تحفۂ قادیانیت
(جلد پنجم)
شہید اسلام حضرت مولانا محمد یوسف لدھیانوی نور اللہ مرقدہ کو قدرت نے تردید قادیانیت کے لئے
منتخب کیا تھا اورقدرت کی طرف
سے تردیدقادیانیت کے لئے آپ کو زندگی وقف کرنے کا حکم نامہ محدث العصر علامہ سیدمحمد یوسف بنوری رحمۃ اللہ علیہ
کی طرف سے
ملا اور آپؒ نے اپنی قلمی جولانیوں کا رُخ تردیدقادیانیت کی طرف ایسا پھیرا کہ آج اس موضوع پر سب سے زیادہ
لٹریچر آپؒ کا
تحریر کردہ ہے جو ’’تحفۂ قادیانیت‘‘ کی شکل میں ہزاروں صفحات پر مشتمل ہے(مفتی) محمد جمیل خان،خاکپائے حضرت شہیدِ
اسلامؒ
بسم اللہ الرحمن الرحیم
| نام کتاب: |
تحفۂ قادیانیت (جلد پنجم) |
| مؤلفہ: |
حضرت مولانا محمد یوسف لدھیانووی شہیدؒ |
| اشاعت: |
دسمبر2010 |
| ناشر: |
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کراچی |
2
صَلُّوا عَلَی الْحَبِیْب
4
مباہلے کی حقیقت!
سوال:... مباہلے کی حقیقت کیا ہے؟ اس بارے میں کلامِ مجید کی کون کون سی آیات کا نزول ہوا ہے؟
(اعجاز احمد خان)
جواب:... مباہلے کا ذِکر سورۂ آل عمران (آیت:۶۱) میں آیا ہے، جس میں نجران کے نصاریٰ کے بارے میں فرمایا گیا
ہے:
’’فَمَنْ حَآجَّکَ فِیْہِ مِنْم بَعْدِ مَا جَآءَکَ مِنَ الْعِلْمِ فَقُلْ تَعَالَوْا نَدْعُوْا اَبْنَآءَنَا
وَاَبْنَآءَکُمْ وَنِسَآءَنَا وَنِسَآءَکُمْ وَاَنْفُسَنَا وَاَنْفُسَکُمْ ثُمَّ نَبْتَھِلْ فَنَجْعَلْ لَّعْنَتَ
اللہِ عَلَی الْکٰذِبِیْنَ۔‘‘
ترجمہ:... ’’پھر جو کوئی جھگڑا کرے تجھ سے اس قصے میں، بعد اس کے کہ آچکی تیرے پاس خبر سچی تو تو
کہہ دے: آؤ! بلاویں ہم اپنے بیٹے، اور تمہارے بیٹے، اور اپنی عورتیں، اور تمہاری عورتیں، اور اپنی جان، اور تمہاری
جان، پھر اِلتجا کریں ہم سب، اور لعنت کریں اللہ کی ان پر، جو جھوٹے ہیں۔‘‘
(ترجمہ: شیخ الہندؒ)
اس آیتِ کریمہ سے مباہلے کی حقیقت واضح ہوجاتی ہے کہ جب کوئی فریق حق واضح ہوجانے کے باوجود اس کو جھٹلاتا ہے تو
اس کو دعوت دی جائے کہ آؤ! ہم دونوں فریق اپنی عورتوں اور بچوں سمیت ایک میدان میں جمع ہوں اور گڑگڑاکر اللہ
تعالیٰ سے دُعا کریں کہ اللہ تعالیٰ جھوٹوں پر اپنی لعنت بھیجے۔ رہا یہ کہ اس مباہلے کا نتیجہ کیا ہوگا؟ وہ مندرجہ
ذیل احادیث سے معلوم ہوتا ہے:
6
✨: ... مستدرک حاکم (ج:۲ ص:۵۹۴) میں ہے کہ نصاریٰ کے سید نے کہا کہ: ان صاحب سے ۔۔۔یعنی آنحضرت صلی اللہ علیہ
وسلم... سے مباہلہ نہ کرو، اللہ کی قسم! اگر تم نے مباہلہ کیا تو دونوں میں سے ایک فریق زمین میں دھنسادِیا جائے گا۔
✨: ... صحیح بخاری، مسلم، ترمذی اور نسائی میں ہے کہ جب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے نصاریٔ نجران سے مباہلے کا
اِرادہ فرمایا تو عاقب اور سید میں سے ایک نے دُوسرے سے کہا کہ: ’’ان صاحب سے مباہلہ نہ کیا جائے، کیونکہ اگر یہ نبی
ہیں تو نہ ہم فلاح پائیں گے، اور نہ ہمارے بعد ہماری اولاد۔‘‘
(درمنثور ج:۲ ص:۳۸)
✨: ... حافظ ابونعیمؒ کی ’’دلائل النبوۃ‘‘ میں ہے کہ سید نے عاقب سے کہا ’’اللہ کی قسم! تم جانتے ہو کہ یہ صاحب
نبیٔ برحق ہیں، اور اگر تم نے اس سے مباہلہ کیا تو تمہاری جڑ کٹ جائے گی۔ کبھی کسی قوم نے کسی نبی سے مباہلہ نہیں
کیا کہ پھر ان کا کوئی بڑاباقی رہا ہو، یا ان کے بچے بڑے ہوئے ہوں۔‘‘
(ایضاً ص:۲۹)
✨: ... ابنِ جریرؒ، عبد بن حمیدؒ اور ابونعیمؒ نے ’’دلائل النبوۃ‘‘ میں حضرت قتادہؓ کی روایت سے آنحضرت صلی اللہ
علیہ وسلم کا یہ اِرشاد نقل کیا ہے کہ: ’’اہلِ نجران پر عذاب نازل ہوا چاہتا تھا، اور اگر وہ مباہلہ کرتے تو زمین سے
ان کا صفایا کردیا جاتا۔‘‘
✨: ... ابنِ ابی شیبہؒ، سعید بن منصورؒ، عبد بن حمیدؒ، ابنِ جریرؒ اور حافظ ابونعیمؒ نے ’’دلائل النبوۃ‘‘ میں اِمام
شعبیؒ کی سند سے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ اِرشاد نقل کیا ہے کہ: ’’میرے پاس فرشتہ اہلِ نجران کی ہلاکت کی
خوشخبری لے کر آیا تھا، اگر وہ مباہلہ کرلیتے تو ان کے درختوں پر پرندے تک باقی نہ رہتے۔‘‘
✨: ... صحیح بخاری، ترمذی، نسائی اور مصنف عبدالرزّاق وغیرہ میں حضرت ابنِ عباس رضی اللہ عنہ کا اِرشاد نقل کیا ہے
کہ: ’’اگر اہلِ نجران آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے مباہلہ کرلیتے تو اس حالت میں واپس جاتے کہ اپنے اہل وعیال اور
مال میں سے کسی کو نہ پاتے۔‘‘ (یہ تمام روایات دُرِّ منثور ج:۲ ص:۳۹ میں ہیں)۔
ان احادیث سے واضح ہوتا ہے کہ سچے نبی کے ساتھ مباہلہ کرنے والے عذابِ
7
اِلٰہی میں اس طرح مبتلا ہوجاتے ہیں کہ ان کے گھربار کا بھی صفایا ہوجاتا ہے اور ان کا ایک فرد بھی زِندہ
نہیں رہتا۔
یہ تو تھا سچے نبی کے ساتھ مباہلہ کرنے کا نتیجہ! اب اس کے مقابلے میں جھوٹے نبی کے ساتھ مباہلے کا نتیجہ بھی سن
لیجئے۔۔۔! ۱۰؍ذُوالقعدہ ۱۳۱۰ھ مطابق ۲۷؍مئی ۱۸۹۳ء کو مولانا عبدالحق غزنوی مرحوم کا مرزا غلام احمد قادیانی کے ساتھ
مباہلہ ہوا (مجموعہ اِشتہارات: مرزا غلام احمد قادیانی ج:۱ ص:۴۲۷، ۴۲۸)۔ اس مباہلے کا نتیجہ یہ نکلا کہ مرزا غلام
احمد قادیانی ۲۶؍مئی ۱۹۰۸ء کو مولانا غزنوی مرحوم کی زندگی میں ہلاک ہوگیا۔ مولانا مرحوم، مرزا قادیانی کے بعد ۹ سال
سلامت باکرامت رہے، ۱۶؍مئی ۱۹۱۷ء کو ان کا اِنتقال ہوا (رئیس قادیان ج:۲ ص:۱۹۲)۔ اس مباہلے نے ثابت کردیا کہ مرزا
جھوٹا تھا، کیونکہ خود مرزا قادیانی کا مُسلَّمہ اُصول ہے کہ:
’’مباہلہ کرنے والوں میں سے جو جھوٹا ہو، وہ سچے کی زندگی میں ہلاک ہوجاتا ہے۔‘‘
(ملفوظات: مرزا غلام احمد قادیانی ج:۹ ص:۴۴۰)
مرزا کی موت پر اللہ تعالیٰ نے اپنے فعل سے گواہی دے دی کہ مرزا قادیانی جھوٹا تھا، اللہ تعالیٰ کے فرشتوں نے گواہی
دی کہ مرزا جھوٹا تھا، خود مرزا نے ۔۔۔مندرجہ بالا عبارت میں... گواہی دی کہ میں جھوٹا ہوں، اس دن آسمان وزمین نے
گواہی دی کہ مرزا جھوٹا تھا، تمام اہلِ علم اور اہلِ ایمان گواہی دیتے ہیں کہ مرزا جھوٹا تھا۔
مرزا قادیانی کے ماننے والوں میں ۔۔۔خواہ وہ قادیانی ہوں یا لاہوری... اگر حق ودیانت کی کوئی رمق ہوتی تو وہ ان
عظیم الشان گواہیوں کو قبول کرکے مرزائیت سے فوراً توبہ کرلیتے، اور وہ خود بھی یہ سچی گواہی دیتے کہ مرزا جھوٹا
تھا، لیکن افسوس! کہ قادیانیوں کے عوام ناواقف ہیں، حقیقتِ حال سے بے خبر ہیں، اور قادیانی لیڈر محض اپنے نفسانی
جوش، اور اپنی گدی چلانے کے لئے حق ودیانت کی گواہی کو چھپاتے ہیں، اور دُنیا کی آنکھوں میں دُھول جھونکنے کے لئے
مسلمانوں کو مباہلے کا چیلنج دے رہے ہیں۔ مرزا قادیانی نے ایسے
8
ہی لوگوں کے بارے میں لکھا تھا:
’’دُنیا میں سب جانداروں سے زیادہ پلید اور کراہت کے لائق خنزیر ہے، مگر خنزیر سے زیادہ پلید وہ لوگ ہیں، جو اپنے
نفسانی جوش کے لئے حق اور دیانت کی گواہی کو چھپاتے ہیں۔‘‘
(ضمیمہ انجامِ آتھم ص:۲۱، رُوحانی خزائن ج:۱۱ ص:۳۰۵)
عجیب بات یہ ہے کہ قادیانیوں میں کوئی شریف آدمی اپنے لیڈروں سے یہ نہیں پوچھتا کہ: حضور! مباہلہ تو ایک بار ہوتا
ہے، بار بار نہیں ہوتا، جب ایک صدی پہلے مرزا غلام احمد قادیانی مباہلہ کرچکا، اور اس مباہلے کے نتیجے میں اللہ
تعالیٰ نے فیصلہ دے دیا کہ مرزا جھوٹا تھا، تو دوبارہ مباہلے کی چیلنج بازی محض ہم لوگوں کو اَحمق بنانے کے لئے نہیں
تو اور کیا ہے...؟
دُوسرے یہ کہ مباہلے کے لئے قرآنِ کریم کی رُو سے دو فریقوں کا اپنی عورتوں اور بچوں سمیت ایک میدان میں جمع ہوکر
مل کر دُعا واِلتجا کرنا ضروری ہے، آخر یہ کیسا مباہلہ ہے کہ آپ گھر بیٹھے بڑکیں مارتے ہیں، اور میدانِ مباہلہ میں
نکلنے کی جرأت نہیں کرتے؟ اَلَیْسَ مِنْکُمْ رَجُلٌ رَّشِیْدٌ...؟
وَآخِرُ دَعْوَانَا اَنِ الْحَمْدُ للہِ رَبِّ الْعَالَمِیْنَ
وَصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی خَیْرِ خَلْقِہٖ مُحَمَّدٍ وَّآلِہٖ وَاَصْحَابِہٖ
اَجْمَعِیْنَ
9
ضمیمہ
دو دِلچسپ مباہلے
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ
اَلْحَمْدُ للہِ وَسَلَامٌ عَلٰی عِبَادِہِ الَّذِیْنَ اصْطَفٰی!
حق تعالیٰ شانہ‘ کی عجیب شان ہے کہ نبوّت کا جھوٹا دعویٰ کرنے والے دجالوں اور مکاروں کے مکر و فریب کا پول کھول
دیتے ہیں، مرزا غلام احمد قادیانی آنجہانی نے بھی نبوّت کا جھوٹا دعویٰ کرکے خلقِ خدا کو گمراہ کرنے اور دُنیا کا
کوڑا جمع کرنے کا بیڑا اُٹھایا تھا، لیکن اللہ تعالیٰ نے اس کو قدم قدم پر ذلیل و رُسوا کیا، چنانچہ مرزا قادیانی کے
متعدّد لوگوں سے مباہلے بھی ہوئے، اور اللہ تعالیٰ نے ہر مباہلے کا فیصلہ مرزا قادیانی کے خلاف صادر فرمایا، جس کے
نتیجے میں مرزا قادیانی کا جھوٹا ہونا ہر خاص و عام کے سامنے واضح کردیا، اس کے چند نمونے میرے رسالہ ’’قادیانی
مباہلہ‘‘ میں آپ کی نظر سے گزرچکے ہیں، مثلاً:
۱:... مرزا قادیانی نے عبداللہ آتھم عیسائی کے مباحثے سے عاجز آکر آخری دن مباہلہ کے طور پر یہ پیش گوئی جڑ دی
کہ ہم دونوں فریقوں میں سے جو جھوٹا ہے وہ پندرہ مہینے کے اندر اندر ہاویہ میں گرایا جائے گا، اور صاف صاف الفاظ میں
یہ اقرار کیا کہ:
’’میں اس وقت یہ اِقرار کرتا ہوں کہ اگر یہ پیشین گوئی جھوٹی نکلی یعنی وہ فریق جو خدا تعالیٰ کے نزدیک جھوٹ پر ہے
وہ پندرہ ماہ کے عرصے میں آج کی تاریخ سے بسزائے موت ہاویہ میں نہ پڑے تو میں ہر ایک سزا کے اُٹھانے کے
10
لئے تیار ہوں، مجھ کو ذلیل کیا جاوے، رُوسیاہ کیا جاوے، میرے گلے میں رسہ ڈال دیا جاوے، مجھ کو پھانسی دیا
جاوے ۔۔۔... اب ناحق ہنسنے کی جگہ نہیں اگر میں جھوٹا ہوں تو میرے لئے سولی تیار رکھو۔ اور تمام شیطانوں اور بدکاروں
اور لعنتیوں سے زیادہ مجھے لعنتی قرار دو۔‘‘
(خزائن ج:۱۶ ص:۲۹۲، ۲۹۳)
اس مباہلہ کا نتیجہ سب کے سامنے آیا، مرزا کا حریف آتھم پادری پندرہ مہینے میں نہیں مرا، اس طرح اللہ تعالیٰ نے
ایک پادری کے مقابلے میں مرزا کو ذلیل اور رُوسیاہ کیا، اور لوگ مرزا غلام احمد قادیانی کو خود اس کے اپنے الفاظ
میں: ’’تمام شیطانوں اور بدکاروں اور لعنتیوں سے زیادہ لعنتی‘‘ سمجھنے پر مجبور ہوئے۔
۲:... مرزا غلام احمد قادیانی نے مولانا عبدالحق غزنویؒ سے رُو در رُو مباہلہ کیا، اور مباہلہ کے بعد مرزا قادیانی،
مولانا عبدالحق غزنویؒ کی زندگی میں ہلاک ہوگیا، جبکہ اس کا اپنا اقرار تھا کہ:
’’مباہلہ کرنے والوں میں سے جو جھوٹا ہو وہ سچے کی زندگی میں ہلاک ہوجاتا ہے۔‘‘
(مرزا قادیانی کے ملفوظات ج:۹ ص:۴۴۰)
مرزا قادیانی کے مولانا عبدالحق کی زندگی میں مرنے سے ثابت ہوگیا کہ مرزا قادیانی، مولانا عبدالحق غزنویؒ کے مقابلے
میں جھوٹا تھا اور مولانا عبدالحق غزنویؒ نے اپنے مباہلہ میں جو دعویٰ کیا تھا کہ: ’’مرزا قادیانی اور اس کے ماننے
والے سب کے سب دجال وکذّاب، کافر و ملحد اور بے اِیمان ہیں۔‘‘ ان کا یہ دعویٰ بالکل صحیح ثابت ہوا اور اللہ تعالیٰ
نے اس پر مہرِ تصدیق ثبت کردی۔
۳:... مرزا غلام احمد قادیانی نے ۱۵؍اپریل ۱۹۰۷ء مطابق یکم ربیع الاوّل
11
۱۳۲۵ھ کو ایک اشتہار شائع کیا، جس کا عنوان تھا:
’’مولوی ثناء اللہ صاحب امرتسری کے ساتھ آخری فیصلہ‘‘
اس اشتہار میں مرزا قادیانی نے مولانا ثناء اللہ امرتسری فاتحِ قادیان کو مخاطب کرکے لکھا کہ:
’’اگر میں ایسا ہی کذّاب اور مفتری ہوں جیسا کہ آپ اکثر اوقات آپ اپنے ہر ایک پرچے میں مجھے یاد کرتے ہیں تو میں
آپ کی زندگی میں ہی ہلاک ہوجاؤں گا۔‘‘
(مجموعہ اشتہارات مرزا غلام احمد قادیانی ج:۳ ص:۵۷۸)
اور پھر مرزا نے اللہ تعالیٰ کی بارگاہِ عالی سے فیصلہ طلب کرنے کے لئے یہ دُعا کی کہ:
’’اگر یہ دعویٰ مسیحِ موعود ہونے کا محض میرے نفس کا اِفترا ہے، اور میں تیری نظر میں مفسد اور کذّاب ہوں اور دن
رات اِفترا کرنا میرا کام ہے، تو اے میرے پیارے مالک! میں عاجزی سے تیری جناب میں دُعا کرتا ہوں کہ مولوی ثناء اللہ
کی زندگی میں مجھے ہلاک کر اور میری موت سے ان کو اور ان کی جماعت کو خوش کردے ۔۔۔... اب میں تیرے ہی تقدس اور رحمت
کا دامن پکڑ کر تیری جناب میں ملتجی ہوں کہ مجھ میں اور ثناء اللہ میں سچا فیصلہ فرما اور وہ جو تیری نگاہ میں
درحقیقت مفسد اور کذّاب ہے اس کو صادق کی زندگی میں ہی دُنیا سے اُٹھالے۔‘‘
(مجموعہ اشتہارات مرزا غلام احمد قادیانی ج:۳ ص:۵۴۹)
اور اِشتہار کے آخر میں مرزا قادیانی نے لکھا کہ:
’’بالآخر مولوی صاحب سے میری التماس ہے کہ وہ میرے اس تمام مضمون کو اپنے پرچے میں چھاپ دیں، اور جو چاہیں اس کے
نیچے لکھ دیں، اب فیصلہ خدا کے ہاتھ میں ہے۔‘‘
چنانچہ مرزا قادیانی کی فرمائش کے مطابق مولانا ثناء اللہ امرتسریؒ نے اپنے
12
پرچے ’’اہلِ حدیث‘‘ میں مرزا کا پورا اِشتہار لفظ بلفظ چھاپ دیا، اور اس کے نیچے جو چاہا لکھ دیا۔ چونکہ
مرزا قادیانی اپنا فیصلہ خدا کے ہاتھ میں دے چکا تھا، اس لئے مرزا کے اس اِشتہار کے بعد مرزائیوں اور مسلمانوں کی
نظریں اس پر لگی ہوئی تھیں کہ دیکھئے پردۂ غیب سے کیا ظہور پذیر ہوتا ہے؟ بالآخر ایک سال بعد فیصلۂ خداوندی کا
اعلان ہوا، اور ۲۶؍مئی ۱۹۰۸ء کو وبائی ہیضے سے مرزا غلام احمد قادیانی کو ہلاک کردیا، اور مولانا ثناء اللہ امرتسریؒ
اس کے اِکتالیس سال بعد تک سلامت باکرامت رہے۔
اس فیصلۂ خداوندی سے ایک بار پھر ثابت ہوگیا کہ مرزا قادیانی واقعی مفسد وکذّاب اور مفتری تھا، جیسا کہ مولانا
ثناء اللہ مرحوم ’’اپنے ہر ایک پرچے میں اس کو یاد کرتے تھے۔‘‘
آج کی صحبت میں ہم قارئین کو مرزا قادیانی کے دو مزید دِلچسپ مباہلوں سے روشناس کراتے ہیں جن کے ذریعے اللہ تعالیٰ
نے مرزا قادیانی کے دجال و کذّاب ہونے کا واضح اعلان فرمایا۔
پہلا مباہلہ
حافظ محمد یوسف اور مولانا عبدالحق غزنوی کے درمیان
حافظ محمد یوسف ضلع دار امرتسری پہلے فرقۂ اہلِ حدیث کے ممتاز رُکن تھے۔ حضرت مولانا عبداللہ غزنویؒ سے خاص
اِعتقاد رکھتے تھے، لیکن کچھ عرصہ بعد مرزائی جال میں پھنس کر ۔۔۔نعوذباللہ... مرتد ہوگیا۔ مرتد ہونے کے بعد مرزا
قادیانی کا نہایت غالی معتقد ثابت ہوا، شب و روز مرزائیت کی تبلیغ اور نشر و اِشاعت اس کا محبوب مشغلہ تھا، مرزا
قادیانی نے ازالہ اوہام میں اس کے بارے میں لکھا:
’’حافظ محمد یوسف صاحب جو ایک مردِ صالح، بے ریا، متقی اور متبع سنت اور اوّل درجے کے رفیق اور مخلص مولوی عبداللہ
صاحب غزنوی ہیں۔‘‘
(ازالہ اوہام، رُوحانی خزائن ج:۳ ص:۴۷۹)
۲؍شوال ۱۳۱۰ھ (مطابق ۱۹؍اپریل ۱۸۹۳ء) کی شب کو حافظ محمد یوسف
13
مرزائی نے مرزا قادیانی کی حقانیت پر مولانا عبدالحق غزنویؒ سے مباہلہ کیا، مباہلہ کا موضوع یہ تھا کہ مرزا
قادیانی اور اس کے ماننے والے مرتد اور دجال و کذّاب ہیں یا مسلمان ہیں۔ مولانا غزنویؒ کا موقف یہ تھا کہ مرزا اور
مرزا کے چیلے حکیم نورالدین اور محمد احسن امروہی مسلمان نہیں، بلکہ مرتد اور دجال و کذّاب ہیں، اور حافظ صاحب کا
مباہلہ اس پر تھا کہ وہ مسلمان ہیں۔
اس مباہلہ کو ہوئے ابھی ایک ہفتہ نہیں گزرا تھا کہ مرزا قادیانی نے اپنے مرید حافظ محمد یوسف مرزائی کی تائید میں
۲۵؍اپریل ۱۸۹۳ء (مطابق ۸؍شوال ۱۳۱۰ھ) کو ایک اشتہار شائع کیا جس کا عنوان تھا:
’’اشتہار مباہلہ‘‘
’’میاں عبدالحق غزنوی و حافظ محمد یوسف صاحب‘‘
اس اشتہار میں (جو مرزا قادیانی کے مجموعہ اشتہارات کی جلد اوّل میں صفحہ:۳۹۵ سے صفحہ:۳۹۹ تک درج ہے) مرزا قادیانی
نے اس مباہلہ کی تفصیل درج ذیل الفاظ میں قلم بند کی ہے:
’’مجھ کو اس بات کے سننے سے بہت خوشی ہوئی ہے کہ ہمارے ایک معزز دوست حافظ محمد یوسف صاحب نے ایمانی جوانمردی اور
شجاعت کے ساتھ ہم سے پہلے اس ثواب کو حاصل کیا۔ تفصیل اس اِجمال کی یہ ہے کہ حافظ صاحب اتفاقاً ایک مجلس میں بیان کر
رہے تھے کہ مرزا صاحب یعنی اس عاجز سے کوئی آمادۂ مناظرہ یا مباہلہ نہیں ہوتا، اور اسی سلسلۂ گفتگو میں حافظ صاحب
نے یہ بھی فرمایا کہ عبدالحق نے جو مباہلہ کے لئے اشتہار دیا تھا اب اگر وہ اپنے تئیں سچا جانتا ہے تو میرے مقابلے
پر آوے، میں اس سے مباہلہ کے لئے تیار ہوں، تب عبدالحق جو اسی جگہ کہیں موجود تھا، حافظ صاحب کے غیرت دِلانے والے
لفظوں سے طوعاً و کرہاً مستعد مباہلہ
14
ہوگیا۔ حافظ صاحب کا ہاتھ آکر پکڑلیا کہ میں تم سے اسی وقت مباہلہ کرتا ہوں،مگر مباہلہ فقط اس بارے میں
کروں گا کہ میرا یقین ہے کہ مرزا غلام احمد و مولوی حکیم نورالدین اور مولوی محمد احسن یہ تینوں مرتدین اور کذّابین
اور دجالین ہیں۔ حافظ صاحب نے فی الفور بلاتأمل منظور کرلیا کہ میں اس بارے میں مباہلہ کروں گا، کیونکہ میرا یقین
ہے کہ یہ تینوں مسلمان ہیں۔ تب اسی بات پر حافظ صاحب نے عبدالحق سے مباہلہ کیا، اور گواہانِ مباہلہ منشی محمد یعقوب
اور میاں نبی بخش صاحب اور میاں عبدالہادی صاحب اور میاں عبدالرحمن صاحب عمرپوری قرار پائے۔‘‘
(مجموعہ اشتہارات ج:۱ ص:۳۹۶)
چونکہ مرزا قادیانی نے اس اشتہار میں مباہلہ کی تفصیل درج کرنے پر اِکتفا نہیں کیا تھا بلکہ بہت سی غلط بیانیوں سے
بھی کام لیا تھا اس لئے اس کے جواب میں مولانا عبدالحق غزنویؒ نے ۲۶؍شوال ۱۳۱۰ھ کو ایک اشتہار شائع کیا (مولانا
غزنویؒ کا یہ اشتہار مرزا قادیانی کے مجموعہ اشتہارات جلد اوّل کے حاشیہ میں صفحہ:۴۲۰ سے ۴۲۵ تک درج ہے)۔
اس اشتہار میں مولانا غزنویؒ، مرزا غلام احمد قادیانی کی غلط بیانیوں اور لاف و گزاف کا پردہ چاک کرنے کے بعد لکھتے
ہیں:
’’حافظ کے مباہلہ کی تفصیل یہ ہے کہ حافظ محمد یوسف، جو مرزا کا اوّل درجے کا ناصر و موید و مددگار ہے، اس نے
۲؍شوال بوقتِ شب مجھ سے بار بار درخواستِ مباہلہ کی، آخر الامر اس بات پر مباہلہ ہوا کہ مرزا (غلام احمد قادیانی)
اور نورالدین و محمد احسن امروہی، یہ تینوں مرتد اور دجال اور کذّاب ہیں۔
چونکہ ہنوز لعنت کا اثر ظاہراً اس پر (یعنی حافظ محمد یوسف پر۔۔۔ناقل) نمودار نہیں ہوا، لہٰذا پیرجی (یعنی مرزا
قادیانی ۔۔۔ناقل) کو بھی گرمی آگئی اور عام طور پر اِشتہارِ مباہلہ دے دیا، ذرا صبر تو کرو،
15
دیکھو! اللہ کیا کرتا ہے،وکل شیء عندہ بأجل مسمّٰی، انہ حکیم حمید۔
مجھ کو دو روز پیشتر محمد یوسف کے مباہلہ سے، دِکھایا گیا کہ میں نے ایک شخص سے مباہلہ کی درخواست کی اور یہ شعر
سنایا:
-
بہ صورت بلبل و قمری اگر نہ گیری پند
علاج کے کنمت، آخر الدوا الکیّ
(ترجمہ از ناقل: اگر تم بلبل اور قمری کی صورت میں نصیحت نہیں پکڑوگے، تو میں داغ دے کر تمہارا علاج
کروں گا، کیونکہ مثل مشہور ہے کہ ’’آخری علاج داغ دینا ہے‘‘۔)
اور بھی کچھ دیکھا جس کا بیان اس وقت مناسب نہیں۔ میں خود حیران ہوا کہ یہ کیا بات ہے؟ دو دن بعد یہ مباہلہ درپیش
ہوا۔‘‘
(حاشیہ مجموعہ اشتہارات مرزا قادیانی ج:۱ ص:۴۲۴)
قارئینِ کرام نے مرزا غلام احمد قادیانی اور مولانا عبدالحق غزنوی دونوں کے مندرجہ بالا بیانات سے چند نکات نوٹ
کرلئے ہوں گے:
۱:... مباہلہ مرزا کے مرید حافظ محمد یوسف اور مولانا عبدالحق غزنوی کے درمیان ہوا۔
۲:... مباہلہ کا موضوع یہ تھا کہ مرزا قادیانی اور اس کے دونوں چیلے یعنی حکیم نورالدین اور محمد احسن امروہی مرتد
اور دجال و کذّاب ہیں یا نہیں؟
۳:... یہ مباہلہ ۲؍شوال ۱۳۱۰ھ مطابق ۱۹؍اپریل ۱۸۹۳ء کی شب کو ہوا۔
۴:... مرزا غلام احمد قادیانی نے اپنے مرید کے مباہلہ کی نہ صرف بھرپور تصدیق کی بلکہ اس پر مسرّت و شادمانی کے
شادیانے بجائے، گویا اس مباہلہ کا جو نتیجہ بھی برآمد ہو، مرزا قادیانی نے اس کی ذمہ داری کو قبول کرنے کا اعلان
کرنے کے لئے اشتہار دے دیا۔
اب قارئینِ کرام بے چین ہوں گے کہ یہ تو ہوا مباہلہ! لیکن آخر ’’مباہلہ کا انجام‘‘ کیا ہوا؟ اللہ تعالیٰ نے اس
مباہلہ میں کس کو فتح دی؟ مباہلہ کا فیصلہ کس کے حق میں ہوا؟ اور
16
مباہلہ میں کون سچا نکلا اور کون جھوٹا ثابت ہوا؟
آہ کہ اس مباہلہ کے انجام کی خبر قادیانی اُمت کے لئے نہایت ہولناک اور ہوش رُبا ثابت ہوگی، جس کے سنتے ہی قادیانی
قصرِ خلافت میں زلزلہ آجائے گا۔
مباہلہ کا انجام
سنئے! اس مباہلہ کا انجام یہ نکلا کہ مباہلہ کے کچھ عرصہ بعد مولانا عبدالحق غزنویؒ کا حریف چاروں شانے چت ہوا:
۱:... حافظ محمد یوسف نے مرزائی اِرتداد سے توبہ کرکے مولانا عبدالحق کے ہاتھ پر اِسلام قبول کرلیا۔
۲:... اسلام لانے کے بعد حافظ صاحب مرزائیت کے بخیے اُدھیڑنے لگے، اور یہ اعلان کرنے لگے کہ مرزا قادیانی اور اس کے
تمام چیلے مرتد اور دجال و کذّاب ہیں۔
۳:... مولانا غزنویؒ نے حافظ صاحب کا ’’مباہلہ‘‘ کے ذریعے جو ’’آخری علاج‘‘ کیا تھا، وہ بحمداللہ کارگر ثابت ہوا
اور مولانا مرحوم کی اِلہامی بشارت سچی ثابت ہوئی۔
قارئینِ کرام کو شاید یہ خیال گزرے کہ میں بغیر کسی ثبوت کے یہ دعویٰ کر رہا ہوں کہ مباہلہ کے بعد حافظ محمد یوسف
صاحب مرزائیت سے تائب ہوکر مسلمان ہوگئے تھے، لیجئے! میں اس کا ثبوت بھی مرزا قادیانی کی تحریر ہی سے پیش کئے دیتا
ہوں:
مرزا کا اِشتہار بنام حافظ محمد یوسف
مرزا قادیانی کا رسالہ اربعین کھولئے، اس کے نمبر۳ کے اشتہار کی پیشانی پر آپ کو جلی قلم سے یہ عبارت نظر آئے گی:
’’اشتہار انعام پانسو روپیہ بنام حافظ محمد یوسف صاحب ضلع دار نہر۔ اور ایسا ہی اس اشتہار میں یہ تمام لوگ بھی
مخاطب ہیں جن کا نام ذیل میں درج ہے۔‘‘
(اربعین نمبر۳ مندرجہ رُوحانی خزائن ج:۱۷ ص:۳۸۶)
اس اشتہار میں مرزا قادیانی نے حافظ محمد یوسف صاحب کے بارے میں جن
17
اس اشتہار میں مرزا قادیانی نے حافظ محمد یوسف صاحب کے بارے میں جن خیالات کا اظہار کیا ہے، ایک نظر ان پر
بھی ڈال لیجئے، اشتہار کے آغاز میں مرزا قادیانی لکھتا ہے:
’’واضح ہو کہ حافظ محمد یوسف صاحب ضلع دار نہر نے اپنے نافہم اور غلط کار مولویوں کی تعلیم سے ایک مجلس میں ۔۔...
یہ بیان کیا۔‘‘
(رُوحانی خزائن ج:۱۷ ص:۳۸۷)
آگے چل کر لکھتا ہے:
’’یاد رہے کہ یہ صاحب مولوی عبداللہ غزنوی کے گروہ میں ہیں اور بڑے موحد مشہور ہیں۔‘‘
(ایضاً ص:۳۹۰)
مزید لکھتا ہے:
’’اور حافظ صاحب ۔۔۔... نے اپنے چند قدیم رفیقوں کی رفاقت کی وجہ سے میرے من جانب اللہ ہونے کے دعوے کا انکار مناسب
سمجھا۔‘‘
(ص:۳۹۱)
مزید لکھا ہے:
’’کچھ عقل و فکر میں نہیں آتا کہ حافظ صاحب کو کیا ہوگیا؟ ۔۔۔... انسان کو اس سے کیا فائدہ کہ اپنی جسمانی زندگی
کے لئے اپنی رُوحانی زندگی پر چھری پھیر دے، میں نے بہت دفعہ حافظ صاحب سے یہ بات سنی تھی کہ وہ میرے مصدقین میں سے
ہیں، اور مکذّب کے ساتھ مباہلہ کرنے کو تیار ہیں، اور اسی میں بہت سا حصہ ان کی عمر کا گزرگیا، اور اس کی تائید میں
وہ اپنی خوابیں بھی سناتے رہے، اور بعض مخالفوں سے انہوں نے مباہلہ بھی کیا۔‘‘
(ایضاً ص:۴۰۸)
مرزا قادیانی کے یہ اقتباسات اپنے مضمون میں بالکل واضح ہیں جن کا خلاصہ یہ ہے:
۱:... حافظ محمد یوسف صاحب ایک طویل عرصے تک مرزا کے پُرجوش مرید رہے۔
۲:... حافظ صاحب نے مرزا کے بعض مخالفوں (مولانا عبدالحق غزنویؒ) سے
18
مرزا کے صدق و کذب پر مباہلہ بھی کیا۔
۳:... اور مباہلہ کے بعد مرزا سے تائب ہوکر مسلمان ہوگئے، اور اس کو مفتری اور دجال و کذّاب کہنے لگے، یہاں تک کہ
مرزا کو ان کے خلاف اربعین نمبر۳ کا اِنعامی اشتہار شائع کرنا پڑا (یہ اشتہار مرزا کی کتاب تحفۂ گولڑویہ کے شروع
میں بھی بطورِ ضمیمہ درج ہے)۔
قارئینِ کرام! مرزائیوں سے دریافت کریں کہ اس مباہلہ کے بعد، جو مولانا عبدالحق غزنویؒ اور حافظ محمد یوسف ضلع دار
کے درمیان ہوا تھا، اگر خدانخواستہ مولانا عبدالحق، مرزا قادیانی پر اِیمان لے آتے تو کیا مرزائی صاحبان اس کو
مباہلہ کا نتیجہ قرار نہ دیتے؟ اور کیا اس کو مرزا قادیانی کی حقانیت کے طور پر پیش نہ کرتے؟ یقینا ایسا کرتے؟
اب جبکہ مباہلہ کا نتیجہ اُلٹ ہوا کہ مولانا عبدالحق غزنویؒ نے اپنے حریف مباہلہ کو فتح کرلیا اور مولانا غزنویؒ کی
طرح حافظ محمد یوسف صاحب بھی مرزا کو دجال وکذّاب اور مفتری و مرتد سمجھنے اور کہنے لگے تو بتاؤ یہ مباہلہ کا نتیجہ
ہے یا نہیں؟ اور اس مباہلہ کے نتیجے میں مرزا کا مرتد اور دجال و کذّاب ہونا ثابت ہوا یا نہیں؟
’’بندہ پروَر! منصفی کرنا خدا کو دیکھ کر‘‘
دُوسرا مباہلہ
مرزا غلام احمد قادیانی اور لیکھ رام
مرزا غلام احمد قادیانی نے ایک آریہ لالہ مرلی دھر سے مباحثہ کیا، جس کی تفصیل اس کی کتاب ’’سرمہ چشم آریہ‘‘ میں
درج ہے، مرزا اپنے حریف کو مباحثے میں شکست دینے سے حسبِ عادت عاجز رہا، تو اس کتاب کے آخر میں آریوں کو دعوتِ
مباہلہ دے ڈالی، مرزا کی دعوتِ مباہلہ کا متن ملاحظہ فرمایا جائے:
’’اگر کوئی آریہ ہمارے اس تمام رسالے کو پڑھ کر پھر بھی اپنی ضد چھوڑنا نہ چاہے اور اپنے کفریات سے باز نہ آئے تو
ہم خدائے تعالیٰ کی طرف سے اشارہ پاکر اس کو مباہلہ کی طرف بلاتے ہیں۔‘‘
(رسالہ سرمہ چشم آریہ مندرجہ رُوحانی خزائن ج:۲ ص:۲۳۲)
19
’’آخر الحیل مباہلہ ہے جس کی طرف ہم پہلے اشارت کر آئے ہیں، مباہلہ کے لئے ویدخواں ہونا ضروری نہیں، ہاں
باتمیز اور ایک باعزت اور نامور آریہ ضرور چاہئے جس کا اثر دُوسروں پر بھی پڑسکے، سو سب سے پہلے لالہ مرلیدہر صاحب
اور پھر لالہ جیونداس صاحب سیکریٹری آریہ سماج لاہور اور پھر منشی اندرمن صاحب مرادآبادی اور پھر کوئی اور دُوسرے
صاحب آریوں میں سے جو معزز اور ذی علم تسلیم کئے گئے ہوں مخاطب کئے جاتے ہیں کہ اگر وہ وید کی ان تعلیموں کو جن کو
کسی قدر ہم اس رسالے میں تحریر کرچکے ہیں۔ فی الحقیقت صحیح اور سچے سمجھتے ہیں اور ان کے مقابل جو قرآن شریف کے
اُصول و تعلیمیں اسی رسالے میں بیان کی گئی ہیں ان کو باطل اور دروغ خیال کرتے ہیں تو اس بارے میں ہم سے مباہلہ
کرلیں اور کوئی مقام مباہلہ کا برضامندی فریقین قرار پاکر ہم دونوں فریق تاریخِ مقرّرہ پر اس جگہ حاضر ہوجائیں اور
ہر ایک فریق مجمع عام میں اُٹھ کر اس مضمونِ مباہلہ کی نسبت جو اس رسالے کے خاتمے میں بطور نمونہ اقرار فریقین قلم
جلی سے لکھا گیا ہے تین مرتبہ قسم کھاکر تصدیق کریں کہ ہم فی الحقیقت اس کو سچ سمجھتے ہیں اور اگر ہمارا بیان راستی
پر نہیں ہم پر اسی دُنیا میں وبال اور عذاب نازل ہو۔ غرض جو عبارتیں ہر دو کاغذ مباہلہ میں مندرج ہیں، جو جانبین کے
اعتقاد میں بحالتِ دروغ گوئی عذاب مترتب ہونے کے شرط پر ان کی تصدیق کرنی چاہئے اور پھر فیصلہ آسمانی کے انتظار کے
لئے ایک برس کی مہلت ہوگی، پھر اگر برس گزرنے کے بعد مؤلف رسالہ ھٰذا پر کوئی عذاب اور وبال نازل ہوا یا حریفِ
مقابل پر نازل نہ ہوا تو ان دونوں صورتوں میں یہ عاجز قابلِ تاوان پانسو روپیہ
20
ٹھہرے گا۔ جس کو برضامندی فریقین خزانہ سرکاری میں یا جس جگہ بآسانی وہ روپیہ مخالف کو مل سکے داخل کردیا
جائے گا، اور درحالت غلبہ خودبخود اس روپیہ کے وصول کرنے کا فریقِ مخالف مستحق ہوگا، اور اگر ہم غالب آئے تو کچھ
بھی شرط نہیں کرتے، کیونکہ شرط کے عوض میں وہی دُعا کے آثار کا ظاہر ہونا کافی ہے، اب ہم ذیل میں مضمون ہر دو کاغذ
مباہلہ کو لکھ کر رسالہ ھٰذا کو ختم کرتے ہیں، وباللہ التوفیق۔‘‘
(ایضاً ص:۲۵۰، ۲۵۱)
قارئینِ کرام! مرزا کی اس طویل عبارت کو بغور پڑھیں اور درج ذیل تین نکات کو نوٹ کرلیں:
اوّل:... مرزا کی طرف سے تمام آریوں کو دعوتِ مباہلہ۔
دوم:... اس مباہلہ کا اثر ظاہر ہونے کے لئے ایک سال کی میعاد۔
سوم:... ایک سال کے عرصے میں اگر فریقِ مخالف پر مباہلہ کا اثر ظاہر نہ ہو، یا اس عرصے میں مرزا پر مباہلہ کا وبال
نازل ہوجائے دونوں صورتوں میں مرزا جھوٹا ثابت ہوگا۔
اس کے بعد مرزا نے اپنی طرف سے مباہلہ کا ایک لمبا چوڑا مضمون لکھا ہے۔ اس کے اَخیر پر بھی یہ فقرہ ہے:
’’سو اے خدائے قادرِ مطلق تو ہم دونوں فریقوں میں سچا فیصلہ کر اور ہم دونوں میں سے جو شخص اپنے بیانات میں اور
اپنے عقائد میں جھوٹا ہے ۔۔۔۔... اس پر تواے قادرِ کبیر! ایک سال تک کوئی اپنا عذاب نازل کر۔‘‘
(ایضاً ص:۲۵۴، ۲۵۵، ملخصاً)
اس کے بعد مرزا نے آریہ کی طرف سے دُعائے مباہلہ لکھی ہے اور اس کے اَخیر میں بھی یہ فقرہ ہے:
’’جو شخص تیری نظر میں کاذب اور دروغ گو ہے ۔۔۔... اس کو اے ایشر! ایسے دُکھ کی مار پہنچا ۔۔۔... کہ ایک سال کے
عرصے
21
تک لعنت کا اثر اس کو پہنچ جائے۔‘‘
(ایضاً ص:۲۵۸ ملخصاً)
قارئینِ کرام دیکھ رہے ہیں کہ ان دو اِقتباسوں پر مباہلہ کے اثر ظاہر ہونے کے لئے ایک سال کی معیاد مقرّر کی گئی
ہے۔
پنڈت لیکھ رام، مرزا کی دعوتِ مباہلہ کو قبول کرتا ہے
مرزا کی کتاب ’’سرمہ چشم آریہ‘‘ (جس کے اِقتباس اُوپر نقل کئے گئے ہیں) کے جواب میں پنڈت لیکھ رام نے ’’نسخہ خبط
احمدیہ‘‘ کے نام سے ایک کتاب لکھی (رئیسِ قادیانی ج:۱ ص:۱۲۱) جس میں مرزا کی دعوتِ مباہلہ کو قبول کرتے ہوئے پنڈت
لیکھ رام نے درج ذیل الفاظ میں مباہلہ شائع کیا:
’’اے پرمیشور! ہم دونوں میں سچا فیصلہ کر، اور جو تیرا ست دھرم ہے اس کو نہ تلوار سے بلکہ پیار سے معقولیت اور
دلائل کے اظہار سے جاری کر، اور مخالف کے دِل کو اپنے ست گیان سے پرکاش کر، تاکہ جہالت و تعصب، اور جور و ستم کاناش
ہو، کیونکہ کاذب صادق کی طرح کبھی تیرے حضور میں عزت نہیں پاسکتا۔ راقم: آپ کا ازلی بندہ، لیکھ رام شرما سبھاسد،
آریہ سماج پشاور۔‘‘
(نسخہ خبط احمدیہ ص:۳۴۷ بحوالہ ’’لیکھ رام اور مرزا‘‘ ص:۴، مصنف مولانا ثناء اللہ امرتسریؒ)
مرزا قادیانی نے مباہلہ میں ہار جانے کی صورت میں پانسو روپیہ ہرجانہ دینے کا وعدہ کیا تھا (جیسا کہ اُوپر کے
اِقتباس میں آپ پڑھ چکے ہیں)۔ اس پنج صدی اِنعام کے جواب میں پنڈت لیکھ رام نے لکھا:
’’مرزا جی نے اپنی قدیم عادت کے بموجب پانسو روپیہ دینے کا وعدہ کیا ہے، مگر ہم ان کے وعدے کو اس شعر کا مصداق
سمجھتے ہیں:
-
گر جاں طلبی مضائقہ نیست
گر زَر طلبی سخن دریں است
22
ہمیں ان کی جائیدادِ منقولہ و غیرمنقولہ کا حال بخوبی معلوم ہے، اور قرض داری کا حال بھی ہم سے مخفی نہیں، پس ہم
لینے دینے کے سر پر خاک ڈال کر وہ پانسو روپیہ مرزا صاحب کو ان کی نئی شادی(۱) کے لئے، جس کے
متعلق ان کو ابھی ایک تازہ اِلہام ہوا ہے، بطورِ تنبول کے نذر کرتے ہیں۔‘‘
(نسخہ خبط احمدیہ، بحوالہ رئیسِ قادیان ج:۱ ص:۱۲۱)
پنڈت لیکھ رام کے ان دو اِقتباسات میں سے دو باتیں واضح ہوئیں:
اوّل:... پنڈت جی نے مرزا کا مباہلہ کا چیلنج قبول کرلیا۔
دوم:... مرزا نے اپنے ہارنے کی صورت میں پانسو روپیہ ہرجانہ دینے کی جو پیشکش کی تھی، پنڈت جی نے اسے محض ’’مرزا کا
زبانی جمع خرچ‘‘ تصوّر کرتے ہوئے اس سے دست برداری کا اعلان کردیا، اور بطورِ طنز اس زمانے کے لحاظ سے یہ خطیر رقم
مرزا کی ’’نئی اِلہامی شادی‘‘ کے لئے بطورِ نذرانہ معاف کردی۔
مرزا قادیانی کی تصدیق کہ لیکھ رام نے مباہلہ منظور کرلیا
مندرجہ بالا بیانات اگرچہ بالکل واضح ہیں، لیکن قارئین کے مزید اِطمینان کے لئے مناسب ہوگا کہ خود مرزا قادیانی کی
تصدیق بھی ثبت کرادی جائے کہ اس نے ’’سرمہ چشم آریہ‘‘ میں آریوں کو جو دعوتِ مباہلہ دی تھی، پنڈت لیکھ رام نے اس
کو منظور کرلیا تھا، سنئے! مرزا قادیانی لکھتا ہے:
’’واضح ہو کہ میں نے ’’سرمہ چشم آریہ‘‘ کے خاتمے میں بعض آریہ صاحبوں کو مباہلہ کے لئے بلایا تھا ۔۔... میری اس
تحریر پر
(۱) ’’نئی شادی‘‘ سے پنڈت جی کا اشارہ محمدی بیگم کی طرف ہے، جس کے اِلہامات مرزا کو ان دنوں بکثرت ہو رہے
تھے، بلکہ یہ بھی ’’تازہ اِلہام‘‘ ہوا تھا کہ: ’’زوجنٰـکھا‘‘ یعنی ’’اے مرزا! ہم نے اس سے
تیرا نکاح آسمان پر کردیا ہے‘‘ لیکن افسوس کہ یہ تمام اِلہامات فضائے آسمانی میں تحلیل ہوکر رہ گئے اور مرزاجی،
مصرعہ ’’اے بسا آرزو کہ خاک شدہ‘‘ گنگناتے ہوئے دُنیا سے بے نیل و مرام رُخصت ہوئے۔
23
پنڈت لیکھ رام نے اپنی کتاب ’’خبط احمدیہ‘‘ میں جو ۱۸۸۸ء میں اس نے شائع کی تھی ۔۔... میرے ساتھ مباہلہ کیا۔
چنانچہ وہ اپنی کتاب ’’خبط احمدیہ‘‘ کے صفحہ:۳۴۴ میں بطورِ تمہید یہ عبارت لکھتا ہے:
چونکہ ہمارے مکرم و معظم ماسٹر مرلی دھر صاحب و منشی جیون داس صاحب بہ سبب کثرت کام سرکاری کے عدیم الفرصت ہیں،
بنابراں اپنے اوتشاہ اور ان کے ارشاد سے اس خدمت کو بھی نیازمند نے اپنے ذمہ لیا، پس کسی دانا کے اس مقولے پر کہ
’’دروغ گو را تابدروازہ باید رسانید‘‘ عمل کرکے مرزا صاحب کی اس آخری التماس کو بھی (یعنی مباہلہ کو) منظور کرتا
ہوں۔‘‘
مضمونِ مباہلہ
’’میں نیاز التیام لیکھ رام ولد پنڈت تاراسنگھ صاحب شرما مصنف ’’تکذیب براہین احمدیہ‘‘ ورسالہ ھٰذا (یعنی نسخہ خبط
احمدیہ) اقرارِ صحیح بدرستی ہوش و حواس کرکے کہتا ہوں کہ میں نے اوّل سے آخر تک رسالہ ’’سرمہ چشم آریہ‘‘ کو پڑھ
لیا، اور ایک بار نہیں، بلکہ کئی بار اس کے دلائل کو بخوبی سمجھ لیا، بلکہ ان کے بطلان کو بروئے ست دھرم رسالہ ھٰذا
میں شائع کیا، میرے دِل میں مرزاجی کی دلیلوں نے کچھ بھی اثر نہیں کیا، اور نہ وہ راستی کے متعلق ہیں۔‘‘ (آگے طویل
مضمون کے بعد اَخیر میں لکھا ہے)
’’اے پرمیشر! ہم دونوں فریقوں میں سچا فیصلہ کر، کیونکہ کاذب، صادق کی طرح کبھی تیرے حضور میں عزت نہیں پاسکتا۔‘‘
’’راقم آپ کا ازلی بندہ لیکھ رام شرما سبھاسد آریہ سماج پشاور، حال اڈیٹر گزٹ فیروزپور پنجاب۔‘‘
(رُوحانی خزائن ج:۲۲ ص:۳۲۶ تا ۳۳۲ ملخصاً)
24
مباہلہ کا انجام
مرزا اور لیکھ رام کے مباہلہ کی پوری کہانی قارئین کے سامنے آچکی ہے، قارئین بڑی بے چینی سے یہ جاننے کے منتظر ہوں
گے کہ مباہلہ کی یہ جنگ کس نے جیتی؟ کس کی فتح ہوئی؟ کس کو ذِلت آمیز شکست کا منہ دیکھنا پڑا؟
قارئین! نتیجے کا اعلان سننے سے پہلے مباہلہ کی شرائط ایک بار پھر پڑھ لیجئے:
۱:... اگر مرزا کے حریف پر ایک سال میں عذاب نازل ہو تو مرزا کی فتح اور اس کے حریف کی شکست تصوّر کی جائے گی۔
۲:... مرزا کی شکست کی دو صورتیں ہوں گی، اور دونوں صورتوں میں مرزا اپنے حریف کو پانسو روپیہ جرمانہ دے گا۔
الف:... مرزا پر وبال نازل ہو تب بھی مرزا کی شکست اور اس کے حریف کی فتح۔
ب:... اور اگر ایک سال کے اندر حریف پر وبال نازل نہ ہو تب بھی مرزا کی شکست اور حریف کی فتح۔
۳:... مباہلہ کی میعاد صرف ایک سال ہے جو تماشا ہوگا وہ اسی ایک سال میں ہوگا، اس کے بعد نہیں۔
قارئین! پنڈت لیکھ رام نے ۱۸۸۸ء میں مرزا کی دعوتِ مباہلہ منظور کی تھی۔ آپ سوچ کر بتائیں کہ اس پر کب تک عذاب
نازل ہونا چاہئے تھا؟ آپ کا ایک ہی جواب ہوگا:
۱۸۸۹ء کے آخر تک
لیکن افسوس! کہ ۱۸۸۹ء کے آخر تک لیکھ رام پر کوئی عذاب نازل نہیں ہوا، وہ مارچ ۱۸۹۷ء تک زندہ سلامت رہا۔
قارئینِ کرام خود فیصلہ فرمائیں کہ مباہلہ میں کس کی جیت ہوئی؟ اور مرزائیوں سے بھی دریافت کریں۔ فیصلۂ خداوندی کے
مطابق مرزا غلام احمد قادیانی پنڈت لیکھ رام سے بھی بدتر ثابت ہوا کہ مرزا کے مقابلے میں اللہ تعالیٰ نے اس کو فتح
دی۔
25
قادیانی جماعت کے امام مرزا طاہر احمد
کے چیلنج کا جواب
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ
اَلْحَمْدُ للہِ وَسَلَامٌ عَلٰی عِبَادِہِ الَّذِیْنَ اصْطَفٰی!
جرمنی کے قادیانیوں نے مسلمانوں کے نام مرزا طاہر احمد کا ایک چیلنج شائع کیا ہے، جس کا عنوان ہے:
’’حضرت مرزا طاہر احمد صاحب امام جماعت احمدیہ کا‘‘
’’مخالفین کو چیلنج‘‘
یہ ایک صفحے کی تحریر ہے، جس میں مرزا طاہر احمد صاحب نے اپنی عادت کے مطابق ’’لعنۃ اللہ علی
الکاذبین‘‘ کی خوب گردان کی ہے۔ ہمارے احباب نے ہمیں یہ پرچہ بھجوایا، اور ساتھ ہی ذکر کیا کہ اس چیلنج کے
بل بوتے پر قادیانیوں نے یہاں اودھم مچا رکھا ہے، مناسب ہے کہ اس کا جواب لکھا جائے۔
ہم نے اسے پڑھا تو معلوم ہوا کہ یہ پوری تحریر جھوٹ کا پلندہ ہے، اور اس کا ایک ایک فقرہ غلط ہے۔ ایسا لگتا ہے کہ
مرزا طاہر احمد صاحب نے اس چیلنج کو اپنے مخالفین کے سامنے پیش کرنے سے پہلے شاید موکد بہ عذاب حلف اٹھایا تھا کہ:
’’یا اللہ! آپ گواہ رہئے کہ میں اس چیلنج میں ایک حرف بھی سچ نہیں لکھوں گا۔‘‘
اور پھر اپنے حلف کو خوب خوب نبھایا۔ ہمیں مرزا طاہر صاحب کے روئیے سے نہ تعجب ہے، نہ شکایت، اس لئے کہ ایک ’’جھوٹے
نبی‘‘ کے جھوٹے نائب کو جیسا ہونا
26
چاہئے، مرزا طاہر صاحب اس کا کامل و مکمل مرقع ہے، مرزا غلام احمد کی ایک ایک بات جھوٹ تھی، حتیٰ کہ وہ کلمہ
طیبہ ’’لا اِلٰہ الا اللہ محمد رسول اللہ‘‘ میں بھی جھوٹ بولتا تھا (قارئین کرام کی خدمت میں اِن شاء اللہ اس کا
دلچسپ ثبوت پیش کروں گا) اس لئے مرزا طاہر کی ایک صفحے کی تحریر کا اگر ایک ایک فقرہ غلط اور جھوٹ ہو تو ذرا بھی
تعجب نہیں کہ یہ اس کے باپ دادا کی میراث ہے۔ البتہ قادیانی صاحبان پر قدرے تعجب ضرور ہے کہ انہوں نے دین تو مرزا
طاہر صاحب کے قدموں میں نچھاور کیا ہی تھا، عقل کو بھی مرزا طاہر صاحب کی خاطر خیرباد کہہ دیا؟ شاید ان صاحبان نے
شیخ سعدیؒ کی حکایت پر عمل کیا ہوگا:
-
اگر شہ روز را گوید کہ شب است ایں
بہ باید گفت اینک ماہ و پروین
بہرحال مرزا طاہر کی تحریر کا ایک ایک فقرہ حرف بہ حرف نقل کرکے اس کا جواب لکھتا ہوں، اور دنیا بھر کے اہل عقل کو
منصف بناتا ہوں کہ مرزا طاہر کے الزام اور میرے جواب کو واقعات کی روشنی میں پڑھیں، تاکہ ان کے سامنے جھوٹے کا جھوٹ
عالم آشکارا ہوجائے۔ یقین ہے کہ مرزا طاہر کے جھوٹے چیلنج کی حقیقت معلوم ہوجانے کے بعد اہل انصاف بے اختیار بول
اٹھیں گے: ’’لعنۃ اللہ علی الکاذبین۔‘‘
نوٹ: مرزا طاہر کی عبارت اقتباس کی شکل میں دے کر ’’جواب‘‘ کے لفظ سے اس پر تبصرہ کیا گیا ہے۔
محمد یوسف لدھیانوی
۲۲؍۲؍۱۴۱۶ھ
27
مرزا طاہر اپنے چیلنج میں لکھتا ہے:
۱:۔۔۔’’ہم بڑے فخر سے کہتے ہیں کہ حضرت مسیح موعود (مرزا قادیانی) رسول اللہ کی پیش گوئیوں کے مطابق امتی نبی
تھے۔‘‘
جواب:۔۔۔مرزا غلام احمد قادیانی کو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی پیش گوئیوں کا مصداق کہنا مرزا طاہر کا سب سے بڑا
جھوٹ ہے، کیونکہ مرزا قادیانی پر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی پیش گوئیوں کا ایک حرف بھی صادق نہیں آتا، بطور
مثال مرزا طاہر کے والد مرزا محمود کی کتاب’’حقیقۃ النبوۃ‘‘ ص:۱۹۲ سے آنحضرت صلی اللہ
علیہ وسلم کی پیش گوئی نقل کرتا ہوں، جس کا ترجمہ خود مرزا محمود کے قلم سے درج ذیل ہے:
’’انبیاء علاتی بھائیوں کی طرح ہوتے ہیں، ان کی مائیں تو مختلف ہوتی ہیں اور دین ایک ہوتا ہے، اور میں عیسیٰ بن
مریم سے سب سے زیادہ تعلق رکھنے والا ہوں، کیونکہ اس کے اور میرے درمیان کوئی نبی نہیں، اور وہ نازل ہونے والا ہے۔
پس جب اسے دیکھو تو پہچان لو، کہ وہ درمیانہ قامت، سرخی سفیدی ملا ہوا رنگ، زرد رنگ کے کپڑے پہنے ہوئے، اس کے سر سے
پانی ٹپک رہا ہوگا، گو سر پر پانی نہ ہی ڈالا ہو، اور وہ صلیب کو توڑے گا، اور خنزیر کو قتل کرے گا، اور جزیہ ترک
کردے گا، اور لوگوں کو اسلام کی طرف دعوت دے گا، اس کے زمانہ میں سب مذاہب ہلاک ہوجائیں گے اور صرف اسلام رہ جائے
گا، اور شیر اونٹوں کے ساتھ، اور چیتے گائے بیلوں کے ساتھ اور بھیڑئیے بکریوں کے ساتھ چرتے پھریں گے، اور بچّے
سانپوں سے کھیلیں گے، اور وہ ان کو نقصان نہ دیں گے، عیسیٰ بن مریم چالیس سال رہیں گے، اور پھر فوت ہوجائیں گے، اور
مسلمان ان کے جنازہ کی نماز پڑھیں گے۔‘‘
(حقیقۃ النبوۃ ص:۱۹۲)
28
اس پیش گوئی کو مرزا کے حالات سے ملائیے اور دیکھئے کہ کیا اس پیش گوئی کا ایک حرف بھی مرزا قادیانی پر صادق آتا
ہے؟ نہیں! ہرگز نہیں!!
ذرا درج ذیل سوالات پر غور کیجئے!
ا:۔۔۔کیا مرزا عیسیٰ بن مریم تھا؟ نہیں!
۲:۔۔۔کیا مرزا سرخ و سفید رنگت کا تھا؟ نہیں! (اگر مرزا طاہر کو یقین نہ آئے تو آئینہ میں اپنی شکل دیکھ لیں، اور
اندازہ کرلیں کہ ان کا دادا بھی ایسا ہی ہوگا)۔
۳:۔۔۔کیا مرزا زرد رنگ کے کپڑے پہنے ہوئے نازل ہوا تھا؟ نہیں!
۴:۔۔۔کیا اس کے سر سے پانی ٹپک رہا تھا؟ نہیں!
۵:۔۔۔کیا مرزا نے صلیب توڑدی؟ نہیں!
۶:۔۔۔کیا خنزیر کو قتل کردیا؟ نہیں!
۷:۔۔۔کیا مرزا کے زمانے میں اسلام کے سوا سارے مذاہب مٹ گئے، صرف اسلام باقی رہ گیا؟ نہیں!
۸:۔۔۔کیا مرزا کے زمانے میں کسی نے شیر کو اونٹوں کے ساتھ، چیتے کو گائے بیلوں کے ساتھ اور بھیڑیوں کو بکریوں کے
ساتھ چرتے دیکھا؟ نہیں!
۹:۔۔۔کیا کسی نے قادیانی بچّوں کو سانپوں کے ساتھ کھیلتے دیکھا؟ نہیں!
۱۰:۔۔۔کیا مرزا دعویٰ مسیحیت کے بعد چالیس سال زمین پر ٹھہرا؟ نہیں!
(بلکہ اس نے ۱۸۹۱ء میں مسیح ہونے کا دعویٰ کیا، اور ۲۶؍مئی ۱۹۰۸ء کو مرگیا، مدت قیام کل ۱۷سال، ۴مہینے، ۲۵دن۔)
۱۱:۔۔۔کیا مسلمانوں نے اس کی نماز جنازہ پڑھی؟ نہیں!
معلوم ہوا کہ مرزا، آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی پیش گوئیوں کا مصداق نہیں تھا، لہٰذا مرزا کا دعویٰ بھی جھوٹا،
اور مرزا طاہر کا اس پر فخر بھی جھوٹا۔ اب وہ اپنے حق میں اپنے دادا کے حق میں اور اس جھوٹے کو ماننے والوں کے حق
میں جتنی بار چاہیں:’’لعنۃ اللہ علی
29
الکاذبین‘‘ پڑھ لیں۔
۲:۔۔۔’’رسول اللہ کی پیش گوئیاں لازماً سچی ہیں۔‘‘
جواب:... آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی پیش گوئیاں بلاشبہ سچی ہیں، برحق ہیں، اور ہر مسلمان ان پر ایمان رکھتا ہے۔
لیکن مرزا طاہر کا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی پیش گوئیوں کو سچی کہنا اس کا جھوٹ ہے: ’’واللہ
یشھد ان المنافقین لکاذبون‘‘ اس لئے کہ اگر وہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی اس پیش گوئی کو، جو ابھی نمبر
ایک میں نقل کی گئی، سچی سمجھتا تو اپنے دادا مرزا غلام احمد کو ہرگز مسیح موعود نہ سمجھتا، بلکہ اس پر سو سو بار
لعنت بھیجتا۔
اب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی ایک اور پیش گوئی ملاحظہ فرمائیں:
’’آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام نازل ہونے کے بعد شادی کریں گے، اور ان کے
اولاد ہوگی،یتزوج ویولد لہ ۔‘‘
(مشکوٰۃ ص:۴۸۰)
مرزا غلام احمد لکھتا ہے کہ اس پیش گوئی میں شادی سے خاص شادی اور اولاد سے خاص اولاد مراد ہے جو بطور نشان کے
ہوگی، یعنی محمدی بیگم سے مرزا کی شادی ہوگی اور اس سے خاص اولاد پیدا ہوگی۔
(ملخصاً حاشیہ ضمیمہ انجام آتھم ص:۵۳، روحانی خزائن ج:۱۱ ص:۳۳۷)
دنیا جانتی ہے کہ مرزا کی محمدی بیگم سے یہ شادی نہیں ہوئی، اس سے خاص اولاد کے پیدا ہونے کا کیا سوال؟ نہ رہے بانس
نہ بجے بانسری!
اگر مرزا طاہر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی اس پیش گوئی کو سچی سمجھتا تو لازماً مرزا غلام احمد کو جھوٹا جانتا،
کیونکہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی پیش گوئی مرزا قادیانی کے حق میں پوری نہیں ہوئی۔
معلوم ہوا کہ مرزا طاہر کو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی پیش گوئیوں پر ایمان نہیں، اور اس کا یہ دعویٰ جھوٹا ہے
کہ ’’آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی پیش گوئیاں لازماً سچی ہیں۔‘‘ اب وہ جتنی بار چاہے اپنے لئے
’’لعنۃ اللہ علی الکاذبین‘‘ کا وظیفہ پڑھے، اور قادیانیوں
30
کو بھی چاہئے کہ مرزا طاہر کے حق میں یہ وظیفہ دن رات پڑھا کریں۔
۳:۔۔۔’’کوئی مسیح سچا آنہیں سکتا جب تک نبی اور رسول ہونے کا دعویٰ نہ کرے۔‘‘
جواب:۔۔۔حضرت عیسیٰ علیہ السلام جب نازل ہوں گے تو سب کو معلوم ہوگا کہ یہ وہی عیسیٰ بن مریم رسول اللہ ہیں جو بنی
اسرائیل کی طرف مبعوث ہوئے تھے، اس لئے نہ ان کو نبوّت و رسالت کا دعویٰ کرنے کی ضرورت ہوگی، نہ اپنی رسالت و نبوّت
منوانے کے لئے کاغذی پتنگ اڑانے کی حاجت ہوگی۔ چنانچہ کسی حدیث سے ثابت نہیں کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام نازل ہونے کے
بعد یہ دعویٰ کریں گے:
’’یٰٓـایھا الناس انی رسول اللہ الیکم جمیعا‘‘
معلوم ہوا کہ مرزا قادیانی کا رسالت و نبوّت کے دعوے کرنا خالص جھوٹ تھا، اور مرزا طاہر کا یہ کہنا کہ ’’سچا مسیح
نہیں آسکتا جب تک کہ وہ رسول اور نبی ہونے کا دعویٰ نہ کرے۔‘‘ یہ بھی نرا جھوٹ ہے۔ ’’لعنۃ اللہ
علی الکاذبین‘‘ کا وظیفہ پڑھا کرے۔
۴:۔۔۔مرزا طاہر کی مندرجہ بالا عبارت سے یہ بھی معلوم ہوا کہ اس کے دادا (مرزا غلام احمد قادیانی) نے نبی و رسول
ہونے کادعویٰ کیا۔
ادھر مرزا قادیانی کہتا ہے کہ مدعی نبوّت ملعون ہے، کاذب ہے، کافر ہے اور دائرۂ اسلام سے خارج ہے، چنانچہ اپنے
اشتہار ۲۰؍شعبان ۱۳۱۴ھ (مطابق ۲۵؍جنوری ۱۸۹۷ء) میں لکھتا ہے:
’’ان پر واضح رہے کہ ہم بھی مدعی نبوّت پر لعنت بھیجتے ہیں۔‘‘
(مجموعہ اشتہارات ج:۲ ص:۲۹۷)
۲؍اکتوبر ۱۸۹۱ء کے اشتہار میں لکھتا ہے:
31
’’سیّدنا و مولانا محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم ختم المرسلین کے بعد کسی دوسرے مدعی نبوّت و رسالت کو کاذب اور
کافر جانتا ہوں۔‘‘
(مجموعہ اشتہارات ج:۱ ص:۲۳۰)
اور اپنے رسالہ ’’آسمانی فیصلہ‘‘ میں لکھتا ہے:
’’میں نبوّت کا مدعی نہیں، بلکہ ایسے مدعی کو اسلام سے خارج سمجھتا ہوں۔‘‘
(آسمانی فیصلہ ص:۳)
گویا مرزا طاہر کے جھوٹے عقیدے کے مطابق اس کا دادا چونکہ مدعی نبوّت تھا اس لئے ملعون تھا، کاذب تھا، کافر تھا اور
دائرۂ اسلام سے خارج تھا۔ مرزا طاہر کو چاہئے کہ ایسے کاذب و کافر اور ملعون پر صبح و شام ایک ایک تسبیح’’لعنۃ اللہ علی الکاذبین‘‘کی پڑھا کرے۔
۵:۔۔۔’’جب مباہلہ کا چیلنج دیں تو اس وقت تو یہ ہزار بہانے بناکر بھاگتے ہیں۔‘‘
جواب:۔۔۔یہ مرزا طاہر کا سفید جھوٹ ہے کہ ان کے مخالفین ان کا چیلنج قبول نہیں کرتے، بلکہ بہانے بناکر بھاگ جاتے
ہیں۔ امید ہے کہ اس سفید جھوٹ پر ان کو قادیانی بھی ہزار بار ’’لعنۃ اللہ علی الکاذبین‘‘
کا تحفہ دیں گے۔
واقعہ یہ ہے کہ مرزا طاہر نے جون ۱۹۸۸ء میں مسلمانوں کو مباہلہ کا چیلنج دیا تھا، مسلمانوں نے اس چیلنج کو علی
الاعلان قبول کیا، لیکن ’’مرزا بھاگ گیا۔‘‘ خود راقم الحروف کے نام بھی مرزا طاہر نے مباہلہ کے چیلنج کی ایک کاپی
بھجوائی تھی، میں نے مرزا طاہر کے چیلنج کو قبول کرتے ہوئے ان کو لکھا کہ تمہارے ذمہ مباہلوں کا جو پچاس سالہ قرضہ
ہے، پہلے تو اس کو ادا کیجئے۔ اور پھر وقت اور تاریخ کا اور جگہ کا تعین کرکے مجھے اطلاع فرمائیے، آپ جہاں کہیں گے،
اور جب کہیں گے مباہلہ کے لئے حاضر ہوجاؤں گا، میرا یہ جواب ’’مرزا طاہر کے نام‘‘ سے چھپا ہوا موجود ہے، جس میں میں
نے جلی قلم سے لکھا تھا:
32
’’آئیے! اس فقیر کے مقابلہ میں میدان مباہلہ میں قدم رکھئے، اور پھر میرے مولائے کریم کی عزت و جلال اور قہری
تجلّی کا کھلی آنکھوں سے تماشا دیکھئے۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے نصاریٰ نجران کے بارے میں فرمایا تھا کہ اگر
وہ مباہلہ کے لئے نکل آتے تو ان کے درختوں پر ایک پرندہ بھی زندہ نہ بچتا۔ آئیے! آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے
ایک ادنیٰ امتی کے مقابلے میں میدان مباہلہ میں نکل کر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی ختمِ نبوّت کا اعجاز ایک بار
پھر دیکھ لیجئے۔‘‘
مجھے یقین تھا کہ مرزا طاہر، محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے کسی ادنیٰ غلام کے مقابلہ میں بھی میدان مباہلہ
میں اترنے کی کبھی جرأت نہیں کرسکتا، کیونکہ اس کو سو فیصد یقین ہے کہ وہ خود بھی، اس کا باپ بھی، اس کا دادا بھی،
سب کے سب جھوٹے ہیں، اس لئے میں نے مرزا طاہر کی غیرت کو للکارتے ہوئے مزید لکھا تھا:
’’اس ناکارہ کا خیال ہے کہ آپ آگ کے اس سمندر میں کودنا کسی حال میں قبول نہیں کریں گے، اپنے باپ دادا کی طرح ذلت
کی موت مرنا تو پسند کریں گے، لیکن آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے اس نالائق امتی کے مقابلہ میں میدان مباہلہ میں
اترنے کی جرأت نہیں کریں گے۔‘‘
مرزا طاہر کو اگر ذرا بھی غیرت ہوتی اور اس کو اپنی سچائی کا ذرا بھی خیال ہوتا تو میرے ان الفاظ کو پڑھ کر ممکن
نہیں تھا کہ کم از کم میرے اس دعوے ہی کو جھوٹا ثابت کرنے کے لئے میدان مباہلہ میں نہ آتا، لیکن اللہ تعالیٰ نے
اپنے محبوب صلی اللہ علیہ وسلم کے طفیل آپؐ کے ایک نالائق امتی کے الفاظ کی لاج رکھ لی، مرزا طاہر نے ذلت کی موت
مرنا تو پسند کیا مگر اس نے میدان مباہلہ میں اترنے کی جرأت نہیں کی، اس طرح
33
میری پیش گوئی سچی نکلی۔
میرے اس خط کے جواب میں مرزا طاہر کے سیکرٹری کا جواب آیا کہ مباہلہ کے لئے میدان مباہلہ میں آمنے سامنے آنے کی
ضرورت نہیں، تم بھی گھر بیٹھے مرزا طاہر کی طرح ’’لعنۃ اللہ علی الکاذبین‘‘ کی پتنگ بازی
کرتے رہو، بس اسی کا نام مباہلہ ہے۔
اس کے جواب میں اس ناکارہ نے ’’مرزا طاہر پر اتمام حجت‘‘ نامی رسالہ شائع کیا۔ جس میں قرآن و حدیث اور خود مرزا
غلام احمد کی تحریروں سے ثابت کیا کہ مباہلہ کا مسنون اور صحیح طریقہ یہ ہے کہ دونوں فریق ایک میدان میں جمع ہوں اور
مل کر ’’لعنۃ اللہ علی الکاذبین‘‘ کہیں۔ میں نے اس رسالہ میں مرزا غلام احمد کی درج ذیل
تحریر کا بھی حوالہ دیا کہ:
’’اور میں پھر ان سب کو اللہ جل شانہ کی قسم دیتا ہوں کہ مباہلہ کے لئے تاریخ اور مقام مقرر کرکے جلد میدان مباہلہ
میں آویں، اور اگر نہ آئے، اور نہ تکفیر و تکذیب سے باز آئے تو خدا کی لعنت کے نیچے مریں گے۔‘‘
(انجام آتھم ص:۶۹، روحانی خزائن ج:۱۱ ص:۶۹)
میں نے مرزا طاہر کو یہ بھی لکھا کہ اگر آپ پاکستان نہیں آسکتے تو میں آپ کو سفر کی زحمت نہیں دیتا، چلئے اپنے
’’لندنی اسلام آباد‘‘ ہی کو میدان مباہلہ قرار دے کر تاریخ کا اعلان کردیجئے:
’’یہ فقیر آپ کے مستقر پر حاضر ہوجائے گا۔ اور جتنے رُفقا آپ فرمائیں گے، لاکھ دو لاکھ، دس بیس لاکھ، اپنے ساتھ
لے آئے گا... دیکھئے! اب میں نے آپ کا کوئی عذر نہیں چھوڑا، اب آپ کو آپ کے دادا کے الفاظ میں غیرت دلاتا ہوں
کہ:
’’آپ کو اللہ جل شانہ کی قسم دیتا ہوں کہ مباہلہ کے لئے
34
تاریخ و مقام مقرر کرکے جلد مباہلہ کے میدان میں آویں، ورنہ خدا کی لعنت کے نیچے مریں گے۔‘‘
میرے اس چیلنج کو سات سال گزر رہے ہیں، لیکن مرزا طاہر کو اب تک جرأت نہیں ہوئی کہ اس چیلنج کو قبول کرلے، میں آج
تک اس کے جواب کا منتظر ہوں، لیکن وہ آج تک خدا کی لعنت کے نیچے ہے۔ اور اِن شاء اللہ اسی خدائی لعنت کے نیچے مرے
گا۔ ’’لعنۃ اللہ علی الکاذبین‘‘ پڑھا کرے۔ مرزا طاہر کی جماعت کے لوگوں کو چاہئے کہ میرے
ان دونوں رسالوں ’’مرزا طاہر کے جواب میں‘‘ اور ’’مرزا طاہر پر آخری اتمام حجت‘‘ کا مطالعہ فرمائیں۔ اگر توفیق
الٰہی دستگیری کرے تو مسلمان ہوجائیں، اور اگر اسلام ان کی قسمت میں نہیں تو کم سے کم مرزا طاہر کو مباہلہ پر آمادہ
کرکے اسے خدائی لعنت کے نیچے سے نکالیں، ورنہ مرزا طاہر کے لئے صبح و شام ۳۱۳ مرتبہ ’’لعنۃ اللہ
علی الکاذبین‘‘ کا وظیفہ کم سے کم چالیس دن تو ضرور پڑھ لیں۔
۶:۔۔۔’’یہ کہتے ہیں کہ جماعت احمدیہ انگریز کا خود کاشتہ پودا ہے۔... میں کہتا ہوں کہ یہ جھوٹ ہے۔ لعنۃ اللہ علی الکاذبین۔‘‘
جواب:۔۔۔یہ جھوٹ خود مرزا طاہر کے دادا مرزا غلام احمد کا ہے۔ اس نے گورنمنٹ برطانیہ سے کہا تھا کہ میرا خاندان
پچاس سال سے ٹوڈی اور انگریز کا خدمت گار چلا آتا ہے، لہٰذا گورنمنٹ:
’’اس خود کاشتہ پودا کی نسبت نہایت حزم اور احتیاط اور تحقیق اور توجہ سے کام لے، اور اپنے ماتحت حکام کو اشارہ
فرمائے کہ وہ اس خاندان کی ثابت شدہ وفاداری اور اخلاص کا لحاظ رکھ کر
35
مجھے اور میری جماعت کو ایک خاص عنایت اور مہربانی کی نظر سے دیکھیں۔‘‘
(مجموعہ اشتہارات ج:۳ ص:۲۱)
اس عبارت میں مرزا قادیانی نے اپنے ’’خودکاشتہ پودا‘‘ ہونے کا اقرار کیا ہے اور اس کے حوالے سے اپنے لئے اور اپنی
جماعت کے لئے انگریز سے ’’خاص نظر عنایت‘‘ اور مہربانی کی بھیک مانگی ہے۔ اب اگر یہ جھوٹ ہے تو مرزا طاہر اپنے دادا
کا نام لے کر شوق سے کہیں: ’’جھوٹے پر خدا کی لعنت۔‘‘ اور قادیانی بھی مرزا طاہر کے ساتھ مل کر کہیں:’’لعنۃ اللہ علی الکاذبین‘‘ ۔
۷:۔۔۔’’یہ کہتے ہیں کہ انہوں نے اسلامی جہاد منسوخ کردیا میں کہتا ہوں کہ یہ جھوٹ ہے۔ لعنۃ
اللہ علی الکاذبین۔‘‘ ۔
جواب:۔۔۔اسلامی جہاد کے منسوخ ہونے کا جھوٹ بھی مرزا غلام احمد نے بولا تھا، چنانچہ اس نے لکھا تھا کہ:
’’حدیث میں ہے کہ مسیح کے وقت میں جہاد کا حکم منسوخ کردیا جائے گا۔‘‘
(تجلیات الٰہیہ ص:۸ ملخصاً)
اگر یہ جھوٹ ہے تو مرزا طاہر شوق سے اپنے دادا کا نام لے کر کہے کہ: ’’جھوٹے پر خدا کی لعنت۔‘‘
لعنۃ اللہ علی الکاذبین۔‘‘ ۔
۸:۔۔۔’’یہ کہتے ہیں حضرت مسیح موعود (مرزا قادیانی) نے (ژرگز) کی تعلیم دی۔ میں کہتا ہوں یہ جھوٹ ہے۔ لعنۃ اللہ علی الکاذبین۔‘‘
جواب:۔۔۔یہ مرزا طاہر کا سفید جھوٹ ہے۔ کسی مسلمان نے ایسا نہیں کہا، البتہ مسلمان یہ کہتے ہیں کہ مرزا غلام احمد
پلومر کی دکان سے ٹانک وائن منگواتا تھا۔
(خطوط امام بنام غلام ص:۵)
اب اپنے اس جھوٹ پر مرزا طاہر شوق سے نعرہ بلند کریں کہ: ’’جھوٹے پر خدا کی
36
لعنت۔‘‘ اور قادیانی صاحبان بھی مرزا طاہر کی آواز میں آواز ملاکر کہیں: لعنۃ اللہ علی
الکاذبین۔‘‘ ۔
۹:۔۔۔’’یہ کہتے ہیں کہ آپ نے پچاس کتابیں اسلام کے خلاف لکھیں، میں کہتا ہوں یہ جھوٹ ہے۔ لعنۃ
اللہ علی الکاذبین۔‘‘ ۔
جواب:۔۔۔یہ بھی مرزا طاہر کا جھوٹ ہے، مرزا کی پچاس کتابیں کسی مسلمان نے نہیں لکھیں، البتہ مسلمان، مرزا غلام احمد
کے اس اقرار کا حوالہ ضرور دیتے ہیں کہ:
’’میری عمر کا اکثر حصہ اس سلطنت انگریزی کی تائید اور حمایت میں گزرا ہے، اور میں نے ممانعت جہاد اور انگریزی
اطاعت کے بارے میں اس قدر کتابیں لکھی ہیں اور اشتہار شائع کئے ہیں کہ اگر وہ رسائل اور کتابیں اکٹھی کی جائیں تو
پچاس الماریاں ان سے بھرسکتی ہیں۔‘‘
(تریاق القلوب ص:۱۵، روحانی خزائن ج:۱۵ ص:۱۵۵)
انگریز، اسلام کا بدترین دشمن تھا، ایسے دشمن اسلام کی تائید و حمایت کرنا، جہاد کی ممانعت کا فتویٰ دینا، اور
انگریزی اطاعت کا درس دینا اسلام دشمنی تھی، مرزا غلام احمد کہتا ہے کہ اس نے اپنی عمر کا اکثر حصہ اسی اسلام دشمنی
میں گزارا، اور اس نے رسالے اور کتابیں لکھ لکھ کر ’’پچاس الماریاں‘‘ بھر ڈالیں۔
مرزا طاہر اور اس کے ساتھ تمام قادیانی بڑی سریلی آواز میں یہ گیت گائیں: ’’ایسے دشمن اسلام پر خدا کی لعنت۔‘‘
لعنۃ اللہ علی الکاذبین۔‘‘ ۔
۱۰:۔۔۔’’یہ کہتے ہیں کہ ان کی وفات ناپاک حالت میں ہوئی۔ میں کہتا ہوں یہ جھوٹ ہے۔ لعنۃ اللہ
علی الکاذبین۔‘‘ ۔
جواب:۔۔۔ناپاک حالت سے شاید ہیضہ کی موت مراد ہے، جس میں دونوں راستوں سے نجاست خارج ہوتی ہے۔ مرزا قادیانی کی موت
واقعی وبائی ہیضہ سے واقع
37
ہوئی، چنانچہ اس کے مرض الموت کے بارے میں دست اور قے کی روایت تو مرزا طاہر کے چچا مرزا بشیر احمد نے سیرۃ
المہدی میں مرزا طاہر کی دادی کے حوالے سے درج ذیل نقل کی ہے:
’’حضرت مسیح موعود (مرزا قادیانی) کو پہلا دست کھانا کھانے کے وقت آیا تھا... لیکن کچھ دیر کے بعد آپ کو پھر حاجت
محسوس ہوئی، اور غالباً ایک یا دو دفعہ رفع حاجت کے لئے آپ پاخانہ تشریف لے گئے، اس کے بعد آپ نے زیادہ ضعف محسوس
کیا تو اپنے ہاتھ سے مجھے جگایا، میں اٹھی تو آپ کو اتنا ضعف تھا کہ آپ میری چارپائی پر ہی لیٹ گئے... اتنے میں
آپ کو ایک اور دست آیا... اس کے بعد ایک اور دست آیا، اور پھر آپ کو ایک قے آئی... اور حالت دگرگوں ہوگئی۔‘‘
(سیرۃ المہدی ج:۱ ص:۱۱،۱۲)
اور یہ دست اور قے کی بیماری وبائی ہیضہ تھا، چنانچہ شیخ یعقوب علی عرفانی نے ’’حیات ناصر‘‘ میں میر ناصر نواب کے
حوالے سے خود مرزا غلام احمد قادیانی سے نقل کیا ہے کہ:
’’حضرت صاحب (مرزا قادیانی) جس رات کو بیمار ہوئے اس رات، میں اپنے مقام پر جاکر سوچکا تھا۔ جب آپ کو بہت تکلیف
ہوئی تو مجھے جگایا گیا تھا، جب میں حضرت صاحب (مرزا قادیانی) کے پاس پہنچا اور آپ کا حال دیکھا تو آپ نے مجھے
مخاطب کرکے فرمایا ’’میر صاحب! مجھے وبائی ہیضہ ہوگیا ہے۔‘‘ اس کے بعد کوئی ایسی صاف بات میرے خیال میں نہیں فرمائی،
یہاں تک کہ دوسرے روز دس بجے کے بعد آپ کا انتقال ہوگیا۔‘‘
(حیات ناصر ص:۱۴)
مرزا طاہر صاحب! آپ کے دادا مرزا قادیانی کا ’’وبائی ہیضہ‘‘ کی بیماری سے
38
انتقال کرنا اور دونوں راستوں سے نجاست کا خارج ہونا ہمارا الزام نہیں، بلکہ یہ آپ کے اپنے گھر کی روایت ہے
اور اس کے راوی: ۱-آپ کے چچا۔ ۲-آپ کی دادی۔ ۳-دادی کے ابا اور ۴-خود آپ کے دادا۔ اگر یہ سب لوگ جھوٹے تھے تو ان
کا نام لے کر صبح و شام ’’لعنۃ اللہ علی الکاذبین‘‘ کا وظیفہ پڑھا کیجئے۔
میں نے اپنے رسالہ ’’مرزا طاہر کے نام‘‘ میں آپ کو چیلنج کیا تھا کہ:
’’کیا آپ یہ دعا کرنے کی جرأت کریں گے کہ آپ کو آپ کے باپ دادا جیسی موت نصیب ہو؟‘‘
اور پھر اپنے دوسرے رسالہ ’’مرزا طاہر پر آخری اتمام حجت‘‘ میں میں نے یاد دہانی کراتے ہوئے لکھا تھا:
’’آپ نے میرا یہ چیلنج بھی قبول نہیں کیا، اور شاید آپ کو اس کی جرأت بھی نہ ہوگی کہ میرے سوال کا جواب اخباروں
میں چھاپ کر دنیا کو ایک نیا تماشائے عبرت دیکھنے کا موقع فراہم کریں۔‘‘
مرزا طاہر صاحب! اگر آپ کے باپ اور دادا کو موت ناپاک حالت میں نہیں ہوئی تو یہ دعا اخباروں اور رسالوں میں کیوں
نہیں چھاپ دیتے کہ:
’’یا اللہ! مجھے میرے باپ اور دادا جیسی موت نصیب فرما۔‘‘
مرزا طاہر صاحب! آپ یہ دعا کبھی شائع نہیں کریں گے، کیونکہ آپ کو معلوم ہے کہ آپ کے باپ اور دادا کی موت ناپاک
حالت میں ہوئی۔ یقینا آپ خود بھی ان کو جھوٹا اور ان کی موت کو عبرت کا نشان سمجھتے ہیں۔ اس لئے کوئی مضائقہ نہیں
کہ آپ اپنے جھوٹے باپ دادا کا نام لے کر ان پر ’’لعنۃ اللہ علی الکاذبین‘‘ کا نعرہ بلند
کیا کریں۔
۱۱:۔۔۔’’یہ کہتے ہیں کہ آپ نے نبی رسول اور عیسیٰ ہونے کا دعویٰ کیا، میں کہتا ہوں یہ سچ ہے۔ اللہ سچوں پر رحمت
فرمائے۔‘‘
جواب:۔۔۔مرزا طاہر کا یہ سچ خالص جھوٹ ہے، کیونکہ اوپر جھوٹ نمبر:۴ کے
39
ذیل میں لکھ چکا ہوں کہ مرزا مدعی نبوّت کو کافر و کاذب اور دائرۂ اسلام سے خارج قرار دیتا ہے۔ جہاں تک
عیسیٰ ہونے کے دعویٰ کا تعلق ہے، یہ بھی مرزا قادیانی کے بقول جھوٹ ہے، کیونکہ وہ لکھتا ہے:
’’اس عاجز نے جو مثیل موعود ہونے کا دعویٰ کیا ہے جس کو کم فہم لوگ مسیح موعود خیال کر بیٹھے ہیں۔۔۔میں نے یہ دعویٰ
ہرگز نہیں کیا کہ میں مسیح بن مریم ہوں، جو شخص یہ الزام میرے پر لگاوے وہ سراسر مفتری اور کذاب ہے۔‘‘
(ازالہ اوہام ص:۱۹۰، روحانی خزائن ج:۳ ص:۱۹۲)
پس مرزا طاہر خود اپنے دادا کے فتویٰ کے مطابق مفتری اور کذاب ہے۔ سب کہیں ’’جھوٹے پر خدا کی لعنت۔‘‘ اور قادیانی
صاحبان بھی مرزا طاہر کا نام لے کر بلند آواز سے کہیں: لعنۃ اللہ علی الکاذبین۔‘‘ ۔
۱۲:۔۔۔’’یہ کہتے ہیں کہ اللہ کے متعلق حضرت مسیح موعود (مرزا قادیانی) نے لکھا ہے، شادی کرتا ہے، اور تعلقات جنسی
قائم کرتا ہے۔ میں کہتا ہوں کہ یہ جھوٹ ہے۔‘‘
جواب:۔۔۔یہ بھی مرزا طاہر کا سفید جھوٹ ہے۔ کسی مسلمان نے یہ نہیں کہا۔ البتہ مسلمان یہ کہتے ہیں کہ مرزا کے ایک
نام نہاد صحابی قاضی یار محمد نے اپنے رسالہ ’’اسلامی قربانی‘‘ میں لکھا ہے:
’’حضرت مسیح موعود (مرزا قادیانی) نے ایک موقع پر اپنی حالت یہ ظاہر فرمائی کہ کشف کی حالت آپ پر اس طرح طاری ہوئی
کہ گویا آپ عورت ہیں اور اللہ تعالیٰ نے رجولیت کی طاقت کا اظہار فرمایا۔ سمجھے والے کے لئے اشارہ کافی ہے۔‘‘
(ٹریکٹ ۳۴ اسلامی قربانی ص:۱۴)
40
ہمارے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے تو سب صحابہ کرامؓ عادل اور ثقہ ہیں، اگر مرزا طاہر کے نزدیک مرزا غلام احمد
کا یہ صحابی جھوٹا ہے تو مرزا طاہر شوق سے کہیں کہ ’’ایسے جھوٹے صحابی اور اس کے جھوٹے نبی پر خدا کی لعنت۔‘‘ اور
قادیانی صاحبان بھی مرزا طاہر کی لے میں لے ملاکر کہیں: لعنۃ اللہ علی الکاذبین۔‘‘ ۔
۱۳:۔۔۔’’اور یہ بھی لکھا ہے کہ اللہ تعالیٰ برٹش تھا اور برٹش ہونے کی حیثیت سے انگریزی بولتا تھا۔ میں کہتا ہوں یہ
جھوٹ ہے: لعنۃ اللہ علی الکاذبین۔‘‘ ۔
جواب:۔۔۔یہ قطعاً جھوٹ ہے کہ کسی مسلمان نے اللہ تعالیٰ کو (نعوذباللہ) انگریز کہا ہو، البتہ مرزا طاہر کا دادا
مرزا غلام احمد لکھتا ہے:
’’پھر بعد اس کے بہت ہی زور سے جس سے بدن کانپ گیا، یہ الہام ہوا:
’’وی کین وہٹ وی ول ڈو‘‘ اس وقت ایک ایسا لہجہ اور تلفظ معلوم ہوا کہ گویا ایک انگریز ہے جو سر پر کھڑا ہوا بول رہا
ہے۔‘‘
(تذکرہ ص:۶۴ طبع چہارم)
اس عبارت میں مرزا نے اللہ تعالیٰ کے بارے میں کہا ہے کہ وہ گویا انگریز ہے، اور انگریزی بولتا ہے، چونکہ یہ مرزا
طاہر کے نزدیک جھوٹ ہے، لہٰذا اس جھوٹ پر مرزا طاہر اپنے دادا مرزا غلام احمد پر جتنی بار چاہے’’لعنۃ اللہ علی الکاذبین‘‘ پڑھے۔
۱۴:۔۔۔’’کہتے ہیں کہ اللہ نے آپ پر (کرس) کیا، میں کہتا ہوں یہ جھوٹ ہے،لعنۃ اللہ علی
الکاذبین ۔‘‘
جواب:۔۔۔یہ بھی مرزا طاہر کا مسلمانوں پر غلط الزام ہے، یہ تحفہ تو وہ مرزا غلام احمد کی خدمت میں خود پیش کرتے
ہیں، جیسا کہ گزشتہ نمبروں سے معلوم ہوچکا ہے، چنانچہ اوپر گزر چکا ہے کہ:
41
✨: ... مرزا طاہر کہتے ہیں کہ مرزا غلام احمد نے نبوّت کا دعویٰ کیا، ادھر مرزا غلام احمد لکھتا ہے کہ ’’ہم بھی
مدعی نبوّت پر لعنت بھیجتے ہیں۔‘‘ اب مرزا طاہر کے عقیدے کے مطابق مرزا غلام احمد ملعون ہوا۔
✨: ... مرزا طاہر کہتے ہیں کہ مرزا غلام احمد نے نبوّت و رسالت کے دعوے کئے، ادھر مرزا غلام احمد لکھتا ہے کہ
’’آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم خاتم النبیین کے بعد جو شخص نبوّت و رسالت کے دعوے کرے وہ کافر و کاذب اور دائرۂ
اسلام سے خارج ہے۔‘‘ اور کافروں اور جھوٹوں کا ملعون ہونا سب کو معلوم ہے، لہٰذا مرزا طاہر کے عقیدے کے مطابق مرزا
غلام احمد ملعون ہوا۔
✨: ... مرزا طاہر کہتے ہیں کہ مرزا غلام احمد مسیح موعود ہے۔ ادھر مرزا غلام احمد کہتا ہے کہ:
’’اس عاجز نے جو مثیل موعود ہونے کا دعویٰ کیا ہے جس کو کم فہم لوگ مسیح موعود خیال کر بیٹھے ہیں... میں نے یہ
دعویٰ ہرگز نہیں کیا کہ میں مسیح بن مریم ہوں، جو شخص یہ الزام میرے پر لگاوے وہ سراسر مفتری اور کذاب ہے۔‘‘
لہٰذا مرزا طاہر کے عقیدے کے مطابق مرزا غلام احمد، کم فہم اور مفتری و کذاب ٹھہرا، اب جس قدر جی چاہے اس مفتری و
کذاب غلام احمد پر لعنۃ اللہ علی الکاذبین پڑھے۔
الغرض خدا کی لعنت تو غلام احمد پر خود مرزا طاہر برساتا ہے اور جھوٹا الزام مسلمانوں کو دیتا ہے:
’’جو چاہیں سو آپ کریں ہیں ہم کو عبث بدنام کیا‘‘
ہاں! یہ ضرور ہے کہ ہم بھی مفتری و کذاب اور دائرۂ اسلام سے خروج کرنے والے مرتد کو لعنت خداوندی کا مستحق سمجھتے
ہیں۔
42
۱۵:۔۔۔’’یہ کہتے ہیں آپ نے دعویٰ کیا کہ تمام انبیاء سے بشمول محمد رسول صلی اللہ علیہ وسلم قیامت تک کے لئے آپ
افضل ہیں، میں کہتا ہوں یہ جھوٹ ہے، لعنۃ اللہ علی الکاذبین۔‘‘
جواب:۔۔۔مرزا طاہر کا مسلمانوں پر یہ الزام بھی غلط ہے، واقعہ یہ ہے کہ تمام انبیائے کرام علیہم السلام سے افضل
ہونے کا دعویٰ مرزا طاہر کے دادا مرزا غلام احمد نے کیا، ملاحظہ فرمائیے:
مرزا حضرت آدم علیہ السلام سے افضل:
’’اللہ تعالیٰ نے آدم کو پیدا کرکے انہیں تمام ذی روح انس و جن پر سردار اور حاکم و امیر بنایا... پھر شیطان نے
انہیں بہکایا اور جنتوں سے نکلوایا۔ اس جنگ و جدال میں آدم کو ذلت و رسوائی نصیب ہوئی... پس اللہ تعالیٰ نے مسیح
موعود کو پیدا کیا تاکہ آخر زمانے میں شیطان کو شکست دے۔‘‘
(حاشیہ خطبہ الہامیہ، روحانی خزائن ج:۱۶ ص:۳۱۲)
’’آدم اس لئے آیا کہ نفوس کو اس دنیا کی زندگی کی طرف نکالے، اور ان کے درمیان اختلاف اور دشمنی کی آگ بھڑکائے،
اور مسیح امم اس لئے آیا کہ ان کو دار فنا کی طرف لوٹائے اور ان سے اختلاف، لڑائی اور عداوت اور افتراق و پراگندگی
کو دور کرے، اور انہیں اتحاد و محویت، نفی غیر اور خلوص کی طرف کھینچے۔‘‘
(خطبہ الہامیہ، روحانی خزائن ج:۱۶ ص:۳۰۸)
حضرت نوح علیہ السلام:
’’اور خدا تعالیٰ میرے لئے اس کثرت سے نشان دکھلا رہا ہے کہ اگر نوح کے زمانے میں وہ نشان دکھلائے جاتے تو وہ لوگ
43
غرق نہ ہوتے۔‘‘
(تتمہ حقیقۃ الوحی ص:۱۳۷، روحانی خزائن ج:۲۲ ص:۵۷۵)
حضرت یوسف علیہ السلام سے افضل:
’’پس اس اُمت کا یوسف یعنی یہ عاجز اسرائیلی یوسف سے بڑھ کر ہے۔ کیونکہ یہ عاجز قید کی دعا کرکے بھی قید سے بچایا
گیا، مگر یوسف بن یعقوب قید میں ڈالا گیا، اور اس اُمت کے یوسف (مرزا قادیانی) کی بریت کے لئے پچیس برس پہلے ہی خدا
نے آپ گواہی دے دی اور بھی نشان دکھلائے، مگر یوسف بن یعقوب اپنی بریت کے لئے انسانی گواہی کا محتاج ہوا۔‘‘
(براہین پنجم ص:۷۶، روحانی خزائن ج:۲۱ ص:۹۹)
حضرت عیسیٰ علیہ السلام سے افضل:
’’خدا نے اس اُمت میں سے مسیح موعود بھیجا جو اس پہلے مسیح سے اپنی تمام شان میں بہت بڑھ کر ہے۔۔۔... مجھے قسم ہے
اس ذات کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے کہ اگر مسیح ابن مریم میرے زمانہ میں ہوتا تو وہ کام جو میں کرسکتا ہوں وہ
ہرگز نہ کرسکتا، اور وہ نشان جو مجھ سے ظاہر ہو رہے ہیں وہ ہرگز نہ دکھلا سکتا۔‘‘
(حقیقۃ الوحی ص:۱۴۸، روحانی خزائن ج:۲۲ ص:۱۵۲)
’’پھر جب کہ خدا نے اور اس کے رسول نے اور تمام نبیوں نے آخری زمانہ کے مسیح کو اس کے کارناموں کی وجہ سے افضل
قرار دیا ہے تو پھر یہ شیطانی وسوسہ ہے کہ یہ کہا جائے کہ کیوں تم مسیح ابن مریم سے اپنے تئیں افضل قرار دیتے ہو۔‘‘
(حقیقۃ الوحی ص:۱۵۵، روحانی خزائن ج:۲۲ ص:۱۵۹)
44
’’ابن مریم کے ذکر کو چھوڑو
اس سے بہتر غلام احمد ہے
یہ شاعرانہ بات نہیں، بلکہ واقعی ہیں، اگر تجربہ کی رو سے خدا کی تائید مسیح بن مریم سے بڑھ کر میرے ساتھ نہ ہو تو
میں جھوٹا ہوں۔‘‘
(دافع البلاء ص:۲۰، روحانی خزائن ج:۱۱ ص:۲۴۰)
’’میں بارہا بتلاچکا ہوں کہ میں بموجب آیت وآخرین منھم لما یلحقوا بھم بروزی طور پر
وہی نبی خاتم الانبیاء ہوں، اور خدا نے آج سے بیس برس پہلے براہین احمدیہ میں میرا نام محمد اور احمد رکھا ہے، اور
مجھے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا وجود قرار دیا ہے۔‘‘
(ایک غلطی کا ازالہ ص:۱۰، روحانی خزائن ج:۱۸ ص:۲۱۲)
’’مبارک وہ جس نے مجھے پہچانا، میں خدا کی سب راہوں میں سے آخری راہ ہوں، اور میں اس کے سب نوروں میں سے آخری نور
ہوں۔ بدقسمت ہے وہ جو مجھے چھوڑتا ہے کیونکہ میرے بغیر سب تاریکی ہے۔‘‘
(کشتی نوح ص:۵۶، روحانی خزائن ج:۱۹ ص:۶۱)
مرزا، کمالات انبیاء کا مجموعہ:
’’کمالات متفرقہ جو تمام دیگر انبیاء میں پائے جاتے تھے وہ سب حضرت رسول کریم میں ان سے بڑھ کر موجود تھے اور اب وہ
سارے کمالات حضرت رسول کریمؐ سے ظلّی طور پر ہم کو عطا کئے گئے، اور اسی لئے ہمارا نام آدم، ابراہیم، موسیٰ، نوح،
داؤد، یوسف، سلیمان، یحییٰ، عیسیٰ وغیرہ ہے... پہلے تمام انبیاء ظل تھے نبی کریم کی
45
خاص خاص صفات میں اور اب ہم ان تمام صفات میں نبی کریمؐ کے ظلّ ہیں۔‘‘
(ملفوظات ج:۳ ص:۲۷۰ مطبوعہ ربوہ)
مرزا کا تخت سب سے اُونچا:
’’آسمان سے کئی تخت اترے مگر تیرا تخت سب سے اونچا بچھایا گیا۔‘‘
(مرزا کا الہام، مندرجہ تذکرہ ص:۳۴۶ طبع دوم)
ایک نفیس فائدہ:
حضرات انبیائے کرام علیہم السلام سب کے سب دیگر تمام انسانوں سے افضل ہیں، اور علم عقائد میں یہ اصول طے شدہ ہے کہ
کوئی ولی، خواہ کتنا ہی بڑا ہو، کسی نبی کے رتبہ کو نہیں پہنچ سکتا، شرح عقائد نسفی میں ہے:
’’ولَا یبلغ ولی درجۃ الأنبیاء لأن الأنبیاء معصومون مأمونون عن خوف الخاتمۃ مکرمون بالوحی ومشاھدۃ الملک
مأمورون بتبلیغ الْأحکام وارشاد الْأنام بعد الْإتصاف بکمالَات الْأولیاء۔‘‘
(ص:۱۶۴ مطبوعہ مکتبہ خیر کثیر کراچی)
ترجمہ:۔۔۔’’کوئی ولی انبیائے کرام علیہم السلام کے درجہ کو نہیں پہنچ سکتا، کیونکہ انبیائے کرام
معصوم ہیں، ان کے حق میں سوئِ خاتمہ کا اندیشہ نہیں، وہ وحی الٰہی اور فرشتوں کے مشاہدہ سے مشرف ہیں، اور وہ اولیاء
کے کمالات کے ساتھ متصف ہونے کے بعد تبلیغ احکام اور خلق خدا کی رہنمائی کے کام پر مأمور ہوتے ہیں۔‘‘
اسی طرح صحابیت کا شرف ایسی فضیلت ہے کہ جو حضرات صحابہ کرامؓ کے سوا کسی کو نصیب نہیں ہوسکتی۔ اسی بنا پر جمہور
اہل سنت کا عقیدہ ہے کہ بعد کے اولیاء صحابہ کرامؓ کی فضیلت کو نہیں پہنچ سکتے۔
46
اہل عقل کا یہ مسلّمہ اصول ہے کہ جب کسی فرد کا تقابل دوسرے افراد سے کیا جائے تو یہ تقابل ہمیشہ اسی کی نوع کے
افراد کے درمیان ہوتا ہے۔ پس جو شخص جس جماعت یا گروہ میں شامل ہو اس کی افضلیت و غیر افضلیت کا تقابل اس کی اپنی ہی
جماعت یا گروہ کے افراد کے ساتھ ہوگا، چنانچہ جو شخصیت انبیائے کرام علیہم الصلوٰۃ والسلام کی جماعت سے ہو، اس کی
افضلیت کا تقابل اسی جماعت انبیاء کے افراد قدسیہ کے ساتھ ہوگا، غیرانبیاء کے ساتھ نہیں۔ بلکہ غیرانبیاء کے مقابلہ
میں اس کی افضلیت کی بحث خلاف اصول اور خلاف عقل سمجھی جائے گی، کیونکہ غیرانبیاء کو انبیائے کرام علیہم الصلوٰۃ
والسلام کے علو مرتبہ اور رفعت شان سے کیا نسبت؟ اور نبی کا غیرنبی کے ساتھ کیا مقابلہ؟ اسی طرح کسی صحابی کی افضلیت
دیگر صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے مقابلہ میں مراد ہوگی، چنانچہ جب کہا جائے کہ فلاں صحابی افضل ہیں، تو
اس سے مراد یہ ہے کہ دیگر صحابہؓ کے مقابلہ میں افضل ہیں، ورنہ صحابیؓ کا غیرصحابہ سے کیا مقابلہ؟ اور غیرصحابی کو
صحابہؓ سے کیا نسبت؟ اسی طرح ولی کی افضلیت دیگر اولیائے عظامؒ کے مقابلہ میں زیر بحث آئے گی، نہ کہ عوام الناس کے
مقابلے میں، پس جب کہا جائے کہ فلاں ولی افضل ہے، تو مراد یہ ہوگی کہ دیگر اولیاء کے مقابلہ میں افضل ہیں۔ علی ہذا
القیاس۔
جب مرزا غلام احمد قادیانی اپنے آپ کو انبیائے کرام علیہم الصلوٰۃ والسلام کی جماعت میں شامل کرتا ہے اور حضرت نوح
اور حضرت عیسیٰ علیہما السلام جیسے اولوالعزم رسولوں سے افضل قرار دیتا ہے تو اس کے بیان کردہ مندرجہ ذیل الہام سے
کہ:
’’آسمان سے کئی تخت اترے، مگر تیرا تخت سب سے اونچا بچھایا گیا۔‘‘
مذکورہ اصول کے مطابق ہر ذی شعور یہ سمجھے گا کہ آسمان سے اترنے والے تختوں سے حضرات انبیائے کرام علیہم السلام کے
درجات و مراتب عالیہ مراد ہیں، اور ’’تیرا تخت سب سے اونچا بچھایا گیا‘‘ کے فقرہ سے انبیائے کرام علیہم السلام کے
مقابلہ میں صاحب الہام کی افضلیت مراد ہے۔ چونکہ مرزا، تمام انبیائے کرام علیہم السلام کے کمالات کی
47
جامعیت کا مدعی ہے، اور چونکہ اس کو اولوالعزم رسولوں سے افضلیت کا دعویٰ ہے اس لئے ’’اس کے تخت کا سب سے
اونچا ہونا‘‘ اس کے معنی اس کے سوا کچھ نہیں کہ اس الہام میں اس کو تمام انبیائے کرام علیہم السلام سے افضل قرار دیا
گیا۔ نعوذباللہ، استغفر اللہ!
فخر اوّلین و آخرین:
روزنامہ الفضل قادیان مسلمانوں کو للکارتے ہوئے کہتا ہے:
’’اے مسلمان کہلانے والو! اگر تم واقعی اسلام کا بول بالا چاہتے ہو اور باقی دنیا کو اپنی طرف بلاتے ہو تو پہلے خود
سچے اسلام کی طرف آجاؤ (یعنی مسلمانوں کا اسلام جھوٹا ہے۔ نعوذ باللہ۔۔۔ناقل) جو مسیح موعود (مرزا قادیانی) میں
ہوکر ملتا ہے، اسی کے طفیل آج بر و تقویٰ کی راہیں کھلتی ہیں، اسی کی پیروی سے انسان فلاح و نجات کی منزل مقصود پر
پہنچ سکتا ہے، وہ وہی فخر اولین و آخرین ہے، جو آج سے تیرہ سو برس پہلے رحمۃ للعالمین بن کر آیا تھا۔‘‘
پہلے محمد رسول اللہ سے بڑھ کر:
الف:۔۔۔’’اور جس نے اس بات سے انکار کیا کہ نبی علیہ السلام کی بعثت چھٹے ہزار سے تعلق رکھتی ہے، جیسا کہ پانچویں
ہزار سے تعلق رکھتی تھی، پس اس نے حق کا اور نص قرآن کا انکار کیا، بلکہ حق یہ ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی
روحانیت چھٹے ہزار کے آخر میں یعنی ان دنوں میں بہ نسبت ان سالوں کے اقویٰ اور اکمل اور اشد ہے بلکہ چودھویں رات کے
چاند کی طرح ہے۔‘‘
(خطبہ الہامیہ ص:۱۸۱، روحانی خزائن ج:۱۶ ص:۲۷۱)
-
امام اپنا عزیزو اس جہاں میں
غلام احمد ہوا دار الاماں میں
48
-
غلام احمد ہے عرش رب اکبر
مکاں اس کا ہے گویا لامکاں میں
-
غلام احمد رسول اللہ ہے برحق
شرف پایا ہے نوع انس و جاں میں
-
محمد پھر اتر آئے ہیں ہم میں
اور آگے سے ہیں بڑھ کر اپنی شاں میں
-
محمد دیکھنے ہوں جس نے اکمل
غلام احمد کو دیکھئے قادیاں میں
(اخبار بدر قادیان ۲۵؍اکتوبر ۱۹۰۶ء بحوالہ قادیانی مذہب ص:۳۳۶)
ہلال اور بدر کی نسبت:
’’اور اسلام ہلال کی طرح شروع ہوا، اور مقدر تھا کہ انجام کار آخری زمانہ میں بدر (چودھویں کا چاند) ہوجائے، خدا
تعالیٰ کے حکم سے، پس خدا تعالیٰ کی حکمت نے چاہا کہ اسلام اس صدی میں بدر کی شکل اختیار کرے جو شمار کے رو سے بدر
کی طرح مشابہ ہو(یعنی چودھویں صدی)۔‘‘
(خطبہ الہامیہ ص:۱۸۴، روحانی خزائن ج:۱۶ ص:۲۷۵)
’’آنحضرت کی بعثت اول میں آپ کے منکروں کو کافر اور دائرۂ اسلام سے خارج قرار دینا۔ لیکن ان کی بعثت ثانی میں
آپ کے منکروں کو داخل اسلام سمجھنا یہ آنحضرت کی ہتک اور آیت اللہ سے اِستہزا ہے۔ حالانکہ خطبہ الہامیہ میں حضرت
مسیح موعود نے آنحضرت کی بعثت اول و ثانی کی باہمی نسبت کو ہلال اور بدر کی نسبت سے تعبیر فرمایا ہے۔‘‘
(اخبار الفضل قادیان ج:۳ نمبر:۱۰ مؤرخہ ۱۵؍جولائی ۱۹۱۵ء بحوالہ قادیانی مذہب ص:۲۶۲)
49
بڑی فتح مبین:
’’اور ظاہر ہے کہ فتح مبین کا وقت ہمارے نبی کریم کے زمانے میں گزر گیا اور دوسری فتح باقی رہی جو کہ پہلے غلبہ سے
بہت زیادہ بڑی اور زیادہ ظاہر ہے اور مقدر تھا کہ اس کا وقت مسیح موعود (مرزا غلام احمد قادیانی) کا وقت ہو۔‘‘
(خطبہ الہامیہ ص:۱۹۳،۱۹۴، روحانی خزائن ج:۱۶ ص:۲۸۸)
روحانی کمالات کی اِبتدا اور اِنتہا:
’’(یعنی مکی بعثت میں) اجمالی صفات کے ساتھ ظہور فرمایا اور وہ زمانہ اس روحانیت کی ترقیات کا اِنتہا نہ تھا، بلکہ
اس کے کمالات کے معراج کے لئے پہلا قدم تھا پھر اس روحانیت نے چھٹے ہزار کے آخر میں یعنی اس وقت پوری طرح سے تجلّی
فرمائی۔‘‘
(خطبہ الہامیہ ص:۱۷۷، روحانی خزائن ج:۱۶ ص:۲۶۶)
محمد عربی کا کلمہ پڑھنے والے کافر:
الف:۔۔۔’’اب معاملہ صاف ہے اگر نبی کریم کا انکار کفر ہے تو مسیح موعود کا انکار بھی کفر ہونا چاہئے کیونکہ مسیح
موعود نبی کریم سے الگ کوئی چیز نہیں ہے بلکہ وہی ہے اور اگر مسیح موعود کا منکر کافر نہیں تو نعوذباللہ نبی کریم کا
منکر بھی کافر نہیں کیونکہ یہ کس طرح ممکن ہے کہ پہلی بعثت میں تو آپ کا انکار کفر ہو مگر دوسری بعثت میں جس میں
بقول حضرت مسیح موعود آپ کی روحانیت اقویٰ اور اکمل اور اشد ہے، آپ کا انکار کفر نہ ہو۔‘‘
(کلمۃ الفصل ص:۱۴۶،۱۴۷، مندرجہ ریویو آف ریلیجنز مارچ و اپریل ۱۹۱۵ء)
ب:۔۔۔’’ہر ایک ایسا شخص جو موسیٰ کو تو مانتا ہے مگر عیسیٰ کو
50
نہیں مانتا، یا عیسیٰ کو مانتا ہے مگر محمدؐ کو نہیں مانتا، اور یا محمدؐ کو مانتا ہے پر مسیح موعود کو نہیں
مانتا وہ نہ صرف کافر بلکہ پکا کافر اور دائرۂ اسلام سے خارج ہے۔‘‘
(کلمۃ الفصل ص:۱۱۰ مرزا بشیر احمد ایم اے)
ج:۔۔۔’’تحریک احمدیت اسلام کے ساتھ وہی رشتہ رکھتی ہے جو عیسائیت کا یہودیت کے ساتھ تھا۔‘‘
(محمد علی لاہوری قادیانی، منقول از مباحثہ راولپنڈی ص:۲۴۰)
د:۔۔۔’’کل مسلمان، جو حضرت مسیح موعود (مرزا غلام احمد قادیانی) کی بیعت میں شامل نہیں ہوئے خواہ انہوں نے حضرت
مسیح موعود (مرزا غلام احمد قادیانی) کا نام بھی نہیں سنا، وہ کافر اور دائرۂ اسلام سے خارج ہیں۔‘‘
(آئینہ صداقت ص:۳۵ از مرزا محمود احمد قادیانی)
ھ:۔۔۔’’ہمارا یہ فرض ہے کہ ہم غیراحمدیوں کو مسلمان نہ سمجھیں اور ان کے پیچھے نماز نہ پڑھیں، کیونکہ ہمارے نزدیک
وہ خدا کے ایک نبی کے منکر ہیں یہ دین کا معاملہ ہے، اس میں کسی کا اپنا اختیار نہیں کہ کچھ کرسکے۔‘‘
(انوار خلافت ص:۹۰ از مرزا محمود احمد قادیانی)
قارئین کرام ان حوالہ جات کو دیکھ کر محسوس کرسکتے ہیں کہ ان عبارتوں میں مرزا غلام احمد قادیانی نے انبیائے کرامؑ
سے افضل ہونے کا دعویٰ کیا ہے، دنیا کی کسی عدالت میں ان عبارتوں کو (لکھنے والے کا نام بتائے بغیر) رکھ دیجئے اور
اس سے فیصلہ کرالیجئے کہ ان عبارتوں میں انبیائے کرامؑ سے افضل ہونے کا دعویٰ پایا جاتا ہے یا نہیں؟ عدالت یہ کہنے
پر مجبور ہوگی کہ جس شخص کی یہ عبارتیں ہیں وہ انبیائے کرامؑ پر اپنی فضیلت و برتری کا مدعی ہے۔ لیکن مرزا طاہر اس
دعویٰ کو مسلمانوں کی طرف منسوب کرکے اسے جھوٹ قرار دیتا ہے اور اس پر’’لعنۃ اللہ علی
الکاذبین‘‘ کہتا ہے۔
ہماری گزارش یہ ہے کہ یہ دعویٰ اگر جھوٹ ہے تو یہ سیاہ جھوٹ خود مرزا طاہر کے دادا
51
مرزا غلام احمد قادیانی کا تصنیف کردہ ہے۔ لہٰذا مرزا طاہر کو اگر’’لعنۃ اللہ علی
الکاذبین‘‘ ی گردان کا شوق ہے تو وہ اپنے دادا ابا کا نام لے کر یہ شوق ضرور پورا فرماسکتے ہیں۔
خلاصہ:
قارئین کرام نے ملاحظہ فرمایا کہ مرزا طاہر نے جتنی باتیںمسلمانوں کی طرف منسوب کرکے ان کو جھوٹ کہا، اور ان پر
لعنت کی گردان کی، وہ سب کی سب خود ان کے گھر سے برآمد ہوئیں، اس لئے مرزا طاہر احمد صاحب بالقابہ خود جھوٹ کے
مرتکب اور اپنی لعنت بازی کے خود مورد ہوئے۔
اس ناکارہ نے اپنی اس پوری تحریر میں اپنی طرف سے ان پر لعنت نہیں کی بلکہ یہ بتایا ہے کہ ان کی لعنت خود انہی پر
لوٹتی ہے۔
ایک لطیفہ اور یاد دہانی:
مرزا طاہر احمد صاحب، لعنت بازی کے عادی مریض ہیں، ان کی کوئی تحریر و تقریر مشکل ہی سے اس شغل سے خالی ہوا کرتی
ہے، دراصل یہ ان کے خاندان کا ــ مراق کی طرح ـــ موروثی مرض ہے، جو تین پشتوں سے مسلسل چلا آرہا ہے، اور اب
یہ ’’داء الکلب‘‘ کی طرح مرزا طاہر کے رگ و پے میں سرایت کرچکا ہے، جس سے بظاہر ان کا
شفایاب ہونا مشکل نظر آتا ہے،والأمر بید اللہ!
اس ناکارہ نے ۱۸،۱۹ سال پہلے انہیں مخلصانہ مشورہ دیا تھا کہ اوّل تو یہ اس ’’لعنت بازی‘‘ کا شغل ہی نہ فرمایا
کریں، اور اگر اپنی ’’خاندانی علّت‘‘ کی بنا پر مجبور ہوں تو کم سے کم اپنے اوپر اتنا احسان ضرور کریں کہ لعنت بازی
کے لئے قرآن حکیم کی آیت:’’لعنۃ اللہ علی الکاذبین‘‘ نہ پڑھا کریں، کیونکہ وہ اس آیت
شریفہ کو پڑھ کر دوسروں پر لعنت کرنے کی بجائے قرآن کریم کی زبان سے خود اپنے اوپر لعنت فرماتے ہیں۔ ان کے گھر میں
لعنت کی پہلے بھی کچھ کمی نہیں، قرآن کی زبان سے اس میں مزید اضافہ نہ کیا کریں تو بہتر ہے۔
52
افسوس ہے کہ اس فقیر کی یہ خیرخواہانہ نصیحت مرزا طاہر پر کارگر نہ ہوئی، یہی وجہ ہے کہ ان کی یہ بیماری آج
کل ’’داء الکلب‘‘ کی شکل اختیار کرچکی ہے۔ مناسب ہوگا کہ یہاں اپنی انیس سال قبل کی
نصیحت نقل کردوں، تاکہ اگر مرزا طاہر کو نہیں تو شاید ان کی جماعت کے کسی فرد کو نفع ہوجائے ــــــوھو ھٰذا:
قادیانی تحفہ:
’’جھوٹ، بہتان، اِفترا اور لعنت کی گردان قادیانیوں کا خاص تحفہ ہے، جو ان کی جانب سے عطا کیا جاتا ہے، مرزا طاہر
احمد صاحب نے بھی اپنے ’’تبصرہ‘‘ میں یہ قادیانی تحفہ بڑی فیاضی سے مولانا بنوری کو عطا فرمایا ہے۔ جھوٹ اور بہتان
تو خیر مرزا صاحب کے گھر کی دولت ہے، اس رواں صدی میں قادیان اور ربوہ اس دولت کے سب سے بڑے معدن ہیں۔ وہ ساری دنیا
پر بھی اسے تقسیم کردیں تب بھی ختم نہ ہوگی۔ جہاں جھوٹ اور اِفترا کے چشمے ابلتے ہوں وہاں دو چار چلّو اگر راہ چلتوں
پر بھی پھینک دئیے جائیں تو کیا کمی واقع ہوتی ہے۔ دنیا کا سب سے بڑا جھوٹ، جھوٹی نبوّت کا دعویٰ ہے، جو لوگ اس کو
ہضم کرچکے ہوں، ظاہر ہے کہ جھوٹ ان کے گوشت، پوست میں سرایت کئے ہوئے ہوگا، اور انہیں ہر سو جھوٹ ہی جھوٹ نظر آئے
گا۔
باقی رہی لعنت! تو یہ جھوٹ کا خاصہ لازمہ ہے، یہی وجہ ہے کہ مرزا آنجہانی کے گھر اس کی بھی بڑی فراوانی تھی، اور
اس کی داد و دہش میں بھی وہ بڑے سخی تھے، دس دس، بیس بیس لعنتیں تو معمولی بات پر اُن کا معمول تھا اور کبھی موج میں
آتے تو گن کر ہزار ہزار لعنتیں ایک سانس میں تقسیم کرکے اٹھتے، افسوس ہے کہ اس
53
دولت کی تقسیم میں مرزا آنجہانی جیسی فیاضی اب مرزائی خاندان میں نہیں رہی، غالباً یہ دولت مرزا صاحب کے
خاندان اور متعلقین میں تقسیم ہوکر رہ گئی، جناب مرزا طاہر احمد صاحب کو بھی حصہ رسدی ملی ہوگی، اس لئے انہوں نے
مولانا بنوری کو اس کا عطیہ دینے میں اپنے جد بزرگوار کی سی فیاضی کا مظاہرہ تو نہیں کیا، تاہم بخل سے بھی کام نہیں
لیا۔ اپنی بساط اور مقدور کے موافق انہوں نے خوب لعنت برسائی ہے، دعا کرنی چاہئے کہ حق تعالیٰ ان کی اس خاندانی دولت
میں دن دونی رات چوگنی ترقی فرمائے، اور دنیا و آخرت میں انہیں اس بیش بہا دولت سے مالا مال رکھے۔
باران لعنت کے سلسلہ میں جناب مرزا طاہر احمد صاحب کو ایک بہت ہی مخلصانہ و نیازمندانہ مشورہ دینا چاہتا ہوں، مشورہ
ذرا دقیق سا ہے، امید ہے اس پر توجہ فرمائیں گے۔ مشورہ یہ ہے کہ وہ لوگوں پر لعنت برسانے کا شوق تو ضرور فرمایا کریں
کہ یہ ان کا آبائی ترکہ ہے، اور کسی کو حق نہیں کہ انہیں اس میراث سے محروم کردے، مگر اس کے لئے قرآن کریم کی
آیت:’’لعنۃ اللہ علی الکاذبین‘‘ نہ پڑھا کریں۔ وجہ اس کی یہ ہے کہ حدیث میں آتا ہے:
’’رب قاری قرآن والقرآن یلعنہ۔‘‘
(مشکوٰۃ)
ترجمہ:۔۔۔’’بہت سے قرآن پڑھنے والے ایسے ہیں کہ قرآن ان پر لعنت کرتا ہے۔‘‘
اس حدیث کے مفہوم میں یہ بھی داخل ہے کہ ایک شخص خود ظالم ہے اور وہ قرآن مجید کی تلاوت کرتے ہوئے پڑھتا ہے: ’’الَا لعنۃ اللہ علی الظالمین۔‘‘ (ظالموں پر خدا کی لعنت) تو
54
درحقیقت وہ قرآن کی زبان سے خود اپنے آپ پر لعنت کر رہا ہے۔ اسی طرح ایک شخص خود جھوٹا ہے اور وہ آیت
کریمہ:’’لعنۃ اللہ علی الکاذبین‘‘ پڑھتا ہے تو نادانستہ اپنے پر لعنت کرتا ہے۔
یہ تو سب جانتے ہیں کہ مرزا آنجہانی کو نبی، مسیح، احمد اور محمد رسول اللہ کہنا یکسر خلاف واقعہ ہے (اسی کو جھوٹ
کہتے ہیں) اس لئے ان عقائد کے باوجود صاحبزادہ صاحب کا اس آیت کی تلاوت کرنا حدیث بالا کا مصداق ہے۔ بزعم خود وہ یہ
دولت دوسروں کو تقسیم کرتے ہیں مگر یہ آیت خود ان کے حق میں اس دولت کے اضافہ کا باعث بنتی ہے۔ گویا صاحبزادہ صاحب
اس آیت کو پڑھ کر خود اپنے اوپر بددعا کرتے ہیں، میرے خیال میں یہ اچھی بات نہیں، امید ہے وہ یہ خیرخواہانہ مشورہ
قبول کرکے آئندہ’’لعنۃ اللہ علی الکاذبین‘‘ کا مورد بننے سے احتراز فرمائیں گے، جتنی اب
تک انہیں مل چکی ہے وہی بہت ہے۔‘‘
وَاللہُ یَقُوْلُ الْحَقَّ وَھُوَ یَھْدِی السَّبِیْلَ
55
مرزا طاہر کے جواب میں
’’قادیانیوں میں جب مایوسی اور بے چینی کی لہر دوڑتی ہے تو ان کو مطمئن کرنے کے لئے قادیانی لیڈر کوئی نہ کوئی نیا
شوشہ چھوڑنے کے عادی ہیں، جس کا نتیجہ بالآخر ان کی مزید ذِلت و رُسوائی کی شکل میں نکلتا ہے، حال ہی میں قادیانیوں
کے لیڈر مرزا طاہر کی طرف سے ایک نئی حرکت مذبوحی صادر ہوئی ہے، اور وہ ہے دُنیا بھر کے تمام مسلمانوں کو مباہلہ کا
چیلنج، جس کا درج ذیل جواب راقم الحروف کی طرف سے مرزا طاہر کے نام بھیجا گیا۔‘‘
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ
اَلْحَمْدُ للہِ وَسَلَامٌ عَلٰی عِبَادِہِ الَّذِیْنَ اصْطَفٰی!
جناب مرزا طاہر صاحب!
سلام علیٰ من اتبع الہدیٰ
گزشتہ دنوں آپ کی طرف سے مباہلہ کا چیلنج شائع ہوا، میں اسے شاید لائقِ اِلتفات نہ سمجھتا، مگر طویل سفر سے واپسی
پر ڈاک میں اس کی ایک کاپی موجود پائی، جس میں بطورِ خاص مجھے مخاطب کیا گیا تھا، جس کا جواب بطورِ خاص مجھ پر لازم
ہوا۔ اس لئے جواباً چند نکات عرض کرتا ہوں:
۱:... سب سے پہلے اس پر آپ کا شکریہ ادا کرنا ضروری سمجھتا ہوں، کہ اس ناکارہ
56
کا نام دورِ حاضر کے مسیلمہ کذّاب مرزا غلام احمد قادیانی کے مخالفوں کی فہرست میں درج فرمایا۔ یہ دراصل
بہت بڑا اِعزاز ہے جسے قرآنِ کریم نے ان الفاظ میں ذکر فرمایا ہے:
’’یٰٓـاَیُّھَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا مَنْ یَّرْتَدَّ مِنْکُمْ عَنْ دِیْنِہٖ فَسَوْفَ یَأْتِی اللہُ بِقَوْمٍ
یُّحِبُّھُمْ وَیُحِبُّوْنَھُمْ، اَذِلَّۃٍ عَلَی الْمُؤْمِنِیْنَ اَعِزَّۃٍ عَلَی الْکٰفِرِیْنَ، یُجٰھِدُوْنَ
فِیْ سَبِیْلِ اللہِ وَلَا یَخَافُوْنَ لَوْمَۃَ لَآئِمٍ، ذٰلِکَ فَضْلُ اللہِ یُؤْتِیْہِ مَنْ یَّشَآءُ وَاللہُ
وَاسِعٌ عَلِیْمٌ۔‘‘
ترجمہ:... ’’اے ایمان والو! جو شخص تم میں سے اپنے دِین سے پھرجاوے تو اللہ تعالیٰ بہت جلد ایسی قوم
کو پیدا کردے گا جن سے اللہ تعالیٰ کو محبت ہوگی اور ان کو اللہ تعالیٰ سے محبت ہوگی، مہربان ہوں گے وہ مسلمانوں پر،
تیز ہوں گے کافروں پر، جہاد کرتے ہوں گے اللہ کی راہ میں، اور وہ لوگ کسی ملامت کرنے والے کی ملامت کا اندیشہ نہ
کریں گے، یہ اللہ تعالیٰ کا فضل ہے جس کو چاہیں عطا فرمائیں اور اللہ تعالیٰ بڑی وسعت والے ہیں، بڑے علم والے ہیں۔‘‘
اس آیتِ کریمہ میں مرتدین سے مقابلہ کرنے والے حضرات کے چھ اوصافِ عالیہ بیان فرمائے ہیں:
✨: ... اوّل یہ کہ وہ حق تعالیٰ شانہ‘ کے محبوب بندے ہیں۔
✨: ... دوم یہ کہ وہ حق تعالیٰ شانہ‘ کے سچے محب اور عاشق ہیں۔
✨: ... سوم یہ کہ وہ اہلِ ایمان کے حق میں نہایت پست اور متواضع ہیں۔
✨: ... چہارم یہ کہ وہ اہلِ کفر کے مقابلے میں نہایت سخت ہیں۔
✨: ... پنجم یہ کہ وہ اللہ تعالیٰ کے راستے میں جہاد کرتے ہیں اور امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کا فریضہ بجالاتے
ہیں۔
57
✨: ... ششم یہ کہ وہ دِین کے معاملے میں کسی ملامت گر کی پروا نہیں کرتے۔
آخر میں فرمایا کہ یہ حق تعالیٰ کا فضلِ خاص ہے جس کو چاہتے ہیں یہ فضل عطا فرمادیتے ہیں۔
اس آیتِ کریمہ کے اوّلین مصداق حضرت ابوبکر صدیق اور ان کے رُفقاء رضی اللہ عنہم تھے، جنہوں نے مسیلمہ کذّاب اور
دیگر مرتدین کا مقابلہ کیا، اور اس دور میں اس آیتِ کریمہ کا مصداق وہ حضرات ہیں جو مسیلمہ پنجاب مرزا غلام احمد
قادیانی مرتد اور اس کی ذُرّیت کا مقابلہ کر رہے ہیں۔ پس آپ کا اس ناکارہ کو مرزا غلام احمد قادیانی کے مخالفین میں
شمار کرنا، گویا اس امر کی شہادت ہے کہ یہ ناکارہ اس دور میں آیتِ کریمہ کا مصداق ہے، ظاہر ہے کہ یہ اس ناکارہ کے
بارے میں حق تعالیٰ شانہ‘ کے فضلِ عظیم کی شہادت و بشارت ہے، جس پر آپ کا جتنا شکریہ ادا کروں کم ہے۔
یہ ناکارہ آنحضرت خاتم النبیین و سیّد المرسلین صلی اللہ علیہ وسلم کا ادنیٰ ترین اور نالائق ترین اُمتی ہے، اور
اپنی رُوسیاہی و نالائقی میں پوری اُمتِ محمدیہ (علیٰ صاحبہا الف الف صلوٰۃ وسلام) میں شاید سب سے بڑھ کر ہے۔ ہمارے
حضرت اِمام العصر مولانا محمد انور شاہ کشمیری نوّر اللہ مرقدہٗ کے بقول:
-
کس نیست دریں اُمت تو آنکہ چوں احقر
با رُوئے سیاہ آمدہ و موئے زریری
ایسے نالائق و ناکارہ اُمتی کے لئے اس سے بڑھ کر کیا اِعزاز ہوسکتا ہے کہ اسے’’یُحِبُّھُمْ
وَیُحِبُّوْنَہٗ‘‘ کا مصداق بنادیا جائے، آپ کی تحریر سے اس ناکارہ کو توقع ہوگئی ہے کہ اِن شاء اللہ
آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اپنے اس ناکارہ و نالائق اُمتی کی شفاعت فرمائیں گے، جو قیامت کے دن ’’با رُوئے سیاہ
وموئے زریری‘‘ حاضر ہوگا۔
جب کبھی شوریدگانِ عشق کا ہوتا ہے ذِکر
اے زہے قسمت کہ ان کو یاد آجاتا ہوں میں!
58
بہرحال آپ نے مرزا قادیانی کے مخالفوں میں اس فقیر کا نام شامل کرکے مجھے بڑا اِعزاز بخشا ہے، اِن شاء اللہ آپ کی
یہ تحریر مجھے فردائے قیامت میں سندِ شفاعت کا کام دے گی، اس لئے آپ کے منہ میں گھی شکر۔۔۔!
۲:... مرزا غلام احمد قادیانی نے اپنے رسالے انجامِ آتھم میں اپنے اس عزم کا اظہار کیا تھا کہ آئندہ وہ علماء کو
مخاطب نہیں کرے گا، مرزا کے الفاظ یہ ہیں:
’’الیوم قضینا ما کان علینا من التبلیغات ۔... وازمعنا ان لَا نخاطب العلماء بعد ھٰذہ التوضیحات ۔... وھٰذہ منا
خاتمۃ المخاطبات۔‘‘
(ص:۲۸۲)
ترجمہ:... ’’ہمارے ذمہ جو تبلیغ فرض تھی آج ہم نے اس کا حق ادا کردیا، اور اَب ہمارا قصد یہ ہے کہ
ان توضیحات کے بعد ہم علماء کو مخاطب نہیں کریں گے، اور یہ ہماری طرف سے مخاطبات کا خاتمہ ہے۔‘‘
جب مرزا قادیانی ۱۸۹۷ء میں وعدہ کرچکا تھا کہ آئندہ ہم علماء کو خطاب نہیں کریں گے، تو کیا نوّے سال کے بعد یہ
وعدہ ... جو آپ کے عقیدے میں ’’وما ینطق عن الہویٰ ان ہو الّا وحی یوحٰی‘‘ کا مصداق
تھا... منسوخ ہوگیا یا آپ کے نزدیک مرزا کے وعدے وعید اور قول و فعل ایسے نہیں جن کی طرف التفات کرنا مرزا کی
ذُرّیت کے لئے ضروری ہو؟
۳:... آپ نے علمائے اُمت کو مباہلہ کا چیلنج دیا ہے۔ مباہلہ، دو فریقوں کے درمیان حق و باطل اور صدق و کذب کے
جانچنے کا آخری معیار ہے۔ کیا آپ کے نزدیک ایک صدی کا عرصہ گزرجانے کے باوجود مرزا غلام احمد قادیانی کا صدق و کذب
اب تک مشتبہ ہے کہ آپ اس کے لئے مباہلہ کرنے چلے ہیں...؟ آپ کو یا آپ کی جماعت کو اَب تک اس معاملے میں اشتباہ ہو
تو ہو، لیکن الحمدللہ اُمتِ اسلامیہ کو اور اُمت کے اس نالائق
59
ترین فرد کو مرزا قادیانی کے جھوٹا ہونے میں ادنیٰ سے ادنیٰ شبہ نہیں، اُمتِ اسلامیہ کا قطعی و اجماعی
عقیدہ و ایمان ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد نبوّت کا دعویٰ کرنے والا بلاشک و شبہ جھوٹا، مرتد اور
زِندیق ہے، اور وہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشاد: ’’ثلاثون کذّابون کلّھم یزعم انہ رسول
اللہ‘‘ کی صف میں شامل ہے۔ حق تعالیٰ شانہ‘ نے اپنی قدرتِ کاملہ اور حکمتِ بالغہ سے مرزا غلام احمد قادیانی
مسیلمہ پنجاب کے جھوٹا ہونے پر ایسے بے شمار قطعی دلائل و شواہد جمع کردئیے ہیں جن سے مرزا کا کذب آفتاب نصف النہار
کی طرح عیاں ہوچکا ہے۔ ان دلائل کی روشنی میں مرزا کا کذّاب ہونا کسی ایسے شخص پر مخفی نہیں رہ سکتا جس کے دِل میں
نورِ اِیمان کی معمولی روشنی باقی ہو، اور جس کی دِل کی آنکھیں یکسر بند نہ ہوگئی ہوں، ہاں! جو شخص اِرشادِ
خداوندی:
’’وَمَنْ کَانَ فِیْ ھٰذِہٖٓ اَعْمٰی فَھُوَ فِی الْآخِرَۃِ اَعْمٰی وَاَضَلُّ سَبِیْلًا۔‘‘
ترجمہ:... ’’اور جو شخص دُنیا میں اندھا رہے گا، سو وہ آخرت میں بھی اندھا رہے گا، اور زیادہ راہ گم
کردہ ہوگا۔‘‘
کا مصداق ہو، اس کے لئے سیاہ و سفید اور صدق و کذب کے درمیان امتیاز ممکن نہیں۔ مرزا کے جھوٹ کے لئے یہی کافی ہے کہ
اس نے اپنی نام نہاد وحی کے ذریعے اعلان کیا تھا کہ محترمہ محمدی بیگم کا آسمان پر اس سے نکاح ہوچکا ہے، اور وہ
۱۸۸۸ء سے لے کر ۱۹۰۷ء تک اس نکاح کی منادی کرتا رہا، اور اسی نکاح کو پکا ثابت کرنے کے لئے اس نے ضمیمہ انجامِ آتھم
میں یہاں تک لکھ دیا:
’’یاد رکھو کہ اگر اس پیش گوئی کی دُوسری جزو پوری نہ ہوئی (یعنی محمدی بیگم بیوہ ہوکر مرزا کے نکاح میں نہ آئی)
تو میں ہر ایک بد سے بدتر ٹھہروں گا۔ اے احمقو! یہ انسان کا اِفترا نہیں، یہ کسی خبیث مفتری کا کاروبار نہیں، یقینا
سمجھو کہ یہ خدا کا سچا وعدہ ہے، وہی خدا
60
جس کی باتیں نہیں ٹلتیں، وہی رَبِّ ذوالجلال جس کے اِرادوں کو کوئی روک نہیں سکتا۔‘‘
(ضمیمہ انجامِ آتھم ص:۵۴، رُوحانی خزائن ج:۱۱ ص:۳۳۸)
ہمارا بھی اِیمان ہے کہ خدا کی باتیں نہیں ٹلتیں، اس کے سب وعدے سچے ہوتے ہیں، ان میں کبھی تخلّف نہیں ہوسکتا، اور
اس کے اِرادوں کو کوئی نہیں روک سکتا۔ لیکن ہم دیکھتے ہیں کہ پیش گوئی کی دُوسری جزو پوری نہیں ہوئی اور اللہ تعالیٰ
کے فضل و کرم سے محمدی بیگم کا سایہ دیکھنا بھی مرزا کو نصیب نہ ہوا۔ جس سے قطعی طور پر ثابت ہوا کہ یہ خبیث مفتری
مرزا غلام احمد قادیانی کا اِفترا تھا اور وہ اپنے اِقرار کے بموجب ہر بد سے بدتر ہے۔ یہودی، نصرانی، ہندو، سکھ او
رچوہڑے چمار بھی غیرمسلم ہیں، بُرے ہیں، مگر مرزا باقرارِ خود ان سے بھی بدتر ہے۔ کیا اس خدائی فیصلے اور مرزا کی
اپنی تحریر کے بعد بھی مرزا کے جھوٹا، مفتری اور ہر بد سے بدتر ہونے میں کوئی شک رہ جاتا ہے...؟ یہ میں نے صرف ایک
مثال ذکر کی ہے، ورنہ اللہ تعالیٰ نے مرزا کو جھوٹا اور رُوسیاہ کرنے کے لئے سینکڑوں نہیں ہزاروں دلائل جمع کردئیے۔
۴:... دیگر دلائل کے علاوہ مرزا غلام احمد قادیانی نے لوگوں سے مباہلہ بھی کئے، جن کے نتیجے میں اللہ تعالیٰ نے
مرزا کا مسیحِ کذّاب ہونا کھلے طور پر واضح فرمادیا، مثلاً:
الف:... مرزا قادیانی نے ایک عیسائی پادری ڈپٹی آتھم سے پندرہ دن تک مناظرہ کیا، جب مرزا اپنے مضبوط حریف سے عہدہ
برآ نہ ہوسکا تو جنابِ اِلٰہی سے فیصلے کا طالب ہوا، بقول اس کے خدا نے یہ فیصلہ کیا کہ دونوں فریقوں میں سے جو
جھوٹ پر ہے وہ آج کی تاریخ (۵؍جون ۱۸۹۳ء) سے پندرہ مہینے کے اندر ہاویہ میں گرایا جائے گا۔
اس مباہلہ کی پیش گوئی کا اعلان کرتے ہوئے مرزا نے لکھا:
’’ میں اس وقت اِقرار کرتا ہوں کہ اگر یہ پیش گوئی جھوٹی نکلی، یعنی وہ فریق جو خدا تعالیٰ کے نزدیک جھوٹ پر ہے،
پندرہ ماہ کے
61
عرصے میں آج کی تاریخ سے بسزائے موت ہاویہ میں نہ پڑے تو میں ہر ایک سزا اُٹھانے کے لئے تیار ہوں، مجھ کو
ذلیل کیا جاوے، رُوسیاہ کیا جاوے، میرے گلے میں رسہ ڈال دیا جاوے، مجھ کو پھانسی دیا جاوے، ہر ایک بات کے لئے تیار
ہوں۔‘‘
(جنگِ مقدس آخری صفحہ)
میعاد گزرتی گئی اور قادیانی اُمت کو یقین تھا کہ ان کے مسیحِ کذّاب کی پیش گوئی کے مطابق آتھم پندرہ مہینے کے
اندر ضرور مرجائے گا، کیونکہ مرزا نے یہ بھی لکھا تھا:
’’اور میں اللہ جل شانہ‘ کی قسم کھاکر کہتا ہوں کہ وہ ضرور ایسا ہی کرے گا، ضرور کرے گا، ضرور کرے گا، زمین و
آسمان ٹل جائیں گے پر اس کی باتیں نہ ٹلیں گی۔‘‘
(ایضاً)
’’اگر میں جھوٹا ہوں تو میرے لئے سولی تیار رکھو، اور تمام شیطانوں اور بدکاروں اور لعنتیوں سے زیادہ مجھے لعنتی
قرار دو۔‘‘
(ایضاً)
لیکن جب میعاد میں صرف ایک رات باقی رہ گئی تو قادیان میں پوری رات شورِ قیامت برپا رہا، اور سب مرد و زَن، چھوٹے
بڑے اللہ تعالیٰ کے سامنے ناک رگڑتے ہوئے یہ بین کر رہے تھے کہ: ’’یا اللہ! آتھم مرجائے، یا اللہ! آتھم مرجائے‘‘
(’’الفضل‘‘ ۲۰؍جولائی ۱۹۴۰ء) اور سب کو یقین تھا کہ آج سورج طلوع نہیں ہوگا کہ آتھم مرجائے گا۔ مرزا غلام احمد
قادیانی نے آتھم کو مارنے کے لئے ٹونے ٹوٹکے بھی کئے اور چنے پڑھواکر اندھے کنویں میں ڈلوائے (سیرۃ المہدی ج:۲
ص:۱۷۸۰) لیکن ان تمام تدبیروں، دُعاؤں اور شور و غوغا کے باوجود اللہ تعالیٰ نے آتھم کو مرنے نہیں دیا ـــــ اللہ
تعالیٰ نے اپنے فعل سے ثابت کردیا کہ:
✨: ... مرزا قادیانی کی یہ پیش گوئی خدا کی طرف سے نہیں تھی بلکہ مرزا کا اپنا اِفترا تھا۔
✨: ... مرزا قادیانی اور ڈپٹی آتھم دونوں جھوٹے تو تھے ہی مگر مرزا، آتھم سے بڑا جھوٹا تھا، اللہ تعالیٰ کی نظر
میں مرزا قادیانی اس سزا کا مستحق تھا جو اس نے خود اپنے قلم سے
62
تجویز کی تھی، یعنی:
✨: ... اس کو ذلیل کیا جائے۔
✨: ... رُوسیاہ کیا جائے۔
✨: ... اس کے گلے میں رسہ ڈالا جائے۔
✨: ... اس کو پھانسی پر لٹکایا جائے۔
✨: ... اور جو سزا ممکن ہوسکتی ہے اس کو دی جائے۔
کیا اس خدائی فیصلے کے بعد بھی مرزا کو جھوٹا ثابت کرنے کے لئے کسی مباہلہ کی ضرورت رہ جاتی ہے...؟
ب:... ۱۰؍ذیقعدہ ۱۳۱۰ھ کو اَمرتسر کی عیدگاہ کے میدان میں مرزا قادیانی نے حضرت مولانا عبدالحق غزنوی مرحوم و مغفور
سے رُوبرو مباہلہ کیا، اس کا فیصلہ بھی اللہ تعالیٰ نے دے دیا کہ مرزا قادیانی حضرت مولانا موصوف کے سامنے ایڑیاں
رگڑ رگڑ کر مرگیا، اور مولانا موصوف مرزا کے مرنے کے بعد بھی سلامت باکرامت رہے، کیا اس کے بعد بھی مرزا کو جھوٹا
ثابت کرنے کے لئے کسی آسمانی شہادت کی ضرورت ہے؟
ج:... ۱۵؍اپریل ۱۹۰۷ء کو مرزا قادیانی نے حضرت مولانا ثناء اللہ امرتسریؒ فاتحِ قادیان کے خلاف مباہلہ کا اشتہار
شائع کیا جس کا عنوان تھا:
’’مولوی ثناء اللہ صاحب امرتسری کے ساتھ آخری فیصلہ‘‘
اس میں مرزا نے اللہ تعالیٰ سے نہایت تضرّع و اِبتہال کے ساتھ گڑگڑاکر مکرّر سہ کرّر یہ دُعا و اِلتجا کی تھی کہ ہم
دونوں میں سے جو جھوٹا ہے وہ سچے کی زندگی میں ہلاک ہوجائے۔ ’’مگر نہ انسانی ہاتھوں سے، بلکہ طاعون و ہیضہ وغیرہ
امراضِ مُہلکہ سے۔‘‘ اور اس اشتہار میں مولانا مرحوم کو مخاطب کرکے مرزا نے لکھا:
’’اگر میں ایسا ہی کذّاب و مفتری ہوں جیسا کہ آپ اپنے ہر ایک پرچے میں مجھے یاد کرتے ہیں تو میں آپ کی زندگی میں
ہی
63
ہلاک ہوجاؤں گا، کیونکہ میں جانتا ہوں کہ مفسد اور کذّاب کی بہت عمر نہیں ہوتی، اور آخر وہ ذِلت اور حسرت
کے ساتھ اپنے اَشد دُشمنوں کی زندگی میں ہی ناکام ہلاک ہوجاتا ہے، اور اس کا ہلاک ہونا ہی بہتر ہوتا ہے تاکہ وہ خدا
کے بندوں کو تباہ نہ کرے۔
اور اگر میں کذّاب اور مفتری نہیں ہوں، اور خدا کے مکالمے اور مخاطبے سے مشرف ہوں، اور مسیحِ موعود ہوں تو میں خدا
کے فضل سے اُمید رکھتا ہوں کہ سنت اللہ کے موافق آپ مکذبین کی سزا سے نہیں بچیں گے۔
پس اگر وہ سزا جو اِنسان کے ہاتھوں سے نہیں، بلکہ محض خدا کے ہاتھوں سے ہے جیسے طاعون، ہیضہ وغیرہ، مہلک بیماریاں،
آپ پر میری زندگی میں ہی وارِد نہ ہوئیں تو میں خدا تعالیٰ کی طرف سے نہیں۔
یہ کسی اِلہام یا وحی کی بنا پر پیش گوئی نہیں، محض دُعا کے طور پر میں نے خدا سے فیصلہ چاہا ہے۔‘‘
اور اس اشتہار کے آخر میں مرزا قادیانی نے لکھا:
’’بالآخر مولوی صاحب سے اِلتماس ہے کہ وہ میرے اس تمام مضمون کو اپنے پرچے میں چھاپ دیں، اور جو چاہیں اس کے نیچے
لکھ دیں، اب فیصلہ خدا کے ہاتھ میں ہے۔‘‘
(مجموعہ اشتہارات ج:۳ ص:۵۷۹)
مرزا قادیانی نے نہایت آہ و زاری کے ساتھ گڑگڑاکر اللہ تعالیٰ سے جو فیصلہ طلب کیا تھا، اس کا نتیجہ سب کے سامنے
آگیا کہ مرزا ۲۵؍مئی ۱۹۰۸ ء کو رات دس بجے تک چنگا بھلا تھا، شام کا کھانا کھایا اور رات دس بجے کے بعد اچانک خدائی
عذاب یعنی وبائی ہیضے میں مبتلا ہوا، اور دونوں راستوں سے غلیظ مواد خارج ہونا شروع ہوا، چند ہی گھنٹوں میں
64
زبان بند ہوگئی اور بارہ گھنٹوں کے اندر ۲۶؍مئی ۱۹۰۸ء کو ہلاک ہوگیا۔ جبکہ حضرت مولانا ثناء اللہ امرتسری
مرحوم و مغفور، مرزا کی ہلاکت کے بعد اِکتالیس سال تک ماشاء اللہ زندہ و سلامت رہے، اور قیامِ پاکستان کے بعد ۱۹۴۹ء
میں سرگودھا میں واصل بحق ہوئے، رحمہ اللہ رحمۃ واسعۃ!
