تحفۂ قادیانیت
(جلد چہارم)
شہید اسلام حضرت مولانا محمد یوسف لدھیانوی نور اللہ مرقدہ کو قدرت نے تردید قادیانیت کے لئے
منتخب کیا تھا اورقدرت کی طرف
سے تردیدقادیانیت کے لئے آپ کو زندگی وقف کرنے کا حکم نامہ محدث العصر علامہ سیدمحمد یوسف بنوری رحمۃ اللہ علیہ
کی طرف سے
ملا اور آپؒ نے اپنی قلمی جولانیوں کا رُخ تردیدقادیانیت کی طرف ایسا پھیرا کہ آج اس موضوع پر سب سے زیادہ
لٹریچر آپؒ کا
تحریر کردہ ہے جو ’’تحفۂ قادیانیت‘‘ کی شکل میں ہزاروں صفحات پر مشتمل ہے(مفتی) محمد جمیل خان،خاکپائے حضرت شہیدِ
اسلامؒ
بسم اللہ الرحمن الرحیم
| نام کتاب: |
تحفۂ قادیانیت (جلد چہارم) |
| مؤلفہ: |
حضرت مولانا یوسف لدھیانووی شہیدؒ |
| اشاعت: |
دسمبر2010 |
| ناشر: |
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کراچی |
2
صدق وکذب
مرزا غلام احمد
5
قادیانی اِقرار
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ
اَلْحَمْدُ للہِ وَسَلَامٌ عَلٰی عِبَادِہِ الَّذِیْنَ اصْطَفٰی
اس دُنیا میں حق و باطل کے دو سلسلے الگ الگ جاری ہیں، اور حق تعالیٰ شانہ‘ نے ان دونوں کے درمیان امتیاز کے لئے
ایسی کھلی نشانیاں بھی رکھ دی ہیں کہ جن سے معمولی عقل و فہم کا آدمی بھی حق و باطل کو الگ الگ پہچان سکتا ہے۔
مرزا غلام احمد قادیانی نے مجدّدیت سے لے کر نبوّت و رِسالت تک کے بہت سے دعوے کئے، وہ اپنے دعوؤں میں سچے تھے یا
جھوٹے؟ اس کے لئے بھی اللہ تعالیٰ نے بہت سی نشانیاں رکھیں، ان میں سب سے آسان اور عام فہم نشانی یہ ہے کہ مرزا
صاحب خود جن باتوں کے ہونے نہ ہونے کو اپنے سچ جھوٹ کے پرکھنے کی کسوٹی ٹھہرایا، ان پر غور کرکے دیکھ لیا جائے کہ ان
کے نتیجے میں مرزا صاحب سچے ثابت ہوئے یا جھوٹے؟
زیرِ نظر رسالے میں مرزا صاحب کی ۲۲ تحریریں درج ہیں، جن پر مرزا صاحب نے ساری دُنیا کو اپنا سچ جھوٹ پرکھنے کی
دعوت دی، اور جن پر غور کرکے ہر ذی شعور آدمی صحیح نتیجے پر پہنچ سکتا ہے۔ میں اپنے قادیانی بھائیوں سے مرزا صاحب
کی اس کسوٹی پر ٹھنڈے دِل سے غور کرنے کی توقع رکھتا ہوں، اور دُعا کرتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ ہمیں حق اور باطل سمجھنے
کی توفیق عطا فرمائے۔
محمد یوسف لدھیانوی
مجلس تحفظ ختمِ نبوّت ملتان، پاکستان
۱۳؍ذوالقعدہ ۱۳۹۸ھ
6
(۱)
’’جو لوگ خدا تعالیٰ کی طرف سے آتے ہیں ......۔ وہ اپنے مبعوث ہونے کی علتِ غائی کو پالیتے ہیں، اور نہیں مرتے جب
تک ان کی بعثت کی غرض ظہور میں نہ آجائے۔‘‘
’’میرا کام جس کے لئے میں اس میدان میں کھڑا ہوں، یہی ہے کہ عیسیٰ پرستی کے ستون کو توڑ دُوں اور بجائے تثلیث کے
توحید پھیلا دُوں اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی جلالت اور شان دُنیا پر ظاہر کردُوں، پس اگر مجھ سے کروڑ نشان
بھی ظاہر ہوں اور یہ علتِ غائی ظہور میں نہ آوے تو میں جھوٹا ہوں۔ پس دُنیا مجھ سے کیوں دُشمنی کرتی ہے، اور وہ
میرے انجام کو کیوں نہیں دیکھتی؟ اگر میں نے اسلام کی حمایت میں وہ کام کر دِکھایا جو مسیحِ موعود اور مہدیٔ موعود
کو کرنا چاہئے تو پھر میں سچا ہوں، اور اگر کچھ نہ ہوا اور میں مرگیا تو پھر سب گواہ رہیں کہ میں جھوٹا ہوں۔‘‘
(اخبار ’’بدر‘‘ قادیان نمبر۲۹ جلد۲ ص:۴، ۱۹؍جولائی ۱۹۰۶ء)
نتیجہ:... مرزا صاحب اپنے مشن میں کہاں تک کامیاب ہوئے؟ یہ داستان قادیانیوں کے سرکاری اخبار ’’الفضل‘‘ کی زبانی
سنئے! اخبار لکھتا ہے:
’’کیا آپ کو معلوم ہے کہ اس وقت ہندوستان میں عیسائیوں کے (۱۳۷) مشن کام کر رہے ہیں، یعنی ہیڈمشن۔ ان کی برانچوں
کی تعداد بہت زیادہ ہے۔ ہیڈمشن میں اٹھارہ سو سے زائد پادری کام کر رہے ہیں۔ (۴۰۳) اسپتال ہیں، جن میں (۵۰۰)
7
ڈاکٹر کام کر رہے ہیں، (۴۳) پریس ہیں اور تقریباً (۱۰۰) اخبارات مختلف زبانوں میں چھپتے ہیں۔ (۵۱) کالج،
(۶۱۷) ہائی اسکول اور (۶۱) ٹریننگ کالج ہیں۔ ان میں ساٹھ ہزار طالبِ علم تعلیم پاتے ہیں۔ مکتی فوج میں (۳۰۸) یورپین
اور (۲۸۸۶) ہندوستانی مناد کام کرتے ہیں۔ اس کے ماتحت (۵۰۷) پرائمری اسکول ہیں جن میں (۱۸۶۷۵) طالبِ علم پڑھتے ہیں،
(۱۸) بستیاں اور گیارہ اخبارات ان کے اپنے ہیں، اس فوج کے مختلف اداروں کے ضمن میں (۳۲۹۰) آدمیوں کی پروَرِش ہو رہی
ہے۔ اور ان سب کی کوششوں اور قربانیوں کا نتیجہ یہ ہے کہ کہا جاتا ہے روزانہ (۲۲۴) مختلف مذاہب کے آدمی ہندوستان
میں عیسائی ہو رہے ہیں۔ ان کے مقابلے میں مسلمان کیا کر رہے ہیں؟ وہ تو شاید اس کام کو قابلِ توجہ بھی نہیں سمجھتے۔
(یوں بھی یہ چارج مسیح کے سپرد کیا جاچکا تھا، اس لئے مسلمانوں کو اس طرف توجہ کیوں ہوتی؟ ...ناقل) احمدی جماعت کو
سوچنا چاہئے کہ عیسائی مشنریوں کے اس قدر وسیع جال کے مقابلے میں اس کی مساعی کی حیثیت کیا ہے، ہندوستان بھر میں
ہمارے دو درجن مبلغ ہیں اور وہ بھی جن مشکلات میں کام کر رہے ہیں، انہیں ہم لوگ خوب جانتے ہیں۔‘‘
(اخبار ’’الفضل‘‘ قادیان، مؤرخہ ۱۹؍جون ۱۹۴۱ء ص:۵)
’’الفضل‘‘ کی یہ شہادت مرزا صاحب کی وفات سے ۳۳ سال بعد کی ہے، جس سے معلوم ہوا کہ نہ مرزا صاحب کے دعوے سے عیسائیت
کا کچھ بگڑا، نہ تثلیث کے بجائے توحید پھیلی، نہ عیسائیت کے پھیلاؤ کو روکنے میں انہیں کامیابی ہوئی، اس لئے ان کی
یہ بات سچی نکلی: ’’اگر مجھ سے کروڑوں نشان بھی ظاہر ہوں اور یہ علتِ غائی ظہور میں نہ آوے تو میں جھوٹا ہوں۔‘‘
’’اور اگر کچھ نہ ہوا اور میں مرگیا تو پھر سب گواہ رہیں کہ میں جھوٹا ہوں۔‘‘
8
(۲)
ضمیمہ انجامِ آتھم میں مرزا صاحب لکھتے ہیں:
’’اگر سات سال میں میری طرف سے خدا تعالیٰ کی تائید سے اسلام کی خدمت میں نمایاں اثر ظاہر نہ ہوں اور جیسا کہ مسیح
کے ہاتھ سے ادیانِ باطلہ کا مرنا ضروری ہے، یہ موت جھوٹے دِینوں پر میرے ذریعے سے ظہور میں نہ آوے، یعنی خدا تعالیٰ
میرے ہاتھ سے وہ نشان ظاہر نہ کرے جس سے اسلام کا بول بالا ہو اور جس سے ہر ایک طرف سے اسلام میں داخل ہونا شروع
ہوجائے اور عیسائیت کا باطل معبود فنا ہوجائے اور دُنیا اور رنگ نہ پکڑ جائے، تو میں خدا کی قسم کھاکر کہتا ہوں کہ
میں اپنے تئیں کاذب خیال کرلوں گا۔‘‘
(ص:۳۰تا ۳۵)
نتیجہ:... مرزا صاحب کی یہ تحریر غالباً جنوری ۱۸۹۷ء کی ہے، گویا سچا ہونے کی صورت میں مرزا صاحب کو ۱۹۰۳ء تک یہ
سارے کارنامے انجام دینے تھے، اور اگر وہ یہ شرط پوری نہ کرسکیں تو انہوں نے اپنے آپ کو جھوٹا سمجھ لینے کی قسم
کھارکھی تھی۔ سات سال کے عرصے میں مرزا صاحب نے جن کارناموں کا وعدہ کیا تھا، وہ ان سے ظاہر نہ ہوسکے، اس لئے وہ
اپنی قسم کے مطابق کاذب ٹھہرے۔
(۳)
۱۳۱۱ھ میں رمضان مبارک کی تیرہویں تاریخ کو چاند گہن اور اَٹھائیسویں تاریخ کو سورج گہن ہوا تو مرزا صاحب نے اس کو
اپنی مہدویت کی دلیل ٹھہرایا، ان کے خیال میں یہ خارقِ عادت واقعہ تھا جو کسی مدعیٔ مہدویت و مسیحیت کے وقت میں کبھی
رُونما نہیں ہوا، چنانچہ رسالہ ’’انوارِ اسلام‘‘ میں لکھتے ہیں:
’’اور جب سے کہ دُنیا پیدا ہوئی ہے کسی مدعیٔ رِسالت یا
9
نبوّت یا محدثیت کے وقت میں کبھی چاند گرہن اور سورج گرہن اکٹھے نہیں ہوئے، اور اگر کوئی کہے کہ اکٹھے ہوئے
ہیں تو بارِ ثبوت اس کے ذمہ ہے۔‘‘
(ص:۴۷)
’’یہ کبھی نہیں ہوا اور ہرگز نہیں ہوا کہ بجز ہمارے اس زمانے کے کہ دُنیا کی اِبتدا سے آج تک کبھی چاند گرہن اور
سورج گرہن رمضان کے مہینے میں ایسے طور اِکٹھے ہوگئے ہوں کہ اس وقت کوئی مدعیٔ رِسالت یا نبوّت یا محدثیت بھی موجود
ہو۔‘‘
(ص:۴۷)
مگر افسوس ہے کہ یہ مرزا صاحب کی ناواقفیت تھی، ورنہ ۱۸ھ سے ۱۳۱۲ھ تک ساٹھ مرتبہ رمضان میں چاند گہن اور سورج کا
اِجتماع ہوا، اور ان تیرہ صدیوں میں بیسیوں مدعیانِ نبوّت و مہدویت بھی ہوئے۔
مگر خدا تعالیٰ کو منظور تھا کہ مرزا صاحب کو خود ان کی نادانی سے جھوٹا ثابت کریں، اس لئے اللہ تعالیٰ نے مرزا
صاحب کے قلم سے مندرجہ ذیل چیلنج لکھوایا:
’’اگر یہ ظالم مولوی اس قسم کا خسوف کسوف کسی اور مدعی کے وقت میں پیش کرسکتے ہیں تو پیش کریں، اس سے بے شک میں
جھوٹا ہوجاؤں گا۔‘‘
(ضمیمہ انجامِ آتھم ص:۴۸)
نتیجہ:... ایک نہیں چار ثبوت پیش کرتا ہوں:
۱:... ۱۱۷ھ میں خسوف و کسوف کا اِجتماع رمضان میں ہوا، جبکہ طریف نامی مدعی مغرب میں موجود تھا۔
۲:... ۱۲۷ھ میں پھر اِجتماع ہوا، اس وقت صالح بن طریف مدعیٔ نبوّت موجود تھا۔
۳:... ۱۲۶۷ھ میں اِجتماع ہوا، اس وقت مرزا علی محمد باب، ایران میں سات سال سے مہدویت کا ڈنکا بجا رہا تھا۔
۴:... ۱۳۱۱ھ میں بھی اِجتماع ہوا، اس وقت مہدی سوڈانی، سوڈان میں مسندِ
10
مہدویت بچھائے ہوئے تھا۔
اگرچہ اور مدعیانِ نبوّت و مہدویت کے زمانے میں بھی خسوف وکسوف کا اِجتماع ہوتا رہا، (تفصیل کے لئے دیکھئے:
’’دُوسری شہادتِ آسمانی‘‘ مؤلفہ مولانا ابواَحمد رحمانی، ’’اَئمہ تلبیس‘‘ اور ’’رئیسِ قادیان‘‘ تالیف: مولانا
ابوالقاسم دلاوری) مگر مرزا صاحب کو جھوٹا ثابت کرنے کے لئے یہ چار شہادتیں بھی کافی ہیں۔
(۴)
مرزا صاحب ’’تحفۃ الندوۃ‘‘ صفحہ:۵ میں لکھتے ہیں:
۱:... ’’اگر میں صاحبِ کشف نہیں، تو جھوٹا ہوں۔‘‘
۲:۔۔ ۔ ’’اگر قرآن سے اِبنِ مریم کی وفات ثابت نہیں، تو میں جھوٹا ہوں۔‘‘
۳:... ’’اگر حدیثِ معراج نے اِبنِ مریم کو مُردہ رُوحوں میں نہیں بٹھادیا، تو میں جھوٹا ہوں۔‘‘
۴:... ’’اگر قرآن نے سورۂ نور میں نہیں کہا کہ اس اُمت کے خلیفے اسی اُمت میں ہوں گے، تو میں جھوٹا ہوں۔‘‘
۵:... ’’اگر قرآن نے میرا نام اِبنِ مریم نہیں رکھا، تو میں جھوٹا ہوں۔‘‘
نتیجہ:... ان دعوؤں میں سے ہر دعویٰ غلط ہے، اس لئے اپنی تحریر کے مطابق مرزا صاحب پانچ وجہ سے جھوٹے ثابت ہوئے۔
(۵)
’’اِزالہ اوہام‘‘ میں مرزا صاحب لکھتے ہیں:
’’اے برادرانِ دِین و علمائے شرعِ متین! آپ صاحبان میری ان معروضات کو متوجہ ہوکر سنیں کہ اس عاجز نے جو مثیلِ
موعود
11
ہونے کا دعویٰ کیا ہے، جس کو کم فہم لوگ مسیحِ موعود خیال کر بیٹھے ہیں ...... میں نے یہ دعویٰ ہرگز نہیں
کیا کہ میں مسیح ابنِ مریم ہوں، جو شخص یہ اِلزام میرے پر لگاوے وہ سراسر مفتری اور کذّاب ہے۔‘‘
(ص:۱۹۰ طبع اوّل، ص:۷۹ طبع پنجم)
نتیجہ:... اس تحریر سے معلوم ہوا کہ مرزا صاحب مسیحِ موعود نہیں تھے، جو لوگ ان کو مسیحِ موعود سمجھتے ہیں وہ کم
فہم ہیں، سراسر مفتری اور کذّاب ہیں، اور چونکہ بعد میں مرزا صاحب نے خود بھی مسیحِ موعود ہونے کا دعویٰ کیا اس لئے
وہ خود بھی مفتری اور کذّاب ہوئے۔
(۶)
’’تحفۃ الندوۃ‘‘ میں مرزا صاحب لکھتے ہیں:
’’اللہ تعالیٰ اپنے پاک کلام میں فرماتا ہے: ان یک کاذباً ...۔۔ مسرف کذاب۔ یعنی اگر یہ جھوٹا ہوگا تو تمہارے
دیکھتے دیکھتے تباہ ہوجائے گا، اور اس کا جھوٹ ہی اس کو ہلاک کردے گا۔ لیکن اگر سچا ہے تو پھر بعض تم سے اس کی پیش
گوئیوں کا نشانہ بنیں گے اور اس کے دیکھتے دیکھتے اس دارالفناء سے کوچ کریں گے۔ اب اس معیار کی رُو سے جو خدا کی
کلام میں ہے مجھے آزماؤ اور میرے دعوے کو پرکھو۔‘‘
(ص:۴)
نتیجہ:... ہم نے اس معیار پر مرزا صاحب کے دعوے کو پرکھا تو معلوم ہوا کہ:
الف:... مرزا صاحب کا مولانا عبدالحق غزنویؒ سے مباہلہ ہوا، اور مرزا صاحب اپنے حریف کے دیکھتے دیکھتے تباہ ہوگئے
اور ان کے جھوٹ نے ان کو ہلاک کردیا۔
ب:... مرزا صاحب نے اپنے ایک اور حریف مولانا ثناء اللہ مرحوم کے مقابلے میں بددُعا کی کہ جھوٹا سچے کے سامنے ہلاک
ہوجائے، اور مولانا ثناء اللہ صاحب کے دیکھتے دیکھتے مرزا صاحب ہلاک ہوگئے۔
12
ج:... اپنے رقیب مرزا سلطان محمد صاحب کے حق میں مرزا صاحب نے موت کی پیش گوئی کی، مگر سلطان محمد کے دیکھتے
دیکھتے مرزا صاحب ہیضے کی موت کا نشانہ بن گئے۔
د:... اپنے ایک اور حریف ڈاکٹر عبدالحکیم خاں صاحب کو مرزا صاحب نے فرشتوں کی کھنچی ہوئی تلوار دِکھائی اور دُعا کی
کہ: ’’اے میرے رَبّ! سچے اور جھوٹے کے درمیان فیصلہ کردے‘‘ مگر ڈاکٹر صاحب کے دیکھتے دیکھتے مرزا صاحب تباہ ہوگئے
اور ان کے جھوٹ نے ان کو ہلاک کردیا۔ یہ چار گواہ مرزا صاحب کے مقرّر کردہ معیار پر ان کو جھوٹا ثابت کرنے کے لئے
بہت کافی ہیں۔
(۷)
۱۰؍جولائی ۱۸۸۸ء کو مرزا صاحب نے اِلہامی پیش گوئی کا اِشتہار دیا کہ:
’’اس قادرِ مطلق نے مجھ سے فرمایا ہے کہ اس شخص (یعنی مرزا احمد بیگ صاحب کی) دخترِ کلاں (محترمہ محمدی بیگم) کے
لئے سلسلۂ جنبانی کر ...۔۔ اگر (احمد بیگ نے اس) نکاح سے اِنحراف کیا تو اس لڑکی کا انجام نہایت ہی بُرا ہوگا۔ اور
جس دُوسرے شخص سے بیاہی جائے گی وہ روزِ نکاح سے اڑھائی سال تک اور ایسا ہی والد اس دختر کا تین سال تک فوت ہوجائے
گا۔
پھر ان دنوں زیادہ تصریح اور تفصیل کے لئے بار بار توجہ کی گئی تو معلوم ہوا کہ خدا تعالیٰ نے مقرّر کر رکھا ہے کہ
مکتوب الیہ (یعنی احمد بیگ) کی دخترِ کلاں کو ہر ایک مانع دُور کرنے کے بعد اس عاجز کے نکاح میں لائے گا۔
بدخیال لوگوں کو واضح ہو کہ ہمارا صدق و کذب جانچنے کے لئے ہماری پیش گوئیوں سے بڑھ کر کوئی محک امتحان نہیں
ہوسکتا۔‘‘
(مجموعہ اشتہارات ج:۱ ص:۱۵۷- ۱۵۹)
13
نتیجہ:... مرزا صاحب نے اپنے سچا یا جھوٹا ہونے کی یہ بہت آسان کسوٹی مقرّر کی تھی، جس سے ان کا سچ یا جھوٹ پرکھا
جائے، ۷؍اپریل ۱۸۹۲ء کو احمد بیگ نے اپنی صاحب زادی کا نکاح اپنے ایک عزیز جناب سلطان محمد، ساکن پٹی ضلع لاہور سے
کردیا، اب مرزا صاحب کی اِلہامی پیش گوئی کے مطابق:
الف:... ۶؍ستمبر ۱۸۹۴ء تک محمدی بیگم کا سہاگ لٹ جانا چاہئے تھا، مگر خدا تعالیٰ نے مرزا صاحب کی نظرِ بد سے اسے
محفوظ رکھا۔ ۵۷ سال یہ جوڑا خوش وخرم رہا، (سولہ برس تک مرزا صاحب کی زندگی میں، اور اِکتالیس برس بعد تک)۔ ۱۹۴۹ء سے
۱۹۶۶ء تک محمدی بیگم نے بیوگی کا زمانہ پایا، مگر وہ مرزا صاحب کے اِلہامی شکنجے سے اِکتالیس برس پہلے نکل چکی تھی
(مرحومہ کی عمر تقریباً نوّے برس ہوئی، انتقال ۱۹۶۶ء میں ہوا، رحمہا اللہ رحمۃً واسعۃً)۔
ب:... سلطان محمد کو اپنے خسر سے چھ مہینے پہلے مرنا تھا، مگر بفضلِ خدا وہ اس کے۵۷برس بعد تک زندہ رہا۔
ج:... احمد بیگ کو اپنے داماد کی موت اور اپنی بیٹی کی بیوگی و بے کسی دیکھ کر مرنا تھا، مگر وہ ان کو خوش و خرم
چھوڑ کر گیا۔
د:... خدا نے تمام موانع دُور کرکے اس عظیم خاتون کو مرزا صاحب کے نکاح میں لانا تھا، مگر افسوس کہ خدا تعالیٰ نے
اس سلسلے میں مرزا صاحب کی کوئی مدد نہیں کی۔ مرزا صاحب نے بذاتِ خود خاصی کوشش کی، مگر ناکام رہے۔ بالآخر ۲۶؍مئی
۱۹۰۸ء کو مرزا صاحب ناکامی و محرومی کا ’’داغِ ہجر‘‘ سینے میں لے کر دُنیا سے رُخصت ہوئے۔
ہ:... جو لوگ اس واضح معیار پر مرزا صاحب کے سچ جھوٹ کو نہیں جانچتے وہ بقول مرزا صاحب ’’بدخیال لوگ‘‘ ہیں۔
(۸)
محمدی بیگم سے نکاح کا پہلا اشتہار جو مرزا صاحب نے ۱۰؍جولائی ۱۸۸۸ء کو
14
جاری کیا تھا، اس کی پیشانی پر یہ قطعہ تحریر فرمایا:
-
’’پیش گوئی کا جب انجام ہویدا ہوگا
قدرتِ حق کا عجیب ایک تماشا ہوگا
-
سچ اور جھوٹ میں ہے فرق وہ پیدا ہوگا
کوئی پا جائے گا عزت اور کوئی رُسوا ہوگا‘‘
(مجموعہ اشتہارات ج:۱ ص:۱۵۳)
نتیجہ:... پیش گوئی کا انجام ۲۶؍مئی ۱۹۰۸ء کو (مرزا صاحب کی موت کے دن) کھل کر سب کے سامنے آگیا، قدرت کا عجیب
تماشا بھی اس دن سب نے دیکھ لیا کہ بیس سال کی مسلسل تگ و دو، اِلہام بازی اور یقین دہانی کے باوجود مرزا صاحب،
محمدی بیگم سے محروم گئے، یوں سچ اور جھوٹ کا فرق کھل گیا۔ بتائیے کس کو عزت ملی، اور رُسوا کون ہوا؟ کون سچا نکلا
کون جھوٹا...؟
(۹)
مرزا صاحب محمدی بیگم کے بارے اِلہامی پیش گوئی کرچکے تھے، مگر اس کے اولیاء نے پیش گوئی کے علی الرغم رشتہ دُوسری
جگہ طے کردیا، تو مرزا کے سینے پر سانپ لوٹ گئے، مرزا صاحب لڑکی کے پھوپھا جناب مرزا علی شیر بیگ صاحب کو (جو مرزا
صاحب کے نسبتی برادر اور سمدھی تھے) لکھتے ہیں:
’’اب میں نے سنا ہے کہ عید کی دُوسری، تیسری تاریخ کو اس لڑکی کا نکاح ہونے والا ہے ...... اس نکاح کے شریک میرے
سخت دُشمن ہیں، بلکہ میرے کیا، دِینِ اسلام کے سخت دُشمن ہیں، عیسائیوں کو ہنسانا چاہتے ہیں ...... ہندوؤں کو خوش
کرنا چاہتے ہیں، اور اللہ و رسول کے دِین کی کچھ پروا نہیں رکھتے۔
اپنی طرف سے میری نسبت ان لوگوں نے پختہ ارادہ کرلیا
15
ہے کہ اس کو خوار کیا جائے، رُوسیاہ کیا جائے، یہ اپنی طرف سے ایک تلوار چلانے لگے ہیں، اب مجھ کو بچالینا
اللہ تعالیٰ کا کام ہے، اگر میں اس کا ہوں گا تو ضرور مجھے بچالے گا۔ اور چاہتے ہیں کہ خوار ہوں، اور اس کا رُوسیاہ
ہو، خدا بے نیاز ہے، جس کو چاہے رُوسیاہ کرے، مگر اب تو مجھے آگ میں ڈالنا چاہتے ہیں۔‘‘
نتیجہ:... آہ! محمدی بیگم کے لئے مرزا صاحب کی بے قراری و بے چینی اور ان کے اقربا کی بے اِلتفاتی و سردمہری ـــــ
افسوس! خدا کے دُشمن، رسول کے دُشمن، دِین کے دُشمن، مرزا صاحب کے دُشمن، نکاح کی تلوار سے ان کا جگر شق کر رہے ہیں،
مرزا صاحب کو آتشِ فرقت میں ڈال رہے ہیں، اور ذلیل و خوار کرکے ان پر جگ ہنسائی کا موقع فراہم کر رہے ہیں، مگر خدا
مرزا صاحب کی کوئی مدد نہیں کرتا، مرزا صاحب اعلان کرتے ہیں کہ: ’’اگر میں اس کا ہوں تو مجھے ضرور بچالے گا‘‘ مگر
خدا تعالیٰ نے انہیں نہیں بچایا، گویا خدا نے گواہی دے دی کہ مرزا صاحب اس کی طرف سے نہیں...!
(۱۰)
سلطان محمد مقرّرہ میعاد میں نہ مرا تو مرزا صاحب نے اس کی میعاد میں توسیع کرتے ہوئے فرمایا کہ: ’’خیر اڑھائی سال
میں نہیں مرا تو نہ سہی، میری زندگی میں تو ضرور مرجائے گا، اور اس کے مرنے نہ مرنے کو اپنے سچا یا جھوٹا ہونے کی
کسوٹی قرار دیتا ہوں‘‘ لکھتے ہیں:
’’باز شمارا ایں نگفتہ ام کہ ایں مقدمہ بر ہمیں قدر بہ اتمام رسید ونتیجہ آخری ہماں است کہ بظہور آمد
و حقیقت پیش گوئی بر ہماں ختم شد، بلہ اصل امر برحال خود قائم است، وہیچ کس با حیلۂ خود اورا نتواند کرد وایں تقدیر
از خدائے بزرگ تقدیر مبرم است وعنقریب وقت آں خواہد آمد۔ پس قسم آں خدائے کہ حضرت محمد مصطفی صلی اللہ
16
علیہ وسلم را برائے مامبعوث فرمود و اورا بہترین مخلوق گردایند کہ ایں حق است، و عنقریب
خواہی دید، ومن ایں را برائے صدق خود یا کذب خود معیار می گردانم، ومن نہ گفتم الا بعد ازاں کہ از رَبّ خود
خبردادہ شدم۔‘‘
(انجامِ آتھم ص:۲۲۳)
ترجمہ از مؤلف:... ’’پھر میں نے تم سے یہ نہیں کہا کہ یہ قصہ یہیں ختم ہوگیا ہے اور آخری نتیجہ بس
یہی تھا جو ظہور میں آچکا، اور پیش گوئی کی حقیقت صرف اسی پر ختم ہوگئی۔ نہیں! بلکہ اصل بات (یعنی سلطان محمد کا
مرنا، اور اس کی منکوحہ کا بیوہ ہوکر مرزا صاحب کے حبالۂ عقد میں آنا) اپنے حال پر قائم ہے، اور کوئی شخص کسی حیلے
کے ساتھ اسے نہیں ٹال سکتا۔ یہ خدائے بزرگ کی طرف سے تقدیرِ مبرم ہے، اور عنقریب اس کا وقت آئے گا۔ پس اس خدا کی
قسم! جس نے محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کو مبعوث کیا اور آپ کو تمام مخلوق سے افضل بنایا، یہ پیش گوئی حق ہے،
اور عنقریب تم اس کا انجام دیکھ لوگے۔ اور میں اس کو اپنے صدق اور کذب کے لئے معیار ٹھہراتا ہوں، اور میں نے نہیں
کہا مگر بعد اس کے کہ مجھے اپنے رَبّ کی جانب سے خبر دی گئی۔‘‘
نتیجہ:... مرزا صاحب نے سلطان محمد کی موت کو اپنے صدق و کذب کا معیار ٹھہرایا تھا، یعنی اگر سلطان محمد، مرزا صاحب
کی زندگی میں مرجائے تو مرزا صاحب سچے، ورنہ جھوٹے۔ مگر افسوس! کہ اس معیار پر بھی مرزا صاحب جھوٹے ہی ثابت ہوئے،
کیونکہ مرزا صاحب ۲۶؍مئی ۱۹۰۸ء کو خود چل بسے، اور جناب سلطان محمد صاحب ان کے بعد اِکتالیس سال تک زندہ سلامت رہے۔
(۱۱)
سلطان محمد کی موت ہی کے بارے میں فرماتے ہیں:
17
’’یاد رکھو! اگر اس پیش گوئی کی دُوسری جزو پوری نہ ہوئی (یعنی احمد بیگ کا داماد، مرزا صاحب کی زندگی میں
نہ مرا ...ناقل) تو میں ہر ایک بد سے بدتر ٹھہروں گا۔ اے احمقو! یہ انسان کا اِفترا نہیں، کسی خبیث مفتری کا کاروبار
نہیں، یقینا سمجھو کہ یہ خدا کا سچا وعدہ ہے، وہی خدا جس کی باتیں نہیں ٹلتیں، وہی رَبّ ذُوالجلال جس کے اِرادوں کو
کوئی نہیں روک سکتا۔‘‘
(ضمیمہ انجامِ آتھم ص:۵۴)
نتیجہ:... چونکہ سلطان محمد صاحب کا انتقال مرزا صاحب کی زندگی میں نہیں ہوا، اس لئے مرزا صاحب بقولِ خود ’’ہر بد
سے بدتر‘‘ ٹھہرے۔ اور یہ بھی ثابت ہوا کہ یہ پیش گوئی بقول مرزا صاحب کے انسان کا اِفترا اور کسی خبیث مفتری کا
کاروبار تھا، اگر یہ خدا کا سچا وعدہ ہوتا تو ناممکن تھا کہ ٹل جاتا، کیونکہ رَبّ ذُوالجلال کے اِرادوں کو کوئی روک
نہیں سکتا۔ جو شخص اتنی موٹی بات کو بھی نہیں سمجھے، مرزا صاحب اسے ’’احمق‘‘ کا خطاب دیتے ہیں...!
(۱۲)
’’میں بار بار کہتا ہوں کہ نفسِ پیش گوئی داماد احمد بیگ کی تقدیرِ مبرم ہے، اس کی انتظار کرو، اور اگر میں جھوٹا
ہوں تو یہ پیش گوئی پوری نہیں ہوگی، اور میری موت آجائے گی، اور اگر میں سچا ہوں تو خدا تعالیٰ اسے ضرور پورا کرے
گا۔‘‘
(انجامِ آتھم ص:۳۱حاشیہ)
نتیجہ:... افسوس! مرزا صاحب کی زندگی میں احمد بیگ کا داماد نہیں مرا، اس لئے مرزا صاحب کی یہ بات بالکل صحیح نکلی
کہ: ’’اگر میں جھوٹا ہوں تو یہ پیش گوئی پوری نہیں ہوگی اور میری موت آجائے گی۔‘‘
(۱۳)
نکاحِ آسمانی کی تائید میں حدیثِ نبوی سے اِستدلال کرتے ہوئے مرزا صاحب لکھتے ہیں:
18
’’اس پیش گوئی کی تصدیق کے لئے جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی پہلے سے پیش گوئی فرمائی ہوئی ہے۔
یتزوج ویولد لہٗ۔ یعنی وہ مسیحِ موعود بیوی کرے گا اور نیز صاحبِ اولاد ہوگا۔ اب ظاہر ہے کہ تزوج اور اولاد کا ذِکر
کرنا عام طور پر مقصود نہیں، کیونکہ عام طور پر ہر ایک شادی کرتا ہے اور اولاد بھی ہوتی ہے، اس میں کچھ خوبی نہیں،
بلکہ تزوج سے مراد خاص تزوج ہے جو بطورِ نشان ہوگا، اور اولاد سے مراد خاص اولاد ہے، جس کی نسبت اس عاجز کی پیش گوئی
ہے۔ گویا اس جگہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان سیاہ دِل منکروں کو ان کے شبہات کا جواب دے رہے ہیں کہ یہ باتیں
ضرور پوری ہوں گی۔‘‘
(ضمیمہ انجامِ آتھم ص:۵۳)
نتیجہ:... مرزا صاحب کو اس ’’خاص نکاح‘‘ اور ’’خاص اولاد‘‘ سے اللہ تعالیٰ نے ہمیشہ محروم رکھا، جس سے ثابت ہو اکہ
مرزا صاحب کا مسیحِ موعود ہونے کا دعویٰ غلط ہے، اور یہ کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی پیش گوئی ان پر صادق نہیں
آتی، آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ ارشاد حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے حق میں ہے کہ جب وہ زمین پر دوبارہ نزول
فرمائیں گے تو شادی بھی کریں گے اور ان کے اولاد بھی ہوگی۔ جو لوگ ان کی تشریف آوری کے منکر ہیں انہی کے بارے میں
مرزا صاحب نے لکھا ہے:
’’اس جگہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان سیاہ دِل منکروں کو ان کے شبہات کا جواب دے رہے ہیں کہ یہ باتیں ضرور
پوری ہوں گی۔‘‘
(۱۴)
عبداللہ آتھم نامی پادری کے ساتھ مرزا صاحب کا پندرہ دِن تک مباحثہ ہوتا رہا، مرزا صاحب اپنے حریف کو میدانِ
مباحثہ میں شکست دینے میں ناکام رہے، تو ۵؍جون
19
۱۸۹۳ء کو اِلہامی پیش گوئی کردی کہ پندرہ مہینے تک ان کا حریف ہاویہ میں گرایا جائے گا، بشرطیکہ حق کی طرف
رُجوع نہ کرے۔ اس سلسلے میں مرزا صاحب لکھتے ہیں:
’’میں اس وقت اِقرار کرتا ہوں، اگر یہ پیش گوئی جھوٹی نکلی، یعنی جو فریق خدا تعالیٰ کے نزدیک جھوٹ پر ہے وہ پندرہ
ماہ کے عرصے میں آج کی تاریخ سے بسزائے موت ہاویہ میں نہ پڑے، تو میں ہر ایک سزا کو اُٹھانے کے لئے تیار ہوں۔ مجھ
کو ذلیل کیا جاو ے، رُوسیاہ کیا جائے، میرے گلے میں رَسا ڈال دیا جاوے، مجھ کو پھانسی دیا جاوے، ہر ایک بات کے لئے
تیار ہوں، اور میں اللہ جل شانہ‘ کی قسم کھاکر کہتا ہوں کہ وہ ضرور ایسا ہی کرے گا، ضرور کرے گا، ضرور کرے گا، زمین
و آسمان ٹل جائیں پر اس کی باتیں نہ ٹلیں گی۔
اگر میں جھوٹا ہوں تو میرے لئے سولی تیار رکھو، اور تمام شیطانوں اور بدکاروں اور لعنتیوں سے زیادہ مجھے لعنتی
سمجھو۔‘‘
(جنگِ مقدس ص:۱۸۹)
نتیجہ:... پیش گوئی کی آخری میعاد ۵؍ستمبر ۱۸۹۴ء تھی، مگر آتھم نے اس تاریخ تک نہ تو عیسائیت سے توبہ کی اور نہ
اسلام کی طرف رُجوع کیا، نہ بسزائے موت ہاویہ میں گرا، مرزا صاحب نے اس کو مارنے کے لئے ٹونے ٹوٹکے بھی کئے (دیکھئے:
’’سیرۃ المہدی‘‘ ج:۱ ص:۱۷۸) اور میعاد کے آخری دِن خدا سے آہ و زاری کے ساتھ: ’’یا اللہ ! آتھم مرجائے، یا اللہ!
آتھم مرجائے‘‘ کی دُعائیں بھی کیں کرائیں (’’الفضل‘‘ ۲۰؍جولائی ۱۹۴۰ء) مگر سب کچھ بے سود۔ نہ آتھم پر ٹونے ٹوٹکے
کا اثر ہوا، نہ خدا نے قادیان کی آہ وزاری، نوحہ و ماتم اور بددُعاؤں کو آتھم کے حق میں قبول فرمایا، اس کا نتیجہ
وہی ہوا جو مرزا صاحب نے اپنے لئے تجویز کیا تھا، یعنی:
’’میں اِقرار کرتا ہوں کہ اگر یہ پیش گوئی جھوٹی نکلی تو مجھ کو ذلیل کیا جائے، رُوسیاہ کیا جائے ...۔۔ اور تمام
شیطانوں اور بدکاروں
20
اور لعنتیوں سے زیادہ مجھے لعنتی سمجھو!‘‘
چنانچہ مرزا صاحب کے اس ارشاد کی تعمیل فریقِ مخالف نے کس طرح کی؟ اس کا اندازہ ان گندے اِشتہاروں سے کیا جاسکتا ہے
جو اس میعاد کے گزرنے پر اس کی طرف سے شائع کئے گئے۔ بطورِ نمونہ ایک شعر ملاحظہ کیجئے! مرزا صاحب کو مخاطب کرکے
لکھا گیا:
-
ڈھیٹ اور بے شرم بھی ہوتے ہیں دُنیا میں مگر
سب سے سبقت لے گئی ہے بے حیائی آپ کی
یہ مرزا صاحب کے اس فقرے کی صدائے بازگشت تھی کہ: ’’تمام شیطانوں اور بدکاروں اور لعنتیوں سے زیادہ مجھے لعنتی
سمجھو‘‘ اگر وہ ایسے نہ ہوتے تو خدا ان کو عیسائیوں کے مقابلے میں اس قدر ذلیل نہ کرتا۔
(۱۵)
’’شہادۃ القرآن‘‘ میں مرزا صاحب لکھتے ہیں:
’’پھر ماسوا اس کے بعضے اور عظیم الشان نشان اس عاجز کی طرف سے معرضِ اِمتحان میں ہیں، جیسا کہ منشی عبداللہ آتھم
صاحب امرتسری کی نسبت پیش گوئی، جس کی میعاد ۵؍جون (۱۸۹۳ء) سے ۵۱ مہینے تک ...... اور پھر مرزا احمد بیگ کے داماد کی
نسبت پیش گوئی، جو پٹی ضلع لاہور کا باشندہ ہے، جس کی میعاد آج کی تاریخ سے، جو ۳؍ستمبر ۱۸۹۳ء قریباً گیارہ مہینے
باقی رہ گئے ہیں، یہ تمام اُمور جو اِنسانی طاقتوں سے بالکل بالاتر ہیں ایک صادق یا کاذب کی شناخت کے لئے کافی
ہیں۔‘‘
(شہادۃ القرآن ص:۸۰)
نتیجہ:... صادق یا کاذب کی شناخت کا طریقہ یہی ہے کہ اگر یہ پیش گوئیاں مقرّرہ میعاد پر پوری ہوگئیں تو پیش گوئی
کرنے والا ان پیش گوئیوں میں سچا سمجھا جائے گا، ورنہ جھوٹا۔ اب چونکہ یہ پیش گوئیاں پوری نہیں ہوئیں اس لئے یہ مرزا
صاحب کے کذب کی
21
شناخت کے لئے واقعی کافی ثابت ہوئیں۔ اس کے بعد مرزا صاحب کو کاذب ثابت کرنے کے لئے کسی اور دلیل کی ضرورت
نہیں رہی...!
(۱۶)
’’میں بالآخر دُعا کرتا ہوں کہ اے خدائے قادر و علیم! اگر آتھم کا عذابِ مہلک میں گرفتار ہونا، احمد بیگ کی دخترِ
کلاں کا آخر اس عاجز کے نکاح میں آنا یہ پیش گوئیاں تیری طرف سے نہیں تو مجھے نامرادی اور ذِلت کے ساتھ ہلاک کر۔
اگر میں تیری نظر میں مردود اور ملعون اور دجال ہوں جیسا کہ مخالفین نے سمجھا ہے اور تیری وہ رحمت میرے ساتھ نہیں جو
فلاں فلاں انبیاء و اولیاء کے ساتھ تھی (یہاں مرزا صاحب نے بہت سے انبیاء و اولیاء کے نام ذکر کئے ہیں) تو مجھے فنا
کرڈال، اور ذِلتوں کے ساتھ مجھے ہلاک کردے اور ہمیشہ کی لعنتوں کا نشانہ بنا، اور دُشمنوں کو خوش کر اور ان کی دُعا
قبول فرما۔‘‘
(اشتہار ۲۷؍اکتوبر ۱۸۹۴ء مندرجہ مجموعہ اشتہارات ج:۲ ص:۱۱۶)
نتیجہ:... مرزا صاحب کی ان جگر شگاف اِلتجاؤں اور اپنے اُوپر بددُعاؤں کے باوجود خدا نے انہیں محمدی بیگم کے نکاح
سے تادمِ زیست محروم ہی رکھا، جس سے معلوم ہوا کہ وہ بقولِ خود: ’’خدا کی نظر میں مردود، ملعون اور دجال تھے، جیسا
کہ مخالفین نے سمجھا ہے‘‘ افسوس وہ اپنی بددُعا کے نتیجے میں بقولِ خود: ’’نامرادی اور ذِلت کے ساتھ ہلاک ہوگئے،
ہمیشہ کی لعنتوں کا نشانہ بن گئے، ان کے دُشمن خوش ہوئے اور ان کی دُعا قبول ہوئی۔‘‘
(۱۷)
مولانا ثناء اللہ امرتسریؒ کو مخاطب کرکے مرزا صاحب لکھتے ہیں:
’’آپ اپنے پرچے میں میری نسبت شہرت دیتے ہیں کہ یہ شخص مفتری اور کذّاب اور دجال ہے۔ میں نے آپ سے بہت
22
دُکھ اُٹھایا اور صبر کرتا رہا ...... اگر میں ایسا ہی کذّاب اور مفتری ہوں جیسا کہ آپ اپنے پرچے میں مجھے
یاد کرتے ہیں، تو میں آپ کی زندگی میں ہلاک ہوجاؤں گا۔‘‘
(اشتہار ’’مولوی ثناء اللہ صاحب سے آخری فیصلہ‘‘ مندرجہ مجموعہ اِشتہارات ج:۳ ص:۵۷۸)
نتیجہ:... مرزا صاحب ۲۶؍مئی ۱۹۰۸ء کو مولانا مرحوم کی زندگی میں فوت ہوگئے، جس سے ان کے اس قول کی تصدیق ہوگئی کہ:
’’اگر میں ایسا ہی مفتری اور کذّاب ہوں، جیسا کہ آپ اپنے پرچے میں مجھے یاد کرتے ہیں، تو میں آپ کی زندگی میں ہلاک
ہوجاؤں گا۔‘‘ ع ’’جھوٹ میں سچا تھا پہلے مرگیا۔‘‘
(۱۸)
اسی اِشتہار میں لکھتے ہیں:
’’پس اگر وہ سزا جو اِنسان کے ہاتھوں سے نہیں، بلکہ محض خدا کے ہاتھوں سے ہے، جیسے طاعون، ہیضہ وغیرہ مہلک
بیماریاں، آپ (مولانا ثناء اللہ صاحب امرتسری) پر میری زندگی میں وارِد نہ ہوئیں تو میں خدا کی طرف سے نہیں۔‘‘
نتیجہ:... حق تعالیٰ نے مرزا صاحب کی زندگی میں مولانا مرحوم کو ہر آفتِ بد سے محفوظ رکھا، اور مرزا صاحب کی یہ
بات سچ کر دِکھائی: ’’میں خدا کی طرف سے نہیں۔‘‘
(۱۹)
اسی ’’آخری فیصلہ‘‘ میں مرزا صاحب دُعا فرماتے ہیں کہ:
’’اگر یہ دعویٰ مسیحِ موعود ہونے کا محض میرے نفس کا اِفترا ہے، اور میں تیری نظر میں مفسد اور کذّاب ہوں، تو اے
میرے پیارے مالک! میں عاجزی سے تیری جناب میں دُعا کرتا ہوں کہ مولوی ثناء اللہ صاحب کی زندگی میں مجھے ہلاک کر۔
آمین۔‘‘
23
نتیجہ:... مرزا کی یہ دُعا قبول ہوئی کہ: ’’مولوی صاحب کی زندگی میں مجھے ہلاک کر‘‘ ثابت ہوا کہ مرزا صاحب خدا
تعالیٰ کی نظر میں مفسد و کذّاب تھے، اور ان کا مسیحِ موعود ہونے کا دعویٰ محض ان کے نفس کا اِفترا تھا۔ کاش! مرزا
صاحب اپنے لئے ہلاکت کے بجائے ہدایت کی دُعا کرتے تو شاید وہ بھی قبول ہوجاتی۔
(۲۰)
مزید لکھتے ہیں:
’’اے میرے قادر! اور میرے بھیجنے والے! اب میں تیرے ہی تقدس اور رحمت کا دامن پکڑ کر تیری جناب میں ملتجی ہوں کہ
مجھ میں اور مولوی ثناء اللہ صاحب میں سچا فیصلہ فرما، اور وہ جو تیری نگاہ میں حقیقت میں مفسد اور کذّاب ہے اس کو
صادق کی زندگی میں ہی دُنیا سے اُٹھالے، اے مالک! تو ایسا ہی کر۔ آمین۔‘‘
نتیجہ:... مرزا صاحب کی یہ اِلتجا بھی منظور ہوئی، مولانا مرحوم صادق تھے، اس لئے اللہ تعالیٰ نے ان کی زندگی میں
مرزا صاحب کو بمرض وبائی ہیضہ دُنیا سے اُٹھالیا اور مرزا صاحب کو ان کی منہ مانگی موت دے کر ثابت کردیا کہ وہ خدا
کی نگاہ میں واقعتا مفسد اور کذّاب تھے۔
(۲۱)
ضمیمہ انجامِ آتھم میں لکھتے ہیں:
’’شیخ محمد حسین بطالوی اور دُوسرے نامی مخالف مجھ سے مباہلہ کرلیں، پس اگر مباہلہ کے بعد میری بددُعا کے اثر سے
ایک بھی خالی رہا تو میں اِقرار کروں گا کہ میں جھوٹا ہوں۔‘‘
(ص:۲۰، ۲۱)
نتیجہ:... مرزا صاحب کے اسی اُصول کے مطابق مولانا عبدالحق غزنویؒ کا مرزا صاحب سے مباہلہ ہوا تھا، جس کا اثر یہ
ہوا کہ مباہلہ کے بعد مرزا صاحب، مولانا مرحوم
24
کے سامنے مرگئے، جس سے مرزا صاحب کے اس قول و اِقرار کی تصدیق ہوگئی کہ: ’’میں جھوٹا ہوں۔‘‘
(۲۲)
مرزا صاحب کی تحریریں شاہد ہیں کہ وہ مراق کے مریض تھے، چنانچہ ملاحظہ ہو:
الف:... ’’دیکھو میری بیماری کی نسبت بھی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے پیش گوئی کی تھی جو اسی طرح وقوع میں آئی،
آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا کہ: مسیح جب آسمان سے اُترے گا تو دو زَرد چادریں اس نے پہنی ہوئی ہوں گی، تو
اسی طرح مجھ کو دو بیماریاں ہیں، ایک اُوپر کے دھڑ کی، اور ایک نیچے کے دھڑ کی، یعنی مراق اور کثرتِ بول۔‘‘
(ملفوظات مرزا غلام احمد قادیانی ج:۸ ص:۴۴۵)
ب:... ’’میرا تو یہ حال ہے کہ دو بیماریوں میں ہمیشہ مبتلا رہا ہوں، تاہم مصروفیت کا یہ حال ہے کہ بڑی بڑی رات تک
بیٹھا کام کرتا رہتا ہوں، حالانکہ زیادہ جاگنے سے مراق کی بیماری ترقی کرتی ہے، دورانِ سر کا دورہ زیادہ ہوجاتا ہے،
تاہم اس بات کی پروا نہیں کرتا اور اس کام کو کئے جاتا ہوں۔‘‘
(ملفوظات ج:۲ ص:۳۷۶)
ج:... ’’حضرت خلیفۃ المسیح الاوّل نے حضرت مسیحِ موعود (مرزا غلام احمد) سے فرمایا کہ: حضور! غلام نبی کو مراق ہے،
تو حضور نے فرمایا کہ: ایک رنگ میں سب نبیوں کو مراق ہوتا ہے (نعوذباللہ...ناقل) اور مجھ کو بھی ہے۔‘‘
(سیرۃ المہدی ج:۳ ص:۳۰۴)
اس اِقرار و اِعتراف سے قطع نظر مرزا صاحب میں مراق کی علامات بھی کامل طور پر جمع تھیں، مرزا بشیر احمد ایم اے
’’سیرۃ المہدی‘‘ میں اپنے ماموں ڈاکٹر میر محمد اسماعیل
25
صاحب کی ’’ماہرانہ شہادت‘‘ نقل کرتے ہیں کہ:
د:... ’’ڈاکٹر میر محمد اسماعیل صاحب نے مجھ سے بیان کیا کہ میں نے کئی دفعہ حضرت مسیحِ موعود (مرزا غلام احمد) سے
سنا ہے کہ مجھے ہسٹریا ہے، بعض اوقات آپ مراق بھی فرمایا کرتے تھے، لیکن دراصل بات یہ ہے کہ آپ کو دِماغی محنت اور
شبانہ روز تصنیف کی مشقت کی وجہ سے بعض ایسی عصبی علامات پیدا ہوجایا کرتی تھیں، جو ہسٹریا (اور مراق) کے مریضوں میں
بھی عموماً دیکھی جاتی ہیں، مثلاً کام کرتے کرتے یک دم ضعف ہوجانا، چکروں کا آنا، ہاتھ پاؤں کا سرد ہوجانا،
گھبراہٹ کا دورہ ہوجانا، یا ایسا معلوم ہونا کہ ابھی دَم نکلتا ہے، یا کسی تنگ جگہ یا بعض اوقات زیادہ آدمیوں میں
ِگھر کر بیٹھنے سے دِل کا سخت پریشان ہونے لگنا، وغیرہ ذالک(۱) ۔‘‘
مرزا صاحب کو مراق کا عارضہ غالباً موروثی تھا، ڈاکٹر شاہ نواز قادیانی لکھتے ہیں:
ہ:... ’’جب خاندان سے اس کی اِبتدا ہوچکی تھی تو پھر اگلی نسل میں بے شک یہ مرض منتقل ہوا، چنانچہ حضرت خلیفۃ
المسیح ثانی نے فرمایا کہ: مجھ کو بھی کبھی کبھی مراق کا دورہ ہوتا ہے۔‘‘
(ریویو آف ریلیجنز بابت اگست ۱۹۲۶ء ص:۱۱)
ڈاکٹر صاحب کے نزدیک مرزا صاحب کے مراق کا سبب اعصابی کمزور تھی، وہ لکھتے ہیں:
’’واضح ہو کہ حضرت صاحب کی تمام تکالیف مثلاً دورانِ
(۱) مثلاً بدہضمی، اِسہال، بدخوابی، تفکر، اِستغراق، بدحواسی، نسیان، ہذیان، تخیل پسندی، طویل بیانی،
اعجاز نمائی، مبالغہ آرائی، دشنام طرازی، فلک پیما دعوے، کشف و کرامات کا اظہار، نبوّت و رِسالت، فضیلت و برتری کا
اِدّعا، خدائی صفات کا تخیل وغیرہ وغیرہ، اس قسم کی بیسیوں مراقی علامات مرزا صاحب میں پائی جاتی تھیں۔ (ناقل) (سیرۃ المہدی ج:۲ ص:۵۵)
26
سر، دردِ سر، کمی خواب، تشنجِ دِل، بدہضمی، اِسہال، کثرتِ پیشاب اور مراق وغیرہ کا صرف ایک ہی باعث تھا اور
وہ عصبی کمزوری تھا۔‘‘
(ریویو مئی ۱۹۲۷ء ص:۲۶)
مراق کی علامات میں اہم ترین علامت یہ بیان کی گئی ہے کہ:
’’مالیخولیا کا کوئی مریض خیال کرتا ہے کہ میں بادشاہ ہوں، کوئی یہ خیال کرتا ہے کہ میں خدا ہوں، کوئی یہ خیال کرتا
ہے کہ میں پیغمبر ہوں۔‘‘
(بیاض حکیم نورالدین قادیانی ج:۱۰ ص:۲۱۲)
یہ تمام علامات مرزا صاحب میں بدرجۂ اَتم پائی جاتی ہیں، انہوں نے ’’آریوں کا بادشاہ‘‘ ہونے کا دعویٰ کیا، نبوّت
سے خدائی تک کے دعوے بڑی شدومد سے کئے، انبیائے کرام علیہم السلام سے برتری کا دَم بھرا، دس لاکھ معجزات کا اِدّعا
کیا، مخلوق کو اِیمان لانے کی دعوت دی، اور نہ ماننے والوں کو منکر، کافر اور جہنمی قرار دِیا، انبیاء علیہم السلام
کی تنقیص کی، صحابہ کرامؓ کو نادان اور اَحمق کہا، اولیائے اُمت پر سب و شتم کیا، مفسرین کو جاہل کہا،محدثین پر طعن
کیا، علمائے اُمت کو یہودی کہا، اور پوری اُمت کو گمراہ کہا، اور فحش کلمات سے ان کی تواضع کی، یہ کام کسی مجدّد یا
ولی کا نہیں ہوسکتا، بلکہ اس کو مراق کی کرشمہ سازی ہی کہا جاسکتا ہے۔
ایک نہایت اہم لمحۂ فکریہ!
میں قادیانیوں سے پوچھتا ہوں کہ اگر قیامت کے دن مرزا غلام احمد سے سوال ہوا کہ تو نے حضرت خاتم النبیین صلی اللہ
علیہ وسلم کے بعد نبوّت کا دعویٰ کرکے کیوں لوگوں کو گمراہ کیا؟ اور اس کے جواب میں مرزا صاحب عرض کریں کہ: ’’یا
اللہ! یہ سب کچھ میں نے مراق کی وجہ سے کیا تھا! اور اپنے مراقی ہونے کا اظہار بھی خود اپنی زبان وقلم سے کردیا تھا،
اب ان ’’عقل مندوں‘‘ سے پوچھئے کہ انہوں نے ’’مراق کے مریض‘‘ کو ’’مسیحِ موعود‘‘
27
کیوں مان لیا تھا؟‘‘ تو آپ کے پاس دلیل کا کیا جواب ہوگا؟ مرزا صاحب کے ماننے والے اس سوال پر ٹھنڈے دِل سے
غور کریں...!
دردمندانہ گزارش
آخر میں اپنے بھائیوں سے دردمندانہ گزارش کروں گا کہ میں نے مرزا صاحب کی تحریروں سے خود انہی کے مقرّر کردہ معیار
پیش کردئیے ہیں، ممکن ہے ہمارے بھائیوں کو رسالے کے بعض مندرجات ناگوار گزریں، مگر اس میں میرا قصور صرف اتنا ہے کہ
میں نے مرزا صاحب کے قائم کئے ہوئے معیاروں کو واقعات کی کسوٹی پر رکھ دیا ہے، جس سے ہر شخص آسانی سے سمجھ سکتا ہے
کہ مرزا صاحب اس کسوٹی پر کھرے ثابت ہوئے یا کھوٹے نکلے...؟
ہمارے بھائیوں کو چاہئے کہ مرزا صاحب کی تحریروں کو واقعات کی روشنی میں جانچیں اور اس بات پر بھی غور کریں کہ
انبیائے کرام علیہم السلام کی شان تو بہت ہی بلند وبالا ہے، اولیائے کرام اور مجدّدینِ اُمت بھی اپنے سچ جھوٹ کی
شرطیں نہیں باندھا کرتے، وہ تو دو ٹوک الفاظ میں حق و صداقت کی دعوت دیتے ہیں۔ لیکن مرزا صاحب کو ہم دیکھتے ہیں کہ
وہ بار بار اپنے سچ جھوٹ کی شرطیں باندھتے ہیں، اور جب ایک شرط میں بازی ہار دیتے ہیں تو فوراً دُوسری شرط باندھ
لیتے ہیں۔ بار بار شرطیں باندھ کر سچ جھوٹ کا جوا کھیلنا کیا کسی مقبولِ بارگاہِ اِلٰہی کا کام ہوسکتا ہے؟ اگر اللہ
تعالیٰ نے بصیرت دی ہو تو یہی ایک نکتہ ہدایت کے لئے کافی ہوسکتاہے۔ اور پھر یہ بھی دیکھئے کہ اِدھر مرزا صاحب تو
اپنا سب کچھ سچ جھوٹ کی شرطیں باندھنے میں جھونک رہے ہیں، اُدھر خدا تعالیٰ نے گویا قسم کھا رکھی ہے کہ مرزا صاحب جس
چیز کو بھی اپنے صدق و کذب کا معیار بناکر پیش کریں، اس میں انہیں جھوٹا ثابت کیا جائے۔ اِدھر مرزا صاحب قسمیں کھاتے
ہیں کہ محمدی بیگم سے نکاح ہوگا، سلطان محمد مرے گا، آتھم مرے گا، ثناء اللہ مرے گا، عبدالحق مرے گا، یہ ہوگا اور
وہ ہوگا، اگر ایسا نہ
28
ہوا تو مجھے جھوٹا سمجھو۔ اُدھر تقدیرِ خداوندی بضد ہے کہ مرزا صاحب جس بات کو جتنی زیادہ قسمیں کھاکر بیان
کریں، وہ اتنی ہی ناممکن بنادی جائے ـــــ حد یہ کہ مرزا صاحب ایک ناپاک عیسائی کے بارے میں لکھتے ہیں کہ اگر وہ
فلاں تاریخ تک نہ مرے تو مجھے سب سے بڑا لعنتی سمجھو۔ لیکن اللہ تعالیٰ ایک صلیب پرست ناپاک عیسائی کے مقابلے میں
بھی مرزا صاحب کی قسم کا لائقِ اِحترام نہیں سمجھتے، کیا انسانی تاریخ میں کسی سچے کی ایسی مثال ملتی ہے؟ خدارا! ذرا
غور تو فرمائیے،فَاعْتَبِرُوْا یَـآ اُولِی الْاَبْصَار...!
29
قادیانی اِقرار
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ
اَلْحَمْدُ للہِ وَسَلَامٌ عَلٰی عِبَادِہِ الَّذِیْنَ اصْطَفٰی
اس رسالے میں قادیانی لٹریچر سے چند اِقتباسات نقل کئے جاتے ہیں، اہلِ نظر ان پر غور فرماکر فیصلہ کریں کہ کیا سچے
مدعیوں کے یہی حالات ہوتے ہیں؟
عبادتِ اِلٰہی:
’’مولوی رحیم بخش صاحب ساکن تلونڈی ضلع گورداسپور نے بذریعہ تحریر مجھ سے بیان کیا کہ جب حضرت مسیحِ موعود (مرزا
غلام احمد صاحب) امرتسر میں براہین احمدیہ کی طباعت دیکھنے کے لئے تشریف لے گئے تو کتاب کی طباعت دیکھنے کے بعد مجھے
فرمایا: میاں رحیم بخش! چلو سیر کر آئیں۔ جب آپ باغ کی سیر کر رہے تھے تو خاکسار نے عرض کیا کہ: حضرت! آپ سیر
کرتے ہیں، ولی لوگ تو سنا ہے شب و روز عبادتِ اِلٰہی کرتے ہیں۔ آپ نے فرمایا: ولی اللہ دو (۲) طرح کے ہوتے ہیں، ایک
مجاہدہ کش، جیسے حضرت باوا فرید شکرگنج،ؒ اور دُوسرے محدث جیسے ابوالحسن خرقانی،ؒ محمد اکرم ملتانی،ؒ مجدد الف
ثانی،ؒ وغیرہ، یہ دُوسرے قسم کے ولی بڑے مرتبے کے ہوتے ہیں، اللہ تعالیٰ ان سے بہ کثرت کلام کرتا ہے۔ میں ان میں سے
ہوں (گویا عبادت کے بجائے صرف مہیب دعوے کافی ہیں ...ناقل) اور آپ کا اس وقت محدثیت کا دعویٰ تھا۔ (جو بعد میں ترقی
کرکے مسیحیت، نبوّت اور خدائی بروز تک جاپہنچا ...ناقل)۔‘‘
(سیرۃ المہدی ج:۳ ص:۲۱۴)
30
تصنیف اور نماز:
’’ڈاکٹر میر محمد اسماعیل نے مجھ سے بذریعہ تحریر بیان کیا کہ سیرۃ المہدی کی روایت ۴۶۷ میں سنین کے لحاظ سے جو
واقعات درج ہیں ان میں سے بعض میں مجھے اِختلاف ہے جو مندرجہ ذیل ہے ......۔ (۱۳) آپ نے ۱۹۰۱ء میں ۲ ماہ تک مسلسل
نمازیں جمع کرنے کا ذِکر نہیں کیا۔
خاکسار عرض کرتا ہے کہ یہ بھی دُرست ہے کہ ایک لمبے عرصے تک نمازیں جمع ہوئی تھیں (کیونکہ مرزا صاحب ان دنوں ایک
کتاب کی تصنیف میں مشغول تھے، اس لئے ظہر وعصر اِکٹھی پڑھ لیتے تھے، تاکہ وقت ضائع نہ ہو ...ناقل)۔‘‘
(سیرۃ المہدی ج:۳ ص:۲۰۲)
مسنون وضع:
’’نماز تکلیف سے بیٹھ کر پڑھی جاتی ہے، بعض وقت درمیان میں توڑنی پڑتی ہے، اکثر بیٹھے بیٹھے رینگن ہوجاتی ہے اور
زمین پر قدم اچھی طرح نہیں جمتا، قریب چھ سات ماہ یا زیادہ عرصہ گزرگیا ہے کہ نماز کھڑے ہوکر نہیں پڑھی جاتی، اور نہ
بیٹھ کر اس وضع پر پڑھی جاتی ہے جو مسنون ہے، اور قراء ت میں شاید قل ہو اللہ بہ مشکل پڑھ سکوں، کیونکہ ساتھ ہی توجہ
کرنے سے تحریک بخارات کی ہوتی ہے۔‘‘
(مکتوباتِ احمدیہ جلد پنجم ص:۸۸)
مشہور فقہی مسئلہ:
’’ڈاکٹر میر محمد اسماعیل صاحب نے مجھ سے بیان کیا کہ حضرت مسیحِ موعود کو میں نے بارہا دیکھا کہ گھر میں نماز
پڑھاتے تو حضرت اُمّ المؤمنین کو اپنے دائیں جانب بطور مقتدی کے کھڑا کرلیتے، حالانکہ مشہور فقہی مسئلہ یہ ہے کہ
خواہ عورت اکیلی ہی مقتدی ہو تب بھی اسے مرد کے ساتھ نہیں بلکہ الگ پیچھے کھڑا ہونا چاہئے۔ ہاں! اکیلا مرد مقتدی ہو
تو اسے اِمام کے ساتھ دائیں طرف کھڑا ہونا چاہئے۔ میں نے حضرت اُمّ المؤمنین سے پوچھا تو انہوں نے بھی اس بات کی
تصدیق کی، مگر ساتھ ہی یہ بھی کہا کہ حضرت صاحب نے مجھ سے
31
یہ بھی فرمایا تھا کہ مجھے بعض اوقات کھڑے ہوکر چکر آجایا کرتا ہے، اس لئے تم میرے پاس کھڑے ہوکر نماز پڑھ
لیا کرو۔‘‘
(سیرۃ المہدی ج:۳ ص:۱۳۱)
منہ میں پان:
’’ڈاکٹر میر محمد اسماعیل نے مجھ سے بیان کیا کہ ایک دفعہ حضرت صاحب کو سخت کھانسی ہوئی، ایسی کہ دَم نہ آتا تھا،
البتہ منہ میں پان رکھ کر قدرے آرام معلوم ہوتا تھا، اس وقت آپ نے اس حالت میں پان منہ میں رکھے رکھے نماز پڑھی،
تاکہ آرام سے پڑھ سکیں۔‘‘
(سیرۃ المہدی ج:۳ ص:۱۰۳)
اِمامت کا شرف:
’’ڈاکٹر میر محمد اسماعیل صاحب نے مجھ سے بیان کیا کہ ایک دفعہ کسی وجہ سے مولوی عبدالکریم مرحوم نماز نہ پڑھاسکے،
حضرت خلیفۃ المسیح اوّل (حکیم نورالدین صاحب) بھی موجود نہ تھے، تو حضرت صاحب نے حکیم فضل دین صاحب مرحوم کو نماز
پڑھانے کے لئے ارشاد فرمایا، انہوں نے عرض کیا کہ: حضور تو جانتے ہیں کہ مجھے بواسیر کا مرض ہے، اور ہر وقت ریح خارج
ہوتی رہتی ہے، میں نماز کس طرح سے پڑھاؤں؟ حضور نے فرمایا: حکیم صاحب! آپ کی اپنی نماز باوجود اس تکلیف کے ہوجاتی
ہے یا نہیں؟ انہوں نے عرض کیا: ہاں حضور! فرمایا کہ: پھر ہماری بھی ہوجائے گی، آپ پڑھائیے۔
خاکسار عرض کرتا ہے کہ بیماری کی وجہ سے اِخراجِ ریح جو کثرت کے ساتھ جاری رہتا ہو تو نواقضِ وضو میں نہیں سمجھا
جاتا۔ (لیکن کیا ایسے معذور کو اِمام بنانا بھی جائز ہے؟ ناقل)۔‘‘
(سیرۃ المہدی ج:۳ ص:۱۱۱)
رُکوع کے بعد:
’’ڈاکٹر میر محمد اسماعیل صاحب نے مجھ سے بیان کیا کہ ایک دفعہ گرمیوں میں مسجد مبارک میں مغرب کی نماز پیر سراج
الحق صاحب نے پڑھائی، حضور علیہ السلام (مرزا صاحب) بھی اس نماز میں شامل تھے، تیسری رکعت میں رُکوع کے بعد انہوں نے
بجائے
32
مشہور دُعاؤں کے حضور کی ایک فارسی نظم پڑھی جس کا یہ مصرعہ ہے:
’’اے خدا اے چارہ آزار ما‘‘
خاکسار عرض کرتا ہے کہ یہ فارسی نظم اعلیٰ درجے کی مناجات ہے جو رُوحانیت سے پُر ہے، مگر معروف مسئلہ یہ ہے کہ نماز
میں صرف مسنون دُعائیں پڑھنی چاہئیں (خصوصاً غیرعربی میں دُعائیں پڑھنے سے نماز فاسد ہوجاتی ہے... ناقل)۔‘‘
(سیرۃ المہدی ج:۳ ص:۱۳۸)
مسئلہ وغیرہ کچھ نہیں!
’’ایک دفعہ کا ذِکر ہے کہ مولوی عبدالکریم صاحب نماز پڑھا رہے تھے، وہ جب دُوسری رکعت کے بعد تیسری رکعت کے لئے
قعدہ سے اُٹھے تو حضرت صاحب کو پتا نہ لگا، حضور التحیات میں ہی بیٹھے رہے۔ (شاید قبرِ مسیح کی تلاش میں کشمیر پہنچے
ہوئے ہوں گے ...ناقل) جب مولوی صاحب نے رُکوع کے لئے تکبیر کہی تو حضور کو پتا لگا، اور حضور اُٹھ کر رُکوع میں شریک
ہوئے۔ نماز سے فارغ ہونے کے بعد حضور نے مولوی نوردین صاحب اور مولوی محمد احسن صاحب کو بلوایا اور مسئلے کی صورت
پیش کی اور فرمایا: میں بغیر فاتحہ پڑھے رُکوع میں شامل ہوا ہوں، اس کے متعلق شریعت کا کیا حکم ہے؟ (سبحان اللہ!
قادیانی نبی، اُمتیوں سے مسئلے کی تحقیق کر رہا ہے ...ناقل) مولوی محمد احسن صاحب نے مختلف شقیں بیان کیں کہ یوں بھی
آیا ہے اور یوں بھی ہوسکتا ہے، کوئی فیصلہ کن بات نہ بتائی (بتاتے بھی کیسے؟ معاملہ خود حضور کا تھا ...ناقل) مولوی
عبدالکریم صاحب مرحوم آخری ایام میں بالکل عاشقانہ رنگ پکڑ گئے تھے، وہ فرمانے لگے: مسئلہ وغیرہ کچھ نہیں، جو حضور
نے کیا، بس وہی دُرست ہے۔ (گویا حضور شریعت سے بھی آزاد ہیں ...ناقل)۔‘‘
(تقریر مفتی محمد صادق صاحب قادیانی، مندرجہ اخبار ’’الفضل‘‘ قادیان جلد۱۲ نمبر۷۷ مؤرخہ ۱۷؍جنوری
۱۹۲۵ء)
طہارت:
’’ڈاکٹر میر محمد اسماعیل صاحب نے مجھ سے بیان کیا کہ حضرت مسیحِ موعود (مرزا
33
صاحب) پیشاب کرکے ہمیشہ پانی سے طہارت فرمایا کرتے تھے، میں نے کبھی ڈھیلہ کرتے نہیں دیکھا (باوجودیکہ سلس
البول کی بیماری بھی تھی، ڈھیلہ استعمال کئے بغیر قطرے بند نہیں ہوسکتے تھے ...ناقل)۔‘‘
(سیرۃ المہدی ج:۳ ص:۲۴۳)
ڈھیلے جیب میں!
’’آپ کو (یعنی مرزا صاحب کو) شیرینی سے بہت پیار ہے، اور مرضِ بول بھی آپ کو عرصے سے لگی ہوئی ہے، اس زمانے میں
آپ مٹی کے ڈھیلے بعض وقت جیب ہی میں رکھتے تھے اور اسی جیب میں گڑ کے ڈھیلے بھی رکھ لیا کرتے۔ (اس حسنِ ذوق اور
لطافتِ مزاج کی داد نہ دینا بے انصافی ہوگی ...ناقل)۔‘‘
(مرزا صاحب کے حالات مرتبہ معراج الدین عمر قادیانی، تتمہ براہین احمدیہ ج:۱ ص:۶۷)
تیز گرم پانی:
’’میرے گھر سے یعنی والدۂ عزیز مظفر احمد نے مجھ سے بیان کیا کہ حضرت مسیحِ موعود عموماً گرم پانی سے طہارت فرمایا
کرتے تھے، اور ٹھنڈے پانی کو اِستعمال نہ کرتے تھے۔ ایک دن آپ نے کسی خادمہ سے فرمایا کہ آپ کے لئے پاخانے میں
لوٹا رکھ دے، اس نے غلطی سے تیز گرم پانی کا لوٹا رکھ دیا، جب حضرت مسیحِ موعود فارغ ہوکر باہر تشریف لائے تو دریافت
فرمایا کہ: لوٹا کس نے رکھا تھا؟ جب بتایا گیا کہ فلاں خادمہ نے رکھا تھا (جس کو آپ نے خود حکم فرمایا تھا...ناقل)۔
تو آپ نے اسے بلوایا اور اسے اپنا ہاتھ آگے کرنے کو کہا اور پھر اس کے ہاتھ پر آپ نے لوٹے کا بچا ہوا پانی بہادیا
تاکہ اسے احساس ہو کہ یہ پانی اتنا گرم ہے کہ طہارت میں استعمال نہیں ہوسکتا (مگر اِستنجا کیسے ہوا؟ ...ناقل)۔‘‘
(سیرۃ المہدی ج:۳ ص:۲۴۳)
حفظِ قرآن:
’’ڈاکٹر میر محمد اسماعیل صاحب نے مجھ سے بیان کیا کہ حضرت مسیحِ موعود (مرزا قادیانی) کو قرآن مجید کے بڑے بڑے
مسلسل حصے یا بڑی بڑی سورتیں یاد نہ تھیں۔ بے شک
34
آپ قرآن کے جملہ مطالب پر حاوی تھے، مگر حفظ کے رنگ میں قرآن شریف کا اکثر حصہ یاد نہ تھا۔ (مرزا صاحب کا
دعویٰ ہے کہ وہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا اوتار ہیں۔ (ضمیمہ رسالہ جہاد ص:۴) یعنی جس طرح ابراہیم علیہ
السلام نے اپنی خو، اپنی طبیعت اور دِلی مشابہت کے لحاظ سے، اپنی وفات کے اڑھائی ہزار برس بعد عبداللہ پسر عبدالمطلب
کے گھر پھر جنم لیا اور محمد کے نام سے پکارا گیا۔ (صلی اللہ علیہ وسلم) (تریاق القلوب ص:۳۴۹) اسی طرح محمد رسول
اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی خوبو اور رنگ و رُوپ کے لحاظ سے مرزا غلام مرتضیٰ کے گھر قادیان میں پھر جنم لیا
اور مرزا غلام احمد قادیانی کہلایا۔ پہلے جنم میں تو محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم قرآن کے حافظ تھے، دُوسرے
جنم میں قرآن کیوں بھول گئے؟ ...ناقل)۔‘‘
(سیرۃ المہدی ج:۳ ص:۴۴)
رمضان کے روزے:
’’بیان کیا مجھ سے حضرت والدہ صاحبہ نے کہ جب حضرت مسیحِ موعود کو دورے پڑنے شروع ہوئے تو آپ نے اس سال سارے رمضان
کے روزے نہیں رکھے اور فدیہ ادا کردیا۔ دُوسرا رمضان آیا تو آپ نے روزے رکھنے شروع کئے، مگر آٹھ نو روزے رکھے تھے
کہ پھر دورہ ہوا، اس لئے چھوڑ دئیے، اور فدیہ ادا کردیا۔ اس کے بعد جو رمضان آیا تو اس میں آپ نے دس گیارہ روزے
رکھے تھے کہ پھر دورہ کی وجہ سے روزے ترک کرنے پڑے اور آپ نے فدایہ ادا کردیا۔ اس کے بعد جو رمضان آیا تو آپ کا
تیرھواں روزہ تھا کہ مغرب کے قریب آپ کو دورہ پڑا، اور آپ نے روزہ توڑ دیا اور باقی روزے نہیں رکھے، اور فدیہ ادا
کردیا۔ (افسوس ہے کہ حضرت کو رمضان ہی میں دورہ پڑتا تھا ...ناقل) مگر پھر وفات سے دو تین سال قبل نہیں رکھ سکے اور
فدیہ ادا فرماتے رہے۔ خاکسار نے دریافت کیا کہ جب آپ نے اِبتدائً دوروںکے زمانے میں روزے چھوڑے تو کیا پھر بعد میں
ان کو قضا کیا۔ والدہ صاحبہ نے فرمایا کہ: نہیں! صرف فدیہ ادا کردیا تھا۔ خاکسار عرض کرتا ہے کہ جب شروع شروع میں
حضرت مسیحِ موعود کو دورانِ سر اور برد اطراف کے دورے پڑنے شروع ہوئے تو
35
اس زمانے میں آپ بہت کمزور ہوگئے تھے اور صحت خراب رہتی تھی۔ (خصوصاً رمضان میں...ناقل)۔‘‘
(سیرۃ المہدی ج:۱ ص:۶۵)
’’ڈاکٹر میر محمد اسماعیل صاحب نے مجھ سے بیان کیا کہ ایک دفعہ لدھیانہ میں حضرت مسیحِ موعود نے رمضان کا روزہ رکھا
ہوا تھا کہ دِل گھٹنے کا دورہ ہوا، اور ہاتھ پاؤں ٹھنڈے ہوگئے، اس وقت غروبِ آفتاب کا وقت بالکل قریب تھا، مگر آپ
نے فوراً روزہ توڑ دیا۔ (اور توڑے ہوئے روزے کی قضا کا معمول تو تھا ہی نہیں ...ناقل)۔‘‘
(سیرۃ المہدی ج:۳ ص:۱۳۱)
اِعتکاف:
’’ڈاکٹر میر محمد اسماعیل نے مجھ سے بیان کیا کہ حضرت مسیحِ موعود نے حج نہیں کیا، اِعتکاف نہیں کیا، زکوٰۃ نہیں
دی، تسبیح نہیں رکھی، میرے سامنے ضب یعنی گوہ کھانے سے انکار کیا۔
خاکسار عرض کرتا ہے کہ ...۔۔ اِعتکاف مأموریت کے زمانے سے قبل غالباً بیٹھے ہوں گے، مگر مأموریت کے بعد بوجہ قلمی
جہاد اور دیگر مصروفیات کے نہیں بیٹھ سکے، کیونکہ یہ نیکیاں اِعتکاف سے مقدم ہیں۔ (مگر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم
نے تو کبھی اِعتکاف ترک نہیں فرمایا ... ناقل)۔‘‘
(سیرۃ المہدی ج:۳ ص:۱۱۹)
زکوٰۃ:
’’اور زکوٰۃ اس لئے نہیں دی کہ آپ کبھی صاحبِ نصاب نہیں ہوئے۔ (گویا ساری عمر فقیر رہے، مگر لقب تھا رئیسِ قادیاں
اور ٹھاٹھ شاہانہ ...ناقل)۔‘‘
(سیرۃ المہدی ج:۳ ص:۱۱۹)
حج:
’’مولوی محمد حسین بٹالوی کا خط حضرت مسیحِ موعود (مرزا صاحب) کی خدمت میں
36
سنایا گیا، جس میں اس نے اِعتراض کیا تھا کہ آپ حج کیوں نہیں کرتے؟ اس کے جواب میں حضرت مسیحِ موعود نے
فرمایا کہ: میرا پہلا کام خنزیروں کا قتل ہے (۱)اور صلیب کی شکست ہے، ابھی تو میں خنزیروں کو
قتل کر رہا ہوں، بہت سے خنزیر مرچکے ہیں اور بہت سخت جان ابھی باقی ہیں، ان سے فرصت اور فراغت ہولے۔ (افسوس ہے کہ
مرزا صاحب کو مدۃ العمر خنزیروں کے شکار سے فرصت نہیں مل سکی، نہ ان کے خنزیر مرے، نہ انہیں حج کی توفیق ہوئی
...ناقل)۔‘‘
(ملفوظات احمدیہ ج:۵ ص:۲۶۴، مرتبہ محمد منظور اِلٰہی قادیانی)
’’خاکسار عرض کرتا ہے کہ حج نہ کرنے کی تو خاص وجوہات تھیں کہ شروع میں تو آپ کے لئے مالی لحاظ سے انتظام نہیں
تھا، کیونکہ ساری جائیداد وغیرہ اوائل میں ہمارے دادا صاحب کے ہاتھ میں تھی، اور بعد میں تایا صاحب کا انتظام رہا،
اس کے بعد حالات ایسے پیدا ہوگئے کہ ایک تو آپ جہاد کے کام میں منہمک رہے (غالباً جہاد منسوخ کرنے کے کام میں
...ناقل) دُوسرے آپ کے لئے حج کا راستہ بھی مخدوش تھا۔ تاہم آپ کی خواہش رہتی تھی کہ حج کریں۔ (تیسرے حکمتِ
اِلٰہیہ آپ کو حج کی توفیق سے محروم رکھنا چاہتی تھی تاکہ ’’مسیح‘‘ کی ایک علامت بھی آپ پر صادق نہ آئے اور ہر
عام و خاص کو معلوم ہوجائے کہ ان کا دعویٔ مسیحیت غلط ہے ...ناقل)۔‘‘
(سیرۃ المہدی ج:۳ ص:۱۱۹)
(۱) مرزا صاحب خود تو خنزیروں کے شکار پر فخر کرتے ہیں، لیکن حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے بارے میں جو حدیث
میں آتا ہے کہ وہ خنزیر کو قتل کریں گے، اس کا مذاق اُڑاتے ہیں، چنانچہ ’’سیرۃ المہدی‘‘ میں ہے کہ: ’’میاں اِمام
دین صاحب سیکھوانی نے مجھ سے بیان کیا کہ حضرت مسیحِ موعود اکثر فرمایا کرتے تھے کہ بقول ہمارے مخالفین کے جب مسیح
آئے گا اور لوگ اس کو ملنے کے لئے اس کے گھر پر جائیں گے تو گھر والے کہیں گے کہ مسیح صاحب باہر جنگل میں سوَر
مارنے کے لئے گئے ہوئے ہیں۔ پھر وہ لوگ حیران ہوکر کہیں گے کہ یہ کیسا مسیح ہے کہ لوگوں کی ہدایت کے لئے آیا ہے اور
وہ باہر سوَروں کا شکار کھیلتا پھرتا ہے۔ پھر فرماتے تھے کہ: ایسے شخص کی آمد سے ساہنسیوں اور گنڈیلوں کو خوشی
ہوسکتی ہے جو اس قسم کا کام کرتے ہیں، مسلمانوں کو کیسے خوشی ہوسکتی ہے؟ یہ الفاظ بیان کرکے آپ بہت ہنستے تھے یہاں
تک کہ اکثر اوقات آپ کی آنکھوں میں پانی آجاتا تھا۔‘‘(سیرۃ المہدی ج:۳ ص:۲۹۱، ۲۹۲)
37
’’حضرت مرزا صاحب پر حج فرض نہ تھا، کیونکہ آپ کی صحت دُرست نہ تھی، ہمیشہ بیمار رہتے تھے (اور یہ قدرت کی جانب سے
آپ کو حج سے روکنے کی پہلی تدبیر تھی ...ناقل) حجاز کا حاکم آپ کا مخالف تھا، کیونکہ ہندوستان کے مولویوں نے مکہ
معظمہ سے حضرت مرزا صاحب کے واجب القتل ہونے کے فتاویٰ منگائے تھے، اس لئے حکومتِ حجاز آپ کی مخالف ہوچکی تھی (اور
یہ قدرت کی جانب سے مرزا صاحب کو حج سے محروم رکھنے کی دُوسری تدبیر تھی ...ناقل) وہاں جانے پر آپ کو جان کا خطرہ
تھا (دجال بھی اسی خطرے سے مکہ مکرمہ نہیں جاسکے گا ...ناقل) لہٰذا آپ نے قرآن شریف کے اس حکم پر عمل کیا کہ اپنی
جان کو جان بوجھ کر ہلاکت میں مت پھنساؤ۔ مختصر یہ کہ حج کی مقرّرہ شرائط آپ میں نہیں پائی گئیں، اس لئے آپ پر حج
فرض نہیں ہوا ...۔۔ (اور خلاصہ یہ کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو حج کی توفیق ہی نہ دی تاکہ مسیح کی ایک علامت بھی آپ
میں نہ پائی جائے ...ناقل)۔‘‘
(اخبار ’’الفضل‘‘ قادیان جلد۱۷ نمبر۲۱مؤرخہ ۱۰؍ستمبر ۱۹۲۹ء)
چھٹا سوال و جواب:
’’سوالِ ششم:... (از محمد حسین صاحب قادیانی) حضرتِ اقدس (مرزا غلام احمد قادیانی) غیرعورتوں سے ہاتھ پاؤں کیوں
دبواتے ہیں؟
جواب:... (از حکیم فضل دین قادیانی) وہ نبی معصوم ہیں، ان سے مس کرنا اور اِختلاط منع نہیں، بلکہ موجبِ رحمت و
برکات ہے۔‘‘
(اخبار ’’الحکم‘‘ جلد۱۱ نمبر۱۳ص:۱۳مؤرخہ ۱۷؍اپریل ۱۹۰۷ء)
جمالیاتی حس:
’’ڈاکٹر میر محمد اسماعیل صاحب نے مجھ سے بیان کیا کہ مولوی محمد علی صاحب ایم اے لاہوری کی پہلی شادی حضرت مسیحِ
موعود (مرزا غلام احمد صاحب) نے گورداسپور میں کرائی تھی، جب رشتہ ہونے لگا تو لڑکی دیکھنے کے لئے حضور نے ایک عورت
کو گورداسپور بھیجا تاکہ وہ آکر رپوٹ کرے کہ لڑکی صورت و شکل وغیرہ میں کیسی ہے اور مولوی صاحب
38
کے لئے موزوں بھی ہے یا نہیں۔ یہ کاغذ میں نے لکھا تھا اور حضرت صاحب نے بمشورہ حضرت اُمّ المؤمنین لکھوایا
تھا، اس میں مختلف باتیں نوٹ کرائی تھیں، مثلاً یہ کہ لڑکی کا رنگ کیسا ہے، قد کتنا ہے، اس کی آنکھوں میں کوئی نقص
تو نہیں ہے، ناک، ہونٹ، گردن، دانت، چال ڈھال وغیرہ کیسے ہیں۔ غرض بہت ساری باتیں ظاہری شکل و صورت کے متعلق لکھوادی
تھیں کہ ان کی بابت خیال رکھے اور دیکھ بھال کر واپس آکر بیان کرے۔ جب وہ عورت واپس آئی اور اس نے سب باتوں کی
بابت اچھا یقین دِلایا تو رشتہ ہوگیا۔ اسی طرح خلیفہ رشیدالدین صاحب مرحوم نے اپنی بڑی لڑکی حضرت میاں صاحب (یعنی
خلیفۃ المسیح ثانی) کے لئے پیش کی تو ان دنوں خاکسار، ڈاکٹر صاحب موصوف کے پاس چکراتہ پہاڑ پر، جہاں وہ متعین تھے،
بطور تبدیلی آب وہوا کے گیا ہوا تھا، واپسی پر مجھ سے لڑکی کا حلیہ وغیرہ تفصیل سے پوچھا گیا۔‘‘
(سیرۃ المہدی ج:۳ ص:۲۹۶)
عائشہ!
’’میری بیوی ...... پندرہ برس کی عمر میں دارالامان میں حضرت مسیحِ موعود کے پاس آئیں ...... حضور کو مرحومہ کی
خدمت حضور کے پاؤں دبانے کی بہت پسند تھی۔‘‘
(عائشہ کے شوہر غلام محمد قادیانی کا مضمون، مندرجہ ’’الفضل‘‘ ۲۰؍مارچ ۱۹۲۸ء ص:۶،۷)
بھانو!
’’ڈاکٹر میر محمد اسماعیل صاحب نے مجھ سے بیان کیا کہ حضرت اُمّ المؤمنین (محترمہ نصرت جہاںبیگم زوجہ مرزا غلام
احمد) نے ایک دن سنایا کہ حضرت صاحب کے ہاں ایک بوڑھی ملازمۃ مسماۃ بھانو تھی، وہ ایک رات جبکہ خوب سردی پڑ رہی تھی
حضور کو دبانے بیٹھی، چونکہ وہ لحاف کے اُوپر سے دباتی تھی اس لئے اسے یہ پتا نہ لگا کہ جس چیز کو میں دبا رہی ہوں
وہ حضور کی ٹانگیں نہیں ہیں بلکہ پلنگ کی پٹی ہے۔ تھوڑی دیر کے بعد حضرت صاحب نے فرمایا: ’’بھانو! آج بڑی سردی ہے‘‘
کہنے لگی: ’’ہاںجی تدے تے تہاڈیاں لتاں لکڑی وانگر ہویاں ہویاں ایں‘‘ یعنی جی ہاں، جبھی تو آپ کی لاتیں لکڑی کی طرح
سخت ہو رہی ہیں۔
39
خاکسار عرض کرتا ہے کہ حضرت صاحب نے جو بھانو کو سردی کی طرف توجہ دِلائی تو اس میں غالباً یہ جتانا مقصود تھا کہ
آج شاید سردی کی وجہ سے تمہاری حس کمزور ہو رہی ہے۔‘‘
(سیرۃ المہدی ج:۳ ص:۲۱۰)
’’خاکسار عرض کرتا ہے کہ حدیث سے پتا لگتا ہے کہ آنحضرت صلعم عورتوں سے بیعت لیتے ہوئے ان کے ہاتھ کو نہیں چھوتے
تھے، دراصل قرآن شریف میں جو یہ آتا ہے کہ عورت کو کسی غیرمحرَم پر اِظہارِ زینت نہیں کرنا چاہئے، اسی کے اندر لمس
کی ممانعت بھی شامل ہے، کیونکہ جسم کے چھونے سے بھی زینت کا اِظہار ہوجاتا ہے۔ (لیکن مرزا صاحب تنہائی میں لیٹ کر
جوان عورتوں سے بدن دبواتے تھے، اس لئے ان کو ’’شریف آدمی‘‘ کہنا بھی غلط ہے چہ جائیکہ ان کو ...نعوذباللہ... نبی
کہا جائے ... ناقل)۔‘‘
(سیرۃ المہدی ج:۳ ص:۱۵)
زینب بیگم!
’’ڈاکٹر سیّد عبدالستار شاہ صاحب نے مجھ سے بذریعہ تحریر بیان کیا کہ مجھ سے میری لڑکی زینب بیگم نے بیان کیا کہ
میں تین ماہ کے قریب حضرتِ اقدس (مرزا غلام احمد صاحب) کی خدمت میں رہی ہوں، گرمیوں میں پنکھا وغیرہ اور اسی طرح کی
خدمت کرتی تھی، بسااوقات ایسا ہوتا کہ نصف رات یا اس سے زیادہ مجھ کو پنکھا ہلاتے گزرجاتی تھی، مجھ کو اس اثناء میں
کسی قسم کی تھکان و تکلیف محسوس نہیں ہوتی تھی، بلکہ خوشی سے دِل بھرجاتا تھا۔ دو دفعہ ایسا موقع پیش آیا کہ عشاء
کی نماز سے لے کر صبح کی اَذان تک مجھے ساری رات خدمت کرنے کا موقع ملا۔ پھر بھی اس حالت میں مجھ کو نہ نیند، نہ
غنودگی، نہ تھکان معلوم ہوئی بلکہ خوشی اور سرور پیدا ہوتا تھا۔ (یقینا مرزا صاحب بھی اسی ’’سرور‘‘ سے لطف اندوز ہوں
گے ...ناقل)۔‘‘
(سیرۃ المہدی ج:۳ ص:۲۷۳)
نیم دیوانی کی حرکت:
’’حضرت مسیحِ موعود کے اندرونِ خانہ ایک نیم دیوانی عورت بطور خادمہ کے رہا
40
کرتی تھی (اور دیوانہ وار خدمات بجا لاتی تھی ...ناقل) ایک دفعہ اس نے کیا حرکت کی کہ جس کمرے میں حضرت بیٹھ
کر لکھنے پڑھنے کا کام کرتے تھے، وہاں ایک کونے میں کھرا رکھا ہوا تھا، جس کے پاس پانی کے گھڑے رکھے تھے، وہاں اپنے
کپڑے اُتارکر اور ننگی بیٹھ کر نہانے لگ گئی (کیونکہ ان صاحبہ کو مرزا صاحب سے کوئی تکلف نہیں تھا ...ناقل)۔ حضرت
صاحب اپنے کام تحریر میں مصروف رہے اور کچھ خیال نہ کیا کہ وہ کیا کرتی ہے، (جن لوگوں سے ہمہ وقت کی بے تکلفی ہو، ان
کی طرف اِلتفات ہوا بھی نہیں کرتا، اور یہ معلوم نہ ہوسکا کہ اس نیم دیوانی کے خفیہ راز کا اِفشا کس نے کردیا
...ناقل)۔‘‘
(ذکرِ حبیب، مؤلفہ: مفتی محمد صادق ص:۳۸)
رات کا پہرہ:
’’مائی رسول بی بی صاحبہ بیوہ حافظ حامد علی صاحب مرحوم نے بواسطہ مولوی عبدالرحمن صاحب جٹ مولوی فاضل نے مجھ سے
بیان کیا کہ ایک زمانے میں حضرت مسیحِ موعود (مرزا صاحب) کے وقت میں، میں اور اہلیہ بابو شاہ دین رات کو پہرہ دیتی
تھیں، اور حضرت صاحب نے فرمایا ہوا تھا کہ اگر میں سونے میں کوئی بات کیا کروں تو مجھے جگادینا۔ ایک دن کا واقعہ ہے
کہ میں نے آپ کی زبان پر کوئی لفظ جاری ہوتے سنے اور آپ کو جگادیا، اس وقت رات کے بارہ بجے تھے، ان ایام میں عام
طور پر پہرے پر مائی فجو ......منشیانی اہلیہ منشی محمد دین گوجرانوالہ اور اہلیہ بابوشاہ دین ہوتی تھیں۔
خاکسار عرض کرتا ہے کہ مائی رسول بی بی صاحبہ میری رضاعی ماں ہیں (اور مرزا صاحب کی؟ ...ناقل) اور حافظ حامد علی
صاحب مرحوم کی بیوہ ہیں، جو حضرت مسیحِ موعود کے پُرانے خادم تھے، مولوی عبدالرحمن صاحب ان کے داماد ہیں۔‘‘
(سیرۃ المہدی ج:۳ ص:۲۱۳)
جوان عورت بغلگیر، الحمدللہ!
’’۲۵؍جولائی ۱۸۹۲ء مطابق ۲۰؍ذی الحجہ ۱۳۰۹ھ روز دوشنبہ۔ آج میں نے
41
بوقت صبح ساڑھے چار بجے دن کے خواب میں دیکھا کہ ایک حویلی ہے، اس میں میری بیوی والدہ محمود اور ایک عورت
بیٹھی ہوئی ہے، تب میں نے ایک مشک سفید رنگ میں پانی بھرا ہے اور اس مشک کو اُٹھاکر لایا ہوں، اور وہ پانی لاکر ایک
اپنے گھڑے میں ڈال دیا ہے، میں پانی کو ڈال چکا تھا کہ وہ عورت جو بیٹھی ہوئی تھی یکایک سرخ اور خوش رنگ لباس پہنے
ہوئے میرے پاس آگئی، کیا دیکھتا ہوں کہ ایک جوان عورت ہے، پیروں سے سر تک سرخ لباس پہنے ہوئے، شاید جالی کا کپڑا
ہے، میں نے دِل میں خیال کیا کہ وہی عورت ہے جس کے لئے اشتہار دئیے تھے (یعنی محمدی بیگم ...ناقل) لیکن اس کی صورت
میری بیوی کی معلوم ہوئی، گویا اس نے کہا، یا دِل میں کہا کہ میں آگئی ہوں۔ میں نے کہا: یا اللہ! آجاوے، اور پھر
وہ عورت مجھ سے بغلگیر ہوئی، اس کے بغلگیر ہوتے ہی میری آنکھ کھل گئی، فالحمدللہ علیٰ ذالک (کہ بیداری میں نہ سہی
تو خواب میں تو آسمانی منکوحہ سے بغلگیر ہونے کی ’’سعادت‘‘ میسر آئی، وائے قسمت کہ یہ خواب بھی شرمندۂ تعبیر نہ
ہوسکا ...ناقل)۔
اس سے دو چار روز پہلے خواب میں دیکھا تھا کہ روشن بی بی میرے دالان کے دروازے پر آکھڑی ہوئی ہے اور میں دالان کے
اندر بیٹھا ہوں، تب میں نے کہا کہ: آ، روشن بی بی اندر آجا (لیکن افسوس کہ مرزا صاحب کے گھر وہ ’’روشن بی بی‘‘ نہ
آئی ...ناقل)۔‘‘
(تذکرہ ص:۱۹۷، مجموعہ اِلہامات و مکاشفات مرزا غلام احمد قادیانی)
ناکامی کی تلخی:
’’فرمایا: چند روز ہوئے کہ کشفی نظر میں ایک عورت مجھے دِکھائی گئی، اور پھر اِلہام ہوا ...... اس عورت اور اس کے
خاوند کے لئے ہلاکت ہے (یعنی انگور کھٹے ہیں ...ناقل)۔‘‘
(تذکرہ ص:۶۱۰)
خواب: دِماغی بناوَٹ:
’’۱۴؍اگست ۱۸۹۲ء مطابق ۲۰؍محرم ۱۳۰۹ھ آج میں (مرزا غلام احمد) نے خواب میں دیکھا کہ محمدی (بیگم) جس کی نسبت پیش
گوئی ہے، باہر تکیہ میں معہ چند کس کے
42
بیٹھی ہوئی ہے، اور بدن سے ننگی ہے اور نہایت مکروہ شکل ہے، میں نے اس کو تین مرتبہ کہا کہ تیرے سر منڈی
ہونے کی یہ تعبیر ہے کہ تیرا خاوند مرجائے گا (افسوس کہ یہ خوش کن تعبیر صحیح نہ نکلی ...ناقل) اور میں نے دونوں
ہاتھ اس کے سر پر اُتارے ہیں ...... اور اسی رات والدہ محمود نے خواب دیکھا کہ محمدی (بیگم)سے میرا نکاح ہوگیا ہے
اور ایک کاغذ ان کے ہاتھ میں ہے جس پر ہزار روپیہ مہر لکھا ہے، اور شیرینی منگوائی گئی ہے اور میرے پاس وہ خواب میں
کھڑی ہے (کیا مضائقہ ہے، بیداری میں جو دولت نصیب نہ ہو، اس کا خواب دیکھ لینا بھی بہت بڑی دولت ہے ...ناقل)۔‘‘
(تذکرہ ص:۱۹۸، ۱۹۹)
’’خاکسار عرض کرتا ہے کہ خوابوں کا مسئلہ بھی بڑا نازک ہے، کئی خوابیں انسان کی دِماغی بناوَٹ کا نتیجہ ہوتی ہیں،
اور اکثر لوگ ان کی حقیقت کو نہیں سمجھتے۔ (چنانچہ مرزا صاحب کو محمدی بیگم کے خواب بھی شاید اسی دِماغی بناوَٹ کی
وجہ سے آتے تھے ...ناقل)۔‘‘
(سیرۃ المہدی ج:۳ ص:۱۱۶ مؤلفہ صاحب زادہ مرزا بشیر احمد صاحب)
پاک مال، پاک مصرف!
’’بیان کیا مجھ سے میاں عبداللہ صاحب سنوری نے کہ ایک دفعہ انبالہ کے ایک شخص نے حضرت صاحب سے فتویٰ دریافت کیا کہ
میری ایک بہن کنچنی تھی، اس نے اس حالت میں بہت روپیہ کمایا، پھر وہ مرگئی، اور مجھے اس کا ترکہ ملا، مگر بعد میں
مجھے اللہ تعالیٰ نے توبہ اور اِصلاح کی توفیق دی، اب میں اس مال کو کیا کروں؟ (سائل کا نام اللہ دیا کنجر تھا، جس
نے بعد میں توبہ کرلی تھی ...ناقل)۔ حضرت صاحب نے جواب دیا کہ ہمارے خیال میں اس زمانے میں ایسا مال اسلام کی خدمت
میں خرچ ہوسکتا ہے۔ (اور اِسلام کی رُوح خود مرزا صاحب تھے، ان سے بہتر اس مال کا مصرف اور کون ہوسکتا تھا؟ چنانچہ
مرزا صاحب نے زنا کی اُجرت کی کمائی کا یہ مال منگوایا، اور اس کو ہضم فرمایا۔ اور جب مولانا محمد حسین بٹالوی مرحوم
نے اپنے رسالے ’’اشاعت السنۃ‘‘ جلد۱۵ نمبر۱ میں مرزا صاحب کو طعنہ دیا کہ حضرت، کنجریوں کا مال بھی صاف کرجاتے ہیں،
تو مرزا صاحب نے آئینہ کمالاتِ اسلام صفحہ:۶۰۱میں اس کا جواب دیا کہ یہ اللہ تعالیٰ کا مال تھا، اللہ تعالیٰ نے
ہمیں دیا۔ چشمِ بددُور!
43
مرزا صاحب کی شریعت میں ان کے پاس آکر حرام بھی حلال ہوجاتا ہے ...ناقل)۔‘‘
(سیرۃ المہدی ج:۱ ص:۲۶۱طبع دوم)
انوارِ خلافت
(یہ چند عبارتیں مرزا غلام احمد قادیانی کے بارے میں تھیں، اب چند عبارتیں مرزا محمود کے بارے میں نقل کی جاتی ہیں،
تاکہ اندازہ ہوسکے کہ: ’’ایں خانہ ہمہ آفتاب است!‘‘)
دس جوتے:
(درج ذیل واقعے کے کرداروں کا تعارف)
۱- مرزا صاحب قادیاں:... میاں محمود احمد صاحب خلیفہ قادیان
۲- عزیزہ بیگم:... میاں محمود احمد صاحب خلیفہ قادیان کی بیوی
۳- ابوبکر صدیق:... عزیزہ بیگم اور مسماۃ سلمیٰ کے والد
۴- مسماۃ سلمیٰ:... ابوبکر صدیق کی لڑکی، جس کا عدالتی بیان درج ذیل ہے۔
۵- احسان علی:... ایک قادیانی دوا فروش، قادیان میں۔
’’میرے باپ کا نام ابوبکر صدیق ہے، وہ مرزا صاحب قادیاں کا خسر ہے، میں بھی مرزا قادیان کے گھر میں تقریبا (۵) سال
رہی ہوں، میں مستغیث احسان علی کو جانتی ہوں، چار سال ہوئے میں مرزا صاحب کے لڑکے کی دوائی لینے احسان علی کی دُکان
پر گئی تھی، میں نسخہ لے کر اس کی دُکان پر گئی تھی، اوّل اِحسان علی نے میرے ساتھ مخول کرنا شروع کیا، اور پھر مجھ
سے کہا کہ میں مضروبوں کے کمرے میں جاؤں، اس دُوسرے کمرے میں اس نے مجھے لٹایا اور میرے ساتھ بدفعلی کرنے کی کوشش
کی، لوگ میرے رولا کرنے سے اِکٹھے ہوگئے اور دورازہ کھلایا اور اِحسان علی کو لعنت اور ملامت کری تھی، احسان علی نے
میرے ساتھ بدفعلی کرنی شروع کری تھی۔ میں نے گھر جاکر عزیزہ بیگم کے پاس شکایت کری تھی، اور اس وقت مرزا صاحب وہاں
موجود تھے، ان ایام میں عزیزہ بیگم کے پاس رہتی تھی،
44
مرزا صاحب نے احسان علی کو بلایا اور لعنت ملامت کری اور اِحسان علی کو کہا کہ قادیاں سے نکل جاؤ۔ اِحسان
علی نے معافی مانگی اور مرزا صاحب نے حکم دیا کہ اگر اِحسان علی دس جوتے کھالیوے تب اس کو معاف کیا جاتا ہے، اور
ٹھہر سکتا ہے۔ چنانچہ اِحسان علی نے اس کو قبول کیا، اور میں نے اس کو دس جوتے لگائے تھے۔ یہ جوتیاں مرزا صاحب کے
سامنے ماری تھیں ...... جبکہ میں نے احسان علی کو جوتیاں ماری تھیں تو تین چار آدمی اِکٹھے ہوگئے تھے، ان ایام میں
میں بغیر پردے کے باہر پھرا کرتی تھی ...... اس کے بعد میں سودا لینے بازار گئی۔‘‘ (مسماۃ سلمیٰ کی حلفیہ شہادت جو
اس نے بتاریخ ۱۰؍جولائی ۱۹۳۵ء ایڈیشنل ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ ضلع امرتسر کی عدالت میں ادا کی۔ بمقدمۂ اِزالہ حیثیت عرفی
زیر دفعہ۵۰۰ احسان علی بنام محمد اسماعیل، نمبری ۲/۸۶مرجوعہ ۱۷؍جولائی منفصلہ ۲۱؍ستمبر ۱۹۳۵ء)۔
(قادیانی مذہب، مؤلفہ: پروفیسر محمد الیاس برنی طبع پنجم ص:۸۲۴)
مرزا محمود کی خصوصی دِلچسپی:
’’جب میں ولایت گیا تو مجھے خصوصیت سے خیال تھا کہ یورپین سوسائٹی کا عیب والا حصہ بھی دیکھوں گا، قیامِ انگلستان
کے دوران مجھے اس کا موقع نہ ملا۔ واپسی پر جب ہم فرانس آئے تو میں نے چودھری ظفراللہ صاحب سے، جو میرے ساتھ تھے،
کہا کہ: مجھے کوئی ایسی جگہ دِکھائیں جہاں یورپین سوسائٹی عریاں نظر آسکے۔ وہ بھی فرانس سے واقف تو نہ تھے، مگر
مجھے اومپیرا میں لے گئے، جس کا نام مجھے یاد نہیں رہا، چودھری صاحب نے بتایا: یہ وہی سوسائٹی کی جگہ ہے، اس دیکھ کر
آپ اندازہ لگاسکتے ہیں، میری نظر چونکہ کمزور ہے اس لئے دُور کی چیز اچھی طرح نہیں دیکھ سکتا۔ تھوڑی دیر کے بعد میں
نے جو دیکھا تو ایسا معلوم ہوا کہ سیکڑوں عورتیں بیٹھی ہیں۔ میں نے چودھری صاحب سے کہا کہ: یہ ننگی ہیں؟ انہوں نے
بتایا کہ: یہ ننگی نہیں بلکہ کپڑے پہنے ہوئے ہیں، مگر باوجود اس کے ننگی معلوم ہوتی ہیں۔ (اور اسی منظر کو دیکھنے کا
اِشتیاق تھا... ناقل)۔‘‘
(مرزا محمود کا ارشاد مندرجہ ’’الفضل‘‘ ۲۸؍جنوری ۱۹۲۴ء)
45
مرزا محمود پردے کے حکم سے مستثنیٰ:
’’سوالِ ہفتم:... حضرت (مرزا قادیانی) کے صاحب زادے (مرزا محمود وغیرہ) غیرعورتوں میں بلاتکلف، اندر کیوں جاتے ہیں؟
کیا ان سے پردہ دُرست نہیں؟
(سائل محمد حسین قادیانی)
جواب:... ضرورتِ حجاب صرف اِحتمالِ زنا کے لئے ہے، جہاں ان کے وقوع کا اِحتمال کم ہو ان کو اللہ تعالیٰ نے مستثنیٰ
کردیا ہے۔ اسی واسطے انبیاء و اتقیاء لوگ مستثنیٰ بلکہ بطریقِ اَوْلیٰ مستثنیٰ ہیں۔ پس حضرت کے صاحب زادے اللہ کے
فضل سے متقی ہیں، ان سے اگر حجاب نہ کریں تو اِعتراض کی بات نہیں ...... حکیم فضل دین از قادیاں۔‘‘
(اخبار ’’الحکم‘‘ جلد۱۱ نمبر۱۳ ص:۱۳ مؤرخہ ۱۷؍اپریل ۱۹۰۷ء)
کبھی کبھی اور ہمیشہ!
کسی لاہوری مرزائی کا مرزا محمود نے جمعہ کے خطبے میں ایک خط پڑھ کر سنایا، جس میں لکھا تھا کہ:
’’حضرت مسیحِ موعود (مرزا غلام احمد صاحب قادیانی) ولی اللہ تھے، اور ولی اللہ کبھی کبھی زنا کرلیا کرتے ہیں، اگر
انہوں نے کبھی کبھار زنا کرلیا تو اس میں کیا حرج ہوا۔‘‘
پھر لکھا ہے:
’’ہمیں حضرت مسیحِ موعود پر اِعتراض نہیں، کیونکہ وہ کبھی کبھی زنا کیا کرتے تھے، ہمیں اِعتراض موجودہ خلیفہ (مرزا
محمود احمد صاحب) پر ہے، کیونکہ وہ ہر وقت زنا کرتا رہتا ہے۔‘‘
اس خط کو پڑھ کر سنانے کے بعد مرزا محمود صاحب اس پر حسبِ ذیل تبصرہ کرتے ہیں:
’’اس اِعتراض سے پتا چلتا ہے کہ یہ شخص پیغامی طبع ہے (یعنی قادیانیوں کی لاہوری پارٹی سے تعلق رکھتا ہے ... ناقل)
اس لئے کہ ہمارا حضرت مسیحِ موعود کے متعلق یہ
46
اِعتقاد ہے کہ آپ نبی اللہ تھے، مگر پیغامی (لاہوری) اس بات کو نہیں مانتے اور وہ آپ کو صرف ولی اللہ
سمجھتے ہیں۔‘‘
(خطبہ مرزا محمود صاحب، مندرجہ اخبار ’’الفضل‘‘ ۳۱؍اگست ۱۹۳۸ء)
مرید کا شکوہ!
(۱۹۲۷ء میں سکینہ و زاہد کی عصمت پر مرزا محمود نے ہاتھ ڈالا، ان کے قصے گلی کوچوں میں پھیلے، اخباروں کی زینت بنے،
عدالتوں میں گونجے، مگر مرزا محمود کے غالی مرید شیخ عبدالرحمن صاحب مصری کو اپنے پیر مرزا محمود کے ’’تقدس‘‘ کا
یقین تب آیا جب ان ترکتازیوں کا سلسلہ شیخ صاحب کے گھر تک آپہنچا، مرید کی عزت و ناموس پر پیر کا حملہ اگرچہ مرید
کے لئے ناقابلِ برداشت تھا، تاہم مرید نے پیر کا راز فاش کرنے کے بجائے نجی خطوط کے ذریعے اِصلاحِ احوال کی ناکام
کوشش کی، پیر کے نام مرید کا پہلا خط خاصا طویل ہے، اس کے چند فقرے باضافہ عنوانات درج ذیل ہیں۔ پورا خط ’’کمالاتِ
محمودیہ‘‘ میں اور جناب شفیق مرزا کی کتاب ’’شہرِ سدوم‘‘ میں پڑھ لیا جائے ...ناقل)
دوٹوک بات!
’’بسم اللہ الرحمن الرحیم، نحمدہ ونصلی علیٰ رسولہ الکریم
سیّدنا! السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
میں ذیل کے چند الفاظ محض آپ کی خیرخواہی اور سلسلے کی خیرخواہی کو مدِ نظر رکھتے ہوئے لکھ رہا ہوں ...... مدّت سے
میں یہ چاہتا تھا کہ آپ سے دوٹوک بات کروں، مگر جن باتوں کا درمیان میں ذِکر آنا لازمی تھا، وہ جیسا کہ آپ اچھی
طرح جانتے ہیں ایسی تھیں کہ ان کے ذِکر سے آپ کو سخت شرمندگی لاحق ہونی لازمی تھی، اور جن کے نتیجے میں آپ میرے
سامنے منہ دِکھانے کے قابل نہیں رہ سکتے تھے۔‘‘ (یہ شیخ صاحب کا خیالِ خام تھا، ورنہ مرزا محمود صاحب ایسی شرم ورم
کے قائل نہیں تھے ...ناقل)۔
تقدس کا پردہ!
’’اگر میں بھی آپ کے خلاف اس اشتعال انگیز طریق سے متأثر ہوکر جلدبازی
47
سے کام لیتا اور اِبتدا میں ہی اپنا مبنی برحقیقت بیان شائع کردیتا اور جو تقدس کا بناوَٹی پردہ آپ نے اپنے
اُوپر ڈالا ہوا ہے، اس کو اُٹھاکر آپ کی اصل شکل دُنیا کے سامنے ظاہر کردیتا تو آج نہ معلوم آپ کا کیا حشر
ہوتا۔‘‘ (حشر یہ ہوتا کہ بیان شائع کرنے والے کو پٹواکر قادیان بدر کردیا جاتا، جبکہ بعد میں خود شیخ صاحب کے ساتھ
یہی ہوا ...ناقل)۔
تعجب کی بات!
’’تعجب ہے مجھے ان دیرینہ تعلقات کا اس قدر پاس ہو کہ آپ کے گندے افعال کا ذِکر آپ کے سامنے کرنے سے بھی شرم
محسوس کروں، اور محض اس خیال سے کہ میرے سامنے آنے سے آپ کو شرم محسوس ہوگی آپ کے سامنے آنے کی حتی الوسع
اِجتناب کرتا رہا ہوں، لیکن ان تعلقات کا آپ کو اتنا بھی پاس نہ ہوا جتنا کہ ایک ’’معمولی قماش کے بدچلن انسان‘‘ کو
ہوتا ہے۔ میں نے سنا ہے کہ بدچلن سے بدچلن آدمی بھی اپنے دوستوں کی اولاد پر ہاتھ ڈالنے سے اِحتراز کرتے ہیں، لیکن
افسوس آپ نے اتنا بھی نہ کیا، اور اپنے ان مخلص دوستوں کی اولاد پر ہاتھ صاف کرنا چاہا جو آپ کے لئے اور آپ کے
خاندان کے لئے جانیں تک قربان کردینا بھی معمولی قربانی سمجھتے ہیں۔‘‘ (جان کے ساتھ عزت وناموس اور ضمیر کی قربانی
بھی سہی، وہ اِخلاص ہی کیا ہوا جو ایسی معمولی قربانیوں کا بھی متحمل نہ ہو ...ناقل)۔
ناجائز فائدہ:
’’میں دیکھ رہا ہوں کہ ایک طرف تو آپ نے اپنی عیاشی کو اِنتہا تک پہنچایا ہوا ہے، جس لڑکی کو چاہااپنی عجیب و غریب
عیاری سے بلایا اور اس کی عصمت دری کردی، اور پھر ایک طرف اس کی طبعی شرم حیا سے ’’ناجائز فائدہ‘‘ اُٹھالیا، اور
دُوسری طرف اس کو دھمکی دے دی کہ ’’اگر تو نے کسی کو بتایا تو تیری بات کون مانے گا، تجھے ہی لوگ پاگل اور منافق
کہیں گے، میرے متعلق تو کوئی یقین نہیں کرے گا۔‘‘ اور اگر کسی نے جرأت سے اِظہار کردیا تو مختلف بہانوں سے ان کے
خاوندوں یا والدین کو ٹال دیا۔‘‘
48
جال اور ماتم:
’’لڑکوں اور لڑکیوں کو پھنسانے کے لئے جو جال آپ نے ایجنٹ مردوں اور ایجنٹ عورتوں کا بچھایا ہوا ہے، اس کا راز جب
فاش کیا جائے گا، تو لوگوں کو پتا لگے گا کہ کس طرح ان کے گھروں پر ڈاکا پڑتا ہے۔ مخلص جو آپ کے ساتھ اور آپ کے
خاندان کے ساتھ تعلق پیدا کرنا فخر سمجھتے ہیں، ان کے گھروں میں سب سے زیادہ ماتم پڑے گا۔‘‘ (بشرطیکہ عقل اور حس بھی
خلیفہ پر ’’قربان‘‘ نہ ہوچکی ہو ...ناقل)۔
اِنتقام، اِنتقام، اِنتقام:
’’دُوسری طرف جن لوگوں کو آپ کی غلط کاریوں کا علم ہوجاتا ہے، یا وہ کسی کے سامنے اِظہار کر بیٹھتے ہیں اور آپ کو
اس کا علم ہوجائے تو پھر آپ اسے کچلنے کے درپے ہوجاتے ہیں، اور اس کچلنے میں رحم آپ کے نزدیک تک نہیں پھٹکتا، اور
پتھر سے بھی زیادہ سخت دِل کے ساتھ اس پر گرتے ہیں، اور آپ کی سزادہی میں اِصلاحی پہلو بالکل مفقود اور اِنتقامی
پہلو نمایاں ہوتا ہے، چنانچہ مثال کے طور پر سکینہ بیگم زوجہ مرزا عبدالحق صاحب کو ہی لے لو (جس نے خلیفہ کی اخلاقی
دراز دستی کی شکایت ۱۹۲۷ء میں کی تھی ...ناقل) کس قدر ظلم اس پر آپ کی طرف سے کیا جاتا ہے، جو کچھ اس نے کہا تھا اس
کی سچائی تو اَب بالکل ثابت ہوچکی ہے، لیکن وہ بیچاری باوجود سچی ہونے کے قیدیوں سے بدتر زندگی بسر کر رہی ہے، اس کی
صحت تباہ ہوچکی ہے۔‘‘
مرزا محمود کی قادیانی چال:
’’آپ نے یہ چال چلی ہوئی ہے کہ لوگوں کو ایک دُوسرے سے ملنے نہ دیا جائے، اور ’’منافقوں سے بچو، منافقوں سے بچو‘‘
کے شور سے لوگوں کو خوفزدہ کیا ہوا ہے، اور ہر ایک کو دُوسرے پر بدظن کردیا ہوا ہے۔ اب ہر شخص ڈرتا ہے کہ میرا مخاطب
کہیں میری رپورٹ ہی نہ کردے، اور پھر فوراً مجھ پر منافق کا فتویٰ لگ کر جماعت سے اِخراج کا اعلان کردیا جائے، اور
یہ سب کچھ آپ نے اس لئے کیا ہوا ہے کہ آپ کی سیاہ کاریوں کا لوگوں کو
49
علم نہ ہوسکے، لیکن ......۔‘‘
ممکن ہے کہ!
’’آپ کی بدچلنی کے متعلق جو کچھ میں نے لکھا ہے اس کے متعلق ایک بات میرے دِل میں کھٹکتی رہتی ہے، اس کا ذِکر
کردینا بھی ضروری سمجھتا ہوں، اور وہ یہ کہ ممکن ہے کہ جس چیز کو ہم زنا سمجھتے ہیں، آپ اسے زنا ہی نہ سمجھتے ہوں،
پس اگر ایسا ہے تو مہربانی فرماکر مجھے سمجھادیں، اگر میری سمجھ میں آگئی تو میں اپنے اِعتراضات واپس لے لوں گا۔‘‘
بعض دفعہ نماز:
’’میں اس جگہ اس بات کا اِضافہ کردینا بھی ضروری سمجھتا ہوں کہ میں آپ کے پیچھے نماز نہیں پڑھ سکتا، کیونکہ مجھے
مختلف ذرائع سے یہ علم ہوچکا ہے کہ آپ ’’جنبی‘‘ ہونے کی حالت میں ہی بعض دفعہ نمازپڑھانے آجاتے ہیں۔‘‘
(کمالاتِ محمودیہ ص:۹۴ تا ۱۱۶)
عدالت میں گونج:
۱۹۳۷ء میں شیخ عبدالرحمن مصری کو مرزا محمود سے اخلاقی شکایتیں پیدا ہوئیں، نتیجہ یہ ہوا کہ شیخ صاحب جماعت سے الگ
ہوگئے، یا کردئیے گئے، تو مرزا محمود سے محاذ آرائی ہوئی، بات اِشتہاروں، اخباروں سے آگے عدالتوں تک پہنچی، ذیل
میں ان کا حلفیہ عدالتی بیان درج ہے، جسے عدالتِ عالیہ لاہور نے اپنے ۲۳؍ستمبر ۱۹۳۸ء کے فیصلے میں شامل کیا۔
’’موجودہ خلیفہ (مرزا محمود احمد صاحب) سخت بدچلن ہے، یہ تقدس کے پردے میں عورتوں کا شکار کھیلتا ہے، اس کام کے لئے
اس نے بعض مردوں اور عورتوں کو بطورِ ایجنٹ رکھا ہوا ہے، ان کے ذریعے یہ معصوم لڑکوں اور لڑکیوں کو قابو کرتا ہے، اس
نے ایک سوسائٹی بنائی ہوئی ہے، اس میں مرد اور عورتیں شامل ہیں اور اس سوسائٹی میں زنا ہوتا ہے۔‘‘
(ممتاز احمد فاروقی: فتح حق ص:۴۱)
50
ماہرانہ شہادت:
’’بڑا اِلزام یہ لگایا جاتا ہے کہ خلیفہ (مرزا محمود احمد صاحب خلیفہ قادیاں) عیاش ہے، اس کے متعلق میں کہتا ہوں کہ
میں ڈاکٹر ہوں اور میں جانتا ہوں کہ وہ لوگ جو چند دن بھی عیاشی میں پڑجائیں وہ وہ ہوجاتے ہیں جنہیں انگریزی میں
(Wreck) کہتے ہیں۔ ایسے انسان کا نہ دِماغ کام کا رہتا ہے، نہ عقل دُرست رہتی ہے، نہ حرکات صحیح طور پر کرتا ہے، غرض
سب قویٰ اس کے برباد ہوجاتے ہیں اور سر سے لے کر پیر تک اس پر نظر ڈالنے سے فوراً معلوم ہوجاتا ہے کہ وہ عیاشی میں
پڑکر اپنے آپ کو برباد کرچکا ہے، اسی لئے کہتے ہیں: ’’الزنا یخرب البنا‘‘ کہ زنا اِنسان کو بنیاد سے نکال دیتا
ہے۔‘‘
(مضمون ڈاکٹر میر محمد اسماعیل مندرجہ ’’الفضل‘‘ ۱۰؍جولائی ۱۹۳۷ء)
شہادت کی تصدیق:
’’ڈاکٹروں کا خیال تھا کہ چند ہفتوں میں دِماغی حالت اپنے معمول پر آجائے گی، لیکن اب تک جو ترقی ہوئی ہے اس کی
رفتار اتنی تیز نہیں ...... آدمیوں کے سہارے سے دو ایک قدم چل سکتا ہوں، مگر وہ بھی مشکل سے، دِماغ اور زبان کی
کیفیت ایسی ہے کہ میں تھوڑی دیر کے لئے بھی خطبہ نہیں دے سکتا، اور ڈاکٹروں نے دِماغی کام سے قطعی طور پر منع کردیا
ہے۔‘‘
(کمالاتِ محمودیہ ص:۵۷)
51
قادیانی زلزلہ
اگر یہ زلزلہ میری زندگی میں نہ آیا تو
’’میں خدا کی طرف سے نہیں‘‘
(مرزا غلام احمد قادیانی کا اقرار)
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ
اَلْحَمْدُ للہِ وَسَلَامٌ عَلٰی عِبَادِہِ الَّذِیْنَ اصْطَفٰی
اپریل ۱۹۰۵ء میں مرزا غلام احمد قادیانی نے اس مضمون کے پے درپے اِشتہار دئیے کہ عنقریب قیامت کا زلزلہ آنے والا
ہے، ان کے اِشتہارات کا جو مجموعہ ربوہ سے شائع ہوا ہے، اس میں اس سلسلے کا پہلا اِشتہار ۸؍اپریل ۱۹۰۵ء کا
’’الانذار‘‘ کے عنوان سے ہے، اس میں لکھتے ہیں:
’’غور سے پڑھو! یہ خدا تعالیٰ کی وحی ہے‘‘
’’آج رات تین بجے کے قریب خدائے تعالیٰ کی پاک وحی مجھ پر نازل ہوئی جو ذیل میں لکھی جاتی ہے: تازہ نشان، تازہ
نشان کا دھکا، زلزلۃ الساعۃ قوا انفسکم، ان اللہ مع الابرار، جاء الحق وزہق الباطل۔ ترجمہ مع شرح: یعنی خدا ایک تازہ
نشان دِکھائے گا، مخلوق کو اس نشان کا ایک دھکا لگے گا، وہ قیامت کا زلزلہ ہوگا۔‘‘
(مجموعہ اشتہارات ج:۳ ص:۵۲۲)
۱۸؍اپریل کو ’’النداء من وحی السماء‘‘ نامی اِشتہار میں لکھتے ہیں:
52
’’۹؍اپریل ۱۹۰۵ء کو پھر خدا تعالیٰ نے مجھے ایک سخت زلزلہ کی خبر دی ہے جو نمونہ قیامت اور ہوشربا ہوگا، چونکہ دو
مرتبہ مکرّر طور پر اس علیمِ مطلق نے اس آئندہ واقعے پر مجھے مطلع فرمایا ہے، اس لئے میں یقین رکھتا ہوں کہ یہ عظیم
الشان حادثہ جو محشر کے حادثے کو یاد دِلادے گا دُور نہیں ہے۔‘‘
(مجموعہ اشتہارات جلد سوم (مابعد) ص:۵۲۶)
معلوم ہوتا ہے کہ مرزا قادیانی کا ملہم مرزا قادیانی کو بار بار زلزلۂ قیامت کی خبر دے رہا تھا، اور مرزا قادیانی
اِشتہار پر اِشتہار جاری کر رہے تھے، چنانچہ ۲۹؍اپریل ۱۹۰۵ء کو آپ نے ’’زلزلہ کی خبر بار سوم‘‘ کا پھر اِشتہار دیا،
اس میں لکھتے ہیں:
’’آج ۲۹؍اپریل ۱۹۰۵ء کو پھر خدائے تعالیٰ نے مجھے دُوسری مرتبہ کے زلزلۂ شدیدہ کی نسبت اِطلاع دی ہے سو میں محض
ہمدردیٔ مخلوق کے لئے عام طور پر تمام دُنیا کو اِطلاع دیتا ہوں کہ یہ بات آسمان پر قرار پاچکی ہے کہ ایک شدید آفت
سخت تباہی ڈالنے والی دُنیا پر آوے گی، جس کا نام خدا تعالیٰ نے بار بار زلزلہ رکھا ہے۔‘‘
(مجموعہ اشتہارات ج:۳ ص:۵۲۵)
۱۱؍مئی ۱۹۰۵ء کو مرزا قادیانی نے ’’ضروری گزارش لائقِ توجہ گورنمنٹ‘‘ کے عنوان سے ایک اور اِشتہار جاری کیا، جس کے
مضمون کا خلاصہ یہ تھا کہ زلزلے کے پے درپے اِشتہار لوگوں میں سنسنی پھیلانے کے لئے نہیں بلکہ محض ہمدردیٔ مخلوق کی
خاطر شائع کئے گئے ہیں، مرزا قادیانی لکھتے ہیں:
’’جس آنے والے زلزلے سے میں نے دُوسروں کو ڈرایا ان سے پہلے آپ ڈرا، اب تک قریباً ایک ماہ سے میرے خیمے باغ میں
لگے ہوئے ہیں، میں واپس قادیان نہیں گیا، کیونکہ مجھے معلوم نہیں کہ وہ وقت کب آنے والا ہے، میں نے اپنے مریدوں کو
بھی
53
اپنے اِشتہارات میں بار بار یہی نصیحت کی کہ جس کی مقدرت ہو اسے ضروری ہے کہ کچھ مدّت خیموں میں باہر جنگل
میں رہے، اور جو لوگ بے مقدرت ہیں وہ دُعا کرتے رہیں کہ خدا اس بلا سے ہمیں بچاوے، پس میری نیک نیتی پر اس سے زیادہ
کون گواہ ہوسکتا ہے کہ اسی خیال سے میں مع اہل وعیال اور اپنی جماعت کے جنگل میں پڑا ہوں، اور جنگل کی گرمی کو
برداشت کر رہا ہوں، حالانکہ قادیاں طاعون سے بالکل پاک ہے۔‘‘
(مجموعہ اشتہارات ج:۳ ص:۵۴۰)
مرزا قادیانی جنگل کی زندگی سے اُکتاگئے تو نہ صرف چپکے سے واپس قادیاں چلے آئے، بلکہ کچھ عرصے کے لئے زلزلہ خیز
اِشتہارات کا سلسلہ بھی بند کردیا، اور خدا کی مخلوق نے اطمینان کا سانس لیا۔
۲۸؍فروری ۱۹۰۶ء کو کوہستانی علاقوں میں زلزلے کے جھٹکے محسوس کئے گئے تو مرزا قادیانی کے ملہم کی رَگِ زلزلہ پھر
پھڑکی، وہ پھر مرزا قادیانی کو اَزسرِنو ’’زلزلہ قیامت‘‘ کی پیش گوئی کے لئے انگیخت کرنے لگا، اور مرزا قادیانی نے
اِشتہاربازی کا سلسلہ پھر شروع کردیا۔ ۲؍مارچ ۱۹۰۶ء کے اِشتہار میں لکھتے ہیں:
’’آج یکم مارچ ۱۹۰۶ء کو صبح کے وقت پھر خدا نے یہ وحی میرے پر نازل کی، جس کے یہ الفاظ ہیں: ’’زلزلہ آنے کو ہے‘‘
اور میرے دِل میں ڈالا گیا کہ وہ زلزلہ جو قیامت کا نمونہ ہے وہ ابھی نہیں آیا، بلکہ آنے کو ہے۔‘‘
(مجموعہ اشتہارات ج:۳ ص:۵۴۸)
۹؍مارچ ۱۹۰۶ء کو ’’اِشتہار واجب الاظہار‘‘ میں، اور ۳۱؍مارچ ۱۹۰۶ء کو ایک نظم میں مرزا قادیانی نے پھر زلزلے کی
آمد آمد کا اِعلان کیا۔
مرزا قادیانی کے ان پے درپے اِلہامات اور اِشتہارات میں قطعی یقین دِلایا گیا کہ دُنیا میں ایک سخت ترین زلزلہ آئے
گا، لیکن اس پیش گوئی میں دو باتیں تشریح طلب تھیں، ایک یہ کہ زلزلے سے کیا مراد ہے؟ دُوسرے یہ کہ زلزلے کی آخری
میعاد کیا ہے؟ یہ سوال
54
خود مرزا قادیانی کے سامنے پیش کیا گیا، اور ہم ممنون ہیں کہ مرزا قادیانی نے براہین احمدیہ حصہ پنجم میں اس
کا شافی جواب بھی مرحمت فرمایا، سوال یہ تھا کہ:
’’جناب مقدس مرزا قادیانی نے دوبارہ زلزلہ آنے کی خبر دی ہے، مگر ساتھ ہی یہ بھی فرمایا کہ مجھے علم نہیں دیا گیا
کہ ایسا حادثہ کب ہوگا۔‘‘
(رُوحانی خزائن ج:۲۱ ص:۲۵۲، ضمیمہ براہین احمدیہ ج:۵ ص:۹۱)
اس کے جواب میں مرزا قادیانی نے جو کچھ تحریر فرمایا اس کے چند فقرے حسبِ ذیل ہیں:
الف:... ’’آئندہ زلزلے کی نسبت جو پیش گوئی کی گئی ہے وہ کوئی معمولی پیش گوئی نہیں، اگر وہ آخر کو معمولی بات
نکلی یا میری زندگی میں اس کا ظہور نہ ہوا تو میں خدا کی طرف سے نہیں۔‘‘
(ضمیمہ براہین پنجم ص:۹۲، خزائن ج:۲۱ص:۲۵۳)
ب:... ’’مجھے خدا تعالیٰ خبر دیتا ہے کہ وہ آفت جس کا نام اس نے زلزلہ رکھا ہے نمونۂ قیامت ہوگا، اور پہلے سے بڑھ
کر اس کا ظہور ہوگا، اس میں شک نہیں کہ اس آئندہ پیش گوئی میں بھی پہلی پیش گوئی کی طرح بار بار زلزلہ کا لفظ ہی
آیا ہے، اور کوئی لفظ نہیں آیا، اور ظاہری معنوں کا بہ نسبت تاویلی معنوں کے زیادہ حق ہے۔‘‘
(ضمیمہ براہین پنجم ص:۹۳، خزائن ج:۲۱ ص:۲۵۳)
ج:... ’’اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ وہ زلزلہ تیری ہی زندگی میں آئے گا اور زلزلہ کے آنے سے تیرے لئے فتح نمایاں
ہوگی، اور ایک مخلوق کثیر تیری جماعت میں داخل ہوجائے گی۔‘‘
(ضمیمہ براہین پنجم ص:۹۳، خزائن ج:۲۱ ص:۲۵۳)
د:... ’’اب ذرا کان کھول کر سن لو کہ آئندہ زلزلہ کی نسبت
55
جو میری پیش گوئی ہے اس کو ایسا خیال کرنا کہ اس کے ظہور کی کوئی بھی حد مقرّر نہیں کی گئی، یہ خیال سراسر
غلط ہے کہ جو محض قلّتِ تدبر اور کثرتِ تعصب اور جلدبازی سے پیدا ہوا ہے، کیونکہ بار بار وحیٔ اِلٰہی نے مجھے اِطلاع
دی ہے کہ وہ پیش گوئی میری زندگی میں اور میرے ہی ملک میں اور میرے ہی فائدے کے لئے ظہور میں آئے گی، اور اگر وہ
صرف معمولی بات ہو جس کی نظیریں آگے پیچھے صدہا موجود ہوں اور کوئی ایسا خارقِ عادت اَمر نہ ہو جو قیامت کے آثار
ظاہر کرے تو پھر میں خود اِقرار کرتا ہوں کہ اس کو پیش گوئی مت سمجھو، اس کو بقول اپنے تمسخر ہی سمجھ لو۔
اب میری عمر ستر۷۰ برس کے قریب ہے، اور تیس برس کی مدّت گزرگئی کہ خدا تعالیٰ نے مجھے صریح لفظوں میں اطلاع دی تھی
کہ تیری عمر اَسّی برس ہوگی، اور یا کہ پانچ چھ سال زیادہ، یا پانچ چھ سال کم۔ پس اس صورت میں اگر خدا تعالیٰ نے اس
آفتِ شدیدہ کے ظہور میں بہت ہی تأخیر ڈال دی تو زیادہ سے زیادہ سولہ سال ہیں، اس سے زیادہ نہیں، کیونکہ ضرور ہے کہ
یہ حادثہ میری زندگی میں ظہور میں آجائے۔‘‘
(ضمیمہ براہین پنجم ص:۹۷، خزائن ج:۲۱ ص:۲۵۸)
ہ:... ’’ظاہر الفاظ وحی سے زلزلہ ہی معلوم ہوتا ہے، اور اَغلب اکثر یہی ہے کہ وہ زلزلہ ہے، اور پہلا زلزلہ اس پر
شہادت بھی دیتا ہے، اور قرآن شریف کی یہ آیت بھی مؤید ہے کہ یوم ترجف الراجفۃ تتبعھا
الرادفۃ۔‘‘
(ضمیمہ براہین پنجم ص:۹۹، خزائن ج:۲۱ ص:۲۶۱)
مرزا قادیانی کی ان تصریحات سے بات صاف ہوگئی کہ:
56
۱:... پیش گوئی میں زلزلہ سے زلزلہ ہی مراد ہے، قرآن کی نصِ قطعی بھی بقول مرزا قادیانی اس کی مؤید ہے۔
۲:... اس زلزلے کا آنا قطعی اور یقینی ہے۔
۳:... اس زلزلے کا مرزا قادیانی کی زندگی میں آنا ضروری ہے۔
۴:... اس زلزلے کا مرزا قادیانی کے ملک ہی میں آنا ضروری ہے، کسی دُوسرے ملک کا زلزلہ اس پیش گوئی کا مصداق نہیں
ہوسکتا۔
۵:... اگر یہ زلزلہ مندرجہ بالا صفات کے ساتھ نہ آئے تو مرزا قادیانی چیلنج کرتے ہیں کہ وہ خدا کی طرف سے نہیں،
بلکہ مفتری اور کذّاب ہیں ــــــ بہت خوب!
نتیجہ:
اب ناظرین بڑی بے چینی سے منتظر ہوں گے کہ مرزا قادیانی کی اس عظیم متجددیانہ پیش گوئی کا نتیجہ کیا نکلا؟ آہ! اس
کا جواب بہت ہی مایوس کن ہے، سنئے! براہین احمدیہ حصہ پنجم مرزا قادیانی کی آخری عمر کی تصنیف ہے، جو ان کی وفات کے
پونے پانچ مہینے بعد شائع ہوئی۔
مرزا قادیانی کی تاریخِ وفات:... ۲۶؍مئی ۱۹۰۸ء
براہین پنجم کی تاریخِ اشاعت:... ۱۵؍اکتوبر ۱۹۰۸ء
پیش گوئی کا نتیجہ ظاہر ہے کہ جس دن کتاب چھپ کر لوگوں کے ہاتھ میں پہنچی، اور انہوں نے اس میں مرزا قادیانی کی یہ
تحریر پڑھی کہ: ’’آئندہ زلزلہ کی نسبت جو پیش گوئی کی گئی ہے اگر اس کا ظہور میری زندگی میں نہ ہوا تو میں خدا کی
طرف سے نہیں۔‘‘ اس دن مرزا قادیانی کو قبر میں پہنچے ہوئے پونے پانچ مہینے گزر چکے تھے، ’’نہ رہے بانس، نہ بجے
بانسری‘‘ نہ مرزا قادیانی زندہ ہوں، نہ ان کی زندگی میں زلزلہ آئے، نہ پیش گوئی پوری ہو۔ مرزائی اُمت میں بڑے بڑے
لوگ موجود ہیں جو اپنی لفاظی سے دن کو رات اور رات کو دن بناسکتے ہیں، مگر کیا کسی بڑے چھوٹے مرزائی کے بس میں ہے کہ
وہ مرزا قادیانی کی پیش گوئی
57
کو صحیح ثابت کرسکے؟ تمام مرزائی مل کر بھی اس کو صحیح ثابت نہیں کرسکتے۔ کیا کوئی مرزائی بتاسکتا ہے کہ یہ
زلزلہ قیامت براہین احمدیہ پنجم کے بعد مرزا قادیانی کی زندگی میں کب آیا؟ اگر نہیں بتاسکتے ...اور قیامت تک نہیں
بتاسکتے... تو کیا مرزائی اُمت میں کوئی صاحبِ انصاف و بصیرت ہے جو مرزا قادیانی کے اس قول کو سچا تسلیم کرے کہ:
’’آئندہ زلزلہ کی نسبت جو پیش گوئی کی گئی ہے اگر میری زندگی میں اس کا ظہور نہ ہوا تو میں خدا کی طرف سے نہیں۔‘‘
(ضمیمہ براہین احمدیہ پنجم ص:۹۲، خزائن ج:۲۱ص:۲۵۳)
ایک مردِ مؤمن کی پیش گوئی
مرزا غلام احمد قادیانی کا انجام آپ نے دیکھ لیا، اب اس کے مقابلے میں حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی
اُمت کے ایک مردِ قلندر کی پیش گوئی بھی سن لیجئے۔ جناب مُلَّا محمد بخش حنفی سیکریٹری انجمن حامیٔ اسلام لاہور نے
پیش گوئی کی تھی کہ مرزا قادیانی کی زلزلہ کے بارے میں پیش گوئی پوری نہیں ہوگی، اور مرزا اس پیش گوئی میں بھی ذلیل
و رُسوا ہوگا۔ لطیفہ یہ ہے کہ مرزا قادیانی نے ان کی پیش گوئی اپنے ایک اشتہار میں نقل کی تھی، جو مرزا قادیانی کے
مجموعہ اشتہارات میں اب بھی موجود ہے، مُلَّا صاحب لکھتے ہیں:
’’میں آج ۶؍مئی ۱۹۰۵ء کو اس امر کا بڑے زور اور دعوے سے اعلان کرتا ہوں اور تمام لوگوں کو اس بات کا یقین دِلاتا
ہوں کہ خوفناک اور بجھے ہوئے دِلوں کو اِطمینان اور تسلی دِلاتا ہوں قادیانی نے ۵، ۸، ۲۱ اور ۲۹؍اپریل ۱۹۰۵ء کے
اشتہاروں اور اخباروں میں جو لکھا ہے کہ ایک سخت زلزلہ آئے گا جو ایسا شدید اور خوفناک ہوگا کہ نہ کسی آنکھ نے
دیکھا، نہ کسی کان نے سنا۔ کرشن قادیانی زلزلہ کی آمد کی تاریخ کا وقت نہیں بتلاتا، مگر اس بات پر زور دیتا ہے کہ
زلزلہ ضرور آئے گا۔ اس لئے ان بھولے بھالے سادہ لوح
58
آدمیوں کو، جو قادیانی کی طرف سے لفاظیوں اور اخباری رنگ آمیزیوں سے خوفناک ہو رہے ہیں، خوشخبری سناتا ہوں
کہ خدا کے فضل و کرم سے شہر لاہور وغیرہ میں یہ قادیانی زلزلہ ہرگز نہیں آئے گا! نہیں آئے گا! اور نہیں آئے گا!!
اور آپ ہر طرح اِطمینان اور تسلی رکھیں۔
مجھے یہ خوشخبری نورِ اِلٰہی اور کشف کے ذریعے سے دی گئی ہے، جو اِن شاء اللہ بالکل ٹھیک ہوگی، میں مکرّر سہ کرّر
کہتا ہوں اور اس نورِ اِلٰہی سے جو مجھے بذریعہ کشف دِکھلایا گیا ہے، مستفیض ہوکر اور اس کے اعلان کی اجازت پاکر
ڈنکے کی چوٹ کہتا ہوں کہ قادیانی ہمیشہ کی طرح اس زلزلہ کی پیش گوئی میں بھی ذلیل و رُسوا ہوگا۔ اور خداوند تعالیٰ
حضرت خاتم النبیین شفیع المذنبین صلی اللہ علیہ وسلم کے طفیل سے اپنی گنہگار مخلوق کو اپنے دامنِ عاطفت میں رکھ کر
اس نارسیدہ آفت سے بچائے گا اور کسی فرد بشر کا بال بیکا نہ ہوگا۔
مُلَّا بخش حنفی، سیکریٹری انجمن حامی اسلام، لاہور۔‘‘
(مجموعہ اشتہارات ج:۳ ص:۵۴۱ مطبوعہ ربوہ)
دادِ اِنصاف دیجئے کہ حضرت خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم کے ایک ادنیٰ اُمتی کی پیش گوئی کیسی سچی نکلی، اور آج
اس پیش گوئی پر ستر سال گزرے ہیں، مگر اس کی سچائی آج بھی آفتاب کی طرح چمک رہی ہے۔ کیا مرزائی، مرزا غلام احمد کو
چھوڑ کر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر اِیمان لائیں گے...؟
وَاللہُ الْمُوَفِّقُ لِکُلِّ خَیْرٍ وَّسَعَادَۃٍ
59
مرزا قادیانی
مراق سے نبوّت تک
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ
اَلْحَمْدُ للہِ وَسَلَامٌ عَلٰی عِبَادِہِ الَّذِیْنَ اصْطَفٰی
مرزا غلام احمد قادیانی کی نبوّت ان کی اُمت میں ایک چیستان اور ایک معما بنی ہوئی ہے، نبوّتِ مرزا کے بارے میں
مرزائی اُمت کے مختلف فرقے، مختلف عقیدے رکھتے ہیں، اور ہر فرقہ مرزا غلام احمد قادیانی کے اقوال سے اپنے دعوے کی
سند لاتا ہے، چنانچہ:
۱:... غیرحقیقی نبی:... لاہوری فرقے کا دعویٰ ہے کہ وہ چودھویں صدی کا مجدّد اور غیرحقیقی نبی تھے۔
۲:... غیرتشریعی نبی:... فرقہ ربوہ کا عقیدہ یہ ہے کہ وہ غیرتشریعی، مگر حقیقی نبی تھے۔
۳:... تشریعی نبی:... اروپی فرقے کا عقیدہ تھا کہ تشریعی نبی تھے، ان کے دلائل کا خلاصہ حسبِ ذیل ہے:
الف:... مرزا غلام احمد قادیانی کی وحی کے الفاظ ٹھیک وہی ہیں جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اور دیگر صاحبِ شریعت
رسولوں کی وحی کے ہیں، لہٰذا اگر موسیٰ، عیسیٰ اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم صاحبِ شریعت رسول ہیں تو مرزا غلام احمد
قادیانی بھی یہی شان رکھتے ہیں۔
ب:... مرزا غلام احمد قادیانی نے اربعین نمبر۴ کے صفحہ:۷ پر اپنے صاحبِ شریعت ہونے کا کھول کر اِعلان کیا ہے۔
ج:... مرزا غلام احمد قادیانی حکم ہوکر آئے تھے کہ جس حکم کو چاہیں باقی رکھیں اور
60
جس کو چاہیں رَد کردیں، اور یہ صاحبِ شریعت ہی کا منصب ہے۔
د:... مرزا غلام احمد قادیانی نے جہاد اور جزیے کو منسوخ کیا اور قادیان کو قبلہ مقرّر کیا۔
ہ:... قادیانی کا کلمہ ’’لا اِلٰہ اِلَّا اللہ احمد جری اللہ‘‘ تھا، ان عقائد کا اِظہار ظہیرالدین اروپی کے رسائل میں
کیا گیا ہے۔
۴:... نبی ساز نبی:... اُمتِ مرزائیہ کے ایک فرقے کا عقیدہ تھا کہ مرزا قادیانی نہ صرف رسول ہیں بلکہ ان کی پیروی
سے نبوّت ملتی ہے۔ ان کی دلیل یہ تھی کہ مرزا قادیانی نے کثرتِ مکالمہ و مخاطبہ کا نام نبوّت رکھا تھا۔ اور یہ بھی
فرمایا تھا کہ وہ دِین لعنتی اور قابلِ نفرت ہے جس میں یہ سلسلہ جاری و ساری نہ ہو۔ اب اگر مرزا غلام احمد قادیانی
کے بعد نبوّت کا سلسلہ ٹوٹ جائے تو ان کا دِین بھی لعنتی بن جاتا ہے، اس دلیل سے بہت سے ’’قادیانی نبی‘‘ مبعوث ہوئے،
یہاں تک کہ ’’قادیانی انبیاء‘‘ کی بہتات سے مرزا محمود احمد بوکھلا اُٹھے اور خطبے میں فرمایا:
’’دیکھو! ہماری جماعت میں ہی کتنے مدعیٔ نبوّت کھڑے ہوگئے ہیں، میں ان سے سوائے ایک کے سب کے متعلق یہ خیال رکھتا
ہوں کہ وہ اپنے نزدیک جھوٹ نہیں بولتے، واقعہ میں انہیں اِلہام ہوئے، اور کوئی تعجب کی بات نہیں، اب بھی ہوتے ہیں،
مگر نقص یہ ہوا کہ انہوں نے اپنے اِلہاموں کو سمجھنے میں غلطی کھائی (یہی غلطی مرزا غلام احمد نے تو نہیں کھائی؟
...ناقل) ان میں سے بعض سے مجھے ذاتی واقفیت ہے، اور میں گواہی دے سکتا ہوں کہ ان میں اِخلاص پایا جاتا تھا، خشیت
اللہ پائی جاتی تھی، آگے خدا تعالیٰ ہی جانتا ہے کہ میرا یہ خیال کہاں تک دُرست ہے، مگر اِبتدا میں ان کی حالت
مخلصانہ تھی ...... ان کے اِلہاموں کا ایک حصہ خدائی اِلہاموں کا تھا
61
مگر نقص یہ ہوا کہ انہوں نے اِلہاموں کی حکمت کو نہ سمجھا اور ٹھوکر کھاگئے (غالباً یہی ٹھوکر مرزا غلام
احمد کو بھی لگی ...ناقل)۔‘‘
(’’الفضل‘‘ ۳۰؍مارچ ۱۹۲۸ء)
۵:... معبود ومسجود:... کھیروی فرقے کا عقیدہ تھا کہ مرزا غلام احمد قادیانی معبود ومسجود ہیں اور قادیان بیت اللہ
شریف ہے، صاحب زادہ مرزا بشیر احمد ایم اے ’’سیرۃ المہدی‘‘ میں لکھتے ہیں:
’’ڈاکٹر میر محمد اسماعیل صاحب نے مجھ سے بیان کیا کہ جب حضرت مسیحِ موعود نے پسرِموعود کی پیشین گوئی شائع فرمائی
(جو بدقسمتی سے پوری نہ ہوسکی ...ناقل) تو آپ کی زندگی ہی میں ایک شخص نور محمد نامی، جو پٹیالہ کی ریاست میں
’’کھیرو‘‘ گاؤں کا رہنے والا تھا، پسرِ موعود ہونے کا مدعی بن بیٹھا، اور بعض جاہل طبقے کے لوگ اس نے اپنے مرید
کرلئے۔ یہ لوگ قادیان کی طرف منہ کرکے نماز پڑھا کرتے تھے۔ اور ایک دفعہ ان کا ایک وفد قادیان بھی آیا تھا، انہوں
نے حضرت صاحب کو سجدہ کیا، مگر حضرت صاحب نے سختی سے منع فرمایا، وہ لوگ چند روز رہ کر واپس چلے گئے، اور پھر نہیں
دیکھے گئے۔ خاکسار عرض کرتا ہے کہ ایسے مجانین اور غالی لوگوں کا وجود ہر قوم میں ملتا ہے۔‘‘
(سیرۃ المہدی ج:۳ ص:۲۳۲)
’’سیرۃ المہدی‘‘ کے مؤلف نے مرزا غلام احمد قادیانی کے ان پرستاروں پر مجنون اور غالی ہونے کا فتویٰ لگایا ہے،
حالانکہ مرزا غلام احمد قادیانی کے اِلہامات کی روشنی میں ان کا عقیدہ بالکل صحیح تھا۔ دیکھئے! مرزا غلام احمد
قادیانی نے ’’بروزِ عیسیٰ‘‘ ہونے کا دعویٰ کیا، اور تمام قادیانیوں نے ان کو سچ مچ ’’عیسیٰ‘‘ مان لیا۔ پھر مرزا غلام
احمد قادیانی نے ’’بروزِ محمد‘‘ ہونے کا دعویٰ کیا، اور قادیانی دانشوروں نے ان کو سچ مچ ’’عین محمد‘‘ مان لیا۔ ٹھیک
اسی اُصول پر مرزا قادیانی نے ’’بروزِ خدا‘‘ ہونے کا دعویٰ کیا، اب اگر ان کو کچھ لوگ
62
سچ مچ ’’خدا‘‘ مان لیں تو ان کو مجنون اور غالی کیوں کہا جائے...؟
جب یہ اُصول تمام قادیانی اُمت کو مُسلَّم ہے کہ ’’بروز‘‘ اپنے ’’اصل‘‘ ہی کا حکم رکھتا ہے، اسی ’’قادیانی اِجماع‘‘
کی بنا پر مرزا غلام احمد قادیانی کو ’’مسیحِ موعود‘‘ اور ’’محمد ثانی‘‘ تسلیم کیا گیا، کیونکہ وہ ’’بروزِ محمد‘‘
ہونے کے مدعی تھے، تو مرزا غلام احمد قادیانی کو ’’بروزِ خدا‘‘ کے مدعی ہونے کی وجہ سے خدا کیوں نہ مانا جائے؟ آخر
یہ کیا منطق ہے کہ بروزی نکتے کے تحت مرزا غلام احمد قادیانی کو ’’عیسیٰ‘‘ اور ’’محمد‘‘ ماننے والے تو عقل مند اور
ہوشیار کہلائیں اور ’’بروزِ خدا‘‘ ماننے والے مسکینوں پر مجنون اور غالی ہونے کا فتویٰ صادر کردیا جائے...؟
شاید کسی کو وسوسہ ہو کہ حضرت قادیانی نے ان کو سختی سے منع فرمادیا تھا، اس لئے ان کا موقف غلط ہے۔ قادیانی اُصول
کے مطابق اس کا جواب بہت آسان ہے، وہ یہ کہ اس وقت تک حضرت قادیانی کو یہ سمجھ نہیں آئی تھی کہ اِلہامات میں ان کو
’’خدائی کا منصب‘‘ عطا کیا گیا ہے۔ ٹھیک جس طرح کہ مرزا محمود قادیانی کے دعوے کے مطابق حضرت قادیانی ۱۹۰۱ء تک یہ
نہیں سمجھ سکے تھے کہ ان کو ’’منصبِ نبوّت‘‘ عطا کیا گیا ہے۔ اور یہ تأویل بھی ممکن ہے کہ حضرت صاحب نے ’’فتنے کے
خوف‘‘ سے انہیں منع فرمادیا ہو، ٹھیک جس طرح کہ حضرت صاحب نے ’’ایک نبی آیا‘‘ کا اِلہام فتنے کے خوف سے مدّت تک
چھپائے رکھا۔ بہرحال قادیانی اُصول کے مطابق ’’بندگانِ بروزِ خدا‘‘ کو پاگل اور غالی کہنا قادیانی اُمت کی کورچشمی
ہے...!
