازو سے تولتا ہے، اس کے نزدیک دِین اور دِین داری کا نام لینا ہی سب سے بڑا جرم ہے۔

تیسری قسم ان لوگوں کی ہے جو دِین پسند کہلاتے ہیں، دِینی موضوعات اور اِصلاحِ معاشرہ پر بڑے بڑے مقالے تحریر فرماتے ہیں، بظاہر اِسلام کے نقیب اور داعی نظر آتے ہیں، لیکن ان کے نزدیک دِین بس اسی نعرہ بازی اور مقالہ نگاری کا نام ہے۔ انہیں اپنی قومی وملّی مصروفیات کے ہجوم میں کبھی اہلِ دِین اور اہلِ دِل کی صحبت کا موقع نہیں ملا، اس لئے ان کے حریمِ قلب میں دِینی حمیت و غیرت کے بجائے مصلحت پسندی کا سکہ رائج ہے، اور یہ حضرات بڑی معصومیت سے رواداری اور کشادہ دِلی کا وعظ فرماتے رہتے ہیں، لیکن ان کا یہ سارا وعظ خدا اور رسول اور دِین و ملت کے غداروں سے رواداری تک محدود ہے، اگر ان کی ذاتی املاک کو کوئی شخص نقصان پہنچائے، ان کی اپنی عزّت و ناموس پر حملہ

42

کرے، وہ رواداری کا سارا وعظ بھول جائیں گے، ان کی رَگِ حمیت پھڑک اُٹھے گی، ان کا جذبۂ اِنتقام بیدار ہوجائے گا، اور وہ اس موذی کو کیفرِ کردار تک پہنچاکر ہی دَم لیں گے۔ لیکن اگر کوئی خدا اور رسول کی عزّت پر حملہ آور ہو، دِین میں قطع و برید کرتا ہو، اکابرِ اُمت پر کیچڑ اُچھالتا ہو، اس کے خلاف ان کی زبان و قلم سے ایک حرف نہیں نکلے گا، بلکہ یہ حضرات ایسے موذیوں کا تعاقب کرنے والوں کو درسِ رواداری دینے لگیں گے۔ اس ’’دِین پسند‘‘ طبقے کو معلوم ہے کہ مرزا غلام احمد قادیانی خود کو ’’محمد رسول اللہ‘‘ کی حیثیت سے پیش کرتا ہے، وہ جانتے ہیں کہ قادیانی ٹولہ مرزا غلام احمد قادیانی کو ’’محمد رسول اللہ‘‘، ’’مسیحِ موعود‘‘ اور ’’مہدیٔ معہود‘‘ مانتا ہے، انہیں علم ہے قادیانی، اسلام اور مسلمانوں کے بدترین دُشمن اور خدا اور رسول کے غدار ہیں، وہ باخبر ہیں کہ تمام قادیانی پاکستان کو لعنتی سرزمین سمجھتے ہیں، اور پاکستان کی اِینٹ سے اِینٹ بجانے کے لئے بین الاقوامی سازشیں کر رہے ہیں، لیکن ان تمام اُمور کے باوجود یہ ’’دِین پسند‘‘ طبقہ قادیانیوں کے حق میں رواداری کا درس دیتا ہے۔ تاریخ بتاتی ہے کہ ایسی قومیں، جن میں مذکورہ بالا تین طبقات کی اکثریت ہو، وہ جلد یا بدیر تحلیل ہوکر رہ جاتی ہیں، خصوصاً تیسری قسم کے لوگ جو دِینی حمیت وغیرت سے خالی، اور اِحساس خود تحفظی سے عاری ہوں، وہ بہت جلد مقہور و محکوم ہوکر رہ جاتے ہیں۔

جیسا کہ اُوپر عرض کیا گیا، رواداری اور کشادہ دِلی کے ہم بھی قائل ہیں، لیکن اس رواداری کا یہ مطلب نہیں کہ میرا باپ حبیب الرحمن مرجائے، اور کل کو دُوسرا شخص آکر کہے کہ: ’’میں تمہارے باپ حبیب الرحمن مرحوم کا بروز ہوں، اور بعینہٖ حبیب الرحمن بن کر تمہارے پاس آیا ہوں، لہٰذا تمام حقوقِ پدری مجھ سے بجالاؤ‘‘ اور میں رواداری کا مظاہرہ کرتے ہوئے اس موذی کو باپ تسلیم کرلوں ــــ نہیں! ــــ بلکہ اگر مجھ میں ذرا بھی انسانی غیرت ہوگی تو میں اس ناہنجار کے جوتے رسید کروں گا۔

اب اس بے غیرتی اور دیوثی کا تماشا دیکھئے کہ ڈاکٹر عبدالسلام قادیانی کا باوا مرزا غلام احمد قادیانی کہتا ہے کہ میں ’’محمد رسول اللہ‘‘ ہوں، اور مسلمان کہلانے اور محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ماننے والے اس سے رواداری کا درس دیتے ہیں...!

43

قادیانیت

ایک دہشت پسند سیاسی تنظیم

بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ

اَلْحَمْدُ للہِ وَسَلَامٌ عَلٰی عِبَادِہِ الَّذِیْنَ اصْطَفٰی

عام طور سے قادیانیت کو صرف ایک مذہبی تحریک سمجھا جاتا ہے، جس کے عقائد و نظریات قرونِ وسطیٰ کے ’’قرامطہ‘‘ اور ’’باطنیہ‘‘ کے مماثل ہیں، لیکن قادیانیت کے آغاز اور اس کے نشوونما اور اس کی سرگرمیوں کے سیاسی آثار و نتائج کا جائزہ لیا جائے تو صاف نظر آتا ہے کہ قادیانیت ایک دہشت پسند خفیہ سیاسی تنظیم ہے، جس نے مخصوص اغراض و مصالح کی خاطر اپنے سیاسی چہرے پر مذہبیت کی نقاب پہن رکھی ہے۔ قادیانی سرگرمیوں کا محور ہمیشہ مندرجہ ذیل نکات رہے ہیں:

۱: ...مسلمانوں کی صف میں گھس کر ان میں انتشار و افتراق پیدا کرنا۔

۲: ...مسلمانوں کو ان کی مذہبی و سیاسی قیادت سے بدظن کرنا۔

۳: ...مسلمانوں کو ان کے مستقبل سے مایوسی دلانا۔

۴: ...مسلمانوں کے جذباتِ حریت و جہاد کو کچل کر انہیں مغربی استعمار کی ذہنی و جسمانی غلامی کے لئے تیار کرنا۔

۵: ...مسلمانوں کے عقائد میں شکوک و شبہات پیدا کرکے اسلام سے مایوس، متنفر اور برگشتہ کرنا۔

۶: ...انگریزی تسلط کو رحمتِ خداوندی بتاکر مسلمانوں کو ترکِ جہاد پر آمادہ کرنا۔

۷: ...مسلمانوں کے حریت پسند افراد کے کوائف انگریز کو مہیا کرنا۔

44

۸: ...ملتِ اسلامیہ کی سطوت و شوکت کو سبوتاژ کرکے اس کے ملبہ پر قادیانیت کا محل تعمیر کرنا۔

قادیانیوں نے مذکورہ بالا مقاصد کو ایسے مخفی طریقہ سے انجام دینے کی کوشش کی کہ مسلمانوں کو کانوں کان اس کی خبر نہ ہوسکے اور کسی کو قادیانیت کے اصل عزائم تک رسائی حاصل کرنے کا کوئی راستہ نہ مل سکے، یہی وجہ ہے کہ اگرچہ مذہبی محاذ پر قادیانیت کا شدید تعاقب کیا گیا، لیکن ان کی سیاسی سرگرمیاں عام نظروں سے اوجھل رہی ہیں، اور آج بھی ’’فری میسن تنظیم‘‘ کی طرح کسی کو کچھ خبر نہیں کہ قادیانیت اندرون خانہ کیا کچھ کر رہی ہے؟ ذیل میں حقائق و واقعات کا ایک مختصر خاکہ پیش کیا جاتا ہے۔

مغربی یورش اور اس کا رَدِّعمل:

اٹھارویں صدی عیسوی میں مغرب کے جارحانہ سیاسی و استعماری عزائم نے کروٹ لی اور چند سالوں میں پوری دنیا اس کے استعماری سیلاب کی زد میں آگئی، اور دنیا کی بہت سی آزاد ریاستیں مغرب کی نوآبادیات میں شامل ہوگئیں، انگریز، فرانسیسی اور پرتگالی درندے اسلامی ممالک کو تہ و بالا کرتے ہوئے آندھی کی طرح دنیا پر چھاگئے، اسلامی ممالک میں انگریز اور دیگر استعمار پسندوں کو مسلمانوں کی جانب سے ’’جہاد‘‘ کے تلخ تجربوں سے دوچار ہونا پڑا، مغربی استعمار نے مسلمانوں کے جذبہ جہاد کو کچلنے، انہیں فرنگی سیاست کے خارزار میں الجھانے اور صدیوں تک یورپ کی ذہنی غلامی میں محبوس رکھنے کے لئے متعدد اقدامات کئے، جن کی تفصیل کی یہاں گنجائش نہیں ہے، البتہ صرف ایک نکتہ ہماری بحث سے متعلق ہے اور وہ ہے ’’قادیانیت اور انگریز‘‘۔

غدار کی تلاش:

تاریخ شاہد ہے کہ مغربی اور انگریزی استعمار کا استحکام ان بے ضمیر افراد کا رہین منت ہے جنہوں نے مغرب کے کافرانہ نظام سے وفاداری اور اسلام اور وطن سے غداری میں کوئی جھجھک محسوس نہیں کی، اور جو ہر قوم و ملت کو اپنی ذاتی غرض کی خاطر غلام رکھنا چاہتے

45

تھے، شاطران افرنگ کو ہر ملک میں ایسے ضمیر فروشوں کی ہمیشہ ضرورت رہی اور وہ ان کی تلاش میں بڑی حد تک کامیاب بھی ہوئے۔

خود ہندوستان میں انگریزی راج کے قیام کے موقع پر اگر ایک طرف سلطان ٹیپو شہیدؒ اور سیّد احمد شہیدؒ ایسے مجاہدین، اسلام کی سربلندی کے لئے جاں بازی اور سر فروشی کی تاریخ اپنے خون سے رقم کر رہے تھے، تو دوسری طرف میرجعفر اور میرصادق ایسے غدارانِ اسلام، ضمیر فروشی میں نام پیدا کر رہے تھے۔ انگریز کے قدم سرزمین ہند میں راسخ ہوئے تو انہیں ہر سطح اور ہر طبقہ کے لوگ ’’سرکاری خدمات‘‘ کے لئے میسر آئے، لیکن بدقسمتی سے اب تک ایک ’’سرکاری نبی‘‘ کی نشست خالی تھی، انگریز ایسے ’’غدارِ اعظم‘‘ کی تلاش میں کس قدر سرگرداں تھا؟ اس کا انکشاف ایک برطانوی دستاویز ’’دی ارائیول آف برٹش امپائر ان انڈیا‘‘ سے ہوتا ہے، آغا شورش کاشمیری مرحوم ’’عجمی اسرائیل‘‘ میں اس دستاویز کے حوالے سے لکھتے ہیں:

’’اس راز کی گرہ ایک برطانوی دستاویز ’’دی ارائیول آف برٹش امپائر ان انڈیا‘‘ (برطانوی سلطنت کا ہندوستان میں ورود) سے کھلتی ہے، ۱۸۶۹ء میں انگلینڈ سے برطانوی مدبروں اور مسیحی راہنماؤں کا ایک وفد اس بات کا جائزہ لینے کے لئے ہندوستان پہنچا کہ ہندوستانی باشندوں میں برطانوی سلطنت سے وفاداری کا بیج کیونکر بویا جاسکتا ہے اور مسلمانوں کو رام کرنے کی صحیح ترکیب کیا ہوسکتی ہے؟ اس زمانہ میں جہاد کی روح مسلمانوں میں خون کی طرح دوڑ رہی تھی، اور یہی انگریزوں کے لئے پریشانی کا سبب تھا، اس وفد نے ۱۸۷۰ء میں دو رپورٹیں پیش کیں، ایک سیاست دانوں نے، ایک پادریوں نے، جو محولہ نام کے ساتھ یکجا شائع کی گئیں، اس مشترکہ رپورٹ میں درج ہے کہ:

’’ہندوستانی مسلمانوں کی اکثریت اپنے روحانی رہنماؤں

46

کی اندھادھند پیروکار ہے، اگر اس وقت ہمیں کوئی ایسا آدمی مل جائے جو ’’اپاسٹالک پرافٹ‘‘ (حواری نبی) ہونے کا دعویٰ کرے تو بہت سے لوگ اس کے گرد اکٹھے ہوجائیں گے، لیکن مسلمانوں میں سے ایسے کسی شخص کو ترغیب دینا مشکل نظر آتا ہے، یہ مسئلہ حل ہوجائے تو پھر ایسے شخص کی نبوّت کو حکومت کی سرپرستی میں بہ طریق احسن پروان چڑھایا جاسکتا اور کام لیا جاسکتا ہے، اب کہ ہم پورے ہندوستان پر قابض ہیں تو ہمیں ہندوستانی عوام اور مسلمان جمہور کی داخلی بے چینی اور باہمی انتشار کو ہوا دینے کے لئے اس قسم کے عمل کی ضرورت ہے۔‘‘

(عجمی اسرائیل ص:۱۹)

قادیان کا غدارِ اِسلام خاندان:

ہندوستان میں اگرچہ بہت سے لوگ انگریزی نظامِ کفر کے آلۂ کار تھے، لیکن قادیان میں ایک ایسا غدارِ اسلام مغل خاندان بھی موجود تھا جو اسلام اور کفر کی جنگ میں ہمیشہ کفر کی حمایت و رفاقت کا خوگر تھا، یہ قادیان کے ’’ظلّی نبی‘‘ (یا برطانوی دستاویز کی اصطلاح میں ’’حواری نبی‘‘) مرزا غلام احمد قادیانی کا خاندان تھا، چنانچہ:

۱: ...اس حواری نبی کا والد مرزا غلام مرتضیٰ اپنے بھائیوں سمیت سکھا شاہی دور میں سکھ فوج میں داخل ہوا، اور ایک پیادہ فوج کے کُمیدان کی حیثیت سے پشاور روانہ کیا گیا، اور وہاں اس نے ان مجاہدین اسلام کے سر قلم کئے جو سکھوں کے جور و ستم کو مٹانے اور اسلام کی سربلندی کے لئے برسرپیکار تھے۔

شاید بہت کم لوگوں کو معلوم ہوگا کہ سکھ فوج میں شامل ہوکر مرزا غلام مرتضیٰ نے جن مجاہدین اسلام کے سر قلم کئے وہ کون تھے؟ یہ تیرھویں صدی کے مجاہد امیرالمؤمنین سیّد احمد شہید بریلویؒ کی فوج تھی، جو شمال مغربی سرحد پر اسلام کی سربلندی کے لئے سکھوں کے مظالم کا صفایا کرنے کے لئے سربکف تھی، اور انگریزوں کے حواری نبی کا باپ اسلام اور کفر

47

کی اس جنگ میں کفر کا جرنیل تھا۔

۲: ...۱۸۵۷ء میں ہندوستان نے انگریزوں کو مار بھگانے کے لئے آخری جنگ لڑی، پورا ملک انگریزوں کے خلاف شعلہ جوالہ بنا ہوا تھا، لیکن قادیان کے مرزا غلام مرتضیٰ نے پچاس گھوڑوں اور جوانوں سے انگریز کو مدد دی تھی، جبکہ بقول مرزا غلام احمد قادیانی کے ان دنوں اس کے باپ کو بے حد معاشی تنگی تھی۔

۳: ...مرزا غلام مرتضیٰ کے بڑے لڑکے اور حواری نبی کے بڑے بھائی مرزا غلام قادر نے مشہور سفاک جنرل نکسن کی فوج میں ۴۶ نیو انفنٹری کے باغیوں کو بھون ڈالا اور ان باغیوں کو صرف گولی ہی سے نہیں اڑایا بلکہ ان کا مثلہ کیا، انہیں درختوں سے باندھ کر اعضا قطع کئے، ان کو نذر آتش کیا، ان پر ہاتھی پھرائے، ان کی ٹانگیں چیر کر رقص بسمل کا تماشا دیکھا۔

یہ وہی انگریز خونخوار جنرل تھا جو اپنی حکومت سے باغیوں کی زندہ کھال کھینچ لینے کی اجازت کے لئے قانون بنانے کا مطالبہ کر رہا تھا۔

مرزا غلام احمد نے نہ صرف ان جلادوں کی سفاکیوں پر صاد کیا ہے، بلکہ ان کے باپ اور بھائی نے ان معرکوں میں شامل ہوکر کفر کی جو حمایت کی تھی مرزا غلام احمد نے اس کو بڑے فخر و مباہات سے بار بار ذکر کیا ہے۔

مرزا غلام احمد نے اپنی کتابوں میں انگریز کے اعلیٰ افسروں کی ان ’’چٹھیات‘‘ کا ذکر بھی بڑے فخر سے کیا جن میں انہوں نے قادیان کے اس غدار اسلام خاندان کی جلیل القدر خدماتِ انگریزی کا اعتراف بڑی فراخ دلی سے کیا، مسٹر ولسن نے لکھا:

’’ہم خوب جانتے ہیں کہ بلاشک تمہارا خاندان سرکار انگریز کے ابتدائی عمل و دخل ہی سے گورنمنٹ انگریزی کی جاں نثاری، وفا کیشی پر ثابت قدم رہا ہے، تمہارے حقوق فی الواقعہ قابل قدر ہیں، جن کو کبھی فراموش نہیں کیا جاسکتا، موقع مناسب دیکھ کر تمہارے حقوق و خدمات پر توجہ کی جائے گی، تم لوگ ہمیشہ سرکار

48

انگریزی کے ہوا خواہ اور جاں نثار رہو، کیونکہ اس میں سرکار کی خوشنودی اور تمہاری بہبودی ہے۔‘‘

اور مسٹر رابرٹ کسٹ کمشنر لاہور نے لکھا:

’’چونکہ آپ ہمیشہ انگریز گورنمنٹ کے ہواخواہ، خیرخواہ، رفیق کار اور مددگار رہے، اس لئے اس خیرخواہی و خیرسگالی کے انعام میں تمہیں مبلغ دو صد روپیہ خلعت عطا کیا جاتا ہے۔‘‘

۵: ...مرزا غلام احمد قادیانی اپنے خاندان کی اسلام کے خلاف غداریوں پر شرمندہ نہیں، بلکہ اس پر فخر کرتے ہوئے لکھتا ہے:

’’میں ایک ایسے خاندان سے ہوں جو اس گورنمنٹ کا پکا خیرخواہ ہے، میرا والد غلام مرتضیٰ گورنمنٹ کی نظر میں ایک وفادار اور خیرخواہ آدمی تھا، جن کو دربار گورنری میں کرسی ملتی تھی، اور جن کا ذکر مسٹر گریفن کی تاریخ رئیسان پنجاب میں ہے، اور ۱۸۵۷ء میں انہوں نے اپنی طاقت سے بڑھ کر سرکار انگریزی کو مدد دی تھی، یعنی پچاس سوار اور گھوڑے بہم پہنچاکر عین زمانہ غدر کے وقت سرکار انگریزی کی امداد میں دیئے تھے، ان خدمات کی وجہ سے جو چٹھیات خوشنودیٔ حکام ان کو ملی تھیں، مجھے افسوس ہے کہ بہت سی ان میں سے گم ہوگئیں، (ورنہ وصیت کرتا کہ ان کی فوٹو اسٹیٹ کاپیاں میرے ساتھ میری قبر میں دفن کی جائیں، تاکہ قیامت کے دن میرے خاندان کی اسلام سے غداری کی سند میرے ہاتھ میں ہو...ناقل) مگر تین چٹھیات جو مدت سے چھپ چکی ہیں ان کی نقلیں حاشیہ میں درج کی گئی ہیں، پھر میرے والد صاحب کی وفات کے بعد میرا بڑا بھائی مرزا غلام قادر خدمات سرکاری میں مصروف رہا۔ اور جب تموں کے گزر پر مفسدوں کا (یعنی مسلمان حریت پسندوں کا...ناقل) سرکار

49

انگریزی کی فوج سے مقابلہ ہوا تو وہ سرکار انگریزی کی طرف سے لڑائی میں شریک تھا۔‘‘

(اشتہار واجب الاظہار ملحقہ کتاب البریۃ ص:۳ تا ۶، روحانی خزائن ج:۱۳ ص:۴)

۶: ...جنرل نکسن بہادر نے مرزا غلام قادر کو ایک سند دی جس میں یہ لکھا ہے کہ ۱۸۵۷ء میں خاندان قادیان ضلع گورداسپور کے دوسرے تمام خاندانوں سے زیادہ نمک حلال رہا۔

(سیرت مسیح موعود از مرزا محمود ص:۴)

۷: ...’’دی ارائیول آف برٹش امپائر ان انڈیا‘‘ میں جس ’’ظلّی نبی‘‘ کی تلاش کو ایک اہم ترین ضرورت قرار دیا گیا تھا، وہ ’’حواری نبی‘‘ قادیان کے اسی غدار اسلام خاندان سے مہیا ہوسکتا تھا، اور یہ مرزا غلام احمد قادیانی تھا جس نے دعویٰ کیا کہ:

’’میں بموجب آیت:’’وآخرین منھم لما یلحقوا بھم‘‘ بروزی طور پر وہی خاتم الانبیاء ہوں اور خدا نے آج سے بیس برس پہلے براہین احمدیہ میں میرا نام محمد اور احمد رکھا ہے، اور مجھے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا ہی وجود قرار دیا۔

میں بروزی طور پر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ہوں اور بروزی رنگ میں تمام کمالاتِ محمدی مع نبوّت محمدیہ کے میرے آئینہ ظلّیت میں منعکس ہیں۔‘‘

(ایک غلطی کا ازالہ ص:۱۰، روحانی خزائن ج:۱۸ ص:۲۱۲)

۸: ...مرزا غلام احمد قادیانی نے بھی انگریزوں کی وہی خدمات انجام دیں جو اسے ورثہ میں ملی تھیں، مگر یہ فرق تھا کہ مرزا غلام احمد قادیانی کو وحی مغرب نے ’’حواری نبی‘‘ کے منصب پر فائز کیا تھا، اس لئے وہ انگریزوں کی چاپلوسی الہام کی سند کے ساتھ کرتا تھا، یہ الہامی سند اس کے باپ دادا کو نصیب نہیں تھی، اس ’’حواری نبی‘‘ کی تصریح ملاحظہ فرمائیے:

’’اور میں دعویٰ سے کہتا ہوں کہ میں مسلمانوں سے اول درجہ کا خیرخواہ گورنمنٹ انگریزی کا ہوں، کیونکہ مجھے تین باتوں نے

50

خیرخواہی میں اول درجہ پر بنادیا ہے، اول والد صاحب کے اثر نے، دوم اس گورنمنٹ عالیہ کے احسانات نے، تیسرے خدا تعالیٰ کے الہام نے۔‘‘

(تریاق القلوب ص:۳۰۹، ۳۱۰ از مرزا غلام احمد)

انگریزوں کے ’’حواری نبی‘‘ مرزا غلام احمد قادیانی کو شاید خیال تھا کہ انگریزی سلطنت ابدالآباد تک قائم رہے گی، اس لئے اس نے انگریز کی خوشامد اور تملق میں پستی اور گراوٹ کا ایسا ریکارڈ قائم کیا جس کی توقع ایک زرخرید غلام ہی سے کی جاسکتی ہے، ورنہ کوئی بھی باضمیر انسان سرکار پرستی کے اس جنگل میں بھٹکنے کے لئے آمادہ نہیں ہوسکتا۔

قادیان کا ’’حواری نبی‘‘ اپنے آپ کو گورنمنٹ برطانیہ کا ’’خود کاشتہ پودا‘‘ کہنے میں کوئی عار محسوس نہیں کرتا، انگریز کو سایۂ رحمتِ خداوندی اولو الامر قرار دیتا ہے، اس کی تائید و حمایت میں اپنی عمر کا بیشتر حصہ صرف کرتا ہے، ملکۂ برطانیہ کو پرورش کنندہ کا خطاب دیتا ہے، اور اپنی جماعت کو سرکار انگریزی کی نمک پروردہ جماعت قرار دیتا ہے۔

انگریز کی نصرت و حمایت میں قادیان کے ’’حواری نبی‘‘ نے بقول اس کے پچاس الماریاں تصنیف کی ہیں، جن کو پڑھ کر ایک ایسے شخص کا سر ندامت سے جھک جاتا ہے جس میں غیرت و حمیت کی ادنیٰ رمق بھی موجود ہو۔

قادیانی نبی کے بڑے صاحبزادے مرزا محمود کے خطبہ جمعہ کا یہ اقتباس ملاحظہ فرمائیے:

’’حضرت مسیح موعود (مرزا غلام احمد قادیانی) نے فخریہ لکھا ہے کہ میری کوئی کتاب ایسی نہیں جس میں میں نے گورنمنٹ کی تائید نہ کی ہو، مگر مجھے افسوس ہے کہ میں نے غیروں سے نہیں بلکہ احمدیوں کو یہ کہتے سنا ہے کہ ہمیں مرزا غلام احمد کی ایسی تحریریں پڑھ کر شرم آجاتی ہے۔‘‘

(الفضل ۷؍جولائی ۱۹۳۲ء)

مرزا غلام احمد کی تحریریں پڑھ کر خود اس کے مریدوں کو شرم آجاتی ہے، لیکن افسوس کہ خود مرزا غلام احمد قادیانی کو کبھی یہ خیال دامن گیر نہیں ہوا کہ انگریز کی اطاعت و

51

فرمانبرداری، مدح و ستائش میں ان کا زود نویس قلم کس قدر طومار تیار کر رہا ہے، نامعلوم آئندہ نسلیں اس کے بارے میں کیا رائے قائم کریں گی؟

مرزا غلام احمد قادیانی نے انگریز کے ہاتھ پر اپنے دین و ایمان ہی کا نہیں بلکہ اخلاق و شرافت کا بھی سودا کیا، سوال یہ ہے کہ وہ کون سی ’’خدمات جلیلہ‘‘ تھیں، جن کے لئے انگریز نے مرزا کو ’’حواری نبی‘‘ کے منصب پر فائز کیا؟ اس سوال کا جواب بھی انگریزی دستاویز ’’دی ارائیول آف برٹش امپائر ان انڈیا‘‘ میں دیا جاتا ہے، مندرجہ ذیل اقتباس کو دوبارہ پڑھئے:

’’ایسے شخص کی نبوّت کو حکومت کی سرپرستی میں بطریق احسن پروان چڑھایا جاسکتا اور کام لیا جاسکتا ہے، اب کہ ہم پورے ہندوستان پر قابض ہیں تو ہمیں ہندوستانی عوام اور مسلمان جمہور کی داخلی بے چینی اور باہمی انتشار کو ہوا دینے کے لئے اس قسم کے عمل کی ضرورت ہے۔‘‘

انگریز نے بلاشبہ مرزا غلام احمد کی نبوّت کو حکومت کی سرپرستی میں بہ طریق احسن پروان چڑھایا، یہی وجہ ہے کہ مرزائی نبوّت پر ایمان لانے والوں میں اکثریت ان لوگوں کی تھی جو سرکاری دربار سے منسلک تھے، خود مرزا غلام احمد کو اعتراف ہے کہ:

سرکاری نبی کی سرکاری خدمات

۱: ...مسلمانوں میں انتشار و افتراق:

قادیانی نبوّت نے انگریزی سرکار کی سب سے پہلی جو اہم ترین خدمت انجام دی وہ یہ تھی کہ اس نے مسلمانوں میں انتشار و افتراق کا نیا اکھاڑہ جمادیا، تیرہ سو سال سے مسلمانوں کا جن مسائل پر اتفاق تھا اور جن میں کبھی دو رائیں نہیں ہوئی تھیں، مرزا غلام احمد قادیانی نے ان مسائل کو جنگ و جدل کا موضوع بنادیا۔

خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد رسول آسکتے ہیں یا نہیں؟ حضرت عیسیٰ علیہ

52

السلام زندہ ہیں یا مرگئے ہیں؟ معجزات اپنے اندر کوئی خرق عادت کیفیت رکھتے ہیں یا وہ لہو و لعب اور مسمریزم میں داخل ہیں؟ قیامت کے دن مردے اٹھیں گے یا نہیں؟ کوئی شخص آسمان پر جاسکتا ہے یا نہیں؟ فرشتے واقعی وجود رکھتے ہیں یا نہیں؟ غیرنبی کا الہام حجت ہے یا نہیں؟ وغیرہ وغیرہ۔ بیسیوں مباحث ایسے ہیں جن کے بارے میں اُمتِ اسلامیہ کا عقیدہ بالکل صاف اور واضح رہا ہے، لیکن مرزا غلام احمد نے دین کے مسلّمات اور بدیہیات کو اپنی لایعنی بحثوں کا نشانہ بنایا، جن کی وجہ سے اُمت میں تشکیک و تذبذب کا نیا دروازہ کھل گیا، اور خود قادیانی جماعت میں کئی فرقوں نے جنم لیا، بہت سے لوگوں کو مرزائی نبوّت نے الحاد و زندقہ اور دہریت کی وادیوں میں بھٹکنے پر مجبور کردیا، مرزا غلام احمد بظاہر عیسائیت کا مقابلہ کرتا نظر آتا ہے، لیکن کم از کم ہندوستان میں عیسائیت کو جس قدر فروغ مرزائی تحریک کے ذریعہ ہوا اس کی نظیر نہیں ملے گی، انگریز، مسلمانوں کے اتحاد و اتفاق سے خائف تھا، اور مسلمانوں میں ذہنی بے چینی پھیلانا اور مذہبی انارکی پیدا کرنا گورنمنٹ برطانیہ کا ایک اہم ترین مشن تھا جو مرزا غلام احمد کی ظلّی نبوّت نے انجام دیا۔

۲: ...حرمتِ جہاد کا فتویٰ:

انگریز کو مسلمانوں کی طرف سے جس چیز کا سب سے بڑا اندیشہ تھا اور جس کی وجہ سے اسے صلیبی جنگوں میں نہایت تلخ تجربات سے گزرنا پڑا تھا وہ مسلمانوں کا جذبہ جہاد تھا، ’’اسلامی جہاد‘‘ کی تلوار انگریز کی گردن پر ہر لمحہ لٹک رہی تھی، اور ’’جہاد‘‘ کا لفظ سنتے ہی اس کے اوسان خطا ہوجاتے تھے، (آج بھی یہی کیفیت باقی ہے...ناقل) انگریز نے گویا فیصلہ کرلیا تھا کہ مرزا غلام احمد کی ظلّی نبوّت کے ذریعہ اسلامی جہاد کی تلوار ہمیشہ کے لئے توڑ دی جائے۔

قادیان کا حواری نبی تازہ الہام اور وحی کی سند لے کر سامنے آیا، اور اعلان کردیا کہ انگریز کے خلاف جہاد نہ صرف حرام ہے بلکہ اسے ہمیشہ کے لئے منسوخ قرار دیا جاتا ہے، مرزا غلام احمد کے مندرجہ ذیل شعر ہر قادیانی کے نوکِ زبان ہیں:

53
  1. اب چھوڑ دو جہاد کا اے دوستو خیال

    دین کے لئے حرام ہے اب جنگ اور قتال

  2. اب آگیا مسیح جو دین کا امام ہے

    دین کی تمام جنگوں کا اب اختتام ہے

  3. اب آسمان سے نور خدا کا نزول ہے

    اب جنگ اور جہاد کا فتویٰ فضول ہے

  4. دشمن ہے وہ خدا کا جو کرتا ہے اب جہاد

    منکر نبی کا ہے جو یہ رکھتا ہے اعتقاد

(ضمیمہ تحفہ گولڑویہ ص:۴۷، روحانی خزائن ج:۱۷ ص:۷۸)

اسی طرح مرزا کے اردگرد وہی لوگ تھے جو انگریز کے وفادار تھے اور انگریزی خواندہ تھے، چنانچہ مرزا ان کی نشاندہی کرتے ہوئے لکھتا ہے:

’’میری جماعت میں بڑے بڑے معزز اہل اسلام داخل ہیں، جن میں بعض تحصیلدار اور بعض اکسٹرا اسسٹنٹ اور ڈپٹی کلکٹر اور بعض وکلاء، اور بعض تاجر اور بعض رئیس اور جاگیردار اور نواب اور بعض بڑے بڑے فاضل اور ڈاکٹر اور بی اے اور ایم اے اور بعض سجادہ نشین ہیں۔‘‘

(اشتہار واجب الاظہار ص:۱۲ ملحقہ کتاب البریہ)

سو سال قبل کی تاریخ ہند اٹھاکر دیکھو، جن لوگوں کا ذکر مرزا غلام احمد نے اپنی جماعت کے نمایاں افراد میں کیا ہے، یہ سب وہ لوگ تھے جن کو گورنمنٹ برطانیہ کا خوشامدی اور ٹوڈی تصور کیا جاتا تھا۔

علاوہ ازیں انگریز صراحتاً حکم دیتا تھا کہ جو لوگ انگریزی حکومت میں ملازمت کے خواہاں ہوں وہ قادیانی جماعت کے ممبر بن جائیں، حکومت برطانیہ نے قادیان کی سرکاری نبوّت کی اس حد تک سرپرستی کی اور اسے اس حد تک پروان چڑھایا کہ مرزا غلام احمد اور اس کی جماعت اس کا شکریہ ادا کرنے سے اپنے آپ کو قاصر پاتی ہے، اور سرکار انگریزی

54

کی عنایات کے صلے میں قادیانی نبوّت نے سرکار کی جو گراں قدر خدمات انجام دیں وہ تاریخ آزادی ہند کا سیاہ باب ہیں۔

۳: ...دجال کے مقابل میں مسیح کی شکست اور پسپائی کا اعلان:

مرزا غلام احمد قادیانی نے ’’اسلامی جہاد‘‘ کے بارے میں ایسے مکروہ اور ناملائم الفاظ لکھے ہیں، جنہیں نقل کرنا بھی قلم کی توہین ہے، قادیانی متنبی کی کوئی کتاب بقول ان کے حرمت جہاد کے فتویٰ سے پاک نہیں، میں یہاں ان مکرر تصریحات و اعلانات کو نقل کرکے اس تحریر کو ثقیل نہیں کرنا چاہتا، لیکن اہل دانش کی خدمت میں قادیان کے ’’حواری نبی‘‘ اور ’’مسیح موعود‘‘ کی عقل و فہم کا ایک عبرتناک نمونہ پیش کرنے کی اجازت چاہوں گا۔

مرزا غلام احمد قادیانی کا دعویٰ ہے کہ انگریز ہی دجال ہے جس کے قتل کرنے کے لئے اسے مسیح موعود بناکر بھیجا گیا ہے، میدان جنگ کا ایک بین الاقوامی اصول ہے کہ متحارب فریقوں میں جو فریق مغلوب ہوکر غالب فریق سے صلح کا خواہش مند ہو وہ سفید جھنڈا لہراکر اپنی شکست اور پسپائی کا اعتراف کیا کرتا ہے اور غالب فریق کے سامنے ہتھیار ڈال دیتا ہے، گویا میدان جنگ میں سفید جھنڈا بلند کرنا اپنی شکست اور پسپائی کا اعلان سمجھا جاتا ہے، اسلامی جہاد کو منسوخ کرنے کے جذبہ نے مرزا غلام احمد کو عقل و خرد کے کس مقام تک پہنچادیا تھا؟ اس کا اندازہ کرنے کے لئے اس کی حسب ذیل تحریر پڑھئے، جس میں وہ مسیح موعود کی فوجوں کو دجال کے مقابلہ میں پسپائی کا حکم دیتے ہوئے صلح کا سفید جھنڈا بلند کرتا ہے:

’’آج سے انسانی جہاد جو تلوار سے کیا جاتا تھا خدا کے حکم کے ساتھ بند کیا جاتا ہے، اب اس کے بعد جو شخص کافر پر تلوار اٹھاتا ہے اور اپنا نام غازی رکھتا ہے وہ اس رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی نافرمانی کرتا ہے جس نے آج سے تیرہ سو سال پہلے فرمادیا ہے کہ مسیح موعود کے آنے پر تمام تلوار کے جہاد ختم ہوجائیں گے، سو اب میرے

55

ظہور کے بعد تلوار کا کوئی جہاد نہیں، ہماری طرف سے امان اور صلح کاری کا سفید جھنڈا بلند کیا گیا ہے ...... لہٰذا مسیح موعود اپنی فوج کو اس ممنوع مقام سے پیچھے ہٹ جانے کا حکم دیتا ہے۔‘‘

(اشتہار چندہ منارۃ المسیح ملحقہ خطبہ الہامیہ ص:۲۸، روحانی خزائن ج:۱۶ ص:۲۸)

آفرین اس مسیح پر جو دجال کے مقابلہ میں امان طلبی کا سفید جھنڈا بلند کرے، اور شاباش مسیح کی باغیرت فوج کو جو دجال کے مقابلہ میں پسپائی کے اعتراف کا شاندار مظاہرہ کرتے ہوئے نہ شرمائے، دشمن کے مقابلہ میں ہتھیار ڈالنے کا ایسا حسین منظر کبھی چشم فلک نے دیکھا ہے...۔؟

۴: ...یاجوج ماجوج کی فتح:

مرزا غلام احمد قادیانی کے دل میں بقول ان کے انگریز کی نمک حلالی کا جو بے پناہ جذبہ تھا اس نے واقعتا عربی مثل’’حبک الشیء یعمی ویصم‘‘ (کسی چیز کی محبت تجھے اندھا اور بہرا کردیتی ہے) کی کیفیت ان کے اندر پیدا کردی تھی، حدیث کے طالب علم جانتے ہیں کہ سیّدنا عیسیٰ علیہ السلام کے زمانہ میں یاجوج ماجوج کا خروج ہوگا، اور بالآخر وہ سیّدنا عیسیٰ علیہ السلام کی بددعا سے ہلاک ہوں گے، مرزا غلام احمد قادیانی نے حرمت جہاد کی الہامی سند مہیا کرنے کے لئے دعویٰ کیا تھا کہ وہ مسیح موعود ہے جس کے زمانہ میں ’’یضع الحرب‘‘ کے مطابق جہاد منسوخ ہوجائے گا (حدیث پاک میں جہاں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی دیگر علامات بیان ہوئی ہیں، ان میں سے ایک یہ بھی ہے کہ وہ لڑائی کو موقوف کردیں گے، جس کا واضح مطلب یہ ہے کہ ان کے زمانہ میں تمام نظریاتی اختلاف ختم ہوجائیں گے، تمام دنیا اسلام کی حلقہ بگوش ہوجائے گی، اور مسلمانوں میں کوئی نزاعی امر باقی نہیں رہے گا، جس کا نتیجہ یہ ہوگا کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے زمانہ میں لڑائی جھگڑے سب ختم ہوجائیں گے، مرزا غلام احمد نے جو مطلب نکالا وہ واقعات کی روشنی میں بھی غلط ہے...ناقل)، یہاں سوال ہوا کہ اگر آپ مسیح موعود ہیں تو وہ یاجوج ماجوج کون ہے جس کو

56

کے زمانہ میں خروج کرنا تھا؟ اس کے جواب میں مرزا قادیانی لکھتے ہیں:

’’ایسا ہی یاجوج ماجوج کا حال بھی سمجھ لیجئے ...۔۔ چونکہ ان دونوں قوموں سے مراد انگریز اور روس ہیں، اس لئے ہر ایک سعادتمند مسلمان کو دعا کرنی چاہئے کہ اس وقت انگریزوں کی فتح ہو، کیونکہ یہ لوگ ہمارے محسن ہیں۔ اور سلطنت برطانیہ کے ہمارے سر پر بہت احسان ہیں، سخت جاہل اور سخت نادان اور سخت نالائق وہ مسلمان ہے جو اس گورنمنٹ سے کینہ رکھے، اگر ہم ان کا شکر نہ کریں تو پھر ہم خدا تعالیٰ کے بھی ناشکرگزار ہیں، کیونکہ ہم نے جو اس گورنمنٹ کے زیر سایہ آرام پایا اور پارہے ہیں وہ آرام ہم کسی اسلامی گورنمنٹ میں بھی نہیں پاسکتے، ہرگز نہیں پاسکتے۔‘‘

(ازالہ اوہام ص:۵۰۹، روحانی خزائن ج:۳ ص:۳۷۳)

مرزا قادیانی کے سر پر گورنمنٹ برطانیہ کے احسانات کا جو پہاڑ ہے اس کے بوجھ سے دب کر وہ انگریز سے بغض رکھنے والوں کو جاہل، نادان اور نالائق کے خطاب سے اگر نوازیں تو بلاشبہ وہ معذور ہیں، لیکن سرکار پرستی کا یہ تماشا کس قدر عبرتناک ہے کہ مسیح اپنے یاجوج ماجوج کے لئے فتح و نصرت کی دعائیں کرتا ہے، ایک ’’سرکاری نبی‘‘ کے علم و فہم اور لیاقت و دانائی کا بلند ترین معیار یقینا یہی ہوسکتا ہے اور ’’برعکس نام نہند زنگی را کافور۔‘‘ اسی کو کہتے ہیں۔

۵: ...انگریز بمقابلہ اسلامی سلطنت:

مرزا غلام احمد قادیانی نے انگریز کی نمک حلالی کا ایک مظاہرہ اس شکل میں کیا کہ انگریزی سلطنت کو تمام اسلامی سلطنتوں کے مقابلہ میں ترجیح دی جائے، اور عوام کے ذہن میں یہ تأثر پیدا کیا جائے کہ اگر خلافت راشدہ کے عدل و انصاف کا نمونہ کسی کو دیکھنا ہو تو انگریزی سلطنت کے سوا دنیا کے کسی خطے میں نظر نہیں آئے گا، اسی مذکورہ بالا عبارت کو

57

جو اوپر (نمبر:۴ میں) ازالہ اوہام سے نقل کی گئی ہے دوبارہ پڑھئے اور دیکھئے کہ قادیانی مسیح، اسلامی سلطنتوں کے مقابلہ میں انگریز کی جابر و جائر حکومت کو کس طرح امن و عدل کا گہوارہ قرار دیتا ہے۔

یہ قادیان کے ’’حواری نبی‘‘ کی وہی عادل گورنمنٹ ہے جس کے عدل و انصاف نے ہندوستان کے آخری تاجدار کی آنکھیں نکالیں، جس نے شہزادوں کے سر ان کے باپ کے سامنے بطور تحفہ پیش کئے، جس نے لاکھوں انسانوں کو خاک و خون میں تڑپایا، جس نے برسر بازار علماء و صلحاء کو سولی پر لٹکایا، جس نے اسلامی خلافت کو تاخت و تاراج کیا، جس نے مکہ و مدینہ کا سینہ گولیوں سے چھلنی کیا، جس نے بیت المقدس اور حرم کعبہ کو بھی اپنی ’’انصاف پرور‘‘ درندگی سے محروم نہیں رکھا، جس نے زمین کے چپے چپے پر جور و ستم کے نقش ثبت کئے، جس نے کروڑوں انسانوں کو غلامی کے شکنجے میں کس کر انہیں زندگی کی ہر آسائش سے محروم کیا۔

قادیان کے ’’ظلّی نبی‘‘ کی یہی گورنمنٹ ہے جس کے زیر سایہ رہنے کو وہ مکہ اور مدینہ کے قیام پر ترجیح دیتا ہے، کیوں؟ اس لئے کہ اس کے اور گورنمنٹ برطانیہ کے مفادات متحد تھے، وہ گورنمنٹ کی عنایاتِ خسروانہ سے لطف اندوز تھا، اور گورنمنٹ اس کی خدمات سے نفع اندوز تھی، خلیفہ قادیان کا سرکاری آرگن ’’الفضل‘‘ بڑے طمطراق سے اعلان کرتا ہے:

’’اور ہمارا مذہب ہے کہ ہم گورنمنٹ کے سچے دل سے وفادار اور خیرخواہ ہیں، کیونکہ یہ گورنمنٹ ہماری خاص محسن ہے اور اس کے ہم پر اس قدر احسانات ہیں کہ جن کا شمار کرنا آسان نہیں، نیز ہمارے خیال میں یہ حکومت تمام دنیا کی حکومتوں سے اعلیٰ و افضل ہے۔ (لا حول ولا قوۃ الا باللہ العلی العظیم...ناقل) یہ سلطنت واقعی طور پر عمدہ اور ساری دنیا کی سلطنتوں سے افضل و برتر نہ ہوتی تو یقینا خدا تعالیٰ اپنے اس نبی (غلام احمد قادیانی...ناقل) کو اس سلطنت کے

58

حدود میں پیدا نہ کرتا (بالکل صحیح استدلال ہے، اگر انگریز سے بدتر کوئی حکومت ہوتی تو مرزا غلام احمد کی منحوس نبوّت کاذبہ اس کے زیر سایہ جنم لیتی...ناقل)۔‘‘

(الفضل ۱۹؍نومبر ۱۹۱۸ء)

’’یہ بات روز روشن کی طرح ظاہر ہوتی جاتی ہے کہ فی الواقع گورنمنٹ برطانیہ ایک ڈھال ہے جس کے نیچے احمدی جماعت آگے ہی آگے بڑھتی جاتی ہے، اس ڈھال کو ذرا ایک طرف کردو، اور دیکھو کہ زہریلے تیروں کی کیسی خطرناک بارش تمہارے سروں پر ہوتی ہے۔

پس کیوں ہم اس گورنمنٹ کے شکر گزار نہ ہوں، ہمارے فوائد اس گورنمنٹ سے متحد ہوگئے ہیں (جی ہاں! آقا اور غلام کے مفادات متحد ہی ہوتے ہیں...ناقل) اور اس گورنمنٹ کی تباہی ہماری تباہی ہے، اور اس گورنمنٹ کی ترقی ہماری ترقی ہے، جہاں جہاں اس گورنمنٹ کی حکومت پھیلتی جاتی ہے ہمارے لئے ترقی کا ایک اور میدان نکل آتا ہے (کیونکہ ساری ’’تبلیغ‘‘ ہی گورنمنٹ کے لئے ہے...ناقل)۔‘‘

(الفضل ۱۱؍اکتوبر ۱۹۱۵ء)

۶: ...مسلمانوں کی جاسوسی:

قادیانی ’’حواری نبی‘‘ کے ذمہ اس کے سفید آقاؤں نے جو فرائض عائد کئے تھے، ان میں ایک بہت ہی خطرناک فریضہ مسلمانوں کی جاسوسی تھا، مرزا غلام احمد قادیانی نے اپنی جماعت کی پوری مشینری کو خفیہ سی آئی ڈی کا محکمہ بنادیا تھا، وہ ’’تبلیغ اسلام‘‘ کے پُر فریب نام سے مسلمانوں سے میل جول کرتے تھے، اور ان کی خفیہ رپورٹیں قادیان کی وساطت سے گورنمنٹ برطانیہ کو پہنچائی جاتی تھیں، اس کا اندازہ مرزا غلام احمد قادیانی کے اس اشتہار سے کیا جاسکتا ہے، جو ’’قابل توجہ گورنمنٹ‘‘ کے عنوان سے ۱۸۹۶ء میں شائع

59

کیا گیا، اس میں لکھتے ہیں کہ:

’’چونکہ قرین مصلحت ہے کہ سرکار انگریزی کی خیرخواہی کے لئے ایسے نافہم مسلمانوں کے نام بھی نقشہ جات میں درج کئے جائیں جو درپردہ اپنے دلوں میں برٹش انڈیا کو دارالحرب قرار دیتے ہیں ...... لہٰذا یہ نقشہ اسی غرض کے لئے تجویز کیا گیا تاکہ اس میں ان ناحق شناس لوگوں کے نام محفوظ رہیں کہ جو ایسے باغیانہ سرشت کے آدمی ہیں ...... لیکن ہم گورنمنٹ میں بادب اطلاع کرتے ہیں کہ ایسے نقشے ایک ’’پولیٹیکل راز‘‘ کی طرح اس وقت تک ہمارے پاس محفوظ رہیں گے جب تک گورنمنٹ ہم سے طلب کرے، اور ہم امید رکھتے ہیں کہ ہماری گورنمنٹ حکیم مزاج بھی ان نقشوں کو ملکی راز کی طرح اپنے کسی دفتر میں محفوظ رکھے گی (کیوں نہیں؟ ضرور!! ناقل) ......۔ اور ایسے لوگوں کے نام مع پتہ و نشان یہ ہیں:

نمبر شمار۔ نام مع لقب و عہدہ۔ سکونت۔ ضلع۔ کیفیت۔‘‘

(مجموعہ اشتہارات جلد دوم ص:۲۲۷، ۲۲۸ طبع ربوہ)

خدا ہی جانتا ہے کہ قادیانی نبوّت کے اس محکمہ جاسوسی نے کتنے محب وطن لوگوں کو ’’باغیانِ انگریز‘‘ کی فہرست میں درج کرایا ہوگا؟ کتنے مسلمانوں کے خلاف انگریز کو انگیخت کی ہوگی اور ان کو سولی پر لٹکوایا ہوگا؟ کتنوں کو جلاوطنی کی سزا دلائی ہوگی؟ کتنوں کو پس دیوارِ زنداں بھجوایا ہوگا؟ اسلامیان ہند کی مظلومیت اور قادیانی جاسوسوں کی جارحیت دیکھ کر بے اختیار یہ شعر زبان پر آجاتا ہے:

  1. قتل ایں خستہ بہ شمشیر تو تقدیر نہ بود

    ورنہ از خنجر بے رحم تو تقصیر نہ بود

صرف یہی نہیں بلکہ انگریزوں کو یہ بھی بتایا جاتا تھا کہ مولویوں کے گھروں میں حدیث کی فلاں فلاں کتابیں رکھی ہیں، جن میں ’’خونیں مہدی‘‘ کا ذکر ہے، مقصد یہ تھا کہ

60

انگریز کا جبر و ستم جو اسلام کے ایک ایک نشانات کو مٹانے پر تلا ہوا تھا، اس میں مزید شدت پیدا ہوجائے اور نہ صرف ایسی تمام کتب حدیث کو ضبط کرکے نذر آتش کردیا جائے بلکہ ان تمام علماء کو بھی ’’انگریز کے باغی‘‘ قرار دے کر کچل دیا جائے۔ اسلام اور مسلمانوں سے عداوت کی اس سے بدترین مثال مل سکتی ہے؟ اور پھر یہ محکمہ جاسوسی صرف ہندوستان میں قائم نہیں تھا، بلکہ عالم اسلام میں جہاں کہیں انگریزوں کو قادیان کا جاسوسی جال بچھانے کی ضرورت ہوتی وہاں قادیانی ٹولے کا تبلیغی مرکز قائم کردیا جاتا، اور قادیانی گماشتے ’’تبلیغ اسلام‘‘ کے بھیس میں انگریزوں کی خفی و جلی خدمات میں مصروف ہوجاتے۔

قادیان کا خلیفہ دوم اور قادیانی مسیح کا فرزند اکبر بڑے فخر سے اعلان کرتا ہے کہ:

’’ہم حکومت کی ایسی خدمت کرتے ہیں کہ اس کے پانچ پانچ ہزار روپیہ ماہوار تنخواہ پانے والے ملازم بھی کیا کریں گے۔‘‘

(اخبار الفضل یکم اپریل ۱۹۳۰ء)

۷: ...ہر اسلامی مطالبہ کی مخالفت:

قادیان کی ’’سرکاری نبوّت‘‘ جہاں گورنمنٹ کے گھر کی لونڈی تھی وہاں مسلمانوں کے ہر ملی احساس کی دشمن تھی، قادیانیوں کی انگریز پرستی اور اسلام دشمنی کو سمجھنے کے لئے یہاں صرف دو واقعے ذکر کئے جاتے ہیں۔

۱: ...اپنی تحریروں میں پادریوں نے ایک گندی کتاب ’’امہات المؤمنین‘‘ شائع کی، جس میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر نہایت گھناؤنے الزامات عائد کئے گئے، انجمن حیات اسلام نے اعلیٰ حکام سے درخواست کی کہ اس ناپاک کتاب کی اشاعت پر پابندی عائد کی جائے، لیکن مرزا غلام احمد نے اس مطالبہ کی مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ ہماری جماعت اس کتاب پر پابندی لگانے کے حق میں نہیں ہے۔

(دیکھئے تبلیغ رسالت ج:۷ ص:۳۶)

اور مرزا غلام احمد کی اس مخالفت کے غالباً دو سبب تھے، اول یہ کہ وہ انگریزوں کو

61

اطمینان دلانا چاہتے تھے کہ وہ کسی اسلامی مسئلہ کے حامی نہیں، دوم یہ کہ اگر پادریوں کی اشتعال انگیز کتاب پر پابندی عائد کی گئی تو مرزا کی کتابیں بھی اس تعزیر کی مستحق ہوں گی، جن میں ہر مذہب کے مقتداؤں کو بالخصوص حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو برہنہ گالیاں دی گئی ہیں۔

۲: ...اسی طرح مرزائیوں کی دشنام طرازی کے جواب میں ایک کتاب ’’رنگیلا رسول‘‘ راجپال نامی آریہ نے شائع کی، اس کتاب کی اشاعت نے مسلمانوں کو بے حد مشتعل کردیا، اور لاہور کے ایک نوجوان غازی علم الدین شہیدؒ نے راجپال کو جہنم رسید کردیا، تمام ملت اسلامیہ کی ہمدردیاں اس نوجوان کے ساتھ تھیں، لیکن قادیانی خلیفہ دوم مرزا بشیر الدین، اسلامی غیرت کو چیلنج کرتے ہوئے اعلان کر رہا تھا کہ:

’’وہ نبی (محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم) بھی کیسا نبی ہے جس کی عزت بچانے کے لئے خون سے ہاتھ رنگنے پڑیں، جس کے بچانے کے لئے اپنا دین تباہ کرنا پڑے، یہ سمجھنا کہ محمد رسول کی عزت کے لئے قتل کرنا جائزہے، سخت نادانی ہے۔‘‘

(الفضل ۱۹؍اپریل ۱۹۲۹ء)

اور اس سیاہ باطنی اور کورچشمی کو دیکھو کہ محمد رسول اللہؐ کی عزت بچانے کے لئے تو قادیانی خلیفہ کے نزدیک ’’خون سے ہاتھ رنگنا‘‘ نادانی ہے، اور اس سے دین تباہ و برباد ہوجاتا ہے، لیکن انگریز کی عزت بچانے کے لئے مسلمانوں کے خون سے ہولی کھیلنا عین دانشمندی اور کار ثواب ہے، سنئے خلیفہ قادیان اعلان کرتے ہیں کہ:

’’ہم نے ابتدائے سلسلہ سے گورنمنٹ کی وفاداری کی، ہم ہمیشہ فخر کرتے رہے کہ ہم ملکہ معظمہ کی وفادار رعایا ہیں، کئی ٹوکرے خطوط کے ہمارے پاس ایسے ہیں جو میرے نام یا میری جماعت کے سیکریٹریوں یا افراد جماعت کے نام ہیں، جن میں گورنمنٹ نے ہماری جماعت کی وفاداری کی تعریف کی ہے، اسی طرح ہماری جماعت کے پاس کئی ٹوکرے تمغوں کے ہوں گے، ان

62

لوگوں کے تمغوں کے جنہوں نے اپنی جانیں گورنمنٹ کے لئے فدا کی ہیں۔‘‘

(الفضل ۱۱؍نومبر ۱۹۳۴ء)

غور فرمائیے! جہاد فی سبیل اللہ حرام ہے، لیکن جہاد فی سبیل الانجلیز فرض ہے، محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم (فداہ ابی و امی) کی عزت و ناموس کے لئے کسی شاتم رسول کافر کو قتل کردینا ایسا گناہ ہے کہ جس سے دین برباد ہوجاتا ہے، لیکن انگریزی فوج میں شامل ہوکر اسلامی ممالک پر یورش کرنا اور اپنی جانیں لڑاکر فوجی تمغوں کے کئی ٹوکرے حاصل کرلینا، لائق فخر ہے۔

مزید سنئے! خلیفہ قادیان فرماتے ہیں کہ:

’’جو گورنمنٹ ایسی مہربان ہو اس کی جس قدر فرمانبرداری کی جائے تھوڑی ہے، ایک دفعہ حضرت عمرؓ نے فرمایا کہ اگر مجھ پر خلافت کا بوجھ نہ ہوتا تو میں مؤذن ہوتا، اسی طرح میں کہتا ہوں کہ اگر میں خلیفہ نہ ہوتا تو والنٹیر ہوکر جنگ (یورپ بمقابلہ ترکی) میں چلا جاتا۔‘‘

(انوار خلافت ص:۹۶)

کافر افرنگ کی نمک خواری اور ملت اسلامیہ سے غداری قادیان کے مغل خاندان کی سرشت میں داخل تھی، جس کے شواہد پہلے گزر چکے ہیں، قادیان کے ’’سرکاری نبی‘‘ نے نہ صرف اپنی خاندانی روایات کو برقرار رکھا، بلکہ الہامی سند عطا کرکے اسے عالم اسلام میں پھیلانے کی کوشش کی، مرزا غلام احمد قادیانی نے ملت اسلامیہ کی عداوت اور انگریز کی وفاداری اپنی جماعت کے ذہنوں میں کوٹ کوٹ کر بھردی تھی۔

چنانچہ اپنی جماعت کے نام فرمان جاری کیا کہ:

’’یاد رکھو اور خوب یاد رکھو کہ ایسا شخص میری جماعت میں داخل نہیں رہ سکتا جو اس گورنمنٹ کا شکر گزار نہ ہو، یہ تو سوچو کہ اگر تم اس گورنمنٹ کے سایہ سے باہر نکل جاؤ تو پھر تمہارا ٹھکانہ کہاں ہے؟ ایسی سلطنت کا بھلا نام تو لو جو تمہیں اپنی پناہ میں لے لے گی، ہر ایک

63

اسلامی سلطنت تمہارے قتل کے لئے دانت پیس رہی ہے، کیونکہ تم ان کی نگاہ میں کافر اور مرتد ٹھہر چکے ہو، سو تم اس خداداد نعمت کی قدر کرو، اور تم یقینا سمجھ لو کہ خدا تعالیٰ نے سلطنت انگریزی تمہاری بھلائی کے لئے ہی اس ملک میں قائم کی ہے، اور اگر اس سلطنت پر کوئی آفت آئے تو وہ آفت تمہیں بھی نابود کردے گی۔ یہ مسلمان لوگ، جو اس فرقہ احمدیہ کے مخالف ہیں تم ان کے علماء کے فتوے سن چکے ہو، یعنی یہ کہ تم ان کے نزدیک واجب القتل ہو، اور ان کی آنکھ میں کتا بھی رحم کے لائق ہے، اور تم نہیں ہو، تمام پنجاب اور ہندوستان کے فتوے بلکہ تمام ممالک اسلامیہ کے فتوے تمہاری نسبت یہ ہیں کہ تم واجب القتل ہو ......۔

سو یہی انگریز ہیں جن کو لوگ کافر کہتے ہیں، جو تمہیں ان خونخوار دشمنوں سے بچاتے ہیں، اور ان کی تلوار کے خوف سے تم قتل کئے جانے سے بچے ہوئے ہو، ذرا کسی اور سلطنت کے زیر سایہ رہ کر دیکھ لو کہ تم سے کیا سلوک کیا جاتا ہے؟

سو انگریزی سلطنت تمہارے لئے ایک رحمت ہے، تمہارے لئے ایک برکت ہے اور خدا کی طرف سے وہ سپر (ڈھال) ہے، پس تم دل و جان سے اس سپر کی قدر کرو، اور ہمارے مخالف جو مسلمان ہیں، ہزارہا درجہ ان سے انگریز بہتر ہیں، کیونکہ وہ تمہیں واجب القتل نہیں سمجھتے، وہ تمہیں بے عزت کرنا نہیں چاہتے۔‘‘

(اپنی جماعت کے لئے ضروری نصیحت منجانب مرزا غلام احمد قادیانی مندرجہ تبلیغ رسالت ج:۱۰ ص:۱۲۳، مجموعہ اشتہارات جلد سوم ص:۵۸۴)

اور قادیانی گروہ، مسلمانوں کے نزدیک مرتد اور واجب القتل کیوں ہے؟ اس کا جواب بھی مرزا غلام احمد قادیانی سے سنئے:

64

’’گورنمنٹ تحقیق کرے کہ کیا یہ سچ نہیں، کہ ہزاروں مسلمانوں نے جو مجھے کافر قرار دیا اور مجھے اور میری جماعت کو جو ایک گروہ کثیر پنجاب اور ہندوستان میں موجود ہے ہر ایک طور کی بدگوئی اور بداندیشی سے ایذا دینا اپنا فرض سمجھا، اس تکفیر اور ایذا کا ایک مخفی سبب یہ ہے کہ ان نادان مسلمانوں کے پوشیدہ خیالات کے برخلاف دل و جان سے گورنمنٹ انگلشیہ کی شکرگزاری کے لئے ہزارہا اشتہار شائع کئے گئے، اور ایسی کتابیں بلاد عرب و شام وغیرہ تک پہنچائی گئیں، یہ باتیں بے ثبوت نہیں، اگر گورنمنٹ توجہ فرمائے تو نہایت بدیہی ثبوت میرے پاس ہیں۔‘‘

(درخواست بحضور لیفٹیننٹ گورنر بہادر، تبلیغ رسالت ج:۷ ص:۱۳)

گورنمنٹ برطانیہ کے زیر سایہ قادیان سے جو مبلغ، اسلامی ممالک میں بھیجے جاتے تھے، انہیں قادیانی نبوّت کی جانب سے ہدایت ہوتی تھی کہ وہ اسلامی ممالک کی رعایا کے سامنے گورنمنٹ برطانیہ کے فضائل و مناقب بیان کریں، ان میں باہمی انتشار و تفریق پیدا کریں، مسلمان حاکم سے رعایا کو برگشتہ کریں، انگریز پرست افراد سے روابط قائم کرکے انہیں اسلامی حکومت سے بغاوت و غداری پر آمادہ کریں، اور بھولے بھالے مسلمانوں کو چکمہ دے کر انہیں قادیانی ارتداد کی راہ پر لگائیں، قادیان کا جاسوسی نظام اسلامی ممالک میں کس طرح کام کرتا تھا؟ اس کی چند مثالیں پیش کردینا کافی ہوگا۔

افغانستان:

۱: ...۱۹۰۳ء میں ایک عبداللطیف نامی افغانی مُلا کو قادیان میں چار ماہ کی جاسوسی ٹریننگ دینے کے بعد کابل بھیجا گیا، جس کو وہاں کی حکومت نے بہ سزائے ارتداد و جاسوسی سنگسار کروا دیا، خلیفہ قادیان مرزا محمود صاحب، عبداللطیف مرزائی کے قتل کا سبب ایک جرمنی انجینئر کے حوالے سے بایں الفاظ بیان کرتے ہیں:

65

’’صاحبزادہ عبداللطیف کو اس لئے شہید کیا گیا کہ وہ جہاد کے خلاف تعلیم دیتے تھے، اور حکومت افغانستان کو خطرہ لاحق ہوگیا تھا کہ اس سے افغانوں کا جذبہ حریت کمزور ہوجائے گا، اور ان پر انگریزوں کا اقتدار چھا جائے گا۔

اگر صاحبزادہ عبداللطیف صاحب خاموشی سے بیٹھے رہتے اور جہاد کے خلاف کوئی لفظ بھی نہ کہتے تو حکومت افغانستان کو انہیں شہید کرنے کی ضرورت محسوس نہ ہوتی۔‘‘

(الفضل ۶؍اگست ۱۹۳۵ء)

۲: ...اور اس واقعہ سے ڈھائی تین سال قبل، اسی نوعیت کا واقعہ ایک عبدالرحمن نامی مرزائی کے ساتھ پیش آیا، اسے بھی حکومت افغانستان نے قتل کروادیا۔

۳: ...۱۹۲۵ء میں افغانستان میں دو اور مرزائی پکڑے گئے جن کے بارے میں حکومت افغانستان نے مندرجہ ذیل پریس نوٹ جاری کیا:

’’کابل کے دو اشخاص ملا عبدالحلیم چہارآسیانی و ملا نور علی دکاندار، قادیانی عقائد کے گرویدہ ہوچکے تھے، اور لوگوں کو اس عقیدہ کی تلقین کرکے انہیں صلاح کی راہ سے بھٹکا رہے تھے، جمہوریہ نے ان کی اس حرکت سے مشتعل ہوکر ان کے خلاف دعویٰ دائر کردیا، جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ جرم ثابت ہوکر عوام کے ہاتھوں پنجشنبہ ۱۱؍رجب کو عدم آباد پہنچائے گئے، ان کے خلاف مدت سے ایک اور دعویٰ دائر ہوچکا تھا اور مملکت افغانیہ کے مصالح کے خلاف غیرملکی لوگوں کے سازشی خطوط ان کے قبضے سے پائے گئے، جن سے پایا جاتا ہے کہ وہ افغانستان کے دشمنوں (انگریزوں) کے ہاتھ بِک چکے تھے، اس واقعہ کی تفصیل مزید تفتیش کے بعد شائع کی جائے گی۔‘‘

66

۴: ...قادیانیوں کی اس ناروا جسارت کے خلاف افغانستان کی اسلامی حکومت نے جس ردعمل کا اظہار کیا اس کا خوشگوار نتیجہ یہ نکلا کہ افغانستان کی سرزمین قادیان کی ظلّی نبوّت سے پاک ہوگئی، اور اس کے بعد قادیانیوں کو آئندہ یہ جرأت نہ ہوسکی کہ وہاں کفر و ارتداد کی کھلی تبلیغ کرسکیں۔

۵: ...حکومت افغانستان کے اس جرأت مندانہ اقدام سے قادیانی اور ان کے سفید آقا (انگریز) دونوں افغانستان کے دشمن بن گئے، ۱۹۳۵ء میں قادیان کے خلیفہ نے ’’لیگ آف نیشنز‘‘ سے مطالبہ کیا کہ افغانستان سے ایکشن لیا جائے۔

۶: ...۱۹۱۹ء میں انگریز نے افغانستان کو جنگ میں الجھایا تو قادیان میں مسرت اور شادمانی کے شادیانے بجنے لگے، اور خلیفہ قادیان نے فرط مسرت میں اعلان بھی کردیا کہ:

’’عنقریب ہم کابل جائیں گے۔‘‘

(الفضل ۲۷؍مئی ۱۹۱۹ء)

لیکن مرزا قادیانی کی پیش گوئیوں کی طرح خلیفہ قادیان کا یہ خواب بھی شرمندۂ تعبیر نہ ہوا۔

۷: ...اس جنگ کابل میں قادیان نے ہر ممکن طریق سے انگریزوں کو مدد پہنچائی، الفضل کے بیان کے مطابق:

’’جب کابل کے ساتھ جنگ ہوئی ہے تب جماعت ہماری نے اپنی طاقت سے بڑھ کر (انگریزوں کو) مدد دی، اور علاوہ اور کئی قسم کی خدمات کے ایک ڈبل کمپنی پیش کی، جس کی بھرتی بوجہ جنگ کے بند ہوجانے سے رک گئی، ورنہ ایک ہزار سے زائد آدمی اس کے لئے نام لکھا چکے تھے، اور خود ہمارے سلسلہ کے بانی کے چھوٹے صاحبزادہ اور ہمارے موجودہ امام کے چھوٹے بھائی نے اپنی خدمات پیش کیں، اور چھ ماہ تک ٹرانسپورٹ کور میں رضاکارانہ طور پر کام کرتے رہے۔‘‘

(الفضل ۱۴؍جولائی ۱۹۲۰ء)

67

۸: ...قادیانی جماعت کی افغانستان سے عداوت ہی کا کرشمہ ہے کہ پاکستان کے پہلے وزیر خارجہ مسٹر ظفراللہ خان قادیانی نے پاک افغان تعلقات کو اس انداز سے بگاڑا کہ آج تک دونوں برادر مسلم ملکوں کے تعلقات صاف نہیں ہوسکے، دو مسلم ہمسایہ ملکوں کے درمیان عداوت اور تلخی کے بیج بودینا، قادیانی حکمت عملی کا ادنیٰ کرشمہ ہے۔

عراق و بغداد:

۱: ...۱۹۱۰ء میں جب برطانوی عفریت نے عراق پر دندانِ حرص تیز کئے اور لارڈ ہارڈنگ اسلامی مملکت کو برطانوی نوآبادی بنانے کا منصوبہ لے کر عراق میں وارد ہوا، تو قادیان میں گھی کے چراغ جلنے لگے، اور قادیانی جریدہ ’’الفضل‘‘ نے انگریزپرستی اور اسلام دشمنی کا مظاہرہ ان الفاظ میں کیا:

’’یقینا اس نیک دل افسر (لارڈ ہارڈنگ) کا عراق جانا عمدہ نتائج پیدا کرے گا، ہم ان نتائج پر خوش ہیں ...... کیونکہ خدا ملک گیری اور جہانبانی اسی کے سپرد کرتا ہے جو اس کی مخلوق کی بہتری چاہتا ہے، اور اسی کو زمین پر حکمران بناتا ہے جو اس کا اہل ہوتا ہے، ہم پھر کہتے ہیں کہ ہم خوش ہیں، کیونکہ ہمارے خدا کی بات پوری ہوئی ہے اور ہمیں امید ہے کہ برٹش حکومت کی توسیع کے ساتھ ہمارے لئے اشاعت اسلام کا میدان بھی وسیع ہوجائے گا اور غیرمسلم کو مسلم بنانے کے ساتھ ہم مسلمان کو پھر مسلمان کریں گے۔‘‘

(الفضل ۱۱؍فروری ۱۹۱۰ء)

۲: ...اور ۱۹۱۸ء میں جب بغداد پر انگریز کا تسلط ہوا اور وہاں کے مسلمانوں کو خاک و خون میں تڑپایا گیا، تو قادیانی اُمت پھولے نہیں سماتی تھی، اسلام کی اس مصیبتِ عظمیٰ پر قادیانی اُمت فرحت و مسرت میں آپے سے باہر ہوگئی اور اخبار ’’الفضل قادیان‘‘ نے لکھا:

’’حضرت مسیح موعود (مرزا غلام احمد قادیانی) فرماتے ہیں

68

کہ میں وہ مہدی موعود ہوں اور گورنمنٹ برطانیہ میری وہ تلوار ہے جس کے مقابلہ میں ان علماء کی کچھ پیش نہیں جاتی، اب غور کرنے کا مقام ہے کہ پھر ہم احمدیوں کو اس فتح سے کیوں خوشی نہ ہو؟‘‘

’’عراق عرب یا شام، ہم ہر جگہ اپنی تلوار کی چمک دیکھنا چاہتے ہیں۔‘‘

’’فتح کے وقت ہماری فوجیں مشرق سے داخل ہوئیں، دیکھئے کس زمانہ میں اس فتح کی خبر دی گئی، ہماری گورنمنٹ برطانیہ نے جو بصرہ کی طرف چڑھائی کی اور تمام اقوام سے لوگوں کو جمع کرکر کے اس طرف بھیجا، دراصل اس کے محرک خدا تعالیٰ کے وہ فرشتے تھے جن کو اس گورنمنٹ کی مدد کے لئے اس نے اپنے وقت پر اتارا تاکہ وہ لوگوں کے دلوں کو اس طرف مائل کرکے ہر قسم کی مدد کے لئے تیار کریں۔‘‘

(۷؍دسمبر ۱۹۱۸ء)

اس اقتباس کو بار بار پڑھئے! گورنمنٹ برطانیہ کو قادیانی مہدی کی تلوار بتایا جارہا ہے، اور قادیانی جاسوس اس تلوار کی چمک تمام اسلامی ممالک میں دیکھنا چاہتے ہیں۔ سقوطِ بغداد کے المناک حادثہ کو ’’فتح بغداد‘‘ کہہ کر اس پر فخر کیا جاتا ہے، انگریزوں کی فوج کی مدد کے لئے فرشتے نازل کئے جاتے ہیں، کیا اسلام دشمنی کا اس سے بدتر مظاہرہ ممکن ہے؟

۳: ...اور قادیانیوں نے اس ’’فتح بغداد‘‘ کے موقع پر انگریز کی کس قدر مدد کی؟ اس سوال کا جواب خلیفہ قادیان دوم مرزا محمود کی زبان سے سنئے:

’’عراق کو فتح کرنے میں احمدیوں نے خون بہائے اور میری تحریک پر سینکڑوں آدمی (انگریزی فوج میں) بھرتی ہوکر چلے گئے، لیکن جب وہاں حکومت قائم ہوگئی تو گورنمنٹ نے یہ شرط کروائی کہ پادریوں کو عیسائیت کی اشاعت کرنے میں کوئی روک نہ ہوگی، مگر احمدیوں کے لئے نہ صرف اس قسم کی کوئی شرط نہ رکھی، بلکہ

69

احمدی اگر اپنی تکالیف پیش کرتے ہیں تو بھی عراق کے ہائی کمشنر اس میں دخل دینے کو اپنی شان سے بالا سمجھتے ہیں۔‘‘

(خطبہ جمعہ مندرجہ الفضل ۳۱؍اگست ۱۹۲۱ء)

ملاحظہ فرمایا آپ نے؟ جس جماعت کا دعویٰ تھا کہ اسلامی جہاد حرام ہے، اور انگریزوں کے مقابلہ میں ہاتھ اٹھانا کفر ہے، وہی جماعت اسلامی ممالک پر انگریزوں کی یورش کو مدد دینے کے لئے خون بہاتی اور سینکڑوں آدمی بھرتی کرتی ہے۔

۴: ...اور قادیانیوں کی اس انگریزپرستی ہی کا نتیجہ تھا کہ جب بغداد ’’فتح‘‘ ہوا اور عراق عرب پر انگریزوں کا تسلط ہوا تو انگریزوں کی طرف سے عراق کا سب سے پہلا گورنر میجر حبیب اللہ قادیانی کو مقرر کیا گیا، جو خلیفہ قادیان کا برادر نسبتی اور انگریزی فوج سے معتمد افسر تھا، ایک قادیانی کو ایک مغصوبہ اسلامی علاقے پر گورنر مقرر کرنا درحقیقت ملت اسلامیہ سے انگریز کا بدترین مذاق تھا۔

۵: ...اسی ’’فتح بغداد‘‘ کے موقع پر انگریزی نبی کے پایۂ تخت ’’قادیان‘‘ میں جشن مسرت منایا گیا، اور عمارتوں پر چراغاں کیا گیا، قادیان کے سرکاری آرگن روزنامہ الفضل نے اس جشن مسرت کی خبر شائع کرتے ہوئے لکھا:

’’۲۷؍ ماہ نومبر کو ’’انجمن احمدیہ برائے امداد جنگ‘‘ کے زیر انتظام حسب ہدایات حضرت خلیفۃ المسیح ثانی گورنمنٹ برطانیہ کی شاندار اور عظیم الشان فتح کی خوشی میں ایک قابل یادگار جشن منایا گیا ...... غرض کہ احمدیوں کا کوئی مکان اور کوئی عمارت ایسی نہ تھی جس پر روشنی نہ کی گئی ہو، یہ پُرلطف اور مسرت انگیز نظارہ بہت مؤثر اور خوشنما تھا، اور اس سے احمدیہ پبلک کی اس عقیدت پر خوب روشنی پڑتی تھی جو اسے گورنمنٹ برطانیہ کے ساتھ ہے۔‘‘

(الفضل ۳؍دسمبر ۱۹۱۸ء)

آہ! کس قدر دل خراش تھا یہ منظر! کہ اسلامی خلافت کے سقوط اور اسلامی ممالک پر انگریز کے منحوس تسلط سے اُمتِ اسلامیہ میں صف ماتم بچھی ہوئی تھی، مسلمانوں کے دل

70

بریاں اور آنکھیں گریاں تھیں، لیکن اُمتِ اسلامیہ کے یہ غدار، محمد رسول اللہؐ کے یہ باغی، کافر افرنگ کے یہ عقیدت کیش، جشن مسرت مناکر مسلمانوں کے زخم پر نمک پاشی کر رہے تھے۔

شام اور فلسطین:

۱: ...ملک شام اور فلسطین پر انگریزی تسلط کے لئے زمین ہموار کرنے کی خاطر مرزا غلام احمد قادیانی نے حرمت جہاد پر عربی میں کتابیں لکھیں، اور انہیں اپنے ایجنٹوں کے ذریعہ بلادِ عرب میں پہنچادیا، مرزا غلام احمد قادیانی بڑے فخر سے لکھتا ہے:

’’اور پھر میں نے قرین مصلحت سمجھ کر اسی امر ممانعت جہاد کو عام ملکوں میں پھیلانے کے لئے عربی اور فارسی میں کتابیں تالیف کیں، جن کی چھپوائی اور اشاعت پر ہزارہا روپیہ خرچ ہوئے، اور وہ تمام کتابیں عرب اور بلادِ شام اور روم اور مصر اور بغداد اور افغانستان میں شائع کی گئیں، میں یقین رکھتا ہوں کہ کسی نہ کسی وقت ان کا اثر ہوگا ......

یہ سلسلہ ایک دو دن کا نہیں، بلکہ برابر سترہ سال کا ہے، اور اپنی کتابوں اور رسالوں کے جن مقامات میں میں نے یہ تحریریں لکھی ہیں ان کتابوں کے نام مع ان کے نمبر صفحوں کے یہ ہیں، جن میں سرکار انگریزی کی خیرخواہی اور اطاعت کا ذکر ہے، (اس کے ذیل میں مرزا نے اپنی چوبیس کتابوں اور رسالوں کی فہرست درج کی ہے...ناقل)۔‘‘

(کتاب البریۃ ص:۵ تا ۸ اشتہار مؤرخہ ۲۰؍ستمبر ۱۸۵۸ء مندرجہ روحانی خزائن ج:۱۳ ص:۵،۶)

قادیانی عقائد کا خلاصہ:

۱: ...قادیانیت نہ صرف مرزا غلام احمد قادیانی کو بعینہٖ محمد رسول اللہ سمجھتی ہے، اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے تمام کمالات و مناصب متنبیٔ قادیان کو عطا کرتی ہے بلکہ

71

روحانی ترقی، معجزات اور ذہنی ارتقا میں رئیس قادیان کو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے اعلیٰ و افضل سمجھتی ہے۔

۲: ...قادیانیت کا عقیدہ ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا دین و شریعت اور آپؐ کی نبوّت، مرزا غلام احمد کے دعویٔ نبوّت سے پہلے تک محدود تھی اور مرزا غلام احمد کے بعد نبوّت محمدیہ مدار نجات نہیں، بلکہ مرزا کی تعلیم اور وحی مدار نجات ہے، اس کا منطقی نتیجہ یہ ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوّت و شریعت منسوخ قرار پاتی ہے۔

۳: ...قادیانیت کے عقیدے میں تمام دنیا کے مسلمان جو نبیٔ قادیان پر ایمان نہیں لائے، نہ صرف کافر بلکہ پکے کافر اور دائرۂ اسلام سے خارج ہیں۔

۴: ...قادیانیت صدر اول سے لے کر آج تک کی تمام اُمتِ مسلمہ کو ’’عقیدہ حیاتِ مسیح‘‘ کی بنا پر کافر اور مشرک سمجھتی ہے۔

۵: ...قادیانیت عقیدہ حیاتِ مسیح کی بنا پر اُمتِ مسلمہ کو منکر قرآن، کاذب اور خائن تصور کرتی ہے۔

۶: ...قادیانیت تمام عالم اسلام کو ولدالحرام، ذریۃ البغایا اور خنزیر جیسی گھناؤنی گالیوں سے نوازتی ہے۔

۷: ...قادیانیت کے نزدیک موجودہ دور کے مسلمان بیت المقدس اور دیگر مقامات مقدسہ کی تولیت کے اہل نہیں۔

۸: ...قادیانیت اپنے مذہبی مرکز ’’قادیان‘‘ کو، جو آج کل دارالکفر والبوار بھارت میں ہے، نہ صرف مکہ و مدینہ کے ہم سنگ و ہم مرتبہ سمجھتی ہے، بلکہ اعلیٰ و افضل قرار دیتی ہے، اس لئے کہ بقول مرزا محمود صاحب:

’’مکہ و مدینہ کی چھاتیوں کا دُودھ خشک ہوچکا ہے۔‘‘

۹: ...قادیانیت انبیائے کرام علیہم السلام کا مذاق اڑاتی ہے، ان کے معجزات کو قابل نفرت کھلونے بتاتی ہے، اور ہر بات میں مرزا غلام احمد کی انبیائے کرام پر فوقیت کی نمائش کرتی ہے۔

72

۱۰: ...قادیانیت اسلام کی اصطلاحات کو پامال کرتی ہے۔ مرزا کی بیوی کو ’’ام المؤمنین‘‘، مرزا کے مریدوں کو ’’صحابہ کرام‘‘، مرزا کے جانشینوں کو ’’خلفائے راشدین‘‘، قادیان کو ’’ارضِ حرم مکۃ المسیح‘‘، لاہور کو ’’مدینۃ المسیح‘‘، ربوہ کو ’’بیت المقدس‘‘ اور قادیانی نبوّت کے کفر و الحاد کی اشاعت کو ’’جہاد‘‘ کے نام سے یاد کرتی ہے۔

۱۱: ...اسلام میں ’’سیّدۃ النساء‘‘ کا بلند ترین لقب حضرت فاطمہ بتول رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے لئے مخصوص ہے، لیکن قادیانیت یہ لقب مرزا کی بیوی کو عطا کرتی ہے۔

۱۲: ...بعض فرقوں کے مطابق ’’پنج تن پاک‘‘ کی اصطلاح آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم، حضرت علیؓ، حضرت فاطمہؓ اور حضرات حسنینؓ کے لئے مخصوص ہے، مگر قادیانیت ’’پنج تن پاک‘‘ کا اطلاق مرزا کے تین بیٹوں اور دو بیٹیوں پر کرتی ہے۔

۱۳: ...رضی اللہ عنہ کا صیغہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہؓ کے لئے تھا، مگر قادیانی دین میں یہ خطاب ان لوگوں کے لئے مخصوص ہے جو اسلام سے مرتد ہوکر مرزا آنجہانی کی جھوٹی نبوّت سے وابستہ ہوگئے، اور جنہوں نے مرزا کے ہاتھ پر اسلام سے غداری اور انگریز کی وفاداری کا عہد کیا۔

۱۴: ...قادیانیت عالم اسلام کے ایک ایک فرد مسلم سے عداوت اور دشمنی کے وہی جذبات رکھتی ہے جسے قرآن کریم نے یہود اور مشرکین کا شیوہ بتایا ہے:

’’لَتَجِدَنَّ اَشَدَّ النَّاسِ عَدَاوَۃً لِّلَّذِیْنَ اٰمَنُوا الْیَہُوْدَ وَالَّذِیْنَ اَشْرَکُوْا۔‘‘

(المائدہ:۸۲)

چنانچہ قادیانیت کا سرکاری آرگن روزنامہ ’’الفضل ربوہ‘‘ ۳؍جنوری ۱۹۵۲ء کی اشاعت میں ملت اسلامیہ کو خطاب کرتے ہوئے جو کچھ لکھتا ہے، اس کا خلاصہ یہ ہے کہ:

’’ہم فتحیاب ہوں گے، ضرور تم مجرموں کی طرح ہمارے سامنے پیش ہوگے، اس وقت تمہارا حشر بھی وہی ہوگا جو فتح مکہ کے دن ابوجہل اور اس کی پارٹی کا ہوا۔‘‘

(ہفت روزہ ختمِ نبوّت کراچی ج:۳ ش:۲۳)

73

قادیانیت کی نئی دُکان

ڈاکٹر عامر لیاقت حسین کے جواب میں

بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ

اَلْحَمْدُ للہِ وَسَلَامٌ عَلٰی عِبَادِہِ الَّذِیْنَ اصْطَفٰی

س: ...جناب مولانا صاحب خط لکھنے کی جسارت اس وجہ سے کر رہا ہوں کہ میں آپ کا کالم باقاعدگی سے پڑھتا ہوں، آپ نے گزشتہ دنوں کراچی کے حالات پر ایک کالم لکھا، جس کو پڑھ کر پتہ لگا کہ کس طرح کراچی کے حالات صحیح ہوں گے، آپ نے جس طرح دہشت گردوں اور حکومت کو بے نقاب کیا ہے وہ قابل تعریف ہے۔

مگر ایسا لگتا ہے کہ کچھ لوگوں کو آپ کا یہ کالم پسند نہیں آیا ہے، انہوں نے آپ کے کالم کے جواب میں ایک مزاحیہ کالم لکھ مارا ہے، جو ایک روزنامہ کی ۲؍اگست کی اشاعت میں شائع ہوا ہے۔ اس کالم کے مصنف ’’ڈاکٹر عامر لیاقت حسین‘‘ ہیں اور کالم کا نام ہے: ’’دکان نئی کھولو، جاؤ پرانا ہوچکا فتویٰ‘‘ اس کالم میں جس طرح دین اسلام اور احادیث کا مذاق اڑایا گیا ہے وہ قابل مذمت ہے اور اس کے بعد جس طرح آپ کی شخصیت کو تنقید کا نشانہ بنایا گیا ہے اور آپ کو قوم کی امامت کے دعویدار صرف ’’دو رکعت کا امام‘‘ کا طعنہ دیا ہے، اس سے مجھے اور آپ کے چاہنے والے لاکھوں لوگوں کو ٹھیس پہنچی ہے۔

میری آپ سے گزارش ہے کہ ڈاکٹر صاحب کے شبہات کا جواب ضرور لکھیں، میں اخبار کا تراشتہ ساتھ بھیج رہا ہوں۔

ج: ...میں نے یہ کالم جو آپ نے بھیجا ہے پڑھ لیا ہے، اس ناکارہ کے بارے میں تو ڈاکٹر صاحب نے جو کچھ لکھا ہے وہ ان کو معاف! واقعہ یہ ہے کہ ڈاکٹر صاحب نے

74

اس ناکارہ کے بارے میں جو کچھ سمجھا ہے میں اس سے بھی بدتر ہوں، لیکن غور و فکر کے بعد بھی میں یہ نہیں سمجھ سکا کہ ڈاکٹر صاحب نے جو بات میری طرف منسوب فرماکر اس کا مذاق اڑایا ہے، وہ میرے مضمون کے کس فقرے سے اخذ فرمائی؟

میں نے حدیث شریف کے حوالے سے یہ لکھا تھا کہ:

’’جب دو مسلمان ایک دوسرے کو قتل کرنے کے ارادے سے تلواریں سونت کر مقابلے کے لئے نکل آئیں تو قاتل اور مقتول دونوں جہنم میں جائیں گے۔ قاتل تو مسلمان کو قتل کرنے کے جرم میں، اور مقتول ارادۂ قتل کی وجہ سے۔‘‘

دنیا بھر کے قوانین میں قتل کرنا بھی جرم ہے اور ارادۂ قتل بھی جرم ہے۔ اب اگر قانون الٰہی کی رو سے یہ دونوں چیزیں ’’قابل سزا جرم‘‘ قرار دی گئی ہوں تو عقل و منطق اور قانون عدل کے عین مطابق ہے۔ کیا یہ ایسی بات ہے جس کا مذاق اڑایا جائے؟ لیکن میرے بھائی ڈاکٹر لیاقت حسین نے اپنی طرف سے تصنیف کرکے میری طرف یہ فقرہ منسوب کردیا کہ:

’’بغیر کسی وجہ کے کسی کو قتل کرنے والا اور بغیر کسی وجہ سے کسی کے ہاتھوں قتل ہونے والا دونوں جہنمی ہیں۔‘‘

میرے بھائی! کچھ تو انصاف کرتے کہ میری پوری تحریر میں یہ فقرہ کہاں ہے جو انہوں نے میری طرف منسوب کرکے جو جی میں آیا لکھ دیا؟

جو شخص بغیر کسی وجہ کے گھر بیٹھے یا راہ چلتے ظلماً مارا جائے ایسا مسلمان تو ’’شہید‘‘ کہلاتا ہے۔ اس کے بارے میں شرعی حکم سب کو معلوم ہے کہ اس کو غسل بھی نہیں دیا جاتا، کیونکہ وہ خون شہادت سے غسل کرچکا ہے، مولانا رومیؒ کے بقول:

خوں شہیداں را زآب اولیٰ تر است

ویں خطا از صد صواب اولیٰ تر است

اور اس کو نیا کفن بھی نہیں پہنایا جاتا، بلکہ حکم ہے کہ زائد کپڑے (پوستین وغیرہ)

75

اتار لئے جائیں۔ زائد چادر کی ضرورت ہو تو ڈال دی جائے ورنہ اس کے انہی خون آلود کپڑوں میں اسے دفن کیا جائے، تاکہ اس کا یہ ’’لباس شہیداں‘‘ قیامت کے دن اس کی مظلومیت کی گواہی دے۔ حضرت امام ابوحنیفہؒ فرماتے ہیں کہ شہید کی نماز جنازہ پڑھی جائے، جبکہ امام شافعیؒ فرماتے ہیں کہ اس کی نماز جنازہ کی بھی ضرورت نہیں کیونکہ اس کا خون ناحق خود اس کی شفاعت کے لئے کافی ہے، کیونکہ ظالم کے خنجر نے اس کو تمام گناہوں سے پاک صاف کردیا۔’’ان السیف محاء الخطایا۔‘‘ ارشاد نبوی ہے۔

(مسند احمد ج:۴ ص:۱۸۵)

البتہ اگر کسی کا دل کفر و نفاق کی سیاہی سے تاریک تھا تو اس کا مظلومانہ قتل بھی اس کے دل کی سیاہی کو دھونے سے قاصر ہے، چنانچہ ارشاد نبوی ہے: ’’السیف لَا یمحو النفاق۔‘‘ یعنی تلوار نفاق کو نہیں مٹاتی۔

(مسند احمد ج:۴ ص:۱۸۶)

الغرض جو مسلمان بغیر کسی قصور کے ظلماً مارا جائے وہ تو ’’شہید‘‘ کہلاتا ہے، اس کو ’’جہنمی‘‘ کون کہتا ہے؟ ڈاکٹر صاحب کو شاید غلط فہمی ہوئی، ورنہ ایک غلط بات کو میری طرف منسوب کرکے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے مقدس ارشادات کو طنز و اِستہزا کا نشانہ نہ بناتے، اور اس ناکارہ کو بھی ’’جرم بے گناہی‘‘ میں نشترِ قلم سے شہید نہ کرتے، خیر! اللہ تعالیٰ ان کو خوش رکھے۔

میرے بھائی ڈاکٹر صاحب مجھے مشورہ دیتے ہیں کہ ناحق قتل ہونے والوں کے پسماندگان کے زخم خوردہ دلوں پر مجھے مرہم رکھنا چاہئے تھا اور ان کو صبر کی طاقت دلانے کے لئے یہ قرآنی حکم سنانا چاہئے تھا کہ: ’’جو کسی کا ناحق خون بہائے گا وہ معاف نہیں کیا جائے گا۔‘‘ (النساء:۹۳) حالانکہ میں نے حدیث صحیح کے حوالے سے یہ بتایا تھا کہ کسی کا ناحق خون بہانے والا بھی اور ناحق خون بہانے کا ارادہ کرنے والا بھی، دونوں اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں ناقابل معافی جرم کے مرتکب ہیں، ان دونوں کو معاف نہیں کیا جائے گا، بلکہ ان کو جہنم کی سزا سنائی جائے گی۔ میرے بھائی ڈاکٹر صاحب غور فرمائیں کہ میں نے قرآنی حکم سنانے میں کیا کوتاہی کی؟

76

میرے بھائی نے مجھ پر ’’دو رکعت کے امام‘‘ کی پھبتی اڑائی ہے، دو رکعت کی امامت تو نیابت رسول ہے (صلی اللہ علیہ وسلم)، اللہ تعالیٰ مجھے یہ شرف نصیب فرمائیں تو اس سے بڑھ کر اور کیا چاہئے؟

میرے بھائی نے مجھ پر ’’فتویٰ فروشی‘‘ کا بھی الزام لگایا ہے، حالانکہ میں نے اپنے مضمون میں اشارہ دیا تھا کہ:

’’قانون نافذ کرنے والے ادارے نہتے شہریوں کی جان و مال اور عزت و آبرو سے کھیل رہے ہیں، اگر حکومت شہریوں کی جان و مال اور عزت و آبرو کی حفاظت سے قاصر ہے تو اسے فوراً مستعفی ہوجانا چاہئے تاکہ خون ناحق کا وبال اس کے نامہ عمل میں درج نہ ہو اور قیامت کے دن اسے ظالموں کے کٹہرے میں نہ کھڑا کیا جائے۔‘‘

میرے بھائی! انصاف فرمائیں کہ سلطانِ جائر کے سامنے کلمۂ حق کہنے کا نام ’’فتویٰ فروشی‘‘ ہے؟

ڈاکٹر صاحب نے آخر میں مجھے شعری زبان میں مشورہ دیا ہے کہ:

’’دُکان کھولو نئی، جاؤ پرانا ہوچکا فتویٰ‘‘

اور اسی مصرع کو انہوں نے اپنے مضمون کا زیب عنوان بنایا ہے، ان کی خدمت میں اتنی گزارش ہے کہ اس ناکارہ نے تو کوئی فتویٰ نہیں دیا، البتہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا فتویٰ ضرور نقل کیا ہے، اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا کوئی فتویٰ پرانا نہیں بلکہ قیامت تک کے لئے واجب العمل ہے، کیونکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم خاتم النبیین ہیں، آخری نبی ہیں، اب قیامت تک آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ہی کا فتویٰ چلے گا، وہ کل بھی تازہ تھا، آج بھی تازہ ہے، اور قیامت تک تازہ رہے گا۔

77

قادیانیت کی نئی دُکان

نقلی اور جعلی سامان

رہا میرے بھائی کا یہ مشورہ کہ ’’میں نئی دُکان کھولوں‘‘ اس کے لئے یہ گزارش ہے کہ اس فقیر نے نہ پہلے اپنی کوئی دکان کھولی، نہ آئندہ کسی نئی دُکان کھولنے کا ارادہ ہے، الحمدللہ! کہ اس فقیر کے پاس اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی سجی سجائی دُکان موجود ہے، اور یہ جنت کی دُکان ہے۔ یہ فقیر اس دُکان کا حقیر سا نوکر اور ملازم ہے، نہ یہ دُکان اس کی اپنی ہے، اور نہ وہ اپنا مال فروخت کرتا ہے، اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے اس دُکان میں جو مال بھرا ہے وہ جنت کا خزانۂ عامرہ ہے، یہ فقیر یہی مال لٹاتا رہتا ہے۔ الحمدللہ! ثم الحمدللہ! آج بھی اس گئے گزرے دور میں کروڑوں مسلمان اس دُکانِ ایمان سے پرانا مال بڑی ہی عقیدت و محبت اور جذبۂ اِیمانی کے ساتھ دھڑا دھڑ خرید رہے ہیں۔

بعض لوگوں نے حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوّت و رسالت کے مال کو پرانا سمجھ کر نبوّت کی نئی دُکان چمکائی، اور اس پر ظلّی و بروزی کی خوب ملمع کاری کی، مگر اس میں جو مال بھرا وہ سارا نقلی و جعلی تھا، بہت سے لوگ، جو اصلی و نقلی کے درمیان تمیز نہیں کرسکتے، وہ اس نئی دُکان کی نقلی سج دھج اور ملمع کاری سے دھوکے میں آگئے اور انہوں نے نقد ایمان دے کر اس نئی دُکان کا کھوٹا اور جعلی مال خریدنا شروع کردیا۔

یہ فقیر ایسے حضرات کو بھی مشورہ دے گا کہ وہ حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی دُکان سے دوبارہ رجوع کریں، یہاں ان کو دنیا و آخرت کی سعادتوں اور برکتوں کا سودا ملے گا۔ سونے کے پرانے سکے خواہ کتنے ہی پرانے ہوجائیں ان کی قدر و قیمت مزید بڑھتی ہے، اور دورِ جدید کے کاغذی جعلی سکے خواہ کیسے ہی چمکیلے اور خوشنما نظر آئیں وہ پڑیا باندھنے کے کام بھی نہیں آتے۔

میں اپنے بھائی جناب عامر لیاقت حسین سے بھی درخواست کروں گا کہ کبھی فقیر

78

کی دُکان پر (جس کا یہ ملازم ہے) تشریف لائیں، اِن شاء اللہ! حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی دُکان کا پرانا مال دیکھ کر ان کی آنکھیں روشن اور دل باغ باغ ہوجائے گا، اور وہ اس فقیر کو زندگی بھر، بلکہ مرنے کے بعد بھی دُعائیں دیتے رہیں گے۔ اللہ تعالیٰ ہمیں حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے آخری لمحہ تک وابستہ رکھیں اور قیامت کے دن آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی جماعت میں ہمارا حشر فرمائیں۔

(ہفت روزہ ختمِ نبوّت کراچی ج:۱۴ ش:۲۳)

79

جنرل صاحب! کیا یہ صحیح ہے؟

بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ

اَلْحَمْدُ للہِ وَسَلَامٌ عَلٰی عِبَادِہِ الَّذِیْنَ اصْطَفٰی

لندن سے ایک اُردو اخبار ’’آزاد‘‘ نکلتا ہے، جس کا مینیجنگ ایڈیٹر حبیب الرحمن نامی ایک شخص ہے، ہماری معلومات یہ ہیں کہ یہ صاحب بیس سال سے لندن میں ہیں، پہلے ’’جنگ لندن‘‘ میں تھا، وہاں غبن کیا، عدالت میں مقدمہ گیا اور اس کے خلاف فیصلہ ہوا، اس قماش کے لوگوں کو قادیانیت کے دامن میں پناہ ملا کرتی ہے، چنانچہ قادیانیوں کے تعاون سے اس نے ’’آزاد‘‘ اخبار جاری کیا جو مسلسل کئی سال سے قادیانیوں کا پروپیگنڈا کررہا ہے اور نمایاں طور پر انہی کی خبریں شائع کرتا ہے۔ بیرون ملک میں پاکستان کے خلاف پروپیگنڈا کرنا قادیانیوں کا محبوب ترین مشغلہ ہے، خصوصاً لندن کی فضا ان کی پاکستان دشمنی کے لئے خاص طور پر سازگار ہے، چنانچہ یہ اخبار بھی روز اول سے پاکستان اور حکومت پاکستان کے خلاف نہایت زہریلا مواد شائع کر رہا ہے، اس اخبار کی ۲۶؍اپریل تا ۲؍مئی ۱۹۷۸ء کی اشاعت ہمارے سامنے ہے، جس میں مندرجہ ذیل خبر صفحہ اول پر ’’شہ سرخی‘‘ کے ساتھ شائع کی گئی ہے:

’’احمدی اور قادیانی مسلمان ہوگئے‘‘

’’غیرمسلم قرار دینے سے متعلقہ فیصلہ پیپلز پارٹی کے غدار، شیطانی ٹولے کی سازش تھی۔‘‘

’’جنرل ضیاء سے نظر ثانی کرنے اور احمدیوں کو مسلمان تسلیم کرنے کا مطالبہ۔‘‘

80

’’لندن: معلوم ہوا ہے کہ احمدیہ کمیونٹی کے بعض اکابرین نے اپنی ایک تحریری درخواست میں چیف مارشل لاء ایڈمنسٹریٹر جنرل محمد ضیاء الحق سے استدعا کی ہے کہ احمدیوں اور قادیانیوں کو غیرمسلم اقلیت قرار دینے کے بارے میں قومی اسمبلی کا فیصلہ کالعدم قرار دیا جائے، اور انہیں مسلمانوں کے دوسرے فرقوں کی طرح مسلمان سمجھا جائے۔ درخواست میں کہا گیا ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ، قرآن پاک اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان رکھتے ہیں اور انہیں غیرمسلم قرار دینا سراسر زیادتی ہے، اس لئے قومی اسمبلی کے متعصبانہ فیصلہ پر نظر ثانی کی جائے۔

درخواست میں قیام پاکستان میں چوہدری سر ظفر اللہ خاں سے لے کر پاکستان کی سائنسی ترقی میں ڈاکٹر عبدالسلام ایسے احمدی اکابرین کی خدمات کا تفصیل سے جائزہ لیا گیا ہے، اور احمدیوں کو مسلمان، پاکستانی قوم کا ایک مؤثر حصہ قرار دیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ ’’احمدیوں اور قادیانیوں کو غیر مسلم قرار دینے کا فیصلہ قوم کا فیصلہ نہیں تھا، بلکہ پی پی پی کے غدار شیطانی ٹولے کا فیصلہ تھا۔‘‘

یہ خبر جس قدر حیرت انگیز اور سنسنی خیز ہے اس پر کسی تبصرے کی ضرورت نہیں ہے، ہمارا خیال ہے کہ قادیانی اخبار ’’آزاد‘‘ لندن کی یہ خبر محض بازاری گپ ہے جو کہ ایک خاص سازش کے تحت پاکستان میں انتشار پھیلانے اور عوام کو مارشل لاء حکومت سے بدظن کرنے کے لئے گھڑی گئی ہے، قادیانیوں کو معلوم ہے کہ اس مسئلہ میں مسلمانوں کے احساسات کتنے نازک ہیں اور جب یہ بات مسلمانوں کے علم میں آئے گی کہ عالم اسلام کے مسلّمہ فیصلہ کو منسوخ کرنے کا مسئلہ مارشل لاء حکومت کے زیر غور ہے تو اس سے مسلمانوں کے جذبات بھڑک اٹھیں گے اور موجودہ حکومت کے خلاف نفرت و بے زاری اور بے اعتمادی کی عام فضا پیدا ہوجائے گی۔

81

ہم مارشل لاء حکومت سے صرف یہ دریافت کرنا چاہتے ہیں کہ قادیانی اخبار ’’آزاد‘‘ کی یہ خبر کہاں تک صداقت پر مبنی ہے؟ اور اگر یہ خبر غلط، من گھڑت اور گمراہ کن ہے تو حکومت پاکستان کا پہلا فرض یہ ہے کہ نہ صرف قادیانیوں کی اس شرانگیز خبر کی واضح طور پر تردید کرے، بلکہ اس مکروہ سازش پر قادیانیوں کے سرغنہ سے جواب طلبی بھی کرے، نیز لندن میں ہمارے سفارت خانے کو اس متعفن خبر کی تردید کا حکم دیا جائے۔

’’آزاد‘‘ نے مسٹر بھٹو اور اس کی پارٹی کو غدار شیطانی ٹولے کا خطاب دیا ہے، اور اسے سانحۂ ربوہ کا ذمہ دار ٹھہرایا ہے، ہم اس کی تائید کرتے ہوئے اس پر اتنا اضافہ کرنا چاہتے ہیں کہ قادیانی خود بھی اسی ’’غدار شیطانی ٹولے‘‘ کے آلۂ کار تھے، مارچ ۱۹۷۷ء کے انتخابات سے چند دن پہلے مرزا ناصر نے اسی ’’غدار شیطانی ٹولے‘‘ سے چار گھنٹے تک ملاقات کرکے اپنی پارٹی کو اس ٹولے کی حمایت کرنے کی ہدایت کی تھی، اسی بنا پر نقاش پاکستان علامہ اقبال مرحوم نے فرمایا تھا کہ:

’’قادیانی اسلام اور وطن دونوں کے غدار ہیں۔‘‘

(پنڈت نہرو کے نام خط)

اللہ تعالیٰ اسلام اور مسلمانوں کو ان غدارانِ اسلام کے شر سے محفوظ فرمائے۔

وَصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی خَیْرِ خَلْقِہٖ صَفْوَۃِ الْبَرِیَّۃِ مُحَمَّدٍ وَّعَلٰی آلِہٖ وَأَصْحَابِہٖ وَأَتْبَاعِہٖ أَجْمَعِیْنَ

(افتتاحیہ صفحۂ اقرأ روزنامہ ’’جنگ‘‘ کراچی ۸؍ستمبر ۱۹۷۸ء)

82

مغربی جرمنی میں پاکستانی پناہ گزین

بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ

اَلْحَمْدُ للہِ وَسَلَامٌ عَلٰی عِبَادِہِ الَّذِیْنَ اصْطَفٰی

’’۴؍مئی (پ پ) مغربی جرمنی کے ایک رکن پارلیمنٹ نے اخبارات کو جاری کئے گئے ایک مراسلے میں کہا ہے کہ مغربی جرمنی میں سیاسی پناہ حاصل کرنے والے پاکستانیوں میں بیشتر اس وجہ سے پناہ حاصل کر رہے ہیں کہ وہ ایسی سیاسی پارٹی کے رکن ہیں جس پر پابندی عائد ہے اور خطرہ ہے کہ ملک میں ان کے خلاف تعزیری کاروائی کی جائے گی۔ سوشل ڈیموکریٹک کے ڈپٹی ہورسٹ ہاسے نے کہا کہ انہوں نے وزیر داخلہ جرہاٹ ہاؤدم اور سیاسی پناہ گزینوں کے امور کی دیکھ بھال کرنے والے دفتر کی توجہ اپنی ان معلومات کی جانب مبذول کرائی ہے جو گزشتہ ماہ دورۂ پاکستان میں انہوں نے حاصل کی تھیں، مسٹر ہاسے نے اپنے مراسلہ میں کہا ہے کہ پاکستان میں سیاسی پارٹیوں پر پابندی ہونے کے باوجود وہ پارٹیاں موجود ہیں، مسٹر ہاسے نے لکھا ہے کہ وہ اخبارات میں ان پارٹیوں کی سرگرمیوں کی خبریں پڑھ چکے ہیں، اور صدر ضیاء الحق کی مجلس شوریٰ کے دو ارکان سے ملاقاتیں بھی کر چکے ہیں، جن میں ایک رکن نے سابق وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو کی کالعدم پاکستان پیپلز پارٹی سے اپنی وابستگی کا اعتراف بھی کیا ہے، مراسلہ میں کہا گیا

83

ہے کہ اس سے واضح ہو جاتا ہے کہ پاکستان میں کسی کو کسی جماعت کا رکن ہونے پر سزا نہیں دی جاتی بلکہ غیرمعمولی حالات میں ہی ایسا ہوتا ہے۔

اور ایسے لوگوں کو مغربی جرمنی میں سیاسی پناہ دینے کا جواز نہیں بنتا، یاد رہے کہ ان دنوں مغربی جرمنی میں سیاسی پناہ حاصل کرنے کے خواہاں پاکستانیوں اور افغانوں کی تعداد بہت زیادہ ہے، تاہم ایمیگریشن کے حکام پی پی پی کے ارکان کی جانب سے سیاسی پناہ کی درخواستیں منظور کر رہے ہیں، مسٹر ہاسے زرنڈورف کے علاقہ سے پارلیمنٹ کے رکن ہیں اور اسی علاقہ میں پناہ گزینوں کا سب سے بڑا مرکز قائم ہے۔‘‘

(روزنامہ نوائے وقت کراچی ۵؍مئی ۱۹۸۲ء)

’’سیاسی پناہ‘‘ موجودہ دور کی ایک معروف اصطلاح ہے، اور اس کا جواز اس وقت پیدا ہوتا ہے جب کوئی فرد یا جماعت اپنے وطن میں غیرمعمولی حالات سے دو چار ہو، اور خطرہ ہو کہ حکومت کی طرف سے اسے کسی وقت بھی آتش انتقام کا ایندھن بنایا جاسکتا ہے، ظاہر ہے کہ یہ صورت حال حکومت کے جبر و استبداد اور جور و ستم کے نتیجہ ہی میں رونما ہوسکتی ہے، جو نہ صرف حکومت کی بدنامی کی موجب ہے بلکہ ملک و قوم کے لئے بھی باعث ننگ و عار ہے۔

جن پاکستانیوں نے مغربی جرمنی میں (یا کسی اور ملک میں) سیاسی پناہ لے رکھی ہے، سوال یہ ہے کہ ان کی اس پناہ گزینی کے لئے کیا وجہ جواز ہے؟ کیا پاکستان میں کسی ایک فرد کو کبھی بھی محض سیاسی رقابت کا نشانہ بنایا گیا ہے؟ ہر شخص کھلی آنکھوں اس کا مشاہدہ کرسکتا ہے کہ پاکستان میں کسی فرد کے لئے ایسی فضا نہیں ہے، جبکہ مغربی جرمنی کے رکن پارلیمنٹ نے بچشم سر مشاہدہ کے بعد اس کی تصدیق کی ہے، البتہ جو لوگ سنگین جرائم کے مرتکب ہوں انہیں باز پرس اور دار و گیر کا کھٹکا ضرور ہوسکتا ہے، اور یہی لوگ ہیں جو اپنے کیفر کردار سے بچنے کے لئے ’’سیاسی پناہ‘‘ کا لبادہ اوڑھتے ہیں۔

84

بعض ذرائع سے معلوم ہوا ہے کہ ایک اقلیتی فرقہ کے لوگ بھی مغربی جرمنی میں سیاسی پناہ لے رہے ہیں، جس سے دنیا کو یہ تأثر دینا مقصود ہے کہ پاکستان میں ان کی جماعت پر خدا کی زمین تنگ کردی گئی ہے، اور ان کے لئے وہاں رہنا ممکن نہیں رہا، اگر اس خبر میں کسی درجہ بھی صداقت ہے تو یہ ’’مذہبی پناہ‘‘، ’’سیاسی پناہ‘‘ سے بھی زیادہ شرمناک ہے، کیونکہ اس اقلیتی فرقہ کے لوگ ملک میں نہ صرف عزت و آبرو کے ساتھ رہ رہے ہیں بلکہ بعض حلقوں کو یہ شکایت ہے کہ پاکستان میں ان کی وہی حیثیت ہے جو امریکہ میں یہودیوں کی ہے، ایک طرف ملک میں رہتے ہوئے مسلمانوں سے بڑھ کر حقوق و مفادات حاصل کرنا اور دوسری طرف ’’مذہبی پناہ‘‘ کا ڈھونگ رچاکر ملک و قوم کو رسوا کرنا، یہ وہ دوغلی پالیسی ہے جو خالصتاً منافقین ہی کا رویہ ہوسکتا ہے۔

ہم حکومت سے درخواست کرتے ہیں کہ وہ مغربی جرمنی سے ان سیاسی و مذہبی پناہ گزینوں کی فہرست اور ان کی پناہ گزینی کے وجوہ و اسباب کی تفصیلات طلب کرے، اور پھر اس کی روشنی میں صورت حال کی مکمل وضاحت کرے، تاکہ بیرونی دنیا میں ملک و قوم کی ذلت و رسوائی کا مداوا ہوسکے۔ ہمیں تعجب ہے کہ مغربی جرمنی میں متعین پاکستانی سفارت خانے کی طرف سے مغربی جرمنی کی حکومت کو مطمئن کرنے کی کوشش کیوں نہیں کی گئی؟ اور ان لوگوں کے ناشائستہ رویہ کے خلاف احتجاج کیوں نہیں کیا گیا...؟

(ہفت روزہ ختمِ نبوّت کراچی ج:۱ ش:۲)

85

ناشائستہ حرکت!

بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ

اَلْحَمْدُ للہِ وَسَلَامٌ عَلٰی عِبَادِہِ الَّذِیْنَ اصْطَفٰی

ہمیں ایک مراسلہ موصول ہوا ہے، جس میں کہا گیا ہے:

’’قادیانی فرقہ کو غیرمسلم قرار دئے جانے کے باوجود افسر شاہی اپنے اداروں میں قادیانیوں کو بلاتکلف ’’مسلم‘‘ کے نام سے پکار کر نہ صرف کتاب و سنت کے ساتھ شرمناک مذاق کرتی ہے، بلکہ آئین پاکستان کی دھجیاں بھی اڑاتی ہے، چنانچہ ۳؍اگست بروز منگل رات آٹھ بجے ٹی وی کے پروگرام ’’ذوقِ آگہی‘‘ میں ایک سوال کیا گیا:

سوال: ...اس مسلمان سائنسدان کا نام بتائیں جس نے ۱۹۷۹ء میں نوبل پرائز حاصل کیا؟

جواب: ...(پروگرام کے شرکاء میں سے ایک لال بجھکڑ نے جواب دیا:) ’’ڈاکٹر عبدالسلام۔‘‘

اس پر سوال کنندہ نے کہا: ’’جواب درست ہے۔‘‘ حالانکہ ڈاکٹر عبدالسلام کٹر قسم کا قادیانی ہے اور وطن سے اس کی وفاداری کا یہ عالم ہے کہ ۱۹۷۴ء کی تحریک ختمِ نبوّت سے ناراض

86

ہوکر اس نے پاکستان سے اظہار نفرت کرتے ہوئے یہاں کی شہریت تک چھوڑ دی۔

قادیانی شرعاً کافر و زندیق ہیں اور آئین پاکستان کی رو سے بھی وہ غیرمسلم ہیں، پاکستان کے قومی نشریاتی ادارے نے ایک قادیانی کافر کو مسلمان کہہ کر نہ صرف کروڑوں مسلمانوں کی دل آزاری کی ہے، بلکہ آئین پاکستان کی توہین اور اس سے غداری کے جرم کا بھی ارتکاب کیا ہے، لہٰذا ارباب حل و عقد سے ہمارا مطالبہ ہے کہ اس پروگرام کے انچارج کو فوری طور پر برطرف کرکے آئین پاکستان سے غداری و بغاوت کے جرم میں مقدمہ چلایا جائے۔‘‘

اس بوالعجبی کی داد کون دے سکتا ہے کہ ایک طرف ملک میں اسلامی نظام کے نفاذ کا چرچا ہے اور دوسری طرف پاکستان کا طاقتور قومی نشریاتی ادارہ غیرمسلموں کو ’’مسلمان‘‘ کا خطاب دے کر اسلام کی مٹی پلید کر رہا ہے۔ اور تعجب بالائے تعجب یہ ہے کہ ان قومی اداروں کی زمام اختیار ایسے بزرجمہروں کے ہاتھ میں ہے، جنہیں مسلم اور غیرمسلم کی بھی شناخت نہیں:

چو کفر از کعبہ بر خیزد کجا ماند مسلمانی!

ہمارے ارباب بست و کشاد کو غالباً یہ احساس نہیں کہ یہ مسئلہ کتنا نازک اور حساس ہے، اور اگر اس پر کوئی تحریک اٹھی تو ۱۹۵۳ء اور ۱۹۷۴ء کی طرح اسے سنگینوں کی نوک سے روکنا بھی ممکن نہیں ہوگا، ہم ملک کے ذمہ دار حضرات سے درخواست کرتے ہیں کہ ملت اسلامیہ کے صبر و سکون کا زیادہ امتحان نہ لیں، کبھی حکومت کے شعبہ خواتین کی سربراہ، اسلامی احکام کا مذاق اڑاتی ہیں، اور کبھی قومی نشریاتی ادارے کے سربراہ زندیقوں اور مرتدوں کو اسلام کی سند عطا فرماتے ہیں، ہم یہ سمجھنے سے قاصر ہیں کہ آیا افسر شاہی علم و دانش سے اس قدر بے بہرہ ہے کہ اسے مسلم و غیرمسلم اور اسلام و کفر کے درمیان تمیز بھی نہیں؟ یا

87

جان بوجھ کر اسلام اور اسلامی شعائر کا مذاق اڑانا بھی ان کے فرائض منصبی میں داخل ہے؟

بہرحال ہم اسلام کے خلاف ٹی وی کے ارباب حل و عقد کی اس ناشائستہ اور غیرذمہ دارانہ حرکت کے خلاف پوری ملت اسلامیہ کی طرف سے پرزور احتجاج کرتے ہوئے مطالبہ کرتے ہیں کہ یہ ادارہ اس حرکت پر قوم سے معافی مانگے، ورنہ اس کے ذمہ داروں کے خلاف کاروائی کی جائے۔

(ہفت روزہ ختمِ نبوّت کراچی ج:۱ ش:۱۳)

88

قادیانی غنڈوں کو گرفتار کیا جائے!

بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ

اَلْحَمْدُ للہِ وَسَلَامٌ عَلٰی عِبَادِہِ الَّذِیْنَ اصْطَفٰی

’’ربوہ ۲۸؍اپریل (خصوصی رپورٹ احمد کمال نظامی) قادیانیوں کے بارے میں آرڈی نینس کے نفاذ کے بعد نمائندہ خصوصی ’’نوائے وقت‘‘ نے ربوہ میں قادیانیوں اور مسلمانوں کی رائے معلوم کرنے کے لئے آج خصوصی دورہ کیا تو وہاں قادیانیوں کو خوف و ہراس میں مبتلا پایا۔ ربوہ میں قادیانیوں کی ۴۶ عبادت گاہیں ہیں، جن پر کل رات مسجد کا لفظ مٹادیا گیا تھا۔ البتہ سب سے بڑی عبادت گاہ پر بدستور ’’مسجد اقصیٰ‘‘ کا لفظ اور آیات درج ہیں، اور اس عبادت گاہ پر نیم فوجی خدام الاحمدیہ اور الفرقان بٹالین کے مسلح رضاکاروں کا پہرہ تھا، اور کچھ رضاکار اردگرد کی جھاڑیوں میں چھپے بیٹھے تھے، ہماری گاڑی وہاں گئی تو سیاہ کپڑوں میں ملبوس اسٹین گن سے مسلح ایک نوجوان دور سے بھاگ کر آتا دکھائی دیا، اور اس نے للکارا کہ پکڑلو جانے نہ پائے، جس پر قریبی جھاڑیوں سے پچاس کے قریب قادیانی رضاکار برآمد ہوئے جو لاٹھیوں اور آتشیں اسلحہ سے لیس تھے۔‘‘

(’’نوائے وقت‘‘ راولپنڈی ۲۹؍اپریل ۱۹۸۴ء)

حضرت امیر شریعتؒ سے لے کر آج تک ہمارے اکابرؒ یہ کہتے چلے آرہے ہیں کہ ربوہ میں اسلحہ موجود ہے، اس خبر سے ہمارے اکابرؒ کی بات سچی ہوگئی ہے، مندرجہ بالا خبر

89

۲۹؍اپریل کو اخبارات میں چھپی ہے، اب جبکہ کافی دن ہوچکے ہیں اس خبر پر کسی قسم کا پولیس ردعمل منظر عام پر نہیں آیا، حالانکہ ہونا تو یہ چاہئے تھا کہ جیسے ہی پولیس کو یہ مسلح نوجوان نظر آئے تھے موقع پر ہی گرفتار کیا جاتا، مگر ایسا نہیں کیا گیا، اس میں پولیس کی کیا مجبوری تھی؟ جبکہ عام حالات میں پولیس مشتبہ لوگوں کو حراست میں لے کر ان سے اسلحہ جات برآمد کرتی ہے، اسلحہ جات کی برآمدگی کے لئے ان کے گھروں پر چھاپے مارتی ہے، ان کے خلاف مقدمات قائم کرتی ہے، اور اگر حکومت چاہتی ہے تو لائسنس یافتہ اسلحہ بھی لوگوں کو تھانے میں جمع کرانے کا حکم نافذ کردیتی ہے، مگر مقام حیرت ہے کہ قادیانی غنڈے ربوہ میں دندناتے پھر رہے ہیں، یہاں تک کہ پولیس افسران کو بھی آنکھیں دکھاتے ہیں، مگر اس کے باوجود تاحال کوئی کاروائی نہیں ہوئی، ہمارا مطالبہ یہ ہے کہ ان قادیانی مسلح غنڈوں کو فوراً گرفتار کیا جائے، ربوہ اور پاکستان بھر کے دیگر قادیانی گھروں اور اڈوں کی تلاشی لی جائے۔

علاوہ ازیں جن قادیانیوں کو بذریعہ لائسنس اسلحہ دیا گیا ہے ان کے لائسنس منسوخ کرکے ان کا اسلحہ ضبط کیا جائے۔

(ہفت روزہ ختمِ نبوّت کراچی ج:۲ ش:۴۸)

90

سوال وجواب

91

’’احمد رسول‘‘ کی پیش گوئی کا مصداق؟

بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ

نَحْمَدُہٗ وَنُصَلِّیْ عَلٰی رَسُوْلِہِ الْکَرِیْمِ!

مکرم محترم مولانا محمد یوسف صاحب لدھیانوی

السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ!

آپ جس شفقت اور محبت سے خطوط کا جواب دیتے ہیں، اس کے متعلق میں سوائے جزاکم اللہ احسن الجزاء کے اور کیا کہہ سکتا ہوں؟ اللہ تعالیٰ آپ کو صحت و عافیت والی لمبی عمر عطا فرمائے اور صراطِ مستقیم پر چلنے کی توفیق عطا فرمائے، آمین!

حضرت عیسیٰ ابنِ مریم علیہ السلام نے سورۂ صف میں جو ایک ’’احمد رسول‘‘ کی پیش گوئی کی ہے، اس میں آگے چل کر اُس ’’احمد رسول‘‘ کے متعلق کہا ہے کہ: ’’وَھُوَ یُدْعٰٓی اِلَی الْاِسْـلَامِ‘‘ یعنی اور اس کو بلاتے ہیں مسلمان ہونے کو۔ رسولِ کریم صلی اللہ علیہ وسلم تو خود داعیٔ اسلام ہیں، آپ کو مسلمان ہونے کو کون بلاسکتا ہے؟ اُمید ہے کہ آپ اس کی وضاحت فرماکر عنداللہ مأجور ہوں گے۔ خاکسار

محمد شفیع خان نجیب آبادی

۱۸؍۷؍۱۹۷۹ء

جواب:

اس آیتِ کریمہ میں احمد صلی اللہ علیہ وسلم کے ان منکرین کا ذکر ہے جن کے

92

بارے میں اس سے پہلی آیت میں فرمایا ہے:’’فَلَمَّا جَآئَھُمْ بِالْبَیِّنَاتِ قَالُوْا ھٰذَا سِحْرٌ مُّبِیْنٌ‘‘ اس لئے یہ آیت ’’ایک احمد رسولؐ‘‘ سے متعلق نہیں، بلکہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے مکذبین کو اس آیت میں ’’اَظْلَمُ‘‘، ’’مفتری‘‘، ’’یُدْعٰٓی اِلَی الْاِسْـلَامِ‘‘ اور’’وَاللہُ لَا یَھْدِی الْقَوْمَ الظّٰلِمِیْنَ‘‘ کا مصداق قرار دیا گیا ہے، آپ کسی اُردو تفسیر کا مطالعہ فرمائیں۔ فقط والدعا!

محمد یوسف عفا اللہ عنہ

۲۵؍۸؍۱۳۹۹ھ

93

مرزائی اخلاق اور اسلامی شائستگی

مرزائی اُمت کی ’’شائستگی‘‘ حذف کرکے خط کے ضروری اقتباسات اور حضرتؒ کا جواب ملاحظہ ہو: ..................۔(مرتب)

جناب محمد یوسف لدھیانوی صاحب

سلام من اتبعی الھدیٰ! (نقل مطابق اصل) ازیں پیشتر ایک عریضہ آپ کی خدمت میں ارسال کیا تھا، اور اس خط سے بھی آپ اندازہ لگاسکتے ہیں کہ آپ کا خصوصی تعصب سے بھرا صفحہ کتنے غور سے پڑھتا ہوں، لیکن کمال یہ ہے کہ آپ اپنی تو بڑے شور سے کہہ جاتے ہیں، کیونکہ آپ کے پاس ’’جنگ‘‘ اخبار کا ’’جنگی‘‘ صفحہ ہے، لیکن دوسروں کی سننے یا پڑھنے یا اس کا جواب دینے کے آپ روادار نہیں ہوتے، جیسا کہ میرے پہلے عریضہ کا آپ حشر کرچکے ہیں، اور آپ جن صاحبان کے جواب دیتے ہیں ان بیچاروں کی استعداد ہی اتنی ہوتی ہے کہ آپ اللہ و رسولؐ کے نام کو استعمال کرلیں تو وہ آمنا وصدقنا کہہ کر آپ کے ہر فتویٰ کو (نعوذ باللہ) اللہ و رسولؐ کے اَحکام سے بھی بالاتر سمجھنے میں مجبور ہوتے ہیں، کیونکہ ان کے پاس علم تو ہوتا نہیں، بلکہ آپ ہی کے دعویٰ پر آپ کو واقعی وارثِ رسولؐ سمجھے جارہے ہیں، ورنہ شاید آپ کو احساس نہیں کہ جہاں کہیں بھی آپ فتویٰ داغتے ہیں، تو اس میں صریحاً آپ اپنی ذاتی انا، ذہنیت اور پکی روٹی تک محدود علم کا ’’گھپلا‘‘ ہوتا ہے، لیکن جنگ اخبار کے اکثر قارئین ایسے بھی ہیں جو آپ کی علمی حالت پر خون کے آنسو روتے ہیں، لیکن مجبور ہیں، کچھ کہہ نہیں سکتے۔

اس بار بھی ۲۰؍اکتوبر کا جنگ پڑھا ہے، یہ دیکھ کر پھر دکھ ہوا کہ آپ اس دورِ

94

جدید اور سائنسی دور میں رہ کر بھی لوگوں کے مسائل خالصتاً قرآن و سنت کو عملاً پیٹھ پیچھے چھوڑ کر حل کرنے کی کوشش کرتے ہیں، آپ کے لٹھ مار فتاویٰ سے ہی آج کی نوجوان نسل دینِ اسلام سے بھاگ کھڑی ہوئی ہے، اور یہ محض آپ جیسے مفتیوں اور علماء کی متعصب ذہنیت کی وجہ سے ہو رہا ہے ......

عبدالرؤف لودھی، کوئٹہ

جواب:

گرامی مفاخر جناب لودھی صاحب، آداب و دعوات!

عتاب نامہ (محررہ ۲۵؍۱۰؍۱۹۷۸ء) موصول ہوا، جناب کی عنایت و توجہ کا بہت بہت شکریہ۔ جناب نے اس فقیر کے حق میں جو کچھ ارشاد فرمایا، میں اسے جناب کی وسعتِ ظرفی سمجھتا ہوں، تین وجہ سے:

اَوّل: ... میں اس سے بھی بدرجہا فروتر ہوں جو کچھ آپ نے فرمایا۔

دوم: ... یہ حق کی بہت ہی خفیف سزا ہے جو آپ نے دینا چاہی۔

سوم: ... آپ نے اپنے نبی کی سنت پر عمل فرمایا، اور وہ بھی بہت ہلکے پھلکے انداز میں، لہٰذا مجھے اپنے نبی کی سنت پر عمل کرتے ہوئے کہنا چاہئے: اللّٰھم اھد قومی فإنھم لَا یعلمون!

حق تعالیٰ آپ کو حسنِ ظن کی جزائے خیر دے۔

جانِ برادر! لوگ سوال کرتے ہیں، یہ فقیر اپنی ناقص فہم کے مطابق اس کا جواب لکھ دیتا ہے، اس میں غصّے اور جھنجھلاہٹ کی کیا بات ہے؟ اگر آپ کے نزدیک کوئی جواب قواعدِ شرعیہ کے خلاف ہے تو اس پر گرفت کرسکتے ہیں کہ یہ فلاں شرعی قاعدے کی رُو سے غلط ہے۔ باقی رہے مناظرے اور گالم گلوچ! تو یہ ایک صدی سے ہو ہی رہا ہے، اب کوئی کہاں تک کرتا جائے۔

بہرحال آپ کو اختیار ہے کہ جس قسم کی چاہیں فقیر کے بارہ میں رائے قائم کریں، اور جو کچھ فرمانا چاہیں فرمائیں، میں دُنیا و آخرت میں آپ کو معاف کرتا ہوں۔ اگر جناب

95

مرزا صاحب کی نبوّت و مسیحیت اس قسم کے طرزِ تخاطب سے فروغ پاسکتی ہے تو یہ آپ کے لئے بڑی سعادت ہوگی، اور میرا کچھ نہیں بگڑے گا، ُکل اُمتِ محمدیہ کے کافر و مشرک ٹھہرائے جانے سے کچھ نہیں بگڑا تو یہ فقیر کس شمار میں ہے

بحمداللہ! فقیر آپ کی دُعا سے بصحت و عافیت ہے، اُمید ہے مزاجِ سامی بعافیت ہوں گے، کبھی نیوٹاؤن تشریف لائیے اور شرفِ میزبانی بخشئے، فقط والدعا!

آپ کا مخلص

محمد یوسف عفا اللہ عنہ

۲۸؍ذیقعدہ ۱۳۹۸ھ

96

قسمیں اُٹھانے کی بجائے

دلائل کی ضرورت

(۱)

بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ

نَحْمَدُہٗ وَنُصَلِّیْ عَلٰی رَسُوْلِہِ الْکَرِیْمِ!

مکرم و محترم جناب مولانا صاحب سلامِ نیاز!

