Top banner image

تحفۂ قادیانیت

(جلد سوم)

شہید اسلام حضرت مولانا محمد یوسف لدھیانوی نور اللہ مرقدہ کو قدرت نے تردید قادیانیت کے لئے منتخب کیا تھا اورقدرت کی طرف سے تردیدقادیانیت کے لئے آپ کو زندگی وقف کرنے کا حکم نامہ محدث العصر علامہ سیدمحمد یوسف بنوری رحمۃ اللہ علیہ کی طرف سے ملا اور آپؒ نے اپنی قلمی جولانیوں کا رُخ تردیدقادیانیت کی طرف ایسا پھیرا کہ آج اس موضوع پر سب سے زیادہ لٹریچر آپؒ کا تحریر کردہ ہے جو ’’تحفۂ قادیانیت‘‘ کی شکل میں ہزاروں صفحات پر مشتمل ہے(مفتی) محمد جمیل خان،خاکپائے حضرت شہیدِ اسلامؒ

بسم اللہ الرحمن الرحیم

نام کتاب: تحفۂ قادیانیت (جلد سوم)
مؤلفہ: حضرت مولانا یوسف لدھیانووی شہیدؒ
اشاعت: دسمبر2010
ناشر: عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کراچی
2

فہرست

  1. تردیدِ قادیانیت 5
  2. قادیانیوں کی طرف سے کلمۂ طیبہ کی توہین 6
  3. قادیانیوں اور دُوسرے کافروں کے درمیان فرق 25
  4. اسلام میں خاتم النبییّن کا مفہوم، اور قادیانیت 45
  5. گالیاں کون دیتا ہے؟ مسلمان ـــ یا ـــ قادیانی 89
  6. فتنۂ قادیانیت اور پیامِ اقبال 109
  7. مقامِ نبوّت اور قادیانیت 122
  8. قادیانی نظریات، حضرت مجدد الف ثانی ؒ کی نظر میں 131
  9. قادیانیت کا اِحتساب 144
  10. قادیانی فریب! 156
  11. ضمیمہ: برأت حضرت تھانوی 158
  12. مسیحِ قادیان اور اس کے حواری 223
  13. معرکۂ لاہور و قادیان 234
  14. مرزا غلام احمد قادیانی اور مسٹر محمد علی کے نظریات کا تقابلی جائزہ 234
  15. لاہوری قادیانیوں کی مضحکہ خیزیاں 248
  16. مدیرِ ’’صدق‘‘ کی قادیانیت نوازی 280
  17. مفتیٔ اعظمؒ اور تردید ِ قادیانیت 312
  18. قادیانی نظریات: مُلَّا علی قاریؒ کی عدالت میں 348
  19. صدی کا سرا! 364
  20. قادیانی پیش گوئیوں کا انجام! 375
3
  1. مسیحِ قادیان کی عبرتناک ناکامی، اور اِسلام کے بارے میں مرزائیوں کی دشنام طرازی 386
  2. حفاظتِ قرآن 395
  3. قادیانیوں کی اِشتعال انگیزی! 402
  4. قادیانی شرم 405
  5. قادیانی فتنے کا سدّباب چند تجاویز! 412
  6. عدالتِ عظمیٰ کی خدمت میں 418
  7. ۷؍ستمبر آئینی تقاضے! 476
  8. ۷؍ستمبر کے فیصلے پر بے جا اعتراض! 486
  9. اِمتناعِ قادیانیت آرڈی نینس میں مسلمانوں کی کامیابی 492
  10. اِمتناعِ قادیانیت آرڈی نینس پر تبصرہ 495
  11. قادیانی مسئلہ آئینی ترمیم کے بعد 502
  12. لندن میں اسلام آباد 509
  13. دستوری کمیشن اور قادیانی 514
  14. ضمیمہ: دستوری کمیشن کے رکن محمد اسد صاحب کی مذہبی حیثیت 518
  15. مراق اور نبوّت: شیخ عبدالرحمن مصری کی خدمت میں 527
  16. حضرت جالندھریؒ کے بیانات کا تعارف 535
  17. قادیانیت کا پوسٹ مارٹم 538
  18. کیا قادیانی جماعت دُنیا پر غالب آئے گی؟ 564
  19. قادیانیوں کا مقابلہ مسلمانوں سے نہیں، محمدِ عربی صلی اللہ علیہ وسلم سے ہے! 571
  20. حضرت گنگوہیؒ اور تکفیرِ مرزا 585
  21. مسئلۂ ختمِ نبوّت اور قادیانیت 588
  22. حقیقت چھپ نہیں سکتی! 598
4

تردید قادیانیت

5

قادیانیوں کی طرف سے

کلمۂ طیبہ کی توہین

بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ

اَلْحَمْدُللہِ وَسَلَامٌ عَلٰی عِبَادِہِ الَّذِیْنَ اصْطَفٰی، اَمَّا بَعْدُ!

قادیانیوں کی طرف سے کلمۂ طیبہ کی توہین:

۱۹۷۴ء میں قادیانیوں کو آئینی طور پر غیرمسلم تسلیم کرلیا گیا۔ اور ۱۹۸۴ء میں امتناعِ قادیانیت آرڈی نینس کے ذریعے ان کے مسلمان کہلانے اور اِسلامی شعائر کو اِستعمال کرنے پر پابندی عائد کردی گئی۔ قادیانیوں نے قانون کا مذاق اُڑانے اور اپنے آپ کو مسلمان ظاہر کرنے کے لئے اسلام کے سب سے بڑے شعار (کلمۂ طیبہ) پر ہاتھ صاف کرنا شروع کردیا۔ سینوں پر، کاروں پر، دیواروں پر، مکانوں پر دھڑادھڑ کلمۂ طیبہ کے بیج اور بورڈ لگانے لگے۔ راقم الحروف نے قادیانیوں کی اس سازش کی اصلیت سے پردہ اُٹھانے کے لئے مارچ ۱۹۸۵ء میں رسالہ ’’قادیانیوں کی طرف سے کلمۂ طیبہ کی توہین‘‘ لکھا، جو آپ کے ہاتھوں میں ہے، اور اس میں قادیانیوں کے مستند حوالوں سے بتایا گیا ہے کہ قادیانی عقیدے کے مطابق محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی دو بعثتیں مقدّر تھیں۔ پہلی بعثت محمدِ عربی صلی اللہ علیہ وسلم کی شکل میں ہوئی، اور تیرھویں صدی تک اس کا دور رہا۔ ۱۳۰۱ھ سے محمد رسول اللہ کی دُوسری بعثت کا دُوسرا دور شروع ہوا جو مرزا قادیانی کی بروزی شکل میں ہوئی۔ اس لئے مرزا قادیانی بروزی طور پر ...نعوذباللہ... بعینہٖ محمد رسول اللہ ہے۔ اور اسے ’’محمد رسول اللہ‘‘ کے تمام اوصاف و کمالات، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوّت اور

6

نبوّت کے تمام حقوق حاصل ہیں، اس لئے قادیانی کلمے کا مفہوم، اسلامی کلمے سے مختلف ہے، کیونکہ ’’محمد رسول اللہ‘‘ کے قادیانی مفہوم میں مرزا بھی شامل ہے، بلکہ وہ خود بروزی طور پر ’’محمد رسول اللہ‘‘ ہے۔ جس طرح آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی تشریف آوری کے بعد کوئی شخص حضرت موسیٰ یا حضرت عیسیٰ (علیٰ نبینا وعلیہما الصلوٰۃ والسلام) کا کلمہ پڑھ کر مسلمان نہیں ہوسکتا، جب تک کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر اِیمان نہ لائے، کیونکہ ان کا کلمہ اور دِین منسوخ ہوچکا۔ اسی طرح قادیانی عقیدے کے مطابق آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا کلمہ ’’لا اِلٰہ اِلَّا اللہ محمد رسول اللہ‘‘ بھی منسوخ ہے، اور اس کلمے کے پڑھنے والے کافر ہیں۔ جب تک کہ ’’محمد رسول اللہ‘‘ کے قادیانی ایڈیشن پر اِیمان لاکر مرزا غلام احمد قادیانی کو ’’محمد رسول اللہ‘‘ نہ مانیں۔ مسلمانوں کے نزدیک آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی پیروی کے بغیر حضرت موسیٰ و حضرت عیسیٰ (علیہما السلام) کی پیروی موجبِ نجات نہیں، اور قادیانیوں کے نزدیک مرزا غلام احمد قادیانی کے بغیر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی پیروی میں نجات نہیں، کیونکہ مرزا قادیانی کو مانے بغیر دِینِ اسلام مردہ ہے، لعنتی ہے، قابلِ نفرت ہے۔

اس چھوٹے سے رسالے سے نہ صرف قادیانیوں کی کلمہ مہم دَم توڑ گئی اور قادیانیت کے اصل رُخ سے پردہ اُٹھ گیا، بلکہ اس کا بھی صحیح اندازہ ہوگیا کہ قادیانیت اسلام کے متوازی ایک الگ دِین ہے، اور یہ کہ حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لائے ہوئے دِینِ اسلام اور مرزا غلام احمد قادیانی کے پیش کردہ ’’دِینِ مرزائیت‘‘ کے درمیان وہی فاصلہ ہے جو اِسلام اور یہودیت کے درمیان، یا اسلام اور عیسائیت کے درمیان ہے۔ حق تعالیٰ شانہ‘ تمام گمراہ کن فتنوں سے اُمتِ اسلامیہ کی حفاظت فرمائیں، آمین۔

وَللہِ الْحَمْدُ اَوَّلًا وَّآخِرًا

محمد یوسف عفا اللہ عنہ

۱۷؍۴؍۱۴۰۹ھ

7

قادیانی محمد رسول اللہ:

مرزا غلام احمد قادیانی کا دعویٰ ہے کہ وہ ...نعوذباللہ... محمد رسول اللہ ہے، چنانچہ ملاحظہ ہو:

’’محمد رسول اللہ والذین معہ اشدآء علی الکفار رحماء بینھم، اس وحیٔ اِلٰہی میں میرا نام محمد رکھا گیا اور رسول بھی۔‘‘

(ایک غلطی کا اِزالہ ص:۴، رُوحانی خزائن ج:۱۸ ص:۲۰۷ مطبوعہ ربوہ)

محمد رسول اللہ کی دو بعثتیں:

مرزا کے محمد رسول اللہ ہونے کی وجہ یہ ہے کہ قادیانی عقیدے کے مطابق حضرت خاتم النبیین محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا دوبارہ دُنیا میں آنا مقدّر تھا، پہلی بار آپ صلی اللہ علیہ وسلم مکہ مکرمہ میں محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) کی شکل میں آئے، اور دُوسری بار قادیان میں مرزا غلام احمد قادیانی کی بروزی شکل میں آئے، یعنی مرزا کی بروزی شکل میں محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی رُوحانیت مع اپنے تمام کمالاتِ نبوّت کے دوبارہ جلوہ گر ہوئی ہے۔

چنانچہ ملاحظہ ہو:

’’اور جان کہ ہمارے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جیسا کہ پانچویں ہزار میں مبعوث ہوئے (یعنی چھٹی صدی مسیحی میں) ایسا ہی مسیحِ موعود (مرزا غلام احمد قادیانی) کی بروزی صورت اختیار کرکے چھٹے ہزار (یعنی تیرھویں صدی ہجری) کے آخر میں مبعوث ہوئے......۔‘‘

(رُوحانی خزائن ج:۱۶ ص:۲۷۰)

’’آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے دو بعث ہیں، یا بہ تبدیل الفاظ یوں کہہ سکتے ہیں کہ ایک بروزی رنگ میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا دوبارہ آنا دُنیا میں وعدہ دیا گیا تھا، جو مسیحِ موعود اور مہدیٔ

8

معہود (مرزا قادیانی) کے ظہور سے پورا ہوا۔‘‘

(رُوحانی خزائن ج:۱۷ ص:۲۴۹)

مرزا بعینہٖ محمد رسول اللہ:

چونکہ قادیانی عقیدے کے مطابق محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے تمام کمالات کے ساتھ مرزا کی بروزی شکل میں قادیانی میں دوبارہ مبعوث ہوئے ہیں، اس لئے مرزا غلام احمد قادیانی کا وجود ...نعوذباللہ... بعینہٖ محمد رسول اللہ کا وجود ہے۔ چنانچہ ملاحظہ ہو:

’’اور خدا نے مجھ پر اس رسولِ کریم کا فیض نازل فرمایا اور اس کو کامل بنایا، اور اس نبی کریم کے لطف اور جود کو میری طرف کھینچا، یہاں تک کہ میرا وجود اس کا وجود ہوگیا، پس وہ جو میری جماعت میں داخل ہوا، درحقیقت میرے سردار خیرالمرسلین کے صحابہ میں داخل ہوا اور یہی معنی آخرین منہم کے لفظ کے بھی ہیں۔ جیسا کہ سوچنے والوں پر پوشیدہ نہیں اور جو شخص مجھ میں اور مصطفی میں تفریق کرتا ہے اس نے مجھ کو نہیں دیکھا ہے اور نہیں پہچانا ہے۔‘‘