۶:... مراقی نبی:... یہ تو ان لوگوں کے عقائد تھے جو مرزا غلام احمد قادیانی کے ’’اِلہامات‘‘ پر اِیمان لاتے ہیں،
مگر اُمتِ مسلمہ کا عقیدہ یہ ہے کہ مرزا غلام احمد قادیانی کے بلند بانگ ...مگر بے مغز... دعوے ’’مراق‘‘ کا کرشمہ
تھے، کیونکہ مرزا غلام احمد قادیانی کو بھی اپنے مراق کا اِقرار ہے، چنانچہ فرماتے ہیں:
الف:... ’’دیکھو! میری بیماری کی نسبت بھی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے پیشین گوئی کی تھی جو اسی طرح وقوع میں
آئی۔ آپ نے فرمایا تھا کہ مسیح جب آسمان سے اُترے گا تو دو زَرد چادریں اس
63
نے پہنی ہوں گی، سو اس طرح مجھ کو دو بیماریاں ہیں، ایک اُوپر کے دھڑ کی، اور ایک نیچے کے دھڑ کی، یعنی
مراق اور کثرتِ بول۔‘‘
(ملفوظات ج:۸ ص:۴۴۵)
ب:... ’’میرا تو یہ حال ہے کہ دو بیماریوں میں ہمیشہ سے مبتلا رہتا ہوں، پھر بھی آج کل میری مصروفیت کا یہ حال ہے
کہ رات کو مکان کے دروازے بند کرکے بڑی بڑی رات تک بیٹھا کام کرتا رہتا ہوں، حالانکہ زیادہ جاگنے سے مراق کی بیماری
ترقی کرتی جاتی ہے، دورانِ سر کا دورہ زیادہ ہوجاتا ہے، مگر میں اس بات کی پروا نہیں کرتا اور اس کام کو کئے جاتا
ہوں۔‘‘
(ملفوظاتِ مرزا ج:۲ ص:۳۷۶)
ج:... ’’حضرت خلیفۃ المسیح الاوّل نے حضرت مسیحِ موعود (مرزا غلام احمد قادیانی) سے فرمایا کہ: حضور! غلام نبی کو
مراق ہے، تو حضور نے فرمایا کہ: ایک رنگ میں سب نبیوں کو مراق ہوتا ہے (نعوذباللہ) اور مجھ کو بھی ہے۔‘‘
(سیرۃ المہدی ج:۳ ص:۳۰۴)
اس اِقرار و اِعتراف سے قطع نظر مرزا غلام احمد قادیانی میں مراق کی علامات بھی کامل طور پر جمع تھیں، مرزا بشیر
احمد ایم اے ’’سیرۃ المہدی‘‘ میں اپنے ماموں ڈاکٹر میر محمد اسماعیل قادیانی کی ’’ماہرانہ شہادت‘‘ نقل کرتے ہیں کہ:
د:... ’’ڈاکٹر میر محمد اسماعیل نے مجھ سے بیان کیا کہ میں نے کئی دفعہ حضرت مسیحِ موعود (مرزا غلام احمد) سے سنا
ہے کہ مجھے ہسٹریا ہے، بعض اوقات آپ مراق بھی فرمایا کرتے تھے، لیکن دراصل بات یہ ہے کہ آپ کو دِماغی محنت اور
شبانہ روز تصنیف کی مشقت کی وجہ سے بعض ایسی عصبی علامات پیدا ہوجایا کرتی تھیں، جو ہسٹریا (اور مراق) کے مریضوں میں
بھی عموماً دیکھی جاتی ہیں، مثلاً کام کرتے کرتے یک دم ضعف ہوجانا، چکروں کا آنا، ہاتھ پاؤں کا
64
سرد ہوجانا، گھبراہٹ کا دورہ ہوجانا، یا ایسا معلوم ہونا کہ ابھی دَم نکلتا ہے، یا کسی تنگ جگہ یا بعض اوقات
زیادہ آدمیوں میں ِگھر کر بیٹھنے سے دِل کا سخت پریشان ہونے لگنا، وغیرہ ذالک۔ (مثلاً بدہضمی، اِسہال، بدخوابی،
تفکر، اِستغراق، بدحواسی، نسیان، ہذیان، تخیل پسندی، طویل بیانی، اعجاز نمائی، مبالغہ آرائی، دشنام طرازی، فلک پیما
دعوے، کشف و کرامات کا اظہار، نبوّت و رِسالت، فضیلت و برتری کا اِدّعا، خدائی صفات کا تخیل وغیرہ وغیرہ، اس قسم کی
بیسیوں مراقی علامات مرزا صاحب میں پائی جاتی تھیں ...ناقل)۔‘‘
(سیرۃ المہدی ج:۲ ص:۵۵)
مرزا صاحب کو مراق کا عارضہ غالباً موروثی تھا، ڈاکٹر شاہ نواز قادیانی لکھتے ہیں:
ہ:... ’’جب خاندان سے اس کی اِبتدا ہوچکی تھی تو پھر اگلی نسل میں بے شک یہ مرض منتقل ہوا، چنانچہ حضرت خلیفۃ
المسیح ثانی نے فرمایا کہ مجھ کو بھی کبھی کبھی مراق کا دورہ ہوتا ہے۔‘‘
(ریویو آف ریلیجنز بابت اگست ۱۹۲۶ء ص:۱۱)
ڈاکٹر صاحب کے نزدیک مرزا صاحب کے مراق کا سبب عصبی کمزوری تھا، لکھتے ہیں:
’’واضح ہو کہ حضرت صاحب کی تمام تکالیف مثلاً دورانِ سر، دردِ سر، کمی خواب، تشنجِ دِل، بدہضمی، اِسہال، کثرتِ
پیشاب اور مراق وغیرہ کا صرف ایک ہی باعث تھا اور وہ عصبی کمزوری تھا۔‘‘
(ریویو مئی ۱۹۲۷ء ص:۲۶)
مراق کی علامات میں اہم ترین علامت یہ بیان کی گئی ہے کہ:
’’مالیخولیا کا کوئی مریض خیال کرتا ہے کہ میں بادشاہ ہوں، کوئی یہ خیال کرتا ہے کہ میں خدا ہوں، کوئی یہ خیال کرتا
ہے کہ
65
میں پیغمبر ہوں۔‘‘
(بیاض حکیم نورالدین ج:۱۰ ص:۲۱۲)
یہ تمام علامات مرزا صاحب میں بدرجۂ اَتم پائی جاتی ہیں، انہوں نے ’’آریوں کا بادشاہ‘‘ ہونے کا دعویٰ کیا، نبوّت
سے خدائی تک کے دعوے بڑی شدومد سے کئے، انبیائے کرام علیہم السلام سے برتری کا دَم بھرا، دس لاکھ معجزات کا اِدّعا
کیا، مخلوق کو اِیمان لانے کی دعوت دی، اور نہ ماننے والوں کو منکر، کافر اور جہنمی قرار دِیا، انبیاء علیہم السلام
کی تنقیص کی، صحابہ کرامؓ کو نادان اور اَحمق کہا، اولیائے اُمت پر سب و شتم کیا، مفسرین کو جاہل کہا،محدثین پر طعن
کیا، علمائے اُمت کو یہودی کہا، اور پوری اُمت کو فیج اعوج اور گمراہ کہا، اور فحش کلمات سے ان کی تواضع کی۔ یہ کام
کسی مجدّد یا ولی کا نہیں ہوسکتا، بلکہ اس کو مراق کی کرشمہ سازی ہی کہا جاسکتا ہے۔
ادنیٰ فہم کا آدمی سمجھ سکتا ہے کہ کلمۂ طیبہ ’’لا اِلٰہ اِلَّا اللہ‘‘ میں اللہ تعالیٰ کے سوا کسی خدا کی گنجائش
نہیں، اب اگر ایک شخص سرِ بازار کھڑا ہوکر یہ تقریر کرے کہ:
’’اس میں اللہ تعالیٰ کے ماسوا خدا کی نفی کی گئی ہے، اور یہ فقیر اللہ تعالیٰ کی اطاعت میں اس قدر کامل اور فنا فی
اللہ کے مقام میں اس قدر راسخ ہے کہ میرا وجود بعینہٖ خدا کا وجود ہے، اس لئے میرے دعویٔ خدائی سے لا اِلٰہ اِلَّا
اللہ کی مہر نہیں ٹوٹتی، بلکہ خدا کی چیز خدا ہی کے پاس رہتی ہے، اور یہ کہ میں نے خدائی کمالات، خدا میں گم ہوکر پائے
ہیں، میرا وجود درمیان نہیں، اس لئے میرے خدا ہونے سے ’’لا اِلٰہ اِلَّا اللہ‘‘ کی صداقت میں فرق نہیں آتا۔‘‘
تو فرمائیے کہ اس فصیح البیان مقرّر کے بارے میں عقلاء کیا فیصلہ کریں گے؟ کیا ’’لا اِلٰہ اِلَّا اللہ‘‘ کی اس عجیب و
غریب ’’تفسیر‘‘ کو کرشمۂ مراق نہیں قرار دِیا جائے گا...؟
اب دیکھئے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا خاتم النبیین ہونا ’’اُمتِ اسلامیہ‘‘ کا قطعی عقیدہ ہے، اور اس کے معنی
آج تک یہی سمجھے گئے جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے متواتر اِرشاد: ’’انا خاتم النبیین
لَا نبی بعدی‘‘ میں بیان فرمائے، یعنی میں
66
آخری نبی ہوں، میرے بعد کسی کو نبوّت عطا نہیں کی جائے گی۔ لیکن ایک شخص سرِ بازار کھڑا ہوکر ’’لَا نبی بعدی‘‘ کی یہ تقریر کرتا ہے کہ:
’’اگر کوئی شخص اسی خاتم النبیین میں ایسا گم ہو کہ بباعث نہایت اِتحاد اور نفی غیریت کے اسی کا نام پالیا ہو، اور
صاف آئینے کی طرح محمدی چہرے کا اس میں انعکاس ہوگیا ہو تو وہ بغیر مہر توڑنے کے نبی کہلائے گا، کیوکہ وہ محمدؐ ہے
گو ظلّی طور پر۔ پس باوجود اس شخص کے دعویٔ نبوّت کے، جس کا نام ظلّی طور پر محمد اور اَحمد رکھا گیا ہے پھر بھی
سیّدنا خاتم النبیین ہی رہا، کیونکہ یہ محمد ثانی اسی محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی تصویر اور اسی کا نام ہے۔‘‘
(ایک غلطی کا اِزالہ ص:۵، رُوحانی خزائن ج:۱۸ ص:۲۰۹)
اور پھر وہ اس فلسفے کو اپنی ذات پر چسپاں کرتے ہوئے کہتا ہے:
’’چونکہ میں ظلّی طور پر محمد ہوں، پس اس طور پر خاتم النبیین کی مہر نہیں ٹوٹی، کیونکہ محمد کی نبوّت محمد تک ہی
محدود رہی۔‘‘
(ازالہ اوہام ص:۸، خزائن ج:۱۸ص:۲۱۲)
اور یہ کہ:
’’تمام کمالاتِ محمدی مع نبوّتِ محمدیہ کے میرے آئینۂ ظلّیت میں منعکس ہیں تو پھر کونسا الگ انسان ہوا جس نے
علیحدہ طور پر نبوّت کا دعویٰ کیا؟‘‘
(ایضاً)
اور یہ کہ:
’’میرا نفس درمیان نہیں ہے، بلکہ محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم ہے، اسی لحاظ سے میرا نام محمد اور اَحمد ہوا، پس
نبوّت اور رِسالت کے کسی دُوسرے کے پاس نہیں گئی، محمد کی چیز محمد کے پاس ہی رہی۔‘‘
(ازالہ اوہام ص:۱۲، خزائن ج:۱۸ ص:۲۱۶)
67
بتائیے! اس کی توجیہ اس کے سوا اور کیا ہوسکتی ہے کہ یہ ’’سلطان القلم‘‘ غلبۂ سودا اور جوشِ مراق کا شکار ہے۔
مرزائی اُمت سے ایک سوال:
اگر قیامت کے دن قادیانیوں کے مسیحِ موعود مرزا غلام احمد سے سوال ہو کہ تو نے حضرت خاتم النبیین صلی اللہ علیہ
وسلم کے بعد نبوّت کا دعویٰ کرکے کیوں لوگوں کو گمراہ کیا؟ اور اس کے جواب میں مرزا صاحب عرض کرے کہ یا اللہ! یہ سب
کچھ میں نے مراق کی وجہ سے کیا تھا، اور اپنے مراقی ہونے کا اِظہار بھی خود اپنی زبان و قلم سے کردیا تھا، اب ان
’’عقل مندوں‘‘ سے پوچھئے کہ انہوں نے ’’مراق کے مریض‘‘ کو ’’مسیحِ موعود‘‘ کیوں مان لیا تھا؟ تو قادیانی اُمت بتائے
کہ اس کے پاس اس دلیل کا کیا جواب ہوگا...؟
68
مرزا قادیانی کے وجوہِ اِرتداد
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ
اَلْحَمْدُ للہِ وَسَلَامٌ عَلٰی عِبَادِہِ الَّذِیْنَ اصْطَفٰی
سب سے پہلے اس امر کی وضاحت ضروری ہے کہ اسلام، اس دین کا نام ہے جو محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خدا
تعالیٰ کی طرف سے پیش کیا۔
چنانچہ جو لوگ کلمہ طیبہ ’’لا اِلٰہ الا اللہ محمد رسول اللہ‘‘ پڑھ کر دین اسلام میں داخل ہونے کا عہد کرتے ہیں ان
کو دین اسلام کی ان تمام باتوں کا ماننا لازم ہوجاتا ہے جن کی حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے تعلیم دی اور جن کا
ثبوت قطعی تواتر سے ہوا ہے۔ ایسے امور کو ’’ضروریات دین‘‘ کہا جاتا ہے۔ پس تمام ’’ضروریات دین‘‘ کو ماننا شرط اسلام
ہے اور ’’ضروریات دین‘‘ میں سے کسی ایک کا انکار کرنا دراصل کلمہ طیبہ کا انکار اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی
رسالت کا انکار ہے۔ اس لئے جو شخص ’’ضروریات دین‘‘ میں سے کسی ایک کا انکار کرے یا ان میں شک و شبہ کا اظہار کرے یا
ان کے متواتر معنی و مفہوم کو تسلیم نہ کرے ایسا شخص مسلمان نہیں بلکہ دائرۂ اسلام سے خارج ہے۔
قرآن کریم میں ارشاد ہے:
’’وَمَا کَانَ لِمُؤْمِنٍ وَّلَا مُؤْمِنَۃٍ اِذَا قَضَی اللہُ وَرَسُوْلُہٗ أَمْرًا أَنْ یَّکُوْنَ لَھُمُ
الْخِیَرَۃُ مِنْ أَمْرِھِمْ، وَمَنْ یَّعْصِ اللہَ وَرَسُوْلَہٗ فَقَدْ ضَلَّ ضَـلَالًا مُّبِیْنًا۔‘‘
(الاحزاب:۳۶)
ترجمہ:...’’اور کسی ایماندار مرد اور کسی ایماندار عورت کو گنجائش نہیں، جب کہ اللہ اور اس کا رسول
کسی کام کا حکم دے دیں کہ
69
(پھر) ان کو ان (مؤمنین) کے اس کام میں کوئی اختیار (باقی) ہے اور جو شخص اللہ کا اور اس کے
رسولؐ کا کہنا نہ مانے گا وہ صریح گمراہی میں پڑا۔‘‘
(ترجمہ حضرت تھانویؒ)
دوسری جگہ ارشاد ہے:
’’فَـلَا وَرَبِّکَ لَا یُؤْمِنُوْنَ حَتّٰی یُحَکِّمُوْکَ فِیْمَا شَجَرَ بَیْنَھُمْ ثُمَّ لَا یَجِدُوْا فِیٓ
أَنْفُسِھِمْ حَرَجًا مِّمَّا قَضَیْتَ وَیُسَلِّمُوْا تَسْلِیْمًا۔‘‘
(النساء:۶۵)
ترجمہ:...’’پھر قسم ہے آپ کے رَبّ کی! یہ لوگ ایماندار نہ ہوں گے جب تک یہ بات نہ ہو کہ ان کے آپس
میں جو جھگڑا واقع ہو اس میں یہ لوگ آپ سے تصفیہ کراویں پھر اُس آپ کے تصفیہ سے اپنے دلوں میں تنگی نہ پاویں اور
پورا پورا تسلیم کرلیں۔‘‘
امام جعفر صادق رحمہ اللہ اس آیت کی تفسیر میں فرماتے ہیں:
’’لو ان قوما عبدوا اللہ تعالٰی واقاموا الصلٰوۃ واتوا الزکٰوۃ وصاموا رمضان وحجوا البیت ثم قالوا لشیء
صنعہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اَلّا صنع؟ خلاف ما صنع؟ لو وجدوا فی انفسھم حرجًا لکانوا مشرکین ثم تلا ھذہ
الآیۃ۔‘‘
(روح المعانی ج:۵ ص:۷۱)
ترجمہ:...’’اگر کوئی قوم اللہ تعالیٰ کی عبادت کرے، نماز کی پابندی کرے، زکوٰۃ ادا کرے، رمضان کے
روزے رکھے اور بیت اللہ کا حج کرے، پھر کسی ایسی چیز کے بارے میں، جس کا کرنا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ثابت
ہے، یوں کہے کہ آپ نے ایسا کیوں کیا؟ اس کے خلاف کیوں نہ کیا؟ اور اس کے ماننے سے اپنے دل میں تنگی محسوس کرے تو یہ
قوم مشرکین میں سے ہے۔‘‘
70
آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے:
’’عن أبی ھریرۃ رضی اللہ عنہ عن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم قال: امرت أن اقاتل الناس حتّٰی یشھدوا ان
لَا إلٰہ إلّا اللہ ویؤمنوا بی وبما جئت بہ۔‘‘
(صحیح مسلم ج:۱ ص:۳۷ مطبوعہ کراچی)
ترجمہ:...’’حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ
مجھے حکم ہوا ہے کہ میں لوگوں سے قتال کروں، یہاں تک وہ ’’لا الٰہ الا اللہ‘‘ کی گواہی دیں اور مجھ پر اور ان تمام
باتوں پر ایمان لائیں جن کو میں لایا ہوں۔‘‘
امام محمد بن حسن الشیبانی ’’السیر الکبیر‘‘ میں فرماتے ہیں:
’’ومن انکر شیاء من شرائع الْإسلام فقد ابطل قول لَا إلٰہ إلّا اللہ۔‘‘
(شرح السیر الکبیر ج:۴ ص:۳۶۵ طبع جدید)
ترجمہ:...’’جس نے اسلام کے احکام و قوانین میں سے کسی ایک کا انکار کیا اس نے ’’لا الٰہ الا اللہ‘‘
کے قول و قرار کو باطل کردیا۔‘‘
امام نجم الدین نسفی اپنے عقائد میں لکھتے ہیں:
’’الْإیمان فی الشرع ھو التصدیق بما جاء بہ الرسول صلی اللہ علیہ وسلم من عند اللہ والْإقرار بہ۔‘‘
(شرح عقائد نسفی ص:۲۲۱ طبع کراچی)
ترجمہ:...’’شریعت میں ایمان نام ہے ان تمام امور کی تصدیق و اقرار کرنے کا جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم، اللہ
تعالیٰ کی طرف سے لائے۔‘‘
سلطان العلماء مُلَّا علی قاری شرح فقہ اکبر میں لکھتے ہیں:
71
’’الْإیمان ھو تصدیق النبی صلی اللہ علیہ وسلم بالقلب فی جمیع ما علم بالضرورۃ مجیئہ بہ من عند اللہ
تعالٰی۔‘‘
(شرح فقہ اکبر، مطبوعہ مجتبائی دہلی)
ترجمہ:...’’ایمان ان تمام امور میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی دل سے تصدیق کرنے کا نام ہے، جن کے
بارے میں یقینی طور پر معلوم ہوا ہے کہ آپ ان کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے لائے ہیں۔‘‘
علامہ تفتازانی ؒ شرح مقاصد میں لکھتے ہیں:
’’أعنی تصدیق النبی صلی اللہ علیہ وسلم فیما علم مجیئہ بہ بالضرورۃ أی فیما اشتھر کونہ من الدین بحیث
یعلمہ العامۃ من غیرافتقار الی نظر و استدلَال۔‘‘
(شرح مقاصد ج:۲ ص:۲۴۷، دار المعارف نعمانیہ لاہور)
ترجمہ:...’’ایمان، آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی تصدیق کا نام ہے، ان تمام امور میں جن کا اللہ
تعالیٰ کی طرف سے لانا واضح طور پر معلوم ہے، یعنی ان کا دین اسلام میں داخل ہونا اس قدر مشہور ہے کہ عام لوگ بھی اس
کو جانتے ہیں اور ان کے ثبوت میں کسی فکر و استدلال کی ضرورت نہیں۔‘‘
’’فان الْإقرار حینئذ شرط لِاجراء الأحکام علیہ فی الدنیا، من الصلٰوۃ علیہ وخلفہ والدفن فی مقابر
المسلمین والمطالبۃ بالعشور والزکٰوات ونحو ذالک۔‘‘
(شرح مقاصد ج:۲ ص:۲۴۸)
ترجمہ:...’’جب ایمان اس کا نام ہوا، تو اسلام کی تمام باتوں کا اقرار کرنا کسی شخص پر اسلام کے دنیوی
احکام جاری کرنے کے لئے شرط ہوگا۔ مثلاً اس کی نماز جنازہ پڑھنا، اس کے پیچھے نماز کا
72
جائز ہونا، اس کو مسلمانوں کے قبرستان میں دفن کرنا اور اس سے زکوٰۃ اور عشر کا مطالبہ کرنا
وغیرہ وغیرہ۔‘‘
مندرجہ بالا تصریحات سے حسب ذیل امور معلوم ہوئے:
اوّل:... جو شخص آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے پورے دین کو دل سے قبول کرتا ہو وہ مسلمان ہے۔
دوم:... دین اسلام کے قطعی و متواتر امور کو ’’ضروریا ت دین‘‘ کہتے ہیں، جو شخص ان میں سے کسی ایک کو نہ مانے وہ
دائرۂ اسلام سے خارج ہے۔
سوم:... جو شخص دائرۂ اسلام سے خارج ہو مسلمان اس کی نماز جنازہ نہیں پڑھیں گے، اس کے پیچھے نماز جائز نہیں ہوگی،
اس کو مسلمانوں کے قبرستان میں دفن نہیں کیا جائے گا، اور اس کو اسلامی برادری میں شامل نہیں کیا جائے گا۔
ان تمہیدی امور کے بعد ہم کہتے ہیں کہ مرزا غلام احمد قادیانی بہت سے ’’ضروریات دین‘‘ کا انکار کرنے کی وجہ سے کافر
و مرتد اور دائرۂ اسلام سے خارج ہے، اور جو لوگ مرزا غلام احمد قادیانی کی جماعت میں شامل ہیں اور وہ مرزا کو اپنا
روحانی و مذہبی پیشوا تسلیم کرتے ہیں چونکہ وہ اس کے تمام دعوؤں کو سچا سمجھتے ہیں اور اس کے الہامات کو وحی الٰہی
مانتے ہیں، اس لئے وہ بھی کافر و مرتد ہیں، خواہ لاہوری گروہ سے ہوں یا ربوہ کی جماعت سے، اور چونکہ مرزا قادیانی نے
اسلام کے قطعی اور مسلّمہ نظریات سے انحراف کرکے اُمتِ مسلمہ سے خود علیحدگی اختیار کرلی ہے، اس لئے اہل اسلام اس
بات پر مجبور ہیں کہ مرزا غلام احمد قادیانی اور اس پر ایمان رکھنے والوں کو خارج از اسلام قرار دیں۔ چنانچہ تمام
اہل اسلام اس پر متفق ہیں کہ مرزا قادیانی اور اس کی جماعت کا مسلمانوں سے کوئی تعلق نہیں۔
مرزا غلام احمد قادیانی کیوں مرتد اور خارج اَز اِسلام ہے؟
مرزا غلام احمد قادیانی کے کفر و اِرتداد اور خارج از اسلام ہونے کے وجوہ بے شمار ہیں، مگر ہم بحث کو مختصر کرنے کے
لئے مندرجہ ذیل چار وجوہات پر اکتفا کرتے ہیں:
73
۱:...مرزا غلام احمد قادیانی نے نبوّت و رسالت کا دعویٰ کیا، جب کہ اسلامی عقیدہ کی رو سے حضرت محمد رسول
اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آخری نبی ہیں۔ اور جو شخص آپ کے بعد نبوّت ورسالت کا دعویٰ کرے یا مدعی نبوّت کی تصدیق
کرے وہ دائرۂ اسلام سے خارج ہے۔
۲:...مرزا غلام احمد قادیانی نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام سے افضل ہونے کا دعویٰ کیا، اور اسلامی عقیدہ کی رو سے ایسا
دعویٰ سراسر کفر ہے۔
۳:...مرزا قادیانی نے دعویٰ کیا کہ تمام انبیاء کے اوصاف و کمالات اس کی ذات میں جمع ہیں، اور ایسا ادعا کفر ہے۔
۴:...مرزا قادیانی نے انبیائے کرام علیہم السلام خصوصاً حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی نہایت مکروہ الفاظ میں توہین کی
ہے، اور کسی نبی کی توہین کفر ہے۔
ذیل میں ہم ان چار نکات پر الگ الگ بحث کریں گے۔
مرزا قادیانی کے اِرتداد کی پہلی وجہ:
رسالت و نبوّت کا دعویٰ:
’’نبی‘‘ اسلام کا ایک مقدس اصطلاحی لفظ ہے، جس کا استعمال صرف انبیائے کرام علیہم السلام پر ہوسکتا ہے۔ چونکہ منصب
نبوّت حضرت خاتم النبیین محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر ختم ہوچکا ہے، اس لئے جو شخص آنحضرت صلی اللہ علیہ
وسلم کے بعد ’’نبی‘‘ کا لفظ اپنے لئے استعمال کرے، وہ اگر مجنوں اور دیوانہ نہیں تو کافر و مرتد ہے۔ (تفصیل کے لئے
دیکھئے تحفہ قادیانیت ج:۱ ص:۱۰ تا ۴۹)۔
مرزا غلام احمد قادیانی نے نہ صرف نبی کا مقدس لفظ اپنے لئے استعمال کیا بلکہ کھل کر نبوّت کا دعویٰ کیا اور نبوّت
کے تمام اوصاف و لوازم بھی اپنے لئے ثابت کئے۔
مرزا غلام احمد قادیانی نے نبوّت کا دعویٰ کیا:
یہ بات ہر شک و شبہ سے بالاتر ہے کہ مرزا غلام احمد قادیانی اپنے نبی ہونے کا قائل اور اپنے لئے عہدۂ نبوّت کا
مدعی ہے اور عہدۂ نبوّت کے لوازم کے طور پر مندرجہ ذیل
74
امور اپنے لئے ثابت کرتا ہے:
۱:...دعویٰ نبوّت کا اعلان۔
۲:...خدا کی طرف سے مبعوث کئے جانے کا اقرار۔
۳:...اپنے لئے لفظ نبی کا اقرار۔
۴:...وحی نبوّت کا اقرار۔
۵:...اپنے معجزات کا اقرار۔
۶:...اپنے کو نبی تسلیم کرانے کی دعوت۔
۷:...نبی معصوم ہونے کا اقرار۔
۸:...نہ ماننے والوں کو مجرم ٹھہرانا۔
۹:...ماننے اور نہ ماننے والوں کے درمیان تفریق۔
ذیل میں مرزا غلام احمد کی کتابوں سے مندرجہ بالا نکات کا علی الترتیب ثبوت پیش کیا جاتا ہے:
۱:...دعویٰ نبوّت کا اعلان:
۱:...’’سچا خدا وہی خدا ہے جس نے قادیان میں اپنا رسول بھیجا۔‘‘
(دافع البلاء ص:۱۱، روحانی خزائن ج:۱۸ ص:۱۳۲)
۲:...’’اور جس جس جگہ میں نے نبوّت یا رسالت سے انکار کیا ہے صرف ان معنوں سے کیا ہے کہ میں مستقل طور پر کوئی
شریعت لانے والا نہیں ہوں اور نہ میں مستقل طور پر نبی ہوں مگر ان معنوں سے کہ میں نے اپنے رسول مقتدا سے باطنی فیوض
حاصل کرکے اور اپنے لئے اس کا نام پاکر اس کے واسطے سے خدا کی طرف سے علم غیب پایا ہے رسول اور نبی ہوں، مگر بغیر
کسی جدید شریعت کے۔ اس طور کا نبی کہلانے سے میں نے کبھی انکار نہیں کیا
75
بلکہ انہی معنوں سے خدا نے مجھے نبی اور رسول کرکے پکارا ہے۔ سو اب بھی میں ان معنوں سے نبی اور رسول ہونے
سے انکار نہیں کرتا۔‘‘
(ایک غلطی کا ازالہ ص:۶،۷۔ روحانی خزائن ج:۱۸ ص:۲۱۱۔ مجموعہ اشتہارات ج:۳ ص:۴۳۵،۴۳۶۔ النبوۃ فی
الاسلام ص:۳۱۰۔ حقیقۃ النبوۃ ص:۲۶۴)
۳:...’’ہمارا دعویٰ ہے کہ ہم نبی اور رسول ہیں، اصل میں یہ نزاع لفظی ہے، خدا تعالیٰ جس کے ساتھ ایسا مکالمہ مخاطبہ
کرے کہ جو بلحاظ کمیت و کیفیت دوسروں سے بڑھ کر ہو، اور اس میں پیش گوئیاں بھی کثرت سے ہوں، اسے نبی کہتے ہیں اور یہ
تعریف ہم پر صادق آتی ہے، پس ہم نبی ہیں، ہاں یہ نبوّت تشریعی نہیں۔‘‘
آگے لکھا ہے:
’’بنی اسرائیل میں کئی ایسے نبی ہوئے ہیں جن پر کوئی کتاب نازل نہیں ہوئی۔ صرف خدا کی طرف سے پیش گوئیاں کرتے تھے،
جن سے موسوی دین کی شوکت و صداقت کا اظہار ہوتا، پس وہ نبی کہلائے یہی حال اس سلسلہ (احمدیہ) میں ہے۔‘‘
(ملفوظات مرزا قادیانی ج:۱۰ ص:۱۲۷ طبع ربوہ)
۴:...’’پس جیسا کہ میں نے بار بار بیان کردیا ہے کہ یہ کلام جو میں سناتا ہوں، یہ قطعی اور یقینی طور پر خدا کا
کلام ہے جیسا کہ قرآن اور توریت خدا کا کلام ہے اور میں خدا کا ظلّی اور بروزی طور پر نبی ہوں اور ہر ایک مسلمان کو
دینی امور میں میری اطاعت واجب ہے اور مسیح موعود ماننا واجب ہے۔‘‘
(تحفۃ الندوۃ ص:۷، روحانی خزائن ج:۱۹ص:۹۵)
۵:...’’اور میں اس خدا کی قسم کھاکر کہتا ہوں جس کے
76
ہاتھ میں میری جان ہے کہ اسی نے مجھے بھیجا ہے اور اسی نے میرا نام نبی رکھا ہے اور اسی نے مجھے مسیح موعود
کے نام سے پکارا ہے اور اس نے میری تصدیق کے لئے بڑے بڑے نشان ظاہر کئے ہیں جو تین لاکھ تک پہنچتے ہیں۔‘‘
(تتمہ حقیقۃ الوحی ص:۶۸، روحانی خزائن ج:۲۲ ص:۵۰۳)
۶:...’’میں مسیح موعود ہوں اور وہی ہوں جس کا نام سرور انبیاء نے نبی اللہ رکھا ہے۔‘‘
(نزول المسیح ص:۴۸، روحانی خزائن ج:۱۸ ص:۴۲۷)
۲:...خدا کی طرف سے مبعوث کئے جانے کا اقرار:
انبیائے کرام علیہم السلام دعویٰ نبوّت کے ساتھ اعلان کرتے ہیں کہ ان کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے مبعوث کیا گیا (یعنی
بھیجا گیا) ہے۔
اسی طرح مرزا غلام احمد قادیانی نے اپنے الہامات اور تحریروں میں سیکڑوں جگہ اعلان کیا ہے کہ اس کو خدا تعالیٰ کی
طرف سے بعہدۂ نبوّت مبعوث کیا گیا ہے۔ یہاں چند حوالے درج کئے جاتے ہیں، جن میں یہ اعلان وحی الٰہی کے حوالہ سے کیا
گیا ہے:
۱-۷:’’ھو الذی ارسل رسولہ بالھدی ودین الحق لیظھرہ علی الدین کلہ۔‘‘
(مرزا کا الہام)
’’خدا وہ خدا ہے جس نے اپنا رسول اور اپنا فرستادہ اپنی ہدایت اور سچے دین کے ساتھ بھیجا تا اس دین کو ہر قسم کے
دین پر غالب کرے۔‘‘
(حقیقۃ الوحی ص:۷۱، روحانی خزائن ج:۲۲ ص:۷۴، تذکرہ ص:۴۵، ۷۵، ۲۳۸، ۲۷۳، ۳۵۴، ۳۶۷، ۳۸۷، ۴۸۹، ۶۰۷، ۶۰۹،
۶۱۸ طبع چہارم ربوہ)
۲-۸:’’ خدا تعالیٰ کی وہ پاک وحی جو میرے پر نازل ہوتی
77
ہے۔ اس میں ایسے لفظ رسول اور مرسل اور نبی کے موجود ہیں نہ ایک دفعہ بلکہ صدہا دفعہ، پھر کیونکر یہ جواب
صحیح ہوسکتا ہے کہ ایسے الفاظ موجود نہیں ہیں بلکہ اس وقت تو پہلے زمانہ کی نسبت بہت تصریح اور توضیح سے یہ الفاظ
موجود ہیں اور براہین احمدیہ میں بھی جس کو طبع ہوئے بائیس برس ہوئے یہ الفاظ کچھ تھوڑے نہیں ہیں۔ چنانچہ وہ مکالمات
الٰہیہ جو براہین احمدیہ میں شائع ہوچکے ہیں۔ ان میں سے ایک یہ وحی اللہ ہے:
ھو الذی ارسل رسولہ بالھدی ودین الحق لیظھرہ علی الدین کلہ دیکھو صفحہ ۴۹۸براہین احمدیہ
اس میں صاف طور پر اس عاجز کو رسول کرکے پکارا گیا ہے۔‘‘
(مجموعہ اشتہارات ج:۳ ص:۴۳۱، ایک غلطی کا ازالہ ص:۲، روحانی خزائن ج:۲۲ ص:۲۰۶، النبوۃ فی الاسلام
ص:۳۰۷، حقیقۃ النبوۃ ص:۲۶۱)
’’اور مجھے بتلایا گیا تھا کہ تیری خبر قرآن اور حدیث میں موجود ہے اور تو ہی اس آیت کا مصداق ہے کہ ھو الذی ارسل رسولہ بالھدی ودین الحق لیظھرہ علی الدین کلہ۔‘‘
(اعجاز احمدی ص:۷، روحانی خزائن ج:۱۹ ص:۱۱۳)
۳-۹:’’وان یتخذونک الّا ھزوا اھذا الذی بعث اللہ۔‘‘
(مرزا کا الہام)
’’اور تجھے انہوں نے ٹھٹھے کی جگہ بنا رکھا ہے۔ وہ ہنسی کی راہ سے کہتے ہیں۔ کیا یہی ہے جس کو خدا نے مبعوث
فرمایا۔‘‘
(حقیقۃ الوحی ص:۸۱، روحانی خزائن ج:۲۲ ص:۸۴، تذکرہ ص:۸۹، ۱۸۶، ۲۴۰، ۲۷۷، ۳۶۲، ۳۶۹، ۳۸۸، ۴۸۷، ۶۳۹ طبع
چہارم ربوہ)
۴-۱۰: ’’وقالوا ان ھذا الّا اختلاق الم تعلم ان
78
اللہ علی کل شیء قدیر یلقی الروح علی من یشاء من عبادہ۔ اور کہیں گے کہ یہ تو ایک
بناوٹ ہے۔ اے معترض کیا تو نہیں جانتا کہ خدا ہر ایک بات پر قادر ہے۔ جس پر اپنے بندوں میں سے چاہتا ہے اپنی روح
ڈالتا ہے یعنی منصب نبوّت اس کو بخشتا ہے۔‘‘
۵-۱۱:’’انا ارسلنا الیکم رسولًا شاھدا علیکم کما ارسلنا الی فرعون رسولًا۔‘‘
’’ہم نے تمہاری طرف ایک رسول بھیجا ہے۔ اسی رسول کی مانند جو فرعون کی طرف بھیجا گیا تھا۔‘‘
(حقیقۃ الوحی ص:۱۰۱، روحانی خزائن ج:۲۲ ص:۱۰۵، تذکرہ ص:۶۱۰، ۶۱۲، ۶۵۷طبع چہارم ربوہ)
۶-۱۲: لاہوری جماعت کے بانی و امیر اول جناب محمد علی صاحب مرزا غلام احمد کے نبی کی حیثیت سے مبعوث ہونے کا اعلان
کرتے ہوئے لکھتے ہیں:
’’سورۃ الجمعہ میں آیا ہے:ھو الذی بعث فی الاُمیین رسولًا منھم یتلوا علیھم آیاتہ ویزکیھم
ویعلمھم الکتاب والحکمۃ وان کانوا من قبل لفی ضلال مبین وآخرین منھم لما یلحقوا بھم وھو العزیز الحکیم۔
ترجمہ:...خدا تو وہ ہے کہ جس نے انہی لوگوں میں یہ رسول مبعوث کیا کہ انہیں اس کی آیات سنائے اور
انہیں پاک بنائے اور کتاب و حکمت کی ان کو تعلیم دے گو وہ پہلے عیاں طور پر غلطی میں پڑے ہوئے تھے اور نیز آخری
زمانہ میں ایک ایسی قوم ہوگی جو ابھی ان میں شامل نہیں ہوئی۔ وہ قوم بھی انہی لوگوں کے ہمرنگ ہوگی اور ان میں بھی
اسی طرح نبی مبعوث ہوگا جو انہیں خدا کی آیات سنائے گا۔ اور انہیں پاک بنائے گا اور انہیں کتاب و حکمت کی تعلیم دے
گا۔
79
اور خدا غالب اور حکمت والا ہے۔‘‘
(ریویو آف ریلیجنز ج:۶ ص:۹۶ مارچ ۱۹۰۷ء)
’’آیت کریمہ میں جن لوگوں کے درمیان اس فارسی الاصل نبی کی بعثت لکھی ہے انہیں آخرین کہا گیا ہے اور یہی وہ لفظ
ہے جو بجنسہ یا جس کے مترادف الفاظ ان تمام پیش گوئیوں میں لکھے ہوئے ہیں جو مسیح موعود کے نزول کے متعلق ہیں۔‘‘
(ایضاً)
ان تمام حوالوں میں بعثت سے مراد بعثت بعہدۂ نبوّت ہے، چنانچہ لاہوری جماعت کے امیر اول محمد علی صاحب لکھتے ہیں:
۷-۱۳: ’’گزشتہ بحث میں قطعی اور یقینی طور پر ثابت ہوچکا ہے کہ زمانہ بعثت مصلح آخر الزمان یہی ہے اور ’’مسیح و
مہدی اور شخص فارسی الاصل‘‘ وغیرہ سب اسی مصلح کے نام ہیں، اور ٹھیک وقت پر حضرت مرزا غلام احمد صاحب قادیانی نے خدا
تعالیٰ کی طرف سے مامور ہوکر دعویٰ بھی کردیا ہے۔‘‘
(ریویو آف ریلیجنز ج:۶ نمبر:۳ ص:۹۷ مارچ ۱۹۰۷ء)
۳:...اپنے لئے لفظ نبی کا استعمال:
۱-۱۴: ’’اسی طرح اوائل میں میرا یہی عقیدہ تھا کہ مجھ کو مسیح بن مریم سے کیا نسبت ہے۔ وہ نبی ہے اور خدا کے بزرگ
مقربین سے ہے اور اگر کوئی امر میری فضیلت کی نسبت ظاہر ہوتا تو میں اس کو جزئی فضیلت قرار دیتا تھا مگر بعد میں جو
خدا تعالیٰ کی وحی بارش کی طرح میرے پر نازل ہوئی اس نے مجھے اس عقیدے پر قائم نہ رہنے دیا اور صریح طور پر نبی کا
خطاب مجھے دیا گیا مگر اس طرح سے کہ ایک پہلو سے نبی اور ایک پہلو سے امتی۔‘‘
(حقیقۃ الوحی ص:۱۴۹،۱۵۰، روحانی خزائن ج:۲۲ ص:۱۵۳، ۱۵۴)
80
۲-۱۵: ’’غرض اس حصہ کثیر وحی الٰہی اور امور غیبیہ میں اس اُمت میں سے میں ہی ایک فرد مخصوص ہوں اور جس قدر مجھ سے
پہلے اولیاء اور ابدال اور اقطاب اس اُمت میں سے گزر چکے ہیں ان کو یہ حصہ کثیر اس نعمت کا نہیں دیا گیا۔ پس اس وجہ
سے نبی کا نام پانے کے لئے میں ہی مخصوص کیا گیا۔ اور دوسرے تمام لوگ اس نام کے مستحق نہیں۔‘‘
(حقیقۃ الوحی ص:۳۹۱، روحانی خزائن ج:۲۲ ص:۴۰۶)
۳-۱۶: ’’میں اس خدا کی قسم کھاکر کہتا ہوں جس کے ہاتھ میں میری جان ہے کہ اسی نے مجھے بھیجا ہے اور اسی نے میرا نام
نبی رکھا ہے اور اسی نے مجھے مسیح موعود کے نام سے پکارا ہے۔‘‘
(تتمہ حقیقۃ الوحی ص:۶۸، روحانی خزائن ج:۲۲ ص:۵۰۳)
۴-۱۷: ’’ہمارا مذہب نہیں ہے کہ ایسی نبوّت پر مہر لگ گئی ہے، صرف اس نبوّت کا دروازہ بند ہے جو احکام و شریعت جدیدہ
ساتھ رکھتی ہو یا ایسا دعویٰ ہو جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی اتباع سے الگ ہوکر دعویٰ کیا جائے، لیکن ایسا شخص
جو ایک طرف اس کو خدا تعالیٰ اس کی وحی میں امتی بھی قرار دیتا ہے پھر دوسری طرف اس کا نام نبی بھی رکھتا ہے۔ یہ
دعویٰ قرآن شریف کے احکام کے مخالف نہیں ہے۔‘‘
(ضمیمہ براہین احمدیہ ص:۱۸۱، روحانی خزائن ج:۲۱ص:۳۵۲)
۴:...وحیٔ نبوّت کا اعلان:
مرزا غلام احمد قادیانی نے اس کا بھی برملا اعلان کیا ہے کہ اس پر جو وحی نازل ہوتی ہے وہ وحیٔ نبوّت ہے۔ چنانچہ
اپنے رسالہ اربعین میں وہ یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ جھوٹا مدعی
81
نبوّت ہلاک کیا جاتا ہے۔ اس پر ایک اعتراض کا جواب دیتے ہوئے لکھتے ہیں:
۱-۱۸: ’’اس مقام سے ثابت ہوتا ہے کہ خدا تعالیٰ کی تمام پاک کتابیں اس بات پر متفق ہیں کہ جھوٹا نبی ہلاک کیا جاتا
ہے۔ اب اس کے مقابل یہ پیش کرنا کہ اکبر بادشاہ نے نبوّت کا دعویٰ کیا یا روشن دین جالندھری نے دعویٰ کیا یا کسی اور
شخص نے دعویٰ کیا اور وہ ہلاک نہیں ہوئے۔ یہ ایک دوسری حماقت ہے جو ظاہر کی جاتی ہے۔ بھلا اگر یہ سچ ہے کہ ان لوگوں
نے نبوّت کے دعوے کئے اور تیئس برس تک ہلاک نہ ہوئے۔ تو پہلے ان لوگوں کی خاص تحریر سے ان کا دعویٰ ثابت کرنا چاہئے
اور وہ الہام پیش کرنا چاہئے جو الہام انہوں نے خدا کے نام پر لوگوں کو سنایا یعنی یہ کہا کہ ان لفظوں کے ساتھ میرے
پر وحی نازل ہوئی ہے کہ میں خدا کا رسول ہوں۔ اصل لفظ ان کی وحی کے کامل ثبوت کے پیش کرنے چاہئیں کیونکہ ہماری تمام
بحث وحی نبوّت میں ہے۔ جس کی نسبت یہ ضروری ہے کہ بعض کلمات پیش کرکے یہ کہا جائے کہ یہ خدا کا کلام ہے جو ہمارے پر
نازل ہوا ہے۔ غرض پہلے تو یہ ثبوت دینا چاہئے کہ کون سا کلام الٰہی اس شخص نے پیش کیا ہے جس نے نبوّت کا دعویٰ کیا۔
پھر بعد اس کے یہ ثبوت دینا چاہئے کہ جو تیٔس برس تک کلام الٰہی اس پر نازل ہوتا رہا وہ کیا ہے یعنی کل وہ کلام جو
کلام الٰہی کے دعوے پر لوگوں کو سنایا گیا ہے، پیش کرنا چاہئے جس سے پتہ لگ سکے کہ تیٔس برس تک متفرق وقتوں میں وہ
کلام اس غرض سے پیش کیا گیا تھا کہ وہ خدا کا کلام ہے یا ایک مجموعی کتاب کے طور پر قرآن شریف کی طرح اس دعوے سے
شائع کیا گیا تھا کہ یہ خدا کا کلام ہے جو میرے پر نازل ہوا ہے۔ جب تک ایسا ثبوت نہ ہو تب تک بے ایمانوں کی طرح
قرآن
82
شریف پر حملہ کرنا اور آیت ’’لو تقول‘‘ کو ہنسی ٹھٹھے میں اڑانا ان شریر لوگوں کا کام ہے جن کو خدائے
تعالیٰ پر بھی ایمان نہیں اور صرف زبان سے کلمہ پڑھتے اور باطن میں اسلام سے بھی منکر ہیں۔‘‘
(اربعین ۳۔۴ ص:۱۱، روحانی خزائن ج:۱۷ص:۴۷۷)
مرزائی وحی واجب الایمان:
مرزا قادیانی اپنی وحی کو توریت، انجیل اور قرآن کی طرح مقدس اور یقینی سمجھتا ہے۔ اس پر ایمان لانے کو فرض اور اس
میں شک و شبہ کے اظہار کو کفر قرار دیتا ہے۔ بے شمار حوالوں میں سے مندرجہ ذیل چند عبارتیں ملاحظہ فرمائیے:
۱-۱۹: ’’مجھے اپنی وحی پر ایسا ہی ایمان ہے جیسا کہ تورات اور انجیل، قرآن کریم پر۔‘‘
(اربعین ج:۴ ص:۲۵)
-
’’آنچہ من بشنوم زوحی خدا
بخدا پاک دانمش زخطا
-
ہمچو قرآن منزہ اش دانم
از خطا ہا ہمیں است ایمانم
-
بخدا ہست ایں کلام مجید
از دہان خدائے پاک وحید
-
آں یقینے کہ بود عیسیٰ را
بر کلامے کہ شد برو القا
-
داں یقین کلیم بر تورات
واں یقین ہائے سیّد السادات
-
کم نیم زاں ہمہ بروئے یقیں
ہر کہ گوید دروغ ہست لعین۔‘‘
83
ترجمہ:
۱:...میں جو خدائی وحی سنتا ہوں، خدا کی قسم میں اس کو خطا اور غلطی سے پاک سمجھتا ہوں۔
۲:...میں اس کو قرآن کی طرح خطا سے منزہ سمجھتا ہوں، یہی میرا ایمان ہے۔
۳:...خدا کی قسم! یہ کلام مجید خدائے واحد کے منہ سے نکلا ہوا ہے۔
۴...جو یقین کہ عیسیٰ کو اپنے اوپر نازل شدہ کلام پر تھا۔
۵:...اور جو یقین موسیٰ کو تورات پر تھا اور جو یقین محمدؐ عربی کو قرآن پر تھا۔
۶:...لیکن ان میں سے کسی سے کم نہیں ہوں، جو غلط اور جھوٹ کہے وہ ملعون ہے۔ ‘‘
(درثمین ص:۱۷۲، نزول المسیح ص:۹۹، روحانی خزائن ج:۱۸ ص:۴۷۷)
۳-۲۱: ’’اور میں جیسا کہ قرآن شریف کی آیات پر ایمان رکھتا ہوں ایسا ہی بغیر فرق ایک ذرہ کے خدا کی اس کھلی کھلی
وحی پر ایمان لاتا ہوں جو مجھے ہوئی۔ جس کی سچائی اس کے متواتر نشانوں سے مجھ پر کھل گئی ہے۔ اور میں بیت اللہ میں
کھڑے ہوکر یہ قسم کھاسکتا ہوں کہ وہ پاک وحی جو میرے پر نازل ہوتی ہے وہ اسی خدا کا کلام ہے جس نے حضرت موسیٰ ؑاور
حضرت عیسیٰ ؑ اور حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم پر اپنا کلام نازل کیا تھا۔‘‘
(ایک غلطی کا ازالہ ص:۸، روحانی خزائن ج:۱۸ ص:۲۱۰، ضمیمۃ النبوۃ فی الاسلام ص:۳۱۰، حقیقۃ النبوۃ
ص:۲۴۶، مجموعہ اشتہارات ج:۳ ص:۴۳۵)
مرزا قادیانی کی وحی کی جو صفات ہم نے اوپر کے عنوانات کے تحت باحوالہ ذکر
84
کی ہیں، ان کو دیکھنے کے بعد کسی دانش مند کو ایک لمحہ کے لئے بھی اس میں شک و شبہ نہیں رہ جاتا کہ مرزا
قادیانی وحی نبوّت، وحی شریعت اور وحی معصوم کا مدعی ہے اور اس پر ایمان لانا ضروری سمجھتا ہے۔ انصاف کیجئے کہ اس کے
باوجود یہ کہنا کہ مرزا نے نبوّت کا دعویٰ نہیں کیا، کہاں تک قرین عقل ہے:
۴-۲۲: ’’یہ مکالمہ الٰہیہ جو مجھ سے ہوتا ہے یقینی ہے۔ اگر میں ایک دم کے لئے بھی اس میں شک کروں تو کافر ہوجاؤں
اور میری آخرت تباہ ہوجائے۔ وہ کلام جو میرے پر نازل ہوا یقینی اور قطعی ہے اور جیسا کہ آفتاب اور اس کی روشنی کو
دیکھ کر کوئی شک نہیں کرسکتا کہ یہ آفتاب اور یہ اس کی روشنی ہے۔ ایسا ہی اس کلام میں بھی شک نہیں کرسکتا جو خدا
تعالیٰ کی طرف سے میرے پر نازل ہوتا ہے۔ اور میں اس پر ایسا ہی ایمان لاتا ہوں جیسا کہ خدا کی کتاب پر۔ یہ تو ممکن
ہے کہ کلام الٰہی کے معنی کرنے میں بعض مواقع میں ایک وقت تک مجھ سے خطا ہوجائے مگر یہ ممکن نہیں کہ میں شک کروں کہ
وہ خدا کا کلام نہیں۔‘‘
(تجلیات الٰہیہ ص:۲۰ طبع ربوہ، روحانی خزائن ج:۲۰ ص:۴۱۲)
۵-۲۳: ’’میں خدا تعالیٰ کی تیٔس برس کی متواتر وحی کو کیونکر رد کرسکتا ہوں۔ میں اس کی پاک وحی پر ایسا ہی ایمان
لاتا ہوں جیسا کہ ان تمام خدا کی وحیوں پر ایمان لاتا ہوں جو مجھ سے پہلے ہوچکی ہیں۔‘‘
(حقیقۃ الوحی ص:۱۵۰، روحانی خزائن ج:۲۲ ص:۱۵۴)
۶-۲۴: ’’مرزا خلیفۃ اللہ ہے اس پر ایمان ضروری ہے اور ان پر اعتراض کرنا موجب سلب ایمان ہے۔‘‘
(ملخص ملفوظات ج:۷ ص:۳۲۶)
85
نزول وحی کی کیفیت:
نزول وحی کے وقت انبیائے علیہم السلام پر ایک خاص کیفیت طاری ہوا کرتی ہے۔ مرزائی صاحبان مرزا صاحب کی وحی میں اس
خاص کیفیت وحی کے بھی مدعی ہیں۔ چنانچہ مرزا صاحب پر نزول وحی کی کیفیت کو بیان کرتے ہوئے جماعت لاہور کے بانی و
قائد اول مولوی محمد علی صاحب لکھتے ہیں:
۱-۲۵: ’’اس میں کچھ شک نہیں کہ سپریچونلسٹ تکلف سے اپنے اندر وہ ربودگی کی حالت پیدا کرنا چاہتے ہیں جو نبی پر نزول
وحی کے وقت منجانب اللہ طاری ہوجاتی ہے۔ خدا کے فضلوں میں سے جو سلسلہ میں شامل ہونے سے ہم لوگوں کو حاصل ہوئے ہیں،
ایک یہ بڑا فضل ہے کہ آج ایسے امور کے لکھنے کے لئے ہمیں اٹکلوں سے کام نہیں لینا پڑتا بلکہ ان حالات کو ہم بچشم
خود حضرت مسیح موعود کی ذات میں مشاہدہ کر رہے ہیں۔ کوئی شخص جب اس سلسلے میں شامل نہیں، وہ دعویٰ سے اس مضمون پر
قلم نہیں اٹھاسکتا کیونکہ وہ خود اس بات سے بے خبر ہے کہ نزول وحی کس طرح ہوتا ہے جاننا چاہئے کہ نزول وحی کے وقت
عموماً انبیاء پر ایک حالت ربودگی کی طاری ہوجاتی ہے اگرچہ بعض وقت عین بیداری میں بھی نزول وحی یا مکاشفہ ہوجاتا
ہے۔ اس ربودگی کی وجہ یہ ہوتی ہے کہ چونکہ خدا تعالیٰ کا کلام پاک دوسرے عالم سے آتا ہے اس لئے جب تک اس طرف سے
انقطاع کلی کرکے دوسرے عالم میں انسان اپنے آپ کو نہ پائے۔ اس وقت تک وہ دوسرے عالم کی حالت کو مشاہدہ بھی نہیں
کرپاسکتا مگر یہ ربودگی کی حالت ایسی ہوتی ہے کہ وہ معمولی اسباب میں سے کسی سبب کی طرف منسوب نہیں کی جاسکتی۔ بلکہ
یکایک ہی یہ حالت آتی
86
ہے اور جب نزول وحی ہوچکتا ہے تو پھر خود ہی وہ حالت جاتی رہتی ہے۔‘‘
(مولانا محمد علی صاحب امیر جماعت لاہور کا مضمون، بعنوان اسلام سپریچوئلزم اور مخفی سوسائٹی مندرجہ
ریویو آف ریلیجنز ج:۴ ص:۱۳۳ اپریل ۱۹۰۶ء)
اس چشم دید شہادت سے معلوم ہوا کہ مولوی محمد علی صاحب امیر جماعت لاہور کے نزدیک مرزا صاحب پر بھی ایسی کیفیت سے
وحی نازل ہوتی تھی جس طرح پہلے انبیائے کرام پر۔
نزولِ جبریلؑ:
انبیائے کرام پر وحی کا نزول بذریعہ جبریل علیہ السلام ہوتا ہے، اور محمد علی لاہوری صاحب نے نزول جبریل کو وحی
نبوّت کا لازمی خاصہ قرار دیا ہے، چنانچہ لکھتے ہیں:
۱-۲۶: ’’انبیاء پر وحی نبوّت جبریل کا لے کر آنا اور غیرنبی یا امتی پر نزول جبریل نہ ہونا اُمتِ محمدیہ میں ایک
مسلم امر ہے۔‘‘
اب ملاحظہ فرمائیے کہ مرزا صاحب اپنے اوپر جبریل علیہ السلام کے نزول کے بھی مدعی ہیں:
۲-۲۷:’’جائنی ائیل واختار وادار اصبعہ واشار ان وعد اللہ اتی، فطوبی لمن وجد ورائی۔‘‘
میرے پاس آئل آیا اور اس نے مجھے چن لیا، اور اپنی انگلی کو گردش دی اور یہ اشارہ کیا کہ خدا کا وعدہ آگیا، پس
مبارک جو اس کو پاوے اور دیکھے۔
اس جگہ آئل خدا تعالیٰ نے جبرائیل کا نام رکھا ہے اس لئے کہ بار بار رجوع کرتا ہے۔‘‘
(حقیقۃ الوحی ص:۱۰۳، روحانی خزائن ج:۲۲ ص:۱۰۶)
87
مرزا صاحب کے فرزند اکبر مرزا محمود احمد کا بیان ہے کہ:
۳-۲۸: ’’میری عمر جب نو یا دس برس کی تھی میں اور ایک طالب علم ہمارے گھر میںکھیل رہے تھے۔ وہیں ایک الماری میں ایک
کتاب پڑی تھی جس پر نیلا جزدان تھا۔ وہ ہمارے دادا صاحب کے وقت کی تھی۔ نئے نئے ہم پڑھنے لگے تھے۔ اس کتاب کو جو
کھولا تو اس میں لکھا ہوا تھا کہ اب جبرائیل نازل نہیں ہوتا۔ میں نے کہا یہ غلط ہے، میرے ابا پر تو نازل ہوتا ہے مگر
اس لڑکے نے کہا کہ جبرائیل نہیں آتا کیونکہ اس کتاب میں لکھا ہے۔ ہم میں بحث ہوگئی۔ آخر ہم دونوں مرزا صاحب کے پاس
گئے اور دونوں نے اپنا اپنا بیان پیش کیا۔ آپ نے فرمایا کتاب میں غلط لکھا ہے۔ جبرائیل اب بھی آتا ہے۔‘‘
(تقریر مرزا محمود بن مرزا قادیانی مندرجہ الفضل قادیان۔ ج:۹ نمبر:۷۹ ص:۶ مؤرخہ ۱۰؍اپریل ۱۹۲۲ء)
لاہوری جماعت کے بانی و قائد اول مسٹر محمد علی، مرزا غلام احمد پر نزول جبریل کے منکروں کو جواب دیتے ہوئے لکھتے
ہیں کہ:
۴-۲۹: ’’جس طرح آج ایک مسلمان بلکہ مصلح کہلانے والا یہ کہتا ہے کہ جبرائیل کو ایسا کلام لانے کی ضرورت نہیں ہے،
جو کسی انسان کے کلام میں پہلے سے موجود ہے۔ اسی طرح کفار کہتے تھے بلکہ آج تک ان کے وارث عیسائی صاحبان یہی کہتے
ہیں کہ جب یہ قصے پہلے موجود تھے تو جبرئیل کی ان کو وحی الٰہی کے طور پر لانے کی کیا ضرورت تھی۔ مگر افسوس ان
مسلمانوں پر جو حضرت مرزا صاحب کی مخالفت میں اندھے ہوکر انہی اعتراضوں کو دہرا رہے ہیں جو عیسائی، آنحضرت صلی اللہ
علیہ وسلم پر کرتے ہیں۔ بعینہٖ اسی طرح جس طرح عیسائی، آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی مخالفت میں اندھے
88
ہوکر ان اعتراضوں کو مضبوط کر رہے ہیں اور دہرا رہے ہیں۔ جو یہودی حضرت عیسیٰ علیہ السلام پر کرتے تھے، سچے
نبی کا یہی ایک بڑا بھاری امتیازی نشان ہے کہ جو اعتراض اس پر کیا جائے گا وہ سارے نبیوں پر پڑے گا۔ جس کا نتیجہ یہ
ہوتا ہے کہ جو شخص ایسے مامور من اللہ کو رد کرتا ہے وہ گویا کل سلسلہ نبوۃ کو رد کرتا ہے۔ اگر یہ لوگ کچھ سوچ سمجھ
کر اعتراض کریں تو نہ آپ ٹھوکر کھائیں نہ دوسروں کو گمراہ کرنے والے ٹھہریں۔‘‘
(ریویو آف ریلیجنز ج:۵ نمبر:۸ ص:۳۱۸ اگست ۱۹۰۶ء)
۵:...مرزا صاحب کے معجزات:
انبیائے کرام علیہم السلام میں ایک امتیاز یہ ہے کہ ان کے دعویٔ نبوّت کو ثابت کرنے کے لئے ایسے امور ان کے ہاتھ پر
ظاہر کئے جاتے ہیں جو انسانی قدرت سے خارج ہوں اور جنہیں دیکھ کر مخلوق کو ان کی صداقت و حقانیت اور منجانب اللہ
ہونے کا یقین ہوجاتا ہے۔ اسلامی اصطلاح میں اسے نشان یا معجزہ کہتے ہیں۔ مرزا صاحب لکھتے ہیں:
۱-۳۰: ’’دنیا میں ہزاروں آدمی ہیں کہ الہام اور مکالمہ الٰہیہ کا دعویٰ کرتے ہیں مگر صرف مکالمہ الٰہیہ کا دعویٰ
کچھ چیز نہیں ہے جب تک اس قول کے ساتھ جو خدا کا سمجھا گیا ہے۔ خدا کا فعل یعنی معجزہ نہ ہو۔‘‘
(تتمہ حقیقۃ الوحی ص:۵۹، روحانی خزائن ج:۲۲ ص:۴۹۳)
چونکہ معجزہ نبوّت کی خصوصیت ہے اس لئے جو شخص معجزہ نمائی کا دعویٰ کرے وہ درحقیقت نبوّت کا مدعی ہے۔ اس لئے معجزہ
نمائی کا دعویٰ کفر ہے۔
ملا علی قاریؒ شرح فقہ اکبر میں لکھتے ہیں:
’’التحدی فرع دعوی النبوۃ، ودعوی النبوۃ بعد نبینا صلی اللہ علیہ وسلم کفر بالْإجماع۔‘‘
(شرح فقہ اکبر ص:۲۰۲)
89
ترجمہ:...’’معجزہ دکھانے کا چیلنج کرنا فرع ہے، دعویٔ نبوّت کی۔ اور ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد دعویٔ
نبوّت بالاجماع کفر ہے۔‘‘
اور قصیدہ بدأ الامالی کی شرح میں لکھتے ہیں:
’’المعجزۃ شرطھا دعوی النبوۃ بخلاف الکرامۃ حیث یقر صاحبھا بالمتابعۃ۔ فان الولی یخرج بدعوی النبوۃ عن
الْإسلام فضلا عن الولَایۃ۔‘‘
(ضوء المعالی شرح قصیدہ بدأ الامالی ص:۲۳)
ترجمہ:...’’بے شک معجزہ کے لئے دعویٔ نبوّت شرط ہے۔ بخلاف کراُمت کے کہ صاحب کراُمت نبوّت کا مدعی نہیں ہوتا۔
کیونکہ ولی نبوّت کا دعویٰ کرکے صرف ولایت ہی سے نہیں بلکہ اسلام سے بھی خارج ہوجاتا ہے۔‘‘
مرزا صاحب کو بھی دعویٰ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ان کی نبوّت و رسالت کو ثابت کرنے کے لئے انہیں بے شمار معجزے عطا کئے
ہیں، مرزا صاحب کی سینکڑوں عبارتوں میں سے یہاں چند جملے نقل کئے جاتے ہیں، جن سے ان کے معجزات کی شان و شوکت اور ان
کی رسالت و نبوّت کی عظمت کا اندازہ ہوسکے گا۔
۲-۳۱: ’’اور خدا تعالیٰ نے اس بات کے ثابت کرنے کے لئے کہ میں اس کی طرف سے ہوں، اس قدر نشان دکھلائے ہیں کہ اگر وہ
ہزار نبی پر تقسیم کئے جائیں تو ان کی بھی ان سے نبوّت ثابت ہوسکتی ہے لیکن چونکہ یہ آخری زمانہ تھا، اور شیطان کا
مع اپنی تمام ذریت کے آخری حملہ تھا۔ اس لئے خدا نے شیطان کو شکست دینے کے لئے ہزارہا نشان ایک جگہ جمع کر دیئے
لیکن پھر بھی جو لوگ انسانوں میں سے شیطان ہیں، وہ نہیں مانتے(لاہوری نہیں مانتے
90
اور قادیانی تشریعی نہیں مانتے، اس لئے بقول مرزا کے دونوں فریق انسانوں میں سے شیطان ہیں...ناقل)۔‘‘
(چشمہ معرفت ص:۳۱۷، روحانی خزائن ج:۲۳ص:۳۳۲)
مرزا صاحب کا دعویٰ ہے کہ جو زلزلے، طاعون اور دیگر آفات ان کے زمانے میں نازل ہوئیں وہ بھی ان کی رسالت و نبوّت
کا معجزہ اور نشان ہے۔ اس سلسلے میں بھی ان کے ایک دو اقتباس ملاحظہ فرمائیے:
۳-۳۲: ’’خدا تعالیٰ کے تمام نبی اس بات پر متفق ہیں کہ عادت اللہ ہمیشہ سے اس طرح پر جاری ہے کہ جب دنیا ہر ایک قسم
کے گناہ کرتی ہے اور بہت سے گناہ ان کے جمع ہوجاتے ہیں تب اس زمانے میں خدا اپنی طرف سے کسی کو مبعوث فرماتا ہے اور
کوئی حصہ دنیا کا اس کی تکذیب کرتا ہے، تب اس کا مبعوث ہونا شریر لوگوں کی سزا دینے کے لئے بھی جو پہلے مجرم ہوچکے
ہیں، ایک محرک ہوجاتا ہے اور جو شخص اپنے گزشتہ گناہوں کی سزا پاتا ہے۔ اس کے لئے اس بات کا علم ضروری نہیں کہ اس
زمانہ میں خدا کی طرف سے کوئی نبی یا رسول بھی موجود ہے۔‘‘
(حقیقۃ الوحی ص:۱۶۰،۱۶۱، روحانی خزائن ج:۲۲ ص:۱۶۴،۱۶۵)
۴-۳۳: ’’سان فرانسسکو وغیرہ مقامات کے رہنے والے جو زلزلہ اور دوسری آفات سے ہلاک ہوگئے ہیں۔ اگرچہ اصل سبب ان پر
عذاب نازل ہونے کا ان کے گزشتہ گناہ تھے۔ مگر یہ زلزلے ان کو ہلاک کرنے والے میری سچائی کا ایک نشان تھے۔ کیونکہ
قدیم سنت اللہ کے موافق شریر لوگ کسی رسول کے آنے کے وقت ہلاک کئے جاتے ہیں۔‘‘
(حقیقۃ الوحی ص:۱۶۱، روحانی خزائن ج:۲۲ ص:۱۶۵)
91
۵-۳۴: ’’یاد رہے کہ خدا کے رسول کی خواہ کسی حصہ زمین میں تکذیب ہو، مگر اس تکذیب کے وقت دوسرے مجرم بھی پکڑے جاتے
ہیں جو اور ملکوں کے رہنے والے ہیں جن کو اس رسول کی خبر بھی نہیں جیسا کہ نوحؑ کے وقت میں ہوا (یعنی وہی بات کہ کرے
داڑھی والا، پکڑا جائے مونچھوں والا...ناقل)۔‘‘
(حقیقۃ الوحی ص:۶۱، روحانی خزائن ج:۲۲ ص:۱۶۵)
۶-۳۵: ’’سو یاد رہے کہ جب خدا کے کسی مرسل کی تکذیب کی جاتی ہے، خواہ وہ تکذیب کوئی خاص قوم کرے یا کسی خاص حصہ
زمین میں ہو، مگر خدا تعالیٰ کی غیرت عام عذاب نازل کرتی ہے۔‘‘
(حقیقۃالوحی ص:۱۶۲، روحانی خزائن ج:۲۲ ص:۱۶۷)
۷-۳۶: ’’میں دیکھتا ہوں کہ خدا تعالیٰ کا فضل ایسے طور سے میرے شامل حال ہے کہ میری اتمام حجت کے لئے اور اپنے نبی
کریم کی اشاعت دین کے لئے خدا تعالیٰ نے وہ سامان مقرر کر رکھے ہیں کہ پہلے اس سے کسی نبی کو میسر نہیں آئے تھے۔‘‘
(حقیقۃ الوحی ص:۱۶۶، روحانی خزائن ج:۲۲ ص:۱۷۱)
۸-۳۷: ’’دیکھو موجودہ زمانے میں خدا نے اتنی کثرت سے زبردست نشانات کا ذخیرہ جمع کردیا ہے اور ایسے ایسے اسباب مہیا
کردئیے ہیں کہ اگر ایک لاکھ نبی بھی ان نشانات سے اپنی نبوّت کا ثبوت کرنا چاہے تو کرسکے۔‘‘
(ملفوظات ج:۱۰ ص:۲۲۸ طبع ربوہ)
۹-۳۸: ’’ان چند سطروں میں جو پیش گوئیاں ہیں وہ اس قدر نشانوں پر مشتمل ہیں جو دس لاکھ سے زیادہ ہوں گے اور نشان
بھی ایسے کھلے کھلے ہیں جو اول درجہ پر خارق عادت ہیں۔‘‘
(براہین حصہ پنجم ص:۵۶، روحانی خزائن ج:۲۱ص:۷۲)
92
۱۰-۳۹: ’’اور اگر خطوط بھی اس کے ساتھ شامل کئے جائیں جن کی کثرت کی خبر بھی قبل از وقت گمنامی کی حالت میں دی گئی
تھی تو شاید یہ اندازہ کروڑ تک پہنچ جائے گا مگر ہم صرف مالی مدد اور بیعت کنندوں کی آمد پر کفایت کرکے ان نشانوں
کو تخمیناً دس لاکھ نشان قرار دیتے ہیں۔‘‘
(براہین حصہ پنجم ص:۵۸، روحانی خزائن ج:۲۱ص:۷۵)
لاہوری جماعت کے پہلے بانی و قائد جناب مسٹر محمد علی صاحب، مرزا صاحب کے معجزات کی تصدیق اور ان سے مرزا صاحب کی
نبوّت کا ثبوت پیش کرتے ہوئے لکھتے ہیں:
۱۱-۴۰: ’’ایسا ہی ایک نبی اس وقت بھی خدا تعالیٰ نے مبعوث فرمایا۔ لیکن لوگوں نے اسی طرح اس کا انکار کیا جیسا کہ
پہلے نبیوں کا۔ کاش کہ یہ لوگ اس وقت غور کرتے اور سوچتے کہ کیا وہ نشان ان کو نہیں دکھلائے گئے جو کوئی انسان نہیں
دکھلا سکتا اور کیا وہ اسی طرح پر گناہ سے نجات نہیں دیتا۔ جس طرح پہلے نبیوں نے دی اور ایک ہمہ علم اور ہمہ طاقت
ہستی کے متعلق وہی یقین ان کے لئے دلوں میں نہیں پیدا کرتا جو پہلی امتوں میں پیدا کیا گیا۔ ایسا نبی مرزا غلام احمد
قادیانی ہیں جو مسیح موعود ہونے کا دعویٰ کرتے ہیںجو ہزاروں نشان اپنی تصدیق میں دکھلا چکے ہیں۔‘‘
(ریویو آف ریلیجنز ج:۳ نمبر:۷ ص:۲۴۸ جولائی ۱۹۰۴ء)
۱۲-۴۱: ’’بلکہ سچ تو یہ ہے کہ اس نے اس قدر معجزات کا دریا رواں کردیا ہے کہ باستثنا ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم
کے باقی تمام انبیاء علیہم السلام میں ان کا ثبوت اس کثرت کے ساتھ قطعی اور یقینی طور پر محال ہے۔ اور خدا نے اپنی
حجت پوری کردی ہے اور اب
93
چاہے کوئی قبول کرے یا نہ کرے۔‘‘
(تتمہ حقیقۃ الوحی ص:۱۳۶، روحانی خزائن ج:۲۲ ص:۵۷۴)
۱۳-۴۲: ’’اور خدا تعالیٰ میرے لئے اس کثرت سے نشان دکھلا رہا ہے کہ اگر نوح کے زمانہ میں وہ نشان دکھلائے جاتے تو
وہ لوگ غرق نہ ہوتے۔‘‘
(تتمہ حقیقۃ الوحی ص:۱۳۷، روحانی خزائن ج:۲۲ ص:۵۷۵)
یہاں ہمیں اس امر سے بحث نہیں کہ مرزا صاحب جن امور کو ’’معجزات‘‘ کے نام سے موسوم کرتے ہیں، وہ واقعتا معجزہ ہیں
بھی یا نہیں؟ اور یہ کہ ان سے ان کی رسالت و نبوّت ثابت بھی ہوتی ہے یا نہیں؟ یہاں محل غور صرف یہ امر ہے کہ مرزا
صاحب کس طرح اصرار و تکرار کے ساتھ نبوّت و رسالت کا دعویٰ کرتے ہیں، پھر کس طرح اس کے لئے ’’وحی الٰہی‘‘ کا بارش کی
طرح نازل ہونا بیان کرتے ہیں، پھر کس طرح تحدی کے ساتھ اپنی رسالت و نبوّت کے ثبوت میں دنیا کے سامنے اپنے معجزات کی
طویل فہرست پیش کرتے ہیں، اور کس طرح اپنے کو تمام انبیائے کرامؑ سے برتری اور فوقیت کا ادعا کرتے ہیں، اور کس طرح
اپنے کو تمام انبیائے کرام کے معیار پر بار بار پیش کرتے ہیں اور جماعت لاہور کے امیر کس طرح مرزا صاحب کے معجزات کو
پیش کرکے ان کی نبوّت پر استدلال کرتے ہیں، اس کے باوجود اگر کوئی شخص یہ دعویٰ کرتا ہے کہ مرزا صاحب نے سرے سے
نبوّت و رسالت کا دعویٰ درحقیقت کیا ہی نہیں، تو فرمائیے کہ وہ حقائق کی دنیا میں رہتا ہے؟
۶:...اپنے کو نبی تسلیم کرانے کی دعوت:
انبیائے کرام علیہم السلام لوگوں کو اپنی نبوّت و رسالت کے ماننے کی دعوت دیتے ہیں۔ ان کی نقالی کرتے ہوئے مرزا
قادیانی نے سینکڑوں جگہ اپنی رسالت و نبوّت کو منوانے کی دعوت دی ہے، چند حوالے ملاحظہ فرمائیں:
۱-۴۳: ’’وقل یا ایھا الناس انی رسول اللہ
94
الیکم جمیعا۔‘‘ (تذکرہ ص:۳۵۲ طبع چہارم ربوہ) (اور کہہ کہ اے لوگو! میں تم سب کی طرف خدا کا رسول ہوکر آیا ہوں۔)
۲-۴۲: ’’انا ارسلنا الیکم رسولا شاھدا علیکم کما ارسلنا الی فرعون رسولا۔‘‘ (حقیقۃ الوحی ص:۱۰۱، روحانی خزائن ج:۲۲ ص:۱۰۵، تذکرہ ص: ۶۱۰، ۶۱۲، ۶۵۷ طبع چہارم ربوہ) (ہم نے تمہاری طرف ایک رسول بھیجا ہے، اسی رسول کی مانند جو فرعون کی طرف بھیجا گیا تھا۔)
۳-۴۵: ’’قل جائکم نور من اللّٰہ فلا تکفروا ان کنتم مؤمنین۔‘‘ (تذکرہ
ص:۶۳۷ طبع چہارم ربوہ) (کہہ تمہارے پاس خدا کا نور آیا ہے پس اگر مؤمن ہو تو انکار مت
کرو۔)
۴-۴۶: ’’مبارک وہ جس نے مجھے پہچانا، میں خدا کی سب راہوں میں سے آخری راہ ہوں اور میں اس کے سب نوروں میں سے
آخری نور ہوں، بدقسمت ہے وہ جو مجھے چھوڑتا ہے کیونکہ میرے بغیر سب تاریکی ہے۔‘‘
(کشتی نوح ص:۵۶، روحانی خزائن ج:۱۹ص:۶۱)
۵-۴۶- الف: ’’اس عمارت میں ایک اینٹ کی جگہ خالی تھی، یعنی منعم علیہ پس خدا نے ارادہ فرمایا کہ اس پیش گوئی کو
پورا کرے اور آخری اینٹ کے ساتھ بنا کو کمال تک پہنچاوے، پس میں وہی اینٹ ہوں.........۔ اور میں منعم علیہم گروہ
میں سے فرد اکمل کیا گیا ہوں۔‘‘
(خطبہ الہامیہ ص:۱۷۷،۱۷۸، روحانی خزائن ج:۱۶ ص:ایضاً)
۷:...مرزا صاحب معصوم ہیں؟
اسلامی عقیدہ کے مطابق حضرات انبیائے کرام علیہم السلام کا ایک خاص امتیاز یہ
95
ہے کہ وہ خدا تعالیٰ کی نافرمانی سے معصوم ہوتے ہیں۔ ٹھیک انہی کے طرز پر مرزا صاحب کو بھی معصوم ہونے کا
دعویٰ ہے:
۱-۴۷:’’ما انا الّا کالقرآن وسیظھر علی یدی ماظھر من الفرقان۔‘‘ (تذکرہ
ص:۶۷۴طبع چہارم) (اور میں تو بس قرآن ہی کی طرح ہوں اور عنقریب میرے ہاتھ پر ظاہر ہوگا جو
کچھ فرقان سے ظاہر ہوا۔)
قرآن کریم مسلمانوں کی نہایت مقدس مذہبی کتاب ہے جسے خود مرزا صاحب کے پیرو بھی محفوظ عن الخطا سمجھتے ہیں اور
مرزا صاحب اپنے تقدس کو قرآن کے مثل ثابت کرتے ہیں:
۲-۴۸:’’نحن نزلناہ وانا لہ لحافظون۔‘‘ (تذکرہ ص:۱۰۷ طبع چہارم
ربوہ) (ہم نے اس کو اتار ہے اور ہم ہی اس کے محافظ ہیں۔)
یہ قرآن کریم کی آیت ہے، جسے مرزا صاحب نے معمولی تصرف کے ساتھ اپنی ذات پر چسپاں کیا ہے، گویا جس طرح قرآن منزل
من اللہ ہے اور اللہ تعالیٰ نے ہر خطا و خلل سے اس کی حفاظت کا وعدہ فرمایا ہے، ٹھیک وہی تقدس مرزا صاحب کو بھی حاصل
ہے۔
۳-۴۹:’’وما ینطق عن الھوی ان ھو الا وحی یوحی۔‘‘ (تذکرہ ص:۳۷۸،۳۹۴، طبع
چہارم ربوہ) (اور وہ اپنی خواہش سے نہیں بولتا یہ تو وحی ہے جو اس پر نازل کی جاتی
ہے۔)
یہ بھی قرآن کریم کی آیت ہے جو مرزا صاحب نے اپنی ذات پر چسپاں کی ہے اور جس سے منشا یہ ہے کہ مرزا صاحب ہر خواہش
نفس سے بھی معصوم ہیں۔
۴-۵۰:’’اعمل ما شئت فانی قد غفرت لک انت منی بمنزلۃ لا یعلمھا الخلق۔‘‘ (تذکرہ ص:۳۶۴ طبع چہارم ربوہ) (اور جو کچھ تو چاہے کر، میں نے تجھے بخشا، تو مجھ سے
وہ
96
منزلت رکھتا ہے جس کی لوگوں کو خبر نہیں۔)
چونکہ مرزا غلام احمد نے اپنے آپ کو نبی معصوم کی حیثیت سے پیش کیا اس لئے مرزا کے زمانے میں ان کے امتی ان کو نبی
معصوم ہی سمجھتے تھے۔
۵-۵۱: ’’سوال ششم (از محمد حسین صاحب) حضرت اقدس (مرزا غلام احمد صاحب) غیرعورتوں سے ہاتھ پاؤں کیوں دبواتے ہیں؟
جواب: (از حکیم فضل دین صاحب) وہ نبی معصوم ہیں۔ ان سے مس کرنا اور اختلاط منع نہیں بلکہ موجب رحمت و برکات ہے۔‘‘
(اخبار الحکم ج:۱۱ نمبر:۱۳مؤرخہ ۱۷؍اپریل ۱۹۰۷ء)
۶-۵۲: ’’چوتھا سوال (پادری) ڈالینل کا گناہ کے متعلق ہے کہ آیا مسیح موعود (مرزا صاحب) سے گناہ صادر ہوتا ہے یا
نہیں؟
یہاں میں ڈالینل صاحب کے سوال کے جواب میں یہ کہنا چاہتا ہوں کہ یہ بالکل حق بات ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنے انبیاء کو
شیطان کے تسلط سے محفوظ رکھتا ہے اور کبھی عمداً خدا کی نافرمانی کے مرتکب نہیں ہوتے۔ ایسا ہی حضرت مسیح موعود (مرزا
صاحب) ہیں۔‘‘
(لاہوری جماعت کے امیر مولانا محمد علی صاحب کا مضمون، مندرجہ ریویو آف ریلیجنز ج:۵ ص:۱۵۱ اپریل
۱۹۰۶ء)
۷-۵۳: ’’مردان خدا...... وہ گناہ سے معصوم، وہ دشمنوں کے حملوں سے معصوم، وہ تعلیم کی غلطیوں سے بھی معصوم ہوتے
ہیں۔‘‘
(تحفہ گولڑویہ ص:۸۵، روحانی خزائن ج:۱۷ ص:۱۷۱)
۸-۵۴: ’’صحیح بخاری کی حدیث کہ بغیر عیسیٰ بن مریم (اور اس کی ماں) کے کوئی مس شیطانی سے محفوظ نہیں رہا...... اس
حدیث کے یہ معنی ہیں کہ تمام وہ لوگ جو بروزی طور پر عیسیٰ بن مریم
97
کے رنگ میں ہیں......وہ سب معصوم ہیں۔‘‘
(تحفہ گولڑویہ ص:۲۲۲، روحانی خزائن ج:۱۷ ص:۳۰۸)
۸:...نہ ماننے والوں کو مجرم ٹھہرانا:
۱-۵۵: ’’جو شخص تیری پیروی نہیں کرے گا اور تیری بیعت میں داخل نہیں ہوگا اور تیرا مخالف رہے گا وہ خدا اور رسول کی
نافرمانی کرنے والا اور جہنمی ہے۔‘‘
(مرزا کا الہام۔ تذکرہ ص:۳۳۶ طبع چہارم ربوہ، مجموعہ اشتہارات ج:۳ ص:۲۷۵، کلمہ الفصل ص:۱۲۹)
۲-۵۶: ’’جو شخص خدا کی باتیں نہیں سنتا، وہ دوزخی ہوتا ہے۔‘‘
(مرزا کا الہام۔ تذکرہ ص:۴۶۵طبع چہارم ربوہ)
۳-۵۷: ’’جو شخص اس کشتی میں سوار ہوگا وہ غرق ہونے سے نجات پا جائے گا اور جو انکار میں رہے گا اس کے لئے موت درپیش
ہے۔‘‘
(مرزا کا الہام۔ تذکرہ ص:۱۶۸طبع چہارم ربوہ، فتح اسلام ص:۴۲،۴۳، روحانی خزائن ج:۳ ص:۲۵،۲۶)
۴-۵۸: ’’اور فی الحقیقت دو شخص بڑے ہی بدبخت ہیں۔ اور انس و جن میں سے ان سا کوئی بھی بدطالع نہیں۔ ایک وہ جس نے
خاتم الانبیاء کو نہ مانا۔ دوسرا وہ جو خاتم الخلفاء (مرزا) پر ایمان نہ لایا۔‘‘
(الہدیٰ ص:۵، روحانی خزائن ج:۱۸ ص:۲۵۰)
۵-۵۹: ’’اور تمام ناپاک فرقے جو اسلام میں، مگر اسلام کی حقیقت کے منافی ہیں۔ صفحہ زمین سے نابود ہوکر ایک ہی فرقہ
(قادیانی) رہ جائے گا۔‘‘
(تحفہ گولڑویہ ص:۴۱، روحانی خزائن ج:۱۷ ص:۲۲۷)
۶-۶۰: ’’انہی دنوں میں سے ایک فرقہ (احمدیہ) کی
98
بنیاد ڈالی جاوے گی اور خدا اپنے منہ سے اس فرقہ کی حمایت کے لئے ایک کرنا بجائے گا اور کرنا کی آواز پر ہر
ایک سعید اس فرقہ کی طرف کھینچا آئے گا۔ بجز ان لوگوں کے جو شقی ازلی ہیں جو دوزخ بھرنے کے لئے پیدا کئے گئے ہیں۔‘‘
(کلمۃ الفصل ص:۱۲۸، براہین احمدیہ حصہ پنجم ص:۸۲، روحانی خزائن ج:۲۱ص:۱۰۸، ۱۰۹)
۷-۶۱: ’’خدا نے یہی ارادہ کیا ہے کہ جو مسلمانوں میں سے مجھ سے علیحدہ رہے گا، وہ کاٹا جائے گا۔‘‘
(مجموعہ اشتہارات ج:۲ ص:۴۱۶)
۹:...ماننے اور نہ ماننے والوں میں تفریق:
جس طرح ہر نبی کی دعوت کو قبول کرنے اور نہ کرنے کے نتیجے میں دو فریق بن جاتے ہیں، اسی طرح مرزا غلام احمد نے بھی
اپنے ماننے والوں کو، نہ ماننے والوں سے الگ فریق قرار دیا:
۱-۶۲: ’’ہر ایک شخص جس کو میری دعوت پہنچی ہے اور اس نے مجھے قبول نہیں کیا وہ مسلمان نہیں ہے۔‘‘
(مرزا کا الہام۔ تذکرہ ص:۶۰۷ طبع ربوہ، کلمۃ الفصل ص:۱۲۵)
۲-۶۳: ’’ان الہامات میں میری نسبت بار بار بیان کیا گیا ہے کہ یہ خدا کا فرستادہ، خدا کا مامور، خدا کا امین اور
خدا کی طرف سے آیا ہے۔ جو کچھ کہتا ہے اس پر ایمان لاؤ اور اس کا دشمن جہنمی ہے۔‘‘
(انجام آتھم ص:۶۲، روحانی خزائن ج:۱۱ ص:۶۲)
۳-۶۴: ’’اس کلام الٰہی سے ظاہر ہے کہ تکفیر کرنے والے اور تکذیب کرنے کی راہ اختیار کرنے والے ہلاک شدہ قوم ہے اس
لئے وہ اس لائق نہیں ہیں کہ میری جماعت میں سے کوئی شخص ان کے
99
پیچھے نماز پڑھے۔ کیا زندہ مردہ کے پیچھے نماز پڑھ سکتا ہے؟
پس یاد رکھو کہ جیسا خدا نے مجھے اطلاع دی ہے تمہارے پر حرام ہے اور قطعی حرام ہے کہ کسی مکفر یا مکذب یا متردد کے
پیچھے نماز پڑھو۔ بلکہ چاہئے کہ وہی تمہارا امام ہو جو تم میں سے ہو۔‘‘
(حاشیہ ضمیمہ تحفہ گولڑویہ ص:۱۸، روحانی خزائن ج:۱۷ ص:۶۴)
۴-۶۵: ’’تمام فرقے مسلمانوں کے جو اس سلسلہ (قادیانیت) سے باہر ہیں وہ دن بدن کم ہوکر اس سلسلہ میں داخل ہوتے جائیں
گے یا نابود ہوتے جائیں گے۔ جیسا کہ یہودی گھٹتے گھٹتے یہاں تک کم ہوگئے کہ بہت ہی تھوڑے رہ گئے۔ ایسا ہی اس جماعت
کے مخالفوں کا انجام ہوگا۔‘‘
(براہین احمدیہ حصہ پنجم ص:۷۲، روحانی خزائن ج:۲۱ص:۹۵)
۵-۶۶: ’’پس خدا تعالیٰ مجھے (مرزا) یوسف قرار دے کر یہ اشارہ فرماتا ہے کہ اس جگہ بھی میں ایسا ہی کروں گا اسلام
اور غیراسلام میں روحانی غذا کا قحط ڈال دوں گا۔ اور روحانی زندگی کے ڈھونڈنے والے بجز اس سلسلہ (قادیانیت) کے کسی
جگہ آرام نہ پائیں گے...... پس وہ لوگ جو اس روحانی موت سے بچنا چاہیں گے وہ اسی بندۂ حضرت عالی (مرزا) کی طرف
رجوع کریں گے۔‘‘
(براہین احمدیہ حصہ پنجم ص:۷۹، روحانی خزائن ج:۲۱ص:۱۰۳)
۶-۶۷: ’’اور جو میرے مخالف تھے ان کا نام عیسائی اور یہودی اور مشرک رکھا گیا۔‘‘
(نزول المسیح ص:۴ حاشیہ، روحانی خزائن ج:۱۸ ص:۳۸۲)
۷-۶۸: ’’جو شخص مجھے نہیں مانتا وہ خدا اور رسول کو بھی
100
نہیں مانتا...... تو وہ مؤمن کیونکر ہوسکتا ہے۔‘‘
(حقیقۃ الوحی ص:۱۶۴، روحانی خزائن ج:۲۲ ص:۱۶۸)
۸-۶۹: ’’میں مسیح موعود ہوں...... پس جس شخص پر میرے مسیح موعود ہونے کے بارہ میں خدا کے نزدیک اتمام حجت ہوچکا ہے۔
اور میرے دعویٰ پر وہ اطلاع پاچکا ہے۔ وہ قابل مؤاخذہ ہوگا۔‘‘
(حقیقۃ الوحی ص:۱۷۸، روحانی خزائن ج:۲۲ ص:۱۸۴)
۹-۷۰: ’’وبشر الذین امنوا ان لھم قدم صدق عند ربھم۔ اس الہام میں اللہ تعالیٰ نے مؤمن
صرف ان لوگوں کو کہا ہے جو حضرت مسیح موعود (مرزا) پر ایمان لے آئے ہیں......حتی یمیز الخبیث من
الطیب ۔ اس الہام میں دو گروہوں کا ذکر کیا گیا ہے۔ خبیث اور طیب اور وہ دو گروہ مؤمنین اور منکرین کے
ہیں۔‘‘
(کلمۃ الفصل ص:۱۴۱)
۱۰-۷۱: ’’پس وہ شخص جو مسیح موعود کی طرف نہیں آتا وہ ایمان سے محروم ہے۔‘‘
(کلمۃ الفصل ص:۱۴۲)
۱۱-۷۲: ’’یہ میری کتابیں جنہیں ہر مسلمان محبت و مودت سے دیکھتا ہے اور ان کے معارف سے فائدہ اٹھاتا ہے اور مجھے
قبول کرتا ہے اور میرے دعاوی کی تصدیق کرتا ہے، مگر کنجریوں کی اولاد جن کے دلوں پر اللہ نے مہر لگادی ہے وہ مجھے
قبول نہیں کرتے۔‘‘
(انوار خلافت ص:۹۰)
۱۳-۷۴: ’’جنہوں نے حضرت مسیح موعود کو قبول نہیں کیا کیونکہ وہ خدا کے نزدیک مغضوب ٹھہر چکے ہیں۔‘‘
(انوار خلافت ص:۹۰)
101
۱۴-۷۵: ’’واقعہ میں ہم آپ لوگوں (مسلمانوں) کو کافر کہتے ہیں۔‘‘
(انوار خلافت ص:۹۲)
۱۵-۷۶: ’’لڑکی کو بٹھائے رکھو لیکن غیراحمدیوں (مسلمانوں) کو نہ دو۔‘‘
(انوار خلافت ص:۹۴)
۱۶-۷۷: ’’جو لوگ قادیان نہیں آتے مجھے ان کے ایمان کا خطرہ رہتا ہے۔‘‘
(انوار خلافت ص:۱۱۷)
۱۷-۷۸: ’’دیکھو وہ زمانہ چلا آتا ہے بلکہ قریب ہے کہ خدا اس سلسلہ کی دنیا میں بڑی قبولیت پھیلائے گا اور یہ سلسلہ
مشرق اور مغرب اور شمال اور جنوب میں پھیلے گا۔ اور دنیا میں اسلام سے مراد یہی سلسلہ ہوگا۔ یہ باتیں انسان کی باتیں
نہیں۔ یہ اس خدا کی وحی ہے جس کے آگے کوئی بات انہونی نہیں۔‘‘
۱۸-۷۹: ’’اُمتِ محمدیہ کے تمام فرقوں میں نجات یافتہ فرقہ قادیانی ہے۔‘‘
(ملخص اربعین نمبر:۳ ص:۳۲، روحانی خزائن ج:۱۷ ص:۴۲۱)
۱۹-۸۰:’’فآمن ولَا تکن من الکافرین۔‘‘
(خطبہ الہامیہ ص:۱۷۸، روحانی خزائن ج:۱۶ ص:۲۶۷، مباحثہ راولپنڈی ص:۲۴۰)
۲۰-۸۱:’’وجاعل الذین اتبعوک فوق الذین کفروا۔‘‘
۲۱-۸۲:’’قل جاء کم نور من اللہ فلا تکفروا ان کنتم مؤمنین۔‘‘
(مباحثہ راولپنڈی ص:۲۴۰، تذکرہ ص:۶۳۷ طبع چہارم ربوہ)
۲۲-۸۳:’’قل یا ایھا الکفار انی من الصادقین۔‘‘
102
۲۳-۸۴:’’ویقول الذین لست مرسلا۔‘‘
(مباحثہ راولپنڈی ص:۲۴۰)
۲۴-۸۵:’’قل یا ایھا الکافرون۔‘‘
(تذکرہ ص:۸۴ طبع چہارم ربوہ)
۱۰:...مرزا قادیانی کی اُمت
۱-۸۶: ’’جس طرح پہلے نبی رسول اپنی اُمت میں نہیں رہے، میں بھی نہیں رہوں گا۔‘‘
(ریویو اُردو بابت ماہ ستمبر ۱۹۰۳ء، ریویو اکتوبر ۱۹۰۶ء ج:۵ ص:۳۹۷، مجموعہ اشتہارات ج:۳ ص:۴۹۹)
۲-۸۷: ’’پہلا مسیح صرف مسیح تھا۔ اس لئے اس کی اُمت گمراہ ہوگئی۔ اور موسوی سلسلہ کا خاتمہ ہوا۔ اگر میں بھی صرف
مسیح ہوتا تو ایسا ہی ہوتا۔ لیکن میں مہدی اور محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) کا بروز بھی ہوں۔ اس لئے ’’میری اُمت‘‘ کے
دو حصے ہوں گے۔ ایک وہ جو مسیحیت کا رنگ اختیار کریں گے اور یہ تباہ ہوجائیں گے اور دوسرے وہ جو مہدویت کا رنگ
اختیار کریں گے۔‘‘
مرزا غلام احمد قادیانی کے دعویٰ نبوّت کے سلسلے میں
آخری اور فیصلہ کن بات:
مرزا غلام احمد قادیانی کی جماعت اس کے پہلے جانشین حکیم نورالدین کی وفات (مارچ ۱۹۱۴ء) تک ایک تھی۔ مارچ ۱۹۱۴ء میں
مرزا قادیانی کے بڑے صاحبزادے مرزا محمود احمد قادیانی، مرزا کے گدی نشین ہوئے اور جماعت دو حصوں میں تقسیم ہوگئی۔
ایک کا مرکز بدستور قادیان رہا، جس کی قیادت مرزا محمود کے ہاتھ میں تھی اور دوسرے فریق نے مسٹر محمد علی صاحب ایم
اے کی قیادت میں اپنا مرکز احمدیہ بلڈنگس لاہور کو بنالیا۔ اول الذکر کو ’’قادیانی جماعت‘‘ کہا جاتا ہے اور مؤخر
الذکر ’’لاہوری جماعت‘‘ کہلاتی ہے۔ قادیانی
103
جماعت، مرزا غلام احمد قادیانی کو بغیر کسی جھجک کے ’’نبی‘‘ کہتی اور مانتی ہے، اور لاہوری جماعت یہ تو
تسلیم کرتی ہے کہ مرزا صاحب نے اپنی کتابوں میں نبی و رسول کا لفظ اپنے لئے بے شمار جگہ استعمال کیا ہے، مگر وہ یہ
تاویل کرتی ہے کہ اس سے مراد حقیقی نبوّت نہیں بلکہ مجازی نبوّت ہے۔ ان دونوں فریقوں سے مرزا صاحب کی ٹھیک ترجمانی
کون کرتا ہے؟
اختلاف سے پہلے:
اس کا فیصلہ دو طریقے سے بڑی آسانی سے ہوسکتا ہے، اول یہ کہ یہ دیکھا جائے کہ اختلاف سے پہلے مرزا قادیانی کے
پیروؤں کا عقیدہ کیا تھا؟
محمد علی امیر جماعت لاہور کا عقیدہ:
اس سلسلہ میں سب سے پہلے خود لاہوری جماعت کے قائد امیر اول جناب مسٹر محمد علی صاحب ایم اے کے متعدد حوالے گزشتہ
سطور میں گزر چکے ہیں کہ وہ مرزا صاحب کو نبی برحق مانتے ہیں، ان کی وحی اور معجزات لوگوں کے سامنے پیش کرتے تھے،
مرزا پر نزول جبریل کے قائل تھے، مرزا کے معصوم عن الخطا ہونے کا اعلان کرتے تھے اور مرزا صاحب کی جماعت کے بارے میں
یہ صراحت کرتے تھے کہ:
۱-۸۸: ’’تحریک احمدیت اسلام کے ساتھ وہی رشتہ رکھتی ہے جو عیسائیت کا یہودیت کے ساتھ ہے۔‘‘
(مباحثہ راولپنڈی ص:۲۴۰)
۲-۸۹: جناب محمد علی صاحب نے باقرار صالح مقدمہ کرم دین بنام مرزا غلام احمد قادیانی میں مؤرخہ ۱۳؍۵؍۱۹۰۴ء کو بطور
گواہ استغاثہ بیان دیتے ہوئے کہا کہ:
’’مکذب مدعی نبوّت کذاب ہوتا ہے۔ مرزا صاحب ملزم
104
مدعی نبوّت ہے اور اس کے مرید اس کے دعوے میں سچا اور دشمن جھوٹا سمجھتے ہیں۔ پیغمبر اسلام مسلمانوں کے
نزدیک سچے نبی ہیں اور عیسائیوں کے نزدیک جھوٹے نبی ہیں۔‘‘
(مباحثہ راولپنڈی ص:۲۷۲)
مسٹر محمد علی کے اس عدالتی بیان سے دو باتیں واضح ہیں، ایک یہ کہ مرزا صاحب مدعی نبوّت ہے اور دوسرے یہ کہ جس طرح
مسلمان پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کو ’’سچا نبی‘‘ سمجھتے ہیں اسی طرح مرزا قادیانی کو ماننے والے اس کو سچا
نبی مانتے ہیں۔
امیر جماعت لاہور محمد علی لاہور کا ایک قول:
۳-۹۰:
"The Ahmadiyya Movement stands in the same relation to Islam in which Christianity stood to Judaism."
ترجمہ:...تحریک احمدیت اسلام کے ساتھ وہی رشتہ رکھتی ہے جو عیسائیت کا یہودیت کے ساتھ ہے۔‘‘
(اقتباس از ’’مباحثہ راولپنڈی‘‘ مطبوعہ قادیان ص:۲۴۰)
حکیم نور الدین کا عقیدہ:
حکیم نورالدین صاحب دونوں جماعتوں کے متفق علیہ خلیفہ اور پوری جماعت کے نمائندہ و ترجمان تھے، ان کا عقیدہ ملاحظہ
ہو:
۱-۹۱: حکیم صاحب ایک خط میں جو مرزا صاحب کی زندگی میں لکھا گیا تھا، لکھتے ہیں:
’’موسیٰ علیہ السلام کے مسیح کا منکر جس فتوے کا مستحق ہے۔ اس سے بڑھ کر خاتم الانبیاء کے مسیح کا منکر ہے۔ صلوات
اللہ علیہم اجمعین۔ میاں صاحب! اللہ تعالیٰ مؤمنوں کی طرف سے ارشاد فرماتا ہے کہ ان کا قول ہوتا ہے لانفرق بین احد
من رسلہ اور آپ نے
105
بلاوجہ یہ تفرقہ نکالا کہ صاحب شریعت کا منکر کافر ہوسکتا ہے اور غیرصاحب شرع کا کافر نہیں۔ مجھے اس تفرقہ
کی وجہ معلوم نہیں۔ جن دلائل و وجوہ سے ہم لوگ قرآن کریم کو مانتے ہیں، انہیں دلائل و وجوہ سے ہمیں مسیح کو ماننا
پڑا ہے۔ اگر دلائل کا انکار کریں تو اسلام ہی جاتا ہے۔‘‘
(بدر ۱۸؍جولائی ۱۹۰۷ء مباحثہ راولپنڈی ص:۲۷۱)
لاہوری جماعت کا عقیدہ و اعلان:
حکیم نور دین صاحب کے زمانے میں لاہوری جماعت کے قائد اول مسٹر محمد علی ایم اے اپنے چند رُفقا کے ساتھ قادیان چھوڑ
کر لاہور میں فروکش ہوگئے تھے اور یہاں احمدیہ بلڈنگ سے ایک اخبار ’’پیغام صلح‘‘ نکالنا شروع کیا تھا۔ کسی نے ان کی
طرف سے یہ غلط فہمی پھیلادی کہ پیغام صلح کے ساتھ تعلق رکھنے والے لوگ (جو بعد میں لاہوری جماعت کہلائے) مرزا صاحب
کو نبی و رسول نہیں سمجھتے، غالباً حکیم صاحب کی طرف سے اس پر باز پرس ہوئی ہوگی، اس لئے اخبار ’’پیغام صلح‘‘ میں
مندرجہ ذیل وضاحتی اعلان جاری کیا گیا:
۲-۹۲: ’’ہم خدا کو شاہد کرکے اعلان کرتے ہیں کہ ہمارا ایمان ہے کہ حضرت مسیح موعود و مہدی معہود علیہ الصلوٰۃ
والسلام اللہ تعالیٰ کے سچے رسول تھے اوراس زمانہ کی ہدایت کے لئے دنیا میں نازل ہوئے اور آج آپ کی متابعت میں ہی
دنیا کی نجات ہے اور ہم اس امر کا اظہار ہر میدان میں کرتے ہیں اور کسی کی خاطر ان عقائد کو بفضلہ تعالیٰ چھوڑ نہیں
سکتے۔‘‘
(اخبار پیغام صلح لاہور مؤرخہ ۷؍ستمبر ۱۹۱۳ء)
اور اس کے چالیس دن بعد اعلان کیا گیا کہ:
۳-۹۳: ’’معلوم ہوا ہے کہ بعضے احباب کو کسی شخص نے غلط فہمی میں ڈال دیا ہے کہ اخبار ہذا کے ساتھ تعلق رکھنے والے
106
احباب یا ان میں سے کوئی ایک سیّدنا و ہادینا حضرت مرزا غلام احمد صاحب مسیح موعود و مہدی معہود علیہ
الصلوٰۃ والسلام کے مدارج عالیہ کو اصلیت سے کم یا استخفاف کی نظر سے دیکھتا ہے۔ ہم تمام احمدی جن کا کسی نہ کسی
صورت سے اخبار پیغام صلح لاہور کے ساتھ تعلق ہے۔ خدائے تعالیٰ کو جو دلوں کا بھید جاننے والا ہے۔ حاضر و ناظر جان کر
علی الاعلان کہتے ہیں۔ ہماری نسبت اس قسم کی غلط فہمی پھیلانا محض بہتان ہے۔ ہم حضرت مسیح موعود و مہدی معہود کو اس
زمانہ کا نبی، رسول اور نجات دہندہ مانتے ہیں اور جو درجہ مسیح موعود نے اپنا بیان فرمایا ہے اس کو کم و بیش کرنا
موجب سلب ایمان سمجھتے ہیں۔‘‘
(اخبار پیغام صلح لاہور ۱۶؍اکتوبر ۱۹۱۳ء، بحوالہ اخبار الفضل قادیان ۱۴؍دسمبر ۱۹۴۱ء)
اختلاف کے بعد:
اختلاف کے بعد جب جماعت دو دھڑوں میں تقسیم ہوگئی تو جماعت کی اکثریت (جس کی تعداد ۹۹ فیصد تھی، النبوۃ فی الاسلام
ص:۲۶۸) وہ بدستور مرزا کی نبوّت کی قائل رہی اور اب تک قائل ہے اور ایک قلیل گروہ نے (جس کی تعداد ایک فیصد تھی)
مرزا قادیانی کی نبوّت کا انکار کردیا اور اس کے نبوّت کے دعوؤں میں تاویل کرنے لگی۔ اہل فہم انصاف کرسکتے ہیں کہ
مرزا قادیانی کے دعوے کی ٹھیک ترجمانی ان میں سے کون فریق کرتا ہے، آیا وہ فریق، جس کی تعداد ۹۹فیصد ہے، جس کے
بیشتر افراد مرزا کے صحبت یافتہ ہیں اور جن کی قیادت خود مرزا قادیانی کا بیٹا کر رہا ہے یا وہ جماعت جن کی تعداد
ایک فیصد ہے، جو اپنے مرکز قادیان کو چھوڑ کر لاہور آبیٹھے۔ اور جس کے امیر کی حیثیت مرزا قادیانی کے ایک ملازم کی
تھی؟ اگر تمام مباحث کو چھوڑ کر بہ نظر انصاف ان ہی دو نکتوں پر غور کرلیا جائے تو لاہوری جماعت کے دعوے کی حقیقت
کھل جاتی ہے۔
107
مرزا کے اِرتداد کی دوسری وجہ:
حضرت مسیح علیہ السلام سے افضل ہونے کا دعویٰ:
اسلامی عقیدے کے مطابق حضرت عیسیٰ علیہ السلام جلیل القدر صاحب شریعت رسول ہیں، لیکن مرزا غلام احمد قادیانی حضرت
مسیح علیہ السلام سے افضل ہونے کا دعویٰ کرتا ہے اور یہ تین وجہ سے کفر ہے۔ اول یہ کہ اس سے مرزا کا دعویٰ نبوّت
ثابت ہوتا ہے۔ دوم اس لئے کہ اس سے مرزا کا صاحب شریعت ہونے کا دعویٰ ثابت ہوتا ہے۔ تیسرے یہ کہ اس سے حضرت مسیح
علیہ السلام کی توہین ہوتی ہے اور تینوں باتیں کفر ہیں۔
۱-۹۴: ’’اے عیسائی مشنریو! اب ربنا المسیح مت کہو اور دیکھو کہ آج تم میں ایک ہے جو اس مسیح سے بڑھ کر ہے۔‘‘
(دافع البلاء ص:۱۳، روحانی خزائن ج:۱۸ ص:۲۳۳)
۲-۹۵: ’’خدا نے اس اُمت میں سے مسیح موعود بھیجا جو اس پہلے مسیح سے اپنی تمام شان میں بہت بڑھ کر ہے اور اس نے اس
دوسرے مسیح کا نام غلام احمد رکھا۔‘‘
(دافع البلاء ص:۱۳، روحانی خزائن ج:۱۸ ص:۲۳۳)
۳-۹۶: ’’خدا نے اس اُمت میں سے مسیح موعود بھیجا جو اس پہلے مسیح سے اپنی تمام شان میں بہت بڑھ کر ہے...... مجھے
قسم ہے اس ذات کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے، کہ اگر مسیح بن مریم میرے زمانہ میں ہوتا تو وہ کام جو میں کرسکتا
ہوں، وہ ہرگز نہ کرسکتا اور وہ نشان جو مجھ سے ظاہر ہو رہے ہیں، وہ ہر گز دکھلا نہ سکتا۔‘‘
(حقیقۃ الوحی ص:۱۴۸، روحانی خزائن ج:۲۲ ص:۱۵۲)
۴-۹۷: ’’پھر جب کہ خدا نے اور اس کے رسول نے اور تمام نبیوں نے آخری زمانہ کے مسیح کو اس کے کارناموں کی وجہ سے
108
افضل قرار دیا ہے۔ تو پھر یہ شیطانی وسوسہ ہے کہ یہ کہا جائے کہ کیوں تم مسیح ابن مریم سے اپنے تئیں افضل
قرار دیتے ہو۔‘‘
(حقیقۃ الوحی ص:۱۵۵، روحانی خزائن ج:۲۲ ص:۱۵۹)
۵-۹۸: ’’ابن مریم کے ذکر کو چھوڑو۔ اس سے بہتر غلام احمد ہے۔‘‘
۶-۹۹: ’’اور مجھے قسم ہے اس ذات کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے کہ اگر مسیح ابن مریم میرے زمانے میں ہوتا تو وہ کام
جو میں کرسکتا ہوں، وہ ہرگز نہ کرسکتا اور وہ نشان جو مجھ سے ظاہر ہو رہے ہیں وہ ہرگز دکھلا نہ سکتا۔‘‘
(کشتی نوح ص:۵۶، روحانی خزائن ج:۱۹ ص:۶۰)
۷-۱۰۰: ’’میں عیسیٰ بن مسیح کو ہرگز ان امور میں اپنے پر کوئی زیادت نہیں دیکھتا، یعنی جیسے اس پر خدا کا کلام نازل
ہوا ایسا ہی مجھ پر بھی ہوا۔ اور جیسے اس کی نسبت معجزات منسوب کئے جاتے ہیں میں یقینی طور پر ان معجزات کا مصداق
اپنے نفس کو دیکھتا ہوں، بلکہ ان سے زیادہ۔ اور یہ تمام شرف مجھے صرف ایک نبی کی پیروی سے ملا ہے جس کے مدارج اور
مراتب سے دنیا بے خبر ہے۔‘‘
(چشمۂ مسیحی ص:۲۳، روحانی خزائن ج:۲۰ ص:۳۵۴)
۸-۱۰۱: ’’مجھے کہتے ہیں کہ مسیح موعود ہونے کا کیوں دعویٰ کیا مگر میں سچ مچ کہتا ہوں کہ اس نبی کی کامل پیروی سے
ایک شخص عیسیٰ سے بڑھ کر بھی ہوسکتا ہے۔ اندھے کہتے ہیں کہ یہ کفر ہے۔ میں کہتا ہوں کہ تم خود ایمان سے بے نصیب ہو۔
پھر کیا جانتے ہو کہ کفر کیا چیز ہے۔ کفر خود تمہارے اندر ہے۔ اگر تم جانتے کہ اس آیت کے کیا معنی ہیں کہ اھدنا
الصراط المستقیم صراط الذین انعمت
109
علیہم تو ایسا کفر منہ پر نہ لاتے، خدا تو تمہیں یہ ترغیب دیتا ہے کہ تم اس رسول کی کامل پیروی کی برکت سے
تمام رسولوں کے متفرق کمالات اپنے اندر جمع کرسکتے ہو اور تم صرف ایک نبی کے کمالات حاصل کرنا کفر جانتے ہو۔‘‘
(چشمۂ مسیحی ص:۲۴، روحانی خزائن ج:۲۰ ص:۳۵۵)
۹-۱۰۲: ’’جو کامیابی اور اثر مسیح ابن مریم کا ہوا وہ تو صاف ظاہر ہے اور جس کمزوری اور ناکامی کے ساتھ انہوں نے
زندگی بسر کی وہ انجیل کے پڑھنے سے صاف معلوم ہوتی ہے۔ مگر مسیح موعود جیسے اپنے زبردست اور قوت قدسیہ کے کامل اثر
والے متبوع کا پیرو ہے۔ اسی طرح پر اس کی عظمت اور بزرگی کی شان اس سے بڑھی ہوئی ہے۔ جو کامیابیاں اور نصرتیں اس جگہ
خدا نے ظاہر کی ہیں۔ مسیح کی زندگی میں ان کا نشان نہیں۔ نہ معجزات میں، نہ پیش گوئیوں میں، نہ تعلیم میں۔ غرض جیسے
آنحضرتؐ اپنے مثیل موسیٰ سے ہر پہلو میں بڑھے ہوئے تھے اور گویا آپ اصل اور موسیٰ آپ کا ظل تھے۔ اسی طرح مسیح
موعود مسیح موسوی سے نسبت رکھتا ہے۔‘‘
(ملفوظات ج:۴ ص:۱۴۱ لندن و ربوہ)
۱۰-۱۰۳: ’’خدا تعالیٰ نے براہین احمدیہ حصص سابقہ میں میرا نام عیسیٰ رکھا اور جو قرآن شریف کی آیتیں پیش گوئی کے
طور پر حضرت عیسیٰ کی طرف منسوب تھیں وہ سب آیتیں میری طرف منسوب کردیں۔ اور یہ بھی فرمادیا کہ تمہارے آنے کی خبر
قرآن و حدیث میں موجود ہے۔‘‘
(براہین احمدیہ حصہ پنجم ص:۸۵، روحانی خزائن ج:۲۱ص:۱۱۱)
110
۱۱-۱۰۴: ’’اسی طرح اوائل میں میرا یہی عقیدہ تھا کہ مجھ کو مسیح ابن مریم سے کیا نسبت ہے۔ وہ نبی ہے اور خدا
کے بزرگ مقربین سے ہے، اور اگر کوئی امر میری فضیلت کی نسبت ظاہر ہوتا تو میں اس کو جزئی فضیلت قرار دیتا تھا مگر
بعد میں جو خدا تعالیٰ کی وحی بارش کی طرح میرے پر نازل ہوئی، اس نے مجھے اس عقیدہ پر قائم نہ رہنے دیا اور صریح طور
پر نبی کا خطاب مجھے دیا گیا۔ مگر اس طرح سے کہ ایک پہلو سے نبی اور ایک پہلو سے امتی۔‘‘
(حقیقۃ الوحی ص:۱۵۰، روحانی خزائن ج:۲۲ ص:۱۵۳)
۱۲-۱۰۵: ’’ہاں میں اس قدر جانتا ہوں کہ آسمان پر خدا تعالیٰ کی غیرت عیسائیوں کے مقابل پر بڑا جوش مار رہی ہے۔
انہوں نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی شان کے مخالف وہ توہین کے الفاظ استعمال کئے ہیں کہ قریب ہے کہ ان سے آسمان
پھٹ جائیں۔ پس خدا دکھلاتا ہے کہ اس رسول کے ادنیٰ خادم اسرائیلی مسیح ابن مریم سے بڑھ کر ہیں۔ جس شخص کو اس فقرہ سے
غیظ و غضب ہو اس کو اختیار ہے کہ وہ اپنے غیظ سے مرجائے مگر خدا نے جو چاہا کیا اور خدا جو چاہتا ہے کرتا ہے کیا
انسان کا مقدور ہے کہ وہ اعتراض کرے کہ ایسا تو نے کیوں کیا۔‘‘
(حقیقۃ الوحی ص:۱۵۰، روحانی خزائن ج:۲۲ ص:۱۵۵)
۱۳-۱۰۶: ’’اس جگہ یہ بھی یاد رہے کہ جب کہ مجھ کو تمام دنیا کی اصلاح کے لئے ایک خدمت سپرد کی گئی ہے اس وجہ سے کہ
ہمارا آقا اور مخدوم تمام دنیا کے لئے آیا تھا تو اس عظیم الشان خدمت کے لحاظ سے مجھے وہ قوتیں اور طاقتیں بھی دی
گئی ہیں جو اس بوجھ کے اٹھانے کے لئے ضروری تھیں اور وہ معارف اور نشان بھی دئیے گئے ہیں جن کا دیا جانا اتمام حجت
کے لئے مناسب وقت تھا مگر
111
ضروری نہ تھا کہ حضرت عیسیٰ کو وہ معارف اور نشان دیئے جاتے۔‘‘
(حقیقۃ الوحی ص:۱۵۱، روحانی خزائن ج:۲۲ ص:۱۵۵)
۱۴-۱۰۷: ’’پھر جس حالت میں یہ بات ظاہر اور بدیہی ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو اسی قدر روحانی قوتیں اور طاقتیں
دی گئی تھیں جو فرقہ یہود کی اصلاح کے لئے کافی تھیں تو بلاشبہ ان کے کمالات بھی اسی پیمانہ کے لحاظ سے ہوں گے۔‘‘
(حقیقۃ الوحی ص:۱۵۱، روحانی خزائن ج:۲۲ ص:۱۵۵)
۱۵-۱۰۸: ’’پس اگر ہماری فطرت کو وہ قوتیں نہ دی جاتیں جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے تمام کمالات کو ظلّی طور پر
حاصل کرسکتیں تو یہ حکم ہمیں ہرگز نہ ہوتا کہ اس بزرگ نبی کی پیروی کرو کیونکہ خدا تعالیٰ فوق الطاقت کوئی تکلیف
نہیں دیتا۔‘‘
(حقیقۃ الوحی ص:۱۵۲، روحانی خزائن ج:۲۲ ص:۱۵۶)
۱۶-۱۰۹: ’’خلاصہ کلام یہ کہ چونکہ میں ایک ایسے نبی کا تابع ہوں جو انسانیت کے تمام کمالات کا جامع تھا اور اس کی
شریعت اکمل اور اتم تھی اور تمام دنیا کی اصلاح کے لئے تھی اس لئے مجھے وہ قوتیں عنایت کی گئیں جو تمام دنیا کی
اصلاح کے لئے ضروری تھیں تو پھر اس امر میں کیا شک ہے کہ حضرت مسیح علیہ السلام کو وہ فطرتی طاقتیں نہیں دی گئیں جو
مجھے دی گئیں کیونکہ وہ ایک خاص قوم کے لئے آئے تھے۔‘‘
(حقیقۃ الوحی ص:۱۵۳، روحانی خزائن ج:۲۲ ص:۱۵۷)
۱۷-۱۱۰: ’’اور اگر وہ میری جگہ ہوتے تو اپنی اس فطرت کی وجہ سے وہ کام انجام نہ دے سکتے جو خدا کی عنایت نے مجھے
انجام دینے کی قوت دی۔‘‘
(حقیقۃ الوحی ص:۱۵۳، روحانی خزائن ج:۲۲ ص:۱۵۷)
112
۱۸-۱۱۱: ’’انسانی مراتب پردۂ غیب میں ہیں۔ اس بات میں بگڑنا اور منہ بنانا اچھا نہیں۔ کیا جس قادر مطلق نے
حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو پیدا کیا وہ ایسا ہی ایک اور انسان یا اس سے بہتر پیدا نہیں کرسکتا۔‘‘
(حقیقۃ الوحی ص:۱۵۳، روحانی خزائن ج:۲۲ ص:۱۵۷)
۱۹-۱۱۲: ’’خدا تعالیٰ کے کام مصلحت اور حکمت سے خالی نہیں۔ اس نے دیکھا کہ ایک شخص کو محض بے وجہ خدا بنایا گیا ہے
جس کی چالیس کروڑ آدمی پرستش کر رہے ہیں۔ تب اس نے مجھے ایسے زمانہ میں بھیجا کہ جب اس عقیدہ پر غلو انتہا تک پہنچ
گیا تھا اور تمام نبیوں کے نام میرے نام رکھے۔ مگر مسیح ابن مریم کے نام سے خاص طور پر مجھے مخصوص کرکے وہ میرے پر
رحمت اور عنایت کی گئی جو اس پر نہیں کی گئی۔ تا لوگ سمجھیں کہ فضل خدا کے ہاتھ میں ہے کہ جس کو چاہتا ہے دیتا ہے۔‘‘
(حقیقۃ الوحی ص:۱۵۴، روحانی خزائن ج:۲۲ ص:۱۵۸)
۲۰-۱۱۳: ’’پھر جب کہ خدا نے اور اس کے رسول نے اور تمام نبیوں نے آخری زمانہ کے مسیح کو اس کے کارناموں کی وجہ سے
افضل قرار دیا ہے۔ تو پھر یہ شیطانی وسوسہ ہے کہ یہ کہا جائے کہ کیوں تم مسیح ابن مریم سے اپنے تئیں افضل قرار دیتے
ہو۔ عزیزو! جب کہ میں نے یہ ثابت کردیا کہ مسیح ابن مریم فوت ہوگیا ہے اور آنے والا مسیح میں ہوں تو اس صورت میں جو
شخص پہلے مسیح کو افضل سمجھتا ہے اس کو نصوص حدیثیہ اور قرآنیہ سے ثابت کرنا چاہئے کہ آنے والا مسیح کچھ چیز ہی
نہیں۔ نہ نبی کہلاسکتا ہے نہ حکم۔ جو کچھ ہے پہلا ہے۔ خدا نے اپنے وعدہ کے موافق مجھے بھیج دیا۔ اب خدا سے لڑو۔‘‘
(حقیقۃ الوحی ص:۱۵۵، روحانی خزائن ج:۲۲ ص:۱۵۹)
113
۲۱-۱۱۴: ’’میں یہ بات حتمی وعدہ سے لکھتا ہوں کہ اگر کوئی مخالف خواہ عیسائی ہو خواہ بگفتن مسلمان، میری پیش
گوئیوں کے مقابل پر اس شخص کی پیش گوئیوں کو، جس کا آسمان سے اترنا خیال کرتے ہیں، صفائی اور یقین اور بداہت کے
مرتبہ پر زیادہ ثابت کرسکے تو میں اس کو نقد ایک ہزار روپیہ دینے کو طیار ہوں۔‘‘
(تذکرہ الشہادتین ص:۴۱،۴۲، روحانی خزائن ج:۲۰ ص:۴۳،۴۴)
۲۲-۱۱۵: ’’اللہ تعالیٰ کی غیرت نے ...... ایک ادنیٰ غلام کو مسیح ابن مریم بناکے دکھادیا۔‘‘
(ملفوظات ج:۵ ص:۱۵)
۲۳-۱۱۶: ’’وہ خدا جو مریم کے بیٹے پر اترا تھا وہی میرے دل پر بھی اترا ہے، مگر اپنی تجلی میں اس سے زیادہ۔ وہ بھی
بشیر تھا اور میں بھی بشیر ہوں۔‘‘
(حقیقۃ الوحی ص:۲۷۴، روحانی خزائن ج:۲۲ ص:۲۸۶)
تیسری وجہ اِرتداد:
تمام انبیائے کرام سے افضل ہونے کا دعویٰ:
اسلامی عقیدے کی رو سے کوئی شخص جو نبی نہ ہو کسی نبی سے افضل نہیں ہوسکتا اور جو شخص ایسا دعویٰ کرے وہ کافر اور
دائرۂ اسلام سے خارج ہے۔ شرح عقائد نسفی ص:۱۶۲ اور شرح قصیدۂ بدأ الامالی ص:۲۴ میں ہے:
’’ولَا یبلغ ولی درجۃ الأنبیاء لأن الأنبیاء معصومون مأمونون عن خوف الخاتمۃ مکرمون بالوحی ومشاھدۃ
الملک مأمورون بتبلیغ الأحکام وارشاد الأنام بعد الْإتصاف بکمالَات الأولیاء فما نقل عن بعض الکرامیۃ من جواز
کون الولی افضل من
114
النبی، کفر وضلال۔‘‘
ترجمہ:...’’اور کوئی ولی، انبیاء کے درجہ کو نہیں پہنچ سکتا۔ کیونکہ انبیائے کرام گناہوں سے معصوم،
خوف خاتمہ سے مامون، وحی اور مشاہدہ ملائکہ سے مشرف اور تبلیغ احکام اور ہدایت مخلوق پر مامور ہوتے ہیں۔ پس یہ جو
بعض کرامیہ سے نقل کیا گیا ہے کہ کسی ولی کا کسی نبی سے افضل ہونا جائز ہے، یہ کفر و ضلال ہے۔‘‘
مرزا کی مندرجہ ذیل عبارتوں میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ وہ تمام انبیائے کرام کے کمالات کا جامع ہے، اسلامی عقیدے کے
مطابق ایسا دعویٰ کفر ہے۔
۱-۱۱۷: ’’میری نسبت براہین احمدیہ حصص سابقہ میں یہ بھی فرمایا جری اللہ فی حلل الأنبیاء یعنی رسول خدا تمام گزشتہ
انبیاء علیہم السلام کے پیرائیوں میں، اس وحی الٰہی کا مطلب یہ ہے کہ آدم سے لے کر اخیر تک جس قدر انبیاء علیہم
السلام خدا تعالیٰ کی طرف سے دنیا میں آئے ہیں خواہ وہ اسرائیلی ہیں یا غیراسرائیلی ان سب کے خاص واقعات یا خاص
صفات میں سے اس عاجز کو کچھ حصہ دیا گیا ہے اور ایک بھی نبی ایسا نہیں گزرا جس کے خواص یا واقعات میں سے اس عاجز کو
حصہ نہیں دیا گیا۔ ہر ایک نبی کی فطرت کا نقش میری فطرت میں ہے۔‘‘
(براہین احمدیہ حصہ پنجم ص:۸۹، روحانی خزائن ج:۲۱ص:۱۱۶)
۲-۱۱۸: ’’اور اس زمانہ میں خدا نے چاہا کہ جس قدر نیک اور راست باز مقدس نبی گزر چکے ہیں ایک ہی شخص کے وجود میں ان
کے نمونے ظاہر کئے جائیں۔ سو وہ میں ہوں۔‘‘
(براہین احمدیہ حصہ پنجم ص:۹۰، روحانی خزائن ج:۲۱ ص:۱۱۷،۱۱۸)
۳-۱۱۹: ’’اس جگہ یہ بھی یاد رکھنا ضروری ہے کہ خدا تعالیٰ
115
نے میرا نام عیسیٰ ہی نہیں رکھا بلکہ اِبتدا سے اِنتہا تک جس قدر انبیاء علیہم السلام کے نام تھے وہ سب میرے
نام رکھ دئیے۔‘‘
(براہین احمدیہ حصہ پنجم ص:۸۵، روحانی خزائن ج:۲۱ص:۱۱۲)
۴-۱۲۰: ’’کمالات متفرقہ جو تمام دیگر انبیاء میں پائے جاتے تھے و ہ سب حضرت رسول کریمؐ میں ان سے بڑھ کو موجود تھے
اور اب وہ سارے کمالات حضرت رسول کریمؐ سے ظلّی طور پر ہم کو عطا کئے گئے اور اسی لئے ہمارا نام آدم، ابراہیم،
موسیٰ، نوح، داؤد، یوسف، سلیمان، یحییٰ، عیسیٰ وغیرہ ہے...... پہلے تمام انبیاء ظل تھے۔ نبی کریمؐ کی خاص خاص صفات
میں اور اب ہم ان تمام صفات میں نبی کریمؐ کے ظل ہیں۔‘‘
(ملفوظات ج:۳ ص:۲۷۰)
۵-۱۲۱: ’’خدا تعالیٰ نے مجھے تمام انبیاء علیہم السلام کا مظہر ٹھہرایا اور تمام نبیوں کے نام میری طرف منسوب کئے
ہیں۔ میں آدم ہوں، میں شیث ہوں، میں نوح ہوں، میں ابراہیم ہوں، میں اسحق ہوں، میں اسمٰعیل ہوں، میں یعقوب ہوں، میں
یوسف ہوں، میں موسیٰ ہوں، میں داؤد ہوں، میں عیسیٰ ہوں اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے نام کا مظہر اتم ہوں۔
یعنی ظلّی طور پر محمد اور احمد ہوں۔‘‘
(حقیقۃ الوحی ص:۷۲حاشیہ، روحانی خزائن ج:۲۲ ص:۶۷)
۶-۱۲۲: ’’میں وہی مہدی ہوں جس کی نسبت ابن سیرین سے سوال کیا گیا کہ کیا وہ حضرت ابوبکر کے درجہ پر ہے۔ تو انہوں نے
جواب دیا کہ ابوبکر کیا وہ تو بعض انبیاء سے بہتر ہے۔‘‘
(اشتہار معیار الاخیار، مجموعہ اشتہارات ج:۳ ص:۲۷۸)
۷-۱۲۳: ’’اللہ تعالیٰ نے آدم کو پیدا کیا اور ان کو اِنس وجن پر حاکم و سردار بنایا۔ ان کو شیطان نے گمراہ کیا اور
جنت سے
116
نکلوایا۔ اور یہ حکومت اسے مل گئی۔ اور آدم کو ذلت و خواری (معاذاللہ) اس معرکہ میں نصیب ہوئی۔ جنگ ایک ڈول
ہے۔ اتقیا کا انجام رحمن کے پاس ہے۔ پس اللہ تعالیٰ نے مسیح موعود کو پیدا کیا تاکہ شیطان کو آخری زمانہ میں ہزیمت
دی جاسکے۔‘‘
(ترجمہ حاشیہ خطبہ الہامیہ ص:۳۱۲، روحانی خزائن ج:۱۶ص:ایضاً)
۸-۱۲۴: ’’خدا تعالیٰ میرے لئے اس کثرت سے نشان دکھلا رہا ہے کہ اگر نوح کے زمانہ میں وہ نشان دکھلائے جاتے تو وہ
لوگ غرق نہ ہوتے۔‘‘
(تتمہ حقیقۃ الوحی ص:۱۳۷، روحانی خزائن ج:۲۲ ص:۵۷۵)
۹-۱۲۵: ’’پس اس اُمت کا یوسف یعنی یہ عاجز اسرائیلی یوسف سے بڑھ کر ہے۔‘‘
(براہین احمدیہ حصہ پنجم ص:۷۶، روحانی خزائن ج:۲۱ ص:۹۹)
۱۰-۱۲۶: ’’پہلے انبیاء کے معجزات تو خاص زمینوں اور خاص شہروں تک عموماً محدود ہوئے تھے۔ مگر اب تو خدا تعالیٰ ایسے
نشان اس سلسلہ کی تائید میں ظاہر کرتا ہے جو دنیا بھر پر اپنا اثر ڈالتے ہیں۔‘‘
(ملفوظات ج:۷ ص:۳۳۶)
۱۱-۱۲۷: ’’آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی اُمت کی دو حدیں مقرر کردی ہیں اور فرمادیا ہے کہ وہ اُمت ضلالت سے
محفوظ ہے۔ جس کے اول میں میرا وجود اور آخر میں مسیح موعود ہے یعنی ایک طرف وجود باجود کی دیوار روٹین ہے اور دوسری
طرف وجود بابرکت مسیح موعود کی دیوار دشمن کش ہے...... آنحضرت نے ایسے لوگوں کو اپنی اُمت میں داخل نہیں سمجھا جو
مسیح موعود کے زمانہ کے بعد ہوں گے۔ اور مسیح موعود کا زمانہ اس حد تک ہے جس حد تک اس کے
117
دیکھنے والے یا دیکھنے والوں کے دیکھنے والے اور پھر دیکھنے والوں کے دیکھنے والے دنیا میں پائے جائیں گے
اور اس کی تعلیم پر قائم ہوں گے۔ غرض قرون ثلٰثہ کا ہونا برعایت منہاج نبوّت ضروری ہے۔‘‘
(تریاق القلوب ص:۵۶، روحانی خزائن ج:۱۵ ص:۴۷۸)
۱۲-۱۲۸: ’’میں علی الاعلان کہتا ہوں کہ اگر اس وقت مسیح ہوتے تو جس قدر عظیم الشان تائیدی نشان پیش گوئیوں کے رنگ
میں اب خدا نے میرے ہاتھ پر صادر کئے ہیں وہ ان کو دیکھ کر شرمندہ ہوجاتے اور اپنی پیش گوئیوں کا...... مارے ندامت
کے نام نہ لیتے۔‘‘
(ملفوظات ج:۳ ص:۱۳۲)
۱۲-۱۲۹: ’’میں پکار کر کہتا ہوں مسیح کو مجھ پر زیادت نہیں کیونکہ میں نور محمدی کا قائم مقام ہوں۔‘‘
(ملفوظات ج:۳ ص:۱۲۵)
۱۳-۱۳۰: ’’خدا کی غیرت نے چاہا کہ احمد کے غلام کو مسیح سے افضل قرار دیا۔ ‘‘
(ملفوظات ج:۳ ص:۲۵۵)
۱۴-۱۳۱: ’’(مسیح علیہ السلام میں) انسانیت کا اقبال بھی اس کے وجود میں نظر نہیں آتا...... مسیح محمدی مسیح موسوی
سے افضل ہے...... مسیح موعود سے مقابلہ کرنے میں بھی مسیح اپنی کامیابی اور بعثت کے لحاظ سے کم ہے۔ کیونکہ محمدی
مسیح محمدی کمالات کا جامع ہے۔‘‘
(ملفوظات ج:۳ ص:۳۶۵)
۱۵-۱۳۲: ’’میں مسیح اور حسین سے بڑھ کر ہوں۔‘‘
(ملفوظات ج:۳ ص:۳۸۴)
۱۶-۱۳۳: ’’حضرت عیسیٰ اگر اسی شان سے آتے جس شان سے وہ پہلے آئے تو وہ وہ کام نہ کرسکتے جو مسیح موعود کے لئے
اللہ تعالیٰ نے ٹھہرایا ہے۔ ان کا دائرہ بہت تنگ اور چھوٹا تھا۔ اور مسیح
118
موعود کا دائرہ بہت وسیع ہے۔ ان سب امور پر جب نگاہ کی جاوے تو صاف معلوم ہوتا ہے کہ مسیح موعود ابن مریم سے
بڑھا ہوا ہے۔‘‘
(ملفوظات ج:۳ ص:۳۷۹)
۱۷-۱۳۴: ’’خدا تعالیٰ کا فضل مجھ پر اس (ابن مریم) سے بہت زیادہ ہے اور وہ کام جو میرے سپرد کیا گیا، اس (ابن مریم)
کے کام سے بہت ہی بڑھ کر ہے...... میں خدا سے ہوں اور مسیح مجھ سے ہے۔‘‘
(ملفوظات ج:۳ ص:۳۳۰)
۱۸-۱۳۵: ’’عیسیٰ تو پانی پر چلتے تھے اور میں ہوا پر تیررہا ہوں...... اور میرے خدا کا فضل ان سے بڑھ کر مجھ پر
ہے۔‘‘
(ملفوظات ج:۴ ص:۲۶۷)
مرزا غلام احمد قادیانی کے کفر و ارتداد کی چوتھی وجہ:
حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی توہین:
اسلامی اصولوں کے مطابق کسی نبی کے حق میں ادنیٰ گستاخی بھی کفر ہے، امام قاضی عیاض مالکی ’’الشفا‘‘ میں لکھتے ہیں:
’’وکذالک من آمن بالوحدانیۃ وصحۃ النبوۃ ونبوۃ نبینا صلی اللہ علیہ وسلم ولٰـکن جوز علی الأنبیاء الکذب
فیما اتوابہ، ادعی فی ذالک المصلحۃ بزعمہ اولم یدعھا فھو کافر بإجماع۔‘‘
(الشفا ج:۲ ص:۲۴۵)
ترجمہ:...’’اسی طرح جو شخص وحدانیت، صحت نبوّت اور ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوّت کا قائل
ہو، لیکن انبیائے کرام علیہم السلام کے حق میں جھوٹ کو جائز سمجھے، خواہ اس میں کسی مصلحت کا دعویٰ کرے یا نہ کرے وہ
بالاجماع کافر ہے۔‘‘
119
اسی سلسلہ میں آگے لکھتے ہیں:
’’او استخف بہ او بأحد من الأنبیاء او ازری علیھم او آذاھم او قتل نبیًّا او حاربہ فھو کافر
بإجماع۔‘‘
(ایضاً ج:۲ ص:۲۴۶)
ترجمہ:...’’یا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے حق میں گستاخی کرے یا کسی اور نبی کی گستاخی کرے یا ان
پر کوئی عیب لگائے یا کسی نبی کو قتل کرے یا اس سے جنگ کرے وہ بالاجماع کافر ہے۔‘‘
۱-۱۳۶: ’’مرزا نے خود بھی تسلیم کیا ہے کہ: ’’اسلام میں کسی نبی کی تحقیر کفر ہے۔‘‘
(چشمۂ معرفت (خاتمہ) ص:۱۸، روحانی خزائن ج:۲۳ص:۳۹۰)
مرزا غلام احمد قادیانی نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے حق میں نہایت ناشائستہ گستاخیاں کیں۔ ان کے معجزات کی توہین
کی ہے اور ان کی طرف جھوٹ کی نسبت کی ہے، اس لئے مرزا قادیانی تمام اُمت کے نزدیک خارج از اسلام اور مرتد ہے۔ ذیل
میں مرزا قادیانی کی کتابوں سے چند فقرے نقل کئے جاتے ہیں:
۱:...مسیح کا چال چلن:
۱-۱۳۷: ’’مسیح کا چال چلن کیا تھا۔ ایک کھاؤ، پیئو، شرابی، نہ زاہد، نہ عابد، نہ حق کا پرستار، متکبر، خودبین،
خدائی کا دعویٰ کرنے والا۔‘‘
(مکتوبات احمدیہ ج:۳ ص:۲۱ تا ۲۴)
۲-۱۳۸: ’’یسوع اس لئے اپنے تئیں نیک نہ کہہ سکا کہ لوگ جانتے تھے کہ یہ شخص شرابی کبابی ہے اور یہ خراب چال چلن نہ
خدائی کے بعد، بلکہ ابتدا ہی سے ایسا معلوم ہوتا ہے۔ چنانچہ خدائی کا دعویٰ شراب خوری کا ایک بدنتیجہ ہے۔‘‘
(ست بچن ص:۱۷۲حاشیہ، روحانی خزائن ج:۱۰ ص:۲۹۶)
120
۳-۱۳۹: ’’مسیح نے تو امام حسین علیہ السلام جتنا حوصلہ بھی نہ دکھلایا۔‘‘
(ملفوظات ج:۴ ص:۱۰۷)
۴-۱۴۰: ’’حضرت عیسیٰ کا نام بھی الٹا مذہب بھی الٹا۔‘‘
(ملفوظات ج:۴ ص:۱۹۰)
۲:...شراب نوشی:
۱-۱۴۱: ’’یورپ کے لوگوں کو جس قدر شراب نے نقصان پہنچایا ہے۔ اس کا سبب تو یہ تھا کہ عیسیٰ علیہ السلام شراب پیا
کرتے تھے۔ شاید کسی بیماری کی وجہ سے یا پرانی عادت کی وجہ سے۔‘‘
(کشتی نوح ص:۶۵ حاشیہ، روحانی خزائن ج:۱۹ ص:۷۱)
۲-۱۴۲: ’’میرے نزدیک مسیح شراب سے پرہیز رکھنے والا نہیں تھا۔‘‘
(ریویو آف ریلیجنز ج:۱ ص:۱۲۳، ۱۹۰۳ء)
۳-۱۴۳: ’’ایک دفعہ مجھے ایک دوست نے یہ صلاح دی کہ ذیابیطس کے لئے افیون مفید ہوتی ہے۔ پس علاج کی غرض سے مضائقہ
نہیں کہ افیون شروع کردی جائے۔ میں نے جواب دیا کہ یہ آپ نے بڑی مہربانی کی کہ ہمدردی فرمائی۔ لیکن اگر میں ذیابیطس
کے لئے افیون کھانے کی عادت کرلوں تو میں ڈرتا ہوں کہ لوگ ٹھٹھا کرکے یہ نہ کہیں کہ پہلا مسیح تو شرابی تھا اور
دوسرا افیونی۔‘‘
(نسیم دعوت ص:۶۹، روحانی خزائن ج:۱۹ ص:۴۳۵)
۴-۱۴۴: ’’یحییٰ جو نشہ نہیں پیتے تھے، معلوم ہوا کہ اس وقت بھی منع تھا، مسیح نے مرشد کی تقلید کیوں نہ کی۔‘‘
(ملفوظات ج:۴ ص:۸۹)
اس سے معلوم ہوا کہ مرزا قادیانی کے نزدیک شراب اس وقت بھی حرام تھی اس
121
کے باوجود مرزا، حضرت مسیح علیہ السلام پر شراب نوشی کی تہمت لگاتا ہے اور انہیں ’’شرابی کبابی‘‘ کا خطاب
دیتا ہے۔ اردو محاورہ میں یہ لفظ ’’عیاش، بدمعاش‘‘ کے معنی میں استعمال ہوتا ہے۔
۵-۱۴۵: ’’اصل میں ہمارا وجود دو باتوں کے لئے ہے، ایک تو ایک نبی کو مارنے کے لئے دوسرا شیطان کو مارنے کے لئے۔‘‘
(ملفوظات ج:۱۰ ص:۶۰)
۳:...فاحشہ عورتوں سے تعلق:
۱-۱۴۶: ’’لیکن مسیح کی راست بازی اپنے زمانے میں دوسرے راست بازوں سے بڑھ ثابت نہیں ہوتی۔ بلکہ یحییٰ نبی کو اس پر
ایک فضیلت ہے کیونکہ وہ شراب نہیں پیتا تھا۔ اور کبھی نہیں سنا گیا کہ کسی فاحشہ عورت نے آکر اپنی کمائی کے مال سے
اس کے سر پر عطر ملا ہو۔ یا ہاتھوں اور اپنے سر کے بالوں سے اس کے بدن کو چھوا تھا یا کوئی بے تعلق جوان عورت اس کی
خدمت کرتی تھی۔ اسی وجہ سے خدا نے قرآن میں یحییٰ کا نام حصور رکھا مگر مسیح کا یہ نام نہ رکھا کیونکہ ایسے قصے اس
نام کے رکھنے سے مانع تھے۔‘‘
(دافع البلاء ٹائٹل پیج، روحانی خزائن ج:۱۸ ص:۲۲۰)
ان تین فقروں میں مرزا قادیانی نے حضرت مسیح علیہ السلام پر فاحشہ عورتوں سے اختلاط کی تہمت لگائی ہے اور اس کی وجہ
بیان کی کہ نعوذ باللہ آپ کی تین دادیاں اور تین نانیاں زناکار اور کسبی عورتیں تھیں اور حضرت مسیح پر لگائے گئے
الزام کے ثبوت میں قرآن کا غلط حوالہ دیا ہے۔ نعوذ باللہ!
۲-۱۴۷: ’’تمہیں خبر نہیں کہ مردمی اور رجولیت انسان کے صفاتِ محمودہ میں سے ہیں۔ ہیجڑا ہونا کوئی اچھی صفت نہیں۔
جیسے
122
بہرا اور گونگا ہونا کسی خوبی پر داخل نہیں، ہاں یہ اعتراض بہت بڑا ہے کہ حضرت مسیح علیہ السلام مردانہ صفات
کی اعلیٰ ترین صفت سے بے نصیب محض ہونے کے باعث ازواج سے سچی اور کامل حسن معاشرت کا کوئی عملی نمونہ نہ دے سکے، اس
لئے یورپ کی عورتیں نہایت قابل شرم آزادی سے فائدہ اُٹھاکر اِعتدال کے دائرہ سے اِدھر اُدھر نکل گئیں اور آخر
ناگفتنی فسق و فجور تک نوبت پہنچی۔‘‘
(نور القرآن، روحانی خزائن ج:۹ ص:۳۹۲)
۴:...غلیظ گالیاں:
۱-۱۴۸: ’’ایک شریر مکار نے جس میں سراسر یسوع کی روح تھی۔‘‘
(ضمیمہ انجام آتھم ص:۵ حاشیہ، روحانی خزائن ج:۱۱ ص:۲۸۹)
۲-۱۴۹: ’’ہاں آپ (یسوع مسیح) کو گالیاں دینے اور بدزبانی کی اکثر عادت تھی۔‘‘
(ضمیمہ انجام آتھم ص:۵ حاشیہ، روحانی خزائن ج:۱۱ ص:۲۸۹)
۳-۱۵۰: ’’یہ بھی یاد رہے کہ آپ (یسوع مسیح) کو کسی قدر جھوٹ بولنے کی عادت بھی تھی۔ـ‘‘
(ضمیمہ انجام آتھم ص:۵ حاشیہ، روحانی خزائن ج:۱۱ ص:۲۸۹)
۴-۱۵۱: ’’نہایت شرم کی بات یہ ہے کہ آپ (یسوع مسیح) نے پہاڑی تعلیم کو جو انجیل کا مغز کہلاتی ہے یہودیوں کی کتاب
طالمود سے چراکر لکھا ہے اور پھر ایسا ظاہر کیا ہے کہ گویا یہ میری تعلیم ہے۔ لیکن جب سے یہ چوری پکڑی گئی عیسائی
بہت شرمندہ ہیں۔‘‘
(ضمیمہ انجام آتھم ص:۶ حاشیہ، روحانی خزائن ج:۱۱ ص:۲۹۰)
۵-۱۵۲: ’’اور آپ (یسوع مسیح) کے ہاتھ میں سوا مکر
123
اور فریب کے اور کچھ نہیں تھا۔‘‘
(ضمیمہ انجام آتھم ص:۷ حاشیہ، روحانی خزائن ج:۱۱ ص:۲۹۱)
۶-۱۵۳: ’’پھر تعجب ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے خود اخلاقی تعلیم پر عمل نہیں کیا۔‘‘
(چشمۂ مسیحی ص:۱۱، روحانی خزائن ج:۲۰ص:۳۴۶)
۷-۱۵۴: ’’خود مسیح نے بھی انجیل کی تعلیم کے موافق عمل کرکے نہیں دکھایا۔‘‘
(ملفوظات ج:۵ ص:۳۵۵)
مندرجہ بالا فقروں میں مرزا نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو جو غلیظ گالیاں دی ہیں وہ ظاہر ہیں۔
۵:...معجزات مسیح علیہ السلام کا انکار:
مرزا قادیانی نے لکھا ہے:
۱-۱۵۵: ’’اور بموجب بیان یہودیوں کے اس (یسوع مسیح) سے کوئی معجزہ نہیں ہوا محض فریب اور مکر تھا۔‘‘
(چشمۂ مسیحی ص:۹، روحانی خزائن ج:۲۰ ص:۳۴۴)
۲-۱۵۶: ’’عیسائیوں نے بہت سے آپ کے معجزات لکھے ہیں مگر حق بات یہ ہے کہ آپ سے کوئی معجزہ نہیں ہوا۔‘‘
(ضمیمہ انجام آتھم ص:۶ حاشیہ، روحانی خزائن ج:۱۱ ص:۲۹۰)
۳-۱۵۷: ’’مسیح کے معجزات اور پیش گوئیوں پر جس قدر اعتراض اور شکوک پیدا ہوتے ہیں میں نہیں سمجھ سکتا کہ کسی اور
نبی کے خوارق یا پیش خبریوں میں کبھی ایسے شبہات پیدا ہوئے ہوں۔ کیا تالاب کا قصہ مسیحی معجزات کی رونق دور نہیں
کرتا؟‘‘
(ازالہ اوہام طبع پنجم ص:۵، روحانی خزائن ج:۳ ص:۱۰۶)
124
۴-۱۵۸: ’’ممکن ہے کہ آپ (یسوع مسیح) نے معمولی تدبیر کے ساتھ کسی شب کور وغیرہ کو اچھا کیا ہو یا کسی اور ایسی
بیماری کا علاج کیا ہو مگر آپ کی بدقسمتی سے اسی زمانہ میں ایک تالاب بھی موجود تھا۔ جس سے بڑے بڑے نشان ظاہر ہوتے
تھے، خیال ہوسکتا ہے کہ اس تالاب کی مٹی آپ بھی استعمال کرتے ہوں گے۔ اسی تالاب سے آپ کے معجزات کی پوری پوری
حقیقت کھلتی ہے اور اسی تالاب نے فیصلہ کردیا ہے کہ اگر آپ سے کوئی معجزہ بھی ظاہر ہوا ہو تو وہ معجزہ آپ کا نہیں
بلکہ اس تالاب کا معجزہ ہے اور آپ کے ہاتھ میں سوا مکر اور فریب کے اور کچھ نہیں تھا۔‘‘
(ضمیمہ انجام آتھم ص:۷ حاشیہ، روحانی خزائن ج:۱۱ ص:۲۹۱)
۵-۱۵۹: ’’مسیح کے معجزات تو اس تالاب کی وجہ سے بے رونق اور بے قدر تھے جو مسیح کی ولادت سے بھی پہلے مظہر عجائبات
تھا جس میں ہر قسم کے بیمار اور تمام مجذوم، مفلوج، مبروص وغیرہ ایک ہی غوطہ مارکر اچھے ہوجاتے تھے۔‘‘
(ازالہ اوہام طبع پنجم ص:۱۳۴ حاشیہ، روحانی خزائن ج:۳ ص:۲۶۳)
۶-۱۶۰: ’’یہ بھی ممکن ہے کہ مسیح ایسے کام کے لئے اس تالاب کی مٹی لاتا تھا جس میں روح القدس کی تاثیر رکھی گئی
تھی۔ بہرحال یہ معجزہ (پرندے بناکر اڑانے کا) صرف ایک کھیل کی قسم میں سے تھا۔‘‘
(ازالہ اوہام ص:۱۳۵ حاشیہ، روحانی خزائن ج:۳ ص:۲۶۳)
۶:...حضرت مسیح کی پیش گوئیاں غلط:
۱-۱۶۱: ’’ہائے کس کے آگے یہ ماتم لے جائیں کہ
125
حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی تین پیش گوئیاں صاف طور پر جھوٹی نکلیں۔‘‘
(اعجاز احمدی ص:۱۴، روحانی خزائن ج:۱۹ ص:۱۲۱)
۲-۱۶۲: ’’یہود تو حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے معاملہ میں اور ان کی پیش گوئیوں کے بارے میں ایسے قوی اعتراض رکھتے
ہیں کہ ہم بھی ان کا جواب دینے میںحیران ہیں۔ بغیر اس کے کہ کہہ دیں کہ ضرور عیسیٰ نبی ہے کیونکہ قرآن نے اس کو نبی
قرار دیا ہے۔‘‘
(اعجاز احمدی ص:۱۳، روحانی خزائن ج:۱۹ص:۱۲۰)
۳-۱۶۳: ’’کیا تالاب کا قصہ مسیحی معجزات کی رونق دور نہیں کرتا؟ اور پیش گوئیوں کا حال اس سے بھی زیادہ تر ابتر ہے۔
کیا یہ بھی کچھ پیش گوئیاں ہیں کہ زلزلہ لے آئیں گے، مری پڑے گی، لڑائیاں ہوں گی، قحط پڑیں گے اور اس سے زیادہ قابل
افسوس یہ امر ہے کہ جس قدر حضرت مسیح کی پیش گوئیاں غلط نکلیں، اس قدر صحیح نکل نہیں سکیں۔‘‘
(ازالہ اوہام طبع پنجم ص:۵، روحانی خزائن ج:۳ ص:۱۰۶)
۴-۱۶۴: ’’اس درماندہ انسان کی پیش گوئیاں کیا تھیں۔ صرف یہی کہ زلزلے آئیں گے، قحط پڑیں گے۔ لڑائیاں ہوں گی......
پس اس نادان اسرائیلی نے ان معمولی باتوں کا پیش گوئی کیوں نام رکھا۔‘‘
(ضمیمہ آتھم ص:۴ حاشیہ، روحانی خزائن ج:۱۱ ص:۲۸۸)
۵-۱۶۵: ’’جو اس یہودی فاضل نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی پیش گوئیوں پر اعتراض کئے ہیں وہ نہایت سخت اعتراض ہیں
بلکہ وہ ایسے سخت ہیں کہ ان کا تو ہمیں بھی جواب نہیں آتا۔‘‘
(اعجاز احمدی ص:۵، روحانی خزائن ج:۱۹ ص:۱۱۱)
۶-۱۶۶: ’’پس صرف مسیح کا وجود ہی اس قسم کا ہے۔ کہ جس کا دوست بھی جہنم میں اور دشمن بھی جہنم میں۔ اس قسم کا
اِبتلا کسی
126
اور نبی کے وجود کے ساتھ نہیں ہے۔‘‘
(ملفوظات ج:۷ ص:۲۴۶)
۷-۱۶۷:’’ہماری تو یہ بھی سمجھ میں نہیں آتا کہ یہ لوگ اس عیسیٰ کو اتار کر کریں گے کیا؟ آخر ان کے قویٰ تو وہی
ہوں گے جو پہلے تھے۔ پہلے کیا کیا تھا، جو اب کریں گے؟ ایک ذلیل سی معدودے چند ایک قوم تھی، ان کی اصلاح بھی نہ
ہوئی۔‘‘
(ملفوظات ج:۵ ص:۲۸۶)
۷:...حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی نبوّت تباہ کن فتنہ:
۱-۱۶۸: ’’وہ (مسیح) ایک خاص قوم کے لئے آیا اور افسوس کہ اس کی ذات سے دنیا کو کوئی بھی روحانی فائدہ پہنچ نہ سکا۔
ایک ایسی نبوّت کا نمونہ دنیا میں چھوڑ گیا جس کا ضرر اس کے فائدے سے زیادہ ثابت ہوا۔ اور اس کے آنے سے اِبتلا اور
فتنہ بڑھ گیا۔‘‘
(اتمام الحجۃ لاہوری ایڈیشن ص:۳۲، روحانی خزائن ج:۸ ص:۳۰۸)
۲-۱۶۹: ’’ایک دفعہ حضرت عیسیٰ مسیح زمین پر آئے تھے تو اس کا نتیجہ یہ ہوا تھا کہ کئی کروڑ مشرک دنیا میں ہوگئے۔
دوبارہ آکر وہ کیا بنائیں گے کہ لوگ ان کے آنے کے خواہش مند ہیں۔‘‘
(اخبار بدر ج:۶ ص:۱۹ (قادیانی) ۹؍مئی ۱۹۰۷ء)
۳-۱۷۰: ’’جو شخص کشمیر سرینگر محلہ خانیار میں مدفون ہے اس کو ناحق آسمان پر بٹھایا گیا۔ کس قدر ظلم ہے۔ خدا تو،
بہ پابندی اپنے وعدوں کے ہر چیز پر قادر ہے۔ لیکن ایسے شخص کو کسی طرح دوبارہ دنیا میں نہیں لاسکتا جس کے پہلے فتنے
نے ہی دنیا کو تباہ کردیا ہے۔‘‘
(دافع البلاء ص:۱۹، روحانی خزائن ج:۱۸ ص:۲۳۵)
127
بحث کا دوسرا نکتہ:
حضرت مسیح کی پیدائش بن باپ!
اہل اسلام کا عقیدہ ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی پیدائش کنواری مریم کے بطن سے بن باپ ہوئی، چنانچہ قرآن کریم
میں حضرت مسیح کی پیدائش کا واقعہ پوری تفصیل کے ساتھ ذکر کیا گیا ہے:
الف:... ’’وَاذْکُرْ فِی الْکِتَابِ مَرْیَمَ اِذِ انْتَبَذَتْ مِنْ اَھْلِھَا مَکَانًا
شَرْقَیًّا۔ فَاتَّخَذَتْ مِنْ دُوْنِھِمْ حِجَابًا فَأَرْسَلْنَا اِلَیْھَا رُوْحَنَا فَتَمَثَّلَ لَھَا بَشَرًا
سَوَیًّا۔ قَالَتْ اِنِّیٓ أَعُوْذُ بِالرَّحْمٰنِ مِنْکَ اِنْ کُنْتَ تَقَیًّا۔ قَالَ اِنَّمَا اَنَا رَسُوْلُ
رَبِّکِ لِأَھَبَ لَکِ غُلَـٰمًا زَکِیًّا۔ قَالَتْ أَنَّیٰ یَکُوْنُ لِی غُلَـٰمٌ وَلَمْ یَمْسَسْنِیْ بَشَرٌ
وَّلَمْ أَکُ بَغِیًّا۔ قَالَ کَذَٰلِکِ قَالَ رَبُّکِ ھُوَ عَلَیَّ ھَیِّنٌ وَّلِنَجْعَلَہُ آیَۃً لِّلنَّاسِ
وَرَحْمَۃً مِنَّا وَکَانَ أَمْرًا مَقْضِیًّا۔ فَحَمَلَتْہُ فَانْتَبَذَتْ بِہٖ مَکَانًا قَصَیًّا۔
فَأَجَائَھَا الْمَخَاضُ اِلَیٰ جِذْعِ النَّخْلَۃِ قَالَتْ یَـٰلَیْتَنِیْ مِتُّ قَبْلَ ھَٰذَا وَکُنْتُ نَسْیًا
مَنْسِیًّا۔ فَنَادٰھَا مِنْ تَحْتِھَا اَلّا تَحْزَنِیْ قَدْ جَعَلَ رَبُّکِ تَحْتَکِ سَرِیًّا۔ وَھُزِّیٓ
اِلَیْکِ بِجِذْعِ النَّخَلَۃِ تُسَاقِطْ عَلَیْکِ رُطَبًا جَنِیًّا۔ فَکُلِی وَاشْرَبِی وَقَرِّی عَیْنًا
فَاِمَّا تَرَیِنَّ مِنَ الْبَشَرِ أَحَدًا فَقُوْلِیٓ اِنِّیْ نَذَرْتُ لِلرَّحْمٰنِ صَوْمًا فَلَنْ أُکَلِّمَ
الْیَوْمَ اِنْسِیًّا۔ فَأَتَتْ بِہٖ قَوْمَھَا تَحْمِلُہُ قَالُوْا یَـٰمَرْیَمُ لَقَدْ جَئْتِ شَیْئًا
فَرِیًّا۔ یَـٰٓـأُخْتَ ھَارُوْنَ مَا کَانَ أَبُوْکِ امْرَأَ سَوْئٍ وَّمَا کَانَتْ أُمُّکِ بَغِیًّا۔
فَأَشَارَتْ اِلَیْہِ قَالُوْا کَیْفَ نُکَلِّمُ مَنْ کَانَ فِیْ الْمَھْدِ صَبِیًّا۔ قَالَ اِنِّی
128
عَبْدُاللہِ ئَاتَـٰنِیَ الْکِتٰبَ وَجَعَلَنِیْ نَبِیًّا۔‘‘
(مریم:۱۶تا ۳۰)
ترجمہ:...’’اور اب محمد صلی اللہ علیہ وسلم اس کتاب میں مریم کا ذکر بھی کیجئے۔ جب کہ وہ اپنے گھر
والوں سے علیحدہ (ہوکر ایک ایسے مکان میں جو مشرق کی جانب میں تھا، غسل کے لئے) گئیں پھر ان (گھر والے) لوگوں کے
سامنے انہوں نے پردہ ڈال دیا پس (اس حالت میں) ہم نے ان کے پاس اپنے فرشتہ جبرائیل کو بھیجا اور وہ ان کے سامنے ایک
پورا آدمی بن کر ظاہر ہوا۔ کہنے لگی کہ میں تجھ سے (اپنے خدائے) رحمن کی پناہ مانگتی ہوں اگر تو کچھ خدا ترس ہے (تو
یہاں سے ہٹ جاوے گا) فرشتہ نے کہا کہ میں تمہارے رب کا بھیجا ہوا (فرشتہ) ہوں تاکہ تم کو ایک پاکیزہ لڑکا دوں۔ وہ
(تعجباً) کہنے لگیں کہ (بھلا) میرے لڑکا کس طرح ہوجاوے گا، حالانکہ مجھ کو کسی بشر نے ہاتھ تک نہیں لگایا، اور نہ
میں بدکار ہوں۔ فرشتہ نے کہا یوں ہی اولاد ہوجاوے گی۔ تمہارے رَبّ نے ارشاد فرمایا ہے کہ یہ بات مجھ کو آسان ہے اور
اس طور پر اسی لئے پیدا کریں گے تاکہ ہم اس فرزند کو لوگوں کے لئے ایک نشانی (قدرت کی) بنادیں اور باعث رحمت بناویں
اور یہ ایک طے شدہ بات ہے (جو ضرور ہوگی) پھر ان کے پیٹ میں لڑکا رہ گیا، پھر اس حمل کو لئے ہوئے (اپنے گھر سے) کسی
دور جگہ چلی گئیں۔ درد زہ کے مارے کھجور کے درخت کی طرف آئیں۔ کہنے لگیں اے کاش! میں اس (حالت) سے پہلے ہی مر گئی
ہوتی۔ اور ایسی نیست و نابود ہوجاتی کہ کسی کو یاد بھی نہ رہتی۔ پھر جبرئیل نے اس کے (اس) بائیں (مکان) سے پکارا کہ
تم مغموم مت ہو، تمہارے رَبّ نے تمہارے پائیں میں سے ایک نہر پیدا کردی ہے اور اس کھجور کے تنا
129
کو (پکڑ کر) اپنی طرف کو ہلاؤ، اس سے تم پر خرمائے تر و تازہ جھڑیں گے۔ پھر (اس پھل کو)
کھاؤ اور (وہ پانی) پیو اور آنکھیں ٹھنڈی کرو۔ پھر اگر تم آدمیوں میں سے کسی کو بھی (اعتراض کرتا) دیکھو تو کہہ
دینا کہ میں نے اللہ کے واسطے روزے کی منت مان رکھی ہے، سو آج میں کسی آدمی سے نہیں بولوں گی۔ پھر وہ ان کو گود
میں لئے ہوئے اپنی قوم کے پاس آئیں۔ لوگوں نے کہا: اے مریم! تم نے بڑے غضب کا کام کیا، اے ہارون کی بہن! تمہارے
باپ کوئی برے آدمی نہ تھے اور نہ تمہاری ماں بدکار تھیں۔ پس مریم نے بچہ کی طرف اشارہ کردیا۔ وہ لوگ کہنے لگے کہ
بھلا ہم ایسے شخص سے کیونکر باتیں کریں جو ابھی گود میں بچہ ہی ہے۔ وہ بچہ (خود ہی) بول اٹھا میں اللہ کا (خاص)
بندہ ہوں۔‘‘
ب:... ’’وَاِذْ قَالَتِ الْمَلٰٓئِکَۃُ یَـٰمَرْیَمُ اِنَّ اللہَ اصْطَفٰـکِ وَطَھَّرَکِ
وَاصْطَفٰـکِ عَلَیٰ نِسَآئِ الْعٰلَمِیْنَ۔ یَـٰمَرْیَمُ اقْنُتِی لِرَبِّکِ وَاسْجُدِیْ وَارْکَعِی مَعَ
الرَّاکِعِیْنَ۔ ذَٰلِکَ مِنْ أَنْبَآئِ الْغَیْبِ نُوْحِیْہِ اِلَیْکَ وَمَا کُنْتَ لَدَیْھِمْ اِذِ یُلْقُوْنَ
أَقْـلَـٰمَھُمْ أَیُّھُمْ یَکْفُلُ مَرْیَمَ وَمَا کُنْتَ لَدَیْھِمْ اِذْ یَخْتَصِمُوْنَ۔ اِذْ قَالَتِ
الْمَلٰٓئِکَۃُ یَـٰمَرْیَمُ اِنَّ اللہَ یُبَشِّرُکِ بِکَلِمَۃٍ مِّنْہُ اسْمُہُ الْمَسِیْحُ عِیْسَی ابْنُ
مَرْیَمَ وَجِیْھًا فِی الدُّنْیَا وَالْأَخِرَۃِ وَمِنَ الْمُقَرَّبِیْنَ۔ وَیُکَلِّمُ النَّاسَ فِی الْمَھْدِ
وَکَھْلًا وَّمِنَ الصَّـٰلِحِیْنَ۔ قَالَتْ رَبِّ اَنَّی یَکُوْنُ لِی وَلَدٌ وَّلَمْ یَمْسَسْنِی بَشَرٌ قَالَ
کَذَٰلِکِ اللہُ یَخْلُقُ مَایَشَآءُ اِذَا قَضَیٰٓ أَمْرًا فَاِنَّمَا یَقُوْلُ لَہُ کُنْ فَیَکُوْنُ۔‘‘
(آل عمران:۴۲تا۴۷)
ترجمہ:...’’ اور وہ وقت بھی یاد کرنے کے قابل ہے جبکہ
130
فرشتوں نے حضرت مریم علیہا السلام سے کہا: اے مریم! بلاشک اللہ تعالیٰ نے تم کو منتخب فرمایا
ہے اور پاک بنایا ہے، اور تمام جہان بھر کی بیبیوں کے مقابلے میں منتخب فرمایا ہے۔ اے مریم! اطاعت کرتی رہو اپنے
پروردگار کی اور سجدہ کیا کرو اور رُکوع کیا کرو ان لوگوں کے ساتھ جو رُکوع کرنے والے ہیں۔ یہ قصے من جملہ غیب کی
خبروں کے ہیں، جن کی وحی بھیجتے ہیں ہم آپ کے پاس، اور آپ ان لوگوں کے پاس نہ تو اس وقت موجود تھے جبکہ وہ اپنے
اپنے قلموں کو پانی میں ڈالتے تھے کہ ان سب میں کون شخص حضرت مریم علیہا السلام کی کفالت کرے، اور نہ آپ ان کے
پاس اس وقت موجود تھے جبکہ وہ لوگ باہم اختلاف کر رہے تھے۔ اس وقت کو یاد کرو جب کہ فرشتوں نے (یہ بھی) کہا اے
مریم (علیہا السلام) بے شک اللہ تعالیٰ تم کو بشارت دیتے ہیں ایک کلمہ کی جو منجانب اللہ ہوگا۔ اس کا نام (ولقب)
مسیح عیسیٰ بن مریم ہوگا، باآبرو ہوں گے دنیا میں اور آخرت میں اور من جملہ مقربین کے ہوں گے، اور آدمیوں سے
کلام کریں گے، گہوارے میں اور بڑی عمر میں اور شائستہ لوگوں میں سے ہوں گے۔ حضرت مریم (علیہا السلام) بولیں: اے
میرے پروردگار! کس طرح ہوگا میرے بچہ حالانکہ مجھ کو کسی بشر نے ہاتھ نہیں لگایا۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ ویسے
ہی (بلا مرد کے) ہوگا۔ (کیونکہ) اللہ تعالیٰ جو چاہیں پیدا کردیتے ہیں۔ جب کسی چیز کو پورا کرنا چاہتے ہیں تو اس
کو کہہ دیتے ہیں کہ ہوجا، پس وہ چیز ہوجاتی ہے۔‘‘
(ترجمہ: حضرت مولانا اشرف علی تھانویؒ)
ج:... ’’اِنَّ مَثَلَ عِیْسَیٰ عِنْدَ اللہِ کَمَثَلِ ئَادَمَ خَلَقَہُ مِنْ تُرَابٍ ثُمَّ
قَالَ لَہُ کُنْ فَیَکُوْنُ۔ الْحَقُّ مِنْ رَّبِکَ فَـلَا
131
تَکُن مِّنَ الْمُمْتَرِیْنَ۔‘‘
(آل عمران:۵۹،۶۰)
ترجمہ:...’’بے شک حالت عجیبہ (حضرت) عیسیٰ کی اللہ تعالیٰ کے نزدیک مشابہ حالت عجیبہ (حضرت ) آدم ؑ
کے ہے کہ ان (کے قالب) کو مٹی سے بنایا پھر ان کو حکم دیا کہ (جاندار) ہو، پس وہ جاندار ہوگئے۔ یہ امر واقعی آپ کے
پروردگار کی طرف سے (بتلایا گیا) ہے۔ سو آپ شبہ کرنے والوں میں سے نہ ہوجائیے۔‘‘
د:... ’’وَمَرْیَمَ ابْنَتَ عِمْرَانَ الَّتِی أَحْصَنَتْ فَرْجَھَا فَنَفَخْنَا فِیْہِ مِن
رُّوْحِنَا وَصَدَّقَتْ بِکَلِمٰتِ رَبِّھَا وَکُتُبِہِ وَکَانَتْ مِنَ الْقَانِتِیْنَ۔‘‘
(التحریم:۱۲)
ترجمہ:...’’(اور نیز مسلمانوں کی تسلی کے لئے) عمران کی بیٹی (حضرت مریم علیہا السلام) کا حال بیان
کرتا ہے جنہوں نے اپنے ناموس کو محفوظ رکھا۔ سو ہم نے ان کے چاک گریبان میں اپنی روح پھونک دی اور انہوں نے اپنے
پروردگار کے پیغاموں کی (جو ان کو ملائکہ کے ذریعہ پہنچے تھے) اور اس کی کتابوں کی تصدیق کی اور وہ اطاعت کرنے والوں
میں سے تھیں۔‘‘
ان آیاتِ کریمہ سے مندرجہ ذیل اُمور بالکل واضح ہیں:
۱:...فرشتوں کا کنواری مریم کے پاس آنا، اور بیٹے کی خوشخبری دینا۔
۲:...اس خوشخبری سے کنواری مریم کا تعجب کرنا اور یہ کہنا کہ میں نے نہ شادی کی ہے اور نہ میں بدکار ہوں اور پھر
بیٹا کیسے ہوگا۔
۳:...فرشتے کا جواب دینا کہ اسی حالت میں ہوگا۔
۴:...اس پر فرشتے کا ان کے گریبان میں پھونک مارنا اور ان کا حاملہ ہونا۔
۵:...وضع حمل کے لئے لوگوں سے دُور جگہ تنہائی میں جانا اور کھجور کے درخت سے ٹیک لگانا۔
132
۶:...چونکہ اس بچے کا کوئی باپ نہیں تھا اس لئے کنواری کا یہ اندیشہ کرنا کہ لوگ کیا کہیں گے اور اس واقعہ سے پہلے
مرنے کی تمنا کرنا۔
۷:...فرشتے کا اوٹ میں ہوکر ان کو تسلی دینا اور یہ کہنا کہ جب تم سے کوئی بات کرے تو تم زبان کی طرف اشارہ کرکے
بولنے سے معذوری ظاہر کردینا۔
۸:...کنواری مریم کا بچے کو گود میں اٹھاکر قوم کے پاس لانا اور لوگوں کا اس پر چہ میگوئیاں کرنا اور کنواری کو
ملامت کرنا۔
۹:...بچے کا بحکم الٰہی بات کرنا اور اپنی ماں کی صفائی پیش کرنا۔
یہ وہ مضامین ہیں جو بغیر کسی تشریح و تفسیر کے قرآن کریم سے مفہوم ہوتے ہیں۔ اور حدیث صحیح میں بھی حضرت عیسیٰ
علیہ السلام کا گہوارے میں بات کرنا، جس سے اپنی والدہ کی پاک دامنی بیان کرنا مقصود تھا، ذکر کیا گیا ہے:
’’عن ابی ہریرۃ رضی اللہ عنہ عن النبی صلی اللہ علیہ وسلم قال: لم یتکلم فی المھد الّا ثلثۃ، عیسَی بن مریم
علیہ السلام وصبی کان فی زمان جریج وصبی آخر وذکر الحدیث۔‘‘
(مسند احمد ج:۲ ص:۳۰۸)
ترجمہ:...’’حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد نقل کرتے ہیں کہ
(بنواسرائیل میں) صرف تین بچوں نے ماں کی گود میں باتیں کیں، ایک عیسیٰ بن مریم علیہ السلام، دوسرے وہ بچہ جو جریج
کے زمانے میں تھا اور تیسرے ایک اور بچہ۔‘‘
قرآن کریم اور حدیثِ نبوی کی ان تصریحات کی روشنی میں مسلمانوں کا عقیدہ یہ ہے کہ عیسیٰ علیہ السلام کنواری مریم
کے بطن سے بن باپ تولد ہوئے اور اس حقیقت کا انکار گمراہ لوگوں کے سوا کسی نے نہیں کیا۔ مرزا غلام احمد قادیانی بھی
حضرت مسیح علیہ السلام کے بن باپ کے پیدا ہونے کا قائل تھا، ملاحظہ فرمائیے:
۱-۱۷۱: ’’ہمارا ایمان اور اعتقاد یہی ہے کہ حضرت مسیح
133
علیہ السلام بن باپ تھے۔ اور اللہ تعالیٰ کو سب طاقتیں ہیں۔ نیچری جو یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ ان کا باپ تھا،
وہ بڑی غلطی پر ہیں۔ ایسے لوگوں کا خدا مردہ خدا ہے۔ اور ایسے لوگوں کی دعا قبول نہیں ہوتی۔ جو یہ خیال کرتے ہیں کہ
اللہ تعالیٰ کسی کو بے باپ کے پیدا نہیں کرسکتا۔ ہم ایسے آدمی کو دائرہ اسلام سے خارج سمجھتے ہیں۔‘‘
(مباحثہ راولپنڈی ص:۳۰۸، ملفوظات ج:۲ ص:۳۰۳)
۲-۱۷۲: ’’ومن عقائدنا ان عیسٰی و یحیٰی قد ولد علی طریق خرق العادۃ۔‘‘
(مواہب الرحمن ص:۷۰، روحانی خزائن ج:۱۹ ص:۲۸۹)
۳-۱۳۷:’’ویقولون ان عیسٰی تولد من نطفۃ یوسف ابیہ إلٰی قولہ، او یقال ونعوذ باللہ منہ انہ من
الحرام۔‘‘
(مواہب الرحمن ص:۷۷، روحانی خزائن ج:۱۹ ص:۲۹۶)
لیکن افسوس ہے کہ مرزا قادیانی کی لاہوری جماعت مرزا کے ایمان و اعتقاد سے بھی محروم ہے۔ یہ لوگ حضرت عیسیٰ علیہ
السلام کو کنواری ماں کا بن باپ، بیٹا نہیں سمجھتے۔ لاہوری جماعت کے امیر و قائد اول جناب محمد علی صاحب نے ’’لم یمسسنی بشر‘‘ کی تفسیر میں لکھا ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام بن باپ پیدا نہیں ہوئے
تھے، اور پھر مرزا قادیانی کی دو رخی دیکھئے، کہ ازالہ اوہام ص:۱۲۷، روحانی خزائن ج:۳ ص:۲۵۴ پر لکھا ہے کہ:
۴-۱۷۴:’’حضرت مسیح ابن مریم اپنے باپ یوسف کے ساتھ بائیس برس تک نجاری کا کام بھی کرتے رہے ہیں۔‘‘
۵-۱۷۵: ’’پس یہ تمام اُمور اس بات پر دلیل ہیں کہ قرآن کریم حضرت عیسیٰ کی پیدائش بن باپ بیان نہیں کرتا۔ لم یمسسنی بشر آئندہ مس بشر سے مانع نہیں۔‘‘
(بیان القرآن ص:۳۱۵طبع چہارم محمد علی لاہوری)
134
۶-۱۷۶: کشی نوح حاشیہ ص:۱۶، روحانی خزائن ج:۱۹ ص:۱۸ پر لکھا ہے: ’’یسوع مسیح کے چار بھائی اور بہنیں تھیں۔ یہ سب
یسوع کے حقیقی بھائی اور حقیقی بہنیں تھیں۔‘‘ (کشتی نوح ایضاً، حالت حمل میں مریم کا نکاح، بتول کے عہد کو توڑنا)۔
مسئلۂ جہاد اور مرزا غلام احمد قادیانی:
قرآن کریم میں مسلمانوں کو جہاد کا حکم دیا گیا ہے۔ جہاد کی بہت سی صورتیں ہیں، ان میں سے ایک یہ ہے کہ شر و فساد
کی قوتوں کو سرنگوں کرنے کے لئے تلوار اٹھائی جائے۔
مرزا غلام احمد قادیانی کے کفر و اِرتداد کی ایک وجہ یہ ہے کہ اسلام میں جس ضرورت کے تحت تلوار کے جہاد کا حکم دیا
گیا تھا، مرزا قادیانی نے اسے منسوخ کر دیا اور اسلام کے کسی قطعی حکم کو منسوخ کردینا کفر ہے۔ اس بحث میں ہم دو
نکتے ذکر کریں گے:
اوّل:...خود مرزا قادیانی کے اعتراف کے مطابق آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں ’’جہاد‘‘ کی اجازت ہونا۔
دوم:...مرزا قادیانی کا یہ دعویٰ کہ اس کے زمانے میں جہاد کا حکم منسوخ اور موقوف کردیا گیا۔
پہلا نکتہ
حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں تلوار اُٹھانے کی اجازت:
۱-۱۷۷: ’’مظلوموں کو ظالموں کے ظلم سے بچانے کے لئے حکم ہوا:أُذِنَ لِلَّذِیْنَ یُقَاتَلُوْنَ
بِأَنَّھُمْ ظُلِمُوْا وَاِنَّ اللہَ عَلٰی نَصْرِھِمْ لَقَدِیْرٌ۔ اَلَّذِیْنَ أُخْرِجُوْا مِنْ دِیَارِھِمْ
بِغَیْرِ حَقٍّ اِلّا أَنْ یَّقُوْلُوْا رَبُّنَا اللہُ۔ (پ۱۷) کہ جن لوگوں کے ساتھ لڑائیاں خواہ مخواہ کی
گئیں اور گھروں سے ناحق نکالے گئے صرف اس لئے کہ
135
انہوں نے کہا کہ ہمارا رَبّ اللہ ہے، سو یہ ضرورت تھی جو تلوار اُٹھائی گئی۔‘‘
(ملفوظات ج:۱ ص:۴۴)
۲-۱۷۸: ’’آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے جو جنگ کئے وہ تیرہ برس تک خطرناک دُکھ اُٹھانے کے بعد کئے اور وہ بھی
مدافعت کے طور پر۔ تیرہ برس تک ان کے ہاتھوں سے آپ تکالیف اُٹھاتے رہے۔ مسلمان مرد اور عورتیں شہید کی گئیں۔ آخر
جب آپ مدینہ تشریف لے گئے۔ اور وہاں بھی ان ظالموں نے پیچھا نہ چھوڑا تو خدا تعالیٰ نے مظلوم قوم کو مقابلہ کا حکم
دیا۔‘‘
(ملفوظات ج:۷ ص:۲۸۴)
۳-۱۷۹: ’’ہمارے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے لڑائیوں کے لئے سبقت نہیں کی تھی۔ بلکہ ان لوگوں نے خود سبقت کی
تھی۔ خون کئے، ایذائیں دیں، تیرہ برس تک طرح طرح کے دکھ دئیے۔ آخر جب صحابہ کرامؓ سخت مظلوم ہوگئے تب اللہ تعالیٰ
نے بدلہ لینے کی اجازت دی۔ جیسے فرمایا:اذن للذین یقاتلون بانھم ظلموا (۱۳/۱۷۱) وقاتلوا فی سبیل
اللہ الذین یقاتلونکم (۸/۲) اس زمانہ کے لوگ نہایت وحشی اور درندے تھے۔ خون کرتے تھے، جنگ کرتے تھے۔ طرح طرح
کے ظلم اور دکھ دیتے تھے۔ ڈاکوؤں اور لٹیروں کی طرح مار دھاڑ کرتے پھرتے تھے اور ناحق کی ایذا دہی اور خون ریزی پر
کمر باندھے ہوئے تھے۔ خدا تعالیٰ نے فیصلہ دیا کہ ایسے ظالموں کو سزا دینے کا اذن دیا جاتا ہے اور یہ ظلم نہیں بلکہ
عین حق اور انصاف ہے۔‘‘
(ملفوظات ج:۹ ص:۳۶۶،۳۶۷)
مرزا غلام احمد قادیانی کے ان اقوال سے یہ بات واضح ہوگئی کہ آنحضرت صلی اللہ
136
علیہ وسلم کے زمانے میں تلوار کا جہاد صرف مدافعت کے لئے تھا۔ دوسرے الفاظ میں اسلام صرف دفاعی جنگ کا قائل
ہے اور اسی دفاع کو ’’مسئلہ جہاد‘‘ کہا جاتا ہے۔ لیکن مرزا غلام احمد نے ’’مسیح موعود‘‘ کا دعویٰ کرکے جہاد کے منسوخ
ہوجانے کا اعلان کردیا، مندرجہ ذیل حوالے ملاحظہ فرمائیے:
مرزا غلام احمد کے آنے پر جہاد کا حکم منسوخ:
۱-۱۸۰: ’’اس حدیث سے بھی ثابت ہے کہ مسیح کے وقت میں جہاد کا حکم منسوخ کردیا جائے گا۔ جیسا کہ صحیح بخاری میں بھی
مسیح موعود کی صفات میں لکھا ہے کہ یضع الحرب یعنی مسیح موعود جب آئے گا تو جنگ اور
جہاد کو موقوف کردے گا۔‘‘
(حاشیہ تجلیات الٰہیہ ص:۸، روحانی خزائن ج:۲۰ ص:۴۰۰)
۲-۱۸۱: ’’جہاد یعنی دینی لڑائیوں کی شدت کو خدا تعالیٰ آہستہ آہستہ کم کرتا گیا ہے۔ حضرت موسیٰ کے وقت میں اس قدر
شدت تھی کہ ایمان لانا بھی قتل سے بچا نہیں سکتا تھا۔ اور شیرخوار بچے بھی قتل کئے جاتے تھے۔ پھر ہمارے نبی صلی اللہ
علیہ وسلم کے وقت میں بچوں اور بڈھوں اور عورتوں کا قتل کرنا حرام کیا گیا اور پھر بعض قوموں کے لئے بجائے ایمان کے
صرف جزیہ دے کر مؤاخذہ سے نجات پانا قبول کیا گیا اور پھر مسیح موعود کے وقت قطعاً جہاد کا حکم موقوف کردیا گیا۔‘‘
(حاشیہ اربعین نمبر:۴ ص:۱۳، روحانی خزائن ج:۱۷ ص:۴۴۳)
اس عبارت میں مرزا قادیانی نے تین الگ الگ زمانوں میں جہاد یعنی دینی لڑائیوں کی تین حالتیں لکھی ہیں:
اوّل:...موسیٰ علیہ السلام کا دور، اس میں لڑائی کا حکم بہت سخت تھا۔
دوم:... آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا زمانہ، اس میں لڑائی کے حکم میں تخفیف کی گئی۔
137
سوم:...مرزا غلام احمد قادیانی کا زمانہ، اس میں جہاد یکسر منسوخ اور بند کردیا گیا۔
۳-۱۸۲: ’’آج سے انسانی جہاد جو تلوار سے کیا جاتا تھا۔ خدا کے حکم کے ساتھ بند کیا گیا۔ اب اس کے بعد جو شخص کافر
پر تلوار اٹھاتا ہے اور اپنا نام غازی رکھتا ہے۔ وہ اس رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی نافرمانی کرتا ہے۔ جس نے آج
سے تیرہ سو برس پہلے فرمادیا ہے کہ مسیح موعود کے آنے پر تمام تلوار کے جہاد ختم ہوجائیں گے۔ سو اَب میرے ظہور کے
بعد تلوار کا کوئی جہاد نہیں۔‘‘
۴-۱۸۳: ’’اور میں یقین رکھتا ہوں کہ جیسے جیسے میرے مرید بڑھیں گے ویسے ویسے مسئلہ جہاد کے معتقد کم ہوتے جائیں گے
کیونکہ مجھے مسیح اور مہدی مان لینا ہی مسئلہ جہاد کا انکار کرنا ہے۔‘‘
(درخواست مرزا کتاب البریہ ص:۳۴۷، روحانی خزائن ج:۱۳ ص:۳۴۷، مجموعہ اشتہارات ج:۳ ص:۱۹)
-
’’اب چھوڑ دو جہاد کا اے دوستو خیال
دین کے لئے حرام ہے اب جنگ اور قتال
-
اب آگیا مسیح جو دین کا امام ہے
دین کے تمام جنگوں کا اب اختتام ہے
-
اب آسمان سے نور خدا کا نزول ہے
اب جنگ اور جہاد کا فتویٰ فضول ہے
-
دشمن ہے وہ خدا کا جو کرتا ہے اب جہاد
منکر نبی کا ہے جو یہ رکھتا ہے اعتقاد‘‘
(ضمیمہ تحفہ گولڑویہ ص:۱۷، روحانی خزائن ج:۱۷ ص:۷۸)
۶-۱۸۵: ’’دیکھو میں ایک حکم لے کر آپ لوگوں کے پاس آیا ہوں۔ وہ یہ ہے کہ اب سے تلوار کے جہاد کا خاتمہ ہے۔‘‘
(گورنمنٹ انگریزی اور جہاد ص:۱۴، روحانی خزائن ج:۱۷ ص:۱۵)
138
۷-۱۸۶: ’’مسیح موعود کا یہی کام ہے کہ وہ لڑائیوں کو بند کردے کیونکہ یضع الحرب اس کی شان میں آیا ہے۔‘‘
(ملفوظات احمدیہ ج:۵ ص:۱۰۴)
۸-۱۸۷: ’’ہم نے صاف طور پر اعلان کیا ہے کہ اس وقت جہاد حرام ہے کیونکہ جیسے مسیح موعود کا وہ کام ہے یضع الحرب بھی
اس کا کام ہے۔ اس کام کی رعایت سے ہم کو ضروری تھا کہ جہاد کے حرام ہونے کا فتویٰ صادر کریں۔ پس ہم کہتے ہیں کہ اس
وقت دین کے نام سے تلوار یا ہتھیار اٹھانا حرام اور سخت گناہ ہے۔‘‘
۹-۱۸۸: ’’یاد رہے کہ مسلمانوں کے فرقوں میں سے یہ فرقہ جس کا خدا نے مجھے امام اور پیشوا اور رہبر مقرر فرمایا ہے
ایک بڑا امتیازی نشان اپنے ساتھ رکھتا ہے۔ اور وہ یہ کہ اس فرقہ میں تلوار کا جہاد بالکل نہیں اور نہ اس کی انتظار
ہے۔‘‘
(ملفوظات ج:۴ ص:۱۸)
۹-۱۸۸: ’’یاد رہے کہ مسلمانوں کے فرقوں میں سے یہ فرقہ جس کا خدا نے مجھے امام اور پیشوا اور رہبر مقرر فرمایا ہے
ایک بڑا امتیازی نشان اپنے ساتھ رکھتا ہے۔ اور وہ یہ کہ اس فرقہ میں تلوار کا جہاد بالکل نہیں اور نہ اس کی انتظار
ہے۔‘‘
(ضمیمہ تریاق القلوب طبع ربوہ ص:۳۸۹، ۳۹۰، روحانی خزائن ج:۱۵ص:۵۱۷، ۵۱۸)
مرزا قادیانی کے مندرجہ بالا حوالوں سے مندرجہ ذیل امور معلوم ہوئے:
۱:...مرزا کے آنے سے اسلام کا حکمِ جہاد منسوخ ہوگیا ہے (حوالہ نمبر:۱، ۷، ۸)۔
۲:...اور مرزا نے یہ حکم مسیح کی حیثیت سے منسوخ کیا ہے (حوالہ نمبر:۱، ۲، ۳)۔
۳:...مرزا کو سچ ماننا اور جہاد کو منسوخ ماننا لازم و ملزوم ہیں (حوالہ نمبر:۴)۔
۴:...مرزا کو جہاد کے خاتمہ کا حکم دیا گیا (حوالہ نمبر:۹)۔
۵:...مرزا کو صرف اس لئے بھیجا گیا کہ وہ جہاد کو بند کردے (حوالہ نمبر:۷)۔
۶:...مرزا کے آنے سے جہاد حرام اور قطعی حرام ہوچکا ہے (حوالہ نمبر:۸)۔
۷:...اور یہ حرمت اور منسوخی ہمیشہ کے لئے ہے (حوالہ نمبر:۹)۔
139
مجازی نبوّت کا تارِ عنکبوت
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ
اَلْحَمْدُ للہِ وَسَلَامٌ عَلٰی عِبَادِہِ الَّذِیْنَ اصْطَفٰی!