اس خدائی فیصلے اور مرزا کی منہ مانگی موت نے ثابت کردیا کہ وہ مفتری اور کذّاب تھا، مسیحِ موعود نہیں تھا، اور یہ
کہ وہ خدا کی طرف سے نہیں، بلکہ شیطان کی طرف سے تھا۔
مرزا طاہر صاحب! کیا اس خدائی فیصلے کے بعد بھی کسی مباہلہ کی ضرورت باقی رہ جاتی ہے...؟
۵:... آج آپ علمائے اُمت کو مباہلہ کے لئے بلاتے ہیں، کیا آپ کو یاد نہیں رہا کہ نصف صدی تک آپ کے ابا مرزا
محمود کو مباہلہ کے مسلسل چیلنج دئیے جاتے رہے اور مرزا محمود نے ان میں سے کسی ایک کا سامنا کرنے کی جرأت نہیں کی،
اس کی بھی چند مثالیں سن لیجئے:
الف:... مولانا عبدالکریم مباہلہ نے مرزا محمود پر بدکاری کا اِلزام لگایا، اسے بار بار مباہلہ کا چیلنج دیا، اور
اس کے لئے ’’مباہلہ‘‘ نامی اخبار جاری کیا، مرزا محمود نے مباہلہ کا چیلنج قبول کرنے کے بجائے مولانا عبدالکریم کو
ظلم و ستم کا نشانہ بنایا، ان کا مکان جلادیا گیا، ان پر قاتلانہ حملہ کرایا گیا اور بالآخر ان کو قادیان چھوڑنے پر
مجبور کردیا۔
اگر مرزا محمود میں حق و صداقت کی کوئی رمق تھی تو اس نے مولانا عبدالکریم مباہلہ کا چیلنج کیوں قبول نہیں کیا؟
مولانا عبدالکریم مرحوم کی بہن سکینہ جو مرزا محمود کے گناہ کا تختۂ مشق بنی، شاید آج زندہ ہے۔
ب:... عبدالرحمن مصری، مرزا محمود کا ایسا وفادار اور مقرّب مرید تھا کہ مرزا محمود کی غیرحاضری میں وہ قادیان میں
’’قائم مقام خلیفہ‘‘ تک بنایا گیا۔ غالباً ۱۹۳۶ء میں مرزا محمود نے اس کی اولاد کو اپنی ہوس کا نشانہ بنایا،
عبدالرحمن مصری نے مرزا محمود سے اس معاملے کی
65
تحقیقات کے لئے جماعت کے چند سرکردہ افراد پر مشتمل کمیشن مقرّر کرنے کا مطالبہ کیا، جس کے سامنے وہ اپنے
الزامات ثابت کرسکے۔ مرزا محمود نے اس مطالبے کو تسلیم کرنے کے بجائے عبدالرحمن مصری اور اس کے ساتھی فخرالدین
ملتانی کو ظلم و جور کا نشانہ بنایا، ملتانی کو قتل کردیا گیا اور مصری پر نقص امن کے تحت مقدمات دائر کردئیے گئے۔
عبدالرحمن مصری نے عدالتِ عالیہ لاہور میں بیان دیتے ہوئے کہا:
’’موجودہ خلیفہ سخت بدچلن ہے، یہ تقدس کے پردے میں عورتوں کا شکار کھیلتا ہے، اس کام کے لئے اس نے بعض مردوں اور
بعض عورتوں کو بطورِ ایجنٹ رکھا ہوا ہے، ان کے ذریعے یہ معصوم لڑکیوں لڑکوں کو قابو کرتا ہے، اس نے ایک سوسائٹی
بنائی ہوئی ہے، اس میں مرد اور عورتیں شامل ہیں، اور اس سوسائٹی میں زنا ہوتا ہے۔‘‘
عبدالرحمن مصری نے مرزا محمود کے نام ایک خط میں یہ بھی لکھا تھا:
’’میں آپ کے پیچھے نماز نہیں پڑھ سکتا، کیونکہ مجھے مختلف ذرائع سے یہ علم ہوچکا ہے کہ آپ ’’جنبی‘‘ ہونے کی حالت
میں ہی بعض دفعہ نماز پڑھانے آجاتے ہیں۔‘‘
(کمالاتِ محمودیہ)
ان تمام غلیظ الزامات کے باوجود مرزا محمود کو عبدالرحمن مصری کا سامنا کرنے کی جرأت نہ ہوئی اور اسے مصری کی دعوت
کو قبول کرنا موت سے بدتر نظر آیا۔ کیا اس سے کھلے طور پر یہ نتیجہ نہیں نکلتا کہ اس کا انگ انگ اور بند بند نجس
تھا؟ اور کیا اس کے بعد بھی کسی عقل مند کو اس کے جھوٹا اور نجس ہونے میں کوئی شبہ رہ سکتا ہے...؟
ج:... پھر آپ ہی کی جماعت کے ایک منحرف گروہ نے ’’حقیقت پسند پارٹی‘‘ تشکیل دی، جس نے مرزا محمود پر سنگین اخلاقی
الزامات عائد کئے، انہوں نے ’’تاریخ محمودیت‘‘ نامی کتاب لکھی، جس میں مرزا محمود کی بدکاریوں پر ۲۸ قادیانی مردوں
اور عورتوں کی مؤکد بعذاب حلفیہ شہادتیں قلم بند کی گئیں، اور ان حلفیہ شہادتوں میں یہاں تک
66
لکھا گیا کہ مرزا اپنی بیٹیوں کی بھی عصمت دری کرتا ہے، اور یہ کہ اپنی آنکھوں کے سامنے اپنی بیوی سے
بدکاری کراتا ہے۔ ’’تاریخ محمودیت‘‘ میں مرزا محمود کو مباہلہ کا چیلنج دیا گیا، اور ان مؤکد بعذاب حلفیہ شہادتوں
کے مقابلے میں اس سے مؤکد بعذاب حلف اُٹھانے کا مطالبہ کیا گیا۔
پھر یہی مضمون راحت ملک کی کتاب ’’ربوہ کا مذہبی آمر‘‘ میں، شفیق مرزا کی کتاب ’’شہر سدوم‘‘ میں، اور مرزا محمد
حسین بی کام کی کتاب ’’منکرینِ ختمِ نبوّت کا انجام‘‘ میں دُہرایا گیا۔ اور مرزا محمود سے حلف مؤکد بعذاب کے ساتھ
ان واقعات کی تردید کرنے کا مطالبہ کیا گیا، لیکن مرزا محمود نے ان میں سے کسی چیلنج کا جواب نہ دیا اور اس پر سکوتِ
مرگ طاری رہا۔ البتہ اپنے بھولے بھالے خوش عقیدہ مریدوں کو ان کتابوں کے نہ پڑھنے کا ’’سرکاری فرمان‘‘ جاری کردیا۔
کیا اہلِ عقل اس سے یہ نتیجہ اخذ نہیں کریں گے کہ مرزا محمود کے اخلاق خد و خال وہی تھے جو ان کتابوں میں حلفیہ
شہادتوں کے ذریعے بار بار دُہرائے گئے ہیں۔ مرزا طاہر صاحب! کیا اسی ’’خاندانی تقدس‘‘ کے بل بوتے پر آپ علمائے اُمت
کو مباہلہ کی دعوت دینے چلے ہیں؟
-
بادۂ عصیاں سے دامن تر بہ تر ہے شیخ کا
اس پہ دعویٰ ہے کہ اِصلاحِ دو عالم ہم سے ہے
مرزا طاہر صاحب! اگر آپ کا خیال ہے کہ آپ کے باپ پر ’’حقیقت پسند پارٹی‘‘ کے الزامات غلط ہیں، تو آپ نے ان کے
مطالبے ’’حلف مؤکد بعذاب‘‘ اُٹھاکر ان الزامات کی تردید کرنے اور مباہلہ کرنے کی جرأت آج تک کیوں نہیں کی؟
د:... آپ کی جماعت میں کسی اور کو معلوم ہو یا نہ ہو، لیکن آپ کو تو یقینا معلوم ہوگا کہ آپ کے ابا کی موت کن
عبرت ناک حالات میں ہوئی، اور وہ اپنی زندگی کے آخری گیارہ سالوں میں ایک طویل عرصے تک کس طرح مرقعِ عبرت بنا رہا،
خصوصاً اس کے آخری دورِ اَیام میں اس کی کیفیت کیا تھی؟ اور اس کی موت کیسی عبرت ناک ہوئی...؟
67
اور پھر یاد ہوگا کہ آپ کے بڑے بھائی مرزا ناصر کی ناگہانی موت کس طرح واقع ہوئی؟ آپ کے اسلام آباد کے ’’قصرِ
خلافت‘‘ کے سامنے ہونے والے جلسے میں شیرِ ختمِ نبوّت رفیقِ محترم مولانا اللہ وسایا زِید مجدہٗ نے آپ کی ہمشیرہ
صاحبہ کا جو خط پڑھ کر سنایا تھا، اس کا کیا مضمون تھا جس کو سن کر مرزا ناصر صدمے کی تاب نہ لاسکا اور یکایک اس کی
حرکتِ قلب بند ہوگئی؟
مرزا طاہر صاحب! کیا آپ اپنے بھائی، اپنے باپ اور اپنے دادا کی عبرت ناک موتوں کو بچشمِ خود دیکھنے اور سننے کے
بعد بھی آپ کے لئے کسی مزید سامانِ عبرت کی ضرورت ہے کہ آپ علمائے اُمت سے مباہلہ کرنے چلے ہیں؟ کیا آپ یہ دُعا
کرنے کی جرأت کریں گے کہ اللہ تعالیٰ آپ کو آپ کے باپ اور دادا کی سی موت نصیب کرے...؟
۶:... رفیقِ محترم جناب مولانا منظور احمد صاحب چنیوٹی مدظلہ العالی آپ کے ابا مرزا محمود کو اس کی زندگی میں ہر
سال مباہلہ کی دعوت دیتے رہے، اس کی عبرت ناک موت کے بعد آپ کے بھائی مرزا ناصر کو ہر سال مباہلہ کا چیلنج دیتے
رہے، اور اس کی ناگہانی موت کے بعد خود آپ کو بھی اِلتزام کے ساتھ ہر سال مباہلہ کی کھلی دعوت دیتے رہے، انہوں نے
متعدّد بار ویمبلے ہال لندن (Wembley Hall London) میں بھی آپ کو دعوت دی، لیکن آپ کے باپ کو، آپ کے بھائی کو اور
خود آپ کو آج تک اس چیلنج کا سامنا کرنے کی جرأت نہیں ہوئی، کیا اس کا صاف صاف مطلب یہ نہیں کہ آپ کو اپنے اور
اپنے باپ دادا کے جھوٹا ہونے کا حق الیقین ہے...؟
مرزا طاہر صاحب! علمائے اُمت کو مباہلہ کا چیلنج دینے سے پہلے کیا آپ کا فرض نہیں تھا کہ آپ یہ تمام قرضے ادا
کردیتے جو آپ کے اور آپ کے باپ دادا کے ذمے واجب الادا ہیں...؟
۷:... آپ نے اس فقیر کو مباہلہ کی دعوت دی ہے، یہ فقیر اس کے لئے بسر وچشم حاضر ہے، لیکن مباہلہ کا وہ طریقہ نہیں
جو آپ نے اِختیار کیا ہے، اور جس کی آپ نے علمائے
68
اُمت کو دعوت دی ہے کہ وہ بھی آپ کی طرح گھر بیٹھے آپ پر لعنتیں بھیجتے رہیں اور اخباروں اور رِسالوں میں
لعنت کی پتنگ بازی کرتے پھریں۔ گھر بیٹھ کر چرخہ چلانا عورتوں کا مشغلہ ہے اور کاغذی پتنگ بازی بچوں کا کھیل ہے۔
مباہلہ کا طریقہ وہ ہے جو قرآنِ کریم نے آیتِ مباہلہ میں بیان فرمایا ہے کہ دونوں فریق اپنی عورتوں، بچوں اور
اپنے متعلقین کو لے کر میدان میں نکلیں، چنانچہ اس آیت کی تعمیل میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نصاریٔ نجران کے
مقابلے میں نکلے اور ان کو نکلنے کی دعوت دی۔ اور خود آپ کا دادا مرزا غلام احمد قادیانی، حضرت مولانا عبدالحق
غزنوی مرحوم و مغفور کے مقابلے میں عیدگاہ امرتسر کے میدان میں نکلا۔
فقیر کے مقابلے میں مردِ میدان بن کر آئیے۔۔۔!
اگر آپ اس فقیر کو مباہلہ کی دعوت دینے میں سنجیدہ ہیں تو بسم اللہ! آئیے مردِ میدان بن کر میدانِ مباہلہ میں قدم
رکھئے، تاریخ، وقت اور جگہ کا اعلان کردیجئے کہ فلاں وقت، فلاں جگہ مباہلہ ہوگا، پھر اپنے بیوی بچوں اور متعلقین کو
ساتھ لے کر مقرّرہ وقت پر میدانِ مباہلہ میں آئیے، یہ فقیر بھی اِن شاء اللہ اپنے بیوی بچوں اور متعلقین کو ساتھ لے
کر وقتِ مقرّرہ پر پہنچ جائے گا۔
اور بندہ کے خیال میں مباہلہ کے لئے درج ذیل تاریخ، وقت اور جگہ سب سے زیادہ موزوں ہوگی:
تاریخ:۔۔۔ ۲۳؍مارچ ۱۹۸۹ء
دن:۔۔۔ جمعرات
وقت:۔۔۔ دو بجے بعد از نمازِ ظہر
جگہ:۔۔۔ مینارِ پاکستان لاہور
میں نے اس کو بہترین تاریخ، وقت اور جگہ اس لئے کہا کہ آپ کو یاد ہوگا کہ آپ
69
کے دادا مسیلمہ پنجاب مرزا غلام احمد قادیانی نے ۲۳؍مارچ ۱۸۸۹ء کو لدھیانہ میں اپنی دجالی بیعت کا سلسلہ
شروع کیا تھا، گویا ۲۳؍مارچ ۱۹۸۹ء کی تاریخ آپ کے مسیحِ دجال کی صدسالہ تقریب ہے اور اس نے لدھیانہ میں سلسلۂ بیعت
کا آغاز کیا تھا، میدانِ مباہلہ میں آپ کا مقابلہ بھی لدھیانوی سے ہوگا، اس طرح بابِ لد پر مسیحِ دجال کو قتل کیا
جائے گا۔
ظہر کے بعد کا وقت میں نے اس لئے تجویز کیا کہ حدیثِ نبوی کے مطابق اس وقت فتح و نصرت کی ہوائیں چلتی ہیں۔ اور جگہ
کے لئے مینارِ پاکستان کا تعین اس لئے کیا ہے کہ پاکستان میں اس سے بہتر اور کشادہ جگہ اِجتماع کے لئے شاید کوئی اور
نہیں ہوگی۔ علاوہ ازیں ۲۳؍مارچ کی تاریخ یومِ پاکستان بھی ہے۔ یومِ پاکستان کو مینارِ پاکستان پر اِجتماع نہایت
مناسب ہے۔ تاہم مجھے اس تاریخ، وقت اور جگہ پر اِصرار نہیں، بلکہ تاریخ، وقت اور جگہ کی تعیین کو آپ کی صوابدید پر
چھوڑتا ہوں، آپ جو تاریخ، وقت اور پاکستان میں مقامِ مباہلہ مناسب سمجھیں، تجویز کرکے مجھے اِطلاع دیں۔
یہ فقیر اُمتِ محمدیہ کا ادنیٰ ترین خادم ہے اور آپ چشمِ بددُور ’’اِمامِ جماعتِ احمدیہ‘‘ ہیں، اس فقیر کو اپنے
ضعف و قصور کا اِعتراف ہے اور آپ کو اپنی اِمامت و زعامت اور تقدس پر ناز ہے، لیکن ۔۔۔الحمدللہ ثم الحمدللہ... یہ
فقیر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے غلاموں کا ادنیٰ غلام ہے، اور آپ جھوٹے مسیح کے جانشین ہیں۔ یہ فقیر سیّدِ
دوعالم صلی اللہ علیہ وسلم کے دامن رحمۃ للعالمینی سے وابستہ ہے، اور آپ دورِ حاضر کے مسیلمہ کذّاب کے دُم چھلا
ہیں۔ یہ فقیر اپنی نالائقی کا اِعترافِ تقصیر لے کر میدانِ مباہلہ میں قدم رکھے گا، آپ اپنی اِمامت وزعامت اور تقدس
پر ناز کرتے ہوئے آئیے۔ میں حضرت خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم کی ختمِ نبوّت کا عَلم اُٹھائے ہوئے آؤں گا،
آپ مرزا غلام احمد قادیانی کی جھوٹی نبوّت و مسیحیت کا سیاہ جھنڈا لے کر آئیے۔
آئیے! اس فقیر کے مقابلے میں میدانِ مباہلہ میں قدم رکھئے اور پھر میرے مولائے کریم کی غیرت و جلال اور قہری تجلی
کا کھلی آنکھوں تماشا دیکھئے۔
70
آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے نصاریٰ نجران کے بارے میں فرمایا تھا کہ اگر وہ مباہلہ کے لئے نکل آتے تو ان
کے درختوں پر ایک پرندہ بھی زندہ نہ بچتا۔
آئیے! آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ایک ادنیٰ اُمتی کے مقابلے میں میدانِ مباہلہ میں نکل کر آنحضرت صلی اللہ
علیہ وسلم کی ختمِ نبوّت کا اعجاز ایک بار پھر دیکھ لیجئے۔
اس ناکارہ کا خیال ہے کہ آپ آگ کے اس سمندر میں کودنا کسی حال میں قبول نہیں کریں گے، اپنے باپ دادا کی طرح ذِلت
کی موت مرنا پسند کریں گے، لیکن آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے اس نالائق اُمتی کے مقابلے میں میدانِ مباہلہ میں
اُترنے کی جرأت نہیں کریں گے۔
ایک گزارش
۸:... یہ ذکر کردینا ضروری ہے کہ اس ناکارہ کو یا دیگر علمائے اُمت کو آپ سے یا آپ کے باپ دادا سے کوئی ذاتی عناد
نہیں، نہ کسی جائیداد کا جھگڑا ہے، نہ کسی ریاست کا تنازع ہے، واللہ العظیم! ہم آپ کے خیرخواہ ہیں، اور نہایت
دردمندی ودِل سوزی سے چاہتے ہیں کہ آپ دوزخ کی آگ سے بچ جائیں۔ مرزا قادیانی کے دجل و فریب اور مکاری و عیاری کی
دھجیاں اس لئے بکھیرتے ہیں تاکہ اُمتِ محمدیہ ۔۔۔صلی اللہ علیٰ صاحبہا وسلم... کے ایمان کو بچایا جاسکے اور آپ کی
جماعت کے افراد کو دوزخ کی جلتی آگ سے نکالا جاسکے۔ خدا شاہد ہے کہ ہمارا یہ عمل محض رِضائے اِلٰہی کے لئے اور آپ
کی اور اُمتِ محمدیہ ۔۔۔صلی اللہ علیٰ صاحبہا وسلم... کی خیرخواہی کے لئے ہے۔ ہماری یہ خیرخواہی آپ لوگوں کو مرنے
کے بعد معلوم ہوگی۔ میں آج پھر آپ سے اور آپ کی جماعت کے ایک ایک فرد سے نہایت اِخلاص و خیرخواہی اور دِل سوزی و
دردمندی کے ساتھ کہتا ہوں کہ آپ لوگ راستے سے بھٹک گئے ہیں، مرزا غلام احمد قادیانی مسیحِ موعود نہیں، آنحضرت صلی
اللہ علیہ وسلم
71
نے جس مسیح کے قربِ قیامت میں آنے کی خبر دی ہے، وہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام ہیں، حضرت مسیح علیہ السلام نے
فرمایا تھا:
’’خبردار! کوئی تم کو گمراہ نہ کردے، کیونکہ بہتیرے میرے نام پر آئیں گے اور کہیں گے میں مسیح ہوں، اور بہت سے
لوگوں کو گمراہ کریں گے۔‘‘
(متی ۴۱۲۴-۵)
مرزا غلام احمد قادیانی بھی انہی لوگوں میں سے تھا جنہوں نے مسیح ہونے کا دعویٰ کرکے بہت سے لوگوں کو گمراہ کیا۔
مرزا غلام احمد نے یا آپ لوگوں نے جو تأویلات ایجاد کر رکھی ہیں وہ محض نفس و شیطان کا دھوکا ہے، یہ تأویلیں نہ
قبر میں منکر نکیر کے آگے چلیں گی اور نہ فردائے قیامت میں داورِ محشر کے سامنے کام دیں گی۔
مرزا طاہر صاحب! آپ کے لئے اپنی امامت و امارت اور خاندانی گدی کو چھوڑ کر حق کا اِختیار کرنا بے شک مشکل کام ہے،
لیکن اگر آپ محض رِضائے اِلٰہی کے لئے حق کو اختیار کرلیں تو حق تعالیٰ شانہ‘ آپ کو دُنیا و آخرت میں اس کا ایسا
بہترین بدلہ عطا فرمائیں گے کہ اس کے مقابلے میںآپ کی موجودہ ریاست و امارت ہیچ درہیچ ہے۔ اور اگر آپ نے ریاست کو
حق پر ترجیح دی تو مرنے کے بعد ایسی ذِلت اور ایسے عذاب کا سامنا کرنا ہوگا جس کے سامنے موجودہ عزت و وجاہت لغو و
لایعنی ہے۔ میں آپ کی جماعت کے تمام افراد سے بھی گزارش کرتا ہوں کہ مرنے سے پہلے توبہ کرلیں، اور میں آپ کو، اور
آپ کی جماعت کو اور ان تمام افراد کو، جن کی نظر سے میری یہ تحریر گزرے، گواہ بناتا ہوں کہ میں نے حق و صداقت کا
پیغام آپ تک پہنچادیا، کسی شخص کے دِل میں حق طلبی کا جذبہ ہو اور وہ اپنا اطمینان چاہتا ہو تو اس کو سمجھانے کے
لئے تیار ہوں۔
۹:... آپ نے مجھ سے فرمائش کی ہے کہ میں اپنا جواب اخباروں اور رِسالوں میں شائع کردُوں۔ جہاں تک میرے امکان میں
ہے میں نے اشاعت کی کوشش کی ہے، آپ اگر چاہیں تو اپنے اخبارات و رسائل میں میرا جواب شائع کراسکتے ہیں۔
72
۱۰:... میں نے آپ کو میدانِ مباہلہ میں اُترنے کی جو دعوت دی ہے، چار مہینے تک اس کے جواب کی مہلت دیتا ہوں، اور
جواب کے لئے آخری تاریخ یکم جنوری ۱۹۸۹ء مقرّر کرتا ہوں۔
۱۱:... میرا خیال ہے کہ آپ نے دیگر اکابر علماء کے نام بھی مباہلہ کا چیلنج بھیجا ہوگا، اس لئے یہ عرض کرنا ضروری
سمجھتا ہوں کہ علمائے اُمت کے اس خادم کا جواب سب کی طرف سے تصوّر فرمائیں، ہر ایک کو فرداً فرداً زحمت اُٹھانے کی
ضرورت نہیں۔
سُبْحَانَکَ اللّٰھُمَّ وَبِحَمْدِکَ وَاَشْھَدُ اَنْ لّا اِلٰـہَ اِلّا اَنْتَ
اَسْتَغْفِرُکَ
محمد یوسف لدھیانوی
۱۸؍۱؍۱۴۰۹ھ
۱؍۹؍۱۹۸۸ء
73
مرزا طاہر پر
آخری اِتمامِ حجت
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ
اَلْحَمْدُ للہِ وَسَلَامٌ عَلٰی عِبَادِہِ الَّذِیْنَ اصْطَفٰی!
گزشتہ سال مرزا طاہر قادیانی نے اپنی جماعت کو مارفیا کا انجکشن دینے کے لئے مباہلہ کا ڈھونگ رچایا، اور ایک پمفلٹ
شائع کیا، جس کا عنوان تھا:
’’جماعتِ احمدیہ عالمگیر کی طرف سے دُنیا بھر کے معاندین، مکفرین اور مکذبین کو مباہلہ کا کھلا کھلا چیلنج۔‘‘
مرزا طاہر نے جہاں مشاہیرِ اُمت و اکابرِ ملت کے نام اس چیلنج کی کاپیاں بھجوائیں وہاں (نامعلوم کس مصلحت سے) اس
گمنام و ہیچ میرز کے نام بھی اس کی کاپی ارسال فرمائی۔ اس ناکارہ نے محرّم الحرام ۱۴۰۹ھ کو اس کا جواب مرزا طاہر کے
نام بھجوایا۔ جو پاک و ہند کے متعدّد رسائل و جرائد میں ’’مرزا طاہر کے جواب میں‘‘ کے عنوان سے شائع ہوا، اور الگ
کتابچے کی شکل میں بھی بڑی تعداد میں شائع ہوچکا ہے، اور کینیڈا، امریکا وغیرہ میں ہزاروں کی تعداد میں اس کی
فوٹواسٹیٹ کاپیاں تقسیم ہوئیں۔ اس کے متعدّد انگریزی تراجم بھی بیرونی ممالک میں ہزاروں کی تعداد میں شائع ہوئے۔ اس
ناکارہ کے جوابِ مباہلہ سے مرزا قادیانی کی ذُرّیتِ کاذبہ اِن شاء اللہ قیامت تک عہدہ برآ نہیں ہوسکے گی، لیکن اس
ناکارہ نے چونکہ مرزا طاہر کو پابند کردیا تھا کہ مجھے اس کا جواب چار مہینے کے اندر یکم جنوری ۱۹۸۹ء تک ملنا چاہئے،
اس لئے مرزا طاہر پر ’’نہ جائے رفتن، نہ پائے ماندن‘‘ کی
74
کیفیت طاری ہوگئی، بالآخر جواب کی مقرّرہ میعاد گزرنے کے بعد مرزا طاہر نے اپنے سیکریٹری کے ذریعے اُلٹا
سیدھا جواب بھجوایا۔ ذیل میں پہلے مرزا طاہر کے سیکریٹری کا جوابی خط نقل کیا جاتا ہے، پھر اس قادیانی خط پر اس
ناکارہ کا تبصرہ پیشِ خدمت ہے۔ اس سے قارئینِ کرام کو اندازہ ہوگا کہ مرزا طاہر نے مباہلہ کا چیلنج دے کر سنگین
غلطیاں کی ہیں۔
اوّل:... نام نہاد مباہلہ کا ڈھونگ رچاکر قادیانیت کی مردہ لاش کو ایک بار پھر پوسٹ مارٹم کے لئے پیش کردیا۔
دوم:... جب مرزا طاہر کی دعوت پر اسے میدانِ مباہلہ میں آنے کے لئے للکارا گیا تو مرزا طاہر نے دُم دباکر بھاگ
جانے میں عافیت سمجھی، اور قادیانی فطرت کے مطابق تأویلات کا دفتر کھول دیا۔
سوم:... اس ناکارہ نے جواب کے لئے چار مہینے کی مہلت دی تھی، لیکن اللہ تعالیٰ نے اس طویل مدّت تک مرزا طاہر اور اس
کی ذُرّیت پر سکوتِ مرگ طاری کئے رکھا، میعاد گزرنے کے بعد قادیانی سیکریٹری نے جو خط لکھا (جس کا عکس ابھی آپ
ملاحظہ فرمائیں گے) وہ پانچ منٹ کا کام تھا، لیکن اللہ تعالیٰ کو قادیانیت کی ذِلت و رُسوائی منظور تھی، اس لئے اللہ
تعالیٰ نے یہ پانچ منٹ کا کام چار مہینے میں بھی نہیں ہونے دیا۔
چہارم:... میں نے مرزا طاہر کے باپ اور دادا کے بارے میں جن واقعات کا ذِکر کیا تھا اور جن سے مرزا قادیانی کا دجال
اور کذّاب اور مرتد، مردود و ملعون ہونا اَظہر من الشمس ثابت ہوتا ہے، مرزا طاہر اور اس کی پوری جماعت ان کے جواب سے
عاجز رہی۔
پنجم:... مرزا طاہر نے مباہلہ کے قرآنی مفہوم میں تحریف کرنے کی جو کوشش کی تھی، وہ بھی ناکام ہوئی، اور میدانِ
مباہلہ سے فرار کرکے مرزا طاہر اپنے دادا کے بقول ’’لعنت کے نیچے مرا۔‘‘
اس ناکارہ کا خیال ہے کہ اِن شاء اللہ مرزا طاہر میرے نئے چیلنج کو قبول کرنے کی بھی جرأت نہیں کرے گا، بلکہ اسے
میرے چیلنج کا جھوٹا سچا جواب دینے کی بھی توفیق نہیں ہوگی۔
اب آپ پہلے قادیانی خط کا عکس ملاحظہ فرمائیں اور پھر اس پر ہمارا تبصرہ۔
75
صفحہ 76 اور 77
دیکھنے کے لئے پی ڈی ایف ڈاؤن لوڈ کریں
76 To 77
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ
اَلْحَمْدُ للہِ وَسَلَامٌ عَلٰی عِبَادِہِ الَّذِیْنَ اصْطَفٰی!
جناب مرزا طاہر احمد صاحب! سلام علیٰ من اتبع الہدیٰ
آپ نے ’’مباہلہ کے چیلنج‘‘ کی ایک کاپی اس ناکارہ کے نام بھی بھجوائی تھی، میں نے اپنے خط محرّرہ ۱۸؍محرّم الحرام
۱۴۰۹ھ میں آپ کی دعوت قبول کرتے ہوئے لکھا تھا کہ بسم اللہ! تاریخ اور جگہ کا اعلان کرکے مقرّرہ وقت پر تشریف
لائیے، یہ فقیر بھی حاضر ہوجائے گا۔ اور ساتھ ہی اپنی طرف سے تاریخ اور جگہ کی تجویز لکھ بھیجی تھی۔ جواب کے لئے آپ
کو چار مہینے کی مہلت دی تھی۔ جس کی آخری تاریخ یکم جنوری ۱۹۸۹ء تھی۔ آپ کا جواب جس پر آپ کے سیکریٹری کے دستخط
ہیں، مجھے ۳؍جنوری کو ملا، رسید بھیجنے کا شکریہ! آپ کے اس خط کے چند نکات پر تبصرے کی اجازت چاہتا ہوں۔
۱:۔۔۔آپ کے سیکریٹری صاحب لکھتے ہیں:
’’اِمام جماعتِ احمدیہ حضرت مرزا طاہر احمد کی دعوتِ مباہلہ کے جواب میں آپ کی طرف سے شائع شدہ پمفلٹ موصول ہوا،
جس میں آپ نے حقائق کو مسخ کرنے کی کوئی کسر اُٹھا نہیں رکھی، اور ایک دفعہ پھر اِنتہائی لچر اور غلیظ الزامات کو
دُہراکر اپنی اندرونی حالت دُنیا کو دِکھانے کی کوشش کی ہے، خدا تعالیٰ کے مقدس انسانوں پر جس طرح آپ نے بے ہودہ
اِلزامات لگانے کی کوشش کی ہے۔ قرآنِ کریم کے الفاظ میں لعنۃ اللہ علی الکاذبین کہنے کے علاوہ اور کیا جواب ہوسکتا
ہے۔‘‘
78
سب سے پہلے تو آپ کی راست گوئی کی داد دیتا ہوں۔ میں نے اپنے لیٹرپیڈ پر اپنی مہر اور دستخط کے ساتھ آپ کو رجسٹری
خط بھجوایا تھا، آپ میرے لیٹرپیڈ پر اِرسال کردہ خط کو ’’شائع شدہ پمفلٹ‘‘ فرماتے ہیں۔ مثل مشہور ہے کہ ’’چور چوری
سے جاتا ہے، مگر ہیرا پھیری سے نہیں جاتا‘‘ جو لوگ ایک خط کے حوالے میں ایسی ہیرا پھیری سے نہیں چوکتے، اندازہ کیا
جاسکتا ہے کہ وہ قرآن و حدیث میں کیا کیا تحریف نہ کرتے ہوں گے...؟
آپ فرماتے ہیں کہ میں نے اِلزامات کو دُہراکر ۔۔۔بقول آپ کے... اپنی اندرونی حالت دُنیا کو دِکھانے کی کوشش کی
ہے، حالانکہ میرا خط چھپ چکا ہے، دُنیا کے سامنے موجود ہے، اسے پڑھ کر ہر شخص فیصلہ کرسکتا ہے کہ میں نے تاریخ کے
کھلے واقعات پیش کئے ہیں، یا بقول آپ کے الزامات دُہرائے ہیں۔ میں نے دس واقعات لکھے تھے، پانچ مرزا غلام احمد
قادیانی کے، اور پانچ مرزا محمود کے۔ آپ کو ان واقعات کے آئینے میں اپنا اصل چہرہ نظر آیا، اس لئے:
’’آئینہ جو دِکھایا تو بُرا مان گئے‘‘
میں ان واقعات کو پیش کرکے آپ سے یہ پوچھنا چاہتا ہوں کہ ان میں سے کس واقعے کو آپ غلط اِلزام قرار دیتے ہیں؟
۱:... میں نے انجامِ آتھم ص:۲۸۲ کے حوالے سے مرزا قادیانی کا یہ اِقرار نقل کیا تھا کہ ہم آئندہ مباہلہ کے لئے
علماء کو مخاطب نہیں کریں گے۔ میں نے آپ سے پوچھا تھا کہ آپ نے مرزا قادیانی کے اس عہد کو کیوں توڑ ڈالا؟ اور
علماء کو مخاطب کرنے کی جرأت کیوں کی؟ آپ نے میرے اس چبھتے ہوئے سوال کا جواب نہیں دیا، اور نہ اِن شاء اللہ قیامت
تک اس کا کوئی معقول جواب دے سکتے ہیں۔ شرم اُتارنے کے لئے صرف اتنا کہہ دیا کہ یہ الزام دُہراتا ہے۔
۲:... میں نے ضمیمہ انجامِ آتھم ص:۵۴ سے مرزا قادیانی کا یہ فقرہ نقل کیا تھا:
’’یاد رکھو اگر اس پیش گوئی کی دُوسری جزو پوری نہ ہوئی تو
79
میں ہر ایک بد سے بدتر ٹھہروں گا۔‘‘
اس پیش گوئی کی دُوسری جزو کیا تھی؟ محمدی بیگم کا بیوہ ہوکر مرزا کے نکاح میں آنا! کیا یہ دُوسری جزو پوری ہوگئی
تھی؟ نہیں! تو پھر مرزا کے اپنے اقرار کے مطابق ’’ہر بد سے بدتر‘‘ ہونے میں کیا شبہ رہا؟ میں نے پوچھا تھا کہ کیا
آپ اسی ’’بدترین شخص‘‘ کے لئے مباہلہ کرنے چلے ہیں؟فرمائیے! یہ اِلزام ہے؟ یا ایک ایسا سوال ہے جس کے جواب سے آپ
کی پوری جماعت عاجز ہے؟
۳:... جنگِ مقدس کے آخری صفحے کے حوالے سے مرزا کا یہ اعلان نقل کیا تھا کہ اگر آتھم پندرہ مہینے کے اندر نہ مرے
تو:
’’میں ہر ایک سزا اُٹھانے کے لئے تیار ہوں، مجھ کو ذلیل کیا جائے، رُوسیاہ کیا جاوے، میرے گلے میں رسہ ڈال دیا
جاوے، مجھ کو پھانسی دیا جاوے ۔۔۔... اگر میں جھوٹا ہوں تو میرے لئے سولی تیار رکھو، اور تمام شیطانوں اور بدکاروں
اور لعنتیوں سے زیادہ مجھے لعنتی سمجھو۔‘‘
مرزا اور مرزائی، میعاد کے آخری لمحات تک آتھم کے مارنے کی کوشش کرتے رہے، ٹونے ٹوٹکے بھی کئے، چنے پڑھواکر اندھے
کنویں میں ڈلوائے، دُعائیں، اِلتجائیں بھی کیں، میعاد کی آخری رات قادیان میں: ’’یا اللہ! آتھم مرجائے، یا اللہ!
آتھم مرجائے‘‘ کا شورِ قیامت برپا رہا، لیکن اللہ تعالیٰ نے آتھم کو مرنے نہیں دیا۔ جس کے نتیجے میں مرزا خود اپنے
فتوے کی رُو سے ’’تمام شیطانوں، بدکاروں اور لعنتیوں سے بڑھ کر لعنتی‘‘ ثابت ہوا۔ میں نے پوچھا تھا کہ کیا آپ اسی
ذاتِ شریف کے لئے مباہلہ کرنے چلے ہیں؟ فرمائیے! میری اس تحریر میں ایک حرف بھی ایسا ہے جس کو غلط الزام کہہ
سکیں...؟
۴:... میں نے مرزا قادیانی اور مولانا عبدالحق غزنوی مرحوم و مغفور کے درمیان مباہلہ کا حوالہ دیا تھا، جو
۱۰؍ذیقعدہ ۱۳۱۰ھ عیدگاہ امرتسر میں ہوا۔ مولانا مرحوم کا مباہلہ اس
80
اَمر پر تھا کہ مرزا اور مرزائی سب دجال وکذّاب، کافر و ملحد اور بے اِیمان ہیں۔
(مجموعہ اشتہارات مرزا غلام احمد قادیانی جلد اوّل ص:۴۲۵)
مرزا نے اپنی وفات سے سات مہینے چوبیس دن پہلے کہا تھا:
’’مباہلہ کرنے والوں میں سے جو جھوٹا ہو وہ سچے کی زندگی میں ہلاک ہوتا ہے۔‘‘
(ملفوظات مرزا قادیانی ج:۹ ص:۴۴۰)
چنانچہ اس اُصول کے مطابق مباہلہ کے بعد مرزا، مولانا مرحوم کی زندگی میں (۲۶؍مئی ۱۹۰۸ء)کو ہلاک ہوگیا۔ اور مولانا
مرحوم، مرزا کے بعد ۹ سال تک بقیدِ حیات رہے، ان کا انتقال ۱۶؍مئی ۱۹۱۷ء کو ہوا۔
(رئیسِ قادیان ج:۲ ص:۱۹۲، تاریخِ مرزا ص:۳۸)
آپ نے اپنے خط میں خود لکھا ہے کہ:
’’مباہلہ دُعا کے ذریعے معاملہ خدا تعالیٰ کی عدالت میں لے جانے کا نام ہے۔‘‘
’’مباہلہ دُعا کے ذریعے خدا تعالیٰ سے فیصلہ طلبی کا نام ہے۔‘‘
یہ تو ظاہر ہے کہ خدا تعالیٰ کی عدالت آخری عدالت ہے، اور اس کا فیصلہ بھی دوٹوک اور قطعی ہوتا ہے، کہ اس میں غلطی
کا ادنیٰ احتمال بھی نہیں ہوسکتا، خدا تعالیٰ کی عدالت کو نہ ماننا بھی کفر، اس کی عدالت کے فیصلے سے اِنحراف کرنا
بھی کفر، اور اس کے خلاف نظرِ ثانی کی اپیل کرنا بھی کفر۔
میں نے لکھا تھا کہ جب مباہلہ ہوچکا ہے اور خدائی عدالت نے اس کا فیصلہ بھی صادر کردیا ہے کہ مولانا عبدالحق غزنوی
مرحوم کے مقابلے میں مرزا جھوٹا تھا، دجال و کذّاب تھا، کافر و مرتد تھا، بے ایمان اور ملحد تھا، تو آپ نئے مباہلہ
کے ذریعے کیا اس خدائی فیصلے کے خلاف اپیل کرنے چلے ہیں؟ کیا میری اس تقریر میں ایک حرف بھی ایسا ہے جسے آپ غلط
الزام کہہ سکیں؟ اور میں نے جو سوال اُٹھایا کیا پوری اُمتِ مرزائیہ مل کر بھی اس کا جواب دے سکتی ہے؟
81
مرزا طاہر صاحب! اگر آپ خالص دہریے نہیں، اللہ تعالیٰ کو مانتے ہیں تو اس کی عدالت کے فیصلے پر دِل و جان سے صاد
کریں اور مرزا کے جھوٹا ہونے کا اعلان کردیں، ورنہ دُنیا یہ سمجھنے پر مجبور ہوگی کہ آپ اپنے دادا کے درج ذیل الفاظ
کا مصداق ہیں:
’’یہودی لوگ جو موردِ لعنت ہوکر بندر اور سوَر ہوگئے تھے، ان کی نسبت بھی تو بعض تفسیروں میں لکھا ہے کہ وہ بظاہر
اِنسان تھے، لیکن ان کی باطنی حالت بندروں اور سوَروں کی طرح ہوگئی تھی اور حق کے قبول کرنے کی توفیق بکلی ان سے سلب
ہوگئی تھی، اور مسخ شدہ لوگوں کی یہی تو علامت ہے کہ اگر حق کھل بھی جائے تو اس کو قبول نہیں کرسکتے۔‘‘
(مجموعہ اشتہارات ج:۱ ص:۳۹۷)
’’دُنیا میں سب جانداروں سے زیادہ پلید اور کراہت کے لائق خنزیر ہے، مگر خنزیر سے زیادہ پلید وہ لوگ ہیں جو اپنے
نفسانی جوش کے لئے حق اور دیانت کی گواہی کو چھپاتے ہیں۔‘‘
(ضمیمہ انجامِ آتھم ص:۲۱)
۵:... میں نے مرزا کے اشتہار ’’مولوی ثناء اللہ صاحب امرتسری کے ساتھ آخری فیصلہ‘‘ کے حوالے سے لکھا تھا کہ مرزا
نے اللہ تعالیٰ سے گڑگڑاکر دُعا کی کہ یا اللہ! اگر میں سچا ہوں تو مولوی ثناء اللہ کو میری زندگی میں طاعون اور
ہیضے جیسے آسمانی عذاب سے ہلاک کر، اور اگر مولوی ثناء اللہ صاحب سچے ہیں، میں تیری نظر میں مفسد و کذّاب اور مفتری
ہوں تو مجھے مولوی ثناء اللہ صاحب کی زندگی میں ہلاک کردے۔
حق تعالیٰ شانہ‘ نے مرزا کی بددُعا کے مطابق اپنا فیصلہ صادر فرمادیا اور مرزا کو ۲۶؍مئی ۱۹۰۸ء کو وبائی ہیضے سے
ہلاک کردیا۔ (حیاتِ ناصر ص:۱۴) اور مولانا مرحوم، مرزا کے بعد اکتالیس برس زندہ رہے۔ اس فیصلۂ خداوندی نے ثابت
کردیا کہ مرزا خود اپنے قول کے مطابق اللہ تعالیٰ کی نظر میں دجال و کذّاب اور مفسد و مفتری تھا۔ میں نے آپ سے
82
پوچھا تھا کہ کیا آپ اسی دجال و کذّاب اور مفسد و مفتری کے لئے مباہلہ کرنے چلے ہیں؟ فرمائیے! اس تقریر میں
ایسا کون سا لفظ ہے جسے آپ الزام کہہ سکیں...؟
یہاں ایک نفیس نکتے کی طرف توجہ دِلاتا ہوں وہ یہ کہ قرآنِ کریم میں کفارِ مکہ کی یہ دُعا نقل کی گئی ہے:
’’اَللّٰھُمَّ اِنْ کَانَ ھٰذَا ھُوَ الْحَقَّ مِنْ عِنْدِکَ فَاَمْطِرْ عَلَیْنَا حِجَارَۃً مِّنَ السَّمَآئِ
اَوِ ائْتِنَا بِعَذَابٍ اَلِیْمٍ۔‘‘
(الانفال:۳۲)
ترجمہ:... ’’یا اللہ! اگر یہی دِین تیری طرف سے برحق ہے تو ہم پر آسمان سے پتھر برسا، یا ہم پر کوئی
دردناک عذاب نازل فرما۔‘‘
مشرکینِ مکہ کی اِنتہائی بدبختی اور جہل اور عناد کا تماشا دیکھئے، کہ وہ بارگاہِ اِلٰہی میں یہ دُعا نہیں کرتے کہ
یا اللہ! اگر محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا دِین واقعی تیری طرف سے ہے تو ہمیں اس کے قبول کرنے کی توفیق عطا فرما۔ اس
کے بجائے وہ یہ دُعا کرتے ہیں کہ اگر دِینِ اسلام واقعی دِینِ برحق ہے تو ہم پر پتھروں کی بارش برسا، یا ہمیں کسی
اور عذاب سے نیست و نابود کردے۔
’’کہتے ہیں کہ یہ دُعا ابوجہل نے (جنگِ بدر کو جاتے ہوئے) مکہ سے نکلتے وقت کعبہ کے سامنے کی، آخر جو کچھ مانگا
تھا اس کا ایک نمونہ بدر میں دیکھ لیا۔‘‘
(تفسیر عثمانی)
ان کفارِ مکہ کے نقشِ قدم پر چلتے ہوئے مرزا قادیانی اللہ تعالیٰ سے یہ دُعا نہیں کرتا کہ یا اللہ! اگر میں تیری
نظر میں گمراہ ہوں تو میری اِصلاح فرما، اور مجھے توبہ کی توفیق عطا فرما، اس کے بجائے یہ دُعا کرتا ہے کہ:
’’اگر میں تیری نظر میں مفسد و کذّاب اور مفتری ہوں تو مجھے مولانا ثناء اللہ صاحب کی زندگی میں ہیضے اور طاعون
جیسے آسمانی
83
عذاب سے ہلاک فرما۔‘‘
مرزا کی اس بددُعا کو بار بار پڑھئے اور ابوجہل کی بددُعا سے اس کا موازنہ کیجئے، دونوں کے درمیان سرِمو فرق نظر
نہیں آئے گا۔ ابوجہل بھی یہ بددُعا کرتا ہے کہ اگر محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) سچے اور ہم جھوٹے ہیں تو ہمیں آسمانی
عذاب سے ہلاک فرما، اور مرزا بھی یہی بددُعا کرتا ہے کہ اگر میں جھوٹا ہوں اور مولوی ثناء اللہ سچے ہیں تو مجھے ان
کی زندگی میں ہلاک فرما، پھر جس طرح ابوجہل کو بدر میں منہ مانگی مراد ملی، اسی طرح مرزا بھی ۲۶؍مئی ۱۹۰۸ء کو منہ
مانگی ہلاکت کا نشانہ بنا۔ کیا مرزا طاہر اور ان کی جماعت کے لئے اس میں کچھ عبرت ہے...؟
مرزا قادیانی کے ان پانچ واقعات کے بعد میں نے پانچ واقعات آپ کے ابا مرزا محمود کے ذکر کئے تھے۔ ان کے ذکر کرنے
سے میرا مقصد یہ بتانا تھا کہ مرزا محمود کو نصف صدی تک مباہلہ کا چیلنج دیا جاتا رہا، جو نہ تو مرزا محمود نے قبول
کیا اور نہ اس کی ذُرّیت نے۔ یہ نصف صدی کا قرضہ آپ کے ذمے ہے، پہلے یہ قرضہ ادا کیجئے اور حلف مؤکد بعذاب کے ساتھ
ان واقعات کی تردید کیجئے۔ جب آپ اس بھاری قرض سے سبکدوش ہوجائیں تب علمائے اُمت سے مباہلہ کی بات کیجئے۔ مثل مشہور
ہے کہ ’’چھاج بولے تو بولے، چھلنی کیوں بولے جس میں بہتر چھید‘‘ مباہلہ کی بات کوئی دُوسرا کرے تو کرے، جن کے ذمے
پچاس ساٹھ سال کے مباہلوں کا قرض ہے، اور جو کبھی کسی چیلنج قبول کرنے کی جرأت نہ کرسکے، آج ان کو بیٹھے بٹھائے
کیا سوجھی کہ علمائے اُمت کو مباہلہ کے لئے بلانے نکل آئے؟
-
اتنی نہ بڑھا پاکیٔ داماں کی حکایت
دامن کو ذرا دیکھ ذرا بندِ قبا دیکھ!
۱:... چنانچہ ۱۹۲۷ء میں مولانا عبدالکریم مباہلہ نے مرزا محمود پر بدکاری کا الزام لگایا، انہوں نے بارہا مباہلہ کا
چیلنج کیا، جس کی پاداش میں اس غریب پر قاتلانہ حملہ کرایا گیا، اس کے ساتھی کو قتل کیا گیا، اس کا گھر جلایا گیا،
اس پر مقدمے کئے گئے، اسے قادیان بدر کردیا گیا، لیکن مرزا محمود کو اتنی جرأت نہ ہوئی کہ ان کے مباہلہ کے چیلنج کو
قبول کرے۔ نہ آج
84
تک مرزا محمود کی ذُرّیت میں کسی کو توفیق ہوئی کہ حلف مؤکد بعذاب اُٹھاکر اپنے باپ کی پاک دامنی کی شہادت
دے۔
۲:... ۱۹۳۶ء میں مرزا محمود پر یہی اِلزام عبدالرحمن مصری نے لگایا، اس کے ساتھ بھی یہی سلوک کیا گیا، اس کے خلاف
نقص امن کا مقدمہ دائر کیا گیا اور اس غریب کو عدالت کے کٹہرے میں کھڑے ہوکر یہ حلفیہ بیان دینا پڑا:
’’موجودہ خلیفہ (مرزا محمود) سخت بدچلن ہے، یہ تقدس کے پردے میں عورتوں کا شکار کھیلتا ہے، اس کام کے لئے اس نے بعض
مردوں اور بعض عورتوں کو بطورِ ایجنٹ رکھا ہوا ہے، ان کے ذریعے معصوم لڑکوں اور لڑکیوں کو قابو کرتا ہے، اس نے ایک
سوسائٹی بنائی ہوئی ہے، جس میں مرد اور عورتیں شامل ہیں اور اس سوسائٹی میں زنا ہوتا ہے۔‘‘
(ممتاز احمد فاروقی: فتح حق ص:۴۱)
لیکن مرزا محمود کو اتنی جرأت نہ ہوئی کہ عبدالرحمن مصری کے چیلنج کو قبول کرلیتا اور اس کی تحقیق کے لئے اپنی
جماعت ہی کے چند اَفراد کا کمیشن مقرّر کردیتا۔ نہ آج تک آپ نے حلف مؤکد بعذاب کے ساتھ اپنے ابا کی پاک دامنی پر
شہادت دی۔ مرزا محمود نے مصری کا چیلنج قبول کرنے کے بجائے اسے منافقوں (لاہوری مرزائیوں) کی شرارت قرار دیا اور
اپنے خطبۂ جمعہ میں ایسے ہی ایک منافق کا خط پڑھ کر سنایا جس میں لکھا تھا:
’’حضرت مسیحِ موعود (مرزا قادیانی) ولی اللہ تھے، اور ولی اللہ بھی کبھی کبھی زنا کرلیا کرتے ہیں، اگر انہوں نے
کبھی کبھار زنا کرلیا تو اس میں کیا حرج ہے؟‘‘ پھر لکھا ہے کہ ’’ہمیں حضرت مسیحِ موعود (مرزا قادیانی) پر اِعتراض
نہیں، کیونکہ وہ کبھی کبھی زنا کیا کرتے تھے (غالباً ذائقہ بدلنے کے لئے ۔۔۔ناقل) ہمیں اِعتراض موجودہ خلیفہ پر ہے
کیونکہ وہ ہر وقت زنا کرتا رہتا ہے۔‘‘
85
مرزا محمود نے یہ پاکیزہ صحیفہ خطبۂ جمعہ میں منبر پر سنایا، اور حلف مؤکد بعذاب کے ساتھ اس منافق کی تردید کرنے
کے بجائے صرف یہ ’’بے ضرر تبصرہ‘‘ کافی سمجھا کہ:
’’اس اِعتراض سے پتا لگتا ہے کہ یہ شخص پیغامی طبع (یعنی لاہوری مرزائی) ہے۔‘‘
(روزنامہ ’’الفضل‘‘ قادیانی مؤرخہ ۳۱؍اگست ۱۹۳۸ء)
۳:... ۱۹۵۶ء میں آپ کی جماعت کے چند نوجوانوں نے مرزا محمود کے طلسم سامری کو توڑا، انہوں نے ’’حقیقت پسند پارٹی‘‘
تشکیل دی، اس پارٹی نے ’’تاریخ محمودیت‘ ‘ نامی کتاب شائع کی، جس میں ۲۸ قادیانی مردوں اور عورتوں کی مؤکد بعذاب
حلفیہ عینی شہادتیں جمع کیں کہ مرزا محمود نہایت بدکردار ہے، مرزا محمود کو چیلنج پر چیلنج دئیے، پھر یہی مضمون
متعدّد کتابوں میں بار بار دُہرایا گیا، اور آج تک دُہرایا جارہا ہے، لیکن نہ مرزا محمود کو اپنی زندگی میں مباہلہ
کا چیلنج قبول کرنے کا حوصلہ ہوا، نہ آپ نے ان لوگوں سے مباہلہ کی آج تک جرأت کی۔ ان تمام چیلنجوں کے مقابلے میں
آپ کی خاموشی آپ کے مجرم ضمیر کی شہادت دے رہی ہے، ان تمام چیلنجوں کو شیرِ مادر کی طرح ہضم کرکے آج آپ کس منہ
سے علمائے اُمت کو مباہلہ کی دعوت دینے چلے ہیں...؟
میں نے قصداً اس قصے کو ۱۹۳۷ء سے شروع کیا، ورنہ کہنے والوں نے یہ بھی کہا ہے اور کچھ غلط نہیں کہا کہ:
’’میاں محمود احمد صاحب کے طالب علمی کے زمانے اور نوجوانی کے دنوں میں بھی ان کے چال چلن پر سنگین اور شرمناک
الزام لگائے گئے بلکہ خود حضرت مسیحِ موعود (مرزا قادیانی) نے بھی اس سلسلے میں ایک تحقیقاتی کمیشن مقرّر کیا تھا،
مگر چار گواہ نہ مل سکنے کی وجہ سے الزام ثابت نہ ہوسکا۔‘‘
(ممتاز احمد فاروقی: فتح حق ص:۴۰)
اور یہ کہ:
86
’’وہ (مرزا محمود) عنفوانِ شباب میں جنسی دھاندلیوں میں مبتلا رہا، اس پر اس کے باپ نے کمیشن بٹھایا، اس کے چار
ارکان تھے، مولوی نورالدین، خواجہ کمال الدین، مولوی محمد علی اور مولوی شیر علی۔ ان اشخاص کے سامنے اس مجرم کی
والدہ نے اپنا دامن پھیلاکر منّت سماجت کی، اور ارکان سے کہا کہ اگر اس کے معصیت کار بیٹے پر گرفت ہوئی تو اس کا باپ
اسے نکال باہر کرے گا، ان لوگوں نے اپنی فقہ کے پردے میں اس مجرم کو بَری کردیا۔ یعنی یہ فیصلہ کیا کہ چونکہ چار
گواہ عینی نہیں ہیں، اس لئے یہ مستوجبِ سزا نہیں ٹھہرتا۔ گویا زناکار چار گواہوں کے نہ پیش ہونے سے زانی نہیں رہتا،
اللہ تعالیٰ نے انہی لوگوں کو اسی مجرم سے سزا دِلوائی ۔۔۔۔۔۔‘‘
(مرزا محمد حسین: فتنہ انکارِ ختمِ نبوّت ص:۴۹)
۴:... میں نے آپ کے باپ دادا کی عبرتناک موتوں کا ذکر کرتے ہوئے آپ سے پوچھا تھا:
’’کیا آپ کو مزید کسی سامانِ عبرت کی ضرورت ہے کہ علمائے اُمت سے مباہلہ کرنے چلے ہیں؟‘‘
اور اگر آپ کو اس سے انکار ہو کہ آپ کے باپ دادا کی موت عبرتناک ہوئی تو اس کا تصفیہ کرنے کے لئے میں نے آپ سے
پوچھا تھا کہ:
’’کیا آپ یہ دُعا کرنے کی جرأت کریں گے کہ آپ کو آپ کے باپ دادا جیسی موت نصیب ہو؟‘‘
آپ نے میرا یہ چیلنج بھی قبول نہیں کیا، اور شاید آپ کو اس کی جرأت بھی نہیں ہوگی کہ میرے سوال کا جواب اخباروں
میں چھاپ کر دُنیا کو ایک نیا تماشائے عبرت دیکھنے کا موقع فراہم کریں۔
87
۵:... آخر میں، میں نے رفیقِ محترم مولانا منظور احمد چنیوٹی کی دعوتِ مباہلہ کا ذِکر کیا تھا، وہ آپ کے باپ کی
زندگی میں اسے مباہلہ کا چیلنج دیتے رہے، اس کے بعد مرزا ناصر کی زندگی میں، اس کے بعد آپ کو چیلنج دے رہے ہیں، وہ
جب سے اب تک اپنے مباہلہ کے چیلنج کی سالگرہ مناتے ہیں اور ہر سال مباہلہ کا چیلنج قادیانی لیڈر کے نام رجسٹری کرتے
ہیں، غالباً ان کا کوئی جلسہ ایسا نہ ہوتا ہوگا جس میں وہ اس چیلنج کو نہ دُہرائیں، ان کا چیلنج صرف ایک فقرہ ہے، وہ
یہ کہ:
’’آپ حلف اُٹھائیں کہ آپ اور آپ کے ابا کبھی فاعل یا مفعول نہیں رہے!‘‘
آپ کے ابا کو، آپ کے بھائی کو اور خود آپ کو کبھی اتنی جرأت نہ ہوئی کہ ان کا چیلنج قبول کریں، چشمِ بددُور!
آپ اسی تقدس مآبی پر علمائے اُمت کو مباہلہ کی دعوت دینے چلے ہیں...؟
مرزا صاحب! میں الزامات نہیں دُہراہا، میں ایسے حقائق ذکر کر رہا ہوں جن کا سامنا آپ اور آپ کا خاندان قیامت تک
نہیں کرسکتا، میں آفتاب کی طرح چمکتے ہوئے حقائق پیش کر رہا ہوں، لیکن آپ کے سیکریٹری صاحب کی آنکھیں خیرہ ہیں،
اور وہ مجھے لکھتے ہیں کہ:
’’خدا تعالیٰ کے مقدس انسانوں پر آپ نے بے ہودہ الزامات لگانے کی کوشش کی ہے۔‘‘
العظمت للہ! مرزا قادیانی کو تو آپ لوگ نبیٔ معصوم سمجھتے ہی تھے، چنانچہ جب محمد حسین قادیانی نے قادیان کے
دارالافتاء سے یہ فتویٰ پوچھا کہ:
’’حضرتِ اقدس (مرزا قادیانی) غیرعورتوں سے ہاتھ پاؤں کیوں دبواتے ہیں؟‘‘
تو قادیان کے ’’مفتی‘‘ نے ان کو بتایا کہ:
88
’’وہ نبیٔ معصوم ہیں، ان سے مس کرنا اور اِختلاط منع نہیں، بلکہ موجبِ رحمت و برکات ہے۔‘‘
(اخبار ’’الحکم‘‘ قادیان جلد۱۱ نمبر۱۳ ص:۱۳ مؤرخہ ۱۷؍اپریل ۱۹۰۷ء)
اگرچہ خود مرزا قادیانی اپنے معصوم ہونے کا انکار کیا کرتا تھا، چنانچہ لکھتا ہے:
’’افسوس کہ بطالوی صاحب نے یہ نہ سمجھا کہ نہ مجھے اور نہ کسی انسان کو بعد انبیاء علیہم السلام کے معصوم ہونے کا
دعویٰ ہے۔‘‘
(کرامات الصادقین ص:۵)
لیکن آپ کے سیکریٹری صاحب کے الفاظ سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ مرزا محمود کو بھی معصوم ومقدس سمجھتے تھے، العظمت للہ!
مجھے ان کے ان الفاظ پر یاد آیا کہ ڈاکٹر زاہد علی صاحب نے اپنی کتاب ’’ہمارے اسماعیلی مذہب کی حقیقت اور اس کا
نظام‘‘ میں اسماعیلیوں کے داعیٔ مطلق قاضی نعمان بن محمد کے حوالے سے یہ وصیت نقل کی ہے کہ:
’’اگر تو اپنی آنکھوں سے اِمام کو زِنا کرتے، شراب پیتے اور فواحش کا مرتکب ہوتے ہوئے بھی دیکھے تو تو اسے دِل اور
زبان سے منکر نہ سمجھ، اور اس کے دُرست اور حق ہونے میں کچھ شک نہ کر۔‘‘
(ڈاکٹر زاہد علی: ہمارے اسماعیلی مذہب کی حقیقت اور اس کا نظام ص:۳۶۳)
غالباً آپ کے سیکریٹری صاحب اور ان جیسے دیگر نابغہ قادیانیوں کو بھی یہی تعلیم دی گئی ہے کہ اِمام خواہ کتنا ہی
سیاہ کاریوں میں ملوّث ہو، اور اسے اپنی آنکھوں سے زنا کرتے ہوئے بھی دیکھو، تب بھی اسے مقدس ہی سمجھو۔ یہی وجہ ہے
کہ مرزا محمود کی بدکاریوں پر قادیانیوں کی ایک فوج کی فوج مؤکد بعذاب حلف کے ساتھ شہادتیں دیتی ہے، اس پر مباہلہ
کا چیلنج کرتی ہے اور مرزا کا خاندان اس کے مقابلے میں حلف مؤکد بعذاب سے گریز کرکے ان شہادتوں پر مہرِ تصدیق ثبت
کرتا ہے۔ لیکن سیکریٹری صاحب
89
کے نزدیک وہ مقدس کے مقدس ہیں۔ اور مرزا غلام احمد قادیانی کو اللہ تعالیٰ بار بار کے فیصلوں میںدجال،
کذّاب، کافر، مرتد، رُوسیاہ، ذلیل، ہر بد سے بدتر، اور تمام شیطانوں اور بدکاروں اور لعنتیوں سے بڑھ کر لعنتی ثابت
کرتا ہے، لیکن سیکریٹری صاحب فرماتے ہیں کہ ان تمام خطابات کے باوجود وہ مقدس تھے، یعنی ’’پیر کامل ہے، بس تھوڑا سا
بے ایمان ہے۔‘‘
حال ہی میں جناب حافظ بشیر احمد مصری نے آپ کے مباہلہ کا جواب آپ کو بھیجا ہے، جس میں آپ کے پورے خاندان کے
’’تقدس‘‘ کی حلفیہ شہادت دی ہے، جس کا خلاصہ یہ ہے کہ:
✨: ... مرزا غلام احمد کا بڑا لڑکا مرزا محمود بدکار تھا، منکوحہ و غیرمنکوحہ عورتوں سے زنا کا عادی تھا، خاندان کی
محرَم عورتیں بھی اس کی ہوس کا نشانہ تھیں۔
✨: ... مرزا محمود کے دونوں بھائی مرزا بشیر احمد اور مرزا شریف احمد لواطت کے عادی تھے، بالخصوص نوعمر بچے ان کا
نشانہ تھے۔
✨: ... مرزا محمود کا ماموں میر محمد اِسحاق، لواطت کا عادی تھا اور اسکول کے معصوم بچے اس کا خاص شکار تھے۔
✨: ... قادیانی نظام کے بڑے بڑے عہدیدار شہوت پرستی میں اخلاقی بندھنوں سے آزاد تھے، یعنی:
’’ایں خانہ ہمہ آفتاب است!‘‘
مرزا طاہر صاحب! آپ ان حقائق کو اِلزامات کہہ کر نہیں چھوٹ سکتے، میرا مقصد یہ تھا کہ جب تک آپ ان خوفناک چیلنجوں
سے عہدہ برآ نہیں ہوجاتے، اور جب تک اپنے ابا کی پاک دامنی پر ان لوگوں سے مباہلہ نہیں کرلیتے، تب تک آپ کو علمائے
اُمت کو مباہلہ کی دعوت دینے سے شرم آنی چاہئے تھی۔۔۔!
۲:... آپ کے سیکریٹری صاحب لکھتے ہیں:
’’خدا تعالیٰ سلسلۂ عالیہ احمدیہ کو جس کی بنیاد حضرت مرزا
90
صاحب نے ۱۸۸۹ء میں رکھی، روز بروز ترقی دیتا چلا جارہا ہے، اور سعید رُوحیں جوق درجوق اس مقدس سلسلے میں
داخل ہو رہی ہیں، مگر آپ جیسے اندھے ابھی تک اندھیروں میں بھٹک رہے ہیں۔‘‘
آپ کا سلسلے کی ترقی کو حقانیت کی دلیل قرار دینا خالص جہل و حماقت ہے۔
اوّلاً:... کسی سلسلے کی صرف ترقی کو دیکھنا کافی نہیں، بلکہ اس سے پہلے یہ دیکھنا ضروری ہے کہ یہ سلسلہ خیر کا ہے
یا شر کا؟ اگر خیر کا ہے تو اس کی ترقی خوشی کی چیز ہے، لیکن اگر شر کا سلسلہ ہو تو اس کی ترقی سرمایۂ مسرّت نہیں،
بلکہ حق تعالیٰ شانہ‘ کی طرف سے اِستدراج ہے۔ سنت اللہ یہ ہے کہ مجرم لوگوں کو بار بار تنبیہ کی جاتی ہے، لیکن جب
بار بار کی تنبیہ کے بعد بھی ان کو عبرت نہیں ہوتی تو اِستدراج شروع ہوجاتا ہے، اور ان کو چندے ڈھیل دی جاتی ہے،
چنانچہ ارشادِ خداوندی ہے:
’’فَذَرْنِیْ وَمَنْ یُّکَذِّبُ بِھٰذَا الْحَدِیْثِ سَنَسْتِدْرُجُھُمْ مِّنْ حَیْثُ لَا یَعْلَمُوْنَ۔
وَاُمْلِیْ لَھُمْ اِنَّ کَیْدِیْ مَتِیْنٌ۔‘‘
(القلم:۴۴)
ترجمہ:... ’’پس تو مجھ کو اور ان کو جو اس کتاب کو جھٹلاتے ہیں، چھوڑ دے (خود سزا دینے کی فکر نہ کر)
ہم ان کو درجہ بدرجہ تباہی کی طرف ان طرفوں سے کھینچ لائیں گے جن کو وہ جانتے بھی نہیں ـــــ اور میں ان کو ڈھیل
دُوں گا (یعنی ان کی تباہی کی دُعا نہ کر) میری تدبیر بڑی مضبوط ہے (وہ آخر ان کو تباہ کرکے رکھ دے گی)۔‘‘
(ترجمہ: مرزا محمود تفسیر صغیر)
نیز ارشاد ہے:
’’وَمَنْ یُّشَاقِقِ الرَّسُوْلَ مِنْم بَعْدِ مَا تَبَیَّنَ لَہُ الْھُدٰی وَیَتَّبِعْ غَیْرَ سَبِیْلِ
الْمُؤْمِنِیْنَ نُوَلِّہٖ مَا تَوَلّٰی وَنُصْلِہٖ
91
جَھَنَّمَ وَسَآءَتْ مَصِیْرًا۔‘‘
(النساء:۱۱۵)
ترجمہ:... ’’اور جو شخص (بھی) ہدایت کے پوری طرح کھل جانے کے بعد (اس) رسول سے اختلاف ہی کرتا چلا
جائے گا اور مؤمنوں کے طریق کے سوا کسی اور طریق پر چلے گا، ہم اسے اسی چیز کے پیچھے لگادیں گے جس کے پیچھے وہ پڑا
ہوا ہے اور اسے جہنم میں ڈالیں گے اور وہ بہت بُرا ٹھکانا ہے۔‘‘
(مرزا محمود: تفسیر صغیر)
اپنی اس سنت کے مطابق حق تعالیٰ شانہ‘ نے قطعی دلائل سے مرزا قادیانی کا دجال و کذّاب ہونا بار بار واضح کردیا، اور
مرزا محمود کے مصنوعی تقدس کا بھانڈا قادیان اور ربوہ کے چوراہے پر بار بار پھوڑا گیا، مختلف قسم کی آفتوں اور
اِبتلاؤں میں آپ کی جماعت کو ڈالا، یہاں تک کہ آپ کے ابا مرزا محمود بھیس بدل کر قادیان سے فرار ہوئے، پھر آپ
خود خفیہ طور پر پاکستان سے بھاگے، اور سیدھے لندن پہنچ کر دَم لیا۔ اس کے باوجود اگر آپ لوگوں کو عبرت نہیں ہوتی
تو حق تعالیٰ شانہ‘ کے اِستدراج اور ڈھیل کے قانون کے مطابق آپ کو مہلت دی گئی، تاکہ اپنے جرائم کا پیمانہ خوب
بھرلیں، یہی اِستدراج اور ڈھیل ہے جس کو آپ کے سیکریٹری صاحب سلسلے کی ترقی سے تعبیر فرما رہے ہیں۔ حالانکہ کسی
جماعت کی محض عددی ترقی اس کی حقانیت کی دلیل نہیں، کیونکہ اس عالم کا مزاج ہی ایسا رکھا گیا کہ یہاں حق اور باطل
دونوں کو پھلنے پھولنے کا موقع دیا جاتا ہے، اس لئے باطل کی ترقی کو اس کی حقانیت کی دلیل قرار دینا مسخِ فطرت کی
علامت ہے۔ آج دُنیا میں دہریت کو کتنی ترقی ہو رہی ہے؟ اور شر کی قوّتیں روز بروز کس قدر بڑھ رہی ہیں؟ کیا کوئی
عاقل ان کی ترقی کو ان کی حقانیت کی دلیل قرار دے سکتا ہے؟ پس جس طرح دہریت اور لادِینیت کی ترقی اس کی حقانیت کی
دلیل نہیں، اور کوئی صاحبِ فہم ان جھوٹے نگینوں کی چمک دمک سے دھوکا نہیں کھاسکتا، اسی طرح آپ کی ترقی بھی حقانیت
کی دلیل نہیں۔
ثانیاً:... آپ کی جماعت کو جس انداز سے ترقی ہوئی، اہلِ بصیرت کے نزدیک وہ
92
خود اس کے باطل ہونے کی کھلی دلیل ہے۔ ذرا اس پر توجہ فرمائیے کہ آپ کے دادا مرزا قادیانی کا دعویٰ کیا
تھا؟ اس کا دعویٰ تھا کہ میں وہی مسیحِ موعود ہوں جس کے آنے کی خبر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دی تھی، بہت
خوب۔۔۔!
آئیے اب یہ دیکھیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے آنے والے مسیح علیہ السلام کے کیا کیا کارنامے ذکر فرمائے
تھے؟ میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بے شمار ارشادات میں سے صرف ایک ارشاد آپ کے سامنے رکھتا ہوں، جس کو آپ کے
ابا مرزا محمود نے ’’حقیقۃ النبوۃ‘‘ میں نقل کیا ہے، میں ترجمہ بھی مرزا محمود ہی کا نقل کرتا ہوں، آنحضرت صلی اللہ
علیہ وسلم ارشاد فرماتے ہیں:
’’انبیاء علاتی بھائیوں کی طرح ہوتے ہیں، ان کی مائیں تو مختلف ہوتی ہیں اور دِین ایک ہوتا ہے، اور میں عیسیٰ ابن
مریم سے سب سے زیادہ تعلق رکھنے والا ہوں، کیونکہ اس کے اور میرے درمیان کوئی نبی نہیں، اور وہ نازل ہونے والا ہے،
پس جب اسے دیکھو تو پہچان لو کہ وہ درمیانہ قامت، سرخی سفیدی ملا ہوا رنگ، زرد کپڑے پہنے ہوئے، اس کے سر سے پانی ٹپک
رہا ہوگا، گو سر پر پانی ہی نہ ڈالا ہو، اور صلیب کو توڑ دے گا اور خنزیر کو قتل کردے گا اور جزیہ ترک کردے گا اور
لوگوں کو اِسلام کی طرف دعوت دے گا۔ اس کے زمانے میں سب مذاہب ہلاک ہوجائیں گے اور صرف اسلام ہی رہ جائے گا۔ اور شیر
اُونٹوں کے ساتھ، چیتے گائے بیلوں کے ساتھ، بھیڑیے بکریوں کے ساتھ چرتے پھریں گے اور بچے سانپوں سے کھیلیں گے اور وہ
ان کو نقصان نہ دیں گے، عیسیٰ ابن مریم چالیس سال زمین پر رہیں گے اور پھر وفات پاجائیں گے اور مسلمان ان کے جنازے
کی نماز پڑھیں گے۔‘‘
(مرزا محمود احمد: حقیقۃ النبوۃ ص:۱۹۲)
93
کیا مذکورہ بالا صفات میں سے ایک علامت بھی مرزا قادیانی میں نظر آتی ہے؟ اگر نہیں تو اِنصاف کیجئے کہ مرزا کیسا
مسیح ہے جس میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی ارشاد فرمائی ہوئی ایک علامت بھی نہیں پائی جاتی؟ آنحضرت صلی اللہ
علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ:
’’حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے زمانے میں تمام مذاہب مٹ جائیں گے، صرف اسلام باقی رہ جائے گا۔‘‘
ادھر مرزا کے زمانے میں تمام مذاہب تو کیا مٹتے، قادیان کی جو مسجد مرزا کے باپ دادا کے زمانے سے سکھوں کے قبضے میں
چلی آتی تھی، مرزا اس کو بھی واگزار نہ کراسکا، اور مرزا کو مرے ہوئے بھی اَسّی سال ہوچکے ہیں لیکن آپ کی جماعت
ابھی دُنیا میں ’’آٹے میں نمک کے برابر‘‘ بھی نہیں۔ شاید سکھوں اور چوہڑوں کی تعداد بھی آپ سے زیادہ ہوگی۔
فرمائیے! اس ترقی پر فخر کرنا، مسیحِ موعود کے منصب کا منہ چڑانا نہیں تو اور کیا ہے؟ کیا یہی غلبۂ اسلام تھا جس کا
وعدہ ’’مسیحِ موعود‘‘ کے زمانے سے وابستہ فرمایا گیا تھا؟ اگر ان تمام حقائق سے آنکھیں بند کرکے آپ لوگ نہایت
ڈھٹائی سے اپنی نام نہاد ترقی پر فخر کئے جائیں تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے الفاظ میں یہی کہا جاسکتا ہے کہ:
’’إذا لم تستحی فاصنع ما شئت!‘‘
’’جب تجھے شرم نہ رہے تو جو چاہے کرتا پھر!‘‘
ثالثاً:... اور اگر جماعت کے افراد کا بڑھنا ہی حقانیت کی دلیل ہے تو یہ حقانیت عیسائیوں کو آپ سے بڑھ کر حاصل ہے،
کیونکہ مرزا قادیانی کی سبزقدمی سے عیسائیت کو آپ سے بڑھ چڑھ کر ترقی ہوئی۔ مرزا قادیانی کے اپنے ضلع گورداسپور میں
۱۸۹۱ء سے ۱۹۳۱ء تک جو ترقی ہوئی اس کے اعداد و شمار محمدیہ پاکٹ بک میں حسبِ ذیل دئیے ہیں:
| ۱۸۹۱ء |
۲۴۰۰ |
| ۱۹۰۱ء |
۴۴۷۱ |
| ۱۹۱۱ء |
۲۳۳۶۵ |
94
آپ کا روزنامہ ’’الفضل‘‘ قادیان ۱۹؍جون ۱۹۴۱ء کی اشاعت میں بتاتا ہے کہ:
’’روزانہ ۲۲۴ مختلف مذاہب کے آدمی ہندوستان میں عیسائی ہو رہے ہیں۔‘‘
گویا اکیاسی ہزار سات سو ساٹھ (۸۱۷۶۰) آدمی سالانہ کے حساب سے صرف ہندوستان میں عیسائیت کی ترقی ہو رہی تھی۔ اگر
عیسائی ترقی کی یہی رفتار فرض کی جائے تو ۱۹۴۱ء سے اب تک صرف ہندوستان میں انتالیس لاکھ چوبیس ہزار چار سو اَسّی
(۳۹۲۴۴۸۰) افراد کا اضافہ ہوا ہوگا، یہ ۴۸ سال پہلے کی عیسائی ترقی کا صرف ’’سود‘‘ ہے۔
پاکستان میں عیسائی آبادی کے اضافے کے ہولناک اعداد و شمار وقتاً فوقتاً شائع ہوتے رہتے ہیں، چنانچہ بتایا جاتا ہے
کہ:
’’تقسیمِ ہند کے وقت ۱۹۴۷ء میں پاکستان (مشرقی و مغربی) کی عیسائی آبادی اَسّی ہزار (۸۰,۰۰۰) تھی۔
۱۹۵۱ء میں صرف مغربی پاکستان میں عیسائی آبادی چار لاکھ ۳۲ ہزار تھی۔
۱۹۶۱ء میں پانچ لاکھ چوراسی ہزار (۵,۸۴۰۰۰) تھی۔
۱۹۷۲ء میں نو لاکھ آٹھ ہزار (۹۰,۸۰۰۰)۔‘‘
۱۹۷۶ء میں عیسائی تنظیم کے صدر اور سیکریٹری نے دعویٰ کیا کہ ان کی آبادی پاکستان میں ساٹھ لاکھ ہے۔ ۱۹۷۶ء سے
۱۹۸۹ء تک عیسائیت کو پاکستان میں کتنا فروغ ہوا ہوگا؟ اس کا اندازہ خود کرلیجئے۔
ابھی کچھ عرصہ پہلے بنگلہ دیش سے اطلاع آئی تھی کہ وہاں پانچ لاکھ افراد مرتد
95
ہوگئے، اور انہوں نے عیسائیت قبول کرلی۔ افریقی ممالک کا حال مجھ سے زیادہ آپ کو معلوم ہے، وہاں ملکوں کے
ملک اور آبادیوں کی آبادیاں مشنریوں کے جال کا شکار بن چکی ہیں، ان تمام اعداد و شمار کو سامنے رکھ کر بتائیے کہ
کیا آپ کی جماعت کی ترقی کو عیسائیت کی ترقی سے کوئی دُور کی مناسبت بھی ہے؟ اگر آپ اپنی نام نہاد ترقی کو حقانیت
کی دلیل قرار دیتے ہیں تو اس سے کئی سو گنا وزنی دلیل عیسائی اپنی حقانیت پر پیش نہیں کرسکتے؟ اور اگر آپ لوگوں کو
دھوکا دینے کے لئے یہ کہتے ہیں کہ:
’’سعید رُوحیں جوق درجوق اس مقدس سلسلے میں داخل ہو رہی ہیں، مگر آپ جیسے اندھے ابھی تک اندھیروں میں بھٹک رہے
ہیں۔‘‘
تو کیا عیسائیوں کو آپ سے بڑھ کر یہ کہنے کا حق نہیں کہ:
’’سعید رُوحیں جوق درجوق یسوع مسیح کے مقدس سلسلے میں داخل ہو رہی ہیں، مگر مرزائی اندھے ابھی تک اندھیروں میں بھٹک
رہے ہیں۔‘‘
اور اگر عیسائیت میں داخل ہونے والے آپ کے نزدیک بھی سعید رُوحیں نہیں تو ٹھیک اسی دلیل سے یہ کہوں گا کہ مرزائیت
میں داخل ہونے والے بھی سعید رُوحیں نہیں بلکہ شقیٔ ازلی ہیں، جو رحمۃ للعالمین صلی اللہ علیہ وسلم کے دامن کو چھوڑ
کر قادیانی کذّاب کے چنگل میں پھنس رہے ہیں اور اِسلام جیسی نعمتِ عظمیٰ کے بجائے قادیانیت جیسی لعنت خرید رہے ہیں۔
رابعاً:... عیسائیت کی یہ ترقی، جس کی طرف اُوپر اِشارہ کیا گیا، اگرچہ عیسائیت کی حقانیت کی دلیل نہیں، لیکن مرزا
قادیانی کے جھوٹا ہونے کی دلیل ضرور ہے، کیونکہ مرزا قادیانی نے مسیحِ موعود ہونے کے زعم میں ’’کسرِ صلیب‘‘ کا ٹھیکہ
لے رکھا تھا، چنانچہ مرزا نے قاضی نذر حسین ایڈیٹر اخبار ’’قلقل‘‘ بجنور کے نام ایک خط لکھا تھا:
’’۔۔۔۔... میرا کام جس کے لئے میں اس میدان میں کھڑا
96
ہوں، یہی ہے کہ عیسیٰ پرستی کے ستون کو توڑ دُوں اور بجائے تثلیث کے توحید پھیلا دُوں اور آنحضرت صلی اللہ
علیہ وسلم کی جلالت اور شان دُنیا پر ظاہر کردُوں، پس اگر مجھ سے کروڑ نشان بھی ظاہر ہوں اور یہ علت غائی ظہور میں
نہ آوے تو میں جھوٹا ہوں۔
پس دُنیا مجھ سے کیوں دُشمنی کرتی ہے، اور وہ میرے انجام کو کیوں نہیں دیکھتی، اگر میں نے اسلام کی حمایت میں وہ
کام کر دِکھایا جو مسیحِ موعود اور مہدیٔ موعود کو کرنا چاہئے تو پھر میں سچا ہوں، اور اگر کچھ نہ ہوا اور میں مرگیا
تو پھر سب گواہ رہیں کہ میں جھوٹا ہوں۔‘‘
(اخبار ’’بدر‘‘ قادیان نمبر۲۹ جلد۲ ص:۴، ۱۹؍جولائی ۱۹۰۶ء)
مرزا قادیانی کا انجام ساری دُنیا نے دیکھ لیا کہ اس کو مرے ہوئے بھی اَسّی برس ہوگئے، مگر اس کے آنے سے نہ عیسیٰ
پرستی کا ستون ٹوٹا، نہ تثلیث کی جگہ توحید پھیلی، نہ عیسائیت کی کوئی روک تھام ہوئی، بلکہ معاملہ اُلٹا ہوا کہ مرز
اکے دم قدم سے عیسائیت کو روزافزوں ترقی ہوئی جس کا سلسلہ بڑی شدومد سے اب تک جاری ہے۔ چنانچہ مرزا کی وصیت کے مطابق
ایک صدی سے دُنیا یہ گواہی دے رہی ہے اور قیامت تک یہ گواہی دیتی چلی جائے گی کہ مرزا قادیانی جھوٹا تھا۔ لیکن مرزا
طاہر صاحب کی منطق نرالی ہے کہ مرزا قادیانی اگرچہ اپنی وصیت کے مطابق جھوٹا تھا، مگر پھر بھی ’’مسیحِ موعود‘‘ تھا۔
خامساً:... دُنیا کو اپنی جماعتی ترقی سے مرعوب کرنے کے لئے آپ حضرات کی یہ تکنیک رہی ہے کہ جماعتی ترقی کے مبالغہ
آمیز افسانے تراشے جائیں اور پھر انہی خود تراشیدہ افسانوی اعداد و شمار کو اپنی حقانیت کی دلیل کے طور پر پیش کیا
جائے۔ یہ ’’جھوٹ کی عادت‘‘ مرزا قادیانی سے شروع ہوئی اور آج تک جاری ہے، ذرا ملاحظہ فرمائیے:
۲؍اکتوبر ۱۹۰۲ء کو مرزا قادیانی لکھتا ہے:
’’چند سال میں ایک لاکھ سے بھی زیادہ اشخاص نے
97
میری بیعت کی۔‘‘
(تحفۃ الندوۃ ص:۸)
اس کے تین مہینے بعد جنوری ۱۹۰۳ء میں ’’جماعت لاکھ سے دوچند (یعنی دو لاکھ) ہوگئی۔‘‘
(مواہب الرحمن ص:۸۷)
۱۹۰۵ء میں مرزا سے بیعت کرنے والے قریباً چار لاکھ ہوئے۔
(تتمہ حقیقۃ الوحی ص:۱۱۷)
اَواخرِ جنوری ۱۹۰۷ء میں مرزا کو اِسکندریہ (مصر) سے کسی ’’قادیانی گوبلز‘‘ کا خط موصول ہوا جسے مرزا نے اپنے معجزے
کے طور پر پیش کیا، وہ خط یہ تھا:
’’لقد کثرت اتباعکم فی ھٰذا البلاد وصارت عدد الرمل والحصا ولم یبق أحد إلّا وعمل برأیکم واتبع أنصارکم۔‘‘
(الاستفتاء ملحقہ حقیقۃ الوحی ص:۳۲)
ترجمہ:... ’’تمہارے پیروکار اس ملک میں بہت ہوگئے ہیں، اور وہ ریت اور کنکریوں کی تعداد میں ہوگئے
ہیں، یہاں ایک شخص بھی باقی نہیں رہا، جس نے آپ کی رائے پر عمل نہ کیا ہو اور آپ کے مددگاروں کا پیرو نہ ہوگیا
ہو۔‘‘
اس خط میں’’فی ھٰذا البلاد‘‘ کی ترکیب چغلی کھاتی ہے کہ یہ خط کسی عرب کا نہیں، کسی
پنجابی کا ہے۔ اگر قادیان کے ٹیچی ٹیچی کی ٹکسال میں نہیں ڈھالا گیا تو ممکن ہے کہ کسی نے اِسکندریہ ہی سے یہ گپ
قادیانی کو لکھ بھیجی ہو۔ مرزا نے ’’دیوانہ بگفت وابلہ باور کرد‘‘ کے طور پر اس کو بھی اپنا معجزہ بنالیا ہو۔ بہرحال
یہ قادیانی جھوٹ لائقِ داد ہے۔ ۱۹۰۶ء کے اَواخر میں ملک مصر میں قادیانیوں کی تعداد ریت کے ذَرّوں اور کنکریوں کی
گنتی کے برابر تھی، اور پورے ملک میں ایک فرد بھی ایسا باقی نہیں رہا تھا جس نے قادیانیت کا طوق اپنے گلے میں نہ ڈال
لیا ہو، نہ جانے بعد میں یہ تعداد کہاں گم ہوگئی کہ اب وہاں ایک قادیانی نہیں ملتا۔
98
یہ تو مرزا کے زمانے کی جھوٹی افواہوں اور مبالغہ آرائیاں تھیں، اب ذرا بعد کا حال دیکھئے!
مقدمہ اخبار مباہلہ (۲۸- ۱۹۲۷ء) میں قادیانی گواہوں نے قادیانیوں کی تعداد دس لاکھ بتائی۔
۱۹۳۰ء میں کوکب دری کے قادیانی مؤلف کے مطابق دُنیا میں ۲۰لاکھ قادیانی موجود تھے۔ ستمبر ۱۹۳۲ء میں مناظرہ بھیرہ
میں قادیانی مناظر نے قادیانیوں کی تعداد ۵۰لاکھ بتائی۔ عبدالرحیم درد قادیانی مبلغ نے انگلستان میں مسٹر فلپی کے
سامنے بیان کیا کہ پنجاب میں مسلمانوں کی غالب اکثریت قادیانیوں کی ہے۔ اس وقت پنجاب میں ڈیڑھ کروڑ مسلمان تھے، اس
حساب سے بقول عبدالرحیم درد گویا پنجاب میں ۷۵ لاکھ سے زیادہ قادیانی تھے۔ لیکن ۱۹۳۱ء کی مردم شماری کی سرکاری رپورٹ
میں پنجاب میں قادیانیوں کی مجموعی تعداد ۵۵ہزار نکلی، جس میں لاہوری جماعت کے کئی ہزار اَفراد بھی شامل تھے، مرزا
محمود نے سرکاری رپورٹ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا:
’’فرض کرلو باقی تمام ہندوستان میں ہماری جماعت کے بیس ہزار فرد رہتے ہیں۔‘‘
(قادیانی مذہب طبع پنجم ص:۵۱۳)
یعنی پچاس سال کی محنت کا نتیجہ کل ساٹھ ستر ہزار کے درمیان نکلا جسے قادیانی ۵۰لاکھ سے ۷۵لاکھ بتاتے تھے۔ یہ رہی
آپ کے افسانوی اعداد و شمار کی حقیقت۔
۱۹۳۱ء کی مردم شماری کی رپورٹ سے بھی آپ لوگ شرمندہ نہیں ہوئے اور جھوٹے اعداد و شمار بیان کرنے کی عادت نہیں
چھوڑی، بلکہ مرعوب کن اعداد و شمار کی افسانہ تراشی کا سلسلہ اس کے بعد بھی بدستور جاری رہا۔ قیامِ پاکستان کے بعد
آپ کے لوگ بیرونی دُنیا میں یہ تأثر دیتے تھے کہ پاکستان میں اصل حکومت ’’امیر المؤمنین مرزا محمود‘‘ کی ہے اور
پاکستان کے حکمران ان کے نمائندے ہیں۔ یہ ناکارہ انڈونیشیا گیا تو وہاں احباب نے بتایا کہ یہاں قادیانیوں نے مشہور
کر رکھا ہے کہ پاکستان کے تمام لوگ احمدی ہیں، اس
99
لئے پاکستان سے جو شخص بھی آئے یہاں کے عوام اسے قادیانی ہی سمجھتے ہیں، اور پاکستان سے آنے والے کسی شخص
کے بارے میں لوگوں کو بڑی مشکل سے باور کرایا جاتا ہے کہ یہ قادیانی نہیں۔
ابھی چند سال پہلے دعوے کئے جارہے تھے کہ پوری دُنیا میں مسلمان ۷۲کروڑ ہیں اور ہماری تعداد ایک کروڑ ہے، پچاس لاکھ
پاکستان میں اور پچاس لاکھ باقی دُنیا میں۔ اس طرح ہم پر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ ارشاد صادق آتا ہے کہ
مسلمانوں کے ۷۲فرقے جہنمی ہوں گے اور ایک فرقہ ناجی ہوگا، وہ ناجی فرقہ یہی ۷۳واں فرقہ ہے، جس کی تعداد ۷۲کروڑ کے
مقابلے میں ایک کروڑ ہے۔
لیکن ۱۹۸۱ء کی مردم شماری نے یہ طلسم بھی توڑ دیا، چنانچہ ۱۹۸۱ء کی مردم شماری کی رپورٹ کے مطابق پاکستان میں
قادیانیوں کی کل تعداد ایک لاکھ چار ہزار دو سو چوالیس (۱۰۴,۲۴۴) (روزنامہ ’’جنگ‘‘ کراچی ۱۸؍جولائی ۱۹۸۴ء)۔ اب اگر
اتنی ہی تعداد باقی دُنیا میں فرض کرلی جائے تو گویا پوری دُنیا میں قادیانیوں کی کل تعداد دو لاکھ آٹھ ہزار چار سو
اَٹھاسی (۲۰۸,۴۸۸) ہوئی، جسے آپ ایک کروڑ بتاتے تھے۔ اب سنتا ہوں کہ آپ لوگوں نے ایک کروڑ پر یکایک پچاس لاکھ کا
اضافہ کرلیا ہے، اور دُنیا میں قادیانیوں کی تعداد ڈیڑھ کروڑ بتائی جانے لگی ہے۔ آپ لوگوں کو اِطمینان ہے کہ جتنے
چاہو مرعوب کن اعداد کے دعوے ہانکتے رہو، ان دعوؤں کو کون چیلنج کرتا ہے؟ کہتے ہیں کسی گنوار نے کسی پڑھے لکھے سے
کہا کہ: ’’بابوجی! تم بڑے پڑھے لکھے بنے پھرتے ہو، ذرا یہ تو بتاؤ کہ زمین کا درمیان کہاں ہے؟ جہاں سے زمین ہر طرف
سے برابر ہو۔‘‘ پڑھے لکھے بابو نے لاعلمی کا اظہار کیا تو گنوار بولا: ’’واہ! یہ بات تو مجھ اَن پڑھ کو بھی معلوم
ہے‘‘ اور پھر لاٹھی سے ایک دائرہ بناکرلاٹھی اس کے درمیان گاڑ دی اور کہا کہ: ’’یہ زمین کا بیچ ہے، اگر یقین نہ ہو
تو چاروں طرف سے پیمائش کرکے دیکھ لو۔۔۔!‘‘
جس طرح اس گنوار کو یقین تھا کہ اس کے دعوے کو چیلنج کرنے کے لئے زمین کی
100
پیمائش کون کرتا پھرے گا؟ اسی طرح آپ کی جماعت کے لیڈروں کو بھی اطمینان ہے کہ لوگوں کو مرعوب کرنے کے لئے
اپنی جماعت کی ترقی کا جتنا چاہو ڈھنڈورا پیٹتے رہو، اور خیرہ کن اعداد و شمار کے جتنے چاہو دعوے کرتے رہو، ان
دعوؤں کو چیلنج کرنے کے لئے دُنیا بھر میں قادیانیوں کی مردم شماری کون کراتا پھرے گا؟ بلاشبہ جھوٹی نبوّت کی گاڑی
اسی قسم کے جھوٹ فریب سے چل سکتی ہے۔ اور جھوٹے پروپیگنڈے پر فخر کرنا جھوٹی نبوّت کے پرستاروں ہی کو زیب دیتا ہے:
’’اِنَّ اللہَ لَا یَھْدِیْ مَنْ ھُوَ مُسْرِفٌ کَذَّابٌ‘‘
سادساً:... آپ کی دعوت اور تبلیغ کا طریقۂ کار حضراتِ انبیائے کرام علیہم السلام کی دعوت اور ان کے طریقۂ تبلیغ
سے کوئی مناسبت نہیں رکھتا۔ ایسا لگتا ہے کہ آپ کی دعوت کے اُصول تو اِسماعیلی باطنیوں سے مطابقت رکھتے ہیں، جن کی
تفصیل حضرت شاہ عبدالعزیز محدث دہلوی قدس سرہٗ نے ’’تحفۂ اثناعشریہ‘‘ میں ذکر فرمائی ہے۔ اور آپ کا طریقۂ تبلیغ
دورِ جدید کے عیسائی مشنریوں سے مماثلت رکھتا ہے کہ مشنری اسکول، کالج، اسپتال اور دیگر ادارے قائم کئے جائیں،
نوجوانوں کو نوکری چھوکری اور دیگر مادّی اغراض کی بنیاد پر دعوت دی جائے، لوگوں کو مرعوب کرنے کے لئے مبالغہ آرائی
اور پروپیگنڈے سے کام لیا جائے، سائنسی ترقی کے حوالے سے لوگوں کو ترغیب دی جائے، وغیرہ وغیرہ۔ انبیائے کرام علیہم
السلام کی مقدس سیرتوں کا مطالعہ کیا جائے تو وہاں ایسی کوئی چیز نظر نہیں آئے گی، نہ وہاں مادّی لالچ ہے، نہ
دُنیوی اغراض کی کشش نظر آتی ہے، نہ پروپیگنڈے کا شور سنائی دیتا ہے، وہ حضرات صرف آخرت کی بنیاد پر دعوت دیتے
ہیں۔ حضراتِ انبیاء علیہم السلام کی سیرت کا خلاصہ حضرت اِمام العصر مولانا محمد انور کشمیریؒ نے ’’خاتم النبیین‘‘
کے فقرہ نمبر۱۳۰ میں ذکر فرمایا ہے، اس کا اقتباس ملخصاً نقل کرتا ہوں، حضرت شاہ صاحبؒ لکھتے ہیں:
’’یہاں پہنچ کر انبیائے کرام علیہم السلام کی سیرتِ مقدسہ کا قرآنِ کریم اور کتبِ خصائص و سیر سے مطالعہ کرنا
چاہئے، قرآنِ
101
حکیم میں جو کچھ ان کے سوال و جواب کے سلسلے میں آتا ہے، اسے بغور پڑھو تو معلوم ہوگا کہ کس طرح ان حضرات
کے معاملے کی بنیاد اُمورِ ذیل پر قائم تھی، یعنی توکل و یقین، صبر و اِستقامت، اُولوالعزمی و بلند ہمتی، وقار
وکرامت، انابت و اِخلاص، فضل و اِختصاص، یقین کی خنکی اور سینے کی ٹھنڈک، سفیدۂ صبح کی طرح اِنشراح و اِعتماد، صدق
و امانت، مخلوق سے شفقت و رحمت، عفت و عصمت، طہارت ونظافت، رُجوع الی اللہ، وسائلِ غیب پر اِعتماد، ہر حال میں
لذّاتِ دُنیا سے بے رغبتی، سب سے کٹ کر حق تعالیٰ شانہ‘ سے وابستگی، سامانِ دُنیا سے بے اِلتفاتی، مال و دولت سے بے
توجہی، علم و عمل کی وراثت جاری کرنا اور مال و متاع کی وراثت جاری نہ کرنا، ترکِ فضول اور اس سے زبان کی حفاظت، ہر
حالت اور ہر معاملے میں حق کا ساتھ دینا اور اس کی پیروی کرنا، ظاہر و باطن کی ایسی موافقت کہ اس میں کبھی بھی خلل
اور رخنہ واقع نہ ہو۔ انہیں اِتمامِ مقصد کے لئے باطل عذر، فاسد تأویلات اور حیلے بہانے تراشنے کی ضرورت نہیں ہوتی،
جانبِ خدا کو جانبِ اَغراض پر ترجیح دینا، مادّی علائق اور رشتوں سے بے تعلقی اور اِعراض، تمام حوادث و پیش آمدہ
حالات میں حمد و شکر، یادِ حق اور ذِکرِ اِلٰہی میں ہمہ دم مشغول رہنا، رَبّ العالمین کے زیرِ عنایت علمِ لدنی کے
ذریعے فطرتِ سلیمہ کے مطابق لوگوں کی تعلیم و تربیت کرنا، جس میں کسی قسم کی فلسفہ آرئی، اِختراع اور تکلف کا شائبہ
تک نہ ہو، تسلیم و تفویض، عبدیتِ کاملہ، طمانیتِ زائدہ، اِستقامتِ شاملہ ۔۔۔... ان حضرات نے دُنیا میں رہ کر کبھی
چاپلوسی کا راستہ نہیں لیا، اور کیا مجال کہ کفار و جبابرہ کے مقابلے میں
102
اپنی ایک بات سے بھی کبھی تنزل فرمایا ہو، یا فراعنہ کی تخویف و تہدید اور ان کے ہجوم کی بنا پر اپنے راستے
سے اِنحراف کیا ہو، یا حرص و طمع اور سامانِ دُنیا جمع کرنے کا معمولی دھبہ بھی ان کے دامنِ مقدس تک پہنچا ہو، یا
حرص و ہوا اور حبِ ماسوا نے کبھی انہیں اپنی طرف کھینچا ہو، اور ممکن نہیں کہ ان کے آپس میں علم و عمل کا اِختلاف
ہوا ہو، یا ایک دُوسرے پر رَدّ و قدح یا ایک دُوسرے کی ہجو اور کسرِ شان کی ہو، ناممکن ہے کہ انہیں اپنے کمالات پر
کبھی ناز اور عُجب ہو یا وہ اپنے تمام حالات میں کبھی بھی کبر و تعلّی اور نفس کے فریب میں مبتلا ہوں۔ خلاصہ یہ کہ
جو کچھ بھی تھا عطیاتِ ربانیہ سے تھا، انسانی کسب وریاضت کے دائرے میں نہیں تھا ۔۔۔۔۔۔۔۔‘‘
(خاتم النبیین اُردو ترجمہ ص:۲۳۲، ۲۳۳، شائع کردہ مجلس تحفظ ختمِ نبوّۃ، ملتان)
آپ کی جماعت میں ان اوصاف کی کوئی جھلک نظر نہیں آتی، آپ کی دعوت اور طریقۂ تبلیغ کا حضراتِ انبیائے کرام علیہم
الصلوات والتسلیمات سے منحرف ہونا، اہلِ نظر کے نزدیک آپ کی دعوت کے غلط اور باطل ہونے کی مستقل دلیل ہے۔ لیکن جو
حضرات دن کی روشنی میں سیاہ و سفید کے درمیان امتیاز کرنے کی صلاحیت نہیں رکھتے، وہ آپ کی دعوت کا انبیائے کرام
علیہم السلام کی دعوت سے کیا موازنہ کرسکتے ہیں؟
۳:... آپ کے سیکریٹری صاحب لکھتے ہیں:
’’اگر آپ میں ذرّہ بھر بھی شرافت ہوتی تو اِمامِ جماعتِ احمدیہ کے مباہلہ کے چیلنج کو سیدھی طرح قبول کرتے، تاکہ
دُنیا جان لیتی کہ آپ سچے ہیں اور راہِ فرار اِختیار کرنے کی نہ سوچتے۔‘‘
آپ نے اس ’’شریفانہ فقرے‘‘ میں مجھ پر دو فتوے لگائے ہیں، ایک یہ کہ مجھ میں ذرّہ بھر شرافت نہیں۔ دوم یہ کہ میں
مباہلہ سے راہِ فرار اِختیار کر رہا ہوں۔ جہاں تک
103
پہلے فتوے کا تعلق ہے، مجھے آنجناب سے سندِ شرافت حاصل کرنے کی ضرورت نہیں، اگر آپ مجھ پر غیرشریف ہونے کا
فتویٰ صادر فرماتے ہیں تو مجھے اس کی شکایت نہیں، میں جانتا ہوں کہ آخر آپ مرزا قادیانی کی ذُرّیتِ شریفہ ہیں اور
مرزا قادیانی اپنے مخالفوں کو جن ’’شریفانہ الفاظ‘‘ سے یاد کرنے کا عادی تھا، ان کی ایک مختصر سی فہرست ’’مغلظاتِ
مرزا‘‘ میں ملاحظہ کی جاسکتی ہے، مرزا قادیانی کے بارے میں اہلِ تجربہ کا تأثر یہ تھا کہ:
’’مناظرے میں فحش بیانی و سخت کلامی، بدزبانی بلکہ گالی کوسنے کا مرزاجی نے سرکار سے ٹھیکہ لے لیا ہے، آپ اس فن کے
’’جگت اُستاد‘‘ مانے جاتے ہیں۔‘‘
(مغلظاتِ مرزا ص:۷۰)
جس قوم کے پیشوا کے منہ میں ہمیشہ کتے، سوَر، خنزیر جیسے ’’مقدس‘‘ الفاظ رہتے ہوں، اور جو اپنے مخالفوں کو حرام
زادے اور کنجریوں کی اولاد کے الفاظ سے خطاب کرنے کا عادی ہو، ایسے شریف پیشوا کی شریف اُمت اگر مجھ ایسے ناکاروں کو
غیرشریف ہونے کی گالی دے تو یہ گالی بڑی ہلکی پھلکی سمجھی جائے گی۔
مرزا طاہر صاحب! آپ کے دادا نے آپ لوگوں کے بارے میں جو ’’آئینۂ شرافت‘‘ پیش کیا ہے، میں اس کو آپ کے سامنے
رکھتا ہوں، ذرا اس آئینے میں منہ دیکھ کر بتائیے کہ آپ میں اور آپ کی جماعت میں شرافت کے کتنے ذَرّے نظر آتے
ہیں...؟
اس کی شرح یہ ہے کہ شیخ اکبرؒ نے ’’فصوص الحکم‘‘ میں نوعِ انسانی کے آخری مولود کے بارے میں ایک پیش گوئی فرمائی
تھی، جس کو آپ کے دادا نے درج ذیل الفاظ میں نقل کیا ہے:
’’وعلٰی قدم شیث یکون آخر مولود یولد من ھٰذا النوع الْإنسانی وھو حامل أسرارہ، ولیس بعدہ ولد فی ھٰذا النوع،
فھو خاتم الأولَاد، وتولد معہ أخت لہ، فتخرج قبلہ ویخرج بعدھا، یکون رأسہ عند
104
رجلیھا، ویکون مولدہ بالصین، ولغتہ لغۃ بلدہ، ویسری العقم فی الرجال والنساء فیکثر
النکاح من غیر ولَادۃ، ویدعوھم إلی اللہ فلا یجاب۔‘‘
(تریاق القلوب ص:۳۵۴)
ترجمہ:... ’’اور اس نوعِ انسانی کا جو آخری بچہ پیدا ہوگا وہ شیث علیہ السلام کے قدم پر ہوگا، اور
وہ حضرت شیث علیہ السلام کے اسرار کا حامل ہوگا، اور اس بچے کے بعد اس نوعِ انسانی میں کوئی بچہ پیدا نہیں ہوگا۔ پس
وہ بچہ خاتم الاولاد ہوگا، اور اس کے ساتھ اس کی ایک بہن پیدا ہوگی جو اس سے پہلے پیدا ہوگی، اور اس بچے کا سر اس
بچی کے پاؤں سے ملا ہوا ہوگا، اس بچے کی پیدائش چین میں ہوگی اور اس کی زبان اس کے شہر کی زبان ہوگی، اور (اس بچے
کی پیدائش کے بعد) مردوں اور عورتوں میں بانجھ پن کی بیماری سرایت کرجائے گی، پس نکاح بکثرت ہوں گے، مگر اولاد کی
پیدائش نہیں ہوگی، یہ بچہ (بڑا ہوکر) لوگوں کو اللہ تعالیٰ کی طرف دعوت دے گا، لیکن اس کی دعوت پر کوئی کان نہیں
دھرے گا۔‘‘
مرزا قادیانی کی عادت تھی کہ کہیں پیش گوئی نظر آجاتی اسے جھٹ سے اپنے اُوپر ڈھال لیا کرتا تھا، چنانچہ شیخ اکبرؒ
کی مندرجہ بالا پیش گوئی کے بارے میں مرزا نے کہا کہ پیش گوئی مسیحِ موعود کے بارے میں ہے، اور چونکہ مسیحِ موعود،
مرزا ہے، لہٰذا یہ پیش گوئی کا مصداق بھی مرزا ہے۔ اب سوال یہ ہوا کہ پیش گوئی میں تو یہ کہا گیا ہے کہ وہ بچہ نوعِ
انسانی میں خاتم الاولاد ہوگا، اس کی پیدائش کے بعد پھر نوعِ انسانی میں کسی بچے کی ولادت نہیں ہوگی، تمام مرد و زَن
بانجھ ہوجائیں گے، چنانچہ نکاح بکثرت ہوں گے مگر اولاد نہیں ہوگی۔ مرزا اس پیش گوئی کا مصداق کیسے ہوسکتا ہے؟ جبکہ
مرزا کے بعد بھی نوعِ انسانی میں توالد اور تناسل کا سلسلہ بدستور جاری رہا۔ اس سوال کو حل کرنے کے لئے مرزا نے اس
پیش گوئی میں
105
جو تأویل کی وہ یہ تھی کہ:
’’اور پیش گوئی میں یہ بھی الفاظ ہیں کہ اس کے بعد یعنی اس کے مرنے کے بعد نوعِ انسان میں علت عقم (بانجھ پن کی
بیماری) سرایت کرے گی، یعنی پیدا ہونے والے حیوانوں اور وحشیوں سے مشابہت رکھیں گے، اور اِنسانیتِ حقیقی صفحۂ عالم
سے مفقود ہوجائیں گے، پس ان پر قیامت قائم ہوگی۔‘‘
(تریاق القلوب ص:۳۵۵ طبع اوّل ص:۱۵۹)
مرزا قادیانی کی اس تأویل کے مطابق پیش گوئی کا مطلب یہ ہوا کہ مسیحِ موعود کے مرنے کے بعد نوعِ انسانی میں جو لوگ
پیدا ہوں گے ان میں اِنسانیت نام کو بھی نہیں ہوگی، وہ حیوانوں اور وحشیوں کے مشابہ ہوں گے، وہ حلال و حرام کی کوئی
تمیز نہیں رکھتے ہوں گے، ان پر قیامت قائم ہوگی۔
مرزا طاہر صاحب! میں اپنی طرف سے کچھ نہیں کہتا، ذرا مرزا قادیانی کے ان الفاظ کے آئینے میں اپنا اور اپنے
سیکریٹری صاحب کا چہرہ پہچاننے کی کوشش کیجئے، اگر مرزا قادیانی مسیحِ موعود ہے اور اگر مسیحِ موعود کے مرنے کے بعد
پیدا ہونے والے حیوان اور وحشی ہیں، ان میں ا نسانیت نام کو بھی نہیں، بلکہ خالص جانور ہیں، تو آپ اور آپ کی جماعت
کے وہ تمام افراد جو مرزا قادیانی کی موت (۲۶؍مئی ۱۹۰۸ء) کے بعد پیدا ہوئے ان کی حیثیت خودبخود متعین ہوجاتی ہے۔
مرزا طاہر صاحب! آپ مرزا کو مسیحِ موعود مان کر اِنسانیت سے خارج اور حیوانوں اور وحشیوں کی صف میں شامل ہوگئے۔ اب
آپ کے سامنے دو ہی راستے ہیں، اگر اِنسانوں کی صف میں شامل ہونا چاہتے ہیں تو مرزا غلام احمد قادیانی کے مسیحِ
موعود ہونے کا اِنکار کردیجئے، اور اگر آپ کو اَب بھی مرزا کے مسیحِ موعود ہونے کا اِصرار ہے تو آپ اپنے مسیحِ
موعود کے فتویٰ کے مطابق:
106
’’حیوانوں اور وحشیوں سے مشابہت رکھتے ہیں، انسانیتِ حقیقی آپ میں مفقود ہے، آپ حلال کو حلال اور حرام کو حرام
نہیں سمجھتے۔‘‘
کیا ایسے انسان نما جانوروں میں انسانیت و شرافت کا ذَرّہ ہوسکتا ہے؟ اور ایسے وحشی جن کی نظر میں حلال و حرام کی
کوئی تمیز نہیں، بیوی اور بہو بیٹی کے درمیان کوئی امتیاز نہیں، اگر وہ مجھے طعنہ دیتے ہیں کہ مجھ میں ’’ذَرّہ بھر
بھی شرافت‘‘ نہیں تو ایسے وحشیوں کی بات کا کیوں بُرا منایا جائے...؟
آپ کے سیکریٹری کا دُوسرا اِلزام مجھ پر یہ ہے کہ میں مباہلہ سے راہِ فرار اِختیار کر رہا ہوں، جس شخص کی نظر سے
میرے وہ الفاظ گزرے ہوں گے، جو میں نے جلی قلم سے لکھوائے تھے، وہ آپ کی راست بازی کی داد دئیے بغیر نہیں رہ سکتا،
میں نے آپ کی دعوت کو قبول کرتے ہوئے جلی الفاظ میں لکھا تھا:
’’آئیے! اس فقیر کے مقابلے میں میدانِ مباہلہ میں قدم رکھئے اور پھر میرے مولائے کریم کی غیرت و جلال اور قہری
تجلی کا کھلی آنکھوں تماشا دیکھئے۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے نصاریٰ نجران کے بارے میں فرمایا تھا کہ اگر وہ
مباہلہ کے لئے نکل آتے تو ان کے درختوں پر ایک پرندہ بھی زندہ نہ بچتا۔ آئیے! آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ایک
ادنیٰ اُمتی کے مقابلے میں میدانِ مباہلہ میں نکل کر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی ختمِ نبوّت کا اعجاز ایک بار پھر
دیکھ لیجئے!‘‘
107
اس کے بعد میں نے آپ کے فرار کی پیش گوئی کرتے ہوئے لکھا تھا:
’’اس ناکارہ کا خیال ہے کہ آپ آگ کے اس سمندر میں کودنا کسی حال میں قبول نہیں کریں گے، اپنے باپ دادا کی طرح
ذِلت کی موت مرنا تو پسند کریں گے، لیکن آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے اس نالائق اُمتی کے مقابلے میں میدانِ مباہلہ
میں اُترنے کی جرأت نہیں کریں گے۔‘‘
میں آپ کا شکرگزار ہوں کہ آپ نے میری پیش گوئی خود اپنے ہاتھ سے پوری کردِکھائی، اگر آپ میں ذرا بھی غیرت ہوتی
تو کم از کم میری پیش گوئی کو جھوٹا ثابت کرنے کے لئے ہی مباہلہ کے میدان میں کود جاتے، لیکن مسیحِ کذّاب کی ذُرّیت
میں شمۂ صداقت یا ذَرّۂ غیرت کہاں؟ اس کی توقع ہی عبث ہے، اللہ تعالیٰ کا لاکھ لاکھ شکر ہے کہ میرے مباہلہ کی
للکار سے مسیحِ کذّاب کی ذُرّیت پر ایسا لرزہ طاری ہوا کہ میری پیش گوئی کو غلط ثابت کرنے کے لئے بھی ان کی غیرت کو
جنبش نہ ہوئی۔ یہ اس ناکارہ و نالائق اُمتی کا کمال نہیں، بلکہ میرے نبی صادق و مصدوق صلی اللہ علیہ وسلم (میرے ماں
باپ آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر قربان) کی صداقت کا اِعجاز ہے:
’’قُلْ جَآءَ الْحَقُّ وَزَھَقَ الْبَاطِلُ، اِنَّ الْبَاطِلَ کَانَ زَھُوْقًا‘‘
۴:... آپ کے سیکریٹری صاحب لکھتے ہیں:
’’مباہلہ دُعا کے ذریعے خدا تعالیٰ سے فیصلہ طلبی کا نام ہے، اور آیتِ مباہلہ کی رُو سے کسی مخصوص مقام پر فریقین
کا اِجتماع ضروری نہیں، اس لئے آپ کا یہ کہنا کہ فلاں تاریخ کو فلاں وقت مینارِ پاکستان یا کسی اور جگہ آؤ، سوائے
مباہلہ سے فرار کے اور کوئی معنی نہیں رکھتا۔‘‘
یہ تو ابھی اُوپر معلوم ہوچکا ہے کہ مرزا کی ذُرّیت کو میدانِ مباہلہ میں کون للکار رہا ہے، اور میدانِ مباہلہ سے
فرار کون اِختیار کر رہا ہے؟ لیکن آپ کی شرم و حیا کی داد دیتا
108
ہوں کہ خود بھاگ رہے ہیں مگر بھاگتے ہوئے یہ شور مچا رہے ہیں کہ ’’دیکھو بھاگ رہا ہے، بھاگ رہا ہے‘‘ عیار
چور کا کردار مشہور ہے، جب چوری کے دوران گھر والوں کی آنکھ کھل گئی اور وہ ’’چور چور‘‘ پکارنے لگے تو عیار چور نے
خود بھی ’’چور چور‘‘ پکارنا شروع کردیا تاکہ اس پر چوری کا شبہ نہ کیا جائے اور وہ رات کی تاریکی سے فائدہ اُٹھاکر
بھاگ نکلنے میں کامیاب ہوجائے۔ لیکن مرزا طاہر صاحب! اب آپ کی عیاری نہیں چلے گی، رات کی تاریکی چھٹ چکی ہے، صبح کا
اُجالا ہوچکا ہے، مسیحِ کذّاب کی ’’باغیرت ذُرّیت‘‘ کی آواز تو آواز، ان کے چہرے بھی صاف پہچانے جاچکے ہیں، اب آپ
کی ’’چور چور‘‘ کی آواز سے کون احمق دھوکا کھائے گا؟
میں نے قرآنِ کریم کی آیت اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے عمل مبارک کے حوالے سے لکھا تھا کہ ’’مباہلہ کا
طریقہ یہ ہے کہ دونوں فریق اپنی عورتوں، بچوں اور متعلقین کو لے کر میدان میں نکلیں۔‘‘ لیکن آپ کے لئے یہ حوالے اس
لئے بے سود ٹھہرے کہ آپ کو نہ قرآن پر اِیمان ہے اور نہ صاحبِ قرآن صلی اللہ علیہ وسلم کے عمل مبارک پر۔ اس لئے
آپ نے مباہلہ کا بھی ایک نیا مفہوم گھڑلیا۔ مثل مشہور ہے کہ ’’جھوٹے کو اس کی ماں کے گھر تک پہنچاکر آنا چاہئے‘‘
اس لئے میں آپ کے مسیحِ کذّاب کی تحریروں سے ثابت کرتا ہوں کہ مباہلہ کسے کہتے ہیں؟ اور یہ کہ مباہلہ کے لئے فریقین
کا ایک میدان میں جمع ہونا ضروری ہے یا نہیں؟ ذرا غور سے سنئے!
۱:... مرزا قادیانی نے ۱۸۸۶ء میں آریوں کو مباہلہ کی دعوت دیتے ہوئے لکھا:
’’اگر کوئی آریہ ہمارے اس تمام رسالے کو پڑھ کر پھر بھی اپنی ضد کو نہ چھوڑنا چاہے اور اپنی کفریات سے باز نہ آوے
تو ہم خدا تعالیٰ کی طرف اشارہ پاکر اس کو مباہلہ کی طرف بلاتے ہیں۔‘‘
(سرمہ چشم آریہ ص:۲۸۰)
’’آخر الحیل مباہلہ ہے، جس کی طرف ہم پہلے اشارات
109
کر آئے ہیں۔ مباہلہ کے لئے وید خوان ہونا ضروری نہیں، ہاں باتمیز اور ایک نامور آریہ ہونا چاہئے جس کا اثر
دُوسروں پر بھی پڑسکے، سو اگر وہ وید کی ان تعلیموں کو، جن کو ہم کسی قدر اس رسالے میں تحریر کرچکے ہیں، فی الحقیقت
صحیح اور سچے سمجھتے ہیں اور ان کے مقابل جو قرآن شریف کے اُصول اور تعلیمیں اسی رسالے میں بیان کی گئی ہیں ان کو
باطل اور دروغ خیال کرتے ہیں تو اس بارے میں ہم سے مباہلہ کرلیں۔
اور کوئی مقام مباہلہ کا برضامندی فریقین قرار پاکر ہم دونوں فریق تاریخِ مقرّرہ پر اس جگہ حاضر ہوجائیں۔‘‘
(سرمہ چشم آریہ ص:۳۰۰، ۳۰۱)
۲:... ۱۸۹۶ء میں عیسائیوں کو مباہلہ کی دعوت دیتے ہوئے مرزا نے لکھا:
’’اور ربانی فیصلے کے لئے طریق یہ ہوگا کہ میرے مقابل پر ایک معزز پادری صاحب جو پادری صاحبان مندرجہ ذیل میں سے
منتخب کئے جائیں
میدانِ مباہلہ کے لئے، جو تراضی فریقین سے مقرّر کیا جائے طیار ہوں، پھر بعد اس کے ہم دونوں معہ اپنی اپنی جماعتوں
کے میدانِ مقرّرہ میں حاضر ہوجائیں۔
اور خدا تعالیٰ سے دُعا کے ساتھ یہ فیصلہ چاہیں کہ ہم دونوں میں سے جو شخص درحقیقت خدا تعالیٰ کی نظر میں کاذب اور
موردِ غضب ہے، خدا تعالیٰ ایک سال میں اس کاذب پر وہ قہر نازل کرے جو اپنی غیرت کی رُو سے ہمیشہ کاذب اور مکذب قوموں
پر کیا جاتا ہے۔‘‘
(انجامِ آتھم ص:۴۰)
110
’’سو اے پادری صاحبان! دیکھو کہ میں اس کام کے لئے کھڑا ہوں، اگر چاہتے ہو کہ خدا کے حکم سے اور خدا کے فیصلے سے
سچے اور جھوٹے میں فرق ظاہر ہوجائے تو آؤ
تاہم ایک میدان میں دُعاؤں کے ساتھ جنگ کریں۔
تاکہ جھوٹے کی پردہ دری ہو۔‘‘
(انجامِ آتھم ص:۴۲)
’’اگر عیسائی لعنت کے لفظ سے متنفر ہیں تو اس لفظ کو جانے دیں، بلکہ دونوں فریق یہ دُعا کریں کہ یا اِلٰہ العالمین!
اے قادر! ان دونوں گروہوں میں اس طرح فیصلہ کر کہ جو ہم دو فریق میں سے
جو اس وقت مباہلہ کے میدان میں حاضر ہیں،
جو فریق جھوٹے اعتقاد کا پابند ہے اس کو ایک سال کے اندر بڑے عذاب سے ہلاک کر، کیونکہ تمام دُنیا کی نجات کے لئے
چند آدمی کا مرنا بہتر ہے۔‘‘
(انجامِ آتھم ص:۳۳)
۳:... اکابر علمائے اُمت کو مباہلہ کی دعوت دیتے ہوئے مرزا لکھتا ہے:
’’اب میں پھر اپنے کلام کو اصل مقصد کی طرف رُجوع دے کر ان مولوی صاحبوں کا نام ذیل میں درج کرتا ہوں جن کو میں نے
مباہلہ کے لئے بلایا ہے اور میں پھر ان سب کو اللہ جل شانہ‘ کی قسم دیتا ہوں کہ
مباہلہ کے لئے تاریخ اور مقام مقرّر کرکے جلد مباہلہ کے میدان میں آویں
اور اگر نہ آئے اور نہ تکفیر و تکذیب سے باز آئے تو خدا کی لعنت کے نیچے مریں گے۔‘‘
(انجامِ آتھم ص:۶۹)
۱:... مرزا قادیانی ’’خدا تعالیٰ سے اشارہ پاکر‘‘ آریوں کو میدانِ مباہلہ میں
111
بلاتا ہے۔
۲:... عیسائیوں کے سامنے ’’ایک میدان میں جمع ہوکر دُعاؤں کے ساتھ جنگ‘‘ کرنے کو ربانی فیصلہ قرار دیتا ہے۔
۳:... اور اکابر علمائے اُمت کو حلف دیتا ہے کہ: ’’مباہلہ کے لئے تاریخ اور مقام مقرّر کرکے جلد مباہلہ کے میدان
میں آئیں، ورنہ خدا کی لعنت کے نیچے مریں گے۔‘‘
لیکن آپ نہ خدائی اشاروں کو سمجھتے ہیں، نہ ربانی فیصلے کو مانتے ہیں، نہ آپ کو مرزا کے حلف کی شرم و لحاظ ہے، نہ
تاریخ اور مقام مقرّر کرتے ہیں اور نہ میدانِ مباہلہ میں آنے پر آمادہ ہیں، بلکہ بقول مرزا ۔۔۔خدا کی لعنت کے نیچے
مرنا چاہتے ہیں۔
اب فرمائیے مباہلہ سے فرار کون کر رہا ہے؟ اور مباہلہ سے فرار کرکے خدا کی لعنت کا مورد کون بن رہا ہے، اگر آپ کو
قرآنِ کریم پر اِیمان نہیں ہے تو نہ سہی، اگر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا عمل آپ کے لئے حجت نہیں، تو اس کو بھی
جانے دیجئے، لیکن آپ اس لعنت کی موت سے کیسے بچیں گے جو آپ کے دادا مسیحِ کذّاب نے آپ کے لئے تجویز کردی ہے...؟
آج آپ لکھتے ہیں کہ:
’’آیتِ مباہلہ کی رُو سے کسی مخصوص مقام پر فریقین کا اِجتماع ضروری نہیں۔‘‘
لیکن آپ کو کیوں یاد نہیں کہ آپ کے دادا کا قادیانی قرآن، جس کی شان میں ’’انا انزلناہ
قریبًا من القادیان‘‘ نازل ہوا تھا (تذکرہ ص:۷۶) اور جس میں یہ دو آیتیں بھی تھیں:
’’شاتان تذبحان، فبأی اٰلآء ربکما تکذبان‘‘
(تذکرہ ص:۹۲)
اسی قادیانی قرآن کی جو چند آیتیں مرزا نے ’’انجامِ آتھم‘‘ میں نقل کی ہیں ان
112
میں سے ایک ’آیتِ مباہلہ‘‘ بھی ہے، جس کا متن اور ترجمہ مرزا قادیانی نے حسبِ ذیل دیا ہے:
’’وقالوا کتاب ممتلیٔ من الکفر والکذب قل تعالوا ندع أبنائنا وأبنائکم ونسائنا ونسائکم وأنفسنا وأنفسکم ثم
نبتھل فنجعل لعنۃ اللہ علی الکاذبین۔‘‘
(ص:۶۰)
ترجمہ:... ’’اور لوگوں نے کہا کہ یہ کتاب کفر اور کذب سے بھری ہوئی ہے، ان کو کہہ دے کہ ہم اور تم
اپنے بیٹوں اور عورتوں اور عزیزوں سمیت ایک جگہ اِکٹھے ہوں، پھر مباہلہ کریں اور جھوٹوں پر لعنت بھیجیں۔‘‘
آپ دیکھ رہے ہیں کہ آپ کے دادا کے قادیانی قرآن میں بھی مباہلہ کا وہی مفہوم لکھا ہوا ہے جو میں ذِکر کر رہا
ہوں، یعنی ’’دو فریقوں کا مع متعلقین کے ایک میدان میں جمع ہوکر بیک زبان جھوٹوں پر لعنت کرنا‘‘ لیکن آپ کے
سیکریٹری صاحب لکھتے ہیں:
’’ہمارا اِیمان ہے کہ خدا تعالیٰ کائنات میں ہر جگہ موجود ہے اور اس کے قبضۂ قدرت سے کوئی جگہ باہر نہیں، اور کوئی
مقام اس کے تسلط و جبروت سے خالی نہیں اس کی کرسی زمین و آسمان پر محیط ہے، اس کو مخاطب کرکے لعنۃ اللہ علی
الکاذبین کہنے میں آپ کو ہچکچاہٹ کیوں ہے؟ اور کیوں فریقین کی موجودگی ضروری ہے؟‘‘
اوّلاً:... تو مجھے یہ کہنے کی اجازت دیجئے کہ آپ کو نہ خدا پر اِیمان ہے، نہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم پر، نہ
قرآنِ کریم پر اور نہ مرزا قادیانی پر۔ اگر اللہ تعالیٰ کی ذاتِ عالی پر آپ کا ایمان ہوتا تو اللہ تعالیٰ نے
فریقین کو میدانِ مباہلہ کی طرف بلانے کا جو حکم فرمایا تھا آپ اسے منسوخ نہ کرتے اور میدانِ مباہلہ میں فریقین کے
اِجتماع کو غیرضروری قرار دے کر مباہلہ کے مفہوم میں تحریف کا اِرتکاب نہ کرتے۔ اگر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر
آپ کا اِیمان ہوتا تو اِرشادِ خداوندی کی تعمیل میں جس طرح آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم بنفسِ نفیس
113
مباہلہ کے لئے باہر تشریف لائے تھے، آپ بھی اسی طرح میدانِ مباہلہ میں نکلتے۔ اگر مرزا قادیانی کی صداقت کا
ذرا بھی خیال ہوتا تو کم از کم مرزا کے حلف کی شرم رکھتے۔
ثانیاً:... حق تعالیٰ شانہ‘ کے ہر جگہ حاضر و ناظر ہونے میں کس کافر کو کلام ہے؟ سوال تو یہ ہے کہ جو معاملہ فریقین
کے درمیان طے ہو، اس کے لئے ہر دو فریق کا ایک جگہ جمع ہونا ضروری ہے یا نہیں؟ کیا میاں بیوی کے درمیان ’’لعان‘‘
ہوسکتا ہے جب تک کہ وہ دونوں ایک جگہ جمع نہ ہوں؟ کیا زوجین کے درمیان نکاح ہوسکتا ہے جب تک دونوں فریق اصالۃً یا
وکالۃً ایک مجلس میں جمع نہ ہوں؟ کیا مقدمے کا فیصلہ ہوسکتا ہے جب تک کہ دونوں فریق اصالۃً یا وکالۃً عدالت کے کٹہرے
میں نہ آئیں؟ اگر مباہلہ بھی دو فریقوں کا عدالتِ اِلٰہی سے فیصلہ طلبی کا نام ہے تو اس فیصلہ طلبی کے لئے دونوں
فریقوں کا ایک دُوسرے کے رُوبرو اپنے بیانات قلم بند کرانا اور پھر دونوں کا مل کر عدالتِ اِلٰہی سے فیصلہ طلب کرنا
کیوں ضروری نہیں؟
ثالثاً:... یہ تو میں جانتا ہوں کہ قادیانی ہونے کے معنی ہی یہ ہیں کہ آدمی قرآن و حدیث کے مطالب کو اپنی خواہش
کے مطابق ڈھالنے لگے۔ چنانچہ بے شمار آیات و احادیث آپ کی تحریف کا تختۂ مشق بن چکی ہیں اور بہت سی اِصطلاحاتِ
شرعیہ کے مفہومات کو اپنی خواہش کی بھینٹ چڑھایا جاچکا ہے، اسی کو اِلحاد و زَندقہ کہا جاتا ہے اور اسی اِلحاد و
زَندقہ کا مظاہرہ آپ مباہلہ کی شرعی اِصطلاح میں کر رہے ہیں۔ قرآنِ کریم کا اعلان یہ ہے کہ اگر مباہلہ کرنا ہے تو
دونوں فریقوں کو ان کے متعلقین سمیت میدانِ مباہلہ میں بلایا جائے، پھر دونوں مل کر بارگاہِ اِلٰہی میں گڑگڑائیں اور
اللہ تعالیٰ سے جھوٹوں پر لعنت کی درخواست کریں۔ تب عدالتِ اِلٰہی سے فیصلہ صادر ہوگا۔ چنانچہ اُوپر آپ کے دادا کے
قادیانی قرآن سے بھی آیتِ مباہلہ کا ترجمہ نقل کرچکا ہوں کہ:
’’ان کو کہہ دے کہ آؤ ہم اور تم اپنے بیٹوں اور عورتوں اور عزیزوں سمیت ایک جگہ اِکٹھے ہوں، پھر مباہلہ کریں اور
جھوٹوں پر لعنت بھیجیں۔‘‘
114
لیکن آپ فرماتے ہیں کہ ہم خدائی عدالت میں حاضر نہیں ہوں گے، خدا تعالیٰ کو فیصلہ کرنا ہے تو ہمارے گھر بیٹھے
بیٹھے فیصلہ کردے۔ فرمائیے! کیا یہ خدائی عدالت کی توہین نہیں؟ اور یہ مباہلہ کا مذاق اُڑانا نہیں تو اور کیا ہے؟
پھر ستم بالائے ستم یہ کہ آپ دُوسروں کو بھی مجبور کرتے ہیں کہ وہ اس مذاق میں آپ کے ساتھ شریک ہوں، لا حول ولا
قوۃ اِلَّا باللہ!
رابعاً:... چونکہ آپ پاکستان سے مفرور ہیں، بہت ممکن ہے کہ پاکستان آنے سے آپ کو کوئی جلی یا خفی عذر مانع ہو،
لہٰذا میں آپ کو پاکستان آنے کی زحمت نہیں دیتا، آپ لندن ہی میں مباہلہ کی جگہ اور تاریخ کا اعلان کردیجئے، یہ
فقیر اپنے رُفقاء سمیت وہاں حاضر ہوجائے گا۔ اور اگر قصرِ خلافت سے باہر قدم رکھنے سے خوف مانع ہے تو چلئے اپنے
’’لندنی اسلام آباد‘‘ ہی کو میدانِ مباہلہ قرار دے کر تاریخ کا اِعلان کردیجئے، یہ فقیر آپ کے مستقر پر حاضر
ہوجائے گا اور جتنے رُفقاء آپ فرمائیں گے، لاکھ، دو لاکھ، دس، بیس لاکھ اپنے ساتھ لے آئے گا، حفظِ امن کی ذمہ داری
آپ کو اُٹھانی ہوگی۔
میرا مباہلہ اسی نکتے پر ہوگا، جس پر ایک صدی پہلے مولانا عبدالحق غزنوی مرحوم ومغفور نے مرزا قادیانی سے مباہلہ
کیا اور جس کے نتیجے میں مرزا قادیانی رُوسیاہ ہوا تھا، یعنی:
’’مرزا غلام احمد قادیانی اور اس کے پیرو، سب دجال وکذّاب، کافر و مرتد اور زِندیق و بے ایمان ہیں۔‘‘
دیکھئے! اب میں نے آپ کا کوئی عذر باقی نہیں چھوڑا، اب آپ کو آپ کے دادا کے الفاظ میں غیرت دِلاتا ہوں کہ:
’’آپ کو اللہ جل شانہ‘ کی قسم دیتا ہوں کہ مباہلہ کے لئے تاریخ اور مقام مقرّر کرکے جلد مباہلہ کے میدان میں آئیں
ورنہ خدا کی لعنت کے نیچے مریں گے۔‘‘
خامساً:... آخر میں پھر اَز راہِ خیرخواہی عرض کرتا ہوں کہ مرزا قادیانی، خدائی عدالت میں بار بار جھوٹا ثابت
ہوچکا ہے، نیا مباہلہ کرنے کے بجائے آپ خدائی عدالت کے پہلے فیصلے کو تسلیم کرکے مرزا کذّاب کی پیروی چھوڑ دیں، آپ
سو بار بھی مباہلہ کریں گے
115
تو نتیجہ وہی رہے گا۔ ابھی توبہ کا دروازہ کھلا ہے، مرنے سے پہلے قادیانی عقائد سے توبہ کرکے حضرت رحمۃ
للعالمین صلی اللہ علیہ وسلم کے دامنِ رحمت سے وابستہ ہوجائیں۔
میں آپ کو اور آپ کی جماعت کو حق تعالیٰ شانہ‘ سے ہدایت طلبی کا آسان طریقہ بتاتا ہوں، وہ یہ کہ رات کو سونے سے
پہلے ۳۱۳ مرتبہ دُرود شریف پڑھ کر تنہائی میں حق تعالیٰ شانہ‘ سے رو رو کر دُعا کریں کہ:
’’یا اللہ! تیری رحمت کا واسطہ! اپنے نبیٔ رحمت صلی اللہ علیہ وسلم کے صدقے ہمیں گمراہی سے نکلنے کی توفیق عطا
فرما، اور اب تک ہم سے جتنی اِعتقادی و عملی غلطیاں ہوئی ہیں، ان کو معاف فرما۔‘‘
اگر آپ میں سے کسی نے صدقِ دِل سے میری اس تدبیر پر عمل کیا تو اِن شاء اللہ اس پر ہدایت کا دروازہ ضرور کھلے گا۔
سُبْحَانَکَ اللّٰھُمَّ وَبِحَمْدِکَ، اَشْھَدُ اَنْ لّا اِلٰـہَ اِلّا اَنْتَ،
اَسْتَغْفِرُکَ وَاَتُوْبُ اِلَیْکَ
سُبْحٰنَ رَبِّکَ رَبِّ الْعِزَّۃِ عَمَّا یَصِفُوْنَ ✡وَسَلٰمٌ عَلَی
الْمُرْسَلِیْنَ ✡وَالْحَمْدُ للہِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ
116
قادیانی فیصلہ
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ
اَلْحَمْدُ للہِ وَسَلَامٌ عَلٰی عِبَادِہِ الَّذِیْنَ اصْطَفٰی!