(خطبہ اِلہامیہ ص:۱۷۱، رُوحانی خزائن ج:۱۶ ص:۲۵۸)

’’اور چونکہ مشابہت ِ تامہ کی وجہ سے مسیحِ موعود (مرزا غلام احمد قادیانی) اور نبی کریم میں کوئی دُوئی باقی نہیں رہی، حتیٰ کہ ان دونوں کے وجود بھی ایک وجود کا ہی حکم رکھتے ہیں، جیسا کہ خود مسیحِ موعود نے فرمایا ہے کہ صار وجودی وجودہ۔‘‘

(خطبہ اِلہامیہ ص:۱۷۱، رُوحانی خزائن ج:۱۶ ص:۲۵۸)

’’اور حدیث میں بھی آیا ہے کہ حضرت نبی کریم نے فرمایا کہ مسیحِ موعود میری قبر میں دفن کیا جاوے گا، جس سے یہی مراد ہے کہ وہ میں ہی ہوں، یعنی مسیحِ موعود نبی کریم سے الگ کوئی چیز نہیں ہے، بلکہ وہی ہے جو بروزی رنگ میں دوبارہ دُنیا میں آئے گا ...... تو اس

9

صورت میں کیا اس بات میں کوئی شک رہ جاتا ہے کہ قادیان میں اللہ تعالیٰ نے پھر محمد صلعم کو اُتارا۔‘‘

(کلمۃ الفصل ص:۱۰۴، ۱۰۵، مؤلفہ مرزا بشیر احمد، مندرجہ ریویو آف ریلجنز قادیان، مارچ و اپریل ۱۹۱۵ء)

  1. ’’صدی چودھویں کا ہوا سر مبارک

    کہ جس پر وہ بدر الدجٰی بن کے آیا

  2. محمد پئے چارہ سازی امت

    ہے اب احمد مجتبیٰ بن کے آیا

  3. حقیقت کھلی بعثِ ثانی کی ہم پر

    کہ جب مصطفی میرزا بن کے آیا‘‘

(اخبار ’’الفضل‘‘ قادیان، ۲۸؍مئی ۱۹۲۸ء)

  1. اے میرے پیارے مری جان رسولِ قدنی

    تیرے صدقے تیرے قربان رسولِ قدنی

  2. پہلی بعثت میں محمد ہے تو اب احمد ہے

    تجھ پہ پھر اُترا ہے قرآن رسولِ قدنی

(اخبار ’’الفضل‘‘ قادیان، ۱۶؍اکتوبر ۱۹۲۲ء)

محمد رسول اللہ کے تمام کمالات مرزا غلام احمد قادیانی میں:

جب یہ عقیدہ ٹھہرا کہ مرزا کا وجود بعینہٖ محمد رسول اللہ کا وجود ہے، اور یہ کہ مرزا کا رُوپ دھار کر خود محمد رسول اللہ ہی دوبارہ قادیان میں آئے ہیں تو یہ عقیدہ بھی ضروری ہوا کہ محمد رسول اللہ کے تمام کمالات و اِمتیازات بھی مرزا کی طرف منتقل ہوگئے ہوں، چنانچہ ملاحظہ ہو:

’’جبکہ میں بروزی طور پر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ہوں اور بروزی رنگ میں تمام کمالاتِ محمدی مع نبوّتِ محمدیہ کے میرے آئینۂ ظلیت میں منعکس ہیں تو پھر کون سا الگ انسان ہوا جس نے

10

علیحدہ طور پر نبوّت کا دعویٰ کیا؟‘‘

(ایک غلطی کا اِزالہ ص:۱۰، رُوحانی خزائن ج:۱۸ ص:۲۱۲)

’’خدا تعالیٰ کے نزدیک حضرت مسیحِ موعود (مرزا غلام احمد قادیانی) کا وجود آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا ہی وجود ہے، یعنی خدا کے دفتر میں حضرت مسیحِ موعود اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم آپس میں کوئی دُوئی یا مغایرت نہیں رکھتے، بلکہ ایک ہی شان، ایک ہی مرتبہ اور ایک ہی منصب اور ایک ہی نام رکھتے ہیں، گویا لفظوں میں باوجود دو ہونے کے ایک ہی ہیں۔‘‘

(اخبار ’’الفضل‘‘ قادیان جلد نمبر۳ شمارہ نمبر۳۷ مؤرخہ ۱۶؍ستمبر ۱۹۱۵ء بحوالہ قادیانی مذہب ص:۲۰۷، ایڈیشن نہم، لاہور)

’’گزشتہ مضمون مندرجہ الفضل مؤرخہ ۱۶؍ستمبر میں، میں نے بفضلِ اِلٰہی اس بات کو پایۂ ثبوت تک پہنچایا ہے کہ حضرت مسیحِ موعود (مرزا قادیانی) باعتبارِ نام، کام، آمد، مقام، مرتبہ کے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا ہی وجود ہیں، یا یوں کہو کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم جیسا کہ (دُنیا کے) پانچویں ہزار میں مبعوث ہوئے تھے، ایسا ہی اس وقت جمیع کمالات کے ساتھ مسیحِ موعود کی بروزی صورت میں مبعوث ہوئے ہیں۔‘‘

(’’الفضل‘‘ مؤرخہ ۲۸؍اکتوبر ۱۹۱۵ء بحوالہ قادیانی مذہب ص:۲۰۹، ایڈیشن نہم، لاہور)

مرزا خاتم النبیین:

جب قادیانی عقیدے کے مطابق محمد رسول اللہ کی قادیانی بعثت، جو مرزا غلام احمد قادیانی کی بروزی شکل میں ہوئی، بعینہٖ محمد رسول اللہ کی بعثت ہے تو مرزا غلام احمد قادیانی بروزی طور پر خاتم النبیین بھی ہوا۔ ملاحظہ ہو:

11

’’میں بارہا بتلاچکا ہوں کہ میں بموجب آیت وآخرین منہم لما یلحقوا بھم بروزی طور پر وہی خاتم الانبیاء ہوں، اور خدا نے آج سے بیس برس پہلے براہین احمدیہ میں میرا نام محمد اور احمد رکھا ہے، اور مجھے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا ہی وجود قرار دِیا ہے۔‘‘

(ایک غلطی کا اِزالہ ص:۱۰، رُوحانی خزائن ج:۱۸ ص:۲۱۲)

’’مبارک وہ جس نے مجھے پہچانا، میں خدا کی سب راہوں میں سے آخری راہ ہوں، اور میں اس کے سب نوروں میں سے آخری نور ہوں، بدقسمت ہے وہ جو مجھے چھوڑتا ہے کیونکہ میرے بغیر سب تاریکی ہے۔‘‘

(کشتی نوح ص:۵۶، رُوحانی خزائن ج:۱۹ ص:۶۱)

مرزا افضل الرسل:

’’آسمان سے کئی تخت اُترے مگر تیرا تخت سب سے اُونچا بچھایا گیا۔‘‘

(مرزا کا اِلہام، مندرجہ تذکرہ طبع دوم ص:۳۴۶)

’’کمالاتِ متفرقہ جو تمام دیگر انبیاء میں پائے جاتے تھے وہ سب حضرت رسولِ کریمؐ میں ان سے بڑھ کر موجود تھے، اور وہ سارے کمالات حضرت رسولِ کریمؐ سے ظلی طور پر ہم کو عطا کئے گئے، اور اسی لئے ہمارا نام آدم، ابراہیم، موسیٰ، نوح، داؤد، یوسف، سلیمان، یحییٰ، عیسیٰ وغیرہ ہے ......۔ پہلے تمام انبیاء ظل تھے نبی کریمؐ کی خاص خاص صفات میں، اور اب ہم ان تمام صفات میں نبی کریمؐ کے ظل ہیں۔‘‘

(ملفوظات جلد سوم ص:۲۷۰، مطبوعہ ربوہ)

فخرِ اَوّلین و آخرین:

روزنامہ ’’الفضل‘‘ قادیان، مسلمانوں کو للکارتے ہوئے کہتا ہے:

12

’’اے مسلمان کہلانے والو! اگر تم واقعی اسلام کا بول بالا چاہتے ہو اور باقی دُنیا کو اپنی طرف بلاتے ہو تو پہلے خود سچے اسلام کی طرف آجاؤ (یعنی مسلمانوں کا اسلام جھوٹا ہے ...نعوذباللہ... ناقل) جو مسیحِ موعود (مرزا قادیانی) میں ہوکر ملتا ہے، اسی کے طفیل آج بر و تقویٰ کی راہیں کھلتی ہیں، اسی کی پیروی سے انسان فلاح و نجات کی منزلِ مقصود پر پہنچ سکتا ہے، وہ ہی فخرِ اَوّلین و آخرین ہے، جو آج سے تیرہ سو برس پہلے رحمۃ للعالمین بن کر آیا تھا۔‘‘

(’’الفضل‘‘ قادیان ۲۶؍ستمبر ۱۹۱۷ء بحوالہ قادیانی مذہب ص:۲۱۱، ۲۱۲، طبع نہم، لاہور)

پہلے محمد رسول اللہ سے بڑھ کر:

اسی پر اِکتفا نہیں، بلکہ قادیانی عقیدے میں محمد رسول اللہ کا قادیانی ظہور (جو مرزا قادیانی کے رُوپ میں ہوا ہے) مکی ظہور سے اعلیٰ و افضل ہے۔ ملاحظہ ہو:

’’اور جس نے اس بات سے انکار کیا کہ نبی علیہ السلام کی بعثت چھٹے ہزار سے تعلق رکھتی ہے، جیسا کہ پانچویں ہزار سے تعلق رکھتی تھی، پس اس نے حق کا اور نصِ قرآن کا انکار کیا، بلکہ حق یہ ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی رُوحانیت چھٹے ہزار کے آخر میں یعنی ان دِنوں میں بہ نسبت ان سالوں کے اقویٰ اور اَکمل اور اَشد ہے بلکہ چودھویں رات کی طرح ہے۔‘‘

(خطبہ اِلہامیہ ص:۱۸۱، رُوحانی خزائن ج:۱۶ ص:۲۷۱)

خطبہ اِلہامیہ:

مندرجہ بالا اِقتباس مرزا غلام احمد قادیانی کی کتاب ’’خطبہ اِلہامیہ‘‘ کا ہے، اور ’’خطبہ اِلہامیہ‘‘ کی عظمت قادیانیوں کی نظر میں کیا ہے؟ اس کا اندازہ مرزا بشیر احمد کی درج ذیل عبارت سے کیا جاسکتا ہے:

’’اس جگہ یہ بھی یاد رکھنا چاہئے کہ خطبہ اِلہامیہ وہ خطبہ

13

ہے جو خدا کی طرف سے ایک معجزے کے رنگ پر مسیحِ موعود کو عطا ہوا جیسا کہ اس کا نام ظاہر کرتا ہے، پس اس کتاب کو عام کتابوں کی طرح نہ سمجھنا چاہئے کیونکہ اس کا ہر ایک فقرہ اِلہامی شان رکھتا ہے۔ پھر اسی کتاب کے صفحہ:۱۷۱ پر حضرتِ اقدس تحریر فرماتے ہیں: ’’جو شخص مجھ میں اور مصطفی میں تفریق کرتا ہے اس نے مجھ کو نہیں دیکھا ہے اور نہیں پہچانا ہے۔‘‘ اسی طرح صفحہ:۱۸۱ میں لکھا ہے کہ: ’’جس نے اس بات سے انکار کیا کہ نبی علیہ السلام کی بعثت چھٹے ہزار سے تعلق نہیں رکھتی ہے جیسا کہ پانچویں ہزار سے تعلق رکھتی تھی، پس اس نے حق کا اور نصِ قرآن کا انکار کیا، بلکہ حق یہ ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی رُوحانیت چھٹے ہزار کے آخر میں یعنی ان دونوں میں بہ نسبت ان سالوں کے اقویٰ اور اکمل اور اشد ہے۔‘‘ ان حوالوں سے پتا لگتا ہے کہ مسیحِ موعود کوئی معمولی شان کا انسان نہیں ہے بلکہ اُمتِ محمدیہ میں اپنے درجے کے لحاظ سے سب پر (بلکہ خود محمد رسول اللہ کی پہلی بعثت پر بھی...ناقل) فوقیت لے گیا ہے۔‘‘

(کلمۃ الفصل ص:۱۳۰، ۱۳۱، مندرجہ ریویو آف ریلیجنز مارچ اپریل ۱۹۱۵ء)