۱: ... ایک خط آپ کی خدمت میں بذریعہ رجسٹری معرفت اخبار جنگ بھجوایا تھا، جو انکار (Refund) ہوکر واپس آگیا ہے، مجھے یقین نہیں آتا کہ یہ خط آپ کے ایما پر واپس کیا گیا ہو؟

ج: ... جی ہاں! میرے علم کے بغیر ایسا ہوا ہے، میں کسی کا رجسٹری خط واپس نہیں کیا کرتا، البتہ مرزا ناصر احمد صاحب کو یہ مقامِ عالی نصیب ہے۔

۲: ... اب دوبارہ یہ خط آپ کے نیوٹاؤن مسجد کے پتہ پر بھجوا رہا ہوں۔

ج: ... رجسٹری کرنے کی ضرورت نہیں، سادہ ڈاک میں بھیج دینا کافی ہے۔

۳: ... عرض یہ ہے کہ میرے نزدیک آپ مدعی اور جماعتِ احمدیہ مدعا علیہ نہیں، بلکہ آپ نے جماعتِ احمدیہ پر یہ بہتان لگایا ہے۔

ج: ... الزام لگانے والے کو ہی ’’مدعی‘‘ کہتے ہیں۔

۴: ... آپ کا یہ کہنا کہ ہم احمدی لوگ کلمہ میں ’’محمد رسول اللہ‘‘ سے مراد آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نہیں لیتے، بلکہ اس سے مراد مرزا غلام احمد لیتے ہیں، سراسر بہتان ہے، میں نے مؤکد بہ لعنت قسم سے اس کی تردید کی تھی، تو آپ پر واجب تھا کہ یا تو اپنے بہتان کو

97

واپس لیتے یا مقابلہ میں مؤکد بہ لعنت قسم اُٹھاتے، اور یہی مباہلہ کی شرط ہوتی ہے، میں اُمید رکھتا ہوں کہ آںمحترم یا تو مؤکد بہ لعنت قسم اُٹھائیں گے یا اپنا بہتان واپس لے لیں گے۔

نیاز مند : عبدالمجید، کراچی

ج: ... یہ جان چھڑانے کی پُرانی قادیانی رَوش ہے کہ وہ ہمیشہ لعنت کے نیچے رہنے کو پسند کرتے ہیں، اسی طرح یہ مرزا غلام احمد قادیانی کی بھی عادت رہی ہے کہ وہ بجائے دلائل دینے کے ہمیشہ اپنی اُمت کو دھوکا دیتا اور جھوٹی قسمیں اُٹھاتا رہا، اسی سبق کو آپ بھی دُہرا رہے ہیں۔ دلائل کی دُنیا میں قسمیں کام نہیں دیتیں، بلکہ صاف صاف دلائل لائیے۔ بھلا یہ بھی کوئی مؤکد بہ لعنت قسم کی بات ہے کہ میں آپ کے نبی کے دعویٰ اور الہامات پیش کرتا ہوں کہ وہ اپنے آپ کو ’’محمد رسول اللہ‘‘ کہتا ہے، اور آپ مؤکد بہ لعنت قسم اُٹھاتے ہیں کہ ہم پر یہ بہتان اور الزام ہے اور آپ کا دعویٰ غلط ہے۔

(۲)

بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ

نَحْمَدُہٗ وَنُصَلِّیْ عَلٰی رَسُوْلِہِ الْکَرِیْمِ!

مکرم مولانا صاحب، سلامِ نیاز!

۱: ... میں نے آپ کے بہت سے سوالات مرسلہ کے جوابات کے لئے قاضی محمد نذیر صاحب کو تکلیف دی تھی، اور ان کے جوابات آپ کو بھجوادئیے تھے، اب آپ ان کے جوابات پر کچھ لکھنے سے پہلے میرے ذریعہ ان سے پوچھنا چاہتے ہیں کہ قاضی صاحب نے آپ کے مسلّمہ بزرگوں کی جو عبارتیں پیش کی تھیں، ان عبارتوں کو اُنہوں نے باطل جانتے ہوئے پیش کیا ہے یا حق جانتے ہوئے۔ میرے نزدیک اس بات کا جواب قاضی صاحب سے لینے کی ضرورت نہیں۔

ج: ... ضرورت اس لئے ہے کہ جناب قاضی صاحب کا اپنا موقف بصراحت سامنے آجائے۔

۲: ... یہ بات ظاہر ہے کہ اُنہوں نے بروز، ظلیت وغیرہ کی تشریح میں آپ کے

98

مسلّمہ بزرگوں کی عبارتوں کو اپنی تائید میں پیش کیا ہے، تو وہ ان عبارتوں کو اُصولی طور پر سچا ہی جانتے ہیں، تبھی اپنی تائید میں پیش کرسکتے ہیں۔

ج: ... ’’اُصولی طور پر‘‘ سچا جاننے کا کیا مطلب ہے؟ اس کی وضاحت فرمائیں۔

۳: ... آپ قاضی صاحب سے یہ بھی پوچھنا چاہتے ہیں کہ کسی کی عبارتوں کو منشائے متکلم کے خلاف معنی پہنانا بددیانتی اور تحریف اور خیانت ہے یا نہیں؟ یہ بات بھی ان سے پوچھنا غیرضروری ہے، کیونکہ میں جانتا ہوں کہ ایسا کرنا ضرور بددیانتی، تحریف اور خیانت ہے۔

ج: ... جزاک اللہ! آپ نے قاضی نذیر صاحب کے پیش کردہ مزعومہ دلائل کا قصہ خود ہی پاک کردیا۔

۴: ... قاضی صاحب خود آپ کو مرسلہ مضمون میں لکھ چکے ہیں: ’’ تفسیر القول بما لَا یرضٰی بہ قائلہٗ درست نہیں ہوتی۔‘‘ (ص:۵ سطر:۲۷) پس ان کی طرف سے آپ کے دوسرے سوال کا جواب تو پہلے سے موجود ہے۔

پس اگر آپ قاضی صاحب کے مضمون پر کچھ تبصرہ کرنا چاہتے ہیں، تو مجھے لکھ کر بھیج دیں۔

ج: ... اس کا تفصیلی جواب الگ کاغذ پر لکھ کر بھیج رہا ہوں۔

۵: ... میں خود موازنہ کرلوں گا کہ قاضی صاحب نے آپ کے بزرگوں کے حوالہ جات پیش کرنے میں کیا غلطی کی ہے؟

ج: ... غلطی نہیں، بلکہ تحریف کی ہے، میں دلائل سے اس کو واضح کروں گا۔

۶: ... پھر اگر ضرورت سمجھی تو ان سے وضاحت طلب کرکے آپ کو ان کے عندیہ سے مطلع کردوں گا۔

قاضی صاحب نے ’’توفّی‘‘ کے متعلق جو بحث کی ہے، اس پر آپ کے وعدہ کے مطابق آپ کی تنقید کا شدید انتظار ہے، اس بارہ میں مزید انتظار میں نہ رکھیں۔

ج: ... مجھے بھی ’’رفع‘‘ اور ’’بل‘‘ کی بحث میں قاضی صاحب کے افادات کا

99

انتظار ہے، جب تک ایک بحث کا تصفیہ نہ ہوجائے، دوسرا موضوع شروع کرنا بے سود ہے۔

۷: ... مباہلہ کے سلسلہ میں یہ عرض ہے کہ آپ نے صاحبزادہ مرزا بشیراحمد کی دو عبارتوں سے غلط استدلال کیا تھا۔

ج: ... میرے استدلال میں کیا غلطی تھی؟ اس کی وضاحت فرمادیں تاکہ بات مزید جاری رکھی جاسکے۔

۸: ... یعنی آپ نے ان کے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثتِ ثانیہ قرار دے کر نئے کلمہ کی ضرورت سے انکار کو اپنی طرف سے یہ معنی پہنائے تھے کہ احمدی کلمہ شریف میں ’’محمد رسول اللہ‘‘ سے مراد مرزا صاحب کو لیتے ہیں، اور مسلمان آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو مراد لیتے ہیں۔

ج: ... جب مرزا صاحب، بقول قادیانی صاحبان کے بعینہٖ ’’محمد رسول اللہ‘‘ ہیں، تو میں نے غلط فہمی پھیلائی ہے ؟یا خود قادیانیوں نے غلطی کھائی؟

۹: ... آپ نے احمدیوں کے متعلق اس طرح یہ غلط فہمی پبلک میں پھیلانے کی کوشش کی کہ وہ کلمہ شریف میں ’’محمد رسول اللہ‘‘ کے الفاظ سے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم مراد نہیں لیتے، چونکہ آپ کا احمدیوں پر یہ بہتان تھا، اس لئے میں نے بحیثیت ایک احمدی کے اپنی صفائی مؤکد بہ لعنت حلف سے پیش کی۔

ج: ... مبارک ہو! میں آپ کے اس سوال کا جواب پہلے خط میں لکھ چکا ہوں کہ یہ مرزاجی کی پرانی رَوش ہے کہ جب وہ دلائل سے عاجز آجاتے ہیں تو مؤکد بہ لعنت قسمیں اُٹھاکر اپنے مریدین کو مطمئن کرنے کی کوشش کرتے ہیں، اور وہی آپ نے بھی کیا۔

۱۰: ... آپ کو بھی بالمقابل ایسی حلف کی دعوت دی، اگر آپ حلف اُٹھالیتے تو میں سمجھ لیتا کہ آپ اپنے استنباط میں اپنے آپ کو سنجیدہ جانتے ہیں۔

ج: ... کیا استنباط پر مباہلے ہوا کرتے ہیں؟

۱۱: ... آپ کو چاہئے تھا کہ نتیجہ کو خدا کے حوالے کردیتے، مگر آپ نے تواس معاملہ کو عدالتی رنگ دینے کے لئے اپنے آپ کو مدعی ظاہر کیا۔

100

ج: ... مدعی اور مدعا علیہ صرف عدالت میں نہیں ہوتے، علمی مباحث میں بھی ہوتے ہیں، اور مدعی کے ذمہ حلف نہ عدالت میں ہوتا ہے، نہ علمی بحث میں۔

۱۲: ... آپ نے مدعی بن کر اپنے لئے قسم کو غیر مشروع قرار دیا۔

ج: ... جی ہاں! دین و شریعت اور دُنیا بھر کی عدالتوں کا یہی دستور ہے کہ مدعی پر قسم نہیں ہے۔

۱۳: ... حالانکہ آپ سمجھ رہے تھے کہ میرا آپ سے ایسا مطالبہ مباہلہ کی رُوح کا حامل ہے، جس سے آپ اپنے آپ کو مدعی ظاہر کرکے بچنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

ج: ... مباہلہ کی شرائط؟ اور اس کا نتیجہ؟ اور پھر مباہلہ کرنا تھا تو اپنے اُوپر لعنتیں برسانے سے پہلے آپ کو دعوت دینی چاہئے تھی۔

۱۴: ... لہٰذا قاضی صاحب اس مشورہ دینے میں حق بجانب ہیں کہ اس طرح بالمقابل مؤکد بہ لعنت اللہ علی الکاذبین کی حلف کو مباہلہ سمجھا جائے۔

ج: ... آپ کے پہلے موقف اور قاضی صاحب کے مشورہ کے بعد اختیار کردہ موقف میں کیا فرق ہوا؟

۱۵: ... اب میری اس وضاحت پر کہ میرا مطالبہ آپ کو مباہلہ کی دعوت ہے، آپ نے یہ شرط عائد کردی ہے کہ میں پہلے اعتراف کروں کہ پہلے مؤکد بہ لعنت حلف اُٹھانا میری غلطی تھی، پھر آپ مجھے مباہلہ کا فلسفہ اور اس کی شرائط سمجھائیں گے، یہ بھی مباہلہ سے بچنے کا ایک حیلہ ہے، اور اس پر ’’نہ نو من تیل ہوگا، نہ رادھا ناچے گی‘‘ کی ضرب المثل صادق آتی ہے۔

ج: ... جی ہاں! مرزا صاحب کے وقت سے آج تک قادیانی صاحبان اسی ضرب المثل کا مصداق ہیں۔

۱۶: ... یہ تو آپ بھی سمجھتے ہیں کہ میں اپنے آپ کو اس حلف کے اُٹھانے میں غلطی پر نہیں سمجھتا، لہٰذا آپ سمجھتے ہیں کہ میں تو اسے اپنی غلطی قرار نہیں دوں گا، لہٰذا آپ سے مجھ پر شرط پورا نہ کرنے کا الزام دے کر اسے مباہلہ سے بچنے کا حیلہ بنالیا۔

101

ج: ... اگر غلطی سمجھ میں آنے لگے تو آدمی قادیانی ہی کیوں بنے؟ اصل آفت تو یہی ہے کہ غلطی کو غلطی سمجھنے کی استعداد ختم ہوچکی ہے۔

۱۷: ... ہمارے امام حضرت خلیفۃ المسیح الثانی رضی اللہ عنہ نے صاف فرمادیا ہے کہ کلمہ شریف تمام انبیاء میں سے صرف آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو ملا ہے، اور یہ آپ کا امتیاز ہے۔

ج: ... یہ خلیفہ صاحب نے بالکل غلط اور من گھڑت بات کہی ہے، جائے عبرت ہے کہ ایک جھوٹی نبوّت کو ہضم کرنے کے لئے کتنے نئے جھوٹ گھڑنے پڑے!

۱۸: ... جماعتِ احمدیہ اس لئے کلمہ شریف میں ’’محمد رسول اللہ‘‘ سے مراد اپنے امام کے قول کے مطابق آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو ہی جانتی ہے اور مرزا بشیراحمد صاحب کے کسی قول کا مطلب ہم یہ نہیں جانتے کہ ان کے نزدیک کلمہ شریف میں ’’محمد رسول اللہ‘‘ سے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم مراد نہیں۔

ج: ... کیا صریح الفاظ کو بھی مطلب پہنانے کی ضرورت ہوتی ہے؟ اگر ایسا نہیں، تو ایک بار پھر کلمۃ الفصل کی عبارت کو پڑھ لیجئے!

۱۹: ... پس اگر آپ حضرت خلیفۃ المسیح الثانی رضی اللہ عنہ کی تحریر کی روشنی میں اپنے الزام کو احمدیوں سے واپس لے لیں تو پھر مباہلہ کی ضرورت نہیں رہتی، لیکن آپ احمدیوں پر بہتان بھی لگائیں اور پھر کوئی احمدی صفائی پیش کرنے کے لئے آپ سے مباہلہ پر آمادہ ہو تو پھر آپ کے اُس کے بالمقابل مؤکد بہ لعنت اللہ علی الکاذبین حلف کے اُٹھانے کے لئے عذرات تراشنے سے یہ نتیجہ برآمد ہوتا ہے کہ آپ اپنے اس الزام کے لگانے میں سنجیدہ نہیں ہیں، اگر آپ مباہلہ نہ کرنا چاہیں تو میں آپ کو مجبور نہیں کرسکتا۔

ج: ... میں الزام کیوں واپس لوں؟ آپ یہ بتائیں کہ مرزا بشیراحمد صاحب کی عبارت کا مطلب اس کے سوا کیا ہے جو میں نے سمجھا ہے؟

۲۰: ... لیکن ایچاپیچی اور ہیرپھیر کرنا تو دعوت الی الخیر اور الموعظۃ الحسنۃ نہیں۔

ج: ... اور مرزا صاحب اور ان کی جماعت کا سارا مدار ہی ایچاپیچی اور تأویل

102

وتحریف پر ہے، ان کے بارے میں کیا رائے ہے؟

۲۱: ... میرا خیال ہے کہ یہ محض مباہلہ سے بچنے کے لئے عافیت کوشی ہے، مگر یہ یاد رکھیں کہ بہتان باندھ کر قیامت کے دن جواب دہی سے آپ بری الذمہ نہیں ہوسکتے، کیونکہ ہم پر آپ نے ظلم کی راہ سے بہتان باندھا ہے کہ ہم لوگ کلمہ شریف ’’لا الٰہ الا اللہ محمد رسول اللہ‘‘ پڑھتے ہیں، تو ’’رسول اللہ‘‘ سے مراد آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نہیں لیتے، بلکہ مرزا غلام احمد مراد لیتے ہیں۔

ج: ... اور یہ ظلم خود آپ کے بڑوں نے اپنے اُوپر کیا ہے، اس لئے اسے اپنے خلیفہ ثانی مرزا بشیرالدین محمود کا تحفہ سمجھئے!

۲۲: ... آپ حضرت مرزا غلام احمد یا آپ کے خلفاء میں سے کسی کا ایسا قول پیش نہیں کرسکتے کہ کلمہ شریف میں ’’محمد رسول اللہ‘‘ سے مراد آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نہیں، مرزا بشیراحمد صاحب کے کسی قول میں بھی یہ بات مذکور نہیں۔

ج: ... اور کیا مذکور ہے؟ اس کی وضاحت ارسال کریں۔

۲۳: ... آپ کے استنباط کو ہم بہتان اورتفسیر القول لما لَا یرضٰی بہ قائلہٗ کا مصداق جانتے ہیں، جو آپ کے نزدیک بھی آپ کی اپنی چٹھی کے رو سے بددیانتی، خیانت اور تحریف ہوتی ہے۔

ج: ... بالکل صحیح فرمایا! بددیانتی، خیانت اور تحریف کو نقل کرنا بھی صورۃً یہی ہے، مگر نقلِ کفر کفر نباشد!

۲۴: ... آپ کی اصل حیثیت ہمارے نزدیک مسیحِ موعود علیہ السلام کے مقابلہ میں منکر کی ہے۔

ج: ... پہلے اپنے مسیحِ موعود کو ’’مسیحِ موعود‘‘ بنالیجئے، پھر منکروں کے منکر ہونے کی نوبت آئے گی۔

۲۵: ... اور منکر کو دعوتِ مباہلہ دی جاسکتی ہے، جب وہ کوئی بہتان باندھے، فقط۔

نیازمند عبدالمجید، کراچی

103

ج: ... دعوتِ مباہلہ تو مرزا صاحب کے وقت سے آپ دے رہے ہیں، لیکن نتیجہ وہی ہوگا جو مولانا عبدالحق امرتسریؒ کے مباہلہ کا ہوا تھا کہ مرزاجی، مولانا عبدالحق امرتسریؒ کی زندگی میں منہ مانگی ہیضے کی موت مرگئے اور مولانا عبدالحق امرتسریؒ ایک عرصہ تک زندہ رہے اور اپنی موت آپ اس دُنیا سے رُخصت ہوئے۔

104

قادیانیوں سے چند سوال

اب تک کسی مرزائی کو ان سوالات کے جواب دینے کی ہمت نہیں ہوئی

بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ

اَلْحَمْدُ للہِ وَسَلَامٌ عَلٰی عِبَادِہِ الَّذِیْنَ اصْطَفٰی

مرزا غلام احمد قادیانی کے دجل وتلبیس سے متأثر قادیانی عوام کو کفر و زَندقہ کی دَلدل سے نکالنے کے لئے ہمیشہ علمائے اُمت نے نہایت عام فہم انداز میں بات سمجھانے کی کوشش کی ہے۔ ذیل میں قادیانیوں سے اس سلسلے کے چند سوال کئے جاتے ہیں، جن پر غور وفکر کرنا ان کے لئے ہدایت کا راستہ کھول سکتا ہے!

سوال۱: ... مرزا غلام احمد قادیانی نے ’’براہین احمدیہ‘‘ حصہ چہارم میں سورۂ صف کی آیت:۱۰ کے حوالے سے لکھا کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام دوبارہ اس دُنیا میں تشریف لائیں گے، چنانچہ لکھتا ہے:

’’ھو الذی ارسل رسولہ بالھدیٰ ودین الحق لیظھرہ علی الدین کلہ ۔ یہ آیت جسمانی اور سیاستِ ملکی کے طور پر حضرت مسیح کے حق میں پیش گوئی ہے، اور جس غلبہ کاملہ دِینِ اسلام کا وعدہ دِیا گیا ہے وہ غلبہ مسیح کے ذریعے سے ظہور میں آئے گا، اور جب حضرت مسیح علیہ السلام دوبارہ اس دُنیا میں تشریف لائیں گے، تو ان کے ہاتھ سے دِینِ اسلام جمیع آفاق اور اَقطار میں پھیل جائے گا۔‘‘

(براہین احمدیہ، حصہ چہارم حاشیہ درحاشیہ ص:۴۹۸، ۴۹۹، رُوحانی خزائن ج:۱ ص:۵۹۳)

105

مرزا کی عبارت غور سے پڑھ کر صرف اتنا بتائیے کہ مرزا نے قرآنِ کریم کے حوالے سے جو لکھا ہے کہ عیسیٰ علیہ السلام اس دُنیا میں دوبارہ تشریف لائیں گے، یہ سچ تھا یا جھوٹ؟ صحیح تھا یا غلط؟

ایک اہم نکتہ:

مرزا قادیانی ۱۸۹۱ء تک کہتا رہا کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام دوبارہ آئیں گے، اس کے بعد یہ کہنا شروع کیا کہ وہ مرگئے ہیں، دوبارہ نہیں آئیں گے۔ مسلمان اور قادیانی دونوں فریق اس پر متفق ہیں کہ ان دونوں متضاد خبروں میں ایک سچی تھی اور دُوسری جھوٹی۔ اس کے برعکس قادیانی کہتے ہیں کہ پہلی جھوٹی تھی اور دُوسری سچی۔

جھوٹی خبر دینے والا شخص جھوٹا کہلاتا ہے، لہٰذا دونوں فریق اس پر متفق ہوئے کہ مرزا جھوٹا تھا۔

ایک اور قابلِ غور نکتہ:

یہ تو آپ نے ابھی دیکھا کہ دونوں فریق مرزا کے جھوٹا ہونے پر متفق ہیں، آئیے اب دیکھیں کہ دونوں میں کون سا فریق مرزا کو ’’بڑا جھوٹا‘‘ مانتا ہے۔

مسلمان کہتے ہیں کہ اِبتداء سے ۱۸۹۱ء تک مرزا اپنی زندگی کے پچاس برس تک سچ بولتا رہا، آخری سترہ سالوں میں اس نے جھوٹ بولنا شروع کیا۔ اس کے برعکس قادیانیوں کا کہنا یہ ہے کہ مرزا اپنی زندگی کے پچاس برس تک جھوٹ بکتا رہا، اور آخری سترہ سال میں اس نے سچ بولا۔

خلاصہ یہ کہ مسلمانوں کے نزدیک مرزا کے سچ کا زمانہ پچاس سال، اور جھوٹ کا زمانہ صرف آخری سترہ سال۔ اور قادیانیوں کے نزدیک مرزا کے جھوٹ کا زمانہ پچاس سال اور اس کے سچ کا زمانہ صرف سترہ سال ہے۔

بتائیے! دونوں میں سے کس فریق کے نزدیک مرزا ’’بڑا جھوٹا‘‘ نکلا...؟

106

ایک اور لائقِ توجہ نکتہ:

مسلمان کہتے ہیں کہ مرزا قادیانی پچاس سال تک سچ کہتا رہا کہ عیسیٰ علیہ السلام دوبارہ آئیں گے، لیکن پھر شیطان نے اس کو بہکادیا، اور شیطان کے بہکانے سے یہ کہنے لگا کہ عیسیٰ علیہ السلام دوبارہ نہیں آئیں گے، بلکہ میں خود مسیحِ موعود بن گیا ہوں۔ اور قادیانی کہتے ہیں کہ وہ پچاس سال تک جھوٹ بکتا رہا کہ عیسیٰ علیہ السلام آئیں گے، پھر اس پچاس سال کے جھوٹے کو اللہ تعالیٰ نے ...نعوذباللہ... مسیحِ موعود بنادیا۔ کیا کسی کی عقل میں یہ بات آسکتی ہے کہ پچاس سال تک جھوٹ بولنے والا ’’مسیحِ موعود‘‘ بن جائے...؟

ایک اور دِلچسپ نکتہ:

اُوپر معلوم ہوچکا ہے کہ مسلمان اور قادیانی دونوں فریق اس پر متفق ہیں کہ مرزا جھوٹا تھا، ادھر مرزا کا دعویٰ ہے کہ وہ مسیحِ موعود ہے، ظاہر ہے کہ جھوٹا آدمی جب مسیحِ موعود ہونے کا دعویٰ کرے گا تو وہ ’’مسیحِ کذّاب‘‘ کہلائے گا، لہٰذا دونوں فریق اس پر بھی متفق ہوئے کہ مرزا ’’مسیحِ کذّاب‘‘ تھا...!

سوال۲: ... مرزا نے مذکورہ بالا کتاب میں یہ بھی لکھا تھا کہ اس عاجز پر ظاہر کیا گیا ہے کہ چونکہ یہ عاجز مسیح کی پہلی زندگی کا نمونہ ہے، اور چونکہ اس عاجز کو مسیح علیہ السلام سے مشابہتِ تامہ حاصل ہے، اس لئے اللہ تعالیٰ نے اِبتدا ہی سے اس عاجز کو بھی مسیح علیہ السلام کی مذکورہ بالا پیش گوئی میں شریک کر رکھا ہے، یعنی حضرت مسیح علیہ السلام ظاہری اور جسمانی طور پر اس پیش گوئی کا مصداق ہیں، اور یہ عاجز رُوحانی اور معقولی طور پر۔ چنانچہ مرزا لکھتا ہے:

’’لیکن اس عاجز پر ظاہر کیا گیا ہے کہ یہ خاکسار اپنی غربت اور اِنکسار، اور توکل اور اِیثار اور آیات اور اَنوار کے رُو سے مسیح کی پہلی زندگی کا نمونہ ہے، اور اس عاجز کی فطرت اور مسیح کی فطرت باہم نہایت ہی متشابہ واقع ہوئی ہے، گویا ایک ہی جوہر کے دو

107

ٹکڑے یا ایک ہی درخت کے دو پھل ہیں، اور بحدی اتحاد ہے کہ نظرِ کشفی میں نہایت ہی باریک اِمتیاز ہے، اور نیز ظاہری طور پر بھی ایک مشابہت ہے ...۔۔ سو چونکہ اس عاجز کو حضرت مسیح سے مشابہتِ تامہ ہے اس لئے خداوند کریم نے مسیح کی پیش گوئی میں اِبتدا سے اس عاجز کو بھی شریک کر رکھا ہے، یعنی حضرت مسیح پیش گوئی متذکرہ بالا کا ظاہری اور جسمانی طور پر مصداق ہے، اور یہ عاجز رُوحانی اور معقولی طور پر اس کا محل اور مورد ہے۔‘‘

(براہین احمدیہ حصہ چہارم حاشیہ درحاشیہ ص:۴۹۹، رُوحانی خزائن ج:۱ ص:۵۹۳، ۵۹۴)

مرزا نے مندرجہ بالا عبارت میں ذِکر کیا ہے کہ اس پر مندرجہ ذیل اُمور ظاہر کئے گئے ہیں:

۱: ... مرزا، مسیح علیہ السلام کی پہلی زندگی کا نمونہ ہے۔

۲: ... مرزا کو مسیح علیہ السلام سے مشابہتِ تامہ حاصل ہے۔

۳: ... لہٰذا اللہ تعالیٰ نے مسیح علیہ السلام کی پیش گوئی میں اِبتدا ہی سے مرزا کو بھی شریک کر رکھا ہے۔

۴: ... مسیح علیہ السلام سورۃ الصف کی مذکورہ بالا پیش گوئی کا ظاہری اور جسمانی طور پر مصداق ہیں، اور مرزا صرف رُوحانی اور معقولی طور پر اس کا محل ومورد ہے۔

سوال یہ ہے کہ یہ چار باتیں مرزا پر کس نے ظاہر کی تھیں؟ اللہ تعالیٰ نے یا شیطان نے؟ اور یہ کہ یہ چار باتیں جو مرزا پر ظاہر کی گئیں، صحیح تھیں یا غلط؟ سچی تھیں یا جھوٹی...؟

سوال۳: ... مرزا غلام احمد قادیانی نے مذکورہ بالا کتاب میں اپنے اِلہام کے حوالے سے یہ لکھا تھا کہ حضرت مسیح علیہ السلام نہایت جلال کے ساتھ دُنیا پر اُتریں گے اور یہ کہ مرزا کا زمانہ، حضرت مسیح علیہ السلام کے زمانے کے لئے بطور ارہاص واقع ہوا ہے۔ چنانچہ مرزا لکھتا ہے:

’’عسٰی ربکم ان یرحم علیکم وإن عدتم عدنا

108

وجعلنا جھنم للکافرین حصیرا ۔ خدائے تعالیٰ کا اِرادہ اس بات کی طرف متوجہ ہے کہ جو تم پر رحم کرے، اور اگر تم نے گناہ اور سرکشی کی طرف رُجوع کیا تو ہم بھی سزا اور عقوبت کی طرف رُجوع کریں گے، اور ہم نے جہنم کافروں کے لئے قیدخانہ بنا رکھا ہے۔ یہ آیت اس مقام میں حضرت مسیح کے جلالی طور پر ظاہر ہونے کا اِشارہ ہے، یعنی اگر طریقِ رفق اور نرمی اور لطف اِحسان کو قبول نہیں کریں گے اور حق محض جو دلائلِ واضحہ اور آیاتِ بینہ سے کھل گیا ہے اس سے سرکش رہیں گے تو وہ زمانہ بھی آنے والا ہے کہ جب خدائے تعالیٰ مجرمین کے لئے شدّت اور عنف اور قہر اور سختی کو اِستعمال میں لائے گا، اور حضرت مسیح علیہ السلام نہایت جلالیت کے ساتھ دُنیا پر اُتریں گے اور تمام راہوں اور سڑکوں کو خس وخاشاک سے صاف کردیں گے اور کج اور ناراست کا نام ونشان نہ رہے گا۔ اور جلالِ اِلٰہی گمراہی کے تخم کو اپنی تجلّیٔ قہری سے نیست ونابود کردے گا۔ اور یہ زمانہ اس زمانے کے لئے بطور ارہاص کے واقع ہوا ہے، یعنی اس وقت جلالی طور پر خدائے تعالیٰ اِتمامِ حجت کرے گا، اب بجائے اس کے جمالی طور پر یعنی رفق اور اِحسان سے اِتمامِ حجت کر رہا ہے۔‘‘

(براہین احمدیہ حصہ چہارم حاشیہ درحاشیہ ص:۵۰۵، رُوحانی خزائن ج:۱ ص:۶۰۱، ۶۰۲)

مرزا نے مندرجہ بالا عبارت میں اپنے اِلہام کے حوالے سے جو دو باتیں لکھیں، یعنی:

۱: ... حضرت مسیح علیہ السلام نہایت جلالیت کے ساتھ دُنیا پر اُتریں گے۔

۲: ... اور یہ زمانہ اس زمانے کے لئے بطورِ ارہاص واقع ہوا ہے۔

سوال یہ ہے کہ مرزا کی یہ دونوں اِلہامی باتیں سچی تھیں یا جھوٹی...؟

سوال۴: ... مرزا قادیانی نے ’’براہین احمدیہ‘‘ میں لکھا تھا کہ عیسیٰ علیہ السلام دوبارہ آئیں گے، اور اس کے ثبوت میں قرآنِ کریم کی آیت اور اپنے اِلہامات کا حوالہ دیا

109

تھا ...جیسا کہ سوال نمبر۱،۲،۳ میں مرزا کی عبارت آپ پڑھ چکے ہیں... لیکن ’’اِعجازِاحمدی‘‘ میں لکھتا ہے کہ میں نے ’’براہین احمدیہ‘‘ میں یہ عقیدہ خدا کی وحی سے نہیں لکھا تھا، مرزا کی عبارت ملاحظہ ہو:

’’اس وقت کے نادان مخالف بدبختی کی طرف ہی دوڑتے ہیں، اور شقاوت سر پر سوار ہے، باز نہیں آتے، کیا کیا اِعتراض بنا رکھے ہیں، مثلاً کہتے ہیں کہ مسیحِ موعود کا دعویٰ کرنے سے پہلے براہین احمدیہ میں عیسیٰ علیہ السلام کے آنے کا اِقرار موجود ہے، اے نادانو! اپنی عاقبت کیوں خراب کرتے ہو، اس اِقرار میں کہاں لکھا ہے کہ یہ خدا کی وحی سے بیان کرتا ہوں؟ اور مجھے کب اس بات کا دعویٰ ہے کہ میں عالم الغیب ہوں؟‘‘

(اعجازِ احمدی ص:۶، رُوحانی خزائن ج:۱۹ ص:۱۱۲، ۱۱۳)

سوال یہ ہے کہ ’’براہین احمدیہ‘‘ میں قرآنِ کریم کی آیت اور مرزا کے اِلہامات کا جو حوالہ دِیا گیا تھا، کیا آپ کے نزدیک یہ خدا کی وحی ہے یا نہیں؟ اگر آپ ان چیزوں کو خدا کی وحی مانتے ہیں تو مرزا کا اِنکار کرنا جھوٹ ہے یا نہیں...؟

سوال۵: ... مرزا قادیانی نے ’’براہین احمدیہ‘‘ میں لکھا تھا کہ سورۃ الصف کی آیت:۱۰ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے حق میں پیش گوئی ہے، اور یہ کہ اللہ تعالیٰ نے اس پیش گوئی میں اِبتدا ہی سے مجھے بھی شریک کر رکھا ہے (دیکھئے سوال نمبر۲ میں مرزا کی پوری عبارت)۔

اس کے برعکس ’’اِعجازِ احمدی‘‘ میں لکھتا ہے کہ ’’براہین احمدیہ‘‘ میں:

’’مجھے بتلایا گیا تھا کہ تیری خبر قرآن اور حدیث میں موجود ہے اور توہی اس آیت کا مصداق ہے کہ ھو الذی ارسل رسولہ بالھدیٰ ودین الحق لیظھرہ علی الدین کلہ ۔ (سورۃ الصف:۱۰)۔‘‘

(اِعجازِ احمدی ص:۷، رُوحانی خزائن ج:۱۹ ص:۱۱۳)

110

مرزا کے یہ دونوں بیان آپس میں ٹکراتے ہیں، کیونکہ ’’براہین‘‘ میں کہتا ہے کہ اس پیش گوئی کا مصداق عیسیٰ علیہ السلام ہیں، لیکن اللہ تعالیٰ نے مجھے بھی اس میں شریک کر رکھا ہے، اور ’’اعجازِ احمدی‘‘ میں کہتا ہے کہ عیسیٰ علیہ السلام کا اس پیش گوئی میں کوئی حصہ نہیں، بلکہ میں ہی اس کا مصداق ہوں۔ اور لطف یہ کہ دونوں جگہ اپنے اِلہام کا حوالہ دیا ہے۔ سوال یہ ہے کہ ان دونوں میں سے کون سی بات سچی ہے اور کون سی جھوٹی؟ اور کون سا اِلہام صحیح ہے اور کون سا غلط...؟

سوال۶: ... مرزا قادیانی ’’اِعجازِ احمدی‘‘ میں لکھتا ہے:

’’پھر میں قریباً بارہ برس تک جو ایک زمانۂ دراز ہے بالکل اس سے بے خبر اور غافل رہا کہ خدا نے مجھے بڑی شدّومدّ سے براہین میں مسیحِ موعود قرار دِیا ہے، اور میں حضرت عیسیٰ کی آمدِ ثانی کے رسمی عقیدے پر جما رہا، جب بارہ برس گزرگئے تب وہ وقت آگیا کہ میرے پر اَصل حقیقت کھول دی جائے۔ تب تواتر سے اس بارے میں اِلہامات شروع ہوئے کہ تو ہی مسیحِ موعود ہے۔‘‘

(اِعجازِ احمدی ص:۷، رُوحانی خزائن ج:۱۹ ص:۱۱۳)

اس کے برعکس ’’آئینہ کمالاتِ اسلام‘‘ میں لکھتا ہے:

’’وواللہ قد کنت أعلم من أیام مدیدۃ اننی جعلت المسیح ابن مریم، وانی نازل فی منزلہ، ولٰـکن اخفیتہ، نظرًا إلٰی تأویلہ، بل ما بدلت عقیدتی وکنت علیھا من المستمسکین، وتوقفت فی الْإظھار عشر سنین۔‘‘

(آئینہ کمالاتِ اسلام ص:۵۵۱، رُوحانی خزائن ج:۵ ص:۵۵۱)

ترجمہ: ... ’’اور اللہ کی قسم! میں ایک مدّت سے جانتا تھا کہ مجھے مسیح ابنِ مریم بنادیا گیا ہے، اور میں اس کی جگہ نازل ہوا ہوں، لیکن میں نے اس کو چھپائے رکھا، اس کی تأویل پر نظر کرتے ہوئے،

111

بلکہ میں نے اپنا عقیدہ بھی نہیں بدلا، بلکہ اسی پر قائم رہا اور میں نے دس برس اس کے اِظہار میں توقف کیا۔‘‘

ان دونوں بیانوں میں تناقض ہے۔ ’’اِعجازِ احمدی‘‘ میں کہتا ہے کہ بارہ برس تک مجھے خبر نہیں تھی کہ خدا نے بڑی شدّومدّ سے مجھے مسیحِ موعود قرار دِیا ہے، اور ’’آئینہ کمالاتِ اسلام‘‘ میں کہتا ہے کہ اللہ کی قسم! میں جانتا تھا کہ مجھے مسیحِ موعود بنادیا گیا ہے، لیکن میں نے اس کو دس برس تک چھپائے رکھا۔ ان دونوں باتوں میں سے کون سی بات صحیح ہے اور کون سی غلط؟ کون سی سچ ہے اور کون سی جھوٹ؟

سوال۷: ... مرزا ’’اِعجازِ احمدی‘‘ میں لکھتا ہے:

’’خدا نے میری نظر کو پھیر دِیا، میں براہین کی اس وحی کو نہ سمجھ سکا کہ وہ مجھے مسیحِ موعود بناتی ہے، یہ میری سادگی تھی، جو میری سچائی پر ایک عظیم الشان دلیل تھی۔ ورنہ میرے مخالف مجھے بتلاویں کہ میں نے باوجودیکہ براہین احمدیہ میں مسیحِ موعود بنایا گیا تھا، بارہ برس تک یہ دعویٰ کیوں نہ کیا؟ اور کیوں براہین میں خدا کی وحی کے مخالف لکھ دیا؟‘‘

(اِعجازِ احمدی ص:۷، رُوحانی خزائن ج:۱۹ ص:۱۱۴)

اس عبارت میں مرزا اِقرار کرتا ہے کہ اس نے خدا کی وحی کو بارہ برس تک نہیں سمجھا اور خدا کی وحی کے خلاف حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے دوبارہ آنے کا عقیدہ لکھ دیا۔ سوال یہ ہے کہ جو شخص بارہ برس تک وحیٔ اِلٰہی کا مطلب نہ سمجھے اور وحیٔ اِلٰہی کے خلاف بارہ برس تک جھوٹ بکتا رہے، کیا وہ مسیحِ موعود ہوسکتا ہے...؟

دُوسرا سوال یہ ہے کہ کسی شخص کا وحیٔ اِلٰہی کے خلاف جھوٹ بکنا، اس کے جھوٹا ہونے کی عظیم الشان دلیل ہے یا مرزا کے بقول اس کی سچائی کی...؟

سوال۸: ... مرزا، آئینہ کمالاتِ اسلام میں قسم کھاکر کہتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے مجھے مسیحِ موعود اور مسیح ابنِ مریم بنادیا تھا، لیکن اس کے برعکس اِزالہ اوہام میں کہتا ہے کہ میں مسیحِ موعود نہیں بلکہ مثیلِ مسیح ہوں، اور یہ کہ جو شخص میری طرف مسیح ابنِ مریم کا دعویٰ منسوب

112

کرے، وہ مفتری اور کذّاب ہے، چنانچہ ’’علمائے ہند کی خدمت میں نیازنامہ‘‘ کے عنوان سے لکھتا ہے:

’’اے برادرانِ دِین وعلمائے شرعِ متین! آپ صاحبان میری ان معروضات کو متوجہ ہوکر سنیں کہ اس عاجز نے جو مثیلِ موعود ہونے کا دعویٰ کیا ہے جس کو کم فہم لوگ مسیحِ موعود خیال کربیٹھے ہیں، یہ کوئی نیا دعویٰ نہیں جو آج ہی میرے منہ سے سنا گیا ہو، بلکہ یہ وہی پُرانا اِلہام ہے جو میں نے خدائے تعالیٰ سے پاکر براہین احمدیہ کے کئی مقامات پر بتصریح درج کردیا تھا، جس کے شائع کرنے پر سات سال سے بھی کچھ زیادہ عرصہ گزرگیا ہوگا، میں نے یہ دعویٰ ہرگز نہیں کیا کہ میں مسیح بن مریم ہوں، جو شخص یہ اِلزام میرے پر لگاوے وہ سراسر مفتری اور کذّاب ہے، بلکہ میری طرف سے عرصہ سات یا آٹھ سال سے برابر یہی شائع ہو رہا ہے کہ میں مثیلِ مسیح ہوں۔‘‘

(اِزالہ اوہام ص:۱۹۰، رُوحانی خزائن ج:۳ ص:۱۹۲)

سوال۹: ... مرزا بشیر احمد ایم اے ’’سیرۃالمہدی‘‘ میں لکھتا ہے:

’’بسم اللہ الرحمن الرحیم۔ بیان کیا مجھ سے حضرت والدہ صاحبہ نے کہ ایک دفعہ اپنی جوانی کے زمانے میں حضرت مسیحِ موعود علیہ السلام تمہارے دادا کی پنشن وصول کرنے گئے تو پیچھے پیچھے مرزا اِمام الدین بھی چلا گیا، جب آپ نے پنشن وصول کرلی تو وہ آپ کو پھسلاکر اور دھوکا دے کر بجائے قادیان لانے کے باہر لے گیا اور اِدھر اُدھر پھراتا رہا، پھر جب اس نے سارا روپیہ اُڑاکر ختم کردیا تو آپ کو چھوڑ کر کہیں اور چلا گیا۔ حضرت مسیحِ موعود اس شرم سے واپس گھر نہیں آئے، اور چونکہ تمہارے دادا کا منشا رہتا تھا کہ آپ کہیں ملازم ہوجائیں، اس لئے آپ سیالکوٹ شہر میں ڈپٹی کمشنر کی کچہری

113

میں قلیل تنخواہ پر ملازم ہوگئے۔‘‘

(سیرۃ المہدی ج:۱ ص:۴۳، ایڈیشن دوم)

مرزا نے باپ کی پنشن میں خیانت کی، کیا ایسا شخص خدا کی وحی پر اَمین ہوسکتا ہے؟ اور ایسا خائن اور چور مسیحِ موعود ہوسکتا ہے...؟

سوال۱۰: ... مرزا قادیانی ’’اِزالہ اوہام‘‘ میں لکھتا ہے:

’’یہ بات پوشیدہ نہیں کہ مسیح ابنِ مریم کے آنے کی پیش گوئی ایک اوّل درجے کی پیش گوئی ہے، جس کو سب نے بالاتفاق قبول کرلیا ہے، اور جس قدر صحاح میں پیش گوئیاں لکھی گئی ہیں، کوئی پیش گوئی اس کے ہم پہلو اور ہم وزن ثابت نہیں ہوتی، تواتر کا اوّل درجہ اس کو حاصل ہے۔ اِنجیل بھی اس کی مصدق ہے۔‘‘

(اِزالہ اوہام ص:۵۵۷، مندرجہ رُوحانی خزائن ج:۳ ص:۴۰۰)

مرزا قادیانی کی اس عبارت سے معلوم ہوا کہ حضرت مسیح ابنِ مریم کے آنے کی پیش گوئی متواتر ہے، ادھر مرزا کا کہنا یہ ہے کہ:

’’میں نے یہ دعویٰ ہرگز نہیں کیا کہ میں مسیح بن مریم ہوں، جو شخص یہ اِلزام میرے پر لگاوے وہ سراسر مفتری اور کذّاب ہے۔‘‘

(اِزالہ اوہام ص:۱۹۰، رُوحانی خزائن ج:۳ ص:۱۹۲)

پس جو لوگ مرزا کو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے متواتر پیش گوئی کا مصداق قرار دیتے ہیں، وہ مفتری اور کذّاب ہیں یا نہیں...؟

سوال۱۱: ... مرزا قادیانی نے ’’اِزالہ اوہام‘‘ ص:۵۵۷ کی مندرجہ بالا عبارت میں اِقرار کیا ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے متواتر اَحادیث میں مسیح ابنِ مریم کے آنے کی پیش گوئی فرمائی ہے، ظاہر ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے آنے والے مسیح بن مریم ...علیہ السلام... کی کچھ علامات بھی بیان فرمائی ہوں گی، یہاں ایک حدیث ذِکر کرتا ہوں، جسے مرزا محمود نے ’’حقیقۃ النبوۃ‘‘ صفحہ:۱۹۲ میں نقل کرکے اس سے مسیحِ موعود کے نبی

114

ہونے پر اِستدلال کیا ہے، ترجمہ بھی مرزا محمود ہی کا نقل کرتا ہوں۔

مرزا محمود لکھتا ہے:

’’الأنبیاء إخوۃ لعلّات، اُمّھاتھم شتّٰی ودینھم واحد، وأنا أولی الناس بعیسَی ابن مریم، لأنہ لم یکن بینی وبینہ نبی، وانہ نازل، فإذا رأیتموہ فأعرفوہ، رجل مربوع، إلی الحمرۃ والبیاض، علیہ ثوبان ممصران، رأسہ یقطر وإن لم یصبہ بلل، فیدق الصلیب، ویقتل الخنزیر، ویضع الجزیۃ، ویدعو الناس إلی الْإسلام، فتھلک فی زمانہ الملل کلھا إلّا الْإسلام، وترتع الأسود مع الْإبل، والنمار مع البقر، والذیاب مع الغنم، وتعلب الصبیان بالحیّات فلا تضرھم، فیمکث أربعین سنۃ، ثم یتوفّی ویصلّی علیہ المسلمون۔

یعنی انبیاء علاتی بھائیوں کی طرح ہوتے ہیں، ان کی مائیں تو مختلف ہوتی ہیں اور دِین ایک ہوتا ہے، اور میں عیسیٰ بن مریم سے سب سے زیادہ تعلق رکھنے والا ہوں، کیونکہ اس کے اور میرے درمیان کوئی نبی نہیں، اور وہ نازل ہونے والا ہے، پس جب اسے دیکھو تو اسے پہچان لو، ۱-کہ وہ درمیانہ قامت، ۲-سرخی سفیدی ملا ہوا رنگ، ۳-زَرد رنگ کے کپڑے پہنے ہوئے، ۴-اس کے سر سے پانی ٹپک رہا ہوگا، گو سر پر پانی نہ ہی ڈالا ہو، ۵-اور وہ صلیب کو توڑے گا، ۶-اور خنزیر کو قتل کرے گا، ۷-اور جزیہ ترک کردے گا، اور لوگوں کو اِسلام کی طرف دعوت دے گا، ۸-اس کے زمانے میں سب مذاہب ہلاک ہوجائیں گے اور صرف اِسلام رہ جائے گا، ۹-اور شیر اُونٹوں کے ساتھ، اور چیتے گائے بیلوں کے ساتھ، اور

115

بھیڑیے بکریوں کے ساتھ چرتے پھریں گے، اور بچے سانپوں سے کھیلیں گے اور وہ ان کو نقصان نہ دیں گے، ۱۰-عیسیٰ بن مریم چالیس سال رہیں گے اور پھر فوت ہوجائیں گے ۱۱-اور مسلمان ان کے جنازے کی نماز پڑھیں گے۔‘‘

(حقیقۃ النبوۃ ص:۱۹۲)

اس حدیث شریف میں ذِکر کردہ علامات کو ایک ایک کرکے ملاحظہ فرمائیے اور پھر اِنصاف سے بتائیں کہ کیا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی ذِکر کردہ یہ علامتیں مرزا غلام احمد قادیانی میں پائی گئیں؟ اگر نہیں ...اور یقینا نہیں... تو مرزا کو مسیحِ موعود قرار دینا کس طرح صحیح ہوگا...؟

سوال۱۲: ... مرزا غلام احمد قادیانی کے ملفوظات میں ہے:

’’ایک دفعہ ہم دِلّی میں گئے تھے، ہم نے وہاں کے لوگوں سے کہا کہ تم نے تیرہ سو برس سے یہ نسخہ اِستعمال کیا ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو مدفون اور حضرت عیسیٰ کو زِندہ آسمان پر بٹھایا۔ یہ نسخہ تمہارے لئے مفید ہوا یا مضر۔ اس سوال کا جواب تم خود ہی سوچ لو۔ ایک لاکھ کے قریب لوگ اسلام سے مرتد ہوگئے ہیں، ہر قوم اور ہر فرقے میں سے سیّد، مغل، پٹھان، قریشی وغیرہ۔ یہ تو حضرت عیسیٰ کو بار بار زِندہ کہنے کا نتیجہ ہے۔ مگر اَب دُوسرا نسخہ ہم بتاتے ہیں، وہ اِستعمال کرکے دیکھو، اور وہ یہ ہے کہ حضرت عیسیٰ کو (جیسا کہ قرآن شریف سے ثابت ہوتا ہے اور رسولِ کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فعلی شہادت دے دی) وفات شدہ مان لو۔‘‘

(ملفوظات ج:۱۰ ص:۳۰۰)

اس عبارت سے ثابت ہو اکہ مرزا قادیانی سے پہلے تیرہ صدیوں کی پوری اُمتِ مسلمہ اس عقیدے پر متفق تھی کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام زندہ ہیں۔ مرزا سے پہلے کی تیرہ صدیوں میں کسی صحابی وتابعی اور کسی مجدّد نے اُمت کو یہ نسخہ نہیں بتایا کہ عیسیٰ علیہ السلام فوت ہوچکے ہیں، اب جو شخص اُمت کے اِجماعی عقیدے کے خلاف مسلمانوں کو کوئی اور نسخہ

116

بتائے وہ زِندیق ہے یا نہیں...؟

سوال۱۳: ... مرزا قادیانی ’’چشمہ معرفت‘‘ میں لکھتا ہے:

’’چونکہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوّت کا زمانہ قیامت تک ممتد ہے، اور آپ خاتم الانبیاء ہیں، اس لئے خدا نے یہ نہ چاہا کہ وحدتِ اقوامی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی میں ہی کمال تک پہنچ جائے، کیونکہ یہ صورت آپ کے زمانے کے خاتمے پر دَلالت کرتی تھی، یعنی شبہ گزرتا تھا کہ آپ کا زمانہ وہیں تک ختم ہوگیا، کیونکہ جو آخری کام آپ کا تھا، وہ اسی زمانے میں انجام تک پہنچ گیا، اس لئے خدا نے تکمیل اس فعل کی جو تمام قومیں ایک قوم کی طرح بن جائیں اور ایک ہی مذہب پر ہوجائیں، زمانۂ محمدی کے آخری حصے میں ڈال دی، جو قربِ قیامت کا زمانہ ہے، اور اس تکمیل کے لئے اسی اُمت میں سے ایک نائب مقرّر کیا جو مسیحِ موعود کے نام سے موسوم ہے، اور اسی کا نام خاتم الخلفاء ہے، پس زمانۂ محمدی کے سر پر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ہیں، اور اس کے آخر میں مسیحِ موعود ہے، اور ضرور تھا کہ یہ سلسلہ دُنیا کا منقطع نہ ہو جب تک کہ وہ پیدا نہ ہولے، کیونکہ وحدتِ اقوامی کی خدمت اسی نائب النبوۃ کے عہد سے وابستہ کی گئی ہے، اور اسی کی طرف یہ آیت اِشارہ کرتی ہے، اور وہ یہ ہے: ھو الذی ارسل رسولہ بالھدیٰ ودین الحق لیظھرہ علی الدین کلہ (الصف:۱۰) ۔ یعنی ’’خدا وہ خدا ہے جس نے اپنے رسول کو ایک کامل ہدایت اور سچے دِین کے ساتھ بھیجا تاکہ اس کو ہر ایک قسم کے دِین پر غالب کردے۔‘‘ یعنی ایک عالمگیر غلبہ اس کو عطا کرے، اور چونکہ وہ عالمگیر غلبہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں ظہور میں نہیں آیا، اور ممکن نہیں کہ خدا کی پیش گوئی

117

میں کچھ تخلف ہو، اس لئے اس آیت کی نسبت ان سب متقدمین کا اِتفاق ہے، جو ہم سے پہلے گزرچکے ہیں، کہ یہ عالمگیر غلبہ مسیحِ موعود کے وقت میں ظہور میں آئے گا۔‘‘

(چشمہ معرفت ص:۸۲، ۸۳، رُوحانی خزائن ج:۲۳ ص:۹۰،۹۱)

اس عبارت سے معلوم ہوا کہ تمام متقدمین کا اِجماع ہے کہ آیت شریفہ کے مطابق عالمگیر غلبہ مسیحِ موعود کے وقت میں ظہور میں آئے گا۔ اوّل تو مرزا کا دعویٰ ہی مسیحِ موعود ہونے کا نہیں، بلکہ مرزا کو مسیحِ موعود سمجھنا کم فہم لوگوں کا کام ہے (اِزالہ اوہام ص:۱۹۰)۔ پھر مرزا کے وقت میں یہ عالمگیر غلبہ ظہور میں نہیں آیا، کیا اس سے یہ ثابت نہیں ہوا کہ مرزا کو مسیحِ موعود سمجھنا غلط اور جھوٹ ہے...؟

سوال۱۴: ... مرزا صاحب کا مسیحِ موعود ہونا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے اِرشادات کے مطابق ہے یا خلاف؟ اگر مطابق ہے تو برائے مہربانی وہ احادیث جن میں مرزا صاحب کی علامات بیان فرمائی گئی ہیں مع حوالہ کتب تحریر فرمائیں...!

سوال۱۵: ... مرزا صاحب ’’اربعین‘‘ نمبر۳، صفحہ:۱۷، مندرجہ رُوحانی خزائن جلد:۱۷ صفحہ:۴۰۴ پر فرماتے ہیں:

’’لیکن ضرور تھا کہ قرآن شریف اور احادیث کی وہ پیش گوئیاں پوری ہوتیں، جن میں لکھا تھا کہ مسیحِ موعود جب ظاہر ہوگا تو:

۱- اسلامی علماء کے ہاتھ سے دُکھ اُٹھائے گا۔

۲- وہ اس کو کافر قرار دیں گے۔

۳- اور اس کے قتل کے فتوے دئیے جائیں گے۔

۴- اور اس کی سخت توہین کی جائے گی۔

۵- اور اس کو دائرۂ اِسلام سے خارج ...۔اور

۶-دِین کا تباہ کرنے والا خیال کیا جائے گا۔‘‘

مسیحِ موعود کی یہ چھ علامتیں جو مرزا صاحب نے قرآن مجید سے منسوب کی ہیں،

118

قرآنِ کریم کی کس آیت میں لکھی ہیں؟ اس کا حوالہ دیجئے...!

سوال۱۶: ... ’’اربعین‘‘ نمبر۲ صفحہ:۲۳ مندرجہ رُوحانی خزائن جلد:۱۷ صفحہ:۳۷۱ پر لکھتے ہیں کہ:

’’انبیائے گزشتہ کے کشوف نے اس بات پر قطعی مہر لگادی کہ وہ (مسیحِ موعود) چودھویں صدی کے سر پر پیدا ہوگا، اور نیز یہ کہ پنجاب میں ہوگا۔‘‘

کم وبیش ایک لاکھ چوبیس ہزار انبیاء علیہم السلام کی طرف مرزا صاحب نے دو باتیں منسوب کی ہیں:

۱- مسیحِ موعود کا چودھویں صدی کے سر پر پیدا ہونا۔

۲- اور پنجاب میں پیدا ہونا۔

نوٹ: ... ’’اربعین‘‘ کے پہلے ایڈیشن میں ’’انبیائے گزشتہ‘‘ کا لفظ تھا، اُوپر اسی کا حوالہ دیا گیا ہے، لیکن بعد کے ایڈیشنوں میں اس کو بدل کر ’’اولیائے گزشتہ‘‘ کا لفظ بنادیا گیا۔ اس تبدیلی کے بعد بھی یہ عبارت جھوٹ ہے...!

سوال۱۷: ... ضمیمہ ’’براہین احمدیہ‘‘ پنجم صفحہ:۱۸۸، رُوحانی خزائن جلد:۲۱ صفحہ:۳۵۹ پر لکھتے ہیں:

’’ایسا ہی احادیثِ صحیحہ میں آیا تھا کہ وہ مسیحِ موعود صدی کے سر پر آئے گا، اور وہ چودھویں صدی کا مجدّد ہوگا۔‘‘

’’احادیثِ صحیحہ‘‘ کا لفظ کم از کم تین احادیث پر بولا جاتا ہے، لہٰذ امسیحِ موعود کی ان دو علامتوں کو جو مرزا صاحب نے احادیثِ صحیحہ کے حوالے سے لکھیں ہیں، کے بارے میں کم از کم تین تین احادیث کا حوالہ دیجئے...!

سوال۱۸: ... اس کے متصل آگے لکھتے ہیں کہ:

’’اور لکھا تھا کہ وہ اپنی پیدائش کی رُو سے دو صدیوں میں اِشترک رکھے گا، اور دو نام پائے گا، اور اس کی پیدائش دو خاندانوں

119

سے اِشتراک رکھے گی۔ اور چوتھی دو گونہ صفت یہ کہ پیدائش میں بھی جوڑے کے طور پر پیدا ہوگا۔‘‘

اگر یہ مرزا صاحب کا سفید جھوٹ نہیں، تو فرمایا جائے کہ مسیحِ موعود کی یہ چار علامتیں حدیث کی کس کتاب میں لکھی ہیں...؟

سوال۱۹: ... ’’اِزالہ اوہام‘‘ صفحہ:۸۱، رُوحانی خزائن جلد:۳ صفحہ:۱۴۲ پر فرماتے ہیں کہ:

’’صحیح مسلم کی حدیث میں جو یہ لفظ موجود ہے کہ حضرت مسیح جب آسمان سے اُتریں گے تو ان کا لباس زَرد رنگ کا ہوگا۔‘‘

کیا صحیح مسلم کی حدیث میں حضرت مسیح کا آسمان سے اُترنا لکھا ہے...؟

سوال۲۰: ... ’’شہادۃ القرآن‘‘ صفحہ:۴۱، رُوحانی خزائن جلد:۶ صفحہ:۳۳۷ پر لکھتے ہیں کہ:

’’اگر حدیث کے بیان پر اِعتبار ہے تو پہلے ان حدیثوں پر عمل کرنا چاہئے جو صحت اور وثوق میں اس حدیث پر کئی درجہ بڑھی ہوئی ہیں، مثلاً صحیح بخاری کی وہ حدیثیں جن میں آخری زمانے میں بعض خلیفوں کی نسبت خبر دی گئی ہے، خاص کر وہ خلیفہ جس کی نسبت بخاری میں لکھا ہے کہ آسمان سے اس کی نسبت آواز آئے گی کہ: ’’ھٰذا خلیفۃ اللہ المھدی‘‘ اب سوچو کہ یہ حدیث کس پایہ اور مرتبہ کی ہے جو ایسی کتاب میں درج ہے، جو اَصح الکتب بعد کتاب اللہ ہے۔‘‘

ہمارے سامنے صحیح بخاری کا جو نسخہ ہے اس میں تو یہ حدیث: ’’ھٰذا خلیفۃ اللہ المھدی‘‘ ہمیں کہیں نہیں ملی، لیکن جس طرح مرزا صاحب کے گھر میں قرآنِ کریم کا ایسا نسخہ تھا جس میں: ’’إنّا أنزلناہ قریبًا من القادیان‘‘ لکھا تھا (اِزالہ اوہام ص:۷۶ تا۷۷، رُوحانی خزائن ج:۳ ص:۱۴۰ حاشیہ)، اسی طرح شاید ان کے مسیح خانے میں کوئی نسخہ صحیح بخاری

120

کا ایسا بھی ہو جس میں سے دیکھ کر مرزا صاحب نے یہ حدیث لکھی ہو۔

بہرحال اگر مرزا صاحب نے صحیح بخاری کا حوالہ صحیح دیا ہے تو ذرا اس صفحے کا عکس شائع کردیجئے، اور اگر جھوٹ دیا ہے تو یہ فرمائیے کہ جو شخص صحیح بخاری جیسی معروف ومشہور کتاب پر جھوٹ باندھ سکتا ہے، وہ اپنے دعویٔ مسیحیت میں سچا ہوگا؟ کیونکہ مرزا صاحب ہی کا اِرشاد ہے کہ ایک بات میں جھوٹ ثابت ہوجائے تو پھر دُوسری بات میں بھی اِعتبار نہیں رہتا۔

(چشمہ معرفت ص:۲۲۲)

سوال۲۱: ... ’’ضمیمہ انجامِ آتھم‘‘ ص:۵۳، رُوحانی خزائن جلد:۱۱ صفحہ:۳۳۷ حاشیہ پر لکھتے ہیں:

’’اس (محمدی بیگم سے نکاح کی) پیش گوئی کی تصدیق کے لئے جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی پہلے سے ایک پیش گوئی فرمائی ہے کہ: یتزوّج ویولد لہٗ، یعنی وہ مسیحِ موعود بیوی کرے گا اور نیز وہ صاحبِ اولاد ہوگا، اب ظاہر ہے کہ تزوّج اور اولاد کا ذِکر کرنا عام طور پر مقصود نہیں کیونکہ عام طور پر ہر ایک شادی کرتا ہے اور اولاد بھی ہوتی ہے، اس میں کچھ خوبی نہیں، بلکہ تزوّج سے مراد وہ خاص تزوّج ہے جو بطورِ نشان ہوگا، اور اولاد سے مراد وہ خاص اولاد ہے جس کی نسبت اس عاجز کی پیش گوئی موجود ہے۔ گویا اس جگہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان سیہ دِل منکروں کو ان کے شبہات کا جواب دے رہے ہیں اور فرما رہے ہیں کہ یہ باتیں ضرور پوری ہوں گی۔‘‘

مرزا صاحب کی اس تحریر سے پہلے ان کی اہلیہ محترمہ نصرت جہاں بیگم موجود تھیں اور مبارک احمد کے علاوہ باقی سب صاحبزادے بھی پیدا ہوچکے تھے، لیکن مرزا صاحب نے مسیحِ موعود کی ان دو علامتوں سے ’’خاص شادی‘‘ اور ’’خاص اولاد‘‘ مراد لی ہے یعنی محترمہ محمدی بیگم ...اعلی اللہ مقامہا... سے نکاح اور ان سے پیدا ہونے والی اولاد۔ مگر مرزا صاحب

121

کو یہ نکاح ہی نصیب نہ ہوا، اولاد تو کیا ہوتی۔ فرمائیے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی پیش گوئی ...نعوذباللہ... غلط تھی یا مرزا صاحب کی مسیحیت غلط ٹھہری؟ اور یہ بھی فرمائیے کہ جب یہ پیش گوئی مرزا صاحب پر صادق نہ آئی تو مرزا صاحب کے سیاہ دِل منکروں کا جواب کدھر کیا گیا؟ اور یہ بھی فرمائیے کہ جس شخص پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی پیش گوئی صادق نہ آئے، وہ مسیحِ موعود ہوسکتا ہے؟ اور اسی پیشین گوئی کے بارے میں لکھتے ہیں کہ:

’’یاد رکھو کہ اگر اس پیش گوئی کی دُوسری جزو (یعنی احمد بیگ کے داماد کی موت اور محترمہ محمدی بیگم کا مرزا صاحب کے حجلہ عروسی میں آنا) پوری نہ ہوئی تو میں ہر ایک بد سے بدتر ٹھہروں گا۔‘‘

(ضمیمہ انجامِ آتھم ص:۵۴، رُوحانی خزائن ج:۱۱ ص:۳۳۸)

نیز فرماتے ہیں کہ:

’’میں اس کو صدق وکذب کا معیار ٹھہراتا ہوں اور میں نے نہیں کیا، مگر بعد اس کے مجھے میرے رَبّ کی جانب سے خبر دی گئی۔‘‘

(انجامِ آتھم ص:۲۲۳، رُوحانی خزائن ج:۱۱ ص:۲۲۳)

مسیحِ موعود کی یہ خاص علامت محمدی بیگم ...اعلی اللہ مقامہا... سے نکاح کی سعادت تو مرزا صاحب کو نصیب نہ ہوئی۔ جس کی بنا پر وہ باقرارِ خود ’’ہر بد سے بدتر‘‘ اور ’’کاذب‘‘ ٹھہرے۔ اب فرمائیے! اگر مرزا صاحب کو ’’المسیح الکذّاب‘‘ کا خطاب دیا جائے، تو کیا یہ انہی کے اِقرار کے مطابق واقعے کی صحیح ترجمانی نہیں...؟

سوال۲۲: ... مرزا صاحب ’’تریاق القلوب‘‘ ضمیمہ نمبر۲ صفحہ:۱۵۹ رُوحانی خزائن جلد:۱۵ صفحہ:۴۸۳ پر لکھتے ہیں:

’’اس کے (یعنی مسیحِ موعود کے) مرنے کے بعد نوعِ انسان میں علتِ عقم سرایت کرے گی، یعنی پیدا ہونے والے حیوانوں اور وحشیوں سے مشابہت رکھیں گے اور اِنسانیتِ حقیقی صفحۂ عالم سے مفقود ہوجائے گی، وہ حلال کو حلال نہیں سمجھیں گے، اور نہ

122

حرام کو حرام، پس ان پر قیامت قائم ہوگی۔‘‘

فرمائیے! مرزا صاحب کے وجود میں ’’مسیحِ موعود‘‘ کی یہ خاص علامت پائی گئی ہے؟ کیا ان کے مرنے کے بعد جتنے اِنسان پیدا ہوئے وہ سب وحشی ہیں؟ اور اِنسانیت صفحۂ ہستی سے مٹ گئی ہے؟ کیا کوئی بھی حلال کو حلال اور حرام کو حرام سمجھنے والا دُنیا میں موجود نہیں...؟

اگر مرزا صاحب میں یہ علامت نہیں پائی گئی تو وہ مسیحِ موعود کیسے ہوئے؟ اور اگر پائی گئی ہے تو دُور کے لوگوں کا تو قصہ جانے دیجئے، خود قادیانی جماعت کے بارے میں کیا فتویٰ ہے؟ کیا یہ بھی وحشیوں کی جماعت ہے؟ کیا ان میں حقیقی اِنسانیت قطعاً نہیں پائی جاتی؟ اور ان کو حلال وحرام کی کچھ تمیز نہیں...؟

سوال۲۳: ... مرزا صاحب مسیح بنے تو انہوں نے اپنے گھر میں دجال بھی گھڑلیا یعنی پادری، یہاں کئی سوال پیدا ہوتے ہیں۔ ایک یہ کہ پادری تو دُنیا میں پہلے سے موجود تھے، بلکہ خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے سے بھی پہلے اور ان کے مشرکانہ عقائد ونظریات بھی پہلے سے چلے آرہے تھے، جس پر قرآنِ کریم گواہ ہے، مگر دَجال کو تو قتل کرنا تھا جبکہ مرزا صاحب کو مرے ہوئے پون صدی ہو رہی ہے، اور ان کا دَجال ابھی تک دُنیا میں دندناتا پھر رہا ہے۔ مسیحِ موعود کی یہ علامت مرزا صاحب پر کیوں صادق نہیں آتی؟

دُوسرے، دجال کو دُنیا میں صرف چالیس دن رہنا تھا جیسا کہ احادیثِ صحیحہ میں آتا ہے، مگر مرزا صاحب کے خودساختہ دجال کا چلہ ابھی تک پورا ہی ہونے میں نہیں آتا۔

تیسرے، مرزا صاحب لکھتے ہیں:

’’میرا کام جس کے لئے میں اس میدان میں کھڑا ہوں یہی ہے کہ میں عیسیٰ پرستی کے ستون کو توڑ دُوں اور بجائے تثلیث کے توحید پھیلاؤں اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی جلالت اور عظمت اور شان دُنیا پر ظاہر کردُوں، پس مجھ سے کروڑ نشان بھی ظاہر ہوں اور یہ علتِ غائی ظہور میں نہ آئے، تو میں جھوٹا ہوں۔

123

پس دُنیا کیوں مجھ سے دُشمنی کرتی ہے، وہ میرے انجام کو کیوں نہیں دیکھتی؟ اگر میں نے اِسلام کی حمایت میں وہ کام کردِکھایا جو مسیحِ موعود اور مہدیٔ موعود کو کرنا چاہئے، تو پھر میں سچا ہوں، اور اگر کچھ نہ ہوا، اور میں مرگیا تو پھر سب گواہ رہیں کہ میں جھوٹا ہوں۔‘‘

(اخبار ’’البدر‘‘ ۱۹؍جولائی ۱۹۰۶ء)

دُنیا گواہ ہے کہ مرزا صاحب کے آنے کے بعد دِینِ اسلام کو ترقی نہیں ہوئی بلکہ تنزل ہوا، حد یہ ہے کہ آج تک خود ان کی اپنی جماعت خارج اَزاِسلام ہے، کیا قادیانی صاحبان سب دُنیا کے ساتھ مرزا صاحب کے جھوٹا ہونے کی گواہی نہیں دیں گے؟ فرمائیے! اب مرزا صاحب کے جھوٹا ہونے میں کوئی شک وشبہ باقی رہ جاتا ہے...؟

وَصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی خَیْرِ خَلْقِہٖ مُحَمَّدٍ وَّآلِہٖ وَاَصْحَابِہٖ اَجْمَعِیْنَ

124

مرزائی اُمت سے چند سوالات!

بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ

اَلْحَمْدُ للہِ وَسَلَامٌ عَلٰی عِبَادِہِ الَّذِیْنَ اصْطَفٰی

سوال:۱: ...مرزا غلام احمد قادیانی لکھتے ہیں کہ:

’’وہ دین، دین نہیں ہے اور نہ وہ نبی، نبی ہے جس کی متابعت سے انسان خدا تعالیٰ سے اس قدر نزدیک نہیں ہوسکتا کہ مکالمات الٰہیہ سے (جنہیں مرزا صاحب خدائی اصطلاح کے مطابق نبوّت کہتے ہیں) مشرف ہوسکے، وہ دین لعنتی اور قابل نفرت ہے جو یہ سکھلاتا ہے کہ ...... وحی الٰہی آگے نہیں بلکہ پیچھے رہ گئی ہے ...... سو ایسا دین بہ نسبت اس کے کہ اس کو رحمانی کہیں شیطانی کہلانے کا زیادہ مستحق ہے۔‘‘

(ضمیمہ براہین پنجم ص:۱۳۸، ۱۳۹۔ روحانی خزائن ج:۲۱ ص:۳۰۶)

الف: ...یہ تومرزا صاحب بھی تسلیم کرتے ہیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے قبل کسی نبی کی اتباع سے آدمی نبی نہیں بنتا تھا (دیکھئے حاشیہ حقیقۃ الوحی ص:۹۷)، کیا مرزا صاحب کے بقول تمام انبیائے سابقین کا دین رحمانی نہیں بلکہ معاذ اللہ! شیطانی اور لعنتی تھا؟

ب: ...اگر مرزا صاحب کے بقول نبی کے نبی ہونے کے لئے یہ شرط ہے کہ اس کی متابعت سے آدمی نبی بن جائے اور یہ شرط آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے پہلے کسی نبی میں نہیں پائی گئی تو تمام انبیائے سابقین کی نبوّت مرزا صاحب کے نزدیک حرفِ باطل نہ

125

ٹھہری؟ اور مرزا صاحب تمام انبیائے کرام کی نبوّت کے منکر نہ ٹھہرے؟

ج: ...مرزا صاحب کو اقرار ہے کہ اسلام کی تیرہ صدیوں میں کوئی شخص آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی پیروی کرکے اس مرتبہ کو نہیں پہنچا، اس صورت میں کیا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا دین بھی معاذ اللہ! شیطانی اور لعنتی ہی رہا؟

د: ...مرزا صاحب کی پیروی کرکے آج تک مرزائیوں میں کوئی نبی ہوا ہے یا نہیں؟ اگر ہوا ہے تو اس کا نام بتایا جائے، اور اگر کوئی نہیں ہوا تو کیا مرزا صاحب کا مندرجہ بالا اصول خود انہی کے بارے میں کیوں نہ دہرایا جائے کہ: ’’مرزا کا دین، دین نہیں اور نہ وہ نبی جس کی پیروی سے آج تک کوئی نبی نہیں ہوا، مرزا کا دین لعنتی اور قابل نفرت ہے جو یہ بتاتا ہے کہ وحی الٰہی مرزا تک محدود رہ گئی، آگے نہیں چلی، اور مرزا کے دین کو رحمانی کے بجائے شیطانی کہنا زیادہ موزوں ہے۔‘‘ فرمائیے! کیا مرزا صاحب کا اصول خود انہی کی ذات پر صادق نہیں آتا؟

ھ: ...مرزا محمود احمد صاحب کے نزدیک نبوّت کا مسئلہ مرزا صاحب پر ۱۹۰۱ء میں کھلا تھا، تو کیا ۱۹۰۱ء سے پہلے مرزا صاحب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو نعوذباللہ! شیطانی اور لعنتی ہی سمجھتے تھے؟

و: ...جو دین ۱۹۰۱ء تک مرزا صاحب کے قول کے مطابق رحمانی نہیں بلکہ شیطانی اور لعنتی تھا، اس کی پیروی کرکے مرزا صاحب رحمانی نبی بنے؟ یا شیطانی اور لعنتی؟ خوب سوچ سمجھ کر جواب دیجئے۔

سوال:۲: ...مرزا غلام احمد لکھتے ہیں:

’’یہ نکتہ یاد رکھنے کے لائق ہے کہ اپنے دعویٰ کے انکار کرنے والے کو کافر کہنا یہ صرف ان نبیوں کی شان ہے جو خدا تعالیٰ کی طرف سے شریعت اور احکام جدیدہ لاتے ہیں، لیکن صاحب شریعت کے ماسوا جو ملہم اور محدث ہیں، گو وہ کیسی ہی جناب الٰہی میں اعلیٰ شان رکھتے ہوں، اور خلعت مکالمہ الٰہیہ سے سرفراز ہوں، ان کے انکار

126

سے کوئی کافر نہیں بن جاتا۔‘‘

(حاشیہ تریاق القلوب ص:۱۳۰)

مرزا صاحب نے اس عبارت میں مقبولانِ الٰہی کی دو قسمیں بیان کی ہیں، ایک وہ نبی جو شریعت جدیدہ رکھتے ہوں، ان کا منکر کافر ہے، اور دوم غیرصاحب شریعت، ان کا منکر کافر نہیں، اس سلسلہ میں مندرجہ ذیل امور دریافت طلب ہیں:

الف: ...حضرت موسیٰ علیہ السلام سے حضرت عیسیٰ علیہ السلام تک ہزاروں نبی آئے، مگر ان میں سے کوئی بھی صاحب شریعت جدیدہ نبی نہیں گزرا، بلکہ سب شریعت تورات کے پابند تھے، مرزا صاحب کے نکتہ کے مطابق ان میں سے کسی نبی کا انکار کفر نہ ہوا، کیا مرزائی اُمت کا بھی یہی عقیدہ ہے؟

ب: ...اہل اسلام کے نزدیک تو حضرت عیسیٰ علیہ السلام صاحب شریعت نبی تھے، لیکن مرزا صاحب کے نزدیک وہ بھی:

’’جو موسیٰ سے کم تر اور اس کی شریعت کے پیرو تھے، اور خود کوئی کامل شریعت نہ لائے تھے۔‘‘

(حاشیہ دافع البلا ص:۲۱)

لہٰذا مرزا صاحب کے مندرجہ بالا عقیدے کے مطابق عیسیٰ علیہ السلام کی نبوّت کا منکر بھی کافر نہ ہوا، کیا مرزائیوں کا بھی یہی عقیدہ ہے؟

ج: ...قادیانی کہتے ہیں کہ مرزا صاحب کے منکر کافر ہیں (دیکھئے حقیقۃ الوحی ص:۱۲۳)، تو کیا مرزا صاحب کے مندرجہ بالا اصول کے مطابق خود مرزا صاحب بھی صاحب شریعت جدیدہ نہ ہوئے؟ اگر وہ صاحب شریعت جدیدہ نہیں تو ان کا منکر کیوں کافر ہے؟

سوال:۳: ...مرزا غلام احمد قادیانی لکھتے ہیں:

’’لیکن مسیح کی راست بازی اپنے زمانے میں دوسرے راست بازوں سے بڑھ کر ثابت نہیں ہوتی، بلکہ یحییٰ نبی کو اس پر ایک فضیلت ہے، کیونکہ وہ شراب نہیں پیتا تھا، اور کبھی نہیں سنا گیا کہ کسی فاحشہ عورت نے آکر اپنی کمائی کے مال سے اس کے سر پر عطر ملا تھا،

127

یا ہاتھوں اور اپنے سر کے بالوں سے اس کے بدن کو چھوا تھا، یا کوئی بے تعلق جوان عورت اس کی خدمت کرتی تھی، اس وجہ سے خدا نے قرآن میں یحییٰ کا نام ’’حصور‘‘ رکھا، مگر مسیح کا یہ نام نہ رکھا، کیونکہ ایسے قصے اس نام کے رکھنے سے مانع تھے، اور پھر یہ کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے یحییٰ کے ہاتھ پر، جس کو عیسائی یوحنا کہتے ہیں، اور جو پیچھے ایلیا بنایا گیا، اپنے گناہوں سے توبہ کی تھی اور ان کے خاص مریدوں میں داخل ہوئے تھے، اور یہ بات حضرت یحییٰ کی فضیلت کو ببداہت ثابت کرتی ہے، کیونکہ بمقابل اس کے یہ ثابت نہیں کیا گیا کہ یحییٰ نے بھی کسی ہاتھ پر توبہ کی تھی، پس اس کا معصوم ہونا بدیہی امر ہے۔‘‘

(حاشیہ دافع البلاء آخری صفحات، دافع البلاء کا جو نیا ایڈیشن ربوہ سے شائع ہوا ہے اس میں یہ عبارت ’’تنبیہ‘‘ کے عنوان سے رسالہ کے شروع میں ص:۴ پر ہے)

منقولہ بالا عبارت میں مرزا صاحب نے ایک تو یہ نکتہ بیان فرمایا ہے کہ خدا تعالیٰ نے قرآن میں یحییٰ علیہ السلام کو تو ’’حصور‘‘ فرمایا، مگر حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا یہ نام نہیں رکھا، کیونکہ یحییٰ علیہ السلام شراب نہیں پیتے تھے، حضرت یحییٰ علیہ السلام فاحشہ اور نامحرم عورتوں سے اختلاط نہیں کرتے تھے، اور عیسیٰ علیہ السلام کرتے تھے، اور دوسرا نکتہ یہ بیان فرمایا کہ عیسیٰ علیہ السلام نے یحییٰ علیہ السلام کا مرید بن کر ان کے ہاتھ پر گناہوں سے توبہ کی تھی، مگر یحییٰ علیہ السلام کے بارے میں اس کا کوئی ثبوت نہیں، لہٰذا یحییٰ علیہ السلام تو بداہۃً معصوم ہیں، مگر عیسیٰ علیہ السلام معصوم نہ ہوئے، مرزا صاحب کے ان دونوں نکتوں کی روشنی میں چند امور دریافت طلب ہیں:

الف: ...جو شرابی ہو، کنجریوں سے اختلاط رکھتا ہو، حرام کی کمائی استعمال کرتا ہو، اور نامحرم عورتوں سے خدمت لیتا ہو، کیا وہ نبی ہوسکتا ہے؟

ب: ...کیا کسی نبی میں مندرجہ بالا صفات (یعنی شراب پینا اور رنڈی بازی کرنا،

128

جو مرزا صاحب نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام سے منسوب کی ہیں) پائی جاسکتی ہیں؟ کیا مرزائی عقیدے میں انبیائے کرام کا ان فواحش سے پاک ہونا ضروری نہیں؟

ج: ...نبوّت اور حصور ہونا ان دونوں میں سے کون سا زیادہ بلند ہے؟

د: ...مرزا صاحب کے نزدیک ’’حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا نام قرآن نے ’’حصور‘‘ نہیں رکھا، کیونکہ ایسے قصے اس نام کے رکھنے سے مانع تھے‘‘ گویا اللہ تعالیٰ بھی حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے ایسے ’’قصوں‘‘ کو صحیح جانتے تھے، پھر اس نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو نبوّت کیوں عطا فرمادی؟

ہ: ...حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے وہ کون سے گناہ تھے جن سے انہوں نے مرزا صاحب کے بقول حضرت یحییٰ علیہ السلام کے ہاتھ پر توبہ کی تھی؟

و: ...کیا توبہ کے بعد حضرت عیسیٰ علیہ السلام، بقول مرزا صاحب کے ’’گناہوں‘‘ سے باز آگئے تھے، یا توبہ کے بعد بھی ان پر قائم رہے؟

ز: ...اگر بالفرض مرزا صاحب کے بارے میں دلائل سے یہ بات ثابت ہوجائے کہ وہ شراب پیتے تھے، ٹانک وائن کا شغل فرماتے تھے، کنجریوں کی حرام کمائی کو استعمال کرنے میں مضائقہ نہیں سمجھتے تھے، اور نامحرم عورتوں سے خدمت بھی لیا کرتے تھے، تب بھی آپ لوگ انہیں مجدد، مسیح، مہدی، نبی اور رسول کہیں گے؟ یہ نہ سہی کم از کم انہیں ایک متقی اور شریف انسان ہی تسلیم کریں گے؟ اگر جواب نفی میں ہو تو کیا ان الزامات کی موجودگی میں عیسیٰ علیہ السلام کو ایک شریف آدمی تسلیم کرنا ممکن ہے؟ اور کیا یہی مسیح ہے جس کی مماثلت پر مرزا صاحب کو ناز ہے؟

ح: ...مرزا صاحب نے کئی جگہ لکھا ہے کہ انہیں مسیح علیہ السلام سے شدید مشابہت اور مماثلت ہے، گویا دونوں ایک ہی درخت کے پھل ہیں، یا ایک معدن کے دو جوہر ہیں، سوال یہ ہے کہ یہ اخلاق عالیہ جو حضرت مسیح کی جانب مرزا صاحب نے منسوب کئے ہیں، خود مرزا صاحب میں بھی پائے جاتے تھے یا نہیں؟ اگر مرزا صاحب ان ’’اوصاف حمیدہ‘‘ سے محروم تھے، تو مسیح سے ان کی مکمل مشابہت کیسے ہوئی؟

129

ط: ...قرآن کریم نے تو حضرت آدم علیہ السلام سے لے کر حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تک یحییٰ علیہ السلام کے سوا کسی کا نام بھی ’’حصور‘‘ نہیں رکھا، کیا مرزا صاحب کے بقول ان تمام انبیائے کرام کے حق میں بھی معاذاللہ! ’’ایسے قصے‘‘ ہی اس نام کے رکھنے سے مانع تھے؟ کیا اس نکتہ سے مرزا صاحب نے تمام انبیائے کرام کو شرابی اور رنڈی باز کی گالی نہیں دے ڈالی؟

سوال:۴: ...دافع البلاء کی عبارت (مندرجہ سوال نمبر:۳) سے ملتا جلتا مضمون مرزا صاحب نے اپنی ایک دوسری کتاب ’’انجام آتھم‘‘ میں باندھا ہے، وہاں لکھا ہے کہ:

’’آپ کا (حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا) خاندان بھی نہایت پاک اور مطہر ہے، تین دادیاں اور تین نانیاں آپ کی زناکار اور کسبی عورتیں تھیں، جن کے خون سے آپ کا وجود ظہور پذیر ہوا، مگر شاید یہ بھی خدائی کے لئے ایک شرط ہوگی، آپ کا کنجریوں سے میلان اور صحبت بھی شاید اسی وجہ سے ہو کہ جدی مناسبت درمیان ہے، ورنہ کوئی پرہیزگار انسان ایک جوان کنجری کو یہ موقع نہیں دے سکتا کہ وہ اس کے سر پر ناپاک ہاتھ لگاوے اور زناکاری کی کمائی کا پلید عطر اس کے سر پر ملے، اور اپنے بالوں کو اس کے پیروں پر ملے۔‘‘

(ضمیمہ انجام آتھم ص:۷، روحانی خزائن ج:۱۱ ص:۲۹۱)

دونوں کتابوں کی عبارتوں کو ملاکر میں نے یہ سمجھا ہے (اور میرا خیال ہے کہ ہر اردو خواں یہی سمجھنے پر مجبور ہوگا) کہ دونوں کتابوں میں مرزا صاحب نے ’’وہی قصے‘‘ ذکر کئے ہیں جو حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے متعلق ’’حصور‘‘ کا لفظ کہنے سے خدا کو مانع ہوئے، البتہ دونوں کتابوں کے مضمون میں تین وجہ سے فرق ہے:

اول: ...یہ کہ دافع البلاء میں شراب نوشی اور کنجریوں سے اختلاط دو باتوں کا ذکر ہے، اور انجام آتھم میں شراب نوشی کا ذکر نہیں، گویا ’’ایسے قصے‘‘ میں سے ایک قصہ یہاں حذف کردیا۔

130

دوم: ...دافع البلاء میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے کنجریوں سے میلان کی وجہ ذکر نہیں کی، انجام آتھم میں اس کی وجہ بھی لفظ ’’شاید‘‘ کے ساتھ ذکر کردی، اور وہ ہے ’’جدی مناسبت‘‘، یعنی آپؑ کی تین دادیوں، نانیوں کا (نعوذباللہ!) زناکاری، اور آپؑ کا ان کے ناپاک خون سے وجود پذیر ہونا، توبہ! استغفر اللہ!

سوم: ...انجام آتھم میں تصریح کردی کہ یہ ’’اخلاق حمیدہ‘‘ (جو مرزا صاحب نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام سے منسوب کئے ہیں، اور جن کی بنا پر بقول ان کے خدا تعالیٰ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو ’’حصور‘‘ نہیں کہہ سکا) کسی ادنیٰ پرہیزگار انسان کے بھی نہیں ہوسکتے۔

کیا میں نے ان دونوں عبارتوں کے مفہوم اور ان کے باہمی فرق کو غلط سمجھا ہے؟

الف: ...کیا مرزائی عقیدے میں انبیائے کرام کے نسب پاک نہیں ہوتے؟ اور ان کے اجداد میں تین تین دادیاں اور نانیاں نعوذباللہ! زنا کار ہوا کرتی ہیں؟

ب: ...جس شخص کا وجود زنا کاروں کے گندے خون سے ظہور پذیر ہوا ہو، کیا وہ مرزائی عقیدے میں نبی ہوسکتا ہے؟

ج: ...حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا کنجریوں سے میلان مرزا صاحب کے بقول اس لئے تھا کہ ’’جدی مناسبت درمیان تھی‘‘ ادھر مرزا صاحب کو بھی مسیح کا دعویٰ ہے، تو کیا انہیں مسیح علیہ السلام کی ’’جدی مناسبت‘‘ میں سے بھی کچھ نہ کچھ حصہ ملا یا نہیں؟ اگر بقول ان کے ’’مسیح‘‘ کی تین دادیاں، نانیاں زناکار تھیں تو ’’مثیلِ مسیح‘‘ کی تین کو نہ سہی کسی ایک دادی، نانی کو تو مسیح کی دادیوں، نانیوں سے مماثلت کا شرف ضرور حاصل ہوا ہوگا!!

د: ...مرزا صاحب فرماتے ہیں کہ یحییٰ کا معصوم ہونا بمقابل مسیح علیہ السلام کے بدیہی امر ہے، اس مقابلے کا مطلب کیا ہے؟ کیا مسیح علیہ السلام معصوم نہ تھے؟ کیا ان کی عصمت بدیہی نہیں؟

ھ: ...جو شخص خدا کے نزدیک شراب پیتا ہو، کنجریوں سے میلان رکھتا ہو، ان کی ناپاک کمائی استعمال میں لاتا ہو اور نامحرم عورتوں سے خدمت لیتا ہو، کیا وہ معصوم ہوتا ہے؟ اگر وہ بھی معصوم ہے تو غیرمعصوم کس کو کہتے ہیں؟

131

و: ...یہ تو مسیح کی عظمت تھی جس کا نقشہ مرزا صاحب نے دافع البلاء اور انجام آتھم کے مشترک مضمون میں کھینچا ہے، اب ’’مثیل مسیح‘‘ کی عصمت کا کیا معیار ہوگا؟

ز: ...مرزا صاحب نے سیّدنا مسیح علیہ السلام کے بارے میں جو پھلجڑیاں چھوڑی ہیں، اگر کوئی شخص یہی الفاظ مرزا صاحب کے بارے میں استعمال کرے تو مرزائی اُمت کا رَدِّعمل کیا ہوگا؟

ح: ...ہمارے نزدیک مرزا صاحب نے حضرت مسیح علیہ السلام کو اور ان کے پردہ میں تمام انبیائے کرام علیہم السلام کو (دیکھئے سوال:۳ فقرہ:ط) جو مغلظات اور فحش گالیاں سنائی ہیں، اس کی ہمت کسی چوہڑے چمار کو بھی کسی شریف آدمی کے بارے میں نہیں ہوسکتی، ان عریاں گالیوں کے بعد کیا کسی مرزائی میں ہمت ہے کہ وہ مرزا صاحب کو ایک معمولی درجہ کا شریف آدمی ہی ثابت کردکھائے؟ مسلمان ہونا تو دور کی بات ہے!!

(ہفت روزہ ختمِ نبوّت کراچی ج:۳ ش:۲۶)

132

قادیانی اپنا اِنسان ہونا ثابت کریں!

محترم جناب محمد یوسف صاحب

سلام من اتبعی الہدیٰ! (نقل مطابق اصل)

آپ کے دو خط اکٹھے ایک ہی لفافے میں ملے تھے، ان کے لئے آپ کا شکرگزار ہوں، اور ساتھ ہی معترف بھی ہوں کہ آپ واقعی ’’قابلِ داد‘‘ ہستی ہیں، آپ کی کٹ حجتی پر تو اب مجھے شبہ بھی نہیں رہا، جو آپ نے میرے سیدھے سے سوالات کے جواب دینے میں استعمال فرمائی ہے۔ دراصل جو دو ایک مسائل تھے انہیں آپ نے کج بحثی کی نذر کردیا ہے، جو تحقیق کے جذبہ کو یقینا مجروح کرتی ہے، بہرکیف آپ نے جب یہ طرح دی ہے تو چلئے یونہی سہی۔

یہ میں محض آپ کے لگائے ہوئے الزامات کے جواب میں عرض کر رہا ہوں اور اِک چھوٹا سا آئینہ دکھا رہا ہوں کہ جنابِ من! آپ کی طرح کسی پر: جھوٹا، کذّاب، گندم نما جو فروش اور وحشی جیسے خطاب دینا تو بڑا آسان ہوتا ہے، لیکن تعمیری کام کرنا بہت مشکل......

عبدالرؤف لودھی، کوئٹہ

جواب:

برادرِ مکرم زید لطفہٗ آدب و دعوات!

طویل نامۂ کرم موصول ہوا، جناب کو غلط فہمی ہوئی کہ میں نے ازخود آپ کو یا آپ کی جماعت کو وحشی کہا ہے، حالانکہ میں نے نہیں، بلکہ جناب مرزا صاحب نے آپ کو یہ بہترین اور برمحل خطاب عطا کیا ہے، ملاحظہ ہو:

’’اور پیش گوئی میں یہ بھی الفاظ ہیں کہ اس کے بعد یعنی

133

اس کے مرنے کے بعد نوعِ انسانی میں علتِ عُقم سرایت کرے گی، یعنی پیدا ہونے والے حیوانوں اور وحشیوں سے مشابہت رکھیں گے، اور انسانیت حقیقی صفحۂ عالم سے مقفود (نقل مطابق اصل) ہوجائیں گے، وہ حلال کو حلال نہیں سمجھیں گے اور نہ حرام کو حرام، پس ان پر قیامت قائم ہوگی۔‘‘

(تریاق القلوب ضمیمہ دوم ص:۱۵۹)

میرا عقیدہ یہ ہے کہ پیش گوئی صحیح ہے، لیکن ابھی اس کا وقت نہیں آیا، ایسا بالکل قربِ قیامت میں ہوگا، لہٰذا مرزا صاحب مسیحِ موعود نہیں، بلکہ انہوں نے اپنے اُوپر غلط چسپاں کیا ہے۔ لیکن آپ فرمائیے کہ جو لوگ مرزا صاحب کے مرنے کے بعد پیدا ہوئے ہیں، انہوں نے جناب مرزا صاحب کو مسیحِ موعود مان کر اپنا وحشی ہونا تسلیم کرلیا ہے یا نہیں؟ انہیں حقیقی انسان کہا جائے یا انسان نما وحشی اور حیوان جنہیں حلال و حرام کی کوئی تمیز نہیں، پہلے یہ معما حل کرلیجئے، پھر اِن شاء اللہ آگے چلیں گے،العلم نقطۃ کثرھا الجاھلون!

اُمید ہے مزاجِ سامی بعافیت ہوں گے، اس فقیر کے بارے میں جو عالم نہیں، علماء کا کفش بردار ضرور ہے، آپ جو حسنِ ظن رکھیں آپ کو سب معاف ہے، مگر مرزا صاحب کی اس عبارت کو سامنے رکھ کر اپنا انسان ہونا ہی ثابت کردیجئے! فقط والدعا۔

آپ کا بے حد مخلص

محمد یوسف عفا اللہ عنہ

۱۸؍محرم الحرام ۱۳۹۹ھ

134

قادیانی مسائل

135

اسلام کے بنیادی عقائد

بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ

اَلْحَمْدُ للہِ وَسَلَامٌ عَلٰی عِبَادِہِ الَّذِیْنَ اصْطَفٰی، اَمَّا بَعْدُ!

سوال۱: ... مذہبِ اسلام کے بنیادی عقائد کیا ہیں؟ قرآن وحدیث اور اَقوالِ فقہاء کے حوالہ جات متعلقہ تحریر فرمائیں؟

جواب: ... اسلام اور کفر کے درمیان خطِ اِمتیاز کیا ہے؟ اور وہ کون سے اُمور ہیں جن کا ماننا شرطِ اسلام ہے؟ اس کے لئے چند نکات ملحوظ رکھنا ضروری ہے:

۱: ... یہ بات تو ہر عام وخاص جانتا ہے، بلکہ غیرمسلموں تک کو معلوم ہے کہ: ’’مسلمان ان لوگوں کو کہا جاتا ہے جو محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو نبی برحق تسلیم کرتے ہوئے آپ کے لائے ہوئے دِین کو قبول کرنے کا عہد کریں، گویا یہ طے شدہ امر ہے (جس میں کسی کا اِختلاف نہیں) کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لائے ہوئے پورے دِین کو من وعن تسلیم کرنا اِسلام ہے اور دِینِ محمدی کی کسی بات کو قبول نہ کرنا کفر ہے، کیونکہ یہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی تکذیب ہے۔‘‘

۲: ... اب صرف یہ بات تنقیح طلب باقی رہ جاتی ہے کہ وہ کون سی چیزیں ہیں جن کے بارے میں ہم قطعی دعوے سے کہہ سکتے ہیں کہ یہ دِینِ محمدی میں داخل ہیں، اور واقعی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ہی ان کی تعلیم فرمائی ہے؟ اس سلسلے میں گزارش ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا جو دِین ہم تک پہنچا ہے، اس کا ایک حصہ ان حقائق پر مشتمل ہے، جو ہمیں ایسے قطعی ویقینی اور غیرمشکوک تواتر کے ذریعے سے پہنچا ہے کہ ان کے ثبوت

136

میں کسی قسم کے ادنیٰ اِشتباہ کی گنجائش نہیں۔ مثلاً جس درجے کے تواتر اور تسلسل سے ہمیں یہ بات پہنچی ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے نبیٔ برحق کی حیثیت سے لوگوں کو ایک دِین کی دعوت دی تھی، ٹھیک اسی درجے کے تواتر وتسلسل سے ہمیں یہ بھی معلوم ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی دعوت میں لوگوں کو ’’لا اِلٰہ اِلَّا اللہ‘‘ کی طرف بلایا، یعنی توحید کی دعوت دی، شرک وبت پرستی سے منع فرمایا، قرآنِ کریم کو کلامِ اِلٰہی کی حیثیت سے پیش کیا، قیامت کے حساب وکتاب، جزا وسزا اور جنت ودوزخ کو ذِکر فرمایا، نماز، روزہ، حج، زکوٰۃ وغیرہ کی تعلیم دی، اس قسم کے وہ تمام حقائق جو ایسے قطعی ویقینی تواتر کے ذریعے ہمیں پہنچے ہیں، جن کو ہر دور میں مسلمان بالاتفاق مانتے چلے آئے ہیں، اور جن کا علم صرف خواص تک محدود نہیں رہا، بلکہ خواص کے حلقے سے نکل کر عوام تک میں مشہور ہوگیا۔ قرآنِ کریم میں بہت سی جگہ اس مضمون کو ذِکر کیا گیا ہے، ایک جگہ اِرشاد ہے:

’’اٰمَنَ الرَّسُوْلُ بِمَآ اُنْزِلَ اِلَیْہِ مِنْ رَّبِّہٖ وَالْمُؤْمِنُوْنَ، کُلٌّ اٰمَنَ بِاللہِ وَمَلٰٓئِکَتِہٖ وَکُتُبِہٖ وَرُسُلِہٖ لَا نُفَرِّقُ بَیْنَ اَحَدٍ مِّنْ رُّسُلِہٖ، وَقَالُوْا سَمِعْنَا وَاَطَعْنَا غُفْرَانَکَ رَبَّنَا وَاِلَیْکَ الْمَصِیْرُ‘‘

(البقرۃ:۲۸۵)

ترجمہ: ... ’’اِعتقاد رکھتے ہیں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وسلم) اس چیز کا جو اُن کے پاس اُن کے رَبّ کی طرف سے نازل کی گئی ہے، اور مؤمنین بھی، سب کے سب عقیدہ رکھتے ہیں اللہ کے ساتھ، اور اس کے فرشتوں کے ساتھ، اور اس کی کتابوں کے ساتھ، اور اس کے پیغمبروں کے ساتھ، ہم اس کے سب پیغمبروں میں سے کسی میں تفریق نہیں کرتے، اور ان سب نے یوں کہا: ہم نے (آپ کا اِرشاد) سنا اور خوشی سے مانا، ہم آپ کی بخشش چاہتے ہیں اے ہمارے پروردگار! اور آپ ہی کی طرف ہم سب کو لوٹنا ہے۔‘‘

(ترجمہ: حضرت تھانویؒ)

137

دُوسری جگہ اِرشاد ہے:

’’فَلَا وَرَبِّکَ لَا یُؤْمِنُوْنَ حَتّٰی یُحَکِّمُوْکَ فِیْمَا شَجَرَ بَیْنَھُمْ ثُمَّ لَا یَجِدُوْا فِیْٓ اَنْفُسِھِمْ حَرَجًا مِّمَّا قَضَیْتَ وَیُسَلِّمُوْا تَسْلِیْمًا۔‘‘

(النساء:۶۵)

ترجمہ: ... ’’پھر قسم ہے آپ کے رَبّ کی! یہ لوگ اِیمان دار نہ ہوں گے، جب تک یہ بات نہ ہو کہ ان کے آپس میں جو جھگڑا واقع ہو، اس میں یہ لوگ آپ سے تصفیہ کراویں، پھر اس آپ کے تصفیے سے اپنے دِلوں میں تنگی نہ پاویں، اور پورا پورا تسلیم کرلیں۔‘‘

تیسری جگہ اِرشاد ہے:

’’وَمَا کَانَ لِمُؤْمِنٍ وَّلَا مُؤْمِنَۃٍ اِذَا قَضَی اللہُ وَرَسُوْلُہٗٓ اَمْرًا اَنْ یَّکُوْنَ لَھُمُ الْخِیَرَۃُ مِنْ اَمْرِھِمْ، وَمَنْ یَّعْصِ اللہَ وَرَسُوْلَہٗ فَقَدْ ضَلَّ ضَلٰـلًا مُّبِیْنًا۔‘‘

(الأحزاب:۳۶)

ترجمہ: ... ’’اور کسی اِیمان دار مرد اور کسی اِیمان دار عورت کو گنجائش نہیں ہے جبکہ اللہ اور اس کا رسول کسی کام کا حکم دے دیں کہ پھر (ان مؤمنین) کو ان کے اس کام میں کوئی اِختیار (باقی) رہے، اور جو شخص اللہ کا اور اس کے رسول کا کہنا نہ مانے گا وہ صریح گمراہی میں پڑا۔‘‘

اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشادِ گرامی ہے:

’’لَا یُؤْمِنُ اَحَدُکُمْ حَتّٰی یَکُوْنَ ھَوَاہُ تَبْعًا لِّمَا جِئْتُ بِہٖ۔‘‘

(مشکوٰۃ ص:۳۰)

ترجمہ: ... ’’تم میں سے کوئی شخص مؤمن نہیں ہوسکتا یہاں تک کہ اس کی خواہش میرے لائے ہوئے دِین کے تابع نہ ہوجائے۔‘‘

138

انہیں خالص علمی اِصطلاح میں ’’ضروریاتِ دِین‘‘ کہا جاتا ہے، یعنی یہ ایسے اُمور ہیں کہ ان کا دِینِ محمدی میں داخل ہونا سوفیصد قطعی ویقینی اور ایسا بدیہی ہے کہ ان میں کسی ادنیٰ سے ادنیٰ شک وشبہ اور تردّد کی گنجائش نہیں، کیونکہ خبرِ متواتر سے بھی اسی طرح کا یقین حاصل ہوتا ہے جس طرح کہ خود اپنے ذاتی تجربے اور مشاہدے سے کسی چیز کا علمِ یقین حاصل ہوتا ہے۔ مثلاً بے شمار لوگ ایسے ہیں جنہوں نے مکہ، مدینہ یا کراچی اور لاہور نہیں دیکھا، لیکن انہیں بھی ان شہروں کے وجود کا اسی طرح یقین ہے جس طرح کا یقین خود دیکھنے والوں کو ہے۔

دِینِ محمدی کی پوری عمارت اسی تواتر کی بنیاد پر قائم ہے، جو شخص دِین کے متواترات کا اِنکار کرتا ہے، وہ دِین کی پوری عمارت ہی کو منہدم کردینا چاہتا ہے، کیونکہ اگر تواتر کو حجتِ قطعیہ تسلیم نہ کیا جائے تو دِین کی کی کوئی چیز بھی ثابت نہیں ہوسکتی، تمام فقہاء، متکلمین اور علمائے اُصول اس پر متفق ہیں کہ تواتر حجتِ قطعیہ ہے، اور متواتراتِ دینیہ کا منکر کافر ہے، (کتبِ اُصول میں تواتر کی بحث ملاحظہ کی جائے)۔ مناسب ہوگا کہ تواتر کے قطعی حجت ہونے پر ہم مرزا غلام احمد قادیانی کی شہادت پیش کردیں، اپنی کتاب ’’شہادۃالقرآن‘‘ میں مرزا صاحب لکھتے ہیں:

’’دُوسرا حصہ جو تعامل کے سلسلے میں آگیا اور کروڑہا مخلوقات اِبتدا سے اس پر اپنے عملی طریق سے محافظ اور قائم چلی آئی ہے اس کو ظنی اور شکی کیونکر کہا جائے، ایک دُنیا کا مسلسل تعامل جو بیٹوں سے باپوں تک اور باپوں سے دادوں تک اور دادوں سے پردادوں تک بدیہی طور پر مشہور ہوگیا اور اپنے اصل مبدا تک اس کے آثار اور اَنوار نظر آگئے، اس میں تو ایک ذرّہ شک کی گنجائش نہیں رہ سکتی، اور بغیر اس کے اِنسان کو کچھ بن نہیں پڑتا کہ ایسے مسلسل عمل درآمد کو اَوّل درجہ کے یقینیات میں سے یقین کرے، پھر جبکہ اَئمۂ حدیث نے اس سلسلے میں تعامل کے ساتھ ایک اور

139

سلسلہ قائم کیا اور اُمورِ تعاملی کا اسناد راست گو اور متدین راویوں کے ذریعے سے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم تک پہنچادیا، تو پھر بھی اس پر جرح کرنا، درحقیقت ان لوگوں کا کام ہے جن کو بصیرتِ اِیمانی اور عقلِ انسانی کا کچھ بھی حصہ نہیں ملا۔‘‘

(شہادۃ القرآن ص:۸، رُوحانی خزائن ج:۶ ص:۳۰۴)

اور ’’اِزالہ اوہام‘‘ میں لکھتے ہیں:

’’تواتر ایک ایسی چیز ہے کہ اگر غیرقوموں کی تواریخ کی رُو سے بھی پایا جائے تو تب بھی ہمیں قبول کرنا ہی پڑتا ہے۔‘‘

(اِزالہ اوہام ص:۵۵۶، رُوحانی خزائن ج:۳ ص:۳۹۹)

یہاں یہ وضاحت بھی ضروری ہے کہ تین قسم کے اُمور ’’ضروریاتِ دِین‘‘ میں شامل ہیں:

۱: ... جو قرآنِ کریم میں منصوص ہوں۔

۲: ... جو اَحادیثِ متواترہ سے ثابت ہوں (خواہ تواتر لفظی ہو یا معنوی)۔

۳: ... جو صحابہ کرامؓ سے لے کر آج تک اُمت کے اِجماع اور مسلسل تعامل وتوارث سے ثابت ہوں۔

الغرض ’’ضروریاتِ دِین‘‘ ایسے بنیادی اُمور ہیں، جن کا تسلیم کرنا شرطِ اسلام ہے، اور ان میں سے کسی ایک کا اِنکار کرنا کفر وتکذیب ہے۔ خواہ کوئی دانستہ اِنکار کرے یا نادانستہ، اور خواہ واقف ہو کہ یہ مسئلہ ضروریاتِ دِین میں سے ہے، یا واقف نہ ہو، بہرصورت کافر ہوگا۔ ’’شرح عقائد نسفی‘‘ میں ہے:

’’الْإیمان فی الشرع ھو التصدیق بما جاء بہ من عند اللہ تعالٰی أی تصدیق النبی علیہ السلام بالقلب فی جمیع ما علم بالضرورۃ مجیئہ بہ من عند اللہ تعالٰی۔‘‘

(شرح عقائد ص:۱۱۹)

140

ترجمہ: ... ’’شریعت میں اِیمان کے معنی ہیں ان تمام اُمور میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی تصدیق کرنا جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم اللہ تعالیٰ کی طرف سے لائے، یعنی ان تمام اُمور میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی دِل وجان سے تصدیق کرنا جن کے بارے میں بداہۃً معلوم ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے لائے۔‘‘

اس سے واضح ہوجاتا ہے کہ جو شخص ’’ضروریاتِ دِین‘‘ کا منکر ہو وہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر اِیمان نہیں رکھتا۔ علامہ شامیؒ ’’ردّ المحتار شرح درمختار‘‘ میں لکھتے ہیں:

’’لَا خلاف فی کفر المخالف فی ضروریات الْإسلام وإن کان من أھل القبلۃ المواظب طول عمرہ علی الطاعات کما فی شرح التحریر۔‘‘

(ردّالمحتار من الامامۃ ج:۱ ص:۳۷۷)

ترجمہ: ... ’’جو شخص ’’ضروریاتِ دِین‘‘ میں مسلمانوں کا مخالف ہو، اس کے کافر ہونے میں کوئی اِختلاف نہیں، اگرچہ وہ اہلِ قبلہ ہو اور مدۃالعمر طاعات اور عبادات کی پابندی کرنے والا ہو، جیسا کہ شرح تحریر میں اس کی تصریح ہے۔‘‘

حافظ ابنِ حزم ظاہریؒ لکھتے ہیں:

’’وصح الْإجماع علٰی ان کل من جحد شیئًا صح عندنا بالْإجماع ان رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اتی بہ فقد کفر، وصح بالنص ان کل من استھزأ باللہ تعالٰی، أو بملک من الملائکۃ أو بنبی من الأنبیاء علیھم السلام أو بآیۃ من القرآن أو بفریضۃ من فرائض الدین فھی کلھا آیات اللہ تعالٰی، بعد بلوغ الحجۃ إلیہ
141

فھو کافر، ومن قال بنبی بعد النبی علیہ الصلٰوۃ والسلام أو جحد شیئًا صح عندہ بأن النبی صلی اللہ علیہ وسلم قالہ، فھو کافر۔‘‘

(کتاب الفصل لابن حزم ج:۳ ص:۲۵۵، ۲۵۶)

ترجمہ: ... ’’اور اس بات پر صحیح اِجماع ثابت ہے کہ جو شخص کسی ایسی بات کا اِنکار کرے جس کے بارے میں اِجماع سے ثابت ہو کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اس کو لائے تھے، تو ایسا شخص بلاشبہ کافر ہے، اور یہ بات بھی نص سے ثابت ہے کہ جو شخص اللہ تعالیٰ کا، کسی فرشتے کا، کسی نبی کا، قرآنِ کریم کی کسی آیت کا، یا دِین کے فرائض میں سے کسی فریضے کا مذاق اُڑائے (واضح رہے کہ تمام فرائض آیاتُ اللہ ہیں) حالانکہ اس کے پاس حجت پہنچ گئی ہو، ایسا شخص کافر ہے، اور جو شخص آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد کسی نبی کا قائل ہو، یا کسی ایسی چیز کا اِنکار کرے کہ اس کے نزدیک ثابت ہو کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات فرمائی ہے، تو وہ بھی کافر ہے۔‘‘

اور قاضی عیاض مالکیؒ ’’الشفاء‘‘ میں لکھتے ہیں:

’’وکذالک وقع الْإجماع علٰی تکفیر کل من دافع نص الکتاب أو خص حدیثًا مجمعًا علٰی نقلہ مقطوعًا بہ مجمعًا علٰی حملہ علٰی ظاھرہ۔‘‘

(ج:۲ ص:۲۴۷)

ترجمہ: ... ’’اسی طرح اس شخص کی تکفیر پر بھی اِجماع ہے جو کتابُ اللہ کی نص کا مقابلہ کرے، یا کسی ایسی حدیث میں تخصیص کرے، جس کی نقل پر اِجماع ہو، اور اس پر بھی اِجماع ہو کہ وہ اپنے ظاہر پر محمول ہے۔‘‘

142

آگے لکھتے ہیں:

’’وکذالک نقطع بتکفیر کل من کذب وأنکر قاعدۃ من قواعد الشرع وما عرف یقینًا بالنقل المتواتر من فعل الرسول صلی اللہ علیہ وسلم ووقع الْإجماع المتصل علیہ ...۔الخ۔‘‘

(ج:۲ ص:۲۴۸)

ترجمہ: ... ’’اسی طرح ہم اس شخص کو بھی قطعی کافر قرار دیتے ہیں جو شریعت کے قاعدوں میں سے کسی قاعدے کا اِنکار کرے، اور ایسی چیز کا اِنکار کرے جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے نقلِ متواتر کے ساتھ منقول ہو اور اس پر مسلسل اِجماع چلا آتا ہو۔‘‘

علمائے اُمت کی اس قسم کی تصریحات بے شمار ہیں، نمونے کے طور پر چند حوالے درج کردئیے گئے ہیں۔ آخر میں مرزا غلام احمد قادیانی کی دو عبارتیں بھی ملاحظہ فرمائیے، ’’انجامِ آتھم‘‘ ص:۱۴۴ میں لکھتے ہیں:

’’ومن زاد علٰی ھٰذہ الشریعۃ مثقال ذرۃ أو نقص منھا أو کفر بعقیدۃ إجماعیۃ فعلیہ لعنۃ اللہ والملائکۃ والناس أجمعین۔‘‘

(رُوحانی خزائن ج:۱۱ ص:۱۴۴)

ترجمہ: ... ’’جو شخص اس شریعت میں ایک ذرّے کی کمی بیشی کرے، یا کسی اِجماعی عقیدے کا اِنکار کرے، اس پر اللہ تعالیٰ کی، فرشتوں کی، اور تمام اِنسانوں کی لعنت۔‘‘

اور ’’ایام الصلح‘‘ میں لکھتے ہیں:

’’وہ تمام اُمور جن پر سلف صالحین کو اِعتقادی اور عملی طور پر اِجماع تھا، اور وہ اُمور جو اہلِ سنت کی اِجماعی رائے سے اسلام کہلاتے ہیں، ان سب کا ماننا فرض ہے۔‘‘

(ص:۸۷، رُوحانی خزائن ج:۱۴ ص:۳۲۳)

143

خلاصہ یہ ہے کہ ’’ضروریاتِ دِین‘‘ کا اِقرار واِنکار اِسلام اور کفر کے درمیان حدِ فاصل ہے، جو شخص ’’ضروریاتِ دِین‘‘ کو من وعن، بغیر تأویل کے قبول کرتا ہے، وہ دائرۂ اسلام میں داخل ہے، اور جو شخص ’’ضروریاتِ دِین‘‘ کا اِنکار کرتا ہے، یا ان میں ایسی تأویل کرتا ہے کہ جس سے ان کا متواتر مفہوم بدل جائے وہ دائرۂ اسلام سے خارج ہے۔ اور جو مسائل ایسے ہوں کہ ہیں تو قطعی واِجماعی، مگر ان کی شہرت عوام تک نہیں پہنچی، صرف اہلِ علم تک محدود ہے، ان کو ’’قطعیات‘‘ تو کہا جائے گا، مگر ’’ضروریات‘‘ نہیں کہا جاتا۔ ان کا حکم یہ ہے کہ اگر کوئی شخص ان کا اِنکار کرے تو پہلے اس کو تبلیغ کی جائے، اور ان کا قطعی اور اِجماعی ہونا اس کو بتایا جائے، اس کے بعد بھی اگر اِنکار پر اِصرار کرے تو خارج اَزاِسلام ہوگا۔

’’مسامرہ‘‘ میں ہے:

’’وأما ما ثبت قطعًا ولم یبلغ حد الضرورۃ کاستحقاق بنت الْإبن السدس مع البنت الصلبیۃ باجماع المسلمین فظاھر کلام الحنفیۃ الْإکفار بجحدہ لأنھم لم یشترطوا فی الْإکفار سوی القطع فی الثبوت (إلٰی قولہ) ویجب حملہ علٰی ما إذا علم المنکر ثبوتہ قطعًا۔‘‘

(مسامرہ ص:۳۳۲)

ترجمہ: ... ’’اور جو حکم قطعی الثبوت تو ہو مگر ضرورت کی حد کو پہنچا ہو جیسے (میراث میں) اگر پوتی اور حقیقی بیٹی جمع ہوں تو پوتی کو چھٹا حصہ ملنے کا حکم اِجماعِ اُمت سے ثابت ہے۔ سو ظاہر کلام حنفیہ کا یہ ہے کہ اس کے اِنکار کی وجہ سے کفر کا حکم لیا جاوے گا، کیونکہ انہوں نے قطعی الثبوت ہونے کے سوا اور کوئی شرط نہیں لگائی (الیٰ قولہ) مگر واجب ہے کہ حنفیہ کے اس کلام کو اس صورت پر محمول کیا جاوے کہ منکر کو اس کا علم ہو کہ یہ حکم قطعی الثبوت ہے۔‘‘

۳: ... ’’ضروریاتِ دِین‘‘ کو تسلیم کرنے کا مطلب یہ نہیں کہ صرف ان کے الفاظ

144

کو مان لیا جائے، بلکہ ان کے اس معنی ومفہوم کو ماننا بھی ضروری ہے جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے لے کر آج تک تواتر وتسلسل کے ساتھ مُسلَّم چلے آتے ہیں۔ فرض کیجئے! ایک شخص کہتا ہے کہ: ’’میں قرآنِ کریم پر اِیمان رکھتا ہوں‘‘، لیکن ساتھ ہی یہ بھی کہتا ہے کہ: ’’قرآنِ کریم کے بارے میں میرا یہ عقیدہ نہیں کہ یہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر بذریعہ وحی اللہ تعالیٰ کی طرف سے نازل ہوا، جیسا کہ مسلمان سمجھتے ہیں، بلکہ میں قرآن مجید کو حضورِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی اپنی تصنیف کردہ کتاب سمجھتا ہوں۔‘‘ کیا کوئی شخص تسلیم کرے گا کہ ایسا شخص قرآن پر اِیمان رکھتا ہے؟ یا فرض کیجئے کہ ایک شخص کہتا ہے کہ: ’’میں محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر اِیمان رکھتا ہوں، لیکن ’’محمد رسول اللہ‘‘ سے مراد وہ شخصیت نہیں جس کو مسلمان مانتے ہیں، بلکہ ’’محمد رسول اللہ‘‘ سے خود میری ذات شریف مراد ہے۔‘‘ کیا کوئی عاقل کہہ سکتا ہے کہ یہ شخص ’’محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم‘‘ پر اِیمان رکھتا ہے؟ یا فرض کیجئے کہ ایک شخص تسلیم کرتا ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے تواتر کے ساتھ آخری زمانے میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے نازل ہونے کی خبر دی تھی، لیکن ساتھ ہی کہتا ہے کہ عیسیٰ علیہ السلام سے خود اس کی ذات مراد ہے، کیا یہ کہا جاسکتا ہے کہ وہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے نزول پر اِیمان رکھتا ہے؟

الغرض ’’ضروریاتِ دِین‘‘ میں اِجماعی اور متواتر مفہوم کے خلاف کوئی تأویل کرنا بھی درحقیقت ’’ضروریاتِ دِین‘‘ کا اِنکار ہے، اور ضروریاتِ دِین میں ایسی تأویل کرنا اِلحاد وزَندقہ کہلاتا ہے، قرآنِ کریم میں ہے:

’’اِنَّ الَّذِیْنَ یُلْحِدُوْنَ فِیْٓ اٰیٰـتِنَا لَا یَخْفَوْنَ عَلَیْنَا، اَفَمَنْ یُّلْقٰی فِی النَّارِ خَیْرٌ اَمْ مَّنْ یَّأْتِیْٓ اٰمِنًا یَّوْمَ الْقِیٰمَۃِ، اِعْمَلُوْا مَا شِئْتُمْ، اِنَّہٗ بِمَا تَعْمَلُوْنَ بَصِیْرٌ۔‘‘

(حٰمٓ السجدۃ:۴۰)

ترجمہ: ... ’’جو لوگ ٹیڑھے چلتے ہیں ہماری باتوں میں، وہ ہم سے چھپے ہوئے نہیں، بھلا ایک جو پڑتا ہے آگ میں، وہ بہتر ہے یا جو آئے گا امن سے، دن قیامت کے، کئے جاؤ جو چاہو، بے شک

145

جو تم کرتے ہو، وہ دیکھتا ہے۔‘‘

جو لوگ ضروریاتِ دِین میں تأویلیں کرکے انہیں اپنے عقائد پر چسپاں کرتے ہیں، انہیں ’’ملحد وزِندیق‘‘ کہا جاتا ہے، اور ایسے لوگ نہ صرف کافر ومرتد ہیں، بلکہ اس سے بھی بدتر، کیونکہ کافر ومرتد کی توبہ قبول کی جاتی ہے، لیکن زِندیق کی توبہ بھی قبول نہیں کی جاتی۔ راقم الحروف نے اپنے رسالے ’’قادیانی جنازہ‘‘ میں زِندیق کے بارے میں ایک نوٹ لکھا تھا، جسے ذیل میں نقل کیا جاتا ہے:

اوّل: ... جو شخص کفر کا عقیدہ رکھتے ہوئے اپنے آپ کو اِسلام کی طرف منسوب کرتا ہو، اور نصوصِ شرعیہ کی غلط سلط تأویلیں کرکے اپنے عقائدِ کفریہ کو اِسلام کے نام سے پیش کرتا ہو، اسے ’’زِندیق‘‘ کہا جاتا ہے، علامہ شامیؒ باب المرتد میں لکھتے ہیں:

’’فإن الزندیق یموہ کفرہ ویروج عقیدتہ الفاسدۃ ویخرجھا فی الصورۃ الصحیحۃ ھٰذا معنی إبطان الکفر۔‘‘

(الشامی ج:۴ ص:۲۴۲ الطبع الجدید)

ترجمہ: ... ’’کیونکہ زِندیق اپنے کفر پر ملمع کیا کرتا ہے اور اپنے عقیدۂ فاسدہ کو رِواج دینا چاہتا ہے اور اسے بظاہر صحیح صورت میں لوگوں کے سامنے پیش کرتا ہے اور یہی معنی ہیں کفر کو چھپانے کے۔‘‘

اور اِمام الہند شاہ ولی اللہ محدث دہلوی رحمۃ اللہ علیہ مسویٰ شرح عربی مؤطا میں لکھتے ہیں:

’’بیان ذٰلک أن المخالف للدِّین الحق إن لم یعترف بہ ولم یؤمن لہ لَا ظاھرًا ولَا باطنًا فھو کافر، وإن اعترف بلسانہ وقلبہ علی الکفر فھو المنافق، وإن اعترف بہ ظاھرًا، لٰـکنہ یفسر بعض ما ثبت من الدِّین ضرورۃ بخلاف ما فسرہ الصحابۃ رضی اللہ عنھم
146

والتابعون واجتمعت علیہ الاُمّۃ فھو الزِّندیق۔‘‘

ترجمہ: ... ’’شرح اس کی یہ ہے کہ جو شخص دِینِ حق کا مخالف ہے، اگر وہ دِینِ اسلام کا اِقرار ہی نہ کرتا ہو اور نہ دِینِ اسلام کو مانتا ہو، نہ ظاہری طور پر اور نہ باطنی طور پر، تو وہ ’’کافر‘‘ کہلاتا ہے، اور اگر زبان سے دِین کا اِقرار کرتا ہو لیکن دِین کے بعض قطعیات کی ایسی تأویل کرتا ہو جو صحابہؓ و تابعینؒ اور اِجماعِ اُمت کے خلاف ہو، تو ایسا شخص ’’زِندیق‘‘ کہلاتا ہے۔‘‘

آگے تأویلِ صحیح اور تأویلِ باطل کا فرق کرتے ہوئے شاہ صاحب رحمہ اللہ لکھتے ہیں:

’’ثم التأویل، تأویلان، تأویل لَا یخالف قاطعًا من الکتاب والسّنَّۃ واتفاق الاُمّۃ، وتأویل یصادم ما ثبت بقاطع فذٰلک الزندقۃ۔‘‘

ترجمہ: ... ’’پھر تأویل کی دو قسمیں ہیں، ایک وہ تأویل جو کتاب وسنت اور اِجماعِ اُمت سے ثابت شدہ کسی قطعی مسئلے کے خلاف نہ ہو، اور دُوسری وہ تأویل جو ایسے مسئلے کے خلاف ہو جو دلیلِ قطعی سے ثابت ہے پس ایسی تأویل ’’زَندقہ‘‘ ہے۔‘‘

آگے زِندیقانہ تأویلوں کی مثالیں بیان کرتے ہوئے شاہ صاحب رحمۃ اللہ علیہ لکھتے ہیں:

’’أو قال إن النبی صلی اللہ علیہ وسلم خاتم النبوّۃ ولٰـکن معنی ھٰذا الکلام أنہ لَا یجوز أن یسمّٰی بعدہ أحد بالنبی وأما معنی النبوۃ وھو کون الْإنسان مبعوثًا من اللہ تعالٰی إلی الخلق مفترض الطاعۃ معصومًا من الذنوب ومن البقاء علی الخطأ فیما یری فھو
147

موجود فی الأمّۃ بعدہ فھو الزِّندیق۔‘‘

(مسوی ج:۲ ص:۱۳۰ مطبوعہ رحیمیہ دہلی)

ترجمہ: ... ’’یا کوئی شخص یوں کہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم بلاشبہ خاتم النبیین ہیں، لیکن اس کا مطلب یہ ہے کہ آپ کے بعد کسی کا نام نبی نہیں رکھا جائے گا۔ لیکن نبوّت کا مفہوم یعنی کسی انسان کا اللہ تعالیٰ کی جانب سے مخلوق کی طرف مبعوث ہونا، اس کی اطاعت کا فرض ہونا، اور اس کا گناہوں سے اور خطا پر قائم رہنے سے معصوم ہونا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد بھی اُمت میں موجود ہے، تو یہ شخص ’’زِندیق‘‘ ہے۔‘‘

خلاصہ یہ کہ جو شخص اپنے کفریہ عقائد کو اِسلام کے رنگ میں پیش کرتا ہو، اِسلام کے قطعی و متواتر عقائد کے خلاف قرآن و سنت کی تأویلیں کرتا ہو، ایسا شخص ’’زِندیق‘‘ کہلاتا ہے۔

دوم: ... یہ کہ زِندیق، مرتد کے حکم میں ہے، بلکہ ایک اعتبار سے زِندیق، مرتد سے بھی بدتر ہے، کیونکہ اگر مرتد توبہ کرکے دوبارہ اسلام میں داخل ہو تو اس کی توبہ بالاتفاق لائقِ قبول ہے، لیکن زِندیق کی توبہ کے قبول ہونے یا نہ ہونے میں اختلاف ہے، چنانچہ درمختار میں ہے:

’’وکذا الکافر بسبب (الزندقۃ) لَا توبۃ لہ وجعلہ فی الفتح ظاھر المذھب لٰـکن فی حظر الخانیۃ الفتویٰ علیٰ أنہ (إذا أخذ) الساحر أو الزندیق المعروف الداعی (قبل توبتہ) ثم تاب لم تقبل توبتہ ویقتل، ولو أخذ بعدھا قبلت۔‘‘

(الشامی ج:۴ ص:۲۴۱ طبع جدید)

ترجمہ: ... ’’اور اسی طرح جو شخص زَندقہ کی وجہ سے کافر ہوگیا، اس کی توبہ قابلِ قبول نہیں، اور فتح القدیر میں اس کو ظاہر مذہب

148

بتایا ہے، لیکن فتاویٰ قاضی خان میں کتاب الحظر میں ہے کہ فتویٰ اس پر ہے کہ جب جادوگر اور زِندیق جو معروف اور داعی ہو، توبہ سے پہلے گرفتار ہوجائیں، اور پھر گرفتار ہونے کے بعد توبہ کریں تو ان کی توبہ قبول نہیں، بلکہ ان کو قتل کیا جائے گا، اور اگر گرفتاری سے پہلے توبہ کرلی تھی تو توبہ قبول کی جائے گی۔‘‘

البحر الرائق میں ہے:

’’لَا تقبل توبۃ الزندیق فی ظاھر المذھب وھو من لَا یتدین بدین ...... وفی الخانیۃ: قالوا إن جاء الزندیق قبل أن یؤخذ فأقر أنہ زندیق فتاب من ذٰلک تقبل توبتہ، وإن أخذ ثم تاب لم تقبل توبتہ ویقتل۔‘‘

(ج:۵ ص:۱۲۶)

ترجمہ: ... ’’ظاہر مذہب میں زِندیق کی توبہ قابلِ قبول نہیں، اور زِندیق وہ شخص ہے جو دِین کا قائل نہ ہو ......۔ اور فتاویٰ قاضی خان میں ہے کہ: اگر زِندیق گرفتار ہونے سے پہلے خود آکر اِقرار کرے کہ وہ زِندیق ہے، پس اس سے توبہ کرے، تو اس کی توبہ قبول ہے، اور اگر گرفتار ہوا، پھر توبہ کی تو اس کی توبہ قبول نہیں کی جائے گی، بلکہ اسے قتل کیا جائے گا۔‘‘

سوم: ... قادیانیوں کا زِندیق ہونا بالکل واضح ہے، کیونکہ ان کے عقائد اِسلامی عقائد کے قطعاً خلاف ہیں، اور وہ قرآن و سنت کے نصوص میں غلط سلط تأویلیں کرکے جاہلوں کو یہ باور کراتے ہیں کہ خود تو وہ پکے سچے مسلمان ہیں، ان کے سوا باقی پوری اُمت گمراہ اور کافر و بے اِیمان ہے، جیسا کہ قادیانیوں کے دُوسرے سربراہ آنجہانی مرزا محمود قادیانی لکھتے ہیں کہ:

’’کل مسلمان جو حضرت مسیحِ موعود (مرزا قادیانی) کی بیعت میں شامل نہیں ہوئے، خواہ انہوں نے حضرت مسیحِ موعود کا نام

149

بھی نہیں سنا، وہ کافر اور دائرۂ اسلام سے خارج ہیں۔‘‘

(آئینۂ صداقت ص:۳۵)

چند شبہات کا اِزالہ

کفر واِسلام کے مسئلے کی وضاحت کے بعد اس سلسلے میں بعض لوگوں کو جو شبہات پیش آئے ہیں، مناسب ہوگا کہ ان پر بھی ایک نظر ڈال لی جائے۔

۱: ... بعض حضرات یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ جو شخص ’’لا اِلٰہ اِلَّا اللہ محمد رسول اللہ‘‘ کا قائل ہو، اور اپنے آپ کو مسلمان کہتا ہو، اس کو کافر کہنا جائز نہیں۔

یہ بات اس حد تک صحیح ہے کہ جو شخص کلمہ شریف پڑھ کر اپنے مسلمان ہونے کا اِقرار کرے، ہم اس کو مسلمان سمجھیں گے جب تک کہ اس سے کوئی کلمۂ کفر سرزد نہ ہو اور ضروریاتِ دِین میں سے کسی چیز کا منکر نہ ہو۔ وجہ اس کی یہ ہے کہ ’’لا اِلٰہ اِلَّا اللہ محمد رسول اللہ‘‘ کا اِقرار کرنا دراصل آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے دِین کو قبول کرنے کا معاہدہ ہے، پس جو شخص کلمہ پڑھ کر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے دِین کی کسی بات کا اِنکار کرتا ہے، وہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی تکذیب کرتا، اور ’’لا اِلٰہ اِلَّا اللہ محمد رسول اللہ‘‘ میں کئے گئے عہد کو توڑتا ہے، اس لئے اس کا کلمہ گو ہونا، اس کے اِیمان واِسلام کی ضمانت نہیں، جب تک کہ وہ اپنے اس کفر سے بیزاری کا اِعلان نہ کرے۔ فرض کیجئے! ایک شخص کلمہ پڑھ کر قرآن مجید کی کسی آیت کا اِنکار کرتا ہے، یا کسی رسول کو گالی دیتا ہے، یا اِسلام کے اَحکام کی توہین وتحقیر کرتا ہے، کیا کوئی عاقل اس کو مسلمان کہہ سکتا ہے...؟

الغرض کسی مسلمان کا کلمہ گو ہونا اسی وقت لائقِ اِعتبار ہوسکتا ہے جبکہ کلمے کے عہد پر بھی قائم ہو، لیکن جو شخص اپنے قول وفعل سے اس عہد کو توڑ ڈالے، اس کا کلمہ پڑھنا محض نفاق ہے، جو کفر کی بدترین قسم ہے، قرآنِ کریم میں ہے:

’’اِذَا جَآئَکَ الْمُنٰـفِقُوْنَ قَالُوْا نَشْھَدُ اِنَّکَ لَرَسُوْلُ اللہِ، وَاللہُ یَعْلَمُ اِنَّکَ لَرَسُوْلُہٗ وَاللہُ یَشْھَدُ اِنَّ

150

الْمُنٰـفِقِیْنَ لَکٰذِبُوْنَ۔‘‘

(المنافقون:۱)

ترجمہ: ... ’’جب آئیں تیرے پاس منافق، کہیں ہم قائل ہیں تو رسول ہے اللہ کا، اور اللہ جانتا ہے کہ تو اس کا رسول ہے اور اللہ گواہ ہے کہ یہ منافق جھوٹے ہیں۔‘‘

۲: ... اسی طرح بعض لوگوں کا یہ خیال ہے کہ ’’اہلِ قبلہ‘‘ کو کافر کہنا جائز نہیں، کیونکہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا اِرشادِ گرامی ہے:

’’من صلّٰی صلٰوتنا واستقبل قبلتنا وأکل ذبیحتنا فذٰلک المسلم الذی لہ ذمۃ اللہ وذمۃ رسولہ، فلا تخفروا اللہ فی ذمتہ۔‘‘

(بخاری، مشکوٰۃ ص:۱۲)

ترجمہ: ... ’’جس نے ہماری نماز پڑھی، ہمارے قبلے کی طرف منہ کیا، اور ہمارا ذبیحہ کھایا، پس یہ وہ مسلمان ہے جس کے لئے اللہ کا عہد ہے اور اس کے رسول کا عہد ہے، پس اللہ تعالیٰ سے اس کے عہد میں عہدشکنی مت کرو۔‘‘

یہ شبہ بھی صحیح نہیں۔ اس سے اس حدیثِ پاک میں مسلمانوں کی معروف علامات کو بیان فرمایا گیا ہے، ایسے شخص سے جب تک کوئی موجبِ کفر سرزد نہ ہو، اس کو مسلمان ہی سمجھا جائے گا، اور یہی حدیثِ پاک کا مدعا ہے، یہ نہیں کہ صرف ان تین باتوں کے کرنے کے بعد خواہ وہ کتنا ہی کفر بکتا پھرے، جب بھی اس کو مسلمان ہی سمجھا جائے۔ الغرض اہلِ قبلہ وہ لوگ ہیں جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پورے دِین کو مانتے ہوں اور ضروریاتِ دِین میں سے کسی چیز کے منکر نہ ہوں۔

شیخ مُلَّا علی قاری رحمہ اللہ ’’شرح فقہِ اکبر‘‘ میں لکھتے ہیں:

’’إعلم أن المراد بأھل القبلۃ الذین اتفقوا علٰی ما ھو من ضروریات الدِّین کحدوث العالَم وحشر الأجساد وعلم اللہ تعالٰی بالکلیات والجزئیات وما اشبہ
151

ذٰلک من المسائل۔ فمن واظب طول عمرہ علی الطاعات والعبادات مع إعتقاد قدم العالَم ونفی الحشر أو نفی علمہ سبحانہ بالجزئیات لَا یکون من أھل القبلۃ وان المراد بعدم تکفیر أحد من أھل القبلۃ عند أھل السُّنَّۃ: انہ لَا یکفر ما لم یوجد شیء من امارات الکفر وعلاماتہ ولم یصدر عنہ شیء من موجباتہ۔‘‘

(شرح فقہِ اکبر ص:۱۸۹)

ترجمہ: ... ’’جاننا چاہئے کہ اہلِ قبلہ سے مراد وہ لوگ ہیں جو ’’ضروریاتِ دِین‘‘ پر متفق ہوں، جیسے عالم کا حادث ہونا، حشرِ جسمانی، اللہ تعالیٰ کا کلیات وجزئیات کا علم رکھنا، اور اس قسم کے دیگر اہم مسائل، پس جو شخص مدۃالعمر طاعات وعبادات بھی کرے مگر اس کا عقیدہ یہ ہو کہ عالم قدیم ہے، حشرِ جسمانی نہیں ہوگا اور اللہ تعالیٰ جزئیات کو نہیں جانتے تو ایسا شخص ’’اہلِ قبلہ‘‘ میں سے نہیں، اور یہ مسئلہ کہ: ’’اہلِ سنت کے نزدیک اہلِ قبلہ کی تکفیر جائز نہیں‘‘ اس سے مراد یہ ہے کہ جب تک کسی شخص میں کفر کی علامات نہ پائی جائیں اور اس سے کوئی چیز موجبِ کفر صادر نہ ہو، تب تک اس کی تکفیر نہیں کی جائے گی۔‘‘

علامہ ابنِ عابدین شامی رحمہ اللہ ’’ردّ المحتار‘‘ میں لکھتے ہیں:

’’لَا خلاف فی کفر المخالف فی ضروریات الْإسلام وإن کان من أھل القبلۃ المواظب طول عمرہ علی الطاعات کما فی شرح التحریر۔‘‘

(ردّالمحتار من الامامہ ص:۳۷۷)

ترجمہ: ... ’’جو شخص ’’ضروریاتِ دِین‘‘ میں مسلمانوں کا

152

مخالف ہو، اس کے کفر میں کوئی اختلاف نہیں، خواہ ساری عمر طاعات وعبادات کا پابند رہے۔‘‘

اور علامہ عبدالعزیز فرہاروی رحمہ اللہ ’’شرح عقائد‘‘ کی شرح میں لکھتے ہیں:

’’أھل القبلۃ فی إصطلاح المتکلِّمین من یصدق بضروریات الدِّین أی الأمور التی علم ثبوتھا فی الشرع واشتھر فمن أنکر شیئًا من الضروریات کحدوث العالم وحشر الأجساد وعِلم اللہ سبحانہٗ بالجزئیات وفریضۃ الصَّلٰوۃ والصَّوم لم یکن من أھل القبلۃ ولو کان مجاھدًا بالطاعات، وکذٰلک من باشر شیئًا من امارات التکذیب کسجود الصَّنم والْإھانۃ بأمر شرعی والْإستہزاء علیہ فلیس من أھل القلبۃ ومعنی عدم تکفیر أھل القبلۃ أن لَا یکفر بارتکاب المعاصی ولَا بانکار الأمور الخفیۃ غیر المشھورۃ، ھٰذا ما حققہ المحققون فاحفظہ!‘‘

(نبراس ص:۵۷۲)

ترجمہ: ... ’’اہلِ قبلہ: متکلمین کی اِصطلاح میں وہ لوگ کہلاتے ہیں جو ’’ضروریاتِ دِین‘‘ کی تصدیق کرتے ہوں۔ ’’ضروریاتِ دِین‘‘ سے مراد وہ اُمور ہیں جن کا شرع میں ثابت ہونا معلوم ومشہور ہے۔ پس جو شخص ’’ضروریاتِ دِین‘‘ ...مثلاً: حدوثِ عالم، حشرِ اَجساد، اللہ تعالیٰ کا عالمِ جزئیات وکلیات ہونا، نماز، روزے کا فرض ہونا... کا منکر ہو، اس کا شمار اہلِ قبلہ میں نہیں، خواہ وہ طاعت یا عبادت میں کتنا مجاہدہ کرتا ہو۔ اسی طرح وہ شخص کسی ایسی چیز کا اِرتکاب کرے جو تکذیب کی علامت ہے، جیسے بت کو سجدہ کرنا، کسی اَمرِ شرعی کی توہین کرنا، اور دِین کی کسی بات کا مذاق اُڑانا، وہ

153

بھی اہلِ قبلہ میں شمار نہیں ہے۔ اور جو اُصول ہے کہ اہلِ قبلہ کی تکفیر نہ کی جائے، اس کا مطلب یہ ہے کہ اہلِ قبلہ اگر گناہ کے مرتکب ہوں تو معصیت کی بنا پر اس کو کافر نہ کہا جائے۔ نیز جو اُمور کہ مخفی ہیں مشہور نہیں، ان کے اِنکار پر بھی تکفیر نہ کی جائے۔ یہ محققین کی تحقیق ہے، اسے خوب یاد رکھو!‘‘

۴: ... بعض لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ کسی کے اسلام وکفر کا فیصلہ کرنا کسی انسان کا کام نہیں، کیونکہ اِیمان دِل میں ہوتا ہے، اور دِل کا حال اللہ تعالیٰ کے سوا کسی کو معلوم نہیں۔ ان کا یہ شبہ بالکل سطحی ہے۔ اوّل تو اس لئے کہ ہم بھی کسی کے دِل پر کفر کا حکم نہیں لگاتے، بلکہ جن عقائدِ کفریہ کا اخبارات اور رَسائل اور کتابوں میں برملا اِظہار کیا جائے، ان پر کفر کا حکم کیا جاتا ہے۔ اگر کوئی شخص واقعتا ایسا ہو جو اپنے اندر مدۃالعمر کفر چھپائے پھرتا ہے، مگر زبان وقلم سے اس نے کبھی اپنے کفر کا اِظہار نہ کیا ہو، بلکہ ظاہر میں کلمہ پڑھتا ہو، اور اپنے آپ کو مسلمان کہلاتا ہو، تو چونکہ اس سے کوئی چیز موجبِ کفر ظاہر نہیں ہوتی، اس لئے ہم اس کے کفر کا فیصلہ نہیں کریں گے، بلکہ ایسے پوشیدہ کفر والے کے کفر کا فیصلہ قیامت کے دن اللہ تعالیٰ فرمائیں گے۔ لیکن اگر کوئی شخص دِینِ محمدی کے قواعد کو توڑتا ہو، اور ضروریاتِ دِین کا برملا اِنکار کرتا ہو، تو اس شخص کو مسلمان آخر کس اُصول کے تحت کہا جائے گا...؟

دوم: ... یہ کہ اسلام اور کفر کے کچھ دُنیوی اَحکام ہیں، اور کچھ اُخروی۔ اگر کسی کافر کے کافر ہونے کا بھی حکم نہ کیا جائے، تو اس کے معنی یہ ہیں کہ دُنیا میں ہم اسلام اور کفر کی حدود کو مٹاتے ہیں، مسلمانوں اور کافروں کے اَحکام کو معطل کرتے ہیں، اور کافروں پر مسلمانوں کے، یا مسلمانوں پر کافروں کے اَحکام جاری کرتے ہیں۔ کیا کوئی عقل مند بقائمی ہوش وحواس اس کو تجویز کرسکتا ہے...؟

سوم: ... یہ کہ دُنیا میں ہم جو کسی کے مسلمان یا کافر ہونے کا فیصلہ کرتے ہیں، تو اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے بتائے ہوئے ان اُصول اور قواعد کے مطابق کرتے ہیں جو قرآنِ کریم اور حدیثِ نبوی میں موجود ہیں، اس لئے یہ فیصلہ اِنسانوں

154

کا نہیں، بلکہ خدا تعالیٰ ہی کا فیصلہ ہے جو اِنسانوں کے ذریعے نافذ ہوتا ہے۔

۵: ... بعض لوگ بڑی شدّومدّ سے یہ شبہ پیش کرتے ہیں کہ ان مولویوں کے فتووں کا کیا اِعتبار ہے؟ انہوں نے کس کو چھوڑا جس پر کفر کا فتویٰ نہ لگایا ہو؟

اس شبہ کا حاصل یہ ہے کہ اگر بعض لوگوں نے بعض پر غلط فتویٔ کفر لگایا ہے تو آئندہ کے لئے کسی کافر کو کافر کہنے کی راہ بھی بند ہوگئی ہے؟ یہ شبہ جس قدر کمزور ہے، اس کی وضاحت کی ضرورت نہیں۔ اُصول یہ ہے کہ اگر کسی کے خلاف فیصلہ غلط ہو تو دلائل سے اس کا غلط ہونا ثابت کیا جائے، یہ تو کوئی اُصول نہیں کہ چونکہ بعض ججوں نے غلط فیصلے بھی کئے ہیں، اس لئے آئندہ کسی عدالت کا کوئی فیصلہ بھی قابلِ قبول نہیں۔ اسی طرح جن لوگوں نے کسی پر غلط فتویٰ صادر کیا ہو، اس کی غلطی واضح کی جاسکتی ہے، اور بتایا جاسکتا ہے کہ اس فتوے میں فلاں اُصولِ شرعی کی رعایت نہیں رکھی گئی۔ لیکن یہ سمجھنا کہ جو شخص قطعیاتِ دِین کا منکر ہو، اور جسے پوری اُمت بالاتفاق خارج اَزاِسلام قرار دیتی ہو، وہ بھی مسلمان ہے، بالکل غلط ہے۔!