علمائے اُمت نے قرآن و سنت کے دلائل اور واقعات کی روشنی میں مرزا غلام احمد قادیانی کے بارے میں کسی پہلو کو تشنہ
نہیں چھوڑا ہے، خود اس ناکارہ کے قلم سے بھی متعدّد رسائل منظرِ عام پر آچکے ہیں، بے ساختہ جی میں آیا کہ مرزا
قادیانی کے بارے میں ایسے چند نکات نئی نسل کے سامنے پیش کئے جائیں جو بہت مختصر ہوں، اور جن کا نتیجہ ’’دو اور دو
چار‘‘ کی طرح بالکل واضح ہو۔ چنانچہ زیرِ قلم رسالہ اسی واردِ قلبی کی تعمیل ہے۔ ہدایت تو اللہ جل شانہ‘ کے قبضے میں
ہے، لیکن اگر نوجوان طبقہ اس رسالے کے نکات کو اچھی طرح سمجھ لے تو اِن شاء اللہ العزیز، مرزا قادیانی کے جھوٹا اور
مفتری ہونے میں اسے کوئی شک و شبہ نہیں رہے گا۔
رسالے کے آخر میں ان کتابوں کے صفحات کا فوٹو بھی دے دیا گیا ہے جن کا حوالہ اس رسالے میں آیا ہے، اور ان سے پہلے
حوالہ جات کی فہرست درج کرکے ان صفحات کا حوالہ نمبر درج کردیا ہے۔ ہادیٔ مطلق جل شانہ‘ کی بارگاہ میں اِلتجا ہے کہ
اس عجالے کی ترتیب میں زبان و بیان یا نیت و ارادہ کے اعتبار سے کوئی لغزش و کوتاہی ہوئی ہو تو معاف فرمائیں، اس کو
قبول فرماکر اپنی رضا کا وسیلہ بنائیں، اور اس کو اپنے بندوں کے لئے رُشد و ہدایت کا ذریعہ بنائیں، وَھُوَ عَلٰی کُلِّ شَیْئٍ قَدِیْرٌ ۔
محمد یوسف عفا اللہ عنہ
۲۰؍۱؍۱۴۱۳ھ
۲۲؍۷؍۱۹۹۲ء
117
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ
پہلا باب
مرزا غلام احمد قادیانی کا مقدمہ اللہ تعالیٰ کی عدالت میں
قارئینِ کرام! جب دو فریق دُعا کے ذریعے اپنا مقدمہ اللہ تعالیٰ کی عدالت میں پیش کریں، اور دُعا کریں کہ: ’’یا
اللہ! سچے اور جھوٹے کے درمیان فیصلہ فرما‘‘ تو اس کو ’’مباہلہ‘‘ کہتا جاتا ہے۔ اور ’’مباہلہ‘‘ کے بعد جو نتیجہ نکلے
وہ ’’خدائی فیصلہ‘‘ شمار کیا جاتا ہے۔
مرزا غلام احمد قادیانی نے اپنا مقدمہ کئی بار اللہ تعالیٰ کی عدالت میں پیش کیا، اور ہر بار خدائی عدالت سے اس کے
خلاف فیصلہ صادر ہوا، چنانچہ:
پہلا مقدمہ:... مرزا نے اپنا اور آتھم پادری کا مقدمہ یک طرفہ طور پر اللہ تعالیٰ کی عدالت میں پیش کیا، اور فیصلہ
مرزا کے خلاف ہوا، اور مرزا کو خدائی فیصلے کے خلاف غلط اور جھوٹی تأویلات کا سہارا لینا پڑا۔
دُوسرا مقدمہ:... مرزا نے اپنا اور مولانا ثناء اللہ امرتسریؒ کا مقدمہ، اللہ تعالیٰ کی عدالت میں پیش کیا، اور اس
مرتبہ بھی فیصلہ اس کے خلاف ہوا، ان دونوں مقدموں کی تفصیل آپ آئندہ ابواب میں پڑھیں گے۔
تیسرا مقدمہ:... ۱۰؍ذیقعدہ ۱۳۱۰ھ کو عیدگاہ امرتسر کے میدان میں مولانا عبدالحق غزنویؒ کا خود مرزا غلام احمد
قادیانی سے رُو برو مباہلہ ہوا، اور دونوں فریقوں نے مل کر دُعا کی کہ یا اللہ! سچے اور جھوٹے کے درمیان فیصلہ فرما۔
(مجموعہ اشتہارات ج:۱ ص:۴۲۶، ۴۲۷) (حوالہ نمبر۱)
مرزا نے یہ اُصول بیان کیا کہ مباہلہ کے بعد خدائی فیصلے کی شکل یہ ہے کہ:
118
’’مباہلہ کرنے والوں میں جو فریق جھوٹا ہو، سچے کی زندگی میں مرجاتا ہے۔‘‘
(ملفوظات ج:۹ ص:۴۴۰، ۴۴۱) (حوالہ نمبر۲)
نتیجہ:... مرزا غلام احمد قادیانی اپنے بیان کردہ اُصول کے مطابق ۲۶؍مئی ۱۹۰۸ء کو مولانا عبدالحق غزنویؒ کی زندگی
میں ہلاک ہوگیا۔ اور مولانا غزنویؒ، مرزا غلام احمد قادیانی کے بعد ۹ سال تک زندہ سلامت رہے، ان کا اِنتقال ۱۶؍مئی
۱۹۱۷ء کو ہوا۔
(رئیسِ قادیان ج:۲ ص:۱۹۲، تاریخِ مرزا ص:۳۸) (حوالہ نمبر۳)
پس اللہ تعالیٰ کی عدالت نے فیصلہ دے دیا کہ مرزا غلام احمد قادیانی جھوٹا تھا، اور واقعی دجال و کذّاب اور مرتد
تھا۔
چوتھا مقدمہ:... مرزا کے ایک غالی مرید حافظ محمد یوسف نے ۲؍شوال ۱۳۱۰ھ مطابق ۱۹؍اپریل ۱۸۹۳ء کو مولانا عبدالحق
غزنویؒ سے مباہلہ کیا، مباہلہ اس پر تھا کہ مرزا غلام احمد اور اس کے دو چیلے حکیم نورالدین اور محمد احسن امروہی
مسلمان ہیں یا نہیں؟ حافظ محمد یوسف کا کہنا تھا کہ یہ تینوں مسلمان ہیں، اور مولانا غزنویؒ کا کہنا تھا کہ یہ تینوں
دجال و کذّاب اور مرتد ہیں۔ الغرض! مرزا کی وکالت میں حافظ محمد یوسف نے مولانا عبدالحق سے مباہلہ کیا، اور دونوں
فریقوں نے مل کر دُعا کی کہ یا اللہ! سچے اور جھوٹے کے درمیان فیصلہ فرما۔ اور مرزا کو جب اس مباہلہ کی اطلاع پہنچی
تو اس نے اپنے مرید حافظ صاحب کی تحسین وتصدیق کی، اور اس مباہلہ کی ذمہ داری خود اُٹھالی۔
(مجموعہ اشتہارات ج:۱ ص:۳۹۵، ۳۹۶) (حوالہ نمبر۴)
نتیجہ:... حافظ محمد یوسف اس مباہلہ کے شکار ہوکر مرزائیت سے تائب ہوگئے، اور مسلمان ہوکر مرزائیت کے بخیے اُدھیڑنے
لگے، چنانچہ مرزا کے رسالہ اربعین کا اشتہار نمبر۳ انہی حافظ محمد یوسف کے نام ہے، اس میں مرزا، حافظ صاحب کے بارے
میں لکھتا ہے:
’’کچھ عقل و فکر میں نہیں آتا کہ حافظ صاحب کو کیا ہوگیا (کچھ نہیں ہوا، صرف مباہلے کا نتیجہ ظاہر ہوا ۔۔۔ناقل)
۔۔... انسان کو
119
اس سے کیا فائدہ کہ اپنی جسمانی زندگی کے لئے اپنی رُوحانی زندگی پر چھری پھیردے، میں نے بہت دفعہ حافظ
صاحب سے یہ بات سنی تھی کہ وہ میرے مصدقین میں سے ہیں، اور مکذّب کے ساتھ مباہلہ کرنے کو تیار ہیں۔ اور اسی میں بہت
سا حصہ ان کی عمر کا گزر گیا، اور اس کی تائید میں وہ اپنی خوابیں بھی سناتے رہے، اور بعض مخالفوں سے انہوں نے
مباہلہ بھی کیا۔‘‘
(اربعین نمبر۳ مندرجہ رُوحانی خزائن ج:۱۷ ص:۴۰۸) (حوالہ نمبر۵)
پس یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے مباہلہ کا فیصلہ تھا، جس سے واضح ہوگیا کہ مرزا، اللہ تعالیٰ کی نظر میں واقعی دجال و
کذّاب تھا۔
پانچواں مقدمہ:... مرزا نے رسالہ ’’سرمہ چشم آریہ‘‘ میں آریوں کو مباہلہ کی دعوت دی، اور فریقین کے لئے مباہلہ کا
مضمون خود لکھ کر شائع کیا، جس کو وہ بطورِ مباہلہ پڑھ کر سنائیں گے، اور یہ بھی قرار دِیا کہ مباہلہ کے بعد:
’’پھر فیصلۂ آسمانی کے انتظار کے لئے ایک برس کی مہلت ہوگی، پھر اگر برس گزرنے کے بعد مؤلف (یعنی مرزا غلام احمد
قادیانی) پر کوئی عذاب اور وبال نازل ہوا، یا حریفِ مقابل پر نازل نہ ہوا تو ان دونوں صورتوں میں یہ عاجز قابلِ
تاوان پانچ سو روپے ٹھہرے گا، جس کو برضامندی فریقین خزانہ سرکاری میں یا جس جگہ بآسانی وہ روپیہ مخالف کو مل سکے،
داخل کردیا جائے گا، اور درحالت غلبہ خودبخود اس روپے کے وصول کرنے کا فریق مخالف مستحق ہوگا۔ اور اگر ہم غالب آئے
تو کچھ بھی شرط نہیں کرتے، کیونکہ شرط کے عوض میں وہی دُعا کے آثار کا ظاہر ہونا کافی ہے، اب ہم ذیل میں ہر دو
مضمون کاغذ مباہلہ کو لکھ کر رسالہ ھٰذا کو ختم کرتے ہیں۔‘‘
(سرمہ چشم آریہ ص:۲۵۱، رُوحانی خزائن ج:۲ ص:۳۰۱) (حوالہ نمبر۶)
120
قارئینِ کرام! آگے بڑھنے سے پہلے مرزا کی اس تحریر کے نکات کو اچھی طرح نوٹ کرلیں، جو حسبِ ذیل ہیں:
۱- مرزا نے اپنی طرف سے مباہلہ کا مضمون شائع کردیا، اور آریوں کو دعوت دی کہ وہ بھی مباہلہ کا مضمون مرزا کے
مقابلے میں شائع کردیں۔
۲- مباہلہ کا مضمون جس تاریخ کو فریقِ مخالف شائع کرے گا، اس تاریخ سے ایک سال تک فیصلے کی میعاد ہوگی۔
۳- اگر اس تاریخ سے ایک برس کے عرصے میں مرزا پر عذاب ووبال نازل ہوا تب بھی یہ سمجھا جائے گا کہ مرزا مباہلہ
ہارگیا۔ اور اگر فریقِ مخالف پر اس عرصے میں عذاب نازل نہ ہوا، تب بھی مرزا جھوٹا ثابت ہوگا۔ اور فریقِ مخالف کے
ہارنے کی صرف ایک صورت ہے کہ اس پر ایک برس کے عرصے میں عذاب ووبال نازل ہوجائے۔
۴- اگر مرزا مباہلہ میں جھوٹا ثابت ہو (جس کی اُوپر دو صورتیں ذکر ہوئی ہیں) تو وہ فریقِ مخالف کو پانچ سو روپے
تاوان دے گا، جس کو پیشگی جمع کرانے کے لئے تیار ہے۔ اور اگر فریقِ مخالف ہار جائے تو مرزا کی طرف سے تاوان کا کوئی
مطالبہ نہیں۔ فریقِ مخالف پر مباہلہ کی بددُعا کے آثار کا ظاہر ہوجانا ہی اس کے لئے کافی تاوان ہے۔
ان چار نکات کو اچھی طرح ذہن میں رکھنے کے بعد اب آگے سنئے!
مرزا غلام احمد قادیانی کی یہ دعوتِ مباہلہ آریوں کی طرف سے پنڈت لیکھ رام نے قبول کرلی، چنانچہ مرزا غلام احمد
قادیانی اپنی کتاب حقیقۃ الوحی میں لکھتا ہے:
’’واضح ہو کہ میں نے سرمہ چشم آریہ کے خاتمے میں بعض آریہ صاحبوں کو مباہلہ کے لئے بلایا تھا ۔۔۔... میری اس
تحریر پر پنڈت لیکھ رام نے اپنی کتاب ’’خبط احمدیہ‘‘ میں، جو ۱۸۸۸ء میں اس نے شائع کی تھی ۔۔... میرے ساتھ مباہلہ
کیا (آگے لیکھ رام کا طویل مضمون نقل کیا ہے جس کے اَخیر میں لیکھ رام نے لکھا:)
اے پرمیشر! ہم دونوں فریقوں میں سچا فیصلہ کر، کیونکہ
121
کاذب، صادق کی طرح تیرے حضور عزت نہیں پاسکتا۔‘‘
(رُوحانی خزانی ج:۲۲ ص:۳۲۶ تا ۳۳۲) (حوالہ نمبر۷)
نتیجہ:... لیکن رام نے ۱۸۸۸ء میں مرزا کے ساتھ مباہلہ کیا، مرزا کی طے کردہ شرط کے مطابق لیکھ رام پر ایک سال میں
عذاب نازل ہونا چاہئے تھا، مگر ایسا نہیں ہوا، لہٰذا لیکھ رام نے مرزا کے مقابلے میں مباہلہ جیت لیا۔ اور مرزا پنڈت
لیکھ رام کے مقابلے میں بھی جھوٹا ثابت ہوا۔
قارئینِ کرام! آپ نے مندرجہ بالا تفصیل سے ملاحظہ فرمایا کہ مرزا غلام احمد قادیانی کا مقدمہ اللہ تعالیٰ کی عدالت
میں پانچ مرتبہ پیش ہوا۔ تین مرتبہ مسلمانوں کے مقابلے میں، ایک مرتبہ عیسائی پادریوں کے مقابلے میں، اور ایک مرتبہ
ہندو آریوں کے مقابلے میں، اور ہر مرتبہ اللہ تعالیٰ کی عدالت نے مرزا کے خلاف فیصلہ دیا، اور اسے جھوٹا ٹھہرایا۔
کیا اس کے بعد بھی کسی صاحبِ عقل کو مرزا کے جھوٹا ہونے میں شبہ ہوسکتا ہے...؟
دُوسرا باب
مرزا کی چند پیش گوئیاں، جو سچی نکلیں
پہلی پیش گوئی:
مولانا ثناء اللہ امرتسری مرحوم کو مخاطب کرتے ہوئے مرزا غلام احمد قادیانی نے لکھا:
’’آپ اپنے پرچے میں ۔۔۔... میری نسبت شہرت دیتے ہیں کہ یہ شخص مفتری اور کذّاب اور دجال ہے ۔۔۔... اگر میں ایسا ہی
کذّاب اور مفتری ہوں جیسا کہ اکثر اوقات آپ اپنے ہر ایک پرچے میں مجھے یاد کرتے ہیں، تو میں آپ کی زندگی ہی میں
ہلاک ہوجاؤں گا۔‘‘
(مجموعہ اشتہارات ج:۳ ص:۵۷۸) (حوالہ نمبر۸)
نتیجہ:... مرزا غلام احمد قادیانی کی یہ پیش گوئی حرف بحرف سچی نکلی۔ وہ ۲۶؍مئی ۱۹۰۸ء کو مولانا مرحوم کی زندگی میں
ہلاک ہوگیا۔ اور مولانا مرحوم ۱۹۴۹ء تک سلامت
122
باکرامت رہے۔ ثابت ہوا کہ مرزا غلام احمد قادیانی بقول خود، اللہ تعالیٰ کی نظر میں مفتری اور کذّاب و دجال
تھا۔
دُوسری پیش گوئی:
اسی اشتہار میں مولانا مرحوم کو مخاطب کرکے لکھا:
’’اگر وہ سزا جو اِنسان کے ہاتھوں سے نہیں بلکہ محض خدا کے ہاتھوں سے ہے، جیسے طاعون، ہیضہ وغیرہ مہلک بیماریاں،
آپ پر میری زندگی میں ہی وارد نہ ہوئی تو میں خدا کی طرف سے نہیں۔‘‘
(ایضاً) (حوالہ نمبر۸)
نتیجہ:... مرزا کی یہ پیش گوئی بھی سچی ثابت ہوئی، مولانا مرحوم مرزا کی زندگی میں بفضلِ خدا تمام آفات سے محفوظ
رہے اور خود مرزا، مولانا کی زندگی میں وبائی ہیضے کا شکار ہوگیا۔
(حیاتِ ناصر ص:۱۴، بحوالہ قادیانی مذہب، پہلی فصل نمبر۸۰) (حوالہ نمبر۹)
تیسری پیش گوئی:
مرزا غلام احمد قادیانی کا عبداللہ آتھم پادری کے ساتھ ۱۵ دن تک مناظرہ ہوتا رہا، آخری دن ۵؍جون ۱۸۹۳ء کو مرزا نے
پیش گوئی کی کہ ان کا حریف پندرہ مہینے تک ہاویہ میں گرایا جائے گا، اسی سلسلے میں مرزا نے لکھا:
’’میں اس وقت یہ اقرار کرتا ہوں کہ اگر یہ پیش گوئی جھوٹی نکلی، یعنی وہ فریق جو خدا تعالیٰ کے نزدیک جھوٹ پر ہے وہ
پندرہ ماہ کے عرصے میں آج کی تاریخ سے بہ سزائے موت ہاویہ میں نہ پڑے تو میں ہر ایک سزا کے اُٹھانے کے لئے تیار
ہوں۔ مجھ کو ذلیل کیا جاوے، رُوسیاہ کیا جاوے، میرے گلے میں رسہ ڈال دیا جاوے، مجھ کو پھانسی دیا جاوے، ہر ایک بات
کے لئے تیار ہوں، اور میں اللہ جل شانہ‘ کی قسم کھاکر کہتا ہوں کہ وہ ضرور ایسا ہی کرے گا، ضرور
123
کرے گا، ضرور کرے گا، زمین آسمان ٹل جائیں پر اس کی باتیں نہ ٹلیں گی ۔۔۔... اگر میں جھوٹا ہوں تو میرے لئے
سولی تیار رکھو، اور تمام شیطانوں اور بدکاروں اور لعنتیوں سے زیادہ مجھے لعنتی قرار دو۔‘‘
(جنگِ مقدس ص:۲۱۰، ۲۱۱، رُوحانی خزائن ج:۶ ص:۲۹۲، ۲۹۳)
نتیجہ:... پیش گوئی کی آخری میعاد ۵؍ستمبر ۱۸۹۴ء تھی، مگر آتھم اس تاریخ تک نہیں مرا، اس لئے مرزا غلام احمد
قادیانی کی یہ پیش گوئی سچی ثابت ہوئی کہ:
’’اگر آتھم پندرہ ماہ کے عرصے میں بہ سزائے موت ہاویہ میں نہ پڑے تو میں جھوٹا ہوں، میرے لئے سولی تیار رکھو، اور
تمام شیطانوں اور بدکاروں اور لعنتیوں سے زیادہ مجھے لعنتی قرار دو۔‘‘
چوتھی پیش گوئی:
مرزا غلام احمد قادیانی کو بقول اس کے اِلہام ہوا تھا، کہ محمدی بیگم (دختر احمد بیگ ہوشیارپوری) کا شوہر مرزا کی
زندگی میں مرجائے گا، اور محمدی بیگم بیوہ ہوکر مرزا کے نکاح میں آئے گی، اس سلسلے میں مرزا نے پیش گوئی کی کہ:
’’میں بار بار کہتا ہوں کہ نفس پیش گوئی داماد احمد بیگ کی تقدیر مبرم ہے، اس کی انتظار کرو، اور اگر میں جھوٹا ہوں
تو یہ پیش گوئی پوری نہیں ہوگی، اور میری موت آجائے گی۔‘‘
(انجام آتھم ص:۳۱ حاشیہ) (حوالہ نمبر۱۱)
نتیجہ:... احمد بیگ کا داماد (سلطان محمد) مرزا کی زندگی میں نہیں مرا، بلکہ مرزا کے بعد ایک عرصے تک زندہ سلامت
رہا، اس لئے مرزا کی یہ پیش گوئی سوفیصد سچی ثابت ہوئی کہ: ’’اگر میں جھوٹا ہوں تو احمد بیگ کا داماد میری زندگی میں
نہیں مرے گا۔‘‘
پانچویں پیش گوئی:
اسی سلسلے میں مرزا نے لکھا:
124
’’یاد رکھو! اگر اس پیش گوئی کی دُوسری جزو پوری نہ ہوئی (یعنی احمد بیگ کا داماد مرزا کی زندگی میں نہ مرا
۔۔۔ناقل) تو میں ہر بد سے بدتر ٹھہروں گا۔‘‘
(ضمیمہ انجامِ آتھم ص:۵۴) (حوالہ نمبر۱۲)
نتیجہ:... یہ پیش گوئی بھی حرف بہ حرف سچی نکلی، اور مرزا اپنی پیش گوئی کے مطابق ’’ہر بد سے بدتر ٹھہرا‘‘۔
چھٹی پیش گوئی:
مرزا نے پیش گوئی کی تھی کہ آئندہ ایک ایسا زلزلہ آنے والا ہے جو قیامت کا نمونہ ہوگا۔ مرزا نے اس کا نام ’’زلزلۃ
الساعۃ‘‘ رکھا، یعنی ’’قیامت کا زلزلہ‘‘ اس کے لئے بہت سے اشتہار جاری کئے، چنانچہ اسی سلسلے میں یہ بھی لکھا کہ:
’’آئندہ زلزلے کی نسبت کی جو پیش گوئی کی گئی ہے وہ کوئی معمولی پیش گوئی نہیں، اگر وہ آخر کو معمولی بات نکلی یا
میری زندگی میں اس کا ظہور نہ ہوا تو میں خدا تعالیٰ کی طرف سے نہیں۔‘‘
(ضمیمہ براہین احمدیہ حصہ پنجم ص:۹۲، ۹۳، رُوحانی خزائن ج:۲۱ ص:۲۵۳) (حوالہ نمبر۱۳)
نتیجہ:... مرزا کی یہ کتاب براہین احمدیہ حصہ پنجم اس کی وفات (۲۶؍مئی ۱۹۰۸ء) کے پونے پانچ مہینے بعد ۵؍اکتوبر
۱۹۰۸ء کو شائع ہوئی۔ اس کی زندگی میں یہ زلزلہ نہ آیا، لہٰذا مرزا کی پیش گوئی حرف بہ حرف سچی نکلی کہ ’’اگر یہ
زلزلہ میری زندگی میں نہ آیا تو میں خدا کی طرف سے نہیں، بلکہ جھوٹا ہوں۔‘‘
فائدہ:... مرزا کے مقابلے میں ایک مسلمان کی پیش گوئی ملاحظہ فرمائیے:
جن دنوں مرزا مسلسل اشتہار شائع کر رہا تھا کہ ایک زلزلہ قیامت آنے والا ہے، انہی دنوں مُلَّا محمد بخش حنفی نے
مرزا کی تردید میں ایک اشتہار شائع کیا اور اس میں لکھا کہ: ’’مجھے نورِ کشفی سے معلوم ہوا کہ ایسا کوئی زلزلہ نہیں
آئے گا‘‘ اور یہ کہ: ’’مرزا قادیانی ہمیشہ کی
125
طرح اس زلزلے کی پیش گوئی میں بھی ذلیل و رُسوا ہوگا۔‘‘ مرزا نے اپنے اشتہار ۱۱؍مئی ۱۹۰۵ء کے حاشیہ میں
مُلَّا صاحب مرحوم کے اشتہار کا اقتباس نقل کیا ہے، قارئینِ کرام کی ضیافتِ طبع کے لئے اس کو ذیل میں نقل کیا جاتا
ہے:
’’میں آج ۶؍مئی ۱۹۰۵ء کو اس امر کا بڑے زور اوردعوے سے اعلان کرتا ہوں اور تمام لوگوں کو اس بات کا یقین دِلاتا
ہوں کہ خوفناک اور بجھے ہوئے دِلوں کو اِطمینان اور تسلی دیتا ہوں کہ قادیانی نے ۵، ۸، ۲۱ اور ۲۹؍اپریل ۱۹۰۵ء کے
اشتہاروں اور اخباروں میں جو لکھا ہے کہ ایک ایسا سخت زلزلہ آئے گا جو ایسا شدید اور خوفناک ہوگا کہ نہ کسی آنکھ
نے دیکھا، نہ کسی کان نے سنا۔ کرشن قادیانی زلزلے کے آمد کی تاریخ یا وقت نہیں بتلاتا، مگر اس پر بہت زور دیتا ہے
کہ زلزلہ ضرور آئے گا، اس لئے میں ان بھولے بھالے سادہ لوح آدمیوں کو جو قادیانی کی طرف لفاظیوں اور اخباری رنگ
آمیزیوں سے خوفناک ہو رہے ہیں، بڑے زور سے اطمینان اور تسلی دیتا ہوا خوشخبری سناتا ہوں کہ خدا کے فضل و کرم سے شہر
لاہور وغیرہ میں یہ قادیانی زلزلہ ہرگز نہیں آئے گا!! نہیں آئے گا!!! اور نہیں آئے گا!!! اور آپ ہر طرح اطمینان
اور تسلی رکھیں۔ مجھے یہ خوشخبری حقیقی نورِ اِلٰہی اور کشف کے ذریعے دی گئی ہے جو اِن شاء اللہ بالکل ٹھیک ہوگی۔
میں مکرّر سہ کرّر کہتا ہوں اور اس نورِ اِلٰہی سے جو مجھے بذریعہ کشف دِکھلایا گیا ہے، مستفیض ہوکر اور اس کے اعلان
کی اجازت پاکر ڈنکے کی چوٹ کہتا ہوں کہ قادیانی ہمیشہ کی طرح اس زلزلے کی پیش گوئی میں بھی ذلیل و رُسوا ہوگا۔ اور
خداوند تعالیٰ حضرت خاتم المرسلین شفیع المذنبین کے طفیل سے اپنی گنہگار مخلوق کو اپنے دامنِ عاطفت میں رکھ کر اس
نارسیدہ آفت سے بچائے گا اور کسی فرد بشر کا
126
بال تک بیکا نہ ہوگا۔
مُلَّا محمد بخش حنفی، سیکریٹری انجمن حامی اسلام لاہور۔‘‘
(مجموعہ اشتہارات مرزا غلام احمد قادیانی ج:۳ ص:۵۴۱، ۵۴۲) (حوالہ نمبر۱۴)
قارئینِ کرام! یہ چودھویں صدی کے مسیلمہ کذّاب مرزا قادیانی کے مقابلے میں ایک سچے مسلمان کی پیش گوئی تھی، جو اللہ
تعالیٰ نے حضرت خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم کے طفیل میں سچی کردِکھائی۔ اور اس پیش گوئی کے مطابق مرزا غلام
احمد قادیانی واقعی ذلیل و رُسوا ہوا، اور خود اپنے اِقرار سے جھوٹا ثابت ہوا:
’’وَاللہُ لَا یَھْدِیْ مَنْ ھُوَ مُسْرِفٌ مُّرْتَابٌ‘‘
ساتویں پیش گوئی:
قاضی نذر حسین ایڈیٹر اخبار ’’قلقل بجنور‘‘ کے نام مرزا غلام احمد قادیانی نے ایک خط لکھا، جو اخبار ’’بدر‘‘ قادیان
۱۹؍جولائی ۱۹۰۶ء کی اشاعت میں شائع ہوا، اس کا درج ذیل اِقتباس ملاحظہ فرمائیے:
’’میرا کام جس کے لئے میں اس میدان میں کھڑا ہوں، یہی ہے کہ عیسیٰ پرستی کے ستون کو توڑ دُوں اور بجائے تثلیث کے
توحید کو پھیلاؤں، اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی جلالت اور عظمت اور شان دُنیا پر ظاہر کردُوں۔ پس اگر مجھ سے
کروڑ نشان بھی ظاہر ہوں اور یہ علتِ غائی ظہور میں نہ آوے تو میں جھوٹا ہوں، پس دُنیا مجھ سے کیوں دُشمنی کرتی ہے
اور وہ میرے انجام کو کیوں نہیں دیکھتی۔ اگر میں نے اسلام کی حمایت میں وہ کام کردِکھایا جو مسیحِ موعود اور مہدیٔ
موعود کو کرنا چاہئے تو پھر میں سچا ہوں، اور اگر کچھ نہ ہوا اور میں مرگیا تو پھر سب گواہ رہیں کہ میں جھوٹا ہوں۔‘‘
(اخبار ’’بدر‘‘ قادیان نمبر۲۹، جلد۲، ۱۹؍جولائی ۱۹۰۶ء، بحوالہ قادیانی مذہب فصل ساتویں نمبر۳۹) (حوالہ
نمبر۱۵)
127
نتیجہ:... مرزا کی یہ پیش گوئی بھی سوفیصد صحیح نکلی کہ ’’اگر کچھ نہ ہوا اور میں مرگیا تو پھر سب گواہ رہیں کہ میں
جھوٹا ہوں۔‘‘ اللہ تعالیٰ، اس کے فرشتے اور تمام انسان گواہ رہیں کہ مرزا باقرارِ خود واقعی جھوٹا تھا! جھوٹا تھا۔۔!
جھوٹا تھا۔۔۔!
تیسرا باب
مرزا غلام احمد قادیانی کی چند دُعائیں جو بارگاہِ اِلٰہی میں قبول ہوئیں
پہلی دُعا:
مرزا غلام احمد قادیانی نے اپنے اشتہار مؤرخہ ۲۷؍اکتوبر ۱۸۹۴ء کے آخر میں لکھا:
’’اور میں بالآخر دُعا کرتا ہوں کہ اے خدائے قادر علیم! اگر آتھم کا عذابِ مہلک میں گرفتار ہونا اور احمد بیگ کی
دخترِ کلاں کا آخر اس عاجز کے نکاح میں آنا یہ پیش گوئیاں تیری طرف سے ہیں تو ان کو ایسے طور سے ظاہر فرما جو خلق
اللہ پہ حجت ہو اور کور باطن حاسدوں کا منہ بند ہوجائے، اور اگر اے خداوند! یہ پیش گوئیاں تیری طرف سے نہیں ہیں تو
مجھے نامرادی اور ذِلت کے ساتھ ہلاک کر۔ اگر میں تیری نظر میں مردود اور ملعون اور دجال ہی ہوں جیسا کہ مخالفوں نے
سمجھا ہے اور تیری وہ رحمت میرے ساتھ نہیں جو تیرے بندہ ابراہیمؑ کے ساتھ اور اسحاق کے ساتھ اور اِسماعیل کے ساتھ
اور یعقوب کے ساتھ اور موسیٰ کے ساتھ اور داؤد کے ساتھ اور مسیح ابن مریم کے ساتھ اور خیرالانبیاء محمد صلعم کے
ساتھ اور اس اُمت کے اولیائے کرام کے ساتھ تھی تو مجھے فنا کرڈال اور ذِلتوں کے ساتھ مجھے ہلاک کردے اور ہمیشہ کی
لعنتوں کا نشانہ بنا اور تمام دُشمنوں کو خوش کر اور ان کی دُعائیں قبول فرما۔‘‘
(مجموعہ اشتہارات ج:۲ ص:۱۱۵، ۱۱۶) (حوالہ نمبر۱۶)
128
نتیجہ:... ’’قارئینِ کرام! نہ احمد بیگ کی بڑی لڑکی (محمدی بیگم) مرزا کے نکاح میں آئی، نہ آتھم، مرزا کی مقرّر
کردہ میعاد کے اندر عذابِ مہلک میں گرفتار ہوا، معلوم ہوا کہ یہ پیش گوئیاں اللہ تعالیٰ کی طرف سے نہیں تھیں، لہٰذا
مرزا کی یہ دُعا قبول ہوئی کہ ’’اگر یہ پیش گوئیاں تیری طرف سے نہیں تو مجھے نامرادی اور ذِلت کے ساتھ ہلاک کر‘‘ جس
سے ثابت ہوا کہ مرزا، اللہ تعالیٰ کی نظر میں واقعی مردود و ملعون اور دجال تھا، اور اللہ تعالیٰ نے اس کو ہمیشہ کی
لعنتوں کا نشانہ بنادیا۔
دُوسری دُعا:
’’مولوی ثناء اللہ امرتسری کے ساتھ آخری فیصلہ‘‘ نامی اشتہار میں مرزا نے لکھا:
’’اور میں خدا سے دُعا کرتا ہوں کہ اے میرے مالک بصیر و قدیر جو علیم وخبیر ہے جو میرے دِل کے حالات سے واقف ہے،
اگر یہ دعویٰ مسیحِ موعود ہونے کا محض میرے نفس کا اِفترا ہے اور میں تیری نظر میں مفسد اور کذّاب ہوں اور دِن رات
اِفترا کرنا میرا کام ہے تو اے میرے پیارے مالک! میں عاجزی سے تیری جناب میں دُعا کرتا ہوں کہ مولوی ثناء اللہ صاحب
کی زندگی میں مجھے ہلاک کر اور میری موت سے ان کو اور ان کی جماعت کو خوش کردے، آمین۔‘‘
(مجموعہ اشتہارات ج:۳ ص:۵۷۸، ۵۷۹) (حوالہ نمبر۸)
نتیجہ:... مرزا کی یہ دُعا بھی اللہ تعالیٰ نے قبول فرمائی اور مولانا مرحوم کی زندگی میں مرزا کو ہلاک کردیا۔ جس
سے ثابت ہوا کہ مرزا واقعی اللہ تعالیٰ کی نظر میں مفسد اور کذّاب تھا اور رات دن اِفترا کرنا اس کا کام تھا۔
تیسری دُعا:
اسی اشتہار میں مزید لکھتا ہے:
’’میں تیرے ہی تقدس اور رحمت کا دامن پکڑ کر تیری
129
جناب میں ملتجی ہوں کہ مجھ میں اور ثناء اللہ میں سچا فیصلہ فرما اور وہ جو تیری نگاہ میں درحقیقت مفسد اور
کذّاب ہے اس کو صادق کی زندگی میں ہی دُنیا سے اُٹھالے، یا کسی اور نہایت سخت آفت میں جو موت کے برابر ہو، مبتلا
کر۔ اے میرے پیارے مالک! تو ایسا ہی کر۔
آمین ثم آمین۔ ربنا افتح بیننا وبین قومنا بالحق وانت خیر الفاتحین، آمین
بالآخر مولوی صاحب سے اِلتماس ہے کہ وہ میرے اس تمام مضمون کو اپنے پرچے میں چھاپ دیں اور جو چاہیں اس کے نیچے لکھ
دیں، اب فیصلہ خدا کے ہاتھ میں ہے۔
الراقم: عبداللہ الصمد میرزا غلام احمد المسیح الموعود عافاہ اللہ واید۔
مرقوم تاریخ ۱۵؍اپریل ۱۹۰۷ء مطابق یکم ربیع الاوّل ۱۳۲۵ھ روز دوشنبہ۔‘‘
(ایضاً) (حوالہ نمبر۸)
نتیجہ:... حق تعالیٰ شانہ‘ نے مرزا کی یہ دُعا بھی قبول فرمائی، اور اس دُعا کے ایک سال دس دن بعد مرزا کو مولانا
مرحوم کی زندگی میں اُٹھالیا، جس سے ثابت ہوا کہ مرزا، حق تعالیٰ شانہ‘ کی نگاہ میں درحقیقت مفسد اور کذّاب تھا۔
مرزا کی دُعا قبول ہونے کی مزید تصدیق:
قارئینِ کرام! اُوپر واقعات کی روشنی پر آپ نے ملاحظہ فرمالیا کہ مولانا ثناء اللہ مرحوم کے بارے میں مرزا کی دُعا
قبول ہوئی۔
لیجئے! اس قبولیتِ دُعا پر مرزا کی اِلہامی مہر بھی ملاحظہ فرمائیے! مرزا کے ملفوظات جلد۹ صفحہ:۲۶۸ میں مرزا کا یہ
ملفوظ درج ہے:
’’فرمایا: یہ زمانے کے عجائبات ہیں، رات کو ہم سوتے ہیں تو کوئی خیال نہیں ہوتا کہ اچانک ایک اِلہام ہوتا ہے، اور
پھر وہ اپنے وقت پر پورا ہوتا ہے، کوئی ہفتہ عشرہ نشان سے خالی نہیں جاتا،
130
ثناء اللہ کے متعلق جو لکھا گیا ہے یہ دراصل ہماری طرف سے نہیں بلکہ خدا تعالیٰ ہی کی طرف سے اس کی بنیاد
رکھی گئی ہے، ایک دفعہ ہماری توجہ اس کی طرف ہوئی اور رات کو توجہ اس کی طرف تھی اور رات کو اِلہام ہوا کہ اجیب دعوۃ
الداع۔ صوفیاء کے نزدیک بڑی کرامت استجابتِ دُعا ہی ہے، باقی سب اس کی شاخیں ہیں۔‘‘
(ملفوظات ج:۹ ص:۲۶۸) (حوالہ نمبر۱۷)
چوتھا باب
مسیحِ موعود اور مرزا غلام احمد قادیانی
مسیحِ موعود سے کیا مراد ہے؟
قارئینِ کرام! مسیحِ موعود سے مراد ہے وہ مسیح جس کے آخری زمانے میں آنے کا اُمت سے وعدہ کیا گیا ہے، اور وہ مسیح
ابن مریم ہیں۔
چنانچہ مرزا غلام احمد قادیانی لکھتا ہے:
’’یہ بات پوشیدہ نہیں کہ مسیح ابن مریم کے آنے کی پیش گوئی ایک اوّل درجے کی پیش گوئی ہے، جس کو سب نے بالاتفاق
قبول کرلیا ہے، اور جس قدر صحاح میں پیش گوئیاں لکھی گئی ہیں کوئی پیش گوئی اس کے ہم پہلو اور ہم وزن ثابت نہیں
ہوتی، تواتر کا اوّل درجہ اس کو حاصل ہے، اِنجیل بھی اس کی مصدق ہے۔‘‘
(ازالہ اوہام ص:۵۵۷، خزائن ج:۲ ص:۴۰۰) (حوالہ نمبر۱۸)
مرزا مسیحِ موعود نہیں، پہلا ثبوت:
مرزا غلام احمد قادیانی نے لکھا ہے کہ میں مسیحِ موعود نہیں، نہ میں مسیح ابن مریم ہوں، بلکہ جو شخص مرزا غلام احمد
قادیانی کو مسیحِ موعود کہے وہ کم فہم ہے، اور جو شخص اس کو مسیح ابن مریم کہے وہ مفتری اور کذّاب ہے۔ چنانچہ مرزا
غلام احمد قادیانی لکھتا ہے:
131
’’علمائے ہند کی خدمت میں نیازنامہ‘‘
’’اے برادرانِ دِین و علمائے شرعِ متین! آپ صاحبان میری ان معروضات کو متوجہ ہوکر سنیں کہ اس عاجز نے جو مثیلِ
موعود ہونے کا دعویٰ کیا ہے جس کو کم فہم لوگ مسیحِ موعود خیال کربیٹھے ہیں، یہ کوئی نیا دعویٰ نہیں جو آج ہی میرے
منہ سے سنا گیا ہو، بلکہ یہ وہی پُرانا اِلہام ہے جو میں نے خدائے تعالیٰ سے پاکر براہین احمدیہ کے کئی مقامات پر
بتصریح درج کردیا تھا، جس کے شائع کرنے پر سات سال سے بھی کچھ زیادہ عرصہ گزرگیا ہوگا۔ میں نے یہ دعویٰ ہرگز نہیں
کیا کہ میں مسیح ابن مریم ہوں، جو شخص یہ الزام میرے پر لگاوے وہ سراسر مفتری اور کذّاب ہے بلکہ میری طرف سے عرصہ
سات یا آٹھ سال سے برابر یہی شائع ہو رہا ہے کہ میں مثیلِ مسیح ہوں۔‘‘
(ازالہ اوہام ص:۶۹۰، رُوحانی خزائن ج:۳ ص:۱۹۲) (حوالہ نمبر۱۹)
نتیجہ:... مرزا کی مندرجہ بالا دونوں عبارتوں کا نتیجہ دو اور دو چار کی طرح واضح ہے کہ:
الف:... چونکہ جس مسیح کے آنے کا وعدہ ہے وہ مسیح ابن مریم ہے۔
ب:... اور چونکہ مرزا کا دعویٰ مسیح ابنِ مریم کا نہیں، لہٰذا مرزا غلام احمد قادیانی مسیحِ موعود نہیں، بلکہ جو
شخص اس کو مسیح ابنِ مریم اور مسیحِ موعود کہے وہ مفتری اور کذّاب ہے۔
مرزا غلام احمد قادیانی کو مسیحِ موعود کا زمانہ نصیب نہیں ہوا، دُوسرا ثبوت:
قارئینِ کرام! حضرت مسیح علیہ السلام آخری زمانے میں آئیں گے، اور آخری صدی کے مجدّد ہوں گے، چنانچہ مرزا غلام
احمد قادیانی حدیث پاک کا حوالہ دے کر لکھتا ہے کہ:
’’پہلا نشان:قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان اللہ یبعث لھٰذہ الاُمّۃ علیٰ رأس کل مائۃ
من یجدّد لھا
132
دینھا۔‘‘ (رواہ ابوداؤد) یعنی خدا ہر ایک صدی کے سر پر اس اُمت کے لئے ایک شخص
مبعوث فرمائے گا جو اس کے لئے دِین کو تازہ کرے گا ۔۔۔... اور ممکن نہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمودہ
میں تخلّف ہو ۔۔۔... اور یہ بھی اہلِ سنت کے درمیان متفق علیہ امر ہے کہ آخری مجدّد اس اُمت کا مسیحِ موعود ہے، جو
آخری زمانے میں ظاہر ہوگا۔ اب تنقیح طلب یہ امر ہے کہ یہ آخری زمانہ ہے یا نہیں؟ یہود ونصاریٰ دونوں قومیں اس پر
اِتفاق رکھتی ہیں کہ یہ آخری زمانہ ہے، اگر چاہو تو پوچھ لو۔‘‘
(حقیقۃ الوحی ص:۱۹۳، رُوحانی خزائن ج:۲۲ ص:۲۰۰، ۲۰۱) حوالہ نمبر۲۰)
قارئینِ کرام! مرزا غلام احمد قادیانی نے اس عبارت میں تین باتیں کہی ہیں:
۱:... حدیثِ نبوی کہ ہر صدی کے سر پر ایک مجدّد آئے گا، اور ممکن نہیں کہ نئی صدی شروع ہو اور نیا مجدّد نہ آئے۔
۲:... اہلِ سنت کا یہ اِجماع و اتفاق کہ آخری صدی کے آخری مجدّد حضرت مسیح علیہ السلام ہوں گے۔
۳:... یہود ونصاریٰ کی موافقت میں مرزا کا خیال کہ چودھویں صدی آخری زمانہ ہے۔ مگر پندرھویں صدی شروع ہونے کے بعد
یہ تیسری بات غلط نکلی۔ کیونکہ حدیثِ نبوی کی رُو سے پندرھویں صدی میں بھی مجدّد کا آنا ضروری ہے، اور اس کے بعد جب
سولہویں صدی شروع ہوگی تو اس پر بھی کوئی مجدّد ضرور آئے گا۔ یہاں تک آخر صدی پر آخری مجدّد مسیح علیہ السلام ہوں
گے۔ ثابت ہوا کہ چودھویں صدی میں مرزا کا یہ دعویٰ کہ وہ مسیحِ موعود ہے، غلط تھا، اور مرزا اپنے دعویٰ میں جھوٹا
تھا۔
مسیح علیہ السلام دُنیا میں چالیس سال رہیں گے، تیسرا ثبوت:
’’حدیث میں ہے کہ حضرت مسیح علیہ السلام زمین پر
133
چالیس سال رہیں گے۔‘‘
(حقیقت النبوۃ ص:۱۹۲، از مرزا محمود احمد) (حوالہ نمبر۲۱)
مرزا غلام احمد قادیانی اپنے رسالے ’’نشانِ آسمانی‘‘ میں شاہ نعمت اللہ ولی کے اَشعار کی تشریح کرتے ہوئے لکھتا
ہے:
تاچہل سال اے برادر من ــدور آں شہسوار می بینم
یعنی اس روز سے جو وہ اِمام ملہم ہوکر اپنے تئیں ظاہر کرے گا چالیس برس تک زندگی کرے گا۔ اب واضح رہے کہ یہ عاجز
اپنی عمر کے چالیسویں برس میں دعوتِ حق کے لئے بالہامِ خاص مامور کیا گیا اور بشارت دی گئی کہ اسّی برس تک یا اس کے
قریب تیری عمر ہے۔ سو اس اِلہام سے چالیس برس تک دعوت ثابت ہوتی ہے، جن میں سے دس برس کامل گزر بھی گئے۔‘‘
(نشانِ آسمانی ص:۱۴، رُوحانی خزائن ج:۴ ص:۳۷۴) (حوالہ نمبر۲۲)
قارئینِ کرام! مرزا کا یہ رسالہ ’’نشانِ آسمانی‘‘ جون ۱۸۹۲ء میں لکھا گیا (جیسا کہ اس کی لوح پر درج ہے) مرزا
لکھتا ہے کہ چالیس میں سے دس برس گزرچکے ہیں، گویا مسیحِ موعود کی عمر پوری کرنے کے لئے تیس سال ابھی باقی تھے۔ اب
۱۸۹۲ء میں تیس کا عدد جمع کیجئے تو ۱۹۲۲ء بنتے ہیں، گویا مسیحِ موعود کی مدّتِ قیام پوری کرنے کے لئے مرزا کو ۱۹۲۲ء
تک زندہ رہنا چاہئے تھا، مگر افسوس کہ مرزا نے سولہ برس بھی پورے نہ کئے بلکہ مئی ۱۹۰۸ء میں دُنیا سے رُخصت ہوا۔
معلوم ہوا کہ مسیحِ موعود ہونے کا دعویٰ بھی غلط تھا اور چالیس سال زندہ رہنے کا جو اِلہام ہوا تھا وہ بھی جھوٹ تھا۔
مسیح علیہ السلام شادی کریں گے، چوتھا ثبوت:
حدیث شریف میں ہے حضرت مسیح علیہ السلام شادی کریں گے۔
(مشکوٰۃ ص:۴۸۰)
مرزا غلام احمد قادیانی اپنے ’’نکاحِ آسمانی‘‘ کی تائید میں اس حدیث کو پیش
134
کرتے ہوئے لکھتا ہے:
’’اس پیش گوئی (یعنی محمدی بیگم سے مرزا غلام احمد قادیانی کے نکاحِ آسمانی کی اِلہامی پیش گوئی ۔۔۔ناقل) کی تصدیق
کے لئے جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی پہلے سے پیش گوئی فرمائی ہوئی ہے۔ یتزوج ویولد لہ، یعنی وہ مسیحِ
موعود بیوی کرے گا اور نیز وہ صاحبِ اولاد ہوگا۔ اب ظاہر ہے کہ تزوج اور اولاد کا ذِکر کرنا عام طور پر مقصود نہیں،
کیونکہ عام طور پر ہر ایک شادی کرتا ہے اور اولاد بھی ہوتی ہے، اس میں کچھ خوبی نہیں، بلکہ تزوج سے مراد خاص تزوج ہے
جو بطورِ نشان ہوگا اور اولاد سے مراد خاص اولاد ہے جس کی نسبت اس عاجز کی پیش گوئی ہے، گویا اس جگہ رسول اللہ صلی
اللہ علیہ وسلم ان سیاہ دِل منکروں کو ان کے شبہات کا جواب دے رہے ہیں کہ یہ باتیں ضرور پوری ہوں گی۔‘‘
(ضمیمہ انجامِ آتھم ص:۵۳، رُوحانی خزائن ج:۱۱ ص:۳۳۷) (حوالہ نمبر۲۳)
مرزا کی یہ تحریر ۱۸۹۶ء کی ہے، اس وقت تک مرزا کی دو شادیاں ہوچکی تھیں، اور ان سے اولاد بھی تھی، مگر مرزا کے بقول
وہ عام شادیاں تھیں جن میں کچھ خوبی نہیں۔ وہ خاص شادی جو بطور نشان کے تھی اور جس کی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم
نے پیش گوئی فرمائی تھی، وہ مرزا کو نصیب نہ ہوئی، ثابت ہوا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشاد کے مطابق مرزا
مسیحِ موعود نہیں تھا۔
135
حوالہ جات
اس رسالے میں جن کتابوں کے حوالے آئے ہیں، ذیل میں ان کی فہرست درج ہے، اور اس کے بعد حوالے کے صفحات کا عکس دیا
جارہا ہے۔
| حوالہ نمبر |
کتاب کا نام |
| حوالہ نمبر۱ |
مجموعہ اشتہارات ج:۱ ص:۴۲۶، ۴۲۷ |
| حوالہ نمبر۲ |
ملفوظات ج:۹ ص:۴۴۰، ۴۴۱ |
| حوالہ نمبر۳ |
رئیس قادیان ج:۲ ص:۱۹۲ |
| حوالہ نمبر۴ |
مجموعہ اشتہارات ج:۱ ص:۳۹۵، ۳۹۶ |
| حوالہ نمبر۵ |
رُوحانی خزائن ج:۱۷ ص:۴۰۸ |
| حوالہ نمبر۶ |
سرمہ چشم آریہ ص:۲۵۱، رُوحانی خزائن ج:۲ ص:۳۰۱ |
| حوالہ نمبر۷ |
رُوحانی خزائن ج:۲۲ ص:۳۲۶ تا ۳۳۲ |
| حوالہ نمبر۸ |
مجموعہ اشتہارات ج:۳ ص:۵۷۸ |
| حوالہ نمبر۹ |
حیاتِ ناصر ص:۱۴ بحوالہ قادیانی مذہب فصل اوّل نمبر۸۰ |
| حوالہ نمبر۱۰ |
جنگِ مقدس ص:۲۱۰، ۲۱۱، |
|
رُوحانی خزائن ج:۶ ص:۲۹۲، ۲۹۳ |
| حوالہ نمبر۱۱ |
انجامِ آتھم ص:۳۱ حاشیہ |
| حوالہ نمبر۱۲ |
ضمیمہ انجامِ آتھم ص:۵۴ |
| حوالہ نمبر۱۳ |
ضمیمہ براہین احمدیہ حصہ پنجم ص:۹۲، ۹۳، |
|
رُوحانی خزائن ج:۲۱ ص:۲۵۳ |
| حوالہ نمبر۱۴ |
مجموعہ اشتہارات ج:۳ ص:۵۴۱، ۵۴۲ |
| حوالہ نمبر۱۵ |
اخبار ’’بدر‘‘ قادیان، نمبر۲۹، جلد۲، ۱۹؍جولائی ۱۹۰۶ء ص:۴ |
|
بحوالہ قادیانی مذہب فصل۷ نمبر۳۹ |
| حوالہ نمبر۱۶ |
مجموعہ اشتہارات ج:۲ ص:۱۱۵، ۱۱۶ |
| حوالہ نمبر۱۷ |
ملفوظات ج:۹ ص:۲۶۸ |
| حوالہ نمبر۱۸ |
ازالہ اوہام ص:۵۵۷، رُوحانی خزائن ج:۳ ص:۴۰۰ |
| حوالہ نمبر۱۹ |
ازالہ اوہام ص:۹۰، رُوحانی خزائن ج:۳ ص:۱۹۲ |
| حوالہ نمبر۲۰ |
حقیقۃ الوحی ص:۱۹۳، رُوحانی خزائن ج:۲۲ ص:۲۰۰،۲۰۱ |
| حوالہ نمبر۲۱ |
حقیقت النبوۃ ص:۱۹۲ از مرزا محمود |
| حوالہ نمبر۲۲ |
نشانِ آسمانی ص:۱۴، رُوحانی خزائن ج:۴ ص:۳۷۴ |
| حوالہ نمبر۲۳ |
ضمیمہ انجامِ آتھم ص:۵۳، رُوحانی خزائن ج:۱۱ ص:۳۳۷ |
136
صفحہ نمبر137 سے لیکر صفحہ نمبر 169 تک
دیکھنے کے لئے پی ڈی ایف ڈاؤن لوڈ کریں
137 To 169
قادیانی
اور فرضی مظالم کا پروپیگنڈا
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ
اَلْحَمْدُ للہِ وَسَلَامٌ عَلٰی عِبَادِہِ الَّذِیْنَ اصْطَفٰی!
’’ختمِ نبوّت کانفرنس برطانیہ کے موقع پر حضرت مولانا محمد یوسف لدھیانوی شہیدؒ سے جنگ لندن کی طرف سے لیا گیا ایک
پینل انٹرویو، قارئین کی خدمت میں پیش ہے۔‘‘
(سعید احمد جلال پوری)
جنگ پینل:۔۔۔مولانا محمد یوسف لدھیانوی صاحب، ابھی حال ہی میں مرزا طاہر احمد نے دعویٰ کیا ہے کہ مختلف افراد کی
جانب سے مباہلے کے چیلنج میں اسے فتح ہوئی ہے، اس کے علاوہ مباہلے کی تاریخی حقیقت کیا ہے؟ اس بارے میں ہمیں کچھ
بتائیے۔
جواب:... سب سے پہلے یہ بات سمجھنے کی ہے کہ مباہلہ ایک اسلامی اصطلاح ہے بلکہ یہ کہنا مناسب ہوگا کہ اس کا ذکر
قرآن شریف میں آیا ہے۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں نجران کے عیسائیوں کا وفد آیا تھا اور وہ چھ آدمیوں
پر مشتمل تھا، انہوں نے
170
آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے بحث و مباحثہ کیا اور وہ چند منٹوں میں لاجواب ہوگئے، اس کے بعد آنحضرت صلی
اللہ علیہ وسلم پر آیت نازل ہوئی جس کا ترجمہ یہ ہے کہ:
’’اب بھی جو شخص آپؐ سے کٹ حجتی کرتا ہے اس کے بعد کہ آپؐ کے پاس علم آچکا ہے تو آپؐ کہہ دیجئے آؤ! ہم بلاتے
ہیں اپنے بیٹوں کو تم بلاؤ اپنے بیٹوں کو، تم لاؤ اپنی عورتوں کو ہم لاتے ہیں اپنی عورتوں کو، تم خود آؤ ہم خود
آئیں گے، پھر مل کر اللہ کے سامنے گڑگڑائیں اور ہم جھوٹوں پر اللہ کی لعنت ڈالیں، مل کر دُعا کریں یا اللہ! ان دو
فریقوں میں سے جو فریق جھوٹا ہے اس پر لعنت بھیجئے۔‘‘
حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ میں تم لوگوں کو مباہلے کی دعوت دیتا ہوں، تو عیسائیوں نے کہا کہ ہمیں
ایک رات کی مہلت چاہئے، ہم اس پر غور کریں گے۔ ان کے مولوی عبدالمسیح نے ان سے کہا کہ جب کسی قوم نے سچے نبی سے
مباہلہ کیا تو وہ بچ نہیں سکتی، اس نے اپنے لوگوں سے کہا کہ جاکر اس شخص سے کہو کہ ہم تمہیں جزیہ دیا کریں گے اور
تمہاری ماتحتی قبول کرلیں گے لیکن مباہلہ نہیں کریں گے۔ چنانچہ وہ رسول اللہ صلی علیہ وسلم کی خدمت میں آئے اور کہا
کہ ہم مباہلے کے لئے تیار نہیں ہیں، ہم لوگ آپؐ کو ٹیکس دیا کریں گے۔ چنانچہ ان لوگوں کے ساتھ مصالحت خلفائے
راشدینؓ کے زمانے تک قائم رہی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ: ’’اگر وہ لوگ مباہلے کے لئے آجاتے تو ان
کے درختوں پر کوئی پرندہ بھی زندہ نہ بچتا۔‘‘ یہ ہے اصل حقیقت مباہلے کی۔
ایک بات ہمیں سمجھ لینی چاہئے کہ ہمارا مقابلہ مرزا طاہر احمد سے نہیں بلکہ ہمارا مقابلہ تو اس کے دادا مرزا غلام
احمد قادیانی سے ہے، اب دیکھنا یہ ہے کہ مرزا غلام احمد قادیانی کے ساتھ بھی کیا کسی نے مباہلہ کیا؟ یا کوئی چیلنج
بازی ہوئی؟ جس طرح مرزا طاہر چیلنج کر رہا ہے اس کا دادا بھی کیا کرتا تھا، جواباً علماء بھی اس کو چیلنج کیا کرتے
تھے، چنانچہ مرزا غلام احمد
171
کے دو مباہلے ہمارے علم میں موجود ہیں جن سے مرزا طاہر اور ان کی جماعت والے انکار نہیں کرسکتے۔
مثلاً: مرزا غلام احمد کا ایک مباہلہ مولانا عبدالحق غزنوی کے ساتھ امرتسر میں عیدگاہ کے میدان میں ظہر کے بعد ہوا
تھا، دونوں نے آمنے سامنے بددعا کی، مرزا غلام احمد قادیانی نے یہ اصول بیان کیا کہ مباہلہ کرنے والوں میں سے جو
فریق جھوٹا ہو وہ سچے کی زندگی میں مرتا ہے، چنانچہ غلام احمد قادیانی ۲۶؍مئی ۱۹۰۸ء کو مولانا عبدالحق غزنوی کی
زندگی میں فوت ہوا اور وبائی ہیضے سے مرا تھا، جس کو وہ خود عذاب الٰہی قرار دیتا تھا، جبکہ حضرت مولانا عبدالحق
غزنوی ۱۶؍مئی ۱۹۱۷ء کو دنیا سے رخصت ہوئے، اب اس مباہلے کے نتیجے میں جھوٹے کی ہلاکت کو نہ ماننا حقیقت میں اللہ
تعالیٰ کا انکار اور مباہلے کا انکار ہے۔
جنگ پینل:۔۔۔اس وقت مباہلے کا چیلنج جاری کرنے کے پیچھے کیا محرکات کارفرما ہوسکتے ہیں؟
جواب:۔۔۔جون ۱۹۸۸ء میں مرزا طاہر احمد نے یکایک مباہلے کا چیلنج جاری کردیا تھا کیونکہ ان کی جماعت میں شدید ترین
اختلافات پیدا ہوچکے تھے جو اندر دبے ہوئے تھے، ہماری اطلاعات کے مطابق مرزا طاہر احمد کا بھائی مرزا رفیع اپنی الگ
جماعت بنانے کی کوشش میں تھا، اس لئے یہ شدید ترین ذہنی پریشانی میں مبتلا تھا۔ آپ جانتے ہیں کہ جب حکومتوں کے خلاف
عوامی تحریک چلتی ہے تو وہ توجہ ہٹانے کے لئے نیا شوشہ چھوڑ دیتی ہیں جیسا کہ سرحدی جھڑپیں وغیرہ وغیرہ، تو مرزا
طاہر احمد نے اپنی جماعت اور ذہن کو پرسکون کرنے کے لئے چیلنج کردیا تھا اور پاکستان کا کوئی شہر ایسا نہیں تھا جہاں
سے علمائے کرام نے مرزا طاہر احمد کے مباہلے کے چیلنج کو قبول نہ کیا ہو، خود مجھے تقریباً دو ماہ بعد مرزا طاہر
احمد کے مباہلے کی کاپی ملی جس کے جواب میں میں نے لکھا کہ میں مباہلے کے لئے حاضر ہوں اور اپنی طرف سے ۲۳؍مارچ
۱۹۸۹ء کی تاریخ مقرر کرتا ہوں اور ظہر کے بعد مینار پاکستان کے میدان میں پہنچ جاؤں گا، لیکن اس کے ساتھ ہی میں نے
یہ بھی لکھا کہ مجھے اس جگہ پر
172
اصرار نہیں آپ جس تاریخ، وقت اور جگہ کا انتخاب کریں گے میں وہاں پہنچ جاؤں گا۔ ان کا ایک رویہ یہ بھی ہے
وہ کہتے ہیں کہ ’’تو ہے کون اور تیری قیمت کیا ہے کہ مرزا طاہر احمد کا مقابلہ کر رہا ہے؟‘‘ تو میں نے جواب لکھا کہ
تم اپنے ساتھیوں کو لے آؤ اور میں بھی اپنے ساتھیوں کو لے آؤں گا اور یہ بھی لکھو کہ سو لاؤں، ایک لاکھ لاؤں
یا دس لاکھ آدمیوں کو لاؤں، اس کے جواب میں ان کے سیکریٹری کا جواب تھا کہ تم مباہلے سے گریز کر رہے ہو، میں نے
کہا کہ گریز کیسا؟ تو کہنے لگے کہ تم اس کاغذ پر لعنت اللہ علی الکاذبین لکھ کر بھیج دو تو مباہلہ مکمل ہوگیا۔ میں
نے کہا کہ یہ مباہلہ تو نہ ہوا مذاق ہوگیا، پھر میں نے قرآن کریم، حدیث شریف اور مرزا غلام احمد کی کتابوں سے خصوصی
حوالہ جات دئیے کہ مباہلہ کے لئے دونوں فریقوں کا ایک میدان میں آنا ضروری ہے، میں نے یہ بھی لکھا کہ اب بھی اگر تم
وقت اور تاریخ مقرر کرکے مباہلے کے میدان میں نہیں آئے اور تکفیر سے باز نہ آئے تو خدا کی لعنت کے نیچے مروگے۔ اس
دن کے بعد اس نے مجھے کبھی دوبارہ مباہلے کا چیلنج نہیں کیا۔ میرے خط کا جواب تک نہیں دیا، اب سات سال کے بعد اس نے
دوبارہ مباہلے کا چیلنج کردیا ہے۔
جنگ پینل:۔۔۔قادیانیوں کی طرف سے پوری دنیا میں یہ پروپیگنڈا کیا جاتا ہے کہ پاکستان میں ان پر مظالم ہو رہے ہیں،
کیا ان کی فرضی مظلومیت سے متعلق کچھ کہنا چاہیں گے؟
جواب:۔۔۔قادیانیوں کی خاص تکنیک ہے، اپنے اوپر ہونے والے فرضی مظالم کا ذکر کرتے رہتے ہیں، اس موضوع پر گو کہ
مولانا اللہ وسایا اظہار خیال کرچکے ہیں لیکن یہاں پر ایک اور واقعہ پیش کرنا ضروری سمجھتا ہوں۔ سرگودھا میں مرزائی
ایک تھانے میں گئے اور تھانیدار سے کہا کہ ہمارے خلاف یعنی قادیانیوں کے خلاف ایک پرچہ درج کریں، تو تھانیدار نے کہا
کہ پرچہ کیسے درج کروں کیونکہ دعویٰ کرنے والا کوئی موجود نہیں؟ تو وہ لوگ کہنے لگے اللہ کے واسطے یہ پرچہ درج کردیں
اس طرح ہمیں سیاسی پناہ مل جائے گی۔ میں پورے دعوے سے کہتا ہوں کہ پورے پاکستان کے ملازمین کا اگر سروے کرایا جائے
تو ان
173
میں بڑے بڑے عہدوں پر ایک تہائی قادیانی ملیں گے اور ہمارے نوجوان جوتے چٹخاتے پھرتے ہیں اور یہ لوگ مزے کر
رہے ہیں۔ ایک تکنیک ان کی یہ بھی ہے کہ جب کوئی قادیانی کسی محکمے میں پہنچتا ہے تو وہ اپنے ماتحتوں کو متأثر کرکے
قادیانیت کی طرف مائل کرتا ہے، اگر یہ کسی چھوٹے عہدے پر ہو تو اپنے افسران بالا کے خلاف غلط رپورٹیں اوپر بھیجتا
رہتا ہے۔ ایک اور طریقہ ان کا یہ ہے کہ اپنی جماعت میں اتحاد پیدا کرنے کے لئے یہ مولویوں کو گالیاں دیتے رہتے ہیں،
غلام احمد قادیانی بھی یہی کیا کرتا تھا، وہ تو پوری دنیا کے علماء کے خلاف تھا اور کہتا تھا کہ تمام اسلامی ممالک
میں قادیانیوں کو کافر قرار دیا جارہا ہے، فتوے دئیے جارہے ہیں، صرف حکومت برطانیہ قادیانیوں کو پناہ دئیے ہوئے ہے،
اس لئے ہم کو ان کا شکریہ ادا کرنا چاہئے۔
ہم لوگ برطانیہ میں آباد پاکستانیوں کو خطبات کے ذریعے یہ بتا رہے ہیں کہ یہاں پر آپ قادیانیوں کو غیرمسلم اقلیت
تو قرار نہیں دلواسکتے لیکن ایک کام تو کرسکتے ہو کہ اسلام کے نام پر تمہارے حقوق جو قادیانیوں کو دئیے جارہے ہیں اس
کے خلاف کھل کر احتجاج کرو، چنانچہ گلاسگو میں ایسا ہی ہوا، وہاں پر مسلمانوں کے حقوق کے لئے کمیٹی بنائی گئی تھی
لیکن اس میں دو قادیانی تھے، تو وہاں پر مسلمانوں نے کہا کہ یہ تو ہمارے نمائندے نہیں ہوسکتے کیونکہ یہ غیرمسلم ہیں،
جیسا کہ سکھ، ہندو اور عیسائی ہیں، اس بنیاد پر اس کمیٹی سے قادیانیوں کو نکال باہر کیا گیا۔ میرے خیال میں، مسلمان
دنیا میں جہاں کہیں بھی آباد ہیں، ایسے اقدامات کرکے وہ لوگوں کو بتاسکتے ہیں کہ یہ غیرمسلم ہیں۔
اس کے علاوہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں منافقین کا ایک بہت بڑا گروہ پیدا ہوا تھا، قرآن کریم میں
ان کی علامتیں کئی جگہ بتائی گئی ہیں، ان میں ایک علامت ہے جو قادیانیوں پر برابر فٹ بیٹھتی ہے، چنانچہ قرآن کریم
میں ہے کہ: ’’اگر آپؐ کو کوئی بھلائی یا خوشی پہنچے تو ان کو بہت بری لگتی ہے اور اگر آپؐ کو کوئی تکلیف پہنچے تو
خوش ہوتے ہیں۔‘‘ آپ مسلمانوں کی پوری تاریخ اٹھاکر دیکھ لیں جہاں بھی مسلمانوں پر کوئی آفت آئی
174
قادیانیوں نے خوشی کے شادیانے بجائے، چراغاں کئے، جب بغداد کا سقوط ہوا تو قادیانیوں نے گھی کے چراغ جلائے،
اسی طرح جب ترکی پر زوال آیا تو مرزا محمود نے کہا کہ سلطنت کا خلیفہ ہمارا نہیں تھا، یعنی پورا عالم اسلام تلملا
رہا تھا اور قادیانی خوشیاں منا رہے تھے، قادیانیوں کے سرکاری اخبار الفضل میں اس زمانے میں ایک بیان شائع ہوا تھا
جس میں کہا گیا کہ: ’’انگریز کو مسیح موعود نے اپنی تلوار کہا ہے اور ہم مسیح موعود کی تلوار کی چمک دیکھنا چاہتے
ہیں۔‘‘
شرعی عدالت کے سابق جج مولانا عبدالقدوس صاحب پشاور میں جب پروفیسر تھے تو انہوں نے ایک پروفیسر سے پوچھ لیا کہ کیا
آپ قادیانی ہوتے ہیں؟ اس کا چہرہ کھل گیا اور ان سے پوچھا کہ آپ کو کیسے معلوم ہوا؟ تو مولانا ان سے کہنے لگے کہ
تمہارے چہرے پر ایک خاص قسم کی لعنت برس رہی ہے جسے میں محسوس کرتا ہوں۔ تو آدمی کے چہرے سے ہی اس کی اصلیت معلوم
ہوجاتی ہے۔ مرزا طاہر کے چہرے سے اس کی حقیقت واضح ہوجاتی ہے کہ یہ آدمی جھوٹے نبی کا پرچار کرنے والا ہے اور ہر
قادیانی کے چہرے پر تحریر درج ہوجاتی ہے جسے ہمارا عبدالرحمن یعقوب باوا بھی پڑھ لیتا ہے، اس کی آواز سے بھی معلوم
ہوجاتا ہے کہ یہ قادیانی ہے۔
ہم نے مولانا عبدالحق غزنوی صاحب کے مباہلہ کے بارے میں ایک چھوٹا سا رسالہ بعنوان ’’خدائی عدالت کا فیصلہ! مرزا
جھوٹا تھا‘‘ چھاپا تو ہمیں قادیانیوں نے ماں بہن کی گالیوں کے ٹیلی فون کئے کیونکہ یہ لوگ دلیل کا جواب دلیل سے دینے
کے قائل نہیں ہیں۔
ایک اور بات آپ کو معلوم ہوگی کہ امریکی شہر سان فرانسسکو میں زلزلہ آیا تو انہوں نے کہہ دیا یہ قادیانیوں کی وجہ
سے ہوا ہے، کیونکہ ان کا مزاج ہے کہ دنیا میں رونما ہونے والے واقعات کو اپنے کھاتے میں ڈالتے ہیں، جبکہ ان کے پیشوا
مرزا طاہر کی بے بسی کا حال یہ ہے کہ اس نے اپنے کلام میں لکھا ہے کہ دوستو تم سے بچھڑ گیا ہوں، دوسری طرف اس کے
مرید کہتے ہیں کہ اے آقا! ہم میں کب واپس آئیں گے کیا یہ
175
عذاب نہیں ہے؟
جنگ پینل:۔۔۔مرزا طاہر نے کہا ہے کہ کراچی اور پاکستان میں چونکہ ہمارے خلاف امتیازی سلوک روا رکھا جارہا ہے، اس
لئے وہاں عذاب آئے گا، اس کے بارے میں آپ کی کیا رائے ہے؟
جواب:... مرزا طاہر احمد جو عذاب کی پیش گوئیاں کر رہا ہے اس سے یہ پوچھنا چاہئے کہ کراچی میں کون سا ظلم ہو رہا ہے
قادیانیوں پر؟ یہ تو ایسی بات ہوئی کہ: ’’ماروں گھٹنا پھوٹے آنکھ‘‘ یہ تو ہم بھی جانتے ہیں اور آپ بھی جانتے ہیں
کہ کراچی میں جو کچھ ہو رہا ہے وہ ایک بین الاقوامی سازش ہے، اخبارات میں مختلف خبریں آرہی ہیں کہ را کے ایجنٹ گڑبڑ
کر رہے ہیں، یا امریکہ مداخلت کر رہا ہے، ان تمام چیزوں اور پس منظر کو سامنے رکھنے کے بعد جب مرزا طاہر یہ پیش گوئی
کر رہا ہے کہ وہاں عذاب آئے گا اور اگر میں یہ سمجھوں تو یہ سمجھنے میں کیا حق بجانب نہیں ہوں گا؟ کہ مرزا طاہر
احمد بھی اس سازش میں ایک مہرہ ہے، مجھے جہاں تک اطلاع ملی ہے اس کے مطابق بین الاقوامی سطح پر ایک نقشہ تیار کیا
جاچکا ہے اس نقشے میں رنگ بھرنے کے لئے کراچی میں فسادات کروائے جارہے ہیں اور سندھ کا ایک علاقہ ان کے لئے مخصوص
کردیا گیا ہے، آپ یہ بات نوٹ کریں کہ کراچی میں درجنوں افراد ہر دو تین روز بعد ہلاک ہو رہے ہیں لیکن ان لوگوں نے
کبھی کلمہ افسوس نہیں کہا اور مرزا طاہر نے کبھی یہ نہیں کہا کہ یا خدا! کراچی کے حالات پر رحم فرما!
جنگ پینل:۔۔۔کراچی کے حالات کی خرابی میں کیا قادیانیوں کا ہاتھ ہے؟ اس بارے میں آپ کچھ تبصرہ کریں گے؟
جواب:۔۔۔ہماری جماعت ظاہر بات ہے کہ ایک تبلیغی جماعت ہے، ہمارا سیاست میں کچھ عمل دخل نہیں ہے، ہم اپنے مسلمان
بھائیوں کو متوجہ کرسکتے ہیں، علمائے کرام کو ایک پلیٹ فارم پر جمع کرنا اور معروضات پیش کرنے کا کام بھی ہم کرتے
رہے ہیں
176
اور اِن شاء اللہ کرتے رہیں گے لیکن ہماری مشکل یہ ہے کہ ہماری حکومت یا ہماری حکومت میں موجود لوگوں نے
رسمی طور پر تو قادیانیوں کو غیرمسلم اقلیت تسلیم کرلیا ہے لیکن ابھی تک وہ لوگ اس کے قائل اور معتقد نہیں ہیں، بلکہ
وہ قادیانیوں کو ملک کا مخلص سمجھتے ہیں جبکہ اس بھولے پن کی وجہ سے یہ لوگ سازشوں کا شکار بھی ہو رہے ہیں، میں نہیں
جانتا کہ موجودہ بے نظیر حکومت میں کتنے قادیانی موجود ہیں؟ حکومت اور ایم کیو ایم کے درمیان مذاکرات کی ناکامی میں
بھی قادیانیوں کا ہاتھ ہے اور یہ کسی قیمت پر بھی خوش نہیں ہوں گے کہ کراچی میں رہنے والے لوگ آپس میں امن و امان
سے مل جل کر رہیں اور پورا ملک امن کا گہوارہ بن جائے، کیونکہ پاکستان قادیانیوں کی خواہش کے خلاف بنا ہے، مرزا
محمود اور دوسرے قادیانیوں کی قبروں پر یہ لکھا ہوا تھا کہ ہماری لاشیں یہاں پر امانتاً دفن ہیں، جوں ہی حالات بہتر
ہوں ہماری لاشوں کو قادیان میں دفنایا جائے، اب یہ الفاظ ان کی قبروں سے مٹادئیے گئے ہیں لیکن نظریہ اب بھی وہی ہے
کہ ان کے اصل مرکز قادیان کے علاقے کو کھلا علاقہ قرار دے دیا جائے۔قادیانیوں کی بدنیتی کے کچھ شواہد اور بھی ہیں،
کراچی کی شاہ فیصل کالونی میں ایک مکان سے فائرنگ ہوئی، تحقیقات پر معلوم ہوا کہ مکان قادیانیوں کا تھا اور فائرنگ
کرنے والے بھی قادیانی تھے، اسی طرح ماڈل کالونی میں بھی بہت سے قادیانی جمع ہوگئے ہیں کیونکہ یہ بہت اچھا علاقہ
تصور کیا جاتا ہے، وہاں بھی وقفے وقفے سے فائرنگ کے واقعات ہوتے تھے، وہاں پر آباد تمام برادریوں کے بڑوں نے جمع
ہوکر سوچا کہ بات کیا ہے کہ ہم لوگ تو آپس میں لڑتے نہیں، لیکن ایسا کیوں ہوتا ہے؟ معلوم ہوا کہ ایک شخص جس کے پاس
ملک سے باہر جاتے ہوئے مرزا طاہر احمد ٹھہرا تھا وہ اس گروہ کا سرغنہ قادیانی ہے، اس نے اپنے رضاکاروں کو اسلحہ دے
رکھا تھا جو یہ کاروائیاں کرتے تھے۔ اب بھی جب کسی علاقے میں امن و امان ہوتا ہے، وہاں یہ لوگ فائرنگ کرکے غائب
ہوجاتے تھے، اسی طرح سنیوں کی مسجد پر اسکوٹر پر دو افراد فائرنگ کرکے بھاگ گئے اور اسی طرح شیعوں کی امام بارگاہ پر
فائرنگ کی اور غائب ہوگئے، جن لوگوں کو پکڑا گیا ہے وہ قادیانی ہیں، میرا
177
سوال یہ ہے کہ حکومت نے فائرنگ کے واقعات کی تحقیقات کے دوران اس نہج پر کیوں نہیں سوچا کہ اس گڑبڑ کے پیچھے
قادیانیوں کا ہاتھ ہوسکتا ہے؟ کیونکہ قادیانی کوئی بھی کام غیرمنظم طریقہ سے نہیں کرتے، یہ لوگ اپنے امیر اور خلیفہ
کے حکم کی تعمیل کرتے ہیں، ہمارے پاس اس قسم کے شواہد موجود ہیں جن سے ظاہر ہوتا ہے کہ جب مرزا طاہر احمد یہ کہتا ہے
کہ حالات مزید خراب ہوں گے تو یہ اس کی پلاننگ ہے، ہمارے پاس نہ تو اسلحہ ہے اور نہ ہی ہمارے پاس کوئی مؤثر سیاسی
طاقت ہی ہے، ہم تو صرف اور صرف قوم کو خطرات سے آگاہ کرسکتے ہیں۔
(ہفت روزہ ختمِ نبوّت کراچی ج:۱۵ ش:۱۳)
178
قادیانی شبہات
اور جوابات
179
قادیانی شبہات
محترم مولوی محمد یوسف صاحب!
آپ کا ۱۶؍۷؍۱۳۹۹ھ کا طویل مراسلہ مجھے کوئی ایک ہفتہ قبل ملا تھا، اس کے لئے دِل سے شکرگزار ہوں۔
آپ کا مراسلہ ۵؍ربیع الاوّل مجھے ملا تھا، آپ نے اب بھی بار بار اپنے اسی مراسلے کے حوالے دئیے ہیں، بخدا مجھے وہ
مراسلہ نہیں ملا۔
ج:... دوبارہ اس کی نقل بھیج دی ہے، اُمید ہے مل جائے گا۔
۲:... یہ تو میں پہلے بھی عرض کرچکا ہوں کہ کسی پر الزام دھرنے کا کیا ہے، جب دلوں میں کھوٹ ہو، بغض ہو، تعصب ہو،
اور یہ تہیہ بھی ہو کہ اپنے مخالف الخیال کی کوئی بات کیسی ہی اچھی کیوں نہ ہو اُسے ماننا ہی نہیں یا اسے کسی نہ کسی
رنگ میں توڑ مروڑ کر ضرور بیان کرنا ہے، تو پھر مجھ جیسے بے علم انسان کے بس کا روگ نہیں کہ کسی ’’ابوالحکم‘‘ سے
کوئی بات منواسکوں۔
ج:... خصوصاً جب ’’بے علم انسان‘‘ کسی ’’بو مسیلم‘‘ کا شکارِ دجل ہوجائے۔
۳:... خصوصاً اس وقت جب وہ یہ کہے کہ ’’جو شخص حضرت خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد نبوّت کا مدعی ہو، اس
کا جھوٹا ہونا میرے نزدیک کسی دلیل کا محتاج نہیں، خود اس کا دعویٔ نبوّت ہی سو جھوٹ کا ایک جھوٹ ہے۔‘‘
ج:... بلاریب و تردّد مدعیٔ نبوّت سے دلائل مانگنا عقیدۂ ختمِ نبوّت میں شک کے مترادف ہے! اسی لئے حضرت امام
ابوحنیفہؒ، مدعیٔ نبوّت سے دلائل مانگنے کو کفر باور
180
کرتے ہیں۔
۴:... اس بارے میں صرف اتنا ہی کہنا مناسب سمجھتا ہوں کہ آپ نے تو حضرت ابنِ عربیؒ اور حضرت قاسم نانوتویؒ جیسوں
کو بھی ایک طرف رکھ دیا، جن کا عقیدہ یہ تھا کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد نبوّتِ غیرتشریعی ممکن ہے۔
ج:... ان دونوں بزرگوں کا عقیدہ وہی ہے جو میرا ہے، وہ بھی مدعیٔ نبوّت اور اس کے ماننے والوں کو دائرۂ اسلام سے
خارج سمجھتے ہیں۔
۵:... آپ نے اپنے اس طویل مراسلہ میں جگہ جگہ اِلحاد، زَندقہ، کفر، کذب وغیرہ کے فتوے خوب استعمال کئے ہیں۔
ج:... بے محل یا محل و موقع کے عین مطابق؟ اگر کوئی بے محل فتویٰ صادر کیا ہو تو اس کی نشاندہی کریں۔ آپ کا کیا
خیال ہے کہ آپ کفر و اِلحاد بھی کریں اور آپ کو کافر و ملحد بھی نہ کہا جائے؟
۶:... پیارے مولوی صاحب! یہ دور جس میں آپ اس قسم کی تکنیک استعمال کرتے ہیں، سائنسی دور ہے۔
ج:... کیا سائنسی دور میں دین اور دینی اصطلاحات نہیں چلتیں؟
۷:... آپ کو عقل سے خود بھی کام لینا پڑے گا اور دوسروں کے سامنے بھی عقل اور دلائل کے ساتھ ہی لب کشائی کرنی پڑے
گی۔
ج:... مجھے بتائیے کہ میں نے کون سی بات بے دلیل کہی؟
۸:... یہ میری قسمت کہ واسطہ ہی آپ جیسی ہستی سے پڑگیا جو لکھنا تو بہت جانتی ہے (اور شاید بولنا بھی خوب جانتی
ہو)، مگر ’’کچھ نہ سمجھے خدا کرے کوئی!‘‘ کے مصداق نہ خود سمجھنے کی کوشش کرے اور نہ ہی کسی دوسرے کے پلے کچھ ڈال
سکے۔
جـ:... یہی شکایت مجھے اپنے ذُوفہم حریف سے ہے۔
۹:... آپ فرماتے ہیں: ’’قرآن شریف سے ثابت ہے کہ ہر ایک نبی آنحضرت
181
صلی اللہ علیہ وسلم کی اُمت میں داخل ہے۔‘‘ الحمدللہ!
ج:... ’’الحمدللہ!‘‘ کے بجائے ’’استغفراللہ‘‘ لکھنا تھا کہ آپ نے پہلے عمداً یا سہواً جو غلط الزام لگایا تھا، خدا
اسے معاف فرمائے۔
۱۰:... آپ نے یہ تو تسلیم فرمالیا کہ بوقتِ نزول حضرت عیسیٰ ؑنبی بھی ہوں گے اور اُمتی بھی، تو یہ بات واضح ہوگئی
کہ ان کے نزول سے ختمِ نبوّت متأثر نہ ہوگی، لیکن یہی دعویٰ حضرت مرزا صاحب کا ہے۔
ج:... آپ کو غلط فہمی ہوئی ہے، ایک ہے کسی نبی کا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی اُمت میں داخل ہونا، یہ تو قرآن
میں منصوص ہے، اور ایک آپ کے کسی اُمتی کا نبوّت حاصل کرلینا، یہ عقلاً و شرعاً باطل ہے، اور مرزا صاحب اسی باطل کے
قائل ہیں۔
۱۱:... یہ بھی خوب ہے کہ اسی کی بنا پر انہیں کافر، زِندیق، فاسق، فاجر، ملحد، دجال اور نہ جانے کیا کیا کہا جاتا
ہے۔
ج:... اس لئے کہ جو شخص آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد حصولِ نبوّت کا دعویٰ کرے، اسے آپ صلی اللہ علیہ وسلم
نے دجال و کذاب کہا ہے، پس ایسے شخص کے فاسق وفاجر اور ملحد و دجال ہونے میں کیا شک رہ جاتا ہے؟
۱۲:... آپ نے ’’ازالہ اوہام‘‘ صفحہ:۲۸۹ کا حوالہ حسبِ عادتِ کہنہ نامکمل پیش فرماکر دیانت کا کچھ اچھا مظاہرہ نہیں
کیا، اس فقرہ سے ملحق الفاظ یہ ہیں جو آپ خود چھپاگئے، یا پھر آپ کے پاس مواد ہی اتنا کترا بیونتا ہوگا، اور وہ
الفاظ یہ ہیں:
’’اور بعض صحابی جو اس اجماع کے مخالف قائل ہوئے کسی نے ان کی تکفیر نہیں کی اور نہ ان کا نام ملحد اور ضال اور
مأوّل مخطی رکھا، پھر یہ بھی دیکھنا چاہئے کہ ہمارے نبی صلعم کا جسمانی معراج کا مسئلہ بالکل مسیح کے جسمانی طور پر
آسمان پر چڑھنے اور آسمان سے اُترنے کا ہم شکل ہے۔‘‘
ج:... میں نے جس دعویٰ کے لئے ’’ازالہ‘‘ کی عبارت کا حوالہ دیا تھا کیا ان
182
منقولہ الفاظ سے اس دعویٰ کی تردید ہوتی ہے؟ اگر نہیں تو پھر شکایت کیوں؟ پس جب معراجِ جسمانی پر صحابہؓ کا
اجماع تھا تو یقینا حضرت مسیح کے رفعِ جسمانی پر بھی اجماع ہوا۔
۱۳:... حضرت عائشہ صدیقہؓ کا ہمارے نبی صلعم کے جسمانی معراج کی نسبت انکار کرنا درحقیقت اور درپردہ مسیح کے جسمانی
رفع اور معراج سے بھی انکار ہے۔
ج:... جیسا کہ باقی سب صحابہؓ کا معراجِ جسمانی کا اقرار کرنا حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی حیات و رفعِ جسمانی کا
اقرار ہے۔
۱۴:... کیوں جناب! اب بھی آپ میرے اس الزام کی تردید کریں گے کہ آپ جناب مرزا صاحب پر بے ثبوت الزام تراشی کے صرف
مرتکب ہی نہیں ہوتے، بلکہ ایسا کرنے کی قسم کھاچکے ہیں، اس حوالہ میں دو جگہ آپ الزام تراشی کے مرتکب ہوئے ہیں۔
ج:... کیا الزام ہوا، ذرا وہ بھی فرمادیا جاتا؟
۱۵:... لیکن پھر بھی حضرت عائشہؓ اس بات کو تسلیم نہیں کرتیں اور کہتی ہیں کہ وہ ایک رُؤیائے صالحہ تھی اور کسی نے
حضرت عائشہ صدیقہؓ کا نام نعوذ باللہ ملحدہ یا ضالہ نہیں رکھا۔
ج:... جی ہاں! ان کو ضالہ و ملحدہ نہیں کہا، مگر اس سے کیا ثابت ہوا؟ اس کی بھی وضاحت ہوجاتی۔
۱۶:... شبِ معراج میں دوسرے انبیاء کے اجسامِ مثالیہ اور حضرت عیسیٰ ؑکے جسدِ عنصری کو ہم رنگ و ہم شکل قرار دے کر
خود ہی ثابت کر رہے ہیں کہ ان سب کی ہیئت اور کیفیت ایک سی تھی، لازماً یا تو وہ سب وفات شدہ تھے یا سب زندہ تھے،
رسولِ پاک صلی اللہ علیہ وسلم نے اس نظارہ میں کہیں بھی حضرت عیسیٰ ؑکی الگ اور منفرد کیفیت بیان نہیں فرمائی۔
ج:ـ... آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم تو متواتر احادیث میں ان کی منفرد کیفیت بیان فرماچکے ہیں۔
۱۷:... باقی آپ نے میدانِ حشر کی بھی مثال غلط دی ہے، میدانِ حشر میں تو صرف مرنے والے ہی جمع ہوسکتے ہیں نہ کہ
زندہ انسان؟
183
ج:... میں نے اَوّلین و آخرین کی جو قید لگائی تھی اس میں آپ کا جواب موجود ہے۔
۱۸:... جیسا کہ آپ بتاتے ہیں کہ حضرت عیسیٰ ؑبجسدِ عنصری شبِ معراج میں اُسی طرح موجود تھے، جیسے نبی کریم صلی
اللہ علیہ وسلم! تو پھر آپ کو یہ بھی ماننا پڑے گا کہ حضور سرورِ کائنات کے معراج میں حضرت عیسیٰ ؑبھی برابر کے
شریک تھے؟
ج:... بندۂ خدا! آسمان پر ہونے سے معراج میں شرکت کیسے لازم آگئی؟ کیا آسمان کے بے شمار فرشتے بھی شریکِ معراج
قرار پائیں گے؟
۱۹:... اس لحاظ سے تو اُمتِ مسلمہ کو حضرت عیسیٰ ؑکا معراج بھی تسلیم کرلینا چاہئے۔
ج:... منکر کون ہے؟ ان کی معراج آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے پانچ صدی پہلے ہوچکی تھی۔
۲۰:... سچ ہے جھوٹ کے پاؤں نہیں ہوتے۔
ج:... سچ جھوٹ کے فرق کو سمجھنے کے لئے دِل کی بینائی شرط ہے، اور وہ بدقسمتی سے نصیبِ اعداء ہے۔
۲۱:... ظاہر ہے یہ دو معراجوں والا عقیدہ اہلِ اسلام کے نزدیک صحیح نہیں ہوسکتا۔
ج:... کون سے اہلِ اسلام؟ بحمداللہ! سب مسلمان اس کے قائل ہیں کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام آسمان پر تشریف لے گئے
اور قربِ قیامت میں نازل ہوں گے۔
۲۲:... آپ خود ہی فرماتے ہیں: ’’مثلاً کسی صاحبِ کشف کو میدانِ محشر کا نقشہ منکشف ہوجائے اور وہ دیکھے کہ تمام
اَوّلین و آخرین وہاں جمع ہیں تو اس پر کیا یہ لازم آئے گا کہ اب دنیا میں کوئی انسان زندہ نہیں، سب میدانِ محشر
میں پہنچ چکے ہیں؟ میں حیران ہوں کہ یہ سوال آپ نے مجھ سے کیا ہے یا کہ اپنے آپ سے؟ چلئے یوں کیجئے کہ اپنے اسی
سوال کو بار بار دُہرائیے اور گریبان میں جھانک کر بتائیے کہ اس کا نتیجہ کیا نکلتا ہے؟ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو
معراجِ جسمانی تھا یا کہ رُوحانی؟
ج:... ذرا میری تحریر ایک بار پھر پڑھئے، اور غور کیجئے کہ میں نے یہ بات کس
184
تناظر میں کہی ہے؟ میں نے یہ بات کہی ہی اس تقدیر پر ہے جبکہ معراج جسمانی نہ ہو، بلکہ اُسے کشفی و رُوحانی
فرض کیا جائے۔
۲۳:... نہ جانے یہ کیسے عالم صاحب ہیں کہ جب جی چاہے کسی سیدھی بات کو اُلٹا کردیں، اور جب جی چاہے اُلٹی بات کو
سیدھا کر دکھائیں۔
ج:... لیکن سیدھی بات کو اُلٹ سمجھنا بھی قادیانیت کا خاص امتیاز ہے۔
۲۴:... اسی صفحہ کے آخر میں جو تین حوالے آپ نے دئیے ہیں، ان کے متعلق اُصولی بات عرض کرتا ہوں۔
ج:... یہ اُصولی باتیں آنجناب نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے مقابلے میں تراشنے کی زحمت کیوں فرمائی؟
۲۵:... ہم کب کہتے ہیں کہ عیسیٰ فوت نہیں ہوں گے؟
ج:... ’’فوت نہیں ہوں گے‘‘ مستقبل کا صیغہ ہے، ’’وفات پاچکے‘‘ ماضی کا، ذرا سوچ لیجئے آپ اتنے بدحواس کیوں ہو رہے
ہیں کہ ماضی، مستقبل کی تمیز بھی اُٹھ گئی؟
۲۶:... ہمارا عقیدہ تو واضح ہے کہ حضرت عیسیٰ ؑوفات پاچکے اور اب آخری زمانہ میں جو شخص بھی عیسیٰ ؑکے نام اور ان
کی خوبو پر آئے گا یا آچکا ہے وہ بھی وفات پائے گا یا پاچکا ہے۔
ج:... یہ خو بو کہاں لکھی ہے؟ اور کیا ہوتی ہے؟ کچھ تشریح فرمادی جائے گی؟
۲۷:... یہ حدیث تو اس عقیدۂ اسلامی کی واضح مخالف ہے۔
جـ:... یعنی آپ کا دماغ عقیدۂ اسلامی کا مخالف نہیں، حدیث مخالف ہے! نعوذباللہ۔۔۔!
۲۸:... یہاں ’’نزول‘‘ کے لفظ سے ’’آسمان سے بجسدِ عنصری اُترنا‘‘ کیونکر مراد لیا جائے؟ قرآن تو صریحاً اس خیال
کی نفی کرتا ہے:’’یا بنی اٰدم قد انزلنا علیکم لباسًا‘‘ (اعراف۳/۲۷) ، ’’وانزلنا الحدید فیہ بأس‘‘ (حدید ۴/۲۶) ذرا خود ہی
185
بتادیجئے کہ آپ نے کبھی لباس اور لوہا آسمان سے اُترتے یا گرتے دیکھا ہے؟ یا کسی اور نے ہی دیکھا ہو تو
براہِ کرم اس عاجز کو اس کے پتہ سے مطلع فرمائیں۔
ج:... اس سے یہ کیسے لازم آیا کہ کوئی چیز آسمان سے اُترتی ہی نہیں؟
۲۹:... جس حدیث ’’وفیھا عھد الی ربی ۔۔... فیھلکہ اللہ‘‘ کا آپ نے حوالہ دیا ہے، اس
میں حضرت مسیح علیہ السلام کا اُسی طرح ذکر ہے جیسا کہ قرآنِ حکیم میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی دو بعثتوں
کا ذکر ہے۔
ج:... جھوٹ پر جھوٹ! قرآنِ کریم کی کس آیت میں ہے؟ ذرا نشاندہی فرمائیں۔
۳۰:... ارشادِ الٰہی ہے:’’ھو الذی بعث فی الاُمیین رسولًا ۔... واٰخرین منھم لما یلحقوا
بھم‘‘ (فرقان ۴/۴۲) آخرین میں قیدِ وقت و زمانہ موجود نہیں، گویا حضور کی
ایک بعثت تو اَوّلین میں ہوئی اور دوسری بعثت آخری زمانہ کے انسانوں میں ہوگی۔
ج:... یعنی ۔۔۔نعوذ باللہ... غلام احمد ’’محمد رسول اللہ‘‘ ہے، شرم! شرم!!
۳۱:... گویا مسیحِ موعود کی بعثت کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ہی بعثت قرار دیا گیا۔
ج:... لا حول ولا قوۃ الا باللہ! بریں عقل و دانش بباید گریست۔
۳۲:... ’’ازالہ اوہام‘‘ صفحہ: ۹۱ کا حوالہ بھی آپ نے نامکمل دیا ہے۔
ج:... مکمل حوالہ کے بعد منقول کے مفہوم میں کیا تغیر ہوا؟ اس کی وضاحت کردیتے تو کیا ہی اچھا ہوتا۔
۳۳:... غلطی کا احتمال صرف ایسی پیش گوئیوں میں ہوتا ہے جن کو اللہ تعالیٰ نے خود اپنی کسی مصلحت کی وجہ سے مبہم
اور مہمل رکھنا ہو۔
ج:... یعنی مرزا صاحب کے سوا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اور تمام اُمتِ مسلمہ کو خدا جہالت اور گمراہی میں رکھنا
چاہتا ہے، نعوذ باللہ!
186
۳۴:... عیاں ہے کہ حضرت مرزا صاحب یہاں جو کچھ فرما رہے ہیں وہ یہ ہے کہ ضروری نہیں کہ حضرتِ احدیت انبیاء
علیہم السلام پر غیب کی خبروں کو انتہائی واضح طور پر اور پوری تفصیل کے ساتھ منکشف فرمائے۔
ج:... اسی پر مجھے اعتراض ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو تو ان اُمور سے بے علم مانا جائے، اور مرزا صاحب کو
باعلم؟ کچھ تو شرم چاہئے!
۳۵:... بہرحال نامکمل حوالہ جات پیش کرکے آپ نے اپنے طویل خط میں دیگر مولوی صاحبان کی تقلید میں حضرت مرزا صاحب
پر ’’آنحضرت صلعم کے چشم دید مشاہدہ کو جھٹلانے‘‘ کے الزامات عائد کئے۔
ج:... حضور صلی اللہ علیہ وسلم اپنا مشاہدہ بیان فرما رہے ہیں، عیسیٰ علیہ السلام سے جو گفتگو ہوئی اس کو نقل فرما
رہے ہیں، اور وہؑ اپنے آنے کے بارے میں ’’عہدِ رَبّ‘‘ کا حوالہ دے رہے ہیں، مگر مرزا صاحب فرماتے ہیں کہ حضور صلی
اللہ علیہ وسلم جانتے ہی نہ تھے کہ مسیح کی حقیقت کیا ہے؟ اس سے بڑھ کر جحود (انکار) اور تکذیب کیا ہوگی؟ انصاف
فرمائیے اگر آپ کے ساتھ کوئی شخص ایسا برتاؤ کرے تو آپ ایسے موذی شخص کو کیا سمجھیں گے؟
۳۶:... آپ کی انہی چابک دستیوں نے تو اب مجھے یقین دلادیا ہے کہ یہ سب کچھ آپ بھول چوک سے اور سہو سے نہیں کرتے،
بلکہ دیدہ ودانستہ کرتے ہیں۔
ج:... الحمدللہ! خوب فہم و بصیرت کے ساتھ، جو کہتا ہوں دلیل اور سند کے ساتھ کہتا ہوں۔
۳۷:... اور یہ ہونا ضروری بھی تھا، ورنہ حضور خیرالانام سرورِ کائناتؐ کی پیش گوئیاں کیونکر پوری ہوتیں، مثلاً یہ
کہ: میری اُمت کے علماء آخری زمانہ میں آسمان تلے سب سے بری مخلوق ہوں گے۔
ج:... جی ہاں! بالکل صحیح فرمایا، مرزا غلام احمد صاحب جو اُمتی ہونے کا دعویٰ کرتے ہیں، اور ختمِ نبوّت کا تاج آپ
صلی اللہ علیہ وسلم کی بجائے اپنے ناہموار سر پر سجانے
187
کی ناپاک کوشش بھی کرتے ہیں، ان سے بدتر کوئی مخلوق ہوسکتی ہے؟
۳۸:... پھر اللہ تعالیٰ کا یہ ارشاد بھی تو اپنے ایک پہلے مراسلہ میں پیش کرچکا ہوں:’’من
الأحبار والرھبان لیأکلون اموال الناس بالباطل۔‘‘
ج:... جیسا کہ مرزا نے لوگوں کا دین بھی برباد کیا، اور ان کی دنیا بھی لوٹی۔
۳۹:... ائمہ سلف نے تو چودھویں صدی ہجری کا بالاتفاق ظہورِ مہدی ومسیحِ موعود کے لئے تعین بھی کردیا تھا، جسے آپ
جانتے تو ہیں لیکن محض ایک شخصی عداوت کی خاطر کسی راوی کو کذّاب ٹھہرادیتے ہیں، کسی مفسر کا سرے سے پتہ ہی کاٹ جاتے
ہیں۔
ج:... سفید جھوٹ! کوئی تو حوالہ پیش کیجئے اور کسی کا نام تو لیجئے!
۴۰:... مگر جب اُسی مفسر یا راوی کی کوئی بات آپ کے مسلک کی ممد نظر آتی ہے تو آپ اُسے پیش کرنے سے بھی نہیں
چوکتے، سمجھ نہیں آتی یہ تکنیک آپ کو کہاں لے جائے گی؟
ج:... یہ قادیانیوں کا وطیرہ ہے، مسلمانوں کا نہیں۔
۴۱:... اگر آپ نے ٹھانی ہوئی ہے کہ آپ حضرات ان سب پیش گوئیوں کو جب تک ظاہری طور پر پورا ہوتے نہیں دیکھیں گے،
تب تک نہیں مانیں گے۔
ج:... پوری ہوں تو مانیں! اِن شاء اللہ قربِ قیامت میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے آسمان سے نازل ہونے پر یہ پوری
ہوں گی اور ہم مانیں گے۔
۴۲:... جب تک حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو اُسی پہلے والے جسم عنصری کے ساتھ آسمان سے اُترتا نہیں دیکھیں گے، تب تک
آپ یونہی دلائل کا منہ چڑاتے رہیں گے تو یقین فرمائیے کہ ایسا موہومہ ظہورِ مہدی کا وقت کبھی نہیں آنے کا۔
ج:... چشم ما سدا کور باد! کیا ہم ... نعوذ باللہ ... غلام احمد قادیانی جیسے مراقی، مخبوط الحواس اور اَعوَر کو
مہدی و مسیح مان لیں؟ اور دُنیا جہان کے جھوٹے کو مسندِ عیسوی پر بٹھائیں؟
۴۳:... آپ بعینہٖ اسی طرح کر رہے ہیں جیسے اُمتِ موسویہ نے کیا تھا کہ حضرت مسیح علیہ السلام کو ماننے سے انکار
کیا، صرف یہی نہیں بلکہ ان کے دعویٰ کا مذاق اُڑایا گیا۔
188
ج:... یا جس طرح مرزا صاحب نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشاداتِ طیبات کا مذاق اُڑایا، گویا یہودیوں کے بھی
کان کتردئیے۔
۴۴:... حضرت عیسیٰ کو طرح طرح کی ایذائیں دی گئیں، حتیٰ کہ انہیں تختۂ دار پر بھی لاکھڑا کیا گیا۔
ج:... جھوٹ! سفید جھوٹ! اور صاف صاف آیتِ قرآنی’’وَمَا صَلَبُوْہُ‘‘ کا انکار ہے۔
۴۵:... میں تو سمجھتا ہوں کہ قرآن الحکیم میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا بیان جو کثرت کے ساتھ کیا گیا ہے، محض اس
لئے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی پیش گوئیوں کے مطابق آپ حضرات نے لازماً پیدا ہونا تھا اور مثیلِ مسیح کا عین
اُسی طرح ٹھٹھا بھی اُڑنا تھا۔
ج:... نہیں! بلکہ محض اس لئے کہ غلام احمد کی تکذیب اور ان کے ماننے والوں کی حماقت کا بار بار اعلان ہو، سوال یہ
ہے کہ ’’مثیلِ مسیح‘‘ کس آیت یا حدیث میں لکھا ہے؟
۴۶:... یہ تو خیر ہوئی کہ حضرت مرزا صاحب پر حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا سایۂ عاطفت تھا، ورنہ انہیں بھی تختۂ دار
پر چڑھا ہی دیا جاتا۔
ج:... حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا نہیں، بلکہ انگریز کا ’’سایۂ عاطفت‘‘ تھا، جیسا کہ مرزا جی نے خود اقرار کیا ہے۔
۴۷:... کیوں میرے عزیز مولوی صاحب! اُمتِ موسویہ نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو سچا مان لیا تھا؟
ج:... جیسا کہ آپ لوگوں نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمودات کو سچا مان لیا ہے؟
۴۸:... حد یہ کہ وہ اب تک ایک موہوم مسیح کی آمد کے انتظار میں دیوارِ گریہ سے لگ لگ کر روتے ہیں اور اس کی آمد
کی دُعائیں مانگتے ہیں، صرف اس لئے کہ انہوں نے بھی علامات اور پیش گوئیوں کو ظاہری رنگ میں پورا ہوتا دیکھنے کی
ٹھانی ہوئی تھی۔
189
ج:... یہ کس آیت اور حدیث میں لکھا ہے؟
۴۹:... نتیجہ آپ کو بھی معلوم ہے کہ وہ راہِ ہدایت سے بھٹک کر راندۂ درگاہ ہوکر قعرِ مذلت میں گر گئے، آپ اسی
بات سے بھی کوئی سبق نہیں لینا چاہتے، حیرت ہے!
ج:... عجیب منطق ہے کہ جب مرزا پر مسیح علیہ السلام کی کوئی علامت اور کوئی نشانی بھی صادق نہیں آتی تو قادیانی
اُمت خود شرمانے کے بجائے دوسروں کو الزام دیتی ہے۔
۵۰:... حضرت مسیحِ موعود مرزا صاحب کا یہ دعویٰ نہیں ہے کہ: ’’کسی مہدی کے زمانے میں کسوف و خسوف نہیں ہوا‘‘۔
ج:... مگر آپ نے تو یہی دعویٰ کیا تھا، ذرا اپنی تحریر دیکھ لیجئے، صد شکر ایک بات تو عقل میں آئی!
۵۱:... بلکہ دعویٰ یہ ہے کہ بموجب پیش گوئی دارقطنی’’ان لمھدینا آیتین‘‘ کہ مہدیٔ
معہود کے زمانہ میں رمضان کے مہینے میں چاند کو گرہن کی راتوں میں پہلی رات کو یعنی ۱۳تاریخ کو اور سورج گرہن کی
تاریخوں میں سے درمیانی تاریخ یعنی ۲۸ کو گرہن لگے گا، تو اس حدیث میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جب
سے خدا نے زمین اور آسمان پیدا کئے، یہ نشان کسی کے لئے ظاہر نہیں ہوئے، اور یہ نشان صرف ہمارے ہی مہدی کی صداقت کے
لئے مخصوص ہیں۔
ج:... میں بتاچکا ہوں کہ ایسے کسوفین کا رمضان میں اجتماع ساٹھ مرتبہ ہوچکا تھا، پھر مہدی کی تخصیص کیا ہوئی؟
۵۲:... حضرت مرزا صاحب کی عبارت پیش کرتے ہوئے ایک بار پھر آپ نے اخلاق اور دیانت سے کام نہیں لیا، حالانکہ اس
عبارت سے کچھ پہلے حضرت صاحب نے صاف الفاظ میں متذکرہ بالا حدیث کا متن اور ترجمہ تحریر فرمایا ہے، اور پھر لکھا ہے
کہ:
’’ان تاریخوں میں کسوف و خسوف رمضان میں ہونا کسی کے لئے اتفاق نہیں ہوا، صرف مہدیٔ معہود کے لئے اتفاق ہوگا۔‘‘
190
ج:... مرزاجی کے اس دعویٰ کی کوئی دلیل بھی ہے؟ اگر نہیں تو بے پَر کی ہانکنے کا فائدہ؟
۵۳:... یہی الفاظ آپ دیدہ و دانستہ حذف کرگئے، انا للہ وانا الیہ راجعون! جب آپ نے حضرت مرزا صاحب کے دعویٰ میں
تحریف و تحذیف سے کام لیا تو آپ کا جواب خودبخود غلط اور بے معنی اور غیرمتعلقہ ہوگیا۔
ج:... کیسے؟ میں تو کتاب کا حوالہ دیتا ہوں اور اسلافِ اُمت اور اکابرِ اسلام کی تحقیق پیش کرتا ہوں، مگر آپ ہیں
کہ صرف اور صرف مرزا صاحب کی اندھی تقلید کو قرآن وسنت اور اکابرِ اُمت کی تصریحات کے مقابلہ میں منوانے کی ناکام
کوشش و سعی میں سر پھوڑ رہے ہیں۔
۵۴:... کیونکہ آپ یا آپ کے علمائے ہیئت تا قیامت کسی مدعیٔ نبوّت کو پیش نہیں کرسکے جنہوں نے حدیث شریف کے مطابق
چاند گرہن کی پہلی تاریخ اور سورج گرہن کی درمیانی تاریخ میں دونوں گرہن لگتے دیکھے ہوں۔
ج:... عقل سے تھوڑی دیر کے لئے کام لے لینے میں کیا حرج ہے؟ دیکھئے! کسوف و خسوف بھی موجود، اور مدعیٔ نبوّت بھی
موجود، اور یہ دونوں تاریخی صداقتیں ہیں، فرمائیے! مدعی نے کسوفین کو کیوں نہ دیکھا؟
۵۵:... یہ بھی آپ کی حمیت و غیرت کو ایک چیلنج ہے کہ رسولِ پاک صلی اللہ علیہ وسلم تو فرمائیں کہ ایسے گرہن سوائے
ہمارے مہدی کے زمانہ کے کبھی دنیا میں ظہور پذیر نہیں ہوئے، اور نہ ہوں گے، اور آپ ہیں کہ اپنے پاس سے ہی چار ایسے
کسوف و خسوف کے حوالے دئیے چلے جارہے ہیں، کیا اب بھی آپ حضور محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی اُمت میں سے ہونے کا
دعویٰ کرسکتے ہیں؟ کیونکہ آپ تو منشائے پیش گوئی کے برخلاف ہی ایڑی چوٹی کا زور لگاکر لکھ رہے ہیں کہ اسے نشان
ٹھہرانا ہی غلط فہمی ہے۔
ج:... یہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہی کب ہے؟ جھوٹ کسی وقت تو چھوڑ
191
دینا چاہئے؟
۵۶:... جب بھی آپ نے ہمیں دکھ دئیے، ہم نے راتوں کو اُٹھ اُٹھ کر آپ کی ہدایت کے لئے دُعائیں کیں۔
ج:... مگر بے ایمانوں اور کافروں کی پکار کا کوئی فائدہ نہیں اس لئے کہ: ’’وَمَا دُعَآءُ
الْکَافِرِیْنَ اِلّا فِیْ ضَـلَالٍ!‘‘ (اور نہیں دُعا کافروں کی مگر بھٹکنا)۔
۵۷:... احمدی مسلک میں یہ تو ہے ہی نہیں کہ نفرت کا جواب نفرت سے دیں۔
ج:... جی ہاں! گالیاں پیار ہی میں دی جاتی ہیں، مرزا صاحب نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام سے لے کر پوری اُمتِ مسلمہ کو
جو گالیاں دی ہیں وہ کس محبت کا شاخسانہ ہے؟
۵۸:... آپ نہیں جانتے کہ ہر دس، پندرہ، بیس سال کے بعد ہمیں مظالم کی بھٹیوں میں ڈال ڈال کر آپ خود ہی کندن بناتے
ہیں۔
ج:... جی ہاں! آپ جیسوں کے لئے فرمایا گیا: ’’اَوَلَا یَرَوْنَ اَنَّھُمْ یُفْتَنُوْنَ فِیْ
کُلِّ عَامٍ مَّرَّۃً اَوْ مَرَّتَیْنِ ثُمَّ لَا یَتُوْبُوْنَ وَلَا ھُمْ یَذَّکَّرُوْنَ!‘‘ (کیا نہیں
دیکھتے کہ وہ آزمائے جاتے ہیں ہر برس میں ایک بار یا دو بار، پھر بھی توبہ نہیں کرتے اور نہ وہ نصیحت پکڑتے ہیں)۔
۵۹:... ہمیں خوب معلوم ہے، ہماری یہ قربانیاں رائیگاں نہیں جارہیں، بلکہ اللہ تعالیٰ ان حقیر قربانیوں میں اتنی
برکت ڈال رہا ہے کہ یورپ بھنا اُٹھا ہے۔
ج:... جی ہاں! شیخ چلّی زندہ ہے۔
۶۰:... مجھے یہ بتانے کی تو ضرورت ہی نہیں کہ تبلیغی کانفرنسوں اور مناظروں کا انعقاد، اخبارات، رسائل، ریڈیو، ٹیلی
ویژن وغیرہ کے ذریعہ لیکچرز اور مضامین کا اہتمام تو انہی (بقول آپ کے ’’کافر‘‘) لوگوں کے روزمرہ کے مشاغل ہیں۔
ج:... اس کا نتیجہ؟ یہی ناں کہ مسلمانوں کو کافر، اور کافروں کو مسلمان کہا جائے۔
۶۱:... لیکن ایک آپ کا ٹولہ ہے کہ موج اُڑا رہا ہے کہ ہینگ لگے نہ پھٹکری، آپ
192
کے فرسودہ خیالات کسی کو کھینچیں یا نہ کھینچیں آپ کی بلا سے!
ج:... جی نہیں! قرآن و حدیث اور بزرگانِ دین کے ارشادات پیش کرکے مسلمانوں کے دین و ایمان کی حفاظت اور انہیں
قادیانی دجل و فریب سے بچانا ہمارا مقصد ہے، اور بحمداللہ ہم اس میں کامیاب ہیں۔
۶۲:... آپ کا یہی کارنامہ کیا کم ہے کہ صرف چودہ پندرہ روز کی دھماچوکڑی کے بعد چشمِ زدن میں ہی دنیا بھر کے لگ
بھگ ایک کروڑ کلمہ گوؤں کو کافر قرار دلوادیا؟
ج:... جی نہیں! مسلمانوں کو نہیں بلکہ کافروں کو کافر کہلوایا اور کفر و اسلام کے حدود کا تحفظ کیا۔
۶۳:... مجھے یہ کہنے کا حق دیجئے کہ آپ کی اس طویل مراسلت نے مجھ پر کوئی اچھا اثر نہیں ڈالا۔
ج:... میں کیا؟ اَزلی بدبختوں کو اللہ کا نبی بھی متأثر نہ کرسکا، چنانچہ فرمادیا گیا: ’’اِنَّکَ لَا تَھْدِیْ مَنْ اَحْبَبْتَ!‘‘ (بے شک آپ نہیں ہدایت دے سکتے ان کو جن کو تو
ہدایت دینا چاہتا ہے)۔
۶۴:... ظاہر ہے کہ میں نہ تو ازلی متعصب ہوں اور نہ ہی تنخواہ دار مبلغ، ورنہ میں احمدیت کی جانب اس طرح کھنچ کر
کیوں آتا؟
ج:... جی ہاں! مسخِ فطرت کی وجہ سے آپ قادیانیت کے دامِ تزویر میں آگئے۔
۶۵:... اس کی وجہ یہی ہے کہ میں حقیقت کو پانا چاہتا تھا، سو الحمدللہ کامیاب ہوا۔
ج:... بے شک! مگر افسوس کہ سراب کو حقیقت سمجھ لیا۔
۶۶:... آپ کو تو احمدیوں کی ہر نیک بات بُری دکھائی دیتی ہے۔
ج:... جیسی چیز ہوگی، ویسی نظر بھی آئے گی، اگر کوئی شخص ایمان و کفر کے درمیان امتیاز نہیں کرسکتا تو ’’وَمَـآ اَنْتَ بِھَادِی الْعُمْیِ‘‘ کا مصداق ہے۔
۶۷:... قرآن کی حفاظت کا ذمہ اللہ تعالیٰ نے خود اپنے اُوپر لیا ہوا ہے۔
193
ج:... حفاظت کا ذمہ نہ لیا ہوتا تو غلام احمد جیسے لوگ اسے مسخ ہی کردیتے۔
۶۸:... لیکن آپ ثابت یہ کرنا چاہتے ہیں کہ اس کی حفاظت اگر کوئی کرسکتا ہے تو مولوی یا عالم اور کوئی نہیں۔
ج:... جی ہاں! عالمِ اسباب میں مولوی اور عالم ہی اس کی حفاظت کرتے آرہے ہیں، فالحمد للہ۔
۶۹:... آج مسلمانوں کی نئی پود اٹامک AGE میں سے گزر رہی ہے، دنیا کی ترقی یافتہ قوموں کا طریقِ تبلیغ ایسا فرسودہ
نہیں جو آپ نے اپنایا ہوا ہے، بلکہ آج کی پود اور تعلیم یافتہ افراد سائنسی تکنیک سے قرآن و حدیث کو سمجھنا چاہتے
ہیں۔
ج:... مرد کا عورت بن جانا، حاملہ ہونا، دَردِ زِہ ہونا، پھر اس کے اندر سے بچہ پیدا ہوکر خود اسی عورت کا بچہ بن
جانا، پھر اس بچے کا بعینہٖ داڑھی مونچھوں والا رہنا، یہ ساری چیزیں تو ماشاء اللہ! سائینٹفک ہیں۔۔۔!
۷۰:... آپ ہیں کہ اس پُر تحقیق دور میں بعید از عقل و قرائن یہ بتا رہے ہیں کہ ایک انسان جو اس دنیا میں نبی بن کر
آیا، وہ دو ہزار برس سے اللہ تعالیٰ کے داہنے گھٹنے کے ساتھ لگ کر بیٹھا ہے۔
ج:... لعنت اللہ علیٰ قائلہٖ! یہ بھی کسی قادیانی قرآن و حدیث میں ہوگا، ورنہ کوئی مسلمان اس کا قائل نہیں کہ حضرت
عیسیٰ علیہ السلام اللہ کے داہنے گھٹنے کے ساتھ لگ کر بیٹھے ہیں۔
۷۱:... ذرا ہوش کے ناخن لیجئے کہ وہ پود یا تو دینِ اسلام سے متنفر ہوجائے گی یا پھر عیسائی ہوجائے گی۔
ج:... اور قادیانیت خود بھی تو اسلام سے تنفر کی ہی ایک صورت ہے!
۷۲:... خدارا! اپنے حال پر رحم کھائیے، اپنے بال بچوں کی بھی ایسی کچھ تربیت نہ کیجئے کہ وہ کچھ عرصے کے بعد ہنسیں
کہ دیکھو! ہمارے ابا کیسی لایعنی سی باتیں کرتے ہیں۔
194
ج:... الحمدللہ! جن کو اللہ تعالیٰ نے عقل دی، ان کو اسلام کے قطعیات پر ہنسنے کی ضرورت نہیں، اور جن کی شکلوں کے
ساتھ عقلیں بھی مسخ ہوگئی ہوں، ان کا کام ہی تعلیماتِ نبوّت پر ہنسنا ہے۔
۷۳:... آپ نے اپنے طویل مراسلہ میں جتنی لاحاصل باتیں تھیں، وہ لکھ ماری ہیں، لاحاصل اس لئے کہتا ہوں کہ آپ نے
صفحے تو بہت کالے کئے، مگر مطلب کی بات پر نہ آئے۔
جـ:... جی ہاں! آپ کے مطلب کی کوئی چیز قائم نہ رہنے دی، بِحَوْلِ اللہِ وَقُوَّتِہٖ!
۷۴:... مثال کے طور پر یہ کہ اَوّل تو حضرت عیسیٰ ؑکی حیات اور ان کے آسمان پر بیٹھے ہونے کے دلائلِ قرآنی تو
کہیں بھی نہیں دئیے۔
ج:... بات تو میرے قرآنی دلائل ہی سے شروع ہوئی تھی، خیر سے اسی کا انکار شروع ہوگیا۔
۷۵:... جو شخص آپ کی کوتاہ نظری میں کذّاب ہے، مفتری ہے، زِندیق ہے، آپ کی طرح اُس وقت کے علمائے زمانہ نے بہت
شور مچایا، بہت لے دے کی، لیکن نتیجہ آج آپ کے سامنے ہے کہ کسی ایک نے بھی ایسی نظیر پیش نہ کی اور نہ اب کوئی
کرسکتا ہے۔
ج:... نظیریں تو پیش کی گئی تھیں، مگر چشم بندی کی وجہ سے آپ حضرات کو نظر نہیں آئیں۔
۷۶:... مجھے معلوم ہے آپ بھی حضرت مرزا صاحب کو تاقیامت مفتری ثابت نہ کرسکیں گے۔
جـ:... مرزا صاحب اِن شاء اللہ! بقولِ خود و باقرارِ خود مفتری ثابت ہوتے ہیں۔
۷۷:... علامہ عبدالعزیز لکھتے ہیں:’’قد ادعٰی بعض الکذّابین النبوۃ کمسیلمۃ الیمامی والأسود
العنسی وسجاح الکاھنۃ فقتل بعضھم وبالجملۃ لم ینتظم امر الکاذب فی النبوۃ اِلّا ایامًا مَّعدودۃ۔‘‘
(نبراس مطبوعہ میرٹھ ص:۴۴۴)
195
ج:... قولہٗ: ’’اِلّا ایّامًا معدودۃ‘‘ اقول کما وقع فی عصرنا للمتنبّیٔ القادیانی المغول۔ فإنہ قد ادعٰی النبوۃ
صراحًا وجھارًا ۱۹۰۱ المیلادیۃ کما صرح بہ نجلہ المیرزا محمود احمد فی حقیقۃ النبوۃ ج:۱ ص:۱۲۱ وقد ھلک فی ۲۶؍مئی
۱۹۰۸ المیلادیۃ، فلم یمھلہ اللہ اِلّا ایّامًا قلیلۃً۔ فَقُطِعَ دَابِرُ الْقَوْمِ الَّذِیْنَ ظَلَمُوْا،
وَالْحَمْدُ للہِ رَبِّ الْعَالَمِیْنَ!
۷۸:... حضرت امام ابن القیمؒ تحریر فرماتے ہیں: ’’نحن لَا ننکر ان کثیرًا من الکذّابین قام فی
الوجود وظھرت لہ شوکۃ ولٰـکن لم یتم لہ امرہ ولم تطل مدّتہ بل سلط علیہ رسلہ واتباعھم فمحقوا اثرہٗ وقطعوا دابرہٗ
واستاصلوا شافتہ ھذہٖ سنۃ فی عبادہ منذ قامت الدنیا والی ان یرث الأرض ومن علیھا۔‘‘ (زادالمعاد جلد اَوّل صفحہ:۵۰۰) یعنی جھوٹے مدعی اپنے مقصد کو نہ پاسکے اور نہ ہی ان کی
مدت لمبی ہوئی، وغیرہ، ’’لمبی مدت‘‘ کی تشریح اسی جگہ ثلٰـثًا وعشرین سنۃً (۲۳ سال) کے
الفاظ میں موجود ہے۔
ج:... اور بحمداللہ یہ مدت متنبیٔ قادیان کو بعد از دعوائے نبوّت نصیب نہ ہوسکی۔
۷۹:... مرزا صاحب نے ۱۹۰۱ء میں دعویٰ کیا، جبکہ اس سے قبل تو دعویٔ نبوّت کو کفر قرار دیا کرتے تھے، لیکن میں کہتا
ہوں کہ آپ نے دعویٔ نبوّت کے بے شک کفر قرار دیا ہے، مگر نہ صرف ۱۹۰۱ء تک بلکہ ۱۹۰۸ تک اور وہ نبوّت، نبوّتِ تشریعی
ہے، وہی نبوّت جو قرآن مجید کو منسوخ اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ کو ختم بتائے، بے شک کفر ہے، اسی
نبوّت کو حضرت مرزا صاحب نے تمام کتب میں (۱۹۰۱ء سے قبل بھی اور بعد بھی) کفر لکھا۔
ج:... جی! آپ نہ تو مرزا صاحب کے تناقض کو سمجھے ہیں، نہ مرزا محمود احمد صاحب نے اس تناقض کا جو حل پیش کیا ہے،
آپ نے اسی کو سمجھا ہے، سنیے! ۱۹۰۱ء سے پہلے مرزا صاحب اپنی نبوّت سے انکار کرتے تھے، اور اسے صرف محدثیت والی
نبوّت قرار دیتے، اسی بنا پر انہوں نے ’’تریاق القلوب‘‘ میں اپنے انکار کا کفر نہ ہونا ذکر کیا، اور اسی بنا پر
196
حضرت عیسیٰ علیہ السلام سے جزئی فضیلت بیان کی، بعد میں مرزا صاحب نے عقیدہ بدل لیا، اپنی نبوّت کو محدثیت
والی نبوّت نہیں، بلکہ واقعی نبوّت سمجھنے لگے، یہ فرق ہے دونوں زمانوں کے درمیان، جو مرزا صاحب کے فرزندِ اکبر نے
’’حقیقۃ النبوۃ‘‘ میں بیان کیا ہے۔
۸۰:... جناب مولوی صاحب! آپ کو تھوڑی سی عقل یوں بھی استعمال کرنی پڑے گی کہ آپ کے غیراحمدی علماء (قریباً تین سو
کی تعداد میں) ۱۹۰۱ء سے بہت ہی قبل حضرت مرزا صاحب پر اسی بنا پر فتویٔ کفر لگاچکے تھے۔
ج:... الحمدللہ! عقل تھوڑی سی نہیں پوری استعمال کریں گے، اور کرتے ہیں، کاش! آپ بھی اس سے کچھ فائدہ اُٹھاتے، اور
اس پر غور کرتے کہ کیا نبی وہ ہوتا ہے جو نبوّت کے صحیح مفہوم ہی کو نہ سمجھے؟ علمائے اُمت نے ’’براہینِ احمدیہ‘‘ سے
سمجھ لیا تھا کہ یہ صاحب مسیحیت اور نبوّت کی پٹری جما رہے ہیں، جبکہ مرزا صاحب نہ اپنی مسیحیت کو سمجھے، نہ نبوّت
کو۔
۸۱:... جب حضرت مرزا صاحب کے اس وقت کے مکذب و مکفر لوگ خود ہی ان کا عہدِ نبوّت ۲۵،۲۶ سال یعنی ۲۳ سال سے بھی
زیادہ تسلیم کرتے تھے تو آپ کو بھی یہ ماننا چاہئے کہ حضرت صاحب ارشادِ ربانی ’’لو تقول علینا‘‘ کی کسوٹی پر کھرے
ہی کھرے نکلے۔
ج:... واقعی اس کسوٹی پر کھرے اور صاف جھوٹے نکلے، اسی لئے ہیضہ کی موت مرے، اور عالمِ نزع سے پہلے دونوں راستوں سے
نجاست خارج ہو رہی تھی، جو کہ اِفترا علی اللہ کی صورتِ مجسمہ تھی، اور یہ منظر ’’قطعِ وتین‘‘ کی بھیانک شکل تھا۔
۸۲:... ویسے تو آپ زبانی اور تحریری جمع خرچ بہت کرتے ہیں۔
ج:... جی نہیں! الحمدللہ ہم نے اس کا کبھی پروپیگنڈا نہیں کیا، نہ اس کی ضرورت، جو فقرہ آپ کو لکھا تھا وہ اپنی
منصبی ڈیوٹی کے طور پر لکھا تھا، نہ کہ پروپیگنڈے کے طور پر۔
۸۳:... معاند علماء اور حکومتیں تک اس سلسلۂ احمدیت پر کیا کیا تیر نہیں چلاتی رہیں،
197
ان تمام باتوں کے باوجود یہ سلسلہ نیست و نابود نہیں ہوا، اور نہ اِن شاء اللہ تاقیامت ہوگا۔
ج:... یہودی، نصرانی، مجوسی، ذکری، مہدوی بھی اب تک نیست و نابود نہیں ہوئے، ان کو بھی برحق سمجھئے گا...؟
۸۴:... دُنیا چاروں کناروں سے آپ کی حلقہ بگوشی میں داخل ہوتی رہی، ہو رہی ہے، اور اِن شاء اللہ آئندہ بھی ہوتی
رہے گی۔
ج:... جی ہاں! وضوحِ حق کے بعد بھی جو بدنصیب ایمان نہ لائے اس کے بارہ میں یہی کہا جائے گا:’’فَمَنْ شَآءَ فَلْیُؤْمِنْ وَّمَنْ شَآءَ فَلْیَکْفُرْ!‘‘ (جو چاہے ایمان لائے اور جو
چاہے کفر کو اختیار کرے)۔
۸۵:... میں تو بخدا! اپنے ان دنوں پر افسوس کرتا ہوں جب میں آپ کی طرح احراری ہونے کی حیثیت میں بے نصیب تھا۔
ج:... ان دنوں کسی اللہ والے کی گستاخی کی ہوگی، جس سے سلبِ ایمان تک نوبت پہنچی۔
۸۶:... مبارک وہ جو اس موعود کو شناخت کرچکے، کر رہے ہیں اور آئندہ بھی کرتے رہیں گے، اے کاش! پیارے مولوی محمد
یوسف صاحب! آپ بھی اپنی ہٹ اور ضد کو ترک کردیں، اللّٰہم آمین!
ج:... الحمدللہ! ضد اور ہٹ نہ پہلے تھی، نہ اب ہے، لیکن باطل کو باطل اور رات کو رات کہنا بھی اگر ضد اور ہٹ ہے تو
چلئے یہی سہی!
۸۷:... اگر ختمِ نبوّت کا وہی مفہوم لیا جائے جو آج کا مولوی لیتا ہے کہ بس حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد تشریعی
تو کیا غیرتشریعی بھی کوئی نبی نہیں آسکتا، تو پھر ہمیں ہر روز ہر رکعت میں پانچوں وقت:’’اھدنا
الصراط المستقیم صراط الذین انعمت علیھم‘‘ دُعا کیوں پڑھنی ہوتی ہے؟
ج:... باوجود حصولِ نبوّت کے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کیوں پڑھتے تھے؟
198
۸۸:... آپ یوں کریں کہ کوئی ایک موضوع خود ہی چن لیں اور اس پر بحث کریں، مگر بروئے قرآن! اور یہ سمجھ کر کہ
دلائل بھی بالقرآن ہوں، یہ میں اس لئے کہتا ہوں کہ مجھے آج تک یہی پتہ نہیں چل سکا کہ آپ جن ائمہ کے حوالے اپنی
تائید میں پیش کرتے ہیں، آپ ان پر کبھی تو تبرہ بھی جڑ دیا کرتے ہیں، اور یہی وجہ ہے کہ میں نے آپ کے کئی حوالوں
کو درگزر کردیا ہے۔
احقر عبدالرؤف لودھی
ج:... الحمدللہ! آپ میری کسی علمی بحث کا جواب نہیں دے سکے۔
محمد یوسف عفا اللہ عنہ
199
قادیانی شبہات کے جوابات
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ
اَلْحَمْدُ للہِ وَسَلَامٌ عَلٰی عِبَادِہِ الَّذِیْنَ اصْطَفٰی!
آپ حضرات کو یہاں اس مقصد کے لئے دعوت دی گئی ہے تاکہ قادیانی جو شبہات پھیلاتے ہیں، آپ ان سے آگاہی حاصل کرکے
ان کا جواب دے سکیں اور بے چارے ناواقف مسلمانوں کا ایمان بچا سکیں۔
رہی یہ بات کہ کوئی قادیانی کس وقت اور کیا شبہ پیش کرے گا؟ یہ تو اللہ تعالیٰ ہی کو معلوم ہے، لیکن اگر آپ نے کچھ
سیکھا اور سمجھا ہوا ہوگا اور مسئلہ قادیانیت کی حقیقت کو جانتے ہوں گے، تو آپ معلوم کرسکیں گے کہ اس شبہ کا جواب
یوں دیا جاسکتا ہے، یعنی آپ کو اس معاملے میں تردد نہیںہوگا۔
اسلامی عقائد پر یقین کی ضرورت:
ابھی عصر کا وقت ہونے والا ہے، اور سورج موجود ہے، جس طرح آپ کو اس سورج کے موجود ہونے کا یقین ہے، ٹھیک اسی طرح
آپ کو اسلامی عقائد پر یقین ہونا چاہئے۔ اگر کوئی قرآن اور حدیث کے ہزار دلائل پیش کرے کہ اس وقت سورج موجود نہیں
ہے، تو آپ کہیں گے کہ قرآن و حدیث برحق ہیں، مگر تو نے قرآن و حدیث کو غلط سمجھا ہے، اس لئے کہ یہ سورج کا مشاہدہ
تیری فہم کو جھٹلارہا ہے، تیرا فہم غلط ہے۔ تو پہلی بات تو یہ ہے کہ ہمیںاپنے عقائد کے بارے میںمذبذب نہیںہونا
چاہئے، بلکہ پختہ عزم اور پختہ یقین کے ساتھ ان پر عقیدہ ہونا چاہئے۔
200
عقیدہ کی تعریف:
آپ جانتے ہیں کہ عقیدہ ’’عقدہ‘‘ سے مأخوذ ہے، اور عقدہ کہتے ہیں گرہ کو، تو عقیدہ کی گرہ ایسی مضبوط ہونی چاہئے
کہ کسی طالع آزما کے شبہات پیدا کرنے سے بھی نہ کھل سکے، لہٰذا آپ نے اللہ اور اللہ کے رسول کے فرمان پر عقیدہ کی
گرہ باندھ لی ہے، یہی عقیدہ ہے، اب اگر کوئی ملحد اس کو کھولنا چاہتا ہے تو آپ زیادہ سے زیادہ یہ سوچیں گے کہ یہ
شخص جو بات کہہ رہا ہے یا جو شبہ ڈال رہا ہے، بہرحال یہ غلط ہے، ہاں! اگر میری سمجھ میں اس کا جواب نہیں آتا تو یہ
میرا قصور ہے کہ میں نے اپنے عقیدہ پر محنت نہیں کی اور اس کو سو فیصد پڑھا اور ہضم نہیں کیا، کیونکہ سو فیصد یقین
ہے کہ اللہ اور اللہ کے رسول کی بات صحیح ہے اور باقی سب غلط ہے۔
مخاطب کی زبان میں گفتگو کی جائے:
دوسری بات یہ ہے کہ جس آدمی سے گفتگو کی جائے، اس کو اس کی زبان میں بات سمجھانا چاہئے، دوسری زبان آپ بولیں گے،
تو وہ نہیں سمجھے گا، کیونکہ وہ آپ کی زبان نہیں جانتا اور آپ اس کی زبان نہیں سمجھتے، یعنی زبان سے میرا مطلب یہ
ہے کہ ان کی خاص اصطلاحات میں بات کی جائے۔
قادیانیوں سے مناظرہ کا طریقۂ کار:
قادیانیوں کے اعتراضات کے جواب کے لئے بہترین جواب یہ ہے کہ ان کو غلام احمد قادیانی کی کتابوں کے حوالے نکال کر
دکھا دیں، اِن شاء اللہ آپ کو مرزا کی کتابوں سے مسلمانوں کے عقیدے کے مطابق ہربات کا حوالہ ملے گا۔
حیات و نزولِ عیسیٰ ؑپر کلام کا انداز:
مثلاً: جہاں قادیانی یہ کہیں کہ عیسیٰ علیہ السلام دوبارہ نہیں آئیں گے، تو آپ ان سے کہئے کہ مرزا صاحب تو جھوٹ
نہیں بولتے، جب انہوں نے لکھا ہے کہ آئیں گے تو تم کیسے انکار کرتے ہو؟ پھر ان کو مرزا کی کتابوں سے حضرت عیسیٰ
علیہ السلام کے آنے سے
201
متعلق خود مرزا صاحب کی عبارت نکال کر دکھادو۔
اگر وہ یہ کہیں کہ یہ عقیدہ منسوخ ہوگیا ہے، تب ان سے سوال کرو کہ مرزا غلام احمد نے جب یہ عقیدہ لکھا تھا، اس وقت
انہوں نے صحیح لکھا تھا یا غلط؟ اگر وہ کہیں کہ جب لکھا تھا اس وقت تو صحیح تھا، پھر تم ان سے سوال کرو کہ جب غلام
احمد نے لکھا تھا، اگر اس وقت صحیح تھا تو بعد میں کب منسوخ ہوا؟ اگر وہ کہیں کہ بعد میں منسوخ ہوا، تو ان سے سوال
کرو کہ کیا کبھی عقیدہ بھی منسوخ ہوا کرتا ہے؟ اگر وہ کہیں کہ پہلے ہی منسوخ ہوچکا تھا، تو کہو کہ غلام احمد نے جھوٹ
لکھا تھا؟ بس پھر قادیانی اس سے آگے نہیں چل سکیں گے اور یہیں سے ہی سلسلۂ کلام ختم ہوجائے گا۔
اِجرائے نبوّت پر بات کرنا کا طریقہ:
اسی طرح اگر کوئی قادیانی یہ دعویٰ کرے کہ نبوّت جاری ہے اور اس پر قرآن کریم کی آیتیں یا حدیثیں پڑھے، تو آپ
غلام احمد کی کتاب نکال کر دکھادیں کہ اس نے لکھا ہے کہ: ہمارا عقیدہ ہے کہ نبوّت آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر ختم
ہوگئی ہے، ہر قسم کی نبوّت ختم ہوگئی، اب کسی قسم کی کوئی نبوّت نہیں، یہ نکرہ تحت النفی ہے، عموم کا فائدہ دیتا ہے،
اب اس کے بعد یہ کہنا کہ مرزا فلاں قسم کا نبی نہیں ہے، ایسا ہے، ویسا نہیںہے، سب فضول ہے، اس لئے کہ سوال یہ ہے کہ
نبی ہے یا نہیں؟ کیونکہ مرزا تو کہتا ہے کہ میں مدعیٔ نبوّت کو کافر سمجھتا ہوں، ملعون سمجھتا ہوں، دجال سمجھتا ہوں
اور خارج از اسلام سمجھتا ہوں، کافر، خارج از اسلام، اور ملعون یہ تینوں لفظ مرزے کے ہیں، ان سے کہو کہ مرزا صاحب نے
جب یہ عقیدہ بتایا ہے کہ مدعیٔ نبوّت کافر، ملعون اور دجال اور خارج از اسلام ہے تو آپ اس عقیدہ کو کیوں پیش کر رہے
ہیں؟ آیا یہ اسلام کا عقیدہ ہے یا اسلام کے خلاف؟ اگر اسلام کا عقیدہ ہے، تو مرزا صاحب نے یہ لکھا تھا، تو کیا اس
نے اسلام کے خلاف لکھا تھا؟
ہر بات کا جواب مرزا قادیانی کی کتب سے:
خیر میرا کہنے کا مقصد یہ ہے کہ قرآن اور حدیث سے ختمِ نبوّت کے حوالہ دینے
202
کے بجائے سب سے کامیاب طریقہ یہ ہوگا کہ آپ مرزا غلام احمد کی کتابوں سے مرزائی عقائد اور شکوک و شبہات کا
توڑ کریں، کچھ آپ خود مطالعہ کریں، اور کچھ اساتذہ آپ کو بتادیں گے، اِن شاء اللہ اس طرح کام چل نکلے گا۔
ان تمہیدی الفاظ کے بعد میںا ٓپ حضرات سے سوال کرنا چاہوں گا کہ کیا کبھی کسی کو کسی قادیانی مولوی، غیرمولوی یا
عام آدمی سے بات کرنے کی نوبت آئی ہے؟ اگر آئی ہے تو کس مسئلہ پر؟
قادیانیوں کو صرف ایک مسئلہ آتا ہے:
اگر کسی کو اس کی نوبت آئی ہوگی تو اس کو معلوم ہوگا کہ عموماً قادیانی حیات و نزولِ عیسیٰ ؑ کے مسئلہ ہی پر بات
کرتے ہیں۔
ہمارے حضرت مولانا محمد حیات صاحب رحمۃ اللہ علیہ فرمایا کرتے تھے کہ:
’’مرزائیاں نوں اکّو ای مسئلہ آندا اے کہ عیسیٰ مر گیا، تے مینوں وی اکّو ای مسئلہ آندا اے کہ عیسیٰ علیہ السلام
زندہ نے۔‘‘
یعنی قادیانیوں کو ایک ہی مسئلہ آتا ہے کہ عیسیٰ علیہ السلام مرگئے ہیں، اور مجھے بھی ایک ہی مسئلہ آتا ہے کہ
عیسیٰ علیہ السلام زندہ ہیں۔
حضرت عیسیٰ ؑآسمان پر کہاں سے کھاتے، پیتے ہیں؟
سوال:... قادیانی کہتے ہیں کہ: جی اگر حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو آسمان پر زندہ مان لیا جائے تو سوال یہ پیدا ہوتا
ہے کہ وہ اتنا عرصہ سے آسمان پر زندہ رہ رہے ہیں تو وہاں وہ کیا کھاتے ہیں؟ کیا پیتے ہیں؟ اور اب تو وہ بوڑھے ہوگئے
ہوں گے، تو اب اس بوڑھے آدمی کے زمین پر آنے کی کیا ضرورت ہوگی؟ یہ نیا مسیح آگیا ہے اس کو مان لو۔
جواب:... آپ تو مولوی صاحبان ہیں، اُن کے ساتھ تو باتیں کرتے رہتے ہوں گے، یا اپنے پاس سے ہی یہ سوال بنالیا ہوگا؟
چلئے یہ مرزائیوں کا شبہ ہی سہی، میں اس کا جواب دئیے دیتا ہوں:
203
دینِ اسلام کے عقیدے پکے ہیں:
یہ بات یاد رکھو! میں نے پہلے بھی عرض کیا ہے کہ دینِ اسلام کے عقیدے پکے ہیں، جیسا کہ آفتاب کے سامنے کبھی کبھی
بادل آجائیں تو وہ چھپ جاتا ہے، اسی طرح کبھی سورج کو گرہن لگ جائے تو وہ چھپ جاتا ہے، اسی طرح کبھی چاند گرہن
ہوجائے تو کہتے ہیں کہ زمین درمیان میں آجاتی ہے، یا کہتے ہیں کہ چاند، سورج اور زمین کے درمیان آجاتا ہے، تو پھر
گویا اس کی موت آگئی اور وہ بے نور ہوگیا اور چھپ گیا۔
اہلِ باطل اسلام کے سورج کو شبہات کے بادل میں چھپانا چاہتے ہیں:
ٹھیک اسی طرح جتنے بھی اہلِ باطل ہیں وہ جب بھی کوئی شبہ کریں گے، اہلِ باطل خواہ مرزائی ہوں یا چکڑالوی، منکرینِ
حدیث ہوں یا رافضی، ناصبی ہوں یا عیسائی، یہ سارے کے سارے حق کو اپنے شبہات کے گردو غبار اور بادل سے چھپانا چاہتے
ہیں، دراصل بات یہ ہے کہ ان کا مقصود حق کو پہچاننا نہیں، بلکہ حق کو چھپانا اور متوہم کرنا ہے۔
مرزائیوں کے واہیات سوالات:
یہ جو مولانا صاحب نے ذکر کیا کہ مرزائی ایسا کہتے ہیں، واقعی مرزائی ایسا کہتے ہوں گے، کبھی تو وہ یوں کہتے ہیں
کہ: عیسیٰ علیہ السلام کیوںچلے گئے؟ کیا زمین پر ان کی روح کے لئے سونے کی کوئی جگہ نہیں تھی؟ کبھی وہ کہتے ہیں کہ:
وہاں وہ کھاتے کیا ہوں گے؟ پیتے کیا ہوں گے؟ ۔۔۔نعوذ باللہ... ہگتے کہاں ہوں گے؟ موتتے کہاں ہوں گے؟
ہمارے یہاں کراچی میں مرزائیوں کا ایک دفتر ہے، ایک بار میں وہاں چلا گیا،میں نے وہاں موجود ان کے مربی سے کہا کہ:
بھائی ہماری باتیں بھی سن لو! وہ بیٹھ گئے، بات تو لمبی ہے، بہرحال قصہ مختصر ان میں ایک بڑا کڑیل نوجوان بھی تھا،
میرے خیال میں وہ ساڑھے چھ فٹ کا ہوگا، وہاں موجود لوگوں میں سب سے لمبا تھا، اور اچھے ڈیل ڈول کا آدمی تھا، اس کا
چہرہ بھی بالکل سفید تھا، غالباً سیالکوٹ کا پنجابی تھا، کہنے لگا: ’’میں من لواں گا، مینوں اے دسّو کہ عیسیٰ ٹٹی
کتھے کردے نے؟‘‘ (میں تمہاری بات مان لوں گا کہ عیسیٰ زندہ
204
ہیں، مگر مجھے یہ بتلاؤ کہ عیسیٰ ٹٹی کہاں کرتے ہیں؟) کبھی کہتے ہیں کہ: کارخانہ کون سا ہے جہاں سے ان کے
کپڑے بن کر آتے ہیں؟
حضرت عیسیٰ ؑآسمان پر خود نہیں گئے:
ان کا یہ کہنا کہ عیسیٰ علیہ السلام کیسے چلے گئے؟ ان سے کہو کہ: ناں بھائی! ہم اس کے قائل ہی نہیں کہ عیسیٰ علیہ
السلام چلے گئے، اور نہ ہم اس کے قائل ہیں کہ عیسیٰ علیہ السلام اپنے آپ چھلانگ مار کے آجائیں گے، ہم تو اس کے
قائل ہیں کہ اللہ تعالیٰ ان کو لے گیا اور اللہ تعالیٰ ہی ان کو نازل فرمائیں گے، ہمارا عقیدہ ہے کہ یہ اللہ تعالیٰ
کا فعل ہے اور اللہ تعالیٰ کا کام ہے، اللہ تعالیٰ کے کتنے افعال ایسے ہیں جن کی تم نے حکمتیں معلوم کرلی ہیں؟
اللہ تعالیٰ کے ہر فعل کی حکمت پوچھنے کی اجازت نہیں:
حکیم الاُمت حضرت مولانا اشرف علی تھانوی قدس سرہٗ سے کسی نے کسی مسئلہ کی علت سے متعلق پوچھا کہ یہ یوں کیوں ہے؟
حضرتؒ نے فرمایا کہ: تمہاری ناک آگے لگی ہے، پیٹھ کے پیچھے کیوں نہیں لگی؟ بلاشبہ اللہ تعالیٰ کی اس میں حکمت ہے
بلکہ بے شمار حکمتیں ہیں، اسی طرح سر پر بال اُگائے ہیں، چہرے کو صاف رکھا ہے، اور داڑھی مردوں کو دی ہے عورتوں کو
نہیں دی، اللہ تعالیٰ کے ہر تخلیقی فعل میں یا تشریعی فعل میں حکمت ہے، ہر تکوینی کام میں حکمت ہے، میں اس حکمت کا
انکار نہیں کرتا۔
سوال یہ ہے کہ کیا بندوں کو پوچھنے کا حق ہے کہ اللہ نے ایسا کیوں کیا؟ مرزائیوںکا یہ شبہ کہ عیسیٰ علیہ السلام
کیسے چلے گئے؟ یہ ہمارا دعویٰ ہی نہیں، ہمارا دعویٰ یہ ہے کہ ان کو اللہ تعالیٰ لے گئے، کیونکہ ارشادِ الٰہی
ہے:’’بَلْ رَّفَعَہُ اللہُ اِلَیْہِ‘‘ (بلکہ اللہ نے اُٹھا لیا
ہے ان کو اپنی طرف) اب فرمائیے کہ جب اللہ نے اُٹھایا ہے تو اللہ سے جاکے پوچھو، کیونکہ قرآن میں لکھا ہے
کہ اللہ تعالیٰ نے ان کو اُٹھالیا، پھر ہم سے کیوں پوچھتے ہو؟ عیسیٰ علیہ السلام سے کیوں پوچھتے ہو؟ اللہ سے پوچھو
کہ اس نے درمیان سے رکاوٹیں کیسے دور کردیں؟ یہ سب واہیات باتیں ہیں۔
205
جب اللہ تعالیٰ کو لے جانے کی طاقت ہے، تو لے گیا!