  1. امام اپنا عزیزو اس جہاں میں

    غلام احمد ہوا دار الاماں میں

  2. غلام احمد ہے عرشِ رَبِّ اکبر

    مکاں اس کا ہے گویا لامکاں میں

  3. غلام احمد رسول اللہ ہے برحق

    شرف پایا ہے نوعِ انس و جاں میں

  4. محمد پھر اُتر آئے ہیں ہم میں

    اور آگے سے ہیں بڑھ کر اپنی شاں میں

14

محمد دیکھنے ہوں جس نے اکملؔ

غلام احمد کو دیکھے قادیاں میں

(اخبار ’’بدر‘‘ قادیان ۲۵؍اکتوبر ۱۹۰۶ء بحوالہ قادیانی مذہب ص:۳۳۶)

ہلال اور بدر کی نسبت:

اور قادیانی ظہور کی افضلیت کو اس عنوان سے بھی بیان کیا گیا کہ مکی بعثت کے زمانے میں اسلام ہلال کی مانند تھا، جس میں کوئی روشنی نہیں ہوتی، اور قادیانی بعثت کے زمانے میں اسلام بدرِ کامل کی طرح روشن اور منوَّر ہوگیا۔ چنانچہ ملاحظہ ہو:

’’اور اِسلام ہلال کی طرح شروع ہوا، اور مقدّر تھا کہ انجامِ کار آخری زمانے میں بدر (چودھویں کا چاند) ہوجائے خدا تعالیٰ کے حکم سے، پس خدا تعالیٰ کی حکمت نے چاہا کہ اسلام اس صدی میں بدر کی شکل اختیار کرے جو شمار کے رُو سے بدر کی طرح مشابہ ہو (یعنی چودھویں صدی)۔‘‘

(خطبہ اِلہامیہ ص:۱۸۴، رُوحانی خزائن ج:۱۶ ص:۲۷۵)

’’آنحضرت کے بعثتِ اوّل میں آپ کے منکروں کو کافر اور دائرۂ اسلام سے خارج قرار دینا، لیکن ان کی بعثتِ ثانی میں آپ کے منکروں کو داخلِ اسلام سمجھنا یہ آنحضرت کی ہتک اور آیت اللہ سے اِستہزا ہے۔ حالانکہ خطبہ اِلہامیہ میں حضرت مسیحِ موعود نے آنحضرت کی بعثتِ اوّل و ثانی کی باہمی نسبت کو ہلال اور بدر کی نسبت سے تعبیر فرمایا ہے۔‘‘

(اخبار ’’الفضل‘‘ قادیانی جلد:۳ نمبر:۱۰، مؤرخہ ۱۵؍جولائی ۱۹۱۵ء بحوالہ قادیانی مذہب ص:۲۶۲)

بڑی فتحِ مبین:

اور اِظہارِ اَفضلیت کے لئے ایک عنوان یہ اختیار کیا گیا کہ مرزا غلام احمد قادیانی

15

کے زمانے کی فتحِ مبین، آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی فتحِ مبین سے بڑھ کر ہے، چنانچہ ملاحظہ ہو:

’’اور ظاہر ہے کہ فتحِ مبین کا وقت ہمارے نبی کریم کے زمانے میں گزر گیا اور دُوسری فتح باقی رہی جو کہ پہلے غلبے سے بہت زیادہ بڑی اور زیادہ ظاہر ہے، اور مقدّر تھا کہ اس کا وقت مسیحِ موعود (مرزا غلام احمد قادیانی) کا وقت ہو۔‘‘

(خطبہ اِلہامیہ ص:۱۹۳، ۱۹۴، رُوحانی خزائن ج:۱۶ ص:۲۸۸)

رُوحانی کمالات کی اِبتدا اور اِنتہا:

یہ بھی کہا گیا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی مکی بعثت کا زمانہ رُوحانی ترقیات کا پہلا قدم تھا اور قادیانی ظہور کا زمانہ رُوحانی ترقیات کی آخری معراج ہے، چنانچہ ملاحظہ ہو:

’’ہمارے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی رُوحانیت نے پانچویں ہزار میں (یعنی مکی بعثت میں) اِجمالی صفات کے ساتھ ظہور فرمایا، اور وہ زمانہ اس رُوحانیت کی ترقیات کا اِنتہا نہ تھا، بلکہ اس کے کمالات کے معراج کے لئے پہلا قدم تھا، پھر اس رُوحانیت نے چھٹے ہزار کے آخر میں یعنی اس وقت پوری طرح سے تجلی فرمائی۔‘‘

(خطبہ اِلہامیہ ص:۱۷۷، رُوحانی خزائن ج:۱۶ ص:۲۶۶)

ذہنی اِرتقا:

یہ بھی کہا گیا کہ مرزا غلام احمد قادیانی کا ذہنی اِرتقا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے بڑھ کر تھا، چنانچہ ملاحظہ ہو:

’’حضرت مسیحِ موعود (مرزا غلام احمد قادیانی) کا ذہنی اِرتقا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے زیادہ تھا ...... اور یہ جزوی فضیلت ہے جو حضرت مسیحِ موعود (مرزا غلام احمد قادیانی) کو آنحضرت صلعم پر

16

حاصل ہے، نبی کریمؐ کی ذہنی اِستعدادوں کا پورا ظہور بوجہ تمدن کے نقص کے نہ ہوا، اور نہ قابلیت تھی، اب تمدن کی ترقی سے حضرت مسیحِ موعود کے ذریعے ان کا پورا ظہور ہوا۔‘‘

(ریویو، مئی ۱۹۲۹ء بحوالہ قادیانی مذہب ص:۲۶۶ اشاعت نہم مطبوعہ لاہور)

محمدِ عربی کا کلمہ پڑھنے والے کافر!

جب قادیانی عقیدہ یہ ٹھہرا کہ مرزا غلام احمد قادیانی اپنی شان میں ...نعوذباللہ... محمدِ عربی صلی اللہ علیہ وسلم سے بڑھ کر ہے، تو یہ بھی ضروری ہوا کہ محمدِ عربی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا کلمہ پڑھنے والے مسلمان نہ ہوں، گویا مرزا غلام احمد قادیانی کے بغیر یہ کلمۂ طیبہ ’’لا اِلٰہ اِلَّا اللہ محمد رسول اللہ‘‘ باطل ٹھہرے۔ چنانچہ ملاحظہ ہو:

’’اب معاملہ صاف ہے، اگر نبی کریمؐ کا انکار کفر ہے تو مسیحِ موعود کا انکار بھی کفر ہونا چاہئے، کیونکہ مسیحِ موعود نبی کریمؐ سے الگ کوئی چیز نہیں ہے، بلکہ وہی ہے، اور اگر مسیحِ موعود کا منکر کافر نہیں تو نعوذباللہ نبی کریمؐ کا منکر بھی کافر نہیں، کیونکہ یہ کس طرح ممکن ہے کہ پہلی بعثت میں تو آپ کا انکار کفر ہو مگر دُوسری بعثت میں جس میں بقول حضرت مسیحِ موعود آپ کی رُوحانیت اقویٰ اور اَکمل اور اَشد ہے، آپ کا اِنکار کفر نہ ہو۔‘‘

(کلمۃ الفصل ص:۱۴۶، ۱۴۷، مندرجہ ریویو آف ریلیجنز مارچ و اپریل ۱۹۱۵ء)

’’ہر ایک ایسا شخص جو موسیٰ کو تو مانتا ہے مگر عیسیٰ کو نہیں مانتا، یا عیسیٰ کو مانتا ہے مگر محمدؐ کو نہیں مانتا، اور یا محمدؐ کو مانتا ہے پر مسیحِ موعودؑ کو نہیں مانتا، وہ نہ صرف کافر بلکہ پکا کافر اور دائرۂ اسلام سے خارج ہے۔‘‘

(کلمۃ الفصل ص:۱۱۰، مرزا بشیر احمد -ایم اے)

’’تحریکِ احمدیت اسلام کے ساتھ وہی رشتہ رکھتی ہے جو

17

عیسائیت کا یہودیت کے ساتھ تھا۔‘‘

(محمد علی لاہوری قادیانی، منقول از مباحثہ راولپنڈی ص:۲۴۰)

’’کل مسلمان، جو حضرت مسیحِ موعود (مرزا غلام احمد قادیانی) کی بیعت میں شامل نہیں ہوئے خواہ انہوں نے حضرت مسیحِ موعود (مرزا غلام احمد قادیانی) کا نام بھی نہیں سنا، وہ کافر اور دائرۂ اسلام سے خارج ہیں۔‘‘

(آئینۂ صداقت ص:۳۵، از مرزا محمود احمد قادیانی)

’’ہمارا یہ فرض ہے کہ ہم غیراحمدیوں کو مسلمان نہ سمجھیں اور ان کے پیچھے نماز نہ پڑھیں، کیونکہ ہمارے نزدیک وہ خدا کے ایک نبی کے منکر ہیں، یہ دِین کا معاملہ ہے، اس میں کسی کا اپنا اختیار نہیں کہ کچھ کرسکے۔‘‘

(انوارِ خلافت ص:۹۰، از مرزا محمود احمد قادیانی)

قادیانی کلمہ

اور یہ بھی ضروری ہوا کہ قادیانی کلمہ ’’لا اِلٰہ اِلَّا اللہ محمد رسول اللہ‘‘ کے مفہوم میں مرزا غلام احمد قادیانی کو داخل کیا جائے، چنانچہ ملاحظہ ہو:

’’ہاں حضرت مسیحِ موعود (مرزا غلام احمد قادیانی) کے آنے سے (کلمے کے مفہوم میں) ایک فرق ضرور پیدا ہوگیا ہے، اور وہ یہ ہے کہ مسیحِ موعود (مرزا غلام احمد قادیانی) کی بعثت سے پہلے تو ’’محمد رسول اللہ‘‘ کے مفہوم میں صرف آپ سے پہلے گزرے ہوئے انبیاء شامل تھے، مگر مسیحِ موعود (مرزا غلام احمد قادیانی) کی بعثت کے بعد ’’محمد رسول اللہ‘‘ کے مفہوم میں ایک اور رسول کی زیادتی ہوگئی، لہٰذا مسیحِ موعود کے آنے سے نعوذباللہ ’’لا اِلٰہ اِلَّا اللہ محمد رسول اللہ‘‘ کا کلمہ باطل نہیں ہوتا بلکہ اور بھی زیادہ شان سے چمکنے لگ جاتا ہے (کیونکہ زیادہ شان والا نبی مرزا غلام احمد قادیانی اس کے مفہوم میں

18

داخل ہوگیا، ہاں مرزا کے بغیر یہ کلمہ مہمل، بے کار اور باطل رہا، اسی وجہ سے مرزا کے بغیر اس کلمے کو پڑھنے والے کافر، بلکہ پکے کافر ٹھہرے ...ناقل) غرض اب بھی اسلام میں داخل ہونے کے لئے یہی کلمہ ہے، صرف فرق اتنا ہے کہ مسیحِ موعود (مرزا قادیانی) کی آمد نے ’’محمد رسول اللہ‘‘ کے مفہوم میں ایک رسول کی زیادتی کردی ہے۔‘‘

(کلمۃ الفصل ص:۱۵۸، مؤلفہ: مرزا بشیر احمد قادیانی)

الغرض قادیانی مذہب میں کلمے کے الفاظ تو وہی باقی رکھے گئے ہیں جو اَلفاظ مسلمانوں کے کلمے کے ہیں، مگر قادیانی عقیدے نے کلمے کا مفہوم تبدیل کرلیا، مسلمانوں کے کلمے میں ’’محمد رسول اللہ‘‘ سے مراد محمدِ عربی ہیں -صلی اللہ علیہ وسلم- اور قادیانی کلمے میں ’’محمد رسول اللہ‘‘ سے مراد بعثتِ ثانیہ کا بروزی مظہر مرزا غلام احمد قادیانی ہے۔ چنانچہ ملاحظہ ہو:

’’علاوہ اس کے اگر ہم بفرضِ محال یہ بات مان بھی لیں کہ کلمہ شریف میں نبی کریمؐ کا اسم مبارک اس لئے رکھا گیا ہے کہ آپ آخری نبی ہیں تو تب بھی کوئی حرج واقع نہیں ہوتا، اور ہم کو نئے کلمے کی ضرورت پیش نہیں آتی کیونکہ مسیحِ موعود نبی کریمؐ سے کوئی الگ چیز نہیں ہے جیسا کہ وہ خود فرماتا ہے: ’’صار وجودی وجودہ‘‘ نیز ’’من فرق بینی وبین المصطفیٰ فما عرفنی وما رایٰ‘‘ اور یہ اس لئے ہے کہ اللہ تعالیٰ کا وعدہ تھا کہ وہ ایک دفعہ اور خاتم النبیین کو دُنیا میں مبعوث کرے گا، جیسا کہ آیت آخرین منہم سے ظاہر ہے، پس مسیحِ موعود (مرزا قادیانی) خود محمد رسول اللہ ہے، جو اِشاعتِ اسلام کے لئے دوبارہ دُنیا میں تشریف لائے، اس لئے ہم کو کسی نئے کلمے کی ضرورت نہیں، ہاں اگر محمد رسول اللہ کی جگہ کوئی اور آتا تو ضرورت پیش آتی ـــــ فتدبروا۔‘‘