مرزا غلام احمد صاحب قادیانی کی جماعت کا لاہوری فرقہ اس بات سے تو انکار نہیں کرتا (اور نہ کرسکتا ہے) کہ موصوف نے
اپنی تصنیفات، اشتہارات اور اخبارات میں سینکڑوں جگہ نبوّت کا دعویٰ کیا ہے، لیکن ان کا کہنا ہے کہ موصوف کو دعویٰ
حقیقی نبوّت کا نہیں بلکہ مجازی نبوّت کا تھا، اور یہ ان کے خیال میں کفر نہیں بلکہ ’’تجدید اسلام‘‘ ہے۔ اس سلسلہ
میں ہمیں مرزا صاحب کے دعویٔ نبوّت اور اس کے لوازم پر غور کرکے یہ دیکھنا ہوگا کہ ان کا دعویٰ کس نوعیت کا ہے؟
نبوّت اور اس کے لوازم:
اسلام کا مسلّمہ اور قطعی عقیدہ ہے کہ سلسلۂ نبوّت سیّدنا آدم علیہ السلام سے شروع ہوکر حضرت خاتم النبیین صلی
اللہ علیہ وسلم پر ختم ہوا۔ ان تمام حضرات انبیاء میں جو چیزیں مشترک نظر آتی ہیں اور جو انہیں دیگر انسانوں سے
ممیز کرتی ہیں، وہ یہ ہیں: بعثت، دعویٔ رسالت و نبوّت، وحی نبوّت، معجزات، دعوت اور ان کے ماننے اور نہ ماننے والوں
کے درمیان تفریق۔ پس جو شخص یہ دعویٰ رکھتا ہے کہ اسے اللہ تعالیٰ کی جانب سے رسول اور نبی کی حیثیت سے مبعوث کیا
گیا ہے، اس پر اللہ تعالیٰ کی جانب سے قطعی وحی نازل ہوتی ہے۔ وہ اللہ تعالیٰ کی جانب سے انسانوں کو ایمان لانے کی
دعوت پر مامور ہے۔ اس کی تائید کے لئے اللہ کی جانب سے اسے معجزات عطا کئے گئے ہیں اور اس پر ایمان لانا مدار نجات
ہے۔ وہ بلا شک و شبہ نبوّت و رسالت کا مدعی سمجھا جائے گا۔ رہا یہ سوال کہ جو شخص نبوّت و رسالت کا
140
مدعی ہے، وہ کوئی نئی شریعت لے کر آیا ہے یا سابقہ شریعت ہی کا پابند ہے؟ اسے یہ منصب بلاواسطہ حق تعالیٰ
کی جانب سے عطا ہوا ہے یا کسی نبی کی اتباع اور پیروی کے نتیجے میں یہ دولت ملی ہے؟ وہ اپنے آپ کو مستقل قرار دیتا
ہے یا کسی گزشتہ نبی کی اُمت میں شمار کرتا ہے؟ یہ چیزیں نہ تو نبوّت و رسالت کی ماہیت میں داخل ہیں، نہ اس کے لوازم
میں شامل ہیں اور نہ ان تاویلات کے ذریعہ کوئی شخص ادعائے نبوّت کے جرم سے بری ہوسکتا ہے۔ اس مختصر سی تمہید کے بعد
اب مرزا صاحب کے دعویٔ نبوّت کو خود انہی کے الفاظ میں پڑھئے:
بعثت:...مرزا صاحب کی سینکڑوں نہیں، ہزاروں تحریریں بتاتی ہیں کہ انہیں اللہ تعالیٰ کی جانب سے رسول، مرسل اور نبی
کی حیثیت سے مبعوث کیا گیا ہے۔ چند عبارتیں ملاحظہ ہوں:
ا:...خدا وہ خدا ہے جس نے اپنا رسول اور اپنا فرستادہ اپنی ہدایت اور سچے دین کے ساتھ بھیجا تا اس دین کو ہر قسم کے
دین پر غالب کرے۔ خدا کی باتیں پوری ہوکر رہتی ہیں۔ کوئی ان کو بدل نہیں سکتا۔‘‘
(’’مرزا صاحب کی وحی‘‘ مندرجہ حقیقۃ الوحی ص:۷۱)
۲:...’’اور تجھے انہوں نے ٹھٹھے کی جگہ بنا رکھا ہے، وہ ہنسی کی راہ سے کہتے ہیں کیا یہی ہے جس کو خدا نے مبعوث
فرمایا؟‘‘
۳:...’’ان کو کہہ کہ میں تو ایک انسان ہوں، میری طرف یہ وحی ہوئی ہے کہ تمہارا خدا ایک خدا ہے۔‘‘
(ایضاً ص:۸۱)
۴:...’’اور ہم نے تجھے تمام دنیا پر رحمت کرنے کے لئے بھیجا ہے۔‘‘
(ایضاً ص:۸۲)
۵:...’’اور کہیں گے کہ یہ خدا کا فرستادہ نہیں، کہہ میری سچائی پر خدا گواہی دے رہا ہے اور وہ لوگ گواہی دیتے ہیں
جو کتاب اللہ کا علم رکھتے ہیں۔‘‘
(ایضاً ص:۹۱)
141
۶:...’’اور کہیں گے کہ یہ تو ایک بناوٹ ہے۔ اے معترض کیا تو نہیں جانتا؟ کہ خدا ہر ایک بات پر قادر ہے۔ جس پر اپنے
بندوں میں سے چاہتا ہے، اپنی روح ڈالتا ہے یعنی منصب نبوّت اس کو بخشتا ہے۔‘‘
(ایضاً ص:۹۵)
۷:...’’ہم نے تمہاری طرف ایک رسول بھیجا ہے، اسی رسول کی مانند جو فرعون کی طرف بھیجا گیا تھا۔‘‘
(ایضاً ص:۱۰۱)
۸:...’’اے سردار! تو خدا کا مرسل ہے راہ راست پر، اس خدا کی طرف سے جو غالب اور رحم کرنے والا ہے۔‘‘
(ایضاً ص:۱۰۷)
یہ آٹھ حوالے جو ایک ہی کتاب سے نقل کئے گئے ہیں، ان میں دو باتیں خاص طور پر قابل لحاظ ہیں۔ اول یہ کہ یہ قرآن
مجید کی آیات ہیں جن کو مرزا صاحب نے اپنی وحی کا قالب عطا کیا ہے۔ دوم یہ کہ تمام آیات حضرت محمد رسول اللہ صلی
اللہ علیہ وسلم کے منصبِ رسالت و نبوّت سے متعلق ہیں، جنہیں مرزا صاحب کے بقول خدا تعالیٰ نے ان کے حق میں نازل
فرمایا۔ گویا ٹھیک انہی الفاظ میں مرزا صاحب کو منصب نبوّت عطا کیا گیا ہے، جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوّت
کے لئے قرآن مجید میں آتے ہیں۔ وضاحت کے لئے مندرجہ ذیل نقشے میں ان آیات پر دوبارہ نظر ڈالئے:
142
ان آیات کا ترجمہ علی الترتیب مرزا صاحب کے قلم سے اوپر نقل کرچکا ہوں۔
143
اس نقشے کے مطالعہ سے واضح ہوجاتا ہے کہ مرزا صاحب کی وحی انہیں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے مساوی منصب
عطا کرتی ہے۔ قادیانی اُمت میں اگر فہم و انصاف کی کوئی رمق باقی ہے تو انہیں یہ تسلیم کرنا چاہئے کہ وحی الٰہی کی
رو سے مرزا صاحب اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا منصب نبوّت پوری طرح یکسانیت رکھتا ہے۔ اگر نبی ہیں تو دونوں
حقیقی، تشریعی نبی ہیں اور نہیں تو دونوں نہیں... والعیاذ باللہ ... انصاف کا تقاضا یہ تھا کہ بحث اسی نقطہ پر ختم
ہوجاتی کہ اگر قادیانی اُمت واقعتا مرزا صاحب کی ’’وحی‘‘ پر ایمان رکھتی ہے تو انہیں دو راستوں میں سے ایک راستہ
اختیار کرنا چاہئے۔ یا مرزا صاحب کا دعویٰ حقیقی نبوّت کا ہے، یا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا حقیقی نبی ہونا بھی
مشکوک ہے۔
میں مرزا صاحب کی وحی کے چند حوالے مزید نقل کرکے فیصلہ عقلاء کی عدالت پر چھوڑتا ہوں:
۹:...’’میرے قرب میں میرے رسول کسی دشمن سے نہیں ڈرا کرتے۔‘‘
(حقیقۃ الوحی ص:۷۲ ترجمہ از عربی)
۱۰:...’’خدا نے لکھ چھوڑا ہے کہ میں اور میرے رسول غالب رہیں گے۔‘‘
(ایضاً ص:۷۲)
۱۱:...’’یہ وہ بشارت ہے جو نبیوں کو ملی تھی۔‘‘
(ایضاً ص:۷۳)
۱۲:...’’تو خدا کی طرف سے کھلی کھلی دلیل کے ساتھ ظاہر ہوا ہے۔‘‘
(ص:۷۳)
۱۳:...’’تو میری درگاہ میں وجیہ ہے، میں نے تجھے اپنے لئے چنا۔‘‘
(ص:۷۵)
۱۴:...’’یہ رسول خدا ہے تمام نبیوں کے پیرایہ میں۔ یعنی ہر ایک نبی کی ایک خاص صفت اس میں موجود ہے۔‘‘
(ص:۷۹)
۱۵:...’’سو میں نے محض خدا کے فضل سے نہ اپنے کسی ہنر
144
سے اس نعمت سے کامل حصہ پایا ہے جو مجھ سے پہلے نبیوں اور رسولوں اور خدا کے برگزیدوں کو دی گئی تھی۔‘‘
(ص:۶۲)
:...’’آہ کیا مشکل کام ہے۔ ہم نے ایک قربانی دینا ہے، جب تک ہم وہ قربانی ادا نہ کریں کسر صلیب نہیں ہوگا۔ ایسی
قربانی کو جب تک کسی نبی نے ادا نہیں کیا، اس کی فتح نہیں ہوئی۔‘‘
(ص:۳۱۱)
۱۷:...’’غرض اس حصہ کثیر وحی الٰہی اور امور غیبیہ میں اس اُمت میں سے میں ہی ایک فرد مخصوص ہوں اور جس قدر مجھ سے
پہلے اولیاء اور ابدال اور اقطاب اس اُمت میں سے گزرچکے ہیں، ان کو یہ حصہ کثیر اس نعمت کا نہیں دیا گیا پس اس وجہ
سے نبی کا نام پانے کے لئے میں ہی مخصوص کیا گیا اور دوسرے تمام لوگ اس نام کے مستحق نہیں۔‘‘
(ص:۳۹۱)
۱۸:...’’جس حالت میں چھوٹے چھوٹے عذابوں کے وقت میں رسول آئے ہیں، جیسا کہ زمانہ کے گزشتہ واقعات سے ثابت ہے تو
پھر کیونکر ممکن ہے کہ اس عظیم الشان عذاب کے وقت میں جو آخری زمانہ کا عذاب ہے اور تمام عالم پر محیط ہونے والا
ہے، جس کی نسبت تمام نبیوں نے پیش گوئی کی تھی، خدا کی طرف سے رسول ظاہر نہ ہو، اس سے تو صریح تکذیب کلام اللہ کی
لازم آتی ہے۔ پس وہی رسول مسیح موعود (مرزا) ہے۔‘‘
(تتمہ ص:۶۴)
۱۹:...’’اور ظاہر ہے کہ یہ امور بھی یورپ میں کمال تک پہنچ گئے ہیں جو بالطبع عذاب کے مقتضی ہیں اور عذاب رسول کے
وجود کا مقتضی ہے اور وہی رسول مسیح موعود ہے۔‘‘
(ص:۶۵)
145
۲۰:...’’اسی طرح قرآن شریف میں یہ بھی پیش گوئی ہے وان من قریۃ الّا نحن مھلکوھا قبل
یوم القیمۃ او معذبوھا عذابا شدیدا یعنی کوئی ایسی بستی نہیں جس کو ہم قیامت سے پہلے ہلاک نہ کریں گے یا
اس پر شدید عذاب نازل نہ کریں گے۔ یعنی آخری زمانہ میں ایک سخت عذاب نازل ہوگا۔ اور دوسری طرف فرمایا وما کنا معذبین حتی نبعث رسولًا پس اس سے بھی آخری زمانہ میں ایک رسول کا مبعوث ہونا ظاہر
ہوتا ہے اور وہی مسیح موعود ہے۔‘‘
(تتمہ ص:۶۵)
۲۱:...’’اور میں اس خدا کی قسم کھاکر کہتا ہوں جس کے ہاتھ میں میری جان ہے کہ اسی نے مجھے بھیجا ہے اور اسی نے میرا
نام نبی رکھا ہے اور اسی نے مجھے مسیح موعود کے نام سے پکارا ہے۔‘‘
(تتمہ ص:۶۸)
یہ چند حوالے مرزا صاحب کی صرف ایک کتاب ’’حقیقۃ الوحی‘‘ سے لئے گئے ہیں۔ مرزا صاحب ان صریح اعلانات اور حلفیہ
بیانات میں بحیثیت رسول کے اپنا معبوث ہونا بیان فرما رہے ہیں۔ اگر ان کی وفادار اُمت کو آج ان کے حلفی بیان پر بھی
اعتماد نہیں تو خیر، تاہم عقلاء ان سے یہ دریافت کرسکتے ہیں کہ کسی رسول کو اپنی بعثت کا اعلان کرنے کے لئے کیا
الفاظ استعمال کرنے چاہئیں۔
وحیٔ نبوّت:
رسالت و نبوّت اور وحی لازم و ملزوم ہیں۔ جب کوئی رسول دنیا میں مبعوث ہوتا ہے تو اسے حق جل شانہ سے براہ راست
ہدایات ملتی ہیں اور وحی الٰہی ہر معاملہ میں اس کی راہنمائی کرتی ہے۔ اس لئے عقلاً و نقلاً یہ ایک طے شدہ امر ہے کہ
اگر کوئی شخص وحی نبوّت کا مدعی ہے تو دراصل وہ رسالت و نبوّت کا دعویٰ رکھتا ہے۔ آئیے دیکھیں کہ مرزا صاحب وحی
146
نبوّت کے مدعی ہیں یا نہیں:
۱:...’’خدا نے میرے ضمیر کی اپنی اس پاک وحی میں آپ ہی خبر دی ہے۔‘‘
(حقیقۃ الوحی ص:۱۴۸)
۲:...’’خدا تعالیٰ نے ’’براہین احمدیہ‘‘ میں میرا نام عیسیٰ رکھا اور یہ بھی مجھے فرمایا کہ تیرے آنے کی خبر خدا
اور رسول نے دی تھی (گویا قرآن کی طرح ’’براہین احمدیہ‘‘ بھی خدا کی کتاب ہے)۔
(ص:۱۴۹)
۳:...’’لیکن بعد اس کے اس بارہ میں بارش کی طرح وحی الٰہی نازل ہوئی کہ وہ مسیح موعود جو آنے والا تھا، تو ہی
ہے۔‘‘
(ص:۱۴۹)
۴:...’’اسی طرح اوائل میں میرا یہی عقیدہ تھا......۔۔ مگر بعد میں جو خدا تعالیٰ کی وحی بارش کی طرح میرے پر نازل
ہوئی، اس نے مجھے اس عقیدہ پر قائم نہ رہنے دیا اور صریح طور پر نبی کا خطاب مجھے دیا گیا۔‘‘
(ص:۱۴۹،۱۵۰)
۵:...’’میں خدا تعالیٰ کی تیئس برس کی متواتر وحی کو کیونکر رد کرسکتا ہوں، میں اس کی اس پاک وحی پر ایسا ہی ایمان
لاتا ہوں جیسا کہ ان تمام خدا کی وحیوں پر ایمان لاتا ہوں جو مجھ سے پہلے ہوچکی ہیں۔‘‘
(ص:۱۵۰)
۶:...’’میں کیا کروں کس طرح خدا کے حکم کو چھوڑسکتا ہوں اور کس طرح اس روشنی سے جو مجھے دی گئی، تاریکی میں آسکتا
ہوں۔‘‘
(ص:۱۵۰)
۷:...’’میں تو خدا تعالیٰ کی وحی کی پیروی کرنے والا ہوں۔‘‘
(ص:۱۵۰)
۸:...’’اور کہیں گے کہ یہ وحی نہیں ہے، یہ کلمات تو اپنی
147
طرف سے بنائے ہیں ان کو کہہ وہ خدا ہے جس نے یہ کلمات نازل کئے، پھر ان کو لہو و لعب کے خیالات میں چھوڑدے
ان کو کہہ کہ اگر یہ کلمات میرا افترا ہے اور خدا کا کلام نہیں تو پھر میں سخت سزا کے لائق ہوں۔‘‘
(ترجمہ عربی الہام ص:۷۰)
۹:...’’تیرا رب فرماتا ہے کہ ایک ایسا امر آسمان سے نازل ہوگا جس سے تو خوش ہوجائے گا۔‘‘
(ترجمہ عربی الہام ص:۷۴)
۱۰:...’’اور جو کچھ تیرے رب کی طرف سے تیرے پر وحی نازل کی گئی ہے، وہ ان لوگوں کو سنا جو تیری جماعت میں داخل ہوں
گے۔‘‘
(ترجمہ عربی الہام ص:۷۴)
۱۱:...’’کہہ خدا نے یہ کلام اتارا ہے، پھر ان کو لہو و لعب کے خیالات میں چھوڑ دے۔‘‘
(ترجمہ عربی الہام ص:۷۹)
۱۲:...’’اور کہیں گے کہ یہ وحی الٰہی کسی بڑے آدمی پر کیوں نازل نہیں ہوئی جو دو شہروں میں سے کسی ایک شہر کا
باشندہ ہے۔‘‘
(ص:۸۲)
۱۳:...’’قرآن شریف خدا کی کتاب اور میرے منہ کی باتیں ہیں۔‘‘
(الہام ص:۸۴)
۱۴:...’’ہم نے اس کو قادیان کے قریب اتارا ہے اور وہ عین ضرورت کے وقت اتارا ہے اور ضرورت کے وقت اترا ہے۔‘‘
(ترجمہ عربی الہام ص:۸۸)
۱۵:...’’تیرا کلام خدا کی طرف سے فصیح کیا گیا ہے، تیرے کلام میں ایک چیز ہے جس میں شاعروں کو دخل نہیں۔‘‘
(ترجمہ الہام عربی و فارسی ص:۱۰۲)
۱۶:...’’میرے پاس آیل آیا (اس جگہ آئیل خدا نے
148
جبرئیل کا نام رکھا ہے اس لئے کہ بار بار رجوع کرتا ہے) اور اس نے مجھے چن لیا اور اپنی انگلی کو گردش دی
اور یہ اشارہ کیا کہ خدا کا وعدہ آگیا، پس مبارک وہ جو اس کو پاوے اور دیکھے۔‘‘
(ترجمہ عربی الہام ص:۱۰۳)
۱۷:...’’اور کہیں گے کہ یہ تو ایک بناوٹ ہے، ان کو کہہ کہ اگر یہ کاروبار بجز خدا کے کسی اور کا ہوتا تو اس میں بہت
اختلاف تم دیکھتے۔‘‘
(ترجمہ عربی الہام ص:۱۰۵)
۱۸:...’’کہہ اگر میں نے افترا کیا ہے تو میری گردن پر میرا گناہ ہے۔‘‘
(ترجمہ عربی الہام ص:۳)
۱۹:...’’جس قدر خدا تعالیٰ نے مجھ سے مکالمہ و مخاطبہ کیا ہے اور جس قدر امور غیبیہ مجھ پر ظاہر فرمائے ہیں، تیرہ
سو برس ہجری میں کسی شخص کو آج تک بجز میرے یہ نعمت عطا نہیں کی گئی۔‘‘
(ص:۳۹۱)
۲۰:...’’اور خدا کا کلام اس قدر مجھ پر نازل ہوا ہے کہ اگر وہ تمام لکھا جائے تو بیس جزو سے کم نہیں ہوگا۔‘‘
(ص:۳۹۱)
یہ تمام اقتباسات بھی موصوف کی صرف اسی کتاب ’’حقیقۃ الوحی‘‘ سے لئے گئے ہیں۔ ان پر ایک سرسری نظر ڈالنے سے اندازہ
ہوگا کہ مرزا صاحب جس وحی نبوّت کے مدعی ہیں، وہ ان کے نزدیک خدا کا کلام ہے۔ ہر شک و شبہ سے پاک ہے، اس پر وہ اپنے
عقائد کی بنیاد استوار کرتے ہیں، قدیم عقائد کو اس کی وجہ سے تبدیل فرماتے ہیں، اس پر ایمان لاتے ہیں، خود کو اس کی
پیروی کرنے والا بتاتے ہیں، اس کی پیروی کو موجب نجات سمجھتے ہیں، اپنی اُمت کے سامنے اس کی تلاوت پر مامور ہیں، اس
کی فصاحت و بلاغت کے اعجاز کا اعلان کرتے ہیں، اس کی جانب افترا کی نسبت کا بحکم خداوندی جواب دیتے ہیں اور صاف صاف
تصریح کرتے ہیں کہ اگرچہ اسلامی تاریخ کی تیرہ صدیوں میں لاکھوں صحابہؓ، اولیاءؒ، اقطابؒ، ابدالؒ، ملہمؒ اور محدثؒ
ہوگزرے ہیں مگر وحی نبوّت کی یہ نعمت صرف انہی کے
149
حصہ میں آئی ہے اور یہ کہ قرآن کے تیس جزو ہیں اور ان کی وحی کے کم از کم بیس جزو ہوں گے (اس تحریر کے بعد
مرزا صاحب ایک سال اور زندہ رہے اور بقول ان کے بارش کی طرح وحی الٰہی ان پر نازل ہو رہی تھی، قیاس کہتا ہے کہ بقیہ
دس جزو کی تکمیل بھی انہوں نے یقینا کرلی ہوگی)۔
اگر لاہوری فرقہ ان تصریحات کے بعد بھی ایک طرف مرزا صاحب کو ’’مامور من اللہ‘‘ مانتا ہے اور دوسری طرف ان کی ’’وحی
نبوّت‘‘ پر ’’ایمان لانے‘‘ سے گریز کرتا ہے تو کم از کم عقلاء ان سے یہ تو دریافت کریں کہ ’’وحی نبوّت‘‘ کے اوصاف و
امتیازات کا کیا معیار ان کے ذہن میں ہے؟ جو وحی قطعی و یقینی ہے، ہر شک و شبہ سے پاک ہو، صاحب وحی اس پر ایمان و
عقائد کی بنیادیں استوار کرتا ہو، اس کی پیروی اور تلاوت و دعوت پر مامور ہو، اس کے اعجاز کا چیلنج کرتا ہو، اگر وہ
وحی، وحی نبوّت نہیں تو وحی نبوّت کی وہ نرالی تعریف آخر کیا ہے جو مرزا جی کی ’’وحی‘‘ پر صادق نہیں آتی...؟ لیجئے
ہم اس سے بھی مختصر راستہ اختیار کرتے ہیں اور خود مرزا صاحب ہی سے شہادت دلا دیتے ہیں کہ ان کی تمام تر بحث ’’وحی
نبوّت‘‘ میں ہے۔
مرزا صاحب نے بیسیوں جگہ آیت: ’’ولو تقول...الخ‘‘ اپنی صداقت میں پیش فرمائی جس کا
مطلب بقول ان کے یہ تھا کہ ۲۳ سالہ مدت صادق و کاذب کے درمیان ...... حد فاصل کی حیثیت رکھتی ہے۔ گویا صدق و کذب کا
معیار یہ ہے کہ اگر مدعی وحی و الہام ۲۳ سال تک زندہ رہتا ہے تو صادق، ورنہ کاذب...... مرزا صاحب کا یہ خود ساختہ
معیار عقلاً و نقلاً بالبداہت غلط تھا اور اہل علم کی جانب سے اس معیار پر مختلف اعتراضات کئے جاتے تھے۔ ایک اعتراض
کا جواب دیتے ہوئے مرزا صاحب تحریر فرماتے ہیں:
’’خدا تعالیٰ کی تمام پاک کتابیں اس بات پر متفق ہیں کہ جھوٹا نبی ہلاک کیا جاتا ہے۔ اب اس کے مقابل یہ پیش کرنا کہ
اکبر بادشاہ نے نبوّت کا دعویٰ کیا یا روشن دین جالندھری نے دعویٰ کیا یا کسی اور شخص نے دعویٰ کیا اور وہ ہلاک نہیں
ہوئے۔ یہ ایک دوسری
150
حماقت ہے جو ظاہر کی جاتی ہے۔ بھلا اگر یہ سچ ہے کہ ان لوگوں نے نبوّت کے دعوے کئے اور تیئس برس تک ہلاک نہ
ہوئے تو پہلے ان لوگوں کی خاص تحریر سے ان کا دعویٰ ثابت کرنا چاہئے اور وہ الہام پیش کرنا چاہئے جو الہام انہوں نے
خدا کے نام پر لوگوں کو سنایا۔ یعنی یہ کہا کہ ان لفظوں کے ساتھ میرے پر وحی نازل ہوئی ہے کہ میں خدا کا رسول ہوں۔
اصل لفظ ان کی وحی کے کامل ثبوت کے ساتھ پیش کرنے چاہئیں کیونکہ ہماری تمام بحث وحی نبوّت میں ہے، جس کی نسبت یہ
ضروری ہے کہ بعض کلمات پیش کرکے یہ کہا جائے کہ یہ خدا کا کلام ہے جو ہمارے اوپر نازل ہوا ہے۔ غرض پہلے تو یہ ثبوت
دینا چاہئے کہ کون سا کلام الٰہی اس شخص نے پیش کیا ہے، جس نے نبوّت کا دعویٰ کیا۔ پھر بعد اس کے یہ ثبوت دینا چاہئے
کہ جو تیئس برس تک کلام الٰہی اس پر نازل ہوتا رہا، وہ کیا ہے... جب تک ایسا ثبوت نہ ہو، تب تک بے ایمانوں کی طرح
قرآن شریف پر حملہ کرنا اور آیت ولو تقول کو ہنسی ٹھٹھے میں اڑانا ان شریر لوگوں کا کام ہے، جن کو خدا تعالیٰ پر
بھی ایمان نہیں اور صرف زبان سے کلمہ پڑھتے اور باطن میں اسلام سے بھی منکر ہیں۔‘‘
(ضمیمہ اربعین نمبر:۳،۴ ص:۱۱، روحانی خزائن ج:۱۷ ص:۴۷۷)
اس اقتباس سے فیصلہ ہوجاتا ہے کہ مرزا صاحب کی تمام تر بحث وحی نبوّت میں ہے اور انہوں نے اپنے اوپر نازل شدہ وحی
کے حوالے سے واقعتا دعویٰ کیا ہے کہ وہ خدا کے رسول ہیں، ان کی اُمت کے لاہوری فرقہ کو یہ عبارت اصل کتاب سے نکال کر
بغور و تدبر بار بار پڑھنی چاہئے۔ اس کے بعد بھی ان کو مرزا صاحب کے دعویٰ رسالت اور وحی نبوّت سے انکار ہو تو انہیں
سینے پر ہاتھ رکھ کر فیصلہ کرنا چاہئے کہ مرزا صاحب کا آخری فتویٰ ان پر تو عائد نہیں ہوتا؟
151
شریعت اور اُمت:
دعویٰ رسالت اور وحی نبوّت کے بعد تیسرا مرحلہ شریعت کا باقی رہ جاتا ہے۔ عقلاً یہ ناممکن ہے کہ خدا تعالیٰ کی طرف
سے کوئی رسول یا نبی دنیا میں آئے اور وہ کوئی جدید یا قدیم شریعت لے کر نہ آئے۔ مرزا صاحب بھی اس اصول سے مستثنیٰ
نہیں رہ سکتے تھے۔ چنانچہ انہوں نے اسی ولو تقول کی بحث میں اپنے صاحب شریعت ہونے کا
ثبوت دے کر اپنے مخالفین کو ملزم کیا ہے، فرماتے ہیں:
’’اور اگر کہو کہ صاحب الشریعۃ اِفترا کرکے ہلاک ہوتا ہے نہ ہر ایک مفتری۔ تو اوّل تو یہ دعویٰ بے دلیل ہے۔ خدا نے
اِفترا کے ساتھ شریعت کی کوئی قید نہیں لگائی (بلکہ مطلق دعویٰ وحی نبوّت ہی کو ہلاکت کے لئے کافی قرار دیا ہے۔
ناقل) ماسوا اس کے یہ بھی تو سمجھو کہ شریعت کیا چیز ہے؟ جس نے اپنی وحی کے ذریعہ سے چند امر و نہی بیان کئے اور
اپنی اُمت کے لئے ایک قانون مقرر کیا، وہی صاحب الشریعت ہوگیا۔ پس اس تعریف کے رو سے بھی ہمارے مخالف ملزم ہیں،
کیونکہ (مجھ پر صاحب الشریعت کی یہ تعریف پوری صادق آتی ہے، چنانچہ) میری وحی میں امر بھی ہیں اور نہی بھی۔ مثلاً
یہ الہام قل للمؤمنین یغضوا من ابصارھم ویحفظوا فروجھم ذلک ازکی لھم یہ ’’براہین
احمدیہ‘‘ میں درج ہے اور اس میں امر بھی ہے اور نہی بھی اور اس پر تیئس برس کی مدت بھی گزر گئی اور ایسا ہی اب تک
میری وحی میں امر بھی ہوتے ہیں اور نہی بھی۔
اور اگر کہو کہ شریعت سے وہ شریعت مراد ہے جس میں نئے احکام ہوں تو یہ باطل ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: ان ھذا لفی الصحف الأولی صحف ابراھیم و موسیٰ یعنی قرآنی تعلیم
152
توریت میں بھی موجود ہے۔
اور اگر یہ کہو کہ شریعت وہ ہے جس میں باستیفاء امر و نہی کا ذکر ہو تو یہ بھی باطل ہے کیونکہ اگر توریت یا قرآن
شریف میں باستیفاء احکام شریعت کا ذکر ہوتا تو پھر اِجتہاد کی گنجائش نہ رہتی۔ غرض یہ سب خیالات فضول اور کوتاہ
اندیشیاں ہیں۔‘‘
(اربعین نمبر:۴ ص:۷، روحانی خزائن ج:۱۷ ص:۴۳۵)
اس طویل اقتباس کا حاصل یہ ہے کہ مرزا صاحب کے نزدیک شریعت کی آخری دو تعریفیں غلط ہیں اور پہلی صحیح ہے اور اس
صحیح تعریف کے مطابق ان کا دعویٰ ہے کہ وہ صاحب شریعت ہیں اور وہ تسلیم کرتے ہیں کہ انہوں نے اپنی اُمت کے لئے ایک
قانون شریعت وضع کیا ہے جو سابقہ شریعت سے توارد رکھتا ہے۔
معجزات:
انبیائے کرام کی تائید کے لئے انہیں خرق عادت معجزات اور نشانات بھی عطا کئے جاتے ہیں، جنہیں دیکھ کر مخلوق کو ان
کی صداقت و حقانیت کا یقین ہوجاتا ہے۔ مرزا صاحب لکھتے ہیں:
’’دنیا میں ہزاروں آدمی ہیں کہ الہام اور مکالمہ الٰہیہ کا دعویٰ کرتے ہیں مگر صرف مکالمہ الٰہیہ کا دعویٰ کچھ چیز
نہیں ہے جب تک اس قول کے ساتھ جو خدا کا سمجھا گیا ہے، خدا کا فعل یعنی معجزہ نہ ہو۔‘‘
(تتمہ حقیقۃ الوحی ص:۵۹)
مرزا صاحب نے بھی اپنے دعوائے نبوّت و رسالت کو اعجاز نمائی سے محروم نہیں رکھا۔ ان کی سینکڑوں عبارتوں میں سے چند
جملے یہاں نقل کئے جاتے ہیں، جن سے ان کے معجزات کی شان و شوکت اور ان کی نبوّت و رسالت کی عظمت بھی واضح ہوگی:
۱:...’’ہاں اگر یہ اعتراض ہو کہ اس جگہ وہ معجزات کہاں
153
ہیں؟ تو میں صرف یہی جواب دوں گا کہ میں معجزات دکھلاسکتا ہوں بلکہ خدا تعالیٰ کے فضل اور کرم سے میرا جواب
یہ ہے کہ اس نے میرا دعویٰ ثابت کرنے کے لئے اس قدر معجزات دکھائے ہیں کہ بہت ہی کم نبی ایسے آئے ہیں، جنہوں نے اس
قدر معجزات دکھائے ہوں۔ بلکہ سچ تو یہ ہے کہ اس نے اس قدر معجزات کا دریا رواں کردیا ہے کہ باستثنا ہمارے نبی صلی
اللہ علیہ وسلم کے باقی تمام انبیاء علیہم السلام میں ان کا ثبوت اس کثرت کے ساتھ قطعی اور یقینی طور پر محال ہے۔‘‘
(تتمہ حقیقۃ الوحی ص:۱۳۶)
۲:...’’اور خدا تعالیٰ میرے لئے اس کثرت سے نشان دکھلا رہا ہے کہ اگر نوحؑ کے زمانے میں وہ نشان دکھلائے جاتے تو وہ
لوگ غرق نہ ہوتے۔ مگر میں ان لوگوں کو کس سے مثال دوں۔ وہ اس خیرہ طبع انسان کی طرح ہیں جو روز روشن کو دیکھ کر پھر
بھی اس بات پر ضد کرتا ہے کہ رات ہے دن نہیں۔‘‘
(تتمہ حقیقۃ الوحی ص:۱۳۷)
۳:...’’اور خدا تعالیٰ نے اس بات کے ثابت کرنے کے لئے کہ میں اس کی طرف سے ہوں اس قدر نشان دکھلائے ہیں کہ اگر وہ
ہزار نبی پر تقسیم کئے جائیں تو ان کی بھی ان سے نبوّت ثابت ہوسکتی ہے لیکن چونکہ یہ آخری زمانہ تھا اور شیطان کا
مع اپنی تمام ذریت کے آخری حملہ تھا اس لئے خدا نے شیطان کو شکست دینے کے لئے ہزارہا نشان ایک جگہ جمع کر دیئے ہیں
لیکن پھر بھی جو لوگ انسانوں میں سے شیطان ہیں، وہ نہیں مانتے۔‘‘
(چشمۂ معرفت ص:۳۱۷، روحانی خزائن ج:۲۳ ص:۳۳۲)
مرزا صاحب کا دعویٰ ہے کہ جو زلزلے، طاعون اور دیگر آفات ان کے زمانے میں نازل ہوئیں، وہ بھی ان کی رسالت و نبوّت
کا معجزہ اور نشان ہے۔ اس سلسلہ میں بھی ان
154
کے ایک دو اقتباس ملاحظہ فرمائیے:
۴:...خدا تعالیٰ کے تمام نبی اس بات پر متفق ہیں کہ عادت اللہ ہمیشہ سے اسی طرح پرجاری ہے کہ جب دنیا ہر ایک قسم کے
گناہ کرتی ہے اور بہت سے گناہ ان کے جمع ہوجاتے ہیں تب اس زمانہ میں خدا اپنی طرف سے کسی کو مبعوث فرماتا ہے اور
کوئی حصہ دنیا کا اس کی تکذیب کرتا ہے، تب اس کا مبعوث ہونا شریر لوگوں کی سزا دینے کے لئے بھی جو پہلے مجرم ہوچکے
ہیں، ایک محرک ہوجاتا ہے اور جو شخص اپنے گزشتہ گناہوں کی سزا پاتا ہے، اس کے لئے اس بات کا علم ضروری نہیں کہ اس
زمانہ میں خدا کی طرف سے کوئی نبی یا رسول بھی موجود ہے۔‘‘
(حقیقۃ الوحی ص:۱۶۰،۱۶۱)
۵:...’’سان فرانسسکو وغیرہ مقامات کے رہنے والے جو زلزلہ اور دوسری آفات سے ہلاک ہوگئے ہیں، اگرچہ اصل سبب ان پر
عذاب نازل ہونے کا ان کے گزشتہ گناہ تھے مگر یہ زلزلے ان کو ہلاک کرنے والے میری سچائی کا ایک نشان تھے کیونکہ قدیم
سنت اللہ کے موافق شریر لوگ کسی رسول کے آنے کے وقت ہلاک کئے جاتے ہیں۔‘‘
(ص:۱۶۱)
۶:...’’یاد رہے کہ خدا کے رسول کی خواہ کسی حصہ زمین میں تکذیب ہو، مگر اس تکذیب کے وقت دوسرے مجرم بھی پکڑے جاتے
ہیں جو اور ملکوں کے رہنے والے ہیں، جن کو اس رسول کی خبر بھی نہیں جیسا کہ نوحؑ کے وقت میں ہوا۔‘‘
(ص:۱۶۱)
۷:...’’سو یاد رہے کہ جب خدا کے کسی مرسل کی تکذیب کی جاتی ہے، خواہ وہ تکذیب کوئی خاص قوم کرے یا کسی خاص حصہ زمین
میں ہو، مگر خدا تعالیٰ کی غیرت عام عذاب نازل کرتی ہے۔‘‘
(ص:۱۶۲)
155
۸:...’’میں دیکھتا ہوں کہ خدا تعالیٰ کا فضل ایسے طور سے میرے شامل حال ہے کہ میری اتمام حجت کے لئے اور اپنے نبی
کریم کی اشاعت دین کے لئے خدا تعالیٰ نے وہ سامان مقرر کر رکھے ہیں کہ پہلے اس سے کسی نبی کو میسر نہیں آئے تھے۔‘‘
(ص:۱۶۶)
یہاں ہمیں اس امر سے بحث نہیں کہ مرزا صاحب جن امور کو ’’معجزات‘‘ کے نام سے موسوم کرتے ہیں، وہ واقعتا معجزہ ہیں
بھی یا نہیں اور یہ کہ ان سے ان کی رسالت و نبوّت ثابت بھی ہوتی ہے یا نہیں؟ یہاں محل غور صرف یہ امر ہے کہ مرزا
صاحب کس طرح اصرار و تکرار کے ساتھ نبوّت و رسالت کا دعویٰ کرتے ہیں، پھر کس طرح اس کے لئے ’’وحی الٰہی‘‘ کا بارش کی
طرح نازل ہونا بیان کرتے ہیں، پھر کس تحدی کے ساتھ اپنی رسالت و نبوّت کے ثبوت میں دنیا کے سامنے اپنے معجزات کی
طویل فہرست پیش کرتے ہیں اور کس طرح ان معجزات میں تمام انبیائے کرام سے برتری اور فوقیت کا ادعا کرتے ہیں اور کس
طرح ان معجزات میں تمام انبیائے کرام کے معیار پر بار بار پیش کرتے ہیں۔ اس کے باوجود اگر کوئی شخص یہ دعویٰ کرتا ہے
کہ مرزا صاحب نے سرے سے نبوّت و رسالت کا دعویٰ درحقیقت کیا ہی نہیں تو فرمائیے کہ وہ حقائق کی دنیا میں رہتا ہے یا
احمقوں کی جنت میں......؟
دعوت:
منصبِ نبوّت و رسالت سے سرفراز ہونے کے بعد انبیائے کرام کا مشن شروع ہوتا ہے۔ وہ مبعوث ہوکر مخلوق کو ایمان باللہ
کی دعوت دیتے ہیں اور اسے یہ بتاتے ہیں کہ دنیا کی فلاح اور آخرت کی نجات صرف ان کے قدموں سے وابستہ ہے۔ ان کی
پیروی ہی موجب نجات ہے اور ان سے پہلے جتنے نبی گزر چکے ہیں، صرف ان پر ایمان لانا کافی نہیں۔ اب مرزا صاحب کو
دیکھئے کہ وہ کس طرح انبیائے کرام کی نقالی کرتے ہوئے تمام انسانیت کو اپنے دعویٰ پر ایمان لانے کی دعوت دیتے ہیں
اور کس طرح تمام انسانیت کی نجات و فلاح کو اپنے قدموں سے وابستہ بتلاتے ہیں۔ اس سلسلہ میں مرزا صاحب کی
156
سینکڑوں عبارتوں میں سے چند درج ذیل ہیں:
۱:...’’چونکہ میری تعلیم میں امر بھی ہے اور نہی بھی اور شریعت کے ضروری احکام کی تجدید ہے۔ اس لئے خدا تعالیٰ نے
میری تعلیم اور اس وحی کو جو میرے اوپر نازل ہوتی ہے، فلک یعنی کشتی کے نام موسوم کیا
ہے... اب دیکھو کہ خدا نے میری وحی اور میری تعلیم اور میری بیعت کو نوح کی کشتی اور تمام انسانوں کے لئے مدار نجات
ٹھہرایا ہے۔ جس کی آنکھیں ہوں دیکھے اور جس کے کان ہوں سنے۔‘‘
(اربعین نمبر:۴ حاشیہ:۶)
۲:...’’ان کو کہہ میرے پاس خدا کی گواہی ہے پس کیا تم قبول کرو گے یا نہیں پھر ان کو کہہ کہ میرے پاس خدا کی گواہی
ہے۔ پس کیا تم ایمان لاؤ گے یا نہیں۔‘‘
(ترجمہ عربی الہام ’’حقیقۃ الوحی‘‘ ص:۷۱)
۳:...’’اور ایمان والوں کو خوشخبری دے کہ خدا کے حضور میں ان کا قدم صدق پر ہے۔‘‘
(ترجمہ عربی الہام ص:۷۴)
۴:...’’صفہ کے رہنے والے اور تو کیا جانتا ہے کہ کیا ہیں صفہ کے رہنے والے۔ تو دیکھے گا کہ ان کی آنکھوں سے آنسو
جاری ہوں گے۔ وہ تیرے پر درود بھیجیں گے اور کہیں گے کہ اے ہمارے خدا ہم نے ایک منادی کرنے والے کی آواز سنی ہے جو
ایمان کی طرف بلاتا ہے اور خدا کی طرف بلاتا ہے اور ایک چمکتا ہوا چراغ ہے۔‘‘
(ترجمہ عربی الہام ص:۷۵)
۵:...’’خدا ایسا نہیں کہ تجھ کو چھوڑ دے جب تک کہ پاک اور پلید میں فرق کرکے نہ دکھلاوے۔‘‘
(ایضاً ص:۷۶)
۶:...’’کہہ اگر تم خدا سے محبت رکھتے ہو تو آؤ میری پیروی
157
کرو تا خدا بھی تم سے محبت رکھے۔‘‘
(ایضاً ص:۷۹)
۷:...’’اور جب ان کو کہا جائے کہ ایمان لاؤ جیسا کہ لوگ ایمان لائے، کہتے ہیں کیا ہم بے وقوفوں کی طرح ایمان
لائیں، خبردار ہو کہ درحقیقت وہی لوگ بیوقوف ہیں مگر اپنی نادانی پر مطلع نہیں اور جب ان کو کہا جائے کہ زمین پر
فساد مت کرو کہتے ہیں کہ بلکہ ہم اصلاح کرنے والے ہیں۔‘‘
(ایضاً ص:۷۹،۸۰)
۸:...’’کہہ تمہارے پاس خدا کا نور آیا ہے پس اگر مؤمن ہو تو انکار مت کرو۔‘‘
(ایضاً ص:۸۰)
۹:...’’کیا تو اس لئے اپنے تئیں ہلاک کرے گا کہ وہ کیوں ایمان نہیں لاتے، اس بات کے پیچھے مت پڑ جس کا تجھے علم
نہیں۔ اور ان لوگوں کے بارہ میں جو ظالم ہیں مجھ سے گفتگو مت کر کیونکہ وہ سب غرق کئے جائیں گے اور ہماری آنکھوں کے
روبرو کشتی تیار کر اور ہمارے اشارے سے۔‘‘
(ایضاً ص:۸۰)
۱۰:...’’ان کو کہہ اگر تم خدا سے محبت کرتے ہو تو آؤ میری پیروی کرو، تا خدا بھی تم سے محبت کرے، خدا نے چاہا ہے
تا تم پر رحم کرے اور اگر تم پھر شرارت کی طرف عود کرو گے تو ہم بھی عذاب دینے کی طرف عود کریں گے اور ہم نے جہنم کو
کافروں کے لئے قید خانہ بنایا ہے۔‘‘
(ایضاً ص:۸۲)
ان تمام الہامات میں، جنہیں مرزا صاحب نے اپنی وحی کی حیثیت سے پیش کیا ہے، خاص بات یہ ہے کہ قرآن مجید کی آیات
کے جملے جوڑ جوڑ کر انہیں الہام کے قالب میں ڈھالا گیا ہے، جس کے یہ معنی ہیں کہ جن الفاظ میں آنحضرت صلی اللہ علیہ
وسلم اور انبیائے سابقین اپنے مخاطبوں کو ایمان کی دعوت دیتے تھے، ٹھیک انہی الفاظ میں مرزا صاحب تمام دنیا کو اپنی
وحی پر ایمان کی دعوت دے رہے ہیں۔ جس طرح موسیٰ علیہ السلام کی تشریف
158
آوری کے بعد صرف انبیائے سابقین پر ایمان لانا اور ان کی شریعت پر چلنا نجات کے لئے کافی نہیں تھا، جب تک
کہ موسیٰ علیہ السلام کی دعوت، ان کی وحی اور ان کی شریعت پر ایمان نہ لایا جائے، یا جس طرح کہ عیسیٰ علیہ السلام کے
آنے پر نجات صرف ان کی اتباع میں منحصر ہوگئی تھی، یا جس طرح آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے تشریف آوری کے بعد
نجات صرف آپؐ کی پیروی میں منحصر ہوگئی ٹھیک اسی طرح مرزا صاحب کی وحی کا اعلان ہے:
’’قل ان کنتم تحبون اللہ فاتبعونی یحببکم اللہ‘‘
ترجمہ:...’’ان کو کہہ اگر تم خدا سے محبت کرتے ہو تو آؤ میری پیروی کرو تا خدا بھی تم سے محبت
کرے۔‘‘
(حقیقۃ الوحی ص:۷۹،۸۲)
ظاہر ہے کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا جو دین اور اس کے اصول و فروع، مرزا صاحب کی آمد سے پہلے موجود
تھے، وہی ان کی آمد کے بعد بھی موجود ہیں۔ قرآن کریم وہی ہے، احادیث کی کتابیں وہی ہیں، فقہی سرمایہ وہی ہے، کلام،
عقائد، تصوف، اصول وغیرہ تمام متعلقہ علوم وہی ہیں۔ مگر اب اُمتِ محمدیہ کی نجات صرف محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے
قدموں سے وابستہ نہیں بلکہ اب اس کے لئے مرزا صاحب کی نبوّت و رسالت، ان کی وحی اور ان کی تعلیم پر ایمان لانا اور
عمل کرنا بھی شرط قرار پایا۔ بلکہ اس سے بڑھ کر یہ کہ اب قرآن کریم کی تفسیر، احادیث نبویہ اور فقہ و کلام اور تصوف
و عقائد کے پیمانے بھی بدلنے ہوں گے۔ اُمتِ مسلمہ کی تیرہ صدیوں کے علماء آیت کی ایک تفسیر کریں اور مرزا صاحب اس
کی کچھ اور تفسیر بتائیں تو ایمان مرزا صاحب کی تشریح و تفسیر پر ہی لانا پڑے گا۔ ساری اُمت ایک حدیث کو صحیح قرار
دے اور مرزا صاحب کی ’’وحی‘‘ اسے غیر صحیح بتائے تو فیصلہ مرزا صاحب کا ہی مسلّم ہوگا۔ تمام عقائد کی کتابوں میں ایک
عقیدہ لکھا ہو اور مرزا صاحب اس کے خلاف بتائیں تو مرزا صاحب کا بتایا ہوا عقیدہ ہی صحیح ماننا پڑے گا۔ یہ ہمارا
قیاس نہیں بلکہ ان کی نبوّت اور اس کے لوازم کا منطقی نتیجہ ہے۔ وہ خود لکھتے ہیں:
’’اگر ایمان اور حیا سے کام لیتے تو اس کاروائی پر نفرین
159
کرتے جو مہر علی گولڑوی نے میرے مقابل پر کی، کیا میں نے اس کو اس لئے بلایا تھا کہ میں اس سے ایک منقولی
بحث کرکے بیعت کرلوں؟ جس حالت میں میں بار بار کہتا ہوں کہ خدا نے مجھے مسیح موعود مقرر کرکے بھیجا ہے اور مجھے
بتلادیا ہے کہ فلاں حدیث سچی ہے اور فلاں جھوٹی ہے اور قرآن کے صحیح معنوں سے مجھے اطلاع بخشی ہے تو پھر میں کس بات
میں اور کس غرض کے لئے ان لوگوں سے منقولی بحث کروں؟ جب کہ مجھے اپنی وحی پر ایسا ہی ایمان ہے جیسا کہ توریت اور
انجیل اور قرآن کریم پر تو کیا انہیں مجھ سے یہ توقع ہوسکتی ہے کہ میں ان کے ظنیات بلکہ موضوعات کے ذخیرہ کو سن کر
اپنے یقین کو چھوڑ دوں، جس کی حق الیقین پر بنا ہے اور وہ لوگ بھی اپنی ضد کو نہیں چھوڑ سکتے۔‘‘
(اربعین نمبر:۴ ص:۱۹، روحانی خزائن ج:۱۷ ص:۴۵۳)
مدعا واضح ہے کہ جو اسلامی عقائد متوارث چلے آتے ہیں وہ تو ’’ضد‘‘ ہے اور مرزا صاحب کی ’’وحی‘‘ جو کچھ بتائے، وہ
حق الیقین ہے۔ توریت و انجیل اور قرآن کی طرح لائق ایمان ہے۔ حدیث و قرآن کے معنی و مفہوم اور اسلامی ذخیرۂ عقائد
و اصول پر حَکَم اب مرزا صاحب کی ذات ہے۔ وہ جس عقیدہ و حکم کو چاہیں، باقی رکھیں یا موقوف کردیں۔ خلاصہ یہ کہ جب
مرزا صاحب کی پیروی میں نجات منحصر ہوگئی تو نجات کے لئے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوّت و رسالت پر ایمان لانا
اور آپؐ کے دین و شریعت پر عمل کرنا کافی نہ رہا۔ بلکہ اب مرزا صاحب کی نبوّت جزو ایمان، ان کی دعوت و تعلیم شاہراہ
عمل اور ان کی پیروی کفیل نجات ٹھہری۔
دو فریق:
انبیاء علیہم السلام دنیا میں تشریف لاتے ہیں تو خبیث و طیب چھٹ کر الگ
160
ہوجاتے ہیں اور ان کی دعوت کو قبول کرنے یا نہ کرنے کے نتیجہ میں دو فریق وجود میں آتے ہیں۔ ایک فریق ان کی
دعوت پر لبیک کہنے والوں کا ہوتا ہے، جنہیں مؤمن اور مسلم کہا جاتا ہے اور دوسرا فریق ان کی دعوت کو نہ ماننے والے
منکروں کا، جنہیں کافر، ظالم، جہنمی اور خارج از اسلام کہا جاتا ہے۔ گویا انبیاء علیہم السلام کی دعوت کے نتیجے میں
انسانیت خودبخود سعادت و شقاوت کے دو خانوں میں بٹ جاتی ہے...... مرزا صاحب کے دعویٰ اور دعوت کا فطری اور منطقی
نتیجہ بھی یہی ہونا چاہئے تھا اور یہی ہوا بھی کہ ان پر ایمان لانے والے ان کے نزدیک مؤمن و مسلم کہلائے اور انکار
کرنے والے (معاذ اللہ) کافر، مردود اور جہنمی قرار پائے۔ مرزا صاحب یہ اصول تسلیم کرتے ہیں کہ:
۱:...’’یہ نکتہ یاد رکھنے کے لائق ہے کہ اپنے دعویٰ کے انکار کرنے والوں کو کافر کہنا یہ صرف ان نبیوں کی شان ہے جو
خدا تعالیٰ کی طرف سے شریعت اور احکام جدیدہ لاتے ہیں، لیکن صاحب الشریعت کے ماسوا جس قدر ملہم اور محدث ہیں، گو وہ
کیسی ہی جناب الٰہی میں اعلیٰ شان رکھتے ہوں اور خلعت مکالمہ الٰہیہ سے سرفراز ہوں، ان کے انکار سے کوئی کافر نہیں
بن جاتا۔‘‘
(حاشیہ تریاق القلوب ص:۱۳۰، روحانی خزائن ج:۱۵ ص:۴۳۲)
۲:...’’ان الہامات میں میری نسبت بار بار بیان کیا گیا ہے کہ یہ خدا کا فرستادہ، خدا کا مامور، خدا کا امین اور خدا
کی طرف سے آیا ہے۔ جو کچھ کہتا ہے، اس پر ایمان لاؤ اور اس کا دشمن جہنمی ہے (دشمن سے وہ تمام لوگ مراد ہیں جو
ایمان نہیں لائے جیسا کہ اگلے نمبر سے واضح ہے۔ ناقل)۔‘‘
(انجام آتھم ص:۶۲، روحانی خزائن ج:۱۱ ص:۶۲)
۳:...’’جو شخص تیری پیروی نہیں کرے گا اور تیری بیعت میں داخل نہیں ہوگا اور تیرا مخالف رہے گا وہ خدا اور رسول کی
نافرمانی
161
کرنے والا اور جہنمی ہے۔‘‘
(مرزا صاحب کا الہام مندرجہ ’’تذکرہ‘‘ ص:۳۴۳ طبع دوم، ص:۳۳۶ طبع چہارم)
۴:...’’سوال (۶) حضور عالی نے ہزاروں جگہ تحریر فرمایا ہے کہ کلمہ گو اور اہل قبلہ کو کافر کہنا کسی طرح صحیح نہیں
ہے۔ اس سے صاف ظاہر ہے کہ علاوہ ان مؤمنوں کے جو آپ کی تکفیر کرکے کافر بن جائیں، صرف آپ کے نہ ماننے سے کوئی
کافر نہیں ہوسکتا۔ لیکن عبدالحکیم خان کو آپ لکھتے ہیں کہ ہر ایک شخص جس کو میری دعوت پہنچی ہے، اور اس نے مجھے
قبول نہیں کیا، وہ مسلمان نہیں ہے۔ اس بیان اور پہلی کتابوں کے بیان میں تناقض ہے۔‘‘
(حقیقۃ الوحی ص:۱۶۳، روحانی خزائن ج:۲۲ ص:۱۶۷)
۵:...’’الجواب: یہ عجیب بات ہے کہ آپ کافر کہنے والے اور نہ ماننے والے کو دو قسم کے انسان ٹھہراتے ہیں حالانکہ
خدا کے نزدیک ایک ہی قسم ہے کیونکہ جو شخص مجھے نہیں مانتا وہ اسی وجہ سے نہیں مانتا کہ وہ مجھے مفتری قرار دیتا ہے۔
مگر اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ خدا پر افترا کرنے والا سب کافروں سے بڑھ کر کافر ہے۔‘‘
(حقیقۃ الوحی ص:۱۶۳، روحانی خزائن ج:۲۲ ص:۱۶۷)
۶:...’’جو مجھے نہیں مانتا وہ خدا اور رسول کو بھی نہیں مانتا کیونکہ میری نسبت خدا اور رسول کی پیش گوئی موجود
ہے۔‘‘
(ایضاً ص:۱۶۳)
۷:...’’بلا شبہ وہ شخص جو خدا تعالیٰ کے کلام کی تکذیب کرتا ہے، کافر ہے۔ سو جو شخص مجھے نہیں مانتا، وہ مجھے مفتری
قرار دے کر مجھے کافر ٹھہراتا ہے۔ اس لئے میری تکفیر کی وجہ سے آپ کافر بنتا ہے۔‘‘
(ایضاً ص:۱۶۳)
162
۸:...’’جو شخص خدا اور رسول کے بیان کو نہیں مانتا اور قرآن کی تکذیب کرتا ہے اور عمداً خدا تعالیٰ کے نشانوں کو
رد کرتا ہے اور مجھ کو باوجود صدہا نشانوں کے مفتری ٹھہراتا ہے تو وہ مؤمن کیونکر ہوسکتا ہے اور اگر وہ مؤمن ہے تو
میں بوجہ افترا کرنے کے کافر ٹھہرا۔ کیونکہ میں ان کی نظر میں مفتری ہوں۔‘‘
(ایضاً ص:۱۶۴، روحانی خزائن ج:۲۲ ص:۱۶۸)
۹:...’’کافر کو مؤمن قرار دینے سے انسان کافر ہوجاتا ہے۔ کیونکہ جو شخص درحقیقت کافر ہے، وہ اس کے کفر کی نفی کرتا
ہے اور میں دیکھتا ہوں کہ جس قدر لوگ میرے پر ایمان نہیں لاتے، وہ سب کے سب ایسے ہیں کہ ان تمام لوگوں کو وہ مؤمن
جانتے ہیں جنہوں نے مجھ کو کافر ٹھہرایا ہے۔ میں اب بھی اہل قبلہ کو کافر نہیں کہتا لیکن جن میں خود انہیں کے ہاتھ
سے وجہ کفر پیدا ہوگئی ہے، ان کو کیوں کر مؤمن کہہ سکتا ہوں۔‘‘
(ایضاً ص:۱۶۵ حاشیہ، روحانی خزائن ج:۲۲ ص:۱۶۹)
مرزا صاحب کی اس تمام تقریر کا خلاصہ یہ ہے کہ جن لوگوں نے مرزا کو ان کے دعویٔ نبوّت کی وجہ سے خارج از اسلام قرار
دیا، وہ تکفیر کی وجہ سے کافر ہوئے۔ اور جن لوگوں نے مرزا صاحب کو قبول نہیں کیا اور ان پر ایمان نہیں لائے، وہ ان
’’کافروں‘‘ کو کافر نہ کہنے کی وجہ سے کافر ہوئے۔ بس اب اہل قبلہ صرف وہ لوگ ہیں جو مرزا صاحب کی تصدیق کرتے ہیں۔
لطیفہ یہ ہے کہ لاہوری فرقہ جو مرزا صاحب کے نہ ماننے والوں کو مسلمان کہتا ہے، وہ بھی مرزا صاحب کے اس فتویٰ کی رو
سے ’’کافروں‘‘ کو مسلمان سمجھنے کی بنا پر کافر قرار پاتا ہے۔
۱۰:...’’چونکہ میں مسیح موعود ہوں اور خدا نے عام طور پر میرے لئے آسمان سے نشان ظاہر کئے ہیں، پس جس شخص پر میرے
163
مسیح موعود ہونے کے بارہ میں خدا کے نزدیک اتمام حجت ہوچکا ہے اور میرے دعوے پر وہ اطلاع پاچکا ہے، وہ قابل
مؤاخذہ ہوگا۔‘‘
(ایضاً ص:۱۷۸، روحانی خزائن ج:۲۲ ص:۱۸۴)
۱۱:...’’خدا کے نزدیک جس پر اتمام حجت ہوچکا ہے اور خدا کے نزدیک جو منکر ٹھہر چکا ہے، وہ مؤاخذہ کے لائق ہوگا۔
ہاں چونکہ شریعت کی بنیاد ظاہر پر ہے، اس لئے ہم منکر کو مؤمن نہیں کہہ سکتے اور نہ یہ کہہ سکتے ہیں کہ وہ مؤاخذہ
سے بری ہے اور کافر منکر کو ہی کہتے ہیں کیونکہ کافر کا لفظ مؤمن کے مقابل پر ہے۔‘‘
(ایضاً ص:۱۷۹، روحانی خزائن ج:۲۲ ص:۱۸۵)
۱۲:...’’اور کفر دو قسم پر ہے (اوّل) ایک یہ کفر کہ ایک شخص اسلام سے ہی انکار کرتا ہے اور آنحضرت صلی اللہ علیہ
وسلم کو خدا کا رسول نہیں مانتا۔ (دوم) دوسرے یہ کفر کہ مثلاً وہ مسیح موعود کو نہیں مانتا اور اس کے باوجود اتمام
حجت کے جھوٹا جانتا ہے۔ جس کے ماننے اور سچا جاننے کے بارے میں خدا اور رسول نے تاکید کی ہے اور پہلے نبیوں کی
کتابوں میں بھی تاکید پائی جاتی ہے۔ پس اس لئے کہ وہ خدا اور رسول کے فرمان کا منکر ہے، کافر ہے اور اگر غور سے
دیکھا جائے تو یہ دونوں قسم کے کفر ایک ہی قسم میں داخل ہیں۔‘‘
(ایضاً ص:۱۷۹، روحانی خزائن ج:۲۲ ص:۱۸۵)
اس استدلال کا حاصل یہ ہے کہ مرزا صاحب کو نہ ماننے والے ان کے خیال میں دراصل خدا و رسول کے منکر ہیں لہٰذا ان کے
کفر میں کوئی شک و شبہ نہیں۔
۱۳:...’’اس میں شک نہیں کہ جس پر خدا تعالیٰ کے نزدیک اول قسم کفر یا دوسری قسم کفر کی نسبت اتمام حجت ہوچکا ہے، وہ
قیامت کے دن مؤاخذہ کے لائق ہوگا اور جس پر خدا کے نزدیک
164
اتمام حجت نہیں ہوا اور وہ مکذب اور منکر ہے تو گو شریعت نے (جس کی بنا ظاہر پر ہے) اس کا نام بھی کافر ہی
رکھا ہے اور ہم بھی اس کو باتباع شریعت کافر کے نام سے ہی پکارتے ہیں مگر پھر بھی وہ خدا کے نزدیک بموجب آیت لَا یکلف اللہ نفسا الّا وسعھا قابل مؤاخذہ نہیں ہوگا۔ ہاں ہم اس بات کے مجاز نہیں ہیں کہ
ہم اس کی نسبت نجات کا حکم دیں۔ اس کا معاملہ خدا کے ساتھ ہے ہمیں اس میں دخل نہیں۔‘‘
(ایضاً ص:۱۸۰، ایضاً ج:۲۲ ص:۱۸۶)
اس تقریر کا حاصل یہ ہے کہ مرزا صاحب کا انکار دنیوی احکام کے لحاظ سے تو بہرحال کفر ہے اور اخروی لحاظ سے بھی وہ
اسے کافر کہنے ہی کے پابند ہیں۔ البتہ یہ خدا کو علم ہے کہ اس پر ٹھیک طرح اتمام حجت ہوا یا نہیں؟ اور وہ اس انکار
میں معذور تھا یا نہیں؟ معذور تھا تو قابل مؤاخذہ نہیں ہوگا لیکن یہ بہرحال خدا کے ساتھ معاملہ ہے۔ ہمارا جہاں تک
تعلق ہے، ہم ہر ایک نہ ماننے والے کو کافر ہی کہیں اور سمجھیں گے۔ یہ ٹھیک وہی اصول ہے جو انبیاء علیہم السلام کے نہ
ماننے والوں پر جاری ہوتا ہے۔
مرزا صاحب نے اپنے نہ ماننے والوں کو صرف لفظی اور ذہنی طور پر اسلام سے خارج نہیں کیا بلکہ اپنی اُمت کو یہ حکم
بھی فرمایا کہ وہ دیگر مسلمانوں سے کلی طور پر انقطاع اختیار کرلیں۔ دینی اور معاشرتی امور میں ان سے کوئی تعلق اور
واسطہ نہ رکھیں۔ مرزا صاحب کے منکروں کو ایک الہام میں ابولہب اور ہامان قرار دے کر ان کی ہلاکت کی خبر دی گئی
تھی: ’’تَبَّتْ یَدَآ أَبِیْ لَھَبٍ وَّتَبَّ‘‘ اس الہام کی تشریح کرتے ہوئے مرزا
صاحب لکھتے ہیں:
’’اس کلام الٰہی سے ظاہر ہے کہ تکفیر کرنے والے اور تکذیب کی راہ اختیار کرنے والے (جن میں وہ تمام مسلمان شامل ہیں
جو مرزا صاحب پر ایمان نہیں لائے...ناقل) ہلاک شدہ قوم ہے۔ اس لئے وہ اس لائق نہیں ہیں کہ میری جماعت میں سے کوئی
165
شخص ان کے پیچھے نماز پڑھے۔ کیا زندہ، مردہ کے پیچھے نماز پڑھ سکتا ہے؟ پس یاد رکھو کہ جیسا کہ خدا نے مجھے
اطلاع دی ہے تمہارے پر حرام ہے اور قطعی حرام ہے کہ کسی مکفر اور مکذب یا متردد کے پیچھے نماز پڑھو... تمہیں دوسرے
فرقوں کو جو دعویٰ اسلام کرتے ہیں بکلی ترک کرنا پڑے گا... کیا تم چاہتے ہو کہ خدا کا الزام تمہارے سر پر ہو اور
تمہارے عمل حبط ہوجائیں اور تمہیں کچھ خبر نہ ہو۔‘‘
(اربعین نمبر:۳ حاشیہ ص:۲۸، روحانی خزائن ج:۱۷ ص:۴۱۷)
یہ مرزا صاحب کے دعویٔ نبوّت و رسالت کا مختصر سا خاکہ ہے جو ان کی تصنیفات اور اشتہارات و اخبارات کے سینکڑوں نہیں
ہزاروں صفحات پر منتشر ہے۔ نہایت اختصار کے ساتھ ان کے دعویٰ کی نوعیت، اس کے اثرات اور نتائج و ثمرات کا ایک مرتبہ
نقشہ آپ کے سامنے ہے۔ اس پر ایک نظر ڈال کر انصاف کیجئے کہ اُمت کے لاہوری فرقے کا یہ دعویٰ کہاں تک صداقت پر مبنی
ہے کہ مرزا صاحب ’’مجدد‘‘ تھے۔
اب مرزا صاحب کی نبوّت پر ایک اور پہلو سے غور کیجئے۔ اسلام کا ادنیٰ طالب علم بھی اس امر سے واقف ہے کہ ۱-کسی غیر
نبی کو نبی پر فضیلت نہیں ہوسکتی۔ ۲-انبیائے کرام علیہم السلام میں پانچ حضرات یعنی حضرت ابراہیم، حضرت نوح، حضرت
موسیٰ، حضرت عیسیٰ اور حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ و علیہم وسلم تمام انبیائے کرام علیہم السلام سے افضل ہیں،
اور ۳-کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام صاحبِ شریعت رسول تھے۔ یہ اسلام کے وہ مسلّمہ عقائد ہیں جن میں کبھی دو رائیں نہیں
ہوئیں۔ اب دیکھئے کہ مرزا صاحب نے بیسیوں جگہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام سے افضلیت کا دعویٰ کیا ہے۔ موصوف نے جب تک
حریم نبوّت میں قدم نہیں رکھا تھا اس وقت تک وہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام پر اپنی ’’جزوی فضیلت‘‘ کے قائل تھے۔ ملاحظہ
ہو:
۱:...’’اس جگہ کسی کو یہ وہم نہ گزرے کہ میں نے اس تقریر میں اپنے نفس کو حضرت مسیح پر فضیلت دی ہے کیونکہ یہ ایک
جزئی
166
فضیلت ہے جو غیرنبی کو نبی پر ہوسکتی ہے۔‘‘
(تریاق القلوب ص:۱۵۷، روحانی خزائن ج:۱۵ص:۴۸۱)
اور جب مقام نبوّت تک ترقی کی تو کھل کر اعلان کردیا:
۲:...’’خدا نے اس اُمت میں سے مسیح موعود بھیجا جو اس سے پہلے مسیح (حضرت عیسیٰ علیہ السلام) سے اپنی ’’تمام شان‘‘
میں بہت بڑھ کر ہے اور دوسرے مسیح کا نام غلام احمد رکھا۔‘‘
(حقیقۃ الوحی ص:۱۴۸، روحانی خزائن ج:۲۲ ص:۱۵۲)
۳:...’’مجھے قسم ہے اس ذات کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے اگر مسیح ابن مریم میرے زمانہ میں ہوتا تو وہ کام جو میں
کرسکتا ہوں وہ ہرگز نہ کرسکتا اور وہ نشان جو مجھ سے ظاہر ہو رہے ہیں وہ ہرگز نہ دکھلا سکتا۔‘‘
(حقیقۃ الوحی ص:۱۴۸، روحانی خزائن ج:۲۲ ص:۱۵۲)
مرزا صاحب سے ان کے کسی نیازمند نے سوال کیا کہ تریاق القلوب اور مابعد کی عبارتوں میں تناقض ہے، اس کے جواب میں
مرزا صاحب نے اپنی وحی، نبوّت اور مسیحیت پر ایک طویل تقریر کرتے ہوئے فرمایا:
۴:...’’اوائل میں میرا یہی عقیدہ تھا کہ مجھ کو مسیح ابن مریم سے کیا نسبت ہے؟ وہ نبی ہے اور خدا کے بزرگ مقربین
میں سے ہے۔ اور اگر کوئی امر میری فضیلت کی نسبت ظاہر ہوتا تو میں اس کو جزئی فضیلت قرار دیتا تھا۔ مگر بعد میں جو
خدا تعالیٰ کی وحی بارش کی طرح میرے پر نازل ہوئی اس نے مجھے اس عقیدہ پر قائم نہ رہنے دیا اور صریح طور پر نبی کا
خطاب مجھے دیا۔‘‘
(حقیقۃ الوحی ص:۱۴۹،۱۵۰)
۵:...’’مسیح ابن مریم آخری خلیفہ موسیٰ علیہ السلام کا ہے اور میں آخری خلیفہ اس نبی کا ہوں جو خیرالرسل ہے۔ اس
لئے خدا نے چاہا کہ مجھے اس سے کم نہ رکھے... میں کیا کروں کس طرح خدا
167
کے حکم کو چھوڑ سکتا ہوں اور کس طرح اس روشنی سے جو مجھے دی گئی، تاریکی میں آسکتا ہوں۔ خلاصہ یہ کہ میری
کلام میں کچھ تناقض نہیں، میں تو خدا تعالیٰ کی وحی کی پیروی کرنے والا ہوں جب تک مجھے اس سے علم نہ ہوا میں وہی
کہتا رہا جو اوائل میں، میں نے کہا اور جب مجھ کو اس کی طرف سے علم ہوا تو میں نے اس کے مخالف کہا۔‘‘
(حقیقۃ الوحی ص:۱۵۰)
مرزا صاحب کی اس تقریر سے چند چیزیں نکھر کر سامنے آگئیں:
اوّل:...یہ طے شدہ اصول ہے کہ غیرنبی کو نبی پر فضیلت کلی نہیں ہوسکتی۔
دوم:...اوائل میں مرزا صاحب کا عقیدہ یہی تھا کہ عیسیٰ علیہ السلام نبی ہیں اور وہ خود غیرنبی۔ اس لئے اگر انہیں
اپنی کسی بات میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام پر فضیلت نظر آتی تو اسے جزئی فضیلت پر محمول کرتے۔
سوم:...بعد میں وحی الٰہی کی جو بارش ان پر نازل ہوئی اس نے ان کے اس عقیدہ میں تبدیلی پیدا کردی اور صریح طور پر
انہیں منصب نبوّت عطا کردیا۔
چہارم:...اس منصب پر فائز ہونے کے بعد وہ ’’اپنی تمام شان میں‘‘ عیسیٰ علیہ السلام سے افضل قرار دے دئیے گئے۔
پنجم:...اس تبدیلیٔ عقیدہ کی بنیاد صرف ان پر نازل شدہ وحی تھی اور وہ اس وحی کی پیروی کرنے پر مجبور تھے۔
ششم:...ان کو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے بعینہٖ وہی نسبت ہے جو حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو حضرت موسیٰ علیہ
السلام سے تھی، عیسیٰ علیہ السلام، موسوی سلسلہ کے آخری خلیفہ اور تشریعی نبی تھے۔ ٹھیک یہی منصب محمدی سلسلہ میں
جناب مرزا صاحب کا ہے...... مزید سنئے:
۶:...’’اس جگہ یہ بھی یاد رہے کہ جب کہ مجھ کو تمام دنیا کی اصلاح کے لئے ایک خدمت سپرد کی گئی ہے، اس وجہ سے کہ
ہمارا
168
آقا اور مخدوم تمام دنیا کے لئے آیا تھا تو اس عظیم الشان خدمت کے لحاظ سے مجھے وہ قوتیں اور طاقتیں بھی
دی گئی ہیں جو اس بوجھ کے اٹھانے کے لئے ضروری تھیں۔ اور وہ معارف اور نشان بھی دئیے گئے جن کا دیا جانا اتمام حجت
کے لئے مناسب وقت تھا۔ مگر ضروری نہ تھا کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو وہ معارف اور نشان دئیے جاتے کیونکہ اس وقت ان
کی ضرورت نہ تھی۔
اس لئے حضرت عیسیٰ کی سرشت کو صرف وہ قوتیں اور طاقتیں دی گئیں جو یہودیوں کے ایک تھوڑے سے فرقہ کی اصلاح کے لئے
ضروری تھیں۔ اور ہم قرآن شریف کے وارث ہیں جس کی تعلیم جامع تمام کمالات ہے اور تمام دنیا کے لئے ہے۔ مگر حضرت
عیسیٰ صرف تورات کے وارث تھے جس کی تعلیم ناقص اور مختص القوم ہے۔‘‘
(حقیقۃ الوحی ص:۱۵۱)
یہاں یہ بحث نہیں کہ مرزا صاحب کی اس تقریر میں کیا سقم ہے اور اس کا کتنا حصہ محض شعری و وہمی مقدمات پر مبنی ہے،
یہاں صرف یہ دکھانا ہے کہ مرزا صاحب کے بقول ان کی سرشت میں وہ تمام قوتیں اور طاقتیں رکھی گئی ہیں جن سے عیسیٰ علیہ
السلام (نعوذ باللہ) محروم تھے۔ یہ تو فطری قوتوں میں مرزا صاحب کی برتری تھی، اب روحانی طاقتوں میں ان کی بلندی
دیکھئے:
۷:...’’پھر جس حالت میں یہ بات ظاہر اور بدیہی ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو اسی قدر روحانی قوتیں اور طاقتیں دی
گئی تھیں جو فرقہ یہود کی اصلاح کے لئے کافی تھیں تو بلاشبہ ان کے کمالات بھی اسی پیمانہ کے لحاظ سے ہوں گے......
اور ہمیں حکم ہے کہ تمام احکام میں اخلاق میں عبادات میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی پیروی کریں۔ پس اگر ہماری
فطرت کو وہ قوتیں نہ دی جاتیں
169
جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے تمام کمالات کو ظلّی طور پر حاصل کرسکتیں تو یہ حکم ہمیں ہرگز نہ ہوتا کہ
اس بزرگ نبی کی پیروی کرو کیونکہ خدا تعالیٰ فوق الطاقت کوئی تکلیف نہیں دیتا۔‘‘
(حقیقۃ الوحی ص:۱۵۱،۱۵۲)
-
گر ایں است مکتب ومُل
کارِ طفلاں تمام خواہد شد
۸:...’’اس امر میں کیا شک ہے کہ حضرت مسیح علیہ السلام کو وہ فطرتی طاقتیں نہیں دی گئیں جو مجھے دی گئیں، کیونکہ وہ
ایک خاص قوم کے لئے آئے تھے اور اگر وہ میری جگہ ہوتے تو اپنی اس فطرت کی وجہ سے وہ کام انجام نہ دے سکتے جو خدا کی
عنایت نے مجھے انجام دینے کی قوت دی۔‘‘
(حقیقۃ الوحی ص:۱۵۳)
۹:...’’اس بات میں بگڑنا اور منہ بنانا اچھا نہیں، کیا جس قادر مطلق نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو پیدا کیا، وہ
ایسا ہی ایک اور انسان یا اس سے بہتر پیدا نہیں کرسکتا (جل جلالہ)۔‘‘
(حقیقۃ الوحی ج:۲۲ ص:۱۵۳،۱۵۷)
۱۰:...’’تمام نبیوں کے نام میرے نام رکھے، مگر مسیح ابن مریم کے نام سے خاص طور پر مجھے مخصوص کرکے وہ میرے پر رحمت
اور عنایت کی گئی جو اس پر نہیں کی گئی۔ تا لوگ سمجھیں کہ فضل خدا کے ہاتھ میں ہے جس کو چاہتا ہے دیتا ہے۔ اگر میں
اپنی طرف سے یہ باتیں کرتا ہوں تو جھوٹا ہوں۔‘‘
(حقیقۃ الوحی ص:۱۵۴)
۱۱:...’’پھر جب کہ خدا نے اور اس کے رسول نے اور تمام نبیوں نے آخری زمانہ کے مسیح کو اس کے کارناموں کی وجہ سے
افضل قرار دیا ہے تو پھر یہ شیطانی وسوسہ ہے کہ یہ کہا جائے کہ کیوں تم مسیح
170
ابن مریم سے اپنے تئیں افضل قرار دیتے ہو۔‘‘
(حقیقۃ الوحی ص:۱۵۵)
۱۲:...’’جو شخص پہلے مسیح کو افضل سمجھتا ہے اس کو نصوص حدیثیہ اور قرآنیہ سے ثابت کرنا چاہئے کہ آنے والا مسیح
(مرزا غلام احمد) کچھ چیز ہی نہیں نہ نبی کہلاسکتا ہے نہ حکم جو کچھ ہے پہلا ہے۔‘‘
(حقیقۃ الوحی ص:۱۵۵)
یہ سب حوالے مرزا صاحب کی صرف ایک کتاب سے لئے گئے ہیں۔ مرزا صاحب کے لئے اپنے رقیب (حضرت عیسیٰ علیہ السلام) سے
نوک جھونک کا مشغلہ کچھ ایسا مرغوب تھا کہ انہوں نے بلامبالغہ ہزاروں جگہ اس موضوع پر گل افشانیاں کی ہیں، جنہیں
پڑھنے کے لئے بھی پتھر کا دل چاہئے۔ بہرحال اگر عقل و انصاف نام کی کوئی چیز دنیا میں موجود ہے تو مرزا صاحب کی
مندرجہ بالا تصریحات سے معمولی عقل و فہم کا آدمی بھی اس نتیجے پر پہنچے گا کہ اگر عیسیٰ علیہ السلام صاحب شریعت
رسول تھے تو مرزا صاحب کو ان سے بڑھ کر ’’عظیم ترین صاحب شریعت رسول‘‘ ہونے کا دعویٰ ہے۔ اب اسے ظلّی مجازی نبی کہو،
امتی نبی کا لقب دو، یا ’’آنریری نبی‘‘ سمجھو، بہرحال اہل عقل و دانش سن کر یہی کہیں گے:
-
من انداز قدت رامے شناسم
بہر رنگے کہ خواہی جامہ مے پوش
اور ایک عیسیٰ علیہ السلام ہی کی کیا تخصیص؟ مرزا صاحب کے نزدیک کوئی بھی نبی اور رسول ان کے مرتبہ کو نہیں پہنچتا،
وہ کہتے ہیں:
-
روضۂ آدم کہ تھا وہ نامکمل اب تلک
میرے آنے سے ہوا کامل بجملہ برگ و بار
(براہین احمدیہ پنجم ص:۱۱۳، روحانی خزائن ج:۲۱ص:۱۴۴)
اور:
-
زندہ شد ہر نبی باآمدنم
ہر رسولے نہاں بہ پیراہنم
(درثمین)
171
اور ان کا یہ فقرہ بھی پہلے کہیں نقل کرچکا ہوں:
’’سچ تو یہ ہے کہ اس (خدا) نے اس قدر معجزات کا دریا رواں کردیا ہے کہ باستثنا ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے
باقی تمام انبیاء علیہم السلام میں ان کا ثبوت اس کثرت کے ساتھ قطعی اور یقینی طور پر محال ہے۔‘‘
(تتمہ حقیقۃ الوحی ص:۱۳۶)
یہ ہے مرزا صاحب کی باران وحی کا طوفان اور ان کے دریائے معجزات کی روانی! جس میں ایک دو نہیں بلکہ تمام انبیاء کے
اعجازی سفینے ڈوب ڈوب جاتے ہیں۔ مگر ان کی اُمت کا ایک گروہ ہنوز اسی شک میں ہے کہ حضرت صاحب نے نبوّت کا دعویٰ کیا
تھا؟
بہرحال اگر کسی کو حق تعالیٰ نے دیدۂ بصیرت عطا کیا ہے تو اسے یہ سمجھنے میں دقت نہیں ہوگی کہ مرزا صاحب نبوّت کی
کتنی بلند چوٹی پر بیٹھ کر، کس لب و لہجہ میں بات کرنے کے عادی ہیں، سنئے:
’’اور خدا تعالیٰ نے اس بات کے ثابت کرنے کے لئے کہ میں اس کی طرف سے ہوں اس قدر نشان دکھلائے ہیں کہ اگر وہ ہزار
نبی پر بھی تقسیم کئے جائیں تو ان کی بھی ان سے نبوّت ثابت ہوسکتی ہے۔‘‘
(چشمۂ معرفت ص:۳۱۷، روحانی خزائن ج:۲۳ص:۳۳۲)
کس قدر قابل تعجب ہے ایک طرف مرزا صاحب کی یہ فیاضی کہ وہ اپنے اعجاز نبوّت سے ہزار نبی کی نبوّت ثابت کرسکتے ہیں
اور ادھر ان کی بے توفیق اُمت کی حرماں نصیبی کہ وہ خود مرزا صاحب کو کامل و مکمل نبی تسلیم کرنے سے شرماتی ہے۔
اب مرزا صاحب کے دعویٔ نبوّت کو ایک اور زاوئیے سے دیکھئے۔ مرزا صاحب کی نبوّت کا ایک عظیم معجزہ یہ تھا کہ وہ
مختلف اوقات میں پیش گوئیاں کیا کرتے تھے، وہ تحریر فرماتے ہیں:
’’اور جو معجزات مجھے دئیے گئے بعض ان میں سے وہ
172
پیش گوئیاں ہیں جو بڑے بڑے غیب کے امور پر مشتمل ہیں کہ بجز خدا کے کسی کے اختیار اور قدرت میں نہیں کہ ان
کو بیان کرسکے۔‘‘
۸:...’’جس امر میں تمام انبیاء شریک ہیں اور ایک بھی ان میں سے باہر نہیں اس کو اعتراض کی صورت میں پیش کرنا کسی
متقی کا کام نہیں۔‘‘
(تتمہ حقیقۃ الوحی ص:۱۳۵)
۹:...’’خدا تعالیٰ نے یہ اجتہادی غلطی انبیاء کے لئے اس واسطے مقرر کر رکھی ہے تا وہ معبود نہ ٹھہرائے جائیں۔‘‘
(تتمہ حقیقۃ الوحی ص:۱۳۵)
۱۰:...’’میں بار بار کہتا ہوں کہ اگر یہ تمام مخالف مشرق ومغرب کے جمع ہوجاویں تو میرے پر کوئی ایسا اعتراض نہیں
کرسکتے کہ جس اعتراض میں گزشتہ نبیوں میں کوئی نبی شریک نہ ہو، اپنی چالاکیوں کی وجہ سے ہمیشہ رسوا ہوتے ہیں اور پھر
باز نہیں آتے۔‘‘
(تتمہ حقیقۃ الوحی ص:۱۳۷)
۱۱:...’’مخالفوں کے اعتراض میرے نشانوں کے بارے میں تین قسم سے باہر نہیں ہیں... تیسرے یہ کہ محض ایک اجتہادی امر
ہے اور اس کو خدا کا کلام قرار دے کر پھر اعتراض کرتے ہیں کہ یہ پیش گوئی تھی جو پوری نہیں ہوئی، جب کہ یہ حال ہے تو
ظاہر ہے کہ کوئی نبی ان کی زبان سے نہیں بچ سکتا۔‘‘
(تتمہ حقیقۃ الوحی ص:۱۳۶،۱۳۷)
۱۲:...’’وہ بدقسمت اس قدر گندہ زبانی اور دشنام دہی میں بڑھ گیا تھا کہ مجھے ہرگز امید نہیں کہ ابوجہل نے آنحضرت
صلعم کی نسبت یہ بدزبانی کی ہو، بلکہ میں یقینا کہتا ہوں کہ جس قدر خدا کے نبی دنیا میں آئے ان سب کے مقابل پر کوئی
ایسا گندہ زبان دشمن ثابت نہیں ہوتا جیسا کہ سعد اللہ تھا۔‘‘
(تتمہ حقیقۃ الوحی ص:۲۰)
173
۱۳:...’’اور میں باور نہیں کرسکتا کہ جب سے دنیا پیدا ہوئی ہے کسی نے ایسی گندی گالیاں کسی نبی اور مرسل کو دی ہوں
جیسا کہ اس نے مجھے دیں۔‘‘
(ایضاً ص:۵)
یہ چند عبارتیں بھی صرف ایک کتاب سے لی گئی ہیں، ورنہ مرزا صاحب کی اس نوعیت کی تصریحات بے شمار ہیں۔ مختصر یہ کہ
مرزا صاحب سے جب کبھی لغزش ہوتی اور اس پر انہیں ٹوکا جاتا یا ان کی تحدی آمیز پیش گوئی خود ان کی تشریح و تفسیر کی
روشنی میں حرف غلط ثابت ہوتی (اور یہ قصہ ان کی زندگی کا روز مرہ معمول تھا)، تو خفت مٹانے اور اپنے نیازمندوں کا دل
بہلانے کے لئے یہ ابتلائی تقریر فرماتے کہ دراصل وحی الٰہی کا مطلب سمجھنے میں ہم سے اجتہادی غلطی ہوئی، پیش گوئی کا
مطلب یہ تھا اور ہم نے یہ سمجھ لیا، اور سنت اللہ یہی ہے کہ نبیوں سے پیش گوئیاں کرائی جاتی ہیں مگر ان میں استعارے
بہت ہوا کرتے ہیں، اس لئے نبی ان کا مطلب نہیں سمجھا کرتے بلکہ بے سمجھے پیش گوئی کردیا کرتے ہیں، دیکھو یونس نبی نہ
سمجھا، موسیٰ نہیں سمجھا، عیسیٰ نہیں سمجھا، ملاکی نبی نہیں سمجھا، بنی اسرائیل کے سارے نبی نہیں سمجھے، اور تو اور
خود ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نہیں سمجھے، انا ﷲ وانا الیہ راجعون!
مرزا صاحب کا یہ نظریہ اپنی جگہ کتنا اِلحاد پرور ہے؟ اس سے قطع نظر جو اَمر خاص طور پر قابل توجہ ہے وہ یہ ہے کہ
جو شخص نبوّت و رسالت اور وحی قطعی کا دعویٰ کر کے تمام انبیائے کرام کو اپنی نظر میں پیش کرے اور تمام دنیا کو اس
بات کا چیلنج کرے کہ میری نبوّت و رسالت اور وحی پر وہ اعتراض کرو جو کسی نبی پر وارد نہ ہوتا ہو، کیا اس کی اس منطق
کا صاف صاف نتیجہ یہ نہیں کہ وہ بھی ٹھیک اسی معنی و مفہوم میں رسالت و نبوّت کا مدعی ہے جو مفہوم کہ تمام انبیائے
کرام (علیہم السلام) کی نبوّت و رسالت کا تھا؟ اور اس کے کسی ہوشیار وکیل کا یہ کہنا کہ اس نے حقیقتاً نبوّت کا
دعویٰ، کیا ہی نہیں تھا، کیا یہ واقعہ کی صحیح ترجمانی ہے یا محض سخن سازی کے ذریعہ اس کے مکروہ چہرے پر پردہ ڈالنے
کی ناکام کوشش...؟
174
قادیانیت اور تحریفِ قرآن
صادق وکاذب میں فرق:
خدا تعالیٰ کی حکمت وقدرت کے قربان جائیے کہ وہ اپنے محبوب بندوں کے معاملے میں بڑا غیور ہے۔ خدائی کے دعوے الاپنے
والے فرعونوں کو چندے مہلت دے دیتا ہے، مگر انبیائے کرام ...علیہم الصلوٰۃ السلام... کے کمالات پر ہاتھ صاف کرنے
والے مدعیان کذّاب کو فوراً رُسوا کردیتا ہے۔ ’’محمدی بیگم‘‘ کے معاملے میں اللہ رَبّ العزّت نے مرزا صاحب کو کس طرح
ذلیل اور رُسوا کیا؟ ان کی مزید رُسوائی ’’زَوَّجْنٰـکَھَا‘‘ کے ’’اِلہام‘‘ سے عیاں
ہوئی، غور فرمائیے کہ یہی فقرہ ایک الصادق الامین ...صلی اللہ علیہ وسلم... کی زبان مبارک سے صادر ہوا تو اس کے کیا
نتائج برآمد ہوئے؟ اور جب مرزا صاحب نے یہی فقرہ دُہرایا تو کیا نتیجہ نکلا؟ اور ان نتائج پر غور کرنے کے بعد صادق
کی صداقت اور مرزا صاحب کا کذب وافترا دونوں چیزیں خوب کھل کر سامنے آجائیں گی، وہ نتائج حسبِ ذیل ہیں:
اوّل:... یہ ’’نکاحِ آسمانی‘‘ بلاشبہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی ایک عظیم الشان خصوصیت اور آپ کا ایک منفرد
کمال تھا، جس میں آپ کا کوئی شریک نہیں، مگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی حیاتِ طیبہ میں اس نوعیت کے خصائل وکمالات
کی کیا کمی تھی؟ سیکڑوں نہیں، ہزاروں تھے، یہی وجہ ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس واقعے کو نہ غیرمعمولی اہمیت
دی، نہ کوئی اِعلان واِشتہار جاری ہوا، نہ تحدی کی گئی، نہ اسے صدق وکذب کا معیار بتایا گیا، گویا اگر باذنِ اِلٰہی
اس قسم کے بیسیوں نکاح بھی ہوجاتے تو عام انسانوں کے اِعتبار سے خواہ یہ
175
کتنا ہی غیرمعمولی واقعہ ہوتا، مگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بلند وبالا مقام کے اِعتبار سے یہ ایک معمولی
بات تھی۔
اس کے برعکس مرزا صاحب نے ’’مفروضہ نکاحِ آسمانی‘‘ کی پیش گوئی کا طنطنہ ایسا بلند کیا کہ گویا تمام مسیحی کمالات
اسی ایک عورت کی ذات میں سمٹ آئے ہیں، اس کے لئے اِشتہار پر اِشتہار دئیے جاتے ہیں، تحدی پر تحدی کی جاتی ہے،
اِلہام پر اِلہام گھڑے جاتے ہیں، اسے صدق وکذب کا واحد معیار بتایا جاتا ہے، کتابوں پر کتابیں تصنیف ہو رہی ہیں،
مصلحِ موعود اور خواتین مبارکہ کی بشارتیں اس سے وابستہ کی جارہی ہیں، مسیحِ موعود سے متعلقہ اَحادیث اس پر چسپاں کی
جارہی ہیں اور قسمیں کھا کھاکر لوگوں کو مطمئن کیا جارہا ہے۔ مرزا صاحب نے محمدی بیگم کی یاد میں جو ’’رُومانی ادب‘‘
تخلیق کیا ہے، اگر اسے یکجا کردیا جائے تو ایک ضخیم دفتر بن جائے۔ اب مرزا صاحب کے طوفانی ’’زَوَّجْنٰـکَھَا‘‘ کا مقابلہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی حیاتِ طیبہ کے ایک سادے سے
واقعے سے کیجئے تو صاف نظر آئے گا کہ وہاں حق وصداقت کا نور چمکتا ہے، اور یہاں دجل وتلبیس، کذب واِفترا اور لاف
وگزاف کے تاریک سائے پھیلے ہوئے ہیں:’’وَالَّذِیْنَ کَفَرُوْآ اَوْلِیَآؤُھُمُ الطّٰـغُوْتُ
یُخْرِجُوْنَھُمْ مِّنَ النُّوْرِ اِلَی الظُّلُمٰتِ‘‘ ۔ وہاں ’’نکاحِ آسمانی‘‘ ہوچکا ہے، اس کے باوجود
سکون اور وقار ہے، یہاں ہوا ہوایا کچھ نہیں، حرف برخود غلط پیش گوئی ہے مگر شور وغوغا سے آسمان سر پر اُٹھارکھا ہے۔
دوم:... وہاں آیت: ’’زَوَّجْنٰـکَھَا‘‘نازل ہوتی ہے اورآنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم
بلاتکلف اُٹھ کر حضرت زینبؓ کے گھر تشریف لے جاتے ہیں، نہ کسی سے درخواست، نہ سفارش، نہ تحریک، نہ سلسلۂ جنبانی، نہ
کوئی مانع اور نہ اسے دُور کرنے کی فکر۔ اور یہاں بھی آیت: ’’زَوَّجْنٰـکَھَا‘‘ گھڑی
جاتی ہے، اس کے باوجود لڑکی کے والدین سے درخواستوں پر درخواستیں کی جارہی ہیں، انہیں وعدے وعید کے زور سے ہموار کیا
جارہا ہے، سفارشیں کرائی جارہی ہیں، ایک ایک کی منتیں اور خوشامدیں ہو رہی ہیں، عزیز واقارب کو کبھی خوشامدانہ اور
کبھی تہدید آمیز خطوط لکھے جارہے ہیں، الغرض ہر جتن کیا جاتا ہے کہ نکاح
176
ہوجائے، مگر نہیں ہوتا، اور یہ’’زَوَّجْنٰـکَھَا‘‘ کا اِلہام اپنا سا منہ لے کر
رہ جاتا ہے۔ وہ حقیقت تھی اور یہ محض بھونڈی نقالی اور کذب واِفترا کا ایک خوفناک جال۔
سوم:... وہاں وہ خاتون پہلے سے ایک شوہر کے نکاح میں ہے، اور اس کے طلاق دینے اور عدّت گزرنے کے بعد ’’زَوَّجْنٰـکَھَا‘‘ کی آسمانی اِطلاع آتی ہے، اور وہ پاک باز خاتون ہمیشہ کے لئے حرمِ نبوی
میں داخل ہوجاتی ہے۔ اور یہاں گنگا اُلٹی بہتی ہے، یعنی وہ لڑکی کنواری ہے، اللہ تعالیٰ اس کا عقدِ نکاح مرزا صاحب
سے خود باندھ دیتے ہیں، اور اس کے بعد مرزا صاحب کی یہ ’’آسمانی منکوحہ‘‘ کسی دُوسرے کے حبالۂ عقد میں چلی جاتی
ہے، مگر بایں ہمہ مرزا صاحب کو ’’زَوَّجْنٰـکَھَا‘‘ کی آیت پڑھنے سے حیا مانع نہیں ہوتی،
بلکہ اِصرار کیا جاتا ہے کہ خواہ وہ کسی گھر پر رہے، مگر ہے ہماری ’’منکوحۂ آسمانی‘‘:
بریں عقل ودانش بباید گریست
چہارم:... وہاں سراپا صداقت ہے، اس لئے جب تک وہ خاتون کسی کے نکاح میں ہے، اس کے شوہر سے باصرار فرمایا جارہا ہے
کہ: ’’اَمْسِکْ عَلَیْکَ زَوْجَکَ وَاتَّقِ اللہَ‘‘ (روک کر رکھ اپنے پاس اپنی بیوی اور
ڈَر اللہ سے) یعنی طلاق دینے کے خیال سے بھی باز رہ، اور ایسا خیال دِل میں لانے سے اللہ کا خوف کر۔ مگر یہاں اوّل
تو لڑکی کے منگیتر کو حکم دیا جاتا ہے کہ خبردار! یہ ہمارا منکوحہ رشتہ نہ لینا، ورنہ مرجائے گا، تجھ پر خدا کا غضب
ٹوٹ پڑے گا اور تو تباہ ہوجائے گا۔ اور جب وہ آنجناب کے اس ’’خدائی حکم نامہ‘‘ کی پروا نہیں کرتا اور لڑکی کو بیاہ
لے جاتا ہے تو نہ صرف باصرار وتکرار اسے جگہ خالی کرنے کی فہمائش ہوتی ہے، بلکہ پیش گوئیاں کی جاتی ہیں کہ وہ ضرور
مرے گا، لڑکی ضرور بیوہ ہوگی، اور ضرور ’’اس عاجز‘‘ کے نکاح میں آئے گی، مگر نتیجہ بالکل غلط نکلتا ہے۔
غور فرمائیے! کہ وہاں شرافتِ نفس، خلوص وخیرخواہی اور اِنسانی اَخلاقی قدروں کی کتنی بلندی پائی جاتی ہے، اور یہاں
خودغرضی اور اَخلاقی گراوَٹ کی کتنی پستی موجود ہے؟ کیا دُنیا کا کوئی شریف آدمی اس اَخلاقی گراوَٹ کا مظاہرہ
کرسکتا ہے؟
’’ببیں تفاوت راہ از کجا ست تا کجا؟‘‘
177
مرزا صاحب بزعمِ خود ’’محمد رسول اللہ‘‘ کی بلند ترین سطح پر اپنے آپ کو نمایاں کرنا چاہتے ہیں، مگر کاش کہ وہ
ہمارے دور کے ایک عام شریف آدمی کی سطح پر ہی لوگوں کو نظر آسکتے...!
پنجم:... وہاں یہ اندیشہ دامن گیر ہے کہ اگر زیدؓ نے اس پاک باز خاتون کو طلاق دے دی تو اس کی اشک شوئی کی کیا صورت
ہوگی؟ اگر مطلقہ ہونے کے بعد اسے حرمِ نبوّت میں داخل کیا جائے تو منافقین بے پر کی اُڑائیں گے، اور اس معمولی بات
کو رنگ آمیزی کے ساتھ پیش کرکے مخلوقِ خدا کو گمراہ کریں گے کہ دیکھو محمد ...صلی اللہ علیہ وسلم... نے اپنے منہ
بولے بیٹے کی مطلقہ زوجہ سے نکاح کرلیا، بالآخر اللہ تعالیٰ اس اندیشے پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو لطف آمیز عتاب
فرماتے ہیں کہ آپ اس عاجز مخلوق سے کیوں اندیشہ فرماتے ہیں؟ اللہ سے ڈرنا چاہئے اور بس: ’’وَتُخْفِیْ فِیْ نَفْسِکَ مَا اللہُ مُبْدِیْہِ وَتَخْشَی النَّاسَ وَاللہُ اَحَقُّ اَنْ
تَخْشٰہُ‘‘۔
الغرض! وہاں طبعی شرافت اور حیا کا یہ عالم ہے، اور یہاں نہ خدا سے ڈر، نہ مخلوقِ خدا سے حیا۔ ایک عورت سے نکاح کی
آرزو ہے، مگر اس کے لئے اِلہامی اِشتہارات کا وہ طوفان برپا کیا جاتا ہے کہ فضا مرتعش ہوجاتی ہے۔ ’’پیش گوئی‘‘ کی
جاتی ہے، اس کے لئے حتمی تاریخیں دی جاتی ہیں، ’’اِنتظار‘‘ کی دعوت کے ساتھ لوگوں کو مسیحانہ خوش کلامی سے نوازا
جاتا ہے، بار بار تاریخیں تبدیل کی جاتی ہیں، تأویلات کے دریا بہائے جاتے ہیں، مگر نتیجہ زبانی جمع خرچ سے آگے
نہیں جاتا۔
ششم:... وہاں ’’زَوَّجْنٰـکَھَا‘‘ کی آیت نازل ہوتی ہے، اور چند لمحوں میں اس کی تعمیل
ہوجاتی ہے، اور پھر کبھی اس کا ذِکر نہیں ہوتا۔ اور یہاں ’’زَوَّجْنٰـکَھَا‘‘ کا پیغام
’’جنم روگ‘‘ بن کر رہ جاتا ہے۔ مرزا صاحب کی پہلی تصنیف ’’براہین احمدیہ‘‘ سے اس ’’قصۂ دِلفریب‘‘ کا آغاز ہوتا ہے،
اور آخری عمر کی تصنیف ’’حقیقۃ الوحی‘‘ پر بھی ختم نہیں ہوپاتا، کبھی بیمار پڑتے ہیں تو اسی کا خیال ستاتا ہے:
’’اس عاجز کو ایک سخت بیماری آئی، یہاں تک کہ قریب
178
موت کے نوبت پہنچ گئی، بلکہ موت کو سامنے دیکھ کر وصیت بھی کردی گئی، اس وقت گویا ’’پیش گوئی‘‘ آنکھوں کے
سامنے آگئی اور یہ معلوم ہو رہا تھا کہ اب آخری دَم ہے اور کل جنازہ نکلنے والا ہے، تب میں نے اس پیش گوئی کی نسبت
خیال کیا کہ شاید اس کے اور معنی ہوں گے جو میں سمجھ نہیں سکا، تب اسی حالت قریب الموت میں مجھے اِلہام ہوا: الحق من ربک فلا تکونن من الممترین ۔ یعنی یہ بات تیرے رَبّ کی طرف سے سچ ہے، تو کیوں شک
کرتا ہے۔‘‘
(اِزالہ اوہام ص:۳۹۸، رُوحانی خزائن ج:۳ ص:۶۰۳)
اور کبھی خواب میں اسے سرخ وخوش رنگ لباس میں دیکھ کر اس سے بغلگیر ہوتے ہیں اور اس ’’روشن بی بی‘‘ سے روشنیٔ قلب
حاصل کرتے ہیں:
’’۲۵؍جولائی ۱۸۹۲ء مطابق ۲۰؍ذی الحجہ ۱۳۰۹ھ روز دوشنبہ، آج میں نے بوقتِ صبح ساڑھے چار بجے دن کے خواب میں دیکھا
کہ ایک حویلی ہے، اس میں میری بیوی والدۂ محمود اور ایک عورت بیٹھی ہے، تب میں نے ایک مشک سفید رنگ میں پانی بھرا
ہے اور اس مشک کو اُٹھاکر لایا ہوں، اور وہ پانی لاکر ایک اپنے گھڑے میں ڈال دیا ہے، میں پانی کو ڈال چکا تھا کہ وہ
عورت جو بیٹھی ہوئی تھی یکایک سرخ اور خوش رنگ لباس پہنے ہوئے میرے پاس آگئی، کیا دیکھتا ہوں کہ ایک جوان عورت ہے،
پیروں سے سر تک سرخ لباس پہنے ہوئے شاید جالی کا کپڑا ہے، میں نے دِل میں خیال کیا کہ وہی عورت ہے جس کے لئے
اِشتہارات دئیے تھے (یعنی محمدی بیگم) لیکن اس کی صورت میری بیوی کی صورت معلوم ہوئی، گویا اس نے کہا یا دِل میں کہا
کہ میں آگئی ہوں ......۔۔ میں نے کہا: یا اللہ! آجاوے۔ اور پھر وہ عورت مجھ سے بغلگیر ہوئی، اس کے بغلگیر
179
ہوتے ہی میری آنکھ کھل گئی، فالحمد ﷲ علیٰ ذالک۔‘‘ (یعنی اللہ کا شکر ہے کہ خواب میں ہی سہی اس ’’جانِ
تمنا‘‘ سے معانقہ تو ہوگیا، جناب مسیحیت مآب کو ایک غیرمحرَم عورت سے معانقہ کرتے ہوئے کوئی شرعی روک مانع نہیں
ہوتی، نہ اپنے نیازمندوں کے سامنے اسے نقل کرتے ہوئے اخلاقی گراوَٹ کا اِحساس ہوتا ہے، نہ مرزائی اُمت کو اس ’’وحیٔ
مقدس‘‘ کے ’’ذِکرِ خیر‘‘ سے گھن آتی ہے: تفو! بر تو اے چرخِ گرداں تفو!)
’’ اس سے دوچار روز پہلے خواب میں دیکھا تھا کہ ’’روشن بی بی‘‘ میرے دالان کے دروازے پر آکھڑی ہوئی ہے، اور میں
دالان کے اندر بیٹھا ہوں، تب میں نے کہا کہ: آ، روشن بی بی اندر آجا۔‘‘
(تذکرہ ص:۱۹۷ طبع چہارم)
اور کبھی خواب وخیال کی دُنیا میں اس کی ’’برہنہ زیارت‘‘ کرتے ہیں، دونوں ہاتھوں سے اسے پیار کرتے ہیں، اور نکاح
فرماکر شیرینی تقسیم کردی جاتی ہے، اور آنجناب فرضی طور پر دولہا میاں بن کر صبر وسکون حاصل کرتے ہیں:
’’۱۴؍اگست ۱۸۹۲ء مطابق ۲۰؍محرم ۱۳۰۹ھ آج خواب میں، میں نے دیکھا کہ محمدی (بیگم) جس کی نسبت پیش گوئی ہے، باہر کسی
تکیہ میں مع چند کس کے بیٹھی ہوئی ہے، اور سر اس کا شاید منڈا ہوا ہے، اور بدن سے ننگی ہے اور نہایت مکروہ شکل ہے،
میں نے اس کو تین مرتبہ کہا ہے کہ تیرے سر منڈی ہونے کی یہ تعبیر ہے کہ تیرا خاوند مر جائے گا، اور میں نے دونوں
ہاتھ اس کے سر پر اُتارے ہیں ...... اور اسی رات والدۂ محمود نے خواب میں دیکھا کہ محمدی (بیگم) سے میرا نکاح ہوگیا
ہے، اور ایک کاغذ مہر ان کے ہاتھ میں ہے جس پر ہزار روپیہ مہر لکھا ہے، اور شیرینی منگوائی ہے اور پھر میرے پاس وہ
180
خواب میں کھڑی ہے۔‘‘
(تذکرہ ص:۱۹۸، ۱۹۹ طبع چہارم)
اور جب عمر بھر کی ان تمناؤں اور آرزوؤں کا خون ہوتا ہے، مگر اس شریف زادی کا سایہ دیکھنا بھی کبھی نصیب نہیں
ہوتا تو مرزا صاحب اس کی بے وفائی سے کبیدہ ہوکر فرماتے ہیں:
’’فرمایا: چند روز ہوئے کہ ’’کشفی نظر‘‘ میں ایک عورت مجھے دِکھلائی گئی، اور پھر اِلہام ہوا:
ویل لھٰذہ الامرأۃ وبعلھا، (اس عورت اور اس کے خاوند کے لئے ہلاکت ہے)۔‘‘
(تذکرہ آیت نمبر:۱۱۸۴ ص:۶۱۰)
اس موقع پر مرزا صاحب کی خدمت میں یہ عرض کرنا بجا ہوگا:
-
ہاں ہاں نہیں وفا پرست، جاؤ وہ بے وفا سہی!
جس کو ہو جان ودِل عزیز، اس کی گلی میں جائے کیوں؟
ہفتم:... وہاں صداقت تھی اس لئے اِدھر آیت نازل ہوئی اور اُدھر حضرت زینبؓ کو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی دائمی
زوجیت کا شرف حاصل ہوا: ’’وھی زوجتہ فی الجنّۃ‘‘ (طبقات ابن سعد ج:۸
ص:۱۰۸) ، جس سے انہیں اس بات کی قطعی ضمانت مل گئی کہ نہ یہ نکاح منسوخ ہوگا، نہ طلاق ہوگی، اور یہاں محض
نقالی تھی، اس لئے جس منہ سے ’’زَوَّجْنٰـکَھَا‘‘ کا پُرزور اِعلان ہوا تھا، اور
اِشتہارات کی بھرمار کی گئی تھی آخر عمر میں اسی منہ سے یہ کہنا پڑا:
’’یہ اَمر کہ اِلہام میں یہ بھی تھا کہ اس عورت کا نکاح آسمان پر میرے ساتھ پڑھا گیا ہے، یہ دُرست ہے، مگر جیسا کہ
ہم بیان کرچکے ہیں، اس نکاح کے ظہور کے لئے، جو آسمان پر پڑھا گیا تھا، خدا کی طرف سے ایک شرط بھی تھی جو اسی وقت
شائع کردی گئی تھی اور وہ یہ کہ: أیتھا المرأۃ توبی توبی فان البلاء علٰی عقبک۔ پس جب
ان لوگوں نے اس شرط کو پورا کردیا تو نکاح فسخ
181
ہوگیا یا تأخیر میں پڑگیا۔‘‘
(تتمہ حقیقۃ الوحی ص:۱۳۲، ۱۳۳)
ہائے بے بسی! بائیس برس تک ’’زَوَّجْنٰـکَھَا‘‘ کے خوابوں کی دُنیا میں بھٹکنے کے بعد
’’فسخِ نکاح‘‘ کا اِعلان ہوا، اور وہ بھی ’’یا تأخیر میں پڑگیا‘‘ کے لاحقے کے ساتھ، یعنی اُمیدِ وصل منقطع ہے مگر
شجرِ تمنا ابھی تک ہرا بھرا ہے، گویا:
-
گو ہاتھ میں جنبش نہیں، آنکھوں میں تو دَم ہے
رہنے دو اَبھی ساغر ومینا مرے آگے!
الغرض! کہاں اِلہامات کی وہ شوراشوری اور کہاں ’’فسخ ہوگیا‘‘ کی یہ بے نمکینی؟ کہ خود ہی نکاح پڑھ لیتے ہیں اور تھک
ہار کر خود ہی ’’خلع‘‘ کرلیا جاتا ہے۔
رہا مرزا صاحب کا یہ اِرشاد کہ ’’زَوَّجْنٰـکَھَا‘‘ کے ساتھ ایک شرط تھی‘‘ اس کا اصل
قصہ یہ ہے کہ بائیس برس کا بندھا ہوا ’’آسمانی نکاح‘‘ فسخ کرنا ہے، اب اگر وہ ’’راستی‘‘ سے کام لے کر یہ کہہ دیتے
ہیں کہ نکاح بندھا ہی نہیں تھا، یوں ہی ہم نے اُڑادیا تھا، تو یہ راستی فتنہ انگیز ثابت ہوگی، مرید برگشتہ ہوجائیں
گے، ساری عمر کی کمائی برباد ہوجائے گی اور بنا بنایا کھیل بگڑجائے گا، دانش مندی کا تقاضا یہی تھا کہ ’’دروغ مصلحت
آمیز‘‘ سے کام لیا جاتا، اور کہہ دیا جاتا کہ ’’زَوَّجْنٰـکَھَا‘‘ کے ساتھ ایک شرط بھی
تھی، وہ شرط پوری ہوگئی تو نکاح خودبخود فسخ ہوگیا، اللہ میاں کو بھی ’’خلع‘‘ کی وحی نہ بھیجنی پڑی۔ مرزا صاحب کے اس
’’دروغ مصلحت آمیز‘‘ پر تفصیلی گفتگو کا موقع نہیں، مختصراً اتنا جان لینا کافی ہے کہ ان کے
’’زَوَّجْنٰـکَھَا‘‘ کے اِلہام کی پوری عبارت ہم اُوپر نقل کرچکے ہیں، اسے پڑھ کر فیصلہ کیجئے کہ مرزا
صاحب کی یہ شرط ’’راستیٔ فتنہ انگیز‘‘ ہے یا ’’دروغ مصلحت آمیز‘‘؟ اگر آنکھیں بند نہ ہوں تو ہر شخص کو نظر آئے گا
کہ ’’زَوَّجْنٰـکَھَا‘‘ کے اِلہام میں کوئی شرط نہیں، یہ محض بعد کی سخن سازی ہے۔
ہمیں یہاں یہ بحث نہیں کہ مرزا صاحب کے کس جرم کی پاداش میں خدا تعالیٰ نے ان کا نکاحِ آسمانی ’’فسخ‘‘ کردیا، اور
اس سے بھی تعرض نہیں کہ ان سے وہ کون سا قصور سرزد ہوا تھا جس کی نحوست کی وجہ سے ان کی ’’آسمانی منکوحہ‘‘ اللہ
تعالیٰ نے سلطان محمود کے
182
حوالے کردی؟ ہمیں تو یہاں صادق وکاذب کا باہمی فرق واضح کرنا ہے کہ ایک جگہ یہی لفظ
’’زَوَّجْنٰـکَھَا‘‘ نازل ہوتا ہے، اور دائمی زوجیت کا پیغام لاتا ہے، اور دُوسری جگہ یہی لفظ چسپاں کیا
جاتا ہے، مگر نتیجہ دائمی فراق نکلتا ہے، دونوں پر غور کرنے کے بعد ایک معمولی عقل کا آدمی بھی فیصلہ کرے گا کہ
پہلا سچا تھا اور دُوسرا جھوٹا۔
لگے ہاتھوں یہ بھی سن لیجئے کہ اگر کوئی شخص اسلام سے پھر کر مرتد ہوجائے تو اس کا نکاح ’’فسخ‘‘ ہوجاتا ہے، اس کے
علاوہ اسلامی شریعت میں کوئی ایسی صورت نہیں جس سے خودبخود نکاح ’’فسخ‘‘ ہوجائے۔ مرزا صاحب کا نکاح بڑا پکا تھا، خود
اللہ میاں نے باندھا تھا، مگر بعد میں خودبخود ’’فسخ‘‘ ہوگیا، اس کی وجہ مرزا صاحب کے اِرتداد کے سوا اور کیا ہوسکتی
ہے؟ قادیانی اُمت کو اس پر خوب غور کرنا چاہئے، اللہ تعالیٰ توفیق دے تو یہی ’’فسخ ہوگیا‘‘ کا نکتہ ان کی ہدایت کے
لئے کافی ہے، توفیق ہی نہ ہو تو دفتر بھی بے سود ہے۔
قادیانی کلمہ:
قادیانی اُمت کے راستے میں سب سے بھاری پتھر اُمتِ مسلمہ کا یہ عقیدہ تھا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا کلمہ
’’لا اِلٰہ اِلَّا اللہ محمد رسول اللہ‘‘ قیامت تک کے لئے ہے، یہ اس اَمر کی دلیل ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم آخری
نبی ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد کوئی نبی ہوتا تو لامحالہ کلمہ بھی بدلتا، اب اگر مرزا صاحب بقول ان کے نبی
ہیں ...اور نبی بھی کچھ معمولی درجے کے نہیں بلکہ تمام انبیاء سے بڑھ کر... تو سوال یہ ہے کہ ان کا ’’کلمہ شریف‘‘
کون سا ہے، جو قادیانی اُمت پڑھا کرے؟ ایسا عظیم الشان نبی، جس کے سامنے موسیٰ وعیسیٰ ...علیٰ نبینا وعلیہما
السلام... بھی ...معاذاللہ... ہیچ ہوں، وہ دُنیا میں آئے، اور اس کے نام کا کلمہ تک جاری نہ ہو، یہ بات عقل ونقل کے
خلاف ہے، سوال بڑا وزنی اور متین تھا، مگر قادیانی اُمت بھی ماشاء اللہ قادیانی نبوّت کے نور سے نئی نئی منوّر ہوئی
تھی ...برعکس نام نہند زنگی را کافور... اس کے لئے ایسے مشکل سوالات کا چٹکیوں میں حل کردینا کیا مشکل تھا؟ چنانچہ
اِرشاد ہوا کہ:
183
’’اگر ہم بفرضِ محال یہ بات مان بھی لیں کہ کلمہ شریف میں نبی کریم کا اسم مبارک اس لئے رکھا گیا ہے کہ آپ
آخری نبی ہیں تو تب بھی کوئی حرج واقع نہیں ہوتا اور ہم کو نئے کلمے کی ضرورت پیش نہیں آتی، کیونکہ مسیحِ موعود
(مرزا غلام احمد) نبی کریم سے کوئی الگ چیز نہیں، جیسا کہ وہ (مرزا صاحب) خود فرماتا ہے:’’صار
وجودی وجودہ‘‘ نیز: ’’من فرّق بینی وبین المصطفٰی فما عرفنی وما رأیٰ‘‘ اور
یہ اس لئے ہے کہ اللہ تعالیٰ کا وعدہ تھا کہ وہ ایک دفعہ اور خاتم النبیین کو دُنیا میں مبعوث کرے گا، جیسا کہ آیت:
’’وآخرین منھم‘‘ سے ظاہر ہے، پس مسیحِ موعود (مرزا غلام احمد) خود ’’محمد رسول اللہ‘‘
ہے، جو اِشاعتِ اسلام کے لئے دوبارہ دُنیا میں تشریف لائے، اس لئے ہم کو کسی نئے کلمے کی ضرورت نہیں، ہاں اگر محمد
رسول اللہ کی جگہ کوئی اور آتا تو ضرورت پیش آتی۔‘‘
(کلمۃ الفصل مصنفہ صاحبزادہ بشیر احمد صاحب قادیانی مندرجہ رسالہ ریویو آف ریلیجنز قادیان نمبر:۴
جلد:۱۴ ص:۱۵۸)
مطلب یہ کہ کلمے کے الفاظ اگرچہ نہیں بدلے مگر تعبیر بدل گئی، مرزا صاحب کی تشریف آوری سے پہلے ’’محمد رسول اللہ‘‘
سے مراد پہلی بعثت کے ’’محمد‘‘ ...صلی اللہ علیہ وسلم... تھے، اور مرزا صاحب کے اِدّعائے نبوّت کے بعد دُوسری بعثت
کے ’’محمد‘‘ یعنی مرزا غلام احمد مراد ہیں، اور چونکہ مرزا صاحب کا وجود بعینہٖ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا وجود
ہے، اور مرزا صاحب کی شکل میں دوبارہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہی کی بعثت ہوئی ہے، اور اَب مرزا صاحب ہی ’’محمد رسول
اللہ‘‘ ہیں، اس لئے کلمے کے الفاظ بدلنے کی ضرورت نہیں، صرف تعبیر اور مفہوم بدلنے کی ضرورت ہے۔ جب کلمہ شریف میں
’’محمد رسول اللہ‘‘ کا لفظ پڑھا جائے تو اس سے مرزا صاحب مراد لئے جائیں۔
بات صاف ہوگئی کہ قادیانی اُمت بھی ’’لا اِلٰہ اِلَّا اللہ محمد رسول اللہ‘‘ پڑھتی ہے، مگر
184
مسلمانوں کے کلمے میں ’’محمد رسول اللہ‘‘ سے حضرت محمد بن عبداللہ الہاشمی المکی المدنی ...صلی اللہ علیہ
وسلم... مراد ہوتے ہیں، اور قادیانی کلمے میں ’’محمد رسول اللہ‘‘ سے مرزا غلام احمد بن غلام مرتضیٰ القادیانی مراد
ہے، جو بقول ان کے محمد رسول اللہ کا بروز اور اوتار ہے، اسی بنا پر میاں محمود احمد صاحب اپنے والد محترم مرزا غلام
احمد کا اِرشاد نقل کرتے ہیں کہ:
’’حضرت مسیحِ موعود نے تو فرمایا ہے کہ ان کا (مسلمانوں کا) اسلام اور ہے اور ہمارا اور، ان کا خدا اور ہے اور
ہمارا اور، ہمارا حج اور ہے اور ان کا حج اور، اسی طرح ان سے ہر بات میں اِختلاف ہے۔‘‘
(’’الفضل‘‘ ۲۱؍اگست ۱۹۱۷ء)
اور یہ کہ:
’’آپ نے (یعنی مرزا صاحب نے) فرمایا: اللہ تعالیٰ کی ذات، رسولِ کریم صلی اللہ علیہ وسلم قرآن، نماز، روزہ، حج،
زکوٰۃ، غرض آپ نے تفصیل سے بتایا کہ یہ ایک ایک چیز میں ان سے (یعنی مسلمانوں سے) ہمیں اِختلاف ہے۔‘‘
(’’الفضل‘‘ ۳۰؍جولائی ۱۹۳۱ء)
اور یہ ’’ایک ایک چیز میں اِختلاف ہے‘‘ بھی ایک فطری چیز ہے، کیونکہ پورے دِین کی بنیاد تو کلمہ طیبہ پر ہے، جب اسی
میں اِختلاف ہو کہ مسلمانوں کے نزدیک ’’محمد رسول اللہ‘‘ سے مراد ’’رسولِ مدنی‘‘ ہوں ...صلی اللہ علیہ وسلم... اور
قادیانی اُمت کے نزدیک ’’رسولِ قدنی‘‘، تو ظاہر ہے کہ دونوں کلموں سے دِین کے دو الگ الگ درخت وجود میں آئیں گے،
دونوں کے برگ وبار الگ ہوں گے، اور یوں قادیانی دِین کی ایک ایک بات محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لائے ہوئے
دِین کی ایک ایک بات سے مختلف ہوگی، اندریں صورت خدا، نبی اور کلمے سے لے کر دِین کے تمام اُصول وفروع میں قادیانی
اُمت کو مسلمانوں سے اِختلاف ہونا ہی چاہئے۔
185
الگ کلمہ، الگ دِین اور الگ اُمت:
اور جب خود انہی کے بیانات سے واضح ہے کہ وہ مرزا صاحب کو ’’بروزِ محمد‘‘ یا ’’محمد است وعین محمد است‘‘ سمجھ کر ان
کا کلمہ پڑھتے ہیں تو یہ حقیقت کھل کر سامنے آگئی کہ قادیانی اُمت، مسلمانوں سے ایک الگ اُمت ہے، ان کا دِین الگ
اور ان کا کلمہ الگ، یہ بحث چونکہ ہمارے موضوع سے خارج ہے، اس لئے صرف دو حوالے مرزا صاحب کی کتابوں سے پیش کرنے پر
اِکتفا کرتا ہوں:
’’انبیاء اس لئے آتے ہیں کہ تا ایک دِین سے دُوسرے دِین میں داخل کریں، اور ایک قبلے سے دُوسرا قبلہ مقرّر کرادیں
اور بعض اَحکام منسوخ اور بعض نئے اَحکام لاویں۔‘‘
(مکتوباتِ احمدیہ ج:۵ ص:۴)
’’جو شخص نبوّت کا دعویٰ کرے گا اس دعوے میں ضرور ہے کہ وہ خدا تعالیٰ کی ہستی کا اِقرار کرے، اور نیز یہ بھی کہے
کہ خدا تعالیٰ کی طرف سے میرے پر وحی نازل ہوتی ہے، اور نیز خلق اللہ کو وہ کلام سناوے جو اس پر خدا تعالیٰ کی طرف
سے نازل ہوا ہے، اور ایک اُمت بناوے جو اس کو نبی سمجھتی، اور اس کی کتاب کو کتابُ اللہ جانتی ہے۔‘‘
(آئینہ کمالات ص:۳۴۴، رُوحانی خزائن ج:۵ ص:۳۴۴)
مرزا صاحب کے ان دونوں اِرشادات سے ثابت ہوا کہ نبی کی آمد سے دِین بدل جاتا ہے، اور آنے والے نبی کی اُمت ایک
نئے دِین میں داخل ہوجاتی ہے، اب اگر قادیانی صاحبان اُمتِ مسلمہ اور مسلمانوں کے دِین کے اندر ہی رہنا چاہتے ہیں تو
...بصد معذرت... مرزا صاحب کی نبوّت پر لعنت بھیجیں، ان کے اِدّعائے نبوّت کی تکذیب کریں اور انہیں مسیحِ موعود کے
بجائے ’’مسیحِ کذّاب‘‘ کا لقب دیں، ورنہ قادیانی اُمت کا یہ اِدّعا کہ ہم بھی ’’لا اِلٰہ اِلَّا اللہ محمد رسول اللہ‘‘
پڑھتے ہیں، کلمہ گو ہیں، قبلے کی طرف منہ کرکے نمازیں
186
پڑھتے ہیں، حج کرتے ہیں، وغیرہ وغیرہ، محض ابلہ فریبی ہے، قرآن کی اِصطلاح میں اسے نفاق کہتے ہیں، کہ جب
مسلمانوں کا سامنا ہو تو ’’آمَنَّا‘‘ کہو، اور جب اپنے خلوتیانِ راز کے پاس پہنچو تو کہو کہ ہم تو محض ان کو
...مسلمانوں کو... اُلّو بناتے ہیں، ’’بامسلمان اللہ اللہ، بابرہمن رام رام‘‘۔
بہرحال جب خود انہی کے اِقرار سے ثابت ہے کہ وہ محمدِ عربی صلی اللہ علیہ وسلم کا نہیں، بلکہ بزعمِ خود اَحمدِ ہندی
...مرزا غلام احمد... کا کلمہ پڑھتے ہیں، اور یہ کہ ان کا دِین، ان کا قبلہ اور ان کی اُمت مسلمانوں سے الگ ہے، تو
وہ کب تک مسلمانوں کو فریب دیتے رہیں گے؟ یہاں یہ بحث محض ضمنی طور پر آگئی ہے، ہمیں تو ان کی تحریفات کی نشاندہی
کرتے ہوئے یہ بتانا ہے کہ انہوں نے جس طرح رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اسمائے گرامی کا سرقہ کرکے آپ صلی اللہ
علیہ وسلم سے متعلقہ آیات کو مرزا صاحب پر چسپاں کرنے کی ناکام کوشش کی ہے، اسی طرح آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے
کلمہ شریف میں بھی ...جو دِینِ اسلام کا مرکزِ ثقل ہے... انہوں نے تحریف کا اِرتکاب کرکے اس سے مرزا غلام احمد مراد
لیا ہے۔
رسولِ قدنی:
اُوپر ہم نے مسلمانوں کے ’’رسولِ مدنی‘‘ کے مقابلے میں قادیانی اُمت کے ’’رسولِ قدنی‘‘ کا، اور مسلمانوں کے ’’محمدِ
عربی‘‘ ...صلی اللہ علیہ وسلم... کے مقابلے میں قادیانی اُمت کے ’’احمدِ ہندی‘‘ کا ذِکر کیا ہے۔ یہ ’’قدنی‘‘ اور
’’ہندی‘‘ ہماری ذہنی اِختراع نہیں، بلکہ یہ قادیانی اُمت کی ’’مقدس اِصطلاح‘‘ ہے، چنانچہ ۱۶؍اکتوبر ۱۹۲۲ء کے
’’الفضل‘‘ میں ’’رسولِ قدنی‘‘ کے زیرِ عنوان مرزا صاحب کی شان میں جو قصیدہ رقم کیا گیا ہے، وہ ناظرین کی ضیافتِ طبع
کے لئے ذیل میں درج کیا جاتا ہے، پڑھئے اور قادیانی اُمت کی ’’ذہنی سلامتی‘‘ کی داد دیجئے...!
-
اے میرے پیارے مری جان رسولِ قدنی
تیرے صدقے تیرے قربان رسولِ قدنی
187
-
انت منی وانا منک خدا فرمائے
میں بتاؤں تری کیا شان رسولِ قدنی
-
عرشِ اعظم پر تری حمد خدا کرتا ہے
ہم ہیں ناچیز سے انسان رسولِ قدنی
-
دستخط قادرِ مطلق تری مسلوں پہ کرے
اللہ اللہ یہ تیری شان رسولِ قدنی
-
آسمان اور زمین تو نے بنائے ہیں نئے
تیرے کشفوں پہ ہے ایمان رسولِ قدنی
-
پہلی بعثت میں محمد ہے تو اَب احمد ہے
تجھ پر پھر اُترا ہے قرآن رسولِ قدنی
-
سرمۂ چشم تری خاک قدم بنواتے
غوثِ اعظم شہ جیلان رسولِ قدنی
-
اپنے اکملؔ کو بچالیجئے کہ ہے زوروں پر
اس کے عصیان کا طغیان رسولِ قدنی
(قادیانی مذہب نمبر:۷۵ ص:۳۴۱ طبع جدید ختمِ نبوّت)
اَحمدِ ہندی:
اور ۱۴؍جولائی ۱۹۵۳ء کے ’’الفضل‘‘ میں میاں محمود احمد صاحب خلیفہ قادیان کا کلام شائع ہوا ہے، اس میں فرماتے ہیں:
-
یا صدقِ ’’محمدِ عربی‘‘ جو یا ’’احمدِ ہندی‘‘ کی ہے وفا
باقی تو پُرانے قصے ہیں، زندہ ہیں یہی افسانے دو
الشیٔ بالشیٔ یذکر ، بات سے بات نکل آتی ہے، رسولِ مدنی کے مقابلے میں ’’رسولِ قدنی‘‘۔
’’قدنی‘‘ کا لفظ غالباً ’’قادیانی‘‘ کا مخفف ہے، یا قادیان کی طرف
188
نسبتِ غیرقیاسی کے طور پر بنایا گیا ہے۔ تاہم ’’قدنی‘‘ کا لفظ اِختراع کرنے والوں نے مدنی اور قدنی کے تقابل
کو مدِنظر رکھا مگر یہ نہ سوچا کہ یہ مضحکہ خیز لفظ ذوقِ سلیم اور وجدانِ صحیح پر کیا ستم ڈھائے گا۔ جبکہ ’’رسولِ
قدنی‘‘ کی تک بندی بھی بے معنی نہیں، بلکہ قادیانی اُمت کی اس ذہنیت کی مظہر ہے کہ ہر بات میں مرزا غلام احمد کو
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے برابر کھڑا کیا جائے، اس کے چند نظائر تو اسی زیرِ نظر مضمون میں ناظرین کے مطالعے
سے گزریں گے، لیکن ان کا اِحاطہ ایک مستقل مقالے کا موضوع ہے۔
آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے روضۂ اقدس اور گنبدِ خضراء سے مسلمانوں کو جو والہانہ تعلق ہے وہ کسی سے پوشیدہ
نہیں، مگر قادیانی اُمت نے مذکورہ بالا ذہنیت کی تسکین کے لئے مدینہ منوّرہ کے قبرستان ’’جنت البقیع‘‘ کے مقابلے میں
قادیان کے قبرستان کو ’’بہشتی مقبرہ‘‘ کا نام دیا، اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے روضۂ اطہر اور ’’گنبدِ
خضراء‘‘ کے مقابلے میں مرزا صاحب کے مدفن کو ’’گنبدِ بیضاء‘‘ سے تعبیر کیا، ملاحظہ فرمائیے کہ کتنی بلند آہنگی سے
مرزا صاحب کے ’’گنبدِ بیضاء‘‘ کی زیارت پر ’’حجِ اکبر‘‘ کی نوید سنائی جاتی ہے، اور اسے ...خاکش بدہن... خود رسول
اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا مدفن باور کرایا جاتا ہے، چنانچہ ’’الفضل‘‘ لکھتا ہے:
’’اَیامِ جلسہ میں یا اس کے بعد وطن جانے سے پیشتر کچھ نہ کچھ وقت ’’مقبرہ بہشتی‘‘ میں حضرت مسیحِ موعود کے ’’مزارِ
پُرنور‘‘ پر حاضر ہونے کا ضرور نکالنا چاہئے ......۔ پھر کیا حال ہے اس شخص کا جو قادیان ’’دارالامان‘‘ میں آئے اور
دو قدم چل کر ’’بہشتی مقبرہ‘‘ میں حاضر نہ ہو ...... اس میں وہ ’’روضۂ اطہر‘‘ ہے جس میں اس خدا کے برگزیدہ کا جسم
مدفون ہے جسے افضل الرسل نے اپنا سلام بھیجا اور جس کی نسبت حضرت خاتم النبیین نے فرمایا: یدفن
معی فی قبری (وہ میرے ساتھ میری قبر میں دفن ہوگا) اس اِعتبار سے مدینہ منوّرہ کے
گنبدِ خضراء کے انوار کا پورا پورا پرتو گنبدِ بیضاء پر پڑرہا ہے، اور
189
آپ گویا ان برکات سے حصہ لے رہے ہیں، جو رسولِ کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے مرقدِ منوّر سے مخصوص ہیں۔ کیا
ہی بدقسمت ہے وہ شخص جو اَحمدیت کے ’’حجِ اکبر‘‘ سے محروم رہے۔‘‘
(’’الفضل‘‘ ۱۸؍دسمبر ۱۹۲۲ء)
یہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے تقابل کی ...نعوذباللہ... ایک ادنیٰ جھلک ہے، اللہ تعالیٰ کو منظور ہوا تو تفصیل
کسی دُوسرے موقع پر کی جائے گی۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر ان ناشائستہ عنایات کے باوصف قادیانی اُمت کو یہ خوش
فہمی ہے کہ مسلمانوں کو اس سے کوئی اذیت نہیں ہوتی، نہ خدا ورسول کا غضب ان پر نازل ہوتا ہے، نعوذ باللہ من غضب اللہ وغضب رسولہ!