ہاں! البتہ ہم مرزائیوں سے یہ پوچھتے ہیں کہ یہ بتائو کہ اللہ تعالیٰ کو لے جانے کی طاقت ہے یا نہیں؟ اگر مرزائی
کہیں کہ طاقت ہے، تو کہو بس ٹھیک ہے، اللہ نے کہہ دیا کہ مجھے طاقت ہے میں لے گیا، اس لئے کہ اللہ کی شان یہ ہے
کہ: ’’وَکَانَ اللہُ عَزِیْزًا حَکِیْمًا‘‘ (اللہ تعالیٰ زبردست
ہے، اور حکمت والا ہے) وہ دیکھتا ہے، کیوں لے گیا؟ اس کی حکمت ہوگی، ہمیںکیا معلوم؟ بس ہمیں تو اس نے یہ
کہہ دیا کہ یہ معاملہ یوں ہوا ہے اور تم اس کا عقیدہ رکھو۔
اہلِ جنت کے کپڑے کہاں سے آتے ہیں؟
اب رہا یہ کہ وہاں وہ کپڑے کہاں سے پہنتے ہیں؟ مرزائیوں سے پوچھو کہ اہلِ جنت کہاں سے کپڑے پہنیں گے؟ کیا وہاں نواز
شریف کی ٹیکسٹائل لگی ہوئی ہے؟
اہلِ جنت بھی ٹٹی کریں گے؟
اب میری بات کو سمجھو! قادیانی شبہ کرتے ہیں کہ وہ ٹٹی کہاں کرتے ہیں؟ ۔۔۔نعوذ باللہ... ان سے پوچھو کیا جنتی بھی
ٹٹی کریںگے؟
انبیائے کرامؑ اہلِ جنت کی صفت پر:
ترجمان السنہ میں حضرت مولانا بدر عالم میرٹھی رحمۃ اللہ علیہ نے ایک باب کا عنوان یہ قائم کیا ہے کہ انبیائے کرام
علیہم السلام دنیا میں رہتے ہوئے اہلِ جنت کی صفت پر ہوتے ہیں، وہ عبدیت کی بنا پر کھاتے بھی ہیں، پیتے بھی ہیں،
قضائے حاجت بھی فرماتے ہیں، اور جب اللہ کو منظور ہو تو صومِ و صال بھی رکھتے ہیں، یہ تو انبیائے کرامؑ ہیں۔
جب ادنیٰ اُمتیوں کا یہ حال ہے تو ۔۔۔:
آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے اُمتیوں کا حال یہ ہے کہ چالیس چالیس دن کا مراقبہ کیا، نہ کچھ کھایا، نہ پیا، نہ
پیشاب کیا، نہ کوئی قضائے حاجت کی، جب ادنیٰ اُمتیوں کو یہ شرف حاصل ہوسکتا ہے، تو عیسیٰ علیہ السلام کے بارے میں
سوال کرنے کا کیا مطلب؟
206
دجال کے زمانے میں مسلمانوں کی خوراک:
دجال کے زمانے کے بارے میں حدیث شریف میں آتا ہے، جنہوں نے حدیث پڑھی ہے ان کو معلوم ہوگا کہ حضرت اسماء بنت یزید
رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ:
’’کان رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فی بیتی فذکر الدجال فقال: ان بین یدیہ ثلث سنین، سنۃ تمسک السماء فیھا ثلث
قطرھا والأرض ثلث نباتھا، والثانیۃ تمسک السماء ثلثی قطرھا والأرض ثلثی نباتھا، والثالثۃ تمسک السماء قطرھا کلہ
والأرض نباتھا کلہ، فلا یبقی ذات ظلف ولَا ذات ضرس من البھائم الّا ھلک، ان من اشد فتنتہ انہ یأتی الأعرابی
فیقول: أرأیت ان احییت لک ابلک الست تعلم انہ ربّک؟ فیقول: بلٰی! فیمثل لہ الشیطان نحو ابلہٖ کأحسن ما یکون
ضروعًا وأعظمہ أسنمۃ، قال: ویأتی الرجل قد مات اخوہ ومات ابوہ فیقول: أرأیت ان أحییت لک أباک وأخاک ألست
تعلم انی ربّک؟ فیقول: بلٰی! فیمثل لہ الشیاطین نحو أبیہ ونحو أخیہ۔ قالت: ثم خرج رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم
لحاجتہ ثم رجع والقوم فی اھتمامٍ وغمّ ممّا حدثھم۔ قالت: فأخذ بلحمتی الباب فقال: مَھَیْمَ اسماء! قلت: یا رسول
اللہ! لقد خلعت افئدتنا بذکر الدجال۔ قال: ان یخرج وأنا حیّ فانا حجیجہ والّا فان ربی خلیفتی علٰی کل مؤمن۔ فقلت:
یا رسول اللہ! واللہ انا لنعجن عجیننا فما نخبزہٗ حتی نجوع، فکیف بالمؤمنین یومئذ؟ قال:
207
یُجزیھم ما یجزیٔ أھل السماء من الستبیح والتقدیس۔‘‘
(مشکوٰۃ ص:۴۷۷)
ترجمہ:... ’’رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میرے گھر تشریف فرما تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دجال
کا ذکر فرمایا، اور فرمایا کہ: اس کے ظہور سے پہلے تین قحط پڑیں گے، ایک سال آسمان کی ایک تہائی بارش رُک جائے گی،
اور زمین کی پیداوار بھی ایک تہائی کم ہوجائے گی۔ دوسرے سال آسمان کی دو حصے بارش رُک جائے گی اور زمین کی پیداوار
دو حصے کم ہوجائے گی۔ اور تیسرے سال آسمان سے بارش بالکل نہ برسے گی اور زمین کی پیداوار بھی کچھ نہ ہوگی، حتیٰ کہ
جتنے حیوانات ہیں خواہ وہ کھر والے ہوں یا داڑھ سے کھانے والے، سب ہلاک ہوجائیں گے، اور اس کا سب سے بڑا فتنہ یہ
ہوگا کہ وہ ایک گنوار آدمی کے پاس آکر کہے گا: اگر میں تیرے اُونٹ کو زندہ کردوں تو کیا اس کے بعد بھی تجھ کو یہ
یقین نہ آئے گا کہ میں تیرا رَبّ ہوں؟ وہ کہے گا: ضرور! اس کے بعد شیطان اس کے اُونٹ کی سی شکل بن کر اس کے سامنے
آئے گا، جیسے اچھے تھن اور بڑے کوہان والے اُونٹ ہوا کرتے ہیں۔ اسی طرح ایک اور شخص کے پاس آئے گا، جس کا باپ اور
سگا بھائی گزر چکا ہوگا، اور اس سے آکر کہے گا: بتلا! اگر میں تیرے باپ و بھائی کو زندہ کردوں تو کیا تجھے پھر بھی
یقین نہ آئے گا کہ میں تیرا رَبّ ہوں؟ وہ کہے گا: کیوں نہیں! پس اس کے بعد شیطان اس کے باپ اور بھائی کی صورت بناکر
آجائے گا۔ حضرت اسماء کہتی ہیں کہ: یہ بیان فرماکر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ضرورت کے لئے باہر تشریف لے گئے،
اس کے بعد لوٹ کر دیکھا کہ لوگ آپ کے اس بیان کے بعد سے بڑے فکر و غم میں پڑے
208
ہوئے تھے۔ حضرت اسماء کہتی ہیں کہ: آپ نے دروازے کے دونوں کواڑ پکڑ کر فرمایا:
اسماء کہو کیا حال ہے؟ میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! دجال کا ذکر سن کر ہمارے دِل تو سینے سے نکلے پڑتے ہیں۔ اس
پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اگر وہ میری زندگی میں ظاہر ہوا تو میں اس سے نمٹ لوں گا، ورنہ میرے بعد ہر
مؤمن کا نگہبان میرا رَبّ ہے! میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! ہمارا حال جب آج یہ ہے کہ ہم آٹا گوندھ کر رکھتے
ہیں اور اس کے پکنے میں دیر ہوجاتی ہے تو بھوک سے بے تاب ہوجاتے ہیں، تو اس وقت کے مسلمانوں کی کیا حالت ہوگی جبکہ
اتنا قحط اور سختی ہوگی؟ فرمایا: ان کو وہی چیز کافی ہوگی جو ملائکہ کو کافی ہوجاتی ہے یعنی تسبیح و
تقدیس۔‘‘
حق تعالیٰ شانہ جب اپنے بندوں کو اس زمین پر رکھتے ہوئے بھی تسبیح و تہلیل کے ذریعے زندہ رکھ سکتے ہیں تو آسمان کی
تو بات ہی کیا ہے؟ تو یہ شبہ کرنا کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کہاں سے کھاتے ہیں؟ -نعوذ باللہ- کہاں پیشاب کرتے ہیں؟
کپڑے کہاں سے پہنتے ہیں؟ لغویات میں سے ہے۔
پیر فرتوت والے شبہ کا جواب:
اب رہی یہ بات کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام ... نعوذ باللہ ثم نعوذ باللہ ... غلام احمد قادیانی دجال کے بقول پیر
فرتوت ہوگئے ہوں گے ... یہ اس کے الفاظ ہیں... کھوسٹ بڈھا، جو کسی کام کا نہ رہے، کیونکہ جب سو سال کی عمر ہوجائے تو
باباجی کا سر ہلنے لگتا ہے، آنکھوں سے دکھائی نہیں دیتا، ہاتھ کام نہیں کرتے، پائوں کام نہیں کرتے، معدہ کام نہیں
کرتا، حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو تو دو ہزار سال ہوگئے ہیں، وہ کس قدر بوڑھے ہوگئے ہوں گے؟
آسمان کا ایک دن ہزار سال کے برابر ہے:
جواب:... خوب یاد رکھو کہ: ’’اِنَّ یَوْمًا عِنْدَ رَبِّکَ کَأَلْفِ سَنَۃٍ مِّمَّا
209
تَعُدُّوْنَ‘‘ (تیرے رَبّ کے ہاں کا ایک دن تمہارے یہاں
کے ایک ہزار سال کے برابر ہوگا)۔ چونکہ اب ۱۹۹۶ء چل رہا ہے، اس لئے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی پیدائیش کو
انیس سو چھیانواں سال شروع ہوا ہے، کیونکہ یہ میلادی سن کہلاتا ہے، پیدائش کے چالیس سال بعد ان کو نبوّت عطا کی گئی،
چالیس سال وہ زمین پر رہے، دعوت دیتے رہے، چالیس سال کے بعد اللہ تعالیٰ نے ان کو آسمان پر اٹھالیا، قربِ قیامت میں
جب دجال نکلے گا، تو وہ بحکمِ اِلٰہی زمین پر تشریف لائیں گے، اور چالیس سال تک وہ پھر زمین پر رہیں گے، ان کی کل
عمر ایک سو بیس سال ہوگی، چنانچہ مستدرک حاکم میں ہے کہ: آپ کی عمر ایک سو بیس سال کی ہوگی۔
ہر مقام کے پیمانے جدا ہیں:
رہا وہ زمانہ جو ان کا آسمان پر گزرا ہے یا گزر رہا ہے، اس کے بارہ میں عرض ہے کہ یہ اُصول یاد رکھیں کہ جہاں
آدمی موجود ہوتا ہے اس کے لئے وہاں کے پیمانے چلتے ہیں، دوسری جگہ کا پیمانہ وہاں نہیں چلتا، تو چونکہ حضرت عیسیٰ
علیہ السلام آسمان پر ہیں، اور اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ ایک دن تمہارے ربّ کے پاس تمہارے ایک ہزار سال کے برابر
ہے۔
حضرت عیسیٰ ؑکو آسمان پر گئے دو دن نہیں ہوئے!
تو ان کو ابھی تک پورے دو دن بھی نہیں ہوئے، کیونکہ سن دو ہزار میں ان کی ولادت کو دو ہزار سال پورے ہوجائیں گے نہ
کہ رفع الی السماء کو، کیونکہ رفع تو ان کی ولادت کے اسّی سال بعد ہوا ہے، ہاں! جب دو ہزار اسّی میلادی ہوگا، تو
حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی عمر شریف جو آسمان پر گزر رہی ہے، وہ دو دن کی پوری ہوجائے گی
بھلا بتلاؤ کہ میںیہاں (چناب نگر میں) دو دن کے لئے آیا ہوں، کیا میرے پیچھے میری بیوی کو نکاح کرلینا چاہئے؟ کہ
مولوی صاحب تو فارغ ہوگئے اور مفقود الخبر ہوگئے، کیا وہ عدالت میں بیان دے دے کہ ان کا کچھ پتہ نہیں چل رہا؟
210
غلام احمد کی حماقت!
غلام احمد قادیانی کی حماقت یہ ہے کہ ایک آدمی (حضرت عیسیٰ علیہ السلام) جس کے غائب ہوئے صرف دو دن ہوئے بلکہ دو
دن بھی پورے نہیں ہوئے، کیونکہ دوسرا دن ابھی تک گزر رہا ہے، پھر غائب ہونے والے کا پتہ اور نشان بھی بتادیا گیا ہے
کہ وہ فلاں جگہ موجود ہے، مگر اس نے عوام کی عدالت میں یہ مقدمہ دائر کردیا کہ وہ لاپتہ ہے، بلکہ مرگیا ہے، طرفہ
تماشا یہ کہ چند گدھوں نے تصدیق بھی کردی کہ ہاں جی مرگئے، اس نے کہا کہ اب گدی خالی ہے، لہٰذا مجھے بٹھادو، سمجھے
بھائی!
قادیانی احباب سے کہو کہ جب تم عیسیٰ علیہ الصلوٰۃ والسلام کے بارے میں بات کرتے ہو تو حضرت عیسیٰ علیہ الصلوٰۃ
والسلام ہی کی جائے قیام کے پیمانہ سے ناپو، نہ کہ اپنے پیمانے سے۔
آسمان کی آب و ہوا کی خاصیت:
بھائی! پنجاب کی آب و ہوا اور ہے، کراچی کی اور ہے، فرنٹیئر کی اور ہے، اور بلوچستان کی اور! جہاں آدمی موجود
ہوتا ہے، وہاں کی آب و ہوا کا اعتبار ہوتا ہے، کسی جگہ کے لوگوں کی عمریں کم ہوتی ہیں اور کسی جگہ والوں کی زیادہ
ہوتی ہیں، حضرت عیسیٰ علیہ السلام تو وہاں رہ رہے ہیں، جہاں کسی کے مرنے کا سوال ہی نہیں پیدا ہوتا، جب وہ یہاں
آئیں گے تو مریں گے۔ وہاں تو جبرائیل و میکائیل رہتے ہیں۔
ارواح کا مستقر آسمان ہے، اور آپؑ رُوح اللہ ہیں:
اور ارواح کا آسمان پر جانا تو مرزائیوں کو بھی مسلّم ہے۔ اور عیسیٰ علیہ السلام کا لقب ہے ’’رُوح اللہ‘‘ یعنی
اللہ کی رُوح، یوں تو ساری کی ساری رُوحیں اللہ ہی کی ہوتی ہیں، لیکن ایک خاص معجزانہ طریقے سے اللہ تعالیٰ نے ان کی
رُوح بھیجی تھی، اس لئے ان کا لقب ہی رُوح ہوگیا، گویا ان کا جسم تابع ہے ان کی رُوح کے، اس لئے ان کو یہ لقب دیا
گیا ہے، جب قرآن کہتا ہے کہ وہ رُوح اللہ ہیں، اور تمام دنیا بھی مانتی ہے کہ وہ رُوح اللہ
211
ہیں، اور پوری دنیا یہ بھی مانتی ہے کہ رُوحیں آسمان پر جاتی ہیں، تو جب وہ رُوح ہیں، تو ان کے آسمان پر
جانے پر تعجب کیوںہو؟ ہاں! اگر وہ آسمان پر نہ جاتے تو تعجب ہوتا کہ اللہ نے ان کو رُوح کیوں کہا تھا؟ ارواح کو تو
آسمان پر جانا چاہئے۔
حضرت عیسیٰ ؑ کو رُوح اللہ کہنے کی کوئی تو حکمت ہوگی؟
بڑے بڑے انبیائے کرام علیہم الصلوٰۃ والسلام دُنیا میں مبعوث ہوئے ہیں، خود حضرت عیسیٰ علیہ السلام سے بھی بہت سے
افضل انبیاء ہوئے ہیں، مثلاً: آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد تمام انبیاء کی جماعت میں حضرت ابراہیم علیہ السلام
افضل ہیں، پھر حضرت موسیٰ علیہ السلام ان کے بعد دوسرے نمبر پر ہیں، حضرت موسیٰ علیہ السلام تو خود حضرت عیسیٰ علیہ
السلام کے بھی مقتدا ہیں، کیونکہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام ان کی شریعت پر عمل کرتے تھے، ظاہر ہے وہ افضل ہوئے، اسی
طرح ہمارے آقا حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تو سب سے افضل ہیں، اللہ تعالیٰ نے اپنے انبیائے کرام علیہم
السلام کے بے شمار فضائل بیان کئے، لیکن کسی کو رُوح اللہ نہیں کہا، تو سوال پیدا ہوتا ہے کہ جب اللہ نے صرف حضرت
عیسیٰ علیہ السلام کو رُوح اللہ کہا تو کوئی معنی تو تھے؟ تو ان پر رُوح کے اَحکام جاری ہونے چاہئے ناں! پھر جب سب
رُوحیں آسمان پر جاتی ہیں اب اگر حضرت عیسیٰ علیہ السلام بھی آسمان پر چلے گئے، تو اس میں تعجب کی کون سی بات ہے؟
دیر تک زندہ رہنا افضل ہونے کی دلیل نہیں:
ایک اور شبہ! جب میں نے افضل کا ذکر کیا، اس پر بھی مرزائی ایک شبہ کیا کرتے ہیں، اور غلام احمد قادیانی دجال نے
بھی اپنی مختلف کتابوں میں اس شبہ کو اتنا پھیلا پھیلا کے رنگ آمیزی کی اور اس کو ایسا مرچ مسالہ لگاکر پیش کیا ہے
کہ آدمی حیران ہوجاتاہے، چنانچہ وہ کہتا ہے کہ:
’’دیکھو ان لوگوں کو شرم بھی نہیں آتی کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو تو زندہ آسمان پر مانتے ہیں، اور رسول اللہ
صلی اللہ علیہ وسلم
212
کے بارہ میں کہتے ہیں کہ وہ مرگئے، حالانکہ زندہ رہنا تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو لائق تھا۔‘‘
آج مرزا طاہر بھی یہی بات کہتا ہے، یعنی اپنے دادے کی بات دہراتا ہے۔
الزامی جواب:... ہم کہتے ہیں کہ مرزا طاہر کو بالکل شرم نہیں آتی کہ وہ اپنے آپ کو تو زندہ کہتا ہے، اور غلام
احمد کے بارہ میں کہتا ہے کہ وہ مرگئے، اس کو بالکل شرم نہیں آتی، حالانکہ مرزا غلام احمد اس کے عقیدے کے مطابق اس
سے بڑا (دجال) تھا، تو اس کو زندہ رہنا چاہئے تھا، کیوں بھائی! غلط کہہ رہا ہوں یا صحیح کہہ رہا ہوں؟
وہ کہتا ہے کہ عیسیٰ تو آسمان پر چلے گئے، اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم زیرِ زمین مدفون ہیں؟
اس پر میں مرزا طاہر سے کہتا ہوں کہ تم ہوائی جہاز پر جاتے ہو اور مرزا غلام احمد تحت الثریٰ میں دوزخ کے آخری
طبقوں میں مدفون ہے، آخر کیوں؟ خیر یہ تو ان کا الزامی جواب ہوا۔
تحقیقی جواب:... یہ ہے کہ کسی کا پہلے چلا جانا، فوت ہوجانا اور کسی کا بعد میں چلے جانا یا فوت ہوجانا، یہ افضلیت
و مفضولیت کی کوئی دلیل نہیں ہے، کسی شخص کا اُونچی جگہ ہونا اور کسی کا نیچے ہونا یہ بھی افضلیت اور مفضولیت کی
علامت نہیں ہے۔
ہمارا عقیدہ:
اس لئے کہ ہمارا عقیدہ ہے کہ جہاں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف فرما ہیں اور اس وقت جہاں آپ تشریف فرما ہیں
آپ کے آستانۂ عالی پر ساری کائنات گردش کررہی ہے، بلکہ خود حضرت عیسیٰ علیہ السلام جس آسمان پر بیٹھے ہیں، وہ
آسمان بھی آپؐ کے روضہ کے اردگرد طواف کر رہا ہے۔
کیا ابوبکرؓ حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے افضل تھے؟
اسی طرح قادیانیوں سے کوئی پوچھے کہ اگر کسی کا دیر تک زندہ رہنا افضلیت کی
213
دلیل ہے، تو وہ اس سوال کا کیا جواب دیں گے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم تو فوت ہوگئے تھے، مگر حضرت
ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ دو سال کچھ ماہ بعد بھی زندہ رہے اور بعد میں فوت ہوئے؟ اگر ان کے اس اصول کو مان لیا جائے
تو کیا -نعوذ باللہ- حضرت صدیق اکبر رضی اللہ عنہ آپؐ سے افضل ہوگئے؟ حالانکہ اکثر ایسا بھی ہوتا ہے کہ ایک آدمی
پہلے پیدا ہوا، دوسرا اس کے بعد پیدا ہوا، مگر جو بعد میں پیدا ہوا، وہ اللہ کے پاس پہلے چلا گیا اور فوت ہوگیا، اور
جو پہلے پیدا ہوا تھا وہ بعد تک زندہ رہا۔
شاہ ولی اللہؒ کے صاحبزادگان کی ترتیبِ وفات:
شاہ ولی اللہ محدث دہلوی رحمۃ اللہ علیہ کے چار صاحبزادے تھے، شاہ عبدالعزیز محدث دہلویؒ، شاہ رفیع الدینؒ، شاہ
عبدالقادرؒ اور شاہ عبدالغنیؒ، یہ ان کی ترتیبِ ولادت ہے، جبکہ ان کی ترتیبِ وفات اس کے بالکل برعکس ہے، چنانچہ سب
سے پہلے شاہ عبدالغنیؒ گئے، ان کے بعد شاہ عبدالقادرؒ، ان کے بعد شاہ رفیع الدینؒ اور سب سے بڑے حضرت شاہ عبدالعزیز
صاحبؒ سب سے آخر میں گئے۔
جس طرح پانچ نمازوں اور تعدادِ رکعات کا انکار کفر ہے، ایسے ہی نزولِ مسیحؑ کا:
شبہ:... قادیانی کہتے ہیں کہ قرآن مجید میں حضرت عیسیٰ علیہ الصلوٰۃ والسلام کے نزول کا بتصریح ذکر ہے یا نہیں؟
اگر ہے تو کہاں ہے؟
جواب:... ان سے پوچھو کہ قرآن کریم میں پانچ نمازوں کا بتصریح ذکر ہے یا نہیں؟ پھر ان پانچ نمازوں کی تعدادِ
رکعات، مثلاً: فجر کی دو، ظہر، عصر اور عشاء کی چار، چار اور مغرب کی تین رکعتیں ہیں، سوال یہ ہے کہ اس کا ذکر قرآن
کریم میں بتصریح ہے...؟ اگر قرآن کریم میں ذکر نہیں تو کیا اس کا انکار کرنا جائز ہوگا؟ کیوں یہ عقیدہ اور ایمان
ہے؟ نہیں، ہرگز نہیں! بلکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے وقت سے لے کر آج تک جس پوری کی پوری اُمت، جس نے قرآن
نقل کیا ہے،وہی پوری کی پوری اُمت، پانچ نمازوں کو اور ان کی رکعات کو بھی نقل کرتی چلی آرہی ہے، ٹھیک ہے ناں! اگر
اس عقیدہ میں اُمت پر
214
اعتماد نہیں، تو کیا قرآن نقل کرنے میں اُمت پر اعتماد ہے؟
ایک گواہ ایک بات میں سچا ہے تو دوسری میں جھوٹا کیوں؟
اُصول کی بات ہے کہ اگر ایک گواہ آکر دو باتیں کہتا ہے، اس کی ایک بات میں تو تم کہتے ہو کہ سچا ہے، اور دوسری میں
کہتے ہو کہ جھوٹا ہے، سوال یہ ہے کہ ایک میں سچا ہے تو کیوں؟ اور دوسری میں جھوٹا ہے تو کیوں؟
دوسری بات یہ ہے کہ قرآن کریم میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے آنے کی تصریح بھی ٹھیک اسی طرح ہے جس طرح قرآن کریم
میں پانچ نمازوں کی تصریح ہے، یعنی دو رکعت فجر اور چار رکعت ظہر، عصر و عشاء، اور تین رکعت مغرب کی تصریح ہے،
کیونکہ قرآن میں ہے:
’’وَمَآ اٰتَاکُمُ الرَّسُوْلُ فَخُذُوْہُ وَمَا نَھَاکُمْ عَنْہُ فَانْتَھُوْا۔‘‘
(الحشر:۵۹)
ترجمہ:... ’’رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جو چیز دے دیں لے لو، اور جس چیز سے منع کریں اس سے رُک
جاؤ!‘‘
تو جس طرح ہم پانچ نمازوں کے اوقات اور تعدادِ رکعات کو ارشادِ الٰہی:’’وما اٰتاکم الرسول
فخذوہ‘‘ کے پیش نظر تصریحِ قرآنی سمجھتے ہیں، ٹھیک اسی طرح حیات و نزولِ عیسیٰ علیہ السلام کے عقیدہ کو
بھی تصریحِ قرآنی مانتے ہیں۔
نزولِ مسیحؑ کی تصریح موجود ہے، مگر چشمِ نبوّت چاہئے!
تیسرے عنوان سے یوں کہو:... ایک ہی بات ہے جو مختلف عنوانوں سے ذکر کررہا ہوں۔... کہ قرآن کریم میں اس کی تصریح
موجود ہے، لیکن اس کو دیکھنے کے لئے حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی چشمِ نبوّت چاہئے! اور جو شخص اس نورِ نبوّت سے
اَندھا ہوگیا ہو، ہم اقرار کرتے ہیں کہ ہم اس کو کچھ بھی نہیں دکھاسکتے!
215
ننھے سے بیج میں برگد کا درخت موجود ہے:
میں نے ایک موقع پر کہا تھا کہ: یہ جو ہمارے ہاں برگد یعنی بڑ کا درخت ہوتا ہے اور جس کو پنجابی میں ’’بوھڑ‘‘ کہتے
ہیں، اس برگد کے درخت پر، بطورِ ثمرہ اور پھل کے، ننھی ننھی سی گولیاں لگتی ہیں اور ان کے اندر ننھے ننھے سے دانے
ہوتے ہیں، دراصل انہی دانوں میں سے ایک دانہ اس برگد یعنی بوھڑ کے درخت کا بیچ ہوتا ہے، دیکھو! بیج اتنا چھوٹا سا ہے
اور درخت اتنا بڑا ہے، قدرتِ الٰہی کا کرشمہ دیکھو کہ خالقِ کائنات نے برگد کا پورا درخت اس بیج کے اندر رکھا ہوا
ہے، لیکن نظر نہیں آتا، ہاں! جن کو چشمِ بصیرت حاصل ہوتی ہے ان کو نظر آتا ہے کہ اس برگد کے بیج میں برگد کا اتنا
بڑا درخت سمایا ہوا ہے۔
کیا کوئی اپنے جسم میں اپنی اولاد کا وجود دِکھا سکتا ہے
سنو! تم میں سے کچھ شادی شدہ بھی ہوں گے، بھائی! ہے تو ’’غیرپارلیمانی‘‘ (غیر موزوں) بات، مگر کیا کوئی اپنے جسم
میں اپنی اولاد کی موجودگی بتصریح دکھا سکتا ہے؟
کیا انسانی مادّہ کے کسی جرثومہ میں موجود انسان کو دِکھایا جاسکتا ہے؟
چلو تمہیں دوسری طرف لے چلیں: وہ یہ کہ تم کس چیز سے پیدا ہوئے تھے؟ پانی کے ایک قطرے سے! سائنس، جدید اطباء اور
ڈاکٹروں کی تحقیق یہ ہے کہ اس قطرہ پانی کے اندر ہزاروں جرثومے موجود ہوتے ہیں، اور ایک ایک جرثومہ انسان کا بیج ہے،
قدرت ایسا کرتی ہے کہ جب یہ مادّہ رحم میں جاتا ہے تو صرف ایک جرثومہ کو لے کر باقی سب کو تلف کردیتی ہے، یا دو کو
لیتی ہے تو دو جڑواں بچے پیدا ہوجاتے ہیں، اور کبھی اس سے بھی زیادہ جیسا کہ اخبار میں آیا تھا کہ ایک عورت کے
گیارہ جڑواں بچے پیدا ہوئے تھے، اور اگر اللہ چاہیں تو بے شمار بھی ہوسکتے ہیں، لیکن کیا کیا جائے، ماں کا پیٹ اس کا
تحمل کیسے کرے؟ یہ فطرت کا ایک نظام ہے کہ ان میں سے ہر جرثومہ مکمل آدمی بننے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
اب اگر کسی جرثومہ کی طرف اشارہ کرکے ہم سے کہو کہ تم تصریح دکھاؤ کہ اس کے اندر انسان موجود ہے! سوال یہ ہے کہ ہم
کیسے دکھائیں گے تمہیں؟
216
قادیانیوں کو اَحکام کی تصریح کہاں نظر آئے گی؟
بھائی! تمہیں قرآن تو پڑھنا آتا نہیں! تو تمہیں قرآن کے اندر تصریح کیسے دکھائیں؟ ارے میاں! تم تو قرآن ہی صحیح
نہیں پڑھ سکتے تو تمہیں اَحکام کی تصریح کہاں نظر آئے گی؟ حالانکہ اگر غور کیا جائے تو پورا دینِ اسلام، جتنا کا
جتنا ہے، اس کے اُصول و فروع سارے کے سارے قرآن کریم کے بیج کے اندر موجود ہیں، یہ مسئلہ میں نے اس لئے ذکر کیا ہے
کہ تمہیں منکرینِ حدیث سے بھی واسطہ پڑتا ہوگا اور درحقیقت یہ لوگ بھی منکرینِ حدیث ہیں۔
رفع و نزولِ عیسیٰ ؑکا ذکر قرآن میں:
اب سنو! قرآن کی سورۂ نساء کی آیت:۱۵۷، ۱۵۸ آپ نے پڑھی ہوگی اور حضراتِ اساتذہ اور علمائے کرام نے بتایا ہوگا،
جس میں نزولِ عیسیٰ علیہ السلام کا بتصریح ذکر موجود ہے:
’’وَقَوْلُھُمْ اِنَّا قَتَلْنَا الْمَسِیْحَ عِیْسَی ابْنَ مَرْیَمَ رَسُوْلَ اللہِ، وَمَا قَتَلُوْہُ وَمَا
صَلَبُوْہُ وَلٰـکِنْ شُبِّہَ لَھُمْ، وَاِنَّ الَّذِیْنَ اخْتَلَفُوْا فِیْہِ لَفِیْ شَکٍّ مِّنْہٗ، مَا لَھُمْ
بِہٖ مِنْ عِلْمٍ اِلّا اتِّبَاعَ الظَّنِّ، وَمَا قَتَلُوْہُ یَقِیْنًا، بَل رَّفَعَہُ اللہُ اِلَیْہِ وَکَانَ
اللہُ عَزِیْزًا حَکِیْمًا۔‘‘
(النساء: ۱۵۷، ۱۵۸)
ترجمہ:... ’’اور ان کے اس کہنے پر کہ ہم نے قتل کیا مسیح مریم کے بیٹے کو رسول تھا اللہ کا، اور
انہوں نے نہ اس کو مارا اور نہ سولی پر چڑھایا، ولیکن وہی صورت بن گئی ان کے آگے، اور جو لوگ اس میں مختلف باتیں
کرتے ہیں تو وہ لوگ اس جگہ شبہ میں پڑے ہوئے ہیں، کچھ نہیں ان کو اس کی خبر صرف اَٹکل پر چل رہے ہیں، اور اس کو قتل
نہیں کیا، بے شک، بلکہ ان کو اُٹھالیا اللہ نے اپنی طرف اور اللہ
217
ہے زبردست حکمت والا۔‘‘
(ترجمہ حضرت شیخ الہندؒ)
یعنی اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ: یہودی ملعون ہوئے اپنے اس قول کی بنا پر کہ ہم نے قتل کردیا مسیح ابن مریم، اللہ
کے رسول کو، اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ: نہ ان کو قتل کیا، نہ ان کو صلیب کیا، لیکن ان کو اشتباہ ہوگیا، اور جو لوگ
کہ اس معاملہ میں شک و تردّد میں ہیں اور اس میں اختلاف کر رہے ہیں، وہ حقیقت میں شک اور تردّد میں ہیں، ان میں سے
کسی کے پاس بھی قطعی علم نہیں، قطعی علم تو اللہ کے پاس ہے اور وہ تمہیں بتاتا ہے، اور وہ کیا ہے؟ وہ یہ کہ ان لوگوں
نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو قطعاً قتل نہیں کیا، یقینا قتل نہیں کیا، یقینی بات یہ ہے کہ انہوں نے ان کو قتل نہیں
کیا، سوال پیدا ہوا کہ پھر ہوا کیا؟ اس کا جواب یوں دیا گیا: بلکہ اللہ نے ان کو اپنی طرف اُٹھالیا۔
’’کیا اللہ تعالیٰ آسمان پر ہے؟‘‘ کا جواب:
بیچ میں ایک مسئلہ اور بھی سن لو! وہ یہ کہ ابھی تین چار دن پہلے ایک صاحب مجھ سے بات کر رہے تھے کہ مرزائی کہتے
ہیں: اللہ آسمان پر رہتا ہے، اللہ نے عیسیٰ علیہ السلام کو اپنی طرف اُٹھالیا، کیا اللہ آسمان پر بیٹھا ہے؟ میں نے
کہا: ہاں آسمان پر بیٹھا ہے! کیونکہ قرآن کہتا ہے، پھر میں نے کہا: سورۂ ملک پڑھتے ہو؟ اس میں اس کا تذکرہ ہے،
چنانچہ سورۂ ملک کا دوسرا رکوع ہی یہاں سے شروع ہوتا ہے:
’’ھُوَ الَّذِیْ جَعَلَ لَکُمُ الْاَرْضَ ذَلُوْلًا فَامْشُوْا فِیْ مَنَاکِبِھَا وَکُلُوْا مِنْ رِّزْقِہٖ
وَاِلَیْہِ النُّشُوْرُ۔ ءَأَمِنْتُمْ مَّنْ فِی السَّمَآءَ اَنْ یَّخْسِفَ بِکُمُ الْاَرْضَ فَاِذَا ھِیَ
تَمُوْرُ۔‘‘
(الملک:۱۵، ۱۶)
ترجمہ:... ’’وہی ہے جس نے کیا تمہارے آگے زمین کو پست، اب چلو پھرو اس کے کندھوں پر اور کھاؤ کچھ
اس کی دی ہوئی روزی اور اسی کی طرف جی اُٹھنا ہے۔ کیا تم نڈر ہوگئے ہو اس سے جو
218
آسمان میں ہے، اس سے کہ دھنسادے تم کو زمین میں، پھر تب ہی وہ لرزنے لگے۔‘‘
(ترجمہ حضرت شیخ الہندؒ)
اس کے بعد اگلی آیت میں پھر فرمایا: ’’اَمْ اَمِنْتُمْ مَّنْ فِی السَّمَآء‘‘ (کیا
تم نڈر ہوگئے ہو اس ہستی سے جو آسمان میں ہے؟)۔
یہاں ’’سماء‘‘ اور ’’ارض‘‘ کا مقابلہ بھی کیا ہے، تو
معلوم ہوا کہ اللہ تعالیٰ آسمان میں ہے، لہٰذا ہم نہیں کہتے کہ اللہ تعالیٰ آسمان میں بیٹھا ہے، بلکہ اللہ تعالیٰ
خود فرماتے ہیں۔
صفاتِ الٰہیہ اور عقیدۂ اہلِ سنت و الجماعت
ہاں! یہ بات یاد رکھو کہ قرآن و حدیث میں اللہ تعالیٰ کی جتنی صفات آئی ہیں ان کے بارہ میں اہل سنت والجماعت کا
عقیدہ یہ ہے کہ: ’’نؤمن بہ ولَا نتکیّف‘‘ یعنی ہم ان پر ایمان تو رکھتے ہیں، مگر ان کی
کیفیت نہیں جانتے۔ لہٰذا ہم یہ جانتے ہیں کہ قرآن نے کہا ہے: ’’فِی السَّمَآء‘‘ یعنی
اللہ تعالیٰ آسمان میں ہیں، مگر یہ کہ وہ آسمان میں کیسے بیٹھا ہے؟ توبہ! توبہ! ہم نہیں جانتے، وہ اللہ کو معلوم
ہے، ہمیں جتنی چیز کا پابند کیا گیا ہے ہم اس پر کاربند ہیں اور وہ یہ کہ: ’’فِی السَّمَآء‘‘
کہو!
خدا کی نسبت آسمان کی طرف، حدیث سے:
چنانچہ حدیث میں ہے:
’’عن معاویۃ بن الحکم السُّلمی ۔... قال: وکانت لی جاریۃ ترعٰی غنمًا لی قبل اُحد والجوانیۃ، فاطلعت ذات یوم فاذ
الذئب قد ذھب بشاۃ عن غنمھا وانا رجل من بنی اٰدم اٰسف کَمَا یأسفون، لٰـکنی صککتھا صکۃً فأتیت رسول اللہ صلی اللہ
علیہ وسلم فعظم ذٰلک علیّ، قلت: یا رسول اللہ! أفلا أعتقھا؟ قال: ائتنی بھا، فأتیتہ بھا، فقال: این اللہ؟ قالت:
فی السمآء!
219
قال: من أنا؟ قالت: أنت رسول اللہ! قال: اعتقھا فانھا مؤمنۃ۔‘‘
(صحیح مسلم ج:۱ ص:۲۰۳، ۲۰۴، ابوداؤد، نسائی، مسند احمد، دارمی، طبرانی)
ترجمہ:... ’’حضرت معاویہ بن الحکم سلمی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ۔۔... میری ایک لونڈی اُحد پہاڑ
اور جوانیہ کی طرف بکریاں چرایا کرتی تھی، ایک دن کیا ہوا کہ اس کے ریوڑ میں سے بھیڑیا ایک بکری اُٹھالے گیا، اور
میں بھی انسان ہوں اور انسانوں کی طرح مجھے بھی دکھ ہوتا ہے، لیکن میں نے اس کو ایک زور دار تھپڑ مار دیا، پھر میں
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور عرض کیا: کیا میں اسے آزاد نہ کردوں؟ آپ نے فرمایا: اُسے میرے پاس
لاؤ! میں اُسے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لے گیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے پوچھا: اللہ کہاں ہے؟ اُس نے
آسمان کی طرف اشارہ کرکے کہا: آسمان میں! پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے پوچھا: میں کون ہوں؟ اس نے کہا: آپ
اللہ کے رسول ہیں! تب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس کو آزاد کردو، بے شک یہ مؤمنہ ہے!‘‘
جیسے چھوٹے بچے ہوتے ہیں ناں! اور ہم ان چھوٹے بچوں کو آسمان کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہتے ہیں: وہ اللہ! بھلا
بتلاؤ کہ کیا ہم اس وقت نیچے کی طرف اشارہ کیا کرتے ہیں یا اوپر کی طرف؟
’’سماء‘‘ علوّ کا نام ہے، اور اللہ تعالیٰ کے لئے علوّ کی صفت ثابت ہے، لہٰذا تم یہ تو
کہہ سکتے ہو کہ اللہ تعالیٰ آسمان میں ہیں، البتہ تم یہ نہیں کہہ سکتے کہ زمین میں ہیں، حالانکہ اللہ تعالیٰ تو ہر
جگہ ہے، اللہ تعالیٰ کی کوئی جگہ نہیں، وہ لامکان ہے۔
یعنی حضرت معاویہ بن حکم سلمیؓ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں آئے فرمانے لگے کہ: یا رسول اللہ! میری لونڈی
بکریاں چرا رہی تھی، ایک بھیڑیا آکر ایک بکری کو
220
لے گیا، میں نے غصے میں آکر اس کے ایک طمانچہ مار دیا، اب اس کا کفارہ کیا ادا کروں؟ اور پھر خود ہی
فرمایا: میں نے برا کیا، میں نے اچھا نہیں کیا! آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس کو آزاد کردو! عرض کیا: یا
رسول اللہ! میرے ذمہ ایک کفارہ بھی ہے، کیا میں اس کو اس کفارے میں آزاد کردوں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
اس کو میرے پاس لے آؤ! چنانچہ وہ لے آئے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے لونڈی سے پوچھا:’’أین
اللہ؟‘‘ (اللہ کہاں ہے؟) اس نے آسمان کی طرف اشارہ کردیا، زبان سے بھی نہیں بولی۔
پھر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے فرمایا کہ: ’’ومن أنا؟‘‘ (میں کون ہوں؟) اس نے
کہا: ’’انت رسول اللہ!‘‘ (آپ اللہ کے رسول ہیں!) آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے
فرمایا:’’أعتقھا فانھا مؤمنۃ!‘‘ (اس کو آزاد کردے کہ یہ مؤمنہ ہے)۔ اب دیکھئے وہ
لونڈی اللہ تعالیٰ کے بارہ میں صرف آسمان کی طرف اشارہ کرنے سے مؤمنہ ہوگئی، کیا یہ اس کا ثبوت نہیں کہ آنحضرت
صلی اللہ علیہ وسلم بھی اسی کے قائل تھے کہ اللہ تعالیٰ آسمان میں ہیں؟ مگر افسوس کہ مرزائی، قرآن و سنت اور
آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی تصریحات کی ہمیشہ اور ہر معاملہ میں مخالفت کرتے ہیں۔
اللہ تعالیٰ آسمان میں ہیں، مرزائی کتب کی تصریح:
پھر مرزائی کہتے ہیں کہ: حضرت عیسیٰ علیہ السلام کون سے آسمان پر چلے گئے تھے؟
جواب:... میں نے کہا کہ: جہاں سے غلام احمد کا بیٹا خدا بن کر نیچے نازل ہوا تھا، کیونکہ مرزا اپنے بیٹے کے بارہ
میں خود کہتا ہے:’’مظھر الحق والعلاء کأنّ اللہ نزل من السماء۔‘‘
(حقیقۃ الوحی ص:۹۸،۹۹)
تم جانتے ہو کہ ’’من‘‘ اور ’’الٰی‘‘ دونوں متقابل ہیں،
چنانچہ ’’من‘‘ کا معنی ہے کا معنی ہے ’’سے‘‘، اور ’’الٰی‘‘ کا
معنی ہے ’’تک‘‘، یعنی فلاں جگہ سے فلاں جگہ تک۔
اب سنئے! کہ قرآن نے کہا کہ: اللہ تعالیٰ نے انہیں اپنی طرف اُٹھالیا اور اللہ آسمان میں ہے، اور خود مرزا کا
الہام بھی خدا کو آسمان سے نازل کر رہا ہے -نعوذ باللہ- اللہ کا
221
بیٹا بناکر، اور مرزائی بھی اس پر ایمان رکھتے ہیں، چونکہ مرزائیوں کا مرزا کے الہاموں پر ایسا ہی ایمان ہے،
جیسا کہ مسلمانوں کا قرآن پر ایمان ہے۔ نعوذ باللہ! استغفر اللہ!
’’کأنَّ‘‘ اور گویا کی مرزائی تعبیر کے تحت اگر خدا آسمان سے اتر کر غلام احمد کا بیٹا
بن جائے تو کوئی حرج لازم نہیں آتا، اور مرزائیوں کو اس کے ماننے میں کوئی اشکال نہیں ہوتا، اور اگر حضرت عیسیٰ
علیہ السلام آسمان پر چلے جائیں تو کہتے ہیں کہ: کہاں آسمان پر؟ انصاف تو کرو!
تمام مفسرینؒ کی تصریح:
تو میں بات کر رہا تھا کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو آسمان کی طرف اُٹھالیا، اور آیت پڑھی
تھی:’’بَلْ رَّفَعَہُ اللہُ اِلَیْہِ‘‘ (اللہ نے ان کو اپنی طرف اُٹھالیا)۔ جتنے بھی
مفسرین ہیں، ان کی تمام تفسیریں اُٹھاکر دیکھو، ان میں ہے:’’یعنی الی السماء، محلُ ملٰئکتہ ومقر
ملٰئکتہ ومقر الأرواح، ومحلُ الملٰئکۃ‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ نے ان کو آسمان کی طرف اُٹھالیا جو ملائکہ اور
ارواح کے ٹھہرنے کی جگہ ہے۔
رہا یہ سوال کہ کیسے اُٹھالیا اور کیوں اُٹھالیا؟’’وَکَانَ اللہُ عَزِیْزًا حَکِیْمًا‘‘
اس لئے کہ اللہ زبردست ہے اور حکمت والا ہے۔
نزول و حیاتِ عیسیٰ ؑکی قرآنی تصریح:
قرآن کریم میں قربِ قیامت میں نزولِ عیسیٰ علیہ السلام کے بارہ میں یہ پیش گوئی کی گئی ہے:
’’وَاِنْ مِّنْ اَھْلِ الْکِتَابِ اِلّا لَیُؤْمِنَنَّ بِہٖ قَبْلَ مَوْتِہٖ وَیَوْمَ الْقِیَامَۃِ یَکُوْنَ
عَلَیْھِمْ شَھِیْدًا۔‘‘
(النساء:۱۵۹)
ترجمہ:۔۔۔’’اور جتنے بھی فرقے ہیں اہلِ کتاب کے سو عیسیٰ پر یقین لاویں گے اس کی موت سے پہلے، اور
قیامت کے دن ہوگا ان پر گواہ۔‘‘
(ترجمہ حضرت شیخ الہندؒ)
222
ایک سو بیس سال والی حدیث:
مرزائی ایک اور حدیث کے لفظ ’’عاش‘‘ سے وفاتِ عیسیٰ پر استدلال کیا کرتے ہیں، اس حدیث کی حقیقت سے متعلق عرض ہے کہ
اگر کوئی مرزائی اس حدیث کو پیش کرے تو اس سے کہو کہ پوری حدیث پڑھے، اور وہ پوری حدیث یہ ہے کہ:
’’انہ لم یکن نبی کان بعدہ نبی الّا عاش نصف عمر الذی کان قبلہ، وان عیسیٰ بن مریم عاش عشرین ومائۃ سنۃ، وانی لَا
أرانی الّا ذاھبًا علٰی رأس الستین۔‘‘
(کنز العمال ج:۱۱ ص:۴۷۹ حدیث:۳۲۲۶۲)
ترجمہ:۔۔۔’’ہر نبی کی عمر پہلے نبی سے آدھی ہوتی ہے، اور عیسیٰ ابن مریم علیہ السلام ایک سو بیس سال
جئے، تو میرا خیال ہے کہ میں ساٹھ سال جیوں گا۔‘‘
تو مرزائی کہا کرتے ہیں کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی عمر ایک سو بیس سال کی تھی اور وہ ایک سو بیس سال جئے۔
جواب:... قادیانیوں سے کہو کہ اس حدیث میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی موت کا تذکرہ کہاں ہے؟ اس میں تو ان کی موت کا
کوئی ذکر نہیں البتہ صرف اتنا ہے کہ ایک سو بیس سال کی ان کی زندگی ہے۔
اس حدیث کی روشنی میں مرزا نبی نہیں ہوسکتا:
تاہم اگر ان کو اس حدیث کے ظاہر ہی سے استدلال کرنا ہے تو ان سے کہو کہ سب سے پہلی بات تو یہ کہ تم کہتے ہو کہ ہر
نبی کی زندگی پہلے نبی کی زندگی سے آدھی ہوتی ہے،
223
اب جب حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی تریسٹھ سال ہے تو تمہارے عقیدہ اجرائے نبوّت کی روشنی میں متنبیٔ
قادیان غلام احمد کی کتنی ہونی چاہئے؟ ساڑھے اکتیس سال! حالانکہ اس کی عمر ساڑھے اکتیس سال نہیں، بلکہ ۷۱، ۷۲ سال
تھی، ملاحظہ ہو سیرۃ المہدی ج:۲ ص:۱۵۰، معلوم ہوا کہ وہ نبی نہیں بلکہ جھوٹا ہے۔
قادیانی استدلال کا بطلان:
اسی طرح عیسیٰ علیہ الصلوٰۃ والسلام کی عمر ایک سو بیس سال ہو تو ان سے پہلے نبی کی دو سو چالیس سال، اور اس سے
پہلے کی چار سو اسّی سال، اور اس سے پہلے کی نو سو ساٹھ سال، تو حضرت آدم علیہ السلام تک پہنچتے پہنچتے ان کی عمر
کتنی بنے گی؟ جبکہ حضرت آدم علیہ السلام کی عمر حدیثِ صحیح کے مطابق ایک ہزار سال تھی، ملاحظہ ہو:
’’عن ابن عباس رضی اللہ عنہ عن النبی صلی اللہ علیہ وسلم قال: کان عمر اٰدم الف سنۃ، قال ابن عباس: وبین اٰدم ونوح
الف سنۃ، وبین نوح وابراھیم الف سنۃ، وبین ابراھیم وموسٰی سبع مائۃ سنۃ، وبین موسٰی وعیسٰی خمس مائۃ سنۃ، وبین عیسٰی
ومحمد صلی اللہ علیہ وسلم ست مائۃ سنۃ ۔۔۔۔‘‘
(مستدرک حاکم ج:۲ ص:۵۹۸، درمنثور ج:۴ ص:۳۲۶)
ترجمہ:... ’’حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ، آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت فرماتے ہیں کہ:
حضرت آدم علیہ السلام کی عمر ایک ہزار سال تھی۔ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ: حضرت آدمؑ اور حضرت
نوحؑ کے درمیان ایک ہزار سال، حضرت نوحؑ اور حضرت ابراہیمؑ کے مابین ایک ہزار سال، حضرت ابراہیمؑ اور حضرت موسیٰ ؑ
کے درمیان سات سو سال، حضرت موسیٰ ؑ اور حضرت عیسیٰ ؑ کے درمیان پانچ سو سال اور حضرت عیسیٰ ؑ اور
224
حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے درمیان چھ سو سال کا فاصلہ تھا۔‘‘
ہاں! زیادہ سے زیادہ یہ کہا جاسکتا ہے کہ اس سے صاحبِ شریعت اور صاحبِ کتاب نبی مراد ہے۔
اگر حضرت عیسیٰ ؑزندہ ہیں تو لفظ ’’عاش‘‘ کیوں لایا گیا؟
شبہ:... قادیانی کہتے ہیں کہ اگر حضرت عیسیٰ علیہ السلام زندہ تھے تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے سابقہ انبیاء کے
بارہ میں’’عاش‘‘ ماضی کا صیغہ کیوں استعمال فرمایا؟
جواب:... لفظ ’’عاش‘‘ ماضی لانے کی وجہ یہ ہوئی کہ دیگر انبیاء کے حق میں تو ماضی ہی صادق تھا اور بحق عیسیٰ علیہ
السلام ان کی زندگی کے دو حصوں یعنی زمانہ قبل از بعثت اور زمانہ بعد از بعثت اور قبل از رفع کے اعتبار سے تو ماضی
صادق آتی ہے، مگر چونکہ اس کے ساتھ ہی حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو صرف تنصیفِ عمر بیان کرنا منظور تھی، لہٰذا حصہ
ثالثہ یعنی زمانۂ بعد نزول کو ماضی ہی میں لپیٹ دیا تاکہ بیان تنصیف عمر میں تطویل لاطائل (خواہ مخواہ کی طوالت) نہ
اختیار کرنی پڑے اور تنصیف کل عمر اور تنصیف عمرِ نبوّت ہر دو اعتبار سے مع رعایت اختصار مستیقم ہوجائے اور سلسلۂ
نظمِ عبارت بھی بحال رہے، لہٰذا یہ بات صاف ہوگئی کہ کل عمر جو زمین پر گزرے گی وہ ایک سو بیس برس ہے۔
رفع الی السماء کا ذریعہ؟
رفعِ عیسیٰ علیہ السلام کے بارہ میں قادیانی چند شبہات پیش کیا کرتے ہیں، ان میں سے پہلا شبہ یہ ہے کہ: حضرت عیسیٰ
علیہ السلام کو جب اُٹھایا گیا تو اس کے لئے کیا ذریعہ استعمال کیا گیا تھا؟
جواب:... آپؑ کو فرشتہ کے ذریعہ اُٹھایا گیا، چنانچہ خود حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کی ایک روایت میں ان
کا اپنا قول ہے کہ حضرت جبریل علیہ السلام آپ کو لے گئے تھے، جس کو امام حافظ ابن کثیر رحمہ اللہ نے کہا: ’’وھذا سندٌ صحیح الی ابن عباس‘‘ ابن عباس تک سند صحیح ہے، گویا کہ جبریل علیہ السلام تشریف
لائے اور آپؑ کو اس
225
مکان کے روشندان سے لے گئے جس میں کہ آپؑ تھے۔
چنانچہ تفسیر ابنِ کثیر میں ہے:
’’عن ابن عباس قال: لما أراد اللہ أن یرفع عیسٰی الی السماء خرج علٰی أصحابہ وفی البیت اثنا عشر رجـلًا من
الحواریین، یعنی فخرج علیہم فی عین فی البیت ورأسہ یقطر، ۔... قال: ایک یُلقی علیہ شبھی فیقتل مکانی ویکون معی فی
درجتی؟ فقام شاب من احدثھم سنًا، فقال لہ: اجلس! ثم أعاد علیھم فقام ذالک الشاب، فقال: اجلس! ثم أعاد علیھم فقام
الشاب، فقال: أنا! فقال: ھو انت ذاک! فالقی علیہ شبہ عیسیٰ ورفع عیسٰی من روزنۃ فی البیت الی السماء۔ قال: وجاء
الطلب من الیھود فأخذوا الشبہ فقتلوہ ثم صلبوہ ۔... وھٰذا اسناد صحیح الٰی ابن عباس۔‘‘
(تفسیر ابنِ کثیر ج:۲ ص:۴۰۹، ۴۱۰، مکتبہ رشیدیہ کوئٹہ)
ترجمہ:... ’’حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ: جب اللہ تعالیٰ نے حضرت عیسیٰ علیہ
السلام کو آسمان پر اُٹھانا چاہا، تو وہ ان بارہ حواریوں کے پاس تشریف لے گئے جو وہاں گھر میں موجود تھے، آپ چشمے
سے غسل فرماکر نکلے تو سر سے پانی کے قطرے ٹپک رہے تھے۔ ۔۔... آپ نے اپنے حواریوں کو مخاطب کرتے ہوئے فرمایا: تم
میں سے کون اس پر آمادہ ہے کہ اس پر میری شباہت ڈال دی جائے، پھر اس کو میری جگہ قتل کیا جائے اور وہ جنت میں میرے
ساتھ ہو؟ ان میں سے جو سب سے کم عمر حواری تھا، وہ کھڑا ہوا، حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے فرمایا: بیٹھ جا! آپ نے
دوبارہ
226
حواریوں کو یہ بات فرمائی تو پھر وہی جوان کھڑا ہوگیا، اب بھی آپ نے فرمایا: بیٹھ
جاؤ! جب تیسری بار آپ نے اعلان کیا تو پھر بھی یہی کھڑا ہوا اور کہنے لگا: اس کے لئے میں حاضر ہوں! پس آپ علیہ
السلام نے فرمایا: وہ آپ ہی ہیں! پس اُس پر حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی شباہت ڈال دی گئی اور عیسیٰ علیہ السلام کو
گھر کے روشن دان سے آسمان کی طرف اُٹھالیا گیا، اتنے میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی تلاش میں یہودی آئے تو جس پر
حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی مشابہت ڈالی گئی تھی، اُسے پکڑ کر لے گئے، اسے لے جاکر انہوں نے قتل کیا اور اس کے بعد
سولی دے دی۔ یہ سند ابنِ عباس تک صحیح ہے۔‘‘
یعنی اصل بات یہ ہوئی تھی کہ حضرت عیسیٰ علیہ الصلوٰۃ والسلام اپنے بعض حواریوں کے ساتھ ایک مکان میں تشریف فرما
تھے اور مخبر نے ان یہودیوں کو اطلاع کردی جو آپؑ کو پکڑنے کا ارادہ کر رہے تھے، انہوں نے مکان کا محاصرہ کرلیا،
چونکہ اس مکان کے احاطہ کے اندر ایک چشمہ تھا، وہاں سے حضرت عیسیٰ علیہ الصلوٰۃ والسلام غسل کرکے تشریف لائے، گویا
یہ سفر کی تیار ہو رہی تھی، سر مبارک سے پانی ایسے ٹپک رہا تھا جیسے موتی کے قطرے، آپؑ نے اپنے ان حواریوں سے ارشاد
فرمایا کہ: تم میں سے کون ہے جو میری جگہ قتل کیا جائے؟’’وکان معی فی الجنۃ‘‘ اور میرے
ساتھ جنت میں ہو، ان میں سے جو سب سے چھوٹا اور نوعمر تھا وہ کھڑا ہوا اور کہنے لگا:أنا!
(میں) آپؑ نے فرمایا: بیٹھ جاؤ! پھر فرمایا: تم میں سے کون ہے جو میری جگہ قتل کیا جائے اور میرے ساتھ جنت میں ہو؟
پھر یہی نوجوان کھڑا ہوا تب آپؑ نے فرمایا: بیٹھ جاؤ! تیسری مرتبہ پھر یہی ہوا، پھر تو حضرت عیسیٰ علیہ الصلوٰۃ
والسلام نے کہا کہ: تم ہی ہو، چنانچہ اس کے اوپر حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی شباہت ڈال دی گئی اور حضرت عیسیٰ علیہ
السلام کو روزنہ یعنی کھڑکی سے آسمان پر لے جایا گیا۔
یہ حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کا قول ہے اور حافظ ابنِ کثیرؒ کہتے ہیں کہ: ’’ھذا سند
صحیح الی ابن عباس‘‘ یہ کیفیت حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما
227
نے بیان فرمائی ہے اور اُصول یہ ہے کہ جو بات محض قیاس و اندازہ سے نہ کہی جائے، اگر وہی بات صحابہ کرامؓ
کہہ رہے ہوں تو اس کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ یقینا صحابہ کرامؓ نے یہ بات حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے سنی ہوگی، تو
معلوم ہوا کہ یہ حضرت ابنِ عباسؓ کا ذاتی قول نہیں بلکہ انہوں نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہوگا۔
بائبل کی اسرائیلی روایت:
جن پر شباہت ڈالی گئی تھی وہ یہودا اسقروطی کہلاتے ہیں اور عیسائی کتابوں میں اس کو اسخریوطی بھی کہتے ہیں، عام طور
سے مسلمان، عیسائی اور یہودی جب بھی اس یہودی حواری کا نام سنتے ہیں تو اس سے نفرت کرتے ہیں، اور کہتے ہیں کہ چونکہ
اس نے پتہ بتایا تھا اس لئے وہ غلط آدمی تھا، حالانکہ یہ بات درست نہیں، بلکہ حضرت ابنِ عباس کی روایت بالکل صحیح
ہے۔
پھر سوال یہ ہے کہ جب یہی حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا وہ جاںنثار صحابی ہے، جس نے قربانی دی تو پھر یہ کیا تماشا ہوا
کہ یہی بدنام ہوگئے؟
بات دراصل یہ ہے کہ بائبل میں ایک اسرائیلی روایت ہے کہ جب یہ سب حواری جمع تھے تو حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے اس
یہودا سے فرمایا: جا تو اپنا کام کر! یہ گیا اور یہودیوں کے بڑوں کو یہ کہہ کر لایا کہ آؤ میں تمہیں حضرت عیسیٰ
علیہ السلام کا پتہ بتاتا ہوں! بتاؤ کیا انعام دوگے؟ وہ کہنے لگے کہ چار آنے یا جتنا بھی ہو، خیر وہ تو ایک بہانہ
تھا، وہ ان کو بلاکے لایا، اتنے میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام جاچکے تھے، تو اسی کے اُوپر حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی
شباہت ڈال دی گئی، اور ان کو پکڑ کر سولی دے دی گئی۔
اصل حقیقت:
اصل حقیقت یہ ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے نوجوان اور مخلص حواری کو صلیب دی گئی تھی، یہ صحیح واقعہ ہے، اسی پر
قرآن کہتا ہے کہ: ’’وَلٰـکِنْ شُبِّہَ لَھُمْ‘‘ یعنی ان کو اشتباہ ہوگیا تھا، وہ عیسیٰ
نہیں تھا، ان کے درمیان خود اختلاف ہوگیا کہ اگر یہ عیسیٰ ہے تو
228
ہمارا ساتھی کہاں ہے؟ اور اگر یہ ہمارا ساتھی ہے تو عیسیٰ کہاں ہے؟ پھر یہ کہ اس کا چہرہ مہرہ تو حضرت عیسیٰ
علیہ السلام کا بن گیا، مگر پورا وجود ان جیسا نہیں بنا، اگر یہودی چاہتے تو شناخت ہوسکتی تھی، لیکن یہودی حضرت
عیسیٰ علیہ السلام کو پکڑنے کے لئے آئے ہوئے تھے، اور ناکام و نامراد واپس جانا ان کی شکست تھی، لیکن انہوں نے کہا
چلو اسی کو پکڑو، اس لئے اس مرد فدا نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی بشارت کے لئے کہ: ’’میرے ساتھ جنت میں ہوگا‘‘ اللہ
کی اس تقدیر کو قبول کیا، لہٰذا اس کو سولی چڑھادیا، ’’أیکم یُلقی علیہ شبھی فیقتل مکانی؟‘‘
یہ الفاظ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے ہیں کہ: ’’تم میں سے کون ہے جو میری جگہ قتل کیا جائے اور میرے ساتھ جنت
میں ہو؟‘‘
اور دوسری بات یہ کہ آج تک عیسائی بھی اور مسلمان بھی یہودا کو برے الفاظ کے ساتھ یاد کرتے ہیں، حالانکہ یہی تو
مجاہد ہے جس نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے لئے جان دی۔
پیسے لے کر پتہ بتانے والی روایت:
سوال:... پیسے لے کر حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا پتہ بتلانے والی روایت کیسی ہے؟
جواب:... یہ ہماری روایت نہیں ہے، یہ اہلِ کتاب کی اسرائیلی روایت ہے، ہماری روایت وہ ہے جو میں نے بتادی یعنی حضرت
ابنِ عباسؓ والی، میں تطبیق دے رہا ہوں کہ یہ روایت اہلِ کتاب کی ہے کہ یہودا نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا پتہ و
نشان بتلایا تھا۔ حالانکہ بائبل میں یہ بھی لکھا ہوا ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے اسی حواریوں کی مجلس میں اس سے
کہا کہ: جا تو اپنا کام کر!
یہودا اسقروطی حضرت عیسیٰ ؑکا وزیر خزانہ تھا:
یہ یہودا کوئی معمولی آدمی نہیں تھا بلکہ یہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا وزیر خزانہ تھا۔
مرزا قادیانی کی گستاخی:
مرزا غلام احمد قادیانی نے عیسیٰ علیہ الصلوٰۃ والسلام کا مذاق اُڑانے کے لئے یہ کہا
229
کہ کہاں گئی وہ بارہ تختوں کی پیش گوئی؟ دراصل حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے بارہ حواریوں کے لئے جنت کے بارہ
تختوں کی پیش گوئی کی تھی کہ جنت میں تخت ملیں گے، مطلب یہ تھا کہ تم جنتی ہوگے، جیسے ہمارے ہاں عشرہ مبشرہ ہیں اسی
طرح سیّدنا مسیح علیہ الصلوٰۃ والسلام نے بھی اپنے بارہ حواریوں کو یہ خوشخبری دی تھی۔ مگر غلام احمد قادیانی، حضرت
عیسیٰ علیہ السلام کا مذاق اُڑاتا ہے کہ یہی وہ یہودا تھا جس کو حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے خوشخبری دی تھی۔
خیر یہ تو میں نے تمہیں چار باتیں بتادیں، اصل باتیں تو تین ہی تھیں۔
حضرت عیسیٰ ؑکا آسمان پر جانا معراج کی طرح ہے:
اب سنو! تمہارے سوالوں کا جواب یہ ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو حضرت جبریل علیہ السلام کے ساتھ لے جایا گیا،
جیسا کہ معراج کی شب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو لینے کے لئے بھی یہی آئے تھے، اسی طرح حضرت عیسیٰ علیہ السلام
کو لینے کے لئے بھی حضرت جبریل علیہ السلام آئے تھے۔ یوں کہو کہ آسمان پر جانے والے مسافروں کے میزبان یہی حضرت
جبریل علیہ السلام بنتے ہیں۔
حضرت عیسیٰ ؑبھی براق پر گئے تھے؟
سوال:... کیا حضرت عیسیٰ علیہ السلام بھی آسمان پر براق پر گئے تھے؟
جواب:... میرے عزیز! آسمانوں پر تو براق نہیں چلتی، آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم تو مکے سے بیت المقدس تک براق پر
آئے تھے، باقی آسمانی براق تو کوئی اور ہوگی، یہ ہوائی جہاز اس آسمانی براق کی مثال ہے، گویا وہ کوئی ہوائی جہاز
جیسی شئے ہوگی۔
ہاں! ہم اس کو برقی سیڑھی کہہ سکتے ہیں، لیکن یہ برقی سیڑھی بیچاری بھی آہستہ آہستہ چلتی ہے، کیونکہ یہ تو رسیوں
سے بندھی ہوئی ہوتی ہے، اور بہت آہستہ رفتار سے چلتی ہے، یعنی آدمی کی رفتار سے تو تیز چلتی ہے مگر چلتی آہستہ
آہستہ ہے، لیکن وہ تو جبریل تھا، یہ انگریزوں کی ایجاد کی ہوئی بس بھی نہیں تھی، بلکہ آسمانی سیڑھی تھی جو جبریل
علیہ السلام کے لئے مہیا کی گئی ہوگی، اس کو معراج کہتے ہیں۔
230
معراج کا معنی؟
معراج کس کو کہتے ہیں؟ معراج سیڑھی کو کہتے ہیں، عروج کا ذریعہ اور آلہ، عروج کہتے ہیں اُوپر چڑھنے کو اور معراج
اسم آلہ کا صیغہ ہے، معراج اسم آلہ کبریٰ ہے، جیسے منصاق چیرنے کا آلہ اسی طرح معراج چڑھنے کا آلہ دراصل رسول
اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا اوپر جانا کسی ذریعہ سے بھی ہو، خواہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم قدرتِ خداوندی کے دوش پہ
گئے ہوں، یا کسی اور ذریعہ سے، ہمیں اس سے بحث ہی کیا؟ تو اسی کا نام معراج رکھ دیا گیا، چونکہ قرآن کریم میں ذکر
صرف اِسراء کا ہے معراج کا نہیں اور احادیثِ متواترہ میں ذکر ہے معراج کا۔
حضرت عیسیٰ ؑجبریلؑ کے ہمراہ آسمان پر گئے تھے:
تو خیر یہ مسئلہ تو طے ہوگیا کہ عیسیٰ علیہ السلام کو جبریل علیہ السلام لینے آئے تھے، جیسا کہ ہمارے رسول حضور
اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو لینے آئے تھے، گویا حضرت عیسیٰ علیہ السلام حضرت جبریل امین کی پھونک کے ساتھ پیدا ہوئے
تھے اور آپ کی معیت میں آسمان پر تشریف لے گئے۔
حضرت عیسیٰ ؑکی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے نسبت؟
حضرت مولانا قاری محمد طیب صاحب رحمہ اللہ کے بقول: وہ ایک اعتبار سے حضرت جبریل علیہ السلام کے بیٹے کی حیثیت
رکھتے ہیں۔ اور قاری صاحبؒ نے تو ایک اور بات بھی کہی ہے، جو ہمارے ذہنوں سے اُونچی ہے، اور وہ یہ کہ وہ حقیقتِ
محمدیہ تھی جس کا نفخ کیا گیا تھا، اس لئے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی حقیقتِ محمدیہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے
لئے بمنزلہ باپ کے تھی، یوں حضرت عیسیٰ علیہ السلام بمنزلہ بیٹے کے ہوئے، اور چونکہ بیٹا باپ کا جانشین ہوتا ہے، اس
لئے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا دوبارہ آپ کی اُمت میں آنا لازم اور ضروری ٹھہرایا گیا تاکہ وہ حضور صلی اللہ علیہ
وسلم کی وراثت سنبھالیں، لیکن یہ تو اُونچی باتیں ہیں، حقائق و معارف کی باتیں ہیں، جو حضراتِ صوفیائے کرام کے قلب
پر وارد ہوتی ہیں، لیکن علمائے ظاہر کے لئے وہی بات ہے جو قرآن و سنت سے ثابت ہے اور بس!
231
قادیانی اعتراضات کے جوابات
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ
اَلْحَمْدُ للہِ وَسَلَامٌ عَلٰی عِبَادِہِ الَّذِیْنَ اصْطَفٰی!
جناب حضرت جبرائیل علیہ السلام اماں حضرت مریم سے گفتگو کر رہے تھے اور وہ کہہ رہی تھیں کہ:
’’اِنِّیْ اَعُوْذُ بِالرَّحْمٰنِ مِنْکَ اِنْ کُنْتَ تَقِیًّا۔ قَالَ اِنَّمَا اَنَا رَسُوْلُ رَبِّکِ لِاَھَبَ
لَکِ غُـلَامًا زَکِیًّا۔ قَالَتْ اَنّٰی یَکُوْنُ لِیْ غُـلَامٌ وَّلَمْ یَمْسَسْنِیْ بَشَرٌ وَّلَمْ اَکُ
بَغِیًّا۔ قَالَ کَذَالِکِ قَالَ رَبُّکِ ھُوَ عَلَیَّ ھَیِّنٌ وَّلِنَجْعَلَہٗ اٰیَۃً لِّلنَّاسِ وَرَحْمَۃً مِّنَا
وَکَانَ اَمْرًا مَّقْضِیًّا۔‘‘
(مریم:۱۸ تا ۲۱)
یعنی حضرت مریم نے کہا کہ: میرا بیٹا کیسے ہوسکتا ہے؟ اس لئے کہ مجھے تو کسی بشر نے آج تک ہاتھ نہیں لگایا، اور
میں بدکار اور گندی بھی نہیں ہوں، مطلب یہ ہے کہ مجھے کسی نے جائز طریقہ پر اور ناجائز طریقہ پر بھی ہاتھ نہیں
لگایا، حضرت جبرائیل علیہ السلام نے کہا کہ: اسی طرح یعنی بغیر مرد کے ہاتھ لگائے ہوئے، بیٹا ہوجائے گا، کیونکہ تیرے
رَبّ نے فرمایا کہ یہ مجھ پر آسان ہے، اور یہ اس لئے کہ ہم اس کو لوگوں کے لئے نشان بنائیں گے۔
ایک تو یہ کہ جس طرح اور جب اللہ تعالیٰ جس کو چاہتا ہے پیدا کردیتا ہے، اور اللہ تعالیٰ پیدا کرسکتا ہے۔
اور دوسرے یہ کہ اس کو قیامت کا بھی نشان بنانا ہے، یعنی وہ علاماتِ قیامت میں سے ہوگا کہ اس کو لوگوں کے لئے نشان
بنائیں گے اور اپنی جانب سے علامت کا ذریعہ
232
بنائیں گے، اور ایسا کرنے کا فیصلہ ہوچکا ہے، خواہ کچھ بھی ہو، پس وہ حاملہ ہوگئیں۔
حضرت مریمؑ کو پھونک مارنے والے کون تھے؟
یہ گفتگو ہو رہی تھی کہ حضرت جبرائیل علیہ السلام نے پھونک مار دی، یہاں اب دریافت طلب امر یہ ہے کہ یہ پھونک مارنے
والے کون تھے؟ اس کے بارہ میں دو قول ہیں:
پہلا اور مشہور قول:... ایک تو یہ ہے کہ پھونک مارنے والے حضرت جبرائیل علیہ السلام تھے، جیسا کہ ارشادِ الٰہی
ہے: ’’فَاَرْسَلْنَا اِلَیْھَا رُوْحَنَا‘‘ (ہم نے بھیجا ان کے پاس اپنی رُوح کو یعنی
روح الامین کو)۔ غالباً یہ حضرت زید بن سالم کا قول ہے یا کسی اور صحابی کا ہے۔
دوسرا اور غیرمشہور قول:... امام العصر حضرت مولانا محمد انور شاہ کشمیری رحمۃ اللہ علیہ نے اپنی کتاب ’’مشکلات
القرآن‘‘ میں نقل کیا ہے کہ ’’فَاَرْسَلْنَا اِلَیْھَا رُوْحَنَا‘‘ کا معنی یہ ہے کہ
ہم نے حضرت مریم کی طرف بھیجا اپنی جانب سے ایک روح کو، اس کا معنی یہ ہے کہ ان کی اپنی روح کو بھیجا یعنی وہ خود
روح اللہ (حضرت عیسیٰ) تھے، اور بیٹا ماں سے باتیں کر رہا تھا، تب معنی ہوگا کہ ہم نے بھیجا مریم کی طرف اپنی روح کو
یعنی حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی روح کو اور یہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی روح اس وقت انسانی شکل میں متجسّد ہوکر
آئی تھی، یعنی جسم کی شکل میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی روح آئی تھی، گویا یہ خود حضرت عیسیٰ علیہ الصلوٰۃ
والسلام اماں جان سے یہ باتیں فرما رہے تھے، اور بیٹا اپنی ماں سے باتیں کر رہا تھا، اسی وجہ سے فرمایا گیا: ’’رُوْحَنَا‘‘ (ہم نے اپنی روح کو بھیجا) ’’فَتَمَثَّلَ لَھَا بَشَرًا سَوَیًّا‘‘ پس وہ روح اس کے سامنے آئی یعنی وہ روح اس کے
سامنے ایک تام الخلقت جوان انسان کی شکل میں متمثل ہوکر آئی، لیکن حضرت مریم نے سمجھا یہ کوئی اور ہے، اس لئے اس سے
کہا: ’’اِنِّیْ اَعُوْذُ بِالرَّحْمٰنِ مِنْکَ اِنْ کُنْتَ تَقِیًّا‘‘ میں رحمن کی پناہ
لیتی ہوں اگر تیرے دل میں اللہ کا خوف ہے! اس پر اس روح نے کہا: ’’اِنَّمَا اَنَا رَسُوْلُ
رَبِّکِ‘‘ میں تو تیرے ربّ کا قاصد ہوں ’’لِاَھَبَ لَکِ غُـلَامًا زَکِیًّا‘‘
تاکہ میں تجھ کو پاکیزہ بیٹا دے
233
دوں، گویا وہ بتلانا چاہتے ہیں کہ چونکہ یہ روح آپ کے بدن میں منتقل ہوگی، اس پر انسانی بدن کا غلاف چڑھے
گا، اور تیرے جسم سے انسان اور بشر بن کر نکلے گا اور تیرا بیٹا کہلائے گا، اس لئے فرمایا: ’’لِاَھَبَ لَکِ غُـلَامًا‘‘ بہرحال وہ روح جب مریم کے جسم میں منتقل ہوگئی تو وہ حاملہ
ہوگئیں۔
کوئی ضروری نہیں کہ ہم اس قول پر عقیدہ رکھیں۔ بہرحال یہ دونوں تفسیریں ہوسکتی ہیں، ایک یہ کہ روح سے مراد روح
الامین ہو، اور یہی مشہور تفسیر ہے کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت مریم کی طرف جبرائیل علیہ السلام کو بھیجا تھا، اور ایک
تفسیر یہ ہے کہ خود حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی روح اپنی اماں جان کے سامنے متمثل ہوگئی تھی، کیونکہ روح تو لطیف چیز
ہے، نکلتی بھی ہے اور داخل بھی ہوتی ہے، اس لئے وہ ان کے رحم میں منتقل ہوگئی اور اس سے وہ حاملہ ہوگئیں۔
قادیانی، معراجِ جسمانی کے قائل نہیں:
سوال:... حضرت آپ نے ایک درس میں معراج کے بارے میں فرمایا تھا کہ جس طرح نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو اللہ
تعالیٰ معراج پر لے گئے، اسی طرح حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو بھی لے گئے، قادیانی تو معراج کے قائل ہی نہیں، اسی لئے
وہ رفعِ عیسیٰ کا انکار کرتے ہیں، اگر وہ معراج کو مان لیں تو حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے رفع کو ماننا پڑے گا، تو ان
کو جواب دینے کے لئے ہم کیا کہیں گے؟
جواب:... بھائی! میں اس کا جواب تو دے چکا ہوں کہ عیسیٰ علیہ السلام کو آسمان پر اُٹھا لے جانے کو تو غلام احمد
قادیانی بھی مانتا اور لکھتا ہے، اور قرآن کریم نے بھی کہا ہے: ’’رَفَعَہُ اللہُ اِلَیْہِ‘‘
یعنی اللہ لے گئے ان کو اپنی طرف، تو گویا رفع کے تو قادیانی بھی قائل ہیں، البتہ قادیانیوں کے ساتھ ہمارا
جھگڑا یہ ہے کہ ہم کہتے ہیں ’’رَفَعَہُ اللہُ‘‘ سے رفع روح مع الجسد ہوا ہے، مگر قادیانی
کہتے ہیں یہ رفع روحانی تھا، رفع روحانی کا معنی روح کا اُٹھانا ہے، تو ہماری بیان کردہ تقریر سے ہماری یہ بات تو
پوری ہوگئی وہ چونکہ خود روح ہیں، اس لئے
234
ان کا رفع روح مع الجسد ہی ہوگا، اور اگر قادیانی قول کے مطابق اس کا معنی رفع درجات ہو تو سوال یہ ہے کہ
رفع درجات کو رفع روحانی کون کہتا ہے؟ اور رفع درجات کو رفع روحانی کس نے کہا ہے؟’’وَرَفَعَ
بَعْضَھُمْ دَرَجَاتٍ‘‘ قرآن کریم میں دوسری جگہ موجود ہے، تو کیوں یہاں اللہ تعالیٰ نے درجات کے قبیل میں
ذکر کردیا۔
قادیانی اِشکال، کیا حضرت عیسیٰ ؑجھوٹ بولیں گے؟
یہاں ایک اور قادیانی اشکال کا جواب بھی سمجھ لیں، قادیانی کہا کرتے ہیں جب خدا پوچھے گا کہ:
’’۔۔۔۔ءَأَنْتَ قُلْتَ لِلنَّاسِ اتَّخِذُوْنِی وَاُمِّیَ اِلٰہَیْنِ مِنْ دُوْنِ اللہِ قَالَ سُبْحَانَکَ مَا
یَکُوْنُ لِیْ اَنْ اَقُوْلَ مَا لَیْسَ لِیْ بِحَقٍّ، اِنْ کُنْتُ قُلْتُہٗ فَقَدْ عَلِمْتَہٗ، تَعْلَمُ مَا فِیْ
نَفْسِیْ وَلَآ اَعْلَمُ مَا فِیْ نَفْسِکَ، اِنَّکَ اَنْتَ عَـلّامُ الْغُیُوْبِ۔ مَا قُلْتُ لَھُمْ اِلّا مَآ
اَمَرْتَنِیْ بِہٖ اَنِ اعْبُدُوا اللہَ رَبِّیْ وَرَبَّکُمْ، وَکُنْتُ عَلَیْھِمْ شَھِیْدًا مَّا دُمْتُ فِیْھِمْ،
فَلَمَّا تَوَفَّیْتَنِیْ کُنْتَ اَنْتَ الرَّقِیْبَ عَلَیْھِمْ وَاَنْتَ عَلٰی کُلِّ شَیْئٍ شَہِیْدٌ۔‘‘
(المائدۃ:۱۱۶، ۱۱۷)
ترجمہ:۔۔۔’’اور جب کہے گا اللہ: اے عیسیٰ مریم کے بیٹے! تو نے کہا لوگوں سے کہ ٹھہراؤ مجھ کو اور
میری ماں کو دو معبود سوا اللہ کے؟ کہا: تو پاک ہے! مجھ کو لائق نہیں کہ کہوں ایسی بات جس کا مجھ کو حق نہیں، اگر
میں نے یہ کہا ہوگا تو تجھ کو ضرور معلوم ہوگا، تو جانتا ہے جو میرے جی میں ہے اور میں نہیں جانتا جو تیرے جی میں
ہے، بے شک تو ہی ہے جاننے والا چھپی باتوں کا۔ میں نے کچھ نہیں کہا ان کو مگر جو تو نے حکم کیا کہ بندگی کرو اللہ
کی، جو رَبّ ہے میرا اور تمہارا، اور میں ان سے خبردار تھا جب تک ان میں رہا، پھر جب تو نے مجھ کو
235
اُٹھالیا تو تو ہی خبر رکھنے والا ان کی، اور تو ہر چیز سے خبردار ہے۔‘‘
(ترجمہ حضرت شیخ الہندؒ)
یعنی اس کا معنی یہ ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام فوت ہوگئے تھے جب ہی تو ان سے برأت کا اظہار کریں گے؟
جواب:... قادیانیوں سے پوچھو کہ اللہ تعالیٰ حضرت عیسیٰ علیہ السلام سے یہ کب پوچھے گا؟ قیامت کے دن یا اس سے پہلے؟
ظاہر ہے اللہ تعالیٰ عیسیٰ علیہ السلام سے قیامت کے دن پوچھیں گے، کیونکہ خود قرآن کریم میں ہے:
’’یَوْمَ یَجْمَعُ اللہُ الرُّسُلَ فَیَقُوْلُ مَاذَا اُجِبْتُمْ‘‘
(المائدہ:۱۰۹)
ترجمہ:۔۔۔’’جس دن کہ اللہ تعالیٰ جمع کریں گے رسولوں کو، پس اللہ تعالیٰ ان سے پوچھیں گے کہ تمہیں
کیا جواب ملا؟‘‘
پھر حیات و نزول عیسیٰ علیہ السلام کے مسئلہ کو اُلجھانے کے لئے قادیانی یہ کہا کرتے ہیں کہ عیسیٰ علیہ السلام سے
جب اللہ تعالیٰ قیامت کے دن پوچھیں گے کہ کیا تم نے کہا تھا کہ مجھے اور میری والدہ کو معبود بناؤ؟ تو وہ کہیں گے
مجھے نہیں پتہ! اب اگر وہ دوبارہ زمین پر آئیں گے اور لوگوں کو دیکھیں گے کہ لوگ گمراہ ہو رہے تھے اور حضرت عیسیٰ
اور ان کی ماں کو خدا بنا رہے تھے تو وہ یہ کیوں کہیں گے؟ کہ مجھے نہیں پتہ! کیا وہ جھوٹ بول دیں گے؟ یہ بات مرزا
غلام احمد نے بیسیوں جگہ اپنی کتابوں میں لکھی ہے۔
غلام احمد قادیانی ایسا بدبخت اور شقی ترین انسان ہے کہ جھوٹ بولنے سے بھی باز نہیں آتا، چنانچہ اس بات میں بھی وہ
جھوٹ بولتا ہے۔
ہاں تو قرآن کریم میں کہاں لکھا ہے کہ انہوں نے کہا کہ مجھے قوم کی گمراہی کا علم نہیں؟ البتہ قرآن کریم میں تو
یہ ہے:
’’وَاِذْ قَالَ اللہُ یٰعِیْسَی ابْنَ مَرْیَمَ ءَأَنْتَ قُلْتَ لِلنَّاسِ اتَّخِذُوْنِی وَاُمِّیَ اِلٰہَیْنِ
مِنْ دُوْنِ اللہِ قَالَ سُبْحَانَکَ
236
مَا یَکُوْنُ لِیْ اَنْ اَقُوْلَ مَا لَیْسَ لِیْ بِحَقٍّ، اِنْ کُنْتُ قُلْتُہٗ فَقَدْ
عَلِمْتَہٗ۔‘‘
ترجمہ:۔۔۔’’میں ایسی بات کہوں جس کا مجھے علم نہیں، (توبہ! توبہ!) اگر میں نے ایسی بات کہی ہوگی تو
وہ آپ کے علم میں ہوگی۔‘‘
مرزائیوں سے سوال!
میں کہتا ہوں کہ مرزائیوں سے پوچھو کہ اس سے ایک رکوع پہلے:
’’یَوْمَ یَجْمَعُ اللہُ الرُّسُلَ فَیَقُوْلُ مَاذَا اُجِبْتُمْ‘‘
(المائدہ:۱۰۹)
ترجمہ:... ’’جس دن اللہ تعالیٰ رسولوں کو جمع کریں گے اور پوچھیں گے کہ تمہیں کیا جواب ملا تھا؟‘‘
اس کا کیا مطلب ہے؟ یعنی رسولوں سے کہا جائے گا کہ جب تم نے اپنی قوم کو دعوت دی تو انہوں نے تمہیں کیا جواب دیا
تھا؟ اس آیت کا یہی مطلب ہے یا کچھ اور؟ دریافت طلب امر یہ ہے کہ اس کے جواب میں جو انبیاء کہیں گے: ’’لَا عِلْمَ لَنَا‘‘ (ہمیں پتہ نہیں) اس کا کیا جواب ہے؟ اب مرزائیوں سے اس کا جواب لو کہ
اس کا کیا مطلب ہے؟ مرزائیو! چلو! مجھے اس کا جواب دو! کیوں بات سمجھ آئی کہ نہیں؟
مرزائی کہتے ہیں کہ جب عیسیٰ علیہ السلام آئیں گے اور دیکھیں گے کہ ان کی قوم گمراہ ہوگئی تو معلوم ہوا کہ ان کو
علم تو ہوگیا کہ میری قوم گمراہ ہوگئی ہے، تو پھر وہ اللہ کو کیوں کہیں گے کہ مجھے پتہ نہیں؟ میں نے کہا ناں کہ حضرت
عیسیٰ علیہ السلام نے یہ کب کہا ہے کہ مجھے پتہ نہیں؟ یہ ان پر تہمت و افترا ہے، ٹھیک ہے کہ نہیں؟
اس کے علاوہ میں قادیانیوں سے پوچھتا ہوں کہ تمام رسولوں اور انبیاء سے جب قیامت کے دن کہا اور پوچھا جائے گا کہ:
’’مَاذَا اُجِبْتُمْ‘‘ مہیں کیا جواب ملا؟ تو وہ تو کہیں
237
گے:’’لَا عِلْمَ لَنَا‘‘ اس کا کیا مطلب ہے؟ قادیانیو! تم تو تہمت لگانے جارہے
تھے حضرت عیسیٰ علیہ السلام پر مگر خود پھنس گئے، اس کا جواب دو کہ انبیاء علیہم السلام ایسا کیوں کہیں گے؟ اور اگر
قرآن کو مانتے ہو تو بتلاؤ اس کا کیا مطلب ہے؟ کیا نعوذ باللہ! قرآن ہم سے جھوٹ بول رہا ہے؟ دیکھو اس کو کہتے
ہیں: ’’جادو وہ جو سر چڑھ کر بولے!‘‘
حضرت عیسیٰ ؑسے قوم کی گمراہی کا سوال ہی نہیں ہوگا:
حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے تو کہا ہی نہیں کہ مجھے پتہ نہیں، مگر قادیانی ان پر افترا باندھتے ہیں کہ وہ کہیں گے
مجھے پتہ نہیں، حضرت عیسیٰ علیہ السلام سے تو صرف یہ پوچھا جائے گا کہ کیا تم نے ان کو یہ کہا تھا؟ وہ فرمائیں گے:
توبہ! توبہ! میں ایسی بات کیسے کہہ سکتا تھا جس کا مجھ کو خود علم نہیں، قوم کے کفر و شرک کے بارے میں وہ یہ نہیں
کہیں گے کہ مجھے کچھ پتہ نہیں، اس لئے ان سے تو پوچھا ہی یہ جائے گا کہ تم نے ان کو کہا تھا یا ان کو یہ تعلیم دی
تھی؟ دراصل قوم کو ڈانٹنا مقصود ہوگا، حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو ڈانٹنا مقصود نہیں ہوگا، لیکن بایں ہمہ حدیث شریف
میں آتا ہے کہ جب حق تعالیٰ شانہ کی طرف سے یہ پُرجلال خطاب ہوگا کہ کیا تم نے اپنی قوم کو یہ کہا تھا؟ تو حضرت
عیسیٰ علیہ السلام کے رونگٹے کھڑے ہوجائیں گے اور ان پر لرزہ طاری ہوجائے گا، تب وہ کہیں گے: سبحانک! توبہ توبہ،
پہلے توبہ اور پھر سبحانک، یعنی میری توبہ بھلا میں ایسی بات کہہ سکتا ہوں اور وہ بھی آپ کی ذات کے بارہ میں، اس
لئے کہ آپ کی ذات تو پاک ہے، اس لئے فرمایا:’’اَنْ اَقُوْلَ مَا لَیْسَ لِیْ بِحَقٍّ‘‘
اے اللہ! میں آپ کو پاک سمجھتا ہوں اس بات سے کہ میں کہوں ایسی بات جس کا مجھ کو علم نہیں، یعنی حق نہیں اور میرے
علم میں نہیں، مجھے یہ کہنے کا حق ہی نہیں۔’’اِنْ کُنْتُ قُلْتُہٗ فَقَدْ عَلِمْتَہٗ‘‘
اگر میں نے یہ بات کہی ہے تو آپ کے علم میں ہوگی، یعنی آپ کے علم میں نہیں تو میں نے نہیں کہی، ’’تَعْلَمُ مَا فِیْ نَفْسِیْ وَلَا اَعْلَمُ مَا فِیْ نَفْسِکَ‘‘ (اس لئے کہ) آپ میرے دل
کی بات جانتے ہیں، اور میں آپ کے دل کی بات نہیں جانتا۔
سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا اللہ کا بھی دل ہوتا ہے؟ جواب مشاکلت (لفظی
238
مشابہت) کے طرز پر استعمال کیا ہے۔
آپ ہی بتلائیں کہ اس پوری تفصیل میں کہیں آیا ہے کہ عیسیٰ علیہ السلام کہیں گے کہ مجھے پتہ نہیں کہ قوم گمراہ
ہوگئی تھی؟ اگر قرآن میں کہیں نہیں آیا تو مرزا ملعون، حضرت عیسیٰ علیہ السلام پر یہ تہمت کیوں لگاتا ہے؟ اور یہ
کیوں کہتا ہے کہ: ’’اگر وہ آئیں گے تو کیا جھوٹ بولیں گے؟‘‘ نعوذ باللہ! یہ تو خالص جھوٹ اور افترا ہے۔
مرزائی مغالطہ اور اس کا جواب:
مرزائی یہ جھوٹ بولتے ہیں کہ اگر عیسیٰ علیہ السلام آئیں گے تو ان کا جھوٹ بولنا لازم آئے گا، جبکہ جھوٹ بولنا ان
کی شان کے خلاف ہے، یہ مرزائیوں کا خودساختہ مغالطہ ہے کہ اگر وہ دوبارہ آئیں گے اور قوم کی حالت دیکھ جائیں گے اور
پھر جب اللہ تعالیٰ ان سے قیامت کے دن پوچھیں گے: ’’ءَأَنْتَ قُلْتَ لِلنَّاسِ‘‘ اور وہ
کہیں گے کہ میں نہیں جانتا، تو یہ ان کا جھوٹ ہوگا۔
جواب:... اس قادیانی مغالطہ کا حکیم الامت حضرت مولانا محمد اشرف علی تھانوی قدس سرہٗ نے ’’بیان القرآن‘‘ میں
نہایت نفیس جواب دیا ہے، چنانچہ حضرتؒ لکھتے ہیں:
’’پس اس باب میں (حضرت عیسیٰ علیہ السلام) یوں عرض کریں گے کہ میں ان کی حالت پر مطلع رہا جب تک ان میں موجود رہا،
سو اس وقت تک کا حال تو میں نے مشاہدہ کیا ہے، اس کے متعلق بیان کرسکتا ہوں، پھر جب آپ نے مجھ کو اُٹھالیا، یعنی
اوّل بار میں تو زندہ آسمان کی طرف، اور دوسری بار میں وفات کے طور پر، تو اس وقت صرف آپ ان کے احوال پر مطلع رہے،
اس وقت کی مجھ کو کچھ خبر نہیں کہ ان کی گمراہی کا سبب کیا ہوا؟ اور کیونکر ہوا؟‘‘
(بیان القرآن ج:۳ ص:۷۵ مطبوعہ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی)
239
مرزا غلام احمد کا نزولِ مسیح کا اقرار:
اس کے علاوہ مرزا غلام احمد قادیانی اپنی کتاب ’’آئینہ کمالاتِ اسلام‘‘ یعنی اسلام کے کمالات کا آئینہ، جس کا
دوسرا نام ’’دفع الوسواس‘‘ بھی ہے، اسی کتاب کے بارہ میں مولانا محمد حسین بٹالوی مرحوم فرمایا کرتے تھے کہ:
’’آئینہ کمالاتِ اسلام‘‘ کے بجائے اس کا نام ہونا چاہئے ’’آئینہ وساوس‘‘ کیونکہ اس میں سارے وساوس ہی جمع ہیں۔
میرے خیال میں بھی اس کا یہی نام ہونا چاہئے تھا، خیر تو مرزا قادیانی اپنی اس کتاب میں کہتا ہے کہ:
’’یہاں پر یہ بات بھی ذکر کردینا ضروری ہے کہ حضرت مسیح کی روحانیت نے تین بار جوش مارا، ایک مرتبہ جب ان کو بتایا
گیا کہ تیری قوم گمراہ ہوگئی ہے، تو وہ اللہ تعالیٰ کے گھر میں سر بسجود ہوئے اور اللہ تعالیٰ نے ان کی اس گریہ و
زاری کو سن کر محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو بھیج دیا، اور دوسری مرتبہ جب انہوں نے گریہ زاری کی تو پھر
فقیر کو بھیج دیا اور مجھے بتایا گیا ہے کہ تیسری مرتبہ پھر حضرت مسیح کی روح، اللہ تعالیٰ کے سامنے تڑپے گی اور وہ
خود ہی آجائیں گے۔‘‘
(ملخصاً: روحانی خزائن ج:۵ ص:۳۴۱، ۳۴۲)
مجھے اس خبیث کی اس واہیات اور لغویات سے بحث نہیں، البتہ مجھے یہ بتانا ہے کہ وہ خود لکھتا ہے کہ: ’’ایک دفعہ پھر
آئیں گے‘‘ یہ خود اس کا کشف ہے کہ مسیح کے ساتھ تین دفعہ یہ واقعہ پیش آیا، گویا وہ یہ کہنا چاہتا ہے کہ جب حضرت
عیسیٰ علیہ السلام کو قوم کی گمراہی کا پتہ چل گیا تو اب ان کا یہ کہنا کہ ’’مجھے معلوم نہیں کہ میری قوم گمراہ ہوئی
ہے‘‘ جھوٹ ہوگا۔
لیکن جیسا کہ میں نے پہلے حضرت تھانویؒ کے بیان القرآن کے حوالہ سے عرض کیا ہے کہ ان کے خودساختہ تضاد کا حل یہ ہے
کہ جتنا عرصہ وہ قوم کے پاس نہیں رہے اس کے بارہ میں فرمادیں گے کہ مجھے نہیں معلوم، اس طرح یوں وہ تضاد حل ہوگیا۔
لیکن اگر قادیانیوں میں ذرا بھی عقل و فہم ہو تو وہ مرزا کے اس کشف سے بخوبی
240
سمجھ سکتے ہیں کہ مرزا خود بھی نزولِ مسیح کا قائل ہے، چنانچہ وہ لکھتا ہے کہ: ’’ایک دفعہ پھر آئیں گے۔‘‘
غلام احمد، امامِ ضلالت تھا:
سوال:... مرزائی یہ بھی کہتے ہیں کہ جب اماموں کی اتباع ضروری ہے تو ان میں سے ایک غلام احمد قادیانی بھی تو ہے۔
جواب:... پہلی بات یہ ہے کہ مرزا کو سوائے قادیانیوں کے کون امام مانتا ہے؟
دوم:... اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں دو قسم کے اماموں کا تذکرہ فرمایا ہے، ایک ائمہ ہدایت اور دوسرے ائمہ ضلالت،
چنانچہ ائمہ ہدایت کا ذکر کرتے ہوئے ارشاد ہے:
’’وَجَعَلْنَا مِنْھُمْ اَئِمَّۃً یَّھْدُوْنَ بِاَمْرِنَا لَمَّا صَبَرُوْا‘‘
(سجدہ:۲۴)
ترجمہ:... ’’اور بنایا ہم نے ان کو امام کہ وہ ہدایت دیتے ہیں ہمارے حکم سے جبکہ انہوں نے صبر کیا۔‘‘
اسی طرح ائمہ ضلالت کا ذکر کرتے ہوئے ارشاد ہے:
’’وَجَعَلْنَاھُمْ اَئِمَّۃً یَّدْعُوْنَ اِلَی النَّارِ۔‘‘
(الانبیاء:۷۳)
ترجمہ:... ’’اور ہم نے بنایا ان کو (فرعون اور فرعون کے لوگوں ہامان وغیرہ کو) ائمہ ضلالت وہ لوگوں
کو بلاتے تھے جہنم کی آگ کی طرف۔‘‘
گویا فرعون، ہامان وغیرہ کا تذکرہ کرتے ہوئے فرمایا گیا کہ وہ اہلِ نار کے امام تھے کہ لوگوں کو جہنم کی آگ کی طرف
بلاتے تھے، تو گویا قرآن میں دو قسم کے اماموں کا تذکرہ ہے، ایک ائمہ ہدایت اور دوسرے ائمہ ضلالت و گمراہی کا۔
ائمہ ہدایت تو لوگوں کو جنت کی طرف راہ نمائی کرتے اور بلاتے تھے، جبکہ ائمہ ضلالت یعنی گمراہی کے امام لوگوں کو
کھینچتے تھے دوزخ کی طرف، لہٰذا ہم یہ تو کہتے ہیں کہ
241
اماموں کی اقتدا کرنی چاہئے، لیکن ائمہ ہدایت کی نہ کہ ائمہ ضلالت کی، اب چونکہ مرزا امامِ ضلالت ہے، اس لئے
اس کی اقتدا کی بجائے اس سے دور بھاگنا چاہئے، کیونکہ قرآن کریم میں ہے کہ ائمہ ضلالت قیامت کے دن خود گرفتارِ عذاب
ہوں گے اور ’’یَوْمَ الْقِیَامَۃِ لَا یُنْصَرُوْنَ‘‘ کے مصداق وہ کسی کے کام نہیں
آئیں گے، لہٰذا ائمہ ہدایت کی اتباع کرو نہ کہ ائمہ ضلالت کی۔
حدیث میں ’’آسمان‘‘ کا لفظ نہیں:
سوال:... مرزائی، حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے بارہ میں کہتے ہیں کہ حدیث میں نزول کا ذکر ہے، اور ’’امامکم منکم‘‘ کے لفظ بھی ہیں، مگر اس میں ’’آسمان‘‘ کا لفظ نہیں ہے، ہاں البتہ بیہقی میں
’’نزول من السماء‘‘ کا لفظ ہے، مگر بخاری شریف میں ’’نزول من السماء‘‘ کا لفظ نہیں ہے۔
جواب:... حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے بارے میں دو لفظ آئے ہیں، ایک ’’رفع‘‘ کا اور ایک ’’نزول‘‘ کا، مرزائی کہتے
ہیں کہ حدیث میں ’’نزول من السماء‘‘ کا لفظ تو نہیں ہے، البتہ’’ینزل عیسیٰ بن مریم‘‘ کے
الفاظ ہیں، اس قادیانی شبہ کے کئی جواب ہیں:
الف:... مرزا غلام احمد قادیانی خود ’’نزول من السماء‘‘ کا قائل ہے، چنانچہ مرزا غلام احمد قادیانی نے خود کہا ہے
کہ: ’’دیکھو حدیث میں آتا ہے کہ جب مسیح آسمان سے نازل ہوگا۔‘‘ (ازالۂ اوہام، روحانی خزائن ج:۳ ص:۱۳۲) جس سے
معلوم ہوا کہ وہ خود بھی مسیح کے نزول من السماء کا قائل ہے، اس کا حوالہ میری کتاب ’’تحفہ قادیانیت‘‘ جلد سوم میں
ملفوظات کے حوالہ سے موجود ہے۔
ب:... مرزائیوں کا یہ کہنا کہ حدیث میں ’’نزول من السماء‘‘ کے الفاظ نہیں ہیں، جھوٹ ہے، کیونکہ خود مرزا کہتا ہے
کہ: ’’صحیح مسلم میں ہے کہ جب مسیح آسمان سے نازل ہوں گے‘‘ (ازالۂ اوہام، روحانی خزائن ج:۳ ص:۱۲۲) معلوم ہوا کہ
خود مرزے کے دماغ میں بھی ’’نزول من السماء‘‘ ہی ہے۔
242
ج:... جب وہ اپنے بیٹے کے بارہ میں خود کہتا ہے:’’کأن اللہ نزل من السماء‘‘ (گویا اللہ
تعالیٰ آسمان سے نازل ہوئے)، تو ظاہر ہے جہاں سے اس کا بیٹا نازل ہوا تھا، حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو بھی وہاں سے
ہی آنا چاہئے تھا، خیر یہ تو الزامی جواب ہوا۔
د:... دیکھو بھائی! اگر ’’نزول من السماء‘‘ کا لفظ صحیح بخاری، مسلم، صحاحِ ستہ یا کسی دوسری حدیث کی کتاب میں
آجاتا تو قادیانی کہہ سکتے تھے کہ مولوی کی بات ہے، لیکن جب خود ان کے مسیح موعود کی کتاب میں موجود ہے کہ: ’’حدیث
میں آتا ہے کہ جب مسیح آسمان سے نازل ہوگا‘‘ تو اس سے بڑھ کر کسی مضبوط حوالہ کی ضرورت رہ جاتی ہے؟ لہٰذا معلوم
ہوا کہ خود مرزا اس کا قائل ہے کہ حضرت مسیح آسمان سے نازل ہوں گے، یعنی قطع نظر اس کے کہ صحیح بخاری، مسلم، صحاحِ
ستہ اور حدیث کی دوسری کتابوں میں موجود ہے، مگر قادیانیوں کے نزدیک ان سب سے بڑھ کر قابلِ اعتماد مرزا غلام احمد
قادیانی کا حوالہ تھا، جب میں نے وہ پیش کردیا تو مزید کسی حوالہ کی ضرورت رہ جاتی ہے؟ نہیں! ہرگز نہیں!
ہ:... مرزا جی کا دوسرا حوالہ ہے کہ: ’’صحیح مسلم میں ہے کہ جب مسیح آسمان سے نازل ہوگا تو دو زرد رنگ کی چادریں
اس نے پہن رکھی ہوں گی۔‘‘ اگرچہ ہمارے ہاں صحیح مسلم میں یہ الفاظ نہیں ہیں، لیکن غلام احمد قادیانی غلط تو نہیں کہہ
سکتے ناں؟ آخر یہ قادیانیوں کے مسیح موعود جو ہوئے!
ز:... آخری بات جو نہایت غور و فکر اور سمجھنے کی ہے، وہ یہ کہ جیسا کہ میں پہلے بتاچکا ہوں کہ: ’’بَلْ رَّفَعَہُ اللہُ اِلَیْہِ‘‘ سے مراد رفع الی السماء ہے، اور حدیث میں آتا ہے کہ حضرت
عیسیٰ علیہ السلام آخر زمانہ میں نازل ہوں گے، تو رفع اور نزول (اُوپر جانا اور نیچے آنا) کے درمیان طباق یعنی
مطابقت تب ہی ہوگی کہ جہاں گئے تھے وہیں سے واپس آئیں، کیونکہ جیسے زمین و آسمان اور ذکر و اُنثیٰ یعنی مرد و عورت
کے درمیان مقابلہ ہے ایسے ہی رفع و نزول کے درمیان بھی طباق و مقابلہ ہے، یعنی ایک دوسرے کے مقابل ہیں، چنانچہ اگر
رفع سے مراد رفع الی السماء ہے تو نزول سے مراد بھی نزول من السماء ہوگا، یعنی جس طرف رفع ہوا تھا اسی طرف سے نزول
ہوگا۔
243
اب آپ خود ہی سمجھیں اور قادیانیوں سے سوال کریں کہ مرزا کہاں سے آیا تھا؟
پھر یہ بھی قابلِ غور نکتہ ہے کہ ’’نزیل‘‘ مہمان کو کہتے ہیں، اور ’’تنزل‘‘ بھی نزیل سے مأخوذ ہے، مگر کسی محاورہ
عربی میں مہمان کے لئے ینزل کا لفظ استعمال نہیں ہوتا، معلوم ہوا کہ نزیل زمین سے آنے والے مہمان کو کہتے ہیں، اور
جب ینزل کا لفظ بولا جائے تو اس سے مراد ہوتا ہے کہ آسمان سے نازل ہونے والا، کیونکہ تنزل رفع کے مقابلہ میں واقع
ہوا ہے۔
شبِ معراج میں نزولِ عیسیٰ پر انبیاء کا اجماع:
سنن ابن ماجہ میں بھی حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کی حدیث ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے شبِ معراج
سے واپسی پر فرمایا کہ:
’’شبِ معراج میں میری ملاقات حضرت ابراہیم، حضرت موسیٰ اور حضرت عیسیٰ علیہم السلام سے ہوئی، اس محفل میں یہ گفتگو
ہوئی کہ قیامت کب آئے گی؟ (سب سے) پہلے حضرت ابراہیم علیہ السلام سے دریافت کیا گیا، انہوں نے فرمایا کہ: مجھے اس
کا علم نہیں! پھر موسیٰ علیہ السلام کی باری آئی، انہوں نے بھی لاعلمی کا اظہار کیا، پھر عیسیٰ علیہ السلام سے
دریافت کیا گیا تو انہوں نے فرمایا کہ: قیامت کب برپا ہوگی؟ اس کا ٹھیک وقت تو اللہ تعالیٰ کے سوا کسی کو بھی معلوم
نہیں، البتہ مجھ سے میرے ربّ کا عہد ہے کہ قیامت سے پہلے دجال نکلے گا تو میں اس کو قتل کرنے کے لئے نازل ہوں گا۔‘‘
(ابن ماجہ ص:۳۰۹، مسند احمد ج:۱ ص:۳۷۵، حاکم ج:۴ ص:۵۴۵)
تو حدیث کے الفاظ ہیں کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے فرمایا:
’’اما وجبتھا، لَا یعلمھا الّا اللہ! اما دون وجبتھا وفیما عہد الیّ ربی ان الدجال خارج وانزل واقتل۔‘‘
244
یعنی عین وہ وقت جس میں قیامت ہوگی، اس کو تو اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی نہیں جانتا، ہاں! قیامت سے پہلے پہلے میرے رب
کا مجھ سے ایک وعدہ ہے کہ دجال نکلے گا تو میں نازل ہوکر اس کو قتل کروں گا۔ یہ ہے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا نزول۔
نزولِ عیسیٰ کا عقیدہ، خداوندی عقیدہ ہے:
میں نے اپنی کتاب: ’’حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی حیات و نزول کا عقیدہ چودہ صدیوں کے مجدّدین و اکابرِ اُمت کی نظر
میں‘‘ کے اندر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے لے کر چودہویں صدی بلکہ پندرہویں صدی کے زندہ اور وفات یافتہ اکابرؒ
کے عقائد جمع کئے ہیں، میں نے اس کتاب میں صدی وار اکابرینِ اُمت مثلاً: پیرانِ پیر، امام ابوحنیفہؒ، امام مالکؒ،
امام شافعیؒ اور امام غزالیؒ وغیرہ اکابرِ اُمت کے حیات و نزولِ عیسیٰ علیہ السلام کے عقیدہ کو لکھا ہے۔ وہاں میں نے
یہ بھی لکھا ہے اور اس نکتہ کو مجھ سے خوب سمجھ لو، بعد میں کتاب بھی دیکھ لینا، ہاں تو میں نے وہاں لکھا کہ:
انبیائے کرام علیہم السلام کی محفل میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام تقریر فرما رہے ہیں، اور اس میں کہتے ہیں کہ مجھ سے
میرے رَبّ کا وعدہ ہے، اور وہ اس کو نقل کر رہے ہیں، اور انبیائے کرام بالاجماع اس کو تسلیم کر رہے ہیں، اور رسول
اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس کی روایت فرما رہے ہیں، تو یہ عقیدہ خداوندی ہوا، کوئی ایک نبی بھی اس سے باہر نہیں سب
شامل ہیں، اور خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس کو روایت فرماکر اس پر مہرِ تصدیق ثبت فرما رہے ہیں، تو یہ اللہ
تعالیٰ کا، حضراتِ انبیائے کرام کا اور پوری اُمت کا عقیدہ ہوا، اس حدیث کی صحت یا اس کے راویوں میں سے کسی ایک راوی
پر کوئی کلام نہیں، اس کے کسی راوی پر کسی محدث نے یہ نہیں کہا کہ یہ کمزور ہے۔
حدیثِ ابن ماجہ اور حافظ ابن حجرؒ:
حافظ ابنِ حجرؒ نے یہ حدیث اپنی کتاب فتح الباری میں نقل کی ہے، اور کہا ہے کہ یہ روایت صحیح ہے، حالانکہ حافظؒ نے
مقدمہ فتح الباری میں وعدہ کیا ہے کہ میں اس کتاب میں جتنی روایتیں نقل کروں گا، صحیح ہوں گی یا حسن، اگر میں کوئی
ضعیف روایت نقل کروں گا تو اس
245
پر تنبیہ کروں گا کہ یہ روایت ضعیف ہے، مگر حافظ ابن حجرؒ نے اس حدیث کو نقل کرکے کہا ہے کہ یہ روایت صحیح
ہے، مسندِ احمد، مستدرک حاکم، ابن ماجہ اور دوسری کتابوں میں موجود ہے، حافظ ابن حجرؒ کے علاوہ دوسرے ائمہ حدیث نے
بھی اس کو صحیح کہا ہے۔ اس قدر وضاحت کے بعد میری عقل میں نہیں آتا کہ میں اس سے زیادہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے
آسمان سے نزول کے بارہ میں اور کیا ثبوت دوں؟
لا مہدی الا عیسیٰ ابن مریم:
’’لَا مہدی الّا عیسَی ابن مریم‘‘ یعنی نہیں ہے مہدی مگر عیسیٰ ابن مریم۔ اس روایت کو
لے کر قادیانی کہا کرتے ہیں کہ امام مہدی اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام ایک ہی شخص کے دو نام ہیں، اور وہ مرزا قادیانی
ہے، یعنی مہدی اور عیسیٰ الگ الگ شخصیتیں نہیں ہیں۔
جواب:... یہ ابن ماجہ کی روایت کا ایک ٹکڑا ہے، پہلی بات تو یہ ہے کہ اگر ہم اس روایت کو صحیح مان بھی لیں تو سوال
یہ ہے کہ اس سے قادیانیوں کو کیا فائدہ پہنچے گا؟ اور ہمیں اس سے کیا نقصان ہوگا؟ کیا اس حدیث کے ثبوت سے مرزا غلام
احمد قادیانی مہدی یا عیسیٰ بن جائے گا؟ کیا اس میں اس کا کہیں کوئی تذکرہ ہے؟ اگر ہے تو بتلاؤ! اگر ہم اس حدیث کو
صحیح مان بھی لیں تو زیادہ سے زیادہ ہمیں یہ نقصان ہوگا کہ مہدی اور عیسیٰ ایک ہی شخصیت کے دو نام ہیں، جبکہ ہمارا
احادیث کی روشنی میں عقیدہ ہے کہ مہدی الگ ہے، اور مسیح الگ ہے، اور واقعہ بھی یہی ہے۔
اب سوال یہ ہے کہ قادیانی اس روایت کے زور پر کہتے ہیں کہ وہی مہدی ہے اور وہی عیسیٰ ہے، ہم ان سے کہتے ہیں کہ چلو
تم ایک بات ثابت کردو، دوسری ہم خودبخود مان لیں گے، تمہیں دلیل پیش کرنے کی ضرورت ہی پیش نہیں آئے گی، چلو تم غلام
احمد قادیانی میں مہدی کی صفات میں سے کوئی ایک صفت ثابت کردو، ہم مان لیں گے کہ وہ عیسیٰ بھی تھا، یا حضرت عیسیٰ
علیہ السلام کی خاص صفات میں سے کوئی ایک صفت ثابت کردو، ہم مان لیں
246
گے کہ وہ مہدی بھی تھا، اور میں اس پر دستخط کرنے کو تیار ہوں، لیکن یاد رکھو! صفات سے مراد وہ خاص امتیازی
صفات ہیں، یہ نہیں کہ میرے دو کان ہیں اور عیسیٰ کے بھی دو کان ہوں گے، یہ تو کوئی صفت نہ ہوئی، کیونکہ یہ کسی انسان
کے ساتھ خاص نہیں بلکہ ہر ایک میں مشترک ہیں۔
میں کہتا ہوں کہ سورج ادھر سے ادھر نکل سکتا ہے، لیکن قادیانی، غلام احمد میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی صفاتِ خاصہ
میں سے کوئی ایک صفت بھی ثابت نہیں کرپائیں گے۔
اب سوال یہ ہے کہ پھر ’’لَا مہدی الّا عیسَی ابن مریم‘‘ کی بحث کا کیا فائدہ؟
ہم کہتے ہیں کہ مہدی الگ ہے اور عیسیٰ الگ ہے، اور تم کہتے ہو کہ ایک ہی ہے، شاید اسی لئے کہ تمہیں دو آدمی نہ
ثابت کرنا پڑیں؟ ہم کہتے ہیں چلو ایک ہی ثابت کردو۔
پھر یہ بات بھی قابلِ توجہ ہے کہ جب سو احادیث کہتی ہیں کہ عیسیٰ آئیں گے اور ایک روایت کہتی ہے کہ مہدی ہی عیسیٰ
ہے، تو اس کا تو یہ مطلب ہوا کہ عیسیٰ آئیں گے! رہی یہ بات کہ مہدی ہے یا نہیں؟ اس کو چھوڑ دو، کیونکہ ہم فی الحال
مہدی کی بحث ہی نہیں کرتے، اور یہ تو تم نے بھی تسلیم کرلیا کہ عیسیٰ لازماً آئیں گے، اور خود تم نے اس حدیث میں
بھی تسلیم کرلیا، اس لئے اگر بالفرض ہم اس حدیث کو من و عن تسلیم کرلیں اور کسی قسم کی کوئی تأویل نہ کریں تو زیادہ
سے زیادہ یہی ہوگا کہ ہمیں مہدی کا انکار کرنا پڑے گا؟ چلو ایک منٹ کے لئے ہم یہ بھی فرض کرلیتے ہیں کہ مہدی نہیں
آئے گا، تو سوال یہ ہے کہ عیسیٰ کی صحت پر اس کا کیا اثر پڑے گا؟ کیونکہ احادیث کہتی ہیں کہ عیسیٰ آئیں گے، بھائی!
مہدی آئے یا نہ آئے، تمہیں اس سے کیا واسطہ؟
یہ حدیث موضوع ہے:
۲:... اس شبہ / اِشکال کا دوسرا جواب یہ ہے کہ یہ حدیث بہت سے علماء اور محدثین کے نزدیک صحیح نہیں، چنانچہ حضرت
مولانا شاہ محمد اسحاق دہلوی قدس سرہٗ کے شاگرد،
247
اور حضرت مولانا رشید احمد گنگوہیؒ اور مولانا محمد قاسم نانوتویؒ کے استاذ حضرت مولانا شاہ عبدالغنی مجدّدی
دہلوی رحمۃ اللہ علیہ نے اپنے حاشیۂ ابن ماجہ میں اس حدیث کے بارہ میں لکھا ہے کہ یہ روایت صحیح نہیں۔
۳:... اگر بالفرض یہ مان لیا جائے کہ یہ حدیث صحیح ہے، تو اس کا جواب یہ ہوگا کہ اس ایک روایت کے مقابلہ میں
احادیثِ متواترہ موجود ہیں کہ عیسیٰ، مہدی کے پیچھے نماز پڑھیں گے، تو احادیثِ متواترہ کی بات قابلِ اعتماد ہوگی یا
ایک ایسی روایت کی جس کی صحت و ضعف ہی نہیں بلکہ موضوع ہونے میں بحث ہے؟
فائدہ:... ہر وہ روایت جو صحاحِ ستہ میں سے صرف ابن ماجہ میں ہو اور دوسرے صحاحِ خمسہ میں نہ ہو وہ ضعیف ہوتی ہے،
سوائے چند احادیث کے، جو اس قانون سے مستثنیٰ ہیں، اس کے علاوہ ابن ماجہ میں چالیس کے قریب موضوع یعنی من گھڑت
حدیثیں بھی ہیں۔
سو(۱۰۰) کی مانیں یا ایک کی؟
اب سنو کہ متواتر احادیث میں موجود ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام حضرت مہدی کے پیچھے نماز پڑھیں گے، معلوم ہوا کہ
دونوں شخصیتیں الگ الگ ہیں، مگر یہ روایت اس کے خلاف ہے، اب دو ہی صورتیں ہوسکتی ہیں یا تو ہم اس روایت میں تأویل
کریں، اس کا کوئی صحیح مطلب بتائیں یا اس کو ردّ کردیں۔ سو آدمی ایک بات کی گواہی دیتے ہیں، اور بے چارہ ایک آدمی
دوسری گواہی دیتا ہے، بتلایا جائے کہ سو کی گواہی معتبر ہوگی یا ایک کی؟ ظاہر ہے ایک کے مقابلہ میں سو کی گواہی
معتبر ہوگی، اور ایک کی گواہی مردود ہوگی۔
ہاں! اس ایک کی گواہی کے بارہ میں یہ تو کہہ سکتے ہیں کہ جی اس کا مطلب یہ تھا، یا یہ کہنا چاہتا ہے، گویا اس کی
بات میں تأویل کرسکتے ہیں، مگر اس کی بات کو بنیاد بناکر سو آدمی کی شہادت کو ردّ نہیں کریں گے، یہ بات ٹھیک ہے
ناں؟ کیونکہ یہ عقلی اصول ہے۔
248
مرزائیوں کی نرالی عدالت!
مجھے دنیا کی کوئی عدالت بتادو جو ایک آدمی کے کہنے پر سو آدمیوں کی گواہی کو ردّ کردے، چلو ایک کے مقابلہ میں سو
کی نہیں، ایک کے مقابلہ میں دس آدمی کی گواہی کو ردّ کردے، یا ادھر دس آدمی ہوں اور ادھر چار آدمی، چاہے وہ نہایت
ہی ثقہ، معتمد اور قابلِ اعتماد ہی کیوں نہ ہوں، کہ ایک سو یا دس یا چار آدمی قصہ کچھ بیان کرتے ہوں مگر ان کے
مقابلہ میں ایک آدمی کہتا ہے کہ نہیں قصہ یوں ہے، بتلایا جائے کہ کوئی دنیا کی عدالت ایسی ہے جو چار آدمیوں کے
مقابلے میں ایک آدمی کی گواہی کو قبول کرلے؟ بلاشبہ مسلم و کافر دنیا کی کوئی عدالت ایسی نہیں جو یہ کہے کہ سو کے
مقابلہ میں ایک کی، یا دس کے مقابلہ میں ایک کی، یا چار کے مقابلہ میں ایک کی گواہی معتبر ہے، ہاں! البتہ مرزائیوں
کی نرالی عدالت ہے جو یہ کہتی ہے کہ ان کے مطلب کی ایک روایت بھی، ان کے مخالف کی صحیح اور متواتر سو روایات کے
مقابلہ میں بھی قابلِ اعتماد ہے، اس لئے وہ ان تمام صحیح اور متواتر احادیث کو بھی ردّ کردیتے ہیں جو ان کے موقف کے
متعارض ہوں۔
حدیث’’لَا مہدی إلّا عیسٰی‘‘ کی تأویل:
اچھا اب سنو! میں نے کہا تھا کہ یہ روایت مخالف ہے احادیثِ صحیحہ متواترہ کی، اب اس کی دو صورتیں ہوسکتی ہیں، ایک
یہ کہ ہم اس کی تأویل کریں، یا پھر اس کو ردّ کردیں، یعنی کنڈم کردیں، اگر کنڈم کرنے کے قابل تھی تو پیش ہی کیوں
کی؟ اور اگر تم اس کی تأویل کرتے ہو تو تم ہی بتاؤ اس کی کیا تأویل کریں؟ ہم قادیانیوں سے پوچھتے ہیں کہ: ہونا تو
یہ چاہئے تھا کہ سو کے مقابلہ میں اس کی حیثیت نہیں تھی تو اس کو ردّ کردیتے، چلو ہم تمہارے اطمینان کے لئے اس کو
ردّ نہیں کرتے تو اس کی تطبیق کے لئے کیا تأویل کریں؟ بہرحال علماء نے اس کی دو تأویلیں کی ہیں:
اَوّل: کامل مہدی:
ایک تأویل یہ کی ہے کہ: ’’لَا مہدی الّا عیسٰی‘‘ سے مراد ہے کامل ترین
249
مہدی جو اس اُمت میں آئے گا وہ عیسیٰ علیہ الصلوٰۃ والسلام ہوں گے، لہٰذا ’’لَا مہدی
الّا عیسٰی‘‘ میں ’’لَا‘‘ نفیٔ کمال کے لئے ہے، نفی ذات و اصل کے لئے نہیں،
یعنی اس وقت مہدی کا اصطلاحی معنی مراد نہیں ہوگا، بلکہ یہاں مہدی کا لغوی معنی ’’ہدایت والا مراد ہوگا۔
مولانا عبدالرشید نعمانیؒ کا ابن ماجہ پر ایک مقدمہ ہے، جس کا نام ہے ’’ما تمس الیہ الحاجۃ لمن
یطالع سنن ابن ماجۃ‘‘ یہ بات ذہن میں رہے کہ ایک ہے ’’مصباح الزجاجہ‘‘ اور ایک
ہے ’’ما تمس الیہ الحاجہ‘‘ اور ایک ہے ’’انجاح الحاجہ‘‘ جو
شاہ عبدالغنی رحمۃ اللہ علیہ کا حاشیہ ہے۔
تو اس تأویل کی صورت میں ’’لَا مہدی‘‘ کے معنی ہوں گے کہ کامل ترین مہدی کوئی نہیں ہے،
سوائے عیسیٰ علیہ السلام کے۔
لغوی مہدی ہزاروں ہوئے:
اس اُمت میں لغوی معنی (ہدایت یافتہ) کے اعتبار سے آنے والے مہدی ہزاروں کی تعداد میں ہیں، چنانچہ حضرت ابوبکر
صدیق رضی اللہ عنہ بھی ہادی و مہدی ہیں، خلفائے راشدینؓ ہادی و مہدی تھے، حضرت معاویہؓ کے بارے میں بھی فرمایا:’’اَللّٰھُمَّ اجْعَلْہُ ھَادِیًا مَّھْدِیًّا‘‘ ، حضرت عمر بن عبدالعزیزؒ کو ساری اُمت مانتی
ہے، بلکہ ان کے زمانے کے لوگ تو یہ کہتے تھے کہ یہی مہدی آخر الزمان ہے، اور ایک مہدی جو عیسیٰ علیہ السلام کے
زمانے میں آئیں گے وہ بھی مہدی ہوں گے۔
حضرت عیسیٰ،ؑ کامل ترین مہدی:
تو ان ’’مہدیوں‘‘ اور ’’ہدایت یافتہ‘‘ لوگوں کے درمیان فرقِ مراتب ہے، لیکن کامل ترین مہدی جو اس اُمت میں آنے
والے ہیں، وہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام ہیں، کہ ان سے افضل ترین اور کامل ترین کوئی شخص نہیں، اس لئے کہ وہ نبی بھی
ہیں، صحابی بھی ہیں، ہادی بھی ہیں اور مہدی بھی ہیں، اس تأویل سے اس حدیث پر کوئی اشکال نہیں، احادیث میں ایسی
تأویلات کی بے شمار نظیریں موجود ہے، مثلاً: ارشاد ہے: ’’لَا دِیْنَ لِمَنْ لّا اَمَانَۃَ
لَہٗ!‘‘
250
اس شخص کا دین، دین ہی نہیں ہے جس کے پاس امانت نہیں ہے۔
اسی طرح حضرت انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ: ’’کلما خطبنا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم الّا
قال الَا! لَا دین لمن لَا امانۃ لہ!‘‘ یعنی بہت کم ایسا ہوا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں خطبہ
دیا ہو اور یہ بات نہ فرمائی ہو کہ اس شخص کا دین، دین ہی نہیں جس کے پاس امانت نہ ہو۔ یعنی اس تأویل میں معنی یہ
ہوگا کہ کوئی کامل مہدی سوائے عیسیٰ علیہ السلام کے نہیں ہے، گویا یہاں نفی کمال کی ہوگی۔
دوم: سچا مہدی حضرت عیسیٰ ؑکے زمانہ میں:
دوسرا مطلب یہ ہے کہ جھوٹے مہدی تو بہت سے آتے رہیں گے، مگر سچا مہدی وہ ہوگا جو عیسیٰ علیہ السلام کے زمانہ میں
ہوگا، جیسے کہا جاتا ہے کہ: ’’آتیک العصر‘‘ أی وقت العصر میں تیرے پاس آؤں گا عصر کے
وقت، یعنی عصر کی نماز پر یا عصر کے وقت پر، یہ محاورہ میرا بنایا ہوا نہیں ہے، لغت اُٹھاکر دیکھو تو یہی لغت کہے
گی، تو ’’لَا مہدی الّا عیسَی ابن مریم‘‘ کا یہاں مطلب یہ ہے کہ کوئی سچا مہدی نہیں
سوائے اس مہدی کے جو عیسیٰ ابن مریم کے زمانے اور وقت میں آئے گا، یعنی یہاں معنی ہوگا ’’الّا
وقت عیسَی ابن مریم‘‘ اور یہ بات واقعی اور بالکل ٹھیک ہے۔
غلام احمد نے بھی مہدی ہونے کا دعویٰ کیا ہے، اور اس سے پہلے بہاء اللہ ایرانی وغیرہ نے بھی کیا اور اس سے پہلے
دوسرے لوگوں نے بھی یہ دعویٰ کیا اور ہر زمانے میں کوئی نہ کوئی مہدی کا دعویٰ کرتا رہا ہے، لیکن اللہ کی شان یہ ہے
کہ سچا مہدی وہ ہوگا جس کے زمانہ میں عیسیٰ علیہ الصلوٰۃ والسلام آئیں گے، وہی سچا مہدی ہوگا۔ اس تأویل میں بھی
کوئی تکلف و تعصب نہیں۔
ظہورِ مہدی کے بعد دجال کا خروج ہوگا اور دجال سوائے مکہ و مدینہ کے پوری دنیا کا چکر لگائے گا، آخرکار مسلمان
دمشق میں محصور ہوجائیں گے تو حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا جامع دمشق کے شرقی منارہ پر نزول ہوگا، سوال یہ ہے کہ اس
وقت دجال کے ساتھ اس کی
251
قوم کی کتنی فوج ہوگی؟ حضرت عیسیٰ علیہ السلام اس کا تعاقب کریں گے اور اسے لُدّ کے مقام پر قتل کریں گے۔ یہ
تفصیلات میں نے اپنے رسالہ شناخت میں لکھ دی ہیں، اس میں آپ حضرات پڑھ لیں۔ مکمل تفصیل دوسری کتابوں میں موجود ہے،
بہرحال دجال کے ہمراہ ستر ہزار۷۰۰۰۰ اصفہان کے یہودیوں کی فوج ہوگی۔ دراصل دجال یہودیوں کا بادشاہ ہوگا، اس کے بعد
کچھ اور لوگ بھی اس کے ساتھ شامل ہوجائیں گے، لیکن اصل میں بنیادی طور پر یہودی اس کے ہمراہی اور فوجی ہوں گے، حدیث
شریف میں ان کی تعداد ستر ہزار فرمائی گئی ہے۔
کیا ائمہ پر قرآنی آیات کا نزول ہوتا ہے؟
اِشکال:... قادیانیوں کا کہنا ہے کہ علامہ ابن عربیؒ کی تصریح کے مطابق جب ائمہ کرام پر قرآنی آیات نازل ہوتی
ہیں، تو اگر مرزے پر قرآنی آیات نازل ہوگئیں تو کیا حرج ہے؟ کیا یہ کہنا صحیح ہے؟
جواب:... یہ کسی نے نہیں لکھا کہ قرآن کی آیات ائمہ پر نازل ہوتی ہیں، یہ مرزائیوں کا کذب و افترا اور جھوٹ ہے،
یا ان کی بدفہمی ہے۔
قرآنی آیات کا اِلقا ہوسکتا ہے:
ہاں! البتہ بعض حضرات کو قرآن کریم کی آیات کا الہام اور القا ہوتا ہے، جس کا واضح مطلب یہ ہے کہ مثلاً: ہم لوگ
کسی معاملے میں تشویش میں تھے اور کوئی صورت حال واضح نہیں ہو رہی تھی، اتنے میں حق تعالیٰ شانہ کی جانب سے اس
معاملہ اور صورتِ حال کی تعیین کے لئے ہمارے ذہن میں قرآن کریم کی کوئی آیت القا کردی گئی، یعنی یاد دلادی جائے،
جو ہمارے سوال کا جواب ہے، اور اس سے ہمیں اطمینان ہوجائے، اس کا نام ہے قرآنی آیات کا القا اور الہام۔
انبیاء کی وحی فرشتے کے ذریعہ اور اِلقا فرشتے کے بغیر:
اس کا یہ مطلب نہیں کہ جس طرح حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر بذریعہ جبرائیل علیہ السلام یا فرشتہ وحی نازل ہوتی
تھی، اس طرح ان بزرگوں پر بھی ۔۔۔نعوذ باللہ... بذریعہ
252
جبرائیل یا فرشتہ کے وحی نازل ہوتی ہے۔
یہ جو ابن عربیؒ کا حوالہ دیا گیا ہے، یہ بالکل غلط ہے، کیونکہ علامہ ابن عربیؒ لکھتے ہیں کہ:
’’انبیاء کی وحی اور اولیاء کی وحی میں یہ فرق ہے کہ انبیاء کی وحی فرشتے کے ذریعہ نازل ہوتی ہے اور یہ بغیر فرشتے
کے۔‘‘
یہ عبارت ان کی کتاب ’’فتوحاتِ مکیہ‘‘ کی ہے، لیکن یہ بات جو میں ذکر کر رہا ہوں یہ علامہ شعرانی رحمۃ اللہ علیہ کی
کتاب ’’الیواقیت و الجواہر فی بیان عقائد الاکابر‘‘ کی ہے، یہ ساری کی ساری کتاب کہنا چاہئے کہ ابن عربیؒ ہی کے
حوالوں سے لکھی گئی ہے، اس میں علامہؒ کہتے ہیں اور غالباً اس قسم کی عبارت ہے کہ: ’’فان قلت ما
الفرق بین الوحی والْإلہام ووحی النبوۃ‘‘ (یعنی اگر تم پوچھو کہ اولیاء کی وحی اور انبیاء کی وحی میں کیا
فرق ہے؟)۔
لغوی اور اصطلاحی وحی؟
دراصل لغت میں وحی کہتے ہیں خفی طور پر کسی بات کو دل میں ڈال دینا، چنانچہ اولیاء اللہ پر جو الہام ہوتا ہے یا ان
کے دل میں بات ڈال دی جاتی ہے، لغوی معنی کے طور پر اس کو بھی وحی کہہ سکتے ہیں، لیکن جب کوئی کہتا ہے کہ فلاں پر
وحی نازل ہوتی ہے، تو اس سے وہ خاص نبوّت والی وحی مراد ہوتی ہے، مرزائی لغوی اور اصطلاحی معنی کے فرق کو گڈمڈ
کردیتے ہیں۔
دیکھو! جب بھی کہا جائے کہ تیرا ربّ کون ہے؟ اس ’’ربّ‘‘ سے کیا مراد ہوتی ہے؟ یہی ناں کہ اللہ تعالیٰ! اور جب کہا
جائے کہ رب الدار کون ہے یعنی اس مکان کا مالک کون ہے؟ تو کہا جاتا ہے کہ زید! تو کیا زید کو رب الدار کہنے کے یہ
معنی ہیں کہ وہ -نعوذ باللہ- ربّ ہے؟
اسی طرح جب یہ کہا جائے کہ وحی کس پر نازل ہوتی ہے؟ تو کہو انبیاء پر، اور جب کہا جائے کہ وحیٔ الہام کس پر نازل
ہوتی ہے؟ تو کہو کہ اولیاء پر، اس وحیٔ اولیاء کو مضاف
253
کرکے نقل کریں گے، مطلق نہیں، جیسا کہ میں نے کہا کہ جب پوچھا جائے ربّ کون ہے؟ تو اس سے مراد اللہ تعالیٰ
ہے، کیونکہ کسی دوسرے کو ربّ کہنا جائز نہیں، لیکن جب کہا جائے کہ ’’رَبّ الدار‘‘ کون ہے؟ ’’رَبّ المال‘‘ کون ہے؟ تو
وہاں ربّ کے معنی مالک کے ہوں گے، یعنی اس مکان کا مالک کون ہے؟ اسی طرح جب کہا جائے کہ ’’رَبّ الدابۃ‘‘ یعنی اس
سواری کا مالک کون ہے؟ اس مال کا مالک کون ہے؟ تو اس کا جواب ہوگا فلاں آدمی اس کا مالک ہے، تو ان دونوں میں فرق
ہوگیا ناں! تو جس طرح رَبّ، رَبّ کے درمیان فرق ہے، اسی طرح وحی، وحی کے درمیان فرق ہے، چنانچہ جب کہا جائے کہ وحی
کس پر نازل ہوتی ہے؟ تو کہا جائے گا: صرف نبی پر! اگر کوئی شخص کہتا ہے کہ مجھ پر وحی نازل ہوتی ہے تو کافر ہے،
مدعیٔ نبوّت ہے، اور اگر کہا جائے کہ وحی اِلہام ہوتی ہے، تو اب چونکہ یہ مضاف ہوگئی تو اس کا معنی ہوگا ایک خاص قسم
کی وحی، اور یہ سب کے لئے عام ہے۔
تو خیر علامہ ابن عربیؒ نے کہا کہ کیا فرق ہے وحیٔ اِلہام اور وحیٔ نبوّت کے درمیان؟ تو اس کا جواب دیا کہ وحیٔ
نبوّت فرشتے کے ذریعہ ہوتی ہے، اور وحیٔ اِلہام فرشتے کے بغیر ہوتی ہے۔
ولی فرشتے کی آواز سنتا ہے، مگر دیکھ نہیں سکتا:
کبھی یوں فرق کرتے ہیں کہ ولی فرشتے کی بات سنتا تو ہے مگر دیکھ نہیں سکتا، یعنی اللہ نے فرشتہ بھیج دیا کہ جاکر
فلاں کو آواز دے آؤ، لیکن وہ اس فرشتے کو دیکھتا نہیں، البتہ نبی اس فرشتہ کو دیکھتا اور اس کی آواز کو سنتا ہے۔
تو مرزائیوں کی بات تو غلط ہے کہ اولیاء پر آیات کا نزول ہوتا ہے، کیونکہ وحی نازل ہونے کا معنی یہ ہوتا ہے فرشتہ
لے کر آئے، اس کا یہ معنی نہیں کہ جو بات دل میں القا ہوجائے تو کان میں کسی لطیفہ غیبی کی طرف سے آواز آجائے۔
دوسری بات یہ کہ جن اللہ کے بندوں کو بعض آیات کا الہام ہوا یعنی ان پر القا ہوا اور ان کے ذہن میں بات ڈال دی
گئی، کیا ان میں سے کسی نے نبوّت کا دعویٰ کیا؟ اگر نہیں
254
کیا تو پھر مرزا کیوں کہتا ہے کہ میں نبی ہوں؟
ایک اُصولی بات:
یہاں پر مجھ سے ایک اور اُصولی بات بھی سن لو، وہ یہ کہ جب بھی کوئی مرزائی ایسی بات کہے تو اس کو کہہ دو کہ خطبہ
الہامیہ میں مرزا نے خود لکھا ہے:
’’فلا تقیسونی بأحد ولَا احدا بی۔‘‘
(خطبہ الہامیہ ص:۵۲، روحانی خزائن ج:۱۶ ص:۵۲)
ترجمہ:... ’’پس مجھے کسی دوسرے کے ساتھ قیاس مت کرو، اور نہ کسی دوسرے کو میرے ساتھ۔‘‘
یعنی کسی کو مجھ پر قیاس نہ کرو اور مجھے کسی پر قیاس نہ کرو، لہٰذا مرزا کی اس تصریح کے بعد تم خود مرزے کے حکم کی
خلاف ورزی کر رہے ہو، اس لئے کہ مرزا کہتا ہے کہ مجھ پر کسی کا قیاس نہ کرو، اور تم اولیاء اللہ کی مثالیں دیتے ہو،
تو تم مرزے کے حکم کی خلاف ورزی کرتے ہو۔
کیا نبیوں کو غیرنبیوں پر قیاس کرنا درست ہے؟
مرزا، حقیقۃ الوحی ص:۳۹۱ میں لکھتا ہے:
’’نبوّت کا نام پانے کے لئے اس اُمت میں صرف میں ہی مخصوص کیا گیا ہوں۔‘‘
تو ان قادیانیوں سے پوچھو کہ کیا نبیوں کو غیرنبیوں پر قیاس کرنا چاہئے؟ اگر نہیں تو تم اولیاء اللہ کی مثالیں کیوں
دیتے ہو؟
حضرت عیسیٰ ؑکی سواری اور ہتھیار کیا ہوگا؟
سوال:... حضرت عیسیٰ علیہ السلام جب آسمان سے آئیں گے، تو وہ گھوڑے پر سفر کریں گے؟ یا بس اور جہاز میں؟ پھر دجال
کو کلاشنکوف سے قتل کریں گے؟ تلوار سے یا حربہ سے؟
255
جواب:... حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے ہاتھ میں دو شاخہ حربہ ہوگا، اس کو نیزہ کہہ لو یا دو شاخی تلوار کہہ دو۔
باقی رہا یہ کہ عیسیٰ علیہ الصلوٰۃ والسلام سفر کس چیز پر کریں گے؟ اس کا ذکر تو کہیں نہیں آتا، البتہ یہ آتا ہے
کہ دجال آپ کو دیکھ کر بھاگنا شروع کردے گا، بھاگنا بھی شروع کرے گا اور پگھلنا بھی شروع ہوجائے گا، چنانچہ حضور
اقدس صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ: اگر حضرت عیسیٰ علیہ السلام اس کو چھوڑ بھی دیتے تو وہ نمک کی طرح پگھل کر
ختم ہوجاتا، لیکن حضرت عیسیٰ علیہ الصلوٰۃ والسلام فرمائیں گے کہ اللہ تعالیٰ نے میری ایک ضرب تجھ پر مقدر کر رکھی
ہے، وہ تو تجھے برداشت کرنی ہی ہے، چنانچہ حضرت عیسیٰ علیہ الصلوٰۃ والسلام اس کے تعاقب میں اس کے پیچھے بھاگیں گے،
اور ’’بابِ لُدّ‘‘ پر جو آج کل اسرائیلیوں کا ایئرپورٹ ہے، وہاں جاکر اس کو پالیں گے، اپنے نیزے سے اس کو قتل کردیں
گے، اور اپنے نیزے پر لگا ہوا دجال کا خون مسلمانوں کو دکھائیں گے۔ اب اتنی باریک باریک تفصیلات بھی رسول اللہ صلی
اللہ علیہ وسلم نے بیان فرمادیں، تو معلوم ہوا کہ کلاشنکوف سے نہیں نیزے سے قتل کریں گے۔
جدید اسلحہ کا دور ختم ہونے والا ہے:
میں تمہیں بتاتا ہوں کہ یہ کلاشنکوفوں اور بارُودوں کا دور ختم ہونے والا ہے، یہ بم، ایٹم بم اور ہائیڈروجن بم اور
فلاں بم یہ سب خود اپنے آپ کو ختم کردیں گے، خودکشی کرلیں گے، جب عیسیٰ علیہ السلام آئیں گے تو اس وقت وہی پرانی
نیزوں کی جنگ ہوگی۔
دجال کی سواری؟
سوال:... کیا دجال کی سواری گدھا ہوگی یا کوئی اور؟ خرِّ دجال کا کیا مفہوم ہے؟
جواب:... جی ہاں! دجال کی سواری گدھا ہوگا، اور دجال گدھے پر سوار ہوگا، چنانچہ حدیث شریف میں آتا ہے کہ اس کے
کانوں کے درمیان کا فاصلہ ستر باع ہوگا، باع اس کو کہتے ہیں کہ دونوں ہاتھوں کو دائیں بائیں پھیلادیا جائے تو داہنے
ہاتھ کی شہادت کی
256
انگلی سے بائیں ہاتھ کی شہادت کی انگلی کے سرے تک درمیان کا جو فاصلہ ہے وہ ’’باع‘‘ کہلاتا ہے، تو اس کے
گدھے کے دو کانوں کے درمیان کا فاصلہ ستر باع کا ہوگا، اس پر کوئی تعجب کرنے کی ضرورت نہیں ہے، کیونکہ وہ دجالی گدھا
ہوگا۔
ریل کو خرِ دجال کہنا؟
سوال:... مرزا نے تو ریل گاڑی کو دجال کا گدھا قرار دیا ہے، کیا یہ صحیح ہے؟
جواب:... یہ بھی مرزائی عجوبات میں سے ہے، اس لئے کہ کیا کسی نے آج تک ایسی کوئی ریل گاڑی دیکھی ہے جس کی چوڑائی
اور منہ ستر باع کے برابر چوڑا ہو؟ میرے خیال میں آج تک ایسی کوئی ریل گاڑی وجود میں نہیں آئی ہے، بھائی! دجال کے
گدھے کو ریل گاڑی پر چسپاں کرنا حماقت ہے، دراصل مرزا جی نے یوں ہی کہا ہے، لیکن شاید مرزا غلام احمد کے اپنے دماغ
میں بھی یہ بات نہیں آئی تھی، ہاں! البتہ وہ لوگوں کے دلوں میں شیطان کی طرح وسوسے ڈال دیتا تھا۔
مرزا جی کے ریل گاڑی کو خرِ دجال کہنے کی وجہ؟
دراصل حضرت مولانا عین القضاۃ رحمہ اللہ، جنہوں نے میبذی کا حاشیہ لکھا ہے، انہوں نے مہدی جونپوری کے ردّ میں
’’ہدیہ مہدویہ‘‘ لکھی تھی، اس کی ایک کاپی ہمارے مرکزی دفتر ملتان میں موجود ہے، انہوں نے اپنی تصنیف ’’ہدیہ
مہدویہ‘‘ میں لکھا ہے کہ خرِّدجال سے ریل گاڑی بھی مراد ہوسکتی ہے، اور اس کا احتمال بھی ہے، اصل مہدی جونپوری نے
دجال کے گدھے پر اشکال کیا کہ اتنا بڑا گدھا کیسے ہوگا؟ تو مولاناؒ نے جواباً لکھ دیا کہ احتمال کے طور پر یہ دیکھو
جیسے ریل گاڑی تمہارے سامنے موجود ہے، اتنا بھاگتی بھی ہے۔
تو جس کو حضرت مولانا عین القضاۃؒ نے استبعاد دور کرنے کے لئے بطورِ احتمال کے لکھا، مرزا نے اس کو وحی بنالیا، اور
کہا کہ انگریز دجال ہے اور ریل گاڑی ان کا گدھا ہے، مگر افسوس کہ مرزا قادیانی مرنے کے بعد لاہور سے قادیان اسی گدھے
پر لَد کر گیا، یعنی اس کی لاش لاہور سے اسی خرِّدجال پر لاد کر قادیان پہنچائی گئی۔
257
خرِ دجال پر تعجب کیوں؟
دجال جب ساری دنیا میں پھرسکے گا، جیسا کہ حدیث شریف میں آتا ہے کہ زمینوں کے خزانوں کو حکم دے گا وہ اس کے ساتھ
ساتھ چلنے لگیں گے، بادلوں کو حکم دے گا بارش برسائیں گے، اور لوگ اسی سے دھوکا کھائیں گے کہ یہ خدا ہے، خدائی کام
کرتا ہے، اگر یہ سب کچھ قابلِ تسلیم ہے تو پھر اس کے گدھے پر کیوں تعجب ہو؟ یہ وہ وقت ہوگا جو امتحان کی کڑی آزمائش
کا وقت ہوگا۔
فتنۂ دجال سے پناہ مانگنے کی تعلیم:
حافظ ابنِ حجر رحمۃ اللہ علیہ نے فتح الباری کی تیرہویں جلد میں ایک تابعی کا قول نقل کرکے لکھا ہے کہ:
’’دجال کے فتنے سے بارہ ہزار مرد اور سات ہزار عورتیں محفوظ رہیں گی۔‘‘
(فتح الباری ج:۱۳ ص:۹۲)
اللہ تعالیٰ حفاظت فرمائے، اس سے معلوم ہوا کہ اللہ تعالیٰ کچے لوگوں کو نہیں رہنے دیں گے، بلکہ سب کچوں کو دھکیل
دیں گے، یعنی جن کے دل میں صحیح طور پر ایمان نہیں ہے، ان کو چھانٹ دیں گے، سب دجال کے ساتھ مل جائیں گے، نعوذ
باللہ! استغفر اللہ! اس لئے اپنے ایمان کی فکر کرنی چاہئے۔
یہی وجہ ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے باقاعدہ اُمت کو فتنۂ دجال سے پناہ مانگنے کی تعلیم فرمائی ہے، اور
ام المؤمنین عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا فرماتی تھیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم التزام کے ساتھ یہ دعا کرتے تھے،
نماز کے اندر یا نماز سے باہر:
’’اَللّٰھُمَّ اِنِّیْ اَعُوْذُ بِکَ مِنْ عَذَابِ جَھَنَّمَ، وَاَعُوْذُ بِکَ مِنْ عَذَابِ الْقَبْرِ، وَاَعُوْذُ
بِکَ مِنْ فِتْنَۃِ الْمَسِیْحِ الدَّجَّالِ، وَاَعُوْذُ بِکَ مِنْ فِتْنَۃِ الْمَحْیَا وَالْمَمَاتِ، وَاَعُوْذُ
بِکَ مِنَ الْمَأْثَمِ وَالْمَغْرَمِ۔‘‘
258
یعنی ان پانچ چیزوں سے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم التزام کے ساتھ پناہ مانگتے تھے: جہنم کے عذاب سے، قبر کے عذاب
سے، مسیح الدجال کے فتنہ سے، اور زندگی اور موت کے فتنوں سے، اور آخر میں خصوصیت کے ساتھ گناہ اور قرض سے۔
اللہ تعالیٰ ہماری بھی ان سے حفاظت فرمائے، آمین!