۶: ... بعض لوگ یہ کہتے ہیں کہ اگر کسی میں ننانوے وجوہ کفر کے پائے جائیں اور ایک وجہ اسلام کی پائی جائے، اس کو کافر نہیں کہنا چاہئے، اور اس کے لئے وہ اِمام ابوحنیفہ رحمہ اللہ کا حوالہ دیتے ہیں۔ مگر ان کا مطلب سمجھنے میں ان سے غلطی ہوئی ہے ...یا جان بوجھ کر وہ لوگوں کو مغالطہ دینا چاہتے ہیں... اِمام ابوحنیفہ رحمہ اللہ کے اس قول کا مطلب یہ ہے کہ اگر کسی شخص نے کوئی ایسا فقرہ کہا جس کے ننانوے مطلب کفر کے ہوسکتے ہیں، لیکن ایک تأویل اس کی ایسی بھی ہوسکتی ہے جو اِسلام کے مطابق ہو، تو ہم ایک مسلمان سے حسنِ ظن رکھتے ہوئے ان ننانوے وجوہ کو نہیں لیں گے، بلکہ وہی مطلب لیں گے جو اِسلام کے مطابق ہے۔ اور یہ بات بالکل صحیح ہے اور اہلِ علم ہمیشہ اس کا لحاظ بھی رکھتے ہیں، لیکن اگر کوئی شخص اپنے قول کی خود تشریح کردے اور ببانگِ دُہل اعلان کرے کہ میرا مطلب یہ نہیں بلکہ یہ ہے ...جو موجبِ کفر ہے... تو ہم اس کے حق میں کفر کا فیصلہ دینے پر مجبور ہوں گے، اور اس صورت پر اِمام ابوحنیفہؒ کا قول چسپاں نہیں ہوتا۔ اسی طرح اس کا یہ مطلب بھی نہیں کہ جو

155

شخص ننانوے باتیں کفر کی بکے اور ایک بات اِسلام کی کردیا کرے، اس کو بھی مسلمان ہی سمجھا جائے گا۔

کیا ختمِ نبوّت کا عقیدہ جزوِ اِیمان ہے؟

سوال۲: ... کیا ختمِ نبوّت کا عقیدہ مسلمان ہونے کی لازمی شرط اور جزوِ اِیمان ہے؟ قرآن وحدیث، فتاویٰ اور اَقوالِ فقہاء کے حوالہ جات تحریر فرمائیں۔

جواب: ...بلاشبہ ختمِ نبوّت کا عقیدہ جزوِ اِیمان اور شرطِ اِسلام ہے، کیونکہ جس درجے کے تواتر وتسلسل سے ہمیں یہ بات معلوم ہوئی ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے نبوّت کا دعویٰ کیا، توحید کی دعوت دی، قرآنِ کریم کو کلامُ اللہ کی حیثیت سے پیش فرمایا، قیامت، جزا وسزا اور جنت ودوزخ کی خبر دی، نماز، روزہ اور حج وزکوٰۃ وغیرہ کی تعلیم دی، ٹھیک اسی درجے کے تواتر سے ہمیں یہ معلوم ہے کہ آپ نے اِعلان فرمایا کہ میں خاتم النبیین ہوں، مجھ پر نبوّت ورِسالت کا سلسلہ ختم کردیا گیا ہے اور میرے بعد کوئی نبی نہیں۔ پس جس طرح آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوّت اور قرآنِ کریم کے ُمنزَّل من اللہ ہونے کا عقیدہ ’’ضروریاتِ دِین‘‘ میں شامل ہے، اسی طرح ختمِ نبوّت کا عقیدہ بھی جزوِ اِیمان ہے۔ اور جس طرح آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوّت یا قرآنِ کریم کے ُمنزَّل من اللہ ہونے کا اِنکار، یا اس میں کوئی تأویل، کفر واِلحاد ہے، اسی طرح آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے خاتم النبیین ہونے کا اِنکار، یا اس میں تأویل بھی بلاشبہ کفر واِلحاد ہے، کیونکہ یہ عقیدہ قرآنِ کریم کی نصِ قطعی، احادیثِ متواترہ اور اِجماعِ مسلسل سے ثابت ہے، اور اِسلامی عقائد پر جو کتابیں لکھی گئی ہیں، ان میں ختمِ نبوّت کا عقیدہ درج کیا گیا ہے۔

قرآنِ کریم:

اہلِ علم نے قرآنِ کریم کی قریباً سو آیاتِ کریمہ سے عقیدۂ ختمِ نبوّت ثابت کیا ہے ...ملاحظہ کیجئے حضرت مولانا مفتی محمد شفیع صاحبؒ کی ’’ختمِ نبوّت کامل‘‘... یہاں اِختصار کے مدِنظر صرف ایک آیت درج کی جاتی ہے:

156

’’مَا کَانَ مُحَمَّدٌ اَبَآ اَحَدٍ مِّنْ رِّجَالِکُمْ وَلٰـکِنْ رَّسُوْلَ اللہِ وَخَاتَمَ النَّبِیّٖنَ، وَکَانَ اللہُ بِکُلِّ شَیْئٍ عَلِیْمًا۔‘‘

(الأحزاب:۴۰)

ترجمہ: ... ’’نہیں ہیں محمد ...صلی اللہ علیہ وسلم... تمہارے مردوں میں سے کسی کے باپ، لیکن آپ اللہ کے رسول اور تمام انبیاء کے ختم کرنے والے ہیں، اور ہے اللہ تعالیٰ ہر چیز کے جاننے والا۔‘‘

اس آیتِ کریمہ میں دو قرائتیں متواتر ہیں:’’خاتَمَ النَّبِیّٖنَ‘‘ ...بفتح تا... یہ اِمام عاصم رحمہ اللہ کی قراء ت ہے، اور ’’خَاتِم النَّبِیّٖنَ‘‘ ...بکسر تا... جمہور قراء کی قراء ت ہے۔ پہلی قراء ت کے مطابق اس کے معنی ہیں، مہر، یعنی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی تشریف آوری سے نبیوں کی آمد پر مہر لگ گئی۔ اب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد کوئی نبی نہیں آئے گا۔ اور دُوسری قراء ت کے مطابق اس کے معنی ہیں: نبیوں کو ختم کرنے والا۔ تمام مفسرین اس پر متفق ہیں کہ دونوں قراء توں کا مآل ایک ہے، یعنی آپ صلی اللہ علیہ وسلم آخری نبی ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد سلسلۂ نبوّت بند ہے۔ چند تفاسیر ملاحظہ ہوں:

۱: ... اِمام ابنِ جریر رحمہ اللہ (متوفیٰ۳۱۰ھ):

’’ولٰـکن رسول اللہ وخاتم النبیین الذی ختم النبوۃ فطبع علیھا فلا تفتح لأحد بعدہ إلٰی قیام الساعۃ۔‘‘

(تفسیر ابن جریر ج:۲۲ ص:۱۴)

ترجمہ: ... ’’لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے رسول اور خاتم النبیین ہیں، یعنی جس نے نبوّت کو ختم کردیا، اور اس پر مہر لگادی، پس آپ کے بعد یہ مہر قیامت تک کسی کے لئے نہیں کھلے گی۔‘‘

۲: ... اِمام بغوی رحمہ اللہ (متوفیٰ۵۱۰ھ):

’’ختم اللہ بہ النبوّۃ وقرأ ابن عامر وابن عاصم خاتم بفتح التا علی الْإسم، أی آخرھم، وقرأ الآخرون
157

بکسر التا علی الفاعل لأنہ ختم بہ النبیین فھو خاتمھم ...... عن ابن عباس ان اللہ حکم ان لَا نبی بعدہ۔‘‘

(تفسیر معالم التنزیل ج:۵ ص:۲۱۸، مطبوعہ مصر)

ترجمہ: ... ’’خاتم النبیین کا معنی یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کے ذریعے نبوّت کا سلسلہ بند کردیا ہے، ابنِ عامر اور ابنِ عاصم نے ’’خاتم‘‘ کی ’’تا‘‘ کو زَبر کے ساتھ پڑھا ہے، جس کا مطلب آخری نبی ہے۔ اور دُوسرے قراء نے ’’تا‘‘ کی زیر پڑھی ہے، اس کا مطلب ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نبیوں کے سلسلے پر مہر لگادی ہے۔ ابنِ عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے فیصلہ کردیا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد کوئی نبی نہیں ہے۔‘‘

۳: ... علامہ زمخشری (متوفیٰ۵۳۸ھ):

’’فإن قلتَ: کیف کان آخر الأنبیاء وعیسٰی ینزل فی آخر الزمان؟ قلتُ: معنی کونہ آخر الأنبیاء أنہ لَا ینبأ أحد بعدہ، وعیسٰی ممن نبیٔ قبلہ، وحین ینزل، ینزل عاملًا علٰی شریعۃ محمد، مصلیًا إلٰی قبلتہ کأنہ بعض اُمّتہ۔‘‘

(تفسیر کشاف ج:۳ ص:۵۴۴)

ترجمہ: ... ’’اگر تم کہو کہ: حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم آخری نبی کیسے ہوسکتے ہیں جبکہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام آخری زمانے میں نازل ہوں گے؟ میں کہتا ہوں: آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا آخری نبی ہونا اس معنی میں ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد کوئی نیا نبی نہ بنایا جائے گا، اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام ان نبیوں میں سے ہیں جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے پہلے نبی بنائے جاچکے ہیں، اور جب وہ نازل ہوں گے تو شریعتِ محمدی پر عمل کرنے والے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم

158

کے قبلے کی طرف نماز پڑھنے والے بن کر نازل ہوں گے، گویا وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی اُمت کے ایک فرد شمار کئے جائیں گے۔‘‘

۴: ... اِمام فخرالدین رازی رحمہ اللہ (متوفیٰ۶۰۶ھ):

’’وخاتم النبیین وذٰلک لأن النبی الذی یکون بعدہ نبی ان ترک شیئًا من النصیحۃ والبیان یستدرکہ من یأتی بعدہ، وأما من لَا نبی بعدہ یکون أشفق علٰی اُمّتہ وأھدی لھم وأجدی، إذ ھو کوالد لولدہ الذی لیس لہ غیرہ من أحد۔‘‘

(تفسیر کبیر ج:۲۵ ص:۵۸۱ مطبوعہ بیروت)

ترجمہ: ... ’’اس آیت میں خاتم النبیین اس لئے فرمایا کہ جس نبی کے بعد کوئی دُوسرا نبی ہو، وہ اگر نصیحت اور توضیحِ شریعت میں کوئی کسر چھوڑ جائے تو اس کے بعد آنے والا نبی اس کسر کو پورا کردیتا ہے، مگر جس کے بعد کوئی نبی آنے والا نہ ہو، تو وہ اپنی اُمت پر اَزحد شفیق ہوتا ہے، اور اس کو زیادہ واضح ہدایت دیتا ہے، کیونکہ اس کی مثال ایسے والد کی ہوتی ہے جو ایسے بیٹے کا باپ ہو، جس کا ولی وسرپرست اس کے سوا کوئی دُوسرا نہ ہو۔‘‘

۵: ... علامہ بیضاوی رحمہ اللہ (متوفیٰ۷۹۱ھ):

’’وآخرھم الذی ختمھم أو ختموا بہ ولَا یقدح فیہ نزول عیسٰی بعدہ لأنہ إذا نزل کان علٰی دینہ۔‘‘

(تفسیر بیضاوی ج:۲ ص:۱۹۶ طبع مصر)

ترجمہ: ... ’’اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نبیوں میں سب سے آخری نبی ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نبیوں کے آنے کو ختم کردیا ہے، یا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے آنے سے وہ مہر کئے گئے ہیں۔ اور عیسیٰ علیہ السلام کا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد نازل ہونا، اس میں

159

کوئی نقص نہیں ہے، کیونکہ جب وہ نازل ہوں گے تو وہ آپ کی شریعت پر عامل ہوں گے۔‘‘

۶: ... علامہ نسفی رحمہ اللہ (متوفیٰ۷۱۰ھ):

’’أی آخرھم یعنی لَا ینبأ أحد بعدہ وعیسٰی ممن نبیٔ قبلہ وحین ینزل، ینزل عاملًا علٰی شریعۃ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کأنہ بعض اُمّتہ ...... وتقویہ قرائۃ ابن مسعود: ولٰـکن نبیًّا ختم النبیین۔‘‘

(تفسیر مدارک التنزیل ج:۳ ص:۳۳۴ مطبوعہ مصر)

ترجمہ: ... ’’آپ صلی اللہ علیہ وسلم سب انبیاء کے آخر میں ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد کوئی نیا نبی نہیں بنایا جائے گا، اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے قبل نبی بنائے گئے، جب نازل ہوں گے تو وہ شریعتِ محمدی کے عامل بن کر نازل ہوں گے، گویا وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی اُمت کے ایک فرد ہوں گے۔ اور حضرت ابنِ مسعود رضی اللہ کی قراء ت میں یوں ہے: لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم نبی ہیں، جس نے تمام نبیوں کی نبوّت کے سلسلے کو بند کردیا ہے۔‘‘

۷: ... حافظ ابنِ کثیر رحمہ اللہ (متوفیٰ۷۷۴ھ):

’’فھٰذہ الآیۃ نص فی انہ لَا نبی بعد وإذ کان لَا نبی بعدہ فلا رسول بالطریق الأولٰی والأحرٰی لأن مقام الرِّسالۃ أخصّ من مقام النّبوّۃ۔‘‘

(تفسیر ابن کثیر ج:۳ ص:۴۹۳ طبع مصر)

ترجمہ: ... ’’یہ آیت اس بارے میں نصِ قطعی ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد کوئی نبی نہیں ہے، جب آپ صلی اللہ علیہ

160

وسلم کے بعد کوئی نبی نہیں تو بطریقِ اَولیٰ کوئی رسول بھی نہیں، کیونکہ مقامِ رِسالت، مقامِ نبوّت سے خاص ہے۔‘‘

۸: ... علامہ جلال الدین محلی رحمہ اللہ (متوفیٰ۸۶۴ھ):

’’بأن لَا نبی بعدہ، وإذا نزل السیّد عیسٰی یحکم بشریعتہ۔‘‘

(جلالین علیٰ ہامش جمل ج:۳ ص:۴۴۶)

ترجمہ: ... ’’خاتم النبیین کا مطلب یہ ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد کوئی نیا نبی نہیں آئے گا اور عیسیٰ علیہ السلام جب نازل ہوں گے تو وہ شریعتِ محمدی کے ساتھ فیصلہ کریں گے۔‘‘

۹: ... اِمام الہند شاہ ولی اللہ محدث دہلوی رحمہ اللہ (متوفیٰ۱۱۷۴ھ) لکھتے ہیں:

’’ولیکن پیغمبر خدا ست ومہر پیغمبراں است۔‘‘

ترجمہ: ... ’’اور لیکن آپ اللہ کے پیغمبر اور تمام نبیوں کی مہر ہیں۔‘‘

اس کے بعد فوائد میں لکھتے ہیں:

’’یعنی بعد ازوے ہیچ پیغمبر نہ باشد۔‘‘

(فتح الرحمن ص:۵۸۶ مطبوعہ دہلی)

’’یعنی ’’مہر پیغمبراں‘‘ کا مطلب یہ ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد کوئی پیغمبر نہیں ہوگا۔‘‘

۱۰: ... حضرت شاہ عبدالقادر رحمہ اللہ (متوفیٰ۱۲۳۰ھ) ’’خاتم النبیین‘‘ کا ترجمہ کرتے ہیں:

’’لیکن رسول ہے اللہ کا اور مہر سب نبیوں پر۔‘‘

’’موضح القرآن‘‘ کے فوائد میں اس پر یہ نوٹ لکھتے ہیں:

’’اور پیغمبروں پر مہر ہے، اس کے بعد کوئی پیغمبر نہیں، یہ بڑائی اس کو سب پر ہے۔‘‘

(موضح القرآن)

161

منکرِ ختمِ نبوّت دائرۂ اِسلام سے خارج ہے؟

سوال۳: ... جو شخص اپنے آپ کو مسلمان کہلانے کے باوجود حضورِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے خاتم النبیین ہونے پر عقیدہ نہیں رکھتا، کیا وہ دائرۂ اِسلام سے خارج ہے؟

جواب: ... اُوپر کی تصریحات سے معلوم ہوچکا ہے کہ عقیدۂ ختمِ نبوّت ضروریاتِ دِین میں داخل ہے، اس لئے جو شخص آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے آخری نبی ہونے کا عقیدہ نہیں رکھتا، وہ بلاشبہ دائرۂ اِسلام سے خارج ہے، اور اس کا دعوائے اسلام حرفِ غلط ہے۔ فقہائے اُمت کے چند فتاویٰ سوال نمبر۲ کے ذیل میں درج کئے جاچکے ہیں، اس سلسلے میں اکابرِ اُمت کے مزید اِرشادات ملاحظہ فرمائیے:

۱: ... حافظ ابنِ حزم ظاہریؒ نے ’’کتاب الفصل فی الملل والأھواء والنحل‘‘ میں متعدّد جگہ اس کی تصریح فرمائی ہے، چنانچہ ایک جگہ لکھتے ہیں:

’’قد صح عن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بنقل الکواف التی نقلت نبوتہ واعلامہ وکتابہ انہ اخبر انہ لَا نبی بعدہ ...... فوجب الْإقرار بھٰذہ الجملۃ وصح أن وجود النبوۃ بعدہ علیہ السلام باطل لَا یکون البتۃ۔‘‘

(ج:۱ ص:۷۷)

ترجمہ: ... ’’جس کثیر التعداد جماعت اور جمِ غفیر نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوّت اور معجزات اور قرآنِ کریم کو نقل کیا ہے، اس کثیرالتعداد جماعت اور جمِ غفیر کی نقل سے حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کا یہ فرمان بھی ثابت ہوچکا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد کوئی نبی مبعوث نہ ہوگا، پس اس جملے کے ساتھ اِقرار واجب ہے، اور حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کے بعد نبوّت کا وجود باطل ہے، ہرگز نہیں ہوسکتا۔‘‘

162

ایک اور جگہ لکھتے ہیں:

’’ھٰذا مع سماعھم قول اللہ تعالٰی: ’’وَلٰـکِنْ رَّسُوْلَ اللہِ وَخَاتَمَ النَّبِیّٖنَ‘‘ وقول رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم: لَا نبی بعدی، فکیف یستجیز مسلم ان یثبت بعدہ علیہ السلام نبیًّا فی الأرض حاشا ما استثناہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فی الآثار المسندۃ الثابتۃ فی نزول عیسَی بن مریم علیہ السلام فی آخر الزمان۔‘‘

(ج:۴ ص:۱۸۰)

ترجمہ: ... ’’اللہ کا فرمان:’’رَسُوْلَ اللہِ وَخَاتَمَ النَّبِیّٖنَ‘‘ اور حضور علیہ السلام کا اِرشاد: ’’لَا نبی بعدی‘‘ سن کر مسلمان کیسے جائز سمجھ سکتا ہے کہ حضور علیہ السلام کے بعد زمین میں کسی نبی کی بعثت ثابت کی جائے؟ سوائے نزولِ عیسیٰ علیہ السلام کے آخر زمانے میں، جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی صحیح احادیثِ مسندہ سے ثابت ہے۔‘‘

ایک اور جگہ لکھتے ہیں:

’’من قال بنبی بعد النبی علیہ الصلٰوۃ والسلام أو جحد شیئًا صح عندہ بأن النبی صلی اللہ علیہ وسلم قالہ فھو کافر۔‘‘

(ج:۳ ص:۲۵۶)

ترجمہ: ... ’’جس شخص نے حضور علیہ السلام کے بعد کسی کی نبوّت کا اِقرار کیا یا ایسی شیٔ کا اِنکار کیا جو اس کے نزدیک ثابت ہوچکی ہو کہ حضور علیہ السلام نے فرمایا ہے، وہ کافر ہے۔‘‘

ایک اور جگہ لکھتے ہیں:

’’وأما من قال ان اللہ عزّ وجلّ ھو فلان لِانسان بعینہ أو ان اللہ تعالٰی یحل فی جسم من أجسام خلقہ أو
163

أن بعد محمد صلی اللہ علیہ وسلم نبیًّا غیر عیسَی بن مریم، فإنہ لَا یختلف اثنان فی تکفیرہ لصحۃ قیام الحجۃ بکل ھٰذا علٰی کل أحد۔‘‘

(ج:۳ ص:۲۴۹)

ترجمہ: ... ’’جس شخص نے کسی انسانِ معین کو کہا کہ یہ اللہ ہے، یا کہا کہ اللہ اپنی خلقت کے اَجسام میں سے کسی جسم میں حلول کرتا ہے، یا یہ کہا کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد نبی ہے، سوائے عیسیٰ علیہ السلام کے، پس ایسے شخص کی تکفیر میں دو آدمیوں کا بھی اِختلاف نہیں، کیونکہ ہر ہر بات کے ساتھ ہر ایسے شخص پر حجت قائم ہوچکی ہے۔‘‘

۲: ...قاضی عیاض مالکی رحمہ اللہ’’الشفاء بتعریف حقوق المصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم‘‘ میں لکھتے ہیں:

’’وکذٰلک من ادعٰی نبوۃ أحد مع نبیّنا صلی اللہ علیہ وسلم أو بعدہ ...۔۔ أو من ادعی النبوۃ لنفسہ أو جوز إکتسابھا والبلوغ بصفاء القلب إلٰی مرتبتھا ...۔۔ وکذٰلک من ادعٰی منھم انہ یوحٰی إلیہ وإن لم یدع النبوۃ ...۔۔ فھٰؤلآء کلھم کفار مکذبون للنبی صلی اللہ علیہ وسلم، لأنہ أخبر صلی اللہ علیہ وسلم انہ خاتم النبیین لَا نبی بعدہ، وأخبر عن اللہ تعالٰی انہ خاتم النبیین وانہ أرسل کافۃ للناس وأجمعت الأمّۃ علٰی حمل ھٰذا الکلام علٰی ظاھرہ، وان مفھومہ المراد بہ دون تأویل ولَا تخصیص فلا شک فی کفر ھٰؤلآء الطوائف کلھا قطعًا إجماعًا وسمعًا۔‘‘

(ج:۲ ص:۲۴۶، ۲۴۷)

ترجمہ: ... ’’اور اسی طرح جو شخص حضور علیہ السلام کے

164

ساتھ کسی کی نبوّت کا دعویٰ کرے ...... یا اپنے لئے نبوّت کا دعویٰ کرے، یا صفائی قلب کے ذریعے سے نبوّت کے مرتبے تک پہنچنے اور کسب سے اس کے حاصل کرنے کو جائز سمجھے ...... اور ایسے ہی وہ شخص جو یہ دعویٰ کرے کہ اس پر وحی آتی ہے، اگرچہ صراحۃً نبوّت کا دعویٰ نہ کرے ...... پس یہ سب کے سب کفار ہیں، اور حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کی تکذیب کرنے والے ہیں، اس لئے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے خبر دی ہے کہ آپ خاتم النبیین ہیں، اور آپ کے بعد کوئی نبی نہیں۔ اور خدا کی طرف سے قرآن میں یہ خبر دی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم خاتم النبیین ہیں اور آپ تمام عالم کے انسانوں کی طرف رسول ہیں، اور اُمت کا اِجماع ہے کہ اس کلام کو اپنے ظاہر پر حمل کیا جائے، اور اس پر بھی اِجماع ہے کہ اس آیت کا نفسِ مفہوم ہی مراد ہے بغیر کسی تأویل وتخصیص کے، پس ان تمام جماعتوں کے کفر میں کوئی شک نہیں، بلکہ وہ قطعی طور پر بالاجماع کافر ہیں۔‘‘

۳: ... حافظ فضل اللہ تورپشتی رحمہ اللہ (متوفیٰ۶۳۰ھ) کا فارسی میں اسلامی عقائد پر ایک رسالہ ’’المعتمد فی المعتقد‘‘ کے نام سے ہے، جس میں عقیدۂ ختمِ نبوّت بہت تفصیل سے لکھا ہے، اور آخر میں منکرینِ ختمِ نبوّت کے خارج اَزاِسلام ہونے کی تصریح فرمائی ہے، اس کے چند ضروری اِقتباسات درج ذیل ہیں:

’’وازاں جملہ آنست کہ تصدیق وی کند کہ بعد از وی ہیچ نبی نباشد مرسل ونہ غیرمرسل، ومراد از خاتم النبیین آنست کہ نبوّت را مہر کرد ونبوّت بآمدن او تمام شد یا بمعنی آنکہ خدا تعالیٰ پیغمبری را بوی ختم کرد، وختم خدای حکم است بدآنچہ ازاں نخواہد کردانیدن۔‘‘

(معتمد فی المعتقد ص:۹۴)

ترجمہ: ... ’’من جملہ عقائد کے یہ ہے کہ اس بات کی

165

تصدیق کرے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد کوئی نبی نہیں، نہ رسول اور نہ غیررسول۔ اور ’’خاتم النبیین‘‘ سے مراد یہ ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نبوّت پر مہر لگادی، اور نبوّت آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی تشریف آوری سے حدِ تمام کو پہنچ گئی۔ یا یہ معنی ہیں کہ خدا تعالیٰ نے پیغمبری پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ذریعے مہر لگادی، اور خدا تعالیٰ کا مہر کرنا اس بات کا حکم ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد نبی نہیں بھیجے گا۔‘‘

ایک اور جگہ لکھتے ہیں:

’’واحادیث بسیار از رسول صلی اللہ علیہ وسلم درست شدہ است کہ نبوّت بآمدن او تمام شد وبعد از وی دیگری نباشد وازاں احادیث یکے را معنی آنست کہ در اُمت من نزدیک سی دجال کذّاب باشند کہ ہر یک ازیشاں دعویٰ کنند کہ من نبی ام وبعد از من ہیچ نبی نباشد۔‘‘

(ص:۹۵)

ترجمہ: ... ’’اور بہت سی احادیث رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ثابت ہیں کہ نبوّت آپ کی تشریف آوری پر پوری ہوگئی، آپ کے بعد کوئی اور نبی نہیں ہوگا۔ ان احادیث میں سے ایک کا مضمون یہ ہے کہ میری اُمت میں قریباً تیس جھوٹے دجال ہوں گے، ان میں سے ہر ایک یہ دعویٰ کرے گا کہ میں نبی ہوں، اور میرے بعد کوئی نبی نہیں ہوگا۔‘‘

ایک اور جگہ لکھتے ہیں:

’’وروایات واحادیث دریں باب افزوں از آنست کہ برتواں شمردن، وچوں ازیں طریق ثابت شد کہ بعد از وی ہیچ نبی نباشد ضرورت رسول ہم نباشد زیرا کہ ہیچ رسول نباشد کہ نبی نباشد،

166

چوں نبوّت نفی کرد، رسالت بطریقِ اَولیٰ منفی باشد۔‘‘

(ص:۹۶)

ترجمہ: ... ’’اور اس باب میں روایات واحادیث حدِ شمار سے زیادہ ہیں، جب اس طریقے سے ثابت ہو اکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد کوئی نبی نہ ہوگا، تو بدیہی بات ہے کہ رسول بھی نہ ہوگا، کیونکہ کوئی رسول ایسا نہیں ہوتا جو نبی نہ ہو، جب نبوّت کی نفی کردی تو رِسالت کی نفی بدرجۂ اَولیٰ ہوگئی۔‘‘

ایک اور جگہ ہے:

’’وبحمداللہ ایں مسئلہ درمیان اسلامیان روشن تر از آنست کہ آنرا بہ کشف وبیان حاجت افتد، اما ایں مقدار از قرآن از ترس آں یاد کردیم کہ مبادا زِندیقی جاہلی را در شبہتی اندازد ...... ومنکر ایں مسئلہ کسی تواند بود کہ اصلاً در نبوّت او معتقد نہ باشد کہ اگر برسالت او معترف بودی ویرا در ہرچہ ازاں خبر داد صادق دانستے۔

وبہما حجتہا کہ از طریق تواتر رسالت او پیش از ما بداں درست شدہ است ایں نیز درست شد کہ وی باز پسین پیغمبر آنست ودر زماں اوو تا قیامت بعد از وی ہیچ نبی باشد وہرکہ دریں بشک است دراں نیز بشک است، وآنکس کہ گوید بعد ازیں نبی دیگر بود یاہست، یا خواہد بود وآں کس کہ گوید کہ امکان دارد کہ باشد کافر است۔‘‘

(ص:۹۷)

ترجمہ: ... ’’بحمداللہ! یہ مسئلہ اہلِ اسلام کے درمیان اس سے زیادہ روشن ہے کہ اس کی تشریح ووضاحت کی ضرورت ہو، اتنی وضاحت بھی ہم نے قرآنِ کریم سے اس اندیشے کی بنا پر کردی کہ مبادا کوئی زِندیق کسی جاہل کو شبہ میں ڈالے۔

اور عقیدۂ ختمِ نبوّت کا منکر وہی شخص ہوسکتا ہے جو خود نبوّتِ

167

محمدیہ پر بھی اِیمان نہ رکھتا ہو، کیونکہ اگر یہ شخص آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی رِسالت کا قائل ہوتا تو جن چیزوں کی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے خبر دی ہے، ان میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو سچا سمجھتا۔

اور جن دلائل اور جس طریقِ تواتر سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی رِسالت ونبوّت ہمارے لئے ثابت ہوئی ہے، ٹھیک اسی درجے کے تواتر سے یہ بات بھی ثابت ہوئی ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم آخری نبی ہیں اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں اور قیامت تک کوئی نبی نہ ہوگا، اور جس شخص کو اس ختمِ نبوّت میں شک ہوا، اسے خود رسالتِ محمدی میں بھی شک ہوگا، اور جو شخص یہ کہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد کوئی نبی ہوا تھا، یا اَب موجود ہے، یا آئندہ ہوگا، اسی طرح جو شخص یہ کہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد نبی ہوسکتا ہے، وہ کافر ہے۔‘‘

۴: ... حافظ ابنِ کثیر رحمہ اللہ، آیت خاتم النبیین کے تحت لکھتے ہیں:

’’فمن رحمۃ اللہ تعالٰی بالعباد إرسال محمد صلی اللہ علیہ وسلم إلیھم، ثم من تشریفہ لہ ختم الأنبیاء والمرسلین بہ، وإکمال الدِّین الحنیف لہ، وأخبر اللہ تبارک وتعالٰی فی کتابہ ورسولہ صلی اللہ علیہ وسلم فی السُّنَّۃ المتواترۃ عنہ أنہ لَا نبی بعدہ لیعلموا ان کل من ادعٰی ھٰذا المقام بعدہ فھو کذّاب، أفاک، دجَّال، ضالٌّ، مضلٌّ، ولو تخرق وشعبد، وأتٰی بأنواع السحر والطَّلاسم والنیرنجیات فکلّھا محال وضلال عند أولی الألباب کما أجری اللہ سبحانہ علٰی ید الأسود العنسی بالیمن، ومسیلمۃ الکذّاب بالیمامۃ
168

من الأحوال الفاسدۃ والأقوال الباردۃ ما علم کل ذی لب وفھم وحجی انھما کاذبان ضالّان لعنھما اللہ تعالٰی وکذٰلک کل مدح لذٰلک إلٰی یوم القیامۃ حتّٰی یختموا بالمسیح الدَّجَّال فکل واحد من ھٰؤلآء الکذّابین یخلق اللہ معہ من الأمور ما یشھد العلماء والمؤمنون بکذب ما جاء بھا۔‘‘

(تفسیر ابن کثیر ج:۳ ص:۴۹۴)

ترجمہ: ... ’’پس بندوں پر اللہ کی رحمت ہی ہے، محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا ان کی طرف بھیجنا، پھر اللہ تعالیٰ کی جانب سے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی تعظیم وتکریم میں سے یہ بات بھی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر تمام انبیاء اور رُسل علیہم السلام کو ختم کیا اور دِینِ حنیف کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے کامل کردیا اور اللہ تعالیٰ نے اپنی کتاب میں اور اس کے رسول نے اپنی احادیثِ متواترہ میں خبر دی ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد کوئی نبی پیدا ہونے والا نہیں تاکہ اُمت جان لے کہ ہر وہ شخص جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد اس مقام (نبوّت) کا دعویٰ کرے وہ بڑا جھوٹا، اِفترا پرداز، دجال، گمراہ اور گمراہ کرنے والا ہے، اگرچہ وہ شعبدہ بازی کرے اور قسم قسم کے جادو، طلسم اور نیرنگیاں دِکھلائے، اس لئے کہ یہ سب کا سب عقلاء کے نزدیک باطل اور گمراہی ہے، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے اسود عنسی (مدعیٔ نبوّت) کے ہاتھ پر یمن میں اور مسیلمہ کذّاب (مدعیٔ نبوّت) کے ہاتھ پر یمامہ میں اَحوالِ فاسدہ اور اَقوالِ باردہ ظاہر کئے جن کو دیکھ کر ہر عقل وفہم اور تمیز والا یہ سمجھ گیا کہ یہ دونوں جھوٹے اور گمراہ کرنے والے ہیں، اللہ تعالیٰ ان پر لعنت کرے، اور ایسے ہی قیامت تک ہر مدعیٔ نبوّت پر، یہاں تک کہ وہ مسیحِ دجال پر ختم کردئیے

169

جائیں گے، پس ہر ایک ان کذّابوں میں سے اللہ تعالیٰ اس کے ہاتھ پر ایسے اُمور پیدا فرمادے گا کہ علماء اور مسلمان اس کے جھوٹے ہونے کی شہادت دیں گے۔‘‘

۵: ... شیخ ابنِ نجیم ’’الاشباہ والنظائر‘‘ میں لکھتے ہیں:

’’إذا لم یعرف أن محمدًا صلی اللہ علیہ وسلم آخر الأنبیاء فلیس بمسلم، لأنہ من الضروریات (الْاشباہ والنظائر) یعنی والجھل بالضروریات فی باب المکفرات لَا یکون عذرًا بخلاف غیرھا فإنہ یکون عذرًا علی المفتٰی بہ، کما تقدم واللہ أعلم۔‘‘

(شرح حموی ص:۲۶۷)

ترجمہ: ... ’’جب کوئی شخص یہ نہ جانے کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم آخری نبی ہیں، تو وہ مسلمان نہیں، کیونکہ عقیدۂ ختمِ نبوّت ضروریاتِ دِین میں داخل ہے، اور علامہ حمویؒ اس کی شرح میں لکھتے ہیں: یعنی ضروریاتِ دین سے جاہل ہونا کفر سے بچانے میں عذر نہیں، البتہ دُوسری باتوں میں مفتیٰ بہ قول کے مطابق عذر ہے۔‘‘

۶: ... شیخ علی القاری رحمہ اللہ (متوفیٰ۱۰۱۴ھ) شرح ’’فقہِ اکبر‘‘ میں لکھتے ہیں:

’’أقول التحدی فرع دعوی النبوۃ ودعوی النبوۃ بعد نبیّنا صلی اللہ علیہ وسلم کفر بالْإجماع۔‘‘

(ص:۲۰۲ طبع مجتبائی)

ترجمہ: ... ’’میں کہتا ہوں کہ معجزہ نمائی کا چیلنج کرنا فرع ہے دعویٔ نبوّت کی، اور نبوّت کا دعویٰ ہمارے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد بالاجماع کفر ہے۔‘‘

۷: ... حضرت شاہ ولی اللہ محدث دہلویؒ ’’مسویٰ شرح مؤطا‘‘ میں فرماتے ہیں:

170
’’أو قال ان النبی صلی اللہ علیہ وسلم خاتم النبوۃ ولٰـکن معنٰی ھٰذا الکلام انہ لَا یجوز ان یسمّٰی بعدہ أحد بالنبی، وأما معنی النبوۃ وھو کون الْإنسان مبعوثًا من اللہ تعالٰی إلی الخلق مفترض الطاعۃ معصومًا من الذنوب ومن البقاء علی الخطأ فیما یرٰی فھو موجود فی الأئمۃ بعدہ فذٰلک الزندیق وقد اتفق جماھیر المتأخرین من الحنفیۃ والشافعیۃ علٰی قتل من یجری ھٰذا المجریٰ۔‘‘

(مسوی شرح مؤطا ج:۲ ص:۱۳۰)

ترجمہ: ... ’’یا جو شخص یہ کہے کہ بے شک حضور علیہ السلام نبوّت کے ختم کرنے والے ہیں، لیکن اس کلام کے معنی یہ ہیں کہ حضور علیہ السلام کے بعد کسی کو نبی کہنا اور نبی کا اسم اِطلاق کرنا جائز نہیں، لیکن نبوّت کی حقیقت اور اس کے معنی یعنی کسی انسان کا اللہ تعالیٰ کی جانب سے خلق کی طرف مبعوث ہونا اور مفترض الطاعۃ ہونا، یہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد اِماموں میں بھی موجود ہے، پس ایسا شخص زِندیق ہے، جو شخص ایسی چال چلے اس کے قتل پر جماہیر حنفیہ وشافعیہ کا اِتفاق ہے۔‘‘

۸: ... علامہ سفارینی حنبلی رحمہ اللہ (۱۱۱۴ھ-۱۱۸۸ھ)’’لوائح الأنوار البھیۃ شرح الدرۃ المضیۃ‘‘ میں ...جو ’’شرح عقائد سفارینی‘‘ کے نام سے معروف ہے... لکھتے ہیں:

’’ومن زعم انھا مکتسبۃ فھو زندیق یجب قتلہ لأنَّ یقتضی کلامہ واعتقادہ ان لَا تنقطع، وھو مخالف للنصّ القرآنی والأحادیث المتواترۃ بأن نبیّنا صلی اللہ علیہ وسلم خاتم النبیین علیھم السلام۔‘‘

(ج:۲ ص:۲۵۷)

171

ترجمہ: ... ’’جو شخص یہ عقیدہ رکھے کہ نبوّت حاصل ہوسکتی ہے، وہ زِندیق اور واجب القتل ہے، کیونکہ اس کا کلام وعقیدہ اس بات کو مقتضی ہے کہ نبوّت کا دروازہ بند نہیں، اور یہ بات نقصِ قرآن اور اَحادیثِ متواترہ کے خلاف ہے، جن سے قطعاً ثابت ہے کہ ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم خاتم النبیین ہیں (علیہم السلام)۔‘‘

۹: ... اور سیّد محمود آلوسی بغدادی رحمہ اللہ تفسیر ’’رُوح المعانی‘‘ میں آیت خاتم النبیین کے ذیل میں لکھتے ہیں:

’’وکونہ صلی اللہ علیہ وسلم خاتم النبیین مما نطق بہ الکتاب وصدعت بہ السُّنَّۃ وأجمعت علیہ الاُمّۃ فیکفر مدعی خلافہ ویقتل إن أصرّ۔‘‘

(ج:۲ ص:۶۰)

ترجمہ: ... ’’اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا آخری نبی ہونا ان مسائل میں سے ہے جن پر قرآن ناطق ہے، جن کو سنت نے واشگاف کیا ہے اور جن پر اُمت کا اِجماع ہے، پس اس کے برخلاف کا دعویٰ کرنے والا کافر قرار دِیا جائے گا اور اگر وہ اِصرار کرے تو اسے قتل کیا جائے گا۔‘‘

۱۰: ... علامہ زرقانی ؒشرح مواہب میں اِمام ابنِ حبانؒ سے نقل کرتے ہیں:

’’من ذھب إلٰی أن النبوۃ مکتسبۃ لَا تنقطع أو إلٰی أن الولی أفضل من النبی فھو زندیق، یجب قتلہ لتکذیب القرآن وخاتم النبیین۔‘‘

(زرقانی شرح مواہب ج:۶ ص:۱۸۸)

ترجمہ: ... ’’جس شخص کا مذہب یہ ہو کہ نبوّت کا دروازہ بند نہیں، بلکہ حاصل ہوسکتی ہے، یا یہ کہ ولی نبی سے افضل ہوتا ہے، ایسا شخص زِندیق اور واجب القتل ہے، کیونکہ وہ قرآن کی اور خاتم

172

النبیین کی تکذیب کرتا ہے۔‘‘

۱۱: ... حجۃالاسلام حضرت مولانا قاسم نانوتوی رحمہ اللہ لکھتے ہیں:

’’سو اگر اِطلاق اور عموم ہے تب تو ثبوت خاتمیتِ زمانی ظاہر ہے، ورنہ تسلیم لزوم خاتمیتِ زمانی بدلالتِ اِلتزامی ضرور ثابت ہے، ادھر تصریحاتِ نبوی مثل: ’’أنت مِنِّی بمنزلۃ ھارون من موسٰی، اِلّا انہ لَا نبی بعدی‘‘ او کما قال، جو بہ ظاہر بہ طرزِ مذکور اسی لفظ خاتم النبیین سے مأخوذ ہے، اس باب میں کافی ہے، کیونکہ یہ مضمون درجہ تواتر کو پہنچ گیا ہے، پھر اس پر اِجماع بھی منعقد ہوگیا، گو اَلفاظِ مذکور بہ سندِ متواتر منقول نہ ہوں، سو یہ عدم تواترِ اَلفاظ باوجود تواترِ معنوی یہاں ایسا ہی ہوگا جیسا تواتر اَعدادِ رکعاتِ فرائض ووتر وغیرہ، باوجودیکہ الفاظِ احادیث مشعر تعدادِ رکعات متواتر نہیں، جیسا اس کا منکر کافر ہے، ایسا ہی اس کا منکر بھی کافر ہے۔‘‘

(تحذیر الناس ص:۹، ۱۰)

خاتم النبیین کی تفسیر مرزا صاحب سے

خاتم النبیین کی جو تفسیر اکابر مفسرین سے نقل کی گئی ہے، دعویٔ نبوّت سے قبل خود مرزا صاحب نے بھی اس کی تصدیق کی ہے، چند حوالے ملاحظہ فرمائیے:

۱: ... ’’ما کان محمد ابا احد من رجالکم ولٰـکن رسول اللہ وخاتم النبیین ۔ یعنی محمد صلی اللہ علیہ وسلم تم میں سے کسی مرد کا باپ نہیں، مگر وہ رسول اللہ ہے اور ختم کرنے والا نبیوں کا۔ یہ آیت بھی صاف دلالت کر رہی ہے کہ بعد ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے کوئی رسول دُنیا میں نہیں آئے گا۔ پس اس سے بکمالِ وضاحت ثابت ہے کہ مسیح ابنِ مریم رسول اللہ دُنیا میں نہیں آسکتا،

173

کیونکہ مسیح ابنِ مریم رسول ہے، اور رسول کی حقیقت اور ماہیت میں یہ امر داخل ہے کہ دِینی علوم کو بذریعہ جبرائیل حاصل کرے، اور ابھی ثابت ہوچکا ہے کہ اب وحیٔ رِسالت تابہ قیامت منقطع ہے۔‘‘

(اِزالہ اوہام ص:۶۱۴)

۲: ... ’’اگرچہ ایک ہی دفعہ وحی کا نزول فرض کیا جائے اور صرف ایک ہی فقرہ حضرت جبرائیل لاویں اور پھر چپ ہوجاویں یہ امر بھی ختمِ نبوّت کا منافی ہے، کیونکہ جب ختمیت کی مہر ہی ٹوٹ گئی اور وحیٔ رِسالت پھر نازل ہونی شروع ہوگئی تو پھر تھوڑا یا بہت نازل ہونا برابر ہے، ہر ایک دانا سمجھ سکتا ہے کہ اگر خدا تعالیٰ صادق الوعد ہے اور جو آیت خاتم النبیین میں وعدہ دیا گیا ہے اور جو حدیثوں میں بتصریح بیان کیا گیا ہے کہ اب جبرائیل بعد وفاتِ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمیشہ کے لئے وحیٔ نبوّت لانے سے منع کیا گیا ہے، یہ تمام باتیں سچ اور صحیح ہیں، تو پھر کوئی شخص بحیثیت رسالت ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد ہرگز نہیں آسکتا۔‘‘

(اِزالہ اوہام ص:۵۷۷)

۳: ... ’’ظاہر ہے کہ یہ بات مستلزم محال ہے کہ خاتم النبیین کے بعد پھر جبرائیل علیہ السلام کی وحیٔ رِسالت کے ساتھ زمین پر آمد ورفت شروع ہوجائے اور ایک نئی کتابُ اللہ، گو مضمون میں قرآن شریف سے توارد رکھتی ہو پیدا ہوجائے اور جو مستلزم محال ہو وہ محال ہوتا ہے، فتدبر۔‘‘

(اِزالہ اوہام ص:۵۸۳)

۴: ... ’’قرآنِ کریم، بعد خاتم النبیین کے کسی رسول کا آنا جائز نہیں رکھتا، خواہ وہ نیا رسول ہو یا پُرانا ہو، کیونکہ رسول کو علمِ دِین بتوسط جبرائیل ملتا ہے، اور باب نزولِ جبرائیل بہ پیرایہ وحیٔ رِسالت مسدود ہے، اور یہ بات خود ممتنع ہے کہ دُنیا میں رسول تو آوے مگر

174

سلسلۂ وحیٔ رِسالت نہ ہو۔‘‘

(اِزالہ اوہام ص:۷۶۱، رُوحانی خزائن ج:۳ ص:۱۱)

۵: ... ’’اور یقینِ کامل سے جانتا ہوں اور اس بات پر محکم اِیمان رکھتا ہوں کہ ہمارے نبی صلعم خاتم الانبیاء ہیں اور آنجناب کے بعد اس اُمت کے لئے کوئی نبی نہیں آئے گا، نیا ہو یا پُرانا ہو، اور قرآنِ کریم کا ایک شوشہ یا نقطہ منسوخ نہیں ہوگا، ہاں محدث آئیں گے۔‘‘

(نشانِ آسمانی ص:۳۰، رُوحانی خزائن ج:۴ ص:۳۹)

۶: ... ’’ما کان اللہ ان یرسل نبیًّا بعد نبیّنا خاتم النبیین وما کان ان یحدث سلسلۃ النبوۃ ثانیًا بعد انقطاعھا۔‘‘

(آئینہ کمالاتِ اسلام ص:۳۸۳)

ترجمہ: ... ’’یہ نہیں ہوسکتا کہ ہمارے نبی خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد اللہ تعالیٰ کوئی نبی بھیجے، اور نہ یہ ہوسکتا ہے کہ اللہ تعالیٰ اِنقطاع کے بعد پھر سلسلۂ نبوّت کا حادث کرے۔‘‘

۷: ... ’’الَا تعلم ان الرَّبّ الرحیم المتفضل سمّٰی نبیّنا صلی اللہ علیہ وسلم خاتم الأنبیاء بغیر استثناء، وفسرہ نبیّنا فی قولہ لَا نبی بعدی ببیان واضح للطالبین، ولو جوّزنا ظھور نبی بعد نبیّنا صلی اللہ علیہ وسلم لجوّزنا انفتاح باب وحی النبوّۃ بعد تغلیقھا، وھٰذا خلف کما لَا یخفٰی علی المسلمین۔ وکیف یجیء نبی بعد رسولنا صلی اللہ علیہ وسلم وقد انقطع الوحی بعد وفاتہ وختم اللہ بہ النبیین۔‘‘

(حمامۃ البشریٰ ص:۲۰، رُوحانی خزائن ج:۷ ص:۲۰۰)

ترجمہ: ... ’’کیا تو نہیں جانتا کہ اس محسن رَبّ نے ہمارے

175

نبی کا نام خاتم الانبیاء رکھا ہے، اور کسی کو مستثنیٰ نہیں کیا، اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے طالبوں کے بیان کے لئے وضاحت سے اس کی تفسیر یہ کی ہے کہ میرے بعد کوئی نبی نہیں ہے، اور اگر ہم آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد کسی نبی کا ظہور جائز رکھیں تو لازم آتا ہے کہ وحیٔ نبوّت کے دروازے کا اِنفتاح بھی بند ہونے کے بعد جائز خیال کریں، اور یہ باطل ہے، جیسا کہ مسلمانوں پر پوشیدہ نہیں اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد کوئی نبی کیونکر آوے حالانکہ آپ کی وفات کے بعد وحیٔ نبوّت منقطع ہوگئی ہے اور آپ کے ساتھ نبیوں کو ختم کردیا ہے۔‘‘

۸: ... ’’خدا تعالیٰ ایسی ذِلت اور رُسوائی اس اُمت کے لئے اور ایسی ہتک اور کسرِ شان اپنے نبی مقبول خاتم الانبیاء کے لئے ہرگز رَوا نہیں رکھے گا کہ ایک رسول کو بھیج کر جس کے آنے کے ساتھ جبرائیل کا آنا ضروری امر ہے، اِسلام کا تختہ ہی اُلٹا دیوے، حالانکہ وہ وعدہ کرچکا ہے کہ بعد آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے کوئی رسول نہیں بھیجا جائے گا۔‘‘

(اِزالہ اوہام ص:۵۸۶، رُوحانی خزائن ج:۳ ص:۴۱۶)

۹: ... ’’آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے بار بار فرما دیا تھا کہ میرے بعد کوئی نبی نہیں آئے گا، اور حدیث: ’’لَا نبی بعدی‘‘ ایسی مشہور تھی کہ کسی کو اس کی صحت میں کلام نہ تھا، اور قرآن شریف جس کا لفظ لفظ قطعی ہے، اپنی آیتِ کریمہ: ’’ولٰـکن رسول اللہ وخاتم النبیّٖن‘‘ سے بھی اس بات کی تصدیق کرتا تھا کہ فی الحقیقت ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر نبوّت ختم ہوچکی ہے۔‘‘

(کتاب البریہ ص:۱۹۹، ۲۰۰، رُوحانی خزائن ج:۱۳ ص:۲۱۷، ۲۱۸)

۱۰: ... ’’قرآن مجید میں مسیح ابنِ مریم کے دوبارہ آنے کا تو

176

کہیں بھی ذِکر نہیں، لیکن ختمِ نبوّت کا بکمالِ تصریح ذِکر ہے، اور پُرانے یا نئے نبی کی تفریق کرنا یہ شرارت ہے، نہ حدیث میں، نہ قرآن میں یہ تفریق موجود ہے، اور حدیث: ’’لَا نبی بعدی‘‘ میں بھی نفی عام ہے، پس یہ کس قدر جرأت اور دلیری اور گستاخی ہے کہ خیالاتِ رکیکہ کی پیروی کرکے نصوصِ صریحہ قرآن کو عمداً چھوڑ دیا جائے اور خاتم الانبیاء کے بعد ایک نبی کا آنا مان لیا جائے اور بعد اس کے جو وحیٔ نبوّت منقطع ہوچکی تھی پھر سلسلہ وحیٔ نبوّت کا جاری کردیا جائے۔‘‘

(ایام الصلح ص:۱۶۷، رُوحانی خزائن ج:۱۴ ص:۳۹۲، ۳۹۳)

مرزا صاحب کی ان عبارتوں سے مندرجہ ذیل اُمور ثابت ہوئے:

۱: ... آیت خاتم النبیین، ختمِ نبوّت کے عقیدے پر نصِ صریح ہے۔

۲: ... خاتم الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد وحیٔ نبوّت ورِسالت کا دروازہ تاقیامت بند ہے۔

۳: ... خاتم الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد کسی شخص کا نبی اور رسول کی حیثیت سے آنا شرعاً محال ہے۔

۴: ... نبی کو وحی بذریعہ جبریل ملتی ہے، اور خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد جبریل کی آمد وحی رساں کی حیثیت سے بند کردی گئی۔

۵: ... خاتم الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد کسی شخص کا نبوّت ورِسالت کے منصب پر فائز ہونا، آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی توہین اور کسرِ شان ہے، اور اُمتِ محمدیہ کے لئے ذِلت ورُسوائی ہے۔

تنبیہ: ... مرزا صاحب نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی تشریف آوری کو روکنے کے لئے جو یہ لکھا ہے کہ: ’’نہ کوئی نیا نبی آسکتا ہے نہ پُرانا‘‘ یہ ان کی خودغرضی ہے، ورنہ اُوپر اکابرِ اُمت کی تصریحات سے معلوم ہوچکا ہے ...اور ہر صاحبِ عقل بھی اس کو سمجھتا ہے...

177

کہ خاتم النبیین کے معنی یہ ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی تشریف آوری سے انبیائے کرام علیہم السلام کی فہرست مکمل ہوگئی، اس لئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد اَب کسی شخص کو نبوّت نہیں دی جائے گی اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد نبوّت نہیں دی گئی، نبوّت ان کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے پہلے مل چکی ہے، اس لئے ان کی تشریف آوری عقیدۂ ختمِ نبوّت کے خلاف نہیں۔ اس قسم کی تأویلات مسیلمہ کذّاب وغیرہ نے بھی کی تھیں، مگر صحابہ کرامؓ نے اس کی تأویل کو لائقِ اِلتفات قرار نہیں دیا، کیونکہ ’’ضروریاتِ دِین‘‘ میں کوئی تأویل نہیں سنی جاتی، یہ تمام صحابہ کرامؓ کا اِجماعی فیصلہ تھا، جس سے ایک متنفس نے بھی اِختلاف نہیں کیا، بلکہ مسیلمہ کذّاب وغیرہ مدعیانِ نبوّت کو واجب القتل سمجھا اور حضرت صدیقِ اکبر رضی اللہ عنہ نے مسیلمہ کذّاب وغیرہ کے خلاف جہاد کیا، اسی سنتِ صدیقی پر عمل کرتے ہوئے بعد کے خلفاء نے مدعیانِ نبوّت کو ہمیشہ واجب القتل سمجھا، اور کبھی کسی مدعیٔ نبوّت کی تأویلات کو لائقِ توجہ نہیں سمجھا۔

قاضی عیاض مالکی رحمہ اللہ ’’الشفاء‘‘ میں لکھتے ہیں:

’’وقد قتل عبدالملک بن مروان الحارث المتنبّی وصلّبہ وفعل ذٰلک غیر واحد من الخلفاء والملوک باشباھھم وأجمع علماء وقتھم علٰی صواب فعلھم والمخالف فی ذٰلک من کفرھم کافر۔‘‘

(ج:۲ ص:۲۵۷، ۲۵۸)

ترجمہ: ... ’’خلیفہ عبدالملک بن مروان نے مدعیٔ نبوّت حارث کو قتل کیا اور اسے سولی پر لٹکایا، اور اس کے بعد کے خلفاء وملوک نے ایسے مدعیانِ نبوّت کے ساتھ یہی سلوک کیا، اور ان کے دور میں علماء نے ان کے اس فعل کے صحیح ہونے پر اِجماع کیا، اور جس شخص کو ان کے کفر میں اِختلاف ہو وہ کافر ہے۔‘‘

یہ مسلمانوں کا اِجماعِ مسلسل ہے کہ مدعیٔ نبوّت کافر اور واجب القتل ہے۔

178

اوّل: ... حافظ جلال الدین سیوطی رحمہ اللہ نے ’’خصائصِ کبریٰ‘‘ میں ابونعیم کے حوالے سے نقل کیا ہے کہ جب حضرت ابوعبیدہ بن جراح رضی اللہ عنہ رُومیوں کے مقابلے میں یرموک میں فروکش ہوئے تو رُومیوں کے سپہ سالار نے اپنے ایک بڑے آدمی کو جس کا نام ’’جرجیر‘‘ تھا، آپ کی خدمت میں بھیجا، شام کا وقت تھا، اس نے مسلمانوں کو نمازِ مغرب پڑھتے دیکھا تو بہت متأثر ہوا، اور حضرت ابوعبیدہ رضی اللہ عنہ سے چند سوالات کئے، ان میں سے ایک یہ تھا:

’’ھل کان رسولکم أخبرکم أنہ یأتی من بعدہ رسول؟‘‘

ترجمہ: ... ’’کیا تمہارے رسول نے تمہیں یہ خبر دی تھی کہ ان کے بعد بھی کوئی رسول آئے گا؟‘‘

حضرت ابوعبیدہؓ نے جواب میں فرمایا:

’’لَا، ولٰـکن أخبر أنہ لَا نبی بعدہ وأخبر أن عیسَی بن مریم قد بشر بہ قومہ۔‘‘

(خصائصِ کبریٰ ج:۲ ص:۲۸۴)

ترجمہ: ... ’’نہیں، بلکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ خبر دی کہ آپ کے بعد کوئی نبی نہیں، اور یہ بھی بتایا کہ عیسیٰ علیہ السلام نے اپنی قوم کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی بشارت دی تھی۔‘‘

روایت میں ہے کہ سوال وجواب کے بعد وہ صاحب مسلمان ہوگئے تھے۔

جنگِ یرموک میں شریک ہونے والے صحابہؓ وتابعینؒ ...جن کی تعداد محتاط اندازے کے مطابق تیس ہزار سے کم نہیں ہوگی... کے سامنے ان کا امیر ...جسے لسانِ نبوّت سے ’’أمین ھٰذہ الاُمّۃ‘‘ کا خطاب ملا ہے... ختمِ نبوّت کا اِعلان کرتا ہے، کیا ایسا عقیدہ جس کا منائر ومنابر پر ہزاروں کے مجمع میں علیٰ رُؤس الاشہاد اِعلان ہو، اس کے قطعی اِجماعی عقیدہ ہونے میں کوئی شک رہ جاتا ہے؟ اور اس میں کسی ملحد کی کوئی تأویل مسموع ہوسکتی ہے...؟

دوم: ... جب سے اُمت میں تصنیف وتالیف کا دور شروع ہوا ہے، تب سے اَب

179

تک کتابوں کے خطبہ ودبیاچہ میں:’’والصلٰوۃ والسلام علٰی سیّدنا محمد خاتم النبیّین‘‘ یا ان کے ہم معنی الفاظ عام طور سے ضرور لکھے جاتے ہیں، اور مشکل ہی سے کوئی مصنف ایسا نکلے گا جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا ذِکرِ مبارک کرتے ہوئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خاتمیت کا تذکرہ نہ کرے۔ کیا یہ اس کی دلیل نہیں کہ عقیدۂ ختمِ نبوّت پر اُمت کا اِجماعِ مسلسل چلا آرہا ہے...؟

سوم: ... اور پھر جب سے قرآنِ کریم کی تفسیر پر اُمت نے قلم اُٹھایا، تب سے اب تک کوئی مفسر ایسا نہیں جس نے آیت خاتم النبیین اور دیگر آیات کے تحت عقیدۂ ختمِ نبوّت رقم نہ کیا ہو۔ دورِ اَوّل سے آج تک مختلف زمانوں، مختلف زبانوں، مختلف علاقوں اور مختلف خطوں میں تفسیرِ قرآن پر بلامبالغہ ہزاروں کتابیں لکھی گئی ہوں گی، جن کی تعداد وشمار حیطۂ بشریت سے خارج ہے، اور آج بھی دُنیا بھر کے کتب خانوں کی فہرست مرتب کی جائے تو ان تفاسیر کی فہرست، جو صدرِ اَوّل سے آج تک لکھی ہوئی دُنیا میں موجود ہیں، ہزار سے یقینا متجاوز ہوگی، اور کسی مسلمان کی تفسیر ...خواہ وہ کسی زمانے اور کسی خطے کا ہو... عقیدۂ ختمِ نبوّت سے خالی نہیں ہوگی، کیا اس کے بعد بھی اِجماعِ مسلسل پر کسی دلیل کی ضرورت رہ جاتی ہے...؟

چہارم: ... اور پھر جب سے احادیثِ طیبہ کو اَبواب وفصول پر مرتب کرنے کا دور شروع ہوا ہے، حضراتِ محدثین اور علمائے سیرت اپنی کتابوں میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے اوصاف وشمائل بیان کرتے ہوئے ’’باب کونہٗ صلی اللہ علیہ وسلم خاتم النبیّین‘‘ یا اس کے ہم معنی عنوانات قائم کرتے چلے آئے ہیں، اور یہ سلسلہ دورِ اَوّل سے لے کر آج تک مسلسل جاری ہے، چنانچہ بخاری ومسلم اور دیگر اکابر محدثین کی کتابوں میں یہ ابواب موجود ہیں۔ اور یہ تو سبھی جانتے ہیں کہ باقی ساری کتابوں سے قطع نظر بخاری شریف ہی اپنے دورِ تصنیف سے لے کر آج تک متواتر چلی آتی ہے، اور ہر زمانے میں دُنیا کے ہر خطے میں اہلِ علم اس کی تدریس میں مصروف رہے ہیں، کیا اس کے بعد بھی اس اَمر میں کوئی خفا رہ جاتا ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ’’آخری نبی‘‘ ہونے پر ’’اِجماعِ مسلسل‘‘ چلا آتا ہے...؟

180

پنجم: ... کون نہیں جانتا کہ قرآنِ کریم کا ایک ایک حرف متواتر ہے، اور صدرِ اَوّل سے آج تک قرآنِ کریم کے لاکھوں حفاظ موجود رہے ہیں، دُنیا بھر میں قرآنِ کریم کی لاکھوں مرتبہ روزانہ تلاوت ہوتی رہی ہے، اور ہر زمانے میں مسلمانوں کا بچہ بچہ آیتِ کریمہ:’’وَلٰـکِنْ رَّسُوْلَ اللہِ وَخَاتَمَ النَّبِیّٖنَ‘‘ کے مفہوم پر اِیمان رکھتا آیا ہے، اس قرآنی اِعلان کے بعد کسی زمانے کا کونسا مسلمان ایسا ہوگا جس نے کبھی آیت خاتم النبیین نہ سنی ہو، جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو خاتم النبیین نہ سمجھتا ہو اور جو عقیدۂ ختمِ نبوّت پر اِیمان نہ رکھتا ہو۔ کیا قرآنِ کریم کے اس متواتر اِعلان اور مسلمانوں کے متواتر اِیمان کے بعد بھی ’’عقیدۂ ختمِ نبوّت پر اِجماع‘‘ میں کوئی شبہ رہ جاتا ہے...؟

ششم: ... دورِ تالیف کے آغاز سے لے کر آج تک مسلمانوں کے عقائد پر جو کتابیں لکھی گئی ہیں، ان سب میں جہاں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوّت کا ذِکر ہوتا ہے وہاں آپ کی بعثتِ عامہ اور آپ کے آخری نبی ہونے کا عقیدہ بھی درج کیا جاتا رہا ہے، چنانچہ اِمام طحاوی رحمہ اللہ (متوفیٰ۳۲۱ھ) کا مرتب کردہ عقائد نامہ جو عقیدۃ الطحاوی یا عقیدۂ طحاویہ کے نام سے معروف ہے، اور جو ان الفاظ سے شروع ہوتا ہے:

’’ھٰذا ما رواہ الْإمام أبو جعفر الطحاوی فی ذکر بیان عقیدۃ أھل السُّنَّۃ والجماعۃ علٰی مذھب فقھاء الملّۃ أبی حنیفۃ نعمان بن ثابت الکوفی وأبی یوسف یعقوب بن إبراھیم الأنصاری وأبی عبداللہ محمد بن الحسن الشیبانی رضوان اللہ علیھم أجمعین، وما یعتقدون من أُصول الدِّین ویدینون بہ لربّ العالمین۔‘‘

ترجمہ: ... ’’یہ اہلِ سنت والجماعت کے عقیدے کا بیان ہے جو فقہائے ملت اِمام ابوحنیفہ نعمان بن ثابت الکوفی، اِمام ابویوسف یعقوب بن اِبراہیم انصاری اور اِمام ابوعبداللہ محمد بن حسن

181

الشیبانی ...رضوان اللہ علیہم اجمعین... کے مذہب کے مطابق ہے اور ان کے اُصولِ دِین کا بیان ہے، جن کا یہ حضرات عقیدہ رکھتے تھے، اور جن کے مطابق رَبّ العالمین کی اطاعت وبندگی کرتے تھے۔‘‘

اس عقیدے میں توحید کے بعد لکھتے ہیں:

’’وان محمدًا صلی اللہ علیہ وسلم عبدہ المصطفٰی ونبیہ المجتبٰی ورسولہ المرتضٰی خاتم الأنبیاء وإمام الأتقیاء وسیّد المرسلین وحبیب ربّ العالمین وکل دعوۃ نبوۃ بعد نبوتہ بغی وھویٰ وھو المبعوث إلٰی عامۃ الجِنِّ وکافّۃ الوریٰ بالحق والھدیٰ۔‘‘

(ص:۳ مطبوعہ قدیمی کتب خانہ کراچی)

ترجمہ: ... ’’اور ہم اِیمان رکھتے ہیں کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے برگزیدہ بندے، اس کے چنے ہوئے نبی اور اس کے پسندیدہ رسول ہیں، آپ انبیاء کے خاتم، اتقیاء کے اِمام، رسولوں کے سردار اور رَبّ العالمین کے محبوب ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوّت کے بعد ہر دعویٔ نبوّت سرکشی اور خواہشِ نفس کی پیروی ہے، آپ ہی عام جنوں کی طرف اور تمام مخلوق کی طرف حق وہدایت کے ساتھ مبعوث کئے گئے ہیں۔‘‘

اِمام طحاویؒ کے بعد عقائد پر جو کتابیں لکھی گئیں، ان سب میں عقیدۂ ختمِ نبوّت درج کیا گیا، اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد ہر قسم کے دعویٔ نبوّت کو باطل قرار دِیا گیا، مثلاً عقائد تورپشتی،ؒ عقیدۂ اِمام غزالیؒ ...جو اِحیاء العلوم میں شامل ہے...، عقیدۂ نسفیؒ، مسامرہ شیخ ابنِ ہمامؒ، تمہید ابوالشکور سالمیؒ، عقیدۂ سفارینی،ؒ عقیدۂ بدء الامالی،ؒ مجموعۃ العقائد یافعی،ؒ عقیدۃ العوام شیخ احمد مرزوقی،ؒ عقیدہ مولانا جامیؒ، عقیدہ اِمامِ ربانی مجدّد الف ثانی ؒ...جو مکتوبات دفتر اوّل مکتوب نمبر۲۶۶ میں درج ہے...، عقیدہ شاہ ولی اللہ محدث دہلویؒ، عقیدہ شاہ عبدالعزیز

182

وغیرہ وغیرہ، جو عقیدہ اوّل سے آخر تک مسلمانوں کے عقائد کی کتابوں میں درج ہوتا چلا آتا ہو، اس کے اِجماعِ مسلسل میں کیا شبہ رہ جاتا ہے...؟

ہفتم: ... عقیدۂ ختمِ نبوّت پر مسلمانوں کے اِجماعِ مسلسل کا اندازہ اس سے بھی کیا جاسکتا ہے کہ دُنیا کے کسی ملک اور کسی خطے میں چلے جائیے، اور وہاں کے مسلمانوں سے اس عقیدے کے بارے میں دریافت کیجئے، آپ کو یہی جواب ملے گا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم خاتم النبیین ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد نبوّت کا دروازہ بند ہے۔

یہ دُنیا بھر کے مسلمان، جو متفرق ممالک میں منتشر ہیں، جن میں کبھی ایک دُوسرے کے ملاقات اور تبادلۂ خیال کا موقع نہیں ملا، اور جو ایک دُوسرے کی زبان سے بھی واقف نہیں، ان سب کو اس ایک عقیدے پر کس چیز نے جمع کردیا؟ اسی اِجماعِ مسلسل نے، جو صدرِ اَوّل سے سے آج تک بلااِنقطاع چلا آتا ہے، اور جہاں جہاں دُنیا میں قرآن کی روشنی پہنچی، وہاں یہ عقیدہ بھی مسلمانوں کو پہنچا۔ جس طرح دُنیا بھر کے مسلمان ہمیشہ اس پر متفق رہے ہیں کہ اللہ ایک ہے اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم اللہ تعالیٰ کے رسولِ برحق ہیں، اسی طرح ہمیشہ سے اس پر متفق رہے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد نبوّت نہیں، اور یہ کہ مدعیٔ نبوّت کاذب وکافر ہے۔

ہشتم: ... عقیدۂ ختمِ نبوّت کی قطعیت اور اس پر اِجماعِ مسلسل کا منہ بولتا ثبوت یہ ہے کہ کوئی بڑے سے بڑا دَجال اور ملحد وزِندیق بھی اس کا اِنکار کرنے کی جرأت نہیں کرسکتا۔ منکرینِ ختمِ نبوّت بھی مسلمانوں کے اِجماعِ مسلسل کے سامنے سپر انداز ہیں اور کم از کم لفظوں کی حد تک یہ ماننے پر مجبور ہیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم خاتم النبیین ہیں، اور جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو خاتم النبیین نہ سمجھے وہ دائرۂ اسلام سے خارج ہے۔ لیکن وہ اس کے معنی ومفہوم میں تأویل وتحریف کرتے ہیں، حالانکہ جس تواتر، جس قطعیت اور جس اِجماعِ مسلسل سے یہ ثابت ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم خاتم النبیین ہیں، اسی تواتر، اسی اِجماعِ مسلسل اور اسی قطعیت سے یہ بھی ثابت ہے کہ خاتم النبیین کے معنی آخری نبی ہیں۔

اِمام غزالی رحمہ اللہ ’’الاقتصاد‘‘ میں ’’خاتم النبیین‘‘ اور ’’لا نبی بعدی‘‘ میں ملاحدہ

183

کی تأویلات کو ہذیان قرار دیتے ہوئے فرماتے ہیں:

’’ولٰـکن الرد علٰی ھٰذا القائل ان الاُمّۃ فھمت بالْإجماع من ھٰذا اللفظ ومن قرائن أحوالہ انہ أفھم عدم نبی بعدہ أبدًا وعدم رسول اللہ أبدًا، وانہ لیس فیہ تأویل ولَا تخصیص فمنکر ھٰذا لَا یکون إلّا منکر الْإجماع۔‘‘

(ص:۱۲۳)

ترجمہ: ... ’’لیکن اس قائل کا منہ یہ کہہ کر بند کیا جائے گا کہ اُمت نے اس لفظ سے اور قرائنِ اَحوال سے بالاجماع یہی سمجھا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات سمجھائی ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد کوئی نبی اور کوئی رسول کبھی نہیں ہوگا، اور یہ کہ اس اِرشاد میں کوئی تأویل وتخصیص نہیں، پس اس کا منکر وہی ہوگا جو پوری اُمت کے اِجماع کا منکر ہو۔‘‘

اور کتاب’’التفرقۃ بین الْإسلام والزندقۃ‘‘ میں اِمام غزالی رحمہ اللہ لکھتے ہیں:

’’ولَا بدّ من التنبیہ علٰی قاعدۃ اُخریٰ وھو أن المخالف قد یخالف نصًّا متواترًا ویزعم أنہ مؤوّل وذکر تأویلات لَا انقداح لہ أصلًا فی اللسان، لَا علٰی بُعد ولَا علٰی قرب، فذٰلک کفر، وصاحبہ مکذب وإن کان یزعم أنہ مؤوّل۔‘‘

(ص:۶۱)

ترجمہ: ... ’’اور یہاں ایک اور قاعدے پر تنبیہ کردینا بھی ضروری ہے وہ یہ کہ مخالف کبھی نصِ متواتر کی مخالفت کرتا ہے، اور دعویٰ یہ کرتا ہے کہ وہ (نص کا اِنکار نہیں کرتا بلکہ صرف) تأویل کرنے والا ہے، اور اس کی ایسی تأویل کرتا ہے جس کی زبان وبیان کے اِعتبار سے دُور ونزدیک کوئی گنجائش نہیں، تو ایسی تأویل بھی کفر ہے

184

اور ایسی تأویل کرنے والا خدا ورسول کی تکذیب کرنے والا ہے، خواہ وہ یہی دعویٰ کرے کہ وہ تأویل کرنے والا ہے۔‘‘

الغرض ’’خاتم النبیین‘‘ اور ’’لا نبی بعدہ‘‘ کا عقیدہ لفظاً ومعناً متواتر ہے، اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے آج تک اس پر عملاً واِعتقاداً اِجماعِ مسلسل چلا آرہا ہے، اس لئے اس میں تأویل وتحریف کرنے والے بھی اسی طرح کافر اور دائرۂ اسلام سے خارج ہیں جس طرح کہ اس کا منکر کافر ہے، جس کے حوالے اُوپر گزرچکے ہیں۔

فقہائے اُمت کے فتاویٰ

۱: ... فتاویٰ عالمگیری:

’’إذا لم یعرف الرجل أن محمدًا صلی اللہ علیہ وسلم آخر الأنبیاء علیھم وعلٰی نبینا السلام فلیس بمسلم ...۔۔ ولو قال: أنا رسول اللہ أو قال بالفارسیۃ: من پیغمبرم، یرید بہ: من پیغام می برم، یکفر۔‘‘

(ج:۲ ص:۲۶۳)

ترجمہ: ... ’’جب کوئی شخص یہ عقیدہ نہ رکھے کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم آخری نبی ہیں تو وہ مسلمان نہیں، اور اگر کہے کہ میں رسول اللہ ہوں، یا فارسی میں کہے کہ میں پیغمبر ہوں، اور مراد یہ ہو کہ میں پیغام پہنچاتا ہوں، تب بھی کافر ہوجاتا ہے۔‘‘

۲: ... فتاویٰ بزازیہ بر حاشیہ فتاویٰ ہندیہ مصری:

’’ادعٰی رجل النبوۃ، فقال رجل: ھات بالمعجزۃ! قیل یکفر، وقیل لَا۔‘‘

(ج:۶ ص:۳۲۸)

ترجمہ: ... ’’ایک شخص نے نبوّت کا دعویٰ کیا، دُوسرے نے اس سے کہا کہ: اپنا معجزہ لاؤ! تو یہ معجزہ طلب کرنے والا بقول بعض

185

کے کافر ہوگیا، اور بعض نے کہا نہیں۔‘‘

البحر الرائق شرح کنز الدقائق:

’’ویکفر بقولہ ان کان ما قال الأنبیاء حقًّا أو صدقًا وبقولہ أنا رسول اللہ وبطلبہ المعجزۃ حین ادعٰی رجل الرسالۃ، وقیل إذا أراد إظھار عجزہ لَا یکفر۔‘‘

(ج:۵ ص:۱۳۰)

ترجمہ: ... ’’اگر کوئی کلمۂ شک کے ساتھ کہے کہ: ’’اگر انبیاء کا قول صحیح اور سچ ہو ...الخ‘‘ تو کافر ہوجاتا ہے، اسی طرح اگر یہ کہے کہ: ’’میں اللہ کا رسول ہوں‘‘ تو کافر ہوجاتا ہے، اور جو شخص مدعیٔ نبوّت سے معجزہ طلب کرے وہ بھی کافر ہوجاتا ہے، اور بعض نے کہا ہے کہ اگر اس کا عجز ظاہر کرنے کے لئے معجزہ طلب کرے تو کافر نہیں ہوتا۔‘‘

۴: ... فتاویٰ ابنِ حجر مکی شافعیؒ:

’’من اعتقد وحیًا بعد محمد صلی اللہ علیہ وسلم کفر بإجماع المسلمین۔‘‘

ترجمہ: ... ’’جو شخص محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد بھی کسی پر وحی نازل ہونے کا عقیدہ رکھے وہ باجماعِ مسلمین کافر ہے۔‘‘

۵: ... فصولِ عمادی: فتاویٰ عالمگیری (ج:۲ ص:۲۶۳ مطبوعہ مصر) میں فصولِ عمادی کے حوالے سے لکھا ہے:

’’وکذٰلک لو قال: أنا رسول اللہ، أو قال بالفارسیۃ: من پیغامبرم، یرید بہ پیغام می برم، یکفر، ولو أنہ حین قال ھٰذہ المقالۃ طلب غیرہ منہ المعجزۃ قیل یکفر الطالب، والمتأخرون من المشائخ قالوا: إن
186

کان غرض الطالب تعجیزہ وافتضاحہ لَا یکفر۔‘‘

ترجمہ: ... ’’اور ایسے ہی اگر کہے کہ میں اللہ کا رسول ہوں، یا فارسی میں کہے: ’’من پیغامبرم‘‘ اور مراد یہ ہو کہ میں پیغام لے جاتا ہوں، تو کافر ہوجائے گا۔ اور جب اس نے یہ بات کہی اور کسی شخص نے اس سے معجزہ طلب کیا تو بعض کے نزدیک یہ طالبِ معجزہ بھی کافر ہوجائے گا، لیکن مشائخِ متأخرین نے فرمایا کہ: اگر طالبِ معجزہ کی غرض محض اس مدعی کی رُسوائی اور اِظہارِ عجز ہو تو کافر نہ ہوگا۔‘‘

ختمِ نبوّت اور اِجماعِ اُمت

سوال۴: ... کیا یہ دُرست ہے کہ اس اَمر پر آج تک مسلسل اور مکمل اِجماعِ اُمت، بشمول علمائے سنی وشیعہ رہا ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم آخری نبی تھے، ان کے بعد کوئی نبی نہیں ہوگا؟ مفصل حوالہ جات تحریر فرمائیں۔

جواب: ... بلاشبہ جس طرح مسلمانوں کا اس پر اِجماع ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم رسولِ برحق ہیں، اسی طرح اس پر بھی اِجماع ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم آخری نبی ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد کوئی نبی نہیں، اور اُمتِ اسلامیہ میں ایک فرد بھی ایسا نہیں جو عقیدۂ ختمِ نبوّت پر اِیمان نہ رکھتا ہو۔ مرزا غلام احمد قادیانی نے ’’شہادۃالقرآن‘‘ میں نزولِ عیسیٰ علیہ السلام کے تواتر کو ذِکر کرتے ہوئے لکھا ہے:

’’یہ خبر مسیحِ موعود کے آنے کی اس قدر زور کے ساتھ ہر ایک زمانے میں پھیلی ہوئی معلوم ہوتی ہے کہ اس سے بڑھ کر کوئی جہالت نہ ہوگی کہ اس کے تواتر سے اِنکار کیا جائے، میں سچ مچ کہتا ہوں کہ اگر اِسلام کی وہ کتابیں جن کی رُو سے یہ خبر سلسلہ وار شائع ہوتی چلی آئی ہے، صدی وار مرتب کرکے اِکٹھی کی جائیں تو ایسی کتابیں ہزارہا سے کچھ کم نہ ہوں گی۔ ہاں یہ بات اس شخص کو سمجھانا

187

مشکل ہے کہ جو اِسلامی کتابوں سے بالکل بے خبر ہو۔‘‘

آگے نمازِ پنج گانہ وغیرہ کی مثالیں دے کر مرزا صاحب لکھتے ہیں:

’’اسی طرح ہزارہا جزئیات ہیں جو عبادات اور معاملات اور عقود وغیرہ کے متعلق ہیں، اور ایسے مشہور ہیں کہ ان کا لکھنا صرف وقت ضائع کرنا اور بات کو طول دینا ہے۔‘‘

(ص:۲، ۳)

ٹھیک اسی طرح عقیدۂ ختمِ نبوّت جن کتابوں میں لکھا گیا ہے اگر صدی وار ان کی فہرست مرتب کی جائے تو ان کی تعداد لاکھوں سے متجاوز ہوگی۔ اس لئے عقیدۂ ختمِ نبوّت پر اِجماعِ مسلسل کے دلائل پیش کرنا ایک بدیہی اَمر کو ثابت کرنے اور نصف النہار کے وقت وجودِ آفتاب کے دلائل پیش کرنے کے مترادف ہے، جو بقول مرزا صاحب: ’’صرف وقت ضائع کرنا اور بات کو طول دینا ہے۔‘‘ تاہم کبھی کبھی بدیہیات پر بھی تنبیہ کی ضرورت پیش آتی ہے، اس لئے عقیدۂ ختمِ نبوّت پر اِجماعِ مسلسل کے سلسلے میں تنبیہاً چند نکات پیش کئے جاتے ہیں، واللہ الموفق!

اوّل: ... حضرت مفتی محمد شفیع صاحبؒ نے اپنے رسالے ’’ختمِ نبوّت کامل‘‘ حصہ سوم میں حسبِ ذیل ۸۰ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے اسمائے گرامی کی فہرست دی ہے، جن سے عقیدۂ ختمِ نبوّت کی دو سو سے زیادہ احادیث مروی ہیں:

’’حضرت صدیقِ اکبر، حضرت فاروقِ اعظم، حضرت علی، حضرت عبداللہ بن عمر، حضرت عائشہ، حضرت اُبیّ بن کعب، حضرت انس، حضرت حسن، حضرت عباس، حضرت زبیر، حضرت سلمان، حضرت مغیرہ، حضرت سعد بن ابی وقاص، حضرت ابوذر، حضرت ابوسعید خدری، حضرت ابوہریرہ، حضرت جابر بن عبداللہ، حضرت جابر بن سمرہ، حضرت معاذ بن جبل، حضرت ابوالدرداء، حضرت حذیفہ، حضرت ابنِ عباس، حضرت خالد بن ولید، حضرت عبداللہ بن زبیر، حضرت عقیل بن ابی طالب، حضرت معاویہ بن حید، حضرت بہز

188

بن حکیم، حضرت جبیر بن مطعم، حضرت بریدہ، حضرت زید بن ابی اوفیٰ، حضرت عوف بن مالک، حضرت نافع، حضرت مالک بن حویرث، حضرت سفینہ مولیٰ حضرت اُمِّ سلمہ، حضرت ابوالطفیل، حضرت نعیم بن مسعود، حضرت عبداللہ بن عمرو، حضرت ابوحازم، حضرت ابومالک اشعری، حضرت اُمِّ کرز، حضرت زید بن حارثہ، حضرت عبداللہ بن ثابت، حضرت ابوقتادہ، حضرت نعمان بن بشیر، حضرت ابنِ غنم، حضرت یونس بن میسرہ، حضرت ابوبکرہ، حضرت سعید بن حیثم، حضرت سعد، حضرت زید بن ثابت، حضرت عرباض بن ساریہ، حضرت زید بن ارقم، حضرت مسوَر بن مخرمہ، حضرت عروہ بن رویم، حضرت ابواُمامہ باہلی، حضرت تمیم داری، حضرت محمد بن حزم، حضرت سہل بن سعد الساعدی، حضرت ابوزمل جہنی، حضرت خالد بن معدان، حضرت عمرو بن شعیب، حضرت مسلمہ ابن نفیل، حضرت قرۃ بن ایاس، حضرت عمران بن حصین، حضرت عقبہ بن عامر، حضرت ثوبان، حضرت ضحاک بن نوفل، حضرت مجاہد، حضرت مالک، حضرت اسماء بنت عمیس، حضرت حبشی بن جنادہ، حضرت عبداللہ بن حارث، حضرت سلمہ بن اکوع، حضرت عکرمہ بن اکوع، حضرت عمرو بن قیس، حضرت عبدالرحمن بن سمرہ، حضرت عصمۃ بن مالک، حضرت ابوقبیلہ، حضرت ابوموسیٰ، حضرت عبداللہ بن مسعود، رضوان اللہ علیہم اجمعین۔‘‘

اور پھر ان ۸۰ صحابہ کرامؓ میں بڑی تعداد ان حضرات کی ہے جن سے متعدّد احادیث مروی ہیں، اسی سے اندازہ کیا جاسکتا ہے کہ ان احادیث کے روایت کرنے والے تابعینؒ کی تعداد کتنی ہوگی؟ اِنصاف فرمائیے کہ جو مسئلہ قرآنِ کریم کی قریباً سو آیات میں منصوص ہو، جسے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے دو سو سے زیادہ احادیث میں بیان فرمایا ہو

189

اور جس کی شہادت ۸۰ صحابہ کرامؓ (بشمول عشرہ مبشرہ) اور لاتعداد تابعینؒ دے رہے ہوں، کیا اس کے بدیہی اور آفتاب سے زیادہ روشن ہونے میں کوئی خفا رہ جاتا ہے...؟

دوم: ... اسلامی تاریخ کا مبتدی بھی جانتا ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے زمانے میں سب سے پہلا جہاد مسیلمہ کذّاب پر ہوا، جس میں مسیلمہ کذّاب اور اس کے بیس ہزار ساتھی ’’حدیقۃ الموت‘‘ میں فی النار والسقر ہوئے۔ اور قریباً بارہ سو صحابہؓ وتابعینؒ نے ...جن میں سات سو اَکابر صحابہؓ بھی شامل تھے، جنہیں ’’قراء‘‘ کہا جاتا تھا... جامِ شہادت نوش کیا، حالانکہ مسیلمہ کذّاب، آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوّت کا منکر نہیں تھا، بلکہ طبری (ج:۳ ص:۲۴۴) کی روایت کے مطابق اس کی اَذان میں ’’اَشْہَدُ اَنَّ مُحَمَّدًا رَّسُوْلُ اللہِ‘‘ کا اِعلان کیا جاتا تھا، لیکن صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین نے دعویٔ نبوّت کی وجہ سے اسے مرتد قرار دیا، باوجودیکہ وہ بھی اپنی نبوّت کی تأویل رکھتا تھا۔

مرزا غلام احمد قادیانی کا اِقرار کہ مدعیٔ نبوّت خارج اَزاِسلام ہے:

اُوپر مرزا صاحب کے حوالے گزرچکے ہیں، جن سے واضح ہوتا ہے کہ وہ بھی دعویٔ نبوّت سے قبل ’’خاتم النبیین‘‘ کی وہی تفسیر کرتے تھے جو اُمتِ اسلامیہ کا اِجماعی عقیدہ ہے، اس وقت مرزا صاحب نے بھی صاف صاف اِقرار کیا تھا کہ جو شخص آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد نبوّت کا دعویٰ کرے، وہ خارج اَزاِسلام ہے، درج ذیل حوالے ملاحظہ ہوں:

۱: ... ’’میں ان تمام اُمور کا قائل ہوں جو اِسلامی عقائد میں داخل ہیں، اور جیسا کہ سنت جماعت کا عقیدہ ہے، ان سب باتوں کو مانتا ہوں جو قرآن اور حدیث کی رُو سے مُسلَّم الثبوت ہیں، اور سیّدنا ومولانا حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم ختم المرسلین کے بعد کسی دُوسرے مدعیٔ نبوّت اور رِسالت کو کاذب اور کافر جانتا ہوں، میرا یقین ہے کہ وحیٔ رِسالت حضرت آدم صفی اللہ سے شروع ہوئی

190

اور جناب رسول اللہ محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم پر ختم ہوگئی۔‘‘

(مجموعہ اِشتہارات ج:۱ ص:۲۳۱، اِشتہار ۲؍اکتوبر ۱۸۹۱ء)

۲: ... ’’اب میں مفصلہ ذیل اُمور کا مسلمانوں کے سامنے صاف صاف اِقرار اس خانۂ خدا مسجد (جامع مسجد دہلی مراد ہے) میں کرتا ہوں کہ میں جناب خاتم الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کی ختمِ نبوّت کا قائل ہوں اور جو شخص ختمِ نبوّت کا منکر ہو، اس کو بے دِین اور دائرۂ اسلام سے خارج سمجھتا ہوں۔‘‘

(مجموعہ اِشتہارات ج:۱ ص:۲۵۵، اِشتہار ۲۳؍اکتوبر ۱۸۹۱ء)

۳: ... ’’میں مسلمان ہوں اور ان سب عقائد پر اِیمان رکھتا ہوں جو اہلِ سنت والجماعت مانتے ہیں اور کلمہ طیبہ ’’لا اِلٰہ اِلَّا اللہ محمد رسول اللہ‘‘ کا قائل ہوں، اور قبلے کی طرف نماز پڑھتا ہوں اور میں نبوّت کا مدعی نہیں، بلکہ ایسے مدعی کو دائرۂ اسلام سے خارج سمجھتا ہوں۔‘‘

(آسمانی فیصلہ ص:۳)

۴: ...’’ما کان لی ان ادعی النبوۃ وأخرج من الْإسلام وألحق بقوم کافرین۔‘‘

(حمامۃ البشریٰ ص:۷۹، رُوحانی خزائن ج:۲ ص:۲۹۷)

ترجمہ: ... ’’مجھ سے یہ نہیں ہوسکتا کہ میں نبوّت کا دعویٰ کروں اور اِسلام سے خارج ہوجاؤں، اور کافروں کی جماعت میں جاملوں۔‘‘

۵: ... ’’اگر راقم صاحب کی پہلی رائے صحیح ہے کہ میں مسلمان ہوں اور قرآن شریف پر اِیمان رکھتا ہوں، تو پھر یہ دُوسری رائے غلط ہے جس میں ظاہر کیا گیا ہے کہ میں خود نبوّت کا مدعی ہوں، اور اگر دُوسری رائے صحیح ہے تو پھر وہ پہلی رائے غلط ہے جس میں

191

ظاہر کیا گیا کہ میں مسلمان ہوں اور قرآن شریف کو مانتا ہوں، کیا ایسا بدبخت مفتری جو خود رِسالت اور نبوّت کا دعویٰ کرتا ہے قرآن شریف پر اِیمان رکھ سکتا ہے؟ اور کیا ایسا وہ شخص جو قرآن شریف پر اِیمان رکھتا ہے اور آیت:’’ولٰـکن رسول اللہ وخاتم النبیّٖن‘‘ کو خدا کا کلام یقین رکھتا ہے، وہ کہہ سکتا ہے کہ میں بھی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد رسول اور نبی ہوں؟‘‘

(انجامِ آتھم حاشیہ ص:۲۶، ۲۷، رُوحانی خزائن ج:۱۱ ص:۲۶، ۲۷)

نبوّت کی شرائط

سوال۵: ... نبوّت کی لازمی شرائط وخصوصیات کیا ہیں؟ اور نبی کی تعریف کیا ہے؟ جواب مع حوالہ جات تحریر فرمائیں، نیز نبی اور رسول میں فرق بیان فرمائیں؟

جواب: ... جن حضرات کو منصبِ نبوّت پر فائز کیا جاتا ہے وہ قوّتِ عاقلہ وقوّتِ عاملہ میں سب سے فائق ہوتے ہیں۔ حافظ فضل اللہ تورپشتی رحمہ اللہ، انبیائے کرام علیہم السلام کے اوصاف وخصوصیات بیان کرتے ہوئے ’’المعتمد فی المعتقد‘‘ میں رقم طراز ہیں:

’’ہوائے ایشاں پیر وفرمان حق بودہ است، ونفس ایشاں ہموارہ در طاعت او بفرمان ایشاں، وازیں وجہ ایشاں از نافرمانیٔ خدا بقصد معصوم ماندند، وایشاں واجب العصمت اند، ومخالفت اَمرِ خدائے تعالیٰ بر ایشاں روا نیست زیرا کہ حق تعالیٰ خلق را فرمودہ کہ پیروی ایشاں بکنند، واگر عصیان بقصد از ایشاں یافت شدے خدائے تعالیٰ خلق را متابعت ایشاں نہ فرمودے......۔‘‘

ترجمہ: ... ’’انبیائے کرام علیہم السلام کی خواہش فرمانِ اِلٰہی کی پیرو ہوتی ہے، اور ان کا نفس اِطاعتِ خداوندی میں ہمیشہ ان کا تابع ومطیع ہوتا ہے، یہی وجہ ہے کہ یہ حضرات بالقصد خدا تعالیٰ کی

192

نافرمانی سے معصوم ہوتے ہیں اور ان کے لئے عصمت واجب ہے، اور اَمرِ اِلٰہی کی مخالفت ان کے حق میں رَوا نہیں، کیونکہ اللہ تعالیٰ مخلوق کو ان کی پیروی کا حکم فرماتے ہیں، اور اگر قصدِ معصیت ان سے صادر ہوتا ہے تو اللہ تعالیٰ مخلوق کو ان کی بے چون وچرا پیروی کا حکم نہ دیتے ......۔۔‘‘

’’وازاں جملہ آنست کہ عقل ایشاں تمام ترین عقلہا بودہ است، واَز اِختلال وزوال محفوظ واِدراک عقلہائے ایشاں نہ چوں ادراکات عقلہائے غیر ایشاں بودہ است ......۔‘‘

ترجمہ: ... ’’من جملہ ان کے ایک یہ ہے کہ انبیائے کرام کی عقل تمام عقلوں سے اعلیٰ وارفع اور کامل ہوتی ہے، اور اِختلال وزوال سے محفوظ۔ اور ان حضرات کی عقول کا اِدراک دیگر عقلاء کی عقلوں سے بہت بلند وبالا ہوتا ہے ......۔‘‘

’’وازاں جملہ آنست کہ رائے ایشاں قوی ترین رائے ہا بودہ است، وفہم ایشاں تیز ترین فہمہا بودہ است، وازینجا است کہ آنچہ ایشاں از علم وحی فہم میکنند غیر ایشاں فہم نتواند کردن ......‘‘

ترجمہ: ... ’’اور من جملہ ان کے ایک یہ ہے کہ انبیائے کرام کی رائے دُوسروں سے بہت زیادہ قوی ہوتی ہے، اور ان کا فہم دُوسروں سے کہیں زیادہ تیز ہوتا ہے، یہی وجہ ہے کہ علومِ وحی کو جس طرح انبیائے کرام علیہم السلام سمجھتے ہیں وہ کسی دُوسرے کے لئے ممکن نہیں ......۔‘‘

’’وازاں جملہ آنست کہ قوّتِ حفظ ایشاں بیشتر از غیر ایشاں باشد وبقوّت در بیان وفصاحت در سخن بیش از دیگراں باشند......‘‘

193

ترجمہ: ... ’’اور من جملہ ان کے ایک یہ ہے کہ انبیائے کرام کی قوّتِ حافظہ باقی سب لوگوں سے بڑھ کر ہوتی ہے، اور قوّتِ بیان اور فصاحت وبلاغت میں بھی وہ سب سے فائق ہوتے ہیں......‘‘

’’وازاں جملہ آنست کہ حواسِ ایشاں تیز تر از حواسِ دیگراں باشد وقوّتِ ایشاں در ظاہر وباطن تمامتر اَز قوّتِ غیر ایشاں باشد ......۔‘‘

ترجمہ: ... ’’اور من جملہ ان کے ایک یہ ہے کہ انبیائے کرام علیہم السلام کے حواس دُوسروں سے تیز ہوتے ہیں، اور ان حضرات کی ظاہری وباطنی قوّتیں باقی سب لوگوں سے بلند وبالا اور کامل ہوتی ہیں......۔‘‘

’’وازاں جملہ آنست کہ خلق ایشاں در غایت نیکوئی بودہ است وخلقت ایشاں در غایت تمامی وحدِ اِعتدال، وصورت ہائے ایشاں خوب بودہ است وآوازہائے ایشاں خوش، وچنانکہ در معنیٰ برغیر خود افزوں بودند درصورت نیز ہم چنیں بودند......۔‘‘

(ص:۶۳، ۶۴)

ترجمہ: ... ’’اور من جملہ ان کے ایک یہ ہے کہ ان کا اَخلاق اِنتہائی نیک ہوتا ہے اور ان کی ظاہری ساخت بھی نہایت کامل اور معتدل ہوتی ہے، وہ نہایت خوب رُو اور خوش الحان ہوتے ہیں، اور وہ جس طرح سیرت ومعنیٰ کے لحاظ سے سب سے فائق ہوتے ہیں، اسی طرح ظاہر صورت میں بھی سب سے بڑھ کر ہوتے ہیں۔‘‘

حضرت مولانا محمد اِدریس کاندہلوی رحمہ اللہ نے اپنے رسالے ’’شرائطِ نبوّت‘‘ میں نبوّت کی مندرجہ ذیل دس شرائط ذِکر کی ہیں:

194

۱- مرد ہونا، ۲-عقلِ کامل، ۳-حفظِ کامل، ۴-علمِ کامل، ۵-صداقت وامانت، ۶-عدمِ توریث، ۷-زُہدِ کامل، ۸-اعلیٰ حسب ونسب، ۹-اَخلاقِ کاملہ۔

خلاصہ یہ کہ منصبِ نبوّت تمام مناصب سے بالاتر منصب ہے، اور اس کے لئے وہی شخصیت موزوں ہوسکتی ہے، جو قوّتِ قدسیہ کی حامل ہو، تمام اوصافِ کمال میں سب سے فائق ہو، اور اس میں کوئی ظاہری وباطنی، جسمانی ورُوحانی اور صورت وسیرت کے اِعتبار سے کوئی نقص نہ پایا جائے۔ حضراتِ انبیائے کرام علیہم السلام کے اوصاف وخصائص کا دائرہ اس قدر وسیع ہے کہ ان کا اِحاطہ ممکن نہیں، تاہم ان کی سیرت کا اِجمالی خاکہ اِمام العصر مولانا محمد انور شاہ کشمیری نوّر اللہ مرقدہٗ نے ’’خاتم النبیین‘‘ میں ذِکر فرمایا:

’’ یہاں پہنچ کر اَنبیائے کرام علیہم السلام کی سیرتِ مقدسہ کا قرآنِ کریم اور کتبِ خصائص وسیر سے مطالعہ کرنا چاہئے۔ قرآنِ حکیم میں جو کچھ ان کے خطاب (سوال) وجواب کے سلسلے میں آتا ہے اسے بغور پڑھو تو معلوم ہوگا کہ کس طرح ان حضرات کے معاملے کی بنیاد اُمورِ ذیل پر قائم تھی، یعنی توکل ویقین، صبر واِستقامت، اُولوالعزمی وبلندہمتی، وقار وکرامت، انابت واِخلاص، فضل واِختصاص، یقین کی خنکی اور سینے کی ٹھنڈک، سفیدۂ صبح کی طرح اِنشراح واِعتماد، صدق وامانت، مخلوق سے شفقت ورحمت، عفت وعصمت، طہارت ونظافت، رُجوع الی اللہ، وسائلِ غیب پر اِعتماد، ہر حال میں لذّاتِ دُنیا سے بے رغبتی، سب سے کٹ کر حق تعالیٰ شانہ‘ سے وابستگی، سامانِ دُنیا سے بے اِلتفاتی، مال ودولت سے بے توجہی، علم وعمل کی وراثت جاری کرنا، اور مال ومتاع کی وراثت نہ جاری کرنا، چنانچہ ارشاد ہے: ’’ہم وارث نہیں بنایا کرتے، جو کچھ ہم چھوڑ جائیں گے وہ صدقہ ہے۔‘‘ (صحیح بخاری ج:۲ ص:۹۹۵، مشکوٰۃ ص:۵۰۵) ترکِ فضول اور اس سے زبان کی

195

حفاظت، ہر حالت اور معاملے میں حق کا ساتھ دینا اور اس کی پیروی کرنا، ظاہر وباطن کی ایسی موافقت کہ اس میں کبھی بھی خلل اور رخنہ واقع نہ ہو۔ انہیں اِتمامِ مقصد کے لئے باطل عذر، فاسد تأویلات اور حیلے بہانے تراشنے کی ضرورت نہیں ہوتی (کیونکہ یہ کذّابوں کا سرمایہ اور نقد وقت ہے، چنانچہ کہا گیا ہے) کہ: ’’کسی شخص نے کبھی اپنے دِل میں کوئی بات نہیں چھپائی، مگر اللہ تعالیٰ نے اس کے رُخسارے کے صفحات اور اس کی زبان کی لغزش سے صادر شدہ الفاظ میں اسے ظاہر کرہی دیا۔‘‘ اور ان حضرات کے کسی بھی معاملے میں تہافت وتساقط اور تعارض وتناقض راہ نہیں پاتا، بلکہ پردۂ غیب اور کمین گاہ قضاء قدر سے ان کے سامنے حق اس طرح کھل جاتا ہے جس سے پوری طرح شرحِ صدر ہوجائے، انہیں اِطلاعاتِ اِلٰہیہ اور مواعیدِ رَبِّ ذُوالجلال کے پورا ہونے میں کبھی رُجوع اور تبدیلیٔ خیال کی ضرورت نہیں ہوتی (جس طرح مرزا، محمدی بیگم، انجامِ آتھم، ڈاکٹر عبدالحکیم کی موت وغیرہ وغیرہ میں بھٹکتا رہا)۔ ان کے باطن کے پاک اور طبیعت کے پاکیزہ ہونے کی وجہ سے ان کی رَوِش میں ایسی یکسانیت ہوتی ہے کہ تعارض وتوفیق میں کسی حیلے بہانے کی حاجت نہیں ہوتی، جانبِ خدا کو جانبِ اَغراض پر ترجیح دینا، مادّی علائق اور رِشتوں سے بے تعلقی اور اِعراض، تمام حوادث وپیش آمدہ حالات میں حمد وشکر، یادِ حق اور ذِکرِ اِلٰہی میں ہمہ دَم مشغول رہنا، رَبّ العالمین کے زیرِ عنایت علمِ لدنی کے ذریعے فطرتِ سلیمہ کے مطابق لوگوں کی تعلیم وتربیت کرنا جس میں کسی قسم کی فلسفہ آرائی، اِختراع اور تکلف کا شائبہ نہ ہو، تسلیم وتفویض، عبدیتِ کاملہ، طمانیتِ زائدہ، اِستقامتِ شاملہ، ان کے دِین کا تمام اَدیان پر غالب آنا اور

196

ان کے ذریعے اِیمان اور خصائلِ اِیمان کا چاردانگِ عالم میں پھیل جانا، ان حضرات نے دُنیا میں رہ کر کبھی چاپلوسی کا راستہ نہیں لیا، اور کیا مجال کہ کفار وجبابرہ کے مقابلے میں اپنی ایک بات سے بھی کبھی تنزل فرمایا ہو، یا فراعنہ کی تخویف وتہدید اور ان کے ہجوم کی بنا پر اپنے راستے سے اِنحراف کیا ہو، یا حرص وطمع اور سامانِ دُنیا جمع کرنے کا معمولی دھبہ بھی ان کے دامنِ مقدس تک پہنچا ہو، یا حرص و ہویٰ اور حبِ ماسوا نے کبھی انہیں اپنی طرف کھینچا ہو، اور ممکن نہیں کہ ان کے آپس میں علم وعمل کا اِختلاف ہوا ہو، یا ایک دُوسرے پر رَدّ وقدح یا ایک دُوسرے کی ہجو اور کسرِ شان کی ہو۔ ناممکن ہے کہ انہیں اپنے کمالات پر کبھی ناز اور عُجب ہو، یا وہ اپنے تمام حالات میں کبھی بھی کبر وتعلّی اور نفس کے فریب میں مبتلا ہوں۔ خلاصہ یہ کہ جو کچھ بھی عطایاتِ ربانیہ سے تھا، انسانی کسب وریاضت کے دائرے میں نہیں تھا، (ارشادِ خداوندی ہے): ’’وہ اللہ خوب جانتا ہے جہاں رکھتا ہے اپنے پیغامات‘‘ (سورۂ اَنعام:۱۲۴) نیز اِرشاد ہے: ’’لیکن اللہ چن لیتا ہے اپنے رسولوں میں سے جس کو چاہے۔‘‘

(خاتم النبیین ص:۳۳۴، فقرہ:۱۳۰)

یہاں دو باتوں پر تنبیہ کردینا ضروری ہے۔

اوّل: ... یہ کہ محض اعلیٰ اوصاف وخصائص کو خصائصِ نبوّت نہیں کہا جاسکتا، اور نہ کوئی شخص محض اعلیٰ اوصاف وخصائص کی بنا پر نبوّت کا مستحق ہوجاتا ہے، کیونکہ نبوّت ایک موہبتِ اِلٰہی اور عطیۂ ربانی ہے، یہ کسب وریاضت سے حاصل نہیں ہوتی، اس لئے انبیائے کرام علیہم السلام کے اوصاف وخصائص کو دیکھ کر کسی کو یہ غلط فہمی نہیں ہونی چاہئے کہ جس شخص میں ان اوصاف کا کچھ حصہ پایا جاتا ہو یا جو شخص ان اوصاف کا مدعی ہو، اسے نبی بھی مان لیا جائے۔

197

اس کی وجہ یہ ہے کہ نبوّت اور چیز ہے اور کمالاتِ نبوّت دُوسری چیز ہے۔ بعض اربابِ قوّتِ قدسیہ میں کمالاتِ نبوّت کے مشابہ کمالات پائے جاتے ہیں، مگر جب تک کسی کو منصبِ نبوّت پر کھڑا نہ کیا جائے، وہ نبی نہیں ہوتا۔ پس نبوّت کی علت اِرادۂ خداوندی ہے، جو کسی شخص کے مقامِ نبوّت پر فائز کرنے سے متعلق ہوتا ہے۔ خلاصہ یہ کہ ہر نبی صاحبِ قوّتِ قدسیہ ہوتا ہے، مگر ہر وہ شخص جو قوّتِ قدسیہ کا حامل ہو، ضروری نہیں کہ نبی بھی ہو، اور پھر نبی اور غیرنبی کے اوصاف میں محض ظاہری وصوری مشابہت ہوسکتی ہے، ورنہ غیرنبی کے اوصاف کبھی نبی کے اوصاف کے ہم سنگ نہیں ہوسکتے۔

دوم: ... یہ کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد نبوّت کا دروازہ بند ہے، مگر کمالاتِ نبوّت جاری ہیں، جیسا کہ:’’لَو کان بعدی نبی لکان عمر‘‘ میں اس کی تقریر گزرچکی ہے، اس لئے نبوّت کے اوصاف وخصائص کی بحث تمام تر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے پہلے انبیائے کرام ...علیٰ نبینا وعلیہم الصلوات والتسلیمات... سے متعلق ہے۔ آنحضرت خاتم الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد یہ بحث ہی غیرمتعلق ہے کہ فلاں شخص اپنے اوصاف وخصائص کے اِعتبار سے نبی ہوسکتا ہے یا نہیں؟

جس طرح ’’لا اِلٰہ اِلَّا اللہ‘‘ کے بعد کسی مدعیٔ اُلوہیت دجال کا دعویٰ لائقِ اِلتفات نہیں، کیونکہ یہ چیز ہی خارج اَزاِمکان ہے، ٹھیک اسی طرح ’’لا نبی بعدی‘‘ کے بعد کسی مدعیٔ نبوّت کا دعویٰ بھی لائقِ اِلتفات نہیں، کیونکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد حصولِ نبوّت بھی خارج اَزاِمکان ہے، اور جو شخص اس کے اِمکان کا قائل ہو وہ خارج اَزاِسلام ہے، جیسا کہ قبل ازیں مدلل گزرچکا ہے، واللہ الموفق!