(کلمۃ الفصل ص:۱۵۸)

19

نبوّتِ محمدیہ منسوخ:

مندرجہ بالا حوالوں پر غور کرنے سے واضح ہوجاتا ہے کہ قادیانی، مرزا غلام احمد کو صرف نبی اور رسول ہی نہیں سمجھتے، بلکہ وہ مرزا غلام احمد قادیانی کو ’’محمد رسول اللہ‘‘ کا ظہورِ اَکمل سمجھ کر اس کا کلمہ پڑھتے ہیں، اور چونکہ محمدِ عربی صلی اللہ علیہ وسلم کا کلمہ پڑھنے والے ان کے نزدیک کافر ہیں، اس لئے ثابت ہوتا ہے کہ ان کے نزدیک محمدِ عربی صلی اللہ علیہ وسلم کا کلمہ منسوخ ہے۔

اگر بغور جائزہ لیا جائے تو قادیانیوں کے نزدیک ...بہائیوں کی طرح... محمدِ عربی صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوّت و رِسالت کا دور بھی ختم ہوچکا ہے، اور اَب وہ عملاً منسوخ ہوچکی ہے کیونکہ قادیانی عقیدے کے مطابق اب صرف مرزا غلام احمد قادیانی کی پیروی ہی مدارِ نجات ہے۔ چنانچہ ملاحظہ ہو:

’’ان کو کہہ! کہ اگر تم خدا سے محبت کرتے ہو تو آؤ میری پیروی کرو تا خدا بھی تم سے محبت کرے۔‘‘

(مرزا غلام احمد قادیانی کا اِلہام، حقیقۃ الوحی ص:۸۲، مطبوعہ لاہور ۱۹۵۲ء، رُوحانی خزائن ج:۲۲ ص:۸۵، نیز دیکھئے تذکرہ طبع دوم صفحات:۴۶، ۶۲، ۸۱، ۱۸۲، ۲۰۵، ۲۷۷، ۳۶۰، ۳۶۳، ۳۷۸، ۳۹۵، ۴۹۵، ۶۳۰، ۶۳۴)

’’خدا نے براہین احمدیہ میں میرا نام ابراہیم رکھا جیسا کہ فرمایا:’’سلام علی ابراہیم صافیناہ ونجیناہ من الغم واتخذوا من مقام ابراہیم مصلّٰی‘‘ یعنی سلام ہے ابراہیم پر (یعنی اس عاجز پر) ہم نے اس سے خالص دوستی کی اور ہر ایک غم سے اس کو نجات دے دی اور تم جو پیروی کرتے ہو تم اپنی نماز گاہ ابراہیم کے قدموں کی جگہ بناؤ یعنی کامل پیروی کرو تا نجات پاؤ۔‘‘

(اربعین نمبر۳ ص:۳۷، رُوحانی خزائن ج:۱۷ ص:۴۲۰)

20

’’اور یہ بھی فرمایا کہ ’’واتخذوا من مقام ابراہیم مصلّٰی‘‘ یہ قرآن شریف کی آیت ہے اور اس مقام میں اس کے یہ معنی ہیں کہ ابراہیم جو بھیجا گیا تم اپنی عبادتوں اور عقیدوں کو اس کی طرز پر بجا لاؤ اور ہر ایک امر میں اس کے نمونے پر اپنے تئیں بناؤ۔‘‘

(اربعین نمبر۳ ص:۳۸، رُوحانی خزائن ج:۱۷ ص:۴۲۰، ۴۲۱)

’’ایسا ہی یہ آیت: ’’واتخذوا من مقام ابراہیم مصلّٰی‘‘ اس طرف اشارہ کرتی ہے کہ جب اُمتِ محمدیہ میں بہت فرقے ہوجائیں گے تب آخر زمانے میں ایک ابراہیم پیدا ہوگا اور ان سب فرقوں میں وہ فرقہ نجات پائے گا کہ اس ابراہیم کا پیرو ہوگا۔‘‘

(اربعین نمبر۳ ص:۳۲، مطبوعہ قادیان، رُوحانی خزائن ج:۱۷ ص:۴۲۱)

’’چونکہ میری تعلیم میں امر بھی ہے اور نہی بھی اور شریعت کے ضروری اَحکام کی تجدید ہے، اس لئے خدا تعالیٰ نے میری تعلیم کو اور اس وحی کو جو میرے اُوپر ہوتی ہے فلک یعنی کشتی کے نام سے موسوم کیا ...... اب دیکھو! خدا نے میری وحی اور میری تعلیم اور میری بیعت کو نوح کی کشتی قرار دیا اور تمام انسانوں کے لئے مدارِ نجات ٹھہرایا، جس کی آنکھیں ہوں دیکھے اور جس کے کان ہوں سنے۔‘‘

(اربعین نمبر۴ ص:۷، رُوحانی خزائن ج:۱۷ ص:۴۳۵ حاشیہ)

جب مرزا غلام احمد قادیانی کی نبوّت، تعلیم، وحی اور تجدید شدہ شریعت کی پیروی تمام انسانوں کے لئے مدارِ نجات ٹھہری، تو اس کے صاف معنی یہ ہیں کہ اب صرف محمدِ عربی صلی اللہ علیہ وسلم کی شریعت و تعلیم اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی وحی مدارِ نجات نہیں، گویا مرزا قادیانی کے آنے سے یہ سب کچھ بے کار، معطل اور منسوخ ہوگیا۔

مردہ اِسلام:

یہی وجہ ہے کہ قادیانیوں کے نزدیک مرزا غلام احمد قادیانی کے بغیر دِینِ اسلام

21

مردہ ہے، چنانچہ ملاحظہ ہو:

’’غالباً ۱۹۰۶ء میں خواجہ کمال الدین صاحب کی تحریک سے اخبار وطن کے ایڈیٹر کے ساتھ مولوی محمد علی صاحب نے ایک سمجھوتا کیا کہ ریویو آف ریلیجنز میں سلسلے کے متعلق کوئی مضمون نہ ہو، صرف عام اسلامی مضامین ہوں اور وطن کے ایڈیٹر رسالہ ریویو کی امداد کا پروپیگنڈا اپنے اخبار میں کریں گے، حضرت مسیحِ موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے اس تجویز کو ناپسند فرمایا اور جماعت میں بھی عام طور پر اس کی بہت مخالفت کی گئی۔ حضرت صاحب نے فرمایا کہ کیا مجھے چھوڑ کر تم مردہ اسلام دُنیا کے سامنے پیش کروگے؟‘‘

(ذکرِ حبیب، مؤلفہ: مفتی محمد صادق قادیانی ص:۱۴۶، طبع اوّل قادیان)

’’ہمارا مذہب تو یہ ہے کہ جس دِین میں نبوّت کا سلسلہ نہ ہو (جیسا کہ دِینِ اسلام ...ناقل) وہ مردہ ہے، یہودیوں، عیسائیوں، ہندوؤں کے دِین کو جو ہم مردہ کہتے ہیں تو اسی لئے کہ ان میں اب کوئی نبی نہیں ہوتا، اگر اسلام کا بھی یہی حال ہوتا تو پھر ہم بھی قصہ گو ٹھہرے۔ کس لئے اس کو دُوسرے دِینوں سے بڑھ کر کہتے ہیں، آخر کوئی امتیاز بھی ہونا چاہئے۔‘‘

(ملفوظات مرزا ج:۱۰ ص:۱۲۷ مطبوعہ ربوہ)

’’حضرت مسیحِ موعود علیہ السلام (مرزا غلام احمد قادیانی) کی زندگی میں مولوی محمد علی صاحب اور خواجہ کمال الدین صاحب کی تجویز پر ۱۹۰۵ء میں ایڈیٹر اخبار وطن نے ایک فنڈ اس غرض سے شروع کیا تھا کہ اس سے ریویو آف ریلیجنز کی کاپیاں بیرونی ممالک میں بھیجی جائیں بشرطیکہ اس میں حضرت مسیحِ موعود (مرزا غلام احمد قادیانی) کا نام نہ ہو، مگر حضرت اقدس (مرزا قادیانی) نے اس تجویز

22

کو اس بنا پر رَدّ کردیا کہ مجھ کو چھوڑ کر کیا مردہ اسلام پیش کروگے؟ اس پر ایڈیٹر صاحب وطن نے اس چندے کے بند کرنے کا اعلان کردیا۔‘‘

(اخبار ’’الفضل‘‘ قادیان جلد نمبر:۶ شمارہ نمبر:۳۲، ۱۹؍اکتوبر ۱۹۲۸ء، بحوالہ قادیانی مذہب ص:۴۵۸)

لعنتی، شیطانی اور قابلِ نفرت:

قادیانیوں کے نزدیک مرزا غلام احمد قادیانی کی نبوّت کے بغیر دِینِ اسلام محض قصوں کہانیوں کا مجموعہ، لعنتی، شیطانی اور قابلِ نفرت ہے، چنانچہ ملاحظہ ہو:

’’وہ دِین دِین نہیں اور نہ وہ نبی نبی ہے جس کی متابعت سے انسان خدا تعالیٰ سے اس قدر نزدیک نہیں ہوسکتا کہ مکالماتِ اِلٰہیہ (یعنی نبوّت... ناقل) سے مشرف ہوسکے۔ وہ دِین لعنتی اور قابلِ نفرت ہے جو یہ سکھلاتا ہے کہ صرف چند منقولی باتوں پر (یعنی شریعتِ محمدیہ پر جو کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول ہے ...ناقل) انسانی ترقیات کا اِنحصار ہے اور وحیٔ اِلٰہی آگے نہیں بلکہ پیچھے رہ گئی ہے ...... سو ایسا دِین بہ نسبت اس کے کہ اس کو رَحمانی کہیں شیطانی کہلانے کا زیادہ مستحق ہوتا ہے۔‘‘

(ضمیمہ براہین احمدیہ حصہ پنجم ص:۱۳۸ و ۱۳۹، رُوحانی خزائن ج:۲۱ ص:۳۰۶)

’’یہ کس قدر لغو اور باطل عقیدہ ہے کہ ایسا خیال کیا جائے کہ بعد آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے وحیٔ اِلٰہی کا دروازہ ہمیشہ کے لئے بند ہوگیا اور آئندہ کو قیامت تک اس کی کوئی بھی اُمید نہیں، صرف قصوں کی پوجا کرو۔ پس کیا ایسا مذہب کچھ مذہب ہوسکتا ہے جس میں براہِ راست خدا تعالیٰ کا کچھ بھی پتا نہیں لگتا ...... میں خدا تعالیٰ کی قسم کھاکر کہتا ہوں کہ اس زمانے میں مجھ سے زیادہ بیزار ایسے

23

مذہب سے اور کوئی نہ ہوگا (دریں چہ شک؟...ناقل) میں ایسے مذہب کا نام شیطانی مذہب رکھتا ہوں نہ کہ رحمانی۔‘‘

(ضمیمہ براہین احمدیہ حصہ پنجم ص:۱۸۳، رُوحانی خزائن ج:۲۱ ص:۳۵۴)

یہ ہے قادیانی مذہب کی حقیقت کہ اگر مرزا غلام احمد قادیانی کو نبی مانو تو ٹھیک، ورنہ مذہبِ اسلام کو مردہ، لعنتی، شیطانی اور قابلِ نفرت کی گالی دی جائے، اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی رِسالت و نبوّت سے بھی انکار کردیا جائے۔ اللہ تعالیٰ کسی کو عقل و ایمان سے محروم نہ فرمائیں۔

محمد یوسف عفا اللہ عنہ

۳؍۵؍۱۴۰۵ھ

24

قادیانیوں اور دُوسرے کافروں

کے درمیان فرق

بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ

اَلْحَمْدُللہِ وَسَلَامٌ عَلٰی عِبَادِہِ الَّذِیْنَ اصْطَفٰی!