رفع کے وقت حضرت عیسیٰ ؑکی عمر:
سوال:... کہا جاتا ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو نبوّت ۳۳ سال کی عمر میں عطا ہوئی، اس کی تشریح کریں۔
جواب:... ۳۳ سال کا قول تو مجھے معلوم نہیں ہے، بھائی! میں نے کہیں نہیں پڑھا، البتہ یہ مشہور ہے کہ حضرت عیسیٰ
علیہ السلام ۳۳ سال کی عمر میں اُٹھائے گئے، لیکن حافظ ابن قیمؒ نے زاد المعاد کے شروع میں یہ لکھا ہے کہ حضرت عیسیٰ
علیہ السلام کے بارہ میں یہ کہنا غلط ہے کہ وہ ۳۳ سال کی عمر میں اُٹھائے گئے، یہ نصاریٰ کا قول ہے، مگر افسوس کہ
مرزائی اسی کو نقل کیا کرتے ہیں، علامہ ابن قیمؒ کہتے ہیں کہ ۳۳ سال کی عمر میں اُٹھائے جانے کا قول نصاریٰ کا ہے،
اس کے برعکس مرزائیوں نے یہ گھڑلیا کہ عیسیٰ علیہ السلام کے اُٹھائے جانے کا عقیدہ نصاریٰ کا ہے، یعنی نعوذ باللہ
ابن قیمؒ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے اُٹھائے جانے کے منکر ہیں۔
مرزائیوں کا دجل:
دراصل حافظ ابن قیمؒ اس پر بحث کر رہے تھے کہ نبوّت چالیس سال کے بعد ملتی ہے، لیکن جب اس پر اعتراض ہوا کہ عیسیٰ
علیہ السلام تو ۳۳ سال کی عمر میں اُٹھالئے گئے تھے، انہوں نے اس کا یہ جواب دیا کہ ۳۳ سال کی عمر میں حضرت عیسیٰ
علیہ السلام کے اُٹھائے جانے کا قول نصاریٰ کا قول ہے، اصل بات کیا تھی اور مرزائیوں نے کیا بنادی؟
اسی کو دجل کہتے ہیں، اور اسی سے ’’دجال‘‘ بھی مأخوذ ہے، چنانچہ جہاں مرزائی، قرآن کا یا حدیث کا نام لیں گے تو
اس میں ضرور دجل کریں گے، دجل کے معنی ہیں فریب
259
اور دھوکا، لہٰذا یہ ہو ہی نہیں سکتا کہ قادیانی کسی بزرگ کا قول پیش کریں اور اس میں دجل نہ کریں، کیونکہ
قرآن کریم کی کوئی آیت، کوئی ایک صحیح حدیث اور کسی ایک بزرگ کا کوئی مستند قول مرزائیوں کی تائید میں مل ہی نہیں
سکتا، جب تک کہ وہ اس میں دجل و فریب کرکے اس کو توڑ موڑ کر چسپاں نہ کردیں، اسی لئے ہم اس کو دجال اور فریبی کہتے
ہیں، یہ چھوٹا دجال ہے، کیونکہ بڑا دجال تو بعد میں آئے گا۔
اس بیچارے کے پاس کچھ بھی نہیں تھا، بیچارہ لوگوں سے چندہ مانگتا رہتا تھا، بڑا دجال تو اس کے کان کترے گا۔
حضرت عیسیٰ ؑکو نبوّت کس عمر میں ملی؟
اچھا خیر! تو ۳۳ سال میں نبوّت کا ملنا تو ثابت نہیں، البتہ میں نے کہا تھا کہ ہر نبی کو چالیس سال میں نبوّت ملتی
ہے، اسی طرح حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو بھی چالیس سال کی عمر میں نبوّت ملی ہوگی۔
لیکن بعض لوگوں نے یہ کہا کہ ان کو بچپن ہی سے نبی بنادیا گیا تھا، کیونکہ قرآن کریم میں ہے کہ جب ان کی والدہ
ماجدہ حضرت مریم ان کو اُٹھاکر اپنی قوم کے پاس لے آئیں تو لوگوں نے کہا:
’’۔۔۔۔۔قَالُوْا یَا مَرْیَمُ لَقَدْ جِئْتِ شَیْئًا فَرِیًّا۔ یَآ اُخْتَ ھَارُوْنَ مَا کَانَ اَبُوْکِ امْرَأَ
سَوْئٍ وَمَا کَانَتْ اُمُّکِ بَغِیًّا۔ فَاَشَارَتْ اِلَیْہِ، قَالُوْا کَیْفَ نُکَلِّمُ مَنْ کَانَ فِی الْمَھْدِ
صَبِیًّا۔ قَالَ اِنِّیْ عَبْدُ اللہِ اٰتٰنِیَ الْکِتَابَ وَجَعَلَنِیْ نَبِیًّا۔ وَجَعَلَنِیْ مُبَارَکًا اَیْنَ
مَا کُنْتَ وَاَوْصٰنِیْ بِالصَّلٰوۃِ وَالزَّکٰوۃِ مَا دُمْتُ حَیًّا۔ وَبَرًام بِوَالِدَتِیْ وَلَمْ یَجْعَلْنِیْ
جَبَّارًا شَقِیًّا۔ وَّالسَّـلَامُ عَلَیَّ یَوْمَ وُلِدْتُّ وَیَوْمَ اَمُوْتُ وَیَوْمَ اُبْعَثُ حَیًّا۔‘‘
(مریم: ۲۷ - ۳۳)
260
ترجمہ:... ’’وہ اس کو کہنے لگے: اے مریم! تو نے کی یہ چیز طوفان کی، اے بہن ہارون کی! نہ تھا تیرا
باپ بُرا آدمی اور نہ تھی تیری ماں بدکار، پھر ہاتھ سے بتلایا اس لڑکے کو، بولے: ہم کیونکر بات کریں اس شخص سے کہ
وہ ہے گود میں لڑکا؟ وہ بولا: میں بندہ ہوں اللہ کا! مجھ کو اس نے کتاب دی ہے اور مجھ کو اس نے نبی بنایا، اور بنایا
مجھ کو برکت والا جس جگہ میں ہوں اور تاکید کی مجھ کو نماز کی اور زکوٰۃ کی جب تک میں رہوں زندہ، اور سلوک کرنے والا
اپنی ماں سے، اور نہیں بنایا مجھ کو زبردست بدبخت، اور سلام ہے مجھ پر جس دن میں پیدا ہوا، اور جس دن مروں اور جس دن
اُٹھ کھڑا ہوں زندہ ہوکر۔‘‘
(ترجمہ حضرت شیخ الہندؒ)
یعنی حضرت مریم نے بچے کی طرف اشارہ کردیا کہ اس سے پوچھو! انہوں نے ابھی پوچھا بھی نہیں تھا کہ اور بچہ بول پڑا
کہ: حرامزادہ نہیں ہوں، نعوذ باللہ! میں تو اللہ کا بندۂ خاص ہوں، اور مجھ کو بنایا ہے برکت والا جہاں کہیں ہوں
زمین میں ہوں یا آسمان میں ہوں، اور مجھ کو وصیت فرمائی ہے زکوٰۃ کی اور نماز کی جب تک میں زندہ رہوں۔
حضرت عیسیٰ ؑآسمان پر زکوٰۃ اور نماز کیسے ادا کرتے ہیں؟
اِشکال:... مرزائی کہا کرتے ہیں کہ اگر حضرت عیسیٰ علیہ السلام زندہ آسمان پر موجود ہیں تو پھر عیسیٰ علیہ السلام
زکوٰۃ کیسے دیتے ہیں؟ حالانکہ وہ تو کہتے ہیں کہ مجھے وصیت فرمائی ہے، اسی طرح وہ نماز کیسے پڑھتے ہیں؟
جواب:... ہم نے کہا: نماز تو پڑھ لیتے ہوں گے، یہ کوئی اشکال کی بات نہیں، وہاں ان کے لئے فرشتے مصلیٰ بچھادیتے ہوں
گے، باقی رہ گئی زکوٰۃ، تو وہ ہوتی ہے نصاب پر، مرزائیو! تم نصاب کی تعین کردو اور بتادو کہ عیسیٰ علیہ السلام کے
پاس اتنا سونا، چاندی یا نقد رقم یا مالِ تجارت ہے، تب ہم تمہیں بتادیں گے کہ وہ زکوٰۃ دیتے ہیں، اور کیسے دیتے ہیں؟
261
اس میں تعجب کی کیا بات ہے؟
ہمارے آقاؐ پر زندگی بھر زکوٰۃ فرض ہی نہیں ہوئی:
سوال یہ ہے کہ ہمارے آقا حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے ساری عمر زکوٰۃ دی ہے؟
حضرت جنید بغدادیؒ کے خلیفہ تھے حضرت شبلیؒ، ان سے کسی نے پوچھا کہ حضرت! زکوٰۃ کتنی ہے؟ فرمایا کہ: مولوی لوگ فقہ
والے کہتے ہیں کہ جب کسی کے پاس دو سو درہم چاندی یا ساڑھے باون تولہ چاندی ہوجائے اور اس پر سال گزر جائے تو اس میں
سے پانچ درہم دے دیں، دو سو میں سے پانچ یعنی چالیس میں سے ایک دے دیا جائے، لیکن ہم یوں کہیں کہ: اگر کسی کے پاس
چالیس درہم سال بھر پڑے رہیں تو اکتالیس زکوٰۃ میں دے دیں، عرض کیا گیا: حضرت! چالیس میں سے اکتالیس کا کیا مطلب؟
فرمایا: چالیس تو اس کے پاس موجود ہیں اور پورا سال گزر گیا مگر خرچ نہیں ہوئے تو اس کی ضرورت سے زائد ہوئے، وہ تو
یوں دے کہ اس کی ضرورت نہیں، اور ایک درہم مزید جرمانے کا دے، اس لئے کہ حماقت کیوں کی تھی کہ چالیس درہم بغیر ضرورت
کے سارا سال رکھے رہا۔
یہ تو اولیاء اللہ کی بات ہے، اور نبیوں کے امام کی بات کیا ہوگی؟ ان پر زکوٰۃ ہی فرض نہیں ہوئی ہوگی۔ میرے اللہ کا
شکر ہے لاکھوں روپیہ ہاتھ میں آتا ہے جاتا ہے، لیکن کبھی مجھ پر زکوٰۃ فرض نہیں ہوئی، اب اس وقت بھی ڈیڑھ لاکھ کا
مقروض ہوں، ذاتی طور پر مقروض ہوں، اللہ کا شکر ہے میرا اللہ تعالیٰ مجھے دیتا ہے اور ادا کرتا ہوں، مجھے تو اس قرضے
کی بھی فکر نہیں، اللہ تعالیٰ دے دیں گے تو ادا بھی کردوں گا۔ اللہ تعالیٰ قرض سے بچائے، اللہ تعالیٰ عطا فرمائے گا،
کوئی تشویش نہیں۔
روٹی کے لئے پریشان نہ ہو!
تمہیں ایک بات کہتا ہوں کہ روٹی کے مسئلہ کے بارے میں کبھی پریشان نہ ہوا کرو، لوگوں کو اسی پریشانی نے کھا رکھا
ہے، جہان کا جہان اسی روٹی کے مسئلہ میں مبتلا ہے،
262
میاں! جس نے تمہیں پیدا کیا ہے، تمہیں جان دی ہے، وہ جان کو بچانے کا سامان بھی دے گا، اور جس دن جان لے
جانی ہوگی اس دن تمہارا رزق ختم کردے گا، پھر تم تلاش کروگے، نہیں ملے گا، اور جب تک تمہارے اندر جان رکھنی ہے، اس
نے جان کا سامان بھی رکھنا ہے، چاہے تمہیں کھلانے پلانے کے ساتھ رکھے، چاہے اس کے بغیر رکھے، تم کیوں پریشان ہوتے
ہو، اِن شاء اللہ کھانے کے لئے روٹی، پہننے کے لئے کپڑے دے گا، اور رہنے کے لئے جیسی کیسی جگہ بھی عطا فرمائے گا۔
شکر کیا کرو!
لیکن جو تمہیں ملی ہوئی ہے اس کا شکر ادا کیا کرو، کیوں میاں! کبھی اس کا شکر بھی کیا ہے؟ اور زیادہ تو مانگتے ہیں،
اور ہماری ہوس کی دوزخ’’ہَلْ مِنْ مَّزِیْدٍ!‘‘ پکارتی ہے، لیکن کبھی اس کا شکر بھی کیا
ہے؟
میرے آقا صلی اللہ علیہ وسلم جب بستر پر تشریف لے جاتے تھے تو سب سے پہلے یہ دعا پڑھتے تھے:
’’الحمد للہ الذی اطعمنا وسقانا وکفانا واٰوانا۔‘‘
یعنی میرے اس اللہ کا لاکھ لاکھ شکر ہے جس نے ہمیں کھلایا، پلایا، ہماری کفایت فرمائی اور ہمیں ٹھکانا دیا۔
کیونکہ:’’وکم ممن لَا کافی لہ ولَا مؤوی‘‘ یعنی کتنے ایسے لوگ ہیں جن کی کوئی کفایت
کرنے والا نہیں اور کوئی ان کو ٹھکانا دینے والا نہیں، تم اللہ کی کفایت اور اللہ کے ٹھکانا دینے میں آجاؤ، تم
کیوں پریشان ہوتے ہو؟
آیت کا صحیح مفہوم:
خیر! تو بعض لوگوں نے کہا کہ عیسیٰ علیہ السلام اس ارشادِ الٰہی کی بنا پر بچپن ہی سے نبی بنادئیے گئے اور پیدا
ہوتے ہی وہ نبی تھے، یعنی وہ پیدا ہی نبی ہوئے ہیں۔
263
اس لئے کہ خود فرماتے ہیں: ’’اِنِّیْ عَبْدُ اللہِ اٰتٰنِیَ الْکِتَابَ وَجَعَلَنِیْ نَبِیًّا۔
وَجَعَلَنِیْ مُبَارَکًا اَیْنَ مَا کُنْتَ وَاَوْصٰنِیْ بِالصَّلٰوۃِ وَالزَّکٰوۃِ مَا دُمْتُ حَیًّا۔ وَبَرًام
بِوَالِدَتِیْ وَلَمْ یَجْعَلْنِیْ جَبَّارًا شَقِیًّا۔ وَّالسَّـلَامُ عَلَیَّ یَوْمَ وُلِدْتُّ وَیَوْمَ
اَمُوْتُ وَیَوْمَ اُبْعَثُ حَیًّا۔‘‘
لیکن صحیح بات یہ ہے کہ اس ارشاد کا یہ مطلب نہیں کہ ابھی مجھے کتاب ملی ہے، کیونکہ یہ ایک روز اور ایک دن کا بچہ
کہہ رہا ہے، اس لئے کہ بچہ پیدا ہوا، اماں اُٹھاکے لے آئیں قوم کے پاس، فرشتہ نے کہا: لے جاؤ اس کو تم کہہ دینا
میں نے روزہ رکھا ہوا ہے، میں نہیں بولوں گی، اپنے منہ کی طرف اشارہ کردینا، اس بچے کی طرف اشارہ کردینا، خود ہی
بتائے گا، تو ایک دن کا بچہ یہ کہہ رہا ہے، تو ظاہر ہے کہ اس آیت کا معنی یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے آئندہ ان کے
بارے میں جو فیصلے کر رکھے ہیں، ان کی اطلاع دینی مقصود ہے، مگر اللہ تعالیٰ ان کی زبان سے بلوارہے ہیں۔
نبوّت ملنے کی اطلاع پہلے اور ظہور بعد میں:
تو گویا نبوّت چالیس سال کے بعد ملی، اور نبوّت کا ظہور بھی چالیس سال کے بعد ہوا، البتہ اس کی اطلاع پیشگی دے دی
گئی۔
جیسے ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور ہمارے آقا صلی اللہ علیہ وسلم سے جب پوچھا گیا کہ: یا رسول اللہ! آپ کو
نبوّت کب ملی؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: آدم علیہ السلام ابھی اپنے آب و گل، مٹی اور پانی میں گوندھے
ہوئے تھے کہ میں اس وقت بھی نبی اور خاتم النبیین تھا، چنانچہ فرمایا:
’’وکنت نبیا خاتم النبیین وآدم منجدل بین الطینۃ۔‘‘
یعنی میں نبی اور آخری نبی تھا جبکہ آدم علیہ السلام ابھی گندھے ہوئے تھے اپنی مٹی گارے میں۔
264
لیکن اس کا یہ معنی تو نہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت عالمِ ظہور میں بھی نبی تھے، بلاشبہ آپ صلی اللہ
علیہ وسلم اس وقت سے نبی بنادئیے گئے تھے، مگر اِس عالم میں نہیں، اُس عالم میں بنائے گئے تھے، البتہ چالیس سال کے
بعد اس کا ظہور اس وقت ہوا جب اعلانِ نبوّت فرمایا۔
جنتی جوان اور نبوّت ملنے کی عمر:
سوال:... حدیث میں تو آتا ہے کہ جنتی جوان ہوں گے اور عمر ۳۳ سال کی ہوگی، جنت کی جوانی کی عمر ۳۳ سال کہی گئی ہے،
تو نبوّت کی عمر چالیس سال کیوں رکھی گئی ہے؟
جواب:... وہ تو یہ آتا ہے کہ سب کے سب جنتی جوان ہوں گے، اور بے ریش ہوں گے، داڑھیاں نہیں ہوں گی، اس لئے کہ ہمارے
جو پرانے بزرگ تھے وہ بھی بیس، بیس، پچیس، پچیس سال تک لڑکے لڑکیاں ساتھ کھیلا کرتے تھے، ان کو کسی چیز کا پتہ ہی
نہیں ہوتا تھا، جس کی عمر کا پیمانہ ایک ہزار سال کا ہو وہ بالغ کب ہوگا؟ یہ تم خود ہی دیکھ لو! اب چونکہ عمریں بھی
چھوٹی چھوٹی ہوگئی ہیں، اس لئے بلوغت بھی جلدی ہوجاتی ہے، اور یہ چڑے چڑیوں کی طرح جلدی جلدی بالغ بھی ہوجاتے ہیں۔
اہلِ جنت کی عمر ۳۳ سال کی ہوگی: اس کا مطلب یہ ہے کہ وہ ابھی تک اس عمر کو نہیں پہنچے کہ ان کی داڑھی آجائے، وہ
ہے ۳۳ سال، اب آپ خود ہی اندازہ لگالیں ان کی زندگی کتنی لمبی ہوگی؟ اس کے مطابق وہ سدابہار جوان رہیں گے اور بے
ریش ہوں گے۔
جنت میں دو داڑھیاں!
بعض روایتوں میں آتا ہے ۔۔۔واللہ اعلم... ان روایتوں کی صحت کہاں تک ہے؟ کہ صرف دو داڑھیاں جنت میں ہوں گی، ایک
آدم علیہ السلام کی وہ جد الانبیاء ہیں، یعنی اولادِ آدم کے باپ اور ابوالبشر ہیں، اور دوسرے حضرت محمد رسول اللہ
صلی اللہ علیہ وسلم کی، بس مردوں کی حد تک یہی دو پہنچے، یعنی باقی سب بچے ہی بچے ہیں۔
265
فریب خوردہ قادیانیوں کی خدمت میں
محترم جناب مولوی محمد یوسف صاحب!
سلام علیٰ من اتبعی الھدی۔
ج:۔۔۔املا صحیح کیجئے لفظ’’اتبع‘‘ ہے۔
۲:... خدا کرے آپ بخیر و عافیت ہوں، آمین!
ج:... الحمدللہ! بعافیت ہوں اور آپ کی عافیت و ہدایت کا دُعاگو۔
۳:... آپ کا نوازش نامہ ملا ہے، معافی چاہتا ہوں جواب کچھ تأخیر سے دے رہا ہوں، کیونکہ میں جلسہ سالانہ پر ربوہ
گیا ہوا تھا۔
ج:... تحریف فی الاسم ہے، کیونکہ مسیحِ کذّاب کی ہر بات میں کذب ہوتا ہے۔
۴:... یہ تو اچھا ہی ہوا کہ آپ نے خط میں یہ اقرار کرلیا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ہر صدی کے سر پر مجدّد
کے آنے کی اطلاع دی ہوئی ہے، ورنہ آپ نے جن الفاظ کو اخبار میں شائع کیا ہوا ہے، اس سے تو قارئین کو یہی تأثر اور
تصور ملتا ہے کہ جیسے وہ الفاظ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث کے نہ ہوں، بلکہ صرف حضرت مرزا صاحب کے ہی ہوں۔
ج:... یہ عبارت یہاں سے شروع ہوتی ہے کہ: ’’آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے: ۔۔۔۔۔۔۔۔‘‘ کیا اتنی کھلی بات
کے سمجھنے سے بھی آپ معذور ہیں؟
۵:... حقیقتاً یہ بھی ایک وجہ تھی جس سے مجھے آپ کی خدمت میں خط لکھنا پڑا، جس میں اس عاجز نے یہی سوال تو کیا تھا
کہ آپ خواہ مخواہ حضرت مرزا صاحب کو جھوٹا بنانے پر تلے ہوئے ہیں۔
ج:... جھوٹے کو جھوٹا بنانے کی ضرورت نہیں، ہاں! بتانے کی ضرورت ہے۔
266
۶:... آپ نے میرے عریضہ کو صرف کانٹے دار کرکے واپس کردینے سے اپنے کسی اچھے اخلاق کا ثبوت نہیں دیا، واضح طور پر
یہ آپ کی جھنجھلاہٹ ظاہر کرتا ہے۔
ج:... نبوّتِ کاذبہ کے ساتھ اخلاق بھی اسی قسم کے ہوں گے۔
۷:... اُصولاً تو چاہئے تھا کہ آپ میری معروضات یا وضاحتوں کے جواب میں کوئی مثبت باتیں بہ دلائل لکھتے، وہ آپ سے
نہ ہوسکا۔
ج:... آپ نے میری بات کا جواب ہی کیا دیا کہ اس کو رَدّ کرتا؟
۸:... اگر کچھ آپ نے کیا بھی تو یہ کہ شیخی بھگار دی کہ ’’ورنہ مرزا قادیانی کی جو عبارتیں آپ نے (یعنی میں نے)
نقل کی ہیں، اس میں مرزا جی نے خدا و رسول پر اِفترا کئے ہیں، اور آپ ایسے (یعنی مجھ سے) سمجھدار اور خوش فہم لوگوں
کو کس کس طرح احمق بنایا ہے، اس کی تشریح کروں تو ایک ضخیم رسالہ بن جائے گا۔‘‘
اَوّل تو آپ نے طرزِ تخاطب میں کوئی اچھا نمونہ پیش نہیں کیا، اس سے تو ہر سمجھ دار قاری اندازہ لگاسکتا ہے۔
ج:... طرزِ تخاطب کا اچھا نمونہ اور کیا ہوسکتا ہے کہ میں نے مسیحِ کذّاب کے ماننے والوں کو صرف فریب خوردہ کہنے پر
اکتفا کیا۔
۹:... دوم آپ نے یہ لکھتے ہوئے اتنا بھی نہیں سوچا کہ جس بات کو آپ مرزا صاحب کا اِفترا گردان رہے ہیں، وہ تو
حضرت مرزا صاحب سے کئی صدیوں پہلے بھی کئی بزرگانِ دین سے ہوچکا ہے۔
ج:... مثلاً کون کون سے بزرگوں نے؟ اور پھر بزرگانِ دین سے آپ کا کیا تعلق؟
۱۰:... سوم یہ کہ آپ تشریح کریں تو ایک ضخیم رسالہ بن سکتا ہے، میں باادب یہ عرض کرنے میں حق بجانب ہوں گا کہ آپ
سے بھی یہ نہ ہوسکے گا۔
ج:... جی ہاں! مجھ سے کیا، بلکہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے بھی فرمایا گیا:’’اِنَّکَ لَا
تَھْدِیْ مَنْ اَحْبَبْتَ‘‘ ۔
۱۱:... آپ کے کئی ہم مسلک ایسی تعلّیاں اور شیخیاں بگھارتے بگھارتے راہیٔ
267
ملکِ عدم ہوگئے۔
ج:... لیکن الحمدللہ! مرزا غلام احمد کی طرح راہیٔ ملکِ عدم نہیں ہوئے کہ ان کے دونوں راستوں سے نجاست نکل رہی ہو،
اور نہ مرزا محمود کی طرح شکل مسخ ہوکر۔
۱۲:... مگر وہ بالمقابل کوئی مفید اور مُسلّم جواب نہ لکھ سکے۔
ج:... مُسلّم جواب اِن شاء اللہ مرنے کے بعد ملے گا، وہاں فرشتوں سے بھی یہی کہئے گا!
۱۳:... ہاں! البتہ گالیوں سے بھری کتابیں ضرور شائع کرگئے۔
ج:... جی ہاں! قرآن بھی تو بقول مرزا گالیوں سے بھرا ہوا ہے۔
۱۴:... بھلا ایسی باتوں سے بھی کبھی ابلاغِ دین کے کام ہوا کرتے ہیں؟
ج:... صحیح فرمایا، لاتوں کے بھوت باتوں سے نہیں مانتے، سچی بات تو یہ ہے کہ ابلاغِ دین ’’۔۔...
فاقتلوہ‘‘ سے ہوتا ہے!
۱۵:... چلئے! آپ احمدیوں کے مسلک اور رویہ کو تو چھوڑئیے، کیونکہ آپ کا ذہن ان کے خلاف کافی سے زیادہ زہرآلودہ
ہوچکا ہے، مگر خدا کے لئے اپنے اسی عقیدہ کی خبر تو لیجئے جیسا کہ آپ نے خود تسلیم کیا ہے کہ تجدیدِ دین کے لئے
آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی یہ پیش گوئی مسلّمہ چلی آرہی ہے کہ ہر صدی کے سر پر اللہ تعالیٰ کسی نہ کسی کو مجدّد
کے طور پر مبعوث فرماتا رہے گا۔
ج:... الحمدللہ! مجھے تو مسلّم ہے، مگر افسوس کہ مرزا غلام احمد اور ان کے ماننے والے اس کو نہیں مانتے، چنانچہ آپ
ہی بتائیں کہ اگر آپ اس کے قائل ہیں تو پھر چودھویں صدی کے بعد یہ سلسلہ بند کیوں ہوگیا؟
۱۶:... تو آپ بیچارے احمدیوں کے پیچھے لٹھ لئے پھرنے کی بجائے خود اپنا موازنہ کریں کہ مکمل تیرہ صدیوں میں تو
مجدّدین کرام آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی پیش گوئی کے مطابق اللہ تعالیٰ کی طرف سے مبعوث ہوتے رہے، مگر اس
چودھویں صدی کا کوئی مجدّد کیوں نہ آیا؟ یہ صدی کیوں اور کن حضرات کی بدولت خالی چلی گئی؟
268
ج:... یہ آپ سے کس نے کہا کہ یہ صدی مجدّد سے خالی چلی گئی؟ اگر مرزا مجدّد نہیں تو کیا دُوسرا بھی کوئی نہیں؟
۱۷:... یا یوں کہئے کہ محض آپ کی ضد نے کسی کو بھی مجدّد ہونے کا مستحق نہ سمجھا، تو کیا آپ کا ضمیر اور ذہن اس
بات کو گوارا کرتا ہے کہ پیش گوئی ہو خاتم الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کی اور وہ پوری تیرہ صدیوں میں تو پوری ہوتی
چلی آئی ہو، مگر جب چودھویں صدی آئی جس میں آپ جیسے علماء ہوں تو وہ (نعوذ باللہ) بے کار چلی گئی؟
ج:... محض جھوٹ! کسی نے بے کار نہیں کہا، لیکن قادیانیوں نے پندرھویں صدی کے لئے اس کو بے کار کردیا، کیونکہ الف
آڑے آتا ہے، کون کہتا ہے کہ پوری نہیں ہوئی؟ ہاں! البتہ غلام احمد قادیانی کو ملتِ اسلامیہ مجدّد نہیں مانتی اس
لئے کہ مجدّد تو کیا وہ ایک شریف انسان کہلانے کا مستحق بھی نہیں ہے۔
فقط والسلام
عبدالرؤف لودھی
269
ختمِ نبوّت اور اِجرائے نبوّت سے متعلق
شبہات کا جواب
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ
’’بخدمت جناب مولانا مفتی احمد الرحمن صاحب، مولانا محمد یوسف لدھیانوی اور ڈاکٹر عبدالرزاق اسکندر کراچی۔
نہایت مؤدبانہ اور عاجزانہ التماس ہے کہ خاکسار کی دیرینہ الجھن قرآن پاک کی روشنی میں حل کرکے ممنون فرمائیں،
قبل ازیں ۳۵ حضرات سے رجوع کرچکا ہوں، تسلی بخش جواب نہیں ملا، آپ رحمۃ للعالمین صلی اللہ علیہ وسلم کے صدقے میں
ایسا نہ کرنا۔
سوال:۱:۔۔۔آیت مبارکہ ۴۰/۳۳ سورہ احزاب کی روشنی میں حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو کب سے یعنی کس وقت سے خاتم
النبیین تسلیم کیا جائے؟
آیا:قبل پیدائش حضرت آدم علیہ السلام؟ یا حضورؐ کی پیدائش مبار ک سے؟ یا آیت ۴۰/۳۳ خاتم النبیین کے نزول کے وقت
سے؟ یا حضورؐ کی وفات کے بعد سے؟
جس وقت یا مقام مبارک سے حضور کا خاتم النبیین ہونا قرآن کریم سے ثابت کریں گے، اسی وقت مبارک یا مقام مبارک سے
حضور کا خاتم النبیین ہونا تسلیم ہوگا، اور اسی وقت یا مقام سے وحی
270
الٰہی کا انقطاع تا قیامت تسلیم ہوگا۔
سوال:۲:۔۔۔آیت مبارکہ ۱۱۲/۶ اور ۱۲۱/۶ سورہ الانعام میں شیطان مردود کے لئے دو دفعہ وحی کا لفظ’’یوحی‘‘ اور ’’لیوحون‘‘ آیا ہے، تمام اُمت کا خیر سے ایمان و
اتفاق ہے کہ شیطانی وحی بغیر انقطاع تا قیامت جاری و ساری رہے گی، لیکن رحمانی وحی کا انقطاع تا قیامت رہے گا، یعنی
رحمانی بند اور شیطانی وحی تا قیامت جاری ہے، کیا ایسی تفسیر سے قرآن کی عالمگیر تعلیم میں کوئی تضاد اور تعارض تو
نہیں پیدا ہوگا؟ کیا انقطاع شیطانی وحی کا موجب رحمت ہدایت و راحت ہوگا، یا رحمانی وحی کا؟
سوال:۴:۔۔۔ارشاد باری تعالیٰ ہے کہ:’’ولَا تفرقوا‘‘ یعنی فرقہ بندی کفر و ضلالت ہے، اس
کے باوجود فرقہ بندی کو کیوں قبول کیا ہوا ہے؟ یعنی کفر کیوں کمایا جارہا ہے جبکہ کوئی تکلیف بھی نہیں ہے؟ خدا و
رسول اور کتاب موجود ہیں، یہ تینوں فرقہ بندی سے بیزار ہیں، ارشاد باری تعالیٰ ہے: ’’ھو الذی
خلقکم فمنکم کافر ومنکم مؤمن‘‘ ۲/۶۴، اور:’’ولَا تکونوا من المشرکین من الذین فرقوا
دینھم‘‘ (الروم:۳۱)آج ہم
271
علمائے دین کی بدولت ایک مسجد میں، ایک امام کے پیچھے نماز ادا کرنے کو ترس رہے ہیں، اور اسلامی آئین کو
بھی۔
سوال:۵:۔۔۔قرآن پاک سے ثابت ہے کہ مؤمن کے پاس کفر بالکل نہیں ہوتا، اس کے باوجود مسلمانوں یعنی خدا اور رسول کے
حامیوں نے ایک دوسرے کلمہ گو کو پکا کافر قرار دے رکھا ہے، جبکہ مؤمن کے پاس کفر نہیں ہوتا، تو ان علمائے دین نے
کفر کے فتوے لگا کر باہم کفر کیوں تقسیم کیا اور وہ کفر کہاں سے حاصل کیا ہے؟ اسلام اور کفر تو متضاد ہیں، اور کل
فرقے برخلاف تعلیم عالمگیر کتاب اپنی اپنی جگہ ڈٹے ہوئے ہیں، یہ کفر کہاں سے درآمد کیا گیا ہے؟ اور کیوں کیا گیا
ہے؟ اس کا لائسنس کس فرقے کے پاس ہے؟ قرآن پاک سے نشاندہی کریں، نہایت مہربانی ہوگی، اس گنہگار کے کل پانچ سوال
ہیں، از راہ شفقت صدقہ رحمت للعالمین کا صرف قرآن پاک سے حوالہ و دلیل دے کر جواب سے مستفیض فرمائیں، کیونکہ خدا کا
کلام خطا سے پاک ہے، کسی بڑے سے بڑے عالم کا کلام خطا سے کبھی بھی پاک قرار نہیں دیا جاسکتا، والسلام۔
رانا عبدالستار، لاہور۔‘‘
الجواب
حامدًا ومصلیًا!
جناب سائل نے اپنے تمہیدی خط میں لکھا ہے کہ قبل ازیں پینتیس حضرات سے رجوع کرچکے ہیں، مگر تسلی بخش جواب نہیں ملا،
سوالوں کے جواب سے پہلے اس ضمن میں ان کی خدمت میں دو گزارشیں کرنا چاہتا ہوں:
۱:۔۔۔ایک یہ کہ سوالات و شبہات کا صحیح و معقول جواب دینا تو علمائے اُمت کی ذمہ داری ہے، لیکن کسی کے دل میں بات
ڈال دینا اور اسے اطمینان و تسلی دلادینا ان کی
272
قدرت سے خارج ہے اور وہ اس کے مکلف بھی نہیں، کسی کے دل کو پلٹ دینا صرف اللہ تعالیٰ کے قبضۂ قدرت میں ہے،
اس ناکارہ نے اپنی بساط کے مطابق خلوص و ہمدردی سے جنابِ سائل کے شبہات اور غلط فہمیوں کو دور کرنے کی کوشش کی ہے،
ان کا کوئی شبہ حل نہ ہوا ہو تو دوبارہ رجوع فرماسکتے ہیں، لیکن اس کے باوجود خدانخواستہ اطمینان و تسلی نہ ہو تو
معذوری ہے۔
۲:۔۔۔دوسری گزارش یہ ہے کہ کسی جواب سے تسلی نہ ہونا اس کی دو وجہیں ہوسکتی ہیں، ایک یہ کہ جواب میں کوئی ایسا نقص
ہو کہ وہ موجب اطمینان و تسلی نہ ہو، دوم یہ کہ جواب تو تسلی بخش تھا، مگر سائل کا مقصد تسلی حاصل کرنا نہیں تھا،
شرح اس کی یہ ہے کہ کبھی تو سوالات و شبہات اس لئے پیش کئے جاتے ہیں کہ سائل ان شبہات کی وجہ سے بے چین ہو اور وہ
خلوص دل سے چاہتا ہے کہ اس کے شبہات دور ہوجائیں تاکہ اسے اطمینان و تسلی کی کیفیت نصیب ہوجائے، مگر وہ خود اتنا علم
نہیں رکھتا کہ ان شبہات کے حل کرنے پر قادر ہو، اس لئے وہ کسی ایسے شخص سے رجوع کرتا ہے جو اس کے خیال میں ان شبہات
کے دور کرنے میں اس کی مدد کرسکتا ہے، ایسے شخص کا سوال چونکہ احتیاج و خلوص پر مبنی ہوتا ہے اور وہ دل و جان سے اس
کا خواہشمند ہوتا ہے کہ اس کے شبہات دور ہوجائیں، اس لئے صحیح جواب ملنے پر اس کی غلط فہمی دور ہوجاتی ہے، اور اسے
ایسی تسلی ہوجاتی ہے گویا کسی نے زخم پر مرہم رکھ دیا۔ اس کے برعکس معاملہ یہ ہوتا ہے کہ سائل اپنے سوال میں جن
شبہات کو پیش کرتا ہے وہ ان سے مضطرب اور بے چین نہیں ہوتا، بلکہ وہ ان شبہات کو قطعی و یقینی سمجھ کر ان پر دل و
جان سے راضی ہوتا ہے، ایسا شخص سوال کی شکل میں جب اپنے شبہات کسی کے سامنے پیش کرتا ہے تو اس کا مقصد ان شبہات کو
دور کرنا نہیں ہوتا، اور نہ وہ اس کی ضرورت سمجھتا ہے، اسے اپنے شبہات سے پریشانی یا قلق و اضطراب نہیں ہوتا، بلکہ
وہ اپنے سوالات کو لاینحل اور حرفِ آخر سمجھتے ہوئے پیش کرتا ہے، جس سے مقصد اس امر کا اظہار ہوتا ہے کہ اس کے
سوالات ایسے مضبوط ہیں کہ اہل علم میں سے کوئی اس کا جواب نہیں دے سکتا، بلکہ تمام
273
علمائے اُمت اس کے جواب سے عاجز و قاصر ہیں، گویا وہ رفع شبہات کے لئے سوال نہیں کرتا، بلکہ علمائے اُمت کو
چیلنج دینے کے لئے کرتا ہے، ایسے شخص کے سوالوں کا خواہ کیسا ہی معقول اور صحیح جواب دے دیا جائے، مگر اس کو کبھی
تسلی نہیں ہوتی، یہ حالت بہت ہی خطرناک ہے، اللہ تعالیٰ ہر مسلمان کو اس سے محفوظ رکھیں۔
بہرحال اگر جناب سائل کا مقصد واقعی اپنے شبہات کو دور کرنا ہے تو مجھے توقع ہے کہ اِن شاء اللہ العزیز ان کو ان
جوابات سے شفا ہوجائے گی، اور آئندہ انہیں کسی اور کو زحمت دینے کی ضرورت نہیں رہے گی، اور اگر ان کا یہ مقصد ہی
نہیں تو یہ توقع رکھنا بھی بے کار ہے، بہرحال اپنا فرض ادا کرنے کی غرض سے ان کے پانچ سوالوں کا جواب بالترتیب پیش
خدمت ہے۔
جواب:۱:۔۔۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے خاتم النبیین ہونے کے معنی یہ ہیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم آخری
نبی ہیں، آپؐ کے بعد کوئی نبی نہیں ہوگا، اور کسی کو نبوّت نہیں دی جائے گی، چنانچہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا
ارشاد ہے:
’’کانت بنو إسرائیل تسوسھم الأنبیاء کلما ہلک نبی خلفہٗ نبی وانہٗ لَا نبی بعدی۔‘‘
(صحیح بخاری و مسلم کتاب الامارۃ ج:۲ ص:۱۲۶)
ترجمہ:۔۔۔’’بنو اسرائیل کی سیاست انبیائے کرام علیہم السلام فرماتے تھے، جب ایک نبی کا انتقال ہوجاتا
تو دوسرا نبی اس کی جگہ لیتا، اور میرے بعد کوئی نبی نہیں۔‘‘
اس مضمون کی دو سو سے زائد متواتر احادیث موجود ہیں، اور یہ اسلام کا قطعی عقیدہ ہے، چنانچہ مرزا غلام احمد قادیانی
ازالہ اوہام (خورد ص:۵۷۷) میں لکھتے ہیں:
’’ہر یک دانا سمجھ سکتا ہے کہ اگر خدائے تعالیٰ صادق الوعد ہے اور جو آیت خاتم النبیین میں وعدہ دیا گیا ہے اور جو
حدیثوں میں
274
بتصریح بیان کیا گیا ہے کہ اب جبرائیل کو بعد وفات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمیشہ کے لئے وحی نبوّت
لانے سے منع کیا گیا ہے، یہ تمام باتیں صحیح اور سچ ہیں تو پھر کوئی شخص بحیثیت رسالت ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم
کے بعد ہرگز نہیں آسکتا۔‘‘
(ازالہ اوہام ص:۵۷۷، روحانی خزائن ج:۳ ص:۴۱۲)
الغرض آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا خاتم النبیین ہونا اسلام کا ایسا قطعی و یقینی عقیدہ ہے جو قرآن کریم، احادیث
متواترہ اور اجماع اُمت سے ثابت ہے، اور جو شخص اس کے خلاف عقیدہ رکھے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد بھی کسی
کو نبوّت مل سکتی ہے، ایسا شخص باجماع اُمت کافر اور دائرۂ اسلام سے خارج ہے، چنانچہ ملا علی قاریؒ (م۱۰۱۴ھ) شرح
فقہ اکبر میں لکھتے ہیں:
’’التحدی فرع دعوی النبوۃ ودعوی النبوۃ بعد نبینا صلی اللہ علیہ وسلم کفر بالْإجماع۔‘‘
(شرح فقہ اکبر ص:۲۰۲)
ترجمہ:۔۔۔’’معجزہ دکھانے کا دعویٰ، دعویٔ نبوّت کی فرع ہے، اورہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد
نبوّت کا دعویٰ کرنا بالاجماع کفر ہے۔‘‘
رہا یہ کہ آیت خاتم النبیین کی روشنی میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو کس وقت سے خاتم النبیین تسلیم کیا جاوے،
اس کا جواب یہ ہے کہ علم الٰہی میں تو ازل سے مقدر تھا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم تمام انبیائے کرام علیہم
السلام کے بعد تشریف لائیں گے، اور یہ کہ آپؐ کی ذات گرامی پر انبیاء علیہم السلام کی فہرست مکمل ہو جائے گی، آپ
کے بعد کسی شخص کو نبوّت نہیں دی جائے گی، چنانچہ ایک حدیث میں ہے:
’’انی عند اللہ مکتوب خاتم النبیین وان اٰدم
275
لمنجدل فی طینۃ۔‘‘
(مشکوٰۃ ص:۵۱۳)
ترجمہ:۔۔۔’’بے شک میں اللہ کے نزدیک خاتم النبیین لکھا ہوا تھا، جبکہ آدم علیہ السلام ہنوز آب و گل
میں تھے۔‘‘
اس حدیث سے معلوم ہوا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا خاتم النبیین کی حیثیت سے مبعوث ہونا اس وقت تجویز کیا
جاچکا تھا جبکہ ابھی آدم علیہ السلام کی تخلیق نہیں ہوئی تھی، پھر جب تمام انبیائے کرام علیہم السلام اپنی اپنی
باری پر تشریف لاچکے اور انبیائے کرام علیہم السلام کی فہرست میں صرف ایک آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا نام باقی رہ گیا
تھا، تب اللہ تعالیٰ نے آپ کو خاتم النبیین کی حیثیت سے دنیا میں مبعوث فرمایا، چنانچہ صحیحین کی روایت میں ہے کہ
آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:
’’مثلی ومثل الأنبیاء من قبلی کمثل رجل بنی بنیانا فاحسنہ واجملہ الّا موضع لبنۃ من زاویۃ من زوایاہ فجعل الناس
یطوفون بہٖ ویعجبون لہ ویقولون ھلا وضعت ھٰذہ اللبنۃ۔ قال: فانا اللبنۃ وانا خاتم النبیین۔ وفی روایۃ: فکنت انا سددت
موضع اللبنۃ، ختم بی البنیان وختم بی الرسل۔ وفی روایۃ: فانا موضع اللبنۃ، جئت فختمت الأنبیاء علیہم السلام۔‘‘
(صحیح بخاری ج:۱ ص:۵۰۱، صحیح مسلم ج:۲ ص:۲۴۸، مشکوٰۃ ص:۵۱۱)
ترجمہ:۔۔۔’’میری اور مجھ سے پہلے انبیائے کرام کی مثال ایسی ہے کہ ایک شخص نے بہت ہی حسین و جمیل محل
تیار کیا، مگر اس کے کونے میں ایک اینٹ کی جگہ چھوڑ دی، پس لوگ اس محل کے گرد گھومنے لگے اور اس کی خوبصورتی پر عش
عش کرنے لگے، اور کہنے لگے کہ یہ ایک اینٹ بھی کیوں نہ لگادی گئی، فرمایا: پس میں وہ آخری
276
اینٹ ہوں اور میں خاتم النبیین ہوں۔ ایک روایت میں ہے کہ پس میں نے اس ایک اینٹ کی
جگہ پر کردی، مجھ پر عمارت مکمل ہوگئی اور مجھ پر رسولوں کا سلسلہ ختم کردیا گیا۔ ایک اور روایت میں ہے کہ پس اس
اینٹ کی جگہ میں ہوں، میں نے آکر انبیائے کرام علیہم السلام کے سلسلہ کو ختم کردیا۔‘‘
اور اُمت کو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے خاتم النبیین ہونے کا علم اس وقت ہوا جب کہ قرآن کریم اور احادیث نبویہ
میں یہ اعلان فرمایا گیا کہ آپ خاتم النبیین ہیں۔ اس تفصیل سے واضح ہوا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے خاتم
النبیین کی حیثیت سے دنیا میں تشریف لانے کا فیصلہ تو حضرت آدم علیہ السلام کی تخلیق سے قبل تسلیم کیا جائے گا،
کیونکہ یہ فیصلہ ازل ہی سے ہوچکا تھا کہ آپؐ کا اسم گرامی انبیائے کرام علیہم السلام کی فہرست میں سب سے آخر میں
ہے، اور آپؐ کی بعثت سب سے آخر میں ہوگی، اور اس دنیا میں آپؐ کا خاتم النبیین ہونا آپؐ کی بعثت سے تسلیم کیا
جائے گا، اور اُمت کو آپؐ کے خاتم النبیین اور آخری نبی ہونے کا علم اس وقت ہوا جب قرآن کریم میں اور احادیث
نبویہ میں اس کا اعلان و اظہار فرمایا گیا۔
۲:۔۔۔سوال نمبر:۲ میں وحی شیطانی سے متعلق جن آیات کا حوالہ دیا گیا ہے، ان میں ’’وحی‘‘ سے مراد وہ شیطانی شبہات و
وساوس ہیں جو دین حق سے برگشتہ کرنے کے لئے شیطان اپنے دوستوں کے دلوں میں القا کرتا ہے، گویا شیطانی القا کو
’’یوحون‘‘ سے تعبیر کیا گیا ہے، اور القائے شیطانی کے مقابلہ میں القائے رحمانی ہے، جس کی کئی شکلیں ہیں، مثلاً
الہام، کشف، تحدیث اور وحی نبوّت۔ وحی نبوّت کے علاوہ الہام و کشف وغیرہ حضرات اولیاء اللہ کو بھی ہوتے ہیں اور ان
کا سلسلہ قیامت تک جاری ہے، لیکن ’’وحی نبوّت‘‘ چونکہ حضرات انبیائے کرام علیہم السلام کے ساتھ مخصوص ہے اور نبوّت
کا سلسلہ حضورؐ پر ختم ہوچکا ہے، اس لئے وحی نبوّت کا دروازہ حضرت خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد بند ہوچکا
277
ہے، چنانچہ حدیث میں ہے:
’’ان الرسالۃ والنبوۃ قد انقطعت فلا رسول بعدی ولَا نبی۔‘‘
(الجامع الصغیر ج:۱ ص:۸۰)
ترجمہ:۔۔۔’’رسالت و نبوّت بند ہوچکی پس نہ کوئی رسول ہوگا میرے بعد اور نہ نبی۔‘‘
مرزا غلام احمد قادیانی ازالہ اوہام خورد (ص:۷۶۱) میں لکھتے ہیں:
’’رسول کو علم دین بتوسط جبرائیل ملتا ہے اور باب نزول جبرائیل بہ پیرایۂ وحی رسالت مسدود ہے اور یہ بات خود ممتنع
ہے کہ رسول تو آوے مگر سلسلہ وحی رسالت نہ ہو۔‘‘
(ازالہ اوہام ص:۷۶۱، روحانی خزائن ج:۳ ص:۵۱۱)
ایک اور جگہ لکھتے ہیں:
’’رسول کی حقیقت اور ماہیئت میں یہ امر داخل ہے کہ دینی علوم کو بذریعہ جبرائیل حاصل کرے اور ابھی ثابت ہوچکا ہے کہ
اب وحیٔ رسالت تا بقیامت منقطع ہے۔‘‘
(ازالہ اوہام ص:۶۱۴، روحانی خزائن ج:۳ ص:۴۳۲)
ایک اور جگہ لکھتے ہیں:
’’حسب تصریح قرآن کریم، رسول اسی کو کہتے ہیں جس نے احکام و عقائد دین، جبرائیل کے ذریعہ سے حاصل کئے ہوں، لیکن
وحی نبوّت پر تو تیرہ سو برس سے مہر لگ گئی ہے۔‘‘
(ازالہ اوہام ص:۵۳۴، روحانی خزائن ج:۳ ص:۳۸۷)
چونکہ وحی نبوّت صرف انبیائے کرام علیہم السلام کو ہوسکتی ہے اور حضرت خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد
نبوّت کا دروازہ بند ہوچکا ہے، اس لئے ملت اسلامیہ کا اس
278
پر اتفاق اور اجماع ہے کہ جو شخص آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد وحی کا دعویٰ کرے وہ مرتد اور خارج از
اسلام ہے، چنانچہ قاضی عیاض القرطبی المالکیؒ (م۵۴۴ھ) اپنی مشہور کتاب ’’الشفا بہ تعریف حقوق المصطفی صلی اللہ علیہ
وسلم‘‘ میں لکھتے ہیں:
’’وکذالک من ادعی نبوۃ احد مع نبینا صلی اللہ علیہ وسلم او بعدہ ۔۔۔۔... او من ادعی النبوۃ لنفسہٖ او جوز اکتسابھا
والبلوغ بصفاء القلب الیٰ مرتبتھا ۔۔۔۔... وکذالک من ادعی منھم انہ یوحیٰ الیہ وان لم یدع النبوۃ ۔۔۔... فھؤلَاء
کلھم کفار مکذبون للنبی صلی اللہ علیہ وسلم لأنہ اخبر صلی اللہ علیہ وسلم انہ خاتم النبیین لَا نبی بعدہٗ، واخبر عن
اللہ تعالٰی انہ خاتم النبیین وانہ ارسل الیٰ کافۃ للناس۔ واجمعت الاُمۃ علیٰ حمل ھٰذا الکلام علیٰ ظاھرہٖ وان
مفھومہٗ المراد بہ دون تاویل ولَا تخصیص فلا شک فی کفر ھؤلَاء الطوائف کلھا قطعا اجماعًا وسمعًا۔‘‘
(ج:۲ ص:۲۴۶)
ترجمہ:۔۔۔’’اسی طرح وہ شخص بھی کافر ہے جو ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ یا آپ کے بعد کسی
کی نبوّت کا قائل ہو ۔۔۔... یا خود اپنے حق میں نبوّت کا دعویٰ کرے، یا اس کا قائل ہو کہ نبوّت کا حاصل کرنا اور
صفائے قلب کے ذریعہ نبوّت کے مرتبہ تک پہنچنا ممکن ہے ۔۔۔... اور اسی طرح جو شخص یہ دعویٰ کرے کہ اسے وحی ہوتی ہے
اگرچہ نبوّت کا دعویٰ نہ کرے ۔۔۔۔... پس یہ سب لوگ کافر ہیں اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی تکذیب کرتے ہیں
کیونکہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے خبر دی ہے کہ آپؐ خاتم النبیین ہیں،
279
آپ کے بعد کوئی نبی نہیں ہوگا اور آپ نے اللہ تعالیٰ کی طرف سے خبر دی ہے کہ آپؐ
خاتم النبیین ہیں اور یہ کہ آپؐ تمام انسانوں کی طرف مبعوث کئے گئے ہیں اور پوری اُمت کا اس پر اجماع ہے کہ یہ
کلام اپنے ظاہر پر محمول ہے اور یہ کہ اس کا ظاہری مفہوم ہی مراد ہے، پس اس بات میں کوئی شک نہیں کہ قرآن و سنت
اور اجماع اُمت کی رو سے مذکورہ بالا گروہ قطعاً کافر اور مرتد ہیں۔‘‘
الغرض نصوص قطعیہ کی بنا پر ’’وحی نبوّت‘‘ کا دروازہ تو بند ہے اور اس کا مدعی کافر اور زندیق ہے، البتہ کشف و
الہام اور مبشرات کا دروازہ کھلا ہے، پس سائل کا یہ کہنا کہ: ’’جب شیطانی وحی جاری ہے تو ضروری ہے کہ رحمانی وحی بھی
جاری ہو۔‘‘ اگر رحمانی وحی سے اس کی مراد کشف و الہام اور مبشرات ہیں تو اہل اسلام اس کے قائل ہیں کہ ان کا دروازہ
قیامت تک کھلا ہے، لہٰذا اس کو بند کہنا ہی غلط ہے، البتہ ان چیزوں کو ’’وحی‘‘ کے لفظ سے تعبیر کرنا درست نہیں،
کیونکہ وحی کا لفظ جب مطلق بولا جائے تو اس سے وحی نبوّت مراد ہوسکتی ہے، اور اگر مندرجہ بالا فقرے سے سائل کا مدعا
یہ ہے کہ ’’وحی نبوّت‘‘ جاری ہے تو اس کا یہ قیاس چند وجوہ سے باطل ہے۔
اوّل:... اس لئے کہ اسلامی عقائد کا ثبوت نصوص قطعیہ سے ہوا کرتا ہے، قیاس آرائی سے اسلامی عقائد ثابت نہیں ہوا
کرتے، اور سائل محض اپنے قیاس سے ’’وحی نبوّت‘‘ کے جاری ہونے کا عقیدہ ثابت کرنا چاہتا ہے۔
دوم:... یہ کہ اس کا یہ قیاس کتاب و سنت کے نصوص قطعیہ اور اجماع اُمت کے خلاف ہے اور قیاس بمقابلہ نص کے باطل ہے،
محض اپنے قیاس کے ذریعہ نصوص قطعیہ کو توڑنا کسی مدعیٔ اسلام کا کام نہیں ہوسکتا۔
شفائے قاضی عیاض میں ہے:
’’وکذالک وقع الْإجماع علیٰ تکفیر کل من
280
دافع نص الکتاب او خص حدیثًا مجمعًا علیٰ نقلہ مقطوعًا بہ، مجمعا علیٰ حملہ علی
ظاھرہٖ۔‘‘
(ج:۲ ص:۲۴۷)
ترجمہ:۔۔۔’’اور اسی طرح ہر اس شخص کے کافر ہونے پر بھی اجماع ہے جو کتاب اللہ کی کسی نص کو توڑے یا
ایسی حدیث میں تخصیص کرے جو قطعی اجماع کے ذریعہ منقول ہو، اور اس کے ظاہر مفہوم کے مراد ہونے پر اجماع ہو۔‘‘
حکم خداوندی کے مقابلہ میں قیاس سب سے پہلے ابلیس نے کیا تھا، جب حق تعالیٰ شانہ نے اس کو حکم دیا کہ وہ آدم کو
سجدہ کرے، تو اس نے یہ کہہ کر اس حکم کو رد کردیا کہ میں اس سے بہتر ہوں اور افضل کا مفضول کے آگے جھکنا خلاف حکمت
ہے، محض شبہات و وساوس اور برخود غلط قیاس کے ذریعہ کتاب و سنت کے نصوص کو رد کرنا ابلیس لعین کا کام ہے، اور یہی
خیالات و وساوس وہ شیطانی وحی ہے جس کا حوالہ سوال میں دیا گیا ہے۔
ایک مؤمن کی شان یہ ہے کہ جب اس کے سامنے خدا اور رسول کا کوئی حکم آئے تو فوراً گردن اس کے آگے جھک جائے اور وہ
عقل و قیاس کی ساری منطق بھول جائے، پس جب خدا و رسول اعلان فرماتے ہیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم خاتم النبیین
ہیں، آپؐ کے بعد نبوّت و رسالت اور وحی نبوّت کا دروازہ بند ہے اور اس عقیدے پر پوری اُمت کا اجماع ہے تو اس کے
مقابلہ میں کوئی قیاس اور منطق قابل قبول نہیں۔
سوم:۔۔۔اس سے بھی قطع نظر کیجئے تو یہ قیاس بذات خود بھی غلط ہے کہ ’’جب شیطانی وحی جاری ہے تو رحمانی وحی بھی جاری
ہونی چاہئے۔‘‘ کیونکہ یہ بات تو قریباً ہر شخص جانتا ہے کہ شیطانی وحی ہر وقت جاری رہتی ہے، اور کوئی لمحہ ایسا نہیں
گزرتا کہ شیطان لوگوں کو غلط شبہات و وساوس نہ ڈالتا ہو۔ پس اگر شیطانی وحی کے جاری ہونے سے وحی نبوّت کا جاری رہنا
بھی لازم آتا ہے تو ضروری ہے کہ جس طرح شیطانی وحی تسلسل کے ساتھ جاری
281
ہے، اسی طرح وحی نبوّت بھی ہر لمحہ جاری رہا کرے، اور ایک لمحہ بھی ایسا نہ گزرے جس میں وحی نبوّت کا انقطاع
ہوگیا ہو، اور چونکہ وحی نبوّت صرف انبیائے کرام علیہما السلام کو ہوتی ہے تو وحی نبوّت کے بلا انقطاع جاری رہنے کے
لئے یہ بھی لازم ہوگا کہ ہر وقت کوئی نہ کوئی نبی دنیا میں موجود رہا کرے، گویا حضرت آدم علیہ السلام سے لے کر حضرت
محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تک اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے لے کر اب تک جتنا زمانہ گزرا ہے اس کے ایک
ایک لمحہ میں کسی نبی کا وجود تسلیم کرنا ہوگا، میرا خیال ہے کہ دنیا کا کوئی عاقل بھی اس کا قائل نہیں ہوگا اور خود
جناب سائل بھی اس کو تسلیم نہیں کریں گے، پس جب خود سائل بھی اپنے قیاس کے نتائج کو تسلیم کرنے کے لئے تیار نہیں تو
اس سے واضح ہوجاتا ہے کہ ان کا یہ قیاس قطعاً غلط ہے۔
چہارم:۔۔۔یہ قیاس ایک اور اعتبار سے بھی باطل ہے کیونکہ سائل نے یہ فرض کرلیا ہے کہ وحی شیطانی کا توڑ کرنے کے لئے
وحی نبوّت کا جاری ہونا ضروری ہے، اور ظاہر ہے کہ شیطان کے وساوس ہر فرد بشر کو آتے ہیں، پس لازم ہوگا کہ ان کا توڑ
کرنے کے لئے ہر فرد و بشر کو وحی نبوّت ہوا کرے، خصوصاً کفار اور مشرکین اور فساق و فجار جن کے بارے میں قرآن کریم
نے فرمایا ہے کہ شیطان ان کو وحی کرتا ہے، ان پر تو وحی نبوّت ضرور نازل ہونی چاہئے تاکہ وہ وحی شیطان کا مقابلہ
کرسکیں، پس سائل کے قیاس سے لازم آئے گا کہ ہر فرد بشر نبی ہوا کرے اور ہر شخص پر وحی نبوّت نازل ہوا کرے، خصوصاً
کفار و فجار پر تو ضرور نازل ہوا کرے اور اگر یہ کہا جائے کہ شیطانی وحی کے توڑ کے لئے ہر شخص پر وحی نبوّت کا نازل
ہونا ضروری نہیں کیونکہ تمام افراد انسانی، شیطانی وساوس کا توڑ کرنے کے لئے نبی کی وحی کی طرف رجوع کرسکتے ہیں تو
ہم کہیں گے کہ وحی نبوّت کا جاری ہونا بھی ضروری نہیں، بلکہ تمام انسانیت، محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وحی
کی طرف رجوع کرکے شیطانی وحی کا توڑ کرسکتی ہے، اور شیطانی وساوس سے شفایاب ہوسکتی ہے، اور جب محمد رسول اللہ صلی
اللہ علیہ وسلم پر نازل شدہ وحی من وعن تر و تازہ موجود ہے،اس میں نہ کوئی تغیر آیا ہے اور نہ اس میں
282
کوئی کہنگی پیدا ہوئی ہے، تو شیطانی وحی کے مقابلہ میں ’’وحی محمدی‘‘ کیوں کافی نہیں؟ اور کسی نئی وحی کی
کیا ضرورت رہ جاتی ہے؟
اسی تقریر سے سائل کا یہ شبہ بھی غلط ثابت ہوتا ہے کہ ’’وحی رحمانی تو رحمت ہے وہ کیوں بند ہوگئی؟‘‘ کیونکہ جب
’’وحی محمدی‘‘ کی شکل میں اس اُمت کو ایک کامل و مکمل رحمت، اللہ تعالیٰ نے مرحمت فرمادی ہے اور یہ کامل و مکمل رحمت
اُمت کے پاس موجود ہے اور قیامت تک قائم و دائم رہے گی، یہ رحمت اُمت سے نہ کبھی منقطع ہوئی، نہ آئندہ منقطع ہوگی،
تو سائل کو مزید کون سی رحمت درکار ہے جس کے بند ہونے کو وہ انقطاع رحمت سے تعبیر کرتا ہے، یہ کس قدر کفران نعمت ہے
کہ ’’وحی محمدی‘‘ کو رحمت نہ سمجھا جائے، یا اس کامل و مکمل رحمت پر قناعت نہ کی جائے، اور اس کو کافی نہ سمجھا
جائے، بلکہ ہر کس و ناکس اس کی ہوس کرے کہ ’’وحی نبوّت‘‘ کی نعمت براہ راست اس کو ملنی چاہئے، اگر خدانخواستہ ’’وحی
محمدی‘‘ دنیا سے ناپید ہوگئی ہوتی، یا اس میں کوئی ردوبدل ہوگیا ہوتا کہ وہ لائق استفادہ نہ رہتی، تب تو یہ کہنا
صحیح ہوتا کہ اس اُمت کو ’’نئی وحی‘‘ کی ضرورت ہے، یا یہ کہ یہ اُمت ’’وحی نبوّت‘‘ کی رحمت سے محروم ہے، لیکن اب
جبکہ اللہ تعالیٰ نے اکمال دین اور اتمام نعمت کا اعلان فرمادیا ہے اور قیامت کے لئے وحی محمدی کی حفاظت کا ذمہ خود
لے لیا، اس اُمت کو ’’وحی نبوّت‘‘ سے محروم کہنا صریح بے انصافی نہیں تو اور کیا ہے؟ میں جناب سائل کی توجہ اس نکتہ
کی طرف مبذول کرانا چاہتا ہوں کہ ’’وحی محمدی‘‘ کے بعد ’’وحی نبوّت‘‘ کا جاری رہنا عقلاً محال ہے اس لئے کہ آنحضرت
صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد اگر ’’وحی نبوّت‘‘ کو جاری فرض کیا جائے تو سوال ہوگا کہ یہ بعد کی وحی، وحی محمدی سے
اکمل ہوگی یا اس کے مقابلہ میں ناقص ہوگی؟ پہلی صورت میں ’’وحی محمدی‘‘ کا ناقص ہونا لازم آتا ہے اور یہ اعلان
خدائے بزرگ و برتر ’’الیوم اکملت لکم دینکم واتممت علیکم نعمتی‘‘ کے خلاف ہے۔
اور اگر بعد کی وحی، وحی محمدی کے مقابلہ میں ناقص ہو تو کامل کے ہوتے ہوئے ناقص کی کیا ضرورت رہ جاتی ہے؟ کامل کی
موجودگی میں ناقص کو بھیجنا خلاف حکمت اور
283
کارعبث ہے جو حق تعالیٰ شانہ کے حق میں عقلاً محال ہے، اس لئے یہ ممکن ہی نہیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ
وسلم کے بعد کسی کو منصب نبوّت عطا کیا جائے اور اس پر وحی نبوّت نازل کی جائے، الغرض اُمتِ محمدیہ (علیٰ صاحبہا الف
الف تحیۃ وسلام) کے پاس ’’وحی محمدی‘‘ کی شکل میں کامل اور مکمل اور کافی و شافی رحمت موجود ہے، جو اس اُمت کے ساتھ
اب تک قائم و دائم ہے، جو شخص اس رحمت کو کافی نہیں سمجھتا بلکہ کسی اور ’’وحی‘‘ کی تلاش میں سرگرداں ہے اس کا منشا
اس کے سوا کچھ نہیں کہ دین اسلام کے کامل و مکمل اور ’’وحی محمدی‘‘ کے کافی و شافی ہونے پر ایمان نہیں رکھتا، انصاف
کیا جائے کہ کیا ایسے شخص کے لئے اُمتِ محمدیہ کی صفوں میں کوئی جگہ ہوسکتی ہے؟ اور کیا وہ:’’رضیت باللہ ربًّا وبالْإسلام دینًا وبمحمد صلی اللہ علیہ وسلم رسولًا ونبیًّا‘‘ کا قائل
ہے؟
۳:۔۔۔جناب سائل نے ہندوؤں، عیسائیوں، یہودیوں اور مسلمانوں کو ایک ہی صف میں کھڑا کرکے یہ تاثر دینے کی کوشش کی ہے
کہ جس طرح دیگر مذاہب باطلہ کی طرف سے انقطاع وحی کا دعویٰ غلط ہے، اسی طرح مسلمانوں کا یہ دعویٰ بھی غلط ہے کہ محمد
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم خاتم النبیین ہیں، آپ کے بعد نبوّت اور وحی نبوّت کا دروازہ بند کردیا گیا ہے، گویا
سائل کی نظر میں اسلامی عقیدہ بھی اسی طرح باطل ہے جس طرح ہنود و یہود اور نصاریٰ کا عقیدہ باطل ہے، نعوذباللہ!
اوپر سوال نمبر دو کے جواب میں جو کچھ لکھا گیا ہے جو شخص اس پر غور کرے گا، بشرطیکہ حق تعالیٰ نے اسے فہم و بصیرت
کا کچھ بھی حصہ عطا فرمایا ہو، اسے صاف نظر آئے گا کہ اسلام کا یہ دعویٰ کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد
’’وحی نبوّت‘‘ کا دروازہ بند ہے، بالکل صحیح اور بجا ہے، لیکن دیگر مذاہب ایسا دعویٰ کرنے کے مجاز نہیں اور اس کی
متعدد وجوہ ہیں:
ایک:... یہ کہ گزشتہ انبیائے کرام علیہم السلام میں سے کسی نے یہ دعویٰ نہیں کیا کہ وہ ’’آخری نبی‘‘ ہیں، اور یہ
کہ ان کے بعد نبوّت اور وحی نبوّت کا سلسلہ بند کردیا گیا ہے، بلکہ انبیائے گزشتہ میں سے ہر نبی اپنے بعد آنے والے
نبی کی خوشخبری دیتا رہا ہے، چنانچہ
284
انبیائے بنی اسرائیل کے سلسلہ کے آخری نبی حضرت عیسیٰ علیہ السلام بھی اپنے بعد ایک عظیم الشان رسول کے
مبعوث ہونے کی خوشخبری سنا رہے ہیں:
’’وَاِذْ قَالَ عِیْسَی بْنُ مَرْیَمَ یَا بَنِیٓ اِسْرَآئِیْلَ اِنِّیْ رَسُوْلُ اللہِ اِلَیْکُم مُّصَدِّقًا
لِّمَا بَیْنَ یَدَیَّ مِنَ التَّوْرَاۃِ وَمُبَشِّرًا بِرَسُوْلٍ یَّأْتِیْ مِنْ بَعْدِی اسْمُہٗ اَحْمَدُ۔‘‘
(الصف:۶)
ترجمہ:۔۔۔’’اور جب عیسیٰ بن مریم نے کہا اے بنی اسرائیل! میں تمہاری طرف اللہ کا رسول ہوں، تصدیق
کرتا ہوں جو میرے سامنے تورات ہے اور خوشخبری دیتا ہوں ایک رسول کی جو میرے بعد آئے گا اس کا نام احمد ہے۔‘‘
یہ تو قرآن کریم کا صادق و مصدوق بیان ہے، جبکہ موجودہ بائبل میں بھی اس کے محرف و مبدل ہونے کے باوجود اس بشارت
کی تصدیق موجود ہے، ملاحظہ فرمائیے:
الف:۔۔۔’’اور میں باپ سے درخواست کروں گا تو وہ تمہیں دوسرا مددگار بخشے گا جو ابد تک تمہارے ساتھ رہے گا۔‘‘
(یوحنا: ۱۴، ۱۶)
ب:۔۔۔’’میں تم سے سچ کہتا ہوں کہ میرا جانا تمہارے لئے فائدہ مند ہے، کیونکہ اگر میں نہ جاؤں تو وہ مددگار تمہارے
پاس نہ آئے گا، لیکن اگر جاؤں گا تو اسے تمہارے پاس بھیج دوں گا، اور وہ آکر دنیا کو گناہ اور راستبازی اور عدالت
کے بارے میں قصوروار ٹھہرائے گا۔‘‘
(یوحنا: ۱۶، ۸۷)
ج:۔۔۔’’مجھے تم سے اور بھی بہت سی باتیں کہنا ہے، مگر اب تم ان کی برداشت نہیں کرسکتے، لیکن جب وہ یعنی سچائی کا
روح آئے گا تو تم کو تمام سچائی کی راہ دکھائے گا، اس لئے کہ وہ اپنی طرف سے
285
نہ کہے گا لیکن جو کچھ سنے گا وہی کہے گا اور تمہیں آئندہ کی خبریں دے گا، وہ میرا جلال ظاہر کرے گا۔‘‘
(یوحنا: ۱۶، ۱۲، ۱۴)
د:۔۔۔’’میں نے یہ باتیں تمہارے ساتھ رہ کر تم سے کہیں، لیکن مددگار یعنی روح القدس جسے باپ میرے نام سے بھیجے گا،
وہی تمہیں سب باتیں سکھائے گا اور جو کچھ میں نے تم سے کہا ہے وہ سب تمہیں یاد دلائے گا۔‘‘
(یوحنا: ۱۴، ۲۵، ۲۶)
ہ:۔۔۔’’لیکن جب وہ مددگار آئے گا جس کو میں تمہارے پاس باپ کی طرف سے بھیجوں گا، یعنی سچائی کا روح جو باپ سے صادر
ہوتا ہے، تو وہ میری گواہی دے گا۔‘‘
(یوحنا: ۱۵، ۲۶)
بائبل کے ان فقرات میں جس ’’مددگار‘‘ اور ’’سچائی کی روح‘‘ کے آنے کی خوشخبری دی گئی ہے اس سے آنحضرت صلی اللہ
علیہ وسلم کی ذات گرامی مراد ہے، گویا عیسیٰ علیہ السلام اپنے بعد ایک عظیم الشان رسول کے مبعوث کئے جانے کا اعلان
کر رہے ہیں جو خاتم النبیین ہوگا، اور ’’ابد تک تمہارے ساتھ رہے گا۔‘‘
لیکن حضرت خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے تو آپ نے گزشتہ انبیاء کی طرح اپنے بعد کسی نبی کے آنے کی
خوشخبری نہیں دی، بلکہ صاف صاف اعلان فرمایا کہ آپؐ آخری نبی ہیں، آپؐ کے بعد کوئی نبی نہیں ہوگا:
’’انا آخر الأنبیاء وانتم آخر الاُمم۔‘‘
(ابن ماجہ ص:۲۹۷)
ترجمہ:۔۔۔’’اور میں آخری نبی ہوں اور تم آخری اُمت ہو۔‘‘
اور خطبہ حجۃ الوداع کے عظیم الشان مجمع میں اعلان فرمایا:
’’ایھا الناس انہ لَا نبی بعدی ولَا امۃ بعدکم۔‘‘
(مجمع الزوائد ج:۸ ص:۲۶۳ مطبع دارالکتاب بیروت)
286
ترجمہ:۔۔۔’’اے لوگو! بے شک میرے بعد کوئی نبی نہیں اور تمہارے بعد کوئی اُمت نہیں۔‘‘
نیز آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اُمت کو اس سے بھی آگاہ فرمایا کہ آپؐ کے بعد جو شخص نبوّت کا دعویٰ کرے وہ جھوٹا
ہے:
’’وانہ سیکون فی امتی کذابون ثلاثون کلھم یزعم انہ نبی اللہ، وانا خاتم النبیین لَا نبی بعدی۔‘‘
(رواہ ابوداؤد والترمذی مشکوٰۃ ص:۴۶۵)
ترجمہ:۔۔۔’’میری اُمت میں تیس جھوٹے ہوں گے ان میں سے ہر ایک دعویٰ کرے گا کہ وہ اللہ کا نبی ہے،
حالانکہ میں آخری نبی ہوں، میرے بعد کوئی نبی نہیں۔‘‘
پس دیگر مذاہب اگر انقطاع وحی کا دعویٰ کرتے ہیں تو ان کا دعویٰ اپنے پیشواؤں کی تعلیم کے خلاف ہے، اور اہل اسلام
اگر یہ عقیدہ رکھتے ہیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم خاتم النبیین ہیں، آپؐ کے بعد نبوّت اور وحی نبوّت کا دروازہ
بند ہے تو ان کا دعویٰ قرآن اور ارشادات نبویہ کی روشنی میں بالکل صحیح اور بجا ہے۔
دوم:... یہ کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے قبل جس قدر انبیائے کرام علیہم السلام مبعوث ہوئے ان میں سے کسی نبی
کی اصل کتاب اور ان کی صحیح تعلیم دنیا میں موجود نہیں رہی، بلکہ دستبرد زمانہ کی نذر ہوگئی۔
لیکن حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر نازل شدہ کتاب کا ایک ایک شوشہ اور آپؐ کی تعلیمات کا ایک ایک حرف
محفوظ ہے، اس کتاب اور اس تعلیم پر ایک لمحہ بھی ایسا نہیں گزرا کہ وہ دنیا سے مفقود ہوگئی ہو، قرآن کریم میں ارشاد
ہے:
’’اِنَّا نَحْنُ نَزَّلْنَا الذِّکْرَ وَاِنَّا لَہٗ لَحٰفِظُوْنَ۔‘‘
(الحجر:۹)
ترجمہ:۔۔۔’’بے شک ہم نے ہی اس نصیحت نامے کو نازل
287
کیا اور ہم خود ہی اس کی حفاظت کریں گے۔‘‘
اور زمانہ قرآن کریم کے اس اعلان کی صداقت پر گواہ ہے کہ آج تک قرآن کریم ہر تغیر سے پاک ہے اور اسلام کے کٹر سے
کٹر دشمن بھی اس حقیقت کا اعتراف کرنے پر مجبور ہیں اور اِن شاء اللہ رہتی دنیا تک اس کی تعلیم دائم و قائم رہے گی۔
پس جب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے علاوہ کسی نبی کی اصل آسمانی تعلیم باقی نہیں رہی تو ان مذاہب کے پرستاروں کا
انقطاع وحی کا دعویٰ بھی حرف غلط ٹھہرتا ہے، اور جب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی کتاب اور آپؐ کی تعلیمات جوں کی
توں محفوظ ہیں تو اہل اسلام کا یہ دعویٰ بالکل بجا اور درست ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد انسانیت کسی
نئی نبوّت اور وحی نبوّت کی محتاج نہیں۔
سوم:... یہ کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے پہلے انبیائے کرام علیہم السلام مخصوص قوم و خاص وقت اور خاص علاقے
اور خطے کے لئے مبعوث کئے جاتے تھے، لیکن اللہ تعالیٰ نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو خاتم النبیین کی حیثیت سے
مبعوث فرمایا تو قیامت تک ساری دنیا آپ کے زیر نگیں آگئی، زمان و مکان کی وسعتیں سمٹ گئیں، عرب و عجم اور اسود و
احمر کی تفریق مٹ گئی اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا دامن رحمت تمام ملکوں، تمام خطوںاور تمام قوموں اور تمام
زمانوں پر قیامت تک کے لئے محیط ہوگیا، پس آپؐ کی بعثت عامہ کے بعد کسی علاقے اور کسی زمانے کے لئے نبی اور نئی
’’وحی نبوّت‘‘ کی ضرورت ہی باقی نہیں رہ گئی، اور یہ آپ کا ایسا خصوصی شرف و امتیاز ہے جو آپؐ کے سوا کسی کو نصیب
نہیں ہوا، چنانچہ صحیح مسلم میں حضرت ابوہریرہؓ سے روایت ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:
’’فضلت علی الأنبیاء بست، اعطیت جوامع الکلم، ونصرت بالرعب، واحلت لی الغنائم، وجعلت لی الأرض مسجدا و طہورا،
وارسلت الی الخلق کافۃ، وختم بی النبیون۔‘‘
(مشکوٰۃ ص:۵۱۲)
288
ترجمہ:۔۔۔’’مجھے چھ باتوں میں دیگر انبیائے کرام علیہم السلام پر فضیلت دی گئی ہے، مجھے جامع کلمات
عطا کئے گئے، رعب کے ساتھ میری مدد کی گئی ہے، میرے لئے مال غنیمت حلال کردیا گیا، روئے زمین کو میرے لئے مسجد اور
پاک کرنے والی بنادیا گیا، مجھے ساری مخلوق کی طرف مبعوث کیا گیا اور میرے ذریعہ نبیوں کو ختم کردیا گیا۔‘‘
اور صحیحین میں حضرت جابرؓ سے روایت ہے کہ آپؐ نے فرمایا:
’’وکان النبی یبعث الیٰ قومہ خاصۃ وبعثت الی الناس عامۃ۔‘‘
(مشکوٰۃ ص:۵۱۲)
ترجمہ:۔۔۔’’مجھ سے پہلے ہر نبی صرف اپنی قوم کی طرف مبعوث کیا جاتا تھا، اور مجھے تمام انسانوں کی
طرف مبعوث کیا گیا۔‘‘
اور مسند احمد میں حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ کی روایت سے آپؐ کا ارشاد نقل کیا ہے:
’’اعطیت خمسًا لم یعطہن احد قبلی، ولَا اقولہ فخرًا، بعثت الی کل احمر واسود ۔۔۔... الخ۔‘‘
(مسند احمد ج:۱ ص:۲۵۰)
ترجمہ:۔۔۔’’مجھے پانچ چیزیں ایسی عطا کی گئی ہیں جو مجھ سے پہلے کسی نبی کو عطا نہیں کی گئیں، اور
میں یہ بات بطور فخر کے نہیں کہتا، مجھے تمام انسانوں کی طرف مبعوث کیا گیا ہے خواہ گورے ہوں یا کالے ۔۔... الخ۔‘‘
الغرض آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا ساری انسانیت کی طرف مبعوث ہونا اس حکمت کی بنا پر تھا کہ ساری دنیا آنحضرت
صلی اللہ علیہ وسلم کے دامن رحمت کے نیچے
289
آجائے، اور آپؐ کے بعد کسی دوسری نبوّت اور وحی نبوّت کی احتیاج باقی نہ رہے گی، قرآن کریم میں آپؐ کی
زبان وحی ترجمان سے اعلان کرایا گیا ہے:
’’قُلْ یَآ اَیُّھَا النَّاسُ اِنِّیْ رَسُوْلُ اللہِ اِلَیْکُمْ جَمِیْعًا۔‘‘
(الاعراف:۱۵۸)
ترجمہ:۔۔۔’’آپؐ کہہ دیجئے میں تم سب کی طرف اللہ تعالیٰ کا رسول ہوں۔‘‘
اس کی تفسیر میں حافظ ابن کثیرؒ لکھتے ہیں:
’’یقول اللہ تعالیٰ لنبیہ ورسولہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم (قل) یا محمد (یا ایھا الناس) وھٰذا خطاب للأحمر
والأسود والعربی والعجمی (انی رسول اللہ الیکم جمیعا) ای جمیعکم وھٰذا من شرفہ وعظمتہ صلی اللہ علیہ وسلم انہ خاتم
النبیین وانہ مبعوث الی الناس کافۃ۔‘‘
(ج:۲ ص:۲۷۳ طبع قاہرہ)
ترجمہ:۔۔۔’’اللہ تعالیٰ اپنے نبی و رسول حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم سے فرماتے ہیں کہ اے محمدؐ!
آپ کہہ دیجئے کہ اے لوگو! یہ خطاب گورے، کالے اور عربی و عجمی سب کو ہے، میں تم سب کی طرف اللہ تعالیٰ کا رسول ہوں
اور یہ بات آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے شرف و عظمت میں سے ہے کہ آپؐ خاتم النبیین ہیں اور آپ کو تمام انسانوں
کی طرف مبعوث کیا گیا ہے۔‘‘
پس جب آپؐ سے قبل کسی نبی کی بعثت عام نہیں ہوئی تو کوئی قوم اس دعویٰ کی مجاز نہیں کہ ان کے نبی کے بعد وحی کا
دروازہ بند ہوچکا ہے اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوّت اور رسالت چونکہ زمان و مکان کی تمام وسعتوں پر محیط
ہے اس لئے اہل اسلام
290
کا یہ عقیدہ قطعاً برحق ہے کہ آپؐ خاتم النبیین ہیں اور یہ کہ آپؐ کے بعد نبوّت و وحی کا دروازہ بند ہے۔
چہارم:... یہ کہ ہر نبی کی وحی اور اس کی شریعت بلاشبہ اس کی قوم کی ضروریات کو مکتفی تھی، مگر دین کی تکمیل کا
اعلان کسی نبی کے زمانے میں نہیں کیا گیا، لیکن جب نبی آخری الزماں حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم خاتم
النبیین کی حیثیت سے تمام انسانوں کی طرف مبعوث ہوئے اور آپؐ کی وحی و شریعت سے قیامت تک انسانیت کی کامل و مکمل
رہنمائی اور رشد و ہدایت کا سامان کردیا گیا تو حجۃ الوداع کے موقع پر دین کی تکمیل کا اعلان کردیا گیا، چنانچہ
قرآن مجید میں ارشاد خداوندی ہے:
’’اَلْیَوْمَ اَکْمَلْتُ لَکُمْ دِیْنَکُمْ وَاَتْمَمْتُ عَلَیْکُمْ نِعْمَتِیْ وَرَضِیْتُ لَکُمُ الْاِسْـلَامَ
دِیْنًا۔‘‘
(المائدۃ:۳)
ترجمہ:۔۔۔’’آج میں نے تمہارے لئے دین کامل کردیا اور تم پر اپنی نعمت پوری کردی اور تمہارے لئے دین
اسلام کو (ہمیشہ کے لئے) پسند کرلیا۔‘‘
حافظ ابن کثیرؒ اس آیت کے ذیل میں لکھتے ہیں:
’’ھٰذہ اکبر نعم اللہ تعالیٰ علیٰ ھٰذہ الاُمۃ حیث اکمل تعالیٰ لھم دینھم فلا یحتاجون الیٰ دین غیرہ ولَا الیٰ نبی
غیر نبیھم صلوات اللہ وسلامہ علیہ، ولہٰذا جعلہ اللہ تعالٰی خاتم الأنبیاء وبعثہ الی الْإنس والجن۔‘‘
(تفسیر ابن کثیر ج:۲ ص:۱۲)
ترجمہ:۔۔۔’’یہ اس اُمت پر اللہ تعالیٰ کا سب سے بڑا انعام ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ان کے لئے ان کا دین
کامل کردیا، پس وہ اس دین کے سوا کسی
291
اور دین کے اور اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے سوا کسی اور نبی کے محتاج نہیں، اس
بنا پر اللہ تعالیٰ نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو خاتم النبیین بنایا، اور آپؐ کو جن و انس کی طرف مبعوث
فرمایا۔‘‘
پس جب پہلے کسی نبی کے زمانے میں تکمیل دین کا اعلان نہیں ہوا تو دیگر مذاہب کے پیرو کیسے کہہ سکتے ہیں کہ ان کے
نبی کے بعد نبوّت کا دروازہ بند ہے اور جب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ذریعہ دین کی تکمیل ہوچکی اور حق تعالیٰ
شانہ کی نعمت اس اُمت پر تمام ہوچکی تو اہل اسلام آپؐ کے بعد کسی نئی نبوّت اور وحی نبوّت کے دست نگر کیوں ہوں۔
اس آیت کریمہ سے یہ بھی معلوم ہوا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا خاتم النبیین ہونا اور آپؐ کے بعد وحی نبوّت
کا دروازہ بند ہوجانا اس اُمت کے حق میں کمال نعمت ہے جس کو حق تعالیٰ شانہ بطور امتنان کے ذکر فرما رہے ہیں، جو لوگ
اس کو انقطاع رحمت سے تعبیر کرتے ہیں یہ ان کی ناحق شناسی ہے، اس نعمت کا ایک پہلو یہ بھی ہے کہ آنحضرت صلی اللہ
علیہ وسلم کے بعد کوئی نبی مبعوث کیا جاتا تو اس پر ایمان نہ لانے والے لوگ کافر ٹھہرتے، اور اس میں آنحضرت صلی
اللہ علیہ وسلم کی تنقیص ہوتی کہ ایک شخص آپؐ پر ایمان لاتا ہے اور آپؐ کے لائے ہوئے دین کی ایک ایک بات کو مانتا
ہے، اس کے باوجود کافر قرار پاتا ہے، گویا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو ماننا بھی کفر سے بچانے کے لئے کافی نہیں
ہوا، پس جب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوّت قیامت تک کے لئے ہے اور ساری انسانیت کی راہنمائی اور رشد و ہدایت
کی تنہا کفیل ہے تو لازم تھا کہ آپؐ کے بعد کوئی نبی مبعوث نہ کیا جائے تاکہ اس کے انکار سے امتیانِ محمدؐ کافر نہ
ٹھہریں، اس لئے واضح ہوجاتا ہے کہ اس اُمت کے حق میں نبوّت کا جاری ہونا رحمت نہیں، بلکہ نبوّت کا بند ہونا رحمت ہے،
کیونکہ آپؐ کے بعد نبوّت کا جاری ہونا آپ کی تنقیص اور اُمت کی تکفیر کو مستلزم ہے، مرزا غلام احمد قادیانی لکھتے
ہیں:
’’خدائے تعالیٰ ایسی ذلت اور رسوائی اس اُمت کے لئے اور ایسی ہتک اور کسر شان اپنے نبی مقبول خاتم الانبیاء کے لئے
ہرگز
292
روا نہیں رکھے گا کہ ایک رسول کو بھیج کر جس کے آنے کے ساتھ جبرائیل کا آنا ضروری امر ہے، اسلام کا تختہ
ہی الٹ دیوے، حالانکہ وہ وعدہ کرچکا ہے کہ بعد آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے کوئی رسول نہیں بھیجا جائے گا۔‘‘
(ازالہ اوہام ص:۵۸۶، روحانی خزائن ج:۳ ص:۴۱۶)
مذکورہ بالا چار وجوہ سے واضح ہوا ہوگا کہ سائل کا مسلمانوں کے عقیدہ ختمِ نبوّت اور انقطاع وحی کو ہندوؤں،
یہودیوں اور عیسائیوں کے غلط دعوؤں کی صف میں شمار کرنا ایک ایسا ظلم ہے جس کی توقع کسی صاحب بصیرت عاقل و منصف سے
نہیں کی جانی چاہئے۔
رہا جناب سائل کا یہ کہنا کہ جب مسلمانوں کے علاوہ باقی قومیں بھی انقطاع وحی کا دعویٰ کرتی ہیں تو ’’سچے دین کی
شناخت کیسے ہوگی؟‘‘ یہ سوال درحقیقت اس دعوے پر مبنی ہے کہ سچے اور جھوٹے مذہب کی شناخت کا بس ایک ہی معیار ہے اور
وہ یہ کہ جو مذہب ’’وحی نبوّت‘‘ کے جاری ہونے کا دعویٰ کرے وہ سچا ہے، اور جو اس کا انکار کرے وہ جھوٹا ہے، کیا میں
جناب سائل سے بادب دریافت کرسکتا ہوں کہ ان کا یہ خودتراشیدہ معیار قرآن کریم کی کس آیت میں، یا آنحضرت صلی اللہ
علیہ وسلم کے کس ارشاد میں ذکر کیا گیا ہے کہ جو مذہب ’’وحی نبوّت‘‘ کے جاری ہونے کا قائل ہو وہ سچا ہے اور جو قائل
نہ ہو وہ جھوٹا ہے؟ کیا مذہب کی حقانیت خودتراشیدہ اور من گھڑت معیاروں سے جانچی جاسکتی ہے؟
اب اگر اس معیار کو ایک لمحہ کے لئے صحیح فرض کرلیا جائے تو اس کی رو سے بابی، بہائی اور دیگر جھوٹے مدعیان نبوّت
کا مذہب سچا قرار پاتا ہے، کیونکہ یہ سب لوگ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد ’’وحی نبوّت‘‘ کے جاری ہونے کے قائل
تھے، کیا جناب سائل اپنے مقرر کردہ معیار کی رو سے مسیلمہ کذاب سے لے کر بہاء اللہ ایرانی تک کے تمام مذاہب کو سچا
تسلیم کرنے کے لئے تیار ہوں گے؟ مجھے توقع ہے کہ جناب سائل خود بھی اس بوجھ کے اٹھانے پر آمادہ نہیں ہوں گے، اس سے
واضح ہوجاتا ہے کہ ان کا پیش کردہ معیار خود ان کی
293
نظر میں بھی غلط ہے کہ جو مذہب وحی نبوّت کے جاری ہونے کا قائل ہو وہ سچا ہے اور جو قائل نہ ہو وہ جھوٹا ہے۔
کسی مذہب کی حقانیت کا معیار اس کی پیش کردہ تعلیمات ہیں اور یہ بات میں اوپر عرض کرچکا ہوں کہ اسلام کے سوا کوئی
مذہب ایسا نہیں جو اپنے بانیٔ مذہب کی صحیح تعلیم پیش کرنے کی جرأت کرسکے، کوئی مذہب ایسا نہیں جو اپنی مذہبی
تعلیمات کو مخصوص قوم اور مخصوص خطہ کے دائرے سے نکال کر انسانیت کی عالمگیر برادری کی ہر شعبہ زندگی میں رہنمائی کے
فرائض انجام دے سکے، کوئی مذہب ایسا نہیں جس کے اصول و فروع عقل سلیم کے ترازو پر پورے اترتے ہوں، اور کوئی مذہب
ایسا نہیں جس نے خارجی پیوندکاری کے بغیر انسانی مشکلات کا حل پیش کیا ہو، اسلام اپنے امتیازی اوصاف و خصائص کی بنا
پر فطری دین ہے، جیسا کہ ارشاد الٰہی ہے:’’فِطْرَۃَ اللہِ الَّتِیْ فَطَرَ النَّاسَ
عَلَیْہَا‘‘ کیا یہ کھلے حقائق بھی جناب سائل کو سچے مذہب کی شناخت کے لئے کارآمد نہیں ہوسکتے؟
۴:۔۔۔جناب سائل مسلمانوں کی فرقہ بندی سے پریشان ہیں، لیکن انہوں نے یہ نہیں بتایا کہ وہ اس سے کیا نتیجہ اخذ کرنا
چاہتے ہیں؟ اور ہم سے کیا دریافت کرنا چاہتے ہیں؟ ’’اختلاف اُمت‘‘ کی بقدر ضرورت بحث میں اپنی کتاب ’’اختلاف اُمت
اور صراط مستقیم‘‘ میں عرض کرچکا ہوں، خلاصہ یہ کہ اختلاف کی دو قسمیں ہیں، ایک فروعی مسائل میں اختلاف، یہ ایک
ناگزیر فطری امر ہے اور اس کو کوئی معیوب قرار نہیں دے سکتا۔ دوسری قسم نظریاتی اختلاف کی ہے، یہ بلاشبہ مذموم ہے
لیکن اس کی ذمہ داری اسلام پر یا اہل حق پر عائد نہیں ہوتی بلکہ وہی لوگ مورد الزام ہیں جو نت نئے نظریات تراش کر
اُمت میں افتراق و انتشار پیدا کرنا چاہتے ہیں، مثلاً اُمت میں مرزا غلام احمد قادیانی اور ان کے پیرو کھڑے ہوئے اور
اُمت کو افتراق و انتشار کی بھٹی میں جھونک کر چلتے بنے، منکرین حدیث کھڑے ہوئے اور ایک نئے فتنے کا دروازہ کھول کر
اُمت میں تفرقہ پیدا کر گئے، اہل بدعت کھڑے ہوئے اور انہوں نے طرح طرح کی بدعات پھیلاکر فرقہ بندی کو ہوا دی۔
ظاہر ہے کہ اس طرح جس قدر فرقہ بندیاں وجود میں آئیں، ان کے لئے نہ
294
اسلام مورد الزام ہے اور نہ وہ حضرات جو سلف صالحین، صحابہؓ و تابعینؒ کے نقش قدم پر گامزن ہیں۔ فرقہ بندیوں
کا اہل حق کو الزام دینا عقل و دانش کے خلاف بدترین ظلم ہے اور اس کی مثال ایسی ہوگی کہ کسی شریف کے گھر چور نقب زنی
کرے، مقدمہ عدالت میں جائے، تو جج صاحب بجائے چور کو ملزم ٹھہرانے کے، دونوں فریقوں کو ’’مجرم‘‘ ٹھہراکر جیل بھیج
دے، ظاہر ہے کہ اس کو انصاف نہیں کہا جائے گا، ٹھیک اسی طرح جب مختلف قسم کے نقب زنوں نے اسلامی نظریات میں نقب
لگاکر فرقہ بندیوں کو جنم دیا، تو عقل و انصاف کا تقاضا یہ ہے کہ ان چوروں کی نشاندہی کی جائے اور ان کی خیانتوں کی
نشاندہی کی جائے، یہ نہیں کہ ان کی چوری و سینہ زوری کا الزام الٹا اہل حق کو بھی دیا جائے۔ اور اگر سائل کا خیال یہ
ہے کہ اُمت کے ان فرقوں میں سے کوئی فرقہ بھی حق پر قائم نہیں، تو یہ خیال غلط اور نصوص شرعیہ کے خلاف ہے، آنحضرت
صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد گرامی ہے:
’’لَا یزال من امتی امۃ قائمۃ بامر اللہ لَا یضرھم من خذلھم ولَا من خالفھم حتی یأتی امر اللہ وھم علٰی ذالک۔‘‘
(صحیح بخاری و مسلم، مشکوٰۃ ص:۵۸۳)
ترجمہ:۔۔۔’’میری اُمت میں ایک جماعت اللہ تعالیٰ کے حکم پر ہمیشہ قائم رہے گی، ان کو نقصان نہیں دے
گا وہ شخص جو ان کی مدد چھوڑ دے اور نہ وہ جو ان کی مخالفت کرے، یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ کا حکم آجائے گا درانحالیکہ
وہ اسی پر ہوں گے۔‘‘
ایک اور حدیث میں ہے:
’’لَا تزال طائفۃ من امتی یقاتلون علی الحق ظاھرین الیٰ یوم القیامۃ، قال: فینزل عیسیٰ ابن مریم علیہ السلام،
فیقول امیرھم: تعال صل لنا، فیقول: لَا! ان بعضکم علیٰ بعض امراء تکرمۃ اللہ ھٰذہ الاُمۃ۔‘‘
295
(صحیح مسلم ج:۱ ص:۸۷، مسند احمد ج:۳ ص:۳۱۵)
ترجمہ:۔۔۔’’میری اُمت کا ایک گروہ حق پر لڑتا رہے گا اور وہ غالب رہیں گے قیامت تک، پس عیسیٰ علیہ
السلام نازل ہوں گے اور ان کا امیر آپؑ سے کہے گا کہ: آئیے نماز پڑھائیے، وہ فرمائیں گے: نہیں! بلکہ تمہی پڑھاؤ،
بے شک تم میں سے بعض، بعض پر امیر ہیں، یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے اس اُمت کا اعزاز ہے۔‘‘
(ہفت روزہ ختمِ نبوّت کراچی ج:۱ ش:۲۰)
296
ربوہ سے تل ابیب تک
(حصہ اول)
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ
اَلْحَمْدُ للہِ وَحْدَہٗ وَالصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامُ عَلٰی مَنْ لّا نَبِیَّ بَعْدَہٗ!
صیہونیت اور قادیانیت عالم اسلام کے لئے سب سے بڑا چیلنج ہیں، مشرق وسطیٰ میں ’’اسرائیل‘‘ کی ستم رانیوں سے جبین
تاریخ، عرق آلود ہے۔ ادھر پاکستان میں قادیانی خلافت کے پایہ تخت ’’ربوہ‘‘ کی لن ترانیاں عالم اسلام کا مذاق اڑا
رہی ہیں۔ یہ دونوں سفید سامراج کی پیداوار اور اس کے آلہ کار ہیں، دونوں کے درمیان اتحاد و تعاون اور یک جہتی و ہم
آہنگی پائی جاتی ہے، لیکن ہمارے ارباب اقتدار نے ابھی تک سنجیدگی سے اس سنگین مسئلہ کا نوٹس ہی نہیں لیا۔
ناچیز مؤلف کو یہ خوش فہمی نہیں کہ وہ ان سطور کے ذریعہ آپ کی معلومات میں اضافہ کرنا چاہتا ہے، خواہش بس یہ ہے
کہ کسی بندہ خدا کے دل میں احساس کی چنگاری روشن ہوجائے اور وہ عالم اسلام کو ان خطرات سے بچانے کے لئے کمرِہمت
باندھ لے تو یہ صرف مؤلف کی نہیں بلکہ تمام مسلمانوں کی سعادت ہوگی:
-
گوئے توفیق و سعادت درمیاں افگندہ اند
کس بہ میداں در نمی آید سواراں راچہ شد
صیہونیت اور قادیانیت وجوہ مماثلت:
شاعر مشرق علامہ محمد اقبالؒ مرحوم نے قادیانیت پر تبصرہ کرتے ہوئے لکھا تھا:
298
’’(قادیانیت) اسلام کی روح اور مقاصد کے لئے مہلک ہے۔ (۱)اس کا حاسد خدا کا تصور کہ جس کے پاس دشمنوں کے لئے
لاتعداد زلزلے اور بیماریاں ہوں... (۲)اس کا نبی کے متعلق نجومی تخیل... (۳)اور اس کا روح مسیح کے تسلسل کا عقیدہ
وغیرہ، یہ تمام چیزیں اپنے اندر یہودیت کے اتنے عناصر رکھتی ہیں گویا یہ تحریک ہی یہودیت کی طرف رجوع ہے۔‘‘
(حرف اقبال ص:۱۲۳)
اقبال مرحوم نے قادیانیت اور یہودیت کے تین بنیادی وجوہ مماثلت کی طرف اشارہ کیا ہے، ان پر اگر مزید غور کیا جائے
تو قادیانی تحریک اور صیہونی تحریک کے درمیان یک رنگی کا میدان خاصا وسیع نظر آتا ہے، مثلاً:
۱:۔۔۔قادیانی تحریک کے بانی (مرزا غلام احمد قادیانی) کا یہ دعویٰ کہ وہ نسباً اسرائیلی ہے، (ایک غلطی کا ازالہ)
درحقیقت اس امر کا برملا اظہار ہے کہ قادیانیت، صیہونیت ہی کی ایک ذیلی شاخ ہے۔
۲:۔۔۔یہودیت کی بنیاد انکار عیسیٰ (علیہ السلام) پر قائم کی گئی ہے، اور قادیانیت بھی اس مسئلہ میں اس سے پیچھے
نہیں رہنا چاہتی، اہل نظر واقف ہیں کہ قادیانی تحریک کے بانی کا دعویٰ ہی انکار عیسیٰ علیہ السلام پر مبنی ہے۔
۳:۔۔۔یہودیت بڑی بلند آہنگی سے دعویٰ کرتی ہے کہ ’’اس نے مسیح بن مریم ؑ رسول اللہ کو قتل کردیا۔‘‘ اور قادیانی
تحریک کے بانی کو بھی اس دعویٰ کا فخر حاصل ہے کہ:
’’میرا وجود ایک نبی (یعنی عیسیٰ علیہ السلام) کو مارنے کے لئے ہے۔‘‘
(ملفوظات ج:۱۰ص:۶۰)
۴:۔۔۔یہودیت، حضرت عیسیٰ علیہ السلام روح اللہ کو صحیح النسب نہیں سمجھتی، اسی نوعیت کے خیالات کا اظہار قادیانیت
کے بانی نے بھی کیا ہے۔
(انجام آتھم وغیرہ)
۵:۔۔۔یہودی عقیدہ کے مطابق حضرت مسیح صلیب پر مرے تھے، قادیانیت قصۂ
299
صلیب کشی کو من و عن تسلیم کرتے ہوئے صرف اتنی ترمیم کرتی ہے کہ وہ مرے نہیں تھے، البتہ ’’مردہ کی طرح‘‘
ہوگئے تھے۔
۶:۔۔۔یہودیت، حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے معجزات کو لہو و لعب یا مسمریزم قرار دیتی ہے، ٹھیک وہی موقف قادیانیت بھی
پیش کرتی ہے۔
۷:۔۔۔یہودی تحریک اسلام اور اسلامی اداروں کی بدترین دشمن ہے۔ اور ملت اسلامیہ کی عداوت میں قادیانیت اس سے بھی چار
قدم آگے ہے، اس کا سرکاری آرگن روزنامہ ’’الفضل‘‘ پوری ملت اسلامیہ کو چیلنج کرتا ہے:
’’ہم فتحیاب ہوں گے، ضرور تم مجرموں کی طرح ہمارے سامنے پیش ہوگے، اس وقت تمہارا حشر بھی وہی ہوگا جو فتح مکہ کے دن
ابوجہل اور اس کی پارٹی کا ہوا۔‘‘
(الفضل ۳؍جنوری ۱۹۵۲ء ملخص)
جس گروہ کے نزدیک تمام عالم اسلام ’’ابوجہل اور اس کی پارٹی‘‘ کی حیثیت رکھتا ہو، اور وہ اپنے آپ کو ’’محمد رسول
اللہ کا بروز‘‘ قرار دیتا ہو اس کی عداوت مسلمانوں کے ایک ایک فرد سے کس قدر ہوسکتی ہے؟ اس کو سمجھنے کے لئے
غیرمعمولی فہم و ذکاوت کی ضرورت نہیں۔
۸:۔۔۔صیہونی تحریک دنیا میں... اور بالخصوص اسلام کے مقامات مقدسہ میں ’’اسرائیل کی حکومت‘‘ قائم کرنے کی خواہشمند
ہے، عین قلب اسلام میں اس کی جارحیت، اس کے خطرناک ارادوں کی غماز ہے، اور مسلمانوں کے قبلہ اول پر ان کا تسلط عالم
اسلام کی غیرت کے لئے کھلا چیلنج ہے، اور وہ کسی صلاح الدین کے لئے چشم براہ ہے، اور قادیانیت بھی انگریز اور یہود
کے زیر سایہ پوری دنیا کو کھاجانے کا عزم رکھتی ہے، قادیاں کا خلیفہ کھل کر اعلان کرتا ہے کہ:
’’اس وقت ایک ہی جماعت ایسی ہے جو کمزوری کے لحاظ سے دنیا میں سب سے گری ہوئی ہے، مگر ارادہ کے لحاظ سے سب سے بڑھی
ہوئی ہے، پھر وہ منہ سے دعویٰ ہی نہیں کرتی، اس کی بنیاد
300
ہی اس پر ہے کہ دنیا کو کھاجانا ہے۔‘‘
(الفضل ۱۷؍اپریل ۱۹۲۸ء بحوالہ قادیانی مذہب فصل:۱۶ نمبر:۶۰)
’’۱۹۵۲ء کو گزرنے نہ دیجئے جب تک کہ احمدیت کا رعب، دشمن اس رنگ میں محسوس نہ کرے کہ اب احمدیت مٹائی نہیں جاسکتی،
اور وہ مجبور ہوکر احمدیت کی آغوش میں آگرے۔‘‘
(الفضل ۱۶؍جنوری ۱۹۵۲ء)
’’اس وقت تک کہ تمہاری بادشاہت قائم نہ ہوجائے، تمہارے راستہ میں یہ کانٹے ہرگز دور نہیں ہوسکتے۔‘‘
(الفضل ۸؍جولائی ۱۹۳۵ء بحوالہ قادیانی مذہب فصل:۱۶نمبر:۵۵)
۱۰:۔۔۔یہودی اسٹیٹ عالم اسلام کے عین قلب میں امریکی امداد کے سہارے زندہ ہے، اور اگر اس کا یہ سہارا ختم ہوجائے تو
وہ ایک دن بھی باقی نہیں رہ سکتی، اسی طرح ’’قادیانی اسٹیٹ‘‘ بھی اپنے مغربی آقاؤں کے بل بوتے پر عالم اسلام کے
مایہ ناز ملک پاکستان کے عین قلب میں باقی ہے، اگر اس کا یہ سہارا ختم ہوجائے تو وہ ایک دن بھی باقی نہیں رہ سکتی۔
فلسطین پر قادیانیت اور صیہونیت دونوں کا دعویٰ:
صیہونیت، اسلام کے مقامات مقدسہ خصوصاً بیت المقدس کو اپنی آبائی میراث سمجھتی ہے، اور وہ وہاں مسلمانوں کے وجود
کو برداشت نہیں کرتی، ٹھیک یہی دعویٰ قادیانیت کا ہے، وہ بھی مسلمانوں کو فلسطین اور بیت المقدس کی تولیت کا مستحق
نہیں سمجھتی، کیونکہ وہ قادیانی نبوّت کے منکر اور کافر ہیں، قادیانیت کا آرگن ’’الفضل‘‘ لکھتا ہے:
301
’’اگر یہودی اس لئے بیت المقدس کی تولیت کے مستحق نہیں کہ وہ جناب مسیح اور حضرت نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم کی
رسالت و نبوّت کے منکر ہیں، اور عیسائی اس لئے غیرمستحق ہیں کہ انہوں نے خاتم النبیینؐ کی رسالت و نبوّت کا انکار
کردیا تو یقینا غیراحمدی (یعنی مسلمان) بھی مستحق تولیت بیت المقدس نہیں۔‘‘
(جلد:۹ نمبر:۳۶ ص:۴، ۷؍نومبر ۱۹۲۱ء)
’’الفضل‘‘ کی اس منطق کا حاصل یہ ہے کہ بیت المقدس کی سرزمین کے مستحق یا تو قادیانی ہیں،ورنہ یہودی ــــــ گویا
قادیانی نبوّت، صیہونیت کے لئے نئی الہامی سند مہیا کرتی ہے۔
ربوہ اور تل ابیب:
برطانیہ کے وزیر خارجہ مسٹر بالفور کے اعلان ۱۹۱۷ء کے نتیجہ میں ۱۹۴۸ء میں فلسطین میں ’’اسرائیل اسٹیٹ‘‘ وجود میں
آئی۔ جیسا کہ آپ سن چکے ہیں یہودیت اور قادیانیت دونوں کا دعویٰ تھا کہ مسلمان بیت المقدس اور فلسطین کے مستحق
نہیں، یہ سوال کہ ’’اسرائیل اسٹیٹ‘‘ کے قیام میں قادیانی گروہ کا کتنا حصہ ہے؟ بڑی اہمیت رکھتا ہے، ۱۹۱۷ء سے قیام
اسرائیل تک فلسطین پر قادیانی ’’تبلیغ‘‘ کی یورش رہی اور قادیانیوں کے ممتاز افراد ’’سفید سامراج‘‘ کے گماشتوں کی
حیثیت سے فلسطین میں کام کرتے رہے، اور سب سے بڑھ کر یہ کہ خود خلیفہ قادیان نے دورہ لندن سے واپسی پر قادیانی سازش
کی نگرانی کے لئے بیت المقدس کا دورہ ضروری سمجھا۔
۱۹۳۴ء میں خلیفہ قادیان نے دنیا میں تبلیغ کا جال پھیلانے کے لئے جو درحقیقت انگریز کے محکمہ جاسوسی کی ذیلی شاخ
تھی ـــ ’’تحریک جدید‘‘ کا اعلان کیا، اور اس کے لئے مالیات کا مطالبہ کیا، تو سب سے زیادہ رقم فلسطین کی قادیانی
جماعت نے مہیا کی۔
یہاں اہم ترین سوال یہ ہے کہ خطیر رقم جو فلسطین سے خلیفہ قادیان کو وصول ہوئی،
302
کہاں سے آئی؟ اور کس نے مہیا کی؟ کیا یہ رقم ان معدودے چند افراد نے مہیا کردی تھی جو اسلام سے مرتد ہوکر
قادیانی اُمت میں شامل ہوگئے تھے؟ کیا ان کی مالی حیثیت اس قدر مستحکم تھی کہ وہ اپنے علاقے میں وسیع اخراجات برداشت
کرنے کے بعد ایک بہت بڑی رقم خلیفہ قادیان کی خدمت میں نذر کردیتے؟ جو شخص واقعات کو عقل و فہم کی میزان میں تولنے
کی صلاحیت رکھتا ہے وہ اس کا جواب نفی میں دے گا، میں یہاں مشرق وسطیٰ کے ایک وسیع النظر مصنف محمد محمود الصواف کا
حوالہ دوں گا، وہ اپنی وقیع کتاب ’’المخططات الْإستعماریۃ لمکافحۃ الْإسلام‘‘ میں
قادیانیت پر تبصرہ کرتے ہوئے لکھتے ہیں:
’’قادیانی سب سے اکفر اور خسیس تر جماعت ہے، جسے ستم پیشہ انگریز نے ہندوستان پر اپنے تسلط کے دوران پروان چڑھایا۔
یہ کافر ٹولہ ہمیشہ زمین میں فساد برپا کرتا رہا ہے، اور ہر میدان میں اسلام کی عداوت و مخالفت اس کا شعار رہا۔
خصوصاً افریقہ میں ان کی سرگرمیاں بڑی تیزی سے بڑھ رہی ہیں۔ مجھے افریقہ کے ملک ’’یوگنڈا‘‘ سے خط ملا ہے جس کے ساتھ
مرزا غلام احمد کذّاب قادیان کی کتاب ’’حمامۃ البشریٰ‘‘ بھی تھی، جو وہاں بڑی تعداد میں تقسیم کی گئی، اور جو کفر و
ضلال سے بھری پڑی ہے۔
یہ خط مجھے مسلمانوں کے ایک بہت بڑے داعی اور راہنما نے وہاں سے لکھا تھا، جس میں انہوں نے تحریر کیا تھا کہ:
یہاں قادیانیوں کی سرگرمیاں ہمارے لئے اور اسلام کے لئے سخت تشویش کا باعث ہیں، ان کا معاملہ یہاں نہایت سنگین صورت
اختیار کرگیا ہے، اور ان کی تبلیغی سرگرمیاں نہایت شدت اختیار کر گئی ہیں، یہ لوگ یہاں اتنی دولت خرچ کر رہے ہیں جس
کا حساب نہیں، اور اس امر میں ذرا بھی شبہ نہیں کہ یہ مال و دولت سامراج اور اس کے مشنری اداروں کا ہے، اور مجھے
باوثوق ذریعہ
303
سے یہ اطلاع ملی ہے کہ وہاں حبشہ کے ’’عدیس بابا‘‘ میں ان کا ایک مضبوط مشن کام کر رہا ہے، جس کا سالانہ
میزانیہ ۳۵ملین ڈالر ہے، اور یہ مشن وہاں اسلام کا مقابلہ کرنے کے لئے قائم کیا گیا ہے۔‘‘
(المخططات الاستعماریۃ لمکافحۃ الاسلام ص:۳۴۴ طبع اول)
۳۵کروڑ ڈالر سالانہ تو صرف حبشہ کے مسلمانوں کی تباہی و بربادی کے لئے صرف کئے گئے، اب غور کیا جاسکتا ہے، فلسطین
کی تباہی و بربادی کے لئے قادیانیت کا تیس سالہ بجٹ کتنا ہوگا؟ اور یہ ساری رقم کہاں سے آئی؟
دوسرا اہم ترین سوال یہ ہے کہ ان تیس سالوں میں (۱۹۱۷ء سے ۱۹۴۸ء تک) قادیانیت کا تبلیغی زور اس خطہ پر کیوں مرتکز
رہا؟ اور قادیانی سرگرمیوں کا یہی سب سے بڑا اڈہ کیوں بنا رہا؟ جس کے نتیجہ میں فلسطینیوں کی خانہ ویرانی اور
’’اسرائیل اسٹیٹ‘‘ کا قیام عمل میں آیا؟ اور پھر چن چن کر وہاں قادیان کے سازشی دماغوں کو کیوں جمع کیا جاتا رہا؟
یہ سوالات تاریخ کا ایک معمہ اور ’’قادیانی، یہودی سازش‘‘ کا قفل ابجد ہیں، جن کو ان دونوں تحریکوں کے دوستانہ روابط
کی کلید سے حل کیا جانا چاہئے۔
ہم دیکھتے ہیں کہ ۱۹۴۸ء میں فلسطین میں ’’اسرائیل‘‘ کا اعلان ہوا، ٹھیک ان ہی دنوں میں قادیانی گروہ کی ’’ربوہ
اسٹیٹ‘‘ قائم ہوئی۔ اور سب سے پہلے ربوہ اسٹیٹ کا ’’اسرائیل اسٹیٹ‘‘ سے رابطہ قائم کیا گیا، ربوہ اسٹیٹ کے مطلق
العنان حکمران قادیانی خلیفہ کے آرگن نے بڑے تزک و احتشام اور فخر و مباہات سے اعلان کیا:
’’عربی ممالک میں بے شک ہمیں اس قسم کی اہمیت حاصل نہیں جیسی ان (یورپی و افریقی) ممالک میں ہے، لیکن پھر بھی ایک
طرح کی اہمیت ہمیں حاصل ہوگئی ہے، اور وہ یہ کہ فلسطین کے عین مرکز میں اگر مسلمان رہے ہیں تو وہ صرف احمدی ہیں۔‘‘
(الفضل ۳۰؍اگست ۱۹۵۰ء)
’’الفضل‘‘ کا یہ جگر خراش اعلان اگر ایک طرف فلسطین کے خانماں برباد
304
مسلمانوں پر خندۂ اِستہزا کی حیثیت رکھتا ہے تو دوسری طرف ’’ربوہ اسٹیٹ‘‘ کے ’’اسرائیلی اسٹیٹ‘‘ سے تعلقات
و روابط کی شرح و تفسیر بھی مہیا کرتا ہے۔
عالم اسلام ـــ اور بالخصوص پاکستان ـــ کے نزدیک ’’اسرائیل‘‘ استعماری سازش کی ناجائز اولاد ہے، جس کی پرورش
امریکی ایٹم کے زور سے کی جارہی ہے، یہی وجہ ہے کہ تعلقات و روابط استوار کرنا کیا معنی؟ کسی اسلامی حکومت نے
استعمار کے اس ’’ناجائز بچہ‘‘ کو ابھی تک زندہ رہنے کی اجازت بھی نہیں دی ہے، لیکن قادیانیوں کی ’’ربوہ اسٹیٹ‘‘ خود
بھی چونکہ استعمار کی ناجائز اولاد کی حیثیت رکھتی ہے، اس لئے ان دونوں کے نہ صرف باہمی روابط استوار ہوئے، بلکہ
دونوں توَام ’’بہن بھائی‘‘ کی حیثیت میں عالم اسلام کو چیلنج کر رہے ہیں۔
یہاں اس لطیفہ کا ذکر بھی خالی از دلچسپی نہیں ہوگا کہ ۷۴۹۱ء سے ۳۵۹۱ء تک پاکستان کا وزیر خارجہ مسٹر ظفر اللہ خاں
قادیانی رہا، جو لفظی طور پر حکومت پاکستان کا وزیر خارجہ تھا، مگر معنوی طور پر ’’ربوہ اسٹیٹ‘‘ کی وزارت خارجہ کے
فرائض انجام دے رہا تھا۔ اس نے رسمی طور پر پاکستان سے وفاداری کا حلف اٹھایا تھا مگر حقیقی طور پر وہ قادیان کے
خلیفہ ربوہ کا مطیع و فرمانبردار اور وفادار تھا، اسی کے عہد وزارت میں ’’ربوہ اسٹیٹ‘‘ کا ’’اسرائیل‘‘ سے رابطہ
مستحکم ہوا ـــ جسے میں سفارتی تعلقات کہنا پسند کروں گا ـــ لیکن جب مسٹر ظفر اللہ خاں سے اس سلسلہ میں سوال کیا
گیا کہ کیا اسرائیل میں ربوہ کا مشن قائم ہے؟ تو پاکستان کے وزیر خارجہ نے جواب دیا: ’’حکومت پاکستان کو تو اس کی
اطلاع نہیں۔‘‘
مسٹر ظفر اللہ خاں کا یہ جواب بالکل صحیح تھا، انہوں نے حکومت پاکستان کے نمائندہ کی حیثیت سے اسرائیل کے ساتھ
سفارتی رابطہ قائم نہیں کیا تھا، بلکہ قادیان کے خلیفہ ربوہ کے وزیر خارجہ کی حیثیت سے اسرائیل سے سفارتی رابطہ قائم
کیا تھا، بلاشبہ حکومت پاکستان کو اس کا کوئی علم نہیں تھا، اور مسٹر ظفراللہ خاں کو اگرچہ اس کا علم تھا مگر وہ
حکومت پاکستان کے وزیر صرف رسماً تھے، درحقیقت ان کی حیثیت تو ’’ربوہ اسٹیٹ‘‘ کے محکمہ اُمورِ خارجہ کے افسرِ اعلیٰ
کی تھی۔
305
قادیانی گروہ، چالاکی و عیاری میں اپنے سفید آقاؤں کا بھی استاد ہے۔ جب ’’ربوہ اسٹیٹ‘‘ کے سفارتی روابط
’’اسرائیل‘‘ کے ساتھ قائم کئے گئے تو ابتدا میں اسے صیغۂ راز میں رکھنے کی کوشش کی گئی، لیکن جب یہ راز طشت از بام
ہوکر رہا، تو تاویل کی گئی کہ ’’اسرائیل‘‘ میں جو قادیانی مشن کام کررہا ہے اس کا ’’ربوہ اسٹیٹ‘‘ سے رابطہ نہیں بلکہ
وہ انڈیا کے مرکز قادیان کے ماتحت ہے۔
لیکن کچھ دنوں بعد جب ’’ربوہ اسٹیٹ‘‘ کا بجٹ شائع ہوا، تو اس میں ’’اسرائیل مشن‘‘ کا میزانیہ بھی موجود تھا۔ اب یہ
تاویل کی گئی کہ ’’اسرائیل‘‘ میں قادیانی مشن تو قائم ہے، اور ہے بھی ربوہ اسٹیٹ کے ماتحت، لیکن وہ کوئی سیاسی مشن
نہیں، بلکہ تبلیغی مشن ہے۔ میں پہلی تاویل کی طرح اس تاویل کی صحت کو تسلیم کرنے میں بھی تامل نہیں کروں گا، بشرطیکہ
یہ ثابت کردیا جائے کہ قادیانیوں کے ’’سیاسی مشن‘‘ اور ’’تبلیغی مشن‘‘ الگ الگ ہوتے ہیں۔ جہاں تک ہم نے قادیانی
تحریک کا مطالعہ کیا ہے ــــ اور اگر مجھے اجازت دی جائے تو میں کہوں گا کہ میں نے خود قادیانیوں سے زیادہ اس تحریک
کا وسیع و عمیق مطالعہ کیا ہے ــــ ہم اس نتیجہ پر پہنچے ہیں کہ قادیانیوں کی تبلیغ عین سیاست ہے اور ان کی سیاست ہی
’’تبلیغ‘‘ ہے، کم از کم قادیانی تحریک کی حد تک تبلیغ اور سیاست کے جداگانہ تصور سے ہم ناآشنا ہیں، قادیانی تحریک
کو ہم مذہبی تحریک نہیں سمجھتے، بلکہ یہ خالص سیاسی تحریک ہے، جس پر مذہب کا خول بڑی عیاری سے چڑھا دیا گیا ہے۔ اس
لئے اگر قادیانی یہ تسلیم کرتے ہیں کہ ’’اسرائیل‘‘ میں ان کا ’’تبلیغی مشن‘‘ کام کررہا ہے، تو دوسرے لفظوں میں وہ
صاف اعتراف کرتے ہیں کہ ’’ربوہ اسٹیٹ‘‘ کے سفارتی تعلقات اسرائیل سے مستحکم ہیں۔
ربوہ اسٹیٹ اور اسرائیل کے مابین فوجی تعاون:
دو آزاد اور خود مختار ریاستوں کے درمیان سیاسی، اقتصادی، فنی اور معاشرتی شعبوں میں تعاون ایک قابل فہم چیز ہے۔
بسا اوقات فوجی تعاون کی صورتیں بھی پیدا ہوتی ہیں، لیکن ’’ربوہ اسٹیٹ‘‘ نے ’’اسرائیل‘‘ کے ساتھ ہمہ جہتی تعاون کا
ایک نیا باب رقم کیا
306
ہے، اور وہ یہ کہ ’’ربوہ اسٹیٹ‘‘ کے قادیانی سپاہی اسرائیلی فوج میں بھرتی کئے جاتے ہیں، یہ فوجی تعاون کا
وہ عالمی ریکارڈ ہے جو ربوہ اسٹیٹ نے قائم کر دکھایا ہے ـــ ہمارے ملک کے مؤقر جریدہ روزنامہ ’’نوائے وقت‘‘ لاہور
نے یہ خبر شائع کرکے پورے ملک میں سنسنی پھیلادی ہے کہ:
’’لندن سے شائع ہونے والی کتاب ’’اسرائیل اے پروفائل‘‘ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ حکومت اسرائیل نے اپنی فوج میں
پاکستانی قادیانیوں کو بھرتی ہونے کی اجازت دے دی ہے، یہ کتاب پولیٹیکل سائنس کے ایک یہودی پروفیسر آئی آئی نومائی
نے لکھی ہے، اور اسے ادارہ پال مال لندن نے شائع کیا ہے۔ اس کتاب میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ ۱۹۷۲ء تک اسرائیلی فوج
میں چھ سو پاکستانی قادیانی شامل ہوچکے ہیں۔‘‘
(نوائے وقت لاہور ص:۵، ۲۹؍دسمبر ۱۹۷۵ء)
مسلمانوں کے لئے یہ انکشاف جس قدر کرب انگیز ہوسکتا ہے اس کا اندازہ نہیں کیا جاسکتا، پاکستان کے متعدد اہل فکر اس
پر تشویش کا اظہار کرچکے ہیں، پاکستان کی قومی اسمبلی کے ایک معزز رکن مولانا ظفر احمد انصاری نے ہفت روزہ ’’طاہر‘‘
لاہور کو انٹرویو دیتے ہوئے بتایا کہ وہ قومی اسمبلی میں اس مسئلہ کو زیر بحث لانا چاہتے ہیں، یہاں ان کے انٹرویو کا
اقتباس پیش کردینا مناسب ہوگا۔
مولانا ظفر احمد انصاری ایم این اے کا اہم انکشاف:
’’س:... اسرائیلی فوج میں ’’احمدیوں‘‘ کی موجودگی ایک خوف ناک انکشاف ہے، یہودیوں اور ’’احمدیوں‘‘ میں اس تعاون کی
کیا تفصیل ہے اور آپ اسے پاکستان کی قومی اسمبلی میں کیوں زیر بحث لانا چاہتے ہیں؟
ج:۔۔۔پاکستان مسلم مملکت ہے اور یہودی ہر مسلم مملکت کو
307
نیست و نابود کرنے کا عہد کرچکے ہیں۔ وہ اس کے لئے ہر ذریعے اور واسطے کو استعمال میں لا رہے ہیں۔ اور ان
کے آلہ کار بننے والوں میں یہ مرزائی یا قادیانی بھی شامل ہیں، جو اپنے آپ کو ’’احمدی‘‘ کہتے ہیں۔ اسرائیل یہودی
صیہونیت کا ہتھیار ہے۔ جس کے ذریعے یہودی عالم اسلام کو زیر کرنا چاہتے ہیں، ۱۹۷۲ء تک اسرائیل میں موجود ’’احمدیوں‘‘
کی تعداد چھ سو تھی، جن پر اسرائیلی فوج میں ’’خدمت‘‘ کے دروازے کھول دئیے گئے تھے۔ یہ تفصیل پولیٹیکل سائنس کے
یہودی پروفیسر آئی آئی نومائی کی کتاب ’’اسرائیل اے پروفائل‘‘ (ISRAEL-A-PROFILE) کے صفحہ نمبر۵۷ پر موجود ہے، یہ
کتاب پال مال لندن سے ۱۹۷۲ء میں چھپی ہے، دلچسپ چیز یہ ہے کہ اس کتاب کے صفحہ نمبر۵۴پر واضح طور پر بتایا گیا ہے کہ
عربوں پر یہ پابندی اب بھی ہے کہ وہ کسی سرحدی گاؤں میں نہیں رہ سکتے، اور اسرائیلی فوج میں بھرتی بھی نہیں ہوسکتے۔
اس کتاب کے صفحہ نمبر۷۵ پر یہ بھی موجود ہے کہ یہ ’’احمدی‘‘ پاکستان سے ہیں۔ ایک مسلمان بالخصوص پاکستانی مسلمان کے
لئے یہ بات یوں بھی انتہائی اضطراب کا موجب ہے کہ ان ’’احمدیوں‘‘ کو پاکستانی قرار دیا گیا ہے۔ اس لئے بھی میں تحریک
التوا کے ذریعے اسے پاکستان کے مقتدر ترین ایوان میں زیر بحث لانا چاہتا ہوں۔
س:۔۔۔آپ اس تحریک التوا میں حکومت کی توجہ کن پہلوؤں پر مبذول کرانا چاہتے ہیں؟
ج:۔۔۔میں قوم کو بھی آگاہ کرنا چاہتا ہوں اور حضرات اقتدار سے بھی دریافت کرنا چاہتا ہوں کہ جب یہ انہیں بھی معلوم
308
ہے کہ ’’احمدی‘‘ دنیا کے کسی خطے میں بھی ہو اپنے ’’خلیفہ‘‘ کے حکم پر کام کرتا ہے، اس ’’خلیفہ‘‘ کا
ہیڈکوارٹر پاکستان کے قصبے ربوہ میں ہے، اگر اسرائیل میں رہنے والے ’’احمدیوں‘‘ کو ربوہ سے یہ ہدایت ہے کہ عرب ممالک
پر قبضے اور انہیں تاراج کرنے میں اسرائیل کی مدد کریں، اور جیسا کہ جنگ ۱۹۶۷ء کے زمانہ کے اخبارات میں آیا کہ
اسرائیلی، پاکستان کو بھی ختم کرنا چاہتے ہیں اور پاکستان کے خلاف جس دشمنی اور نفرت کا اظہار بابائے اسرائیل بن
گوریان نے کیا تھا، اس کے پیش نظر کیا یہ اندیشہ صحیح نہ ہوگا کہ اسرائیل جیسے ’’احمدیوں‘‘ کو عربوں کے خلاف استعمال
کررہا ہے، انہیں پاکستان کے خلاف آسانی سے استعمال کرے گا۔ جب کہ ’’احمدیوں‘‘ کے ’’خلیفے‘‘ کا ہیڈکوارٹر بھی یہیں
ہے یہ بھی معلوم کرنا چاہتا ہوں کہ آخر یہ چھ سو ’’احمدی‘‘ پاکستان کی شہریت رکھتے ہیں؟ ان کے پاس دوہری شہریت تو
نہیں؟ ان میں سے کتنے پاکستانی پاسپورٹ پر گئے ہیں؟ کیا وہ پاکستانی پاسپورٹ پر تھے؟ اور پھر اسرائیل بھاگ گئے۔ ایسے
لوگوں کے بارے میں ہماری وزارت خارجہ اور پاسپورٹ جاری کرنے والی وزارت داخلہ کو کیا علم ہے اور کیا علم نہیں ہے؟
کیا ان ’’احمدیوں‘‘ کی وہاں فرار کی روک تھام بھی کی جارہی ہے؟ کیونکہ ان کے پاکستانی کہلانے سے عربوں سے ہمارے
تعلقات مجروح ہوسکتے ہیں۔ حکومت پاکستان کو اس صورت حال کی (CLARIFICATION) صفائی کرنا چاہئے۔
س:۔۔۔اسرائیل کے عربوں کے خلاف عزائم ہیں تو ایسے ہی ناپاک عزائم ہمارے بارے میں بھی ہیں؟
ج:۔۔۔جی!!۔۔۔(بہت لمبی سی ’’جی‘‘) یہی وہ بات ہے جس
309
پر میں زور دینا چاہتا ہوں۔ ۱۹۶۷ء میں اسرائیل کی توسیع پسندی اور بیت المقدس پر غاصبانہ قبضے کے بعد
پاکستان میں جو ردعمل پیدا ہوا تھا، اس نے یہودیوں کے دل و دماغ کو ہلاکر رکھ دیا تھا۔ چنانچہ بابائے اسرائیل ڈیوڈ
بن گوریان نے جون ۱۹۶۷ء میں عرب اسرائیل جنگ کے بعد پیرس کی لوربون یونیورسٹی میں تقریر کرتے ہوئے کہا تھا، جس کی
رپورٹ ۹؍اگست ۱۹۶۷ء کو صیہونی رسالے ’’جیوئش کرانیکل‘‘ میں چھپی تھی۔ بابائے اسرائیل نے اعلان جنگ کرتے ہوئے کہا
تھا: ’’عالمی صیہونی تحریک کو پاکستان کے خطرے سے لاپرواہی نہیں برتنی چاہئے، اور اب پاکستان اس کا پہلا نشانہ ہونا
چاہئے کیونکہ یہ نظریاتی مملکت ہمارے وجود کے لئے خطرہ ہے۔ سارے پاکستانی، یہودیوں سے نفرت کرتے ہیں اور عربوں سے
محبت کرتے ہیں، عربوں کے لئے یہ محبت ہمارے لئے خود عربوں سے بھی بڑھ کر خطرناک ہے۔ اسی خاطر عالمی صیہونیت کے لئے
یہ ضروری ہوچکا ہے کہ اب پاکستان کے خلاف فوری اقدام کیا جائے۔
جہاں تک ہندوستانی سطح مرتفع کے باشندوں کا تعلق ہے وہ ہندو ہیں، جن کے دل پوری تاریخ میں مسلمانوں کے خلاف نفرت سے
بھرے ہوئے ہیں، لہٰذا ہندوستان ہمارے لئے پاکستان کے خلاف کام کرنے کا اہم ترین مرکز (فوجی اصطلاح BASE استعمال کی
گئی) ہے، یہ ضروری ہے کہ ہم اس مرکز کا پورا استعمال کریں اور تمام ڈھکے چھپے اور خفیہ منصوبوں کے ذریعے یہودیوں کے
دشمن پاکستانیوں پر ضرب لگائیں اور انہیں کچل دیں۔
(مولانا ظفر احمد انصاری نے یہ اقتباس ایک کتاب سے انگلش میں پڑھ کر سنایا، پھر سلسلہ کلام جاری رکھا) شاید بہت سے
310
لوگوں کو معلوم نہ ہوگا کہ اس کے سوا چار سال بعد دسمبر ۱۹۷۱ء میں اندرونی سازش اور بیرونی جارحیت کے ذریعے
ڈھاکہ میں داخل ہونے والی ہندو افواج کا ڈپٹی کمانڈر ایک یہودی تھا۔‘‘
(ہفت روزہ ’’طاہر‘‘ لاہور ۲۲؍ تا ۲۸؍دسمبر ۱۹۷۵ء)
طوفان کا رخ:
قادیانی ’’ربوہ اسٹیٹ‘‘ مغرب کی استعماری و طاغوتی طاقتوں کی آلہ کار بن کر عالم اسلام کے خلاف سازشوں کا جو طوفان
برپا کرنا چاہتی ہے، اس کا کچھ اندازہ خلیفہ ربوہ کے ان متواتر اعلانات سے کیا جاسکتا ہے، جن میں قادیانی گروہ کو
باربار تلقین کی جاتی ہے کہ ’’نئی صدی (جس کے طلوع میں صرف پانچ سال باقی ہیں) ’’احمدیت‘‘ کے غلبہ کی صدی ہے، اس صدی
میں ’’احمدیت‘‘ تمام عالم پر غالب آئے گی۔‘‘
’’احمدیت‘‘ تمام عالم اسلام پر غالب کرنے کے لئے ’’ربوہ اسٹیٹ‘‘ خفیہ دہشت پسند سرگرمیوں کی تیاری میں مصروف ہے۔ اس
کا پہلا انکشاف تو اسرائیلی فوج میں قادیانیوں کی شرکت سے ہوتا ہے، اور مزید انکشاف یہ کیا جاتا ہے کہ چار ہزار
قادیانی مغربی جرمنی میں گوریلا تربیت حاصل کر رہے ہیں، ہفت روزہ ’’چٹان‘‘ (۵؍جنوری ۱۹۷۶ء) کی روایت ہے کہ مجلس تحفظ
ختمِ نبوّت پاکستان کے زیر اہتمام چنیوٹ میں منعقد ہونے والی ’’۲۳ویں سالانہ ختمِ نبوّت کانفرنس‘‘ سے خطاب کرتے
ہوئے، مجلس تحفظ ختمِ نبوّت کے راہنما حضرت مولانا تاج محمود صاحب نے ان سازشوں کو بے نقاب کیا جو مرزائی، پاکستان
کی سا لمیت کو نقصان پہنچانے اور اسے ’’عجمی اسرائیل‘‘ بنانے کے لئے کر رہے ہیں:
’’مولانا تاج محمود صاحب نے یہ بھی کہا کہ چار ہزار قادیانی نوجوان مغربی جرمنی میں گوریلا تربیت حاصل کر رہے ہیں،
انہوں نے حکومت کو خبردار کیا کہ وہ قادیانیوں کی سازشوں سے آگاہ رہے اور اس فتنے کا تدارک کرے، مولانا تاج محمود
نے مطالبہ کیا کہ
311
حکومت اس بات کا پتہ لگائے کہ قادیانی جماعت کے موجودہ سربراہ مرزا ناصر احمد نے حال ہی میں انگلستان کا جو
دورہ علالت کے بہانے کیا، وہاں اس کی مصروفیات کیا تھیں؟ انہوں نے الزام لگایا کہ مرزا ناصر احمد پاکستان کی سا لمیت
کے خلاف سازشیں کر رہا ہے۔‘‘
(ہفت روزہ چٹان ۵؍جنوری ۱۹۷۶ء)
اسرائیل کی طرح قادیانی جماعت کا وجود ہی سراپا سازش ہے، اور اس کی سازش کا نشانہ صرف پاکستان نہیں بلکہ پورا عالم
اسلام، خصوصاً ایشیا اور مشرق وسطیٰ ہے، قادیانی اسرائیل گٹھ جوڑ پاکستان کے ایک بازو کو کاٹ چکا ہے۔ اور دوسرے بازو
کی تخریب میں اس کی سرگرمیاں روز افزوں ہیں۔ قادیانی دہشت پسند تنظیم کو ہر اس قوت سے قلبی تعلق ہے جو عالم اسلام کی
تخریب کے مقاصد میں اس کی معاون ثابت ہوسکے، خواہ وہ یہودیوں کی ’’صیہونی تحریک ہو‘‘ یا ’’دہریت پسندوں کی سوشلسٹ
تحریک‘‘ـــ ہندوستان کی ’’جارحیت‘‘ ہو یا پاکستان کی امن پسند مسیحی اقلیت ــــ میں یہاں پاکستان کی مسیحی اقلیت کے
صدر جناب صوبہ خان کے دھمکی آمیز بیان کا حوالہ دوں گا، جسے روزنامہ ’’امن‘‘ کراچی نے ۲۹؍ستمبر ۱۹۷۴ء کی اشاعت میں
شائع کیا تھا:
صوبہ خان کا بیان:
’’ساٹھ لاکھ کی بھاری محب وطن اہل کتاب مسیح اقلیت کے حقوق و مفادات کا عملی تحفظ نہ کیا گیا تو ملک کی بنیادیں ہل
جائیں گی، اور قادیانی فرقہ کو اقلیت قرار دینے کی پاداش میں پاکستان کی مسلم اکثریت کو اپنی خوش فہمی کا خمیازہ
بھگتنا پڑے گا۔‘‘
(بحوالہ ’’پاکستان، عیسائیت کی زد میں‘‘ ص:۹،۶،۴۔ شائع کردہ دفتر مرکزیہ مجلس دعوۃ الحق پاکستان
(ملتان) و دام تثلیث)
میں یہاں جناب صوبہ خان صاحب کے بیان کا منطقی تجزیہ نہیں کرنا چاہتا، نہ میں
312
اس بحث میں الجھنا چاہتا ہوں کہ ’’پاکستان کی محب وطن مسیحی اقلیت‘‘ کے صدر نے مسیحی اقلیت کے جو مرعوب کن
اعداد و شمار پیش کئے ہیں، وہ صحیح ہیں یا جعلی اور مصنوعی؟
ہماری دلچسپی سے متعلق محب وطن صوبہ خان صاحب کے بیان کا وہ حصہ ہے جس میں ان کے نزدیک قادیانی فرقہ کو غیرمسلم
اقلیت قرار دینے کو اتنا سنگین جرم قرار دیا ہے کہ اس کی پاداش میں ملک کی بنیادیں ہلادینا اور مسلم اکثریت کو اس کی
خوش فہمی کا خمیازہ بھگتا دینا، اہل کتاب مسیحیوں کی حب الوطنی کا مظاہرہ قرار پاتا ہے۔ گویا دنیا بھر کا ہر ہندو،
ہر یہودی، ہر مسیحی اور ہر دہریہ، قادیانی فرقہ سے دلچسپی رکھتا ہے، اس کے تحفظ کے لئے اپنی طاقت کی چھتری مہیا کرنا
ضروری فرض سمجھتا ہے، اور قادیانیوں کی خاطر عالم اسلام کو ڈائنامیٹ سے اڑا دینے کا عزم رکھتا ہے، ایسا کیوں ہے؟ اس
لئے کہـــ’’الکفر ملۃ واحدۃ‘‘ کفر کے تمام فرقوں کی باہمی لڑائی انہیں اسلام دشمنی کے
مقصد پر جمع ہونے سے نہیں روکتی۔ تمام طاغوتی طاقتیں عالم اسلام کے خلاف قادیانی جماعت کی معاون و محافظ ہیں، اور
قادیانی گروہ ان سارے طاغوتوں کی شطرنج کا مہرہ ہے، جسے اسلام کو زک پہنچانے کے لئے بہ لطائف الحیل حرکت میں لایا
جاتا ہے۔
ربوہ اسٹیٹ کا جاسوسی نظام:
ربوہ کی قادیانی شہنشاہیت، اسرائیلی فوج کے لئے صرف پاکستان کے قادیانی سپاہی مہیا نہیں کرتی، اور نہ صرف مغربی
جرمنی میں ہزاروں گوریلوں کی تربیت کے انتظامات کرتی ہے، بلکہ اس سے بڑھ کر وہ کفر کے مواصلاتی نظام میں ایک نئے باب
کا اضافہ بھی کرتی ہے۔ پاکستان کے فوجی اور انتظامی خفیہ راز ہندوستان کو اور مشرق وسطیٰ کے اندرونی خفیہ راز،
اسرائیل کو کس طرح پہنچائے جاتے ہیں اس کی تفصیل میرے لئے ناخوشگوار موضوع ہے۔ میں اس موضوع پر بحث کرنے کو پاکستان
اور عالم اسلام کی توہین کے مترادف سمجھتا ہوں، اس لئے تفصیلات سے قطع نظر کرتے ہوئے میں ریاست ربوہ کے محکمہ
’’انٹیلی جنس‘‘ کی طرف قائدین ملت کی توجہ مبذول کرانے پر اکتفا کروں گا۔
313
۱۹۵۷ء میں حکومت پاکستان نے ملک کے اعلیٰ حکام کے نام ایک گشتی مراسلہ جاری کیا تھا جس میں ریاست ربوہ کے محکمہ سی
آئی ڈی سے ہوشیار رہنے کی تلقین کی گئی تھی۔ اس گشتی مراسلہ کی صدائے بازگشت اخبارات میں گونجی اور اخبارات نے اس
پر ادارئیے لکھے، مراسلہ کا مفہوم یہ تھا:
’’حکومت کے پاس اس کی معتبر اطلاع ہے کہ ربوہ کی احمدیہ جماعت نے خبر رسانی کا ایک خصوصی عملہ ملازم رکھا ہے جو
ایسی سرکاری اور غیرسرکاری اطلاعات فراہم کرے گا جو احمدیہ فرقہ کے مفاد میں ہوں گی۔‘‘
حکومت کو یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ وہ سرکاری ملازم جو احمدیہ فرقہ سے متعلق ہیں ان کے ذریعہ سرکاری اطلاعات مہیا کی
جارہی ہیں، ایک اور ذریعہ جس سے کام لے کر احمدیہ جماعت کا خبر رسانی عملہ سرکاری اطلاعات جمع کرتا ہے وہ حکومت کے
پنشن یافتہ ملازم ہیں، جن کا ابھی تک اپنے دور کے ساتھیوں اور ماتحتوں پر اثر ہے، حکومت کے علم میں یہ بھی آیا ہے
کہ بعض احمدیوں نے غیراحمدی ہونے کا اعلان کردیا ہے تاکہ ان کی طرف سے شک و شبہ جاتا رہے، اور وہ آزادی سے تمام
مسلمانوں میں خلط ملط ہوسکیں اور معلومات حاصل کرسکیں:
’’حکومت نے بتایا ہے کہ احمدیہ جماعت کے لئے یہ عملہ عام طور پر جو معلومات حاصل کرنا چاہتا ہے ان میں ربوہ کی
احمدیہ جماعت کے باغیوں کی، جن کا نام ’’حقیقت پسند پارٹی‘‘ ہے، سرگرمیاں، مجلس تحفظ ختمِ نبوّت اور جماعت اسلامی کی
سرگرمیوں کا پتہ چلانا شامل ہے۔
(یہاں یہ لطیفہ بھی ایک مستقل ’’انکشاف‘‘ کی حیثیت رکھتا ہے کہ مجلس تحفظ ختمِ نبوّت پاکستان کے مرکزی دفتر ملتان
میں ایک قادیانی نوجوان جاسوسی کے لئے متعین کیا گیا۔ ’’طالب علم‘‘ بن کر اس نے متواتر تین مہینے تک دفتر میں قیام
کیا، اسی سے اندازہ کیا
314
جاسکتا ہے کہ قادیانیوں کے جاسوسی نظام کی زد میں کون کون آیا ہوگا؟۔۔۔ناقل)
نیز اس میں احمدیہ فرقہ اور شیعہ سنی تعلقات سے متعلق حکومت کی پالیسی میں تبدیلی کی خبر رکھنا بھی شامل ہے۔ حکومت
کے اس گشتی مراسلہ میں بتایا گیا ہے کہ ربوہ کی احمدیہ جماعت کا یہ خبر رسانی عملہ فی الحال ربوہ اور لاہور میں
تعینات ہے، اور جماعت احمدیہ کی تجویز ہے کہ اس عملہ کی شاخیں راولپنڈی اور کراچی میں قائم کی جائیں۔ اس عملہ کو
ہدایت دینا اور اس کی نگرانی کرنا احمدیہ فرقہ کے امام (خلیفہ ربوہ) کے بیٹے مرزا ناصر احمد کے سپرد ہے (اور آجکل
یہ حضرت خود ریاست ربوہ کے سربراہ ہیں۔۔۔ناقل)۔‘‘
(۶؍دسمبر ۱۹۵۷ء روزنامہ امروز) (بحوالہ ’’ربوہ کا پوپ‘‘ ص:۱۳۷،۱۳۸۔ شائع کردہ دفتر بیت القرآن پوسٹ
بکس نمبر:۱۰۴۸ لاہور)