جس شخص کو اللہ تعالیٰ اپنے بندوں تک اپنے اَحکام وپیغام پہنچانے کے لئے منتخب کرتے ہیں اور اسے وحی سے سرفراز اور معجزات سے مؤید فرماتے ہیں، اسے نبی ورسول کہا جاتا ہے، ’’شرح عقائد نسفی‘‘ میں ہے:

’’الرسول إنسان بعثہ اللہ تعالٰی إلی الخلق لتبلیغ الأحکام ــــــــــ وقد یشترط فیہ الکتاب
198

بخلاف النبی۔‘‘

(ص:۱۶)

ترجمہ: ... ’’رسول وہ اِنسان ہے جس کو اللہ تعالیٰ اَحکامِ شرعیہ کی تبلیغ کے لئے مبعوث فرمائیں، اور کبھی رسول میں کتاب کا لانا شرط قرار دِیا جاتا ہے، بخلاف نبی کے کہ اس کے لئے شرط نہیں۔‘‘

سوم: ... نبی اور رسول عام طور پر ہم معنی اِستعمال ہوتے ہیں، مگر جمہور محققین کے نزدیک دونوں کے درمیان عموم وخصوص کی نسبت ہے، نبی عام ہے اور رسول خاص، نبی تو ہر صاحبِ وحی کو کہتے ہیں، خواہ اسے نئی کتاب، نئی شریعت یا نئی اُمت دی گئی ہو، یا نہ دی گئی ہو، اور رسول خاص اس نبی کو کہتے ہیں جسے نئی کتاب یا نئی شریعت دی گئی ہو، یا اسے نئی قوم کی طرف بھیجا گیا ہو، جیسا کہ حضرت اِسماعیل علیہ السلام کو قومِ جرہم کی طرف مبعوث کیا گیا تھا۔ حضرت مولانا محمد انور شاہ کشمیری رحمۃ اللہ علیہ آیت ’’خاتم النبیین‘‘ کی تفسیر کرتے ہوئے فرماتے ہیں:

’’اور یاد رہے کہ رسول اور نبی کے درمیان نسبت تباین نہیں ہے کیونکہ اِرشادِ خداوندی: ’’وَکَانَ رَسُوْلًا نَّبِیًّا‘‘ (مریم:۵۱) میں دونوں جمع ہیں، اور ان دونوں کے درمیان نسبتِ مساوات بھی نہیں، کیونکہ اِرشادِ خداوندی: ’’وَمَآ اَرْسَلْنَا مِنْ قَبْلِکَ مِنْ رَّسُوْلٍ وَّلَا نَبِیٍّ...۔‘‘ (الحج:۵۲) میں دونوں کو بالمقابل ذِکر فرمایا ہے، پس جب یہ دونوں نسبتیں نہیں ہیں تو لامحالہ کوئی اور نسبت ہوگی، اور وہ نسبت اسی آیتِ کریمہ:’’مَا کَانَ مُحَمَّدٌ اَبَآ اَحَدٍ مِّنْ رِّجَالِکُمْ وَلٰـکِنْ رَّسُوْلَ اللہِ وَخَاتَمَ النَّبِیّٖنَ‘‘ (الاحزاب:۴۰) سے مستفاد ہوتی ہے کہ نبی عام ہے اور رسول خاص۔

رسول، جمہور علماء کے نزدیک وہ ہے جو کتاب یا شریعتِ جدیدہ رکھتا ہو، یا شریعتِ قدیمہ کے ساتھ قومِ جدید کی جانب مبعوث کیا گیا ہو، جیسا کہ حضرت اسماعیل علیہ السلام قبیلہ جرہم کی جانب

199

مبعوث ہوئے۔ اور نبی وہ ہے جو صاحبِ وحی ہو، خواہ کتابِ جدید یا شریعتِ جدیدہ یا قومِ جدید رکھتا ہو یا نہ رکھتا ہو۔ رسول اور نبی کے درمیان عموم وخصوص کی نسبت کے اس آیتِ کریمہ سے مستفاد ہونے کی وجہ یہ ہے کہ اگر دونوں کے درمیان تساوی کی نسبت ہوتی تو یہاں ضمیر لوٹانے کا موقع تھا، نہ کہ اسمِ ظاہر لانے کا۔ اندریں صورت ’’خاتم النبیین‘‘ کے بجائے ’’خاتمہم‘‘ فرمایا جاتا، اور خاتم النبیین میں جو اِسمِ ظاہر لائے وہ اسی نکتے کے لئے لائے تاکہ کلمۂ عموم سے ہر قسم کی نبوّت کا اِختتام سمجھا جائے۔ اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد نبوّت کے بالکلیہ منقطع ہونے کی صاف صاف تصریح ہوجائے، پس یہ طرز نبی کے عموم اور رسول کے خصوص پر دَلالت کرتا ہے۔ اور معلوم ہے کہ یہ عام، خاص کے بغیر اسی صورت میں پایا جاتا ہے جبکہ وحی تو ہو مگر بغیر کتاب یا شریعتِ جدیدہ کے، اسی مادّہ اِفتراق کی خاطر عنوان کو ضمیر لانے کے بجائے اسمِ ظاہر کی طرف تبدیل فرمایا۔ پس اس نکتۂ جزیلہ کو سمجھ لینے کے بعد معلوم ہوگا کہ یہ آیتِ کریمہ جس طرح نبوّتِ تشریعیہ کے اِنقطاع پر نصِ قطعی ہے، اس سے کہیں بڑھ کر نبوّتِ غیرتشریعیہ کے اِنقطاع پر نصِ قطعی ہے، اس لئے کہ ضمیر کے بجائے اسمِ ظاہر اسی مقصد کے لئے واقع ہوا ہے کہ لفظ ’’خاتم النبیین‘‘ سے ہر قسم کی نبوّتِ عامہ کے منقطع ہونے کی صراحت کردی جائے۔‘‘

(خاتم النبیین فقرہ:۱۸)

کیا مرزا قادیانی فاتر العقل تھا؟

سوال۶: ... کیا مرزا غلام احمد قادیانی صحیح العقل انسان تھا یا اس کا دِماغی توازن مشکوک تھا؟ اگر وہ مختل الدماغ اور فاترالعقل آدمی تھا تو اس کی تحریر وتقریر سے یا اس کے

200

علاوہ کیا شواہد موجود ہیں؟ مکمل حوالہ جات تحریر فرمائیں۔

جواب: ... مرزا غلام احمد اور اس کے پیروؤں نے اس کا اِقرار کیا ہے کہ مرزا صاحب کو ’’مراق‘‘ کا عارضہ تھا، اس اِقرار کے ثبوت میں مندرجہ ذیل حوالے ملاحظہ کئے جائیں:

الف: ... ’’دیکھو! میری بیماری کی نسبت بھی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے پیش گوئی کی تھی جو اس طرح وقوع میں آئی، آپ نے فرمایا تھا کہ مسیح آسمان پر ہے، جب اُترے گا تو دو زَرد چادریں اس نے پہنی ہوئی ہوں گی، تو اسی طرح مجھ کو دو بیماریاں ہیں، ایک اُوپر کے دھڑ کی اور ایک نیچے کے دھڑ کی، یعنی مراق اور کثرتِ بول۔‘‘

(مرزا صاحب کا اِرشاد مندرجہ رسالہ ’’تشحیذ الاذہان‘‘ جون۱۹۰۶ء، اخبار ’’بدر‘‘ ۷؍جون ۱۹۰۲ء بحوالہ قادیانی مذہب کا علمی محاسبہ)

ب: ... ’’میرا تو یہ حال ہے کہ باوجود اس کے کہ دو بیماریوں میں ہمیشہ مبتلا رہتا ہوں، پھر بھی آج کل میری مصروفیت کا یہ حال ہے کہ رات کو مکان کے دروازے بند کرکے بڑی بڑی رات تک بیٹھا کام کرتا رہتا ہوں، حالانکہ زیادہ جاگنے سے مراق کی بیماری ترقی کرتی جاتی ہے، اور دورانِ سر کا دورہ زیادہ ہوجاتا ہے، مگر میں اس بات کی پروا نہیں کرتا اور اس کام کو کئے جاتا ہوں۔‘‘

(ملفوظات ج:۲ ص:۳۷۶)

ج: ... ’’حضرت خلیفۃ المسیح الاوّل نے حضرت مسیحِ موعود علیہ السلام (مرزا غلام احمد) سے فرمایا کہ: حضور! غلام نبی کو مراق ہے، تو حضور علیہ السلام نے فرمایا کہ: ایک رنگ میں سب نبیوں کو مراق ہوتا ہے اور مجھ کو بھی ہے۔‘‘

(سیرۃالمہدی ج:۳ ص:۳۰۴)

اس اِقرار واِعتراف سے قطع نظر مرزا صاحب میں مراق کی علامات بھی کامل طور

201

پر جمع تھیں، مرزا بشیر احمد ایم اے ’’سیرۃ المہدی‘‘ میں اپنے ماموں ڈاکٹر میر محمد اسماعیل صاحب کی ’’ماہرانہ شہادت‘‘ نقل کرتے ہیں:

د: ... ’’ڈاکٹر میر محمد اسماعیل صاحب نے مجھ سے بیان کیا کہ میں نے کئی دفعہ حضرت مسیحِ موعود علیہ السلام (مرزا غلام احمد) سے سنا ہے کہ مجھے ہسٹریا ہے، بعض اوقات آپ مراق بھی فرمایا کرتے تھے، لیکن دراصل بات یہ ہے کہ آپ کو دِماغی محنت اور شبانہ روز تصنیف کی مشقت کی وجہ سے بعض ایسی عصبی علامات پیدا ہوجایا کرتی تھیں جو ہسٹریا (اور مراق) کے مریضوں میں بھی عموماً دیکھی جاتی ہیں، مثلاً کام کرتے کرتے یک دم ضعف ہوجانا، چکروں کا آنا، ہاتھ پاؤں کا سرد ہوجانا، گھبراہٹ کا دورہ ہوجانا، یا ایسا معلوم ہونا کہ ابھی دم نکلتا ہے، یا کسی تنگ جگہ یا بعض اوقات زیادہ آدمیوں میں گھر کر بیٹھنے سے دِل کا سخت پریشان ہونے لگنا وغیر ذالک۔ (مثلاً: بدہضمی، اِسہال، بدخوابی، تفکر، اِستغراق، بدحواسی، نسیان، ہذیان، تخیل پسندی، طویل بیانی، اِعجازنمائی، مبالغہ آرائی، دشنام طرازی، فلک پیما دعوے، کشف وکرامات کا اِظہار، نبوّت ورِسالت، فضیلت وبرتری کا اِدّعا، خدائی صفات کا تخیل وغیرہ وغیرہ، اس قسم کی بیسیوں مراقی علامات مرزا صاحب میں پائی جاتی تھیں ...ناقل)۔‘‘

(سیرۃ المہدی ج:۲ ص:۵۵)

مرزا صاحب کو مراق کا عارضہ غالباً موروثی تھا، ڈاکٹر شاہ نواز قادیانی لکھتے ہیں:

ہ: ... ’’جب خاندان سے اس کی ابتدا ہوچکی تھی تو پھر اگلی نسل میں بے شک یہ مرض منتقل ہوا، چنانچہ حضرت خلیفۃ المسیح ثانی نے فرمایا کہ مجھ کو بھی کبھی کبھی مراق کا دورہ ہوتا ہے۔‘‘

(ریویو آف ریلیجنز بابت اگست ۱۹۲۶ء ص:۱۱)

202

ڈاکٹر صاحب کے نزدیک مرزا صاحب کے مراق کا سبب اعصابی کمزوری تھی، لکھتے ہیں:

’’واضح ہو کہ حضرت صاحب کی تمام تکالیف مثلاً: دورانِ سر، دردِ سر، کمی خواب، تشنج دِل، بدہضمی، اِسہال، کثرتِ پیشاب اور مراق وغیرہ کا صرف ایک ہی باعث تھا اور وہ عصبی کمزوری تھا۔‘‘

(ریویو، مئی ۱۹۲۷ء ص:۲۶)

مراق کی علامات میں اہم ترین علامت یہ بیان کی گئی ہے کہ

’’مالیخولیا کا کوئی مریض خیال کرتا ہے کہ میں بادشاہ ہوں، کوئی یہ خیال کرتا ہے کہ میں خدا ہوں، کوئی یہ خیال کرتا ہے کہ میں پیغمبر ہوں۔‘‘

(بیاض نورالدین ج:۱۰ ص:۲۱۲)

یہ تمام علامات مرزا صاحب میں بدرجہ اتم پائی جاتی تھیں، انہوں نے ’’آریوں کا بادشاہ‘‘ ہونے کا دعویٰ کیا، نبوّت سے خدائی تک کے دعوے بڑی شدّومدّ سے کئے، انبیائے کرام سے برتری کا دَم بھرا، دس لاکھ معجزات کا اِدّعا کیا، مخلوق کو اِیمان لانے کی دعوت دی، اور نہ ماننے والوں کو منکر، کافر اور جہنمی قرار دِیا، انبیاء علیہم السلام کی تنقیص کی، صحابہ کرامؓ کو نادان اور اَحمق کہا، اولیائے اُمت پر سب وشتم کیا، مفسرین کو جاہل کہا، محدثین پر طعن کیا، علمائے اُمت کو یہودی کہا، پوری اُمت کو گمراہ کہا، اور فحش کلمات سے ان کی تواضع کی، یہ کام کسی مجدّد یا ولی کا نہیں ہوسکتا، بلکہ اس کو مراق کی کرشمہ سازی ہی کہا جاسکتا ہے۔

علاوہ ازیں مرزا صاحب نے بعض ایسے دعوے کئے جن کو سن کر ان صاحب کے خللِ دِماغ کا شبہ ہوتا ہے۔ ادنیٰ فہم کا آدمی بھی سمجھ سکتا ہے کہ کلمہ طیبہ ’’لا اِلٰہ اِلَّا اللہ‘‘ میں اللہ تعالیٰ کے سوا کسی خدا کی گنجائش نہیں، اب اگر ایک شخص سرِبازار کھڑا ہوکر یہ تقریر کرے کہ: ’’اس میں اللہ تعالیٰ کے ماسوا خدا کی نفی کی گئی ہے، اور فقیر، اللہ تعالیٰ کی اطاعت میں اس قدر کامل اور فنا فی اللہ کے مقام میں اس قدر راسخ ہے کہ میرا وجود بعینہٖ خدا کا وجود ہے، اس لئے میرے دعویٔ خدائی سے لا اِلٰہ کی مہر نہیں ٹوٹتی، بلکہ خدا کی چیز خدا ہی کے پاس رہتی

203

ہے۔‘‘ اور یہ کہ: ’’میں نے خدائی کمالات خدا میں گم ہوکر پائے ہیں، میرا وجود درمیان میں نہیں، اس لئے میرے خدا ہونے سے لا اِلٰہ اِلَّا اللہ کی صداقت میں فرق نہیں آتا۔‘‘ تو فرمائیے! اس فصیح البیان مقرّر کے بارے میں عقلاء کیا فیصلہ کریں گے؟ کیا ’’لا اِلٰہ اِلَّا اللہ‘‘ کی اس عجیب وغریب ’’تفسیر‘‘ کو کرشمۂ مراق نہیں قرار دِیا جائے گا؟

اب دیکھئے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا خاتم النبیین ہونا، اُمتِ اسلامیہ کا قطعی عقیدہ ہے، اور اس کے معنی آج تک یہی سمجھے گئے، جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے متواتر اِرشاد: ’’أنا خاتم النبیّین لَا نبی بعدی‘‘ میں بیان فرمائے، یعنی میں آخری نبی ہوں، میرے بعد کسی کو نبوّت عطا نہیں کی جائے گی، لیکن ایک شخص سرِ بازار کھڑا ہوکر ’’لَا نبی بعدی‘‘ کی یہ تقریر کرتا ہے:

’’اگر کوئی شخص اسی خاتم النبیین میں ایسا گم ہو کہ باعث نہایت اِتحاد اور نفی غیریت کے اسی کا نام پالیا ہو اور صاف آئینے کی طرح محمدی چہرے کا اس میں اِنعکاس ہوگیا ہو، تو وہ بغیر مہر توڑنے کے نبی کہلائے گا، کیونکہ وہ محمد ہے، گو ظلّی طور پر، پس باوجود اس شخص کے دعویٔ نبوّت کے، جس کا نام ظلّی طور پر محمد اور اَحمد رکھا گیا ہے، پھر بھی سیّدنا محمد خاتم النبیین ہی رہا کیونکہ یہ محمد ثانی اسی محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) کی تصویر اور اسی کا نام ہے۔‘‘

(ایک غلطی کا اِزالہ ص:۵، رُوحانی خزائن ج:۱۸ ص:۲۰۹)

اور پھر وہ اس فلسفے کو اپنی ذات پر چسپاں کرتے ہوئے کہتا ہے:

’’چونکہ میں ظلّی طور پر محمد ہوں، پس اس طور سے خاتم النبیین کی مہر نہیں ٹوٹی، کیونکہ محمد کی نبوّت محمد تک ہی محدود رہی۔‘‘

(ایک غلطی کا اِزالہ ص:۵، رُوحانی خزائن ج:۱۸ ص:۲۱۲)

اور کہ:

’’تمام کمالاتِ محمدی مع نبوّتِ محمدیہ کے میرے آئینۂ

204

ظلیت میں منعکس ہیں، تو پھر کونسا الگ انسان ہوا جس نے علیحدہ طور پر نبوّت کا دعویٰ کیا؟‘‘

(ایضاً)

اور کہ:/p>

’’میرا نفس درمیان نہیں ہے، بلکہ محمد مصطفی ہے، اسی لحاظ سے میرا نام محمد اور اَحمد ہوا، پس نبوّت اور رِسالت کسی دُوسرے کے پاس نہیں گئی، محمد کی چیز محمد کے پاس ہی رہی۔‘‘

(رُوحانی خزائن ج:۱۸ ص:۲۱۶)

بتائیے! اس کی توجیہ اس کے سوا اور کیا ہوسکتی ہے کہ یہ ’’سلطان القلم‘‘ غلبۂ سودا اور جوشِ مراق کا شکار ہے۔ مراق کی ایک علامت یہ بھی ہے کہ مریض کو اپنے جذبات وخیالات پر قابو نہیں رہتا، جو بات کسی وقت اس کے خیال میں آجائے، اسی قطعی سمجھ کر ہانک دیتا ہے، اس لئے اس کی باتیں اکثر بے ربط، انمل اور بے جوڑ ہوتی ہیں، اور ان میں کثرت سے تناقض پایا جاتا ہے، مرزا صاحب لکھتے ہیں:

’’جو پرلے درجے کا جاہل ہو، جو اپنے کلام میں متناقض بیانوں کو جمع کرے، اور اس پر اِطلاع نہ رکھے ...الخ۔‘‘

(حاشیہ ست بچن ص:۲۹، رُوحانی خزائن ج:۱۰ ص:۱۴۱)

’’ظاہر ہے کہ کسی سچیار اور عقل مند اور صاف دِل انسانوں کی کلام میں ہرگز تناقض نہیں ہوتا، ہاں اگر کوئی پاگل اور مجنون اور ایسا منافق ہو ...الخ۔‘‘

(ست بچن ص:۳۰، ۳۱، رُوحانی خزائن ج:۱۰ ص:۱۴۲)

’’مگر یہ بات تو جھوٹا منصوبہ اور یا کسی مراقی عورت کا وہم تھا۔‘‘

(حاشیہ کتاب البریہ ص:۲۳۸، ۲۳۹، رُوحانی خزائن ج:۱۳)

مرزا صاحب کے کلام، ان کے دعوؤں اور ان کی تحقیقات میں اس کثرت سے تناقض پایا جاتا ہے کہ اس کا اِحاطہ مشکل ہے، ان کا شاید ہی کوئی نظریہ ایسا ہو جس کا توڑ خود

205

انہی کی تحریر میں موجود نہ ہو۔ یہاں مرزا صاحب کے تناقضات کی چند مثالیں بطور نمونہ پیش کی جاتی ہیں:

۱: ... دورِ سابق میں نبوّت ثمرۂ اِتباع تھی یا نہیں؟

’’بنی اِسرائیل میں اگرچہ بہت نبی آئے مگر ان کی نبوّت موسیٰ کی پیروی کا نتیجہ نہ تھی، بلکہ وہ نبوتیں براہِ راست خدا کی ایک موہبت تھیں، حضرت موسیٰ کی پیروی کا اس میں ایک ذرّہ کچھ دخل نہ تھا۔‘‘

(حقیقۃ الوحی حاشیہ ص:۹۷، رُوحانی خزائن ج:۲۰ ص:۳۸۱)

اس کے برعکس ’’چشمہ مسیحی‘‘ میں لکھتے ہیں:

’’ایک بندہ خدا کا عیسیٰ نام، جس کو عبرانی میں یسوع کہتے ہیں، تیس برس تک موسیٰ رسول اللہ کی شریعت کی پیروی کرکے خدا کا مقرّب بنا اور مرتبۂ نبوّت پایا۔‘‘

(حاشیہ چشمہ مسیحی ص:۴۹، رُوحانی خزائن ج:۲۰ ص:۳۸۱)

۲: ... ایک نبی کا دُوسرے نبی کی پیروی قرآن کی رُو سے محال بھی ہے اور جائز بھی:

’’جو شخص کامل طور پر رسول اللہ کہلاتا ہے، وہ کامل طور پر دُوسرے نبی کا مطیع اور اُمتی ہوجانا نصوصِ قرآنیہ اور حدیثیہ کے رُو سے بکلی ممتنع ہے۔‘‘

(اِزالہ اوہام ص:۵۶۹، رُوحانی خزائن ج:۳ ص:۴۰۷)

’’حضرت عیسیٰ کی نسبت، جو موسیٰ سے کمتر اور اس کی شریعت کی پیرو تھے، اور خود کوئی کامل شریعت نہ لائے تھے، اور ختنہ اور مسائلِ فقہ اور وراثت اور حرمتِ خنزیر وغیرہ میں حضرت موسیٰ کی شریعت کے تابع تھے ...الخ۔‘‘

(دافع البلا ص:۴ حاشیہ، رُوحانی خزائن ج:۱۸ ص:۲۱۹)

206

۳: ... کسی نبی کا حضورِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا اُمتی ہونا قرآن سے ثابت بھی ہے اور کفر بھی:

’’قرآن شریف سے ثابت ہے کہ ہر ایک نبی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی اُمت میں داخل ہے، جیسا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: لتؤمنن بہ ولتنصرنہ ۔‘‘

(براہین پنجم، ضمیمہ ص:۱۳۳، رُوحانی خزائن ج:۲۱ ص:۳۰۰)

اس کے برعکس مرزا صاحب اپنی اس عبارت کی تردید کرتے ہوئے لکھتے ہیں:

’’جو شخص اُمتی کی حقیقت پر نظر ڈالے گا، وہ ببداہت سمجھ لے گا کہ حضرت عیسیٰ کو (آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم) کا اُمتی قرار دینا ایک کفر ہے۔‘‘

(براہین پنجم ضمیمہ ص:۱۹۲، رُوحانی خزائن ج:۲۱ ص:۳۶۴)

۴: ... یسوع خدا کا مقرّب نبی بھی تھا اور پاگل بھی:

’’ایک بندہ خدا کا عیسیٰ نام، جس کو عبرانی میں یسوع کہتے ہیں ...... خدا کا مقرّب بنا اور مرتبۂ نبوّت پایا۔‘‘

(حاشیہ چشمہ مسیحی ص:۴۹)

جبکہ ’’ست بچن‘‘ میں مرزا جی اپنی تردید کرتے ہوئے اس کے برعکس یسوع کو دیوانہ قرار دیتے ہوئے لکھتے ہیں:

’’یسوع درحقیقت بوجہ بیماری مرگی کے دیوانہ ہوگیا تھا۔‘‘

(حاشیہ ست بچن ص:۱۷۱، رُوحانی خزائن ج:۱ ص:۲۹۵)

۵: ... مرزا نے نبوّت حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی پیروی سے پائی یا شکمِ مادر میں؟

’’سو میں نے محض خدا کے فضل سے نہ اپنے کسی ہنر سے اس نعمت سے کامل حصہ پایا جو مجھ سے پہلے نبیوں اور رسولوں کو خدا کے برگزیدوں کو دی گئی تھی، اور میرے لئے اس نعمت کا پانا ممکن نہ تھا

207

اگر میں اپنے سیّد ومولیٰ فخرالانبیاء اور خیرالوریٰ حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کے راہوں کی پیروی نہ کرتا، سو میں نے جو کچھ پایا اس پیروی سے پایا۔‘‘

(حقیقۃ الوحی ص:۶۲، رُوحانی خزائن ج:۲۲ ص:۶۴)

تھوڑا سا آگے چل کر اس کے برعکس اپنی تردید کرتے ہوئے لکھتا ہے:

’’خدا تعالیٰ نے مجھے اس تیسرے درجے میں داخل کرکے وہ نعمت بخشی ہے کہ جو میری کوشش سے نہیں، بلکہ شکمِ مادر میں ہی مجھے عطا کی گئی ہے، میری تائید میں اس نے وہ نشان ظاہر فرمائے ہیں کہ آج کی تاریخ سے جو ۱۶؍جولائی ۱۹۰۶ء ہے، اگر میں ان کو فرداً فرداً شمار کروں تو میں خدا تعالیٰ کی قسم کھاکر کہہ سکتا ہوں کہ وہ تین لاکھ سے بھی زیادہ ہیں۔‘‘

(حقیقۃ الوحی ص:۷۰، رُوحانی خزائن ج:۲۲ ص:۷۰)

۶: ... مرزا کا زمانہ جلال کا بھی ہے اور نہیں بھی:

’’میرا آنا خدا کے کامل جلال کے ظہور کا وقت ہے اور میرے وقت میں فرشتوں اور شیاطین کا آخری جنگ ہے اور خدا اس وقت وہ نشان دِکھائے گا، جو اس نے کبھی دِکھائے نہیں، گویا خدا زمین پر خود اُتر آئے گا، جیسا کہ وہ فرماتا ہے:’’ھل ینظرون إلّا أن یأتیھم اللہ فی ظلل من الغمام‘‘ ......۔ خدا فرماتا ہے کہ میں زمین پر نازل ہوں گا اور وہ قہری نشان دِکھلاؤں گا کہ جب سے نسلِ آدم پیدا ہوئی ہے، کبھی نہیں دِکھلائے۔‘‘

(حقیقۃ الوحی ص:۱۵۴، رُوحانی خزائن ج:۲۲ ص:۱۵۸)

’’وہ زمانہ بھی آنے والا ہے کہ جب خدائے تعالیٰ مجرمین کے لئے شدّت اور عنف اور قہر اور سختی کو اِستعمال میں لائے گا، اور حضرت مسیح علیہ السلام نہایت جلالیت کے ساتھ دُنیا پر اُتریں گے اور

208

تمام راہوں اور سڑکوں کو خس وخاشاک سے صاف کردیں گے اور کج اور ناراست کا نام ونشان نہ رہے گا اور جلالِ اِلٰہی گمراہی کے تخم کو اپنی تجلی قہری سے نیست ونابود کردے گا اور یہ زمانہ اس زمانے کے لئے بطور ارہاص واقع ہوا ہے یعنی اس وقت جلالی طور پر خدائے تعالیٰ اِتمامِ حجت کرے گا، اب بجائے اس کے جمالی طور پر یعنی رفق اور اِحسان سے اِتمام حجت کر رہا ہے۔‘‘

(براہین احمدیہ، حصہ چہارم ص:۵۰۵، رُوحانی خزائن ج:۱ ص:۳۱۷، ۳۱۸)

’’براہین احمدیہ‘‘ میں مرزا صاحب فرما رہے ہیں کہ ان کا زمانہ جلال کا نہیں جمال کا زمانہ ہے، جلالی زمانہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا ہوگا، اور مرزا صاحب کا زمانہ اس کے لئے بطورِ ارہاص ہے۔ لیکن ’’حقیقۃ الوحی‘‘ میں فرماتے ہیں کہ ان کا زمانہ جلال وقہر کا زمانہ ہے۔ لطف یہ ہے کہ دونوں باتیں آپ نے ’’وحیٔ قطعی‘‘ کے حوالے سے کہیں۔ اور لطف برلطف یہ کہ مرزا صاحب نے قرآنِ کریم کی آیت غلط نقل کی، اور اس کا ترجمہ بھی غلط کیا۔

مرزا صاحب کا یہ اِرشاد بھی دِلچسپ ہے کہ: ’’میرے وقت میں فرشتوں اور شیاطین کا آخری جنگ ہے‘‘ مرزا صاحب کو دُنیا سے رُخصت ہوئے قریباً صدی گزرچکی ہے، مگر دُنیا دیکھ رہی ہے کہ مرزا صاحب کی عالمِ وجود میں قدم رنجہ فرمائی سے دُنیا کے شر ہی میں اِضافہ ہوا، اور ہورہا ہے۔ اس سے واضح ہوتا ہے کہ مرزا صاحب نے ’’حقیقۃ الوحی‘‘ کی مندرجہ بالا عبارت میں جو کچھ لکھا ہے، اسے شاعری کہہ سکتے ہیں، یا مراقی تخیلات۔

اور مرزا صاحب کا یہ ارشاد کہ: ’’خدا اس وقت وہ نشانات ظاہر کرے گا جو اس نے کبھی نہیں دِکھائے‘‘ یہ بھی مرزا صاحب کے جوش مراق کا کرشمہ ہے اور اس خالص غلط بیانی سے ان کا مدعا تمام انبیائے کرام پر اپنی فضیلت ظاہر کرنا ہے، اس کی بحث مرزا صاحب کے دعویٔ نبوّت میں آئے گی۔

۷: ... قرآنِ کریم کی آیت اور اپنے اِلہامات کے حوالے سے مسیح علیہ السلام کی دُنیا میں دوبارہ تشریف آوری کا اِقرار واِنکار:

209

’’عسٰی ربکم ان یرحم علیکم وان عدتم عدنا وجعلنا جھنم للکافرین حصیرًا‘‘ ...... یہ آیت (آیت سے مرزا صاحب کا اِلہام مراد ہے، قرآنِ کریم کی آیت اس طرح نہیں ...ناقل) اس مقام میں حضرت مسیح کے جلالی طور پر ظاہر ہونے کا اِشارہ ہے، یعنی اگر طریق رفق اور نرمی اور لطف احسان کو قبول نہیں کریں گے اور حق محض جو دلائلِ واضحہ اور آیاتِ بینہ سے کھل گیا ہے، اس سے سرکش رہیں گے تو وہ زمانہ بھی آنے والا ہے کہ جب ......۔ حضرت مسیح علیہ السلام نہایت جلالیت کے ساتھ دُنیا پر اُتریں گے۔‘‘

(براہین احمدیہ، حصہ چہارم ص:۵۰۵، رُوحانی خزائن ج:۱ ص:۳۱۷)

اس کے برعکس ’’حقیقۃ الوحی‘‘ میں لکھتے ہیں:

’’یہ اسی قسم کا تناقض ہے کہ جیسے براہین احمدیہ میں، میں نے یہ لکھا تھا کہ مسیح ابنِ مریم آسمان سے نازل ہوگا، مگر بعد میں یہ لکھا کہ آنے والا مسیح میں ہی ہوں۔ اس تناقض کا بھی یہی سبب تھا کہ اگرچہ خدا تعالیٰ نے براہین احمدیہ میں میرا نام عیسیٰ رکھا اور یہ بھی مجھے فرمایا کہ تیرے آنے کی خبر خدا اور رسول نے دی تھی ...... لیکن بعد اس کے اس بارے میں بارش کی طرح وحی اِلٰہی نازل ہوئی کہ وہ مسیحِ موعود جو آنے والا تھا تو ہی ہے۔‘‘

(حقیقۃ الوحی ص:۱۴۸، ۱۴۹، رُوحانی خزائن ج:۲۲ ص:۱۵۲، ۱۵۳)

’’اِعجاز احمدی‘‘ میں مرزا صاحب مسلمانوں کو صلواتیں سناکر پوچھتے ہیں کہ میں نے ’’براہین احمدیہ‘‘ میں کہاں لکھا ہے کہ مسیحِ موعود کا دوبارہ آنا وحی اِلٰہی سے بیان کرتا ہوں؟ ’’براہین‘‘ کی عبارتیں قارئین کے سامنے ہیں جن میں قرآن کی آیت اور اپنے اِلہامات کے حوالے سے مرزا صاحب نے مسیح علیہ السلام کی تشریف آوری کا عقیدہ لکھا تھا، لیکن ’’اِعجازِ احمدی‘‘ میں مرزا صاحب وحی کا اِنکار فرما رہے ہیں، ان کے اس اِنکار کی کیا توجیہ کی

210

جائے؟ کیا وہ قرآنِ کریم کو اس زمانے میں سمجھنے کی اِستعداد سے محروم تھے؟ یہ بھی مرزا صاحب کے جوشِ مراق کا کرشمہ ہے اور اس خالص غلط بیانی سے ان کا مدعا تمام انبیائے کرام پر اپنی فضیلت ظاہر کرنا ہے۔

۸: ... حیاتِ مسیح کا عقیدہ قرآن سے ثابت ہے اور شرکِ عظیم بھی:

’’ھو الذی أرسل رسولہ بالھدٰی ودین الحق لیظھرہ علی الدِّین کلہ‘‘ یہ آیت جسمانی اور سیاستِ ملکی کے طور پر حضرت مسیح کے حق میں پیش گوئی ہے، اور جس غلبہ کاملہ دِینِ اسلام کا وعدہ دِیا گیا ہے، وہ غلبہ مسیح کے ذریعے سے ظہور میں آئے گا، اور جب حضرت مسیح علیہ السلام دوبارہ اس دُنیا میں تشریف لائیں گے تو ان کے ہاتھ سے دِینِ اسلام جمیع آفاق اور اَقطار میں پھیل جائے گا۔‘‘

(براہین احمدیہ، حصہ چہارم ص:۴۹۸، ۴۹۹، رُوحانی خزائن ج:۱ ص:۳۱۳)

اس کے برعکس مرزا صاحب ’’حقیقۃ الوحی‘‘ میں لکھتے ہیں:

’’فمن سوء الأدب أن یقال أن عیسٰی ما مات إن ھو إلّا شرک عظیم‘‘ (ترجمہ: پس یہ نہایت گستاخی ہے کہ کہا جائے کہ عیسیٰ علیہ السلام مرے نہیں، یہ عقیدہ شرکِ عظیم نہیں تو کیا ہے؟)۔‘‘

(الاستفتاء، ضمیمہ حقیقۃ الوحی ص:۳۹، رُوحانی خزائن ج:۲۲ ص:۶۶۰)

۹: ... مرزا کے اِلہام سے حیاتِ مسیح بھی ثابت ہے اور وفات بھی:

’’...... لیکن اس عاجز پر ظاہر کیا گیا ہے کہ یہ خاکسار ...... مسیح کی پہلی زندگی کا نمونہ ہے اور اس عاجز کی فطرت اور مسیح کی فطرت باہم نہایت ہی متشابہ واقع ہوئی ہے ...... سو چونکہ اس عاجز کو حضرتِ مسیح سے مشابہتِ تامہ ہے اس لئے خداوند کریم نے مسیح کی پیش گوئی میں ابتدا سے اس عاجز کو بھی شریک کر رکھا ہے، یعنی

211

حضرت مسیح پیش گوئی متذکرہ بالا کا ظاہری اور جسمانی طور پر مصداق ہے اور یہ عاجز رُوحانی اور معقولی طور پر اس کا محل اور مورد ہے۔‘‘

(براہین حصہ چہارم ص:۴۹۹، رُوحانی خزائن)

اس کے برعکس ’’اِعجازِ احمدی‘‘ میں لکھتے ہیں:

’’اس وقت کے نادان مخالف بدبختی کی طرف ہی دوڑتے ہیں اور شقاوت سر پر سوار ہے، باز نہیں آتے، کیا کیا اِعتراض بنا رکھے ہیں، مثلاً کہتے ہیں کہ مسیحِ موعود کا دعویٰ کرنے سے پہلے براہین احمدیہ میں عیسیٰ علیہ السلام کے آنے کا اِقرار موجود ہے، اے نادانو! اپنی عاقبت کیوں خراب کرتے ہو؟ اس اِقرار میں کہاں لکھا ہے کہ یہ خدا کی وحی سے بیان کرتا ہوں، (براہین احمدیہ کی عبارت ناظرین کے سامنے ہے، جس میں مرزا صاحب نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی آمدِ ثانی کو قرآنِ کریم کی آیت اور اپنے دو اِلہاموں کے حوالے سے لکھا ہے، لیکن اِعجازِ احمدی میں ’’وحی‘‘ کا اِنکار کر رہے ہیں۔ یا تو مرزا صاحب قرآن کو اور اپنے اِلہامات کو وحی نہیں سمجھتے، یا جوشِ مراق میں بھول گئے ...ناقل)، اور مجھے کب اس بات کا دعویٰ ہے کہ میں عالم الغیب ہوں، جب تک مجھے خدا نے اس طرف توجہ نہ دی اور بار بار نہ سمجھایا کہ تو مسیحِ موعود ہے اور عیسیٰ فوت ہوگیا ہے تب تک میں اسی عقیدے پر قائم رہا جو تم لوگوں کا عقیدہ ہے۔‘‘

(اعجازِ احمدی ص:۶)

لیکن ’’اِعجازِ احمدی‘‘ میں مرزا صاحب وحی کا اِنکار فرما رہے ہیں، ان کے اس اِنکار کی کیا توجیہ کی جائے؟ کیا وہ قرآنِ کریم کو اس زمانے میں سمجھنے کی اِستعداد سے محروم تھے؟ یہ بھی مرزا صاحب کے جوشِ مراق کا کرشمہ ہے اور اس خالص غلط بیانی سے ان کا مدعا تمام انبیائے کرام پر اپنی فضیلت ظاہر کرنا ہے۔

212

مرزا کا چال چلن اور اخلاقی کردار

سوال۷: ... کیا مرزا غلام احمد کا چال چلن اور اَخلاقی کردار شک وشبہ سے بالاتر تھا؟ اگر ایسا نہیں تو اس کا کیا ثبوت ہے؟ مع حوالہ جات تحریر فرمائیں۔

جواب: ... مرزا صاحب کی اُمت ان کو مسیحِ زماں ومہدیٔ دوراں وغیرہ وغیرہ نہ معلوم کیا کیا خطابات دیتی ہے، لیکن مرزا صاحب کی سیرت وکردار کا جو مرقع خود مرزا صاحب اور ان کی تحریروں کی روشنی میں ہمارے سامنے آتا ہے وہ کسی شریف انسان کا بھی نہیں ہوسکتا، خواہ وہ غیرمسلم ہی ہو۔ حضراتِ انبیائے کرام علیہم السلام اور ان کے سچے متبعین حضرات اولیائے اُمت کے ساتھ مرزا صاحب کا موازنہ تو ہمارے نزدیک ان اکابر سے بڑی زیادتی اور بے اِنصافی ہے۔ مرزا صاحب کی اخلاقی حالت کے چند نمونے ملاحظہ فرمائیے:

حرام خوری: ... ایک غیرمسلم بھی ناجائز اور ناپاک مال کے اِستعمال کو اِنسانی شرافت سے فروتر سمجھتا ہے، لیکن مرزا صاحب نجس ترین مال کے کھانے میں کوئی مضائقہ نہیں سمجھتے تھے۔

۱: ... مرزا بشیر احمد صاحب ’’سیرۃ المہدی‘‘ میں رقم طراز ہیں:

’’بیان کیا مجھ سے میاں عبداللہ سنوری نے کہ ایک دفعہ انبالہ کے ایک شخص نے حضرت صاحب سے فتویٰ دریافت کیا کہ میری ایک بہن کنچنی تھی، اس نے اس حالت میں بہت سا روپیہ کمایا پھر وہ مرگئی، اور مجھے اس کا ترکہ ملا، مگر بعد میں مجھے اللہ تعالیٰ نے توبہ اور اِصلاح کی توفیق دی، اب میں اس مال کو کیا کروں؟ حضرت صاحب نے جواب دیا کہ ہمارے خیال میں اس زمانے میں ایسا مال اِسلام کی خدمت میں خرچ ہوسکتا ہے، اور پھر مثال دے کر بیان کیا کہ اگر کسی شخص پر کوئی سگِ دیوانہ حملہ کرے اور اس کے پاس کوئی

213

چیز اپنے دِفاع کے لئے نہ ہو، نہ سوٹی، نہ پتھر وغیرہ، صرف چند نجاست میں پڑے ہوئے پیسے اس کے قریب ہوں، تو کیا وہ اپنی جان کی حفاظت کے لئے ان پیسوں کو اُٹھاکر اس کتے کو نہ دے مارے گا؟ اور اس وجہ سے رُک جائے گا کہ یہ پیسے ایک نجاست کی نالی میں پڑے ہوئے ہیں؟ ہرگز نہیں! پس اس طرح اس زمانے میں جو اِسلام کی حالت ہے اسے مدِنظر رکھتے ہوئے ہم یہ کہتے ہیں کہ اس روپیہ کو خدمتِ اسلام میں لگایا جاسکتا ہے۔‘‘

(سیرۃ المہدی ج:۱ ص:۲۶۱، ۲۶۲، روایت نمبر:۲۷۲)

اور پھر مرزا صاحب نے صرف فتوے ہی پر اِکتفا نہیں فرمایا، بلکہ اس مالِ نجس کو منگواکر اِستعمال کیا، اور جب مولانا محمد حسین بٹالوی نے انہیں اس غیراَخلاقی حرکت پر ٹوکا تو مرزا صاحب ان کے اِلزام سے اِنکار تو نہیں کرسکے البتہ اس کی یہ تأویل فرمائی کہ:

’’تمام حقوق پر خدا تعالیٰ کا حق غالب ہے، اور ہر ایک جسم اور رُوح اور مال اسی کی ملک ہے، پھر جب انسان نافرمان ہوجاتا ہے تو اس کی ملک اصل مالک کی طرف عود کرتی ہے، پھر اس مالکِ حقیقی کو اِختیار ہوتا ہے کہ چاہے تو بلاتوسط رُسل نافرمانوں کے مالوں کو تلف کرے اور ان کی جانوں کو معرضِ عدم میں پہنچادے، اور یا کسی رسول کے واسطے سے یہ تجلی قہری نازل فرماوے، بات ایک ہی ہے۔‘‘

(آئینۂ کمالاتِ اسلام ص:۶۰۱، رُوحانی خزائن ج:۵ ص:۶۱۰)

مرزا صاحب کی اس توجیہ کا حاصل یہ ہے کہ:

الف: ... کنجری خدا تعالیٰ کی نافرمان تھی۔

ب: ... جو نافرمان ہو اس کا مال خدا کا ہوجاتا ہے۔

ج: ... اور میں خدا کا رسول ہوں، اس لئے میرے لئے یہ ’’عطیۂ خداوندی‘‘ حلال وطیب ہے، نتیجہ یہ کہ مرزا کے حق میں یہ کنجری کا مال نہیں خدا کا مال ہے، اور مرزا کے

214

لئے حلال وپاک ہے۔

۲: ... سیرۃ المہدی کی مندرجہ بالا روایت نقل کرنے کے بعد مرزا بشیر احمد صاحب لکھتے ہیں:

’’خاکسار عرض کرتا ہے کہ اس زمانے میں خدمتِ اسلام کے لئے بعض شرائط کے ماتحت سودی روپیہ کے خرچ کئے جانے کا فتویٰ بھی حضرت صاحب نے اسی اُصول پر دِیا ہے، مگر یہ یاد رکھنا چاہئے کہ یہ فتویٰ وقتی ہیں اور خاص شرائط کے ساتھ مشروط ہیں، ومن اعتدی فقد ظلم وحارب اللہ۔‘‘

(سیرۃ المہدی ج:۱ ص:۲۶۲)

مرزا بشیر احمد صاحب کی تصریح کے مطابق مرزا غلام احمد ’’خدمتِ اسلام‘‘ کے لئے زانیہ کی کمائی اور سود وغیرہ ہر گندے مال کو حلال کرلیتے تھے اور جن ’’خاص شرائط‘‘ کا صاحبزادہ صاحب نے ذِکر کیا ہے ان میں سے اہم تر شرط غالباً یہ ہوگی کہ ایسے اموال کو پاک او رمطہر کرنے کے لئے مرزا صاحب کی خدمت میں بھیجنا ضروری ہے، کیونکہ ’’خدمتِ اسلام‘‘ کا چارج صرف ان کے پاس ہے، کوئی شخص اپنے طور پر ’’خدمتِ اسلام‘‘ کی غلطی نہ کرے۔ ان دونوں روایتوں سے یہ بھی معلوم ہوا کہ قرآن وحدیث کی قطعی حرام کی ہوئی چیزوں کو حلال کرنے کا ُگر بھی مرزا صاحب جانتے ہیں۔

دیانت داری: ... کاروبار میں دیانت داری کو ہر شریف النفس آدمی ...خواہ وہ غیرمسلم ہی ہو... ضروری سمجھتا ہے، لیکن مرزا صاحب کی مجدّدیت کا آغاز ہی ابلہ فریبی، دھوکادہی اور وعدہ خلافی سے ہوتا ہے۔ مرزا صاحب نے اِشتہار پر اِشتہار دئیے کہ انہوں نے حقانیتِ قرآن اور صداقتِ اِسلام پر ایک ایسی کتاب تالیف کی ہے، جو تین سو براہین قطعیہ وعقلیہ پر (پچاس حصوں پر) مشتمل ہے، اور جس کے مطالعے کے بعد طالبِ حق کو قبولیتِ اسلام کے بغیر کوئی چارہ نہ ہوگا، اور کوئی اس کے جواب میں قلم نہیں اُٹھاسکے گا، لوگوں سے غربتِ اسلام کے نام پر اَپیل کی گئی کہ کتاب کی قیمت پیشگی جمع کرادیں تاکہ کتاب کی طباعت ہوسکے، چنانچہ اس ’’دستِ غیب‘‘ کے ذریعے مرزا صاحب نے ہزاروں

215

روپیہ جمع کرلیا، اور عام خریداروں کے علاوہ بہت سے نوابوں اور رئیسوں نے بمدِ اعانت خطیر رقم پیش کی۔ مرزا صاحب نے چار پانچ سال میں ...۱۸۸۰ء سے ۱۸۸۴ء... تک چار حصے شائع کئے، جن میں قرآنِ کریم کی حقانیت پر ایک بھی دلیل مکمل نہیں تھی، اصل موضوع پر کتاب کے شاید بیس صفحے بھی نہیں ہوں گے، باقی پوری کتاب زَرطلبی کے مسلسل اِشتہارات، گورنمنٹ کی مدح وخوشامد اور خود مرزا صاحب کی خودستائی وتعلّی آمیز اِلہامات سے پُر کردی گئی۔ یہ چار حصے مسلسل ۶۵۲ صفحے کی ایک جلد ہیں، چوتھے حصے کے آخر میں مرزا صاحب نے اِشتہار دے دیا کہ وہ چونکہ اب موسیٰ بن عمران کی طرح ’’وانی انا ربک‘‘ کی ندا سن کر کلیم اللہ بن گئے ہیں، اس لئے اب کتاب کی تکمیل کی ذمہ داری خود ان پر عائد نہیں ہوتی، بلکہ:

’’اب اس کتاب کا متولّی اور مہتمم ظاہراً وباطناً حضرت رَبّ العالمین ہے، اور کچھ معلوم نہیں کہ کس اندازہ اور مقدار تک اس کو پہنچانے کا اِرادہ ہے، اور سچ تو یہ ہے کہ جس قدر اس نے جلد چہارم تک انوار حقیقت اسلام ظاہر کئے ہیں یہ بھی اِتمامِ حجت کے لئے کافی ہیں۔‘‘

مطلب یہ کہ تین سو دلائل پر مشتمل بقیہ حصے چھاپنے کا وعدہ ختم، اور لوگوں سے روپیہ جو وصول کیا جاچکا ہے وہ ہضم...!

ایک طویل مدّت کے بعد مرزا صاحب نے ’’براہین‘‘ کا پانچواں حصہ لکھا، اس کے دیباچے میں لکھتے ہیں:

’’چار حصے اس کتاب کے چھپ کر پھر تخمیناً تیئس برس تک اس کتاب کا چھپنا ملتوی رہا ...... اور کئی مرتبہ دِل میں یہ درد پیدا بھی ہوا کہ براہین احمدیہ کے ملتوی رہنے پر ایک زمانۂ دراز گزر گیا، مگر باوجود کوششِ بلیغ اور باوجود اس کے کہ خریداروں کی طرف سے بھی کتاب کے مطالبے کے لئے سخت اِلحاح ہوا اور اس مدّتِ مدید، اور

216

اس قدر زمانۂ التوا میں مخالفوں کی طرف سے بھی وہ اِعتراض مجھ پر ہوئے کہ جو بدظنی اور بدزبانی کے گند سے حد سے زیادہ آلودہ تھے اور بوجہ اِمتدادِ مدّت درحقیقت وہ دِلوں میں پیدا ہوسکتے تھے۔‘‘

(ص:۱، رُوحانی خزائن ج:۲۱ ص:۲)

اسی دیباچے کے صفحہ:۷ پر مرزا صاحب لکھتے ہیں:

’’پہلے پچاس حصے لکھنے کا اِرادہ تھا، مگر پچاس سے پانچ پر اِکتفا کیا گیا، اور چونکہ پچاس اور پانچ کے عدد میں صرف ایک نقطے کا فرق ہے، اس لئے پانچ حصوں سے وہ وعدہ پورا ہوگیا۔‘‘

یہ تھی مرزا صاحب کی کاروباری دیانت کہ تیئس سال بعد پانچواں حصہ چھاپا جاتا ہے، اور پانچ پر صفر لگاکر پچاس پورے کردئیے جاتے ہیں، کیا اس دیانت داری کی مثال کسی بدنام سے بدنام تجارتی کمپنی کے یہاں بھی ملتی ہے؟

وَآخِرُ دَعْوَانَا اَنِ الْحَمْدِ ﷲِ رَبِّ الْعَالَمِیْنَ

وَصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی خَیْرِ خَلْقِہٖ مُحَمَّدٍ وَّآلِہٖ وَاَصْحَابِہٖ اَجْمَعِیْنَ

217

قادیانی مسائل

خشتِ اوّل

ہماری بدنصیبی کہ قادیانی مرتد، زِندیق، گستاخِ رسول، باغیٔ ختمِ نبوّت، مجرمانِ تحریفِ قرآن و حدیث، غدارانِ ملت و دِین، آلۂ کارانِ یہود و نصاریٰ ہونے کے باوجود خدا کی دھرتی پر بڑی عیش و عشرت اور کروفر کے ساتھ زندہ ہیں، اور اپنی دجالی صورتیں اور منحوس وجود لئے اسلام اور ملتِ اسلامیہ کے خلاف تخریبی کارروائیوں میں پوری توانائیوں کے ساتھ جتے ہوئے ہیں۔

افسوس صد افسوس! وہ طائفہ مرتدین جسے تہِ تیغ ہونا تھا، وہ گروہِ زِندیقین جسے تختۂ دار پر جھولنا تھا، سارقانِ ختمِ نبوّت کی وہ جماعت جسے خاک و خون میں تڑپنا تھا اور جس کا بند بند کاٹا جانا تھا، آج ہمارے معاشرے کا رَواں دَواں حصہ ہے، اور اپنے آقاؤں کی بخشی ہوئی دولت اور عطا کردہ کلیدی عہدوں کی طاقت سے سوسائٹی میں ایک طاقتور حیثیت حاصل کرچکے ہیں، اور وہ مسلم معاشرے میں اس طرح گھل مل گئے ہیں جیسے دونوں کے مابین کوئی فرق ہی نہیں۔ جب فکر کے بلند مینار پر بیٹھ کر ایک عمیق نگاہ اپنے معاشرے پر ڈالتے ہیں تو چشمِ حیرت دیکھتی ہے کہ کسی کا بھائی قادیانی، کسی کا چچا قادیانی، کسی کا شوہر قادیانی، کسی کی بیوی قادیانی، کسی کا اُستاد قادیانی، کسی کا شاگرد قادیانی، کوئی قادیانی کا افسر، کوئی قادیانی کا ماتحت، کوئی قادیانی کا جگری دوست، کوئی قادیانی کا شریکِ کاروبار، کوئی قادیانی کا ہمسایہ، کہیں قادیانی کی فیکٹری میں مسلمان ملازم، کہیں مسلمان کی فیکٹری میں قادیانی اعلیٰ عہدوں پر تعینات ــــــ پھر یہ تعلقات مزید بڑھتے ہیںپروان چڑھتے ہیں

218

اور ایک خطرناک موڑ مڑ کر وادیٔ ایمان شکن کے نشیب میں اُتر جاتے ہیں ـــــ پھر ہم دیکھتے ہیں کہ ایک دُوسرے کے جنازے پڑھے جارہے ہیں ــــــــآپس میں رشتہ ناتے طے کئے جارہے ہیں ـــــ خوشی کے موقعوں پر تحائف کا تبادلہ ہو رہا ہے ـــــ عید کے موقع پر بغل گیریاں ہو رہی ہیں، اور ماتھے چومے جارہے ہیں ــــــ شادیوں میں کھانا اِکٹھے کھایا جارہا ہے، قہقہے لگ رہے ہیں، اور خود کو مسلمان کہلوانے والے ’’قادیانی دولہا‘‘ کے وکیل کی حیثیت سے نکاح فارم پر دستخط کر رہا ہے ـــــ چند ٹکوں کے لئے مسلمان اساتذہ قادیانیوں کے گھروں میں ٹیوشن پڑھا رہے ہیں اور مرتدوں کے ہاں سے چائے شربت بھی اُڑا رہے ہیں ـــــ تحریفِ قرآن کے مجرموں کے گھروں میں مسلمان بچے قرآن پڑھنے جارہے ہیں، شعائرِ اِسلامی کی توہین کرنے کے جرم میں اگر کوئی قادیانی پکڑا گیا ہے تو عدالت کے ایوان میں مسلمان وکیل دُنیائے فانی کی دولتِ فانی کے چند روپوں کے عوض اس مجرمِ اِسلام کو مظلوم ثابت کرنے کے لئے بڑے پُرجوش انداز میں دلائل کے انبار لگا رہا ہے۔ غرضیکہ کفر و اِیمان کی حدِ فاصل کو منہدم کیا جارہا ہے، لیکن ان میں سے بہتوں کو معلوم نہیں کہ وہ اپنے ہی ہاتھوں سے اپنے اِیمان کا گلا گھونٹ رہے ہیں۔ وہ اس حقیقت سے آشنا نہیں کہ وہ جہالت کی شمشیر سے اپنی دِینی غیرت کے ٹکڑے کر رہے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کو تڑپا رہے ہیں اور اللہ کی آتشِ اِنتقام کو دعوتِ اِنتقام دے رہے ہیں۔ اللہ اَجرِ عظیم عطا فرمائے مجاہدِ اِسلام پاسبانِ ختمِ نبوّت حضرت مولانا محمد یوسف لدھیانوی مدظلہٗ کو جو ایک طویل مدّت سے ملتِ اسلامیہ کو فتنۂ قادیانیت اور اس کی خطرناک چالوں سے آگاہ کر رہے ہیں اور اَفرادِ اُمت کی تربیت کرکے انہیں اس فتنے کی سرکوبی کے لئے صف آرا کر رہے ہیں۔ یہ کتابچہ ان سوالات کے مجموعے سے اِنتخاب ہے جو اندرون وبیرون ملک کے قارئین روزنامہ ’’جنگ‘‘ کراچی اور ہفت روزہ ’’انٹرنیشنل ختمِ نبوّت‘‘ میں مولانا سے پوچھتے ہیں۔ اب کتابچہ آپ کے ہاتھوں میں ہے، اور آپ کے دَرِ دِل پہ دستک دے رہا ہے کہ خدارا! مجھے پڑھو اور پڑھاؤ ـــــسمجھو اور سمجھاؤ ـــــجاگو اور جگاؤ ـــــ بچو اور بچاؤ ـــــ !

(ادارہ)

219

مسلمان کی تعریف:

س… قرآن اور حدیث کے حوالے سے مختصراً بتائیں کہ مسلمان کی تعریف کیا ہے؟

ج… ایمان نام ہے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے لائے ہوئے پورے دِین کو بغیر کسی تحریف و تبدیلی کے قبول کرنے کا، اور اس کے مقابلے میں کفر نام ہے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے دِین کی کسی قطعی و یقینی بات کو نہ ماننے کا۔ قرآنِ کریم کی بے شمار آیات میں ’’ما انزل الی الرسول‘‘ کے ماننے کو ’’ایمان‘‘ اور ’’ما انزل الی الرسول‘‘ میں سے کسی ایک کے نہ ماننے کو ’’کفر‘‘ فرمایا گیا ہے۔ اسی طرح احادیث شریفہ میں بھی یہ مضمون کثرت سے آیا ہے، مثلاً: صحیح مسلم (جلد:۱ ص:۳۷) کی حدیث میں ہے: ’’اور وہ اِیمان لائیں مجھ پر اور جو کچھ میں لایا ہوں اس پر۔‘‘ اس سے مسلمان اور کافر کی تعریف معلوم ہوجاتی ہے۔ یعنی جو شخص محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لائے ہوئے دِین کی تمام قطعی و یقینی باتوں کو من وعن مانتا ہو وہ مسلمان ہے، اور جو شخص قطعیاتِ دِین میں سے کسی ایک کا منکر ہو یا اس کے معنی و مفہوم کو بگاڑتا ہو، وہ مسلمان نہیں، بلکہ کافر ہے۔

مثال کے طور پر قرآن مجید نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو خاتم النبیین فرمایا ہے، اور بہت سی احادیث شریفہ میں اس کی یہ تفسیر فرمائی گئی ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد کوئی نبی نہیں ہوگا، اور اُمتِ اسلامیہ کے تمام فرقے (اپنے اختلافات کے باوجود) یہی عقیدہ رکھتے آئے ہیں، لیکن مرزا غلام احمد قادیانی نے اس عقیدے سے انکار کرکے نبوّت کا دعویٰ کیا، اس وجہ سے قادیانی غیرمسلم اور کافر قرار پائے۔

اسی طرح قرآنِ کریم اور احادیث شریفہ میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے آخری زمانے میں نازل ہونے کی خبر دی گئی ہے، مرزا قادیانی اور اس کے مبلغین اس عقیدے سے منحرف ہیں، اور وہ مرزا کے ’’عیسیٰ‘‘ ہونے کے مدعی ہیں، اس وجہ سے بھی وہ مسلمان نہیں۔ اس طرح قرآنِ کریم اور احادیث شریفہ میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی پیروی کو قیامت تک مدارِ نجات ٹھہرایا گیا ہے، لیکن مرزا قادیانی کا دعویٰ ہے کہ: ’’میری وحی نے

220

شریعت کی تجدید کی ہے، اس لئے اب میری وحی اور میری تعلیم مدارِ نجات ہے۔‘‘ (اربعین نمبر۴ ص:۷ حاشیہ) غرض کہ مرزا قادیانی نے بے شمار قطعیاتِ اسلام کا انکار کیا ہے، اس لئے تمام اسلامی فرقے ان کے کفر پر متفق ہیں۔

مسلمان اور قادیانی کے کلمے اور اِیمان میں بنیادی فرق:

س… انگریزی دان طبقہ اور وہ حضرات جو دِین کا زیادہ علم نہیں رکھتے لیکن مسلمانوں کے آپس کے افتراق سے بیزار ہیں، قادیانیوں کے سلسلہ میں بڑے گومگو میں ہیں، ایک طرف وہ جانتے ہیں کہ کسی کلمہ گو کو کافر نہیں کہنا چاہئے، جبکہ قادیانیوں کو کلمے کا بیج لگانے کی بھی اجازت نہیں ہے، دوسری طرف وہ یہ بھی جانتے ہیں کہ مرزا غلام احمد قادیانی نے جھوٹا دعویٔ نبوّت کیا تھا، برائے مہربانی آپ بتائیے کہ قادیانی جو مسلمانوں کا کلمہ پڑھتے ہیں کیونکر کافر ہیں؟

ج… قادیانیوں سے یہ سوال کیا گیا تھا کہ اگر مرزا غلام احمد قادیانی نبی ہیں، جیسا کہ ان کا دعویٰ ہے، تو پھر آپ لوگ مرزا صاحب کا کلمہ کیوں نہیں پڑھتے؟ مرزا صاحب کے صاحب زادے مرزا بشیر احمد ایم اے نے اپنے رسالے ’’کلمۃ الفصل‘‘ میں اس سوال کے دو جواب دئیے ہیں۔ ان دونوں جوابوں سے آپ کو معلوم ہوجائے گا کہ مسلمانوں اور قادیانیوں کے کلمے میں کیا فرق ہے؟ اور یہ کہ قادیانی صاحبان ’’محمد رسول اللہ‘‘ کا مفہوم کیا لیتے ہیں؟

مرزا بشیر احمد صاحب کا پہلا جواب یہ ہے کہ:

’’محمد رسول اللہ کا نام کلمے میں اس لئے رکھا گیا ہے کہ آپ نبیوں کے سرتاج اور خاتم النبیین ہیں، اور آپ کا نام لینے سے باقی سب نبی خود اندر آجاتے ہیں، ہر ایک کا علیحدہ نام لینے کی ضرورت نہیں ہے۔

ہاں! حضرت مسیحِ موعود (مرزا) کے آنے سے ایک فرق

221

ضرور پیدا ہوگیا ہے اور وہ یہ کہ مسیحِ موعود (مرزا) کی بعثت سے پہلے تو محمد رسول اللہ کے مفہوم میں صرف آپ سے پہلے گزرے ہوئے انبیاء شامل تھے، مگر مسیحِ موعود (مرزا ) کی بعثت کے بعد ’’محمد رسول اللہ‘‘ کے مفہوم میں ایک اور رسول کی زیادتی ہوگئی۔

غرض اب بھی اسلام میں داخل ہونے کے لئے یہی کلمہ ہے، صرف فرق اتنا ہے کہ مسیحِ موعود (مرزا ) کی آمد نے محمد رسول اللہ کے مفہوم میں ایک رسول کی زیادتی کردی ہے اور بس۔‘‘

یہ تو ہوا مسلمانوں اور قادیانی غیرمسلم اقلیت کے کلمے میں پہلا فرق، جس کا حاصل یہ ہے کہ قادیانیوں کے کلمے کے مفہوم میں مرزا قادیانی بھی شامل ہے، اور مسلمانوں کا کلمہ اس نئے نبی کی ’’زیادتی‘‘ سے پاک ہے۔ اب دُوسرا فرق سنئے! مرزا بشیر احمد قادیانی ایم اے لکھتے ہیں:

’’علاوہ اس کے اگر ہم بفرض محال یہ بات مان بھی لیں کہ کلمہ شریف میں نبی کریمؐ کا اسم مبارک اس لئے رکھا گیا ہے کہ آپ آخری نبی ہیں تو تب بھی کوئی حرج واقع نہیں ہوتا، اور ہم کو نئے کلمے کی ضرورت پیش نہیں آتی، کیونکہ مسیحِ موعود (مرزا ) نبی کریمؐ سے کوئی الگ چیز نہیں ہے۔ جیسا کہ وہ (یعنی مرزا ) خود فرماتا ہے:’’صار وجودی وجودہ‘‘ (یعنی میرا وجود محمد رسول اللہ ہی کا وجود بن گیا ہے... از ناقل) نیز’’من فرق بینی وبین المصطفیٰ فما عرفنی وما رأیٰ‘‘ (یعنی جس نے مجھ کو اور مصطفی کو الگ الگ سمجھا، اس نے مجھے نہ پہچانا، نہ دیکھا... ناقل) اور یہ اس لئے ہے کہ اللہ تعالیٰ کا وعدہ تھا کہ وہ ایک دفعہ اور خاتم النبیین کو دُنیا میں مبعوث کرے گا (نعوذ باللہ! ...ناقل) جیسا کہ آیت آخرین منھم سے ظاہر ہے۔

222

پس مسیحِ موعود (مرزا ) خود محمد رسول اللہ ہے، جو اِشاعتِ اسلام کے لئے دوبارہ دُنیا میں تشریف لائے، اس لئے ہم کو کسی نئے کلمے کی ضرورت نہیں۔

ہاں! اگر محمد رسول اللہ کی جگہ کوئی اور آتا تو ضرورت پیش آتی...۔۔ فتدبروا۔‘‘

(کلمۃ الفصل ص:۱۵۸، مندرجہ رسالہ ریویو آف ریلیجنز جلد۱۴ نمبر۳، ۴ بابت ماہ مارچ و اپریل ۱۹۱۵ء)

یہ مسلمانوں اور قادیانیوں کے کلمے میں دُوسرا فرق ہوا کہ مسلمانوں کے کلمہ شریف میں ’’محمد رسول اللہ‘‘ سے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم مراد ہیں، اور قادیانی جب ’’محمد رسول اللہ‘‘ کہتے ہیں تو اس سے مرزا غلام احمد قادیانی مراد ہوتے ہیں۔

مرزا بشیر احمد صاحب ایم اے نے جو لکھا ہے کہ: ’’مرزا صاحب خود محمد رسول اللہ ہیں جو اِشاعتِ اسلام کے لئے دُنیا میں دوبارہ تشریف لائے ہیں‘‘ یہ قادیانیوں کا بروزی فلسفہ ہے ...جس کو فلسفۂ تناسخ کہنا زیادہ موزوں ہوگا... جس کی مختصر سی وضاحت یہ ہے کہ ان کے نزدیک آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو دُنیا میں دو بارہ جنم لینا تھا، چنانچہ پہلے آپ صلی اللہ علیہ وسلم مکہ مکرمہ میں پیدا ہوئے، اور دُوسری بار آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مرزا غلام احمد قادیانی کے رُوپ میں ... معاذاللہ... مرزا غلام مرتضیٰ کے گھر میں جنم لیا۔ مرزا قادیانی نے تحفہ گولڑویہ، خطبہ اِلہامیہ اور دیگر بہت سی کتابوں میں اس مضمون کو بار بار دُہرایا ہے۔

(دیکھئے خطبہ اِلہامیہ ص:۱۷۱، ۱۸۰)

اس نظریے کے مطابق قادیانی اُمت مرزا صاحب کو ’’عین محمد‘‘ سمجھتی ہے، اس کا عقیدہ ہے کہ نام، کام، مقام اور مرتبے کے لحاظ سے مرزا قادیانی اور محمد رسول اللہ کے درمیان کوئی دُوئی اور مغائرت نہیں ہے، نہ وہ دونوں علیحدہ وجود ہیں، بلکہ دونوں ایک ہی شان، ایک ہی مرتبہ، ایک ہی منصب اور ایک ہی نام رکھتے ہیں۔ چنانچہ قادیانی غیرمسلم اقلیت، مرزا غلام قادیانی کو وہ تمام اوصاف و القاب اور مرتبہ و مقام دیتی ہے جو اہلِ اسلام کے نزدیک صرف اور صرف محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ مخصوص ہے۔ قادیانیوں

223

کے نزدیک مرزا صاحب بعینہٖ محمد رسول اللہ ہیں، محمد مصطفی ہیں، احمد مجتبیٰ ہیں، خاتم الانبیاء ہیں، امام الرسل ہیں، رحمۃ للعالمین ہیں، صاحبِ کوثر ہیں، صاحبِ معراج ہیں، صاحبِ مقامِ محمود ہیں، صاحبِ فتحِ مبین ہیں، زمین و زمان اور کون و مکان صرف مرزا صاحب کی خاطر پیدا کئے گئے، وغیرہ وغیرہ۔

اسی پر بس نہیں بلکہ اس سے بڑھ کر بقول ان کے مرزا قادیانی کی ’’بروزی بعثت‘‘ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی اصل بعثت سے رُوحانیت میں اعلیٰ و اکمل ہے، آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا زمانہ رُوحانی ترقیات کی اِبتدا کا زمانہ تھا اور مرزا قادیانی کا زمانہ ان ترقیات کی اِنتہا کا! رسولِ پاک علیہ السلام کا عہدِ نبوّت مرزائیوں کے نزدیک صرف تائیدات اور دفعِ بلیات کا زمانہ تھا، اور مرزا صاحب کا زمانہ برکات کا زمانہ ہے۔ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے مبارک زمانے میں اسلام پہلی رات کے چاند کی مانند تھا، جس کی کوئی روشنی نہیں ہوتی، اور مرزا صاحب کا زمانہ ...نعوذباللہ... چودہویں رات کے بدرِ کامل کے مشابہ ہے۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو تین ہزار معجزات دئیے گئے تھے، اور مرزا قادیانی کو دس لاکھ، بلکہ دس کروڑ، بلکہ بے شمار! حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا ذہنی اِرتقاء وہاں تک نہیں پہنچا جہاں تک قادیان کے مرزا قادیانی نے ذہنی ترقی کی! آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر بہت سے وہ رُموز و اَسرار نہیں کھلے جو کوردِل کور باطن مرزا قادیانی پر کھلے!

قادیانیوں کے بقول اللہ تعالیٰ نے حضرت آدم علیہ السلام سے لے کر حضرت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تک تمام نبیوں سے عہد لیا کہ وہ مرزا قادیانی پر اِیمان لائیں اور ان کی بیعت و نصرت کریں۔ خلاصہ یہ کہ قادیانیوں کے نزدیک نہ صرف مرزا قادیانی کی شکل میں محمد رسول اللہ نے دوبارہ جنم لیا ہے، بلکہ مرزا غلام مرتضیٰ کے گھر جنم لینے والا ’’محمد رسول اللہ‘‘ اصلی محمد رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وسلم) سے اپنی شان میں بڑھ کر ہے ...نعوذ باللہ! استغفر اللہ...!

چنانچہ مرزا قادیانی کے ایک مرید (یا قادیانی اِصطلاح میں مرزا قادیانی کے ’’صحابی‘‘) قاضی ظہور الدین اکمل نے مرزا قادیانی کی شان میں ایک ’’نعت‘‘ لکھی، جسے

224

خوش خط لکھواکر اور خوبصورت فریم بنواکر قادیان کی ’’بارگاہِ رسالت‘‘ میں پیش کیا، مرزا قادیانی اپنے نعت خواں سے بہت خوش ہوا اور اسے بڑی دُعائیں دیں۔ بعد میں وہ قصیدۂ نعتیہ مرزا قادیانی کے ترجمان اخبار ’’بدر’’ جلد۲ نمبر۴۳ میں شائع ہوا، وہ پرچہ راقم الحروف کے پاس محفوظ ہے، اس کے چار اَشعار ملاحظہ ہوں:

  1. امام اپنا عزیزو! اس جہاں میں

    غلام احمد ہوا دار الاماں میں

  2. غلام احمد ہے عرش رَبِّ اکبر

    مکاں اس کا ہے گویا لامکاں میں

  3. محمدؐ پھر اتر آئے ہیں ہم میں!

    اور آگے سے ہیں بڑھ کر اپنی شاں میں

  4. محمدؐ دیکھنے ہوں جس نے اکمل

    غلام احمد کو دیکھے قادیاں میں

(اخبار ’’بدر‘‘ قادیان ۲۵؍اکتوبر ۱۹۰۶ء)

مرزا قادیانی کا ایک اور نعت خواں، قادیان میں جنم لینے والے ’’بروزی محمد رسول اللہ‘‘ (مرزا قادیانی) کو ہدیۂ عقیدت پیش کرتے ہوئے کہتا ہے:

  1. صدی چودہویں کا ہوا سر مبارک

    کہ جس پر وہ بدر الدّجٰی بن کے آیا

  2. محمد پئے چارہ سازیٔ اُمت

    ہے اب ’’احمد مجتبیٰ‘‘ بن کے آیا

  3. حقیقت کھلی بعثتِ ثانی کی ہم پر

    کہ جب مصطفی میرزا بن کے آیا

(’’الفضل‘‘ قادیان ۲۸؍مئی ۱۹۲۸ء)

یہ ہے قادیانیوں کا ’’محمد رسول اللہ‘‘ جس کا وہ کلمہ پڑھتے ہیں۔

225

چونکہ مسلمان، آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر اِیمان رکھتے ہیں اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو خاتم النبیین اور آخری نبی مانتے ہیں، اس لئے کسی مسلمان کی غیرت ایک لمحے کے لئے بھی یہ برداشت نہیں کرسکتی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد پیدا ہونے والے کسی بڑے سے بڑے شخص کو بھی منصبِ نبوّت پر قدم رکھنے کی اجازت دی جائے۔ کجا کہ ایک ’’غلامِ اسود‘‘ کو ... نعوذباللہ... ’’محمد رسول اللہ‘‘ بلکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے بھی اعلیٰ و افضل بنا ڈالا جائے۔ بنابریں قادیان کی شریعت مسلمانوں پر کفر کا فتویٰ دیتی ہے، مرزا بشیر قادیانی ایم اے لکھتے ہیں:

’’اب معاملہ صاف ہے، اگر نبی کریم کا انکار کفر ہے تو مسیحِ موعود (غلام احمد قادیانی) کا انکار بھی کفر ہونا چاہئے، کیونکہ مسیحِ موعود نبی کریم سے الگ کوئی چیز نہیں، بلکہ وہی ہے۔‘‘

’’اور اگر مسیحِ موعود کا منکر کافر نہیں تو نعوذ باللہ نبی کریم کا منکر بھی کافر نہیں۔ کیونکہ یہ کس طرح ممکن ہے کہ پہلی بعثت میں تو آپ کا انکار کفر ہو، مگر دُوسری بعثت میں جس میں بقول مسیحِ موعود آپ کی رُوحانیت اقویٰ اور اکمل اور اشد ہے ...... آپ کا انکار کفر نہ ہو۔‘‘

(کلمۃ الفصل ص:۱۴۷)

دُوسری جگہ لکھتے ہیں:

’’ہر ایک ایسا شخص جو موسیٰ کو تو مانتا ہے مگر عیسیٰ کو نہیں مانتا، یا عیسیٰ کو مانتا ہے مگر محمد کو نہیں مانتا، یا محمد کو مانتا ہے پر مسیحِ موعود (مرزا غلام احمد) کو نہیں مانتا وہ نہ صرف کافر، بلکہ پکا کافر اور دائرۂ اسلام سے خارج ہے۔‘‘

(ص:۱۱۰)

ان کے بڑے بھائی مرزا محمود احمد قادیانی لکھتے ہیں:

’’کل مسلمان جو حضرت مسیحِ موعود (مرزا غلام احمد) کی بیعت میں شامل نہیں ہوئے، خواہ انہوں نے حضرت مسیحِ موعود کا نام

226

بھی نہیں سنا وہ کافر اور دائرۂ اسلام سے خارج ہیں۔‘‘

(آئینہ صداقت ص:۳۵)

ظاہر ہے کہ اگر قادیانی بھی اسی محمد رسول اللہ کا کلمہ پڑھتے ہیں جن کا کلمہ مسلمان پڑھتے ہیں تو قادیانی شریعت میں مسلمانوں پر یہ ’’کفر کا فتویٰ‘‘ نازل نہ ہوتا، اس لئے مسلمانوں اور قادیانیوں کے کلمے کے الفاظ گو ایک ہی ہیں مگر ان کے مفہوم میں زمین وآسمان اور کفر و اِیمان کا فرق ہے۔

لاہوری گروپ کیا چیز ہے؟

س… لاہوری گروپ کیا چیز ہے؟ اس کے پیروکار کون لوگ ہیں؟ ان کا طریقۂ عبادت کیا ہے؟ یہ اپنے آپ کو کون سی اُمت کہلاتے ہیں؟

ج… حکیم نورالدین کے مرنے کے بعد مرزائی جماعت دو حصوں میں تقسیم ہوگئی تھی۔ جماعت کے بڑے حصے نے مرزا محمود کے ہاتھ پر بیعت کرلی، یہ ’’قادیانی مرزائی‘‘ کہلاتے ہیں۔ اور مرزائیوں کے ایک مختصر ٹولے نے مرزا محمود کی بیعت سے کنارہ کشی اِختیار کی، ان کا مرکز لاہور تھا، اور اس جماعت کا قائد مسٹر محمد علی لاہوری تھا، یہ جماعت ’’لاہوری مرزائی‘‘ کہلاتی ہے۔ ان دونوں جماعتوں میں اس پر اِتفاق ہے کہ مرزا قادیانی مسیحِ موعود تھا، مہدی تھا، ظلّی نبی تھا، اس کی وحی واجب الایمان اور اس کی پیروی موجبِ نجات ہے۔ البتہ اس میں اختلاف ہے کہ مرزا کو حقیقی نبی کہا جائے یا نہیں؟ لاہوری جماعت مرزا کو نبی کہنے سے گھبراتی ہے، اسے مسیحِ موعود، مہدیٔ معہود اور چودھویں صدی کے مجدّد کے ناموں سے یاد کرتی ہے۔ اہلِ اسلام کے نزدیک ان دونوں جماعتوں کا، بلکہ مرزا کو ماننے والی تمام جماعتوں کا ایک ہی حکم ہے، کیونکہ مرزا مرتد تھا، مرتد کو مسیح ماننے والے بھی مرتد ہی ہوں گے۔

’’احمدی‘‘ یا ’’قادیانی‘‘؟

س… ’’ختمِ نبوّت‘‘ مسلمانوں کا بہترین رسالہ ہے، آپ صرف یہ بتائیں کہ احمدی کا

227

قادیانی سے کیا تعلق ہے؟ کیا احمدی ہی قادیانی کا دُوسرا نام ہے، اور اگر احمدی کا قادیانی سے کوئی تعلق نہیں تو احمدی کے متعلق مفصل بتائیں کہ وہ کیا ہے اور اس کا اسلام سے کیا تعلق ہے؟

ج… مرزا غلام احمد قادیانی کے ماننے والوں کو قادیانی یا مرزائی کہا جاتا ہے، لیکن یہ لوگ اپنے آپ کو ’’احمدی‘‘ کہتے ہیں، اور ان کے ’’احمدی‘‘ کہلانے میں بھی بہت بڑا دجل ہے، کیونکہ ’’احمدی‘‘ نسبت ہے ’’احمد‘‘ کی طرف، چونکہ قادیانی، مرزا غلام احمد کو ’’احمد‘‘ کہتے ہیں اور اسے قرآن کی آیت’’وَمُبَشِّرًا بِرَسُوْلٍ یَّاْتِیْ مِنْ بَعْدِی اسْمُہٗٓ اَحْمَدُ‘‘ کا مصداق سمجھتے ہیں، اس لئے وہ ’’احمد‘‘ کی طرف نسبت کرکے اپنے تئیں ’’احمدی‘‘ کہلاتے ہیں، گویا قادیانیوں یا مرزائیوں کا اپنے آپ کو ’’احمدی‘‘ کہلانا دو باتوں پر موقوف ہے:

اوّل یہ کہ مرزا غلام احمد، احمد ہے۔ دوم یہ کہ وہ قرآنی آیت کا مصداق ہے۔

اور یہ دونوں باتیں خالص جھوٹ ہیں، کیونکہ مرزا کا نام ’’احمد‘‘ نہیں بلکہ ’’غلام احمد‘‘ تھا، یہ الگ بات ہے کہ اس غدار غلام نے آقا کی گدی پر قبضہ کرکے خود ’’احمد‘‘ ہونے کا دعویٰ کردیا ہے۔ اور دُوسری بات اس لئے جھوٹ ہے کہ اسم ’’احمد‘‘ کا مصداق ہمارے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ہیں، نہ کہ مرزا غلام احمد قادیانی ...لعین آنجہانی ...۔ اس لئے مرزائیوں کو ’’احمدی‘‘ کہنا مسلمانوں کے نزدیک جائز نہیں۔ ہمارا انگریزی پڑھا لکھا طبقہ جو ان کو ’’احمدی‘‘ کہتا ہے وہ حقیقتِ حال سے بے خبر ہے۔

احمد کا مصداق کون ہے؟

س… قرآن پاک میں ۲۸ویں پارے میں سورہ صف میں موجود ہے کہ عیسیٰ علیہ السلام نے فرمایا کہ میرے بعد ایک نبی آئے گا اور اس کا نام احمد ہوگا۔ اس سے مراد کون ہیں؟ جبکہ قادیانی لوگ اس سے مرزا قادیانی مراد لیتے ہیں۔

ج… اس آیتِ شریفہ کا مصداق ہمارے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ہیں۔ چنانچہ صحیح بخاری اور صحیح مسلم کی حدیث میں ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’میرے کئی نام ہیں،

228

میں محمد ہوں، اور میں احمد ہوں۔‘‘ (مشکوٰۃ ص:۵۱۵) نیز مسندِ احمدکی روایت میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے کہ: ’’میں حضرت ابراہیم علیہ السلام کی دُعا اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی بشارت کا مصداق ہوں۔‘‘

(مشکوٰۃ ص:۵۱۳)

نیز صحیح بخاری ومسلم کی روایت میں ارشاد ہے کہ انبیائے کرام علیہم السلام علاتی (باپ شریک) بھائی ہوتے ہیں، ان کا دِین ایک ہے، اور ان کی مائیں (یعنی شریعتیں) الگ الگ ہیں، اور مجھے سب سے زیادہ تعلق عیسیٰ علیہ السلام سے ہے، کیونکہ ان کے درمیان اور میرے درمیان کوئی نبی نہیں ہوا، اس لئے میں ان کی بشارت کا مصداق ہوں۔ (مشکوٰۃ ص:۵۰۹) قادیانی چونکہ حضرت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر اِیمان نہیں رکھتے اس لئے وہ اس کو بھی نہیں مانیں گے۔

کافر، زِندیق، مرتد کا فرق:

س۱… کافر اور مرتد میں کیا فرق ہے؟

س۲… جو لوگ کسی جھوٹے مدعیٔ نبوّت کو مانتے ہوں وہ کافر کہلائیں گے یا مرتد؟

س۳… اسلام میں مرتد کی کیا سزا ہے؟ اور کافر کی کیا سزا ہے؟

ج۱… جو لوگ اسلام کو مانتے ہی نہیں وہ تو کافرِ اَصلی کہلاتے ہیں، جو لوگ دِینِ اسلام کو قبول کرنے کے بعد اس سے برگشتہ ہوجائیں وہ ’’مرتد‘‘ کہلاتے ہیں، اور جو لوگ دعویٰ اِسلام کا کریں لیکن عقائد کفریہ رکھتے ہوں اور قرآن و حدیث کے نصوص میں تحریف کرکے انہیں اپنے عقائدِ کفریہ پر فٹ کرنے کی کوشش کریں انہیں ’’زِندیق‘‘ کہا جاتا ہے، اور جیسا کہ آگے معلوم ہوگا ان کا حکم بھی ’’مرتدین‘‘ کا ہے، بلکہ ان سے بھی سخت۔

ج۲… ختمِ نبوّت اسلام کا قطعی اور اَٹل عقیدہ ہے، اس لئے جو لوگ دعویٔ اسلام کے باوجود کسی جھوٹے مدعیٔ نبوّت کو مانتے ہیں اور قرآن و سنت کے نصوص کو اس جھوٹے مدعی پر چسپاں کرتے ہیں، وہ مرتد اور زِندیق ہیں۔

ج۳… مرتد کا حکم یہ ہے کہ اس کو تین دن کی مہلت دی جائے اور اس کے شبہات دُور

229

کرنے کی کوشش کی جائے، اگر ان تین دِنوں میں وہ اپنے اِرتداد سے توبہ کرکے پکاسچا مسلمان بن کر رہنے کا عہد کرے تو اس کی توبہ قبول کی جائے اور اسے رہا کردیا جائے، لیکن اگر وہ توبہ نہ کرے تو اِسلام سے بغاوت کے جرم میں اسے قتل کردیا جائے، جمہور اَئمہ کے نزدیک مرتد خواہ مرد ہو یا عورت دونوں کا ایک ہی حکم ہے، البتہ اِمام ابوحنیفہؒ کے نزدیک مرتد عورت اگر توبہ نہ کرے تو اسے سزائے موت کے بجائے حبسِ دوام کی سزا دی جائے۔

زِندیق بھی مرتد کی طرح واجب القتل ہے، لیکن اگر وہ توبہ کرے تو اس کی جان بخشی کی جائے گی یا نہیں؟ اِمام شافعیؒ فرماتے ہیں کہ اگر وہ توبہ کرلے تو قتل نہیں کیا جائے گا۔ اِمام مالکؒ فرماتے ہیں کہ اس کی توبہ کا کوئی اعتبار نہیں، وہ بہرحال واجب القتل ہے۔ اِمام احمد ؒ سے دونوں روایتیں منقول ہیں، ایک یہ کہ اگر وہ توبہ کرلے تو قتل نہیں کیا جائے گا، اور دُوسری روایت یہ ہے کہ زِندیق کی سزا بہرصورت قتل ہے، خواہ توبہ کا اظہار بھی کرے۔ حنفیہ کا مختار مذہب یہ ہے کہ اگر وہ گرفتاری سے پہلے ازخود توبہ کرلے تو اس کی توبہ قبول کی جائے اور سزائے قتل معاف ہوجائے گی، لیکن گرفتاری کے بعد اس کی توبہ کا اِعتبار نہیں۔ اس تفصیل سے معلوم ہوا کہ زِندیق، مرتد سے بدتر ہے، کیونکہ مرتد کی توبہ بالاتفاق قبول ہے، لیکن زِندیق کی توبہ کے قبول ہونے پر اِختلاف ہے، بہرحال اگر وہ اپنے مذہبِ باطل سے تائب ہوجائے تو اس کی توبہ عنداللہ مقبول ہے۔

قادیانیوں کے ساتھ اِشتراکِ تجارت اور میل ملاپ حرام ہے:

س… کیا فرماتے ہیں علمائے کرام مندرجہ ذیل مسئلے میں؟

قادیانی اپنی آمدنی کا دسواں حصہ اپنی جماعت کے مرکزی فنڈ میں جمع کراتے ہیں جو مسلمانوں کے خلاف تبلیغ اور اِرتدادی مہم پر خرچ ہوتا ہے۔ چونکہ قادیانی مرتد کافر اور دائرۂ اسلام سے متفقہ طور پر خارج ہیں، تو کیا ایسے میں ان کے اشتراک سے مسلمانوں کا تجارت کرنا یا ان کی دُکانوں سے خرید و فروخت کرنا یا ان سے کسی قسم کے تعلقات یا راہ و رسم رکھنا از رُوئے اسلام جائز ہے؟

230

ج… صورتِ مسئولہ میں اس وقت چونکہ قادیانی کافر محارب اور زِندیق ہیں اور اپنے آپ کو غیرمسلم اقلیت نہیں سمجھتے بلکہ عالمِ اسلام کے مسلمانوں کو کافر کہتے ہیں۔ اس لئے ان کے ساتھ تجارت کرنا، خرید و فروخت کرنا ناجائز و حرام ہے، کیونکہ قادیانی اپنی آمدنی کا دسواں حصہ لوگوں کو قادیانی بنانے میں خرچ کرتے ہیں۔ گویا اس صورت میں مسلمان بھی سادہ لوح مسلمانوں کو مرتد بنانے میں ان کی مدد کر رہے ہیں، لہٰذا کسی بھی حیثیت سے ان کے ساتھ معاملات ہرگز جائز نہیں۔ اسی طرح شادی، غمی، کھانے پینے میں ان کو شریک کرنا، عام مسلمانوں کا اِختلاط، ان کی باتیں سننا، جلسوں میں ان کو شریک کرنا، ملازم رکھنا، ان کے ہاں ملازمت کرنا یہ سب کچھ حرام بلکہ دِینی حمیت کے خلاف ہے۔ فقط واللہ اعلم!

قادیانیوں سے میل جول رکھنا:

س… میرا ایک سگا بھائی جو میرے ایک اور سگے بھائی کے ساتھ مجھ سے الگ اپنے آبائی مکان میں رہتا ہے، محلے کے ایک قادیانی کے گھر والوں سے شادی غمی میں شریک ہوتا ہے۔ میرے منع کرنے کے باوجود وہ اس قادیانی خاندان سے تعلق چھوڑنے پر آمادہ نہیں ہوتا۔ میں اپنے بھائیوں میں سب سے بڑا ہوں اور الگ کرائے کے مکان میں رہتا ہوں، والد صاحب انتقال کرچکے ہیں، والدہ اور بہنیں میرے اس بھائی کے ساتھ رہتی ہیں۔ اب میرے سب سے چھوٹے بھائی کی شادی ہونے والی ہے، میرا اِصرار ہے کہ وہ شادی میں اس قادیانی گھر کو مدعو نہ کریں، لیکن ایسا معلوم ہوتا ہے کہ وہ ایسا نہیں کریں گے۔

اب سوال ہے کہ میرے لئے شریعت اور اِسلامی اَحکامات کی رُو سے بھائیوں اور والدہ کو چھوڑنا ہوگا یا میں شادی میں شرکت کروں تو بہتر ہوگا؟ اس صورتِ حال میں جو بات صائب ہو، اس سے براہِ کرم شریعت کا منشا واضح کریں۔

ج… قادیانی مرتد اور زِندیق ہیں، اور ان کو اپنی تقریبات میں شریک کرنا دِینی غیرت کے خلاف ہے۔ اگر آپ کے بھائی صاحبان اس قادیانی کو مدعو کریں تو آپ اس تقریب میں ہرگز شریک نہ ہوں، ورنہ آپ بھی قیامت کے دن محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے مجرم ہوں گے، واللہ اعلم!

231

مرزائیوں کے ساتھ تعلقات رکھنے والا مسلمان:

س… ایک شخص مرزائیوں (جو بلاریب بالاجماع کافر ہیں) کے پاس آتا جاتا ہے اور ان کے لٹریچر کا مطالعہ بھی کرتا ہے، اور بعض مرزائیوں سے یہ بھی سنا گیا ہے کہ یہ ہمارا آدمی ہے، یعنی مرزائی ہے۔ مگر جب خود اس سے پوچھا جاتا ہے تو وہ کہتا ہے کہ ہرگز نہیں بلکہ میں مسلمان ہوں اور ختمِ نبوّت اور حیاتِ عیسیٰ ابن مریم علیہ السلام و نزول حضرت عیسیٰ علیہ السلام اور حضرت مہدی علیہ الرحمۃ و فرضیتِ جہاد وغیرہ تمام عقائدِ اِسلام کا قائل ہوں اور مرزائیوں کے دونوں گروپوں کو کافر، کذّاب، دجال، خارج اَز اِسلام سمجھتا ہوں۔ تو کیا وجوہِ بالا کی بنا پر اس شخص پر کفر کا فتویٰ لگایا جائے گا؟

ج… یہ شخص جب تمام اِسلامی عقائد کا قائل ہے، اور مرزائیوں کو کافر و مرتد مانتا ہے تو اس کو مسلمان ہی سمجھا جائے گا۔ البتہ قادیانیوں کے ساتھ اس کا میل جول اور قادیانی لٹریچر کا مطالعہ کرنا غلط حرکت ہے، اس کو اس سے توبہ کرنی چاہئے۔

قادیانی کی دعوت اور اِسلامی غیرت

س… ایک ادارہ جس میں تقریباً پچّیس افراد ملازم ہیں، اور ان میں ایک قادیانی بھی شامل ہے، اور اس قادیانی نے اپنے احمدی (قادیانی) ہونے کا برملا اِظہار بھی کیا ہوا ہے، اب وہی قادیانی ملازم اپنے ہاں بچے کی پیدائش کی خوشی میں تمام اسٹاف کو دعوت دینا چاہتا ہے اور اسٹاف کے کئی ممبران اس کی دعوت میں شریک ہونے کو تیار ہیں۔ جبکہ چند ایک ملازمین اس کی دعوت قبول کرنے پر تیار نہیں کیونکہ ان کے خیال میں چونکہ جملہ قسم کے مرزائی مرتد، دائرۂ اسلام سے خارج اور واجب القتل ہیں اور اِسلام کے غدار ہیں تو ایسے مذہب سے تعلق رکھنے والے کی دعوت قبول کرنا دُرست نہیں ہے۔ آپ برائے مہربانی قرآن و سنت کی روشنی میں اس کی وضاحت کریں کہ کسی بھی قادیانی کی دعوت قبول کرنا ایک مسلمان کے لئے کیا حیثیت رکھتا ہے؟ تاکہ آئندہ کے لئے اسی کے مطابق لائحہ عمل تیار ہوسکے۔

ج… مرزائی کافر ہونے کے باوجود خود کو مسلمان اور دُنیا بھر کے مسلمانوں کو کافر اور

232

حرامزادے کہتے ہیں۔ مرزا قادیانی کا کہنا ہے کہ: ’’میرے دُشمن جنگلوں کے سوَر ہیں، اور ان کی عورتیں ان سے بدتر کتیاں ہیں۔‘‘ جو شخص آپ کو کتا، خنزیر، حرامزادہ اور کافر یہودی کہتا ہو، اس کی تقریب میں شامل ہونا چاہئے یا نہیں؟ یہ فتویٰ آپ مجھ سے نہیں بلکہ خود اپنی اسلامی غیرت سے پوچھئے...!

قادیانیوں کی تقریب میں شریک ہونا

س… اگر پڑوس میں زیادہ اہلِ سنت والجماعت رہتے ہوں، چند گھر قادیانی فرقے کے ہوں، ان لوگوں سے بوجہ پڑوسی ہونے کے شادی بیاہ میں کھانا پینا، یا ویسے راہ و رسم رکھنا جائز ہے یا نہیں؟

ج… قادیانیوں کا حکم مرتدین کا ہے، ان کو اپنی کسی تقریب میں شریک کرنا، یا ان کی تقریب میں شریک ہونا جائز نہیں، قیامت کے دن خدا اور رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے اس کی جوابدہی کرنا ہوگی۔

قادیانیوں کے گھر کا کھانا:

س… قادیانی کے گھر کا کھانا صحیح ہے یا غلط ہے؟

ج… قادیانی کا حکم تو مرتد کا ہے، ان کے گھر جانا ہی دُرست نہیں، نہ کسی قسم کا تعلق۔

قادیانی سے تعلقات:

س… اگر کسی مسلمان کا رشتہ دار قادیانی ہو اور اس کے ساتھ تعلقات بھی ہوں، تو اس کے ساتھ کھانے پینے، لین دین اور قرضے کی صورت میں کیا اَحکام ہیں؟ اور قادیانی عورت یا قادیانی مرد سے نکاح کرنا کیسا ہے؟

۲… اور اگر زوجین میں سے ایک قادیانی ہوجائے تو دُوسرے یعنی مسلمان کو کیا کرنا چاہئے؟ اور ان کی بالغ اولاد کے بارے میں کیا حکم ہے کہ انہیں مسلمان کہا جائے گا یا قادیانی؟

ج…۱: قادیانی زِندیق و مرتد ہیں، ان کے ساتھ کسی قسم کا تعلق رکھنا ناجائز ہے۔

233

۲… قادیانی اور مسلمان کا باہمی نکاح نہیں ہوسکتا۔ اگر زوجین میں سے کوئی خدانخواستہ مرتد قادیانی ہوجائے تو نکاح فوراً فسخ ہوجاتا ہے۔ اولاد مسلمان کے پاس رہے گی۔

نوٹ: ... میرے رسائل: ’’قادیانی جنازہ‘‘، ’’قادیانی مردہ‘‘ اور ’’قادیانی ذبیحہ‘‘ کا مطالعہ ضرور کریں۔

قادیانی سہیلی سے تعلق رکھنا:

س… میری ایک بہت قریبی دوست ہے جو قادیانی ہے۔ جس وقت میری اس سے دوستی ہوئی تھی مجھے اس بات کا علم نہیں تھا۔ جب دوستی انتہائی مضبوط اور پختہ ہوگئی، اس کے بعد کسی اور ذریعے سے مجھے یہ بات معلوم ہوئی۔ میری اس دوست نے مجھے خود بھی یہ بات نہیں بتائی اور کبھی دِین کے مسئلے پر کوئی بات بھی نہیں ہوئی۔ اب میری سمجھ میں کوئی بات نہیں آتی کہ کیا کروں؟

۱… کیا اپنی اس قادیانی دوست سے تعلق ختم کرلوں؟

ج… جی ہاں! اگر اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے تعلق رکھنا ہے تو قادیانی سے تعلق توڑنا ہوگا۔

۲… کیا قادیانیوں یا کسی غیرمسلم سے دوستی رکھنا جائز ہے؟

ج… حرام ہے۔

۳… قادیانی کافر ہیں یا مرتد؟

ج… قادیانی مرتد اور زِندیق ہیں، اس کے لئے میرا رسالہ ’’قادیانیوں اور دُوسرے کافروں کے درمیان فرق‘‘ ملاحظہ فرمائیں۔

قادیانی شادی میں شرکت کا حکم:

س… کئی سال قبل ایک شادی میں شرکت کی تھی، کچھ عرصہ بعد معلوم ہوا کہ ماں باپ اور چند اعزا کی ملی بھگت سے وہ شادی غیرمسلم یعنی قادیانی سے کی گئی ہے۔ اب معلوم یہ کرنا ہے کہ اس شادی میں جو لوگ نادانستہ شریک ہوئے ان کے بارے میں کیا حکم ہے؟ اس لڑکی

234

سے جو اولاد پیدا ہو رہی ہے اس کو کیا کہا جائے گا؟

ج… جن لوگوں کو لڑکی کے قادیانی ہونے کا علم نہیں تھا، وہ تو گنہگار نہیں ہوئے، اللہ تعالیٰ معاف فرمائے۔

۲… جن لوگوں کو علم تھا کہ لڑکی قادیانی ہے اور ان کو قادیانیوں کے عقائد کا علم نہیں تھا، اس لئے ان کو مسلمان سمجھ کر شریک ہوئے، وہ گنہگار ہیں، ان کو توبہ کرنی چاہئے اور اللہ تعالیٰ سے معافی مانگنی چاہئے۔

۳… اور جن لوگوں کو لڑکی کے قادیانی ہونے کا علم تھا، اور ان کے عقائد کا بھی علم تھا، اور وہ قادیانیوں کو غیرمسلم سمجھتے تھے، مگر یہ مسئلہ معلوم نہیں تھا کہ مسلمانوں اور قادیانیوں کا آپس میں نکاح نہیں ہوسکتا، وہ بھی گنہگار ہیں، ان کو توبہ کرنی چاہئے اور اللہ تعالیٰ سے معافی مانگنی چاہئے۔

۴… اور جن لوگوں کو لڑکی کے قادیانی ہونے کا بھی علم تھا، اور ان کے عقائد بھی معلوم تھے، اس کے باوجود انہوں نے قادیانیوں کو مسلمان سمجھا، اور مسلمان سمجھ کر ہی اس شادی میں شرکت کی، وہ اِیمان سے خارج ہوگئے، ان پر تجدیدِ اِیمان اور توبہ کے بعد تجدیدِ نکاح لازم ہے۔

قادیانیوں کا حکم مرتد کا ہے، مرتد مرد یا عورت کا اس سے نکاح نہیں ہوتا، اس لئے قادیانی لڑکی سے جو اولاد ہوگی وہ ولدالحرام شمار ہوگی۔

نوٹ: ... ان مسائل کی تحقیق میرے رسائل ’’قادیانی جنازہ‘‘، ’’قادیانی مردہ‘‘ اور ’’قادیانی ذبیحہ‘‘ میں دیکھ لی جائے۔

مسلمان عورت سے قادیانی کا نکاح

س… ہمارے علاقے میں ایک خاتون رہتی ہیں جو بچوں کو ناظرہ قرآن کی تعلیم دیتی ہیں، نیز محلے کی مستورات تعویذ گنڈے اور دِینی مسائل کے بارے میں موصوفہ سے رُجوع کیا کرتی ہیں، لیکن باوثوق ذرائع سے معلوم ہوا ہے کہ اس کا شوہر قادیانی ہے۔ موصوفہ سے

235

دریافت کیا گیا تو اس نے یہ موقف اِختیار کیا کہ اگر میرا شوہر قادیانی ہے تو کیا ہوا، میں تو مسلمان ہوں، میرا عقیدہ میرے ساتھ اور اس کا اس کے ساتھ، اس کے عقائد سے میری صحت پر کیا اثر پڑتا ہے۔ آپ سے دریافت کرنا مطلوب ہے کہ:

۱: ... کسی مسلمان مرد یا عورت کا کسی قادیانی مذہب کے حامل افراد سے زن و شوہر کے تعلقات قائم رکھنا کیسا ہے؟

۲: ... اہلِ محلہ کا شرعی معاملات میں اس خاتون سے رُجوع کرنا، نیز معاشرتی تعلقات قائم رکھنے کی شرعی حیثیت کیا ہے؟

ج… کسی مسلمان خاتون کا کسی غیرمسلم سے نکاح نہیں ہوسکتا، نہ قادیانی سے، نہ کسی دُوسرے غیرمسلم سے۔ اور نہ کوئی مسلمان خاتون کسی قادیانی کے گھر رہ سکتی ہے، نہ اس سے میاں بیوی کا تعلق رکھ سکتی ہے۔ یہ خاتون جس کا سوال میں ذِکر کیا گیا ہے، اگر اس کو یہ مسئلہ معلوم نہیں تو اس کو اس کا مسئلہ بتادیا جائے۔ مسئلہ معلوم ہونے کے بعد اسے چاہئے کہ وہ قادیانی مرتد سے فوراً قطع تعلق کرلے۔ اور اگر وہ مسئلہ معلوم ہونے کے بعد بھی بدستور قادیانی کے ساتھ رہتی ہے، تو سمجھ لینا چاہئے کہ وہ درحقیقت خود بھی قادیانی ہے، محض بھولے بھالے مسلمانوں کو اُلُّو بنانے کے لئے وہ اپنے آپ کو مسلمان ظاہر کرتی ہے۔ محلے کے مسلمانوں کو آگاہ کیا جائے کہ اس سے قطع تعلق کریں اور اس سے بھی وہی سلوک کریں جو قادیانی مرتدوں سے کیا جاتا ہے۔ اس سے بچوں کو قرآنِ کریم پڑھوانا، تعویذ گنڈے لینا، دِینی مسائل میں اس سے رُجوع کرنا، اس سے معاشرتی تعلقات رکھنا حرام ہے۔

اگر کوئی جانتے ہوئے قادیانی عورت سے نکاح کرلے تو اس کا شرعی حکم:

س… اگر کوئی شخص کسی قادیانی عورت سے یہ جاننے کے باوجود کہ یہ عورت قادیانی ہے عقد کرلیتا ہے تو اس کا نکاح ہوا کہ نہیں؟ اور اس شخص کا اِیمان باقی رہا یا نہیں؟

ج… قادیانی عورت سے نکاح باطل ہے۔ رہا یہ کہ قادیانی عورت سے نکاح کرنے والا مسلمان بھی رہا یا نہیں؟ اس میں یہ تفصیل ہے کہ:

236

الف: ... اگر اس کو قادیانیوں کے کفریہ عقائد معلوم نہیں۔ یا

ب: ... اس کو یہ مسئلہ معلوم نہیں کہ قادیانی مرتدوں کے ساتھ نکاح نہیں ہوسکتا تو ان دونوں صورتوں میں اس شخص کو خارج اَز اِیمان نہیں کہا جائے گا، البتہ اس شخص پر لازم ہے کہ مسئلہ معلوم ہونے پر اس قادیانی مرتد عورت کو مسلمان کرلے، اور اگر وہ اِسلام قبول نہ کرے تو اس کو فوراً علیحدہ کردے، اور آئندہ کے لئے اس سے ازدواجی تعلقات نہ رکھے، اور اس فعل پر توبہ کرے۔ اور اگر یہ شخص قادیانیوں کے عقائد معلوم ہونے کے باوجود ان کو مسلمان سمجھتا ہے تو یہ شخص بھی کافر اور خارج اَز اِیمان ہے، کیونکہ عقائدِ کفریہ کو اِسلام سمجھنا خود کفر ہے، اس شخص پر لازم ہے کہ اپنے ایمان کی تجدید کرے۔

قادیانی نواز وکلاء کا حشر:

س… کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیانِ دینِ متین اس مسئلے میں کہ گزشتہ دنوں مردان میں قادیانیوں نے ربوہ کی ہدایت پر کلمۂ طیبہ کے بیج بنوائے، پوسٹر بنوائے اور بیج اپنے بچوں کے سینوں پر لگائے اور پوسٹر دُکانوں پر لگاکر کلمۂ طیبہ کی توہین کی۔ اس حرکت پر وہاں کے علمائے کرام اور غیرت مند مسلمانوں نے عدالت میں ان پر مقدمہ دائر کردیا، اور فاضل جج نے ضمانت کو مسترد کرتے ہوئے ان کو جیل بھیج دیا۔ اب عرض یہ ہے کہ وہاں کے مسلمان وکلاء صاحبان ان قادیانیوں کی پیروی کر رہے ہیں اور چند پیسوں کی خاطر ان کے ناجائز عقائد کو جائز ثابت کرنے کے لئے جدوجہد کر رہے ہیں۔ ان وکلاء صاحبان میں ایک سیّد ہے۔ براہِ کرم قرآن اور اَحادیثِ نبوی کی روشنی میں تفصیل سے تحریر فرمادیں کہ شریعتِ محمدی کی رُو سے ان وکلاء صاحبان کا کیا حکم ہے؟

ج… قیامت کے دن ایک طرف محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا کیمپ ہوگا، اور دُوسری طرف مرزا غلام احمد قادیانی کا۔ یہ وکلاء جنہوں نے دِینِ محمدی کے خلاف قادیانیوں کی وکالت کی ہے، قیامت کے دن غلام احمد کے کیمپ میں ہوں گے اور قادیانی ان کو اپنے ساتھ دوزخ میں لے کر جائیں گے۔ واضح رہے کہ کسی عام مقدمے میں کسی قادیانی کی

237

وکالت کرنا اور بات ہے، لیکن شعائرِ اِسلامی کے مسئلے پر قادیانیوں کی وکالت کے معنی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے خلاف مقدمہ لڑنے کے ہیں۔ ایک طرف محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا دِین ہے اور دُوسری طرف قادیانی جماعت ہے، جو شخص دِینِ محمدی کے مقابلے میں قادیانیوں کی حمایت و وکالت کرتا ہے وہ قیامت کے دن آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی اُمت میں شامل نہیں ہوگا، خواہ وہ وکیل ہو، یا کوئی سیاسی لیڈر، یا حاکمِ وقت۔

قادیانی نواز کو سمجھایا جائے:

س… قادیانی کافر، مرتد اور زِندیق ہیں، جو شخص ان کے ساتھ لین دین رکھتا ہے، کھاتا پیتا ہے، اور مسلمانوں کی بات کو رَدّ کرتا ہے، قرآن و سنت کے مطابق اس آدمی کا بائیکاٹ کیا جائے یا نہیں؟ اس کے ساتھ کیسا سلوک کیا جائے جس سے وہ آدمی اس حرکت سے باز آجائے؟

ج… جو شخص قادیانیوں کو کافر و مرتد اور زِندیق بھی سمجھتا ہے، اگر ان سے کاروبار کرتا ہے تو اپنی اِیمانی کمزوری سے ایسا کرتا ہے، اس کو سمجھانے کی کوشش کی جائے اور اس سے قطع تعلق نہ کیا جائے۔

قادیانی نوازوں کے بارے میں مفید مشورہ:

س… ہمارے علاقے میں کچھ مرزائی رہتے ہیں، جب ہم نے ان کے خلاف مہم شروع کی تو کچھ لوگوں نے تو ہمارا ساتھ دیا، لیکن بعض نے ہماری مخالفت کی، ہمیں بُرابھلا کہا، لیکن ہم نے ان کی پروا کئے بغیر کام کیا۔ مخالفوں نے مرزائیوں کی حمایت کی، ان کو پناہ دی، ان کو کاروبار چلانے کے لئے جگہ دی، ان کی ہر ممکن اِمداد کی، ان سے ہر قسم کا برتاؤ کیا، ان کے ساتھ کھانا کھایا، چائے پی، ہم نے ان کو ٹوکا تو ہمارے خلاف ہوگئے۔ آپ برائے مہربانی قرآن و سنت کی روشنی میں ان سوالوں کا جواب دیں:

۱… مرزائی نوازوں کے بارے میں کیا حکم ہے؟

۲… ہمیں مرزائی نوازوں کے ساتھ کیا سلوک کرنا چاہئے؟

۳… مرزائی نواز مسجد میں نماز پڑھتے ہیں، کیا ان کو مسجد میں نماز پڑھنے دینا چاہئے؟

238

۴… کیا مرزائی نوازوں کا اِیمان خطرے میں نہیں ہے؟ ان سوالوں کا جواب جلدی دیں، شکریہ۔ ہم رسالہ ’’ختمِ نبوّت‘‘ مسلسل ڈھائی ماہ سے پڑھ رہے ہیں، اس کا اِنتظار رہتا ہے۔ ان سوالوں کا جواب جلدی اور ضرور دیں۔

ج… ان بے چاروں کو مرزائیوں کے عقائد کا علم نہیں ہوگا، یا مرزائیوں نے ان کو کسی تدبیر سے جکڑ رکھا ہوگا، آپ انہیں ختمِ نبوّت اور قادیانیوں سے متعلق لٹریچر پڑھائیں۔

قادیانیوں کا ذبیحہ حرام ہے:

س… کیا قادیانیوں کے ہاتھ کا لایا ہوا سوداسلف اور ان کا ذبیحہ جائز ہے؟ اور ان کا ذبح کیا ہوا جانور جائز ہے؟

ج… قادیانیوں کا ذبح کیا ہوا جانور تو مردار اور حرام ہے، ان کا لایا ہوا سودا سلف جائز ہے، مگر ان سے منگوانا جائز نہیں، اور ان سے قطع تعلق نہ کرنا اِیمان کی کمزوری ہے۔

س… کیا اسلام مجھے اپنی بیوی پر یہ پابندی لگانے کا حق دیتا ہے کہ میں اپنی بیوی کو قادیانی رشتہ داروں سے نہ ملنے دُوں؟

ج… ضرور پابندی ہونی چاہئے۔

جس نے کہا ’’قادیانی مسلمانوں سے اچھے ہیں‘‘ وہ قادیانیوں سے بدتر کافر ہوگیا:

س… میرے ایک مسلمان ساتھی نے بحث کے دوران کہا کہ آپ (مسلمانوں) سے مرزائی اچھے ہیں، اور مرزائی مسلمان ہیں، کیونکہ وہ کلمہ پڑھتے ہیں، نماز پڑھتے ہیں، قرآن پاک پڑھتے ہیں، حالانکہ یہ بات ہر ایک کے علم میں ہے کہ ستمبر ۱۹۷۴ء کو اس وقت کی قومی اسمبلی نے ان کو غیرمسلم قرار دے دیا تھا، جس میں علمائے دِین کے کردار و خدمات کو فراموش نہیں کیا جاسکتا۔ اب آپ قرآن و سنت کی روشنی میں بتائیں کہ مرزائی کو مسلمان کہنا اور مسلمان سے مرزائی کو اچھا کہنے والے کے متعلق کیا حکم ہے؟

ج… جس شخص نے یہ کہا کہ: ’’قادیانی مسلمانوں سے اچھے ہیں‘‘ وہ خود قادیانیوں سے بدتر کافر ہوگیا، اپنے اس قول سے توبہ کرے اور اپنے نکاح و اِیمان کی تجدید کرے۔

239

قادیانیوں کو مسلمان سمجھنے والے کا شرعی حکم:

س… کوئی شخص قادیانی گھرانے میں رشتہ یہ سمجھ کر کرتا ہے کہ وہ ہم سے بہتر مسلمان ہیں، اسلام میں ایسے شخص کے لئے کیا حکم ہے؟

ج… جو شخص قادیانیوں کے عقائد سے واقف ہو، اس کے باوجود ان کو مسلمان سمجھے، تو ایسا شخص خود مرتد ہے کہ کفر کو اِسلام سمجھتا ہے۔

مرزائی کا جنازہ:

س… ہمارے گاؤں میں چند مرزائیوں کے گھر ہیں، جو دُنیاوی حالات سے ٹھیک ٹھاک ہیں، گزشتہ دنوں ان کا ایک جوان فوت ہوگیا، تو ان کے مربی نے اس مرزائی کا جنازہ پڑھایا، ہمارے محلے کی مسجد کے اِمام صاحب بھی قبرستان میں بطورِ افسوس چلے گئے تو مسلمانوں نے کہا کہ ہم مرزائی اِمام کے پیچھے تمہارا جنازہ نہیں پڑھیں گے بلکہ ہم علیحدہ اپنا جنازہ اپنے اِمام کے پیچھے ادا کریں گے، پھر انہوں نے مولوی صاحب کو کہا جنازہ پڑھاؤ تو مولوی صاحب نے بلاچون وچرا اس مرزائی کا جنازہ پڑھ دیا۔ مجھے اور ایک اور باضمیر مسلمان کو بڑی حیرت ہوئی کہ اِلٰہی ماجرا کیا ہے! ہم دونوں نے جنازہ نہ پڑھا اور واپس آگئے۔ پھر مغرب کی نماز کے وقت مولوی صاحب مسجد میں کہنے لگے کہ مجھ سے گناہِ کبیرہ ہوگیا ہے، میرے لئے دُعا کریں، نیز اس مرزائی کو مسلمانوں کے قبرستان میں دفن کردیا گیا ہے۔ مسئلہ دریافت طلب یہ ہے کہ کیا ایسے اِمام کے پیچھے نماز دُرست ہے؟ وہ جو کہتے ہیں کہ میں اس گناہ پر توبہ کرتا ہوں، کیا ایسے آدمی کی توبہ قبول ہے؟ دُوسرے مسلمانوں کے متعلق کیا حکم ہے جنہوں نے مرزائی کا جنازہ پڑھا، ان سے معاملات رکھے؟

ج… مرزائی کا جنازہ جائز نہیں، اور اس کو مسلمانوں کے قبرستان میں دفن کرنا بھی جائز نہیں۔ جن مسلمانوں نے مرزائی کو کافر سمجھ کر محض دُنیاوی وجاہت کی وجہ سے جنازہ پڑھا وہ گنہگار ہوئے، ان کو توبہ کرنی چاہئے اور توبہ کے اعلان کے بعد اس اِمام کے پیچھے نماز جائز ہے۔ اور جن لوگوں نے مرزائیوں کے عقائد معلوم ہونے کے باوجود ان کو مسلمان سمجھ کر

240

مرزائی کا جنازہ پڑھا، ان پر تجدیدِ اِیمان اور تجدیدِ نکاح لازم ہے۔

کیا مسلمانوں کے قبرستان کے نزدیک کافروں کا قبرستان بنانا جائز ہے؟

س… کیا فرماتے ہیں علمائے دِین اس مسئلے میں کہ کسی کافر کا مسلمانوں کے قبرستان میں دفن کرنا تو جائز نہیں، لیکن مسلمانوں کے قبرستان کے متصل ان کا قبرستان بنانا جائز ہے یا کہ دُور ہونا چاہئے؟

ج… ظاہر ہے کہ کافروں، مرتدوں کو مسلمانوں کے قبرستان میں دفن کرنا حرام اور ناجائز ہے، اس طرح کافروں کو مسلمانوں کے قبرستان کے قریب بھی دفن کرنے کی ممانعت ہے تاکہ کسی وقت دونوں قبرستان ایک نہ ہوجائیں۔ کافروں کی قبر مسلمانوں کی قبر سے دُور ہونی چاہئے تاکہ کافروں کے عذاب والی قبر مسلمانوں کی قبر سے دُور ہو، کیونکہ اس سے بھی مسلمانوں کو تکلیف پہنچے گی۔

قادیانی مردہ:

س… کیا قادیانی اہلِ کتاب ہیں؟

ج… قادیانی اہلِ کتاب نہیں بلکہ مرتد اور زِندیق ہیں۔

س… قادیانی کے سلام کرنے کی صورت میں کیا کرنا چاہئے؟

ج… اس کو سلام نہ کیا جائے، نہ جواب دیا جائے۔

س… کیا قادیانیوں کے ساتھ کھانا پینا یا اس کے ہاتھ کا پکا کھانا جائز ہے؟

ج… اس کے ساتھ کھانا جائز نہیں۔

س…کسی مسلمان کا کسی قادیانی کی نمازِ جنازہ میں شریک ہونا یا اس کی میّت کو کندھا دینا جائز ہے؟

ج… مرتد کا جنازہ جائز نہیں، اور اس میں شرکت بھی جائز نہیں۔

س… کسی قادیانی کا کسی مسلمان کی نمازِ جنازہ میں شریک ہونے یا میّت کو کندھا دینے کے بارے میں کیا حکم ہے؟ کیا اس کو روکنا صحیح ہے؟

241

ج… اس کو روک دیا جائے کہ وہ مسلمان کے جنازے میں شریک نہ ہو، نہ کندھا دے۔

س… کسی قادیانی میّت کا مسلمانوں کے قبرستان میں دفن کرنے کے متعلق کیا حکم ہے؟

ج… قادیانی مرتد کو مسلمانوں کے قبرستان میں دفن کرنا جائز نہیں، اگر دفن کردیا جائے تو اس کا اُکھاڑنا ضروری ہے۔

قادیانی مسجد میں داخل نہیں ہوسکتا:

س… اگر کوئی قادیانی ہماری مسجد میں آکر الگ ایک کونے میں جماعت سے الگ نماز پڑھ لے تو ہم اس کو اس کی اجازت دے سکتے ہیں کہ ہماری مسجد میں اپنی نماز پڑھے؟

ج… کسی غیرمسلم کا ہماری اجازت سے ہماری مسجد میں اپنی عبادت کرنا صحیح ہے۔ نصاریٰ نجران کا جو وفد بارگاہِ نبوی میں حاضر ہوا تھا انہوں نے مسجدِ نبوی (علیٰ صاحبہا الف صلوٰۃ وسلام) میں اپنی عبادت کی تھی۔ یہ حکم تو غیرمسلموں کا ہے۔ لیکن جو شخص اسلام سے مرتد ہوگیا ہو اس کو کسی حال میں مسجد میں داخلے کی اجازت نہیں دی جاسکتی۔ اس طرح جو مرتد اور زِندیق اپنے کفر کو اِسلام کہتے ہوں، جیسا کہ قادیانی اپنے کفر کو اِسلام کہتے ہیں، ان کو بھی مسجد میں آنے کی اجازت نہیں دی جاسکتی۔

غیرمسلم سے مدرسے کے لئے چندہ لینا بے غیرتی ہے:

س… غیرمسلم مرزائی سے مدرسے یا مسجد کے لئے چندہ لینا کیسا ہے؟

ج… بے غیرتی ہے۔

’’شیزان‘‘ کا بائیکاٹ:

س… میں اکثر رسالہ ہفت روزہ ’’ختمِ نبوّت‘‘ کا مطالعہ کرتا رہتا ہوں، آپ کے رسالے اور بعض پوسٹروں سے معلوم ہوا تھا کہ ’’شیزان‘‘ قادیانیوں کی کمپنی ہے، اس لئے ’’شیزان‘‘ کا بائیکاٹ کیا جائے۔ الحمدللہ ابھی تک اپنے ساتھیوں کے ساتھ ’’شیزان‘‘ کا بائیکاٹ جاری ہے۔

کچھ دن پہلے کی بات ہے کہ کولڈ ڈرنک کی دُکانوں میں ایک پیک ڈبے میں

242

شیزان جوس مل رہا تھا، میں اور میرا ایک دوست کولڈ ڈرنک کی دُکان میں گئے تو شیزان جوس دیا گیا، میں نے اپنے ایک دوست کو بتایا یہ قادیانیوں کی کمپنی ہے، اس کا بائیکاٹ کیا جائے تو میرے دوست نے بھی اس کا بائیکاٹ کیا۔ جب دُکان دار کو معلوم ہوا تو انہوں نے بھی شیزان والوں سے جوس لینا بند کردیا۔ جب جوس دینے والے نے دُکان دار سے پوچھا کہ آپ ہمارا شیزان جوس کیوں نہیں لیتے؟ تو انہوں نے جواب دیا کہ ہمارے علماء کہتے ہیں کہ یہ قادیانیوں کی کمپنی ہے، یہ ہمارے دِین اور نبی کے دُشمن ہیں، اس لئے اس کا بائیکاٹ کیا جائے۔ تو انہوں نے کہا کہ مشروبات میں بعض یہودی اور عیسائیوں کی بھی کمپنیاں ہیں۔ آپ ان کا بائیکاٹ کیوں نہیں کرتے ہیں؟ اور وہ بھی پاکستان میں رہتے، ہم بھی پاکستانی ہیں۔

الحمدللہ ابھی کافی لوگوں کو پتا چلا ہے تو شیزان جوس اور شیزان بوتل کا بائیکاٹ کررہے ہیں، لیکن بعض لوگ پروپیگنڈوں کی وجہ سے لوگوں کے دِلوں میں شبہ ڈال رہے ہیں، اس لئے میں بعض سوالات اس تحریر میں لکھ رہا ہوں، اُمید ہے کہ آپ اپنے ہفت روزہ ’’ختمِ نبوّت‘‘ رسالے میں ان سوالات کے جوابات اور اس تحریر کو شائع کرکے بہت سے مسلمانوں کے شکوک و شبہات دُور فرمائیں گے۔

س… بعض لوگ کہتے ہیں کہ شیزان کمپنی کو مسلمان نے خریدا ہے، اب وہ چلا رہے ہیں؟

ج… بظاہر قادیانیوں کا جھوٹا پروپیگنڈا ہے، ہماری معلومات کے مطابق یہ قادیانیوں کی ملکیت ہے۔

س… کیا شیزان جوس بھی قادیانیوں کی شیزان کمپنی کا تیار کردہ ہے؟

ج… ’’شیزان کمپنی‘‘ کے سوا دُوسرا کوئی ’’شیزان جوس‘‘ کیسے تیار کرسکتا ہے؟

س… کیا بعض مشروبات کی کمپنیاں عیسائیوں اور یہودیوں کی بھی ہیں؟ اگر ہیں تو نشاندہی فرمائیے تاکہ ان سے بھی ہم اپنے آپ کو بچائیں۔

ج… قادیانی کافر ہیں، مگر وہ خود کو مسلمان اور دُنیا بھر کے مسلمانوں کو کافر، کتے، خنزیر اور ولدالحرام کہتے ہیں، اور پھر اپنی آمدنی کا بڑا حصہ مسلمانوں کو مرتد بنانے کے لئے خرچ

243

کرتے ہیں۔ اس لئے قادیانیوں کے ساتھ لین دین قطعاً ناجائز اور غیرتِ ملّی کے خلاف ہے۔ قادیانی مصنوعات کا بائیکاٹ ضروری ہے۔ دُوسرے کافروں کے ساتھ لین دین کی ممانعت صرف اس صورت میں ہے جبکہ وہ ہمارے ساتھ حالتِ جنگ میں ہوں، ورنہ ان کے ساتھ لین دین جائز ہے۔

کیا قادیانیوں کو جبراً قومی اسمبلی نے غیرمسلم بنایا ہے؟

س… ’’لا اکراہ فی الدین‘‘ یعنی دِین میں کوئی جبر نہیں، نہ تو آپ جبراً کسی کو مسلمان بناسکتے ہیں اور نہ ہی جبراً کسی مسلمان کو آپ غیرمسلم بناسکتے ہیں۔ اگر یہ مطلب ٹھیک ہے تو پھر آپ نے ہم (جماعت احمدیہ) کو کیوں جبراً قومی اسمبلی اور حکومت کے ذریعے غیرمسلم کہلوایا؟

ج… آیت کا مطلب یہ ہے کہ کسی کو جبراً مسلمان نہیں بنایا جاسکتا، یہ مطلب نہیں کہ جو شخص اپنے غلط عقائد کی وجہ سے مسلمان نہ رہا ہو، اس کو غیرمسلم بھی نہیں کہا جاسکتا۔ دونوں باتوں میں زمین و آسمان کا فرق ہے۔ آپ کی جماعت کو قومی اسمبلی نے غیرمسلم نہیں بنایا، غیرمسلم تو آپ اپنے عقائد کی وجہ سے خود ہی ہوئے ہیں، البتہ مسلمانوں نے غیرمسلم کو غیرمسلم کہنے کا ’’جرم‘‘ ضرور کیا ہے۔

منکرینِ ختمِ نبوّت کے لئے اصل شرعی فیصلہ کیا ہے؟

س… خلیفہ اوّل بلافصل سیّدنا ابوبکر صدیقؓ کے دورِ خلافت میں مسیلمہ کذّاب نے نبوّت کا جھوٹا دعویٰ کیا تو حضرت صدیقِ اکبرؓ نے منکرینِ ختمِ نبوّت کے خلاف اعلانِ جنگ کیا اور تمام منکرینِ ختمِ نبوّت کو کیفرِ کردار تک پہنچایا۔ اس سے ثابت ہوا کہ منکرینِ ختمِ نبوّت واجب القتل ہیں۔ لیکن ہم نے پاکستان میں قادیانیوں کو صرف ’’غیرمسلم اقلیت‘‘ قرار دینے پر ہی اِکتفا کیا۔ اس کے علاوہ اخبارات میں آئے دن اس قسم کے بیانات بھی شائع ہوتے رہتے ہیں کہ: ’’اسلام نے اقلیتوں کو جو حقوق دئیے ہیں وہ حقوق انہیں پورے پورے دئیے جائیں گے۔‘‘ ہم قادیانیوں کو نہ صرف حقوق اور تحفظ فراہم کئے ہوئے ہیں بلکہ کئی اہم سرکاری عہدوں پر بھی قادیانی فائز ہیں۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ منکرینِ ختمِ نبوّت اسلام کی

244

رُو سے واجب القتل ہیں یا اسلام کی طرف سے اقلیتوں کو دئیے گئے حقوق اور تحفظ کے حق دار ہیں؟

ج… منکرینِ ختمِ نبوّت کے لئے اسلام کا اصل قانون تو وہی ہے جس پر حضرت صدیقِ اکبر رضی اللہ عنہ نے عمل کیا۔ پاکستان میں قادیانیوں کو غیرمسلم اقلیت قرار دے کر ان کی جان ومال کی حفاظت کرنا ان کے ساتھ رعایتی سلوک ہے۔ لیکن اگر قادیانی اپنے آپ کو غیرمسلم اقلیت تسلیم کرنے پر آمادہ نہ ہوں، بلکہ مسلمان کہلانے پر مصر ہوں تو مسلمان، حکومت سے یہ مطالبہ کرسکتے ہیں کہ ان کے ساتھ مسیلمہ کذّاب کی جماعت کا سا سلوک کیا جائے۔ کسی اسلامی مملکت میں مرتدین اور زَنادقہ کو سرکاری عہدوں پر فائز کرنے کی کوئی گنجائش نہیں، یہ مسئلہ نہ صرف پاکستان بلکہ دیگر اِسلامی ممالک کے اربابِ حل و عقد کی توجہ کا متقاضی ہے۔

حضرت مہدیؓ کے بارے میں نشانیاں:

س… حضرت مہدیؓ کے بارے میں نشانیاں کیا کیا ہیں؟ وہ کب تشریف لائیں گے اور کہاں آئیں گے؟ مسلمان انہیں کس طرح پہچانیں گے؟

ج… حضرت اُمِّ سلمہ رضی اللہ عنہا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد نقل کرتی ہیں کہ: ’’ایک خلیفہ کی موت پر (ان کی جانشینی کے مسئلے پر) اختلاف ہوگا، تو اہلِ مدینہ میں سے ایک شخص بھاگ کر مکہ مکرمہ آجائے گا (یہ مہدیؓ ہوں گے اور اس اندیشے سے بھاگ کر مکہ آجائیں گے کہ کہیں ان کو خلیفہ نہ بنادیا جائے) مگر لوگ ان کے انکار کے باوجود ان کو خلافت کے لئے منتخب کریں گے، چنانچہ حجر اَسوَد اور مقامِ اِبراہیم کے درمیان (بیت اللہ شریف کے سامنے) ان کے ہاتھ پر لوگ بیعت کریں گے۔‘‘

’’پھر ملکِ شام سے ایک لشکر ان کے مقابلے میں بھیجا جائے گا، لیکن یہ لشکر ’’بیداء‘‘ نامی جگہ میں جو کہ مکہ و مدینہ کے درمیان ہے، زمین میں دھنسادیا جائے گا، پس جب لوگ یہ دیکھیں گے تو (ہر خاص و عام کو دُور دُور تک معلوم ہوجائے گا کہ یہ مہدیؓ ہیں) چنانچہ ملکِ شام کے ابدال اور اہلِ عراق کی جماعتیں آپ کی خدمت میں حاضر ہوکر آپ

245

سے بیعت کریں گی۔ پھر قریش کا ایک آدمی جس کی ننھیال قبیلہ بنوکلب میں ہوگی آپ کے مقابلے میں کھڑا ہوگا۔ آپ بنوکلب کے مقابلے میں ایک لشکر بھیجیں گے وہ ان پر غالب آئے گا اور بڑی محرومی ہے اس شخص کے لئے جو بنوکلب کے مالِ غنیمت کی تقسیم کے موقع پر حاضر نہ ہو۔ پس حضرت مہدیؓ خوب مال تقسیم کریں گے اور لوگوں میں ان کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت کے موافق عمل کریں گے اور اِسلام اپنی گردن زمین پر ڈال دے گا (یعنی اسلام کو اِستقرار نصیب ہوگا)۔ حضرت مہدیؓ سات سال رہیں گے پھر ان کی وفات ہوگی اور مسلمان ان کی نماز جنازہ پڑھیں گے۔‘‘ (یہ حدیث مشکوٰۃ شریف ص:۴۷۱ میں ابوداؤد کے حوالے سے درج ہے، اور اِمام سیوطیؒ نے العرف الوردی فی آثار المہدیؓ ص:۵۹ میں اس کو ابنِ ابی شیبہ، احمد، ابوداؤد، ابویعلیٰ اور طبرانی کے حوالے سے نقل کیا ہے)۔

حضرت مہدی رضی اللہ عنہ کے بارے میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے جو کچھ فرمایا ہے اور جس پر اہلِ حق کا اتفاق ہے اس کا خلاصہ یہ ہے کہ وہ حضرت فاطمۃ الزہرا رضی اللہ عنہا کی نسل سے ہوں گے اور نجیب الطرفین سیّد ہوں گے۔ ان کا نامِ نامی ’’محمد‘‘ اور والد کا نام ’’عبداللہ‘‘ ہوگا۔ جس طرح صورت و سیرت میں بیٹا باپ کے مشابہ ہوتا ہے، اسی طرح وہ شکل و شباہت اور اَخلاق و شمائل میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے مشابہ ہوں گے، وہ نبی نہیں ہوں گے، نہ ان پر وحی نازل ہوگی، نہ وہ نبوّت کا دعویٰ کریں گے، نہ ان پر بحیثیت نبی کے کوئی اِیمان لائے گا۔

ان کی کفار سے خوںریز جنگیں ہوں گی، ان کے زمانے میں کانے دجال کا خروج ہوگا، اور وہ لشکرِ دجال کے محاصرے میں گھِرجائیں گے۔ ٹھیک نمازِ فجر کے وقت دجال کو قتل کرنے کے لئے سیّدنا عیسیٰ علیہ السلام آسمان سے نازل ہوں گے، اور فجر کی نماز حضرت مہدی رضی اللہ عنہ کی اِقتدا میں پڑھیں گے، نماز کے بعد دَجال کا رُخ کریں گے، وہ لعین بھاگ کھڑا ہوگا، حضرت عیسیٰ علیہ السلام اس کا تعاقب کریں گے اور اسے ’’بابِ لُدّ‘‘ پر قتل کردیں گے، دجال کا لشکر تہ تیغ ہوگا، اور یہودیت و نصرانیت کا ایک ایک نشان مٹادیا جائے گا۔

246

حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے بارے میں نشانیاں

س… قادیانی کہتے ہیں کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام وفات پاچکے ہیں، جبکہ مسلمانوں کا عقیدہ ہے کہ وہ آسمان پر زندہ ہیں اور قربِ قیامت میں دوبارہ تشریف لائیں گے۔ براہِ کرم قرآن و حدیث کی روشنی میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے نزول کے بارے میں ارشاد فرمائیں؟ مزید برآں مسلمان انہیں کس طرح پہچانیں گے؟ اور ان کی کیا کیا نشانیاں ہیں؟

ج… قرآنِ کریم اور احادیثِ طیبہ میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی تشریف آوری کو قیامت کی بڑی نشانیوں میں شمار کیا گیا ہے، اور قیامت سے ذرا پہلے ان کے تشریف لانے کی خبر دی ہے۔ لیکن جس طرح قیامت کا معین وقت نہیں بتایا گیا کہ فلاں صدی میں آئے گی، اسی طرح حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے نزول کا وقت بھی معین نہیں کیا گیا کہ وہ فلاں صدی میں تشریف لائیں گے۔

قرآنِ کریم میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا تذکرہ کرتے ہوئے فرمایا گیا ہے: ’’اور بے شک وہ نشانی ہے قیامت کی، پس تم اس میں ذرا بھی شک مت کرو۔‘‘ (سورۂ زُخرف) بہت سے اکابر صحابہؓ و تابعینؒ نے اس آیت کی تفسیر میں فرمایا ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا نازل ہونا قربِ قیامت کی نشانی ہے، قرآن مجید میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے تذکرے میں ہے:

’’اور نہیں کوئی اہلِ کتاب میں سے، مگر ضرور اِیمان لائے گااس پر، اس کی موت سے پہلے، اور قیامت کے دن وہ ہوگا ان پر گواہ۔‘‘

(النساء:۱۵۹)

اور حدیث شریف میں ہے:

’’اور میں سب لوگوں سے زیادہ قریب ہوں عیسیٰ بن مریم کے کیونکہ میرے اور اس کے درمیان کوئی نبی نہیں ہوا، پس جب تم اس کو دیکھو تو اس کو پہچان لینا۔ قد میانہ، رنگ سرخ و سفید، بال سیدھے، بوقتِ نزول ان کے سر سے گویا قطرے ٹپک رہے ہوں

247

گے، خواہ ان کو تری نہ بھی پہنچی ہو، ہلکے رنگ کی دو زَرد چادریں زیبِ تن ہوں گی، پس صلیب کو توڑ ڈالیں گے، خنزیر کو قتل کریں گے، جزیہ کو بند کردیں گے اور تمام مذاہب کو معطل کردیں گے، یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ اسلام کے سوا تمام ملتوں کو ہلاک کردیں گے، اور اللہ تعالیٰ ان کے زمانے میں مسیحِ دجال کذّاب کو ہلاک کردیں گے۔ زمین میں امن و امان کا دور دورہ ہوجائے گا، یہاں تک کہ اُونٹ شیروں کے ساتھ، چیتے گائے کے ساتھ، اور بھیڑئیے بکریوں کے ساتھ چریں گے، اور بچے سانپوں کے ساتھ کھیلیں گے، ایک دُوسرے کو نقصان نہیں پہنچائیں گے، پس جتنا عرصہ اللہ تعالیٰ کو منظور ہوگا زمین پر رہیں گے پھر ان کی وفات ہوگی، پس مسلمان ان کی نمازِ جنازہ پڑھیں گے اور انہیں دفن کریں گے۔‘‘

(مسندِ احمد ج:۲ ص:۴۳۷، فتح الباری ج:۶ ص:۴۹۳، مطبوعہ لاہور۔ التصریح بما تواتر فی نزول المسیح ص:۱۶۱)

عیسیٰ علیہ السلام کے زمانے کے جو واقعات اَحادیثِ طیبہ میں ذِکر کئے گئے ہیں، ان کی فہرست خاصی ہے، مختصراً:

✡: ... آپ سے پہلے حضرت مہدیؓ کا آنا۔

✡: ... آپ کا عین نمازِ فجر کے وقت اُترنا۔

✡: ... حضرت مہدیؓ کا آپ کو نماز کے لئے آگے کرنا اور آپ کا اِنکار فرمانا۔

✡: ... نماز میں آپ کا قنوتِ نازلہ کے طور پر یہ دُعا پڑھنا: ’’قتل اللہ الدجال‘‘ (اللہ تعالیٰ دجال کو قتل کردے)۔

✡: ... نماز سے فارغ ہوکر آپ کا قتلِ دجال کے لئے نکلنا۔

✡: ... دجال کا آپ کو دیکھ کر سیسے کی طرح پگھلنے لگنا۔

✡: ... ’’بابِ لُدّ‘‘ پر آپ کا دجال کو قتل کرنا، اور اپنے نیزے پر لگا ہوا دجال کا خون مسلمانوں کو دِکھانا۔

248

✡: ... قتلِ دجال کے بعد تمام دُنیا کا مسلمان ہوجانا، صلیب کے توڑنے اور خنزیر کو قتل کرنے کا عام حکم دینا۔

✡: ... آپ کے زمانے میں امن و امان کا یہاں تک پھیل جانا کہ بھیڑئیے بکریوں کے ساتھ اور چیتے گائے بیلوں کے ساتھ چرنے لگیں، اور بچے سانپوں کے ساتھ کھیلنے لگیں۔

✡: ... کچھ عرصہ بعد یأجوج مأجوج کا نکلنا اور چارسو فساد پھیلانا۔

✡: ... ان دِنوں میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا اپنے رُفقاء سمیت کوہِ طور پر تشریف لے جانا اور وہاں خوراک کی تنگی کا پیش آنا۔

✡: ... بالآخر آپ کی بددُعا سے یأجوج مأجوج کا یکدم ہلاک ہوجانا اور بڑے بڑے پرندوں کا ان کی لاشوں کو اُٹھاکر سمندر میں پھینکنا۔ اور پھر زور کی بارش ہونا اور یأجوج مأجوج کے بقیہ اجسام اور تعفن کو بہاکر سمندر میں ڈال دینا۔

✡: ... حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا عرب کے ایک قبیلے بنوکلب میں نکاح کرنا اور اس سے آپ کی اولاد ہونا۔

✡: ... ’’فج الروحا‘‘ نامی جگہ پہنچ کر حج و عمرہ کا اِحرام باندھنا۔

✡: ... آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے روضۂ اَطہر پر حاضری دینا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا روضۂ اَطہر کے اندر سے جواب دینا۔

✡: ... وفات کے بعد روضۂ اَطہر میں آپ کا دفن ہونا۔

✡: ... آپ کے بعد ’’مقعد‘‘ نامی شخص کو آپ کے حکم سے خلیفہ بنایا جانا اور مقعد کی وفات کے بعد قرآنِ کریم کا سینوں اور صحیفوں سے اُٹھ جانا۔

✡: ... اس کے بعد آفتاب کا مغرب سے نکلنا، نیز دابۃ الارض کا نکلنا اور مؤمن و کافر کے درمیان امتیازی نشان لگانا وغیرہ وغیرہ۔

کیا حضرت مہدیؓ و عیسیٰ علیہ السلام ایک ہی ہیں؟

س… مہدیؓ اس دُنیا میں کب تشریف لائیں گے؟ اور کیا مہدیؓ اور عیسیٰ ؑایک ہی وجود ہیں؟

249

ج… حضرت مہدی رضوان اللہ علیہ آخری زمانے میں قربِ قیامت میں ظاہر ہوں گے، ان کے ظہور کے قریباً سات سال بعد دجال نکلے گا، اور اس کو قتل کرنے کے لئے عیسیٰ علیہ السلام آسمان سے نازل ہوں گے۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے لے کر تیرہویں صدی کے آخر تک اُمتِ اسلامیہ کا یہی عقیدہ رہا ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام اور حضرت مہدیؓ دو الگ الگ شخصیتیں ہیں اور یہ کہ نازل ہوکر پہلی نماز حضرت عیسیٰ علیہ السلام حضرت مہدیؓ کی اِقتدا میں پڑھیں گے۔ مرزا غلام قادیانی پہلے شخص ہیں جنہوں نے عیسیٰ اور مہدی کے ایک ہونے کا عقیدہ ایجاد کیا ہے، اس کی دلیل نہ قرآنِ کریم میں ہے، نہ کسی صحیح اور مقبول حدیث میں، اور نہ سلف صالحین میں کوئی اس کا قائل ہے۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی متواتر احادیث میں وارِد ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے نزول کے وقت حضرت مہدیؓ اس اُمت کے اِمام ہوں گے اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام ان کی اِقتدا میں نماز پڑھیں گے۔

حضرت عیسیٰ علیہ السلام بحیثیت نبی کے تشریف لائیں گے یا بحیثیت اُمتی کے؟

س… حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے دور میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام تشریف لائیں گے۔ کیا حضرت عیسیٰ علیہ السلام بحیثیت نبی تشریف لائیں گے یا حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے اُمتی ہونے کی حیثیت سے؟ اگر آپ بحیثیت نبی تشریف لائیں گے تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم خاتم النبیین کیسے ہوئے؟

ج… حضرت عیسیٰ علیہ السلام جب تشریف لائیں گے تو بدستور نبی ہوں گے، لیکن آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی تشریف آوری سے ان کی شریعت منسوخ ہوگئی اور ان کی نبوّت کا دور ختم ہوگیا۔ اس لئے جب وہ تشریف لائیں گے تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی شریعت کی پیروی کریں گے، اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے اُمتی کی حیثیت سے آئیں گے۔ ان کی تشریف آوری ختمِ نبوّت کے خلاف نہیں کیونکہ نبی آخر الزمان آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ہیں، حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو نبوّت آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے پہلے مل چکی تھی۔

250

مرزائی اور تعمیرِ مسجد

اسلام کے ساتھ ایک بدترین مذاق

دیباچہ طبع اوّل

بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ

اَلْحَمْدُ للہِ وَسَلَامٌ عَلٰی عِبَادِہِ الَّذِیْنَ اصْطَفٰی

قادیانیت قریباً ایک صدی سے اِسلام کے خلاف برسرِ پیکار ہے، مرزا غلام احمد قادیانی نے انگریز کے ظلِ حمایت میں نبوّت کا دعویٰ کیا۔ خود کو چودھویں صدی کا ’’محمد رسول اللہ‘‘، ’’رحمۃ للعالمین‘‘ اور ’’صاحبِ کوثر‘‘ قرار دے کر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے بغاوت کی، لہٰذا اُمت نے بالاتفاق اسے کافر اور دائرۂ اسلام سے خارج قرار دِیا۔

۷؍ستمبر ۱۹۷۴ء سے قبل تک حکومتی دائرے میں قادیانیوں کی حیثیت مسلمانوں کی سمجھی جاتی تھی، اور اِسلام ایک اسلامی ملک میں قادیانیوں کے مقابلے میں بے بس تھا۔ لیکن ۷؍ستمبر کے آئینی فیصلے میں حکومتی سطح پر بھی قادیانیوں کو ایک غیرمسلم اقلیت تسلیم کرلیا گیا ہے۔ اس لئے اب ان پر وہ تمام اَحکام جاری ہوں گے، جو کسی غیرمسلم فرقے کے ہیں۔ ان اَحکام کا خلاصہ یہ ہے کہ قادیانی، مسلمانوں کی اِصطلاحات اور مذہبی شعائر کو اِستعمال کرنے کے مجاز نہیں ہیں، نہ وہ مسجد تعمیر کرسکتے ہیں، نہ مسجد کی شکل و وضع پر اپنی عبادت گاہ بناسکتے ہیں۔ الغرض وہ تمام اسلامی اُمور جو ایک کافر اور مسلم کے درمیان امتیاز پیدا کرتے ہیں، قادیانی گروہ ان کو اَپنانے کا قانوناً اور اَخلاقاً مجاز نہیں۔ یہ رسالہ جو آپ کے ہاتھوں میں ہے، اس میں قرآنِ کریم، حدیثِ نبوی اور اکابرِ اُمت کے اِرشادات کی روشنی

251

میں یہ وضاحت کی گئی ہے کہ کسی غیرمسلم کو تعمیرِ مسجد اور اَذان وغیرہ کی اجازت نہیں۔ اور قادیانی چونکہ غیرمسلم ہیں، اس لئے ملتِ اسلامیہ کا فرض ہے کہ انہیں کسی قیمت پر بھی تعمیرِ مسجد اور اَذان کی اجازت نہ دے۔

محمد یوسف لدھیانوی عفا اللہ عنہ

عالمی مجلس تحفظ ختمِ نبوّت ملتان

دیباچہ طبع دوم

بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ

اَلْحَمْدُ للہِ وَسَلَامٌ عَلٰی عِبَادِہِ الَّذِیْنَ اصْطَفٰی

رسالہ ’’مرزائی اور تعمیرِ مسجد‘‘ معمولی اِصلاح و ترمیم کے بعد دوبارہ طباعت کے لئے جارہا ہے، نامناسب نہ ہوگا کہ یہیں مختصراً ان نکات کا بھی جائزہ لیا جائے جو اس مسئلے میں قادیانیوں کی طرف سے اُٹھائے جاتے ہیں۔

۱: ... قادیانیوں کا کہنا ہے کہ: ’’۷؍ستمبر کی آئینی ترمیم میں انہیں غیرمنصفانہ طور پر ’’غیرمسلم‘‘ قرار دِیا گیا ہے۔ اس لئے وہ مسلمان ہیں، اور اِسلامی شعائر کو اَپنانے کا حق رکھتے ہیں۔‘‘ لیکن قادیانیوں کا یہ اِصرار معروضی طور پر غلط ہے، کیونکہ مرزا غلام احمد قادیانی کا دعویٔ نبوّت نہ صرف مرزا غلام احمد قادیانی کی کتابوں میں باصرار و تکرار موجود ہے، بلکہ خود قادیانیوں کو بھی مُسلَّم ہے، اور یہ اِسلام کا مُسلَّمہ اُصول ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد دعویٔ نبوّت کفر ہے، چنانچہ مُلَّا علی قاریؒ ...جنہیں قادیانی بھی مجدّد تسلیم کرتے ہیں... شرح فقہ اکبر ص:۲۰۲ میں لکھتے ہیں:

’’دعوی النبوّۃ بعد نبینا صلی اللہ علیہ وسلم کفر بالْإجماع۔‘‘
252

ترجمہ: ... ’’ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد نبوّت کا دعویٰ بالاجماع کفر ہے۔‘‘

اور خود مرزا غلام احمد قادیانی بھی دعویٔ نبوّت سے پہلے مدعیٔ نبوّت کو خارج اَزاِسلام قرار دیتے تھے۔ پس جس طرح یہ بات شک و شبہ سے بالاتر ہے کہ مرزا غلام احمد قادیانی نے نبوّت کا دعویٰ کیا، اسی طرح یہ بھی قطعی فیصلہ ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد نبوّت کا دعوی کرنے والا اور اس کو ماننے والے خارج اَزاِسلام ہیں۔

۲: ... دُوسری بات قادیانیوں کی طرف سے یہ کہی جاتی ہے کہ: ’’چلئے ہم غیرمسلم سہی، مگر پاکستان کے آئین کی رُو سے ہمیں مذہبی آزادی ہے، اس لئے ہم اپنے عقیدے کے مطابق مساجد کی تعمیر وغیرہ کا حق رکھتے ہیں۔‘‘ یہ دلیل بظاہر بڑی مسحورکن ہے، مگر ذرا تأمل سے واضح ہوسکتا ہے کہ مذہبی آزادی کے معنی دُوسرے مذاہب میں مداخلت یا ان کے حقوق چھیننے کے نہیں ـــــ قادیانی بڑے شوق سے اپنی مذہبی آزادی کا حق استعمال کریں، مگر انہیں اِسلامی شعائر سے کھیلنے کی اجازت نہیں دی جاسکتی، ورنہ اس کے معنی یہ ہوں گے کہ پاکستان میں قادیانیوں کو تو اپنے مذہب کے تحفظ کی آزادی ہے، لیکن اسلام کو یہ حق حاصل نہیں کہ وہ اپنے شعائر کا تحفظ کرے۔

دُنیا بھر کے مُسلَّمہ قانون کی رُو سے کسی فرد یا گروہ کی آزادی کی آخری حد یہ ہے کہ اس سے دُوسروں کے حقوق متأثر نہ ہوں۔ دُنیا کی کوئی عدالت ’’فرد کی آزادی‘‘ کی یہ تشریح قبول نہیں کرسکتی کہ اسے دُوسرے کے گھر پر ڈاکازنی کا حق بھی حاصل ہے۔ اسی طرح قادیانیوں کی مذہبی آزادی کا یہ مفہوم ہرگز نہیں کہ انہیں اسلامی اِصطلاحات اور اِسلامی شعائر پر ڈاکا ڈالنے کی بھی اجازت دی جائے۔

۳: ... قادیانیوں کی طرف سے ایک نکتہ یہ اُٹھایا گیا ہے کہ: ’’مسجد مسلمان کا شعار نہیں، اور یہ کہ غیرمسلم بھی اپنی عبادت گاہ ’’مسجد‘‘ کے نام سے تعمیر کرسکتے ہیں۔‘‘ لیکن اس رسالے کے مطالعے سے واضح ہوجائے گا کہ قادیانیوں کا یہ دعویٰ واقعات کی دُنیا میں قطعی

253

ناقابلِ اِلتفات ہے۔ اسلام کی چودہ سو سالہ تاریخ میں ایک واقعہ بھی ایسا پیش نہیں کیا جاسکتا کہ کسی غیرمسلم نے ’’مسجد‘‘ کے نام سے اپنی عبادت گاہ بنائی ہو اور مسلمانوں نے انہیں برداشت کیا ہو، اسی لئے یہ بات ہر شک و شبہ سے بالاتر ہے کہ ’’مسجد‘‘ اور اس کے لوازم صرف اہلِ اسلام کا مذہبی شعار ہے اور کسی غیرمسلم کو اس کے اِستعمال کی اجازت نہیں دی جاسکتی۔

مناسب ہوگا کہ یہاں سر ظفراللہ خان قادیانی کا ایک حوالہ نقل کردیا جائے۔ ۱۹۱۶ء میں مسلمانوں اور قادیانیوں کے درمیان مونگیر میں ایک مسجد کی اِمامت اور تولیت پر جھگڑا ہوا، مقدمہ پٹنہ ہائی کورٹ تک پہنچا، سر ظفراللہ خان نے قادیانیوں کی طرف سے وکالت کی، اپنی کتاب ’’تحدیثِ نعمت‘‘ میں اس کا ذِکر کرتے ہوئے ظفراللہ خان لکھتے ہیں:

’’دُوسری صبح اِجلاس شروع ہونے پر چیف جسٹس صاحب نے مجھ سے دریافت کیا: تم بحث کرنے کے لئے تیار ہو۔

ظفراللہ خان: جنابِ عالی! میری ایک گزارش ہے۔ آپ کے سامنے دو بالمقابل اپیل ہیں، دونوں ماتحت عدالتوں نے قرار دیا ہے کہ جماعتِ احمدیہ کے افراد مسلمان ہیں اور مسجد میں فرداً فرداً یا دُوسرے نمازیوں میں شامل ہوکر باجماعت نماز اَدا کرسکتے ہیں۔ لیکن احمدی اِمام کی قیادت میں علیحدہ باجماعت نماز اَدا نہیں کرسکتے۔ ہمارا مطالبہ اپیل میں صرف اس قدر ہے کہ ہمیں مسجد میں احمدی اِمام کی اِقتدا میں نماز باجماعت کی بھی اجازت ہونی چاہئے۔ فریقِ مخالف ماتحت عدالتوں کے فیصلے کے کسی حصے کو بھی تسلیم نہیں کرتا۔ ان کا مطالبہ اپیل میں یہ ہے کہ احمدی جماعت کے افراد مسلمان ہی نہیں، اس لئے مسجد میں داخل ہونے کے مجاز نہیں، اور مسجد میں کسی صورت میں نماز اَدا کرنے کے حق دار نہیں۔ یہ واضح ہے کہ اگر فریقِ مخالف اپنے مطالبے میں کامیاب ہوجائے تو ہماری

254

اپیل لازماً ساقط ہوجاتی ہے اگر احمدی مسلمان ہی نہیں تو ان کا مسجد کے ساتھ کیا واسطہ اس لئے مناسب ہوگا کہ عدالت پہلے فریقِ مخالف کے اپیل کی سماعت کرے، اگر بحث سماعت کرنے کے بعد عدالت کی رائے ہو کہ احمدی مسلمان نہیں تو ہماری اپیل کی سماعت پر وقت صَرف کرنا غیرضروری ہوگا۔‘‘

(سرظفراللہ خان: تحدیثِ نعمت ص:۱۶۲)

سر ظفراللہ خان کا عدالت سے یہ کہنا کہ: ’’اگر احمدی مسلمان نہیں تو ان کا مسجد کے ساتھ کیا واسطہ؟‘‘ ہمارے زیرِ بحث مسئلے کا دوٹوک فیصلہ کردیتا ہے۔ وَاللہُ الْمُوَفِّقُ!