حضرات! اس وقت مجھے بہت اِختصار کے ساتھ چند باتیں گزارش کرنی ہیں۔ قادیانیوں اور دُوسرے کافروں کے درمیان کیا فرق ہے؟ سب سے پہلے مجھے ایک سوال کا جواب دینا ہے، اور یہ سوال ہمارے بہت سے بھائیوں کے ذہن کا کانٹا بنا ہوا ہے۔ وہ سوال یہ ہے کہ مان لیا جائے کہ قادیانی غیرمسلم ہیں، لیکن دُنیا میں غیرمسلم تو اور بھی بہت ہیں، یہودی ہیں، عیسائی ہیں، ہندو ہیں، سکھ ہیں، فلاں ہیں، فلاں ہیں، لیکن یہ کیا بات ہے کہ قادیانیوں کا مقابلہ کرنے کے لئے ایک مستقل تنظیم اور مستقل جماعت موجود ہے جس کا نام ’’عالمی مجلس ختمِ نبوّت‘‘ ہے، جس نے یہ فرض اپنے ذمہ لے رکھا ہے کہ جہاں جہاں قادیانی پہنچے ہیں یہ بھی اللہ تعالیٰ کی نصرت و مدد سے اپنے مسلمان بھائیوں کے تعاون کے ساتھ وہاں پہنچتے ہیں اور قادیانیوں کو بے نقاب کرتے ہیں، کسی اور کافر فرقے کے مقابلے میں ایسی مستقل اور عالمی تنظیم موجود نہیں، تو آخر کیا بات ہے کہ اِمام العصر مولانا محمد انور شاہ کشمیریؒ سے لے کر شیخ الاسلام مولانا محمد یوسف بنوریؒ تک اور اَمیرِ شریعت سیّد عطاء اللہ شاہ بخاریؒ سے لے کر حضرتِ اقدس مولانا مفتی محمودؒ تک سب اکابر نے قادیانی کفر کو اتنی اہمیت دی اور اس کے تعاقب کے لئے عالمی سطح کی تنظیم ’’مجلس تحفظ ختمِ نبوّت‘‘ قائم کی گئی۔ سوال کا خلاصہ یہ ہے کہ قادیانیوں میں اور دُوسرے غیرمسلموں میں کیا فرق ہے؟

25

اس کا جواب عرض کرنے سے پہلے ایک مثال پیش کرتا ہوں۔ آپ کو معلوم ہے کہ شریعت میں شراب ممنوع ہے، شراب پینا، اس کا بنانا، اس کا بیچنا تینوں حرام ہیں۔ اور یہ بھی معلوم ہے کہ شریعت میں خنزیر حرام اور نجس العین ہے، اس کا گوشت فروخت کرنا، لینا دینا، کھانا پینا، قطعی حرام ہے، یہ مسئلہ سب کو معلوم ہے۔ اب ایک آدمی وہ ہے جو شراب فروخت کرتا ہے، یہ بھی جرم ہے، اور ایک دُوسرا آدمی ہے جو شراب بیچتا ہے اس کو زمزم کہہ کر، مجرم دونوں ہیں لیکن ان دونوں مجرموں کے درمیان کیا فرق ہے؟ وہ آپ خوب سمجھتے ہیں۔ اسی طرح ایک آدمی خنزیر فروخت کرتا ہے مگر اس کو خنزیر کہہ کر فروخت کرتا ہے، وہ صاف صاف کہتا ہے کہ یہ خنزیر کا گوشت ہے، جس کو لینا ہے لے جائے اور جو نہیں لینا چاہتا وہ نہ لے۔ یہ شخص بھی خنزیر بیچنے کا مجرم ہے۔ لیکن اس کے مقابلے میں ایک اور شخص ہے جو خنزیر اور کتے کا گوشت فروخت کرتا ہے بکری کا گوشت کہہ کر۔ مجرم وہ بھی ہے اور مجرم یہ بھی، مجرم دونوں ہیں، لیکن ان دونوں کے جرم کی نوعیت میں زمین و آسمان کا فرق ہے، ایک حرام کو بیچتا ہے حرام کے نام سے، جس کے نام سے بھی مسلمان کو گھن آتی ہے، اور دُوسرا حرام کو بیچتا ہے حلال کے نام سے، جس سے ہر شخص کو دھوکا ہوسکتا ہے اور وہ اس کے ہاتھ سے خنزیر کا گوشت خرید کر اور اسے حلال اور پاک سمجھ کر کھاسکتا ہے۔ پس جو فرق خنزیر کو خنزیر کہہ کر بیچنے والے کے درمیان اور خنزیر کو بکری یا دُنبہ کہہ کر بیچنے والے کے درمیان ہے، ٹھیک وہی فرق یہودیوں، عیسائیوں، ہندوؤں، سکھوں کے درمیان اور قادیانیوں کے درمیان ہے۔

کفر کی مختلف نوعیتیں:

کفر ہر حال میں کفر ہے، اسلام کی ضد ہے، لیکن دُنیا کے دُوسرے کافر اپنے کفر پر اِسلام کا لیبل نہیں چپکاتے، اور لوگوں کے سامنے اپنے کفر کو اِسلام کے نام سے پیش نہیں کرتے، مگر قادیانی اپنے کفر پر اِسلام کا لیبل چپکاتے ہیں اور مسلمانوں کو دھوکا دیتے ہیں کہ یہ اسلام ہے۔

26

یہ میں نے عام فہم انداز میں بات سمجھائی ہے، اب علمی انداز میں اس بات کو سمجھاتا ہوں۔ یوں تو کفر کی بہت سی قسمیں ہیں، مگر کفر کی تین قسمیں بالکل ظاہر ہیں۔ ایک کافر وہ ہے جو علانیہ کافر ہو، ایک کافر وہ ہے جو اندر سے کافر ہو اور اُوپر سے اپنے آپ کو مسلمان کہے، اور ایک کافر وہ ہے جو اپنے کفر کو اِسلام ثابت کرنے کی کوشش کرے۔ یہ پہلی قسم کے کافر کو مطلق کافر کہتے ہیں۔ اس میں یہودی، عیسائی، ہندو وغیرہ سب داخل ہیں۔ مشرکینِ مکہ بھی اسی میں داخل تھے۔ یہ کھلے اور چٹے کافر ہیں۔ دُوسری قسم والے کو منافق کہتے ہیں، جو زبان سے ’’لا اِلٰہ اِلَّا اللہ‘‘ کہتا ہے مگر دِل کے اندر کفر چھپاتا ہے، ان کے بارے میں اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:

’’اِذَا جَآئَکَ الْمُنٰفِقُوْنَ قَالُوْا نَشْھَدُ اِنَّکَ لَرَسُوْلُ اللہِ، وَاللہُ یَعْلَمُ اِنَّکَ لَرَسُوْلُہٗ، وَاللہُ یَشْھَدُ اِنَّ الْمُنٰفِقِیْنَ لَکٰذِبُوْنَ‘‘

’’منافق جب آپ کے پاس آتے ہیں تو کہتے ہیں کہ ہم گواہی دیتے ہیں کہ آپ اللہ کے رسول ہیں، اللہ تعالیٰ جانتے ہیں کہ آپ واقعی اللہ کے رسول ہیں، اور اللہ گواہی دیتا ہے کہ منافق قطعاً جھوٹے ہیں۔‘‘

منافقوں کا کفر عام کافروں سے بڑھ کر ہے، کیونکہ انہوں نے کفر اور جھوٹ کو جمع کیا، پھر یہ کہ انہوں نے کلمۂ طیبہ ’’لا اِلٰہ اِلَّا اللہ محمد رسول اللہ‘‘ پڑھ کر کفر اور جھوٹ کا اِرتکاب کیا۔ حضرت اِمام شافعیؒ فرمایا کرتے تھے کہ میں ابراہیم بن علیہ کا ہر چیز میں مخالف ہوں حتیٰ کہ اگر وہ ’’لا اِلٰہ اِلَّا اللہ محمد رسول اللہ‘‘ پڑھے اس میں بھی اس کا مخالف ہوں۔ مطلب یہ کہ بعض لوگ جھوٹ میں اس حد تک بڑھ جاتے ہیں کہ وہ کلمۂ طیبہ میں بھی جھوٹ بولتے ہیں۔ اگر وہ ’’لا اِلٰہ اِلَّا اللہ محمد رسول اللہ‘‘ پڑھیں تب بھی وہ جھوٹے ہیں، اور ان کا کلمہ بھی جھوٹ کے اِظہار کا ایک ذریعہ ہے۔ ان منافقوں سے بڑھ کر تیسری قسم والوں کا جرم یہ ہے کہ وہ کافر ہیں، مگر اپنے کفر کو اِسلام کہتے ہیں۔ ہے خالص کفر، لیکن یہ اس کو اِسلام کے نام سے

27

پیش کرتے ہیں، بلکہ قرآنِ کریم کی آیات سے، احادیثِ طیبہ سے، صحابہؓ کے ارشادات سے اور بزرگانِ دِین کے اقوال سے توڑموڑ کر اپنے کفر کو اِسلام ثابت کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ ایسے لوگوں کو شریعت کی اِصطلاح میں ’’زِندیق‘‘ کہا جاتا ہے۔ پس یہ کل تین ہوئے: ایک کھلا کافر، دُوسر امنافق، تیسرا زِندیق۔

پس اُوپر کی تقریر کا خلاصہ یہ ہوا کہ کافر وہ ہے جو ظاہر و باطن سے خدا اور رسول کا منکر یا علانیہ کفر کا مرتکب ہو۔

منافق وہ ہے جو اپنے دِل کے اندر کفر چھپائے ہوئے ہو اور زبان سے جھوٹ موٹ کلمہ پڑھتا ہو۔

زِندیق وہ ہے جو اپنے کفر پر اِسلام کا ملمع کرے اور اپنے کفر کو عین اسلام ثابت کرنے کی کوشش کرے۔

اَئمہ اربعہؒ کے نزدیک مرتد کی سزا:

اب ایک مسئلہ اور سمجھئے! ہماری کتابوں میں مسئلہ لکھا ہے اور چاروں فقہوں کا متفق علیہ مسئلہ ہے کہ جو شخص اسلام میں داخل ہوکر مرتد ہوجائے ...نعوذباللہ... ثم ...نعوذباللہ... اسلام سے پھر جائے، اس کے بارے میں حکم یہ ہے کہ اس کو تین دن کی مہلت دی جائے، اس کے شبہات دُور کرنے کی کوشش کی جائے، اسے سمجھایا جائے، اگر بات اس کی سمجھ میں آجائے اور وہ دوبارہ اسلام میں داخل ہوجائے تو بہت اچھا ہے، ورنہ اللہ تعالیٰ کی زمین کو اس کے وجود سے پاک کردیا جائے۔ یہ مسئلہ قتلِ مرتد کا مسئلہ کہلاتا ہے، اور اس میں ہمارے اَئمہ دِین میں سے کسی کا اختلاف نہیں ہے۔ تمام مہذّب ملکوں، حکومتوں اور مہذّب قوانین میں باغی کی سزا موت ہے، اور اِسلام کا باغی وہ ہے جو اِسلام سے مرتد ہوجائے، اس لئے اسلام میںمرتد کی سزا موت ہے، لیکن اس میں بھی اسلام نے رعایت دی ہے، دُوسرے لوگ باغیوں کو کوئی رعایت نہیں دیتے، گرفتار ہونے کے بعد اگر اس پر بغاوت کا جرم ثابت ہوجائے تو سزائے موت نافذ کردیتے ہیں۔ وہ ہزار معافی مانگے، توبہ کرے اور قسمیں

28

کھائے کہ آئندہ بغاوت کا جرم نہیں کروں گا، اس کی ایک نہیں سنی جاتی، اور اس کی معافی ناقابلِ قبول سمجھی جاتی ہے۔ اسلام میں بھی باغی یعنی مرتد کی سزا قتل ہے، مگر پھر بھی اتنی رعایت ہے کہ تین دن کی مہلت دی جاتی ہے، اس کو تلقین کی جاتی ہے کہ توبہ کرلے، معافی مانگ لے تو سزا سے بچ جائے گا۔ افسوس ہے کہ پھر بھی اسلام میں مرتد کی سزا پر اِعتراض کیا جاتا ہے۔ اگر امریکا کے صدر کا باغی حکومت کا تختہ اُلٹنے کی کوشش کرے اور اس کی سازش پکڑی جائے تو اس کی سزا موت ہے، اور اس پر کسی کو اِعتراض نہیں۔ رُوس کی حکومت کا تختہ اُلٹنے والا پکڑا جائے یا جنرل ضیاء الحق کی حکومت کے خلاف بغاوت کرنے والا پکڑا جائے تو اس کی سزا موت ہے، اور اس پر دُنیا کے کسی مہذّب قانون اور کسی مہذّب عدالت کو کوئی اِعتراض نہیں، لیکن تعجب ہے کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے باغی پر اگر سزائے موت جاری کی جائے تو لوگ کہتے ہیں کہ یہ سزا نہیں ہونی چاہئے۔ اسلام تو باغی مرتد کو پھر بھی رعایت دیتا ہے کہ اسے تین دن کی مہلت دی جائے، معافی مانگ لے تو کوئی بات نہیں اس کو معاف کردیا جائے گا، لیکن اگر تین دن کی مہلت اور کوشش کے بعد بھی وہ اپنے اِرتداد پر اَڑا رہے، توبہ نہ کرے تو اللہ کی زمین کو اس کے وجود سے پاک کردیا جائے، کیونکہ ناسور ہے۔ خدانخواستہ کسی ہاتھ میں ناسور ہوجائے تو ڈاکٹر اس کا ہاتھ کاٹ دیتے ہیں، اگر اُنگلی میں ناسور ہوجائے تو اُنگلی کاٹ دیتے ہیں، اور سب دُنیا جانتی ہے کہ یہ ظلم نہیں بلکہ شفقت ہے، کیونکہ اگر ناسور کو نہ کاٹا گیا تو اس کا زہر پورے بدن میں سرایت کر جائے گا جس سے موت یقینی ہے۔ پس جس طرح پورے بدن کو ناسور کے زہر سے بچانے کے لئے ناسور کو کاٹ دینا ضروری ہے اور یہی دانائی اور عقل مندی ہے، اسی طرح اِرتداد بھی ملتِ اسلامیہ کے لئے ایک ناسور ہے، اگر مرتد کو توبہ کی تلقین کی گئی، اس کے باوجود اس نے اسلام میں دوبارہ آنے کو پسند نہیں کیا تو اس کا وجود ختم کردینا ضروری ہے، ورنہ اس کا زہر رفتہ رفتہ ملتِ اسلامیہ کے پورے بدن میں سرایت کرجائے گا۔ الغرض مرتد کا حکم اَئمہ اَربعہؒ کے نزدیک اور پوری اُمت کے علماء اور فقہاء کے نزدیک یہی ہے جو میں عرض کر چکا ہوں اور یہی عقل و دانش کا تقاضا ہے اور اسی میں اُمت کی سلامتی ہے۔