گورنمنٹ پاکستان کے اس مراسلہ پر تبصرہ کرتے ہوئے روزنامہ ’’آفاق‘‘ لاہور نے اپنے ادارتی نوٹ میں لکھا:
’’صوبائی حکومت کا یہ سرکلر ایک اہم مسئلہ سے فرار کی مضحکہ خیز کوشش ہے، حکومت کو یہ چھوٹا سا تنکا نظر آگیا کہ
ربوہ کی انجمن نے حکومت کے راز حاصل کرنے کے لئے ایک جاسوسی نظام قائم کر رکھا ہے۔ لیکن یہ بہت بڑا شہتیر نظر نہیں
آیا کہ ربوہ کی انجمن نے مذہبی تقدس کی آڑ میں ایک خفیہ متوازی حکومت کی صورت اختیار کرلی ہے، اور وہ ایسے تمام
حربے استعمال کرنے پر مجبور ہے جو سیاسی طاقت ہاتھ میں لینے کے لئے ضروری ہیں۔۔۔۔۔۔
اگر اس ملک میں واقعی ایسے حالات پیدا ہوجائیں اور ایک جماعت اپنی تنظیم اور اپنے وسائل کے ذریعہ قانون و انصاف
315
کی مشینری کو جب چاہے شل کردے، تو حکومت کو طفلانہ سرکلر جاری کرنے کے بجائے ان حالات سے عہدہ برآ ہونے کی
مؤثر تدبیر سوچنی چاہئے یا بصورت دیگر اقتدار کے عہدہ سے مستعفی ہوجانا چاہئے۔
اصل یا اہم سوال یہ نہیں کہ نظام ربوہ کے جاسوس، حکومت کے راز چرانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ حکومت کے پاس راز ہی کون
سے ہیں، جنہیں وہ (قادیانیوں سے) محفوظ رکھ سکتی ہے۔ اصل سوال یہ ہے کہ جاسوسی کے علاوہ ربوہ کے خلافتی نظام کے
کارکن اور بھی بہت کچھ کر رہے ہیں، جو ایک ’’دہشت پسند خفیہ سیاسی نظام‘‘ کی سرگرمیوں کی ذیل میں آتا ہے، اس کا
علاج کیا ہے؟‘‘
(روزنامہ ’’آفاق‘‘ ۷؍دسمبر ۱۹۵۷ء بحوالہ ’’ربوہ کا پوپ‘‘ ص:۱۳۹،۱۴۰)
اس پر روزنامہ ’’تسنیم‘‘ لاہور کا تبصرہ اس سے بھی زیادہ دلچسپ ہے:
’’افسوس ہے کہ معاصر (روزنامہ آفاق) نے علاج تجویز کرنے کا مسئلہ حکومت پر چھوڑ کر سکوت اختیار کرلیا ہے، حالانکہ
یہ مسئلہ کچھ بھی پیچیدہ نہیں، ضرورت اس بات کی ہے کہ حکومت قادیانی جماعت کی اصل حیثیت کو مشخص کردے، اور پردۂ
فریب کو چاک کردے، جو اس نے اپنے چہرے پر ڈال رکھا ہے۔
یہ جماعت بالکل اسی طرح کی ایک خفیہ سیاسی جماعت ہے، جس طرح کوئی خفیہ سیاسی جماعت ہوسکتی ہے، لیکن اس نے خود کو
محض ایک مذہبی جماعت قرار دے رکھا ہے، اس کا نتیجہ یہ ہے کہ اس کے افراد پر سرکاری دفاتر کے دروازے چوپٹ کھلے ہوئے
ہیں اور بڑے سے بڑے عہدے پر وہ فائز ہیں۔
ان کی اصل وفاداریاں پاکستان کے نظام حکومت سے
316
وابستہ نہیں ہیں بلکہ ربوہ کے خلافتی نظام سے ـــ وہ خلافت ربوہ کے راز تو سینے میں چھپاسکتے ہیں مگر سرکاری
اطلاعات کو عقیدۃً چھپا نہیں سکتے، اگر چھپائیں تو انہیں نظامِ خلافت کا باغی قرار دیا جاتا ہے۔
معاصر موصوف (روزنامہ آفاق) نے پولیس اور قانون کی جس بے بسی کا ذکر کیا ہے وہ اسی صورتحال کا نتیجہ ہے، اس خرابی
کا علاج یہ ہے کہ قادیانی جماعت کو خفیہ سیاسی جماعت قرار دیا جائے اور اس کے ساتھ وہی معاملہ کیا جائے، جو ایسی
جماعتوں کے ساتھ کیا جاتا ہے، اس کے بغیر یہ دوعملی ختم نہیں ہوسکتی اور اس گشتی مراسلے کے اِجرا کا کچھ حاصل نہیں
بجز اس کے کہ ’’چور‘‘ کو آگاہ کردیا جائے کہ جاگ ہوگئی ہے، اور وہ اپنا کام زیادہ ہوشیاری کے ساتھ کرے۔
ہمیں اندیشہ ہے کہ جن افسروں کے نام یہ گشتی مراسلہ جاری کیا گیا ہے، ان میں کتنے ہی لوگ ہوں گے جو اس فہرست میں
آتے ہوں گے جن سے خبردار رہنے کی تلقین کی گئی ہے۔‘‘
(روزنامہ ’’تسنیم‘‘ ۸؍دسمبر ۱۹۵۷ء بحوالہ ’’ربوہ کا پوپ‘‘ ص:۱۴۱)
ایک امتحان، ایک آزمائش:
اب قلم کا مسافر اپنی منزل تک رسائی کے آخری مراحل میں ہے، وہ اپنے ہم سفروں کو زیادہ زحمت نہیں دینا چاہتا۔
’’قادیانی اسرائیلی اتحاد‘‘ آپ کے سامنے کھل کر آچکا ہے، قادیانیوں کی یہودی فوجی ٹریننگ کا منظر بھی آپ دیکھ چکے
ہیں، ریاست ربوہ کے محکمہ انٹیلی جنس کی خفیہ خبریں بھی آپ سن چکے ہیں۔ اب ذرا عالم اسلام میں قادیانیت کے اثر
ورُسوخ پر بھی نظر ڈال لیجئے۔پاکستان کے کلیدی شعبے بدستور قادیانیت کے قبضے میں ہیں، پاکستان کی اقتصادیات پر
قادیانیوں کا خاصا تسلط ہے، بقول علامہ عزیز انصاری:
’’۱۹۵۳ء کی تحریک ختمِ نبوّت کے بعد مرزائیوں نے اپنا
317
محاذ بدل لیا، اور پاکستان کے سیاسی اور اقتصادی اداروں پر قبضہ کرنے کی کوشش کی، اور امریکہ میں جو مقام
یہودیوں کو حاصل ہے، وہی انہوں نے پاکستان میں حاصل کرنا چاہا۔‘‘
(ہفت روزہ چٹان ۵؍جنوری ۱۹۷۶ء ص:۱۸)
فوج سے لے کر ملک کے ہر چھوٹے بڑے محکمہ کی پالیسی ساز باڈی میں قادیانی اب بھی دخیل ہیں، معلوم ہوا کہ سب سے بڑے
اسلامی ملک انڈونیشیا میں مذہبی امور کا وزیر اور اس کا سیکرٹری قادیانی ہیں، اسی طرح دیگر اسلامی ممالک میں بھی
ــــ جہاں قادیانیوں کی ملازمت پر پابندی نہیں ـــاہم ترین مناصب پر قادیانی فائز ہیں۔ اب میں یہ مفروضہ پیش کرتا
ہوں ــــ جو محض مفروضہ نہیں بلکہ بڑی حدتک حقائق و واقعات کی صحیح تصویر ہے ــ کہ قادیانیوں کی عالمی تحریک جس کا
ہیڈکواٹر ربوہ ہے، اور جس کا ہر فرد ایک واجب الاطاعت ’’خلیفہ‘‘ کے ماتحت کام کرتا ہے، یورپ، یہودیت اور ہندوستان کا
آلہ کار اور جاسوس ہے ـــــ فرض کیجئے پاکستان کے فوجی اور دفاعی راز قادیانی شاخ کے ذریعہ ـــــ جو ہندوستان میں
ہے ــــ انڈونیشیا پہنچائے جاتے ہیں۔ عالم اسلام کی رپورٹ مرکز لندن کی وساطت سے استعماری طاقتوں کو مہیا کی جاتی
ہے، مشرق وسطیٰ کے خفیہ راز اسرائیل مرکز کے ذریعہ صیہونیوں کو بھیجے جاتے ہیں، اور خلافت ربوہ کا یہ محکمہ اطلاعات
تمام اسلام دشمن طاقتوں کی خدمت کے لئے وقف ہے۔ سوال یہ ہے کہ کیا عالم اسلام نے قادیانیوں کی جاسوسی اور خفیہ
سازشوں سے تحفظ کا کوئی انتظام کیا ہے؟ اور کیا اس وقت تک اس کی ضرورت بھی کسی کے گوشۂ ذہن میں آئی ہے؟
۷؍ستمبر ۱۹۷۴ء کے فیصلے سے قادیانی جارحیت کا تدارک نہیں ہوا، بلکہ اس فیصلہ نے عالمی سطح پر قادیانی تحریک کو
پاکستان اور دیگر اسلامی ممالک کے خلاف اور بھی برافروختہ کردیا ہے۔ ہم تسلیم کرتے ہیں کہ پاکستان اسمبلی نے
قادیانیوں کو غیرمسلم اقلیت قرار دے کر مسلمانوں کو آگاہ کردیا ہے کہ وہ قادیانیوں کی ’’تبلیغ اسلام‘‘ کے مصنوعی
خول سے ہوشیار رہیں، پاکستان کے اس فیصلہ کے احترام میں بعض دیگر اسلامی ممالک نے بھی
318
کچھ اقدامات کئے ہیں، یہ فیصلہ اپنی جگہ لائق صد تحسین ہے، لیکن سوال یہ ہے کہ پاکستان، مشرق وسطیٰ اور عالم
اسلام کو قادیانیت کی زیر زمین سرگرمیوں سے جو خطرہ لاحق ہے، کیا یہ فیصلہ اس کا شافی جواب ہوسکتا ہے؟
جس کافر اور باغی گروہ کے روابط اعداء اسلام سے موجود ہوں، جو تنظیم طاغوتی سامراج کی آلہ کار ہو، جس کے سپاہی
صیہونی فوج میں شامل ہوکر مسلمانوں پر آگ برسا رہے ہوں، جو عالم اسلام کو ڈائنامیٹ سے اڑا دینے کا فیصلہ کئے ہوئے
ہو، جس کا جاسوسی نظام کسی اسلامی ملک کی پوری مشینری کو مفلوج کردینے کے درپے ہو، جس کے افراد اسلامی ممالک میں
کلیدی عہدوں پر فائز ہوکر بھی ایک واجب الاطاعت خلیفہ کے اشاروں پر کارخاص میں سرگرم عمل ہوں، کیا ایسی جماعت کے لئے
صرف ’’غیرمسلم اقلیت‘‘ کا کاغذی تعویذ آئین کے گلے میں لٹکادینا کافی ہے؟ کیا اس ’’منتر‘‘ سے ان کی سرگرمیاں بند
ہوگئیں؟ کیا انہوں نے اسلامی شعائر کی توہین کا مکروہ عمل ترک کردیا؟ کیا ان کی وہ کتابیں جن میں انبیائے کرام اور
اکابر اُمت کو برہنہ گالیاں دی گئیں ہیں، ان کی اشاعت ختم ہوگئی؟ کیا طاغوتی طاقتوں سے ان کا رابطہ ختم ہوگیا؟ کیا
انہوں نے اسلام کش سازشوں سے توبہ کرلی؟ افسوس ہے کہ ان تمام سوالات کا جواب نفی میں ہے، اور اس سے بڑھ کر قابل
افسوس یہ ’’خوش فہمی‘‘ ہے کہ معرکہ سر کرلیا۔
بلاشبہ قادیانی، کافر ہیں۔ آج سے نہیں بلکہ ۱۳۰۱ھ سے کافر ہیں، جب مرزا غلام احمد قادیانی نے یہ نعرہ لگایا تھا
کہ:
-
منم مسیح زمان و منم کلیم خدا
منم محمد و احمد کہ مجتبیٰ باشد
(تریاق القلوب ص:۴، خزائن ج:۱۵ ص:۱۳۴)
لیکن اگر وہ صرف ’’کافر‘‘ ہوتے تو دنیا میں اور بہت سے کافر ہیں، قادیانی تحریک صرف اسلام سے باغی نہیں بلکہ یہ
صیہونیت اور فری میسن کی طرح ایک خفیہ سیاسی تنظیم ہے، اور یہودی فوجوں میں قادیانی سپاہیوں کی شمولیت اور مغربی
جرمنی میں چار ہزار
319
قادیانیوں کی گوریلا تربیت نے اسے ایک دہشت پسند تنظیم ثابت کردیا ہے۔
صیہونیت اور قادیانیت کا اتحاد پاکستان اور عالم اسلام کے لئے ایک ہولناک خطرہ کا نشان اور قائدین ملت کی فراست و
تدبر کے لئے ایک آزمائش اور ایک امتحان ہے، قادیانیت نے عالم اسلام سے فیصلہ کن معرکہ آرائی کا منصوبہ طے کرلیا
ہے، اور خلیفہ ربوہ نے آئندہ صدی میں (جو پانچ سال بعد شروع ہوگی) تمام دنیا پر چھاجانے اور عالم اسلام کو کھاجانے
کا اعلان جنگ کردیا ہے۔ قادیانی مشینری کے تمام کل پرزے، لندن سے حیفا تک اور حیفا سے قادیان تک، اس اعلان مبارزت پر
بڑی تیزی سے حرکت میں آچکے ہیں، اور ’’آنے والی صدی میں غلبہ احمدیت‘‘ کے لئے سازشوں کا وسیع منصوبہ تیار کرلیا
گیا ہے۔
پس چہ باید کرد؟
حریمِ اسلام کی پاسبانی علماء کے قلم اور سلاطین کی تلوار کے سپرد ہے، لیکن افسوس ہے کہ انگریز کے دورِ غلامی نے
سلاطین کے ہاتھ سے ’’سیف جہاد‘‘ اور علماء کے ہاتھ سے ’’قلم خاراشگاف‘‘ چھیننے کی کوشش کی۔
علماء کے قلم نے آج سے ۹۵سال پہلے یہ فیصلہ رقم کیا تھا کہ: ’’قادیانی غیرمسلم ہیں۔‘‘ افغانستان کی حکومت نے نوک
تلوار سے اس فیصلے پر دستخط کئے، اور قادیانیوں کو اِرتداد کی سزا میں موت کے گھاٹ اتار دیا۔ آج کی مہذب دنیا جو
معمولی سی حکومت کے باغی کو گولی سے اڑادینے کا معمول رکھتی ہے، اس نے شاہِ دوعالم صلی اللہ علیہ وسلم کے باغیوں کی
سزائے موت کو وحشیانہ قرار دیا۔ اور ہمارے تہذیب یافتہ طبقہ نے جو انگریز کی ہر بات پر ایمان بالغیب لانے کا خوگر
تھا، اس ’’وحشیانہ‘‘ پراپیگنڈے کو خوب ہوا دی۔
اگر مسلمان حکمرانوں کی غیرت نے حریم نبوّت کا تحفظ کیا ہوتا، اور قادیانیوں پر’’من بدَّل دینہ
فاقتلوہ‘‘ کی سزائے ارتداد جاری کی ہوتی، تو ۹۵برس تک عالم اسلام ’’تماشائے عبرت‘‘ نہ بنا رہتا، اور آج
قادیانی نبوّت کے گماشتوں کو یہ حوصلہ نہ ہوتا کہ وہ بیت المقدس اور مکہ و مدینہ پر نظریں جمائیں اور عالم اسلام کو
آنکھیں دکھائیں۔ حیرت
320
وحسرت کا مقام ہے کہ قادیانیت کے بارے میں ۱۳۰۱ھ میں جو فیصلہ علماء نے لکھا تھا، ہمارے ذہین طبقہ نے اس کو
سمجھنے کے لئے ایک صدی کی طویل مدت صرف کی، آج میں سوچتا ہوں تو بے چین ہوجاتا ہوں کہ اگر مسلمان کی فہم و فراست
اور تدبر و عاقبت اندیشی کا یہی معیار قائم رہا تو ہمارے اربابِ اقتدار کو قادیانیوں کی گہری سازشوں کے سمجھنے اور
ان کا صحیح تدارک کرنے کے لئے کتنی صدیوں کا عرصہ درکار ہوگا؟
کاش! میں کہیں سے صورِ اِسرافیل مانگ لاتا، جس سے کفر کی زمین میں زلزلہ آجاتا، اِلحاد و زَندقہ کے جگر شق ہوجاتے،
صدیوں کے جمود و غفلت کے پردے چھٹ جاتے، مردہ دلوں میں یکایک زندگی کی لہر دوڑ جاتی، اور ملک و ملت کے محافظ، ان
غدارانِ اسلام، باغیانِ محمد اور دُشمنانِ ملت قادیانیوں کی ہلاکت آفرین سازشوں کا تدارک کرنے کے لئے:’’أیُنقص فی الدِّین وأنا حیٌّ‘‘ کا نعرۂ کفر سوز لگاتے ہوئے کھڑے ہوجاتے:
-
نوائے تلخ ترمی زن چوں ذوق نغمہ کم یابی
حدی را تیز تر میخواں چو محمل را گراں بینی
ہمیں اسلام کے بارے میں الحمد للہ کوئی تشویش نہیں، اس کی حفاظت کا ذمہ خدا تعالیٰ نے خود لیا ہے، اور وہ اس کی
حفاظت کے لئے
خود ہی اسباب بھی پیدا فرما دیتا ہے، ہمیں جس چیز نے بے چین کر رکھا ہے وہ یہ ہے کہ مسلمانوں پر یہ کیا جادو چل گیا
ہے کہ وہ
321
اپنے گرد و پیش کسی سازش کا نوٹس نہیں لیتے اور ان کی آنکھیں اس وقت کھلتی ہیں جب پانی سر سے گزر چکا ہوتا ہے،
اور وقت
اپنا انمٹ فیصلہ لکھ کر فارغ ہوجاتا ہے
ہمارے نزدیک قادیانی، صیہونی سازش کا ایک ہی علاج ہے اور وہ یہ کہ قادیانیت کو صیہونیت کی طرح، ایک دہشت پسند سیاسی
تنظیم تسلیم کرتے ہوئے اس کی تمام سرگرمیوں کو خلاف قانون قرار دیا جائے، اس تحریک کا کوئی فرد کسی اسلامی ملک میں
کسی سرکاری منصب پر فائز نہ ہو، اس کے ارکان کی نقل و حرکت پر کڑی نظر رکھی جائے، اور جن افراد کا کسی بیرونی سازشی
جماعتوں سے رابطہ ثابت ہوجائے، انہیں بغاوت کی سزا دی جائے۔ اور ہر مسلمان یہ نوٹ کرلے کہ کوئی قادیانی کسی حالت میں
بھی اسلامی ملک کا وفادار شہری نہیں ہوسکتا۔ ہرگز نہیں ہوسکتا۔ اس لئے کہ ہر قادیانی اسلام کے قلعہ کو مسمار کرکے اس
پر ’’احمدیت‘‘ کا قصر تعمیر کرنا
اپنا مذہبی فرض سمجھتا ہے
حق تعالیٰ شانہ تمام اعدائے اسلام سے ہماری حفاظت فرمائے اور ہمارے ارباب اقتدار کو ان فتنوں سے عہدہ برآ ہونے کی
توفیق عطا فرمائے۔
وَالْحَمْدُ للہِ اَوَّلًا وَّآخِرًا
322
ربوہ سے تل ابیب تک
جواب الجواب
(حصہ دوم)
تقریب سخن:
راقم الحروف نے محرم الحرام ۱۳۹۶ھ میں ایک مختصر رسالہ بعنوان ’’ربوہ سے تل ابیب تک‘‘ مرتب کیا تھا، جس میں قادیانی
یہودی روابط، قادیانی عزائم اور قادیانیوں کی خفی وجلی سرگرمیوں کا نوٹس لیتے ہوئے مسلمانوں کو محتاط اور چوکنا رہنے
کا مشورہ دیا گیا تھا، پورے رسالہ کا خلاصہ یہ تھا کہ کوئی قادیانی کسی حالت میں بھی اسلامی مملکت کا وفادار شہری
نہیں ہوسکتا، اس لئے کہ ہر قادیانی، اسلام کے قلعہ کو مسمار کرکے اس پر ’’احمدیت‘‘ کا قصر تعمیر کرنا اپنا مذہبی فرض
سمجھتا ہے، قادیانیت کی صد سالہ تاریخ کا ایک ایک سانحہ ثابت کرتا ہے کہ قادیانی اُمت کبھی بھول کر بھی اسلام کی
وفادار اور مسلمانوں کی خیرخواہ نہیں رہی، ان کے اخلاص مودّت کے روابط ہمیشہ کفر اور کفار سے پیوستہ رہے ہیں، اور جو
طاغوت، مسلمانوں کی ایذا رسانی میں سب سے آگے ہو وہی قادیانی ٹولے کا سب سے گہرا دوست اور حلیف رہا ہے۔ جسٹس منیر
کے الفاظ میں:
’’جب انہوں نے عقیدۂ جہاد کی تاویل میں ’’مہربان انگریزی گورنمنٹ‘‘ اور اس کی مذہبی رواداری کی تعریف نہایت
’’خوشامدانہ لہجہ‘‘ میں کرنی شروع کی تو اس تاویل پر چند در چند شبہات پیدا ہونے لگے۔ پھر جب مرزا صاحب نے اسلامی
ممالک
323
کی عدم رواداری اور انگریزوں کی فراخ دلانہ مذہبی پالیسی کا مقابلہ و موازنہ توہین آمیز انداز میں کیا تو
مسلمانوں کا غیظ و غضب اور بھی مشتعل ہوگیا۔ احمدی (مرزائی) جانتے تھے کہ ان کے عقائد دوسرے اسلامی ممالک میں
’’اشاعت ارتداد‘‘ پر محمول کئے جائیں گے، اور یہ خیال اس وقت اور بھی پختہ ہوگیا جب افغانستان میں عبداللطیف احمدی
(مرزائی) کو سنگسار کیا گیا۔(مرزائی عبداللطیف کی سنگساری کے علل و اسباب پر مرزا بشیر الدین نے اپنے ایک خطبہ میں
روشنی ڈالی ہے اور اطالوی مصنف کے حوالے سے کہتے ہیں:
’’وہ (اطالوی مصنف) لکھتا ہے کہ صاحبزادہ عبداللطیف صاحب کو اس وجہ سے ’’شہید‘‘ کیا گیا کہ وہ جہاد کے خلاف تعلیم
دیتے تھے، اور حکومت افغانستان کو خطرہ لاحق ہوگیا تھا کہ اس سے افغانوں کا جذبہ حریت کمزور پڑجائے گا، اور اس پر
انگریزوں کا اقتدار چھا جائے گا۔
اگر ہمارے آدمی افغانستان میں خاموش رہتے اور وہ جہاد کے باب میں جماعت احمدیہ کے مسلک کو بیان نہ کرتے تو شرعی
طور پر ان پر کوئی اعتراض نہ تھا، مگر وہ اس بڑھتے ہوئے جوش کا شکار ہوگئے، جو اُنہیں حکومت برطانیہ کے متعلق تھا،
اور وہ اسی ہمدردی کی وجہ سے مستحق سزا ہوگئے جو قادیان سے لے کر گئے تھے:
-
بجرم عشق توام می کشند و غوغائیست
تو نیز برسر بام آکہ خوش تماشائیست
(اخبار ’’الفضل‘‘ قادیان، مؤرخہ ۶؍اگست ۱۹۳۵ء ص:۴، کالم:۴،۵۔۔۔ناقل)
جب پہلی جنگ عظیم میں (جس میں ترکوں کو شکست ہوگئی
324
تھی) بغداد پر ۱۹۱۸ء میں انگریزوں کا قبضہ ہوگیا، اور قادیان میں اس ’’فتح‘‘ پر جشن مسرت منایا گیا تو
مسلمانوں میں شدید برہمی پیدا ہوئی، اور احمدی، انگریزوں کے پٹھو سمجھے جانے لگے۔‘‘
(منیر انکوائری رپورٹ ص:۲۰۸، ۲۰۹)
بغداد پر انگریز کا تسلط ہوا تو اس المناک سانحہ پر پورا عالم اسلام خون کے آنسو بہا رہا تھا۔ مگر قادیانیوں نے اس
کو ’’فتح‘‘ قرار دے کر گھی کے چراغ جلائے، اور جس ناشائستہ انداز میں عالم اسلام کے زخموں پر نمک پاشی کی اس کا
اندازہ ذیل کے اقتباس سے کیجئے، اخبار ’’الفضل‘‘ قادیان مؤرخہ ۷؍دسمبر ۱۹۱۸ء کی اشاعت میں لکھتا ہے:
’’حضرت مسیح موعود (مرزا آنجہانی) فرماتے ہیں کہ میں مہدی ہوں اور گورنمنٹ برطانیہ میری وہ تلوار ہے جس کے مقابلہ
میں ان علماء کی کچھ پیش نہیں جاتی (بحمداللہ جھوٹے مہدی کی یہ ناپاک تلوار ٹوٹ گئی۔۔۔ناقل) اب غور کرنے کا مقام ہے
کہ پھر ہم احمدیوں کو اس ’’فتح‘‘ سے کیوں خوشی نہ ہو، عراق، عرب ہو یا شام ہم ہر جگہ اپنی تلوار کی چمک دیکھنا چاہتے
ہیں۔
’’فتح بغداد‘‘ کے وقت ہماری فوجیں مشرق سے داخل ہوئیں، دیکھئے کس زمانے میں اس ’’فتح‘‘ کی خبر دی گئی، ہماری
گورنمنٹ برطانیہ نے جو بصرہ کی طرف چڑھائی کی اور تمام اقوام کے لوگوں کو جمع کرکے اس طرف بھیجا، دراصل اس کے محرک
خدا تعالیٰ کے وہ فرشتے تھے(مرزا آنجہانی نے اپنے خدا کے دو اِلہامی نام بتائے ہیں، عاجی، اور یلاش۔ تذکرہ
ص:۱۰۵،۳۸۹۔۔۔ناقل) جن کو اس گورنمنٹ کی مدد کے لئے اس نے اپنے وقت پر اُتارا تاکہ وہ لوگوں کے دلوں کو اس طرف مائل
کرکے ہر قسم کی مدد کے لئے تیار کریں۔‘‘
(قادیانی مذہب ص:۷۴۱، طبع پنجم فصل:۱۴نمبر:۳۱)
325
اس لئے علامہ اقبال مرحوم نے قادیانیت کا خلاصہ ایک چھوٹے سے فقرے میں ادا کردیا تھا کہ ’’قادیانی، اسلام اور وطن
دونوں کے غدار ہیں۔‘‘ قادیانی اس معاملہ میں بڑے حساس ہیں کہ ان کا اصل چہرہ مسلمانوں کے سامنے عریاں ہو، چنانچہ
راقم الحروف کے متذکرہ بالا رسالہ سے قادیانی بے حد پریشان ہوئے، اور قادیانی خلافت کے رکن رکین جناب مرزا طاہر احمد
صاحب نے بنفس نفیس اس کے جواب میں خامہ فرسانی فرمائی، یہ جواب رسالہ کی شکل میں میرے سامنے ہے، جس کے سرورق پر یہ
نام مرقوم ہے: ’’جناب محمد یوسف بنوری صاحب کے رسالہ ’’ربوہ سے تل ابیب تک‘‘ پر مختصر تبصرہ۔‘‘
بدحواسی:
قارئین کو شاید تعجب ہوگا کہ رسالہ ’’ربوہ سے تل ابیب تک‘‘ محمد یوسف لدھیانوی کی تالیف ہے، رسالہ کے ابتدائیہ میں
(صفحہ ۳ پر) مرتب رسالہ کے دستخط ثبت ہیں، صفحہ ۲ پر جہاں طباعتی تفصیلات درج ہیں، وہاں بھی مؤلف کے آگے محمد یوسف
لدھیانوی کا نام نمایاں طور پر درج ہے، مگر ان تمام تصریحات کے علی الرغم صاحبزادہ مرزا طاہر احمد صاحب اس کو میرے
شیخ و مربی حضرت مولانا سیّد محمد یوسف بنوری مدظلہ العالی کی تالیف بناکر انہیں نازیبا الفاظ میں مخاطب فرماتے ہیں۔
کیا صاحبزادہ صاحب نے رسالہ پڑھے بغیر ہی جواب کے لئے قلم اٹھالیا تھا؟ یا ان کے خیال میں دمشق اور قادیان کی طرح
لدھیانہ اور بنور بھی ایک ہی چیز ہے؟ کہیں یہ اس بدحواسی کا اثر تو نہیں جو اس رسالہ کی اشاعت سے قادیانی ٹولے کو
لاحق ہوگئی ہے؟ تعجب بالائے تعجب یہ کہ ربوہ میں یہ رسالہ جناب مرزا طاہر احمد کے علاوہ ان کے اعوان و انصار نے بھی
ملاحظہ فرمایا ہوگا، مگر افسوس ہے کہ کسی نے صاحبزادہ صاحب کو متنبہ نہ کیا کہ حضرت! جب آپ مؤلف کا نام تک صحیح
پڑھنے سے معذور ہیں، ’’لدھیانوی‘‘ کا ’’بنوری‘‘ بنار ہے ہیں، تو رسالہ کے مندرجات کو کیا سمجھیں گے؟ اور آپ کے جواب
کی قیمت کیا ہوگی؟ کتنی عجیب بات ہے کہ قادیانی اُمت میں ایسے لوگوں کو امامت و زعامت کا شرف حاصل ہے۔
326
قادیانی سنت:
مگر قارئین کو تعجب نہیں ہونا چاہئے، صاحبزادہ صاحب نے جو کچھ کیا یہ ان کا موروثی ورثہ اور آبائی سنت ہے، کسی
چھوٹے آدمی کی تحریر کو کسی بڑے کی طرف منسوب کرکے جلے دل کے پھپھولے پھوڑنا ان کی پرانی ریت ہے۔ مثلاً حضرت مولانا
اشرف علی تھانویؒ نے ۱۳۲۰ھ میں قادیانی وساوس کے جواب میں ایک رسالہ ’’الخطاب الملیح فی تحقیق
المہدی والمسیح‘‘ کے نام سے تحریر فرمایا تھا، جس کی لوح پر مصنف کا نام ’’حضرت مولانا اشرف علی صاحب
تھانوی مدظلہ‘‘ درج ہے۔ مرزا غلام احمد قادیانی اس لا جواب رسالہ سے ایسے مبہوت ہوئے کہ بدحواسی میں مصنف کا نام ہی
ذہن سے اتر گیا اور رسالہ کو حضرت گنگوہی قدس سرہ، کی جانب منسوب کرکے لکھا کہ:
’’جواب شبہات ’’الخطاب الملیح فی تحقیق المہدی والمسیح‘‘ جو مولوی رشید احمد گنگوہی کے خرافات کا مجموعہ ہے۔‘‘
(ضمیمہ براہین پنجم ص:۱۹۹، روحانی خزائن ج:۲۱ص:۳۷۱)
لطف یہ کہ صاحبزادہ طاہر احمد کی طرح مرزا آنجہانی نے اپنے فرضی مصنف کو گالیاں تو خوب پیٹ بھرکر دیں، مگر جواب
’’الخطاب الملیح‘‘ کی ایک سطر کا بھی نہ دے سکے۔ (کسی کو اس دعویٰ میں شک ہو تو اس رسالہ کا اور مرزا صاحب کے نام
نہاد جواب کا مطالعہ کرکے فیصلہ کرسکتا ہے) بہرحال صاحبزادہ صاحب نے اپنے جد بزرگوار کی سنت ایک بار پھر تازہ کر
دکھائی، قادیان کے مرزائی خاندان کی ’’مراقی روایات‘‘ (ڈاکٹر شاہنواز مرزائی کے ایک فقرے کی طرف اشارہ ہے، وہ مرزائی
قادیانی کے ’’مراق‘‘ پر بحث کرتے ہوئے لکھتے ہیں: ’’جب خاندان سے اس کی ابتدا ہوئی تو پھر اگلی نسل میں بے شک یہ مرض
منتقل ہوا، چنانچہ حضرت خلیفۃ المسیح ثانی (صاحبزادہ طاہر احمد کے والد گرامی) نے فرمایا کہ مجھ کو بھی کبھی کبھی
مراق کا دورہ ہوتا ہے۔‘‘ (رسالہ ریویو ص:۱۱ بابت اگست ۱۹۲۶ء) صاحبزادہ مرزا طاہر احمد کو بھی اس مورثی ورثہ سے خاصا
حصہ ملا ہوگا۔۔۔ناقل) انہی لطیفوں سے زندہ ہیں۔
327
قادیانی اُمت ان پر جتنا بھی ناز کرے بجا ہے:
وزیرے چنیں شہریارے چنیں
قادیانی لغت:
اور ’’لدھیانوی‘‘ کو ’’بنوری‘‘ بنا دینے پر تعجب اس لئے بھی نہ ہونا چاہئے کہ مرزائیوں کا باوا آدم ہی نرالا ہے۔
مرزائیوں کا باوا آدم خود مرزا غلام احمد قادیانی ہے، آنجہانی کو دور جدید کے آدم ہونے کا بھی دعویٰ تھا، تریاق
القلوب، تحفہ گولڑویہ اور دیگر تصنیفات میں انہوں نے اس کی تصریحات کی ہیں، مرزائی عقیدہ کے مطابق’’یا آدم اسکن انت وزوجک الجنۃ۔‘‘ کا خطاب مرزا آنجہانی کو ہے۔
(دیکھئے تذکرہ ص:۷۰)
مرزائیوں کی اصطلاحات و لغات سب سے جدا ہیں، جن لوگوں کی ڈکشنری میں مرزا کا ترجمہ عیسیٰ ہو، مریم کے معنی چراغ بی
بی کے ہوں، ’’آسمان سے اترنے‘‘ کے معنی ماں کے پیٹ سے نکلنا ہو، دو چادروں کا ترجمہ مراق اور کثرت بول ہو، جیسا کہ
مرزا غلام احمد نے لکھا ہے:
’’دیکھو میری بیماری کی نسبت بھی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے پیش گوئی کی تھی جو اسی طرح وقوع میں آئی، آپ نے
فرمایا تھا کہ مسیح آسمان پر سے جب اترے گا تو دو زرد چادریں اس نے پہنی ہوئی ہوں گی، تو اسی طرح مجھ کو دو
بیماریاں ہیں، ایک اوپر کے دھڑ کی اور ایک نیچے کے دھڑ کی، یعنی مراق اور کثرت بول۔‘‘
(ملفوظات ج:۸ ص:۴۴۵)
اسی طرح جن کے ہاں دمشق کا ترجمہ قادیان ہو، مسیحا سے مراد ہسٹریا کا مریض ہو، احمد کے معنی غلام احمد ہوں وغیرہ
وغیرہ۔ وہ اگر ’’اشرف علی تھانوی‘‘ کا ترجمہ ’’رشید احمد گنگوہی‘‘ کریں، یا ’’لدھیانوی‘‘ کے معنی ’’بنوری‘‘ بتائیں
تو قادیانی لغت کے عین مطابق ہے، اُلٹے کو سیدھا، سیدھے کو اُلٹا کرنا ہی قادیانی مذہب کا بنیادی اُصول ہے۔ اس لئے
مرزا
328
طاہر احمد صاحب اپنے مذہبی فلسفہ کی رو سے لدھیانوی کو بنوری پڑھنے پر مجبور ہیں۔
جب پچاس کا قرض پانچ سے یہ کہہ کر چکایا جاسکتا ہے کہ پانچ اور پچاس کے درمیان صرف ایک نقطے کا فرق ہے تو لدھیانوی
کا قرض بنوری سے کیوں وصول نہیں کیا جاسکتا؟ یہاں بھی ایک نقطہ کا تو فرق ہے۔
چنانچہ مرزا غلام احمد قادیانی نے ’’براہین احمدیہ‘‘ کے نام سے ایک ایسی کتاب لکھنے کا وعدہ کیا تھا جس کے پچاس حصے
ہوں گے، اور جس میں اسلام کی حقانیت کے تین سو دلائل ہوں گے، مرزا نے پوری کتاب کی رقم پیشگی وصول کرکے ہضم کرلی،
مگر پانچ سو صفحے کی ایک جلد میں چار حصے پورے کرکے چپ سادھ لی۔ ۲۳سال بعد ’’نصرۃ الحق‘‘ نامی کتاب لکھی تو اسی کا
دوسرا نام ’’براہین حصہ پنجم‘‘ رکھ دیا، ’’بیک کرشمہ دوکار‘‘ اور پانچ سے پچاس بنانے کی ترکیب یہ ارشاد فرمائی کہ:
’’پہلے پچاس حصے لکھنے کا ارادہ تھا، مگر پچاس سے پانچ پر اکتفا کیا گیا، اور چونکہ پچاس اور پانچ کے عدد میں صرف
ایک نقطہ کا فرق ہے، اس لئے پانچ سے وعدہ پورا ہوگیا۔‘‘
(دیباچہ براہین پنجم ص:۷، روحانی خزائن ج:۲۱ ص:۹)
پانچ سے پچاس کا قرض چکانے کا کتنا آسان نسخہ ہے؟
اخلاقی جرأت:
قادیانی مسیحائی سے غلام احمد کا احمد، اشرف علی تھانوی کا رشید احمد گنگوہی اور لدھیانوی کا مولانا بنوری بن جانا
تو خیر قادیانی معجزہ ہے، تاہم مرزا طاہر احمد صاحب کی اخلاقی جرأت (جو ان کے خاندان کا طرۂ امتیاز ہے) کی داد نہ
دینا بے انصافی ہوگی، موصوف نے اپنے ’’تبصرہ‘‘ میں جگہ جگہ مولانا بنوری کو مخاطب فرمایا، جواب طلبی فرمائی، چیلنج
پر چیلنج دئیے، مگر اخلاقی جرأت کا یہ عالم کہ اپنے مخاطب تک اپنی بات پہنچانے کی ضرورت نہیں سمجھی، نہ اس کا تکلف
فرمایا، غالباً جناب صاحبزادہ صاحب کے نزدیک مولانا بنوری کسی
329
عالم الغیب ہستی کا نام ہے، جسے آپ سے آپ ان کی نگارشات کا علم حضوری ہوگا، یا ان کے خیال میں متکلم کا یہ
فرض نہیں کہ وہ اپنی بات اپنے مخاطب تک پہنچانے کا بھی اہتمام کرے، بلکہ شاید یہ فرض ان کے مخاطب ہی پر عائد ہوتا ہے
کہ وہ ہمیشہ گوش بر آواز رہے کہ عالی مقام مرزا طاہر احمد صاحب اس سے کیا کیا دریافت فرمانا چاہتے ہیں۔
دنیا میں اہل عقل کا دستور تو یہی دیکھا، سنا کہ جب کسی خاص شخص کو مخاطب کیا جائے تو وہ خطاب سب سے پہلے اسی تک
پہنچایا جائے، مثلاً مولانا سیّد مرتضیٰ حسن چاندپوری نے ’’اول السبعین علی الواحد من
الثلاثین‘‘ لکھی، جس میں قادیانیوں سے ستر سوال کئے گئے تھے، تو ان کے دونوں مرکزوں کو (لاہور اور قادیان)
رجسٹرڈ بھیجی گئی (جس کے جواب سے آج تک قادیانی اُمت عہدہ برآ نہیں ہوسکی، نہ اِن شاء اللہ قیامت تک ہوگی)، البتہ
قادیانی دستور ساری دنیا سے نرالا ہے۔
قادیانی جواب:
جوابدہی کے سلسلے میں بھی قادیانی لیڈروں کی ایک مخصوص البیلی ادا ہے، بطور اصول موضوعہ اسے بھی نوٹ کرلینا چاہئے۔
سب سے پہلے تو وہ اپنی کتاب کے حوالوں سے انکار کیا کرتے ہیں، مناظروں اور مباحثوں میں بسا اوقات ایسا بھی ہوا کہ
کتاب کھول کر انہیں حوالہ دکھایا گیا تو کہہ دیا کہ کتاب ہی ہماری نہیں، اور یہ انکار و گریز صرف غیرمعروف کتابوں سے
متعلق نہیں بلکہ ’’حقیقۃ الوحی‘‘ اور ’’سیرۃ المہدی‘‘ جیسی معروف کتابوں کے بارے میں بھی یہی انداز اختیار کیا گیا۔
اگر کسی حوالے میں کوئی لفظ آگے پیچھے ہوگیا یا کتاب کے صفحوں اور اخبار کی تاریخوں کے نقل کرنے میں کسی سے ذرا
بھی فروگزاشت ہوگئی، پھر تو سمجھنا چاہئے کہ اس غریب کی شامت ہی آگئی، اب اسے قادیان کی خاص ٹکسالی زبان میں سب و
شتم سننے کے لئے تیار رہنا چاہئے۔ ہلکے سے ہلکا خطاب جو اسے قادیانی سرکار سے عطا ہوگا وہ ’’یہودی‘‘ کا ہے (صاحبزادہ
صاحب نے بھی علامہ اقبال کو یہی خطاب دیا ہے)، اور اگر کوئی حوالہ
330
ناقابل انکار ہو تو اسے تاویل کے پردے میں چھپانے کی کوشش کی جائے گی۔ تاویل ان کے گھر کی لونڈی ہے، ہر کفر
و زندقہ کو تاویل کے ذریعہ عین اسلام ثابت کردیا جاتا ہے اور گھناؤنی سے گھناؤنی بات کو تاویل کے حسین غلاف میں
لپیٹ کر عالی فہم مریدوں کو مطمئن کرلیا جاتا ہے۔ مراق، ہسٹریا، ذیابیطس، سلس البول، حمل، دردِ زہ وغیرہ تاویل کے
زور سے مسیح کے معجزے بن جاتے ہیں۔
کسی صاف اور سیدھی بات کے مفہوم کو الٹ دینا، قطعی و یقینی امور کو مشکوک بنادینا، دن کو رات اور رات کو دن ثابت
کرنا، ایاز کو محمود اور زنگی کو کافور بناکر پیش کرنا بھی قادیانی لیڈروں کا خاص کرشمہ ہے۔ جناب مرزا طاہر احمد
صاحب نے زیر بحث ’’تبصرہ‘‘ میں ان تمام قادیانی کرشموں کو نبھایا ہے، جن کی تفصیل آئندہ سطور میں اِن شاء اللہ
قارئین کی نظر سے گزرے گی۔
قادیانی تحفہ:
جھوٹ، بہتان، اِفترا اور لعنت کی گردان قادیانیوں کا خاص تحفہ ہے، جو ان کی جانب سے عطا کیا جاتا ہے، مرزا طاہر
احمد صاحب نے بھی اپنے ’’تبصرہ‘‘ میں یہ قادیانی تحفہ بڑی فیاضی سے مولانا بنوری کو عطا فرمایا ہے۔ جھوٹ اور بہتان
تو خیر مرزا صاحب کے گھر کی دولت ہے، اس رواں صدی میں قادیان اور ربوہ اس دولت کے سب سے بڑے معدن ہیں، وہ ساری دنیا
پر بھی اسے تقسیم کردیں تب بھی ختم نہ ہوگی۔ جہاں جھوٹ اور اِفترا کے چشمے ابلتے ہوں وہاں دو چار چلّو اگر راہ چلتوں
پر بھی پھینک دئیے جائیں تو کیا کمی واقع ہوتی ہے۔ دنیا کا سب سے بڑا جھوٹ، جھوٹی نبوّت کا دعویٰ ہے، جو لوگ اس کو
ہضم کرچکے ہوں، ظاہر ہے کہ جھوٹ ان کے گوشت، پوست میں سرائیت کئے ہوئے ہوگا، اور انہیں ہر سو جھوٹ ہی جھوٹ نظر آئے
گا۔
باقی رہی لعنت! تو یہ جھوٹ کا خاصہ لازمہ ہے، یہی وجہ ہے کہ مرزا آنجہانی کے گھر اس کی بھی بڑی فراوانی تھی، اور
اس کی داد و دہش میں بھی وہ بڑے سخی تھے، دس دس،
331
بیس بیس لعنتیں تو معمولی بات پر ان کا معمول تھا، اور کبھی موج میں آتے تو گن گن کر ہزار ہزار لعنتیں ایک
سانس میں تقسیم کرکے اٹھتے، افسوس ہے کہ اس دولت کی تقسیم میں مرزا آنجہانی جیسی فیاضی اب مرزائی خاندان میں نہیں
رہی، غالباً یہ دولت مرزا صاحب کے خاندان اور متعلقین میں تقسیم ہوکر رہ گئی، جناب مرزا طاہر احمد صاحب کو بھی حصہ
رسدی ملی ہوگی، اس لئے انہوں نے مولانا بنوریؒ کو اس کا عطیہ دینے میں اپنے جد بزرگوار کی سی فیاضی کا مظاہرہ تو
نہیں کیا، تاہم بخل سے بھی کام نہیں لیا، اپنی بساط اور مقدور کے موافق انہوں نے خوب لعنت برسائی ہے، دعا کرنی چاہئے
کہ حق تعالیٰ ان کی اس خاندانی دولت میں دن دونی رات چوگنی ترقی فرمائے اور دنیا و آخرت میں انہیں اس بیش بہا دولت
سے مالا مال رکھے۔
باران لعنت کے سلسلہ میں جناب مرزا طاہر احمد صاحب کو ایک بہت ہی مخلصانہ و نیازمندانہ مشورہ دینا چاہتا ہوں، مشورہ
ذرا دقیق سا ہے، امید ہے اس پر توجہ فرمائیں گے۔ مشورہ یہ ہے کہ وہ لوگوں پر لعنت برسانے کا شوق تو ضرور فرمایا کریں
کہ یہ ان کا آبائی ترکہ ہے، اور کسی کو حق نہیں کہ انہیں اس میراث سے محروم کردے، مگر اس کے لئے قرآن کریم کی
آیت: ’’لعنۃ اللہ علی الکاذبین۔‘‘ نہ پڑھا کریں، وجہ اس کی یہ ہے کہ حدیث میں آتا ہے:
’’رب قاریٔ قرآن والقرآن یلعنہ۔‘‘
(مشکوٰۃ)
ترجمہ:۔۔۔’’بہت سے قرآن پڑھنے والے ایسے ہیں کہ قرآن ان پر لعنت کرتا ہے۔‘‘
اس حدیث کے مفہوم میں یہ بھی داخل ہے کہ ایک شخص خود ظالم ہے اور وہ قرآن مجید کی تلاوت کرتے ہوئے پڑھتا ہے: ’’الَا لعنۃ اللہ علی الظّٰلمین۔‘‘ (ظالموں پر خدا کی لعنت) تو درحقیقت وہ قرآن کی زبان
سے خود اپنے آپ پر لعنت کررہا ہے۔ اسی طرح ایک شخص خود جھوٹا ہے اور وہ آیت کریمہ: ’’لعنۃ
اللہ علی الکاذبین۔‘‘ پڑھتا ہے، تو نادانستہ اپنے اوپر لعنت کرتا ہے۔
332
یہ تو سب جانتے ہیں کہ مرزا آنجہانی کو نبی، مسیح، احمد اور محمد رسول اللہ کہنا یکسر خلاف واقعہ ہے (اسی کو جھوٹ
کہتے ہیں)، اس لئے ان عقائد کے باوجود صاحبزادہ صاحب کا اس آیت کی تلاوت کرنا، حدیث بالا کا مصداق ہے۔ بزعم خود وہ
یہ دولت دوسروں کو تقسیم کرتے ہیں مگر یہ آیت خود ان کے حق میں اس دولت کے اضافہ کا باعث بنتی ہے۔ گویا صاحبزادہ
صاحب اس آیت کو پڑھ کر خود اپنے اوپر بددعا کرتے ہیں۔ میرے خیال میں یہ اچھی بات نہیں، امید ہے وہ یہ خیرخواہانہ
مشورہ قبول کرکے آئندہ: ’’لعنۃ اللہ علی الکاذبین۔‘‘ ا مورد بننے سے احتراز فرمائیں گے،
جتنی اب تک انہیں مل چکی ہے، وہی بہت ہے۔
چڑنے کا فلسفہ:
ان تمہیدی معروضات کے بعد اب جناب مرزا طاہر احمد صاحب کے ’’تبصرہ‘‘ کا حال سنئے! راقم الحروف نے اپنے رسالہ میں
’’قادیانی‘‘ اور ’’قادیانیت‘‘ کا لفظ استعمال کیا، مجھے خیال تک نہ تھا کہ اس سے کسی کو چڑ ہوگی، مجھے افسوس ہے کہ
مرزا طاہر احمد صاحب اس سے چڑ گئے، وہ لکھتے ہیں:
’’غالباً قادیانیت سے مولانا کی مراد، احمدیت ہے، اور مولانا، احمدیت کو قادیانیت لکھتے وقت اس ارشاد خداوندی سے یا
تو ناواقف تھے کہ ’’ولَاتنابزوا بالْألقاب‘‘ ۔
ترجمہ:’’ایک دوسرے کو (چڑانے کی خاطر) غلط ناموں سے نہ پکارا کرو۔‘‘ یا پھر عمداً اس ارشاد کی تعمیل ضروری نہیں
سمجھتے (بہرحال یہ ان کا ذاتی فیصلہ ہے)۔‘‘
(ربوہ سے تل ابیب تک پر مختصر تبصرہ ص:۲)
الف:... میرا مقصد چڑانا تھا یا نہیں، یہ بحث تو الگ رہی، اور یہ بحث بھی فی الحال رہنے دیجئے کہ میں ارشاد خداوندی
سے ناواقف تھا یا عمداً اس کی تعمیل نہیں کی۔ سب
333
سے پہلے صاحبزادہ کو یہ تو سوچنا چاہئے تھا کہ وہ قادیانی کے لفظ سے کیوں چڑجاتے ہیں؟ مرزا آنجہانی کے
ماننے والوں کو عموماً ’’مرزائی‘‘ یا ’’قادیانی‘‘ کہا جاتا ہے، اور کبھی غلام احمد کی نسبت سے ’’غلمدی‘‘ بھی کہتے
ہیں، ’’مرزائی‘‘، مرزا کی طرف نسبت ہے، جو نہ صرف ان کے پیشوا کا خاندانی لقب ہے، بلکہ اِلہامی بھی ہے (دیکھئے تذکرہ
ص:۱۳۳، طبع دوم)۔ اسی طرح ’’قادیانی‘‘ بقول ان کے اِلہامی بھی ہے اور ان کی مسیحیت کی دلیل بھی۔ (دیکھئے ازالہ اوہام
ص:۱۸۵، روحانی خزائن ج:۳ ص:۱۹۰)۔ دنیا کی تمام قومیں اپنے بانیانِ مذاہب اور اپنے علمی و روحانی پیشواؤں کی طرف
انتساب پر فخر کرتی ہیں، مگر دنیا کی تاریخ میں بدقسمتی سے مرزا غلام احمد قادیانی ایک ایسا مذہبی پیشوا ہے، جس کے
پیرو ہی نہیں بلکہ اس کی آل اولاد بھی اس کی طرف انتساب کو موجبِ ننگ و عار سمجھتی ہے، اور اس سے چڑتی ہے، فیا للعجب !
ب:... اہل فہم واقف ہیں کہ الفاظ میں حسن و خوبی یا قباحت و شناعت ان کے مفہوم و معنی کی رہین منّت ہے، معنی اچھے
ہوں تو لفظ حسین ہے، اور معنی برے ہوں تو لفظ قبیح ہے، اور نسبت کی اچھائی برائی منسوب الیہ کی اچھائی برائی پر
موقوف ہے، جس کی طرف نسبت کی جائے اگر وہ اچھا ہو تو نسبت قابل فخر ہے، اور اگر برا ہو تو نسبت موجب ننگ و عار سمجھی
جاتی ہے، یہی وجہ ہے کہ انبیاء و اولیاء کی طرف نسبت پر ہر شخص فخر کرتا ہے۔ اور رسوائے زمانہ شخصیتوں کی طرف نسبت
کو گالی تصور کیا جاتا ہے۔ مرزا طاہر احمد صاحب اگر مرزائی، قادیانی، اور غلمدی کے الفاظ سے چڑتے ہیں تو دراصل لوگوں
کو یہ تأثر دیتے ہیں کہ مرزا غلام احمد قادیانی کی شخصیت بہت ہی بدنام اور رسوائے زمانہ تھی، کسی فرد یا جماعت کو
اس کی طرف منسوب کرنا مکروہ گالی ہے۔
ج:... مرزا آنجہانی نے ایک الہام میں کہا تھا کہ خدا تعالیٰ نے مجھ سے وعدہ فرمایا ہے کہ تیری رسوا کن باتوں کا
ذکر باقی نہیں رکھوں گا۔ ’’ولَا نبقی من المخذیات ذکرًا‘‘ مرزا آنجہانی کا یہ الہامی
وعدہ تو کیا پورا ہوتا، خدا کی قدرت کا کرشمہ دیکھو خود مرزا آنجہانی کی ذات، ذلت و رسوائی کا نشان بن کر رہ گئی،
اس سے بڑھ کر رسوائی و بدنامی کیا
334
ہوگی کہ جس طرح فرعون، ابوجہل، مسیلمہ کذاب اور اسود عنسی کی طرف منسوب ہونے کو کوئی شخص برداشت نہیں کرتا،
اسی طرح قادیانی متنبی کی نسبت بھی کسی کو گوارا نہیں، اسی بنا پر مرزائی ذریت قادیانی کے لفظ سے چڑتی ہے۔
د:... مرزا طاہر احمد صاحب تو ’’مرزائی اور قادیانی‘‘ کے لفظ سے چڑتے ہیں مگر ان کے اسلاف بطور فخر ان الفاظ کو خود
استعمال کرتے تھے، اس سلسلہ میں چند حوالے پیش کرتا ہوں:
۱:۔۔۔اخبار الحکم قادیان جلد:۱۰ نمبر:۱۹ ص:۹ مؤرخہ ۳۱؍مئی ۱۹۰۶ء میں حکیم نور دین کا ایک خط ڈاکٹر عبدالحکیم خان
صاحب کے نام شائع ہوا جس میں حکیم صاحب نے بار بار ’’مرزا‘‘ اور ’’مرزائیوں‘‘ کا لفظ استعمال کیا۔
۲:۔۔۔۵؍جولائی ۱۹۰۷ء کو حکیم صاحب نے کسی سائل کے جواب میں ایک خط لکھا، جسے صاحبزادہ مرزا بشیر احمد ایم اے نے
کلمۃ الفصل، (مندرجہ رسالہ ریویو بابت مارچ و اپریل ۱۹۱۵ء) میں نقل کیا ہے، اس کے آخر میں حکیم صاحب لکھتے ہیں:
’’میرے خیال میں میں اور اکثر عقلمند مرزائی یہ نہیں مانتے۔۔۔۔۔۔‘‘
(ص:۱۵۲)
اس حوالہ سے معلوم ہوا کہ مرزا کو ماننے والے مرزائی ہیں اور یہ کہ ان کی دو قسمیں ہیں عقلمند اور بے عقل، غالباً
مؤخر الذکر قسم میں وہ لوگ شامل ہیں جو مرزائی کہلانے سے چڑتے ہیں۔
۳:۔۔۔مرزا آنجہانی کی زندگی میں قادیان کے سالانہ جلسہ کے موقع پر میر قاسم علی نے مرزا کے حواریوں کی مدح میں ایک
قصیدہ پڑھا، مسٹر محمد علی لاہوری کی مدح و ثنا میں یہ شعر تھا:
کیا ہے راز طشت از بام جس نے عیسویت کا
یہی وہ ہیں، یہی وہ ہیں، یہی ہیں پکے مرزائی
(اخبار بدر ۱۷؍جنوری ۱۹۰۷ء بحوالہ ترک مرزائیت ص:۶)
اس حوالے سے دو نکتے معلوم ہوئے ایک یہ کہ جس طرح میر قاسم علی کا عیسویت
335
کہنا محل اعتراض نہیں، اسی طرح مرزائیوں کے دین و مذہب کو ’’مرزائیت‘‘، ’’قادیانیت‘‘ یا ’’غلمدیت‘‘ کہنا بھی
کوئی بری بات نہیں، مرزا طاہر احمد صاحب اس سے خواہ مخواہ چڑتے ہیں۔ دوم یہ کہ مرزا کے ماننے والے مرزائی ہیں، ان
میں سے کچھ تو مسٹر محمد علی ایم اے کی طرح پکے مرزائی تھے اور کچھ مرزا طاہر احمد صاحب کی طرح کچے مرزائی ہیں،
مرزائی کے لفظ سے چڑنا ہی ان کے کچے پن کی دلیل ہے۔
۴:۔۔۔اخبار بدر جلد:۲ نمبر:۳۸ ص:۴،۵ مؤرخہ ۲۰؍ستمبر ۱۹۰۶ء میں خلیفہ رشید الدین صاحب (مرزا طاہر احمد صاحب کے جد
فاسد) کا ایک نصیحت نامہ بنام مرتد ڈاکٹر شائع ہوا، اس میں خلیفہ صاحب لکھتے ہیں:
’’اس زمانے میں حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت اقدس مرزا صاحب سلمہ میں بروز کیا ہے تو اس وقت مرزائی
توحید ہی محمدی توحید ہے، اور اسی سے نجات ہے۔‘‘
(ص:۵ کالم:۲)
۵:۔۔۔مرزائیوں کی احمدی جنتری بابت ۱۹۴۱ء جو قادیان سے شائع ہوئی، اس کے دوسرے صفحہ پر مفتی محمد صادق قادیانی کا
ایک مضمون شائع ہوا، جس کا عنوان تھا: ’’ہم قادیانی بنیں یا لاہوری؟‘‘ اس میں موصوف نے زور دار دلائل سے ثابت کیا ہے
کہ مرزا آنجہانی کو ماننے والے قادیانی ہیں، اسی سلسلہ میں لکھتے ہیں:
’’جب ہمارے مرشد، وحی الٰہی کے مطابق قادیانی تھے تو ہم بھی قادیانی ہیں نہ کہ لاہوری۔‘‘
ان تمام حوالوں سے واضح ہے کہ مرزا طاہر احمد صاحب کے اسلاف مرزائی اور قادیانی کہلانے میں فخر محسوس کرتے تھے، اب
اگر وہ ان ناموں سے چڑتے ہیں تو گویا اپنے سلف کی روایات سے انحراف کرتے ہیں۔
ھ:... اب میں اس آیت کو لیتا ہوں جس کا حوالہ صاحبزادہ صاحب نے دیا ہے، یہ تو ہر طالب علم جانتا ہے کہ اس آیت کا
خطاب مسلمانوں سے ہے، اور انہی کو یہ ہدایت کی گئی ہے کہ وہ آپس میں ایک دوسرے کو برے القاب سے یاد نہ کیا کریں،
ادھر
336
قادیانی مسلمان ہی نہیں، بلکہ ایک جھوٹے مدعی نبوّت کے پیرو ہونے کی وجہ سے دائرہ اسلام سے خارج ہیں، اس لئے
آیت کا حکم ان غیرمسلموں کو شامل ہی نہیں، فرض کیا کہ قادیانی بہت ہی برا نام ہے، جیسا کہ صاحبزادہ صاحب کے کلام سے
مترشح ہے، اور قادیانی اس نام سے واقعی چڑتے ہیں، تب بھی اس میں راقم الحروف کا کیا قصور ہے؟ قصور اگر ہے تو مرزا
آنجہانی کا ہے، جس نے نبوّت کا دعویٰ کیا، تیس دجالوں میں نام لکھوایا، اور کفر و ارتداد کی طرح نو ڈالی، یا پھر اس
کے ماننے والوں کا قصور ہے، جو اسلام کے دائرے سے نکل کر ایک رسوائے زمانہ مدعی نبوّت کے کیمپ میں شامل ہوئے، راقم
الحروف کا قصور بس اتنا ہے کہ اس نے قادیانی کے ماننے والوں کو ان کے پیشوا کی طرف منسوب کردیا، اور یہ نسبت عقلاً و
شرعاً و عرفاً لازم ہے، قیامت کے دن بھی سب لوگوں کو ان کے پیشوا کی نسبت سے پکارا جائے گا، جیسا کہ ارشاد الٰہی ہے:
’’یوم ندعوا کل اناس بإمامھم۔‘‘ (جس دن ہم بلائیں گے ہر فرقہ کو ان کے سرداروں کے
ساتھ)۔ مرزا طاہر احمد صاحب شاید خدا کو بھی یہی کہیں گے کہ آپ ہمیں جلانے کے لئے قادیانی کی نسبت سے پکار رہے ہیں
(بہرحال یہ ان کا ذاتی فیصلہ ہے)۔
و:صاحبزادہ صاحب کو شاید علم ہوگا کہ عمرو بن ہشام کا لقب جاہلیت میں ابوالحکم تھا، مگر رسول اللہ صلی اللہ علیہ
وسلم نے اس کا لقب ابوجہل رکھا، اور یہ لقب ایسا مشہور ہوا کہ بہت سے لوگوں کو اس کا اصل نام بھی یاد نہ رہا۔ آپ
صلی اللہ علیہ وسلم کے ایک چچا کا نام عبدالعزیٰ تھا، قرآن کریم نے اس کا لقب ابولہب رکھا، ظاہر ہے کہ یہ لوگ ان
القاب سے خوش نہیں ہوتے ہوں گے بلکہ مرزا طاہر احمد صاحب کی طرح ضرور چڑتے ہوں گے، افسوس ہے مرزا طاہر احمد صاحب اس
وقت نہیں تھے، ورنہ خدا و رسول کو’’ولَا تنابزوا بالْألقاب۔‘‘ (اور نہ ایک دوسرے کو برے
لقب سے پکارو) کی آیت معہ ترجمہ یاد دِلاتے۔
ز:... آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ابوجہل کے خلاف واقعہ لقب ابوالحکم کو ابوجہل سے تبدیل کردیا۔ اسی طرح اُمتِ
اسلامیہ نے سنت نبوی کی پیروی کرتے ہوئے مرزائیوں کے تجویز کردہ خلاف واقعہ نام ’’احمدی‘‘ کو ’’مرزائی‘‘ اور
’’قادیانی‘‘ سے بدل
337
دیا۔ ’’احمد‘‘ ہمارے نبی پاک صلی اللہ علیہ و سلم کا مقدس نام ہے، اور ایک مرتد ٹولے کا اپنے آپ کو اس مقدس
نام کی طرف منسوب کرنا اس نام کی بے حرمتی ہے جو کسی طرح قابل برداشت نہیں، نیز مرزائیوں کا احمدی کہلانا دراصل اس
عقیدے پر مبنی ہے کہ مرزا احمد ہے، اور یہ کہ قرآن کریم میں جس ’’احمد‘‘ کے بارے میں حضرت عیسیٰ ؑ کی بشارت ہے اس
سے مراد یہی غلام احمد قادیانی ہے، اب کوئی ناواقف ہی ہوگا جو مرزائیوں کو احمدی کہہ کر ان کے اس عقیدے کی تصدیق
کرے، پس جس طرح ابوجہل کو ابوالحکم کہنا جائز نہیں، اسی طرح مرزا آنجہانی کے ماننے والوں کو احمدی کہنا بھی قطعاً
صحیح نہیں، جو لوگ ایسا کرتے ہیں وہ حقیقت واقعیہ سے بے خبر ہیں۔
دامن کو ذرا دیکھ!
قادیانی کا لفظ جو مرزائیوں کے مرشد کا مقدس نام ہے اس پر تو صاحبزادہ صاحب چڑتے ہیں، خفا ہوتے ہیں، قرآن کریم کی
آیت یاد دِلاتے ہیں، اس کا ترجمہ سناتے ہیں، مگر ان کے باپ دادا نے انبیائے کرام، صحابہ عظامؓ اور علماء وصلحاء پر
جو دُرفشانیاں کی ہیں، ان پر بھی صاحبزادہ صاحب کا سر نداُمت سے کبھی جھکا؟ کبھی جبین خجالت عرق آلود ہوئی؟ کبھی
دامن تقدس پر نظر پڑی؟ کبھی آیت: ’’ولَا تنابزوا بالْألقاب‘‘ یاد آئی؟ کتنی عجیب بات
ہے قادیانی کے لفظ پر احتجاج کرتا ہے وہ شخص جس کے باپ دادا کا پیشہ ہی گالی گلوچ تھا، اور جس کی تین پشتوں سے
انبیاء و صلحاء کے حق میں فحش کلامی، ہجوگوئی و دشنام طرازی اور پوستین دری کی روایت چلی آتی ہے، صاحبزادہ صاحب کو
بار طبع نہ ہو تو مغلظات مرزا میں اپنے دادا کی دُرفشانیوں کی فہرست ملاحظہ فرمائیں، کتے، گدھے، سور، خنزیر اور گوہ
کے کیڑے تو مرزا آنجہانی کے منہ میں ہمیشہ رہتے تھے، کمینے اور حرامزادے بھی بہت مرغوب تھے، منہ کا ذائقہ بدلنے کے
لئے کبھی کبھی شترمرغ، بغال، سانپ، بچھو اور بھیڑئیے سے بھی شغل فرمالیا کرتے تھے بطور نمونہ اس شیریں کلامی کے چند
جملے یہاں نقل کردیتا ہوں:
338
’’عیسیٰ علیہ السلام شراب پیا کرتے تھے۔‘‘
(کشتی نوح ص:۶۵، روحانی خزائن ج:۱۹ص:۷۱)
’’مسیح کا چال چلن کیا تھا، ایک کھاؤ، پیو، شرابی، نہ زاہد، نہ عابد، نہ حق کا پرستار، متکبر، خودبین، خدائی کا
دعویٰ کرنے والا۔‘‘
(مکتوبات احمدیہ ج:۳ ص:۲۳،۲۴)
’’جس قدر حضرت مسیح کی پیش گوئیاں غلط نکلیں اس قدر صحیح نہیں نکل سکیں۔‘‘
(ازالہ اوہام ص:۷، روحانی خزائن ج:۳ ص:۱۰۶)
’’یسوع درحقیقت بوجہ بیماری مرگی کے دیوانہ ہوگیا تھا۔‘‘
(ست بچن حاشیہ ص:۱۷۱، روحانی خزائن ج:۱۰ ص:۲۹۵)
’’بعض نادان صحابی، جن کو درایت سے کچھ حاصل نہ تھا۔‘‘
(ضمیمہ براہین پنجم ص:۱۲۰، روحانی خزائن ج:۲۱ ص:۲۸۵)
’’ان العدی صاروا خنازیر الفلا ونسائھم من دونھن الْاکلب۔‘‘
’’دشمن ہمارے بیابانوں کے خنزیر ہوگئے اور ان کی عورتیں کتیوں سے بڑھ گئی ہیں۔‘‘
(نجم الہدی ص:۱۰، روحانی خزائن ج:۱۴ ص:۵۳)
’’جو شخص ہماری فتح کا قائل نہیں ہوگا تو صاف سمجھا جاوے گا کہ اس کو ولد الحرام بننے کا شوق ہے اور وہ حلال زادہ
نہیں۔‘‘
(انوار الاسلام ص:۳۰، روحانی خزائن ج:۹ ص:۳۱)
اردو کے علاوہ دو جواہر ریزے عربی میں صاحبزادہ کی نذر ہیں:
-
و من اللئام أری رجیلا فاسقًا
غولًا لعینًا نطفۃ السفھاء
339
-
شکس خبیث مفسد و مزوّر
نحس یسمّی السعد فی الجھلاء
(انجام آتھم ص:۲۸۱، روحانی خزائن ج:۱۱ ص:۲۸۱)
-
أذیتنی خبثا فلست بصادق
ان لم تمت بالخزی یا ابن بغاء
(انجام آتھم ص:۲۸۲، روحانی خزائن ج:۱۱ ص:۲۸۲)
کیا مرزا طاہر احمد صاحب پسند کریں گے کہ یہ پاکیزہ القاب جو مرزا آنجہانی کے ذہن و قلم سے نکلے، ان کو، ان کی
جماعت کو اور ان کے خاندان کو واپس لوٹادئیے جائیں اور قادیانی کا برا لقب ان سے واپس لے لیا جائے؟... ’’دامن کو ذرا
دیکھ، ذرا بند قبا دیکھ۔‘‘
قادیانی یہودی عناصر:
راقم الحروف نے اپنے رسالہ میں یہودیت اور قادیانیت کے درمیان مماثلت کی دس وجوہ ذکر کی تھیں (جن میں پہلی تین
علامہ اقبال مرحوم سے نقل کی تھیں) مرزا طاہر احمد صاحب نے بزعم خود ایک ایک کا جواب دیا ہے، ان کے جوابات کا حال تو
ابھی معلوم ہوگا، اس ضمن میں دلچسپ لطیفہ یہ ہے کہ صاحبزادہ صاحب نے صرف قادیانیت کی طرف سے دفاع کی کوشش نہیں کی،
بلکہ وہ یہودیت کی طرف سے بھی وکیل صفائی کی حیثیت سے پیش ہوئے ہیں۔ یہ بھی غالباً بقول اقبالؒ قادیانیت کے یہودی
عناصر کا کرشمہ ہے۔ یہودیت لائق مبارکباد ہے کہ اسے مرزا طاہر احمد کی شکل میں ایک اچھا وکیل ہاتھ آیا، اور
صاحبزادہ صاحب مستحق تبریک ہیں کہ انہیں راقم الحروف کے چھوٹے سے رسالہ کی بدولت یہودیت کی وکالت کا شرف نصیب ہوا۔
نعم الوفاق و حبذا الرفاق:
’’ہوئے تم دوست جس کے اس کا دشمن آسماں کیوں ہو؟‘‘
قادیانی اور تصوّرِ خدا:
علامہ اقبال مرحوم نے قادیانیت کے حاسد خدا کے تصور، نبی کے متعلق نجومی کے
340
تخیل اور روح مسیح کے تسلسل کا حوالہ دیتے ہوئے کہا تھا کہ:
’’قادیانیت اپنے اندر یہودیت کے اتنے عناصر رکھتی ہے گویا یہ تحریک ہی یہودیت کی طرف رجوع ہے۔‘‘
(حرف اقبال ص:۱۲۳)
مرزا طاہر صاحب ـــ مرزائی روایات کے عین مطابق ــــ علامہ کے ان لطیف اشارات کو سمجھنے سے قاصر رہے اور اپنی طرف
سے کچھ کا کچھ مطلب گھڑ کے اس پر مشق تنقید فرمانے لگے۔ تصور خدا کے بارے میں علامہ مرحوم نے جو کچھ فرمایا ہے وہ یہ
ہے کہ اسلام خدا تعالیٰ کا جو تصور پیش کرتا ہے وہ اس تصور سے یکسر مختلف ہے جو یہودیت پیش کرتی ہے، اور جس کی نقالی
کا شرف قادیانیت کو حاصل ہے۔ خدا تعالیٰ کی صفات و جمال سے کسی عاقل کو انکار نہیں، نہ ہوسکتا ہے، مگر اسلام ایک
ایسے خدائے رحمن و رحیم کا تصور پیش کرتا ہے جس کی رحمت کسی خاص نسل یا طبقہ کے ساتھ مخصوص نہیں، بلکہ اس کی رحمت
عامہ ہر چیز کو محیط ہے، اور اس کی رحمت خاصہ بلاامتیاز رنگ و نسل تمام اہل ایمان و تقویٰ کو عام ہے، الغرض اس کی
رحمت اس کے غضب پر غالب ہے۔ ’’ان رحمتی سبقت غضبی‘‘ حدیثِ قدسی ہے۔
برعکس اس کے بگڑی ہوئی یہودیت خدا کا جو تصور پیش کرتی ہے اس کی ساری دلچسپیاں اسرائیل کے ساتھ مخصوص ہیں، اور اس
کے دشمنوں کے لئے قہر و غضب اور تباہی وبربادی کے سوا کچھ نہیں۔ یہ ایک ایسی حقیقت ہے جس سے تاریخ ادیان کا کوئی
طالب ناواقف نہیں، اسی کو علامہؒ اپنی خاص اصطلاح میں، حاسد خدا کا تصور، قرار دیتے ہیں جس کے پاس دشمنوں کے لئے
لاتعداد زلزلوں اور بیماریوں کی بھرمار ہے۔
ادھر قادیانیت جس خدا کا تصور پیش کرتی ہے اس کی ساری دلچسپیاں مرزا اور مرزائی ذریت پر مرکوز ہیں، اور مرزا کے
دشمنوں کے لئے اس کے پاس لاتعداد بیماریاں اور زلزلے ہیں۔ بطور نمونہ چند الہامات، ملاحظہ کیجئے:
✨: ... ’’خدا عرش پر سے تیری تعریف کرتا ہے، خدا تیری
341
تعریف کرتا ہے اور تیری طرف چلا آتا ہے۔‘‘
(انجام آتھم ص:۵۵، روحانی خزائن ج:۱۱ ص:۵۵)
✨: ... ’’میں تیرے ساتھ ہوں اور تیرے اہل کے ساتھ ہوں، میں تیرے بوجھ اٹھاؤں گا۔‘‘
(تذکرہ ص:۷۴۴ طبع چہارم)
✨: ... ’’میں تیرے ساتھ اور تیرے تمام پیاروں کے ساتھ ہوں۔‘‘
(تذکرہ ص:۷۴۴ طبع چہارم)
✨: ... ’’اور تیرے خاص دوست بنی اسرائیل کے نبیوں کی مانند ہیں۔‘‘
(تذکرہ ص:۸۰۴ طبع چہارم)
✨: ... ’’میں چھپ کر آؤں گا، میں اپنی فوجوں کے ساتھ اس وقت آؤں گا کہ کسی کو گمان بھی نہ ہوگا۔‘‘
(تذکرہ ص:۵۴۵ طبع چہارم)
✨: ... ’’جس نے تیری دشمنی اور مخالفت اختیار کی وہ جہنمی ہے۔‘‘
(تذکرہ ص:۱۶۳ طبع چہارم)
✨: ... ’’جو شخص اس (مرزا کی) کشتی میں سوار ہوگا وہ غرق ہونے سے نجات پاجائے گا، اور جو انکار کرے گا اس کے لئے
موت درپیش ہے۔‘‘
(تذکرہ ص:۱۶۸ طبع چہارم)
✨: ... ’’جو شخص تیری پیروی نہیں کرے گا اور تیری بیعت میں داخل نہیں ہوگا اور تیرا مخالف رہے گا۔ وہ خدا اور رسول
کی نافرمانی کرنے والا اور جہنمی ہے۔‘‘
(تذکرہ ص:۳۳۶ طبع چہارم)
✨: ... ’’جو شخص تیرے گھر کی چار دیواری کے اندر ہوگا اور وہ جو کامل پیروی اور اطاعت اور سچے تقویٰ سے تجھ میں محو
ہوجائے گا وہ سب طاعون سے بچائے جائیں گے۔‘‘
(تذکرہ ص:۴۲۸ طبع چہارم)
342
✨: ... ’’اگر وہ توبہ نہ کریں گے تو خدا ان پر بلا پر بلا نازل کرے گا۔ یہاں تک کہ وہ نابود ہوجائیں گے۔‘‘
(تذکرہ ص:۱۴۰طبع چہارم)
اس سے قطع نظر کہ مرزا کے یہ ’’احلام‘‘ حقائق و واقعات کی ترازو میں کیا وزن رکھتے ہیں اور یہ کہ وہ کون سی آفت ہے
جو مسلمانوں پر تو نازل ہوئی، مگر مرزا اور مرزائی ذریت اس سے محفوظ و مصون رہی؟ ان ’’الہامات‘‘ میں جو چیز توجہ طلب
ہے وہ صرف مرزا اور مرزائی ذریت کے لئے خدائی رحمتوں کی الاٹمنٹ ہے۔ قادیانی خدا کی ساری عنایتیں صرف مرزا کے گھر کی
چار دیواری تک محدود ہیں، اور محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اُمتِ مرحومہ کے لئے اس کے پاس وباؤں، آفتوں
اور زلزلوں کے سوا کچھ نہیں۔
قادیانی لٹریچر کا مطالعہ بتاتا ہے کہ قادیانی الٰہیات کا تانا بانا یہودیت، عیسائیت اور دیگر مذاہب باطلہ کے
ملغوبہ سے تیار کیا گیا ہے، جس میں لوگوں کو احمق بنانے کے لئے جابجا اسلام کی پیوندکاری کی کوشش بھی کی گئی ہے۔ یہ
موضوع ایک مستقل تصنیف کا متقاضی ہے، تاہم یہاں چند اشارات پر اکتفا کروں گا۔
قادیانی الہامات میں خدا کے لئے ’’رب الافواج‘‘ کی تعبیر اختیار کی گئی ہے (دیکھئے تذکرہ ص:۱۰۲،۴۰۹،۶۳۵)، جس سے
اسلامی ادب ناآشنا ہے، اور یہ اصطلاح بائیبل (عہد عتیق) سے لی گئی ہے۔
بائبل کے بہت سے مقامات میں خدا کے لئے جسمیت ثابت کی گئی ہے، (تفصیل کے لئے اظہار الحق مؤلفہ مولانا رحمت اللہ
مہاجر مکی، کا باب چہارم دیکھئے) اس کی تقلید میں قادیانیت خدا کا جسمانی تصور اس طرح پیش کرتی ہے:
’’قیوم العالمین ایک ایسا وجود اعظم ہے جس کے لئے بے شمار ہاتھ، بے شمار پیر، اور ہریک عضو اس کثرت سے ہے کہ تعداد
سے خارج اور لاانتہا عرض اور طول رکھتا ہے اور تندوی کی طرح اس
343
وجود اعظم کی تاریں بھی ہیں۔‘‘
(توضیح مرام ص:۷۵، روحانی خزائن ج:۳ ص:۹۰)
(’’قیوم العالمین‘‘ کی یہ جاہلانہ تشبیہ بیک وقت دین ومذہب اور عقل و دانش کا ماتم ہے۔)
’’جبریل کو بھی جو سانس کی ہوا یا آنکھ کے نور کی طرح خدا تعالیٰ سے نسبت رکھتا ہے اس طرف ساتھ ہی حرکت کرنی پڑتی
ہے، یا یوں کہو کہ خدائے تعالیٰ کی جنبش کے ساتھ ہی وہ بھی بلااختیار و بلاارادہ اسی طور سے جنبش میں آجاتا ہے کہ
جیسا کہ اصل کی جنبش سے سایہ کا ہلنا طبعی طور پر ضروری امر ہے... تو معاً اس کی ایک عکسی تصویر جس کو روح القدس کے
ہی نام سے موسوم کرنا چاہئے محب صادق کے دل میں منقش ہوجاتی ہے۔‘‘
(توضیح مرام ص:۷۹، روحانی خزائن ج:۳ ص:۹۲)
بائبل میں کہیں خدا کو ملول بتایا گیا ہے، اور کہیں اس کی طرف ’’پچھتانا‘‘ منسوب کیا گیا ہے، قادیانیت اس کی تقلید
میں خدا کے لئے خطا و صواب اور صوم و افطار تجویز کرتی ہے، جیسا کہ مرزا قادیانی لکھتا ہے:’’اخطی
و اصیب۔‘‘ (تذکرہ ص:۴۶۲طبع چہارم)، ’’افطر و
اصوم۔‘‘ (تذکرہ ص:۴۲۰ طبع چہارم) ۔
بائبل میں خدا کی طرف سونا جاگنا منسوب کیا گیا ہے (ا۔زبور ۴۴:۲۳۔ :۳۵:۲۳۔ ۷:۶۔ ۵۹:۴،۵۔
۷۳:۲۰۔ یرمیاہ:۳۱:۶۲) ۔ قادیانیت بھی خدا کو جگاکر سلاتی ہے اور سلا کر جگاتی ہے، جیسا کہ تذکرہ میں ہے:
’’اسھر و انام۔ میں سوتا ہوں اور جاگتا ہوں۔‘‘
(تذکرہ ص:۴۶۰ طبع چہارم)
بائبل، حضرت یعقوب علیہ السلام سے خدا کی کُشتی کراتی ہے، (پیدائش ۳۲:۲۲، ۲۹) تو قادیانیت خدا کو ایسی حالت میں پیش
کرتی ہے کہ وہ مرزا غلام احمد سے ٹھٹھا مخول کررہا
344
ہے۔ مرزا آنجہانی ’’امام الزماں‘‘ کے بارے میں لکھتا ہے کہ ایسے لوگوں سے:
’’خدا تعالیٰ ان سے بہت قریب ہوجاتا ہے، اور کسی قدر پردہ اپنے پاک روشن چہرے پر سے جو نور محض ہے اتار دیتا ہے،
اور یہ کیفیت دوسروں کو میسر نہیں آتی، بلکہ وہ تو بسا اوقات اپنے تئیں ایسا پاتے ہیں کہ گویا ان سے کوئی ٹھٹھا
کررہا ہے۔‘‘
(ضرورۃ الامام ص:۱۳، روحانی خزائن ج:۱۳ص:۴۸۳)
یہ خدا نہیں بلکہ ابلیس کی ذریت شریفہ تھی جو قادیانی امام الزمان کے سامنے نورانی شکل میں متشکّل ہوکر اس سے ٹھٹھا
کرنے لگی، اور جسے مرزا آنجہانی نے ’’خدا کا پاک چہرہ‘‘ سمجھ لیا۔ مرزا سے پہلے بھی بہت سے خام عقل اس ’’نورانی
سراب‘‘ میں بھٹک کر الحاد و زندقہ کی وادیاں عبور کر چکے ہیں۔ قاتلھم اللہ انّٰی یؤفکون۔
یہودیت حضرت عزیر علیہ السلام کو ’’خدا کا بیٹا‘‘ کہتی ہے اور قادیانیت خدا کو مرزا کے بیٹے کی شکل میں آسمان سے
اتارتی ہے، جیسا کہ تذکرہ میں ہے:
’’انا نبشرک بغلام حلیم، مظھر الحق و العلا، کانَّ اللہ نزل من السماء، اسمہ عمانوایل۔‘‘
(تذکرہ ص:۲۸۱ طبع چہارم)
لطف یہ کہ یہ ’’عمانوایل‘‘ کا لفظ بھی بائبل ہی سے سرقہ ہے۔
یہود بڑے زور سے نعرہ لگاتے تھے کہ ہم خدا کے بیٹے اور اس کے محبوب ہیں، یہی نعرہ بانیٔ قادیانیت نے اپنایا:
’’تو مجھ سے بمنزلہ بیٹے کے ہے۔‘‘
(تذکرہ ص:۵۲۶ طبع چہارم)
’’اسمع ولدی ۔ اے میرے بیٹے سن!‘‘
(البشریٰ ج:۱ ص:۴۹)
345
’’تو مجھ سے ہے، اور تیرا بھید میرا بھید ہے۔‘‘
(تذکرہ ص:۲۰۰ طبع چہارم)
’’تو ہمارے قدیم پانی سے ہے اور لوگ فشل (بزدلی) سے۔‘‘
(تذکرہ ص:۲۰۴طبع چہارم)
باپ بیٹا ہونے کے لئے ازدواجی رشتہ لازم و ملزوم ہے، قادیانیت اس معمہ کا حل اس طرح پیش کرتی ہے:
’’جیسا کہ حضرت مسیح موعود (مرزا قادیانی) نے ایک موقع پر اپنی حالت یہ ظاہر فرمائی ہے کہ کشف کی حالت آپ پر اس
طرح طاری ہوئی کہ گویا آپ عورت ہیں، اور اللہ تعالیٰ نے رجولیت کی طاقت کا اظہار فرمایا تھا، سمجھنے والے کے لئے
اشارہ کافی ہے۔‘‘
(اسلامی قربانی ص:۱۲ مصنفہ قاضی یار محمد قادیانی بی او ایل پلیڈر)
اور کبھی قادیانی خدا کو مرزا آنجہانی پر زیادہ پیار آتا ہے تو یہ کیفیت ہوتی ہے کہ: ’’آواہن (خدا تیرے اندر اتر
آیا)۔‘‘
(تذکرہ ص:۳۱۱طبع چہارم)
اگر اس ’’قادیانی اِلٰہیات‘‘ پر کسی کو یہ اشکال ہو کہ ایک ہی شخص قادیانی خدا کا بیٹا، اس کا باپ، اس کی بیوی اور
پھر اس کا مدخول کیسے ہوگیا؟ تو اسے معلوم رہنا چاہئے کہ قادیانی دین و مذہب کا انحصار ایک نئے ’’واحد الوجودی‘‘
فلسفہ پر ہے جس کے مطابق ایک ہی شخص ’’مرزا‘‘ بیک وقت مختلف اور متضاد حیثیات کا حامل ہوسکتا ہے۔ مرزا آنجہانی اس
فلسفہ کی تشریح اس طرح کرتے ہیں:
’’مریم کی طرح عیسیٰ کی روح مجھ میں نفخ کی گئی، اور استعارہ کے رنگ میں مجھے حاملہ ٹھہرایا گیا اور آخر کئی مہینے
کے بعد، جو دس مہینے سے زیادہ نہیں، بذریعہ اس الہام کے مجھے مریم سے عیسیٰ بنایا گیا، پس اس طور سے میں ابن مریم
ٹھہرا (یعنی: خود گل و خود کوزہ خود کوزہ گر۔ناقل)‘‘
(کشتی نوح ص:۴۷، روحانی خزائن ج:۱۹ص:۵۰)
346
اس فلسفہ کی مزید تشریح اخبار ’’الفضل‘‘ قادیان (مؤرخہ ۱۸؍فروری ۱۹۳۰ء) اس طرح کرتا ہے:
’’آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی اُمت کا ایک فرد اور ’’واحد وجود‘‘ ایسا بھی ہوگا جو آپ کی اتباع سے تمام انبیاء
کا ’’واحد مظہر‘‘ اور ’’بروز‘‘ ہوگا، اور جس کے ایک ہی وجود سے سب انبیاء کا جلوہ ظاہر ہوگا۔ اگر وہ حسب ذیل کلام سے
اپنے نطق حقیقت کو بیان فرمائے تو کچھ خلاف نہ ہوگا، یعنی:
زندہ شد ہر نبی بہ آمدنم
ہر رسولے نہان بہ پیراہنم
(نزول المسیح ص:۱۰۰، روحانی خزائن ج:۱۸ ص:۴۷۸)
’’میں کبھی آدم، کبھی موسیٰ، کبھی یعقوب ہوں
نیز ابراہیم ہوں، نسلیں ہیں میری بے شمار‘‘
(براہین پنجم ص:۱۰۳، روحانی خزائن ج:۲۱ ص:۱۳۳)
’’منم مسیح زمان و منم کلیم خدا
منم محمد و احمد کہ مجتبیٰ باشد‘‘
(تریاق القلوب ص:۴، روحانی خزائن ج:۱۵ ص:۳۴)
قادیانیت کا یہی فلسفہ ’’واحد الوجود‘‘ ہے، جو مرزا آنجہانی کو کرشن بھی بناتا ہے اور جے سنگھ بہادر بھی، رودر
گوپال بھی اور کلغی اوتار بھی، نعوذ باللہ مسیح بھی اور محمد رسول اللہ بھی۔ اور پھر یہی ان کو خدا کا بروز بھی
بناتا ہے اور خدا کا ظہور بھی، خدا کا اسم اعلیٰ بھی اور خدا کی توحید و تفرید بھی، خدا کی روح بھی اور خدا کی
آنکھ، کان بھی، خدا کا عرش بھی اور خدا کا وقار بھی، خدا کا بیٹا بھی اور خدا کا باپ بھی، خدا کا مدخول بھی اور اس
کی قوت رجولیت کا مظہر بھی، خدا کی مانند بھی اور عین خدا بھی، نعوذ باللہ ـــ ظاہر ہے کہ ’’اِلٰہیات‘‘ کا یہ
قادیانی گورکھ دھندا اسلام سے کوئی واسطہ نہیں رکھتا، بلکہ یہودیت اور دیگر ادیان باطلہ کا مسروقہ مال ہے
347
جو قادیان کی دکانِ اِلہام میں بے قرینہ ڈھیر کردیا گیا ہے:
-
وہ شیفتہ کہ دُھوم تھی حضرت کے زُہد کی
میں کیا کہوں؟ کل مجھے کس کے گھر ملے!
قادیانیت اور تخیلِ نبوّت:
علامہ اقبال مرحوم نے قادیانیت پر دوسری تنقید یہ کی کہ وہ نبی کے متعلق نجومی کا تخیل رکھتی ہے جو یہودیت سے
مستعار لیا گیا ہے۔ صاحبزادہ طاہر احمد صاحب اپنی موروثی فہم و ذکاوت کی بنا پرـــــ علامہ کے اس اشارے کو بھی نہیں
پاسکے۔ علامہ مرحوم کے مدعا کی وضاحت کے لئے سب سے پہلے یہ ضروری ہے کہ ہم مرزا آنجہانی سے نبوّت کے معنی دریافت
کریں۔ پھر یہ دیکھیں کہ قادیانی تخیل نبوّت عقل و شرع کی کسوٹی پر صحیح ثابت ہوتا ہے یا غلط؟ اور یہ کہ مرزا
آنجہانی نے یہ تخیل کہاں سے اخذ کیا؟
مرزا آنجہانی نے ’’نبی اور نبوّت‘‘ کا جو مفہوم پیش کیا ہے وہ ان کی حسب ذیل چند عبارتوں سے واضح ہے:
’’جس شخص پر پیش گوئی کے طور پر خدا تعالیٰ کی طرف سے کسی بات کا اظہار بہ کثرت ہو اسے ’’نبی‘‘ کہا جاتا ہے۔‘‘
(ملفوظات احمدیہ ج:۱۰ ص:۴۵۱طبع ربوہ)
’’عربی اور عبرانی زبان میں ’’نبی‘‘ کے معنی صرف پیش گوئی کرنے والے کے ہیں، جو خدا تعالیٰ سے الہام پاکر پیش گوئی
کرے۔۔۔... ہمارا مذہب نہیں ہے کہ ایسی نبوّت پر مہر لگ گئی ہے۔ صرف اس نبوّت کا دروازہ بند ہے جو احکام شریعت جدیدہ
ساتھ رکھتی ہے۔‘‘
(ضمیمہ براہین پنجم ص:۱۸۱، روحانی خزائن ج:۲۱ ص:۳۵۱، ۳۵۲)
’’یہ ضرور یاد رکھو کہ اس اُمت کے لئے وعدہ ہے کہ وہ ہر
348
ایک ایسے انعام پائے گی جو پہلے نبی اور صدیق پاچکے ہیں، پس منجملہ ان انعامات کے وہ نبوّتیں اور پیش گوئیاں
ہیں جن کی رو سے انبیاء علیہم السلام نبی کہلاتے رہے۔‘‘
(ایک غلطی کا ازالہ حاشیہ ص:۵، روحانی خزائن ج:۱۸ ص:۲۰۹)
’’ہر ایک شخص اپنی گفتگو میں ایک اصطلاح اختیار کرسکتا ہے، لکل ان یصطلح ، سو خدا کی یہ
اصطلاح ہے، جو کثرت مکالمات و مخاطبات کا نام اس نے ’’نبوّت‘‘ رکھا ہے یعنی ایسے مکالمات جن میں اکثر غیب کی خبریں
دی گئی ہیں۔‘‘
(چشمہ معرفت ص:۳۲۵، روحانی خزائن ج:۲۳ص:۳۴۱)
ان حوالوں سے پتہ چلتا ہے کہ مرزا کے نزدیک نبوّت پیش گوئیوں کا نام ہے اور جس شخص کو پیش گوئیوں کے الہام کثرت سے
ہوتے ہوں وہ ’’نبی‘‘ ہے، اسی بنا پر پہلے نبی، نبی کہلاتے تھے، یہی قادیانی خدا کی اصطلاح ہے، اور اسی کے مطابق مرزا
آنجہانی کو نبوّت کا ادعا ہے۔ قادیانیت کا یہ تصور نبوّت یکسر لچر اور نبوّت کے اعلیٰ و ارفع منصب کی تذلیل
ہے۔کیونکہ اول تو نبوّت کو پیش گوئیاں ٹھہرانا ہی غلط ہے۔ پیش گوئیاں نہ تو نبوّت کی حقیقت میں داخل ہیں، نہ نبوّت
کو طرداً و عکساً لازم ہیں (کہ کوئی شخص الہام کے دعویٰ کے ساتھ پیش گوئیاں کیا کرے تو نبی کہلائے، اور نہ کرے تو
نبی نہ ہو) کون نہیں جانتا کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام کو کوہ طور پر اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو غار حرا میں
جب پہلی وحی ہوئی تو وہ منصب نبوّت پر فائز تھے حالانکہ انہوں نے نہ پیش گوئیاں کی تھیں، نہ پیش گوئیوں کا انہیں
کوئی الہام ہوا تھا۔ قادیانی تخیل نبوّت کے مطابق وہ معاذ اللہ نبی نہیں ہوں گے۔
دوم:۔۔۔قرآن مجید میں حضرات انبیائے کرامؑ کے اوصاف و اخلاق، ان کے فضائل و کمالات ان کے منصب و مرتبہ اور ان کی
تعلیمات و ہدایات کی مفصل تشریح فرمائی گئی ہے مگر کسی جگہ ادنیٰ اشارہ تک نہیں کیا گیا کہ نبوّت پیش گوئیوں کا نام
ہے، نہ کسی نبی نے کبھی دعویٰ کیا کہ چونکہ میں الہام کے ذریعہ بکثرت پیش گوئیاں کرتا ہوں اس لئے مجھے نبی مان لو۔
349
سوم:۔۔۔حدیث و تفسیر اور اصول و کلام کے ضخیم ترین اسلامی ذخیرہ میں بھی اس قادیانی تخیل کا پتہ نشان نہیں ملتا کہ
وہ نبی ہے جو الہامی پیش گوئیوں کی باڑھ لگادے۔
چہارم:۔۔۔اُمتِ مرحومہ میں دور صحابہ سے لے کر آج تک ہزاروں افراد موجود رہے ہیں جو الہام خداوندی اور مکالمہ و
مخاطبہ الٰہیہ سے سرفراز تھے، ان میں سے بعض حضرات نے بذریعہ الہام بہت سی پیش گوئیاں بھی کیں جو حرف بحرف صحیح
نکلیں، مگر مرزا آنجہانی کی طرح نہ کسی کے سر میں دعویٰ نبوّت کا سودا سمایا نہ اُمت کے کسی ذی ہوش نے ان الہامی
پیش گوئیوں کی بنا پر انہیں ’’نبی‘‘ مانا۔
پنجم:۔۔۔قادیانیت کہتی ہے کہ نبی وہ ہے جو بذریعہ الہام کثرت سے پیش گوئیاں کرے، مگر وہ یہ بتانے سے قاصر ہے کہ اس
’’کثرت‘‘ سے کیا مراد ہے؟ اور اس کی حد کہاں سے شروع ہوتی ہے؟ ایک شخص کم از کم کتنی الہامی پیش گوئیاں کرکے نبی بن
جاتا ہے؟ اس کے لئے قادیانیت کوئی پیمانہ تجویز نہیں کرتی، ایسی صورت میں کثرت الہام کے ہر مدعی کے لئے نبوّت کا
دروازہ کھل جاتا ہے۔
ششم:۔۔۔قادیانی تخیل نبوّت کی رو سے ہر کاہن اور نجومی الہام کے دعوے سے نبی بن سکتا ہے، کیونکہ پیش گوئیاں یہ لوگ
بھی کرتے رہتے ہیں، انہیں شیطان ’’الہام‘‘ بھی کرتا ہے، چنانچہ قرآن کریم میں ہے: ’’وان
الشیاطین لیوحون الی اولیائھم۔‘‘ اور جیسا کہ احادیث نبویہ میں ہے، ان ’’الہامات‘‘ میں انہیں آئندہ کی
خبریں بھی القا کی جاتی ہیں۔ یہ ہے قادیانیت کا نبی کے بارے میں نجومی کا تخیل ـــ جس کی علامہ اقبال مرحوم شکایت
فرما رہے ہیں۔
اسلامی نقطۂ نظر کے مطابق رسالت و نبوّت صرف پیش گوئیاں کرنے کا نام نہیں، جیسا کہ مرزا صاحب نے سمجھا ہے، بلکہ یہ
اس رفیع الشان منصب کا نام ہے، جسے ہمارے علم عقائد میں’’سفارۃ بین اللہ و بین الخلق‘‘ سے
تعبیر کیا گیا ہے۔ مطلب یہ کہ اللہ تعالیٰ کی ذات غیب الغیب ہے، اس کے احکام و مرضیات کی اطلاع ہر کس و ناکس کو نہیں
ہوسکتی۔ خدا تعالیٰ کے احکامات و مرضیات بندوں تک پہنچانے کے لئے جن برگزیدہ
350
شخصیتوں کو چن لیا جاتا ہے، انہیں نبی اور رسول کہتے ہیں۔ اور اس پیغام رسانی کے منصب پر فائز کرنے کا نام
نبوّت و رسالت ہے۔نبی صرف پیش گوئیاں کرنے کے لئے نہیں بنائے جاتے بلکہ بندوں کو دنیا و آخرت کے تمام مصالح (جو ان
کی عقل سے بالاتر ہیں) بتانے کے لئے ان کو مبعوث کیا جاتا ہے۔ ان مصالح میں احکام شرعیہ، مرضیات الٰہیہ اور مبدا و
معاد کی وہ تمام چیزیں داخل ہیں جن کا تعلق بندوں کی صلاح و فلاح سے ہے اور یہی وہ امور غیبیہ ہیں جن کو آیت: ’’و ما کان اللہ لیطلعکم علی الغیب‘‘ اور’’فلا یظھر علی غیبہ
احدًا‘‘ میں ارشاد فرمایا ہے۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ذریعہ چونکہ دین کی تکمیل ہوچکی، مرضیات الٰہی
کا مکمل دستور انسانیت کو عطا کردیا گیا، اور دنیا و آخرت کے تمام مصالح بیان فرما دیئے گئے، اس لئے منصب نبوّت کے
بند ہوجانے کا اعلان عام کردیا گیا:
’’ان الرسالۃ و النبوۃ قد انقطعت، فلا رسول بعدی ولَا نبی بعدی۔‘‘
(ترمذی ج:۲ ص:۶۲ابواب الرؤیا)
ترجمہ:۔۔۔’’رسالت و نبوّت قطعاً بند ہوچکی، پس میرے بعد نہ کوئی رسول ہوگا نہ نبی۔‘‘
مرزا غلام احمد صاحب چونکہ منصب نبوّت سے ناآشنا تھے، ادھر بائبل میں کہیں دیکھ لیا کہ نبوّت کا لفظ پیش گوئی کے
معنی میں استعمال کیا گیا ہے(بائبل میں کئی جگہ یہ اصطلاح استعمال ہوئی ہے اور مرزا صاحب کو ازالہ ص:۶۲۹ میں اسی
اصطلاح سے غلطی لگی ہے) اس سے انہوں نے سمجھا کہ بس نبوّت وہ پیش گوئیاں ہیں جن کی رو سے انبیاء علیہم السلام نبی
کہلاتے ہیں۔ (ایک غلطی کا ازالہ) ’’چوں ندیدند حقیقت رہ افسانہ زدند۔‘‘ مرزا صاحب کی مقام نبوّت سے اسی بے خبری کا
نتیجہ تھا کہ مرزا صاحب ایک زمانہ تک تو مدعی نبوّت پر لعنتیں بھیجتے رہے، بعد میں خود نبوّت کے مدعی بن بیٹھے اس
تبدیلی کی وجہ بیان کرتے ہوئے مرزا بشیر الدین صاحب لکھتے ہیں:
’’حضرت مسیح موعود (مرزا صاحب) دو مختلف اوقات میں نبی کی دو مختلف تعریفیں کرتے رہے ہیں، ۱۹۰۱ء سے پہلے آپ
351
نبی کی اور تعریف کرتے تھے، اور بعد میں آپ نے جب اللہ تعالیٰ کی متواتر وحی پر غور فرمایا، اور قرآن کریم
کو دیکھا تو اس سے نبی کی تعریف اور معلوم ہوئی۔‘‘
(حقیقۃ النبوۃ ص:۱۲۲)
’’اس سے معلوم ہوا کہ نبوّت کا مسئلہ آپ پر ۱۹۰۰ء یا ۱۹۰۱ء میں کھلا۔‘‘
(حقیقۃ النبوۃ ص:۱۲۱)
یعنی ۱۹۰۱ء تک نہ تو مرزا صاحب کو اپنی ’’متواتر وحی‘‘ پر غور کرنے کا موقع میسر آیا تھا، نہ انہیں کبھی قرآن
کریم کو کھول کر دیکھنے کا اتفاق ہوا تھا، نہ ان پر مقام نبوّت کھلا تھا، یہ ساری سعادتیں مرزا صاحب کو، بقول میاں
صاحب، ۱۹۰۱ء کے بعد میسر آئیں، کیسے آئیں؟ اس کی سرگزشت میاں صاحب یوں بیان فرماتے ہیں:
’’اس عقیدہ کے بدلنے کا پہلا ثبوت ’’اشتہار ایک غلطی کا ازالہ‘‘ سے معلوم ہوتا ہے جو پہلا تحریری ثبوت ہے، ورنہ
مولوی عبدالکریم صاحب کے خطبات جمعہ سے معلوم ہوتا ہے کہ ۱۹۰۰ء سے اس خیال کا اظہار شروع ہوگیا تھا، گو پورے زور اور
پوری صفائی سے نہ تھا، چنانچہ اسی سال میں مولوی صاحب نے اپنے ایک خطبہ میں حضرت مسیح موعود (مرزا صاحب) کو مرسل
الٰہی ثابت کیا، اور ’’لَا نفرق بین احد منھم‘‘ والی آیت کو آپ پر چسپاں کیا اور حضرت
مسیح موعود نے اس خطبہ کو پسند بھی فرمایا، اور یہ خطبہ اسی سال کے الحکم میں چھپ چکا ہے لیکن معلوم ہوتا ہے کہ پورا
فیصلہ اس عقیدہ کا ۱۹۰۱ء میں ہی ہوا ہے۔‘‘
(حقیقۃ النبوۃ ص:۱۲۴)
’’اس سے ثابت ہوتا ہے کہ ۱۹۰۱ء میں آپ نے اپنے عقیدے میں تبدیلی کی ہے (القول الفصل، میں میاں صاحب نے ایک سال کی
اور توسیع فرمادی ہے، اور تبدیلی عقیدہ کا سال ۱۹۰۱ء یا ۱۹۰۲ء تجویز فرمایا ہے۔ ناقل) اور ۱۹۰۰ء ایک درمیانی عرصہ ہے
352
جو دونوں خیالات کے درمیان برزخ کے طور پر حد فاصل ہے۔‘‘
(حقیقۃ النبوۃ ص:۱۲۱)
میاں صاحب کی ساری تقریر کا حاصل یہ ہے کہ مرزا صاحب ۱۹۰۱ء یا ۱۹۰۲ء تک نبوّت کی حقیقت اور ’’نبی‘‘ کی تعریف سے
ناواقف تھے، اس لئے اپنے نبی ہونے سے انکار فرماتے تھے، مولوی عبدالکریم کے خطبات کے دوران نبوّت کے خیالات کا اظہار
شروع ہوا، ایک دو سال برزخی کیفیت رہی، کہ نہ کھل کر نبوّت کا اقرار، نہ صاف انکار، بالآخر ۱۹۰۱ء یا ۱۹۰۲ء میں مرزا
صاحب پر مسئلہ نبوّت منکشف ہوا، یوں ان کی نبوّت کا فیصلہ ہوا، اور وہ پورے زور اور صفائی سے نبی کہلانے لگے۔ میاں
صاحب کی اس تقریر سے مرزا صاحب کی علمی برتری کا جو نقش قاری کے ذہن پر مرتسم ہوتا ہے، اسے مرزائی لاہوری جماعت کے
آرگن ’’پیغام صلح‘‘ کی زبانی سننا بہتر ہوگا:
’’جناب میاں صاحب کے اس اعلان کے مطابق حضرت مسیح موعود (مرزا صاحب) کی یہ کم علمی اور نادانی ایسی نادانی کے ذیل
میں آتی ہے جسے ــــ توبہ توبہ، نقلِ کفر، کفر نباشد ـــــ نعوذباللہ، جہلِ مرکب کہتے ہیں کہ باوجود اس بات کے کہ
آپ نبی کی تعریف تو نہ جانتے تھے، مگر حالت یہ تھی کہ جہاں کسی نے آپ کی طرف دعویٔ نبوّت منسوب کیا اور آپ لگے
مدعی نبوّت پر لعنتیں کرنے، جو شخص ایک بات کو نہیں جانتا (جیسا کہ بقول میاں صاحب، مرزا صاحب نبوّت کو نہیں جانتے
تھے۔۔۔ناقل) اور پھر اس کے علم پر اس قدر اصرار کرے کہ لعنتوں اور مباہلوں پر اتر آئے، اس سے بڑھ کر دنیا میں ’’جہل
مرکب کا وارث‘‘ کون ہوسکتا ہے؟ خود نبی ہیں اور خیر سے پتہ نہیں کہ میں نبی ہوں، اور باوجود اس لاعلمی اور ’’جہل
مرکب‘‘ کے آپ (مرزا صاحب) مدعی نبوّت پر یا دوسرے لفظوں میں خود اپنے آپ پر لعنتیں بھیجنے میں ذرا تامل نہیں کرتے
353
ــــ یہ بھونڈی اور قابل شرم تصویر جو جناب میاں صاحب نے حضرت مسیح موعود (مرزا صاحب) کی کھینچی ہے کیا اس
قابل ہے کہ کسی عقل مند کے سامنے پیش کی جاسکے؟‘‘
(پیغام صلح ۲۷؍اپریل ۱۹۳۴ء ص:۶ کالم:۱)
بہرحال مرزا بشیر الدین صاحب کے نزدیک مرزا صاحب ۱۹۰۱ء یا ۱۹۰۲ء تک نبوّت کی حقیقت سے ناآشنا اور نبی کی صحیح
تعریف سے ناواقف تھے، ہم دیکھتے ہیں کہ بعد کے چھ سات سالوں میں بھی ان کے علم میں کوئی اضافہ نہیں ہوا، اس لئے اگر
وہ بائیبل کی تقلید میں نبوّت کے معنی ’’الہامی پیش گوئیاں کرنا‘‘ بتاتے ہیں تو وہ اپنی ناواقفی (یا ’’پیغام صلح‘‘
کے الفاظ میں ’’جہل مرکب‘‘) کے ہاتھوں مجبور ہیں، اور یہ ارشاد نبویؐ (جو آپؐ نے ابن صیاد کے بارے میں فرمایا تھا)
ان پر پوری طرح صادق آتا ہے:’’اخساء فلن تعدو قدرک‘‘ ۔
مرزا آنجہانی نبی تھے یا نجومی:
مرزا صاحب نے ’’نبی‘‘ اور ’’نجومی‘‘ کے درمیان جو فرق و امتیاز بیان کیا ہے اس کا خلاصہ صاحبزادہ مرزا طاہر احمد
صاحب حسب ذیل نقل کرتے ہیں:
’’اگرچہ نجومی بھی اٹکل پچو سے پیش گوئیاں کرتے ہیں اور بعض پیش گوئیاں ان کی سچی بھی نکل آتی ہیں، لیکن انہیں
انبیاء کے برعکس کبھی غیب پر غلبہ عطا نہیں کیا جاتا، اور ان کی اکثر پیش گوئیاں جھوٹی اور خیالی نکلتی ہیں، نیز ان
میں تائید الٰہی اور نصرت باری تعالیٰ کی کوئی علامتیں نہیں پائی جاتیں۔ جبکہ انبیاء علیہم السلام کی پیش گوئیوں میں
ان کے غلبہ کے اٹل وعدے اور اللہ تعالیٰ کی نصرت اور تائید کے روشن نشانات ملتے ہیں۔ مزید برآں نجومی غیب کی خبریں
خدا کی طرف منسوب نہیں کرتے، جبکہ انبیاء علیہم السلام غیب کی خبریں اپنی
354
طرف نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے سناتے ہیں اور تائید الٰہی کے بکثرت نشان اپنے ساتھ رکھتے ہیں۔‘‘
(ربوہ سے تل ابیب تک پر مختصر تبصرہ ص:۲۱)
اس سے قطع نظر کہ مرزا صاحب کی اس عبارت میں کتنی غلط فہمیاں ہیں، جناب صاحبزادہ مرزا طاہر احمد اور ان کی جماعت کی
توجہ صرف ایک نکتہ کی جانب مبذول کرانا چاہتا ہوں، وہ یہ کہ مرزا صاحب خود اپنے مقرر کردہ معیار پر ’’نبی‘‘ ثابت
ہوتے ہیں یا ’’نجومی‘‘؟ مرزا طاہر احمد صاحب اپنے جد بزرگوار کی ایسی تحدّی آمیز پیش گوئیاں پیش کریں جو اپنے معنی
و مفہوم کے لحاظ سے بالکل واضح اور قطعی ہوں، اور جن کو مرزا صاحب نے اپنے صدق و کذب کا معیار ٹھہرایا ہو، اور پھر
وہ بغیر کسی تاویل و حیلہ کے پوری ہوگئی ہوں۔ میں بحول اللہ و قوتہ ایک ایک کے مقابلہ میں ان کی ایسی دو دو پیش
گوئیاں پیش کرتا جاؤں گا جو کبھی شرمندہ وقوع نہیں ہوئیں، نہ قیامت تک ہوں گی، اس کے بعد میں جناب مرزا طاہر احمد
صاحب ہی کو منصف ٹھہراؤں گا کہ آیا مرزا صاحب کی حیثیت ایک نبی کی ثابت ہوتی ہے یا ایک نجومی، کاہن، اڑڑ پوپو کی؟
کیا صاحبزادہ اور ان کے رفقائے جماعت کے لئے اس میں عبرت و موعظت اور کوئی سبق ہے؟:
بندہ پرور منصفی کرنا خدا کو دیکھ کر!
تسلسل روح مسیح کا عقیدہ:
مرزا غلام احمد قادیانی ’’آئینہ کمالات اسلام‘‘ میں لکھتے ہیں:
’’حضرت مسیح علیہ السلام کو دو مرتبہ یہ موقع پیش آیا کہ ان کی روحانیت نے قائم مقام طلب کیا، اول جبکہ ان کے فوت
ہونے پر چھ سو برس گزر گیا۔۔۔... تب بہ اعلام الٰہی مسیح کی روحانیت جوش میں آئی۔۔۔... اور خدا تعالیٰ سے اپنا قائم
مقام چاہا، تب ہمارے نبیؐ مبعوث ہوئے۔ دوسری مرتبہ مسیح کی روحانیت اس وقت جوش میں
355
آئی۔۔۔... اور انہوں نے دوبارہ مثالی طور پر دنیا میں اپنا نزول چاہا۔۔۔۔۔۔تو خدا تعالیٰ نے اس خواہش کے
موافق۔۔۔... ایسا شخص بھیج دیا جو ان کی روحانیت کا نمونہ تھا، وہ نمونہ مسیح علیہ السلام کا روپ بن کر مسیح موعود
کہلایا، کیونکہ حقیقت عیسویہ کا اس میں حلول تھا۔۔۔... اس لئے وہ عیسیٰ کے نام سے موسوم کیا گیا کیونکہ حضرت عیسیٰ
کی روحانیت نے قادر مطلق عز اسمہ سے بوجہ اپنے جوش کے اپنی ایک شبیہ چاہی، اور چاہا کہ حقیقت عیسویہ اس شبیہ میں
رکھی جائے تا اس شبیہ کا نزول ہو۔۔۔... اور یہ بھی کھلا کہ یوں مقدر ہے کہ ایک زمانہ گزرنے کے بعد۔۔۔... پھر مسیح کی
روحانیت سخت جوش میں آکر جلالی طور پر اپنا نزول چاہے گی، تب ایک قہری شبیہ میں اس کا نزول ہوکر اس زمانہ کا خاتمہ
ہوجائے گا۔ تب آخر ہوگا، اور دنیا کی صف لپیٹ دی جائے گی، اس سے معلوم ہوا کہ ۔۔۔۔۔۔مسیح کی روحانیت کے لئے یہی
مقدر تھا کہ تین مرتبہ دنیا میں نازل ہو۔‘‘
مرزا آنجہانی کے اس اقتباس سے واضح ہے کہ وہ مسیح کی روحانیت کے تین بار دنیا میں نازل ہونے اور تین مختلف قالبوں
میں حلول کرنے کا عقیدہ رکھتے ہیں، اسی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے علامہ اقبال مرحوم نے کہا تھا کہ قادیانیت، یہود کی
تقلید میں روح مسیح کے تسلسل کا عقیدہ رکھتی ہے، صاحبزادہ طاہر احمد صاحب اس کو سراسر لغو، مہمل اور بے بنیاد عقیدہ
قرار دیتے ہوئے لکھتے ہیں:
’’روح مسیح کے تسلسل کا عقیدہ محض ایک فرضی قصہ ہے، جو معترض کا ایجاد کردہ ہے، ورنہ نہ تو یہود اس کے قائل ہیں، نہ
مسلمان، نہ عہد نامہ قدیم میں اس کا کوئی ذکر ملتا ہے، نہ قرآن و حدیث میں۔‘‘
(ربوہ سے تل ابیب تک پر مختصر تبصرہ ص:۲۶)
ہمیں صاحبزادہ صاحب کی اس تحقیق سے اتفاق ہے البتہ ہم معترض کی جگہ ’’مرزا
356
آنجہانی‘‘ کا لفظ تجویز کرتے ہیں۔ کیونکہ وہی اس فرضی عقیدہ کا بہ تقلید یہود موجد ہے۔
قادیانی نظریات اور قرآن و حدیث:
روح مسیح کے تسلسل کی بحث میں صاحبزادہ صاحب نے چند نئے نکتے بھی اٹھائے ہیں، بے انصافی ہوگی اگر ان کے ان جدید
نکات کا تجزیہ نہ کیا جائے، سب سے پہلا نکتہ موصوف کا یہ اِدّعا ہے کہ:
’’احمدیت کے نظریات چونکہ اسرار قرآن و حدیث پر مبنی ہیں، لہٰذا احمدیت کے لئے ایسے غیراسلامی عقیدہ پر ایمان
رکھنے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔‘‘
(ربوہ سے تل ابیب تک پر مختصر تبصرہ ص:۲۶)
صاحبزادہ صاحب کے اس خلاف واقعہ اِدّعا کی مثال ایسی ہے جیسا کہ عیسائی صاحبان تین خدا ماننے کے باوجود یہ دعویٰ
کیا کرتے ہیں کہ ہم توحید کا عقیدہ رکھتے ہیں۔ ورنہ واقعہ یہ ہے کہ قادیانیوں کو نہ قرآن کریم پر ایمان ہے، نہ حدیث
نبوی پر، نہ اجماع اُمت پر۔ قرآن کریم پر ان کو اس لئے ایمان نہیں کہ ان کے عقیدہ کے مطابق محمد رسول اللہ صلی اللہ
علیہ وسلم پر جو قرآن نازل ہوا تھا وہ ۱۸۵۷ء (مطابق ۱۲۷۴ھ) میں دنیا سے اٹھ گیا تھا۔
(دیکھئے ازالہ اوہام ص:۷۲۵حاشیہ، روحانی خزائن حاشیہ ج:۳ ص:۴۹۰)
مرزا طاہر احمد صاحب کے چچا جناب صاحبزادہ مرزا بشیر الدین احمد ایم اے نے قرآن کی گمشدگی کا نوحہ یوں کیا ہے:
’’ہم کو یہ کہا جاتا ہے کہ قرآن کے ہوتے ہوئے کسی شخص کو ماننا ضروری کیسے ہوگیا ہم کہتے ہیں کہ قرآن کہاں موجود
ہے اگر قرآن موجود ہوتا تو کسی کے آنے کی کیا ضرورت تھی، مشکل تو یہی ہے کہ قرآن دنیا سے اٹھ گیا ہے۔ اسی لئے تو
ضرورت پیش آئی کہ محمد رسول اللہ کو بروزی طور پر دوبارہ دنیا میں مبعوث کرکے آپ پر قرآن شریف اتارا جاوے۔‘‘
(کلمۃ الفصل ص:۱۷۳، مندرجہ رسالہ ریویو مارچ، اپریل ۱۹۱۵ء)
357
قادیانی صاحبان کو قرآن کریم پر ایمان کیونکر ہوسکتا ہے جبکہ ان کے پیشوا مرزا آنجہانی، قرآن کریم کی غلطیاں
نکالنے کے لئے تشریف لائے تھے، جو بقول گلاب شاہ مجذوب کے تفسیروں کی وجہ سے پیدا ہوگئی ہیں۔
(دیکھئے ازالہ اوہام ص:۷۰۸)
قرآن کریم کی طرح حدیث نبوی پر بھی قادیانی صاحبان کو ایمان نہیں، مرزا آنجہانی نے لکھا ہے:
ا:۔۔۔’’خدا نے مجھے اطلاع دے دی ہے کہ یہ تمام حدیثیں جو پیش کرتے ہیں تحریف معنوی یا لفظی میں آلودہ ہیں، اور یا
سرے سے موضوع ہیں اور جو شخص حکم ہوکر آیا ہے (یعنی خود مابدولت مرزا آنجہانی۔ ناقل) اس کا اختیار ہے کہ حدیثوں کے
ذخیرہ میں سے جس انبار کو چاہے خدا سے علم پاکر قبول کرے، اور جس ڈھیر کو چاہے خدا سے علم پاکر رد کردے۔‘‘
(اربعین ۳ ص:۵۹، روحانی خزائن ج:۱۷ ص:۴۰۱)
۲:۔۔۔’’اور ہم ... خدا تعالیٰ کی قسم کھاکر بیان کرتے ہیں کہ میرے اس دعویٰ کی حدیث بنیاد نہیں، بلکہ قرآن اور وہ
وحی ہے جو میرے پر نازل ہوئی ہے، ہاں تائیدی طور پر ہم وہ حدیثیں بھی پیش کرتے ہیں جو قرآن شریف کے مطابق ہیں اور
میری وحی کے معارض نہیں، اور دوسری حدیثوں کو ہم ردی کی طرح پھینک دیتے ہیں۔‘‘
(اعجاز احمدی ص:۳۰، روحانی خزائن ج:۱۹ ص:۱۴۰)
۳:۔۔۔’’جبکہ مجھے اپنی وحی پر ایسا ہی ایمان ہے جیسا کہ توریت اور انجیل اور قرآن کریم پر، تو کیا انہیں مجھ سے یہ
توقع ہوسکتی ہے کہ میں ان کے ظنیات بلکہ موضوعات کے ذخیرہ کو سن کر اپنے یقین کو چھوڑ دوں، جس کی حق الیقین پر بنا
ہے۔‘‘
(اربعین ۴ ص:۱۱۲، روحانی خزائن ج:۱۷ ص:۴۵۴)
358
ان حوالوں سے واضح ہے کہ قادیانی نظریات کی اصل بنیاد مرزا آنجہانی کی وحی ہے، جو بقول ان کے ’’حق الیقین‘‘ ہے، اس
کے مقابلہ میں احادیث متواترہ اور دین اسلام کے اجماعی عقائد کی ان کے نزدیک کوئی قیمت نہیں، نہ ان پر کسی قادیانی
کا ایمان ہوسکتا ہے۔ ہاں! مرزا طاہر احمد صاحب اس قرآن پر اپنے نظریات کو مبنی قرار دیتے ہیں جو قادیان کے قریب
نازل ہوا اور اس حدیث پر جو بذریعہ ٹیچی وغیرہ مرزا آنجہانی پر ’’وحی‘‘ کی جاتی تھی تو بجا اور درست ہے۔ کیونکہ
مرزا قادیانی کو دعویٰ ہے کہ اس پر قرآن دوبارہ نازل ہوا ہے، اسی لئے قادیانی صاحبان یہ گیت گایا کرتے ہیں:
’’پہلی بعثت میں محمد ہے تو اب احمد ہے
تجھ پہ پھر اترا ہے قرآن رسول قدنی‘‘
(الفضل ٹائٹل ۱۶؍اکتوبر ۱۹۲۲ء)
یہی قادیانی قرآن ہے جس کے بارے میں قادیانی خدا کہتا ہے: ’’انا انزلناہ قریبًا من
القادیان‘‘۔
(حقیقۃ الوحی ص:۸۸، روحانی خزائن ج:۲۲ ص:۹۱)
اور یہی قادیانی قرآن ہے جس میں مرزا غلام قادر کی قرأت کے مطابق قادیان کا نام لکھا ہوا مرزا آنجہانی نے بچشم
خود ملاحظہ فرمایا۔
(ازالہ ص:۷۷ حاشیہ، روحانی خزائن ج:۳ ص:۱۴۰ حاشیہ)
اسی قادیانی قرآن میں یہ دو آیتیں درج ہیں، جو مسلمانوں کے قرآن میں نہیں:
’’خسف القمر والشمس فی رمضان فبأی الَآء ربکما تکذبان۔‘‘
(تذکرہ ص:۴۴۱ طبع چہارم)
اسی قادیانی قرآن کی شان میں مرزا آنجہانی قصیدہ خوانی کرتے ہیں:
-
’’آنچہ من بشنوم زوحی خدا
بخدا پاک دانمش زخطا
-
ہمچو قرآں منزہ اش دانم
از خطاہا ہمیں است ایمانم
359
-
بخدا ہست ایں کلام مجید
ازدہان خدائے پاک و وحید
-
آن یقینے کہ بود عیسیٰ را
برکلامے کہ شد برو القا
-
واں یقین کلیم بر تورات
واں یقیں ہائے سیّد السادات
-
کم نیم زاں ہمہ بروے یقیں
ہر کہ گوید دروغ ہست لعین‘‘
(نزول المسیح ص:۱۰۱، روحانی خزائن ج:۱۸ ص:۴۷۷،۴۷۸)
ترجمہ:۔۔۔’’میں خدا کی جو وحی سنتا ہوں خدا کی قسم اسے خطا سے پاک جانتا ہوں۔ قرآن کی طرح خطاؤں سے
منزہ سمجھتا ہوں یہی میرا ایمان ہے۔ بخدا یہ کلام مجید ہے جو خدائے پاک یکتا کے منہ سے نکلا ہے۔ جو یقین عیسیٰ ؑکو
اپنی وحی پر، موسیٰ کو توریت پر اور حضورؐ کو قرآن پر تھا، میں از روئے یقین ان سب سے کم نہیں ہوں، جو جھوٹ کہے وہ
لعنتی ہے۔‘‘ (دریں چہ شک؟ ۔۔۔ناقل)
اسی قادیانی قرآن کے بارے میں مرزا آنجہانی نے کہا ہے کہ:
’’قرآن شریف خدا کی کتاب اور میرے منہ کی باتیں ہیں۔‘‘
(تذکرہ ص:۹۹ طبع چہارم)
اور اسی بنا پر مرزا آنجہانی کو خوش فہمی ہے کہ:
’’میں تو بس قرآن ہی کی طرح ہوں، اور عنقریب میرے ہاتھ پر ظاہر ہوگا، جو کچھ فرقان سے ظاہر ہوا۔‘‘
(تذکرہ ص:۶۷۴ طبع چہارم)
ظاہر ہے کہ اس قادیانی وحی کے بعد مرزا طاہر احمد کو مسلمانوں کے قرآن و حدیث
360
کی ضرورت نہیں رہ جاتی کیونکہ اس کے مقابلے میں ان کے اپنے گھر کا قرآن موجود ہے، لیکن اگر صاحبزادہ صاحب
بضد ہوں کہ ان کے نظریات مسلمانوں کے قرآن و حدیث پر مبنی ہیں، تو میں ان سے یہ دریافت کرنے کی اجازت چاہتا ہوں کہ:
الف:... پھر ان کے نظریات مسلمانوں سے علیحدہ کیوں ہیں؟
ب:... قرآن و حدیث کے ہوتے ہوئے انہیں قادیان میں نیا نبی گھڑنے کی کیوں ضرورت ہوئی؟
ج:... مرزا آنجہانی کی قرآن کی مثل وحی پر ایمان لانے کا حکم کس قرآن و حدیث میں لکھا ہے؟
د:... یہ کس قرآن و حدیث کا حکم ہے کہ محمد عربیؐ کی پیروی نجات کے لئے کافی نہیں بلکہ تیرہویں صدی کے بعد مرزا
آنجہانی کی پیروی مدار نجات ہے؟
ہ:... یہ کس قرآن و حدیث میں لکھا ہے کہ ’’ہر شخص ترقی کرسکتا ہے اور بڑے سے بڑا مرتبہ پاسکتا ہے، حتیٰ کہ محمد
رسول اللہ سے بھی بڑھ سکتا ہے۔‘‘
و:... یہ کس قرآن و حدیث میں لکھا ہے کہ تیرہویں صدی کے بعد مرزا غلام احمد قادیانی کو محمد رسول اللہ تصور کیا
جائے اور آنحضرتؐ کی مکی بعثت کو تیرہویں صدی تک محدود سمجھا جائے؟
ز:... یہ کس قرآن و حدیث میں لکھا ہے کہ مرزا کے منکر کافر اور جہنمی ہیں؟
ح:... یہ کس قرآن و حدیث میں لکھا ہے کہ مسیح مرزا غلام احمد کے بروزی روپ میں آئے گا؟
ط:... یہ کس قرآن و حدیث میں ہے کہ مسیح کی روحانیت تین بار دنیا میں نازل ہوگی؟
ی:... یہ کس قرآن و حدیث میں لکھا ہے کہ مرزا غلام احمد اور اس کی ذریت کو دائرہ اسلام سے خارج قرار دیا جائے گا؟
361
حضرت عیسیٰ ؑ کا مشن:
صاحبزادہ طاہر احمد صاحب لکھتے ہیں:
’’احمدیت کا عقیدہ یہود کے عقیدہ کے بالکل برعکس یہ ہے کہ جس مسیح کے ظہور کی خبر بائیبل میں دی گئی تھی وہ مسیح تو
ظاہر ہوکر اور اپنا مشن پورا کرکے فوت بھی ہوچکے ہیں۔‘‘
(ربوہ سے تل ابیب تک پر مختصر تبصرہ ص:۲۷)
صاحبزادہ صاحب نے غالباً قسم کھا رکھی ہے کہ وہ جو کچھ لکھیں گے اپنے مرشد کی تحقیق کے قطعاً خلاف لکھیں گے،
صاحبزادہ صاحب لکھتے ہیں کہ حضرت مسیح اپنے مشن میں کامیاب ہوئے اس کے برعکس مرزا آنجہانی نے لکھا ہے کہ:
ا:۔۔۔’’حضرت مسیح تو انجیل کو ناقص کی ناقص ہی چھوڑ کر آسمانوں پر جا بیٹھے۔‘‘
۲:۔۔۔’’گو حضرت مسیح جسمانی بیماروں کو اس عمل (مسمریزم) کے ذریعہ سے اچھا کرتے رہے، مگر ہدایت اور توحید اور دینی
استقامتوں کے کامل طور پر دلوں میں قائم کرنے کے بارے میں ان کی کاروائیوں کا نمبر ایسا کم درجہ کا رہا کہ قریب قریب
ناکام کے رہے۔‘‘
(ازالہ اوہام ص:۳۱۰،۳۱۱ حاشیہ، روحانی خزائن ج:۳ ص:۲۵۸ حاشیہ)
۳:۔۔۔’’مسیح تو صرف ایک معمولی سا نبی تھا۔۔۔... وہ صرف ایک خاص قوم کے لئے آیا اور افسوس کہ اس کی ذات سے دنیا کو
کوئی بھی روحانی فائدہ پہنچ نہ سکا ایک ایسی نبوّت کا نمونہ دنیا میں چھوڑ گیا جس کا ضرر اس کے فائدہ سے زیادہ ثابت
ہوا اور اس کے آنے سے ابتلا اور فتنہ بڑھ گیا۔‘‘
(اتمام الحجۃ ص:۳۶، روحانی خزائن ج:۸ ص:۳۰۸)
362
صاحبزادہ صاحب! کیا حضرت مسیح کے مشن کی کامیابی یہی ہے جس کا نقشہ مرزا آنجہانی نے مندرجہ بالا اقتباسات میں
کھینچا ہے؟ یعنی ان کی کتاب ناقص، تعلیم ناکام، روحانی فائدہ معدوم اور ان کی نبوّت مضر اور فتنہ افزا۔ اگر قادیانیت
کا مسیح پر یہی ایمان ہے، تو کفر کسے کہتے ہیں؟
حضرت عیسیٰ ؑاور مرزا قادیانی:
صاحبزادہ صاحب مزید لکھتے ہیں:
’’احمدیت یہود کے اس الزام کو باطل قرار دیتی ہے کہ حضرت عیسیٰ ابن مریم علیہ السلام اپنے دعویٰ میں جھوٹے تھے۔‘‘
(ربوہ سے تل ابیب تک پر مختصر تبصرہ ص:۲۷)
صاحبزادہ طاہر احمد صاحب کو یہاں غلط فہمی ہوئی ہے یا انہوں نے جان بوجھ کر غلط بیانی سے کام لیا ہے، ورنہ حضرت
مسیح کے بارے میں مرزا کا وہی عقیدہ ہے جو یہود کا تھا، ذرا مرزا آنجہانی کی تصریحات ملاحظہ ہوں:
۱:۔۔۔’’ہائے کس کے آگے یہ ماتم لے جائیں کہ حضرت عیسیٰ ؑکی تین پیش گوئیاں صاف طور پر جھوٹی نکلیں، اور آج کون
زمین پر ہے جو اس عقدہ کو حل کرسکے۔‘‘
(اعجاز احمد ص:۱۴، روحانی خزائن ج:۱۹ص:۱۲۱)
۲:۔۔۔’’یہ بھی یاد رہے کہ آپ کو کسی قدر جھوٹ بولنے کی بھی عادت تھی۔‘‘
(ضمیمہ انجام آتھم ص:۵ حاشیہ، روحانی خزائن ج:۱۱ ص:۲۸۹)
۳:۔۔۔’’اور نہایت شرم کی بات یہ ہے کہ آپ نے پہاڑی تعلیم کو جو اِنجیل کا مغز کہلاتی ہے یہودیوں کی کتاب طالمود سے
چراکر لکھا ہے اور پھر ایسا ظاہر کیا ہے کہ گویا یہ میری تعلیم ہے، لیکن
363
جب سے یہ چوری پکڑی گئی عیسائی بہت شرمندہ ہیں۔‘‘
(ضمیمہ انجام آتھم ص:۶ حاشیہ، روحانی خزائن ج:۱۱ ص:۲۹۰)
مرزا آنجہانی کے بقول حضرت عیسیٰ علیہ السلام جھوٹے تھے، جھوٹی پیش گوئیاں کرتے تھے اور ان کی تعلیم طالمود سے
سرقہ تھی۔ ٹھیک یہی عقیدہ یہود کا ہے چنانچہ مرزا آنجہانی لکھتے ہیں:
’’ایسا ہی یہودی بھی کہتے ہیں کہ انجیل کی عبارتیں طالمود میں سے لفظ بہ لفظ چرائی گئی ہیں۔‘‘
(نزول المسیح ص:۵۹، روحانی خزائن ج:۱۸ ص:۴۳۷)
اب صاحبزادہ صاحب فرمائیں کہ کیا حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو جھوٹا قرار دینے میں قادیانی، یہود سے چند قدم آگے
نہیں؟
اسلامی عقیدہ درزیوں کے ہاتھ میں
مرزا طاہر احمد صاحب اسلامی عقیدہ حیات عیسیٰ ؑکا مذاق اڑاتے ہوئے لکھتے ہیں:
’’یہ خود آپ کا عقیدہ ہے کہ باقی تمام نبیوں کی روحیں تو جسم عنصری سے پرواز کرچکی ہیں صرف ایک حضرت عیسیٰ ؑکی روح
ہے جو مسلسل بلاانقطاع اسی مادی جسم سے وابستہ چلی آرہی ہے اب فرمائیے کہ اس عقیدہ کا نام روح مسیح کے تسلسل کا
عقیدہ رکھنا کیسا رہے گا؟ کیا آپ کو یہ دلچسپ اصطلاح اپنے عقیدہ پر نہایت عمدگی سے چسپاں ہوتی نظر نہیں آتی؟ اس
پہلو سے جب اس اصطلاح پر ایک بار پھر نظر ڈالی جائے تو بے اختیار یوں معلوم ہوتا ہے کہ یہ تو بنائی ہی آپ کے عقیدہ
کے لئے گئی تھی کیسی عمدگی سے ٹھیک بیٹھی ہے جیسے کسی اچھے درزی نے عین ناپ کا کپڑا سیا ہو۔‘‘
(ربوہ سے تل ابیب تک پر مختصر تبصرہ ص:۲۸)
364
صاحبزادہ صاحب قادیانی درزیوں کے تعاون سے اسلامی عقائد کے لئے جیسی الٹی سیدھی اصطلاحیں چاہیں تراشتے رہیں مگر ان
کی خدمت میں دو گزارشیں ضرور کروں گا۔ اول یہ کہ کسی شخص کے لمبی عمر پانے کو اہل عقل تسلسل روح سے نہیں بلکہ طول
حیات سے تعبیر کیا کرتے ہیں ـــــ ہاں ربوہ میں اب کوئی نئی لغت ایجاد ہوئی ہو تو دوسری بات ہے، آپ فرشتوں کے تو
شاید اپنے دادا کی طرح قائل ہی نہیں ورنہ ان کی مثال پیش کرتا کہ وہ آدم علیہ السلام کی تخلیق سے بھی پہلے سے اب تک
زندہ ہیں اور قیامت تک زندہ رہیں گے، یہی حال شیطان کا بھی ہے، غالباً آپ یہاں بھی تسلسل روح کی اصطلاح چسپاں کرکے
قرآن کریم کا مذاق اڑائیں گے، اور دور کیوں جائیے خود آنجناب بھی تو ساٹھ ستر سال سے اسی ’’تسلسل روح‘‘ کے عارضہ
کا شکار ہیں، اگر حیات عیسیٰ ؑآپ کے نزدیک مضحکہ ہے تو خود آپ کی اپنی زندگی بھی کچھ کم مضحکہ نہیں۔
دوسری گزارش یہ ہے کہ آپ جس عقیدہ کو اپنے گھٹیا مذاق کا نشانہ بنارہے ہیں وہ صرف میرا عقیدہ نہیں بلکہ آنحضرت
صلی اللہ علیہ و سلم سے لے کر آج تک تمام اکابر اُمت کا متواتر اور اجماعی عقیدہ ہے، یقین نہ آئے تو اپنے والد
مرزا بشیرالدین صاحب کا اعتراف پڑھ لیجئے، وہ لکھتے ہیں:
’’پچھلی صدیوں میں قریباً سب دنیا کے مسلمانوں میں مسیح کے زندہ ہونے پر ایمان رکھا جاتا تھا اور بڑے بڑے بزرگ اسی
عقیدہ پر فوت ہوئے۔۔۔... حضرت مسیح موعود (مرزا آنجہانی) کے دعویٰ سے پہلے جس قدر اولیاء و صلحاء گزرے ہیں، ان میں
سے ایک بڑا گروہ عام عقیدہ کے ماتحت حضرت مسیح کو زندہ خیال کرتا تھا۔‘‘
(حقیقۃ النبوۃ ص:۱۴۲)
اللہ تعالیٰ کا لاکھ لاکھ شکر ہے کہ ہمارا عقیدہ وہی ہے جو مرزا محمود کے بقول رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے لے
کر پچھلی صدی کے تمام مسلمانوں کا تھا، اور جس پر صحابہؓ، تابعینؒ، ائمہ مجتہدینؒ اور بڑے برے اولیاء و صلحاء فوت
ہوئے اور تو اور خود مرزا آنجہانی بھی
365
جب تک مسلمان تھا اسی عقیدہ کا قائل تھا، چنانچہ براہین احمدیہ حصہ چہارم میں قرآن کریم کی آیت: ’’ھو الذی ارسل رسولہ بالھدی ودین الحق لیظہرہ علی الدین کلہ‘‘ کی تفسیر کرتے ہوئے لکھتا ہے:
’’یہ آیت جسمانی اور سیاست ملکی کے طور پر حضرت مسیح کے حق میں پیش گوئی ہے اور جس غلبہ کاملہ دین اسلام کا اس میں
وعدہ دیا گیا ہے وہ غلبہ مسیح کے ذریعہ سے ظہور میں آئے گا، اور جب حضرت مسیح علیہ السلام دوبارہ اس دنیا میں تشریف
لائیں گے تو ان کے ہاتھ سے دین اسلام جمیع آفاق اور اقطار میں پھیل جائے گا۔۔۔... حضرت مسیح پیش گوئی متذکرہ بالا
کا ظاہری اور جسمانی طور پر مصداق ہے۔‘‘
اسی کتاب میں ایک جگہ اپنا الہام درج کرکے اس کی تشریح اس طرح کرتا ہے:
’’یہ آیت اس مقام میں حضرت مسیح کے جلالی طور پر ظاہر ہونے کا اشارہ ہے یعنی۔۔۔... وہ زمانہ بھی آنے والا ہے کہ
جب۔۔۔... حضرت مسیح علیہ السلام نہایت جلالیت کے ساتھ دنیا پر اتریں گے۔‘‘
مگر جب مرزا آنجہانی نے حلقۂ اسلام سے نکل کر اپنی بروزی نبوّت کی پٹری جمائی تو خود مسیح بن بیٹھا، اور قرآن
کریم، احادیث متواترہ، اجماع اُمت اور خود اپنے الہامات کو پس پشت ڈال کر موت مسیح کا عقیدہ ایجاد کرلیا۔فَضَلَّ وَأَضَلَّ!
انتہائی گستاخانہ اعتراضات:
صاحبزادہ مرزا طاہر احمد صاحب لکھتے ہیں:
’’مسیح موعود کے نزول کی پیش گوئی تو خود سیّد ولد آدم حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمائی تھی جس کا
بکثرت احادیث صحیحہ میں ذکر ملتا ہے۔۔۔۔... اس لئے کسی مسلمان کی طرف سے اس عقیدہ کا محل اعتراض ٹھہرایا جانا ایک
انتہائی گستاخانہ امر ہے
366
اور ایسے شخص کے متعلق دو ہی امکانات ہیں یا تو وہ احادیث نبویہ کا سرے سے منکر ہے اور اہل قرآن کے فرقہ
سے تعلق رکھتا ہے جس کے مشہور سربراہ آج کل غلام احمد صاحب پرویز ہیں، یا پھر وہ حدیثوں کو تو صحیح تسلیم کرتا ہے
لیکن نعوذ باللہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پر اعتراض کی جسارت کرکے اپنی عاقبت خراب کر رہا ہے۔‘‘
(ربوہ سے تل ابیب تک پر مختصر تبصرہ ص:۲۹)
صاحبزادہ صاحب! مرزا آنجہانی کو آپ کس فرقہ میں شمار کرتے ہیں، جس نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی نزولِ مسیح
سے متعلق پیش گوئی پر انتہائی گستاخانہ اعتراضات کرکے اپنی اور اپنے مریدوں کی عاقبت خراب کی؟ آپ غلام احمد پرویز
کو منکرِ احادیث ٹھہراتے ہیں، حالانکہ اس کے ہم نام غلام احمد قادیانی نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی احادیث پر
جو سوقیانہ اعتراضات کئے اس کی مثال غلام احمد پرویز کجا کسی کٹر سے کٹر دہرئیے کے یہاں بھی مشکل سے ملے گی، مرزا
آنجہانی نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی تکذیب جس جس انداز سے کی اس کی تفصیل کے لئے ضخیم دفتر بھی ناکافی ہے،
یہاں صاحبزادہ صاحب کی عبرت کے لئے چند اشاروں پر اکتفا کروں گا۔
پہلی صورت:
تکذیب کی ایک صورت یہ ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے جس بات کا اثبات کیا ہو اس کی نفی کی جائے، مثلاً ارشادِ
نبوی ہے:
’’ان عیسیٰ لم یمت، و انہ راجع الیکم۔‘‘
(در منثور ج:۲ ص:۳۶)
ترجمہ:۔۔۔’’یقین رکھو کہ عیسیٰ علیہ السلام مرے نہیں اور وہ تمہاری طرف لوٹ کر آئیں گے۔‘‘
اب مرزا آنجہانی کی گستاخی دیکھئے کہ وہ حلفاً اس ارشاد کی نفی کرتے ہوئے لکھتا ہے:
367
’’ابن مریم مرگیا حق کی قسم۔‘‘
(ازالہ اوہام ص:۷۶۴، روحانی خزائن ج:۳ ص:۵۱۳)
دوسری صورت:
تکذیب کی ایک صورت یہ ہے کہ ارشادِ نبوی کو ۔۔۔نعوذ باللہ... تضحیک و تمسخر کا نشانہ بنایا جائے، اس کی چند مثالیں
ملاحظہ ہوں:
الف:... احادیث متواترہ میں ارشاد ہے حضرت عیسیٰ بن مریم تم میں نازل ہوں گے، اس پر مرزا آنجہانی لکھتا ہے:
’’یہ بات بالکل غیرمعقول ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد کوئی ایسا نبی آنے والا ہے کہ جب لوگ نماز کے
لئے مساجد کی طرف دوڑیں گے تو وہ کلیسا کی طرف بھاگے گا۔ اور جب لوگ قرآن شریف پڑھیں گے تو وہ انجیل کھول بیٹھے گا،
اور جب لوگ عبادت کے وقت بیت اللہ کی طرف منہ کریں گے تو وہ بیت المقدس کی طرف متوجہ ہوگا، اور شراب پئے گا، اور سور
کا گوشت کھائے گا، اور اسلام کے حلال و حرام کی کچھ پرواہ نہیں رکھے گا۔‘‘
(حقیقۃ الوحی ص:۲۹، روحانی خزائن ج:۲۲ ص:۳۱)
یہ عبارت اگر ایک طرف آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی بیان فرمودہ پیش گوئی سے خبیث ترین مذاق ہے تو دوسری طرف کذب و
افترا اور کفر و ضلال کا کھلا مظاہرہ ہے، مرزا آنجہانی نے اس عبارت میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام پر شراب پینے، سور
کھانے اور حلال و حرام کی پرواہ نہ رکھنے کی بہتان تراشی کی ہے، جو اس کی اپنی سیرت کا آئینہ ہے۔
ب:... آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام آسمان سے اتریں گے
(کتاب الأسماء و الصفات للبیہقی ص:۴۲۴) مرزا اس ارشاد مقدس کو یوں ہدف اِستہزا بناتا ہے:
368
’’صرف ضعیف اور متناقض اور رکیک روایتوں سے کام نہیں چل سکتا، سو یہ امید مت رکھ کہ سچ مچ اور در حقیقت تمام دنیا
کو حضرت مسیح ابن مریم آسمان سے فرشتوں کے ساتھ اترتے ہوئے دکھائی دیں گے، اگر اسی شرط سے اس پیش گوئی پر ایمان
لانا ہے تو پھر حقیقت معلوم، وہ اترچکے، تم ایمان لاچکے، ایسا نہ ہو کہ کسی غبارہ (بیلون) پر چڑھنے والے اور پھر
تمہارے سامنے اترنے والے کے دھوکہ میں آجاؤ سو ہوشیار رہنا، آئندہ اس اپنے جمے ہوئے خیال کی وجہ سے کسی ایسے
اترنے والے کو ابن مریم نہ سمجھ بیٹھنا۔‘‘
(ازالہ اوہام ص:۲۸۳، روحانی خزائن ج:۳ ص:۲۴۴)
حدیثِ نبوی سے ایسا سوقیانہ مذاق کوئی بدتر سے بدتر دہریہ بھی کرسکتا ہے؟
ج:... ارشادِ نبوی ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام بعد از نزول صلیب کو توڑ ڈالیں گے، اور خنزیر کو قتل کریں گے، مرزا
آنجہانی اس کا یوں مذاق اڑاتا ہے:
’’اب جائے تعجب ہے کہ صلیب کو توڑنے سے اس کا کون سا فائدہ ہے؟ اور اگر اس نے مثلاً دس، بیس لاکھ صلیب توڑ بھی دی
تو کیا عیسائی لوگ جن کو صلیب پرستی کی دھن لگی ہوئی ہے، اور صلیبیں بنوا نہیں سکتے؟ اور دوسرا فقرہ جو کہا گیا ہے
کہ خنزیروں کو قتل کرے گا، یہ بھی اگر حقیقت پر محمول ہے تو عجیب فقرہ ہے، کیا حضرت مسیح کا زمین پر اترنے کے بعد
عمدہ کام یہی ہوگا کہ وہ خنزیروں کا شکار کھیلتے پھریں گے اور بہت سے کتے ساتھ ہوں گے، اگر یہی سچ ہے تو پھر سکھوں
اور چماروں اور سانسیوں اور گنڈیلوں وغیرہ کو جو خنزیر کے شکار کو دوست رکھتے ہیں خوشخبری کی جگہ ہے کہ ان کی خوب بن
آئے گی۔۔۔... پھر میں یہ بھی کہتا ہوں کہ اول تو شکار کھیلنا ہی کاربیکاراں ہے اور اگر حضرت مسیح کو شکار ہی کی طرف
رغبت ہوگی
369
اور دن رات یہی کام پسند آئے گا تو پھر کیا یہ پاک جانور جیسے ہرن اور گورخر اور خرگوش دنیا میں کیا کچھ کم
ہیں، تا ایک ناپاک جانور کے خون سے ہاتھ آلودہ کریں۔‘‘
(ازالہ اوہام ص:۴۱،۴۲، روحانی خزائن ج:۳ ص:۱۲۳،۱۲۴)
ایک اور جگہ ان ارشاداتِ نبویہ کی تضحیک کرتے ہوئے لکھا ہے:
’’کیا ان احادیث پر اجماع ثابت ہوسکتا ہے کہ مسیح آکر جنگلوں میں خنزیروں کا شکار کھیلتا پھرے گا، اور دجال خانہ
کعبہ کا طواف کرے گا اور ابن مریم بیماروں کی طرح دو آدمیوں کے کاندھے پر ہاتھ دھرکے فرض طواف کعبہ بجا لائے گا،
کیا معلوم نہیں کہ جو لوگ ان حدیثوں کی شرح کرنے والے گزرے ہیں وہ کیسے بے ٹھکانہ اپنی اپنی تکیں ہانک رہے ہیں۔‘‘
(ازالہ اوہام ص:۴۲۷،۴۲۸، روحانی خزائن ج:۳ ص:۳۲۶)
فرمائیے! احادیثِ صحیحہ پر ’’گستاخانہ اعتراضات‘‘ کرکے اپنا نامہ عمل کون سیاہ کر رہا ہے؟ اور ’’سرے سے منکرِ
حدیث‘‘ ہونے میں اوّلیت کا شرف کس کو حاصل ہے؟ مرزا غلام احمد قادیانی کو یا غلام احمد پرویز کو؟
تیسری صورت:
تکذیب کی ایک صورت یہ ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ و سلم کے ارشاد کو محض عقلی ڈھکوسلوں سے مسترد کردیا جائے، مثلاً
قرآن کریم میں ارشاد ہے کہ اللہ تعالیٰ نے عیسیٰ علیہ السلام کو اپنی طرف (آسمان پر) اُٹھالیا، جس کے معنی باجماع
اُمت رفع جسمانی کے ہیں۔ خود مرزا آنجہانی کو بھی اس کا اعتراف ہے، چنانچہ لکھتا ہے:
’’ہم بھی کہتے ہیں کہ مسیح بھی مع جسم آسمان پر اٹھایا گیا۔‘‘
(براہین پنجم ضمیمہ ص:۲۱۴، روحانی خزائن ج:۲۱ ص:۳۹۰)
370
اس کے باوجود قرآنی خبر پر ’’گستاخانہ اعتراض‘‘ کرتے ہوئے لکھتا ہے:
’’پھر مسیح کے بارے میں یہ بھی سوچنا چاہئے کہ کیا طبعی اور فلسفی لوگ اس خیال پر نہیں ہنسیں گے کہ جب کہ تیس یا
چالیس ہزار فٹ تک زمین سے اوپر کی طرف جانا موت کا موجب ہے تو حضرت مسیح اس جسم عنصری کے ساتھ آسمان تک کیونکر پہنچ
گئے اور کیا یہ مخالفوں کے لئے ہنسنے کی جگہ نہیں ہوگی۔‘‘
(ازالہ اوہام ص:۱۴۶،۱۴۷، روحانی خزائن ج:۳ ص:۱۷۴،۱۷۵)
اس ترقی یافتہ دور میں جبکہ دنیا مریخ پر کمندیں ڈال رہی ہے، جس شخص کی فکری پرواز تیس چالیس ہزار فٹ کی بلندی کے
تصور سے قاصر ہو اس کی عقل و دانش کا ماتم دنیا کو ضرور کرنا چاہئے، جبکہ وہ نبوّت کبریٰ کے ارشادات کا تمسخر بھی
اڑاتا ہو۔
چوتھی صورت:
تکذیبِ نبوی کی ایک صورت یہ ہے کہ آدمی قرآن و حدیث کے نصوص میں ایسی رکیک اور دور از کار تاویلیں کرے جو منشائے
متکلّم کے قطعاً خلاف ہوں اور جن کی طرف بھول کر بھی کسی کا ذہن نہ جاتا ہو، حجۃ الاسلام امام غزالی ؒ لکھتے ہیں:
’’وکل مالم یحتمل التأویل فی نفسہ وتواتر نقلہ ولم یتصور أن یقوم برھان علی خلافہ فمخالفتہ تکذیب محض ۔۔۔...