محمد یوسف عفا اللہ عنہ

۱۲؍ذوالقعدہ ۱۳۹۸ھ

۱۶؍اکتوبر ۱۹۷۸ء

255

بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ

اَلْحَمْدُ للہِ وَسَلَامٌ عَلٰی عِبَادِہِ الَّذِیْنَ اصْطَفٰی

’’مسجد‘‘ کے معنی لغت میں سجدہ گاہ کے ہیں، اور اِسلام کی اِصطلاح میں مسجد اس جگہ کا نام ہے جو مسلمانوں کی نماز کے لئے وقف کردی جائے۔ مُلَّا علی قاریؒ شرح مشکوٰۃ میں لکھتے ہیں:

’’والمسجد لغۃً: محل السُّجود، وشرعًا: المحل الموقوف للصلاۃ فیہ۔‘‘

(مرقاۃ المفاتیح ج:۱ ص:۴۴۱)

ترجمہ: ... ’’مسجد لغت میں سجدہ گاہ کا نام ہے، اور شریعتِ اسلام کی اِصطلاح میں وہ مخصوص جگہ جو نماز کے لئے وقف کردی جائے۔‘‘

مسجد مسلمانوں کی عبادت گاہ کا نام ہے:

’’مسجد‘‘ کا لفظ مسلمانوں کی عبادت گاہ کے ساتھ مخصوص ہے، چنانچہ قرآنِ کریم میں مشہور مذاہب کی عبادت گاہوں کا ذِکر کرتے ہوئے ’’مسجد‘‘ کو مسلمانوں کی عبادت گاہ قرار دیا ہے:

’’وَلَوْ لَا دَفْعُ اللہِ النَّاسَ بَعْضَھُمْ بِبَعْضٍ لَّھُدِّمَتْ صَوٰمِعُ وَبِیَعٌ وَّصَلَوٰتٌ وَّمَسٰجِدُ یُذْکَرُ فِیْھَا اسْمُ اللہِ کَثِیْرًا۔‘‘

(الحج:۴۰، پارہ:۱۷ رکوع۶/۱۳)

ترجمہ: ... ’’اور اگر اللہ تعالیٰ ایک دُوسرے کے ذریعے لوگوں کا زور نہ توڑتا تو راہبوں کے خلوَت خانے، عیسائیوں کے

256

گرجے، یہودیوں کے معبد اور مسلمانوں کی مسجدیں، جن میں اللہ کا نام کثرت سے لیا جاتا ہے، گرادی جاتیں۔‘‘

اس آیت کے تحت مفسرین نے لکھا ہے کہ ’’صوامع‘‘ سے راہبوں کے خلوَت خانے، ’’بیع‘‘ سے نصاریٰ کے گرجے، ’’صلوات‘‘ سے یہودیوں کے عبادت خانے اور ’’مساجد‘‘ سے مسلمانوں کی عبادت گاہیں مراد ہیں۔

اِمام ابوعبداللہ محمد بن احمد القرطبیؒ (۶۷۱ھ) اپنی مشہور تفسیر ’’اَحکام القرآن‘‘ میں لکھتے ہیں:

’’وذھب خصیف إلٰی أن القصد بھٰذہ الأسماء تقسیم متعبدات الاُمم، فالصّوامع للرّھبان، والبِیَع للنّصاریٰ، والصَّلوات للیہود، والمساجد للمسلمین۔‘‘

(ج:۱۲ ص:۷۲)

ترجمہ: ... ’’اِمام خصیفؒ فرماتے ہیں کہ ان ناموں کے ذِکر کرنے سے مقصود قوموں کی عبادت گاہوں کی تقسیم ہے۔ چنانچہ ’’صوامع‘‘ راہبوں کی، ’’بیع‘‘ عیسائیوں کی، ’’صلوات‘‘ یہودیوں کی اور ’’مساجد‘‘ مسلمانوں کی عبادت گاہوں کا نام ہے۔‘‘

اور قاضی ثناء اللہ پانی پتیؒ (۱۲۲۵ھ) ’’تفسیر مظہری‘‘ میں ان چاروں ناموں کی مندرجہ بالا تشریح ذِکر کرنے کے بعد لکھتے ہیں:

’’ومعنی الآیۃ: لَوْ لَا دَفْعُ اللہِ النَّاسَ لھدمت فی کل شریعۃ نبی مکان عبادتھم، فھدمت فی زمن موسی الکنائس وفی زمن عیسی البِیَع والصّوامع وفی زمن محمد صلی اللہ علیہ وسلم المساجد۔‘‘

(تفسیر مظہری ج:۶ ص:۳۳۰)

ترجمہ: ... ’’آیت کے معنی یہ ہیں کہ اگر اللہ تعالیٰ لوگوں کا

257

زور نہ توڑتا تو ہر نبی کی شریعت میں جو اُن کی عبادت گاہ تھی، اسے گرادیا جاتا، چنانچہ موسیٰ علیہ السلام کے زمانے میں کنیسے، عیسیٰ علیہ السلام کے دور میں گرجے اور خلوَت خانے اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں مسجدیں گرادی جاتیں۔‘‘

یہی مضمون تفسیر ابنِ جریر ج:۹ ص:۱۱۴، تفسیر نیشاپوری برحاشیہ ابنِ جریر ج:۹ ص:۶۳، تفسیر خازن ج:۳ ص:۲۹۱، تفسیر بغوی ج:۵ ص:۵۹۴ برحاشیہ ابنِ کثیر، اور تفسیر رُوح المعانی ج:۱۷ ص:۱۷ وغیرہ میں موجود ہے۔ قرآنِ کریم کی اس آیت اور حضراتِ مفسرین کی ان تصریحات سے واضح ہے کہ ’’مسجد‘‘ مسلمانوں کی عبادت گاہ کا نام ہے اور یہ نام دیگر اَقوام و مذاہب کی عبادت گاہوں سے ممتاز رکھنے کے لئے تجویز کیا گیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اِبتدائے اسلام سے لے کر آج تک یہ مقدس نام مسلمانوں کی عبادت گاہ کے علاوہ کسی غیرمسلم فرقے کی عبادت گاہ کے لئے استعمال نہیں کیا گیا، لہٰذا مسلمانوں کا یہ قانونی و اخلاقی فرض ہے کہ وہ کسی ’’غیرمسلم فرقے‘‘ کو اپنی عبادت گاہ کا یہ نام نہ رکھنے دیں۔

مسجد، اِسلام کا شعار ہے:

جو چیز کسی قوم کے ساتھ مخصوص ہو، وہ اس کا شعار اور اس کے تشخص کی خاص علامت سمجھی جاتی ہے، چنانچہ مسجد بھی اسلام کا خصوصی شعار ہے، یعنی کسی قریہ، شہر یا محلے میں مسجد کا ہونا وہاں کے باشندوں کے مسلمان ہونے کی علامت ہے۔ اِمام الہند شاہ ولی اللہ محدث دہلویؒ (۱۱۷۴ھ) لکھتے ہیں:

’’فضل بناء المسجد وملازمتہ وانتظار الصلٰوۃ فیہ ترجع إلٰی أنہ من شعائر الْإسلام وھو قولہ صلی اللہ علیہ وسلم: إذا رأیتم مسجدًا أو سمعتم مؤذّنًا فلا تقتلوا أحدًا۔ وإنہ محل الصلٰوۃ ومعتکف العابدین
258

ومطرح الرحمۃ ویشبہ الکعبۃ من وجہ۔‘‘

(حجۃاللہ البالغہ، مترجم ج:۱ ص:۴۷۸)

ترجمہ: ... ’’مسجد بنانے، اس میں حاضر ہونے اور وہاں بیٹھ کر نماز کا اِنتظار کرنے کی فضیلت کا سبب یہ ہے کہ مسجد اِسلام کا شعار ہے، چنانچہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا اِرشاد ہے کہ: ’’جب کسی آبادی میں مسجد دیکھو، یا وہاں مؤذِّن کی آواز سنو تو کسی کو قتل نہ کرو۔‘‘ (یعنی کسی بستی میں مسجد اور اَذان کا ہونا، اس بات کی علامت ہے کہ وہاں کے باشندے مسلمان ہیں) اور مسجد نماز کی جگہ اور عبادت گزاروں کے اِعتکاف کا مقام ہے، وہاں رحمتِ اِلٰہی کا نزول ہوتا ہے اور وہ ایک طرح سے کعبہ کے مشابہ ہے۔‘‘

اگر فوج کا شعار غیرفوجی کو اَپنانا جرم ہے، اور جج کا شعار کسی دُوسرے شخص کو اِستعمال کرنے کی اجازت نہیں، تو یقینا اِسلام کا شعار بھی کسی غیرمسلم کو اَپنانے کی اجازت نہیں ہوسکتی، کیونکہ اگر غیرمسلموں کو کسی اِسلامی شعار مثلاً تعمیرِ مسجد اور اَذان کی اجازت دی جائے تو اِسلام کا شعار مٹ جاتا ہے اور مسلم و کافر کا اِمتیاز اُٹھ جاتا ہے۔ اسلام اور کفر کے نشانات کو ممتاز کرنے کے لئے جس طرح یہ بات ضروری ہے کہ مسلمان کفر کے کسی شعار کو نہ اپنائیں، اسی طرح یہ بھی لازم ہے کہ غیرمسلموں کو کسی اِسلامی شعار کے اپنانے کی اجازت نہ دی جائے۔

تعمیرِ مسجد عبادت ہے، کافر اس کا اہل نہیں:

نیز مسجد کی تعمیر ایک اعلیٰ ترین اِسلامی عبادت ہے، اور کافر اس کا اہل نہیں، چونکہ کافر میں تعمیرِ مسجد کی اہلیت ہی نہیں اس لئے اس کی تعمیر کردہ عمارت مسجد نہیں ہوسکتی، قرآنِ کریم میں صاف صاف ارشاد ہے:

’’مَا کَان لِلْمُشْرِکِیْنَ اَنْ یَّعْمُرُوْا مَسٰجِدَ اللہ

259

شٰھِدِیْنَ عَلیٰٓ اَنْفُسِھِمْ بِالْکُفْرِ اُولٰٓئِکَ حَبِطَتْ اَعْمَالُھُمْ وَفِی النَّارِ ھُمْ خٰلِدُوْنَ۔‘‘

(التوبۃ:۱۷)

ترجمہ: ... ’’مشرکین کو حق نہیں کہ وہ اللہ کی مسجدوں کو تعمیر کریں، درآنحالیکہ وہ اپنی ذات پر کفر کی گواہی دے رہے ہیں، ان لوگوں کے عمل اکارت ہوچکے اور وہ دوزخ میں ہمیشہ رہیں گے۔‘‘

اس آیت میں چند چیزیں توجہ طلب ہیں:

اوّل: ... یہ کہ یہاں مشرکین کو تعمیرِ مسجد کے حق سے محروم قرار دِیا گیا ہے، کیوں؟ صرف اس لئے کہ وہ کافر ہیں:’’شٰھِدِیْنَ عَلیٰٓ اَنْفُسِھِمْ بِالْکُفْرِ‘‘ ، اور کوئی کافر تعمیرِ مسجد کا اہل نہیں، گویا قرآن یہ بتاتا ہے کہ تعمیرِ مسجد کی اہلیت اور کفر کے درمیان منافات ہے، یہ دونوں چیزیں بیک وقت جمع نہیں ہوسکتیں۔ پس جب وہ اپنے عقائدِ کفر کا اِقرار کرتے ہیں تو گویا وہ خود اس اَمر کو تسلیم کرتے ہیں کہ وہ تعمیرِ مسجد کے اہل نہیں، نہ انہیں اس کا حق حاصل ہے۔ اِمام ابوبکر احمد بن علی الجصاص الرازی الحنفیؒ (متوفیٰ ۳۷۰ھ) لکھتے ہیں:

’’عمارۃ المسجد تکون بمعنیین: أحدھما: زیارتہ والکون فیہ والآخر ببنائہ وتجدید ما استرم منہ۔ فاقتضت الآیۃ منع الکفار من دخول المسجد ومن بنائھا وتولی مصالحھا والقیام بھا لِانتظام اللفظ لأمرین۔‘‘

(احکام القرآن ج:۳ ص:۱۰۸)

ترجمہ: ... ’’یعنی مسجد کی آبادی کی دو صورتیں ہیں، ایک مسجد کی زیارت کرنا، اس میں رہنا اور بیٹھنا، دُوسرے اس کو تعمیر کرنا اور شکست و ریخت کی اِصلاح کرنا۔ پس یہ آیت اس اَمر کی مقتضی ہے کہ مسجد میں نہ کوئی کافر داخل ہوسکتا ہے، نہ اس کا بانی و متولّی اور خادم بن سکتا ہے، کیونکہ آیت کے الفاظ تعمیرِ ظاہری و باطنی دونوں کو شامل ہیں۔‘‘

260

دوم: ... اپنی ذات پر کفر کی گواہی دینے کا یہ مطلب نہیں کہ وہ اپنا کافر ہونا تسلیم کرتے ہیں اور خود اپنے آپ کو ’’کافر‘‘ کہتے ہیں۔ کیونکہ دُنیا میں کوئی کافر بھی اپنے آپ کو ’’کافر‘‘ کہنے کے لئے تیار نہیں، بلکہ آیت کا مطلب یہ ہے کہ وہ ایسے عقائد کا برملا اِعتراف کرتے ہیں جنہیں اسلام، عقائدِ کفریہ قرار دیتا ہے، یعنی ان کا کفریہ عقائد کا اِظہار اپنے آپ کو کافر تسلیم کرنے کے قائم مقام ہے۔

سوم: ... قرآنِ کریم کے اس دعوے پر کہ کسی کافر کو اپنے عقائدِ کفریہ پر رہتے ہوئے تعمیرِ مسجد کا حق حاصل نہیں، یہ سوال ہوسکتا تھا کہ کافر تعمیرِ مسجد کی اہلیت سے کیوں محروم ہیں؟ اگلے جملے میں اس سوال کا جواب دیا گیا ہے کہ ان لوگوں کے عمل اکارت ہیں۔ چونکہ کفر سے اِنسان کے تمام نیک اعمال اکارت اور ضائع ہوجاتے ہیں، اس لئے کافر نہ صرف تعمیرِ مسجد کا بلکہ کسی بھی عبادت کا اہل نہیں، یہ کفر کی دُنیوی خاصیت تھی اور آگے اس کی اُخروی خاصیت بیان کی گئی ہے کہ کافر اپنے کفر کی بنا پر دائمی جہنم کے مستحق ہیں، اس لئے ان کی اطاعت و عبادت کی اللہ تعالیٰ کے نزدیک کوئی قیمت نہیں۔ پس یہ آیت اس مسئلے میں نصِ قطعی ہے کہ غیرمسلم کافر تعمیرِ مسجد کے اہل نہیں، اس لئے انہیں تعمیرِ مسجد کا حق حاصل نہیں۔ اس سلسلے میں حضراتِ مفسرین کی چند تصریحات حسبِ ذیل ہیں

اِمام ابوجعفر محمد بن جریر الطبریؒ (متوفیٰ ۳۱۰ھ) لکھتے ہیں:

’’یقول إن المساجد إنما تعمر لعبادۃ اللہ فیھا، لَا للکفر بہ، فمن کان باللہ کافرًا فلیس من شأنہ أن یعمر مساجد اللہ۔‘‘

(تفسیر ابن جریر ج:۱۰ ص:۹۳)

ترجمہ: ... ’’حق تعالیٰ فرماتے ہیں کہ مسجدیں تو اس لئے تعمیر کی جاتی ہیں کہ ان میں اللہ کی عبادت کی جائے، کفر کے لئے تو تعمیر نہیں کی جاتیں، پس جو شخص کافر ہو، اس کا یہ کام نہیں کہ وہ اللہ کی مسجدوں کی تعمیر کرے۔‘‘

اِمامِ عربیت جارُاللہ محمود بن عمر الزمخشری (متوفیٰ ۵۲۸ھ) لکھتے ہیں:

261
’’والمعنی ما استقام لھم أن یجمعوا بین أمرین متنافیین عمارۃ متعبدات اللہ مع الکفر باللہ وبعبادتہ ومعنی شھادتھم علیٰ أنفسھم بالکفر ظھور کفرھم۔‘‘

(تفسیر کشاف ج:۲ ص:۲۵۳)

ترجمہ: ... ’’مطلب یہ ہے کہ ان کے لئے کسی طرح دُرست نہیں کہ وہ دو متنافی باتوں کو جمع کریں کہ ایک طرف خدا کی مسجدیں بھی تعمیر کریں اور دُوسری طرف اللہ تعالیٰ اور اس کی عبادت کے ساتھ کفر بھی کریں، اور ان کے اپنی ذات پر کفر کی گواہی دینے سے مراد ہے ان کے کفر کا ظاہر ہونا۔‘‘

اِمام فخرالدین رازیؒ (متوفیٰ ۶۰۶ھ) لکھتے ہیں:

’’قال الواحدی: دلت علٰی أن الکفار ممنوعون من عمارہ مسجد من مساجد المسلمین، ولو أوصی بھا لم تقبل وصیتہ۔‘‘

(تفسیر کبیر ج:۱۶ ص:۷)

ترجمہ: ... ’’واحدی فرماتے ہیں: یہ آیت اس مسئلے کی دلیل ہے کہ کفار کو مسلمانوں کی مسجدوں میں سے کسی مسجد کی تعمیر کی اجازت نہیں، اور اگر کافر اس کی وصیت کرے تو اس کی وصیت قبول نہیں کی جائے گی۔‘‘

اِمام ابوعبداللہ محمد بن احمد القرطبیؒ (متوفیٰ ۶۷۱ھ) لکھتے ہیں:

’’فیجب إذًا علی المسلمین تولّی أحکام المساجد ومنع المشرکین من دخولہ۔‘‘

(تفسیر قرطبی ج:۸ ص:۸۹)

ترجمہ: ... ’’مسلمانوں پر یہ فرض عائد ہوتا ہے کہ وہ اِنتظامِ مساجد کے متولّی خود ہوں اور کفار و مشرکین کو ان میں داخل ہونے

262

سے روک دیں۔‘‘

اِمام محی السُّنَّۃ ابو محمد حسین بن مسعود الفراء البغوی (متوفیٰ ۵۱۶ھ) لکھتے ہیں:

’’أوجب اللہ علی المسلمین منعھم من ذٰلک لأن المساجد إنما تعمر لعبادۃ اللہ وحدہ فمن کان کافرًا باللہ فلیس من شأنہ أن یعمرھا۔ فذھب جماعۃ إلٰی أن المراد منہ العمارۃ من بناء المسجد ومرمتہ عند الخراب فیمنع الکافر منہ حتّٰی لو أوصی بہ لا یمتثل۔ وحمل بعضھم العمارۃ ھٰھنا علیٰ دخول المسجد والقعود فیہ۔‘‘

(تفسیر معالم التنزیل للبغوی ج:۳ ص:۵۵، برحاشیہ خازن)

ترجمہ: ... ’’اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں پر واجب کیا ہے کہ وہ کافروں کو تعمیرِ مسجد سے روک دیں، کیونکہ مسجدیں صرف اللہ تعالیٰ کی عبادت کی خاطر بنائی جاتی ہیں، پس جو شخص کافر ہو، اس کا یہ کام نہیں کہ وہ مسجدیں تعمیر کرے۔ ایک جماعت کا قول ہے کہ تعمیر سے مراد یہاں تعمیرِ معروف ہے، یعنی مسجد بنانا، اور اس کی شکست و ریخت کی اِصلاح و مرمت کرنا۔ پس کافر کو اس عمل سے باز رکھا جائے گا، چنانچہ اگر وہ اس کی وصیت کر مرے تو پوری نہیں کی جائے گی۔ اور بعض نے عمارت کو یہاں مسجد میں داخل ہونے اور اس میں بیٹھنے پر محمول کیا ہے۔‘‘

شیخ علاء الدین علی بن محمد البغدادی الخازن (متوفیٰ ۷۲۵ھ) نے تفسیر خازن میں اس مسئلے کو مزید تفصیل سے تحریر فرمایا ہے۔ مولانا قاضی ثناء اللہ پانی پتیؒ (متوفیٰ ۱۲۲۵ھ) لکھتے ہیں:

’’فإنہ یجب علی المسلمین منعھم من ذٰلک
263

لأن مساجد اللہ إنما تعمر لعبادۃ اللہ وحدہ فمن کان کافرًا باللہ فلیس من شأنہ أن یعمرھا۔‘

(تفسیر مظہری ج:۴ ص:۱۴۶)

ترجمہ: ... ’’چنانچہ مسلمانوں پر لازم ہے کہ کافروں کو تعمیرِ مسجد سے روک دیں، کیونکہ مسجدیں تو اللہ تعالیٰ کی عبادت کے لئے بنائی جاتی ہیں، پس جو شخص کہ کافر ہو، وہ ان کو تعمیر کرنے کا اہل نہیں۔‘‘

اور شاہ عبدالقادر دہلویؒ (متوفیٰ ۱۲۳۰ھ) اس آیت کے تحت لکھتے ہیں:

’’اور علماء نے لکھا ہے کہ کافر چاہے مسجد بناوے اس کو منع کرئیے۔‘‘

(موضح القرآن)

ان تصریحات سے یہ بات بالکل واضح ہوجاتی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے کافروں کو یہ حق نہیں دیا کہ وہ مسجد کی تعمیر کریں، اور یہ کہ اگر وہ ایسی جرأت کریں تو ان کو روک دینا مسلمانوں پر فرض ہے۔

تعمیرِ مسجد صرف مسلمانوں کا حق ہے:

قرآنِ کریم نے جہاں یہ بتایا کہ کافر تعمیرِ مسجد کا اہل نہیں، وہاں یہ تصریح بھی فرمائی ہے کہ تعمیرِ مسجد کا حق صرف مسلمانوں کو حاصل ہے، چنانچہ ارشاد ہے:

’’اِنَّمَا یَعْمُرُ مَسٰجِدَ اللہِ مَنْ اٰمـَنَ بِاللہِ وَالْیَوْمِ الْآخِرِ وَاَقَامَ الصَّلٰوۃَ وَاٰتـَی الزَّکٰوۃَ وَلَمْ یَخْشَ اِلّا اللہَ فَعَسٰٓی اُولٰٓئِکَ اَنْ یَّکُوْنُوْا مِنَ الْمُھْتَدِیْنَ۔‘‘

(التوبۃ:۱۸، پارہ:۱۱، رکوع:۳/۹)

ترجمہ: ... ’’اللہ کی مسجدوں کو آباد کرنا تو بس اس شخص کا کام ہے جو اللہ پر اور آخرت کے دِن پر اِیمان رکھتا ہو، نماز اَدا کرتا ہو، زکوٰۃ دیتا ہو، اور اس کے سوا کسی سے نہ ڈرے، پس ایسے لوگ اُمید

264

ہے کہ ہدایت یافتہ ہوں گے۔‘‘

اس آیت میں جن صفات کا ذِکر فرمایا، وہ مسلمانوں کی نمایاں صفات ہیں، مطلب یہ ہے کہ جو شخص پورے دِینِ محمدی پر اِیمان رکھتا ہو اور کسی حصۂ دِین کا منکر نہ ہو، اسی کو تعمیرِ مساجد کا حق حاصل ہے۔ غیرمسلم فرقے جب تک دِینِ اسلام کی تمام باتوں کو تسلیم نہیں کریں گے تعمیرِ مسجد کے حق سے محروم رہیں گے۔

غیرمسلموں کی تعمیر کردہ مسجد ’’مسجدِ ضرار‘‘ ہے:

اسلام کے چودہ سو سالہ دور میں کبھی کسی غیرمسلم نے یہ جرأت نہیں کی کہ اپنا عبادت خانہ ’’مسجد‘‘ کے نام سے تعمیر کرے۔ البتہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں بعض غیرمسلموں نے اسلام کا لبادہ اوڑھ کر، اپنے آپ کو مسلمان ظاہر کیا اور مسجد کے نام سے ایک عمارت بنائی، جو ’’مسجدِ ضرار‘‘ کے نام سے مشہور ہے۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو وحیٔ اِلٰہی سے ان کے کفر و نفاق کی اِطلاع ہوئی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے فی الفور منہدم کرنے کا حکم فرمایا، قرآنِ کریم کی آیاتِ ذیل اسی واقعے سے متعلق ہیں:

’’وَالَّذِیْنَ اتَّخَذُوْا مَسْجِدًا ضِرَارًا وَّکُفْرًا وَّتَفْرِیْقًام بَیْنَ الْمُؤْمِنِیْنَ وَاِرْصَادًا لِّمَنْ حَارَبَ اللہَ وَرَسُوْلَہٗ مِنْ قَبْلُ، وَلَیَحْلِفُنَّ اِنْ اَرَدْنَا اِلّا الْحُسْنٰی وَاللہُ یَشْھَدُ اِنَّھُمْ لَکٰذِبُوْنَ۔ لَا تَقُمْ فِیْہِ اَبَدًا ...إلٰی قولہ ... لَا یَزَالُ بُنْیَانُھُمُ الَّذِیْ بَنَوْا رِیْبَۃً فِیْ قُلُوْبِھِمْ اِلّآ اَنْ تَقَطَّعَ قُلُوْبُھُمْ، وَاللہُ عَلِیْمٌ حَکِیْمٌ۔‘‘

(التوبۃ:۱۰۷-۱۱۰، پ:۱۱، ع:۱۳/۳)

ترجمہ: ... ’’اور جن لوگوں نے مسجد بنائی کہ اسلام اور مسلمانوں کو نقصان پہنچائیں اور کفر کریں اور اہلِ ایمان کے درمیان تفرقہ ڈالیں اور اللہ و رسول کے دُشمن کے لئے ایک کمین گاہ بنائیں، اور یہ لوگ زور کی قسمیں کھائیں گے کہ ہم نے بھلائی کے سوا کسی چیز

265

کا اِرادہ نہیں کیا، اور اللہ گواہی دیتا ہے کہ وہ قطعاً جھوٹے ہیں، آپ اس میں کبھی قیام نہ کیجئے ......... ان کی یہ عمارت جو انہوں نے بنائی، ہمیشہ ان کے دِل کا کانٹا بنی رہے گی، مگر یہ کہ ان کے دِل کے ٹکڑے ٹکڑے ہوجائیں، اور اللہ علیم و حکیم ہے۔‘‘

ان آیات سے واضح طور پر معلوم ہوا کہ:

الف: ... کسی غیرمسلم گروہ کی اسلام کے نام پر تعمیر کردہ مسجد، ’’مسجدِ ضرار‘‘ کہلائے گی۔

ب: ... غیرمسلم منافقوں کی ایسی تعمیر کے مقاصد ہمیشہ حسبِ ذیل ہوں گے:

۱- اسلام اور مسلمانوں کو ضرر پہنچانا۔

۲- عقائدِ کفر کی اِشاعت کرنا۔

۳- مسلمانوں کی جماعت میں اِنتشار پھیلانا اور تفرقہ پیدا کرنا۔

۴- خدا اور رسول کے دُشمنوں کے لئے ایک اَڈّا بنانا۔

ج: ... چونکہ منافقوں کے یہ خفیہ منصوبے ناقابلِ برداشت ہیں، اس لئے حکم دِیا گیا کہ ایسی نام نہاد مسجد کو منہدم کردیا جائے۔ تمام مفسرین اور اہلِ سِیَر نے لکھا ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم سے ’’مسجدِ ضرار‘‘ منہدم کردی گئی اور اسے نذرِ آتش کردیا گیا۔ مرزائی منافقوں کی تعمیر کردہ نام نہاد مسجدیں بھی ’’مسجدِ ضرار‘‘ ہیں اور وہ بھی اسی سلوک کی مستحق ہیں جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ’’مسجدِ ضرار‘‘ سے روا رکھا تھا۔

کافر ناپاک، اور مسجدوں میں ان کا داخلہ ممنوع:

یہ اَمر بھی خاص اہمیت رکھتا ہے کہ قرآنِ کریم نے کفار و مشرکین کو ان کے ناپاک اور گندے عقائد کی بنا پر نجس قرار دیا ہے، اور اس معنوی نجاست کے ساتھ ان کی آلودگی کا تقاضا یہ ہے کہ مساجد کو ان کے وجود سے پاک رکھا جائے، ارشادِ خداوندی ہے:

’’یٰٓـاَیُّھَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا اِنَّمَا الْمُشْرِکُوْنَ نَجَسٌ فَلَا

266

یَقْرَبُوا الْمَسْجِدَ الْحَرَامَ بَعْدَ عَامِھِمْ ھٰذَا۔‘‘

(التوبۃ:۲۸، پ:۱۱، ع:۴/۱۰)

ترجمہ: ... ’’اے ایمان والو! مشرک تو نرے ناپاک ہیں، پس وہ اس سال کے بعد مسجدِ حرام کے قریب بھی پھٹکنے نہ پائیں۔‘‘

اس آیت سے معلوم ہوا کہ کافر اور مشرک کا مسجد میں داخلہ ممنوع ہے۔ اِمام ابوبکر جصاص رازیؒ (متوفیٰ ۳۷۰ھ) لکھتے ہیں:

’’إطلاق إسم النجس علی المشرک من جھۃ أن الشرک الذی یعتقدہ یجب اجتنابہ کما یجب اجتناب النجاسات والأقذار فلذٰلک سماھم نجسًا، والنجاسۃ فی الشرع تنصرف علیٰ وجھین أحدھما نجاسۃ الأعیان والآخر نجاسۃ الذنوب۔ وقد أفاد قولہ: ’’اِنَّمَا الْمُشْرِکُوْنَ نَجَسٌ‘‘ منعھم عن دخول المسجد إلّا لعذر، إذ کان علینا تطھیر المساجد من الأنجاس۔‘‘

(احکام القرآن ج:۳ ص:۱۰۸)

ترجمہ: ... ’’مشرک پر ’’نجس‘‘ کا اِطلاق اس بنا پر کیا گیا کہ جس شرک کا وہ اِعتقاد رکھتا ہے، اس سے پرہیز کرنا اسی طرح ضروری ہے جیسا کہ نجاستوں اور گندگیوں سے، اسی لئے ان کو نجس کہا۔ اور شرع میں نجاست کی دو قسمیں ہیں، ایک نجاستِ جسم، دوم نجاستِ گناہ۔ اور اِرشادِ خداوندی ’’اِنَّمَا الْمُشْرِکُوْنَ نَجَسٌ‘‘ بتاتا ہے کہ کفار کو دُخولِ مسجد سے باز رکھا جائے گا، اِلَّا یہ کہ کوئی عذر ہو، کیونکہ مسلمانوں پر لازم ہے کہ مسجدوں کو نجاستوں سے پاک رکھیں۔‘‘

اِمام محی السُّنَّۃ بغویؒ (متوفیٰ ۵۱۶ھ) معالم التنزیل میں اس آیت کے تحت لکھتے ہیں:

267
’’وجملۃ بلاد الْإسلام فی حق الکفار علیٰ ثلاثۃ أقسام: أحدھما المحرم فلا یجوز للکافر أن یدخلہ بحال ذمیًّا کان أو مستأمنًا بظاھر ھٰذہ الآیۃ ...۔۔ وجوز أھل الکوفۃ للمعاھد دخول الحرم، والقسم الثانی من بلاد الْإسلام الحجاز، فیجوز للکافر دخولھا بالْإذن، ولٰـکن لَا یقیم فیھا أکثر من مقام السفر، وھو ثلاثۃ أیام ...۔۔ والقسم الثالث سائر بلاد الْإسلام یجوز للکافر أن یقیم فیھا بذمۃ أو أمان، ولٰـکن لَا یدخلون المساجد إلّا بإذن مسلم۔‘‘

(تفسیر بغوی ج:۳ ص:۶۳)

ترجمہ: ... ’’اور کفار کے حق میں تمام اسلامی علاقے تین قسم پر ہیں: ایک حرمِ مکہ، پس کافر کو اس میں داخل ہونا کسی حال میں بھی جائز نہیں، خواہ کسی اسلامی مملکت کا شہری ہو یا امن لے کر آیا ہو، کیونکہ ظاہر آیت کا یہی تقاضا ہے۔ اور اہلِ کوفہ نے ذِمی کے لئے حرم میں داخل ہونے کو جائز رکھا ہے۔ اور دُوسری قسم حجازِ مقدس ہے، پس کافر کے لئے اِجازت لے کر حجاز میں داخل ہونا جائز ہے، لیکن تین دن سے زیادہ وہاں ٹھہرنے کی اسے اجازت نہ ہوگی۔ اور تیسری قسم دیگر اِسلامی ممالک ہیں، ان میں کافر کا مقیم ہونا جائز ہے، بشرطیکہ ذِمی ہو یا امن لے کر آئے، لیکن وہ مسلمانوں کی مسجدوں میں مسلمان کی اجازت کے بغیر داخل نہیں ہوسکتے۔‘‘

اس سلسلے میں دو چیزیں خاص طور سے قابلِ غور ہیں:

اوّل: ... یہ کہ آیت میں صرف مشرکین کا حکم ذِکر کیا گیا ہے، مگر مفسرین نے اس آیت کے تحت عام کفار کا حکم بیان فرمایا ہے، کیونکہ کفر کی نجاست سب کافروں کو شامل ہے۔

دوم: ... یہ کہ کافر کا مسجد میں داخل ہونا جائز ہے یا نہیں؟ اس مسئلے میں تو اِختلاف

268

ہے، اِمام مالکؒ کے نزدیک کسی مسجد میں کافر کا داخل ہونا جائز نہیں۔ اِمام شافعی کے نزدیک مسجدِ حرام کے علاوہ دیگر مساجد میں کافر کو مسلمان کی اجازت سے داخل ہونا جائز ہے، اور اِمام ابوحنیفہؒ کے نزدیک بوقتِ ضرورت ہر مسجد میں داخل ہوسکتا ہے۔ (رُوح المعانی ج:۱۱ ص:۶۹) لیکن کسی کافر کا مسجد کا بانی، متولّی یا خادم ہونا کسی کے نزدیک بھی جائز نہیں۔ نجران کے عیسائیوں کا ایک وفد ۹ھ میں بارگاہِ رسالت میں حاضر ہوا تھا، آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں مسجد کے ایک جانب ٹھہرایا اور مسجدِ نبوی ہی میں انہوں نے اپنی نماز بھی ادا کی۔ حافظ ابنِ قیمؒ (متوفیٰ ۷۵۱ھ) اس واقعے پر تبصرہ کرتے ہوئے لکھتے ہیں:

’’فصل فی فقہ ھٰذہ القصۃ ففیھا جواز دخول أھل الکتاب مساجد المسلمین، وفیھا تمکین أھل الکتاب من صلاتھم بحضرۃ المسلمین وفی مساجدھم أیضًا إذا کان ذٰلک عارضًا ولَا یمکنوا من اعتیاد ذٰلک۔‘‘

(زاد المعاد ج:۲ ص:۳۹، مطبوعہ مصر ۱۳۲۴ھ)

ترجمہ: ... ’’فصل اس قصے کے فقہ کے بیان میں، پس اس واقعے سے ثابت ہوتا ہے کہ اہلِ کتاب کا مسلمانوں کی مسجدوں میں داخل ہونا جائز ہے، اور یہ کہ ان کو مسلمانوں کی موجودگی میں اپنی عبادت کا موقع دیا جائے گا اور مسلمانوں کی مسجدوں میں بھی، جبکہ یہ ایک عارضی صورت ہو، لیکن ان کو اس بات کا موقع نہیں دیا جائے گا کہ وہ اس کو اپنی مستقل عادت ہی بنالیں۔‘‘

اور قاضی ابوبکر ابن العربیؒ (متوفیٰ ۵۷۳ھ) لکھتے ہیں:

’’دخول ثمامۃ فی المسجد فی الحدیث الصحیح، ودخول أبی سفیان فیہ علی الحدیث الآخر کان قبل أن ینزل ’’یٰٓـاَیُّھَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا اِنَّمَا الْمُشْرِکُوْنَ نَجَسٌ فَلَا یَقْرَبُوا الْمَسْجِدَ الْحَرَامَ بَعْدَ عَامِھِمْ ھٰذَا‘‘
269

فمنع اللہ المشرکین من دخول المسجد الحرام نصًّا ومنع من دخول سائر المساجد تعلیلا بالنجاسۃ بوجوب صیانۃ المسجد عن کل نجس وھٰذا کلّہ ظاھر لَا خفاء فیہ۔‘‘

(احکام القرآن ج:۲ ص:۹۰۲)

ترجمہ: ... ’’ثمامہ کا مسجد میں داخل ہونا اور دُوسری حدیث کے مطابق ابوسفیان کا اس میں داخل ہونا، اس آیت کے نازل ہونے سے پہلے کا واقعہ ہے کہ: ’’اے ایمان والو! مشرک ناپاک ہیں پس اس سال کے بعد وہ مسجدِ حرام کے قریب نہ آنے پائیں۔‘‘ پس اللہ تعالیٰ نے مشرکوں کو مسجدِ حرام میں داخل ہونے سے صاف صاف منع کردیا اور دیگر مساجد سے یہ کہہ کر روک دیا کہ وہ ناپاک ہیں، اور چونکہ مسجد کو ہر نجاست سے پاک رکھنا ضروری ہے، اس لئے کافروں کے ناپاک وجود سے بھی اس کو پاک رکھا جائے گا، اور یہ سب کچھ ظاہر ہے، جس میں ذرا بھی خفا نہیں۔‘‘

منافقوں کو مسجدوں سے نکال دیا جائے:

جو شخص مرزائیوں کی طرح عقیدۂ کفر رکھنے کے باوجود اِسلام کا دعویٰ کرتا ہو وہ اِسلام کی اِصطلاح میں منافق ہے، اور منافقین کے بارے میں یہ حکم ہے کہ انہیں مسجدوں سے نکال دیا جائے، چنانچہ حدیث میں آتا ہے کہ:

’’آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم جمعہ کے دن خطبے کے لئے کھڑے ہوئے تو فرمایا: اے فلاں اُٹھ، یہاں سے نکل جا کیونکہ تو منافق ہے، او فلاں! تو بھی اُٹھ، نکل جا، تو منافق ہے۔ اس طرح آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک ایک کا نام لے کر ۳۶ آدمیوں کو مسجد سے نکال دیا۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو آنے میں ذرا دیر ہوگئی تھی،

270

چنانچہ وہ اس وقت آئے جب یہ منافق مسجد سے نکل رہے تھے، تو انہوں نے خیال کیا کہ شاید جمعہ کی نماز ہوچکی ہے، اور لوگ نماز سے فارغ ہوکر واپس جارہے ہیں، لیکن جب اندر گئے تو معلوم ہوا کہ ابھی نماز نہیں ہوئی، مسلمان ابھی بیٹھے ہیں۔ ایک شخص نے بڑی مسرّت سے حضرت عمرؓ سے کہا: اے عمر مبارک ہو، اللہ تعالیٰ نے آج منافقوں کو ذلیل و رُسوا کردیا اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے نام لے لے کر بیک بینی و دوگوش انہیں مسجد سے نکال دیا۔‘‘

(تفسیر رُوح المعانی ج:۱۱ ص:۱۰)

اس حدیث سے معلوم ہوا کہ جو غیرمسلم فرقہ منافقانہ طور پر اِسلام کا دعویٰ کرتا ہو اس کو مسجدوں سے نکال دینا ہی سنتِ نبوی ہے۔

منافقوں کی مسجد، مسجد نہیں:

فقہائے کرام نے تصریح کی ہے کہ ایسے لوگوں کا حکم مرتد کا ہے، اس لئے نہ تو انہیں مسجد بنانے کی اجازت دی جاسکتی ہے، اور نہ ان کی تعمیر کردہ مسجد کو مسجد کا حکم دیا جاسکتا ہے، شیخ الاسلام مولانا محمد انور شاہ کشمیریؒلکھتے ہیں:

’’ولو بنوا مسجدًا لم یصر مسجدًا ففی تنویر الأبصار من وصایا الذمّی وغیرہ، وصاحب الھوی إذا کان لَا یکفر فھو بمنزلۃ المسلم فی الوصیۃ وإن کان یکفر فھو بمنزلۃ المرتد۔‘‘

(إکفار الملحدین طبع جدید ص:۱۲۸)

ترجمہ: ... ’’ایسے لوگ اگر مسجد بنائیں تو وہ مسجد نہیں ہوگی، چنانچہ ’’تنویر الابصار‘‘ کے وصایا ذِمی وغیرہ میں ہے کہ گمراہ فرقوں کی گمراہی اگر حدِ کفر کو پہنچی ہوئی نہ ہو تب تو وصیت میں ان کا حکم مسلمان جیسا ہے اور اگر حدِ کفر کو پہنچی ہوئی ہو تو بمنزلہ مرتد کے ہیں۔‘‘

271

منافقوں کے مسلمان ہونے کی شرط:

یہاں یہ تصریح بھی ضروری ہے کہ کسی گمراہ فرقے کا دعویٔ اسلام کرنا یا اسلامی کلمہ پڑھنا اس اَمر کی ضمانت نہیں ہے کہ وہ مسلمان ہے، بلکہ اس کے ساتھ یہ بھی ضروری ہے کہ وہ اپنے ان تمام عقائد سے توبہ کا اعلان کرے جو مسلمانوں کے خلاف ہیں، چنانچہ حافظ بدرالدین عینیؒ ’’عمدۃ القاری شرح بخاری‘‘ میں لکھتے ہیں:

’’یجب علیھم عند الدخول فی الْإسلام أن یقروا ببطلان ما یخالفون بہ المسلمین فی الْإعتقاد بعد إقرارھم بالشھادتین۔‘‘

(ج:۲ ص:۲۹۶)

ترجمہ: ... ’’ان کے ذمہ یہ لازم ہے کہ اسلام میں داخل ہونے کے لئے توحید و رِسالت کی شہادت کے بعد ان تمام عقائد ونظریات کے باطل ہونے کا اِقرار کریں جو وہ مسلمانوں کے خلاف رکھتے ہیں۔‘‘

اور حافظ شہاب الدین ابنِ حجر عسقلانی ؒ ’’فتح الباری شرح بخاری‘‘ میں قصہ اہلِ نجران کے ذیل میں لکھتے ہیں:

’’وفی قصۃ أھل نجران من الفوائد أن إقرار الکافر بالنبوّۃ لَا یدخلہ فی الْإسلام حتّٰی یلتزم أحکام الْإسلام۔‘‘

(ج:۸ ص:۷۴)

ترجمہ: ... ’’قصہ اہلِ نجران سے دیگر مسائل کے علاوہ ایک مسئلہ یہ معلوم ہوا کہ کسی کافر کی جانب سے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوّت کا اِقرار اسے اِسلام میں داخل نہیں کرتا جب تک کہ اَحکامِ اِسلام کو قبول نہ کرے۔‘‘

علامہ ابنِ عابدین شامیؒ لکھتے ہیں:

272
’’لَا بد مع الشھادتین فی العیسوی من أن یتبرأ من دینہ۔‘‘

(ردالمحتار ج:۱ ص:۳۵۳)

ترجمہ: ... ’’عیسوی فرقے کے مسلمان ہونے کے لئے اِقرارِ شہادتین کے ساتھ یہ بھی ضروری ہے کہ وہ اپنے مذہب سے براء ت کا اعلان کرے۔‘‘

ان تصریحات سے ثابت ہوتا ہے کہ کوئی فرقہ اس وقت تک مسلمان تصوّر نہیں کیا جائے گا جب تک کہ وہ اہلِ اسلام کے عقائد کے صحیح اور اپنے عقائد کے باطل ہونے کا اِعلان نہ کرے، اور اگر وہ اپنے عقائدِ کفر کو صحیح سمجھتا ہے اور مسلمانوں کے عقائد کو غلط تصوّر کرتا ہے، تو اس کی حیثیت مرتد کی ہے، اور اسے اپنی عبادت گاہ کو مسجد کی حیثیت سے تعمیر کرنے کی اجازت نہیں دی جاسکتی۔

کسی غیرمسلم کا مسجد کے مشابہ عبادت گاہ بنانا:

اب ایک سوال اور باقی رہ جاتا ہے کہ کیا کوئی غیرمسلم اپنی عبادت گاہ (مسجد کے نام سے نہ سہی لیکن) وضع و شکل میں مسجد کے مشابہ بناسکتا ہے؟ کیا اسے یہ اجازت دی جاسکتی ہے کہ وہ اپنی عبادت گاہ میں قبلہ رُخ محراب بنائے، مینار بنائے، اس میں منبر رکھے اور وہاں اِسلام کے معروف طریقے پر اَذان دے؟

اس کا جواب یہ ہے کہ وہ تمام اُمور جو عرفاً و شرعاً مسلمانوں کی مسجد کے لئے مخصوص ہیں، کسی غیرمسلم کو ان کے اپنانے کی اجازت نہیں دی جاسکتی، اس لئے کہ اگر کسی غیرمسلم کی عبادت گاہ مسجد کی وضع و شکل پر تعمیر کی گئی ہو، مثلاً اس میں قبلہ رُخ محراب بھی ہو، مینار او رمنبر بھی ہو، وہاں اسلامی اَذان اور خطبہ بھی ہوتا ہو، تو اس سے مسلمانوں کو دھوکا اور اِلتباس ہوگا، ہر دیکھنے والا اس کو ’’مسجد‘‘ ہی تصوّر کرے گا، جبکہ اسلام کی نظر میں غیرمسلم کی عبادت گاہ مسجد نہیں بلکہ مجمع شیاطین ہے۔

(شامی ج:۱ ص:۳۸۰، مطلب: تکرہ الصلوٰۃ فی الکنیسۃ، البحر الرائق ج:۷ ص:۲۱۴)

273

حافظ ابنِ تیمیہؒ (متوفیٰ ۷۲۸ھ) سے سوال کیا گیا کہ آیا کفار کی عبادت گاہوں کو بیت اللہ کہنا صحیح ہے؟ جواب میں فرمایا:

’’لیست بیوت اللہ! وإنما بیوت اللہ المساجد، بل ھی بیوت یکفر فیھا باللہ، وإن کان قد یذکر فیھا، فالبیوت بمنزلۃ أھلھا، وأھلھا کفار، فھی بیوت عبادۃ الکفار۔‘‘

(فتاویٰ ابن تیمیہ ج:۱ ص:۱۳۳)

ترجمہ: ... ’’یہ بیت اللہ نہیں، بیت اللہ مسجدیں ہیں، یہ تو وہ مقامات ہیں جہاں کفر ہوتا ہے، اگرچہ ان میں ذِکر بھی ہوتا ہو۔ پس مکانات کا وہی حکم ہے جو ان کے بانیوں کا ہے، ان کے بانی کافر ہیں، پس یہ کافروں کی عبادت گاہیں ہیں۔‘‘

اِمام ابوجعفر محمد بن جریر الطبریؒ (متوفیٰ ۳۱۰ھ) ’’مسجدِ ضرار‘‘ کے بارے میں نقل کرتے ہیں:

’’عمد ناس من أھل النفاق فابتنوا مسجدًا بقبا لیضاھوا بہ مسجد رسول صلی اللہ علیہ وسلم۔‘‘

(تفسیر ابنِ جریر ج:۱۱ ص:۱۷)

ترجمہ: ... اہلِ نفاق میں سے چند لوگوں نے یہ حرکت کی کہ قبا میں ایک مسجد بناڈالی، جس سے مقصود یہ تھا کہ وہ اس کے ذریعے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی مسجد سے مشابہت کریں۔‘‘

اس سے ثابت ہوتا ہے کہ جن لوگوں نے منافقانہ طور پر ’’مسجدِ ضرار‘‘ بنائی تھی، ان کا مقصد یہی تھا کہ اپنی نام نہاد مسجد کو اِسلامی مساجد کے مشابہ بناکر مسلمانوں کو دھوکا دیں، لہٰذا غیرمسلموں کی جو عبادت گاہ مسجد کی وضع و شکل پر ہوگی وہ ’’مسجدِ ضرار‘‘ ہے اور اس کا منہدم کرنا لازم ہے، علاوہ ازیں فقہائے کرام نے تصریح کی ہے کہ اسلامی مملکت کے غیرمسلم شہریوں کا لباس اور ان کی وضع قطع مسلمانوں سے ممتاز ہونی چاہئیں (یہ مسئلہ فقہِ

274

اسلامی کی ہر کتاب میں باب اَحکام اہل الذمہ کے عنوان کے تحت موجود ہے)۔

چنانچہ حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے ملکِ شام کے عیسائیوں سے جو عہدنامہ لکھوایا تھا، اس کا پورا متن کنز العمال جلد چہارم صفحہ:۳۱۹ حدیث نمبر:۲۴۰۰ کے تحت درج ہے، اس کا ایک فقرہ یہاں نقل کرتا ہوں۔

’’ولَا تشبہ بھم فی شیء من لباسھم من قلنسوۃ ولَا عمامۃ ولَا نعلین ولَا فرق شعر، ولَا نتکلم بکلامھم ولَا نکتنی بکناھم ...۔۔‘‘

ترجمہ: ... ’’اور ہم مسلمانوں کے لباس اور ان کی وضع قطع میں ان کی مشابہت نہیں کریں گے، نہ ٹوپی میں، نہ دستار میں، نہ جوتے میں، نہ سر کی مانگ نکالنے میں، اور ہم مسلمانوں کے کلام اور اِصطلاحات میں بات نہیں کریں گے اور نہ ان کی کنیت اپنائیں گے۔‘‘

اندازہ فرمائیے! جب لباس، وضع قطع، ٹوپی، دستار، پاؤں کے جوتے اور سر کی مانگ تک میں کافروں کی مسلمانوں سے مشابہت گوارا نہیں کی گئی تو اِسلام یہ کس طرح برداشت کرسکتا ہے کہ غیرمسلم کافر اپنی عبادت گاہیں مسلمانوں کی مسجد کی شکل ووضع پر بنانے لگے...؟

مسجد کا قبلہ رُخ ہونا اِسلام کا شعار ہے:

اُوپر عرض کیا جاچکا ہے کہ مسجد اِسلام کا بلند ترین شعار ہے۔ ’’مسجد‘‘ کے اوصاف و خصوصیات پر الگ الگ غور کیا جائے تو معلوم ہوگا کہ ان میں ایک ایک چیز مستقل طور پر بھی شعارِ اِسلام ہے۔ مثلاً اِستقبالِ قبلہ کو لیجئے! مذاہبِ عالم میں یہ خصوصیت صرف اسلام کو حاصل ہے کہ اس کی اہم ترین عبادت ’’نماز‘‘ میں بیت اللہ شریف کی طرف منہ کیا جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اِستقبالِ قبلہ کو اِسلام کا خصوصی شعار قرار

275

دے کر اس شخص کے جو ہمارے قبلے کی جانب رُخ کرکے نماز پڑھتا ہو، مسلمان ہونے کی علامت قرار دِیا ہے:

’’من صلّٰی صلاتنا واستقبل قبلتنا وأکل ذبیحتنا فذٰلک المسلم الذی لہ ذمۃ اللہ وذمۃ رسولہ، فلا تُخفروا اللہ ذمتہ!‘‘

(صحیح بخاری ج:۱ ص:۵۶)

ترجمہ: ... ’’جو شخص ہمارے جیسی نماز پڑھتا ہو، ہمارے قبلے کی طرف منہ کرتا ہو، ہمار اذبیحہ کھاتا ہو، پس یہ شخص مسلمان ہے جس کے لئے اللہ کا اور اس کے رسول کا عہد ہے، پس اللہ کے عہد کو مت توڑو!‘‘

ظاہر ہے کہ اس حدیث کا یہ منشا نہیں کہ ایک شخص خواہ خدا اور رسول کا منکر ہو، قرآنِ کریم کے قطعی ارشادات کو جھٹلاتا اور مسلمانوں سے الگ عقائد رکھتا ہو، تب بھی وہ ان تین کاموں کی وجہ سے مسلمان ہی شمار ہوگا۔ نہیں! بلکہ حدیث کا منشا یہ ہے کہ نماز، اِستقبالِ قبلہ اور ذبیحے کا معروف طریقہ صرف مسلمانوں کا شعار ہے، جو اس وقت کے مذاہبِ عالم سے ممتاز رکھا گیا تھا۔ پس کسی غیرمسلم کو یہ حق حاصل نہیں کہ عقائدِ کفر رکھنے کے باوجود ہمارے اس شعار کو اَپنائے۔ چنانچہ حافظ بدرالدین عینیؒ اس حدیث کی شرح میں لکھتے ہیں:

’’واستقبال قبلتنا مخصوص بنا۔‘‘

(عمدۃ القاری ج:۲ ص:۲۹۶)

ترجمہ: ... ’’اور ہمارے قبلے کی طرف منہ کرنا ہمارے ساتھ مخصوص ہے۔‘‘

اور حافظ ابنِ حجرؒ لکھتے ہیں:

’’وحکمۃ الْإقتصار علیٰ ما ذکر من الأفعال أن من یقر بالتوحید من أھل الکتاب وإن صلّوا واستقبلوا وذبحوا لٰـکنّھم لَا یصلُّون مثل صلاتنا ولَا یستقبلون
276

قبلتنا ومنھم من یذبح بغیر اللہ ومنھم من لَا یأکل ذبیحتنا والْإطلاع علیٰ حال المرء فی صلاتہ وأکلہ یمکن بسرعۃ فی أوّل یوم بخلاف غیر ذٰلک من اُمور الدِّین۔‘‘

(فتح الباری ج:۱ ص:۴۱۷)

ترجمہ: ... ’’اور مذکورہ بالا اَفعال پر اِکتفا کرنے کی حکمت یہ ہے کہ اہلِ کتاب میں سے جو لوگ توحید کے قائل ہوں، وہ اگرچہ نماز بھی پڑھتے ہوں، قبلے کا اِستقبال کرتے ہوں اور ذبح بھی کرتے ہوں، لیکن وہ نہ تو ہمارے جیسی نماز پڑھتے ہیں، نہ ہمارے قبلے کا اِستقبال کرتے ہیں، اور ان میں سے بعض غیراللہ کے لئے ذبح کرتے ہیں، بعض ہمارا ذبیحہ نہیں کھاتے۔ اور آدمی کی حالت نماز پڑھنے اور کھانا کھانے سے فوراً پہلے دِن پہچانی جاتی ہے، دِین کے دُوسرے کاموں میں اتنی جلدی اِطلاع نہیں ہوتی، اس لئے مسلمانوں کی تین نمایاں علامتیں ذکر فرمائیں۔‘‘

اور شیخ مُلَّا علی القاریؒ لکھتے ہیں:

’’إنما ذکرہ مع اندراجہ فی الصلاۃ لأن القبلۃ أعرف؛ لأن کل أحدٍ یعرف قبلتہ وإن لم یعرف صلاتہ، ولأن فی صلاتنا ما یوجد فی صلاۃ غیرنا، واستقبال قبلتنا مخصوص بنا۔‘‘

(مرقاۃ المفاتیح ج:۱ ص:۷۲)

ترجمہ: ... ’’نماز میں اِستقبالِ قبلہ خود آتا ہے، مگر اس کو الگ ذکر فرمایا، کیونکہ قبلہ اِسلام کی سب سے معروف علامت ہے، کیونکہ ہر شخص اپنے قبلے کو جانتا ہے، خواہ نماز کو نہ جانتا ہو، اور اس لئے بھی کہ ہماری نماز کی بعض چیزیں دُوسرے مذاہب کی نماز میں بھی پائی جاتی ہیں، مگر ہمارے قبلے کی جانب منہ کرنا یہ صرف ہماری

277

خصوصیت ہے۔‘‘

ان تشریحات سے واضح ہوا کہ ’’اِستقبالِ قبلہ‘‘ اسلام کا اہم ترین شعار اور مسلمانوں کی معروف ترین علامت ہے، اسی بنا پر اہلِ اسلام کا لقب ’’اہلِ قبلہ‘‘ قرار دِیا گیا ہے، پس جو شخص اسلام کے قطعی متواتر اور مُسلَّمہ عقائد کے خلاف کوئی عقیدہ رکھتا ہو، وہ ’’اہلِ قبلہ‘‘ میں داخل نہیں، نہ اسے اِستقبالِ قبلہ کی اجازت دی جاسکتی ہے۔

محراب اِسلام کا شعار ہے:

مسجد کے مسجد ہونے کے لئے کوئی مخصوص شکل و وضع لازم نہیں کی گئی، لیکن مسلمانوں کے عرف میں چند چیزیں مسجد کی مخصوص علامت کی حیثیت میں معروف ہیں۔ ایک ان میں سے مسجد کی محراب ہے، جو قبلے کا رُخ متعین کرنے کے لئے تجویز کی گئی ہے۔ حافظ بدرالدین عینیؒ عمدۃ القاری میں لکھتے ہیں:

’’ذکر أبو البقاء: أنّ جبریل علیہ الصلاۃ والسلام وضع محراب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مسامۃ الکعبۃ وقیل: کان ذٰلک بالمعاینۃ بأن کشف الحال وأزیلت الحوائل فراٰی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم الکعبۃ فوضع قبلۃ مسجدہ علیھا۔‘‘

(عمدۃ القاری شرح بخاری ج:۲ ص:۲۹۷)

ترجمہ: ... ’’اور ابوالبقاء نے ذِکر کیا ہے کہ جبریل علیہ السلام نے کعبہ کی سیدھ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے محراب بنائی اور کہا گیا ہے کہ یہ معائنہ کے ذریعے ہوا، یعنی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے سے پردے ہٹادئیے گئے اور حالت آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر منکشف ہوگئی، پس آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے کعبہ کو دیکھ کر اپنی مسجد کا قبلہ رُخ متعین کیا۔‘‘

278

اس سے دو اَمر واضح ہوتے ہیں، اوّل یہ کہ محراب کی ضرورت تعینِ قبلہ کے لئے ہے تاکہ محراب کو دیکھ کر نمازی اپنا قبلہ رُخ متعین کرسکے۔ دوم یہ کہ جب سے مسجدِ نبوی تعمیر ہوئی، اسی وقت سے محراب کا نشان بھی لگادیا گیا، خواہ حضرت جبریل علیہ السلام نے اس کی نشاندہی کی ہو، یا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے بذریعہ کشف خود ہی تجویز فرمائی ہو۔ البتہ یہ جوف دار محراب جو آج کل مساجد میں ’’قبلہ رُخ‘‘ ہوا کرتی ہے، اس کی اِبتدا خلیفۂ راشد حضرت عمر بن عبدالعزیزؒ نے اس وقت کی تھی جب وہ ولید بن عبدالملک کے زمانے میں مدینہ طیبہ کے گورنر تھے۔ (وفاء الوفاء ص:۵۲۵ وما بعد) یہ صحابہؓ و تابعینؒ کا دور تھا، اور اس وقت سے آج تک مسجد میں محراب بنانا مسلمانوں کا شعار رہا ہے۔ فتاویٰ قاضی خان میں ہے:

’’وجھۃ الکعبۃ تعرف بالدلیل، والدلیل فی الأمصار والقریٰ المحاریب التی نصبتھا الصحابۃ والتابعون رضی اللہ عنھم أجمعین، فعلینا اتباعھم فی استقبال المحاریب المنصوصۃ۔‘‘

(البحرالرائق ج:۱ ص:۲۸۵)

ترجمہ: ... ’’اور قبلے کا رُخ کسی علامت سے معلوم ہوسکتا ہے اور شہروں اور آبادیوں میں قبلے کی علامت وہ محرابیں ہیں جو صحابہ و تابعین رضی اللہ عنہم نے بنائیں، پس بنی ہوئی محرابوں میں ہم پر ان کی پیروی لازم ہے۔‘‘

یعنی یہ محرابیں، جو مسلمانوں کی مسجدوں میں صحابہ و تابعین رضی اللہ عنہم کے زمانے سے چلی آتی ہیں، دراصل قبلے کا رُخ متعین کرنے کے لئے ہیں۔ اور اُوپر گزرچکا ہے کہ اِستقبالِ قبلہ ملتِ اسلامیہ کا شعار ہے اور محراب جہتِ قبلہ کی علامت کے طور پر مسجد کا شعار ہے، اس لئے کسی غیرمسلم کی عبادت گاہ میں محراب کا ہونا ایک تو اِسلامی شعار کی توہین ہے، اس کے علاوہ ان محراب والی عبادت گاہوں کو دیکھ کر ہر شخص انہیں ’’مسجد‘‘ تصوّر کرے گا اور یہ اہلِ اسلام کے ساتھ فریب اور دغا ہے، لہٰذا جب تک کوئی غیرمسلم گروہ مسلمانوں کے تمام اُصول و عقائد کو تسلیم کرکے مسلمانوں کی جماعت میں شامل نہیں ہوتا، تب تک اس

279

کی ’’مسجد نما‘‘ عبادت گاہ عیاری اور مکاری کا بدترین اَڈّا ہے، جس کا اُکھاڑنا مسلمانوں پر لازم ہے، فقہائے اُمت نے لکھا ہے کہ اگر کوئی غیرمسلم بے وقت اَذان دیتا ہے تو یہ اَذان سے مذاق ہے:

’’إن الکافر لو أذّن فی غیر الوقت لَا یصیر بہ مسلمًا لأنہ یکون مستھزأً۔‘‘

(شامی ج:۱ ص:۳۵۳ آغاز کتاب الصلوٰۃ)

ترجمہ: ... ’’کافر اگر بے وقت اَذان کہے تو وہ اس سے مسلمان نہیں ہوگا، کیونکہ وہ دراصل مذاق اُڑاتا ہے۔‘‘

ٹھیک اسی طرح کسی غیرمسلم گروہ کا اپنے عقائدِ کفر کے باوجود اِسلامی شعائر کی نقالی کرنا اور اپنی عبادت گاہ مسجد کی شکل میں بنانا، دراصل مسلمانوں کے اسلامی شعائر سے مذاق ہے اور یہ مذاق مسلمان برداشت نہیں کرسکتے۔

اَذان:

مسجد میں اَذان نماز کی دعوت کے لئے دی جاتی ہے، آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم جب مدینہ طیبہ تشریف لائے تو مشورہ ہوا کہ نماز کی اِطلاع کے لئے کوئی صورت تجویز ہونی چاہئے۔ بعض حضرات نے گھنٹی بجانے کی تجویز پیش کی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے یہ کہہ کر رَدّ فرمادیا کہ یہ نصاریٰ کا شعار ہے۔ دُوسری تجویز پیش کی گئی کہ بوق (باجا) بجادیا جائے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے بھی قبول نہیں فرمایا کہ یہ یہود کا وطیرہ ہے۔ تیسری تجویز آگ جلانے کی پیش کی گئی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ مجوسیوں کا طریقہ ہے۔ یہ مجلس اس فیصلے پر برخاست ہوگئی کہ ایک شخص نماز کے وقت اِعلان کردیا کرے کہ نماز تیار ہے۔ بعد اَزاں بعض حضراتِ صحابہؓ کو خواب میں اَذان کا طریقہ سکھایا گیا، انہوں نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں پیش کیا، اور اس وقت سے مسلمانوں میں یہ اَذان رائج ہوئی۔

(فتح الباری ج:۲ ص:۲۲۰)

280

شاہ ولی اللہ محدث دہلویؒ اس واقعے پر بحث کرتے ہوئے لکھتے ہیں:

’’وھٰذہ القصۃ دلیل واضح علٰی أن الأحکام إنما شرعت لأجل المصالح وإن للإجتھاد فیھا مدخلا، وإن التیسیر أصل الأصیل، وإن مخالفۃ أقوام تمادوا فی ضلالتھم فیما یکون من شعائر الدِّین مطلوب وإن غیر النبی صلی اللہ علیہ وسلم قد یطلع بالمنام والنفث فی الروع علٰی مراد الحق لٰـکن لَا یکلف الناس بہ ولَا تنقطع الشبھۃ حتّٰی یقررہ النبی صلی اللہ علیہ وسلم واقتضت الحکمۃ الْإلٰھیۃ أن لَا یکون الأذان صرف أعلام وتنبیہ، بل یضم مع ذٰلک أن یکون من شعائر الدِّین بحیث یکون النداء بہ علٰی رؤس الخامل والتنبیہ تنویھا بالدِّین ویکون قبولہ من القوم آیۃ انقیادھم لدِین اللہ۔‘‘

(حجۃ اللہ البالغہ ج:۱ ص:۴۷۴ مترجم)

ترجمہ: ... ’’اس واقعے میں چند مسائل کی واضح دلیل ہے۔ اوّل: یہ کہ اَحکامِ شرعیہ خاص مصلحتوں کی بنا پر مقرّر ہوئے ہیں۔ دوم: یہ کہ اِجتہاد کا بھی اَحکام میں دخل ہے۔ سوم: یہ کہ اَحکامِ شرعیہ میں آسانی کو ملحوظ رکھنا بہت بڑا اَصل ہے۔ چہارم: یہ کہ شعائرِ دِین میں ان لوگوں کی مخالفت جو اپنی گمراہی میں بہت آگے نکل گئے ہوں، شارع کو مطلوب ہے۔ پنجم: یہ کہ غیرنبی کو بھی بذریعہ خواب یا اِلقاء فی القلب کے مرادِ اِلٰہی مل سکتی ہے، مگر وہ لوگوں کو اس کا مکلف نہیں بناسکتا۔ اور نہ اس سے شبہ دُور ہوسکتا ہے جب تک کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اس کی تصدیق نہ فرمائیں۔ اور حکمتِ اِلٰہی کا تقاضا ہوا کہ اَذان صرف اِطلاع اور تنبیہ ہی نہ ہو بلکہ اس کے

281

ساتھ وہ شعائرِ دِین میں سے بھی ہو کہ تمام لوگوں کے سامنے اَذان کہنا تعظیمِ دِین کا ذریعہ ہو، اور لوگوں کا اس کو قبول کرلینا، ان کے دِینِ خداوندی کے تابع ہونے کی علامت ٹھہرے۔‘‘

حضرت شاہ صاحبؒ کی اس عبارت سے معلوم ہوا کہ اَذان اِسلام کا بلند ترین شعار ہے اور یہ کہ اسلام نے اپنے اس شعار میں گمراہ قوموں کی مخالفت کو ملحوظ رکھا ہے۔ فتح القدیر ص:۱۶۷، فتاویٰ قاضی خان اور البحرالرائق وغیرہ میں تصریح کی گئی ہے کہ اَذان دِینِ اسلام کا شعار ہے، فقہائے کرام نے جہاں مؤذِّن کی شرائط شمار کی ہیں، وہاں یہ بھی لکھا ہے کہ مؤذِّن مسلمان ہونا چاہئے:

’’وأما الْإسلام فینبغی أن یکون شرط صحۃ، فلا یصح أذان کافر علی أی ملۃ کان۔‘‘

(البحر الرائق ج:۱ ص:۲۶۴)

ترجمہ: ... ’’مؤذِّن کے مسلمان ہونے کی شرط بھی ضروری ہے، پس کافر کی اَذان صحیح نہیں، خواہ کسی مذہب کا ہو۔‘‘

فقہاء نے یہ بھی لکھا ہے کہ مؤذِّن اگر اَذان کے دوران مرتد ہوجائے تو دُوسرا شخص اَذان کہے:

’’ولو ارتد المؤذّن بعد الأذان لَا یعاد وإن أعید فھو أفضل کذا فی سراج الوھاج، وإذا ارتد فی الأذان فالأولیٰ أن یبتدیٔ غیرہ وإن لم یبتدیٔ غیرہ وأتمہ جاز، کذا فی فتاویٰ قاضی خان۔‘‘

(فتاویٰ عالمگیری ج:۱ ص:۵۴ مطبوعہ مصر)

ترجمہ: ... ’’اگر مؤذِّن اَذان کے بعد مرتد ہوجائے تو اَذان دوبارہ لوٹانے کی ضرورت نہیں، اگر لوٹائی جائے تو افضل ہے، اور اگر اَذان کے دوران مرتد ہوگیا تو بہتر یہ ہے کہ دُوسرا شخص نئے

282

سرے سے اَذان شروع کرے، تاہم اگر دُوسرے شخص نے باقی ماندہ اَذان کو پورا کردیا تب بھی جائز ہے۔‘‘

مسجد کے مینار:

مسجد کی ایک خاص علامت، جو سب سے نمایاں ہے، اس کے مینار ہیں۔ میناروں کی اِبتدا بھی صحابہؓ و تابعینؒ کے زمانے سے ہوئی۔ مسجدِ نبوی میں سب سے پہلے خلیفۂ راشد حضرت عمر بن عبدالعزیزؒ نے مینار بنوائے (وفاء الوفاء ص:۵۲۵)۔ حضرت مسلمہ بن مخلد انصاری رضی اللہ عنہ جلیل القدر صحابی ہیں، وہ حضرت معاویہؓ کے زمانے میں مصر کے گورنر تھے۔ انہوں نے مصر کی مساجد میں مینار بنانے کا حکم فرمایا (الاصابہ ج:۳ ص:۴۱۸)۔ اس وقت سے آج تک کسی نہ کسی شکل میں مسجد کے لئے مینار ضروری سمجھے جاتے ہیں، مسجد کے مینار دو فائدوں کے لئے بنائے گئے، اوّل یہ کہ بلند جگہ نماز کی اَذان دی جائے، چنانچہ اِمام ابوداؤدؒ نے اس پر ایک مستقل باب باندھا ہے:

’’الأذان فوق المنارۃ‘‘

حافظ جمال الدین الزیلعیؒ نے نصب الرایہ میں حضرت ابوبرزہ اسلمی رضی اللہ عنہ کا قول نقل کیا ہے:

’’من السُّنَّۃ: الأذان فی المنارۃ، والْإقامۃ فی المسجد۔‘‘

(ج:۱ ص:۲۹۳)

ترجمہ: ... ’’سنت یہ ہے کہ اَذان مینارہ میں ہو اور اِقامت مسجد میں۔‘‘

مینارِ مسجد کا دُوسرا فائدہ یہ تھا کہ مینار دیکھ کر ناواقف آدمی کو مسجد کے مسجد ہونے کا علم ہوسکے۔ گویا مسجد کی معروف ترین علامت یہ ہے کہ اس میں قبلہ رُخ محراب ہو، منبر ہو، مینار ہو، وہاں اَذان ہوتی ہو، اس لئے کسی غیرمسلم کی عبادت گاہ میں ان چیزوں کا پایا جانا اِسلامی شعائر کی توہین ہے، اور جب قادیانیوں کو آئینی طور پر غیرمسلم تسلیم کیا جاچکا ہے تو

283

انہیں مسجد یا مسجدنما عبادت گاہ بنانے اور وہاں اَذان و اِقامت کہنے کی اجازت دینا قطعاً جائز نہیں۔ ہمارے اَربابِ اِقتدار اور عدلیہ کا فرض ہے کہ غیرمسلم قادیانیوں کو اِسلامی شعائر کے اِستعمال سے روکیں اور مسلمانوں کا فرض ہے کہ وہ پوری قوّت اور شدّت سے اس مطالبے کو منوائیں، حق تعالیٰ اس ملک کو منافقوں کے ہر شر سے محفوظ رکھے!

تصدیق مولانا مفتی محمود

صدر پاکستان قومی اِتحاد

بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ

اَلْحَمْدُ للہِ وَحْدَہٗ وَالصَّلَاۃُ وَالسَّلَامُ عَلٰی مَنْ لّا نَبِیَّ بَعْدَہٗ

احقر نے رسالۂ ھٰذا کا بالاستیعاب مطالعہ کیا، فاضل مؤلف نے پوری تحقیق سے ثابت کردیا کہ مسجد صرف مسلمانوں کی عبادت گاہ کا نام ہے، اُمتِ مسلمہ کا اس پر اِجماع ہے، کسی بھی کافر کو ’’مسجد‘‘ کے نام سے کوئی عمارت بنانا جائز نہیں۔ قرآنِ کریم کی آیات کی تصریحات اور اَحادیثِ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے منظومات اس کے شاہدِ عدل ہیں۔ مسجدِ ضرار کی تعمیر اور پھر اسے گرانا اور جلانا ثابت کرتا ہے کہ حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کافروں اور منافقوں کی اس تعمیرشدہ مسجد کو ’’مسجد‘‘ تسلیم نہ فرمایا، اگرچہ انہوں نے اسلام کا جھوٹا دعویٰ کرکے اسے تعمیر کیا تھا ـــــ لہٰذا مرزائیوں کی بنائی ہوئی مسجد کو بھی مسجد تسلیم نہیں کیا جاسکتا، اس لئے کہ اسلام کا ظاہری دعویٰ کرنے کے باوجود بھی وہ دستورِ پاکستان کی دُوسری ترمیم کی رُو سے کافر ہیں، اور ان کی تعمیر کردہ مسجد، مسجدِ ضرار کے ساتھ پوری مماثلت، مشابہت بلکہ یگانگت رکھتی ہے، لہٰذا اس کا بھی شرعی حکم وہی ہوگا، واللہ اعلم!

284

تصدیق مفتیانِ خیرالمدارس ملتان

بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ

مرزائی دائرۂ اسلام سے خارج اور یہود و نصاریٰ اور سکھ و ہنود کی طرح مسلمانوں سے ایک الگ فرقہ ہے، لہٰذا جس طرح دیگر مذاہب نے اپنی اپنی عبادت گاہوں کا نام الگ رکھا ہے، اسی طرح خود مرزائیوں کا فرض تھا کہ وہ اپنی عبادت گاہ مسلمانوں سے الگ کرلیتے، تاکہ جھگڑا فساد نہ ہوتا اور رواداری قائم رہتی، مگر افسوس ہے کہ انہوں نے ایسا نہیں کیا، بلکہ تمام اِسلامی اِصطلاحات کو اپنے اُوپر چسپاں کرکے مسلمانوں سے پُرفریب کھیل کھیلا۔ مرزائیوں کا یہ رویہ مسلمانوں کے لئے جس درجہ اِشتعال انگیز ہے، وہ ظاہر ہے۔ اس لئے حکومت کا فرض ہے کہ اسلامی شعائر کا تحفظ کرے اور قانون کے ذریعے غیرمسلموں کو اِسلام کو کھلونا بنانے سے باز رکھے۔

ہم نے رسالہ ’’مرزائی اور تعمیرِ مسجد‘‘ کا مطالعہ کیا ہے، جس میں قرآنِ کریم اور حدیث کے ٹھوس دلائل سے ثابت کیا گیا ہے کہ مسجد کے نام سے کسی غیرمسلم کا عبادت خانہ قائم کرنا اِسلام سے بدترین مذاق ہے، مسجد صرف مسلمانوں کا حق ہے۔

محمد عبداللہ عفا اللہ عنہ

عبدالستار عفا اللہ عنہ

مفتی خیرالمدارس ملتان

تصدیق مرزا یوسف حسین مبلغِ اسلام

سربراہ مجلس عمل علمائے شیعہ پاکستان، لاہور

باسمہ سبحانہ، مسجد لغت میں سجدہ کی جگہ کو کہتے ہیں، اور اِصطلاح میں اس جگہ کا نام ہے جو مسلمانوں کی نماز کے لئے وقف کردی جائے اور اس کی محراب قبلے کی جانب ہو۔ دُنیا کے مختلف مذاہب اپنے اپنے طریقے سے عبادت کرنے کے لئے عبادت گاہیں بناتے

285

رہے ہیں، مگر ان کے نام بھی مختلف ہیں، کسی غیرمسلم عبادت گاہ کا نام مسجد نہیں ہے، سروَرِ کائنات حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم نے سب سے پہلے مقامِ قبا میں اور اس کے بعد مدینہ منوّرہ میں مسجد تعمیر فرمائی، اس کی پیروی میں اس وقت سے اب تک مسلمان ہر خطے میں معبودِ حقیقی کی عبات کے لئے مساجد تعمیر کرتے رہے ہیں، روزِ اوّل سے آج تک حسبِ ارشاد رسولِ مقبول اس کا نام مسجد ہے۔

متعدّد آیاتِ قرآن و اَحادیثِ رسول شاہد ہیں کہ مسلمانوں کے سوا کسی غیرمسلم کو مسجد کے نام سے عبادت گاہ تعمیر کرنے کا حق نہیں ہے، اور نہ اسے کسی مسجد میں داخل ہونے کا حق ہے، اس لئے کہ مسجد پاک جگہ ہے، اور خدائے قدوس کی عبادت کے لئے تعمیر کی جاتی ہے، اسے طہارت کے ساتھ تعمیر کرنا اور اس کی پاکیزگی کی حفاظت کرنا مسلمانوں پر فرض ہے، اس لئے غیرمسلم جو نجس ہیں اس میں داخل نہیں ہوسکتے، اور جو شخص یا گروہ اُصولِ دِین یا ضروریاتِ دِین کا منکر ہو، وہ کافر اور ناپاک ہے، اور چونکہ فرقہ مرزائی ضروریاتِ دِین خصوصاً آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے خاتم النبیین ہونے کا منکر ہے، اور ان کا کفر متفق علیہ اور مُسلَّم ہے، اس لئے انہیں حق نہیں ہے کہ اسلام کی مخصوص عبادت گاہ یعنی مسجد کے نام پر اپنی عبادت گاہ کا نام مسجد رکھیں، یا اس وضع کی عبادت گاہ بنائیں جس وضع کی مسلمان مساجد تعمیر کرتے ہیں۔ صدرِ اِسلام میں منافقین نے اسلام کا لبادہ اوڑھ کر مسجد النبی کے مقابلے میں ایک مسجد تعمیر کی تھی، قرآن مجید میں اسے مسجدِ ضرار فرمایا گیا، اور حسبِ حکمِ خداوندی رسولِ اسلام نے اسے منہدم کرادیا تاکہ مسجد کا تقدس محفوظ رہے اور منافقین کو اس کے ذریعے نہ تفریق بین المسلمین کا موقع مل سکے اور نہ مسلمانوں کو ضرر پہنچنے کا اَڈّا قائم رہ سکے، اور نہ وہ اپنے پوشیدہ کفر کی نشر و اِشاعت کرسکیں۔ یہی خطرات ہر اس عبادت گاہ میں ہیں جسے غیرمسلم تعمیر کرکے اس کا نام مسجد رکھ لیں، اس لئے مسلمانوں کا فرض ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے اُسوۂ حسنہ پر عمل کریں۔ اِنَّ اللہَ لَا یُضِیْعُ اَجْرَ الْمُحْسِنِیْنَ۔

مرزا یوسف حسین عفی عنہ

286

قادیانی ذبیحہ

اِستفتاء

کیا فرماتے ہیں علمائے دِین اس مسئلے میں کہ

۱- کیا قادیانی کا ذبیحہ جائز ہے یا ناجائز؟

۲- کیا اس مسئلے میں قادیانی یا اس کی اولاد کے ذبیحے میں کچھ فرق ہے یا نہیں؟ مولانا مفتی کفایت اللہ صاحب نے کفایۃ المفتی میں قادیانیوں کی اولاد کو اہلِ کتاب قرار دے کر ان کے ذبیحے کو حلال قرار دیا ہے، لیکن اس سے تسلی نہیں ہوتی، کیونکہ اہلِ کتاب حضرت موسیٰ اور حضرت عیسیٰ علیہما السلام پر اِیمان لائے ہیں، جن پر ہم بھی ایمان لائے ہیں، توراۃ اور اِنجیل کو ہم بھی جانتے ہیں، جبکہ قادیانی مرزا کو نبی مانتے ہیں اور براہین احمدیہ اور دیگر خودساختہ اِلہامات پر بھی یقین رکھتے ہیں، کیا یہ قیاس مع الفارق نہیں؟

یہاں پر ایک مولوی صاحب نے، جو کہ اِمامِ مسجد بھی ہیں، قادیانیوں کے ذبیحے کے حلال ہونے کا مطلق فتویٰ دیا ہے، اور وجہ یہ بتائی ہے کہ ذبیحے کا تعلق عقیدۂ رِسالت سے نہیں، عقیدۂ توحید سے ہے، اور چونکہ قادیانی لوگ خدا پر یقین رکھتے ہیں اس لئے ان کا ذبیحہ جائز ہے۔ کیا یہ بات صحیح ہے؟

اگر ان کا ذبیحہ جائز ہے تو پھر ان کے ساتھ رشتہ ناتا بھی صحیح ہوگا، اور دیگر کئی مسائل متفرّع ہوں گے اور اس سے قادیانیوں کو ایک قانونی دلیل بھی مل جائے گی کہ وہ بھی اسلامی معاشرے میں مدغم ہوسکتے ہیں۔ مہربانی فرماکر تفصیل سے جواب دیں، آپ کو اللہ تعالیٰ اَجرِ عظیم عطا فرمائے، آمین۔

المستفتی

محمد اِدریس

اِمام، مرکز ثقافتِ اسلامیہ، کوپن ہیگن، ڈنمارک

287

بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ

اَلْحَمْدُ للہِ وَسَلَامٌ عَلٰی عِبَادِہِ الَّذِیْنَ اصْطَفٰی

آپ کے دونوں سوالوں کا مختصر جواب تو یہ ہے کہ کسی قادیانی کا ذبیحہ کسی حال میں بھی حلال نہیں، بلکہ مردار ہے۔ خواہ اس نے اسلام کو چھوڑ کر قادیانی مذہب اِختیار کیا ہو، یا قادیانی والدین کے یہاں پیدا ہوا ہو۔

مگر چونکہ اس مسئلے میں عوام ہی نہیں، بلکہ بہت سے اہلِ علم کو بھی اِشتباہ ہوجاتا ہے (جیسا کہ سوال میں دئیے گئے دو فتووں سے ظاہر ہے)، اس لئے مناسب ہوگا کہ اس مسئلے پر کسی قدر تفصیل سے لکھا جائے، تاکہ قادیانیوں کی حیثیت پوری طرح کھل کر سامنے آجائے، اور کسی صاحبِ فہم کو اس میں اِشتباہ کی گنجائش نہ رہے۔

مرتد کے اَحکام:

جو شخص پہلے مسلمان تھا، بعد میں اس نے ...نعوذباللہ... قادیانی مذہب اِختیار کرلیا، وہ بغیر کسی شک و شبہ کے مرتد ہے، اور اس پر مرتد کے اَحکام جاری ہوں گے، مرتد کے ضروری اَحکام حسبِ ذیل ہیں:

۱: ...مرتد واجب القتل ہے:

مرتد کو تین دن کی مہلت دی جائے گی، اس عرصے میں اسے توبہ کرکے دوبارہ اسلام لانے کی دعوت دی جائے گی، ا ور اس کے شبہات دُور کرنے کی کوشش کی جائے گی، اگر وہ تین دن کے اندر اپنے کفر و اِرتداد سے تائب ہوکر مسلمان ہوجاتا ہے تو ٹھیک، ورنہ اسے قتل کردیا جائے۔

اس مسئلے پر کہ مرتد واجب القتل ہے، تمام فقہائے اُمت اور مذاہبِ اَربعہ کا اِجماع ہے، حسبِ ذیل تصریحات ملاحظہ فرمائیں:

288

فقہِ حنفی:

ہدایہ میں ہے:

’’وإذا ارتد المسلم عن الْإسلام -والعیاذ باللہ- عرض علیہ الْإسلام فإن کانت لہ شبھۃ کشفت عنہ ویحبس ثلاثۃ أیام فإن أسلم وإلّا قتل۔‘‘

(ہدایہ اوّلین ج:۱ ص:۵۸۰)

ترجمہ: ... ’’اور جب کوئی مسلمان ...نعوذباللہ... اسلام سے پھر جائے تو اس پر اِسلام پیش کیا جائے، اس کو کوئی شبہ ہو تو دُور کیا جائے، اس کو تین دن قید رکھا جائے، اگر اِسلام کی طرف لوٹ آئے تو ٹھیک، ورنہ اسے قتل کردیا جائے۔‘‘

فقہِ شافعی:

المجموع شرح المھذب میں ہے:

’’إذا ارتد الرجل وجب قتلہ سواء کان حرًّا أو عبدًا ...۔۔ وقد انعقد الْإجماع علی قتل المرتد۔‘‘

(المجموع شرح المھذب ج:۱۹ ص:۲۲۸)

ترجمہ: ... ’’اور جب آدمی مرتد ہوجائے تو اس کا قتل واجب ہے، خواہ وہ آزاد ہو یا غلام، اور قتلِ مرتد پر اِجماع منعقد ہوچکا ہے۔‘‘

فقہِ حنبلی:

المغنی اور الشرح الکبیر میں ہے:

’’وأجمع أھل العلم علیٰ وجوب قتل المرتد وروی ذٰلک عن أبی بکر وعمر وعثمان وعلی ومعاذ وأبی موسٰی وابن عباس وخالد وغیرھم ولم ینکر
289

ذٰلک فکان إجماعًا۔‘‘

(المغنی مع الشرح الکبیر ج:۱۰ ص:۷۴)

ترجمہ: ... ’’قتلِ مرتد کے واجب ہونے پر اہلِ علم کا اِجماع ہے، یہ حکم حضرت ابوبکر، عمر، عثمان، علی، معاذ، ابی موسیٰ، ابنِ عباس، خالد اور دیگر حضراتِ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم سے مروی ہے، اور اس کا کسی صحابی نے انکار نہیں کیا، اس لئے یہ اِجماع ہے۔‘‘

فقہِ مالکی:

ابنِ رُشد مالکی’’بدایۃ المجتہد‘‘ میں لکھتے ہیں:

’’والمرتد إذا ظفر بہ قبل أن یحارب فاتفقوا علیٰ أنہ یقتل الرجل لقولہ علیہ الصلاۃ والسلام: من بدَّل دینہ فاقتلوہ۔‘‘

(بدایۃ المجتہد ج:۲ ص:۳۴۳)

ترجمہ: ... ’’اور مرتد جب لڑائی سے قبل پکڑا جائے تو تمام علمائے اُمت اس پر متفق ہیں کہ مرتد کو قتل کیا جائے گا، کیونکہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشادِ گرامی ہے: جو شخص اپنا مذہب بدل کر مرتد ہوجائے اس کو قتل کردو۔‘‘

۲: ... زوجین میں سے ایک مرتد ہوجائے تو نکاح ٹوٹ جاتا ہے، اور اِرتداد کی حالت میں مرتد کا نکاح کسی عورت سے صحیح نہیں، نہ کسی مسلمہ سے، نہ غیرمسلمہ سے، نہ مرتدہ سے۔ اور اگر وہ کسی عورت سے نکاح کرے گا تو اس کا نکاح کالعدم ہوگا اور اس سے پیدا ہونے والی اولاد ولد الحرام ہوگی۔

۳: ... مرتد کا ذبیحہ مردار ہے، عام اس سے کہ مرتد نے اہلِ کتاب کے مذہب کی طرف اِرتداد اِختیار کیا ہو، یا کسی اور مذہب کی طرف۔ اہلِ کتاب کا ذبیحہ حلال ہے لیکن جس شخص نے مرتد ہوکر اہلِ کتاب کا مذہب اِختیار کرلیا ہو اس کا ذبیحہ حلال نہیں بلکہ مردار ہے۔

290

ان دونوں مسئلوں میں فقہاء کی تصریحات حسبِ ذیل ہیں:

فقہِ حنفی:

تنویر الابصار متن درمختار میں ہے:

’’ویبطل منہ النکاح، والذبیحۃ، والصید، والشھادۃ، والْإرث۔‘‘

(شامی ج:۴ ص:۲۴۹)

ترجمہ: ... ’’اور اِرتداد سے نکاح، ذبیحہ، صید، شہادت اور وراثت باطل ہوجاتی ہے۔‘‘

’’أخبرت بارتداد زوجھا فلھا التزوج بآخر بعد العدَّۃ۔‘‘

(شامی ج:۴ ص:۲۵۲)

ترجمہ: ... ’’کسی عورت کو خبر دی گئی کہ اس کا شوہر مرتد ہوگیا ہے تو اس عورت کو عدّت کے بعد دُوسری جگہ عقد کرلینا جائز ہوگا۔‘‘

ہدایہ میں ہے:

’’إعلم أن تصرفات المرتد علیٰ أقسام ...۔۔ وباطل بالْإتفاق کالنِّکاح والذَّبیحۃ لأنہ یعتمد الملّۃ ولَا ملّۃ لہ۔‘‘

(ہدایہ اوّلین ص:۵۸۳)

ترجمہ: ... ’’جاننا چاہئے کہ مرتد کے تصرفات چند قسموں پر ہیں ......۔ اور ایک قسم وہ ہے جو بالاتفاق باطل ہے، جیسے نکاح اور ذبیحہ کیونکہ نکاح اور ذبیحہ مبنی ہے ملت پر، اور مرتد کا کوئی دِین نہیں ہوتا۔‘‘

’’ولَا تؤکل ذبیحۃ المجوسی ...۔۔ والمرتد لأنہ لَا ملّۃ لہ، فإنہ لَا یقر علیٰ ما انتقل إلیہ۔‘‘

(ہدایہ آخرین کتاب الذبائح ص:۴۳۲)

ترجمہ: ... ’’اور مجوسی کا ذبیحہ حلال نہیں ...... اور مرتد کا بھی،

291

کیونکہ اس کا کوئی دِین و مذہب نہیں، کیونکہ اس نے جو مذہب اِختیار کیا ہے اسے اس پر قائم نہیں رہنے دیا جائے گا۔‘‘

’’لَا تحل ذبیحۃ غیر کتابی من وثنی ومجوسی ومرتد۔‘‘

(الشامی مع الدر المختار ج:۶ ص:۲۹۸)

ترجمہ: ... ’’اور کتابی کے سوا کسی غیرمسلم کا ذبیحہ حلال نہیں، جیسے بت پرست، مجوسی اور مرتد۔‘‘

فقہِ شافعی:

’’ذبیحۃ المرتد حرام عندنا وبہ قال أکثر العلماء منھم أبو حنیفۃ وأحمد وأبو یوسف وأبو ثور۔‘‘

(المجموع شرح المہذب ج:۹ ص:۷۹)

ترجمہ: ... ’’مرتد کا ذبیحہ ہمارے نزدیک حرام ہے، اور اکثر علماء اسی کے قائل ہیں، جن میں اِمام ابوحنیفہؒ، اِمام احمدؒ، اِمام ابویوسفؒ اور ابو ثورؒ بھی شامل ہیں۔‘‘

فقہِ حنبلی:

’’ذبیحۃ المرتد حرام وإن کانت ردتہ إلیٰ دین أھل الکتاب، ھٰذا قول مالک والشافعی وأصحاب الرأی۔‘‘

(المغنی مع الشرح الکبیر ج:۱۰ ص:۸۷)

ترجمہ: ... ’’اور مرتد کا ذبیحہ حرام ہے، خواہ اس نے اہلِ کتاب کے مذہب کی طرف اِرتداد اِختیار کیا ہو، یہی اِمام شافعیؒ اور اصحاب الرائے (احناف) کا قول ہے۔‘‘

’’لَا تحل ذبیحتہ ولَا نکاح نسائھم وإن انتقلوا إلیٰ دین أھل الکتاب۔‘‘

(المغنی مع الشرح الکبیر ج:۷ ص:۱۷۰)

292

ترجمہ: ... ’’مرتد کا نہ ذبیحہ حلال ہے اور نہ ان کی عورتوں سے نکاح حلال ہے، خواہ انہوں نے اہلِ کتاب کے مذہب کی طرف اِرتداد اِختیار کیا ہو۔‘‘

’’ولَا یؤکل صید مرتد ولَا ذبیحتہ وإن تدین بدین أھل الکتاب۔‘‘

(المغنی مع الشرح الکبیر ج:۱۱ ص:۳۲)

ترجمہ: ... ’’مرتد کا ذبیحہ اور اس کا شکار کیا ہوا گوشت نہ کھایا جائے، چاہے اس نے اہلِ کتاب کے مذہب کی طرف اِرتداد اِختیار کیا ہو۔‘‘

فقہِ مالکی:

’’وأما المرتد فإن الجمھور علیٰ إن ذبیحتہ لَا تؤکل۔‘‘

(بدایۃ المجتہد ج:۱ ص:۳۳۰)

ترجمہ: ... ’’لیکن مرتد، پس جمہور اس پر ہیں کہ اس کا ذبیحہ حلال نہیں۔‘‘

ان تصریحات سے معلوم ہوا کہ مرتد کا ذبیحہ کسی حالت میں بھی حلال نہیں، خواہ اس نے کوئی سا مذہب بھی اِختیار کیا ہو، اس لئے جن مولوی صاحب نے قادیانیوں کے ذبیحے کو جائز کہا ہے، ان کا یہ فتویٰ بالکل غلط اور قواعدِ شرعیہ کے خلاف ہے۔

مرتد کی اولاد کا حکم:

جس نے خود اِرتداد اِختیار کیا ہو، وہ اصلی مرتد ہے، اس کو اِسلام لانے پر مجبور کیا جائے گا اور اگر وہ اِسلام نہ لائے تو اسے قتل کردیا جائے گا۔

مرتد والدین کی صلبی اولاد والدین کے تابع ہونے کی وجہ سے حکماً مرتد کہلاتی ہے، اس لئے ان کے بالغ ہونے کے بعد ان کو بھی اسلام لانے پر مجبور کیا جائے گا، لیکن اگر وہ اسلام قبول نہ کرے تو اس کو قتل نہیں کیا جائے گا بلکہ حبس و ضرب کی سزا دی جائے گی۔

293

البتہ تیسری پشت میں مرتد کی اولاد پر مرتد کے اَحکام جاری نہیں ہوتے، بلکہ کافر اصلی کے اَحکام جاری ہوتے ہیں، چنانچہ درمختار میں ہے:

’’زوجان ارتدا ولحقا فولدت المرتدۃ ولد أو ولد لہ أی لذٰلک المولود ولد فظھر علیھم جمیعًا فالولدان فیٔ کأصلھما والولد الأوّل یجبر بالضرب -أی وبالحبس نھر- علی الْإسلام وإن حبلت بہ ثمۃ لتبعیتہ لأبویہ لَا الثانی لعدم تبعیۃ الجد علی الظاھر فحکمہ کحربی۔‘‘

(الشامی مع الدر المختار ج:۴ ص:۲۵۶)

ترجمہ: ... ’’میاں بیوی مرتد ہوکر دارالحرب چلے گئے، وہاں مرتد عورت نے بچہ جنا، اور آگے اس لڑکے کے لڑکا ہوا، پھر یہ سب جہاد میں مسلمانوں کے قابو میں آگئے تو مرتد جوڑے کی طرح ان کا بیٹا اور پوتا بھی مالِ غنیمت ہیں، ان کے بیٹے کو تو ضرب (وحبس) کے ذریعے اسلام لانے پر مجبور کیا جائے گا، خواہ وہ دارالحرب میں حاملہ ہوئی تھی، کیونکہ وہ اپنے والدین کے تابع ہونے کی وجہ سے حکماً مرتد ہے، مگر پوتے کو مجبور نہیں کیا جائے گا، کیونکہ ظاہر روایت کے مطابق پوتا دادے کے تابع نہیں ہوتا، پس اس کا حکم عام حربی کافر کا حکم ہے۔‘‘

مرتد کی اولاد کا ذبیحہ:

اور جب یہ معلوم ہوچکا کہ تیسری پشت میں جاکر مرتد کی اولاد کا حکم عام کافروں کا ہوجاتا ہے، تو دیکھنا یہ ہوگا کہ اس نے کونسا دِین و مذہب اِختیار کیا ہے؟ اور یہ کہ اس مذہب کے لوگوں کا ذبیحہ حلال ہے یا نہیں؟

سب جانتے ہیں کہ مسلمانوں کے لئے صرف اہلِ کتاب کا ذبیحہ حلال قرار دِیا گیا

294

ہے، اور بت پرستوں اور مجوسیوں کا ذبیحہ حلال نہیں، پس اگر مرتد نے اہلِ کتاب کا مذہب اِختیار کرلیا تھا تو تیسری پشت میں جاکر اس کی اولاد کا حکم اہلِ کتاب کا ہوگا، اور ان کا ذبیحہ حلال ہوگا۔

اور اگر اس نے ہندوؤں، سکھوں یا مجوسیوں کا مذہب اِختیار کرلیا تھا تو تیسری پشت میں اس کی اولاد بھی ہندو یا سکھ یا مجوسی شمار ہوگی، اور اس کا ذبیحہ حلال نہیں ہوگا۔

اور اگر اس نے ان مذاہبِ معروفہ میں سے کوئی مذہب بھی اختیار نہیں کیا، بلکہ یا تو لامذہب اور دہریہ بن گیا، یا اس نے کوئی نیا مذہب ایجاد کرلیا تو اس کا ذبیحہ بھی حلال نہیں ہوگا، پس یہ جو مشہور ہے کہ مرتد کی اولاد کا ذبیحہ جائز ہے، یہ مطلقاً صحیح نہیں، بلکہ اس میں مندرجہ بالا تفصیل کا ملحوظ رکھنا ضروری ہے۔

اور یہ بھی ظاہر ہے کہ قادیانیوں نے اہلِ کتاب کا مذہب اِختیار نہیں کیا، بلکہ انہوں نے ایک نیا دِین اِختیار کیا ہے، لہٰذا ان کی اولاد کا ذبیحہ کسی حال میں بھی حلال نہیں ہوگا۔اس سے یہ واضح ہوجاتا ہے کہ حضرت مولانا مفتی کفایت اللہ صاحبؒ کے فتویٰ میں قادیانی اور اس کی اولاد میں جو فرق کیا گیا ہے، وہ صحیح نہیں۔

کفرِ زَندقہ:

مندرجہ بالا تفصیل سے ثابت ہوا کہ قادیانیوں کا ذبیحہ کسی حال میں حلال نہیں، خواہ انہوں نے اسلام کو چھوڑ کر قادیانی مذہب کی طرف اِرتداد اِختیار کیا ہو، یا وہ قادیانیوں کے گھر پیدا ہونے کی وجہ سے ’’پیدائشی قادیانی‘‘ ہوں، دونوں صورتوں میں ان کا ذبیحہ حرام اور مردار ہے۔

اس مسئلے کے سمجھنے کے لئے ایک اور نکتے پر غور کرنا بھی ضروری ہے اور یہ کہ قادیانیوں کے کفر و اِرتداد کی نوعیت معلوم کی جائے۔

اہلِ علم جانتے ہیں کہ کفر کی کئی قسمیں ہیں، ان میں سے ایک کا نام ’’کفرِ زَندقہ‘‘ ہے، اور جو لوگ ایسے کفر کو اِختیار کرتے ہیں انہیں ’’زِندیق‘‘ کہا جاتا ہے، اور فقہی اِصطلاح

295

میں ’’زِندیق‘‘ ایسے شخص کو کہا جاتا ہے جو اِسلام کا دعویٰ کرتا ہو، مگر درپردہ کفریہ عقائد رکھتا ہو، اور اپنے کفر کو اِسلام کے پردے میں چھپانے کی کوشش کرتا ہو۔

علامہ تفتازانی رحمہ اللہ شرح مقاصد میں کافروں کی قسمیں بیان کرتے ہوئے لکھتے ہیں:

’’وإن کان مع اعترافہ بنبوۃ النبی صلی اللہ علیہ وسلم وإظھارہ شعائر الْإسلام یبطن عقائد ھی کفر بالْإتفاق خص باسم الزندیق۔‘‘

(ج:۲ ص:۲۶۹)

ترجمہ: ... ’’اور اگر وہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوّت کا قائل ہونے اور اِسلامی شعائر کا اِظہار کرنے کے باوجود ایسے عقائد کو چھپاتا ہو جو بالاتفاق کفر ہیں، تو ایسے شخص کا نام ’’زِندیق‘‘ ہے۔‘‘

اسلام کے پردے میں کفر کو چھپانے کی دو صورتیں ہیں، ایک یہ کہ وہ کسی کو ان عقائد کی ہوا ہی نہ لگنے دے، عام لوگ یہ سمجھیں کہ یہ مسلمان ہے اور مسلمانوں ہی کے عقائد رکھتا ہے، حالانکہ وہ درپردہ کفریہ عقائد رکھتا ہے (جن کا اظہار کبھی بے ساختہ ہوجاتا ہے) جیسا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں منافقین کا حال تھا، عہدِ نبوی کے بعد ایسے منافق بھی (جن کے نفاق کا علم کسی ذریعے سے ہوجائے) ’’زِندیق‘‘ شمار کئے جائیں گے۔

حافظ ابنِ قدامہ المقدسی الحنبلی ’’المغنی‘‘ میں لکھتے ہیں:

’’والزندیق الذی یظھر الْإسلام ویستسر الکفر وھو الذی کان یسمی منافقًا فی عصر النبی صلی اللہ علیہ وسلم ویسمی الیوم زندیقًا۔‘‘

(المغنی ج:۷ ص:۱۷۱، الشرح الکبیر ج:۷ ص:۱۶۷)

ترجمہ: ... ’’اور ’’زِندیق‘‘ وہ شخص ہے جو اِسلام کا اظہار

296

کرتا ہو اور کفر کو چھپاتا ہو، ایسے شخص کو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں ’’منافق‘‘ کہا جاتا تھا، اور آج اس کا نام ’’زِندیق‘‘ رکھا جاتا ہے۔‘‘

المجموع شرح المھذب میں ہے:

’’والزندیق ھو الذی یظھر الْإسلام ویبطن الکفر فمتی قامت بینۃ أنہ تکلم بما یکفر بہ فإنہ یستتاب وإن تاب وإلّا قتل۔‘‘

(المجموع شرح المھذب ج:۱۹ ص:۲۳۲)

ترجمہ: ... ’’اور ’’زِندیق‘‘ وہ شخص ہے جو اِسلام کا اِظہار کرتا ہو اور کفر کو چھپاتا ہو، پس جب شہادت قائم ہوجائے کہ اس نے کلمۂ کفر بکا ہے تو اس سے توبہ لی جائے گی، اگر وہ توبہ کرلے تو ٹھیک، ورنہ اسے قتل کردیا جائے گا۔‘‘

حافظ بدرالدین عینیؒ لکھتے ہیں:

’’واختلف فی تفسیرہ، فقیل ھو المبطن للکفر المظھر للإسلام کالمنافق۔‘‘

(عمدۃ القاری ج:۲۴ ص:۷۹)

ترجمہ: ... ’’زِندیق کی تفسیر میں اختلاف ہوا ہے، پس ایک قول یہ ہے کہ زِندیق وہ شخص ہے جو منافق کی طرح کفر کو چھپاتا ہو اور اِسلام کا اِظہار کرتا ہو۔‘‘

حافظ ابنِ حجرؒ ’’فتح الباری‘‘ میں لکھتے ہیں کہ زِندیق دراصل ان لوگوں کو کہا جاتا تھا جو دیصان، مانی اور مزدک کے پیروکار تھے:

’’وأظھر جماعۃ منھم الْإسلام خشیۃ القتل ومن ثم أطلق الْإسم علیٰ کل من أسر الکفر وأظھر الْإسلام حتّٰی قال مالک الزندقۃ ما کان علیہ المنافقون
297

وکذا أطلق جماعۃ من الفقھاء الشافعیۃ وغیرھم أن الزندیق ھو الذی یظھر الْإسلام ویخفی الکفر فإن أرادوا اشتراکھم فی الحکم فھو کذٰلک وإلّا فأصلھم ما ذکرت۔‘‘

(فتح الباری ج:۱۲ ص:۲۷۱)

ترجمہ: ... ’’اور ان میں سے ایک جماعت نے قتل کے اندیشے سے اسلام کا اظہار کیا تھا، اسی بنا پر ’’زِندیق‘‘ کا لفظ ہر اس شخص پر بولا جاتا ہے جو کفر کو چھپاتا ہو اور اِسلام کا اِظہار کرتا ہو۔ یہاں تک کہ اِمام مالکؒ نے فرمایا کہ زِندیقیت وہی ہے جس پر منافق تھے۔ اسی طرح فقہائے شافعیہ اور دیگر حضرات نے ’’زِندیق‘‘ کا لفظ اس شخص کے لئے استعمال کیا ہے جو اِسلام کا اظہار کرتا ہو اور کفر کو چھپاتا ہو، پس اگر ان کی مراد یہ ہے کہ ایسے لوگوں کا حکم بھی زِندیق کا ہے، تو یہ صحیح ہے، ورنہ زِندیقوں کی اصل میں ذِکر کرچکا ہوں۔‘‘

کفر کو چھپانے کی دُوسری صورت یہ ہے کہ ایک شخص اپنے کفریہ عقائد کا تو برملا اِظہار کرتا ہے اور لوگوں کو ان کی دعوت بھی دیتا ہے، لیکن اپنے کفریہ عقائد پر اِسلام کا لیبل چپکاتا ہے، کتاب و سنت کی غلط تأویل کے ذریعے اپنے عقائدِ فاسدہ کو برحق ثابت کرنے کی کوشش کرتا ہے، اور لوگوں کے سامنے ایسی ملمع سازی کرتا ہے کہ ناواقف لوگ ان عقائدِ باطلہ ہی کو اِسلام سمجھنے لگیں۔

درمختار میں ہے کہ: ’’جو زِندیق کہ معروف اور داعی ہو، اگر وہ پکڑا جائے تو اس کی توبہ نہیں۔‘‘ اس کے ذیل میں علامہ شامیؒ لکھتے ہیں:

’’قولہ المعروف أی: بالزندقۃ الداعی ای الذی یدعو الناس إلیٰ زندقتہ، فإن قلت: کیف یکون معروفًا داعیا إلی الضلال، وقد اعتبر فی مفھومہ
298

الشرعی أن یبطن الکفر۔ قلت: لَا بعد فیہ، فإن الزندیق یموہ کفرہ، ویروج عقیدتہ الفاسدۃ ویخرجھا فی الصورۃ الصحیحۃ، وھٰذا معنی إبطان الکفر۔‘‘

(شامی ج:۴ ص:۲۴۲)

ترجمہ: ... ’’معروف سے مراد یہ ہے کہ وہ اپنے زَندقہ میں معروف ہو، اور داعی کا مطلب یہ ہے کہ وہ لوگوں کو اپنے زَندقہ کی دعوت دیتا ہو۔

اگر تم کہو کہ زِندیق معروف اور داعی الی الضلال کیسے ہوسکتا ہے؟ جبکہ زِندیق کے مفہومِ شرعی میں یہ بات ملحوظ ہے کہ کفر کو چھپاتا ہو۔

میں کہتا ہوں کہ اس میں کوئی ُبعد نہیں، کیونکہ زِندیق اپنے کفر پر ملمع کیا کرتا ہے اور اپنے عقیدۂ باطلہ کو رِواج دینا چاہتا ہے، اور وہ اسے بظاہر صحیح صورت میں لوگوں کے سامنے پیش کرتا ہے، اور یہی معنی ہیں کفر کو چھپانے کے۔‘‘

اِمام الہند شاہ ولی اللہ محدث دہلویؒ مسویٰ شرح عربی مؤطا میں منافق اور زِندیق کا فرق بیان کرتے ہوئے لکھتے ہیں:

’’بیان ذٰلک أن المخالف للدین الحق إن لم یعترف بہ ولم یذعن لہ لَا ظاھرًا ولَا باطنًا فھو کافر، وإن اعترف بلسانہ وقلبہ علی الکفر فھو المنافق، وإن اعترف بہ ظاھرًا، لٰـکنہ یفسر بعض ما ثبت من الدین ضرورۃ بخلاف ما فسرہ الصحابۃ والتابعون واجتمعت علیہ الاُمّۃ فھو الزندیق۔‘‘

ترجمہ: ... ’’شرح اس کی یہ ہے کہ جو شخص دِینِ حق کا

299

مخالف ہے، اگر وہ دِینِ اسلام کا اِقرار ہی نہ کرتا ہو اور نہ دِینِ اسلام کو مانتا ہو، نہ ظاہری طور پر اور نہ باطنی طور پر، تو وہ ’’کافر‘‘ کہلاتا ہے۔ اور اگر زبان سے دِین کا اِقرار کرتا ہو لیکن دِین کے بعض قطعیات کی ایسی تأویل کرتا ہو جو صحابہ کرامؓ و تابعینؒ اور اِجماعِ اُمت کے خلاف ہو تو ایسا شخص ’’زِندیق‘‘ کہلاتا ہے۔‘‘

آگے تأویلِ صحیح اور تأویلِ باطل کا فرق بیان کرتے ہوئے شاہ صاحب رحمہ اللہ لکھتے ہیں:

’’ثم التأویل تأویلان: تأویل لَا یخالف قاطعا من الکتاب والسُّنَّۃ واتفاق الاُمّۃ، وتأویل یصادم ما ثبت بقاطع فذٰلک الزندقۃ۔‘‘

ترجمہ: ... ’’پھر تأویل کی دو قسمیں ہیں: ایک وہ تأویل جو کتاب و سنت اور اِجماعِ اُمت سے ثابت شدہ کسی قطعی مسئلے کے خلاف نہ ہو، اور دُوسری وہ تأویل جو ایسے مسئلے کے خلاف ہو جو دلیلِ قطعی سے ثابت ہے، پس ایسی تأویل ’’زَندقہ‘‘ ہے۔‘‘

آگے زِندیقانہ تأویلوں کی مثالیں ذکر کرتے ہوئے شاہ صاحب رحمہ اللہ تعالیٰ لکھتے ہیں:

’’أو قال إن النبی صلی اللہ علیہ وسلم خاتم النبوّۃ ولٰـکن معنی ھٰذا الکلام أنہ لَا یجوز أن یسمی بعد أحد بالنبی، وأما معنی النبوّۃ وھو کون الْإنسان مبعوثًا من اللہ تعالٰی إلی الخلق مفترض الطاعۃ معصومًا من الذنوب ومن البقاء علی الخطأ فیما یری فھو موجود فی الأئمۃ بعدہ، فذٰلک ھو الزندیق۔‘‘

(مسویٰ ج:۲ ص:۱۳)

300

ترجمہ: ... ’’یا کوئی شخص یوں کہے کہ: ’’نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم بلاشبہ خاتم النبیین ہیں، لیکن اس کا مطلب یہ ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد کسی کا نام ’’نبی‘‘ نہیں رکھا جائے گا، لیکن نبوّت کا مفہوم کسی اِنسان کا اللہ تعالیٰ کی جانب سے مخلوق کی طرف مبعوث ہونا، اس کی اِطاعت کا فرض ہونا، اور اس کا گناہوں سے اور خطا پر قائم رہنے سے معصوم ہونا، یہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد بھی اِماموں میں موجود ہے‘‘ تو یہ شخص ’’زِندیق‘‘ ہے۔‘‘

اکابرِ اُمت کی مندرجہ بالا تصریحات سے ثابت ہوا کہ ایسا شخص شرعی اِصطلاح میں ’’زِندیق‘‘ کہلاتا ہے:

✡: ... جو اِسلام کا اِظہار کرتا ہو۔

✡: ... جو دعویٔ اِسلام کے باوجود کفریہ عقائد رکھتا ہو۔

✡: ... اور جو اپنے کفریہ عقائد کو تأویلِ باطل کے پردے میں چھپاتا ہو، اور کتاب و سنت کے نصوص کو توڑ مروڑ کر ان سے اپنا عقیدۂ باطلہ کشید کرتا ہو، یا اِسلام کے عقائدِ متواترہ پر طعن کرتا ہو۔

قادیانی زِندیق ہیں:

زِندیق کی یہ تعریف قادیانیوں پر حرف بہ حرف صادق آتی ہے، وہ خالص کفریہ عقائد رکھتے ہیں، جن کا اِسلام کے ساتھ ذرا بھی تعلق نہیں، مثلاً:

✡: ... وہ ختمِ نبوّت کے منکر ہیں، جو اِسلام کا قطعی عقیدہ ہے، اور وہ اس اِسلامی عقیدے کو ’’لعنت‘‘ قرار دیتے ہیں...نعوذباللہ...!