خصائصِ نبوی میں تحریف:
قادیانی اُمت نے مرزا صاحب کو ’’محمد‘‘، ’’احمد‘‘ اور ’’آخری نبی‘‘ قرار دے کر ان کے نام کا کلمہ جاری کردیا تو اس
کے بعد ضرورت تھی کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے امتیازی اوصاف وکمالات مرزا صاحب کی طرف کھینچے جائیں، مگر
قادیانی تحریف پسندوں کے لئے یہ کیا مشکل تھا، جب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے اسمائے مقدسہ ’’غلام احمد‘‘ کے لئے
اُڑائے جاسکتے ہیں، جب بروز کے تحریفی رندے سے تراش خراش کر ’’خاتم النبیین‘‘ کی تختی ’’رئیسِ قادیان‘‘ پر آویزاں
کی جاسکتی ہے، اور جب ’’بعثتِ ثانی‘‘ کے مکروہ فلسفے سے ’’محمد رسول اللہ‘‘ کا کلمہ شریف، قادیان کے مسیحِ موعود کی
جانب منتقل کیا جاسکتا ہے تو دیگر اوصافِ نبویہ میں تحریف کا عملِ جراحی کیوں نہیں ہوسکتا؟ چنانچہ قادیان کے
کارخانۂ تحریف میں ’’صار وجودی وجودہ‘‘ کی اِلہامی مشین نصب کردی گئی، اور اس میں بلند بانگ دعاوی کے خام مواد سے
آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اور دیگر انبیائے کرام سے متعلقہ آیات واحادیث، جناب مرزا غلام احمد صاحب کے قالب میں
ڈھلنے لگیں، بطورِ نمونہ چند آیات پر مشقِ تحریف کا نظارہ اور: ’’چہ دلاور است دزدے کہ بکف چراغ دارد‘‘ کا نیا منظر
دیکھئے۔
190
قادیانی قرآن:
-
پہلی بعثت میں محمد ہے تو اَب احمد ہے
تجھ پر پھر اُترا ہے قرآن رسولِ قدنی
(روزنامہ ’’الفضل‘‘ قادیان ۱۶؍اکتوبر ۱۹۲۲ء)
آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی رسالت ونبوّت کا عظیم ترین معجزہ اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے منصبِ نبوّت کا سب
سے بڑا شاہکار وہ مقدس کتاب ہے جو قرآنِ کریم کی شکل میں تابندہ وپایندہ ہے، اور جسے قرآنِ کریم میں متعدّد جگہ
’’الکتاب المبین‘‘ کے نام سے یاد کیا گیا ہے، قادیانی اُمت بے تاب تھی کہ کسی طرح نئے
’’محمد رسول اللہ‘‘ کی نئی ’’الکتاب المبین‘‘ بھی وجود میں آئے، جو اپنی قطعیت وعصمت میں
قرآنِ کریم کے ہم سنگ ہو، یہ عظیم منصوبہ انہیں متعدّد مراحل میں پایۂ تکمیل تک پہنچانا پڑا، پہلے مرحلے میں کوشش
کی گئی کہ قرآن کو قادیان کے قریب بلکہ خود قادیان ہی میں اُتار لیا جائے، ملاحظہ ہو:
’’اور یہ بھی مدّت سے اِلہام ہوچکا ہے کہ:انا انزلناہ قریبًا من القادیان، وبالحق انزلنٰہ
وبالحق نزل، وکان وعد اللہ مفعولًا ...... اس جگہ مجھے یاد آیا کہ جس روز وہ اِلہام مذکورہ بالا، جس میں
قادیان میں نازل ہونے کا ذِکر ہے، ہوا تھا، اس روز کشفی طور پر میں نے دیکھا کہ میرے بھائی صاحب مرحوم مرزا غلام
قادر میرے قریب بیٹھ کر بآوازِ بلند قرآن شریف پڑھ رہے ہیں، اور پڑھتے پڑھتے انہوں نے ان فقرات کو پڑھا کہ انا
انزلناہ قریبًا من القادیان۔ تو میں نے سن کر بہت تعجب کیا کہ کیا قادیان کا نام بھی قرآن شریف میں لکھا ہوا ہے
......۔ تب میں نے دِل میں کہا کہ ہاں واقعی طور پر قادیان کا نام قرآن شریف میں درج ہے، اور میں نے کہا کہ تین
شہروں کا نام اِعزاز کے ساتھ قرآن شریف میں درج کیا گیا ہے، مکہؔ اور مدینہؔ اور قادیانؔ، یہ کشف تھا جو کئی سال
191
ہوئے کہ مجھے دِکھلایا گیا تھا۔‘‘
(اِزالہ اوہام ص:۷۳، ۷۶، ۷۷، رُوحانی خزائن ج:۳ ص:۱۳۷، ۱۳۹، ۱۴۰)
مگر نیازمند مریدوں کی سعادت مندی ہے کہ انہیں اس عجیب وغریب کشف کو سن کر نہ تو حضور پر ’’مراقی مالیخولیا‘‘ کا
وہم ہوا، نہ اس پر شیطانی اِلقا کا شبہ ہوا، سب نے نہ صرف یہ کہ قرآن کا واقعی قادیان میں نازل ہونا تسلیم کرلیا،
بلکہ ’’قادیانی قرآن‘‘ میں قادیان کا نام بھی اِعزاز کے ساتھ لکھ دیا۔ شاباش! آفرین! ’’وزیرے چنیں، شہریارے
چنیں‘‘۔ اور پھر تصنع دیکھئے کہ حضور کو قادیان میں قرآن اُترنے کا قطعی اِلہام بھی ہوتا ہے اور اس کے ساتھ مرزا
غلام قادر صاحب کی اس کشفی قراء ت پر تعجب بھی۔
دُوسرے مرحلے پر قرآن کی مثل پاک اور قطعی وحی مرزا صاحب پر اُترنے لگی، ملاحظہ فرمائیے:
-
آنچہ من بشنوم زوحیٔ خدا
بخدا پاک وانمش زخطا
-
ہمچو قرآن منزہ اش دانم
از خطاہا ہمیں است ایمانم
-
بخدا ہست ایں کلامِ مجید
از دہانِ خدائے پاک و وحید
-
آن یقینے کہ بود عیسیٰ را
بر کلامے کہ شد برو القا
-
واں یقینِ کلیم بر تورات
واں یقیں ہائے سیّد السادات
-
کم نیم زاں ہمہ بروئے یقین
ہر کہ گوید دروغ ہست لعین
(دُرّثمین ص:۲۸۷، نزولِ مسیح ص:۹۹، رُوحانی خزائن ج:۱۸ ص:۴۷۷)
192
ترجمہ از ناقل:... جو کچھ میں خدا کی وحی سے سنتا ہوں، بخدا اسے قرآن کی طرح خطا سے پاک اور منزّہ
سمجھتا ہوں، بخدا! یہ وہی ’’کلامِ مجید‘‘ ہے جو خدائے پاک ویکتا کے منہ سے نکلتا ہے، جو یقین عیسیٰ کو ان پر نازل
شدہ کلام پر تھا، جو یقین کلیم کو توراۃ پر تھا، اور جو یقین آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو قرآن پر تھا، میں یقین
میں ان سب سے کم نہیں ہوں، جو جھوٹ کہے وہ لعنتی ہے۔
تیسرے مرحلے میں اس ’’ہمچو قرآن‘‘ وحی پر پہلی کتابوں کی طرح ایمان لانا فرض قرار دِیا گیا ہے، چنانچہ ارشاد ہوتا
ہے:
الف:... ’’اور میں جیسا کہ قرآن شریف کی آیات پر اِیمان رکھتا ہوں، ایسا ہی بغیر فرق ایک ذرّہ کے خدا کی اس کھلی
کھلی وحی پر اِیمان لاتا ہوں جو مجھے ہوئی ہے ...۔ اور میں بیت اللہ میں کھڑے ہوکر یہ قسم کھاسکتا ہوں کہ وہ پاک وحی
جو میرے اُوپر نازل ہوتی ہے، وہ اسی خدا کا کلام ہے جس نے حضرت موسیٰ اور حضرت عیسیٰ اور حضرت محمد مصطفی صلی اللہ
علیہ وسلم پر اپنا کلام نازل کیا تھا۔‘‘
(اِشتہار ’’ایک غلطی کا اِزالہ‘‘ ص:۶، رُوحانی خزائن ج:۱۸ ص:۲۱۰)
ب:... ’’میں خدا تعالیٰ کی قسم کھاکر کہتا ہوں کہ میں ان اِلہامات پر اسی طرح اِیمان لاتا ہوں، جیسا کہ قرآن شریف
پر اور خدا کی دُوسری کتابوں پر، اور جس طرح میں قرآن شریف کو یقینی اور قطعی طور پر خدا کا کلام جانتا ہوں اسی طرح
اس کلام کو جو میرے پر نازل ہوتا ہے، خدا کا کلام یقین کرتا ہوں۔‘‘
(حقیقۃ الوحی ص:۲۱۱، رُوحانی خزائن ج:۲۲ ص:۲۲۰)
ج:... ’’میں خدا تعالیٰ کے ان تمام اِلہامات پر جو مجھے ہو رہے ہیں ایسا ہی اِیمان رکھتا ہوں جیسا کہ تورات اور
اِنجیل اور
193
قرآنِ مقدس پر اِیمان رکھتا ہوں۔‘‘
(اِشتہار ۴؍اکتوبر ۱۸۹۹ء مندرجہ تبلیغِ رِسالت ج:۸ ص:۶۴، مجموعہ اِشتہارات ج:۳ ص:۱۵۴)
د:... ’’مجھے اپنی وحی پر ایسا ہی اِیمان ہے، جیسا کہ تورات اور اِنجیل اور قرآنِ کریم پر۔‘‘
(اربعین نمبر۴ ص:۲۵مصنفہ مرزا غلام احمد)
ہ:... ’’ان حوالہ جات سے صاف ظاہر ہے کہ حضرت مسیحِ موعود علیہ السلام اپنے اِلہامات کو ’’کلامِ اِلٰہی‘‘ قرار دیتے
ہیں، اور ان کا مرتبہ بلحاظ ’’کلامِ اِلٰہی‘‘ ہونے کے ایسا ہی ہے جیسا کہ قرآن مجید اور تورات اور اِنجیل کا۔‘‘
(اخبار ’’الفضل‘‘ ۱۳؍جنوری ۱۹۳۵ء، منکرینِ خلافت کا انجام ص:۴۹ مصنفہ جلال الدین شمس قادیانی، قادیانی
مذہب ص:۲۷۰، فصل:۴ نمبر:۲۴طبع جدید ختم نبوّت)
ذ:... ’’حضرت مسیحِ موعود علیہ السلام اپنی وحی، اپنی جماعت کو سنانے پر مأمور ہیں، جماعتِ احمدیہ کو اس ’’وحی
اللہ‘‘ پر اِیمان لانا اور اس پر عمل کرنا فرض ہے، کیونکہ ’’وحی اللہ‘‘ اسی غرض کے واسطے سنائی جاتی ہے، ورنہ اس کا
سنانا اور پہنچانا ہی بے سود اور لغو فعل ہوگا، جبکہ اس پر اِیمان لانا اور اس پر عمل کرنا مقصود بالذات نہ ہو، یہ
شان بھی صرف انبیاء کو ہی حاصل ہے کہ ان کی وحی پر اِیمان لایا جاوے، حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو بھی
قرآن شریف میں بھی یہی حکم ملا ہے، اور ان ہی الفاظ میں ملا، بعدہٗ حضرت احمد علیہ الصلوٰۃ والسلام (مرزا غلام احمد
صاحب) کو ملا، پس یہ امر ابھی آپ کی (مرزا صاحب کی) نبوّت کی دلیل ہے۔‘‘
(رسالہ احمدی نمبر۵، ۶، ۷، بابت ۱۹۱۹ء موسومہ النبوہ فی الالہام ص:۲۸، مؤلفہ قاضی محمد یوسف صاحب
قادیانی)
چوتھے مرحلے میں یہ ضروری معلوم ہوا کہ مرزا صاحب کی وحی کو بہ ہیئتِ مجموعی
194
’’کتاب‘‘ قرار دے کر مرزا صاحب کا ’’صاحبِ کتاب‘‘ ہونا تسلیم کرایا جائے، چنانچہ ارشاد ہوا:
الف:... ’’بحث اگر کچھ ہوسکتی ہے تو وہ ما انزل الیہ من ربہ پر ہوسکتی ہے، چنانچہ
قرآن شریف میں آیا ہے:یا ایھا الرسول بلغ ما انزل الیک من ربک۔ اور نبی کی کتاب یہی
ہوتی ہے کہ ما انزل کو جمع کرلیا جاوے، چونکہ حضرت مرزا صاحب علیہ الصلوٰۃ والسلام سب
انبیاء کے مظہر اور بروز ہیں تو ان کا ما انزل الیہ من ربہ بہ برکت حضرت محمد صلی اللہ
علیہ وسلم قرآن شریف اس قدر زیادہ ہے کہ کسی نبی کے ما انزل الیہ سے کم نہیں، بلکہ
اکثروں سے زیادہ ہوگا، فالحمدللہ کہ حضرت مرزا صاحب علیہ الصلوٰۃ والسلام کا ایک لحاظ سے صاحبِ کتاب ہونا ثابت
ہوگیا۔‘‘
(’’الفضل‘‘ ۱۵؍فروری ۱۹۱۹ء، قادیانی مذہب فصل چوتھی نمبر۲۸ ص:۲۷۴)
ب:... ’’اور خدا کا کلام اس قدر مجھ پر (نازل) ہوا ہے کہ اگر وہ تمام لکھا جائے تو بیس جزو سے کم نہیں۔‘‘
(حقیقۃ الوحی ص:۳۹۱، رُوحانی خزائن ج:۲۲ ص:۴۰۷)
پانچواں مرحلہ یہ تھا کہ اس جدید قرآن اور ’’الکتاب المبین‘‘ کو یکجا مدوّن کردیا جائے، چنانچہ یہ مقدس کام جناب
میاں محمود احمد صاحب خلیفہ دوم قادیان کے دور میں پایۂ تکمیل کو پہنچا، ملاحظہ فرمائیے:
’’خدا تعالیٰ نے حضرت احمد علیہ السلام (مرزا غلام احمد صاحب) کے بہ ہیئتِ مجموعی اِلہامات کو ’’الکتاب المبین‘‘
فرمایا ہے، اور جدا جدا اِلہامات کو آیات سے موسوم کیا ہے، حضرت (مرزا) صاحب کو یہ اِلہام متعدّد دفعہ ہوا ہے، پس
آپ کی وحی بھی جدا جدا آیت کہلاسکتی ہے، جبکہ خدا تعالیٰ نے ان کو ایسا نام دیا ہے، اور مجموعہ
195
اِلہامات کو ’’الکتاب المبین‘‘ کہہ سکتے ہیں۔
پس جس شخص یا اشخاص کے نزدیک نبی اور رسول کے واسطے کتاب لانا ضروری شرط ہے، خواہ کتاب شریعتِ کاملہ ہو یا کتاب
المبشرات والمنذرات ہو، تو ان کو واضح ہو کہ ان کی شرط کو بھی خدا نے پورا کردیا ہے، اور حضرت (مرزا) صاحب کے
مجموعۂ اِلہامات کو، جو مبشرات ومنذرات ہیں، الکتاب المبین کے نام سے موسوم کیا ہے، پس آپ اس پہلو سے بھی نبی ثابت
ہیں، ولو کرہ الکافرون۔‘‘
(رسالہ احمدی نمبر۵،۶،۷، موسومہ النبوۃ فی الالہام ص:۴۳،۴۴ مؤلفہ قاضی محمد یوسف صاحب قادیانی،
قادیانی مذہب فصل چوتھی نمبر۲۹ ص:۲۷۴)
چھٹا مرحلہ یہ تھا کہ مریدوں کے لئے قرآنِ کریم کی طرح اس ’’کتاب المبین‘‘ کی تلاوت کے کارِ ثواب پر ’’نویدِ عید‘‘
دی جائے، یہ کام بھی جناب میاں محمود احمد صاحب خلیفہ قادیان نے انجام دیا:
’’حقیقی عید ہمارے لئے ہی ہے، مگر ضرورت اس بات کی ہے کہ اس ’’اِلٰہی کلام‘‘ کو پڑھا اور سمجھا جائے، جو حضرت مسیحِ
موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام (مرزا صاحب) پر اُترا، بہت کم لوگ ہیں جو اس کلام کو پڑھتے اور اس کا دُودھ پیتے ہیں
(واقعی بڑی شکایت کی بات ہے، مرزا صاحب مریم بنے، حاملہ ہوئے، وضعِ حمل کیا، اتنے مصائب اُٹھانے کے بعد بھی اگر ان
کی اولاد، ان کا دُودھ نہیں پیتی تو غضب ہے...ناقل)۔ دُوسری کتابیں خواہ کتنی پڑھی جائیں جو سرور اور یقین قرآن
شریف سے پیدا ہوتا ہے، وہ کسی اور سے نہیں ہوسکتا (قرآن مجید کا ذِکر تو محض برائے وزنِ بیت ہے، اصل مقصد اگلی بات
سمجھانا ہے ...ناقل)۔ اسی طرح وہ سرور اور لذت جو حضرت مسیحِ
196
موعود کے اِلہاموں کے پڑھنے سے حاصل ہوتی ہے اور کسی کتاب کو پڑھنے سے نہیں ہوسکتی۔ جو ان اِلہاموں کو پڑھے
گا وہ کبھی مایوسی اور نااُمیدی میں نہ گرے گا، مگر جو پڑھتا نہیں یا پڑھ کر بھول جاتا ہے، خطرہ ہے کہ اس کا یقین
اور اُمید جاتی رہے، وہ مصیبتوں اور تکلیفوں سے گھبرا جائے گا کیونکہ وہ سرچشمہ اُمید سے دُور ہوگیا، اگر وہ خدا کا
کلام پڑھتا رہتا اور دیکھتا کہ خدا تعالیٰ نے کیا کیا وعدے دئیے ہیں، اور پھر ان پر دِل سے یقین رکھتا تو ایسا مضبوط
ہوجاتا کہ کوئی مصیبت اسے ڈرا نہ سکتی، پس حقیقی عید سے فائدہ اُٹھانے کے لئے ضروری ہے کہ حضرت مسیحِ موعود کے
اِلہامات پڑھے۔‘‘
(خطبۂ عید میاں محمود احمد صاحب خلیفہ قادیان، مندرجہ ’’الفضل‘‘ ۱۳؍اپریل ۱۹۲۸ء، قادیانی مذہب فصل
چوتھی نمبر۳۰ ص:۲۷۵)
میاں صاحب نے نہ صرف اس ’’الکتاب المبین‘‘ کی تلاوت بلکہ اس کے حفظ کی بھی ترغیب دِلائی ہے اور غفلت ونسیان پر
سنگین خطرات کا اِظہار فرمایا ہے، اب میاں صاحب کے کارنامے پر مرزا صاحب کے ایک حواری نے جو بلیغ تبصرہ فرمایا ہے،
وہ بھی سن لیجئے:
’’جناب میاں محمود احمد صاحب (خلیفہ قادیان) اور ان کے حاشیہ نشین (اور ان سے پہلے خود مرزا صاحب...ناقل) جب نبوّت
کی پٹری جماچکے تو اَب کتاب کی فکر ہوئی، کیونکہ نبی اور کتاب لازم وملزم چیزیں ہیں، گو عارضی طور پر طوطے کی طرح
مریدوں کو رٹا بھی دیا گیا تھا کہ حضرت ہارون کو کتاب نہیں دی گئی، اور فلاں نبی کو کتاب نہیں دی گئی، لیکن اندر سے
دِل نہیں مانتا تھا کہ آخر وہ نبی ہی کیا جو کتاب نہیں لایا، بلکہ میاں محمود احمد صاحب (خلیفہ قادیان) نے تو صاف
طور پر فرما بھی دیا کہ کوئی نبی نہیں ہوسکتا جو شریعت نہ
197
لائے، اور مرید اَب تک بھٹکتے پھرتے تھے، وہ عاجز آکر کبھی براہین احمدیہ کو ’’کتاب‘‘ بتادیتے، تو کبھی
خطبۂ اِلہامیہ کو، اور کبھی البشریٰ کو ......۔ اس لئے اب کے سالانہ جلسے پر جناب میاں محمود احمد صاحب خلیفہ
قادیان نے کتاب کی اہمیت کو جتاتے ہوئے خود قادیان میں حضرت مسیحِ موعود کے ’’اِلہامات‘‘ کو جمع کرنے کا حکم دیا،
اور ساتھ ہی مریدوں کو اس کی تلاوت کے لئے بھی ارشاد فرمایا تاکہ ان کے قلوب طمانیت اور سکینت حاصل کریں۔
اگر حضرت مسیحِ موعود ’’عین محمد‘‘ ہیں اور آپ کی بعثت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہی کی ’’بعثتِ ثانی‘‘ ہے تو
حضرت مسیحِ موعود کی وحی بھی ’’عین قرآن‘‘ ہونی چاہئے، اور جو وحی بھی آپ پر نازل ہوئی وہ ’’قرآن مجید‘‘ ہے۔ اور
قرآن کو جو خاتم الکتب کہا گیا تھا تو اس کا مطلب فقط اس قدر مانا جائے گا کہ اس کتاب کی مہر سے آئندہ خدا کی
کتابیں یا دُوسرے لفظوں میں قرآن کے مزید حصے نازل ہوا کریں گے، اور کوئی وجہ نہیں کہ جو مجموعہ میاں صاحب، حضرت
مسیحِ موعود کے اِلہامات کا اب شائع کرائیں گے اس کا نام بجائے البشریٰ کے ’’قرآن مجید‘‘ نہ رکھا جائے، یا
’’القرآن‘‘ ہی رکھ دیا جائے، کیونکہ یہ وہی قرآن ہے جو پیرایۂ جدید میں جلوہ گر ہوا ہے، اس لئے جناب میاں صاحب نے
فرمایا تھا کہ اب کوئی قرآن نہیں سوائے اس قرآن کے جو مسیحِ موعود نے پیش کیا، اور یہ بالکل دُرست معلوم ہوتا ہے،
اس لحاظ سے کہ مسیحِ موعود کی وحی جب عین قرآن ہے، جس کا کوئی محمودی (بلکہ کوئی مرزائی بھی) اِنکار نہیں کرسکتا،
تو پھر اَب جو قرآن محمودی (بلکہ کوئی مرزائی بھی) حضرات پیش کریں گے ضرور ہے کہ وہ پُرانے قرآن کا، جو رسول اللہ
صلی اللہ علیہ وسلم پر
198
نازل ہوا، اور نئے قرآن کا، جو مسیحِ موعود پر یا دُوسرے لفظوں میں محمد رسول اللہ صلعم کی بعثتِ ثانی میں
نازل ہوا، دونوں کا مجموعہ ہونا چاہئے، گویا عیسائیوں کی طرح ’’عہدنامہ قدیم‘‘ کے ساتھ ’’عہدنامہ جدید‘‘ بھی شامل
ہوگا، تب یہ قدیم وجدید قرآن مل کر وہ قرآن بنے گا جس کے لئے میاں صاحب فرماتے ہیں کہ وہ یہدی من یشاء والا قرآن
ہوگا۔‘‘
(اِجرائے نبوّت کا فتنۂ عظیم، از ڈاکٹر بشارت احمد صاحب قادیانی، مندرجہ اخبار ’’پیغامِ صلح‘‘ لاہور
۱۱؍جون ۱۹۳۴ء)
یہ ’’قادیانی قرآن‘‘ جسے قادیانی حضرات ’’الکتاب المبین‘‘، ’’کتاب المبشرات والمنذرات‘‘، ’’وحیٔ مقدس‘‘، ’’قرآنِ
جدید‘‘، ’’ظلّی قرآن‘‘، ’’ہمچو قرآن‘‘، ’’عہدنامہ جدید‘‘ وغیرہ ناموں سے یاد کرتے ہیں، ’’تذکرہ‘‘ کے نام سے اس کا
جدید ایڈیشن چند سال پہلے بڑی آب وتاب اور تحقیق وتشریح کے ساتھ ’’ربوہ‘‘ سے شائع ہوا، راقم بھی اس کے مطالعے سے
لطف اندوز ہوا ہے، کبھی موقع ہوا تو اِن شاء اللہ اس کا تفصیلی تعارف بھی پیش کردیا جائے گا، سرِدست قادیانی اُمت سے
یہ گزارش ہے کہ ابھی تک ان کی ’’وحیٔ مقدس‘‘ کا ساتواں مرحلہ باقی ہے، جو پوری قادیانی اُمت پر فرضِ کفایہ ہے، وہ یہ
کہ اس نئے قرآن کو ترتیبِ نزولی کے اِعتبار سے مرتب کیا گیا ہے، اور اسے مختلف اجزا اور سورتوں میں ابھی تک تقسیم
نہیں کیا گیا۔ دُوسری بہت بڑی خامی یہ ہے کہ اس میں ’’کلامِ اِلٰہی‘‘ کو اِنسانی کلام سے مخلوط کردیا گیا ہے، یہ
مذہبی طور پر بڑی سنگین غلطی ہے، اس سے عیسائیوں کے ’’عہدنامہ جدید‘‘ کی طرح تحریف کا دروازہ کھل جائے گا، انسانی
کلام ...خواہ وہ مرزا صاحب ہی کا کلام ہو... بطورِ تشریح یا شانِ نزول بالکل الگ ہونا چاہئے۔ الغرض ’’تذکرہ‘‘ کو
’’قادیانی قرآن‘‘ کی تفسیر کہا جاسکتا ہے مگر جو ’’الکتاب المبین‘‘ مرزا صاحب پر نازل ہوئی، ایک تو اسے بالکل معریٰ
چھپنا چاہئے تاکہ میاں محمود احمد صاحب کی وصیت کے مطابق پڑھنے والے اس سے لذت وسرور حاصل کریں، پھر اسے اجزا وسوَر
پر مرتب ہونا چاہئے تاکہ مراقی مسیح کی مراقی اُمت کو اسے حفظ کرنے میں سہولت ہو۔ توقع کی جانی
199
چاہئے کہ اگر سیاسی جھمیلوں سے فرصت ملی تو جناب مرزا ناصر احمد صاحب خلیفہ ثالث ’’قادیانی قرآن‘‘ کی جمع
وترتیب کا یہ اہم کام اور آخری مرحلہ انجام دیں گے ...جس کی اس کو توفیق نہیں ہوئی...۔
بہرحال آپ نے ملاحظہ فرمایا کہ قادیان کی اِلہامی مشین نے کس صفائی سے قرآنِ کریم کے نام ’’الکتاب المبین‘‘ میں
تحریف کرکے اسے مرزا صاحب کے مجموعہ اِلہامات پر فٹ کردیا، کس طرح مرزا صاحب کو ’’صاحبِ کتاب‘‘ رسول بناکر حضرت محمد
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے برابر کھڑا کردیا، اور کس طرح ان کی وحی پر اِیمان لانا، اس پر عمل کرنا اور اس کی
تلاوت سے سرور اور لذت حاصل کرنا قادیانی دِین کا عظیم رُکن بن گیا؟
قادیانی رحمۃ للعالمین:
مسلمانوں کا بچہ بچہ جانتا ہے کہ ’’رحمۃ للعالمین‘‘ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا وہ ممتاز لقب ہے جو آنحضرت صلی
اللہ علیہ وسلم کے سوا اَوّلین وآخرین میں سے نہ کسی کو عطا ہوا، نہ ہوگا، چنانچہ ارشادِ خداوندی ہے:
’’وَمَآ اَرْسَلْنٰکَ اِلّا رَحْمَۃً لِّلْعٰلَمِیْنَ‘‘
(الانبیاء:۱۰۷)
ترجمہ:... ’’اور نہیں بھیجا ہم نے تجھ کو مگر رحمت، واسطے عالموں کے۔‘‘
(ترجمہ شاہ رفیع الدینؒ)
عرض کیا گیا: یا رسول اللہ! ان کافروں پر بددُعا فرمائیے، ارشاد ہوا:
’’اِنِّیْ لَمْ اُبْعَثْ لَعَّانًا، اِنَّمَا بُعِثْتُ رَحْمَۃً‘‘
(صحیح مسلم)
ترجمہ:... ’’میں لعنت برسانے کے لئے نہیں بھیجا گیا، میں تو رحمت بناکر مبعوث ہوا ہوں۔‘‘
ایک اور حدیث میں ہے:’’اِنَّمَا اَنَا رَحْمَۃٌ مُّھْدَاۃٌ‘‘ یعنی میں تو سراپا رحمت ہوں
جو عطیۂ ربانی ہے۔ (تفسیر ابن کثیر ص:۲۰۱) حافظ ابن کثیر آیت مذکورہ بالا کے تحت لکھتے ہیں:
200
’’یَخْبِرُ تَعَالٰی اِنَّ اللہَ جَعَلَ مُحَمَّدًا صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ رَحْمَۃً
لِّلْعَالَمِیْنَ، أَیْ أَرْسَلَہٗ رَحْمَۃً لَّھُمْ کُلُّھُمْ۔‘‘
ترجمہ:... ’’اللہ تعالیٰ خبر دیتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو رحمۃ للعالمین
بنایا، یعنی آپ کو سب کے لئے سراپا رحمت بناکر بھیجا ہے۔‘‘
حفیظ جالندھریؒ نے خوب کہا ہے:
-
محمدؐ، جس کو دُنیا صادق الوعد وامیں کہہ دے
وہ بندہ جس کو رحمن رحمۃ للعالمین کہہ دے
مرزا غلام احمد، چونکہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے تمام خصائص وکمالات اور مناقب ومفاخر کو قادیان منتقل کرنے کے
درپے تھے، اس لئے بزعمِ خود رحمۃ للعالمین بننے کے لئے موصوف نے اس آیت میں تحریف کی اور اسے اپنی ذات پر چسپاں
کرلیا، حقیقۃالوحی ص:۸۲ پر لکھتے ہیں:
’’وما ارسلنٰک الّا رحمۃ للعٰلمین۔ ہم نے تجھے دُنیا پر رحمت کرنے کے لئے بھیجا ہے۔‘‘
مرزا صاحب نے اس تحریف سے ایک تو یہ ثابت کیا کہ رحمۃ للعالمین، حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کا لقبِ خاص
نہیں ...نعوذباللہ...، بلکہ یہ لقب تو خود مرزا کا اپنا ہے۔ اور دُوسرے یہ کہ سورۂ انبیاء کی مندرجہ بالا آیت کا
مصداق ...معاذاللہ... آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نہیں بلکہ مرزاجی بالقابہ ہیں۔ اسے کہتے ہیں ’’بیک کرشمہ دوکار‘‘
قادیانی اُمت کو مرزاجی کی شکل میں ایک نیا رحمۃ للعالمین دستیاب ہوا تو چودہ طبق روشن ہوگئے اور پوری اُمتِ مسلمہ
کو تحدی آمیز دعوت کا اِعلان ہوا:
’’اے مسلمان کہلانے والو! اگر تم واقعی اسلام کا بول بالا چاہتے ہو اور باقی دُنیا کو اپنی طرف بلاتے ہو (اپنی طرف
بلانا تو مرزائے قادیان کا مشغلہ ہے یا ان کی ذُرّیت کا وظیفہ، یہ انہی کو
201
مبارک ہو، مسلمان کسی کو ’’اپنی طرف‘‘ نہیں بلاتے، بلکہ ساری دُنیا کو ...بشمول قادیانی اُمت کے... حضرت
خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف بلاتے ہیں، کہ آپ ہی آخری نبی ہیں صلی اللہ علیہ وسلم...ناقل) تو پہلے خود
سچے اسلام کی طرف آجاؤ جو مسیحِ موعود (مرزا صاحب) میں ہوکر ملتا ہے، اسی کے طفیل آج بر وتقویٰ کی راہیں کھلتی
ہیں، اسی کی پیروی سے انسان فلاح ونجات کی منزلِ مقصود پر پہنچ سکتا ہے۔ وہ وہی فخرِ اوّلین وآخرین ہے جو آج سے
تیرہ سو برس پہلے رحمۃ للعالمین بن کر آیا تھا، اب اپنی تکمیل تبلیغ کے ذریعے ثابت کرلے گا کہ واقعی اس کی دعوت
جمیع ممالک ومللِ عالم کے لئے تھی، فصلی اللہ علیہ وسلم۔‘‘
(’’الفضل‘‘ قادیان ۲۶؍ستمبر ۱۹۱۵ء)
دیکھا قادیانی دعوت کا زور؟ اور قادیانی رحمۃ للعالمین کی برکات کا ظہور؟ ’’الفضل‘‘ کی عبارت ایک بار پھر پڑھئے اور
خط کشیدہ الفاظ کے مضمرات پر غور فرمائیے۔
الف:... ’’الفضل‘‘ کا اِنکشاف ہے کہ مرزاجی کے آتے ہی مسلمان، مسلمان نہیں رہے، بلکہ صرف ’’مسلمان کہلانے والے‘‘
بن گئے، مرزاجی کا آنا تھا کہ دُنیا بھر کے اولیاء واَقطاب، علماء وصلحاء اور عام مسلمان بیک جنبشِ قلم ’’کافر‘‘
اور ’’دائرۂ اسلام سے خارج‘‘ قرار پائے، کیونکہ:
’’ہر ایک ایسا شخص جو موسیٰ کو تو مانتا ہے مگر عیسیٰ کو نہیں مانتا، یا عیسیٰ کو مانتا ہے مگر محمد کو نہیں مانتا،
یا محمد کو مانتا ہے پر مسیحِ موعود کو نہیں مانتا، وہ نہ صرف کافر بلکہ پکا کافر اور دائرۂ اسلام سے خارج ہے۔‘‘
(کلمۃ الفصل ص:۱۱۰، از مرزا بشیر احمد قمر الانبیاء قادیانی)
ذرا ’’موسیٰ، عیسیٰ اور محمد‘‘ کے الفاظ جس اندازِ تعظیم سے ذِکر کئے گئے ہیں اس پر بھی نظر رکھئے، اور ان
اُولوالعزم رسولوں کے ساتھ مرزا صاحب کا بے جوڑ پیوند لگانا بھی مدِنظر رکھئے۔ قادیانی منطق یہ ہے کہ جس طرح عیسیٰ
علیہ السلام کی تشریف آوری کے بعد
202
صاحبِ زمان رسول وہی تھے، اس وقت صرف موسیٰ علیہ السلام پر اِیمان لانا اور ان کی پیروی کرنا موجبِ نجات
نہیں تھا، اور جس طرح آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت کے بعد وہی صاحبِ زمان تھے، اور موسیٰ وعیسیٰ علیہما
السلام پر اِیمان لانا اور ان کی شریعت پر عمل کرنا کفیلِ نجات نہیں تھا، ٹھیک اسی طرح مرزاجی کے دعویٔ نبوّتِ کاذبہ
کے بعد اب انہی کا زمانہ ہے اور صرف محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر اِیمان لانا اور آپ کی پیروی واطاعت کرنا
موجبِ نجات نہیں۔ دُوسرے الفاظ میں اب صاحبِ زماں رسول، حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم نہیں بلکہ مرزا صاحب ہیں،
لہٰذا جو اُن کو نہیں مانتا وہ پکا کافر ہے۔
ب:... ’’الفضل‘‘ کا دُوسرا اِنکشاف یہ ہے کہ اب مرزا صاحب کا خرافاتی دِین ہی ’’سچا اِسلام‘‘ ہے، محمد صلی اللہ
علیہ وسلم کا لایا ہوا دِین، جس کو مسلمان ہمیشہ سے مانتے چلے آئے ہیں اور اس پر عمل کرتے چلے آئے ہیں، وہ سچا
اِسلام نہیں۔ گویا مرزاجی کا مشن محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے دِینِ اسلام کی تصدیق نہیں، بلکہ تکذیب وتنسیخ تھا، وہ
دُنیا کو یہ بتانے کے لئے نہیں آئے تھے کہ مسلمانوں کا مذہب سچا ہے، بلکہ یہ دِکھانے کے لئے آئے کہ تیرہ صدیوں سے
مسلمان جس دِین پر عمل پیرا ہیں، وہ ...معاذاللہ... جھوٹا ہے، مثلاً عقیدۂ ختمِ نبوّت جھوٹ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم
کے بعد کسی کو نبوّت نہ ملنے کا عقیدہ جھوٹ، عیسیٰ علیہ السلام کے رفع ونزول کا عقیدہ جھوٹ، نزولِ ملائکہ کا عقیدہ
جھوٹ، وغیرہ وغیرہ۔ الغرض! مرزا صاحب کے نزدیک اسلام میں جھوٹ ہی جھوٹ ہے، جو کچھ خود انہوں نے کہہ دیا، وہ سچ، باقی
سب جھوٹ، اسلام کی جو بات ان کی خواہش کے خلاف ہو وہ غلط۔
ج:... ’’الفضل‘‘ کا تیسرا اِنکشاف یہ ہے کہ آج قادیانی رحمۃ للعالمین ہی کے طفیل بر وتقویٰ کی راہیں کھلتی ہیں
...... اور اسی کی پیروی، فلاح ونجات کی کفیل ہے۔ گویا مرزا صاحب نے آتے ہی نبوّتِ محمدیہ کی بساط لپیٹ کر رکھ دی،
اب بر وتقویٰ کی راہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے ذریعے نہیں بلکہ مرزا صاحب کے ذریعے کھلے گی، اب مدارِ نجات حضرت
خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت نہیں بلکہ مرزا صاحب کی پیروی ہے، جس طرح آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی
آمد سے موسیٰ وعیسیٰ ...علیٰ نبیّنا علیہما الصلوٰۃ والسلام... کا دور ختم
203
ہوا، اسی طرح مرزاجی کی آمد سے دورِ محمدی ختم ہوا، اب یہ مرزاجی کے رحم وکرم پر ہے کہ شریعتِ محمدیہ کے
کسی حکم کو باقی رکھیں یا نہ رکھیں، اور قرآن کا مفہوم جو چاہیں بیان کریں۔ قادیانی اُمت کے لئے اس سے بڑھ کر رحمت
اور کیا ہوسکتی ہے کہ اسے تیرہ سو سال پُرانے رحمۃ للعالمین کی جگہ نیا تازہ رحمۃ للعالمین، نیا تازہ قرآن اور نیا
تازہ دِین مل جائے...؟
د:... ’’الفضل‘‘ کا چوتھا اِنکشاف یہ ہے کہ وہ ...مرزا صاحب... وہی فخرِ اوّلین وآخرین ہے جو آج سے تیرہ سو برس
پہلے رحمۃ للعالمین بن کر آیا تھا۔ ہمارے ناظرین کو اس فلک سیر لن ترانی پر تعجب نہیں ہونا چاہئے، قادیانی اُمت
اَلقاب کے عطیوں میں بڑی فیاض ہے، مرزا صاحب تو خیر پھر مرزا صاحب تھے، ان کے گھر کوئی ’’مولود مسعود‘‘ پیدا ہوتا تو
وہ بھی فخرِ رُسل، قمر الانبیاء، مظہرالحق والعلاء، اور گویا خدا آسمان سے اُتر آیا، سے کم القاب پر قانع نہیں
ہوتا تھا۔
لطیفہ:... ۱۸۸۶ء میں مرزاجی جب پہلے پہل اِلہامی اکھاڑے میں اُترکر مبارزت طلب ہوئے تو ایک اِشتہار شائع کیا، جس
میں دیگر الل ٹپ پیش گوئیوں کے علاوہ اپنے یہاں ایک مولود مسعود ’’عموائیل عرف چراغ دین‘‘ کی پیدائش کی خوشخبری
سنائی، ...مرزا صاحب کی اہلیہ ان دنوں اُمید سے تھیں... اور ڈیڑھ صفحہ اس کے القاب ومناقب میں سیاہ کیا۔ مرزا صاحب
ساری عمر اس ’’کلمۃ اللہ‘‘ کے لئے چشم براہ رہے مگر آخری لمحۂ حیات تک ان سے یہ طے نہ ہوسکا کہ وہ دِین کا چراغ کب
روشن ہوا اور کب گل ہوا، تماشائے قدرت یہ کہ مرزا صاحب اپنے جس لڑکے پر اس خوشخبری کو فٹ کرتے، اس کی زندگی کا چراغ
کچھ دن بعد گل ہوجاتا۔ بالآخر ۱۹۰۸ء میں خود مرزاجی کا پیمانۂ عمر لبریز ہوگیا، مگر ’’عموائیل‘‘ کو آنا تھا نہ
آیا، وَقَدْ خَابَ مَنِ افْتَرٰی ۔ اندریں صورت اگر قادیانی اُمت اپنے مراقی مسیح کو
رحمۃ للعالمین، فخرِ اوّلین وآخرین، باعثِ تخلیقِ کائنات ایسے القاب سے نوازے تو کیوں تعجب کیجئے؟ البتہ اہلِ عقل
وفہم کو قادیانی اُمت سے یہ سوال کرنے کا حق ہے کہ حکیم غلام مرتضیٰ کے گھر، محترمہ چراغ بی بی مرحومہ کے بطن سے
پیدا ہونے والا غلام احمد نامی بچہ تیرہ سو برس پہلے آنے والا ’’رحمۃ للعالمین‘‘ کس منطق سے بن گیا؟ کیا
204
آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اپنی وفات کے تیرہ سو برس بعد پیدا ہوئے؟ یا یہ عجیب وغریب بچہ اپنی پیدائش سے
تیرہ سو برس پہلے پیدا ہوچکا تھا؟ جب دو شخصوں کے سنِ ولادت کے درمیان تیرہ سو برس کا فاصلہ ہے، ایک تیرہ سو برس
پہلے اور دُوسرا تیرہ سو برس بعد آتا ہے تو آخر ’’وہ وہی‘‘ کیسے ہوگیا؟ مرزا صاحب تو خیر اَعصابی ودِماغی مریض
تھے، مراقی دورے میں اگر ان کے قلم ودہن سے ایسی ’’معرفت کی باتیں‘‘ نکلیں تو اہلِ عقل کو چنداں تعجب نہیں ہوگا،
بلکہ انہیں ’’مرفوع القلم‘‘ سمجھ کر درگزر کیا جاسکتا ہے، مگر سوال یہ ہے کہ پوری کی پوری قادیانی اُمت بقائمی ہوش
وحواس، آواگون کے عارضے میں کیوں مبتلا ہے...؟
لطیفہ:... مرزا صاحب نے آخری عمر میں قادیانی اُمت کے لئے بہشتی مقبرے کا محکمہ قادیان میں کھولا تھا ...تقسیم کے
بعد وہ ربوہ میں منتقل ہوگیا... جو قادیانی صاحبان اس بہشتی مقبرے میں جگہ خریدنا چاہیں، قادیانی شریعت میں اس کی
قیمت کل آمدنی کا ۱ ۰۱ ادا کرنا پڑتی ہے، خریدار کی طرف سے جو وصیت نامہ اس کے لئے لکھا جاتا ہے، اس میں خصوصیت کے
ساتھ یہ الفاظ درج کئے جاتے ہیں: ’’میں مسمّیٰ ............۔ بقائمی ہوش وحواس ...... وصیت کرتا ہوں ...۔الخ۔‘‘
سوچنے کی بات یہ ہے کہ ان بھولے بھالے جنت کے خریداروں کی ’’قائمی ہوش وحواس‘‘ مرزا صاحب کے اللّے تللّے دعوؤں کو
پڑھتے وقت کدھر چلی جاتی ہے؟ خود اسی بہشتی مقبرے کو لیجئے! ان بے چاروں نے کبھی ’’بقائمی ہوش وحواس‘‘ اس پر بھی غور
کیا کہ کیا قبر فروشی کی یہ اسکیم پہلے بھی کسی نبی نے جاری کی تھی؟ اور یہ کہ بہشتی مقبرے کا اِنکشاف تو مرزا صاحب
کو قادیان میں اپنے باغ کے ایک حصے میں ہوا تھا، اب وہ قطعۂ زمین قادیان سے ربوہ میں کیسے منتقل ہوگیا...؟
کیا مرزا صاحب کی رحمۃ للعالمینی کا کرشمہ یہ بھی ہے کہ جو شخص ان کے دامانِ رحمت سے وابستہ ہوجائے وہ دِین ودیانت
کے ساتھ عقل وفہم اور دانش وخرد سے بھی ہاتھ دھوبیٹھے؟
مرزا صاحب نے اِزالہ اوہام میں بڑے طمطراق سے کہا ہے کہ آج فلسفہ وعقل کی ترقی کا دور ہے، اس میں فلاں اسلامی
عقیدہ قبول نہیں کیا جاسکتا ہے۔ لیکن افسوس ہے کہ ان
205
کی اُمت اسی ترقی فلسفہ کے دور میں ’’وہ وہی ہے‘‘ کا مراقی فلسفہ پیش کرتی ہے، اور اسے یہ خیال تک نہیں
گزرتا کہ کوئی دانشور اس چیستاں کو سن کر اس کی عقلی سطح کے بارے میں کیا رائے قائم کرے گا...؟
ہ:... ’’الفضل‘‘ کا پانچواں اِنکشاف یہ ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے تیرہ سو برس بعد آکر پہلی بار مرزا
صاحب نے یہ ثابت کیا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی دعوت تمام اقوام وملل کے لئے تھی۔ یعنی چشمِ بددُور! مرزا
صاحب مراقی مسیحیت کے عارضے میں مبتلا نہ ہوئے ہوتے تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثتِ عامہ بھی ثابت نہ ہوتی
اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی تبلیغ بھی نامکمل رہ جاتی، کیونکہ نہ تو خود آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تکمیلِ تبلیغ
فرمائی، نہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ کرامؓ نے، نہ تیرہ صدیوں کی پوری اُمت نے ــــ جو کام آنحضرت صلی اللہ
علیہ وسلم سے لے کر تیرہ صدی کی اُمت سے نہ بن پڑا، وہ کام مرزاجی نے کردِکھایا: ایں کار از تو آید مرداں چنیں
کنند۔
ظاہر ہے کہ اس کے بعد قادیانی اُمت کے نزدیک آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے کسی صحابی، کسی تابعی اور کسی غوث وقطب
کی مرزا صاحب کے مقابلے میں کیا حیثیت رہ جاتی ہے؟ اسے کہتے ہیں: أنا ولَا غیری! (بس جو
کچھ ہوں، میں ہی ہوں، میرے سوا کچھ نہیں!)۔
قادیانی رحمۃ للعالمین کی برکات کا باب بڑا وسیع ہے، پانچ برکتیں تو ’’الفضل‘‘ نے یکجا ذِکر کردیں، ایک برکت مزید
سن لیجئے!
ز:... مرزا صاحب حقیقۃ الوحی صفحہ نمبر:۲۲۴ میں لکھتے ہیں:
’’حمامۃ البشریٰ (مرزا صاحب کی تصنیف) میں، جو کئی سال طاعون پیدا ہونے سے پہلے شائع کی تھی، میں نے لکھا تھا کہ
میں نے طاعون پھیلنے کی دُعا کی ہے، سو وہ دُعا قبول ہوکر ملک میں طاعون پھیل گئی۔‘‘
مرزا صاحب نے ایک دو جگہ نہیں، بلکہ بیسیوں جگہ قحط، وبا اور زلزلوں کو اپنی
206
مسیحیت کا نشان ٹھہرایا ہے، یہ ان کی مسیحیت کا نشان تھا یا ان کے کذب واِفترا کا؟ یہ بحث تو اپنی جگہ رہی،
مگر یہ دُعا ان کی نام نہاد رحمۃ للعالمینی پر برہانِ قاطع ہے۔ پوری صدی کی تاریخ شاہد ہے کہ مرزا صاحب کی آمد سے
دُنیائے کفر کا تو بال بیکا تک نہیں ہوا، ہاں ان کی دُعا کی برکت سے کفر واِلحاد، فسق وفجور، ظلم وعدوان، بدکاری وبے
راہ روی اور ذِلت واِدبار کو وہ ترقی ہوئی کہ الامان والحفیظ! اور جب سے وہ اس عالمِ وجود میں قدم رنجہ ہوئے صدق
وصفا، امانت وحیا، غیرت وشرافت اور امن وعافیت کا ایسا جنازہ نکلا کہ انسانیت آج تک ماتم کناں ہے، یہ سب کی آنکھوں
دیکھی چیز ہے، جس کے لئے کسی عقلی اِستدلال کی حاجت نہیں، نہ تاج العروس کھولنے کی ضرورت ہے۔ اگر قادیانی رحمۃ
للعالمین، فخرِ اوّلین وآخرین کی یہی برکات ہیں تو اس سے توبہ ہی بھلی۔
قادیانی کوثر:
آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو ایک عظیم الشان عطیۂ خداوندی ’’الکوثر‘‘ عطا ہوا، جس کا ذِکر سورۃ الکوثر میں ہے:
’’اِنَّآ اَعْطَیْنٰـکَ الْکَوْثَرَ‘‘ (تحقیق دی ہم نے تجھ کو کوثر۔ ترجمہ شاہ رفیع
الدینؒ)۔ ’’کوثر‘‘ کے معنی خیرِ کثیر کے ہیں، اور اس کا اہم ترین فرد ’’حوضِ کوثر‘‘ ہے جو قیامت میں آپ صلی اللہ
علیہ وسلم کو عطا کیا جائے گا، اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے دستِ مبارک سے اپنی تشنہ لب اُمت کو اس سے سیراب
کریں گے، چنانچہ احادیثِ متواترہ میں اس کی یہی تفسیر آئی ہے، اور اس کو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے خصائص میں
شمار کیا گیا ہے، اور حوضِ کوثر سے سیرابی کی دُعا ہر مسلمان کے وردِ زبان رہتی ہے۔ مرزا صاحب کے لئے آنحضرت صلی
اللہ علیہ وسلم کی یہ عظیم الشان منقبت، جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہی کے ساتھ خاص ہے، ناقابلِ برداشت تھی، چنانچہ
ان کی مراقی متخیّلہ نے چٹکی لی اور ان کی تحریفی مشین نے انہیں فوراً صاحبِ کوثر بنادیا، مرزا صاحب سورۃ الکوثر کی
پہلی آیت: ’’اِنَّآ اَعْطَیْنٰـکَ الْکَوْثَرَ‘‘ کو اپنے اُوپر منطبق کرکے اس کا ترجمہ
یوں فرماتے ہیں: ’’ہم نے کثرت سے تجھے دِیا ہے‘‘ (حقیقۃ الوحی ص:۱۰۲) مرزا صاحب نے پہلی
207
تحریف تو اس میں یہ کی کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے متعلقہ آیت کو اپنے اُوپر چسپاں کرلیا، اور دُوسری
تحریف یہ کی کہ آیت کا ترجمہ غلط کیا، کیونکہ آیت میں ’’الکوثر‘‘ کا لفظ مفعول واقع ہوا ہے، یعنی جو چیز دی گئی ہے
وہ ’’الکوثر‘‘ ہے، لیکن مرزا صاحب نے ’’الکوثر‘‘ کا ترجمہ ’’کثرت سے‘‘ کیا، مگر مفعول کو ہضم کرگئے، اور یہ تشریح
نہیں فرمائی کہ انہیں جو چیز کثرت سے دی گئی ہے وہ کیا ہے؟ اور یہ کہ ’’قادیانی کوثر‘‘ کس چیز کی کثرت سے عبارت ہے؟
البتہ ان کی دُوسری کتابوں میں اس کی تشریح ملتی ہے یعنی کثرتِ بول، کثرتِ اِسہال، کثرتِ اَمراض، کثرتِ دورانِ سر،
کثرتِ تشنج، کثرتِ مراق وغیرہ وغیرہ وہ چیزیں ہیں جو مرزاجی کو ’’کثرت سے‘‘ عطا ہوئیں، اس سلسلے میں چند تصریحات
ملاحظہ کیجئے:
الف:... ’’میں ایک دائم المرض آدمی ہوں ...۔۔ ہمیشہ دردِ سر اور دورانِ سر اور کمیٔ خواب اور تشنج دِل کی بیماری
دورہ کے ساتھ آتی ہے، اور دُوسری بیماری ذیابیطس ہے کہ ایک مدّت سے دامن گیر ہے، اور بسااوقات سو سو دفعہ رات کو یا
دِن کو پیشاب آتا ہے، اور اس قدر کثرتِ پیشاب سے جس قدر عوارض ضعف وغیرہ ہوتے ہیں وہ سب میرے شاملِ حال ہیں۔‘‘
(ضمیمہ اربعین نمبر۳،۴، ص:۴، رُوحانی خزائن ج:۱۷ ص:۴۰۷)
ب:... ’’مخدومی، مکرمی اخویم، اسلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ‘۔
حالتِ صحت اس عاجز کی بدستور ہے، کبھی غلبہ دورانِ سر اس قدر ہوجاتا ہے کہ مرض کی جنبش شدید کا اندیشہ ہوتا ہے، اور
کبھی یہ دوران کم ہوتا ہے، لیکن کوئی وقت دورانِ سر سے خالی نہیں گزرتا، مدّت ہوئی نماز تکلیف سے بیٹھ کر پڑھی جاتی
ہے، بعض وقت درمیان میں توڑنی پڑتی ہے، اکثر بیٹھے بیٹھے رینگن ہوجاتی ہے، اور زمین پر قدم اچھی طرح نہیں جمتا، قریب
چھ سات ماہ یا زیادہ گزر گیا ہے کہ نماز کھڑے ہوکر نہیں پڑھی جاتی اور نہ بیٹھ کر اس وضع پر پڑھی جاتی
208
ہے جو مسنون ہے، اور قراء ت میں شاید قل ھو اللہ بمشکل پڑھ سکوں کیونکہ ساتھ ہی توجہ کرنے سے تحریک بخارات
کی ہوجاتی ہے۔ خاکسار غلام احمد، قادیان ۵؍فروری ۱۸۹۱ء۔‘‘
(مکتوباتِ احمدیہ، جلد پنجم نمبر۲ ص:۴)
ج:... ’’مجھے دو مرض دامن گیر ہیں، ایک جسم کے اُوپر کے حصے میں سر درد اور دورانِ سر اور دورانِ خون کم ہوکر ہاتھ
پیر سرد ہوجانا، نبض کم ہوجانا۔ اور دُوسرے جسم کے نیچے کے حصے میں کہ پیشاب ’’کثرت سے‘‘ آنا اور اکثر دست آتے
رہنا، یہ دونوں بیماریاں قریب تیس برس سے ہیں۔‘‘
(نسیم دعوت ص:۶۸، رُوحانی خزائن ج:۱۹ ص:۴۳۵)
د:... ’’اور یہ دونوں مرضیں اس زمانے سے ہیں جس زمانے سے میں نے اپنا دعویٰ مأمور من اللہ ہونے کا شائع کیا ہے۔‘‘
(حقیقۃ الوحی ص:۳۰۷، رُوحانی خزائن ج:۲۲ ص:۳۲۰)
ہ:... ’’حضرت صاحب کی تمام تکالیف مثلاً: دورانِ سر، دردِ سر، کمیٔ خواب، تشنج دِل، بدہضمی، اِسہال، کثرتِ پیشاب
اور مراق وغیرہ کا ایک ہی باعث تھا اور وہ ’’عصبی کمزوری‘‘ تھا۔‘‘
(رسالہ ریویو قادیان مئی ۱۹۳۷ء)
و:... ’’ڈائری میں جو مراق کا لفظ آیا ہے اس سے مراد مالیخولیا مراقی نہیں بلکہ پردۂ مراق کی بیماری دورانِ سر ہے
...... پردۂ مراق سے بخارات اُٹھ کر دِماغ کی طرف جاتے ہیں، جن سے سر درد یا دورانِ سر لاحق ہوجاتا ہے، پس پردۂ
مراق کے ماؤف ہونے سے ’’دوار کا عارضہ‘‘ آپ کو ضرور تھا (اور بعض اوقات دوار کا یہی عارضہ، جو دائمی تھا، ترقی
کرکے ہسٹیریا اور مراقی مالیخولیا کی صورت
209
بھی اِختیار کرلیتا تھا ...ناقل)۔‘‘
(احمدیہ تعلیمی پاکٹ بک حصہ دوم ص:۴۷۴، ۴۷۵ مؤلفہ: قاضی محمد نذیر قادیانی، ناظر اصلاح وارشاد ربوہ)
ذ:... ’’ڈاکٹر میر محمد اِسماعیل صاحب نے مجھ سے بیان کیا کہ میں نے کئی دفعہ حضرت مسیحِ موعود سے سنا ہے کہ مجھے
ہسٹیریا ہے، بعض اوقات آپ مراق بھی فرمایا کرتے تھے، لیکن دراصل بات یہ ہے کہ آپ کو دِماغی محنت اور شبانہ روز
تصنیف کی مشقت کی وجہ سے بعض ایسی اعصابی علامات پیدا ہوجایا کرتی تھیں جو ہسٹیریا کے مریضوں میں بھی عموماً دیکھی
جاتی ہیں، مثلاً کام کرتے کرتے یکدم ضعف ہوجانا، چکروں کا آنا، ہاتھ پاؤں سرد ہوجانا، گھبراہٹ کا دورہ ہوجانا،
ایسا معلوم ہونا کہ ابھی دَم نکلتا ہے، یا کسی تنگ جگہ یا بعض اوقات زیادہ آدمیوں میں گھر کر بیٹھنے سے دِل کا سخت
پریشان ہونے لگنا، وغیرہ ذالک۔ (الغرض علامات تو سب ہسٹیریا کی تھیں نام خواہ کچھ ہی رکھو، سیدھے طریقے سے اسے
ہسٹیریا یا مراقی مالیخولیا کہو، یا اُلٹی طرف سے کان پکڑ کر اسے ’’دوار کا عارضہ‘‘ کہہ کر مطمئن ہونے کی ناکام کوشش
کرو ...ناقل)۔‘‘
(سیرۃالمہدی حصہ دوم ص:۵۵ مصنفہ: مرزا بشیر احمد قادیانی)
اس نوعیت کی حکایات وشکایات مرزا صاحب اور ان کے مخلصین کی کتابوں میں بڑی شدّت سے درج ہیں۔ ان تصریحات سے اندازہ
کیا جاسکتا ہے کہ مرزا صاحب کو کیا کیا چیزیں ’’کثرت سے‘‘ دی گئیں۔ اور لطیفہ یہ ہے کہ یہ ’’کوثر‘‘ انہیں دعوائے
مأموریت کے تحفے میں عنایت ہوا، خیر جیسا نبی ویسا کوثر! بارے مرزا صاحب آیت میں تحریف کرکے ’’صاحبِ کوثر‘‘ تو بن
گئے، قادیانی اُمت کو مبارک ہو کہ مسلمانوں کے صاحبِ کوثر ...صلی اللہ علیہ وسلم... کے مقابلے میں ان کے پاس بھی
صاحبِ کوثر نبی موجود ہے:
بلا بودے اگر ایں ہم نبودے
210
قادیانی اُمت مرزا صاحب کے مراق سے بہت چڑتی ہے، مگر جب مرزا صاحب سلس البول اور مراق کو دو زَرد چادریں قرار دے کر
انہیں ’’مسیح موعود‘‘ کا نشان قرار دیتے ہیں تو انہیں اپنے نبی کی پیغمبرانہ تشریح پر اِیمان لانا چاہئے یا چڑنا
چاہئے؟ اللہ نے انہیں عقل دی ہے، انہیں سوچنا چاہئے کہ ان دو منحوس بیماریوں کو ’’علامتِ مسیح‘‘ قرار دینا بجائے خود
مرزا صاحب کے ’’مراقی عارضے‘‘ پر سو دلیلوں کی ایک دلیل ہے، جس سے ثابت ہوتا ہے کہ جناب کا دِماغ عرشِ معلی پر تھا،
جب بھی ہانکتے، بے تکی ہانکتے تھے...!
مرزا غلام احمد قادیانی صاحب ’’حقیقۃ الوحی‘‘ صفحہ نمبر:۱۰۷، ’’رُوحانی خزائن‘‘ جلد:۲۲ صفحہ نمبر:۱۱۰ میں لکھتے
ہیں:
’’یٰسٓ ...... انک لمن المرسلین، علٰی صراط مستقیم، تنزیل العزیز الرحیم۔ اے سردار! تو
خدا کا مرسل ہے، راہِ راست پر، اس خدا کی طرف سے جو غالب اور رحم کرنے والا ہے۔‘‘
سورۂ یٰسٓ کی ان اِبتدائی آیات میں مرزا صاحب نے متعدّد تحریفات کی ہیں:
اوّل:... باجماعِ اہلِ عقل ونقل یہ آیات، حضرت خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم کے حق میں ہیں، جن میں حق تعالیٰ
شانہ‘ نے قرآن مجید کو شاہد بناکر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی رِسالت ونبوّت اور رُشد وہدایت کی شہادت دی ہے۔ مرزا
صاحب کے دِل میں صاحبِ یٰسٓ بن کر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے چشم نمائی کا ’’مراقی جذبہ‘‘ پیدا ہوا تو بزورِ
اِلہام ان آیات کو اپنے اُوپر منطبق کرلیا۔
دوم:... باجماعِ اہلِ تفسیر سورۃ کا پہلا لفظ مقطعاتِ قرآنیہ میں سے ہے، جن کے بارے میں اکثر محققین کا طرز: ’’اللہ أعلم بمرادہ بذٰلک‘‘ ہے، یعنی ان کی حقیقی مراد اللہ تعالیٰ ہی جانتے ہیں، اور بعض
حضرات نے اسے سورۃ کا نام قرار دِیا ہے، حضرت ابنِ
211
عباسؓ، عکرمہؒ، ضحاکؒ، حسنؒ، سفیان بن عیینہؒ وغیرہ سے اس کے معنی: ’’یا اِنسان!‘‘ کے مروی ہیں۔ زید بن
اسلمؒ کہتے ہیں کہ یہ اللہ تعالیٰ کے ناموں میں سے ایک نام ہے، اور ابوبکر وَرّاقؒ کہتے ہیں کہ ’’یا‘‘ حرفِ ندا ہے،
اور ’’سین‘‘ سیّدالبشر کا مخفف ہے، اس لئے یاسین کے معنی ہوئے: ’’اے سردار اولادِ آدم‘‘ مرزا صاحب نے بھی غالباً
یہی معنی لے کر یاسین کا ترجمہ ’’اے سردار!‘‘ کیا ہے، گویا سیّدالبشر اور سیّد اولادِ آدم اب مرزا صاحب ہوئے، اور
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بجائے یہ خطاب اب مرزائے قادیان کو منتقل ہوگیا ...نعوذباللہ...!
سوم:... قرآن مجید میں یٰسٓ کے بعد ’’وَالْقُرْاٰنِ الْحَکِیْمِ‘‘ ے، جس میں قرآنِ
حکیم کی قسم کھائی گئی ہے، اور اگلی آیت: ’’اِنَّکَ لَمِنَ الْمُرْسَلِیْنَ‘‘ اس قسم کا
جواب ہے، مگر مرزا صاحب نے تحریفِ لفظی کرکے ’’وَالْقُرْاٰنِ الْحَکِیْمِ‘‘ کی آیت کو
حذف کردیا، اور جوابِ قسم بغیر قسم کے ذِکر کردیا۔
چہارم:... قرآنِ کریم میں: ’’تَنْزِیْلُ الْعَزِیْزِ الرَّحِیْمِ‘‘ کی آیت، قرآنِ
حکیم سے متعلق ہے، اور مطلب یہ ہے کہ یہ قرآن، عزیز رحیم خدا کی جانب سے نازل شدہ ہے، مگر مرزا صاحب خود اپنے آپ
کو نازل شدہ سمجھ بیٹھے، اور اس آیت کو بھی اپنی صفت قرار دے کر یہ ترجمہ کیا: ’’اس خدا کی طرف سے جو غالب اور رحم
کرنے والا ہے۔‘‘
پنجم:... نبوّت ومسیحیت اور وحی واِلہامات کے پردے میں قرآنِ کریم پر یہ تحریفی مشقِ ستم تو مرزائے قادیان کے مراق
کا ...جو خدانخواستہ مالیخولیا کی حد تک نہیں پہنچا تھا... ادنیٰ کرشمہ ہے، اس پر کس سے فریاد کی جائے؟ البتہ مناسب
ہوگا اگر یہاں قادیانی سردارجی (یٰسٓ) کے سراپا کی، جو اُن کے نیازمندوں نے کمالِ عقیدت سے مرتب کیا ہے، ایک جھلک
دیکھ لی جائے۔
قادیانی اُمت کے قمر الانبیاء جناب مرزا بشیر احمد صاحب ’’سیرۃالمہدی‘‘ حصہ دوم صفحہ نمبر:۸۵پر رقم طراز ہیں:
’’ڈاکٹر میر محمد اِسماعیل صاحب نے مجھ سے بیان کیا کہ
212
حضرت مسیحِ موعود علیہ السلام (مرزا صاحب) اپنی جسمانی عادات میں ایسے سادہ تھے کہ بعض دفعہ جب حضور جراب
پہنتے تو بے توجہی کے عالم میں اس کی ایڑی پاؤں کے تلے کی طرف نہیں بلکہ اُوپر کی طرف ہوجاتی، اور بارہا ایک کاج کا
بٹن دُوسرے کاج میں لگا ہوتا تھا، (اور اگر حسنِ اِتفاق سے اس قسم کے کئی لطیفے بیک وقت جمع ہوجائیں تو پورا کارٹون
بن جاتا ہوگا ...ناقل) اور بعض اوقات کوئی دوست حضور کے لئے گرگابی (انگریزی جوتا) ہدیۃً لاتا تو آپ بسااوقات دایاں
پاؤں بائیں میں ڈال لیتے تھے، اور بایاں دائیں میں، چنانچہ اس تکلیف کی وجہ سے آپ دیسی جوتا پہنتے تھے (اور اس کی
ایڑی فوراً بٹھالیتے تھے ...ناقل) اسی طرح کھانا کھانے کا یہ حال تھا کہ خود فرمایا کرتے تھے کہ ہمیں تو اس وقت پتا
لگتا ہے کہ کیا کھارہے ہیں کہ جب کھانا کھاتے کوئی کنکر وغیرہ کا ریزہ دانت کے نیچے آجاتا ہے۔ (مقامِ شکر ہے کہ
کھانے اور کنکر کے درمیان تمیز کرنے کی حس تو باقی تھی، ورنہ خدانخواستہ آپ کا مرتبہ عالی مسیحیت ونبوّت سے بھی
آگے نکل گیا ہوتا ...ناقل)۔‘‘
ایک دُوسرے نیازمند لکھتے ہیں:
’’آپ کو (یعنی مرزا غلام احمد صاحب قادیانی کو) شیرینی سے بہت پیار ہے، اور مرضِ بول بھی آپ کو عرصے سے لگی ہوئی
ہے، اسی زمانے میں آپ مٹی کے ڈھیلے بعض وقت جیب میں ہی رکھتے تھے، اور اسی جیب میں گڑ کے ڈھیلے بھی رکھ لیا کرتے
تھے (ماشاء اللہ! اس قران السعیدین کے کیا کہنے؟ اوّل تو مٹی کے ڈھیلوں اور گڑ کے بھیلوں کو جیب میں ...اور وہ بھی
مسیحِ موعود کی جیب میں... جگہ ملنا ہی خوش ذوقی کی اچھی علامت ہے، اور جب دونوں کو ایک ہی جیب
213
میں یکجا یہ شرف حاصل ہو تو سبحان اللہ نورٌ علیٰ نور ہے۔ لطافت ونزاہت، صفائی اور پاکیزگی، ذہنی سلامتی اور
بلند مذاقی کا یہ اعجازی نمونہ انسانیت کی پوری تاریخ پیش کرنے سے قاصر ہے، یقینا یہ سردارجی کے مسیحِ موعود ہونے پر
ہزاروں دلیلوں کی ایک دلیل ہے ...ناقل) اس قسم کی اور بہت سی باتیں ہیں جو اس بات پر شاہد ناطق ہیں کہ آپ کو یارِ
اَزل کی محبت میں ایسی محویت تھی کہ جس کے باعث اس دُنیا سے ’’بالکل بے خبر‘‘ ہو رہے تھے۔ (اور بالکل بے خبری کے
عالم میں گڑ اور ڈھیلوں کا اِستعمال یکساں جاری رہتا ...ناقل)۔‘‘
(تتمہ براہین احمدیہ ج:۱ ص:۶۷، حالات مرزائے قادیان از معراج الدین قادیانی)
فائدہ:
یہ تو تھا قادیانی یٰسٓ کا قلمی مرقع ــــــ یہاں ہمارے قارئین کو ایک واضح نکتہ ملحوظ رکھنا چاہئے۔ وہ یہ کہ ہر
قوم اور گروہ کی اپنی الگ اِصطلاحات ہوتی ہیں۔ مثلاً جو شخص دُنیا ومافیہا سے اتنا بے خبر ہو کہ اسے دائیں بائیں،
اُوپر نیچے اور اُلٹے سیدھے تک کی خبر نہ ہو، اور جس کے نزدیک مٹی کے ڈھیلے اور گڑ کے بھیلے یکساں شرف رکھتے ہوں، وہ
عقلاء واطباء کی اِصطلاح میں ’’ذہنی معذور‘‘ کہلاتا ہے، اور عوام کی اِصطلاح میں مست الست اور پہنچا ہوا شمار کیا
جاتا ہے۔ یہی شخص اگر اس سے بڑھ کر لوگوں کو کتے، خنزیر، سوَر، حرامزادے جیسے الفاظ سے نوازتا ہو، تو طبّی اِصطلاح
میں اسے جنون سبعی کہا جاتا ہے، اور مرزائی اِصطلاح میں اسے ’’ملہم من اللہ‘‘ کا خطاب دیا جاتا ہے۔ اور اس سے بھی
آگے بڑھ کر اگر یہ شخص ایسے دعوے کرتا کہ: میں آدم ہوں، میں نوح ہوں، میں اِبراہیم ہوں، میں موسیٰ ہوں، میں عیسیٰ
ہوں، میں محمد رسول اللہ ہوں، میں صاحبِ کوثر ہوں، میں رحمۃ للعالمین ہوں، میں صاحبِ مقامِ محمود ہوں، میں خدا کی
توحید وتفرید ہوں، میں عین اللہ ہوں، میں خالق
214
السماوات والارض ہوں، میں صاحبِ کن فیکون ہوں، تمام انبیاء کے کمالات کا جامع ہوں، تمام نبیوں کا بروز ہوں،
میں مہدی ہوں، میں کرشن ہوں، میں گرونانک ہوں، میری خبر قرآن میں ہے، حدیث میں ہے، ایک لاکھ چوبیس ہزار نبیوں نے
میرے آنے کی خبر دی، تمام اہلِ کشف نے میری پیش گوئی کی، آسمان وزمین نے میری گواہی دی، وغیرہ وغیرہ، تو ایسا شخص
اطباء کی اِصطلاح میں مراقی مالیخولیا کا مریض ہے، اور قادیانی اِصطلاح میں ’’مسیحِ موعود‘‘ اور ’’مہدیٔ معہود‘‘
کہلاتا ہے۔ مالیخولیا کی علامات میں اطباء کی تصریح یہ ہے:
’’مریض صاحبِ علم ہو تو پیغمبری اور معجزات وکرامات کا دعویٰ کردیتا ہے، خدائی کی باتیں کرتا ہے، اور لوگوں کو اس
کی تبلیغ کرتا ہے۔‘‘
(اکسیرِ اعظم ج:۱ ص:۸۸ حکیم محمد اعظم خاں صاحب)
مسلمان اور قادیانی سب مانتے ہیں کہ مرزاجی نے مندرجہ بالا دعوے کئے ہیں، دونوں فریق اس پر بھی متفق ہیں کہ انہیں
مراق کا عارضہ لاحق تھا ... اس کی تفسیر خواہ کچھ ہی ہو... اس متفق علیہ اُصول کے بعد دونوں فریقین کی اِصطلاحیں الگ
الگ ہوجاتی ہیں، مسلمانوں کے نزدیک خاتم الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد مرزا صاحب کے یہ بے سروپا دعوے ان کے
سودائے خام اور مراقی بخارات کی پیداوار ہیں، جبکہ قادیانی اُمت کے نزدیک یہ ان کی مسیحیت کا سرٹیفکیٹ ہے۔ قریباً
ایک صدی سے مرزائی اُمت، مرزا صاحب کے اناپ شناپ دعوؤں کی وادیٔ تیہ میں بھٹک رہی ہے، اور تأویل در تأویل کے چکر
سے اس کے اعضاء شل ہوچکے ہیں، مگر مرزا صاحب کی مسیحیت کا اُونٹ ہے کہ کسی کروَٹ سیدھا نہیں بیٹھ پاتا۔ دیگر دعاوی
سے قطع نظر مرزاجی کا مسیحی دعویٰ ہی مرزائیت کے لئے اندھوں کے ہاتھی کی حیثیت رکھتا ہے، ایک نے ٹٹولا تو مجدّد
نکلا، دُوسرے نے ہاتھ پھیرا تو غیرحقیقی نبی ظاہر ہوا، تیسرے نے اٹکل لگائی تو حقیقی مگر تشریعی نبی کا پتا دیا،
چوتھے نے کوشش کی تھی تو کامل ’’تشریعی نبی‘‘ کی خوشخبری لایا، پانچواں گیا تو ’’آخری نبی‘‘ کا مژدہ لایا، چھٹا
آیا تو اس نے ’’نبی گر‘‘ بتایا، اور جس نے کہا، اپنے مبلغ فہم وعلم کے مطابق کہا، اس لئے کہ: ’’یار ما ایں دارو آں
نیزہم۔‘‘
215
مجھے جو بات کہنی ہے وہ یہ ہے کہ مرزائے قادیان، سورۂ یٰسٓ کی زیرِ بحث آیتوں کو تحریفی سانچے میں ڈھال کر اپنی
ذات پر جو فٹ کرتے ہیں، ایک لمحے کے لئے فرض کرلیجئے کہ ان آیات کا مصداق مرزاجی کی ذاتِ گرامی ہے، اور ان کو واقعی
ان کے عاجی خدا نے ’’اِنَّکَ لَمِنَ الْمُرْسَلِیْنَ‘‘ کا بلند پایہ خطاب دیا ہے، اس
فرضِ محال کے بعد دیکھئے کہ اس سے مرزا صاحب کے دعویٔ نبوّت کی تصدیق ہوتی ہے یا تکذیب نکلتی ہے؟ اس پر غور کرنے کے
لئے صرف دو نکتے ذہن میں رکھئے:
اوّل:... یہ کہ قادیانی اُمت کی محمودی قادیانی ثم ربوی جماعت کے نزدیک مرزا صاحب غیرمستقل اور غیرتشریعی نبی تھے۔
دوم:... یہ کہ مرزئی اُمت کو مُسلَّم ہے کہ یہ آیات قرآن مجید میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے حق میں نازل
ہوئیں، اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہی ’’اِنَّکَ لَمِنَ الْمُرْسَلِیْنَ‘‘ کے اوّلین
مخاطب ہیں، اور یہ کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ظلّی بروزی اور غیرتشریعی نبی نہیں بلکہ حقیقی، مستقل اور ناسخ شریعتِ
سابقہ رسول تھے۔
اب اگر’’اِنَّکَ لَمِنَ الْمُرْسَلِیْنَ‘‘ کی آیت مرزاجی پر بھی اسی طرح صادق آتی ہے
جس طرح کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر ... تو قادیانی اُمت کو دو باتوں میں سے ایک تسلیم کرنا پڑے گی، یا یہ کہ
مرزا صاحب بھی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی طرح مستقل اور ناسخِ شریعت رسول تھے، یا اس کے برعکس آنحضرت صلی اللہ
علیہ وسلم بھی مرزاجی کی طرح غیرتشریعی اور غیرمستقل رسول تھے۔ قادیانی اُمت کا یہ دوغلاپن کیسا عجیب ہے کہ ایک طرف
تو ان تمام آیات کو، جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر نازل ہوئیں، مرزا صاحب پر چسپاں کیا جائے اور دُوسری طرف
مرزا کے صاحبِ شریعت رسول ہونے کا اِنکار کیا جائے، آپ نے قرآن کا اِعجاز دیکھا؟ مرزاجی آیاتِ قرآن کو تراش خراش
کر اپنے اُوپر منطبق کرنا چاہتے ہیں، مگر آیاتِ رِسالت کا جامہ ان کے ’’بونے قد‘‘ پر کسی طرح راست نہیں آتا۔ ساڑھے
چھ فٹ کے جوان کا کُرتا کسی ننھے بچے کو پہنادیا جائے تو ایک تماشا ضرور بن جائے گا، مگر اس سے وہ ننھا کیا سچ مچ کا
جوان بن سکتا ہے؟ اب قادیانی اُمت ’’اِنَّکَ لَمِنَ
216
الْمُرْسَلِیْنَ‘‘ کے جامے کو جو پورے سائز کی رِسالت، نبوّت کے لئے تیار کیا
گیا ہے، تأویل کی قینچی سے کاٹ کر اپنے ’’بونے نبی‘‘ کے سائز پر لانے کی کوشش کرے گی، مگر عقلاء دیکھ کر یہی کہیں
گے کہ:
-
من انداز قدرت را می شناسم
بہر رنگے کہ خواہی جامہ می پوش
قادیانی مقامِ محمود:
آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے کمالات وخصائص میں سے ’’مقامِ محمود‘‘ ایک عظیم الشان عطیۂ ربانی ہے، جس کا وعدہ
اللہ تعالیٰ نے ذیل کی آیت میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے فرمایا ہے:
’’وَمِنَ الَّیْلِ فَتَھَجَّدْ بِہٖ نَافِلَۃً لَّکَ عَسٰٓی اَنْ یَّبْعَثَکَ رَبُّکَ مَقَامًا مَّحْمُوْدًا۔‘‘
(بنی اسرائیل:۷۹)
ترجمہ:... ’’اور تھوڑی سی رات کو تہجد پڑھا کر ساتھ قرآن کے، بڑھتی (اضافہ) ہے واسطے تیرے، شتاب ہے
کہ بھیجے تجھ کو پروردگار تیرا مقامِ محمود میں۔‘‘
(ترجمہ: شاہ رفیع الدین صاحبؒ)
شاہ عبدالقادر محدث دہلویؒ ’’موضح القرآن‘‘ میں فرماتے ہیں: ’’یعنی نیند سے جاگ کر (تہجد میں) قرآن پڑھا کر، یہ
حکم سب سے زیادہ تجھ پر کیا ہے کہ تجھ کو مرتبہ (سب سے) بڑا دینا ہے۔‘‘ مقامِ محمود کی تفسیر متواتر اَحادیث میں خود
آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمائی ہے کہ اس سے مراد شفاعتِ کبریٰ کا وہ مقام ہے جو قیامت کے دن تمام انبیائے
کرام علیہم السلام میں سے صرف آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو عطا ہوگا، اور اس میں رونق افروز ہوکر آپ صلی اللہ علیہ
وسلم تمام اُمتوں کی شفاعت فرمائیں گے، یہ مرتبہ اوّلین وآخرین کے لئے لائقِ صد رَشک ہوگا، سب آپ صلی اللہ علیہ
وسلم کی تعریف وستائش میں رطب اللسان ہوں گے، اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی شانِ محمدیت ومحمودیت علیٰ رُؤس
الاشہاد عالم آشکارا ہوجائے گی۔
217
مرزا غلام احمد قادیانی کو چونکہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ہر منصب ومقام اور ہر خصوصیت وکمال پر ہاتھ صاف
کرنے کا شوق تھا، اس لئے موصوف نے آیتِ بالا میں لفظی ومعنوی تحریف کرکے بذریعہ اِلہام اسے بھی اپنی ذات پر چسپاں
کرلیا۔ ’’حقیقۃ الوحی‘‘ کے صفحہ:۱۰۲ پر لکھتے ہیں: ’’أراد اللہ أن یبعثک مقامًا محمودًا‘‘
(خدا نے اِرادہ کیا ہے جو تجھے وہ مقام بخشے جس میں تو تعریف کیا جائے)۔
مرزا صاحب کی اِلہامی تحریف کا کرشمہ دیکھئے کہ قرآنِ کریم اور اَحادیثِ متواترہ میں یہ مقام اوّلین وآخرین میں
سے صرف حبیبِ رَبّ العالمین صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے مخصوص کیا گیا تھا، مگر ـــــــ مرزا صاحب، آنحضرت صلی اللہ
علیہ وسلم کو ایک طرف ہٹاکر خود اس پر زبردستی قابض ہوگئے۔ لطف یہ کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے تو یہ فرمایا
گیا تھا کہ تہجد کی پابندی کیجئے، اس کے اِنعام میں آپ کو یہ منصب عطا ہوگا، مگر مرزاجی پر خدا کی ایسی مہربانی
ہوئی کہ ان کو بلاکسی شرط اور پابندی کے یہ ’’مقامِ محمود‘‘ مفت میں ہبہ کردیا گیا۔ فرمائیے! کس کا مرتبہ اُونچا
رہا؟ ...نعوذباللہ... اس پر طرہ یہ کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے تو یہ اِنعامی وعدہ لفظ ’’عسٰی‘‘ کے ساتھ کیا گیا، جو ’’توقع‘‘ کے لئے آتا ہے ...اور شاہی محاورات میں پختہ وعدہ کا
مفہوم دیتا ہے... مگر مرزا صاحب صرف ’’عسٰی‘‘ اور ’’لعل‘‘ پر
قانع نہیں رہے، بلکہ اس سے آگے بڑھ کر صاف صاف ’’أراد اللہ‘‘ ...خدا نے اِرادہ کیا ہے...
کی سند لے آئے، یعنی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے تو اس مقام کا حصول متوقع ہے، مگر مرزاجی کے لئے صرف توقع
نہیں بلکہ کھلے لفظوں میں اِرادۂ خداوندی کا دوٹوک فیصلہ سنایا جاچکا ہے، ان دونوں مرتبوں میں جو واضح فرق ہے وہ
اہلِ علم سے مخفی نہیں، قادیانی دِین میں چونکہ مرزا صاحب کا مرتبہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے فائق ہے اس لئے
مرزا صاحب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی کسی خصوصیت کو اپنی جانب منسوب کرتے ہیں تو اس میں کچھ اِضافے بھی فرمالیتے
ہیں تاکہ ان کی بلندی وبرتری نمایاں ہوسکے ...استغفراللہ...۔
رہا یہ سوال کہ مرزا صاحب کے ’’مقامِ محمود‘‘ سے کیا مراد ہے؟ سو اس کی تفصیل بڑی دِلچسپ اور عبرت آموز ہے۔ مختصر
یہ کہ مرزا صاحب کے قریبی اعزہ میں ایک صاحب
218
مرزا احمد بیگ ہوشیارپوری تھے، ان کی بڑی صاحبزادی محترمہ محمدی بیگم سے مرزا صاحب کو تعلقِ خاطر تو نہ جانے
کب سے پیدا ہوا، تاہم ان کی تحریروں سے واضح ہوتا ہے کہ ابھی وہ آٹھ، نو برس کی معصوم بچی تھی کہ مرزا صاحب کی نظرِ
عنایت اس کی جانب مبذول ہوچکی تھی، اور انہوں نے بذریعہ اِلہامات اس مقصد کے لئے اِشارے کنائے شروع کردئیے تھے،
لکھتے ہیں:
’’کئی سال ہوئے ہم نے اسی کے متعلق مجملاً ایک پیش گوئی کی تھی ...... وہ پیش گوئی اس پیش گوئی کا ایک شعبہ تھی یا
یوں کہو کہ یہ تفصیل اور وہ اِجمال تھی ...... پہلی پیش گوئی اس زمانے کی ہے جبکہ وہ لڑکی ہنوز نابالغ تھی ......
یعنی اس زمانے میں جبکہ اس کی لڑکی آٹھ یا نو برس کی تھی۔‘‘
(تبلیغِ رسالت ج:۱ ص:۱۱۸)
مگر ان اِلہامات میں اصل مدعا محذوفِ منوی تھا اور مرزا صاحب کے مافی الضمیر کی خبر ان کے سوا کسی کو نہیں تھی،
گویا ’’معنیٔ شعر در بطنِ شاعر‘‘ کا مضمون تھا، مرزا صاحب دِل کا مدعا زبان پر لانا چاہتے تھے، مگر اس کے لئے کسی
مناسب موقع کی تلاش میں تھے، حسنِ اتفاق سے لڑکی کے والد مرزا احمد بیگ صاحب کو ایک ہبہ نامے پر دستخط کرانے کے لئے
مرزا صاحب سے ملتجی ہونا پڑا، مرزا صاحب کے لئے اس سے بہتر اور موزوں موقع اور کیا ہوسکتا تھا کہ شاہین ان کے پنجرے
میں آچکا تھا، اور مقصود خود چل کر ان کے دروازے پر محتاجانہ حاضر تھا، مرزا صاحب نے غالباً محسوس کیا کہ دُوبدو
’’کچھ دو اور کچھ لو‘‘ کی سودے بازی بڑی گھٹیا قسم کی وقاحت ہے، اس کا اثر غلط پڑے گا، اس لئے اس زرّیں موقع پر صاف
صاف اِظہارِ مدعا کی تو انہیں جرأت نہ ہوسکی، سرِدست اسی کو غنیمت سمجھا کہ ان سے استمالت ومدارات برتی جائے،
چنانچہ ان کو یہی جواب دیا گیا کہ ایک مدّت سے بڑے بڑے کاموں میں ہماری عادت جنابِ اِلٰہی میں اِستخارہ کرلینے کی
ہے، اس معاملے میں بھی ہم جنابِ اِلٰہی سے اِستخارہ اور مشورہ طلب کرلیں گے اور اِن شاء اللہ اِستخارے کے بعد ہم
ضرور دستخط کردیں گے، بہرحال ہماری جانب سے آپ کی مدد میں کسی طرح کی کوتاہی نہیں
219
ہوگی، اور آپ کے اخلاقِ کریمانہ سے اُمید ہے کہ اگر باشارۂ اِلٰہی کبھی آپ کی نصرت کی ضرورت پیش آئے تو
آپ بھی دریغ نہیں کریں گے۔ مرزا احمد بیگ، مرزا صاحب کے وعدوں کی حقیقت سے آشنا تھے، انہیں یقین نہ آیا اور انہوں
نے کہا کہ: میری طرف سے وعدہ خلافی نہ ہوگی، آپ بھی وعدے کا خلاف نہ کریں۔ یہ باہمی معاہدہ مرزا صاحب نے ’’آئینہ
کمالاتِ اسلام‘‘ صفحہ:۵۷۲میں خط کشیدہ الفاظ میں درج کیا ہے، اس کی تشریح ہم نے ’’اِجتہاد‘‘ سے کی ہے۔ تاہم اس
معاہدے کی تشریح، قادیانی اُمت اس سے بہتر کردے تو ہم مرزا صاحب کی طرح اپنے ’’غلط اِجتہاد‘‘ پر بے جا اِصرار نہیں
کریں گے، بلکہ غلطی معلوم ہونے پر فوراً رُجوع کرلیں گے۔ اس اِجمالی وعدہ مواعدہ کے بعد مرزا احمد بیگ خالی ہاتھ
اپنے گھر لوٹے تو مرزا صاحب نے بلاتوقف ان کے پیچھے ایک خط بھیج دیا ...(یہاں مرزا صاحب کے بیانات میں کچھ گنجلک ہے،
۱۰؍جولائی ۱۸۸۸ء کے اِشتہار میں لکھا ہے کہ: ’’مکتوب الیہ کے متواتر اِصرار سے اِستخارہ کیا گیا‘‘ (تبلیغِ رسالت ج:۱
ص:۱۱۶) اور ’’آئینہ کمالات‘‘ میں لکھا ہے کہ: ’’وہ چلا گیا اور میں نے اپنے حجرے کا قصد کیا ...... خدا کی قسم مجھے
اس سے زیادہ اِنتظار نہ کرنا پڑا جتنا جوتے کے تسمے باندھنے یا پالان کے کسنے میں صَرف ہوتا ہے کہ خدا نے مجھ پر وحی
فرمائی ...الخ‘‘)... کہ اِستخارے میں اِلہامِ ربانی یوں ہوا کہ ہبہ نامے پر ضرور دستخط کئے جائیں، مگر شرط یہ ہے کہ
آپ اپنی دُخترِ کلاں محمدی بیگم کا رشتہ مجھے دو، اور پھر خدا تعالیٰ کی رحمتوں کے کرشمے دیکھو۔ مزید برآں بہت سے
وعدے وعید اور بھی فرمائے۔ خط کا متن حسبِ ذیل تھا:
مکرمی مخدومی اخویم احمد بیگ سلّمہ اللہ تعالیٰ
السلام علیکم ورحمۃ اللہ
ابھی ابھی مراقبے سے فارغ ہی ہوا تھا کہ کچھ غنودگی سی ہوئی، اور خدا کی طرف سے یہ حکم ہوا کہ احمد بیگ کو مطلع
کردے کہ وہ بڑی لڑکی کا رشتہ منظور کرے، یہ اس کے حق میں ہماری جانب سے خیر وبرکت ہوگا، اور ہمارے اِنعام واِکرام
بارش کی طرح اس پر
220
نازل ہوں گے اور تنگی اور سختی اس سے دُور کردی جائے گی، اور اگر اِنحراف کیا تو موردِ عتاب ہوگا، اور ہمارے
قہر سے بچ نہ سکے گا۔
اور میں نے اس کا حکم پہنچادیا تاکہ اس کے رحم وکرم سے حصہ پاؤ اور اس کی بے بہا نعمتوں کے خزانے تم پر کھولے
جائیں، اور میں اپنی طرف سے تو صرف یہی عرض کرتا ہوں کہ میں آپ کا ہمیشہ ادب ولحاظ ہی ملحوظ رکھتا ہوں اور آپ کو
ایک دِین دار اور اِیمان دار بزرگ تصوّر کرتا ہوں، اور آپ کے حکم کو اپنے لئے فخر سمجھتا ہوں، اور ہبہ نامے پر جب
لکھو حاضر ہوکر دستخط کرجاؤں اور اس کے علاوہ میری املاک خدا کی اور آپ کی ہے، عزیز محمد بیگ کے لئے پولیس میں
بھرتی کرنے اور عہدہ دِلانے کی خاص کوشش وسفارش کرلی ہے، تاکہ وہ کام پر لگ جاوے، اور اس کا رشتہ میں نے ایک بہت
امیر آدمی (کے یہاں) جو میرے عقیدت مندوں میں ہے، تقریباً کردیا ہے، اور اللہ کا فضل آپ کے شاملِ حال ہو، فقط
خاکسار غلام احمد عفی عنہ، لدھیانہ، اقبال گنج
مؤرخہ ۲۰؍فروری ۱۸۸۸ء۔‘‘
(قادیانی مذہب فصل:۸ نمبر:۶ ص:۳۷۶، بحوالہ نوشتۂ غیب مؤلفہ ایم ایس خالد صاحب وزیرآبادی)
مرزا صاحب کا یہ خط اخبار ’’نور افشاں‘‘ ۱۰؍مئی ۱۸۸۸ء میں چھپا تھا اور مرزا صاحب نے اسے تسلیم کرتے ہوئے اِعتراف
کیا ہے کہ یہ خط محض ربانی اِشارے سے لکھا گیا تھا۔
(تبلیغِ رسالت ج:۱ ص:۱۱۵)
کسی شخص سے اس کی لڑکی کے رشتے کی درخواست کوئی انہونی بات نہیں، جس کا بُرا منایا جائے۔ مگر مرزا صاحب اوّل تو
مجمع الامراض تھے، سن مبارک بھی پچاس سے متجاوز تھا، اس پر طرہ یہ کہ وہ اِلہام، وحی، مسیحیت اور نبوّت کے دعوؤں
میں مسیلمہ کذّاب سے بھی
221
گوئے سبقت لے گئے تھے، اور بقول مرزا شیر علی صاحب: ’’مراق سے خدائی تک پہنچے ہوئے تھے‘‘ ان سب اُمور سے قطع
نظر، مرزا صاحب نے رشتہ طلبی کی یہ بحث جس سیاق سباق میں اُٹھائی اور اس کے عوض معاوضے میں وعدہ وعید کا جو سبزباغ
دِکھایا، یہ بے ڈھنگاپن نہ صرف مشرقی روایات کے منافی تھا، بلکہ انسانی تہذیب وشائستگی سے بھی بمراحل بعید تھا۔
لڑکیاں سبھی کے گھروں میں ہوتی ہیں اور وہ ماںباپ کے گھر میں ’’مقدس امانت‘‘ تصوّر کی جاتی ہیں، ان کے معاوضے کی
تحریص وترغیب انسانی شرافت پر بھرپور طنز ہے۔ مرزا صاحب نے اس غیرشائستہ درخواست پر جو کئی سال سے ان کے دِل کا
کانٹا بنی ہوئی تھی، مزید ستم یہ کیا کہ اسے ’’خدائی حکم نامہ‘‘ قرار دِیا، ظاہر ہے کہ جو لوگ مرزا صاحب کی مسیحیت
ونبوّت کے دام گرفتہ نہیں تھے، ان کے نزدیک یہ ’’حکم نامہ‘‘ خدا کی جانب سے نہیں، بلکہ مرزا صاحب کے نفسانی خیالات
کے ہیجان کا شاخسانہ ہی ہوسکتا تھا۔ ان کے خیال میں ایک معمولی بات کو ’’خدائی حکم نامے‘‘ کے رنگ میں پیش کرنا، خدا
تعالیٰ کے مقدس حکم کی توہین وتذلیل کے مترادف تھا۔
مرزا صاحب نے اگرچہ بڑی اِحتیاط برتی تھی، مگر وجوہِ مذکورہ کی بنا پر ان کی یہ درخواست، جو اِظہارِ مدعا کی پہلی
کوشش تھی، بے حد نفرت وبیزاری کا موجب بن گئی، اور مرزا صاحب سے حسنِ ظن کا کوئی شائبہ اگر کسی کے دِل میں تھا تو وہ
بھی دُھل گیا۔ چنانچہ مرزا صاحب کا یہ ’’حکم نامۂ اِلٰہی‘‘ انہوں نے نہ صرف یہ کہ رَدّ کردیا، بلکہ مرزا صاحب کی
’’پیغمبرانہ ذہنیت‘‘ کو ’’طشت ازبام‘‘ کرنے کے لئے مخالفین کے اخبار میں شائع کردیا۔ مرزا صاحب کے لئے موقع شناسی کا
تقاضا یہ تھا کہ وہ اس رشتے کے سودائے خام سے آس توڑ لیتے اور کسی حکیم کے اس قول پر عمل کرتے:
-
عنقا شکار کس نشود دام باز چیں
کایں جا ہمیشہ باد بدست است دام را
اگر وہ اس موقع پر چپ سادھ لیتے تو چندے شوروغوغا کے بعد یہ قصہ لوگوں کو بھول بھلا جاتا، اور بات آگے نہ بڑھتی۔
مگر مرزا صاحب حدیثِ نبوی: ’’حبک الشیء
222
یعمی ویصم‘‘ ...کسی چیز کی محبت اندھا، بہرا کردیتی ہے... کا مظہر بن چکے تھے،
یوں بھی وہ مجبور تھے کہ معاملہ دِل کا تھا، اور دِل پر سوائے مقلّب القلوب کے کسی کا زور نہیں، بہرحال مرزا صاحب کا
دِل، دِماغ پر غالب آیا، اور انہوں نے اس سلسلے میں اِشتہار دینے شروع کئے، جن میں ان کے لب ولہجے میں تندی وتیزی،
ان کے موقف میں شدّت وتعلّی اور ان کے مرضِ اِلہام سازی میں اِضافہ ہی ہوتا چلا گیا، انہوں نے اب زیادہ صراحت کے
ساتھ اِشتہارات میں یہ اِعلان شروع کیا کہ:
’’خدائے قادر وحکیمِ مطلق نے مجھے فرمایا کہ اس شخص (احمد بیگ ہوشیارپوری) کی دُخترِ کلاں (محمدی بیگم) کے نکاح کے
لئے سلسلۂ جنبانی کرو اور ان کو کہہ دو کہ تمام سلوک اور مروّت تم سے اسی شرط کے ساتھ کیا جائے گا اور یہ نکاح
تمہارے لئے موجبِ برکت اور ایک رحمت کا نشان ہوگا، اور ان تمام برکتوں اور رحمتوں سے حصہ پاؤگے جو اِشتہار ۲۰؍فروری
میں درج ہیں (مرزا صاحب ۲۰؍فروری کے اِشتہار میں محمدی بیگم کے حصول کی پیش گوئی اِشاروں کنایوں میں کرچکے تھے، اس
پر آئندہ سطور میں تبصرہ ہوگا ...ناقل)۔ لیکن اگر نکاح سے اِنحراف کیا تو اس لڑکی کا انجام نہایت ہی بُرا ہوگا۔ اور
جس کسی دُوسرے شخص سے بیاہی جائے گی وہ روزِ نکاح سے اڑھائی سال تک اور ایسا ہی والد اس دُختر کا تین سال تک فوت
ہوجائے گا۔ اور ان کے گھر میں تفرقہ اور تنگی اور مصیبت پڑے گی، اور درمیانی زمانے میں بھی اس دُختر کے لئے کئی
کراہت اور غم کے امر پیش آئیں گے۔ پھر ان دنوں میں جو زیادہ تصریح اور تفصیل کے لئے بار بار توجہ کی گئی (’’بار بار
توجہ کی گئی‘‘ کا لفظ بتاتا ہے کہ مرزا صاحب کو خدا کی جانب سے محمدی بیگم کے سلسلے میں قطعاً کوئی حکم نہیں دیا گیا
تھا، یہ محض آنجناب کے سوداوی خیالات تھے جو
223
’’اِلہام‘‘ کی شکل میں ڈھل جاتے تھے، اور مرزا صاحب اپنی خوش فہمی سے انہیں ’’خدا کی وحی‘‘ سمجھ لیتے تھے،
یوں بھی عشق اور جنون کا چولی دامن کا ساتھ ہے، ورنہ خدا کے نبی اتنے غبی نہیں ہوتے کہ خدا کے قطعی حکم کے بعد بھی
انہیں ’’بار بار توجہ‘‘ کی ضرورت پیش آئے اور اس کے بعد بھی مدعا ہاتھ نہ آئے ...ناقل)، تو معلوم ہوا کہ خدا
تعالیٰ نے یہ مقرّر کر رکھا ہے کہ وہ مکتوب الیہ (احمد بیگ) کی دُخترِ کلاں (محمدی بیگم) کو جس کی نسبت درخواست کی
گئی تھی، ہر ایک روک دُور کرنے کے بعد انجامِ کار اسی عاجز کے نکاح میں لاوے گا۔ اور بے دِینوں کو مسلمان بنادے گا،
اور گمراہوں میں ہدایت پھیلائے گا، چنانچہ عربی اِلہام اس بارے میں یہ ہے: ’’کذبوا بایاتنا
وکانوا بھا یستھزؤن، فسیکفیکھم اللہ، ویردھا إلیک، لَا تبدیل کلمات اللہ، ان ربّک فعّال لما یرید، أنت معی وأنا
معک، عسٰی ان یبعثک ربک مقامًا محمودًا‘‘ یعنی انہوں نے ہمارے نشانوں کو جھٹلایا اور وہ پہلے سے ہنسی کر
رہے تھے، سو خدا تعالیٰ ان سب کے تدارک کے لئے جو اس کام کو روک رہے ہیں، تمہارا مددگار ہوگا، اور اَنجامِ کار اس
لڑکی کو تمہاری طرف واپس لائے گا، کوئی نہیں جو خدا کی باتوں کو ٹال سکے، تیرا رَبّ وہ قادر ہے کہ جو کچھ چاہے وہی
ہوجاتا ہے، تو میرے ساتھ ہے اور میں تیرے ساتھ ہوں، اور عنقریب وہ مقام تجھے ملے گا جس میں تیری تعریف کی جائے گی۔
یعنی گو اَوّل میں احمق ونادان لوگ (آگے چل کر واضح ہوگا کہ مراد اس سے مرزائی اُمت ہے) بدباطنی اور بدظنی کی راہ
سے بدگوئی کرتے ہیں اور نالائق باتیں منہ پر لاتے ہیں، لیکن آخر خدا تعالیٰ کی مدد دیکھ کر شرمندہ ہوں گے، اور
سچائی کے
224
کھلنے سے چاروں طرف سے تعریف ہوگی۔‘‘
(تبلیغِ رسالت ج:۱ ص:۱۱۶)
ان مختصر اِقتباسات سے واضح ہوا کہ مرزا صاحب کا ’’مقامِ محمود‘‘ محترمہ محمدی بیگم سے عقد ہونا تھا، اس ’’مقامِ
محمود‘‘ کو حاصل کرنے کے لئے انہوں نے ہزار جتن کئے، ترغیب وترہیب کے سارے حربے اِستعمال کئے، سفارشیں کرائیں، منتیں
اور خوشامدیں کیں، جائیداد کا لالچ دیا، نوکری دِلانے کے وعدے کئے، قسمیں کھائیں، ہاتھ جوڑے، ناک رگڑی، لجاجتیں کیں،
اپنا گھر اُجاڑا، بیوی کو طلاق دی، بیٹوں کو عاق کیا، بہو کو طلاق دِلائی، الغرض! جو کچھ کیا اس کی تفصیل کے لئے ایک
دفتر بھی ناکافی ہے، کہ:
حسنؔ ایں قصۂ عشق است در دفتر نمے گنجد
بلامبالغہ مرزا صاحب نے اس کے لئے وہ طوفان برپا کیا کہ پہاڑ اپنی جگہ سے ہل جاتے، مگر افسوس کہ ان کو یہ ’’مقامِ
محمود‘‘ مدۃالعمر نصیب نہ ہوا، ان کی پچّیس سالہ داؤپیچ، جوڑتوڑ، وعدے وعید، شیخی وتعلّی، تحدی آمیز دعوے اور پے
درپے اِلہامات سب پادر ہوا ثابت ہوئے، بالآخر اس رشتے کی حسرتِ وصل ان کے ساتھ قبر میں دفن ہوئی، اور یہ ’’ہما‘‘ ان
کے دامِ عقد میں تو کیا آتی، کبھی ان کے کنگرۂ منارۃ المسیح پر بھی سایہ فگن نہ ہوئی، آہ!
-
ھنیئًا لأرباب النعیم نعیمھم
وللعاشق المحروم ما یتجرع
یعنی اَربابِ نعمت کو نعمت مبارک ہو، بدنصیب عاشق کی قسمت میں غم وغصّے کے سوا کچھ نہیں ...شعر میں ’’مسکین‘‘ کے
لفظ کو ’’محروم‘‘ سے بدلنے پر معذرت خواہ ہوں، کہ مقتضائے حال یہی تھا...۔
علماء نے لکھا ہے کہ خرقِ عادت کی کئی قسمیں ہیں، اگر ایک چیز خرقِ عادت کے طور پر کسی سچے نبی کے ہاتھ پر ظاہر ہو
تو ’’معجزہ‘‘ ہے، کسی متبعِ سنت ولی اللہ کے ہاتھ سے ظاہر ہو تو ’’کرامت‘‘ ہے، کسی عام مؤمن کے لئے ظاہر ہو تو
’’معونت‘‘ ہے، کسی فاسق یا کافر کے ہاتھ سے اس کی غرض کے موافق ظاہر ہو تو ’’اِستدراج‘‘ ہے، فاسق یا کافر کے
225
لئے اس کی غرض کے خلاف ظاہر ہو تو ’’اہانت‘‘ ہے، اور کسی شعبدہ باز کے ہاتھ پر ظاہر ہو تو ’’سحر اور
شعبدہ‘‘ ہے (نبراس شرح عقائد، مبحث کرامت)۔ جبکہ بعض حضرات سحر کو خرقِ عادت میں شمار نہیں کرتے۔
مرزا صاحب کے پیشرو مسیلمہ کذّاب مسیحِ یمامہؔ سے اہانت کے طور پر کئی خرقِ عادت واقعات ظہور پذیر ہوئے۔ ایک عورت
نے اس سے درخواست کی کہ محمد ...صلی اللہ علیہ وسلم... کی دُعا سے پانی کنوؤں میں جوش مارتا ہے، آپ بھی ہمارے
نخلستان وغیرہ کے لئے دُعا کیجئے۔ پوچھا: وہ کیا کرتے ہیں؟ کہا: ڈول میں کلی کرکے پانی کنویں میں ڈال دیا جاتا ہے۔
اس نے بھی یہی کیا تو اس کا اثر یہ ہوا کہ جس قدر پانی کنویں میں پہلے سے موجود تھا، وہ بھی سوکھ گیا۔ ایک بار
آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی نقالی کرتے ہوئے کسی آشوب زدہ کی آنکھ میں تھوک لگایا تو وہ اندھا ہوگیا۔ ایک بار
بکری کے تھن پر ہاتھ پھیرا کہ دُودھ زیادہ ہوجائے، مگر دُودھ بالکل ہی خشک ہوگیا۔
ایک عورت نے شکایت کی کہ میرے بہت سے لڑکے مرچکے ہیں، اب صرف دو ہی باقی رہ گئے ہیں، ان کی درازیٔ عمر کی دُعا
کیجئے۔ اس نے چھوٹے لڑکے کے لئے چالیس برس عمر کی پیش گوئی کی، عورت گھر آئی تو بڑا لڑکا کنویں میں گرکر مرچکا تھا،
اور چھوٹا لڑکا جس کی چالیس برس عمر طے ہوئی تھی، نزع کی حالت میں تھا۔
(افادۃ الافہام ج:۱ ص:۱۸۹)
ایک بار کسی یک چشم نے درخواست کی کہ آپ اللہ کے نبی ہیں، دُعا کیجئے میری آنکھ ٹھیک ہوجائے، اس نے ہاتھ پھیرا تو
دُوسری آنکھ کی بصارت بھی جاتی رہی۔
(نبراس)
اللہ تعالیٰ کی جانب سے جھوٹے مدعیانِ نبوّت کی اہانت وتکذیب کے واقعات جمع کرنا تو ایک مستقل مقالے کا موضوع ہے،
یہاں تو ہمیں مرزا صاحب کے ’’مقامِ محمود‘‘ سے غرض ہے۔ ذرا غور فرمائیے کہ ایک ایسا شخص جو بزعمِ خود خاندانی رئیس
ہے، اپنے قریبی اعزہ میں ایک معمولی رشتہ طلب کرتا ہے، اپنی ہزاروں لاکھوں کی جائیداد اس نوبیاہتا دُلہن کے نام
منتقل کردینے کا وعدہ کرتا ہے، اسے ہر آسائش وراحت دِلانے کی تسلی دِلاتا ہے، کبھی لڑکی کے والدین کو دھمکیاں دیتا
ہے، اور کبھی لڑکی کے سسرال کو کہ اگر یہ رشتہ کیا تو
226
مرجاؤگے، لٹ جاؤگے، تمہارا گھر اُجڑ جائے گا، تم پر مصائب ٹوٹ پڑیں گے، تمہیں ایسی ذِلت وخواری نصیب ہوگی
کہ دُنیا اس سے عبرت پکڑے گی۔ اس کے لئے حکمِ خداوندی کے حوالے بڑے اِصرار وتکرار کے ساتھ دیتا ہے، اس پر بار بار
مؤکد بعذاب قسمیں کھاتا ہے، اسے ’’مقامِ محمود‘‘ قرار دیتا ہے، صرف اسی ایک واقعے کو اپنے صدق وکذب کی کسوٹی بتاکر
تمام دُنیا کو چیلنج کرتا ہے۔ الغرض! اس رشتے کے لئے اپنے تمام مادّی ورُوحانی وسائل جھونک دیتا ہے، بایں ہمہ نہ
مدۃالعمر اسے وہ رشتہ میسر آتا ہے، نہ اس کی کشتِ تمنا بارآور ہوتی ہے، بلکہ بھری دُنیا اس کے بصد حسرت ویاس دُنیا
سے رُخصت ہونے کا تماشا دیکھتی ہے، یقینا یہ اِزدواجی تاریخ کا ایک منفرد اور خرقِ عادت حادثہ ہے، جو ایک برخود غلط
مدعیٔ نبوّت کی اہانت وتذلیل کے لئے اللہ تعالیٰ نے ظاہر فرمایا۔
میر صاحب کا لطیفہ سنا ہوگا، انہوں نے کہیں جمعہ کے وعظ میں مولوی صاحب سے سن لیا تھا کہ تہجد کی نماز سے چہرے پر
نور آتا ہے۔ میرے صاحب نے اس نسخے کی آزمائش کا فوراً عزم کرلیا، موسم سرد تھا، رات میں وضو کرنا مشکل نظر آیا تو
رُخصتِ تیمم پر عمل کیا، اور سیدھے توے پر دو ہاتھ مارکر مشغول بحق ہوگئے، صبح ہوتے ہی بیگم صاحبہ سے فرماتے ہیں کہ:
رات ہم نے تہجد پڑھی تھی، ذرا دیکھو! آج ہمارے چہرۂ انور پر کتنا نور ہے؟ نور اور نورانی چہرے کا تجربہ بیگم صاحبہ
کے لئے بالکل نیا تھا، وہ اس کے رنگ ورُوپ کی تشخیص سے قاصر تھیں، اس لئے جواب دیا کہ اگر نور کالے رنگ کا ہوتا ہے
تو پھر ماشاء اللہ نور گھٹائیں باندھے آرہا ہے...!
اگر قادیانی اِصطلاح میں ’’مقامِ محمود‘‘ بھی اسی ’’کالے رنگ‘‘ کا ہوتا ہے کہ مرزا صاحب خدا کے اِلہام سے پیش گوئی
فرمایا کریں، اور خدا تعالیٰ اپنی قدرتِ کاملہ سے پیش گوئی پورا ہونے کا ہر راستہ بطور خرقِ عادت بند کردیا کریں، تو
قادیانی اُمت کو مبارک ہو کہ ان کے نبی کی اہانت کے لئے اس قسم کی خرقِ عادت کا تماشا اللہ تعالیٰ نے بار بار دُنیا
کو دِکھایا، مثلاً:
الف:... ۲۰؍فروری ۱۸۸۶ء کی پہلی پیش گوئی میں مرزا صاحب نے بڑے
227
طمطراق سے تحدی آمیز دعویٰ کیا تھا کہ انہیں اللہ تعالیٰ نے ایک ’’مصلحِ موعود‘‘ لڑکے کی بشارت دی ہے، اور
اس کی اِلہامی صفات میں ڈیڑھ صفحہ سیاہ کیا، دیکھئے ’’مجموعہ اِشتہارات‘‘ ج:۱ ص:۱۰۰، ’’تبلیغِ رسالت‘‘ ج:۱ ص:۵۹، ۶۰۔
مگر خدا تعالیٰ کی قدرت کا یہ تماشا سبھی نے دیکھا کہ مرزا صاحب نے اسے اپنے جس لڑکے پر چسپاں کیا، وہ چلتا بنا،
پہلے بشیر اوّل پر لگایا تو وہ رُخصت ہوا، پھر تیرہ سال بعد مبارک احمد پر لگایا تو اس نے زندگی سے ہاتھ دھولئے،
بالآخر مرزا صاحب اس رُوح اللہ اور کلمۃ اللہ کی راہ تکتے تکتے دُنیا سے رُخصت ہوگئے، اور ’’مصلحِ موعود‘‘ سے
متعلقہ لاف وگزاف ان کی جگ ہنسائی کا ابدی ذخیرہ بن کر رہ گیا۔
ب:... مرزا صاحب، عبداللہ آتھم عیسائی سے پندرہ دن تک مناظرہ کرتے رہے، اور جب دیکھا کہ اس شاطر پادری سے مقابلے
کی طاقت مابدولت میں نہیں تو وہی ’’اِلہامی پیش گوئی‘‘ والا حربہ آزمایا اور اِعلان کردیا:
’’آج رات جو مجھ پر کھلا ہے وہ یہ ہے کہ جبکہ میں نے بہت تضرّع اور اِبتہال سے جنابِ اِلٰہی میں دُعا کی کہ تو اس
اَمر میں فیصلہ کر ...۔۔ تو اس نے مجھے یہ نشان بشارت کے طور پر دِیا ہے کہ اس بحث میں دونوں فریقوں میں سے جو فریق
عمداً جھوٹ کو اِختیار کر رہا ہے ...... اور عاجز اِنسان کو خدا بنا رہا ہے، وہ انہیں دنوں مباحثے کے لحاظ سے یعنی
فی دن ایک مہینہ لے کر یعنی پندرہ ماہ تک ہاویہ (دوزخ) میں گرایا جاوے گا، اور اس کو سخت ذِلت پہنچے گی، بشرطیکہ حق
کی طرف رُجوع نہ کرے، اور جو شخص سچ پر ہے اور سچے خدا کو مانتا ہے اس کی اس سے عزّت ظاہر ہوگی، اور اس وقت جب یہ
پیش گوئی ظہور میں آوے گی بعض اندھے سوجاکھے کئے جائیں گے، اور بعض لنگڑے چلنے لگیں گے، اور بعض بہتر سننے لگیں گے
...۔۔ میں اس وقت یہ اِقرار کرتا ہوں کہ اگر یہ پیش گوئی جھوٹی نکلی، یعنی وہ فریق جو خدا تعالیٰ کے
228
نزدیک جھوٹ پر ہے وہ پندرہ ماہ کے عرصے میں آج کی تاریخ سے بہ سزائے موت ہاویہ (دوزخ) میں نہ پڑے تو میں
ہر ایک سزا کے اُٹھانے کے لئے تیار ہوں، مجھ کو ذلیل کیا جاوے، اور رُوسیاہ کیا جاوے، میرے گلے میں رسا ڈال دیا
جاوے، مجھ کو پھانسی دیا جاوے، ہر ایک بات کے لئے تیار ہوں، اور میں اللہ جل شانہ‘ کی قسم کھاکر کہتا ہوں کہ وہ ضرور
ایسا ہی کرے گا، ضرور کرے گا، ضرور کرے گا، زمین آسمان ٹل جائیں، پر اس کی باتیں نہ ٹلیں گی ...... اگر میں جھوٹا
ہوں تو میرے لئے سولی تیار رکھو اور تمام شیطانوں اور بدکاروں اور لعنتیوں سے زیادہ مجھے لعنتی قرار دو۔‘‘
(جنگِ مقدس، تصنیف: مرزا صاحب، ج:۶ ص:۲۹۳)
مگر اَنجام کیا نکلا؟ اس مقرّرہ مدّت کے اندر نہ آتھم نے رُجوع الی الحق کیا، نہ مرا، اور ایک باطل پرست پادری کے
مقابلے میں اللہ تعالیٰ نے مرزا صاحب کی خرقِ عادت اہانت کا کرشمہ دِکھاکر انہیں ان تمام القاب وخطابات کا مستحق
قرار دِیا جو خود اُن کے قلم سے نکل کر، رہتی دُنیا تک ان کی ’’نیک نامی‘‘ پر عادلانہ شہادت دیتے رہیں گے۔ یوں اللہ
تعالیٰ نے مرزا صاحب کا اپنے دعوائے اِلہام میں مفتری اور کذّاب ہونا صفحاتِ عالم پر ہمیشہ کے لئے رقم کردیا، غالباً
کسی جھوٹے کی ایسی اہانت وتذلیل کبھی نہ ہوئی ہوگی، اور تاریخِ عالم میں اس کی کوئی مثال نہیں ملے گی۔
ج:... مرزا صاحب نے اپنے حواری مولوی عبدالکریم کی صحت کی اِلہامی بشارت سنائی، (’’الحکم‘‘ ۱۰؍ستمبر ۱۹۰۵ء) مگر وہ
گردن کے پھوڑے اور ذات الجنب سے چند دِن بعد اِنتقال کرگئے، یہ خرقِ عادت اہانت اس کے مشابہ ہے کہ مسیلمہ کذّاب نے
عورت کے لڑکے کی عمر چالیس برس بتائی، وہ گھر لوٹی تو نزع کا عالم تھا۔
مولوی عبدالکریم کا اِنتقال طاعونی پھوڑے سے ہوا، اور ایسا دردناک کہ مرزا صاحب ان کے پاس بھی نہ پھٹکے، مگر
قادیانی اُمت ’’طاعون‘‘ کے لفظ سے بہت گھبراتی ہے،
229
اس لئے ان کے مرض کو ’’کاربنکل‘‘، ’’گلے کے نیچے پھنسی‘‘ اور ’’ذات الجنب‘‘ کے الفاظ سے تعبیر کیا کرتی ہے،
تفصیل کے لئے دیکھئے: ’’قادیانی مذہب‘‘ فصل پندرھویں، نمبر:۲۴۔
د:... آخری عمر میں مرزا صاحب نے اِلہامی خوشخبری دی تھی کہ انہیں ایک پاک لڑکا دِیا جائے گا جس کا نام ’’یحییٰ‘‘
ہوگا، اور وہ غلام حلیم، مبارک احمد کی شبیہ کا ہوگا (البشریٰ ج:۲ ص:۱۳۶)۔ مگر اللہ تعالیٰ نے ان کی اہانت کے لئے
انہیں بے مراد دُنیا سے رُخصت کیا۔
ہ:... مرزا صاحب نے اپنے مرید میاں منظور محمد کی اہلیہ کے بطن سے بشیرالدولہ اور عالم کباب نامی لڑکے کی ولادت کی
خوشخبری دی (البشریٰ ج:۲ ص:۱۱۶)۔ مگر اللہ تعالیٰ نے مرزا صاحب کی اہانت کے لئے اس خاتون ہی کو دُنیا سے اُٹھالیا،
کہ نہ وہ خاتون ہو، نہ عالم کباب آئے۔
و:... مرزا صاحب نے اپنے برگشتہ مرید ڈاکٹر عبدالحکیم کی پیش گوئی کے مقابلے میں اسے فرشتوں کی تلواریں دِکھائیں
اور خود اس کے مرنے کی پیش گوئی کی، مگر اللہ تعالیٰ نے مرزا صاحب کی اہانت کے لئے ڈاکٹر صاحب کو زِندہ رکھا اور
مرزا صاحب کو دارالجزا میں طلب کرلیا۔
ز:... مرزا صاحب نے مولانا ثناء اللہ مرحوم کے مقابلے میں دوطرفہ بددُعا کی کہ جو جھوٹا ہے وہ سچے کی زندگی میں
طاعون اور ہیضے وغیرہ امراضِ مہلکہ سے مرے، اور لکھا کہ:
’’میں خدا سے دُعا کرتا ہوں کہ اے میرے مالک! بصیر وقدیر جو علیم وخبیر ہے، جو میرے دِل کے حالات سے واقف ہے، اگر
یہ دعویٰ مسیحِ موعود ہونے کا محض میرے نفس کا اِفترا ہے، اور میں تیری نظر میں مفسد اور کذّاب ہوں، اور دِن رات
اِفترا کرنا میرا کام ہے (اس میں شک ہی کیا ہے، اور پھر خدائے علیم وخبیر اور بصیر وقدیر کو؟ ...ناقل) تو اے میرے
پیارے مالک! میں عاجزی سے تیری جناب میں دُعا کرتا ہوں کہ مولوی ثناء اللہ صاحب کی زندگی میں مجھے ہلاک کر اور میری
موت سے ان کو اور ان کی جماعت کو خوش
230
کردے۔ آمین (خدا تعالیٰ نے مرزا صاحب کی یہ دُعا بہت قریب سے سنی فالحمدللہ! ...ناقل) مگر اے میرے کامل اور
صادق خدا! اگر مولوی ثناء اللہ ان تہمتوں میں جو مجھ پر لگاتا ہے (جی نہیں! بلکہ آپ کا یہ فقرہ خود مولانا ثناء
اللہ صاحب (احسن اللہ ثراہ) پر غلط اِتہام ہے، مولانا مرحوم نے ایک بات بھی آپ کی جانب ایسی منسوب نہیں کی جو خود
آپ کے قلم سے نہ نکلی ہو، مخلوق کے سامنے تو خیر سچ جھوٹ سب کچھ چل جاتا ہے، مگر خدا کے سامنے تو غلط بیانی کرنے سے
اِحتراز کیا ہوتا؟ باخدا تزویر حیلہ کے رواست؟ ...ناقل) حق پر نہیںتو میں عاجزی سے تیری جناب میں دُعا کرتا ہوں کہ
میری زندگی میں ہی ان کو نابود کر، مگر نہ انسانی ہاتھوں سے، بلکہ طاعون، ہیضہ وغیرہ امراضِ مہلکہ سے ...۔۔ اب میں
تیرے ہی تقدس اور رحمت کا دامن پکڑ کر تیری جناب میں ملتجی ہوں کہ مجھ میں اور ثناء اللہ میں سچا فیصلہ فرما اور وہ
جو تیری نگاہ میں درحقیقت مفسد اور کذّاب ہے اس کو صادق کی زندگی میں ہی دُنیا سے اُٹھالے، یا کسی اور نہایت سخت
آفت میں جو موت کے برابر ہو مبتلا کر۔ اے میرے پیارے مالک! تو ایسا ہی کر، آمین ثم آمین، ربنا افتح بیننا وبین
قومنا بالحق وانت خیر الفاتحین۔ آمین۔‘‘
(اِشتہار ۱۵؍اپریل، مجموعہ اِشتہارات ج:۳ ص:۵۷۸ و ۵۷۹)
یہ مرزا صاحب کے اِلہامی ترکش کا آخری تیر تھا، جو ٹھیک نشانے پر بیٹھا، اور جس کے ذریعے اللہ تعالیٰ نے مرزا صاحب
کی اہانت کا آخری فیصلہ کردیا۔ مرزا صاحب ۲۶؍مئی ۱۹۰۸ء کو بمرض وبائی ہیضہ انتقال کرگئے، اور مولانا ثناء اللہ صاحب
کو اللہ تعالیٰ نے نہ صرف ایسی ’’سخت آفت سے جو موت کے برابر ہو‘‘ محفوظ رکھا، بلکہ ان کی زندگی میں ایسی برکت
فرمائی کہ مرزا صاحب کے قریباً چالیس سال بعد تک بقیدِ حیات رہ کر اپنی حسنات میں اِضافہ کرتے رہے، اور قیامِ
پاکستان کے عرصے بعد واصل بحق ہوئے۔ اس طرح اللہ تعالیٰ
231
نے خود مرزا صاحب کی موت سے ان کے سچ جھوٹ کا آخری فیصلہ کردیا، اور فیصلہ بھی ایسا صاف اور قطعی کہ کسی کو
شک وشبہ کی گنجائش نہ رہے۔
الغرض! اگر قادیانی اِصطلاح میں ’’مقامِ محمود‘‘ اسی رُوسیاہی کا نام ہے کہ مرزا صاحب جو بددُعا کریں وہ ان ہی پر
پڑے، جو تحدی آمیز پیش گوئی کریں وہ ہمیشہ جھوٹی نکلے، عیسائیوں کے مقابلے میں شرط باندھیں تو اللہ تعالیٰ ان کے
مقابلے میں مرزا صاحب کو ذلیل کرکے ان کی تکذیب کردے۔ کسی کی حیات کی خبر دیں تو مرجائے، کسی کی صحت کا اِلہام
فرمائیں تو جاںبر نہ ہو، کسی کی ولادت کی خبر اُڑائیں تو والدہ ہی رُخصت ہوجائے، کسی بات کو معیار قرار دے کر اپنے
صدق وکذب کا چیلنج کریں تو اس کا انجام مرزا صاحب کا کذب ہی نکلے۔ اگر ’’مقامِ محمود‘‘ اسی رنگ کا ہوتا ہے تو مبارک
ہو کہ خدا کے فضل سے یہ مرزا صاحب کی پوری اِلہامی ومسیحی زندگی کا کارنامہ ہے۔ اور اگر عقلاء کی اِصطلاح کے مطابق
’’مقامِ محمود‘‘ اس ذِلت ورُسوائی اور ناکامی ورُوسیاہی کا نام نہیں، جو نصیبِ دُشمناں مرزا صاحب سے مدۃالعمر چمٹی
رہی، بلکہ عزّت ومرتبت کا وہ عالی مقام ہے جو تمام بنی نوعِ انسان میں سے صرف ایک فرد یگانہ کے لئے مخصوص ہے، جس کی
ذاتِ عالی سراپا حمد ہے، جن کا نامِ نامی ...غلام نہیں بلکہ... محمد اور اَحمد ہے، جس کی اُمت ...احمدی نہیں بلکہ...
المحمدیون کے بلند پایہ لقب سے سرفراز ہے، جس کے لئے لواء الحمد ...لدھیانہ، اقبال گنج میں نہیں بلکہ... روزِ محشر
میں بلند کیا جائے گا، جس کا بیت الحمد ...قادیان کی تاریک کوٹھری نہیں بلکہ... جنت الفردوس بیت الحمد کہلائے گا۔ جس
کی مدح وستائش اور حمد کے ترانوں سے ...چند مرزائیوں کی ٹولی نہیں... بلکہ اوّل سے آخر تک کی تمام انسانیت رطب
اللسان ہوگی، اور جس کو ’’مقامِ محمود‘‘ پر سجدہ ریز ہونے کی حالت میں حق تعالیٰ شانہ‘ کی حمد وتعریف کے لئے وہ
الفاظ دئیے جائیں گے، جن سے تمام انسانوں کے لغت ناآشنا ہیں۔ بہرحال اگر ’’مقامِ محمود‘‘ ان خوش فعلیوں، خوش فہمیوں
اور خوش گپیوں کا نام نہیں، جن میں مرزا صاحب ساری عمر مبتلا رہے، بلکہ وہ بلند وبالا مرتبہ ہے جس کا کوئی عام انسان
تو کجا؟ انبیاء علیہم السلام بھی تصوّر نہیں کرسکتے، تو قادیانی اُمت کو کان کھول کر سن لینا چاہئے کہ یہ مقام
232
قادیان کے غلام کے لئے نہیں بلکہ کونین کے آقا کے واسطے مخصوص ہے۔ یہ منصب مسیحِ کذّاب اور مسیلمۂ پنجاب
کے لئے نہیں بلکہ سیّدالمرسلین وخاتم النبیین کے لئے نامزد ہے ...صلی اللہ علیہ وسلم، فداہ ابی واُمی ورُوحی
وجسدی...۔ مرزا صاحب نے اپنے لئے ’’مقامِ محمود‘‘ کا دعویٰ کرکے ’’بازی بازی، باریش بابا ہم بازی‘‘ کا جو بھونڈا
مظاہرہ کیا، اس پر قادیانی اُمت جس قدر نفرین بھیجے، کم ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ذاتِ عالی سے مرزا صاحب
کی اس بیہودہ جسارت کا کرشمہ تھا کہ خدا کی غیرت جوش میں آئی اور مرزا صاحب کا مفروضہ ’’مقامِ محمود‘‘ ...محمدی
بیگم سے عقد... اللہ تعالیٰ نے ایک فوجی بہادر سلطان محمد کو بخش دیا اور تکوینی طور پر فرمایا کہ اس مقام پر فائز
رہنا تاآنکہ یہ مفتری ایڑیاں رگڑ رگڑ کر مر نہ جائے، وَقَدْ خَابَ مَنِ افْتَرٰی!
قادیانی احمد:
سورۂ صف کی آیت۶: ’’وَمُبَشِّرًام بِرَسُوْلٍ یَّاْتِیْ مِنْم بَعْدِی اسْمُہٗٓ اَحْمَدُ‘‘
(اور خوشخبری دیتا ہوں ایک رسول کی جو میرے بعد آئے گا، اس کا نام احمد ہے) ۔ اس
آیتِ کریمہ میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے جس عظیم الشان رسول کی اپنے بعد تشریف آوری کی خوشخبری دی اور جس کا
نامِ نامی ’’احمد‘‘ بتایا، اس کا مصداق سروَرِ کائنات حضرت محمد مصطفی احمد مجتبیٰ صلی اللہ علیہ وسلم ہیں۔ آنحضرت
صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے سے ...جبکہ یہ آیت نازل ہوئی... آج تک چودہ صدیوں میں مسلمانوں کے ایک متنفس کو بھی
اس سے اِختلاف نہیں، خود آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا اِرشاد ہے کہ: میں حضرت اِبراہیم علیہ السلام کی دُعا اور
حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی بشارت کا مصداق ہوں۔ (مشکوٰۃ ص:۵۱۳) آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے خود اپنے اسمائے
گرامی: محمدؔ اور اَحمدؔ ذِکر فرمائے (مشکوٰۃ ص:۵۱۵) حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی اسی بشارت کی بنا پر آنحضرت صلی
اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ: مجھے دُنیا وآخرت میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا قرب وتعلق سب لوگوں سے زیادہ حاصل
ہے، اور یہ کہ ان کے اور میرے درمیان کوئی نبی نہیں:
233
’’أنا أولی الناس بعیسَی ابن مریم فی الاُولیٰ والآخرۃ (قال القاری فی المرقاۃ: أی أقربھم إلیہ،
لأنہ بشّر بأن یأتی من بعدی) ...۔۔ ولیس بیننا نبی۔ متفق علیہ۔‘‘
(مشکوٰۃ ص:۵۰۹)
اسی آیت کی بنا پر اِسلام کا عیسائیت کے مقابلے میں چودہ صدیوں سے معرکہ قائم ہے کہ عیسیٰ علیہ السلام نے جس نبی
کی آمد کی بشارت دی اور جس کا ذِکر ...تحریف کے باوجود... اِنجیل سے حذف نہیں کیا جاسکا ہے، اس سے مراد رسول اللہ
صلی اللہ علیہ وسلم ہیں، ان مختصر اِشارات کے بعد اَب قادیانی تحریف ملاحظہ فرمائیے:
’’مبشرا برسول یأتی من بعدی اسمہ احمد ۔ آیت مرقوم الصدر کے الفاظ میں مسیح نے خدا
تعالیٰ کی طرف سے ایک پیش گوئی کی ہے کہ ایک ایسے رسول کی بشارت دینے والا ہوں جس کا آنا میرے بعد ہوگا۔ اس کا نام
احمد ہے۔ پیش گوئی میں آنے والے رسول کا اسم احمد بتایا گیا ہے، جس کے مصداق آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اس لئے
نہیں ہوسکتے کہ قرآنی وحی میں کسی مقام سے آپ کا نامِ نامی احمد ثابت نہیں ہوتا، ہاں محمد آپ کا اسمِ گرامی ضرور
ہے، جیسا کہ آپ قبل از دعوائے نبوّت محمد کے نام سے مشہور تھے، اور ایسا ہی قرآنی وحی میں بھی بار بار آپ کا نام
محمد ہی بتایا گیا ہے۔‘‘
(’’الفضل‘‘ ۱۹؍اگست ۱۹۱۸ء)
’’اب یہاں سوال پیدا ہوتا ہے کہ وہ کون سا رسول ہے جو حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے بعد آیا اور اس کا نام ’’احمد‘‘
ہے؟ میرا اپنا دعویٰ ہے، اور میں نے یہ دعویٰ یوں ہی نہیں کردیا، بلکہ مسیحِ موعود علیہ السلام (جناب مرزا غلام احمد
قادیانی صاحب) کی کتابوں میں بھی اسی طرح لکھا ہوا ہے، اور حضرت خلیفہ المسیح اوّل (حکیم نورالدین
234
صاحب) نے بھی یہی فرمایا ہے کہ مرزا صاحب احمد ہیں، چنانچہ ان کے درسوں کے نوٹوں میں یہی چھپا ہوا ہے اور
میرا اِیمان ہے کہ اس آیت کے مصداق حضرت مسیحِ موعود علیہ السلام (مرزا غلام احمد صاحب قادیانی) ہی ہیں۔‘‘
(انوارِ خلافت ص:۲۱ مصنفہ: میاں محمود احمد صاحب خلیفہ قادیان)
ایک جانب حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کی پوری اُمت ہے، اور دُوسری جانب قادیانی اُمت کے مسیحِ
موعود، خلیفہ نوردین اور میاں محمود احمد ہیں، یہ فیصلہ تو دُنیا کے اہلِ عقل وفہم پر چھوڑتا ہوں کہ ان دونوں فریقوں
میں سے کون سچا ہے؟ البتہ قادیانی محرف سے یہ ضرور کہنا چاہتا ہوں کہ مرزا صاحب کی ’’مراقی مسیحیت‘‘ کے لئے قرآن کی
تحریف اگر ناگزیر تھی تو تحریف کرتے وقت ذہن وفکر کو مجتمع کرکے ذرا یہ تو سوچا ہوتا کہ:
الف:... اگر حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آیت کا مصداق بننے کی محض اس لئے صلاحیت نہیں رکھتے ...نقلِ
کفر، کفر نباشد... کہ آپ کا اسمِ گرامی ’’احمد‘‘ قرآن کی کسی آیت میں مذکور نہیں، تو مرزا صاحب کا نام کس قرآن
میں لکھا ہے جس کی تلاوت فرماکر آپ نے یہ تمغۂ بشارت انہیں عطا فرمادیا...؟
ب:... اور یہ کہ مرزا صاحب، جن کا نام والدین نے ’’غلام احمد‘‘ رکھا تھا، اور بچپنے سے ’’سندھی‘‘ کے نام سے معروف
تھے، انہوں نے اپنے آقا (احمد) کی غلامی سے نجات حاصل کرکے بذاتِ خود ’’اسمہ‘ احمد‘‘ کا منصب کس منطق سے حاصل
کرلیا؟ قادیانی اُمت کی عقل ودانش کی داد دیجئے کہ ’’احمد‘‘ ...صلی اللہ علیہ وسلم... پر ’’اسمہ‘ احمد‘‘ صادق نہیں
آتا، لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پشتینی غلام ہونے کے دعوے دار ’’غلام احمد قادیانی‘‘ پر یہ نام صادق آتا ہے؟
بریں عقل ودانش بباید گریست۔
ج:... اور یہ کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے تو بشارت میں:’’یَاْتِیْ مِنْم بَعْدِی‘‘
فرمایا تھا، یعنی جس کی آمد میرے بعد ہوگی، جس سے بعدیتِ متصلہ مراد ہے۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے بعد تو آنحضرت
صلی اللہ علیہ وسلم کی آمد ہوئی۔ اب اگر بقول قادیانی اُمت
235
کے اس کا مصداق مرزا غلام احمد صاحب ہیں تو وہ عیسیٰ علیہ السلام کے بعد کیسے ہوئے؟ قادیانی اُمت مرزا صاحب
کو نبی بنانے کے شوق میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو اس بشارت: ’’اسمہ‘ احمد‘‘ سے معزول کرچکی ہے، اب مرزا صاحب
کی بعدیت کو ثابت کرنے کے لئے اگلا قدم یہ ہوگا کہ ...معاذاللہ... آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو منصبِ نبوّت سے
ہٹاکر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بروز ...مرزا صاحب... کو اس پر فائز کیا جائے گا۔
الغرض ’’اسمہ‘ احمد‘‘ کا مصداق آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بجائے ’’غلام احمد‘‘ کو قرار دینا ایسی کھلی تحریف ہے
جس سے یہود اور باطنیہ بھی سربجیب ہیں، اور جسے صاحبِ رُوح المعانی کے الفاظ میں:’’ضرب من
الھذیان‘‘ کہا جاسکتا ہے۔ موصوف آیت زیرِ بحث کے ذیل میں فرماتے ہیں:
’’وبشارتہ علیہ السلام بنبینا صلی اللہ علیہ وسلم مما نطق بہ القرآن المعجز فإنکار النصاریٰ ذٰلک ضرب من
الھذیان۔‘‘
(رُوح المعانی ج:۲۸ ص:۸۶)
ترجمہ:... ’’حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی بشارت دینا ایک ایسی چیز ہے
جس کے ساتھ قرآنِ معجز ناطق ہے، لہٰذا نصاریٰ کی جانب سے اس کا اِنکار کیا جانا ایک قسم کا ہذیان ہے (مراقی ہذیان
کہہ لیجئے! ...ناقل)۔‘‘
تاہم قادیانی اُمت کو مایوس نہیں ہونا چاہئے، حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے ان کے ’’مسیحِ موعود‘‘ کو بھی ’’بشارت‘‘ سے
محروم نہیں رکھا، حضرت مسیح علیہ السلام کی یہ عظیم الشان بشارت، جو مرزا صاحب سے متعلق ہے ’’الفرقان‘‘ ربوہ، بابت
فروری ۱۹۷۴ء صفحہ نمبر:۱۴ سے پیشِ خدمت ہے:
اپنی آمدِ ثانی کے ذِکر میں فرمایا:
’’تب اگر کوئی تم سے کہے کہ دیکھو مسیح یہاں ہے یا وہاں ہے (مثلاً: قادیان میں) تو نہ ماننا، کیونکہ جھوٹے مسیح اور
جھوٹے نبی
236
برپا ہوں گے (اور ایسے بڑے نشان اور عجیب کام دِکھائیں گے کہ اگر ممکن ہو تو برگزیدوں کو بھی گمراہ کرلیں)
(بین القوسین کی عبارت ’’الفرقان‘‘ میں نہیں، ہم نے بائبل سے اِضافہ کی ہے: متی ۲۴/۲۳، ۲۵ کیتھولک بائبل) جھوٹے
نبیوں سے خبردار رہ جو تمہارے پاس بھیڑوں کے بھیس میں آتے ہیں (مثلاً: بڑی معصومیت سے دعویٰ کرتے ہیں کہ میں مسیحِ
ناصری کا مثیل بن کر آیا ہوں) مگر باطن میں پھاڑنے والے بھیڑیے ہیں، تم انہیں پھلوں سے پہچان لوگے (مثلاً: تعلّی
آمیز دعوے، مغلظات کا اِستعمال، چندے کے اِشتہارات، بہشتی مقبرے کی فروخت، مرنے کے بعد ’’منارۃ المسیح‘‘ کی تکمیل،
تمام انبیاء علیہم السلام کی تنقیص، صحابہ کرامؓ کی تحمیق، علمائے اُمت کی تجہیل، اُمتِ اسلامیہ کی تکفیر، اعدائے
اسلام کے لئے جاسوسی وغیرہ) ...۔۔ اس دن بہتیرے مجھ سے کہیں گے: اے خداوند! اے خداوند! کیا ہم نے تیرے نام سے نبوّت
نہیں کی؟ (کہ آپ کی آمدِ ثانی کا اِنکار کرکے خود ’’مسیحِ موعود‘‘ کہلائے) ...... تب میں ان سے صاف کہوں گا کہ
میری تم سے کبھی واقفیت نہ تھی (تم یونہی جھوٹے دعوے ہانکتے رہے کہ ہماری رُوح کشفی حالت میں مسیح علیہ السلام سے
ملی ہے، ہم نے ایک دُوسرے کی مزاج پُرسی کی ہے۔ مرزا صاحب نے اس نوعیت کے دعوے کئے ہیں جو ان کے مجموعہ اِلہامات
ومکاشفات میں ملاحظہ کئے جاسکتے ہیں) اے بدکارو! میرے سامنے سے چلے جاؤ۔‘‘
(متی:۷/۱۵-۲۳)
(یہ حوالہ ’’الفرقان‘‘ ربوہ نے کسی اندیشۂ خاص کی بنا پر ذِکر نہیں کیا، اس کا اِضافہ ہماری طرف سے قبول فرمائیے)
’’اور جب وہ زیتون کے پہاڑ پر بیٹھا تھا، اس کے شاگردوں نے الگ اس
237
کے پاس آکر کہا کہ ہم کو بتا کہ یہ باتیں کب ہوں گی؟ اور تیرے آنے اور دُنیا کے آخر ہونے کا نشان کیا
ہوگا، یسوع نے جواب میں ان سے کہا کہ: خبردار! کوئی تم کو گمراہ نہ کردے، کیونکہ بہتیرے میرے نام سے آئیں گے اور
کہیں گے میں مسیح ہوں اور بہت سے لوگوں کو گمراہ کریں گے (یہ پیش گوئی من وعن پوری ہوئی، بیسیوں کذّاب، مسیح کا
لبادہ پہن کر آئے اور خلقِ خدا کو گمراہ کرکے چلتے بنے)۔‘‘
(متی:۲۴/۳-۵)
الغرض! جہاں تک حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی اس بشارت کا تعلق ہے کہ میرے بعد ایک ...اور صرف ایک... رسول آئے گا جس
کا نام احمد ہوگا، تو یہ ہمارے آقا سیّدالمرسلین وخاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم کی تشریف آوری سے پوری ہوچکی
ہے، اس کے بعد نہ کسی ’’احمد‘‘ کی گنجائش ہے، نہ ’’غلام احمد‘‘ کی۔ قادیانی اُمت اگر اس ردائے بشارت کو آنحضرت صلی
اللہ علیہ وسلم سے چھین کر کسی ’’غلام‘‘ کے حوالے کرے گی تو تحریفِ قرآن اور سرقۂ بشارت کے ذریعے اپنی عقل ودانش
پر جگ ہنسائی کا موقع فراہم کرے گی۔ البتہ اگر مرزا صاحب پر حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی ’’بشارت‘‘ چسپاں کرنے کا بہت
ہی شوق ہے تو ’’الفرقان‘‘ ربوہ کے حوالے سے وہ بشارت بھی پیشِ خدمت ہے یعنی ’’بہتیرے میرے نام سے آئیں گے اور کہیں
گے کہ میں ’’مسیح‘‘ ہوں، اور بہت سے لوگوں کو گمراہ کریں گے۔‘‘ یہ بشارت مرزا صاحب پر بغیر کسی تأویل کے حرف بحرف
صادق آتی ہے، قادیانی اُمت چاہے تو ان کے مسیحِ موعود کو ان مدعیانِ مسیحیت میں سرِفہرست جگہ دی جاسکتی ہے۔ ہماری
گزارش ہے کہ قادیانی اُمت کو ’’متی‘‘ کے محوّلہ بالا دونوں اَبواب کا مطالعہ نہایت سنجیدگی اور تدبر سے کرنا چاہئے،
وَاللہُ یَقُوْلُ الْحَقَّ وَھُوَ یَھْدِی السَّبِیْلَ۔
حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی ارشاد فرمودہ اس ’’بشارت‘‘ کی تصدیق آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے صحیح مسلم میں بایں
الفاظ موجود ہے:
’’یکون فی آخر الزمان دجّالون کذّابون
238
یأتونکم من الأحادیث ما لم تسمعوا أنتم ولَا آبائکم، فإیاکم وإیاھم! لَا یضلونکم
ولَا یفتنونکم۔ رواہ مسلم۔‘‘
(مشکوٰۃ ص:۲۸)
ترجمہ:... ’’آخر زمانے میں بہت سے دجال، کذّاب ْْ...مکار، جھوٹے... ہوں گے ...جن کی علامت یہ ہے
کہ... وہ تمہارے سامنے ایسی باتیں لائیں گے، جو نہ تم نے کبھی سنی ہوں گی، نہ تمہارے باپ دادا نے، خبردار! ان سے
بچتے رہنا! کہیں تمہیں گمراہ نہ کردیں اور اپنے فتنے کے جال میں نہ پھانس لیں۔‘‘
صاحبِ مرقات لکھتے ہیں: ’’یعنی وہ جھوٹی حدیثیں پیش کریں گے، باطل اَحکام گھڑیں گے، اور اِعتقاداتِ باطلہ کو مکر
وفریب سے رائج کریں گے۔‘‘ اللہ تعالیٰ نے موقع دیا تو اس حدیث کی تشریح کرتے ہوئے ہم بتائیں گے کہ کس طرح یہ حدیثی
بشارت مرزا صاحب اور ان کی اُمت پر حرف بحرف صادق آتی ہے۔ تاہم زیرِ نظر تحریف ہی سے قادیانیت کے عقائدِ باطلہ کا
کسی قدر اَندازہ ہوجاتا ہے،والعاقل تکفیہ الْإشارۃ!
قادیانی ’’محمد رسول اللہ‘‘ اور ’’رسولہٗ‘‘:
سورۃ الفتح کی آخری آیت: ’’مُحَمَّدٌ رَّسُوْلُ اللہِ وَالَّذِیْنَ مَعَہُ اَشِدَّآءُ عَلَی
الْکُفَّارِ رُحَمَآءُ بَیْنَھُمْ‘‘ ... محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) اللہ کے رسول ہیں، اور جو لوگ آپ کے
صحبت یافتہ ہیں وہ کافروں کے مقابلے میں سخت اور آپس میں مہربان ہیں... اور سورۃ الصف کی آیت نمبر۵: ’’ھُوَ الَّذِیْ اَرْسَلَ رَسُوْلَہٗ بِالْھُدٰی وَدِیْنِ الْحَقِّ لِیُظْھِرَہٗ عَلَی الدِّیْنِ
کُلِّہٖ وَلَوْ کَرِہَ الْمُشْرِکُوْنَ‘‘ ...وہ اللہ ایسا ہے، جس نے اپنے رسول کو ہدایت (قرآن) اور دِینِ
حق (اسلام) دے کر بھیجا ہے تاکہ اس دِین کو تمام دِینوں پر غالب کردے، گو مشرکوں کو کتنا ہی ناگوار ہو... ان دونوں
آیتوں کے بارے میں مرزا صاحب کا ’’اِلہامی اِنکشاف‘‘ یہ ہے کہ پہلی آیت میں ’’محمد رسول اللہ‘‘ سے اور دُوسری آیت
239
میں ’’رسولہٗ‘‘ سے مراد ان کی ذات ہے ...نعوذباللہ... چنانچہ اپنے اِشتہار ’’ایک غلطی کا اِزالہ‘‘ میں
لکھتے ہیں:
’’حق یہ ہے کہ خدا تعالیٰ کی وہ پاک وحی جو میرے پر نازل ہوتی ہے، اس میں ایسے لفظ رسولؔ اور مرسلؔ اور نبیؔ کے
موجود ہیں، نہ ایک دفعہ بلکہ صدہا دفعہ ......۔۔ چنانچہ وہ مکالماتِ اِلٰہیہ جو براہین احمدیہ میں شائع ہوچکے ہیں،
ان میں سے ایک یہ وحی اللہ ہے: ’’ھو الذی أرسل رسولہ بالھدیٰ ودین الحق لیظھرہ علی الدین
کلہ‘‘ دیکھو صفحہ:۴۹۸براہین احمدیہ۔ اس میں صاف طور پر اس عاجز کو رسول کرکے پکارا گیا ہے ...... پھر اسی
کتاب میں اس مکالمے کے قریب ہی یہ وحی اللہ ہے: ’’محمد رسول اللہ والذین معہ اشداء علی الکفار
رحمآء بینھم‘‘ اس وحی اِلٰہی میں میرا نام محمد رکھا گیا ہے اور رسول بھی۔‘‘
(ایک غلطی کا اِزالہ ص:۲،۳، رُوحانی خزائن ج:۱۸ ص:۲۰۶، ۲۰۷)
قادیانی ’’خاتم النبیین‘‘:
قادیانی محرف کی ’’فنی مہارت‘‘ کا کمال دیکھو کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے اسمائے گرامی کے سرقے کے بعد
’’بروز‘‘ کی کنجی سے ختمِ نبوّت کا سربمہر قفل کھول کر قصرِ نبوّت میں داخل ہوتا ہے، اور حضرت ختمی مآب صلی اللہ
علیہ وسلم کا جامہ زیبِ تن کرنے کے بعد باہر آتا ہے، مگر بقول اس کے خاتم النبیین کی مہر جوں کی توں رہتی ہے، مرزا
صاحب آیت ختمِ نبوّت کی تحریف کرتے ہوئے لکھتے ہیں:
’’اللہ تعالیٰ اس آیت میں فرماتا ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد ...... نبوّت کی تمام کھڑکیاں بند کی
گئیں، مگر ایک کھڑکی سیرت صدیقی کی کھلی ہے یعنی ’’فنا فی الرسول‘‘ کی (محض
240
جھوٹ، سراپا کذب اور قرآن پر خالص اِفترا ...ناقل) پس جو شخص اس کھڑکی کی راہ سے خدا کے پاس آتا ہے اس پر
ظلّی طور پر وہی نبوّت کی چادر پہنائی جاتی ہے جو نبوّتِ محمدیہ کی چادر ہے ...... اس کے معنی یہ ہیں کہ محمد کی
نبوّت آخر محمد کو ہی ملی، گو بزوری طور پر، مگر نہ کسی اور کو۔ پس یہ آیت کہ: ’’ما کان محمد
ابا احد من رجالکم ولٰکن رسول اللہ وخاتم النبیین‘‘ اس کے معنی یہ ہیں کہ: ’’لیس محمد
أبا أحد من رجال الدنیا ولٰکن ھو اب لرجال الآخرۃ لأنہ خاتم النبیین ولَا سبیل إلٰی فیوض اللہ من غیر
توسطہ‘‘ غرض میری نبوّت اور رِسالت باعتبار محمد اور احمد ہونے کے ہے، نہ میرے نفس کی رُو سے، اور یہ نام
بحیثیت فنا فی الرسول مجھے ملا، لہٰذا خاتم النبیین کے مفہوم میں فرق نہ آیا۔‘‘
(ایضاً ص:۲۰۷، ۲۰۸)
’’اور خدا نے آج سے بیس برس پہلے براہین احمدیہ میں میرا نام محمد اور احمد رکھا ہے، اور مجھے آنحضرت صلی اللہ
علیہ وسلم کا وجود قرار دیا ہے، پس اس طور سے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے خاتم الانبیاء ہونے میں ’’میری
نبوّت‘‘ سے کوئی تزلزل نہیں آیا، کیونکہ ظل اپنے اصل سے علیحدہ نہیں ہوتا (جی ہاں! قادیان کے ’’مراقی آئینہ‘‘ میں
ظل اور اصل کا حکم ایک ہی ہونا چاہئے، کیسے ٹھکانے کی بات ہے ...ناقل)، اور چونکہ میں ظلّی طور پر محمد ہوں، پس اس
طور سے خاتم النبیین کی مہر نہیں ٹوٹی (یہی تو فنِ قزاقی میں مہارت کا کمال ہے کہ مکان کا قفل سربمہر بھی رہے، اور
اس کے اندر کا سارا خزانہ بھی صاف ہوجائے ...ناقل)۔‘‘
(ایضاً ص:۲۱۲)
’’غرض خاتم النبیین کا لفظ ایک اِلٰہی مہر ہے جو آنحضرت
241
صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوّت پر لگ گئی ہے (کتنی بھونڈی تعبیر ہے، خاتم النبیین سے قصرِ نبوّت سربمہر ہوا ہے
یا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوّت پر ...معاذاللہ... مہر لگ گئی ہے؟ ...ناقل) اب ممکن نہیں کہ کبھی مہر ٹوٹ
جائے، ہاں یہ ممکن ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نہ ایک دفعہ بلکہ ہزار دفعہ دُنیا میں بروزی رنگ میں آجائیں
اور بروزی رنگ میں اور کمالات کے ساتھ اپنی نبوّت کا بھی اظہار کریں۔‘‘
(اِشتہار ایک غلطی کا اِزالہ ص:۱۰، ۱۱، رُوحانی خزائن ج:۱۸ ص:۲۱۴، ۲۱۵)
مرزا صاحب کا یہ ’’عقیدۂ بروز‘‘ اگر ایک طرف ہندوؤں کے عقیدۂ تناسخ کا چربہ ہے تو دُوسری طرف عیسائیوں کے عقیدۂ
تثلیث ...ایک تین اور تین ایک... کی طرح گورکھ دھندا بھی ہے۔ اس کی تشریح کے لئے کوئی دُوسری جگہ مناسب ہوگی، یہاں
تو ہمیں مرزا صاحب کی تحریفی چابک دستیوں سے غرض ہے، وہ اپنی نبوّتِ کاذبہ پر تحریف کا مکروہ پردہ ڈالنے کے لئے
مندرجہ ذیل اُصول وضع کرتے ہیں:
الف:... آیت خاتم النبیین کی رُو سے نبوّت کی تمام کھڑکیاں بند ہیں، مگر فنا فی الرسول کی کھڑکی کھلی ہے۔ جیسا کہ
ہم بین القوسین اشارہ کرچکے ہیں، یہ قرآنِ کریم پر خالص اِفترا اور دروغِ بے فروغ ہے۔ زیرِ بحث آیت قصرِ نبوّت کے
نہ صرف ایک ایک سوراخ کو بند کردیتی ہے بلکہ اسے سربمہر کردینے کا اِعلان کرتی ہے۔ مگر اس کے علی الرغم مرزا صاحب
’’فنا فی الرسول‘‘ اور ’’سیرتِ صدیقی‘‘ کی کھڑی کھلی رہنے کا اِعلان کرتے ہیں، دُنیا میں یہ تماشا کس نے دیکھا ہوگا
کہ حکومت کسی مکان کو اپنی تحویل میں لے کر سربمہر کردیتی ہے، مگر مرزا صاحب ایسے ذہین لوگوں کے لئے ایک کھڑکی کھلی
رہنے دیتی ہے۔ سوال یہ ہے کہ اگر کسی مکان کا چوردروازہ چوپٹ کھلا ہے تو اسے سربمہر کرنے کے تکلف کی کیا حاجت ہے...؟
ب:... مرزا صاحب کے خیال میں ظل اور اصل میں کوئی فرق نہیں، کوئی غیریت نہیں، کوئی دوئی نہیں، اس لئے قصرِ نبوّت کا
دروازہ کھولنے کے بعد وہ اِطمینان سے اندر
242
داخل ہوتے ہیں، آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا جامۂ نبوّت اُٹھاکر خود پہن لیتے ہیں، اور جب ’’چور، چور‘‘
کا شور سنتے ہیں تو بڑے اِطمینان سے لوگوں کو یقین دِلاتے ہیں کہ چونکہ خاکسار ’’فنا فی الرسول‘‘ ہے، ظلِ محمد ہے،
بروزِ اَحمد ہے، اس لئے محمد کی چیز محمد ہی کے پاس ہے۔ اگر نبوّت مسخرہ پن کا نام نہیں تو ہمیں بتایا جائے کہ یہ
بات دُنیا کے کس عاقل نے کہی ہے کہ ظل اور اَصل کے درمیان کوئی غیریت نہیں؟ اس لئے ظل کے بھی تمام وہی اَحکام ہیں جو
اَصل کے ہیں، ظل کا بھی وہی منصب ہے جو اَصل کا ہے، ظل کے بھی وہی حقوق ہیں جو اَصل کے ہیں، اور ظل بھی اسی سلوک کا
مستحق ہے جس کا اِستحقاق اصل کو حاصل ہے۔
کیا قادیان کا یہ تحریفی فلسفہ، جس پر قادیانیت کی ساری عمارت کھڑی ہے، اپنی بوالعجبی میں عیسائیوں کے فلسفۂ تثلیث
سے کچھ کم ہے؟ دُنیا کا کون عاقل ہے جو ظل کو عین اصل سمجھتا ہو؟ اور ’’فنا فی الرسول‘‘ کو رسول کی گدی پر بٹھانے کے
لئے آمادہ ہو، مگر قادیانی اُمت کی ذہنی سطح وہی ہے جس کا نقشہ ان کے ’’مسیحِ موعود‘‘ نے ان الفاظ میں کھینچا ہے:
’’یہ تو ان کی قیل وقال ہے جس سے ان کی موٹی سمجھ اور سطحی خیالات اور مبلغِ علم کا اندازہ ہوسکتا ہے، مگر فراستِ
صحیحہ سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ غفلت اور حبِ دُنیا کا کیڑا ان کی اِیمانی فراست کو بالکل کھا گیا ہے، ان میں سے
بعض ایسے ہیں کہ جیسے مجذوم کا جذام انتہا کے درجے تک پہنچ کر سقوطِ اعضاء تک نوبت پہنچاتا ہے اور ہاتھوں اور پیروں
کا گلنا سڑنا شروع ہوجاتا ہے، ایسا ہی ان کے رُوحانی اعضاء، جو رُوحانی قوتوں سے مراد ہیں، بباعث غلو محبتِ دُنیا کے
گلنے سڑنے شروع ہوگئے ہیں ...... دِینی معارف اور حقائق پر غور کرنے سے بکلی آزاد ہے، بلکہ یہ لوگ حقیقت اور معرفت
سے کچھ سروکار نہیں رکھتے، اور کبھی آنکھ اُٹھاکر نہیں دیکھتے کہ ہم دُنیا میں کیوں آئے اور ہمارا اصلی کمال کیا
ہے، بلکہ جیفۂ دُنیا میں دِن رات غرق ہو رہے ہیں، ان میں یہ حس ہی باقی نہیں رہی کہ اپنی حالت کو
243
ٹٹولیں کہ وہ کیسی سچائی کے طریق سے گری ہوئی ہے، اور بڑی بدقسمتی ان کی یہ ہے کہ یہ لوگ اپنی اس ’’نہایت
خطرناک‘‘ بیماری کو پوری پوری صحت خیال کرتے ہیں۔‘‘
(اِشتہار ’’حقانی تقریر بروفات بشیر‘‘ یعنی سبز اِشتہار ص:۱۸، ۱۹، رُوحانی خزائن ج:۲ ص:۴۶۴، ۴۶۵)
یہاں قادیانی اُمت کی اس ’’خطرناک بیماری‘‘ کے چند مناظر کا ملاحظہ بھی مناسب ہوگا:
۱:...
-
’’محمد پھر اُتر آئے ہیں ہم میں
اور آگے سے ہیں بڑھ کر اپنی شاں میں
-
محمد دیکھنے ہوں جس نے اکمل
غلام احمد کو دیکھے قادیاں میں
-
خدا نے لیا عہد سب انبیاء سے
کہ جب تم کو دُوں کتاب اور حکمت
-
پھر آئے تمہارا مصدق پیغمبر
تم ایمان لاؤ، کرو اس کی نصرت
-
لیا تھا جو میثاق سب انبیاء سے
وہ عہد حق نے لیا مصطفی سے
-
وہ نوح وخلیل وکلیم ومسیحا
سبھی سے یہ پیمانِ محکم لیا تھا
مبارک! وہ اُمت کا موعود آیا
(اخبار ’’الفضل‘‘ ۲۶؍فروری ۱۹۲۴ء)
۲:... ’’اگر مسیحِ موعود کا منکر کافر نہیں تو نعوذباللہ نبی کریم کا منکر بھی کافر نہیں، کیونکہ یہ کس طرح ممکن ہے
کہ پہلی بعثت میں آپ
244
کا اِنکار کفر ہو مگر دُوسری بعثت میں، جس میں بقول حضرت مسیحِ موعود آپ کی رُوحانیت اقویٰ اور اکمل اور
اَشد ہے، آپ کا اِنکار کفر نہ ہو۔‘‘
(کلمۃ الفصل، از مرزا بشیر احمد، مندرجہ رسالہ ریویو آف ریلیجنز شمار نمبر۳ ج:۱۴ ص:۱۴۷)
۳:... ’’حضرت مسیحِ موعود علیہ السلام (مرزا صاحب) کا ذہنی اِرتقاء آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے زیادہ تھا
......۔ اس زمانے میں تمدنی ترقی زیادہ ہوئی ہے، اور یہ جزوی فضیلت ہے جو مسیحِ موعود کو آنحضرت صلعم پر حاصل ہے۔‘‘
(مضمون ڈاکٹر شاہنواز خان صاحب، مندرجہ رسالہ ریویو آف ریلیجنز بابت مئی ۱۹۲۹ء)
۴:... ’’مسیحِ موعود محمد است وعین محمد است۔‘‘
(عنوان مندرجہ اخبار ’’الفضل‘‘ ۱۷؍اگست ۱۹۱۵ء)
۵:...
-
’’صدی چودھویں کا ہوا سر مبارک
کہ جس پر وہ بدرالدجیٰ بن کے آیا
-
محمد پئے چارہ سازیٔ اُمت
ہے اب احمد مجتبیٰ بن کے آیا
-
حقیقت کھلی بعث ثانی کی ہم پر
کہ جب مصطفی میرزا بن کے آیا‘‘
(اخبار ’’الفضل‘‘ قادیان ۲۸؍مئی ۱۹۲۸ء)
دیکھا آپ نے...! کس طرح مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم ...معاذاللہ... میرزا بن گئے اور مرزا عین محمد بن گئے؟ ان کا
ذہنی اِرتقاء ...نعوذباللہ... نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے بھی بڑھ گیا، تمام نبیوں سے مرزاجی کے واسطے خدا نے
عہد بھی لے لیا اور ان کی نبوّت کا اِنکار آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے اِنکار سے بڑھ کر کفر قرار پایا، مگر بقول
ان کے ختمِ نبوّت کی مہر نہیں ٹوٹی، اگرچہ عقل وخرد کے سارے بندھن ٹوٹ گئے۔
245
ج:... مرزا صاحب نے اِعلانِ عام کیا ہے کہ: ’’ممکن ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم، ایک بار نہیں بلکہ
ہزار بار بروزی رنگ میں آکر اِظہارِ نبوّت کریں۔‘‘ مگر کیا قادیانی اُمت کے نزدیک واقعہ بھی یہی ہے؟ ہرگز نہیں!
بلکہ واقعہ یہ ہے کہ ان کے نزدیک آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد مرزا صاحب پہلے اور آخری شخص ہیں جو اس منصب پر
فائز ہوئے، نہ مرزا صاحب سے پہلے کوئی آیا، نہ آئندہ آئے گا۔ اس سے واضح ہوجاتا ہے کہ یہ بروزی فلسفہ دراصل مرزا
صاحب کو منصبِ نبوّت پر فائز کرنے کی سازش ہے، ورنہ کیا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا فیضان بس اتنا ہی تھا کہ پوری
اُمت میں صرف ایک شخص ’’فنا فی الرسول‘‘ کی کھڑکی سے قصرِ نبوّت میں داخل ہوسکتا؟ علامہ اقبالؒ نے صحیح کہا ہے:
’’محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد کسی ایسے اِلہام کا اِمکان ہی نہیں جس سے اِنکار کفر کو مستلزم ہو، جو شخص ایسے
اِلہام کا دعویٰ کرتا ہے وہ اسلام سے غداری کرتا ہے ......۔ بانیٔ احمدیت کا اِستدلال یہ ہے کہ اگر کوئی دُوسرا نبی
پیدا نہ ہوسکے تو پیغمبرِ اِسلام کی رُوحانیت نامکمل رہ جائے گی، وہ اپنے دعوے کے ثبوت میں کہ پیغمبرِ اِسلام کی
رُوحانیت میں پیغمبرخیز قوّت تھی، خود اپنی نبوّت کو پیش کرتا ہے، لیکن آپ اس سے پھر دریافت کریں کہ محمد صلی اللہ
علیہ وسلم کی رُوحانیت ایک سے زیادہ نبی پیدا کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے؟ تو اس کا جواب نفی میں ہے۔ یہ خیال اس بات کے
برابر ہے کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم آخری نبی نہیں، میں آخری نبی ہوں ......۔ جب میں بانیٔ احمدیت کی نفسیات کا
مطالعہ ان کے دعوے کی روشنی میں کرتا ہوں تو معلوم ہوتا ہے کہ وہ اپنے دعویٔ نبوّت میں پیغمبرِ اِسلام کی تخلیقی
قوّت صرف ایک نبی یعنی تحریکِ احمدیت کے بانی کی پیدائش تک محدود کرکے پیغمبرِ اِسلام کے آخری نبی ہونے سے اِنکار
کردیتا ہے، اور اس طرح یہ نیا پیغمبر چپکے سے اپنے رُوحانی مورث کی ختمِ نبوّت پر
246
متصرف ہوجاتا ہے۔‘‘
(حرفِ اقبال ص:۱۲۷، ۱۲۸)
د:... اور یہ ’’فنا فی الرسول‘‘ کی ’’بروزی کھڑکی‘‘ جس سے گزر کر مرزا صاحب نے ’’انا محمد‘‘ کا نعرۂ مستانہ بلند
کیا، جب ہم اس کی گہرائی میں اُتر کر غور کرتے ہیں تو صاف نظر آتا ہے کہ مرزا صاحب جس طرح منصبِ رسالت سے ناآشنا
ہیں، اسی طرح ’’فنا فی الرسول‘‘ اور ’’سیرتِ صدیقی‘‘ کے مفہوم سے بھی کورے ہیں۔ ’’مقامِ صدیقی‘‘ صوفیا کی اِصطلاح
میں ’’فنا فی الرسول‘‘ کا آخری مقام تسلیم کیا جاتا ہے، اس کے معنی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے مقابل اُبھرنے
کے نہیں، بلکہ مٹنے کے ہیں، ’’فنا فی الرسول‘‘ کا ادنیٰ مرتبہ یہ ہے کہ اِعتقادی طور پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ
وسلم کی ذاتِ عالی کے سامنے اُمتی کو اپنا وجود اس قدر کوتاہ قامت اور ہیچ نظر آئے کہ اسے وجود کہنا بھی اس کے لئے
ننگ وعار کا موجب ہو، پہاڑ کے سامنے ذرّے کی اور بحرِ محیط کے سامنے قطرے کی کوئی حیثیت ہوسکتی ہے، مگر رسول اللہ
صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے صرف ایک اُمتی تو کجا؟ پوری اُمت کے مجموعی کمالات کی کوئی حیثیت نہیں، اسی بنا پر
عارفین نے تصریح کی ہے کہ اگر بالفرض ساری دُنیا صدیقوں سے بھر جائے تو ان سب کے کمالات کا مجموعہ بھی کسی ادنیٰ نبی
...ولیس فیھم دنی ... کے ادنیٰ کمال کی گرد کو نہیں پاسکتا، مرزا صاحب نے بیسیوں نہیں،
سیکڑوں جگہ ’’ظل وبروز‘‘ اور ’’فنا فی الرسول‘‘ کی اِصطلاحات کو پامال کیا ہے، مگر جب آدمی ان کے تعلّی آمیز
دعوؤں کی میزان نکالنے بیٹھتا ہے تو ان کی ساری لفاظی کا نتیجہ صفر نکلتا ہے۔
مرزا صاحب ’’فنا فی الرسول‘‘ کے معنی ...اپنی روایتی خوش فہمی کی بنا پر... یہ سمجھتے ہیں کہ ایک اُمتی اِتباعِ
رسول میں یہاں تک ترقی کرتا چلا جائے کہ بالآخر رسول کا صرف مثنی نہیں بلکہ خود رسول بن جائے، اور اسی کو وہ ’’ظل
وبروز‘‘ اور ’’عین محمد‘‘ سے تعبیر کرتے ہیں، اور اپنے بارے میں وہ اس درجہ پُراِعتماد ہیں کہ انہیں آنحضرت صلی
اللہ علیہ وسلم کی سیرتِ کاملہ ہی نہیں بلکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا نام، کام اور مقام تک حاصل ہوگیا ہے۔ مگر خود
ان کا یہی اِدّعا ان کے صحیح مقام کو متعین کردیتا ہے کہ وہ ’’اِتباعِ رسول‘‘ کے دروازے پر پہنچ کر اُلٹے پاؤں واپس
لوٹ آئے ہیں، اور اِتباعِ رسول کی جنتِ اِرم میں چلنا تو کجا؟ انہوں نے
247
اندر جھانک کر بھی اسے نہیں دیکھا۔ اگر انہیں ’’فنائیت‘‘ کا واقعۃً کوئی مقام حاصل ہوتا، اگر انہیں منصبِ
رِسالت کی کچھ بھی معرفت ہوتی اور ایک اُمتی کا جو صحیح مقام ہے، اس کی انہیں ذرا بھی خبر ہوجاتی تو وہ اپنے آپ کو
ان تعلّی آمیز دعوؤں کی بلند چوٹی پر کبھی نہ پاتے۔ اس سے واضح ہوجاتا ہے کہ ان کے بلند بانگ دعاوی کے ڈھول میں
ہوا کے سوا کچھ نہیں۔
ہ:... فنا فی الرسول کی اس ’’بروزی کھڑکی‘‘ سے یہ بات بھی عیاں ہوتی ہے کہ مرزا صاحب کے نزدیک دیگر مناصب کی طرح
نبوّت بھی ایک ایسی چیز ہے، جسے آدمی محنت ومجاہدہ اور اِتباعِ رسول کے زینے سے حاصل کرسکتا ہے، یہی وجہ ہے کہ مرزا
صاحب نے محدثیت سے لے کر مسیحیت تک کے مدارج طے کرنے کے بعد بزعمِ خود نبوّت کی بامِ بلند پر قدم رکھا ہے، اور
اِسلامی عقائد میں اس کی تصریح کردی گئی ہے کہ ایسا نظریہ صریح کفر اور زَندقہ ہے،وَلِلتَّفْصِیْلِ مَحَلٌّ آخَر!
248
تحریفِ قرآن اور قادیانی ’’عذرِ لنگ‘‘
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ
اَلْحَمْدُ للہِ وَسَلَامٌ عَلٰی عِبَادِہِ الَّذِیْنَ اصْطَفٰی!