ولَا بد من التنبیہ علی قاعدۃ أخری، وھی أن المخالف قد یخالف نصًا متواترًا ویزعم أنہ مؤوّل ولکن ذکر تأویلہ
لَا انقداح لہ أصلًا فی اللسان، لَا علی بعد، ولَا علی قرب، فذالک کفر، وصاحبہ مکذّب، وان کان یزعم أنہ مؤوّل۔‘‘
(فیصل التفرقۃ فی الْإسلام و الزندقۃ ص:۱۹۶،۱۹۷،۱۹۸ طبع مصر)
371
ترجمہ:۔۔۔’’ہر ایسی نص جس میں تاویل کی گنجائش نہ ہو اور وہ نقل متواتر سے ثابت ہو، اور اس کے خلاف
کوئی قطعی برہان قائم نہ ہو، اس کی مخالفت کرنا تکذیب محض ہے ۔۔۔یہاں ایک اور قاعدہ پر بھی تنبیہ کرنا ضروری ہے اور
وہ یہ کہ ایک شخص کسی نص متواتر کی مخالفت کرتا ہے، وہ بزعم خود یہ سمجھتا ہے کہ وہ تاویل کر رہا ہے مگر تاویل ایسی
کرتا ہے جس کا زبان اور محاورہ کے اعتبار سے دور و نزدیک کوئی پتہ نشان نہیں ملتا۔ پس ایسی تاویل صریح کفر ہے اور
ایسا شخص خدا و رسول کا مکذب ہے خواہ وہ یہی سمجھتا رہے کہ وہ تکذیب نہیں بلکہ تاویل کر رہا ہے۔‘‘
مرزا آنجہانی نے قرآن و سنت کے نصوص میں ایسی لچر اور لایعنی تاویلیں کی ہیں جنہیں زبان اور محاورے سے دور و
نزدیک کا کوئی تعلق نہیں اور جن کے سامنے گزشتہ صدیوں کے بددین زنادقہ کی تاویلیں ماند پڑجاتی ہیں۔ یہاں قادیان کے
اس تاویلاتی گورکھ دھندے کی صرف دو مثالیں پیش کرتا ہوں:
الف: عیسیٰ ؑبن مریم کی تأویل:
احادیث صحیح متواترہ میں ارشاد ہے کہ: ’’تم میں عیسیٰ بن مریم حاکم عادل کی حیثیت سے نازل ہوں گے۔‘‘
انسانی تاریخ ’’عیسیٰ بن مریم‘‘ کے نام سے صرف ایک ہی شخصیت کو جانتی ہے، یعنی حضرت روح اللہ المسیح بن مریم علیہ
السلام، جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے قبل مبعوث ہوئے، جن کے نام سے تمام دنیا واقف ہے، جن کے آسمان پر اٹھائے
جانے کی خبر قرآن حکیم نے دی ہے اور جن کی دوبارہ تشریف آوری کو قرآن کریم نے قیامت کا نشان بتایا ہے:’’وانہ لعلم للساعۃ فلا تمترن بھا‘‘ (الزخرف) اس لئے اُمتِ محمدیہ کے تمام اکابر نے انہی
’’عیسیٰ بن مریم‘‘ کا دوبارہ نازل ہونا مراد لیا، اور خود آنحضرت صلی اللہ علیہ
372
وسلم نے بہت سی احادیث طیبہ میں اپنی مراد واضح فرمادی کہ جس ’’عیسیٰ بن مریم‘‘ کے نازل ہونے کی پیش گوئی
کی جارہی ہے اس سے مراد وہی ’’عیسیٰ بن مریم‘‘ ہیں جو آپؐ سے قبل مبعوث ہوئے تھے، لیکن مرزا آنجہانی نے اس متواتر
پیش گوئی میں تحریف کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ عیسیٰ بن مریم سے غلام احمد مراد ہے، اور اس کے لئے یہ تاویل ایجاد کی
کہ:
’’دو برس تک صفت مریمیت میں میں نے پرورش پائی، اور پردہ میں نشو و نما پاتا رہا، پھر جب اس پر دو برس گزر گئے
تو... مریم کی طرح عیسیٰ کی روح مجھ میں نفخ کی گئی، اور استعارہ کے رنگ میں مجھے حاملہ ٹھہرایا گیا، اور آخر کئی
مہینے کے بعد جو دس مہینے سے زیادہ نہیں... مجھے مریم سے عیسیٰ بنایا گیا، پس اس طور سے میں ابن مریم ٹھہرا۔‘‘
(کشتی نوح ص:۴۶،۴۷، روحانی خزائن ج:۱۹ ص:۵۰)
صاحبزادہ صاحب! کیا عیسیٰ بن مریم بننے کی یہ قادیانی تاویل، امام غزالی ؒ کے ارشاد فرمودہ قاعدے کے مطابق مضحکہ
خیز تکذیب نہیں؟ کیا قرآن و حدیث، اجماع متواتر، زبان و محاورہ اور تاریخ انسانی سب کو جھٹلاکر ایک شخص کے اس مراقی
دعویٰ کو خدا و رسول کا منشا قرار دے دیا جائے؟ کہ اب میں (داڑھی مونچھ کے باوجود) مریم بن گیا ہوں، اب مریمی صفت
میں نشو و نما پارہا ہوں، اب مجھے پردہ ہوگیا ہے، اب مجھ میں عیسیٰ کی روح نفخ کردی گئی ہے، اب میں امید سے ہوں، اب
مجھے دردِ زہ ہو رہا ہے، لیجئے اب میں نے عیسیٰ جن دیا ہے، لہٰذا اب میں ’’عیسیٰ بن مریم‘‘ بن گیا ہوں، پس قرآن و
حدیث کے وہ تمام نصوص جو عیسیٰ علیہ السلام کے بارے میں ہیں، اب میرے بارے میں تصور کئے جائیں، کیونکہ:
’’اس زمانہ میں مجھے اس آیت پر اطلاع بھی نہ تھی کہ میں اس طرح ’’عیسیٰ مسیح‘‘ بنایا جاؤں گا بلکہ میں بھی تمہاری
طرح بشریت کے محدود علم کی وجہ سے یہی اعتقاد رکھتا تھا کہ عیسیٰ بن مریم آسمان سے نازل ہوگا اور باوجود اس بات کے
کہ خدا تعالیٰ نے براہین احمدیہ
373
حصص سابقہ میں میرا نام عیسیٰ رکھا، اور جو قرآن شریف کی آیتیں پیش گوئی کے طور پر حضرت عیسیٰ کی طرف
منسوب تھیں، وہ سب آیتیں میری طرف منسوب کردیں، اور یہ بھی فرمادیا کہ تمہارے آنے کی خبر قرآن اور حدیث میں موجود
ہے، مگر پھر بھی میں متنبہ نہ ہوا اور براہین احمدیہ حصص سابقہ میں میں نے وہی غلط عقیدہ اپنی رائے کے طور پر لکھ
دیا اور شائع کردیا کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام آسمان سے نازل ہوں گے، اور میری آنکھیں اس وقت تک بالکل بند رہیں جب
تک خدا نے بار بار کھول کر مجھ کو نہ سمجھایا کہ عیسیٰ بن مریم اسرائیلی تو فوت ہوچکا ہے اور وہ واپس نہیں آئے گا،
اس زمانہ اور اس اُمت کے لئے تو ہی عیسیٰ بن مریم ہے۔‘‘
(براہین پنجم ص:۸۵، روحانی خزائن ج:۲۱ ص:۱۱۱)
یعنی خدا، رسولؐ، صحابہؓ، تابعینؒ، مجتہدینؒ، مجددینؒ، اولیا ءؒ، اقطابؒ ان سب کا علم تو ’’بشریت کا محدود علم‘‘
ہے، فوق البشر اور لامحدود علم صرف مرزا آنجہانی کے حصہ میں آیا: ’’جو بات کی، خدا کی قسم لاجواب کی۔‘‘
صاحبزادہ صاحب اس تاویل کو بھی معرفت سمجھتے ہوں گے، مگر دماغی امراض کے ماہرین سے پوچھئے کہ اس کا صحیح نام کیا
ہے؟
ب:دو زرد چادروں کی تأویل:
آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے آسمان سے نازل ہونے کی تمام جزئیات بھی بیان فرمادیں
تاکہ کسی قسم کے شک و شبہ کی گنجائش نہ رہے، اور کسی بد دین کو اس پیش گوئی میں تحریف کا راستہ نہ مل سکے۔ منجملہ
دیگر بے شمار امور کے آپؐ نے اُمت کو یہ بھی بتایا کہ جب وہ نازل ہوں گے تو گہرے زرد رنگ کی دو چادریں ان کے زیب
بدن ہوں گی، یہ لفظ ایسا نہیں جس کے لئے کسی لغت کی مدد لینا پڑے، نادان بچے بھی
374
اس کے مفہوم سے واقف ہیں، مگر مرزا آنجہانی نے اس کی جو مضحکہ خیز تاویل کی وہ یہ ہے:
’’دیکھو میری بیماری کی نسبت بھی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے پیش گوئی کی تھی جو اسی طرح وقوع میں آئی، آپؐ نے
فرمایا تھا کہ مسیح آسمان پر سے جب اترے گا تو دو زرد چادریں اس نے پہنی ہوئی ہوں گی، تو اسی طرح مجھ کو دو
بیماریاں ہیں، ایک اوپر کے دھڑ کی اور ایک نیچے کی دھڑ کی، یعنی مراق اور کثرت بول۔‘‘
(ملفوظات احمدیہ ج:۸ ص:۴۴۵)
بتائیے کیا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی یہی مراد تھی کہ عیسیٰ علیہ السلام آسمان سے نازل ہوتے وقت مراق اور
کثرت بول کے مریض ہوں گے؟ کیا چودہ سوسال کی اُمتِ اسلامیہ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشاد کا یہی مطلب سمجھا
تھا؟ کیا زبان و محاورہ میں اس مراقی تاویل کا کہیں دور دور بھی پتہ ملتا ہے؟ کیا یہ تاویل امام غزالی ؒ کے الفاظ
میں کفر خالص اور تکذیب محض نہیں؟
مرزا آنجہانی کی تاویلات باطلہ کی یہاں دو مثالیں پیش کی گئی ہیں، ورنہ نزول عیسیٰ سے متعلق آنحضرت صلی اللہ علیہ
وسلم کی پیش گوئی کو جھٹلانے کے لئے مرزا آنجہانی نے جو سیکڑوں تاویلیں کی ہیں وہ سب اسی مراق اور کثرت بول کا
کرشمہ ہیں۔
پانچویں صورت:
اور جب تضحیک و اِستہزا کے یہ تمام حربے اور تاویل و تحریف کے یہ سارے حیلے بہانے نزول عیسیٰ علیہ السلام کی پیش
گوئی پر خاک ڈالنے میں ناکام ثابت ہوئے تو مرزا آنجہانی نے اپنے ترکش کفر و ضلال کا آخری تیر بھی پھینک دیا اور
براہ راست مہبط وحی صلی اللہ علیہ وسلم کے علم و فہم پر یہ کہہ کر حملہ کردیا کہ:
’’اگر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر ابن مریم اور دجال کی حقیقت کاملہ ــــمنکشف نہ ہوئی ہو ــــ اور نہ یاجوج
ماجوج کی عمیق
375
تہ تک وحی الٰہی نے اطلاع دی ہو، اور نہ دابۃ الارض کی ماہیت کماہی ہی ظاہر فرمائی گئی ــــ تو کچھ تعجب کی
بات نہیں۔‘‘
(ازالہ اوہام ص:۶۹۱، روحانی خزائن ج:۳ ص:۴۷۳)
یعنی عیسیٰ ابن مریم وغیرہ کی حقیقت واقعہ نہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم سمجھ سکے، نہ خدا آپؐ کو سمجھا سکا، آپ صلی
اللہ علیہ وسلم نے حضرت عیسیٰ ابن مریم کی قریباً دو سو علامتیں معاذ اللہ یوں ہی بے سمجھے بیان کرڈالیں، آنحضرت
صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات اقدس پر ایسے خبیث ترین حملہ کے بعد بھی قادیانی اسلام کا نام لیتے نہیں شرماتے۔
آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی ارشاد فرمودہ پیش گوئی کو مرزا آنجہانی نے جس جس انداز میں جھٹلایا اس کا تھوڑا سا
نمونہ پیش کرچکا ہوں۔ اب دیکھئے مرزا طاہر احمد صاحب خود اپنے مقرر کردہ معیار کے مطابق اپنے دادا مرزا آنجہانی کو
کس صف میں جگہ دیتے ہیں، منکرین حدیث کی صف میں، یا جان بوجھ کر اپنی عاقبت خراب کرنے والوں کی صف میں؟ کیونکہ انہی
کا فیصلہ ہے کہ نزول مسیح علیہ السلام کی پیش گوئی کو جس کا ذکر بکثرت احادیث صحیحہ میں ملتا ہے، محل اعتراض ٹھہرانا
ایک انتہائی گستاخانہ امر ہے، اور:
’’ایسے شخص کے متعلق دو ہی امکانات ہیں، یا تووہ سرے سے احادیث نبویہ کا منکر ہے اور اہل قرآن کے فرقہ سے تعلق
رکھتا ہے، جس کے مشہور سربراہ آج کل غلام احمد پرویز صاحب ہیں، یا پھر وہ ان حدیثوں کو تو صحیح تسلیم کرتا ہے، لیکن
نعوذ باللہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پر اعتراض کی جسارت کرکے اپنی عاقبت خراب کررہا ہے۔‘‘
(ربوہ سے تل ابیب تک پر مختصر تبصرہ ص:۲۹)
اس بحث کو ختم کرتے ہوئے میں شیخ محی الدین ابن عربی ؒ کا ایک اقتباس پیش کرتا ہوں، شاید صاحبزادہ طاہر احمد صاحب
یا ان کی جماعت کے کسی اور بندۂ خدا کے لئے عبرت و موعظت کا ذریعہ بنے، شیخ (قدس سرہ) شقی و سعید اور مؤمن و کافر
کے درمیان فرق بیان کرتے ہوئے لکھتے ہیں:
376
’’ثم لتعلم۔۔۔۔أن الخلق بین شقی وسعید،۔... فاذا وردت الأخبار الْإلٰھیۃ علی السنۃ الروحانیین ونقلتھا الی
الرسل ونقلتھا الرسل علیھم السلام الینا، فمن آمن بھا وترک فکرہ خلف ظہرہ وقبلھا بصفۃ القبول التی فی عقلہ وصدّق
المخبر فیما أتاہ بہ۔... فذالک المعبر عنہ بالسعید۔... ومن لم یؤمن بھا وجعل فکرہ الفاسد امامہ، واقتدیٰ بہ وردّ
الأخبار النبویۃ امّا بتکذیب الأصل، وامّا بالتأویل الفاسد۔۔... فذالک المعبر عنہ بالشقی، اھـ ملخصًا۔‘‘
(فتوحات مکیۃ باب ۲۸۹ ص:۶۴۸)
ترجمہ:۔۔۔’’پھر جان رکھو کہ مخلوق کی دو ہی قسمیں ہیں، ایک بدبخت اور دوسری نیک بخت، پس جب خدا
تعالیٰ کی جانب سے بواسطہ فرشتوں کے خبریں آئیں اور فرشتوں نے وہ خبریں انبیاء علیہم السلام کی طرف اور انبیاء
علیہم السلام نے ہماری طرف منتقل کردیں پس جو شخص ان پر ایمان لایا اور اپنی فہم و فکر کو پس پشت ڈال دیا اور قبول
کرنے کی جو صفت اللہ تعالیٰ نے اس کی عقل میں ودیعت رکھی ہے، اس کے ساتھ ان خبروں کو قبول کرلیا اور خبر دینے والے
(نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم) کی ان تمام امور میں تصدیق کی جو آپؐ لے کر آئے ہیں، پس ایسا شخص تو وہ ہے جسے
’’سعید‘‘ کہا جاتا ہے۔
اور جو شخص ان خبروں پر یقین نہ لایا اور اس نے اپنی فکر فاسد کو اپنا امام بناکر اس کی اقتدا کی اور اخبار نبویہ
کو رد کردیا، بایں طور کہ یا تو سرے سے تکذیب کردی یا ان میں کوئی تاویل فاسد کرڈالی، پس ایسا شخص تو وہ ہے جس کو
’’شقی‘‘ کہا جاتا ہے۔‘‘
377
شیخؒ کی اس عبارت سے معلوم ہوا کہ جو خبر بارگاہ نبوّت سے حاصل ہو، اس کو رد کرنے کی دو صورتیں ہیں ایک یہ کہ سرے
سے اس کی سچائی کا انکار کردیا جائے اور اسے غلط ٹھہرایا جائے اور یہ دونوں صورتیں کفر و شقاوت کے زمرے میں آتی
ہیں، دوسری یہ کہ اس میں کوئی غلط تاویل کرکے اس کا مفہوم مسخ کردیا جائے اور ایمان و سعادت یہ ہے کہ اپنی فہم و فکر
بالائے طاق رکھ کر بے چون و چرا ان کی تصدیق کی جائے۔
کون سا مسیح؟
اس بحث کے آخر میں صاحبزادہ طاہر احمد صاحب لکھتے ہیں:
’’مولانا صاحب سے ایک بار پھر مؤدبانہ گزارش ہے کہ مسیح موعود کے ظہور کے عقیدہ پر تو ’’اہل قرآن‘‘ کے سوا
احمدیوں کی طرح تمام مسلمان فرقے ایمان رکھتے ہیں، ان کے درمیان صرف فرق یہ ہے کہ احمدی تو ان پیش گوئیوں کا مصداق
اُمتِ محمدیہ میں پیدا ہونے والے ایک مصلح کو قرار دیتے ہیں اور جسے بعض مماثلتوں کی بنا پر اللہ تعالیٰ کی طرف سے
مسیح کا لقب عطا کیا گیا ہے اور غیراحمدی اسی پرانے مسیح کی آمد کے منتظر ہیں جو آج تک مسلسل آسمان پر زندہ بیٹھا
ہوا ہے۔ ’’مسیح نبی اللہ‘‘ کی آمد پر تو بہرحال دونوں کو اتفاق ہے۔‘‘
(ربوہ سے تل ابیب تک پر مختصر تبصرہ ص:۲۹،۳۰)
صاحبزادہ صاحب کے اس ارشاد کا خلاصہ یہ ہے کہ حضرت عیسیٰ بن مریم کے آنے کی پیش گوئی تو مسلمانوں اور قادیانیوں کو
بالاتفاق مسلّم ہے، نزاع اس بات میں ہے کہ آنے والا مسیح سچ مچ عیسیٰ بن مریم (علیہ السلام) ہیں، یا مرزا غلام احمد
قادیانی؟ مسلمانوں کا عقیدہ ہے کہ یہ پیش گوئی سچ مچ عیسیٰ علیہ السلام کے دوبارہ تشریف لانے کے بارے میں ہے جبکہ
قادیانی اس کو مرزا آنجہانی کے حق میں مانتے ہیں۔ گویا مسلم، قادیانی نزاع مسیح بن مریم کے آنے میں نہیں، بلکہ
شخصیت مسیح کے تعین میں ہے کہ مسیح سے کون سا
378
مسیح مراد ہے۔ اصلی؟ یا جعلی؟
صاحبزادہ صاحب کی اس تنقیح کے بعد اس نزاع کا فیصلہ بہت آسان ہوجاتا ہے، فیصلہ کی صورت یہی ہے کہ احادیث نبویہ میں
اس آنے والے مسیح کی جو علامات ذکر فرمائی گئی ہیں انہیں مرزا آنجہانی کے سراپا سے ملاکر دیکھ لیا جائے، اگر وہ بہ
تمام و کمال مرزا آنجہانی میں ایک ایک کرکے پائی جائیں تو کوئی شک نہیں کہ قادیانی مرزا کو مسیح ماننے میں برحق
ہیں، اور اس صورت میں تمام مسلمانوں کو لازم ہوگا کہ آنجہانی کو مسیح مان لیں، اور اگر مرزا آنجہانی پر وہ علامات
صادق نہیں آتیں تو قادیانی عقیدہ غلط ہے اور ان کو لازم ہے کہ مسلمانوں کی طرح مرزا کو اس کے دعویٰ مسیحیت میں
جھوٹا یقین کریں، دیکھئے کیسا عمدہ اصول ہے جو صاحبزادہ صاحب نے بیان فرمایا۔ اب اگر صاحبزادہ طاہر احمد صاحب خود
اپنے ہی تجویز کردہ فیصلہ کو جو بے حد منصفانہ ہے تسلیم کرنے پر آمادہ ہوں تو بسم اللہ آگے بڑھیں اور احادیث نبویہ
کی ایک ایک علامت اپنے دادا پر منطبق کرکے قادیانی مسلم نزاع کو ہمیشہ کے لئے ختم کردیں۔
علمائے اُمت نے ایسی احادیث کو جن کا مسیح کی پیش گوئی سے تعلق ہے، یکجا کردیا ہے، عربی میں امام العصر مولانا محمد
انور شاہ کشمیریؒ کی کتاب ’’التصریح بما تواتر فی نزول المسیح‘‘ اس سلسلہ کی سب سے جامع
کتاب ہے، اس کا اردو ترجمہ بھی ’’نزول مسیح اور علامات قیامت‘‘ کے نام سے شائع ہوچکا ہے۔ ان احادیث میں آنے والے
مسیح کی جو علامات مذکور ہیں، ان کی فہرست بھی اردو ترجمہ کے ساتھ شامل کردی گئی ہے۔ صاحبزادہ صاحب ایک ایک حدیث کی
ایک ایک علامت مرزا آنجہانی پر چسپاں کرکے خود ہی انصاف کریں کہ مرزا قادیانی مسیح صادق تھا یا مسیح کذاب؟ اصلی
مسیح تھا یا جعلی؟
اگر یہ کام محنت اور فرصت چاہتا ہو تو چلئے سردست صرف تین احادیث پر فیصلہ کرلیجئے:
اول مشکوٰۃ کی حدیث، جس کو مرزا آنجہانی نے ’’ضمیمہ انجام آتھم‘‘ (ص:۳۵) میں بطور سند پیش کیا ہے، اس میں مسیح کی
آٹھ علامتیں مذکور ہیں۔
379
دوسری مسند احمد (ج:۲ ص:۴۰۶) اور ابوداؤد (ج:۲ ص:۳۳۸) کی حدیث، جس کا حوالہ مرزا بشیرالدین صاحب نے’’حقیقۃ النبوۃ‘‘ (ص:۱۹۴) میں اور جناب محمد علی صاحب ایم اے نے ’’النبوۃ
فی الْإسلام‘‘ (ص:۹۲) میں دیا ہے، اس میں آنے والے مسیح کی بیس علامات مذکور ہیں۔
تیسری صحیح مسلم (ج:۲ ص:۴۰۰) کی حدیث جس میں آنے والے مسیح کو چار بار نبی اللہ کہا گیا ہے، مرزا آنجہانی اور ان
کے حواریوں نے اس کا بہت سی جگہ حوالہ دیا ہے، اور وہ لاہوریوں کے مقابلہ میں آنجہانی کی نبوّت پر یہی حدیث پیش کیا
کرتے ہیں، اس حدیث میں آنے والے مسیح اور اس کے زمانے کی تقریباً اسّی علامات ذکر کی گئی ہیں۔
مرزا طاہر احمد صاحب صرف ان تین احادیث صحیحہ کو مرزا آنجہانی پر چسپاں کر دکھائیں تو اپنے دین و مذہب پر بڑا
احسان فرمائیں گے، مگر میں پیش گوئی کرتا ہوں کہ پوری قادیانی اُمت مل کر بھی یہ کام نہیں کرسکتی اور قیامت تک نہیں
کرسکتی۔
قادیانیت، صیہونیت کی ذیلی شاخ:
مرزا آنجہانی کا دعویٰ تو یہ ہے کہ وہ مسیح ہیں، اور ان میں مسیح کی روحانیت کا حلول ہوا ہے، لیکن ہم جب اس
گستاخانہ رویہ پر نظر کرتے ہیں جو مرزا نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے بارے میں اختیار کیا تو ذہن بے ساختہ اس طرف
جاتا ہے کہ ہو نہ ہو اس شخص میں کسی کٹے جلے پولوس کی روح کار فرما ہے، اور اس کی ’’نو مسیحی‘‘ تحریک کا مقصد اہل
اسلام میں یہودی نظریات کی ترویج ہے، اسی اعتقادی ہمرنگی کا کرشمہ ہے کہ وہ ’’اسرائیلی‘‘ کہلانے میں فخر محسوس کرتا
ہے۔ اسی مضمون کی طرف اشارہ کرتے ہوئے راقم الحروف نے لکھا تھا:
’’قادیانی تحریک کے بانی (مرزا آنجہانی) کا یہ دعویٰ کہ وہ نسلاً اسرائیلی ہے (ایک غلطی کا ازالہ) درحقیقت اس امر
کا برملا اظہار ہے کہ قادیانیت، صیہونیت ہی کی ایک ذیلی شاخ ہے۔‘‘
یہودیت سے مرزا آنجہانی کے نسبی رشتہ کا صاحبزادہ مرزا طاہر احمد بھی انکار نہیں
380
کرسکے، مگر ان کا کہنا ہے کہ نسلاً اسرائیلی ہونے سے عقیدۃً یہودی ہونا لازم نہیں آتا، صاحبزادہ صاحب کا یہ
اصول غلط نہیں ہے مگر جس شخص کے عقائد خالص یہودیانہ ہوں، اور اس پر وہ اپنا نسبی رشتہ بھی یہود سے پیوستہ کرے، اس
کے یہودی ہونے اور اس کی اٹھائی ہوئی تحریک کے یہودیت کی شاخ ہونے میں کیا شبہ رہ جاتا ہے؟
یہودی لطیفہ:
مرزا آنجہانی نے جس منطق سے اپنا نسبی رشتہ یہود سے جوڑا ہے وہ بھی بجائے خود ایک لطیفہ ہے۔ تفصیل اس کی یہ ہے کہ
معجم طبرانی اور مستدرک حاکم کے حوالے سے کنز العمال (مناقب) میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ ارشاد نقل کیا
ہے: ’’سلمان منا اھل البیت‘‘ یعنی سلمان فارسی کا شمار ہمارے اہل بیت سے ہے۔ حضرت سلمان
فارسی کا خویش، قبیلہ نہیں تھا، ان کی دل جوئی کے لئے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ازراہ شفقت انہیں اپنے گھرانے
کا ایک فرد بنالیا، یہ تھا حدیث کا مفہوم، مگر اپنے آپ کو ’’اسرائیلی‘‘ بنانے کے لئے مرزا آنجہانی نے اس حدیث پر
جو ہوائی قلعہ تعمیر کیا وہ یہ ہے:
’’یہ بات میرے اجداد کی تاریخ سے ثابت ہے کہ ایک دادی ہماری شریف خاندان سادات اور بنی فاطمہ میں سے تھی، اس کی
تصدیق آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی کی اور خواب میں مجھے فرمایا کہ: ’’سلمان منا اھل البیت علی مشرب الحسن‘‘
میرا نام سلمان رکھا۔ یعنی دو سلم اور سلم، عربی میں صلح کو کہتے ہیں، یعنی مقدر (افسوس کہ مرزا آنجہانی کے مقدر
کھوٹے نکلے، اس کے ہاتھ پر نہ اندرونی صلح ہوئی نہ بیرونی، کیوں صاحبزادہ صاحب؟ ٹھیک ہے نا!۔۔۔ناقل) یہ ہے کہ دو صلح
میرے ہاتھ پر ہوں گی۔ ایک اندرونی کہ جو اندرونی بغض اور شحنا کو دور کرے گی، دوسری بیرونی کہ جو بیرونی عداوت کے
وجود کو پامال کرکے اور اسلام کی عظمت دکھاکر غیر مذاہب والوں کو
381
اسلام کی طرف جھکا دے گی۔ معلوم ہوتا ہے کہ حدیث میں جو سلمان آیا ہے اس سے بھی میں مراد ہوں ورنہ اس
سلمان پر دو صلح کی پیش گوئی صادق نہیں آتی اور میں خدا سے وحی پاکر کہتا ہوں کہ میں بنی فارس میں سے ہوں اور بموجب
اس حدیث کے جو کنزالعمال میں درج ہے، بنی فارس بھی اسرائیل اور اہل بیت میں سے ہیں۔‘‘
(مجموعہ اشتہارات حاشیہ ج:۳ ص:۴۳۷،۴۳۸ طبع ربوہ)
کنزالعمال کی جس حدیث کا آنجہانی نے حوالہ دیا ہے وہ وہی ہے جو اوپر نقل کرچکاہوں، اب دیکھئے کہ آنجہانی نے اپنا
یہودی النسل ہونا ثابت کرنے کے لئے کیا کیا کرتب دکھائے؟
الف:... حدیث نبوی کی حضرت سلمان فارسیؓ سے نفی کرکے اسے اپنے حق میں ٹھہرایا۔
ب:... حدیث میں ’’سلمان‘‘ ایک خاص شخص کا نام تھا، مگر آنجہانی نے اس کو وصف بناکر دو ’’صلح‘‘ بنالیا۔
ج:... پھر اپنے بنی فارس میں سے ہونے کا الہام گھڑا۔
د:... پھر بنو فارس کا رشتہ ’’اسرائیل‘‘ سے ثابت کرنے کے لئے حدیث کا من گھڑت حوالہ جڑدیا۔
اتنی فرضی داستانیں تراشنے کے بعد آنجہانی کے اسرائیلی رشتہ کا سراغ مل سکا۔ ’’دیوانہ بکار خویش ہوشیار‘‘... مرزا
آنجہانی پر ہمیں تعجب نہیں، حیرت ان دانشمندوں کے علم و فہم پر ہے جو ان خود تراشیدہ مفروضوں پر ایمان کی بازی ہار
چکے ہیں۔ان میں سے کوئی عقلمند یہ سوچنے کی زحمت گوارا نہیں کرتا کہ کہنے والا کیا کہنا چاہتا ہے، وہ سب کچھ تیاگ کر
اس کی ہر الٹی سیدھی پر آنکھیں بند کرکے ایمان لارہے ہیں:بل طبع اللہ علی قلوبھم واتبعوا
اھوآئھم!
382
انکارِ عیسیٰ علیہ السلام:
راقم الحروف نے لکھا تھا:
’’یہودیت کی بنیاد انکار عیسیٰ علیہ السلام پر قائم کی گئی ہے، اور قادیانیت بھی اس مسئلہ میں اس (یہودیت) سے پیچھے
نہیں رہنا چاہتی، اہل نظر واقف ہیں کہ قادیانی تحریک کے بانی کا دعویٰ ہی انکار عیسیٰ علیہ السلام پر مبنی ہے۔‘‘
(ربوہ سے تل ابیب تک ص:۴)
مرزا طاہر احمد صاحب کو میرے پہلے فقرہ پر یہ اعتراض ہے کہ یہودیت تو حضرت عیسیٰ علیہ السلام سے پہلے موجود تھی، اس
کی بنیاد انکار عیسیٰ علیہ السلام پر کیونکر ہوئی؟ جناب صاحبزادہ صاحب، یہودیت کو دین موسوی کا مترادف سمجھ کر
اعتراض فرمارہے ہیں، جب کہ میری مراد مروجہ یہودیت سے ہے جو حضرت موسیٰ علیہ السلام کے بعد رائج ہوئی، اور جس کا سب
سے اہم تر امتیازی نشان حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا انکار اور ان سے بغض و عداوت ہے، آج جب یہودیت کا لفظ بولا جاتا
ہے تو اس سے یہی مخترع یہودیت مراد ہوتی ہے نہ کہ دین موسوی، اس لئے صاحبزادہ کا یہ اعتراض نافہمی کا نتیجہ ہے۔
صاحبزادہ صاحب میرے دوسرے فقرے سے کہ ’’مرزا آنجہانی کا دعویٰ ہی انکار عیسیٰ علیہ السلام پر مبنی ہے‘‘ تلملا
اُٹھے ہیں اور برہم ہوکر فرماتے ہیں:
’’اللہ سے ڈریں! مولانا، اللہ سے ڈریں!! اتنی بڑی غلط بیانی اور دن دہاڑے۔‘‘
(ربوہ سے تل ابیب تک پر مختصر تبصرہ ص:۳۵)
میں اللہ کی پناہ مانگتا ہوں کہ کسی سراپا غلط شخص کی طرف بھی کوئی غلط بات منسوب کروں، میں نے غلط بیانی نہیں کی
بلکہ قادیانی عقائد کا آئینہ پیش کیا ہے۔ اب اگر صاحبزادہ صاحب حبشی کی طرح اپنی بدصورتی کا انتقام آئینہ سے لینا
شروع کردیں تو اس کا کیا علاج ہے؟
اب سنئے! قرآنِ کریم، حدیثِ نبوی، اور سلف صالحینؒ کے اجماع کے مطابق
383
سیّدنا عیسیٰ علیہ السلام کی حیات طیبہ کے دو دور ہیں۔ ایک ان کے رفع جسمانی سے پہلے کا، اور دوسرا قرب
قیامت میں آسمان سے نازل ہونے کے بعد کا، یہود نے دور اول میں ان کو فرضی مسیح کہا، اور مرزائیوں نے دور ثانی میں
ــ مسیح سے، کفر کے مرتکب دونوں ہوئے۔ وہ دور اول میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے مسیح ہونے کے منکر، اور یہ دور ثانی
میں، وہ نقش اول اور یہ نقش ثانی۔
قبل ازیں عرض کرچکا ہوں کہ مرزا آنجہانی جب تک مسلمان تھا، حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے دوبارہ تشریف لانے کا قائل
تھا، اور اس کو نہ صرف قرآن کریم سے ثابت کرتا تھا بلکہ اپنے الہامات سے بھی تائید لاتا تھا، مگر جب اس کے سر میں
بروزی نبوّت کا سودا سمایا اور شیطان نے اسے’’انا جعلناک المسیح ابن مریم‘‘ (ہم نے تجھے
مسیح ابن مریم بنادیا۔) کا الہام کرکے مسیحیت کے دعویٰ کی پٹی پڑھائی تو ختمِ نبوّت اور حیات عیسیٰ دونوں کا منکر
ہوبیٹھا۔ کیونکہ عیسیٰ علیہ السلام کا اقرار کرنے کی صورت میں مرزا کا دعویٰ مسیحیت حرف غلط ثابت ہوتا تھا اس لئے ان
کے حق میں فرضی مسیح کا پروپیگنڈہ شروع کردیا، الغرض مرزائی مسیحیت کی بنیاد حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے دوبارہ آنے
سے انکار پر قائم ہے اور یہ ایک ایسی حقیقت ہے جس کے مرزا طاہر احمد صاحب خود بھی معترف ہیں، مگر مریدوں کو مطمئن
کرنے کیلئے اسے دن دہاڑے غلط بیانی کا نام دیتے ہیں:
’’جو چاہے ترا حسن کرشمہ ساز کرے۔‘‘
میں یہاں یہ بھی گزارش کردینا چاہتا ہوں کہ جس تواتر سے ہمیں نماز، روزہ، حج، زکوٰۃ کی تفصیلات ملی ہیں اور جس
تواتر سے قرآن کریم اور رسولؐ کی نبوّت ہم تک پہنچی ہے، اسی تواتر سے ہمیں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی دوبارہ تشریف
آوری کی خبر بھی پہنچی ہے۔ چنانچہ خود مرزا آنجہانی نے لکھا ہے:
’’مسیح ابن مریم کے آنے کی پیش گوئی ایک اول درجہ کی پیش گوئی ہے، جس کو سب نے باتفاق قبول کرلیا ہے، اور جس قدر
صحاح میں پیش گوئیاں لکھی گئی ہیں کوئی پیش گوئی اس کے ہم پہلو اور
384
ہم وزن ثابت نہیں ہوتی، تواتر کا اول درجہ اس کو حاصل ہے۔ انجیل بھی اس کی مصدق ہے۔ اب اس قدر ثبوت پر پانی
پھیرنا اور یہ کہنا کہ یہ تمام حدیثیں موضوع ہیں، درحقیقت ان لوگوں کا کام ہے جن کو خدا تعالیٰ نے بصیرت دینی اور حق
شناسی سے کچھ بھی بخرہ اور حصہ نہیں دیا، اور بباعث اس کے کہ ان لوگوں کے دلوں میں قال اللہ اور قال الرسول کی عظمت
باقی نہیں رہی، اس لئے جو بات ان کی اپنی سمجھ سے بالاتر ہو اس کو محالات اور ممتنعات میں داخل کرلیتے ہیں۔۔۔۔۔۔‘‘
’’۔۔۔... پس یہ کمال درجہ کی بے نصیبی اور بھاری غلطی ہے کہ یک لخت تمام حدیثوں کو ساقط الاعتبار سمجھ لیں اور ایسی
متواتر پیش گوئیوں کو جو خیرالقرون میں ہی تمام ممالک اسلام میں پھیل گئی تھیں اور مسلمات میں سے سمجھی گئی تھیں بمد
موضوعات داخل کردیں۔‘‘
(ازالہ اوہام ص:۵۵۷، روحانی خزائن ج:۳ ص:۴۰۰)
الغرض جس تواتر سے ہمیں قرآن پہنچا، نبوّتِ محمدیہ پہنچی، نماز، حج، زکوٰۃ اور دین اسلام کے دیگر اصول و عقائد
پہنچے اسی تواتر کے راستہ سے حضرت عیسیٰ بن مریم کے دوبارہ آنے کی پیش گوئی بھی ہم تک پہنچی، پس جو شخص اس کا منکر
ہے اور نعوذباللہ اسے مولویوں کی من گھڑت ٹھہراتا ہے، وہ درحقیقت دین اسلام کی ایک ایک بات کا منکر ہے۔ کیونکہ اس
عقیدہ کا انکار دراصل اس تواتر کا انکار ہے جو دین کی اصل بنیاد ہے۔
قتل مسیح:
راقم الحروف نے لکھا تھا:
’’یہودیت بڑی بلند آہنگی سے دعویٰ کرتی ہے کہ اس نے مسیح بن مریم رسول اللہ کو قتل کردیا، اور قادیانی تحریک کے
بانی کو بھی
385
اس دعویٰ کا فخر حاصل ہے کہ میرا وجود ایک نبی (یعنی عیسیٰ علیہ السلام) کو مارنے کے لئے ہے۔‘‘
(ربوہ سے تل ابیب تک ص:۵)
یہاں صاحبزادہ صاحب بالکل ہی بے بس اور لاچار نظر آتے ہیں، ان کی بے بسی ملاحظہ فرمائیں:
’’اس بات کو پڑھ کر قارئین خود اندازہ فرماسکتے ہیں کہ مولانا کا ذہن کس قدر الجھا ہوا ہے۔۔۔... مولانا کے نزدیک
یہود کا یہ دعویٰ کہ ہم نے عیسیٰ ابن مریم کو قتل کردیا اور حضرت مرزا صاحب کا یہ دعویٰ کہ آپ نے قرآن کریم کی بین
آیات اور احادیث نبویہ کی رو سے حضرت مسیح علیہ السلام کا طبعی موت سے وفات پاجانا ثابت فرما دیا ہے، ایک ہی نوعیت
کا جرم ہے اور دونوں پر قتل مسیح کا الزام عائد ہوگا۔‘‘
(ربوہ سے تل ابیب تک پر مختصر تبصرہ ص:۳۶)
صاحبزادہ طاہر احمد صاحب کی تاویل کا خلاصہ یہ ہے کہ حضرت مرزا صاحب نے ایک نبی کو مارنے کا جو دعویٰ کیا ہے اس سے
مراد ہے مسیح علیہ السلام کی وفات ثابت کرنا۔ مگر موصوف کی یہ تاویل بے بسی کی منہ بولتی تصویر ہے کیونکہ مرزا
آنجہانی کے اصل الفاظ یہ ہیں:
’’اصل میں ہمارا وجود دو باتوں کے لئے ہے، ایک تو ایک نبی کو مارنے کے لئے، دوسرا شیطان کو مارنے کے لئے۔‘‘
(ملفوظات ج:۱۰ ص:۶۰حاشیہ)
اوّل تو مارنے کے دعویٰ سے موت ثابت کرنا کسی زبان، محاورہ میں رائج نہیں، قادیان میں دنیا سے نرالی لغت ایجاد ہوئی
ہو تو مرزا طاہر احمد کو خبر ہوگی۔
دوسرے مرزا آنجہانی نے اس فقرہ میں ایک نبی کے ساتھ شیطان کو مارنے کا بھی دعویٰ کیا ہے، کیا اس کے معنی بھی یہی
ہیں کہ مرزا نے قرآن کریم اور احادیث کی رو سے شیطان کا طبعی موت سے وفات پاجانا ثابت کردیا؟
تیسرے ایک ہی فقرے میں ایک نبی اور شیطان کو مارنے کا دعویٰ کرنا اور اسی کو
386
اپنے وجود کی اصل غرض ٹھہرانا، کیا یہ تأثر نہیں دیتا کہ مرزا کے نزدیک شیطان کی طرح نبی بھی قابل گردن
زدنی ہے؟
چوتھے، یہود نے بھی حضرت مسیح علیہ السلام کو مارا نہیں تھا، صرف ماردینے کا دعویٰ کیا تھا۔ اسی دعویٰ کی سعادت
مرزا آنجہانی کے حصہ میں آئی، دعویٰ ان کا بھی محض لفظی حد تک تھا اور مرزا کا بھی لفظی حد تک مارنے کا ہے۔ باقی
یہ حضرت مسیح علیہ السلام کی قسمت ہے کہ وہ نہ یہود کے ہاتھوں سے مرے، نہ قادیانی حربوں سے، یعنی:
-
قتل ایں خستہ بہ شمشیر تو تقدیر نہ بود
ورنہ از خنجر بے رحم تو تقصیر نہ بود
پانچویں، حضرت مسیح زندہ تھے، مگر یہود نے بے پر کی اڑادی کہ ہم نے مسیح کو قتل کردیا، ان کی یہی گپ تراشی ان کی
ملعونیت کا سبب ٹھہری، ٹھیک یہی المیہ قادیانیت کو پیش آیا کہ حضرت مسیح زندہ ہیں، مگر اس نے یہ ہوائی اڑادی کہ ہم
نے مسیح نبی کو مار دیا، واقعتہً مارا نہ یہود نے تھا، نہ قادیانی نے، البتہ مارنے کا دعویٰ انہوں نے بھی کیا اور
انہوں نے بھی، پس ملعون وہ بھی ہوئے اور یہ بھی۔
حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا نسب اور مرزا آنجہانی:
راقم الحروف نے یہودیت سے قادیانیت کی ایک مشابہت یہ لکھی تھی:
’’یہودیت حضرت عیسیٰ علیہ السلام روح اللہ کو صحیح النسب نہیں سمجھتی، اسی نوعیت کے خیالات کا اظہار قادیانیت کے
بانی نے بھی کیا ہے(انجام آتھم وغیرہ)۔‘‘
(ربوہ سے تل ابیب تک ص:۵)
اس پر جناب صاحبزادہ صاحب کی نظر خشمگیں ملاحظہ ہو:
’’مولانا کو مماثلتیں تلاش کرنے کا اس قدر شوق ہے کہ سچ جھوٹ میں کوئی تمیز باقی نہیں رہنے دی۔ چنانچہ حضرت مسیح
موعود (مرزا آنجہانی) پر یہ افترا عظیم کرنے سے بھی نہیں چوکے کہ نعوذباللہ
387
حضرت مسیح موعود (مرزا آنجہانی) حضرت مسیح ناصری علیہ السلام کو یہود کی طرح صحیح النسب قرار نہ دیتے تھے
اور بغیر صفحے کے حوالے کے کتاب ’’انجام آتھم‘‘ کی طرف آپ کا یہ عقیدہ منسوب کیا ہے۔ مولانا! آپ مسلمان کہلاتے
ہیں، بلکہ مسلمانوں کے مذہبی رہنما بنتے ہیں، کیا آپ کو اتنا بھی علم نہیں کہ قولِ ’’زُور‘‘ ایک گناہ کبیرہ ہے اور
قیامت کے دن اس اِفترا پردازی پر مؤاخذہ ہوگا۔ اگر آپ سچے ہیں تو من و عن وہ اقتباس شائع فرمائیے جس سے ثابت ہو کہ
حضرت مسیح موعود (مرزا آنجہانی) حضرت مسیح کو صحیح النسب تسلیم نہیں کرتے۔‘‘
(ربوہ سے تل ابیب تک پر مختصر تبصرہ ص:۳۶،۳۷)
صاحبزادہ صاحب کی یہ ساری خفگی مریدوں کو مطمئن کرنے کے لئے ہے، ورنہ انہیں بھی معلوم ہے کہ میں نے جو کچھ لکھا ہے،
صحیح لکھا ہے۔ لیجئے حوالے پیش خدمت ہیں، پڑھئے اور خود اِنصاف کیجئے:
۱:۔۔۔’’آپ کا خاندان بھی نہایت پاک اور مطہر ہے تین دادیاں اور نانیاں آپ کی زناکار اور کسبی عورتیں تھیں جن کے
خون سے آپ کا وجود ظہور پذیر ہوا۔‘‘
(ضمیمہ انجام آتھم حاشیہ ص:۷، روحانی خزائن ج:۱۱ ص:۲۹۱)
۲:۔۔۔’’آپ کا کنجریوں سے میلان اور صحبت بھی شاید اسی وجہ سے ہو کہ جدی مناسبت درمیان ہے ورنہ کوئی پرہیزگار انسان
ایک جوان کنجری کو یہ موقع نہیں دے سکتا کہ وہ اس کے سر پر اپنے ناپاک ہاتھ لگاوے اور زناکاری کی کمائی کا پلید عطر
اس کے سر پر ملے اور اپنے بالوں کو اس کے پیروں پر ملے، سمجھنے والے سمجھ لیں کہ ایسا انسان کس چلن کا آدمی ہوسکتا
ہے۔‘‘
(ضمیمہ آتھم حاشیہ ص:۷، روحانی خزائن ج:۱۱ ص:۲۹۱)
388
۳:۔۔۔’’انسان جب حیا اور انصاف کو چھوڑدے تو جو چاہے کہے اور جو چاہے کرے، لیکن مسیح کی راست بازی اپنے زمانہ میں
دوسرے راست بازوں سے بڑھ کر ثابت نہیں ہوتی، بلکہ یحییٰ نبی کو اس پر ایک فضیلت ہے، کیونکہ وہ شراب نہیں پیتا تھا،
اور کبھی نہیں سنا گیا کہ کسی فاحشہ عورت نے آکر اپنی کمائی کے مال سے اس کے سر پر عطر ملا تھا۔ یا ہاتھوں اور اپنے
سر کے بالوں سے اس کے بدن کو چھوا تھا یا کوئی بے تعلق جوان عورت اس کی خدمت کرتی تھی۔ اسی وجہ سے خدا نے قرآن میں
یحییٰ کا نام حصور رکھا، مگر مسیح کا یہ نام نہ رکھا، کیونکہ ایسے قصے اس نام کے رکھنے سے مانع تھے۔‘‘
(دافع البلاء ابتدائیہ حاشیہ ص:۴، روحانی خزائن ج:۱۸ ص:۲۲۰)
ان اقتباسات میں صراحت کے ساتھ تین باتیں کہی گئی ہیں:
اوّل:... حضرت عیسیٰ علیہ السلام زناکاروں کے خون سے وجود پذیر ہوئے۔
دوم:... اسی جدی مناسبت کی بنا پر آپ کو کنجریوں سے میلان اور مصاحبت تھی۔
سوم:... اور آپ کی شراب نوشی اور زنانِ بازاری سے صحبت و اختلاط کی بنا پر قرآن نے آپ کو حصور (پاک دامن) کہنے
سے گریز کیا۔
مرزا طاہر احمد صاحب! کسی کے نسب میں کیڑے ڈالنے کے لئے اس سے زیادہ فحش اور بازاری زبان چاہئے...؟
ایک اور طرز سے:
مرزا آنجہانی نے لکھا ہے:
۱:۔۔۔’’اور مفسد اور مفتری ہے وہ شخص جو مجھے کہتا ہے کہ میں مسیح بن مریم کی عزت نہیں کرتا، بلکہ مسیح تو مسیح میں
تو اس کے چاروں بھائیوں کی بھی عزت کرتا ہوں کیونکہ پانچوں ایک ہی ماں
389
کے بیٹے ہیں، نہ صرف اسی قدر بلکہ میں تو حضرت مسیح کی دونوں حقیقی ہمشیروں کو بھی مقدسہ سمجھتا ہوں کیونکہ
یہ سب بزرگ مریم بتول کے پیٹ سے ہیں۔‘‘
(کشتی نوح ص:۱۶، روحانی خزائن ج:۱۹ ص:۱۸)
۲:۔۔۔’’یسوع مسیح کے چار بھائی اور دو بہنیں تھیں یہ سب یسوع کے حقیقی بھائی اور حقیقی بہنیں تھیں۔‘‘
(حاشیہ عبارت بالا)
۳:۔۔۔’’حضرت مسیح ابن مریم اپنے باپ یوسف نجار کے ساتھ بائیس برس کی مدت تک نجاری کا کام بھی کرتے رہے ہیں۔‘‘
(ازالہ اوہام حاشیہ ص:۳۰۳، روحانی خزائن حاشیہ ج:۳ ص:۲۵۴)
۴:۔۔۔’’اور مریم کی وہ شان ہے جس نے ایک مدت تک اپنے تئیں نکاح سے روکا، پھر بزرگان قوم کے نہایت اصرار سے بوجہ حمل
کے نکاح کرلیا، گو لوگ اعتراض کرتے ہیں کہ برخلاف تعلیم توریت عین حمل میں کیوں کر نکاح کیا گیا، اور بتول ہونے کے
عہد کو کیوں ناحق توڑا گیا، اور تعدد ازواج کی کیوں بنیاد ڈالی گئی، یعنی باوجود یوسف نجار کی پہلی بیوی کے ہونے کے
پھر مریم کیوں راضی ہوئی کہ یوسف نجار کے نکاح میں آوے مگر میں کہتا ہوں کہ یہ سب مجبوریاں تھیں جو پیش آگئیں اس
صورت میں وہ لوگ قابل رحم تھے، نہ قابل اعتراض۔‘‘
(کشتی نوح ص:۱۶، روحانی خزائن ج:۱۹ ص:۱۸)
۵:۔۔۔’’مریم کی ماں نے عہد کیا تھا کہ وہ بیت المقدس کی خدمت کرے گی اور ’’تارکہ‘‘ رہے گی، نکاح نہ کرے گی، اور خود
مریم نے بھی یہ عہد کیا تھا کہ ہیکل کی خدمت کروں گی، باوجود اس عہد کے پھر وہ کیا بلا اور آفت پڑی کہ یہ عہد توڑا
گیا، اور نکاح کیا گیا۔ ان تاریخوں میں جو یہودی مصنفوں نے لکھی ہیں اور باتوں کو چھوڑ کر بھی اگر دیکھا جائے تو یہ
لکھا ہے کہ یوسف کو مجبور کیا گیا کہ وہ نکاح
390
کرلے اور اسرائیلی بزرگوں نے اسے کہا کہ ہر طرح تمہیں نکاح کرنا ہوگا اب اس واقعہ کو مدنظر رکھ کر دیکھو کہ
کس قدر اعتراض واقع ہوتے ہیں۔‘‘
(الحکم مؤرخہ ۲۴؍اپریل ۱۹۰۲ء ج:۶ ص:۵ نمبر۱۵)
ان اقتباسات کا خلاصہ یہ ہے کہ حضرت مسیح کا باپ یوسف نجار تھا، اور مریم کے مشکوک حمل پر پردہ ڈالنے کے لئے بزرگان
قوم نے یوسف و مریم کو نکاح پر مجبور کیا۔
واضح رہے کہ یوسف و مریم کے نکاح کا افسانہ محض یہودی گپ ہے، جو عیسیٰ علیہ السلام کے نسب کو مشکوک کرنے کے لئے
اڑائی گئی، کوئی مسلمان اس کا قائل نہیں، نہ قرآن و حدیث میں اس کی طرف کہیں ادنیٰ اشارہ تک کیا گیا ہے، مگر مرزا
کی یہودی ذہنیت نے اس یہودی گپ کی بنیاد پر حضرت مسیح کو نہ صرف یوسف نجار کا بیٹا بنادیا، بلکہ آپ کے چھ حقیقی بہن
بھائیوں کا افسانہ بھی تراش لیا۔
اس سے صاف معلوم ہوا کہ مرزا کو قرآن کریم پر ایمان نہیں، بلکہ یہودی مصنفوں کی تاریخوں پر ایمان ہے اور انہی کی
لے میں لے ملاکر کہا جارہا ہے کہ: ’’اس واقعہ کو مدنظر رکھ کر دیکھو کہ (حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے نسب پر) کس قدر
اعتراض واقع ہوتے ہیں۔‘‘
مرزا آنجہانی اور معجزاتِ مسیح:
مرزا آنجہانی کو دعویٰ تھا کہ اسے نعوذ باللہ ہر بات میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام پر فوقیت حاصل ہے۔ فضیلت کے لحاظ
سے بھی، منصب و مرتبہ کے لحاظ سے بھی اور معجزات میں بھی، چنانچہ لکھتا ہے:
۱:۔۔۔’’اور میں عیسیٰ مسیح کو ہرگز ان امور میں اپنے پر کوئی زیادت نہیں دیکھتا، یعنی جیسے اس پر خدا کا کلام نازل
ہوا، ایسا ہی مجھ پر بھی ہوا، اور جیسے اس کی نسبت معجزات منسوب کئے جاتے ہیں میں یقینی طور پر ان معجزات کا مصداق
اپنے نفس کو دیکھتا ہوں، بلکہ ان
391
سے زیادہ۔‘‘
(چشمہ مسیحی ص:۲۳، روحانی خزائن ج:۲۰ ص:۳۵۴)
۲:۔۔۔’’ابن مریم کے ذکر کو چھوڑو اس سے بہتر غلام احمد ہے۔‘‘
(دافع البلاء ص:۲۰، روحانی خزائن ج:۱۸ ص:۲۴۰)
۳:۔۔۔’’خدا نے اس اُمت پر مسیح موعود بھیجا جو اس پہلے مسیح سے اپنی تمام شان میں بہت بڑھ کر ہے... مجھے قسم ہے اس
ذات کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے کہ اگر مسیح ابن مریم میرے زمانہ میں ہوتا تو وہ کام (کون سا کام؟ انگریزوں کی
غلامی، قرآن کی تحریف، انبیاء کی توہین، اُمتِ مسلمہ کی تکفیر؟ ناقل) جو میں کرسکتا ہوں وہ ہرگز نہ کرسکتا، اور وہ
نشان جو مجھ سے ظاہر ہورہے ہیں وہ ہرگز دکھلا نہ سکتا۔‘‘
(حقیقۃ الوحی ص:۱۴۸، روحانی خزائن ج:۲۲ ص:۱۵۲)
۴:۔۔۔’’اس امر میں کیا شک ہے کہ حضرت مسیح علیہ السلام کو وہ فطرتی طاقتیں نہیں دی گئیں جو مجھے دی گئیں، کیونکہ وہ
ایک خاص قوم کے لئے آئے تھے، اور اگر وہ میری جگہ ہوتے تو اپنی اس فطرت کی وجہ سے وہ کام انجام نہ دے سکتے جو خدا
کی عنایت نے مجھے انجام دینے کی قوت دی ہے۔‘‘
(حقیقۃ الوحی ص:۱۵۳، روحانی خزائن ج:۲۲ ص:۱۵۷)
۵:۔۔۔’’پھر جب کہ خدا نے اور اس کے رسول نے اور تمام نبیوں نے آخری زمانے کے مسیح کو اس کے کارناموں کی وجہ سے
افضل قرار دیا ہے تو پھر یہ شیطانی وسوسہ ہے کہ یہ کہاجائے کہ کیوں تم مسیح ابن مریم سے اپنے تئیں افضل قرار دیتے
ہو۔‘‘
(حقیقۃ الوحی ص:۱۵۵، روحانی خزائن ج:۲۲ ص:۱۵۹)
مرزا آنجہانی کی اس لاف و گزاف اور تعلّی آمیز دعوؤں پر کسی نے مرزا جی سے
392
پوچھ لیا کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام تو عظیم معجزے دکھایا کرتے تھے، مثلاً مُردوں کو زندہ کرتے تھے، مٹی سے
پرندوں کی شکل بناکر ان میں پھونک مارتے تھے وہ سچ مچ کے پرندے بن کر اڑ جاتے تھے، مادر زاد اندھوں اور کوڑھیوں پر
ہاتھ مبارک پھیرتے تھے تو وہ شفایاب ہوجاتے تھے۔
(المائدہ:۱۱۰)
پس اگر تم مسیحائی کے دعوے میں سچے ہو تو تم بھی ایک آدھ پرندہ بناکر دکھاؤ، کسی بیمار کو اچھا اور کسی مردہ کو
زندہ کر دکھاؤ۔ یہ سوال خود مرزا آنجہانی نے ازالہ اوہام میں بالفاظ ذیل نقل کیا ہے:
’’بعض لوگ (بعض لوگ نہیں بلکہ کل اُمتِ اسلامیہ کا یہی عقیدہ ہے۔ ناقل) موحدین کے فرقہ میں سے بحوالہ آیت قرآنی
یہ اعتقاد رکھتے ہیں کہ حضرت مسیح ابن مریم انواع و اقسام کے پرندے بناکر اور ان میں پھونک مار کر زندہ کردیا کرتے
تھے، چنانچہ اسی بنا پر اس عاجز پر اعتراض کیا گیا ہے کہ جس حالت میں مثیل مسیح ہونے کا دعویٰ ہے تو پھر آپ بھی
کوئی مٹی کا پرندہ بناکر پھر اس کو زندہ کرکے دکھلائیے۔‘‘
(ازالہ اوہام حاشیہ ص:۲۹۵، روحانی خزائن حاشیہ ج:۳ ص:۲۵۱)
مگر یہاں تو مسیح ہونے کا دعویٰ خالی ڈھول کی آواز تھی، یہاں زبانی جمع خرچ اور تعلّی و لفاظی کے سوا کیا رکھا
تھا؟ اس لئے خود تو کیا معجزے دکھاتے، الٹا عیسیٰ علیہ السلام کے معجزات کا انکار کردیا:
خود تو ڈُوبے تھے صنم، تجھ کو بھی لے ڈُوبیں گے!
مرزا آنجہانی کے دعویٰ میں ایک رتی بھر صداقت ہوتی تو وہ اس چیلنج کو قبول کرتے، اور حضرت مسیح علیہ السلام کے وہ
معجزات، جن کو قرآن کریم نے ’’آیات بینات‘‘ کہا ہے، دکھاکر لوگوں کو مطمئن کر دیتے اور اگر وہ معجزات دکھانے سے
عاجز تھے تو انسانی شرافت کا تقاضا یہ تھا کہ اپنی بے بسی کا اعتراف کرکے اخلاقی جرأت کا ثبوت دیتے، مگر
393
یہاں نہ صداقت تھی، نہ شرافت، اس لئے آنجہانی نے یہودیوں کی تقلید میں ایک تیسرا راستہ اختیار کیا کہ حضرت
مسیح علیہ السلام کے معجزات کو عمل الترب اور مسمریزم کا کرشمہ ٹھہرایا، اس سلسلہ میں مرزا آنجہانی کی تصریحات
ملاحظہ فرمائیے:
۱:۔۔۔’’عیسائیوں نے بہت سے آپ کے (حضرت عیسیٰ علیہ السلام) کے معجزات لکھے ہیں مگر حق بات یہ ہے کہ آپ سے کوئی
معجزہ نہیں ہوا۔‘‘
(ضمیمہ انجام آتھم حاشیہ ص:۶، روحانی خزائن حاشیہ ج:۱۱ ص:۲۹۰)
۲:۔۔۔’’آپ کی بدقسمتی (صاحبزادہ صاحب! کیا نبی بھی بدقسمت ہوتا ہے؟ اور کیا اس بدقسمتی میں سے مرزا غلام احمد
آنجہانی کو کچھ حصہ ملا یا نہیں ؟ ناقل) سے اسی زمانہ میں ایک تالاب بھی موجود تھا۔جس سے بڑے بڑے نشان ظاہر ہوتے
تھے۔ خیال ہوسکتا ہے کہ اس تالاب کی مٹی آپ بھی استعمال کرتے ہوں گے۔ اسی تالاب سے آپ کے معجزات کی پوری پوری
حقیقت کھلتی ہے اور اسی تالاب نے فیصلہ کردیا ہے کہ اگر آپ سے کوئی معجزہ بھی ظاہر ہوا ہو تو وہ معجزہ آپ کا نہیں
بلکہ اس تالاب کا معجزہ ہے اور آپ کے ہاتھ میں سوا مکر و فریب کے اور کچھ نہیں تھا۔‘‘
(ضمیمہ انجام آتھم حاشیہ ص:۷، روحانی خزائن حاشیہ ج:۱۱ ص:۲۹۱)
۳:۔۔۔’’ما سوا اس کے یہ بھی قرین قیاس ہے کہ ایسے ایسے اعجاز طریق عمل الترب یعنی مسمریزمی طریق سے بطور لعب و لہو،
نہ بطور حقیقت ظہور میں آسکیں۔‘‘
(ازالہ اوہام حاشیہ ص:۳۰۵، روحانی خزائن حاشیہ ج:۳ ص:۲۵۵،۲۵۶)
۴:۔۔۔’’اور یہ بات قطعی اور یقینی طور پر ثابت ہوچکی ہے کہ حضرت مسیح بن مریم باذن و حکم الٰہی الیسع نبی کی طرح اس
عمل الترب
394
(مسمریزم) میں کمال رکھتے تھے۔‘‘
(ازالہ اوہام حاشیہ ص:۳۰۸، روحانی خزائن حاشیہ ج:۳ ص:۲۵۷)
۵:۔۔۔’’بہرحال مسیح کی یہ تربی (مسمریزم کی) کاروائیاں زمانہ کے مناسب حال بطور خاص مصلحت کے تھیں، مگر یاد رکھنا
چاہئے کہ یہ عمل (مسمریزم) ایسا قدر کے لائق نہیں جیسا کہ عوام الناس اس کو خیال کرتے ہیں، اگر یہ عاجز اس عمل کو
مکروہ اور قابل نفرت نہ سمجھتا تو خدا تعالیٰ کے فضل و توفیق سے امید قوی رکھتا تھا کہ ان عجوبہ نمائیوں میں حضرت
مسیح ابن مریم سے کم نہ رہتا۔‘‘ (اس سے معلوم ہوتا ہے کہ مرزا آنجہانی کو بھی مسمریزم میں خاصی مشق حاصل تھی۔ ناقل)
(ازالہ اوہام حاشیہ ص:۳۰۹، روحانی خزائن حاشیہ ج:۳ ص:۲۵۷،۲۵۸)
۶:۔۔۔’’گو حضرت مسیح جسمانی بیماروں کو اس عمل (مسمریزم) کے ذریعہ سے اچھا کرتے رہے، مگر ہدایت اور توحید اور دینی
استقامتوں کے کامل طور پر دلوں میں قائم کرنے کے بارے میں ان کی کاروائیوں کا نمبر ایسا کم درجہ کا رہا کہ قریب قریب
ناکام رہے۔‘‘
(ازالہ اوہام حاشیہ ص:۳۱۱، روحانی خزائن حاشیہ ج:۳ ص:۲۵۸)
۷:۔۔۔’’حضرت مسیح کے عمل الترب (مسمریزم) سے وہ مردے جو زندہ ہوتے تھے یعنی وہ قریب الموت آدمی (مردوں کو زندہ
کرنے کی یہی تاویل یہودی کرتے تھے، ناقل) جو گویا نئے سرے سے زندہ ہوجاتے تھے وہ بلا توقف چند منٹ میں مر جاتے
تھے۔‘‘
(ازالہ اوہام حاشیہ ص:۳۱۱، روحانی خزائن ج:۳ ص:۲۵۸)
۸:۔۔۔’’اور یہ جو میں نے مسمریزمی طریق کا ’’عمل الترب‘‘ نام رکھا، جس میں حضرت مسیح بھی کسی درجہ تک مشق رکھتے
395
تھے، یہ الہامی نام ہے۔‘‘
(ازالہ اوہام حاشیہ ص:۳۱۲، روحانی خزائن حاشیہ ج:۳ ص:۲۵۹)
۹:۔۔۔’’حضرت مسیح جو پرندے بناتے تھے۔۔۔... ان پرندوں میں واقعی اور حقیقی حیات پیدا نہیں ہوتی تھی، بلکہ صرف ظلّی
اور مجازی اور جھوٹی (کیوں صاحبزادہ صاحب! ظلّی، مجازی، اور جھوٹی، یہ تینوں لفظ ایک ہی مفہوم رکھتے ہیں نا۔ ناقل)
حیات جو عمل الترب (مسمریزم) کے ذریعہ سے پیدا ہوسکتی ہے ایک جھوٹی جھلک کی طرح ان میں نمودار ہوجاتی تھی۔‘‘
(ازالہ اوہام حاشیہ ص:۳۱۸، روحانی خزائن حاشیہ ج:۳ ص:۲۶۱،۲۶۲)
۱۰:۔۔۔’’مسیح کے ایسے عجائب کاموں میں اس کو طاقت بخشی گئی تھی اور خدا تعالیٰ نے صاف فرمادیا ہے کہ وہ ایک فطرتی
طاقت تھی جو ہر ایک فرد بشر کی فطرت میں مودع ہے، مسیح سے اس کی کچھ خصوصیت نہیں۔‘‘ (خدا نے کہیں ایسا نہیں فرمایا،
مرزا کا سفید جھوٹ ہے۔ ناقل)
(ازالہ اوہام حاشیہ ص:۳۱۱، روحانی خزائن حاشیہ ج:۳ ص:۲۶۳)
۱۱:۔۔۔’’مسیح کے معجزات تو اس تالاب کی وجہ سے بے رونق اور بے قدر تھے جو مسیح کی ولادت سے بھی پہلے مظاہر عجائبات
تھا۔ جس میں ہر قسم کے بیمار اور تمام مجذوم، مفلوج، مبروص وغیرہ ایک ہی غوطہ مارکر اچھے ہوجاتے تھے لیکن بعد کے
زمانوں میں جو لوگوں نے اس قسم کے خوارق دکھلائے اس وقت تو کوئی تالاب بھی موجود نہیں تھا۔‘‘
(ازالہ اوہام حاشیہ ص:۳۲۱، روحانی خزائن حاشیہ ج:۳ ص:۲۶۳)
۱۲:۔۔۔’’غرض یہ اعتقاد بالکل غلط اور فاسد اور مشرکانہ
396
خیال ہے (جو قرآن کریم نے بیان فرمایا۔۔۔ناقل) کہ مسیح مٹی کے پرندے بناکر ان میں پھونک مارکر انہیں سچ مچ
کے جانور بنادیتا تھا، نہیں! بلکہ صرف عمل الترب (مسمریزم) تھا جو روح کی قوت سے ترقی پذیر ہوگیا تھا۔‘‘
(ازالہ اوہام حاشیہ ص:۳۲۲، روحانی خزائن حاشیہ ج:۳ ص:۲۶۳)
۱۳:۔۔۔’’یہ بھی ممکن ہے کہ مسیح ایسے کام کے لئے اس تالاب کی مٹی لاتا تھا جس میں روح القدس کی تأثیر رکھی گئی
تھی۔‘‘
(ازالہ اوہام حاشیہ ص:۳۲۲، روحانی خزائن حاشیہ ج:۳ ص:۲۶۳)
۱۴:۔۔۔’’بہرحال یہ معجزہ صرف ایک کھیل کی قسم میں سے تھا، اور وہ مٹی درحقیقت ایک مٹی ہی رہتی تھی۔ جیسے سامری کا
گوسالہ۔‘‘
(ازالہ اوہام حاشیہ ص:۳۲۲، روحانی خزائن حاشیہ ج:۳ ص:۲۶۳)
حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے بارے میں مرزا آنجہانی نے جس پراگندہ ذہنی کا مظاہرہ کیا ہے، وہ خاص یہودیانہ تکنیک ہے،
ایک یہودی ہی یہ جسارت کرسکتا ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے عظیم الشان معجزوں کو مکر و فریب، مسمریزم، کھیل
تماشہ کہہ کر بے رونق، بے قدر، مکروہ اور قابل نفرت ٹھہرائے۔ اسی بنا پر میں نے یہودیت اور قادیانیت کے درمیان ایک
مشابہت یہ لکھی تھی کہ:
’’یہودیت حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے معجزات کو لہو و لعب یا مسمریزم قرار دیتی ہے، ٹھیک یہی موقف قادیانیت بھی پیش
کرتی ہے۔‘‘
(ربوہ سے تل ابیب تک ص:۵)
مرزا طاہر احمد صاحب نے میرے اس فقرہ کو جھوٹ اور بہتان قرار دیا ہے۔ اور قارئین کرام، مرزا آنجہانی کے مندرجہ
بالا اقتباسات پڑھ کر خود فیصلہ کرسکتے ہیں کہ جھوٹ اور بہتان سے میں نے کام لیا ہے یا اس دولت کے چشمے، خود مرزا
طاہر احمد صاحب کے گھر میں اُبل رہے ہیں؟
397
حضرت مسیح اور صلیب:
اسلام اور یہودیت کے درمیان جن جن مسائل میں نزاع ہے ان میں سے ایک یہودیوں کا یہ دعویٰ ہے کہ انہوں نے سیّدنا
عیسیٰ علیہ السلام کو دار پر کھینچا اور پولوس نے جو واقعتہً یہودی تھا مگر حضرت مسیح علیہ السلام کی تعلیم کو
بگاڑنے کے لئے اس نے عیسائیت کا لبادہ اوڑھ لیا تھا، یہود کا یہ دعویٰ علماء کو نہ صرف تسلیم کرادیا بلکہ اس پر صلیب
کے تقدس اور کفارہ کا عقیدہ بھی ایجاد کیا، مگر قرآن کریم یہود کے اس دعویٰ کو تسلیم نہیں کرتا، بلکہ ایک بے بنیاد
افسانہ قرار دیتے ہوئے اسے مسترد کرتا ہے، چنانچہ ارشاد خداوندی ہے: ’’وما صلبوہ ولٰـکن شُبِّہ
لھم‘‘ (اور وہ نہ تو حضرت مسیح کو قتل کرسکے، نہ آپ کو سولی دے سکے، بلکہ ان کو دھوکہ ہوا) قرآن کریم کی
اس آیت کی روشنی میں تمام اُمتِ اسلامیہ کا قطعی عقیدہ یہ ہے کہ عیسیٰ علیہ السلام گرفتار نہیں ہوئے، نہ انہیں سولی
پر لٹکایا گیا، بلکہ اللہ تعالیٰ نے انہیں آسمان پر اٹھالیا۔ قرآن کریم کے اس صاف صاف اعلان کے بعد کسی مسلمان کو
کبھی یہ جرأت نہیں ہوئی، نہ ہوسکتی ہے کہ حضرت مسیح علیہ السلام کو سولی دئیے جانے کے یہودی افسانہ کو ایک لمحہ کے
لئے بھی تسلیم کرے، مرزا غلام احمد قادیانی آنجہانی کے عقائد و نظریات چونکہ یہودیت کا چربہ ہیں اس لئے اس نے قرآن
کریم کی تصریح اور ملت اسلامیہ کے عقیدہ کو پشت انداز کرکے یہودی افسانہ کو اپنا دین و ایمان قرار دیا۔ اور حضرت
مسیح علیہ السلام کی صلیب کشی کا وہ ذلت آمیز نقشہ کھینچا جسے پڑھ کر رونگٹے کھڑے ہوجاتے ہیں۔ چنانچہ وہ ازالہ
اوہام میں لکھتا ہے:
۱:۔۔۔’’پھر بعد اس کے مسیح ان (یہودیوں) کے حوالہ کیا گیا، اور اس کے تازیانے لگائے گئے، اور جس قدر گالیاں سننا
اور فقیہوں مولویوں کے اشارے سے طمانچے کھانا اور ہنسی اور ٹھٹھے سے اڑائے جانا اس کے حق میں مقدر تھا۔ سب نے دیکھا،
آخر صلیب دینے کے لئے تیار ہوئے... تب یہودیوں نے جلدی سے مسیح کو دو
398
چوروں کے ساتھ صلیب پر چڑھا دیا۔‘‘
(ازالہ اوہام ص:۳۸۰، روحانی خزائن ج:۳ ص:۲۹۵،۲۹۶)
۲:۔۔۔’’مسیح پر جو یہ مصیبت آئی کہ وہ صلیب پر چڑھایا گیا اور کیلیں اس کے اعضا میں ٹھوکی گئیں، جن سے وہ غشی کی
حالت میں ہوگیا، یہ مصیبت درحقیقت موت سے کچھ کم نہیں تھی۔‘‘
(ازالہ اوہام ص:۳۹۲، روحانی خزائن ج:۳ ص:۳۰۲)
۳:۔۔۔’’چونکہ مسیح ایک انسان تھا اور اس نے دیکھا کہ تمام سامان میرے مرنے کے موجود ہوگئے ہیں، لہٰذا اس نے برعایت
اسباب گمان کیا کہ شاید آج میں مرجاؤں گا، سو بباعث ہیبت تجلی جلالی حالت موجودہ کو دیکھ کر ضعف بشریت اس پر غالب
ہوگیا تھا۔ تبھی اس نے دل برداشتہ ہوکر کہا! ایلی ایلی لما سبقتنی، یعنی اے میرے خدا اے
میرے خدا تو نے مجھے کیوں چھوڑ دیا اور کیوں اس وعدہ کا ایفا نہ کیا جو تو نے پہلے سے کر رکھا تھا۔‘‘
(ازالہ اوہام ص:۳۹۴، روحانی خزائن ج:۳ ص:۳۰۳،۳۰۴)
مرزا آنجہانی کی یہ ایمان سوز تحریر، یہودیت کی پس خوردہ ہے، ورنہ جیسا کہ ابھی عرض کرچکا ہوں اُمتِ اسلامیہ میں
سے ایک فرد بھی حضرت مسیح علیہ السلام کی اس ذلت آمیز گرفتاری اور صلیب کشی کا قائل نہیں، مرزا آنجہانی کی اسی
یہودیت کی طرف اشارہ کرتے ہوئے میں نے لکھا تھا کہ: ’’یہودی دعویٰ کے مطابق حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو سولی دی گئی۔
قادیانیت، یہودیوں کی تقلید میں اس قصہ کو من و عن تسلیم کرکے صرف اتنی ترمیم کرتی ہے کہ وہ صلیب پر مرے نہیں تھے،
بلکہ انہیں نیم مردہ حالت میں اتار لیا گیا تھا۔‘‘ مرزا طاہر احمد صاحب نے میرے اس فقرہ کا جو جواب دیا ہے وہ یہ ہے:
’’اصل مبحث تو تھا ہی یہی کہ یہودی، حضرت مسیح کو صلیبی موت دینے میں کامیاب ہوئے کہ نہیں۔ اس بنیادی نزاع میں
399
احمدیت اور یہودیت کے عقائد میں قطبین کا فرق ہے، محض صلیب پر چڑھانے کی تاریخی اور ثابت شدہ حقیقت میں
اتفاق کو ایک قابل اعتراض مماثلت کے طور پر پیش کرنا لغویت کی اِنتہا ہے۔‘‘
(ربوہ سے تل ابیب تک پر مختصر تبصرہ ص:۳۷)
مرزا طاہر احمد صاحب، حضرت مسیح کے صلیب پر چڑھائے جانے کو تاریخی اور ثابت شدہ حقیقت کہہ کر گویا یہ تسلیم کرتے
ہیں کہ راقم الحروف نے جو کچھ لکھا، صحیح ہے، مگر ان کے نزدیک یہ کوئی قابل اعتراض بات نہیں، کیونکہ بقول ان کے حضرت
مسیح علیہ السلام کا یہودیوں کے ہاتھ میں گرفتار ہونا، گالیاں کھانا، ان کو تازیانے لگایا جانا، کانٹوں کا تاج
پہنایا جانا، ان کے منہ پر تھوکا جانا، انہیں صلیب پر چڑھایا جانا، ان کے جسم میں کیلیں ٹھونکا جانا، ان کا ایلی
ایلی پکارنا... ان پر غشی طاری ہوجانا اور بالآخر مجازی طور پر ان کا صلیب پر مرجانا، یہ سب کچھ ایک ’’ثابت شدہ
تاریخی حقیقت‘‘ ہے اور یہ جو لوگ حضرت مسیح علیہ السلام کی اس حیا سوز ذلت و رسوائی کے قائل ہیں ان پر اعتراض کرنا،
صاحبزادہ صاحب کے نزدیک ’’لغویت کی اِنتہا ہے۔‘‘
یہودی افسانوں کو (جن کی قرآن کریم واضح طور پر تردید کرچکا ہے) ’’ثابت شدہ تاریخی حقیقت‘‘ کہنے پر میں مرزا طاہر
احمد صاحب کو معذور سمجھتا ہوں، کیونکہ ان کے گھر جب نبی سازی کی جعلی ٹکسال موجود ہے تو تاریخ سازی کی ٹکسال کا
ہونا کچھ تعجب خیز نہیں، اس لئے وہ جس بے بنیاد افسانے کو جب چاہیں ’’تاریخی حقیقت‘‘ بناسکتے ہیں۔ مگر میں ان سے
گزارش کرنے کی اجازت چاہوں گا کہ ان کی اس مزعومہ تاریخی حقیقت کا وجود نہان خانہ مرزائیت کے سوا کہیں نہیں، اس کا
نہ قرآن و حدیث میں ذکر ہے، نہ کسی اسلامی تاریخ میں۔ مرزا آنجہانی کا یہ تخیلاتی کرشمہ ہے کہ اس نے یہودیت،
عیسائیت اور اسلام کا ایک ایسا ملغوبہ تیار کرنے کی سعی مذموم کی جسے قرآن کریم اور ملت اسلامیہ قبول کرنے کے لئے
تیار نہیں۔ آئیے دیکھیں کہ اس مبحث میں مرزا آنجہانی کو اللہ میاں سے کن کن نکات میں اختلاف ہے، اور قرآن کریم،
آنجہانی کی خود تراشیدہ ’’تاریخی گپ ‘‘
400
کی کس طرح تردید کرتا ہے۔
۱:... مرزا آنجہانی بتقلید یہود، یہ دعویٰ کرتا ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام، یہود کے ہاتھوں میں گرفتار ہوئے۔ اس
کے برعکس قرآن کریم حضرت عیسیٰ علیہ السلام پر انعامات خداوندی شمار کرتے ہوئے یہ اعلان کرتا ہے:’’وَاِذْ کَفَفْتُ بَنِیٓ اِسْرَائِیْلَ عَنْکَ‘‘ (اور یاد کر جب میں
نے ہٹائے رکھا بنی اسرائیل کو تجھ سے۔) یعنی یہود، حضرت مسیح کو گرفتار تو کیا کرتے، اللہ تعالیٰ نے انہیں
آپ کے قریب تک پھٹکنے نہیں دیا۔
۲:۔۔۔مرزا آنجہانی کا کہنا ہے کہ یہود، حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو پکڑ کر صلیب دینے کا جو منصوبہ بنارہے تھے اس
میں وہ کامیاب ہوئے۔ مگر قرآن کریم اس مرزائی دعویٰ کی تردید کرتے ہوئے تصریح کرتا ہے کہ یہود کے تمام منصوبے خاک
میں مل کر رہ گئے اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی حفاظت و صیانت کے متعلق خدائی تدبیر کامیاب ہوئی۔’’وَمَکَرُوْا وَمَکَرَ اللہُ وَاللہُ خَیْرُ الْمَاکِرِیْنَ۔‘‘
۳:۔۔۔مرزا آنجہانی کہتا ہے کہ یہود کے ناپاک ہاتھوں نے نعوذباللہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے مقدس چہرہ پر طمانچے
رسید کئے، مگر قرآن کریم اعلان کرتا ہے کہ یہ قطعاً غلط ہے، ہوا یہ کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو
اپنے قبضہ میں لے لیا۔ انہیں اپنی طرف اٹھالیا اور کافروں کے نجس ہاتھوں سے انہیں پاک رکھا:
’’اِذْ قَالَ اللہُ یٰعِیْسَیٰ اِنِّیْ مُتَوَفِّـیْکَ وَرَافِعُکَ اِلَیَّ وَمُطَھِّرُکَ مِنَ الَّذِیْنَ
کَفَرُوْا‘‘ ۔
۴:۔۔۔مرزا آنجہانی کہتا ہے کہ یہود کے ہاتھوں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی تذلیل مقدر تھی، انہیں گالیاں دی گئیں، ان
کے منہ پر تھوکا گیا، انہیں کانٹوں کا تاج پہنایا گیا، ان کے مقدس جسم کو چھیدا گیا۔ مگر قرآن کریم کہتا ہے کہ وہ
دنیا و آخرت میں ذو وجاہت تھے اور مقرب بارگاہ خداوندی تھے، ناممکن تھا کہ یہود کی جانب سے حضرت مسیح کی وجاہت کے
خلاف کوئی حرکت ان سے کی جاتی: ’’وَجِیْھًا فِیْ الدُّنْیَا وَالْاٰخِرَۃِ وَمِنَ
الْمُقَرَّبِیْنَ‘‘ ۔
۵:۔۔۔مرزا آنجہانی کہتا ہے کہ انہیں دو چوروں کے ساتھ صلیب پر چڑھایا گیا۔ مگر قرآن کریم اعلان کرتا ہے کہ دنیا
کی کوئی طاقت نہیں تھی جو انہیں صلیب پر چڑھا سکے:
401
’’وَمَا قَتَلُوْہٗ وَمَا صَلَبُوْہٗ وَلٰـکِنْ شُبِّہَ لَھُمْ‘‘ اس لئے مسیح
کو صلیب دئیے جانے کا افسانہ محض جھوٹ ہے۔
۶:۔۔۔مرزا آنجہانی کہتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو یہود کی دست درازیوں سے بچانے کا وعدہ
کیا، مگر یہ وعدہ پورا نہیں کیا۔ اس لئے خدا کی وعدہ خلافی کی شکایت، حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو ایلی ایلی لما سبقتنی کہہ کر کرنی پڑی۔
’’یعنی اے میرے خدا اے میرے خدا تو نے مجھے کیوں چھوڑ دیا اور کیوں اس وعدہ کا اِیفا نہ کیا جو تو نے پہلے سے کر
رکھا تھا۔‘‘
(ازالہ اوہام ص:۳۹۴، روحانی خزائن ج:۳ ص:۳۰۳،۳۰۴)
مگر قرآن کریم اس مرزائی اِفترا کی تردید کرتا ہے کہ نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ نے اپنا وعدہ ٹھیک ٹھیک پورا کیا اور
اسی وعدہ کے مطابق بحفاظت تمام ان کو اپنی طرف آسمان پر اُٹھالیا: ’’بَلْ رَّفَعَہُ اللہُ
اِلَیْہِ‘‘ ۔
۷:۔۔۔مرزا آنجہانی کہتا ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام دیار غربت میں مرگئے۔ قرآن کریم اس مرزائی افسانے کی تردید
کرتا ہے کہ وہ مرے نہیں بلکہ زندہ ہیں، ابھی دنیا میں ان کی دوبارہ آمد مقدر ہے اور ان کی تشریف آوری قیامت کا
نشان ہے۔ اس لئے اے مسلمانو! ان قادیانی ہفوات کی وجہ سے شک و شبہ میں مت پڑو: ’’وَاِنَّہٗ
لَعِلْمٌ لِّلسَّاعَۃِ فَـلَا تَمْتَرُنَّ بِھَا‘‘ ۔
قرآن کریم یہ بھی بتاتا ہے کہ ان کی وفات اس وقت ہوگی جب کہ ان کی موت سے پہلے تمام اہل کتاب ان پر ایمان لاچکے
ہوں گے، اور ایک متنفس بھی کفر کا مرتکب نہیں رہے گا۔ ’’وَاِنْ مِّنْ أَھْلِ الْکِتَابِ اِلّا
لَیُؤْمِنَنَّ بِہٖ قَبْلَ مَوْتِہٖ‘‘ صاحبزادہ صاحب! یہ ہے وہ ’’تاریخی حقیقت‘‘ جو عیسیٰ علیہ السلام کے
بارے میں قرآن کریم پیش کرتا ہے، اور اسی حقیقت کو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے لے کر آج تک تمام اُمتِ اسلامیہ
’’ثابت شدہ‘‘ تسلیم کرتی آئی ہے۔
حافظ ابن کثیر نے بسند صحیح حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے یہ ’’تاریخی
402
حقیقت‘‘ ان الفاظ میں نقل کی ہے:
’’لما أراد اللہ أن یرفع عیسیٰ الی السماء خرج الی أصحابہ وفی البیت اثنا عشر رجلًا من الحواریین فخرج علیھم من
عینٍ فی البیت ورأسہ یقطر مائً، فقال انّ منکم من یکفر بی اثنتی عشرۃ مرّۃ بعد أن آمن بی، ثم قال: أیّکم یلقی
علیہ شبھی فیقتل مکانی ویکون معی فی درجتی (وفی روایۃ: ویکون رفیقی فی الجنۃ) فقام شابّ من أحدثھم سنًا، فقال لہ:
اجلس، ثم أعاد علیھم، فقام الشابّ، فقال: اجلس، ثم أعاد فقام الشابّ، فقال: أنا، فقال: أنت ذاک۔ فألقی علیہ شبہ
عیسیٰ، ورفع عیسیٰ من روزنۃٍ فی البیت الی السماء، وجاء الطلب من الیہود، فأخذوا الشَبَہَ، فقتلوہ ثم صلبوہ۔‘‘
ترجمہ:۔۔۔’’جب اللہ تعالیٰ نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو (اپنے پیشگی وعدہ کے موافق) آسمان کی طرف
اٹھانے کا ارادہ کیا تو آپ اپنے شاگردوں کے پاس تشریف لائے، مکان میں بارہ حواری تھے، پس آپ ایک چشمے سے، جو مکان
میں تھا، غسل کرکے اس حالت میں ان کے پاس آئے کہ آپ کے سر مبارک سے پانی کے قطرے ٹپک رہے تھے، (حدیث میں آتا ہے
کہ جب قرب قیامت میں آسمان سے نازل ہوں گے تو اس وقت بھی یہی کیفیت ہوگی۔ مشکوٰۃ ص:۴۸۳) پس آپ نے فرمایا: تم میں
سے بعض مجھ پر ایمان لانے کے بعد میرے ساتھ بارہ مرتبہ کفر کریں گے۔ پھر فرمایا: تم میں سے کون (پسند کرتا) ہے کہ اس
پر میری شباہت ڈال دی جائے، پس اسے میرے بجائے قتل کردیا جائے اور وہ جنت میں
403
میرا رفیق ہو؟ یہ سن کر ان میں سب سے کم عمر نوجوان کھڑا ہوا، آپ نے اس سے فرمایا:
تم بیٹھ جاؤ، پھر آپ نے دوبارہ یہی بات دہرائی تو وہی نوجوان پھر کھڑا ہوگیا۔ آپ نے فرمایا: تم بیٹھ جاؤ،
تیسری بار پھر فرمایا۔ اب کے بھی اسی نوجوان نے سبقت کی، آپ نے فرمایا: ’’ہاں تم ہی وہ شخص ہو۔‘‘ پس اس نوجوان پر
حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی شباہت ڈال دی گئی۔ اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو مکان کے روشن دان سے آسمان کی طرف
اٹھالیا گیا۔ اور یہودیوں کی ایک جماعت تلاش کرتی ہوئی آئی، انہوں نے اس نوجوان کو جس پر حضرت عیسیٰ کی شباہت
ڈالی گئی تھی پکڑ کر قتل کردیا۔‘‘
یہ تو ہے مسلمانوں کی مسلّمہ تاریخی حقیقت ـــــ کیا اس کے مقابلہ میں مرزا طاہر احمد صاحب اس مضمون کی کوئی آیت،
کوئی حدیث، کسی صحابیؓ یا تابعیؒ کا ارشاد، کسی فقیہؒ ومحدثؒ کا قول پیش کرسکتے ہیں کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو
گرفتار کیا گیا، ان سے رسوا کن سلوک کیا گیا، ان کو سولی پر لٹکایا گیا اور بالآخر یہودیوں نے یہ سمجھ کر کہ اب یہ
مرچکا ہے ان کو صلیب پر سے اتار کر دفن کردیا۔ اگر مرزا طاہر احمد صاحب اس مزعومہ ’’تاریخی حقیقت‘‘ کو اسلامی لٹریچر
سے ثابت کردیتے تو ان کا اپنے دادا کی قبر پر بے حد احسان ہوتا، لیکن جب وہ یہ ثابت نہیں کرسکے اور نہ قیامت تک
کرسکتے ہیں تو انہیں اس یہودی مرزائی افسانہ کو ’’تاریخی حقیقت‘‘ کہتے ہوئے کچھ تو شرمانا چاہئے تھا۔
قادیانیت کی اسلام دشمنی:
میں نے لکھا تھا کہ یہود کی طرح قادیانیت بھی اسلام اور مسلمانوں کی بدترین دشمن ہے، اس کے لئے میں نے ’’الفضل‘‘
۳؍جنوری ۱۹۵۲ء کا حوالہ بایں الفاظ دیا تھا:
’’ہم فتح یاب ہوں گے، اور تم ضرور مجرموں کی طرح ہمارے سامنے پیش ہوگے، اس دن تمہارا حشر بھی وہی ہوگا جو فتح مکہ
404
کے دن ابوجہل اور اس کی پارٹی کا ہوا تھا۔‘‘
صاحبزادہ مرزا طاہر احمد صاحب کو شکایت ہے کہ میں نے بقول ان کے دیانتداری سے کام نہیں لیا۔ ’’الفضل‘‘ کا ’’اصل
اقتباس‘‘ نقل نہیں کیا، صرف اس کا خلاصہ نقل کردیا۔ اس کے بعد انہوں نے قارئین کی توجہ کے لئے ’’اصل اقتباس‘‘ نقل
کردیا ہے، جو حسب ذیل ہے:
’’یہ محض اکثریت میں ہونے کا نتیجہ ہے کہ ایسی باتیں کر رہے ہو، لیکن غور کرو کیا ابوجہل کی بھی یہی دلیل نہ تھی کہ
(محمد صلی اللہ علیہ وسلم) کو کوئی حق نہیں کہ وہ ہمارے ملک کی نناوے فیصد آبادی کے خیالات کے خلاف کوئی بات کہے۔
آخر آج جو دلیل تم دیتے ہو کیا وہی دلائل ابوجہل نہیں دیا کرتا تھا؟ تمہارے کہنے پر بے شک حکومت مجھے پکڑسکتی ہے،
قید کرسکتی ہے، مارسکتی ہے، لیکن میرے عقیدہ کو وہ دبا نہیں سکتی کہ میرا عقیدہ جیتنے والا عقیدہ ہے، وہ یقینا ایک
دن جیتے گا۔ (جی ہاں! نوے سال سے جیت ہی رہا ہے، اور ۷؍ستمبر ۱۹۷۴ء کو تو قومی اسمبلی میں بالکل ہی جیت گیا،
قادیانیوں کی اصطلاح میں ذلت اور رسوائی کا نام ہی جیت ہے، اور یہ ان کا ازلی مقدر ہے... ناقل) تب ایسا تکبر کرنے
والے لوگ پشیمان ہونے کی حالت میں آئیں گے اور انہیں کہا جائے گا، بتاؤ، تمہارا فتویٰ اب تم پر عائد کیا جائے۔ جب
محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مکہ فتح کیا اور اکثریت کا گھمنڈ کرنے والے لوگ آپؐ کے سامنے پیش ہوئے تو
آپؐ نے انہیں فرمایا اب تمہارے ساتھ کیا سلوک کیا جائے؟ آپؐ کا مقصد کہنے سے یہی تھا کہ وہ اپنی اکثریت کے زعم میں
جو کہا کرتے تھے وہ انہیں یاد دلایا جائے۔‘‘
صاحبزادہ صاحب کا نقل کردہ ’’اصل اقتباس‘‘ اور میرا پیش کردہ خلاصہ دونوں
405
قارئین کے سامنے ہیں، وہ خود فیصلہ کرسکتے ہیں کہ اس طویل اقتباس میں جو کچھ کہا گیا ہے، کیا میں نے دو
جملوں میں اسی مضمون کو بلاکم و کاست نقل نہیں کردیا؟ یعنی قادیانیت کو محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اور
مسلمانوں کو کفار مکہ کی حیثیت دینا۔ قادیانیت کا محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرح فتحیاب ہونا اور
مسلمانوں کا کفار مکہ کی طرح قادیانی دربار میں مجرموں کی طرح پیش ہونا ـــیہی نتیجہ میں نے اپنے رسالہ میں اخذ کیا
تھا کہ:
’’جس گروہ کے نزدیک تمام عالم اسلام ’’ابوجہل اور اس کی پارٹی‘‘ کی حیثیت رکھتا ہو، اور وہ اپنے آپ کو ’’محمد رسول
اللہ کا بروز‘‘ قرار دیتا ہو، اس کی عداوت مسلمانوں کے ایک ایک فرد سے کس قدر ہوسکتی ہے؟ اس کو سمجھنے کے لئے
غیرمعمولی فہم و ذکاوت کی ضرورت نہیں۔‘‘
(ربوہ سے تل ابیب تک ص:۵)
لطف یہ کہ یہی نتیجہ خود مرزا طاہر احمد صاحب نے اپنے نقل کردہ طویل اقتباس سے اخذ کیا ہے، چنانچہ وہ لکھتے ہیں:
’’جماعت احمدیہ کی مثال حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے متبعین کی اس حالت سے دی گئی ہے۔ جب کہ آپ
کمزور تھے اور دشمن بھاری اکثریت میں تھے، اس کے باوجود چونکہ مسلمانوں کا عقیدہ جیتنے والا عقیدہ تھا (اسے کہتے
ہیں: ’’حق بر زباں شود جاری‘‘ صاحبزادہ صاحب! اطمینان رکھئے اب بھی اِن شاء اللہ مسلمانوں کا عقیدہ ہی جیتنے والا
ہے، اور قیامت تک رہے گا۔ اسلام کے مقابلہ میں قادیانیت کے یہودیانہ عقائد کو اِن شاء اللہ شکست پر شکست ہی ہوگی۔
ناقل) اس لئے اللہ تعالیٰ نے آپ کی قلت کو کثرت میں بدل دیا، اور آپؐ کے نظریہ کو مخالفین پر غالب کردیا۔‘‘
(ربوہ سے تل ابیب تک پر مختصر تبصرہ ص:۴۱)
قادیانی لیڈر خود کو محمد رسول اللہ بتائیں، دنیا بھر کے مسلمانوں کو ’’کفار مکہ‘‘
406
ٹھہرائیں، اور انہیں قادیانی شہنشاہیت کے دربار معلی میں پابجولاں پیش ہونے کی دھمکی دیں یہ تو ’’بددیانتی‘‘
نہیں، اور اگر مسلمان اس گیدڑ بھبکی پر ذرا بھی شکایت کریں تو یہ صاحبزادہ صاحب کے نزدیک ’’بددیانتی‘‘ ہے۔ چہ خوب!
خرد کا نام جنون اور جنون کا خرد رکھنے کی کیسی اچھی مثال ہے؟
قادیانی رحم و بخشش:
جناب مرزا طاہر احمد صاحب نے اس بحث کے ضمن میں یہ لطیف نکتہ بھی ارشاد فرمایا ہے کہ جس طرح آنحضرت صلی اللہ علیہ
وسلم نے فتح مکہ کے دن ’’لَا تثریب علیکم الیوم‘‘ کہہ کر بخشش عام کا اعلان فرمادیا تھا،
اسی طرح قادیانیوں کو جب ’’فتح مکہ‘‘ نصیب ہوگی تو وہ بھی اس سنت نبویؐ کا مظاہر کریں گے، وہ لکھتے ہیں:
’’جب احمدی اپنے لئے ’’فتح مکہ‘‘ کی مثال اور حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کا اسوہ اختیار کرتے ہیں تو اس سے
اپنے دشمنوں کے لئے ان کی ہمدردی ثابت ہوتی ہے نہ کہ عداوت، عفو ثابت ہوتا ہے نہ کہ انتقام، محبت ثابت ہوتی ہے نہ کہ
نفرت۔‘‘
(ربوہ سے تل ابیب تک پر مختصر تبصرہ ص:۴۲)
میں جناب صاحبزادہ صاحب کا ممنون ہوں کہ وہ تمام عالم اسلام کو کفار مکہ کہہ کر بھی ان سے عداوت و نفرت اور انتقام
کے بجائے محبت و ہمدردی اور عفو و درگزر کی پیش کش کرتے ہیں۔ مگر مجھے افسوس ہے کہ قادیانیت کی تاریخ ان کے اس دعویٰ
کو جھٹلاتی ہے۔ آج تک قادیانیت کا کردار یہ رہا ہے کہ وہ اپنے دشمنوں کے حق میں سراپا انتقام، سراپا نفرت اور سراپا
عداوت رہی ہے۔ قادیانی ذہنیت، مرزا محمود احمد صاحب کے مندرجہ ذیل الفاظ سے عریاں ہوکر سامنے آجاتی ہے:
’’اب زمانہ بدل گیا ہے، دیکھو! پہلے جو مسیح آیا تھا اسے دشمنوں نے صلیب پر چڑھایا، (میں اوپر بتاچکا ہوں کہ مسیح
علیہ السلام
407
کا صلیب پر لٹکایا جانا یہودی، قادیانی گپ ہے۔ ناقل) مگر اب مسیح (یعنی مرزا آنجہانی) اس لئے آیا کہ اپنے
مخالفین کو موت کے گھاٹ اتار دے۔‘‘
(الفضل ۶؍اگست ۱۹۳۷ء)
دوسری جگہ اپنے مریدوں کو ’’رحم و کرم‘‘ پر اکساتے ہوئے مرزا محمود صاحب انہیں بایں الفاظ غیرت دلاتے ہیں:
’’اگر تم میں رائی کے دانہ کے برابر بھی حیا ہے اور تمہارا سچ مچ یہ عقیدہ ہے کہ ’’دشمن کو سزا‘‘ دینی چاہئے، تو
پھر یا تم دنیا سے مٹ جاؤ یا گالیاں دینے والوں کو مٹا ڈالو۔۔۔۔۔۔، اگر کوئی انسان سمجھتا ہے کہ اس میں ’’مارنے کی
طاقت‘‘ ہے تو میں اسے کہوں گا کہ اے بے شرم! تو آگے کیوں نہیں جاتا اور اس منہ کو کیوں توڑ نہیں دیتا۔‘‘
(الفضل ص:۶ مؤرخہ ۵؍جون ۱۹۳۷ء)
یہ ہے مرزا طاہر احمد اور ان کے باپ دادا کا جذبۂ عفو و درگزر۔ وہ تو خیر ہوئی کہ ’’خدا گنجے کو ناخن نہ دے‘‘ کے
مطابق قادیانی لیڈروں کو کبھی لیلائے اقتدار سے ہم آغوشی نصیب نہ ہوئی بلکہ یہودیوں کی طرح ہمیشہ محکوم و مجبور،
مطرود و مقہور اور ذلیل و رسوا ہی رہا کئے، ورنہ خدا جانے دشمن کو کس کس طرح کی سزائیں دی جاتیں اور مخالفین کو کس
کس طرح موت کے گھاٹ اتارا جاتا۔ تاہم مرزائی خانوادہ کو اپنی جماعت میں پورا اقتدار حاصل رہا اسی کے نشہ میں بدمست
ہوکر اپنے مخلص ساتھیوں کو جس ظلم و ستم اور بہیمیت و بربریت کا نشانہ انہوں نے بنایا اس سے ہٹلر اور اسٹالن کی روح
بھی کانپ اٹھی ہوگی، مثلاً:
✨: ... ’’فخرالدین ملتانی کو دن دہاڑے بھرے بازار میں قتل کیا گیا، اور قادیاں کی ’’شریف بستی‘‘ میں ایک شخص بھی اس
کے قتل کی شہادت دینے کے لئے آگے نہ بڑھا۔ یہ وہی فخرالدین ہے جس نے سالہا سال اپنے خون پسینہ سے قادیانیت کے شجرۂ
خبیثہ کی آبیاری کی تھی، اور مرتے وقت بھی قادیانیت پر مرنے کا اعلان کر رہا تھا، اسے اس درندگی کا نشانہ محض اس
لئے بنایا گیا کہ اسے بدقسمتی سے قادیان کے شاہی خانوادہ کے راز ہائے
408
دروں پردہ کا علم ہوگیا تھا۔‘‘
✨: ... ’’اسی نوعیت کا سلوک محمد امین پٹھان سے کیا گیا، اور اس کے قاتل کو پھانسی کی سزا ہوئی تو قومی ہیرو کی
حیثیت سے اس کی لاش کا اعزاز و اکرام کیا گیا۔‘‘
✨: ... ’’مولوی عبدالکریم مباہلہ پر قاتلانہ حملہ کیا گیا، جس کے نتیجہ میں اس کا رفیق، محمد حسین ہلاک ہوا۔‘‘
✨: ... ’’مولوی عبدالکریم کا مکان جلایا اور ڈھایا گیا، مباہلہ مرحوم کو قادیان بدر ہونے پر مجبور کیا گیا۔ اس کا
جرم یہ تھا کہ اس نے اپنی بہن کی حمایت میں قادیانی خلیفہ کو مباہلہ کی دعوت دی تھی۔‘‘
✨: ... ’’فخرالدین ملتانی، عبدالرحمن مصری، عبدالکریم مباہلہ، عبدالمنان عمر اور دیگر بے شمار افراد کا سماجی
بائیکاٹ کیا گیا، کیونکہ اپنی دست درازیوں پر پردہ ڈالنے کے لئے خلافت قادیان نے ان پر ’’منافق‘‘ کا فتویٰ صادر کیا
تھا۔‘‘
✨: ... ’’مرزا آنجہانی کے مخلص رفیق مسٹر محمد علی کی بیوی پر جاسوسی کا الزام لگایا گیا۔‘‘
✨: ... ’’عبدالمنان عمر کی بیوی کو اسپرین کی جگہ چوہے مار گولیاں سپلائی کی گئیں۔‘‘
✨: ... ’’لاہوری جماعت کو دوزخ کی چلتی پھرتی آگ، دنیا کی بدترین قوم اور سنڈاس میں پڑے ہوئے چھلکے کا خطاب دیا
گیا۔‘‘
میں نے صاحبزادہ طاہر احمد صاحب کی چشم عبرت کے لئے چند اشارے کئے ہیں جن کے عینی شاہد آج بھی زندہ ہیں، ورنہ مرزا
طاہر احمد صاحب کے خاندان کے رحم وکرم اور عفو و درگزر کی اتنی طویل داستان ریکارڈ پر موجود ہے کہ اس کے لئے ایک
ضخیم دفتر بھی ناکافی ہے۔
مسٹر جی ڈی کھوسلہ سیشن جج گورداسپور کے مندرجہ ذیل الفاظ قادیانی ’’عفو ودرگزر‘‘ پر بلیغ تبصرہ کی حیثیت رکھتے
ہیں:
’’مرزائی طاقت اتنی بڑھ گئی تھی کہ کوئی سامنے آکر سچ بولنے کے لئے تیار نہ تھا۔ ہمارے سامنے عبدالکریم کے مکان کا
409
واقعہ بھی ہے۔ عبدالکریم کو قادیان سے نکالنے کے بعد اس کا مکان جلادیا گیا، قادیانی سمال ٹاؤن کمیٹی سے
حکم حاصل کرکے نیم قانونی طریقے سے اسے گرانے کی کوشش بھی کی گئی، یہ افسوس ناک واقعات ظاہر کرتے ہیں کہ قادیان میں
طوائف الملوکی (ریاست دَر ریاست) تھی، جس میں آتش زنی اور قتل تک ہوتے تھے۔ مقامی افسروں کے پاس کئی مرتبہ شکایات
کی گئیں، لیکن کوئی انسداد نہ ہوا۔۔۔۔... قادیان میں ظلم و جور جاری ہونے کے متعلق غیرمشتبہ الزام عائد کئے گئے،
لیکن معلوم ہوتا ہے کہ ان کی طرف مطلق توجہ نہ دی گئی۔۔۔... مرزا نے مسلمانوں کو کافر، سور اور ان کی عورتوں کو
کتیوں کا خطاب دے کر ان کے جذبات کو مشتعل کردیا تھا۔‘‘
صاحبزادہ صاحب! ’’لَا تثریب علیکم الیوم‘‘ کہہ کر عفو و درگزر کا اعلان کرنا سنتِ
یوسفیؑ ہے، یہ جھوٹے نبی کے چیلوں اور قادیان کے مدعی کاذب کا کام نہیں، بقول سعدی:
شنیدم کہ مردان راہ خدا
دل دشمناں ہم نہ کردند تنگ
ترا کے میسر شود ایں مقام
کہ بادوستانت خلاف است و جنگ
قادیانیت کا روحانی چارج:
میں نے لکھا تھا کہ یہودی بھی ساری دنیا پر حکمرانی کے خواب دیکھتے ہیں اور قادیانی بھی، قادیانیوں کی حکمرانی کے
لئے بے تابی پر میں نے چار حوالے پیش کئے تھے، اول مرزا بشیر الدین کا یہ اعلان کہ:
’’پس نہیں معلوم ہمیں کب خدا کی طرف سے دنیا کا چارج سپرد کردیا جاتا ہے، ہمیں اپنی طرف سے تیار رہنا چاہئے۔‘‘
(الفضل ۲۷؍فروری ۱۹۲۲ء بحوالہ قادیانی مذہب ص:۱۳۶ تمہید پنجم طبع پنجم)
410
صاحبزاہ صاحب اس کی یہ تاویل کرتے ہیں کہ اس سے مراد حکمرانی نہیں بلکہ روحانی ذمہ داری ہے۔ (ربوہ سے تل ابیب تک پر
مختصر تبصرہ ص:۴۴) ان کی یہ تاویل قادیانی تاویلات کا ایسا عمدہ نمونہ ہے جس سے جناب مرزا صاحب کی روح بھی عش عش کر
اٹھی ہوگی۔ مگر افسوس! انہیں یاد نہیں رہا کہ روحانی چارج، تو ان کے خاندان کو اسی دن الاٹ کیا جاچکا تھا جب ان کے
دادا نے چودھویں صدی کے محمد رسول اللہ کی حیثیت سے ساری دنیا کو اپنی رسالت و نبوّت پر ایمان لانے کی دعوت دی تھی،
اور جب بیک جنبش قلم ساری اُمت کو کافر اور دائرۂ اسلام سے خارج قرار دیا گیا تھا، اب یہ نیا روحانی چارج، کون سا
ہے، جس کا ان کے سپرد کیا جانا ابھی باقی ہے۔
اور پھر قادیانی لیڈر جس بلند پایہ روحانیت سے سرفراز تھے اس کی حقیقت چند تعلّی آمیز دعوؤں کے سوا کچھ نہیں، نہ
عبادت الٰہی کی توفیق، نہ ڈھنگ سے نماز روزہ کی، نہ حج و زکوٰۃ کی، نہ مالِ حرام سے پرہیز کی، نہ غیرمحرموں سے
اجتناب کی۔۔۔! جناب مرزا طاہر احمد صاحب ہی اس روحانی چارج پر فخر کرسکتے ہیں، مسلمانوں کو اس سے پناہ مانگنی چاہئے،
لیجئے قادیانی لٹریچر سے اس روحانی چارج کی چند جھلکیاں ملاحظہ فرمائیے:
عبادتِ اِلٰہی:
’’مولوی رحیم بخش صاحب ساکن تلونڈی ضلع گورداسپور نے بذریعہ تحریر مجھ سے بیان کیا کہ جب حضرت مسیح موعود علیہ
السلام (مرزا غلام احمد صاحب) امرتسر، براہین احمدیہ کی طباعت دیکھنے کے لئے تشریف لے گئے تو کتاب کی طباعت کے
دیکھنے کے بعد مجھے فرمایا میاں رحیم بخش چلو سیر کر آئیں۔ جب آپ باغ کی سیر کر رہے تھے تو خاکسار نے عرض کیا کہ
حضرت آپ سیر کرتے ہیں، ولی لوگ تو سنا ہے کہ شب و روز عبادتِ اِلٰہی کرتے رہتے ہیں، آپ نے فرمایا ولی اللہ دو طرح
کے ہوتے ہیں۔ ایک مجاہدہ کش جیسے حضرت
411
باوا فرید گنج شکر اور دوسرے محدث جیسے ابوالحسن خرقانی، محمد اکرم ملتانی، مجدد الف ثانی وغیرہ، یہ دوسری
قسم کے ولی بڑے مرتبہ کے ہوتے ہیں، اللہ تعالیٰ ان سے بہ کثرت کلام کرتا ہے، میں بھی ان میں سے ہوں (گویا عبادت کے
بجائے صرف مہیب دعوے کافی ہیں۔۔۔ناقل) اور آپ کا اس وقت محدثیت کا دعویٰ تھا (جو بعد میں ترقی کرکے مسیحیت، نبوّت،
اور خدائی بروز تک جا پہنچا۔۔۔ناقل)۔‘‘
(سیرۃ المہدی ج:۳ ص:۲۱۴)
تصنیف اور نماز:
ڈاکٹر میر محمد اسمٰعیل صاحب نے مجھ سے بذریعہ تحریر بیان کیا کہ سیرۃ المہدی کی روایت ۴۶۷ میں سنین کے لحاظ سے جو
واقعات درج ہیں ان میں سے بعض میں مجھے اختلاف ہے جو درج ذیل ہے۔۔۔... (۱۳) آپ نے ۱۹۰۱ء میں ۲ ماہ تک مسلسل نمازیں
جمع کرنے کا ذکر نہیں کیا۔ خاکسار عرض کرتا ہے کہ یہ بھی درست ہے کہ ایک لمبے عرصہ تک نمازیں جمع ہوئی تھیں (کیونکہ
مرزا صاحب ان دنوں ایک کتاب کی تصنیف میں مشغول تھے اس لئے ظہر و عصر اکٹھی پڑھ لیتے تھے تاکہ وقت ضائع نہ
ہو۔۔۔ناقل)۔‘‘
(سیرۃ المہدی ج:۳ ص:۱۹۹، ۲۰۲)
مسنون وضع:
’’نماز تکلیف سے بیٹھ کر پڑھی جاتی ہے، بعض وقت درمیان میں توڑنی پڑتی ہے اکثر بیٹھے بیٹھے رینگن ہوجاتی ہے اور
زمین پر قدم اچھی طرح نہیں جمتا قریب چھ سات ماہ یا زیادہ عرصہ گزر گیا ہے کہ نماز کھڑے ہوکر نہیں پڑھی جاتی اور نہ
بیٹھ کر اس وضع
412
پر پڑھی جاتی ہے جو مسنون ہے اور قرأت میں شاید قل ھو اللہ بمشکل پڑھ سکوں کیونکہ ساتھ ہی توجہ کرنے سے
تحریک بخارات کی ہوتی ہے۔‘‘
(مکتوبات احمدیہ ج:۵ نمبر:۲ ص:۸۸)
مشہور فقہی مسئلہ:
’’ڈاکٹر میر محمد اسمٰعیل صاحب نے مجھ سے بیان کیا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو میں نے بارہا دیکھا کہ گھر
میں نماز پڑھاتے تو حضرت ام المؤمنین کو اپنے دائیں جانب بطور مقتدی کے کھڑا کرلیتے، حالانکہ مشہور فقہی مسئلہ یہ
ہے کہ خواہ عورت اکیلی ہی مقتدی ہو تب بھی اسے مرد کے ساتھ نہیں بلکہ الگ پیچھے کھڑا ہونا چاہئے، ہاں اکیلا مرد
مقتدی ہو تو اسے امام کے ساتھ دائیں طرف کھڑا ہونا چاہئے، میں نے حضرت ام المؤمنین سے پوچھا تو انہوں نے بھی اس بات
کی تصدیق کی مگر ساتھ ہی یہ بھی کہا کہ حضرت صاحب نے مجھ سے یہ بھی فرمایا تھا کہ مجھے بعض اوقات کھڑے ہو کر چکر
آجایا کرتا ہے، اس لئے تم میرے پاس کھڑے ہو کر نماز پڑھ لیا کرو۔‘‘
(سیرۃ المہدی ج:۳ ص:۱۳۱)
منہ میں پان:
’’ڈاکٹر میر محمد اسمٰعیل صاحب نے مجھ سے بیان کیا کہ ایک دفعہ حضرت صاحب کو سخت کھانسی ہوئی ایسی کہ دم نہ آتا
تھا البتہ منہ میں پان رکھ کر قدرے آرام معلوم ہوتا تھا اس وقت آپ نے اس حالت میں پان منہ میں رکھے رکھے نماز
پڑھی، تاکہ آرام سے پڑھ سکیں۔‘‘
(سیرۃ المہدی ج:۳ ص:۱۰۳)
413
امامت کا شرف:
’’ڈاکٹر میر محمد اسمٰعیل نے مجھ سے بیان کیا کہ ایک دفعہ کسی وجہ سے مولوی عبدالکریم صاحب مرحوم نماز نہ پڑھاسکے۔
حضرت خلیفۃ المسیح اول (حکیم نوردین صاحب) بھی موجود نہ تھے تو حضرت صاحب نے حکیم فضل الدین صاحب مرحوم کو نماز
پڑھانے کے لئے ارشاد فرمایا۔ انہوں نے عرض کیا کہ حضور تو جانتے ہیں کہ مجھے بواسیر کا مرض ہے اور ہر وقت ریح خارج
ہوتی رہتی ہے۔ میں نماز کس طرح سے پڑھاؤں، حضور نے فرمایا۔ حکیم صاحب آپ کی اپنی نماز باوجود اس تکلیف کے ہوجاتی
ہے یا نہیں؟ انہوں نے عرض کیا۔ ہاں حضور! فرمایا کہ پھر ہماری بھی ہوجائے گی، آپ پڑھائیے۔
خاکسار عرض کرتا ہے کہ بیماری کی وجہ سے اخراج ریح جو کثرت کے ساتھ جاری رہتا ہو نواقض وضو میں نہیں سمجھا جاتا۔‘‘
(سیرۃ المہدی ج:۳ ص:۱۱۱)
رکوع کے بعد:
’’ڈاکٹر میر محمد اسمٰعیل صاحب نے مجھ سے بیان کیا کہ ایک دفعہ گرمیوں میں مسجد مبارک میں مغرب کی نماز پیر سراج
الحق صاحب نے پڑھائی حضور علیہ السلام (مرزا صاحب) بھی اس نماز میں شامل تھے تیسری رکعت میں رکوع کے بعد انہوں نے
بجائے مشہور دعاؤں کے حضور کی ایک فارسی نظم پڑھی جس کا یہ مصرعہ ہے: ’’اے خدا اے چارہ آزارما۔‘‘
خاکسار عرض کرتا ہے کہ یہ فارسی نظم نہایت اعلیٰ درجہ کی مناجات ہے جو روحانیت سے پر ہے مگر معروف مسئلہ یہ ہے کہ
نماز
414
میں صرف مسنون دعائیں بالجہر پڑھنی چاہئیں۔‘‘
(سیرۃ المہدی ج:۳ ص:۱۳۸)
مسئلہ وغیرہ کچھ نہیں:
’’ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ مولوی عبدالکریم صاحب نماز پڑھا رہے تھے وہ جب تیسری رکعت کے لئے قعدہ سے اٹھے تو حضرت
صاحب کو پتہ نہ لگا، حضور التحیات میں ہی بیٹھے رہے (شاید قبر مسیح کی تلاش میں کشمیر پہنچے ہوئے ہوں گے۔۔۔ناقل) جب
مولوی صاحب نے رکوع کے لئے تکبیر کہی تو حضور کو پتہ لگا، اور حضور اٹھ کر رکوع میں شریک ہوئے، نماز سے فارغ ہونے کے
بعد حضور نے مولوی نوردین صاحب اور مولوی محمد احسن صاحب کو بلوایا اور مسئلہ کی صورت پیش کی اور فرمایا کہ میں بغیر
فاتحہ پڑھے رکوع میں شامل ہوا ہوں اس کے متعلق شریعت کا کیا حکم ہے؟ مولوی محمد احسن صاحب نے مختلف شقیں بیان کیں کہ
یوں بھی آیا ہے اور یوں بھی ہوسکتا ہے کوئی فیصلہ کن بات نہ بتائی (بتاتے بھی کیسے؟ معاملہ خود ’’حضور‘‘ کا تھا۔
ناقل) مولوی عبدالکریم صاحب مرحوم کے آخری ایام بالکل عاشقانہ رنگ پکڑ گئے تھے وہ فرمانے لگے مسئلہ وغیرہ کچھ نہیں
جو حضور نے کیا بس وہی درست ہے۔‘‘
(تقریر مفتی محمد صادق صاحب قادیانی مندرجہ اخبار ’’الفضل‘‘ قادیان جلد:۱۲ نمبر:۷۷ مؤرخہ ۱۷؍جنوری
۱۹۲۵ء)
طہارت:
’’ڈاکٹر میر محمد اسمٰعیل صاحب نے مجھ سے بیان کیا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام (مرزا غلام احمد) صاحب پیشاب
کرکے ہمیشہ پانی سے طہارت فرمایا کرتے تھے، میں نے کبھی
415
ڈھیلہ کرتے نہیں دیکھا۔‘‘
(سیرۃ المہدی ج:۳ ص:۲۴۳)
ڈھیلے جیب میں:
’’آپ کو (یعنی مرزا صاحب کو) شیرینی سے بہت پیار ہے، اور مرض البول بھی عرصہ سے آپ کو لگی ہوئی ہے، اس زمانہ میں
آپ مٹی کے ڈھیلے بعض وقت جیب میں ہی رکھتے تھے اور اسی جیب میں گڑ کے ڈھیلے بھی رکھ لیا کرتے تھے۔‘‘
(مرزا صاحب کے حالات مرتبہ معراج الدین عمر قادیانی مشمولہ براہین احمدیہ ج:۱ س:۶۷)
تیز گرم پانی:
’’میرے گھر سے یعنی والدہ عزیز مظفر احمد نے مجھ سے بیان کیا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام عموماً گرم پانی سے
طہارت فرمایا کرتے تھے اور ٹھنڈے پانی کو استعمال نہ کرتے تھے۔ ایک دن آپ نے کسی خادمہ سے فرمایا کہ آپ کے لئے
پاخانہ میں لوٹا رکھ دے، اس نے غلطی سے تیز گرم پانی کا لوٹا رکھ دیا، جب حضرت مسیح موعود علیہ السلام فارغ ہوکر
باہر تشریف لائے تو دریافت فرمایا کہ لوٹا کس نے رکھا تھا جب بتایا گیا کہ فلاں خادمہ نے رکھا تھا۔ (جس کو آپ نے
خود حکم فرمایا تھا۔۔۔ناقل) تو آپ نے اسے بلوایا اور اسے اپنا ہاتھ آگے کرنے کو کہا اور پھر اس کے ہاتھ پر آپ نے
اس لوٹے کا بچا ہوا پانی بہادیا تاکہ اسے احساس ہو کہ یہ پانی اتنا گرم ہے کہ طہارت میں استعمال نہیں ہوسکتا۔‘‘
(سیرۃ المہدی ج:۳ ص:۲۴۳)
حفظ قرآن:
’’ڈاکٹر میر محمد اسمٰعیل صاحب نے مجھ سے بیان کیا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام (غلام احمد صاحب) کو قرآن مجید
کے
416
بڑے بڑے مسلسل حصے یا بڑی بڑی سورتیں یاد نہ تھیں۔ بے شک آپ قرآن کے جملہ مطالب پر حاوی تھے، مگر حفظ کے
رنگ میں قرآن شریف کا اکثر حصہ یاد نہ تھا، ہاں کثرت مطالعہ اور کثرت تدبر سے یہ حالت ہوگئی تھی کہ جب کوئی مضمون
نکالنا ہوتا تو خود بتاکر حفاظ سے پوچھا کرتے تھے کہ اس معنی کی آیت کون سی ہے یا آیت کا ایک ٹکڑا پڑھ دیتے یا
فرماتے کہ جس آیت میں یہ لفظ آتا ہے وہ آیت کون سی ہے (باوجود اس کے قرآن کی آیتیں اکثر غلط نقل کرتے
تھے۔۔۔ناقل)۔‘‘
(سیرۃ المہدی ج:۳ ص:۴۴ روایت نمبر:۵۵۱)
رمضان کے روزے:
’’بیان کیا مجھ سے حضرت والدہ صاحبہ نے کہ جب حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو دورے پڑنے شروع ہوئے تو آپ نے اس سال
سارے رمضان کے روزے نہیں رکھے اور فدیہ ادا کردیا۔ دوسرا رمضان آیا تو آپ نے روزے رکھنے شروع کئے مگر آٹھ نو روزے
رکھے تھے کہ پھر دورہ ہوا۔ اس لئے باقی چھوڑ دئیے، اور فدیہ ادا کردیا اس کے بعد جو رمضان آیا تو اس میں آپ نے دس
گیارہ روزے رکھے تھے کہ پھر دورہ کی وجہ سے روزے ترک کرنے پڑے اور آپ نے فدیہ ادا کردیا اس کے بعد جو رمضان آیا تو
آپ کا تیرھواں روزہ تھا کہ مغرب کے قریب آپ کو دورہ پڑا اور آپ نے روزہ توڑ دیا اور باقی روزے نہیں رکھے اور فدیہ
ادا کردیا اس کے بعد جتنے رمضان آئے آپ نے سب روزے رکھے مگر پھر وفات سے دو تین سال قبل کمزوری کی وجہ سے روزے
نہیں رکھ سکے اور فدیہ ادا فرماتے رہے خاکسار نے دریافت کیا کہ جب آپ نے ابتدائً
417
دوروں کے زمانہ میں روزے چھوڑے تو کیا پھر بعد میں ان کو قضا کیا؟ والدہ صاحبہ نے فرمایا کہ نہیں! صرف فدیہ
ادا کردیا تھا۔ خاکسار عرض کرتا ہے کہ جب شروع شروع میں حضرت مسیح موعود کو دوران سر اور برد اطراف کے دورے پڑنے
شروع ہوئے تو اس زمانہ میں آپ بہت کمزور ہوگئے تھے اور صحت خراب رہتی تھی (خصوصاً رمضان میں۔۔۔ناقل)۔‘‘
(سیرۃ المہدی ج:۱ روایت نمبر:۸۱ص:۶۵،۶۶ طبع دوم)
’’ڈاکٹر میر محمد اسمٰعیل صاحب نے مجھ سے بیان کیا کہ ایک دفعہ لدھیانہ میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام (مرزا
قادیانی) نے رمضان کا روزہ رکھا ہوا تھا کہ دل گھٹنے کا دورہ ہوا اور ہاتھ پاؤں ٹھنڈے ہوگئے اس وقت غروب آفتاب کا
وقت بہت قریب تھا۔ مگر آپ نے فوراً روزہ توڑ دیا (اور توڑے ہوئے روزے کی قضا کا معمول تو تھا ہی نہیں۔۔۔ناقل)۔‘‘
(سیرۃ المہدی ج:۳ ص:۱۳۱)
اِعتکاف:
’’ڈاکٹر میر محمد اسمٰعیل صاحب نے مجھ سے بیان کیا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے حج نہیں کیا، اعتکاف نہیں
کیا، زکوٰۃ نہیں دی، تسبیح نہیں رکھی، میرے سامنے ضب یعنی گوہ کھانے سے انکار کیا... خاکسار عرض کرتا ہے کہ ...