✡: ... وہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے رفع و نزول کے منکر ہیں، جو اِسلام کا قطعی عقیدہ ہے۔

✡: ... وہ مرزا غلام احمد قادیانی دجال کو مسیحِ موعود، مہدیٔ معہود، نبی و رسول اور

301

ظلّی ’’محمد رسول اللہ‘‘ مانتے ہیں، جو سراسر کفر ہے۔

✡: ... وہ حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے تمام کمالات مع نبوّتِ محمدیہ کے، لعینِ قادیان کے لئے ثابت کرتے ہیں۔

✡: ... وہ غلام احمد قادیانی کو ...معاذاللہ... صاحبِ شریعت نبی مانتے ہیں۔

✡: ... وہ غلام احمد قادیانی پر وحیٔ قطعی کا نزول مانتے ہیں، اسے توراۃ و اِنجیل اور قرآن کی طرح واجب الایمان کہتے ہیں، اور اس میں شک و تردّد کو موجبِ کفر قرار دیتے ہیں۔

✡: ... وہ مرزا غلام احمد قادیانی الدجال الاعوَر کی وحی و تعلیم اور اس کی تجدیدِ شریعت کو تمام انسانیت کے لئے واجب الاتباع اور مدارِ نجات قرار دیتے ہیں۔

✡: ... ان کا عقیدہ ہے کہ حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی دو بعثتیں ہیں، پہلی بعثت مکہ میں ہوئی اور دُوسری بعثت مرزا قادیانی کی بروزی شکل میں، قادیان میں ہوئی۔ تیرہ صدیوں تک پہلی بعثت کا دور رہا، اور چودھویں صدی سے قادیانی بعثت کا دور شروع ہوا۔

✡: ... وہ ان خالص کفریہ عقائد کے باوجود بڑی شدومد سے مسلمان ہونے کا دعویٰ کرتے ہیں، اور تمام مسلمانوں کو کافر قرار دیتے ہیں، گویا محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا لایا ہوا دِین جس کے مسلمان قائل ہیں، اور جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے لے کر آج تک طبقہ در طبقہ متواتر چلا آرہا ہے، وہ قادیانیوں کے نزدیک کفر ہے، اور اس کے ماننے والے کافر ہیں۔

✡: ... ان کے نزدیک محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا کلمہ پڑھنے سے آدمی مسلمان نہیں ہوتا، جب تک کہ مرزا غلام احمد قادیانی کو ’’محمد رسول اللہ‘‘ مان کر اس کا کلمہ نہ پڑھے۔ گویا قادیانیوں کے نزدیک محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا کلمہ منسوخ ہوچکا، جیسا کہ مسلمانوں کے نزدیک حضرت موسیٰ اور حضرت عیسیٰ علیہما السلام کا کلمہ منسوخ ہے۔

مرزا بشیر احمد قادیانی لکھتا ہے:

302

’’ہر ایک ایسا شخص جو موسیٰ کو تو مانتا ہے مگر عیسیٰ کو نہیں مانتا، یا عیسیٰ کو مانتا ہے مگر محمدؐ کو نہیں مانتا، یا محمدؐ کو مانتا ہے پر مسیحِ موعود (مرزا قادیانی) کو نہیں مانتا، وہ نہ صرف کافر بلکہ پکا کافر اور دائرۂ اسلام سے خارج ہے۔‘‘

(کلمۃ الفصل ص:۱۱۰)

مرزا بشیر احمد دُوسری جگہ لکھتا ہے:

’’مسیحِ موعود (مرزا غلام احمد قادیانی) خود محمد رسول اللہ ہے، جو اِشاعتِ اسلام کے لئے دوبارہ دُنیا میں تشریف لائے، اس لئے ہم کو نئے کلمے کی ضرورت نہیں، ہاں! محمد رسول اللہ کی جگہ کوئی اور آتا تو ضرورت پیش آتی، فتدبر۔‘‘

(کلمۃ الفصل ص:۱۵۸)

✡: ... ان کا یہ عقیدہ ہے کہ شریعتِ محمدیہ کی پیروی موجبِ نجات نہیں، جب تک کہ مرزا غلام احمد قادیانی کی وحی و تعلیم کی پیروی نہ کی جائے، پس جس طرح کہ مسلمانوں کے نزدیک آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی تشریف آوری سے حضراتِ انبیائے سابقین علیہم السلام کی شریعتیں منسوخ ہوچکی ہیں اور اَب ان کی پیروی موجبِ نجات نہیں، اسی طرح قادیانیوں کے نزدیک شریعتِ محمدیہ بھی منسوخ ہوچکی ہے اور مرزا غلام احمد قادیان کی پیروی کے بغیر نجات نہیں۔

✡: ... قادیانیوں کے اس طرح کے سینکڑوں کفریہ عقائد ہیں، مثلاً ملائکہ کا اِنکار، حشرِ جسمانی کا اِنکار، معراجِ جسمانی کا اِنکار، وغیرہ۔ جن کی تفصیل علمائے اُمت مختلف کتابوں میں فرماچکے ہیں۔ اور اس ناکارہ نے ان کے مندرجہ بالا عقائد اپنے رسالے ’’قادیانیوں کی طرف سے کلمۂ طیبہ کی توہین‘‘ میں باحوالہ درج کردئیے ہیں، اس کا مطالعہ ضرور کیا جائے اور اسے زیرِ نظر تحریر کا ایک حصہ تصوّر کیا جائے۔ ان تمام کفریات کے باوجود وہ پوری ڈھٹائی اور بے حیائی کے ساتھ، قرآن و سنت میں تحریف اور تأویلِ باطل کا اِرتکاب کرتے ہیں، اور دِینِ مرزائیت کو اِسلام اور دِینِ محمدی کو کفر ثابت کرنے کی جسارت کرتے ہیں، اس سے بڑھ کر اِلحاد و زَندقہ کیا ہوسکتا ہے؟ اس لئے قادیانی بلاشبہ ملحد و زِندیق ہیں اور

303

ان کا وہی حکم ہے جو علامہ شامیؒ نے دروزیہ، تیامنہ، نصیریہ اور قرامطہ کا لکھا ہے کہ یہ واجب القتل ہیں اور ان کی توبہ قابلِ قبول نہیں۔ علامہ شامیؒ لکھتے ہیں:

’’یعلم مما ھنا حکم الدروز والتیامنۃ فإنھم فی البلاد الشامیۃ یظھرون الْإسلام والصوم والصلٰوۃ مع أنھم یعتقدون تناسخ الأرواح وحل الخمر والزنا وأن الألوھیۃ تظھر فی شخص بعد شخص ویجحدون الحشر والصوم والصلٰوۃ والحج، ویقولون المسمّٰی بہ غیر المعنی المراد ویتکلمون فی جناب نبینا صلی اللہ علیہ وسلم کلمات فظیعۃ، وللعلّامۃ المحقق عبدالرحمٰن العمادی فیھم فتویٰ مطولۃ، وذکر فیھا أنھم ینتحلون عقائد النصیریۃ والْإسماعیلیۃ الذین یلقبون بالقرامطۃ والباطنیۃ الذین ذکرھم صاحب المواقف، ونقل عن علماء المذاھب الأربعۃ أنہ لَا یحل إقرارھم فی دیار الْإسلام بجزیۃ ولَا غیرھا، ولَا تحل مناکحتھم ولَا ذبائحھم وفیھم فتویٰ فی الخیریۃ أیضًا فراجعھا۔ والحاصل أنھم یصدق علیھم إسم الزندیق والمنافق والملحد، ولَا یخفی أن إقرارھم بالشھادتین مع ھٰذا الْإعتقاد الخبیث لَا یجعلھم فی حکم المرتد لعدم التصدیق، ولَا یصح إسلام أحدھم ظاھرًا إلّا بشرط التبری عن جمیع ما یخالف دین الْإسلام لأنھم یدعون الْإسلام ویقرون بالشھادتین وبعد الظفر بھم لَا تقبل توبتھم أصلًا۔‘‘

(در المختار للشامی ج:۴ ص:۲۴۴)

ترجمہ: ... ’’یہیں سے دروزیہ اور تیامنہ کا حکم معلوم ہوجاتا

304

ہے، یہ لوگ شام کے علاقوں میں اِسلام کا اِظہار کرتے ہیں، نماز روزہ کرتے ہیں، حالانکہ وہ تناسخِ اَرواح کے قائل ہیں اور خمر اور زِنا کو حلال سمجھتے ہیں، ان کا عقیدہ ہے کہ اُلوہیت یکے بعد دیگرے مختلف اَشخاص میں ظہور کرتی ہے، وہ حشر و نشر، نماز روزہ اور حج کے قائل نہیں، ان کا کہنا ہے کہ مسمّیٰ بہ معنی مراد کے علاوہ ہے، اور وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی جناب میں ناشائستہ کلمات بکتے ہیں۔ علامہ محقق عبدالرحمن عمادیؒ کا ان کے بارے میں ایک طویل فتویٰ ہے، اس میں موصوف نے ذِکر کیا ہے کہ یہ لوگ نصیری اور اسماعیلی لوگوں کے عقائد رکھتے ہیں، جن کو قرامطہ اور باطنیہ کہا جاتا ہے، اور جن کا ذِکر صاحبِ مواقف نے کیا ہے۔ اور انہوں نے مذاہبِ اَربعہ کے علماء سے نقل کیا ہے کہ ان کو دارالاسلام میں ٹھہرانا حلال نہیں، نہ جزیہ لے کر، اور نہ اس کے بغیر۔ نہ ان سے رشتہ ناتا جائز ہے، اور نہ ان کا ذبیحہ حلال ہے۔ ان کے بارے میں فتاویٰ خیریہ میں بھی ایک فتویٰ ہے، اس کی طرف مراجعت کی جائے۔

حاصل یہ ہے کہ ان پر ’’زِندیق‘‘، ’’منافق‘‘ اور ’’ملحد‘‘ کا مفہوم صادق آتا ہے، ظاہر ہے کہ ان خبیث عقائد کے باوجود ان کا شہادتین کا اِقرار کرنا، ان کو مرتد کے حکم میں قرار نہیں دیتا، کیونکہ یہاں تصدیق مفقود ہے، اور ان میں سے کوئی شخص اسلام کا اِظہار کرے تو وہ قابلِ قبول نہیں، جب تک کہ ان تمام عقائد سے براء ت کا اِظہار نہ کرے جو دِینِ اسلام کے خلاف ہیں، کیونکہ وہ پہلے ہی سے اسلام کے مدعی ہیں اور شہادتین کا اِقرار کرتے ہیں، اگر یہ لوگ قابو میں آجائیں تو ان کی توبہ قطعاً قبول نہیں۔‘‘

305

زِندیق کا حکم:

تمام اَئمہ کے نزدیک زِندیق کا حکم وہی ہے جو مرتد کا ہے، چنانچہ:

۱: ... زِندیق، مرتد کی طرح واجب القتل ہے۔

۲: ... اس سے رشتہ ناتا ناجائز اور باطل ہے۔

۳: ... اور اس کا ذبیحہ حرام اور مردار ہے۔

بلکہ ایک اعتبار سے زِندیق کا کفر، مرتد سے بھی بدتر ہے، کیونکہ باجماعِ اُمت مرتد کو توبہ کی تلقین کی جاتی ہے، اور اگر وہ توبہ کرکے دوبارہ مسلمان ہوجائے تو اس سے قتل کی سزا ساقط ہوجاتی ہے۔ لیکن زِندیق کی توبہ میں اِختلاف ہے، اِمام شافعیؒ اور مشہور روایت میں اِمام احمدؒ فرماتے ہیں کہ اگر وہ سچے دِل سے تائب ہوجائے تو اس سے قتل ساقط ہوجائے گا۔ اِمام مالکؒ فرماتے ہیں کہ زِندیق کی توبہ قبول نہیں، یعنی وہ توبہ کا اِظہار کرے تب بھی اس سے قتل کی سزا ساقط نہیں ہوگی۔ اِمام ابوحنیفہؒ سے بھی یہی منقول ہے کہ زِندیق کی توبہ نہیں، اِمام احمدؒ سے بھی ایک روایت یہی ہے۔ فتاویٰ قاضی خان، بحر الرائق اور درمختار وغیرہ میں یہ تفصیل ذِکر کی گئی ہے کہ اگر زِندیق ازخود آکر توبہ کرلے تو اس کی توبہ قبول کی جائے گی، اور قتل کی سزا اس سے ساقط ہوجائے گی۔ لیکن اگر وہ گرفتار ہونے کے بعد توبہ کرے تو اس کی توبہ کا کوئی اِعتبار نہیں اور وہ واجب القتل ہے۔ فقہِ مالکی کی معروف کتاب المواہب الجلیل میں بھی یہی تفصیل ذکر کی گئی ہے۔

اس سلسلے میں فقہاء کی درج ذیل تصریحات ملاحظہ فرمائیں:

اِمام ابوبکر جصاصؒ لکھتے ہیں:

’’قال أبوحنیفۃ: اقتل الزندیق سرًّا فإن توبتہ لَا تعرف۔ قال مالک: یقتل الزنادقۃ ولَا یستتابون۔‘‘

(احکام القرآن للجصاص ج:۲ ص:۲۸۶)

ترجمہ: ... ’’اِمام ابوحنیفہؒ فرماتے ہیں کہ: زِندیق کو موقع پاکر چپکے سے قتل کردو، کیونکہ اس کی توبہ معروف نہیں۔

306

اِمام مالکؒ فرماتے ہیں کہ: زِندیقوں کو قتل کیا جائے گا اور ان سے توبہ نہیں لی جائے گی۔‘‘

درمختار میں ہے:

’’وکذا الکافر بسبب الزندقۃ لَا توبۃ لہ، وجعلہ فی الفتح ظاھر المذھب لٰـکن فی حظر الخانیۃ الفتویٰ علیٰ أنہ إذا أخذ الساحر أو الزندیق المعروف الداعی قبل توبتہ ثم تاب لم تقبل توبتہ ویقتل، ولو أخذ بعدھا قبلت۔‘‘

(درالمختار ج:۴ ص:۲۴۲)

ترجمہ: ... ’’اور اسی طرح جو شخص زَندقہ کی وجہ سے کافر ہوگیا ہو، اس کی توبہ قابلِ قبول نہیں، اور فتح القدیر میں اس کو ظاہر مذہب بتایا ہے، لیکن فتاویٰ قاضی خان، کتاب الحظر والاباحہ میں ہے کہ فتویٰ اس پر ہے جب جادوگر اور زِندیق جو معروف اور داعی ہو توبہ سے پہلے گرفتار ہوجائیں، اور پھر گرفتار ہونے کے بعد توبہ کریں تو ان کی توبہ قبول نہیں، بلکہ ان کو قتل کیا جائے، اور اگر گرفتاری سے پہلے توبہ کرلی تو توبہ قبول کی جائے گی۔‘‘

البحر الرائق میں ہے:

’’لَا تقبل توبۃ الزندیق فی ظاھر المذھب وھو من لَا یتدین بدین ...... فی الخانیۃ قالوا إن جاء الزندیق قبل أن یؤخذ فأقر أنہ زندیق فتاب عن ذٰلک تقبل توبتہ، وإن أخذ ثم تاب لم تقبل توبتہ ویقتل۔‘

(البحرالرائق ج:۵ ص:۱۳۶)

ترجمہ: ... ’’ظاہر مذہب میں زِندیق کی توبہ قابلِ قبول نہیں اور زِندیق وہ شخص ہے جو دِین کا قائل نہ ہو، اور فتاویٰ قاضی

307

خان میں ہے کہ اگر زِندیق گرفتار ہونے سے پہلے خود آکر اِقرار کرلے کہ وہ زِندیق ہے، پس اس سے توبہ کرلے تو اس کی توبہ قبول ہے، اور اگر گرفتار ہوا پھر توبہ کی، تو اس کی توبہ قبول نہیں کی جائے گی بلکہ اسے قتل کیا جائے گا۔‘‘

فقہِ مالکی کی کتاب ’’مواہب الجلیل شرح مختصر الخلیل‘‘ میں ہے:

’’الزندیق وھو من یظھر الْإسلام ویسر الکفر فإذا ثبت علیہ الکفر لم یستتب ویقتل ولو أظھر توبتہ لأن إظھار التوبۃ لَا یخرجہ عما یبدیہ من عادتہ ومذھبہ فإن التقیۃ عند الخوف عین الزندقۃ أما إذا جاء بنفسہ مقرًّا بزندقتہ ومعلنا توبتہ دون أن یظھر علیہ فتقبل توبتہ۔‘‘

(مواہب الجلیل ج:۶ ص:۲۸۲ بحوالہ التشریح الجنائی الْإسلامی ج:۲ ص:۷۲۴)

ترجمہ: ... ’’زِندیق وہ شخص ہے جو اِسلام کا اِظہار کرتا ہو اور کفر کو چھپاتا ہو، پس جب اس کا کفر ثابت ہوجائے تو اس سے توبہ نہیں لی جائے گی، بلکہ اسے قتل کیا جائے گا، خواہ وہ توبہ کا اِظہار کرے، کیونکہ توبہ کا اِظہار اس کو اس کی اس عادت و مذہب سے نہیں نکالتا جس کو وہ ظاہر کیا کرتا ہے، کیونکہ خوف کے وقت بچاؤ کے لئے توبہ کا اِظہار عین زَندقہ ہے۔ البتہ اگر وہ گرفتار ہوئے بغیر خود آکر اپنے زَندقہ کا اِقرار کرے اور توبہ کا اِعلان کرے، تو اس کی توبہ قبول کی جائے (اور اس سے قتل کی سزا ساقط ہوجائے گی)۔‘‘

فقہِ شافعی کی کتابالمجموع شرح المھذب میں ہے:

’’المرتد إذا أسلم ولم یقتل صح إسلامہ سواء کانت ردتہ إلیٰ کفر مظاھر بہ أھلہ کالیھودیۃ
308

والنصرانیۃ وعبادۃ الأصنام أو إلیٰ کفر یستتر بہ أھلہ کالزَّندقۃ، والزِّندیق ھو الذی یظھر الْإسلام ویبطن الکفر فمتی قامت بینۃ أنہ تکلم بما یکفر فإنہ یستتاب وإن تاب وإلّا قتل، فإن استتیب فتاب قبلت توبتہ، وقال بعض الناس: إذا أسلم المرتد لم یحقن دمہ بحال لقولہ صلی اللہ علیہ وسلم: ’’من بدَّل دینہ فاقتلوہ‘‘ وھٰذا قد بدل۔ وقال مالک وأحمد وإسحاق: لَا تقبل توبۃ الزِّندیق ولَا یحقن دمہ بذٰلک وھو إحدی الروایتین عن أبی حنیفۃ والروایۃ الاُخریٰ کمذھبنا۔‘‘

(المجموع شرح المھذب ج:۱۹ ص:۲۳۳)

ترجمہ: ... ’’مرتد جب مسلمان ہوجائے اور اسے قتل نہ کیا جائے تو اس کا اِسلام صحیح ہے، خواہ وہ ایسے کفر کی طرف مرتد ہوا ہو جس کو اس مذہب کے لوگ ظاہر کرتے ہیں جیسے یہودیت، نصرانیت، بت پرستی۔ خواہ اس کا اِرتداد ایسے کفر کی طرف ہوا ہو جس کو اس مذہب کے لوگ چھپاتے ہیں، جیسے زَندقہ۔ اور زِندیق وہ ہے جو اِسلام کا اِظہار کرتا ہو اور کفر کو چھپاتا ہو، پس جب اس پر شہادت قائم ہوجائے کہ اس نے کلمۂ کفر بکا ہے تو اس سے توبہ کے لئے کہا جائے گا، اگر وہ توبہ کرلے تو ٹھیک، ورنہ اس کو قتل کردیا جائے۔ اگر اس سے توبہ لی گئی اور اس نے توبہ کرلی تو اس کی توبہ قبول کی جائے گی۔ بعض حضرات نے فرمایا کہ جب مرتد مسلمان ہوجائے تو اس کا خون محفوظ نہیں ہوتا، کیونکہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے کہ: ’’جو شخص اپنے دِین کو بدل لے یعنی مرتد ہوجائے، اس کو قتل کردو۔‘‘ اور اس نے دِین بدل لیا تھا۔ اِمام مالکؒ،

309

اِمام احمدؒ اور اِمام اِسحاقؒ فرماتے ہیں کہ زِندیق کی توبہ قبول نہیں کی جائے گی۔‘‘

اور فقہِ شافعی میں بھی ایک قول یہ ہے کہ جو شخص کفرِ خفی کی طرف مرتد ہوجائے اس کی توبہ قبول نہیں، جیسے زَنادقہ اور باطنیہ۔

اِمام نوویؒ منہاج میں لکھتے ہیں:

’’وقیل لَا یقبل إسلامہ، إن إرتد إلیٰ کفر خفی کزندقۃ وباطنیۃ۔‘‘

(نہایۃ المحتاج شرح المنہاج ج:۷ ص:۳۹۹)

ترجمہ: ... ’’اور ایک قول یہ ہے کہ مرتد کا اِسلام قبول نہیں کیا جائے گا، اگر اس نے کفرِ خفی کی طرف اِرتداد اِختیار کیا ہو، مثلاً اس نے زَندقہ یا باطنیت اِختیار کرلی ہو۔‘‘

فقہِ حنبلی کی کتاب المغنی اور الشرح الکبیر میں ہے:

’’إذا تاب (المرتد) قبلت توبتہ ولم یقتل أی کفر کان وسواء کان زندیقًا ویستسر بالکفر أو لم یکن وھٰذا مذھب الشافعی والعنبری، ویروی ذٰلک عن علی وابن مسعود وھو إحدی الروایتین عن أحمد واختیار أبی بکر الخلال وقال أنہ أولی علیٰ مذھب أبی عبداللہ، والروایۃ الاُخریٰ: لَا تقبل توبۃ الزندیق ومن تکررت ردتہ وھو قول مالک واللیث وإسحاق وعن أبی حنیفۃ روایات: کھاتین واختیار أبوبکر أنہ لَا تقبل توبۃ الزندیق۔‘‘

(المغنی ج:۱۰ ص:۸۷، الشرح الکبیر ج:۱۰ ص:۸۹)

ترجمہ: ... ’’مرتد جب توبہ کرلے تو اس کی توبہ قبول کی جائے گی اور قتل نہیں کیا جائے گا، خواہ اس نے کوئی سا کفر اِختیار کیا ہو، خواہ زِندیق ہو اور کفر کو چھپاتا ہو، یا زِندیق نہ ہو۔ یہ اِمام شافعیؒ

310

اور عنبریؒ کا مذہب ہے، اور یہ حضرت علیؓ اور حضرت ابنِ مسعودؓ سے مروی ہے، اور یہی ایک روایت اِمام احمدؒ سے ہے، ابوبکر خلالؒ نے اسی کو اِختیار کیا ہے، اور کہا ہے کہ اِمام احمدؒ کے مذہب میں یہی روایت رائج ہے۔ دُوسری روایت یہ ہے کہ زِندیق اور جو شخص بار بار مرتد ہوتا ہو، اس کی توبہ قبول نہیں کی جائے گی۔

یہی قول ہے اِمام مالکؒ، اِمام لیثؒ اور اِمام اِسحاقؒ کا، اور اِمام ابوحنیفہؒ سے دونوں طرح کی روایتیں ہیں، اور ابوبکرؒ کے نزدیک مختار یہی ہے کہ زِندیق کی توبہ قبول نہیں کی جائے گی۔‘‘

اِمام شمس الدین ابنِ قدامہ مقدسیؒ، مرتد کے نکاح کے باطل ہونے اور اس کے ذبیحے کی حرمت بیان کرنے کے بعد لکھتے ہیں:

’’والزِّندیق کالمرتد فیما ذکرنا۔‘‘

(المغنی مع شرح الکبیر ج:۷ ص:۱۷۱)

ترجمہ: ... ’’اور مذکورہ بالا اَحکام میں زِندیق، مرتد کی طرح ہے۔‘‘

دُوسری جگہ لکھتے ہیں:

’’وحکم سائر الکفار من عبدۃ الأوثان والزنادقۃ وغیرھم حکم المجوس فی تحریم ذبائحھم وصیدھم۔‘‘

(المغنی مع الشرح الکبیر ج:۱۱ ص:۳۹)

ترجمہ: ... ’’اہلِ کتاب کے علاوہ باقی کفار، بت پرست اور زِندیق وغیرہ کا حکم مجوسیوں کا حکم ہے کہ ان کا ذبیحہ اور شکار حرام ہے۔‘‘

المجموع شرح المہذب میں ہے:

’’ولَا تحل ذبیحۃ المرتد ولَا الوثنی ولَ
311

المجوسی لما ذکرہ المصنف وھٰکذا حکم الزندیق وغیرہ من الکفار الذین لیس لھم کتاب۔‘‘

(المجموع شرح المھذب ج:۹ ص:۷۵)

ترجمہ: ... ’’اور حلال نہیں ذبیحہ مرتد کا، نہ بت پرست کا، نہ مجوسی کا۔ اور یہی حکم ہے زِندیق وغیرہ ان کفار کا جن کے پاس آسمانی کتاب نہیں۔‘‘

خلاصۂ بحث:

ان تمام مباحث کا خلاصہ یہ ہے کہ:

✡: ... جو شخص خود قادیانیت کی طرف مرتد ہوا ہو، وہ مرتد بھی ہے اور زِندیق بھی۔

✡: ... اس کی صلبی اولاد بھی اپنے والدین کے تابع ہونے کی وجہ سے حکماً مرتد ہے اور زِندیق بھی۔

✡: ... اس کی اولاد کی اولاد مرتد نہیں، بلکہ خالص زِندیق ہے۔

✡: ... مرتد اور زِندیق دونوں واجب القتل ہیں، دونوں سے مناکحت باطل اور دونوں کا ذبیحہ حرام اور مردار ہے۔ اس لئے کسی قادیانی کا ذبیحہ کسی حال میں حلال نہیں۔

قادیانیوں کے معاملے میں اِشکال کی وجہ:

جن حضرات نے قادیانیوں کے یا ان کی اولاد کے ذبیحے کے حلال ہونے کا فتویٰ دیا ہے، انہیں قادیانی مذہب کی حقیقت سمجھنے میں اِشکال پیش آیا۔ اور اس اِشکال کی وجہ یہ ہے کہ قادیانی اُمت دجل و تلبیس کے فن میں ماہر ہے۔ وہ عام مسلمانوں کے سامنے اپنے اصل عقائد کا اِظہار نہیں کرتے، بلکہ اپنی تقریر و تحریر میں مسلمانوں کو یہ باور کرانے کی کوشش کرتے ہیں کہ: ’’ان کے اور مسلمانوں کے درمیان کوئی بنیادی اِختلاف نہیں، بس ذرا سا اِختلاف ہے کہ مسلمانوں کے نزدیک مہدی ابھی آنے والا ہے، اور قادیانیوں کے نزدیک جس کو آنا تھا، وہ آگیا، اس نکتے کے سوا ان کے اور مسلمانوں کے درمیان کوئی اختلاف نہیں۔‘‘ قادیانیوں کے اس دجل و تلبیس سے نہ صرف عام مسلمانوں کو قادیانیوں

312

کی اصل حقیقت کا سمجھنا مشکل ہوجاتا ہے، بلکہ وہ اہلِ علم، جنہوں نے قادیانی لٹریچر کا گہرا مطالعہ نہیں کیا، وہ اِشکال اور تذبذب کا شکار ہوجاتے ہیں۔ لیکن جن حضرات نے قادیانی لٹریچر کا بغور مطالعہ کیا ہو، اور انہیں قادیانیوں سے گفتگو اور بحث و مناظرے کا موقع ملا ہو، ان کے سامنے یہ حقیقت آفتاب نصف النہار کی طرح روشن ہوجاتی ہے کہ:

✡: ... قادیانیت، اِسلام کے متوازی ایک مستقل دِین و مذہب ہے۔

✡: ... قادیانی نبوّت، محمدِ عربی صلی اللہ علیہ وسلم کے مقابلے میں ایک نئی متوازی نبوّت ہے۔

✡: ... قادیانیوں کے نزدیک محمدِ عربی صلی اللہ علیہ وسلم کا کلمہ اور شریعت منسوخ ہیں، اور نبوّتِ محمدیہ کو ماننے اور محمدِ عربی صلی اللہ علیہ وسلم کا کلمہ پڑھنے والے سب کافر ہیں۔

اس لئے اسلام اور قادیانیت کا اختلاف چند مسائل یا نکات کا اِختلاف نہیں، بلکہ قادیانیت نے نبوّتِ محمدیہ کے بالمقابل ایک نئی نبوّت، شریعتِ محمدی کے مقابلے میں ایک نئی شریعت، اور اِسلام کے مقابلے میں ایک نیا دِین تصنیف کیا ہے۔

کیا دُنیا کا کوئی عاقل یہ کہہ سکتا ہے کہ مسیلمہ کذّاب اور اس کی جماعت کا مسلمانوں کے ساتھ معمولی سا اِختلاف تھا...؟

کیا کوئی عالمِ دِین یہ فتویٰ دے سکتا ہے کہ مسیلمہ کذّاب اور اس کی جماعت کا ذبیحہ مسلمانوں کے لئے حلال اور ان سے رشتہ ناتا جائز تھا...؟

جو حکم مسیلمہ کذّاب کا تھا، ٹھیک وہی حکم مسیلمہ پنجاب غلام احمد قادیانی کا ہے۔ اور جو حکم مسیلمہ کذّاب کے ماننے والوں کا تھا، وہی مسیلمہ پنجاب کے ماننے والوں کا ہے۔ ان کے ساتھ رشتہ ناتا کے جائز ہونے اور ذبیحے کے حلال ہونے کا سوال ہی خارج اَزبحث ہے۔

وَآخِرُ دَعْوَانَا اَنِ الْحَمْدُ للہِ رَبِّ الْعَالَمِیْنَ

313

قادیانی جنازہ

مکرم و محترم جناب .........۔ صاحب .........۔۔ زیدت الطافہم

موضع داتہ ضلع مانسہرہ جو کہ ربوہ ثانی ہے، میں ایک مرزائی مسمّیٰ ڈاکٹر محمد سعید کے مرنے پر مسلمانانِ ’’داتہ‘‘ نے ایک مسلمان اِمام کے زیرِ اِمامت اس قادیانی کی نمازِ جنازہ ادا کی، اور اس کے بعد قادیانیوں نے دوبارہ مسمّیٰ مذکور کی نمازِ جنازہ پڑھی۔ شرعاً اِمامِ مذکور اور مسلمانوں کے متعلق کیا حکم ہے؟

مسلمان لڑکیاں قادیانیوں کے گھروں میں بیوی کے طور پر رہ رہی ہیں، اور مسلمان والدین کے ان قادیانیوں کے ساتھ داماد اور سسرال جیسے تعلقات ہیں، کیا شریعتِ محمدی علیٰ صاحبہا الصلوٰۃ والسلام کی رُو سے ان کے ہاں پیدا ہونے والی اولاد حلال ہوگی یا ولدالحرام کہلائے گی؟

عام مسلمانوں کے قادیانیوں کے ساتھ کافروں جیسے تعلقات نہیں، بلکہ مسلمانوں جیسے تعلقات ہیں، ان کے ساتھ اُٹھتے بیٹھتے، کھاتے پیتے، اور ان کی شادیوں اور ماتم میں شرکت کرتے ہیں، اور جب ایک دُوسرے سے ملتے ہیں تو ’’السلام علیکم‘‘ کہہ کر ملتے ہیں، شادی ماتم میں کھانے دیتے ہیں، فاتحہ میں شرکت کرتے ہیں، کیا شریعتِ محمدیہ کی رُو سے وہ قابلِ مؤاخذہ ہیں یا کہ نہیں؟ اور شرع کی رُو سے وہ مسلمان بھی ہیں یا کہ نہیں؟

منجانب: مجلس تحفظ ختمِ نبوّت، ضلع مانسہرہ

314

الجواب

بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ

اَلْحَمْدُ للہِ وَسَلَامٌ عَلٰی عِبَادِہِ الَّذِیْنَ اصْطَفٰی

جواب سے پہلے چند اُمور بطورِ تمہید ذِکر کرتا ہوں:

اوّل: ... جو شخص کفر کا عقیدہ رکھتے ہوئے اپنے آپ کو اِسلام کی طرف منسوب کرتا ہو، اور نصوصِ شرعیہ کی غلط سلط تأویلیں کرکے اپنے عقائدِ کفریہ کو اِسلام کے نام سے پیش کرتا ہو، اسے ’’زِندیق‘‘ کہا جاتا ہے، علامہ شامیؒ باب المرتد میں لکھتے ہیں:

’’فإن الزندیق یموہ کفرہ ویروج عقیدتہ الفاسدۃ ویخرجھا فی الصورۃ الصحیحۃ ھٰذا معنی إبطان الکفر۔‘‘

(الشامی ج:۴ ص:۲۴۲ الطبع الجدید)

ترجمہ: ... ’’کیونکہ زِندیق اپنے کفر پر ملمع کیا کرتا ہے اور اپنے عقیدۂ فاسدہ کو رِواج دینا چاہتا ہے اور اسے بظاہر صحیح صورت میں لوگوں کے سامنے پیش کرتا ہے اور یہی معنی ہیں کفر کو چھپانے کے۔‘‘

اور اِمام الہند شاہ ولی اللہ محدث دہلوی رحمۃ اللہ علیہ مسویٰ شرح عربی مؤطا میں لکھتے ہیں:

’’بیان ذٰلک أن المخالف للدِّین الحق إن لم یعترف بہ ولم یذمن لہ لَا ظاھرًا ولَا باطنًا فھو کافر وإن اعترف بلسانہ وقلبہ علی الکفر فھو المنافق، وإن اعترف بہ ظاھرًا، لٰـکنہ یفسر بعض ما ثبت من الدِّین ضرورۃ بخلاف ما فسرہ الصحابۃ رضی اللہ عنھم والتابعون واجتمعت علیہ الاُمّۃ فھو الزِّندیق۔‘‘
315

ترجمہ: ... ’’شرح اس کی یہ ہے کہ جو شخص دِینِ حق کا مخالف ہے، اگر وہ دِینِ اسلام کا اِقرار ہی نہ کرتا ہو اور نہ دِینِ اسلام کو مانتا ہو، نہ ظاہری طور پر اور نہ باطنی طور پر، تو وہ ’’کافر‘‘ کہلاتا ہے، اور اگر زبان سے دِین کا اِقرار کرتا ہو لیکن دِین کے بعض قطعیات کی ایسی تأویل کرتا ہو جو صحابہؓ و تابعینؒ اور اِجماعِ اُمت کے خلاف ہو، تو ایسا شخص ’’زِندیق‘‘ کہلاتا ہے۔‘‘

آگے تأویلِ صحیح اور تأویلِ باطل کا فرق کرتے ہوئے شاہ صاحب رحمہ اللہ لکھتے ہیں:

’’ثم التأویل، تأویلان، تأویل لَا یخالف قاطعًا من الکتاب والسّنَّۃ واتفاق الاُمّۃ، وتأویل یصادم ما ثبت بقاطع فذٰلک الزندقۃ۔‘‘

’’پھر تأویل کی دو قسمیں ہیں، ایک وہ تأویل جو کتاب وسنت اور اِجماعِ اُمت سے ثابت شدہ کسی قطعی مسئلے کے خلاف نہ ہو، اور دُوسری وہ تأویل جو ایسے مسئلے کے خلاف ہو جو دلیلِ قطعی سے ثابت ہے پس ایسی تأویل ’’زَندقہ‘‘ ہے۔‘‘

آگے زِندیقانہ تأویلوں کی مثالیں بیان کرتے ہوئے شاہ صاحب رحمۃ اللہ علیہ لکھتے ہیں:

’’أو قال إن النبی صلی اللہ علیہ وسلم خاتم النبوّۃ ولٰـکن معنی ھٰذا الکلام أنہ لَا یجوز أن یسمّٰی بعدہ أحد بالنبی وأما معنی النبوۃ وھو کون الْإنسان مبعوثًا من اللہ تعالٰی إلی الخلق مفترض الطاعۃ معصومًا من الذنوب ومن البقاء علی الخطأ فیما یری فھو موجود فی الأمّۃ بعدہ فھو الزِّندیق۔‘‘

(مسوی ج:۲ ص:۱۳۰ مطبوعہ رحیمیہ دہلی)

316

ترجمہ: ... ’’یا کوئی شخص یوں کہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم بلاشبہ خاتم النبیین ہیں، لیکن اس کا مطلب یہ ہے کہ آپ کے بعد کسی کا نام نبی نہیں رکھا جائے گا۔ لیکن نبوّت کا مفہوم یعنی کسی انسان کا اللہ تعالیٰ کی جانب سے مخلوق کی طرف مبعوث ہونا، اس کی اطاعت کا فرض ہونا، اور اس کا گناہوں سے اور خطا پر قائم رہنے سے معصوم ہونا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد بھی اُمت میں موجود ہے، تو یہ شخص ’’زِندیق‘‘ ہے۔‘‘

خلاصہ یہ کہ جو شخص اپنے کفریہ عقائد کو اِسلام کے رنگ میں پیش کرتا ہو، اِسلام کے قطعی و متواتر عقائد کے خلاف قرآن و سنت کی تأویلیں کرتا ہو، ایسا شخص ’’زِندیق‘‘ کہلاتا ہے۔

دوم: ... یہ کہ زِندیق، مرتد کے حکم میں ہے، بلکہ ایک اعتبار سے زِندیق، مرتد سے بھی بدتر ہے، کیونکہ اگر مرتد توبہ کرکے دوبارہ اسلام میں داخل ہو تو اس کی توبہ بالاتفاق لائقِ قبول ہے، لیکن زِندیق کی توبہ کے قبول ہونے یا نہ ہونے میں اختلاف ہے، چنانچہ درمختار میں ہے:

’’وکذا الکافر بسبب (الزندقۃ) لَا توبۃ لہ وجعلہ فی الفتح ظاھر المذھب لٰـکن فی حظر الخانیۃ الفتویٰ علیٰ أنہ (إذا أخذ) الساحر أو الزندیق المعروف الداعی (قبل توبتہ) ثم تاب لم تقبل توبتہ ویقتل، ولو أخذ بعدھا قبلت۔‘‘

(الشامی ج:۴ ص:۲۴۱ طبع جدید)

ترجمہ: ... ’’اور اسی طرح جو شخص زَندقہ کی وجہ سے کافر ہوگیا، اس کی توبہ قابلِ قبول نہیں، اور فتح القدیر میں اس کو ظاہر مذہب بتایا ہے، لیکن فتاویٰ قاضی خان میں کتاب الحظر میں ہے کہ فتویٰ اس پر ہے جب جادوگر اور زِندیق جو معروف اور داعی ہو، توبہ سے پہلے

317

گرفتار ہوجائیں، اور پھر گرفتار ہونے کے بعد توبہ کریں تو ان کی توبہ قبول نہیں، بلکہ ان کو قتل کیا جائے گا، اور اگر گرفتاری سے پہلے توبہ کرلی تھی تو توبہ قبول کی جائے گی۔‘‘

البحر الرائق میں ہے:

’’لَا تقبل توبۃ الزندیق فی ظاھر المذھب وھو من لَا یتدین بدین۔‘‘

(البحر الرائق ج:۵ ص:۱۲۶، دارالمعرفہ، بیروت)

’’وفی الخانیۃ: قالوا إن جاء الزندیق قبل أن یؤخذ فأقر أنہ زندیق فتاب من ذٰلک تقبل توبتہ، وإن أخذ ثم تاب لم تقبل توبتہ ویقتل۔‘‘

(البحرالرائق ج:۵ ص:۱۲۶)

ترجمہ: ... ’’ظاہر مذہب میں زِندیق کی توبہ قابلِ قبول نہیں، اور زِندیق وہ شخص ہے جو دِین کا قائل نہ ہو ......۔ اور فتاویٰ قاضی خان میں ہے کہ: اگر زِندیق گرفتار ہونے سے پہلے خود آکر اِقرار کرے کہ وہ زِندیق ہے، پس اس سے توبہ کرے، تو اس کی توبہ قبول ہے، اور اگر گرفتار ہوا، پھر توبہ کی تو اس کی توبہ قبول نہیں کی جائے گی، بلکہ اسے قتل کیا جائے گا۔‘‘

سوم: ... قادیانیوں کا زِندیق ہونا بالکل واضح ہے، کیونکہ ان کے عقائد اِسلامی عقائد کے قطعاً خلاف ہیں، اور وہ قرآن و سنت کے نصوص میں غلط سلط تأویلیں کرکے جاہلوں کو یہ باور کراتے ہیں کہ خود تو وہ پکے سچے مسلمان ہیں، ان کے سوا باقی پوری اُمت گمراہ اور کافر و بے اِیمان ہے، جیسا کہ قادیانیوں کے دُوسرے سربراہ آنجہانی مرزا محمود قادیانی لکھتے ہیں کہ:

’’ ُکل مسلمان جو حضرت مسیحِ موعود (مرزا قادیانی) کی

318

’’ ُکل مسلمان جو حضرت مسیحِ موعود (مرزا قادیانی) کی بیعت میں شامل نہیں ہوئے، خواہ انہوں نے حضرت مسیحِ موعود کا نام بھی نہیں سنا، وہ کافر اور دائرۂ اسلام سے خارج ہیں۔‘‘

(آئینۂ صداقت ص:۳۵)

مرزائیوں کے چند ملحدانہ عقائد:

۱: ... اسلام کا قطعی عقیدہ ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم خاتم النبیین ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد کوئی شخص منصبِ نبوّت پر فائز نہیں ہوسکتا، اس کے برعکس، قادیانی نہ صرف اسلام کے اس قطعی عقیدے کے منکر ہیں، بلکہ ...نعوذباللہ... وہ مرزا غلام احمد قادیانی کی نبوّت کے بغیر اِسلام کو مردہ تصوّر کرتے ہیں، چنانچہ مرزا غلام احمد کا کہنا ہے کہ:

’’ہمارا مذہب تو یہ ہے کہ جس دِین میں نبوّت کا سلسلہ نہ ہو، وہ مردہ ہے، یہودیوں، عیسائیوں، ہندوؤں کے دِین کو جو ہم مردہ کہتے ہیں تو اسی لئے کہ ان میں اب کوئی نبی نہیں ہوتا، اگر اِسلام کا بھی یہی حال ہوتا تو پھر ہم بھی قصہ گو ٹھہرے۔ کس لئے اس کو دُوسرے دِینوں سے بڑھ کر کہتے ہیں، آخر کوئی امتیاز بھی ہونا چاہئے ...... ہم پر کئی سالوں سے وحی نازل ہو رہی ہے اور اللہ تعالیٰ کے کئی نشان اس کے صدق کی گواہی دے چکے ہیں، اس لئے ہم نبی ہیں، امرِ حق کے پہنچانے میں کسی قسم کا اِخفا نہ رکھنا چاہئے۔‘‘

(ملفوظات مرزا ج:۱۰ ص:۱۲۷ طبع ربوہ)

۲: ... اسلام کا قطعی عقیدہ ہے کہ وحیٔ نبوّت کا دروازہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد بند ہوچکا ہے، اور جو شخص آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد وحیٔ نبوّت کا دعویٰ کرے وہ دائرۂ اسلام سے خارج ہے۔ لیکن قادیانی مرزا غلام احمد کی خودتراشیدہ وحی پر اِیمان رکھتے ہیں، اور اسے قرآن کی طرح مانتے ہیں۔ قرآنِ کریم کے ناموں میں سے ایک نام ’’تذکرہ‘‘ ہے، قادیانیوں نے مرزا غلام احمد کی ’’وحی‘‘ کو ایک کتاب کی شکل میں مرتب کیا

319

ہے اور اس کا نام ’’تذکرہ‘‘ رکھا ہے، یہ گویا قادیانی قرآن ہے ...نعوذباللہ... اور یہ قادیانی وحی کوئی معمولی قسم کا اِلہام نہیں، جو اولیاء اللہ کو ہوتا ہے، بلکہ ان کے نزدیک یہ وحی قرآنِ کریم کے ہم سنگ ہے، ملاحظہ فرمائیے:

۱- ’’اور میں جیسا کہ قرآن شریف کی آیات پر اِیمان رکھتا ہوں ایسا ہی بغیر فرق ایک ذرّہ کے خدا کی اس کھلی وحی پر اِیمان لاتا ہوں جو مجھے ہوئی۔‘‘

(ایک غلطی کا ازالہ ص:۶ طبع شدہ ربوہ)

۲- ’’مجھے اپنی وحی پر ایسا ہی اِیمان ہے جیسا توریت اور اِنجیل اور قرآنِ کریم پر۔‘‘

(اربعین ص:۱۱۲ طبع ربوہ)

۳- ’’میں خدا تعالیٰ کی قسم کھاکر کہتا ہوں کہ میں ان اِلہامات پر اسی طرح ایمان لاتا ہوں جیسا کہ قرآن شریف پر اور خدا کی دُوسری کتابوں پر، اور جس طرح میں قرآن شریف کو یقینی اور قطعی طور پر خدا کا کلام جانتا ہوں، اسی طرح اس کلام کو بھی جو میرے اُوپر نازل ہوتا ہے، خدا کا کلام یقین کرتا ہوں۔‘‘

(حقیقۃ الوحی ص:۲۲۰ طبع شدہ ربوہ)

۳: ... اسلام کا عقیدہ ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد معجزہ دِکھانے کا دعویٰ کفر ہے، کیونکہ معجزہ دِکھانا نبی کی خصوصیت ہے، پس جو شخص معجزہ دِکھانے کا دعویٰ کرے، وہ مدعیٔ نبوّت ہونے کی وجہ سے کافر ہے، شرح فقہ اکبر میں علامہ مُلَّا علی قاری رحمۃاللہ علیہ لکھتے ہیں:

’’التحدی فرع دعوی النبوّۃ ودعوی النبوّۃ بعد نبینا صلی اللہ علیہ وسلم کفر بالْإجماع۔‘‘

(شرح فقہ اکبر ص:۲۰۲)

ترجمہ: ... ’’معجزہ دِکھانے کا دعویٰ فرع ہے دعویٔ نبوّت کی، اور نبوّت کا دعویٰ ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد

320

بالاجماع کفر ہے۔‘‘

اس کے برعکس قادیانی، مرزا غلام احمد کی وحی کے ساتھ اس کے معجزات پر بھی اِیمان رکھتے ہیں، اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے معجزات کو ...نعوذباللہ... قصے اور کہانیاں قرار دیتے ہیں۔ وہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو اسی صورت میں نبی ماننے کے لئے تیار ہیں، جبکہ مرزا غلام احمد قادیانی کو بھی نبی مانا جائے، ورنہ ان کے نزدیک نہ تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نبی ہیں اور نہ دِین اسلام، مرزا غلام احمد لکھتے ہیں:

’’وہ دِین دِین نہیں اور نہ وہ نبی نبی ہے جس کی متابعت سے انسان خدا تعالیٰ سے اس قدر نزدیک نہیں ہوسکتا کہ مکالماتِ اِلٰہیہ سے مشرف ہوسکے۔ وہ دِین لعنتی اور قابلِ نفرت ہے جو یہ سکھلاتا ہے کہ صرف چند منقولی باتوں پر (یعنی اسلامی شریعت جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول ہے ...ناقل) انسانی ترقیات کا اِنحصار ہے اور وحیٔ اِلٰہی آگے نہیں بلکہ پیچھے رہ گئی ہے ...... سو ایسا دِین بہ نسبت اس کے کہ اس کو رَحمانی کہیں شیطانی کہلانے کا زیادہ مستحق ہے۔‘‘

(ضمیمہ براہین احمدیہ حصہ پنجم ص: ۱۳۹)

’’یہ کس قدر لغو اور باطل عقیدہ ہے کہ ایسا خیال کیا جائے کہ بعد آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے وحیٔ اِلٰہی کا دروازہ ہمیشہ کے لئے بند ہوگیا اور آئندہ کو قیامت تک اس کی کوئی بھی اُمید نہیں، صرف قصوں کی پوجا کرو۔ پس کیا ایسا مذہب کچھ مذہب ہوسکتا ہے جس میں براہِ راست خدا تعالیٰ کا کچھ بھی پتا نہیں لگتا ...... میں خدا تعالیٰ کی قسم کھاکر کہتا ہوں کہ اس زمانے میں مجھ سے زیادہ بیزار ایسے مذہب سے اور کوئی نہ ہوگا۔ میں ایسے مذہب کا نام شیطانی مذہب رکھتا ہوں نہ کہ رحمانی۔‘‘

(ضمیمہ براہین احمدیہ حصہ پنجم ص:۱۸۳)

’’اگر سچ پوچھو تو ہمیں قرآنِ کریم پر، رسولِ کریم صلعم پر

321

بھی اسی (مرزا) کے ذریعے ایمان حاصل ہوا۔ ہم قرآنِ کریم کو خدا کا کلام اس لئے یقین کرتے ہیں کہ اس کے ذریعے آپ (مرزا) کی نبوّت ثابت ہوتی ہے۔ ہم محمد صلعم کی نبوّت پر اس لئے ایمان لاتے ہیں کہ اس سے آپ (مرزا) کی نبوّت کا ثبوت ملتا ہے۔ نادان ہم پر اِعتراض کرتا ہے کہ ہم حضرت مسیحِ موعود (مرزا) کو نبی مانتے ہیں اور کیوں اس کے کلام کو خدا کا کلام یقین کرتے ہیں۔ وہ نہیں جانتا کہ قرآنِ کریم پر یقین ہمیں اس کے کلام کی وجہ سے ہوا، اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوّت پر یقین اس (مرزا) کی نبوّت سے ہوا ہے۔‘‘

(مرزا محمود کی تقریر ’’الفضل‘‘ قادیان جلد۱۳ نمبر۳ مؤرخہ ۱۱؍جولائی ۱۹۲۵ء، بحوالہ قادیانی مذہب ص:۳۵۶ طبع پنجم)

مرزا غلام احمد قادیانی کی مندرجہ بالا دونوں عبارتوں سے واضح ہے کہ مرزا قادیانی پر وحیٔ اِلٰہی کا نزول تسلیم نہ کیا جائے اور مرزا غلام احمد کو نبی نہ مانا جائے تو حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوّت بھی ان کے نزدیک ...نعوذباللہ... باطل ہے اور دِینِ اسلام محض قصوں کہانیوں کا مجموعہ ہے۔ مرزا قادیانی ایسے اسلام کو لعنتی، شیطانی اور قابلِ نفرت قرار دے کر اس سے بیزاری کا اظہار کرتے ہیں، بلکہ سب دہریوں سے بڑھ کر اپنے دہریے ہونے کا اعلان کرتے ہیں۔ مسلمانوں کو نظرِ عبرت سے دیکھنا چاہئے، کیا اس سے بڑھ کر کوئی کفر و اِلحاد اور زَندقہ اور بددِینی ہوسکتی ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اور دِینِ اسلام کو اس طرح پیٹ بھرکر گالیاں نکالی جائیں۔

۴: ... مسلمانوں کا عقیدہ ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ’’محمد رسول اللہ‘‘ ہیں، لیکن مرزا غلام احمد قادیانی نے اشتہار ’’ایک غلطی کا اِزالہ‘‘ میں اپنے اِلہام کی بنیاد پر دعویٰ یا کہ وہ خود ’’محمد رسول اللہ‘‘ ہے ...نعوذباللہ... چونکہ قادیانی، مرزا غلام احمد کی ’’وحی‘‘ پر قطعی اِیمان رکھتے ہیں، اس لئے وہ مرزا آنجہانی کو ’’محمد رسول اللہ‘‘ مانتے ہیں اور جو شخص مرزا کو ’’محمد رسول اللہ‘‘ نہ مانے اس کو کافر سمجھتے ہیں۔

322

۵: ... قرآنِ کریم اور اَحادیثِ متواترہ کی بنا پر مسلمانوں کا عقیدہ ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو زِندہ آسمانوں پر اُٹھالیا گیا، اور وہ قربِ قیامت میں نازل ہوکر دجال کو قتل کریں گے، لیکن مرزائیوں کا عقیدہ ہے کہ مرزا غلام احمد قادیانی عیسیٰ ہے اور قرآن و حدیث میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے نازل ہونے کی جو خبر دی گئی ہے، اس سے مراد، مرزا غلام احمد قادیانی ہے۔

قادیانیوں کے اس طرح کے بے شمار زِندیقانہ عقائد ہیں جن پر علمائے اُمت نے بہت سی کتابیں تألیف فرمائی ہیں، اس لئے مرزائیوں کا کافر و مرتد اور ملحد و زِندیق ہونا روزِ روشن کی طرح واضح ہے۔

چہارم: ... نمازِ جنازہ صرف مسلمانوں کی پڑھی جاتی ہے کسی غیرمسلم کا جنازہ جائز نہیں، قرآنِ کریم میں ہے:

’’وَلَا تُصَلِّ عَلٰٓی اَحَدٍ مِّنْھُمْ مَّاتَ اَبَدًا وَّلَا تَقُمْ عَلٰی قَبْرِہٖ، اِنَّھُمْ کَفَرُوْا بِاللہِ وَرَسُوْلِہٖ وَمَاتُوْا وَھُمْ فٰسِقُوْنَ۔‘‘

(التوبۃ:۸۴)

ترجمہ: ... ’’اور ان میں کوئی مرجائے تو اس (کے جنازے) پر کبھی نماز نہ پڑھ، اور نہ (دفن کے لئے) اس کی قبر پر کھڑے ہوجیئے، کیونکہ انہوں نے اللہ اور اس کے رسول کے ساتھ کفر کیا ہے، اور وہ حالتِ کفر ہی میں مرے ہیں۔‘‘

اور تمام فقہائے اُمت اس پر متفق ہیں کہ جنازے کے جائز ہونے کے لئے شرط ہے کہ میّت مسلمان ہو، غیرمسلم کا جنازہ بالاجماع جائز نہیں، نہ اس کے لئے دُعائے مغفرت کی اجازت ہے، اور نہ اس کو مسلمانوں کے قبرستانوں میں دفن کرنا ہی جائز ہے۔ ان تمہیدات کے بعد اب بالترتیب سوالوں کا جواب لکھا جاتا ہے۔

جواب سوالِ اوّل:

جن مسلمانوں نے مرزائی مرتد کا جنازہ پڑھا ہے، اگر وہ اس کے عقائد سے

323

ناواقف تھے تو انہوں نے بُرا کیا، اس پر ان کو اِستغفار کرنا چاہئے، کیونکہ مرزائی مرتد کا جنازہ پڑھ کر انہوں نے ایک ناجائز فعل کا اِرتکاب کیا ہے۔

اور اگر ان لوگوں کو معلوم تھا کہ یہ شخص مرزا غلام احمد قادیانی کو نبی مانتا ہے، اس کی ’’وحی‘‘ پر اِیمان رکھتا ہے، اور عیسیٰ علیہ السلام کے نازل ہونے کا منکر ہے، اس علم کے باوجود انہوں نے اس کو مسلمان سمجھا اور مسلمان سمجھ کر ہی اس کا جنازہ پڑھا، تو ان تمام لوگوں کو جو جنازے میں شریک تھے، اپنے ایمان اور نکاح کی تجدید کرنی چاہئے، کیونکہ ایک مرتد کے عقائد کو اِسلام سمجھنا کفر ہے، اس لئے ان کا ایمان بھی جاتا رہا اور نکاح بھی باطل ہوگیا، ان میں سے کسی نے اگر حج کیا ہو تو اس پر دوبارہ حج کرنا بھی لازم ہے۔

یہاں یہ ذکر کردینا بھی ضروری ہے کہ قادیانیوں کے نزدیک کسی مسلمان کا جنازہ جائز نہیں، یہاں تک کہ مسلمانوں کے معصوم بچے کا جنازہ بھی قادیانیوں کے نزدیک جائز نہیں، چنانچہ قادیانیوں کے خلیفہ دوم مرزا محمود اپنی کتاب ’’انوارِ خلافت‘‘ میں لکھتے ہیں:

’’ایک اور سوال رہ جاتا ہے کہ غیراحمدی (یعنی مسلمان) تو حضرت مسیحِ موعود (غلام احمد قادیانی) کے منکر ہوئے، اس لئے ان کا جنازہ نہیں پڑھنا چاہئے، لیکن اگر کسی غیراحمدی کا چھوٹا بچہ مرجائے تو اس کا جنازہ کیوں نہ پڑھا جائے، وہ تو مسیحِ موعود کا مکفر نہیں؟

میں یہ سوال کرنے والے سے پوچھتا ہوں کہ اگر یہ بات دُرست ہے تو پھر ہندوؤں اور عیسائیوں کے بچوں کا جنازہ کیوں نہیں پڑھا جاتا؟ کتنے لوگ ہیں جو ان کا جنازہ پڑھتے ہیں؟ اصل بات یہ ہے کہ جو ماں باپ کا مذہب ہوتا ہے شریعت وہی مذہب بچے کا قرار دیتی ہے، پس غیراحمدی کا بچہ غیراحمدی ہوا، اس لئے اس کا جنازہ نہیں پڑھنا چاہئے، پھر میں کہتا ہوں کہ بچہ گنہگار نہیں ہوتا، اس کو جنازے کی ضرورت ہی کیا ہے؟ بچے کا جنازہ تو دُعا ہوتی ہے اس کے پسماندگان کے لئے، اور اس کے پسماندگان ہمارے نہیں، بلکہ

324

غیراحمدی ہوتے ہیں، اس لئے بچے کا جنازہ بھی نہیں پڑھنا چاہئے۔‘‘

(انوارِ خلافت ص:۹۳)

اخبار ’’الفضل‘‘ مؤرخہ ۲۳؍اکتوبر ۱۹۲۲ء میں مرزا محمود کا ایک فتویٰ شائع ہوا کہ:

’’جس طرح عیسائی بچے کا جنازہ نہیں پڑھا جاسکتا ہے، اگرچہ وہ معصوم ہوتا ہے، اسی طرح ایک غیراحمدی کے بچے کا بھی جنازہ نہیں پڑھا جاسکتا۔‘‘

چنانچہ اپنے مذہب کی پیروی کرتے ہوئے چوہدری ظفراللہ خان نے قائدِ اعظم کا جنازہ نہیں پڑھا اور منیر انکوائری عدالت میں جب اس کی وجہ دریافت کی گئی تو کہا:

’’نمازِ جنازہ کے اِمام مولانا شبیر احمد عثمانی، احمدیوں کو کافر، مرتد اور واجب القتل قرار دے چکے تھے، اس لئے میں اس نماز میں شریک ہونے کا فیصلہ نہ کرسکا، جس کی اِمامت مولانا کر رہے تھے۔‘‘

(رپورٹ تحقیقاتی عدالت پنجاب ص:۲۱۲)

لیکن عدالت سے باہر جب ان سے یہ بات پوچھی گئی کہ آپ نے قائدِ اعظم کا جنازہ کیوں نہیں پڑھا؟ تو جواب دیا:

’’آپ مجھے کافر حکومت کا، مسلمان وزیر سمجھ لیں، یا مسلمان حکومت کا کافر نوکر۔‘‘

(’’زمیندار‘‘ لاہور ۸؍فروری ۱۹۵۰ء)

اور جب اخبارات میں چوہدری ظفراللہ خان کی اس ہٹ دھرمی کا چرچا ہوا، تو اس کا جواب یہ دیا گیا:

’’جناب چوہدری محمد ظفراللہ خان پر ایک اِعتراض یہ کیا جاتا ہے کہ آپ نے قائدِ اعظم کا جنازہ نہیں پڑھا، تمام دُنیا جانتی ہے کہ قائدِ اعظم احمدی نہ تھے، لہٰذا جماعتِ احمدیہ کے کسی فرد کا ان کا جنازہ نہ پڑھنا کوئی قابلِ اِعتراض بات نہیں۔‘‘

(ٹریکٹ۲۲ ’’احراری علماء کی راست گوئی کا نمونہ‘‘ ناشر مہتمم نشر و اشاعت انجمن احمدیہ، ربوہ ضلع جھنگ)

325

قادیانیوں کے اخبار ’’الفضل‘‘ نے اس کا جواب دیتے ہوئے لکھا ہے:

’’کیا یہ حقیقت نہیں کہ ابوطالب بھی قائدِ اعظم کی طرح مسلمانوں کے بہت بڑے محسن تھے، مگر نہ مسلمانوں نے آپ کا جنازہ پڑھا اور نہ رسولِ خدا نے۔‘‘

(’’الفضل‘‘ ربوہ ۲۸؍اکتوبر ۱۹۵۲ء)

کس قدر لائقِ شرم بات ہے کہ قادیانی تو مسلمانوں کو ہندوؤں، سکھوں اور عیسائیوں کی طرح کافر سمجھتے ہوئے، نہ ان کے بڑے سے بڑے آدمی کا جنازہ پڑھیں اور نہ ان کے معصوم بچوں کا ـــــــــکیا ایک مسلمان کے لئے یہ جائز ہے کہ وہ قادیانی مرتد کا جنازہ پڑھے؟ کیا اس کی غیرت اس کو برداشت کرسکتی ہے...؟

جواب سوالِ دوم:

جب یہ معلوم ہوا کہ قادیانی، کافر و مرتد ہیں، تو اسی سے یہ بھی واضح ہوجاتا ہے کہ کسی مسلمان لڑکی کا نکاح مرزائی مرتد سے نہیں ہوسکتا، بلکہ شرعِ اسلام کی رُو سے یہ خالص زِنا ہے، اگر کسی مسلمان نے لاعلمی اور بے خبری کی وجہ سے کسی مرزائی کو لڑکی بیاہ دی ہے تو اس کا فرض ہے کہ علم ہوجانے کے بعد اپنے گناہ سے توبہ کرے اور لڑکی کو قادیانیوں کے چنگل سے واگزار کرائے۔

واضح رہے کہ مرزائیوں کے نزدیک مسلمانوں کی وہی حیثیت ہے جو ہمارے نزدیک یہودیوں اور عیسائیوں کی ہے، مرزائیوں کے نزدیک مسلمانوں سے لڑکیاں لینا تو جائز ہے، لیکن مسلمانوں کو دینا جائز نہیں، چنانچہ مرزا محمود کا فتویٰ ہے:

’’جو شخص اپنی لڑکی کا رشتہ غیراحمدی لڑکے کو دیتا ہے، میرے نزدیک وہ احمدی نہیں، کوئی شخص کسی کو غیرمسلم سمجھتے ہوئے اپنی لڑکی اس کے نکاح میں نہیں دے سکتا۔

سوال: ... جو نکاح خواں ایسا نکاح پڑھائے اس کے متعلق کیا حکم ہے؟

326

جواب: ... ایسے نکاح خواں کے متعلق ہم وہی فتویٰ دیں گے جو اس شخص کی نسبت دیا جاسکتا ہے جس نے ایک مسلمان لڑکی کا نکاح ایک عیسائی یا ہندو لڑکے سے پڑھ دیا ہو۔

سوال: ... کیا ایسا شخص جس نے غیراحمدیوں سے اپنی لڑکی کا رشتہ کیا ہے، وہ دُوسرے احمدیوں کو شادی میں مدعو کرسکتا ہے؟

جواب: ... ایسی شادی میں شریک ہونا بھی جائز نہیں۔‘‘

(اخبار ’’الفضل‘‘ قادیان ۲۳؍مئی ۱۹۲۱ء)

پس جس طرح مرزا محمود کے نزدیک وہ شخص مرزائی جماعت سے خارج ہے جو کسی مسلمان لڑکے کو اپنی لڑکی بیاہ دے، اسی طرح وہ مسلمان بھی دائرۂ اسلام سے خارج ہے جو قادیانیوں کے عقائد سے واقف ہونے کے بعد کسی مرتد مرزائی کو اپنی لڑکی دینا جائز سمجھے۔ اور جس طرح مرزا محمود کے نزدیک کسی مرزائی لڑکی کا نکاح کسی مسلمان لڑکے سے پڑھانا ایسا ہے جس طرح کہ کسی ہندو یا عیسائی سے، اسی طرح ہم کہتے ہیں کہ کسی مرزائی مرتد کو داماد بنانا ایسا ہے جیسے کسی ہندو، سکھ، چوہڑے کو داماد بنالیا جائے۔

جواب سوالِ سوم:

کسی مسلمان کے لئے مرزائی مرتدین کے ساتھ مسلمانوں کا سا سلوک کرنا حرام ہے، ان کے ساتھ اُٹھنا بیٹھنا، کھانا پینا، ان کی شادی غمی میں شرکت کرنا، یا ان کو اپنی شادی غمی میں شریک کرنا حرام اور قطعی حرام ہے۔ جو لوگ اس معاملے میں رواداری سے کام لیتے ہیں وہ خدا اور رسول کے غضب کو دعوت دیتے ہیں، ان کو اس سے توبہ کرنی چاہئے، اور مرزائیوں سے اس قسم کے تمام تعلقات ختم کردینے چاہئیں۔ قادیانی، خدا اور رسول کے دُشمن ہیں، اور خدا و رسول کے دُشمنوں سے دوستانہ تعلق رکھنا کسی مؤمن کا کام نہیں ہوسکتا، قرآن مجید میں ہے:

’’لَا تَجِدُ قَوْمًا یُّؤْمِنُوْنَ بِاللہِ وَالْیَوْمِ الْاٰخِرِ

327

یَوَآدُّوْنَ مَنْ حَآدَّ اللہَ وَرَسُوْلَہٗ وَلَوْ کَانُوْا اٰبـَـآئَھُمْ اَوْ اَبْنَـآئَھُمْ اَوْ اِخْوَانَھُمْ اَوْ عَشِیْرَتَھُمْ اُولٰٓئِکَ کَتَبَ فِیْ قُلُوْبِھِمُ الْاِیْمَانَ وَاَیَّدَھُمْ بِرُوْحٍ مِّنْہُ وَیُدْخِلُھُمْ جَنّٰتٍ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِھَا الْاَنْھٰرُ خٰلِدِیْنَ فِیْھَا رَضِیَ اللہُ عَنْھُمْ وَرَضُوْا عَنْہُ، اُولٰٓئِکَ حِزْبُ اللہِ اَلَآ اِنَّ حِزْبَ اللہِ ھُمُ الْمُفْلِحُوْنَ۔‘‘

(المجادلہ:۲۲)

ترجمہ: ... ’’جو لوگ اللہ پر اور قیامت کے دن پر (پورا پورا) اِیمان رکھتے ہیں، آپ ان کو نہ دیکھیں گے کہ ایسے شخصوں سے دوستی رکھتے ہیں جو اللہ اور رسول کے برخلاف ہیں، گو وہ ان کے باپ یا بیٹے یا بھائی یا کنبہ ہی کیوں نہ ہوں، ان لوگوں کے دِلوں میں اللہ تعالیٰ نے ایمان ثبت کردیا ہے، اور (ان) قلوب کو اپنے فیض سے قوّت دی ہے (فیض سے مراد نور ہے) اور ان کو ایسے باغوں میں داخل کرے گا جن کے نیچے نہریں جاری ہوں گی، جن میں وہ ہمیشہ رہیں گے، اللہ تعالیٰ ان سے راضی ہوگا اور وہ اللہ تعالیٰ سے راضی ہوگئے، یہ لوگ اللہ کا گروہ ہے، خوب سن لو کہ اللہ ہی کا گروہ فلاح پانے والا ہے۔‘‘

(حضرت تھانویؒ)

اَخیر میں یہ عرض کرنا بھی ضروری ہے کہ پاکستان کے آئین میں قادیانیوں کو ’’غیرمسلم اقلیت‘‘ قرار دِیا گیا، لیکن قادیانیوں نے اس فیصلے کو تسلیم کرکے پاکستان کے غیرمسلم شہری (ذِمی) کی حیثیت سے رہنے کا معاہدہ نہیں کیا، اس لئے ان کی حیثیت ذِمیوں کی نہیں، بلکہ ’’محارب کافروں‘‘ کی ہے، اور محاربین سے کسی قسم کا تعلق رکھنا شرعاً جائز نہیں، واللہ اعلم!

328

قادیانی مردہ

مسلمانوں کے قبرستان میں دفن کرنا جائز نہیں

سوال

کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس سلسلے میں کہ بعض دفعہ قادیانی اپنے مردے مسلمانوں کے قبرستانوں میں دفن کردیتے ہیں۔ اور پھر مسلمانوں کی طرف سے مطالبہ ہوتا ہے کہ ان کو نکالا جائے۔ تو کیا قادیانی کا مسلمانوں کے قبرستان میں دفن کرنا جائز نہیں؟ اور مسلمانوں کے اس طرزِ عمل کا کیا جواز ہے؟

السائل: ملک بشیر احمد، ملتان

الجواب

بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ

اَلْحَمْدُ للہِ وَسَلَامٌ عَلٰی عِبَادِہِ الَّذِیْنَ اصْطَفٰی

قادیانی غیرمسلم اور زِندیق ہیں، ان پر مرتدین کے اَحکام جاری ہوتے ہیں، کسی غیرمسلم کی نمازِ جنازہ جائز نہیں، چنانچہ قرآنِ کریم میں اس کی صاف ممانعت موجود ہے، ارشادِ خداوندی ہے:

’’وَلَا تُصَلِّ عَلٰٓی اَحَدٍ مِّنْھُمْ مَّاتَ اَبَدًا وَلَا تَقُمْ عَلٰی قَبْرِہٖ، اِنَّھُمْ کَفَرُوْا بِاللہِ وَرَسُوْلِہٖ وَمَاتُوْا وَھُمْ کٰفِرُوْنَ‘‘

(التوبۃ:۸۴)

ترجمہ: ... ’’اور نماز نہ پڑھ ان میں سے کسی پر جو مرجاوے

329

کبھی، اور نہ کھڑا ہو اس کی قبر پر، وہ منکر ہوئے اللہ سے اور اس کے رسول سے، اور وہ مرگئے نافرمان۔‘‘

(ترجمہ حضرت شیخ الہندؒ)

اسی طرح کسی غیرمسلم کو مسلمانوں کے قبرستان میں دفن کرنا جائز نہیں، جیسا کہ آیتِ کریمہ کے الفاظ’’وَلَا تَقُمْ عَلٰی قَبْرِہٖ‘‘ سے معلوم ہوتا ہے۔ چنانچہ اسلامی تاریخ گواہ ہے کہ مسلمانوں اور غیرمسلموں کے قبرستان ہمیشہ الگ الگ رہے، پس کسی مسلمان کے اسلامی حقوق میں سے ایک حق یہ ہے کہ اسے مسلمانوں کے قبرستان میں دفن کیا جائے۔ علامہ سعدالدین مسعود بن عمر بن عبداللہ التفتازانی (المتوفیٰ ۷۹۱ھ) ’’شرح مقاصد‘‘ میں لکھتے ہیں کہ اگر اِیمان دِل و زبان سے تصدیق کرنے کا نام ہو تو اِقرار رُکنِ اِیمان ہوگا، اور اِیمان تصدیق مع الاقرار کو کہا جائے گا، لیکن اگر اِیمان صرف تصدیقِ قلبی کا نام ہو:

’’فإن الْإقرار حینئذٍ شرط لاِجراء الأحکام علیہ فی الدنیا من الصلاۃ علیہ وخلفہ، والدفن فی مقابر المسلمین والمطالبۃ بالعشور والزکوٰۃ ونحو ذٰلک۔‘‘

(شرح المقاصد ج:۲ ص:۲۴۸ مطبوعہ دار المعارف النعمانیہ، لاہور)

ترجمہ: ... ’’تو اِقرار اس صورت میں، اس شخص پر دُنیا میں اسلام کے اَحکام جاری کرنے کے لئے شرط ہوگا، یعنی اس کی نمازِ جنازہ پڑھنا، اس کے پیچھے نماز پڑھنا، اس کو مسلمانوں کے قبرستان میں دفن کرنا، اس سے زکوٰۃ و عشر کا مطالبہ کیا جانا، اور اس طرح کے دیگر اُمور۔‘‘

اس سے معلوم ہوا کہ کسی شخص کو مسلمانوں کے قبرستان میں دفن کرنا بھی ان اسلامی حقوق میں سے ایک ہے جو صرف مسلمان کے ساتھ خاص ہیں، اور یہ کہ جس طرح کسی غیرمسلم کی اِقتدا میں نماز جائز نہیں، اس کی نمازِ جنازہ جائز نہیں، اور اس سے زکوٰۃ اور عشر کا مطالبہ دُرست نہیں۔ ٹھیک اسی طرح کسی غیرمسلم مردے کو مسلمانوں کے قبرستان میں جگہ دینا بھی جائز نہیں، اور یہ کہ یہ مسئلہ تمام اُمتِ مسلمہ کا متفق علیہ اور مُسلَّمہ مسئلہ ہے، جس

330

میں کسی کا کوئی اِختلاف نہیں۔ چنانچہ ذیل میں مذاہبِ اَربعہ کی مستند کتابوں سے اس مسئلے کی تصریحات نقل کی جاتی ہیں، وَاللہُ الْمُوَفِّقُ!

فقہِ حنفی:

شیخ زین الدین ابن نجیم المصری (المتوفیٰ ۹۷۰ھ) ’’الاشباہ والنظائر‘‘ کے فن اوّل قاعدہ ثانیہ کے ذیل میں لکھتے ہیں:

’’قال الحاکم فی الکافی من کتاب التحرّی: وإذا اختلط موتی المسلمین وموتی الکفّار فمن کانت علیہ علامۃ المسلمین صلی علیہ ومن کانت علیہ علامۃ الکفّار ترک، فإن لم تکن علیھم علامۃ والمسلمون أکثر غسلوا وکفنوا وصلی علیہم وینوون بالصلاۃ والدعاء للمسلمین دون الکفّار ویدفنون فی مقابر المسلمین، وإن کان الفریقان سواء أو ک انت الکفّار أکثر لم یصل علیھم ویغسلون ویکفنون ویدفنون فی مقابر المشرکین۔‘‘

(الأشباہ والنظائر ج:۱ ص:۱۵۲، نیز دیکھئے ’’نفع المفتی والسائل‘‘ از مولانا عبدالحی لکھنویؒ (المتوفیٰ ۱۳۰۴ھ) اواخر کتاب الجنائز)

ترجمہ: ... ’’اِمام حاکم ’’الکافی‘‘ کی کتاب التحری میں فرماتے ہیں: اور جب مسلمان اور کافر مُردے خلط ملط ہوجائیں تو جن مُردوں پر مسلمانوں کی علامت ہوگی ان کی نمازِ جنازہ پڑھی جائے گی، اور جن پر کفار کی علامت ہوگی ان کی نمازِ جنازہ نہیں ہوگی۔

اور اگر ان پر کوئی شناختی علامت نہ ہو تو اگر مسلمانوں کی تعداد زیادہ ہو تو سب کو غسل و کفن دے کر ان کی نمازِ جنازہ پڑھی

331

جائے گی، اور نیت یہ کی جائے گی کہ ہم صرف مسلمانوں پر نماز پڑھتے اور ان کے لئے دُعا کرتے ہیں۔ اور ان سب کو مسلمانوں کے قبرستان میں دفن کیا جائے گا۔ اور اگر دونوں فریق برابر ہوں یا کافروں کی اکثریت ہو تو ان کی نمازِ جنازہ نہیں پڑھی جائے گی، ان کو غسل و کفن دے کر غیرمسلموں کے قبرستان میں دفن کیا جائے گا۔‘‘

مندرجہ بالا مسئلے سے معلوم ہوا کہ اگر مسلمان اور کافر مُردے مختلط ہوجائیں اور مسلمانوں کی شناخت نہ ہوسکے تو اگر دونوں فریق برابر ہوں، یا کافر مُردوں کی اکثریت ہو تو اس صورت میں مسلمان مُردوں کو بھی اشتباہ کی بنا پر مسلمانوں کے قبرستان میں دفن کرنا جائز نہ ہوگا۔ اسی سے یہ بھی معلوم ہوجاتا ہے کہ جو مُردہ قطعی طور پر غیرمسلم، مرتد قادیانی ہو، اس کا مسلمانوں کے قبرستان میں دفن کرنا بدرجۂ اَوْلیٰ جائز نہیں، اور کسی صورت میں بھی اس کی اجازت نہیں دی جاسکتی۔

نیز ’’الاشباہ‘‘ فن ثانی، کتاب السیر، باب المرتد کے ذیل میں لکھتے ہیں:

’’وإذا مات أو قتل علیٰ ردتہ لم یدفن فی مقابر المسلمین ولَا أھل ملّۃ وإنما یلقٰی فی حفرۃ کالکلب۔‘‘

(الأشباہ والنظائر ج:۱ ص:۲۹۱، مطبوعہ ادارۃ القرآن والعلوم الاسلامیہ کراچی)

ترجمہ: ... ’’اور جب مرتد مرجائے یا اِرتداد کی حالت میں قتل کردیا جائے تو اس کو نہ مسلمانوں کے قبرستان میں دفن کیا جائے، اور نہ کسی اور ملت کے قبرستان میں، بلکہ اسے کتے کی طرح گڑھے میں ڈال دیا جائے۔‘‘

مندرجہ بالا جزئیہ قریباً تمام کتبِ فقہیہ میں کتاب الجنائز اور کتاب السیر ’’باب المرتد‘‘ میں ذِکر کیا گیا ہے، مثلاً درمختار میں ہے:

’’أمّا المرتدّ فیلقٰی فی حفرۃ کالکلب۔‘‘

ترجمہ: ... ’’لیکن مرتد کو کتے کی طرح گڑھے میں ڈال دیا جائے۔‘‘

332

علامہ محمد امین ابن عابدین شامیؒ اس کے ذیل میں لکھتے ہیں:

’’ولَا یغسل ولَا یکفن ولَا یدفع إلیٰ من انتقل إلیٰ دینھم۔ بحر عن الفتح۔‘‘

(رد المحتار ج:۲ ص:۲۳۰ مطبوعہ کراچی)

’’یعنی نہ اسے غسل دیا جائے، نہ کفن دیا جائے، نہ اسے ان لوگوں کے سپرد کیا جائے جن کا مذہب اس مرتد نے اِختیار کیا۔‘‘

قادیانی چونکہ زِندیق اور مرتد ہیں، اس لئے اگر کسی کا عزیز قادیانی مرتد ہوجائے تو نہ اسے غسل دے، نہ کفن دے، نہ اسے مرزائیوں کے سپرد کرے، بلکہ گڑھا کھود کر اسے کتے کی طرح اس میں ڈال دے، اسے نہ صرف یہ کہ مسلمانوں کے قبرستان میں دفن کرنا جائز نہیں، بلکہ کسی اور مذہب و ملت کے قبرستان یا مرگھٹ مثلاً یہودیوں کے قبرستان اور نصرانیوں کے قبرستان میں دفن کرنا بھی جائز نہیں۔

مالکی مذہب:

قاضی ابوبکر محمد بن عبداللہ المالکی الاشبیلی المعروف بابن العربی (المتوفیٰ ۵۴۳ھ) سورۃ الاعراف کی آیت:۱۷۲ کے تحت متأوّلین کے کفر پر گفتگو کرتے ہوئے ’’قدریہ‘‘ کے بارے میں لکھتے ہیں:

’’اختلف علماء المالکیۃ فی تکفیرھم علیٰ قولین، فالصریح من أقوال مالک تکفیرھم۔‘‘

ترجمہ: ... ’’علمائے مالکیہ کے ان کی تکفیر میں دو قول ہیں، چنانچہ اِمام مالکؒ کے اقوال سے صاف طور پر ثابت ہے کہ وہ کافر ہیں۔‘‘

آگے دُوسرے قول (عدمِ تکفیر) کی تضعیف کرنے کے بعد اِمام مالکؒ کے قول پر تفریع کرتے ہوئے لکھتے ہیں:

333
’’فلا یناکحوا، ولَا یصلی علیھم، فإن خیف علیھم الضیعۃ ...۔۔ دفنوا کما یدفن الکلب۔
فإن قیل: وأین یدفنون؟ قلنا: لَا یؤذٰی بجوارھم مسلم۔‘‘

(اَحکام القرآن جلد دوم صفحات مسلسل ۸۰۲، مطبوعہ بیروت)

ترجمہ: ... ’’پس نہ ان سے رشتہ ناتا کیا جائے، نہ ان کی نمازِ جنازہ پڑھی جائے، اور اگر ان کا کوئی والی وارث نہ ہو، اور ان کی لاش کے ضائع ہونے کا اندیشہ ہوتو کتے کی طرح کسی گڑھے میں ڈال دیا جائے۔

اگر یہ سوال ہو کہ انہیں کہاں دفن کیا جائے؟ تو ہمارا جواب یہ ہے کہ کسی مسلمان کو ان کی ہمسائیگی سے ایذا نہ دی جائے، یعنی مسلمانوں کے قبرستان میں انہیں دفن نہ کیا جائے۔‘‘

فقہِ شافعی:

الشیخ الامام جمال الدین ابواِسحاق ابراہیم بن علی بن یوسف الشیرازی الشافعیؒ (المتوفیٰ ۴۷۶ھ) اور اِمام محی الدین یحییٰ بن شرف النوویؒ (المتوفیٰ ۶۷۶ھ) لکھتے ہیں:

’’قال المصنف رحمہ اللہ: ولَا یدفن کافر فی مقبرۃ المسلمین ولَا مسلم فی مقبرۃ الکفار۔
الشرح: إتفق أصحابنا رحمھم اللہ علٰی أنہ لَا یدفن مسلم فی مقبرۃ کفار ولَا کافر فی مقبرۃ مسلمین ولو ماتت ذمیۃ حامل بمسلم ومات جنینھا فی جوفھا ففیہ أوجہ (الصحیح) أنھا تدفن بین مقابر المسلمین والکفار ویکون ظھرھا إلی القبلۃ لأن وجہ الجنین إلیٰ ظھر اُمّہ ھٰکذا قطع بہ ابن الصباغ والشاشی وصاحب
334

البیان وغیرھم وھو المشھور۔‘‘

(شرح مہذب ج:۵ ص:۲۸۵ مطبوعہ بیروت)

ترجمہ: ... ’’مصنف فرماتے ہیں: اور نہ دفن کیا جائے کسی کافر کو مسلمانوں کے قبرستان میں، اور نہ کسی مسلمان کو کافروں کے قبرستان میں۔

شرح: ... اس مسئلے میں ہمارے اصحاب (شافعیہ) کا اِتفاق ہے کہ کسی مسلمان کو کافروں کے قبرستان میں اور کسی کافر کو مسلمانوں کے قبرستان میں دفن نہیں کیا جائے گا۔ اور اگر کوئی ذِمی عورت مرجائے، جو اپنے مسلمان شوہر سے حاملہ تھی، اور اس کے پیٹ کا بچہ بھی مرجائے تو اس میں چند وجہیں ہیں، صحیح یہ ہے کہ اس کو مسلمانوں اور کافروں کے قبرستان کے درمیان الگ دفن کیا جائے گا اور اس کی پشت قبلے کی طرف کی جائے گی، کیونکہ پیٹ کے بچے کا منہ اس کی ماں کی پشت کی طرف ہوتا ہے۔ ابن الصباغ، شاشی، صاحب البیان اور دیگر حضرات نے اسی قول کو جزماً اِختیار کیا ہے، اور یہی ہمارے مذہب کا مشہور قول ہے۔‘‘

فقہِ حنبلی:

الشیخ الامام موفق الدین ابومحمد عبداللہ بن احمد بن محمد بن قدامہ المقدسی الحنبلی (المتوفیٰ ۶۲۰ھ) المغنی میں، اور اِمام شمس الدین ابوالفرج عبدالرحمن بن محمد بن احمد بن قدامہ المقدسی الحنبلی (المتوفیٰ ۶۸۲ھ) الشرح الکبیر میں لکھتے ہیں:

’’مسألۃ: قال: وإن ماتت نصرانیۃ وھی حاملۃ من مسلم دفنت بین مقبرۃ المسلمین ومقبرۃ النصاریٰ، اختار ھٰذا أحمد لأنھا کافرۃ لَا تدفن فی مقبرۃ
335

المسلمین فیأذوا بعذابھا ولَا فی مقبرۃ الکفار لأن ولدھا مسلم فیتأذی بعذابھم وتدفن منفردۃ مع أنہ روی عن واثلۃ بن الأسقع مثل ھٰذا القول وروی عن عمر أنھا تدفن فی مقابر المسلمین، قال ابن المنذر: لَا یثبت ذٰلک۔ قال أصحابنا: ویجعل ظھرھا إلی القبلۃ علیٰ جانبھا الأیسر لیکون وجہ الجنین إلی القبلۃ علیٰ جانبہ الأیمن لأن وجہ الجنین إلیٰ ظھرھا۔‘‘

(المغنی مع الشرح الکبیر ج:۲ ص:۴۲۳، مطبوعہ بیروت ۱۴۰۳ھ)

ترجمہ: ... ’’اور اگر نصرانی عورت، جو اپنے مسلمان شوہر سے حاملہ تھی، مرجائے تو اسے (نہ تو مسلمانوں کے قبرستان میں دفن کیا جائے، اور نہ نصاریٰ کے قبرستان میں، بلکہ) مسلمانوں کے قبرستان اور نصاریٰ کے قبرستان کے درمیان الگ دفن کیا جائے، اِمام احمدؒ نے اس کو اس لئے اِختیار کیا ہے کیونکہ وہ عورت تو کافر ہے، اس کو مسلمانوں کے قبرستان میں دفن نہیں کیا جائے گا کہ اس کے عذاب سے مسلمان مُردوں کو اِیذا ہو، اور نہ اسے کافروں کے قبرستان میں دفن کیا جائے گا کیونکہ اس کے پیٹ کا بچہ مسلمان ہے، اسے کافروں کے عذاب سے اِیذا ہوگی۔ اس لئے اس کو الگ دفن کیا جائے گا۔ اسی کے ساتھ یہ بھی حضرت واثلہ بن اسقع رضی اللہ عنہ سے اسی قول کی مثل مروی ہے۔ اور حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے جو مروی ہے کہ ایسی عورت کو مسلمانوں کے قبرستان میں دفن کیا جائے گا۔ ابن المنذر کہتے ہیں کہ: یہ روایت حضرت عمرؓ سے ثابت نہیں۔

ہمارے اصحاب نے کہا ہے کہ اس نصرانی عورت کو بائیں کروَٹ پر لٹاکر اس کی پشت قبلے کی طرف کی جائے، تاکہ بچے کا

336

منہ قبلے کی طرف رہے، اور وہ داہنی کروَٹ پر ہو، کیونکہ پیٹ میں بچے کا چہرہ عورت کی پشت کی طرف ہوتا ہے۔‘‘

مندرجہ بالا تصریحات سے معلوم ہوا کہ یہ شریعتِ اسلامی کا متفق علیہ اور مُسلَّم مسئلہ ہے کہ کسی غیرمسلم کو مسلمانوں کے قبرستان میں دفن نہیں کیا جاسکتا۔ شریعتِ اسلامی کا یہ مسئلہ اتنا صاف اور واضح ہے کہ مرزا غلام احمد قادیانی نے بھی اپنی تحریروں میں اس کا حوالہ دیا ہے، چنانچہ جھوٹے مدعیانِ نبوّت کے بارے میں مرزا نے لکھا ہے:

’’حافظ صاحب! یاد رکھیں کہ جو کچھ رسالہ قطع الوتین میں جھوٹے مدعیان کی نسبت بے سروپا حکایتیں لکھی گئی ہیں، وہ حکایتیں اس وقت تک ایک ذرّہ قابلِ اعتبار نہیں جب تک یہ ثابت نہ ہو کہ مفتری لوگوں نے اپنے اس دعوے پر اِصرار کیا اور توبہ نہ کی، اور یہ اِصرار کیونکر ثابت ہوسکتا ہے جب تک اسی زمانے کی کسی تحریر کے ذریعے سے یہ امر ثابت نہ ہو کہ وہ لوگ اِفترا اور جھوٹے دعویٔ نبوّت پر مرے، اور ان کا کسی اس وقت کے مولوی نے جنازہ نہ پڑھا اور نہ مسلمانوں کے قبرستان میں دفن کئے گئے۔‘‘

(تحفۃ الندوۃ ص:۷، رُوحانی خزائن ج:۱۹ ص:۹۵ مطبوعہ لندن)

اسی رسالے میں آگے چل کر لکھا ہے:

’’پھر حافظ صاحب کی خدمت میں خلاصۂ کلام یہ ہے کہ میرے توبہ کرنے کے لئے صرف اتنا کافی نہ ہوگا کہ بفرضِ محال کوئی کتاب اِلہامی مدعیٔ نبوّت کی نکل آوے، جس کو وہ قرآن شریف کی طرح (جیسا کہ میرا دعویٰ ہے) خدا کی ایسی وحی کہتا ہو، جس کی صفت میں لاریب ہے، جیسا کہ میں کہتا ہوں، اور پھر یہ بھی ثابت ہوجائے کہ وہ بغیر توبہ کے مرا اور مسلمانوں نے اپنے قبرستان میں

337

اس کو دفن نہ کیا۔‘‘

(تحفۃ الندوۃ ص:۱۲، رُوحانی خزائن ج:۱۹ ص:۹۹، ۱۰۰ مطبوعہ لندن)

مرزا غلام احمد قادیانی کی ان دونوں عبارتوں سے تین باتیں واضح ہوئیں:

ایک یہ کہ جھوٹا مدعیٔ نبوّت کافر و مرتد ہے، اسی طرح اس کے ماننے والے بھی کافر و مرتد ہیں، وہ کسی اسلامی سلوک کا مستحق نہیں۔

دوم یہ کہ کافر و مرتد کی نمازِ جنازہ نہیں، اور نہ اسے مسلمانوں کے قبرستان میں دفن کیا جاتا ہے۔

سوم یہ کہ مرزا غلام احمد قادیانی کو نبوّت کا دعویٰ ہے، اور وہ اپنی شیطانی وحی کو ...نعوذباللہ... قرآنِ کریم کی طرح سمجھتا ہے۔

پس اگر گزشتہ دور کے جھوٹے مدعیانِ نبوّت اس کے مستحق ہیں کہ ان کو اِسلامی برادری میں شامل نہ سمجھا جائے، ان کی نمازِ جنازہ نہ پڑھی جائے، اور ان کو مسلمانوں کے قبرستان میں دفن نہ ہونے دیا جائے، تو مرزا غلام احمد قادیانی (جس کا جھوٹا دعویٔ نبوّت اظہر من الشمس ہے) اور اس کی ذُرّیتِ خبیثہ کا بھی یہی حکم ہے کہ نہ ان کی نمازِ جنازہ پڑھی جائے، اور نہ ان کو مسلمانوں کے قبرستان میں دفن ہونے دیا جائے۔

رہا یہ سوال کہ اگر قادیانی چپکے سے اپنا مُردہ مسلمانوں کے قبرستان میں گاڑ دیں تو اس کا کیا کیا جائے؟

اس کا جواب یہ ہے کہ علم ہوجانے کے بعد اس کا اُکھاڑنا واجب ہے، اور اس کی چند وجہیں ہیں:

اوّل یہ کہ مسلمانوں کا قبرستان، مسلمانوں کی تدفین کے لئے وقف ہے، کسی غیرمسلم کا اس میں دفن کیا جانا ’’غصب‘‘ ہے۔ اور جس مُردے کو غصب کی زمین میں دفن کیا جائے اس کا نبش (اُکھاڑنا) لازم ہے، جیسا کہ کتبِ فقہیہ میں اس کی تصریح موجود ہے، کیونکہ کافر و مرتد کی لاش، جبکہ غیرمحل میں دفن کی گئی ہو، لائقِ احترام نہیں۔ چنانچہ اِمام بخاریؒ نے صحیح بخاری، کتاب الصلوٰۃ میں باب باندھا ہے ’’باب ھل نبش قبور

338

مشرکی الجاھلیۃ الخ‘‘ اور اس کے تحت یہ حدیث نقل کی ہے کہ مسجدِ نبوی کے لئے جو جگہ خریدی گئی اس میں کافروں کی قبریں تھیں:

’’فأمر النبی صلی اللہ علیہ وسلم بقبور المشرکین فنبشت۔‘‘

(صحیح بخاری ج:۱ ص:۶۱)

ترجمہ: ... ’’پس آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے مشرکین کی قبروں کو اُکھاڑنے کا حکم فرمایا، چنانچہ وہ اُکھاڑ دی گئیں۔‘‘

حافظ ابنِ حجرؒ، اِمام بخاریؒ کے اس باب کی شرح میں لکھتے ہیں:

’’أی دون غیرھا من قبور الأنبیاء وأتباعھم لما فی ذٰلک من الْإھانۃ لھم بخلاف المشرکین فإنھم لَا حرمۃ لھم۔‘‘

(فتح الباری ج:۱ ص:۵۲۴، مطبوعہ دار النشر، لاہور)

ترجمہ: ... ’’مشرکین کی قبروں کو اُکھاڑا جائے گا، انبیائے کرام اور ان کے متبعین کی قبروں کو نہیں، کیونکہ ان میں ان کی اہانت ہے بخلاف مشرکین کے، کہ ان کی کوئی حرمت نہیں۔‘‘

حافظ بدرالدین عینیؒ اس حدیث کے ذیل میں لکھتے ہیں:

’’(فإن قلت) کیف یجوز إخراجھم من قبورھم والقبر مختص بمن دفن فیہ فقد حازہ فلا یجوز بیعہ ولَا نقلہ عنہ۔
(قلت) تلک القبور التی أمر النبی صلی اللہ علیہ وسلم بنبشھا لم تکن أملاکا لمن دفن فیھا بل لعلھا غصبت فلذٰلک باعھا ملاکھا وعلٰی تقدیر التسلیم إنھا حُبست فلیس بلازم إنما اللازم تجیس المسلمین لَا الکفار ولھٰذا قالت الفقھاء إذا دفن المسلم فی أرض مغصوبۃ یجوز إخراجہ فضلا عن
339

المشرک۔‘‘

(عمدۃ القاری ج:۲ ص:۱۷۹)

ترجمہ: ... ’’اگر کہا جائے کہ مشرک و کافر مُردوں کو ان کی قبروں سے نکالنا کیسے جائز ہوسکتا ہے؟ جبکہ قبر، مدفون کے ساتھ مختص ہوتی ہے، اس لئے نہ اس جگہ کو بیچنا جائز ہے اور نہ مُردے کو وہاں سے منتقل کرنا جائز ہے۔ اس کا جواب یہ ہے کہ یہ قبریں جن کے اُکھاڑنے کا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم فرمایا، غالباً دفن ہونے والوں کی مِلک نہیں تھیں، بلکہ وہ جگہ غصب کی گئی تھی، اس لئے مالکوں نے اس کو فروخت کردیا۔ اور اگر یہ فرض کرلیا جائے کہ یہ جگہ ان مُردوں کے لئے مخصوص کردی گئی تھی، تب بھی یہ لازم نہیں کیونکہ مسلمانوں کا قبروں میں رکھنا لازم ہے، کافروں کا نہیں۔ اسی بنا پر فقہاء نے کہا ہے کہ جب مسلمان کو غصب کی زمین میں دفن کردیا گیا ہو تو اس کا نکالنا جائز ہے چہ جائیکہ کافر ومشرک کا نکالنا۔‘‘

پس جو قبرستان کہ مسلمانوں کے لئے وقف ہے، اس میں کسی قادیانی کو دفن کرنا اس جگہ کا غصب ہے، کیونکہ وقف کرنے والے نے اس کو مسلمانوں کے لئے وقف کیا ہے، کسی کافر و مرتد کو اس وقت کی جگہ میں دفن کرنا غاصبانہ تصرف ہے، اور وقف میں ناجائز تصرف کی اجازت دینے کا کوئی شخص بھی اِختیار نہیں رکھتا، بلکہ اس ناجائز تصرف کو ہر حال میں ختم کرنا ضروری ہے، اس لئے جو قادیانی، مسلمانوں کے قبرستان میں دفن کیا گیا ہو اس کو اُکھاڑ کر اس غصب کا اِزالہ کرنا ضروری ہے، اور اگر مسلمان اس تصرفِ بے جا اور غاصبانہ حرکت پر خاموش رہیں گے، اور اس غصب کے اِزالے کی کوشش نہیں کریں گے تو سب گنہگار ہوں گے۔ اور اس کی مثال بالکل ایسی ہوگی کہ جو جگہ مسجد کے لئے وقف ہو، اس میں گرجا اور مندر بنانے کی اجازت دے دی جائے، یا اگر اس جگہ پر غیرمسلم قبضہ کرکے اپنی عبادت گاہ تعمیر کرلیں تو اس ناجائز تصرف اور غاصبانہ قبضے کا اِزالہ مسلمانوں پر فرض ہوگا۔ اسی طرح مسلمانوں کے قبرستان میں، جو کہ مسلمانوں کے لئے وقف ہے، اگر غیرمسلم

340

قادیانی ناجائز تصرف اور غاصبانہ قبضہ کرلیں تو اس کا اِزالہ بھی واجب ہوگا۔

دُوسری وجہ یہ ہے کہ کسی کافر کو مسلمانوں کے قبرستان میں دفن کرنا مسلمان مُردوں کے لئے ایذا کا سبب ہے، کیونکہ کافر اپنی قبر میں معذّب ہے، اور اس کی قبر محلِ لعنت وغضب ہے، اس کے عذاب سے مسلمان مُردوں کو اِیذا ہوگی۔ اس لئے کسی کافر کو مسلمانوں کے درمیان دفن کرنا جائز نہیں، اور اگر دفن کردیا گیا ہو تو مسلمانوں کو اِیذا سے بچانے کے لئے اس کو وہاں سے نکالنا ضروری ہے، اس کی لاش کی حرمت کا نہیں، اور مسلمان مُردوں کی حرمت کا لحاظ کرنا ضروری ہے۔ اِمام ابوداؤدؒ نے کتاب الجہاد ’’باب النھی عن قتل من اعتصم بالسجود‘‘ میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد نقل کیا ہے:

’’أنا بریء من کل مسلم یقیم بین أظھر المشرکین، قالوا: یا رسول اللہ! لم؟ قال: لَا ترایا نارھما۔‘‘

(ابوداؤد ج:۱ ص:۳۵۶)

ترجمہ: ... ’’میں بَری ہوں ہر اس مسلمان سے جو کافروں کے درمیان مقیم ہو۔ صحابہؓ نے عرض کیا: یا رسول اللہ! یہ کیوں؟ فرمایا: دونوں کی آگ ایک دُوسرے کو نظر نہیں آنی چاہئے۔‘‘

نیز اِمام ابوداؤدؒ نے آخر کتاب الجہاد’’باب فی الْإقامۃ بأرض الشرک‘‘ میں یہ حدیث نقل کی ہے:

’’من جامع المشرک وسکن معہ فإنّہ مثلہ۔‘‘

(ابوداؤد ج:۲ ص:۲۹)

ترجمہ: ... ’’جس شخص نے مشرک کے ساتھ سکونت اِختیار کی وہ اسی کی مثل ہوگا۔‘‘

پس جبکہ دُنیا کی عارضی زندگی میں کافر و مسلمان کی اِکٹھی سکونت کو گوارا نہیں فرمایا گیا، تو قبر کی طویل ترین زندگی میں اس اِجتماع کو کیسے گوارا کیا جاسکتا ہے؟

تیسری وجہ یہ ہے کہ مسلمانوں کے قبرستان کی زیارت اور ان کے لئے دُعا

341

واِستغفار کا حکم ہے، جبکہ کسی کافر کے لئے دُعا واِستغفار اور اِیصالِ ثواب جائز نہیں۔ اس لئے لازم ہوا کہ کسی کافر کی قبر مسلمانوں کے قبرستان میں نہ رہنے دی جائے، جس سے زائرین کو دھوکا لگے، اور وہ کافر مُردوں کی قبر پر کھڑے ہوکر دُعا واِستغفار کرنے لگیں۔

حضراتِ فقہاء نے مسلم و کافر کے امتیاز کی یہاں تک رعایت کی ہے کہ اگر کسی غیرمسلم کا مکان مسلمانوں کے محلے میں ہو تو اس پر علامت کا ہونا ضروری ہے کہ یہ غیرمسلم کا مکان ہے تاکہ کوئی مسلمان وہاں کھڑا ہوکر دُعا وسلام نہ کرے، جیسا کہ ’’کتاب السیر باب أحکام أھل الذمۃ‘‘ میں فقہاء نے اس کی تصریح کی ہے۔

خلاصہ یہ کہ کسی غیرمسلم کو خصوصاً کسی قادیانی مرتد کو مسلمانوں کے قبرستان میں دفن کرنا جائز نہیں۔ اور اگر دفن کرایا گیا ہو تو اس کا اُکھاڑنا اور مسلمانوں کے قبرستان کو اس مردار سے پاک کرنا ضروری ہے۔

342

قادیانیوں کو

دعوت اسلام

343

اسلام لانے کی شرائط

بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ

اَلْحَمْدُ للہِ وَسَلَامٌ عَلٰی عِبَادِہِ الَّذِیْنَ اصْطَفٰی

مکرم و محترم، زیدت الطافہم، آداب و دعوات!

خط بند کرچکا تھا، خیال آیا کہ دعوتِ اسلام کے بارے میں بھی دو حرف لکھ دوں، جیسا کہ گزشتہ عریضہ میں لکھ چکا ہوں، اس دعوت سے دو مقصد ہیں (بطورِ منع الخلو) یا تو اللہ تعالیٰ آپ کو ہدایت سے نواز دیں گے، تو یہ آپ کے لئے اور آپ کے طفیل اس ناکارہ کے لئے ذریعۂ نجات بن جائے گا، یا کم از کم آپ میری دعوت کے گواہ تو بن ہی جائیں گے، یہ بھی اِن شاء اللہ میرے لئے ذریعۂ نجات ہوگا۔

رہا آپ کا یہ ارشاد کہ کلمہ ’’محمد رسول اللہ‘‘ تو آپ اب بھی پڑھتے ہیں، اسلام لانے کے بعد کون سا کلمہ پڑھنے کا حکم ہوگا؟ یا یہ کہ اب آپ اس کلمے سے کیوں مسلمان نہیں ہوتے، پھر کیسے ہوجائیں گے؟

اس کے بارے میں گزارش ہے کہ کلمہ ’’محمد رسول اللہ‘‘ سے مقصود ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو رسول مان کر آپؐ کی فرمودہ ہر بات کو بغیر چوںوچرا اور بغیر کسی خدشے کے مان لینا، جب تک یہ نہ ہو، ایمان نہیں۔

علاوہ ازیں اسلام لانے کے لئے کلمہ پڑھنے کے ساتھ ساتھ منافیٔ اسلام ادیان ومذاہب اور اقوال و افعال سے برأت بھی شرط ہے، جب تک یہ تبری (برأت) نہ ہو آدمی مسلمان نہیں ہوتا، مثلاً: ایک شخص کسی بت یا قبر یا بزرگ کو خدا کا ظل سمجھ کر سجدہ کرتا ہے تو اس کا یہ فعل اسلام کے منافی ہے، جب تک توبہ نہ کرے اس کا ’’لا الٰہ الا اللہ‘‘ پڑھنا کافی نہیں،

344

اسی طرح کوئی شخص کسی کو محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا ظل سمجھ کر ’’محمد رسول اللہ‘‘ کہتا ہے، وہ جب تک اس سے تبری (اظہارِ برأت) نہ کرے، اس کا کلمہ پڑھنا کافی نہ ہوگا۔ اور توبہ و تبری کے بعد بھی اگرچہ وہ کلمہ یہی پڑھے گا مگر اس کے عقیدے میں زمین و آسمان اور کفر و ایمان کا فرق ہوگا۔ فقط والدعا!

محمد یوسف عفا اللہ عنہ

۶؍ربیع الاول ۱۳۹۹ھ

345

قادیانیوں کو دعوتِ اسلام

بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ

اَلْحَمْدُ للہِ رَبِّ الْعَالَمِیْنَ وَالصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامُ عَلٰی سَیِّدِ الْمُرْسَلِیْنَ وَخَاتَمِ النَّبِیِّیْنَ سَیِّدِنَا مُحَمَّدٍ وَّعَلٰی اٰلِہٖ وَاَصْحَاِبِہٖ وَاَتْبَاعِہٖ اَجْمَعِیْنَ

اسلام اور قادیانیت کا سو سالہ تصادم ۷؍ستمبر ۱۹۷۴ء کے آئینی فیصلے سے اپنے انجام کو پہنچ چکا ہے، اس طویل عرصے میں بے شمار مناظرے، مباحثے، مباہلے ہوتے رہے، سینکڑوں کتابوں اور رِسالوں کے دفتر دونوں جانب تالیف کئے گئے، مگر اَب ان میں سے کسی چیز کی ضرورت باقی نہیں رہی۔ البتہ جو لوگ مرزا غلام احمد قادیانی کو اپنا مذہبی پیشوا مانتے ہیں، انہیں ہر ممکن طریقے سے اسلام کی دعوت دینا ہمارا فرض ہے، اور اس کی صورت فی الحال یہی سمجھ میں آئی ہے کہ اسلام اور قادیانیت کے درمیان جو فرق ہے اسے واضح کرکے اپنے ان بھائیوں سے غور و فکر کی درخواست کی جائے، اور اگر توفیق رہبری کرے تو وہ احساس فرمائیں کہ انہوں نے جو راستہ اِختیار کیا ہے وہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم، صحابہ کرامؓ، اَئمۂ دِینؒ اور اکابرِ اُمت مجدّدینؒ والا راستہ نہیں ہے، جسے قرآنِ کریم نے ’’سبیل المؤمنین‘‘ فرمایا ہے، وہ اس سے ہٹ کر غلط راستے پر پڑگئے ہیں۔ اس سلسلے کا یہ پہلا عجالہ پیشِ خدمت ہے، جس میں مرزا قادیانی کے صرف ایک عقیدے کی (جو قادیانی لٹریچر میں ’’بعثتِ ثانیہ‘‘ کا عقیدہ کہلاتا ہے) تشریح کرتے ہوئے اس کے آثار و نتائج کی تفصیل پیش کی گئی ہے، اور پھر یہ دِکھایا گیا ہے کہ عقل و خرد کی میزان میں اس عقیدے کا کیا وزن ہے؟ اور یہ اپنے اندر کتنے عواقب رکھتا ہے؟ مرزا ناصر احمد قادیانی اَمیرِ جماعتِ ربوہ اور جناب صدرالدین اَمیرِ جماعتِ لاہور سے لے کر ان کی جماعت کے ہر اعلیٰ و ادنیٰ فرد سے نہایت

346

ہی دردمندی سے گزارش کروں گا کہ وہ اس رسالے کے مندرجات پر ٹھنڈے دِل سے غور فرمائیں اور اگر بات سمجھ میں آجائے تو حق کو قبول کرنے سے عار نہ فرمائیں۔

مرزا غلام احمد قادیانی کی جماعت کے افراد مرزا غلام احمد قادیانی کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ایک ادنیٰ خادم کی حیثیت سے پیش کرتے ہیں، اور ان کا یہ دعویٰ ہے کہ وہ بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی عظمت و محبت میں کسی سے کم نہیں۔ یہ رسالہ ان کے اس دعویٔ محبت کے لئے ایک امتحان کی حیثیت رکھتا ہے۔ ہم دُعا کرتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ انہیں واقعی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے دِین و شریعت کی طرف، جس پر اُمتِ اِسلامیہ چودہ صدیوں سے چلی آرہی ہے، پلٹ آنے کی توفیق عطا فرمائے، آمین۔ رسالے کی ترتیب حسبِ ذیل ہے:

فصلِ اوّل: ... دو محمد رسول اللہ۔

فصلِ دوم: ... قادیانی بعثت کے آثار و نتائج۔

فصلِ سوم: ... خصوصیاتِ نبوی اور مرزا غلام احمد قادیانی۔

فصلِ چہارم: ... مکی بعثت پر قادیانی بعثت کی فضیلت۔

فصلِ پنجم: ... دعوتِ غور وفکر۔

مسلمانوں سے اِلتماس ہے کہ اس رسالے کو جہاں تک ممکن ہو، ان بھولے ہوئے بھائیوں تک پہنچانے کی کوشش کریں۔ دُعا ہے کہ حق تعالیٰ شانہ‘ اس حقیر سی خدمت کو قبول فرمائیں اور اپنے بندوں کے قلوب کو حق و ہدایت کی طرف متوجہ فرمائیں۔

اَللّٰھُمَّ یَا مُصَرِّفَ الْقُلُوْبِ صَرِّفْ قُلُوْبَنَا اِلٰی طَاعَتِکَ وَدِیْنِکَ، رَبَّنَا لَا تُزِغْ قُلُوْبَنَا بَعْدَ اِذْ ھَدَیْتَنَا وَھَبْ لَنَا مِنْ لَّدُنْکَ رَحْمَۃً اِنَّکَ اَنْتَ الْوَھَّابُ

محمد یوسف لدھیانوی عفا اللہ عنہ

(خادم مجلس تحفظ ختمِ نبوّت پاکستان)

جمعہ ۱۰؍رجب المرجب ۱۳۹۶ء

347

فصلِ اوّل

دو محمد رسول اللہ؟

مسلمانوں کا عقیدہ یہ ہے کہ سلسلۂ نبوّت حضرت آدم علیہ السلام سے شروع ہوکر حضرت خاتم النبیین محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر ختم ہوگیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد کوئی شخص منصبِ نبوّت پر فائز نہیں ہوگا، بلکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہی کی رِسالت و نبوّت کا دور قیامت تک باقی رہے گا۔

اور یہ بھی نہیں کہ ایک بار تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو نبی کی حیثیت سے مکہ میں مبعوث کیا جائے، اور پھر کسی زمانے میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو دُوسری بار خلعتِ نبوّت سے آراستہ کرکے کسی اور جگہ بھیجا جائے۔ نہیں! بلکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی پہلی بعثت ہی ایسی کافی و شافی تھی کہ وہ قیامت تک قائم و دائم رہے گی، اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی رِسالت و نبوّت کا آفتاب رہتی دُنیا تک تاباں و درخشاں رہے گا، نہ وہ کبھی غروب ہوگا، نہ اس کے بعد دوبارہ سلسلۂ نبوّت جاری کرنے کی ضرورت لاحق ہوگی۔

لیکن مرزا غلام احمد قادیانی کا عقیدہ یہ ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا نبی کی حیثیت سے دُنیا میں دو بار آنا من جانب اللہ مقدّر تھا، چنانچہ ایک دفعہ چھٹی صدی مسیحی میں آپ ’’محمد‘‘ صلی اللہ علیہ وسلم کی حیثیت سے مکہ مکرمہ میں مبعوث ہوئے، اور دُوسری بار انیسویں صدی مسیحی کے آخراور چودھویں صدی ہجری کے اوائل میں قادیان (ضلع گورداسپور، مشرقی پنجاب) میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو مبعوث کیا گیا۔ لیکن یہ دُوسری دفعہ کی بعثت آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی پہلی شکل میں نہیں ہوئی بلکہ اس بار مرزا غلام احمد قادیانی کی شکل میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا ظہور ہوا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اسی ظہور کو مرزا قادیانی کی ’’خاص اِصطلاح‘‘ میں ’’ظل‘‘ اور ’’بروز‘‘ کہا جاتا ہے۔

348

اس عقیدے کی بنا پر مرزا غلام احمد قادیانی کا دعویٰ ہے کہ وہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا بروز ہونے کی وجہ سے بعینہٖ ’’محمد رسول اللہ‘‘ ہیں، ان کا وجود بعینہٖ محمد رسول اللہ کا وجود ہے، اور ان کی آمد بعینہٖ محمد رسول اللہ کی آمد ہے۔ فرق ہے تو صرف یہ کہ پہلی تشریف آوری میں آپ ’’محمد‘‘ تھے ...صلی اللہ علیہ وسلم... اور دُوسری میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا نام ’’غلام احمد‘‘ ...یا قادیانی اِصطلاح میں صرف ’’احمد‘‘... ہے۔ پہلی بعثت مکہ میں ہوئی تھی، اور دُوسری قادیان میں، پہلی بعثت جلالی تھی اور دُوسری جمالی۔ مرزا قادیانی نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی دُوسری ۔۔قادیانی... بعثت کا عقیدہ ایسی تکرار و اِصرار اور صراحت ووضاحت سے درج کیا ہے کہ یہ عقیدہ قادیانی جماعت کا ’’مخصوص ترانہ‘‘ بن گیا اور ان کے عقیدت مند ڈنکے کی چوٹ پر اِعلان کرنے لگے کہ ’’مرزا محمد است و عین محمد است۔‘‘

  1. ’’صدی چودھویں کا ہوا سر مبارک

    کہ جس پر وہ بدر الدجٰی بن کے آیا

  2. محمد پئے چارہ سازی امت

    ہے اب ’’احمد مجتبیٰ‘‘ بن کے آیا

  3. حقیقت کھلی بعثِ ثانی کی ہم پر

    کہ جب مصطفی میرزا بن کے آیا‘‘

(’’الفضل‘‘ ۲۸؍مئی ۱۹۲۸ء)

  1. اے میرے پیارے مری جان رسولِ قدنی

    تیرے صدقے تیرے قربان رسولِ قدنی

  2. پہلی بعثت میں محمد ہے تو اب احمد ہے

    تجھ پر پھر اُترا ہے قرآن رسولِ قدنی

(’’الفضل‘‘ قادیان مؤرخہ ۱۶؍اکتوبر ۱۹۲۲ء)

’’مصطفی میرزا بن کے آیا‘‘ اور ’’تجھ پر پھر اُترا ہے قرآن رسولِ قدنی‘‘ کے نعرے خالی از علت نہیں تھے، بلکہ مرزا غلام احمد قادیانی کی ۲۰ سالہ تعلیم و تلقین کے ثمرات

349

تھے۔ اس سلسلے کی تفصیلات آگے آرہی ہیں، تاہم مزید تشریح کے لئے مرزا غلام احمد قادیانی اور ان کی جماعت کے اکابر کے چند حوالے یہاں بھی پڑھ لیجئے:

۱: ... ’’اور جان کہ ہمارے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جیسا کہ پانچویں ہزار (چھٹی صدی مسیحی) میں مبعوث ہوئے، ایسا ہی مسیحِ موعود (مرزا غلام احمد قادیانی) کی بروزی صورت اختیار کرکے چھٹے ہزار (تیرھویں صدی ہجری) کے آخر میں (قادیان میں) مبعوث ہوئے، اور یہ قرآن سے ثابت ہے، اس میں انکار کی گنجائش نہیں، اور بجز اندھوں کے کوئی اس معنی سے سر نہیں پھیرتا ...... اور جس نے اس بات سے انکار کیا کہ نبی علیہ السلام کی بعثت چھٹے ہزار سے تعلق رکھتی ہے، جیسا کہ پانچویں ہزار سے تعلق رکھتی تھی، پس اس نے حق کا اور نصِ قرآن کا انکار کیا۔‘‘

(خطبہ اِلہامیہ ص:۱۸۰، ۱۸۱، رُوحانی خزائن ج:۱۶ص:۲۷۰، ۲۷۱)

۲: ... ’’آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے دو بعث ہیں، یا بہ تبدیل الفاظ یوں کہہ سکتے ہیں کہ ایک بروزی رنگ میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا دوبارہ آنا دُنیا میں وعدہ کیا گیا تھا، جو مسیحِ موعود اور مہدیٔ معہود (مرزا قادیانی) کے ظہور سے پورا ہوا۔‘‘

(تحفۂ گولڑویہ طبع اوّل ص:۹۴، خزائن ج:۱۷ ص:۲۴۹)

۳: ... ’’جیسا کہ مؤمن کے لئے دُوسرے اَحکامِ اِلٰہی پر اِیمان لانا فرض ہے، ایسا ہی اس بات پر بھی ایمان فرض ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے دو بعث ہیں۔‘‘

(خزائن ج:۱۷ ص:۲۵۴، تحفۂ گولڑویہ ص:۹۶)

۴: ... غرض آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے دو بعث مقدّر تھے، ایک بعث تکمیل ہدایت کے لئے، دُوسرا بعث تکمیل

350

اشاعت ہدایت کے لئے۔‘‘

(خزائن ج:۱۷ ص:۲۶۰، تحفۂ گولڑویہ ص:۹۹)

۵: ... ’’پھر اس پر بھی تو غور کرو کہ اللہ تعالیٰ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی دو بعثتوں کا قرآنِ کریم میں ذکر فرمایا ہے ...... اس آیتِ کریمہ میں اللہ تعالیٰ نے صاف فرمایا ہے کہ جس طرح نبی کریمؐ کو اُمیوں یعنی مکہ والوں میں رسول بناکر بھیجا گیا ہے اسی طرح ایک اور قوم میں بھی آپ کو مبعوث کیا جائے گا، جو ابھی تک دُنیا میں پیدا نہیں کی گئی، لیکن چونکہ یہ قانون قدرت کے خلاف ہے کہ ایک شخص جب فوت ہوجاوے تو اسے پھر دُنیا میں لایا جاوے ...... پس یہ وعدہ اس صورت میں پورا ہوسکتا ہے کہ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثتِ ثانی کے لئے ایک ایسے شخص کو چنا جاوے جس نے آپؐ کے کمالاتِ نبوّت سے پورا حصہ لیا ہو، اور جو حسن اور اِحسان اور ہدایتِ خلق اللہ میں آپؐ کا مشابہ ہو، اور جو آپؐ کی اِتباع میں اس قدر آگے نکل گیا ہو کہ بس آپؐ کی ایک زندہ تصویر بن جائے تو بلاریب ایسے شخص کا دُنیا میں آنا خود نبی کریمؐ کا دُنیا میں آنا ہے، اور چونکہ مشابہتِ تامہ کی وجہ سے مسیحِ موعود اور نبی کریمؐ میں کوئی دُوئی باقی نہیں رہی، حتیٰ کہ ان دونوں کے وجود بھی ایک وجود کا ہی حکم رکھتے ہیں ...... تو اس صورت میں کیا اس بات میں کوئی شک رہ جاتا ہے کہ قادیان میں اللہ تعالیٰ نے پھر محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو اُتارا۔‘‘

(کلمۃ الفصل ص:۱۰۴، ۱۰۵، مندرجہ ریویو آف ریلجنز مارچ/اپریل ۱۹۱۵ء)

۶: ... ’’پس وہ جس نے مسیحِ موعود (مرزا غلام احمد قادیانی) اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو دو وجودوں کے رنگ میں لیا، اس نے مسیحِ موعود (مرزا قادیانی) کی مخالف کی، کیونکہ مسیحِ موعود (مرزا غلام

351

احمد قادیانی) کہتا ہے:’’صار وجودی وجودہ‘‘ (میرا وجود آپ ہی کا وجود بن گیا ہے) اور جس نے مسیحِ موعود (مرزا غلام احمد قادیانی) اور نبی کریمؐ میں تفریق کی اس نے بھی مسیحِ موعود کی تعلیم کے خلاف قدم مارا، کیونکہ مسیحِ موعود صاف فرماتا ہے کہ: ’’من فرّق بینی وبین المصطفی فما عرفنی وما راٰی‘‘ (جس نے میرے اور مصطفی کے درمیان فرق کیا اس نے مجھے نہ دیکھا اور نہ پہچانا)۔‘‘

(دیکھو خطبہ اِلہامیہ ص:۱۷۱، خزائن ج:۱۶ ص:۲۵۸) اور وہ جس نے مسیحِ موعود کی بعثت کو نبی کریمؐ کی بعثتِ ثانی نہ جانا اس نے قرآن کو پسِ پشت ڈال دیا کیونکہ قرآن پکار پکار کر کہہ رہا ہے کہ محمد رسول اللہ ایک دفعہ پھر دُنیا میں آئے گا۔‘‘

(کلمۃ الفصل ص:۱۰۵)

ان حوالوں سے واضح ہے کہ مرزا غلام احمد قادیانی اور ان کی جماعت کا یہی عقیدہ ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی دو بعثتیں ہیں اور یہ کہ آپ کی دُوسری بعثت قادیان میں مرزا غلام احمد کی شکل میں ہوئی۔ لہٰذا مرزا غلام احمد قادیانی ’’عین محمد‘‘ ہیں اور یہ عقیدہ قادیانی جماعت کے ذہنوں میں کس حد تک راسخ ہے؟ اس کا اندازہ ایک قادیانی کے مندرجہ ذیل تأثر سے کیجئے:

’’ادھر بچہ پیدا ہوتا ہے اور اس کے کان میں اَذان دی جاتی ہے، اور شروع ہی میں اس کو خدا اور خدا کے رسولِ پاک کا نام سنایا جاتا ہے، بعینہٖ یہ بات میرے ساتھ ہوئی، میں بھی احمدیت میں بطورِ بچہ ہی کے تھا جو میرے کانوں میں یہ آواز پڑی کہ ’’مسیحِ موعود محمد است و عین محمد است۔‘‘

(’’الفضل‘‘ قادیان، ۱۷؍اگست ۱۹۱۵ء، بحوالہ قادیانی مذہب ص:۲۶۸ طبع پنجم)

مجھے چونکہ مرزا غلام احمد قادیانی اور ان کی جماعت کے عقائد کو ذِکر کرنا ہے، ان کی تردید مقصود نہیں، اس لئے میں اس پر بحث نہیں کروں گا کہ مرزا غلام احمد قادیانی نے

352

’’بعثتِ ثانی‘‘ اور ’’بروز‘‘ وغیرہ کا تخیل کہاں سے مستعار لیا ہے؟ نہ اس وقت مرزا غلام احمد قادیانی کے اِستدلال سے بحث کرنا ہی میرے پیشِ نظر ہے۔

البتہ یہ گزارش بے محل نہ ہوگی کہ یہ عقیدہ سب سے پہلے مرزا غلام احمد قادیانی نے اِختراع کیا، ورنہ تیرہ صدیوں میں کسی مسلمان کا یہ عقیدہ نہیں تھا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم دُنیا میں دوبارہ تشریف لائیں گے، چنانچہ قادیانی جماعت کا آرگن روزنامہ ’’الفضل‘‘ لکھتا ہے:

’’آج تک کے مسلمانوں میں سے کسی نے بھی یہ بات آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی شان کے متعلق بیان نہیں کی، اور نہ ہی اس حقیقت سے حضرت مسیحِ موعود (مرزا غلام احمد قادیانی) سے پہلے کوئی شخص واقف اور شناسا ثابت ہوتا ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی دو بعثتیں ہیں، تمام دُنیائے اسلام میں صرف آپ (مرزا قادیانی) ہی کا ایک وجود ہے جس نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی شان کا اِظہار آپؐ کی دو بعثتوں کی حیثیت میں کیا، چنانچہ آپ (مرزا قادیانی) تحفۂ گولڑویہ کے ایڈیشن اوّل کے صفحہ:۴۹ پر تحریر فرماتے ہیں:

’’آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے دو بعث ہیں، یا بہ تبدیلِ الفاظ یوں کہہ سکتے ہیں کہ ایک بروزی رنگ میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا دوبارہ آنا دُنیا میں وعدہ دیا گیا تھا جو مسیحِ موعود اور مہدیٔ معہود کے ظہور سے پورا ہوا۔‘‘ (یہاں ’’الفضل‘‘ نے مرزا صاحب کے دو حوالے اور نقل کئے ہیں، جن کو میں اُوپر ذِکر کرچکا ہوں ...ناقل)

(’’الفضل‘‘ قادیان ۲۴؍جنوری۱۹۳۱ء، بحوالہ قادیانی مذہب ص:۲۷۵طبع پنجم)

’’الفضل‘‘ کو اِعتراف ہے کہ تیرہ سو سالہ اُمت، مرزا غلام احمد قادیانی کے اس عقیدے کی قائل تو کجا؟ اس سے واقف اور شناسا بھی نہیں تھی، لیکن مرزا غلام احمد قادیانی کا کہنا ہے کہ یہ عقیدہ قرآن کی نصِ صریح سے ثابت ہے، اور یہ کہ جو شخص اس سے انکار کرے

353

وہ اندھا، حق کا منکر اور قرآن کا منکرہے (دیکھئے حوالہ نمبر۱)۔ اب یہ فیصلہ خود اہلِ عقل کو کرنا چاہئے کہ مرزا غلام احمد قادیانی کا یہ عقیدہ اسلامی ہے یا غیراِسلامی؟ اور انہوں نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی ’’قادیانی بعثت‘‘ کا عقیدہ اپناکر سبیل المؤمنین (اہلِ ایمان کے راستے) کی پیروی کی ہے، یا وہ اس سے ہٹ کر کسی اور ہی راہ پر چل نکلے ہیں...؟

فصلِ دوم

قادیانی بعثت کے آثار و نتائج

’’محمد رسول اللہ‘‘ کا دُنیا میں دوبارہ آنا (اور پھر قادیان میں مبعوث ہوکر مرزا غلام احمد کی شکل میں ظاہر ہونا) اپنے جلو میں اور بھی چند ایک عقائد رکھتا ہے، جن کے مرزا قادیانی اور ان کی جماعت کے لوگ قائل ہیں، ان سے پہلے دُنیا کا کوئی مسلمان اس کا قائل نہ تھا، نہ اب ہے، بلکہ تمام اُمتِ مسلمہ ان عقائد کو کفرِ صریح سمجھتی رہی ہے۔

عقیدہ۱: ... خاتم النبیین کے بعد عام گمراہی:

آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم خاتم النبیین ہیں اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خاتمیت کا تقاضا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا لایا ہوا دِین رہتی دُنیا تک قائم و دائم رہے، نہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی لائی ہوئی کتابِ ہدایت دُنیا سے مفقود ہو، اور نہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی اُمت کبھی گمراہی پر جمع ہو، جیسا کہ نصوصِ قطعیہ سیے ثابت ہے۔ مرزا غلام احمد قادیانی نے ’’محمد رسول اللہ بعثتِ ثانیہ‘‘ کا رُوپ دھارنے کے لئے یہ نظریہ ایجاد کیا کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم دُنیا میں جو ہدایت لے کر آئے تھے، وہ مرزا غلام احمد قادیانی کے بعثتِ ثانیہ کا دور (۱۳۰۱ھ) شروع ہونے سے پہلے یکسر مٹ چکی تھی، دُنیا میں چاروں طرف اندھیرا ہی اندھیرا تھا، زمین میں نہ دِین تھا، نہ اِیمان تھا، نہ ہدایت تھی، نہ کتابِ ہدایت تھی، اور یہ سب کچھ دُنیا کو مرزا غلام احمد قادیانی کے بدولت دوبارہ نصیب ہوا۔ مختصر یہ کہ مرزا غلام احمد قادیانی کا بعثتِ ثانیہ کا عقیدہ تب ممکن ہے جبکہ پہلے یہ عقیدہ رکھا جائے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی مکی بعثت کا نور بجھ چکا تھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی رِسالت و نبوّت کا چراغ گل

354

ہوچکا تھا، اس آفتابِ رِسالت کے بعد بھی دُنیا میں عام تاریکی پھیل چکی تھی، اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد بھی پوری کی پوری دُنیا گمراہ ہوچکی تھی۔ یہ عقیدہ صحیح ہے یا غلط؟ بُرا ہے یا بھلا؟ اس کا فیصلہ بھی آپ عقلِ خداداد سے خود ہی کیجئے، میں صرف یہ عرض کروں گا کہ یہ عقیدہ بھی کسی زمانے میں کسی مسلمان کا نہیں رہا، نہ ہوسکتا ہے، البتہ مرزا غلام احمد قادیانی یہی عقیدہ رکھتے تھے اور وہ اسی عقیدے کی تلقین اپنی جماعت کو بھی کرتے رہے، کیونکہ یہی عقیدہ ان کے ’’ظل و بروز‘‘ کی عمارت کا بنیادی پتھر ہے، چند حوالے ملاحظہ فرمائیے:

۱: ... ’’آیت انا علیٰ ذھاب بہ لقادرون میں ۱۸۵۷ء کی طرف اشارہ ہے ...... جس کی نسبت خدائے تعالیٰ آیتِ موصوفہ بالا میں فرماتا ہے کہ جب وہ زمانہ آئے گا تو قرآن زمین پر سے اُٹھالیا جائے گا، سو ایسا ہی ۱۸۵۷ء میں مسلمانوں کی حالت ہوگئی تھی ......۔ قرآنی تعلیم ایسے لوگوں کے دِلوں سے مٹ گئی ہے کہ گویا قرآن آسمان پر اُٹھالیا گیا ہے، وہ ایمان جو قرآن نے سکھلایا تھا اس سے لوگ بے خبر ہیں، وہ عرفان جو قرآن نے بخشا تھا اس سے لوگ غافل ہوگئے ہیں۔ ہاں یہ سچ ہے کہ قرآن پڑھتے ہیں مگر قرآن ان کے حلق سے نیچے نہیں اُترتا، انہیں معنوں سے کہا گیا ہے کہ آخری زمانے میں قرآن آسمان پر اُٹھایا جائے گا۔ پھر انہیں حدیثوں میں لکھا ہے کہ پھر دوبارہ قرآن کو زمین پر لانے والا ایک مرد فارسی الاصل ہوگا (یعنی مرزا غلام احمد قادیانی ...ناقل) یہ حدیث درحقیقت اسی زمانے کی طرف اشارہ کرتی ہیں جو آیت انا علیٰ ذھاب بہ لقادرون میں اشارۃً بیان کیا گیا ہے۔‘‘

(ازالہ خورد قادیان ص:۷۲۲، ۷۲۷، رُوحانی خزائن ج:۳ ص:۴۸۹تا ۴۹۲)

مرزا غلام احمد قادیانی کے منجھلے صاحب زادے مرزا بشیر احمد ایم-اے لکھتے ہیں:

۲: ... ’’جس طرح ہر ایک دن کے بعد رات کا آنا ضروری

355

ہے، اسی طرح ہر ایک نبی کے بعد، جس کے زمانے میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے دُنیا پر نور کا نزول ہوتا ہے، ایسے زمانے کا آنا بھی ضروری ہے جو اندھیرے سے مشابہت رکھتا ہو۔‘‘

(کلمۃ الفصل ص:۹۶)

۳: ... ’’مسیحِ موعود (مرزا غلام احمد قادیانی) اس زمانے میں مبعوث کیا گیا جب دُنیا میں چاروں طرف اندھیرا چھاگیا تھا، اور بر و بحر میں ایک طوفانِ عظیم برپا ہو رہا تھا، مسلمان جن کو خیرالامت کا خطاب ملا تھا نبیٔ عربی کی تعلیم سے کوسوں دُور جاپڑے تھے ...... تب یکایک آسمان پر سے ظلمت کا پردہ پھٹا اور خدا کا ایک نبی (مرزا غلام احمد قادیانی) فرشتوں کے کاندھوں پر ہاتھ رکھے ہوئے زمین پر اُترا۔‘‘

(کلمۃ الفصل ص:۱۰۰، ۱۰۱)

۴: ... ’’جیسے عیسیٰ کے زمانے کے لوگ باوجود تورات کے حامل ہونے کے درحقیقت موسیٰ کے دِین کے پیرو نہ رہے تھے اور جیسے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے کے عیسائی صرف نام کے عیسائی تھے، ورنہ عیسیٰ ان سے بیزار تھا اور وہ عیسیٰ سے بیزار۔ اسی طرح مسیحِ موعود (مرزا غلام احمد قادیانی) کا وقت پانے والے مدعیانِ اسلام اس مذہب سے دُور جاپڑے تھے جس مذہب کو فاران کی چوٹیوں پر سے اُترنے والا آج سے تیرہ سو سال پہلے دُنیا میں لایا۔‘‘

(کلمۃ الفصل ص:۱۰۲)

۵: ... ’’سچ ہے اگر مسلمان اسلام پر قائم ہوتے تو کیا ضرورت تھی کہ اللہ تعالیٰ مسیحِ موعود (مرزا غلام احمد قادیانی) کو بھیجتا مگر نہیں! اللہ تعالیٰ جو دِلوں کے بھیدوں سے واقف ہے خوب جانتا تھا کہ ایمان دُنیا سے مفقود ہے اور اِسلام صرف زبانوں تک محدود۔ اسی طرف یہ حدیث اشارہ کرتی ہے ...... کہ ایک وقت آئے گا جب

356

ایمان دُنیا سے اُٹھ جائے گا تب اللہ تعالیٰ ایک فارسی النسل کو کھڑا کرے گا تاکہ وہ نئے سرے سے لوگوں کو اِسلام پر قائم کرے ...... ایمان واقعی ثریا پر چلا گیا تھا، مسیحِ موعود (مرزا) اسے پھر دُنیا میں لایا۔‘‘

(کلمۃ الفصل ص:۱۰۲)

۶: ... ’’ہم کہتے ہیں کہ قرآن کہاں موجود ہے؟ اگر قرآن موجود ہوتا تو کسی کے آنے کی کیا ضرورت تھی، مشکل تو یہی ہے کہ قرآن دُنیا سے اُٹھ گیا ہے، اسی لئے تو ضرورت پیش آئی کہ محمد رسول اللہ کو بروزی طور پر (یعنی مرزا غلام احمد قادیانی کی شکل میں) دوبارہ دُنیا میں مبعوث کرکے آپ پر قرآن شریف اُتارا جاوے۔‘‘

(کلمۃ الفصل ص:۱۷۳)

الغرض دُوسری بعثت کے عقیدے سے پہلے یہ عقیدہ ضروری ٹھہرا ہے کہ رِسالتِ محمدی کا آفتاب دُنیا کے مطلع سے ڈُوب چکا تھا، اس کی کوئی روشنی باقی نہ تھی، نہ ایمان تھا، نہ اسلام تھا، نہ قرآن تھا، چاروں طرف بس اندھیرا ہی اندھیرا تھا، یہ سب کچھ مرزا قادیانی کی بعثت کے طفیل دوبارہ ملا۔

عقیدہ۲: ... پہلی اور دُوسری بعثت کا الگ الگ دور!