گزشتہ سال آزاد کشمیر اسمبلی نے قادیانیوں کو ایک غیرمسلم اقلیت قرار دینے کی قرارداد منظور کرکے عالمی توجہ کو
ایک بار پھر ’’قادیانی مسئلہ‘‘ کی جانب مبذول کردیا، قادیانیت ابھی اس سے عہدہ برآ ہونے کے لئے ہاتھ پاؤں مار رہی
تھی کہ چند ماہ قبل ایک مضمون مختلف رسائل میں شائع ہوا، جس میں مرزا غلام احمد صاحب کی کتابوں میں درج شدہ چند
آیات شریفہ کی تحریف کا نوٹس لیتے ہوئے حکومت سے مطالبہ کیا گیا کہ قرآنِ کریم کی تحریف ظلمِ عظیم ہے، اس لئے ایسی
کتابوں کی اِشاعت پر پابندی عائد ہونی چاہئے۔ اس مطالبے سے ’’ربوہ‘‘ کے قصرِ خلافت میں زلزلہ آگیا کہ کہیں پنجاب
میں بھی آزاد کشمیر جیسی صورتِ حال پیدا نہ ہوجائے۔ اس کے تدارک کے لئے مرزائی آرگن روزنامہ ’’الفضل‘‘ ربوہ نے
’’تحریفِ قرآن کا اِلزام اور اس کی نامعقولیت‘‘ کے زیرِ عنوان ’’قادیانی علم الکلام‘‘ کا ایک نیا باب رقم فرمایا
ہے، یعنی بقول ان کے ’’۲۵نامی گرامی علمائے دِین‘‘ کے مضامین، تقاریر اور کتب میں درج شدہ ۸۲آیات میں ۱۳۴ موٹی موٹی
غلطیوں کی نشاندہی کرنے کے بعد اِرشاد ہوتا ہے:
’’کوئی کتاب ایسی نہیں ہے جس میں درج شدہ آیاتِ قرآنی میں کاتب صاحبان اور پروف ریڈر صاحبان کی ’’مہربانی‘‘ سے
(اور یہ ’’مہربانی‘‘ بجائے خود بشری تقاضے کی مرہونِ منّت ہے ...ناقل) سرے سے کوئی غلطی ہی نہ ہو۔‘‘
249
اور یہ کہ:
’’کتابت کی چند ایک غلطیوں کو تحریفِ قرآن قرار دینا سراسر غیرمعقول ہے، اور اس کا مقصد فتنہ انگیزی کے سوا اور
کچھ نہیں......۔۔‘‘
’’الفضل‘‘ کی اس ساری منطق کا حاصل یہ ہے کہ جس طرح اور کتابوں میں کتابت کی غلطیاں رہ جاتی ہیں، جن کا ذمہ دار
مصنف نہیں ہوتا بلکہ کاتب اور پروف ریڈر صاحبان کے بشری تقاضے کی ’’مہربانی‘‘ ہوتی ہے، اسی طرح مرزا صاحب نے قرآن
کی تحریف نہیں فرمائی، جو محرف شدہ آیات ان کی کتابوں میں موجود ہیں، وہ سب قادیانیت پر کاتب صاحبان کا ’’اِحسان‘‘
ہے۔
’’الفضل‘‘ کے قارئین کو یہ جواب، جو ’’عذرِ گناہ بدتر اَز گناہ‘‘ کا ایک نیا ریکارڈ ہے، پڑھ کر مرزائی اُمت کے دِین
ودیانت پر ضرور رحم آئے گا، مگر انہیں اس پر کوئی تعجب نہیں ہونا چاہئے، کیونکہ دجل وتلبیس مرزائیت کے خمیر میں
شامل ہے، اور یہ ان کے ’’مسیحِ موعود‘‘ کی مخصوص تکنیک ہے۔ البتہ ہمیں ’’الفضل‘‘ کے مدیرِ شہیر سے یہ شکایت ضرور رہے
گی کہ انہوں نے ’’کرے داڑھی والا اور پکڑا جائے مونچھوں والا‘‘ کے بمصداق تحریفِ قرآن کا سارا بار کاتبوں کے کندھے
پر ڈال کر حق واِنصاف کا خون کیا ہے۔ اگر وہ یہ تأویل کرتے تو بجا تھا کہ کاتب صاحبان تو خیر غلطیاں کیا ہی کرتے
ہیں، مگر کبھی کبھی خود ہمارے حضرت صاحب بھی ’’سہوِ کتابت‘‘ کے عارضے میں مبتلا ہوجاتے تھے، کیونکہ وہ دورانِ سر،
مراق، ضعفِ دِماغ اور کثرتِ بول کے دائمی مریض تھے، اور یہ تحفہ انہیں دعویٔ مسیحیت کے ’’اِنعام‘‘ میں بطورِ نشان
عطا ہوا تھا، خود مرزا صاحب لکھتے ہیں:
’’ہاں دو مرض میرے ’’لاحقِ حال‘‘ ہیں، ایک بدن کے اُوپر کے حصے میں، اور دُوسری بدن کے نیچے کے حصے میں، اُوپر کے
حصے میں دورانِ سر ہے اور نیچے کے حصے میں کثرتِ پیشاب ہے، اور دونوں مرضیں اسی زمانے سے ہیں جس زمانے سے میں نے
اپنا
250
دعویٰ مأمور من اللہ ہونے کا شائع کیا ہے، میں نے ان کے لئے دُعائیں بھی کیں مگر منع میں جواب پایا اور
میرے دِل میں القا کیا گیا کہ ابتدا سے ’’مسیحِ موعود‘‘ کے لئے یہ ’’نشان‘‘ مقرّر ہے۔‘‘
(حقیقۃ الوحی ص:۳۰۷، رُوحانی خزائن ج:۲۲ ص:۳۲۰)
بالکل صحیح فرمایا، جھوٹے مسیح کا نشان، خارقِ عادت مراق اور سلس البول کے سوا اور کیا ہوسکتا ہے؟ یہی اس کے
’’لاحقِ حال‘‘ ہے۔ ایک دُوسری جگہ فرماتے ہیں:
’’دیکھو میری بیماری کی نسبت بھی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے پیش گوئی کی تھی جو اسی طرح وقوع میں آئی، آپ نے
فرمایا تھا کہ مسیح آسمان پر سے جب اُترے گا (کیا فرماتے ہیں علمائے مرزائیت اس مسئلے میں کہ کیا واقعی آنحضرت صلی
اللہ علیہ وسلم نے مسیح کے ’’آسمان سے اُترنے‘‘ کی پیش گوئی فرمائی ہے؟ جیسا کہ مرزا صاحب نے تحریر فرمایا ہے؟ یا
یہ کہ ’’آسمان سے اُترنے‘‘ کا لفظ مرزا صاحب نے محض مراقی ترنگ میں لکھ دیا؟ بینوا توجروا! ...ناقل) تو دو زَرد
چادریں اس نے پہنی ہوئی ہوں گی، تو اسی طرح مجھ کو دو بیماریاں ہیں، ایک اُوپر کے دھڑ کی، اور ایک نیچے کے دھڑ کی،
یعنی مراق اور کثرتِ بول، (دو زَرد چادروں کا ترجمہ مراق اور کثرتِ بول! سبحان اللہ! کتنا خوبصورت اور خوشبودار
ترجمہ ہے، یا للعجب! ...ناقل)۔‘‘
(ملفوظات ج:۸ ص:۴۴۵)
مراق، ضعفِ دِماغ، ضعفِ اعصاب، دورانِ سر اور دِن میں سو سو بار پیشاب کرنا تو چشمِ بددُور مرزا صاحب کا مسیحی
معجزہ ہوا، مزید برآں یہ کہ مرزا صاحب قرآن کے حافظ نہیں تھے، اور آیات نقل کرتے وقت شاید ان کو قرآنِ کریم کی
مراجعت کی فرصت بھی کم ہوتی ہوگی، اس لئے مرزا صاحب کی کتابوں میں درج شدہ آیاتِ قرآن میں جو غلطیاں ملتی ہیں وہ
دراصل مرزا صاحب کے ’’مسیحی عارضے‘‘ کی مرہون ہیں، مدیر ’’الفضل‘‘ کو چاہئے
251
تھا کہ اپنے ’’مسیحِ موعود‘‘ کی سنت کے مطابق انہیں ’’نشانِ مسیحیت‘‘ قرار دے کر ان پر فخر کرتے، مگر صد
حیف کہ وہ ’’مسیحِ موعود کے اس عظیم نشان‘‘ کو مرزا صاحب سے چھین کر کاتبوں اور پروف ریڈر صاحبان کے سر منڈھنا چاہتے
ہیں۔
اگر انہیں یہ تأویل پسند نہیں تھی، تب بھی کاتبوں کے ذمہ سارا بار ڈالنے کا کوئی جواز نہیں تھا، بلکہ انہیں جرأتِ
رندانہ سے کام لے کر صاف صاف لکھنا چاہئے تھا کہ قرآن کی صحیح عبارت وہی ہے جو مرزا صاحب نے لکھی، کیونکہ قرآن تو
آج مرزا صاحب کی بدولت ہی موجود ہے، ورنہ وہ تو کبھی کا اُٹھ چکا تھا۔ مرزا صاحب ’’اِزالہ اوہام‘‘ کے حاشیہ میں
صفحہ:۷۲۷ پر تحریر فرماتے ہیں کہ قرآن زمین سے اُٹھ گیا تھا، وہ قرآن کو آسمان پر سے لائے ہیں۔
(رُوحانی خزائن ج:۳ ص:۴۹۳)
ظاہر ہے کہ قرآن کو لانے والا ہی اس کی تصحیح بھی کرسکتا ہے، اور یہ بھی بتاسکتا ہے کہ مسلمانوں کے ہاتھ میں جو
قرآن ہے اس میں فلاں فلاں جگہ غلطی ہے ...معاذاللہ! نقلِ کفر، کفر نباشد -ناقل...۔ چنانچہ مرزا صاحب نے یہ منصب بھی
اپنے ہاتھ میں رکھا ہے، وہ لکھتے ہیں کہ وہ قرآن کی غلطیاں نکالنے کے لئے آئے ہیں جو تفسیروں کی وجہ سے واقع ہوگئی
ہیں۔
(اِزالہ اوہام ص:۷۰۸، رُوحانی خزائن ج:۳ ص:۴۸۲)
یہی وجہ ہے کہ کشف کی حالت میں مرزا صاحب کو ’’انا انزلناہ قریباً من القادیان‘‘ بھی قرآن مجید میں لکھا ہوا نظر
آیا (اِزالہ اوہام ص:۷۶، ۷۷، رُوحانی خزائن ج:۳ ص:۱۴۰ حاشیہ)۔ چونکہ مرزائیوں کے نزدیک مرزا صاحب کے کشف کو وحی کا
درجہ حاصل ہے، اس لئے ہمیں یقین ہے کہ ’’الفضل برادری‘‘ اس فقرے کو قرآن کی آیت سمجھتی ہوگی، اور اسی بنا پر ان کے
نزدیک مکہ اور مدینہ کے ساتھ ’’قادیان‘‘ بھی مقدس شہر ہے، کیونکہ اسی کشف میں مرزا صاحب نے یہ بھی دیکھا تھا کہ تین
شہروں کا نام اِعزاز کے ساتھ قرآن شریف میں درج کیا گیا ہے: ’’مکہ، مدینہ اور قادیان‘‘۔
الغرض ’’الفضل‘‘ کو دعویٰ کرنا چاہئے تھا کہ جس طرح دُنیا کی کوئی تفسیر مرزا صاحب کی تصدیق کے بغیر معتبر نہیں،
اسی طرح قرآن کا کوئی نسخہ صحیح نہیں جب تک کہ مرزا
252
صاحب اس کے صحیح ہونے کی تصدیق نہ فرمادیں۔ ایک طرف قرآن کو آسمان سے زمین پر لانے اور قرآن کی غلطیاں
نکالنے کے بلند بانگ دعوے کرنا اور دُوسری طرف ترمیم شدہ آیات کو غریب کاتبوں کے سر دے مارنا، کیا اسی کا نام
’’پنجابی مسیحیت‘‘ ہے؟
اور اگر ’’الفضل‘‘ کے مدیر محترم، مرزا صاحب کو اس منصب سے بھی معزول کرنا چاہتے ہیں تو سوال یہ ہے کہ کسی ایرے
غیرے کے کلام میں نہیں بلکہ مرزائیوں کے ’’مسیحِ موعود‘‘ کے کلام میں اتنی فحش غلطیاں کیوں درآئیں؟ جبکہ ان کا
دعویٰ ہے کہ:
’’میں تو بس قرآن ہی کی طرح ہوں اور عنقریب میرے ہاتھ پر ظاہر ہوگا جو کچھ فرقان سے ظاہر ہوا۔‘‘
(بشریٰ ج:۲ ص:۱۱۹، تذکرہ ص:۶۷۴)
’’اس عاجز کو اپنے ذاتی تجربے سے یہ معلوم ہے کہ رُوح القدس کی قدسیت ہر وقت اور ہر دَم اور ہر لحظہ بلافصل ملہم
(یعنی مرزا صاحب) کے تمام قویٰ میں کام کرتی رہتی ہے۔‘‘
(حاشیہ آئینہ کمالات ص:۹۳، رُوحانی خزائن ج:۵ ص:۹۳)
کیسی شرم کی بات ہے کہ ایک طرف ’’قرآن ہی کی طرح ہوں‘‘ کہہ کر تقدس کے دعوے کئے جائیں، ’’رُوح القدس کی ہر لحظہ
معیت‘‘ کا اِفترا کیا جائے اور دُوسری طرف قرآن کی آیتیں مسخ کرکے پیش کی جائیں، اور پوچھنے پر ’’کاتب کی غلطی‘‘
کا عذرِ لنگ پیش کردیا جائے۔
قرآنِ کریم، جس کا ایک ایک حرف متواتر ہے، جس کے مطبوعہ نسخے گھر گھر موجود ہیں اور جس کے سیکڑوں حافظ ہر خطے میں
مل سکتے ہیں، جب تمام مرزائی ذُرّیت مل کر بھی اپنی کتابوں میں قرآنِ کریم کی آیات کا صحیح اِندراج کرنے پر پون
صدی تک قادر نہ ہوسکی تو ان کے ’’ٹیچی ٹیچی‘‘ کی وحی کب قابلِ اِعتبار ہوسکتی ہے؟ اور مرزائی اُمت دُنیا کو مرزا
صاحب کی ’’وحی‘‘ پر اِیمان لانے کی دعوت کس منہ سے دیتی ہے؟ مدیر ’’الفضل‘‘ کی خوش فہمی کی داد دیجئے، سوال کیا جاتا
ہے کہ آپ کے نام نہاد ’’مسیحِ موعود‘‘ قرآن کی آیات کو اَدل
253
بدل کر کیوں تحریر فرماتے ہیں؟ جواب ملتا ہے کہ: ’’اس لئے کہ دُوسرے لوگوں کی کتابوں میں بھی ایسی غلطیاں
سہوِ کتابت کی بنا پر پا ئی جاتی ہیں۔‘‘ مدیر ’’الفضل‘‘ صاحب! پہلے مرزا صاحب کو مسیحیت کی جلوہ گاہ سے نیچے کھینچ
کر عام لوگوں کی صف میں کھڑا کیجئے اور پھر سہوِ کتابت کی نظیریں پیش کیجئے۔
اس سے بھی قطع نظر اہم سوال یہ ہے کہ اگر بقول ’’الفضل‘‘ یہ غلطیاں کاتبوں کی بشریت کے تقاضے کی مرہون ہیں تو
قادیان سے ربوہ تک اور مسیحِ موعود سے مصلحِ موعود کے دور تک پون صدی کے تمام ایڈیشنوں میں کیوں یہ غلطیاں جوں کی
توں محفوظ رکھی گئی ہیں؟ کیا مرزائی اُمت کو اس طویل مدّت میں ایک بھی بالغ نظر پروف ریڈر نہیں ملا جو اِن غلطیوں کی
اِصلاح کردیتا؟ چلئے آپ کے پروف ریڈر صاحبان کی نظر کمزور تھی، مگر اس کا کیا علاج ہے کہ علمائے اُمت نے پہلے
ایڈیشن ہی سے ان غلطیوں کی نشاندہی کردی تھی، مگر کیا اس کے باوجود مرزائی اُمت کو اِصلاحِ اَغلاط کی توفیق ہوئی؟ یا
کوئی غلط نامہ شائع کیا گیا؟ کیا اس کا یہ مطلب نہیں کہ مرزائی اُمت ان محرف آیات پر بھی اسی طرح اِیمان رکھتی ہے،
جس طرح کہ مرزا صاحب کی خود تراشیدہ ’’وحی‘‘ پر؟ اور غریب کاتبوں پر اِلزام محض دفع الوقتی اور سخن سازی ہے؟ سخن
سازی اور سخن پروری کی بھی کوئی حد ہوتی ہے، مگر مرزائی اُمت کا تو باوا آدم ہی نرالا ہے، بقول مرزا صاحب:
’’جب انسان حیا کو چھوڑ دیتا ہے تو جو چاہے بکے، کون اس کو روکتا ہے؟‘‘
(اِعجازِ احمدی ص:۳، رُوحانی خزائن ج:۱۹ص:۱۰۹)
ان معروضات سے واضح ہوگیا ہوگا کہ قادیانیت پر تحریف کا اِلزام محض اِلزام نہیں، بلکہ ایک کھلی حقیقت ہے، اور
’’الفضل‘‘ کی منطق محض ابلہ فریبی ہے۔ اس کی مزید توضیح کے لئے علمائے اُمت نے مرزا صاحب کی نقل کردہ قرآنی آیات
میں جن غلطیوں کی نشاندہی کی ہے، ہم ان کی ایک مختصر فہرست پیش کرتے ہیں، اسے سامنے رکھ کر قارئین کو خود فیصلہ کرنا
چاہئے کہ طویل مدّت سے آیاتِ قرآن پر مسخ وتحریف کی جو مشقِ ستم جاری ہے، یہ قادیانیت کی سوچی سمجھی تحریفی سازش
ہے یا اس کا وبال صرف غریب کاتبوں کے سر پر ہے؟
254
اور یہ کہ جن کتابوں میں قرآنِ کریم کی کھلی تحریف کو رَوا رکھا گیا، کیا کوئی اسلامی حکومت ان کی اِشاعت
کی اجازت دے سکتی ہے؟ اور کیا پاکستان کے لئے قرآن کی یہ کھلی توہین قابلِ برداشت ہے...؟
قرآن:
۱:... ’’وَاِنْ کُنْتُمْ فِیْ رَیْبٍ مِّمَّا نَزَّلْنَا عَلٰی عَبْدِنَا فَاْتُوْا بِسُوْرَۃٍ
مِّنْ مِّثْلِہٖ وَادْعُوْا شُھَدَآئَکُمْ مِّنْ دُوْنِ اللہِ اِنْ کُنْتُمْ صٰدِقِیْنَ Yفَاِنْ لَّمْ
تَفْعَلُوْا ...‘‘
(البقرۃ:۲۳،۲۴)
مرزا صاحب:
’’وان کنتم فی ریب مما نزلنا علٰی عبدنا فاتوا بسورۃ من مثلہ وان لم تفعلوا ولن تفعلوا‘‘
(سرمہ چشم آریہ حاشیہ ص:۱۰، براہین احمدیہ ص:۳۹۵، ۳۹۶، ۵۴۶، نورالحق ج:۱ ص:۱۰۹، حقیقۃ الوحی ص:۲۴۸)
مرزا صاحب نے قرآن کے خط کشیدہ الفاظ ہضم کرلئے اور ’’وان‘‘ کا اِضافہ اپنی طرف سے کردیا، اور پھر ایک آدھ جگہ
نہیں، بلکہ چار کتابوں میں کئی جگہ آیت کو بگاڑ کر لکھا، کیا متعدّد کتب میں یہ حک وفک صرف کاتبوں کا تصرف ہے...؟
قرآن:
۲:... ’’قُلْ لَّئِنِ اجْتَمَعَتِ الْاِنْسُ وَالْجِنُّ عَلٰٓی اَنْ یَّاْتُوْا...‘‘
(بنی اسرائیل:۸۸)
مرزا صاحب:
’’قل لئن اجتمعت الجن والْإنس علٰی ان یأتوا‘‘
(سرمہ چشم آریہ ص:۱۰)
قرآن:
۳:... ’’اٰمَنْتُ اَنَّہٗ لَآ اِلٰـہَ اِلّا الَّذِیْٓ اٰمَنَتْ بِہٖ
255
بَنُوْٓااِسْرٰٓئِیْلَ ...‘‘
(یونس:۹۰)
مرزا صاحب:
’’آمنت بالذی آمنت بہ بنواسرائیل‘‘
(اربعین نمبر۳ ص:۳۵، سراج منیر حاشیہ ص:۲۹، رُوحانی خزائن ج:۱۲ ص:۳۱)
’’انہ لا اِلٰہ اِلَّا‘‘ کے الفاظ زائد سمجھ کر حذف کردئیے اور ’’با‘‘ کا اِضافہ اپنی طرف سے کرکے آیت کی مرمت
کردی۔
قرآن:
۴:... ’’ھَلْ یَنْظُرُوْنَ اِلّآ اَنْ یَّاْتِیَھُمُ اللہُ فِیْ ظُلَلٍ مِّنَ الْغَمَامِ ...‘‘
(البقرۃ:۲۱۰)
مرزا صاحب:
’’یوم یاتی ربک فی ظلل من الغمام۔‘‘
(حقیقۃ الوحی ص:۱۵۳)
پوری آیت میں بدترین تحریف کرکے آیت کا مضمون یکسر مسخ کردیا، پھر نو سطروں میں اس کا ترجمہ اور تشریح کرکے آیت
کے تحریفی کھنڈر پر کاشانۂ مسیحیت تعمیر کیا گیا، بایں ہمہ مدیر ’’الفضل‘‘ کی دانش وعقل دیکھئے کہ اسے کاتب کی
’’مہربانی‘‘ فرماتے ہیں۔
قرآن:
۵:... ’’اُدْعُ اِلٰی سَبِیْلِ رَبِّکَ بِالْحِکْمَۃِ وَالْمَوْعِظَۃِ الْحَسَنَۃِ
وَجٰدِلْھُمْ بِالَّتِیْ ھِیَ اَحْسَنُ‘‘
(النحل:۱۲۵)
مرزا صاحب:
’’جادلھم بالحکمۃ والموعظۃ‘‘
(نورالحق ج:۱ ص:۴۶، رُوحانی خزائن ج:۸ ص:۶۳، تبلیغِ رسالت ج:۳ ص:۱۹۴، ۱۹۵)
پوری آیت کی آیت ہی مسخ کردی۔
256
قرآن:
۶:... ’’یَوْمَ تُبَدَّلُ الْاَرْضُ غَیْرَ الْاَرْضِ‘‘
(ابراہیم:۴۸)
مرزا صاحب:
’’بدلت الأرض غیر الأرض‘‘
(تحفہ گولڑویہ ص:۱۸۵)
’’یوم تبدل‘‘ کو ’’بدلت‘‘ سے بدل کر آیت کا مفہوم ہی بدل ڈالا۔
قرآن:
۷:... ’’لَخَلْقُ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ اَکْبَرُ مِنْ خَلْقِ النَّاسِ‘‘
(المؤمن:۵۷)
مرزا صاحب:
’’ان خلق السموات والأرض أکبر من خلق الناس‘‘
(ایام الصلح اُردو ص:۶۱)
لام حذف اور ’’ان‘‘ کا اِضافہ، اس قسم کی اِصلاح مرزا صاحب کی مسیحائی کا ادنیٰ کرشمہ ہے۔
قرآن:
۸:... ’’وَجَعَلَ مِنْھُمُ الْقِرَدَۃَ وَالْخَنَازِیْرَ‘‘
(المائدہ:۶۰)
مرزا صاحب:
’’وجعلنا منھم القردۃ والخنازیر‘‘
(اِزالہ اوہام ج:۱ ص:۶۷۴)
’’جعل‘‘ کی جگہ ’’جعلنا‘‘ لکھ کر قرآن کی غلطی نکالی گئی ...معاذاللہ...۔
257
قرآن:
۹:... ’’اَلَمْ یَعْلَمُوْٓا اَنَّہٗ مَنْ یُّحَادِدِ اللہَ وَرَسُوْلَہٗ فَاَنَّ لَہٗ نَارَ
جَھَنَّمَ خٰلِدًا فِیْھَا، ذٰلِکَ الْخِزْیُ الْعَظِیْمُ‘‘
(التوبہ:۶۳)
مرزا صاحب:
’’الم یعلموا انہ من یحادد اللہ ورسولہ یدخلہ نارًا خالدًا فیھا ذٰلک الخزی العظیم‘‘
(حقیقۃ الوحی ص:۱۳۰)
’’فان لہ نار جہنم‘‘ حذف کرکے اس کی جگہ ’’یدخلہ ناراً‘‘ سے قرآن کی تصحیح کی گئی اور تصحیح شدہ آیت کا ترجمہ بھی
فرمادیا تاکہ آئندہ کوئی شخص قرآن میں ’’فان لہ نار جہنم‘‘ پڑھنے کی ’’غلطی‘‘ نہ کرے۔
قرآن:
۱۰:...’’وَجٰھِدُوْا بِاَمْوَالِکُمْ وَاَنْفُسِکُمْ فِیْ سَبِیْلِ اللہِ‘‘
(التوبہ:۴۱)
مرزا صاحب:
’’ان یجاھدوا فی سبیل اللہ باموالھم وانفسھم‘‘
(جنگِ مقدس ص:۹۴)
’’وجاہدوا‘‘ کی جگہ ’’ان یجاہدوا‘‘ اور ’’کم، کم‘‘ کی بجائے ’’ھم، ھم‘‘ اور ’’فی سبیل اللہ‘‘ آخر کے بجائے درمیان
میں لاکر پوری آیت ہی کو مسخ کرڈالا۔
قرآن:
۱۱:... ’’وَمَآ اَرْسَلْنَا مِنْ قَبْلِکَ مِنْ رَّسُوْلٍ وَّلَا نَبِیٍّ اِلّآ اِذَا
تَمَنّٰی اَلْقَی الشَّیْطـٰنُ فِیْٓ اُمْنِیَّتِہٖ‘‘
(الحج:۵۲)
مرزا صاحب:
’’وما ارسلنا من رسول ولَا نبی اِلّا اذا تمنی القی الشیطان فی امنیتہ‘‘
(اِزالہ اوہام ص:۲۹۶، آئینہ کمالات ص:۲۱۷، ۲۳۰)
258
قرآنی لفظ ’’من قبلک‘‘ مرزا صاحب کے دعوائے نبوّت کے منافی تھا، اس لئے اسے حذف کرکے بقول ان کے ’’قرآن کی غلطی‘‘
نکال ڈالی، مگر یہ اِصلاح تو اس وقت دی جبکہ موصوف بزعمِ خود ’’مسیحِ موعود‘‘ اور ’’نبی الزماں‘‘ کے منصب پر فائز
ہوچکے تھے، اور ’’براہین احمدیہ‘‘ کی تالیف کے وقت چونکہ حضور کو اپنی ’’نبوّت‘‘ کا علم نہیں ہوا تھا، بلکہ اس وقت
’’محدث‘‘ کے منصب پر براجمان تھے، اس لئے براہین احمدیہ صفحہ:۳۴۸ میں آپ نے ’’ولا یحدث‘‘ کے الفاظ بڑھاکر آیت یوں
تحریر فرمائی:’’وما ارسلنا من قبلک من رسول ولَا نبی ولَا محدث‘‘ اور قرآنی آیت کے ساتھ
یہ گھناؤنا کھیل مدیر ’’الفضل‘‘ کے نزدیک تحریف نہیں، بلکہ ’’کتابت کی غلطی‘‘ ہے، تفو! بر تو اے چرخِ دوراں تفو
قرآن:
۱۲:...’’وَلَقَدْ اٰ تَیْنٰکَ سَبْعًا مِّنَ الْمَثَانِیْ وَالْقُرْاٰنَ الْعَظِیْمِ‘‘
(الحجر:۸۷)
مرزا صاحب:
’’انا اتیناک سبعًا من المثانی والقرآن العظیم‘‘
(براہین احمدیہ ص:۳۰۶)
’’ولقد‘‘ کی جگہ ’’انا‘‘ رکھ کر قرآن کی اِصلاح فرمائی گئی۔
قرآن:
۱۳:... ’’کُلُّ مَنْ عَلَیْھَا فَانٍ‘‘
(الرحمن:۲۶)
مرزا صاحب:
’’کل شیء فان‘‘
(اِزالہ اوہام ص:۱۳۶)
’’من علیہا‘‘ کا لفظ شاید مرزا صاحب کے نزدیک نامناسب تھا، اسے ’’شیٔ‘‘ سے بدل دیا۔
قرآن:
۱۴:...’’یٰـاَیُّھَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْٓا اِنْ تَتَّقُوا اللہَ یَجْعَلَ
259
لَّکُمْ فُرْقَانًا وَّیُکَفِّرْ عَنْکُمْ سَیِّئَاتِکُمْ وَیَغْفِرْ لَکُمْ وَاللہُ
ذُوالْفَضْلِ الْعَظِیْمِ‘‘
(الانفال:۲۹)
مرزا صاحب:
’’یا ایھا الذین آمنوا ان تتقوا اللہ یجعل لکم فرقانا ویکفر عن سیئاتکم ویجعل لکم نورا تمشون بہ‘‘
(آئینہ کمالاتِ اسلام ص:۱۵۵)
قرآنِ کریم کے خط کشیدہ الفاظ’’وَیَغْفِرْ لَکُمْ وَاللہُ ذُوالْفَضْلِ الْعَظِیْمِ‘‘ کی
جگہ کسی دُوسری آیت کا ٹکڑا: ’’وَیَجْعَلَ لَّکُمْ نُوْرًا تَمْشُوْنَ بِہٖ‘‘ یہاں
ٹانک دیا اور ’’آئینہ کمالاتِ اسلام‘‘ کے بجائے اپنے ’’کمالاتِ مسیحیت‘‘ کا آئینہ ہر ذی فہم کے سامنے کردیا۔
قرآن:
۱۵:... ’’وَمَنْ کَانَ فِیْ ھٰذِہٖٓ اَعْمٰی‘‘
(بنی اسرائیل:۷۲)
مرزا صاحب:
’’من کان فی ھٰذہ اعمی‘‘
(حقیقۃ الوحی ص:۱۴۷)
آیت کے شروع میں واؤ کا لفظ زائد پاکر اسے حذف کردیا۔
مندرجہ بالا تفصیل سے موٹی سے موٹی عقل کا آدمی بھی سمجھ سکتا ہے کہ زیادہ سے زیادہ مثال نمبر۲ میں ترتیب اُلٹنے
پر، مثال نمبر۳ میں واؤ کے اِضافے پر، اور مثال نمبر۱۵میں واؤ کے حذف پر ’’سہوِ کتابت‘‘ کا عذرِ لنگ پیش کیا
جاسکتا ہے، جبکہ یہ اِحتمال بھی قوی ہے کہ یہ مرزا صاحب کا ’’سہوِ مسیحیت‘‘ ہو، اور غریب کاتب پر ناحق کا ’’اِحسان‘‘
دھرا گیا ہو، ان تین آیات کے علاوہ بقیہ آیات میں جو تحریفات کی گئی ہیں دُنیا کی کوئی عدالت ان کی ذمہ داری کا
بار کاتب کے سر نہیں ڈال سکتی، بلکہ یہ مرزا صاحب کی ’’مسیحائی‘‘ کا کرشمہ ہے، اور مرزائی اُمت نے اپنے نبی کی
مسیحانہ تحریف کو بطورِ تبرک محفوظ رکھا ہے۔
اور یہ مرزا صاحب کی تحریفِ قرآن کا صرف ایک پہلو ہے، اس کا دُوسرا پہلو، جو
260
اس سے بھی گھناؤنا ہے، یہ ہے کہ موصوف گورداسپور کے خالص پنجابی ہونے کے باوصف عربی، فارسی، اُردو، انگریزی
اور ہندی میں اِلہام سازی کا شغل بھی فرمایا کرتے تھے، اور کیونکہ حضور کی عربی تعلیم کچھ یوں ہی سی تھی، اس لئے
عربی اِلہامات بنانے کے لئے قرآنِ کریم کی مقدس آیات پر مشقِ مسیحیت فرمانے کے عادی تھے، قرآنِ کریم کی آیت کے
چند الفاظ میں حذف وترمیم کرکے اِصلاح فرمائی اور اس سے ’’اِلہام‘‘ کشید کرلیا، اور ستم بالاستم یہ کہ اس کے ساتھ
کسی دُوسری زبان کے مہمل فقرے بھی بڑے فیاضی سے ٹانک لئے جاتے۔
قرآنی آیات، اِصلاح وترمیم کے بعد مرزا صاحب کی مسیحی ٹکسال میں ڈھل کر کس طرح ’’اِلہام‘‘ کی شکل اختیار کرلیتی
ہیں؟ اگر یہ اِیمان سوز منظر دیکھنا ہو تو مرزا صاحب کی کتاب ’’حقیقۃ الوحی‘‘ صفحہ:۷۰ سے صفحہ:۱۰۸ (رُوحانی خزائن
ج:۲۲ ص:۷۳ سے ص:۱۱۱) تک ملاحظہ فرمائیں، آپ کو معلوم ہوگا کہ ایسی ناپاک تحریف گزشتہ دور کے کسی دجال کو نہیں سوجھی
ہوگی، اس کا ایک نمونہ یہاں درج کیا جاتا ہے، پڑھئے اور مرزا صاحب کے تلاعب بالقرآن پر اِیمانی غیرت کو ٹٹولئے، اور
کسی حافظ سے دریافت فرمائیے کہ اصل آیات کیا تھیں جن کی قطع وبرید کرکے مرزا صاحب نے اِلہام سازی فرمائی ہے:
’’واذ یمکر بک الذی کفر (الذین کفروا سے ’’الذی کفر‘‘ بنالیا
...ناقل)، اوقد لی یا ھامان (چند الفاظ حذف کرلئے ...ناقل)، لعلی
اطلع علٰی (اِلٰی کو ’’علٰی‘‘ سے بدل دیا ...ناقل)اِلٰہ
موسٰی وانی لأظنہ من الکاذبین، تبت یدا ابی لھب وتب، ما کان لہ ان یدخل فیھا الّا خائفا (قرآن میں جمع کے
صیغے ہیں، انہیں واحد کے صیغوں سے بدل کر ’’فیہا‘‘ کا اِضافہ کرلیا، اور اتنی عقل نہیں کہ
عربی میں ’’دُخول‘‘ کا صلہ ’’فی‘‘ کہاں آتا ہے ...ناقل)
وما اصابک فمن اللہ (دو لفظ حذف کرکے ترمیم کرلی ...ناقل) الفتنۃ
ھٰھنا، فاصبر کما صبر اولوا العزم (آیت کے الفاظ میں حذف
261
وترمیم کرلی ...ناقل)۔‘‘
(حقیقۃ الوحی ص:۸۱)
اسی کتاب کے صفحہ:۹۹ سے ایک اور نمونہ دیکھئے جس میں قرآنِ کریم کی آیات میں اُردو، فارسی، اور جاہلی عربی کا
پیوند لگاکر گلیم اِلہام تیار کی گئی ہے:
’’ادعونی استجب لکم (آیت کا قطعہ ہے ...ناقل) دست تو دعائے تو ترحم از خدا، زلزلہ کا
دھکا، عفت الدیار محلھا ومقامھا (ایک جاہلی شاعر کا مصرعہ ...ناقل) تتبعھا الرادفۃ (ایک آیت کا حصہ ...ناقل) پھر بہار آئی خدا کی بات پھر پوری ہوئی ...الخ۔‘‘
(حقیقۃ الوحی ص:۹۹)
مدیر ’’الفضل‘‘ مرزا صاحب کے ہاتھ متاعِ اِیمان تو فروخت کرہی چکے ہیں، اس لئے انہیں اِیمان واِسلام کا واسطہ دینا
تو لغو ہے، لیکن ان کے دِل میں اِنصاف ودیانت کی کوئی رمق اگر باقی ہے تو میں ان سے پوچھنا چاہتا ہوں کہ فرض کیجئے
مرزا صاحب کا قصہ درمیان میں نہ ہوتا، اور کوئی دُوسرا ’’مراقی بازی گر‘‘ اللہ تعالیٰ کی مقدس کتاب کے ساتھ یہی کھیل
کھیلتا تو زِندیق یا مجنون کے سوا لغت میں تیسرا لفظ کونسا ہے جو آپ اس کے لئے اِستعمال کرتے؟ اب اِنصاف کے دُوسرے
زینے پر قدم رکھئے اور فرمائیے کہ جو لوگ آپ کے ’’مراقی مسیح‘‘ کو جھوٹا سمجھتے ہیں، اگر وہ مرزا صاحب کے اس تلعب
کو تحریف قرار دے کر اس کے اِنسداد کا اِسلامی حکومت سے مطالبہ کرتے ہیں تو کیا ان کا موقف صرف اس لئے ’’فتنہ
انگیزی‘‘ ہے کہ اس سے ’’الفضل برادری‘‘ کے سارے کارخانے کے بند ہوجانے کا اندیشہ ہے؟ خدا کا غضب! یہ کیسا اندھیر ہے
کہ ’’مسیحیت‘‘ کی اوٹ میں آیاتِ اِلٰہی سے گھناؤنا کھیل کھیلنا ’’فتنہ انگیزی‘‘ نہیں، اور اگر کسی دِل جلے مسلمان
کی غیرت ذرا انگڑائی لے کر اِحتجاج کی شکل میں ڈھل جاتی ہے تو ’’قصرِ خلافت ربوہ‘‘ سے ’’فتنہ انگیزی، فتنہ انگیزی‘‘
کے نقارے پٹ جاتے ہیں؟ اگر مرزا صاحب یا کسی دُوسرے صاحب نے یہ حرکت کسی خلیفہ راشد کے زمانے میں کی ہوتی تو واللہ
العظیم! وہ اسی سلوک کا مستحق ہوتا جو ’’مسیلمہ کذّاب‘‘ اور ’’اسود عنسی‘‘ سے کیا گیا۔ یہ انگریز بہادر کی اندھیر
نگری تھی جس میں
262
مسیحیت ونبوّت کے کھوٹے سکے چلتے رہے، حضرت خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم سے مساوات وبرتری کے دعوے ہوتے
رہے، اور انبیاء علیہم السلام کی توہین وتذلیل کو ’’کارنامۂ نبوّت‘‘ کی حیثیت دی گئی۔ ’’الفضل برادری‘‘ کو مطمئن
رہنا چاہئے کہ تقسیم کے بعد ہم ایسے نام نہاد عاشقانِ رسول اور محبانِ قرآن کی غیرت وحمیت کو سانپ سونگھ گیا ہے، ان
کی دِینی حس کا سارا اَثاثہ بت عشوہ گر سیاست کی نذر ہوچکا ہے، ان کا ضمیر اَغراض ومصالح کی قربان گاہ کی بھینٹ چڑھ
چکا ہے، ورنہ خدا کی قسم! اس ملک میں ...ہاں اسی پاک ملک میں جو قرآن اُٹھا اُٹھاکر اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ
وسلم کے نام کا واسطہ دے دے کر ہم نے حاصل کیا تھا... قرآنِ کریم اور رسولِ کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ یہ
تلعب، یہ کھیل، یہ تماشا اور یہ بازی گری نہ ہوتی، قطعاً نہ ہوتی، ہرگز نہ ہوتی، اگر مسلمانوں کا ضمیر اور بخت دونوں
آسودۂ خواب اور راہیٔ عدم نہ ہوگئے ہوتے...! کفر کو خوش ہونا چاہئے کہ اسلام خود اپنے گھر میں کس مپرسی اور غربت
کے عالم میں ہے۔
بہرحال مرزا صاحب نے قرآن کی لفظی تحریف تو پھر بھی بڑے حزم اور اِحتیاط کے ساتھ کی ہے، اور بہت سوچ سوچ کر اس
وادیٔ پُرخار میں قدم رکھا ہے، کیونکہ لفظی تحریف کا ہاتھی مسیحیت کے تنگ دروازے سے بمشکل گزر سکتا تھا، اور اَلفاظِ
قرآن میں خیانت کی چوری مسلمانوں کا ہفت سالہ بچہ بھی پکڑسکتا تھا۔ مرزا صاحب کے تحریفی جوہر اور ’’مسیحی کمالات‘‘
قرآن کی تحریفِ معنوی میں خوب خوب کھلے، مرزا صاحب نے ’’تختِ مسیحیت‘‘ پر جلوہ افروز ہوکر سب سے پہلے تواپنے
نیازمندوں سے ’’قرآن کی آخری اتھارٹی‘‘ کا سرٹیفکیٹ حاصل کیا، جس کا مطلب یہ تھا کہ حضورِ اقدس صلی اللہ علیہ وسلم
سے لے کر صحابہ کرامؓ، تابعین عظامؒ، اَئمہ دِینؒ اور پوری اُمتِ اِسلامیہ کی تفسیر ایک طرف ہو اور مرزا صاحب کی
ارشاد فرمودہ تفسیر دُوسری طرف ہو تو حق وہی ہے جو مرزا صاحب فرمائیں، کیونکہ مرزا صاحب کی تشریف آوری کا مقصد ہی
بقول ان کے قرآن کی ان غلطیوں کا نکالنا تھا جو تفسیروں سے پیدا ہوگئی تھیں، مرزا صاحب کے نیازمندوں نے بھی انہیں
یہ منصب عطا کرنے میں کسی بخل سے کام نہیں لیا، بلکہ مرزا صاحب کی ہر بات پر ’’آمنا وصدقنا‘‘ کے
263
خزانے پوری فیاضی سے لٹائے، مرزا صاحب نے دن کو رات، یا رات کو دِن کہا تو ’’نیاز کیشان مسیحِ موعود‘‘ نے
’’سچ ہے‘‘ اور ’’بجا فرمایا‘‘ کا غلغلہ بلند کیا، اس کی ایک مثال کی طرف اُوپر اِشارہ کرچکا ہوں، کیا دُنیا کا کوئی
دیوانہ ایسا ہوگا جو نہ جانتا ہو کہ قرآن پنجاب میں نہیں بلکہ عرب میں نازل ہوا ہے، مگر مرزا صاحب نے ’’حلقہ
بگوشانِ مسیح‘‘ سے فرمایا کہ: بتاؤ! قرآن کہاں نازل ہوا؟ عرض کیا: ’’اللہ ورسولہٗ اعلم!‘‘ ارشاد ہوا:’’انا انزلناہ قریباً من القادیان، وبالحق انزلنا وبالحق نزل‘‘ (ہم نے اس کو قادیان کے قریب
اُتارا ہے، اور وہ عین ضرورت کے وقت اُتارا ہے، اور ضرورت کے وقت اُترا ہے)۔ فدائیانِ مسیحِ موعود بیک زبان بولے:
’’صدق اللہ ورسولہٗ‘‘ مرزا صاحب کی یہ ’’وحی‘‘ ان کی تصنیفِ لطیف ’’حقیقۃ الوحی‘‘ کے
صفحہ:۸۸ پر درج ہے، اور بین القوسین کا ترجمہ بھی خود مرزا صاحب کے قلم معجز رقم سے نکلا ہے۔ ’’مسیحِ پنجاب‘‘ کے
حواریوں نے جب بقائمی عقل وخرد ’’وحیٔ اِلٰہی‘‘ کی روشنی میں دن کو رَات اور قرآن کو قادیان کے قریب نازل شدہ تسلیم
کرلیا تو اس کے بعد اور کیا باقی رہ جاتا تھا؟ چنانچہ اپنے نیازمندوں کی ’’دانش مندی‘‘ سے فائدہ اُٹھاتے ہوئے مرزا
صاحب نے دِین میں الف سے یا تک اِنقلابِ عظیم برپا کردیا، دِین کے تمام مُسلَّمہ حقائق اور قطعی عقائد، جن پر
مسلمانوں کا اِیمان ہے، مسیحِ موعود کی کرشمہ سازی کی نذر ہوگئے، نوبت بایں جا رسید کہ مسلمانوں کا خدا، خدا نہ رہا،
اور رسول، رسول نہ رہا، چنانچہ مرزائیوں کے مصلحِ موعود مرزا بشیرالدین محمود خلیفۃ المسیح الثانی اپنے والدِ محترم
کا دوٹوک فیصلہ نقل فرماتے ہیں:
’’حضرت مسیحِ موعود (مرزا صاحب) نے تو فرمایا ہے کہ ان کا (یعنی مسلمانوں کا) اسلام اور ہے اور ہمارا اور، ان کا
خدا اور ہے اور ہمارا اور، ہمارا حج اور ہے ان کا حج اور، اسی طرح ان سے ہر بات میں اِختلاف ہے۔‘‘
(’’الفضل‘‘ ۲۱؍اگست ۱۹۱۷ء)
’’آپ نے (یعنی مرزا صاحب نے) فرمایا: اللہ تعالیٰ کی ذات، رسولِ کریم صلی اللہ علیہ وسلم، قرآن، نماز، روزہ، حج،
زکوٰۃ
264
غرض آپ نے تفصیل سے بتایا کہ ایک ایک چیز میں ان سے ہمیں اِختلاف ہے۔‘‘
(’’الفضل‘‘ ۳۰؍جولائی ۱۹۳۱ء)
اس اِجمال کی تفصیل تو کسی دُوسری فرصت میں کی جائے گی کہ مرزا صاحب نے اِسلام کے آفتاب نصف النہار سے زیادہ روشن
حقائق کو کس بے دردی سے جھٹلایا، یہاں ہم موضوعِ سخن کی رعایت سے ان سیکڑوں آیات میں سے چند آیات بطورِ مثال پیش
کرتے ہیں، جن پر مرزا صاحب کی مسیحی تحریف نے مشقِ ناز فرماکر خونِ دوعالم اپنے نیازکیش مریدوں کی گردن پر رکھا ہے۔
(ماہنامہ ’’بینات‘‘ کراچی محرم الحرام ۱۳۹۴ھ مطابق ۱۹۷۴ء)
265
فتحِ مبین
صلحِ حدیبیہ سے واپسی میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر سورۃ الفتح نازل ہوئی، جس میں اس صلح کو آنحضرت صلی اللہ
علیہ وسلم کے لئے اِنعامِ خصوصی اور فتحِ مبین قرار دِیا گیا۔ مرزا غلام احمد قادیانی کا دعویٰ ہے کہ ’’فتحِ مبین‘‘
کی یہ بشارت ان پر نازل ہوئی ہے، ان پر نازل شدہ آیت مع ترجمہ وتفسیر درج ذیل ہے:
’’اِنَّا فَتَحْنَا لَکَ فَتْحًا مُّبِیْنًا لِّیَغْفِرَ لَکَ اللہُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِکَ وَمَا تَاَخَّرَ‘‘
(الفتح:۱)
ترجمہ وتفسیر از مرزا صاحب:... ’’ہم نے تجھ کو کھلی کھلی فتح عطا فرمائی ہے، یعنی عطا فرمائیں گے، اور درمیان میں
جو بعض مکروہات اور شدائد ہیں، وہ اس لئے ہیں تاخدائے تعالیٰ تیرے پہلے اور پچھلے گناہ معاف فرمادے، یعنی اگر خدائے
تعالیٰ چاہتا تو قادر تھا کہ جو کام مدِنظر ہے وہ بغیر پیش آنے کسی نوع کی تکلیف کے اپنے انجام کو پہنچ جاتا اور
بآسانی فتحِ عظیم حاصل ہوجاتی، لیکن تکالیف اس جہت سے ہیں کہ تا وہ تکالیف موجبِ ترقیٔ مراتب ومغفرتِ خطایا ہوں۔‘‘
(تذکرہ ص:۹۲، ۹۳طبع چہارم)
سبحان اللہ! کتنی عمدہ تفسیر ہے، آیت میں مغفرت وغیرہ کو فتح پر مرتب کیا گیا ہے، اور مرزاجی اس کی ضد یعنی
مکروہات وشدائد پر مرتب کر رہے ہیں۔
فضیلت:
قادیانی اُمت ہر فضیلت وخصوصیت میں مرزا صاحب کو نہ صرف آنحضرت صلی
266
اللہ علیہ وسلم کے مساوی قرار دیتی ہے، بلکہ مرزا صاحب کی افضلیت بھی نمایاں کیا کرتی ہے۔ چنانچہ وہ یہاں
بھی دعویٰ کرے گی کہ مرزا صاحب کی ’’فتحِ مبین‘‘ کو دو وجہ سے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر فوقیت حاصل ہے۔ اوّل یہ
کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ بشارت منصبِ نبوّت پر فائز ہونے کے اَٹھارہ سال بعد ۶ھ میں حاصل ہوئی، اور مرزا
صاحب کو منصبِ نبوّت پر فائز ہونے سے اَٹھارہ سال پہلے ...مرزا محمود صاحب کی تحقیق کے مطابق مرزا صاحب ۱۹۰۱ء میں
منصبِ نبوّت پر فائز ہوئے، اور ’’فتحِ مبین‘‘ کی بشارت ان پر اَٹھارہ سال پہلے براہین احمدیہ میں نازل ہوچکی تھی...۔
دوم یہ کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اس بشارت سے عمر بھر میں صرف ایک مرتبہ سرفراز ہوئے، اور مرزا صاحب پر دس
مرتبہ یہ بشارت نازل ہوئی، (دیکھئے: تذکرہ طبع چہارم صفحات: ۵۰، ۹۲، ۲۴۶، ۲۷۸، ۲۸۵، ۳۵۶، ۵۱۵، ۶۳۱، ۶۴۸، ۸۵۴) اب
بتائیے کس کا مرتبہ بلندتر ہوا؟ نعوذ باللہ من الغباوۃ والغوایۃ!
بہرحال مرزا صاحب ایک مرتبہ نہیں بلکہ دس مرتبہ صاحبِ فتحِ مبین بن کر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے چشم نمائی کر
رہے ہیں، آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی فتحِ مبین کا نظارہ تو سب نے دیکھا، آئیے ذرا مرزاجی کی ’’فتحِ مبین‘‘ کا
بھی نظارہ کرتے جائیں۔
مرزاجی کی پوری زندگی ’’فتحِ مبین‘‘ کی تفسیر تھی، اور ان کی شاندار کامیابیوں کے ایک دو نہیں، دسیوں میدان تھے، جن
کی تفصیل کے لئے ضخیم مجلدات بھی ناکافی ہیں۔ تاہم نہایت اِجمال کے ساتھ چند اِشارے یہاں بھی کردینا مناسب ہوگا۔
پہلا میدان:... دعاوی:
مرزاجی نے جو معرکہ سب سے پہلے سر کیا، اور اَوّلین وآخرین کو مات دے کر فتحِ مبین کا عَلم بلند کیا، وہ ان کے
دعاوی کا وسیع میدان ہے۔ ’’دعاویٔ مرزا‘‘ کے نام سے متعدّد رسائل شائع ہوچکے ہیں، تفصیل کے لئے ناظرین ان کی مراجعت
فرمائیں، البتہ اس میدان میں مرزاجی کی ’’فتحِ مبین‘‘ کا نظارہ کرنے کے لئے چند نکات کو ملحوظ رکھیں۔
267
نکتۂ اوّل:... بسیط ومرکب:
مرزاجی سے قبل جن مدعیانِ دعوت واِرشاد نے مسندِ تقدس پر جلوہ افروز ہوکر خلقِ خدا کو اپنی جانب مائل کیا، ان سب نے
ایک دو بسیط دعوؤں پر قناعت کرلی، کسی نے نبوّت ورِسالت کا دعویٰ کیا، کسی نے اُلوہیت اور خدائی کا، کوئی خدا کا
بروز بنا، کوئی مسیح کا، کسی نے مہدویت کی مسند آراستہ کی، کسی نے حلول وظہور کا ’’باب‘‘ کھولا، لیکن ہمارے مرزاجی
کی ہمت بلند تھی، جو کسی ایک آدھ دعوے پر قناعت نہ کرسکی، بلکہ آپ نے ان تمام دعاوی کو جمع کرلیا جو آدم علیہ
السلام سے لے کر قیامت تک کسی سچے جھوٹے مدعی نے کئے، یا کرے گا۔ ملل ونحل کی کتابیں کھولو! اور دُنیا کے تمام
بانیانِ مذاہب ...خواہ وہ سچے ہوں یا جھوٹے... کے دعاوی کو ایک ایک کرکے پیش کرتے جاؤ، ہم ہر ایک کے مقابلے میں
مرزاجی کا دعویٰ پیش کرتے جائیں گے، اس کے باوجود ہمارے مرزاجی کے دعاوی کا وسیع خزانہ ختم نہیں ہوگا۔ تم آدم علیہ
السلام سے محمد صلی اللہ علیہ وسلم تک کم وبیش ایک لاکھ چوبیس ہزار نبیوں کو پیش کروگے، تو اس کے مقابلے میں مرزاجی
کا صرف ایک شعر کافی ہوگا:
-
زندہ شد ہر نبی بآمدنم
ہر رسولے نہاں پہ پیراہنم
(دُرِّثمین فارسی ص:۱۶۵)
(میری آمد سے ہر نبی زندہ ہوگیا، ہر رسول میرے پیراہن میں چھپا ہوا ہے ...ترجمہ از ناقل)
انصاف کرو کہ ’’ہر نبی‘‘ اور ’’ہر رسول‘‘ کے لفظ سے کوئی نبی اور کوئی رسول باہر رہا؟ پیش کرو کہ تاریخِ نبوّت میں
کسی عظیم الشان رسول نے کبھی اتنا بلند دعویٰ کیا ہو...؟
تم آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے مقدس صحابہ ...رضوان اللہ علیہم اجمعین... کو پیش کروگے، تو اس کے مقابلے میں
مرزاجی کا ایک فقرہ کافی ہوگا:
’’میں وہی مہدی ہوں جس کی نسبت ابنِ سیرین سے
268
سوال کیا گیا کہ کیا وہ حضرت ابوبکر کے درجے پر ہے؟ تو انہوں نے جواب دیا کہ ابوبکر کیا وہ تو بعض انبیاء سے
بہتر ہے۔‘‘
(مجموعہ اِشتہارات ج:۳ ص:۲۷۸، ترک مرزائیت ص:۱۸)
تم خانوادۂ اہلِ بیت کے گلِ سرسبد کو پیش کروگے، تو مرزا صاحب فرمائیں گے:
’’صد حسین است در گریبانم!‘‘
(نزولِ مسیح ص:۹۹، رُوحانی خزائن ج:۱۸ص:۴۷۷)
تم کسی بڑے سے بڑے نبی، ولی، صدیق، قطب، مجدّد اور محدث کو پیش کروگے، تو اس کے مقابلے میں مرزاجی کا ایک جملہ کافی
ہوگا:
’’ان قدمی ھٰذا علٰی منارۃ ختم علیھا کل رفعۃ۔ (یعنی یہ میرا قدم ایک ایسے منارہ پر ہے
جو اس پر ہر ایک بلندی ختم کی گئی ہے)۔‘‘
(خطبہ اِلہامیہ ص:۷۰، رُوحانی خزائن ج:۱۶ ص:۷۰)
’’آسمان سے کئی تخت اُترے، مگر سب سے اُونچا تیرا تخت بچھایا گیا۔‘‘
(تذکرہ ص:۳۳۹طبع چہارم)
کوئی فرعون: ’’اَنَا رَبُّکُمُ الْاَعْلٰی‘‘ کا دعویٰ کرتے ہوئے سامنے آئے گا، تو
مرزاجی: ’’انت اسمی الأعلٰی‘‘ کا نعرہ لگاتے ہوئے اس کے ساتھ بھی پنجہ آزمائی کے لئے
حاضر ہوں گے۔ ملاحدہ باطنیہ کے پُراَسرار دعاوی پیش کئے جائیں گے، تو مرزاجی کے پاس بھی دمشق سے قادیان اور دجال سے
مولوی تک کے باطنی حربے موجود ہیں۔ تیرہ صدیوں کے مسیحانِ کذّاب اور نام نہاد مہدیانِ ضلالت کی فہرست پیش کی جائے،
تو مرزاجی ایک ایک کا توڑ کرنے کے لئے:’’أنا المسیح وأنا المھدی‘‘ ا نعرۂ مستانہ بلند
کرتے ہوئے میدان میں نکلیں گے۔ صوفیا کی شطحیات اور سکریہ کلمات پیش کروگے، تو ان سے بڑھ کر مرزاجی سے سنوگے:
269
’’آتانی مالم یؤت أحدًا من العالمین‘‘
(حقیقۃ الوحی ص:۱۰۷، رُوحانی خزائن ج:۲۲ ص:۱۱۰)
ہندوؤں کا دعویٔ تناسخ سامنے لاؤگے، تو مرزا جی سے: ’’میں کرشن ہوں، رودر گوپال ہوں، امین الملک جے سنگھ بہادر
ہوں‘‘ کا جواب سن کر جاؤگے۔
عیسائی حضرات اُلوہیتِ مسیح کا دعویٰ کریں گے، تو مرزاجی کا ایک لفظ سن کر مغلوب ہوجائیں گے: ’’آواہن (خدا تیرے
یعنی مرزاجی کے) اندر اُتر آیا۔‘‘ وہ ابنیتِ مسیح کا نظریہ پیش کریں گے، تو مرزاجی انہیں خدائی فرمان:’’أنت مِنّی بمنزلۃ ولدی، بمنزلۃ أولادی‘‘ سناکر پچھاڑ دیں گے۔ خیر کہاں تک گناتا چلا
جاؤں؟ مختصر یہ کہ دُنیا کے کسی مدعی کا دعویٰ ایسا نہیں جو ہمارے مرزاجی بہادر کے کشکولِ دعاوی میں موجود نہ ہو،
لیکن مرزاجی کی اوجِ کمال کا یہ تصوّر بھی ناقص ہے، انصاف یہ ہے کہ ان کے بعض ادعائی مقاماتِ رفیعہ تک اوّلین
وآخرین میں سے نہ کسی کی رسائی کبھی ہوئی اور نہ ہوگی، مثلاً دُنیا میں اہلِ تناسخ کا غلغلہ تو بلند رہا، لیکن آج
تک مرزاجی جیسا یہ دعویٰ کس نے کیا؟:
-
میں کبھی آدم، کبھی موسیٰ، کبھی یعقوب ہوں
نیز اِبراہیم ہوں، نسلیں ہیں میری بے شمار
(براہین احمدیہ حصہ پنجم، رُوحانی خزائن ج:۲۱ص:۱۳۳، دُرّثمین ص:۱۲۳)
ایک ہی جون میں چار جونیں بدلنے اور بے شمار نسلیں پیدا کرنے کی نظیر کون پیش کرسکتا ہے؟ مزید سنئے...!
-
کرمِ خاکی ہوں مرے پیارے، نہ آدم زاد ہوں
ہوں بشر کی جائے نفرت، اور اِنسانوں کی عار
(براہین پنجم ص:۹۷، رُوحانی خزائن ج:۲۱ص:۱۲۷)
کیا اِنسانی تاریخ میں کسی ایسے ’’کرمِ خاکی‘‘ کی مثال پیش کرسکتے ہو؟ جس نے آدم زاد نہ ہونے کے باوجود نبوّت
ورِسالت اور مسیحیت ومہدویت کا دعویٰ کیا ہو، اور اس طرح وہ ’’بشر کی جائے نفرت‘‘ اور ’’اِنسانوں کی عار‘‘ کے مرتبۂ
’’علیا‘‘ تک پہنچا ہو؟ آج
270
تک کس نے دعویٰ کیا کہ میں بیت اللہ ہوں، حجرِ اَسوَد ہوں، خدا کی مانند ہوں، خدا کی توحید وتفرید ہوں، اور:
’’کأنّ اللہ نزل من السماء‘‘ کا باپ ہوں؟ وغیرہ وغیرہ۔
الغرض دعاوی کے میدان میں ہمارے مرزاجی کی ’’فتحِ مبین‘‘ کا پہلا کھلا کھلا نشان یہ ہے کہ ان کے مرکب دعاوی کی نظیر
پیش کرنے سے سب عاجز ہیں، ان جیسا مدعی نہ ہوا، نہ ہوگا، نہ آیا، نہ آئے گا۔
دُوسرا نکتہ:... جامع الاضداد:
دعاوی کے میدان میں سب کو شکست دے کر مرزاجی نے ’’فتحِ مبین‘‘ کا پھریرا کیسے اُڑایا؟ اس کو سمجھنے کے لئے دُوسرا
نکتہ یہ بھی سامنے رکھنا چاہئے کہ اِنسانی تاریخ کے تمام مدعیوں نے ...خواہ وہ صادق ہوں یا کاذب... یہ اِحتیاط ملحوظ
رکھی کہ ان کا دعویٰ تضاد اور تناقض کے کانٹوں میں اُلجھ کر نہ رہ جائے۔
کسی بانیٔ مذہب نے بطورِ دعویٰ ایسی دو باتیں کہنے کی جرأت نہیں کی، جو عقل وشرع یا کم از کم اس کے مُسلَّمہ عرف
کے مطابق ایک دُوسرے کی ضد ہوں۔ میدانِ دعاوی میں یہ معرکہ صرف ہمارے جامع الاضداد مرزاجی نے سر کیا ہے، اور حق یہ
ہے کہ بڑی جواںمردی سے سر کیا ہے۔ مرزا صاحب کی یہ جامعیت بجائے خود ایک ضخیم کتاب کا موضوع ہے، تاہم اس کی وضاحت کے
لئے یہاں چند مثالیں پیش کردینا کافی ہے۔
مثالِ اوّل:... مردو عورت:
عقلاً وشرعاً مرد اور عورت دو متبائن اَصناف ہیں، کسی بانیٔ مذہب کو یہ حوصلہ نہ ہوا کہ بقائمی عقل وخرد اپنے دعوے
کی بنیاد مرد سے عورت اور عورت سے مرد بننے کے فلسفے پر رکھے، مگر ہمارے مرزاجی نہ صرف یہ کہ بیک وقت مریم اور اِبنِ
مریم ہیں، بلکہ ان کے دعوائے مسیحیت کا تمام تر اِنحصار اسی فلسفے پر ہے، وہ بڑی بلند ہمتی سے ’’مرزا غلام احمد سے
مریم تک‘‘ اور ’’مریم سے اِبنِ مریم تک‘‘ کے تمام مراحل بطور اِستعارہ طے فرماتے ہیں اور پھر بصد شانِ رعنائی
وزیبائی سچ مچ ’’مسیح ابنِ مریم‘‘ کی حیثیت سے مسندِ مسیحیت پر رُونمائی
271
فرماکر لوگوں کو اِیمان لانے کی دعوت دیتے ہیں۔ اس ’’استعاراتی فلسفے‘‘ کی تشریح موصوف نے ’’نزول المسیح‘‘،
’’کشتی نوح‘‘ (ص:۴۶، ۴۷، ۴۸)، ’’رُوحانی خزائن‘‘ (ج:۱۹ ص:۵۰) اور حاشیہ ’’حقیقۃ الوحی‘‘ وغیرہ میں فرمائی ہے، تفصیل
وہاں دیکھ لی جائے۔ البتہ خلاصہ ان اِلہامی رُموز واَسرار کا یہ ہے کہ وہ غلام احمد سے مریم بنے، دو برس تک مریمی
شان سے پردے میں نشوونما پاتے رہے، دو سال بعد ان میں عیسیٰ کی رُوح پھونکی گئی، اِستعارہ کے رنگ میں حاملہ ہوئے، دس
مہینے بعد دردِ زہ ہوا، وضعِ حمل ہوا، اور پھر مدّت تک مریمی صفات کی پروَرِش میں رہے، تاآنکہ سچ مچ عیسیٰ ابنِ
مریم بن گئے۔ چونکہ خود مرزا صاحب کی تصریح کے مطابق یہ اِسلام کی تیرہ صد سالہ تاریخ کا منفرد اور اچھوتا واقعہ ہے،
اس لئے تسلیم کرنا چاہئے کہ اس پیچیدہ فلسفے کی اِختراع میں انہیں سب عقلاء پر ’’فتحِ مبین‘‘ حاصل ہے۔
مثالِ دوم:... حقیقت در اِستعارہ:
مرزا صاحب گزشتہ اِلہامی اِنکشاف میں تصریح فرماتے ہیں کہ ان کا، غلام احمد سے عیسیٰ بن مریم تک پہنچنے کے لئے،
نسوانی مراحل طے کرنا بطورِ اِستعارہ تھا، اور اہلِ علم خوب جانتے ہیں کہ اِستعارہ اور حقیقت دو متبائن اور متضاد
چیزیں ہیں، لہٰذا اگر مرزا صاحب کا مسیح بن مریم ہونا محض اِستعارہ ہے تو واقعۃً وہ مسیح نہیں، نہ اس پر اَحکامِ
واقعیہ مرتب ہوسکتے ہیں، اور اگر وہ سچ مچ مسیح ابنِ مریم ہیں تو اس کو اِستعارہ کہنا صحیح نہیں، مگر یہ بھی ان کی
’’فتحِ مبین‘‘ کا اعجوبہ ہے کہ وہ غلام احمد سے عیسیٰ بن مریم بننے کے درمیانی مراحل کو اِستعارہ فرماتے ہیں اور اسے
سچ مچ کی حقیقتِ واقعیہ قرار دے کر اس پر اِیمان لانا بھی فرض قرار دیتے ہیں، ان دو متضاد دعوؤں کو ایک ساتھ نبھانا
یہ بھی ہمارے مرزاجی بہادر کی ’’فتحِ مبین‘‘ ہے۔
مثالِ سوم:... وحی اور سادہ لوحی:
مرزا صاحب اپنی پہلی تصنیف ’’براہین احمدیہ‘‘ کی تالیف سے کافی مدّت پہلے مکالمہ، مخاطبہ، وحی اور اِلہام کی نعمت
سے سرفراز ہوچکے تھے، اور یہ کتاب انہوں نے مأمور من اللہ،
272
مجدّد، ملہم اور مثیلِ مسیح بن مریم کی حیثیت میں تالیف فرمائی تھی۔
(مجموعہ اِشتہارات ج:۱ ص:۲۳)
نیز اس کتاب کی عظیم ترین منقبت یہ ہے کہ وہ ...عالمِ وجود میں آنے سے تقریباً پندرہ سولہ سال پہلے... آنحضرت صلی
اللہ علیہ وسلم کے ملاحظۂ عالی سے گزری، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے بے حد پسند کیا، مرزا صاحب نے آپ صلی اللہ
علیہ وسلم کو اس کا نام ’’قطبی‘‘ بتایا، جس کی تعبیر یہ تھی کہ: ’’وہ ایسی کتاب ہے کہ قطب ستارہ کی طرح غیرمتزلزل
اور مستحکم ہے، جس کے کامل اِستحکام کو پیش کرکے دس ہزار روپے کا اِشتہار دیا گیا۔‘‘
(براہین احمدیہ حصہ سوم ص:۲۴۸، حاشیہ درحاشیہ مندرجہ رُوحانی خزائن ج:۱ ص:۲۷۴، ۲۷۵)
مرزا صاحب نے اس ’’قطبی‘‘ میں وہ تمام اِلہامات بھی درج کردئیے ہیں جن کو وہ آئندہ اپنے دعوؤں کے ثبوت میں پیش
کرتے رہے، اور ساتھ ہی یہ بھی لکھ دیا:
’’ھو الذی أرسل رسولہ بالھدی ودین الحق لیظھرہ علی الدین کلہ۔ یہ آیت جسمانی اور
سیاستِ ملکی کے طور پر حضرت مسیح کے حق میں پیش گوئی ہے، اور جس غلبۂ کاملہ دِینِ اسلام کا وعدہ دِیا گیا ہے، وہ
غلبہ مسیح علیہ السلام کے ذریعے ظہور میں آئے گا، اور جب حضرت مسیح علیہ السلام دوبارہ دُنیا میں تشریف لائیں گے تو
ان کے ہاتھ سے دِینِ اسلام جمیع اَقطار میں پھیل جائے گا۔‘‘
(براہین احمدیہ ص:۴۹۸، ۴۹۹، حاشیہ درحاشیہ مندرجہ رُوحانی خزائن ج:۱ ص:۵۹۳)
اس کتاب کی تالیف کے دس بارہ سال بعد آپ نے ’’فتحِ اسلام‘‘، ’’توضیح مرام‘‘ اور ’’اِزالہ اوہام‘‘ نامی رسائل لکھے،
جن میں آپ نے یہ اِلہامی دعویٰ فرمایا:
’’خدا تعالیٰ نے اپنے فضل وکرم سے میرے پر کھول دیا ہے کہ مسیح کے دوبارہ آنے کا قرآن شریف میں تو کہیں ذِکر
نہیں، قرآن شریف تو ہمیشہ کے لئے اس کو دُنیا سے رُخصت کرتا ہے، البتہ بعض حدیثوں میں جو اِستعارات سے پُر ہیں،
مسیح کے دوبارہ دُنیا
273
میں آنے کے لئے بطورِ پیش گوئی بیان کیا گیا ہے، سو ان حدیثوں کے سیاق وسباق سے ظاہر ہے کہ اس جگہ درحقیقت
مسیح ابنِ مریم کا دوبارہ دُنیا میں آجانا ہرگز مراد نہیں، بلکہ یہ ایک لطیف اِستعارہ ہے، جس سے مراد یہ ہے کہ کسی
ایسے زمانے میں جو مسیح ابنِ مریم کے زمانے کا ہمرنگ ہوگا، ایک شخص اِصلاحِ خلائق کے لئے دُنیا میں آئے گا جو طبع
اور وقت اور اپنے منصبی کام میں مسیح کا ہمرنگ ہوگا ...... اب جو اَمر کہ خدا تعالیٰ نے میرے پر منکشف کیا ہے وہ یہ
ہے کہ وہ مسیحِ موعود میں ہی ہوں۔‘‘
(اِزالہ اوہام ص:۳۷، ۳۸، رُوحانی خزائن ج:۳ ص:۱۲۱)
مرزا صاحب کے پہلے موقف اور اس جدید اِنکشاف میں کھلا تضاد تھا، اس لئے سوال ہوا کہ آپ کو مسیحِ موعود بنانے والے
اِلہامات تو ’’براہین‘‘ میں ہی ہوچکے تھے، وحیٔ اِلٰہی بھی نازل ہوتی تھی، جب آپ قطب ستارہ جیسی غیرمتزلزل اور
مستحکم کتاب اسلام کی حقانیت پر تصنیف فرما رہے تھے، اس وقت آپ پر یہ ’’اِنکشاف‘‘ کیوں نہ ہوا؟ اس کے جواب میں حضرت
مسیح الزماں فرماتے ہیں:
’’میں نے ’’براہین‘‘ میں جو کچھ مسیح ابنِ مریم کے دوبارہ آنے کا ذِکر لکھا ہے، وہ ذِکر صرف ایک مشہور عقیدے کے
لحاظ سے ہے، جس کی طرف آج کل ہمارے مسلمان بھائیوں کے خیالات جھکے ہوئے ہیں، سو اسی ظاہری اِعتقاد کے لحاظ سے میں
نے ’’براہین‘‘ میں لکھ دیا تھا کہ: ’’میں صرف مثیلِ موعود ہوں، اور میری خلافت صرف رُوحانی خلافت ہے، لیکن جب مسیح
آئے گا تو اس کی ظاہری اور جسمانی دونوں طور پر خلافت ہوگی۔‘‘ یہ بیان جو ’’براہین‘‘ میں درج ہوچکا ہے، صرف اس
سرسری پیروی کی وجہ سے ہے جو ملہم کو قبل از اِنکشاف اصل حقیقت اپنے نبی کے آثارِ مرویہ کے لحاظ سے
274
لازم ہے، کیونکہ جو لوگ خدا تعالیٰ سے اِلہام پاتے ہیں وہ بغیر بلائے نہیں بولتے اور بغیر سمجھائے نہیں
سمجھتے اور بغیر فرمائے کوئی دعویٰ نہیں کرتے، اور اپنی طرف سے کوئی دلیری نہیں کرسکتے۔‘‘
(اِزالہ ص:۱۹۷، ۱۹۸، رُوحانی خزائن ج:۳ ص:۱۹۶)
جواب کا خلاصہ یہ ہوا کہ مسلمانوں کا مشہور عقیدہ ...جو صدرِ اوّل سے آج تک متواتر چلا آتا ہے... یہ ہے کہ حضرت
عیسیٰ علیہ السلام زندہ ہیں، وہی دوبارہ بنفسِ نفیس تشریف لائیں گے۔ نیز نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے آثارِ
مرویہ بھی اسی مشہور عقیدے کو بیان کرتے تھے، اُدھر اس خاکسار ملہم کو اَصل حقیقت کا علم نہیں ہوا تھا، اس لئے ہم نے
’’براہین‘‘ میں مسلمانوں کا مشہور عقیدہ لکھ دیا۔
مرزا صاحب کا یہ جواب اگرچہ بڑا فکرانگیز ہے، لیکن افسوس ہے کہ اس سے ان کے تضاد کا معما حل نہیں ہوا، اس لئے انہیں
اس پر توجہ دِلائی گئی تو جو جواب اِرشاد ہوا، وہ ’’جوابِ تلخ مے زیبد لب لعل شکر خارا‘‘ کا اچھا نمونہ ہے، فرماتے
ہیں:
’’اس وقت کے نادان مخالف بدبختی کی طرف ہی دوڑتے ہیں، اور شقاوت سر پر سوار ہے، باز نہیں آتے، کیا کیا اِعتراض بنا
رکھے ہیں، مثلاً کہتے ہیں کہ مسیحِ موعود ہونے کا دعویٰ کرنے سے پہلے ’’براہین احمدیہ‘‘ میں عیسیٰ علیہ السلام کے
آنے کا اِقرار موجود ہے، اے نادانو! اپنی عاقبت کیوں خراب کرتے ہو؟ اس اِقرار میں کہاں لکھا ہے کہ یہ خدا کی وحی سے
بیان کرتا ہوں؟ (حضرت! جوشِ غضب میں آپ کو یاد نہیں رہا، ’’براہین احمدیہ‘‘ کا صفحہ:۴۹۸، ۴۹۹ کھول کر دیکھ لیجئے،
وہاں آنجناب نے قرآن کی آیت کے حوالے سے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی دوبارہ تشریف آوری ذِکر کی ہے، ہاں! قرآن کو
’’خدا کی وحی‘‘ نہ سمجھتے ہوں تو دُوسری بات ہے ...ناقل) اور مجھے کب اس بات کا دعویٰ ہے کہ میں عالم الغیب
275
ہوں۔ (عالم غیب کا نہیں لیکن ’’وما ینطق عن الھویٰ‘‘ کا دعویٰ تو تھا، خدا سے
وحی پانے والا غلط عقیدے لکھے؟ کتنے شرم کی بات ہے! ...ناقل) جب تک مجھے خدا نے اس طرف توجہ نہ دی اور بار بار نہ
سمجھایا (بار بار سمجھانے کی ضرورت کیوں ہوئی؟ خدا کا ایک بار سمجھانا کافی نہیں ہوتا؟ ...ناقل) کہ تو مسیحِ موعود
ہے اور عیسیٰ فوت ہوگیا ہے، تب تک میں اسی عقیدے پر قائم تھا جو تم لوگوں کا عقیدہ ہے۔ اسی وجہ سے کمالِ سادگی سے
میں نے حضرت مسیح کے دوبارہ آنے کی نسبت براہین میں لکھا، جب خدا نے مجھ پر اَصل حقیقت کھول دی تو میں اس عقیدے سے
باز آگیا، میں نے بجز کمالِ یقین کے جو میرے دِل پر محیط ہوگیا، اور مجھے نور سے بھردیا، اس رسمی عقیدے کو نہ
چھوڑا، حالانکہ اسی براہین میں میرا نام عیسیٰ رکھا گیا تھا اور مجھے خاتم الخلفاء ٹھہرایا گیا تھا، اور میری نسبت
کہا گیا تھا کہ تو ہی کسرِ صلیب کرے گا۔ (حضرت! سوال بھی تو یہی تھا، آپ جواب دے رہے ہیں یا سوال دُہرا رہے ہیں؟
...ناقل) اور مجھے بتلایا گیا تھا کہ تیری خبر قرآن اور حدیث میں موجود ہے اور تو ہی اس آیت کا مصداق ہے کہ: ’’ھو
الذی ارسل رسولہ بالھدیٰ ودین الحق لیظھرہ علی الدین کلہ‘‘ (جب آپ کو بتادیا گیا تھا کہ آپ ہی اس آیت کے مصداق
ہیں، تو اس بتادینے کے بعد آپ نے اس آیت کا مصداق حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی تشریف آوری کو کیوں قرار دِیا؟
...ناقل) تاہم یہ اِلہام جو براہین احمدیہ میں کھلے کھلے طور پر درج تھا خدا کی حکمتِ عملی نے میری نظر سے پوشیدہ
رکھا اور اسی وجہ سے باوجودیکہ میں براہین احمدیہ میں صاف اور روشن طور پر مسیحِ موعود ٹھہرایا گیا تھا، مگر پھر بھی
میں نے بوجہ اس ذُہول کے جو میرے دِل پر ڈالا گیا، حضرت عیسیٰ کی
276
آمدِ ثانی کا عقیدہ براہین احمدیہ میں لکھ دیا، پس میری کمالِ سادگی اور ذُہول پر یہ دلیل ہے کہ وحیٔ
اِلٰہی مندرجہ براہین احمدیہ تو مجھے مسیحِ موعود بناتی تھی، مگر میں نے اس رسمی عقیدے کو براہین میں لکھ دیا، میں
خود تعجب کرتا ہوں کہ میں نے باوجود کھلی کھلی وحی کے جو براہین احمدیہ میں مجھے مسیحِ موعود بناتی تھی کیونکر اس
کتاب میں یہ رسمی عقیدہ لکھ دیا۔
پھر میں قریباً بارہ برس تک جو ایک زمانۂ دراز ہے، بالکل اس سے بے خبر اور غافل رہا کہ خدا نے مجھے بڑی شدّومدّ سے
براہین میں مسیحِ موعود قرار دِیا ہے، اور میں حضرت عیسیٰ کی آمدِ ثانی کے رسمی عقیدے پر جما رہا، جب بارہ برس
گزرگئے تب وہ وقت گیا کہ میرے پر اَصل حقیقت کھول دی جائے تب تواتر سے اس بارے میں اِلہامات شروع ہوئے کہ تو ہی
مسیحِ موعود ہے ......۔ خدا نے میری نظر کو پھیردیا، میں براہین کی اس وحی کو نہ سمجھ سکا کہ وہ مجھے مسیحِ موعود
بناتی ہے، یہ میری سادگی تھی جو میری سچائی پر ایک عظیم الشان دلیل تھی، ورنہ میرے مخالف مجھے بتلاویں (جی نہیں! آپ
کے مخالف کیوں بتائیں؟ ماشاء اللہ آپ خود ہی اپنا سارا کچا چٹھا کھول رہے ہیں: ’’ہوئے تم دوست جس کے، اس کا دُشمن
آسماں کیوں ہو؟‘‘ ...ناقل) کہ میں نے باوجودیکہ براہین احمدیہ میں مسیحِ موعود بنایا گیا تھا، بارہ برس تک یہ دعویٰ
کیوں نہ کیا؟ اور کیوں براہین میں خدا کی وحی کے مخالف لکھ دیا؟ ...... پس وہ اِلہامات جو میری بے خبری کے زمانے میں
مجھے مسیحِ موعود قرار دیتے ہیں ...... اگر وہ میرا اِفترا ہوتے تو میں اسی براہین میں ان سے فائدہ اُٹھاتا اور اپنا
دعویٰ پیش کرتا، اور کیونکر ممکن تھا کہ میں اسی براہین میں یہ بھی لکھ دیتا کہ عیسیٰ علیہ السلام دوبارہ دُنیا میں
آئے گا، ان دونوں متناقض مضمونوں کا ایک ہی کتاب
277
میں جمع ہونا (مرزائی اُمت گواہ رہے کہ حضرت صاحب اپنی کتاب میں تناقض کا کھلا اِعلان فرما رہے ہیں
...ناقل) اور میرا اس وقت مسیحِ موعود ہونے کا دعویٰ نہ کرنا ایک منصف جج کو اس رائے کے ظاہر کرنے کے لئے مجبور کرتا
ہے کہ درحقیقت میرے دِل کو اس وحیٔ اِلٰہی کی طرف سے غفلت رہی جو میرے مسیحِ موعود ہونے کے بارے میں براہین احمدیہ
میں موجود تھی، اس لئے میں نے ان متناقض باتوں کو براہین میں جمع کردیا۔‘‘
(اعجازِ احمدی ص:۶، ۷، ۸، رُوحانی خزائن ج:۱۹ ص:۱۱۳، ۱۱۴)
جواب کا حاصل یہ کہ مرزا صاحب کی فطرتی سادگی، غفلت وذُہول اور بے خبری بارہ برس تک اللہ تعالیٰ کی صاف، روشن اور
کھلی کھلی وحی کا مدعا پانے سے قاصر رہی۔ اُدھر اللہ تعالیٰ کی متواتر وحی بارہ سال تک انہیں مسیحِ موعود کے منصب سے
آگاہ کرتی رہی، اِدھر مرزا صاحب کی البیلی سادگی وحیٔ اِلٰہی کے مخالف لکھنے لکھانے پر بضد رہی ...! یوں دو متناقض
مضمونوں کے ایک جگہ جمع ہونے کی ذمہ داری مرزا صاحب پر نہیں بلکہ ان کی روایتی غفلت اور مدہوشی پر ہے، اور یہ ان کے
کذب واِفترا کی نہیں، بلکہ صدق وراستی کا اِعجاز ہے۔ (جل جلالہٗ)
اس طویل اِقتباس اور اس کی تلخیص سے مقصد صرف مرزا صاحب کی جامعیتِ اَضداد کا دِکھانا ہے، تاریخ وسیرت کے دفتر
کھنگالو! مگر تمہیں کسی ایسے مدعیٔ وحی واِلہام کی نظیر نہیں ملے گی، جو ’’وحی اور سادہ لوحی‘‘ کے شیشہ وسنگ کا جامع
ہو، کیا اس سادہ لوحی اور غفلت وبے خبری کی نظیر دُنیا کی تاریخ پیش کرسکتی ہے کہ خدا تعالیٰ کی صاف، صریح اور کھلی
کھلی وحی کے باوجود کوئی صاحبِ وحی بارہ برس تک اپنے منصب سے بے خبری کا شکار رہا ہو؟ اور بارہ برس بعد چونک کر وہ
خدا سے کہے: ’’میں خود تعجب کرتا ہوں کہ باوجود بار بار کی صریح، روشن اور کھلی کھلی وحی کے میں آپ کا مدعا نہیں
سمجھا تھا، معاف کیجئے! فقیر کو کچھ ذُہول اور بھول کا عارضہ ہے‘‘ یعنی:
278
-
مجھے قتل کرکے وہ بھولا سا قاتل
لگا کہنے: کس کا یہ تازہ لہو ہے؟
-
کسی نے کہا: جس کا وہ سر پڑا ہے
کہا: بھول جانے کی کیا میری خو ہے!
آپ نے باقل اور شیخ چلّی جیسے عاقلوں کے لطیفے ضرور پڑھے سنے ہوں گے، لیکن اِلہام ووحی اور نبوّت ورِسالت کا یہ
دردناک تماشا کس نے دیکھا سنا؟ پنجاب کو چودھویں صدی کا مجدّد، مسیح اور نبی ملا بھی تو قادیان کا وہ فردِ یکتا جو
بارہ اور بائیس برس تک بقول خود نشۂ ذُہول وغفلت میں خدا کا مطلب ہی نہیں سمجھا۔ حیف ہے اس وحی پر جو صاحبِ وحی کو
اندھیرے میں رکھے، اور تف ہے اس نبوّت پر جس کا حامل، بائیس برس تک خود گم کردہ راہ رہے...! مرزاجی کے ان لطائف پر
ظاہربینوں کو ہنسی آئے گی، لیکن جو لوگ وحیٔ اِلٰہی کے تقدس اور نبوّت ورِسالت کی رفعتوں سے آشنا ہیں وہ ان لطائف
کو سن کر خون کے آنسو روئیں گے، کہ قادیان کے ان مسیح صاحب نے ان مقدس اِصطلاحات کی کیسی مٹی پلید کی، اور انہیں
کتنی بے دردی سے پامال کرڈالا...!
فَاللہُ الْمُسْتَعَانُ وَاِلَیْہِ الْمُشْتَکٰی!
مثالِ چہارم:... تجدید اور شرک:
گزشتہ سطور میں گزرچکا ہے کہ مرزا صاحب ایک مدّت تک عیسیٰ علیہ السلام کی حیات اور ان کے رفع ونزول کے قائل رہے،
اور یہی عقیدہ انہوں نے آیتِ قرآن، آثارِ نبویہ اور عقیدۂ اُمتِ مسلمہ کی روشنی میں اپنی ’’قطبی‘‘ میں درج کیا،
لیکن اپنی عمرِ عزیز کی پچاس بہاریں دیکھنے کے بعد جب آپ نے خود مسندِ مسیحیت بچھائی تو سب سے پہلا کام یہ کیا کہ
حیاتِ عیسیٰ علیہ السلام کے عقیدے کو شرک، اِلحاد، تحریف اور تفسیر بالرائے کا خطاب دے کر نہ صرف تیرہ صدی کی اُمت
کو مشرک وملحد قرار دِیا، بلکہ اپنی سابقہ عمر پر بھی یہی فتویٰ جاری فرمایا، مرزا صاحب کے اس بے نظیر تضاد کا حل
روزنامہ ’’الفضل‘‘ نے یہ نکالا ہے:
279
’’حضرت مسیحِ موعود (مرزا صاحب) نے لکھا ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو آسمان پر زِندہ ماننا شرک ہے،
لیکن پہلے براہین احمدیہ میں خود یہ عقیدہ بیان کرچکے ہیں، اب اگر کوئی شخص کہے کہ پھر آپ بھی شرک کے مرتکب ہوئے
ہیں، تو ہمارا یہی جواب ہوگا کہ ہرگز نہیں، آپ نے اس وقت یہ خیال ظاہر کیا تھا جب قرآنِ کریم اور اِلہامِ اِلٰہی
سے وضاحت نہیں ہوئی تھی، شرک کے مرتکب وہ ہیں جو اس وضاحت کے بعد ایسا کرتے ہیں۔‘‘
(۹؍جولائی ۱۹۳۸ء، قادیانی مذہب فصل دوم طبع جدید ص:۲۰۳)
’’الفضل‘‘ کا مدعا یہ ہے جس طرح مرزا صاحب کو بارہ سال تک کھلی کھلی وحیٔ اِلٰہی کا مفہوم ذہن نشین نہیں ہوا تھا،
اسی طرح آپ شرکیہ عقیدے کو بھی بصد شان تجدیدِ اِسلام ہی سمجھتے رہے، ’’اس لئے شرک کے مرتکب ہرگز نہیں ہوئے۔‘‘ بارہ
سال بعد مرزا صاحب پر اِلہام کا مفہوم کھلا اور مجدّد سے مسیح بنے تو اِسلامی عقیدہ شرک میں تبدیل ہوگیا ...سبحان
اللہ! کیا دقائق ومعارف ہیں، ’’الفضل‘‘ کی تصریح سے ایک اور عقدہ بھی کھلا وہ یہ کہ شرک کو شرک سمجھ کر آدمی کرے تو
شرک کا مرتکب کہلاتا ہے، جب تک ’’اِلہامِ اِلٰہی‘‘ سے اس پر یہ ’’وضاحت‘‘ نہ ہو تب تک شرک کی تعلیم دینے کے باوجود
مشرک نہیں بلکہ مجدّد اور مسیح ہوتا ہے:
’’جو بات کی، خدا کی قسم لاجواب کی!‘‘
مثالِ پنجم:... اُمتی ونبی:
مرزا صاحب فرماتے ہیں:
’’جس حالت میں مسیح ابنِ مریم اپنے نزول کے وقت کامل طور پر اُمتی ہوگا، تو پھر باوجود اُمتی ہونے کے کسی طرح سے
رسول نہیں ہوسکتا، کیونکہ رسول اور اُمتی کا مفہوم متبائن ہے۔‘‘
(اِزالہ ص:۷۵)
280
مرزا صاحب کی اس تصریح سے واضح ہے کہ جو شخص کامل طور پر اُمتی ہو، وہ کسی طرح سے رسول نہیں ہوسکتا، نہ اصلی
نہ ظلّی، نہ تشریعی نہ غیرتشریعی، کیونکہ رسول اور اُمتی دونوں متبائن ہیں، اور عقلاء جانتے ہیں کہ دو متبائن مفہوم
ایک ذات میں بیک وقت جمع نہیں ہوسکتے، مگر ہمارے مرزا صاحب کی مسیحائی نے دونوں کو بیک وقت جمع کردِکھایا۔ ان کی
ساری عمر اسی دشت پیمائی میں گزری کہ وہ رسول بھی ہیں اور اُمتی بھی۔ انہوں نے اس فلسفۂ اِجتماعِ ضدین کی تشریح میں
سینکڑوں صفحات سیاہ کئے، مگر عقیدۂ تثلیث کی طرح اس پیچیدہ فلسفے کو غالباً نہ وہ خود سمجھے، نہ اپنی اُمت کو
سمجھاسکے، چنانچہ آج تک وہ اس عقدے کو حل نہ کرسکی کہ وہ واقعۃً کیا تھے؟ رسول اور نبی تھے؟ یا نرے اُمتی؟ یا یہ کہ
کامل طور پر نہ وہ تھے، نہ یہ تھے، بلکہ ایک برزخی مخلوق تھے...؟
’’چیست یارانِ طریقت بعد ازیں تدبیرِ ما‘‘
مثالِ ششم:... نزولِ جبریل:
مرزا صاحب نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی آمدِ ثانی کا اِنکار کرنے کی ایک وجہ یہ بھی بیان فرمائی تھی:
’’ظاہر ہے کہ اگرچہ ایک ہی دفعہ وحی کا نزول فرض کیا جائے اور صرف ایک ہی فقرہ حضرت جبریل لاویں اور پھر چپ
ہوجاویں، یہ امر بھی ختمِ نبوّت کے منافی ہے، کیونکہ جب ختمیت کی مہر ٹوٹ گئی اور وحیٔ رِسالت پھر نازل ہونی شروع
ہوگئی تو پھر تھوڑا یا بہت نازل ہونا برابر ہے۔‘‘
(اِزالہ ص:۵۷۷، رُوحانی خزائن ج:۳ ص:۴۱۱)
مرزا صاحب کے پاس جبریل ایک بار نہیں، بلکہ بار بار آتا ہے، قرآنِ کریم جیسی قطعی وحی بھی نازل ہوتی ہے، مگر ان
کی مسیحائی سے مہرِ نبوّت نہیں ٹوٹتی، نزولِ جبریل کے لئے مندرجہ ذیل تصریحات ملاحظہ فرمائیے:
الف:... ’’ہمارا دعویٰ ہے کہ ہم نبی اور رسول ہیں۔‘‘
(اخبار ’’بدر‘‘ ۵؍مارچ ۱۹۰۸ء، ملفوظات ج:۱۰ ص:۱۲۷)
281
’’میں بیت اللہ میں کھڑے ہوکر یہ قسم کھاسکتا ہوں کہ وہ پاک وحی جو مجھ پر نازل ہوتی ہے، وہ اسی خدا کا کلام
ہے جس نے حضرت موسیٰ اور حضرت عیسیٰ اور حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم پر اپنا کلام نازل کیا تھا۔‘‘
(ایک غلطی کا اِزالہ ص:۶، رُوحانی خزائن ج:۱۸ ص:۲۱۰)
’’جس طرح یہ بات ممکن نہیں کہ آفتاب نکلے اور اس کے ساتھ روشنی نہ ہو، اسی طرح ممکن نہیں کہ دُنیا میں ایک رسول
اِصلاحِ خلق اللہ کے لئے آوے اور اس کے ساتھ وحیٔ اِلٰہی اور جبرئیل نہ ہو۔‘‘
(اِزالہ ص:۵۷۸، رُوحانی خزائن ج:۳ ص:۴۱۲)
ب:... ’’براہین احمدیہ‘‘ میں اپنی وحی کی اَقسام میں چوتھی صورت یہ بیان فرمائی ہے:
’’یا کبھی کوئی فرشتہ انسان کی شکل میں متشکل ہوکر کوئی غیبی بات بتلاتا ہے۔ (ص:۲۴۸ حاشیہ درحاشیہ) وحی لانے والے
فرشتے کا نام جبریل ہے۔‘‘
ج:... مرزا صاحب اپنا ایک طویل مکاشفہ بیان فرماتے ہیں، اس کے ایک فقرے کا ترجمہ یہ ہے:
’’اور میں نے محسوس کیا گویا جبریل میرے پاس بیٹھے ہیں۔‘‘
(ترجمہ عربی از مرتب تذکرہ ص:۸۱۵، ۸۱۶طبع دوم)
د:... ’’حقیقۃ الوحی‘‘ صفحہ:۱۰۳ (رُوحانی خزائن ج:۲۲ ص:۱۰۶) کے ایک عربی اِلہام میں فرماتے ہیں: ’’جائنی آئل واختار‘‘ (میرے پاس آیل آیا اور اس نے مجھے چن لیا)۔ اور اس کے حاشیہ میں
تحریر فرماتے ہیں کہ: ’’اس جگہ آیل خدا تعالیٰ نے جبریل کا نام رکھا ہے، اس لئے کہ بار بار رُجوع کرتا ہے۔‘‘
ہ:... مرزا صاحب کے فرزند ارجمند مرزا محمود صاحب کی روایت ہے:
’’میری عمر جب نو یا دس برس کی تھی، میں اور ایک اور
282
طالبِ علم ہمارے گھر میں کھیل رہے تھے، وہیں ایک الماری میں ایک کتاب پڑی تھی، جس پر نیلا جزدان تھا، وہ
ہمارے دادا صاحب کے وقت کی تھی، نئے نئے ہم پڑھنے لگے تھے، اس کتاب کو جو کھولا تو اس میں لکھا ہوا تھا کہ اب جبرئیل
نازل نہیں ہوتا، میں نے کہا یہ غلط ہے، میرے اَبا پر تو نازل ہوتا ہے، مگر اس لڑکے نے کہا کہ جبرئیل نہیں آتا،
کیونکہ اس کتاب میں لکھا ہے، ہم میں بحث ہوگئی، آخر ہم دونوں مرزا صاحب کے پاس گئے اور دونوں نے اپنا اپنا بیان پیش
کیا، آپ نے فرمایا: کتاب میں غلط لکھا ہے، جبرائیل اب بھی آتا ہے۔‘‘
(’’الفضل‘‘ ۱۰؍اپریل ۱۹۲۲ء، قادیانی مذہب فصل چہارم نمبر:۲۶ ص:۲۷۲ طبع جدید)
و:... مرزا صاحب مسیح ابنِ مریم سے اپنی مشابہت کی تشریح کرتے ہوئے اپنے مخصوص اندازِ معرفت میں ’’رُوح القدس‘‘ کا
نزول اپنے اُوپر تسلیم کرتے ہیں، جو بقول ان کے نر ومادَہ کے ملنے سے پیدا ہوتی ہے اور تینوں کا مجموعہ ’’پاک
تثلیث‘‘ بن جاتا ہے۔ اسلامی اِصطلاح میں ’’رُوح القدس‘‘ جبریل کا نام ہے۔
(دیکھئے توضیح مرام ص:۲۲، رُوحانی خزائن ج:۳ ص:۶۲)
ز:... مرزا صاحب کے دعوائے نزولِ جبریل کی صاف صاف ترجمانی ان کے ایک حواری قاضی محمد یوسف صاحب ملتانی نے فرمائی
ہے، وہ لکھتے ہیں:
’’جو لوگ نبیوں اور رسولوں پر حضرت جبرائیل علیہ السلام کا وحی لانا ضروری شرطِ نبوّت قرار دیتے ہیں، ان کے واسطے
یہ امر واضح رہے کہ حضرت صاحب (مرزا غلام احمد) کے پاس نہ صرف ایک جبرائیل آیا بلکہ بار بار رُجوع کرتا تھا، اور
وحیٔ خداوندی لاتا تھا...... اعلیٰ درجے کی وحی کے ساتھ فرشتہ ضرور آتا ہے، خواہ اس کو کوئی دُوسرا فرشتہ کہو
(مثلاً: ٹیچی ٹیچی، مٹھن لال، شیرعلی، سلطان احمد، غلام قادر،
283
اِلٰہی بخش، حفیظ، سقے، لڑکا، کرسی نشین، قصاب، کاتب، باغبان، وغیرہ وغیرہ دیکھئے ’’تذکرہ‘‘ عنوان
’’فرشتہ‘‘ ...ناقل) یا جبرئیل کہو، اور چونکہ حضرت احمد علیہ السلام (مرزا غلام احمد) بھی نبی اور رسول تھے اور آپ
پر اعلیٰ درجے کی وحی کا یعنی وحیٔ رِسالت کا نزول ہوتا رہا، لہٰذا آپ کی وحی کے ساتھ فرشتہ ضرور آتا تھا اور خدا
نے اس فرشتے کا نام تک بتادیا ہے کہ وہ فرشتہ جبرائیل ہی ہے۔‘‘
(النبوۃ فی الالہام ص:۳۰، قادیانی مذہب فصل چہارم نمبر۲۶ص:۲۷۲ طبع جدید)
خلاصہ یہ کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد وحیٔ نبوّت اور نزولِ جبریل، مرزا صاحب کے نزدیک ناممکن بھی ہے اور
واقع بھی...! ناممکن کو ممکن بنادینا انہی کا ’’مسیحائی کارنامہ‘‘ ہے۔
مثالِ ہفتم:... گستاخی اور کمال:
مرزا صاحب لکھتے ہیں:
’’قرآن شریف میں مسیح ابنِ مریم کے دوبارہ آنے کا تو کہیں ذِکر نہیں، لیکن ختمِ نبوّت کا بکمالِ تصریح ذِکر ہے،
اور پُرانے یا نئے نبی کی تفریق کرنا یہ شرارت ہے، نہ حدیث میں نہ قرآن میں یہ تفریق موجود ہے، اور حدیث:’’لَا نبی بعدی‘‘ میں بھی نفی عام ہے، پس یہ کس قدر جرأت اور دلیری اور گستاخی ہے کہ خیالاتِ
رکیکہ کی پیروی کرکے نصوصِ صریحہ قرآن کو عمداً چھوڑ دِیا جائے اور خاتم الانبیاء کے بعد ایک نبی کا آنا مان لیا
جائے، اور بعد اس کے جو وحیٔ نبوّت منقطع ہوچکی تھی پھر سلسلہ وحیٔ نبوّت کا جاری کردیا جائے، کیونکہ جس میں شانِ
نبوّت باقی ہے اس کی وحی بلاشبہ نبوّت کی وحی ہوگی۔‘‘
(ایامِ صلح ص:۱۴۶، رُوحانی خزائن ج:۱۴ص:۳۹۲، ۳۹۳)
284
مندرجہ بالا اِقتباس میں مرزا صاحب، خاتم الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد کسی نئے نیا پُرانے نبی کی
آمد کو قرآنِ کریم اور حدیثِ نبوی:’’لَا نبی بعدی‘‘ کی تصریح کے خلاف، شرافت، جرأت،
گستاخی، خیالاتِ رکیکہ کی پیروی اور نصوصِ صریحہ کا عمداً چھوڑنا قرار دیتے ہیں، اور صاف اِعلان کرتے ہیں کہ جس میں
شانِ نبوّت موجود ہو اس کی وحی بلاشبہ نبوّت کی وحی ہوگی۔ لیکن جب مرزا صاحب خود ’’شانِ نبوّت‘‘ کے ساتھ ’’محمد رسول
اللہ‘‘ کے مقامِ رفیع پر فائز ہوتے ہیں تو یہی شرارت، جرأت، گستاخی، خیالاتِ رکیکہ کی پیروی اور نصوصِ صریحہ کا
عمداً پشت انداز کرنا، آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوّت کا کمال بن جاتا ہے، فرماتے ہیں:
’’اور اگر کوئی شخص کہے کہ جب نبوّت ختم ہوچکی ہے تو اس اُمت میں نبی کس طرح ہوسکتا ہے؟ تو اس کا جواب یہ ہے کہ خدا
تعالیٰ نے اس بندہ (مرزا غلام احمد) کا نام اسی لئے نبی رکھا ہے کہ سیّدنا محمد رسول اللہ کی نبوّت کا کمال اُمت کے
کمال کے ثبوت کے بغیر ہرگز ثابت نہیں ہوتا، اور اس کے بغیر محض دعویٰ ہی دعویٰ ہے، جو اہلِ عقل کے نزدیک بے دلیل ہے،
اور کسی فرد پر ختمِ نبوّت ہونے کے یہی معنی ہیں کہ کمالاتِ نبوّت اس پر ختم ہیں، اور نبی کے بڑے کمالات میں سے نبی
کا فیض پہنچانے میں کامل ہونا ہے، اور یہ جب تک اُمت میں اس کا نمونہ نہ پایا جائے، ثابت نہیں ہوسکتا۔ اور پھر یہ
بھی یاد رہے کہ میری نبوّت سے اللہ تعالیٰ کی مراد بجز کثرتِ مکالمہ ومخاطبہ اور کچھ نہیں، اور یہ اکابر اہلِ سنت کے
نزدیک بھی مُسلَّم ہے، پس یہ صرف نزاع لفظی ہے۔‘‘
(ترجمہ اِستفتاء عربی حاشیہ ضمیمہ حقیقۃ الوحی ص:۱۷، رُوحانی خزائن ج:۲۲ ص:۶۳۷)
مرزا صاحب یہ کہنا چاہتے ہیں کہ ان کی نبوّت کا کمال آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے کمالِ نبوّت کی دلیل ہے، مرزا
صاحب خدانخواستہ نبوّت سے سرفراز نہ ہوتے تو عقلاء
285
کے نزدیک محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوّت کا کمال دعوائے بلادلیل ہوتا، اب اگر مرزا صاحب کی
نبوّت ناقص ہوگی تو اس کے معنی یہ ہیں کہ دلیلِ نبوّتِ محمدیہ ناقص ہے۔
اللہ تعالیٰ ایک عظیم الشان رسول عیسیٰ علیہ السلام کو حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا اُمتی بنادیں تو ...معاذاللہ...
یہ شرارت اور گستاخی ہے! اور ایک نالائق غلام بروزی برقع پہن کر آقا کی مسند پر قبضہ جمالے تو یہ کمال ہے، خوب کہا
ہے:
-
خرد کا نام رکھ دیا ہے جنوں، اور جنوں کا خرد
جو چاہے تیرا حسن کرشمہ ساز کرے
آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد کسی گزشتہ نبی کی آمد کو ماننے والے شریر اور گستاخ ہیں، بعد ختمِ نبوّت کے
سلسلۂ وحیٔ نبوّت جاری کرنے کے ملزم ہیں، مگر مرزا صاحب ازسرِنو نبوّت ورِسالت اور وحی کا سلسلہ جاری کردیں تو
آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے دعوے کی دلیل مہیا ہوجاتی ہے... چہ خوب!
-
تیری زُلف میں پہنچی تو حسن کہلائی
وہی تیرگی جو میرے نامۂ سیاہ میں ہے
مثالِ ہشتم:... محدث اور نبی:
مرزا صاحب کا دعویٰ ہے کہ وہ چشمِ بددُور مسیحِ موعود ہیں، اس لئے بیک وقت نبی بھی ہیں اور محدث بھی۔ اس کے لئے
انہوں نے ظلّی، بروزی، مجازی، اِستعاراتی، لغوی وغیرہ اِصطلاحات کا ایک ایسا جال پھیلایا ہے کہ ان کی اُمت تو اس سے
کیا نکلتی، وہ خود بھی اپنے دامِ تناقض کا شکار ہوکر رہ گئے، اس کو سمجھنے کے لئے سب سے پہلے رسول اور محدث کی تعریف
مرزا صاحب کے الفاظ میں پیش کردینا مناسب ہوگا۔
الف:... رسول اور نبی:
’’اسلام کی اِصطلاح کے مطابق نبی اور رسول کے یہ معنی ہوتے ہیں کہ وہ کامل شریعت لاتے ہیں، یا بعض اَحکامِ شریعتِ
286
سابقہ کو منسوخ کرتے ہیں، یا نبیٔ سابق کی اُمت نہیں کہلاتے اور براہِ راست بغیر اِستفادہ کسی نبی کے خدا
تعالیٰ سے تعلق رکھتے ہیں۔‘‘
(مرزا صاحب کا مکتوب ۱۷؍اگست ۱۸۹۱ء، مباحثہ راولپنڈی ص:۱۴۵)
مرزا صاحب کی اس تعریف سے جو بقول ان کے اِسلام کی اِصطلاح کے مطابق ہے، واضح ہوا کہ جو شخص کسی نبی سے اِستفادے کا
مدعی ہو، وہ رسول اور نبی نہیں ہوسکتا۔
ب:... محدث:
مرزا صاحب نے ’’آئینہ و وساوس‘‘ میں صفحہ:۲۳۱سے ۲۳۸تک ’’محدث‘‘ کی تعریف کرتے ہوئے خوب آسمان وزمین کے قلابے
ملائے ہیں، لیکن بالآخر نتیجہ یہ نکلا کہ:
’’محدث نبی بالقوہ ہوتا ہے اور اگر بابِ نبوّت مسدود نہ ہوتا تو ہر ایک محدث اپنے وجود میں قوّت اور اِستعداد نبی
ہوجانے کی رکھتا تھا۔‘‘
(آئینہ کمالاتِ اسلام ص:۲۳۸، رُوحانی خزائن ج:۵ ص:۲۳۸)
مرزا صاحب کی اس تعریف سے بھی واضح ہوتا ہے کہ محدث میں اِستعدادِ نبوّت اگرچہ موجود ہوتی ہے، مگر چونکہ بابِ نبوّت
مسدود ہے، اس لئے وہ بالفعل نبی نہیں ہوتا، نہ ہوسکتا ہے۔ رسول ونبی اور محدث کی تعریف سننے کے بعد اَب مرزا صاحب کا
دعویٰ سماعت فرمائیے:
ج:...نبوّت نہیں محدثیت:
’’سوال:... رسالہ فتح اسلام میں نبوّت کا دعویٰ کیا ہے؟
جواب:... نبوّت کا دعویٰ نہیں بلکہ محدثیت کا دعویٰ ہے جو خدا تعالیٰ کے حکم سے کیا گیا ہے۔‘‘
(اِزالہ ص:۴۲۱، رُوحانی خزائن ج:۳ ص:۳۲۰)
287
د:... محدثیت نہیں نبوّت:
’’چند روز ہوئے ہیں کہ ایک صاحب پر ایک مخالف کی طرف سے یہ اِعتراض پیش ہوا کہ جس سے تم نے بیعت کی ہے (یعنی مرزا
صاحب) وہ نبی اور رسول ہونے کا دعویٰ کرتا ہے، اور اس کا جواب محض اِنکار کے الفاظ سے دِیا گیا ہے، حالانکہ ایسا
جواب صحیح نہیں ...۔۔ مجھے نبوّت اور رِسالت سے اِنکار نہیں ...۔۔ اگر خدا تعالیٰ نے غیب کی خبریں پانے والے نبی کا
نام نہیں رکھا تو پھر بتلاؤ کس نام سے اس کو پکارا جائے گا؟ اگر کہو اس کا نام محدث رکھنا چاہئے تو میں کہتا ہوں کہ
تحدیث کے معنی کسی لغت کی کتاب میں اِظہارِ غیب نہیں ہے، مگر نبوّت کا معنی اِظہارِ اَمرِ غیب ہے، اور نبی ایک لفظ
ہے جو عربی اور عبرانی میں مشترک ہے، یعنی عبرانی میں اسی لفظ کو نابی کہتے ہیں اور یہ لفظ نابا سے مشتق ہے جس کے یہ
معنی ہیں خدا سے خبر پاکر پیش گوئی کرنا۔‘‘ (سبحان اللہ جل جلالہٗ)
(ایک غلطی کا اِزالہ ص:۱،۷، رُوحانی خزائن ج:۱۸ ص:۲۰۶تا ۲۱۰)
پہلی عبارت میں نبوّت ورِسالت اور محدثیت کے درمیان تقابل کرتے ہوئے نبوّت کی نفی اور محدثیت کا دعویٰ کیا گیا ہے،
اور دُوسری عبارت میں بھی ٹھیک وہی تقابل موجود ہے، مگر اَب اس کے برعکس نبوّت کا دعویٰ ہے اور محدثیت کی نفی...!
بقول غالب:
کچھ نہ سمجھے خدا کرے کوئی!
مرزا صاحب کی اُمت آج تک یہ فیصلہ نہیں کرسکی کہ ان کا اصل دعویٰ کیا تھا؟ لاہوری کہتے ہیں کہ قادیانی نہیں سمجھے،
اور قادیانی کہتے ہیں کہ لاہوری خارجی ہیں، وہ نہیں سمجھے، اور ہم کہتے ہیں کہ دونوں ٹھیک کہتے ہو، خود مرزاجی بھی
نہیں سمجھے۔ ان کی خدمت میں عرض کیا جاتا ہے کہ حضور! آپ کے دعوؤں میں تناقض کیوں ہے؟ تو حضور فرماتے ہیں:
288
’’میں نہیں جانتا کہ ایسا کیوں ہوا؟ خدا سے پوچھو‘‘ سنئے...!
تناقض کا سبب:
’’رہی یہ بات کہ ایسا کیوں لکھا گیا، اور کلام میں یہ تناقض کیوں پیدا ہوگیا؟ سو اس بات کو توجہ کرکے سمجھ لو کہ یہ
اس قسم کا تناقض کہ جیسے براہین احمدیہ میں نے لکھا تھا کہ مسیح ابنِ مریم آسمان سے نازل ہوگا، مگر بعد میں یہ لکھا
کہ آنے والا مسیح میں ہی ہوں، اس تناقض کا بھی یہی سبب تھا کہ اگرچہ خدا تعالیٰ نے براہین احمدیہ میں میرا نام
عیسیٰ رکھا اور یہ بھی فرمایا کہ تیرے آنے کی خبر خدا اور رسول نے دی تھی مگر چونکہ ایک گروہ مسلمانوں کا، اس
اِعتقاد پر جما ہوا تھا اور میرا بھی یہی اِعتقاد تھا کہ حضرت عیسیٰ آسمان سے نازل ہوں گے، اس لئے میں نے خدا کی
وحی کو ظاہر پر محمول کرنا نہ چاہا، بلکہ اس وحی کی تاویل کی اور اپنا اِعتقاد وہی رکھا، لیکن بعد اس کے اس بارے میں
بارش کی طرح وحی نازل ہوئی کہ وہ مسیحِ موعود جو آنے والا تھا تو ہی ہے ...... پس یہ اس خدا سے پوچھو کہ ایسا تو نے
کیوں کیا؟ میرا اس میں کیا قصور ہے؟‘‘
(حقیقۃ الوحی ص:۱۴۸، ۱۴۹ ملخصاً، رُوحانی خزائن ج:۲۲ ص:۱۵۲، ۱۵۳)
وحی اور عقیدہ:
’’اسی طرح اوائل میں میرا یہی عقیدہ تھا کہ مجھ کو مسیح ابنِ مریم سے کیا نسبت ہے؟ وہ نبی ہے اور خدا کے بزرگ
مقربین میں سے ہے، اور اگر کوئی امر میری فضیلت کی نسبت ظاہر ہوتا تو میں اس کو جزئی فضیلت قرار دیتا تھا، مگر بعد
میں جو خدا تعالیٰ کی وحی بارش کی طرح میرے پر نازل ہوئی اس نے مجھے اس عقیدے پر قائم نہ رہنے
289
دیا (مرزاجی کی اُمت کا لاہوری فرقہ کہتا ہے کہ حضرت صاحب پر عقیدے کی تبدیلی کا اِلزام محض تہمت ہے، اب
فرمائیے یہ تہمت کس نے لگائی؟ مگر مرزاجی کے اُمتی بھی معذور ہیں، جب خود مرزاجی نہیں جانتے کہ خدا نے ان کے ساتھ
کیوں کیا؟ تو ان کے اُمتی بھی اگر نہ جانتے ہوں کہ ان پر یہ تہمت کس نے لگائی تو گلہ شکوہ کیوں کیجئے؟ ...ناقل) اور
صریح طور پر نبی کا خطاب مجھے دیا ...... میں خدا تعالیٰ کی تیئس برس کی متواتر وحی کو کیونکر رَدّ کرسکتا ہوں، میں
اس کی پاک وحی پر ایسا ہی اِیمان لاتا ہوں جیسا کہ ان تمام خدا کی وحیوں پر اِیمان لاتا جو مجھ سے پہلے ہوچکی ہیں۔
خلاصہ یہ کہ میرے کلام میں کچھ تناقض نہیں، میں تو خدا تعالیٰ کی وحی کا پیروی کرنے والا ہوں، جب تک مجھے اس سے علم
نہ ہوا میں وہی کہتا رہا جو اَوائل میں میں نے کہا، اور جب مجھ کو اس کی طرف سے علم ہوا تو میں نے اس کے مخالف کہا
...۔۔ میں نہیں جانتا کہ خدا نے ایسا کیوں کیا ...۔۔ مگر خدا نے جو چاہا ہے کیا، اور خدا جو چاہتا ہے کرتا ہے، کیا
انسان کا مقدور ہے کہ وہ اِعتراض کرے کہ ایسا تو نے کیوں کیا؟‘‘
(حقیقۃ الوحی ص:۱۴۹، ۱۵۰ ملخصاً، رُوحانی خزائن ج:۲۲ ص:۱۵۲، ۱۵۳)
چلئے بحث ختم ہوگئی...! اس تناقض بیانی اور تبدیلیٔ عقائد کا سارا اِلزام ’’وحیٔ اِلٰہی کی بارش‘‘ اور ’’خدا کے
فعل‘‘ پر عائد ہوا، اور مرزا صاحب یہ کہہ کر: ’’میں نہیں جانتا کہ خدا نے ایسا کیوں کیا؟‘‘ صاف چھوٹ گئے، جب مرزا
صاحب بھی نہیں جانتے کہ خدا کے اس فعل میں کیا حکمت ہے؟ تو ظاہر ہے کہ ان کی اُمت بھی نہیں جانتی ہوگی، نہ جان سکتی
ہے۔
آئیے! ہم آپ کو بتاتے ہیں کہ مرزا صاحب کو خدا نے اس تناقض میں کیوں ڈالا؟
290
مثالِ نہم:... پاگل پن اور نبوّت:
’’ظاہر ہے کہ ایک دِل سے دو متناقض باتیں نکل نہیں سکتیں، کیونکہ ایسے طریق سے یا انسان پاگل کہلاتا ہے یا منافق۔‘‘
(ست بچن ص:۳۱، رُوحانی خزائن ج:۱۰ ص:۴۳)
’’اس شخص کی حالت ایک مخبط الحواس انسان کی حالت ہے کہ ایک کھلا کھلا تناقض اپنے کلام میں رکھتا ہے۔‘‘
(حقیقۃ الوحی ص:۱۸۴، رُوحانی خزائن ج:۲۲ ص:۱۹۱)
لیجئے! یہ تھی حکمت خدا تعالیٰ کے فعل میں کہ مرزاجی نبوّت ومسیحیت کے چکر میں ایسا اُلجھیں کہ خود اپنے کلام میں
تناقض کا اِقرار کرنے پر مجبور ہوجائیں اور تناقض کے نتیجے میں خود اپنی ذات پر یہ تین فتوے صادر فرمائیں ـــــ لیکن
اس کا کیا علاج کہ قادیانی اُمت فعلِ خدا کی حکمت سمجھنے سے قاصر ہے...!
مثالِ دہم:... مراق اور نبوّت:
مرزا صاحب کا اِرشاد ہے:
’’ایک رنگ میں سب نبیوں کو مراق ہوتا ہے (غالباً جھوٹے نبی مراد ہیں، ورنہ سچے نبیوں کو مراق نہیں ہوتا ...ناقل)
اور مجھ کو بھی ہے۔‘‘
(سیرۃالمہدی ج:۳ ص:۳۰۴)
مراق اور نبوّت کی یہ جامعیت بھی بلاشرکتِ غیرے مرزاجی کا حصہ ہے، ہاں! وہ اس نعمت میں ’’سب ...جھوٹے...نبیوں‘‘ کو
بھی شریک فرمالیں تو ان کا مال ہے، جس کو چاہیں دیں ــــــ یہ دس مثالیں مرزاجی کی جامعیتِ اَضداد کی تشریح کے لئے
کافی ہیں، تاہم دسویں مثال مراق کی دلیل کے لئے ایک دو مثالیں اور بھی سن لیجئے!
مسیحیت کا صغریٰ کبریٰ:
الف:... صغری:... ’’خدا نے مجھے مسیحِ موعود مقرّر کرکے بھیجا ہے۔‘‘
291
(اربعین نمبر۴ ص:۲۵ ملخصاً، رُوحانی خزائن ج:۱۷ ص:۴۶۱)
کبریٰ:... ’’اس عاجز نے جو مثیلِ موعود ہونے کا دعویٰ کیا ہے، جس کو کم فہم لوگ مسیحِ موعود خیال کربیٹھے ہیں۔‘‘
(اِزالہ ص:۱۹۰، رُوحانی خزائن ج:۳ ص:۱۹۲)
نتیجہ:... بتائیے! کم فہم کا فتویٰ کس پر عائد ہوتا ہے...؟
ب:... صغریٰ:... ’’خدا تعالیٰ نے ...۔۔ مجھے عیسیٰ بن مریم ٹھہرایا۔‘‘
(حاشیہ حقیقۃ الوحی ص:۷۲، رُوحانی خزائن ج:۲۲ ص:۷۵)
کبریٰ:... ’’میں نے یہ دعویٰ ہرگز نہیں کیا کہ میں مسیح بن مریم ہوں، جو شخص یہ اِلزام میرے پر لگاوے وہ سراسر
مفتری اور کذّاب ہے۔‘‘
(اِزالہ ص:۹۳، رُوحانی خزائن ج:۳ ص:۱۹۲)
نتیجہ:... سراسر مفتی اور کذّاب کون ٹھہرا...؟
ج:... صغریٰ:... ’’ہمارا دعویٰ ہے کہ ہم نبی اور رسول ہیں۔‘‘
(’’بدر‘‘ ۵؍مارچ ۱۹۰۸ء، حقیقۃ النبوۃ ص:۲۷۲ ضمیمہ، ملفوظات ج:۱۰ص:۱۲۷)
کبریٰ:... ’’ہم بھی نبوّت کے مدعی پر لعنت بھیجتے ہیں۔‘‘
(مجموعہ اِشتہارات ج:۲ س:۲۹۷)
نتیجہ:... بتائیے! مرزاجی کی لعنت کس پر ہوئی...؟
د:... صغریٰ:... ’’اے سردار! تو خدا کا مرسل ہے۔‘‘
(ترجمہ اِلہام عربی، حقیقۃ الوحی ص:۱۰۷، حقیقۃ الوحی ج:۲۲ ص:۱۱۰)
کبریٰ:... ’’حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم ختم المرسلین کے بعد کسی دُوسرے مدعیٔ نبوّت اور رِسالت کو کاذب
اور کافر جانتا ہیں۔‘‘
(اِشتہارات ۲؍اکتوبر ۱۸۹۱ء، مجموعہ اِشتہارات ج:۱ ص:۲۳۰، ۲۳۱)
نتیجہ:... فرمائیے! کاذب وکافر کون ہوا؟
مرزا صاحب کے تناقض ودعاوی کی فہرست بڑی طویل ہے، وہ چشمِ بددُور! بیک وقت مسیحِ موعود بھی ہیں اور کرشن بھی، مہدی
بھی ہیں اور جے سنگھ بہادر بھی، محمد رسول اللہ بھی
292
اور برہمن اوتار بھی، حارث بھی ہیں اور مسلمان بھی، منصور بھی ہیں اور رودرگوپال بھی، آدم بھی ہیں اور خاتم
بھی، مرزا صاحب کا قاری جب بھی ان کی کسی تصنیفِ لطیف کا مطالعہ شروع کرتا ہے تو ان کے دعاویٔ باطلہ، تأویلات،
تحریفات اور تعلّیات کے جنگل میں برسوں بھٹکنے کے بعد بس اس نتیجے پر پہنچتا ہے جو بطورِ خلاصہ مرزا صاحب نے ایک
جملے میں سمیٹ دیا ہے کہ:
’’ایک رنگ میں سب (جھوٹے) نبیوں کو مراق ہوتا ہے اور مجھ کو بھی ہے۔‘‘
(سیرۃ المہدی ج:۳ ص:۳۰۴)
293
معیارِ صداقت
اور
مرزا غلام احمد قادیانی
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ
اَلْحَمْدُ للہِ وَسَلَامٌ عَلٰی عِبَادِہِ الَّذِیْنَ اصْطَفٰی!
عرض کیا جاچکا ہے کہ مرزا غلام احمد صاحب قادیانی خود اپنے مقرّر کردہ معیار ’’لَوْ
تَقَوَّلَ‘‘ پر مفتری ثابت ہوئے، کیونکہ جناب مرزا محمود احمد خلیفہ قادیان کی تحقیق کے مطابق:
’’نبوّت کا مسئلہ آپ پر ۱۹۰۰ء یا ۱۹۰۱ء میں کھلا۔‘‘
’’۱۹۰۱ء میں آپ نے اپنے عقیدے میں تبدیلی کی ہے۔‘‘
’’۱۹۰۱ء سے پہلے کے وہ حوالے، جن میں آپ نے نبی ہونے سے اِنکار کیا ہے، اب منسوخ ہیں، اور ان سے حجت پکڑنی غلط
ہے۔‘‘
(حقیقۃ النبوۃ ص:۱۲۱)
’’۱۹۰۱ء سے پہلے ...۔۔ جو تعریف نبی کی آپ پہلے خیال فرماتے تھے اس کے مطابق آپ نبی نہ بنتے تھے۔‘‘
’’۱۹۰۱ء سے پہلے ...۔۔ آپ اپنے آپ کو نبی کہنے سے پرہیز کرتے تھے۔‘‘
(حقیقۃ النبوۃ ص:۱۲۲)
۱۹۰۱ء میں مرزا صاحب پر نبوّت کا مسئلہ کھلا، اور انہوں نے اپنے عقیدے میں تبدیلی کرکے اپنی نبوّت کا اِعلان بڑے
زور وشور سے کیا، اور ۲۶؍مئی ۱۹۰۸ء کو بمرض وبائی
294
ہیضہ مرزا صاحب کوچ کرگئے (حیاتِ ناصر ص:۱۴) اس طرح ان کی یہ بات خود ان پر صادق آئی (بین القوسین کے
تشریحی الفاظ ناقل کی جانب سے ہیں):
’’خدا کی ساری پاک کتابیں گواہی دیتی ہیں کہ مفتری (مرزا صاحب کی طرح) جلد ہلاک کیا جاتا ہے، اس کو وہ عمر ہرگز
نہیں ملتی، جو صادق کو مل سکتی ہے۔ تمام صادقوں کا بادشاہ ہمارا نبی صلی اللہ علیہ وسلم ہے، اس کو وحی پانے کے لئے
تیئس برس کی عمر ملی۔ یہ عمر قیامت تک صادقوں کا پیمانہ ہے۔‘‘
(ضمیمہ اربعین ۳و۴ صفحہ اوّل، رُوحانی خزائن ج:۱۷ ص:۴۶۸)
اور مرزا صاحب کو مندرجہ ذیل خصوصی اِنعام، جو انہیں خاص طور سے من جانب اللہ عطا ہوا، اور ان کی اُمت کو بھی اس
میں سے حصہ رسدی ملا، یہ تھا:
’’اور ہزاروں لعنتیں خدا کی، اور فرشتوں کی، اور خدا کے پاک بندوں کی اس شخص پر ہیں، جو اس پاک پیمانے میں کسی خبیث
مفتری کو (مثلاً: مرزا صاحب کو) شریک سمجھتا ہے، اگر قرآنِ کریم میں آیتلَو تَقَوَّلَ
بھی نازل نہ ہوتی، اور اگر خدا کے تمام پاک نبیوں نے نہ فرمایا ہوتا کہ صادقوں کا پیمانۂ عمر وحی پانے کا کاذِب کو
نہیں ملتا، تب بھی ایک سچے مسلمان کی وہ محبت جو اپنے پیارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے ہونی چاہئے، کبھی اس کو
اِجازت نہ دیتی کہ وہ بے باکی اور بے ادبی کا کلمہ مونہہ پر لاسکتا کہ یہ پیمانہ وحیٔ نبوّت یعنی تیئس برس جو
آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو دِیا گیا، یہ کاذب کو (مثلاً: مرزا صاحب کو) بھی مل سکتا ہے۔‘‘
(ضمیمہ اربعین ۳و۴ ص:۱،۲، رُوحانی خزائن ج:۱۷ ص:۴۶۸، ۴۶۹)
اور مرزا صاحب کا یہ اِحتجاج بھی ان کی اُمت پر حرف بہ حرف راست آیا:
295
’’جس حالت میں قرآن شریف نے صاف لفظوں میں فرمادیا کہ اگر یہ نبی کاذب ہوتا تو یہ پیمانہ عمر وحی پانے کا اس کو
عطا نہ ہوتا (بلکہ مرزا غلام احمد کی طرح اِعلانِ نبوّت کے سات سال بعد وبائی ہیضے سے مرجاتا ...ناقل) اور توریت نے
بھی یہی گواہی دی، اور اِنجیل نے بھی یہی، تو پھر (مرزائیوں کا) کیسا اِسلام اور کیسی مسلمانی ہے کہ ان تمام گواہیوں
کو صرف میرے بغض کے لئے ایک ردّی چیز کی طرح پھینک دیا گیا اور (مرزائیوں نے) خدا کے پاک قول کا کچھ بھی لحاظ نہ
کیا۔ میں نہیں سمجھ سکتا کہ یہ (مرزائیوں کی) کیسی اِیمان داری ہے کہ ہر ایک ثبوت جو (مرزا صاحب کے مفتری ہونے پر)
پیش کیا جاتا ہے، اس سے فائدہ نہیں اُٹھاتے۔‘‘
(ضمیمہ اربعین ۳و۴ ص:۲، رُوحانی خزائن ج:۱۷ ص:۴۶۹)
مرزا صاحب نے صادقوں کا جو پیمانہ وضع کیا تھا ...یعنی ۲۳برس... اس پر خود تو پورے نہیں اُترے، اے کاش کہ ان کا یہ
پیمانہ ہی صحیح ہوتا، لیکن مرزا صاحب کی کتابوں کے مطالعے سے معلوم ہوتا ہے کہ ان کے دعویٔ نبوّت کی طرح ان کا یہ
مصنوعی پیمانہ بھی غلط اور سراسر خوش فہمی تھا، کیونکہ اگر ۲۳ برس کی مہلت پانا ’’صادقوں کا پیمانہ‘‘ ہے، اور بقول
مرزا صاحب کے جھوٹے کی یہی نشانی ہے کہ اسے اس قدر مہلت نہیں ملتی۔ اس کے معنی یہ ہوئے کہ جن انبیائے کرام علیہم
السلام کو اس قدرت مہلت نہیں ملی، وہ مرزا صاحب کے نزدیک ’’صادقوں کے پیمانے‘‘ پر پورے نہیں اُترے، لہٰذا مفتری ثابت
ہوئے۔ اس کے برعکس جن جھوٹے مدعیانِ وحی واِلہام کو ۲۳برس کی مہلت ملی، وہ صادقوں کے پیمانے پر پورے اُترے، لہٰذا ان
پر اِیمان لانا فرض ہوا۔ اِنصاف فرمائیے! کیا یہ معیار صحیح ہے...؟
پھر لطیفہ یہ ہے کہ ان کے نزدیک یہ مصنوعی پیمانہ ربڑ کی طرح گھٹ بڑھ بھی سکتا ہے، ذیل میں ان کی تصریحات ملاحظہ
فرمائیے
296
۱-غیرمعین:
’’خدا کی ساری پاک کتابیں گواہی دیتی ہیں کہ مفتری جلد ہلاک کیا جاتا ہے (کتنی مدّت میں؟ اس کی کچھ خبر نہیں
...ناقل)۔‘‘
(ضمیمہ اربعین ۳و۴ ص:۱، رُوحانی خزائن ج:۱۷ ص:۴۶۸)
۲- جلد ہلاک:
’’اور خدا تعالیٰ خود قرآنِ کریم میں فرماتا ہے کہ میں مفتری کو مدد نہیں دیتا، اور وہ جلد ہلاک کیا جاتا ہے، اور
اس کی جماعت متفرق کی جاتی ہے (یہ کس آیت کا ترجمہ ہے؟ ...ناقل)۔‘‘
(شہادۃ القرآن ص:۷۵، رُوحانی خزائن ج:۶ ص:۳۷۱)
۳- فی الفور:
’’قرآن شریف میں ایسے شخص سے کسی قدر بیزاری ظاہر کی ہے، جو خدا تعالیٰ پر اِفترا باندھے (مرزا صاحب کی طرح؟) یہاں
تک کہ اپنے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو فرمایا ہے کہ اگر وہ بعض قول میرے پر اِفترا کرتا تو میں فی الفور
پکڑلیتا، اور رَگِ جان کاٹ دیتا۔‘‘
(انجامِ آتھم ص:۴۹، رُوحانی خزائن ج:۱۱ ص:۴۹)
۴- دست بدست:
’’قرآن شریف کے نصوصِ قطعیہ سے ثابت ہوتا ہے کہ ایسا مفتری اسی دُنیا میں (مرزا صاحب کی طرح) دست بدست سزا پالیتا
ہے، اور خدائے قادر وغیور کبھی اس کو اَمن میں نہیں چھوڑتا، اور اس کی غیرت اس کو کچل ڈالتی ہے، اور جلد ہلاک کرتی
ہے۔‘‘
(انجامِ آتھم ص:۴۹، رُوحانی خزائن ج:۱۱ ص:۴۹)
297
۵- دس، گیارہ:
’’اب بفضلہ تعالیٰ گیارھواں برس جاتا ہے، کیا یہ نشان نہیں ہے؟ (یقینا نشانِ کذب ہے ...ناقل) اگر خدا تعالیٰ کی طرف
سے یہ کاروبار نہ ہوتا تو کیونکر عشرۂ کاملہ تک، جو ایک حصہ عمر کا ہے، ٹھہر سکتا ہے؟‘‘
(نشانِ آسمانی ص:۳۷، رُوحانی خزائن ج:۴ ص:۳۹۷)
۶- بارہ برس:
’’اور پھر تعجب پر تعجب یہ کہ خدا تعالیٰ ایسے ظالم مفتری کو اتنی لمبی مہلت بھی دے دے، جسے آج تک بارہ برس گزرچکے
ہوں۔‘‘
(شہادۃ القرآن ص:۷۵، رُوحانی خزائن ج:۶ ص:۳۷۱)
۷- اٹھارہ یا پچّیس برس:
’’جو شخص خدا تعالیٰ پر اِلہام کا اِفترا کرتا ہے ...... وہ جلد پکڑا جاتا ہے (مرزا غلام احمد کی طرح)، اور اس کی
عمر کے دن بہت تھوڑے ہوتے ہیں ...۔۔ کوئی منکر کسی تاریخ کے حوالے سے ایک نظیر بھی پیش نہیں کرسکتا ...۔۔ کہ کوئی
جھوٹا اِلہام کا دعویٰ کرنے والا پچّیس برس تک یا اَٹھارہ برس تک جھوٹے اِلہام دُنیا میں پھیلاتا رہا۔‘‘
(ایامِ صلح ص:۳۷، رُوحانی خزائن ج:۱۴ ص:۲۶۷، ۲۶۸)
۸- بیس برس:
’’میرے دعویٔ اِلہام پر پورے بیس برس گزرگئے، اور مفتری کو اس قدر مہلت نہیں دی جاتی۔‘‘
(انجامِ آتھم ص:۴۹، رُوحانی خزائن ج:۱۱ ص:۴۹)
۹- تیئس برس:
’’تیئس برس کی عمر ملی، یہ عمر قیامت تک صادقوں کا پیمانہ
298
ہے۔‘‘
(ضمیمہ اربعین ۳و۴ ص:۱، رُوحانی خزائن ج:۱۷ ص:۴۶۸)
۱۰- پچّیس برس:
’’کیا کسی کو یاد ہے کہ کاذب اور مفتری کو اِفتراؤں کے دن سے پچّیس برس تک مہلت دی گئی؟‘‘
(سراجِ منیر ص:۲، رُوحانی خزائن ج:۱۲ ص:۴)
۱۱-تیس برس:
’’یہ لوگ باوجود مولوی کہلانے کے یہ کہتے ہیں کہ ایک خدا پر اِفترا کرنے والا ...... تیس سال تک بھی زندہ رہ سکتا
ہے۔‘‘
(حقیقۃ الوحی ص:۲۰۶، رُوحانی خزائن ج:۲۲ ص:۲۱۵)
کیا مرزا صاحب کا یہی خدائی پیمانہ ہے؟ جو جلد، فی الفور، دست بدست سے شروع ہوتا ہے، اور دس، گیارہ، بارہ، چودہ،
سولہ، اٹھارہ، بیس، تیئس، پچّیس برس کی وسعتوں کو پھلانگتے ہوئے تیس برس تک پہنچ جاتا ہے، ان کے اس ملمع شدہ مصنوعی
پیمانے کو دیکھنے والا کیا یہی نہیں کہے گا کہ:
’’یہ تو صریح اِجتماعِ ضدین ہے، اور کوئی دانش مند اور قائم الحواس آدمی ایسے دو متضاد اِعتقاد ہرگز نہیں رکھ
سکتا۔‘‘
(اِزالہ اوہام حصہ اوّل ص:۲۳۹، رُوحانی خزائن ج:۳ ص:۲۲۰)
اِنصاف فرمائیے! اگر ۲۳برس کی مہلت ’’صادقوں کا پیمانہ‘‘ تھا تو مرزا صاحب نے اس سے کم وبیش مدّت کو معیار کے طور
پر کیوں پیش کیا؟
وَآخِرُ دَعْوَانَا اَنِ الْحَمْدِ للہِ رَبِّ الْعَالَمِیْنَ
وَصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی خَیْرِ خَلْقِہٖ مُحَمَّدٍ وَّآلِہٖ وَاَصْحَابِہٖ
اَجْمَعِیْنَ
299
مرزائی کذب و اِفترا
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ
اَلْحَمْدُ للہِ وَسَلَامٌ عَلٰی عِبَادِہِ الَّذِیْنَ اصْطَفٰی!
قارئین کو معلوم ہے کہ کرسمس کی تعطیلات میں (۲۶، ۲۷، ۲۸؍دسمبر کو) مرزا غلام احمد مسیح قادیان کی ’’مسیحی اُمت‘‘
کا سالانہ جلسہ ہوتا ہے، جو ان کے ’’دین مسیحی‘‘ میں مسلمانوں کے حج کا درجہ رکھتا ہے۔
مرزا محمود احمد خلیفہ قادیان کا ارشاد ہے:
الف:...’’اللہ تعالیٰ نے ایک اور ’’ظلی حج‘‘ مقرر کیا، تاکہ وہ قوم جس سے وہ اسلام کی ترقی کا کام لینا چاہتا ہے،
(یعنی مرزائی) اور تاکہ وہ غریب یعنی ہندوستان کے مسلمان اس میں شامل ہوسکیں۔‘‘
(الفضل یکم دسمبر ۱۹۳۲ء)
ب:...’’آج جلسہ کا پہلا دن ہے اور ہمارا جلسہ بھی حج کی طرح ہے۔ حج، خدا تعالیٰ نے مؤمنوں کی ترقی کے لئے مقرر
کیا تھا، آج احمدیوں کے لئے دینی لحاظ سے تو حج مفید ہے، مگر اس سے جو اصل غرض تھی، یعنی قوم کی ترقی تھی، وہ انہیں
حاصل نہیں ہوسکتی کیونکہ حج کا مقام ایسے لوگوں کے قبضہ میں جو احمدیوں کو قتل کردینا بھی جائز سمجھتے ہیں (کیوں؟
...ناقل) اس لئے خدا تعالیٰ نے قادیان کو اس کام کے لئے مقرر کیا ہے (تاکہ احمدیوں کا قبلہ بھی مسلمانوں سے جدا
ہوجائے...ناقل)۔‘‘
(انوارِ خلافت ص:ہ)
قادیانی اُمت کے ایک اور بزرگ کا ارشاد ہے:
300
’’جیسے احمدیت (یعنی مرزائیوں کے مسیحی مذہب...ناقل) کو چھوڑ کر پہلا، یعنی مرزا صاحب کو چھوڑ کر جو اسلام باقی رہ
جاتا ہے، وہ خشک اسلام ہے۔ اسی طرح اس ظلی حج کو چھوڑ کر مکہ والا حج بھی خشک رہ جاتا ہے، کیونکہ وہاں پر آج کل کے
مقاصد پورے نہیں ہوتے (غالباً چندہ نہیں ہوتا...ناقل)۔‘‘
(پیغام صلح جلد:۲۱ مؤرخہ ۱۹؍اپریل ۱۹۳۳ء، قادیانی مذہب فصل:۷)
مرزائیوں کا یہ ’’مسیحی حج‘‘ تقسیم سے پہلے ’’ارضِ حرم‘‘ (قادیان شریف) میں ہوتا تھا، اور قیام پاکستان سے جب یہ
’’ارضِ حرم‘‘ ’’دار الہنود‘‘ بن گئی تو وہاں کے تمام ’’انوارِ خلافت‘‘ بشمول بہشتی مقبرہ و مسجد اقصیٰ، دارالخلافت
’’ربوہ شریف‘‘ (حال چناب نگر) میں ہجرت کر آئے، اور تب سے یہ ظلی حج مبارک وہاں ہونے لگا۔ حضرت مسیح قادیان اور ان
کے مسیحی خلفا نے بھی اگرچہ اس ظلی حج مبارک کے بہت سے فضائل اپنی اُمت کو بتائے، مگر ’’الفضل‘‘ نے اس سلسلہ میں ایک
ایسا بدیع نکتہ ارشاد فرمایا ہے جو شاید ان کے ’’حضرت مسیح موعود‘‘ صاحب کو بھی نہیں سوجھا ہوگا۔ اس دلچسپ نکتہ کا
پس منظر یہ ہے کہ جب سیّدنا ابراہیم علیہ السلام تعمیر کعبہ سے فارغ ہوئے تو انہیں حکم ہوا کہ صفا پہاڑی پر کھڑے
ہوکر حج کا اعلان کرو، لوگ اطرافِ عالم سے تمہاری آواز پر لبیک کہتے ہوئے حج بیت اللہ کے لئے دوڑتے ہوئے آئیں گے،
’’یَأْتِیْنَ مِنْ کُلِّ فَجٍّ عَمِیْقٍ‘‘ (الحج:۲۷) حدیث میں آتا ہے کہ قیامت تک جن
خوش بخت افراد کے حق میں حج بیت اللہ کی سعادت لکھی تھی وہ اصلابِ آباء، ارحامِ امہات اور عالم ارواح ہی میں
ابراہیمی آواز پر ’’لبیک اللّٰھم لبیک‘‘ پکار اٹھے، اس تمہید کے بعد اب ’’الفضل‘‘ کا
نیا ’’مسیحی نکتہ‘‘ پڑھئے:
’’اس بابرکت اور مقدس للّہی جلسہ سالانہ (ظلی حج) کے مقدس ایام پھر قریب آپہنچے ہیں، اس میں شمولیت اختیار کرنا
دراصل اس آسمانی آواز پر لبیک کہنے کی سعادت حاصل کرنا ہے جو ابراہیمی سنت کی اتباع میں خدا تعالیٰ کی مشیت اور اس
کے اذن کے ماتحت اس دور کے ابراہیم ثانی (مرزا غلام احمد مسیح قادیان) نے آج سے
301
۸۳سال پہلے بلند کی تھی اور جس کے متعلق خدا نے ’’یأتین من کل فج عمیق‘‘ کی
بشارت دے کر اس میں شمولیت کو ہر صاحبِ استطاعت احمدی (مرزائی) کے لئے لازمی قرار دیا تھا۔ ابراہیم ثانی کے سدھائے
ہوئے وفا شعار پرندے (مرزائی حضرات) اپنے عمل سے دنیا کو ایک دفعہ پھر بتادیں گے کہ اس زمانہ میں خدا کے مسیح (مرزا
غلام احمد مسیح قادیان) نے باذن اللہ جن مردوں کو زندہ کیا تھا (یعنی مسلمانوں سے مسیحی مرزائی بنایا تھا) ان پر
کبھی موت وارد نہیں ہوسکتی۔‘‘
(روزنامہ الفضل ربوہ ۹؍دسمبر ۱۹۷۴ء)
(بین القوسین کے تشریحی الفاظ کا اضافہ ہم نے کیا ہے جو ’’الفضل‘‘ کے منشا کے مطابق ہے۔)
’’الفضل‘‘ کی نکتہ طرازی کا خلاصہ یہ ہے کہ:
۱:...حضرت ابراہیم علیہ السلام نے مکہ مکرمہ میں کعبہ شریف تعمیر کیا تھا، اور مرزائیوں کے ابراہیم ثانی مرزا غلام
احمد نے ’’قادیان شریف‘‘ میں ’’خدا کا گھر‘‘ بنالیا۔
۲:...ابراہیم علیہ السلام نے مکہ والے بیت اللہ کے حج کی آواز لگائی تھی، اور ’’مسیح قادیان‘‘ نے ۸۳سال پہلے ’’حج
قادیان‘‘ کے لئے آسمانی آواز لگائی۔ ’’یأتین من کل فج عمیق‘‘ اور قادیانی ابراہیم
کو یہی بشارت ’’حج قادیان‘‘ کے متعلق ہوئی۔
۴:...حج کعبہ ہر مسلمان پر بشرط استطاعت عمر میں صرف ایک مرتبہ فرض ہے، مگر مسیح قادیان کی مسیحی اُمت پر قادیان کا
(اور اب ربوہ کا) حج ہر سال فرضِ لازم ہے۔
۵:...مسلمان ندائے ابراہیمی پر لبیک کہتے ہوئے حج بیت اللہ کی سعادت حاصل کرتے ہیں، اور مرزا صاحب کی ’’مسیحی
اُمت‘‘ قادیان اور ربوہ کے حج و زیارت سے لطف اندوز ہوتی ہے، گویا:
302
-
سدھارے شیخ کعبہ کو، یہ مرزستان دیکھیں گے
وہ دیکھیں گھر خدا کا، یہ مسیح کی شان دیکھیں گے
ہمیں ربوہ کے ظلی حج سے مطلب نہیں، ان کا دین و مذہب ان کو مبارک رہے، وہ ابرہہ کی طرح قادیان میں ’’بیت اللہ‘‘
بنالیں، (مرزائیوں کا ’’بیت اللہ‘‘ قادیان میں مرزا غلام احمد صاحب کی ذات شریف تھی، وہ فرماتے ہیں: ’’خدا نے اپنے
الہامات میں میرا نام: ’’بیت اللہ‘‘ بھی رکھا ہے۔‘‘ (اربعین نمبر:۴ ص:۱۶)۔ جس طرح قادیان سے بہشتی مقبرہ، ربوہ میں
منتقل ہوگیا، غالباً ’’بیت اللہ‘‘ بھی یہاں ’’بروزی طور پر‘‘ منتقل ہوگیا ہوگا)، یا ربوہ میں مسجد اقصیٰ تعمیر
کرلیں، اس کے لئے حج کی آسمانی آوازیں لگائیں، یا ’’لبیک اللّٰہم لبیک‘‘ کے ترانے
گائیں، وہ انسانوں کی صف میں شامل رہیں یا ’’سدھائے ہوئے پرندے‘‘ بن کر بیسویں صدی کا نیا کرشمہ (تبدیلیٔ جنس)
دکھائیں، بہرحال انہیں اپنے ’’مسیحی دین‘‘ کے اندر رہتے ہوئے ہر طرح کی آزادی ہے، جو چاہیں کریں، مگر مسلمانوں کی
جانب سے ’’مسیح کے وفادار پرندوں‘‘ سے یہ مؤدبانہ التماس بے جا نہ ہوگی کہ وہ اپنی بلند پروازی کی دُھن میں اسلامی
شعائر کی مٹی پلید نہ کیا کریں، ان کی اس اونچی اُڑان سے ان کے نیازمندوں کو اذیت ہوتی ہے، مسلمانوں کے لئے اس قسم
کے فقرے بے حد تکلیف دہ ہیں کہ:
’’ہمارا جلسہ (ربوہ کا حج) شعائر اللہ ہے، بلکہ ہر آنے والا شعائر اللہ ہے، اور ومن یعظم
شعائر اللہ فانھا من تقوی القلوب کے مطابق جو اللہ تعالیٰ کے نشانوں کی عظمت کرتا ہے وہ اپنے تقویٰ کا ثبوت
دیتا ہے۔‘‘
(الفضل ۱۹؍دسمبر ۱۹۷۴ء)
ہمارے نزدیک ربوہ آنے والے ہر مرتد کو شعائر میں شمار کرنا، ’’شعائر اللہ‘‘ کی توہین ہے، یہ اسرارِ معرفت قادیان
کے ’’دا رالفکر‘‘ اور ربوہ کے ’’منارۃ المسیح‘‘ ہی میں بند رہنے چاہئیں۔ اسلام سے مذاق مسلمانوں کے لئے ناقابل
برداشت ہے۔
(ماہنامہ بینات کراچی صفر ۱۳۹۵ھ)
303
کذب و اِفترا کا نیا ریکارڈ
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ
اَلْحَمْدُ للہِ وَسَلَامٌ عَلٰی عِبَادِہِ الَّذِیْنَ اصْطَفٰی!
اللہ تعالیٰ پر اِفترا کرنے والوں کو قرآن حکیم میں سب سے بڑا ظالم قرار دیا گیا ہے:’’وَمَنْ
اَظْلَمُ مِمَّنِ افْتَرٰی عَلَی اللہِ...۔۔‘‘ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی جانب کوئی جھوٹی بات منسوب
کرنا بدترین جرم اور مسخ عقل و فطرت کی علامت ہے، ارشاد نبوی ہے: ’’جس نے مجھ پر جان بوجھ کر جھوٹ بولا وہ اپنا
ٹھکانا دوزخ میں بنائے۔‘‘ مرزا غلام احمد ’’مسیح قادیان‘‘ تو اس دائمی ضلالت کی سرگردانی میں مدۃ العمر مصروف رہے،
مگر اس کذب و اِفترا کی ایک تازہ مثال مرزائی مولوی فاضل ابوالعطاء اللہ دتہ جالندھری صاحب نے پیش کی ہے، سنئے:
اِفترا علی اللہ:
’’اسلام نے سورج اور چاند کے گرہن کا ذکر فرمایا ہے، قرآن پاک نے اسے مختلف پیرایوں میں انقلاب عظیم اور قیامت کی
نشانی بھی ٹھہرایا ہے۔‘‘
(الفضل ربوہ ۹؍دسمبر ۱۹۷۴ء)
سورج یا چاند گہن کا قیامت کی نشانی ہونا، مرزائیوں کی ’’مسیحی انجیل‘‘ (’’انجیل‘‘ (البشریٰ) مسیح قادیان صاحب کی
وحی و الہام کا مجموعہ ہے) میں کہیں لکھا ہو تو ہو، مگر قرآن پاک میں کہیں اس کا نام و نشان نہیں، اسے قرآن کی
جانب منسوب کرنا محض کذب اور اِفترا علی اللہ ہے۔
304
اِفترا علی الرسول:
اللہ دتہ صاحب مزید لکھتے ہیں:
’’رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے پیش گوئی فرمائی تھی کہ میری اُمت کی رہبری و رہنمائی کے لئے اللہ تعالیٰ مسیح
موعود اور مہدی معہود کو مبعوث فرمائے گا، اس کی شناخت کے سلسلہ میں آپؐ نے ارشاد فرمایا: ’’ان
لمھدینا آیتین لم تکونا منذ خلق السموات والأرض ...الخ۔‘‘ (دارقطنی ص:۱۸۸) کہ ہمارے مہدی کے لئے یہ دو
نشان مقرر ہیں اور یہ نشان ہمارے ہی امام مہدی کے ظہور کے ساتھ مختص ہیں، اسی کے لئے بطور دلیل صداقت ظاہر ہوں گے،
اور یہ صورت ابتدائے دنیا سے امام مہدی کے وقت میں ہی پیدا ہوگی، یعنی یہ کہ:
۱:...امام مہدی ہونے کا دعویدار موجود ہو۔
۲:...رمضان کا مہینہ ہو۔
۳:...چاند کی تاریخہائے خسوف میں سے اسے پہلی تاریخ کو گرہن لگے۔
۴:...سورج کی تاریخہائے کسوف میں سے اسے درمیانی تاریخ کو گرہن لگے۔‘‘
(حوالہ بالا)
اس عبارت میں ’’مسیحی مولوی فاضل‘‘ نے دو وجہ سے اِفترا علی الرسول کیا ہے۔
اول:...یہ کہ موصوف نے دارقطنی کا حوالہ دیا ہے، اور اس میں یہ قول امام باقرؒ کی جانب منسوب کیا گیا ہے، اور
محدثین کی تصریح کے مطابق یہ نسبت بھی محض غلط اور بازاری گپ ہے، جو عمرو بن شمر اور جابر جعفی ایسے کذابوں نے حضرت
امام باقرؒ کے سر دھری تھی، مگر ان ’’بزرگوں‘‘ کو بھی یہ جرأت نہ ہوئی کہ اس وضعی اور من گھڑت افسانے کو آنحضرت
صلی
305
اللہ علیہ وسلم کی ذاتِ مقدس سے منسوب کرڈالیں، مگر شاباش! اور صد آفرین! کہ مسیح قادیان کے مسیحی مولوی
فاضل اللہ دتہ جالندھری نے اس افترائی روایت کو ارشادِ نبویؐ قرار دے کر کذب و اِفترا کا نیا ریکارڈ قائم کردیا:
’’ایں کار از تو آید و مرداں چنیں کنند‘‘
دوم:...یہ کہ موصوف نے اس موضوع روایت کے اصل الفاظ ذکر نہیں کئے، نہ ان کا ترجمہ کیا، بلکہ اس جھوٹی روایت کی
خودساختہ تشریح اور من مانا مفہوم گھڑ کر اس کو فرمودۂ رسول بتادیا، یہ کذب در کذب (ڈبل جھوٹ) بھی مسیح قادیان کی
’’مسیحی اُمت‘‘ کا ہی کارنامہ ہوسکتا ہے۔ ابوالعطاء جالندھری صاحب مولوی فاضل ہیں، پیر کہن سالہ ہیں، انہیں خوب علم
ہے کہ یہ روایت سراپا کذب ہے، مگر ان کی مشکل یہ ہے کہ مہدی علیہ السلام کے حق میں جس قدر صحیح حدیثیں کتب صحاح میں
موجود ہیں، ان میں سے ایک بھی تو ان کے ’’خانہ ساز مہدی‘‘ پر چسپاں نہیں ہوتی، اس لئے انہوں نے اپنے مہدی (مرزا غلام
احمد قادیانی) کی تقلید میں من گھڑت روایتوں کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے منسوب کرنے کا راستہ اختیار کرلیا،
حالانکہ عقل کا تقاضا یہ تھا کہ وہ اس گرداب سے نکلنے کی ہمت کرتے، لیکن: وَمَن لَّمْ یَجْعَلِ
اللہُ لَہٗ نُوْرًا فَمَالَہٗ مِن نُّوْرٍ!
تاریخی جھوٹ:
ابوالعطاء صاحب مزید لکھتے ہیں:
’’یہ (مذکورۂ بالا) چاروں امور دنیا کی تاریخ میں صرف ایک ہی دفعہ سیّدنا حضرت میرزا غلام احمد صاحب قادیانی کے
دعویٔ مہدویت کے وقت ۱۳۱۱ھ میں جمع ہوئے، نہ اس سے پہلے ایسا واقعہ ہوا، نہ آئندہ کبھی یہ چاروں امور اکٹھے ہوں
گے۔‘‘
(حوالہ بالا)
مسیحی مولوی فاضل کا یہ دعویٰ کہ کسوف و خسوف کا رمضان میں اجتماع صرف ۱۳۱۱ھ میں ہوا، خالص تاریخی جھوٹ ہے، کیونکہ
گزشتہ تیرہ صدیوں میں (۱۸ھ سے
306
۱۳۱۲ھ تک) ساٹھ مرتبہ رمضان المبارک میں اجتماعِ کسوفین ہوا۔ ایران میں مرزا علی محمد باب نے ۱۲۶۰ھ میں
مہدویت کا دعویٰ کیا تھا، اس کے ساتویں سال رمضان ۱۲۶۷ھ مطابق جولائی ۱۸۵۱ء میں ۱۳؍ اور ۲۸؍ رمضان کو خسوف و کسوف کا
اجتماع ہوا (دیکھئے ’’رئیس قادیان‘‘ جلد دوم ص:۱۹۹، مؤلفہ مولانا ابوالقاسم رفیق دلاوری)۔
اسی طرح ’’مسیحی مولوی فاضل‘‘ صاحب کا یہ دعویٰ بھی تاریخی طور پر لغو ہے کہ: ’’۱۳۱۱ھ کا اجتماعِ خسوف و کسوف صرف
ان کے ’’مسیح قادیان‘‘ کے لئے نشانِ صدق تھا۔‘‘ کیونکہ ٹھیک اسی زمانہ میں محمد احمد مہدیٔ سوڈانی مسندِ مہدویت پر
جلوہ افروز تھا، اگر اس بے سر و پا گپ سے مسیح قادیان کی مہدویت کا ثبوت نکلتا ہے تو مرزائی اُمت کو مہدیٔ سوڈانی کی
’’بعثت‘‘ پر بھی ایمان لانا چاہئے۔
ہمیں قادیانی اُمت کی اس دیدہ دلیری اور جرأت بے جا پر افسوس ضرور ہے، مگر اس پر ذرا بھی تعجب نہیں کہ وہ خدا و
رسول پر دروغ بافی اور اِفترا پردازی کیوں کرتے ہیں؟ اور تاریخ کے انمٹ حقائق سے آنکھیں بند کرکے واقعات کو کیوں
مسخ کرتے ہیں؟ ہمیں معلوم ہے کہ اہل باطل زنادقہ کا دامن دلیل و برہان کے جوہر سے ہمیشہ خالی رہا ہے، ان کے صغریٰ،
کبریٰ کی کل کائنات اِدھر اُدھر کے زٹلیات، بے سروپا افسانے اور من گھڑت روایات کا پلندہ رہا ہے، ان کے دعاویٔ باطلہ
کا کھوٹا سکہ مسخ حقائق کی اندھیرنگری میں ہی چل سکتا ہے، زنادقہ کی یہی تکنیک مرزا غلام احمد ’’مسیح قادیان‘‘ نے
اختیار کی اور کانٹوں کے اسی جنگل میں ایک صدی سے ان کی ’’مسیحی اُمت‘‘ بھٹک رہی ہے:وَیُضِلُّ
اللہُ الظّٰلِمِیْنَ وَیَفْعَلُ اللہُ مَا یَشَآءُ!
گدی، سازش اور ڈھونگ:
قارئین کو علم ہے کہ مسیح قادیان کی ’’مسیحی اُمت‘‘ کے دو بڑے فرقے ہیں: لاہوری اور قادیانی ثم ربوی۔ ہمیں فرقہ
ربویہ سے زیادہ لاہوری پر رحم آتا ہے، مرزا صاحب کی مسیحی نبوّت کے تمام فوائد (از قسم گدی نشینی وغیرہ) تو فرقہ
ربویہ نے سمیٹ لئے، مگر مسیح
307
صاحب کے دامن مسیحیت سے وابستہ ہونے کے سبب لاہوری فرقہ بھی ۷؍ستمبر کے آئینی فیصلہ کی رُو سے خارج از
اسلام قرار دیا گیا۔ لاہوری فرقہ کا آرگن ہفت روزہ ’’پیغام صلح‘‘ متواتر صدائے احتجاج بلند کر رہا ہے کہ ہم تو حضرت
مسیح قادیان کو چودھویں صدی کا مجدد ہی مانتے ہیں، ہمیں آئینی فیصلے کی زد میں کیوں لایا گیا؟ اس سلسلہ میں ’’پیغام
صلح‘‘ کے ایک مضمون کا اقتباس ملاحظہ فرمائیے:
’’مولانا نور الدین صاحب خلیفہ جماعت احمدیہ کے بعد حضرت مرزا صاحب (مسیح قادیان) کے لڑکے مرزا بشیرالدین محمود نے،
جو کہ اپنی ’’انصار اللہ‘‘ پارٹی کی سازش اور کوششوں سے خلیفہ ثانی بنا اور جس نے اپنی گدی اور خلافت کو مضبوط کرنے کے
لئے یہ عقیدہ تراشا کہ جو کوئی مسلمان خدا کے مامور (مرزا غلام احمد) کو نہ مانے وہ دائرۂ اسلام سے خارج ہے۔‘‘
(مرزا غلام احمد صاحب کا بھی یہی عقیدہ تھا کہ ان کو نہ ماننے والے کافر، جہنمی اور مردہ ہیں، ان کے ساتھ نماز
پڑھنا مرزائیوں کے لئے حرام اور قطعی حرام ہے، ورنہ ان کے عمل حبط ہوجائیں گے۔ حوالے کے لئے دیکھئے: حقیقۃ الوحی
ص:۱۷۹، انجام آتھم ص:۶۲، تذکرہ ص:۳۴۳ طبع دوم، اربعین نمبر:۳ ص:۳۴...ناقل)
’’مرزا محمود احمد صاحب جماعت قادیان کے خلیفہ اور مطاع الکل بنے رہے اور ۱۹۴۷ء میں پاکستان بننے پر قادیان سے ہجرت
کرکے پاکستان آگئے، اور ربوہ شہر کی بنیاد رکھی، احمدیہ لاہوری جماعت کا ربوہ والوں سے کوئی اشتراک عمل و عقائد نہ
تھا، اور نہ اب ہے۔‘‘
’’یہ بات کہ مرزا محمود احمد صاحب نے صرف اپنی خلافت
308
اور خاندانی گدی قائم کرنے کے لئے یہ ڈھونگ رچایا تھا، اس امر سے ثابت ہے کہ ۱۹۵۳ء کے منیر انکوائری کمیشن
کے سامنے مرزا محمود احمد صاحب نے حضرت مرزا غلام احمد کو صرف اسی قسم کا نبی قرار دیا جس کے انکار سے کوئی مسلمان
دائرۂ اسلام سے خارج نہیں ہوجاتا۔‘‘
(ہفت روزہ پیغام صلح، لاہور ۴؍دسمبر ۱۹۷۴ء ص:۸، ۹ ملخصاً)
خط کشیدہ الفاظ سے معلوم ہوتا ہے کہ مرزا صاحب کے نبی ہونے پر تو دونوں پارٹیوں کا اتفاق ہے، صرف ’’نبوّت کی
کوالٹی‘‘ میں اختلاف ہے کہ وہ اعلیٰ کوالٹی کے نبی تھے یا گھٹیا کوالٹی کے۔
ہم ’’پیغام صلح‘‘ کی ان تصریحات پر تبصرہ کا حق محفوظ رکھتے ہوئے اس بات کا انتظار کریں گے کہ ’’قصر خلافت‘‘ ربوہ
کا عملہ اس گدی، سازش اور ڈھونگ پر کوئی تبصرہ کرتا ہے، یا بقول مرزا غلام احمد صاحب ’’صم، بکم، عمی‘‘ رہنے کو
تقاضائے مصلحت سمجھتا ہے۔ البتہ لاہوری فرقہ کی خدمت میں یہ گزارش بے جا نہ ہوگی کہ سوال ربوہ والوں سے اشتراکِ عمل
و عقائد کا نہیں بلکہ مرزا غلام احمد صاحب سے اشتراکِ عمل و عقائد کا سوال ہے۔ اگر آپ مرزا غلام احمد صاحب کے
ملحدانہ دعاوی اور عقائد و نظریات پر دو حرف بھیج کر اظہارِ نفرین کرنے کے لئے آمادہ ہوں تو بسم اللہ! تشریف لائیے!
اسلام کے دروازے آپ کے لئے بند نہیں، دیکھنا صرف یہ ہے کہ آپ کا تعلق محمد صلی اللہ علیہ وسلم سے ہے یا نام نہاد
’’بروزِ محمد‘‘ (غلام احمد) سے؟
(ماہنامہ ’’بینات‘‘ کراچی صفر ۱۳۹۵ھ)
309
مرزا کی موت اور انجام
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ
اَلْحَمْدُ للہِ وَسَلَامٌ عَلٰی عِبَادِہِ الَّذِیْنَ اصْطَفٰی!
’’پیغام صلح‘‘ نے ۱۱؍دسمبر ۱۹۷۴ء کی اشاعت میں صفحۂ اول پر استفہامیہ عنوان قائم کیا ہے: ’’ہمارا انجام کیا
ہوگا؟‘‘ اور اس کے ذیل میں ’’مسیح قادیان‘‘ کا ایک طویل ابتلائی ارشاد نقل کیا ہے، اس کا حسب ذیل اقتباس قادیانی
اُمت کے لئے دعوت فکر ہے:
بہت خوب! آئیے اسی معیار پر ’’قادیانی مسیح‘‘ کو جانچیں، جہاں تک مرزا صاحب اور ان کی اُمت کے ’’نہایت ہی بد اور
قابل عبرت انجام‘‘ کا تعلق ہے، اس کی شہادت کے لئے تو ایک صدی کی تاریخ کافی ہے، اور ۷؍ستمبر ۱۹۷۴ء کے فیصلہ کے بعد
تو اس پر مزید بحث کرنا بھی عبث معلوم ہوتا ہے، ہاں! ’’نہایت ہی بد اور قابل عبرت انجام‘‘ کی کوئی اس سے بھی بڑی
ڈگری مرزا صاحب کی ’’مسیحی اُمت‘‘ کو مطلوب ہے، تو اس کی تعیین فرمائیں، اللہ تعالیٰ کی رحمت کے خزانے بڑے ہی وسیع
ہیں، اللہ تعالیٰ اپنے فضل سے انہیں وہ بڑی ڈگری بھی عطا فرمادے گا، وما ذٰلک علی اللہ
بعزیز!
جہاں تک ’’بہت ہی بری موت‘‘ کا سوال ہے تو وہ بھی مرزا صاحب کو اللہ تعالیٰ
310
نے منہ مانگی عطا فرمائی، ’’مولوی ثناء اللہ سے آخری فیصلہ‘‘ میں اللہ تعالیٰ نے مرزا صاحب سے لکھوایا تھا:
’’پس اگر وہ سزا جو انسان کے ہاتھوں سے نہیں بلکہ محض خدا کے ہاتھوں سے ہے، جیسے طاعون، ہیضہ وغیرہ مہلک بیماریاں
آپ (مولوی ثناء اللہ صاحب) پر میری (مرزا کی) زندگی ہی میں وارد نہ ہوئیں تو میں خدا کی طرف سے نہیں۔‘‘
(مجموعہ اشتہارات ج:۳ ص:۵۷۸)
پھر اللہ تعالیٰ نے مولانا ثناء اللہ صاحبؒ کو مرزا صاحب سے چالیس سال بعد تک زندہ سلامت رکھا، اور جناب مرزا صاحب
۲۶؍مئی ۱۹۰۸ء کو بمرض وبائی ہیضہ چند گھنٹوں میں کوچ کرگئے۔ گویا مرزا صاحب کی موت نے ’’آخری فیصلہ‘‘ کردیا کہ وہ
خدا کی طرف سے نہیں تھے، کیونکہ ان کی موت مولوی ثناء اللہ صاحبؒ کی زندگی میں بقول ان کے ’’خدائی ہاتھوں کی سزا‘‘
سے ہوئی۔
مرزا صاحب کی موت کس عارضہ سے ہوئی؟ اس کے لئے کسی ڈاکٹری رپورٹ کی احتیاج نہیں، بلکہ مرزا صاحب کے ’’مقدس صحابی‘‘
اور قابل احترام خسر جناب میر ناصر نواب صاحب کی ثقہ روایت سے خود مرزا صاحب کا اپنا ’’اقرار صالح‘‘ موجود ہے، میر
صاحب فرماتے ہیں:
’’حضرت (مرزا) صاحب جس رات کو بیمار ہوئے اس رات کو میں اپنے مقام پر جاکر سوچکا تھا، جب آپ کو سخت تکلیف ہوئی تو
مجھے جگایا گیا، جب میں حضرت صاحب کے پاس پہنچا اور آپ کا حال دیکھا تو مجھے مخاطب کرکے فرمایا: ’’میر صاحب! مجھے
وبائی ہیضہ ہوگیا ہے۔‘‘ اس کے بعد کوئی ایسی صاف بات میرے خیال میں آپ نے نہیں فرمائی، یہاں تک کہ دوسرے روز دس بجے
کے بعد آپ کا انتقال ہوگیا۔‘‘
(حیات ناصر ص:۱۴)
311
لیجئے! بہت ’’بری موت‘‘ کے تینوں مرحلے اللہ تعالیٰ نے خود مرزا جی کی زبان و قلم سے طے کرادئیے، یعنی پہلے
ان سے لکھوایا کہ مفتری بہت ہی بری موت مرتا ہے، پھر اس کی تعیین و تشخیص بھی انہی کے قلم سے کرادی کہ طاعون اور
ہیضہ کی موت ہی وہ ’’بری موت‘‘ ہے، جو بطور سزا ’’خدا تعالیٰ کے ہاتھوں‘‘ سے کسی سرکش مفتری کو دی جاتی ہے، اور پھر
خود انہی کی زبان سے یہ اقرار بھی کرادیا کہ وہ ’’وبائی ہیضہ‘‘ سے ’’بہت بری موت‘‘ مر رہے ہیں، اور ان کا یہ اقرار
ریکارڈ پر موجود ہے۔ اس کے بعد بھی ’’پیغام صلح‘‘ کو ’’بہت ہی بری موت‘‘ اور ’’نہایت ہی بد اور قابل عبرت انجام‘‘
میں شک و شبہ ہو تو اس کا کیا علاج؟ فَإِنَّہَا لَا تَعْمَی الْأَبْصٰرُ وَلٰـکِنْ تَعْمَی
الْقُلُوْبُ الَّتِیْ فِی الصُّدُوْرِ!
اللہ تعالیٰ اُمتِ محمدیہ (علیٰ صاحبہا الصلوات والتسلیمات) پر رحم فرمائے اور انہیں تمام شرور و فتن سے محفوظ
رکھے۔
(ماہنامہ ’’بینات‘‘ کراچی صفر ۱۳۹۵ھ)
312
مرزا غلام احمد قادیانی کے سات دِن
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ
اَلْحَمْدُ للہِ وَسَلَامٌ عَلٰی عِبَادِہِ الَّذِیْنَ اصْطَفٰی!