اعتکاف ماموریت کے زمانہ سے قبل غالباً بیٹھے ہوں گے، مگر ماموریت کے بعد بوجہ قلمی جہاد اور دیگر مصروفیات کے نہیں
بیٹھ سکے کیونکہ یہ نیکیاں اعتکاف سے مقدم ہیں (مگر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے تو کبھی اعتکاف ترک نہیں
فرمایا۔۔۔ناقل)۔‘‘
(سیرۃ المہدی ج:۳ س:۱۱۹)
418
زکوٰۃ:
’’اور زکوٰۃ اس لئے نہیں دی کہ آپ کبھی صاحب نصاب نہیں ہوئے (گویا ساری عمر فقیر رہے، مگر لقب تھا رئیس قادیان،
اور ٹھاٹھ شاہانہ۔۔۔ناقل)۔‘‘
(سیرۃ المہدی ج:۳ ص:۱۱۹)
حج:
’’مولوی محمد حسین بٹالوی کا خط حضرت مسیح موعود (مرزا صاحب) کی خدمت میں سنایا گیا جس میں اس نے اعتراض کیا تھا کہ
آپ حج کیوں نہیں کرتے؟ اس کے جواب میں حضرت مسیح موعود نے فرمایا کہ: میرا پہلا کام خنزیروں کا قتل اور صلیب کی
شکست ہے، ابھی تو میں خنزیروں کو قتل کر رہا ہوں، بہت سے خنزیر مر چکے ہیں اور بہت سخت جان ابھی باقی ہیں ان سے فرصت
اور فراغت ہولے (افسوس ہو کہ مرزا صاحب کو مدۃ العمر خنزیروں کے شکار سے فرصت نہ مل سکی، ان کے خنزیر مرے نہ انہیں
حج کی توفیق ہوئی۔۔۔ناقل)۔‘‘
(ملفوظات احمدیہ ج:۵ ص:۲۶۳،۲۶۴مرتبہ محمد منظور الٰہی قادیانی)
جب کہ وہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے قتل خنزیر کے عمل کی نہایت بھونڈے انداز میں یوں پھبتی اڑاتے ہیں:
’’میاں امام دین صاحب سیکھوانی نے مجھ سے بیان کیا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام اکثر ذکر فرمایا کرتے تھے کہ
بقول ہمارے مخالفین کے جب مسیح آئے گا اور لوگ اس کو ملنے کے لئے اس کے گھر پر جائیں گے تو گھر والے کہیں گے کہ
مسیح صاحب باہر جنگل میں سور مارنے کے لئے گئے ہوئے ہیں۔ پھر وہ لوگ حیران ہوکر کہیں گے کہ یہ کیسا مسیح ہے کہ لوگوں
کی ہدایت کے لئے آیا ہے
419
اور باہر سوروں کا شکار کھیلتا پھرتا ہے، پھر فرماتے تھے کہ ایسے شخص کی آمد سے تو ساہنسیوں اور گنڈیلوں کو
خوشی ہوسکتی ہے جو اس قسم کا کام کرتے ہیں، مسلمانوں کو کیسے خوشی ہوسکتی ہے یہ الفاظ بیان کرکے آپ بہت ہنستے تھے
یہاں تک کہ اکثر اوقات آپ کی آنکھوں میں پانی آجاتا تھا۔‘‘
(سیرۃ المہدی ج:۳ ص:۲۹۱،۲۹۲)
’’خاکسار عرض کرتا ہے کہ حج نہ کرنے کی تو خاص وجوہات تھیں کہ شروع میں تو آپ کے لئے مالی لحاظ سے انتظام نہیں
تھا۔ کیونکہ ساری جائداد وغیرہ اوائل میں ہمارے دادا صاحب کے ہاتھ میں تھی، اور بعد میں تایا صاحب کا انتظام رہا اور
اس کے بعد حالات ایسے پیدا ہوگئے کہ ایک تو آپ جہاد کے کام میں منہمک رہے (غالباً جہاد منسوخ کرنے کے کام
میں۔۔۔ناقل) دوسرے آپ کے لئے حج کا راستہ بھی مخدوش تھا۔ تاہم آپ کی خواہش رہتی تھی کہ حج کریں (تیسرے، حکمت
الٰہیہ کہ آپ کو حج کی توفیق سے محروم رکھنا چاہتی تھی تاکہ مسیح کی ایک علامت بھی آپ پر صادق نہ آئے اور ہر عام
و خاص کو معلوم ہوجائے کہ ان کا دعویٔ مسیحیت غلط ہے۔ ناقل)۔‘‘
(سیرۃ المہدی ج:۳ ص:۱۱۹)
’’حضرت مرزا صاحب پر حج فرض نہیں تھا کیونکہ آپ کی صحت درست نہ تھی ہمیشہ بیمار رہتے تھے (اور یہ قدرت کی جانب سے
آپ کو حج سے روکنے کی پہلی تدبیر تھی۔۔۔ناقل) حجاز کا حاکم آپ کا مخالف تھا، کیونکہ ہندوستان کے مولویوں نے مکہ
معظمہ سے حضرت مرزا صاحب کے واجب القتل ہونے کے فتاویٰ منگائے تھے، اس لئے حکومت حجاز آپ کی مخالف ہوچکی تھی (اور
یہ قدرت کی جانب سے دوسری تدبیر تھی۔۔۔ناقل) وہاں جانے پر آپ کو جان کا خطرہ تھا
420
(دجال بھی اسی خطرہ سے مکہ مکرمہ نہیں جاسکے گا۔۔۔ناقل) لہٰذا آپ نے قرآن شریف کے اس حکم پر عمل کیا کہ
اپنی جان کو جان بوجھ کر ہلاکت میں مت پھنساؤ مختصر یہ کہ حج کی مقررہ شرائط آپ میں نہیں پائی گئیں اس لئے آپ پر
حج فرض نہیں ہوا (اور خلاصہ یہ کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو حج کی توفیق ہی نہ دی۔۔۔ناقل)۔‘‘
(اخبار الفضل قادیان جلد:۱۷ نمبر:۲۱ ص:۷ مؤرخہ ۱۰؍ستمبر ۱۹۲۹ء)
چھٹا سوال و جواب:
’’سوال ششم:۔۔۔(از محمد حسین صاحب قادیانی) حضرت اقدس (مرزا غلام احمد قادیانی) غیرعورتوں سے ہاتھ پاؤں کیوں
دبواتے ہیں؟
جواب:۔۔۔(از حکیم فضل دین قادیانی) وہ نبی معصوم ہیں، ان سے مس کرنا اور اختلاط منع نہیں بلکہ موجب رحمت و برکات
ہے۔‘‘
(الحکم جلد:۱۱ نمبر:۱۳ ص:۱۳مؤرخہ ۱۷؍اپریل ۱۹۰۷ء)
جمالیاتی حس:
’’ڈاکٹر میر محمد اسمٰعیل صاحب نے مجھ سے بیان کیا کہ مولوی محمد علی صاحب ایم اے لاہور کی پہلی شادی حضرت مسیح
موعود علیہ السلام (مرزا غلام احمد صاحب) نے گورداسپور میں کرائی تھی جب رشتہ ہونے لگا تو لڑکی کو دیکھنے کے لئے
حضور نے ایک عورت کو گورداسپور بھیجا تاکہ وہ آکر رپورٹ کرے کہ لڑکی صورت و شکل وغیرہ میں کیسی ہے اور مولوی صاحب
کے لئے موزوں بھی ہے یا نہیں... یہ کاغذ میں نے لکھا تھا اور حضرت صاحب نے بمشورہ حضرت ام المؤمنین لکھوایا تھا، اس
میں مختلف باتیں نوٹ کرائی
421
تھیں۔ مثلاً یہ کہ لڑکی کا رنگ کیسا ہے، قد کتنا ہے، اس کی آنکھوں میں کوئی نقص تو نہیں، ناک، ہونٹ، گردن،
دانت، چال، ڈھال وغیرہ کیسے ہیں، غرض بہت ساری باتیں ظاہری شکل و صورت کے متعلق لکھوادی تھیں کہ ان کی بابت خیال
رکھے اور دیکھ کر واپس آکر بیان کرے، جب وہ عورت واپس آئی اور اس نے سب باتوں کی بابت اچھا یقین دلایا تو رشتہ
ہوگیا۔ اسی طرح جب خلیفہ رشید الدین صاحب مرحوم نے اپنی بڑی لڑکی حضرت میاں صاحب (یعنی خلیفۃ المسیح ثانی) کے لئے
پیش کی تو ان دنوں میں یہ خاکسار ڈاکٹر صاحب موصوف کے پاس چکراتہ پہاڑ پر، جہاں وہ متعین تھے بطور تبدیلی آب و ہوا
کے گیا ہوا تھا۔ واپسی پر مجھ سے لڑکی کا حلیہ وغیرہ تفصیل سے پوچھا گیا۔‘‘
(سیرۃ المہدی ج:۳ ص:۲۹۶)
عائشہ:
’’میری بیوی... پندرہ برس کی عمر میں دارالامان میں حضرت مسیح موعود کے پاس آئیں... حضور کو مرحومہ کی خدمت حضور
کے پاؤں دبانے کی بہت پسند تھی۔‘‘
(عائشہ کے شوہر غلام محمد صاحب قادیانی کا مضمون مندرجہ ’’الفضل‘‘ ۲۰؍مارچ ۱۹۲۸ء ص:۶،۷)
بھانو:
’’ڈاکٹر میر محمد اسمٰعیل صاحب نے مجھ سے بیان کیا کہ حضرت ام المؤمنین (نصرت جہاں بیگم زوجہ مرزا غلام احمد) نے
ایک دن سنایا کہ حضرت صاحب کے ہاں ایک بوڑھی ملازمہ مسماۃ بھانو تھی وہ ایک رات جب کہ خوب سردی پڑ رہی تھی حضور کو
دبانے بیٹھی، چونکہ وہ لحاف کے اوپر سے دباتی تھی اس لئے اسے یہ پتہ نہ لگا
422
کہ جس چیز کو میں دبا رہی ہوں وہ حضور کی ٹانگیں نہیں بلکہ پلنگ کی پٹی ہے۔ تھوڑی دیر کے بعد حضرت صاحب نے
فرمایا: ’’بھانو! آج بڑی سردی ہے۔‘‘ بھانو کہنے لگی: ’’ہاں جی! تدے تے تہاڈی لتاں لکڑی وانگر ہویاں ہویاں ایں۔‘‘
یعنی جی ہاں جبھی تو آج آپ کی لاتیں لکڑی کی طرح سخت ہو رہی ہیں۔
خاکسار عرض کرتا ہے کہ حضرت صاحب نے جو بھانو کو سردی کی طرف توجہ دلائی تو اس میں بھی غالباً یہ جتانا مقصود تھا
کہ آج شاید سردی کی شدت کی وجہ سے تمہاری حس کمزور ہو رہی ہے۔‘‘
(سیرۃ المہدی ج:۳ ص:۲۱۰)
’’خاکسار عرض کرتا ہے کہ حدیث سے پتہ لگتا ہے کہ آنحضرت صلعم (صلی اللہ علیہ وسلم... ناقل)بھی عورتوں سے بیعت لیتے
ہوئے ان کے ہاتھ کو نہیں چھوتے تھے، دراصل قرآن شریف میں جو یہ آتا ہے کہ عورت کو کسی غیرمحرم پر اظہار زینت نہیں
کرنا چاہئے اسی کے اندر لمس کی ممانعت بھی شامل ہے کیونکہ جسم کے چھونے سے بھی زینت کا اظہار ہو جاتا ہے۔‘‘
(سیرۃ المہدی ج:۳ ص:۱۵)
زینب بیگم:
’’ڈاکٹر سیّد عبدالستار شاہ صاحب نے مجھ سے بذریعہ تحریر بیان کیا کہ مجھ سے میری لڑکی زینب بیگم نے بیان کیا کہ
میں تین ماہ کے قریب حضرت اقدس (مرزا غلام احمد صاحب) کی خدمت میں رہی ہوں گرمیوں میں پنکھا وغیرہ اور اسی طرح کی
خدمت کرتی تھی، بسااوقات ایسا ہوتا کہ نصف رات یا اس سے زیادہ مجھ کو پنکھا ہلاتے گزرجاتی تھی مجھ کو اس اثنا میں
کسی قسم کی تھکان و تکلیف محسوس نہیں
423
ہوتی تھی، بلکہ خوشی سے دل بھر جاتا تھا، دو دفعہ ایسا موقع آیا کہ عشاء کی نماز سے لے کر صبح کی اذان تک
مجھے ساری رات خدمت کرنے کا موقع ملا۔ پھر بھی اس حالت میں مجھ کو نہ نیند نہ غنودگی اور نہ تھکان معلوم ہوئی بلکہ
خوشی اور سرور پیدا ہوتا تھا۔‘‘
(سیرۃ المہدی ج:۳ ص:۲۷۳)
’’ڈاکٹر سیّد عبدالستار شاہ صاحب نے مجھ سے بذریعہ تحریر بیان کیا کہ میری لڑکی ـــــ زینب بیگم نے مجھ سے بیان کیا
کہ ایک دفعہ جب حضور علیہ السلام (مرزا صاحب) سیالکوٹ تشریف لے گئے تھے تو میں رعیہ سے ان کی خدمت میں حاضر ہوئی، ان
ایام میں مجھے مراق کا سخت دورہ تھا۔ میں شرم کے مارے آپ سے عرض نہ کرسکتی تھی مگر میرا دل چاہتا تھا کہ میری
بیماری سے کسی طرح حضور کو علم ہوجائے، تاکہ میرے لئے حضور دعا فرمائیں، میں حضور کی خدمت کر رہی تھی کہ حضور نے
اپنے انکشاف اور صفائی باطن سے خود معلوم کرکے فرمایا زینب تم کو مراق کی بیماری ہے، ہم دعا کریں گے۔‘‘
(سیرۃ المہدی ج:۳ ص:۲۷۵)
’’ڈاکٹر سیّد عبدالستار شاہ صاحب نے مجھ سے بذریعہ تحریر بیان کیا کہ میری بڑی لڑکی زینب بیگم نے مجھ سے بیان کیا
کہ ایک دفعہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام (مرزا غلام احمد صاحب) قہوہ پی رہے تھے کہ حضور نے مجھ کو اپنا بچا ہوا
قہوہ دیا اور فرمایا زینب یہ پی لو، میں نے عرض کی حضور یہ گرم ہے اور مجھ کو ہمیشہ اس سے تکلیف ہوجاتی ہے، آپ نے
فرمایا یہ ہمارا بچا ہوا قہوہ ہے، تم پی لو کچھ نقصان نہیں ہوگا۔ میں نے پی لیا۔‘‘
(سیرہ المہدی ج:۳ ص:۲۶۶)
424
مائی تابی:
’’میرے گھر سے یعنی والدہ عزیز مظفر احمد نے مجھ سے بیان کیا کہ ایک دفعہ ہم گھر کی چند لڑکیاں تربوز کھا رہی تھیں،
اس کا ایک چھلکا مائی تابی کو جالگا۔ جس پر مائی تابی بہت ناراض ہوئی، اور ناراضگی میں بددعائیں دینی شروع کردیں،
اور پھر خود ہی حضرت مسیح موعود کے پاس جاکر شکایت بھی کردی اس پر حضرت صاحب نے ہمیں بلایا اور پوچھا کہ کیا بات
ہوئی ہے، ہم نے سارا واقعہ سنادیا، جس پر آپ مائی تابی سے ناراض ہوئے کہ تم نے میری اولاد کے متعلق بددعا کی ہے
خاکسار عرض کرتا ہے کہ مائی تابی قادیان کے قریب ایک بوڑھی عورت تھی جو حضرت مسیح موعود کے گھر میں رہتی تھی، اور
اچھا خاصا اخلاص رکھتی تھی۔‘‘
(سیرۃ المہدی ج:۳ ص:۲۴۴)
مائی کاکو:
’’مائی کاکو نے مجھ سے بیان کیا کہ ایک دفعہ میرے سامنے میاں عبدالعزیز صاحب پٹواری سیکھواں کی بیوی حضرت مسیح
موعود علیہ السلام کے لئے کچھ تازہ جلیبیاں لائی۔ حضرت صاحب نے ان میں سے ایک جلیبی اٹھاکر منہ میں ڈالی۔ اس وقت ایک
راولپنڈی کی عورت پاس بیٹھی تھی۔ اس نے گھبراکر حضرت صاحب سے کہا: حضرت یہ تو ہندو کی بنی ہوئی ہیں۔ حضرت صاحب نے
کہا تو پھر کیا ہے ہم جو سبزی کھاتے ہیں وہ گوبر اور پاخانہ کی کھاد سے تیار ہوتی ہے۔ اور اسی طرح بعض اور مثالیں دے
کر اسے سمجھایا۔‘‘
(سیرۃ المہدی ج:۳ ص:۲۴۴،۲۴۵)
425
نیم دیوانی کی حرکت:
’’حضرت مسیح موعود کے اندرون خانہ ایک نیم دیوانی سی عورت بطور خادمہ کے رہا کرتی تھی، ایک دفعہ اس نے کیا حرکت کی
کہ جس کمرے میں حضرت صاحب بیٹھ کر لکھنے پڑھنے کا کام کرتے تھے وہاں ایک کونے میں کھرا تھا جس کے پاس پانی کے گھڑے
رکھے تھے۔ وہاں اپنے کپڑے اتارکر اور ننگی بیٹھ کر نہانے لگ گئی۔ حضرت صاحب اپنے کام تحریر میں مصروف رہے اور کچھ
خیال نہ کیا کہ وہ کیا کرتی ہے۔‘‘
(ذکر حبیب مؤلفہ مفتی محمد صادق ص:۳۸)
رات کا پہرہ:
’’مائی رسول بی بی صاحبہ بیوہ حافظ حامد علی صاحب مرحوم نے بواسطہ مولوی عبدالرحمن صاحب جٹ مولوی فاضل نے مجھ سے
بیان کیا کہ ایک زمانہ میں حضرت مسیح موعود (مرزا صاحب) کے وقت میں میں اور اہلیہ بابو شاہ دین رات کو پہرہ دیتی
تھیں، اور حضرت صاحب نے فرمایا ہوا تھا کہ اگر میں سونے میں کوئی بات کیا کروں تو مجھے جگادینا، ایک دن کا واقعہ ہے
کہ میں نے آپ کی زبان پر کوئی الفاظ جاری ہوتے سنے اور آپ کو جگادیا، اس وقت رات کے بارہ بجے تھے ان ایام میں عام
طور پر پہرہ پر مائی فجو، منشیانی اہلیہ منشی محمد دین گوجرانوالہ اور اہلیہ بابو شاہ دین ہوتی تھیں۔
خاکسار عرض کرتا ہے کہ مائی رسول بی بی صاحبہ میری رضاعی ماں ہیں (اور مرزا صاحب کی؟ ۔۔۔ناقل) اور حافظ حامد علی
صاحب مرحوم کی بیوہ ہیں جو حضرت مسیح موعود کے پرانے خادم تھے۔ مولوی عبدالرحمن صاحب ان کے داماد ہیں۔‘‘
(سیرۃ المہدی ج:۳ ص:۲۱۳)
426
جوان عورت، بغلگیر، الحمد للہ:
۲۵؍جولائی ۱۸۹۲ء مطابق ۲۰؍ذی الحجہ ۱۳۰۹ھ روز دوشنبہ۔ آج میں نے بوقت صبح صادق ساڑھے چار بجے دن کے خواب میں دیکھا
کہ ایک حویلی ہے اس میں میری بیوی والدہ محمود اور ایک عورت بیٹھی ہے تب میں نے ایک مشک سفید رنگ میں پانی بھرا ہے
اور اس مشک کو اٹھاکر لایا ہوں اور وہ پانی لاکر ایک اپنے گھڑے میں ڈال دیا ہے میں پانی کو ڈال چکا تھا کہ وہ عورت
جو بیٹھی ہوئی تھی یکایک سرخ اور خوش رنگ لباس پہنے ہوئے میرے پاس آگئی کیا دیکھتا ہوں کہ ایک جواں عورت ہے۔ پیروں
سے سر تک سرخ لباس پہنے ہوئے۔ شاید جالی کا کپڑا ہے۔ میں نے دل میں خیال کیا کہ وہی عورت ہے جس کے لئے اشتہار دئیے
تھے (یعنی محمدی بیگم ۔۔۔ناقل)۔ لیکن اس کی صورت میری بیوی کی صورت معلوم ہوئی۔ گویا اس نے کہا، یا دل میں کہا کہ
میں آگئی ہوں۔ میں نے کہا یا اللہ آجاوے، اور پھر وہ عورت مجھ سے بغلگیر ہوئی۔ اس کے بغلگیر ہوتے ہی میری آنکھ
کھل گئی۔ فالحمد للہ علی ذالک۔
اس سے دو چار روز پہلے خواب میں دیکھا تھا کہ روشن بی بی میرے دالان کے دروازے پر آکھڑی ہوئی ہے اور میں دالان کے
اندر بیٹھا ہوں۔ تب میں نے کہا کہ آ، روشن بی بی اندر آجا۔‘‘
(تذکرہ ص:۱۹۷طبع چہارم)
ناکامی کی تلخی:
’’فرمایا چند روز ہوئے کہ کشفی نظر میں ایک عورت مجھے دکھلائی گئی اور پھر الہام ہوا... اس عورت اور اس کے خاوند کے
427
لئے ہلاکت ہے (یعنی انگور کھٹے ہیں!۔۔۔ناقل)۔‘‘
(تذکرہ ص:۶۱۰طبع چہارم)
خواب: دماغی بناوٹ:
’’۱۴؍اگست ۱۸۹۲ء مطابق ۲۰؍محرم ۱۳۰۹ھ۔ آج خواب میں، میں (مرزا غلام احمد)نے دیکھا کہ محمدی (بیگم) جس کی نسبت پیش
گوئی ہے، باہر کسی تکیہ میں مع چند کس کے بیٹھی ہوئی ہے، اور سر اس کا شاید منڈا ہوا ہے، اور بدن سے ننگی ہے اور
نہایت مکروہ شکل ہے میں نے اس کو تین مرتبہ کہا کہ تیرے سرمنڈی ہونے کی یہ تعبیر ہے کہ تیرا خاوند مرجائے گا اور میں
نے دونوں ہاتھ اس کے سر پر اتارے ہیں... اور اسی رات والدہ محمود نے خواب میں دیکھا کہ محمدی (بیگم) سے میرا نکاح
ہوگیا ہے اور ایک کاغذ مہر ان کے ہاتھ میں ہے جس پر ہزار روپیہ مہر لکھا ہے، اور شیرینی منگوائی گئی ہے اور پھر میرے
پاس وہ خواب میں کھڑی ہے۔‘‘
(تذکرہ ص:۱۹۸،۱۹۹ طبع چہارم)
’’خاکسار عرض کرتا ہے کہ خوابوں کا مسئلہ بھی بڑا نازک ہے، کئی خوابیں انسان کی دماغی بناوٹ کا نتیجہ ہوتی ہیں۔ اور
اکثر ان کی حقیقت کو نہیں سمجھتے۔‘‘
(سیرۃ المہدی ج:۳ ص:۱۱۶ مؤلفہ صاحبزادہ مرزا بشیر احمد)
پاک مال، پاک مصرف:
’’بیان کیا مجھ سے میاں عبداللہ صاحب سنوری نے کہ ایک دفعہ انبالہ کے ایک شخص نے حضرت صاحب سے فتویٰ دریافت کیا کہ
میری ایک بہن کنچنی تھی، اس نے اس حالت میں
428
بہت سا روپیہ کمایا، پھر وہ مرگئی، اور مجھے اس کا ترکہ ملا، مگر بعد میں مجھے اللہ تعالیٰ نے توبہ اور
اصلاح کی توفیق دی، اب میں اس مال کو کیا کروں؟ حضرت صاحب نے جواب دیا کہ ہمارے خیال میں اس زمانہ میں ایسا مال
اسلام کی خدمت میں خرچ ہوسکتا ہے (اور اسلام کی روح خود مرزا صاحب تھے، ان سے بہتر اس مال کا مصرف اور کون ہوسکتا
تھا۔ ناقل)۔‘‘
(سیرۃ المہدی ج:۱ ص:۲۶۱ روایت نمبر:۲۷۲)
انوار خلافت
دس جوتے:
۱:... مرزا صاحب قادیان: میاں محمود احمد صاحب خلیفہ قادیان۔
۲:... ابوبکر صدیق: عزیزہ بیگم اور مسماۃ سلمیٰ کے والد۔
۳:... عزیزہ بیگم: میاں محمود احمد صاحب خلیفہ قادیان کی بیوی۔
۴:... مسماۃ سلمیٰ: ابوبکر صدیق کی لڑکی، جس کا عدالتی بیان ذیل میں درج ہے۔
۵:... احسان علی: ایک قادیانی دوا فروش، قادیان میں۔
’’میرے باپ کا نام ابوبکر صدیق ہے، وہ مرزا صاحب قادیان کا خسر ہے، میں بھی مرزا صاحب قادیان کے گھر میں تقریباً
(۵) سال رہی ہوں، میں مستغیث احسان علی کو جانتی ہوں چار سال ہوئے میں مرزا صاحب کے لڑکے کی دوائی لینے احسان علی کی
دوکان پر گئی تھی، میں نسخہ لے کر اس کی دوکان پر گئی تھی، اول احسان علی نے
429
میرے ساتھ مخول کرنا شروع کیا اور پھر مجھ سے کہا کہ میں مضروبوں کے کمرہ میں جاؤں، اس دوسرے کمرہ میں اس
نے مجھے لٹادیا اور میرے ساتھ بدفعلی کرنے کی کوشش کری، لوگ میرے رولا کرنے پر اکٹھے ہوگئے اور دروازہ کھلایا اور
احسان علی کو لعنت اور ملامت کری تھی۔ احسان علی نے میرے ساتھ بدفعلی کرنی شروع کری تھی۔ میں نے گھر میں جاکر عزیزہ
بیگم کے پاس شکایت کری تھی اور اس وقت مرزا صاحب وہاں موجود تھے، ان ایام میں میں عزیزہ بیگم کے پاس رہتی تھی، مرزا
صاحب نے احسان علی کو بلایا اور لعنت ملامت کری اور احسان علی کو کہا کہ قادیان سے نکل جاؤ۔ احسان علی نے معافی
مانگی اور مرزا صاحب نے حکم دیا کہ اگر احسان علی دس جوتے کھالیوے تب اس کو معاف کیا جاتا ہے، اور ٹھہرسکتا ہے،
چنانچہ احسان علی نے اس کو قبول کیا، اور میں نے اس کو دس جوتے لگائے تھے، یہ جوتیاں مرزا صاحب کے سامنے ماری
تھیں... جب کہ میں نے احسان علی کو جوتیاں ماریں تھیں تو تین چار آدمی اکٹھے ہوگئے تھے ان ایام میں میں بغیر پردہ
کے باہر پھرا کرتی تھی... اس کے بعد میں سودا لینے بازار نہیں گئی۔‘‘
(مسماۃ سلمیٰ کی حلفیہ شہادت جو اس نے بتاریخ ۱۰؍جولائی ۱۹۳۵ء ایڈیشنل ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ ضلع امرتسر کی
عدالت میں ادا کی۔ بمقدمہ ازالہ حیثیت عرفی زیر دفعہ ۵۰۰ احسان علی بنام محمد اسمٰعیل، نمبری ۸۶/۲ مرجوعہ ۱۷؍جولائی
۱۹۳۵ء منفصلہ ۲۱؍ستمبر ۱۹۳۵ء، ’’قادیانی مذہب‘‘ مؤلفہ پروفیسر محمد الیاس برنی ص:۸۲۴ طبع پنجم)
خصوصی دِلچسپی:
’’جب میں ولایت گیا تو مجھے خصوصیت سے خیال تھا کہ
430
یورپین سوسائٹی کا عیب والا حصہ بھی دیکھوں گا، مگر قیام انگلستان کے دوران مجھے اس کا موقع نہ ملا۔ واپسی
پر جب ہم فرانس آئے تو میں نے چوہدری ظفراللہ خاں صاحب سے، جو میرے ساتھ تھے کہا کہ مجھے کوئی ایسی جگہ دکھائیں
جہاں یورپین سوسائٹی عریانی سے نظر آسکے، وہ بھی فرانس سے واقف تو نہ تھے مگر مجھے اوپیرا میں لے گئے جس کا نام
مجھے یاد نہیں رہا، اوپیرا سینما کو کہتے ہیں چوہدری صاحب نے بتایا کہ یہ اعلیٰ سوسائٹی کی جگہ ہے جسے دیکھ کر آپ
اندازہ لگاسکتے ہیں، میری نظر چونکہ کمزور ہے اس لئے دور کی چیز اچھی طرح نہیں دیکھ سکتا۔ تھوڑی دیر کے بعد میں نے
جو دیکھا کہ تو ایسا معلوم ہوا کہ سیکڑوں عورتیں بیٹھی ہیں میں نے چوہدری صاحب سے کہا کیا یہ ننگی ہیں۔ انہوں نے
بتایا کہ یہ ننگی نہیں بلکہ کپڑے پہنے ہوئے ہیں مگر باوجود اس کے وہ ننگی معلوم ہوتی تھیں (معلوم نہیں ان سے تعارف
کا شرف بھی حاصل ہوا یا نہیں۔۔۔ناقل)۔‘‘
(مرزا بشیر الدین صاحب کا ارشاد، مندرجہ ’’الفضل‘‘ ۲۸؍جنوری ۱۹۳۴ء)
اطالوی رقاصہ:
’’مرزا بشیر الدین کی آمد اور سلسل ہوٹل کی منتظمہ کی گمشدگی تلاش کے باوجود اس کا کوئی پتہ نہیں مل سکا۔‘‘ (اخبار
کی سرخی) ’’یکم مارچ۔ سلسل ہوٹل کی طرف سے مشتہر ہوا تھا کہ جمعرات یکم مارچ پانچ سے ساڑھے نو بجے رات تک ناچ اور
رسٹ ڈرائیو ہوگا بڑے بڑے انعامات بدستور سابق تقسیم کئے جائیں گے، تماشائی شام چار بجے سے جمع ہونے شروع ہوگئے، اور
پانچ بجے اچھا خاصا مجمع ہوگیا۔ ہر ایک شخص کھیل شروع ہونے کا منتظر تھا، مگر
431
خلاف توقع رسٹ ڈرائیو شروع نہ ہوا، ناچ کا بینڈ بجنا شروع ہوا، آخر پر سلسل ہوٹل کے ایک بیرے سے معلوم ہوا
کہ رسٹ ڈرائیو کا تمام سامان منتظمہ کے کمرے میں ہے، اور منتظمہ کو مرزا بشیر الدین محمود موٹر میں بٹھاکر لے گئے
ہیں۔‘‘
(روزنامہ آزاد ۱۳؍مارچ ۱۹۳۴ء)
قادیان شکن:
اخبار زمیندار کا منظوم تبصرہ
اے کشور اطالیہ کے باغ کی بہار
لاہور کا دامن ہے تیرے فیض سے چمن
پیغمبر جمال! تیری دل ربا ادا
پروردگار عشق! تیرا چلبلا چلن
الجھے ہوئے ہیں دل تیری زلف سیاہ میں
ہیں جس کے ایک تار سے وابستہ سوختن
پروردہ فسوں ہے تیری آنکھ کا خمار
آوردہ جنوں ہے تیری بوئے پیرہن
پیمانہ نشاط تیری ساق صندلی
بیعانہ سرور ہے تیرا مرمری بدن
رونق ہے ہوٹلوں کی ترا حسن بے حجاب
جس پر فدا ہے شیخ، تو لٹو ہے برہمن
جب قادیاں پہ تیری نشیلی نظر پڑی
سب نشۂ نبوّت ظلّی ہوا ہرن
میں بھی ہوں تیری چشم پرافسوں کا معترف
جادو وہی ہے آج جو ہو قادیاں شکن
(ارمغان قادیان ص:۴۸،۴۹)
432
وہ قادیان گئی:
-
عشاق شہر کا ہے زمیندار سے سوال
ہوٹل سلسل کی رونق عریاں کہاں گئی
-
اس کے جلو میں جاں گئی ایماں کے ساتھ ساتھ
کیا کیا نہ تھا جو لے کے وہ جان جہاں گئی
-
خوف خدائے پاک دلوں سے نکل گیا
آنکھوں سے شرم سرور کون و مکاں گئی
-
بن کر خروش حلقۂ رندان لم یزل
لے کر گئی وہ حشر کا ساماں، جہاں گئی
-
روما سے ڈھل کے برق کے سانچے میں آئی تھی
اب کس حریم ناز میں وہ جان جہاں گئی
-
یہ چیستاں سنی تو زمیندار نے کہا
اتنا ہی جانتا ہوں کہ وہ قادیاں گئی
(ارمغان قادیان ص:۵۰)
مس رو فو:
-
تمہیں ’’مشی فی النوم‘‘ کی بھی خبر ہے
زمانے کے اے بے خبر فیلسوفو!
-
ملے گا تمہیں یہ سبق قادیاں سے
جہاں چل کے سوتے میں آئی مس روفو
(ارمغان قادیان ص:۴۹)
اخبارات میں اس کا چرچا ہوا تو مرزا بشیر الدین صاحب نے اپنے خطبہ میں یہ وضاحت فرمائی کہ میں اس لیڈی کو اپنی
بیویوں
433
اور لڑکیوں کو انگریزی لہجہ سکھانے کے لئے لایا تھا۔
(الفضل ۱۸؍مارچ ۱۹۳۴ء)
پردے کا حکم:
’’سوال ہفتم:۔۔۔حضرت کے صاحبزادہ غیرعورتوں میںبلا تکلف اندر کیوں جاتے ہیں، کیا ان سے پردہ درست نہیں؟ (سائل محمد
حسین قادیانی)
جواب:۔۔۔ضرورت حجاب صرف احتمال زنا کے لئے ہے جہاں ان کے وقوع کا احتمال کم ہو ان کو اللہ تعالیٰ نے مستثنیٰ کردیا
ہے، اسی واسطے انبیاء، اتقیاء لوگ مستثنیٰ بلکہ بطریق اولیٰ مستثنیٰ ہیں، پس حضرت کے صاحبزادے اللہ کے فضل سے متقی
ہیں ان سے اگر حجاب نہ کریں تو اعتراض کی بات نہیں۔۔۔... حکیم فضل دین از قادیان۔‘‘
(اخبار الحکم جلد:۱۱ نمبر:۱۳ ص:۱۳مؤرخہ ۱۷؍اپریل ۱۹۰۷ء)
کبھی کبھی اور ہمیشہ:
ایک خط میں، جس کے متعلق اس نے تسلیم کیا ہے کہ وہ اسی کا لکھا ہوا ہے، اس پر یہ تحریر کیا ہے کہ:
’’حضرت مسیح موعود ’’مرزا غلام احمد صاحب قادیانی‘‘ ولی اللہ تھے اور ولی اللہ بھی کبھی کبھی زنا کرلیا کرتے ہیں۔
اگر انہوں نے کبھی کبھار زنا کرلیا تو اس میں کیا حرج ہوا۔‘‘ پھر لکھا ہے: ’’ہمیں حضرت مسیح موعود پر اعتراض نہیں
کیونکہ وہ کبھی کبھی زنا کیا کرتے تھے، ہمیں اعتراض موجودہ خلیفہ (مرزا محمود احمد صاحب) پر ہے، کیونکہ وہ ہر وقت
زنا کرتا رہتا ہے۔‘‘ اس اعتراض سے پتہ لگتا ہے کہ یہ شخص پیغامی طبع ہے (یعنی قادیانیوں کی لاہوری پارٹی سے تعلق
رکھتا
434
ہے۔ ناقل) اس لئے کہ ہمارا حضرت مسیح موعود کے متعلق یہ اعتقاد ہے کہ آپ نبی اللہ تھے مگر پیغامی (لاہوری)
اس بات کو نہیں مانتے اور وہ آپ کو صرف ولی اللہ سمجھتے ہیں۔‘‘
مرید کا شکوہ:
(۱۹۲۷ء میں سکینہ و زاہد کے قصے گلی کوچوں میں پھیلے، اخباروں کی زینت بنے، عدالتوں میں گونجے مگر خلیفہ کے غالی
مرید شیخ عبدالرحمن صاحب مصری کو اپنے پیر کے تقدس کا یقین تب آیا جب ان ترکتازیوں کا سلسلہ شیخ صاحب کے گھر تک
آپہنچا، تاہم مرید نے پیر کا راز فاش کرنے کے بجائے نجی خطوط کے ذریعہ اصلاح احوال کی ناکام کوشش کی، ان کے پہلے
مطبوعہ خط کے، جو خاصا طویل ہے، چند فقرے باضافۂ عنوانات درج ذیل ہیں ۔۔۔ناقل)
دو ٹوک بات:
’’بسم اللہ الرحمن الرحیم۔ نحمدہ و نصلی علیٰ رسولہ الکریم۔۔۔سیّدنا۔ السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ۔
میں ذیل کے چند الفاظ محض آپ کی خیرخواہی اور سلسلہ کی خیرخواہی کو مدنظر رکھتے ہوئے لکھ رہا ہوں، مدت سے میں یہ
چاہتا تھا کہ آپ سے دوٹوک بات کروں مگر جن باتوں کا درمیان میں ذکر آنا لازمی تھا وہ جیسا کہ آپ اچھی طرح جانتے
ہیں ایسی تھیں کہ ان کے ذکر سے آپ کو سخت شرمندگی لاحق ہونی لازمی تھی اور جن کے نتیجہ میں آپ میرے سامنے منہ
دکھانے کے قابل نہیں رہ سکتے تھے۔‘‘
435
تقدس کا پردہ:
’’اگر میں بھی آپ کے اس اشتعال انگیز طریق سے متأثر ہوکر جلد بازی سے کام لیتا اور اِبتدا میں ہی اپنا مبنی
برحقیقت بیان شائع کردیتا اور جو تقدس کا بناوٹی پردہ آپ نے اپنے اوپر ڈالا ہوا ہے اس کو اٹھاکر آپ کی اصل شکل
دنیا کے سامنے ظاہر کردیتا تو آج نہ معلوم آپ کا کیا حشر ہوتا۔‘‘
تعجب کی بات:
’’تعجب ہے مجھے تو ان دیرینہ تعلقات کا اس قدر پاس ہوکہ آپ کے گندے افعال کا ذکر آپ کے سامنے کرنے سے بھی شرم
محسوس کروں، اور محض اس خیال سے کہ میرے سامنے آنے سے آپ کو شرم محسوس ہوگی آپ کے سامنے آنے سے حتی الوسع اجتناب
کرتا رہا ہوں لیکن ان تعلقات کا آپ کو اتنا بھی پاس نہ ہوا جتنا کہ ایک ’’معمولی قماش کے بدچلن انسان‘‘ کا ہوتا ہے،
میں نے سنا ہے کہ بدچلن سے بدچلن آدمی بھی اپنے دوستوں کی اولاد پر ہاتھ ڈالنے سے احتراز کرتا ہے لیکن افسوس آپ نے
اتنا بھی نہ کیا اور اپنے ان مخلص دوستوں کی اولاد پر ہی ہاتھ صاف کرنا چاہا، جو آپ کے لئے اور آپ کے خاندان کے
لئے جانیں تک قربان کردینا بھی معمولی قربانی سمجھتے تھے (جان کے ساتھ عزت و ناموس اور ضمیر کی قربانی بھی سہی، وہ
اِخلاص ہی کیا ہوا جو ایسی قربانیوں کا بھی متحمل نہ ہو ۔۔۔ناقل)۔‘‘
ناجائز فائدہ:
’’میں دیکھ رہا ہوں کہ ایک طرف تو آپ نے اپنی عیاشی کو انتہا تک پہنچایا ہوا ہے، جس لڑکی کو چاہا اپنی عجیب و غریب
عیاری
436
سے بلایا اور اس کی عصمت دری کردی، اور پھر ایک طرف سے اس کی طبعی شرم و حیا سے ناجائز فائدہ اٹھالیا اور
دوسری طرف دھمکی دے دی کہ ’’اگر تو نے کسی کو بتایا تو تیری بات کون مانے گا، لوگ تجھے پاگل اور منافق کہیں گے، میرے
متعلق تو کوئی یقین نہیں کرے گا‘‘ اور اگر کسی نے جرأت سے اظہار کردیا تو مختلف بہانوں سے ان کے خاوندوں یا والدین
کو ٹال دیا۔‘‘
جال اور ماتم:
’’لڑکیوں اور لڑکوں کو پھنسانے کے لئے جو جال آپ نے ایجنٹ مردوں اور ایجنٹ عورتوں کا بچھایا ہوا ہے اس کا راز جب
فاش کیا جائے گا تو لوگوں کو پتہ لگے گا کہ کس طرح ان کے گھروں پر ڈاکہ پڑتا ہے، مخلص جو آپ کے ساتھ اور آپ کے
خاندان کے ساتھ تعلق پیدا کرنا فخر سمجھتے ہیں ان کے گھروں میں سب سے زیادہ ماتم پڑے گا (بشرطیکہ عقل اور حس بھی
خلیفہ پر ’’قربان‘‘ نہ ہوچکی ہو ۔۔۔ناقل)۔‘‘
انتقام، انتقام، انتقام:
’’دوسری طرف جن لوگوں کو آپ کی غلط کاریوں کا علم ہوجاتا ہے یا وہ کسی کے سامنے اظہار کر بیٹھتے ہیں اور آپ کو اس
کا علم ہوجائے تو پھر آپ اسے کچلنے کے درپے ہوجاتے ہیں، اور اس کچلنے میں رحم آپ کے نزدیک تک نہیں پھٹکتا، اور
پتھر سے بھی زیادہ سخت دل کے ساتھ اس پر گرتے ہیں اور آپ کی سزا دہی میں اصلاحی پہلو بالکل مفقود اور انتقامی پہلو
نمایاں ہوتا ہے(چنانچہ مثال کے طور پر سکینہ بیگم زوجہ مرزا عبدالحق صاحب کو ہی لے لو جس نے خلیفہ کی اخلاقی
درازدستی کی شکایت ۱۹۲۷ء میں کی تھی۔۔۔ناقل)۔ کس قدر
437
ظلم اس پر آپ کی طرف سے کیا جاتا ہے جو کچھ اس نے کہا تھا اس کی سچائی تو اب بالکل ثابت ہوچکی ہے، لیکن وہ
بیچاری باوجود سچی ہونے کے قیدیوں سے بدتر زندگی بسر کر رہی ہے، اس کی صحت تباہ ہوچکی ہے۔‘‘
قادیانی چال:
’’آپ نے یہ چال چلی ہوئی ہے کہ لوگوں کو ایک دوسرے سے ملنے نہ دیا جائے اور منافقوں سے بچو، منافقوں سے بچو کے شور
سے لوگوں کو خوفزدہ کیا ہوا ہے اور ہر ایک کو دوسرے پر بدظن کردیا ہوا ہے، اب ہر شخص ڈرتا ہے کہ میرا مخاطب کہیں
میری رپورٹ ہی نہ کردے، اور پھر فوراً مجھ پر منافق کا فتویٰ لگ کر جماعت سے اخراج کا اعلان کردیا جائے، اور یہ سب
کچھ آپ نے اس لئے کیا ہوا ہے کہ آپ کی سیاہ کاریوں کا لوگوں کو علم نہ ہوسکے، لیکن۔۔۔۔۔۔‘‘
ممکن ہے کہ۔۔۔۔۔
’’آپ کی بدچلنی کے متعلق جو کچھ میں نے لکھا ہے اس کے متعلق ایک بات میرے دل میں کھٹکتی رہتی ہے اس کا ذکر کردینا
بھی ضروری سمجھتا ہوں اور وہ یہ کہ ممکن ہے جس چیز کو ہم زنا سمجھتے ہیں، آپ اسے زنا ہی نہ سمجھتے ہوں،... پس اگر
ایسا ہے تو مہربانی فرماکر مجھے سمجھادیں، اگر میری سمجھ میں آگئی تو میں اپنے سارے اعتراضات واپس لے لوں گا۔‘‘
بعض دفعہ نماز:
’’میں اس جگہ اس بات کا اضافہ کردینا بھی ضروری سمجھتا ہوں کہ میں آپ کے پیچھے نماز نہیں پڑھ سکتا، کیونکہ مجھے
مختلف ذرائع
438
سے یہ علم ہوچکا ہے کہ آپ جنبی کی حالت میں ہی بعض دفعہ نماز پڑھانے آجاتے ہیں۔‘‘
(کمالات محمودیہ ص:۹۸ تا ۱۱۴ ملخصاً)
عدالت میں گونج:
(۱۹۳۷ء میں شیخ عبدالرحمن مصری کو خلیفہ سے اخلاقی شکایتیں پیدا ہوئیں، نتیجہ یہ ہوا کہ شیخ صاحب جماعت سے الگ
ہوگئے، یا کردئیے گئے، تو خلیفہ سے محاذ آرائی ہوئی بات اشتہاروں اخباروں سے آگے عدالتوں تک پہنچی، ذیل میں ان کا
حلفیہ عدالتی بیان درج ہے، جسے عدالت عالیہ لاہور نے اپنے ۲۳؍ستمبر ۱۹۳۸ء کے فیصلہ میں شامل کیا:)
’’موجودہ خلیفہ (مرزا محمود احمد صاحب) سخت بدچلن ہے، یہ تقدس کے پردے میں عورتوں کا شکار کھیلتا ہے، اس کام کے لئے
اس نے بعض مردوں اور بعض عورتوں کو بطور ایجنٹ رکھا ہوا ہے، ان کے ذریعہ یہ معصوم لڑکیوں اور لڑکوں کو قابو کرتا ہے،
اس نے ایک سوسائٹی بنائی ہوئی ہے، جن میں مرد اور عورتیں شامل ہیں اور اس سوسائٹی میں زنا ہوتا ہے۔‘‘
(شیخ عبدالرحمن مصری کا عدالتی بیان، مندرجہ فیصلہ ہائی کورٹ لاہور مؤرخہ ۲۳؍ستمبر ۱۹۳۸ء ص:۲)
ماہرانہ شہادت:
’’بڑا الزام یہ لگایا جاتا ہے کہ خلیفہ (مرزا محمود احمد صاحب خلیفہ قادیان) عیاش ہے، اس کے متعلق میں کہتا ہوں کہ
میں ڈاکٹر ہوں اور میں جانتا ہوں کہ وہ لوگ جو چند دن بھی عیاشی میں پڑجائیں وہ وہ ہوجاتے ہیں جنہیں انگریزی میں
Wreckکہتے ہیں۔ ایسے انسان کا نہ دماغ کام کا رہتا ہے نہ عقل درست رہتی ہے،
439
نہ حرکات صحیح طور پر کرتا ہے، غرض سب قویٰ اس کے برباد ہوجاتے ہیں اور سر سے لے کر پیر تک اس پر نظر ڈالنے
سے فوراً معلوم ہوجاتا ہے کہ وہ عیاشی میں پڑ کر اپنے آپ کو برباد کرچکا ہے اس لئے کہتے ہیں ’’الزنا یخرب البنا‘‘
کہ زنا انسان کو بنیاد سے نکال دیتا ہے۔‘‘
(ڈاکٹر محمد اسمٰعیل صاحب کا مضمون، مندرجہ ’’الفضل‘‘ ۱۰؍جولائی ۱۹۳۷ء)
شہادت کی تصدیق:
’’ڈاکٹروں کا خیال تھا کہ چند ہفتوں میں دماغی حالت اپنے معمول پر آجائے گی، لیکن اب تک جو ترقی ہوئی ہے اس کی
رفتار اتنی تیز نہیں ۔۔۔... آدمیوں کے سہارے سے دو ایک قدم چل سکتا ہوں مگر وہ بھی مشکل سے دماغ اور زبان کی کیفیت
ایسی ہے کہ میں تھوڑی دیر کے لئے بھی خطبہ نہیں دے سکتا اور ڈاکٹروں نے دماغی کام سے قطعی طور پر منع کردیا ہے۔‘‘
’’مجھ پر فالج کا حملہ ہوا اور اب میں پاخانہ پیشاب کے لئے امداد کا محتاج ہوتا ہوں۔‘‘
(میاں محمود احمد صاحب کا ارشاد، مندرجہ ’’الفضل‘‘ ۱۲؍اپریل ۱۹۵۵ء)
’’۲۶؍فروری کو مغرب کے قریب مجھ پر بائیں طرف فالج کا حملہ ہوا اور تھوڑے سے وقت کے لئے میں ہاتھ پاؤں چلانے سے
معذور ہوگیا۔۔۔... دماغ کا عمل معطل ہوگیا اور دماغ نے کام کرنا چھوڑ دیا۔۔۔... میں اس وقت بالکل بے کار ہوں اور ایک
منٹ نہیں سوچ سکتا۔‘‘
(الفضل ۲۶؍اپریل ۱۹۵۵ء ص:۳-۵)
میں نے اس دعویٰ پر کہ یہودیوں کی طرح قادیانی بھی ساری دنیا پر حکمرانی کے خواب دیکھ رہے ہیں، دوسرا حوالہ
’’الفضل‘‘ ۱۶؍جنوری ۱۹۵۲ء سے نقل کیا تھا کہ:
440
’’۵۲ء کو گزرنے نہ دیجئے جب تک احمدیت کا رعب، دشمن اس رنگ میں محسوس نہ کرے کہ اب احمدیت مٹائی نہیں جاسکتی اور وہ
مجبور ہوکر احمدیت کو گود میں آگرے۔‘‘
اس فقرہ کی اشتعال انگیزی محتاج وضاحت نہیں، اس میں تمام اسلامیان پاکستان کو دشمن، قرار دے کر ان پر ’’احمدیت کا
رعب‘‘ جمانے کا الٹی میٹم دیا گیا اور تمام مسلمانوں کو مجبور ہوکر ’’احمدیت کی گود‘‘ میں گرنے کا چیلنج بھی کیا
گیا۔ قادیانیوں کا یہی اشتعال انگیز پروپیگنڈہ تھا جو ۱۹۵۲ء کی تحریک پر منتج ہوا، لیکن مرزا طاہر احمد صاحب کس
سادگی سے لکھتے ہیں کہ یہ اعلان خدام الاحمدیہ کے مہتمم تبلیغ کی طرف سے تھا۔ (گویا اس کی کوئی ذمہ دارانہ حیثیت
نہیں کہ اس پر مسلمان احتجاج کریں) اور یہ کہ:
’’یہاں رعب سے مراد کوئی توپ و تفنگ اور شمشیر و سنان کا رعب نہیں بلکہ احمدی نوجوانوں کو محض تبلیغ کی تلقین کی
گئی ہے اور یہ کوئی قابل اعتراض بات نہیں۔‘‘
(ربوہ سے تل ابیب تک پر مختصر تبصرہ ص:۴۳)
یعنی قادیانی صاحبان تمام مسلمانوں کو مرتد کرنے کی اسکیمیں بنائیں، ان کے دشمن ہونے کا اعلان کریں، ان پر رعب
جمانے کا چیلنج دیں اور انہیں مجبور ہوکر قادیانیت کی گود میں آگرنے کی دھمکی دیں یہ تو صاحبزادہ صاحب کے خیال میں
کوئی قابل اعتراض بات نہیں، ہاں اگر کوئی مسلمان، قادیانیوں کی اس جارحیت پر احتجاج کرے تو صاحبزادہ صاحب کے نزدیک
یہ اس کی بے عقلی ہے۔
صاحبزادہ صاحب کا یہ نکتہ بھی خاصا پرلطف ہے کہ:
’’ہر مذہب و ملت اور ہر فرقہ اسلام (خواہ وہ کیسا ہی گمراہ ہو۔ ناقل) کا حق بلکہ فرض ہے کہ وہ جن نظریات کو برحق
اور باعث نجات سمجھتا ہے ان کی تبلیغ کرکے دنیا کو ہدایت کی طرف بلائے، اس
441
مؤقف پر کوئی صحیح العقل انسان اعتراض نہیں کرسکتا۔‘‘
(ربوہ سے تل ابیب تک پر مختصر تبصرہ ص:۴۳)
گویا کسی مذہب و ملت یا کسی نام نہاد فرقہ اسلام کا واقعتا حق پر ہونا مرزا طاہر احمد صاحب کے نزدیک ضروری نہیں
بلکہ اپنے آپ کو حق پر سمجھنا کافی ہے۔ پس دنیا کا جو شخص بھی اپنے نظریات کو برحق اور باعث نجات سمجھتا ہو وہ مرزا
طاہر احمد کے مطابق دنیا کو ہدایت کی طرف ہی بلاتا ہے۔ اس لئے اس دعوت ہدایت پر اعتراض کرنا ان کے خیال میں کسی صحیح
العقل آدمی کا کام نہیں ـــ اور چونکہ راقم الحروف نے قادیانیوں کے اپنے دشمن پر رعب جمانے اور اسے مجبور کرکے
احمدیت کی گود میں گرانے پر نکتہ چینی کی ہے اس لئے اسے مرزا طاہر احمد صاحب کے دربار معلی سے ’’صحیح العقل انسان‘‘
کہلانے کا سر ٹیفکیٹ نہیں مل سکتا۔
جناب صاحبزاہ صاحب کے اس ارشاد پر مجھے حیرت نہیں ہوئی، کیونکہ میں جانتا ہوں کہ مختلف لوگوں کے ذہن میں ’’صحیح
العقل انسان‘‘ کا معیار مختلف ہوتا ہے۔ مثلاً لاہوری پارٹی جو مرزا قادیانی کو چودہویں صدی کا مجدد مانتی ہے، اس کے
مطابق قادیانی عقیدہ کی رو سے مرزا غلام احمد قادیانی بھی ایک ’’صحیح العقل انسان‘‘ ثابت نہیں ہوتے کیونکہ وہ بڑی
شدو مد سے اپنی نبوّت کا انکار بھی کرتے ہیں اور قادیانیوں کے بقول وہ نبی بھی ہیں۔ چنانچہ لاہوری پارٹی کے ایک معزز
رکن مکرم چوہدری مسعود اختر ایڈووکیٹ، مرزا صاحب کے تین اشعار، جن میں ختمِ نبوّت کا اظہار ہے، نقل کرنے کے بعد
رقمطراز ہیں:
’’مندرجہ بالا اشعار ـــ حضرت مسیح موعود (مرزا صاحب) کے عقیدہ دربارۂ نبوّت اور ان کے دعویٰ کی ایسی مکمل تصویر
کھینچتے ہیں جو شروع سے آخر تک ان کا عقیدہ رہا۔ جناب مجدد زماں حضور نبی صلعم (صلی اللہ علیہ وسلم۔۔۔ناقل) پر ہر
نبوّت اور ہر پیغمبری کے ختم ہونے کا عقیدہ رکھتے تھے اور اس عقیدہ پر ہمیشہ قائم رہے ـــ زمانہ کی ستم ظریفی دیکھئے
کہ جناب میاں محمود احمد صاحب نے محض اپنی گدی قائم کرنے کے لئے (گدی کا طعنہ کچھ پھبتا نہیں، باپ کی
442
گدی بیٹے ہی کو ملنی تھی، مثلاً مولوی محمد علی کے والد نے یہ گدی بنائی ہوتی تو اس پر میاں محمود احمد
تھوڑی بیٹھتے، ہاں اولاد جسماً یا ذہناً نابالغ ہو تو کچھ عرصہ کے لئے کسی ’’معتمد‘‘ کا سربراہ بن کر گدی نشین
ہوجانا اور بات ہے۔۔۔ناقل) نبوّت، نبوّت کی ایسی رٹ لگائی کہ وہ الزام جو حضرت مجدد زمان پر ان کے مخالفین لگاتے تھے
(اور اس کے لئے مرزا صاحب کے سیکڑوں الہامات اور قطعی عبارتیں پیش کرتے تھے ۔۔۔ناقل) اور جس الزام کو حضرت مسیح
موعود (مرزا صاحب) بہتان عظیم اور دجل قرار دیتے تھے، وہ خود ان کے صاحبزادے صاحب نے ان پر لگادیا (گویا صاحبزادے نے
تسلیم کرلیا کہ مخالفین کا الزام غلط نہیں تھا، بلکہ مرزا صاحب کی تاویلیں غلط تھیں یا غلط فہمی پر مبنی
تھیں۔۔۔ناقل) اور ایک کثیر تعداد لوگوں کی اس گدی نشین کی حاشیہ بردار بن کر ان پر دعویٰ نبوّت کا الزام دینے لگی
(اس گدی نشین کے حاشیہ نشینوں کی بیشتر تعداد ان لوگوں کی تھی جو اس کے باپ کے حاشیہ نشین رہ چکے تھے اور اس کے
طلسمی دعوؤں کو اپنے کانوں سے سن چکے تھے۔۔۔ناقل)۔ کیونکہ حضرت مجدد زمان کی تحریروں سے ثابت ہے کہ آپ کی طرف کسی
قسم کی نبوّت منسوب کرنا اتہام و الزام ہے اور دجل عظیم ہے (مرزا صاحب کی طرف نبوّت سب سے پہلے ان کے الہامات میں
منسوب کی گئی، اس لئے اس اتہام و الزام اور دجل عظیم کا پہلا مرتکب مرزا صاحب کا الہام کنندہ ہے۔ مرزا صاحب نے اس کی
تقلید میں یہ اتہام و الزام اور دجل عظیم اپنی تقریر و تحریر میں بیان کرنا شروع کردیا اور دوسرے لوگوں نے مرزا صاحب
سے سن کر یہ بات پلے باندھ لی، موافقوں نے بھی اور مخالفوں نے بھی۔ پس اس کی پہلی ذمہ داری تو مرزا صاحب کے ملہم
صاحب پر عائد ہوتی
443
ہے۔ دوسرے نمبر پر خود مرزا صاحب اس کے ذمہ دار ہیں، رہے مخالفین! سو وہ بے چارے اس اتہام، الزام اور دجل
عظیم کو محض مرزا صاحب کے حوالے سے نقل کرتے ہیں اور ’’نقل کفر کفر نباشد‘‘ ۔۔۔ناقل) حضور امام زمان کا دعویٰ محض
ملہم من اللہ، محدث، مجدد اور مسیح موعود ہونے کا تھا اور ان میں سے کوئی دعویٰ بھی نبوّت کا دعویٰ قرار نہیں دیا
جاسکتا۔ (مگر مرزا صاحب تو یہی قرار دیتے تھے، شاید وہ سمجھے نہ ہوں گے۔۔۔ناقل) حضور کے مندرجہ بالا اشعار سے ہی
ظاہر ہے کہ جناب ہر قسم کی نبوّت اور ہر قسم کی پیغمبری کو حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر ختم ہونے کا عقیدہ
رکھتے تھے (مگر ایک قسم کی نبوّت کو جاری بھی کہتے تھے۔۔۔ناقل) لہٰذا ایسا عقیدہ رکھنے کے بعد کسی قسم کی نبوّت کا
دعویٰ چہ معنی دارد؟ کوئی صحیح العقل انسان بیک وقت یہ نہیں کرسکتا کہ ایک طرف تو ہر قسم کی نبوّت اور ہر قسم کی
پیغمبری کو حضور رسول کریم صلعم (صلی اللہ علیہ وسلم۔۔۔ناقل) پر ختم قرار دے اور دوسری طرف کسی قسم کی نبوّت کا
دعویدار ہو (اور جناب مرزا صاحب نے بیک وقت یہ دونوں کام کردکھائے، جو ریکارڈ پر موجود ہیں۔ لہٰذا اب یہ عقدہ
قادیانیوں کے لئے ہمیشہ لاینحل رہے گا کہ کیا ان کا مسیح موعود ’’صحیح العقل انسان‘‘ تھا؟ ۔۔۔ناقل)۔‘‘
(قادیانیوں کی لاہوری جماعت اخبار ’’پیغام صلح‘‘ جلد:۶۴ نمبر:۲۰،۲۱ ’’مسیح موعود نمبر‘‘ ۵۲/۱۹۱۸ء مئی
۱۹۷۷ء)
پس جس طرح لاہوری معیار سے ازروئے عقیدۂ قادیانی ’’صحیح العقل انسان‘‘ کی تعریف مرزا صاحب پر صادق نہیں آسکتی،
اسی طرح ممکن ہے کہ صاحبزادہ طاہر احمد صاحب نے بھی ’’صحیح العقل انسان‘‘ کی کوئی نئی تعریف ایجاد فرمالی ہو، مثلاً
یہ کہ ایک ’’صحیح العقل انسان‘‘ میں ان تمام اوصاف و اخلاق کا پایا جانا ضروری ہے جو ان کے جد بزرگوار
444
مرزا غلام احمد صاحب میں پائے جاتے تھے، یعنی وہ مراق، ہسٹریا، دماغی بیہوشی، دوران سر، درد سر، دق، سل،
ذیابیطس، تشنج، ضعف اعصاب، بدخوابی کے عوارض میں مبتلا ہو، روزانہ سو سو بار پیشاب کا معجزہ اسے حاصل ہو، سوئِ ہضم
اور کثرت اسہال اس کے دائمی معمولات میں شامل ہوں، حافظہ بہت خراب ہو، دائیں بائیں کی تمیز سے قاصر ہو، سیدھے کو
الٹا اور الٹے کو سیدھا پہنا کرے، اوپر کا بٹن نیچے کے کاج میں لگائے پھرے، جرابوں کی ایڑیاں پاؤں کے اوپر کی طرف
کرے، گڑ کھانے کا شوقین اور سلس البول کا مریض ہو اور کفایت شعاری کے لئے گڑ کے ڈھیلے اور استنجا کے ڈھیلے ایک ہی
جیب میں رکھا کرے، وغیرہ وغیرہ۔
اور شاید ’’صحیح العقل انسان‘‘ کے لئے یہ بھی لازم ہے کہ نامحرم عورتوں سے بدن دبواتا ہو، عورتوں کے پہرے میں شب
بیداری کرتا ہو، ناکتخدائیں رات کی تنہائیوں میں اس کی ’’خدمت‘‘ کرتی ہوں، نیم دیوانی عورتیں بے تکلف و بے حجاب اس
کے سامنے غسل کرتی ہوں، وہ خواب میں نامحرموں سے معانقہ پر کلمہ شکر بجا لاتا ہو، وغیرہ وغیرہ۔
اور شاید صحیح العقل ہونے کی ایک شرط یہ بھی ہو کہ آدمی متضاد اور مناقض دعوے کرے۔ کبھی عیسیٰ ہو کبھی مریم، کبھی
مرد ہو کبھی عورت، کبھی انسان ہو کبھی کرم خاکی، کبھی بندہ ہو، کبھی خدا، کبھی احمد ہو، کبھی غلام احمد، کبھی قرآن
کھول کر بتائے کہ فلاں نبی زندہ ہے دوبارہ دنیا میں آئے گا اور کبھی الہام سنائے کہ وہ مرگیا ہے، اب نہیں آئے گا۔
وغیرہ وغیرہ۔
اور ممکن ہے کہ ’’صحیح العقل انسان‘‘ کی تعریف میں یہ بھی داخل ہو کہ وہ محمد رسول ہونے کا دعویٰ کرے، اپنی روحانیت
کو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی روحانیت سے اکمل بتائے، قرآنی معجزات کو مکروہ اور قابل نفرت کرشمے ٹھہرائے،
انبیاء و اولیاء پر سب و شتم کرے، تمام مجددین اُمت کو فیج اعوج اور گمراہ قرار دے، صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو
احمق اور نادان کہے، اپنے نہ ماننے والوں کو خنزیر، کتے، شیطان، ولد الحرام، ذریۃ البغایا اور نطفۃ السفہاء ایسے
مہذب الفاظ سے یاد کرے۔ تمام اُمتِ مسلمہ کو کافر، یہودی، مشرک اور جہنمی کا خطاب دے وغیرہ وغیرہ۔
الغرض اگر کسی شخص کے صحیح العقل ہونے کے لئے ان اوصاف کا ُکلاً یا بعضاً پایا
445
جانا مرزا طاہر احمد صاحب کے نزدیک ضروری ہے، جو قدرت نے بیک وقت ان کے دادا جناب مرزا غلام احمد صاحب میں
جمع کردئیے تھے، تو مجھے اعتراف ہے کہ میں ان کے اس معیار پر پورا اترنے سے قاصر ہوں،(الحمد للہ
الذی عافانی مما ابتلاہ بہ) ۔
تاہم صاحبزادہ صاحب کا یہ خود ساختہ اصول کہ ’’کسی فرقہ کی ملحدانہ تعلیم و تبلیغ پر اعتراض کرنا کسی صحیح العقل
انسان کا کام نہیں ہوسکتا۔‘‘ محل بحث ہے۔ کون نہیں جانتا کہ مرزا غلام احمد قادیانی کے پیشرو، مسیلمہ یمامہ کی تبلیغ
پر اعتراض کرتے ہوئے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے ’’الکذّاب‘‘ کا لقب دیا تھا، جو آج تک مرزا قادیانی کی طرح
اس کے نام کا جز ہے۔ پھر کون نہیں جانتا کہ اسود عنسی کے نظریات کی تبلیغ پر قدغن لگانے کے لئے صحابہ کرام رضوان
اللہ تعالیٰ علیہم اجمعین کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا۔ پھر کون نہیں جانتا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم
نے مشرکین کو جزیرۂ عرب سے نکال دینے کا حکم فرمایا تھا۔ مرزا طاہر احمد صاحب کے نزدیک آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی
حیثیت صحیح العقل انسان کی تھی یا نہیں؟
پھر کون نہیں جانتا کہ سیّدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے مدعی نبوّت مسیلمہ کذاب کے نظریات کا صفایا کرنے کے لئے
اکابر صحابہؓ کا لشکر بھیجا اور انہوں نے ’’حدیقۃ الموت‘‘ میں اس کے بیس ہزار ساتھیوں
سمیت اسے واصل جہنم کیا اور اس معرکہ میں سات سو اشراف صحابہؓ شہید ہوئے۔ کیا یہ تمام اکابر صحابہؓ مرزا طاہر احمد
صاحب کے نزدیک عقل و خرد سے کورے تھے؟
اور پھر کون نہیں جانتا کہ سیّدنا صدیق اکبرؓ نے مانعین زکوٰۃ کو اپنے نظریات پھیلانے اور ان کی تبلیغ کرنے کا حق
نہیں دیا، بلکہ ان کے خلاف فوج کشی کی اور جزیرۂ عرب کو فتنۂ ارتداد سے پاک کیا۔ کیا ان کا یہ اقدام صحت عقل کے
منافی تھا؟
اور پھر کون نہیں جانتا کہ سیّدنا فاروق اعظمؓ نے یہود کی ریشہ دوانیوں کا قلع قمع کرنے کے لئے انہیں جلاوطنی کا
حکم دیا۔ کیا ان کا یہ عمل غیر عاقلانہ تھا؟
اور پھر کون نہیں جانتا کہ علمائے ربانیین نے ہر دور میں گمراہ فرقوں کے نظریات پر اعتراض کیا اور اسلامی معاشرہ
میں ان کے پھیلنے کو برداشت نہیں کیا۔ کیا مرزا طاہر احمد
446
صاحب کے نزدیک یہ سب عقل و خرد سے محروم تھے؟
اگر مرزا طاہر احمد صاحب اپنے اس نرالے اصول کے ذریعہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے لے کر تمام اکابر اُمت پر
’’صحیح العقل انسان‘‘ نہ ہونے کا فتویٰ صادر فرماسکتے ہیں تو راقم الحروف بھی ان کے اس فتویٰ سے محروم نہیں رہنا
چاہتا۔
ان شواہد و نظائر سے معلوم ہوا ہوگا کہ مرزا طاہر احمد صاحب کا یہ اصول غلط اور قطعاً غلط ہے کہ ہر مذہب و فرقہ کو
خواہ وہ کتنا ہی باطل پرست ہو، اپنے نظریات پھیلانے کا حق ہے، ان کے اس مخترع اصول سے پوری اسلامی تاریخ کی نفی
ہوجاتی ہے۔ سوال پیدا ہوتا ہے کہ صاحبزادہ صاحب کو ایسے باطل اصولوں کا سہارا لینے کی ضرورت کیوں پیش آئی؟ اس کی
وجہ یہ ہے کہ مرزا طاہر احمد کے باپ دادا نے جو دین و مذہب ایجاد کیا ہے، وہ کسی ٹھیٹھ اسلامی معاشرے میں پنپ نہیں
سکتا۔ اس کی نشو و نما یا تو خالص غیراسلامی معاشرہ میں ہوسکتی ہے یا کم از کم ایسے معاشرہ میں جس میں گمراہی و
بددینی کی گھٹائیں چھائی ہوئی ہوں اور جو اپنے تاریک ماحول کی بدولت حق و باطل کی تمیز سے معذور ہو۔ یہی وجہ ہے کہ
قادیانی لیڈروں نے اپنی بقا و حفاظت کے لئے اسلامی حکومت کے مقابلہ میں ہمیشہ کفر کے ظلّ حمایت کو ترجیح دی ہے،
ملاحظہ ہو:
’’سو اس نے مجھے بھیجا اور میں اس کا شکر کرتا ہوں کہ اس نے مجھے ایک ایسی گورنمنٹ (برطانیہ) کے سایۂ رحمت کے نیچے
جگہ دی جس کے زیر سایہ میں بڑی آزادی سے اپنا کام نصیحت اور وعظ کا ادا کر رہا ہوں۔ اگرچہ اس محسن گورنمنٹ کا ہر
ایک پر رعایا میں سے شکر واجب ہے مگر میں خیال کرتا ہوں کہ مجھ پر سب سے زیادہ واجب ہے کیونکہ یہ میرے اعلیٰ مقاصد
جو جناب قیصرہ ہند کی حکومت کے سایہ کے نیچے انجام پذیر ہو رہے ہیں ہرگز ممکن نہ تھا کہ وہ کسی اور گورنمنٹ کے زیر
سایہ انجام پذیر ہوسکتے، اگرچہ وہ کوئی اسلامی
447
گورنمنٹ ہی ہوتی۔‘‘
(تحفہ قیصریہ ص:۳۱،۳۲، روحانی خزائن ج:۱۲ص:۲۸۳،۲۸۴)
’’میں اپنے اس کام کو نہ مکہ میں اچھی طرح چلاسکتا ہوں، نہ مدینہ میں، نہ روم میں، نہ شام میں، نہ ایران میں، نہ
کابل میں، مگر اس گورنمنٹ میں جس کے اقبال کے لئے دعا کرتا ہوں، لہٰذا وہ اس الہام میں اشارہ فرماتا ہے کہ اس
گورنمنٹ کے اقبال اور شوکت میں تیرے وجود اور تیری دعا کا اثر ہے۔ اور اس کی فتوحات تیرے سبب سے ہیں۔ کیونکہ جدھر
تیرا منہ ادھر خدا کا منہ۔‘‘
(مرزا غلام احمد قادیانی کا اشتہار... ۲۲؍مارچ ۱۸۹۷ء مندرجہ تبلیغ رسالت ج:۶ ص:۶۹ طبع قادیان بار
اوّل)
’’قدیم سے میں نے اپنی بہت سی کتابوں میں بار بار یہی شائع کیا ہے کہ اس گورنمنٹ کے ہمارے سر پر احسان ہیں، اس کے
زیر سایہ ہم آزادی سے اپنی خدمت تبلیغ پوری کرتے ہیں اور آپ جانتے ہیں کہ ظاہری اسباب کی رو سے آپ کے رہنے کے لئے
اور بھی ملک ہیں اور اگر آپ اس ملک کو چھوڑ کر مکہ میں یا مدینہ میں یا قسطنطنیہ میں چلے جائیں تو سب ممالک آپ کے
مذہب اور مشرب کے موافق ہیں، لیکن اگر میں جاؤں تو میں دیکھتا ہوں کہ وہ سب لوگ میرے لئے بطور درندوں کے ہیں۔
الاماشاء اللہ، اس صورت میں ظاہر ہے کہ یہ خدا تعالیٰ کا میرے پر احسان ہے کہ ایسی گورنمنٹ کے زیر سایہ مجھے مبعوث
فرمایا ہے جس کا مسلک دل آزاری نہیں اور اپنی رعایا کو امن دیتی ہے۔‘‘
(براہین احمدیہ ج:۵، ضمیمہ ص:۱۲۷، روحانی خزائن ج:۲۱ ص:۲۹۴)
’’یہ میرا دعویٰ ہے کہ تمام دنیا میں گورنمنٹ برطانیہ کی
448
طرح کوئی دوسری ایسی گورنمنٹ نہیں جس نے زمین پر ایسا امن قائم کیا ہو، میں سچ سچ کہتا ہوں کہ جو کچھ ہم
پوری آزادی سے اس گورنمنٹ کے تحت میں اشاعت حق کرسکتے ہیں یہ خدمت ہم مکہ معظمہ یا مدینہ منورہ میں بیٹھ کر بھی
ہرگز بجا نہیں لاسکتے۔‘‘
(ازالہ اوہام حاشیہ ص:۵۴، روحانی خزائن ج:۳ ص:۱۳۰)
’’گورنمنٹ برطانیہ کے ہم پر بڑے احسان ہیں اور ہم بڑے آرام اور اطمینان سے زندگی بسر کرتے اور اپنے مقاصد کو پورا
کرتے ہیں۔۔۔اور اگر دوسرے ممالک میں تبلیغ کے لئے جائیں تو وہاں بھی برٹش گورنمنٹ ہماری مدد کرتی ہے۔‘‘
(برکات خلافت ص:۶۵ از مرزا محمود احمد)
گویا قادیانی لیڈر یہ چاہتے ہیں کہ وہ جیسے چاہیں اسلام کے نام پر الحاد و زندقہ کے طومار تیار کریں، کوئی ان کو
روک ٹوک کرنے والا نہ ہو۔ اکبر الٰہ آبادی مرحوم کے بقول:
-
گورنمنٹ کی یارو خیر مناؤ
انا الحق کہو اور سولی نہ پاؤ
ظاہر ہے کہ یہ نعمت کسی بے دین ملک میں ہی میسر آسکتی ہے، کوئی اسلامی حکومت اور اسلامی معاشرہ اس انارکی کو کب
برداشت کرسکتا ہے؟
قادیانیوں کی حکومت طلبی کے سلسلہ میں میں نے تیسرا حوالہ ’’الفضل‘‘ ۱۴؍فروری ۱۹۲۲ء سے پیش کیا تھا، صاحبزادہ مرزا
طاہر احمد صاحب اس کے بارے میں تحریر فرماتے ہیں:
’’اس اقتباس کے متعلق ہم صرف اتنا ہی کہنا کافی سمجھتے ہیں کہ جس الفضل کا مولانا نے حوالہ دیا ہے وہ دنیا میں کبھی
شائع ہی نہیں ہوا، خدا جانے مولانا نے یہ حوالہ کیسے ایجاد فرمالیا۔‘‘
(ربوہ سے تل ابیب تک پر مختصر تبصرہ ص:۴۳، ۴۴)
449
صاحبزادہ صاحب کو بین السطور اس امر کا اعتراف ہے کہ ’’الفضل‘‘ کے جس مضمون کا حوالہ دیا گیا ہے وہ اقتباس
تو موجود ہے، البتہ جس ’’الفضل‘‘ کا حوالہ دیا گیا ہے اس میں نہیں بلکہ کسی دوسرے ’’الفضل‘‘ میں ہے، اور حوالہ اسی
’’الفضل‘‘ کا دینا چاہئے تھا، نہ کہ اس ’’الفضل‘‘ کا جو دنیا میں کبھی شائع ہی نہیں ہوا۔
میں اس تصحیح پر صاحبزادہ صاحب کا شکریہ ادا کرتا ہوں، واقعی مجھ سے سہو ہوا ہے مجھے فروری کے بجائے مارچ کے
’’الفضل‘‘ کا حوالہ دینا چاہئے تھا۔ رہا مرزا طاہر احمد صاحب کا یہ سوال کہ ’’خدا جانے مولانا نے یہ حوالہ کیسے
ایجاد فرمالیا ہے۔‘‘ جواباً گزارش ہے کہ مرزا غلام احمد صاحب نے حدیث: ’’ھذا خلیفۃ اللہ
المہدی‘‘ کے لئے بخاری شریف کا حوالہ کیسے ایجاد فرمالیا تھا؟ مرزا صاحب لکھتے ہیں:
’’اگر حدیث کے بیان پر اعتبار ہے تو پہلے ان حدیثوں پر عمل کرنا چاہئے جو صحت اور وثوق میں اس حدیث پر کئی درجہ
بڑھی ہوئی ہیں۔ مثلاً صحیح بخاری کی وہ حدیثیں جن میں آخری زمانہ میں بعض خلیفوں کی نسبت خبر دی گئی ہے، خاص کر وہ
خلیفہ جس کی نسبت بخاری میں لکھا ہے کہ: آسمان سے اس کی نسبت آواز آئے گی کہ ’’ھذا خلیفۃ اللہ
المہدی‘‘ اب سوچو کہ یہ حدیث کس پایہ اور مرتبہ کی ہے جو ایسی کتاب میں درج ہے جو اصح الکتب بعد کتاب اللہ
ہے۔‘‘
(شہادۃ القرآن ص:۴۱، روحانی خزائن ج:۶ ص:۳۳۷)
جناب مرزا طاہر احمد صاحب کو راقم الحروف کا ممنون ہونا چاہئے کہ اس نے سہواً ’’الفضل‘‘ کے ایک مہینہ کی جگہ دوسرا
مہینہ لکھ دیا۔ صحیح بخاری شریف کا حوالہ نہیں دے دیا، ورنہ شاید انہیں راقم الحروف پر بھی ’’مسیح موعود‘‘ ہونے کا
شبہ ہوتا۔ بہرحال جناب صاحبزادہ صاحب کا تصحیح شدہ حوالہ درج ذیل ہے:
’’احمدیوں کے پاس ایک چھوٹے سے چھوٹا ٹکڑا بھی نہیں جہاں احمدی ہی احمدی ہوں، کم از کم ایک علاقہ کو مرکز بنالو اور
جب
450
تک ایسا مرکز نہ ہو جس میں کوئی غیر نہ ہو اس وقت تک تم مطلب کے مطابق امور جاری نہیں کرسکتے اور نہ اخلاق
کی تعلیم ہوسکتی ہے، نہ پورے طور پر تربیت کی جاسکتی ہے۔ اس لئے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا تھا کہ مکہ
اور حجاز سے مشرکوں کو نکال دو، ایسا علاقہ اس وقت تک ہمیں نصیب نہیں جو خواہ چھوٹے سے چھوٹا ہو مگر اس میں غیر نہ
ہوں۔ جب تک یہ نہ ہو اس وقت تک ہمارا کام بہت مشکل ہے، اگر یہ نہ ہوا تو کام اور مشکل ہوجائے گا (مطلب یہ کہ کسی نہ
کسی جگہ خالص قادیانی حکومت ہونی چاہئے، خواہ ایک قصبہ میں ہی کیوں نہ ہو۔۔۔ناقل)۔‘‘
(خطبہ میاں محمود احمد صاحب، مندرجہ اخبار الفضل ج:۹ نمبر:۹۷، ۱۲؍مارچ ۱۹۲۲ء بحوالہ قادیانی مذہب
فصل:۱۶نمبر:۵۰ ص:۹۰۰طبع پنجم)
آج جناب مرزا طاہر احمد صاحب ’’قادیانی حکومت‘‘ کا نام سن کر کانوں پر ہاتھ رکھتے ہیں اور اسے دشمن کی اڑائی ہوئی
ہوائی باور کراتے ہیں، حالانکہ یہ سالہا سال تک ان کے والد محترم جناب مرزا بشیر الدین صاحب کے خطبوں کا موضوع رہا
ہے اور وہ اسی کو اصل قادیانی ہدف ظاہر کرتے رہے ہیں۔ ایک صدی کی کروٹ کے بعد آج اگر ان کے یہ خیالات ’’مجذوب کی
بڑ‘‘ تصور کئے جائیں تو تعجب نہیں۔ مگر وہ اس کو مسیح موعود کی بعثت کی اصل غرض قرار دیتے رہے ہیں۔ ان کی بے شمار
تحریروں اور تقریروں سے چند اقتباسات درج ذیل کئے جاتے ہیں:
قادیانی غرض اور مقصد:
’’ہمیں خدا تعالیٰ نے اس غرض کے لئے دنیا میں کھڑا کیا ہے کہ ہم بادشاہتوں کو الٹ دیں حکومتوں کو بدل دیں اور
سلطنتوں میں انقلاب پیدا کردیں، اور پھر ان بادشاہتوں، حکومتوں اور
451
سلطنتوں کی جگہ نئی حکومتیں اور نئی سلطنتیں قائم کریں، اور دنیوی حکومتوں کو اپنے ماتحت لاکر انہیں مجبور
کریں کہ وہ اس تعلیم کو جاری کریں جو اسلام (قادیانی اسلام۔۔۔ناقل) دنیا میں قائم کرنا چاہتا ہے۔‘‘
(ارشاد: میاں محمود احمد صاحب، مندرجہ اخبار الفضل ج:۳۴نمبر:۲۴۹ مؤرخہ ۲۴؍اکتوبر ۱۹۴۶ء)
دنیا کو کھاجانا:
’’ہماری جماعت ظاہری حالت کے لحاظ سے کمزور ترین نہیں بلکہ ایک ہی کمزور جماعت ہے دنیا میں کوئی ایک بھی منظم جماعت
جو کام کر رہی ہو ہم سے کمزور نہیں، مگر باوجود اس کے کسی کے ارادے ایسے بلند اور ایسے وسیع نہیں ہیں، اور ان میں سے
کوئی بھی یہ امید نہیں رکھتی کہ وہ دنیا کے موجودہ نظام کو توڑ کر ایک نیا نظام جاری کرے گی۔ سوائے ہماری (احمدی)
جماعت کے... اس وقت ایک ہی جماعت ایسی ہے جو کمزوری کے لحاظ سے دنیا میں سب سے گری ہوئی ہے، مگر ارادہ کے لحاظ سے سب
سے بڑھی ہوئی ہے، پھر وہ منہ سے دعوے ہی نہیں کرتی اس کی بنیاد ہی اس پر ہے کہ دنیا کو کھاجانا ہے، کیونکہ اس کی
بنیاد یہ ہے کہ ہم کو خدا تعالیٰ نے حضرت مسیح موعود (مرزا غلام احمد قادیانی) کے متعلق فرمایا ہے: دنیا میں ایک
نذیر آیا پر دنیا نے اس کو قبول نہ کیا، لیکن خدا اس کو قبول کرے گا اور بڑے زور آور حملوں سے اس کی سچائی دنیا پر
ظاہر کرے گا (چنانچہ آخری بار ۷؍ستمبر ۱۹۷۴ء کو ساری دنیا پر اس کی ’’سچائی‘‘ ظاہر ہوچکی ہے ۔۔۔ناقل)۔‘‘
(خطبہ میاں محمود احمد خلیفہ قادیان، مندرجہ الفضل ج:۱۵ نمبر:۸۲مؤرخہ ۱۷؍اپریل ۱۹۲۸ء)
452
دنیا میں تہلکہ:
’’خوجہ قوم بے شک بہت مالدار قوم ہے، مگر یہ امنگ کبھی ان کے دل میں پیدا نہیں ہوسکتی کہ ساری دنیا پر چھاجائیں۔ بے
شک میمن اور بورے بہت مالدار ہیں مگر ان کے دماغ کے کسی گوشے میں بھی کبھی یہ بات نہیں آسکتی کہ ہم دنیا کے بادشاہ
ہوجائیں گے اور نظام عالم میں تبدیلی پیدا کردیں گے، ان کی دولتیں اتنی زیادہ ہیں کہ ان میں سے کئی ایسے ہیں جو اس
زمانہ میں بھی جب کہ مال و دولت کی کثرت ہے اس قدر مالدار ہیں کہ انفرادی طور پر مدینہ کو خریدنے کی طاقت رکھتے
ہیں(مدینہ کو خریدنے کے بجائے قادیان کو خریدنے کی بات کرنی تھی۔۔۔ناقل) مگر ان کے دماغ کے کسی گوشہ میں بھی کبھی نہ
یہ خیال آیا کہ ہم نے دنیا کو فتح کرنا ہے اور دنیا کے نظام کو درہم برہم کرکے ایک نیا نظام جاری کرنا ہے۔ مگر اس
کے مقابلہ میں ایک اور قوم ہے جو اپنے مال، اپنی دولت اپنی عزت اور اپنی تعداد اور اپنے اثر و رسوخ کے لحاظ سے دنیا
کی شاید تمام منظم جماعتوں سے کمزور اور تھوڑی ہے، مگر باوجود اس کے اس کے دل میں یہ امنگ ہے اور اس کے ارادے اس قدر
پختہ اور بلند ہیں کہ اس کا دعویٰ ہے کہ وہ تمام کمزوریوں کے باوجود اور سامان کی کمی کے باوجود ساری دنیا میں تہلکہ
مچا دے گی۔ اور موجودہ نظام کو توڑ کر اور موجودہ دستور کو تہ و بالا کرکے نیا نظام اور نیا کام جاری کرے گی، اور وہ
جماعت احمدیہ ہے(جس کی سب سے بڑی خصوصیت یہ ہے کہ اس کے لیڈر ہمیشہ ہوائی قلعے تعمیر کرتے ہیں، اور اپنے خوش فہم
مریدوں کو سبزباغ دکھایا کرتے ہیں۔۔۔ناقل)۔‘‘
453
تجارت اور حکومت پر قبضہ:
’’جب احمدیت ترقی کرے گی، ہماری جماعت کے لوگوں کی آمدنیاں زیادہ ہوں گی، ہمارے ہاتھ میں حکومت آجائے گی، احمدی
اُمراء اور بادشاہ ہوں گے، تو اس وقت ۱۰/۱ حصہ کی وصیت کافی نہ ہوگی۔۔۔‘‘
’’ایک زمانہ ایسا آنے والا ہے جب ۱۰/۱ حصہ تو کنچنیاں بھی داخل کرنے کے لئے تیار ہوجائیں گے۔ اس وقت حکومت احمدیت
کی ہوگی۔ آمدنی زیادہ ہوگی، مال و اموال کی کثرت ہوگی، اور ۱۰/۱ حصہ داخل کرنا کوئی بات ہی نہ ہوگی، مگر اب تھوڑی
جماعت ہے۔ جس نے بہت بوجھ اٹھانا ہے۔ احمدیہ کی وجہ سے ہمارے آدمیوں کی ملازمتیں رکی ہوئی ہیں۔ ترقیاں رکی ہوئی
ہیں، تجارتیں رکی ہوئی ہیں، ان باتوں کو مدنظر رکھتے ہوئے ۶۰یا ۶۵فیصدی جو چندہ دیتے ہیں وہی بڑا سمجھا جاتا ہے،
لیکن جب تجارت اور حکومت ہمارے قبضہ میں ہوگی اس وقت اس قسم کی تکلیفیں نہ ہوں گی۔‘‘
(خطبہ میاں محمود احمد صاحب خلیفہ قادیاں، مندرجہ الفضل ج:۱۳نمبر:۱۱۷ ص:۸ مؤرخہ ۸؍جون ۱۹۲۶ء)
اورنگ زیب بادشاہ:
’’ہندو ہیرالڈ کا نامہ نگار سب کو مسلمان بنانے کا ذکر کرتا ہوا لکھتا ہے: ’’بھلا جس کام کو اورنگ زیب جیسا بادشاہ
نہ کرسکا اسے تم کس طرح کر لو گے۔‘‘ بندۂ خدا! اورنگ زیب کی ہستی ہی کیا تھی میرے سامنے؟ اورنگ زیب بادشاہ تھا اور
دنیا کا بادشاہ تھا، وہ دنیا کی بہتری کے لئے جو کچھ کرسکتا تھا وہ اس نے کیا، میں ایک مصلح کا
454
خلیفہ ہوں۔ اگر آج اورنگ زیب زندہ ہوتا اور خدا تعالیٰ حق کی شناخت کے لئے اس کی آنکھیں کھول دیتا تو وہ
بھی میرے ماتحتوں میں اسی طرح کام کرتا جس طرح اور کر رہے ہیں (غالب یہ ہے کہ مجاہد فی سبیل اللہ اورنگ زیب رحمہ
اللہ، مسیلمہ پنجاب کی ذُرّیت سے وہی سلوک کرتے جو حضرت صدیق اکبر رضی اللہ عنہ نے مسیلمہ کذاب اور اس کی ذریت سے
کیا تھا۔۔۔ناقل)۔‘‘
(خطبہ میاں محمود احمد صاحب، مندرجہ الفضل ج:۱۴ نمبر:۹۵ ص:۷ مؤرخہ ۳؍جون ۱۹۲۷ء)
بے ایمانی اور بے وقوفی:
’’تعجب ہے کہ (قادیانی) جماعت کے لوگوں کو یہ خیال نہیں آتا کہ چونکہ اللہ تعالیٰ نے ہمیں چنا ہے اس لئے ہم ضرور
کامیاب ہوں گے، ہم سے کتنے ہیں جو مایوس ہیں، کتنے ہیں ـــ جن کو خیال ہے کہ ہمارے اندر کچھ قابلیت نہیں۔ مگر اس سے
زیادہ بے ادبی اور گستاخی کیا ہوسکتی ہے کہ خدا کہتا ہے کہ تم دنیا کو فتح کروگے، لیکن تم کہتے ہو نہیں، ہم نہیں
کرسکتے۔ غور تو کرو کب خدا نے کسی قوم کو اس لئے چنا ہے کہ وہ دنیا کو فتح کرے گی اور اس نے نئی زمین اور نیا آسمان
نہ پیدا کردیا۔ کیا اب خدا تعالیٰ (نعوذ باللہ) بوڑھا ہوگیا ہے کہ اس کی قوت انتخاب کمزور ہوگئی ہے۔ اس نے حضرت
نوحؑ، حضرت ابراہیمؑ، حضرت کرشن، حضرت رام چندر، حضرت بدھ، حضرت موسیٰ، حضرت عیسیٰ اور حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم
کے ذریعہ قوموں کو چنا اور وہ کامیاب ہوئیں پھر کیا اب خدا کی عقل کمزور ہوگئی ہے کہ اس نے ہم کو چنا اور ہم ناکام
رہ جائیں گے۔ یہ انتہا درجہ کی بے ایمانی اور بے وقوفی ہے (جس میں ایک صدی سے قادیانی
455
جماعت مبتلا ہے۔۔۔ناقل)۔‘‘
(خطبہ میاں محمود احمد صاحب، مندرجہ اخبار الفضل ج:۱۸ نمبر:۷۳ص:۷ مؤرخہ ۱۸؍دسمبر ۱۹۳۰ء)
زندگی اور موت:
’’غرض ہر قوم یا ہر طبقہ اور ہر ملک میں گھبراہٹ اور بے چینی پائی جاتی ہے۔ اگر کوئی ایسی جماعت ہے جو اپنے مذہب پر
پکی اور امید و یقین سے پر ہے تو وہ احمدی جماعت ہے وہ لوگ جو واقع میں حضرت مسیح موعود (مرزا غلام احمد قادیانی) پر
ایمان لاتے ہیں سمجھتے اور یقین رکھتے ہیں کہ سب کچلے جائیں گے صرف ہم باقی رہ جائیں گے۔ ہر ایک کو موت نظر آرہی ہے
اور صرف ہم کو زندگی دکھائی دے رہی ہے کیونکہ ہمارے متعلق ہی کہا گیا ہے ’’آسمان سے کئی تخت اترے پر تیرا تخت سب سے
اوپر بچھایا گیا‘‘ پس دوسری بادشاہتوں کو خطرہ ہے کہ وہ ٹوٹ جائیں گی، مگر ہمیں امید ہے کہ بادشاہت دی جائے گی،
حکمراں ڈر رہے ہیں کہ ان کی حکومت جاتی رہے گی مگر ہم خوش ہیں کہ ہمارے ہاتھ میں دی جائے گی۔‘‘
(خطبہ میاں محمود احمد خلیفہ قادیان، مندرجہ الفضل ج:۱۵نمبر:۳۷۸؍اپریل ۱۹۲۸ء)
قادیانی رحم:
’’فرمایا (مرزا محمود احمد صاحب خلیفہ قادیان نے کہ) مجھے تو ان غیراحمدی مولویوں پر رحم آیا کرتا ہے جب میں یہ
خیال کیا کرتا ہوں کہ ان کی تو اب ذلت و رسوائی کے سامان ہو رہے ہیں اور خدا نے ہمیں قوت اور سطوت عطا کرنی ہے۔ یہ
لوگ زیادہ سے زیادہ ایک سو سال تک اور بمشکل اس رنگ میں گزارہ کرسکیں گے، پھر جب خدا تعالیٰ احمدیوں کو حکومت دے گا،
احمدی بادشاہ تختوں پر بیٹھے ہوں
456
گے، الفضل کے پرانے فائل نکال کر پیش ہوں گے تو اس وقت ان بے چاروں کا کیا حال ہوگا؟ (بحمد للہ ابھی تک تو
’’الفضل کے پرانے فائل‘‘ خود قادیانیوں کے لئے درد سر بنے ہوئے ہیں۔۔۔ناقل) مجھے خطرہ ہے کہ اس وقت کے احمدی ان کے
مظالم کو پڑھ پڑھ کر اور ان کے قتل اور سنگ ساری کے جرائم کے حالات کو دیکھ کر ان سے کیا سلوک کریں گے؟ (غالباً جو
قادیان اور ربوہ میں مخالفین سے ہوتا رہا ہے۔۔۔ناقل) اس وجہ سے مجھے ان پر رحم آتا ہے اور پھر اپنے اوپر بھی آتا
ہے کہ اگر خدانخواستہ وہ لوگ کوئی ایسی حرکت کر بیٹھیں گے تو پھر وہ بھی اسی سزا کے مستوجب ہوں گے۔‘‘
(ارشاد: میاں محمود احمد صاحب مندرجہ اخبار الفضل ۱۵؍اکتوبر ۱۹۲۴ء)
قادیانی یہودی:
’’فرمایا: جب تک حضرت مسیح موعود (مرزا غلام احمد قادیانی) دنیا میں نہ آئے تھے وہ یہود، یہود تھے اور ان پر وہ
لعنت تھی جو حضرت مسیح علیہ السلام کو نہ ماننے کی وجہ سے ان پر نازل ہوئی۔ مگر جب سے حضرت مسیح موعود (مرزا صاحب)
آگئے ہیں تب سے ان کی اور ان مولویوں کی پوزیشن برابر ہوگئی ہے بلکہ یہ ان سے بھی گرگئے ہیں۔ اور زیادہ قابل
مؤاخذہ ہیں اور یہی وجہ ہے کہ اب وہ یہود ابھرتے نظر آتے ہیں اور یہ مثیل یہود بیٹھتے چلے جارہے ہیں (نقلی مسیح
اگر کافروں کو مسلمان نہیں بناسکتا تو مسلمانوں کو یہودی بنانے کا کام ہی سہی۔ یعنی الٹی مسیحیت۔ ناقل)۔‘‘
(ارشاد: میاں محمود احمد صاحب خلیفہ قادیاں، مندرجہ اخبار الفضل ۱۵؍اکتوبر ۱۹۲۴ء)
قادیانی یتیم اور ان کی دیوار:
’’ایک صاحب نے عرض کیا کہ بعض لوگ سوال کرتے
457
ہیں کہ انگریزوں کی سلطنت کی حفاظت اور ان کی کامیابی کے لئے حضرت مسیح موعود (مرزا غلام احمد قادیانی) نے
کیوں دعائیں کیں؟ حضور (مرزا محمود احمد صاحب) بھی ان کی کامیابی کے لئے دعا کرتے ہیں اور اپنی جماعت کے لوگوں کو
جنگ میں مدد دینے کے لئے بھرتی ہونے کا ارشاد فرماتے ہیں۔ حالانکہ انگریز مسلمان نہیں۔ اس کے جواب میں حضور (مرزا
محمود احمد صاحب خلیفہ قادیاں) نے جو ارشاد فرمایا اس کا خلاصہ عرض کیا جاتا ہے۔
فرمایا: اس سوال کا جواب قرآن کریم میں موجود ہے۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام کو جو نظارے دکھائے گئے ان میں سے ایک یہ
تھا کہ ایک گری ہوئی دیوار بنادی گئی، جس کی وجہ بعد میں یہ بیان کی گئی کہ اس کے نیچے خزانہ تھا جس کے مالک چھوٹے
بچے تھے دیوار اس لئے بنا دی گئی کہ ان لڑکوں کے بڑے ہونے تک خزانہ کسی اور کے ہاتھ نہ لگے اور ان کے لئے محفوظ رہے۔
یہ دراصل حضرت مسیح موعود (مرزا غلام احمد قادیانی) کی جماعت کے متعلق پیش گوئی ہے۔ جب تک جماعت احمدیہ نظام حکومت
سنبھالنے کے قابل نہیں ہوتی اس وقت تک ضروری ہے کہ اس دیوار (یعنی انگریزی حکومت ۔۔۔ناقل) کو قائم رکھا جائے تاکہ یہ
نظام کسی ایسی طاقت کے قبضہ میں نہ چلا جائے جو احمدیت کے مفادات کے لئے زیادہ مضر اور نقصان رساں ہو۔ جب جماعت میں
قابلیت پیدا ہوجائے گی اس وقت نظام اس کے ہاتھ میں آجائے گا۔ یہ وجہ ہے انگریزوں کی حکومت کے لئے دعا کرنے اور ان
کو فتح حاصل کرنے میں مدد دینے کی۔ (افسوس ہے کہ ۱۹۷۴ء میں قادیانی یتیموں کی یہ دیوار گر گئی اور ان کا مدفون
دوسروں کے ہاتھوں میں چلا گیا۔۔۔ناقل)۔‘‘
(میاں محمود احمد
458
صاحب کی ’’مجلس علم و عرفان‘‘ مندرجہ اخبار الفضل ج:۳۳ نمبر:۳ مؤرخہ ۳؍جنوری
۱۹۴۵ء)
یہاں اس لطیفے کا ذکر بھی دلچسپی سے خالی نہ ہوگا کہ انگریزوں کے ابتدائی دور تسلط میں یہی ذہنیت ہندوؤں کی تھی۔
چنانچہ جناب قمر الدین احمد چائنا ہاؤس، میٹھادر چوک، کراچی نمبر:۲ کی کتاب ’’ابوالفریب‘‘ (حصہ اوّل ص:۱۰۲) میں ایک
بنگالی ناول نگار بنکم چندر کے مشہور ناول ’’آنند مٹھ‘‘ (مسرت کی خانقاہ) سے حسب ذیل کا اقتباس نقل کیا ہے:
’’سچے مذہب کی تجدید کی اس وقت تک امید نہیں کی جاسکتی جب تک اہل برطانیہ ہمارے حکمراں نہ ہوجائیں... ملچھیوں
(ناپاک لوگوں) نے ہمارے مذہب کا نام ہندو رکھا ہے... انگریز سائنس میں بہت ترقی یافتہ ہیں اور قابل استاذ ہیں۔ اس
واسطے انہیں کو ہمارا بادشاہ ہونا چاہئے... جب تک ہندو علم، صداقت اور طاقت اوج کمال پر نہ پہنچ جائیں اس وقت تک
برطانوی سلطنت کو قائم رکھنا ضروری ہے، اس کے ماتحت عوام پُرمسرت زندگی بسر کرسکیں گے اور بغیر مداخلت اپنے مذہبی
شعائر کو پورا کرسکیں گے ہمارا دشمن (اسلامی حکومت) اب کہاں ہے؟ وہ اب ختم ہوچکا ہے۔ برٹش اقتدار ہمارے لئے دوست
ہے۔‘‘
دیکھئے وہی ذہنیت، وہی فلسفہ، وہی تکنیک، غالباً قادیانیت کی یہی ہندوانہ ذہنیت تھی جس کی بنا پر مرزا قادیانی کو
’’کرشن جی مہاراج‘‘، ’’رودر گوپال‘‘، ’’سورمار‘‘ اور ’’جے سنگھ بہادر‘‘ کے خطابات عطا کئے گئے۔
تحریک حریت اور نادان احمدی:
’’ہندوستان میں انقلاب پیدا ہونے والا ہے اور ہندوستانیوں میں اس وقت جو جذبۂ حریت پیدا ہو رہا ہے،
459
(انگریزی) گورنمنٹ زیادہ دیر تک اس کا مقابلہ نہیں کرسکتی بے شک وہ مقابلہ تو کرے گی لیکن آہستہ آہستہ وہ
خودبخود ہندوستانیوں کو حقوق دینے پر آمادہ ہوجائے گی اور وہ نادان احمدی جو ایک حد تک تحریک حریت کو ہندوستان کے
لئے مفید سمجھتے ہیں اس وقت دیکھیں گے کہ وہ لوگ جن کی ظاہرداری کو دیکھ کر وہ انہیں اپنا ہمدرد سمجھتے ہیں ان کی
مثال بعینہٖ اس بلی کی طرح ہے جس کا جسم نہایت ملائم اور پشم بہت نرم لیکن ناخن خوفناک ہوتے ہیں اور وہ دیکھیں گے کہ
کس طرح ان کی آنکھوں کو نکالنے اور چہرہ کو نوچنے کی کوشش کرتے ہیں... اگر تم بھی اللہ کے پیارے ہو تو اس وقت تک کہ
تمہاری بادشاہت نہ قائم ہوجائے تمہارے راستے سے یہ کانٹے ہرگز دور نہیں ہوسکتے اور تمہیں کبھی بھی امن و امان حاصل
نہیں ہوسکتا۔ اور اگر آج کسی وجہ سے سکھ ہے تو کل یقینا پھر دکھ کی حالت ہوجائے گی۔‘‘
(خطبہ میاں محمود احمد صاحب، مندرجہ اخبار الفضل ج:۱۷ نمبر:۸۶ مؤرخہ ۲۵؍اپریل ۱۹۳۰ء بحوالہ قادیانی
مذہب ص:۹۰۳فصل:۱۶ نمبر:۵۵ طبع پنجم)
دشمن:
’’ہمیں جن کا اعتقاد ہے کہ کسی وقت بدلہ لینا بھی ضروری ہوتا ہے۔ اس خیال سے مطمئن نہیں ہونا چاہئے کہ ہم کسی کا
کچھ نہیں بگاڑتے اس لئے ہمیں بھی کوئی نقصان نہیں پہنچائے گا۔ ہماری بھلائی کی صرف ایک ہی صورت ہے اور وہ یہ کہ تمام
دنیا کو اپنا دشمن سمجھیں۔ تاان پر غالب آنے کی کوشش کریں کیونکہ جب تک مخالفت نہ ہو ترقی بھی نہیں ہوسکتی تمام
انبیاء کی جماعتیں ایک ہی جیسی ہوتی ہیں۔ پہلوں میں ہم سے زیادہ ایمان نہ تھا۔
460
ان کی سستی کو دیکھ کر اللہ تعالیٰ نے ہماری جماعت کے لئے چند ایک ابتلا پیدا کئے ہیں تاکہ اگر جماعت کے دوست
دوسروں کی ہدایت کے لئے احمدیت کو نہیں پھیلاتے تو یہ سمجھ کر کہ ساری دنیا ہماری دشمن ہے اور جب تک ہم ساری دنیا کو
احمدیت میں داخل نہ کرلیں ہمارا کوئی ٹھکانہ نہیں۔ اور کبھی چین سے زندگی بسر نہیں کرسکتے۔ تبلیغ کی طرف متوجہ
ہوں۔‘‘
(خطبہ میاں محمود احمد، مندرجہ اخبار الفضل ج:۷ نمبر:۸۲ مؤرخہ ۲۵؍اپریل ۱۹۳۰ء بحوالہ قادیانی مذہب
ص:۹۰۲ فصل:۱۶ نمبر:۵۳،۵۴طبع پنجم)
چوہڑے چمار:
’’حضرت خلیفہ مسیح الثانی ایدہ اللہ بنصرہ العزیز نے جلسہ سالانہ ۱۹۳۲ء کی افتتاحی تقریب میں فرمایا تھا:
اللہ تعالیٰ کے فضل سے وہ بنیاد جو اس وقت بہت کمزور نظر آتی ہے اس پر عظیم الشان عمارت تعمیر ہوگی۔ ایسی عظیم
الشان کہ ساری دنیا اس کے اندر آجائے گی اور جو لوگ باہر رہیں گے ان کی کوئی حیثیت نہ ہوگی۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ سے
خبر پاکر حضرت مسیح موعود (مرزا غلام احمد صاحب) نے فرمایا ہے کہ ایسے لوگوں کی حیثیت چوہڑے چماروں کی ہوگی... اس
عبارت کا مطلب تو یہ ہے کہ احمدیت کا پودا جو اس وقت بالکل کمزور نظر آتا ہے، اللہ تعالیٰ کے فضل سے ایک دن ایسا
تناور درخت بن جائے گا کہ اقوام عالم اس کے سایہ میں آرام پائیں گی اور جماعت احمدیہ جو اس وقت بالکل معمولی اور بے
حیثیت سی نظر آتی ہے اس قدر اہمیت اور طاقت حاصل کرلے گی کہ دنیا کے مذہب تہذیب و تمدن اور سیاست کی باگ اس کے
461
ہاتھ میں ہوگی۔ ہر قسم کا اقتدار اسے حاصل ہوگا اور اپنے اثر و رسوخ کے لحاظ سے یہ دنیا کی معزز ترین جماعت
ہوگی۔ دنیا کا کثیر حصہ اس میں شامل ہوجائے گا۔ ہاں جو اپنی بدقسمتی سے علیحدہ رہیں گے وہ بالکل بے حیثیت سمجھے
جائیں گے۔ سوسائٹی کے اندر ان کی قدر و قیمت نہ ہوگی، دنیا کے مذہبی، تمدنی یا سیاسی دائرے کے اندر ان کی آواز ایسی
غیر مؤثر اور ناقابل التفات ہوگی جیسی کہ موجودہ زمانہ میں چوہڑے چماروں کی ہے (گویا مرزا صاحب کی پیش گوئی کے
مطابق قادیانی حکومت میں غیر قادیانیوں کی یہی حیثیت ہوگی۔۔۔ناقل)۔‘‘
(الفضل قادیاں مؤرخہ ۲۹؍جنوری ۱۹۳۳ء)
ہٹلر اور مسولینی:
’’حکومت ہمارے پاس نہیں کہ ہم جبر کے ساتھ لوگوں کی اصلاح کریں اور ہٹلر یا مسولینی کی طرح جو شخص ہمارے حکموں کی
تعمیل نہ کرے اسے ملک سے نکال دیں اور جو ہماری باتیں سنے اور ان پر عمل کرنے کے لئے تیار نہ ہو اسے عبرتناک سزا
دیں۔ اگر حکومت ہمارے پاس ہوتی تو ہم ایک دن کے اندر اندر یہ کام کرلیتے۔‘‘
(تقریر میاں محمود احمد صاحب، مندرجہ الفضل ج:۲۳ نمبر:۲۷۹ مؤرخہ ۲؍جون ۱۹۳۶ء)
غلبۂ اِسلام:
گزشتہ بالا اقتباسات سے اندازہ کیا جاسکتا ہے کہ قادیانی لیڈر ’’دنیا کو کھاجانے‘‘ کے خواب کتنی مدت سے دیکھ رہے
ہیں اور مسلمانوں کو ’’یہودی‘‘ ٹھہراکر دنیا بھر میں ان کی حکومتوں کے زوال کے کس شدت سے متمنی ہیں؟ اس کے باوجود
اگر مرزا طاہر احمد صاحب قادیانیوں کی اس گھناؤنی ذہنیت پر انکار و گریز کے پردے ڈالنا چاہیں تو یہ
462
ان کی مجبوری ہے، ان کی یہ حالت زار واقعتا لائق رحم ہے جس پر سب کو ترس آنا چاہئے، کجا وہ دن تھے کہ
انگریز بہادر کے سائے میں ان کا طوطی بولتا تھا، ملازمتیں اور نوکریاں انہی کے اشارہ سے ملا کرتی تھیں، وہ دنیا بھر
کے مسلمانوں پر دھونس جمایا کرتے تھے۔ انہیں یقین تھا کہ ہمارا مرشد و مربی (انگریز بہادر) جائے گا تو زمام حکومت
ہمارے سپرد کرکے جائے گا۔ وہ ترنگ میں آکر کہا کرتے تھے:
’’ہم میں سے ہر ایک شخص یہ یقین رکھتا ہے کہ تھوڑے عرصہ کے اندر ہی (خواہ ہم اس وقت زندہ رہیں یا نہ رہیں لیکن
بہرحال وہ عرصہ غیرمعمولی طور پر لمبا نہیں ہوسکتا) ہمیں تمام دنیا پر نہ صرف عملی برتری حاصل ہوگی بلکہ سیاسی اور
مذہبی برتری بھی حاصل ہوجائے گی۔ اب یہ خیال ایک منٹ کے لئے بھی کسی سچے احمدی کے دل میں غلامی کی روح پیدا نہیں
کرسکتا ــــ جب ہمارے سامنے بعض حکام آتے ہیں تو ہم اس یقین اور وثوق کے ساتھ اس سے ملاقات کرتے ہیں کہ کل یہ نہایت
ہی عجز و انکسار کے ساتھ ہم سے استمداد کر رہے ہوں گے۔‘‘
(الفضل ۲۲؍اپریل ۱۹۳۸ء)
کجا آج یہ دن کہ ملت اسلامیہ کے معدہ نے انہیں مردہ مکھی کی طرح باہر اگل دیا۔ وہ تمام مسلمانوں کو ’’چوہڑے چمار‘‘
کی حیثیت دینے پر ادھار کھائے بیٹھے تھے مگر خدا کی قدرت کا تماشا دیکھو! کہ آج خود ان ہی کا نام آئین میں شیڈول
کاسٹ (چوہڑے چماروں) کے ساتھ درج ہے، ایسے میں مرزا طاہر احمد صاحب اپنے باپ دادا کے افعال و اقوال اور تحریروں پر
انکار و تاویل کے پردے ڈال کر خفت مٹانے کی کوشش نہ کریں تو آخر کیا کریں؟
’’حذر! اے چیرہ دستاں! سخت ہیں فطرت کی تعزیریں‘‘
لیکن طرفہ تماشا یہ ہے کہ صاحبزادہ صاحب ایک طرف تو یہ فرما رہے ہیں کہ قادیانی لیڈروں کا حکومت پر قابض ہونے کا
کوئی ارادہ نہیں، دوسری طرف خوش فہم
463
مریدوں کو یہ کہہ کر دلاسا دیتے ہیں کہ قادیانی جماعت غلبۂ اسلام کے لئے کھڑی کی گئی ہے اور یہ کہ اسی
جماعت کے ذریعہ اسلام ساری دنیا پر غالب آئے گا، چنانچہ وہ قرآن مجید کی آیت: ’’ھُوَ
الَّذِیٓ أَرْسَلَ رَسُوْلَہٗ بِالْھُدَیٰ وَدِیْنِ الْحَقِّ لِیُظْھِرَہٗ عَلَی الدِّیْنِ کُلِّہٖ وَلَوْ کَرِہَ
الْمُشْرِکُوْنَ‘‘ کا حوالہ دے کر لکھتے ہیں:
’’احمدیت کا تو دعویٰ ہی یہی ہے کہ یہ تحریک تمام ادیان پر اسلام کے غلبہ کے لئے جاری کی گئی ہے، قرآن کریم میں
اللہ تعالیٰ نے حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم سے جو سچا اور اٹل وعدہ فرمایا تھا کہ وہ آپ کو اور آپ کے دین
کو تمام دوسرے ادیان پر غالب فرمادے گا اسی وعدہ کے ایفا کا سامان تحریک احمدیت کو جاری کرکے فرمایا گیا ہے۔‘‘
(مرزا طاہر احمد صاحب کا ربوہ سے تل ابیب تک پر ’’مختصر تبصرہ‘‘ ص:۴۵)
اس سلسلے میں صاحبزادہ صاحب کی خدمت میں چند گزارشات پیش کرنا چاہتا ہوں:
اوّل:... عربی میں ایک مثل ہے: ’’پہلے عمارت بنالو، پھر نقش و نگار بھی کرلینا‘‘ صاحبزادہ صاحب کی تحریک احمدیت
دنیا میں اسلام کو جب غالب کرے گی سو دیکھا جائے گا، مگر میرا مخلصانہ مشورہ ہے کہ پہلے وہ خود تو مسلمان ہولیں۔
صاحبزادہ صاحب کو یہ لکھتے وقت احساس نہیں رہا کہ ان کی تحریک احمدیت شریعت و آئین کی رو سے غیرمسلم ہے اور ایک
غیرمسلم کا یہ دعویٰ کرنا کہ وہ اسلام کو دنیا پر غالب کرے گا، دراصل اسلام اور مسلمانوں سے بدترین مذاق ہے۔ نامسلم
ہونے کے باوجود اسلام کو غالب کرنے کا دعویٰ کتنا عجیب ہے؟ یہ تو وہی لطیفہ ہوا جو احمقوں کی بستی کے مؤذن کے بارے
میں مشہور ہے، کہتے ہیں کہ کسی بستی کے لوگوں کو کوئی مسلمان مؤذن نہ ملا تو انہوں نے ایک پڑھے لکھے یہودی کو اس
خدمت کے لئے کرائے پر رکھ لیا۔ اذان کے کلمات، ظاہر ہے کہ خود اس کے اپنے عقیدے کے خلاف تھے، ان کا پنجوقتہ اعلان
کیسے کرتا؟ ادھر ڈیوٹی بجالانا بھی ضروری،
464
اس مشکل کا حل اس نے یہ تلاش کیا کہ اذان میں بجائے ’’اشھد ان محمدا رسول اللہ‘‘
کے وہ یہ اعلان کرتا کہ: ’’اشھد ان اھل القریۃ یقولون ان محمدا رسول اللہ‘‘ یعنی
بستی کے لوگوں کا کہنا ہے کہ محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) اللہ کے رسول ہیں۔ وہی مثال مرزا طاہر احمد صاحب کی ہے کہ
خود تو مسلمان نہیں، مگر اذان دی جارہی ہے کہ اسلام کو غالب کرنے کے لئے ہماری خدمات حاضر ہیں۔ چندہ دو اور اسلام کو
غالب کراؤ۔ شاید مرزا صاحب نے عالم اسلام کو بھی ’’احمقوں کی بستی‘‘ سمجھ رکھا ہے۔ میں ان سے مؤدبانہ گزارش کروں
گا کہ وہ اسلام اور مسلمانوں سے یہ مذاق بند کردیں، اللہ کا شکر ہے اہل اسلام ابھی زندہ ہیں، وہ اسلام کی جیسی کیسی
بری بھلی خدمت خود ہی کرلیں گے، انہیں اسلام کی خدمت کے لئے کسی کرائے کے یہودی کی ضرورت نہیں، ہاں! صاحبزادہ صاحب
اور ان کی ’’تحریک احمدیت‘‘ کو اگر واقعتا اسلام کی خدمت کا شوق ہے تو بسم اللہ، تشریف لائیں اسلام کا دروازہ بند
نہیں، وہ پہلے خود دائرہ اسلام میں داخل ہولیں اور پھر خدمت اسلام کے ارمان جتنے چاہیں نکالیں۔ قرآن کریم نے ان کے
پیشروؤں کو پہلے سے تلقین کر رکھی ہے: ’’آمنوا کما آمن الناس‘‘ ایسا ایمان لاؤ جیسا
دوسرے مسلمان ایمان لائے ہیں، وہ قرآن کریم کے اس ارشاد کو بگوش ہوش سن کر پلے باندھ لیں۔
دوم:... صاحبزادہ صاحب کا کہنا ہے کہ قادیانی تحریک تمام ادیان پر اسلام کے غلبہ کے لئے جاری کی گئی ہے۔ اب فرض
کیجئے کہ ان کا نام نہاد اسلام بقول ان کے ساری دنیا پر غالب ہوجائے۔ دنیا کے چپہ چپہ پر بس ان ہی کا دین و مذہب نظر
آنے لگے، تو سوال یہ ہے کہ اس وقت صاحبزادہ صاحب زمام حکومت کیا سکھوں کے حوالے کردیں گے؟ کیونکہ وہ خود تو حکومت
کا نام سن کر ہی بدکتے ہیں۔
غلبۂ اِسلام اور حکومت آپس میں لازم و ملزوم ہیں۔ جب آپ یہ دعویٰ رکھتے ہیں کہ قادیانی تحریک غلبۂ اِسلام (یعنی
غلبۂ قادیانی دین) کے لئے جاری کی گئی ہے تو اس سے خودبخود یہ دعویٰ بھی لازم آتا ہے کہ قادیانی تحریک کا مقصد
ساری دنیا پر ’’قادیانی راج‘‘ قائم کرنا ہے، اس صورت میں میں نے وہ کون سا سنگین الزام آپ پر عائد کردیا تھا جس کی
465
تردید کے لئے آپ کو بنفس نفیس زحمت اٹھانا پڑی؟ آپ کا ایک طرف غلبۂ اِسلام (جس سے قادیانیت کا غلبہ مراد
ہے) کے دعوے کرنا اور دوسری طرف لوگوں کو یہ باور کرانے کی کوشش کرنا کہ ہمارا حکومت پر قبضہ کرنے کا کوئی ارادہ
نہیں ہے، کیا ان دونوں باتوں میں تناقض نہیں؟ یا آپ اس تناقض کو سمجھنے سے قاصر ہیں۔ آپ کے دادا مرزا غلام احمد
صاحب تو متضاد اور متناقض باتیں کیا ہی کرتے تھے، مگر تعجب ہے کہ یہ ریت ان کے خاندان میں ابھی تک باقی ہے، سچ ہے
کہ:
’’جھوٹے کے کلام میں تناقض ضرور ہوتا ہے۔‘‘
(ضمیمہ براہین پنجم ص:۱۱۱، روحانی خزائن ج:۲۱ ص:۲۷۵)
سوم:... صاحبزادہ صاحب تو قرآن کریم کی آیت نقل کرکے ہمیں یہ بتاتے ہیں کہ اس آیت کے سچے اور اٹل وعدہ کو پورا
کرنے کے لئے تحریک احمدیت جاری کی گئی ہے، مگر ان کے دادا مرزا غلام احمد صاحب اسی آیت کو اپنی ذات پر چسپاں کرکے
ببانگ دہل اعلان فرمایا کرتے تھے کہ یہ غلبہ ان کے ہاتھ سے ہوگا۔ اور یہ کہ ان کی زندگی میں یہ وعدہ پورا نہ ہو تو
وہ جھوٹے ہیں۔ سوال یہ ہے کہ مرزا طاہر احمد صاحب کا بیان صحیح ہے یا ان کے دادا مرزا غلام احمد صاحب کا؟
واقعہ یہ ہے کہ مرزا غلام احمد صاحب کو اپنے دعاوی کے ساتھ دنیا سے رخصت ہوئے پون صدی گزر رہی ہے، مگر ہنوز روز اول
ہے، اسلام کے غلبہ کی قرآنی پیش گوئی نہ مرزا صاحب کے ہاتھ پوری ہوئی، نہ ان کے پون صدی کے بعد تک ان کے کسی جانشین
کے ہاتھ پر... کیا کامل ایک صدی کے تجربہ کے بعد دنیا یہ سمجھنے پر مجبور نہیں کہ ’’غلبۂ اِسلام، غلبۂ اِسلام‘‘ کی
سو سالہ رٹ محض دکان مسیحیت چمکانے اور عالی فہم مریدوں سے چندے بٹورنے کے لئے تھی، ورنہ قادیانیت کے ذریعہ نہ اسلام
کو غالب ہونا تھا، نہ ہوا، اور نہ یہ ممکن ہے۔ قادیانیت کے ذریعہ دنیا پر اسلام تو کیا غالب آتا، الٹا یہ ہوا کہ جو
لوگ پہلے سے مسلمان تھے، قادیانیت کی سبز قدمی سے وہ بھی مسلمان نہ رہے، کچھ عیسائی ہوگئے، کچھ بہائی، کچھ مرزائی
اور کچھ دہرئیے بن گئے اور جو مسلمان اپنے دین پر قائم رہے انہیں قادیانی
466
الہام نے بیک جنبش لب کافر بنادیا، ملاحظہ فرمائیے:
۱:۔۔۔’’خدا تعالیٰ نے میرے پر ظاہر کیا ہے کہ ہر ایک شخص جس کو میری دعوت پہنچتی ہے اور اس نے مجھے قبول نہیں کیا
وہ مسلمان نہیں ہے۔‘‘
(مرزا غلام احمد قادیانی کا ارشاد، مندرجہ الذکر الحکیم نمبر:۴ ص:۲۳)
۲:۔۔۔’’جو شخص تیری پیروی نہیں کرے گا اور تیری بیعت میں داخل نہیں ہوگا اور تیرا مخالف رہے گا وہ خدا و رسول کی
نافرمانی کرنے والا اور جہنمی ہے۔‘‘
(الہام مرزا قادیانی، مندرجہ تذکرہ ص:۳۳۶طبع چہارم)
۳:۔۔۔’’جس نے تجھے شناخت کرنے کے بعد تیری دشمنی اور تیری مخالفت اختیار کی وہ جہنمی ہے۔‘‘
(الہام مرزا آنجہانی، مندرجہ تذکرہ ص:۱۶۳طبع چہارم)
۴:۔۔۔’’علاوہ اس کے جو مجھے نہیں مانتا وہ خدا اور رسول کو بھی نہیں مانتا، کیونکہ میری نسبت خدا اور رسول کی پیش
گوئی موجود ہے۔‘‘
(حقیقۃ الوحی ص:۱۶۳، روحانی خزائن ج:۲۲ ص:۱۶۸)
۵:۔۔۔’’کفر دو قسم پر ہے۔ (اول) ایک یہ کفر کہ ایک شخص اسلام سے ہی انکار کرتا ہے اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم
کو خدا کا رسول نہیں مانتا۔ (دوم) دوسرے یہ کفر کہ مثلاً وہ مسیح موعود (یعنی خود مابدولت مرزا قادیانی۔ ناقل) کو
نہیں مانتا،... اگر غور سے دیکھا جائے تو یہ دونوں قسم کے کفر ایک ہی قسم میں داخل ہیں۔‘‘
(حقیقۃ الوحی ص:۱۷۹، روحانی خزائن ج:۲۲ ص:۱۸۵)
۶:۔۔۔’’کل مسلمان جو حضرت مسیح موعود کی بیعت میں شامل نہیں ہوئے، خواہ انہوں نے حضرت مسیح موعود کا نام بھی نہیں
467
سنا، وہ کافر اور دائرۂ اسلام سے خارج ہیں۔‘‘
(آئینہ صداقت ص:۳۵ از میاں محمود احمد قادیانی)
۷:۔۔۔’’ہر ایک ایسا شخص جو موسیٰ کو تو مانتا ہے مگر عیسیٰ کو نہیں مانتا۔ یا عیسیٰ کو مانتا ہے مگر محمد کو نہیں
مانتا۔ اور یا محمد کو مانتا ہے پر مسیح موعود (مرزا غلام احمد) کو نہیں مانتا وہ نہ صرف کافر بلکہ پکا کافر اور
دائرۂ اسلام سے خارج ہے۔‘‘
(کلمۃ الفصل ص:۱۱۰ از مرزا بشیر احمد قادیانی)
یہ ہے وہ غلبۂ اِسلام جس کے لئے قادیانی تحریک جاری کی گئی اور جو قادیانی تحریک کی بدولت ظہور میں آیا۔ گویا
روئے زمین سے اسلام کا صفایا کردینے کا نام قادیانی اصطلاح میں ’’غلبۂ اِسلام‘‘ ہے:
بریں عقل و دانش بباید گریست
اس کے باوجود مرزا طاہر احمد صاحب کی صفائی دیکھئے کہ وہ اب تک غلبۂ اِسلام کا ڈھول پیٹ رہے ہیں۔ کوئی شریف آدمی
ان سے یہ نہیں پوچھتا کہ:
۱:۔۔۔حضرت! آپ کے دادا صاحب غلبۂ اِسلام کی مہم میں ناکام کیوں رہے؟
۲:۔۔۔اب آپ نے مرزا غلام احمد کو غلبۂ اِسلام کے منصب سے معزول کرکے ... اس کا چارج ’’تحریک احمدیت‘‘ کے حوالے
کیوں فرمادیا؟
۳:۔۔۔آپ کی ’’تحریک احمدیت‘‘ کے ذریعہ اب تک جو کچھ ظہور میں آیا ہے اگر اسی کا نام ’’غلبۂ اِسلام‘‘ ہے تو غلبۂ
کفر کسے کہتے ہیں؟
چہارم:... جناب مرزا غلام احمد صاحب نے اپنے منصب کی وضاحت اور ’’غلبۂ اِسلام‘‘ کی تشریح کرتے ہوئے اخبار ’’قلقل‘‘
کے ایڈیٹر کے نام اپنے خط میں بڑے طمطراق اور تحدی سے لکھا تھا:
’’میرا کام، جس کے لئے میں اس میدان میں کھڑا ہوں، یہی ہے کہ میں عیسیٰ پرستی کے ستون کو توڑدوں، اور بجائے
468
تثلیث کے توحید کو پھیلاؤں اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی جلالت اور عظمت اور شان دنیا پر ظاہر کروں۔
پس اگر مجھ سے کروڑوں نشان بھی ظاہر ہوں اور یہ علت غائی ظہور میں نہ آئے تو میں جھوٹا ہوں۔ پس دنیا مجھ سے کیوں
دشمنی کرتی ہے، وہ میرے انجام کو کیوں نہیں دیکھتی۔ اگر میں نے اسلام کی حمایت میں وہ کام کر دکھایا جو مسیح موعود
اور مہدی موعود کو کرنا چاہئے تھا تو پھر میں سچا ہوں اور اگر کچھ نہ ہوا اور میں مرگیا تو پھر سب گواہ رہیں کہ میں
جھوٹا ہوں۔ والسلام، فقط غلام احمد۔‘‘
(اخبار بدر ج:۲ نمبر:۲۹ ص:۴ مؤرخہ ۱۹؍جولائی ۱۹۰۲ء)
مرزا صاحب کو یہ غلط فہمی تھی کہ اشاعت اسلام کے راستہ میں سب سے بڑی رکاوٹ حیات مسیح کا مسئلہ ہے، اگر وہ لوگوں کو
کاغذی پتنگ بازی کے ذریعہ اس جھوٹ کو سچ باور کرانے میں کامیاب ہوگئے کہ عیسیٰ ؑ مرچکے ہیں تو عیسیٰ پرستی کا ستون
ٹوٹ جائے گا۔ تثلیث کی جگہ توحید پھیل جائے گی۔ عیسائی دنیا فوراً آمنا و صدقنا کہہ کر ان کے قدموں میں آگرے گی
اور سیّدنا عیسیٰ علیہ السلام کے بجائے ’’مریض قادیان‘‘ کو ’’مسیحا‘‘ مان لے گی۔ یہی وجہ ہے کہ مرزا صاحب نے سرسیّد
کے شاگردوں کی مدد سے (جو پہلے ہی اسلامی عقائد سے منحرف تھے) اس موضوع پر طومار تیار کرنے شروع کر دئیے اور اسّی
(۸۰) سے زائد کتابیں خود لکھ ڈالیں، جن میں سے بقول شخصے: ’’انگریز کی مدح و ستائش، مرزائی تعلیمات اور وفات مسیح کو
نکال دیا جائے تو پیچھے صفر رہ جاتا ہے۔‘‘ الغرض مرزا صاحب نے اپنے حواریوں سمیت وفات مسیح کا افسانہ اڑانے کے لئے
خوب پروپیگنڈہ کیا، مگر سنجیدہ دنیا نے، کیا مسلمان اور کیا عیسائی، مرزائی خیالات کو گوزشتر کی حیثیت بھی نہ دی۔
نتیجہ سب کے سامنے ہے کہ مرزا صاحب کو رخصت ہوئے پون صدی ہو رہی ہے مگر ان کے کاغذی پروپیگنڈے سے نہ عیسیٰ پرستی کا
ستون ٹوٹا، نہ تثلیث کے بجائے توحید دنیا میں پھیلی، نہ ان کی مہدویت کارگر ہوئی، نہ ان کی مسیحیت کا کھوٹا سکہ چلا،
بلکہ وہ نکاح آسمانی کی طرح یہ ساری حسرتیں قبر میں ساتھ لے گئے:
469
’’وکم حسرات فی بطون المقابر!‘‘
مگر صاحبزادہ مرزا طاہر احمد صاحب کو اپنے دادا کے قول:
’’پس اگر مجھ سے کروڑوں نشان بھی ظاہر ہوں اور یہ علت غائی ظہور میں نہ آئے تو میں جھوٹا ہوں۔‘‘
’’اور اگر کچھ نہ ہوا اور میں مرگیا تو سب لوگ گواہ رہیں کہ میں جھوٹا ہوں۔‘‘
کی صداقت میں ابھی تک شک ہے اور وہ ابھی تک یہ فرمائے جارہے ہیں کہ قادیانی تحریک تمام ادیان پر اسلام کے غلبہ کے
لئے جاری کی گئی ہے۔ یعنی مرزا غلام احمد کا (خود اپنے ہی قول سے) جھوٹا ہونا آفتاب نصف النہار کی طرح ساری دنیا پر
کھل چکا ہے، مگر مرزا طاہر احمد صاحب اور ان کے رُفقا دِن کی روشنی میں بھی سیاہ و سفید کے درمیان تمیز کرنے سے
معذور ہیں۔ و من لم یجعل اللہ لہ نورًا فما لہ من نور۔
سوال و جواب:
اس بحث کے آخر میں جناب صاحبزادہ صاحب نے راقم الحروف سے ایک سوال کیا ہے، اس کا جائزہ لینا بھی ضروری ہے، وہ
لکھتے ہیں:
’’آخر میں مولانا سے صرف یہ سوال کرنے کی جسارت کرتا ہوں کہ کیا آپ بھی دیگر مذاہب پر اسلام کے غلبہ کے قائل ہیں
یا نہیں؟ اگر ہیں تو کیا اس کے لئے عالمی تبلیغ و تربیت کا پروگرام بنانے کا ارادہ بھی رکھتے ہیں یا محض قائل ہونے
پر ہی اکتفا ہے؟ اگر اس ضمن میں عملی پروگرام بنانے کا بھی ارادہ ہے تو کیا آپ کی آخری اور فیصلہ کن عالمی فتح پر
بھی جناب کو ایمان ہے کہ نہیں؟ اگر ہے تو فرمائیے کہ کیا آپ کے اس پروگرام کو صیہونیت کے عالمی غلبہ کے منصوبہ سے
مشابہت تو نہیں؟ ذرا سوچ کر دلیل کے ساتھ جواب دیجئے۔‘‘
(ربوہ سے تل ابیب تک پر مختصر تبصرہ ص:۴۶)
470
جناب صاحبزادہ صاحب کے سوال کا جواب تو بہت ہی مختصر ہے کہ جس غلبہ کی آپ بات کر رہے ہیں اس کے لئے ہمیں کسی
منصوبہ بنانے کی ضرورت نہیں۔ مگر یہ جن غلط فہمیوں کی پیداوار ہے، میں چاہتا ہوں کہ ان کے ازالہ کے لئے چند امور کی
قدرے وضاحت کردوں:
الف:... اسلام اپنے اٹل اصولوں، قطعی عقائد، صاف ستھرے قوانین اور موافق فطرت تعلیمات کے ذریعہ دلیل و برہان کے
میدان میں تمام ادیان پر ہمیشہ غالب رہا ہے، یقین نہ آئے تو آج بھی کسی قدیم و جدید مذہب کے اصول و فروع کا اسلام
سے مقابلہ کرکے دیکھ لیجئے۔ دیگر مذاہب تو پھر کہنہ اور فرسودہ ہوچکے ہیں، مرزا طاہر احمد صاحب کا آبائی دین تو
ابھی تازہ ہے، اس پر ایک صدی بھی ابھی پوری نہیں ہوئی، شوق ہو تو اسی کے کسی اصول کو اسلام سے ٹکراکر دیکھ لیجئے۔
ب:۔۔۔اسلام کے ساتھ حاملین اسلام کا گروہ بھی بحمداللہ ہمیشہ غالب و منصور رہا ہے اور ان کا تسلسل صدر اول سے لے کر
آج تک کبھی منقطع نہیں ہوا، صحیحین کی روایت ہے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
’’لَا یزال من امتی امۃ قائمۃ بامر اللہ، لَا یضرھم من خذلھم ولَا من خالفھم حتّٰی یاتی امر اللہ وھم علٰی ذالک۔‘‘
(مشکوٰۃ ص:۵۸۳)
ترجمہ:۔۔۔’’میری اُمت میں ایک جماعت ہمیشہ امر الٰہی پر قائم رہے گی ان کے مخالف اور ان کی مدد سے
ہاتھ کھینچنے والے انہیں کوئی نقصان نہیں پہنچاسکیں گے اور وہ قیامت تک اسی پر قائم رہیں گے۔‘‘
اور ترمذی شریف میں بسند صحیح یہ روایت ہے:
’’ولَا یزال طائفۃ من امتی منصورین لَا یضرھم من خذلھم حتّٰی تقوم الساعۃ۔‘‘
(مشکوٰۃ ص:۵۸۴)
471
ترجمہ:۔۔۔’’اور میری اُمت کا ایک گروہ قیامت تک ہمیشہ غالب و منصور رہے گا، ان سے الگ ہوکر ان کی
نصرت سے کنارہ کشی کرنے والے، ان کا کچھ نہیں بگاڑ سکیں گے۔‘‘
ان ارشادات سے معلوم ہوا کہ اُمتِ مرحومہ پر کبھی کوئی دور ایسا نہیں گزرا کہ وہ مجموعی طور پر جادہ مستقیمہ سے ہٹ
گئی ہو، بلکہ حاملین دین کا گروہ ہمیشہ حق پر قائم اور غالب و منصور رہا ہے۔ اس سے مرزا غلام احمد کا یہ عقیدہ قطعاً
غلط ثابت ہوتا ہے کہ قرونِ ثلاثہ کے بعد پوری کی پوری اُمتِ اسلامیہ (معاذ اللہ)گمراہ، کافر و مشرک اور یہودی ہوگئی
تھی۔ ان میں کوئی جماعت بھی عقائد حقہ کی حامل نہیں رہی تھی، نیز مرزا کا یہ عقیدہ بھی باطل ہوجاتا ہے کہ اسلام اور
قرآن دنیا سے اٹھ گئے تھے اس لئے خدا کو قادیان میں دوبارہ قرآن اتارنا پڑا۔
ج:۔۔۔ایک ہزار برس تک اسلام کو دنیا پر سیاسی، معاشرتی اور تہذیبی میدانوں میں بھی غلبہ حاصل رہا۔ اس لئے آیت:
’’لیظہرہ علی الدین کلہ‘‘ (تاکہ غالب کردے اس کو تمام دینوں پر) کا ارشاد الٰہی ہر پہلو
سے پورا ہوچکا۔ مگر ہر کمال کو زوال ہے، یہ قانون مسلمانوں پر بھی نافذ ہونا تھا، اس لئے چند صدیوں سے مسلمان سیاسی
زوال و اضمحلال کا شکار ہیں (جب کہ دلیل و برہان اور اصولوں کی صداقت کے اعتبار سے اسلام آج بھی تمام ادیان پر غالب
و منصور ہے، اور اس کی فوقیت و برتری آج بھی بمقابلہ تمام نظریوں کے درخشاں و تاباں ہے) اور مسلمانوں کے سیاسی و
تہذیبی زوال کا باعث بھی نام نہاد مسلمانوں کی غداری اور بہائیت، وبابیت، مہدویت و قادیانیت ایسی اسلام کش منافقانہ
تحریکوں کا ابھرنا ہے جو دشمنان اسلام نے مسلمانوں میں انتشار پیدا کرنے، ان کو اسلام سے مایوس کرنے اور ان کی
جاسوسی کرنے کی غرض سے کھڑی کیں۔
د:۔۔۔تاہم مایوسی کی کوئی وجہ نہیں، اِن شاء اللہ وقت آئے گا کہ مسلمان پھر سے اٹھیں گے، وہ دشمنان اسلام کے خود
کاشتہ پودوں سے گلشن اسلام کو پاک و صاف کردیں گے، اسلامی ممالک میں اسلامی قانون نافذ کریں گے، اسلام کی نشأۃِ
ثانیہ ہوگی اور اس کی
472
برکت سے مسلمانوں کو ایک بار پھر پوری دنیا پر سیاسی برتری حاصل ہوگی۔
ھ:۔۔۔اور تقدیر الٰہی میں اسلام کا ایک اور رنگ میں غلبہ بھی مقدر ہے، جسے ’’غلبۂ کاملہ‘‘ سے بھی تعبیر کیا جاسکتا
ہے، اس کی صورت یہ ہوگی کہ قرب قیامت میں اللہ تعالیٰ، اسلام کی نصرت و حمایت اور فتنۂ دجال کے قلع قمع کرنے کے لئے
سیّدنا عیسیٰ علیہ السلام کو نازل فرمائیں گے، ان کی تشریف آوری سے تمام مذاہب یکسر مٹ جائیں گے اور صرف اسلام باقی
رہ جائے گا، بعض مفسرین نے آیت:’’لیظہرہ علی الدین کلہ‘‘ کی پیش گوئی کا مصداق اسی
آخری دور کے غلبۂ اسلام کو قرار دیا ہے، خود مرزا غلام احمد صاحب بھی جب تک مسلمان تھے، اسی پر ایمان رکھتے تھے،
چنانچہ لکھتے ہیں:
’’اور فرقانی اشارہ اس آیت میں ہے: ’’ھو الذی ارسل رسولہ بالھدی و دین الحق لیظہرہ علی الدین
کلہ‘‘ یہ آیت جسمانی اور سیاست ملکی کے طور پر حضرت مسیح کے حق میں پیش گوئی ہے اور جس غلبۂ کاملہ دین
اسلام کا وعدہ دیا گیا ہے وہ غلبۂ مسیح کے ذریعہ سے ظہور میں آئے گا اور جب حضرت مسیح علیہ السلام دوبارہ اس دنیا
میں تشریف لائیں گے تو ان کے ہاتھ سے اسلام جمیع آفاق اور اقطار میں پھیل جائے گا۔‘‘
(براہین احمدیہ حصہ چہارم ص:۴۹۸،۴۹۹ حاشیہ در حاشیہ، روحانی خزائن ج:۱ ص:۵۹۳)
اور اسی غلبۂ کاملہ کو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے بایں الفاظ ارشاد فرمایا ہے:’’ویھلک
الملل کلھا الّا الْإسلام‘‘ کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی تشریف آوری کے بعد اسلام کے سوا تمام مذاہب مٹ
جائیں گے۔ اس سے یہ بات کھل کر سامنے آگئی کہ آیت کریمہ میں اسلام کے جس غلبۂ کاملہ کا وعدہ ہے وہ انسانی تدابیر
اور منصوبوں سے ظہور پذیر نہیں ہوگا، اس کے لئے نہ کسی انسان کی جاری کی ہوئی تحریک جدید یا قدیم کارگر ہوسکتی ہے،
نہ کوئی انسانی منصوبہ سازی مفید و سودمند ہوسکتی ہے، بلکہ اس کا منصوبہ خداوند ذوالجلال کے علم میں پہلے سے تیار
رکھا ہے، یعنی سیّدنا عیسیٰ بن مریم (علٰی نبینا وعلیھما
473
الصلوات والتسلیمات) کا دوبارہ تشریف لانا، جب اس غلبۂ اسلام کے ظہور کا وقت
آئے گا تب اللہ تعالیٰ اس منصوبہ کو بروئے کار لائیں گے، جس کی پوری تفصیلات اور مکمل نقشہ آنحضرت صلی اللہ علیہ
وسلم کے ذریعہ اُمت کو بتایا جاچکا ہے اور بحمداللہ وہ اُمتِ مرحومہ کے پاس محفوظ ہے۔
اس تحقیق سے معلوم ہوا ہوگا کہ جناب مرزا طاہر احمد صاحب کا یہ مطالبہ سرے سے غلط اور مہمل ہے کہ تم بھی اس موعودہ
غلبہ کے لئے پروگرام بنار ہے ہو یا نہیں؟ کیونکہ یہ غلبۂ موعودہ جیسا کہ اوپر بتاچکا ہوں، ایک خاص نظام الٰہی کے
تحت بروئے کار آئے گا اور وہ ہے سیّدنا عیسیٰ بن مریم (علیٰ نبینا وعلیہ الصلوۃ والسلام)
کا نازل ہونا ــــ جب یہ غلبہ انسانی تدبیروں اور منصوبوں کے تحت ہوگا ہی نہیں بلکہ خاص نظام قدرت کے تحت ہوگا تو
ـــ اس کے لئے کسی انسانی پروگرام کا سوال ہی نہیں، بلکہ یہ ایک غیرمتعلق بات ہے، جو اس امر کی دلیل ہے کہ سائل نہ
تو قرآن مجید کی آیت کے مفہوم سے آگاہ ہے، نہ اسے اس غلبۂ موعودہ کی ٹھیک ٹھیک تفصیلات معلوم ہیں، نہ وہ نظام
الٰہی سے باخبر ہے اور نہ وہ یہی جانتا ہے کہ یہ غلبۂ موعودہ کس وقت، کن حالات میں، کس نظام الٰہی کے تحت، کس شکل
میں، کس مقصد کے لئے ظہور پذیر ہوگا۔
یہاں سے یہ بھی معلوم ہوا کہ مرزا قادیانی کا یہ دعویٰ کہ وہی مسیح موعود ہے جس کے ہاتھ پر اسلام کا غلبۂ موعودہ
ہونا تھا، قطعاً غلط ہے، اگر وہ واقعتہً مسیح موعود ہوتے تو کوئی وجہ نہ تھی کہ خدا اپنا وعدہ پورا نہ کرتا، اسی طرح
قادیانیت کا یہ دعویٰ بھی قطعاً بے بنیاد ہے کہ وہ نظام الٰہی کے ماتحت غلبۂ اسلام کے لئے جاری کی گئی ہے۔ اگر وہ
خدائی وعدہ کے اِیفا کے لئے وجود میں آئی ہوتی تو ایک صدی تک خدا کو اپنا وعدہ پورا کرنے سے کس نے روک رکھا تھا؟
و:... جہاں تک اس غلبۂ موعودہ سے پہلے پہلے اسلام کی تبلیغ و اشاعت اور تعلیم و تربیت کا تعلق ہے، یہ بلاشبہ
مسلمانوں کا فرض ہے، اس کے لئے محنت و سعی کرنا، تدبیریں سوچنا، منصوبے بنانا بھی بقدر استطاعت فرض ہے اور اللہ کا
شکر ہے کہ مسلمان نہ پہلے کبھی
474
اس فریضہ سے غافل رہے ہیں نہ اب اس گئے گزرے دور میں اس سے غافل ہیں، قادیانیوں نے کاغذی پروپیگنڈے کے
ذریعے مشہور کر رکھا تھا کہ بس وہی ایک جماعت ہے جو اسلام کی تبلیغ کر رہی ہے۔ باقی سب مسلمان سوئے پڑے ہیں، مگر میں
سمجھتا ہوں کہ مرزا غلام احمد کی نبوّت و مسیحیت کی طرح یہ چودہویں صدی کا سب سے بڑا جھوٹ ہے۔ اول تو جیسا کہ عرض
کرچکا ہوں قادیانیوں کو اسلام سے کوئی دور کا بھی واسطہ نہیں، وہ اگر تبلیغ و اشاعت کرتے ہیں تو اسلام کی نہیں، بلکہ
اس دین و مذہب کی جو مرزا طاہر احمد کے باپ دادا نے ایجاد کیا ہے، قادیانیوں کے ’’تبلیغ اسلام‘‘ کے پروپیگنڈے کی
مثال بالکل ایسی ہے کہ کوئی شخص ابرہہ کی طرح ایک مکان بناکر اس کا نام ’’کعبہ‘‘ اور ’’بیت اللہ‘‘ رکھ دے، اور پھر
لوگوں میں یہ پروپیگنڈہ کرتا پھرے کہ ’’بیت اللہ کا طواف جس قدر میں کرتا ہوں اتنا کوئی مسلمان نہیں کرتا۔‘‘ حالانکہ
وہ ’’بیت اللہ کا طواف‘‘ نہیں کرتا بلکہ وہ اپنے ہی بنائے ہوئے مکان کے گرد چکر لگاتا ہے۔
پھر قادیانی جو تبلیغ کرتے ہیں اس کا حدود اربعہ بھی ہمیں معلوم ہے، کوئی مبلغ صاحب باہر ملک بھیج دئیے اور انہوں
نے کسی ہوٹل میں چائے پی لی تو مرکز کو رپورٹ بھیج دی کہ آج ہوٹل میں اتنے لوگوں کو تبلیغ کی گئی۔ کوئی سر بازار
متعارف شخص مل گیا، اس سے علیک سلیک ہوگئی، بس ’’تبلیغ‘‘ ہوگئی۔ کسی کالج میں چلے گئے وہاں دو چار ’’بڑے لوگوں‘‘ کو
ایک دو پمفلٹ دے آئے، بس حق تبلیغ ادا ہوگیا۔ کسی تقریب میں چند لوگوں کو بلالیا وہاں ’’گروپ فوٹو‘‘ اتروالئے، چلو
بھئی تبلیغ ہوگئی اور اخباروں میں اس کی خبر چھپوادی۔ اخبار ’’پیغام صلح‘‘ کے بقول:
’’اب ذرا قادیانی مبلغ کا طریق تبلیغ بھی ملاحظہ ہو: کسی دوست سے ملے، کہیں چائے پر چلے گئے، کسی اور اجتماع میں
چند آدمیوں سے ملاقات ہوگئی بس قادیان رپورٹ لکھ دی کہ ہم نے تین سو آدمیوں کو اسلام یا احمدیت کا پیام
پہنچادیا۔‘‘
(لاہوری جماعت کے مبلّغ محمد عبداللہ صاحب کا مکتوب، مندرجہ اخبار پیغام صلح لاہور ۳؍جون
475
۱۹۳۶ء بحوالہ قادیانی مذہب فصل:۱۶ نمبر:۴۶ص:۸۹۸،۸۹۹ طبع پنجم)
’’ادھر قادیان میں اتنی بڑی جماعت نے کیا خدمت اسلام کی۔ ظاہر ہے کہ اس قدر قلیل کہ نہ ہونے کے برابر ــــ البتہ
اجرائے نبوّت اور تکفیرِ مسلمانان کا مسئلہ نکال کر اسلام کا تختہ پلٹ دیا، اور مطاع الکل خلیفہ بنا کر احمدیت کا
بیڑا غرق کردیا۔
ہاں! جماعت کو سیاست کے خوب سبق پڑھائے گئے۔ کبھی سرکار انگریزی کا ہاتھ بٹایا گیا، کبھی اسے دھمکایا گیا، قادیان
کو ایک دارالسلطنت کے رنگ میں دیکھنے کے خواب آنے لگے، مگر خدمت دین کیا ہوئی؟ کچھ بھی نہیں! اور ہوتی کس طرح، جب
شب وروز یہ کوشش ہو کہ دنیا ہماری خادم بنے اور ہم مخدوم اور مطاع الکل بنیں، پھر خدمت دین کی توفیق کا چھن جانا
لازمی امر تھا۔‘‘
یہ ہے قادیانی تبلیغ! جس پر ناز کیا جاتا ہے اور ’’غلبۂ اِسلام، غلبۂ اِسلام‘‘ کے شوروغوغا سے آسمان سر پر
اٹھایا جاتا ہے۔ اس کے مقابلہ میں بلا مبالغہ مسلمانوں کا ایک ایک ادارہ اسلام کی تبلیغ و اشاعت اتنی کر رہا ہے کہ
ساری قادیانیت مل کر بھی اپنے نئے دین کی اشاعت اتنی نہیں کرسکتی۔ مسلمانوں کی ایک ’’تبلیغی جماعت‘‘ کے کام کو اگر
سامنے رکھا جائے تو قادیانیوں کی ’’تبلیغی سرگرمیاں‘‘ اس کے مقابلہ میں کیا حیثیت رکھتی ہیں؟ مسلمانوں کے یہاں قرآن
کریم، حدیث نبویؐ، علم فقہ اور دین کے دیگر موضوعات پر جو تدریسی، تصنیفی اور تحقیقی کام ہو رہا ہے، کیا قادیانی
تحریک اس کا ہزارواں حصہ بھی پیش کرسکتی ہے؟
دراصل قادیانیوں نے ’’پتنگ بازی‘‘ اور کاغذی گھوڑے دوڑانے کو غلبۂ اِسلام کی مہم سمجھ رکھا ہے، ایک زمانے میں مرزا
محمود احمد صاحب نے ’’تحفۃ الامیر‘‘ نامی کتابچہ لکھا تھا، اسے بڑے بڑے اُمراء و وزراء کے پاس پہنچاکر سمجھ لیا گیا
کہ بس ہم نے غلبۂ اِسلام کی مہم سر کرلی ہے۔ مرزا غلام احمد صاحب نے ملکہ برطانیہ کو گھٹیا قسم کے خوشامدانہ خطوط
لکھے اور
476
امید باندھ لی کہ بس ملکہ وکٹوریہ مسلمان ہوئی کہ اب ہوئی، اس کی پیش گوئیاں بھی جڑدی گئیں۔ چھ چھ زبانوں
میں اس کے اسلام قبول کرنے کی دعائیں بھی کی گئیں مگر اس بھگوان نے مرزا آنجہانی کے خطوط کا جواب دینا بھی اپنی
توہین سمجھا۔ قادیانیوں کی ۱۹۷۴ء کی تبلیغی رپورٹ میں ایک فوٹو دیا گیا ہے جس میں ایک قادیانی دوشیزہ امریکی صدر کو
قرآن کریم کا قادیانی ایڈیشن پیش کر رہی ہے، اور اس کے نیچے یہ تحریر ہے:
’’امریکہ کی ایک احمدی خاتون مبارکہ صاحبہ، صدر امریکہ جیرالڈ فورڈ کو ترجمہ قرآن کریم انگریزی پیش کر رہی ہے۔‘‘
غالباً قادیانی صاحبان سمجھتے ہوں گے کہ صدر امریکہ اس ’’احمدی خاتون‘‘ کے رُخِ زیبا کی زیارت کرتے ہی اپنے قادیانی
ہونے کا اعلان کردیں گے۔ قادیانیوں نے تبلیغ کے لئے جو طریقے ایجاد کر رکھے ہیں انہیں زبانِ قلم پر لانا باعث شرم
ہے۔ قادیانیوں کے نزدیک شاید صنف نازک کی حرمت کو پامال کرنا، اور انہیں غیرمحرموں کے پاس خلوت میں بھیجنا اور پھر
ان کے فوٹو شائع کرنا بھی غلبۂ اِسلام کی مہم کا ایک حصہ ہے مسلمان بحمداللہ اسلام کی اشاعت و تبلیغ کے لئے پوری
طرح مستعد ہیں، اور جگہ جگہ دعوت و تبلیغ اور تحقیق و تصنیف کے مراکز بھی قائم ہیں۔ مگر وہ جو کچھ کرتے ہیں اپنے دین
کی خدمت کے لئے کرتے ہیں، کسی پر احسان نہیں دھرتے، نہ اس کا نما ئشی پروپیگنڈا ضروری سمجھتے ہیں بلکہ خدا کی
رضاجوئی کے لئے اس فریضہ کو انجام دیتے ہیں۔ انہیں قادیانی اُمت کی طرح نہ تو غیرفطری طریقے ایجاد کرنا آتے ہیں، نہ
انہیں غلبۂ اسلام کے لئے کاغذی گھوڑے دوڑانے کی حاجت ہے اور نہ ان کا کوئی گروہ اس بات کا مدعی ہے کہ دنیا میں
تبلیغ اسلام کا ٹھیکہ بس اسی کے پاس ہے، یہ سب کچھ قادیانی اُمت ہی کو زیب دیتا ہے۔
ز:۔۔۔اب میں مرزا طاہر احمد صاحب کے سوال کے آخری حصہ کو لیتا ہوں۔ مسلمانوں کی حکومتیں پہلے بھی رہی ہیں،
بحمداللہ اب بھی موجود ہیں، اور اِن شاء اللہ آئندہ بھی رہیں گی، مگر اسلامی حکومت کے قیام کی کوشش کو یہود سے
مشابہت قرار دینا مرزا صاحب کی روایتی خوش فہمی ہے، اس لئے کہ راقم الحروف نے جو قادیانی حکومت طلبی پر
477
گرفت کی تھی اور اسے یہود کی مشابہت ٹھہرایا تھا، اس کا منشا نفس حکومت نہیں تھا (میرے رسالہ کو ایک دفعہ
پھر پڑھ لیجئے) بلکہ اسلام کے قصر عالی کی تخریب کرکے اس کے ملبہ پر قادیانی محل تعمیر کرنے پر مجھے اعتراض تھا۔
یعنی جس طرح یہود، اسلامی سلطنتوں کو ختم کرکے ان کی جگہ پوری دنیا کو یہودی ریاست میں تبدیل کرنا چاہتے ہیں، اسی
طرح قادیانی بھی تمام عالم اسلام کی حکومتوں کو ختم کرکے ان کی جگہ ’’قادیانی حکومت‘‘ قائم کرنے کے خواہاں ہیں، گویا
دونوں کے درمیان قدر مشترک اسلام دشمنی اور مسلمانوں سے عداوت ہے۔ قادیانی تمام مسلمانوں کو چونکہ یہودیوں سے بدتر
سمجھتے ہیں، اس لئے وہ بڑی شدت سے بے چین ہیں کہ کس طرح ساری دنیا سے اسلامی حکومتوں کو ملیامیٹ کردیا جائے اور کس
طرح ان کی جگہ قادیانی ریاست قائم کردی جائے، جہاں قادیانیوں کے ’’امیرالمؤمنین‘‘ کا سکہ خلافت جاری ہو اور ساری
دنیا کے مسلمان ان کے سامنے چوہڑے چمار بن کر رہ جائیں؟ یہ سب کچھ محض الزام نہیں بلکہ یہ ایک امر واقعہ ہے جس کے
مستند حوالے میں اوپر پیش کرچکا ہوں۔ اب دیکھئے کہ مرزا طاہر احمد صاحب میری اس واضح عبارت کے منشا کو تو خود سمجھنے
سے قاصر رہے ہیں مگر اپنی خوش فہمی کی بنا پر یہ سوال مجھ سے کر رہے ہیں کہ کیا مسلمانوں کا اسلامی حکومت کے قیام کی
کوشش کرنا یہود سے مشابہت نہیں؟ اور اس عقل و فہم کے باوصف آنجناب قادیانیوں کے ’’حضرت صاحبزادہ صاحب‘‘ ہیں:
وزیرے چنیں شہریارے چنیں
صاحبزادہ صاحب! سوال کرنے سے پہلے سوچ لیا کیجئے کہ آپ کا مخاطب کیا کہہ رہا ہے، اور آپ اس کا کیا مطلب سمجھ کر
سوال فرما رہے ہیں؟ ورنہ وہی لطیفہ ہوگا کہ امام ابویوسفؒ نے ایک شاگرد سے فرمایا کہ تم ہمیشہ خاموش رہتے ہو، کچھ
پوچھتے پاچھتے نہیں، جب کہ دوسرے طلبہ بڑے دقیق سوال کرتے ہیں۔ شاگرد بولا: حضرت! اب سے پوچھا کروں گا۔ ایک دن امامؒ
نے مسئلہ بیان فرمایا کہ سورج غروب ہونے کے بعد روزہ فوراً کھول لینا چاہئے، تأخیر مکروہ ہے۔ شاگرد نے مہر سکوت
توڑی اور عرض کیا: حضرت! اگر آدھی رات تک سورج غروب ہی نہ ہو تو...؟ فرمایا: بیٹے! بس تمہارے لئے خاموشی ہی بہتر
ہے۔
478
قادیانی اور اِسرائیل
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ
اَلْحَمْدُ للہِ وَسَلَامٌ عَلٰی عِبَادِہِ الَّذِیْنَ اصْطَفٰی
سرکاری خبر رساں ایجنسی اے پی پی نے مصر سے شائع ہونے والے اخبار ’’عقیدتی‘‘ کے حوالے سے خبر دی ہے کہ اسرائیلی
حکومت نے قادیانیوں کے ہیڈکوارٹر اور ایک ٹی وی چینل کے لئے انہیں عمارات فراہم کردی ہیں، نیز انٹرنیٹ پر ’’یاہو
ویب‘‘ کے نام سے صفحہ کھولا گیا ہے، جس میں اسلام کو بدنام کرنے اور مسلمانوں کی کردارکشی کرنے کے لئے اسلام کے
حوالے سے متعدّد غلط رپورٹیں، قابلِ اِعتراض تصاویر اور لائقِ شرم نغمات وعلامات شامل کئے گئے ہیں۔ اسلام کے متعلق
فائل کو ’’مسلم‘‘ یا ’’احمدیہ‘‘ کا نام دیا گیا ہے۔
(روزنامہ ’’جنگ‘‘ کراچی اتوار ۱۲؍اکتوبر ۱۹۹۷ء)
’’الکفر ملّۃ واحدۃ‘‘ کے مطابق قادیانی اور اِسرائیلی گٹھ جوڑ قطعاً تعجب خیز نہیں ہے،
لیکن اس سے قادیانی عزائم اور یہودی عزائم کے درمیان ہم آہنگی واضح ہوجاتی ہے، اور قرآنِ کریم کے اس اِعلان کی
صداقت واضح ہوجاتی ہے:
’’لَتَجِدَنَّ اَشَدَّ النَّاسِ عَدٰوَۃً لِّلَّذِیْنَ اٰمَنُوا الْیَھُوْدَ وَالَّذِیْنَ اَشْرَکُوْا،
وَلَتَجِدَنَّ اَقْرَبَھُمْ مَّوَدَّۃً لِّلَّذِیْنَ اٰمَنُوا الَّذِیْنَ قَالُوْٓا اِنَّا نَصٰرٰی ذٰلِکَ بِأَنَّ
مِنْھُمْ قِسِّیْسِیْنَ وَرُھْبَانًا وَّاَنَّھُمْ لَا یَسْتَکْبِرُوْنَ‘‘
(المائدۃ:۸۲)
ترجمہ:... ’’تمام آدمیوں سے زیادہ مسلمانوں سے عداوت رکھنے والے، آپ ان یہود اور مشرکوں کو پاویں
گے، اور ان
479
میں مسلمانوں کے ساتھ دوستی رکھنے کے قریب تر ان لوگوں کو پائیے گا جو اپنے کو
نصاریٰ کہتے ہیں، یہ اس سبب سے ہے کہ ان میں بہت سے علم دوست عالم ہیں، اور بہت سے تارکِ دُنیا درویش ہیں، اور اس
سبب سے کہ یہ لوگ متکبر نہیں۔‘‘
(ترجمہ: حضرت حکیم الامت تھانویؒ)
جب دجالِ اَعوَر کا خروج ہوگا تو اِصفہان کے ستر ہزار یہودی اس کی فوج میں شامل ہوں گے، مرزا طاہر احمد نے گویا
دَجالِ اَعوَر کی لائن صاف کردی ہے۔
ہمارے بزرگ حضرت مولانا محمد شریف جالندھری رحمہ اللہ تعالیٰ جو اَمیرِ شریعت حضرت مولانا سیّد عطاء اللہ شاہ بخاری
رحمہ اللہ کے دور سے لے کر شیخ الاسلام حضرتِ اقدس مولانا محمد یوسف بنوری رحمہ اللہ تعالیٰ تک مجلس تحفظ ختمِ نبوّت
کے جنرل سیکریٹری رہے، وہ فرمایا کرتے تھے کہ اسلام کا مرکز تو مکہ اور مدینہ ہے، اور وہاں قادیانیوں کو جانے کی
اجازت نہیں، تو ان کے ذریعے غلبۂ اِسلام کیسے حاصل ہوگا؟ اور یہ غالب آنے کے خواب کیونکر دیکھ رہے ہیں...؟
(ماہنامہ ’’بینات‘‘ کراچی رجب ۱۴۱۸ھ)
480