جب مرزا غلام احمد قادیانی نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی دو الگ الگ بعثتیں ذکر کیں، ایک مکی بعثت بشکل محمد اور دُوسری قادیانی بعثت بشکل غلام احمد، تو لامحالہ ان دونوں بعثتوں کا دور بھی الگ الگ ہوگا، چنانچہ مرزا غلام احمد قادیانی کا عقیدہ ہے کہ چودھویں صدی سے دُوسری بعثت کا دور شروع ہوتا ہے اور یہ کہ تیرھویں صدی کے آخر میں پہلی بعثت کی تمام برکات ختم ہوگئی تھیں، حتیٰ کہ قرآن، ایمان اور اِسلام سبھی کچھ اُٹھ چکا تھا، اور یہ سب کچھ اُمت کو دُوسری بعثت کے دم قدم سے دوبارہ نصیب ہوا۔ اس سے ازخود یہ نتیجہ نکل آتا ہے کہ تیرھویں صدی پر مکی بعثت کا دور ختم ہوچکا، اور اَب چودھویں صدی سے قادیانی بعثت کا

357

دور شروع ہوتا ہے، لہٰذا انسانیت کی نجات و فلاح کے لئے مکی بعثت کالعدم قرار پاتی ہے، اور اِسلام کا صرف وہی ایڈیشن معتبر، قابلِ عمل اور موجبِ نجات ٹھہرتا ہے، جس پر قادیانی بعثت کی مہر ہو، چنانچہ مرزا بشیر احمد قادیانی لکھتے ہیں:

’’اور پھر ہمیں تو یہ سمجھ میں نہیں آتا کہ وہ اسلام کیسا اسلام ہے جو اِنسان کو نجات نہیں دِلاسکتا، کیونکہ ہم حضرت مسیحِ موعود (مرزا غلام احمد) کے صریح الفاظ میں لکھا ہوا پاتے ہیں کہ میرے ماننے کے بغیر نجات نہیں، جیسا کہ آپ اربعین نمبر۳ صفحہ:۳۲ (خزائن ج:۱۷ ص:۴۲۱) پر تحریر فرماتے ہیں کہ:

’’ا یسا ہی یہ آیت واتخذوا من مقام ابراہیم مصلیٰ اس طرف اشارہ کرتی ہے کہ جب اُمتِ محمدیہ میں بہت فرقے ہوجائیں گے، تب آخری زمانے میں ایک ابراہیم (مرزا غلام احمد) پیدا ہوگا، اور ان سب فرقوں میں سے وہ فرقہ نجات پائے گا کہ اس ابراہیم کا پیرو ہوگا۔‘‘

پھر براہین احمدیہ حصہ پنجم ص:۸۲ (خزائن ج:۲۱ ص:۱۰۸، ۱۰۹) میں آپ تحریر فرماتے ہیں کہ:

’’انہی دنوں میں سے ایک فرقے کی بنیاد ڈالی جاوے گی اور خدا اپنے منہ سے اس فرقے کی حمایت کے لئے ایک قرنا بجائے گا اور اس قرنا کی آواز پر ہر ایک سعید اس فرقے کی طرف کھنچا آئے گا، بجز ان لوگوں کے جو شقیٔ ازلی ہیں جو دوزخ کے بھرنے کے لئے پیدا کئے گئے ہیں۔‘‘

ایسا ہی اِشتہار ’’حسین کامی سفیر رُوم‘‘ میں آپ ’’مرزا غلام احمد قادیانی‘‘ لکھتے ہیں کہ:

’’خدا نے یہی ارادہ کیا ہے کہ جو مسلمانوں میں سے مجھ

358

سے الگ رہے گا وہ کاٹا جاوے گا۔‘‘

(مجموعہ اشتہارات ج:۲ ص:۴۱۶ طبع لندن)

پھر ایک حضرت مسیحِ موعود (مرزا غلام احمد) کا اِلہام ہے جو آپ نے اپنے اشتہار معیار الاخیار مؤرخہ ۲۵؍مئی ۱۹۰۰ء صفحہ:۸ پر درج کیا ہے اور وہ یہ ہے:

’’جو شخص تیری پیروی نہیں کرے گا اور تیری بیعت میں داخل نہیں ہوگا اور تیرا مخالف رہے گا، وہ خدا اور رسول کی نافرمانی کرنے والا اور جہنمی ہے۔‘‘

(تذکرہ ص:۳۳، مجموعہ اشتہارات ج:۳ ص:۲۷۵)

اِختصار کے طور پر اتنے حوالے دئیے جاتے ہیں ورنہ حضرت مسیحِ موعود (مرزا غلام احمد) نے بیسیوں جگہ اس مضمون کو اَدا کیا ہے۔‘‘

(کلمۃ الفصل ص:۱۲۸، ۱۲۹)

خلاصہ یہ کہ مرزا غلام احمد قادیانی کے دو بعثتوں والے عقیدے کا ایک اہم ترین نتیجہ یہ ہے کہ تیرھویں صدی کے بعد آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی رِسالت و نبوّت پر اِیمان لانا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی شریعت کی پیروی کرنا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ہدایات و اِشارات پر عمل کرنا موجبِ نجات نہیں، بلکہ یہ ساری چیزیں کالعدم، لغو اور بے کار ہیں جب تک کہ مرزا قادیانی پر اِیمان نہ لایا جائے، کیونکہ تیرھویں صدی کے بعد مکی رِسالت و نبوّت کا دور نہیں رہا، بلکہ قادیانی رِسالت و نبوّت کا دور شروع ہوچکا ہے اور اس دور میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی شریعت پر عمل کرنے والوں کی بھی وہی حیثیت ہوگی جو رِسالتِ محمدیہ کے دور میں حضرت موسیٰ اور حضرت عیسیٰ علیہما السلام کی شریعت پر عمل کرنے والوں کی ہے، یعنی مرزا بشیر احمد کے الفاظ میں:

’’ہر ایک ایسا شخص جو موسیٰ کو تو مانتا ہے مگر عیسیٰ کو نہیں مانتا، یا عیسیٰ کو تو مانتا ہے مگر محمد کو نہیں مانتا، اور یا محمد کو مانتا ہے پر مسیحِ موعود کو

359

نہیں مانتا وہ نہ صرف کافر بلکہ پکا کافر اور دائرۂ اسلام سے خارج ہے۔‘‘

(کلمۃ الفصل ص:۱۱۰)

یہ تو قادیانی عقیدہ ہوا، اس کے برعکس اسلامی عقیدہ یہ ہے کہ رِسالتِ محمدیہ کا دور تیرھویں صدی تک محدود نہیں، بلکہ قیامت تک ہے، اس لئے ایمان و کفر کا معیار آج بھی وہی ہے جو چودھویں صدی سے پہلے تھا، اور یہی معیار قیامت تک قائم رہے گا۔ اب اہلِ عقل کو غور کرنا چاہئے کہ کیا قادیانی عقیدے کے مطابق رِسالتِ محمدیہ (یا مرزا قادیانی کی اِصطلاح میں پہلی بعثت) منسوخ اور کالعدم ہوجاتی ہے یا نہیں؟

عقیدہ۳: ... جامع کمالاتِ محمدیہ:

جب مرزا غلام احمد قادیانی اور ان کی جماعت کا یہ عقیدہ ہے کہ مرزا غلام احمد قادیانی، آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی دُوسری بعثت کا مظہر ہونے کی بنا پر بعینہٖ ’’محمد رسول اللہ‘‘ بن گئے ہیں تو یہ عقیدہ بھی لازم ٹھہرا کہ وہ تمام اوصاف و کمالات جو پہلی بعثت میں حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ذاتِ گرامی میں پائے جاتے تھے وہ اب بروزی رنگ میں، پورے کے پورے جناب مرزا غلام احمد قادیانی کے نام رجسٹرڈ ہوچکے ہیں، جو منصب ومقام کہ تیرھویں صدی تک محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے مخصوص تھا، وہ اب مرزا غلام احمد قادیانی کو تفویض کیا جاچکا ہے، اور جس مسندِ رِسالت پر پہلے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم جلوَہ افروز تھے، اب اس پر جناب مرزا غلام احمد قادیانی رونق افروز ہیں۔ مرزا قادیانی اور ان کی جماعت اس عقیدے کا بھی برملا اِظہار کرتی ہے، ان کے بے شمار حوالوں میں سے چند حوالے درج ذیل ہیں، مرزا غلام احمد قادیانی لکھتے ہیں:

’’جبکہ میں بروزی طور پر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ہوں اور بروزی رنگ میں تمام کمالاتِ محمدی مع نبوّتِ محمدیہ کے میرے آئینۂ ظلیت میں منعکس ہیں تو پھر کونسا الگ انسان ہوا، جس نے

360

علیحدہ طور پر نبوّت کا دعویٰ کیا ہے۔‘‘

(اشتہار ایک غلطی کا اِزالہ، خزائن ج:۱۸ ص:۲۱۲)

دُوسری جگہ لکھتے ہیں:

’’مجھے بروزی صورت نے نبی اور رسول بنایا ہے اور اسی بنا پر خدا نے بارہا میرا نام نبی اللہ اور رسول اللہ رکھا مگر بروزی صورت میں، میرا نفس درمیان نہیں ہے، بلکہ محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم ہے، اسی لحاظ سے میرا نام محمد اور اَحمد ہوا، پس نبوّت اور رِسالت کسی دُوسرے کے پاس نہیں گئی، محمد کی چیز محمد کے پاس ہی رہی۔‘‘

(ایک غلطی کا اِزالہ، رُوحانی خزائن ج:۱۸ ص:۲۱۶)

مرزا غلام احمد قادیانی کی جماعت کا ترجمان ’’الفضل‘‘ لکھتا ہے:

’’پس جبکہ خدا تعالیٰ کے نزدیک حضرت مسیحِ موعود (مرزا غلام احمد قادیانی) کا وجود خاص آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا ہی وجود ہے، یعنی خدا کے دفتر میں حضرت مسیحِ موعود اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم آپس میں کوئی دُوئی اور مغایرت نہیں رکھتے، بلکہ ایک ہی شان، ایک ہی مرتبہ، ایک ہی منصب اور ایک ہی نام رکھتے ہیں، گویا لفظوں میں باوجود دو ہونے کے ایک ہی ہیں ......‘‘

(اخبار ’’الفضل‘‘ قادیان، جلد نمبر:۳ شمارہ نمبر:۳۷، مؤرخہ ۱۶؍ستمبر ۱۹۱۵ء، بحوالہ قادیانی مذہب ص:۲۷۴)

’’گزشتہ مضمون مندرجہ ’’الفضل‘‘ مؤرخہ ۱۶؍ستمبر میں میں نے محض بفضلِ اِلٰہی اس بات کو پایۂ ثبوت تک پہنچایا ہے کہ حضرت مسیحِ موعود (غلام احمد قادیانی) باعتبار نام، کام، آمد، مقام، مرتبہ کے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا ہی وجود ہیں، یا یوں کہو کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم جیسا کہ (دُنیا کے) پانچویں ہزار میں

361

مبعوث ہوئے تھے، ایسا ہی اس وقت جمیع کمالات کے ساتھ مسیحِ موعود کی بروزی صورت میں مبعوث ہوئے ہیں۔‘‘

(’’الفضل‘‘ مؤرخہ ۲۸؍اکتوبر ۱۹۱۵ء، بحوالہ قادیانی مذہب ص:۲۷۷)

ان حوالوں سے قادیانی عقیدے کا منشا بخوبی واضح ہوجاتا ہے کہ ان کے نزدیک مرزا غلام احمد قادیانی کے بعینہٖ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہونے کے معنی یہ ہیں کہ مرزا غلام احمد قادیانی کو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے تمام کمالات حاصل ہیں اور چودھویں صدی سے ’’محمد رسول اللہ‘‘ کی مسندِ رِسالت پر مرزا غلام احمد قادیانی متمکن ہیں۔ کیا کوئی مسلمان ایک لمحے کے لئے بھی اس عقیدے کو تسلیم کرسکتا ہے...؟

فصلِ سوم

خصوصیاتِ نبوی اور مرزا غلام احمد قادیانی

اور یہ تو صرف اِجمالی عقیدہ تھا کہ ’’مرزا غلام احمد قادیانی عین محمد ہیں‘‘ اس لئے انہیں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا نام اور کام، مقام و منصب، شرف و مرتبہ اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوّت و کمالاتِ نبوّت سبھی کچھ حاصل ہے، جو کچھ پہلے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس تھا، اب ’’بعثتِ ثانیہ‘‘ کے طفیل وہ سب کچھ مرزا غلام احمد قادیانی کے پاس ہے۔ آئیے! اب یہ دیکھیں کہ مرزا غلام احمد قادیانی اور ان کی جماعت نے بعثتِ ثانیہ کے پردے میں مرزا قادیانی کو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے کمالات و خصوصیات کس فیاضی سے عطا کئے ہیں۔

عقیدہ۱: ... قرآنی عقیدہ یہ ہے کہ آیت ’’مُحَمَّدٌ رَّسُوْلُ اللہِ وَالَّذِیْنَ مَعَہٗ‘‘ کا مصداق آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ہیں، مگر قادیانی عقیدہ یہ ہے کہ یہ آیت مرزا قادیانی اور ان کی جماعت کی تعریف و توصیف میں نازل ہوئی۔

(تذکرہ طبع دوم ص:۹۷)

عقیدہ۲: ... قرآنی عقیدہ یہ ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو تمام انسانیت کا رسول بناکر بھیجا ہے، مگر قادیانی عقیدہ ہے کہ ’’چودھویں صدی سے تمام انسانیت کا رسول

362

مرزا غلام احمد ہے۔‘‘

(تذکرہ ص:۳۶۰)

مرزا بشیر احمد قادیانی ایم-اے لکھتے ہیں:

’’ان سب لوگوں کا (یعنی انبیائے سابقین کا) کام خصوصیاتِ زمانی اور مکانی کی وجہ سے ایک تنگ دائرے میں محدود تھا، لیکن مسیحِ موعود (مرزا غلام احمد قادیانی) چونکہ تمام دُنیا کی ہدایت کے لئے مبعوث کیا گیا تھا، اس لئے اللہ تعالیٰ نے اسے ہرگز نبوّت کا خلعت نہیں پہنایا جب تک اس نے نبی کریمؐ کی اِتباع میں چل کر آپ کے تمام کمالات کو حاصل نہ کرلیا۔‘‘

(کلمۃ الفصل ص:۱۱۴)

خود مرزا غلام احمد قادیانی، حضرت عیسیٰ علیہ السلام پر اپنی فوقیت و برتری بیان کرتے ہوئے کہتا ہے:

’’مجھے وہ قوّتیں عنایت کی گئیں جو تمام دُنیا کی اِصلاح کے لئے ضروری تھیں تو پھر اس امر میں کیا شک ہے کہ حضرت مسیح علیہ السلام کو وہ فطرتی طاقتیں نہیں دی گئیں جو مجھے دی گئیں، کیونکہ وہ ایک خاص قوم کے لئے آئے تھے، اور اگر وہ میری جگہ ہوتے تو اپنی اس فطرت کی وجہ سے وہ کام انجام نہ دے سکتے جو خدا کی عنایت نے مجھے انجام دینے کی قوّت دی۔‘‘

(حقیقۃ الوحی ص:۱۵۳، خزائن ج:۲۲ ص:۱۵۷)

عقیدہ۳: ... قرآنی عقیدہ یہ ہے کہ ساری دُنیا کے لئے ’’بشیر و نذیر‘‘ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی ذاتِ گرامی ہے، لیکن قادیانی عقیدہ یہ ہے کہ اب دُنیا کا بشیر و نذیر مرزا غلام احمد ہے۔

(تذکرہ ص:۱۵۴)

عقیدہ۴: ... قرآنی عقیدہ ہے کہ رحمۃ للعالمین آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ہیں،

363

مگر قادیانی عقیدہ یہ ہے کہ اب رحمۃ للعالمین مرزا غلام احمد قادیانی ہے۔

(تذکرہ ص:۸۳، ۲۶۹، ۶۳۴طبع دوم، ص:۸، ۳۸۵طبع سوم)

مرزا غلام احمد قادیانی کی جماعت کا ترجمان ’’الفضل‘‘ لکھتا ہے:

’’یہ مسلمان کیا منہ لے کر دُوسرے مذاہب کے بالمقابل اپنا ِدین پیش کرسکتے ہیں، تاوقتیکہ وہ مسیحِ موعود (مرزا غلام احمد قادیانی) کی صداقت پر اِیمان نہ لائیں، جو فی الحقیقت وہی ختم المرسلین تھا کہ خدائی وعدے کے مطابق دوبارہ آخرین میں مبعوث ہوا، وہ وہی فخرِ اوّلین و آخرین ہے جو آج سے تیرہ سو برس پہلے رحمۃ للعالمین بن کر آیا تھا۔‘‘

(’’الفضل‘‘ مؤرخہ ۲۶؍ستمبر ۱۹۱۵ء، بحوالہ قادیانی مذہب ص:۲۶۴)

عقیدہ۵: ... قرآنی عقیدہ یہ ہے کہ نجات صرف آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی پیروی میں ممکن ہے، اور قادیانی عقیدے کے مطابق اب صرف مرزا قادیانی کی تعلیم کی پیروی ہی موجبِ نجات ہے۔ مرزا غلام احمد قادیانی لکھتا ہے:

’’چونکہ میری تعلیم میں امر بھی ہے اور نہی بھی، اور شریعت کے ضروری اَحکام کی تجدید ہے اس لئے خدا تعالیٰ نے میری تعلیم کو اور اس وحی کو جو میرے پر ہوتی ہے، فلک یعنی کشتی کے نام سے موسوم کیا ...... اب دیکھو خدا نے میری وحی اور میری تعلیم اور میری بیعت کو نوح کی کشتی قرار دیا اور تمام انسانوں کے لئے اس کو مدارِ نجات ٹھہرایا، جس کی آنکھیں ہوں دیکھے اور جس کے کان ہوں سنے۔‘‘

(حاشیہ اربعین نمبر۴ ص:۶، خزا ئن ج:۱۷ص:۴۳۵)

عقیدہ۶: ... قرآنی عقیدہ ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم خاتم النبیین ہیں، اور قادیانی عقیدے کے مطابق اب یہ منصب، بروزی طور پر غلام احمد قادیانی کا ہے۔،

مرزا غلام احمد قادیانی لکھتا ہے:

۱: ... ’’میں بارہا بتلا چکا ہوں کہ میں بموجب آیت

364

وآخرین منہم لما یلحقوا بھم بروزی طور پر وہی نبی خاتم الانبیاء ہوں۔‘‘

(ایک غلطی کا اِزالہ، خزائن ج:۱۸ ص:۲۱۲)

۲: ... ’’پس چونکہ میں اس کا رسول، یعنی فرستادہ ہوں، مگر بغیر کسی نئی شریعت اور نئے دعوے اور نئے نام کے، بلکہ اسی نبی کریم خاتم الانبیاء کا نام پاکر اور اسی میں ہوکر اور اسی کا مظہر بن کر آیا ہوں۔‘‘

(نزول المسیح ص:۲، خزائن ج:۱۸ ص:۳۸۰، ۳۸۱)

۳: ... ’’ہلاک ہوگئے وہ جنہوں نے ایک برگزیدہ رسول (مرزا غلام احمد قادیانی) کو قبول نہ کیا، مبارک وہ جس نے مجھے پہچانا، میں خدا کی سب راہوں میں سے آخری راہ ہوں، اور میں اس کے سب نوروں میں سے آخری نور ہوں، بدقسمت ہے وہ جو مجھے چھوڑتا ہے، کیونکہ میرے بغیر سب تاریکی ہے۔‘‘

(کشی نوح ص:۵۶، خزائن ج:۱۹ ص:۶۱)

عقیدہ۷: ... قرآنِ کریم کے مطابق صاحبِ کوثر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ہیں، اور قادیانی عقیدہ یہ ہے کہ آیت ’’اِنَّا اَعْطَیْنٰـکَ الْکَوْثَرَ‘‘ مرزا غلام احمد قادیانی کے حق میں ہے۔

(حقیقۃ الوحی ص:۱۰۲، خزائن ج:۲۲ ص:۱۰۲)

عقیدہ۸: ... قرآنی عقیدہ ہے کہ صاحبِ اِسراء رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہیں، مگر قادیانی عقیدہ ہے کہ صاحبِ اِسراء بھی مرزا غلام احمد قادیانی ہیں، کیونکہ آیت ’’سُبْحٰنَ الَّذِیْ اَسْرٰی بِعَبْدِہٖ‘‘ ان پر نازل ہوئی ہے۔

(تذکرہ ص:۸۱، طبع دوم، طبع سوم ص:۷۹، ۲۷۵، ۶۳۵)

عقیدہ۹: ... مسلمانوں کا عقیدہ ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو معراج بحالتِ بیداری جسمِ اطہر کے ساتھ ہوئی تھی، چنانچہ خود مرزا قادیانی نے بھی اِعتراف کیا ہے کہ تقریباً تمام صحابہؓ کا اس پر اِجماع تھا، وہ لکھتا ہے:

’’آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے رفعِ جسمی کے بارے

365

میں یعنی اس بارے میں کہ وہ جسم کے سمیت شبِ معراج میں آسمان کی طرف اُٹھائے گئے تھے، تقریباً تمام صحابہؓ کا یہی اِعتقاد تھا، جیسا کہ مسیح کے اُٹھائے جانے کی نسبت اس زمانے کے لوگ اعتقاد رکھتے ہیں، یعنی جسم کے ساتھ اُٹھائے جانا اور پھر جسم کے ساتھ اُترنا۔‘‘

(اِزالہ اوہام ص:۲۸۹، خزائن ج:۳ ص:۲۴۷)

صحابہؓ کے دور سے آج تک مسلمانوں کا اسی پر اِجماع چلا آتا ہے، لیکن قادیانیوں کا عقیدہ ہے کہ ’’معراج اس جسم کثیف کے ساتھ نہیں تھا، بلکہ وہ نہایت اعلیٰ درجے کا کشف تھا۔‘‘ اور یہ کہ ’’مرزا خود بھی اس قسم کے کشفوں میں صاحبِ تجربہ ہیں۔‘‘

(حاشیہ اِزالہ اوہام ص:۴۷،۴۸، خزائن ج:۳ ص:۱۲۶)

گویا معراجِ جسمانی تو کجا؟ معراجِ کشفی بھی مرزا غلام احمد قادیانی کے نزدیک آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی خصوصیت نہیں، بلکہ مرزا غلام احمد قادیانی کو بھی اس کا بارہا تجربہ ہوچکا ہے۔

عقیدہ۱۰: ... قرآنی عقیدہ ہے کہ قابَ قوسین کا مقام آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے مختص ہے، مگر قادیانی عقیدہ ہے کہ یہ منصب مرزا غلام احمد قادیانی کو حاصل ہے۔

(تذکرہ ص:۱۷۰ طبع دوم، طبع سوم ص:۳۹۵)

عقیدہ۱۱: ... قرآنی عقیدہ ہے کہ اللہ تعالیٰ اور اس کے فرشتے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر دُرود بھیجتے ہیں، مگر قادیانی عقیدہ ہے کہ ’’خدا عرش پر مرزا غلام احمد قادیانی کی تعریف کرتا ہے اور اس پر دُرود بھیجتا ہے۔‘‘

(تذکرہ ص:۶۵۹، اربعین نمبر۲ ص:۳، ۱۵، خزائن ج:۱۷ص:۳۴۹)

عقیدہ۱۲: ... مسلمانوں کا عقیدہ ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا وجودِ گرامی باعثِ تخلیقِ کائنات ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا وجودِ باوجود نہ ہوتا تو کائنات وجود میں نہ آتی، لیکن قادیانیوں کا عقیدہ ہے کہ کائنات صرف مرزا غلام احمد قادیانی کی خاطر پیدا کی گئی ہے، وہ نہ ہوتے تو نہ آسمان و زمین وجود میں آتے، نہ کوئی نبی ولی پیدا ہوتا، چنانچہ مرزا غلام

366

احمد قادیانی کا اِلہام ہے:

’’لولَاک لما خلقت الأفلاک، یعنی اگر میں تجھے پیدا نہ کرتا تو آسمانوں کو پیدا نہ کرتا۔‘‘

(حقیقۃ الوحی ص:۹۹، خزائن ج:۲۲ ص:۱۰۲)

عقیدہ۱۳: ... اسلامی عقیدہ ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم افضل البشر اور سیّد الانبیاء ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا مرتبہ تمام انبیائے کرام علیہم السلام سے اعلیٰ و ارفع ہے، لیکن قادیانی عقیدہ یہ ہے کہ مرزا غلام احمد قادیانی تمام انبیاء سے افضل ہیں، چنانچہ مرزا قادیانی کا اِلہام ہے:

’’آسمان سے کئی تخت اُترے، پر تیرا تخت سب سے اُوپر بچھایا گیا۔‘‘

(حقیقۃ الوحی ص:۸۹، خزائن ج:۲۲ ص:۹۲)

اور اسی بنا پر مرزا غلام احمد قادیانی یہ ترانہ گاتے ہیں:

  1. انبیاء گرچہ بود اند بسے

    من بعرفان نہ کمترم زکسے

  2. آنچہ داد است ہر نبی را جام

    داد آں جام را مرا بہ تمام

  3. کم نیم زاں ہمہ بروئے یقین

    ہر کہ گوید دروغ ہست لعین

(نزولِ مسیح ص:۹۹،۱۰۰، خزائن ج:۱۸ ص:۴۷۷، ۴۷۸)

ترجمہ: ... ’’انبیاء اگرچہ بہت ہوئے ہیں، مگر میں عرفان میں کسی سے کم نہیں ہوں، جو جام کہ ہر نبی کو دِیا گیا ہے، وہ مجھے پورے کا پورا دے دیا گیا ہے، میں از رُوئے یقین ان میں سے کسی سے کم نہیں ہوں، جو شخص جھوٹ کہے وہ لعنتی ہے۔‘‘

اور اسی بنا پر مرزا غلام احمد قادیانی کہتے ہیں:

367
  1. ’’منم مسیح زمان ومنم کلیم خدا

    منم محمد و احمد کہ مجتبیٰ باشد‘‘

(تریاق القلوب ص:۳، خزائن ج:۱۵ ص:۱۳۴)

  1. زندہ شد ہر نبی بآمدنم

    ہر رسولے نہاں بہ پیراہنم

(نزول المسیح ص:۱۰۰، خزائن ج:۱۸ص:۴۷۸)

  1. اینک منم کہ حسبِ بشارات آمدم

    عیسیٰ کجاست تا بہ نہد بمنبرم

(اِزالہ ص:۱۵۸، خزائن ج:۳ ص:۱۸۰)

عقیدہ۱۴: ... اسلامی عقیدہ ہے کہ صاحبِ مقامِ محمود آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ہیں، اور قادیانیوں کے نزدیک مقامِ محمود مرزا غلام احمد قادیانی کو عطا ہوا ہے، چنانچہ مرزا غلام احمد قادیانی کا اِلہام ہے:’’اراد اللہ ان یبعثک مقاما محمودًا‘‘ ۔

(حقیقۃ الوحی ص:۱۰۲، خزائن ج:۲۲ ص:۱۰۵)

عقیدہ۱۵: ... مسلمانوں کا عقیدہ ہے کہ اگر حضرت موسیٰ علیہ السلام آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں ہوتے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہی کی پیروی کرتے جیسا کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام بعد اَز نزول آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی پیروی کریں گے، اور قادیانیوں کے نزدیک اب یہ مرتبہ مرزا غلام احمد قادیانی کو حاصل ہے، ’’الفضل‘‘ لکھتا ہے:

’’حضرت مسیحِ موعود (مرزا غلام احمد قادیانی) کے مرتبے کی نسبت مولانا (محمد احسن امروہوی قادیانی) لکھتے ہیں کہ پہلے انبیاء اُولوالعزم میں بھی اس عظمتِ شان کا کوئی شخص نہیں گزرا۔ حدیث میں تو ہے کہ اگر موسیٰ و عیسیٰ زندہ ہوتے تو آنحضرتؐ کے اِتباع کے بغیر ان کو چارہ نہ ہوتا (حدیث میں حضرت موسیٰ علیہ السلام کا نام مذکور ہے، حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا نہیں، کیونکہ وہ تو

368

زندہ ہیں، اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی پیروی بھی کریں گے ...ناقل) مگر میں کہتا ہوں کہ مسیحِ موعود کے وقت میں بھی موسیٰ و عیسیٰ ہوتے تو مسیحِ موعود (مرزا قادیانی) کی ضرور اِتباع کرنی پڑتی۔‘‘

(اخبار ’’الفضل‘‘ ۱۸؍مارچ ۱۹۱۶ء، بحوالہ قادیانی مذہب ص:۳۲۵)

عقیدہ۱۶: ... قرآنِ کریم نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی اَزواجِ مطہرات رضی اللہ عنہن کو ’’اُمت کی مائیں‘‘ فرمایا ہے: ’’وَاَزْوَاجُہٗ اُمَّھَاتُھُمْ‘‘ (الاحزاب) لیکن قادیانی مذہب میں یہ لقب مرزا غلام احمد قادیانی کی اہلیہ محترمہ کا ہے۔

عقیدہ۱۷: ... مسلمانوں کے نزدیک محمدِ عربی صلی اللہ علیہ وسلم کا لایا ہوا قرآن معجزہ ہے، اور قادیانیوں کے نزدیک مرزا غلام احمد قادیانی کی وحی کے علاوہ ان کی تصنیف اعجازِ احمدی، اعجاز المسیح اور خطبہ اِلہامیہ بھی معجزہ ہے۔

اس تفصیل سے معلوم ہوگیا ہوگا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے مخصوص کمالات میں سے ایک بھی ایسا نہیں جو مرزا غلام احمد قادیانی اور ان کی جماعت نے مرزا قادیانی پر چسپاں نہ کردیا ہو۔ کیوں؟ اس لئے کہ مرزا غلام احمد قادیانی، آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی دُوسری بعثت کا مظہر ہونے کی وجہ سے اب چودھویں صدی کے محمد رسول اللہ ہیں۔

عقیدہ۱۸: ... یہی وجہ ہے کہ مسلمان تو جب کلمۂ طیبہ ’’لا اِلٰہ اِلَّا اللہ محمد رسول اللہ‘‘ پڑھتے ہیں تو ’’محمد رسول اللہ‘‘ سے ان کی مراد آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی ذاتِ گرامی ہوتی ہے، لیکن قادیانی جب یہی کلمہ پڑھتے ہیں تو ’’محمد رسول اللہ‘‘ سے صرف بعثتِ اُولیٰ کے محمد رسول اللہ مراد نہیں ہوتے بلکہ دُوسری بعثت، قادیانی بعثت کے محمد رسول اللہ یعنی مرزا غلام احمد قادیانی بھی مراد ہوتے ہیں۔ اور یہ اِلزام نہیں، بلکہ مرزا قادیانی کی بعثتِ ثانیہ کا منطقی نتیجہ ہے۔ چنانچہ مرزا بشیر احمد قادیانی ایم-اے لکھتے ہیں:

’’علاوہ اس کے اگر ہم بفرضِ محال یہ بات مان بھی لیں کہ کلمہ شریف میں نبی کریمؐ کا اسم مبارک اس لئے رکھا گیا ہے کہ آپ آخری نبی ہیں تو تب بھی کوئی حرج واقعی نہیں ہوتا، اور ہم کو نئے کلمے

369

کی ضرورت پیش نہیں آتی کیونکہ مسیحِ موعود (مرزا غلام احمد قادیانی) نبی کریمؐ سے کوئی الگ چیز نہیں ہے جیسا کہ وہ خود فرماتا ہے: ’’صار وجودی وجودہ‘‘ نیز ’’من فرق بینی وبین المصطفیٰ فما عرفنی وما رایٰ‘‘ اور یہ اس لئے ہے کہ اللہ تعالیٰ کا وعدہ تھا کہ وہ ایک دفعہ اور خاتم النبیین کو دُنیا میں مبعوث کرے گا، جیسا کہ آیت آخرین منہم سے ظاہر ہے، پس مسیحِ موعود (مرزا غلام احمد) خود محمد رسول اللہ ہے، جو اِشاعتِ اسلام کے لئے دوبارہ دُنیا میں تشریف لائے، اس لئے ہم کو کسی نئے کلمے کی ضرورت نہیں، ہاں! اگر محمد رسول اللہ کی جگہ کوئی اور آتا تو ضرورت پیش آتی‘‘

(کلمۃ الفصل ص:۱۵۸)

عقیدہ۱۹: ... چونکہ مسلمان آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے قادیان میں دوبارہ آنے کے قائل نہیں اور مرزا غلام احمد قادیانی کو ’’محمد رسول اللہ‘‘ تسلیم نہیں کرتے اس لئے قادیانیوں کے نزدیک وہ قادیانی کلمے کے منکر ہونے کی وجہ سے کافر اور دائرۂ اسلام سے خارج ہیں، مرزا بشیر احمد قادیانی لکھتے ہیں:

’’اب معاملہ صاف ہے، اگر نبی کریم کا انکار کفر ہے تو مسیحِ موعود (مرزا غلام احمد قادیانی) کا انکار بھی کفر ہونا چاہئے، کیونکہ مسیحِ موعود نبی کریم سے الگ کوئی چیز نہیں ہے، بلکہ وہی ہے۔ اور اگر مسیحِ موعود کا منکر کافر نہیں تو نعوذباللہ نبی کریم کا منکر بھی کافر نہیں، کیونکہ یہ کس طرح ممکن ہے کہ پہلی بعثت میں تو آپؐ کا انکار کفر ہو مگر دُوسری بعثت میں، جس میں بقول مسیحِ موعود آپ کی رُوحانیت اقویٰ اور اَکمل اور اَشد ہے، آپ کا اِنکار کفر نہ ہو۔‘‘

(کلمۃ الفصل ص:۱۴۶، ۱۴۷)

370

فصلِ چہارم

مکی بعثت پر قادیانی بعثت کی فضیلت

گزشتہ سطور میں آپ پڑھ چکے ہیں کہ قادیانی عقیدے کے مطابق مرزا غلام احمد قادیانی کی شکل میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا دوبارہ ظہور قادیان، ضلع گورداسپور میں ہوا، اس لئے مرزا غلام احمد قادیانی کے ماننے والوں نے ’’مسیحِ موعود محمد است و عین محمد است‘‘ کا نعرہ بڑی شدّت سے لگایا اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے تمام اوصاف و کمالات مرزا غلام احمد قادیانی کی طرف منتقل کردئیے، اس پر جماعت کے اخبارات و رسائل میں بڑے ہنگامہ خیز مضامین شائع ہوتے رہے۔

اب ہمیں یہ دیکھنا ہے کہ قادیانیوں کے نزدیک مرزا غلام احمد قادیانی کی بعثت، آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی مکہ والی بعثت سے افضل ہے، کیونکہ اس بعثت میں کچھ مزید ایسے خصوصی کمالات و فضائل بھی پائے جاتے ہیں جو مکہ والی محمدی بعثت میں نہیں تھے۔ اس سلسلے میں قادیانیوں کے درج ذیل عقائد ملاحظہ کریں:

عقیدہ۱: ... دُوسری بعثت اقویٰ اور اَکمل اور اَشد:

’’جس نے اس بات سے انکار کیا کہ نبی علیہ السلام کی بعثت چھٹے ہزار سال سے تعلق رکھتی ہے، جیسا کہ پانچویں ہزار سے تعلق رکھتی تھی، پس اس نے حق کا اور نصِ قرآن کا انکار کیا، بلکہ حق یہ ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی رُوحانیت چھٹے ہزار کے آخر میں یعنی ان دِنوں میں (مرزا غلام احمد قادیانی کی بعثت کے زمانے میں) بہ نسبت ان سالوں کے اقویٰ اور اَکمل اور اَشد ہے۔‘‘

(خطبہ اِلہامیہ ص:۱۸۱، خزائن ج:۱۶ ص:۲۷۱، ۲۷۲)

371

عقیدہ۲: ... رُوحانی ترقیات کی اِبتدا اور اِنتہا:

’’ہمارے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی رُوحانیت نے پانچویں ہزار میں اِجمالی صفات کے ساتھ (مکہ میں) ظہور فرمایا اور وہ زمانہ اس رُوحانیت کی ترقیات کا اِنتہا کا نہ تھا، بلکہ اس کے کمالات کے معراج کے لئے پہلا قدم تھا، پھر اس رُوحانیت نے چھٹے ہزار کے آخر میں یعنی اس وقت (قادیان میں) پوری طرح سے تجلی فرمائی۔‘‘

(خطبہ اِلہامیہ ص:۱۷۷، خزائن ج:۱۶ص:۲۶۶)

عقیدہ۳: ... پہلے سے بڑی فتحِ مبین:

’’اور زیادہ ظاہر ہے، اور مقدّر تھا کہ اس کا وقت مسیحِ موعود کا وقت ہو، اور اسی کی طرف خدا تعالیٰ کے اس قول میں اشارہ ہے سبحان الذی اسریٰ الخ۔‘‘

(خطبہ اِلہامیہ ص:۱۹۳، خزائن ج:۱۶ص:۲۸۸)

عقیدہ۴: ... زمان البرکات:

’’غرض اس زمانے کا نام جس میں ہم ہیں، زمان البرکات ہے، لیکن ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا زمانہ زمان التائیدات اور دفع الآفات تھا۔‘‘

(اشتہار ۲۸؍مئی ۱۹۰۰ء، تبلیغ رسالت ج:۵ ص:۴۴، مجموعہ اشتہارات ج:۳ ص:۲۹۲)

عقیدہ۵: ... ہلال اور بدر:

’’اور اِسلام ہلال کی طرح شروع ہوا اور مقدّر تھا کہ انجامِ کار آخر زمانے میں بدر (چودھویں کے چاند کی طرح کامل و مکمل) ہوجائے خدا تعالیٰ کے حکم سے۔‘‘

’’پس خدا تعالیٰ کی حکمت نے چاہا کہ اسلام اس صدی

372

میں بدر کی شکل اِختیار کرے، جو شمار کے رُو سے بدر کی طرح مشابہ ہو (یعنی چودھویں صدی) پس ان ہی معنوں کی طرف اشارہ ہے خدا تعالیٰ کے اس قول میں کہ لقد نصرکم اللہ ببدر۔‘‘

(خطبہ اِلہامیہ، خزائن ج:۱۶ ص:۲۷۵، ۲۷۶)

عقیدہ۶: ... ظہور کی تکمیل:

’’قرآن شریف کے لئے تین تجلیات ہیں، وہ سیّدنا حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کے ذریعے سے نازل ہوا اور صحابہ رضی اللہ عنہم کے ذریعے اس نے زمین پر اشاعت پائی، اور مسیحِ موعود (مرزا غلام احمد) کے ذریعے سے بہت سے پوشیدہ اسرار اس کے کھلے، ولکل امر وقت معلوم۔ اور جیسا کہ آسمان سے نازل ہوا تھا ویسا ہی آسمان تک اس کا نور پہنچا، اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے وقت میں اس کے تمام اَحکام کی تکمیل ہوئی، اور صحابہ رضی اللہ عنہم کے وقت میں اس کے ہر ایک پہلو کی اشاعت کی تکمیل ہوئی، اور مسیحِ موعود کے وقت میں اس کے رُوحانی فضائل اور اسرار کے ظہور کی تکمیل ہوئی۔‘‘

(حاشیہ براہین احمدیہ حصہ پنجم ص:۵۲، خزائن ج:۲۱ ص:۶۶)

عقیدہ۷: ... حقائق کا اِنکشاف:

’’اسی بنا پر ہم کہہ سکتے ہیں کہ اگر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر ابنِ مریم اور دجال کی حقیقتِ کاملہ بوجہ نہ موجود ہونے کسی نمونے کے موبمو منکشف نہ ہوئی ہو، اور نہ دجال کے ستر باع کے گدھے کی اصل کیفیت کھلی ہو، اور نہ یاجوج ماجوج کی عمیق تہہ تک وحیٔ اِلٰہی نے اِطلاع دی ہو، اور نہ دابۃ الارض کی ماہیت کما ہی ہی ظاہر فرمائی گئی ...... تو کچھ تعجب کی بات نہیں (مگر بعثتِ ثانی میں مرزا

373

قادیانی پر حقائق پوری طرح منکشف ہوگئے ...ناقل)۔‘‘

(اِزالہ اوہام ص:۶۹۱، خزائن ج:۳ ص:۴۷۳)

عقیدہ۸: ... صرف چاند، چاند اور سورج دونوں:

’’لہ خسف القمر المنیر وان لی غسا القمران المشرقان اتنکر اس (حضورؐ) کے لئے چاند کے خسوف کا نشان ظاہر ہوا، اور میرے لئے چاند اور سورج دونوں کا، اب کیا تو انکار کرے گا۔‘‘

(اعجازِ احمدی ص:۷۱، خزائن ج:۹۱ص:۱۸۳)

عقیدہ۹: ... تین ہزار اور تین لاکھ کا فرق:

’’تین ہزار معجزات ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے ظہور میں آئے۔‘‘

(تحفۂ گولڑویہ ص:۶۳، خزائن ج:۱۷ ص:۱۵۳)

’’میری تائید میں اس (خدا) نے وہ نشان ظاہر فرمائے ہیں کہ ...... اگر میں ان کو فرداً فرداً شمار کروں تو میں خدا تعالیٰ کی قسم کھاکر کہہ سکتا ہوں کہ وہ تین لاکھ سے بھی زیادہ ہیں۔‘‘

(حقیقۃ الوحی ص:۶۷، خزائن ج:۲۲ ص:۷۰)

عقیدہ۱۰: ... ذہنی اِرتقا:

’’حضرت مسیحِ موعود (مرزا غلام احمد قادیانی) کا ذہنی اِرتقا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے زیادہ تھا ...... اور یہ جزوی فضیلت ہے جو حضرت مسیحِ موعود (مرزا غلام احمد قادیانی) کو آنحضرت صلعم پر حاصل ہے، نبی کریم صلعم کی ذہنی اِستعدادوں کا پورا ظہور بوجہ تمدن کے نقص کے نہ ہوا، ورنہ قابلیت تھی، اب تمدن کی ترقی سے حضرت مسیحِ موعود کے ذریعے ان کا پورا ظہور ہوا۔‘‘

(ریویو، مئی ۱۹۲۹ء بحوالہ قادیانی مذہب ص:۳۴۱)

374

عقیدہ۱۱: ... معاملہ صاف:

’’اب معاملہ صاف ہے، اگر نبی کریم کا انکار کفر ہے تو مسیحِ موعود (مرزا غلام احمد قادیانی) کا انکار بھی کفر ہونا چاہئے، کیونکہ مسیحِ موعود نبی کریم سے الگ کوئی چیز نہیں ہے بلکہ وہی ہے، اور اگر مسیحِ موعود کا منکر کافر نہیں تو نعوذباللہ نبی کریم کا منکر بھی کافر نہیں، کیونکہ یہ کس طرح ممکن ہے کہ پہلی بعثت میں تو آپ کا انکار کفر ہو، مگر دُوسری بعث میں، جس میں بقول مسیحِ موعود آپؐ کی رُوحانیت اقویٰ اور اَکمل اور اَشد ہے، آپؐ کا انکار کفر نہ ہو۔ (اور پھر یہ کس طرح ممکن ہے کہ پہلی بعثت میں تو آپؐ صاحبِ شریعت نبی ہوں، اور دُوسری میں صاحبِ شریعت نہ ہوں ...ناقل)۔‘‘

(کلمۃ الفصل ص:۱۴۶، ۱۴۷)

عقیدہ۱۲: ... آگے سے بڑھ کر:

  1. محمد پھر اُتر آئے ہیں ہم میں

    اور آگے سے ہیں بڑھ کر اپنی شاں میں

  2. محمد دیکھنے ہوں جس نے اکمل

    غلام احمد کو دیکھے قادیاں میں

(اخبار ’’بدر‘‘ جلد نمبر:۲، نمبر۴۳، مؤرخہ ۲۵؍اکتوبر ۱۹۰۶ء)

قاضی اکملؔ قادیانی، مرزا غلام احمد قادیانی کے پُرجوش مرید تھے، انہوں نے یہ نظم لکھ کر اور قطعہ کی شکل میں فریم کراکر مرزا غلام احمد قادیانی کی خدمت میں پیش کی، مرزا غلام احمد قادیانی اس پر بے حد خوش ہوئے اور انہیں بہت ہی دُعائیں دیں، بعد اَزاں اسے گھر لے گئے، غالباً ان کی دیوار کی زینت بنی ہوگی، قادیان کے اخبار ’’بدر‘‘ میں بھی اس کو شائع کیا گیا، قادیانی حضرات کی عبرت کے لئے یہاں پوری نظم درج کی جاتی ہے:

375
  1. امام اپنا عزیزو اس جہاں میں

    غلام احمد ہوا دار الاماں میں

  2. غلام احمد ہے عرشِ رَبِّ اکبر

    مکاں اس کا ہے گویا لامکاں میں

  3. غلام احمد رسول اللہ ہے برحق

    شرف پایا ہے نوعِ اِنس و جاں نے

  4. غلام احمد کا جو خادم ہے دِل سے

    بلا شک جائے گا باغِ جناں میں

  5. تسلی دِل کو ہوجاتی ہے حاصل

    یہ ہے اعجاز احمد کی زباں میں

  6. بھلا اس معجزے سے بڑھ کے کیا ہو

    خدا اِک قوم کا مارا جہاں میں

  7. قلم سے کام جو کرکے دِکھایا

    کہاں طاقت تھی یہ سیف و سناں میں

  8. محمد پھر اُتر آئے ہیں ہم میں

    اور آگے سے ہیں بڑھ کر اپنی شاں میں

  9. محمد دیکھنے ہوں جس نے اکمل

    غلام احمد کو دیکھے قادیاں میں

  10. غلام احمد مختار ہوکر

    یہ رتبہ تو نے پایا ہے جہاں میں

  11. تیری مدحت سرائی مجھ سے کیا ہو

    کہ سب کچھ لکھ دیا رازِ نہاں میں

  12. خدا سے تو، خدا تجھ سے ہے واللہ

    تیرا رتبہ نہیں آتا بیاں میں

376

عقیدہ۱۳: ... مصطفی میرزا:

  1. صدی چودھویں کا ہوا سر مبارک

    کہ جس پہ وہ بدر الدجٰی بن کے آیا

  2. محمد پئے چارہ سازی اُمت

    ہے اب احمد مجتبیٰ بن کے آیا

  3. حقیقت کھلی بعثِ ثانی کو ہم پر

    کہ جب مصطفی میرزا بن کے آیا

(’’الفضل‘‘ مؤرخہ ۲۸؍مئی ۱۹۲۸ء، بحوالہ قادیانی مذہب ص:۲۷۸)

عقیدہ۱۴: ... اُستاد، شاگرد:

’’آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم معلّم ہیں اور مسیحِ موعود مرزا قادیانی ایک شاگرد، شاگرد خواہ اُستاذ کے علوم کا وارث پورے طور پر بھی ہوجائے، یا بعض صورتوں میں بڑھ بھی جائے (جیسا کہ مرزا غلام احمد قادیانی بہت سی باتوں میں بڑھ گئے ...ناقل) مگر اُستاذ بہرحال اُستاذ رہتا ہے اور شاگرد شاگرد ہی۔‘‘

(تقریر میاں محمود صاحب، مندرجہ الحکم قادیان، ۲۸؍اپریل ۱۹۱۴ء بحوالہ قادیانی مذہب ص:۳۳۴)

عقیدہ ۱۵: ... ہتک، اِستہزا:

آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بعثِ اوّل میں آپ کے منکروں کو کافر اور دائرۂ اسلام سے خارج قرار دینا، لیکن آپ کی بعثتِ ثانی میں آپ کے منکروں کو داخلِ اسلام سمجھنا، یہ آنحضرت کی ہتک اور آیات اللہ سے اِستہزا ہے، حالانکہ خطبہ اِلہامیہ میں حضرت مسیحِ موعود نے آنحضرت کی بعثِ اوّل و ثانی کی باہمی نسبت کو ہلال

377

اور بدر کی نسبت سے تعبیر فرمایا ہے۔‘‘

(’’الفضل‘‘ ۱۵؍جولائی ۱۹۱۵ء، بحوالہ قادیانی مذہب ص:۳۳۷)

عقیدہ ۱۶: ... آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے مرزا قادیانی پر اِیمان لانے کا عہد:

الف:

  1. خدا نے لیا عہد سب انبیا سے

    کہ جب تم کو دُوں میں کتاب

  2. پھر آئے تمہارا مصدق پیغمبر

    تو اِیمان لاؤ، کرو اس کی نصرت

  3. کہا کیا کرتے ہو اِقرارِ محکم

    وہ بولے مقر ہے ہماری جماعت

  4. کہا حق تعالیٰ نے شاہد رہو تم

    یہی میں بھی دیتا رہوں گا شہادت

  5. جو اس عہد کے بعد کوئی پھرے گا

    بنے گا وہ فاسق اُٹھائے گا ذِلت

  6. لیا تھا جو میثاق سب انبیا سے

    وہی عہد حق نے لیا مصطفی سے

  7. وہ نوح و خلیل و کلیم و مسیحا

    بھی سے یہ پیمانِ محکم لیا تھا

  8. مبارک! اعامت کا موعود آیا

    وہ میثاقِ ملت کا مقصود آیا

  9. کریں اہلِ اسلام اب عہد پورا

    بنے آج ہر ایک عبداً شکوراً

(’’الفضل‘‘ مؤرخہ ۲۶؍فروری ۱۹۲۴ء، بحوالہ قادیانی مذہب ص:۳۴۰)

378

ب:

’’واذ اخذ اللہ میثاق النبیین ۳/۱۷ جب اللہ تعالیٰ نے سب نبیوں سے عہد لیا (النبیین میں سب انبیاء علیہم الصلوٰۃ والسلام شریک ہیں، کوئی نبی بھی مستثنیٰ نہیں، آنحضرت صلعم بھی اس النبیین کے لفظ میں داخل ہیں) کہ جب کبھی تم کو کتاب و حکمت دُوں (یعنی کتاب سے مراد توریت و قرآنِ کریم ہے، اور حکمت سے مراد سنت و منہاجِ نبوّت و حدیث شریف ہے) پھر تمہارے پاس ایک رسول آئے، جو مصدق ہو ان تمام چیزوں کو جو تمہارے پاس کتاب و حکمت سے ہیں (یعنی وہ رسول مسیحِ موعود (مرزا غلام احمد) ہے) جو قرآن و حدیث کی تصدیق کرنے والا ہے، اور وہ صاحبِ شریعتِ جدیدہ نہیں ہے، اے نبیو! تم سب ضرور اس پر اِیمان لانا، اور ہر ایک طرح سے اس کی مدد فرض سمجھنا، (جب تمام انبیاء علیہم السلام کو مجملاً حضرت مسیحِ موعود (مرزا غلام احمد) پر اِیمان لانا اور اس کی نصرت کرنا فرض ہوا تو ہم کون ہیں جو نہ مانیں)۔‘‘

(’’الفضل‘‘ مؤرخہ ۱۹-۲۰؍ستمبر ۱۹۱۵ء، بحوالہ قادیانی مذہب ص:۳۳۸، ۳۳۹)

اس عقیدے پر لاہوری تبصرہ!

’’چنانچہ الفضل ۱۹-۲۰؍ستمبر ۱۹۱۵ء میں اس پر دھڑلے سے مضمون نکلا، اور پھر اس کے بعد طرح طرح سے اس کا اعادہ کیا گیا، اور کھلم کھلا ڈنکے کی چوٹ پر اس اَمر کا اِعلان کیا جاتا رہا کہ اس پیشین گوئی میں جس رسول کا وعدہ ہے اور جس کے متعلق اِقرار لیا گیا ہے کہ ہر ایک نبی اس پر اِیمان لائے اور اس کی نصرت کرے وہ مسیحِ موعود (مرزا غلام احمد قادیانی) ہے، اور یہ نہ سمجھا کہ اس طرح تو پھر لازم آئے گا کہ ...۔۔ ’’اگر محمد رسول اللہ صلعم زندہ ہوتے تو انہیں چارہ

379

نہ تھا سوائے اس کے کہ وہ مسیحِ موعود (مرزا غلام احمد قادیانی) کی اِتباع کرتے، یعنی مسیحِ موعود متبوع اور آقا ہوتے، اور محمد رسول اللہ صلعم نعوذ باللہ متبع اور غلام ہوتے، یہ نتیجہ ایسا دقیق تو نہیں کہ انسان سمجھ نہ سکے، مگر جب ایک قوم اپنے نبی کو (اپنے نبی کی ہدایات کے مطابق ...ناقل) سب نبیوں سے بڑھانا چاہتی ہو تو پھر سب کچھ حلال ہوجاتا ہے، محمد رسول اللہ صلعم کو ان نبیوں کے ذیل میں شامل کردیا جن سے ایمان لانے اور نصرت کرنے کا اِقرار لیا گیا تھا، گویا محمد رسول اللہ صلعم آج زندہ ہوتے تو مسیحِ موعود (مرزا غلام احمد) پر اِیمان لاتے اور آپ کے ہاتھ پر بیعت کرتے اور ہر ایک قسم کی اِتباع اور نصرت کے لئے آپ کے اَحکام کی پیروی کو ذریعۂ نجات سمجھتے (کیونکہ مرزا غلام احمد قادیانی کے بقول ان کی بعثت آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت سے اقویٰ اور اَکمل اور اَشد تھی، اور اپنے سے زیادہ قوی اور زیادہ کامل اور بڑے رُوحانیت والے کے اَحکام کی تعمیل کرنا ایک عام بات ہے ...ناقل) کیا اس سے بڑھ کر محمد رسول اللہ صلعم کی کوئی ہتک متصوّر ہے؟ کیا اس سے صاف نظر نہیں آتا کہ محمد رسول اللہ صلعم کے مقابلے میں حضرت مسیحِ موعود (مرزا غلام احمد قادیانی) کی پوزیشن کو بدرجہا بلند کرنے اور ان کو ایک آقا کی حیثیت دینے میں نہایت جرأت سے کام لیا گیا۔‘‘ (اور پھر یہ جرأت ایک آدھ بار نہیں کی گئی، بلکہ بار بار اسی کو دُہرایا گیا، چنانچہ پندرہ عقیدے تو جن کو قادیانیوں نے سینکڑوں نہیں ہزاروں بار دُہرایا اور اَب تک انہیں مسلسل دُہرایا جارہا ہے، میں بھی اُوپر نقل کرچکا ہوں ...ناقل)

(ڈاکٹر بشارت احمد قادیانی لاہوری کا مضمون مندرجہ ’’پیغامِ صلح‘‘ لاہور، جلد۲۲، نمبر۳۴، مؤرخہ ۷؍جون ۱۹۳۴ء، بحوالہ قادیانی مذہب ص:۳۳۹، ۳۴۰)

380

عقیدہ۱۷: ...

قرآنِ کریم کی کسی آیت یا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی کسی حدیث میں یہ مضمون نہیں کہ اللہ تعالیٰ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو ’’تو میرے بیٹے جیسا‘‘ کہا ہو، لیکن مرزا غلام احمد قادیانی کو یہ شرف حاصل ہے کہ خدا ان سے فرماتا ہے:

’’انت منی بمنزلۃ ولدی انت منی بمنزلۃ اولَادی۔‘‘

ترجمہ: ... ’’یعنی تو مجھ سے بمنزلہ میرے بیٹے کے ہے، تو مجھ سے بمنزلہ میری اولاد کے ہے۔‘‘

(دیکھئے تذکرہ ص:۴۳۶)

عقیدہ ۱۸: ...

قرآنِ کریم کی کسی آیت یا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی کسی حدیث میں یہ مضمون بھی نہیں کہ اللہ تعالیٰ کے ’’کُنْ فَیَکُوْنُ‘‘ کی طاقت آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو عطا فرمائی ہو، لیکن مرزا غلام احمد کے بارے میں قادیانیوں کا عقیدہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ’’کُنْ فَیَکُوْنُ‘‘ کے اِختیارات ان کو عطا فرمائے ہیں، چنانچہ مرزا قادیانی کا اِلہام ہے:

’’اے مرزا! تیری شان یہ ہے کہ جب تو کسی چیز کا ارادہ کرے تو تو اس سے کہہ دے کہ ہوجا، پس وہ ہوجائے گی۔‘‘

(تذکرہ ص:۵۲۵)

عقیدہ ۱۹: ...

جناب مرزا غلام احمد قادیانی کو ان کے اِلہامات میں اور بھی بہت سی صفات عطا کی گئی ہیں، جو اِسلامی لٹریچر میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف منسوب نہیں کی گئیں، مثلاً:

’’تو میرا ’’الاعلیٰ‘‘ نام ہے۔‘‘

(تذکرہ ص:۳۳۸)

’’تو میری مراد ہے۔‘‘

(تذکرہ ص:۸۳)

’’تو مجھ سے اور میں تجھ سے ہوں۔‘‘

(تذکرہ ص:۴۲۶)

381

’’تو بمنزلہ میرے بروز کے ہے۔‘‘

(تذکرہ ص:۵۹۶)

’’تو بمنزلہ میری توحید و تفرید۔‘‘

(تذکرہ ص:۳۸۱)

’’تو بمنزلہ میری رُوح کے ہے۔‘‘

(تذکرہ ص:۷۴۱)

’’تو بمنزلہ میرے کان کے ہے۔‘‘

(تذکرہ ص:۷۴۷)

’’تو مجھ میں سے ہے اور تیرا بھید میرا بھید ہے۔‘‘

(تذکرہ ص:۲۰۷)

’’ہم نے تجھ کو دُنیا دے دی اور تیرے رَبّ کی رحمت کے خزانے دے دئیے۔‘‘

(تذکرہ ص:۳۷۶)

فصلِ پنجم

دعوتِ غور و فکر

۱: ... مرزا غلام احمد قادیانی نے اپنے دعوؤں کی بنیاد ’’فنا فی الرسول‘‘ پر اُٹھائی، اس سے ترقی کرکے ’’ظل و بروز‘‘ کی وادی میں قدم رکھا، ظل و بروز سے آگے بڑھے تو حریمِ نبوّت میں پہنچ گئے، اور خاتم النبیین کے بعد دعویٔ نبوّت کا جواز پیدا کرنے کے لئے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی دُوسری بعثت کا نظریہ ایجاد کیا، یوں رفتہ رفتہ وہ بعینہٖ ’’محمد رسول اللہ‘‘ بن گئے، قرآن بھی قادیان کے قریب ہی اُتر آیا (إنا انزلناہ قریبًا من القادیان۔ تذکرہ ص:۷۶) اور پھر اس بعثتِ ثانیہ کے عقیدے سے جو عقائد اُبھرے ان کا بہت ہی مختصر خاکہ آپ کے سامنے پیش کیا جاچکا ہے، یعنی خاکم بدہن مرزا قادیانی رحمۃ للعالمین بھی ہوئے، سیّد الرسل بھی، باعثِ تخلیقِ کائنات بھی، مطاعِ مطلق بھی، مدارِ نجات بھی، اور بالآخر کلمۂ طیبہ میں بھی محمد رسول اللہ سے مرزا غلام احمد قادیانی مراد لیا گیا۔

اِدھر مرزا غلام احمد قادیانی نے اپنی بعثت کو رُوحانیت میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت سے اقویٰ اور اَکمل اور اَشد بتایا، اپنے معجزات، آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے معجزات سے سو گنا زیادہ بیان کئے، آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے دور کو ہلال اور اپنے دور کو

382

بدرِ کامل ٹھہرایا، آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے دور کو ترقیات کی اِبتدا اور اپنے دور کو ترقیاتِ رُوحانی کی اِنتہا قرار دِیا، ان کے مرید ان کے سامنے یہ ترانہ گاتے رہے:

’’محمد پھر اُتر آئے ہیں ہم میں

اور آگے سے ہیں بڑھ کر اپنی شاں میں‘‘

اور مرزا غلام احمد قادیانی نے اس جیسے نعروں کی بھی تحسین اور حوصلہ افزائی فرمائی، جس کے نتیجے میں مرزا صاحب کی جماعت کے بلند ہمت افراد نے رہی سہی کسر بھی پوری کردی اور آگے بڑھ کر مرزا غلام احمد قادیانی کے ہاتھ پر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی بیعت ہی کرادی۔

یہ تمام تفصیل ...نہایت اِختصار کے ساتھ... آپ گزشتہ سطور میں پڑھ چکے ہیں اور مرزا غلام احمد قادیانی اور ان کی جماعت نے ایک صدی میں ان عقائد پر جو دفتر کے دفتر تصنیف کئے ہیں، یہ چند عقائد اس سمندر کا ایک قطرہ ہیں۔ مجھے معلوم نہیں کہ ان سطور کو پڑھ کر ہمارے وہ بھائی جو جناب مرزا غلام احمد قادیانی کے رشتۂ عقیدت میں منسلک ہیں، ان سے کیا تأثر لیں گے؟ لیکن میں ان کو صرف ایک سوال پر غور کرنے کی دعوت دُوں گا کہ کیا محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے لے کر مرزا قادیانی کی آمد سے پہلے تک تیرہ صدیوں کے مسلمانوں کے یہی عقائد تھے جو جناب مرزا غلام احمد قادیانی اور ان کی جماعت کے اکابر کے حوالے سے میں اُوپر درج کرچکا ہوں؟ بہت موٹی سی بات ہے جس کے سمجھنے کے لئے دقیق فہم وفکر کی ضرورت نہیں کہ کیا ابوبکر و عمر وعثمان وعلی (رضوان اللہ علیہم) بھی یہ عقیدہ رکھتے تھے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم دوبارہ قادیان میں مبعوث ہوں گے؟ کیا ایک لاکھ چوبیس ہزار صحابہؓ میں سے کسی سے یہ عقیدہ منقول ہے؟ کیا تابعینؒ اور اَئمۂ دِینؒ میں سے کوئی اس کا قائل تھا؟ جیسا کہ اُوپر عرض کرچکا ہوں خود مرزا غلام احمد قادیانی کی جماعت کے ترجمان ’’الفضل‘‘ کو اِقرار ہے کہ ’’مرزا قادیانی سے پہلے کسی مسلمان نے یہ نظریہ کبھی پیش نہیں کیا‘‘ ......۔ اور واقعہ بھی یہی ہے کہ قادیانی سے پہلے کوئی صحابی، تابعی، کوئی اِمام، مجدّد اس عقیدے سے آشنا نہیں تھا ...... اور پھر اس عقیدے سے جو عقائد پیدا ہوئے ان

383

کے بارے میں بھی آپ سن چکے ہیں کہ اُمت میں کوئی شخص ان کا قائل نہیں تھا۔

ہمارے بھائی اگر صرف اسی سوال پر عقل و انصاف سے غور کریں تو انہیں یہ احساس ہوگا کہ جناب مرزا غلام احمد قادیانی ان عقائد کو اَپناکر ’’سبیل المؤمنین‘‘ پر قائم نہیں رہے، ادھر قرآنِ کریم کا اِعلان ہے کہ ’’جو شخص رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی مخالفت کرے اور ’’سبیل المؤمنین‘‘ کو چھوڑ کر کسی اور راستے پر چل نکلے تو دُنیا میں وہ جو کچھ کرتا ہے، ہم اسے کرنے دیں گے، اور اسے جہنم میں داخل کریں گے۔‘‘ اس لئے مرزا قادیانی کے تمام عقیدت مندوں سے گزارش کروں گا کہ اگر انہوں نے واقعی اللہ ورسول کی رضامندی کی خاطر مرزا صاحب کا دامن پکڑا ہے ـــــجیسا کہ ان کا دعویٰ ہے ـــــ تو مرزا غلام احمد قادیانی کے عقائد و نظریات معلوم ہوجانے کے بعد ان پر یہ بات واضح ہوگئی ہوگی کہ انہوں نے اللہ و رسول اللہ کی رضامندی کے لئے جو راستہ اختیار کیا ہے، وہ کعبہ کو نہیں بلکہ کسی اور ہی طرف کو جاتا ہے، وہ ’’سبیل المؤمنین‘‘ (اہلِ ایمان کا راستہ) نہیں، بلکہ یہ اہلِ ایمان کے راستے سے اُلٹی سمت کو جاتا ہے۔

۲: ... دُوسری بات جس پر ہمارے بھائیوں کو غور کرنا چاہئے یہ ہے کہ مرزا صاحب کا یہ عقیدہ کہ وہ عین محمد ہیں، عقل و دانش کی میزان میں کیا وزن رکھتا ہے؟ اگر مرزا غلام احمد عین محمد ہے تو سوال ہوگا کہ:

۱: ... مرزا غلام مرتضیٰ کے نطفے سے کون پیدا ہوا؟

۲: ... چراغ بی بی کے پیٹ میں کون تھا؟

۳: ... جنت بی بی کس کے ساتھ جڑواں پیدا ہوئی؟

۴: ... بچپن میں چڑیوں کا شکار کون کرتا تھا؟

۵: ... گل علیشاہ (شیعہ) کی شاگردی کس نے کی تھی؟

۶: ... سیالکوٹ کچہری میں گورنمنٹ برطانیہ کا نوکر کون تھا؟

۷: ... انگریزی عدالتوں میں ’’مرجا ہاجر‘‘ (یعنی مرزا حاضر!) کی آوازیں کس کو دی جاتی تھیں؟

384

۸: ... قانونِ انگریزی کی تیاری کس نے کی؟ اور اس میں فیل کون ہوا؟

۹: ... محترمہ حرمت بی بی کو طلاق کس نے دی؟

۱۰: ... مرزا سلطان احمد اور فضل احمد کو عاق کس نے کیا؟

۱۱: ... محترمہ محمدی بیگم کا اَسیرِ زُلف کون ہوا؟

۱۲: ... اس سے نکاح کی پیشین گوئی کس نے کی؟

۱۳: ... اس پیش گوئی کو اپنے صدق و کذب کا معیار کس نے ٹھہرایا؟

۱۴: ... اور پھر اس سے وصل میں ناکام کون مرا؟

۱۵: ... نصرت جہاں بیگم کا شوہر کون تھا؟

۱۶: ... مرزا محمود، شریف احمد، بشیر احمد کا باپ کون تھا؟

اور دُوسری طرف اگر مرزا غلام احمد اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم ایک ہی ذات کے دو نام ہیں تو:

۱: ... حضرت ابوبکر، عمر رضی اللہ عنہما کا داماد کون تھا؟

۲: ... حضرت عائشہؓ و حفصہؓ کا شوہر کون تھا؟

۳: ... حضرت عثمان ؓ اور علیؓ کس کے داماد تھے؟

۴: ... حضرت فاطمہؓ، زینبؓ، رقیہؓ، اُمِّ کلثومؓ کس کی صاحب زادیاں تھیں؟

۵: ... حسنؓ و حسینؓ کس کے نواسے تھے؟

۶: ... بدر و حنین کے معرکے کس نے سر کئے؟

۷: ... شبِ معراج میں انبیائے کرام علیہم السلام کا اِمام کون تھا؟

۸: ... قیصر و کسریٰ کی گردنیں کس کے غلاموں کے سامنے جھکیں؟ ...... وغیرہ وغیرہ کیا پہلے سوالوں کے جواب میں ’’محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم‘‘ کا، اور دُوسرے سوالوں کے جواب میں مرزا غلام احمد قادیانی کا نام لے سکتے ہو؟ ’’محمدؐ پھر اُتر آئے ہیں ہم میں، اور آگے سے ہیں بڑھ کر اپنی شان میں‘‘ کے ترانے گانے والے ہمارے بھٹکے ہوئے بھائیو! خدا کے لئے ذرا سوچو کہ تم نے ’’محمد رسول اللہ‘‘ کو قادیان میں دوبارہ اُتارکر محمد رسول

385

اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ کیا انصاف کیا؟ اللہ نے عقل و فہم تمہیں بھی عطا فرمائی ہے، مرزا صاحب کے دعوے میں محمد ہونے کو عقل و خرد کی ترازو میں تولو، دیکھو! تم نے کس کا تاج کس کے سر پر رکھ دیا ہے؟ کس کی دولت کس کے حوالے کردی ہے؟ آخر پُرانے ’’محمد رسول اللہ‘‘ میں ...معاذاللہ... تمہیں کیا نقص نظر آیا تھا کہ تم نے اس سے بڑھ کر شان والا ’’محمد رسول اللہ‘‘ قادیان میں اُتار لیا...؟

۳: ... ہمارے بھائیوں کو اس پر بھی غور کرنا چاہئے کہ دُنیا کی بہت سی قوموں کو اسی ’’بروز‘‘ اور ’’عین‘‘ کے عقیدوں نے برباد کیا ہے، عیسائی قوم کی مثال تمہارے سامنے ہے کہ انہوں نے کس طرح خدا کو اِنسانی مظہر میں اُتارکر سیّدنا عیسیٰ علیہ السلام کو خدا اور خدا کا بیٹا بنایا، حضرت عیسیٰ علیہ السلام، شکمِ مادر سے پیدا ہوئے، وہ اور ان کی والدہ انسانی اِحتیاج کے تمام تقاضے رکھتی تھیں، اس کھلی ہوئی ہدایت کے خلاف عیسائیوں نے ’’مسیح عین خدا ہے‘‘ کا دعویٰ کرڈالا، اور وہ ’’تین ایک، ایک تین‘‘ کے جال میں ایسے پھنسے کہ اس پر پولوسی مذہب کی پوری عمارت تعمیر کرڈالی، کاش! ہمارے بھائیوں نے اس سے عبرت لی ہوتی، اور اِسلام جن غلط نظریات کو مٹانے کے لئے آیا تھا، اسلام ہی کے نام پر ان غلطیوں کا اِعادہ نہ کرتے۔ قادیانی یہ دعوے کرتے ہیں کہ مرزا غلام احمد قادیانی نے عیسائی مذہب کی بنیادوں کو ہلا ڈالا، حالانکہ اگر عقل سے صحیح کام لیا جائے تو نظر آئے گا کہ مرزا قادیانی نے ’’مرزا عین محمد ہے‘‘ کا نظریہ ایجاد کرکے عیسائیت کی بنیادوں کو اور مستحکم کردیا، ذرا سوچئے اگر عیسائی یہ سوال کریں کہ ’’اگر مسیحِ موعود عین محمد ہوسکتا ہے تو مسیح ابنِ مریم عین خدا کیوں نہیں ہوسکتا؟‘‘ تو آپ کے پاس خاموشی کے سوا اس کا کیا جواب ہوگا...؟

پھر اگر مرزا غلام احمد قادیانی ’’بروزِ محمد‘‘ ہونے کی وجہ سے قادیانی ’’عین محمد‘‘ ہیں تو وہ ’’بروزِ خدا‘‘ ہونے کی وجہ سے ’’عین خدا‘‘ کیوں نہیں؟ مرزا غلام احمد قادیانی کو صرف ’’بروزِ محمد‘‘ ہونے کا دعویٰ نہیں بلکہ ’’بروزِ خدا‘‘ ہونے کا بھی دعویٰ ہے، اب اگر ان کو محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا ’’بروز‘‘ ہونے کی وجہ سے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوّت مع تمام صفات وکمالات کے حاصل ہے حتیٰ کہ نام، کام، مقام اور منصب ومرتبہ بھی محمد صلی اللہ علیہ وسلم ہی کا

386

حاصل ہوچکا ہے، تو ’’بروزِ خدا‘‘ ہونے کی وجہ سے ان کو خدائی مع اپنے تمام صفات وکمالات کے کیوں حاصل نہیں...؟

۴: ... ہمارے بھولے ہوئے بھائیوں کو ایک اور نکتے پر بھی غور کرنا چاہئے، وہ یہ کہ مرزا غلام احمد قادیانی کو اِحساس تھا کہ ان کا دعویٔ نبوّت آیت خاتم النبیین اور حدیث ’’لا نبی بعدی‘‘ کے منافی ہے، اس سے بچنے کے لئے انہوں نے ’’فنا فی الرسول‘‘ اور ’’ظل وبروز‘‘ کا راستہ اختیار کیا، اور دعویٰ کیا کہ چونکہ وہ بروزی طور پر بعینہٖ محمد رسول اللہ کی بعثتِ ثانیہ کا مظہر ہیں، اس لئے ان کے دعویٔ نبوّت سے ختمِ نبوّت کی مہر نہیں ٹوٹتی، ہاں اگر ’’محمد رسول اللہ‘‘ کی جگہ کوئی اور آتا تو ختمِ نبوّت کی مہر ضرور ٹوٹ جاتی، چنانچہ وہ لکھتے ہیں:

’’خاتم النبیین کا مفہوم تقاضا کرتا ہے کہ جب تک (مدعیٔ نبوّت اور محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے درمیان) کوئی پردہ مغائرت کا باقی ہے اس وقت کوئی نبی کہلائے گا تو گویا اس مہر کو توڑنے والا ہوگا جو خاتم النبیین پر ہے، لیکن اگر کوئی شخص اسی خاتم النبیین میں ایسا گم ہو کہ باعث نہایت اتحاد اور نفی غیریت کے اسی کا نام پالیا ہو، اور صاف آئینے کی طرح محمدی چہرے کا اس میں اِنعکاس ہوگیا ہو تو وہ بغیر مہر توڑنے کے نبی کہلائے گا، کیونکہ وہ محمدؐ ہے گو ظلّی طور پر، پس باوجود اس شخص کے دعویٔ نبوّت کے جس کا نام ظلّی طور پر محمدؐ اور اَحمدؐ رکھا گیا، پھر بھی وہ سیّدنا محمد خاتم النبیین ہی رہا، کیونکہ یہ ’’محمد ثانی‘‘ اسی محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی تصویر اور اسی کا نام ہے۔‘‘

(ایک غلطی کا اِزالہ ص:۵)

’’آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد، جو درحقیقت خاتم النبیین تھے، مجھے رسول اور نبی کے لفظ سے پکارا جانا کوئی اِعتراض کی بات نہیں، اور نہ اس سے مہرِ خاتمیت ٹوٹتی ہے، کیونکہ میں بارہا یہ بتلا چکا ہوں کہ میں بموجب آیت وآخرین منہم لما یلحقوا بھم

387

بروزی طور پر وہی نبی خاتم الانبیاء ہوں، اور خدا نے آج سے بیس برس پہلے براہین احمدیہ میں میرا نام محمد اور اَحمد رکھا ہے، اور مجھے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا وجود قرار دِیا ہے، پس اس طور سے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے خاتم الانبیاء ہونے میں میری نبوّت سے کوئی تزلزل نہیں آیا، کیونکہ ظل اپنے اصل سے علیحدہ نہیں ہوتا۔‘‘

(اشتہار ایک غلطی کا اِزالہ، خزائن ج:۱۸ ص:۲۱۲)

مرزا صاحب کی اس طویل تقریر کا خلاصہ یہ ہے کہ میں چونکہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا بروز اور مظہر ہونے کی وجہ سے بعینہٖ محمد رسول اللہ ہوں، اس لئے میرے نبی ہونے سے خاتمیت کی مہر نہیں ٹوٹتی۔ غور کیجئے! اپنی نبوّت کے لئے جو طریقِ اِستدلال پیش کیا ہے، کیا یہی طریق عیسائی لوگ، اُلوہیتِ مسیح کو ثابت کرنے کے لئے پیش نہیں کرتے؟ یعنی حضرت عیسیٰ علیہ السلام چونکہ رُوح اللہ ہیں، اس لئے ان کے انسانی قالب میں خدا کی رُوح جلوہ گر تھی، اور وہ چونکہ مظہرِ خدا ہونے کی وجہ سے ...نعوذباللہ... بعینہٖ خدا ہیں، اس لئے ان کے خدا کہلانے سے توحید کی مہر نہیں ٹوٹتی۔ اگر مرزا قادیانی کا بروزِ محمد ہونا ممکن ہے اور اس سے خاتمیت کی مہر نہیں ٹوٹتی، تو رُوح اللہ بروزِ خدا کیوں نہیں؟ اور اس سے توحید کی مہر کیونکر ٹوٹ جاتی ہے؟ اگر مرزا قادیانی کا دعویٰ ہے کہ ان کے نبی ہونے سے محمدؐ کی نبوّت محمدؐ ہی کے پاس رہتی ہے، تو عیسیٰ علیہ السلام کے خدا کہلانے سے بھی خدا کی خدائی کسی اور کے پاس نہیں جاتی ...استغفراللہ...!

مرزا غلام احمد قادیانی کے بروزی نظریے پر جتنا غور کرو اس کی غلطی واضح ہوجائے گی، واقعہ یہ ہے کہ مرزا غلام احمد قادیانی کی بروزی بعثت نے عقیدہ ’’توحید اور تثلیث‘‘ پر مہرِ تصدیق ثبت کردی، یا یوں کہا جائے کہ انہوں نے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو قادیان میں (بشکلِ مرزا) دوبارہ اُتارکر ایک ’’جدید عیسائیت‘‘ کی طرح ڈال دی۔

۵: ... اسی بحث کا ایک اور پہلو بھی غور طلب ہے، عیسائیوں نے جب یہ دعویٰ کیا کہ ’’مسیح خدا کا اکلوتا بیٹا ہے‘‘ تو انہیں حضرتِ مسیح کی والدہ کو ...معاذاللہ... خدا کے رشتۂ

388

زوجیت میں منسلک کرنا پڑا، اسی لئے قرآنِ کریم نے جہاں عقیدۂ ولدیت کی نفی کی، وہاں عقیدۂ زوجیت کی بھی نفی فرمائی:’’اَنّٰی یَکُوْنُ لَہٗ وَلَدٌ وَّلَمْ تَکُنْ لَّہٗ صٰحِبَۃٌ‘‘ (الانعام:۱۰۱) ۔ اسی طرح جب مرزا غلام احمد قادیانی کہتے ہیں کہ وہ بروزی طور پر ...معاذاللہ... بعینہٖ محمد رسول اللہ ہیں، اور محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ہر صفت اور ہر کمال انہیں بروزی طور پر حاصل ہے، تو اس کا بدیہی نتیجہ یہ ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی ازواجِ مطہرات بروز طور پر ...نعوذباللہ... مرزا غلام احمد قادیانی سے منسوب ہیں۔ کیا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی شان میں، اس سے گندی گالی ہوسکتی ہے؟ اور کوئی مسلمان جس کے دِل میں ذرا بھی شرم و حیا ہو، وہ اس بدترین حملے کو برداشت کرسکتا ہے...؟

میں یہاں یہ وضاحت کردینا چاہتا ہوں کہ ازواجِ مطہراتؓ کی قدر و منزلت آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی ناموسِ نبوّت سے زیادہ نہیں، اگر اَزواجِ مطہراتؓ کے حق میں یہ دریدہ دہنی ناقابلِ برداشت ہے، یہ بات سنتے ہی ایک باغیرت آدمی کی آنکھوں میں خون اُتر آتا ہے، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی رِسالت و نبوّت کو جو شخص اپنی طرف منسوب کرتا ہے، اسے کیونکر برداشت کرلیا جائے...؟

ایک ہے کسی شخص کا نفسِ نبوّت کا دعویٰ کرنا، اور ایک ہے بعینہٖ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی رِسالت و نبوّت اور کمالاتِ رسالت کا دعویٰ کرنا، دونوں میں زمین آسمان کا فرق ہے، آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد نفسِ نبوّت کا دعویٰ بھی کفر ہے، لیکن مرزا غلام احمد قادیانی نے صرف نبوّت کا دعوے نہیں کیا، بلکہ ظل و بروز کی آڑ میں رِسالتِ محمدیہ کو اپنی جانب منسوب کیا ہے، وہ کہتا ہے کہ میں نبی ہوں، مگر میری نبوّت کوئی نئی نبوّت نہیں، نہ میں کوئی نیا نبی ہوں، بلکہ بروزی طور پر بعینہٖ محمد رسول اللہ ہوں، جو پہلے مکہ میں مبعوث ہوا تھا، اور اَب قادیان میں دوبارہ اسی کا ظہور ہوا ہے۔ مرزا غلام احمد قادیانی کی جماعت کا ترجمان روزنامہ ’’الفضل‘‘ لکھتا ہے:

’’اے مسلمان کہلانے والو! اگر تم واقعی اسلام کا بول بالا چاہتے ہو اور باقی دُنیا کو اپنی طرف بلاتے ہو تو پہلے خود سچے اسلام کی

389

طرف آجاؤ، جو مسیحِ موعود (مرزا غلام احمد قادیانی) میں ہوکر ملتا ہے، اسی کے طفیل آج بر و تقویٰ کی راہیں کھلتی ہیں، اسی کی پیروی سے انسان فلاح و نجات کی منزلِ مقصود پر پہنچ سکتا ہے، وہ وہی فخرالاوّلین و آخرین ہے جو آج سے تیرہ سو برس پہلے رحمۃ للعالمین بن کر آیا تھا، اور اب اپنی تکمیل تبلیغ کے ذریعے ثابت کرگیا کہ واقعی اس کی دعوت جمیع ممالک و مللِ عالم کے لئے تھی، فصلی اللہ علیہ وسلم۔‘‘

(’’الفضل‘‘ ۲۶؍ستمبر ۱۹۱۵ء، قادیانی مذہب ص:۲۸۰)

اس لئے مرزا غلام احمد کا جرم صرف یہ نہیں کہ اس نے نبوّت کا دعویٰ کیا، بلکہ اس سے بھی بدترجرم یہ ہے کہ اس نے ظل و بروز کی من گھڑت اِصطلاحوں کے ذریعے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی ہر چیز کو اپنی طرف منسوب کرلیا۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی پہلی زوجہ مطہرہ کا نامِ نامی ’’خدیجہ‘‘ تھا، مگر بے غیرتی اور بے حیائی کی حد ہے کہ مرزا غلام احمد نے ’’محمد رسول اللہ‘‘ بننے کے شوق میں ’’خدیجہ‘‘ کو بھی اپنی طرف منسوب کرلیا، مرزا کا اِلہام ہے:

’’اذکر نعمتی رائیت خدیجتی، میری نعمت کو یاد کر تو نے میری خدیجہ کو دیکھا۔‘‘

(تذکرہ طبع دوم ص:۳۸۷، طبع سوم ص:۳۷۷)

’’اشکر نعمتی رائیت خدیجتی ، میری نعمت کا شکر کر کہ تو نے میری خدیجہ کو دیکھا۔‘‘

(تذکرہ ص:۱۰۹)

افسوس ہے کہ اس کی مزید تشریح کی ایمانی غیرت اجازت نہیں دیتی:

  1. مرا درویست اندرول اگر گویم زباں سوزد

    وگر دم ور کشم ترسم کہ مغز استخواں سوزد

بہرحال ’’محمد رسول اللہ‘‘ کے ساتھ ’’خدیجہ‘‘ کی نسبت مرزا غلام احمد کی نفسیاتی ذہنیت کی نشاندہی کے لئے کافی ہے۔ جس شخص کو اللہ تعالیٰ نے ذرا بھی ایمانی غیرت اور

390

اِنسانیت سے نوازا ہو، اس کے لئے اس کے دقیق پہلوؤں کا مطالعہ مشکل نہیں۔

۶: ... ہمارے بھائیوں کو یہ بھی سوچنا چاہئے کہ کیا مرزا غلام احمد قادیانی کی جسمانی و دِماغی صحت، ان کے اس دعوے سے کہ میں ’’محمد رسول اللہ‘‘ ہوں، کوئی مناسب رکھتی ہے؟ اس بارے میں ہر عام و خاص جانتا ہے کہ وہ بہت سے پیچیدہ امراض کا نشانہ تھے، جن میں سے چند اَمراض کی فہرست حسبِ ذیل ہے:

۱: ... بدہضمی۔

(ریویو، مئی ۱۹۲۸ء)

۲: ... تشنجِ دِل۔

(ضمیمہ اربعین نمبر۳، نمبر۴ ص:۴، خزائن ج:۱۷ ص:۴۷۱)

۳: ... تشنجِ اعصاب۔

(سیرۃ المہدی ج:۱ ص:۱۳)

۴: ... جسمانی قویٰ مضمحل۔

(آئینۂ احمدیت ص:۱۸۶، دوست محمد)

۵: ... د ق۔

(حیاتِ احمد جلد دوم نمبر اوّل ص:۷۹، یعقوب علی)

۶: ... سل۔

(سیرۃ المہدی ج:۱ ص:۴۲، ’’بدر‘‘ جون ۱۹۰۲ء)

۷: ... مراق۔

(سیرۃ المہدی ج:۲ ص:۵۵، ’’بدر‘‘ جون ۱۹۰۲ء)

۸: ... ہسٹریا۔

(سیرۃ المہدی ج:۱ ص:۱۳، ج:۲ ص:۵۵)

۹: ... دِماغی بے ہوشی۔

(الحکم ۲۱؍مئی ۱۹۳۴ء)

۱۰: ... غشی۔

(سیرۃ المہدی ج:۱ ص:۱۳)

۱۱: ... سو سو بار پیشاب۔

(ضمیمہ اربعین نمبر۴ ص:۴)

۱۲: ... کثرتِ اِسہال۔

(نسیم دعوت ص:۶۸)

۱۳: ... دِل و دِماغ سخت کمزور۔

(تریاق القلوب ص:۳۵)

۱۴: ... قولنج زحیری۔

(ص:۳۳۴)

۱۵: ... مسلوب القویٰ۔

(آئینۂ احمدیت ص:۱۸۶)

۱۶: ... ذیابیطس۔

(نزول المسیح ص:۲۰۹حاشیہ)

۱۷: ... رینگن۔

(مکتوباتِ احمدیہ)

۱۸: ... دورانِ سر۔

(نزول المسیح ص:۲۰۹ حاشیہ)

391

۱۹: ... شدید دردِ سر جس کا آخری نتیجہ مرگی۔

(حقیقۃ الوحی ص:۳۶۳)

۲۰: ... حافظہ نہایت ابتر۔

(مکتوباتِ احمدیہ جلد پنجم ص:۳ و ۲۱)

۲۱: ... حالتِ مردی کالعدم۔

(تریاق القلوب ص:۳۵)

۲۲: ... سستی نامردی۔

(مکتوباتِ احمدیہ جلد پنجم(۳) ص:۱۴)

خود مرزا غلام احمد قادیانی فرماتے ہیں:

’’مجھے دو مرض دامن گیر ہیں، ایک جسم کے اُوپر کے حصے میں کہ سر درد اور دورانِ سر، اور دورانِ خون کم ہوکر ہاتھ پیر سرد ہوجانا، نبض کم ہوجانا، اور دُوسرے جسم کے نیچے میں کہ پیشاب کثرت سے آنا اور اکثر دست آتے رہنا، یہ دونوں بیماریاں قریب بیس برس سے ہیں۔‘‘

(نسیم دعوت ص:۱۷۱)

’’میں ایک ’’دائم المرض آدمی ہوں‘‘ ...... ہمیشہ دردِ سر اور دورانِ سر، کمی خواب اور تشنجِ دِل کی بیماری دورہ کے ساتھ آتی ہے، اور دُوسری بیماری ذیابیطس ہے کہ ایک مدّت سے دامن گیر ہے، اور بسااوقات سو سو دفعہ رات کو یا دن کو پیشاب آتا ہے، اور اس قدر کثرتِ پیشاب سے جس قدر عوارض ضعف وغیرہ ہوتے ہیں وہ سب میرے شاملِ حال رہتے ہیں۔‘‘

(ضمیمہ اربعین ۳)

’’مجھے دورانِ سر کی بہت شدّت سے مرض ہوگئی ہے، پیروں پر بوجھ دے کر پاخانہ پھرنے سے مجھے سر کو چکر آجاتا ہے۔‘‘

(خطوط امام بنام غلام ص:۶)

’’کوئی وقت دورانِ سر (سر کے چکر) سے خالی نہیں گزرتا، مدّت ہوئی نماز تکلیف سے بیٹھ کر پڑھی جاتی ہے، بعض اوقات درمیان میں توڑنی پڑتی ہے، اکثر بیٹھے بیٹھے رینگن ہوجاتی ہے۔‘‘

(مکتوباتِ احمدیہ جلد پنجم نمبر۲ ص:۸۸)

392

’’مجھ کو دو بیماریاں ہیں، ایک اُوپر کے دھڑ کی اور ایک نیچے کے دھڑ کی، یعنی مراق اور کثرتِ بول۔‘‘

(رسالہ تشحیذ الاذہان، جون ۱۹۰۶ء)

’’ڈاکٹر میر محمد اسماعیل صاحب نے بیان کیا کہ میں نے کئی دفعہ حضرت مسیحِ موعود سے سنا ہے کہ مجھے ہسٹریا ہے، بعض اوقات آپ مراق بھی فرمایا کرتے تھے۔‘‘

(سیرۃ المہدی ج:۲ ص:۵۵)

مرزا صاحب کی اہلیہ کی روایت ہے کہ:

’’حضرت قادیانی کو پہلی دفعہ دوران سر اور ہسٹریا کا دورہ بشیر اوّل کی وفات ۴؍نومبر ۱۸۸۸ء کے چند دِن بعد ہوا تھا، اس کے بعد آپ کو باقاعدہ دورے پڑنے لگے، جن میں ہاتھ پاؤں ٹھنڈے ہوجاتے تھے، بدن کے پٹھے کھنچ جاتے تھے، خصوصاً گردن کے پٹھے، اور سر میں چکر ہوتا تھا۔‘‘

(سیرۃ المہدی ج:۱ ص:۱۳)

مرزا غلام احمد قادیانی کے ایک مرید ڈاکٹر شاہنواز صاحب لکھتے ہیں:

’’حضرت قادیانی کی تمام تکالیف مثلاً دورانِ سر، دردِ سر، کمی خواب، تشنجِ دِل، بدہضمی، اِسہال، کثرتِ پیشاب اور مراق وغیرہ کا صرف ایک ہی سبب تھا، اور وہ عصبی کمزوری تھا۔‘‘

(رسالہ ریویو آف ریلیجنز مئی ۱۹۲۷ء)

’’میر صاحب! مجھے وبائی ہیضہ ہوگیا ہے۔‘‘

(مرزا غلام احمد قادیانی کی زندگی کا آخری فقرہ مندرجہ حیاتِ ناصر ص:۱۴)

اب انصاف فرمائیے کہ کیا ان تمام اَمراض کو محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف منسوب کیا جاسکتا ہے؟ کیا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم بھی ...نعوذباللہ... مراق، ہسٹریا، ذیابیطس، سلس البول، کثرتِ اِسہال، سوء ہضم، ضعفِ قلب، ضعفِ دِماغ، ضعفِ اعصاب حتیٰ کہ ’’حالتِ مردی کالعدم‘‘ کے شکار ہوسکتے تھے؟ استغفراللہ! محمد رسول

393

اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تو خیر سیّدالبشر اور اَفضل الرسل ہیں، کیا دُنیا کی کوئی بھی تاریخ ساز شخصیت بیک وقت اتنے امراض میں مبتلا ہوئی؟ ان تمام امراض کے باوجود مرزا غلام احمد قادیانی کا یہ دعویٰ کرنا کہ ’’میں محمد رسول اللہ ہوں‘‘ دُنیا کے سامنے سیّدنا محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی کیا تصویر پیش کرتا ہے۔ جب ایک طرف مرزا غلام احمد قادیانی اپنی زبان و قلم سے مراق، ہسٹریا، ذیابیطس، ضعفِ دِل ودِماغ، حافظے کی ابتری و خرابی، سو سو بار پیشاب، اکثر دست آتے رہنا۔

اور حالتِ مردی کالعدم کا اِقرار کرتے ہیں اور دُوسری طرف وہ بڑی شوخ چشمی سے خود کو محمد رسول اللہؐ کا بروز و مظہر اور ’’حسن و احسان میں آپ کا نظیر‘‘ کہتے ہیں تو غیراَقوام کیا یہ فیصلہ نہیں کریں گے کہ مسلمانوں کا ’’محمد رسول اللہ‘‘ بھی قادیانیوں کے ’’محمد رسول اللہ‘‘ کی طرح ...معاذاللہ... انہی امراض کا مریض ہوگا، اور اس کی دِماغی چولیں بھی خدانخواستہ ٹھکانے نہیں ہوں گی؟ مراق اور ذیابیطس کی چادریں اس کے بھی زیبِ بدن ہوں گی ...معاذاللہ...!

۷: ... مرزا غلام احمد قادیانی کا یہ دعویٰ کہ وہ محمد رسول اللہ کا ’’بروز‘‘ ہیں اور محمد رسول اللہ کی دوبارہ بعثت مرزا غلام احمد قادیانی کے ’’رُوپ‘‘ میں ہوئی ہے، ایک اور پہلو سے بھی غور طلب ہے، وہ یہ کہ مرزا غلام احمد قادیانی بروز کی تفسیر ’’جنم‘‘ اور ’’اوتار‘‘ کے ساتھ کرتے ہیں اور وہ خود کو کبھی محمد رسول اللہ کا بروز کہتے ہیں، کبھی عیسیٰ علیہ السلام کا، اور کبھی تمام انبیاء کا، کبھی ہندوؤں کے کرشن جی مہاراج کا اور کبھی برہمن کا۔ ہندوؤں کے نزدیک انسان کی جزا و سزا کے لئے یہی صورت قدرت کی جانب سے مقرّر ہے کہ اسے نیک و بداعمال کے مطابق کسی اچھے یا بُرے قالب میں منتقل کرکے پھر دُنیا میں بھیج دیا جائے، جس کو وہ نیا جنم، اور نئی جون کہتے ہیں۔ مرزا کو دعویٰ ہے کہ محمد رسول اللہ کو دوبارہ مرزا غلام احمد قادیانی کے قالب میں بھیجا گیا ہے۔ اب سوال یہ ہے کہ (ہندوؤں کے عقیدۂ تناسخ اور مرزا غلام احمد قادیانی کے عقیدہ ’’بروز‘‘ کے مطابق) محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ...نعوذباللہ... پہلی ’’جون‘‘ میں کونسا پاپ ہوا تھا کہ انہیں دوبارہ غلام احمد قادیانی کی ناقص شکل میں بھیج دیا

394

گیا؟ پہلی بعثت میں تو آپ صحیح البدن تھے، اور دُوسری بعثت میں انواع و اقسام کے امراضِ خبیثہ کا مجموعہ بن گئے، پہلی بعثت میں آپ کے اعضاء صحیح سالم تھے، اور دُوسری بعثت میں دائیں ہاتھ سے معذور، پہلی بعثت میں آپ جری اور بہادر تھے، اور دُوسری بعثت میں ضعفِ دِل ودِماغ کے مریض، پہلی بعثت میں صاحبِ شریعت تھے اور دُوسری بعثت میں شریعت و نبوّت سے محروم، پہلی بعثت میں شعرگوئی آپ کے بلند و بالا مقام کے لائق نہ تھی، اور دُوسری بعثت میں آپ شاعر تھے، پہلی بعثت میں آپ دُنیا کے مجاہدِ اعظم اور فاتحِ اعظم تھے، اور دُوسری بعثت میں دجال (انگریز) کے غلام۔ پہلی بعثت میں آپ ’’نبیٔ اُمی‘‘ تھے، اور دُوسری بعثت میں آپ کو فضل اِلٰہی (شیعہ) کے سامنے زانوئے تلمذ طے کرنا پڑے۔

پہلی بعثت میں آپ کی جلالت و عظمت کا یہ عالم تھا کہ دُنیا کے جابر و قاہر بادشاہوں کو خاطر میں نہ لاتے تھے، اور دُوسری بعثت میں آپ کے عجز و درماندگی کا یہ عالم ہوا کہ نصرانی ملکہ کو (جس کو کبھی غسلِ جنابت بھی نصیب نہ ہوا) یہ عرض داشت پیش کرنے لگے:

’’اس عاجز (مرزا غلام احمد) کو وہ اعلیٰ درجہ کا اِخلاص اور محبت اور جوشِ اِطاعت حضور ملکہ معظمہ اور اس کے معزز افسروں کی نسبت حاصل ہے جو میں ایسے الفاظ نہیں پاتا جن میں اس اِخلاص کا اندازہ بیان کرسکوں، اسی سچی محبت اور اِخلاص کی تحریک سے جشن شصت سالہ جوبلی کی تقریب پر میں نے ایک رسالہ حضرت قیصرہ ہند دام اقبالہا کے نام تالیف کرکے اور اس کا نام ’’تحفۂ قیصریہ‘‘ رکھ کر جناب ممدوحہ کی خدمت میں بطور درویشانہ تحفہ کے ارسال کیا تھا، اور مجھے قوی یقین تھا کہ اس کے جواب سے مجھے عزّت دی جائے گی، اور اُمید سے بڑھ کر میری سرفرازی کا موجب ہوگا ...... مگر مجھے نہایت تعجب ہے کہ ایک کلمہ شاہانہ سے بھی ممنون نہیں کیا گیا، اور میرا کانشس ہرگز اس بات کو قبول نہیں کرتا کہ وہ ہدیہ عاجزانہ یعنی رسالہ تحفۂ قیصریہ حضورِ ملکہ معظمہ میں پیش ہوا ہو اور پھر میں اس کے جواب

395

سے ممنون نہ کیا جاؤں، یقینا کوئی اور باعث ہے، جس میں جناب ملکہ معظمہ قیصرہ ہند دام اقبالہا کے ارادے اور مرضی اور علم کو کچھ دخل نہیں، لہٰذا اس حسنِ ظن نے جو حضور ملکہ معظمہ دام اقبالہا کی خدمت میں رکھتا ہوں مجھے مجبور کیا کہ میں اس تحفہ یعنی رسالہ تحفۂ قیصریہ کی طرف جناب ممدوحہ کو توجہ دِلاؤں اور شاہانہ منظوری کے چند اَلفاظ سے خوشی حاصل کروں، اسی غرض سے یہ عریضہ روانہ کرتا ہوں۔

میں دُعا کرتا ہوں کہ خیر و عافیت اور خوشی کے وقت میں خدا تعالیٰ اس خط کو حضور قیصریہ ہند دام اقبالہا کی خدمت میں پہنچادے، اور پھر جناب ممدوحہ کے دِل میں اِلہام کرے کہ وہ اس سچی محبت اور سچے اِخلاص کو، جو حضرتِ موصوفہ کی نسبت میرے دِل میں ہے، اپنی پاک فراست سے شناخت کرلیں اور رعیت پروری کی رُو سے مجھ پر رحمت جواب سے ممنون فرماویں۔‘‘

(ستارہ قیصریہ ص:۲)

پہلی بعثت کی عظمت و برتری اور علوِ شان پر نظر کرو، اور پھر دُوسری بعثت کی اس گراوَٹ، چاپلوسی، خوشامد اور ناصیہ فرمائی کو دیکھو۔ دُوسری بعثت میں قادیان کا محمد رسول اللہ، صلیب پرست اور نجس ملکہ کو اپنی محبت و اِخلاص، اطاعت و وفاشعاری اور بندگی وغلامی کا کن گھٹیا الفاظ میں یقین دِلاتا ہے اور اسے طول طویل ...لیکن بے مغز و بے مصرف... خطوط پے درپے بھیجتا ہے، لیکن وہ اس ’’غلام ابن غلام‘‘ کو خط کی رسید بھیجنا بھی گوارا نہیں کرتی۔ پہلی بعثت کی وہ عظمت و رفعت، اور دُوسری بعثت کی یہ پستی اور گراوَٹ؟ سوچو اور سوچ کر بتاؤ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ...العیاذباللہ... پہلی بعثت میں وہ کونسا گناہ ہوا تھا کہ اللہ تعالیٰ نے اس کی سزا میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو قادیان کے ایک مغل بچے کے رُوپ میں دوبارہ دُنیا میں بھیج دیا...؟

۸: ... اس سے بڑھ کر تعجب خیز مرزا غلام احمد قادیانی کا یہ دعویٰ ہے کہ:

396

’’دُوسری بعثت کی رُوحانیت، محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے کی رُوحانیت سے اقویٰ اور اَکمل اور اَشد ہے۔‘‘

(خطبہ اِلہامیہ ص:۱۸۱)

اور رُوحانی ترقیات کی طرف آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا تو صرف پہلا قدم ہی اُٹھ سکا تھا، لیکن مرزا غلام احمد رُوحانی ترقیات کی آخری چوٹی تک پہنچ گیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں اسلام ہلال کی مانند تھا (جس کی کوئی روشنی نہیں ہوا کرتی) لیکن مرزا غلام احمد کے طفیل وہ بدرِ کامل بن چکا ہے۔

جس شخص کے سینے میں دِل اور دِل میں ایمان کی ذرا بھی رمق موجود ہو، جسے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی ذاتِ اقدس سے عقیدت و محبت کا ادنیٰ سے ادنیٰ تعلق بھی ہو، اور جس کی چشمِ بصیرت سیاہ و سفید کے درمیان تمیز کرنے کی کسی درجے میں بھی صلاحیت رکھتی ہو، کیا وہ مرزا غلام احمد قادیانی کے ان تعلّی آمیز دعوؤں کو ایک لمحے کے لئے بھی قبول کرسکتا ہے، جن میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی صریح توہین و تنقیص پائی جاتی ہے...؟

۹: ... چلئے اس کو بھی جانے دیجئے، ذرا اسی نکتے پر غور فرمائیے کہ مرزا غلام احمد قادیانی کی ’’اعلیٰ و اکمل رُوحانیت‘‘ نے دُنیا میں کون سا رُوحانی انقلاب برپا کرڈالا۔ ان کے ’’بدرِ کامل‘‘ نے دُنیا کو کیا روشنی عطا کی؟ اور ان کے ’’رُوحانی عروج‘‘ نے سفلی خواہشات اور مادّیت کے سیلاب کے سامنے کون سا بند باندھ دیا؟ ہر چیز کو جھٹلایا جاسکتا ہے مگر ساری دُنیا کے مشاہدے کو جھٹلانا ممکن نہیں۔ مرزا غلام احمد قادیانی کی ’’بعثتِ ثانیہ‘‘ پر کامل صدی کا عرصہ گزرچکا ہے، دُنیا کے حالات پر نظر کرکے فیصلہ کرو کہ کیا مرزا غلام احمد قادیانی کے ان بلند آہنگ دعوؤں سے دُنیا کا رُخ بدلا؟ فسق و فجور، ظلم و عدوان اور کفر و اِرتداد میں کوئی کمی واقع ہوئی؟ گھر بیٹھے اعلیٰ و اکمل رُوحانیت کے دعوے کئے جانا کیا مشکل ہے، مگر سوال تو یہ ہے کہ اس ’’رُوحانیت‘‘ کا مصرف کیا تھا؟ اس کا نتیجہ کیا نکلا...؟

ساری دُنیا کی اِصلاح کا قصہ بھی رہنے دیجئے، خود مرزا غلام احمد قادیانی کے ہاتھ پر جن لوگوں نے بیعت کی اور سالہا سال تک ان کی صحبت سے جو لوگ مستفید رہے، سوال

397

یہ ہے کہ مرزا غلام احمد قادیانی کی ’’اعلیٰ و اکمل رُوحانیت‘‘ نے کم از کم انہی کی زندگیوں میں کیا اِنقلاب برپا کیا؟ اس کے لئے کسی خارجی شہادت کی ضرورت نہیں، بلکہ مرزا قادیانی نے ۱۸۹۳ء کے ’’اشتہار التوائے جلسہ‘‘ میں جو ’’شہادۃ القرآن‘‘ کے ساتھ ملحق ہے، اپنی جماعت کی ’’اخلاقی بلندی‘‘ کا جو نقشہ کھینچا ہے اسی کا ایک نظر مطالعہ کافی ہے، اس کا خلاصہ یہاں درج کرتا ہوں۔

مرزا کی ’’بعثتِ ثانیہ‘‘ پر تیرہ چودہ سال کا عرصہ گزر رہا ہے، مگر ان کی جماعت کے بیشتر افراد بقول ان کے اب تک نااہل، بے تہذیب، ناپاک دِل، للّٰہی محبت سے خالی، پرہیزگاری سے عاری، کج دِل، متکبر، بھیڑیوں کی مانند، سفلہ، خودغرض، لڑاکے، حملہ آور، گالیاں بکنے والے، کینہ در، کھانے پینے پر نفسانی بحثیں کرنے والے، نفسانی لالچ کے مریض، بدتہذیب، ضدی، درندوں سے بدتر اور درحقیقت جھوٹ کو نہ چھوڑنے والے ہیں۔

مزید تیرہ چودہ سال بعد ان کی جماعت کی اخلاقی سطح جس قدر بلند ہوئی، مرزا قادیانی اپنی آخری تصنیف میں اس کا نقشہ ان الفاظ میں کھینچتے ہیں:

’’ابھی تک ظاہری بیعت کرنے والے بہت سارے ایسے ہیں کہ نیک ظنی کا مادّہ بھی ہنوز ان میں کامل نہیں، اور ایک کمزور بچے کی طرح ہر ایک اِبتلا کے وقت ٹھوکر کھاتے ہیں، اور بعض بدقسمت ایسے ہیں کہ شریر لوگوں کی باتوں سے جلد متأثر ہوجاتے ہیں، اور بدگمانی کی طرف ایسے دوڑتے ہیں جیسے کتا مردار کی طرف۔‘‘

(براہین احمدیہ حصہ پنجم ص:۸۸)

جب مرزا غلام احمد قادیانی پوری زندگی کی پچّیس تیس سالہ محنت کا ثمرہ بقول ان کے ’’جیسے کتا مردار کی طرف‘‘ نکلا، تو اندازہ کیا جاسکتا ہے کہ ان کے بعد ان کی جماعت کی ’’رُوحانیت‘‘ کا معیار کتنا ’’بلند‘‘ ہوگا؟ لاہوری فریق نے قادیانی فریق کے اِمام (مرزا محمود) اور اس کے مقتدر لیڈروں پر، اسی طرح قادیانی فریق نے لاہوری فریق کے امیر (مسٹر محمد علی) اور اس کے ممتاز ممبروں پر (جو سب کے سب مرزا غلام احمد قادیانی کے یارِ غار

398

اور طویل صحبت یافتہ تھے) اِلزامات کی جو بوچھاڑ کی ہے وہ کس کے علم میں نہیں؟ ان میں اخلاقی اعتبار سے زِنا، لواطت، چوری، بدکاری، قتل و غارت، تعلّی و تکبر، حرام خوری، خودغرضی، فریب کاری، مغالطہ اندازی اور بددیانتی کے اِلزامات اور دِینی لحاظ سے کفر و شرک، اِرتداد و نفاق اور تحریف و تلبیس وغیرہ کے اِلزامات سرِفہرست ہیں۔ جس قوم کے امیرالمؤمنین اور سربر آوردہ اَفراد کا اَخلاقی معیار یہ ہو، اس کے عوام کالانعام کا کیا پوچھنا! یہ وہ لوگ تھے جن کی مرزا غلام احمد قادیانی کی اقویٰ و اکمل اور اَشد رُوحانیت نے برسہا برس تک تربیت کی، جن کو مرزا غلام احمد قادیانی کے ’’فرشتہ‘‘ کہلانے کا شرف حاصل ہوا، جن کے حق میں مرزا غلام احمد قادیانی نے اِلہامی بشارتیں سنائیں، جو مرزا غلام احمد قادیانی کے نقیب اور داعی تھے، انہی کے ایسے اخلاقی قصے (جن کو سن کر تہذیب و شرافت سر پیٹ لے) گلی کوچوں میں گائے جاتے ہیں، اخباروں اور رِسالوں میں چھپتے ہیں اور ان کی صدائے بازگشت سے عدالتوں کے کٹہرے گونج اُٹھتے ہیں۔

یہ تھا مرزا غلام احمد قادیانی کی رُوحانیت کا اِصلاحی کارنامہ، اور یہ تھا اس کے اس پُرغرور دعوے کا نتیجہ کہ ان کی رُوحانیت آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے سے اقویٰ اور اَکمل اور اَشد ہے۔ اللہ ہمارے بھائیوں کو فہم و بصیرت بخشے اور صراطِ مستقیم کی ہدایت فرمائے۔

خلاصہ یہ کہ مرزا غلام احمد قادیانی کا محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثتِ ثانیہ (قادیان میں دوبارہ تشریف آوری) کا عقیدہ پیش کرنا، خود کو بروزِ محمد کی حیثیت سے محمد رسول اللہ قرار دینا، اور پھر اس قادیانی بعثت کو مکی بعثت سے اعلیٰ و برتر قرار دینا، نہ صرف اسلامی عقیدے کے خلاف، اور قرآنِ کریم کی تصریحات کے منافی ہے، بلکہ یہ عقل و خرد کے اعتبار سے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی ذاتِ اقدس پر بدترین ظلم اور آپ سے ناقابلِ برداشت مذاق ہے۔ مرزا غلام احمد قادیانی کے ماننے والوں کے دِل میں اگر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی عزّت و حرمت کی کوئی رمق باقی ہے تو میں ان سے حرمتِ نبوی کا واسطہ دے کر عرض کرتا ہوں کہ خدارا ان حقائق پر غور فرمائیں، اور مرزا غلام احمد قادیانی کی پیروی سے

399

دست کش ہوکر حضرت خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم کے دامنِ رحمت سے وابستہ ہوجائیں۔ دُعا کرتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ ہمارے ان بھولے بھٹکے بھائیوں کو بھی صراطِ مستقیم کی ہدایت فرمائے اور شیطانِ لعین کے چنگل سے نجات عطا فرمائے۔

وَصَلَّی اللہُ عَلٰی خَیْرِ خَلْقِہٖ سَیِّدِنَا وَمَوْلَانَا مُحَمَّدٍ خَاتَمِ النَّبِیِّیْنَ

وَعَلٰی آلِہٖ وَاَصْحَابِہٖ اَجْمَعِیْنَ اِلٰی یَوْمِ الدِّیْنِ

400

قادیانی عقائد...۔۔

اور قادیانیوں سے خیرخواہانہ گزارش

بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ

اَلْحَمْدُ للہِ وَسَلَامٌ عَلٰی عِبَادِہِ الَّذِیْنَ اصْطَفٰی

عقیدہ:۱: ...قادیانیوں کا عقیدہ ہے کہ کلمہ طیبہ: ’’لا الٰہ الا اللہ محمد رسول اللہ‘‘ میں ’’محمد رسول اللہ‘‘ سے مراد مرزا غلام احمد قادیانی ہے، چنانچہ مرزا بشیر احمد صاحب ایم اے فرماتے ہیں:

’’مسیح موعود (مرزا غلام احمد قادیانی) خود محمد رسول اللہ ہے جو اشاعت اسلام کے لئے دوبارہ دنیا میں تشریف لائے، اس لئے ہم (مرزائیوں) کو کسی نئے کلمہ کی ضرورت نہیں، ہاں! اگر محمد رسول اللہ کی جگہ کوئی اور آتا تو ضرورت پیش آتی۔‘‘

(کلمۃ الفصل ص:۱۵۸، مندرجہ ریویو آف ریلیجنز بابت مارچ، اپریل ۱۹۱۵ء)

عقیدہ:۲: ...قادیانیوں کا عقیدہ ہے کہ: ’’چودھویں صدی سے تمام انسانیت کا رسول مرزا غلام احمد ہے۔‘‘

(تذکرہ ص:۳۶۰)

عقیدہ:۳: ...قادیانیوں کا عقیدہ ہے کہ: ’’رحمۃ للعالمین مرزا غلام احمد ہے۔‘‘

(تذکرہ ص:۸۳)

عقیدہ:۴: ...قادیانی عقیدہ ہے کہ: ’’خاتم الانبیاء مرزا غلام احمد قادیانی ہے۔‘‘ چنانچہ مرزائی اخبار ’’الفضل‘‘ مؤرخہ ۲۶؍ستمبر ۱۹۱۵ء کی اشاعت میں لکھتا ہے:

’’یہ مسلمان کیا منہ لے کر دوسرے مذاہب کے بالمقابل اپنا دین پیش کرسکتے ہیں تاوقتیکہ وہ مسیح موعود (غلام احمد قادیانی) کی

401

صداقت پر ایمان نہ لائیں جو فی الحقیقت وہی ختم المرسلین تھا کہ خدائی وعدہ کے مطابق دوبارہ آخرین میں مبعوث ہوا، وہ (مرزا) وہی فخر الاولین و آخرین ہے جو آج سے تیرہ سو برس پہلے رحمۃ للعالمین بن کر آیا تھا۔‘‘

(قادیانی مذہب ص:۶۲۴)

عقیدہ:۵: ...قادیانی عقیدہ ہے کہ: ’’آسمان و زمین اور تمام کائنات کو صرف غلام احمد کی خاطر پیدا کیا گیا: ’’لولَاک لما خلقت الأفلاک۔‘‘

(حقیقۃ الوحی ص:۹۹)

عقیدہ:۶: ...قادیانی عقیدہ ہے کہ: ’’مرزا غلام احمد کا آسمانی تخت تمام نبیوں سے اونچا ہے۔‘‘

(حقیقۃ الوحی ص:۸۹)

عقیدہ:۷: ...قادیانی عقیدہ ہے کہ: ’’نعوذباللہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا زمانہ روحانی ترقیات کی طرف پہلا قدم تھا، اور مرزا غلام احمد کے زمانہ میں روحانیت کی پوری تجلی ہوئی۔‘‘

(خطبہ الہامیہ ص:۱۷۷)

عقیدہ:۸: ...قادیانی عقیدہ ہے کہ: ’’آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو چھوٹی فتح مبین نصیب ہوئی تھی اور بڑی فتح مبین مرزا غلام احمد کو ہوئی۔‘‘

(خطبہ الہامیہ ص:۱۹۳)

عقیدہ:۹: ...قادیانی عقیدہ ہے کہ: ’’آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ کا اسلام پہلی رات کے چاند کی طرح (یعنی بے نور تھا) اور مرزا غلام احمد کے زمانہ کا اسلام چودھویں رات کے چاند کی طرح تاباں و درخشاں ہے۔‘‘

(خطبہ الہامیہ ص:۱۸۴)

عقیدہ:۱۰: ...قادیانی عقیدہ ہے کہ: ’’آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے معجزات تین ہزار تھے (تحفہ گولڑویہ ص:۶۳) اور مرزا غلام احمد کے معجزے تین لاکھ سے بھی زیادہ ہیں۔‘‘

(حقیقۃ الوحی ص:۶۷)

عقیدہ:۱۱: ...قادیانی عقیدہ ہے کہ: ’’مرزا غلام احمد کا ذہنی ارتقا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے زیادہ تھا۔‘‘

(ریویو، مئی ۱۹۲۹ء، بحوالہ قادیانی مذہب ص:۲۴۱)

عقیدہ:۱۲: ...قادیانی عقیدہ ہے کہ: ’’مرزا غلام احمد کی روحانیت آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے اقویٰ اور اکمل اور اشد ہے۔‘‘

(خطبہ الہامیہ ص:۱۸۱)

402

عقیدہ:۱۳: ...قادیانی عقیدہ ہے کہ:

  1. ’’محمد پھر اتر آئے ہیں ہم میں!

    اور آگے ہیں بڑھ کر اپنی شاں میں

  2. محمد دیکھنے ہوں جس نے اکمل

    غلام احمد کو دیکھے قادیاں میں‘‘

(اخبار بدر قادیاں ج:۲، ش:۲، مؤرخہ ۲۵؍اکتوبر ۱۹۰۶ء)

عقیدہ:۱۴: ...قادیانی عقیدہ ہے کہ: ’’اللہ تعالیٰ نے حضرت آدم علیہ السلام سے لے کر حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تک ہر ایک نبی سے مرزا غلام احمد قادیانی پر ایمان لانے اور اس کی بیعت و نصرت کرنے کا عہد لیا تھا۔‘‘

(اخبار الفضل ۱۹؍، ۲۱؍ستمبر ۱۹۱۵ء، الفضل ۲۶؍فروری ۱۹۲۴ء قادیانی مذہب ص:۲۴)

عقیدہ:۱۵: ...قادیانی عقیدہ ہے کہ: ’’اگر حضرت موسیٰ و عیسیٰ علیہما السلام مرزا غلام احمد کے زمانے میں ہوتے تو ان کو مرزا کی پیروی کے سوا کوئی چارہ نہ ہوتا۔‘‘

(اخبار الفضل ۱۸؍مارچ ۱۹۱۶ء بحوالہ قادیانی مذہب ص:۳۲۵)

عقیدہ:۱۶: ...قادیانی عقیدہ ہے کہ: ’’جس طرح قرآن کریم آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا معجزہ تھا، جس کی مثل لانے سے دنیا عاجز ہے، اسی طرح مرزا غلام احمد کی تصنیف اعجاز احمدی اور اعجاز المسیح بھی معجزہ ہے۔‘‘

عقیدہ:۱۷: ...قادیانی عقیدہ ہے کہ: ’’آخری آسمانی کتاب قرآن مجید نہیں بلکہ مرزا غلام احمد کی وحی کا مجموعہ تذکرہ آخری وحی ہے۔‘‘

عقیدہ:۱۸: ...قادیانی عقیدہ ہے کہ: ’’مرزا غلام احمد قادیانی بمنزلہ خدا کی اولاد کے ہے۔‘‘

(تذکرہ ص:۴۱۲)

عقیدہ:۱۹: ...قادیانی عقیدہ ہے کہ: ’’مرزا غلام احمد خدا کا بروز ہے۔‘‘

(تذکرہ ص:۵۹۶)

عقیدہ:۲۰: ...قادیانی عقیدہ ہے کہ: ’’مرزا غلام احمد خدا کی توحید و تفرید ہے۔‘‘

(تذکرہ ص:۷۴۱)

403

عقیدہ:۲۱: ...قادیانی عقیدہ ہے کہ: ’’مرزا غلام احمد خدا کی روح ہے۔‘‘

(تذکرہ ص:۷۴۱)

عقیدہ:۲۲: ...قادیانی عقیدہ ہے کہ:

  1. ’’غلام احمد ہے عرش رب اکبر

    مکاں اس کا ہے گویا لامکاں میں‘‘

(اخبار بدر ۲۵؍اکتوبر ۱۹۰۶ء)

عقیدہ:۲۳: ...قادیانی عقیدہ ہے کہ: ’’مرزا غلام احمد ’’کن فیکون‘‘ کا مالک ہے۔‘‘

(تذکرہ ص:۵۲۵)

عقیدہ:۲۴: ...قادیانی عقیدہ ہے کہ: ’’مرزا غلام احمد خدا کا اعلیٰ نام ہے۔‘‘

(تذکرہ ص:۲۲۸)

عقیدہ:۲۵: ...قادیانی عقیدہ ہے کہ: ’’مرزا خدا سے ہے اور خدا مرزا سے۔‘‘

(تذکرہ ص:۴۳۶)

  1. ’’خدا سے تو، خدا تجھ سے ہے واللہ

    ترا رتبہ نہیں آتا بیاں میں‘‘

(اخبار بدر ۲۵؍اکتوبر ۱۹۰۶ء)

عقیدہ:۲۶: ...قادیانی عقیدہ ہے کہ: ’’آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر دجال، عیسیٰ بن مریم، یاجوج و ماجوج، دابۃ الارض وغیرہ کی پوری حقیقت نہیں کھلی تھی، مرزا غلام احمد پر ان تمام چیزوں کی حقیقت کھل گئی۔‘‘

(ازالہ اوہام ص:۶۹۱)

عقیدہ:۲۷: ...قادیانی عقیدہ ہے کہ: ’’اس زمانہ میں صرف آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی پیروی مدار نجات نہیں بلکہ صرف مرزا غلام احمد کی پیروی سے نجات ہوگی۔‘‘

(اربعین ص:۷)

عقیدہ:۲۸: ...قادیانی عقیدہ ہے کہ: ’’جو لوگ مرزا غلام احمد کو (مندرجہ بالا صفات کے ساتھ) نہیں مانتے وہ شقی ازلی ہیں جو دوزخ بھرنے کے لئے پیدا کئے گئے۔‘‘

(براہین احمدیہ حصہ پنجم ص:۸۲،۸۳)

404

عقیدہ:۲۹: ...قادیانی عقیدہ ہے کہ: ’’جو شخص مرزا کی پیروی نہ کرے وہ خدا و رسول کا نافرمان اور جہنمی ہے۔‘‘

(اشتہار معیار الاخیار مؤرخہ ۲۵؍مئی ۱۹۰۰ء)

عقیدہ:۳۰: ...قادیانی عقیدہ ہے کہ:

’’ہر ایک ایسا شخص جو موسیٰ کو تو مانتا ہے، مگر عیسیٰ کو نہیں مانتا، یا عیسیٰ کو مانتا ہے مگر محمد کو نہیں مانتا، یا محمد کو مانتا ہے مگر مسیح موعود (غلام احمد قادیانی) کو نہیں مانتا، وہ نہ صرف کافر بلکہ پکا کافر اور دائرۂ اسلام سے خارج ہے۔‘‘

(کلمۃ الفصل ص:۱۱۰، مصنفہ مرزا بشیر احمد)

عقیدہ:۳۱: ...قادیانی عقیدہ ہے کہ: ’’حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے جو معجزات قرآن کریم میں بیان فرمائے گئے ہیں سب مسمریزم کا کرشمہ تھے۔‘‘

(ازالہ اوہام حاشیہ ص:۳۰۵)

عقیدہ:۳۲: ...قادیانی عقیدہ ہے کہ: ’’حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے قرآنی معجزات مکروہ اور قابل نفرت ہیں۔‘‘ چنانچہ مرزا قادیانی لکھتا ہے:

’’اگر یہ عاجز اس عمل کو مکروہ اور قابل نفرت نہ سمجھتا تو خدا تعالیٰ کے فضل و توفیق سے امید قوی رکھتا تھا کہ ان عجوبہ نمائیوں میں حضرت مسیح ابن مریم سے کم نہ رہتا۔‘‘

(ازالہ اوہام حاشیہ ص:۲۵۸)

عقیدہ:۳۳: ...قادیانی عقیدہ ہے کہ: ’’آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے بطور معجزہ صرف چاند گہن ہوا اور مرزا غلام احمد کے معجزہ کے طور پر چاند اور سورج دونوں کو گہن ہوا۔‘‘

(اعجاز احمدی ص:۷۱)

یہ عقائد صریح طور پر اسلام کی ضد اور پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم سے بغاوت ہے، اس لئے مرزا غلام احمد کے ماننے والوں سے خیرخواہانہ گزارش ہے کہ ان کفریہ عقائد سے توبہ کرکے دوبارہ اسلام میں داخل ہوں۔

(ہفت روزہ ختمِ نبوّت کراچی ج:۱۱ ش:۳۱)

405

مرزائیوں کو دعوتِ غور و فکر!

بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ

اَلْحَمْدُ للہِ وَسَلَامٌ عَلٰی عِبَادِہِ الَّذِیْنَ اصْطَفٰی!

مخدوم و مکرم، زیدت الطافہم، آداب و دعوات!

جناب کا گرامی نامہ موصول ہوا، بحث تو میرا مقصد نہ پہلے تھا، نہ اب ہے، البتہ طلبِ حق کی دعوت مقصود ہے، حق تعالیٰ شانہ کے فضل و عنایت سے کیا بعید ہے کہ ہمارے ان بھائیوں کو، جو ہم سے کٹ گئے، دوبارہ ملادے، اور اپنی قدرت سے ہدایت کا فیصلہ فرمادے،اَللّٰھُمَّ اَرِنَا الْحَقَّ حَقًّا وَّارْزُقْنَا اتِّبَاعَہٗ، وَاَرِنَا الْبَاطِلَ بَاطِـلًا وَّارْزُقْنَا اجْتِنَابَہٗ!

جناب جو گرامی نامہ تحریر فرمائیں گے، یہ ناکارہ اس کا جواب ضرور دے گا، مگر لڑائی مقصود نہیں، طلبِ حق کو مقصود بنانا چاہئے، اگر آپ مجھے دعوت دینا چاہتے ہیں تو آپ کا فرض ہے کہ آپ جس کی دعوت دے رہے ہیں اس کا سچا ہونا دلائل سے ثابت کریں، اور میں آپ کو مرزا صاحب سے اجتناب کی دعوت دے رہا ہوں، میرا فرض ہے کہ میں مرزا صاحب کے جھوٹا ہونے پر دلائل پیش کروں، اور آپ سے بنظرِانصاف غور کرنے کی توقع رکھوں۔

جانِ برادر! میں نے اپنے مضمون میں (جو چوہدری صاحب کے جواب میں لکھا گیا تھا) جناب مرزا صاحب کی راستی، دیانت و امانت اور ان کی ذہنی صحت کا ایک خاکہ پیش کیا تھا، یا تو آپ یہ ارشاد فرماتے کہ جو باتیں میں نے لکھی ہیں، غلط ہیں، جناب مرزا صاحب کی کتابوں میں یہ باتیں موجود نہیں، یا آپ انصاف کے تقاضوں کے مطابق غور فرماتے کہ جو شخص اتنے بڑے بڑے جھوٹ بولتا ہو، انبیاء و اولیاء کی گستاخیاں کرتا ہو، باقرارِ خود مراق کا مریض ہو، نامحرم عورتوں سے پاؤں دبواتا ہو، آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے

406

برتری کا دعویٰ کرتا ہو، کیا وہ ’’مسیحِ موعود‘‘ ہوسکتا ہے؟ نہیں...! بلکہ اس کو شریف آدمی کہنا بھی صحیح نہیں۔

یقین جانئے! مجھے نہ تو مرزا صاحب سے کوئی ذاتی پرخاش ہے، نہ ان کی جماعت کے کسی فرد سے، میں نے پہلے بھی عرض کیا تھا کہ آپ سے مرزا صاحب کو ’’مسیحِ موعود‘‘ ماننے میں غلطی ہوئی ہے، ہوسکتا ہے کہ آپ نے اخلاص سے ہی ان کو مانا ہو، مگر غلطی بہرحال غلطی ہے، جب ایک شخص کا جھوٹا ہونا بالکل کھل کر سامنے آجائے تو انصاف و دیانت کا تقاضا یہ ہے کہ آدمی ایسے شخص سے بیزار ہوجائے، قیامت کے دن صادقوں کو ان کا صدق کام دے گا...!

میں پہلے بھی کئی دوستوں سے عرض کرچکا ہوں اور آپ سے بھی عرض کرتا ہوں کہ یہ تو آپ کو معلوم ہے کہ مرزا صاحب نے اپنے ’’مراق‘‘ کا اقرار کیا ہے، اگر قیامت کے دن مرزا صاحب سے سوال ہوا کہ: تم نے ایسے دعوے کرکے خدا کی مخلوق کو کیوں گمراہ کیا؟ اور اُمتِ محمدیہ میں کیوں تفرقہ ڈالا؟ اور وہ اس کے جواب میں یہ عرض کریں کہ: اے اللہ! میں نے یہ سارے دعوے ’’مراق‘‘ کی بنا پر کئے تھے، اور اپنے ’’مراق‘‘ کا اقرار بھی خود اپنے قلم و زبان سے کیا تھا، یہ تو ان دانشمندوں سے پوچھئے کہ انہوں نے ایک مراقی کو مسیحِ موعود مان کر گمراہی کا راستہ کیوں اپنایا؟ اور تیرہ سو سال کے اسلامی عقائد سے کیوں انحراف کیا؟ تو آپ حضرات کے پاس مرزا صاحب کی اس دلیل کا کیا جواب ہوگا...؟

جانِ برادر! صحیح راستہ وہی ہے، جس پر مرزا صاحب سے پہلے تیرہ صدیوں کے ائمہ مجدّدین اور اکابرِ اُمت گامزن تھے، جناب مرزا صاحب نے نہ صرف ان بزرگوں کی طرف غلط باتیں منسوب کیں، بلکہ خدا و رسول کے کلام کو بھی غلط معنی پہنائے۔

میں آپ کی خیرخواہی کے لئے آپ سے عرض کرتا ہوں کہ آپ اپنے موقف پر نظرِثانی فرمائیں، اور جناب مرزا صاحب کی اصل حالت پر غور فرماکر ان سے علیحدگی اختیار فرمائیں، اس کے لئے خدا تعالیٰ سے دُعائیں کریں، اور ہدایت کے لئے التجائیں کریں، علمائے اُمت تو یہی کرسکتے ہیں کہ کسی جھوٹے کا جھوٹا ہونا دلائل سے واضح کردیں، دلوں کو

407

پھیرنا اور ہدایت کا نور ان میں بھردینا یہ ان کے قبضے میں نہیں، بلکہ اللہ تعالیٰ کی مشیت پر موقوف ہے۔

جناب نے اپنے گرامی نامے میں جو باتیں تحریر فرمائی ہیں، میں نے ان کا جواب لکھ کر بایں خیال بھیجنا مناسب نہیں سمجھا کہ یہ اصل دعوت سے ہٹ کر بے کار باتوں میں وقت ضائع کرنا ہے، آپ کی جماعت کے بہت سے لوگ اس ناکارہ کو خط لکھتے ہیں، اور مضمون تقریباً یکساں ہوتا ہے، میں سب کو یہی دعوت دیتا ہوں کہ مرزا صاحب کا دعویٰ صحیح نہیں، آپ خدا کے لئے اپنی آخرت کی فکر کیجئے! قیامت کے دن کسی کی کوئی تأویل کام نہ دے گی، اور اگر آپ کو میری اس دعوت میں تردّد ہو تو میں ناچیز استطاعت کے مطابق مرزا صاحب کا مفتری ہونا، سمجھانے کے لئے تیار ہوں، اس کے باوجود اگر آپ اصرار کرتے ہیں کہ مرزا صاحب برحق ہیں تو میں آپ کو گواہ بنانا چاہتا ہوں کہ میں نے آپ حضرات کی خدمت میں مرزا صاحب کو چھوڑنے اور دینِ اسلام کی طرف پلٹ آنے کی دعوت دی تھی، آپ قیامت کے دن میرے حق میں یہ گواہی ضرور دیں، فقط والدعا!