مرزا غلام احمد قادیانی مراق اور ذیابیطس کے مریض تھے، اور یہ دونوں مرض ان کو دعویٔ نبوّت و مسیحیت کے انعام میں
عطا کئے گئے تھے، مرزا صاحب لکھتے ہیں:
’’دو مرض میرے لاحق حال ہیں، ایک بدن کے اوپر کے حصہ میں اور دوسرے بدن کے نیچے کے حصہ میں، اوپر کے حصہ میں دوران
سر ہے اور نیچے کے حصہ میں کثرت پیشاب ہے، اور دونوں مرضیں اسی زمانہ سے ہیں جس زمانہ سے میں نے اپنا دعویٰ مامور من
اللہ ہونے کا شائع کیا ہے۔‘‘
(حقیقۃ الوحی ۳۰۷، روحانی خزائن ج:۲۲ ص:۳۲۰)
مرزا کی کوئی کتاب پڑھنے بیٹھئے تو ممکن نہیں کہ مرزا کے مراقی بخارات سے (جس کو وہ حقائق و معارف کہا کرتے ہیں)
خود آپ کا سر نہ چکرانے لگے، ان ’’بخارات‘‘ کی سب سے بڑی خصوصیت یہ ہے کہ الفاظ ہیں، معانی نہیں، دعویٰ ہے، دلیل
نہیں، خیالاتی محلات ہیں، حقیقت نہیں، اور خود لکھنے کا یہ حال ہے کہ:
نے باگ ہاتھ میں ہے نہ پا ہے رکاب میں
آئیے مرزا کا لیکچر لاہور سنئے، جو ۳؍دسمبر ۱۹۰۴ء کو ایک جلسہ میں پڑھا گیا، ارشاد ہوتا ہے:
’’معلوم ہوتا ہے کہ سات ہزار برس میں دنیا کا ایک دور
313
ختم ہوتا ہے، اسی وجہ سے اور اسی امر پر نشان قرار دینے کے لئے دنیا میں سات دن مقرر کئے گئے، تا ہر ایک دن
ایک ہزار برس پر دلالت کرے، ہمیں معلوم نہیں کہ دنیا پر اس طرح سے کتنے (سات ہزار) دور گزر چکے ہیں، اور کتنے آدم
اپنے اپنے وقت میں آچکے ہیں، چونکہ خدا قدیم سے خالق ہے، اس لئے ہم مانتے اور ایمان لاتے ہیں کہ دنیا اپنی نوع کے
اعتبار سے قدیم ہے، لیکن اپنے شخص کے اعتبار سے قدیم نہیں ہے۔‘‘
(لیکچر لاہور ص:۳۸ تا ۳۹، روحانی خزائن ج:۲۰ ص:۱۸۴)
ملاحظہ فرمایا آپ نے؟ سات دن سے سات ہزار اور سات ہزار سے کئی سات ہزار، اور کئی سات ہزار سے دنیا کے قدیم ہونے کا
عقیدہ کیسے نکل آیا؟ اور اس کی دلیل صرف یہ کہ ’’معلوم ہوتا ہے‘‘ مرزا صاحب نے غالباً اسلامی عقائد کی کتابوں کا
مطالعہ نہیں فرمایا، ورنہ ان کی نظر سے مسلمانوں کا یہ عقیدہ ضرور گزرا ہوتا کہ
’’ان العالم حادث ...۔۔ فمن قال بقدم العالم فھو کافر۔‘‘
(شرح فقہ اکبر ص:۱۲)
ترجمہ:...’’دنیا حادث ہے ...... پس جو شخص دنیا کو قدیم کہے وہ کافر ہے۔‘‘
خالق اور خلق:
آگے ارشاد ہوتا ہے:
’’افسوس کہ حضرات عیسائیاں یہ عقیدہ رکھتے ہیں کہ صرف چھ ہزار برس ہوئے کہ جب خدا نے دنیا کو پیدا کیا، اور زمین و
آسمان بنائے، اور اس سے پہلے خدا ہمیشہ کے لئے معطل اور بیکار تھا، اور ازلی طور پر معطل چلا آتا ہے، یہ ایسا
عقیدہ کہ کوئی صاحب عقل اس کو قبول نہیں کرے گا، مگر ہمارا عقیدہ جو قرآن شریف نے
314
ہمیں سکھلایا ہے کہ خدا ہمیشہ سے خالق ہے، اگر چاہے تو کروڑوں مرتبہ زمین و آسمان کو فنا کرکے، پھر ایسے
ہی بنادے۔‘‘
(ص:۳۹)
مرزا صاحب یہ کہنا چاہتے ہیں کہ اگر خدا قدیم ہے تو لازم ہے کہ مخلوق کو بھی قدیم مانا جائے، ورنہ لازم آئے گا کہ
خدا ہمیشہ سے خالق نہیں بلکہ (معاذ اللہ) ازل سے معطل اور بیکار چلا آتا ہے، مگر یہ وہی مراقی مغالطہ ہے جو فلاسفہ
اور دہریے ہمیشہ پیش کرتے آئے ہیں اور اہل اسلام کا اس کے مقابلہ میں ہمیشہ یہ عقیدہ رہا ہے کہ اللہ تعالیٰ ازل ہی
سے صفت خالقیت کے ساتھ موصوف ہے، مگر مخلوق ازلی نہیں، بلکہ حادث ہے۔
امام اعظمؒ فقہ اکبر میں فرماتے ہیں:
’’وقد کان اللہ تعالٰی خالقا فی الأزل ولم یخلق الخلق۔‘‘
(شرح فقہ اکبر ص:۳۵)
ترجمہ:...’’اور اللہ تعالیٰ ازل ہی سے خالق رہا ہے، جبکہ اس نے مخلوق کو پیدا نہیں کیا تھا۔‘‘
علامہ مُلّا علی قاریؒ اس کی شرح میں فرماتے ہیں:
’’والحاصل انہ سبحانہ کما قال الطحاوی لیس منذ خلق الخلق استفاد اسم الخالق ولَا باحداثہ البریۃ استفاد
اسم الباری فلہ معنی الربوبیۃ ولَا مربوب ولہ معنی الخالقیۃ ولَا مخلوق، وکما انہ محی الموتیٰ بعد ما احییٰ استحق
ھذا الْإسم قبل احیائھم کذالک استحق اسم الخالق قبل انشائھم ذالک بانہ علی کل شیء قدیر۔‘‘
(شرح فقہ اکبر ص:۳۵)
ترجمہ:...’’حاصل یہ کہ جس طرح امام طحاویؒ نے فرمایا ہے اللہ تعالیٰ نے صرف مخلوق کو پیدا کرکے خالق
کا نام نہیں پایا، اور مخلوق کی ایجاد کے بعد اس کو باری کا نام نہیں ملا، بلکہ اسے ربوبیت
315
کی صفت اس وقت بھی حاصل تھی جبکہ کوئی مربوب نہیں تھا، اور خالقیت کی صفت اس وقت بھی حاصل تھی
جبکہ کوئی مخلوق موجود نہیں تھی، جس طرح مردوں کو زندہ کرنے کے بعد وہ ’’زندہ کرنے والا‘‘ کہلاتا ہے، اسی طرح وہ
ان کو پیدا کرنے سے قبل بھی اسم خالق کا مستحق تھا، اس لئے کہ وہ ہر چیز پر قادر ہے۔‘‘
اس تقریر سے معلوم ہوا کہ اللہ تعالیٰ کی خالقیت ازلیہ سے مخلوق کے ازلی ہونے پر استدلال کرنا عقلاً و نقلاً غلط
ہے، اور یہ دہریوں کا عقیدہ ہے، مسلمانوں کا نہیں۔
سات ہزار کا دورہ:
مرزا صاحب فرماتے ہیں:
’’اس (اللہ تعالیٰ) نے ہمیں خبر دی ہے کہ وہ آدم جو پہلی اُمتوں کے بعد آیا، جو ہم سب کا باپ تھا، اس کے دنیا میں
آنے کے وقت سے یہ سلسلہ انسانی شروع ہوا ہے، اور اس سلسلہ کی عمر کا پورا دور سات ہزار برس تک ہے، یہ سات ہزار خدا
کے نزدیک ایسے ہیں جیسے انسانوں کے سات دن۔‘‘
(ص:۳۹)
یہاں مرزا کے دو دعوے ہیں، اول یہ کہ خدا تعالیٰ نے خبر دی ہے کہ آدم علیہ السلام جو جدامجد ہیں، وہ پہلی اُمتوں
کے بعد آئے تھے، سوال یہ ہے کہ یہ خبر قرآن کریم کی کس آیت میں دی گئی ہے؟
دوسرا دعویٰ یہ ہے کہ اس دنیا کی عمر جو آدم علیہ السلام سے شروع ہوئی، سات ہزار سال ہے۔ یہ بات بھی کہیں قادیانی
انجیل میں لکھی ہو تو ہو مگر قرآن کریم اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی جانب کوئی اشارہ نہیں فرمایا، اگر
سات ہزار کے دورے کا نکتہ قادیان کے ’’بیت الفکر‘‘ سے ہر کسی کو معلوم ہوتا تو ہر شخص آسانی سے بتاسکتا تھا کہ
قیامت فلاں سن کی فلاں تاریخ کو آئے گی، لیکن قرآن کریم نے صاف اعلان کیا کہ قیامت کب
316
آئے گی؟ اس کا علم اللہ تعالیٰ کے سوا کسی کو نہیں، اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے حضرت جبرئیل علیہ
السلام نے جب قیامت کے بارے میں دریافت کیا تو ارشاد فرمایا:
’’ما المسؤل عنھا بأعلم من السائل۔‘‘
(مشکوٰۃ ص:۱۱)
ترجمہ:...’’جس شخص سے دریافت کیا جارہا ہے وہ دریافت کنندہ سے زیادہ نہیں جانتا ہے۔‘‘
بعض روایات جو اس سلسلے میں مروی ہیں، اول تو وہ اس لائق نہیں کہ کوئی عاقل ان پر اپنے توہمات کی عمارت استوار کرے،
چنانچہ محدثین نے انہیں موضوعات میں شمار کیا ہے، اور اگر ان کی صحت کو تسلیم کرلیا جائے تو مرزا صاحب کے دعویٰ کا
سارا طلسم ٹوٹ جاتا ہے، کیونکہ مرزا صاحب فرماتے ہیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پانچویں ہزار کے آخر میں مبعوث
ہوئے تھے اور ان روایات میں یہ آتا ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے قبل چھ ہزار برس گزر چکے تھے، شیخ علی
قاریؒ موضوعات کبیر میں نقل کرتے ہیں:
’’ومنھا (ای من الأمور الکلیۃ یعرف بھا من کون الحدیث موضوعًا) مخالفۃ الحدیث لصریح القرآن کحدیث مقدار
الدنیا وانھا سبعۃ آلَاف سنۃ ونحن فی الألف السابعۃ، وھذا من ابین الکذب لأنہ لو کان صحیحًا لکان کل احد علم انہ
قد بقی للقیامۃ من وقتھا ھذا مائتان واحد و خمسون سنۃ، واللہ تعالٰی یقول: یَسْئَلُوْنَکَ عَنِ
السَّاعَۃِ اَیَّانَ مُرْسٰھَا۔‘‘ الآیۃ۔‘‘
(موضوعات کبیر لملّا علی قاریؒ ص:۱۶۲نور محمد اصح المطابع کراتشی)
ترجمہ:...’’کسی حدیث کے من گھڑت ہونے کی ایک علامت یہ ہے کہ قرآن کی نص صریح کے خلاف ہو، مثلاً یہ
حدیث کہ: ’’دنیا کی مقدار سات ہزار سال ہے۔‘‘ اور ہم ساتویں ہزار میں ہیں،
317
کھلا جھوٹ ہے، اس لئے کہ اگر یہ حدیث صحیح ہوتی تو ہر شخص جان سکتا کہ ہمارے اس وقت سے قیامت
آنے میں دو سو اکیاون برس باقی ہیں اور اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں: ’’اور آپؐ سے دریافت کرتے ہیں کہ قیامت کا وقوع
کب آئے گا؟ (آپ کو اس کے بیان سے کیا تعلق؟ اس کی تعیین کا مدار صرف آپ کے رب کی طرف ہے)۔‘‘ الخ۔‘‘
اس کو نقل کرکے شیخ علی قاریؒ فرماتے ہیں:
’’قلت تحقیق ھذا الحدیث قد تصدی الجلال السیوطی فی رسالتہ سماھا: ’’الکشف عن مجاوزۃ ھذہ الاُمۃ الألف‘‘
وحاصلہ انہ یستفاد من الحدیث اثبات قرب القیامۃ ومن الآیات نفی تعیین تلک الساعۃ فلا منافاۃ، وزبدتہ انہ لَا یتجاوز
عن الخمسمائۃ بعد الألف
قال وقد جاھر بالکذب بعض من یدّعیٰ فی زماننا العلم وھو متشبع بما لم یعط ان رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ
وسلم کان یعلم متیٰ تقوم الساعۃ قیل لہ فقد قال فی حدیث جبرئیل: ’’ما المسئول عنھا بأعلم من السائل۔‘‘ وھذا من اعظم
الجھل واقبح التحریف۔‘‘
(موضوعات کبیر ص:۱۶۲طبع نور محمد اصح المطابع کراتشی)
ترجمہ:...’’جلال الدین سیوطیؒ اپنے رسالہ ’’الکشف عن مجاوزہ ہذہ الاُمۃ عن
الألف‘‘ میں اس حدیث کی تحقیق کے درپے ہوئے ہیں، اس کا حاصل یہ ہے کہ حدیث سے قرب قیامت کا ثبوت معلوم
ہوتا ہے، اور آیت سے تعین وقت کی نفی معلوم ہوتی ہے، لہٰذا دونوں میں کوئی منافاۃ نہیں، اور اس کا خلاصہ یہ ہے کہ
یہ اُمت پندرہ صدیوں سے تجاوز نہیں کرے گی۔
318
اور ہمارے زمانے کے بعض برخود غلط مدعیان علم نے کھلا جھوٹ بولنا شروع کردیا ہے (غالباً مرزا صاحب انہی کے بروز
ہیں) کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو قیامت کے آنے کا ٹھیک ٹھیک وقت معلوم تھا، اس سے کہا گیا کہ آنحضرت صلی
اللہ علیہ وسلم نے تو حدیث جبرئیل میں یہ فرمایا ہے کہ جس سے دریافت کیا گیا ہے وہ دریافت کنندہ سے زیادہ نہیں
جانتا۔ تو اس نے حدیث میں تحریف کرکے کہا کہ اس حدیث کا مطلب یہ ہے کہ: ’’اے جبرئیل! میں اور تم دونوں جانتے ہیں۔‘‘
اور یہ سب سے بڑا دجل اور بدترین تحریف ہے۔‘‘
اس پر تفصیل سے رد کرنے کے بعد آخر میں فرماتے ہیں:
’’والمقصود ان ھؤلَاء یصدقون بالأحادیث الکذوبۃ الصریحۃ ویحرفون الأحادیث الصحیحۃ، واللہ ولی دینہٖ
فیقیم من یقوم لہ بحق النصیحۃ۔‘‘
(موضوعات کبیر ص:۱۶۳طبع نور محمد اصح المطابع کراتشی)
ترجمہ:...’’مقصود یہ ہے کہ یہ لوگ صریح جھوٹی اور من گھڑت روایات کی تصدیق کرتے ہیں اور احادیث صحیحہ
میں تحریف کرتے ہیں، اللہ تعالیٰ اپنے دین کا حامی و ناصر ہے، وہ ایسے لوگوں کو قائم رکھے گا جو دین کی خیرخواہی کا
حق ادا کرتے رہیں گے۔‘‘
حروفِ ابجد:
مرزا صاحب آگے لکھتے ہیں:
’’غرض بنی آدم کی عمر کا دور سات ہزار برس مقرر ہے، اور اس میں سے ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے عہد میں پانچ
ہزار برس کے قریب گزر چکا تھا، یا بہ تبدیل الفاظ یوں کہو کہ خدا کے دنوں میں
319
سے پانچ دن کے قریب گزر چکے تھے، جیسا کہ سورۃ والعصر میں یعنی اس کے حروف میں ابجد کے لحاظ سے قرآن شریف
میں اشارہ فرمادیا ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے وقت میں جب وہ سورہ نازل ہوئی تب آدم کے زمانہ پر اسی قدر
مدت گزر چکی تھی جو سورہ موصوفہ کے عددوں سے ظاہر ہے اس حساب سے انسانی نوع کی عمر میں سے اب اس زمانہ میں چھ ہزار
برس گزرچکے ہیں اور ایک ہزار برس باقی ہیں۔‘‘
(لیکچر لاہور ص:۳۹)
لیجئے! مرزا صاحب نے سورۃ العصر سے حروفِ ابجد کا حساب لگاکر دنیا کی پوری تاریخ معلوم کرلی، آدم علیہ السلام سے
آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ تک ۵ہزار کے قریب اور چودھویں صدی کے آخر تک چھ ہزار اور قیامت تک سات ہزار،
مرزا صاحب کا یہ مسیحی یا مراقی دقیقہ نہیں، بلکہ اس کا ان کو اسی وقت سے ’’اِلہام‘‘ ہوگیا تھا جب سے وہ مسیح موعود
بنے، اِزالہ اوہام سے لے کر براہین احمدیہ حصہ پنجم تک قریباً تمام کتابوں میں وہ یہی رٹ لگاتے رہے، اِزالہ اوہام
میں لکھتے ہیں:
’’میں اس سے پہلے لکھ چکا ہوں کہ قرآن شریف کے عجائبات اکثر بذریعہ الہام میرے پر کھلتے رہتے ہیں، اور ایسے ہوتے
ہیں کہ تفسیروں میں ان کا نام و نشان نہیں پایا جاتا، مثلاً یہ جو اس عاجز پر کھلا ہے کہ ابتدائے خلقت آدم سے جس
قدر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ بعثت تک مدت گزری تھی وہ تمام مدت سورۃ والعصر کے اعداد حروف میں بحساب
قمری مندرج ہے، یعنی چار ہزار سات سو چالیس، اب بتلاؤ کہ یہ دقائق قرآنیہ جس میں قرآن کریم کا اعجاز نمایاں ہے،
کس تفسیر میں لکھے ہیں۔‘‘
(ازالہ اوہام ص:۳۱۲، روحانی خزائن ج:۳ ص:۲۵۸)
اب ظاہر ہے کہ یہ خبط کسی اور کو کب سوجھ سکتا ہے، جو مرزا صاحب کو دعویٔ
320
مسیحیت کے طفیل سوجھا، مرزا صاحب اعلان کرتے ہیں کہ یہ دقائق و حقائق بتاؤ کس تفسیر میں لکھے ہیں؟ اگر
انہیں معلوم نہیں کہ ایسے ’’دقائق و حقائق‘‘ کہانت میں داخل ہیں، جو اسلامی عقائد میں کفر کا شعبہ قرار دیا گیا ہے۔
شیخ علی قاریؒ شرح فقہ اکبر میں فرماتے ہیں:
’’ومنھا (ای من المسائل الْإعتقادیۃ التی یجب بہ الْإعتقاد عند العلم ولَا یضر فیہ الجھل ...۔۔ ن) ان
تصدیق الکاہن بما یخبرہ من الغیب کفر، لقولہ تعالیٰ: ’’قُل لّا یَعْلَمُ مَنْ فِی السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ الْغَیْبَ
اِلّا اللہُ‘‘ ولقولہ علیہ السلام: ’’من اتی کاھنا وصدّقہ بما یقول فقد کفر بما انزل علی محمد۔‘‘
ثم الکاھن ھو الذی یُخبر عن الکوائن فی مستقبل الزّمان، ویدّعی معرفۃ الأسرار فی المکان۔
وقیل الکاھن الساحر والمنجّم اذا ادّعی العلم بالحوادث الآتیۃ فھو مثل الکاھن، وفی معناہ الرّمّال۔
قال القونویّ: والحدیث یشمل الکاھن والعَرّاف والمنجّم فلا یجوز اتباع المنجّم والرّمّال وغیرھا کالضارب
بالحصی، وما یعطیٰ ھؤلَاء حرامٌ بالْإجماع کما نقلہ البغوی والقاضی العیاض وغیرھما۔
ولَا اتباع من ادّعی الہام فیما یخبر بہ عن الہاماتہ بعد الأنبیاء۔
ولَا اتباع قول من ادّعی علم الحروف المتھجّیات لأنہ فی معنی الکاھن انتھیٰ۔‘‘
(شرح فقہ اکبر ص:۱۸۲مطبع مجتبائی دہلی)
321
ترجمہ:...’’ایک مسئلہ یہ ہے کہ کاہن جو غیب کی خبریں دیتا ہے، اس کی تصدیق کرنا کفر ہے، کیونکہ ارشاد خداوندی ہے:
’’کہہ دیجئے کہ نہیں جانتے غیب جو آسمانوں میں ہیں اور جو زمین میں ہیں سوائے اللہ کے۔‘‘ اور آنحضرت صلی اللہ علیہ
وسلم کا ارشاد ہے کہ: ’’جو شخص کاہن کے پاس گیا پس اس کی بات کی تصدیق کی تو اس نے کفر کیا اس کے ساتھ جو محمد (صلی
اللہ علیہ وسلم) پر نازل کیا گیا۔‘‘
اور کاہن وہ شخص ہے جو آئندہ زمانے کے واقعات کی خبر دیتا ہے، اور مکان کے اسرار کی معرفت کا مدعی ہو، اور نجومی
جب آئندہ واقعات کے علم کا دعویٰ کرے تو وہ بھی اسی کے مثل ہے، اور اسی حکم میں رمال داخل ہے۔
قونویؒ کہتے ہیں کہ حدیث کاہن، قیافہ شناس اور نجومی سب کو شامل ہے، اس لئے نجومی، رمال اور اس نوعیت کے دوسرے لوگ
مثلاً کنکریاں پھینک کر حساب لگانے والے کی اتباع جائز نہیں، ان لوگوں کو جو اجرت دی جاتی ہے وہ باجماع حرام ہے،
جیسا کہ بغویؒ اور قاضی عیاضؒ وغیرہ نے نقل کیا ہے، اور انبیاء علیہم السلام کے بعد اس شخص کی بھی اتباع جائز نہیں
جو مدعی الہام بن کر الہامات کے ذریعہ خبریں دیتا ہو، اور نہ اس شخص کی پیروی جائز ہے جو حروف کے علم کا مدعی ہو،
کیونکہ یہ بھی کاہن کے حکم میں ہے۔‘‘
ان لوگوں کے بارے میں طویل بحث کرنے کے بعد فرماتے ہیں:
’’وقد یکون فی ھؤلَاء من یستحق القتل، کمن یدعی النبوۃ بمثل ھذہ الخُزَعْبِیلات، او یطلب تغیر شیء من
الشریعۃ ونحو ذالک۔‘‘
(شرح فقہ اکبر ص:۱۸۴ مطبع مجتبائی دہلی)
322
ترجمہ:...’’اور ان لوگوں میں سے بعض لوگ قتل کے مستحق ہیں، اور وہ شخص جو اس قسم کے جھوٹے حربوں سے
نبوّت کا مدعی ہو یا شریعت کی کسی چیز میں تبدیلی کا خواہاں ہو وغیرہ۔‘‘
اس آخری تحریر کے وقت تو شاید شیخ علی قاریؒ پر مرزا صاحب کی شخصیت منکشف ہوگئی تھی، مرزا صاحب انہی خز لات کے
ذریعہ مسیحیت و نبوّت کا دعویٰ کرتے ہیں اور انہی باطل خبروں سے لوگوں سے یہ منوانا چاہتے ہیں کہ اب تک پوری اُمت نے
جو سمجھا ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام بنفس نفیس تشریف لائیں گے، یہ غلط ہے، بلکہ اس سے مراد ’’مثیل مسیح‘‘ کی آمد
ہے، اور وہ یہ خاکسار ہے۔
ہفت روزہ دورہ کی تقسیم
مرزا صاحب آگے فرماتے ہیں:
’’ان سات ہزار برس کی قرآن شریف، اور دوسری خدا کی کتابوں کی رو سے تقسیم یہ ہے کہ پہلا ہزار نیکی اور ہدایت کے
پھیلنے کا زمانہ ہے، اور دوسرا ہزار شیطان کے تسلط کا زمانہ ہے، اور پھر تیسرا ہزار نیکی اور ہدایت کے پھیلنے کا،
اور چوتھا ہزار شیطان کے تسلط کا اور پھر پانچواں ہزار نیکی اور ہدایت پھیلنے کا (یہی وہ ہزار ہے جس میں ہمارے سیّد
و مولیٰ ختمی پناہ حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم دنیا کی اصلاح کے لئے مبعوث ہوئے اور شیطان قید کردیا گیا)، اور پھر
چھٹا ہزار شیطان کے کھلنے اور مسلط ہونے کا زمانہ ہے جو قرونِ ثلاثہ کے بعد شروع ہوتا اور چودھویں صدی کے سر پر ختم
ہوجاتا ہے، اور پھر ساتواں ہزار خدا اور اس کے مسیح کا اور ہر ایک خیر و برکت اور ایمان اور صلاح اور تقویٰ اور
توحید اور خدا پرستی اور ہر ایک قسم کی نیکی اور ہدایت کا زمانہ ہے۔‘‘
(ص:۴۰)
323
مرزا صاحب کی یہ سات ہزار روزہ تقسیم عقل و نقل کے خلاف محض خبط اور خام خیالی پر مبنی ہے۔
اوّلاً:...قرآن کریم کی کسی آیت سے یہ مضمون مستنبط نہیں ہوتا، اس لئے قرآن کی طرف اس کو منسوب کرنا محض اِفترا
علی اللہ ہے۔
ثانیاً:...دوسری خدا کی کتابوں میں اول تو یہ مضمون نہیں بلکہ یہ خدا تعالیٰ پر ڈبل جھوٹ ہے، علاوہ ازیں وہ سب
کتابیں ایسی حالت میں ہیں کہ ان سے ایسے بڑے دعوے پر استدلال کرنا عقل و دانش کے خلاف ہے۔
ثالثاً:... دوسرے ہزار سال کو مرزا صاحب ’’شیطان کا زمانہ‘‘ بتاتے ہیں، حالانکہ اس زمانہ میں بھی انبیاء علیہم
السلام آتے رہے، مرزا صاحب کی تقسیم کے معنی یہ ہیں کہ معاذاللہ! ایک ہزار سال تک خدا کی بات چلتی رہی، دوسرے ہزار
سال میں خدا نے شیطان کو عنانِ حکومت سنبھال دی، اس طرح ہر ہزار سال کے بعد شیطان و رحمن کا تبادلہ ہوتا رہا، کیا
کوئی عاقل اس کو تسلیم کرلے گا...؟
رابعاً:...پانچواں ہزار سال جس میں مرزا صاحب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت بتاتے ہیں، اس کے سات سو چالیس
میں تو بقول ان کے تاریکی چھائی رہی کیونکہ آپؐ کی بعثت ۰۴۷ میں ہوئی تھی، اور پونے تین سو سال کے بعد پھر تاریکی
چھاگئی، اب غور فرمائیے! جس ہزار سالہ دور کا پون ہزار سال کفر و ضلالت کا گزرا ہو اس کو ہدایت کا زمانہ کہا جائے
گا...؟
خامساً:...قرونِ ثلاثہ (تین صدیوں) کے بعد مرزا صاحب کے نزدیک پھر تاریک دور شروع ہوگیا تھا، کیا اس کے معنی وہی
نہیں جو مغرب کے ملاحدہ بیان کرتے ہیں کہ اسلام چند سالوں کے بعد ختم ہوگیا تھا۔
سادساً:...مرزا صاحب اپنے دور کو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے مقابلہ میں ذکر کرتے ہیں، کیا اس کا یہ مطلب نہیں
کہ اب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا دور ختم ہوا، چودھویں صدی سے اب مرزا صاحب کا دور شروع ہوتا ہے؟
324
سابعاً:...مرزا صاحب اپنے دور کو (جو چودھویں صدی سے شروع ہوتا ہے) خیر و برکت، ایمان و یقین، صلاح و تقویٰ، توحید
و خدا پرستی اور نیکی و ہدایت کا دور بتلاتے ہیں، کیا دنیا کا کوئی عاقل کہہ سکتا ہے کہ مرزا صاحب کی آمد کے بعد ان
چیزوں میں ترقی ہوئی؟ مرزا صاحب سے پہلے ایمان و تقویٰ اور صلاح و ہدایت کا جو حال تھا، ان کے آنے کے بعد اس میں
مزید انحطاط اور تنزل ہوا یا ترقی ہوئی؟ یہ زمانہ بہ نسبت گزشتہ زمانہ کے ’’خدا کا زمانہ‘‘ کیسے ہوگیا؟ کیا ستم ہے
کہ جس دور میں ہزاروں اکابر اولیاء اللہ اور مجددین اُمت پیدا ہوئے، اس کو شیطانی زمانہ کہا جائے اور جس زمانہ میں
مرزا صاحب کے بقول اسی (۸۰)لاکھ مسلمان عیسائی ہوئے، اس کو خدا پرستی کا زمانہ قرار دیا جائے...!
یہ مرزا صاحب کی صرف ایک کتاب کی چند سطروں کا مرقع پیش کیا گیا ہے، اسی نمونہ سے اندازہ کیجئے کہ مرزا صاحب کی
مسیحیت نے اسلام اور مسلمانوں پر کیا کیا ستم ڈھائے؟ تاریخ کو کیسے مسخ کیا؟ قرآن کریم کو کیسے بگاڑا...؟
تکمیل سخن کے لئے یہ عرض کرنا ضروری ہے کہ آدم علیہ السلام سے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم تک کے دور کی تاریخ کا
کوئی قطعی ذریعہ دنیا کے پاس نہیں ہے، تاہم مؤرخین نے ظن و تخمین کے ذرائع سے (جن میں بائبل کے مندرجات بھی شامل
ہیں) یہ مدت قریباً چھ ہزار بتائی ہے، اس لئے مرزا غلام احمد کا یہ دعویٰ صحیح نہیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم
آدم علیہ السلام سے ۰۴۷۴ برس بعد مبعوث ہوئے تھے، اسی طرح آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت قیامت کے مقارن واقع
ہوئی ہے، اسی بنا پر آپؐ کا ایک اسم گرامی ’’نبی الساعۃ‘‘ بھی ہے، خود آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے انگشت شہادت
اور درمیانی انگلی کو ملاکر فرمایا:
’’عن انس قال: قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم: ’’بعثتُ انا والساعۃ کھاتین۔‘‘ متفق علیہ۔‘‘
(مشکوٰۃ ص:۴۸۰)
ترجمہ:...’’میری بعثت اور قیامت کے درمیان بس اتنا فاصلہ ہے۔‘‘
325
لیکن اس کی ٹھیک مدت علام الغیوب کے سوا کسی کو معلوم نہیں، اس لئے مرزا غلام احمد کا یہ دعویٰ کہ ان کی ’’بعثت‘‘
کے بعد ابھی دنیا کی زندگی ٹھیک ایک ہزار سال باقی ہے، قرآن و حدیث کی تکذیب کے مترادف ہے۔
حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا آسمان سے نزول بالکل قرب قیامت میں ہوگا، وہ چالیس سال زمین پر رہ کر انتقال کریں گے،
مسلمان ان کی نماز جنازہ پڑھیں گے، اور انہیں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے روضۂ اقدس میں دفن کیا جائے گا، ان کے
وصال کے بعد سات سال تک دنیا میں خیر و صلاح کا دور دورہ رہے گا، سات سال بعد ایک ہوا چلے گی جس سے تمام اہل ایمان
کی وفات ہوجائے گی، اور صرف اشرار الناس باقی رہ جائیں گے، ان پر قیامت قائم ہوگی۔
یہ علامات قیامت کا مختصر نقشہ ہے، جو صحیح احادیث میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے بیان فرمایا، اس سے جہاں مرزا
صاحب کا دعویٰ دنیا کی عمر کے بارے میں باطل ہوجاتا ہے، وہاں ان کا یہ دعویٰ بھی غلط ہوجاتا ہے کہ آسمان سے نازل
ہونے والا ’’مسیح‘‘ وہی ہے۔
جن لوگوں کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشادات پر ایمان ہے اور جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو ’’نبی
صادق‘‘ مانتے ہیں، انہیں ایک طرف حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی علامات کو رکھنا چاہئے، جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم
نے تفصیل و تشریح کے ساتھ بیان فرمائی ہیں، اور دوسری طرف مرزا صاحب کا سراپا ان علامات سے ملانا چاہئے، اگر علم و
بصیرت اللہ تعالیٰ نے دی ہو تو معلوم ہوجائے گا کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی ایک ایک علامت مرزا غلام احمد قادیانی
کے دعویٰ کی تکذیب کرتی ہے، ہاں جن لوگوں کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہی سے تعلق نہ ہو، نہ آپؐ کی کسی بات پر
ایمان ہو، ان کو اختیار ہے کہ اپنے لئے جو راستہ چاہیں منتخب کریں۔
(ہفت روزہ ختمِ نبوّت کراچی ج:۱۳ ش:۲۷)
326
اسلام کی نشأۃِ ثانیہ اور مرزائی تحریک
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ
اَلْحَمْدُ للہِ وَسَلَامٌ عَلٰی عِبَادِہِ الَّذِیْنَ اصْطَفٰی!
قادیانی اُمت کو یہ خوش فہمی ہے کہ موجودہ صدی قادیانیت کے غلبہ کی صدی ہے۔ قادیانی اخبارات و رسائل مرزا طاہر احمد
کے اشاروں پر قادیانی اُمت کے دامن تار تار کو اسی سوزن تدبیر سے رفو کرنے کی کوشش کر رہے ہیں، حالانکہ مرزا غلام
احمد صاحب خود ہی ان تمام خوش فہمیوں کا ازالہ کرچکے ہیں، مرزا صاحب لکھتے ہیں:
’’مرا کام جس کے لئے میں اس میدان میں کھڑا ہوں یہ ہے کہ میں عیسیٰ پرستی کے ستون توڑ دوں اور بجائے تثلیث کے توحید
کو پھیلاؤں اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی جلالت و عظمت اور شان کو دنیا پر ظاہر کردوں، پس اگر مجھ سے کروڑ
نشان بھی ظاہر ہوں اور یہ علّت غائی ظہور میں نہ آئے تو میں جھوٹا ہوں، پس مجھ سے دشمنی کیوں، وہ میرے انجام کو
کیوں نہیں دیکھتے، اگر میں نے اسلام کی حمایت میں وہ کام کر دکھایا جو مسیح موعود اور مہدی معہود کو کرنا چاہئے تو
پھر میں سچا ہوں اور اگر کچھ نہ ہوا اور میں مرگیا تو سب لوگ گواہ رہیں کہ میں جھوٹا ہوں۔‘‘
(اخبار بدر مؤرخہ ۱۹؍جولائی ۱۹۰۲ء)
اس عبارت میں مرزا صاحب نے فیصلہ کردیا ہے کہ اگر ان کے ہاتھوں خود ان کی زندگی میں مسیح اور مہدی کا کارنامہ انجام
پذیر نہ ہوا تو ساری دنیا کو مرزا صاحب کے کذاب اور جھوٹے ہونے کی گواہی دینی چاہئے۔
327
اب صرف یہ دیکھنا باقی رہ جاتا ہے کہ وہ عظیم الشان کارنامہ کیا ہے جو مسیح علیہ السلام سے ظہور پذیر ہوگا؟ اس کی
نشاندہی بھی خود مرزا صاحب نے فرمائی ہے، لکھتے ہیں:
’’ھو الذی ارسل رسولہ بالھدی ودین الحق لیظہرہ علی الدین کلہ۔‘‘
یہ آیت جسمانی اور سیاست ملکی کے طور پر حضرت مسیح کے حق میں پیش گوئی ہے اور جس غلبہ کاملہ دین اسلام کا (اس آیت
میں) وعدہ دیا گیا وہ غلبہ مسیح کے ذریعہ سے ظہور میں آئے گا اور جب حضرت مسیح علیہ السلام دوبارہ اس دنیا میں
تشریف لائیں گے تو ان کے ہاتھ سے دین اسلام جمیع آفاق و اقطار میں پھیل جائے گا۔‘‘
(براہین احمدیہ ص:۴۹۸)
دوسری جگہ مرزا صاحب اپنا الہام:
’’عسیٰ ربکم ان یرحم علیکم وان عدتم عدنا وجعلنا جھنم للکافرین حصیرا۔‘‘
درج کرکے اس کی تشریح یوں فرماتے ہیں:
’’یہ آیت اس مقام میں حضرت مسیح کے جلالی طور پر ظاہر ہونے کا اشارہ ہے، یعنی اگر طریق رفق اور نرمی اور لطف احسان
کو قبول نہیں کریں گے اور حق محض جو دلائل واضح اور آیات بینہ سے کھل گیا ہے اس سے سرکش رہیں گے تو وہ زمانہ بھی
آنے والا ہے کہ جب خدائے تعالیٰ مجرمین کے لئے شدت اور عنف اور قہر اور سختی کو استعمال میں لائے گا اور حضرت مسیح
علیہ السلام نہایت جلالیت کے ساتھ دنیا پر اتریں گے اور تمام راہوں اور سڑکوں کو خس و خاشاک سے صاف کردیں گے اور کج
و ناراست کا نام و نشان نہ رہے گا اور جلال الٰہی گمراہی کے تخم کو اپنی تجلّی قہری سے نیست و نابود
328
کردے گا۔‘‘
(براہین احمدیہ ص:۵۰۵)
ان دونوں عبارتوں میں مرزا صاحب، قرآن کریم اور اپنے الہام سے ثابت کرتے ہیں کہ حضرت مسیح علیہ السلام دوبارہ دنیا
میں نزول اجلال فرمائیں گے ان کی تشریف آوری سے دین اسلام کو غلبہ کاملہ ہوگا، دین اسلام تمام دنیا میں پھیل جائے
گا اور کجی و ناراستی اور گمراہی کا نام و نشان صفحۂ ہستی سے مٹ جائے گا، حضرت مسیح علیہ السلام کا یہی کارنامہ ہے
جس کا وعدہ قرآن کریم کی آیت میں دیا گیا ہے، اور جس کی اطلاع مرزا صاحب کو بذریعہ الہام دی گئی ہے، حضرت مسیح
علیہ السلام کے اس کارنامہ کی مزید تفصیل ایک حدیث میں بیان فرمائی گئی ہے، جس کو مسٹر محمد علی لاہوری نے ’’النبوۃ
فی الاسلام‘‘ (ص:۹۲) میں اور مرزا محمود احمد صاحب نے ’’حقیقۃ النبوۃ‘‘ (ص:۹۲) میں درج کیا ہے، ذیل میں اس کا ترجمہ
ملاحظہ فرمائیے:
’’یعنی انبیاء علاتی بھائیوں کی طرح ہوتے ہیں، ان کی مائیں تو مختلف ہوتی ہیں اور دین ایک ہوتا ہے اور میں عیسیٰ بن
مریم سے سب سے زیادہ تعلق رکھنے والا ہوں کیونکہ اس کے اور میرے درمیان کوئی نبی نہیں اور وہ نازل ہونے والا ہے، پس
جب اس کو دیکھو تو اس کو پہچان لو کہ وہ درمیانہ قامت، سرخی اور سفیدی ملا ہوا رنگ، زرد کپڑے پہنے ہوئے اس کے سر سے
پانی ٹپک رہا ہوگا گو سر پر پانی نہ ہی ڈالا ہو اور وہ صلیب کو توڑ دے گا اور خنزیر کو قتل کرے گا، اور جزیہ ترک
کردے گا، اور لوگوں کو اسلام کی طرف دعوت دے گا، اس کے زمانہ میں سب مذاہب ہلاک ہوجائیں گے اور صرف اسلام رہ جائے
گا۔ اور شیر اونٹوں کے ساتھ اور چیتے گائے بیلوں کے ساتھ اور بھیڑئیے بکریوں کے ساتھ کھیلیں گے اور وہ ان کو نقصان
نہ دیں گے۔ عیسیٰ بن مریم چالیس سال زندہ رہیں گے اور پھر فوت
329
ہوجائیں گے اور مسلمان ان کے جنازہ کی نماز پڑھیں گے۔‘‘
(حقیقۃ النبوۃ ص:۹۲)
اب مرزائیوں سے دریافت کرنا چاہئے کہ:
۱:...کیا مرزا غلام احمد کی زندگی میں اسلام ساری دنیا پر غالب آگیا؟
۲:...کیا اسلام کے سوا تمام مذاہب صفحۂ ہستی سے مٹ گئے؟
۳:...کیا مرزا غلام احمد کے زمانہ میں کسی نے شیروں کو اونٹوں کے ساتھ، چیتوں کو گائے بیلوں کے ساتھ اور بھیڑیوں کو
بکریوں کے ساتھ چرتے، بچوں کو سانپ کے ساتھ کھیلتے ہوئے دیکھا؟
۴:...کیا مرزا غلام احمد صاحب دعویٔ مسیحیت کے بعد چالیس سال برس زندہ رہے؟
۵:...کیا مسلمانوں نے ان کی نماز جنازہ پڑھی؟
۶:...کیا مرزا غلام احمد کے ہاتھوں ان کی زندگی میں وہ کارنامہ ظہور پذیر ہوسکا جو حضرت مسیح کے ہاتھوں ظہور پذیر
ہوگا؟
اگر نہیں اور یقینا نہیں، تو مرزائی ساری دنیا کے ساتھ مل کر مرزا غلام احمد کے جھوٹا ہونے کی گواہی کیوں نہیں
دیتے؟ کیونکہ خود مرزا نے لکھا ہے کہ:
’’اگر کچھ نہ ہوا اور میں مرگیا تو سب لوگ گواہ رہیں کہ میں جھوٹا ہوں۔‘‘
کیا جھوٹے مسیح کی اُمت، دنیا پر غالب آئے گی؟ کیا خدا تعالیٰ کی قدرت جھوٹے مسیح کو اور جھوٹے دین کو دنیا میں
غالب کرنے کے لئے بروئے کار لائے گی؟
’’ایں خیال است و محال است و جنوں‘‘
(ہفت روزہ ختمِ نبوّت کراچی ج:۱۵ش:۴۹)
330
مسئلۂ ختمِ نبوّت و صدق وکذب مرزا
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ
اَلْحَمْدُ للہِ وَسَلَامٌ عَلٰی عِبَادِہِ الَّذِیْنَ اصْطَفٰی!
اب میں کوشش کروں گا کہ دو مسئلوں کے بارہ میں آپ کو سمجھاؤں، ایک مسئلہ ہے ختمِ نبوّت، اور دوسرا مسئلہ ہے مرزا
غلام احمد کا کذب یعنی جھوٹا ہونا۔
مسئلۂ ختمِ نبوّت:
اہلِ اسلام کا عقیدہ ہے کہ حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم خاتم النبیین ہیں، یعنی اللہ تعالیٰ نے آنحضرت
صلی اللہ علیہ وسلم کی تشریف آوری کے بعد نبوّت کا سلسلہ بند کردیا۔ ہمارے یہاں درسِ نظامی کے نصاب کی ایک کتاب ہے:
’’شرح عقائد‘‘، مجھے یاد ہے کہ جب ہمیں یہ کتاب پڑھنے کو ملی تو میں نے کہا کہ: اگر اس میں ختمِ نبوّت کا مسئلہ ہوگا
تو پڑھوں گا، چنانچہ کتاب کی ورق گردانی کرتے کرتے یہ عبارت نکل آئی:’’اوّل الأنبیاء آدم و
آخرھم محمد صلی اللہ علیہ وسلم‘‘ یعنی سب سے پہلے نبی حضرت آدم علیہ السلام ہیں اور سب سے آخری نبی حضرت
محمد صلی اللہ علیہ وسلم ہیں۔
آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے لے کر آج تک پوری اُمتِ اسلامیہ کا یہ متواتر عقیدہ چلا آرہا ہے، اور کمزور سے
کمزور ایمان والا کوئی مسلمان بھی ایسا نہیں ہوا جو یہ کہے کہ حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد نبوّت جاری ہے
اور ...نعوذ باللہ... آپ صلی اللہ علیہ وسلم آخری نبی نہیں۔
مسئلۂ ختمِ نبوّت اور ’’ختمِ نبوّت کامل‘‘:
حضرت مولانا مفتی محمد شفیع صاحب مفتیٔ اعظم پاکستان رحمۃ اللہ علیہ نے اپنی
331
کتاب ’’ختمِ نبوّت کامل‘‘ میں اس مسئلہ کو ایک سو سے زیادہ آیات، دو سو دس کے قریب احادیث، کتبِ سابقہ
تورات و انجیل، صحابہ کرامؓ، تابعینؒ اور ائمہ حدیث و مجتہدینؒ کی تحقیق و تشریحات سے ثابت کیا ہے کہ آنحضرت صلی
اللہ علیہ وسلم اللہ کے آخری نبی ہیں، آپؐ کے بعد کوئی نبی نہیں بنایا جائے گا۔
اس کے علاوہ قادیانی اس سلسلہ میں جتنے شبہات پیش کرتے ہیں، حضرت مفتی صاحبؒ نے ایک ایک کرکے ان سب کا جواب دیا ہے۔
عقیدۂ ختمِ نبوّت متواتراتِ دین میں سے ہے:
اسی طرح میں نے بھی ’’عقیدۂ ختمِ نبوّت‘‘ کے عنوان سے ایک رسالہ لکھا ہے جو میری کتاب ’’تحفۂ قادیانیت‘‘ جلد اول
میں شامل ہے، بلکہ یوں کہنا چاہئے کہ میں نے ’’تحفۂ قادیانیت‘‘ کی بسم اللہ ہی اس رسالہ سے کی ہے، اس رسالہ میں میں
نے ایک خاص کام یہ کیا ہے کہ ہر حدیث نقل کرنے کے بعد اس کے دس دس طرق بھی جمع کردئیے ہیں، مثلاً: اگر وہ حدیث دس
بیس صحابہ کرامؓ سے مروی تھی تو ان میں سے صحابہ کرامؓ کے نام بھی دے دئیے ہیں، جس کا فائدہ یہ ہوگا کہ قارئین کو اس
کا اندازہ ہوجائے گا کہ ختمِ نبوّت کی ایک ایک حدیث کتنے صحابہ کرامؓ سے؟ اور کہاں کہاں مروی ہے؟ اسی طرح میں نے
حضراتِ محدثینؒ کا یہ اُصول بھی نقل کیا ہے کہ جو حدیث دس یا دس سے زیادہ صحابہ کرامؓ سے مروی ہو، وہ متواتر ہوتی
ہے، جس سے بسہولت یہ معلوم ہوجائے گا کہ عقیدۂ ختمِ نبوّت متواتراتِ دین، یعنی متواترعقائد میں سے ہے، اس کے علاوہ
میں نے اس رسالہ میں جہاں اکابرِ اُمتؒ کے حوالے نقل کئے ہیں وہاں چاروں فقہ یعنی فقہ حنفی، فقہ مالکی، فقہ شافعی
اور فقہ حنبلی کے حوالہ جات بھی درج کئے ہیں۔
قرآن و سنت، اجماعِ اُمت اور چودہ صدیوں کے اکابر علمائے اُمتؒ کی تصریحات سے یہ بات ثابت ہے کہ آنحضرت صلی اللہ
علیہ وسلم آخری نبی ہیں، اور آپ کے بعد کسی کو نبوّت نہیں ملے گی۔
332
پہلے مرزا بھی ختمِ نبوّت کا قائل تھا:
خود مرزا غلام احمد قادیانی بھی دعویٔ نبوّت سے پہلے اس کا اقرار کرتا تھا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی ختمِ
نبوّت پر ایمان لانا فرض ہے، اس کا منکر کافر، دائرۂ اسلام سے خارج اور ملعون ہے۔ مگر جیسے ہی اس نے دعویٔ نبوّت
کیا تو گرگٹ کی طرح اس نے اس چودہ سو سالہ منصوص و متواتر عقیدہ کا یکسر انکار کردیا، چنانچہ اس نے اپنے جھوٹے دعویٔ
نبوّت کو ثابت کرنے اور قادیانی اُمت کو دھوکا دینے کے لئے نبوّت کی خودساختہ قسمیں بنا ڈالیں۔
قادیانیوں کے نزدیک نبوّت کی قسمیں:
چنانچہ قادیانی کہتے ہیں کہ نبوّت کی تین قسمیں ہیں:
۱:... ایک وہ نبوّت ہے جو براہ راست اللہ تعالیٰ سے ملتی ہے، براہ راست ملنے والی نبوّت کو وہ مستقل نبوّت سے تعبیر
کرتے ہیں۔
۲:... دوسری وہ نبوّت جو حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے فیض سے ملتی ہے، اس نبوّت کو جو حضور صلی اللہ علیہ وسلم
کے فیض سے ملتی ہے ظلّی نبوّت کا نام دیتے ہیں۔
۳:... ان کے ہاں تیسری تشریعی اور غیرتشریعی نبوّت ہے، جس کو وہ شرعی اور غیرشرعی بھی کہتے ہیں۔ دراصل ان بے وقوفوں
نے اپنی خودساختہ اصطلاحات بنارکھی ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ مستقل نبوّت جو اللہ تعالیٰ کی طرف سے ملتی ہے اور جو پہلے
ملا کرتی تھی وہ بند ہے، اسی طرح تشریعی نبوّت، یعنی جس میں نبی نئی شریعت لے کر آئے، وہ بھی ختم ہوچکی ہے، البتہ
تیسری یعنی ظلّی و بروزی نبوّت اب بھی جاری ہے، چنانچہ قادیانی جماعت کا دوسرا سربراہ مرزا بشیرالدین محمود کہتا ہے
کہ:
’’میں نبوّت کی تین قسمیں مانتا ہوں:
(۱) جو شریعت والے۔
(۲) جو شریعت نہیں لاتے، لیکن ان کو نبوّت بلاواسطہ ملتی
333
ہے، اور کام وہ پہلی ہی اُمت کا کرتے ہیں، جیسے سلیمان، زکریا، یحییٰ علیہم السلام۔
(۳) اور ایک وہ جو نہ شریعت لائے اور بلاواسطہ نبوّت ملتی ہے وہ پہلے نبی کی اتباع سے نبی ہوتے ہیں۔‘‘
(قولِ فیصل مرزا بشیرالدین ص:۱۴)
مگر ان قادیانیوں کی اس خودساختہ تقسیمِ نبوّت کا گورکھ دھندا صرف قادیانیوں کی مغالطہ آمیزی کی حدتک ہے، مسلمانوں
کے سامنے ان کی یہ چال بازی نہیں چلتی، بلکہ وہ ’’بھت الذی کفر‘‘ کے مصداق ہر میدان میں
بغلیں جھانکتے نظر آتے ہیں۔
مولانا حیاتؒ کا مرزائی مبلغ کو لاجواب کرنا:
چنانچہ ہمارے حضرت مولانا محمد حیات رحمہ اللہ تعالیٰ کا، مرزائی مبلغ اللہ دتہ جالندھری سے مناظرہ ہوا تھا، مولانا
محمد حیات فرمانے لگے: ’’اللہ دتیا! نبوّت دیاں کنی قسماں ہوندیاں نے؟ کہندا: جی تِن (اللہ دتہ! نبوّت کی کتنی قسمیں
ہیں؟ اس نے کہا: تین قسمیں ہیں:) مستقل تشریعی نبوّت، غیرمستقل تشریعی نبوّت، غیرمستقل غیرتشریعی نبوّت۔
مولانا فرمانے لگے کہ: اللہ دتہ! مناظرے کا اُصول یہ ہے کہ اگر دلیل عام اور دعویٰ خاص ہو تو یہ صحیح نہیں، مثلاً
اگر تمہارا دعویٰ ہو کہ زید آیا، مگر تم کسی دلیل سے یہ ثابت کرو کہ انسان آیا ہے، تو کیا اس سے تمہارا دعویٰ ثابت
ہوجائے گا؟ ظاہر ہے کہ زید کی آمد کے دعویٰ کے لئے انسان کی آمد کی دلیل سے زید کی آمد تو ثابت نہیں ہوگی ناں!
کیونکہ انسان تو میں بھی ہوں اور تم بھی ہو، بھائی تمہارا یہ دعویٰ تھا کہ زید آیا تو میرے یا تمہارے آنے سے زید
کا آنا تو ثابت نہ ہوا ناں! اس کو کہتے ہیں دلیل عام اور دعویٰ خاص۔
پھر فرمایا:ـ اللہ دتہ! تم ایسا کرو کہ قرآن کریم کی کوئی آیت یا ذخیرۂ احادیث سے کوئی حدیث پڑھو، یا بزرگوں کے
اقوال میں سے کوئی ایسا قول پیش کردو، جس سے یہ ثابت ہو کہ غیرتشریعی، غیرمستقل نبوّت جاری ہے۔ ظاہر ہے ایسی کوئی
آیت، حدیث یا اکابر علمائے
334
اُمت کے اقوال سے کوئی قول تو وہ پیش کرنے سے رہا۔
’’یَا بَنِیْ اٰدَمَ‘‘ سے قادیانیوں کا اجرائے نبوّت پر استدلال:
اس موقع پر مرزائی اپنے دعویٰ کی تائید میں یہ آیت پڑھتے ہیں:’’یَا بَنِیْ اٰدَمَ اِمَّا
یَأْتِیَنَّکُمْ رُسُلٌ مِّنْکُمْ‘‘ تو اللہ دتہ نے بھی حسبِ عادت یہ آیت پڑھ دی، مولانا محمد حیاتؒ نے
فرمایا: اللہ دتہ! تم انصاف کرو، تمہارا یہ آیت پڑھنا صحیح ہے؟ کیونکہ اس میں تو ’’رُسُلٌ‘‘
عام ہے، یہ تو صاحبِ شریعت، صاحبِ کتاب، تشریعی، غیرتشریعی، مستقل اور غیرمستقل سب کو شامل ہے، میں تمہیں
کہتا ہوں کہ دلیل میں وہ بات پیش کرو جو تمہارے اس دعویٰ کو ثابت کرے، حضرت مولانا مرحوم نے جب یہ کہا تو اللہ دتہ
بیچارہ پوری طرح پھنس گیا، کیونکہ اس دعویٰ پر کوئی آیت ہوتی تو پڑھتا۔
اِجرائے نبوّت کا ڈھونگ صرف مرزا کے لئے:
خیر یہ تو مولانا محمد حیات صاحبؒ نے فرمایا تھا، البتہ میں اس پر کچھ اضافہ کرتے ہوئے کہتا ہوں کہ قادیانیوں نے
اجرائے نبوّت کے فلسفہ کا ڈھونگ صرف اور صرف مرزا قادیانی کے لئے رچایا ہے، ورنہ وہ بھی یہ مانتے ہیں کہ اُمت کی
تیرہ صدیوں میں کوئی نبی نہیں آیا، اور جیسا کہ میں نے کہا تھا کہ خود مرزا قادیانی اپنی کتاب حقیقۃ الوحی کے
ص:۳۹۱پر لکھتا ہے کہ:
’’غرض اس حصہ کثیر وحی الٰہی اور امورِ غیبیہ میں، اس اُمت میں سے میں ہی ایک فرد مخصوص ہوں اور جس قدر مجھ سے پہلے
اولیا اور ابدال اور اقطاب اس اُمت میں سے گزرچکے ہیں ان کو یہ حصہ اکثر اس نعمت کا نہیں دیا گیا، پس اس وجہ سے نبی
کا نام پانے کے لئے میں ہی مخصوص کیا گیا۔‘‘
(حقیقۃ الوحی ص:۳۹۱)
اس لئے میں کہتا ہوں کہ مرزائیو! تم اس پر دلیل نہ دو کہ اب تمہارے پاس رسول آئیں گے، تم اس پر دلیل دو کہ
غیرتشریعی اور غیرمستقل نبی آئیں گے، کیونکہ تمہارا دعویٰ
335
خاص مرزا غلام احمد کے لئے ہے، لہٰذا تم اس کی دلیل پیش کرو۔ اگر تم میرا یہ نکتہ سمجھ لو اور سمجھا بھی سکو
تو تمہیں مناظرہ کرنا آجائے گا کیونکہ یہ بہت موٹی سی بات ہے، معمولی عقل و فہم کا آدمی بھی اس کو سمجھ سکتا ہے،
تم مرزا غلام احمد کی کتاب حقیقۃ الوحی کا صفحہ یہاں سے لے جاؤ اور پیش کرکے کہو کہ تمہارے مرزے کا حقیقۃ الوحی
ص:۳۹۱ پر یہ دعویٰ ہے کہ نبی کا نام پانے کے لئے صرف میں ہی مخصوص کیا گیا۔
گویا تم نے نبوّت کے جعلی ہونے کا سارا ڈھونگ مرزے کے لئے رچایا ہے، ہاں یہی مطلب ہوا ناں! نہیں تو تم ازراہ کرم
قرآن مجید کی کوئی ایسی آیت پڑھو جس میں لکھا ہو کہ ’’غلام احمد نبی بن کے آیا‘‘۔ رہی یہ بات کہ: ’’رسول آئیں گے
یا نبی آئیں گے‘‘ اس کا تمہیں کیا فائدہ؟ تم تو خود منکر ہو، جیسا کہ مرزا نے لکھا ہے کہ:
’’اس اُمت میں بڑے بڑے آدمی آئے، لیکن نبی کا نام پانے کے لئے صرف میں مخصوص کیا گیا۔‘‘
تو مرزائیوں سے بات کرنے کے لئے ایک نکتہ تو یہ ہے، کیونکہ مرزا خود کہتا ہے کہ: ’’نبی کا نام پانے کے لئے میں
مخصوص کیا گیا‘‘ لہٰذا جب بھی کوئی مرزائی ایسی کوئی بات کہے تو تم کہو کہ تم تو مرزے کی نبوّت کا دعویٰ پیش کرتے
ہو، لہٰذا مرزا کی نبوّت کی دلیل لاؤ!
ایک شبہ کا جواب:
سوال:... قادیانی یہاں اشکال کرتے ہیں کہ یہ پہلے کا عقیدہ ہے؟
جواب:... ان سے کہو کہ ہم حوالہ پیش کر رہے ہیں حقیقۃ الوحی کا اور حقیقۃ الوحی مرزا غلام احمد نے ۱۹۰۷ء میں لکھی
اور ۱۹۰۸ء میں وہ مرگیا، دراصل یہ ۱۹۰۷ء کی تصنیف ہے، جو اس نے ۱۹۰۵ء میں لکھنا شروع کی تھی، بلاشبہ یہ ۱۹۰۷ء کی
تحریر ہے، اور فہرست میں بھی لکھا ہے۔ سوال یہ ہے کہ جب ۱۹۰۷ء کی یہ تحریر ہے اور ۱۹۰۸ء میں وہ مرگیا تو اس کا عقیدہ
کب بدلا تھا؟ اگر ایسا ہے تو پھر پہلے اس کا عقیدہ کیا تھا؟ کیا اس کے علاوہ اس کا کوئی دوسرا عقیدہ تھا؟ جب تم
۱۹۰۸ء کی بات کر رہے ہو تو اس کی کیا دلیل ہے؟
336
ٹھیک ہے ناں؟
’’اِہْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِیْمَ‘‘ سے استدلال:
اب ایک اور بات اور ایک دوسرا نکتہ بتانا چاہتا ہوں، وہ یہ کہ مرزائی کہتے ہیں کہ:
’’اھدنا الصراط المستقیم (اے اللہ! ہم کو سیدھا راستہ دکھا، راستہ ان لوگوں کا جن پر
تو نے نعمت نازل کی۔ گویا ہم کو بھی وہ نعمتیں عطا فرما جو پہلے لوگوں کو عطا کی گئیں، اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ
وہ نعمتیں کیا تھیں؟ قرآن مجید میں ہے: یاقوم اذکروا نعمۃ اللہ علیکم اذ جعل فیکم انبیاء وجعلکم
ملوکا۔ (مائدہ:۲۰) موسیٰ علیہ السلام نے اپنی قوم سے کہا کہ اے قوم تم اپنے خدا کی نعمت یاد کرو، جب اس نے
تم میں نبی بنائے اور تم کو بادشاہ بنایا، تو ثابت ہوا کہ نبوّت اور بادشاہی دونوں نعمتیں ہیں جو خدا تعالیٰ کسی قوم
کو دیا کرتا ہے، خدا تعالیٰ نے سورۂ فاتحہ میں دعا سکھائی ہے اور خود ہی نبوّت کو نعمت قرار دیا ہے، اور دعا کا
سکھانا بتاتا ہے کہ خدا تعالیٰ اس کی قبولیت کا فیصلہ فرماچکا ہے لہٰذا اُمتِ محمدیہ میں نبوّت ثابت ہوئی۔‘‘
(احمدیہ پاکٹ بک ص:۴۶۶، ۴۶۷ آخری ایڈیشن)
جواب:... جو لوگ مرزے کے دعویٔ نبوّت سے پہلے پیدا ہوئے ہیں، سوال یہ ہے کہ وہ صراطِ مستقیم پر تھے یا نہیں؟ پھر یہ
بھی ملحوظ رہے کہ’’اِھْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِیْمَ‘‘ کے کیا یہ معنی ہیں کہ ہر
آدمی نبی بن جایا کرے؟ صراطِ مستقیم پر چلنے کی تو ہر ایک کو ضرورت ہے، پھر مرزا کہتا ہے کہ نبوّت ملنا یہ بھی دعا
ہے، سوال یہ ہے کہ نبوّت دعاؤں سے ملا کرتی ہے؟
نبوّت رحمت ہے اور رحمت جاری رہنی چاہئے!
قادیانی کہتے ہیں کہ: نبوّت ایک رحمت ہے، جیسا کہ تم درود شریف میں پڑھتے ہو:
’’اَللّٰھُمَّ صَلِّ عَلٰی سَیِّدِنَا مُحَمَّدٍ وَّعَلٰی اٰلِ سَیِّدِنَا
337
مُحَمَّدٍ کَمَا صَلَّیْتَ عَلٰٓی اِبْرَاھِیْمَ وَعَلٰٓی اٰلِ اِبْرَاہِیْمَ اِنَّکَ
حَمِیْدٌ مَّجِیْدٌ۔‘‘
ترجمہ:... ’’اے اللہ! رحمت نازل فرما محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر اور آلِ محمدؐ پر جیسا کہ آپ نے
رحمت فرمائی حضرت ابراہیمؑ پر اور آلِ ابراہیمؑ پر۔‘‘
یہ درود شریف سنا کر قادیانی سادہ لوح مسلمانوں سے پوچھتے ہیں کہ: تم بتاؤ نبوّت رحمت ہے یا لعنت؟ آپ کیا کہیں
گے؟ ظاہر ہے ہر مسلمان یہی کہے گا کہ نبوّت رحمت ہے لعنت نہیں، جب مسلمان کہتے ہیں کہ نبوّت رحمت ہے تو قادیانی
فوراً کہتے ہیں کہ جب نبوّت رحمت ہے اور جب یہ آلِ ابراہیم میں جاری تھی تو آلِ محمد میں کیوں بند ہوگئی؟
شریعت کیوں بند ہے؟
جواب:... اس کے دو جواب ہیں:
الزامی جواب:... تو یہ ہے کہ تم فوراً پلٹ کر ان سے کہو کہ ہم آپ سے پوچھتے ہیں کہ بتلاؤ شریعت رحمت ہے یا لعنت؟
یقینا وہ کہیں گے کہ شریعت رحمت ہے، آپ ان سے کہئے کہ یہ بتائیے کہ وہ کیوں بند ہوگئی؟ آپ اس کا جو جواب دیں گے
وہی جواب ہم آپ کی خدمت میں پیش کردیں گے۔ یہ تو ہوا الزامی جواب کہ قادیانی بول ہی نہ سکیں۔ اس پہلے جواب سے اپنے
مقابل کو باندھ لو، پھر ڈنڈے سے اس کی مرمت کرو، تاکہ ہاتھ پاؤں نہ ہلاسکے، گویا اس کے ہاتھ پاؤں پہلے باندھ کر اس
کو لاجواب کردو، پھر مسئلہ سمجھاؤ، اب سنو!
نہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوّت کا زمانہ ختم ہوا، نہ نبی کی ضرورت!
تحقیقی جواب:... حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد نبوّت کا جاری ہونا رحمت نہیں، لعنت ہے، اس لئے کہ پہلے
انبیائے کرام علیہم السلام میں نبوّت جاری ہونے کا مطلب یہ تھا کہ ایک نبی کی نبوّت کا زمانہ ختم ہوا تو دوسرے کی
نبوّت کا زمانہ شروع ہوگیا، لگاتار نبی آرہے تھے، ایک نبی چلا جاتا اور اس کی نبوّت کا زمانہ بھی چلا جاتا تو نیا
نبی آجاتا اور
338
اس کی نئی نبوّت کا زمانہ شروع ہوجاتا، چونکہ وہ زمانہ، زمانۂ نبوّت تھا، اس لئے اللہ تعالیٰ نے یہ انتظام
فرمایا کہ ان میں لگاتار نبی بھیجے جائیں، کوئی وقت بھی نبیوں سے خالی نہ ہو، لیکن جب حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ
علیہ وسلم کا مبارک دور آیا تو آپ کو نبوّت دے دی گئی اور آپ کی نبوّت کا زمانہ چونکہ قیامت تک ہے، اس لئے اگر
حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا زمانۂ نبوّت ختم ہوتا تو نیا نبی آتا، نہ زمانۂ نبوّت ختم ہوا اور نہ نئے نبی کی
ضرورت پیش آئی اور نہ نیا نبی آیا۔
قادیانی، حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوّت کا زمانہ ختم کرنا چاہتے ہیں:
جب یہ بات معلوم ہوگئی تو اب سنو! کہ قادیانی گویا یہ کہنا چاہتے ہیں کہ جیسے بنی اسرائیل میں پہلے نبی کا زمانہ
ختم ہوجاتا تھا، اس کی نبوّت بھی ختم ہوجاتی تھی، ٹھیک اسی طرح ...نعوذ باللہ... وہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد
ایک نیا نبی پیش کرکے حضور کی نبوّت کا زمانہ بھی ختم کرنا چاہتے ہیں۔ تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوّت کا زمانہ
ختم کرنا اور نئے نبی کو پیش کرنا لعنت ہے کہ نہیں؟ یقینا لعنت ہے! اس لئے ہمارے نزدیک حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے
بعد نئے نبی کا آنا رحمت نہیں لعنت ہے۔
حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوّت کا زمانہ قیامت تک ہے:
اگر چاہو تو اس کو دوسرے عنوان سے یوں بھی بیان کرسکتے ہیں، وہ یہ کہ قادیانی جو اجرائے نبوّت کے قائل ہیں، یا یوں
کہو ہم جو نبوّت کے بند ہونے کے اور ختمِ نبوّت کے قائل ہیں تو اس کا مطلب یہ نہیں کہ موجودہ زمانہ نبوّت سے خالی
ہے، بلکہ ختمِ نبوّت کا معنی یہ ہے کہ نبوّت کا ملنا ختم ہوگیا ہے، اور اب کوئی نئی نبوّت نہیں ملے گی، مگر مرزائی
ختمِ نبوّت کا یہ معنی لیتے ہیں کہ اس زمانہ میں کوئی نبوّت باقی نہیں، گویا وہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوّت کو
بھی ختم سمجھتے ہیں، حالانکہ ہم قطعاً یہ معنی مراد نہیں لیتے، بلکہ ہماری مراد یہ ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی
نبوّت قیامت تک باقی ہے، لہٰذا نہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوّت کا زمانہ ختم ہوا اور نہ کسی نئے نبی کے آنے کی
ضرورت ہے۔ جبکہ قادیانی نئی نبوّت کے آنے کا نظریہ پیش کرکے یہ کہنا
339
چاہتے ہیں کہ حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوّت کا زمانہ ختم ہوگیا ہے، لہٰذا نئے نبی کی ضرورت ہے،
گویا یہ نظریہ دے کر وہ اُمت کو اس عقیدے سے بلکہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے دامنِ رحمت سے کاٹ دینا چاہتے ہیں، ہم
کہتے ہیں کہ چونکہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوّت کا زمانہ قیامت تک کے لئے ہے، اس لئے حضور صلی اللہ علیہ وسلم
کی نبوّت باقی ہے، تو اُمت قیامت تک دامنِ نبوّت سے وابستہ رہے گی، نہ نیا نبی آئے گا اور نہ اس اُمت کا رشتہ حضور
صلی اللہ علیہ وسلم سے کٹے گا۔ یہ بات خود بھی سمجھو اور ہر قادیانی کو بھی سمجھاؤ، خدا کرے یہ بات ان کو سمجھ
آجائے۔
قادیانی مہدی ومسیح ہے اور نہ نبی:
سوال:... مرزائی کہتے ہیں کہ ہم مرزا غلام احمد قادیانی کو نبی نہیں بلکہ مہدی، امام، مصلح، مسیح موعود اور
غیرتشریعی نبی مانتے ہیں، کیا یہ صحیح ہے؟
جواب:... قادیانی جھوٹے ہیں اور جھوٹ بولتے ہیں، اللہ کا شکر ہے کہ وہ خود ہی اپنے موقف سے پھر گئے، مگر الحمدللہ
ہم آج تک اپنے موقف سے ایک انچ بھی پیچھے نہیں ہٹے، ایک انچ کیا، ایک بال برابر بھی نہیں ہٹے، ہمیں جو عقیدہ حضرت
محمد صلی اللہ علیہ وسلم دے کر گئے تھے الحمدللہ! اس سے ایک بال برابر بھی نہیں ہٹے، ہم ہر حال میں حق کا اظہار کریں
گے: ہم ہر حال میں حق بات کا اظہار کریں گے، منبر نہیں ہوگا تو سرِ دار کریں گے، نہ ہم کبھی بدلے ہیں اور نہ بدلنے
کا ارادہ کیا ہے، الحمدللہ!
قادیانی گرگٹ کی طرح عقیدہ بدلتے ہیں:
ہاں! قادیانی گرگٹ کی طرح رنگ بدلتے ہیں، چنانچہ مرزا محمود یہاں ربوہ، حال چناب نگر کے ایوانِ محمود میں بیٹھ کر
کچھ کہتا، اور جب عدالت میں پیش ہوتا تو وہاں کچھ اور کہتا تھا، یہ گرگٹ کی طرح عقیدے بدلتے ہیں، کبھی مرزا کو امام
کہتے ہیں، کبھی نبی کہتے ہیں، کبھی مسیح کہتے ہیں، کبھی مہدی کہتے ہیں، اور کبھی چوں چوں کا مربہ کہتے ہیں، سچ ہے کہ
واقعی مرزا چوں چوں کا مربہ ہی تھا، یعنی کچھ بھی نہیں تھا بلکہ فراڈ ہی فراڈ تھا، میرے بھائی! ان
340
کا عقیدے بدلنا، ان کے جھوٹے ہونے کی دلیل ہے، الحمدللہ! ہم نے اپنا موقف اور عقیدہ کبھی نہیں بدلا، ہماری
تاریخ کو پورے چودہ سو سال گزرچکے ہیں، اور اب پندرہویں صدی شروع ہوگئی ہے اور اس کے بھی کئی سال گزر چکے ہیں، گویا
ہم چودہ سو سال پورے کرچکے ہیں، مگر الحمدللہ! جو پہلے دن ہمارا عقیدہ تھا وہی آج بھی ہے اور آپ مجھ سے وہی چودہ
سو سال پرانا عقیدہ سن رہے ہیں، اس میں ہم نے کوئی ادنیٰ سے ادنیٰ ترمیم کی ہے اور نہ کریں گے۔ ہمارا یہی عقیدہ ہے
اور اِن شاء اللہ قیامت تک یہی رہے گا۔
میں کہتا ہوں کہ اگر قادیانی مرزا کو نبی نہیں مانتے تو ان سے کہو کہ پھر یہ نبوّت کے جاری ہونے کا عقیدہ کیوں
مانتے ہو؟
جس طرح نئی شریعت آنا بند ہے، نئی نبوّت کا دروازہ بھی بند ہے:
ہاں! تو میں عرض کر رہا تھا کہ مرزائیوں سے پوچھو کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد شریعت آسکتی ہے؟ یعنی شریعتِ
محمدیہ کے بعد نئی شریعت آسکتی ہے؟ اس پر مرزائی کہیں گے: نہیں! نئی شریعت نہیں آسکتی، تو پھر ان سے پوچھو کہ کیوں
نہیں آسکتی؟ ہمیں بھی تو سمجھاؤنا! آخر کچھ ہمارے پلے بھی تو پڑے! تمہارے بقول اگر نیا نبی آسکتا ہے تو نئی
شریعت کیوں نہیں آسکتی؟ اس پر قادیانی یہی کہیں گے کہ اجی یہ شریعت تو قیامت تک کے لئے بھیجی گئی ہے، جب وہ یہ کہیں
تو ان سے کہو کہ جس طرح آپ کی شریعت قیامت تک کے لئے ہے، اسی طرح حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوّت بھی قیامت
تک کے لئے ہے، اس پر قادیانی کہیں گے کہ چونکہ آپ کی شریعت کامل و مکمل ہے اس لئے اس میں کسی قسم کی ترمیم و تنسیخ
کی ضرورت نہیں۔ اس کے جواب میں ہم کہیں گے کہ جس طرح آپ کی شریعت کامل و مکمل ہے اسی طرح نبی کریم صلی اللہ علیہ
وسلم کی نبوّت بھی کامل و مکمل ہے، اس میں بھی کسی ترمیم و تنسیخ کی ضرورت نہیں، شریعتِ محمدیہ کے آخری اور ختم نہ
ہونے کی جو وجہ تم بیان کروگے وہی وجہ ہم بیان کریں گے، یعنی حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوّت کے ختم نہ ہونے
اور آپ کے بعد دوسرے نبی کے نہ آنے کی۔ اور یہی معنی ہیں ختمِ نبوّت کے، قادیانی
341
کہتے ہیں کہ اُمت نبوّت سے محروم ہوگئی ہے اور نبوّت رحمت ہے، اور اُمت اس رحمت سے محروم ہوگئی اور اُمت کو
محروم کیوں رکھا گیا؟ ہم کہتے ہیں اللہ کے فضل سے اُمت محروم نہیں ہوئی بلکہ قیامت تک کے لئے اُمت سب سے اعلیٰ ترین
اور افضل ترین نبوّت سے مستفید ہو رہی ہے، اور اس کے زیر سایہ ہے، جب سیّد الاولین والآخرین کی نبوّت باقی ہے تو
اُمت محروم کیسے ہوگئی؟ ہاں! البتہ تم اجرائے نبوّت کے ملعون فلسفہ کے ذریعہ ایک ایک بالشت کے نبی کھڑے کرکے اُمت کو
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سایۂ رحمت و عاطفت سے محروم کرنا چاہتے ہو۔
یہ میں نے قادیانیوں کے چند مغالطے ذکر کردئیے ہیں، میرا بھائی! اس کو سمجھو اور ٹھیک سے سمجھو اور یہ بھی یاد رکھو
کہ قادیانیوں کا کوئی ایسا مغالطہ نہیں جس کو آپ عقل اور دانائی کے ساتھ نہ سمجھ سکیں۔
اتباع سے نبوّت ملنے کا قائل کافر ہے:
سوال:... کیا اکابرینِ اُمت نے یہ لکھا ہے کہ نبی کی کامل اتباع سے بھی آدمی نبی بن جاتا ہے؟
جواب:... اس مسئلہ کو بھی میں بعد میں بتادوں گا البتہ جو ایسا کہے یا لکھے وہ کافر ہے۔
علامہ زرقانی اور اِجرائے نبوّت:
سوال:... قادیانی کہتے ہیں کہ علامہ زرقانی رحمہ اللہ اجرائے نبوّت کے قائل ہیں، ان کے اس دعویٰ کی کیا حقیقت ہے؟
جواب:... بالکل جھوٹ اور کذب و اِفترا ہے، میں تمہیں خود علامہ زرقانی رحمہ اللہ کی عبارت پڑھ کر سنادیتا ہوں، اس
سے خود ہی اندازہ لگالو، چنانچہ علامہ زرقانیؒ شرح مواہب میں امام ابن حبانؒ سے نقل کرتے ہیں:
’’من ذھب الی ان النبوۃ مکتسبۃ لَا تنقطع او
342
الی ان الولی افضل من النبی، فھو زندیق، یجب قتلہ لتکذیب القرآن: وخاتم النبیین۔‘‘
(مواہب لدنیہ ج:۶ ص:۱۸۸، مطبوعہ دار المعرفہ بیروت)
ترجمہ:... ’’جس شخص کا یہ مذہب ہو کہ نبوّت حاصل کی جاسکتی ہے، کبھی بند نہیں ہوگی، یا کہے کہ ولی
نبی سے افضل ہوتا ہے، وہ زندیق و بے ایمان ہے، اس کا قتل کردینا واجب ہے کیونکہ وہ قرآن کو جھوٹا کہتا ہے، اس لئے
کہ اللہ کہتا ہے کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم خاتم النبیین ہیں، مگر یہ کہتا ہے کہ حضور خاتم النبیین نہیں ہیں۔‘‘
صدق و کذبِ مرزا کی بحث:
اب تیسرا عنوان ہے کہ مرزا غلام احمد سچا تھا یا جھوٹا؟ اس کو کہتے ہیں صدق و کذبِ مرزا کی بحث، یعنی اس بحث کا نام
ہے صدق و کذبِ مرزا، یہ بھی قادیانی ذوق کا شاہکار ہے کہ انہوں نے ایسے آدمی کو اپنا نبی مان رکھا ہے جس کے صدق و
کذب پر بحث ہوتی ہے اور یہ مرزائی بڑے مزے لے لے کر کہتے ہیں حضرت مسیح کے صدق و کذب کی بحث۔ نعوذ باللہ! کوئی
مسلمان اپنے نبی کے بارے میں کبھی بھی ایسا کوئی لفظ اپنی زبان پر لانا گوارا نہیں کرے گا، کیا ...نعوذ باللہ... ہم
حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے صدق و کذب کی بحث کرنا چاہیں گے؟ نہیں! قطعاً نہیں! نعوذ باللہ ثم نعوذ باللہ! کیا آپ
نے کبھی کسی مسلمان عالم کی زبان سے یہ بحث سنی؟ ہم عیسائیوں سے بھی بحث کرتے ہیں، پادریوں سے بھی بحثیں کرتے رہے
ہیں، دہریوں سے بھی بحث کرتے رہے، مگر کبھی کسی مسلمان کی زبان سے آپ نے یہ نہیں سنا ہوگا کہ اس نے حضور صلی اللہ
علیہ وسلم کے صدق و کذب کی بحث کی ہو، اس لئے میں قادیانیوں سے کہتا ہوں کہ تمہارا اس عنوان کو قائم کرنا ہی تمہارے
جھوٹے ہونے کی دلیل ہے، تم بھی جھوٹے اور تمہارا نبی بھی جھوٹا، ٹھیک ہے ناں!
قادیانیوں سے مناظرہ، اور دلچسپ لطیفہ:
اس پر ایک لطیفہ سنو، بعد میں، میں تمہیں دو تین باتیں تمہارے مطلب کی بھی
343
سناؤں گا، ہاں یہ بھی تمہارے مطلب کی بات ہے، ہمارے مولانا علامہ خالد محمود صاحب نے مجھے ایک لطیفہ سنایا
کہ ایک دفعہ وہاں لندن یعنی انگلینڈ میں مرزائیوں کے ساتھ مناظرہ ٹھن گیا، اور یہ بھی بتاتا چلوں کہ مرزائیوں کو
مناظرے کا بہت شوق رہتا ہے، مرزائی ہر جگہ کہے گا کہ مجھ سے مناظرہ کرلو، مگر مرزائی مناظرہ کا چیلنج اسی وقت دیتے
ہیں جب ان کو پتہ ہو کہ سامنے والا مرزائیت نہیں جانتا، اگر ان کو پتہ چل جائے کہ فریقِ مخالف میں کوئی مولوی یا
عالم ہے تو پھر وہ وہاں سے اس طرح دُم دباکر بھاگتے ہیں جس طرح قرآن کریم میں ہے:
’’وَقُلْ جَآئَ الْحَقُّ وَزَھَقَ الْبَاطِلُ اِنَّ الْبَاطِلَ کَانَ زَھُوْقًا۔‘‘
(بنی اسرائیل:۸۱)
ترجمہ:... ’’فرمائیے حق آگیا اور باطل دم دباکر بھاگ گیا، بے شک باطل ہے ہی دم دباکر بھاگنے کے
لئے۔‘‘
تو وہاں انہوں نے مناظرہ ٹھان لیا، اور مرزائیوں نے کہا کہ جی ہم تو دو مسئلوں پر بحث کریں گے، ایک حضرت عیسیٰ علیہ
السلام کی حیات و وفات کی بحث، اور ایک اجرائے نبوّت کی بحث، اس لئے ’’انہاں نوں جریان ہی رہندا اے‘‘ (یعنی ان کو
جریان کی بیماری لگی ہوئی ہے) اور جریان کی بڑی سخت بیماری لگی ہوئی ہے۔
مناظرے کا اُصول:
علامہ صاحب نے فرمایا: اچھا تم جو چاہو عنوان رکھو، کیونکہ مناظرہ کا اصول ہے کہ اگر فریقین مناظرہ نے چار عنوانوں
پر گفتگو کرنی ہو تو دو عنوان ایک فریق متعین کرے گا اور دوسرے دو دوسرا فریق مقرر کرے گا۔ اور اگر دو عنوانوں پر
گفتگو کرنی ہو تو ایک عنوان ایک فریق مقرر کرے گا اور ایک، دوسرا فریق طے کرے گا۔ اور جو فریق جو عنوان تجویز کرے گا
وہ اس میں مدعی ہوگا اور مدعی کو وقت پہلے ملتا ہے، اور مدعاعلیہ کو بعد میں وقت ملتا ہے، اس لئے مناظرہ میں جو بے
چارہ مدعاعلیہ ہوتا ہے، وہ گھاٹے میں رہتا ہے، کیونکہ مدعی سب سے پہلے اپنا دعویٰ پیش کرے گا اس کے بعد مدعاعلیہ اس
کا توڑ کرے گا، اس کے بعد
344
مدعی پھر مدعاعلیہ کے توڑ کا جواب دے گا، یوں اول و آخر مدعی ہی ہوتا ہے، اس لئے مرزائی ہمیشہ کوشش کریں گے
کہ وہ مدعی بنیں، یعنی ان کو ہمیشہ اقدام کا شوق رہتا ہے، وہ دفاع کی قوت ہی نہیں رکھتے۔
چنانچہ ہم ختمِ نبوّت کے قائل ہیں اور یہ منکر ہیں، اور یاد رکھو ہمیشہ منکر مدعاعلیہ ہوتا ہے، مگر یہ چال بازی
کرتے ہیں کہ یہ دونوں بحثیں خود لے لیتے ہیں، تاکہ مسلمانوں نے جو دلائل پیش کئے ہوں، اپنی آخری تقریر میں وہ اس کے
اثرات اُڑاسکیں، یہ عموماً ایسی تلبیسات کیا کرتے ہیں، چونکہ مسلمان مناظر اخلاص سے ان کو بات سمجھانے کا جذبہ رکھتا
ہے تو وہ بے چارہ بول نہیں پاتا۔
تو خیر علامہ خالد محمود کہنے لگے کہ بھائی مناظرہ میں بحث کے چار نکات ہوں گے، دو تمہاری طرف سے، اور دو ہماری طرف
سے، قادیانی کہنے لگے ہماری طرف سے تو یہ دو ہوں گے: حیات و وفاتِ مسیح، اور دوسرا اجرائے نبوّت۔ علامہ خالد محمود
صاحب کہنے لگے: ہم نے کہہ دیا ٹھیک ہے! مگر دو عنوان ہماری طرف سے ہوں گے، ہمارا ایک عنوان یہ ہوگا کہ مرزا غلام
احمد ’’گو‘‘ کھاتا تھا کہ نہیں؟ قادیانی کہنے لگے: یہ کیا عنوان ہوا؟ علامہ خالد محمود صاحب فرماتے ہیں: میں نے کہا
تمہیں اس سے کیا بحث؟ چونکہ ہمیں ایک عنوان تجویز کرنے کا تم نے حق دیا ہے، اور اس عنوان میں ہم مدعی ہیں، ہم ثابت
کردیں گے کہ مرزا غلام احمد قادیانی ’’گو‘‘ کھاتا تھا، اور تم ثابت کرو کہ نہیں کھاتا تھا، بس یہ عنوان سن کر ہی
قادیانی بھاگ گئے۔
قادیانیوں کے ساتھ مناظرہ کا ایک اصول یہ بھی ہے کہ ہوشیاری دکھائی جائے ورنہ ہمارے جیسا بھولا آدمی ان سے مناظرہ
نہیں کرسکتا۔
آج کل مناظرہ چال بازی کا نام ہے، علمی بحث و مباحثہ کا نام مناظرہ نہیں رہا۔
قادیانیوں سے مناظرے کا طرز:
میرے ایک عزیز اور رشتہ دار ہیں جو گلشنِ حدید کراچی میں رہتے ہیں، اور وہ تبلیغ
345
میں تین مرتبہ بیرون ملک بھی جاچکے ہیں، اب چوتھی مرتبہ بھی تیار ہیں، مگر ہیں ماشاء اللہ بڑے ذہین، پچھلے
سال جماعت لے کر افریقہ گئے تھے، ان کا کہنا تھا کہ وہاں بہت سے قادیانی پہنچے ہوئے ہیں، گویا وہ خاص ان کا ملک ہے،
اس وقت اس ملک کا نام ذہن میں نہیں رہا، بہرحال وہ افریقہ کا کوئی چھوٹا سا ملک ہے، خیر جو بھی ہو، ہاں تو وہ کہنے
لگا کہ ہم ایک دن سڑک کے کنارے پیدل جارہے تھے، چونکہ وہاں کوئی سیکورٹی وغیرہ نہیں ہوتی بلکہ ملک کا صدر وغیرہ بھی
یوں ہی عام آدمیوں کی طرح پھرتا رہتا ہے، تو ایک آدمی ہمارے قریب آیا، یعنی اس نے ہمارے قریب آکر اپنی گاڑی کھڑی
کی اور کہنے لگا: السلام علیکم! میں نے کہا: وعلیکم السلام! سلام و کلام کے بعد وہ ہم سے کہنے لگا کہ میں آپ کی
کوئی خدمت کرسکتا ہوں؟ چونکہ ہم تو ہر ایک کو دعوت ہی پیش کرتے ہیں، اس لئے ہم نے کہا جی بات یہ ہے کہ حضور صلی اللہ
علیہ وسلم آخری نبی بناکر بھیجے گئے ہیں اور حضور کے بعد چونکہ کسی نبی نے نہیں آنا اس لئے دعوت کا کام اُمت نے
کرنا ہے، اس لئے ہم چاہتے ہیں کہ آپ بھی ہمارے ساتھ اس دعوت کے کام میں شریک ہوجائیں۔ جب اس نے یہ سنا کہ حضرت محمد
صلی اللہ علیہ وسلم آخری نبی ہیں اور کسی نئے نبی نے آنا نہیں تو اس کے تو تیور بدل گئے، مگر اس وقت وہ وہاں سے چپ
کرکے چلا گیا، دراصل وہ وہاں کا صدرِ مملکت تھا، اس نے وہاں سے جاتے ہی اپنے ملک کے تمام محکموں کو احکامات جاری
کردئیے کہ اس جماعت کے ساتھ کوئی تعاون نہ کیا جائے، بلکہ اس جماعت کو ملک سے نکالا جائے، لیکن اگر نکال نہیں سکتے
تو کم از کم ان سے تعاون نہ کریں۔
خیر قادیانیوں نے یہ سوچ کر کہ چونکہ تبلیغی جماعت کے لوگ ہیں، ان کا کام تو صرف تبلیغ کرنا ہے، اس لئے ان کو کیا
پتہ کہ قادیانیت کیا ہوتی ہے؟ یہ تو صرف دعوت کا کام جانتے ہیں، مرزائیت کا ان کو کوئی پتہ نہیں ہوگا، کیوں نہ ہم ان
کو مناظرہ کا چیلنج دے کر ذلیل کریں؟ چنانچہ قادیانیوں نے ہم کو مناظرے کا چیلنج دے دیا، اور کہا کہ اگر تم کسی نئے
نبی کے آنے کو نہیں مانتے تو ہم سے مناظرہ کرو، حسن اتفاق کہ سفر پر جاتے ہوئے میں نے ان کو یہ اپنی کتابیں یعنی
تحفۂ قادیانیت کے رسائل دے دئیے تھے، وہ چونکہ جاتے ہوئے
346
مجھ سے مل کر گئے تھے اس لئے میں نے ان سے کہا تھا کہ بھائی! جس افریقی ملک میں تم جارہے ہو وہاں قادیانی
جراثیم بہت ہیں، اس لئے ہوسکتا ہے کہ تمہیں کہیں قادیانیوں سے گفتگو کی نوبت آجائے، تو یہ رسالے تم ساتھ لے لو، اور
راستہ میں کچھ ان کا مطالعہ بھی کرلینا، اگر کبھی ایسا مرحلہ پیش آگیا تو اِن شاء اللہ ان رسائل سے تمہارا کام چل
جائے گا، بہرحال انہوں نے رسائل لے لئے، یقینا انہوں نے کچھ نہ کچھ تو پڑھا بھی ہوگا، خلاصہ یہ کہ میری کتاب ان کے
ساتھ تھی اور بس۔
اب اللہ تعالیٰ کی مدد دیکھئے کہ یہ سارے تبلیغی جماعت کے لوگ ہیں، بس ایک آدمی ہے جس نے ہمارے رسائل کا سیٹ
اُٹھایا ہوا ہے، عجیب اتفاق کہ وہ بے چارا بھی کوئی خاص پڑھا لکھا نہیں تھا، یعنی دین دار اور تبلیغی ذہن کا ضرور
تھا، مگر کوئی باقاعدہ عالم یا دینی علوم سے بہرہ ور نہیں تھا، پھر اتفاق سے وہی امیر جماعت بھی تھا، اس لئے مناظرہ
کا چیلنج بھی اُسے تھا، وہ کہتا ہے کہ میں نے آپ کی کتاب کے مطالعہ کی برکت سے قادیانیوں کی کتابوں کے نام یاد
کرلئے تھے، اس لئے جب انہوں نے مجھے مناظرہ کا چیلنج دیا تو میں نے دس بارہ قادیانی کتب کے نام لکھ کر ان کو دے دئیے
اور کہا چونکہ ہم تو یہاں پردیسی ہیں، اور دعوت کے کام کے لئے آئے ہوئے ہیں، اور قادیانیوں کی کتابیں تو ہم اُٹھائے
نہیں پھر رہے ہیں، اس لئے ہمیں قادیانیوں کے ساتھ مناظرہ کرنے کی تو بہت خوشی ہے، مگر اتنی درخواست ہے کہ جب آپ
حضرات مناظرہ کرنے کے لئے تشریف لائیں تو ازالہ اوہام اور یہ یہ قادیانی کتابیں بھی ساتھ لے آئیں، تاکہ حوالہ
دیکھنے اور دکھانے میں سہولت رہے۔
اللہ کی شان دیکھو! جب قادیانیوں نے میرا یہ پرچہ پڑھا اور جب ان کو اس کا پتہ چلا کہ اس کو تو ہماری کتابوں کے نام
بھی معلوم ہیں تو وہ مناظرہ سے بھاگ گئے، ہمارا وہ دوست تبلیغی سفر سے ابھی واپس آیا ہے، اور کہتا ہے کہ الحمدللہ!
ہم دو سو چالیس آدمیوں کو مسلمان کرکے آئے ہیں۔ وہ کہتا ہے کہ جب بھی کوئی مسلمان ہوتا تھا تو میری یہ شرط ہوتی
تھی کہ بھائی! تمہیں ہمارے ساتھ دس دن لگانے ہوں گے، تاکہ اس کے دل میں ایمان ذرا تھوڑا راسخ ہوجائے۔
347
ایک بستی کا واقعہ:
ہمارا وہ عزیز کہتا ہے کہ ہم ایک بستی میں گئے، پھر اس نے بڑا لمبا قصہ سنایا، خیر وہ کہتا ہے کہ ہم نے بستی والوں
سے پوچھا تم کون ہو؟ انگریزی میں گفتگو کی، تو وہ کہنے لگے کہ: ’’ہم حمادی مسلمان ہیں‘‘ یعنی احمد نہیں حمادی، یا تو
ان بے چاروں کو نام ہی نہیں آتا ہوگا یا پھر ویسے ہی بگاڑ دیا ہوگا۔ تو یوں کہا کہ ہم حمادی مسلمان ہیں، یا ہماری
جماعت حمادیہ ہے، تو ہم نے سمجھ لیا کہ یہ قادیانی ہیں، ہم نے ان کو سمجھایا کہ یہ تو بہت برے لوگ ہیں، اور تم لوگ
ان قادیانیوں کے چنگل میں کیسے پھنس گئے؟ انہوں نے بہت توجہ سے ہماری باتیں سنیں، ہماری ساری باتیں سن کر وہ کہنے
لگے کہ: تم یہ بتاؤ کہ انہوں نے جب ہمیں اپنے مذہب میں داخل کیا تھا تو انہوں نے ہم سے اتنی فیس وصول کی تھی، اب تم
بتاؤ کہ تم ہم سے کتنی فیس وصول کروگے؟ پھر یہ بھی کہا کہ ہم آج تک ان کو اتنا اتنا ٹیکس دے رہے ہیں، اس سے معلوم
ہوا کہ قادیانی ہونے کے معنی ہیں ٹیکس گزار جماعت پیدا ہوجانا، ہاں تو انہوں نے یہ بھی کہا کہ تم ہم سے کتنا ٹیکس
لوگے؟ اس پر ہم نے کہا کہ: بھائی! اسلام میں داخل ہونے کی نہ کوئی فیس ہے اور نہ ٹیکس، ہاں! البتہ ہم آپ سے ایک
گزارش ضرور کریں گے کہ تم مسلمان ہونے کے بعد ہمارے ساتھ دس دن لگاؤ، یعنی ہر آدمی جو مسلمان ہو، وہ دس دن لگائے
تاکہ ہم اس کو اسلامی آداب اور احکام پر عمل کا طریقہ سکھادیں، اور وہ دین کو خود سیکھ کر دوسروں کو سکھانے والا بن
جائے اور اس دعوت کی محنت کو اس طرح اپنائے کہ دوسروں کو اس میں جوڑنے والا بن جائے، اس پر وہ کہنے لگے کہ: اجی یہ
ہمیں منظور ہے! چنانچہ ٹیکس سے ان کی جان چھوٹی اور وہ مسلمان ہوکر ہمارے ساتھ ہولئے، پتہ نہیں کتنے آدمی تھے جنہوں
نے اسلام قبول کیا اور ہمارے ساتھ دس دس دن لگائے، ممکن ہے کچھ آدمی پیچھے رہ گئے ہوں گے، جب پہلے والوں کے دس دن
پورے ہوتے تو دوسرے ساتھ ہولیتے اور کچھ ایسے بھی تھے کہ جب ان کے دس دن پورے ہوتے تو مزید دنوں کے لئے وہ آگے چلے
جاتے اور جو گھر واپس چلے جاتے تھے وہ بھی راشن لے کر دوبارہ ہمارے پاس آجاتے۔
348
تو خیر میں نے تمہیں یہ واقعہ بتایا، بلکہ قادیانیوں سے مناظرہ کے دو واقعے میں نے تمہیں بتادئیے، ایک علامہ خالد
محمود کا، اور دوسرا اس تبلیغی ساتھی کا۔
اگر قادیانیوں کو بھگانا ہو تو یوں کہو آؤ ہم سے مناظرہ کرو اور بلالو اپنے مولوی اور مربی کو، میں اس سے مناظرہ
کروں گا، اور یاد رکھو قادیانیوں سے مناظرہ کرنے کے لئے کسی لائق فائق اور قابل ہونے کی بھی کوئی ضرورت نہیں ہے، بس
یہ کہہ دو کہ یہ مرزا کی کتاب تحفہ گولڑویہ بھی ساتھ لے آؤ، لہٰذا تمہیں قادیانی کتب ساتھ رکھنے کی بھی ضرورت
نہیں۔
دوم یہ کہ جب کوئی قادیانی کہے کہ میں تم سے مناظرہ کرتا ہوں تو اُسے کہو کہ موضوع مناظرہ کا ایک نکتہ تم مقرر کرو
اور ایک نکتہ میں مقرر کروں گا، لہٰذا ایک نکتہ وہ رکھ لے، اور ایک نکتہ تم رکھو، وہ جو بھی چاہیں رکھیں، مگر تم کہو
کہ میرا دعویٰ ہے دنیا میں سب سے بڑا ملعون ترین آدمی غلام احمد قادیانی ہے، بڑا کنجر، یہی لفظ جتنے بول سکتے ہو
بولو، اور پھر کہو یہ میرا دعویٰ ہے اور میں اس کا ثبوت پیش کروں گا، تم اس کا ردّ کرنا۔
میں تمہیں اس کا ثبوت دوں گا کہ تمہارا یہ دعویٰ کرنا صحیح ہے کہ مرزے سے بڑا کوئی کنجر تھا اور نہ کوئی ہے، بلاشبہ
دنیا کا سب سے بڑا لُچا، بدمعاش اور کنجر غلام احمد قادیانی تھا۔ آپ تجربہ کرکے دیکھ لیں، اگر آپ نے موضوع مناظرہ
یہ رکھ لیا تو مناظرہ نہیں ہوگا، اور اگر مرزائیوں کو یہ پتہ چل گیا کہ یہ ہماری کتابوں کو جانتا ہے اور اس نے ہماری
کتابیں پڑھی ہوئی ہیں، اور اس کے پاس ہماری کتابیں موجود ہیں، تو یقین کرو قادیانی مربی بھی تم سے مناظرہ نہیں کرے
گا، بلکہ قادیانی ایسے بھاگیں گے جیسے کوّا غلیل سے بھاگتا ہے۔
مناظرے میں علم سے زیادہ عقل کی ضرورت:
بھائی! مناظرہ میں علم سے زیادہ عقل اور ہوشیاری کی ضرورت ہوتی ہے، اور یہ قادیانی تو لوگوں کو محض اپنی عیاری سے
اُلّو بناتے ہیں، ورنہ ان کے پاس کچھ بھی نہیں۔
صدق و کذبِ مرزا کے فیصلہ کے لئے!
اب آئیے مرزے کے صدق و کذب کی بحث کی طرف، تو اس کے لئے میں نے
349
ایک چھوٹا سا رسالہ لکھا ہوا ہے، اور اس کا نام ہے ’’قادیانی فیصلہ‘‘، یہ رسالہ میری کتاب ’’تحفہ قادیانیت‘‘
میں موجود ہے، تمہیں الگ بھی بھجوادیں گے، یہاں میں نے مولانا اللہ وسایا صاحب سے پوچھا تو کہنے لگے کہ: یہ کتاب
ہمارے پاس ختم ہوچکی ہے، لہٰذا اس سال ہم آپ کو اس کتاب کی جگہ دوسری کتاب دیں گے، گزشتہ سال یہی کتاب دی تھی،
بھائی ہم کتاب دینے میں بخل نہیں کرتے لیکن افسوس کہ وہ اس وقت ختم ہوچکی ہے، خیر دوسری کتاب دے دیں گے۔
ہاں بھائی! مرزا کے صدق و کذب کے فیصلہ کے لئے ہم نے جو رسالہ لکھا ہے اس کا نام ہے: ’’قادیانی فیصلہ‘‘ اور
’’قادیانی فیصلہ‘‘ کا معنی یہ ہے کہ میں مرزا غلام احمد کی کتاب سے ثابت کردوں کہ مرزا جھوٹا تھا، دوسری جانب
قادیانی کوئی تأویل کریں گے اور کہیں گے نہیں وہ سچا تھا، گویا یہ ہماری قادیانیوں سے کشتی ہوگی، اب اس کا فیصلہ
کون کرے کہ کس کا موقف صحیح اور حق ہے اور کون جھوٹا اور کذاب ہے؟ اس کے لئے کسی ایسے فیصل کی ضرورت ہے جو فریقِ
مخالف کے لئے قابلِ اعتماد ہو اور اس کے فیصلہ پر کسی کو کوئی اعتراض نہ ہو، اس لئے میں نے سوچا کہ اگر میں یہ ثابت
کروں کہ خدا نے کہا ہے کہ مرزا جھوٹا ہے پھر تو کسی کو اعتراض نہیں رہے گا، ناں! الغرض یہ سولہ صفحہ کا رسالہ ہے جس
میں بیس نکات اور چار ابواب ہیں اور اس میں جتنے حوالے آئے ہیں اس کے لئے اصل قادیانی کتب کے صفحات کے فوٹو لگائے
گئے ہیں۔
اس کے اندر پہلا نکتہ ہے مرزا قادیانی کا مقدمہ اللہ کی عدالت میں، چونکہ جتنی قادیانی کتابوں کے حوالے اس میں آئے
ہیں، وہ ساتھ کے ساتھ لگادئیے گئے ہیں، یعنی ان کے اصل فوٹو لگادئیے گئے ہیں، یوں گویا قادیانیوں کی اپنی کتابیں بھی
ساتھ موجود ہیں، جب قادیانی کتابوں کا اصل فوٹو شامل اشاعت ہے تو گویا ان کتابوں کی اصل عبارت ہمارے سامنے آجائے
گی، یہ ہے ’’قادیانی فیصلہ‘‘ اس میں میں نے ہر مقدمہ کے نمبر دئیے ہوئے ہیں، مثلاً پہلا مقدمہ، دوسرا مقدمہ، تیسرا
مقدمہ، چوتھا مقدمہ، اور پانچواں مقدمہ، یہ پانچ مقدمے میں نے دئیے ہوئے ہیں، مگر یہاں میں تمہیں ان میں سے صرف تین
بتلاؤں گا:
350
اول:... یہ کہ مرزا غلام احمد نے مباہلہ کیا تھا۔
مباہلہ کا معنی؟
مباہلہ کا معنی جانتے ہو؟ بھائی! مباہلہ اس کو کہتے ہیں کہ دو فریق جن کا آپس میں مقابلہ ہو، مثلاً: میں اور مرزا
طاہر، وہ دونوں ایک میدان میں جمع ہوکر دعا کریں کہ یا اللہ ان دونوں میں سے جو حق پر ہے اس کو عزت عطا فرما! اور جو
جھوٹا ہے اس پر ایسی آفت نازل فرما جیسی تو نے مرزا غلام احمد قادیانی پر فرمائی تھی، لفظی اور معنوی قسمیں کھانا،
ایک دوسرے پر لعنت بھیجنا، یعنی دونوں کا مل کر لعنت کرنا وغیرہ، جیسا کہ قرآن کریم میں ہے:
’’ثُمَّ نَبْتَھِلْ فَنَجْعَل لَّعْنَتَ اللہِ عَلَی الْکَاذِبِیْنَ۔‘‘
(آل عمران:۶۱)
اس کو مباہلہ کہتے ہیں۔ یعنی دونوں فریق اللہ کے سامنے گڑگڑائیں اور گڑگڑاکر دعا کریں یا اللہ! جھوٹوں پر لعنت کر!
اس کا نام ہے مباہلہ۔
مولانا عبدالحق غزنوی سے مرزا کا مباہلہ:
اب دیکھو سب سے پہلی بات یہ کہ مرزا غلام احمد نے مولوی عبدالحق کے ساتھ مباہلہ کیا۔
دوم:... مرزے نے لکھا کہ مباہلہ کرنے والوں میں سے جو جھوٹا ہو وہ سچے کی زندگی میں مرتا ہے۔
سوم:... مرزا غلام احمد، مولانا عبدالحق کی زندگی میں ۲۶؍مئی ۱۹۰۸ء کو مرا، اور مولانا عبدالحق اس کے نو سال بعد
فوت ہوئے، کیوں بھائی؟ ان مقدمات کی روشنی میں بتلاؤ کہ جب مباہلہ کے بعد مرزا غلام احمد، مولانا عبدالحق کی زندگی
میں مرگیا تو کون سچا نکلا اور کون جھوٹا؟ پھر یہ بھی قابلِ غور ہے کہ مرزا جھوٹا بھی نکلا تو اللہ کے فیصلہ سے،
کیونکہ اللہ تعالیٰ نے اُسے موت دے کر فیصلہ دے دیا کہ تو جھوٹا ہے اور مولانا عبدالحق سچے، کیونکہ جھوٹا سچے کی
زندگی میں مرجاتا ہے، میں نے تمہیں مختصر بات اس لئے بتلائی ہے کہ اگر میں بات
351
لمبی کروں گا تو تمہیں یاد نہیں رہے گی۔
مرتد و زندیق کا فرق:
سوال:... زندیق اور مرتد میں کیا فرق ہے؟
جواب:... جو اسلام چھوڑ کر کفر اختیار کرلے وہ مرتد ہے، اور جو اپنے کفر کو اسلام باور کرائے وہ زندیق ہے، تم چاہو
تو مرتد کو زندیق کہہ سکتے ہو بہرحال مرزائی زندیق و مرتد ہیں، زندیق ہیں بوجہ اپنے کفر کو اسلام کہنے کے، اور مرتد
ہیں بوجہ حکم کے کیونکہ زندیق و مرتد کا حکم ایک ہی ہے، سوائے چند ایک معاملات کے۔
مولانا عبدالحق سے مرزا کے مباہلہ کا اشتہار:
چنانچہ مجموعہ اشتہارات جلد اول میں اس مباہلہ سے متعلق خود مرزا غلام احمد کی تحریر موجود ہے، ملاحظہ ہو اشتہار
نمبر:۱۱۲:
’’اعلانِ عام:‘‘
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ
نحمدہ ونصلی علی رسولہ الکریم
’’ان اللہ مع الذین اتقوا والذین ھم محسنون۔‘‘ (النحل:۱۲۹)
’’اس مباہلہ کی اہل اسلام کو اطلاع‘‘
’’جو دہم ذیقعدہ روز شنبہ بمقام امرتسر عیدگاہ متصل مسجد خان بہادر حاجی محمد شاہ صاحب مرحوم، ہوگا۔
اے برادران اہل اسلام کل دہم ذیقعدہ روز شنبہ کو بمقام مندرجہ عنوان میں عبدالحق غزنوی اور بعض دیگر علماء جیسا کہ
انہوں نے وعدہ کیا ہے اس عاجز سے اس بات پر مباہلہ کریں گے کہ وہ لوگ اس عاجز کو کافر اور دجال اور بے دین اور دشمن
اللہ جل شانہ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا سمجھتے ہیں، اور اس عاجز کی کتابوں کو مجموعۂ
352
کفریات خیال کرتے ہیں، اور اس طرف یہ عاجز نہ صرف اپنے تئیں مسلمان جانتا ہے بلکہ اپنے وجود کو اللہ اور
رسول کی راہ میں فدا کئے بیٹھا ہے، لہٰذا ان لوگوں کی درخواست پر یہ مباہلہ تاریخ مذکورہ بالا میں قرار پایا ہے، مگر
میں چاہتا ہوں کہ مباہلہ کی بددعا کرنے کے وقت بعض اور مسلمان بھی حاضر ہوجائیں کیونکہ میں یہ دعا کروں گا کہ جس قدر
میری تالیفات ہیں ان میں سے کوئی بھی خدا اور رسول کے فرمودہ کے مخالف نہیں ہیں اور نہ میں کافر ہوں اور اگر میری
کتابیں خدا اور رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمودہ کے مخالف اور کفر سے بھری ہوئی ہیں تو خدا تعالیٰ وہ لعنت اور
عذاب میرے پر نازل کرے جو ابتدائے دنیا سے آج تک کسی کافر بے ایمان پر نہ کی ہو، اور آپ لوگ آمین کہیں، کیونکہ
اگر میں کافر ہوں اور نعوذ باللہ دین اسلام سے مرتد اور بے ایمان، تو نہایت برے عذاب سے میرا مرنا ہی بہتر ہے، اور
میں ایسی زندگی سے بہزار دل بیزار ہوں، اور اگر ایسا نہیں تو خدا تعالیٰ اپنی طرف سے سچا فیصلہ کردے گا، وہ میرے دل
کو بھی دیکھ رہا ہے اور میرے مخالفوں کے دل کو بھی، بڑے ثواب کی بات ہوگی اگر آپ صاحبان کل دہم ذیقعدہ کو دو بجے کے
وقت عیدگاہ میں مباہلہ کے لئے تشریف لائیں، والسلام
خاکسار غلام احمد قادیانی عفی اللہ عنہ
۹ ذیقعدہ ۱۳۱۰ھ۔‘‘
(بحوالہ مجموعہ اشتہارات جلد اول ص:۴۲۷)
یہ اشتہار مرزا نے ۹؍ذیقعدہ کو لکھا، جیسا کہ نیچے تاریخ درج ہے، اور اس کی اشاعت کی تاریخ ہے ۱۰؍ذیقعدہ ۱۳۱۰ھ اب
یوں آپ کو مباہلہ کی تاریخ یاد کرنا آسان ہوجائے گا، اس لئے کہ شوال عربی مہینوں کے اعتبار سے دسواں مہینہ ہوتا
ہے، مگر یہ ذیقعدہ
353
اس سے ذرا آگے گیارہواں مہینہ ہے، ہاں تو اگر اشتہار کا مہینہ بھی دسواں ہوتا تو ہم کہتے دس، دس، دس،
بہرحال اب کہو دس، گیارہ، دس، بڑا آسان ہندسہ ہے، اِن شاء اللہ اب تو آپ کو یاد رہے گا کہ ۱۰؍ذیقعدہ ۱۳۱۰ہجری بروز
شنبہ (ہفتہ کے دن) گویا جمعہ کے بڑے پاک اور مبارک دن میں اس نے اشتہار لکھا ہے، مباہلہ کی جگہ عیدگاہ امرتسر، اور
مباہلہ میاں عبدالحق غزنوی اور بعض دیگر علماء کے ساتھ ہوا۔
رہی یہ بات کہ یہ مباہلہ کس بات پر ہوا؟ تو سنو! خود مرزے کی عبارت ہے، خود بھی پڑھو اور قادیانیوں کو بھی پڑھواؤ
کیونکہ ان کو بڑا مزہ آتا ہے، چنانچہ وہ خود کہتا ہے: اس عاجز سے اس بات پر مباہلہ کریں گے کہ وہ لوگ اس عاجز کو
کافر، دجال اور بے دین اور دشمن اللہ جل شانہ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا، سمجھتے ہیں۔ یعنی مسلمان علماء
مرزے کو کہتے ہیں کافر ہے، دجال ہے، بے دین ہے، اللہ اور اللہ کے رسول کا دشمن ہے۔ اور اس عاجز کی کتابوں کو مجموعۂ
کفریات خیال کرتے ہیں۔ گویا میری کتابوں میں میرا کفر بھرا پڑا ہے۔ کیوں بھائی! مرزے کے الفاظ کا ترجمہ ہے ناں؟ اور
اس طرف یہ عاجز نہ صرف اپنے تئیں مسلمان جانتا ہے، بلکہ اپنے وجود کو اللہ اور اللہ کے رسول کے دربار میں فدا کئے
بیٹھا ہے۔ گویا غلام احمد کا دعویٰ ہے کہ میںمسلمان ہوں، بلکہ اللہ اور رسول پر فدا ہوں، اور ان کے مقابل کا دعویٰ
ہے کہ وہ دجال ہے، کافر ہے، بے دین ہے، زندیق ہے، مرتد ہے، خبیث ہے، اللہ اور رسول کا دشمن ہے، اور اس کی کتابیں
مجموعۂ کفریات ہیں، اب آگے خود کہتا ہے کہ: مسلمان بھائیو! کل کو ضرور آنا۔
مباہلہ کا دوسرا فریق:
مباہلہ کے سلسلہ میں ایک فریق کی گواہی تو آگئی لیکن دوسرے کی نہیں آئی، سوال یہ ہے کہ دوسرا کون ہے؟ لو جی! اللہ
کی شان کہ مرزے نے اپنی کتاب مجموعۂ اشتہارات میں مولانا کا اشتہار بھی ساتھ ہی دیا ہوا ہے، یہ اشتہار شروع ہوتا ہے
ص:۴۲۰ سے اور ختم ہوتا ہے ص:۵۲۴ پر۔ چنانچہ مولانا عبدالحق غزنویؒ کے اشتہار کا عنوان ہے:
354
’’استدعا مباہلہ از مرزا قادیانی بذریعہ اشتہار‘‘ مرزے کا اللہ بھلا کرے اور اس کو جہنم میں جزائے ڈھیر دے
کہ اس نے مولانا عبدالحق غزنویؒ کا اشتہار دے دیا، اب آگے مولانا کے اشتہار کے ضروری حصے ملاحظہ ہوں، مولانا
عبدالحق غزنویؒ لکھتے ہیں:
’’ایک اشتہار مطبوعہ ۲۵؍اپریل۱۸۹۳ء از جانب مرزا بتاریخ ۱۹؍شوال ۱۳۱۰ھ میری نظر سے گزرا، جس میں اس مباہلہ کا ذکر
تھا جو بتاریخ ۲؍شوال ۱۳۱۰ھ میرے اور حافظ محمد یوسف کے درمیان مرزا اور اس کے چیلوں کے ارتداد کی بابت ہوا تھا، نیز
اس میں استدعا مباہلہ علمائے اسلام سے تھی ...... اب بذریعہ اشتہار ہذا بدستخط خود مطلع کرتا ہوں اور سب جہان کو
گواہ کرتا ہوں کہ اگر تمہارے ساتھ مباہلہ کرنے سے مجھ پر کچھ لعنت کا اثر صریح طور پر جو عموماً سمجھا جاوے کہ بے شک
یہ مباہلہ کا اثر ہوا ہے تو میں فوراً تمہارے کافر کہنے سے تائب ہوجاؤں گا، اب حسبِ اشتہار خود مباہلہ کے واسطے
بمقام امرتسر آؤ، مباہلہ اس بات پر ہوگا کہ:
’’تم اور تمہارے سب اتباع کذّابین، ملاحدہ اور زنادقہ باطنیہ ہیں۔‘‘
اور میدانِ مباہلہ عیدگاہ ہوگا تاریخ جو تم مقرر کرو، اب بھی تم بموجب اشتہار خود میرے ساتھ مباہلہ کے واسطے بمقام
امرتسر نہ آئے تو پھر اور علماؤں سے درخواستِ مباہلہ، اوّل درجہ کی بے شرمی اور پرلے سرے کی بے حیائی ہے ......
المشتہر عبدالحق غزنوی از امرتسر پنجاب ۲۶؍شوال ۱۳۱۰ھ۔‘‘
(مجموعۂ اشتہارات ج:۱ ص:۴۲۰ سے ۴۲۵)
یعنی مولانا عبدالحق غزنویؒ فرماتے ہیں کہ اگر مباہلہ کے بعد خدانخواستہ میں جھوٹا نکلا اور مجھ پر مباہلے کی لعنت
کا اثر ہوگیا کہ خود میں اور عام لوگ سمجھنے لگیں کہ میں نے مرزا
355
سے جو مباہلہ کیا تھا یہ اس کا اثر ہے تو میں تیرے کافر کہنے سے تائب ہوجاؤں گا، یہ نہیں لکھا کہ ...نعوذ
باللہ... میں مرزائی ہوجاؤں گا۔
دیکھئے! مولانا نے کس قدر جرأت اور ہمت کا مظاہرہ کیا اور اپنے آپ کو کس آزمائش میں ڈالا اور کس زور سے مرزا، اس
کی ذرّیت و اتباع یعنی ماننے والوں کے کفر کا اعلان کیا اور ان کے الفاظ سے کس قدر نفرت برس رہی ہے، چنانچہ خود مرزا
نے بھی مولانا کے الفاظ کو یوں نقل کیا ہے:
’’ان کے خیال میں یہ عاجز کافر و دجال، بے دین اور اللہ جل شانہ کا دشمن ہے۔‘‘
کیوں بھائی؟ اب آپ کو دونوں طرف سے گواہی مل گئی کہ مباہلہ اس بات پر تھا کہ مرزا مسلمان ہے یا دجال، کذاب اور بے
ایمان؟ دونوں فریق اس پر متفق ہیں کہ صرف اس نکتہ پر مباہلہ تھا، اب اگر بالفرض مباہلہ مرزا غلام احمد کے حق میں
ثابت ہوجاتا تو زیادہ سے زیادہ اس سے اتنا ہی ثابت ہوتا کہ مرزا دجال و کذاب اور کافر نہیں بلکہ مسلمان ہے، اس سے یہ
تو ثابت نہ ہوتا کہ مرزا خدانخواستہ مسیحِ موعود ہے۔ میری بات کو سمجھ لو، گویا مباہلہ اس پر تھا کہ وہ اللہ کا
بدترین دشمن، خنزیروں سے بھی بدتر ہے، تو گویا دونوں فریق اس بات پر متفق ہیں کہ مرزا اور مرزے کے ماننے والے دجال و
کذاب ہیں، اب جبکہ ۱۰؍ذیقعدہ ۱۳۱۰ھ کو عیدگاہ امرتسر کے میدان میں مولانا عبدالحق غزنویؒ کا خود مرزا غلام احمد
قادیانی سے رو در رو مباہلہ ہوا اور دونوں فریقوں نے مل کر دعا کی کہ یا اللہ! سچے اور جھوٹے کے درمیان فیصلہ فرما،
اور مرزا نے خود یہ اصول بیان کیا کہ مباہلہ کے بعد خدائی فیصلہ کی شکل یہ ہے کہ ’’مباہلہ کرنے والوں میں جو فریق
جھوٹا ہو، سچے کی زندگی میں مرجاتا ہے۔‘‘
(ملفوظات ج:۹ ص:۴۴۰، ۴۴۱)
مباہلہ کا خدائی فیصلہ!
چنانچہ مرزا غلام احمد قادیانی اپنے بیان کردہ اُصول کے مطابق ۲۶؍مئی ۱۹۰۸ء کو
356
مولانا عبدالحق غزنویؒ کی زندگی میں ہلاک ہوگیا، اور مولانا عبدالحق غزنویؒ مرزا کے بعد ۱۶؍مئی ۱۹۱۷ء یعنی ۹
سال تک زندہ سلامت رہے، جس سے واضح طور پر معلوم ہوگیا کہ اللہ تعالیٰ کی عدالت نے فیصلہ دے دیا کہ مرزا غلام احمد
قادیانی جھوٹا تھا اور واقعی دجال و کذاب و مرتد تھا۔
اگر تم نے میری اس بات کو سمجھ لیا ہے تو اب میں تمہیں کہتا ہوں کہ کسی بھی قادیانی کے سامنے یہ تفصیلات رکھو اور
اس سے کہو کہ اگر یہ سب کچھ جھوٹ ہے تو اس کی تردید کردکھاؤ۔
اس کے ساتھ ہی میں مرزا طاہر سے لے کر قادیانیوں کے ایک ایک مولوی اور مربی تک بلکہ ان کے ایک ایک مرزائی تک کو
دعوت دیتا ہوں اور چیلنج کرتا ہوں کہ جو کچھ میں نے کہا ہے اس کو جھوٹ ثابت کردو! آج میں یہ بھی اعلان کرتا ہوں کہ
اگر تم اس کو جھوٹ ثابت کردوگے تو حضرت مولانا عبدالحق غزنوی رحمۃ اللہ علیہ کے بقول میں تمہیں کافر کہنے سے تائب
ہوجاؤں گا، ٹھیک ہے ناں! قادیانیوں سے کہو کہ اس کو جھوٹا ثابت کردو!
تمام مرزائیوں کو چیلنج!
مرزا غلام احمد قادیانی اور مولانا عبدالحق غزنویؒ کے درمیان ۱۳۱۰ھ کو مباہلہ ہوا تھا، اور آج ۱۴۱۶ھ ہے، اس مباہلہ
کو پورے ایک سو چھ سال ہوگئے کیوں ٹھیک ہے ناں بھائی؟ گویا ایک سو چھ سال سے اللہ تعالیٰ نے تمہارے کفر پر مہر لگائی
ہوئی ہے، آج میں چیلنج کرتا ہوں کہ تم اس مہر کو توڑ کر دکھادو، ہم تمہیں کافر کہنا چھوڑ دیں گے، بات ختم ہوگئی،
میں نے راستہ شارٹ کٹ کردیا ٹھیک ہے ناں!
اسی طرح میں اپنے مسلمان بھائیوں سے کہوں گا کہ اس وقت قادیانی کتابوں کے سارے صفحات اور جتنے حوالے ہیں فی الحال
ان سب کو کچھ دیر کے لئے لپیٹ کر رکھ دو، اور تمہارا ایک ایک آدمی، ایک ایک قادیانی اور مرزائی کو چیلنج دے اور یہ
کہے: قادیانیو! اس مولوی محمد یوسف لدھیانوی نے جو یہ اشتہار دیا ہے، اس کو غلط ثابت کردو، تو مولوی کہتا ہے
357
کہ میں تمہیں کافر کہنے سے تائب ہوجاؤں گا۔
قادیانیوں کے خط کا قلم توڑ جواب:
یہ دیکھو قادیانیوں نے میرے نام بھی خط لکھا ہے، اور بحمداللہ میں نے قادیانیوں کے خط کا جواب لکھا ہے، اور اللہ کے
فضل سے قلم توڑ جواب لکھا ہے، اور میں نے ان کو مباہلہ کا چیلنج دیا ہے اور میں نے اس میں بھی چیلنج کیا ہے کہ اِن
شاء اللہ آپ اس فقیر کے دعویٰ کو چیلنج نہیں کریں گے، آپ کو اتنی جرأت ہی نہیں ہوگی کہ آپ مجھے جواب دیں۔
مرزا طاہر کو مباہلہ کا چیلنج!
میں مرزا طاہر کو کہتا ہوں کہ آپ کے سیکریٹری رشید چوہدری کا الزام مجھ پر یہ ہے کہ میں مباہلہ سے راہِ فرار
اختیار کرتا ہوں، میں کہتا ہوں رشید چوہدری کا الزام ’’کھسیانی بلّی کھمبا نوچے‘‘ سے زیادہ حیثیت نہیں رکھتا، کیونکہ
جس شخص کی نظر سے میرے وہ الفاظ گزرے ہوں گے جو میں نے اپنے رسالہ میں جلی قلم سے لکھوائے تھے، وہ قادیانیوں کی
’’راست بازی‘‘ کو داد دئیے بغیر نہیں رہے گا، یہ دیکھو، میں نے وہاں بھی موٹے قلم سے لکھوایا تھا، اور یہاں اب پھر
دوبارہ دُہراتا ہوں کہ:
’’آئیے! اس فقیر کے مقابلے میں میدانِ مباہلہ میں قدم رکھئے! اور پھر میرے مولائے کریم کی غیرت و جلال، اور قہری
تجلّی کا کھلی آنکھوں تماشا دیکھئے! آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے نصارائے نجران کے بارے میں فرمایا تھا: اگر وہ
مباہلہ کے لئے نکل آتے تو ان کے درختوں پر ایک پرندہ بھی زندہ نہ بچتا۔ آئیے! آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ایک
ادنیٰ اُمتی کے مقابلے میں میدانِ مباہلہ میں نکل کر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی ختمِ نبوّت کا اعجاز ایک بار پھر
دیکھئے...!‘‘
358
مرزا طاہر کے مباہلہ سے فرار کی پیش گوئی:
اس کے بعد میں نے آپ کے فرار کی پیش گوئی کرتے ہوئے لکھا تھا:
’’اس ناکارہ کا خیال ہے کہ آپ آگ کے سمندر میں کودنا کسی حال میں قبول نہیں کریں گے (اس سمندر میں جانا کسی حال
میں قبول نہیں کریں گے) اپنے باپ دادا کی طرح ذلت کی موت مرنا تو پسند کریں گے (میں نے کہا: ان سب کو مباہلہ کا
چیلنج دے دیتا ہوں لیکن کسی نے قبول نہیں کیا) لیکن آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے اس نالائق اُمتی کے مقابلے میں
میدانِ مباہلہ میں اُترنے کی جرأت نہیں کریں گے۔ میں آپ کا شکرگزار ہوں کہ آپ نے میری پیش گوئی کو خود اپنے ہاتھ
سے پورا کردکھایا، اگر آپ میں ذرا بھی غیرت ہوتی تو کم سے کم میری پیش گوئی کو جھوٹا ثابت کرنے کے لئے مباہلہ کے
میدان میں کود جاتے، لیکن مسیحِ کذّاب کی ذرّیت میں شمہ صداقت یا ذرّۂ غیرت کہاں؟ اس کی توقع ہی عبث ہے، اللہ
تعالیٰ کا لاکھ لاکھ شکر ہے کہ میرے مباہلے کی للکار سے مسیحِ کذّاب کی ذرّیت پر ایسا لرزہ طاری ہوا کہ میری پیش
گوئی کو غلط ثابت کرنے کے لئے بھی ان کی غیرت کو جنبش نہ ہوئی، یہ اس ناکارہ اور نالائق اُمتی کا کمال نہیں بلکہ
میرے نبیٔ صادق و مصدوق آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم (میرے ماں باپ آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر قربان!) کی صداقت کا
اعجاز ہے۔‘‘
آگے چل کر میں نے مرزا طاہر کو لکھا اور پھر اس کو دُہرایا کہ
’’چونکہ آپ پاکستان سے مفرور ہیں اور بہت ممکن ہے کہ آپ کو پاکستان آنے سے کوئی جلی یا خفی عذر مانع ہو، (کیونکہ
وہ
359
یہاں پکڑ اور دَھر لیا جائے گا) لہٰذا میں پاکستان آنے کی آپ کو زحمت نہیں دوں گا، آپ لندن ہی میں مباہلہ
کی جگہ اور تاریخ کا اعلان کردیجئے، یہ فقیر اپنے رُفقا سمیت وہاں حاضر ہوجائے گا، اگر ’’قصرِ خلافت‘‘ سے باہر قدم
رکھنے میں خوف مانع ہے تو چلئے اپنے لندنی اسلام آباد کو میدانِ مباہلہ قرار دے کر تاریخ کا اعلان کردیجئے، یہ فقیر
آپ کے مستقر پر حاضر ہوجائے گا، اور جتنے رُفقا آپ فرمائیں گے لاکھ دو لاکھ، دس بیس لاکھ اپنے ساتھ لے آئے گا۔
حفظ امن کی ذمہ داری آپ کو اُٹھانی پڑے گی۔‘‘
میں آپ کے گھر آجاؤں گا، اگر آپ دس آدمی کہیں تو دس لے آؤں گا، دس لاکھ کہیں تو دس لاکھ لے آؤں گا، میں
جنگ لندن میں اعلان کردوں گا، اور میں بھی جنگ سے منسلک ہوں، اس لئے اعلان کردوں گا کہ میں فلاں تاریخ کو مرزا طاہر
کے ساتھ مباہلہ کر رہا ہوں، مجھے سارے انگلینڈ والے جانتے ہیں بلکہ ایک ایک بچہ جانتا ہے، کیونکہ میں وہاں گھر، گھر
پھرا ہوں، اور ہر سال جاتا ہوں، بس یہ ایک اعلان کرادوں گا کہ:
محمد یوسف لدھیانوی نائب امیر عالمی مجلس تحفظ ختمِ نبوّت اعلان کرتا ہے کہ فلاں تاریخ کی صبح یا شام مرزا طاہر سے
مباہلہ کے لئے اس کے مکان پر جائے گا، اُمید ہے مرزا طاہر کی کوٹھی پر دس لاکھ آدمی جمع ہوجائے گا، اللہ کے فضل سے
اس سے کم نہیں ہوں گے، زیادہ ہی ہوں گے، کیونکہ مسلمان وہاں لندن میں پچاس لاکھ ہیں، دس لاکھ تو اِن شاء اللہ یہاں
سے ہی لے جاؤں گا۔ کیونکہ ابھی مسلمان اتنا غیرت مند ہیں لیکن جھوٹوں میں صداقت کہاں؟ ہاں جھوٹوں میں صداقت آبھی
نہیں سکتی۔
قادیانی ایک طرف تو ہمارے بارے میں کہتے ہیں کہ ہمیں چیلنج کرتے ہیں اور اپنی اکثریت کا گھمنڈ دکھاتے ہیں، لیکن
دوسری طرف جب یہ بات کرتے ہیں کہ دیکھو ہم اتنی اتنی تبلیغ کر رہے ہیں، گویا وہ یہ بتانا چاہتے ہیں کہ تم کچھ بھی
نہیں کرسکتے۔
یعنی اُلٹی بات کرتے ہیں، ہاں بھائی! بے شک ہم مالی اعتبار سے اور فنڈ کے لحاظ
360
سے کمزور ہیں، کیونکہ ان کا بجٹ اربوں میں چلتا ہے، جبکہ ختمِ نبوّت کا بجٹ لاکھوں میں ہے، لاکھ اور ارب کا
جو فرق ہے وہی ہمارے اور قادیانیوں کے بجٹ کا فرق ہے، اور پھر یہ بھی دیکھو کہ سو کروڑ کا ایک ارب ہوتا ہے، اور سو
لاکھ کا ایک کروڑ ہوتا ہے، ہمارے خرچ کا میزانیہ بیس سے تیس لاکھ کا ہے، چلو چالیس لاکھ ہی رکھ لو، خود ہی اندازہ
لگالو کہ ہمارا چالیس لاکھ ہے، اور ان کا چالیس ارب سے بھی زیادہ ہے، بلکہ ان کا اربوں سے گزر کر کھربوں تک پہنچ گیا
ہے، کیونکہ ان کی ڈشیں لگ رہی ہیں، انٹینے لگ رہے ہیں، اور قادیانی ٹی وی چینل چل رہے ہیں، ان تمام کا مجموعہ ملاؤ
اور جو کچھ اس پر خرچ ہو رہا ہے اس کا بھی مجموعہ ملاؤ تو ان کے بجٹ کا اندازہ ہوجائے گا۔
اپنے مشن کی تبلیغ تو شیطان کی طرح اتنی کر رہا ہے لیکن ایمان و ہدایت نام کی کوئی چیز نہیں، ان کی صداقت کا یہ حال
ہے کہ محمد یوسف لدھیانوی جیسے کمزور آدمی کی ایک للکار سے قادیانیوں پر لرزہ ہے بلکہ خود مرزا طاہر پر بھی لرزہ
طاری ہے۔
وہاں میں نے مرزا طاہر کو ایک اور لفظ بھی لکھا تھا وہ بھی تمہیں سنادوں، سنو! میں نے لکھا تھا کہ:
’’میں یہ تاریخ مقرر کرتا ہوں ۲۳؍مارچ ۱۹۸۹ء دن جمعرات وقت دو بجے بعد از نمازِ ظہر اور جگہ مینارِ پاکستان،
لاہور۔‘‘
’’میں نے اس کو بہترین تاریخ، جگہ اور وقت اس لئے کہا کہ ان کو یاد ہوگا کہ ان کے دادا مسیلمۂ پنجاب مرزا غلام
احمد قادیانی نے ۲۳؍مارچ ۱۸۸۹ء کو لدھیانہ میں اپنی دجالی بیعت کا سلسلہ شروع کیا تھا، لہٰذا ۲۳؍مارچ ۱۹۸۹ء آپ کے
مسیحِ دجال کی صدسالہ تقریب بھی ہے، پھر چونکہ اس نے لدھیانہ ہی سے سلسلۂ بیعت کا آغاز کیا تھا اس لئے میدانِ
مباہلہ میں بھی آپ کا مقابلہ لدھیانوی سے ہوگا۔
ظہر کے بعد کا وقت میں نے اس لئے تجویز کیا کہ حدیثِ
361
نبوی کے مطابق اس وقت فتح و نصرت کی ہوائیں چلتی ہیں۔
اور جگہ کے لئے مینارِ پاکستان کا تعین اس لئے کیا کہ پاکستان میں اجتماع کے لئے اس سے بہتر جگہ شاید کوئی اور نہ
ہوگی۔
علاوہ ازیں ۲۳؍مارچ کی تاریخ یومِ پاکستان بھی ہے، یومِ پاکستان کو مینارِ پاکستان پر اجتماع نہایت مناسب ہے، تاہم
مجھے اس تاریخ، وقت اور جگہ پر اصرار نہیں، اور جو تاریخ جو وقت اور پاکستان میں جو مناسب مقامِ مباہلہ تجویز کریں
گے، مجھے اطلاع دے دیں۔‘‘
اس کے آگے میں نے مرزا طاہر کو لکھا کہ:
’’یہ فقیر اُمتِ محمدیہ علیٰ صاحبہا الصلوٰۃ والسلام کا ادنیٰ ترین خادم ہے، اور آپ چشمِ بددور امامِ جماعتِ
احمدیہ ہیں، اس فقیر کو اپنے ضعف و قصور کا اعتراف اور آپ کو اپنی امامت و ذہانت اور تقدس پر ناز، لیکن الحمدللہ!
ثم الحمدللہ! یہ فقیر، آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے غلاموں کا ادنیٰ غلام اور آپ جھوٹے مسیح کے جانشین، یہ فقیر
سیّدِ عالم صلی اللہ علیہ وسلم کے دامنِ رحمۃ للعالمین سے وابستہ ہے، اور آپ دورِ حاضر کے مسیلمہ کے دم چھلہ ہیں،
یہ فقیر اپنی نالائقی کا اعترافِ تقصیر لے کر میدانِ مباہلہ میں قدم رکھے گا، آپ اپنی امامت و زعامت اور تقدس پر
ناز کرتے ہوئے آئیے، میں حضرت خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم کی ختمِ نبوّت کا علَم اُٹھائے ہوئے آؤں گا، آپ
مرزا غلام احمد قادیانی کی جھوٹی مسیحیت اور نبوّت کا سیاہ جھنڈا لے کر آئیے، اور آئیے! اس فقیر کے مقابلے میں
میدانِ مباہلہ میں قدم رکھئے۔‘‘
آگے پھر وہی عبارت ہے جو میں پہلے سنا چکا ہوں۔
362
پھر آخر میں میں نے لکھا: ’’نہیں! آپ نہیں آئیں گے! آپ آئیں گے ہی نہیں، پیش گوئی کرتا ہوں۔‘‘ چنانچہ میرے اصل
الفاظ بھی ملاحظہ ہوں:
’’اس ناکارہ کا خیال ہے کہ آپ آگ کے اس سمندر میں کودنا کسی حال میں قبول نہیں کریں گے، اپنے باپ دادا کی طرح ذلت
کی موت مرنا پسند کریں گے، لیکن آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے اس نالائق اُمتی کے مقابلہ میں میدانِ مباہلہ میں
اترنے کی جرأت نہیں کریں گے۔‘‘
اور آگے پھر میں نے وہ دوسرے رسالے میں لکھا تھا کہ اب تو میں نے اس کا اصرار بھی چھوڑ دیا۔
آپ گھر بیٹھے رہیں، تاریخ مقرر کرکے بتلادو، صرف اتنا ہاتھ اُٹھاکے دعا کرنے میں آپ کو کیا تکلیف ہوتی ہے؟ کیوں
بھائی! کہیں آنا جانا نہیں، تم اُسے کہہ دو کہ اتنی تو ہمیں شرف باریابی بخشو! کہ ہم آپ کے ’’درِدولت‘‘ پر حاضری
دیں اور آپ کے ’’دربار‘‘ میں حاضر ہوکر ہاتھ اُٹھالیں، تم بھی ہاتھ اُٹھالینا اور ہم دونوں کہہ دیں کہ یا اللہ! ان
دونوں کے درمیان فیصلہ کردے۔ اُدھر وہ بیٹھا ہو اور اِدھر میں کھڑا ہوں، تم ہمیں کرسی بھی نہ دینا، تم اپنی کرسی پر
بیٹھے رہنا اور ہم سائلوں کی طرح کھڑے ہوکر اللہ سے سوال کریں گے۔
لیکن جھوٹے مسیح کی ذرّیت کہاں آسکتی ہے؟ جس کو خدا تعالیٰ ۱۳۱۰ھ میں مباہلہ میں ذلیل کرچکا ہے، اس کو پتہ ہے، اس
کو اب بھی ذلت و رسوائی ہی ہوگی۔
مرزا طاہر کو اپنے جھوٹا ہونے میں ذرّہ برابر شک نہیں:
میں نے مرزا طاہر سے یہ بھی کہا تھا اور اپنے رسالہ میں بھی لکھا بلکہ وہاں لندن میں اعلان بھی کیا تھا کہ: مرزا
طاہر! کسی اور کو تو تیرے بارے میں شک ہوسکتا ہے، لیکن واللہ العظیم! میں قسم کھاکے کہتا ہوں کہ تجھے اپنے جھوٹے ہونے
میں ذرّہ بھر شک نہیں، کیونکہ چوری کرنے والے چور کو جبکہ وہ چوری کر رہا ہو اپنے چور ہونے میں شک نہیں ہوتا،
363
یعنی اگر ایک آدمی چوری کرتے ہوئے پکڑا گیا ہو تو میرے تیرے جیسے آدمی اس میں شک کرسکتے ہیں کہ یہ بے چارہ
معصوم و بے گناہ ہے، اس کو چھوڑ دو، لیکن جس نے چوری کی ہو، اس کو تو پتہ ہوتا ہے ناں کہ میں چور ہوں! مرزا طاہر کو
اپنی چوری کا یقین ہے، بلکہ علم الیقین ہے، مرزا طاہر کو اپنے باپ، دادا اور خود اپنے جھوٹے ہونے کا علم الیقین ہے۔
میں نے وہاں بھی مرزا طاہر کو یہ چیلنج کیا تھا کہ اگر تمہیں میری بات میں شک ہے، تو میرا فقرہ اپنے اخباروں میں
چھاپ کر اس پر لکھ دو:’’لعنۃ اللہ علی الکاذبین‘‘ ۔
مرزائیوں سے نفرت ہونی چاہئے!
مرزا غلام احمد قادیانی کے الحاد و زندقہ، کذب و اِفترا اور پورے دینِ اسلام کی عمارت کو ڈھادینے کے مکروہ عزائم کے
معلوم ہوجانے کے بعد ہم آپ سے یہ توقع رکھتے ہیں کہ آپ کے دل میں مرزا غلام احمد قادیانی کے مذہب کی طرف سے نفرت
کا شعلہ بھڑک رہا ہے، اور اس سے ایسی نفرت ہونی چاہئے جیسے کہ چوڑہوں سے ہوتی ہے، یعنی جو گندگی اور پاخانہ اُٹھاتے
اور کماتے ہیں، اسی طرح جب آپ قادیانیوں کو دیکھیں تو ان سے بھی ایسی ہی نفرت ہو، ان سے اتنی نفرت ہو، اس سے کم
نہیں ہونی چاہئے، بلکہ یوں سمجھ لو، اللہ معاف کرے، یا اللہ میری توبہ! استغفراللہ! جیسے اگر کسی آدمی کے ہاتھ میں
خدانخواستہ کوڑھ ہوجاتا ہے، کوڑھ کیا ہوتا ہے؟ وہ یہ کہ ہاتھ کی ساری کی ساری انگلیاں زخمی رہتی ہیں، اور ان سے مواد
ٹپکتا رہتا ہے، میرا بھائی! کیا ان کو اپنے ساتھ روٹی کھلانے کے لئے ملالو گے؟ بلکہ کراہت طبعی آئے گی، یہ بات
دوسری ہے کہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے تو اس کو بھی اپنے ساتھ ملالیا تھا، لیکن ایک کمزور مسلمان تو اس کی
طرف دیکھ بھی نہیں سکتا، تو جتنی طبعی نفرت آپ کو اس سے ہوسکتی ہے، قادیانی مذہب و عقائد سے اس سے بھی زیادہ نفرت
ہونی چاہئے۔
نفرت کے ساتھ حسرت بھی!
لیکن ایک بات اور بھی قابلِ توجہ ہے کہ اگر خدانخواستہ اپنا کوئی بھائی، بیٹا،
364
باپ یا عزیز اس بیماری میں مبتلا ہوجائے تو جیسے اس سے نفرت کے ساتھ ساتھ حسرت بھی ہوتی ہے، ٹھیک اسی طرح
قادیانیوں سے نفرت بھی ہو اور ان پر حسرت بھی، یعنی بنامِ محبت افسوس کیا کریں۔ اور تمہیں مرزائیوں کے ایک ایک فرد
سے اتنی محبت ہونی چاہئے کہ گویا میرے بھائی کو جذام ہوگیا ہے، نعوذ باللہ! اور تم اس کا علاج کرانے کی کوشش کرو،
تمہارے دل میں ہر قادیانی سے اس کے مذہب کی وجہ سے ایسی نفرت ہو جیسے کوڑھ کے مریض سے اس کے مرض کی وجہ سے نفرت ہوتی
ہے، اور اس پر حسرت بھی ہو کہ یہ بے چارہ دوزخ میں جائے گا، انا ﷲ وانا الیہ راجعون! اس لئے اس کے مرض کا علاج کرنے
اور اس کو قادیانیت سے نکال کر اسلام کی طرف لانے کی کوشش کرو۔
قادیانی دجل کا کرشمہ:
دیکھا قادیانی دجل! کہ ایک انسان جو ہمارے جیسا مسلمان تھا، حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا نام لیتا تھا، اور اب بھی
لیتا ہے، بلکہ اپنے آپ کو حضورؐ کا اُمتی کہتا ہے، لیکن اس ملعون نے اس کی ایسی راہ ماری کہ اس سب کے باوجود وہ
دامنِ نبوّت سے کٹ گیا اور دوزخ میں جائے گا، کیونکہ قادیانی عقائد اپنانے کی وجہ سے اب وہ کافر ہے۔ کیوں بھائی؟ اب
تو مرزا غلام احمد کے دشمنِ خدا و رسول ہونے میں کوئی شک نہیں رہا ناں!
یہ جذبہ لے کر جاؤ!
تو بھائی! ایک تو یہاں سے یہ جذبہ لے کر جاؤ، اور ہر آدمی کے دل میں یہ جذبہ ہو کہ زیادہ سے زیادہ اور جس ترکیب
سے بھی آپ اس کو سمجھا سکیں سمجھائیں، اور اس کے دل میں قادیانیت کا جو کوڑھ ہے اس کے علاج کی اپنی طرف سے بھرپور
کوشش کریں۔
عالمی مجلس تحفظ ختمِ نبوّت سے رابطہ رکھیں:
دوسرے یہ کہ میں آپ کا خادم ہوں محمد یوسف لدھیانوی میرا نام ہے، اور ختمِ نبوّت کراچی میں میرا دفتر ہے، میں وہاں
بیٹھتا ہوں، کراچی کے مرکز اور وسط پرانی نمائش میں ہمارا دفتر ہے، ملتان میں بھی ہمارا مرکزی دفتر ہے، اسی طرح ملک
بھر کے بڑے بڑے
365
شہروں میں ہمارے دفاتر ہیں، لہٰذا آپ جب، جہاں اور جس دفتر سے بھی رابطہ کرنا چاہیں کرسکتے ہیں، آپ جب
چاہیں مجھ سے رابطہ قائم کریں، استفادہ کریں خط کے ذریعہ سے کرلیں یا کوئی بات کرنی ہو تو آپ ہمارے پاس تشریف لے
آئیں، اس کا مشورہ کرلیں، ہمارے کارکنان اور دوستوں سے مشورہ کرلیں، مگر رابطہ نہ چھوڑیں، رابطہ نہ چھوڑیں، کوشش
کریں کہ آپ کے زیادہ سے زیادہ آدمیوں کا رابطہ دفتر سے ہو، آج اگر آپ تقریباً ایک سو آدمی ہیں تو آئندہ کم از
کم پانچ سو آدمی آئیں۔
میں رمضان المبارک میں اعتکاف میں بیٹھتا ہوں، تو پہلے سال پچاس آدمی بیٹھے تھے، دوسرے سال اسّی، تیسرے سال ڈیڑھ
سو، اور چوتھے سال پانچ سو آدمی بیٹھا، پوری مسجد ہی بھری ہوئی تھی اللہ کے فضل سے، پچھلے سال میں نے پھر ویسے ہی
چکر دے دیا، حرمین شریفین میں رہا، آیا ہی نہیں، ناغہ پڑگیا، اس دفعہ اِن شاء اللہ بیٹھنا ہے، تو میرا مطلب یہ ہے
کہ گھٹنے نہیں چاہئیں بلکہ افراد بڑھنے چاہئیں۔
کمی کوتاہی پر معذرت!
میرے بھائیو! ممکن ہے آپ حضرات کو یہاں رہنے میں کچھ تکلیف بھی ہوئی ہوگی، کھانے میں، پینے میں اور رہنے وغیرہ
میں، میں آپ تمام حضرات سے بحیثیتِ جماعت کے ذمہ دار کے اس پر معذرت چاہتا ہوں، جو ہم سے آپ حضرات کی خدمت اور
اکرام میں کوتاہی ہوئی، ایک بار پھر اس کی معذرت چاہتا ہوں۔
اپنے گھروں پر ختمِ نبوّت کا جھنڈا گاڑو!
آپ حضرات کو اللہ سبحانہ و تعالیٰ توفیق عطا فرمائے کہ ختمِ نبوّت کا جھنڈا ساتھ لے کر جائیں، اور اپنے اپنے گھروں
میں گاڑ دیں، اپنے اپنے محلوں میں گاڑ دیں، اور مبلغ بن جائیں، مہینے میں ایک، دو، تین، چار، پانچ، چھ، سات سے یا
روزانہ ایک دو آدمیوں سے ملیں، اس پر کوئی پابندی نہیں، اس میں تمہاری خواہش ہے جو طے کرلیں، البتہ یہ طے کرلیں کہ
مہینے میں ایک قادیانی سے مجھے ضرور ملنا ہے، اور بہت ہی مطالعہ کے ساتھ، اس
366
کے لئے ان کو اپنے گھر میں بلاؤ، ان کی دعوت کرو، ان کو چائے پلاؤ، ان کے ساتھ رابطہ قائم کرو اور دیکھو
مقصد کے لئے تو کتے کو بھی روٹی کھلانا جائز ہے، ٹھیک ہے ناں! اسی طرح اگر وہ تمہیں دعوت دیں تو تم مجھے ساتھ لے کر
جایا کرو، یا کسی اور مبلغ کو ساتھ لے جاؤ، جب کوئی قادیانی تم کو دعوت دے تو اُسے کہو ٹھیک ہے، اچھا کام ہے، مگر
میں کچھ اپنے دوستوں کو ساتھ لے آؤں گا، چنانچہ مجھے یا مبلغینِ ختمِ نبوّت میں سے کسی کو ساتھ لے کر جاؤ، اور
پھر تم خدا کی قدرت کا تماشا دیکھو۔
وآخر دعوانا ان الحمدﷲ رب العالمین
367
سچے نبی کی سچی پیش گوئی
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ
اَلْحَمْدُ للہِ وَسَلَامٌ عَلٰی عِبَادِہِ الَّذِیْنَ اصْطَفٰی!
میں نے آپ حضرات کی خدمت میں دو چار باتیں عرض کرنی ہیں، ویسے اس وقت میرا کوئی خاص موضوع نہیں ہے، البتہ چونکہ
عام طور پر جو حضرات اس جلسہ میں آئے ہوئے ہیں، جس طرح ان کا موضوع ’’ردّ قادیانیت‘‘ ہے، اسی طرح میرا بھی یہی
موضوع سمجھ لیں، لیکن پہلے میں قادیانیت سے ہٹ کر تمہیں اپنے نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم کی چند باتیں سناتا ہوں، اس
کے بعد تم خود ہی اندازہ کرلو گے کہ سچا کون ہے اور جھوٹا کون ہے؟ حق پر کون ہے اور باطل پر کون ہے؟
ذکرِ حسین:
میرے وہ تمام بھائی جو مرزا غلام احمد قادیانی کو مانتے ہیں، میں ان کو کوئی گالی نہیں نکالتا، دوسری کسی قسم کی
فحش کلامی بھی نہیں کرتا، صرف اتنی گزارش کرتا ہوں کہ حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کا ذکرِ حسین سنیں اور
مرزا غلام احمد قادیانی کا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ مقابلہ کرکے کھرے اور کھوٹے کو پَرکھیں اور جھوٹ اور سچ
میں امتیاز کریں۔
میری اور تمام حاضرین کی دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ تمہارے لئے ہدایت کے دروازے کھول دے، آمین!
قادیانیوں کو مہلت!
قادیانیو! تمہیں اللہ تعالیٰ نے بہت مہلت دی ہے، تمہیں مہلت ملے ہوئے پورے سو سال ہوگئے ہیں، تمہارا خیال تھا کہ
پوری دنیا میں تمہاری حکومت ہوگی اور
368
مسلمانوں کی حیثیت چوڑھے چماروں کی سی ہوگی، یہ میں غلط نہیں کہہ رہا، بلکہ یہ مرزا محمود کے الفاظ ہیں۔ تم
نے سو سال میں دیکھ لیا کہ اللہ تعالیٰ نے تمہارے ساتھ کیا معاملہ فرمایا ہے؟ اب آگے آخرت اور قبر کا مرحلہ پیش
آنے والا ہے، وہ بھی تم دیکھ ہی لوگے! دنیا دارالجزا نہیں ہے، یہاں تو کافر بھی کھاتے ہیں اور مؤمن بھی، بلکہ اللہ
تعالیٰ کافروں کو زیادہ دیتے ہیں اور مؤمنوں کو کم دیتے ہیں، جیسا کہ قرآن کریم میں ارشاد ہے:
’’وَلَوْ لَا اَنْ یَّکُوْنَ النَّاسُ اُمَّۃً وَّاحِدَۃً لَّجَعَلْنَا لِمَنْ یَّکْفُرُ بِالرِّحْمٰنِ
لِبُیُوْتِھِمْ سُقُفًا مِّنْ فِضَّۃٍ وَّمَعَارِجَ عَلَیْھَا یَظْھَرُوْنَ۔ وَلِبُیُوْتِھِمْ اَبْوَابًا وَّسُرُرًا
عَلَیْھَا یَتَّکِءُوْنَ۔ وَزُخْرُفًا، وَّاِنْ کُلُّ ذَالِکَ لَمَّا مَتَاعُ الْحَیٰوۃِ الدُّنْیَا، وَالْاٰخِرَۃُ
عِنْدَ رَبِّکَ لِلْمُتَّقِیْنَ۔‘‘
(الزخرف:۳۳ تا ۳۵)
ترجمہ:... ’’اور اگر یہ بات نہ ہوتی کہ سب لوگ ہوجائیں ایک دین پر، تو ہم دیتے ان لوگوں کو جو منکر
ہیں رحمن سے، ان کے گھروں کے واسطے چھت چاندی کی اور سیڑھیاں جن پر چڑھیں اور ان کے گھروں کے واسطے دروازے اور تخت
جن پر تکیہ لگاکر بیٹھیں سونے کے، اور یہ سب کچھ نہیں ہے مگر برتنا دنیا کی زندگی کا اور آخرت تیرے رَبّ کے یہاں
انہی کے لئے ہے جو ڈرتے ہیں۔‘‘
(ترجمہ حضرت شیخ الہندؒ)
یعنی اگر یہ خطرہ نہ ہوتا کہ یہ سارے لوگ کافروں کی ایک ہی جماعت بن جائیں گے تو جو لوگ کہ اللہ تعالیٰ سے کفر کرتے
ہیں اور اللہ کے منکر ہیں، ہم ان کے مکانوں کی چھتیں سونے کی بنادیتے اور ان کی سیڑھیاں سونے کی ہوتیں، دیواریں سونے
کی ہوتیں، اور یہ ساری چیزیں چاندی کی ہوتیں اور ’’ذالک متاع الحیٰوۃ الدنیا‘‘ یہ تو بالکل معمولی برتنے کی چیزیں
ہیں۔
میں جو بات کہنا چاہتا ہوں وہ تو آگے آرہی ہے، لیکن درمیان میں ایک ضروری
369
بات کرنے لگا ہوں، وہ یہ کہ:
رُوئے زمین کی بادشاہت چار آدمیوں کے پاس:
میرے قادیانی بھائیو! ذرا غور کرو! ساری رُوئے زمین کی بادشاہت چار آدمیوں کو دی گئی ہے، دو مسلمانوں کو، اور دو
کافروں کو، فرض کرو کہ اگر پوری دنیا کی بادشاہت مجھے عطا کردی جائے تو میرا کیا حال ہوگا؟ یا بالفرض اگر تمہیں مل
جائے تو کیا کسی کو زندہ رہنے دوگے؟ پھر اگر وہ بادشاہت بھی آج کل کی بادشاہت کی سی نہ ہو۔
آج کل کے حکمران بادشاہ نہیں:
کیونکہ بیچارے آج کل کے بادشاہ اور حکمران تو ایسے بے بس اور مجبور ہیں کہ اپنی عوام کے چہروں کی طرف دیکھتے ہیں
کہ کہیں وہ ناراض نہ ہوجائے، اس لئے کبھی تو وہ کہتے ہیں کہ: ہم عورتوں کو کچھ نہیں کہیں گے، کبھی کہتے ہیں کہ: حدود
نافذ نہیں کریں گے، اور فلاں، فلاں کام نہیں کریں گے، گو ان کو ظاہری طور پر حکومت و اقتدار اور نام کی سرداری کا
اعزاز حاصل ہے، مگر ان کی حکومت ایسی نہیں جس کو بادشاہت کہا جائے، یعنی کامل اور مکمل حکومت اور عقیدت کے ساتھ
اقتدار کا اعزاز انہیں حاصل نہیں۔
حکومت تو امریکہ اور انگلینڈ والے بھی کرتے ہیں مگر...:
حکومت تو امریکا اور انگلینڈ والے بھی کرتے ہیں، اور حکومت حضرت عثمان غنی اور حضرت علی مرتضیٰ حیدرکرار رضی اللہ
عنہما نے بھی کی تھی، لیکن ان کے منہ سے جو لفظ نکل جاتا تھا یا وہ جو حکم بھی فرماتے تھے، لوگ اس کی تعمیل کو اپنے
لئے سعادت سمجھتے تھے، کیونکہ وہ اپنے منہ سے ایسی کوئی بات ہی نہیں نکالتے تھے جس میں کسی کا نفع نہ ہو، بلکہ وہ
ایسی بات کہتے تھے جس میں لوگوں کا دنیاوی اور اخروی نفع ہوتا تھا، ایسی حکومت صحیح معنی میں حکومت کہلاتی ہے، اسی
طرح حضرات انبیائے کرام علیہم الصلوٰۃ والسلام نے بھی حکومتیں کی ہیں، مثلاً: حضرت داؤد علیہ السلام نے حکومت کی،
حضرت سلیمان علیہ السلام نے حکومت کی، اور حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے غلاموں نے بھی حکومت کی، جن کو ’’خلفائے
راشدین‘‘
370
کہتے ہیں، ان کی حکومت میں کسی قسم کا کوئی جھول نظر نہیں آئے گا۔
قصاص کے سلسلہ میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا اُسوۂ حسنہ:
حکومت تو میرے آقا صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی کی ہے، مگر کیسی؟ اس کی ایک جھلک عرض کرنا چاہتا ہوں:
میرے آقا حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم ایک دن فرمانے لگے کہ: بھائیو! جس کا میرے ذمہ کوئی حق نکلتا ہے وہ
مجھ سے آج وصول کرلے، قیامت پر معاملہ نہ رکھے، ایک صحابی کھڑے ہوگئے اور کہنے لگے کہ: آپؐ نے مجھے ایک دن چھڑی
ماری تھی! فرمایا: حاضر ہوں، تم اس کے بدلہ میں مجھے چھڑی مار لو! عرض کیا: یا رسول اللہ! جب آپ نے میرے چھڑی ماری
تھی اس وقت میرے بدن پر کرتا نہیں تھا، بدن ننگا تھا، آپؐ نے تو لباس پہنا ہوا ہے۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا
کرتا اُتار دیا اور فرمایا: اب مارلو! وہ دوڑ کر آئے اور حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی پیٹھ مبارک کا بوسہ لینے
لگے اور کہنے لگے کہ: یا رسول اللہ! میں یہی چاہتا تھا۔
دُنیا مثال پیش کرنے سے قاصر ہے:
دنیا میں کوئی تاریخ ایسی تو بتائیے کہ حق مانگنے والا اپنا حق نہ مانگ رہا ہو، مگر حق دینے والا خود حق دے رہا ہو؟
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم دنیا سے اس حالت میں تشریف لے جاتے ہیں کہ کسی اللہ کے بندے کا کوئی حق آپ صلی اللہ
علیہ وسلم کے ذمہ نہیں ہے، اور یہی حال حضراتِ خلفائے راشدینؓ کا تھا، اللہ تعالیٰ ہمیں ان کے نقشِ قدم پر چلنے کی
توفیق عطا فرمائے، آمین!
وہ دنیا میں ہدایت پھیلانے کے لئے آئے تھے، شر پھیلانے کے لئے نہیں آئے تھے، اور میرے قادیانی بھائیو! میں تم سے
کہتا ہوں کہ تم محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو مان لو، غلام احمد کو چھوڑ دو، تمہارا بھلا ہوجائے گا، تمہاری
بھلائی کی خاطر کہہ رہا ہوں، اپنے نفع کے لئے نہیں، مجھے تو ثواب مل ہی جائے گا۔
371
اُلٹی منطق:
ایک بات اور کہتا ہوں اور یہ بھی تمہیدی بات ہے، وہ یہ ہے کہ ابھی ہمارے مولانا ضیاء الدین آزاد صاحب نے قصہ سنایا
کہ ختمِ نبوّت کے دو نوجوان رضاکاروں کو لاہور میں محض اس جرم میں گرفتار کرلیا گیا ہے کہ وہ چاکنگ کے ذریعہ ختمِ
نبوّت کانفرنس چناب نگر کا اشتہار لکھ رہے تھے، تم یہاں آگئے ہو اور وہ جیل میں چلے گئے ہیں، میرے بھائی! ان کا جرم
کیا تھا؟ یہی ناں کہ وہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی ختمِ نبوّت کے بیانات پر مشتمل ایک جلسہ کا اعلان کر رہے تھے؟
میں انتظامیہ سے پوچھتا ہوں کتنے بڑے بڑے پوسٹر سینماؤں کے لگے ہوئے ہیں، فاحشہ عورتوں کی تصویریں جگہ جگہ لگی ہوئی
ہیں، کیا قانون کے اعتبار سے یہ جائز ہے؟ اور ان نوجوانوں کا اشتہار لکھنا ناجائز ہے؟
شاہ جیؒ کا نعرۂ مستانہ:
تمہیں اس پر عالمی مجلس تحفظ ختمِ نبوّت کے امیرِ اول، امیرِ شریعت حضرت مولانا سیّد عطاء اللہ شاہ بخاری نور اللہ
مرقدہٗ کا ایک واقعہ سناتا ہوں ...سب کہو اللہ ان کی قبر کو منوّر کرے... اسی طرح میرے وہ تمام بھائی جو پوری دنیا
میں ختمِ نبوّت کا کام کرنے والے ہیں، اللہ تعالیٰ ان سب کی قبروں کو بھی منوّر کرے، اور ان پر اپنی رحمتوں کی
بارشیں برسائے، آمین!
ہوا یہ کہ جب منیر انکوائری کمیشن کے سامنے سیّد عطاء اللہ شاہ بخاریؒ اپنا بیان قلمبند کرارہے تھے تو انہوں نے
منیر انکوائری افسر کی عدالت میں فرمایا کہ: مرزا کافر ہے! اور ساتھ ہی یہ بھی کہا کہ: فلاں فلاں آدمی کو دعوائے
نبوّت کے جرم میں قتل کیا گیا، اس پر جسٹس منیر پوچھنے لگا کہ: اگر غلام قادیانی تمہارے سامنے یہ دعویٰ کرتا تو کیا
تم اسے قتل کردیتے؟ حضرت شاہ جیؒ نے جواباً فرمایا کہ: میرے سامنے اب کوئی دعویٰ کرکے دیکھ لے! جب شاہ جیؒ نے یہ کہا
تو پوری عدالت نعرۂ تکبیر سے گونج اُٹھی۔ جسٹس منیر کہنے لگا: ’’توہینِ عدالت!‘‘ یعنی اس سے عدالت کی توہین ہوتی
ہے، اس پر شاہ جیؒ فرمانے لگے: ’’توہینِ رسالت!‘‘ یعنی جس طرح تم عدالت کی توہین قبول نہیں کرسکتے، اسی طرح عطاء
372
اللہ شاہ بخاری رسالت کی توہین کو قبول نہیں کرسکتا۔ اس پر جسٹس چپ ہوگیا اور آگے جواب نہیں دے سکا۔
شاہ جیؒ پر مقدمہ:
کسی جلسہ میں شاہ جیؒ نے کہہ دیا تھا کہ: مرزا کافر ہے! حضرتؒ پر مقدمہ بن گیا، مولانا محمد شریف جالندھریؒ فرماتے
تھے کہ: جس عدالت میں مقدمہ تھا اس کا جج کوئی مرزائی تھا، جب تاریخ پر حضرت شاہ جیؒ جاتے تو وہ کوئی دوسری تاریخ دے
دیتا، حضرت شاہ صاحبؒ تاریخ بھگتنے کے لئے تشریف لے جاتے، میں ساتھ ہوتا، میں پیشی پر جاتے ہوئے ایک چھوٹی سی چٹائی
ساتھ لے جاتا، عدالت کے باہر سایہ کی جگہ میں وہ چٹائی بچھاکر ہم بیٹھ جاتے، جس طرف دھوپ آتی تھی اس طرف سے ہٹاکر
دوسری طرف ہوجاتے، سارا دن اسی طرح بیٹھے رہتے، عدالت کا وقت ختم ہوجاتا تو جج اگلے دن کی تاریخ دے دیتا اور ہم
آجاتے، اس طرح اس نے بہت پریشان کیا۔ لیکن آپ نے اس کا نتیجہ دیکھ لیا کہ شاہ جیؒ تو اللہ کے پاس چلے گئے، مگر ان
کے اخلاص کی برکت سے اسی عدالت نے ان کے بعد مرزا غلام احمد قادیانی کو کافر قرار دیا، صرف یہی نہیں کہ اسی عدالت نے
کہا بلکہ چھوٹی عدالتوں نے کہا، اعلیٰ عدالت سپریم کورٹ نے کہا اور پوری دنیا کے مسلمانوں نے کہا کہ غلام احمد کافر
ہے، میں ان نوجوان دوستوں کو، جن کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ختمِ نبوّت کے جلسہ کے اشتہار لکھنے کے جرم میں
گرفتار کیا گیا ہے، مبارک باد دیتا ہوں کہ ان کو حضرت امیرِ شریعتؒ کے ساتھ تھوڑی سی نسبت حاصل ہوگئی ہے۔
بس یہ تمہیدی باتیں میری ختم ہوگئیں، اب میں اصل بات شروع کرتا ہوں:
حضرت سعد بن معاذؓ کا واقعہ:
مکہ کا ایک کافر تھا، اس کا نام ابوصفوان (اُمیہ بن خلف)، اور مدینہ شریف کے ایک سردار تھے ان کا نام تھا حضرت سعد
بن معاذ رضی اللہ عنہ، آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم مکہ شریف سے ہجرت کرکے مدینہ طیبہ تشریف لے جاچکے تھے، حضرت سعد
بن معاذ رضی اللہ
373
عنہ، حضورِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اجازت لے کر مکہ مکرمہ عمرہ کرنے کے لئے تشریف لے گئے، ان کی جاہلیت
کے زمانے میں عادت تھی کہ وہ اپنے دوست ابوصفوان (اُمیہ بن خلف) کے پاس ٹھہرتے تھے۔
بخاری شریف کی دوسری جلد کے پہلے صفحہ پر یہ حدیث ہے جس کا ترجمہ حسبِ ذیل ہے:
’’حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حضرت سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ نے بیان فرمایا کہ: زمانۂ
جاہلیت میں میری اور اُمیہ بن خلف کی دوستی تھی، اُمیہ جب کبھی مدینہ منورہ سے گزرتا تو وہ میرے ہاں قیام کرتا تھا،
اسی طرح میں جب کبھی مکہ مکرمہ جاتا تو اُمیہ کے ہاں قیام کرتا۔ جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ منورہ ہجرت
فرماکر تشریف لے آئے تو ایک بار میں عمرہ کے ارادہ سے مکہ مکرمہ گیا، اور حسبِ معمول اُمیہ کے ہاں قیام کیا، میں نے
اُمیہ سے کہا کہ: میرے لئے تنہائی کا وقت بتاؤ کہ میں بیت اللہ کا طواف کروں، چنانچہ اُمیہ مجھے دوپہر کے وقت طواف
کے لئے ساتھ لے کر نکلا تو اتفاق سے ابوجہل سے ملاقات ہوگئی، ابوجہل نے پوچھا: صفوان یہ تمہارے ساتھ کون ہے؟ اُمیہ
نے بتلایا کہ یہ (میرا دوست) سعد بن معاذ ہے! اس پر ابوجہل نے کہا کہ: میں تمہیں مکہ مکرمہ میں مأمون و محفوظ طواف
کرتا دیکھتا ہوں، حالانکہ تم لوگوں نے بے دینوں کو پناہ دے رکھی ہے اور اپنے زعم میں تم ان کی مدد بھی کر رہے ہو،
خدا کی قسم! اگر اس وقت تم ابوصفوان کے ساتھ نہ ہوتے تو اپنے گھر صحیح سالم واپس نہیں جاسکتے تھے! اس پر میں نے
نہایت اُونچی آواز سے کہا کہ: خدا کی قسم! اگر تم نے آج مجھے طواف سے روک دیا تو میں بھی مدینہ کی طرف سے تمہارا
گزرنا بند کردوں گا اور یہ
374
تمہارے لئے زیادہ مشکلات کا باعث بن جائے گا، (اس لئے کہ مکہ کے لوگ شام تجارت کے لئے جاتے تھے اور اس کا
راستہ مدینہ سے ہوکر گزرتا تھا، اور مکہ کی معاش کا دارومدار شام سے تجارت پر تھا، اس لئے راستہ کی بندش ان کی موت و
زندگی کا سوال بن جاتی)۔ اس پر اُمیہ نے کہا: سعد! ابوالحکم (یعنی ابوجہل) کے سامنے اُونچی آواز سے باتیں نہ کرو!
یہ وادیٔ مکہ کا سردار ہے۔ اس پر میں نے کہا: اُمیہ! اس قسم کی باتیں نہ کر! خدا گواہ ہے کہ میں رسول اللہ صلی اللہ
علیہ وسلم سے سن چکا ہوں کہ وہ تمہیں قتل کریں گے۔ اُمیہ نے کہا: کیا مکہ میں مجھے قتل کریں گے؟ میں نے کہا: اس کا
مجھے علم نہیں! اُمیہ اس بات سے بہت گھبراگیا اور جب اپنے گھر واپس آیا تو اپنی بیوی سے کہنے لگا: ام صفوان! دیکھا
سعد میرے متعلق کیا کہہ رہے تھے؟ اس نے کہا: کیا کہہ رہے تھے؟ اُمیہ نے کہا: وہ یہ بتارہے تھے کہ محمد نے انہیں خبر
دی ہے کہ مسلمان مجھے قتل کریں گے، میں نے پوچھا: کیا مکہ میں مجھے قتل کریں گے؟ تو انہوں نے کہا کہ: اس کا مجھے علم
نہیں! اُمیہ کہنے لگا: خدا کی قسم! اب مکہ سے کبھی باہر نہیں جاؤں گا! پھر بدر کی لڑائی کے موقع پر جب ابوجہل نے
قریش سے لڑائی کی تیاری کے لئے کہا اور کہا کہ اپنے قافلہ کی مدد کو پہنچو تو اُمیہ نے لڑائی میں شرکت کو ناپسند کیا
اور معذرت کرلی، لیکن جب ابوجہل اس کے پاس آیا اور کہنے لگا: اے ابوصفوان! تم وادی کے سردار ہو، جب لوگ دیکھیں گے
کہ تم ہی لڑائی سے گریز کر رہے ہو تو دوسرے لوگ بھی تمہاری اتباع کریں گے۔ ابوجہل جب اس پر برابر اصرار کرتا رہا تو
بالآخر اُمیہ نے کہا: جب تمہارا اصرار ہی ہے تو خدا کی قسم! میں (اس لڑائی کے لئے) مکہ کا سب سے عمدہ اُونٹ خریدوں
گا (تاکہ زیادہ بہتر طریقہ سے اپنی
375
حفاظت کرسکوں)۔ پھر اُمیہ نے (اپنی بیوی سے) کہا: ام صفوان! میرا ساز و سامان تیار کردو! اس نے کہا:
ابوصفوان! اپنے یثربی بھائی کی بات بھول گئے؟ اُمیہ بولا: نہیں بھولا! ان (کفارِ مکہ) کے ساتھ تھوڑی دور تک جاؤں
گا۔ جب اُمیہ (اس جنگ کے لئے) نکلا تو راستہ میں جس منزل پر بھی قیام ہوتا، یہ اپنا اُونٹ (اپنے قریب ہی) باندھتا،
اس طرح سارے سفر میں اس نے اہتمام کیا، لیکن اللہ کی تقدیر کے مطابق بدر میں قتل ہوکر ہی رہا۔‘‘
(صحیح بخاری ج:۲ ص:۱)
یعنی حضرت سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ، اُمیہ بن خلف سے کہنے لگے کہ: یار کوئی ایسا وقت تلاش کرو جس میں بیت اللہ
شریف میں کوئی اور نہ ہو، اس وقت کوئی نہ جاتا ہو تاکہ میں تنہائی میں اپنے رب سے باتیں کرسکوں۔ وہ کہنے لگا: بہت
اچھا! دونوں دوپہر کے وقت چلے گئے، دوپہر اور وہ بھی مکہ مکرمہ کی دوپہر! اب تو ٹھنڈی اینٹیں لگی ہوئی ہیں، یعنی
سفید ٹھنڈے پتھر لگے ہوئے ہیں، جو گرم ہی نہیں ہوتے، ابن بطوطہؒ نے لکھا ہے کہ: ایک دفعہ دوپہر کو میں بیت اللہ شریف
کا طواف کرنے کے لئے چلا گیا، چلا تو گیا، جب میں نے مطاف میں قدم رکھا تو میرا پاؤں وہیں چپک گیا، بڑی مشکل سے میں
نے پاؤں چھڑایا اور پیچھے لوٹ آیا، تو یہ اس وقت کی بات ہے۔ بہرحال ابوصفوان اُمیہ بن خلف نے دن کے بارہ بجے ان کے
طواف کے لئے وقت تجویز کیا، کیونکہ اس وقت کوئی نہیں ہوگا، تو بیت اللہ جاتے ہوئے راستہ میں ابوجہل مل گیا، ابوجہل
کہنے لگا: یہ کون ہے؟ ابوصفوان اُمیہ بن خلف کہنے لگا: یہ میرے دوست یثرب کے رہنے والے سعد بن معاذ ہیں، اس پر
ابوجہل نے کہا کہ تم نے ہمارے باغیوں کو پناہ دے رکھی ہے اور آرام سے بیت اللہ کا طواف بھی کر رہے ہو؟ حضرت معاذ
رضی اللہ عنہ مدینے کے سردار تھے اور یہ مکہ کا سردار تھا، دو سرداروں کی جنگ تھی، حضرت سعد بن معاذؓ نے ڈانٹ کر
فرمایا کہ: زیادہ باتیں نہ کرو، تمہارا غلّہ ملکِ شام سے آتا ہے، میں اس کا ایک دانہ بھی مکہ نہیں پہنچنے دوں گا!