زِندیق کا حکم:

اور زِندیق جو اپنے کفر کو اِسلام ثابت کرنے پر تلا ہوا ہے، اس کا معاملہ مرتد سے بھی زیادہ سنگین ہے۔ اِمام شافعیؒ اور مشہور روایت میں اِمام احمدؒ فرماتے ہیں کہ اس کا حکم بھی مرتد کا ہے، یعنی اس کو موقع دِیا جائے کہ وہ توبہ کرلے، اگر تین دن میں اس نے توبہ کرلی تو اس کو چھوڑ دیا جائے گا، اور اگر اس نے توبہ نہ کی تو وہ بھی واجب القتل ہے۔ پس ان حضرات کے نزدیک تو مرتد اور زِندیق دونوں کا ایک ہی حکم ہے۔ لیکن اِمام مالکؒ فرماتے ہیں: ’’لَا اقبل توبۃ الزندیق‘‘ میں زِندیق کی توبہ نہیں قبول کروں گا۔ مطلب یہ ہے کہ کسی شخص کے بارے میں اگر پتا چل جائے کہ یہ زِندیق ہے، اپنے کفر کو اِسلام ثابت کرتا ہے اور پکڑا جائے، پھر کہے: ’’جی! میں توبہ کرتا ہوں، آئندہ میں ایسی حرکت نہیں کروں گا‘‘ تو اس کی توبہ کا قبول کرنا، نہ کرنا اللہ تعالیٰ کا کام ہے، ہم تو اس پر قانون سزا نافذ کریں گے، اس کے وجود کو باقی نہیں رکھیں گے، جیسے زنا کی سزا توبہ سے معاف نہیں ہوتی، بہرحال اس پر سزا جاری کی جاتی ہے چاہے آدمی توبہ ہی کرلے، یا جیسا کہ چوری کرنے پر ہاتھ کاٹنے کی سزا ملتی ہے اور یہ سزا توبہ سے معاف نہیں ہوتی، کوئی شخص چوری کرے اور پکڑے جانے کے بعد توبہ کرلے تب بھی اس کا ہاتھ کاٹا جائے گا، اسی طرح اِمام مالکؒ فرماتے ہیں: ’’لَا اقبل توبۃ الزندیق‘‘ کہ میں زِندیق کی توبہ قبول نہیں کرتا۔ یعنی زِندیق کی سزا توبہ سے معاف نہیں ہوگی، اس پر سزائے موت لازماً جاری کی جائے گی خواہ ہزار بار توبہ کرلے، اور یہی ایک روایت ہمارے اِمام ابوحنیفہؒ سے اور اِمام احمد بن حنبلؒ سے بھی منقول ہے۔ لیکن درمختار، شامی اور فقہ کی دُوسری کتابوں میں ہے کہ اگر کوئی زِندیق اَزخود آکر توبہ کرلے مثلاً کسی کو پتا نہیں تھا کہ یہ زِندیق ہے، اس نے خود ہی اپنے زَندقہ کا اِظہار کیا اور اس نے توبہ بھی کی تو اس کی توبہ قبول کی جائے گی۔ اسی طرح اگر یہ تو معلوم تھا کہ یہ زِندیق ہے مگر اس کو گرفتار نہیں کیا گیا، بلکہ اللہ تعالیٰ نے اس کو ہدایت دے دی اور وہ اپنے آپ آکر تائب ہوگیا اور اپنے زَندقہ سے توبہ کرلی، ’’جی! میں مرزائیت سے توبہ کرتا ہوں‘‘ تو اس کی توبہ

29

قبول کی جائے گی اور اس پر سزائے اِرتداد جاری نہیں کی جائے گی۔ لیکن اگر گرفتاری کے بعد توبہ کرتا ہے تو توبہ قبول نہیں کی جائے گی، چاہے سو دفعہ توبہ کرے۔

کفر کو اِسلام ثابت کرنا زَندقہ ہے:

تو مرتد کے لئے توبہ کی تلقین کا حکم ہے، اگر وہ توبہ کرلے تو سزا سے بچ جائے گا، لیکن زِندیق کے بارے میں اِمام مالکؒ، اِمام ابوحنیفہؒ اور ایک روایت میں اِمام احمدؒ فرماتے ہیں کہ اس کی توبہ قبول نہیں، کیونکہ اس نے زَندقہ کے جرم کا اِرتکاب کیا ہے، یعنی کفر کو اِسلام ثابت کرنے کی کوشش کی ہے، کتے کا گوشت بکری کے نام سے فروخت کیا ہے، شراب پر زمزم کا لیبل چپکایا ہے، یہ جرم ناقابلِ معافی ہے۔ اس پر قتل کی سزا ضرور جاری ہوگی۔ تو یہ بات اچھی طرح سمجھ لیجئے کہ مرزائی زِندیق ہیں کیونکہ اس میں کوئی شک نہیں کہ وہ کافر ہیں، قطعاً کافر ہیں، جس طرح کلمۂ طیبہ ’’لا اِلٰہ اِلَّا اللہ محمد رسول اللہ‘‘ میں شک نہیں کہ یہ ہمارا کلمہ ہے، اور جو اس میں شک کرے وہ مسلمان نہیں۔ اسی طرح مرزا غلام احمد قادیانی اور اس کی ذُرّیت کے کافر ہونے میں بھی کوئی شبہ نہیں، کوئی شک نہیں، اور جو ان کے کفر میں شک کرے وہ بھی مسلمان نہیں۔ اس وقت مجھے یہ نہیں بتانا ہے کہ وہ کیوں کافر ہیں؟ ان کے کافر ہونے کی وجوہات کیا ہیں؟ مجھے تو یہ بتانا ہے کہ وہ کافر اور پکے کافر ہونے کے باوجود اپنے کفر کو اِسلام کے نام سے پیش کرتے ہیں، کہتے ہیں کہ: ’’جی! ہم تو ’’جماعتِ احمدیہ‘‘ ہیں، ہم تو مسلمان ہیں۔‘‘ لندن میں اپنی بستی کا نام رکھا ہے: ’’اسلام آباد‘‘ اور کہتے ہیں کہ: ’’جی! ہم تو اِسلام کی تبلیغ کرتے ہیں‘‘ جب بھی کسی مسلمان سے بات کرتے ہیں تو یہ کہہ کر دھوکا دیتے ہیں کہ: ’’جی! مولوی تو ویسے باتیں کرے ہیں، دیکھو ہم نماز پڑھتے ہیں، روزے رکھتے ہیں، یہ کرتے ہیں وہ کرتے ہیں اور حضورؐ کو خاتم النبیین سمجھتے ہیں، جی! ہماری تو شرائطِ بیعت میں لکھا ہوا ہے، اس میں لکھا ہوا ہے کہ میں صدقِ دِل سے حضورؐ کو خاتم النبیین مانتا ہوں۔‘‘

30

مرزائی کیوں زِندیق ہیں؟

تو مرزائی زِندیق ہیں کیونکہ وہ اپنے کفر پر اِسلام کو ڈھالتے ہیں، وہ شراب اور پیشاب پر ...نعوذباللہ... زمزم کا لیبل چپکاتے ہیں، وہ کتے کا گوشت حلال ذبیحے کے نام سے فروخت کرتے ہیں، ساری دُنیا جانتی ہے کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آخری نبی ہیں اور یہ مسلمانوں کا وہ عقیدہ ہے جس میں شک و شبہ کی کوئی گنجائش نہیں، حجۃالوداع کے موقع پر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا:

’’أیھا الناس! أنا آخرُ الأنبیاء وأنتم آخر الاُمم۔‘

’’لوگو! میں آخری نبی ہوں، اور تم آخری اُمت ہو۔‘‘

ختمِ نبوّت کا مفہوم:

ختمِ نبوّت کا یہ مطلب نہیں کہ پہلے کا کوئی نبی زندہ نہیں رہا، اگر بالفرض پہلے کے سارے نبی آجائیں حضور کے زمانے میں، اور آکر حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے خادم بن جائیں، حضور صلی اللہ علیہ وسلم پھر بھی آخری نبی ہیں، کیونکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد کسی کو نبوّت نہیں دی گئی، انبیائے کرام علیہم السلام کے ناموں کی جو فہرست اللہ تعالیٰ کے علم میں تھی اس میں آخری نامِ نامی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا تھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی تشریف آوری سے انبیائے کرام علیہم السلام کی وہ فہرست مکمل ہوگئی۔

آخری نبی اور آخری اولاد کا مفہوم:

جس بچے کو ماں باپ کی آخری اولاد کہا جائے، اس کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ وہ اپنے ماں باپ کے ہاں سب اولاد کے بعد پیدا ہوا، اس کے بعد کوئی بچہ ان ماں باپ کے

31

ہاں پیدا نہیں ہوا۔ آخری اولاد کا یہ مطلب نہیں ہوتا کہ وہ سب اولاد کے بعد تک زندہ بھی رہے، کبھی ایسا ہوتا ہے کہ پیدا بعد میں ہوتا ہے لیکن انتقال اس کا پہلے ہوجاتا ہے، اس کے باوجود آخری اولاد کہلاتا ہے۔ آپ نے یہ کہتے ہوئے سنا ہوگا کہ میری آخری اولاد وہ بچہ تھا جو اِنتقال کرگیا۔

آخری نبی یا خاتم النبیین کے معنی یہ ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد کسی شخص کے سر پر تاجِ نبوّت نہیں رکھا جائے گا، اب کوئی شخص نبوّت کی مسند پر قدم نہیں رکھے گا، جو پہلے نبی بنادئیے گئے ان پر تو ہمارا پہلے سے اِیمان ہے، وہ ہمارے ایمان میں پہلے سے داخل ہیں، حضور صلی اللہ علیہ وسلم آخری نبی ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد کوئی شخص خلعتِ نبوّت سے سرفراز نہیں ہوگا اور نہ اُمت کو ایسے نبی پر اِیمان لانا ہوگا۔

خاتم النبیین کے مفہوم میں قادیانیوں کا دجل:

لیکن قادیانی مرزائی کہتے ہیں کہ خاتم النبیین کا یہ مطلب نہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم آخری نبی ہیں، نہ یہ کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد نبوّت کا دروازہ بند ہے، بلکہ یہ مطلب ہے کہ آئندہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی مہر سے نبی بنا کریں گے، ٹھپّا لگتا ہے اور نبی بنتا ہے۔ (حماقت تو دیکھئے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے ٹھپّے سے چودہ سو سال کی اُمت میں نبی بنا بھی تو صرف ایک، اور وہ بھی بھینگااور ٹنڈا، حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی مہر نے صرف ایک نبی بنایا، اور وہ بھی صرف قادیانی اَعوَر دجال ...نعوذباللہ)۔

الغرض خاتم النبیین کے معنی یہ تھے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم آخری نبی ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی آمد سے نبیوں کی آمد بند ہوگئی، ان پر مہر لگ گئی، اب کوئی نبی نہیں بنے گا۔ لفافہ بند کرکے لفافے پر مہر لگادتے ہیں، جس کو ’’سیل کرنا‘‘ (To Seal Some Thing) کہتے ہیں۔ ختم کے معنی ’’سیل کردینا‘‘ خاتم النبیین کے معنی یہ ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی آمد سے نبیوں کی فہرست سربمہر کردی گئی، اب نہ تو اس فہرست سے کسی کو نکالا جاسکتا ہے، اور نہ اس میں کسی اور کا نام داخل کیا جاسکتا ہے، لیکن مرزائیوں نے اس میں یہ