آپ کا مخلص

محمد یوسف عفا اللہ عنہ

408

قادیانیوں سے ہمدردانہ درخواست

مرزائی اُمت کی ’’کوثر و تسنیم‘‘ سے دُھلی زبان کے شاہپاروں کو قلم زَد کرکے متعلقہ ضروری اقتباسات اور ان کا جواب:

(مرتب)

محترم جناب محمد یوسف صاحب!

سلام من اتبعی الہدیٰ، (نقل مطابق اصل) اُمید کہ آپ بخیر و عافیت ہوں گے، آمین!

آپ کا ۲۸؍ذیقعدہ والا خط یہاں مظفرگڑھ میں ملا ہے، جبکہ میں چند ایام کی رُخصت پر آیا ہوا ہوں ......

آپ کا خط پڑھ کر مجھے احساس ہو رہا ہے کہ آپ صرف روزنامہ جنگ کے میدان کے شیر ہیں، اس میں لکھنے کی آپ کو کھلی چھٹی ہے، خواہ قارئین کے مسائل کا کوئی حل بروئے قرآن و سنت ہو یا نہ ہو، مجھے اس بات کا بھی احساس ہے کہ بالآخر آپ نے بھی اپنے پیٹ کو کچھ ایندھن مہیا کرنا ہوتا ہے، کسی نہ کسی طور تو کما کھائے مچھندر!

...۔۔ حقیقت تو یہی ہے کہ میں نے آپ پر طعنہ زنی نہیں کی تھی، بلکہ صاف صاف الزام عائد کئے تھے، لیکن ہوا یہ کہ الزامات کے جواب میں آپ نے اپنی بریت کی کوئی ایک بھی سبیل نہ نکالی، اور کیا یہ بہتر نہ تھا کہ آپ میرے ’’ظرف‘‘ کو اپنے پیمانے سے تولنے کی بجائے اپنے ’’ظرفِ عالی‘‘ کا بھی پہلے جائزہ لے لیتے، آپ نے میرے ظرف کی وسعت کی بھی ایک ہی کہی ......

409

آپ نے اس احقر کو کراچی پہنچ کر ملنے کی دعوت دی ہے، شکریہ! اِن شاء اللہ جب بھی کراچی پہنچا تو آپ کے نیاز حاصل کرنے کی حتی المقدور کوشش کروں گا۔ میرا کراچی آنا جانا ہوتا ہی رہتا ہے، لیکن سوچتا ہوں کہ نیوٹاؤن تو کافی وسیع علاقہ ہے نہ معلوم آپ کا دفتر بآسانی ملے کہ نہ ملے، کچھ مزید اَتہ پتہ لکھ بھیجتے تو کرم ہوتا۔

اسی طرح میری طرف سے بھی مخلصانہ اِک دعوتِ غریبانہ قبول فرمائیے، وہ یہ کہ ۲۶، ۲۷ اور ۲۸؍دسمبر ۱۹۷۸ء کے ایام میں جماعتِ احمدیہ کا جلسہ ربوہ میں ہونے والا ہے ...۔۔ اگر آپ مزید تحقیق کرنا چاہیں تاکہ اس جماعت کو قریب سے بھی مطالعہ کرلیا جائے تو زہے نصیب!

میں یہ دعوت محض اللہ اور آپ کے طبقہ کی پھیلائی ہوئی لاتعداد غلط فہمیوں اور بہتانوں کی بچشمِ خود چھان بین کرنے کی غرض سے دے رہا ہوں ...۔۔ فقط والسلام!

احقر الزمن

عبدالرؤف لودھی

جواب:

مخدوم و مکرم، زیدت الطافہم، آداب و دعوات!

نامۂ کرم (محررہ ۱۶؍۱۱؍۱۹۷۸ء) موصول ہوا، لطف و کرم کا بہت بہت شکریہ! غصہ اور جھنجھلاہٹ کی تلخی پہلے عتاب نامہ سے اگرچہ خاصی کم ہے، تاہم اب بھی اتنی زیادہ ہے کہ شیرینی کو ایلوا بناسکتی ہے، خیر! جزاکم اللہ، بقولِ عارف:

جواب تلخ می زیبد لب لعلِ شکر خارا

مخدوما! اس فقیر نے آپ پر طنز نہیں کیا، آپ نے دِل کی گہرائیوں سے نکلی ہوئی بات کو بھی طنز سمجھا، یہ اسی احساسِ کہتری کا نتیجہ ہے، جو غصہ اور جھنجھلاہٹ سے جنم لیتی ہے۔

مکرما! آپ میری ذات کی حد تک جو کچھ بھی فرمائیں، میں اپنے آپ کو اس سے بھی فروتر سمجھتا ہوں، اور اپنے مالک کی ستاری پر نظر رکھتا ہوں، اس لئے جناب کے ’’صاف صاف الزامات‘‘ کا جواب نہیں دوں گا، آپ ’’پیٹ کے ایندھن‘‘ کی بات

410

کریں، یا ’’کما کھائے مچھندر‘‘ کی، مجھے اس زبان میں بہرحال بات نہیں کرنی چاہئے۔

محترما! مجھے نہ آپ سے کوئی کدّ ہے، نہ آپ کی جماعت سے ذاتی مخاصمت ہے، نہ جناب مرزا صاحب بالقابہ سے، نفرت ہے تو بس اس غلط رَوِی سے جس کی بنیاد جناب مرزا صاحب نے ڈالی اور جس پر آپ کی جماعت رواں دواں ہے، یہ جناب کا حسنِ ظن ہے کہ اس فقیر نے مرزا صاحب کو پڑھے بغیر ہی انہیں جھوٹا سمجھ لیا ہے، اس ناکارہ کو جناب مرزا صاحب کے مطالعے کا جتنا شرف حاصل ہے ...اگر یہ شرف کی چیز ہے... ان کی جماعت کے کم ہی افراد کو حاصل ہوگا، اور اب بھی یہ شغل سدابہار ہے۔ میں نے جناب مرزا صاحب کے بارے میں جو رائے قائم کی ہے، ...وَکَفٰی بِاللہِ شَہِیْدًا ... وہ سنی سنائی نہیں، تحقیق و مطالعہ اور غور و فکر پر مبنی ہے، اگر مجھے آنجناب کی دِل آزاری کا اندیشہ نہ ہو، تو میں اس دعویٰ پر دلائل پیش کرتا کہ جناب مرزا صاحب نے کذب و اِفترا کا جو ریکارڈ قائم کیا ہے، اس کی نظیر ان کے کسی پیش رو میں کم ملے گی، اور حق تعالیٰ شانہ‘ نے ان کے کذب واِفترا پر اتنے دلائل جمع کردئیے ہیں جو چشمِ عبرت کے لئے کافی و شافی ہیں۔

بعض غلط فہمیاں لائقِ درگزر ہوتی ہیں، لیکن جناب مرزا صاحب کی حالت کھل جانے کے بعد میں ان کے ’’مسیحِ موعود‘‘ ماننے والوں کو معذور نہیں سمجھتا، جہاں تک عقائد کے بعض مسائل کا تعلق ہے ان پر ایک صدی سے مباحثے، مناظرے، مجادلے، مباہلے سبھی کچھ ہوچکا ہے، حق طلبی اور حق پروری مقصود ہو تو اب بھی تبادلۂ خیال کا مضائقہ نہیں، لیکن اگر مرغ بازی ہی مقصود ہو تو ساری لن ترانیوں کے جواب میں ’’لَکُمْ دِیْنُکُمْ وَلِیَ دِیْنِ‘‘ کہہ دینا ہی سنتِ نبوی ہے۔ جو لوگ ضد، تعصب، غصہ، جھنجھلاہٹ کی اس حد کو عبور کرچکے ہوں کہ مرزا صاحب کا ہر جھوٹ انہیں سچ نظر آئے، ہر کجی کو راستی سمجھیں، اور ہر اِلحاد و زَندقہ کو ’’علوم و معارف‘‘ کا نام دیں، ان کو کیا سمجھائیے؟ اور کس طرح سمجھائیے؟ انہیں بہرحال’’یَوْمَ تُبْلَی السَّرَآئِرُ‘‘ ہی کے انتظار کا مشورہ دیا جاسکتا ہے۔

جناب کے مخلصانہ جذبات سے، جو جناب مرزا صاحب بالقابہ کی ذاتِ گرامی سے وابستہ ہیں، مجھے ہمدردی ہے، اور میں جانتا ہوں کہ آدمی اپنے مقدس پیشوا کے بارے

411

میں کتنا حساس ہوتا ہے، آپ چونکہ نقدِ ایمان مرزا صاحب کے سپرد کرچکے ہیں، اس لئے میں موصوف کے حق میں کوئی ایسا لفظ استعمال نہیں کرنا چاہتا تھا جس سے جناب کے آبگینۂ احساس کو ٹھیس پہنچے، لیکن جناب کے اس ارشاد پر کہ: ’’چونکہ اس کا نام مرزا غلام احمد قادیانی ہے، لہٰذا یہ جھوٹا ہے‘‘ مجھے بطور اظہارِ واقعہ کے یہ چند الفاظ حوالۂ قرطاس کرنا پڑے، اُمید ہے کہ آپ مجھے جھوٹ کو جھوٹ کہنے میں لائقِ عفو سمجھیں گے۔

جناب نے ’’وسعتِ ظرفی‘‘ کے ضمن میں جو نگارشات فرمائی ہیں، ان کا جواب ... بقولِ شخصے ... ترکی بہ ترکی دے سکتا ہوں، لیکن میرے خیال میں شجرۂ کذب کی جڑ کو چھوڑ کر اس کی شاخوں سے اُلجھنا غیرفطری ہے۔ سوال تو یہ ہے کہ جب مرزا صاحب ہی کذّاب ہوں، تو ان کے اِلہامات، تحقیقات، دعاوی وغیرہ میں صداقت کہاں سے آئے گی؟ ان پر بحث ہی کیوں کیجئے۔

جناب کراچی تشریف لائیں تو کسی ٹیکسی رکشہ والے سے جامع مسجد نیوٹاؤن (اور اَب علامہ سیّد محمد یوسف بنوری ٹاؤن) کہہ دیجئے، وہ آپ کو سیدھا یہاں لائے گا، اور یہاں پہنچ کر اس گمنام کا نام کسی سے پوچھ لیجئے۔

جناب کی دعوت پر مشکور ہوں، مگر جناب کی اطلاع کے لئے عرض پرداز ہوں کہ ربوہ دیکھا ہے، بارہا دیکھا ہے، ’’احمدیت کا ظلّی حج‘‘ بھی آنکھوں میں ہے۔

بحمداللہ! فقیر آپ کی دُعا سے بصحت و عافیت ہے، اور جناب کی خیر وبہبودی کے لئے دُعاگو، فقط والدعا!

آپ کا مخلص

محمد یوسف عفا اللہ عنہ

۱۸؍ذوالحجہ ۱۳۹۸ھ

412

چودھری ظفراللہ خان قادیانی کو

دعوتِ اسلام

دیباچہ

بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ

میرا یہ مضمون چوہدری سر محمد ظفراللہ خاں قادیانی کے جواب میں اخبار ’’جنگ لندن‘‘ میں شائع ہوا تھا، اس لئے اس میں رُوئے سخن جناب چوہدری صاحب کی طرف ہی رہا، اب جبکہ مرزا غلام احمد قادیانی کے نیازمندوں کی خیرخواہی کی غرض سے اسے الگ شائع کیا جارہا ہے، میں ان سے دو گزارشیں کرنا چاہتا ہوں۔ ایک یہ کہ اگر مجھ سے کسی حوالے میں کوتاہی یا کسی عبارت کا مطلب سمجھنے میں غلطی ہوئی ہو تو اس کی اطلاع دہی پر ممنون ہوں گا۔ دوم یہ کہ اس رسالے کو خالی الذہن ہوکر پڑھیں، اور اگر کوئی بات اس ناکارہ کے قلم سے صحیح نکلی ہو تو اس کے تسلیم کرنے میں تأمل نہ فرمائیں۔ جیسا کہ میں نے ضمیمے کے آخر میں اشارہ کیا ہے، مرزا صاحب کے نیازمند، موصوف کی صریح اور صاف عبارتوں میں جو تأویلیں کیا کرتے ہیں، انہیں ٹھنڈے دِل سے سوچنا چاہئے کہ کیا وہ خدا تعالیٰ کی بارگاہ میں کام دیں گی؟ مرزا صاحب کی حالت اب ایک صدی گزرنے پر کسی تبصرے کی محتاج نہیں، میں اپنے ان بھائیوں کو جنہوں نے موصوف کو غلط فہمی سے سچ مچ مسیح اور مہدی مان لیا ہے، دعوت دیتا ہوں کہ خدارا ایک بار پھر اپنے موقف پر نظرِ ثانی کریں، انہوں نے نجاتِ آخرت کی خاطر جو راستہ غلط فہمی سے اپنالیا ہے وہ بے حد خطرناک ہے، اگر مرزا صاحب واقعتا مسیح یا

413

مہدی ہوتے، تو عالمِ اسلام، خصوصاً ان کی جماعت کی وہ حالت نہ ہوتی جو گزشتہ ایک صدی سے چلی آتی ہے۔ اس لئے کوئی شک نہیں کہ مرزا صاحب کو اپنے دعوؤں میں غلطی ہوئی، ان کے ماننے والوں کو اس غلطی سے توبہ کرلینی چاہئے، یہی ان کی دُنیوی و اُخروی فلاح کا راستہ ہے۔ وَاللہُ الْمُوَفِّقُ وَمَا عَلَیْنَا اِلّا الْبَلَاغ ۔

محمد یوسف لدھیانوی

۲۲؍۶؍۱۳۹۹ھ

بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ

اَلْحَمْدُ للہِ وَکَفٰی وَسَلَامٌ عَلٰی عِبَادِہِ الَّذِیْنَ اصْطَفٰی، اَمَّا بَعْدُ!

روزنامہ ’’جنگ لندن‘‘ کی ۱۹؍اکتوبر ۱۹۷۸ء کی اشاعت میں چوہدری سرظفراللہ خاں قادیانی کا ایک مضمون ’’یہ احمدیوں کے خلاف اِفتراپردازی ہے‘‘ کے زیرِ عنوان شائع ہوا، جس میں کسی صاحب طارق محمود کے ایک مضمون کے بعض اِندراجات کو نادُرست کہا گیا ہے۔ تصحیحِ نقل کی ذمہ داری تو صاحبِ مضمون پر عائد ہوتی ہے، تاہم چند اُمور کی طرف جن کا تعلق کسی خاص واقعے سے نہیں، چوہدری صاحب کی توجہ مبذول کرانا ضروری سمجھتا ہوں۔

چوہدری صاحب کو مضمون کے ناشائستہ طرزِ تحریر سے شکایت ہے، وہ کہتے ہیں:

’’اس تحریر کے الفاظ، اس کے تمام معیار اور اس کی ہر بات پر طنز، صحافت کے اس معیار سے جس پر آپ کے روزنامہ کو ہمیشہ قائم رہنا چاہئے بہت گری ہوئی ہے، دشنام دہی اور ہتک آمیز طرزِ تحریر کسی بیان کی عزت کا موجب نہیں ہوتا بلکہ اس سے نفرت پیدا کرتا ہے۔‘‘

414

آگے ایک اور جگہ لکھتے ہیں:

’’الفاظ کے شرافت سے گرے ہوئے ہونے کی طرف تو بار بار توجہ دِلانے کی ضرورت نہیں، ہر شریف انسان انہیں پڑھ کر لکھنے والے کی عدمِ شرافت پر مطلع ہوجاتا ہے۔‘‘

چوہدری صاحب نے مضمون کے جن الفاظ پر یہ شدید ریمارک دِیا ہے، وہ یہ ہیں: ’’اس کے بعد مرزا ایک ہفتے کے اندر اندر ہی واصلِ جہنم ہوا۔‘‘

جناب چوہدری صاحب کے ارشاد سے اُصولی طور پر ہر شخص کو اِتفاق کرنا چاہئے، لیکن اس شکایت سے پہلے جناب چوہدری صاحب کو دو باتیں پیشِ نظر رکھنی چاہئے تھیں:

اوّل یہ کہ مضمون کے یہ الفاظ اس شخص کے بارے میں ہیں جو چوہدری صاحب کے نزدیک خواہ کتنا ہی مقدس ہو، لیکن صاحبِ مضمون کے عقیدے میں وہ نبوّتِ کاذبہ کا مدعی ہے، ظاہر ہے کہ یہ الفاظ اگر مسیلمہ کذّاب کے بارے میں کوئی شخص استعمال کرے تو میرا خیال ہے کہ چوہدری صاحب بھی اس کو ’’غیرشریفانہ‘‘ نہیں فرمائیں گے۔

دُوسری بات یہ کہ ایک مدعیٔ نبوّتِ کاذبہ کے بارے میں ’’واصلِ جہنم‘‘ کے الفاظ کو غیرشریفانہ کہنے سے پہلے چوہدری صاحب کو مرزا غلام احمد کی کوثر و تسنیم میں دُھلی ہوئی زبان بھی پیشِ نظر رکھنی چاہئے تھی۔ مرزا نے انبیائے کرام علیہم السلام، صحابہ عظامؓ اور اکابرِ اُمتؒ کے بارے میں جو گوہر افشانی کی ہے، وہ اگر چوہدری صاحب کے حاشیہ خیال میں ہوتی تو انہیں ’’واصلِ جہنم‘‘ کے الفاظ پر عدمِ شرافت کا فتویٰ صادر کرنے کی ضرورت پیش نہ آتی۔

ملاحظہ فرمائیے:

’’مسیح کا چال چلن کیا تھا؟ ایک کھاؤ پیو، شرابی، نہ زاہد نہ عابد، نہ حق کا پرستار، متکبر، خودبیں، خدائی کا دعویٰ کرنے والا۔‘‘

(حاشیہ انجامِ آتھم)

جناب مرزا کے یہ اِرشادات مسیلمہ کذّاب یا اس کی جماعت کے بارے میں نہیں، بلکہ خدا تعالیٰ کے ایک مقدس رسول سیّدنا عیسیٰ علیہ السلام کے حق میں ہیں۔ اگر

415

چوہدری صاحب کے نزدیک یہ الفاظ ’’شریفانہ‘‘ ہیں تو اس ’’شرافت‘‘ پر چوہدری صاحب کے ہم مسلک حضرات ہی فخر کرسکتے ہیں!

جناب مرزا کی یہ نظرِ عنایت صرف سیّدنا عیسیٰ علیہ السلام تک ہی محدود نہ تھی، بلکہ وہ اکابر صحابہؓ کو بلاتکلف غبی، نادان اور معمولی انسان کے الفاظ سے یاد فرماتے ہیں، اور اُمتِ مسلمہ کے لئے ان کے پاس کافر، مشرک، جہنمی اور کنجریوں کی اولاد سے کم درجے کا شاید کوئی لفظ ہی نہیں تھا، تفصیل کے لئے دیکھئے: ’’مغلظاتِ مرزا‘‘ اور ’’رئیسِ قادیان‘‘ جلد دوم صفحہ:۲۰۰۔

میرا مقصد یہ نہیں کہ مسلمانوں کو بھی مرزا غلام احمد قادیانی کی تقلید کرنی چاہئے، اور جو شستہ زبان مرزا نے استعمال کی ہے، وہ ہمیں بھی اپنانی چاہئے، نہیں! بلکہ میرا مقصد چوہدری صاحب سے صرف اتنی گزارش کرنا ہے کہ اگر ’’مرزا واصلِ جہنم ہوا‘‘ کے الفاظ ایک مسلمان اپنے عقیدے کے مطابق استعمال کرتا ہے تو آپ اتنے حساس ہوجاتے ہیں کہ اس کے خلاف قلم برداشتہ ’’عدمِ شرافت‘‘ کا فیصلہ صادر فرماتے ہیں اور دُوسرا شخص جو انبیائے کرام علیہم السلام کو جھوٹا، زانی، شرابی تک کہتا ہے، صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو احمق اور نادان کے خطاب دیتا ہے، اور تمام اُمتِ اسلامیہ کو بیک جنبشِ قلم کافر و جہنمی بلکہ حرام زادے اور کنجریوں کی اولاد بتاتا ہے، وہ آپ کے نزدیک نہ صرف شریعت ہے، بلکہ چشمِ بددُور! ’’مسیحِ موعود‘‘ بھی۔ کیا عالمی عدالتِ انصاف کے سابق جج کا ضمیر اسے اس بے انصافی پر ملامت نہیں کرتا...؟

جناب مرزا جس شیریں کلامی کے عادی تھے، ہم انہیں کسی حد تک اس میں معذور قرار دے سکتے ہیں، کیونکہ وہ بہ اِقرارِ خود مراق اور ہسٹریا کے مریض تھے، دیکھئے: رسالہ ’’تشحیذ الاذہان، جون ۱۹۰۶ء، ملفوظات جلد:۲ صفحہ:۳۷۶، کتاب ’’منظور اِلٰہی‘‘ صفحہ:۳۴۸، اخبار ’’الحکم‘‘ ۳۱؍اکتوبر ۱۹۰۱ء، ’’سیرۃ المہدی‘‘ جلد:۳ صفحہ:۳۰۴، نیز جلد:۲ صفحہ:۵۵، رسالہ ’’ریویو آف ریلیجنز‘‘ اگست ۱۹۲۶ء صفحہ:۱۱، اور مئی ۱۹۲۷ء صفحہ:۲۶۔

416

اور مراق کے مریض کو اپنے اعصاب اور جذبات پر قابو نہیں رہتا، غصّے کی حالت میں اس کی زبان و قلم سے اس قسم کے الفاظ صادر ہوجاتے ہیں، یہی وجہ ہے کہ مرزا شرائط باندھ باندھ کر خود اپنے بارے میں بھی ایسے الفاظ کہہ جاتے ہیں جن سے آدمی کانپ کانپ جائے، مثلاً:

’’اگر میں جھوٹا ہوں تو میرے لئے سولی تیار رکھو، اور تمام شیطانوں اور بدکاروں اور لعنتیوں سے زیادہ مجھے لعنتی سمجھو۔‘‘

(جنگِ مقدس ص:۸۹)

اور کرشمۂ قدرت دیکھئے کہ جس شرط پر مرزا یہ سارے تمغے وصول فرما رہے ہیں، اللہ تعالیٰ نے وہ بھی پوری کردِکھائی، یعنی ۵؍ستمبر ۱۸۹۴ء تک پادری آتھم کا نہ مرنا، نہ حق کی طرف رُجوع کرنا۔

دُوسری جگہ ارشاد ہوتا ہے:

’’یاد رکھو! اگر اس پیش گوئی کی دُوسری جزو پوری نہ ہوئی تو میں ہر ایک بد سے بدتر ٹھہروں گا۔‘‘

(ضمیمہ انجامِ آتھم ص:۵۴، رُوحانی خزائن ج:۱۱ ص:۳۳۸)

ذرا ’’ہر ایک بد سے بدتر‘‘ کے الفاظ کا زورِ بیان دیکھئے! شیخ سعدیؒ کے ’’گالے‘‘ کی طرح مرزا کے اس ’’گالے‘‘ کی وسعت میں دُنیا بھر کی گالیاں سماجاتی ہیں، اور مرزا صاحب نے یہ ’’گالا‘‘ جس شرط پر معلق کیا تھا، خدا تعالیٰ نے اپنی رحمت سے وہ بھی پوری کردی، یعنی سلطان محمد کا نہ مرنا۔ الغرض! مرزا کو شریف زبان استعمال کرنے میں معذور سمجھنا چاہئے جب وہ خود اپنے آپ کو معاف نہیں کرتے تھے تو دُوسروں کو ان کے یہاں معافی کیوں ملتی...؟

جناب مرزا کی نظرِ شفقت کبھی کبھی غیروں کے بجائے خود اپنوں کی طرف بھی مبذول ہوجاتی تھی، چوہدری صاحب کی توجہ کے لئے ایک دو مثالیں اس کی پیش کرتا ہوں۔ ۱۸۹۳ء کا ’’اشتہار اِلتوائے جلسہ‘‘ مرزا صاحب کی تصنیف ’’شہادۃ القرآن‘‘ کے

417

آخر میں ملحق ہے، اس میں اپنے مریدوں کو انہوں نے جو خطابات دئیے ہیں ان کے چیدہ چیدہ عنوانات یہ ہیں:

نااہل، بے تہذیب، ناپاک دِل، للّٰہی محبت سے خالی، پرہیزگاری سے عاری، کج دِل، متکبر، بھیڑیوں کی مانند، سفلہ، خودغرض، لڑاکے، گالیاں بکنے والے، کینہ پروَر، کھانے پینے پر نفساتی بحثیں کرنے والے، نفسانی لالچ کے مریض، بدتہذیب، ضدی، درندوں سے بدتر، جھوٹ کو نہ چھوڑنے والے۔

مرزا نے اپنی آخری تصنیف میں، جو ان کی وفات کے بعد چھپی ہے، اپنی جماعت کا نقشہ ذیل کے الفاظ میں کھینچا ہے:

’’ابھی تک ظاہری بیعت کرنے والے بہت سے ایسے ہیں کہ نیک ظنی کا مادّہ ہنوز ان میں کامل نہیں، اور ایک کمزور بچے کی طرح ہر ایک اِبتلا کے وقت ٹھوکر کھاتے ہیں، اور بعض بدقسمت ایسے ہیں کہ شریر لوگوں کی باتوں سے متأثر ہوجاتے ہیں، اور بدگمانی کی طرف ایسے دوڑتے ہیں جیسے کتا مردار کی طرف۔‘‘

(براہین پنجم ص:۵۷، رُوحانی خزائن ج:۲۱ص:۱۱۴)

چونکہ یہ شریفانہ زبان مرزا کا طرّۂ امتیاز تھا، اس لئے ان کی جماعت کے اکابر نے بھی ان کی اس سنت کو زندہ رکھا۔

جماعتِ قادیان کے سرکاری ترجمان ’’الفضل‘‘ نے جماعتِ لاہور کے بارے میں جو اَدبی و صحافتی جواہر پارے اپنے صفحات پر بکھیرے ہیں، اگر وہ یکجا کردئیے جائیں تو دُنیا کو ایک نئے ’’فنِ دشنام‘‘ کا انکشاف ہوگا۔ چوہدری صاحب کے ذہن میں اس واقعے کی یاد تازہ ہوگی جب ’’الفضل‘‘ نے پنجابی گالی کا دو حرفی لفظ چھاپ کر دُنیائے رُوحانیت میں قادیان کا نام روشن کیا تھا (اور اگلے دن اس کی اشاعت پر معافی بھی مانگ لی تھی)۔

’’الفضل‘‘ کے علاوہ ان کی جماعت کے دیگر اَخبارات و مجلات بھی اس ادبِ عالیہ سے خاص دِلچسپی رکھتے ہیں۔ مثلاً: قادیان کے ایک معزز اخبار ’’فاروق‘‘ نے اپنی

418

صرف ایک اشاعت (۲۸؍فروری ۱۹۳۵ء) میں جماعتِ لاہور کے بارے میں جو اَدیبانہ زبان اِستعمال کی، اس کے چند اَلفاظ بطورِ نمونہ ’’پیغامِ صلح‘‘ نے پیش کئے:

لاہوری اصحابُ الفیل، اصحاب الاخدود، یہودیانہ قلابازیاں، ظلمت کے فرزند، زہریلے سانپ، خباثت و شرافت اور رذالت کا مظاہرہ، عباد الدینار، وقود النار، نہایت کمینہ سے کمینہ اور رذیل سے رذیل فطرت والا احمق انسان، دوغلے، نیمے دروں نیمے بروں عقائد، بدلگام پیغامیو! حرکاتِ دنیہ اور افعالِ شنیعہ، محسن کشانہ اور غدارانہ اور نمک حرامانہ حرکات، دو رُخے سانپ کی کھوپڑی کچلنے، رذیل اور احمقانہ فعل، کبوتر نما جانور، احمدیہ بلڈنگ کے کرمک، اے سترے بہترے بڈھے کھوسٹ! اے بدلگام! تہذیب و متانت کے اِجارہ دار پیامیو! برخوردار پیامیو! جیسا منہ ویسی چپیڑ، آلو، ترکاری، پیاز بونے بیچنے والے، جھوٹ بول کر اور دھوکے دے کر اور فریب کارانہ بھیگی بلی بن کر، لہسن پیاز اور گوبھی ترکاری کا بھاؤ معلوم ہوجاتا، آخرت کی لعنت کا سیاہ داغ ماتھے پر، اگر شرم ہو تو وہیں چُلُّو بھر پانی لے کر ڈُبکی لگالو، یہ کسی قدر دجالیت اور خباثت اور کمینگی، علی بابا چالیس چور، پیامی ایرے غیرے، سادہ لوح پیامی، نادان دُشمن، پیامیو! عقل کے ناخن لو! نامعقول ترین اور مجہول ترین تجویز، سادہ لوح اور احمق، اے سادہ لوح یا ابلہ فریب امیر پیغام! پیغام بلڈنگ کے اڑھائی ٹوٹرو، احمق اور عقل و شرافت سے خالی، اہلِ پیغام نے جس عیاری اور مکاری اور فریب کاری سے اپنے دجل بھرے پوسٹروں میں چاپلوسی اور پاپوسی کا مظاہرہ، اہلِ پیغام کے دو تازہ گندے پوسٹر۔

(اخبار ’’صلح‘‘ لاہور مؤرخہ ۱۱؍مارچ ۱۹۳۵ء، بحوالہ قادیانی مذہب، مؤلفہ پروفیسر محمد الیاس برنی، طبع پنجم ص:۹۷۵)

یہ صحافتی زبان تھی، اب ذرا خلافتی زبان بھی ملاحظہ فرمائیے، جماعتِ لاہور کے امیر جناب محمد علی صاحب کو شکایت ہے کہ:

’’خود میاں محمود احمد صاحب (خلیفہ قادیان) نے مسجد میں جمعہ کے روز خطبے کے اندر ہمیں دوزخ کی چلتی پھرتی آگ، دُنیا کی بدترین قوم اور سنڈاس میں پڑے ہوئے چھلکے کہا۔ یہ الفاظ اس

419

قدر تکلیف دہ ہیں کہ ان کو سن کر ہی سنڈاس کی بو محسوس ہونے لگتی ہے۔‘‘

(جناب محمد علی صاحب امیر جماعتِ لاہور کا خطبہ جمعہ مندرجہ اخبار ’’پیغامِ صلح‘‘ مؤرخہ ۳؍جون ۱۹۳۴ء، بحوالہ قادیانی مذہب ص:۹۷۴)

چوہدری صاحب فیصلہ کرسکتے ہیں کہ اگر ’’مرزا واصلِ جہنم‘‘ کا لفظ غیرشریفانہ ہے تو جو اَلفاظ جماعتِ لاہور کے امیر نے خلیفہ قادیان سے منسوب کئے ہیں ان کے بارے میں کیا رائے قائم کی جائے...؟

مرزا غلام احمد قادیانی کی وراثت کی امین صرف جماعتِ قادیان نہیں بلکہ جماعتِ لاہور کو بھی اس شرف کا دعویٰ ہے، انہوں نے مرزا غلام احمد قادیانی کے خاص طرزِ تحریر کو جس طرح اپنایا اس کے بھی ایک دو نمونے ملاحظہ فرمائیے!

مرزا محمود احمد قادیانی خلیفہ قادیان اپنے خطبۂ جمعہ میں جماعتِ لاہور کے ایک ممبر کے خط کا حوالہ دیتے ہوئے کہتے ہیں:

’’ایک خط میں جس کے متعلق اس نے تسلیم کیا ہے کہ وہ اسی کا لکھا ہوا ہے اس پر تحریر کیا ہے کہ:

’’حضرت مسیحِ موعود ولی اللہ تھے، اور ولی اللہ بھی کبھی کبھی زنا کرلیا کرتے تھے، اگر انہوں نے (یعنی مرزا غلام احمد قادیانی نے) کبھی کبھار زنا کرلیا تو اس میں کیا حرج ہوا۔‘‘

پھر لکھا ہے:

’’ہمیں حضرت مسیحِ موعود علیہ السلام (مرزا غلام احمد قادیانی) پر اِعتراض نہیں کیونکہ وہ کبھی کبھی زنا کیا کرتے تھے، ہمیں اِعتراض موجود خلیفہ (مرزا محمود احمد) پر ہے، کیونکہ وہ ہر وقت زنا کرتا رہتا ہے۔‘‘

اس اِعتراض سے پتا لگتا ہے کہ یہ شخص (خط لکھنے والا) پیغامی طبع ہے۔‘‘

(’’الفضل‘‘ قادیان ۳۱؍اگست ۱۹۳۸ء)

420

یہ خط جس قدر ’’شریفانہ‘‘ ہے وہ تو ظاہر ہے، لیکن اس خط کو عین خطبۂ جمعہ میں منبر پر بیٹھ کر پڑھنا بھی ’’شرافت و رُوحانیت‘‘ کا کوئی معمولی معیار نہیں، او ر اس رُوحانیت پر چوہدری صاحب اور ان کی جماعت جتنا ناز کرے بجا ہے۔

شیخ عبدالرحمن مصری، جو قادیانی اِصطلاح میں مرزا کے ’’مقدس صحابی‘‘ ہیں، کسی زمانے میں خلیفہ قادیان کے دست راست تھے اور بعد میں جماعتِ لاہور کے معمر ترین بزرگ بن گئے، انہیں ۱۹۳۶ء میں مرزا محمود احمد سے کچھ ناگفتنی قسم کی اخلاقی شکایتیں پیدا ہوئیں، نوبت فوجداری اور ضمانت طلبی تک پہنچی، انہوں نے عدالتِ عالیہ لاہور میں منسوخیٔ ضمانت کے سلسلے میں مندرجہ ذیل بیان داخل کیا۔ عدالت نے فیصلے میں اس کا حوالہ دیتے ہوئے اسے فیصلے کا مدار بنایا۔ بعد میں اخبار ’’الفضل‘‘ کے علاوہ مسٹر محمد علی امیر جماعتِ لاہور، جناب ممتاز احمد فاروقی اور جناب مظہر ملتانی نے بھی اسے اپنی کتابوں میں نقل کیا۔ مجھے اسے نقل کرتے ہوئے گھن آتی ہے، لیکن مرزا قادیانی کے اخص الخواص مریدوں کی شرافت کا حوالہ اس کے بغیر نامکمل رہے گا، اس لئے بادلِ نخواستہ اسے نقل کرتا ہوں۔ شیخ عدالتِ عالیہ لاہور کو بتاتے ہیں:

’’موجودہ خلیفہ (مرزا محمود احمد) سخت بدچلن ہے، یہ تقدس کے پردے میں عورتوں کا شکار کھیلتا ہے، اس کام کے لئے اس نے بعض مردوں اور بعض عورتوں کو بطورِ ایجنٹ رکھا ہوا ہے، ان کے ذریعے یہ معصوم لڑکیوں اور لڑکوں کو قابو کرتا ہے، اس نے ایک سوسائٹی بنائی ہوئی ہے، اس میں مرد اور عورتیں شامل ہیں، اور اس سوسائٹی میں زنا ہوتا ہے۔‘‘

(کمالاتِ محمودیہ)

آخر میں مسٹر محمد علی کی تحریر کا حوالہ دیتے ہوئے اس بحث کو ختم کرتا ہوں، مرزا محمود احمد کے ۲؍دسمبر ۱۹۳۸ء کے خطبے پر تبصرہ کرتے ہوئے لکھتے ہیں:

’’اس خطبے میں (مرزا محمود صاحب) فرماتے ہیں:

جو باتیں آج مصری صاحب میرے متعلق کہہ رہے ہیں

421

ایسی ہی باتیں ان کی پارٹی (یعنی جماعتِ لاہور) کے بعض آدمی حضرت مسیحِ موعود (یعنی مرزا غلام احمد قادیانی) کے متعلق کہا کرتے تھے۔‘‘

استغفر اللہ، ھٰذا بہتان عظیم، جمعہ کا خطبہ اور مسجد میں کھڑے ہوکر اتنا بڑا جھوٹ اور صرف اپنا عیب چھپانے کے لئے؟ میاں (محمود احمد) صاحب اپنے مریدوں کو جو چاہیں کہہ کر خوش کرلیں، مگر اس سیاہ جھوٹ میں ایک رائی کے لاکھویں اور کروڑویں حصے کے برابر بھی صداقت نہیں۔‘‘

(کمالاتِ محمودیہ)

یہ اکابرِ جماعتِ احمدیہ کی تحریروں کے چند نمونے پیش کرتے ہیں، درجہ دوم اور سوم کے طرزِ تحریر کا اندازہ اسی سے کیا جانا چاہئے...!

میں عالمی عدالتِ انصاف کے سابق صدر و جج سے صرف یہ دریافت کرنا چاہتا ہوں کہ اگر ایک نوجوان مسلمان کا یہ لفظ کہ ’’مرزا واصلِ جہنم ہوا‘‘ اس کی عدمِ شرافت کی دلیل ہے تو اکابرِ جماعتِ احمدیہ کی تحریریں بھی ان کی عدمِ شرافت کا کچھ سراغ دیتی ہیں یا نہیں؟ اگر چوہدری سرظفراللہ خان کی عدالتِ انصاف میں یہ سب ’’شریفانہ‘‘ ہیں تو ان کو اور ان کی جماعت کو نہ صرف ’’مجلس ختمِ نبوّت‘‘ کی طرف سے بلکہ عالمی برادری کی طرف سے اس بلند پایہ شرافت پر تہہ دِل سے مبارک باد پیش کرتا ہوں۔ شرافت کا یہ بلند معیار آج تک نہ کسی نے قائم کیا ہے، نہ کوئی شریف سے شریف آدمی بھی قیامت تک یہ معیار قائم کرسکے گا...!

چوہدری سرظفراللہ خان کو مضمون نگار سے ایک بڑی شکایت یہ ہے کہ اس نے اپنے مضمون کو جھوٹ اور اِفتراپردازی سے آراستہ کیا ہے۔ چنانچہ انہوں نے اپنے مضمون کا عنوان ہی یہ رکھا ہے: ’’یہ احمدیوں کے خلاف اِفتراپردازی ہے‘‘ اور اپنے مضمون میں انہوں نے کم از کم تیس بار جھوٹ، بہتان اور اِفتراپردازی کا لفظ استعمال کیا ہے۔

کسی بدترین مخالف کے بارے میں بھی غلط بیانی بہت بُری حرکت ہے، اور اگر

422

مضمون نگار نے واقعی یہ حرکت کی ہے تو اس پر چوہدری صاحب جس قدر اِحتجاج کریں بجا ہے، لیکن میں چوہدری صاحب جیسی انصاف پسند شخصیت سے یہ دریافت کرنے کی گستاخی ضرور کروں گا کہ وہ اس حرکت کا صرف اسی وقت نوٹس لیتے ہیں جب یہ کسی اناڑی مسلم نوجوان سے سرزد ہو؟ یا اکابرِ جماعتِ احمدیہ کی اس حرکت پر بھی اِظہارِ نفرت فرمائیں گے؟ میں چوہدری صاحب کے تیس عدد کی مناسبت سے بانیٔ جماعتِ احمدیہ کی غلط بیانی، اِفتراپردازی اور صریح دروغ بیانی کی تیس مثالیں پیش کرکے فیصلہ ان کی ذاتِ گرامی پر چھوڑتا ہوں۔

آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر اِفترا:

۱: ... ’’انبیائے گزشتہ کے کشوف نے اس بات پر مہر لگادی ہے کہ وہ (مسیحِ موعود) چودھویں صدی کے سر پر ہوگا اور نیز یہ کہ پنجاب میں ہوگا۔‘‘

(اربعین نمبر۲، ص:۲۳، رُوحانی خزائن ج:۱۷ ص:۳۷۱)

اس فقرے میں جناب مرزا قادیانی نے تمام انبیائے گزشتہ (علیہم السلام) کی طرف (جن کی تعداد کم و بیش ایک لاکھ چوبیس ہزار ہے) دو باتیں منسوب کی ہیں۔ مسیحِ موعود کا چودھویں صدی کے سر پر ہونا، اور پنجاب میں ہونا۔ جہاں تک ہماری ناقص معلومات کا تعلق ہے، انبیائے گزشتہ تو کجا؟ قرآن و حدیث میں بھی کسی جگہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی تشریف آوری کے لئے چودھویں صدی کا سرا تجویز نہیں کیا گیا۔ اور نہ ان کے پنجاب میں ہونے کی تصریح کی گئی ہے۔ گویا اس چھوٹے سے فقرے میں مرزا قادیانی نے کم و بیش اڑھائی لاکھ جھوٹ جمع کردئیے ہیں۔

اور صرف ایک فقرے میں اڑھائی لاکھ جھوٹ بولنا چودھویں صدی میں غلط بیانی اور جھوٹ کا سب سے بڑا ریکارڈ ہے۔ اگر چوہدری صاحب، مرزا قادیانی کے اس فقرے کا ثبوت پیش کرسکیں تو ہماری معلومات میں اضافہ ہوگا اور اگر موجودہ صدی میں جھوٹ کا اس

423

سے بڑا ریکارڈ پیش کرسکیں تو یہ بھی ایک جدید انکشاف ہوگا۔

۲: ... ’’مسیحِ موعود کی نسبت تو آثار میں یہ لکھا ہے کہ علماء اس کو قبول نہیں کریں گے۔‘‘

(ضمیمہ براہین پنجم ص:۱۸۶، رُوحانی خزائن ج:۲۱ص:۳۵۷)

آثار کا لفظ کم از کم تین احادیث پر بولا جاتا ہے، حالانکہ یہ مضمون کسی حدیث میں نہیں آتا، اس لئے اس فقرے میں تین جھوٹ ہوئے اور یہ تین جھوٹ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف منسوب کئے گئے ہیں۔

۳: ... ’’ایسا ہی احادیثِ صحیحہ میں آیا تھا کہ وہ مسیحِ موعود صدی کے سر پر آئے گا، اور چودھویں کا مجدّد ہوگا ......۔ اور لکھا تھا کہ وہ اپنی پیدائش کی رُوح سے دو صدیوں میں اشتراک رکھے گا اور دو نام پائے گا، اور اس کی پیدائش دو خاندانوں سے اشتراک رکھے گی اور چوتھی دو گونہ صفت یہ کہ پیدائش میں بھی جوڑے کے طور پر پیدا ہوگا، سو یہ سب نشانیاں ظاہر ہوگئیں۔‘‘

(ضمیمہ براہین پنجم ص:۱۸۸، خزائن ج:۲۱ص:۳۵۹، ۳۶۰)

’’احادیثِ صحیحہ‘‘ کا لفظ کم از کم تین صحیح حدیثوں پر بولا جاتا ہے، مرزا قادیانی نے چھ دعوؤں کے لئے احادیثِ صحیحہ کا حوالہ دیا ہے جو بالکل غلط اور جھوٹ ہے۔ گویا اس فقرے میں اٹھارہ جھوٹ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف منسوب کئے گئے ہیں۔

۴: ... ’’ایک مرتبہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے دُوسرے ملکوںں کے انبیاء علیہم السلام کی نسبت سوال کیا گیا تو آپ نے یہی فرمایا کہ ہر ملک میں خدا تعالیٰ کے نبی گزرے ہیں، اور فرمایا کہ ’’کان فی الھند نبیا اسود اللون اسمہ کاھنا‘‘ ‘ یعنی ہند میں ایک نبی گزرا جو سیاہ رنگ کا تھا اور نام اس کا کاہن تھا، یعنی کنہیا

424

جس کو کرشن کہتے ہیں۔‘‘

(ضمیمہ چشمہ معرفت ص:۱۰، رُوحانی خزائن ج:۲۳ص:۳۸۲)

یہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر خالص اِفترا ہے۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا کوئی ارشاد ایسا نہیں اور ’’سیاہ رنگ کا نبی‘‘ شاید مرزا قادیانی کو اپنے رنگ کی مناسبت سے یاد آگیا۔ ستم یہ ہے کہ یہ مہمل فقرہ جو مرزا قادیانی نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے منسوب کیا ہے، اس کی عربی بھی مرزا قادیانی کی ’’پنجابی عربی‘‘ جیسی ہے۔

۵: ... ’’اور آپ سے پوچھا گیا کہ کیا زبانِ پارسی میں بھی کبھی خدا نے کلام کیا ہے؟ تو فرمایا کہ: ہاں! خدا کا کلام زبانِ پارسی میں بھی اُترا ہے جیسا کہ وہ اس زبان میں فرماتا ہے:

ایں مشت خاک را گر نبخشم کنم۔‘‘

(حوالۂ بالا)

یہ بھی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر سفید جھوٹ اور خالص اِفترا ہے، ایسی کوئی حدیث نہیں۔

۶: ... ’’آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے جب کسی شہر میں وبا نازل ہو تو اس شہر کے لوگوں کو چاہئے کہ بلاتوقف اس شہر کو چھوڑ دیں۔‘‘

(اشتہار ’’مریدوں کے لئے ہدایت‘‘ مؤرخہ ۱۲؍اگست ۱۹۰۷ء)

یہ بھی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر خالص بہتان ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا ایسا کوئی ارشاد نہیں۔

۷: ... ’’افسوس کہ وہ حدیث بھی اس زمانے میں پوری ہوئی، جس میں لکھا تھا کہ مسیح کے زمانے کے علماء ان سب لوگوں سے بدتر ہوں گے جو زمین پر رہتے ہیں۔‘‘

(اعجازِ احمدی ص:۱۳، رُوحانی خزائن ج:۱۹ ص:۱۲۰)

کسی حدیث میں ’’مسیحِ موعود کے زمانے کے علماء‘‘ کی یہ حالت بیان نہیں فرمائی

425

گئی، یہ ایک طرف آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر خالص اِفترا ہے، اور دُوسری طرف تمام علمائے اُمت پر بھی بہتان ہے۔

۸: ... ’’چونکہ حدیثِ صحیح میں آچکا ہے کہ مہدیٔ موعود کے پاس ایک چھپی ہوئی کتاب ہوگی جس میں اس کے تین سو تیرہ اصحاب کا نام درج ہوگا، اس لئے یہ بیان کرنا ضروری ہے کہ وہ پیش گوئی آج پوری ہوگئی۔‘‘

(ضمیمہ انجامِ آتھم ص:۲۰)

’’چھپی ہوئی کتاب‘‘ کا مضمون کسی ’’حدیثِ صحیح‘‘ میں نہیں، اس لئے یہ سفید جھوٹ ہے، اور لطف یہ ہے کہ یہ من گھڑت حدیث بھی مرزا قادیانی کی کتاب پر صادق نہ آئی، کیونکہ مرزا قادیانی کی اس ’’کتاب‘‘ میں جن تین سو تیرہ ’’اصحاب‘‘ کے نام درج تھے، ان میں سے کئی مرزا قادیانی کے حلقۂ ’’صحابیت‘‘ سے نکل گئے۔

۹: ... ’’مگر ضرور تھا کہ وہ مجھے ’’کافر‘‘ کہتے اور میرا نام ’’دجال‘‘ رکھتے، کیونکہ احادیثِ صحیحہ میں پہلے سے یہ فرمایا گیا تھا کہ اس مہدی کو کافر ٹھہرایا جائے گا اور اس وقت کے شریر مولوی اس کو کافر کہیں گے، اور ایسا جوش دِکھلائیں گے کہ اگر ممکن ہوتا تو اس کو قتل کرڈالتے۔‘‘

(رُوحانی خزائن ج:۱۱ ص:۳۲۲)

اس عبارت میں تین باتیں ’’احادیثِ صحیحہ‘‘ کی طرف منسوب کی گئی ہیں، جن کا اطلاق کم از کم تین پر ہوتا، ہے، گویا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر نو جھوٹ باندھے گئے ہیں، کیونکہ ایسا مضمون کسی حدیث میں نہیں آتا۔

۱۰: ... ’’بہت سی حدیثوں سے ثابت ہوگیا کہ بنی آدم کی عمر سات ہزار برس ہے، اور آخری آدم پہلے آدم کی طرز پر الف ششم کے آخر میں، جو روز ششم کے حکم میں ہے، پیدا ہونے والا ہے۔‘‘

(اِزالہ اوہام ص:۶۹۶، خزائن ج:۳ ص:۴۷۵)

یہ بھی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر خالص بہتان ہے، یہ ’’آخری آدم‘‘ کا افسانہ

426

کسی حدیث میں نہیں آتا۔

یہ دس مثالیں میں نے وہ پیش کی ہیں جن میں مرزا قادیانی نے اپنی طرف سے جھوٹ گھڑ کر بڑی دلیری سے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف منسوب کیا ہے۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی ذاتِ اقدس پر مرزا قادیانی کی اِفتراپردازی کی فہرست بڑی طویل ہے مگر میں سرِدست ان ہی دس مثالوں پر اِکتفا کرتا ہوں اور چوہدری صاحب سے دریافت کرتا ہوں کہ ’’جماعتِ احمدیہ کے مقدس بانی‘‘ کی طرف کوئی معمولی سی بات منسوب کرنا تو ان کے نزدیک ناقابلِ معافی جرم ہے، کیا سروَرِ کائنات صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف غلط فقرے گھڑکر منسوب کرنا ان کے نزدیک جائز ہے؟ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد تو یہ ہے کہ: ’’جو شخص عمداً میری طرف غلط بات منسوب کرے، وہ اپنا ٹھکانا جہنم میں بنائے۔‘‘ لیکن چوہدری صاحب کے نزدیک ایسا مفتری ’’مسیحِ موعود‘‘ بن جاتا ہے، فیاللعجب...!

اللہ تعالیٰ پر اِفترا:

مرزا قادیانی نے اللہ تعالیٰ پر جو اِفترا کئے ہیں، چند مثالیں ان کی بھی ملاحظہ فرمائیں:

۱: ... ’’سورۂ تحریم میں صریح طور پر بیان کیا گیا ہے کہ بعض افراد اس اُمت کا نام مریم رکھا گیا ہے، اور پھر پوری اِتباعِ شریعت کی وجہ سے اس مریم میں خدا تعالیٰ کی طرف سے رُوح پھونکی گئی اور رُوح پھونکنے کے بعد اس مریم سے عیسیٰ پیدا ہوگیا اور اسی بنا پر خدا تعالیٰ نے میرا نام عیسیٰ بن مریم رکھا۔‘‘

(ضمیمہ براہین پنجم ص:۱۸۹، رُوحانی خزائن ج:۲۱ص:۳۶۱)

سورۂ تحریم کی تلاوت کا شرف سرظفراللہ خان کو یقینا حاصل ہوا ہوگا، وہ اپنے منصفانہ ضمیر سے دریافت فرمائیں کہ مرزا قادیانی نے قرآنِ کریم کے ’’صریح حوالے‘‘ سے جو کچھ لکھا ہے کیا یہ خالص اِفترا نہیں...؟

427

۲: ... ’’لیکن مسیح کی راست بازی اپنے زمانے میں دُوسرے راست بازوں سے بڑھ کر ثابت نہیں ہوتی، بلکہ یحییٰ نبی کو اس پر (یعنی حضرت عیسیٰ علیہ السلام پر) ایک فضیلت ہے کیونکہ وہ شراب نہیں پیتا تھا اور کبھی نہیں سنا گیا کہ کسی فاحشہ عورت نے آکر اپنی کمائی کے مال سے اس کے سر پر عطر ملا تھا، یا ہاتھوں یا اپنے سر کے بالوں سے اس کے بدن کو چھوا تھا، یا کوئی بے تعلق جوان عورت اس کی خدمت کرتی تھی، اسی وجہ سے قرآن میں یحییٰ کا نام ’’حصور‘‘ رکھا، مگر مسیح کا نام نہ رکھا، کیونکہ ایسے قصے اس نام رکھنے سے مانع تھے۔‘‘

(دافع البلاء آخری صفحہ)

گویا جتنی باتیں مرزا قادیانی نے سیّدنا عیسیٰ علیہ السلام کی طرف منسوب کی ہیں قرآن نے ان کو تسلیم کیا ہے، اسی بنا پر ان کا نام ’’حصور‘‘ نہ فرمایا گیا، حالانکہ ان فواحش کو کسی نبی کی طرف منسوب کرنا کفر ہے، اور اس کے لئے قرآنِ کریم کا حوالہ دینا خالص اِفترا ہے۔

چوہدری صاحب ’’سیرۃ المہدی‘‘ کے مطالعے کے بعد فرمائیں کہ کیا ’’بے تعلق جوان عورتیں‘‘ خود مرزا قادیانی کی ’’خدمت‘‘ سے تو بہرہ ور نہیں ہوا کرتی تھیں؟ مثلاً: زینب، عائشہ، بھانو، کاکو، تابی وغیرہ وغیرہ۔ اور یہ کہ کیا سیّدنا عیسیٰ علیہ السلام کے آئینے میں مرزا قادیانی کو خود اپنا ہی رُخِ زیبا تو نظر نہیں آگیا؟

اس سلسلے میں اگر چوہدری صاحب اخبار ’’الحکم‘‘ قادیان جلد:۱۱ ش:۱۳ صفحہ:۱۳ مؤرخہ ۱۷؍اپریل ۱۹۰۷ء کا مندرجہ ذیل ’’فتویٰ‘‘ بھی سامنے رکھیں تو انہیں فیصلہ کرنے میں مزید آسانی ہوگی۔

سوال: ... حضرتِ اقدس (مرزا قادیانی) غیرعورتوں سے ہاتھ پاؤں کیوں دبواتے ہیں؟

جواب: ... وہ نبیٔ معصوم ہیں، ان سے مس کرنا اور اِختلاط منع نہیں، بلکہ موجبِ رحمت و برکات ہے۔

428

سوال: ... حضرت کے صاحب زادے ’’غیرعورتوں‘‘ میں بلاتکلف اندر کیوں جاتے ہیں؟ کیا ان سے پردہ دُرست نہیں؟

جواب: ... ضرورتِ حجاب صرف اِحتمالِ زنا کے لئے ہے، جہاں اس کے وقوع کا اِحتمال کم ہو ان کو اللہ تعالیٰ نے مستثنیٰ کردیا ہے، اسی واسطے انبیاء، اتقیاء لوگ مستثنیٰ بلکہ بطریقِ اَوْلیٰ مستثنیٰ ہیں۔ پس حضرت کے صاحب زادے اللہ تعالیٰ کے فضل سے متقی ہیں، ان سے اگر حجاب نہ کریں تو اِعتراض کی بات نہیں۔ (سبحان اللہ! کیا شانِ تحقیق ہے...ناقل)

قرآنِ کریم کے حوالے سے حضرت عیسیٰ علیہ السلام پر مرزا قادیانی نے جو اِفتراپردازی کی ہے اسے اس فتوے کی روشنی میں پڑھ کر غالباً چوہدری جی، مرزا قادیانی کے بارے میں یہی فرمائیں گے:

  1. حملہ برخود می کنی اے سادہ مرد

    ہمچو آں شیرے کہ برخود حملہ کرد

۳: ... ’’اور اس عاجز کو خدا تعالیٰ نے آدم مقرّر کرکے بھیجا ہے اور ضرور تھا کہ وہ ابنِ مریم جس کا اِنجیل اور فرقان میں آدم بھی نام رکھا گیا ہے۔‘‘

(ازالہ ص:۶۹۶، خزائن ج:۳ ص:۴۷۵)

یہ کہنا کہ حضرت عیسیٰ بن مریم علیہ السلام کا نام قرآن میں آدم رکھا گیا ہے، خالص جھوٹ اور اِفتراء علی اللہ ہے۔

۴: ... ’’اور مجھے بتلایا گیا ہے کہ تیری خبر قرآن و حدیث میں موجود ہے، اور توہی اس آیت کا مصداق ہے کہ ’’ھو الذی ارسل رسولہ ...۔ کلہ۔‘‘

(اعجازِ احمدی ص:۷، رُوحانی خزائن ج:۱۹ ص:۱۱۳)

یہاں جس ’’رسول‘‘ کا تذکرہ ہے اس سے مراد آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی ذاتِ گرامی ہے اور مرزا قادیانی کا اپنے آپ کو اس آیت کا مصداق قرار دینا قطعی طور پر اِفتراء علی اللہ ہے، اور اس کے لئے ’’اِلہام‘‘ پیش کرنا اِفترا براِفترا ہے۔

429

۵: ... ’’قادیان میں خدائے تعالیٰ کی طرف سے اس عاجز کا ظاہر ہونا اِلہامی نوشتوں میں بطور پیش گوئی پہلے سے لکھا گیا تھا۔‘‘

(ازالہ ص:۷۲ حاشیہ، رُوحانی خزائن ج:۳ ص:۱۳۹)

صریح جھوٹ اور اِفتراء علی اللہ ہے۔

۶: ... ’’لیکن ضرور تھا کہ قرآن شریف کی وہ پیش گوئیاں پوری ہوتیں جس میں لکھا تھا کہ مسیحِ موعود جب ظاہر ہوگا تو (۱)اسلامی علماء کے ہاتھ سے دُکھ اُٹھائے گا، (۲)وہ اس کو کافر قرار دیں گے، (۳)اور اس کے قتل کے فتوے دئیے جائیں گے، (۴)اور اس کی سخت توہین ہوگی، (۵) اور اس کو اِسلام سے خارج، (۶)اور دِین کے تباہ کرنے والا خیال کیا جائے گا۔‘‘

(اربعین نمبر۳ ص:۱۷، رُوحانی خزائن ج:۱۷ ص:۴۰۴)

قرآنِ کریم میں مسیحِ موعود کے بارے میں کہیں ایسا مضمون نہیں، اس لئے یہ چھ کی چھ پیش گوئیاں جو مرزا غلام احمد قادیانی نے قرآنِ کریم سے منسوب کی ہیں، قطعاً سفید جھوٹ ہے، ہاں! مرزا غلام احمد قادیانی کے گھر میں جو قرآن کا خاص نسخہ تھا، جسے انہوں نے اپنے مرحوم بھائی کو پڑھتے ہوئے کشفی حالت میں دیکھا:

’’جس کے دائیں صفحے پر نصف کے قریب مرزا صاحب نے ’’انا انزلناہ قریباً من القادیان‘‘ کی آیت لکھی ہوئی دیکھ کر فرمایا تھا کہ تین شہروں کا نام اِعزاز کے ساتھ قرآن شریف میں درج کیا گیا ہے، مکہ، مدینہ اور قادیان۔‘‘

(رُوحانی خزائن ج:۳ ص:۱۴۰)

اگر اس عجیب و غریب قرآن میں مسیحِ موعود کی یہ چھ علامتیں بھی لکھی ہوں تو ممکن ہے کہ چوہدری صاحب کو اس ’’قادیانی قرآن‘‘ کی زیارت و تلاوت کا شرف حاصل ہوا ہو۔ ورنہ اگر مندرجہ بالا عبارت میں قرآنِ کریم سے وہی کتابِ مقدس مراد ہے جس کے حافظ دُنیا میں لاکھوں موجود ہیں تو اس عبارت کے جھوٹ اور اِفترا ہونے میں کیا شک

430

ہے...؟ یہ مرزا غلام احمد قادیانی کی مراقی مسیحیت کے کرشمے ہیں کہ وہ خود سے خود پیدا ہوکر مسیح بن مریم بن گئے، دمشق کو قادیان میں بلوالیا اور مکہ، مدینہ کے مساوی اعزاز کو قرآن میں درج کرکے اسے رجسٹرڈ کرالیا۔

۷: ... ’’پھر خدائے کریم جل شانہ‘ نے مجھے بشارت دے کر کہا کہ تیرا گھر برکت سے بھرے گا اور میں اپنی نعمتیں تجھ پر پوری کروں گا اور خواتین مبارکہ سے جن میں تو بعض کو اس کے بعد پائے گا، تیری نسل بہت ہوگی۔‘‘

(اشتہار ۲۰؍فروری ۱۸۸۶ء)

’’اس عاجز نے ۲۰؍فروری ۱۸۸۶ء کے اشتہار میں پیش گوئی خدا تعالیٰ کی طرف سے بیان کی تھی کہ اس نے مجھے بشارت دی ہے کہ بعض بابرکت عورتیں اس اشتہار کے بعد بھی تیرے نکاح میں آئیں گی اور ان سے اولاد پیدا ہوگی۔‘‘

(اشتہار محک اخیار و اشرار، یکم ستمبر ۱۸۸۶ء)

واقعات نے ثابت کردیا کہ مرزا غلام احمد قادیانی کا اِفتراء علی اللہ تھا کیونکہ اس کے بعد کوئی مبارک یا نامبارک خاتون ان کے حجلہ عروسی کی زینت نہ بن سکی، نہ اس سے ’’بہت نسل‘‘ ہوئی۔

۸: ... ’’اِلہام بکر و ثیب یعنی خدا تعالیٰ کا ارادہ ہے کہ وہ دو عورتیں میرے نکاح میں لائے گا ایک بکر ہوگی اور دُوسری بیوہ، چنانچہ یہ اِلہام جو بکر کے متعلق تھا، پورا ہوگیا ...... اور بیوہ کے اِلہام کی انتظار ہے۔‘‘

(تریاق القلوب ص:۳۴، رُوحانی خزائن ج:۱۵ ص:۲۰۱)

یہ بھی اِفتراء علی اللہ ثابت ہوا، کیونکہ یومِ وفات تک مرزا غلام احمد قادیانی کو کسی بیوہ سے عقد نصیب نہ ہوا۔ کاش! مرزا غلام احمد قادیانی کے مرید ان کی اس پیش گوئی کو پورا کردیتے تو ان کے اِفتراء علی اللہ کی فہرست میں کم از کم ایک کی کمی تو ہوجاتی۔

431

۹: ... ’’شاید چار ماہ کا عرصہ ہوا کہ اس عاجز پر ظاہر کیا گیا تھا کہ ایک فرزند قوی الطاقتین کامل الظاہر والباطن تم کو عطا کیا جائے گا، سو اس کا نام بشیر ہوگا، اب زیادہ تر اِلہام اس بات پر ہو رہے ہیں کہ عنقریب ایک اور نکاح تمہیں کرنا پڑے گا، اور جناب اِلٰہی میں یہ بات قرار پاچکی ہے کہ ایک پارسا طبع اور نیک سیرت اہلیہ تمہیں عطا ہوگی، وہ صاحبِ اولاد ہوگی۔‘‘

(مکتوباتِ احمدیہ ج:۵ نمبر:۲)

واقعات نے ثابت کردیا کہ نکاح اور فرزند کا یہ سارا قصہ محض تسویلِ نفس تھا، جسے مرزا غلام احمد قادیانی نے کمالِ جرأت سے خدا تعالیٰ کی طرف منسوب کردیا۔

۱۰: ... ’’اس خدائے قادر و حکیمِ مطلق نے مجھ سے فرمایا کہ اس شخص (احمد بیگ) کی دخترِ کلاں (محترمہ محمدی بیگم مرحومہ) کے لئے سلسلۂ جنبانی کر، ان دنوں جو زیادہ تصریح کے لئے بار بار توجہ کی گئی تو معلوم ہوا کہ خدا تعالیٰ نے مقرّر کر رکھا ہے کہ وہ مکتوب الیہ کی دخترِ کلاں کو جس کی نسبت درخواست کی گئی تھی، ہر ایک مانع دُور کرنے کے بعد انجامِ کار اس عاجز کے نکاح میں لادے گا۔‘‘

(اِشتہار ۱۰؍جولائی ۱۸۸۸ء)

بعد کے واقعات سے اللہ تعالیٰ نے ثابت کردیا کہ اس اِشتہار اور اس موضوع پر مرزا غلام احمد قادیانی کی تمام تحریروں کا ایک ایک لفظ جھوٹ اور اِفتراء علی اللہ تھا۔ مرزا غلام احمد قادیانی نے اسی اِفترا پر کفایت نہیں کی، بلکہ زوجنٰـکھا کی اِلہامی آیت بھی نازل کرلی، یعنی خدا تعالیٰ نے محمدی بیگم کا نکاح مرزا غلام احمد قادیانی سے کردیا ـــــ یہ خدا پر جھوٹ باندھنے کی بہت ہی نمایاں مثال ہے۔

چوہدری صاحب ایک اچھے وکیل اور جج رہے ہیں، میں ان ہی سے فیصلہ چاہتا ہوں کہ مرزا غلام احمد قادیانی کا یہ آسمانی نکاح، مرزا سلطان محمد مرحوم کے زمینی نکاح سے پہلے ہوا تھا یا بعد میں؟ اگر بعد میں ہوا تھا تو گویا خدا کے نزدیک نکاح پر نکاح بھی جائز ہے،

432

اور اگر پہلے ہوا تھا تو مرزا غلام احمد قادیانی کی آسمانی منکوحہ کو ان کے گھر آباد کرنے کی ذمہ داری بھی خدا پر تھی، مگر خدا تعالیٰ نے ایسا نہیں کیا۔ اب یا تو یہ کہا جائے گا کہ ...نعوذباللہ... خدا تعالیٰ اپنے فیصلوں کو نافذ کرنے کی طاقت نہیں رکھتا، یا یہ تسلیم کرنا پڑے گا کہ خدا تعالیٰ نے قصداً مرزا غلام احمد قادیانی کو ذلیل و رُسوا کرنا چاہا، کیونکہ مرزا غلام احمد قادیانی اسی نکاح کے سلسلے میں فرماتے ہیں:

’’یا درکھو! اگر اس پیش گوئی کی دُوسری جزو پوری نہ ہوئی تو میں ہر ایک بد سے بدتر ٹھہر وں گا۔‘‘

(ضمیمہ انجامِ آتھم ص:۵۴)

چوہدری صاحب کی خدمت میں یہ بھی گزارش ہے کہ مرزا غلام احمد قادیانی کے اس اِفتراء علی اللہ کے بارے میں اپنا منصفانہ فیصلہ صادر کرتے وقت یہ قانونی نکتہ فراموش نہ فرمائیں کہ میری بحث اس میں نہیں کہ یہ پیش گوئی شرطی تھی یا غیرمشروط؟

میری بحث یہ ہے کہ اگر یہ مرزا غلام احمد قادیانی کا اِفترا نہیں تھا اور واقعتا مرزا غلام احمد قادیانی کے ساتھ محمدی بیگم کا نکاح خدا تعالیٰ نے کردیا تھا تو اپنے اس وعدے کو پورا کرنے کے لئے اس نے ’’ہر ایک مانع‘‘ کو کیوں دُور نہیں کیا؟ جبکہ مرزا قادیانی اس پیش گوئی کو پورا نہ ہونے کی صورت میں اپنے ’’بد سے بدتر‘‘ ہونے کا اعلان بھی فرماچکے تھے، اب دو ہی صورتیں ممکن ہیں، یا یہ کہ مرزا غلام احمد قادیانی مفتری تھے اور انہوں نے اپنی ذاتی خواہش کا اِلہام گھڑ کر خدا کی طرف منسوب کردیا تھا، یا یہ کہ اللہ تعالیٰ بالقصد مرزا کو ’’بد سے بدتر‘‘ ثابت کرنا چاہتے تھے۔

یہاں تک مرزا غلام احمد قادیانی کے خدا اور رسول پر جھوٹ باندھنے کی بیس مثالیں عرض کرچکا ہوں، اب مرزا غلام احمد قادیانی کے جھوٹ اور اِفترا کی دس اور مثالیں پیشِ خدمت ہیں۔

عیسیٰ علیہ السلام پر اِفترا:

۱: ... ’’یہ غیرمعقول ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے

433

بعد کوئی ایسا نبی آنے والا ہے کہ (۱)لوگ نماز کے لئے مسجد کی طرف دوڑیں گے تو وہ کلیسا کی طرف بھاگے گا، (۲)اور جب لوگ قرآن شریف پڑھیں گے تو وہ اِنجیل کھول بیٹھے گا، (۳)اور جب عبادت کے وقت بیت اللہ کی طرف منہ کریں گے تو وہ بیت المقدس کی طرف متوجہ ہوگا، (۴)اور شراب پیئے گا، (۵)اور سوَر کا گوشت کھائے گا، (۶)اور اِسلام کے حلال و حرام کی کچھ پروا نہیں کرے گا۔‘‘

(حقیقۃ الوحی ص:۲۹، رُوحانی خزائن ج:۲۲ ص:۳۱)

مرزا غلام احمد قادیانی کا اشارہ سیّدنا عیسیٰ علیہ السلام کی طرف ہے، لیکن اس عبارت میں مرزا غلام احمد قادیانی نے جو چھ باتیں ان کی طرف منسوب کی ہیں، وہ قطعاً غلط ہیں، اس لئے مرزا قادیانی کی یہ عبارت نہ صرف جھوٹ ہے، بلکہ ایسا شرمناک بہتان بھی جس میں ایک نبی کی طرف شراب پینے اور سوَر کھانے کی نسبت کی گئی ہے، اور جس شخص کے دِل میں رَتی برابر اِیمان بھی ہو، وہ نرم سے نرم الفاظ میں اس کو مرزا قادیانی کی ’’ذلیل حرکت‘‘ کہنے پر مجبور ہوگا۔

۲: ...’’یورپ کے لوگوں کو جس قدر شراب نے نقصان پہنچایا، اس کا سبب تو یہ تھا کہ عیسیٰ علیہ السلام شراب پیا کرتے تھے۔‘‘

(حاشیہ کشتی نوح ص:۱۶)

مرزا غلام احمد قادیانی کی یہ تحقیق نہ صرف غلط ہے، بلکہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام پر بہتان بھی۔

۳: ... ’’ایک یہودی نے یسوع کی سوانح عمری لکھی ہے، اور وہ یہاں موجود ہے، اس نے لکھا ہے کہ یسوع ایک لڑکی پر عاشق ہوگیا تھا، اور اپنے اُستاد کے سامنے اس کے حسن و جمال کا تذکرہ کربیٹھا، تو اُستاد نے اسے عاق کردیا۔ اور اِنجیل کے مطالعے سے جو کچھ مسیح کی حالت کا پتا لگتا ہے، وہ آپ سے بھی پوشیدہ نہیں ہے، کہ

434

کس طرح پر وہ نامحرَم نوجوان عورتوں سے ملتا تھا، اور کس طرح پر ایک بازاری عورت سے عطر ملواتا تھا۔ اور یسوع کی بعض نانیوں اور دادیوں کی جو حالت بائبل سے ثابت ہوتی ہے، وہ بھی کسی سے مخفی نہیں۔ ان میں سے تین جو مشہور و معروف ہیں، ان کے نام یہ ہیں: ’’بنت سبع، راحاب، تمر‘‘ اور پھر یہودیوں نے اس کی ماں پر جو کچھ اِلزام لگائے ہیں، وہ بھی ان کتابوں میں درج ہیں۔ ان سب کو اگر اِکٹھا کرکے دیکھیں، تو اس کا یہ قول کہ مجھے نیک نہ کہو، اپنے اندر حقیقت رکھتا ہے، اور یہ فروتنی یا انکسار کے طور پر ہرگز نہ تھا، جیسا بعض عیسائی کہتے ہیں۔‘‘

(ملفوظات ج:۳ ص:۱۳۷)

ان تمام اُمور کو حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی طرف منسوب کرنا بہتان ہے۔

۴: ... ’’اور یسوع اسی لئے اپنے تئیں نیک نہیں کہہ سکا کہ لوگ جانتے تھے کہ یہ شخص شرابی کبابی ہے اور یہ خراب چال چلن نہ خدائی کے بعد بلکہ اِبتدا ہی سے ایسا معلوم ہوتا تھا، چنانچہ خدائی کا دعویٰ شراب خوری کا یہ نتیجہ تھا۔‘‘

(حاشیہ ست بچن ۱۷۲، خزائن ج:۱۰ ص:۲۹۶)

سیّدنا عیسیٰ علیہ السلام پر مرزا غلام احمد قادیانی کے یہ سارے اِلزامات جھوٹ اور گندے بہتان ہیں۔

۵: ... ’’ہائے کس کے آگے یہ ماتم لے جائیں کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی تین پیش گوئیاں صاف طور پر جھوٹی نکلیں۔‘‘

(اعجازِ احمدی ص:۱۴، رُوحانی خزائن ج:۱۹ص:۱۲۱)

حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی پیش گوئیوں کو ’’صاف طور پر جھوٹ‘‘ کہنا مرزا قادیانی کا سفید جھوٹ ہے، غالباً انہوں نے عیسیٰ علیہ السلام کو بھی قادیان کا غلام احمد سمجھ لیا ہے۔

۶: ... ’’عیسائیوں نے آپ کے بہت سے معجزات لکھے

435

ہیں مگر حق بات یہ ہے کہ آپ سے کوئی معجزہ نہیں ہوا، اگر آپ سے کوئی معجزہ بھی ظاہر ہوا تو وہ معجزہ آپ کا نہیں بلکہ اس تالاب کا معجزہ ہے۔‘‘

(ضمیمہ انجامِ آتھم ص:۶، ۷، رُوحانی خزائن ج:۱۱ ص:۶،۷)

حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے معجزات کی نفی نہ صرف کذبِ صریح ہے بلکہ قرآنِ کریم کی تکذیب بھی۔

۷: ... ’’اب یہ بات قطعی اور یقینی طور پر ثابت ہوچکی ہے کہ حضرت ابنِ مریم باذن و حکمِ اِلٰہی الیسع نبی کی طرح اس عمل الترب (مسمریزم) میں کمال رکھتے تھے۔‘‘

(ازالہ اوہام ص:۳۰۸، رُوحانی خزائن ج:۳ ص:۲۵۷)

حضرت عیسیٰ علیہ السلام پر مسمریزم کا اِلزام لگانا اور ان کے معجزات کو مسمریزم کا نتیجہ قرار دینا قطعی اور یقینی جھوٹ ہے اور اس پر ’’باذن و حکمِ اِلٰہی‘‘ کا اِضافہ کرنا اِفتراء علی اللہ ہے اور الیسع نبی کو اس میں لپیٹنا اس اِفتراپردازی میں مزید اِضافہ ہے۔

۸: ... ’’حضرت عیسیٰ ابن مریم اپنے باپ یوسف کے ساتھ بائیس برس تک نجاری کا کام کرتے رہے ہیں، اور ظاہر ہے کہ بڑھئی کا کام درحقیقت ایک ایسا کام ہے جس میں کلوں کے ایجاد کرنے اور طرح طرح کی صنعتوں کے بنانے میں عقل تیز ہوجاتی ہے۔‘‘

(اِزالہ اوہام ص:۳۰۳، خزائن حاشیہ ج:۳ ص:۲۵۴، ۲۵۵)

حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے نسب کو یوسف نجار کی طرف منسوب کرنا، آپ کو بڑھئی کہنا اور آپ کے قرآن میں ذِکر کردہ معجزات کو نجاری کا کارنامہ قرار دینا یہ صریح بہتان اور قرآنِ کریم کی تکذیب ہے۔

۹: ... ’’بہرحال مسیح کی ’’یہ تربی کارروائیاں‘‘ زمانے کے مناسبِ حال بطور خاص مصلحت کے تھیں، مگر یاد رکھنا چاہئے کہ یہ عمل ایسا قدر کے لائق نہیں جیسا کہ عوام الناس اس کو خیال کرتے

436

ہیں، اگر یہ عاجز اس عمل کو مکروہ اور قابلِ نفرت نہ سمجھتا تو خدا تعالیٰ کے فضل و توفیق سے اُمید رکھتا تھا کہ ان اعجوبہ نمائیوں میں حضرت ابن مریم سے کم نہ رہتا۔‘‘

(ازالہ ص:۳۰۹، خزائن ج:۳ ص:۲۵۷، ۲۵۸)

حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے معجزات کو ’’تربی کارروائیاں‘‘ کہنا اور انہیں مکروہ اور قابلِ نفرت قرار دینا صریح بہتان اور تکذیبِ قرآن ہے، اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام سے برتری کی اُمید رکھنا اور اسے فضل و توفیقِ خداوندی کی طرف منسوب رکھنا کفر اور اِفتراء علی اللہ ہے۔

۱۰: ... ’’اور آپ کی انہیں حرکات کی وجہ سے آپ کے حقیقی بھائی آپ سے سخت ناراض رہتے تھے اور ان کو یقین ہوگیا تھا کہ آپ کے دِماغ میں ضرور کچھ خلل ہے، اور وہ ہمیشہ چاہتے رہے کہ کسی شفاخانے میں آپ کا باقاعدہ علاج ہو، شاید خدا تعالیٰ شفا بخشے۔‘‘

(ضمیمہ انجامِ آتھم ص:۶، خزائن حاشیہ ج:۱۱ ص:۲۹۰)

’’یسوع درحقیقت بوجہ بیماری مرگی کے دیوانہ ہوگیا تھا۔‘‘

(حاشیہ ست بچن ص:۱۷۱، رُوحانی خزائن ج:۱۰ ص:۲۹۵ حاشیہ)

حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی طرف ...نعوذباللہ... خللِ دِماغ، مرگی اور دیوانگی کی نسبت کرنا سفید جھوٹ ہے، غالباً یہ عبارت لکھتے وقت مرزا غلام احمد قادیانی خود ’’مراق‘‘ کے عارضے کا شکار تھے۔

یہ تیس اِفترا اور جھوٹ ہیں جنہیں دُنیا کا کوئی عاقل سچ سمجھنے کے لئے تیار نہیں ہوسکتا، اور محض چوہدری صاحب کے خاص عدد (جو حدیثِ نبوی ثلاثون کذابون کا آئینہ بھی ہے) کی مناسبت سے لکھے گئے ہیں۔ ورنہ غلام احمد قادیانی کی کوئی کتاب اُٹھاکر دیکھئے، اس کے صفحے صفحے پر جھوٹ اور بہتان کے سیاہ دھبے نظر آئیں گے۔ مجھے اُمید ہے کہ چوہدری سرمحمد ظفراللہ خاں کی عدالت میں یہ تیس جھوٹ بھی مرزا غلام احمد قادیانی کی پوزیشن

437

واضح کرنے کے لئے کافی ہوں گے، کیونکہ مرزا غلام احمد قادیانی کا اِرشاد ہے:

’’ظاہر ہے کہ جب ایک بات میں کوئی جھوٹا ثابت ہوجائے تو پھر دُوسری باتوں میں بھی اس پر اِعتبار نہیں رہتا۔‘‘

(چشمہ معرفت ص:۲۲۲، رُوحانی خزائن ج:۲۳ص:۲۳۱)

مرزا غلام احمد قادیانی کے علاوہ اکابرِ جماعتِ احمدیہ نے ایک صدی میں جھوٹ اور بہتان کے جو طومار تیار کئے ہیں، افسوس ہے کہ طوالت کے اندیشے سے میں ان کی چیدہ چیدہ مثالیں دینے سے بھی قاصر ہوں، البتہ مجموعی طور پر اس جماعت کے بارے میں مرزا قادیانی نے جو رائے قائم فرمائی ہے اس کا حوالہ دے کر اس ناخوشگوار بحث کو ختم کرتا ہوں، جناب مرزا غلام احمد قادیانی لکھتے ہیں:

’’اے برادرانِ دِین و علمائے شرعِ متین! آپ صاحبان میری ان معروضات کو متوجہ ہوکر سنیں کہ اس عاجز نے جو مثیلِ موعود ہونے کا دعویٰ کیا ہے، جس کو کم فہم لوگ مسیحِ موعود خیال کربیٹھے ہیں ......۔ میں نے یہ دعویٰ ہرگز نہیں کیا کہ میں مسیح بن مریم ہوں جو شخص یہ الزام میرے پر لگادے وہ سراسر مفتری اور کذّاب ہے، بلکہ میری طرف سے عرصہ سات یا آٹھ سال سے برابر یہی شائع ہو رہا ہے کہ میں مثیلِ مسیح ہوں۔‘‘

(ازالہ اوہام ص:۱۹۰، رُوحانی خزائن ج:۳ ص:۱۹۲)

اس عبارت میں مرزا غلام احمد قادیانی فرماتے ہیں کہ وہ نہ ’’مسیحِ موعود‘‘ ہیں، نہ ’’مسیح ابن مریم‘‘ ہیں، جو شخص ان کو ’’مسیحِ موعود‘‘ یا ’’مسیح ابن مریم‘‘ کہتا ہے وہ نہ صرف کم فہم بلکہ مفتری اور کذّاب ہے۔

چوہدری صاحب کو علم ہے کہ مرزا غلام احمد قادیانی کو ’’مسیحِ موعود‘‘ اور ’’مسیح ابن مریم‘‘ کا مصداق قرار دینے کا شرف کسی مسلمان کو حاصل نہیں، بلکہ یہ صرف ان ہی کی جماعت کا کارنامہ ہے، اب وہ بغور وفکر خود ہی فیصلہ فرماسکتے ہیں کہ مرزا قادیانی کے تجویز

438

کردہ خطابات ’’کم فہم‘‘ اور ’’مفتری و کذّاب‘‘ کا مستحق ان کی جماعت سے بڑھ کر کون ہوسکتا ہے...؟

اور یہ مرزا غلام احمد قادیانی کے مسیحِ موعود تسلیم کرنے کا ایک فطری خاصہ ہے، چنانچہ مرزا قادیانی ’’تریاق القلوب‘‘ ضمیمہ نمبر۲ ص:۱۵۹ (رُوحانی خزائن ج:۱۵ ص:۴۸۳) میں شیخ ابنِ عربی کی پیش گوئی پر بحث کرتے ہوئے ’’مسیحِ موعود‘‘ کی یہ خاص علامت ذکر فرماتے ہیں کہ:

’’اس کے بعد یعنی اس کے مرنے کے بعد نوعِ انسان میں علتِ عقم (بانجھ پن کی بیماری) سرایت کرے گی، یعنی پیدا ہونے والے حیوانوں اور وحشیوں سے مشابہت رکھیں گے، اور اِنسانیتِ حقیقی صفحۂ عالم سے مفقود ہوجائیں گے، وہ حلال کو حلال نہیں سمجھیں گے اور نہ حرام کو حرام، پس ان پر قیامت قائم ہوگی۔‘‘

ظاہر ہے کہ جن لوگوں کے نزدیک مرزا غلام احمد قادیانی ’’مسیحِ موعود‘‘ نہیں، ان کے نزدیک تو اس پیش گوئی کا ابھی وقت نہیں آیا، لیکن جو لوگ مرزا غلام احمد قادیانی کو ’’مسیحِ موعود‘‘ تسلیم کرتے ہیں انہیں ’’مسیحِ موعود‘‘ کی یہ خاصیت بھی تسلیم کرنا ہوگی، گویا ان کے نزدیک مرزا غلام احمد قادیانی کی وفات (۲۶؍مئی ۱۹۰۸ء سوا دس بجے دن) کے بعد جتنے لوگ اس دُنیا میں پیدا ہوئے ہیں، وہ سب حیوانوں اور وحشیوں سے مشابہ ہیں، اور حقیقی انسانیت سے قطعاً عاری۔ چوہدری صاحب اگر مرزا غلام احمد قادیانی کو ’’مسیحِ موعود‘‘ اور صادق و راست باز آدمی سمجھتے ہیں تو انہیں کم از کم جماعتِ احمدیہ کے ان افراد کے بارے میں، جو بدقسمتی سے مرزا غلام احمد قادیانی کے مرنے کے بعد پیدا ہوئے ہیں، مرزا قادیانی کا یہ ارشاد تسلیم کرنا چاہئے۔ کیا عالمی عدالتِ انصاف کے سابق جج اس پر اپنا ’’منصفانہ فیصلہ‘‘ صادر فرمائیں گے...؟

طارق محمود نے ایک بات یہ کہی تھی کہ مرزا غلام احمد قادیانی پٹوار کے امتحان میں

439

فیل ہوگئے تھے، چوہدری صاحب اس کی تردید کرتے ہوئے فرماتے ہیں:

’’حضرت بانیٔ سلسلۂ احمدیہ نے کبھی پٹوار کا اِمتحان نہیں دیا، اس لئے ایسے امتحان میں پاس یا فیل ہونے کا سوال پیدا نہیں ہوتا۔‘‘

چوہدری صاحب کی بات صحیح معلوم ہوتی ہے، کیونکہ مرزا غلام احمد قادیانی کے کسی سوانح نگار نے اس کا تذکرہ نہیں کیا کہ مرزا غلام احمد قادیانی نے کبھی پٹوار کا امتحان دینے کی کوشش کی ہو، البتہ انہوں نے مختاری کا امتحان دیا تھا، جس میں ان کے رفیق لالہ بھیم سین بٹالوی کامیاب ہوئے، مگر مرزا غلام احمد قادیانی ناکام رہے۔ یہ دونوں صاحب ان دنوں گردشِ زمانہ کی وجہ سے ڈپٹی کمشنر سیالکوٹ کی کچہری میں ملازم تھے، لالہ بھیم سین کو تیس روپے اور مرزا صاحب کو غالباً پندرہ روپے تنخواہ ملتی تھی۔ سیالکوٹ کچہری میں مرزا غلام احمد قادیانی سات سال اہلکار رہے، یہاں ترقی کے مواقع نہ پاکر انہوں نے مختاری کا امتحان دینے کی تیاری کی تاکہ معقول آمدنی ہو، مولانا ابوالقاسم رفیق دلاوری نے اپنی کتاب ’’رئیسِ قادیان‘‘ میں ان واقعات کی دِلچسپ تفصیل لکھی ہے، اس میں ’’سیرۃ المہدی‘‘ (ج:۱ ص:۱۳۵) کے حوالے سے یہ بھی لکھا ہے کہ مرزا غلام احمد قادیانی کو اِلہام ہوا تھا کہ ’’اس امتحان میں لالہ بھیم سین کے سوا سب ناکام ہوں گے۔‘‘

گویا مختاری کے امتحان میں کامیابی تو مرزا غلام احمد قادیانی کو نصیب نہ ہوئی، البتہ اس ناکامی کے نتیجے میں ایک عدد ’’اِلہام‘‘ انہیں ضرور وصول ہوگیا، لیکن مرزا غلام احمد قادیانی کے ملہم کی یہ خاص ادا لائقِ اِحتجاج ہے کہ وہ مرزا غلام احمد قادیانی کو ہمیشہ بعد از وقت ’’اِلہام‘‘ کرنے کا عادی تھا، چنانچہ اس موقع پر بھی اس نے یہی کیا، حالانکہ اگر وہ انہیں بروقت مطلع کردیتا تو یقینا مرزا غلام احمد قادیانی امتحان گاہ میں قدم نہ رکھتے اور رہتی دُنیا تک ’’مختاری میں فیل‘‘ کی خفت سے ان کا دامنِ حیات آلودہ نہ ہوتا۔ ایسے ہی موقعوں پر کہا جاتا ہے: ’’مشتے کہ بعد از جنگ یاد آید بر کلہ خود باید زد‘‘ (یعنی جو مکا کہ جنگ کے بعد یاد آئے اسے اپنے منہ پر مارنا چاہئے)۔

چوہدری صاحب نے یہ صفائی تو پیش کردی کہ مرزا غلام احمد قادیانی نے پٹوار

440

کا امتحان نہیں دیا تھا، مگر معاً انہیں خیال آیا کہ ’’پٹوار فیل‘‘ نہ سہی مرزا غلام احمد قادیانی ’’کچھ فیل‘‘ تو ضرور تھے، لہٰذا وکیلِ صفائی کی حیثیت سے انہوں نے اس کے لئے بھی ایک قانونی نکتہ پیش کردیا، چنانچہ فرماتے ہیں:

’’نہ یہ معیار صحیح ہے کہ جو پٹواری نہ بن سکے وہ فرستادۂ خدا کیسے بن سکتا ہے؟ قرآنِ کریم میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: ’’اللہ اعلم حیث یجعل رسالتہ‘‘ وہ جس کو اپنے کلام کے متحمل ہونے کے قابل سمجھتا ہے اس پر اپنا کلام نازل فرماتا ہے، بلکہ جس پر اس کا کلام نازل کرنے کا اِرادہ ہو وہ خود اس کی تربیت کرتا ہے کہ وہ اس کلام کے متحمل ہونے کے قابل بن جائے۔ جیسے تمام انبیاء علیہم السلام کے ساتھ ہوا، اگر اللہ تعالیٰ کا کرم بندہ نواز ایک مطلق اَن پڑھ کو بوجہ اس کے ان اعلیٰ صفات کے جو اس نے اپنی حکمت سے اس میں مرکوز کر رکھی تھی افضل الرسل اور خاتم النبیین بنا سکتا ہے تو کسی معمولی لکھے پڑھے کو، جو دُنیا کے امتحانوں کے معیار پر پورا نہ اُترتا ہو کیونکر اپنے کلام کا متحمل نہیں بناسکتا۔

مشک آنست کہ خود ببوید نہ کہ عطار بگوید‘‘

مرزا غلام احمد قادیانی کے مشکِ عنبریں کی بوئے جاںفزا سے تو قارئینِ کرام گزشتہ سطور میں لطف اندوز ہوچکے ہیں، مگر چوہدری صاحب نے ’’مطلق اَن پڑھ‘‘ اور ’’معمولی لکھے پڑھے‘‘ کے الفاظ سے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اور مرزا غلام احمد قادیانی کے درمیان جو تقابل قائم کیا ہے وہ گستاخی کی آخری حدوں کو عبور کرتا ہے۔ گویا وصفِ نبوّت میں تو مرزا غلام احمد قادیانی بھی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ شریک ہیں، لیکن مرزا غلام احمد قادیانی کو یہ فوقیت حاصل ہے کہ وہ ’’لکھے پڑھے‘‘ بھی تھے، جبکہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ’’مطلق اَن پڑھ‘‘ تھے۔

چوہدری صاحب کی جماعت اور ان کے پیشوا کی یہی گستاخیاں ہیں جنہوں نے

441

مسلمانوں کو ان کے ’’غیرمسلم اقلیت‘‘ قرار دینے پر مجبور کیا، کبھی مرزا غلام احمد قادیانی کی رُوحانیت کو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی رُوحانیت سے اقویٰ و اَکمل اور اَشد کہا گیا۔

(خطبہ اِلہامیہ ص:۱۸۱)

کبھی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے کی رُوحانیت کو ناقص، اور مرزا قادیانی کے زمانے کی رُوحانیت کو کامل کہا گیا۔

(خطبہ اِلہامیہ ص:۱۷۷، رُوحانی خزائن ج:۱۶ص:۱۷۸)

کبھی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے مرزا غلام احمد قادیانی کی ’’فتحِ مبین‘‘ کو بڑی اور زیادہ ظاہر کیا گیا۔

(خطبہ اِلہامیہ ص:۱۹۳، رُوحانی خزائن ج:۱۶ ص:۱۹۳)

کبھی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے کو صرف تائیدات اور دفعِ بلیات کا، اور مرزا غلام احمد قادیانی کے زمانے کو برکات کا زمانہ ٹھہرایا گیا۔

(تبلیغِ رسالت ج:۵ ص:۴۴)

کبھی یہ بتایا گیا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر حقائق کا صحیح انکشاف نہیں ہوا تھا، بلکہ مرزا غلام احمد قادیانی پر ہوا۔

(ازالہ ص:۶۹۱، رُوحانی خزائن ج:۳ ص:۴۷۳)

کبھی یہ سمجھایا گیا کہ مرزا غلام احمد قادیانی کا ذہنی اِرتقا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے بڑھ کر تھا۔

(ریویو مئی ۱۹۲۹ء)

کبھی صاف صاف اعلان کردیا گیا:

  1. محمد پھر اُتر آئے ہیں ہم میں

    اور آگے سے ہیں بڑھ کر اپنی شاں میں

  2. محمد دیکھنے ہوں جس نے اکملؔ

    غلام احمد کو دیکھے قادیاں میں

(اخبار ’’بدر‘‘ جلد نمبر۲، نمبر۴۷۳ مؤرخہ ۲۵؍اکتوبر ۱۹۰۶ء)

اور کبھی اس سے بڑھ کر یہ گستاخی کی گئی کہ آدم علیہ السلام سے لے کر حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم تک تمام انبیائے کرام کی مرزا غلام احمد قادیانی کے ہاتھ بیعت کرادی گئی۔

(’’الفضل‘‘ ۲۶؍فروری ۱۹۳۴ء، ۱۹،۲۱؍ستمبر ۱۹۱۵ء، ۲۶؍فروری ۱۹۲۴ء، پیغامِ صلح لاہور ۷؍جون ۱۹۳۴ء)

442

دراصل ان ساری گستاخانہ تعلّیوں کی جڑ بنیاد مرزا غلام احمد قادیانی کی تعلیم اور بالخصوص ان کا دعوائے ظلّی نبوّت ہے جس کی تشریح یہ کی گئی ہے:

’’خدا تعالیٰ کے نزدیک حضرت مسیحِ موعود خاص آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا ہی وجود ہے، یعنی خدا کے دفتر میں حضرت مسیحِ موعود اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم آپس میں کوئی دُوئی اور مغائرت نہیں رکھتے بلکہ ایک ہی شان، ایک ہی مرتبہ، ایک ہی منصب اور ایک ہی نام رکھتے ہیں۔ یعنی لفظوں میں باوجود دو ہونے کے ایک ہیں (یعنی عیسائیوں کے عقیدۂ تثلیث کا بروز ...ناقل)۔‘‘

(’’الفضل‘‘ ۱۶؍ستمبر ۱۹۵۱ء)

’’گزشتہ مضمون مندرجہ الفضل مؤرخہ ۶۱؍ستمبر میں میں نے بفضلِ اِلٰہی اس بات کو پایۂ ثبوت تک پہنچایا ہے کہ حضرت مسیحِ موعود باعتبار نام، کام، آمد، مقام مرتبہ کے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ہی کا وجود ہیں۔‘‘

(’’الفضل‘‘ ۲۸؍اکتوبر ۱۹۵۱ء)

یہی گستاخانہ تأثر چوہدری صاحب ’’مطلق اَن پڑھ‘‘ اور ’’معمولی پڑھے لکھے‘‘ کے تقابل سے دے رہے ہیں۔

جہاں تک ان کی اس منطق کا تعلق ہے کہ ’’پرائمری فیل‘‘ بھی نبی بن سکتا ہے، اس بارے میں بس یہی عرض کیا جاسکتا ہے کہ ان کی چشمِ تصوّر منصبِ نبوّت کی بلندیوں کو چھونے سے قاصر ہے، اور وہ اس میں واقعتا معذور بھی ہیں، کیونکہ بدقسمتی سے ان کے لئے نبوّت کا بلند ترین معیار لے دے کر مرزا غلام احمد ہیں،وہ سمجھتے ہیں کہ نبی بس اسی طرح کے لوگ ہوتے ہیں جو اپنی بے مثل ’’ذہانت و فطانت‘‘ کے سبب دُنیا کے معمولی امتحان میں بھی فیل ہوجائیں، جن کی قوّتِ حافظہ کا یہ عالم ہو کہ قرآن مجید کے الفاظ بھی غلط نقل کیا کریں اور خود اپنی وحی کے سمجھنے اور یاد رکھنے سے بھی معذور ہوں، جو اپنے اُمتیوں سے یہ مسئلہ پوچھتے پھریں کہ میں نماز میں فلاں چیز اَدا نہیں کرسکا، میری نماز ہوگئی یا نہیں؟

(قادیانی مذہب طبع پنجم ص:۷۷۰)

443

جو بارہ برس تک یہ سمجھنے سے قاصر ہوں کہ خدا نے اسے مسیحِ موعود بنادیا ہے، اور جو منصبِ نبوّت پر فائز ہونے کے بعد بائیس برس تک یہ نہ سمجھ سکیں کہ نبوّت کہتے کس چیز کو ہیں اور اس کا مفہوم کیا ہوتا ہے...؟

ظاہر ہے کہ جن حضرات کے سامنے نبوّت کا یہ معیار ہو وہ چوہدری صاحب کی منطق سے آگے کیا سوچ سکتے ہیں؟ تاہم چوہدری صاحب کی خدمت میں دو گزارشیں کروں گا، ایک یہ کہ نبی ’’اَن پڑھ‘‘ ضرور ہوتے ہیں، مگر غبی اور کند ذہن نہیں ہوتے۔ یہ ممکن ہے کہ وہ اپنے بلند و بالا منصب کی وجہ سے دُنیا کے گھٹیا اور سفلی علوم کی طرف اِلتفات نہ فرمائیں، لیکن یہ ممکن نہیں کہ وہ جس علم کی طرف توجہ فرمائیں، وہ ان کے سامنے پانی نہ ہوجائے، اور اس میں پوری تیاری کے بعد بھی ’’فیل‘‘ ہوجائیں۔

نبی صرف جاہلوں، بدوؤں اور کندہ ناتراش قسم کے لوگوں کا نبی نہیں ہوتا، بلکہ اس کے سامنے دُنیا بھر کے افلاطون و ارسطو، قانون داں، سائنس داں اور دیگر علوم و فنون کے ماہرین بھی طفلِ مکتب کی حیثیت رکھتے ہیں۔ دُنیا کا کوئی شخص اپنے فن میں انبیائے کرام علیہم السلام پر فوقیت نہیں رکھتا، یہی وجہ ہے کہ وہ دُنیا کے کسی آدمی کی شاگردی نہیں کرتے، نہ کسی گل علی شاہ کے سامنے زانوئے تلمذ تہہ کرتے ہیں، ورنہ آج جو اُستاد اسکول میں کسی طالبِ علم کے کان پکڑواتا ہے، کل وہ طالبِ علم اس اُستاد کے سامنے دعوائے نبوّت لے کر کیسے جاسکتا ہے؟ خلاصہ یہ کہ انبیائے کرام علیہم السلام دُنیا کے علوم کی طرف توجہ نہیں فرمایا کرتے، بلکہ ’’أنتم أعلم بأُمور دنیاکم‘‘ ‘ کہہ کر آگے گزر جاتے ہیں، لیکن اس کے یہ معنی ہرگز نہیں کہ وہ ان معمولی علوم کے سمجھنے سے بھی قاصر ہوتے ہیں، اور پوری تیاری کرنے کے بعد بھی ...معاذاللہ... ناکامی ان کے پاؤں کی زنجیر بن جاتی ہے۔ ذرا تصوّر کیجئے کہ ایک لالہ اور ایک نبی دونوں امتحان گاہ میں قدم رکھتے ہیں، لالہ کامیاب اور ’’نبی‘‘ فیل ہوجاتا ہے، کیا یہ نبی صاحب ’’دعوائے نبوّت‘‘ لے کر لالہ جی کے سامنے جاسکتے ہیں؟ اور اگر جائیں تو کیا لالہ جی یہ نہیں فرمائیں گے کہ برخوردار تم میں معمولی امتحان پاس کرنے کی تو صلاحیت نہیں، وہ کون عقل مند ہے جس نے تمہیں نبی بنادیا ہے...؟

444

چوہدری صاحب اور ان کے ہم جماعتوں کی مشکل یہ ہے کہ نبوّت کی عبائے زرّیں مرزا قادیانی کی قامت پر راست نہیں آئی، کجا وہ عالی شان ہستیاں جن کے آگے انسانی کمالات کی ساری رفعتیں پست رہ جاتی ہیں، کجا مرزا غلام احمد قادیانی؟ جو اپنے زمانے کے معمولی افراد کے ساتھ بھی کندھا ملاکر نہیں چل سکتے، علم و فضل کا یہ عالم کہ ایک معمولی سے دیسی پادری کے ساتھ پندرہ دن تک پنجہ آزمائی کے باوجود اسے چت کرنے میں ناکام رہتے ہیں، اب چونکہ مرزا غلام احمد قادیانی کی شخصیت نبوّت کی بلند و بالا سطح تک نہیں پہنچ سکتی، تو اس کا حل یہ تلاش کیا جاتا ہے کہ خود نبوّت ہی کو گھسیٹ کر نیچے کھینچ لایا جائے۔

دُوسری گزارش یہ کرنا چاہتا ہوں کہ ’’اَﷲُ اَعْلَمُ حَیْثُ یَجْعَلُ رِسَالَتَہٗ‘‘ کے یہ معنی نہیں ہیں کہ اللہ تعالیٰ ہر ایرے غیرے کو جب چاہے نبی بنادیتا ہے، بلکہ اس کے بالکل برعکس آیتِ کریمہ کا منشا یہ ہے کہ نبوّت ہرکس و ناکس کو نہیں دی جاتی (جو عام انسانوں کی سطح سے بھی فروتر ہوں) نبوّت ایک اعلیٰ و ارفع منصب ہے اور خدا ہی جانتا ہے کہ اس منصب کی اہلیت کون رکھتا ہے کون نہیں؟

مجھے مرزا غلام احمد سے لے کر چوہدری محمد ظفراللہ خان تک ان کی جماعت کے تمام اکابر سے یہ سخت شکایت ہے کہ وہ اپنے حرفِ غلط کے لئے قرآنِ کریم پر مشقِ ستم رَوا رکھتے ہیں، انہیں اس کا قطعاً احساس نہیں کہ قرآنِ کریم پر یہ ظلم کتنا سنگین ہے، کاش! انہیں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشاد کا کچھ لحاظ ہوتا: ’’من قال فی القرآن برأیہ فلیتبوأ مقعدہ من النَّار‘‘ عنی جس نے اپنی رائے سے قرآن میں کوئی بات کہی اسے اپنا ٹھکانا دوزخ میں بنانا چاہئے۔

اب دیکھئے قرآن تو یہ کہتا ہے کہ نبوّت ہرکس و ناکس کو نہیں ملتی، لیکن چوہدری صاحب اس سے یہ کہلواتے ہیں کہ نبوّت ہر پھسڈی اور ’’پرائمری فیل‘‘ کو بھی عطا کردی جاتی ہے۔ نبوّت بلاشبہ عطیہ ربانی ہے لیکن اس کے لئے انسانیت کے ان بلند ترین افراد کو چنا جاتا ہے، جو تمام انسانی اوصاف و کمالات میں دُنیا بھر کے انسانوں سے اعلیٰ و ارفع ہوں،

445

مراق و ہسٹریا اور اعصابی امراض کے کسی مریض کو اس کے لئے منتخب نہیں کیا جاتا، جس میں لفاظی و تعلّی اور کاغذی گھوڑے دوڑانے کے سوا دُنیا کا کوئی علمی و عملی کمال نہ ہو۔ تعجب ہے کہ یہ موٹی سی بات بھی چوہدری صاحب نہیں سمجھ پائے تو کرسیٔ عدالت پر بیٹھ کر حق و باطل اور سچ اور جھوٹ کے درمیان امتیاز کیسے کرتے ہوں گے؟ پھر حضرت خاتم الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد تو نبوّت کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا، خواہ کوئی آسمان کے تارے توڑ لانے کا مدعی ہو! فقہِ اکبر کے شارح حضرت شیخ علی القاریؒ کے بقول:’’دعوی النبوۃ بعد نبینا صلی اللہ علیہ وسلم کفر بالْإجماع‘‘ ...آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد نبوّت کا دعویٰ بالاجماع کفر ہے... چوہدری صاحب کی کئی اور باتیں بھی لائقِ توجہ تھیں، مگر افسوس کہ مضمون اندازے سے زیادہ پھیل گیا اس لئے اسی پر اِکتفا کرتا ہوں۔

وَآخِرُ دَعْوَانَا اَنِ الْحَمْدُ للہِ رَبِّ الْعَالَمِیْنَ

446

ضمیمہ

میرا یہ مضمون اخبار ’’جنگ‘‘ لندن کی تین اشاعتوں (۸؍نومبر، ۱۰؍نومبر، ۱۵؍دسمبر ۱۹۷۹ء) میں شائع ہوا تھا، فروری کے اَواخر میں ماہنامہ ’’اخبار احمدیہ‘‘ لندن دسمبر ۱۹۷۸ء اور جنوری ۱۹۷۹ء کا شمارہ ایک قادیانی دوست نے مجھے بھیجا، جس میں میرے مضمون کی پہلی قسط کا جواب جناب چوہدری صاحب کی جانب سے شائع ہوا۔ اس جوابی مضمون میں بھی جناب چوہدری صاحب نے میرے صرف ایک فقرے پر توجہ مبذول فرمائی ہے، وہ تحریر فرماتے ہیں:

’’میری غرض اس وقت ایک ایسے امر کی طرف توجہ دِلانا ہے جس کے متعلق مولانا کو شدید غلط فہمی ہوئی ہے، انہوں نے اپنے مضمون کے دوران حضرت مرزا غلام احمد قادیانی کے متعلق ایک سے زیادہ دفعہ یہ تحریر فرمایا ہے کہ حضرت مرزا غلام احمد قادیانی نے انبیائے کرام، صحابہ عظام اور اکابرِ اُمت کے متعلق نہایت ناواجب الفاظ استعمال کئے ہیں۔

میں پورے وثوق کے ساتھ مولانا کی خدمت میں اور ناظرینِ کرام کی خدمت میں عرض کرنا چاہتا ہوں کہ حضرت مرزا غلام احمد قادیانی نے ہرگز ہرگز کسی نبی اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے کسی صحابی اور مسلمہ اکابرِ اُمت کے بارے میں کوئی ایسا کلمہ استعمال نہیں کیا جو ان بزرگوں کی شان کے منافی ہو۔‘‘

چوہدری صاحب نے پورے وثوق کے ساتھ جو بات اِرشاد فرمائی ہے، مجھے

447

افسوس ہے کہ وہ واقعات کے بالکل خلاف ہے، اگر چوہدری صاحب نے میرے مضمون کی تینوں قسطوں کا بغور مطالعہ فرمایا ہوتا تو مجھے توقع تھی کہ وہ اپنے اس ارشاد پر نظرِ ثانی کی خود ضرورت محسوس کرتے۔ تاہم میں جناب مرزا غلام احمد قادیانی کے وہ تمام ناواجب الفاظ جو انہوں نے انبیائے کرامؑ، صحابہ عظامؓ اور صلحائے اُمتؒ کے حق میں استعمال فرمائے ہیں، نقل کرکے اس رسالے کو زیادہ بھاری نہیں کرنا چاہتا، البتہ چوہدری صاحب کی توجہ ایک ضروری اَمر کی طرف مبذول کرانا چاہتا ہوں۔

میں نے جناب مرزا صاحب کے دو حوالے نقل کرکے کہا تھا کہ:

’’جناب مرزا غلام احمد قادیانی کے یہ ارشادات مسیلمہ کذّاب یا اس کی جماعت کے بارے میں نہیں، بلکہ خدا تعالیٰ کے ایک مقدس رسول سیّدنا عیسیٰ علیہ الصلوٰۃ والسلام کے بارے میں ہیں۔‘‘

چوہدری صاحب میرے اس فقرے کو ادعاء باطل، ایک صریح اِتہام اور ظلم قرار دیتے ہیں، اور اس پر وہ دو دلائل پیش کرتے ہیں، ایک یہ کہ جناب مرزا غلام احمد قادیانی تو خود ’’مثیلِ مسیح‘‘ ہونے کے مدعی ہیں، وہ حضرت مسیح علیہ السلام کی شان میں گستاخی کیسے کرسکتے تھے؟ اور دُوسری دلیل انہوں نے یہ دی ہے کہ جناب مرزا غلام احمد قادیانی نے کئی جگہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی تعریف کی ہے، لہٰذا یہ کیسے ممکن تھا کہ جناب مرزا غلام احمد قادیانی جس شخصیت کو نبی جانتے ہوں اور اس کی عظمت و بزرگی کو تسلیم کرتے ہوں، اسی کی توہین کرنے لگیں؟ اس کے بعد چوہدری صاحب نے یہ مفروضہ قائم کیا ہے کہ جناب مرزا غلام احمد قادیانی نے جتنی گالیاں دی ہیں، وہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو نہیں بلکہ ایک ’’فرضی مسیح‘‘ کو دی ہیں، اور وہ بھی بہت ہی مجبوری کی حالت میں۔

مجھے افسوس ہے کہ چوہدری صاحب کی عزت و اِحترام کے باوجود میں ان کے اس مفروضے کو قطعاً غلط سمجھنے پر مجبور ہوں، اور مجھے توقع نہیں کہ موصوف کا ضمیر اس غلط مفروضے پر خود بھی مطمئن ہوگا، اگر چوہدری صاحب نے میرے مضمون کی دُوسری قسط میں ان اِفتراپردازیوں کی فہرست ملاحظہ فرمائی ہوتی جو مرزا غلام احمد قادیانی نے حضرت عیسیٰ

448

علیہ السلام کے بارے میں کی ہیں، تو چوہدری ’’فرضی مسیح‘‘ کا غلط مفروضہ قائم کرکے مرزا غلام احمد قادیانی کے وکیلِ صفائی کا کردار ادا نہ کرتے، بلکہ وہ یہ تسلیم کرنے پر مجبور ہوتے کہ واقعی یہ باتیں مرزا غلام احمد قادیانی نے ’’حقیقی مسیح‘‘ کے بارے میں کہی ہیں، نہ کہ کسی ’’فرضی مسیح‘‘ کے حق میں۔

میں یہاں چوہدری صاحب کی مکرّر توجہ کے لئے مرزا غلام احمد قادیانی کی صرف ایک عبارت کا حوالہ دوبارہ پیش کرتا ہوں، مرزا غلام احمد قادیانی لکھتے ہیں:

’’...... لیکن مسیح کی راست بازی اپنے زمانے میں دُوسرے راست بازوں سے بڑھ کر ثابت نہیں ہوتی، بلکہ یحییٰ نبی کو اس پر ایک فضیلت ہے، کیونکہ وہ شراب نہیں پیتا تھا اور کبھی نہیں سنا گیا کہ کسی فاحشہ عورت نے آکر اپنی کمائی کے مال سے ان کے سر پر عطر ملا تھا یا ہاتھوں یا اپنے سر کے بالوں سے اس کے بدن کو چھوا تھا، یا کوئی بے تعلق جوان عورت اس کی خدمت کرتی تھی، اسی وجہ سے قرآن میں یحییٰ کا نام ’’حصور‘‘ رکھا، مگر مسیح کا نام نہ رکھا، کیونکہ ایسے قصے اس نام کے رکھنے سے مانع تھے۔‘‘

(دافع البلاء طبع قدیم آخری صفحہ، طبع جدید ص:د)

میں نے یہاں بقدرِ ضرورت عبارت نقل کی ہے، چوہدری صاحب خود ’’دافع البلاء‘‘ کھول کر دُور دُور تک اس کا سیاق و سباق اچھی طرح ملاحظہ فرمالیں، اس عبارت سے میں یہ سمجھتا ہوں کہ:

۱: ... مرزا غلام احمد قادیانی اس عبارت میں جس مسیح کا تذکرہ فرما رہے ہیں وہ سیّدنا عیسیٰ علیہ السلام ہی ہیں نہ کہ کوئی ’’فرضی مسیح‘‘۔

۲: ... مرزا غلام احمد قادیانی، حضرت مسیح علیہ السلام کے مقابلے میں حضرت یحییٰ علیہ السلام کی ایک فضیلت و بزرگی بیان فرما رہے ہیں۔

۳: ... اور وہ بزرگی یہ ہے کہ یحییٰ علیہ السلام نہ تو شراب پیتے تھے اور نہ عورتوں سے

449

مس و اختلاط فرماتے تھے، بخلاف اس کے حضرت مسیح علیہ السلام میں (بقول مرزا کے) یہ دونوں باتیں پائی جاتی تھیں۔ وہ شراب بھی پیتے تھے اور فاحشہ عورتوں اور نامحرَم دوشیزاؤں سے مس و اِختلاط بھی فرماتے تھے، کنجریاں اپنی حرام کی کمائی کا تیل ان کے سر پر ملا کرتی تھیں، اور اپنے ہاتھ اور سر کے بالوں سے ان کے بدن کو مس کیا کرتی تھیں، اور نامحرَم دوشیزائیں ان کی خدمت کیا کرتی تھیں۔

۴: ... مرزا غلام احمد قادیانی کی تحقیق یہ ہے کہ یحییٰ اور مسیح کے درمیان اسی فرق کی بنا پر قرآنِ کریم نے یحییٰ علیہ السلام کو تو ’’حصور‘‘ (یعنی اپنے نفس کو عورتوں سے باز رکھنے والا) فرمایا، مگر مسیح علیہ السلام کو یہ خطاب نہ دیا، کیونکہ وہ مرزا غلام احمد قادیانی کے بقول شراب و شباب سے لطف اندوز ہوتے تھے۔ اگر مجھے مرزا غلام احمد قادیانی کی اس اُردو عبارت سمجھنے میں کوئی غلط فہمی ہوئی ہے تو مجھے خوشی ہوگی کہ مجھے سمجھادیں۔ ورنہ ـــــ چوہدری کی دیانت و انصاف کا تقاضا یہ ہے کہ اسے تسلیم فرمائیں۔ ورنہ جس قسم کی دُور ازکار تأویلوں کے ذریعے وہ مرزا غلام احمد قادیانی کی صفائی پیش کرتے ہیں، انہیں یقین رکھنا چاہئے کہ خدا تعالیٰ کی عدالت میں ان کی یہ تأویلیں کام نہیں دیں گی۔ میں چوہدری کو اِسلام کی دعوت دیتا ہوں، وہ اپنی ذات سے انصاف کریں گے، اگر وہ اَخیر عمر میں مرزا غلام احمد قادیانی کا دامن جھٹک کر حضرت خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم کے دامنِ رحمت سے وابستہ ہوجائیں اور مرزا غلام احمد قادیانی کے عقائد سے توبہ کرلیں۔

وَالْحَمْدُ للہِ اَوَّلًا وَّآخِرًا

450

’’عالمی مجلس تحفظ ختمِ نبوّت‘‘

کا تعارف اور خدمات

قادیانیت و صہیونیت عالمِ اسلام کے لئے ایک ناسور کی حیثیت رکھتی ہے۔ مرزا غلام احمد قادیانی نے ۱۹۰۱ء میں نبوّت کا دعویٰ کرکے کفر و اِرتداد کا راستہ اِختیار کیا، اور قادیانی اُمت کی بنیاد ڈالی، جس کے مقاصد حسبِ ذیل ہیں۔

اسلام سے غداری اور حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اُمتِ مسلمہ کو محمدِ عربی صلی اللہ علیہ وسلم سے کاٹ کر ایک ہندی مرکز (قادیان) پر جمع کرنا، اسلام دُشمن طاقتوں کے لئے جاسوسی کرنا۔

اہلِ اسلام کے درمیان اِفتراق و اِنتشار پیدا کرنا، مسئلۂ جہاد کو جو کہ اِسلام کی رُوح ہے، اس کو منسوخ کرنا۔

چنانچہ آج قادیانیت اُمتِ مسلمہ کے لئے ایک زبردست چیلنج بن چکی ہے، اِسرائیل میں ان کے مراکز قائم ہیں، قادیانی جس ملک میں بھی ہیں وہ اِسلام دُشمن اور اِستعماری طاقتوں کے ایجنٹ ہیں۔ اور اِسلامی ممالک کے خلاف سازشیں کرنا ان کا اہم ترین ہدف ہے۔

پاک و ہند کے علمائے حق، جو قادیانیت کے مالہٗ وماعلیہ سے پورے واقف ہیں، ہمیشہ سے قادیانیت کی تردید میں سرگرم رہے۔ ۱۹۵۲ء میں اَمیرِ شریعت سیّد عطاء اللہ شاہ بخاریؒ نے قادیانیت کے رَدّ و تعاقب کے لئے ’’مجلس تحفظ ختمِ نبوّت‘‘ کے نام سے ایک مستقل غیرسیاسی تنظیم کی بنیاد ڈالی، جس کا مرکزی دفتر ملتان پاکستان میں ہے۔ اور

451

جس کے چالیس سے زیادہ دفاتر پاکستان اور دیگر ممالک میں کام کر رہے ہیں، اور قادیانیت کے ماہر تربیت یافتہ مبلغین کی ایک بڑی جماعت ان مراکز میں متعین ہے۔ اس تنظیم کے تحت نو دِینی مدارس اور دس مساجد قائم ہیں۔ جن کے جملہ مصارف جماعت کے ذمے ہیں۔ یہ دِینی مدارس و مساجد ایسے مقامات پر قائم کئے گئے ہیں جہاں قادیانیوں کا نسبتاً زور کچھ زیادہ ہے۔

مجلس کی خدمات:

قیامِ پاکستان کے بعد بھی سرکاری سطح پر قادیانیوں کو مسلمان تصوّر کیا جاتا تھا، عالمی مجلس تحفظ ختمِ نبوّت نے قادیانیوں کو غیرمسلم قرار دِلوانے کے لئے ۱۹۵۳ء میں ایک عظیم الشان تحریک چلائی، جس میں یہ بنیادی تین مطالبات پیش کئے گئے:

۱- قادیانیوں کو غیرمسلم قرار دِیا جائے۔

۲- ظفراللہ خان قادیانی کو وزارتِ خارجہ سے ہٹایا جائے۔

۳- تمام کلیدی اسامیوں سے قادیانیوں کو برطرف کیا جائے۔

لیکن اس وقت کے قادیانی وزیرِ خارجہ ظفراللہ خان مرتد کے اِشاروں پر اس وقت کی حکومت نے اس مقدس تحریک کو کچلنے کا فیصلہ کیا، اور دس ہزار مسلمانوں کو شہید کردیا گیا۔

مئی ۱۹۷۴ء میں عالمِ اسلام کی عظیم شخصیت اور عالمی مجلس تحفظ ختمِ نبوّت کے مرکزی امیر حضرت مولانا محمد یوسف بنوریؒ کی قیادت میں دُوسری مرتبہ تحریک چلی، جس کے نتیجے میں پاکستان کی قومی اسمبلی نے قادیانیوں کے غیرمسلم ہونے کا آئینی و دستوری فیصلہ دیا۔

۱۹۸۳ء میں عالمی مجلس تحفظ ختمِ نبوّت کے موجودہ امیر حضرت مولانا خان محمد مدظلہٗ کی قیادت میں تیسری مرتبہ تحریک چلی۔ یہ تحریک مسلسل ایک سال جاری رہی۔ بالآخر صدرِ پاکستان جنرل محمد ضیاء الحق نے ۲۶؍اپریل ۱۹۸۴ء کو ایک آرڈی نینس جاری کیا، جس کے ذریعے قادیانیوں کو مسلمان کہلانے، اَذان دینے، اپنی عبادت گاہ کو ’’مسجد‘‘ کہنے،

452

اور اِسلامی شعائر کے اِستعمال کرنے سے روک دیا گیا۔ نیز ان کی تبلیغی واِرتدادی سرگرمیوں پر پابندی لگادی۔

ربوہ میں:

’’ربوہ‘‘ پاکستان میں قادیانیوں کا مرکز ہے، یہ شہر قیامِ پاکستان کے بعد قادیانیوں نے بسایا، ۱۹۷۴ تک یہ شہر ایک قادیانی اسٹیٹ کی حیثیت رکھتا تھا۔ یہاں صرف قادیانیوں کی حکومت تھی، اور حکومتِ پاکستان کا قانون یہاں معطل ہوکر رہ گیا تھا۔ کسی مسلمان کو بلااِجازت اس شہر میں داخل ہونے کی اجازت نہیں تھی۔ ۱۹۷۴ء کی تحریک کے نتیجے میں اسے کھلا شہر قرار دیا گیا، اور عالمی مجلس تحفظ ختمِ نبوّت کے یہاں دو مراکز اور مسجدیں قائم ہیں، جن کی برکت سے کئی قادیانی خاندانوں نے قبولِ اسلام کا شرف حاصل کیا۔

لٹریچر کی اشاعت:

عالمی مجلس تحفظ ختمِ نبوّت نے رَدِّ قادیانیت کے موضوع پر عربی، اُردو، انگریزی میں دو سو سے زائد چھوٹی بڑی کتابیں اور پمفلٹ شائع کئے ہیں، جن میں بعض کی اشاعت لاکھوں سے متجاوز ہے۔ اور یہ تمام لٹریچر مفت تقسیم کیا جاتا ہے۔ ان کتابوں کے علاوہ مجلس کے زیرِ اہتمام دو ہفت روزہ اخبار جاری ہیں، ’’ہفت روزہ ختمِ نبوّت کراچی‘‘ اور ’’ہفت روزہ لولاک فیصل آباد‘‘ یہ اخبار بھی ہزاروں کی تعداد میں شائع ہوتے ہیں۔ (اور اب ہفت روزہ لولاک کی بجائے ’’ماہنامہ لولاک‘‘ ملتان سے شائع ہوتا ہے)۔

لائبریری:

قادیانیت کی تردید کے لئے سب سے اہم ضرورت قادیانی کتابوں کا حصول ہے، جن سے قادیانیوں کے اصل عقائد و عزائم معلوم کئے جاسکتے ہیں، اور مناظروں اور مباحثوں میں جن کا حوالہ دیا جاسکتا ہے۔ لیکن قادیانی کتابوں کا حصول اس لئے مشکل ہے کہ اب اکثر قادیانی کتابیں نایاب ہیں۔ مجلس کے مرکزی دفتر میں ایک عظیم الشان

453

لائبریری ہے جس میں اِسلامی کتابوں کے علاوہ، قادیانیوں کی کتابوں، رِسالوں اور اَخباروں کا ایک بہت بڑا ذخیرہ محفوظ ہے۔

دار المبلغین:

مجلس کے مرکزی دفتر ملتان میں ایک دار المبلغین قائم ہے، جس میں ذہین اور مستعد نوجوان علماء کو رَدِّ قادیانیت کے موضوع پر مکمل تربیت دی جاتی ہے، اور قادیانی لٹریچر کا مطالعہ کرایا جاتا ہے، اس شعبے میں داخلہ لینے والے نوجوان علماء کو معقول وظائف دئیے جاتے ہیں۔ علاوہ ازیں مختلف دِینی مدارس میں رَدِّ قادیانیت پر ’’کورس‘‘ ہوتے ہیں، جن میں مجلس تحفظ ختمِ نبوّت کے شعبۂ تبلیغ کے سربراہ حضرت مولانا عبدالرحیم اشعر طلبہ کو قادیانیت پر درس دیتے ہیں۔

مقدمات کی پیروی:

مسلمانوں اور قادیانیوں کے درمیان بعض اوقات تنازعات و مقدمات کی نوبت آتی ہے، عالمی مجلس تحفظ ختمِ نبوّت مظلوم مسلمانوں کی طرف سے اس قسم کے مقدمات کی پیروی کرتی ہے، اور ان کے مصارف برداشت کرتی ہے، اس نوعیت کے متعدّد مقدمے اب بھی پاکستانی عدالتوں میں چل رہے ہیں، اس وقت صرف صوبہ سندھ پاکستان میں ۲۹ مقدمات زیرِ سماعت ہیں۔

جنوبی افریقہ میں قادیانیوں کی طرف سے وہاں کے مسلمانوں کے خلاف عدالت میں مقدمہ دائر کیا گیا، اس سلسلے میں دو مرتبہ عالمی مجلس نے اپنے نمائندہ وفود بھیجے۔

بیرونی ممالک میں:

عالمی سطح پر اُمتِ مسلمہ کو فتنۂ قادیانیت سے آگاہ کرنے کے لئے ’’مجلس تحفظ ختمِ نبوّت‘‘ وقتاً فوقتاً اپنے وفود بھیجتی ہے، سب سے پہلے مناظرِ اِسلام مولانا لال حسین اخترؒ نے جزائر فیجی، جرمنی، برطانیہ اور بھارت کے دورے کئے۔ برطانیہ کے دورے میں مولانا

454

مرحوم کو عظیم کامیابی ہوئی۔ اس کی ایک مثال یہ ہے کہ ووکنگ شہر (لندن) میں شاہجہاں مسجد، جو ملکہ بھوپال نے تعمیر کی تھی، ۱۹۰۱ء میں قادیانیوں نے اس پر قبضہ کرلیا تھا، ۶۷ سال کے بعد مولانا لال حسین اختر مرحوم نے اسے قادیانیوں کے قبضے سے واگزار کرایا۔ الحمدللہ! اب تک یہ مسجد مسلمانوں کی تحویل میں ہے۔

مجلس کے وفد اب تک انڈونیشیا، بنگلہ دیش، برما، سنگاپور، تھائی لینڈ، امریکا اور یورپ و افریقہ کے بیشتر ممالک کا دورہ کرچکے ہیں۔ بنگلہ دیش، ماریشس اور برطانیہ میں مجلس کے مستقل دفاتر کام کر رہے ہیں۔

قادیانیوں کے مقابلے میں مسلمانوں کی مالی اعانت:

جو حضرات قادیانیت سے تائب ہوکر اِسلام قبول کرتے ہیں، مجلس ان کو خودکفیل بنانے کے لئے ان کی ہر ممکن مالی اعانت کرتی ہے۔ نیز بہت سے مسلمان جو قادیانیوں نے شہید یا اغوا کرلئے ہیں، مجلس ان کے اہل و عیال کے مصارف بھی برداشت کرتی ہے۔

عظیم الشان ختمِ نبوّت کانفرنس لندن:

قادیانیوں کے سربراہ مسٹر مرزا طاہر نے پاکستان سے بھاگ کر لندن میں پناہ لی، اور وہاں پچّیس ایکڑ زمین خرید کر ایک قادیانی کالونی آباد کی۔ جس کا نام ...نعوذباللہ... ’’اسلام آباد‘‘ رکھا۔ یہ نیا قادیانی مرکز پوری دُنیا کے مسلمانوں کے خلاف سازشیں کرنے اور ناواقف مسلمانوں کو مرتد کرنے کے لئے بنایا گیا۔ عالمی مجلس تحفظ ختمِ نبوّت نے ۱۹۸۵ سے لے کر ۱۹۸۹ء تک مسلسل پانچ سال ویمبلے ہال لندن میں ہر سال عظیم الشان ختمِ نبوّت کانفرنسیں منعقد کیں، جو لندن کی تاریخ میں مسلمانوں کی منفرد اور ممتاز کانفرنسیں تھیں۔ پہلی عالمی ختمِ نبوّت کانفرنس لندن کے دوران یہ فیصلہ کیا گیا کہ لندن میں عالمی مجلس تحفظ ختمِ نبوّت کا ایک عظیم الشان دفتر قائم کیا جائے، جو پوری دُنیا میں قادیانی سازشوں کا پردہ چاک کرے اور دُنیا بھر کے مسلمانوں کو قادیانی فتنے سے آگاہ کرے۔

الحمدللہ! اس عظیم الشان دفتر کا خواب ۲۶؍اپریل ۱۹۸۷ء کو پورا ہوگیا، جب

455

لندن شہر کے وسط اسٹاک ویل علاقے میں ایک بڑی بلڈنگ کو ایک لاکھ پینتیس ہزار پونڈ میں خرید کر دفتر ختمِ نبوّت میں تبدیل کردیا گیا۔ اس دفتر میں جہاں ایک بڑی لائبریری قائم کی گئی ہے، وہاں تعلیمِ قرآن کے لئے مدرسہ، نماز کے لئے جگہ بھی مختص کی گئی ہے، ۲۷؍اپریل ۱۹۸۷ء سے ہی پنج گانہ نماز، جمعہ و عیدین کا سلسلہ باقاعدگی سے جاری ہے۔ ہر سال حفاظِ قرآن تراویح میں قرآن پاک سناتے ہیں۔ مدرسے میں تعلیمِ قرآن کا سلسلہ اسی دن سے چل رہا ہے، کئی طلبہ قرآن پاک مکمل کرچکے ہیں۔ لندن، اور برطانیہ کے دُوسرے تمام شہروں میں مبلغین دورہ کرتے رہتے ہیں، یورپ کے تمام ممالک اور امریکا اور آسٹریلیا میں اسی مرکز سے انگلش زبان میں لٹریچر اِرسال کیا جاتا ہے، غرضیکہ اس وقت مغربی ممالک میں بسنے والے مسلمانوں کو قادیانی فتنے کی خطرناکی سے یہی مرکز آگاہ کر رہا ہے۔

456