اس پر خیر ابوجہل تو چپ ہوگیا مگر ابوصفوان اُمیہ بن خلف، سعد بن معاذؓ سے کہنے لگا کہ: تم اس وادی کے چوہدری کو اس
طرح
376
جھڑکتے ہو، چونکہ لوہا گرم تھا، اس لئے حضرت سعدؓ اُسے بھی فرمانے لگے کہ: زیادہ باتیں نہ کر! کیونکہ میں نے
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زبان سے سنا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ارشاد فرماتے تھے کہ وہ تجھے قتل کریں
گے! کفر و ایمان کا مسئلہ اپنی جگہ، مگر چونکہ ان دونوں کی دوستی عہدِ جاہلیت سے چلی آرہی تھی، وہ ایک دوسرے کے گھر
رہتے تھے، لیکن جب حضرت سعدؓ نے اس کو حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی پیش گوئی بتلائی تو مسلمانوں کے ہاتھوں اسے اپنے
مارے جانے کا یقین ہوگیا، اور گھبراکر قسم اُٹھائی کہ اب مکہ سے باہر نہیں جاؤں گا۔
سچے نبی کی سچی اور جھوٹے کی جھوٹی پیش گوئی کا فرق:
ایک طرف سچے نبی کی سچی پیش گوئی ہے کہ اس پر کافروں کو بھی یقین ہے، اور دوسری طرف جھوٹے کی جھوٹی پیش گوئی ہے کہ
نہ صرف یہ کہ وہ پوری نہ ہوئی بلکہ مرزا قادیانی بمع اپنی پوری اُمت کے آتھم کے لئے بددعا کرتا رہا کہ یا اللہ،
آتھم مرجائے! یا اللہ، آتھم مرجائے! مگر وہ نہیں مرا۔ حتیٰ کہ قادیانی نبی نے اندھے کنویں میں چنے پڑھواکر
پھینکوائے، لیکن وہ ظالم پھر بھی نہیں مرا۔ مرزا محمود کہتا ہے کہ میں نے کبھی محرم کا ماتم بھی نہیں ایسا دیکھا
جیسا کہ اس رات قادیان میں برپا تھا۔ اس سے معلوم ہوا کہ مرزا غلام احمد کا اللہ پر اور اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ
وسلم پر بھی یقین نہیں تھا۔ دیکھو! محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے دور کے کافروں کو بھی حضور صلی اللہ علیہ
وسلم کی بات پر یقین تھا، یہ ان کی بدقسمتی تھی کہ وہ مسلمان نہیں ہوئے، کوئی کافر ایسا نہیں تھا جو رسول اللہ صلی
اللہ علیہ وسلم کو جھوٹا سمجھتا ہو۔
ابوجہل کی گواہی:
ایک دفعہ یہی ابوصفوان اُمیہ بن خلف اور ابوجہل تنہائی میں جمع تھے کہ ابوصفوان، ابوجہل سے کہنے لگا کہ: بھائی! ایک
دل کی بات بتاؤ! یہاں کوئی سن رہا ہے اور نہ کوئی دیکھ رہا ہے، صرف میں ہوں اور تم ہو، سچ بتاؤ کہ محمد (صلی اللہ
علیہ وسلم) سچے ہیں یا جھوٹے؟ ابوجہل مسکرایا اور مسکراکے کہنے لگا: کیا تو نے کبھی ان کو (حضرت محمد صلی اللہ علیہ
وسلم کو) جھوٹ بولتے دیکھا ہے؟ بچپن سے لے کر اب تک تریپن سال ہوگئے، کیا کبھی تو نے ان
377
کے منہ سے غلط بات سنی ہے؟ اگر وہ ہمارے سامنے جھوٹ نہیں بولتے تو یہ کیسے ہوسکتا ہے کہ اللہ کے حوالہ سے
جھوٹ بولیں؟
اس لئے میں کہہ رہا ہوں کہ مکہ کا کوئی کافر ایسا نہیں تھا جو حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو سچا نہ سمجھتا ہو،
لیکن افسوس کہ ان کی بدقسمتی ان کے آڑے آئی اور وہ ایمان نہ لائے، یہ بالکل اسی طرح ہے جیسے مرزائیوں کا ایک فرد
بھی ایسا نہیں جو مرزا طاہر اور اس کے باپ مرزا بشیرالدین محمود اور اس کے دادا مرزا غلام احمد قادیانی کو جھوٹا نہ
سمجھتا ہو، لیکن ان کی بھی بدقسمتی آڑے آگئی کہ وہ ان کے دجل سے نہیں نکل سکے۔
مرزا طاہر کو اپنے باپ دادا کے جھوٹے ہونے کا حق الیقین ہے:
میں نے لندن کے جلسہ میں بھی کہا تھا، اور اب یہاں بھی کہتا ہوں، اور یہ چونکہ چناب نگر ہے اس لئے اُمید کرتا ہوں
کہ مرزا طاہر اور اس کی ذریت کو میری یہ رپورٹ پہنچ جائے گی، چنانچہ میں نے وہاں کہا تھا اور اب بھی کہتا ہوں کہ
دوسرے لوگ تو دلائل، قرائن اور قیاسات کے ذریعہ غلام احمد کو، اس کے بیٹے مرزا محمود کو، اور مرزا طاہر! تجھے جھوٹا
سمجھتے ہوں گے، لیکن میں قسم کھاکر اور منبرِ رسولؐ پر بیٹھ کر کہتا ہوں کہ مرزا طاہر! تو حق الیقین کے ساتھ جانتا
ہے کہ تو جھوٹا ہے، تیرا باپ جھوٹا تھا، تیرا دادا بھی جھوٹا تھا، کیونکہ یہ تو بھی جانتا ہے کہ سچوں کی علامتیں اور
ہوتی ہیں۔
قادیانیو! جس طرح کفارِ مکہ کی بدقسمتی ان کے آڑے آگئی تھی اور اس نے ان کو ایمان لانے سے روک دیا تھا، تمہاری
بھی بدقسمی آڑے آرہی ہے، ورنہ اگر اللہ تعالیٰ تمہیں توفیق دے دیں تو تم سب ’’لا الٰہ الا اللہ محمد رسول اللہ‘‘
کا کلمہ پڑھ کر مسلمان ہوجاؤ اور غلام احمد پر لعنت بھیجو!
دوسری بات:
ہمارے حضرت مولانا محمد علی جالندھری رحمۃ اللہ علیہ فرماتے تھے کہ: جب میں تقریر کرنے بیٹھتا ہوں تو گھڑی چھلانگیں
لگاتی نظر آتی ہے۔ اور یہ بھی فرمایا کرتے تھے کہ: جب میری تقریر (کی تاریخ) رکھنی ہو تو کسی اور کی نہ رکھا کرو،
تاکہ میں اپنی بات کھل کر
378
تفصیل سے کہہ سکوں۔ یہی معاملہ میرا بھی ہے۔
نبیٔ عربی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی کسی پیش گوئی کا اشتہار و اعلان نہیں کیا:
تم نے میرے آقا حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا جلال بھی دیکھا، تم نے میرے آقا صلی اللہ علیہ وسلم کا جمال بھی
دیکھا، اور یہ بھی دیکھ لیا کہ آپؐ نے کبھی اپنی کسی پیش گوئی پر کوئی اشتہار نہیں دیا، کبھی ڈھنڈورا نہیں پیٹا،
اور کبھی نہیں فرمایا کہ: ’’اے اُمیہ! (ابوصفوان، اُمیہ بن خلف) میں تجھ کو قتل کروں گا!‘‘ ہاں سرسری ایک بات تھی
ہوگئی، مگر میرے اللہ نے اُسے حرف بہ حرف پورا کردیا۔ دوسری طرف غلام احمد قادیانی نے ساری عمر ڈھنڈورا پیٹا، اشتہار
چھاپے، مگر بات ایک بھی سچی نہیں نکلی۔
قادیانیو! مرزا کی کوئی ایک بات سچی کرکے دکھادو!
قادیانیو! میں یہاں منبر پر بیٹھا ہوں اور ذمہ داری کے ساتھ بیٹھا ہوں، تم مرزا کی کتابیں لے آؤ اور مرزا غلام
احمد کی ایک بات بھی سچی ثابت کرکے دکھادو! میں دعویٰ سے کہتا ہوں تم مرزا کی ایک بات بھی سچی ثابت نہیں کرسکتے، اس
لئے تم بھی جھوٹے، تمہارا پیر بھی جھوٹا!
ہم گالیاں نہیں نکالتے، تمہاری ہدایت کے لئے کہتے ہیں، اور یہ بھی مجبوراً کہتے ہیں، ہمارے منہ سے مجبوراً نکلتا ہے
کہ غلام احمد قادیانی سچا نہیں تھا، جھوٹا تھا، جھوٹوں کا پیر تھا، مرزا غلام احمد نے ۸۰/۸۲کتابیں لکھی ہیں، اور تم
نے اس کی کتابوں کے مجموعہ کا نام رکھا ’’روحانی خزائن‘‘، لا حول ولا قوۃ الا باللہ! میں جب حوالہ لکھتا ہوں اور
’’روحانی خزائن‘‘ لکھتا ہوں تو مجھے بہت تکلیف ہوتی ہے، بہرحال تیئس جلدوں میں ’’روحانی خزائن‘‘ کے نام سے مرزا غلام
احمد کی کتابیں ہیں، اور دس جلدوں میں اس کے ’’ملفوظات‘‘ کا مجموعہ ہے، ان میں سے کوئی ایک بات ایسی دکھادو جو سچی
ہو!
مرزا قادیانی کا ’’ملفوظ‘‘:
اس کے ’’ملفوظات‘‘ میں سے ایک ’’ملفوظ‘‘ سنا دیتا ہوں، تم بھی سنو اور سر دھنو! کہتا ہے کہ:
379
’’ہمارا وجود دو باتوں کے لئے ہے، ایک شیطان کو مارنے کے لئے، اور ایک نبی کو مارنے کے لئے۔‘‘ (نعوذ باللہ! ثم نعوذ
باللہ!) یہ کون سا نبی ہے؟ یہ وہی نبی ہے جس کے بارے میں یہودی آج تک کہتے ہیں کہ ہم نے ان کو قتل کردیا۔ ایک طرف
یہودیوں کا دعویٰ ہے، اور دوسری طرف قادیانیوں کا دعویٰ ہے، لیکن یہ دونوں دعاوی جھوٹے ہیں، نہ یہودیوں کے ہاتھوں یہ
واقعہ ہوا، اور نہ عیسائیوں کے ہاتھوں، چنانچہ قرآن کریم ان کے جھوٹ کو نقل کرتے ہوئے کہتا ہے:
’’وَقَوْلِھِمْ اِنَّا قَتَلْنَا الْمَسِیْحَ عِیْسَی ابْنَ مَرْیَمَ ۔۔ الخ۔‘‘
ان کے کہنے کی وجہ سے کہ ہم نے مسیح عیسیٰ بن مریم کو قتل کردیا ہے، یہودی کافر ہوگئے، ہاں سنو! انہوں نے ان کو قتل
نہیں کیا تھا بلکہ جھوٹ بولتے ہیں، لیکن اپنے اس قول کی وجہ سے وہ کافر ہوگئے۔ اسی طرح غلام احمد نے بھی حضرت عیسیٰ
علیہ الصلوٰۃ والسلام کو قتل نہیں کیا، لیکن اس کا بھی یہودیوں کی طرح دعویٰ ہے کہ ہم نے قتل کردیا، وہ بھی اس وجہ
سے کافر ہوگیا، اب مرزا قادیانی تو قبر میں چلا گیا اور وہاں وہ اپنا انجام بھگت رہا ہوگا، مگر اس کے پیچھے جو چیلے
چانٹے ہیں، جب دجال نکلے گا وہ سب کے سب اس کے ساتھ ہوں گے، حضرت عیسیٰ علیہ السلام اپنے نزول کے بعد دجال کو قتل
کریں گے تو اِن شاء اللہ مسلمان دجال کے چیلوں کو قتل کریں گے، عیسیٰ علیہ السلام کے آنے کے بعد تمام کی تمام
ملّتیں اور تمام کے تمام مذاہب ختم ہوجائیں گے سوائے اسلام کے، یہ برطانیہ والے بھی نہیں رہیں گے، امریکہ والے بھی
نہیں رہیں گے، یہ چوٹیوں والے ہندو بھی نہیں رہیں گے، ایک مسلمان رہیں گے اور باقی تمام کے تمام کافر ختم ہوجائیں
گے، یہ عیسیٰ علیہ السلام کے تشریف کی برکت ہوگی۔
وَآخِرُ دَعْوَانَا اَنِ الْحَمْدُ للہِ رَبِّ الْعَالَمِیْنَ
وَصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی خَیْرِ خَلْقِہٖ مُحَمَّدٍ وَّآلِہٖ وَأَصْحَابِہٖ
أَجْمَعِیْنَ
380
مرزا کے دعویٰ ہائے نبوّت، مسیحیت، مہدویت
اور مجدّدیت کی حقیقت
پیشِ نظر بیان کوئٹہ ختمِ نبوّت کانفرنس میں ہوا، جسے حضرت مولانا منظور احمد الحسینی نے کیسٹ سے نقل کرکے اشاعت کے
لئے مہیا فرمایا۔
سعید احمد جلال پوری
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ
اَلْحَمْدُ للہِ وَسَلَامٌ عَلٰی عِبَادِہِ الَّذِیْنَ اصْطَفٰی!
امتناعِ قادیانیت آرڈی نینس ۲۶؍اپریل ۱۹۸۴ء کو نافذ کیا گیا، بلاشبہ امتناعِ قادیانیت آرڈی نینس ۱۹۸۴ء، قادیانیت
پر اتنی شدید ضرب تھی کہ اس سے قادیانیت ہل گئی۔
امتناعِ قادیانیت آرڈی نینس کی شدت:
جس دن یہ آرڈی نینس نافذ ہوا، جمعرات کا دن تھا، اگلے دن جمعہ تھا، جمعہ پڑھانے کے لئے مرزا طاہر اپنی نام نہاد
’’مسجدِ اقصیٰ‘‘ میں گیا، لیکن اس دن قانون نے کہا کہ آج سے تم اپنی عبادت گاہ کو ’’مسجد‘‘ نہیں کہہ سکتے، اذان
نہیں دے سکتے، اپنے آپ کو اسلام سے منسوب نہیں کرسکتے، چنانچہ اس قانون کے نفاذ سے مرزا طاہر کے دماغ پر اتنی شدید
چوٹ لگی کہ وہ اپنی عبادت گاہ ... جس کو وہ ’’مسجدِ اقصیٰ‘‘ کہتا تھا... میں جاکر مقتدیوں کے سامنے رو رو کر واپس
آگیا، اس نے خطبہ پڑھا نہ جمعہ پڑھا، بلکہ یوں ہی واپس آگیا، اور اس سے اگلے دن اس نے لندن روانگی کی تیاری کرلی۔
اندازہ فرمائیے! کہ اس آرڈی نینس کے کوڑے کی کتنی شدید چوٹ ہوگی؟
381
قادیانیوں کی خوئے بد:
اے قادیانیو! میں منتظر تھا کہ تم دس سال کے بعد کوئی شرارت کروگے، کیونکہ تمہاری خوئے بد میں یہ داخل ہے کہ تم ہر
دس سال بعد کوئی نہ کوئی شرارت کرتے ہو، اب ۱۹۸۴ء سے ۱۹۹۴ء آگیا، لیکن ابھی تک تم کچھ کر نہیں سکے، یعنی ایسی کوئی
شرارت نہیں کرسکے۔
ابھی مولانا اللہ وسایا صاحب شکایت کرکے گئے ہیں کہ قادیانی کچھ شرارت کر رہے ہیں۔
قادیانی، ایمانی جیب کترے:
میں کہتا ہوں کہ شرارت کر رہے ہوں گے، مگر چوروں، ڈاکوؤں اور جیب کتروں کی طرح، لیکن انہیں معلوم ہوگا کہ قانون
موجود ہے، اسی طرح لوگ کہتے ہیں کہ چور، جیب تراشتے ہیں تو ہم کیا کریں؟ کیونکہ جیب تراش پتہ نہیں چلنے دیتے۔
میں کہتا ہوں یہ ٹھیک ہے، لیکن یہ بات ذہن میں رکھو کہ آج تک کسی جیب کترے کو کوئی عزت نہیں ملی، کیوں اگر جیب
کتروں کو عزت ملی ہے تو بتاؤ؟
انبیاء کی دعوت ڈنکے کی چوٹ پر:
حضراتِ انبیاء کرام علیہم السلام ... نعوذ باللہ، نعوذ باللہ، توبہ توبہ، استغفر اللہ... جیب کترے نہیں ہوتے، وہ تو
ڈنکے کی چوٹ اپنی دعوت دیتے ہیں، اگر تم میں ہمت ہے تو آؤ میرے پاس آؤ، مجھے دعوت دو، علمائے کرام کے پاس جاؤ
ان کو دعوت دو، تم نے مباہلے کرلئے، مناظرے کرلئے، سب کچھ کرلیا، مگر رہے جھوٹے کے جھوٹے، اب آپ جیب کترتے ہیں؟ یہ
قادیانی بے خبر اور بھولے بھالے نوجوانوں کو اپنے ہاں لے جاتے ہیں، اور جیب کا آپریشن کردیتے ہیں، یعنی اس کے ایمان
کی جیب کا، اس طرح آپریشن کردیتے ہیں کہ اس بیچارے کو پتہ بھی نہیں چلتا۔
مرزا قادیانی کے دعاوی:
خیر میں عرض کر رہا تھا کہ مرزا غلام احمد قادیانی نے پہلے ’’مجدّد‘‘ ہونے کا دعویٰ کیا،
382
پھر ۱۸۹۱ء میں ’’مسیحِ موعود‘‘ ہونے کا دعویٰ کیا، ساتھ ہی کہا کہ میں ’’مہدی‘‘ بھی ہوں، اور یہ بھی کہا کہ
مسیح اور مہدی ایک ہی چیز ہے، اور ۱۹۰۱ء میں اس نے ’’نبوّت‘‘ کا دعویٰ کیا۔
حضرت عیسیٰ ؑہی مسیحِ موعود ہیں:
میں نے قادیانیوں سے کہا کہ: تمہارا دعویٰ ہے کہ مرزا غلام احمد ’’مسیحِ موعود‘‘ ہے ... میری بات کو سن لو ...
’’مسیحِ موعود‘‘ میں دو لفظ ہیں، ایک مسیح اور دوسرا موعود، جس کا معنی ہے: ’’وہ مسیح جس کا ہم سے وعدہ کیا گیا
ہے۔‘‘ اللہ تعالیٰ اور اُس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم سے وعدہ کیا ہے کہ قربِ قیامت میں کانا دجال نکلے گا،
اور یہ تو آپ سب کو بھی معلوم ہے کہ کانا دجال نکلے گا اور اُس کو قتل کرنے کے لئے آسمان سے حضرت عیسیٰ علیہ
السلام نازل ہوں گے، یہ ہے وہ ’’مسیحِ موعود‘‘ جس کا ہم سے وعدہ کیا گیا ہے۔ چنانچہ اُس مسیح کو، مسیحِ موعود اور
مسیح ابنِ مریم کہتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ قرآن مجید میں فرماتے ہیں کہ: ’’مَا الْمَسِیْحُ بْنُ
مَرْیَمَ اِلّا رَسُوْلٌ‘‘ اسی طرح قرآن میں جگہ جگہ ’’مسیح ابن مریم‘‘ کا لفظ آیا ہے، میں پوچھنا چاہتا
ہوں کہ دنیا میں، نبوّت کی تاریخ میں ’’مسیح‘‘ کتنے ہوئے ہیں؟ بلاشبہ ایک ہی مسیح ہوا ہے اور دنیا ایک ہی مسیح کو
جانتی ہے اور وہ ہیں حضرت مسیح بن مریم علیہ السلام، یعنی ان کے علاوہ کوئی دوسرا ہے تو مجھے بتاؤ! اگر قرآن مجید،
حدیث اور پہلی یعنی پچھلی کتابوں میں، اس ایک مسیح کے علاوہ کوئی دوسرا مسیح ہو تو مجھے اس کی نشاندہی کرو؟ دراصل
مسیح ابنِ مریم ہی مسیحِ موعود ہے۔
نزولِ مسیح کے بارے میں غلام احمد کا اعتراف:
مرزا غلام احمد ’’رُوحانی خزائن‘‘ میں درج اپنی کتاب ’’ازالۂ اوہام‘‘ میں لکھتا ہے، دراصل قادیانیوں نے مرزا کی
عام کتابوں کو ۲۳جلدوں میں چھاپ دیا ہے، اور انہوں نے ان کا نام رکھا ہے: ’’رُوحانی خزائن‘‘ اسی روحانی خزائن کی
تیسری جلد کے صفحہ:۴۰۰ میں لکھتا ہے:
’’مسیح ابنِ مریم کے آنے کی پیش گوئی ایک اوّل درجہ کی
383
پیش گوئی ہے، جس کو سب نے بالاتفاق قبول کرلیا ہے، پوری اُمت کا اس پر اِجماع ہے اور صحاح میں جس قدر پیش
گوئیاں لکھی گئی ہیں، کوئی پیش گوئی اس کے ہم پہلو اور ہم وزن ثابت نہیں ہوتی، تواتر کا اوّل درجہ اس کو حاصل ہے،
انجیل بھی اس کی مصدق ہے۔‘‘
(ازالۂ اوہام، روحانی خزائن ج:۳ ص:۴۰۰)
مرزا قادیانی کا اپنے کو مسیح کہنے سے انکار:
میرے پاس ایک قادیانی خاتون آئی، اس نے کہا کہ: مرزا صاحب ہی وہ مسیح ہیں جن کے آنے کا وعدہ ہے۔ میں نے اس
قادیانی خاتون کے سامنے کتاب کھول کر رکھ دی اور میں نے کہا کہ: اب تم ہی بتاؤ کہ کس نے آنا ہے؟ دوم: یہ کہ مسیحِ
موعود کون ہے؟ اور مسیح ابنِ مریم کون ہے؟ پھر میں نے اسی کتاب کا صفحہ:۱۹۲نکالا جس کا عنوان اور موٹی سرخی ہے:
’’علمائِ ہند کی خدمت میں نیازنامہ‘‘ (غلام احمد کا علمائے ہند کی خدمت میں نیازنامہ) جس میں اس نے لکھا:
’’اے علمائے دین و مفتیان شرعِ متین، میری معروضات کو متوجہ ہوکر سنو کہ اس عاجز نے جو مثیلِ مسیح ہونے کا دعویٰ
کیا ہے، جس کو بعض کم فہم لوگ مسیحِ موعود سمجھ بیٹھے ہیں ...۔۔‘‘
اس کے آخر میں پھر کہتا ہے:
’’میں نے ہرگز یہ دعویٰ نہیں کیا کہ میں مسیح ابنِ مریم ہوں، جو شخص یہ الزام مجھ پر لگاوے وہ سراسر مفتری اور کذاب
ہے۔‘‘
غلام احمد، مسیحِ موعود کیسے بن گیا؟
’’مفتری‘‘ کہتے ہیں بہتان باندھنے والے کو، اور ’’کذّاب‘‘ کہتے ہیں بہت جھوٹے کو۔ گویا جو آدمی غلام احمد کو مسیحِ
موعود کہے، وہ غلط فہمی کا شکار ہے، اور جو آدمی مرزا غلام احمد کو مسیح ابنِ مریم کہے، وہ مفتری اور کذّاب ہے،
کیونکہ آنا تھا مسیح ابنِ مریم کو، مگر جو غلام احمد
384
کو مسیح ابنِ مریم کہے وہ مفتری اور کذّاب ہے۔ اب تم ہی بتاؤ کہ یہ غلام احمد ’’مسیحِ موعود‘‘ کیسے ہوا؟ جس
کا مطلب یہ ہے کہ آنے والا مسیح، جس کو ہم مسیحِ موعود کہہ سکتے ہیں، وہ تو مسیح ابنِ مریم ہے، چنانچہ خود غلام
احمد قادیانی کانوں پر ہاتھ رکھ کر کہتا ہے کہ: ’’میں مسیح ابنِ مریم نہیں ہوں، بلکہ جو مجھے مسیح ابنِ مریم کہتا ہے
وہ سراسر مفتری اور کذّاب ہے۔ ‘‘ اب تم ہی بتاؤ کہ غلام احمد ’’مسیحِ موعود‘‘ کیسے بن گیا؟ اس پر وہ بی بی کہنے لگی
کہ یہ نہیں ہوسکتا۔
غلام احمد، مہدی بھی نہیں:
میں نے کہا: اور سنو! مرزا غلام احمد قادیانی کہتا ہے کہ: ’’میں مہدی ہوں‘‘ دراصل سب مسلمان اس کے قائل ہیں کہ حضرت
مہدی آئیں گے، تم نے شاید نہ سنا ہو، تو میں تمہیں سمجھادوں کہ مہدی کا نام ’’محمد‘‘ ہوگا، اس کے باپ کا نام
’’عبداللہ‘‘ ہوگا، اور وہ حضرت حسنؓ کی اولاد میں سے ہوں گے، حضرت حسین کی اولاد سے نہیں ہوں گے، بلکہ حسنی اور
فاطمی سیّد ہوں گے، حضرت فاطمہؓ کے اولاد میں سے ہوں گے، اور یہ تو سب ہی جانتے ہیں کہ غلام احمد، ’’محمد‘‘ نہیں
تھا، اللہ کی شان! اُس کے نام میں کہیں دُور و نزدیک ’’محمد‘‘ کا لفظ نہیں آیا، ہاں! اگر مرزا اپنا نام محمد غلام
احمد ہی رکھ لیتا، تو چلو سچے جھوٹے کہیں ’’محمد‘‘ کا لفظ آہی جاتا، مگر ایسا بھی نہیں کرسکا۔
تو میں عرض کر رہا تھا کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ مہدی کا نام میرے نام پر ہوگا: ...محمد... اور
مہدی کے باپ کا نام میرے باپ کے نام پر ہوگا: ...عبداللہ... غلام احمد کا نام کیا تھا؟ قادیانی ہم سے زیادہ جانتے
ہیں، چلو کہہ دو کہ اس کا نام ...غلام احمد... تھا اور بچپن میں اس کو ’’سَندھی‘‘ کہتے تھے، گویا اس کا پیار کا نام
’’سندھی‘‘ تھا، اور بعد میں اس نے غلامی کا جوا اُتار پھینکا تو خود ہی ...احمد... بن گیا۔ ہمارے مولوی سعداللہ
لدھیانوی کہتے تھے: ’’غلامی چھوڑ کر احمد ہوا تو‘‘ ... اللہ کی شان...!
بدبخت غلام، آقا کے منصب پر:
ہم نے ایک قصہ سنا ہے، میری مائیں بہنیں بھی سن رہی ہوں گی، ہوا یہ کہ ایک
385
شخص کا نوکر تھا، مالک کہیں چلا گیا، پیچھے گھر پر غلام رہ گیا، تو وہ غلام مالک کے حرم میں داخل ہوگیا،
جانتے ہو اس غدّار کا انجام کیا ہونا چاہئے؟ جو غلامی چھوڑ کر اپنے آقا کے بستر پر پہنچ جائے، جانتے ہو ایسے شخص کا
انجام کیا ہوتا ہے؟ اسی طرح جو شخص اپنے آپ کو غلام احمد کہلاتا تھا، اور اس کا نام غلام احمد تھا، وہ بدبخت غلامی
چھوڑ کر خود احمد بن بیٹھا، اور ...نعوذ باللہ... حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے منصب پر غاصبانہ قبضہ کرنے لگا، تو
ایسے شخص کا انجام کیا ہونا چاہئے؟
فرمایا کہ: مہدی کا نام میرے نام پر ہوگا، اور مہدی کے باپ کا نام میرے باپ کا نام ہوگا، اور اس کی ماں کا نام میری
ماں کے نام پر ہوگا، یعنی: محمد بن عبداللہ۔ جبکہ مہدویت کے اس دعویدار کا نام غلام احمد بن غلام مرتضیٰ ہے، اور اس
کی ماں کا نام چراغ بی بی ہے، سوال یہ ہے کہ یہ مہدی کس طرح بن گیا؟
۱۹۰۱ء سے پہلے مدعیٔ نبوّت کافر، تو بعد میں کیسے مسلمان ہوگیا؟
اس کے بعد نبوّت کا مسئلہ دیکھئے! میں نے کہا کہ اس نے ۱۹۰۱ء میں نبوّت کا دعویٰ کیا، حالانکہ اس سے پہلے وہ کہتا
رہا کہ: ’’میں مدعی نبوّت کو ملعون اور کذّاب جانتا ہوں‘‘، اور ’’جو شخص نبوّت کا دعویٰ کرے وہ خارج از اسلام ہے۔‘‘
میں نے مرزا کے وہ حوالے بھی نکال کر سامنے رکھ دئیے اور آج بھی سب قادیانیوں کے سامنے رکھنے کے لئے تیار ہوں، ان
قادیانیوں کو تو ضرورت بھی نہیں ہے، جو جاننے والے ہیں وہ خوب جانتے ہیں، رہے بیچارے عوام! ان کو تو پتہ ہی نہیں کہ
غلام احمد کیا کہتا اور کیا لکھتا رہا ہے؟ خیر میں نے وہ حوالے نکال لئے اور میں نے کہا کہ: کل تک یعنی ۱۹۰۱ء سے
پہلے تک مدعی نبوّت ملعون، کذّاب اور خارج از اسلام تھا، اور ۱۹۰۱ء کے بعد وہ اسلام میں کیسے داخل ہوگیا؟
جبرائیل کیسے آگیا؟ قادیانیوں سے سوال!
ایک بات میں نے مرزا طاہر سے برمنگھم، برطانیہ ختمِ نبوّت کانفرنس میں پوچھی تھی، میں نے کہا تھا کہ مرزا طاہر کے
دادا نے لکھا ہے کہ: ’’نبی بغیر جبرائیل کے نہیں بن
386
سکتا، نبی وہ ہوتا ہے جس کے پاس جبرائیل علیہ السلام وحی لے کر آئے، وحی لانے والا فرشتہ جبرائیل ہے۔‘‘
کیونکہ غلام احمد نے ’’ازالۂ اوہام‘‘ میں لکھا ہے کہ: ’’نبی وہ ہوتا ہے جس کے پاس جبرائیل آئے‘‘ اور ساتھ ہی لکھا
ہے کہ: ’’جبرائیل کے آنے کا دروازہ قیامت تک بند ہے۔‘‘ میں نے مرزا طاہر سے کہا تھا کہ ایک سوال کا جواب دے دو اور
مجھے یہ بتادو کہ غلام احمد نے تو اُس وقت دروازہ بند کردیا تھا، بعد میں نبی بننے کے لئے یہ دروازہ کیسے کھلا؟ چابی
کس کے پاس تھی؟ کوئی قادیانی اس کا جواب نہیں دے سکتا، میرا چیلنج ہے مرزا طاہر سے لے کر ان کے سارے مبلغین تک کو۔
اگر یہاں کوئٹہ میں بھی کوئی مربی شُربی ہوں تو ان کو بھی یہ چیلنج ہے، اگر کسی قادیانی میں طاقت ہے تو میرے اس
نکتہ کا جواب دے دے کہ بابِ جبرائیل بقولِ مرزا غلام احمد قادیانی بند ہوچکا تھا، اور جبرائیل کی آمد کے بغیر کوئی
نبی نہیں بن سکتا، تو پھر مرزا غلام احمد قادیانی نے نبی بننے کے لئے یہ (نبوّت کا) دروازہ کیسے کھول دیا؟ یہ ذرا
سمجھادو۔
مرزا بعینہٖ محمد رسول اللہ!
پھر میں نے اس خاتون کو سمجھایا کہ بی بی! میں بتاتا ہوں کہ یہ نبی کیسے بنا ہے؟ غلام احمد کہتا ہے کہ: میں کوئی
الگ ہوں ہی نہیں، ہاں! اگر کوئی الگ نبی آئے تو اُس کے لئے تم تلاش کرو کہ آیا جبرائیل آسکتا ہے یا نہیں؟ میں تو
بعینہٖ ’’محمد رسول اللہ‘‘ دوبارہ آگیا ہوں، لا حول ولا قوۃ الا باللہ!
چنانچہ ’’ایک غلطی کا ازالہ‘‘ میں مرزا غلام احمد قادیانی لکھتا ہے کہ:
’’محمد رسول اللہ والذین معہ اشداء علی الکفار رحمآء بینھم ۔ اس وحی الٰہی میں میرا نام
محمد رکھا گیا اور رسول بھی۔ محمد رسول اللہ میں ہوں۔‘‘ (نعوذ باللہ!)
(روحانی خزائن ج:۱۸ص:۲۰۷)
پھر دوسرے حوالے بھی دکھائے اور مرزا بشیر احمد ایم اے کا حوالہ بھی دکھایا۔
387
چنانچہ مرزا بشیر احمد کہتا ہے کہ: ’’ہمارے نزدیک تو بعینہٖ محمد رسول اللہ دوبارہ آگئے۔‘‘ اور ان کا ایک
قاضی اکمل نامی شاعر ہوا ہے، وہ کہتا ہے:
-
امام اپنا عزیزو اس جہاں میں
غلام احمد ہوا دارالاماں میں
دارالاماں قادیان کو کہتے ہیں، گویا وہ یہ کہتا ہے کہ ہمارا امام غلام احمد ہے۔
-
غلام احمد ہے عرشِ رَبّ اکبر
مکاں اس کا ہے گویا لامکاں میں
یعنی وہ مرزا رہتا ہے زمین پر، مگر مکان اس کا لامکاں میں ہے، نعوذ باللہ! استغفر اللہ!
آگے چل کے مزید کہتا ہے:
-
محمد پھر اُتر آئے ہیں ہم میں
اور آگے سے ہیں بڑھ کر اپنی شاں میں
-
محمد جس نے دیکھنے ہوں اکمل
غلام احمد کو دیکھے قادیاں میں
میں نے کہا کہ یہ نبوّت کا دعویٰ ہے، نبوّت کا دعویٰ نہیں بلکہ خود اسے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہونے کا
دعویٰ ہے، اب کون بے غیرت مسلمان ایسا ہوگا جو کسی بھینگے، کانے کو بحیثیت ’’محمد رسول اللہ‘‘ قبول کرلے ...نعوذ
باللہ۔۔ بلاشبہ اس کے سارے دعوے جھوٹے تھے۔
اسی طرح مرزا غلام احمد نے ’’مجدّد‘‘ ہونے کا دعویٰ بھی کیا، اس کا مجدّد ہونے کاد عویٰ بھی جھوٹا، جس طرح اس کے
’’مسیح‘‘، ’’مہدی‘‘ اور ’’نبی‘‘ ہونے کا دعویٰ جھوٹا تھا، یعنی اسی طرح اس کا ’’مجدّد‘‘ ہونے کا دعویٰ بھی جھوٹا
تھا۔
قادیانیوں کا کلمۂ اِسلام پر اِیمان نہیں:
اب ایک اور بات سنو! قادیانی کہتے ہیں کہ ہم ’’لا الٰہ الا اللہ محمد رسول اللہ‘‘
388
پڑھتے ہیں، پھر کہتے ہیں کہ کلمہ گو کو کافر نہ کہو۔
میں کہتا ہوں کہ قادیانیوں کا بلکہ ان کے ابا مرزا غلام احمد کا بھی کلمہ پر ایمان نہیں تھا، ان کا ’’لا الٰہ الا
اللہ‘‘ پر ایمان کا دعویٰ جھوٹا تھا، اور جھوٹا نکلا، ملاحظہ ہو:
مرزا غلام احمد نے محمدی بیگم کے باپ کو لکھا تھا، کیونکہ اس نے محمدی بیگم کا، اس کے باپ سے رشتہ مانگا تھا...
لمبی بات ہے... بہرحال مرزا نے محمدی بیگم کے باپ کو لکھا کہ: میں اللہ جل شانہ کی قسم کھاکر کہتا ہوں، جس کے نام کی
جھوٹی قسم کھانا لعنتیوں کا کام ہے کہ مجھے یہ الہام ہوا تھا کہ آپ کی دخترِ کلاں کا رشتہ مجھ سے ہوگا، یعنی آپ کی
بڑی لڑکی میرے نکاح میں آئے گی ...کہتا ہے کہ... اللہ نے الہام کیا، لیکن اس کا ’’اللہ‘‘ بھی کوئی ایسا ہی ہوگا جو
وعدہ کرکے مکر جاتا ہے، ہمارا خدا تو ایسا نہیں ہے۔
سنو! حضرت زینب رضی اللہ عنہا حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی پھوپھی زاد تھیں، اپنے آزاد کردہ غلام حضرت زید بن حارثہ
سے حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کا نکاح کردیا تھا، ان کی آپس میں نہیں بنی اور طلاق ہوگئی، اب حضور صلی اللہ
علیہ وسلم چاہتے تھے کہ اس سے نکاح کرلیا جائے تاکہ اس بیچاری کی دِل جوئی ہو، کیونکہ اس کو طلاق جو ہوگئی تھی، لیکن
خطرہ اس بات کا تھا کہ کافر کہیں گے کہ اپنے بیٹے کی بیوی سے نکاح کرلیا، کیونکہ لے پالک کو جاہلیت میں بیٹا سمجھا
جاتا تھا، اس پر اللہ تعالیٰ نے بائیسویں پارے میں قرآنِ کریم کی آیت نازل کی اور فرمایا:
’’زَوَّجْنٰکَھَا‘‘ ہم نے تیرا نکاح اس خاتون (زینب رضی اللہ عنہا) سے کردیا۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا
نکاح حضرت زینب سے کس نے کیا؟ ... اللہ نے...! اس آیت کے نازل ہونے کے بعد حضور صلی اللہ علیہ وسلم اُٹھے اور اُٹھ
کر بغیر کسی اجازت کے اور بغیر پردہ کے اپنے گھر یعنی حضرت زینبؓ کے گھر تشریف لے گئے، اس کو کہتے ہیں: ... اللہ نے
نکاح کیا...! اُمّ المؤمنین حضرت زینب رضی اللہ عنہا اپنی سہیلیوں، یعنی دوسری اُمہات المؤمنین کے مقابلے میں فخر
کیا کرتی تھیں کہ تمہارا نکاح کسی کے باپ نے، کسی کے چچا نے کیا اور کسی کے بھائی نے کیا ہوگا، مگر میرا نکاح تو
اللہ رَبّ العالمین نے کیا ہے۔
389
اِدھر غلام احمد کو بھی اس کے ’’رَبّ‘‘ نے کہا تھا:’’زوجنٰکھا‘‘ کہ ہم نے تیرا
نکاح محمدی بیگم سے کردیا ہے، لیکن شاید اس کا ’’خدا‘‘ بھول گیا ...نعوذ باللہ... خیر وہ تو جو ہوا سو ہوا۔
مرزا کا کلمۂ اِسلام پر اِیمان، اپنے الہامات کی مانند:
جو بات میں نے آپ کو سنانی ہے، وہ یہ ہے کہ مرزا غلام احمد اپنے ’’الہامی خسر‘‘ کو خط لکھتا ہے کہ:
’’میں اللہ جل شانہ کی قسم کھاکر کہتا ہوں، جس کی جھوٹی قسم کھانا لعنتیوں کا کام ہے، کہ مجھے یہ الہام ہوا تھا کہ
آپ کی دخترِ کلاں کا رشتہ میرے ساتھ ہوگا، اور اگر کسی اور جگہ کیا تو بڑے غلط نتیجے نکلیں گے۔‘‘
اور آگے چل کر کہتا ہے:
’’اور میں جیسے لا الٰہ الا اللہ محمد رسول اللہ پر ایمان لاتا ہوں، ویسے ہی اپنے اُن الہامات پر لاتا ہوں جو مجھے
متواتر ہوئے۔‘‘
(کلمہ فضل رحمانی ص:۶۲۳، قادیانی مذہب کا علمی محاسبہ ص:۴۵۹، مطبوعہ ختمِ نبوّت)
یعنی غلام احمد کو ’’لا الٰہ الا اللہ‘‘ پر ویسا ہی ایمان ہے جیسا کہ محمدی بیگم کے نکاح پر ایمان ہے ...یہی نتیجہ
نکلے گا یا کوئی اور؟... ظاہر ہے کہ یہی نتیجہ نکلے گا ... گویا وہ کہتا ہے کہ میں جیسے ’’لا الٰہ الا اللہ محمد
رسول اللہ‘‘ پر ایمان لاتا ہوں ایسا ہی ان متواتر الہامات پر ایمان لاتا ہوں جو مجھے ہوئے ... لیکن افسوس کہ وہ
الہامات تو جھوٹے نکلے... اگر اللہ کی طرف سے الہام ہوتے تو اللہ تعالیٰ کی قدرت کو تو کوئی نہیں ٹال سکتا تھا، نہ
احمد بیگ (محمدی بیگم کا باپ) ٹال سکتا تھا، نہ کوئی اور ٹال سکتا تھا۔
سچے اور جھوٹے کا فرق:
اب سچے اور جھوٹے کا فرق دیکھو کہ سچے پر ’’زَوَّجْنٰـکَھَا‘‘ کی آیت نازل ہوتی
390
ہے تو وہ اُٹھ کر اپنی منکوحہ کے گھر چلے جاتے ہیں، اور وہ ’’اُمّ المؤمنین‘‘ بن جاتی ہیں، کیونکہ اللہ
تعالیٰ نے عقد کردیا تھا ... ٹھیک ہے ناں... دوسری طرف جھوٹے پر یہ جھوٹا الہام ہوتا ہے تو ساری عمر گزر گئی، مگر
محمدی بیگم اس کو نہ مل سکی، اور وہ دوسرے کے پاس رہی، اور یہ بیچارہ ایڑیاں رگڑتا مرگیا۔
محمدی بیگم والا اِلہام جھوٹا، تو اس کی طرح کا کلمۂ اِسلام پر اِیمان بھی جھوٹا:
کہنا یہ ہے کہ جب محمدی بیگم والا یہ الہام جھوٹا نکلا کہ ’’محمدی بیگم تیرے نکاح میں آئے گی‘‘ اور وہ نہیں آئی
تو یہ جھوٹ نکلا، اب جیسے اس الہام پر اس کا ایسا ہی ایمان تھا جیسا کہ ’’لا الٰہ الا اللہ محمد رسول اللہ‘‘ پر،
گویا جبکہ محمدی بیگم کے نکاح ہونے پر اس کا ایمان تھا، جب محمدی بیگم والا الہام جھوٹ نکلا تو یہ بھی جھوٹ نکلا،
معلوم ہوا کہ ’’لا الٰہ الا اللہ محمد رسول اللہ‘‘ پر بھی اس کا ایمان جھوٹا ہے، کوئی قادیانی اس کو سچا کرکے
دکھادے۔
حرمت بی بی دوزخی، تو مرزا اس کے جہنم میں جائے گا؟
غلام احمد قادیانی اپنی کتاب ’’انجام آتھم‘‘ میں لکھتا ہے کہ:
مجھے تین الہام ہوئے تھے، ایک الہام ہوا تھا کہ: ’’یا اٰدم اسکن انت وزوجک الجنۃ‘‘ اے
آدم! تو اور تیری بیوی جنت میں ٹھہرو ... تیری زوجہ ... یہ پہلی بیوی کی طرف اشارہ تھا، چنانچہ خود غلام احمد کہتا
ہے کہ: یہ پہلی بیوی کی طرف اشارہ تھا، جو غلام احمد قادیانی کے بیٹے فضل احمد کی ماں تھی، اس بیچاری کا نام تھا
حرمت بی بی، مگر اس کو کہتے تھے ’’پھجیّ دی ماں ‘‘۔ غلام احمد نے اس کو طلاق دے دی تھی، جب غلام احمد نے اس کو طلاق
دی تو وہ بن گئی تھی ’’دوزخی‘‘، سوال یہ ہے کہ یہ الہام کیا سچا ہوا؟ ’’یا اٰدم اسکن انت وزوجک
الجنۃ‘‘ بیوی اُدھر جہنم میں جارہی ہے یہ اِدھر جارہا ہے، تو یہ اپنی بیوی کے ساتھ کیسے جنت میں جائے گا؟
وہ تو بیوی ہی نہیں رہی!
مرزا ’’مریم‘‘ تو اس کا شوہر کون تھا؟
اس کو دوسرا الہام ہوا تھا:’’یا مریم ادخل انت وزوجک الجنۃ‘‘ اے مریم!
391
تو داخل ہوجا اور تیرا زوج جنت میں۔ مرزا مریم بنی، کہنا چاہئے تھا کہ اے مریمی تو داخل ہوجا جنت میں، عربی
میں اس کو ’’اُدخلی‘‘ کہنا چاہئے تھا، کیونکہ عربی میں مرد کو کہتے ہیں: ’’اُدخل‘‘ اور عورت کو کہتے ہیں:’’اُدخلی‘‘ ۔ جب مرزا مریم ہوا، تو
اگر اللہ اس کو خطاب کرتا تو’’اُدخل‘‘ کے ساتھ کرتا یا ’’اُدخلی‘‘ کے ساتھ کرتا؟ ظاہر ہے’’اُدخلی‘‘ کے ساتھ خطاب کرتا، تو
مریم مرزا غلام احمد قادیانی ہوا تو اس کا شوہر کون تھا؟ (کیونکہ آگے ہے وزوجک الجنّۃ)
یہ عقدہ آج تک حل نہیں ہوا، اے مریم تو داخل ہوجا اور تیرا زوج جنت میں۔ قادیانیو! یہ تمہارے ذمہ قرض ہے، چلو تم اس
کی تشریح کرکے دکھادو! اگر تمہارا کوئی مربی ہے تو وہ میرے سامنے اس کی تشریح کردے۔
تیسری بیوی محمدی بیگم والا اِلہام کیسے سچا ثابت ہوا؟
اسی طرح اس کو تیسرا الہام ہوا تھا: ’’یا احمد ادخل انت وزوجک الجنّۃ‘‘ اے احمد! تو داخل
ہوجا اور تیری بیوی جنت میں۔
کہتا ہے کہ اس الہام میں تیسری بیوی کی طرف اشارہ ہے، وہ تیسری بیوی کون سی ہے؟ یعنی محمدی بیگم کی طرف اشارہ ہے،
کیونکہ جب وہ میری بیوی بنے گی تو احمدی ہوگی اور میں احمد بن جاؤں گا، ...سبحان اللہ... سوال یہ ہے کہ وہ نکاح تو
نہیں ہوا، اور ساری عمر نہیں ہوا، اُس نے بیوہ ہونے سے انکار کردیا، اب مسلمانوں کا نکاح پر تو نکاح ہوتا نہیں، اگر
محمدی بیگم کا شوہر سلطان سیز فائر کرتا تو کچھ توقع ہوسکتی تھی، کینڈی ڈیٹ مل جاتے، امیدوار بن جاتے، اُس نے سیٹ
نہیں فارغ کی، وہ سلطان محمد کی منکوحہ رہی۔
میں نے ایک رسالے میں لکھا تھا کہ مقابلہ ’’غلام‘‘ اور ’’سلطان‘‘ کا تھا، ایک طرف غلام احمد اور دوسری سلطان محمد،
تو محمدی بیگم کی مت ماری گئی تھی کہ وہ ’’سلطان‘‘ کو چھوڑ کر ’’غلام‘‘ کے پاس جائے؟
خیر! وہ تو فارغ نہیں ہوئی اور محمدی بیگم کا غلام احمد سے نکاح نہیں ہوا، تو یہ الہام کیونکر صحیح ہوا؟
392
یہ تین الہام اکٹھے تھے، جو مرزا غلام احمد قادیانی کو ہوئے،’’یا اٰدم اسکن انت وزوجک
الجنۃ‘‘ وہ بیوی (بقول مرزا کے) کافروں کے ساتھ مل گئی، کیا غلام احمد اس کے ساتھ جہنم میں جائے گا؟
اور دوسرا الہام ہوا تھا: ’’یا مریم ادخل انت وزوجک الجنۃ‘‘ یہ مریم کون تھی؟ اور اس کا
زوج کون تھا؟ اور جنت میں کیسے داخل ہوئے؟
اور تیسرا الہام تھا:’’یا احمد ادخل انت وزوجک الجنۃ‘‘ وہ احمد کیسے بنا جب وہ بیوی اس
کے نکاح میں نہیں آئی، تو الہام کیسے صحیح ہوا؟
مرزا سب جھوٹوں کا جھوٹا:
میں کہتا ہوں ...۔ کہ مجھ پر بھی اللہ تعالیٰ نے یہ راز کھول دیا ہے کہ حق تعالیٰ شانہ نے مرزا غلام احمد قادیانی
کی ایک ایک بات جھوٹ کردی ہے، آدمی کو دعویٰ نہیں کرنا چاہئے بری بات ہے، لیکن ایک بات کہتا ہوں کہ دنیا میں جتنے
جھوٹے ہوئے ہیں، ہر ایک کا جھوٹ مرزا غلام احمد قادیانی میں موجود تھا۔
مرزا کی کسی کتاب کا کوئی صفحہ جھوٹ اور کفر سے خالی نہیں:
میرا ایک دعویٰ تو یہ ہے، اور دوسرا دعویٰ یہ کرتا ہوں کہ مرزا کی کوئی کتاب کھول لو، جہاں سے چاہو کھول لو، میں
ثابت کردوں گا کہ یہ بات جھوٹ ہے، کوئی صفحہ جھوٹ سے خالی نہیں، کوئی صفحہ کفر سے خالی نہیں، کوئی صفحہ دجل سے خالی
نہیں، کوئی صفحہ بے ایمانی سے خالی نہیں اور کوئی صفحہ لغویات سے خالی نہیں، میں پوچھتا ہوں کہ تمہیں ’’مسیحِ
موعود‘‘ بنانا ہی تھا تو ایسے کو کیوں بنایا؟ کسی اچھے بھلے کو تو بناتے...!
مرزا تو اِنسان ہی نہیں تھا:
میں اپنے قادیانی دوستوں کی خدمت میں ایک دفعہ پھر عرض کرتا ہوں، مجھ سے سمجھو! اگر کوئی بات تمہاری سمجھ میں نہیں
آئی تو میں سمجھانے کے لئے حاضر ہوں، رَبّ کعبہ کی قسم! مرزا غلام احمد نہ نبی ہے، نہ مہدی ہے، نہ مسیحِ موعود ہے،
نہ مجدّد ہے، نہ عالم فاضل ہے،
393
اور نہ انسان ہے، وہ بیچارا تو خود کہتا ہے:
-
کرمِ خاکی ہوں مرے پیارے، نہ آدم زاد ہوں!
ہوں بشر کی جائے نفرت اور انسانوں کی عار!
مرزا انسانیت کے لئے عار ہے!
آدمی کے پورے وجود میں جو جائے نفرت ہوتی ہے، جس کو چھپاکر لوگ رکھتے ہیں، اور اسے ننگا نہیں کرتے، کیونکہ اس سے
نفرت آتی ہے، وہ کون سی جگہ ہے؟ سب جانتے ہیں وہ انسان کی شرم گاہ ہے! اس لئے وہ کہتا ہے: ’’ہوں بشر کی جائے نفرت
اور انسانوں کی عار‘‘ یعنی اس کا وجود انسانیت کے لئے عار تھا، تم نبوّت لئے پھرتے ہو، مسیحیت لئے پھرتے ہو۔
اب آخر میں آپ کی خدمت میں عرض کرتا ہوں کہ ابھی مولانا اللہ وسایا نے کہا تھا کہ: ’’تمہیں ان کا کچھ تدارک کرنا
چاہئے، یہ تو دجال اور خرِ دجال ہیں، ان کا عیسیٰ علیہ السلام ہی علاج کریں گے۔‘‘
مرزائیوں سے بات کرنا سیکھو!
لیکن میں تم سے اتنی بات کہنا چاہتا ہوں کہ ایک ایک بات مرزے کی سیکھ لو، اور محمد عربی صلی اللہ علیہ وسلم کے
اُمتی ہونے کے ناطے سے اپنے ذمہ فرض سمجھو کہ میں نے قادیانیوں سے بات کرنی ہے، جتنی باتیں میں نے سمجھائی ہیں ان کو
یاد کرلو، حوالے لے لو، میں ان کی کتابوں کے حوالے دے دوں گا، مجھ سے حوالے لے لو، اور ایک ایک آدمی، ایک ایک
قادیانی سے ملے اور یہ بات پوچھے، کیوں بھائی! اس پر تیار ہوگے؟ صحیح صحیح بتاؤ! (لوگوں نے کہا اِن شاء اللہ)۔
اپنے اپنے دائرہ میں کام کرو!
بھائی! تم سنجیدہ حضرات ہو، میں کہتا ہوں اگر تم بہت بڑے افسر ہو تو تم اپنی سطح کے افسروں سے بات کرسکتے ہو، اگر
تم مزدور ہو تو مزدوروں سے بات کرسکتے ہو، اگر تاجر ہو
394
تو تاجروں سے بات کرسکتے ہو، وکیل ہو تو وکیلوں سے بات کرسکتے ہو، حوالے مجھ سے لو، دو اور دو چار کی طرح
کے حقائق ہیں، اگر اس میں کسی قسم کا کوئی شک و شبہ تمہیں پیدا ہو، تو ان کے لئے میں جرمانہ دینے کے لئے تیار ہوں۔
شک و شبہ والی بات ہی نہیں۔
کذبِ مرزا کا سورج نکلا ہوا ہے:
سورج نکلا ہوا ہے، سورج نکلنے کے بعد تو ہر چیز روشن ہوتی ہے، اگر کوئی آنکھیں بند کرلے تو اُس کی مرضی ہے، غلام
احمد کے جھوٹ کا سورج نکلا ہوا ہے، جو سیاہ اور کالے رنگ کا حبشی ہے، اب کوئی کہے کہ اس کالے حبشی کو جس کی آنکھیں
دھنسی ہوئی ہیں، جبڑے ایسے ہیں، شکل بگڑی ہوئی ہے، یا سبحان اللہ ’’چندے آفتاب و چندے ماہتاب‘‘ ہے، اور اللہ نے
حسنِ یوسف سب کا سب اِسی کو دے دیا ہے، تو پھر اس کی نظر کا قصور ہوگا۔
قادیانیوں کو بھاگنے پر مجبور کردو!
میں دُعا کرتا ہوں کہ اللہ سبحانہ وتعالیٰ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہر اُمتی کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ
وسلم کی ختمِ نبوّت کا خادم بنائے اور قادیانیوں کی ہدایت کا ذریعہ بنائے، میں نے سنا ہے کہ یہاں قادیانیوں کے دو
ڈھائی سو گھر ہیں، میرا جی چاہتا ہے کہ تمہارا شہر قادیانیوں سے پاک ہوجائے، یا تو یہ مسلمان ہوجائیں یا پھر دُم
دباکر بھاگنے والے بنیں، اتنا اِن کو تنگ کردو، میں ڈنڈا مارنے کو نہیں کہتا، ان سے باتیں کرو، باتوں سے ان کو تنگ
کرو، ان سے ایک ایک بات پوچھو، روزانہ میں ایک بات بتلانے کے لئے تیار ہوں، سال کے تین سو پینسٹھ دنوں میں سے روزانہ
مجھ سے ایک ایک بات غلام احمد کے جھوٹا ہونے کی پوچھو اور ہر دن نئی بات نئی دلیل مانگتے جاؤ، میں دیتا جاؤں گا،
حوالے کے ساتھ، اور وہ حوالہ قادیانیوں کے سامنے پیش کردو، وہ پانی نہیں مانگیں گے، جیسے سانپ کا ڈسا ہوا پانی نہیں
مانگتا، اللہ تمہیں توفیق عطا فرمائے اور آپ حضرات کا شکریہ ادا کرتا ہوں کہ آپ حضرات بہت جم کر بیٹھے۔
وَآخِرُ دَعْوَانَا اَنِ الْحَمْدُ للہِ رَبِّ الْعَالَمِیْنَ
395
مرزا جی کی ذہنی اور فکری صلاحیت!
ایک فریب خوردہ مرزائی کے نام
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ
نَحْمَدُہٗ وَنُصَلِّیْ عَلٰی رَسُوْلِہِ الْکَرِیْمِ، اَمَّا بَعْدُ!
ایک فریب خوردہ مرزائی کے نام
نامۂ کرم موجبِ عزت افزائی ہوا، میرا مقصد آنجناب کو طلبِ حق کی طرف توجہ دلانا ہے، بحثیں تو ایک مدت سے ہو ہی
رہی ہیں، اس لئے بحث برائے بحث نہ پہلے میرا مقصد تھا، نہ اب ہے۔
۱:... جب کوئی شخص دعویٰ لے کر اُٹھتا ہے تو ہمارا پہلا فرض یہ دیکھنا ہے کہ آیا یہ شخص اپنی عام گفتگو اور تحریر
و تقریر میں صدق شعار اور راست باز ہے یا نہیں؟ اور اس کی اخلاقی حالت کیسی ہے؟ ذہنی و فکری صحت کس معیار کی ہے؟ اگر
یہ ثابت ہوجائے کہ یہ مدعی اپنی تقریر و تحریر میں غلط بیانی اور کذب و اِفترا کا عادی ہے، یا اس کی اخلاقی حالت اور
ذہنی وفکری صحت ایک عام آدمی سے بھی فروتر ہے، تو اس کے دعوے کی طرف کوئی عقلمند التفات نہیں کرے گا۔
اس ناکارہ کو جناب مرزا صاحب سے کوئی ذاتی پرخاش نہیں، بلکہ ان کے دعوے پر غور کرنے کے لئے جب ان کی تحریروں کو
پڑھا تو معلوم ہوا کہ وہ اپنی تحریر و تقریر میں سچائی کے پابند نہیں، بلکہ ایسے ایسے جھوٹ بولتے ہیں کہ آدمی کانپ
جاتا ہے، چنانچہ ان کے جھوٹ کی تیس مثالیں تو اپنے مضمون میں (جو چوہدری ظفراللہ صاحب کے جواب میں لکھا گیا تھا) پیش
کرچکا ہوں، ان کے علاوہ ایک طویل فہرست ان کی غلط بیانیوں کی میرے سامنے پھیلی ہوئی ہے، اور آنجناب جتنی تعداد
چاہیں پوری کردوں گا، جس شخص کے سیکڑوں
396
جھوٹ ریکارڈ پر موجود ہوں، اسے لائقِ التفات آدمی سمجھنا صحیح نہیں۔
رہی اخلاقی حالت! سو وہ بھی اسی مضمون میں آچکی ہے، کیونکہ ان کی گالیوں کا نمونہ اس میں عرض کیا گیا ہے، جبکہ
مرزا صاحب فرماتے ہیں:
’’گالیاں دینا اور بدزبانی کرنا، طریقِ شرافت نہیں۔‘‘
(ضمیمہ اربعین نمبر:۳، ۴ ص:۵)
اسی مضمون میں ’’الحکم قادیان‘‘ کے حوالے سے یہ بھی بتاچکا ہوں کہ مرزا صاحب نامحرموں سے پاؤں دبواتے تھے۔
رہی دماغی صحت! اس کی طرف بھی اسی مضمون میں کتابوں کے حوالوں سے اشارہ کرچکا ہوں کہ مرزا صاحب مراق، ہسٹیریا،
ذیابیطس اور سلس البول ایسے امراض کے مریض تھے، یہ کتابیں موجود ہیں، اور آپ ان کا مطالعہ فرماسکتے ہیں۔
اب انصاف فرمائیے! جو شخص عام گفتگو میں بھی جھوٹا ثابت ہو، جس کی اخلاقی حالت، معیارِ شرافت سے گری ہوئی ہو، اور
جو باقرارِ خود مراق اور ہسٹیریا کا مریض ہو، اس کے دعوے کو صحیح سمجھنا تو کجا؟ اس کی طرف التفات کرنا بھی عقلاً،
شرعاً، اخلاقاً، دیانتاً روا ہے؟ اس لئے میں نے عرض کیا تھا کہ آپ سے مرزا صاحب کے دعوے کو ماننے میں غلطی ہوئی ہے۔
خدارا! اپنے عقیدے پر نظرِثانی کیجئے، اور خدا تعالیٰ سے دُعائیں کیجئے کہ وہ کریم ہدایت کی طرف دستگیری فرمائے۔
۲:... اور اگر کوئی شخص پہلے معیار پر پورا اُترتا ہے، یعنی وہ جھوٹا بھی نہیں، بداخلاق بھی نہیں، ذہنی مریض بھی
نہیں، تو اس کے بعد ہمارا فرض یہ ہوگا کہ یہ معلوم کریں کہ اس کا دعویٰ کیا ہے؟ اور اس کے دعوے کو اچھی طرح سمجھ
لیں، کیونکہ جب تک اس کا دعویٰ ہی منقح نہ ہو، اس کے صحیح یا غلط ہونے پر غور ہی نہیں ہوسکتا۔
جب ہم جناب مرزا صاحب کو اس معیار پر جانچتے ہیں تو ایسا محسوس ہوتا ہے کہ انہیں خود بھی معلوم نہیں تھا کہ ان کا
دعویٰ کیا ہے؟ انہوں نے اتنے مختلف اور متناقض دعوے کئے ہیں کہ ان کا منشا شاید وہ بھی نہیں جانتے تھے۔
397
قادیانی تیس جھوٹ
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ
نَحْمَدُہٗ وَنُصَلِّیْ عَلٰی رَسُوْلِہِ الْکَرِیْمِ، اَمَّا بَعْدُ!
مرزا غلام احمد قادیانی کے دعوؤں کی علمائے اُمت نے ہر پہلو سے قلعی کھول دی ہے، اور کوئی پہلو تشنہ نہیں چھوڑا،
انبیائے کرام علیہم السلام اور ان کے سچے وارثوں کا بنیادی وصف صدق و راست گفتاری ہے، نبی کی زبان پر کبھی خلاف
واقعہ بات آہی نہیں سکتی، اور جو شخص جھوٹ کا عادی ہو وہ نبی تو کجا شریف آدمی کہلانے کا بھی مستحق نہیں۔
جو لوگ نبوّت و رسالت یا مجددیت و مہدویت کے جھوٹے دعوے کرتے ہیں، حق تعالیٰ شانہ ان کی ذلت و رسوائی کے لئے ان کا
جھوٹ ان ہی کی زبان سے کھول دیتے ہیں، شیخ مُلّا علی قاریؒ ’’شرح فقہ اکبر‘‘ میں لکھتے ہیں:
’’ما من احد ادعی النبوۃ من الکذابین الّا وقد ظہر علیہ من الجھل والکذب لمن لہ ادنیٰ تمییز بل وقد قیل:
ما اسر احد سریرہٗ الّا اظھر اللہ علی صفحات وجہہٖ وفلتات لسانہٖ۔‘‘
(شرح فقہ اکبر ص:۷۳طبع مجتبائی)
ترجمہ:...’’جھوٹے لوگوں میں سے جس نے بھی نبوّت کا دعویٰ کیا، اللہ تعالیٰ نے معمولی عقل و تمیز کے شخص پر بھی اس
کا جہل و کذب واضح کردیا، بلکہ کہا گیا ہے کہ جس نے بھی اپنے دل میں کوئی بات چھپائی، اللہ تعالیٰ نے اس کے چہرے پر
اور زبان کی گفتگو میں اس کو ظاہر کرکے چھوڑا۔‘‘
398
راقم الحروف نے مرزا غلام احمد قادیانی کی کتابوں کا مطالعہ کیا تو اس نتیجہ پر پہنچا کہ مرزا کی تحریر میں سچائی
اور راستی کا تلاش کرنا کار عبث ہے، بڑے بڑے جھوٹے بھی کبھی سچی بات کہہ دیتے ہیں، لیکن مرزا نے گویا قسم کھا رکھی
ہے کہ وہ کلمہ طیبہ بھی پڑھے گا تو اس میں اپنے جھوٹ کی آمیزش ضرور کرے گا۔ پیش نظر مقالہ میں بطور نمونہ مرزا کے
تیس جھوٹ ذکر کئے گئے ہیں، دس آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر، دس حق تعالیٰ شانہ پر، اور دس حضرت عیسیٰ علیہ السلام
پر۔
آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات گرامی پر مرزا کے دس جھوٹ:
آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف کسی غلط بات کو منسوب کرنا خبیث ترین گناہ کبیرہ ہے، احادیث متواترہ میں اس پر
دوزخ کی وعید آئی ہے، اور جس شخص کے بارے میں معلوم ہوجائے کہ اس نے ایک بات بھی جھوٹی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم
کی طرف منسوب کی ہے، وہ مفتری اور کذاب ہے، اور اس کی کوئی بات اور کوئی روایت لائق اعتماد نہیں رہتی۔
مرزا غلام احمد قادیانی اس معاملہ میں نہایت بے باک اور جری تھا، وہ بات بات میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر
اِفترا پردازی کرنے کا عادی تھا، یہاں اس کی دس مثالیں پیش کرتا ہوں:
۱:...’’انبیائے گزشتہ کے کشوف نے اس بات پر مہر لگادی کہ وہ (مسیح موعود) چودھویں صدی کے سر پر ہوگا اور نیز یہ کہ
پنجاب میں ہوگا۔‘‘
(اربعین نمبر:۲ ص:۲۳)
انبیائے گزشتہ کی تعداد کم و بیش ہے، ان کی طرف مرزا نے دو باتیں منسوب کی ہیں، مسیح کا چودھویں صدی کے سر پر آنا،
اور پنجاب میں آنا، اور یہ نسبت خالص جھوٹ ہے، اس طرح مرزا نے صرف ایک فقرہ میں ڈھائی لاکھ جھوٹ جمع کرنے کا ریکارڈ
قائم کیا ہے۔
نوٹ:...پہلے ایڈیشن میں انبیائے گزشتہ کا لفظ تھا، بعد میں اس کی جگہ ’’اولیائے
399
گزشتہ‘‘ کا لفظ کردیا گیا، اس تحریف کے بعد بھی جھوٹ کی سنگینی میں کچھ کمی نہیں ہوئی۔
۲:...’’مسیح موعود کی نسبت تو آثار میں یہ لکھا ہے کہ علماء اس کو قبول نہیں کریں گے۔‘‘
(ضمیمہ براہین احمدیہ پنجم ص:۱۸۶، روحانی خزائن ج:۲۱ص:۳۵۷)
آثار کا لفظ کم از کم تین احادیث پر بولا جاتا ہے، حالانکہ یہ مضمون کسی حدیث میں نہیں۔
۳:...’’ایسا ہی احادیث صحیحہ میں آیا تھا کہ وہ (مسیح موعود) صدی کے سر پر آئے گا اور چودھویں صدی کا مجدد ہوگا
......۔ اور لکھا تھا کہ وہ اپنی پیدائش کی رو سے دو صدیوں پر اشتراک رکھے گا اور دو نام پائے گا، اور اس کی پیدائش
دو خاندان سے اشتراک رکھے گی، اور چوتھی دوگونہ صفت یہ کہ اس کی پیدائش میں جوڑے کے طور پر پیدا ہوگا، سو یہ سب
نشانیاں ظاہر ہوگئیں۔‘‘
(ضمیمہ براہین پنجم ص:۱۸۸، روحانی خزائن ج:۲۱ص:۳۵۹)
اس فقرہ میں مرزا نے چھ باتیں احادیث صحیحہ کی طرف منسوب کی ہیں، حالانکہ ان میں سے ایک بات بھی کسی ’’حدیث صحیح‘‘
میں نہیں آئی، اس لئے اس فقرے میں اٹھارہ جھوٹ ہوئے۔
۴:...’’ایک مرتبہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے دوسرے ملکوں کے انبیاء کی نسبت سوال کیا گیا تو آپ نے یہی فرمایا
کہ ہر ایک ملک میں خدا تعالیٰ کے نبی گزرے ہیں اور فرمایا کہ: ’’کان فی الھند نبیا اسود اللون
اسمہ کاھنا‘‘ یعنی ہند میں ایک نبی گزرا جو سیاہ رنگ کا تھا اور نام اس کا کاہن تھا، یعنی کنہیا جس کو کرشن
کہتے ہیں۔‘‘
(ضمیمہ چشمہ معرفت ص:۱۰، روحانی خزائن ج:۲۳ص:۳۸۲)
400
مرزا کی ذکر کردہ حدیث کسی کتاب میں موجود نہیں، اس لئے یہ خالص اِفترا ہے، ظالم کو عربی کی صحیح عبارت بھی نہ
بنانی آئی، ’’سیاہ رنگ‘‘ شاید اپنی تصویر دیکھ کر یاد آگیا۔
۵:...’’اور آپ سے پوچھا گیا کہ زبان پارسی میں بھی کبھی خدا نے کلام کیا ہے تو فرمایا کہ ہاں خدا کا کلام زبانِ
پارسی میں بھی اترا ہے، جیسا کہ وہ اس زبان میں فرماتا ہے:ایں مشت خاک راگر نہ بخشم چہ
کنم۔‘‘
(ضمیمہ چشمہ معرفت ص:۱۰، روحانی خزائن ج:۲۳ص:۳۸۲)
یہ مضمون بھی کسی حدیث میں نہیں، خالص جھوٹ اور اِفترا ہے۔
۶:...’’آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ جب کسی شہر میں وبا نازل ہو تو اس شہر کے لوگوں کو چاہئے کہ
بلاتوقف اس شہر کو چھوڑ دیں۔‘‘
(اشتہار مریدوں کے لئے ہدایت مؤرخہ ۱۲؍اگست ۱۹۰۷ء)
وبا کی جگہ کو بلاتوقف چھوڑ دینے کا حکم کسی حدیث میں نہیں، یہ خالص مرزائی جھوٹ ہے، بلکہ اس کے برعکس حکم ہے کہ اس
جگہ کو نہ چھوڑا جائے:
’’واذا وقع بارض وانتم بھا فلا تخرجوا فرارا منہ۔‘‘
(متفق علیہ مشکوٰۃ ص:۱۳۵)
۷:...’’افسوس ہے کہ وہ حدیث بھی اسی زمانہ میں پوری ہوئی جس میں لکھا تھا کہ مسیح کے زمانہ کے علماء ان سب لوگوں سے
بدتر ہوں گے جو زمین پر رہتے ہیں۔‘‘
(اعجاز احمدی ص:۱۳، روحانی خزائن ج:۱۹ص:۱۲۰)
مسیح کے زمانہ کے علماء کے بارے میں یہ بات ہرگز نہیں فرمائی گئی، یہ ایک طرف آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر اِفترا
ہے اور دوسری طرف علمائے اُمت پر صریح بہتان ہے۔
۸:...’’چونکہ حدیث صحیح میں آچکا ہے کہ مہدی موعود کے
401
پاس ایک چھپی ہوئی کتاب ہوگی، جس میں اس کے تین سو تیرہ اصحاب کا نام درج ہوگا، اس لئے یہ بیان کرنا ضروری
ہے کہ وہ پیش گوئی آج پوری ہوگئی۔‘‘
(ضمیمہ انجام آتھم ص:۴۰، روحانی خزائن ج:۱۱ ص:۳۲۴)
’’چھپی ہوئی کتاب‘‘ کا مضمون کسی ’’صحیح حدیث‘‘ میں نہیں، لطف یہ ہے کہ مرزا نے اپنے تین سو تیرہ اصحاب کے جو نام
ازالہ اوہام میں لکھے تھے، ان میں سے کئی مرزا کی صحابیت سے نکل گئے، اس لئے یہ جھوٹی روایت بھی اس کی جھوٹی مہدویت
پر راست نہ آئی۔
۹:...’’مگر ضرور تھا کہ وہ مجھے کافر کہتے اور میرا نام دجال رکھتے کیونکہ احادیث صحیحہ میں پہلے سے یہ فرمایا تھا
کہ اس مہدی کو کافر ٹھہرایا جائے گا، اور اس وقت کے شریر مولوی اسے کافر کہیں گے، اور ایسا جوش دکھلائیں گے کہ اگر
ممکن ہوتا تو اس کو قتل کرڈالتے۔‘‘
(ضمیمہ انجام آتھم ص:۳۸، روحانی خزائن ج:۱۱ ص:۳۲۲)
اس عبارت میں تین باتیں ’’احادیث صحیحہ‘‘ کے حوالے سے کہی گئی ہیں، اور تینوں جھوٹ ہیں، اس لئے اس عبارت میں نو
جھوٹ ہوئے۔
۱۰:...’’بہت سی حدیثوں سے ثابت ہوگیا کہ بنی آدم کی عمر سات ہزار برس ہے، اور آخری آدم پہلے کی طرز ظہور پر الف
ششم کے آخر میں جو روز ششم کے حکم میں ہے پیدا ہونے والا ہے۔‘‘
(ازالہ اوہام ص:۶۹۶، روحانی خزائن ج:۳ ص:۴۷۵)
آخری آدم کا فسانہ کسی حدیث میں نہیں آتا، اس لئے یہ بھی خالص جھوٹ ہے، دنیا کی عمر کے بارے میں بعض روایات آتی
ہیں، مگر وہ روایات ضعیف ہیں، اور محدثین نے ان کو ’’ابین الکذب‘‘ سے تعبیر کیا ہے۔
(موضوعات کبیر ص:۱۶۲)
402
اِفترا علی اللہ کی دس مثالیں:
۱:...’’سورہ تحریم میں صریح طور پر بیان کیا گیا ہے کہ بعض افراد اس اُمت کا نام مریم رکھا گیا ہے، اور پھر پوری
اتباع شریعت کی وجہ سے اس مریم میں خدا تعالیٰ کی طرف سے روح پھونکی گئی اور روح پھونکنے کے بعد اس مریم سے عیسیٰ
پیدا ہوگیا اور اسی بنا پر خدا تعالیٰ نے میرا نام عیسیٰ بن مریم رکھا۔‘‘
(ضمیمہ براہین احمدیہ پنجم ص:۱۸۹، روحانی خزائن ج:۲۱ص:۳۶۱)
سورۂ تحریم سب کے سامنے موجود ہے، مرزا نے صریح طور پر جن امور کا سورہ تحریم میں بیان کیا جانا ذکر کیا ہے، کیا
یہ صریح اِفترا علی اللہ نہیں؟
۲:...’’لیکن مسیح کی راستبازی اپنے زمانہ میں دوسرے راستبازوں سے بڑھ کر ثابت نہیں ہوتی، بلکہ یحییٰ نبی کو اس پر
(یعنی عیسیٰ علیہ السلام پر) ایک فضیلت ہے کیونکہ وہ شراب نہیں پیتا تھا، اور کبھی نہیں سنا گیا کہ کسی فاحشہ عورت
نے آکر اپنی کمائی کے مال سے اس کے سر پر عطر ملا تھا، یا ہاتھوں اور اپنے سر کے بالوں سے اس کے بدن کو چھوا تھا،
یا کوئی بے تعلق جوان عورت اس کی خدمت کرتی تھی، اسی وجہ سے قرآن میں یحییٰ کا نام ’’حصور‘‘ رکھا، مگر مسیح کا یہ
نام نہ رکھا، کیونکہ ایسے قصے اس نام کے رکھنے سے مانع تھے۔‘‘
(دافع البلاء ص:۴، روحانی خزائن ج:۱۸ ص:۲۲۰)
حضرات انبیائے کرام کی طرف فواحش کا منسوب کرنا کفر ہے۔ مرزا قادیانی ایسے قصے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی طرف منسوب
کرتا ہے، اور ایسے کفر صریح کے لئے قرآن کریم کے لفظ ’’حصور‘‘ کا حوالہ دیتا ہے، یعنی اللہ تعالیٰ کے نزدیک حضرت
عیسیٰ علیہ السلام ان قصوں میں ملوث تھے، یہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام پر بہتان بھی ہے اور اِفترا علی اللہ بھی۔
403
۳:...’’اور اس عاجز کو جو خدا تعالیٰ نے آدم مقرر کرکے بھیجا ...... اور ضرور تھا کہ وہ ابن مریم جس کا انجیل اور
فرقان میں آدم بھی نام رکھا گیا ہے ......‘‘
(ازالہ اوہام ص:۶۹۶، روحانی خزائن ج:۳ ص:۴۷۵)
یہ کہنا کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا نام قرآن کریم میں آدم رکھا گیا ہے، خالص جھوٹ ہے، اور اس مضمون کو انجیل
سے منسوب کرنا دوسرا جھوٹ ہے، اور یہ کہنا کہ مرزا کو اللہ تعالیٰ نے آدم مقرر کرکے بھیجا ہے، یہ تیسرا جھوٹ ہے۔
۴:...’’اور مجھے بتلایا گیا تھا کہ تیری خبر قرآن اور حدیث میں موجود ہے، اور تو ہی اس آیت کا مصداق ہے کہ:ھو الذی ارسل رسولہ ...۔۔کلہ۔‘‘
(اعجاز احمدی ص:۷، روحانی خزائن ج:۱۹ ص:۱۱۳)
کون نہیں جانتا کہ اس آیت کریمہ کا مصداق آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات گرامی ہے، پس یہ کہنا کہ تیری خبر
قرآن میں ہے، ایک جھوٹ، حدیث میں ہے، دوسرا جھوٹ اور مرزا اس آیت کا مصداق ہے، تیسرا جھوٹ۔
اور ان تمام باتوں کو ’’مجھے بتلایا گیا ہے‘‘ کہہ کر اللہ تعالیٰ کی طرف منسوب کرنا بدترین اِفترا علی اللہ ہے۔
۵:...’’قادیان میں خدائے تعالیٰ کی طرف سے اس عاجز کا ظاہر ہونا الہامی نوشتوں میں بطور پیش گوئی کے پہلے سے لکھا
گیا تھا۔‘‘
(ازالہ اوہام ص:۷۲ حاشیہ، روحانی خزائن ج:۳ ص:۱۳۹)
یہ بھی سفید جھوٹ اور اِفترا علی اللہ ہے۔
۶:...’’لیکن ضرور تھا کہ قرآن شریف اور احادیث کی وہ پیش گوئیاں پوری ہوتیں جن میں لکھا تھا کہ مسیح موعود جب ظاہر
ہو گا تو اسلامی علماء کے ہاتھ سے دکھ اٹھائے گا، وہ اس کو کافر قرار دیں گے
404
اور اس کے قتل کے لئے فتوے دیئے جائیں گے، اور اس کی سخت توہین کی جائے گی اور اس کو دائرۂ اسلام سے خارج
اور دین کا تباہ کرنے والا خیال کیا جائے گا۔‘‘
(اربعین نمبر:۳ ص:۱۷، روحانی خزائن ج:۱۷ ص:۴۰۴)
ان چھ باتوں کو قرآن کریم کی پیش گوئیاں قرار دینا سفید جھوٹ اور اِفترا علی اللہ ہے۔
۷:...’’پھر خدائے کریم جل شانہ نے مجھے بشارت دے کر کہا کہ تیرا گھر برکت سے بھرے گا اور میں اپنی نعمتیں تجھ پر
پوری کروں گا اور خواتین مبارکہ سے جن میں تو بعض کو اس کے بعد پائے گا تیری نسل بہت ہوگی۔‘‘
(اشتہار ۲۰؍فروری ۱۸۸۶ء، مجموعہ اشتہارات ج:۱ ص:۱۰۲)
اس اشتہار کے بعد مرزا کے عقد میں کوئی خاتون نہیں آئی، نسل کیسے چلتی؟ اس لئے اس فقرے میں اللہ تعالیٰ کی طرف جو
بشارت منسوب کی گئی ہے یہ دروغ بے فروغ اور افترائے خالص ہے۔
۸:...’’الہام بکر و ثیب، یعنی خدا تعالیٰ کا ارادہ ہے کہ وہ دو عورتیں میرے نکاح میں لائے گا ایک بکر ہوگی اور
دوسری بیوہ، چنانچہ یہ الہام جو بکر سے متعلق تھا پورا ہوگیا ...... اور بیوہ کے الہام کی انتظار ہے۔‘‘
(ضمیمہ تریاق القلوب ص:۳۴، روحانی خزائن ص:۲۰۱)
مرزا کے نکاح میں کوئی ثیب نہیں، محمدی بیگم کے بیوہ ہونے کے انتظار میں ساری عمر کٹ گئی مگر وہ بیوہ نہ ہوئی، اس
لئے ’’بکر و ثیب‘‘ کا اِلہام محض اِفترا علی اللہ ثابت ہوا۔
۹:...’’شاید چار ماہ کا عرصہ ہوا کہ اس عاجز پر ظاہر ہوگیا تھا کہ ایک فرزند قوی الطاقتین کامل الظاہر والباطن تم
کو عطا کیا جائے گا سو اس کا نام بشیر ہوگا ...۔۔ اب زیادہ تر الہام اس بات پر ہو رہے ہیں کہ عنقریب ایک نکاح تمہیں
کرنا پڑے گا، اور جناب الٰہی میں یہ قرار
405
پاچکی ہے کہ ایک پارسا طبع اور نیک سیرت اہلیہ تمہیں عطا ہوگی وہ صاحب اولاد ہوگی۔‘‘
(مکتوبات احمدیہ ج:۵ ص:۲)
یہ سارا مضمون سفید جھوٹ ثابت ہوا۔
۱۰:...’’اس خدائے قادر و حکیم و مطلق نے مجھے فرمایا کہ اس شخص (احمد بیگ) کی دختر کلاں (محترمہ محمدی بیگم مرحومہ)
کے لئے سلسلہ جنبانی کر ...... پھر ان دنوں جو زیادہ تصریح کے لئے بار بار توجہ کی گئی تو معلوم ہوا کہ خدا تعالیٰ
نے مقرر کر رکھا ہے کہ وہ مکتوب الیہ کی دختر کلاں کو جس کی نسبت درخواست کی گئی تھی ہر ایک روک دور کرنے کے بعد
انجام کار اسی عاجز کے نکاح میں لاوے گا۔‘‘
(اشتہار ۱۰؍جولائی ۱۸۸۸ء)
یہ بھی دروغ خالص ثابت ہوا، مرزا، محمدی بیگم کی حسرت لے کر دنیا سے رخصت ہوا، اس عفت مآب کا سایہ بھی مدۃ العمر
نصیب نہ ہوا، اور اس سلسلہ میں جتنے ’’الہامات‘‘ گھڑے تھے، سب جھوٹ کا پلندہ ثابت ہوئے، مرزا نے اس نکاح کے سلسلہ
میں کہا تھا:
’’یاد رکھو! کہ اس پیش گوئی کی دوسری جزو (یعنی سلطان محمد کا مرنا اور اس کی بیوہ کا مرزا کے نکاح میں آنا) پوری
نہ ہوئی تو میں ہر بد سے بدتر ٹھہروں گا۔‘‘
(ضمیمہ انجام آتھم ص:۵۴، روحانی خزائن ج:۱۱ ص:۳۳۸)
اللہ تعالیٰ نے ثابت کردیا کہ مرزا واقعتا اپنے اس فقرہ کا مصداق تھا۔
یہ بیس مثالیں خدا و رسولؐ پر اِفترا کی تھیں، اب دس مثالیں حضرت عیسیٰ علیہ السلام پر اِفترا کی ملاحظہ فرمائیے
حضرت عیسیٰ علیہ السلام پر دس جھوٹ:
۱:...’’یہ بات بالکل غیرمعقول ہے کہ آنحضرت صلی اللہ
406
علیہ وسلم کے بعد کوئی ایسا نبی آنے والا ہے کہ جب لوگ نماز کے لئے مسجد کی طرف دوڑیں گے تو وہ کلیسا کی
طرف بھاگے گا، اور جب لوگ قرآن شریف پڑھیں گے تو وہ انجیل کھول بیٹھے گا، اور جب لوگ عبادت کے وقت بیت اللہ کی طرف
منہ کریں گے تو وہ بیت المقدس کی طرف متوجہ ہوگا، اور شراب پئے گا اور سور کا گوشت کھائے گا، اور اسلام کے حلال و
حرام کی کچھ پرواہ نہ کرے گا۔‘‘
(حقیقۃ الوحی ص:۲۹)
مرزا کا اشارہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی طرف ہے، جن کی تشریف آوری کے مسلمان قائل ہیں، مگر مرزا نے ان کی طرف جو
چھ باتیں منسوب کی ہیں، یہ نہ صرف صریح جھوٹ بلکہ شرمناک بہتان ہے۔
۲:...’’یورپ کے لوگوں کو جس قدر شراب نے نقصان پہنچایا اس کا سبب تو یہ تھا کہ عیسیٰ علیہ السلام شراب پیا کرتے
تھے۔‘‘
(حاشیہ کشتی نوح ص:۷۳، روحانی خزائن ج:۱۹ ص:۷۱)
۳:...’’مسیح ایک لڑکی پر عاشق ہوگیا تھا جب استاد کے سامنے اس کے حسن و جمال کا تذکرہ کر بیٹھا تو استاد نے اس کو
عاق کردیا ...... یہ بات پوشیدہ نہیں کہ کس طرح مسیح ابن مریم جوان عورتوں سے ملتا اور کس طرح ایک بازاری عورت سے
عطر ملواتا تھا۔‘‘
(الحکم ۲۱؍فروری ۱۹۰۲ء)
۴:...’’اور یسوع اس لئے اپنے تئیں نیک نہیں کہہ سکا کہ لوگ جانتے تھے کہ یہ شخص شرابی کبابی ہے، اور یہ خراب چال
چلن نہ خدائی کے بعد بلکہ اِبتدا ہی سے ایسا معلوم ہوتا ہے چنانچہ خدائی کا دعویٰ شراب خوری کا ایک بدنتیجہ تھا۔‘‘
(حاشیہ ست بچن ص:۱۷۲، روحانی خزائن ج:۱۰ص:۲۹۶)
407
ان تینوں حوالوں میں شراب نوشی اور دیگر گندگیوں کی جو نسبت حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی طرف کی گئی ہے، یہ نہایت
گندا بہتان ہے، اور ہمارے پاس وہ الفاظ نہیں جن سے اس گندے بہتان کی مذمت کرسکیں، اور ہم یہ تصور نہیں کرسکتے کہ
کوئی شخص فحاشی و بدگوئی اور کمینہ پن کی اس سطح پر بھی اتر سکتا ہے!!
۵:...’’ہائے کس کے آگے یہ ماتم لے جائیں کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی تین پیش گوئیاں صاف طور پر جھوٹی نکلیں۔‘‘
(اعجاز احمدی ص:۱۴، روحانی خزائن ج:۱۹ص:۱۲۱)
حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی پیش گوئیوں کو جھوٹا کہنا سفید جھوٹ اور صریح کفر ہے۔
۶:...’’عیسائیوں نے بہت سے آپ کے معجزات لکھے ہیں، مگر حق بات یہ ہے کہ آپ سے کوئی معجزہ نہیں ہوا ...... آپ سے
کوئی معجزہ بھی ظاہر ہوا تو وہ معجزہ آپ کا نہیں بلکہ اس تالاب کا معجزہ ہے۔‘‘
(ضمیمہ انجام آتھم ص:۶، روحانی خزائن ج:۱۱ ص:۲۹۰)
حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے معجزات کی نفی نہ صرف کذب صریح ہے بلکہ قرآن کریم کی کھلی تکذیب ہے، اور عجیب تر یہ کہ
’’تالاب کا معجزہ‘‘ ماننے کے لئے تیار ہے مگر حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا معجزہ ماننے پر تیار نہیں۔
۷:...’’اب یہ بات قطعی اور یقینی طور پر ثابت ہوچکی ہے کہ حضرت مسیح ابن مریم باذن و حکم الٰہی الیسع نبی کی طرح اس
عمل الترب (مسمریزم) میں کمال رکھتے تھے۔‘‘
(حاشیہ ازالہ اوہام ص:۳۰۸، روحانی خزائن ج:۳ ص:۲۵۷)
حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی طرف مسمریزم کی نسبت کرنا ایک جھوٹ، ان کے معجزات کو مسمریزم کا نتیجہ قرار دینا دوسرا
جھوٹ، اس پر ’’باذن و حکم الٰہی‘‘ کا اضافہ تیسرا جھوٹ، اور حضرت مسیح علیہ السلام کو اس میں لپیٹنا چوتھا جھوٹ۔
۸:...’’حضرت مسیح ابن مریم اپنے باپ یوسف کے ساتھ
408
بائیس برس تک نجاری کا کام کرتے رہے ہیں اور ظاہر ہے کہ بڑھئی کا کام درحقیقت ایک ایسا کام ہے جس میں کلوں
کے ایجاد کرنے اور طرح طرح کی صنعتوں کے بنانے میں عقل تیز ہوجاتی ہے۔‘‘
(حاشیہ ازالہ اوہام ص:۳۰۳، روحانی خزائن ج:۳ ص:۲۵۵)
یوسف نجار کو حضرت مسیح علیہ السلام کا باپ کہنا ایک جھوٹ، حضرت مسیح علیہ السلام کو بڑھئی کہنا دوسرا جھوٹ، اور ان
کے معجزات کو نجاری کا کرشمہ کہنا تیسرا جھوٹ۔
۹:...’’بہرحال مسیح کی یہ تربی کاروائیاں زمانہ کے مناسب حال بطور خاص مصلحت کے تھیں، مگر یاد رکھنا چاہئے کہ یہ
عمل ایسا قدر کے لائق نہیں، جیسا کہ عوام الناس اس کو خیال کرتے ہیں، اگر یہ عاجز اس عمل کو مکروہ اور قابل نفرت نہ
سمجھتا تو خدا تعالیٰ کے فضل و توفیق سے امید رکھتا تھا کہ ان عجوبہ نمائیوں میں حضرت ابن مریم سے کم نہ رہتا۔‘‘
(حاشیہ ازالہ اوہام ص:۳۰۹، روحانی خزائن ج:۳ ص:۲۵۷)
حضرت مسیح علیہ السلام کے معجزات کو تربی کاروائیاں کہنا، انہیں مکروہ اور قابل نفرت کہنا صریح بہتان اور تکذیب
قرآن ہے، حضرت عیسیٰ علیہ السلام سے برتری کی امید رکھنا اور اس کو فضل و توفیق خداوندی کی طرف منسوب کرنا صریح کفر
اور اِفترا علی اللہ ہے۔
۱۰:...’’آپ کی انہیں حرکات سے آپ کے حقیقی بھائی آپ سے سخت ناراض رہتے تھے، اور ان کو یقین ہوگیا تھا کہ آپ کے
دماغ میں ضرور کچھ خلل ہے اور وہ ہمیشہ چاہتے رہے کہ کسی شفاخانہ میں آپ کا باقاعدہ علاج ہو، شاید خدا تعالیٰ شفا
بخشے۔‘‘
(ضمیمہ انجام آتھم ص:۶، روحانی خزائن ج:۱۱ ص:۲۹۰)
’’یسوع درحقیقت بوجہ بیماری مرگی کے دیوانہ ہوگیا تھا۔‘‘
(حاشیہ ست بچن ص:۱۷۱، روحانی خزائن ج:۱۰ ص:۲۹۵)
409
حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی طرف نعوذباللہ! خلل دماغ، مرگی اور دیوانگی کی نسبت کرنا سفید جھوٹ ہے، یہ اور اس قسم کی
دیگر تحریریں غالباً مرزا نے ’’مراق‘‘ کی حالت میں لکھی ہیں، جس کا اس نے خود کئی جگہ اعتراف کیا ہے، یہ مرزا کے
جھوٹ کے تیس نمونے پیش کئے گئے ہیں، جن سے معلوم ہوسکتا ہے کہ مرزا کو سچائی اور راستی سے کتنی نفرت تھی، اس تحریر
کو مرزا کی ایک عبارت پر ختم کرتا ہوں:
’’ظاہر ہے کہ جب ایک بات میں کوئی جھوٹا ثابت ہوجائے تو پھر دوسری باتوں میں بھی اس پر اعتبار نہیں رہتا۔‘‘
(چشمہ معرفت ص:۲۲۲، روحانی خزائن ج:۲۳ص:۲۳۱)
اللہ تعالیٰ ہر مسلمان کو ایسے جھوٹے سے بچائے اور مرزائیوں کو بھی اس جھوٹ سے نکلنے کی توفیق عطا فرمائے۔
سُبْحٰنَ رَبِّکَ رَبِّ الْعِزَّۃِ عَمَّا یَصِفُوْنَ
وَسَلٰمٌ عَلَی الْمُرْسَلِیْنَ وَالْحَمْدُ للہِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ
(ہفت روزہ ختمِ نبوّت کراچی ج:۱ ش:۲۵)
410
معیارِ نبوّت اور مرزا قادیانی
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ
’’محترم مولانا صاحب! السلام علیکم
آپ کو تھوڑی سی زحمت دینا چاہتا ہوں، امید ہے آپ اس سلسلے میں میری مدد فرماکر ضرور میری حوصلہ افزائی کریں گے۔
دراصل میرا واسطہ ایک احمدی (یہ لکھنا اور کہنا صحیح نہیں، انہیں قادیانی یا مرزائی لکھا جائے...ناقل) سے پڑا اور جب
میں نے اس کو احمدیت چھوڑ دینے کے لئے کہا تو اس نے درج ذیل وضاحت طلب نقاط رکھے، میں آپ کی خدمت میں پیش کر رہا
ہوں، تاکہ آپ اس سلسلہ میں مدلل جواب دیں، جس پر وہ لاجواب ہوجائے اور دین حق کو قبول کرلے۔
الف:...بقول مرزا غلام احمد کے: قرآن شریف میں اللہ تعالیٰ حضورؐ کو کہتا ہے کہ: ’’اگر وہ مجھ پر اِفترا کرتا تو
میں اسے فی الفور پکڑلیتا، اور اس کی رگِ جان کاٹ دیتا۔‘‘
(انجام آتھم ص:۴۹)
اب میں اس سلسلہ میں آپ سے پوچھنا چاہوں گا:
۱:...کہ یہ بات اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں کس مقام پر کہی ہے؟
۲:...اس قرآنی آیت سے درحقیقت کیا مراد ہے؟
۳:...کیا دنیا میں جتنے بھی جھوٹے نبی آئے، یعنی جنہوں نے اللہ تعالیٰ پر اِفترا کیا، ان سب کی اللہ تعالیٰ نے رگِ
جان کاٹ دی، اور وہ قتل ہوئے؟ یا کچھ ایسے بھی تھے جو قتل نہیں ہوئے بلکہ وہ
411
طبعی موت مرے، باوجود اس کے کہ وہ اللہ پر اِفترا کرتے رہے، ان کی مثالیں ضرور دیجئے۔
ب:...مرزا غلام احمد نے ضمیمہ انجام آتھم کے صفحہ:۴۶، ۴۷، ۴۸، ۴۹ پر ایک دار قطنی کی حدیث جو امام باقر سے مروی ہے
نقل کی ہے، اور بقول ان کے حدیث کے الفاظ یہ ہیں:
’’ان لمھدینا آیتین لم تکونا منذ خلق السمٰوات والأرض ینکسف القمر لأول لیلۃ من رمضان وتنکسف الشمس فی
النصف منہ ولم تکونا منذ خلق السمٰوات والأرض۔‘‘
(ضمیمہ انجام آتھم ص:۴۶، روحانی خزائن ج:۱۱ ص:۳۳۰)
ترجمہ:...’’ہمارے مہدی کے دو نشان ہیں، یہ نشان آسمان و زمین کی پیدائش سے لے کر کبھی ظاہر نہیں
ہوئے، ایک تو یہ کہ چاند کو پہلی رات میں گرہن لگے گا، اور دوسرا یہ کہ سورج کو اسی رمضان کی درمیانی تاریخ میں گرہن
لگے گا، اور یہ دونوں باتیں آسمان و زمین کی پیدائش کے وقت سے کبھی نہیں ہوئیں۔‘‘
اس کی تشریح کرتے ہوئے مرزا کہتا ہے کہ ۱۸۹۴ء رمضان کی ۱۳تاریخ کو چاند اور ۲۸ تاریخ کو ہونے والا سورج گرہن ایسا
تھا، جو اس کے لئے بطور نشان تھا، اور یہ کبھی نہیں ہوا کہ ان تاریخوں میں یعنی ۱۲؍ کو چاند گرہن اور ۲۸؍ کو سورج
گرہن ہوا ہو، اور اس دوران کوئی مدعی نبوّت یا مہدویت بھی ہو، اور یہ کہ رمضان کی پہلی رات کو چاند گرہن کا مطلب
۱۳؍تاریخ اس لئے ہے کہ ہمیشہ رمضان میں چاند گرہن ۱۳، ۱۴، ۱۵ تاریخ کو لگتا ہے، اور سورج گرہن جو رمضان کی رات ہوا
اس سے مراد ۲۸ کی رات ہے،
412
کیونکہ ہمیشہ رمضان میں سورج گرہن ۲۷، ۲۸، ۲۹کو ہوتا ہے۔
سوال یہ ہے کہ:
۱:...آپ اس حدیث کے معانی کی تشریح کریں۔
۲:...مرزا نے جو تشریح کی ہے، اس پر تبصرہ کریں۔
۳:...اور ۱۸۹۴ء میں ہونے والے خسوف و کسوف کی کیا حقیقت تھی؟
ج:...مرزا نے براہین احمدیہ حصہ پنجم کے صفحہ:۱۵ پر لکھا ہے کہ قرآنی آیت: ’’فَلَمَّا
تَوَفَّیْتَنِیْ‘‘ کا مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ قیامت کے دن عیسیٰ علیہ السلام سے پوچھیں گے کہ کیا عیسیٰ
تو نے لوگوں کو کہا تھا کہ وہ تجھے اور تیری ماں کو معبود ٹھہرائیں؟ تو عیسیٰ جواب دیں گے کہ جب تک میں اپنی قوم میں
تھا، تو میں ان کے حالات سے مطلع تھا اور گواہ تھا، پھر جب تو نے مجھے وفات دے دی تو پھر تو ہی ان کے حالات سے واقف
تھا، یعنی بعد وفات کے مجھے ان کے حالات کی کچھ خبر نہیں۔
مرزا اس آیت سے دو باتیں ثابت کرتا ہے:
۱:...یہ کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام اس آیت میں اقرار کرتے ہیں کہ جب تک میں ان میں تھا، میں ان کا محافظ تھا، اور
وہ میرے روبرو نہیں بگڑے، پس اگر یہ فرض کرلیا جائے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام اب تک آسمان پر زندہ ہیں تو ساتھ ہی
اقرار کرنا پڑے گا کہ عیسائی بھی بگڑے نہیں، کیونکہ اس آیت میں عیسائیوں کا بگڑنا، ’’فَلَمَّا
تَوَفَّیْتَنِیْ‘‘ کا نتیجہ ٹھہرایا گیا ہے، یعنی حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی وفات پر موقوف رکھا گیا ہے،
جبکہ ظاہر ہے کہ عیسائی بگڑ چکے ہیں تو ساتھ ہی ماننا پڑتا ہے کہ عیسیٰ بھی فوت ہوچکے ہیں، ورنہ تکذیب
413
آیت قرآنی لازم آتی ہے۔
۲:...آیت میں صریح طور پر بتایا گیا ہے کہ حضرت عیسیٰ ؑ عیسائیوں کے بگڑنے کی نسبت سے لاعلمی ظاہر کریں گے اور
کہیں گے مجھے تو ان کے حالات کی اس وقت تک کی خبر ہے جب تک میں ان میں تھا، اور بعد وفات کے کچھ خبر نہیں، اگر حضرت
عیسیٰ ؑ دوبارہ دنیا میں آئے ہوتے اور عیسائیوں کی ضلالت پر بھی اطلاع پاتے تو پھر ان کا یہ عذر محض دروغ گوئی
ٹھہرتا، اور اس کا جواب تو خدا تعالیٰ کی طرف سے یہ ہونا چاہئے تھا کہ اے گستاخ شخص! میرے روبرو کیوں جھوٹ بولتا ہے،
اور کیوں محض دروغ گوئی کے طور پر کہتا ہے کہ مجھے بگڑنے کی کچھ خبر نہیں۔ حالانکہ تجھے معلوم ہے کہ میں نے قیامت سے
پہلے دوبارہ تجھے دنیا میں بھیجا تھا، تو تو نے عیسائیوں سے لڑائیاں کی تھیں، صلیب توڑی تھی اور خنزیر قتل کئے تھے،
تو پھر ایسا عقیدہ رکھنا کہ وہ دوبارہ آئیں گے، سے ظاہر اً وہ دروغ گو نعوذباللہ! ٹھہرتے ہیں۔ اب دریافت طلب امور
یہ ہیں:
۱:...اس آیت کی اصل تشریح کیا ہے؟
۲:...مرزا کی تشریح پر تبصرہ کریں۔
مجھے امید ہے کہ آپ جلد از جلد اس سلسلہ میں آسان اور واضح جواب بھیج کر حوصلہ افزائی فرمائیں گے، نوازش ہوگی۔
ڈاکٹر حفیظ الرحمن بہاول پور۔‘‘
جواب:
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ
اَلْحَمْدُ للہِ وَسَلَامٌ عَلٰی عِبَادِہِ الَّذِیْنَ اصْطَفٰی!
مکرم و محترم زیدت معالیکم، السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ!
414
ان سوالوں کے جوابات مختصراً لکھتا ہوں۔
۱:...مرزا صاحب کا ان آیات کو اپنی صداقت میں پیش کرنا کئی وجہ سے غلط ہے۔
اول:...سورۂ الحاقہ کی یہ آیات (۴۴ تا ۴۷) قضیہ شخصیہ ہیں، قاعدہ کلیہ نہیں، ورنہ لازم آئے گا کہ جن مدعیان
نبوّت کاذبہ نے مہلت پائی ان کو سچا نبی سمجھا جائے، اور جو انبیائے کرام علیہم السلام کفار کے ہاتھوں شہید ہوئے ان
کو نعوذباللہ! جھوٹا سمجھا جائے۔
دوم:...کسی چیز کو کسی معیار پر پرکھنے کی ضرورت تب ہوتی ہے جبکہ اس کے صحیح یا غلط ہونے کے دونوں احتمال موجود
ہوں، جو چیز بالبداہت غلط اور کھوٹی ہو اس کو کوئی عاقل کسی معیار پر پرکھنے کی ضرورت محسوس نہیں کیا کرتا۔ آنحضرت
صلی اللہ علیہ وسلم آخری نبی ہیں، آپؐ کے بعد نبوّت کا دروازہ بند ہے، اور اس کا امکان ہی باقی نہیں رہا کہ کسی
شخص کو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد نبوّت کے منصب سے سرفراز کیا جائے، اس لئے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے
بعد نبوّت کا دعویٰ بالبداہت باطل ہے، اس کو کسی معیار پر جانچنے کی کوشش ہی عبث ہے، ملا علی قاریؒ شرح فقہ اکبر میں
فرماتے ہیں:
’’التحدی فرع دعوی النبوۃ ودعوی النبوۃ بعد نبینا صلی اللہ علیہ وسلم کفر بالْإجماع‘‘
(ص:۲۰۲)
ترجمہ:...’’معجزہ نمائی کا چیلنج فرع ہے دعویٔ نبوّت کا، اور نبوّت کا دعویٰ ہمارے نبی صلی اللہ علیہ
وسلم کے بعد بالاجماع کفر ہے۔‘‘
سوم:...ان دونوں باتوں سے قطع نظر اگر بفرض محال یہ مان لیا جائے کہ یہ آیت ہر مدعی نبوّت کے صدق و کذب کا معیار
مقرر کرتی ہے تو اس آیت کی رُو سے خود مرزا صاحب کا جھوٹا ہونا لازم آتا ہے، اس کی تقریر تین مقدموں پر موقوف ہے۔
ایک یہ کہ مرزا صاحب کے نزدیک یہ آیت ہر ایک مفتری کے لئے نہیں، بلکہ صرف مدعیٔ نبوّت کے لئے ہے (دیکھئے ضمیمہ
اربعین نمبر:۳ و ۴، ص:۱۱)۔
دوسرے یہ کہ مرزا صاحب کے نزدیک اس آیت کریمہ کی رُو سے سچے نبی کو ۲۳
415
برس کی مہلت ضرور ملتی ہے، اگر کوئی مدعی نبوّت اتنی مہلت نہ پائے تو جھوٹا ہے، چنانچہ مرزا صاحب لکھتے ہیں:
’’اگر کوئی شخص بطور اِفترا کے نبوّت اور مامور من اللہ ہونے کا دعویٰ کرے تو وہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے
زمانۂ نبوّت کے مانند ہرگز زندگی نہیں پائے گا۔‘‘
(اربعین نمبر:۴ ص:۱)
تیسرا مقدمہ یہ کہ مرزا صاحب نے، ان کے صاحبزادے مرزا محمود صاحب کے بقول ۱۹۰۱ء میں نبوّت کا دعویٰ کیا تھا، اس سے
پہلے وہ دعویٔ نبوّت سے انکار کرتے تھے، چنانچہ مرزا محمود صاحب لکھتے ہیں:
’’اور چونکہ ایک ’’غلطی کا ازالہ‘‘ ۱۹۰۱ء میں شائع ہوا ہے جس میں آپ نے (یعنی مرزا صاحب نے) اپنی نبوّت کا اعلان
بڑے زور سے کیا ہے، اس سے ثابت ہوتا ہے کہ ۱۹۰۱ء میں آپ نے اپنے عقیدہ میں تبدیلی کی ہے (یعنی اپنے آپ کو نبی
سمجھنے لگے) اور ۱۹۰۰ء ایک درمیانی عرصہ ہے جو دونوں خیالات کے درمیان برزخ کے طور پر حد فاصل ہے پس ......۔ یہ ثابت
ہے کہ ۱۹۰۱ء سے پہلے کے وہ حوالے جن میں آپ نے نبی ہونے سے انکار کیا ہے، اب منسوخ ہیں اور ان سے حجت پکڑنی غلط
ہے۔‘‘
(حقیقۃ النبوۃ ص:۱۲۱)
مرزا محمود صاحب کی اس تحریر سے معلوم ہوا کہ مرزا صاحب ۱۹۰۱ء سے پہلے اپنے نبی ہونے کا انکار کرتے تھے، ۱۹۰۱ء میں
آپ نے کھل کر نبوّت کا دعویٰ کیا، اور ۱۹۰۰ء میںدعویٔ نبوّت کا کچھ کچھ خیال پیدا ہو رہا تھا۔
ان تین باتوں کو ملحوظ رکھ کر دیکھئے کہ مرزا صاحب ۱۹۰۱ء میں نبوّت کا دعویٰ کرتے ہیں اور ۲۶؍مئی ۱۹۰۸ء کو وبائی
ہیضہ سے (جس کی انہوں نے مولانا ثناء اللہ مرحوم کے مقابلہ میں اپنے لئے بددعا کی تھی) مرجاتے ہیں، ان کو دعویٔ
نبوّت کے بعد صرف ساڑھے سات سال مہلت ملی، جبکہ یہ خود ان کے بقول قرآنی معیار کے مطابق ان کے جھوٹے
416
ہونے کی دلیل ہے۔
۲:...دار قطنی کی روایت سے مرزا قادیانی کا استدلال چند وجوہ سے غلط ہے۔
اول:...یہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد نہیں، بلکہ امام محمد باقر ؒکا قول ہے جو شہید کربلا حضرت حسین رضی
اللہ تعالیٰ عنہ وارضاہ کے پوتے ہیں۔
دوم:...اس روایت کے دو راوی عمرو بن شمر اور جابر جعفی جھوٹے رافضی ہیں، عمرو بن شمر کے بارے میں ائمہ جرح و تعدیل
کی آرا یہ ہیں: امام دارقطنی اور نسائی کہتے ہیں کہ یہ متروک الحدیث ہے۔ جوزنجانی کہتے ہیں کہ وہ گمراہ جھوٹا ہے۔
ابن حبان کہتے ہیں کہ غالی رافضی تھا جو صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کو گالیاں دیتا اور موضوع روایتیں بیان
کیا کرتا تھا۔ یحییٰ بن معین کہتے ہیں: ’’لیس بشیء۔‘‘ (یعنی وہ کچھ نہیں محض لغو ہے)۔ امام بخاریؒ فرماتے ہیں منکر
الحدیث ہے۔ سلیمانی کہتے ہیں کہ وہ روافض کے لئے حدیثیں گھڑا کرتا تھا۔ (میزان الاعتدال ج:۲ ص:۲۹۱) امام حاکم فرماتے
ہیں کہ یہ شخص جابر جعفی کے حوالے سے بکثرت من گھڑت روایتیں نقل کیا کرتا تھا۔ امام ابونعیم فرماتے ہیں کہ یہ جابر
جعفی کی منکر اور موضوع روایتیں نقل کرتا ہے۔
(لسان المیزان ج:۴ ص:۳۶۷)
اس روایت کو عمرو بن شمر، جابر جعفی سے نقل کرتا ہے، جابر جعفی کٹر رافضی تھا جو رجعت کا عقیدہ رکھتا تھا، امام
شعبیؒ نے اس سے کہا تھا کہ تو نہیں مرے گا جب تک کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر جھوٹ نہ باندھے۔ اسماعیل کہتے
ہیں کہ امام شعبیؒ کے اس ارشاد پر چند ہی دن گزرے تھے کہ جابر کو متہم بالکذب پایا گیا۔ امام ابوحنیفہؒ فرماتے ہیں
کہ میں جن لوگوں سے ملا ہوں ان میں جابر جعفی سے بڑھ کر کسی کو جھوٹا نہیں پایا۔
(تہذیب التہذیب ج:۲ ص:۴۹)
غالباً پہلے اس شخص کا رفض نہیں کھلا ہوگا، اس لئے بعض اکابرؒ نے اس کی توثیق بھی کی ہے، بعد میں جب اس کی حقیقت
کھلی تو اسے ترک کردیا تھا۔ حافظ تقریب میں لکھتے ہیں: ’’ضعیف رافضی‘‘ انصاف کیجئے! جس روایت کی سند میں ایک چھوڑ دو
کذاب راوی موجود ہوں، کیا اس سے کوئی دینی و شرعی مسئلہ ثابت ہوسکتا ہے؟ خصوصاً جبکہ اس کا تعلق
417
فروعی مسائل سے نہیں بلکہ اعتقاد و نظریاتی مسائل سے ہو؟
سوم:...اس روایت کے صحیح یا غلط ہونے سے قطع نظر اس کے الفاظ پر غور کیجئے! اس روایت میں کہا گیا کہ امام مہدی کی
خاص علامت یہ ہے کہ رمضان مبارک کی پہلی رات کو چاند گہن اور پندرہویں تاریخ کو سورج گہن ہوگا، اور یہ علامت جب سے
آسمان و زمین کی تخلیق ہوئی ہے کبھی ظہور میں نہیں آئی۔ اب ذرا ماہرین فلکیات سے دریافت کیجئے کہ کیا رمضان مبارک
میں کبھی اس شان کا کسوف و خسوف ہوا ہے، خود مرزا قادیانی نے صراحت کی ہے کہ ۱۸۹۴ء کا چاند گہن رمضان مبارک کی ۱۳؍
تاریخ کو اور سورج گہن رمضان کی ۲۸؍ تاریخ کو ہوا تھا، کیا ۱۳؍ تاریخ رمضان کی پہلی اور ۲۸؍ تاریخ رمضان کی درمیانی
تاریخ کہلاتی ہے؟ پس جب روایت کے مطابق یہ علامت پائی ہی نہیں گئی تو اس کو اپنی صداقت کا نشان قرار دینا کیا معنی
رکھتا ہے؟
رہا مرزا صاحب کا یہ کہنا کہ ان تاریخوں میں کبھی کسی مدعی کے زمانے میں خسوف و کسوف کا اجتماع نہیں ہوا، محض ابلہ
فریبی ہے، ماہرین فلکیات کے مطابق گزشتہ بارہ تیرہ صدیوں میں ساٹھ مرتبہ رمضان مبارک میں کسوف اور خسوف کا اجتماع
ہوچکا ہے، اور ان موقعوں پر متعدد مدعیان مہدویت و مسیحیت بھی موجود تھے، مولانا ابوالقاسم رفیق دلاوری ’’رئیس
قادیان‘‘ میں لکھتے ہیں:
’’مرزا صاحب کا یہ بیان بھی ناقابل التفات ہے کہ دونوں نشان میرے سوا کسی مدعیٔ نبوّت کے واسطے جمع نہیں ہوئے،
کیونکہ کتاب حدائق النجوم (ص:۷۰۲، ۷۰۷) اور اسٹرونومی مؤلفہ مسٹر نارمن لوکیٹر (ص:۱۰۲) اور مسٹر کیتھ کی کتاب
’’یوراوف دی گلوبس‘‘ (ص:۲۷۳، ۲۷۶) جدول کسوف و خسوف) کا مطالعہ کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ گزشتہ تیرہ صدیوں میں (۱۸ھ
سے ۱۳۱۲ھ تک) ساٹھ مرتبہ رمضان المبارک میں اجتماع کسوفین ہوا، اور قارئین، خاکسار راقم الحروف کی کتاب ’’ائمہ
تلبیس‘‘ کے مطالعہ
418
سے معلوم کرسکتے ہیں کہ ان تیرہ صدیوں میں بیسیوں مدعیان مہدویت و نبوّت ہر قرن میں مسند تزویر پر بیٹھ کر
خلق خدا کو گمراہ کرتے رہے ہیں۔
ایران میں مرزا علی محمد باب نے ۱۲۶۰ھ میں مہدویت کا دعویٰ کیا تھا، اس کے ساتویں سال یعنی رمضان ۱۳۶۷ھ مطابق ۱۸۵۱ء
میں ۱۳ اور ۲۸ رمضان کو خسوف اور کسوف کا اجتماع ہوا، اس کے مارے جانے کے بعد اس کے دونوں جانشین صبح ازل اور بہاء
اللہ بھی مہدویت اور مقام ’’من یظہرہ اللہ‘‘ کے مدعی تھے، پس مرزا صاحب کا یہ زعم کہ ۱۸۹۴ء کا اجتماع کسوفین میری
مہدویت کا نشان تھا، انتہا درجہ کی جسارت اور دیدہ دلیری ہے۔‘‘
(رئیس قادیان ج:۲ ص:۲۰۰)
’’اسی طرح مرزا صاحب کا یہ دعویٰ بھی سخت لغو ہے کہ: ’’اس گرہن کے وقت میں مہدی موعود ہونے کا کوئی مدعی زمین پر
بجز میرے نہیں تھا۔‘‘ کیونکہ قادیانی صاحب ہی کے زمانے میں محمد احمد مہدی سوڈان میں ناقوس مہدویت بجا رہا تھا۔‘‘
(رئیس قادیاں ج:۲ ص:۱۹۹)
الغرض مرزا قادیانی کا دارقطنی کی اس روایت کو اپنے نشان کے طور پر پیش کرنا، کسی صاحب عقل و ہوش کے نزدیک صحیح
نہیں ہوسکتا، بلکہ خود یہ روایت اس کے دعویٰ کی تکذیب کرتی ہے، کیونکہ روایت میں جس غیرمعمولی اور خارق عادت کسوف و
خسوف کے اجتماع کا ذکر کیا گیا ہے وہ مرزا کے زمانہ میں نہیں پایا گیا، اور جو اس کے زمانہ میں کسوف و خسوف ہوا وہ
خرق عادت نہیں تھا، جیسا کہ اس روایت میں ذکر کیا گیا ہے، بلکہ عام معمول کے مطابق تھا، جو ہمیشہ ہوتا آیا ہے، اور
جس میں کوئی ندرت نہیں، پس جب معلوم ہوا کہ مہدی کے زمانے میں جو خرق عادت کے طور پر کسوف و خسوف ہوگا وہ مرزا کے
زمانے میں
419
نہیں پایا گیا، تو اس سے معمولی عقل و فہم کا آدمی بھی سمجھ سکتا ہے کہ مرزا مہدی نہیں بلکہ دعویٔ مہدویت
میں جھوٹا ہے، کیونکہ مہدی کی خاص علامت اس میں نہیں پائی گئی۔
۳:...مرزا صاحب نے آیت کریمہ: ’’فَلَمَّا تَوَفَّیْتَنِیْ‘‘ کے بارے میں جو کچھ لکھا
ہے، اس میں چند امور قابل غور ہیں:
اول:...مرزا کی پہلی کتاب براہین احمدیہ کا حصہ چہارم ۱۸۸۴ء میں شائع ہوا تھا، جیسا کہ اس کے سرورق پر درج ہے، اور
اس وقت حضرت عیسیٰ علیہ السلام زندہ تھے، چنانچہ قرآن کریم کی آیت اور اپنے الہام کے حوالے سے مرزا صاحب نے ان کی
دوبارہ تشریف آوری کی اطلاع ان الفاظ میں دی تھی:
’’ھو الذی ارسل رسولہ بالھدی ودین الحق لیظھرہ علی الدین کلہ۔‘‘ یہ آیت جسمانی اور
سیاست ملکی کے طور پر حضرت مسیح کے حق میں پیش گوئی ہے اور جس غلبہ کاملہ دین اسلام کا وعدہ (اس آیت میں) دیا گیا
ہے وہ غلبہ مسیح کے ذریعہ سے ظہور میں آئے گا، اور جب حضرت مسیح علیہ السلام دوبارہ اس دنیا میں تشریف لائیں گے تو
ان کے ہاتھ سے دین اسلام جمیع آفاق اقطار میں پھیل جائے گا، لیکن اس عاجز پر ظاہر کیا گیا ہے کہ یہ خاکسار ......
مسیح کی پہلی زندگی کا نمونہ ہے، اور اس عاجز کی فطرت اور مسیح کی فطرت باہم نہایت متشابہ واقع ہوئی ہے ...... سو
چونکہ اس عاجز کو حضرت مسیح سے مشابہت تامہ ہے اس لئے خداوند کریم نے مسیح کی پیش گوئی میں اِبتدا سے اس عاجز کو بھی
شریک کر رکھا ہے، یعنی حضرت مسیح پیش گوئی متذکرہ بالا کا ظاہری اور جسمانی طور پر مصداق ہے اور یہ عاجز روحانی اور
معقولی طور پر اس کا محل اور مورد ہے۔‘‘
(براہین احمدیہ حصہ چہارم طبع اول ص:۴۹۸، ۴۹۹)
مرزا صاحب کی اس عبارت سے واضح ہے کہ ۱۸۸۴ء میں حضرت عیسیٰ علیہ
420
السلام بقید حیات تھے، قرآن کریم ان کی دوبارہ تشریف آوری کا اعلان کر رہا تھا، اور مرزا صاحب پر بطور
الہام یہ بات ظاہر کی گئی تھی کہ حضرت مسیح علیہ السلام اس قرآنی پیش گوئی کا ظاہری اور جسمانی طور پر مصداق ہیں۔
اب سوال یہ ہے کہ ۱۸۸۴ء کے بعد کون سی تاریخ کو حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی وفات ہوئی؟ اور اس کے بعد کون سی آیت
کریمہ نازل ہوئی، جس میں حضرت مسیح علیہ السلام کی وفات کی اطلاع دی گئی ہو؟ اور یہ امر بھی قابل دریافت ہے کہ آیت
کریمہ: ’’فَلَمَّا تَوَفَّیْتَنِیْ‘‘ سے اگر حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی وفات ثابت ہوتی
ہے تو یہ آیت تو قرآن کریم میں اس وقت بھی موجود تھی، پھر مرزا نے ایک جھوٹی پیش گوئی کو قرآن کریم کے حوالے سے
کیوں اپنی کتاب میں درج کیا اور اس کے ملہم نے مرزا کو کیوں یہ جھوٹی اطلاع دی کہ حضرت مسیح علیہ السلام اس قرآنی
پیش گوئی کا ظاہری اور جسمانی طور پر مصداق ہیں؟
اور یہ امر بھی قابل غور ہے کہ اگر مرزا صاحب براہین احمدیہ میں حضرت مسیح علیہ السلام کے زندہ ہونے اور دوبارہ
دنیا میں تشریف لانے پر قرآن کریم کی آیت سے غلط استدلال کرسکتے ہیں اور اس کے لئے اپنا جھوٹا الہام پیش کرسکتے
ہیں تو اس بات کی کیا ضمانت ہے کہ وفاتِ مسیح پر جو آیات سے استدلال کرتے ہیں وہ غلط نہیں ہے اور جو الہامات پیش
کرتے ہیں وہ جھوٹے نہیں ہیں؟
اس بحث کا خلاصہ یہ ہے کہ خود مرزا صاحب ہی بقلم خود حیاتِ مسیح پر قرآن کریم کی آیت اور اپنا الہام پیش کرچکے
ہیں، بعد میں انہوں نے اسلامی عقیدے سے انحراف کرکے نیچریوں کی تقلید کرلی اور وفاتِ مسیح کا عقیدہ تراش لیا، جو شخص
قرآنی اور الہامی عقیدے سے انحراف کرکے ایک نیا عقیدہ تراش لے وہ دیندار نہیں بلکہ بے دین کہلاتا ہے، اور اگر اس
نئے عقیدے پر قرآن کریم کی کسی آیت یا کسی حدیث شریف سے استدلال کرے تو وہ ملحد اور زندیق کہلاتا ہے، حیاتِ مسیح
کا عقیدہ خود مرزا کی تصریح کے مطابق قرآنی و الہامی عقیدہ تھا، مرزا نے نیچریوں کی تقلید میں اس قرآنی عقیدہ کو
چھوڑا اور اس کے برخلاف قرآن کریم کی آیتوں سے استدلال کرنے لگے تو ان کے بے دین، ملحد اور زندیق
421
ہونے میں کیا شبہ رہ جاتا ہے؟
دوم:...یہ امر بھی پیش نظر رہے کہ آیت کریمہ: ’’فَلَمَّا تَوَفَّیْتَنِیْ‘‘ یا دوسری
وہ آیات جن کو مرزا قادیانی وفاتِ مسیح کے ثبوت میں پیش کرتا ہے، چودھویں صدی میں نازل نہیں ہوئیں، پہلے بھی وہ
قرآن مجید میں موجود تھیں، اور گزشتہ تیرہ چودہ صدیوں کے اکابر اُمتؒ اور مجددین ملت کی نظر سے وہ اوجھل نہیں تھیں،
لیکن آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم، صحابہ کرامؓ، تابعین عظامؒ اور تمام صدیوں کے اکابرین اُمتؒ ان آیات کے باوجود
حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے زندہ ہونے اور دوبارہ تشریف لانے کا عقیدہ رکھتے تھے، خود مرزا صاحب لکھتے ہیں:
’’مسیح ابن مریم کے آنے کی پیش گوئی ایک اول درجہ کی پیش گوئی ہے، جس کو سب نے بالاتفاق قبول کرلیا ہے، اور جس قدر
صحاح میں پیش گوئیاں لکھی گئی ہیں، کوئی پیش گوئی اس کے ہم پہلو اور ہم وزن ثابت نہیں ہوتی، تواتر کا اول درجہ اس کو
حاصل ہے، انجیل بھی اس کی مصدق ہے۔‘‘
(ازالہ اوہام ص:۵۵۷ طبع اول، روحانی خزائن ج:۳ ص:۴۰۰)
اور یہ بات عقلاً و شرعاً ناممکن اور محال ہے کہ قرآن کریم کی آیات کا مطلب نہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے
سمجھا ہو، نہ صحابہ کرامؓ نے، نہ تابعین عظامؒ نے، نہ تیرہ چودہ صدیوں کے اکابر اُمت اور مجددین ملت نے۔ پس اگر ان
آیات کا وہی مطلب ہوتا جو مرزا صاحب بیان کر رہے ہیں تو مرزا صاحب کو وفات مسیح کے عقیدے کا اعلان کرنے کی ضرورت نہ
تھی، بلکہ یہ عقیدہ روز اول سے اُمت میں متواتر چلا آنا چاہئے تھا کہ عیسیٰ علیہ السلام فوت ہوچکے ہیں، وہ دوبارہ
نہیں آئیں گے۔ لیکن اس کے برعکس ہم یہ دیکھتے ہیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے لے کر مرزا صاحب کی براہین
احمدیہ تک تمام اکابرین اُمت، حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے زندہ ہونے اور دوبارہ آنے کا عقیدہ رکھتے چلے آئے ہیں اور
اس عقیدہ کو قرآن کریم کی آیات بینات اور احادیث متواترہ سے ثابت کرتے آئے
422
ہیں۔ تفسیر، حدیث اور عقائد کی تمام کتابوں میں اس عقیدے کو جلی عنوان سے ذکر کیا گیا ہے، اب انصاف کیجئے کہ
آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے لے کر تمام اکابر اُمت کا عقیدہ تو غلط ہو اور قرآن کریم کی آیات بینات کا مطلب نہ
سمجھیں اور مرزا قادیانی کا عقیدہ (جو نیچریوں کی تقلید میں اپنایا گیا) وہ صحیح ہو اور مرزا صاحب قرآن کریم کی ان
آیات کا مطلب سمجھ جائیں، کیا کسی کی عقل میں یہ بات آسکتی ہے؟ اس نکتہ کو سامنے رکھ کر ہر شخص بالبداہت سمجھ لے
گا کہ براہین احمدیہ میں مرزا صاحب نے صحیح عقیدہ لکھا تھا، بعد میں وہ پٹری سے اتر گئے اور یہ کہ قرآن مجید میں
وفات مسیح کے عقیدے کا کوئی نام و نشان نہیں ہے، مرزا صاحب محض اپنی ذہنی اختراع کو لفاظی کے زور سے قرآن کریم کے
سر منڈھنا چاہتے ہیں۔
سوم:...آیت کریمہ: ’’فَلَمَّا تَوَفَّیْتَنِیْ‘‘ وفات مسیح کو ثابت نہیں کرتی بلکہ خود
قادیانی عقیدے کی جڑ کو کاٹتی ہے، کیونکہ اس آیت شریفہ میں حضرت مسیح علیہ السلام کی دو حالتیں ذکر کی گئی ہیں،
پہلی قوم کے درمیان موجود رہنے کی، جس کو ’’وَکُنْتُ عَلَیْھِمْ شَہِیْدًا مَّا دُمْتُ
فِیْھِمْ‘‘ میں ذکر فرمایا گیا ہے، اور دوسری اس کے بالمقابل قوم کے درمیان غیرموجودگی کی، جس کو ’’تَوَفَّیْتَنِیْ‘‘ میں ذکر کیا گیا ہے، حضرت عیسیٰ علیہ السلام بارگاہ خداوندی میں عرض کر
رہے ہیں کہ میں جب تک ان کے درمیان موجود رہا تب تک ان کے احوال پر مطلع رہا، اور ان کی نگرانی کرتا رہا کہ کوئی غلط
عقیدہ نہ اپنالیں، پھر جب میرے ان کے درمیان قیام کی مدت پوری ہوگئی اور آپ نے ان کے درمیان سے مجھے اٹھالیا تو اس
کے بعد آپ ہی ان کے نگہبان تھے، اس کے متعلق کچھ نہیں کہہ سکتا، نہ اس کی کوئی ذمہ داری مجھ پر عائد ہوتی ہے۔
مسلمان مفسرین یہاں توفی کی تفسیر رفع آسمانی سے کرتے ہیں، اور اس تفسیر کے مطابق حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے قوم
کے درمیان رہنے اور ان کے اٹھائے جانے کی دو حالتوں کے درمیان تقابل بالکل واضح ہے، یعنی جب تک نہیں اٹھائے گئے اس
وقت تک قوم کے درمیان تھے، اور جب ان کو اٹھالیا گیا تو قوم کے درمیان نہیں رہے، لیکن مرزا قادیانی یہاں توفی کے
معنی موت کے کرتے ہیں، اور اسی کے ساتھ اس کے بھی قائل ہیں کہ
423
عیسیٰ علیہ السلام کو صلیب دی گئی، وہ صلیب پر ’’کَالْمیّت‘‘ ‘ ہوگئے، تو تین دن
تک ایک قبر نما حجرے یا حجرہ نما قبر میں ان کے زخموں کا علاج کیا گیا، اور پھر وہ بھاگ کر کشمیر چلے آئے، یہاں ستر
اسّی سال زندہ رہنے کے بعد ان کا انتقال ہوگیا، گویا مرزا کے بقول عیسیٰ علیہ السلام کی تین حالتیں تھیں، ایک قوم کے
درمیان قیام پذیر رہنے کی، دوسری کشمیر کی طرف ہجرت کرکے ایک عرصہ تک زندہ رہنے کی اور تیسری موت کی۔ مرزا کی اس
تقریر کے مطابق ان دونوں حالتوں میں جو قرآن کریم میں ذکر کی گئی ہیں کوئی تقابل نہیں رہتا، مرزا کے عقیدے کے مطابق
تو حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو یہ فرمانا چاہئے تھا کہ جب تک ان کے درمیان موجود رہا ان پرگواہ رہا، پھر میں نے کشمیر
کی طرف ہجرت کی تو آپ ان کے نگہبان تھے، الغرض ’’فَلَمَّا تَوَفَّیْتَنِیْ‘‘ کے معنی یہ
ہیں کہ جب تو نے مجھے اپنی تحویل میں لے کر آسمان پر اٹھالیا تو آپ ہی نگہبان تھے، کوئی سی تفسیر اٹھاکر دیکھ
لیجئے، آپ کو یہی تفسیر ملے گی، اس لئے مرزا نے آیت کا جو مفہوم بیان کیا ہے، وہ خود اس آیت کی رُو سے غلط ٹھہرتا
ہے۔
یہاں ایک نکتہ اور بھی ذہن نشین رکھنا چاہئے (یہ امام العصر مولانا محمد انور شاہ کشمیریؒ کا افادہ ہے) وہ یہ کہ جب
کسی نبی کو اپنی قوم کے درمیان میں سے ہجرت کرجانے کا حکم ہوتا ہے تو سنۃ اللہ یوں ہے کہ یا تو اس قوم کو تہس نہس
کردیا جاتا ہے، جیسا کہ حضرت ہود، حضرت صالح، حضرت لوط اور حضرت شعیب علیہم السلام کی قوموں کے واقعات قرآن کریم
میں ذکر کئے گئے ہیں، یا پھر اس نبی کو فاتحانہ شان سے قوم میں واپس لایا جاتا ہے اور قوم اس کی مطیع ہوجاتی ہے جیسا
کہ ہمارے آقا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ہوا کہ آپؐ جس شہر سے ہجرت فرماکر گئے تھے، سات سال بعد اس میں
فاتحانہ واپس تشریف لائے اور پوری قوم آپؐ کی مطیع ہوگئی۔
اہل اسلام کے نزدیک سیّدنا عیسیٰ علیہ السلام کی آسمان پر تشریف بری ان کی ہجرت تھی، مگر ان کے تشریف لے جانے کے
بعد ان کی قوم (یہود) کو عاد و ثمود کی طرح ہلاک نہیں کیا گیا بلکہ ان کا معاملہ قرب قیامت تک ملتوی رکھا گیا، قرب
قیامت میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام دجال کو قتل کرنے کے لئے، جو اس وقت یہود کا رئیس ہوگا، واپس
424
تشریف لائیں گے، جو لوگ آپ پر ایمان لائیں گے وہ باقی رہ جائیں گے، باقی سب کا صفایا کردیا جائے گا، جیسا
کہ احادیث شریفہ میں اس کی تفصیلات موجود ہیں۔
لیکن مرزا قادیانی کے قول کے مطابق حضرت عیسیٰ علیہ السلام کشمیر کی طرف ہجرت کرگئے، وہیں مرمرا گئے، ان کے جانے کے
بعد نہ قوم کو ہلاک کیا گیا اور نہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو واپس لایا گیا، مرزا قادیانی کا یہ قول سنت اللہ کے
قطعاً خلاف ہے، اگر عیسیٰ علیہ السلام کی ہجرت آسمان کی طرف نہیں بلکہ کشمیر کی طرف ہوئی تھی تو وہاں ان کی گمنامی
کی موت واقع نہ ہوتی، بلکہ ان کو فاتحانہ شان سے دوبارہ ان کی قوم میں واپس لایا جاتا۔
نمبر:۲ میں آپ نے مرزا کی جو تقریر نقل کی ہے کہ:
’’اس آیت میں صریح طور پر بتایا گیا ہے کہ حضرت عیسیٰ عیسائیوں کے بگڑنے سے لاعلمی ظاہر کریں گے اور کہیں گے کہ
مجھے تو ان کے حالات کی اس وقت تک خبر ہے جب تک میں ان میں تھا، اور وفات کے بعد کی خبر نہیں۔‘‘
مرزا کی یہ تقریر خود اس کی اپنی تصریح کے خلاف ہے، چنانچہ وہ ’’آئینہ کمالات اسلام‘‘ میں لکھتا ہے:
’’اور میرے پر کشفاً یہ ظاہر کیا گیا ہے کہ یہ زہرناک ہوا جو عیسائی قوم سے دنیا میں پھیل گئی حضرت عیسیٰ کو اس کی
خبر دی گئی۔‘‘
(آئینہ کمالات ص:۲۵۴، روحانی خزائن ص:۲۵۴)
اسی کتاب میں دوسری جگہ لکھا ہے:
’’خدائے تعالیٰ نے اس عیسائی فتنہ کے وقت میں یہ فتنہ حضرت مسیح کو دکھایا یعنی ان کو آسمان پر اس فتنہ کی اطلاع
دے دی کہ تیری قوم اور تیری اُمت نے اس طوفان کو برپا کیا ہے۔‘‘
(آئینہ کمالات ص:۲۶۸ حاشیہ، روحانی خزائن حاشیہ ص:۲۶۸)
جب اللہ تعالیٰ نے بقول مرزا آسمان پر عیسیٰ علیہ السلام کو عیسائیوں کے بگاڑ اور
425
فتنہ کی خبر دے دی تھی تو خود ہی سوچئے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام اس سے اپنی لاعلمی کا اظہار کیسے کرسکتے
ہیں؟ کیا اس صورت میں بھی وہ پوری بے ہودہ تقریر جاری نہیں ہوتی جو مرزا نے عیسیٰ علیہ السلام اور خدا تعالیٰ کی
گفتگو کی نقل کی ہے؟ اور جس کے نقل کرنے سے بھی بدن کے رونگٹے کھڑے ہوجاتے ہیں!!
دراصل مرزا کو قرآن سے اپنی مطلب براری کے سوا کوئی تعلق نہیں تھا، اس لئے اس نے جیسا موقع دیکھا قرآن کریم کی
آیات کا مطلب گھڑ لیا، زیر بحث آیات کا یہ مطلب نہیں کہ عیسیٰ علیہ السلام قیامت کے دن اپنی قوم کے بگاڑ سے لاعلمی
کا اظہار فرمائیں گے، بلکہ مطلب یہ ہے کہ: اس بگڑی ہوئی قوم سے اپنی برأت فرمائیں گے کہ: میں جب تک ان کے درمیان
قیام پذیر رہا ان کی پوری پوری نگرانی کرتا رہا کہ کسی غلط عقیدہ میں مبتلا نہ ہوجائیں، پھر جب آپ نے مجھے اٹھایا
تو میری ذمہ داری ختم ہوگئی، اس کے بعد اگر انہوں نے گمراہی اختیار کی ہے تو میں ان سے بری الذمہ ہوں۔ حضرت عیسیٰ
علیہ السلام کو قوم کے بگاڑ کا علم ہونے یا نہ ہونے کی بات ہی زیر بحث نہیں کہ وہ یہ جواب دیتے کہ مجھے علم نہیں، جو
بات زیر بحث ہے کہ کیا تم نے ان لوگوں سے کہا کہ مجھے اور میری ماں کو معبود بنالینا؟ اس کے جواب میں وہ عرض کریں گے
کہ توبہ! توبہ! میری کیا مجال کہ میں ان سے ایسی بات کہتا، میں نے تو ان کو توحید کی تعلیم دی تھی، اور جب تک ان میں
رہا، ان کے عقیدۂ توحید کی پوری پوری نگرانی کرتا رہا، یہ میرے اٹھائے جانے کے بعد بگڑے ہیں، جس کی ذمہ داری مجھ پر
نہیں بلکہ خود انہی پر عائد ہوتی ہے۔
غور فرمائیے کہ یہ تقریر صحیح ہے یا جو مرزا نے کی وہ صحیح ہے...!!
(ہفت روزہ ختمِ نبوّت کراچی ج:۲ ش:۲۵)
426
قادیانی دجل و تلبیس
حضرتِ اقدس مولانا محمد یوسف لدھیانوی شہیدؒ وقتاً فوقتاً جذبۂ نُصح و خیر خواہی کے تحت قادیانی مغالطوں اور
اِشکالات کا جواب دیتے رہتے تھے، جنہیں رسائل کی شکل میں شائع کیا جاتا، قادیانی حضرات ان کے اُلٹے سیدھے جوابات
دیتے اور مسلمانوں کو گمراہ کرنے کی کوشش کرتے، اس پر ایک صاحب نے حضرتؒ سے قادیانی رسائل کے جوابات لکھنے کی فرمائش
کی، تو حضرتؒ نے ان کو درج ذیل مکتوب لکھا۔
سعید احمد جلال پوری
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ
اَلْحَمْدُ للہِ وَسَلَامٌ عَلٰی عِبَادِہِ الَّذِیْنَ اصْطَفٰی!
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ!
کرامت نامہ شرفِ صدور لایا، قادیانیوں نے اس ناکارہ کے بعض رسائل کا جواب لکھا تھا، وہ رسائل بندہ کی نظر سے بھی
گزرے، یہ ناکارہ تو منتظر رہتا ہے کہ مخالفین کی جانب سے اس ناکارہ کی کسی غلطی پر آگاہ کیا جائے تو اپنی اصلاح
کرلوں، لیکن افسوس ہے کہ قادیانی رسائل میں اس ناکارہ کی کسی غلطی پر مطلع نہیں کیا گیا، البتہ دجل و تلبیس اور خلط
مبحث سے ... جو قادیانیت کا خاص شعار ہے ... ضرور کام لیا گیا، اور اُن کا مقصد احقاقِ حق نہیں ہوتا، بلکہ اپنی
جماعت کے افراد کو ’’قُلُوْبُنَا غُلْفٌ‘‘ ‘ کا مصداق بنانا ہوتا ہے۔ گویا جدید دور کی
427
اصطلاح میں ’’نصیحت پروف‘‘ کرنا، تاکہ کتنی ہی معقول بات اور کتنی ہی سنجیدگی اور جذبۂ خیرخواہی سے کہی
جائے، ان پر اثرانداز نہ ہو۔
چونکہ ان جوابی قادیانی رسائل میں محض ضد و عناد اور مکابرہ کا مظاہرہ کیا گیا تھا، اس لئے جی نہ چاہا کہ اپنے
ضروری مشاغل کو چھوڑ کر ان کا جواب لکھوں، اگر کسی مستند نوجوان عالم کو اس کے لئے تجویز فرمادیا جائے تو بہت مناسب
ہے، اور اگر اس ناکارہ کی تحریر پر قادیانی صاحبان کا کوئی اشکال ایسا نظر آئے جس کے لئے اس ناکارہ ہی سے استفسار
کی ضرورت ہو تو اس کے لئے بسروچشم حاضر ہوں۔ اسی طرح ان جوابات کے اس ناکارہ کو دکھانے کی ضرورت محسوس فرمائی جائے،
تو اس کے لئے بھی حاضر ہوں۔ اور اگر آںمخدوم کا حکم ہو کہ فلاں رسالہ کا جواب تو ہی لکھ، تو یہ رُوسیاہ اس کی بھی
تعمیل کرے گا، والسلام!
دیگر اکابر کی خدمت میں بھی سلام اور دعواتِ صالحہ کی اِلتجا۔
محمد یوسف عفا اللہ عنہ
دوشنبہ ۲۵؍۲؍۱۴۱۶ھ
428
پَری کے رُوپ میں ڈائن
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ
اَلْحَمْدُ للہِ وَسَلَامٌ عَلٰی عِبَادِہِ الَّذِیْنَ اصْطَفٰی!
قادیانیوں کا کلمۂ اِسلام پر اِیمان نہیں:
قادیانیوں کا کلمۂ اِسلام پر اِیمان نہیں ہے، اس لئے کہ وہ حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بجائے غلام
احمد قادیانی کو نبی و رسول کہتے اور مانتے ہیں، نعوذ باللہ! وہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوّت و شریعت کو منسوخ
اور ناقابلِ ایمان کہتے ہیں۔
اس لئے جب قادیانی، مسلمانوں کو دھوکا دینے کے لئے کلمۂ اِسلام: ’’لا الٰہ الا اللہ محمد رسول اللہ‘‘ پڑھتے ہیں تو
ان کے نزدیک ’’محمد رسول اللہ‘‘ سے حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم مراد نہیں ہوتے، بلکہ ان کے نزدیک ’’محمد‘‘ سے مراد
-نعوذ باللہ- غلام احمد قادیانی ہوتا ہے، اس لئے وہ کلمہ گو نہیں، بلکہ کلمۂ اِسلام کے منکر ہیں۔ یہ ایسے ہی ہے
جیسے کوئی شخص کلمۂ اِسلام تو پڑھے مگر اس میں موجود ’’محمد رسول اللہ‘‘ سے کوئی دوسری شخصیت مراد لے تو کہا جائے
گا کہ یہ کلمہ کا منکر ہے، کیونکہ وہ کلمہ تو پڑھتا ہے مگر کلمۂ اِسلام نہیں، بلکہ کسی دوسرے کا کلمہ پڑھتا ہے،
ٹھیک اسی طرح اگرچہ قادیانی کلمہ ’’لا الٰہ الا اللہ محمد رسول اللہ‘‘ تو پڑھتے ہیں مگر چونکہ وہ حضرت محمد رسول
اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بجائے غلام احمد قادیانی کو رسول و نبی مانتے ہیں اس لئے منکرِ اِسلام اور منکرِ کلمہ
ہیں۔
مرزا قادیانی اپنے کو ’’محمد رسول اللہ‘‘ کہتا ہے:
اس تمہید کے بعد اب سنو کہ خود مرزا غلام احمد قادیانی اپنی کتاب ’’ایک غلطی کا ازالہ‘‘ میں لکھتا ہے:
429
’’محمد رسول اللہ والذین معہ اشداء علی الکفار رحماء بینھم ۔ اس وحیِ الٰہی میں
میرا نام محمد رکھا گیا، اور رسول بھی۔‘‘
(ایک غلطی کا ازالہ ص:۳، روحانی خزائن ج:۱۸ص:۲۰۷)
یعنی مرزا غلام احمد کذاب کہتا ہے کہ یہ آیت میرے بارے میں نازل ہوئی ہے اور اس اللہ کی وحی، یعنی وحیِ الٰہی میں
میرا نام محمد رکھا گیا ہے، اور رسول بھی، اس کا مطلب یہ ہے کہ ...نعوذ باللہ... اب اس دور کا ’’محمد رسول اللہ‘‘
غلام احمد ہے۔ اب بتاؤ کہ جو لوگ غلام احمد کو ’’محمد رسول اللہ‘‘ مانتے ہوں، اور غلام احمد کے الہاموں کو وحیِ
الٰہی کہتے ہوں، وہ مسلمان کہلانے کے مستحق ہیں؟ توبہ! توبہ! نہیں، ہرگز نہیں۔
جو غلام احمد قادیانی کو ’’محمد رسول اللہ‘‘ کہیں وہ مسلمان ہیں؟
سوال:... کالج اور یونیورسٹی کے لڑکے آتے ہیں اور پوچھتے ہیں کہ کہ تم قادیانیوں کو کافر کیوں کہتے ہو؟
جواب:... میں کہتا ہوں جب ایسے لڑکے تم میں سے کسی کے پاس آئیں یا کسی ذمہ دار کے پاس آئیں تو ان کو اس کتاب کا
حوالہ دو بلکہ کتاب کا حوالہ مجھ سے لے جاؤ، اور اس کے سامنے وہ حوالہ رکھ کے پوچھو کہ جو آدمی غلام احمد کو
’’محمد رسول اللہ‘‘ کہتا ہے، تم ہی بتاؤ کہ وہ مسلمان ہے کہ نہیں؟
تردید مرزائیت کے لئے ’’کلمۃ الفصل‘‘ کافی ہے:
مرزا غلام احمد کا لڑکا ہے بشیر احمد ایم اے، نامعلوم ایم اے بھی تھا یا ایویں ہی تھا؟ اس کی کتاب ہے ’’کلمۃ
الفصل‘‘، ۱۹۷۴ء میں اسمبلی کی کاروائی کے دوران اٹارنی جنرل یحییٰ بختیار نے ہمیں کہا تھا کہ: تم تو خواہ مخواہ
کتابوں کا پلندہ اُٹھائے پھر رہے ہو، قادیانیت کی تردید کے لئے تو صرف یہی ایک کتاب کافی تھی، یعنی قادیانیت کے خلاف
مقدمہ لڑنے کے لئے مرزا بشیر احمد کی یہی ایک کتاب ’’کلمۃ الفصل‘‘ ہی کافی تھی۔
430
مرزائیت، پری کے رُوپ میں ڈائن ہے:
اس میں مرزا بشیر احمد نے خود ہی ایک سوال اُٹھایا ہے کہ اگر غلام احمد نبی ہے تو تم اس کا کلمہ کیوں نہیں بناتے؟
میں نے اپنے کئی رسالوں میں اس کو نقل کیا ہے اور اس کو سمجھایا ہے کہ یہ کیا کہنا چاہ رہا ہے؟ تم لوگ سمجھتے نہیں!
تم لوگ نہیں جانتے کہ یہ مرزائی ہیں کیا چیز؟ ڈائن ہوتی ناں ڈائن! جو کبھی کبھی پری کی شکل میں بھی آجاتی ہے، دراصل
وہ ہوتا تو ہے ’’جن‘‘ اور ڈائن، لیکن آتی ہے بڑی خوبصورت پری کی شکل میں، چنانچہ اگر تم ایک مرتبہ اس کے چنگل میں
پھنس گئے تو پھر ساری عمر نہیں چھوٹ سکتے، بلکہ مرکے ہی چھوٹو گے۔ جیسا کہ میں نے کہا تھا اور تم نے دیکھا بھی ہے کہ
مغرب کا جمہوری نظام اُوپر سے بڑا روشن اور اندرون تاریک تر ہے۔
بظاہر خوشنما اندر سے بدتر:
مولانا رومی رحمۃ اللہ علیہ کے بقول: اُوپر سے دیکھو تو قبر پر غلاف پڑے ہوئے ہیں، پھر اس پر سنگِ مرمر بھی لگا ہوا
ہے، زور شور سے صفائی ہو رہی ہے، لیکن اندر اللہ کا قہر ہے، ٹھیک اسی طرح غلام احمد قادیانی کا حال ہے کہ بظاہر
خوشنما مگر اندر سے بدتر ہے، تو ان قادیانیوں کا ظاہر بھی اس قبر کی طرح خوشمنا ہے مگر ان کا دل تاریکیٔ قبر سے
زیادہ اندھا اور سیاہ ہے۔
ان سے پوچھو کہ جو شخص ’’لا الٰہ الا اللہ محمد رسول اللہ‘‘ پڑھتا ہو اور ساتھ یہ بھی کہے کہ -نعوذ باللہ- ’’محمد
رسول اللہ‘‘ سے مراد مرزا غلام احمد قادیانی ہے تو وہ مسلمان کیسے ہوا؟ ہمیں یہ معاملہ سمجھادو!
مرزائی، محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا نہیں غلام احمد کا کلمہ پڑھتے ہیں:
ایک طرف تم کہتے ہو کہ قادیانی کلمہ گو ہیں اور کلمہ پڑھتے ہیں، پھر تم یہ بھی کہتے ہو کہ جب قادیانی کلمہ گو ہیں
تو کلمہ گو کو کافر کیوں کہا جاتا ہے؟ میں کہتا ہوں ایک آدمی کہتا ہے ’’لا الٰہ الا اللہ محمد رسول اللہ‘‘ اور ساتھ
ہی کہتا ہے کہ ’’محمد رسول اللہ‘‘ کا مصداق مرزا ہے، تو
431
خود ہی بتلاؤ کہ وہ شخص مرزا کا کلمہ پڑھتا ہے یا حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا کلمہ پڑھتا ہے؟ اور یہ
بھی بتلاؤ کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا کلمہ پڑھنے والا مسلمان ہوتا ہے یا مرزا کا کلمہ پڑھنے والا؟
منکرِ کلمہ کی طرح مدعیٔ نبوّت بھی کافر ہے:
میں نے اپنی ایک تقریر میں کہا تھا اور آج تمہیں بھی وہ بات اچھی طرح سمجھا دیتا ہوں کہ جس طرح کوئی آدمی اگر
کلمہ کا منکر ہوجائے تو وہ مسلمان نہیں رہتا، ٹھیک اسی طرح ...اللہ معاف کرے... اگر کوئی جھوٹی نبوّت کا دعویٰ کرے
تو وہ بھی مسلمان نہیں رہتا۔ چنانچہ اگر قادیانی ’’لا الٰہ الا اللہ محمد رسول اللہ‘‘‘ بول کر اس کا مصداق مرزا کو
رسول اللہ بنالیں تو یہ کیونکر مسلمان کہلائیں گے؟
قادیانی، پیشاب پر زمزم، خنزیر کے گوشت پر بکرے اور کفر پر ایمان کا لیبل لگانے کی وجہ سے ڈبل مجرم ہیں:
یہ بالکل ایسے ہی جیسے گندگی کے اوپر لیبل چپکادیا جائے حلویات کا اور اس کے اوپر چاندی کے ورق بھی لگادئیے جائیں،
کیا وہ حلوہ بن جائے گا؟ نہیں! ہرگز نہیں! بلکہ یہ صرف جرم ہی نہیں بلکہ ڈبل جرم ہوا، کیونکہ ایک تو یہ کہ یہ گندگی
کھلاتا ہے، دوسرا یہ کہ یہ حلوہ کہہ کر کھلاتا ہے۔ اسی طرح ایک آدمی شراب کو شراب کہہ کر بیچتا ہے تو شریعت کی نظر
میں مجرم ہے، لیکن ایک آدمی وہی شراب بیچتا ہے مگر کہتا ہے کہ: ...نعوذ باللہ، استغفرا للہ، لاحول ولا قوۃ الا
باللہ... یہ زمزم ہے، تو یہ بھی مجرم ہے، مگر کتنا بڑا مجرم ہے؟ ہے تو یہ بھی اور وہ بھی مجرم، لیکن یہ پہلے کی نسبت
زیادہ بڑا مجرم ہے، اسی طرح ایک آدمی ...نعوذ باللہ، استغفرا للہ... لوگوں کو خنزیر کا گوشت کھلاتا ہے، یہ مجرم ہے،
لیکن اگر ایک آدمی خنزیر کے گوشت کے بارہ میں کہتا ہے کہ جو دُنبہ جنت سے حضرت اسماعیلؑ کے بدلہ میں آیا تھا، یہ
اس کا گوشت ہے! گویا خنزیر کے گوشت کو دُنبہ کا گوشت کہہ کر بیچتا ہے، تو اس کا جرم ڈبل ہوا ناں!
432
قادیانیوں کے لئے ’’کافر‘‘ کا لفظ بھی چھوٹا ہے:
قادیانیو! تم کہتے ہو کہ مسلمان ہمیں کافر کیوں کہتے ہیں؟ ہمیں تو یہ سمجھ میں نہیں آتی کہ ہم تمہیں کہیں تو کیا
کہیں؟ کیونکہ تم نے اتنا بڑا اور سنگین جرم کیا ہے کہ اس کے لئے کافر کا لفظ بھی چھوٹا ہے، کیونکہ تم نے غلام احمد
جیسے آدمی کو ...نعوذ باللہ... محمد رسول اللہ بنادیا اور اس کا کلمہ پڑھا۔ تم کلمہ کے منکر تو اس وقت سے تھے جب تم
نے غلام احمد قادیانی کو نبی مانا اور ’’لا الٰہ الا اللہ مرزا رسول اللہ‘‘ کہا تھا، لیکن جب تم نے کہا کہ: ’’محمد
رسول اللہ مرزا ہے، اور مرزا محمد رسول اللہ ہے‘‘، تو تم ہی بتاؤ کہ یہ گستاخی کس حد تک جاپہنچی ہے؟ اس کے باوجود
بھی تم کہتے ہو کہ مسلمان ہمارے کلمہ کا اعتبار نہیں کرتے۔
کلمہ میں مرزا بھی شامل ہے؟
خیر تو میں کہہ رہا تھا کہ مرزا بشیر احمد نے یہ سوال اُٹھایا ہے کہ ہم اپنا کلمہ کیوں نہیں بناتے؟ اس نے اس کے دو
جواب دئیے ہیں۔
ایک جواب تو یہ دیا ہے کہ ’’محمد رسول اللہ کا لفظ کہنے سے اس میں سارے نبی آجاتے ہیں، مرزا بھی ان میں شامل ہے۔‘‘
...نعوذ باللہ... ’’محمدر سول اللہ‘‘ میں مرزا بھی شامل ہے۔
مرزا بعینہٖ محمد رسول اللہ ہے؟
آگے دوسرا جواب یہ دیا ہے کہ: ’’ہمارے نزدیک تو کوئی نیا آدمی آیا ہی نہیں، بلکہ محمد رسول اللہ ہی آیا ہے،
یعنی غلام احمد قادیانی بعینہٖ محمد رسول اللہ ہے، جب غلام احمد بعینہٖ محمد رسول اللہ ہے تو ہمیں نئے کلمہ کی ضرورت
ہی نہیں، گویا لفظ وہی پرانے ہیں مگر مفہوم نیا ہے۔
مرزائیوں کے جھوٹ کا پول:
آج کل قادیانی اس کا بڑے زورشور سے انکار کرتے ہیں اور مرزا طاہر نے بھی اس کا انکار کیا ہے کہ جھوٹ ہے، میں نے
کہا: جھوٹ بولنے کے تم عادی ہو! ہمیں کوئی
433
شکایت نہیں، جو جھوٹی نبوّت کا دعویٰ کرسکتا ہے اس سے ہر قسم کے جھوٹ کی توقع رکھی جاسکتی ہے، اس لئے کہ
’’ریویو آف ریلجنز‘‘ بابت مارچ/اپریل ۱۹۱۵ء جلد:۱۴، شمارہ: ۳/۴، بعنوان ’’کلمۃ الفصل‘‘ :۹۱، ۱۸۴، آج بھی مطبوعہ
موجود ہے، اور اس میں مرزا بشیر احمد ایم اے کا یہ اقتباس قادیانی اُمت کا منہ چڑا رہا ہے، ملاحظہ ہو:
’’پانچواں اعتراض: یہ کیا جاتا ہے کہ اگر نبی کریمؐ کے بعد مرزا صاحب بھی ایسے نبی ہیں کہ ان کا ماننا ضروری ہے تو
پھر مرزا صاحب کا کلمہ کیوں نہیں پڑھتے؟
تو اس کا جواب یہ ہے کہ جب انسان کسی حق کا انکار کرتا ہے تو اس کی عقل ماری جاتی ہے، اور وہ ایسی بہکی بہکی باتیں
کرتا ہے کہ ایک بچہ بھی انہیں سن کر ہنسے۔ اب یہ کیسی بیوقوفی کی بات ہے کہ مرزا صاحب کا ماننا اگر ضروری ہے تو ان
کا کلمہ کیوں نہیں پڑھتے۔ غالباً معترض کا یہ خیال ہے کہ کلمہ میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا اسمِ مبارک اس غرض
سے رکھا گیا ہے کہ وہ آخری نبی ہیں، تبھی تو یہ اعتراض کرتا ہے کہ اگر محمدؐ رسول اللہ کے بعد کوئی اور نبی ہے تو
اس کا کلمہ بناؤ، نادان اتنا نہیں سوچتا کہ محمدؐ رسول اللہ کا نام کلمہ میں تو اس لئے رکھا گیا ہے کہ آپ نبیوں کے
سرتاج اور خاتم النبیین ہیں اور آپ کا نام لینے سے باقی سب نبی خود اندر آجاتے ہیں، ہر ایک کا علیحدہ نام لینے کی
ضرورت نہیں ہے، ہاں حضرت مسیح موعودؑ کے آنے سے ایک فرق ضرور پیدا ہوگیا ہے اور وہ یہ کہ مسیح موعودؑ کی بعثت سے
پہلے تو محمدؐ رسول اللہ کے مفہوم میں صرف آپ سے پہلے گزرے ہوئے انبیاء شامل تھے، مگر مسیح موعودؑ کی بعثت کے بعد
محمدؐ رسول اللہ کے مفہوم میں ایک اور رسول کی زیادتی ہوگئی، لہٰذا مسیح موعودؑ کے آنے سے نعوذ باللہ لَا الٰہ الّا اللہ محمد رسول اللہ کا کلمہ باطل نہیں
434
ہوتا بلکہ اور بھی زیادہ شان سے چمکنے لگ جاتا ہے۔ غرض اب بھی اسلام میں داخل ہونے کے لئے یہی کلمہ ہے، صرف
فرق اتنا ہے کہ مسیح موعودؑ کی آمد نے محمدؐ رسول اللہ کے مفہوم میں ایک رسول کی زیادتی کردی ہے اور بس۔ علاوہ اس
کے اگر ہم بفرضِ محال یہ بات مان بھی لیں کہ کلمہ شریف میں نبی کریمؐ کا اسمِ مبارک اس لئے رکھا گیا ہے کہ آپ آخری
نبی ہیں تو تب بھی کوئی حرج واقع نہیں ہوتا اور ہم کو نئے کلمہ کی ضرورت پیش نہیں آتی کیونکہ مسیح موعودؑ نبی کریمؐ
سے الگ چیز نہیں ہے جیسا کہ وہ خود فرماتا ہے: صار وجودی وجودہ، نیز: من فرق بینی وبین المصطفٰی
فما عرفنی وما راٰی اور یہ اس لئے ہے کہ اللہ تعالیٰ کا وعدہ تھا کہ وہ ایک دفعہ اور خاتم النبیین کو دنیا
میں مبعوث کرے گا جیسا کہ آیت اٰخرین منھم سے ظاہر ہے، پس مسیح موعودؑ خود محمدؐ رسول
اللہ ہے جو اشاعتِ اسلام کے لئے دوبارہ دنیا میں تشریف لائے، اس لئے ہم کو کسی نئے کلمہ کی ضرورت نہیں، ہاں اگر
محمدؐ رسول اللہ کی جگہ کوئی اور آتا تو ضرورت پیش آتی،فتدبروا ۔‘‘
(کلمۃ الفصل ص:۱۵۷، ۱۵۸)
غلام احمد کے بارے میں مرزائیوں کا عقیدہ:
سنو! غلام احمد قادیانی کا ایک شاعر تھا ...نعوذ باللہ... گویا مرزا غلام احمد کا ’’حسان بن ثابت‘‘ جس کا نام تھا:
اکمل، اور اکمل کے نام سے ہی شاعری کرتا تھا، اس نے مرزا غلام احمد کی مدح میں ایک قصیدہ لکھا جس کو اس نے خوشخط
لکھواکر، فریم کرکے مرزا غلام احمد کو پہنچوایا، یعنی اس کی خدمت میں پیش کیا، اور مرزا نے اس کو بہت ہی پسند کیا
اور اس کو دعائیں دیں، وہ قصیدہ کیا تھا؟ اس کے چند شعر میں تمہیں سنادیتا ہوں:
-
امام اپنا عزیزو اس جہان میں
غلام احمد ہوا دار الاماں میں
435
یعنی اے عزیز مرزائیو! اپنا امام غلام احمد ہے، اور ’’دارالامان‘‘ کہتے ہیں قادیان کو تو امام اپنا عزیزو اس جہاں
میں یعنی اس جہاں میں ایک ہی امام ہے ہمارا اور وہ ہے غلام احمد، غلام احمد ہوا دارالاماں میں۔
غلام احمد، عرشِ رَبّ اکبر؟
-
غلام احمد ہے عرشِ ربّ اکبر
مکاں اس کا ہے گویا لامکاں میں
نعوذ باللہ! یعنی غلام احمد عرشِ ربّ اکبر ہے اور اس کا مکان گویا لامکان میں ہے۔
غلام احمد بعینہٖ محمد رسول اللہ؟
آگے چلتے چلتے مزید کہتا ہے کہ:
-
محمد پھر اتر آئے ہیں ہم میں
اور آگے سے بڑھ کر ہیں اپنی شان میں
تم نہیں سمجھے کہ کیا بک رہا ہے؟ کہتا ہے کہ نعوذ باللہ! محمد پھر اُتر آئے ہم میں، اور آگے سے ہیں بڑھ کر اپنی
شان میں۔ یعنی محمد صلی اللہ علیہ وسلم دوبارہ مرزا کی شکل میں آگئے ہیں، اور پہلے سے بڑھ کر اس کی شان ہے۔
-
محمد دیکھنے ہوں جس نے اکمل
غلام احمد کو دیکھے قادیان میں
اس بکواس پر آج تک مرزائی خود شرمندہ ہیں، اور کہتے ہیں کہ جی شاعر نے کہہ دی تھی کوئی نظم! حالانکہ یہ نظم غلام
احمد قادیانی کی خدمت میں پیش کی گئی اور اس نے اس شاعر کو دعائیں دیں، پھر بعد میں یہ مرزا غلام احمد قادیانی کے
اخبار بدرؔ میں چھپی تھی، جو آج تک ہمارے پاس اصل رسالے میں چھپی ہوئی محفوظ ہے، ہم نقل در نقل نہیں کر رہے، بلکہ
یہ نظم مرزا غلام احمد کے اس اخبار میں چھپی ہے جو مرزا کی وحی کا ترجمان تھا، چنانچہ مرزا غلام احمد ایک جگہ لکھتا
ہے کہ:
436
وہ جو مسیح دو فرشتوں کے کندھوں پر ہاتھ رکھے ہوئے نازل ہوگا وہ دو فرشتے یہ میرے دو اخبار ہیں: ’’الحکم‘‘ اور
’’بدر‘‘۔
تو جو لوگ غلام احمد قادیانی کو محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بڑھ کر مانتے ہوں اور یہ کہتے ہوں کہ غلام
احمد بعینہٖ محمد رسول اللہ ہے، اگر وہی لوگ کہیں: ’’لا الٰہ الا اللہ محمد رسول اللہ‘‘ تو تم ہی بتلاؤ کیا یہ کلمہ
گو ہیں؟
مرزائی کلمہ گو نہیں:
میں آپ سے کہتا ہوں کہ جب بھی کوئی قادیانی تم سے کہے کہ جب ہم کلمہ پڑھتے ہیں، پھر ہمیں کیوں کافر کہتے ہو؟ تو اس
سے کہو کہ تم کس کا کلمہ پڑھتے ہو؟ جواب دو! کیا تم محمد رسول اللہ کا کلمہ پڑھتے ہو؟ ہرگز نہیں! بلکہ تم مرزا غلام
احمد کا کلمہ پڑھتے ہو، اور جو شخص کسی دجال کو ...نعوذ باللہ... محمد رسول اللہ کہے، کیا وہ حضور کو ماننے والا
کہلاسکتا ہے؟
’’تحذیر الناس‘‘ کی عبارت سے دھوکا:
قادیانی کہتے ہیں کہ ’’تحذیرالناس‘‘ میں لکھا ہے کہ مولانا محمد قاسم نانوتوی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ: اگر
بالفرض کوئی اور نبی آجائے تب بھی حضورؐ کی خاتمیت میں فرق نہیں پڑتا، لہٰذا اگر غلام احمد قادیانی کو نبی مان لیں
تو ختمِ نبوّت میں کوئی فرق نہیں پڑتا۔
’’تحذیر الناس‘‘ کی آڑ میں حضرت نانوتویؒ پر اعتراض:
ہمارے بریلوی بھائی اور مرزائی دونوں ہی یہ اعتراض کیا کرتے ہیں، جبکہ قادیانی ختمِ نبوّت کا انکار کرنے کے لئے
مولانا کی آڑ لیتے ہیں، البتہ ہمارے بریلوی بھائی اس کی آڑ میں مولانا قاسم نانوتوی قدس سرہٗ کی برائی کرتے ہیں،
مقصد دونوں کا الگ ہے، لیکن نقل وہ بھی کرتے ہیں، اور وہ بھی کرتے ہیں۔
ایک دلچسپ لطیفہ:
اس کا جواب دینے سے پہلے میں تمہیں ایک لطیفہ سناتا ہوں، وہ یہ کہ میں انگلینڈ گیا تھا، وہاں ڈیوزبری میں تھا، ہم
نے وہاں جلسہ کروایا، اور ایک بریلوی مولوی کو بھی بلالیا،
437
کیونکہ ختمِ نبوّت کا جلسہ تھا، یہاں تو سب آتے ہیں اور سب کو آنا بھی چاہئے، یہاں کسی دیوبندی، بریلوی یا
کسی دوسرے مسلک کی بات نہیں ہوتی، یہاں تو ایک ہی ختمِ نبوّت کی بات کرنی چاہئے، ہاں! اگر کوئی آگے پیچھے کوئی
دوسری بات کرتا ہے تو وہ اپنی ذمہ داری پر کرتا ہے، ہم اس سے بری ہیں، ان باتوں کے کرنے کے لئے دوسرے اسٹیج بہت ہیں،
چنانچہ میں نے بھی متعدد کتابیں لکھی ہیں اور تقریباً سارے موضوعات پر ہیں، لیکن میں جب اسٹیج پر بیٹھوں گا تو محمد
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ختمِ نبوّت کی بات کروں گا، اور اس حوالے سے بات کروں گا، دوسرے کسی حوالے سے بات
نہیں کروں گا، لیکن اگر تم دوسرے حوالے سے کوئی بات کرنے پر مجبور کروگے تو جواب ہی نہیں دوں گا، میں یہاں مرزائیوں
کے سوا کسی فرقے کی بات نہیں کروں گا، کیونکہ مرزائی مسلمان ہی نہیں ہیں، مسلمان کا طبقہ نہیں ہے۔ خیر وہ بریلوی
مولوی صاحب وہاں پر بولتے رہے اور حضرت مولانا محمد قاسم نانوتوی رحمۃ اللہ علیہ کو جو کچھ انہوں نے بُرابھلا کہنا
تھا کہا، لیکن جب وہ تقریر سے فارغ ہوکر آبیٹھے تو میں نے ان سے کہا کہ: ’’تحذیر الناس‘‘ آپ کے پاس ہے؟ کہنے لگا:
نہیں، میرے پاس تو نہیں ہے! میں نے کہا: کبھی آپ نے تحذیر الناس دیکھی بھی ہے؟ کہنے لگا: اجی میں نے دیکھی بھی نہیں
ہے! دراصل میں یہ چاہ رہا تھا کہ اگر اس کے پاس کتاب ہو، تو میں اسی کی کتاب اسی کو دکھادیتا، خیر تو میں نے دوسرے
دوستوں سے کہا کہ بھائی کسی کے پاس کتاب ’’تحذیر الناس‘‘ مل جائے گی؟ اب انگلینڈ میں ’’تحذیر الناس‘‘ کا ہونا کارے
دارد! بہرحال ایک دوست نے کہا کہ: میرے پاس ہے، میں لاتا ہوں! اتنے میں وہ کتاب لے آیا، میں عصر کے بعد ان بریلوی
مولوی صاحب کے پاس چلا گیا، چند دوست اور بھی میرے ساتھ تھے، کیونکہ میں نے مولوی صاحب سے کہہ دیا تھا کہ میں عصر کے
بعد آؤں گا اور کتاب ساتھ لے کر آؤں گا، مجھے بھی وہ حوالہ دکھا دینا کہ کہاں ہے؟ جب میں مولوی صاحب کے پاس پہنچ
گیا تو میں نے کتاب ان کے سامنے رکھ دی، مولوی صاحب تلاش کرتے رہے مگر ان کو وہ حوالہ نہیں ملا۔
438
منکرِ ختمِ نبوّت، منکرِ قرآن ہے!