32

تحریف کی کہ خاتم النبیین کے معنی ہیں، نبوّت کے پروانوں کی تصدیق کرنے والا۔ یہ کہتے ہیں کہ وہ جو کاغذ پر دستخط کرکے محکمے والے مہر لگادیا کرتے ہیں کہ کاغذ کی تصدیق ہوگئی، حضور صلی اللہ علیہ وسلم بھی انہی معنوں میں خاتم النبیین ہیں، یعنی نبیوں کے پروانوں پر مہر لگالگاکر نبی بناتے ہیں، پہلے نبوّت اللہ تعالیٰ خود دِیا کرتے تھے، لیکن اب یہ محکمہ اللہ تعالیٰ نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے سپرد کردیا کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم مہریں لگائیں اور نبی بنائیں۔

یہ ہے زَندقہ، کہ نام اسلام کا لیتے ہیں، لیکن اپنے کفریہ عقائد پر قرآنِ کریم کی آیات کو ڈھالتے ہیں، اسی طرح ان کے بہت سے کفریہ عقائد ہیں جن کو یہ اِسلام کے نام سے پیش کرتے ہیں، کہنا یہ ہے کہ یہ مرزائی زِندیق ہیں کہ عقائد ایسے رکھتے ہیں جو اِسلام کی رُو سے خالص کفر ہیں، لیکن یہ اپنے کفریہ عقائد کو اِسلام کا نام دیتے ہیں، اور قرآن و حدیث کو اپنے کفریہ عقائد پر ڈھالنے کے لئے ان کی تحریف کرتے ہیں۔ یہ خنزیر اور کتے کا گوشت بیچتے ہیں مگر حلال ذبیحہ کہہ کر، اور شراب بیچتے ہیں مگر زمزم کا لیبل چپکاکر۔

اگر یہ لوگ اپنے دِین و مذہب کو اِسلام کا نام نہ دیتے بلکہ صاف صاف کہہ دیتے کہ ہمارا اِسلام سے کوئی تعلق نہیں، تو واللہ العظیم! ہمیں ان کے بارے میں اس قدر متفکر ہونے کی ضرورت نہ تھی۔

بہائی مذہب:

دُنیا میں بہائی ٹولہ بھی موجود ہے، وہ اِیران کے بہاء اللہ کو رسول مانتا ہے، وہ دُنیا میں موجود ہے، ہم ان کو بھی کافر سمجھتے ہیں، لیکن انہوں نے صاف صاف کہہ دیا کہ اِسلام کے ساتھ ہمارا کوئی واسطہ نہیں، ہمارا دِین اِسلام سے الگ ہے، سو بات ختم ہوگئی، جھگڑا ختم ہوگیا۔ لیکن قادیانی اپنے تمام کفریات کو اِسلام کے نام سے پیش کرکے مسلمانوں کو دھوکا دیتے ہیں، اس لئے یہ صرف کافر اور غیرمسلم ہی نہیں بلکہ مرتد اور زِندیق ہیں، مسلمانوں کی غیرمسلموں کے ساتھ صلح ہوسکتی ہے مگر کسی مرتد اور زِندیق سے کبھی صلح نہیں ہوسکتی۔

33

قادیانیوں کو مسلمان کہلانے کا کیا حق ہے؟

قادیانیوں کو یہ حق آخر کس نے دیا ہے کہ وہ غلام احمد قادیانی کو نبی اور رسول سمجھیں اور پھر اِسلام کا دعویٰ بھی کریں؟ حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے کلمے کو منسوخ کرکے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی جگہ مرزا غلام احمد قادیانی کو ’’محمد رسول اللہ‘‘ کی حیثیت سے دُنیا کے سامنے پیش کریں، اس کا کلمہ جاری کرائیں، آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی وحی (قرآنِ کریم) کے بجائے مرزا کی وحی کو واجب الاتباع اور مدارِ نجات قرار دیں اور پھر ڈھٹائی کے ساتھ یہ بھی کہیں کہ ہم مسلمان ہیں اور غیراحمدی کافر ہیں، مرزا بشیراحمد لکھتا ہے:

’’ہر ایک ایسا شخص جو موسیٰ کو تو مانتا ہے مگر عیسیٰ کو نہیں مانتا، یا عیسیٰ کو تو مانتا ہے مگر محمد کو نہیں مانتا، اور یا محمد کو مانتا ہے پر مسیحِ موعود (مرزا قادیانی) کو نہیں مانتا وہ نہ صرف کافر بلکہ پکا کافر اور دائرۂ اسلام سے خارج ہے۔‘‘

(کلمۃ الفصل ص:۱۱۰)

قادیانیوں کا کلمہ:

قادیانی دعوے کرتے ہیں کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا دو دفعہ دُنیا میں آنا مقدّر تھا، پہلی دفعہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم مکہ مکرمہ میں آئے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی یہ بعثت تیرہ سو سال تک رہی، چودھویں صدی کے شروع میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم مرزا قادیانی کے رُوپ میں قادیان میں دوبارہ مبعوث ہوئے، اس لئے ان کے نزدیک غلام احمد قادیانی خود ’’محمد رسول اللہ‘‘ ہے، اور کلمۂ طیبہ میں ’’محمد رسول اللہ‘‘ سے مرزا مراد لیتے ہیں، چنانچہ مرزا بشیر احمد لکھتا ہے:

’’مسیحِ موعود (مرزا قادیانی) خود محمد رسول اللہ ہے، جو اِشاعتِ اسلام کے لئے دوبارہ دُنیا میں تشریف لائے، اس لئے ہم کو کسی نئے کلمے کی ضرورت نہیں، ہاں! اگر محمد رسول اللہ کی جگہ کوئی

34

اور آتا تو ضرورت پیش آتی۔‘‘

(کلمۃ الفصل ص:۱۵۸)

گویا ’’لا اِلٰہ اِلَّا اللہ محمد رسول اللہ‘‘ کے معنی ان کے نزدیک ہیں: ’’لا اِلٰہ اِلَّا اللہ مرزا رسول اللہ‘‘ ...نعوذباللہ... جو دوبارہ قادیان میں آیا ہے۔ مرزا بشیر احمد لکھتا ہے کہ ہمارے نزدیک مرزا خود محمد رسول اللہ ہے، اور ہم مرزا کو محمد رسول اللہ مان کر اس کا کلمہ پڑھتے ہیں، اس لئے ہمیں نیا کلمہ بنانے کی ضرورت نہیں۔

قادیانی، محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے دِین کو کفر کہتے ہیں:

کہنا یہ ہے کہ انہوں نے نبی الگ بنایا، قرآن الگ بنایا (جس کا نام ’’تذکرہ‘‘ ہے، اور جس کی حیثیت مرزائیوں کے نزدیک وہی ہے جو مسلمانوں کے نزدیک توراۃ، زَبور، اِنجیل اور قرآن کی ہے) اُمت الگ بنائی، شریعت الگ بنائی، کلمہ الگ بنایا، وہ اپنے دِین کا نام اِسلام رکھتے ہیں، اور ہمارے دِین کا نام کفر رکھتے ہیں۔ حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا لایا ہوا دِین قادیانیوں کے نزدیک ...نعوذباللہ... کفر ہوگیا، اور مرزا کا دِین ان کے نزدیک اسلام ہے۔ ہم قادیانیوں سے پوچھتے ہیں کہ تم ہمیں جو کافر کہتے ہو، ہم نے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے دِین کی کس بات کا اِنکار کیا ہے؟ کیا مرزا کے آنے سے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا دِین کفر بن گیا؟ مرزا سے پہلے تو رسول اللہ کا دِین اِسلام کہلاتا تھا اور اس کو ماننے والے مسلمان کہلاتے تھے، لیکن مرزا آیا اور اس کی سبزقدمی سے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا دِین کفر بن گیا اور اس کے ماننے والے کافر کہلائے ...العیاذ باللہ...!

اس سے بڑھ کر غضب کیا ہوسکتا ہے؟ مرزا کے دو جرم ہوئے، ایک یہ کہ نبوّت کا دعویٰ کرکے ایک نیا دِین ایجاد کیا اور اس کا نام ’’اِسلام‘‘ رکھا۔ دُوسرا جرم یہ کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لائے ہوئے دِین کو کفر کہا۔ مرزا کے دِین کے ماننے والے مسلمان اور محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ماننے والے ان کے نزدیک کافر۔۔ـ!

مجھے بتائیے! کہ کیا کسی یہودی نے، کسی عیسائی نے، کسی ہندو نے، کسی سکھ نے، کسی چوہڑے چمار نے، کسی پارسی مجوسی نے اس جرم کا اِرتکاب کیا ہے؟ اب تو آپ کی سمجھ

35

میں آگیا ہوگا کہ مرزا قادیانی اور مرزائیوں کا کفر کس قدر بدترین ہے، اور یہ دُنیا بھر کے کافروں سے بدتر کافر ہیں۔

مسلمانوں کا قادیانیوں سے رعایتی سلوک:

یہ زِندیق ہیں جو اِسلام کو کفر، اور کفر کو اِسلام کہتے ہیں، اور شریعت کے مطابق زِندیق واجب القتل ہوتا ہے۔ یہ قادیانیوں کے ساتھ ہماری رعایت ہے کہ ان کو زندہ رہنے کا حق دیا ہے، یہ دُنیا میں شور مچاتے ہیں کہ پاکستان میں ہم پر ظلم ہو رہا ہے، یہ حکومتِ پاکستان کی شرافت سے ناجائز فائدہ اُٹھارہے ہیں، حکومت نے ان پر کوئی پابندی نہیں لگائی، ان کو صرف یہ کہا کہ تم محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے دِین کو کفر اور اپنے دِین کو اِسلام نہ کہو۔ قادیانیوں پر اس سے زیادہ اور کوئی پابندی نہیں لگائی۔ مرزائیو! شریعت کے فتویٰ سے تم واجب القتل ہو، حکومتِ پاکستان نے تمہیں رعایت دے رکھی ہے، تم پاکستان کے بڑے بڑے عہدوں پر فائز ہو، اس کے باوجود کبھی اَقوامِ متحدہ میں، کبھی یہودیوں اور عیسائیوں اور نہ معلوم کن کن لوگوں کی عدالتوں میں تم فریاد کرتے ہو کہ حکومتِ پاکستان نے ہمارے حقوق غصب کرلئے ہیں، حکومتِ پاکستان نے تمہارے کیا حقوق غصب کرلئے؟ ہم نے تمہارا کیا قصور کیا ہے؟ پاکستان کی حکومت نے تمہارا کیا بگاڑا ہے؟ تم سے صرف یہ کہا گیا ہے کہ کلمۂ طیبہ ’’لا اِلٰہ اِلَّا اللہ محمد رسول اللہ‘‘ ہمارا ہے، ہم کیسے اجازت دیں کہ تم شراب پر زمزم کا لیبل چپکاکر بیچتے رہو؟

ہم کیسے اجازت دے سکتے ہیں کہ تم کتے اور خنزیر کا گوشت حلال ذبیحے کے نام سے فروخت کرتے رہو؟

ہم کیسے اجازت دے سکتے ہیں کہ تم اپنے کفر اور زَندقہ کو اِسلام کے نام سے پھیلاؤ؟

تمہارے منہ سے ’’لا اِلٰہ اِلَّا اللہ محمد رسول اللہ‘‘ کے منافقانہ الفاظ ادا کرنا ہمارے کلمۂ طیبہ کی توہین ہے، ہمارے نبی کی توہین ہے، ہمارے اسلام کی توہین ہے، ہم تمہیں اس

36

توہین کی اجازت کس طرح دیں؟ تم کلمہ پڑھ کر مسلمانوں کو دھوکا دیتے ہو اور ہم اس کے جواب میں وہی کہتے ہیں جو اللہ تعالیٰ نے منافقوں کے بارے میں فرمایا:

’’وَاللہُ یَشْھَدُ اِنَّ الْمُنٰفِقیْنَ لَکٰذِبُوْنَ‘‘

’’اور اللہ گواہی دیتا ہے کہ وہ جھوٹے ہیں‘‘

خلاصۂ گفتگو:

اب تک میں ایک ہی سوال کا جواب دے سکا ہوں کہ قادیانیوں میں اور دُوسرے غیرمسلموں میں فرق کیا ہے؟ جواب کا خلاصہ یہ ہے کہ دُوسرے کافر سادے کافر ہیں، اور قادیانی صرف کافر اور غیرمسلم نہیں بلکہ وہ اپنے کفر کو اِسلام کہنے اور اِسلام کو کفر قرار دینے کے بھی مجرم ہیں، لہٰذا یہ زِندیق ہیں اور زِندیق مرتد کی طرح واجب القتل ہوتا ہے۔