میں نے کہا: مولوی صاحب! تمہیں تو ملے یا نہ ملے البتہ میں تمہیں ایک حوالہ دکھاتا ہوں، جس میں مولانا محمد قاسم
رحمہ اللہ تعالیٰ نے لکھا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ختمِ نبوّت کا انکار کرنے والا قرآن کریم کا انکار
کرتا ہے، حدیثِ متواتر کا انکار کرتا ہے اور اجماعِ اُمت کا انکار کرتا ہے، لہٰذا وہ کافر ہے۔
کوئی صاحب مجھ سے یہ حوالہ آکر دیکھنا چاہے تو شوق سے آئے، میں دکھاسکتا ہوں۔ ’’تحذیر الناس‘‘ اس وقت اگرچہ میرے
پاس نہیں ہے، مگر کتب خانہ میں شاید ضرور ہوگی، نہیں تو فیصل آباد سے تو بالکل ہی نئی مل جائے گی۔
ختمِ نبوّت کا منکر، نمازِ پنج گانہ اور زکوٰۃ کے منکر کی طرح کافر ہے:
چنانچہ حضرت مولانا محمد قاسم نانوتوی رحمہ اللہ تعالیٰ نے ’’تحذیرالناس‘‘ طبع قدیم کے صفحہ گیارہ پر تصریح کی ہے
کہ: یہ مسئلہ چونکہ قرآن سے بھی ثابت ہے اور چونکہ حدیث متواتر سے بھی ثابت ہے اور چونکہ تمام اُمت کا اس پر اجماع
ہے، لہٰذا اس کا انکار کرنے والا ایسا کافر ہوگا جیسا کہ نمازِ پنجگانہ کا اور زکوٰۃ کا انکار کرنے والا کافر ہے،
چنانچہ حضرت نانوتوی قدس سرہٗ لکھتے ہیں:
’’...۔۔ ادھر تصریحاتِ نبوی مثل:’’انت منی بمنزلۃ ہارون من موسیٰ الّا انہ لَا نبی
بعدی‘‘ او کما قال۔ جو بظاہر بطرز مذکور اسی لفظ ’’خاتم النبیین‘‘ سے مأخوذ ہے، اس باب میں کافی، کیونکہ
یہ مضمون درجہ تواتر کو پہنچ گیا ہے، پھر اس پر اجماع بھی منعقد ہوگیا، گو الفاظِ مذکور بہ سندِ متواتر منقول نہ
ہوں، سو یہ عدم تواتر الفاظ، باوجود تواتر معنوی، یہاں ایسا ہی ہوگا جیسا تواتر تعدادِ رکعاتِ فرائض و وتر وغیرہ،
باوجودیکہ الفاظِ احادیث مشعر تعدادِ رکعات متواتر نہیں، جیسا اس کا منکر کافر ہوگا ایسا ہی اس کا منکر بھی کافر
ہوگا۔‘‘
439
پہلے سوال کا جواب ہوگیا۔
حضرت نانوتویؒ کی عبارت کا مفہوم:
باقی دوسری عبارت جو تم کہتے ہو وہ یہ کہ: ’’اگر بالفرض ایسا ہو‘‘ بھلا یہ بات اگر تمہاری سمجھ میں نہیں آتی تو اس
میں بھی حضرت نانوتویؒ کا قصور ہے؟ نہیں یہ تمہاری عقل کا قصور ہے، مگر طرفہ تماشا یہ کہ اس پر دھڑلے سے یہ کہا جاتا
ہے کہ یہ عبارت لکھنے والا کافر ہے، کیا یہ کہنا اور لکھنا صحیح ہوگا؟ کیونکہ حضرت نانوتویؒ نے فرمایا: ’’اگر
بالفرض‘‘ یہ تو تم خود ہی سمجھ لو کہ ’’اگر بالفرض‘‘ کے الفاظ کے اندر کیا مفہوم ہوگا؟ اگر تم یہ بھی نہیں سمجھ سکتے
تو تم ہی بتلاؤ پھر ہم تمہیں کیسے سمجھائیں کہ ’’ختمِ نبوّت زمانی‘‘ کیا ہوتی ہے؟ ’’ختمِ نبوّت مکانی‘‘ کیا ہوتی
ہے؟ اور ’’ختمِ نبوّت مرتبی‘‘ کیا ہوتی ہے؟
دراصل ’’ختمِ نبوّت مرتبی‘‘ یہ ہے کہ جس میں ساری قسم کی خاتمیتوں کا ذکر ہو، غالباً یہ تمہاری سمجھ میں آنے کا
مسئلہ نہیں ہے، تم تو بس اسی سے سمجھ لو کہ ایک شخص کہتا ہے کہ ختمِ نبوّت زمانی یعنی زمانے کے اعتبار سے آپ صلی
اللہ علیہ وسلم کا خاتم النبیین ہونا، پھر فرمایا حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا خاتم النبیین ہونا قرآن سے ثابت ہے،
حدیثِ متواتر سے ثابت ہے اور اجماعِ اُمت سے ثابت ہے، اور اس کا انکار کرنے والا قطعی کافر ہے۔ سوال یہ ہے کہ تم اس
عبارت کو ذکر کیوں نہیں کرتے؟ یہ بھی تو ’’تحذیر الناس‘‘ میںہے۔
مرزائیوں اور بریلویوں کی عقل کا ماتم!
مرزائیو! تم سے بھی پوچھتا ہوں اور اپنے ان بریلوی بھائیوں سے بھی پوچھتا ہوں کہ آخر کس مصلحت سے یہ عبارت چھپاتے
ہو...؟ اگر بالفرض! ختمِ نبوّت کے وہ معنی لئے جائیں جو اس احقر نے بیان کئے ہیں، تو پھر بالفرض اگر آنحضور صلی
اللہ علیہ وسلم کے بعد بھی کوئی نبی آجاتا تب بھی خاتمیت میں فرق نہ آتا، یہاں یہ فرمایا گیا کہ: ’’اگر بالفرض
کوئی نبی آجاتا‘‘ اب یہ سمجھنے کی بات ہے کہ لفظ ’’آجاتا‘‘ اور ’’ہے‘‘ کے معنی میں زمین و آسمان کافرق ہے، اب اگر
کسی کو ’’آتا‘‘ اور ’’ہے‘‘، ’’آجاتا‘‘ اور ’’ہے‘‘، ’’آنے‘‘ اور ’’آجاتے‘‘ کافرق بھی نہیں آتا تو اُسے میں کیا
سمجھاؤں...؟
440
فرضِ محال سے حقیقت ثابت نہیں ہوتی:
کیا یہ کہنا صحیح نہیں ہے کہ: ’’اگر زید عورت ہوتا تو بچے جن سکتا تھا‘‘ کیا اس کہنے سے زید عورت بن گیا؟ اسی طرح
اگر کوئی اپنی گھروالی سے کہے کہ: ’’میں عورت ہوتی تو بچے جنتی‘‘ تو کیا اس سے وہ عورت بن گیا؟ یا وہ بچے جننے لگ
گیا؟ اسی طرح کیا حضراتِ امہات المؤمنینؓ نے یہ نہیں کہا تھا کہ: ’’اگر ہم مرد ہوتے تو ہم جہاد میں حصہ لیتے‘‘ کیا
ان کے اس کہنے سے وہ مرد بن گئیں؟ اور جہاد میں حصہ لینا ثابت ہوگیا؟ اسی طرح اگر میں کہہ دوں کہ: ’’میں عورت ہوتی
تو بچے جنتی‘‘ کیا اس سے میرا عورت ہونا ثابت ہوگیا؟ اور بچے جننا ثابت ہوگیا؟ لہٰذا جیسے یہاں فرضِ محال سے حقیقت
ثابت نہیں ہوتی، تو اگر حضرت مولانا محمد قاسم نانوتویؒ ایک محال کا فرض کرتے ہیں تو اس سے اجرائے نبوّت کیسے ثابت
ہوگیا؟ لہٰذا مولانا محمد قاسم نانوتوی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ جو معنی میں نے لئے ہیں، اگر بالفرض یہ معنی
لئے جائیں تو اس صورت میں اگر بالفرض حضورؐ کے بعد بھی نبی آجاتا تو خاتمیت میں کوئی فرق نہ آتا، یعنی حضرتؒ اس
خاتمیت کی بات کر رہے ہیں، جس کے منکر پر وہ خود کفر کا فتویٰ دے رہے ہیں، مطلقاً خاتمیت کی بات نہیں فرمارہے، کسی
دوسری خاتمیت کی بات نہیں ہورہی کہ اگر حضورؐ کے بعد بالفرض کوئی نبی آجاتا، ’’آجاتا‘‘ سے ’’آنا‘‘ مراد نہیں ہے،
اس سے زیادہ تمہیں کیا سمجھائیں؟
ظہورِ مہدی کا ذکر قرآن میں:
سوال:... قرآن مجید میں تو مہدی کے ظہور کا کوئی ذکر نہیں ہے؟
جواب:... اگر ایسا ہے تو پھر مرزا غلام احمد قادیانی نے مہدی ہونے کا دعویٰ کیوں کیا تھا؟ یعنی اگر قادیانی یہ سوال
کرتے ہیں کہ قرآن میں تو ظہورِ مہدی کا کوئی ذکر نہیں! تو میں نے کہا کہ پھر غلام احمد قادیانی نے مہدی ہونے کا
دعویٰ کیوں کیا؟ یہ تو ہے الزامی جواب۔
تحقیقی جواب:... یہ ہے کہ ذکر تو ہے مگر قادیانیو! تمہاری عقل وہاں تک نہیں
441
پہنچتی، چنانچہ قرآن مجید میں ہے:’’یوم یأتی بعض اٰیات ربک‘‘ کیوں بھئی! یہ
لفظ قرآن میں موجود ہے کہ نہیں؟ یعنی جس دن آئیں گی کچھ نشانیاں تیرے رَبّ کی، اور کچھ نشانیوں کی تفسیر و تأویل
کو دیکھ کر علمائے اُمت نے بیان کیا اور اس پر اُمت کا اجماع ہوگیا کہ ان نشانیوں سے مراد ہے: حضرت مہدی علیہ
الرضوان کا ظاہر ہونا، دجال کا نکلنا، حضرت عیسیٰ علیہ الصلوٰۃ والسلام کا نازل ہونا، دابۃ الارض کا نکلنا، یاجوج و
ماجوج کا نکلنا، اور مشرق و مغرب میں خسف ہونا، اور آفتاب کا مغرب کی جانب سے نکلنا وغیرہ، یہ ساری باتیں گویا اس
آیت میں اجمالاً ذکر فرمائی گئی ہیں، اور ساتھ ہی یہ بھی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس آیت کی تفسیر کرتے
ہوئے دس نشانیاں ذکر فرمائی ہیں۔
کسی کو چاند نظر نہ آئے تو چاند کا نہیں اس کی نظر کا قصور ہے:
بھائی! آخر اس کا کیا علاج کیا جائے کہ چاند تو نکلا ہوا موجود ہے، لیکن چونکہ تمہاری نظر کمزور ہے، اس لئے تمہیں
تیسویں کا چاند بھی نظر نہیں آتا، صرف تیسویں کا ہی نہیں بلکہ تمہیں تو تیسری کا چاند بھی نظر نہیں آتا، اور بعضے
تو ایسے اندھے ہیں کہ دوپہر کے وقت کا سورج بھی ان کو نظر نہیں آتا۔ تم ہی بتلاؤ! اس کا کیا علاج کیا جائے؟ بھائی!
اپنی نظر ہی کا علاج کراؤ۔
اشراط الساعہ میں ظہورِ مہدی بھی داخل ہے:
اچھا اس بات کو ایک اور طریقے سے سمجھاتا ہوں وہ یہ کہ قرآن کریم میں ظہورِ مہدی کا ذکر ہے۔ آپ کہیں گے وہ کیسے؟
میں کہتا ہوں یہ بتلاؤ کہ قرآن مجید میں قیامت کا ذکر ہے یا نہیں؟ ظاہر ہے قرآن مجید میں قیامت کا ذکر ہے، اور
تمہیں یہ بھی معلوم ہے کہ جب قیامت آئے گی تو قیامت سے پہلے کچھ نشانیاں ظاہر ہوں گی، اور قرآن کریم نے اس کا نام
رکھا ہے:’’اشراط الساعۃ‘‘ جیسا کہ ارشادِ الٰہی ہے: ’’جَآئَ
اَشْرَاطُھَا‘‘ (اشراط الساعۃ) یعنی قیامت کی علامتیں۔ اور قیامت کی علامتیں دو
قسم کی ہیں: ایک چھوٹی علامتیں اور ایک بڑی علامتیں۔
442
چھوٹی علامتیں تو بہت ہیں، مگر بڑی علامتیں وہ کہلاتی ہیں جن کو دیکھ کر اندازہ لگالیا جائے کہ اب دنیا کے ختم ہونے
کا وقت قریب ہے، جیسے مریض میں بعض علامتیں دیکھ کر اندازہ کرلیا جاتا ہے کہ اب یہ بیمار ختم ہے۔
دیکھو تمہاری اور میری زندگی کو خطرہ تو ہر وقت ہی ہے، خدا جانے کب موت آجائے؟ لیکن ظاہری آثار تو کوئی نہیں نظر
آرہے، نزلہ، زکام تو ہم کو ہوتا ہی رہتا ہے، طبیعت میں گڑبڑ بھی ہوجاتی ہے، لیکن جب کوئی آدمی اتنا بیمار ہوجاتا
ہے کہ اس کی جان سے اور زندگی سے مایوسی ہوجاتی ہے تو ہم کہتے ہیں کہ اب اس کا وقت قریب ہے۔ ٹھیک اسی طرح قیامت سے
پہلے اللہ تعالیٰ دس علامتیں ظاہر فرماویں گے اور یہ علامتیں قیامت کی علاماتِ کبریٰ کہلاتی ہیں، چنانچہ حضرت مہدی
رضوان اللہ علیہ کا ظہور بھی قیامت کی علاماتِ کبریٰ کا مقدمہ ہے، تو جب قیامت کا اور اس کی علامات کا ذکر ہے تو اس
کی علامتِ کبریٰ حضرت مہدی علیہ الرضوان کے ظہور کا ذکر بھی اجمالاً قرآن مجید میں موجود ہے، البتہ اس کی تفصیلات
احادیثِ مبارکہ میں ملتی ہیں، اس لئے اگر یہ کہا جائے کہ ظہورِ مہدی کا ذکر قرآن مجید میں ہے تو بے جا نہ ہوگا۔
کوئی طاقت اور لالچ تم سے دامنِ نبوّت نہ چھڑاسکے!
میرے بھائیو! تم نے جو حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا دامن پکڑا ہوا ہے، کوئی طاقت اور کوئی لالچ تم سے
اس دامن کو نہ چھڑاسکے، یعنی تمہارا ایمان اتنا مضبوط ہونا چاہئے، اس کے برعکس تمہارا ایمان ایسا نہیں ہونا چاہئے کہ
خدانخواستہ اسے دو پیسے یا دو آنے میں دے دو یا فروخت کردو۔ تمہارے ایمان کی قیمت اتنی بڑی ہونی چاہئے کہ:
-
موحد کہ در پائے ریزی زرش
کہ فولاد ہندی نہی برسرش
یعنی موحد کے پاؤں پر سونا لاکر ڈھیر کردو یا چاہو تو فولادِ ہندی کی تلوار اس کی گردن پر رکھ دو۔
443
-
امید و یاس نہ باشد بہ کس
ہمیں است بنیاد توحید و بس
اس کو نہ کسی سے اُمید ہو او رنہ کسی کا خوف ہو، یہ ہے بنیاد توحید کی، اللہ تعالیٰ ہم سب کو ایسا کردے۔
یعنی اللہ تعالیٰ کی ذات پر اتنا یقین ہوجائے، اور محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوّت پر ایسا ایمان ہو کہ
دنیا کی کوئی طاقت ہمیں اس راستہ سے نہ ہٹاسکے، اللہ تعالیٰ ہمیں استقامت عطا فرمائے۔
قادیانی شبہ کہ ہمیں کیوں غیرمسلم قرار دیا گیا؟
ایک صاحب سوال کر رہے تھے کہ آج کل مرزائی اور قادیانی اپنے عقائد کا انکار اور خود اپنی تکذیب کر رہے ہیں، اور
کہتے ہیں کہ مسلمانوں نے ہمیں کیوں غیرمسلم قرار دلایا؟ لہٰذا اب نوجوانوں کو یہ سمجھانا مشکل ہوگیا ہے کہ ہم نے
قادیانیوں کو کافر کیوں قرار دلایا تھا؟
اسی جواب کے سلسلہ میں عرض ہے کہ فیصل آباد میں ہمارے ایک دوست ہیں ناصر صاحب، ان کو نوجوانوں سے باتیں کرنے کا
شوق ہے، میں نے ان کو کہا کہ: مرزائی لڑکوں کو بھی دعوت دیا کرو! انہوں نے کہا: میں نے چند لڑکوں کو اس سلسلہ میں
دعوت دی تھی اور پھر ان کے اشکالات رفع کرنے کے لئے انہیں لے لے کر پھرتا رہا، کبھی ہم ایک مولوی کے پاس گئے، کبھی
دوسرے اور کبھی تیسرے کے پاس گئے، مگر ان کے سوالوں کا کسی نے جواب نہیں دیا، جب کسی نے ان کے سوالوں کا جواب نہیں
دیا تو قادیانی لڑکے مجھ سے کہنے لگے کہ: تمہارے مولویوں کو جواب تو آتا نہیں، مگر تم ہمیں کہتے ہو کہ قادیانیت
چھوڑ دو!
تردیدِ قادیانیت ایک فن ہے:
بھائی! تردیدِ قادیانیت ایک فن ہے، اور یہ اُسے آئے گا جو اس کو سیکھے گا، جو نہیں سیکھے گا اُسے نہیں آئے گا، اس
میں عیب کی کون سی بات ہے؟ دیکھو بھائی! جو فن مجھے نہیں
444
آتا میں اس کے بارے میں کیا کہہ سکتا ہوں؟ چنانچہ میرے پاس بہت سے ایسے خطوط آتے ہیں جن کے جواب میں، میں
پوری بات کہہ دیتا ہوں کہ میں نہیں جانتا!
دُنیا بھر کے سوالوں کے جواب کا گُر:
ہمارے حضرت حکیم الاُمت قدس سرہٗ و نوّر اللہ مرقدہٗ ارشاد فرماتے تھے کہ: مجھے ایک ایسا گُر آگیا ہے کہ دنیا بھر
کے سوالوں کا جواب دے سکتا ہوں، اور دنیا کے ہر سوال کا جواب میرے پاس ہے۔ عرض کیا گیا کہ: حضرت! وہ کیسے؟ فرمایا:
جو بات آتی ہوگی اس کا جواب لکھ دوں گا اور جو بات نہیں آتی ہوگی کہہ دوں گا کہ میں نہیں جانتا! لیکن میرے نہ
جاننے سے یہ تو لازم نہیں آتا کہ کوئی بھی نہیں جانتا، کیونکہ ’’فَوْقَ کُلِّ ذِیْ عِلْمٍ
عَلِیْمٌ‘‘ ہر علم والے کے اوپر اللہ نے ایک علم والا بنایا ہے، یہاں تک کہ چلے چلتے معاملہ اللہ کی ذات
تک پہنچ جاتا ہے، اس سے اوپر کوئی عالم نہیں، ہر عالم سے بڑا عالم ہے، لیکن اس کے بعد اور اس کے اوپر کوئی عالم
نہیں، تو میں نے ان سے یہی کہا کہ ان علمائے کرام نے سیکھا ہی نہیں تھا، اس لئے ان کو جواب نہیں آیا، تو ان کو جواب
نہ آنے کا یہ مطلب تو نہیں کہ کسی کو بھی نہیں آتا۔
علماء سے شکایت:
ہمارے دوستوں کو علمائے کرام سے شکایت ہے، ضرور شکایت کریں، اجازت ہے، لیکن میں شکایت کا عادی نہیں ہوں، پھر خصوصاً
اپنے لوگوں کی میں شکایت نہیں کیا کرتا، لیکن ایک شکایت تو مجھے بھی کرہی لینے دیجئے! وہ یہ کہ ان بیچارے (علماء) کو
تو سیاست سے فرصت نہیں، سیاسی مسائل سے فرصت نہیں، آپس کے جھگڑوں کے مسائل سے فرصت نہیں، غرض یہ کہ دوسرے مسائل سے
فرصت نہیں، ہاں! ملک و ملت کے اور بھی بہت سارے مسائل ہیں، ان پر بھی روشنی ڈالو!
علمائے کرام کا اصل کام:
اصل بات تو یہ ہے کہ علمائے کرام کا کام ہے: ’’لوگوں کے ایمان اور اعمال کی حفاظت کرنا‘‘، آج یہاں سے میری یہ
نصیحت لے کر جاؤ اور تمام علماء کو میری طرف سے یہ
445
پیغام پہنچاؤ کہ تمہاری یہ سوچ کہ فلاں چیز دے دو، فلاں چیز خرید لو، اور فلاں اور فلاں، ان تمام فکروں کو
چھوڑ دو، اس لئے کہ تم نائبِ نبی ہو اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا کام ہے اُمت کے ایمان اور ان کے عمل کی حفاظت
کرنا اور ان کو ایمان اور عمل کی تلقین کرنا، اور بس! لہٰذا جو لوگ دین کی خدمت میں لگے ہوئے ہیں ان کی مثال ایسے ہے
جیسے دروازے پر کوئی پہرہ دار کھڑا ہو اور پاسبانی کر رہا ہو، تاکہ کوئی چور اور ڈاکو ہمارے اموال کو لوٹ کر نہ لے
جائے۔
اسی طرح یہ ختمِ نبوّت والے بھی حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے تاجِ ختمِ نبوّت کی پاسبانی کر رہے ہیں، کیونکہ اصل
مقصود اُمت کے ایمان اور عمل کی حفاظت ہے۔
آپؐ کی بعثت کا مقصد؟
ایک ہی لفظ یاد رکھو اور پلّے باندھ لو کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم دنیا میں اسی مقصد کے لئے تشریف لائے، جیسا
کہ ارشادِ الٰہی ہے:
’’...۔۔یَتْلُوْا عَلَیْھِمْ اٰیـَاتِہٖ وَیُزَکِّیْھِمْ وَیُعَلِّمُھُمُ الْکِتَابَ وَالْحِکْمَۃَ...۔۔‘‘
(الجمعہ:۲)
ترجمہ:... ’’(ایک رسول انہی میں کا) پڑھ کر سناتا ہے ان کو اس کی آیتیں اور ان کو سنوارتا ہے اور
سکھلاتا ہے ان کو کتاب اور عقل مندی۔‘‘
یعنی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے فرائض میں سے ہے کہ اُمت کے سامنے قرآن کریم کی آیات کی تلاوت کریں، ان کو کتاب و
حکمت کی تعلیم دیں اور ان کو پاک کریں، کیونکہ کتاب و حکمت سکھانا، ایمان اور عمل سکھانے کے لئے ہے، اور ان کو پاک
کرنا، اسی طرح جو چیزیں کہ ایمان و عمل کے لئے مضر ہوں ان سے حفاظت کی تعلیم دینا بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے
فرائض میں سے ہے۔
تزکیہ کا مقصد:
آپ نے دیکھا ہوگا، خصوصاً چوہدری صاحبان اور جو زمیندار آدمی ہیں وہ جانتے
446
ہوں گے کہ جب فصل کاشت کی جاتی ہے تو اس میں دوسری بے کار بوٹیاں یا جڑی بوٹیاں خودبخود پیدا ہوجاتی ہیں اور
وہ فصل کے لئے نقصان دہ ہوتی ہیں، کاشتکار فصل سے ان کو صاف کرتے ہیں اس لئے کہ ان کے ہوتے ہوئے فصل کو نقصان پہنچتا
ہے، جس طرح کاشتکار ان سے زمین کی صفائی کرتا ہے ٹھیک اسی طرح نبی بھی اپنی اُمت کے ایمان و عمل کی فصل کو ان اعمال
و عقائد سے صاف کرتا ہے جو ان کے لئے مضر ہوں، یہ ہے ’’ویزکیھم‘‘ (ان کو پاک کردینا) کا
مصداق۔ گویا گندے عقائد سے، گندے اخلاق سے، گندی معاشرت سے، گندے معاملات سے، آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اُمت کو
پاک کرتے ہیں۔
منصبِ رسالت علمائے اُمت کے سپرد ہے:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا جو منصب تھا، اور جو کام آپؐ کے سپرد کیا گیا تھا اب وہ علمائے ربانی اور علمائے
حقانی کے سپرد ہے، یعنی مختصر یہ کہ اُمت کے ایمان اور عمل کی حفاظت کا کام اب آپ کے سپرد ہے، تو بھائی! اصل کام تو
تمہارا یہ ہے، یہ جو تم دوسری چیزوں میں، لغویات میں مشغول ہوگئے ہو یہ تمہارا کام نہیں ہے، میں تمہیں اس سے روکتا
ہوں، اب تم کہو گے کہ یہ مولویوں پر تنقید کر رہا ہے، بھائی! میں تنقید نہیں کرتا، لیکن بھائی میں علمائے کرام سے
درخواست کرتا ہوں کہ اُمت کے ایمان اور عمل کی فکر کرو! نہیں، نہیں! بلکہ اپنی فکر کرو اور اس کے ساتھ ساتھ اُمت کے
ایمان و عمل کی بھی فکر کرو، دوسرے لوگوں سے تو صرف ان کے ایمان اور عمل کے بارے میں پوچھا جائے گا، مگر تم سے پوری
قوم کے بارے میں پوچھا جائے گا، کیونکہ تم پر ان کے ایمان و عمل کی حفاظت کی ذمہ داری عائد ہوتی ہے۔
تردیدِ قادیانیت کوئی مشکل نہیں:
ہاں! تو میں اپنے نوجوان دوست ناصر کا قصہ بتا رہا تھا کہ اس نے چند نوجوانوں کو قادیانیت کے خلاف تلقین کی اور وہ
علماء کے پاس گئے، اور انہوں نے علماء سے اُلٹے سیدھے سوال کئے، مگر علماء نے ان کے سوالوں کے جواب نہ دئیے، میرے
بھائی! یہ جواب دینا کوئی مشکل کام نہیں بشرطیکہ علماء اس طرف متوجہ ہوں، اصل بات یہ ہے کہ علماء اس
447
طرف متوجہ ہی نہیں ہوتے۔
مولانا عبدالغنی پٹیالوی اور تردیدِ قادیانیت:
میں تمہیں بتاتا ہوں کہ یہ کام کوئی مشکل نہیں، چنانچہ تمہاری عبرت کے لئے اس پر ایک قصہ سناتا ہوں کہ حضرت مولانا
عبدالغنی پٹیالوی رحمہ اللہ تعالیٰ ضلع پٹیالہ میں گزرے ہیں، انہوں نے بیٹھ کر ایک مہینے تک مرزا غلام احمد کی
کتابیں دیکھیں اور مطالعہ کیا، پھر ایک مہینے کے بعد مرزا غلام احمد قادیانی کی تردید میں ایک کتاب لکھی، جس کا نام
ہے:’’ہدایۃ الممتری عن غوایۃ المفتری‘‘ جس کو بعد میں، میں نے ختمِ نبوّت کی طرف سے
’’اسلام اور قادیانیت‘‘ کے نام سے چھاپا ہے، اور مجھے یہ جان کر خوشی ہوتی ہے کہ الحمد للہ! ہمارے مرکزِ اسلامی
دارالعلوم دیوبند نے بھی اسے اسی انداز اور نام سے چھاپا ہے، کتنی پائے کی کتاب ہے! اس کا اندازہ تو پڑھنے سے ہی
ہوگا، بہرحال انہوں نے قادیانیت پر محنت کی، قادیانی کتابوں کا مطالعہ کیا اور کتاب لکھ دی، انہوں نے صرف کتاب ہی
نہیں لکھی بلکہ مولانا نے الٰہ آباد ہائی کورٹ میں جاکر ان کے خلاف مقدمہ لڑا۔
تو قادیانیت ایسا کوئی مسئلہ نہیں ہے جو تمہارے لئے ناقابلِ حل ہو، خاص طور پر علمائے کرام کے لئے، مگر اے کاش! کہ
تھوڑا سا وقت دے کر اس پر محنت کرلو، متوجہ ہوجاؤ، اور اس کو سیکھ لو۔
قادیانیوں کو غیرمسلم کیوں قرار دیا گیا؟
اچھا تو مولانا صاحب نے سوال اُٹھایا تھا کہ لوگ پوچھتے ہیں کہ قادیانیوں کو کیوں غیرمسلم قرار دیا گیا؟ اس کے جواب
کے سلسلہ میں میں تمہیں اپنا ایک واقعہ سناتا ہوں، ہوا یوں کہ ایک بار تین نوجوان دفتر میں میرے پاس آئے، چونکہ میں
جب دفتر میں کام کرتا ہوں تو میری نظر صرف کاغذ پر ہی ہوتی ہے، اسی لئے جب وہ آئے اور انہوں نے سلام کیا تو میں نے
بھی وعلیکم السلام کہہ دیا اور اپنے کام میں لگ گیا، لیکن جب انہوں نے کہا: ہم وحدت کالونی فیصل آباد سے آئے ہیں،
تو میں نے کہا: سناؤ ناصر صاحب ٹھیک ہیں؟ میں
448
اب بھی اپنا کام کر رہا ہوں اور بات چیت بھی کر رہا ہوں۔ اتنے میں وہ کہنے لگے کہ: ہم احمدی ہیں! میں نے
کاغذ اور قلم وہیں چھوڑ دیا اور کہا: کیسے تشریف آوری ہوئی؟ وہ کہنے لگے: آپ سے ایک سوال پوچھنا ہے! میں نے کہا:
کیا پوچھنا ہے؟ کہنے لگے کہ: تم لوگ ہمیں کافر کیوں کہتے ہو؟ حالانکہ ہم قرآن کو مانتے ہیں، ہم نماز پڑھتے ہیں، ہم
روزہ رکھتے ہیں، تو تم ہمیں کافر کیوں کہتے ہو؟ جیسے ہمارے بعض نادان مسلمان کہتے ہیں کہ وہ ہم سے اچھے مسلمان ہیں،
تو انہوں نے بھی کہا کہ ہم تو اچھے مسلمان ہیں، ہمیں کافر کیوں کہتے ہو؟
اب دیکھو جو خود صاحبِ واقعہ ہے، اس کی طرف سے اگر سوال ہو تو جواب دینے کا بھی مزہ آتا ہے، اگر تم کوئی سوال
بناکے دے دو اور میں اس کا جواب دوں تو مزہ نہیں آتا۔
خیر میں نے ان نوجوانوں سے کہا: میرا بھائی! آپ کے اس سوال کے دو جواب ہیں: ایک چھوٹا اور ایک بڑا۔ ایک آسان اور
ایک مشکل۔
قادیانی، ہمیں اور دوسرے مسلمانوں کو کیوں کافر کہتے ہیں؟
چھوٹا اور آسان جواب تو یہ ہے کہ میں تمہارے سامنے بیٹھا ہوں، اور کلمہ ’’لا الٰہ الا اللہ محمد رسول اللہ‘‘ پڑھ
رہا ہوں، میں قرآن کو بھی مانتا ہوں، محمد رسول اللہ کو بھی مانتا ہوں، نماز بھی پڑھتا ہوں، روزہ بھی رکھتا ہوں،
کلمہ گو ہوں، حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے پورے دین کو الف سے لے کر یا تک ماننے کا تمہارے سامنے اقرار کرتا ہوں، تم
ہی بتاؤ کہ تم مجھے کافر کیوں کہتے ہو؟ تم نے کہا کہ: ہم کلمہ پڑھتے ہیں، تم ہمیں کافر کیوں کہتے ہو؟ میں نے تمہارے
سامنے کلمہ پڑھ دیا، اور میں نے تمہارے سامنے حلفاً اقرار کیا، خانہ کعبہ میں کھڑے ہوکر مجھ سے اقرار کراؤ کہ میں
الف سے لے کر یا تک محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پورے دین کو جیسا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اُسے
لائے تھے مانتا ہوں، بغیر کسی تأویل کے، بغیر کسی شک و شبہ کے، اور بغیر کسی خِفائے نفس کے۔
یہاں میں حاضرین سے بھی درخواست کرتا ہوں کہ دعا کرو کہ مجھے اللہ تعالیٰ اس پر موت دے، بلکہ ہم سب کو اس پر موت دے
کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بات کو بغیر کسی شک و شبہ کے، بغیر مصلحت کے، اور بغیر اپنی عقل کو استعمال
کئے مانیں۔
449
محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے اپنی عقل نہ چلاؤ:
بھائی! معاف کرنا، اپنی عقلیں دوسروں کے سامنے چلایا کرو، حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے نہ چلایا کرو،
اپنے برابر والوں کے سامنے بے شک چلاؤ، اپنے چھوٹوں کے سامنے چلاؤ، یہ تم نے کس سے سیکھ لیا کہ تم اپنے بڑوں کے
سامنے عقل چلاتے ہو؟ اور سنو! حضور صلی اللہ علیہ وسلم تو بڑوں کے بڑے ہیں، اور حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم
کائناتِ آدمیت سے بڑے ہیں، اُن سے بڑا کوئی نہیں، کائنات میں ان سے بڑا کوئی نہیں، اور ہم سے چھوٹا کوئی نہیں،
افسوس! آج کل بچہ بڑا ہوکر باپ کی گستاخی کرتا ہے اور ...نعوذ باللہ... اس کے سامنے ہاتھوں کو پکڑ لیتا ہے۔
مجھ سے سن لو! یہ شرطِ ایمان نہیں ہے کہ اگر تمہاری عقل میں آئے گا تو مانوگے اور نہ آئے گا تو نہیں مانوگے، یہ
ایمان نہیں ہے!
جو تمہاری عقل میں آئے اُسے ماننا ایمان نہیں:
امام غزالی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: جو لوگ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی بات کو اس لئے مانتے ہیں کہ ان کی سمجھ میں
آرہی ہے، وہ اپنی عقل پر ایمان لائے ہیں حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان نہیں لائے، تمہاری عقل میں آئے یا
نہ آئے، تمہاری عقل وہاں تک پہنچے یا نہ پہنچے، مانو! کیا اس بلندی تک تمہاری عقل پہنچ سکتی ہے جس بلندی کا میں ذکر
کررہا ہوں؟ جب اس بلندی تک تمہاری عقل نہیں پہنچتی تو تم اپنی عقل کے ذریعہ اس میں دخل کیوں دیتے ہو؟ تم اپنی عقل کی
کمزوری، اپنی عقل کا عجز اور اپنی عقل کا قصور کیوں نہیں تسلیم کرتے؟
اسلام کا ایک ایک مسئلہ عقل کے مطابق ہے:
خدانخواستہ میں یہ نہیں کہتا کہ اسلام کا کوئی مسئلہ عقل کے خلاف ہے، الحمدللہ! ثم الحمدللہ! ثم الحمدللہ! اسلام کے
ایک ایک مسئلے کے بارے میں ثابت کرسکتا ہوں کہ وہ عقل کے مطابق ہے، دینِ اسلام کا ایک مسئلہ بھی عقل کے خلاف نہیں،
ہاں! میں یہ ضرور کہوں گا کہ تمہاری عقل وہاں تک نہیں پہنچتی، جہاں حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم پہنچے ہیں، اور
جہاں
450
اور جس سطح پر بیٹھ کر وہ بات کرتے ہیں بلاشبہ تمہاری عقل وہاں نہیں پہنچ سکتی، بھائی! یہی کیا کم ہے کہ ہم
اُمتی بننے کے لائق ہوجائیں، اس لئے دعا کرو کہ ہم آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے اُمتی بننے کے لائق ہوجائیں، ہم تو
اس لائق بھی نہیں۔
قادیانیوں سے سوال؟
ہاں! تو میں عرض کر رہا تھا کہ میں نے ان سے کہا کہ: میں ’’لا الٰہ الا اللہ محمد رسول اللہ‘‘ غیرمشروط طور پر
پڑھتا ہوں، اور واللہ! باللہ! دل سے پڑھتا ہوں، ’’اقرار باللسان وتصدیق بالقلب‘‘ (زبان سے
اقرار اور دل سے تصدیق کرتا ہوں)۔ فرمائیے! میں تمہارے نزدیک کیوں کافر ہوں؟ فرمائیے مرزا طاہر صاحب! میں کیوں کافر
ہوں؟ مرزائیو! اپنے گرو سے پوچھو، اپنے بڑے سے پوچھو کہ میں کیوں کافر ہوں؟ محمد یوسف لدھیانوی کیوں کافر ہے؟ کیا ہم
کلمہ گو نہیں؟ اگر تم ہمیں کافر کہو تو تم ماشاء اللہ شاہزادے، اور اگر ہم تمہیں کافر کہیں تو ہم مجرم قرار پائیں،
آخر کیوں؟ یہ تو وہی بات ہوئی ناں! کہ:
تیری زلف میں پہنچی تو حسن کہلائی
وہی تیرگی جو میرے نامۂ سیاہ میں ہے!
کس قدر لائقِ شرم ہے کہ اگر ہم جھوٹے مدعیٔ نبوّت غلام احمد کے ماننے والوں کو کافر کہیں تو ہم مجرم قرار پائیں،
اور اگر تم سچے نبی کے ماننے والوں کو کافر کہو تو تم دنیا کے معزز! کچھ تو شرم کرو!
مختصر سا جواب:
میں نے ان نوجوانوں سے کہا: شہزادو! آپ کے سوال کا مختصر جواب تو یہ ہے، تم بتاؤ کہ تم مجھے کیوں کافر کہتے ہو؟
تمہارے پاس کیا عذر ہے؟ کیا میں قرآن کو نہیں مانتا؟ میں نے کہا: یہ دیکھو میں نے حدیث کی اور تفسیر کی کتابیں رکھی
ہوئی ہیں، کیا میں ان کو نہیں مانتا؟ ناممکن ہے!
میں نے کہا: میں ’’لا الٰہ الا اللہ محمد رسول اللہ‘‘ پڑھتا ہوں، مگر تم پھر بھی کہتے ہو کہ یہ کافر ہے، کیوں؟ اگر
تم میرے سوال کا جواب دے دو گے تو میں بھی دے دوں گا۔
451
ان نوجوانوں نے کہا کہ: نہیں ہم تو کافر نہیں کہتے! میں نے کہا: میرے پاس اس پر حوالے موجود ہیں، خود تمہارے نبی کا
حوالہ موجود ہے، تمہارے پہلے خلیفہ کا حوالہ موجود ہے، تمہارے دوسرے خلیفہ کا حوالہ موجود ہے، تمہارے تیسرے خلیفہ کا
حوالہ موجود ہے، اور یہ چوتھا خلیفہ تمہارے سامنے ہی ہے، جو کچھ کہتا ہے اور جن لفظوں سے وہ ہمیں خطاب کرتا ہے وہ
شاید تمہیں معلوم نہ ہو، وہ مجھے خطاب کرکے کہتا ہے: ’’بدبخت‘‘، ’’بدبخت مُلَّا‘‘ حالانکہ میں نے کبھی ’’بدبخت مرزا
طاہر‘‘ نہیں کہا، مگر یہ جب بھی ہمیں کہتا ہے ’’بدبخت مُلَّا‘‘ کہتا ہے، اس کی تقریریں سن کر دیکھ لو، الحمدللہ! میں
نے اس کی تقریریں اور کیسٹیں نہیں سنیں۔
کل میں نے بتایا تھا کہ مرزا طاہر، امام شافعی رحمہ اللہ کا نام لیتا ہے تو یہ بدبخت ان کا بھی مذاق اُڑاتا ہے، ارے
یہ ہمیں بدبخت کہتا ہے حالانکہ خود بدبخت ہے۔
تو میں نے کہا کہ: یہ تو آسان جواب ہے، جو بہت آسانی سے تمہاری سمجھ میں آجائے گا، کیوں بھائی؟ قادیانی ہمیں اور
پوری مسلم برادری کو کافر کہتے ہیں ناں! جی ہاں کہتے ہیں! تو ان سے پوچھو کہ پھر تم یہ کیوں پوچھتے ہو کہ ہم تمہیں
کیوں کافر کہتے ہیں؟ـ کیونکہ ہمیں کافر کہہ کر فیصلہ تو آپ نے خود ہی کردیا۔
ایک دوسرے انداز سے:
اچھا اگر اتنا نہیں پوچھ سکتے تو ان کے سامنے کہو: ’’لا الٰہ الا اللہ محمد رسول اللہ‘‘ اور ساتھ یہ بھی کہہ دو کہ:
میں ایمان لایا حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر اور حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے پورے دین پر، الف سے
یا تک دل اور زبان کے ساتھ۔ اب بتاؤ! میں کافر ہوں یا نہیں؟ ساتھ یہ بھی کہہ دو کہ: میں مرزے کو نہیں مانتا، البتہ
محمد رسول اللہ کو مانتا ہوں اور دل و زبان سے مانتا ہوں، اوّل سے آخر تک مانتا ہوں، الف سے یا تک پورے دین کو
مانتا ہوں، ایک ایک شوشے کو مانتا ہوں، خواہ میرا عمل اس کے مطابق نہیں ہے، تب بھی مانتا ہوں، اگر عمل اس کے مطابق
ہے تب بھی مانتا ہوں۔ ہاں! یہ میری غلطی ہے کہ میں مانتا تو ہوں مگر اس پر عمل نہیں کرتا، کیونکہ ماننا اور ہے اور
عمل کرنا اور ہے، گناہ گار مسلمان مانتا تو ہے مگر عمل نہیں کرتا، ٹھیک ہے عمل کرنا چاہئے اور ضرور کرنا چاہئے، لیکن
اگر کوئی شخص
452
عمل نہیں کرتا تو یہ صرف گناہ گار ہے کیونکہ عمل میں کوتاہی ہے، مگر مانتا تو ہے ناں! اور جو نہیں مانتے وہ
منکر اور کافر ہیں، لیکن جو مانتا ہے مگر عمل نہیں کرتا اس کو فاسق اور گناہ گار کہیں گے، کافر نہیں کہیں گے، تو میں
نے کہا: تمہارے سوال کا جواب تو میں نے دے دیا ہے۔ اگر تو ہمارے مولانا صاحب کا سوال جو انہوں نے اُٹھایا تھا، اسی
طرح کا تھا، جس طرح کالج کے لڑکوں نے مجھ سے کیا تھا، تو بھائی! اس کے لئے تو کتاب پڑھنے کی ضرورت نہیں، بلکہ میں نے
جو جواب دیا ہے اس کے لئے تو کتابیں پڑھنے کی بھی ضرورت نہیں، تمہیں کتنا آسان جواب بتادیا ہے! لہٰذا جب بھی کسی
کالج کا کوئی لڑکا یا بہت ہی اُونچی تعلیم والا کسی سے سوال کرے، چاہے کسی جاٹ اور اَن پڑھ کے سامنے یہ کہے کہ تم
ہمیں کافر کیوں کہتے ہو؟ تو فوراً کہہ دو کہ تو مجھے کافر کیوں کہتا ہے؟ حالانکہ میں محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے دین
کو مانتا ہوں۔ یہ جواب تو اچھی طرح یاد کرلو اور پکا کرلو، کیونکہ یہ بہت آسان، بہت چھوٹا سا اور مختصر سا جواب ہے،
اِن شاء اللہ وہ مان جائے گا، اور اس پر چوں بھی نہیں کرے گا۔
اس کو پھر دہراتا ہوں کہ کہو: میں محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو اور آدم علیہ السلام سے لے کر حضرت محمد صلی اللہ
علیہ وسلم تک تمام نبیوں کو مانتا ہوں، اللہ تعالیٰ کے پورے دین کو مانتا ہوں، اوّل سے آخر تک مانتا ہوں، ہاں! میری
کوتاہی ہے کہ میرا عمل اس کے خلاف ہے، لیکن مانتا ضرور ہوں، لیکن غلام احمد کو نہیں مانتا، یہ بات سن کر مرزائی کہیں
گے کہ یہ کافر ہے، جب وہ یہ کہیں گے تو ہم کہیں گے کہ تم خود کافر ہو، اس لئے ہم تمہیں کافر کہتے ہیں۔
مشکل اور طویل جواب:
اس کا ایک جواب مشکل اور ذرا لمبا بھی ہے، میں تمہیں وہ بھی سمجھا دیتا ہوں، وہ یوں ہے کہ مشہور روایت کے مطابق
قرآن کریم کی چھ ہزار چھ سو ۶۶۶۶چھیاسٹھ آیتیں ہیں۔ یہ قاری صاحبان میرے سامنے بیٹھے ہیں، مجھے ٹوک ہی نہ دیں، اس
لئے عرض کرتا ہوں کہ مشہور یہی ہے، اور جن حضرات نے آیات کی تعداد اس کے علاوہ بتلائی ہے وہ بھی ٹھیک ہے، اس کی وجہ
یہ ہے کہ کسی نے ایک آیت کو پورا شمار کرلیا، کسی نے آدھی شمار کرلی اور دو ٹکڑے اور دو حصے کردئیے، تو اس کی دو
آیتیں شمار کردیں، جیسے کہ: ’’صِرَاطَ الَّذِیْنَ
453
اَنْعَمْتَ عَلَیْھِمْ۔ غَیْرِ الْمَغْضُوْبِ عَلَیْھِمْ وَلَا الضَّآلِّیْنَ‘‘
کے بارہ میں حضرت امام شافعی رحمہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ: یہ ایک ہی آیت ہے، اور ہمارے امام رحمہ اللہ فرماتے
ہیں: یہ دو آیتیں الگ الگ ہیں، اس لئے وہ فرماتے ہیں کہ: ’’صِرَاطَ الَّذِیْنَ اَنْعَمْتَ
عَلَیْھِمْ‘‘ الگ آیت ہے، اور ’’غَیْرِ الْمَغْضُوْبِ عَلَیْھِمْ وَلَا
الضَّآلِّیْنَ‘‘ الگ آیت ہے۔ تو میں نے کہا کہ قرآن کریم کی چھ ہزار چھ سو چھیاسٹھ آیتیں ہیں، اگر
کوئی آدمی کہے کہ میں قرآن کریم کی چھ ہزار چھ سو پینسٹھ آیتوں کو مانتا ہوں مگر ان میں سے ایک آیت غلط ہے
...نعوذ باللہ... تو بھائی! بتلاؤ وہ مسلمان ہے؟ حالانکہ وہ قرآن کو مانتا ہے مگر تم کہوگے کہ وہ قرآن کو تو مانتا
ہے مگر چھ ہزار چھ سو پینسٹھ آیتوں کو مانتا ہے، نعوذ باللہ ثم نعوذ باللہ! اگر کوئی شخص قرآن کی ایک اتنی چھوٹی
سی آیت، مثلاً:’’ان شانئک ھو الأبتر‘‘ جو صرف چار پانچ کلمات پر مشتمل ہے، اس کا انکار
کردیتا ہے تو بتاؤ وہ مسلمان ہے یا نہیں؟ ظاہر ہے تم یہی کہوگے کہ وہ مسلمان نہیں ہے، کیوں؟ وجہ بتاسکتے ہو؟ نہیں!
تم نہیں بتاسکتے، ہاں! میں بتاؤں گا، اس کی وجہ یہ ہے کہ قرآن کریم پورا کا پورا اللہ تعالیٰ کی طرف سے نازل ہوا
ہے اور اس پورے پر ایمان لانا فرض ہے، لہٰذا جس طرح پورے قرآن پر ایمان لانا فرض ہے اسی طرح اس کے ایک ایک لفظ اور
آیت پر ایمان لانا بھی فرض ہے، اور اس کی کسی سورۃ، آیت یا حرف کا انکار کرنا اس کے جھٹلانے کے مترادف ہے، لہٰذا
اس آیت کے انکار کا معنی ہے وہ قرآن کو نہیں مانتا اور جو قرآن کو نہیں مانتا وہ کافر ہے۔
اسی طرح قرآن کریم کی آیات کا مفہوم جو پوری اُمت نے سمجھا ہے اس کو ماننا بھی فرض ہے، جو قرآن کریم کا اپنی طرف
سے ایسا مفہوم بیان کرتا ہے جو خود قرآن کریم، احادیث، اجماعِ صحابہ، ائمہ محدثین و مجتہدین اور پوری اُمت کے تعامل
کے خلاف ہو، وہ بھی کافر ہے۔
تو قادیانی اجرائے نبوّت، انکارِ حیات و نزولِ مسیح، اور انکارِ ختمِ نبوّت ایسے تمام متواترات کا انکار اور تحریف
کرنے کی وجہ سے کافر و مرتد، ملحد و زندیق اور دائرۂ اسلام سے خارج ہیں۔
454
مرزا صاحب کی سبز قدمی
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ
اَلْحَمْدُ للہِ وَسَلَامٌ عَلٰی عِبَادِہِ الَّذِیْنَ اصْطَفٰی!
جناب محترم سیّد ناصر محمود صاحب
السلام علینا وعلیٰ عبادہ اللہ الصالحین!
جناب کا نامۂ کرم موجبِ منّت ہوا، میں ممنون ہوں کہ میرے ایک مضمون ’’کراچی کے حالات اور ہماری سنگدلی‘‘ کا کم سے
کم ایک فقرہ جناب کے لئے جاذبِ توجہ ہوا کہ: ’’اب اُمت کے غم میں کوئی رونے والا بھی نہیں رہا‘‘ اور پھر جناب نے
میرے درد کے مداوا اور میرے زخمِ دِل پر مرہم رکھنے کے لئے اَزراہِ ہمدردی یہ اِنکشاف فرمایا کہ ایک ایسا وجودِ
مسعود موجود ہے اور وہ ہے: مرزا طاہر احمد...! آنجناب کی اس عنایت ونوازش کا شکریہ، تاہم مزید عنایت ہوگی، اگر آپ
مرزا صاحب سے درخواست کریں کہ خدارا! وہ اس اُمت کے حال پر رحم فرمائیں اور اس کے لئے دُعا کرنا ترک فرمادیں، کیونکہ
موصوف کی دُعاؤں کا اثر اس شعر کا مصداق ہے:
-
مانگا کریں گے اب سے دُعا ہجرِ یار کی
آخر تو دُشمنی ہے دُعا کو اَثر کے ساتھ
آپ کے وجودِ مسعود مرزا صاحب جتنی دُعائے خیر فرماتے ہیں، اس کا اتنا ہی اُلٹا اثر ظاہر ہوتا ہے۔ اُن کا بڑا کرم
ہوگا، اگر وہ اُمت کو اُن دُعاؤں سے محروم رکھیں، جن کا اثر مسعود کے بجائے مشئوم ظاہر ہو رہا ہے۔ دراصل یہ ان کے
جدِ بزرگوار مرزا غلام احمد قادیانی کی سبزقدمی کا نتیجہ ہے، جب سے مسیحا اور ظلّی نبی کا رُوپ دھارکر اُنہوں نے
اُمت کی مسیحائی کا کاغذی پھریرا اُڑانا شروع کیا، اُمت، اغیار کی سازشوں کے پنجے میں جکڑتی چلی
455
گئی۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے پیش گوئی فرمائی تھی کہ حضرت مسیح بن مریم علیہ السلام کے زمانے میں:
’’سب مذاہب ہلاک ہوجائیں گے، اور صرف اسلام رہ جائے گا، اور شیر، اُونٹوں کے ساتھ، اور چیتے، گائے بیلوں کے ساتھ،
اور بھیڑیے، بکریوں کے ساتھ، چرتے پھریں گے، اور بچے سانپوں کے ساتھ کھیلیں گے اور وہ ان کو نقصان نہیں دیں گے،
عیسیٰ بن مریم (علیہ السلام) چالیس سال رہیں گے اور پھر فوت ہوجائیں گے، اور مسلمان ان کے جنازے کی نماز پڑھیں گے۔‘‘
(حقیقۃ النبوۃ ص:۱۹۲)
آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی یہ پیش گوئی میں نے آپ کے مرزا طاہر احمد کے والدِ بزرگوار مرزا محمود صاحب کی کتاب
’’حقیقۃ النبوۃ‘‘ سے نقل کی ہے۔ یہ حال تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت مسیح عیسیٰ بن مریم علیہ السلام کے
زمانے کا بیان فرمایا، اب اس فرمودۂ نبوی کے آئینے میں قادیان کے کاغذی مسیح مرزا غلام احمد کی شکل دیکھئے! ساڑھے
سترہ سال تو وہ دعویٔ مسیحیت کے بعد زِندہ رہے، اور اُمت کی مسیحائی کی کاغذی پتنگ اُڑاتے رہے، آج ان کو قادیان کی
ڈھاب کے کنارے دفن ہوئے بھی پورے ۸۳ برس ہوچکے ہیں، مگر ان کی مسیحیت کا اُلٹا کرشمہ ظاہر ہو رہا ہے کہ اس پوری صدی
میں اہلِ باطل کو ترقی ہے اور دِینِ اسلام کمزور۔ یہی حال آپ کے مرزا طاہر کی دُعاؤں کا ہے، دراصل آپ کی مشکل یہ
ہے کہ آپ نے قادیان کے خانوادۂ مسیحیت سے باہر نکل کر کسی بندۂ خدا کو دیکھا ہی نہیں، اس لئے آپ کو ایک ہی وجود
مسعود نظر آرہا ہے:
-
ناز ہے گل کو چمن میں اپنی نزاکت پر اے ذوق
اُس نے دیکھے ہی نہیں ناز ونزاکت والے!
جنابِ محترم! آپ نے اپنے نام کے ساتھ ’’سیّد‘‘ لکھا ہے، اور میرے لئے میرے محبوب صلی اللہ علیہ وسلم ...میری جان
اور میرے ماں باپ آپ صلی اللہ علیہ وسلم
456
پر فدا ہوں... کی آل، اولاد لائقِ صد اِحترام ہے۔ کیا آنجناب نے کبھی اپنے نانا صلی اللہ علیہ وسلم کے
پاک اِرشادات کو مسیحِ قادیان مرزا غلام احمد قادیانی پر منطبق کرنے کی زحمت فرمائی ہے؟ مثلاً آنحضرت صلی اللہ علیہ
وسلم کا یہی ارشاد، جس کا اِقتباس میں نے اُوپر نقل کیا ہے، اس کا ایک حرف بھی قادیانی مسیح پر صادق آتا ہے؟ کیا
قادیانی مسیح کے زمانے میں اسلام کے سوا باقی سب مذاہب دُنیا سے مٹ گئے؟ نہیں...! کیا انسانوں اور جانوروں کے دِلوں
سے عداوت نکل گئی؟ نہیں...! کیا قادیانی مسیح، عیسیٰ بن مریم تھا؟ نہیں...! یقین نہ آئے تو ’’اِزالہ اوہام‘‘ ص:۱۹۰
میں مرزا قادیانی کے یہ الفاظ پڑھ لیجئے:
’’اس عاجز نے جو مثیلِ موعود ہونے کا دعویٰ کیا ہے، جس کو کم فہم لوگ مسیحِ موعود خیال کر بیٹھے ہیں ......۔۔ میں
نے یہ دعویٰ ہرگز نہیں کیا کہ میں مسیح ابنِ مریم ہوں، جو شخص یہ اِلزام میرے پر لگاوے وہ سراسر مفتری اور کذّاب
ہے۔‘‘
(اِزالہ اوہام ص:۱۹۰، رُوحانی خزائن ج:۳ ص:۱۹۲)
کیا قادیانی مسیح، مسیحیت کا دعویٰ کرنے کے بعد چالیس سال زِندہ رہا تھا؟ نہیں...! (کیونکہ اس نے ۱۸۹۱ء میں مسیحیت
کا دعویٰ کیا، اور ۲۶؍مئی ۱۹۰۸ء کو چل بسا، مدتِ قیام: ۷۱ سال، چار ماہ، ۲۵دِن) کیا مسلمانوں نے اس کے جنازے کی نماز
پڑھی تھی؟ نہیں...!
سیّد صاحب! اگر آپ واقعی سیّد ہیں، آلِ رسول ہیں تو اِنصاف فرمائیے کہ آپ کے نانا صلی اللہ علیہ وسلم حضرت مسیح
علیہ السلام کے بارے میں کیا پیش گوئی فرماتے ہیں؟ اور قادیان کے کاغذی مسیح کا ناک نقشہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم
کی پیش گوئی سے کتنا مختلف ہے؟ اور یہ ایک ارشادِ نبوی کے آئینے میں قادیانی مسیح کی شکل ہے، ورنہ آنحضرت صلی اللہ
علیہ وسلم کے بہت سے متواتر اِرشادات پکار پکار کر کہہ رہے ہیں کہ حضرت مسیح علیہ السلام کی ایک علامت بھی قادیانی
مسیح پر صادق نہیں آتی، اس کا ایک نمونہ میں نے اپنے رسالے ’’شناخت‘‘ میں ذِکر کردیا ہے۔
سیّد صاحب! آپ نے اپنے نانا صلی اللہ علیہ وسلم کا اِرشاد سنا ہوگا:’’من کذب
457
علیَّ متعمّدًا فلیتبوَّأْ مقعدہ من النار‘‘ ...جس نے مجھ پر جان بوجھ کر جھوٹ
بولا، وہ اپنا ٹھکانا دوزخ میں بنائے... ادھر قادیان کا کاغذی مسیح بار بار آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر جھوٹ
باندھتا تھا، اس ناکارہ نے اپنے ایک مضمون میں ...جو بعد میں ’’چوہدری سرظفراللہ خان کو دعوتِ اسلام‘‘ کے نام سے
شائع ہوا... مرزا قادیانی کے اِفتراء علی اللہ، افتراء علی الرسول اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام پر اِفترا کی دس دس
مثالیں ذِکر کردی ہیں، انصاف فرمائیے کہ ایسا مفتری، مسیحِ موعود ہوسکتا ہے؟ نہیں، ہرگز نہیں...!
سیّد صاحب! جب اِفہام وتفہیم اور مباحثہ ومناظرہ کے ذریعہ بھی دو فریقوں کے درمیان فیصلہ نہ ہوسکے کہ ان میں کون حق
پر ہے اور کون باطل پر؟ کون سچا ہے اور کون جھوٹا؟ تو آخری فیصلے کے لئے حق تعالیٰ شانہ‘ کی عدالت سے رُجوع کیا
جاتا ہے، جس کا نام ’’مباہلہ‘‘ ہے، مرزا قادیانی کے متعدّد مباہلے ہوئے، اور ہر مرتبہ اللہ تعالیٰ کی عدالت نے مرزا
قادیانی کو جھوٹا ثابت کیا، اس ناکارہ نے ان کی تفصیل اپنے رسائل ’’مرزا طاہر احمد کے جواب میں‘‘ اور ’’مرزا طاہر پر
آخری اِتمامِ حجت‘‘ میں ذِکر کردی ہے، اور اپنے ایک چھوٹے سے رسالے میں جس کا نام ’’قادیانی فیصلہ‘‘ ہے، ان اُمور
کا خلاصہ درج کردیا ہے، کاش! آپ کی جماعت کے احباب، حق طلبی واِنصاف پسندی کے ساتھ ان رسائل کا مطالعہ کرلیتے تو
بعید نہ تھا کہ اللہ تعالیٰ ان پر حق کھول دیتے...!
سیّد صاحب! کیا آپ کو معلوم ہے کہ مرزا قادیانی کا مولانا عبدالحق غزنویؒ کے ساتھ مباہلہ ہوا تھا؟ اور یہ مباہلہ
اس نکتے پر تھا کہ مرزا قادیانی مسلمان ہے یا کافر ومرتد اور ملحد وزِندیق؟ اور کیا آپ کو معلوم ہے کہ مرزا قادیانی
نے خود یہ اُصول بیان کیا تھا کہ: ’’مباہلہ کرنے والوں میں سے جو جھوٹا ہو، وہ سچے کی زندگی میں ہلاک ہوجاتا ہے‘‘؟
اور کیا آپ کو معلوم ہے کہ مولانا عبدالحق غزنوی مرحوم کے ساتھ مباہلہ کرنے کے بعد ۲۶؍مئی ۱۹۰۸ء کو مرزا قادیانی،
مولانا مرحوم کی زندگی میں ہلاک ہوگیا، اور مولانا مرحوم، مرزا قادیانی کی ہلاکت کے نو سال بعد تک بخیر وعافیت زِندہ
رہے؟ اس خدائی فیصلے کے بعد اِنصاف فرمائیے کہ مرزا غلام احمد قادیانی کے جھوٹا، کافر ومرتد اور ملحد وزِندیق ہونے
میں کیا شبہ رہا...؟
458
اسی طرح مرزا قادیانی کے ایک چیلے حافظ محمد یوسف کا مولانا عبدالحق مرحوم کے ساتھ مباہلہ ہوا، اس مباہلے
میں بھی یہی نکتہ زیرِ بحث تھا کہ مرزا قادیانی اور اس کے دو بڑے چیلے: حکیم نوردِین اور محمد احسن امروہی مسلمان
ہیں یا دجال وکذّاب اور مرتد؟ مرزا نے اپنے مرید حافظ محمد یوسف کی تحسین کی اور مباہلے کی ذمہ داری کو بڑی شدّ ومدّ
سے قبول کرلیا۔ اس مباہلے کے نتیجے میں حافظ محمد یوسف صاحب مرزائیت سے توبہ کرکے مسلمان ہوگئے، اور ساحرانِ فرعون
کی طرح: ’’اٰمَنَّا بِرَبِّ الْعٰلَمِیْنَ، رَبِّ مُوْسٰی وَھَارُوْن‘‘ پکار اُٹھے۔
دادِ اِنصاف دیجئے کہ حافظ صاحب موصوف کا مولانا غزنویؒ کے قدموں میں آگرنا، مرزا قادیانی اور اس کے چیلوں کے دجال
وکذّاب اور مرتد ہونے کا خدائی اِعلان تھا یا نہیں...؟
سیّد صاحب! مرزا قادیانی کا دجال وکذّاب اور مرتد ہونا، آفتاب نصف النہار سے زیادہ روشن ہے۔ اللہ تعالیٰ کی کتابِ
مقدس قرآنِ کریم کی رُو سے بھی، آپ کے نانا صلی اللہ علیہ وسلم ...فداہ ابی واُمی ورُوحی وجسدی... کے فیصلوں کی
رُو سے بھی، مرزا کی تعلیماتِ کفریہ کی رُو سے بھی، اور آخر میں اللہ تعالیٰ کے فیصلوں کی رُو سے بھی، اور خود مرزا
غلام احمد قادیانی کے اپنے قول واِقرار کی رُو سے بھی، اس لئے یہ ناکارہ نہایت اِخلاص کے ساتھ آپ ہی کے الفاظ
مستعار لے کر عرض پرداز ہے کہ:
’’ہم آپ کے حقیقی ہمدرد اور خیرخواہ ہیں، کاش! آپ کی آنکھیں کھلیں اور آپ (قرآنِ کریم، اِرشاداتِ نبویہ اور
خدائی فیصلوں کے) اس نور کو پہچان لیں، جو آپ کو اندھیرے سے نکال کر روشنی کی طرف لے جانے کے لئے آسمان سے اُترا
ہے۔‘‘
آپ نے مرزا طاہر احمد صاحب کے حوالے سے چند باتیں ایسی لکھی ہیں، جو اس ناکارہ کی نظر میں حقائق کے خلاف ہیں، مگر
میں ان پر گفتگو کرکے بے ضرورت اس عریضے کو طویل نہیں کرنا چاہتا، اس لئے اس باب میں جناب کو معذور سمجھتا ہوں، اور
’’حُبّک الشیء یعمی ویصم‘‘ پر محمول کرتا ہوں۔ میں آپ کی توجہ صرف اس نکتے پر مرکوز
کرنا چاہتا ہوں کہ مرزا طاہر احمد کا دادا مرزا غلام احمد قادیانی واقعتا مسیحِ موعود تھا، یا اللہ تعالیٰ کی نظر
459
میں وہ مفتری ودجال اور مفسد وکذّاب تھا؟ اُوپر کی تحریر سے آپ یہ فیصلہ آسانی سے کرسکیں گے، اور آپ کی
مزید رہنمائی کے لئے مرزا قادیانی کے ’’مجموعہ اِشتہارات‘‘ جلد:۳، ص:۵۷۸، ۵۷۹سے درج ذیل اِقتباس نقل کرتا ہوں:
’’محض دُعا کے طور پر میں نے خدا سے فیصلہ چاہا ہے، اور میں خدا سے دُعا کرتا ہوں کہ اے میرے مالک بصیر وقدیر، جو
عظیم وخبیر ہے، جو میرے دِل کے حالات سے واقف ہے، اگر یہ دعویٰ مسیحِ موعود ہونے کا محض میرے نفس کا اِفترا ہے، اور
میں تیری نظر میں مفسد اور کذّاب ہوں، اور دِن رات اِفترا کرنا میرا کام ہے، تو اے میرے پیارے مالک! میں عاجزی سے
تیری جناب میں دُعا کرتا ہوں کہ مولوی ثناء اللہ صاحب کی زندگی میں مجھے ہلاک کر، اور میری موت سے ان کو اور ان کی
جماعت کو خوش کردے، (آمین)۔‘‘
مرزا قادیانی نے نہایت تضرّع اور اِبتہال کے ساتھ جو دُعا بارگاہِ رَبّ العزّت میں کی، اس بصیر وعلیم اور قدیر
وخبیر نے اس کو شرفِ قبول بخشا اور مولانا ثناء اللہ مرحوم کی زندگی میں ہلاک کرکے فیصلہ فرمادیا کہ مرزا، اللہ
تعالیٰ کی نظر میں کون تھا؟ مسیحِ موعود تھا یا مفسد وکذّاب؟
دُعا کرتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ آپ کو مرنے سے پہلے حقیقت آشنا کردے اور قیامت کے دِن کی ذِلت ورُسوائی سے بچنے کی
توفیق عطا فرمائے۔
سُبْحٰنَ رَبِّکَ رَبِّ الْعِزَّۃِ عَمَّا یَصِفُوْنَ، وَسَلٰمٌ عَلَی
الْمُرْسَلِیْنَ، وَالْحَمْدُ للہِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ
آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا ایک گناہگار اُمتی
محمد یوسف عفا اللہ عنہ
۲۷؍۱۲؍۱۴۱۵ھ
460
قادیانی عقائد پر ایک نظر
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ
اَلْحَمْدُ للہِ وَسَلَامٌ عَلٰی عِبَادِہِ الَّذِیْنَ اصْطَفٰی!
لوگوں کا خیال ہے کہ آئینی ترمیم سے قادیانی مسئلہ حل ہوگیا ہے، چنانچہ اس پر اظہارِ خیال کیا گیا ہے، ہمارے
مولانا عبدالمجید صاحب نے تحفظِ ختمِ نبوّت کا مفہوم بیان کیا ہے اور بتلایا ہے کہ ختمِ نبوّت کیا چیز ہے؟ اور تحفظِ
ختمِ نبوّت کیا ہے؟ میں بھی اس سلسلہ میں کچھ عرض کرنا چاہتا ہوں۔
فتنوں کی پیش گوئی:
آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اس اُمت میں فتنوں کے ظاہر ہونے کی پیش گوئی فرمائی تھی، اس لئے فرمایا:
’’عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ رَضِیَ اللہُ عَنْـہُ اَنَّ رَسُوْلَ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ
قَالَ: بَادِرُوْا بِالْاَعْمَالِ فِتَنًا کَقِطَعِ اللَّیْلِ الْمُظْلِمِ! یُصْبِحُ الرَّجُلُ مُؤْمِنًا
وَّیُمْسِیْ کَافِرًا، اَوْ یُمْسِیْ مُؤْمِنًا وَّیُصْبِحُ کَافِرًا، یَبِیْعُ دِیْنَہٗ بِعَرَضٍ مِّنَ
الدُّنْیَا۔‘‘
(صحیح مسلم ج:۱ ص:۷۵)
یعنی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ: ان فتنوں کے آنے سے پہلے پہلے، جلدی جلدی نیک اعمال کرلو، جو فتنے
کہ ایک تاریک اور سیاہ رات کے ٹکڑوں کی طرح ہوں گے، جس میں آدمی کو پتہ نہیں چلتا، سیاہ و سفید کا امتیاز نہیں
ہوتا، آدمی صبح کو مؤمن ہوگا اور شام کو کافر، ...اللہ پناہ میں رکھے... شام کو مؤمن سوئے گا تو صبح کو کافر
ہوگا، جس طرح
461
تاریک رات میں سیاہی و سفیدی کا پتہ نہیں چلتا، اس طرح فتنوں کے دور میں خاص طور پر کمزور نظر والوں کو حق
اور باطل کا پتہ نہیں چلتا، حق کیا ہے؟ باطل کیا ہے؟
ایمان و عقیدہ کی نگاہ کمزور ہے:
بہت سے لوگوں کو آپ نے یہ کہتے ہوئے سنا ہوگا کہ یہ مولوی لڑاتے رہتے ہیں، اب ہمیں یہ پتہ ہی نہیں چلتا کہ حق اور
سچ کیا ہے اور جھوٹ اور باطل کون سا ہے؟ کیونکہ یہ بھی قرآن پڑھتے ہیں اور وہ بھی قرآن پڑھتے ہیں۔ بھائی! نظر
کمزور ہے اور راستہ تاریک ہے، سیاہ کپڑے کا اور سفید کپڑے کا پتہ نہیں چلتا، اس لئے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے
فتنوں کے ظہور کی پیش گوئی فرمائی ہے۔
فتنہ کی تعریف:
فتنے کی تعریف یہ ہے کہ باطل کو حق کی شکل میں پیش کیا جاتا ہے، یہاں تک کہ عام آدمی کو حق اور باطل کے درمیان
امتیاز مشکل ہوجاتا ہے، اس اُمت میں بہت سے فتنے اُٹھے اور الحمدللہ! ان کا سر کچل دیا گیا۔
دجال کا فتنہ سب سے بڑا:
ان فتنوں میں سے ایک یہ قادیانی فتنہ ہے، اور میرا اندازہ یہ ہے کہ اس کے بعد سب سے بڑا فتنہ صرف ایک ہی باقی ہے،
اور سب سے بڑا فتنہ وہی ہوگا، اور وہ ہے مسیح الدجال کا فتنہ!
دجال ایک سال دو مہینے اور دو ہفتے رہے گا:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی پیش گوئی کے مطابق کانا دجال نکلے گا، وہ دنیا میں چالیس دن رہے گا، ان چالیس دنوں
کا پہلا دن ایک سال کے برابر، دوسرا دن ایک مہینے کے برابر، تیسرا دن ایک ہفتے کے برابر، اور باقی سینتیس کے بارہ
میں فرمایا کہ تمہارے دنوں کے برابر۔ اس سے سنتالیس دن کا ایک مہینہ ثابت نہیں ہوتا، گویا اس کا فتنہ ایک سال دو
مہینے اور دو ہفتے رہے گا، اتنی تھوڑی سی مدت میں وہ پورے عالم میں پھیل جائے گا اور تمام
462
لوگوں کو گمراہ کردے گا۔
فتنۂ دجال سے بارہ ہزار مرد، سات ہزار عورتیں محفوظ رہیں گی:
فتح الباری میں حافظ ابنِ حجرؒ نے ایک تابعی سے یہ روایت نقل کی ہے اور بقول حافظؒ اس تابعی تک، اس کی سند صحیح ہے
کہ دجال کے فتنہ سے صرف بارہ ہزار مرد اور سات ہزار عورتیں بچیں گی ...اللہ تعالیٰ حفاظت فرمائے... اس وقت اس کی شدت
کو بیان کرنا مقصود نہیں ہے، وہ ایک مستقل موضوع ہے۔
(فتح الباری ج:۱۳ ص:۹۲)
دجال کا حلیہ:
دجال آنکھ سے کانا ہوگا، اور ایک آنکھ سے بھینگا ہوگا، یعنی اس کی ایک آنکھ مٹی ہوئی ہوگی یعنی بالکل سپاٹ، اور
دوسری انگور کی طرح باہر کو نکلی ہوئی ہوگی، گویا یہ شخص اتنا بدنما ہوگا کہ داہنی آنکھ سرے سے ہوگی ہی نہیں، اور
بائیں ہوگی تو سہی مگر وہ پھوٹی ہوئی اور انگور کے دانے کی طرح باہر کو نکلی ہوئی ہوگی، وہ گدھے پر سوار ہوگا، مگر
دعویٰ کرے گا خدائی کا۔
دجال کی شعبدہ بازیاں:
دجال اپنے شعبدوں اور نظربندیوں کے ذریعہ سے ... جن کو لوگ خدائی کا کارنامہ سمجھیں گے ... تمام مادّی وسائل پر
قبضہ کرلے گا، جو لوگ اس کو ماننے والے ہوں گے، ان کے مویشی شام کو خوب پیٹ بھرے ہوئے واپس آئیں گے، اور جو اس کو
نہ ماننے والے ہوں گے ان کے مویشی بھوکے آئیں گے، اس کے ماننے والوں کی زمین میں غلہ ہوگا، اور نہ ماننے والوں کی
زمین میں غلہ نہیں ہوگا، مسلمان ماؤں کی چھاتیوں سے دودھ خشک ہوجائے گا، بچے بلبلائیں گے، اور اس کے ماننے والی
عورتیں ٹھیک ٹھاک ہوں گی، وہ زمین کے خزانوں کو حکم دے گا تو وہ نکل کر اس کے پیچھے چل پڑیں گے، ایک اعرابی کو کہے
گا کہ اگر میں تیرے ماں باپ کو زندہ کردوں اور وہ تسلیم کریں کہ میں خدا ہوں تو تو مجھے خدا مان لے گا؟ وہ کہے گا:
ہاں تب مان لوں گا! دجال کہے گا: اچھا بتا ان کی قبر کہاں ہے؟ وہ ان کی قبر پر جائے گا اور اس کے ماں باپ کا نام لے
کر کہے گا: کھڑے ہوجاؤ تو شیاطین اس کے ماں
463
باپ کی شکل میں آجائیں گے، بالکل اسی شکل، اسی لب و لہجہ اور اسی اندازِ گفتگو میں وہ کہیں گے کہ یہ سچا
رَبّ ہے، اس کو مان لو، ہم تو مرکے دیکھ کے آئے ہیں۔
فتنۂ دجال کی سرکوبی کے لئے حضرت عیسیٰ ؑکے نزول کی حکمت:
بھلا اس سے بدتر کوئی فتنہ ہوسکتا ہے؟ اس فتنے کا قلع قمع کرنے کے لئے آسمان سے حضرت عیسیٰ علیہ السلام نازل ہوں
گے، کہنا چاہئے کہ اس وقت کے علماء، صلحاء، نیک لوگ ان کی مجموعی قوتیں، رُوحانی طاقتیں دجال کا مقابلہ کرنے کے لئے
کافی نہیں ہوں گی۔
دورِ حاضر کا دجالی فتنہ:
اس فتنہ کی مانند اور اس فتنہ کا ہم سنگ مرزائی فتنہ ہے، جس نے بلاشبہ اُمت کو اپنے دجل و تلبیس سے نیم جان کردیا
ہے، اور گزشتہ سوا سو سال سے اُمت اس سے نبردآزما ہے، بڑی مشکل سے اس کو کافر قرار دے کر اُمت کو اس کی زہرناکی سے
محفوظ کیا گیا، مگر اب بھی وہ اُمت کو زخمی سانپ کی طرح کاٹ کھانے کو دوڑ رہا ہے، اب میں اس کے بارہ میں کچھ عرض
کرنا چاہوں گا۔
فتنۂ قادیانیت کی اِبتدا اور تعاقب کی روئیداد:
براہینِ احمدیہ نامی کتاب لکھی ہے (۱۸۸۴ء میں بمطابق ۱۳۰۱ھ) اس میں اس نے اپنے دجالی الہامات لکھے ہیں۔ علمائے
لدھیانہ میں سے مولانا محمد، مولانا اسماعیل، مولانا عبدالعزیز تین بھائی تھے، انہوں نے فتویٰ دیا کہ یہ کافر ہے،
لوگ مولویوں کے خلاف ہوگئے، ۱۹۰۱ء تک مرزا یہ دعویٰ کرتا رہا کہ میں مجدّدِ اسلام ہوں، اور ۱۹۰۱ء میں اس نے دعویٰ
کیا کہ عیسیٰ علیہ السلام مرچکے ہیں، لہٰذا وہ مسیحِ موعود میں ہی ہوں، جس کے آنے کا وعدہ ہے، اور جو دجال کو آکر
قتل کریں گے، وہ میں ہوں۔
۱۸۸۴ء کے بعد کس سال حضرت عیسیٰ ؑکا انتقال ہوا؟
ایک مرزائی سے میری گفتگو ہوئی، اس نے کہا کہ عیسیٰ علیہ السلام مرگئے ہیں، میں نے کہا: ۱۸۸۴ء تک تو زندہ تھے،
کیونکہ ۱۸۸۴ء میں غلام احمد نے لکھا ہے اور لکھا بھی اپنے
464
الہام سے ہے، کہ اللہ تعالیٰ نے اس کو بتایا ہے کہ عیسیٰ علیہ السلام زندہ ہیں اور وہ زمین پر دوبارہ آئیں
گے، اور ان کی پیش گوئی میں تجھے بھی شریک کرلیا گیا ہے، تو ۱۸۸۴ء کے بعد، ۱۸۹۱ء تک چھ سال کا وقفہ ہے، سوال یہ ہے
کہ ان میں سے کس سن میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی وفات ہوئی تھی؟فَبُھِتَ الَّذِیْ
کَفَر! عجیب بات ہے کہ ۱۸۸۴ء میں وہ خود کہتا ہے کہ عیسیٰ علیہ السلام آئیں گے اور کہتا بھی الہام کے
حوالے سے ہے، مگر اب کہتا ہے کہ اس عاجز پر ظاہر کیا گیا ہے کہ تو بھی مسیح کی پیش گوئی میں شریک ہے، لیکن ۱۸۹۱ء میں
ٹھیک اسی زبان سے کہتا ہے کہ: ’’مجھے الہام ہوا ہے کہ عیسیٰ علیہ السلام مرگئے‘‘ اس سے کسی نے یہ تک نہیں پوچھا کہ
بھیا یا بھیڑیا تیرے منہ میں کتنے دانت ہیں کہ ۱۸۹۱ء میں تو تو نے کہا کہ میں مسیحِ موعود ہوں، اس کے دس سال کے وقفے
سے ۱۹۰۱ء میں تو نے کہہ دیا کہ میں فُل مکمل نبی ہوں۔ کبھی کہتا ہے کہ جزوی نبی ہوں، یعنی لغوی نبی ہوں، ظلّی نبی
ہوں، بروزی نبی ہوں، دراصل یہ بھی اسرائیل کی ایجاد تھی، جس نے اپنے کفر پر پردہ ڈالنے کے لئے مختلف دعوے کئے، اور
پھر ۱۹۰۸ء میں مرگیا، یعنی دعویٔ نبوّت کے صرف آٹھ سال بعد۔
قادیانی اِشکال: اگر مرزا جھوٹا تھا تو ...!
ایک قادیانی نوجوان، مولانا سلیم اللہ خان صاب کے مدرسہ میں آتا تھا، اور مناظرہ وغیرہ کرتا تھا، مولانا نے مجھے
بلایا، وہ قرآنِ کریم کی یہ آیت پیش کررہا تھا:
’’وَلَوْ تَقَوَّلَ عَلَیْنَا بَعْضَ الْأَقَاوِیْلِ۔ لَأَخَذْنَا مِنْہُ بِالْیَمِیْنِ۔ ثُمَّ لَقَطَعْنَا
مِنْہُ الْوَتِیْنَ۔‘‘
یعنی اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ اگر محمد صلی اللہ علیہ وسلم ہماری طرف سے کچھ باتیں گھڑ کر منسوب کرتے تو ہم ان کو
دائیں ہاتھ سے پکڑ لیتے، پھر ہم اس کی شہ رگ کاٹ دیتے، مطلب یہ ہے کہ اللہ کی طرف جھوٹی بات منسوب کرکے آدمی زندہ
نہیں رہ سکتا، وہ اس کو پیش کرکے گویا کہنا چاہتا تھا کہ مرزا صاحب نے تیئس سال تک اپنے الہامات بتائے مگر ان کو کچھ
نہیں ہوا، تو معلوم ہوا کہ وہ جھوٹا نہیں تھا، اگر جھوٹا تھا تو اس کو زندہ نہ رہنے دیا جاتا؟
465
جواب:
اس پر میں نے کہا: مرزا کو تو ایک منٹ کی بھی نبوّت نہیں ملی، آپ تیئس سال کی بات کرتے ہیں۔ بات یہ ہے کہ نبوّت کا
دعویٰ کردیتا تھا، مگر پھر مکر جاتا تھا، کبھی کہتا میں ظلّی نبی ہوں، کبھی کہتا میری مراد یہ نہیں۔
جو یہ نہ جانتا ہو کہ نبی کس کو کہتے ہیں؟ وہ نبی کیسے؟
جو آدمی یہی نہ جانے کہ میں نبی ہوں یا نبی نہیں ہوں، اس کو کیا کہا جائے؟ چنانچہ مرزا محمود کہتا ہے کہ ۱۹۰۱ء سے
پہلے تک حضرت صاحب کو یہ ہی پتہ نہ چلا کہ نبی کس کو کہتے ہیں؟ دیکھو! نبی کو یہ پتہ نہیں چلتا کہ نبی کس کو کہتے
ہیں؟ یہ بیٹا کہہ رہا ہے اور اس کا خلیفہ، اور یہ کہہ رہا ہے کہ حضرت صاحب نے ۱۹۰۱ء سے پہلے جتنے موقعوں پر یہ کہا
کہ میں نبی نہیں ہوں، وہ سب روایتیں منسوخ ہیں۔ خیر! یہ تو ایک مستقل موضوع ہے۔
تو میں نے کہا کہ: ۱۹۰۱ء کو سیدھا ہوا اور کہنے لگا کہ میں نبی ہوں، ورنہ کبھی کہتا تھا کہ میں لغوی نبی ہوں، کبھی
کہتا کہ میں مجازی نبی ہوں، کبھی کہتا استعارے کے طور پر نبی ہوں، ظلّی طور پر نبی ہوں، بروزی طور پر نبی ہوں، فلانی
چیز پر نبی ہوں، یہ نبی تو نہیں، یہ تو مذاق ہے۔
دعویٔ نبوّت سے اگلے دن مرزا کی ہلاکت:
یاد رکھو! جیسے اس زمانہ میں روزنامہ ’’جنگ‘‘ مشہور اخبار ہے، اسی طرح اُس زمانہ میں لاہور سے ’’اخبارِ عالم‘‘ کے
نام سے ایک پرچہ نکلتا تھا، اس کی ۲۳؍مئی ۱۹۰۸ء کی اشاعت میں لکھا ہے کہ تقدس مآب مرزا صاحب نے اپنی نبوّت کا انکار
کردیا، یہ سرخی تھی اور نیچے تفصیل ذکر کی گئی کہ اس کے ساتھ کسی کی گفتگو ہوئی تو کہا کہ میں تو نبی نہیں ہوں، ایسے
ہی لوگ خواہ مخواہ مجھے بدنام کرتے ہیں، اور مجھے مولوی بدنام کرتے ہیں، میں نے تو نبوّت کا دعویٰ نہیں کیا۔
جب غلام احمد نے ۲۳؍مئی ۱۹۰۸ء کا یہ پرچہ پڑھا تو اس نے ’’اخبارِ عالم‘‘ کے ایڈیٹر کو خط لکھا کہ آپ نے اپنے
۲۳؍مئی کے پرچے میں یہ لکھا ہے کہ گویا میں نے اپنی
466
نبوّت سے انکار کردیا ہے، یہ صحیح نہیں، ہمارا یہ دعویٰ ہے کہ ہم نبی اور رسول ہیں۔ اُس نے ’’اخبارِ عالم‘‘
کے ایڈیٹر کو جو خط لکھا اس کے الفاظ ہیں کہ: ’’ہمارا دعویٰ ہے کہ ہم نبی اور رسول ہیں، اور میں اس دعویٰ پر قائم
ہوں جو اس دنیا سے گزر جاؤں۔‘‘ مطلب یہ کہ مرتے دَم تک قائم ہوں۔ بہرحال لمبا خط تھا یہ اس کا خاص فقرہ تھا:
’’ہمارا دعویٰ ہے کہ ہم نبی اور رسول ہیں، اور میں اپنے دعویٰ پر قائم ہوں جو اس دنیا سے گزر جاؤں‘‘۔ ’’اخبارِ
عالم‘‘ کے ایڈیٹر نے مرزا جی کا خط ۲۶؍مئی ۱۹۰۸ء کو شائع کردیا، ۲۶؍مئی ۱۹۰۸ء کی صبح کو اس کا خط چھپ کر آیا تو اسی
دن دس بجے اللہ تعالیٰ نے اس کا چالان کردیا اور اس کی شہ رگ کاٹ دی۔
مرزا کو دعویٔ نبوّت کے بعد ایک دن کی مہلت بھی نہیں ملی:
اس لئے میں کہتا ہوں کہ ایک دن بھی اس کو دعویٔ نبوّت کے بعد مہلت نہیں ملی، پھر چالان بھی اس طرح کیا کہ اللہ کی
پناہ! یعنی وبائی ہیضہ سے مرا۔
مرزا طاہر سچا ہے تو باپ دادا جیسی موت کی دُعا کردِکھائے:
میں نے انگلینڈ کے جلسے میں دو سال پہلے مرزا طاہر کو چیلنج کیا تھا کہ مرزا طاہر! میں بھرے مجمع میں کہتا ہوں کہ
تم اپنے آپ کو جھوٹا سمجھتے ہو، اپنے ابا کو جھوٹا سمجھتے ہو، اپنے دادا مرزا غلام احمد کو جھوٹا سمجھتے ہو، کیونکہ
تمہیں معلوم ہے کہ ہم جھوٹے ہیں چاہے لوگوں کو معلوم ہو یا نہ ہو۔ اس لئے میرا یہ چیلنج ہے کہ اگر تم لوگوں کا یہ
دعویٰ ہے کہ ہم سچے ہیں، تیرا دادا غلام احمد سچا تھا اور تیرا باپ مرزا محمود سچا تھا، اور تو سچا ہے، تو صرف یہ
لفظ لکھ دے اور قومی اخباروں میں چھاپ دے کہ: ’’یا اللہ! میں دُعا کرتا ہوں میری موت ایسی آئے جیسی میرے باپ کی اور
میرے دادا کی آئی تھی۔‘‘ بس زیادہ بات نہیں۔
میں اپنے اکابر کی سی موت کی دُعا کرتا ہوں:
میں نے اسی جلسے میں کہا تھا کہ اس پوری مسجد میں ہزاروں کا مجمع ہے، میں اس کو گواہ کرکے دُعا کرتا ہوں کہ: یا
اللہ! مجھے ایسی موت نصیب فرما جیسی میرے آقا حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو نصیب ہوئی، اور حضرت ابوبکر، حضرت
عمر، حضرت عثمان اور حضرت علی
467
رضوان اللہ علیہم اجمعین کو نصیب ہوئی تھی، بلکہ جیسے میرے شیخ تک، ہمارے تمام اکابر کو موت نصیب ہوئی، یا
اللہ! مجھے بھی ایسی موت نصیب فرما ... آپ بھی کہیں: آمین...! ٹھیک ہے ناں بھائی...؟ مجھے اپنی حقانیت کا یقین ہے،
میں تو کچھ نہیں ہوں، مگر الحمدللہ! جو میرے بڑے تھے وہ برحق تھے، مجھے ان کی حقانیت پر ایمان ہے، مرزا طاہر! اگر
تجھے اپنی حقانیت کا یقین ہے، تو تو دُعا کر کہ یا اللہ! مجھے ایسی موت نصیب فرما جیسی مرزا غلام احمد اور میرے باپ
مرزا محمود کو نصیب ہوئی تھی
مرزا کے دونوں راستوں سے غلاظت نکل رہی تھی:
مرزا غلام احمد کو وبائی ہیضہ ہوگیا تھا، اور اس کے دونوں راستوں سے نجاست نکل رہی تھی، ...العیاذ باللہ... ہیضے کی
حالت میں غیرہضم شدہ غذا نکل رہی ہوتی ہے، وہ اُوپر کے راستے سے بھی نکلتی ہے اور نیچے کے راستے سے بھی نکلتی ہے، قے
کی شکل میں، یا دوسری کسی شکل میں۔ تو اس مؤذی بیماری کے ساتھ مرزا غلام احمد کا ۲۶؍مئی ۱۹۰۸ء کو دس بجے انتقال
ہوا، اور اسی دن اس کا یہ بیان بھی چھپ کر آیا کہ ’’میں نبی اور رسول ہوں، اور میں اس دعویٰ پر قائم ہوں جو اس
زندگی سے گزر جاؤں‘‘ چنانچہ اس دعویٰ کے ساتھ ہی اللہ تعالیٰ نے اُسے پکڑ لیا، بھلا جو آدمی بات کرلے، پھر بات
کرکے مکر جائے، کیا ایسا شخص رسول ہوسکتا ہے؟ ہاں جب اس نے پکی بات کی تو اللہ تعالیٰ نے ایک دن کی بھی اسے مہلت
نہیں دی، بلکہ اس کی شہ رگ کاٹ دی۔
چند جاہلوں کی وجہ سے مرزا کا دعویٔ نبوّت:
غلام احمد قادیانی، قادیان، ضلع گورداسپور، صوبہ مشرقی پنجاب میں پیدا ہوا تھا، اور ۱۹۰۱ء تک اس کو یہی پتہ نہ چلا
کہ نبوّت کیا ہوتی ہے؟ لیکن جب اس کے چند جاہل مریدوں اور بے وقوف قادیانیوں نے اسے کہنا شروع کردیا کہ تو نبی ہے،
جیسے میرے متعلق کہتے ہیں کہ ’’حکیم العصر‘‘ ہے، میں بھی بیوقوف ہوں جو کہ اپنے آپ کو حکیم سمجھوں، چند لوگوں نے اس
کو مسیحِ موعود کہنا شروع کردیا، اور چند بیوقوفوں نے اُسے نبی کہنا شروع کردیا،
468
تو مرزے کو خیال ہوا کہ میں بھی نبی ہوں، چنانچہ اس کا بیٹا مرزا محمود کہتا ہے کہ ۱۹۰۰ء میں مرزا صاحب کو
نبوّت کا خیال پیدا ہوا، اور ۱۹۰۱ء میں نبوّت کا دعویٰ کردیا۔ مرزا غلام احمد کے بیٹے کی یہ سابقہ بات کافی ہے، بیٹا
بھی وہ جو اس کا خلیفہ ہے، اس طرح مرزا، اللہ تعالیٰ کی مخلوق کو گمراہ کرتا رہا، اور مسلمانوں کے ایمان و عقیدہ سے
کھیلتا رہا، یہاں تک کہ مسلمانوں کے ایمان کی حالت اتنی کمزور ہوگئی کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد ایک نبوّت کا
دعویٰ کرنے والا، دعویٰ کرتا ہے، اور دعویٰ بھی وہ کرتا ہے جس کا نام غلام احمد ہے، جو آنکھوں سے بھینگا، ہاتھ سے
ٹنڈا (لنجا) اور پاؤں سے اعرج تھا، مرزا کا بچپن میں چوٹی سے گرکر سیدھا ہاتھ ٹوٹ گیا تھا، حتیٰ کہ چائے کی پیالی
بھی اس ہاتھ سے نہیں اُٹھا سکتا تھا۔ چنانچہ ’’سیرت المہدی‘‘ کا مصنف اور مرزا غلام احمد کا بیٹا بشیر احمد ایم اے
لکھتا ہے کہ حضرت صاحب جب نماز کے لئے اُٹھتے تھے تو بائیں ہاتھ سے اس کو سہارا دیتے تھے۔ بہرحال مرزائی فتنہ چلتا
رہا، چلتا رہا، چلتا رہا، اور قادیانی اپنے بارے میں کہتے رہے کہ ہم مسلمان ہیں، بلکہ ہم ہی مسلمان ہیں، اور احمدیت
ہی حقیقی اسلام ہے۔
قادیانیوں سے ہمارا جھگڑا:
ہمارا قادیانیوں سے دو باتوں پر جھگڑا تھا، ایک یہ کہ مسیح علیہ الصلوٰۃ والسلام آسمان سے نازل ہوں گے، چراغ بی بی
کے پیٹ سے پیدا ہونے والا مسیح نہیں ہوسکتا۔
دوم یہ کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد نبوّت کا امکان ہی نہیں، جیسے کلمۂ اسلام ’’لا الٰہ الا اللہ‘‘ (نہیں
کوئی معبود سوا اللہ کے) کے اقرار کے بعد اللہ کے سوا کسی ظلّی، بروزی، حقیقی، مجازی، اشارہ، کنایہ والے کسی چھوٹے
بڑے اور ماتحت خدا کی گنجائش نہیں، اور نہ ہی استعارہ کے رنگ میں کوئی دوسرا خدا ہوسکتا ہے، اسی طرح ’’لا نبی بعدی‘‘
کے ’’لا‘‘ کے بعد بھی کسی نبی کی گنجائش نہیں ہے۔
امیرِشریعتؒ اور لائے نفیٔ جنس کی تشریح!
ہمارے امیرِ شریعت حضرت مولانا سیّد عطاء اللہ شاہ بخاریؒ بطور لطیفہ کے فرماتے تھے، ’’لَا
اِلٰہَ اِلّا اللہ‘‘ میں ’’لَا‘‘ کے بعد آگے آگیا ’’اِلّا‘‘ ‘ یعنی کوئی معبود ہی نہیں مگر اللہ۔
469
اس’’اِلّا‘‘ نے آکر رُکاوٹ ڈال دی ورنہ اس ’’لَا‘‘ نے
تو ایسی نفی کی تھی کہ اس نے تو خدا کا بھی تختہ نکال دیا تھا، حضرت شاہ صاحب اپنے مزاحیہ انداز میں یہ بات کیا کرتے
تھے۔ دیکھو! حضور صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ’’لَا نَبِیَّ بَعْدِیْ‘‘ (میرے بعد کوئی نبی نہیں) مگر مرزا ملعون کہتا ہے: نہیں! آپ کے بعد بھی نبی ہے، اور کم از کم
ظلّی، بروزی اور مجازی نبی تو آسکتا ہے۔ یاد رکھو! جس طرح ’’لَا اِلٰہَ اِلّا اللہ‘‘ کے
’’لَا‘‘ کے بعد کسی اللہ کی گنجائش نہیں ایسے ہی ’’لَا نَبِیَّ
بَعْدِیْ‘‘ کے ’’لَا‘‘ کے بعد بھی کسی نبی کی گنجائش نہیں ہے، یہ ’’لَا‘‘ نفیٔ جنس کا ہے، جو جنسِ نبی کی نفی کرتا ہے۔
حیات و نزولِ مسیح اور ختمِ نبوّت کا منکر مسلمان نہیں:
تو میں عرض کر رہا تھا کہ ہمارا قادیانیوں کے ساتھ ان دو عقیدوں میں اختلاف ہے، ایک حیات و نزولِ عیسیٰ علیہ السلام
اور دوسرا ختمِ نبوّت میں، قادیانی ان دونوں کا انکار کرتے ہیں، اور ان دونوں عقیدوں کا انکار کرنے والا مسلمان
نہیں۔ آسمان سے عیسیٰ علیہ السلام کا نازل ہونا قطعی ہے، اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا خاتم النبیین ہونا قطعی
ہے، آپ کے بعد کوئی نبی نہیں، جو نبوّت کا دعوے کرے یا مسیح ہونے کا دعویٰ کرے وہ کافر۔ لیکن یہ کافر ہونے کے
باوجود کہتے ہیں کہ ہم پکے مسلمان ہیں۔ ہم کہتے ہیں تم اپنے دین کا کوئی اور نام رکھ لو، اسلام نہ رکھو، پھر جو
مسلمانوں کا برتاؤ ہوتا ہے اس کو دیکھو، مگر یہ باز نہیں آئے، یہ ہر جگہ مسلمانوں کی سیٹوں پر قابض رہے۔
۱۹۵۳ء کی تحریک کے اسباب:
پاکستان میں قادیانیوں کے خلاف تین تحریکیں چلیں، پہلی تحریک ۳۵۹۱ء میں چلی تھی، جس کی وجہ یہ ہوئی تھی کہ مرزا
محمود نے ...جو مرزا طاہر کا ابا تھا... یہ کہا تھا کہ ۱۹۵۲ء گزرنے نہ پائے کہ صوبہ بلوچستان کو احمدی بنالو۔ چنانچہ
قادیانیوں نے طوفان اور آندھی کی طرح اس منصوبہ پر کام شروع کردیا، ادھر سے حضرت امیرِ شریعتؒ نے اور عالمی مجلس
تحفظ ختمِ نبوّت نے ان کا منصوبہ ناکام بنانے کے لئے مسلمانوں کو بیدار کرنا شروع کردیا، اور شاہ
470
جیؒ نے یہ نعرہ مستانہ لگایا کہ مرزا محمود ۱۹۵۲ء تیرا ہے تو ۱۹۵۳ء ہمارا ہے۔ خیر! شاہ جیؒ نے تحریک چلائی،
الحمدللہ! دس ہزار مسلمانوں نے اس کے لئے شہادت کی قربانی پیش کی، خواجہ ناظم الدین کا دور تھا، حکومت نے اس تحریک
کو دبانے کی کوشش کی، مگر بچے، بچے کو پتہ چل گیا کہ یہ قادیانی مسلمان نہیں، تحریکیں تو تم نے بھی دیکھی ہوں گی،
مگر کبھی کسی تحریک میں ایسا بھی ہوا کہ ریل گاڑی چلانے والے ڈرائیوروں نے تحریک میں شمولیت کے لئے ہڑتال کردی ہو؟
لاہور کی تاریخ میں سب سے بڑی اور کامیاب ہڑتال ہوئی، یعنی اس تحریک کی وجہ سے تمام سرکاری محکموں نے ہڑتال کردی۔
خواجہ ناظم الدین کو حضرت شاہ جیؒ کی پیشکش:
خواجہ ناظم الدین جو اسی کراچی میں رہتا تھا، اسے حضرت مولانا سیّد عطاء اللہ شاہؒ نے یہ آفر دیتے ہوئے کہا تھا
کہ: حاجی صاحب! ...کیونکہ وہ حاجی، نمازی کہلاتا تھا... اس مسئلے کو حل کردو، اگر تم نے غیرملکی مہمانوں کے لئے کوئی
خنزیر وغیرہ رکھے ہوئے ہیں تو میں ان کو بھی چرانے کے لئے تیار ہوں، بس! حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی ختمِ نبوّت
کا مسئلہ حل کردے، میں اس کے لئے بھی تیار ہوں۔
اس وقت مسلمانوں کے صرف دو ہی مطالبے تھے کہ قادیانیوں کو غیرمسلم اقلیت قرار دے دو، اور وزیر خارجہ ظفراللہ خاں
قادیانی کو اس عہدہ سے ہٹادو، مگر افسوس! کہ ’’حاجی‘‘ صاحب کو یہ بات سمجھ میں نہیں آئی۔ خیر تحریک تو جیسی کیسی
ہوئی، سو ہوئی، مگر دنیا نے دیکھا کہ نہ ظفراللہ قادیانی رہا، نہ خواجہ ناظم الدین رہا، اور نہ ہی ان کی اولاد رہی،
اور حکومت بھی چلی گئی۔
۱۹۷۴ء کی تحریک کے اسباب:
بیس سال کے بعد قادیانیوں کو پھر غبار اُٹھا اور ربوہ اسٹیشن پر مسلمان نوجوانوں کی پٹائی کردی۔ جس کا قصہ یہ ہوا
کہ ملتان نشتر کالج کے کچھ نوجوان ریل پر سفر کر رہے تھے، انہوں نے ربوہ ریلوے اسٹیشن پر قادیانیت کے خلاف کچھ نعرے
لگائے، تو قادیانی
471
سورماؤں کو برداشت نہ ہوا، بہرحال کالج کے نوجوان تھے اور کالج کے نوجوان کیسے ہوتے ہیں؟ آپ جانتے ہیں،
جیسا کہ اقبال نے کہا ہے:
-
شیخ صاحب بھی تو پردے کے کوئی حامی نہیں
مفت میں کالج کے لڑکے اُن سے بدظن ہوگئے!
-
وعظ میں فرمادیا تھا آپ نے کل صاف صاف
پردہ آخر کس سے ہو؟ جب مرد ہی زن ہوگئے!
تو کالج کے لڑکوں سے تو شیطان بھی پناہ مانگتا ہے، بہرحال جب چناب ایکسپریس ربوہ سے گزری تو انہوں نے کچھ نعرے
لگادئیے، چونکہ یہ لڑکے ٹوَر اور سیر سپاٹے کے لئے سرحد کے علاقے کی طرف جارہے تھے، شاید اس وقت تو قادیانیوں کو سوچ
نہ آئی یا انہیں انتقامی کاروائی کا موقع ہی نہیں ملا، مگر بعد میں انہوں نے سوچا اور منصوبہ بنایا کہ جب یہ واپس
آئیں تو ان کی پٹائی کردو، جب یہ نوجوان طلبہ اور لڑکے واپس آئے تو چونکہ ان کو کچھ پتہ نہیں تھا، اس لئے انہوں نے
اپنے مزاج کے مطابق پھر نعرے لگائے، تو یہ مرزا طاہر جو آج قادیانیوں کا امام ہے، اس وقت غنڈوں کا امام تھا، اس کی
قیادت میں ان نہتے اور معصوم طلبہ پر ہلہ بول دیا گیا، ان کی پٹائی کی گئی، اور ان کو لہولہان کردیا گیا، حالانکہ وہ
چند نوجوان تھے، بس شور کرتے، نعرے لگاتے اور گزرجاتے، آخر پہلے بھی گزر ہی گئے تھے، اس سے قادیانیوں کا کیا بگڑتا؟
لیکن ربوہ کا غرور اس وقت ایسا تھا کہ یہاں چڑیا بھی پَر نہیں مارسکتی تھی، یہ ان کی فرعونیت کے لئے ناقابلِ برداشت
تھا، اس لئے قادیانیوں نے ان معصوم بچوں کو مار مار کر ادھ موا کردیا۔
اسمبلی کی طرف سے قادیانیوں کے کفر کا فیصلہ، ایک کٹھن مرحلہ
یہ قصہ ہے ۲۹؍مئی ۱۹۷۴ء کا، اور ۷؍ستمبر کو ذوالفقار علی بھٹو صاحب کی اسمبلی نے فیصلہ کیا، وہ ہوشیار آدمی تھا،
آخر بے نظیر کا باپ تھا، یقینا وہ اس سے بھی زیادہ چالاک تھا، لیکن نہیں! میں غلط کہہ گیا، بیٹی اس سے زیادہ چالاک
ہے۔
472
خیر! اس نے پوری قومی اسمبلی کو ایک جج اور عدالت کی حیثیت دے دی، اور کہا کہ میں اکیلا فیصلہ نہیں کرسکتا، قومی
اسمبلی فیصلہ کرے، اس کی حیثیت جج کی ہے، دوسری طرف ارکانِ اسمبلی کا حال یہ تھا کہ شاہ احمد نورانی، مولانا مفتی
محمودؒ، مولانا غلام غوث ہزارویؒ، مولانا عبدالحق اکوڑہ خٹکؒ اور مولانا ظفراحمد انصاریؒ جیسے چند علماء یا دوچار اس
قسم کے اور مولانا حضرات تھے، اس کے علاوہ ساڑھے تین سو ممبروں کی اسمبلی کے ارکان سارے کے سارے جدید تعلیم یافتہ،
انگریزی خواندہ، وکیل اور بیرسٹر وغیرہ تھے، جن کی ساری کی ساری ہمدردیاں مولویوں کے بجائے قادیانیوں کے ساتھ تھیں،
بلاشبہ یہ مرحلہ علماء کے لئے نہایت کٹھن اور مشکل تھا کہ ایسے لوگوں سے قادیانیوں کے کفر کا فیصلہ کرانا جوئے شیر
لانے کے مترادف تھا، بہرحال بالآخر ۲۱دن تک قادیانیوں کو اپنا موقف پیش کرنے کی اجازت دی گئی، چنانچہ مرزا طاہر کے
بڑے بھائی، مرزا ناصر نے ۲۱دن تک اپنا موقف پیش کیا، اس کے علاوہ دو دن تک لاہوری جماعت کے اس وقت کے بڑے لیڈر کو
اپنا موقف پیش کرنے کی اجازت دی گئی، اٹارنی جنرل اس وقت یحییٰ بختیار تھا، اس وقت وہی سوالات کرتا تھا، اور وہی جرح
کرتا تھا، جب ۲۱دن کی جرح مکمل ہوگئی، تو مسئلہ پوری اسمبلی ...جو اس وقت عدالت کا رُوپ دھار چکی تھی... کے سامنے
اور اس کے ۰۵۳ ججوں کے سامنے نکھر کر آچکا تھا، میں علمی ذوق والے دوستوں سے کہتا ہوں کہ الحمدللہ! مجلس تحفظ ختمِ
نبوّت نے یہ پوری کاروائی کتابی شکل میں چھاپ دی ہے، اب تک یہ خفیہ تھی، اور حکومت کے نزدیک اب بھی خفیہ ہے، لیکن
الحمدللہ! وہ کاروائی منظرِ عام پر آگئی ہے، جو حضرات اس پوری کاروائی کو، اور مرزا ناصر کی جرح کو، اور دوسرے
لوگوں کی جرح کو، دیکھنا چاہیں وہ یہ کتاب خرید لیں، ہمارے عالمی مجلس تحفظ ختمِ نبوّت کے دفتر سے مل جائے گی۔
قادیانیت کے کفر کا فیصلہ مُلَّا کا نہیں، اسمبلی کا ہے:
مختصر یہ کہ ۱۲دن کی جرح کے بعد پوری قومی اسمبلی نے فیصلہ دیا کہ مرزائی
473
غیرمسلم ہیں، اسلام کے ساتھ ان کا کوئی تعلق نہیں، چلو جی اب تو مُلَّا کا مسئلہ نکال لو، پہلے تو تم کہتے
تھے کہ یہ مُلَّا کا مسئلہ ہے، اور مُلَّا مولوی جس کو چاہتے ہیں کافر بنادیتے ہیں، یہاں اسمبلی میں تو سارے مُلَّا
نہیں تھے، دو چار کے علاوہ سارے ہی جدید تعلیم یافتہ تھے، اب تو تمہیں اپنے آپ کو کافر اور غیرمسلم تسلیم کرلینا
چاہئے۔
ایمان و کفر کا فیصلہ اقوال و افعال سے:
مگر اب انہوں نے یہ کہنا شروع کردیا کہ کسی اسمبلی کو کیا حق پہنچتا ہے کہ کسی کے ایمان و کفر کا فیصلہ کرے؟ بھائی!
ایمان تو اندر کی چیز ہے، میرے اندر کیا ہے، آپ کو کیا معلوم؟ آپ کے اندر کیا ہے، مجھے کیا معلوم؟ لیکن اقوال اور
افعال بھی تو کوئی چیز ہیں ناں؟ تمہاری زبان سے جو بول اور قلم سے جو لفظ نکلے ہیں، ان کو دیکھا جائے گا کہ نہیں؟
پھر یہ کہ ان الفاظ و کلمات سے آدمی مسلمان رہتا ہے یا کافر ہوجاتا ہے، اور یہ الفاظ و کلمات مسلمانوں کے ہیں یا
کافروں کے؟ ارکانِ اسمبلی نے بھی یہی دیکھا اور انہوں نے فیصلہ کردیا کہ ایسے کلمات و معتقدات کے لوگ مسلمان نہیں
بلکہ کافر ہیں۔
کیا خیال ہے جب تم داور محشر کے سامنے پیش ہوگے تو اس وقت بھی تم یہی کہوگے کہ آپ کو کیا حق پہنچتا ہے ہمارے کفر
کا فیصلہ کرنے کا؟
۱۸۴ ملکوں کے نمائندے بھی مُلَّا تھے؟
میں کہتا ہوں علماء نے تمہارے خلاف کفر کا فتویٰ دیا، ٹھیک ہے، لیکن سوال یہ ہے کہ ایک سو چراسی ملکوں کی جماعتیں
اور نمائندے جدہ سعودی عرب میں موجود تھے، انہوں نے آخر تمہارے کفر کا فتویٰ اور فیصلہ کیوں دیا؟ کیا وہ بھی سارے
مُلَّا تھے؟ اس کو کیوں نہیں مانتے؟ قومی اسمبلی کے ساڑھے تین سو ممبروں نے تمہارے خلاف فیصلہ دیا، لیکن اب بھی تم
ماننے کے لئے تیار نہیں۔
یہ مان لو کہ تمہارا اسلام سے تعلق نہیں:
ہماری تم سے کوئی لڑائی نہیں، صرف اتنی سی گزارش ہے کہ تم یہ مان لو اور کہو کہ ہمارا
474
اسلام اور مسلمانوں سے کوئی تعلق نہیں، تم اپنے مذہب کی بات کرو، ہم تم سے تعرض نہیں کریں گے۔
اسلام کا لبادہ چھوڑ دو:
ہاں! البتہ اتنی گزارش ضرور کریں گے کہ اسلام کا لبادہ اوڑھ کر مسلمانوں کو دھوکا دینا بند کردو، بابیوں نے بھی
دعوے کئے، بہائیوں نے بھی دعوے کئے، مہدویوں نے بھی دعوے کئے، لیکن انہوں نے اسلام سے اپنا تعلق توڑ دیا، ہماری صرف
اتنی ہی گزارش ہے کہ یہ منافقت چھوڑ دو، کفر بھی اور اس پر اسلام کا لبادہ بھی، یہ نہیں چلے گا، فارسی کا مصرعہ ہے:
در کفر مخلص نئی زنار را رُسوا مکن
تم کفر میں بھی مخلص نہیں ہو، تو زنار کو رُسوا نہ کرو، تم اسلام میں تو کیا مخلص ہوتے، کفر میں بھی مخلص نہیں ہو،
زنار کو رُسوا نہیں کرو۔
بھٹو کی عیاری اور مفتی محمودؒ کی دانشمندی:
بھٹو صاحب نے باَمرِ مجبوری اسمبلی میں قادیانیوں کے خلاف فیصلہ دے دیا، لیکن بھٹو صاحب دستخط کرنے کے لئے تیار
نہیں تھے، ۷ اور ۸؍ستمبر کی رات ہمارے لئے عجیب وغریب کشمکش کی رات تھی، بھٹو جیسے ضدی آدمی سے یہ توقع نہیں تھی کہ
وہ یہ مان جائے گا، بہرحال حضرت بنوری رحمہ اللہ اور مفتی محمود صاحب رحمہ اللہ سے مذاکرات کرتا رہا، مفتی محمود
صاحبؒ سے مذاکرات کرتے ہوئے وہ کہنے لگا کہ: مفتی صاحب! آئین میں قادیانیوں کا نام لاکر کیوں آئین کو ناپاک کرتے
ہو؟ اس پر حضرت مفتی صاحبؒ نے برجستہ کہا کہ: اگر شیطان اور فرعون کا نام آنے سے قرآن ناپاک نہیں ہوتا تو
قادیانیوں کے نام آنے سے تمہارا آئین بھی ناپاک نہیں ہوگا! کہنے لگا: نہیں مفتی صاحب! نہیں! یہ ممکن نہیں!
مولانا بنوریؒ دس کروڑ مسلمانوں کے نمائندہ:
مفتی صاحبؒ نے کہا: ٹھیک ہے! میں جاکر بتادیتا ہوں مولانا محمد یوسف بنوری کو کہ بھٹو صاحب نہیں مانتے، یہ سن کر اس
کا چہرہ سرخ ہوگیا اور کہنے لگا: محمد یوسف بنوری
475
کون ہوتا ہے؟ تم منتخب نمائندے ہو تم بات کرو، حضرت مفتی محمودؒ فرمانے لگے: میں بتاؤں محمد یوسف بنوری کون
ہوتا ہے؟ اگر ڈیرہ اسماعیل خان کے حلقے والوں نے مجھے منتخب کرکے اسمبلی میں بھیج دیا، میں قوم کا نمائندہ بن گیا،
اور تمہیں لاڑکانہ کے حلقے والوں نے منتخب کرکے اسمبلی میں بھیج دیا تو تم قوم کے نمائندے بن گئے، جبکہ اس وقت
مولانا محمد یوسف بنوری کی شخصیت، دس کروڑ مسلمانوں کی نمائندہ ہے، اگر ڈیرہ اسماعیل خان کے حلقے کے انتخاب سے میں
قوم کا نمائندہ بن گیا ہوں، اور لاڑکانہ کے حلقے کے انتخاب سے تم قوم کے نمائندہ بن گئے ہو تو وہ جو دس کروڑ کا
نمائندہ ہے جس کا نام محمد یوسف بنوری ہے اور اس وقت پوری کی پوری دس کروڑ مسلمان قوم اس کی آواز پر فیصلہ کرنے کے
لئے تیار ہے، کیا وہ قوم کا نمائندہ نہیں؟ یہ کہا تو بھٹو ڈھیلا پڑگیا، کہنے لگا: اچھا لاؤ! یوں اس نے دستخط
کردئیے۔ رات کے ایک بجے دستخط ہوئے اس لئے یہ ۷؍ستمبر کا فیصلہ نہیں، ۸؍ستمبر کا فیصلہ ہے، لیکن بعد میں اس نے سجدۂ
سہو کیا اور چار گھنٹے ملاقات ہوئی مرزا ناصر سے کہ مُلَّاؤں نے مجھ سے یہ کروالیا، اب کیا کروں؟
۱۹۸۴ء کی تحریک کے اسباب:
دس سال کے بعد قادیانیوں کو پھر جوش آیا، پھر تحریک چلی، یہ سن ۱۹۸۴ء کی تحریک تھی، ۲۶؍اپریل ۱۹۸۴ء کو جنرل ضیاء
الحق مرحوم نے آرڈی نینس جاری کیا، جس کو امتناعِ قادیانیت آرڈی نینس کہا جاتا ہے، جس کا مطلب یہ تھا کہ قادیانی،
اذان، نماز، مسجد اور دوسرے شعائرِ اسلام میں مسلمانوں کی نقل نہیں اُتار سکتے، تبلیغ نہیں کرسکتے، اس کا نتیجہ یہ
ہوا کہ امتناعِ قادیانیت آرڈی نینس جمعرات کو نافذ ہوا، اگلا دن جمعہ کا تھا، ربوہ ...حال چناب نگر... میں
قادیانیوں کی نام نہاد ’’مسجدِ اقصیٰ‘‘ ہے، بہرحال وہ ہر چیز کے جھوٹے ہی سہی نام تو رکھتے ہیں ناں! میں بھی ابھی اس
سال اس ملعون جگہ کو دیکھ کے آیا ہوں، جس کو ’’مسجدِ اقصیٰ‘‘ کہتے ہیں۔
خیر! یہ مرزا طاہر بھگوڑا اگلے دن جمعہ پڑھانے کے لئے وہاں گیا تو چونکہ اذان کی
476
اجازت نہیں تھی، جب اذان نہیں ہوگی تو جمعہ کیسے ہوگا؟ وہاں وہ گیا اور بیٹھ کر رونے لگا، اس کے ساتھ اس کے
مقتدی بھی رونے لگے، چنانچہ بغیر جمعہ پڑھے واپس آگیا، اور اگلے ہی دن پاکستان سے فرار ہوگیا۔
ہماری نئی نسل کو قادیانیت کا علم نہیں ہے:
اب میں سمجھانا چاہتا ہوں، جو بچے ۱۹۸۴ء کے بعد پیدا ہوئے ان کو کچھ پتہ نہیں کہ قادیانی اور قادیانیت کیا چیز ہے؟
اسی طرح جو ۱۹۸۴ء کے بعد پیدا ہوئے ان کو کچھ پتہ نہیں۔
۶؍ستمبر کی طرح ۷؍ستمبر بھی منانا چاہئے:
حکومت آج ۶؍ستمبر کا دن منارہی ہے، کیونکہ اللہ تعالیٰ نے ۱۹۶۵ء میں اس دن پاکستان کو انڈیا کے مقابلہ میں کامیابی
عطا فرمائی تھی، اس کی یاد میں حکومت یہ دن مناتی ہے، پاکستان نے رن کچھ میں بھارت کی ٹھکائی لگائی تھی، اور اللہ
تعالیٰ نے ہماری فوجوں کو کامیابی عطا فرمائی تھی، اس لئے ۶؍ستمبر قوم کو یہ دن یاد دلانے کے لئے منایا جاتا ہے،
لیکن افسوس کہ ۷؍ستمبر کا دن ہمیں بھول گیا اور ہماری قوم بھول گئی، کسی بھی حکومت نے اسے نہیں منایا، حالانکہ اس
۶؍ستمبر کا ہم ۱۹۷۱ء میں ’’کفارہ‘‘ ادا کرچکے تھے، کیونکہ ۱۹۷۱ء میں جب ہماری نوے ہزار افواج نے ہتھیار ڈالے تو
ہماری ساری حیثیت ختم ہوگئی، وہ ۶؍ستمبر کی خوشی تو اب ختم ہوگئی، لیکن حکومت نے اس کے باوجود ۶؍ستمبر کو جاری رکھا،
تو ہمارے ایک دوست نے یہ اچھا کام کیا اور کہا کہ ۷؍ستمبر کی بھی یاد منائی جائے، جس کا مقصود یہ ہے کہ ہماری نوجوان
نسل کو یاد رہے کہ قادیانی کون ہیں؟ اور ان سے معرکہ آرائی اور فتح کی تاریخ کیا ہے؟ باتیں تو بہت کرلیں اور بہت سی
باقی ہیں، اب آخر میں ایک قرارداد پیش کرتا ہوں۔
قرارداد:
۱:... مسلمانوں کا یہ اجتماع ۷؍ستمبر ۱۹۷۴ء کو پاکستان کی قومی اسمبلی کی طرف سے قادیانیوں کو غیرمسلم قرار دینے کی
آئینی ترمیم پر اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرتے ہوئے حکومتِ
477
پاکستان سے مطالبہ کرتا ہے کہ قادیانیوں کو اندرون و بیرونِ پاکستان اس آئینی ترمیم اور امتناعِ قادیانیت
آرڈی نینس ۱۹۸۴ء کا پابند بنایا جائے۔
۲:... اور قادیانیوں کو قادیانیت کی تبلیغ اور شعائرِ اسلام کے استعمال کرنے پر قانونی طور پر پابندی لگائی جائے،
یہ بات ٹھیک ہے، آپ کو منظور ہے؟
کل ہمارے دفتر میں علماء کا ایک اجتماع رکھا ہوا ہے، دو بجے ظہر کے بعد، جس میں لکھا ہے محمد یوسف لدھیانوی اور
مفتی نظام الدین اور دیگر علمائے کرام خطاب فرمائیں گے، ۷؍ستمبر کل ہے ناں! تو ۷؍ستمبر کی یاد میں کل ایک اجلاس رکھا
گیا ہے، علمائے کرام کا، میں اپنے احباب سے گزارش کرتا ہوں کہ اس میں ضرور شرکت فرمائیں، علمائے کرام بھی اور دیندار
مسلمان بھی، جو بھی شرکت کرنا چاہے، کوئی منع نہیں ہے، حکومت تو جیسی ہے ویسی ہے، اس سے کوئی توقع رکھنا تو غلط ہے،
لیکن میں تم سے اور محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے غلاموں سے یہ توقع رکھوں گا کہ حضورِ اکرم صلی اللہ علیہ
وسلم کی ختمِ نبوّت کی پاسبانی کا جھنڈا اُٹھائیں۔ عالمی مجلس تحفظ ختمِ نبوّت کے پلیٹ فارم پر جمع ہوکر جو مشورے سے
طے ہو اور نقشہ بنے، اور نظام بنے اس میں بھرپور حصہ لیں، لٹریچر چھاپا جائے، قادیانیوں سے بات کی جائے۔ قادیانی ایک
سال میں دس ہزار آدمیوں کو قادیانی بنا رہے ہیں، تم کم از کم دس تو بنالو۔
بات یہ ہے کہ سچ سو رہا ہے، اور باطل کو کھلے بندوں رقص کرنے کی اجازت ہے۔ تو میں یہ چاہتا ہوں کہ ہمارے ساتھی خاص
طور پر نوجوان آگے بڑھیں اور ایک ایک قادیانی کو گردن سے نہیں پکڑسکتے تو بازوؤں سے پکڑلیں کہ غلام احمد کو تم نے
کیوں نبی بنایا ہے؟ کچھ ہمیں بھی سمجھاؤ، ایک بھی قادیانی ایسا نہ بچے جس سے آپ نہ ملیں، اور اس کا آپ محاسبہ نہ
کریں، وہ تمہاری ناک کے نیچے نوجوانوں کو مرتد بنا رہے ہیں، نوکری اور چھوکری کا لالچ دے کر، اگرچہ ان کے پاس حقانیت
نہیں ہے مگر نوکری اور چھوکری کے نام پر وہ مرتد بنا رہے ہیں، ہمارے پاس یہ چیزیں نہیں ہیں، ہم تو جو بھی دعویٰ کریں
گے آخرت کی بنیاد پر کریں گے، دنیا کی لالچ نہیں۔
وَآخِرُ دَعْوَانَا اَنِ الْحَمْدُ للہِ رَبِّ الْعَالَمِیْنَ
478
اسلام اور قادیانیت دو ضدیں ہیں
مرزائی، اپنے باوا مرزا غلام احمد قادیانی کی طرح اُلجھنے اُلجھانے، دجل و تلبیس اور دھوکا دینے میں ماہر ہوتے ہیں،
ان کا چھوٹے سے چھوٹا اور بڑے سے بڑا ہر قادیانی اس فن میں طاق ہوتا ہے، اور ہر ایک سے پنجہ آزمائی ان کا محبوب
مشغلہ ہے۔ انہیں اس سے سروکار نہیں ہوتا کہ ان کا سوال صحیح ہے یا غلط؟ اور نہ ہی ان کو اس کا لحاظ ہوتا ہے کہ معقول
جواب مل جانے کے بعد دین و دیانت اور عقل و شرافت کا تقاضا ہے کہ خاموشی اختیار کرلی جائے، بلکہ وہ اپنی راگنی
الاپنے کو اپنی کامیابی سمجھتے ہیں۔
اسی طرح ایک لاہوری مرزائی خلیل الرحمن ایڈیٹر ’’پیغامِ صلح‘‘ نے بھی کافی دنوں تک حضرت اقدس مولانا محمد یوسف
لدھیانوی شہیدؒ کو اُلجھانے کی کوشش کی، اور طویل مکاتبت رہی، ان میں کے چند خطوط مع جوابات تحفۂ قادیانیت جلد
چہارم میں شائع ہوچکے ہیں، ذیل کا خط اور اس کا جواب بھی اسی سلسلہ کی ایک کڑی ہے جو تا حال کہیں شائع نہیں ہوا تھا۔
سعید احمد جلال پوری
مکرمی و محترم جناب مولانا محمد یوسف صاحب
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ!
آپ کا مکتوبِ گرامی کل ملا، الحمدللہ آپ اپنے طویل سفر سے بخیرت اپنے مقام پر واپس پہنچ چکے ہیں۔
479
آپ کو یاد ہوگا کہ میں نے آپ کو اپنے ۱۸؍۲؍۱۹۷۷ء کے خط میں اپنے دس عقائد لکھے تھے، ان کے متعلق آپ نے اپنے
۲۱؍۲؍۱۹۷۷ء کے خط میں لکھا کہ: ’’اگر (میری حیثیت) سائل کی ہوگی تو یہ سمجھئے کہ مجھے آپ کے ہر دعویٰ میں شبہ ہے۔‘‘
میں اپنے ان عقائد میں سے پہلے ۷ دُہراتا ہوں، اگر یہی مسلمانوں کے عقائد ہیں تو مجھے ان میں کوئی شبہ نہیں:
۱:... اللہ تعالیٰ وحدہٗ لا شریک ہے۔
۲:... تمام رسولوں، کتابوں، فرشتوں اور یومِ آخرت پر ایمان لانا ضروری ہے۔
۳:... کلمۂ شہادت اور کلمۂ توحید پڑھنا لازمی ہے۔
۴:... نماز، روزہ، حج اور زکوٰۃ فرائض میں شامل ہیں۔
۵:... آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم خاتم النبیین ہیں۔
۶:... اسلام آخری اور مکمل دین ہے۔
۷:... اور قرآن کریم خاتم الکتب ہے، اس میں کوئی ناسخ اور منسوخ آیات نہیں۔
آپ نے مجھے ’’اسلامی عقائد‘‘ میں شبہات پیش کرنے کے لئے فرمایا ہے، مجھے مذکورہ عقائد میں کوئی شبہ نہیں، مگر اس
’’اسلامی عقیدہ‘‘ میں نہیں بلکہ ’’مسلمانوں‘‘ کے اس عقیدہ میں ضرور شبہ ہے کہ حضرت عیسیٰ بن مریم بنی اسرائیلی نبی
اب تک زندہ آسمان پر موجود ہیں اور مسلمانوں کی اصلاح کے لئے آنحضرت صلعم کے بعد دوبارہ آئیں گے، کیونکہ میرا یہ
پختہ عقیدہ ہے کہ اگر آپؐ کے بعد کوئی نبی بھی آجائے خواہ نیا ہو یا پرانا تو ختمِ نبوّت کی مہر ٹوٹتی ہے اور یہ
تسلیم کرنا، آنحضرت صلعم کی شان میں گستاخی اور آپؐ کی ہتک ہے، اور دینِ اسلام میں نقص ماننے کے مترادف ہے۔
میرا یہ شبہ آپ دور فرمادیں، میرے لئے حیاتِ مسیحؑ پر دلائل اس ترتیب سے قابلِ قبول ہوں گے:
۱:... سب سے پہلے آپ قرآنِ کریم سے دلائل دیں گے، جب قرآن کریم کی روشنی میں جاری بحث ختم ہوجائے گی۔ تو
480
۲:... بخاری شریف۔
۳ـ:... مسلم (شریف)۔
۴:... ان کے بعد باقی احادیث بشرطیکہ وہ قرآن کریم کے دلائل اور آیات سے متعارض اور متصادم نہ ہوں، کیونکہ اسلامی
عقائد کی بنیاد محض قرآن کریم پر ہے۔
اس بحث کے دوران حضرت مرزا صاحب کی ذات کو کسی طور زیرِ بحث نہیں لایا جائے گا، کیونکہ اگر حضرت مسیحؑ کی حیات ثابت
ہوگئی تو حضرت مرزا صاحب کا دعویٔ مسیح موعود وغیرہ خود ہی باطل ہوجائے گا۔
مجھے امید ہے کہ سلسلۂ گفتگو کے دوران آپ میری ان گزارشات کو ضرور مدنظر رکھیں گے۔
والسلام
خلیل الرحمن، ایڈیٹر پیغامِ صلح
جواب:
مخدوم و مکرم جناب خلیل الرحمن صاحب، زید الطافہم
بعد ما وجب! آنجناب کا گرامی نامہ ملتان ہوتے ہوئے مجھے آج یہاں ملا، (میں قریباً ایک مہینے سے کراچی میں ہوں)
نامۂ کرم سے ممنون فرمایا، اس کا شکریہ قبول فرمائیے، افسوس ہے کہ ابھی تک مبادیات ہی طے نہیں ہوسکے، ان کی طرف
توجہ دلاتا ہوں، اور دوٹوک فیصلہ کا منتظر ہوں۔
۱:... پہلے عریضہ میں میں نے عرض کیا تھا کہ گفتگو کے لئے سوالات کی فی ہفتہ تعداد معین کرلی جائے، فریقین کے اخبار
و رسائل میں اس مراسلت کے شائع کرنے کا فیصلہ کیا جائے، اور آپ کے سوالات کی پہلی قسط آنے پر میں ’’اُصولِ
موضوعہ‘‘ عرض کروں گا، جن کی روشنی میں آپ کے شبہات حل کئے جائیں۔ اگر ان میں سے کوئی آپ کو مسلّم نہ ہو تو گفتگو
پہلے اس پر ہو، تاکہ ہماری بحث اُصول و قواعد کے دائرے میں رہے، آپ نے ابھی تک ان امور سہ گانہ کا فیصلہ نہیں
فرمایا کہ فی ہفتہ سوالات کی تعداد کتنی ہوگی؟ دوطرفہ رسائل
481
میں اس کو شائع کیا جائے گا؟ اُصولِ موضوعہ پر (بشرطِ عدم تسلیم) گفتگو ہوگی؟ میں آپ کے فیصلہ کا شدت سے
منتظر ہوں۔
۲:... آپ کو یاد ہوگا کہ میرا پہلا خط آنجناب کی اسی خواہش کے جواب میں تھا کہ میں آنجناب کے شبہات حل کروں
(پیغامِ صلح ۲۶؍جنوری ۱۹۷۷ء)۔
میں نے مندرجہ بالا تین اُمور ذکر کرتے ہوئے لکھا تھا کہ: ’’فقیر آپ کے اور آپ کی جماعت کے شبہات کے جواب کے لئے
حاضر ہے۔‘‘ اب قاعدے کی رُو سے آپ کا فرض یہ تھا کہ آپ کسی اسلامی عقیدے پر شبہات پیش کرتے، مگر اس کے برعکس آپ
نے یہ کیا کہ اپنے دس عقیدے لکھ کر مجھے فرمایا کہ تجھے ان پر کیا اعتراض یا شبہ ہے؟ یہ ایک بے اُصولی بات تھی کہ
میں مجیب کے بجائے سائل کی پوزیشن سنبھال لوں، اور آپ کے شبہات حل کرنے کے بجائے خود آپ کے سامنے شبہات پیش کرنے
لگوں۔ اس لئے میں نے لکھا تھا کہ آپ پہلے تو یہ طے فرمادیں کہ میری حیثیت سائل کی ہے یا مجیب کی؟ آنجناب نے اپنے
تازہ خط میں بھی اس کی وضاحت نہیں فرمائی، بلکہ دوبارہ اپنے دس میں سے سات عقائد درج کردئیے، کیا آنجناب کو علم
نہیں کہ اُصولِ مباحثہ کی رُو سے سائل اور مجیب کی حیثیت میں آسمان و زمین کا فرق ہے! دونوں کے فرائض اور ذمہ
داریاں بالکل الگ الگ ہوتی ہیں، لہٰذا آپ دو حرفی بات لکھئے کہ میں سائل ہوں یا مجیب؟ اگر سائل ہوں تو مجھے آپ کے
عقائد پر سوالات کرنے کی اجازت دیجئے، اور اگر میں مجیب ہوں تو میرے سامنے اپنے عقائد پیش کرنا مہمل بات ہے، بلکہ
خود مجھ سے پوچھئے کہ فلاں اسلامی عقیدہ پر میرے فلاں فلاں اعتراض کا جواب دو۔
۳:... آنجناب بار بار جناب مرزا صاحب بالقابہ کا ذکرِ خیر درمیان میں لاتے ہیں، اور میں قصداً اس کا نوٹس نہیں
لیتا رہا، تاکہ سلسلۂ کلام آگے بڑھے، سوال یہ ہے کہ آنجناب کو جناب مرزا صاحب کے اُصول و عقائد، الہامات و
مکاشفات، دعوت و دعاوی اور ارشادات و تعلیمات مسلّم ہیں یا نہیں؟ اگر وہ بقول آپ کے مسیح موعود اور حکَم و عَدَل
ہیں، تو ان کے مسلّمات کو پیش کرنے اور ان سے بحث کرنے کا مجھے کیوں حق نہیں؟ اور آپ جناب
482
مرزا صاحب کے مسلّمات سے کیوں کتراتے ہیں؟
۴:... آنجناب نے میرا یہ جملہ نقل کرکے کہ: ’’اگر میری حیثیت سائل کی ہوگی تو یہ سمجھئے کہ مجھے آپ کے ہر دعویٰ
میں شبہ ہے‘‘ اس کے جواب میں اپنے دس میں سے سات عقائد درج کرکے لکھا ہے کہ: ’’اگر یہی مسلمانوں کے عقائد ہیں تو
مجھے ان میں کوئی شبہ نہیں‘‘ میرے اور اپنے خط کو دوبارہ پڑھ کر سوچئے کہ میرے اس جملہ کا جواب آپ کو کیا دینا
چاہئے تھا اور آپ نے کیا لکھ دیا؟
خیال ہے کہ آنجناب میرے فقرے کا مطلب نہیں سمجھے، لیجئے اس کی ذرا سی وضاحت کردیتا ہوں، میں یہ کہنا چاہتا ہوں کہ
آنجناب کے جناب مرزا صاحب کو ماننے کے بعد (مجدد، مسیح، مہدی، ظلّی نبی، مجازی نبی، بروزی نبی، لغوی نبی، اُمتی
نبی، غیرحقیقی نبی، جیسا کچھ بھی آپ مانتے ہوں) کسی اسلامی عقیدے کو ماننے کا دعویٰ کرنا غلط، محلِ اشتباہ اور
آیتِ کریمہ: ’’اِنَّکَ لَرَسُوْلُ اللہِ‘‘ کا مصداق ہے، کیونکہ جناب مرزا صاحب کا مرتد
اور خارج از اسلام ہونا بالکل قطعی اور بدیہی ہے، اور جو شخص ایک مرتد کو اپنا پیشوا مانتا ہو (خواہ کسی رنگ میں
مانے)، اس کی وحی پر ایمان لاتا ہو، اس کے دعاوی کو تسلیم کرتا ہو، اس کو راست باز سمجھتا ہو، اس کا کسی اسلامی
عقیدے پر ایمان رکھنے کا دعویٰ قابلِ اعتبار نہیں، خواہ وہ خانۂ کعبہ میں حلف اُٹھائے، وَاللہُ
یَشْھَدُ اِنَّ الْمُنَافِقِیْنَ لَکَاذِبُوْنَ!
یہ تھی میرے اس فقرہ کی تشریح کہ: ’’مجھے آپ کے ہر دعویٰ میں شبہ ہے‘‘، یہ مطلب اگر آپ کے ذہن میں ہوتا تو آپ کا
جواب کیا یہی ہونا چاہئے تھا جو آپ نے دیا؟ اب بھی اگر آنجناب کو کسی اسلامی عقیدہ پر (خواہ توحید و رسالت ہی کیوں
نہ ہو) ایمان رکھنے کا دعویٰ ہے تو مجھے اس دعویٰ پر جرح کی اجازت دیجئے! اور پھر میرے اعتراضات کو اُٹھاکر ثابت
کردکھائیے کہ آپ اسلام کے کسی عقیدے پر واقعی ایمان رکھتے ہیں، اور آیتِ مذکور کا مصداق نہیں ہیں۔ میرے نزدیک
اسلام اور مرزا غلام احمد صاحب دو ضدیں ہیں، جو کبھی جمع نہیں ہوسکتیں، اسلام ہے تو مرزا صاحب پر ایمان لانا ممکن
نہیں، اور مرزا صاحب پر ایمان ہو تو اسلام پر ایمان؟ ’’ایں خیال است و محال است و جنوں!‘‘ اگر آنجناب کو مسلمان
483
کہلانے کا شوق ہے تو آئیے اسی پر گفتگو ہوجائے، امید ہے مزاج سامی بعافیت ہوں گے، وسلام
علی عبادہ الذین اصطفی!
جواب کا منتظر
محمد یوسف عفا اللہ عنہ، کراچی
۱۹؍جمادی الاولیٰ ۱۳۹۷ھ
۸؍مئی ۱۹۷۷ء
(نوٹ: میں اِن شاء اللہ دو ایک روز میں ملتان جارہا ہوں، آنجناب کے گرامی نامہ کا وہیں انتظار کروں گا۔)
484
بُروزِ خدا ...۔۔ مرزا ...۔۔ جے سنگھ بہادر
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ
اَلْحَمْدُ للہِ وَسَلَامٌ عَلٰی عِبَادِہِ الَّذِیْنَ اصْطَفٰی!
مکرمی جناب ثاقب زیروی صاحب
مزاج گرامی! آپ کے ہفت روزہ ’’لاہور‘‘ (۲؍مارچ ۱۹۸۵ء) کی اشاعت میں شادمان لاہور کے ایک ڈاکٹر صاحب کا مراسلہ
ادارتی کالم میں شائع ہوا ہے، جس میں راقم الحروف اور مولانا اللہ وسایا صاحب کے ان مضامین پر اظہار خیال کیا گیا ہے
جو روزنامہ جنگ لاہور کی ۲۱؍فروری کی اشاعت میں جناب حنیف رامے کے مضمون کے سلسلہ میں شائع ہوئے۔ میں آپ کا اور
مکرم ڈاکٹر صاحب کا ممنون ہوں کہ ان مضامین پر نظر التفات فرمائی، اظہار خیال کا ہر شخص کو اس کے اپنے علم و فہم کے
مطابق حق ہے، اور تنقید اگر جائز و صحیح ہو تو اسے بھی لائق قدر قرار دیا جانا چاہئے کہ اس سے غلطیوں کی اصلاح
ہوسکتی ہے، لیکن مجھے افسوس ہے کہ ڈاکٹر صاحب نے ایک بات بھی حقائق و واقعات کی روشنی میں صحیح نہیں کہی، مثلاً ان
کا یہ کہنا کہ: ’’مولوی صاحبان نے حوالہ جات کو سخت بددیانتی سے کانٹ چھانٹ کر پیش کیا ہے۔‘‘ قطعاً صحیح نہیں، اگر
کوئی حوالہ غلط تھا یا بقول ان کے کانٹ چھانٹ کر پیش کیا گیا تھا تو وہ اس کی نشاندہی فرماسکتے تھے کہ فلاں حوالہ
غلط دیا گیا ہے۔
راقم الحروف نے اپنے مضمون میں جتنے حوالوں کا خلاصہ دیا ہے، ان کی باکمال و تمام عبارتیں اپنے رسالہ ’’قادیانی
کلمہ‘‘ میں پیش کردی ہیں، اسے ملاحظہ فرماسکتے ہیں، اور اگر وہ چاہیں تو ان حوالوں کے فوٹو اسٹیٹ بھیج سکتا ہوں، یا
اگر چاہیں تو کسی عدالت میں پیش کرسکتا ہوں، ان کو اطمینان دلانے کا اس سے بہتر کوئی اور ذریعہ ہو تو وہ بتائیں۔
485
پھر جو حوالے میں نے پیش کئے ہیں وہ کوئی جدید انکشاف نہیں، بلکہ یہ وہ نظریات ہیں جن پر مرزا صاحب کے علم
الکلام کی بنیاد ہے، اور جن پر خود آپ کی جماعت کے اکابرین سینکڑوں نہیں بلکہ ہزاروں صفحات سیاہ کرچکے ہیں، ان
حوالوں میں سے ایک ایک نکتہ پر کئی کئی حوالے موجود ہیں۔
ڈاکٹر صاحب ہی بتائیں کہ:
الف:...کیا وہ مرزا صاحب کی اس وحی پر ایمان نہیں رکھتے جس میں مرزا صاحب کو ’’محمد رسول اللہ‘‘ کہا گیا ہے؟
ب:...کیا مرزا صاحب نے آیت: ’’وآخرین منھم لما یلحقوا‘‘ سے آنحضرت صلی اللہ علیہ
وسلم کی دو بعثتوں کا عقیدہ پیش نہیں کیا؟
ج:...کیا خود کو محمد رسول اللہ کی بعثت ثانیہ کا ظہور قرار نہیں دیا؟
د:...کیا بعثت ثانیہ کے دور کی روحانیت کو پہلی بعثت سے اقویٰ اور اکمل اور اشد قرار نہیں دیا؟
ہ:...کیا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں اسلام کو پہلی رات کے چاند سے اور بعثت ثانیہ کے زمانہ میں
چودھویں رات کے چاند سے تشبیہ نہیں دی؟
و:...کیا مرزا صاحب کے مرید ظہور الدین اکملؔ نے مرزا صاحب کو وہ قصیدہ سناکر داد تحسین حاصل نہیں کی، جس میں کہا
گیا تھا کہ:
-
’’محمد پھر اتر آئے ہیں ہم میں!
اور آگے سے ہیں بڑھ کر اپنی شان میں
-
محمد دیکھنے ہوں جس نے اکمل
غلام احمد کو دیکھے قادیان میں‘‘
ز:...کیا مرزا بشیر احمد صاحب ایم اے نے نہیں لکھا:
’’مسیح موعود خود ’’محمد رسول اللہ‘‘ ہے، جو اشاعت اسلام کے لئے دوبارہ دنیا میں تشریف لائے ......۔ اس لئے ہم کو
کسی
486
نئے کلمے کی ضرورت نہیں، ہاں! اگر ’’محمد رسول اللہ‘‘ کی جگہ کوئی اور آتا تو ضرورت پیش آتی۔‘‘
ان تمام حقائق کے باوجود اگر آپ یہ کہتے ہیں کہ ہم کلمہ ـ’’محمد رسول اللہ‘‘ میں مرزا غلام احمد قادیانی مراد نہیں
لیتے تو خود ہی بتائیے کہ آپ کے اس انکار کو کیا نام دیا جائے؟
آپ نے لکھا ہے کہ
’’ہر شخص کا نام اور عقیدہ وہی ہوتا ہے جو وہ بتائے اور جس کا وہ اظہار کرے، نہ کہ وہ جو اس کے جھوٹے مخالف اور
دشمن بیان کریں۔‘‘
آپ بتائیے کہ مرزا صاحب کا نام ’’محمد رسول اللہ‘‘ انہوں نے خود بتایا، یا ان کے کسی جھوٹے دشمن نے؟ اوپر جو عقائد
لکھے گئے ہیں وہ خود مرزا صاحب اور ان کی جماعت کے لوگوں نے خود لکھے ہیں، یا ان کے کسی دشمن نے ان کی طرف منسوب
کردئیے ہیں؟
ڈاکٹر صاحب نے (جاہل دشمن کے حوالے سے) مولانا اللہ وسایا صاحب کا فرضی نام ’’وساوا سنگھ‘‘ تجویز فرمایا تھا، میرے
احباب کا کہنا ہے کہ ڈاکٹر صاحب نے اپنے خیال میں تو اس مثال کے ذریعہ مولانا اللہ وسایا صاحب کی توہین کرنا چاہی،
لیکن مولانا کی کرامت دیکھئے کہ ڈاکٹر صاحب اس فرضی نام کے تجویز کرنے میں خدا تعالیٰ کے پاک نام کی گستاخی کر گئے،
کیونکہ ڈاکٹر صاحب نے ’’اللہ وسایا‘‘ کی جگہ ’’وساوا سنگھ‘‘ تجویز کرکے گویا ’’اللہ‘‘ کا متبادل لفظ ’’سنگھ‘‘ تلاش
کیا ہے، اور یہ اللہ تعالیٰ کے پاک نام کی کھلی بے حرمتی ہے۔
مگر اس ناکارہ کا خیال ہے کہ ڈاکٹر صاحب کا ’’اللہ‘‘ سے ’’سنگھ‘‘ کی طرف انتقالِ ذہنی بے وجہ نہیں، بلکہ یہ قادیانی
علم الالہام کے عین مطابق اور مرزا صاحب کے فیضانِ تربیت کا معمولی نتیجہ ہے، کیونکہ مرزا صاحب کا ایک الہامی نام
’’جے سنگھ بہادر‘‘ بھی ہے، نیز مرزا صاحب کو ایک الہام یہ بھی ہوا تھا کہ: ’’انت منی بمنزلۃ بروزی۔‘‘ یعنی اللہ
تعالیٰ فرماتے ہیں کہ: ’’اے مرزا! تو مجھ سے بمنزلہ میرے بروز کے ہے۔‘‘ اور بروز کے
487
بارے میں مرزا صاحب کا عقیدہ یہ ہے کہ:
’’تمام انبیائے کرام کا اس پر اتفاق ہے کہ بروز میں دوئی نہیں ہوتی، کیونکہ بروز کا مقام اس مضمون کا مصداق ہوتا ہے
کہ:
-
من تو شدم تو من شدی من تن شدم تو جاں شدی
تاکس نگوید بعد ازیں من دیگرم تو دیگری‘‘
پس قادیانی علم الہام کے مطابق صغریٰ، کبریٰ کی شکل اول یوں بنتی ہے کہ:
صغریٰ:...’’اللہ برنگ بروز مرزا ہے۔‘‘ اور
کبریٰ:...’’مرزا جے سنگھ ہے۔‘‘
نتیجہ:...’’اللہ جے سنگھ ہے۔‘‘
عکس نتیجہ:...’’جے سنگھ اللہ ہے۔‘‘
گویا اللہ اور جے سنگھ کے درمیان مرزا صاحب حد اوسط ہے، اس کو ہٹادیا جائے تو اللہ جے سنگھ، اور جے سنگھ اللہ بن
جاتا ہے۔ (نعوذباللہ!)
اس لئے ڈاکٹر صاحب کا ’’اللہ‘‘ سے سیدھا ’’سنگھ‘‘ تک پہنچنا قادیانی علم الالہام کے عین مطابق ہے، رہا یہ کہ اللہ
تعالیٰ نے مرزا غلام احمد قادیانی کو ’’جے سنگھ بہادر‘‘ کا خطاب دے کر سکھوں کی صف میں شامل کرنا کیوں ضروری سمجھا؟
اس کی اصل وجہ تو اللہ تعالیٰ ہی کو معلوم ہوگی، مگر اس ناکارہ کے ذہن میں اس کے دو نکتے آتے ہیں۔
ایک یہ کہ سکھوں نے ہندو مذہب سے کٹ کر اپنا ایک الگ مذہب بنالیا تھا، مرزا صاحب کے خطاب ’’جے سنگھ بہادر‘‘ میں یہ
لطیف پیش گوئی تھی کہ مرزا صاحب بھی دین اسلام سے کٹ کر ایک نیا دین تصنیف فرمائیں گے، اور ان کے نئے مذہب کی اسلام
سے وہی نسبت ہوگی جو سکھ مذہب کی ہندو مذہب سے ہے۔
دوسرے اس میں بطور پیش گوئی یہ اشارہ بھی تھا کہ کسی زمانے میں مرزا صاحب کے ہم عقیدہ و ہم مذہب لوگوں کو غیرمسلم
اقلیت قرار دے کر ہندوؤں اور سکھوں کی صف میں شمار کیا جائے گا۔
488
بہرحال مرزا صاحب کا ’’الہامی خطاب‘‘ ’’جے سنگھ بہادر‘‘ بڑا معنی خیز ہے، اور اس سے صریح طور پر یہ نکلتا ہے کہ
اللہ تعالیٰ کے نزدیک مرزا صاحب کو سکھوں سے قوی مشابہت ہے، اور یہ کہنا بے جا نہ ہوگا کہ آپ کسی ’’جے سنگھ بہادر‘‘
کا بروز کامل ہیں، جس کی وجہ سے آپ کو ’’جے سنگھ بہادر‘‘ کا خطاب دیا جانا ضروری ہوا۔
آپ کے ڈاکٹر صاحب نے اس ناکارہ کو جو گالیاں دی ہیں، مجھے ان کا کوئی شکوہ نہیں، نہ ان کا جواب دینے کی ضرورت ہے،
کیونکہ اس کا جواب آپ خود ایک مصرعہ میں دے چکے ہیں، یعنی:
’’چور کو للکارو تو گولی کھاؤ‘‘
جن لوگوں نے ختمی مآب صلی اللہ علیہ وسلم کی عبائے نبوّت ’’جے سنگھ بہادر‘‘ کے حوالے کردی ہو، ان کو اگر للکارا
جائے تو گالی اور گولی کے سوا ان سے اور کیا توقع ہوسکتی ہے؟
پیارے ثاقب! کیا آپ سے توقع کرسکتا ہوں کہ صحافتی آداب کے مدنظر آپ میرا مراسلہ بھی اپنے پرچہ میں چھاپ دیں گے،
تاکہ ڈاکٹر صاحب تک میری نگارشات پہنچ جائیں۔
فقط والدعا
آپ کا مخلص
محمد یوسف لدھیانوی عفی اللہ عنہ
(ہفت روزہ ختمِ نبوّت کراچی ج:۳ ش:۳۹)
489
قادیانی وسعتِ معلومات کا شاہکار!
جناب ابوالقاسم رفیق دلاوری صاحب السلام علیکم ورحمۃ اللہ!
میں نے آپ کی کتاب ’’رئیسِ قادیان‘‘ کے پہلے چند صفحات کا بغور مطالعہ اپنی لائبریری ربوہ میں بیٹھ کر کیا، ماشاء
اللہ کتاب خوب لکھی ہوئی ہے، کتاب میں دِل کھول کر جھوٹ لکھا گیا ہے اور اس قدر کہ مزید لکھنے کی ضرورت نہیں۔
جنابِ والا! آپ نے جو حوالے ’’سیرت المہدی‘‘ یا ’’الفضل‘‘ یا کسی اور احمدی حضرات کی لکھی گئی کتابوں سے دئیے ہیں،
میں نے وہ کتاب خاص طور پر لائبریری سے نکلوائیں اور حوالہ جات کو دیکھا تو وہاں پر آپ کا بیان کردہ حوالہ موجود ہی
نہ تھا، بلکہ پوری کتاب میں وہ حوالہ نہیں موجود، اب معلوم نہیں آپ کے نزدیک ’’سیرت المہدی‘‘ جو کہ حضرت مرزا
بشیراحمد صاحب ایم اے نے لکھی ہے، وہ کوئی اور ہو؟ آپ نے ایک جگہ الفضل ۳؍جنوری ۱۹۳۱ء کا حوالہ دیا ہے، ۳؍جنوری کی
اخبار نکلوائی تو وہاں پوری اخبار میں اس کا نام و نشان نہ تھا۔
از خلافت لائبریری، ربوہ
اِظہارِ صداقت:
مکرم و محترم، آداب و دعوات!
جناب کا نامۂ کرم بغیر نام اور بغیر تاریخ کے مولانا ابوالقاسم دلاوری کے نام موصول ہوا، مولانا مرحوم کا مدت ہوئی
وصال ہوچکا ہے، مجلس تحفظ ختمِ نبوّت نے ان کی کتاب طبع اَوّل کا فوٹو شائع کیا ہے، جناب نے اس کے بعض حوالوں کو
مخدوش قرار دیا ہے، اور بطورِ مثال ’’الفضل‘‘ ۳؍جنوری ۱۹۳۱ء کے حوالے کو غلط بتایا ہے۔
ہم نے اپنے اکابر کو حوالہ جات میں ثقہ اور امین پایا ہے، وہ جان بوجھ کر کسی کی
490
طرف غلط بات منسوب کرنے کی جسارت نہیں کرتے، یہ شرف صرف مرزا غلام احمد صاحب کے لئے مخصوص ہے۔ تاہم سہوِ قلم
یا سہوِ کتابت کی وجہ سے تاریخ یا سن میں بھول چوک ہوجانا تقاضائے بشریت ہے، لہٰذا گزارش ہے کہ ’’رئیسِ قادیان‘‘ یا
ہماری کسی اور مطبوعہ کتاب میں آپ کو کوئی غلط حوالہ ملے تو اس سے مطلع فرمائیے، ہم تحقیق کے بعد غلطی کا اعلان
کرنے میں مسرت محسوس کریں گے، اور کتاب کے ساتھ غلط نامہ بھی چھاپ دیں گے، فقط والدعا!
محمد یوسف عفا اللہ عنہ
۵؍محرم ۱۳۹۹ھ
491
کیا ایسا غبی مسیح بن سکتا ہے؟
ایک قادیانی کے جواب میں!
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ
اَلْحَمْدُ للہِ وَسَلَامٌ عَلٰی عِبَادِہِ الَّذِیْنَ اصْطَفٰی!
مکرم و محترم، زید لطفہٗ، آداب و دعوات!
نامۂ کرم موصول ہوا، یادفرمائی پر بہت بہت شکریہ! جناب نے ’’ازالۂ اوہام‘‘ کی جو طویل عبارت نقل فرمائی ہے، اس
میں انہوں نے اقرار کیا ہے کہ انہوں نے ’’براہین‘‘ میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی دوبارہ تشریف آوری کا عقیدہ لکھا
تھا، مگر یہ عذر فرماتے ہیں کہ یہ رسمی عقیدہ لکھا تھا، مرزا صاحب تو تشریف فرما نہیں، ورنہ ان سے گزارش کرتا، لیکن
آپ ان کے وکیل ہیں، آپ سے پوچھتا ہوں:
۱:... براہین میں مرزا صاحب نے جو عقیدہ تحریر فرمایا تھا وہ سچ تھا یا جھوٹ؟ اگر سچ تھا تو اس کے خلاف کا عقیدہ
جھوٹ ہوگا، اور اگر جھوٹ تھا تو کیا ایسا شخص جو جھوٹے عقیدے لکھے، سچا کہلائے گا یا جھوٹا؟ اور کیا جھوٹا آدمی
’’مسیح‘‘ کا دعویٰ کرے تو وہ ’’مسیحِ صادق‘‘ ہوگا یا ’’جھوٹا مسیح‘‘؟
۲:... ’’ازالہ‘‘ میں مرزا صاحب نے جو تیس آیتیں وفاتِ مسیح کی لکھی ہیں وہ ’’براہین‘‘ کے زمانے میں قرآن میں
موجود تھیں یا بعد میں اُتری تھیں؟ اگر پہلے بھی موجود تھیں تو مرزا صاحب ان کا مطلب سمجھے تھے یا نہیں؟ اگر ان صریح
اور کھلی کھلی آتیوں کا مطلب بھی نہیں سمجھے تھے تو کیا ایسا غبی آدمی ’’مسیح‘‘ بن سکتا ہے؟ اور جو شخص قرآن کی
ایک دو نہیں بلکہ اکٹھی تیس صریح اور صاف آیتوں کے خلاف عقیدہ لکھے اور اسے دنیا میں شائع
492
کرے، کیا وہ شخص ’’ایمان دار‘‘ آدمی کہلانے کا مستحق ہے؟
۳:... ’’براہین‘‘ ص: ۴۹۸، ۴۹۹، ۵۰۵ کھول کر دیکھئے اور پھر بتائیے کہ مرزا صاحب نے اس عقیدہ کے لئے قرآن اور اپنے
کشف: ’’لیکن اس عاجز پر ظاہر کیا گیا ہے۔‘‘ اور اپنے الہام: ’’عسٰی ربکم ان یرحکم علیکم‘‘
کا حوالہ نہیں دیا تھا؟ اگر دیا تھا تو ’’ازالہ‘‘ میں مرزا صاحب کا یہ کہنا کہ: ’’براہین میں اپنی طرف سے
کوئی بحث نہیں کی گئی‘‘ یہ سچ ہے یا جھوٹ؟ اگر سچ ہے، تو ذرا یہ فرمائیے کہ اپنی طرف سے بحث کرنا کسے کہتے ہیں؟ اور
اگر یہ جھوٹ ہے تو مرزا صاحب سچے مسیح ہوئے یا ’’جھوٹے مسیح‘‘؟
اُمید ہے مزاجِ سامی بعافیت ہوں گے، جواب کا منتظر رہوں گا، جواب کے ساتھ میرا یہ عریضہ بھی بھیجئے۔ فقط والدعا!
محمد یوسف عفا اللہ عنہ
493
کافر گر مُلَّا کا مصداق: غلام احمد قادیانی!
غلط فہمی کے شکار ایک قادیانی کی خدمت میں
مکرمی مولانا محمد یوسف صاحب لدھیانوی
سلامِ مسنون!
گزشتہ جمعہ کے اخبار جنگ میں ایک سوال کے جواب میں آپ کے قلم سے اس حقیقت کا اظہار پڑھ کر انتہائی خوشگوار تعجب
ہوا کہ آپ کے نزدیک ابھی تک مسلمان ہونے کے لئے کلمۂ شہادت پڑھنا کافی ہے، گو یہ اظہار یقینا میرے پیارے آقا و
مولیٰ سیّدنا حضرت خاتم النبیین محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیمات کے مطابق ہے، اور آپ کا اس کو دُہرانا
معمول کے مطابق ایک بات ہے، لیکن پھر بھی اس میں میرے تعجب کا سبب موجودہ حالات ہیں، جن میں جیسا کہ آپ جانتے ہیں
کہ یہ فرمودۂ رسول مُلَّا کے رویے کافر گری کا شکار ہوکر اب عملاً متروک ہوچکا ہے، اور کم از کم پاکستان کی حدود
میں نافذالعمل نہیں رہا، وطنِ عزیز میں مُلَّا نے اپنی دُکان کو چلائے رکھنے کے لئے حسبِ ضرورت اس سادہ تعلیم میں
پیوندکاری کرکے مسلمانوں کو کافر قرار دینا اپنا مشغلہ بنارکھا ہے، جس کی حالیہ مثال مُلَّا اور مجاہدِ ختمِ نبوّت
کے روٹی اور کرسی کی بقا کے لئے کئے جانے والے ناپاک گٹھ جوڑ کے نتیجہ میں پیدا ہونے والی مسلمان کی وہ تعریف ہے جس
نے اللہ اور رسول صلعم کے فرمودات پر مشتمل آپ کی تحریر کردہ اسلامی تعلیم کی جگہ لے لی ہے۔
اس رائج تعریف کی دینی حیثیت کیا ہے؟ اور اس کے مرتبین اور منظور کرنے والوں کا دین میں خود کیا مقام ہے؟ یا اس کے
دنیوی اغراض و مقاصد کیا تھے؟ ان سوالات سے قطع نظر کرتے ہوئے کہ ان کے جواب کسی سیاسی کالم میں مناسب معلوم ہوں گے،
494
کیونکہ یہ سب کچھ ایک سیاسی ڈرامہ ہی تو تھا، میرا سوال تو آپ سے یہ ہے کہ مسلمان ہونے کے جس طریقۂ کار کا
آپ نے ذکر فرمایا ہے، اگر وہ خدا اور رسول صلعم کا فرمودہ اور اسلامی تعلیم ہے، تو پھر بار بار کلمۂ شہادت پڑھنے
اور اس پر ایمان رکھنے کے باوجود جماعتِ احمدیہ سے تعلق رکھنے والے لاکھوں مسلمانوں پر دستوری طور پر ’’ناٹ مسلم‘‘
کا ٹھپہ کیوں غیراسلام نہیں؟ اور کیا کوئی آئین، دستور، قانون اور سازش اس اسلامی تعلیم پر بھی بھاری ہے؟
اُمید ہے جواب سے محروم نہ رکھیں گے۔
والسلام!
خاکسار جمیل احمد بٹ، کراچی
جواب:
مکرم و محترم، زید لطفہٗ آداب و دعوات!
نامۂ کرم ملا، جس ’’کافر گر مُلَّا‘‘ کا آپ نے تذکرہ فرمایا، وہ جناب مرزا غلام احمد صاحب قادیانی ہے، جس نے محمد
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا کلمہ پڑھنے والوں کو کافر اور جہنمی قرار دیا، اور محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ
وسلم کے بجائے اپنی پیروی کو مدارِ نجات ٹھہرایا، اللہ تعالیٰ ایسے ’’کافر گر مُلَّاؤں‘‘ کے دامِ فریب سے ہر عقلمند
کو محفوظ رکھے، آمین!
بلاشبہ جس ’’کافر گر مُلَّا‘‘ کا آپ نے ذکر کیا ہے اس کی حرکت واقعی لائقِ احتجاج ہے، اس نے کسی خاص فرد یا گروہ
کو نہیں، بلکہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی پوری اُمت کو کافر و مشرک اور جہنمی قرار دے کر اپنے ’’ذوقِ
کافر گری‘‘ کو تسکین دی ہے، اس کے کیمپ سے یہ آواز لگائی گئی:
الف:...’’ہر ایک ایسا شخص جو موسیٰ کو تو مانتا ہے، مگر عیسیٰ کو نہیں مانتا، یا عیسیٰ کو مانتا ہے، مگر محمد کو
نہیں مانتا ہے، یا محمد کو مانتا ہے مگر مسیحِ موعود کو نہیں مانتا، وہ نہ صرف کافر، بلکہ پکا کافر اور دائرۂ اسلام
سے خارج ہے۔‘‘
(کلمۃ الفصل ص:۱۱۰)
ب:...’’کل مسلمان جو حضرت مسیحِ موعود کو نہیں مانتے،
495
خواہ انہوں نے حضرت مسیحِ موعود کا نام بھی نہیں سنا، وہ کافر اور دائرۂ اسلام سے خارج ہیں۔‘‘
(آئینۂ صداقت ص:۳۵)
کیا آپ اس ’’کافر گر مُلَّا‘‘ کے خلاف احتجاج کریں گے؟ جناب کو شاید علم ہوگا کہ اس ’’مُلَّا‘‘ کا نام غلام احمد
قادیانی تھا، جو مراق کا مریض ہونے کے علاوہ عام لوگوں پر ہی نہیں، بلکہ خدا و رسول پر بھی پیٹ بھر کر جھوٹ بولنے کا
عادی تھا، خدا تعالیٰ ہر عقلمند کو اس ’’کافر گر مُلَّا‘‘ کی فتنہ پردازی سے محفوظ رکھے، فقط والدعا!
محمد یوسف عفا اللہ عنہ
496