مرتد اور اس کی نسل کا حکم:

اب میں ایک اور مسئلے کا ذِکر کرتا ہوں۔اُصول یہ ہے کہ مرتد کو تین دن کی مہلت کے بعد قتل کردیا جاتا ہے، لیکن مرتدوں کی ایک جماعت بن جائے، ایک پارٹی بن جائے اور اِسلامی حکومت ان پر قابو نہ پاسکے، اس لئے وہ قتل نہ کئے جاسکیں اور رفتہ رفتہ اصل مرتد مرکھپ جائیں اور ان مرتدوں کی نسل جاری ہوجائے، مثال کے طور پر کسی بستی کے لوگوں نے متفقہ طور پر عیسائیت قبول کرلی تھی ...نعوذباللہ... عیسائی بن گئے تھے، اب کسی نے ان کو پکڑ کر قتل نہیں کیا، یا وہ پکڑمیں نہیں آسکے۔ اس کے بعد یہ لوگ جو خود عیسائی بنے تھے، مرکر ختم ہوگئے، پیچھے ان کی نسل رہ گئی جو خود مسلمان سے عیسائی نہیں ہوئی تھی بلکہ انہوں نے اپنے آباء و اجداد سے عیسائی مذہب لیا تھا، تو مرتد کی صلبی اولاد تو تبعاً مرتد ہے، اِصالۃً مرتد نہیں ہے، اس لئے اس کو حبس و ضرب کے ساتھ اِسلام لانے پر مجبور کیا جائے گا، مگر قتل نہیں کیا جائے گا۔ اور مرتد کی اولاد کی اولاد نہ اِصالۃً مرتد ہے اور نہ تبعاً بلکہ وہ اصلی کافر کہلائے گی، اور ان پر سزائے اِرتداد جاری نہیں ہوگی، کیونکہ اولاد کی اولاد مرتد نہیں وہ سادہ کافر ہیں، اس لئے اس کا حکم مرتد کا نہیں۔

37

خلاصہ یہ کہ:

۱:... جو شخص خود مرتد ہوا ہو، وہ واجب القتل ہے۔

۲:... مرتد کی صلبی اولاد تبعاً مرتد ہے اِصالۃً مرتد نہیں، اس لئے اگر وہ اِسلام کو قبول نہ کرے تو واجب الحبس ہے، یعنی اس کو قید کرنا لازم ہے۔

۳:... اور تیسری پیڑھی میں مرتد کی اولاد کی اولاد سادہ کافر ہے، اس پر مرتد کے اَحکام جاری نہیں ہوں گے۔

زِندیق مرزائی کی نسل کا حکم:

لیکن قادیانیوں کی سو نسلیں بھی بدل جائیں تو ان کا حکم زِندیق اور مرتد کا رہے گا، سادہ کافر کا حکم نہیں ہوگا۔ کیوں؟ اس لئے کہ ان کا جو جرم ہے یعنی کفر کو اِسلام اور اِسلام کو کفر کہنا، یہ جرم ان کی آئندہ نسلوں میں بھی پایا جاتا ہے۔

الغرض قادیانی جتنے بھی ہیں خواہ اسلام کو چھوڑ کر مرتد ہوئے ہوں، قادیانی زِندیق بنے ہوں یا وہ ان کے بقول ’’پیدائشی احمدی‘‘ ہوں، قادیانیوں کے گھر میں پیدا ہوئے ہوں اور یہ کفر ان کو ورثے میں ملا ہو، ان سب کا ایک ہی حکم ہے یعنی مرتد اور زِندیق کا، کیونکہ ان کا جرم صرف یہ نہیں کہ وہ اسلام کو چھوڑ کر کافر بنے ہیں، بلکہ ان کا جرم یہ ہے کہ دِینِ اسلام کو کفر کہتے ہیں، اور اپنے دِینِ کفر کو اِسلام کا نام دیتے ہیں، اور یہ جرم ہر قادیانی میں پایا جاتا ہے، خواہ وہ اِسلام کو چھوڑ کر قادیانی بنا ہو یا پیدائشی قادیانی ہو۔ اس مسئلے کو خوب سمجھ لیجئے، بہت سے لوگوں کو قادیانیوں کی صحیح حقیقت معلوم نہیں۔

قادیانیوں کے بارے میں مسلمانوں کو غیرت سے کام لینا چاہئے:

قادیانیوں کے جرم کی پوری وضاحت میں نے آپ حضرات کے سامنے کردی، اب مجھے آپ حضرات سے ایک بات کہنی ہے، پہلے ایک مثال دُوں گا، مثال تو بھدی سی ہے، مگر سمجھانے کے لئے مثال سے کام لینا پڑتا ہے۔

ایک باپ کے دس بیٹے تھے، جو اس کے گھر پیدا ہوئے، وہ ساری عمر ان کو اپنا بیٹا

38

کہتا رہا، باپ مرگیا، اس کے انتقال کے بعد ایک غیرمعروف شخص اُٹھا اور یہ دعویٰ کیا کہ میں مرحوم کا صحیح بیٹا ہوں، یہ دسوں کے دس لڑکے اس کی ناجائز اولاد ہیں۔

میں یہ مثال فرض کر رہا ہوں، اور اس سلسلے میں آپ سے دو باتیں پوچھنا چاہتا ہوں، ایک یہ کہ دُنیا کا کوئی صحیح الدماغ آدمی اس شخص کے دعوے کو قبول کرے گا؟ یہ غیرمعروف مدعی جس نے مرحوم کی زندگی میں کبھی دعویٰ نہیں کیا کہ میں فلاں شخص کا بیٹا ہوں، نہ مرحوم نے اپنی زندگی میں کبھی یہ دعویٰ کیا کہ یہ میرا بیٹا ہے، کیا دُنیا کی کوئی عدالت اس شخص کے دعوے کو سن کر یہ فیصلہ دے گی کہ یہ شخص مرحوم کا حقیقی بیٹا ہے اور باقی دس لڑکے مرحوم کے بیٹے نہیں...؟

دُوسری بات مجھے آپ سے یہ پوچھنی ہے کہ یہ شخص جو باپ کے دس بیٹوں کو حرام زادہ کہتا ہے، وہ ان کو ان کے باپ کی جائز اولاد تسلیم نہیں کرتا، ان دس لڑکوں کا رَدِّعمل اس شخص کے بارے میں کیا ہوگا...؟

ان دونوں باتوں کو ذہن میں رکھ کر سنئے! ہم بحمداللہ! حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اُمتی ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے لائے ہوئے پورے دِین کو مانتے ہیں، الحمدللہ! ہم آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی رُوحانی اولاد ہیں، یہ بات میں اپنی طرف سے نہیں کہہ رہا، بلکہ قرآنِ کریم کا ارشاد ہے:’’اَلنَّبِیُّ اَوْلٰی بِالْمُؤْمِنِیْنَ مِنْ اَنْفُسِھِمْ‘‘ ’’نبی مؤمنوں کے ساتھ خود ان کے نفس سے بھی زیادہ تعلق رکھتے ہیں۔‘‘ یعنی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے کسی اُمتی کو اپنی ذات سے اتنا تعلق ہیں جتنا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو ہر اُمتی سے تعلق ہے، ’’وَاَزْوَاجُہٗ اُمَّھَاتُھُمْ‘‘ اور آپ کی بیویاں ان کی مائیں ہیں‘‘ اور قراء ت میں ہے: ’’وَھُوَ اَبٌ لَّھُمْ‘‘ کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ان کے باپ ہیں۔ ظاہر بات ہے کہ جب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی ازواجِ مطہراتؓ ہماری مائیں بنیں، چنانچہ ہم سب ان کو ’’اُمہات المؤمنین‘‘ کہتے ہیں، اُمّ المؤمنین حضرت عائشہ صدیقہ، اُمّ المؤمنین حضرت خدیجۃ الکبریٰ، اُمّ المؤمنین میمونہ، اُمّ المؤمنین اُمِّ سلمہ رضی اللہ عنہن۔ ہم تمام اَزواجِ مطہراتؓ کے ساتھ ’’اُمّ المؤمنین‘‘ کہتے ہیں تو جب یہ ہماری مائیں ہوئیں، تو

39

آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے رُوحانی باپ ہوئے۔ اولاد میں کوئی ماں باپ کا زیادہ فرمانبردار ہوتا ہے، کوئی کم، کوئی زیادہ خدمت گزار ہوتا ہے، کوئی کم، کوئی زیادہ ہنرمند ہوتا ہے، کوئی کم، کوئی زیادہ سمجھ دار اور عقل مند ہوتا ہے، کوئی کم، اولاد ساری ایک جیسی نہیں ہوتی، ان میں فرق ضرور ہوتا ہے، لیکن ساری کی ساری باپ ہی کی اولاد کہلاتی ہے۔

تیرہ صدیوں کے مسلمان حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی رُوحانی اولاد تھی، چودھویں صدی کے شروع میں مرزا غلام احمد قادیانی کھڑا ہوا، اس نے کہا کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی رُوحانی اولاد صرف میں ہوں، باقی سارے مسلمان کافر ہیں۔ جس کا مطلب یہ ہے کہ پوری اُمت کے مسلمان حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی رُوحانی اولاد نہیں بلکہ ...نعوذباللہ... ناجائز اولاد ہیں، حرام زادے ہیں۔

مجھے معاف کیجئے! میں مرزا غلام احمد کے صاف صاف الفاظ نقل کر رہا ہوں۔

ہم پوری دُنیا کی مہذّب عدالت میں اپنا مقدمہ پیش کرکے کہتے ہیں کہ اگر کسی مجہول النسب کا یہ دعویٰ لائقِ سماعت نہیں کہ میں مرحوم کا حقیقی بیٹا ہوں، باقی دس کے دس بیٹے ناجائز اولاد ہیں، تو غلام احمد کا یہ ہذیانی دعویٰ کیونکر لائقِ سماعت ہے کہ وہ (مجہول النسب ہونے کے باوجود) آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا رُوحانی بیٹا ہے، اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی ساری کی ساری اُمت کافر ہے، ناجائز اولاد ہے، آخر کس جرم میں پوری اُمت کا رشتہ آنحضرت صلی اللہ علیہ سلم سے کاٹ کر ان کو کافر اور ناجائز اولاد قرار دیا گیا، ہم آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے پورے دِین کو الف سے لے کر یا تک مانتے ہیں، ہم نے کوئی تبدیلی نہیں کی، ہم نے کوئی عقیدہ نہیں بدلا، عقیدے غلام احمد نے بدلے اور کافر اور حرام زادے پوری اُمت کو کہا۔

ایک قادیانی سے میری گفتگو ہوئی، میں نے اس سے کہا کہ تیرہ صدیوں سے مسلمان چلے آتے تھے، مرزا غلام احمد کے دعوے پر ہمارا تمہارا اِختلاف ہوا، اور چودھویں صدی سے یہ اِختلاف شروع ہوا، اب میں آپ سے اِنصاف کی بات کہتا ہوں کہ اگر

40

ہمارے عقیدے تیرہ صدیوں کے مسلمانوں کے مطابق ہیں تو تم ان کو مان لو، اور غلام احمد کو چھوڑ دو، اور تمہارے عقیدے تیرہ صدیوں کے مسلمانوں کے مطابق ہیں تو ہم تم کو سچا مان لیں گے، لیجئے ہمارا اِختلاف فوراً ختم ہوسکتا ہے۔ یہ انصاف کی بات اور دونوں فریقوں کے لئے برابر کی بات ہے۔ وہ قادیانی سیالکوٹ کا پنجابی تھا، میری بات سن کر کہنے لگا: ’’جی سچی بات ایہہ ہے کہ اسی تاں مرزا صاحب توں سوا باقی ساریاں نوں جھوٹے سمجھنے آں‘‘ یعنی ’’سچی بات تو یہ ہے کہ ہم مرزا صاحب کے سوا باقی سب کو جھوٹا سمجھتے ہیں۔‘‘ اب آپ سمجھ گئے ہوں گے، مرزا یہ جھوٹا دعویٰ کرتا ہے کہ صرف میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا رُوحانی بیٹا ہوں، باقی سب مسلمان ناجائز اولاد ہیں، اور یہ شخص اپنے آپ کو رُوحانی بیٹا کہہ کر پوری دُنیا کو گمراہ کر رہا ہے۔

میں آپ سے پوچھتا ہوں کہ اگر ان دس بیٹوں کا حرام زادہ ہونا کوئی شخص تسلیم نہیں کرے گا جو اس کے گھر پیدا ہوئے، اس کی بیوی سے پیدا ہوئے اور ایک غیرمعروف اور مجہول النسب آدمی، جس کے بارے میں کچھ پتا نہیں کہ وہ کسی میراثی کی اولاد ہے، اگر وہ آکر ایسا دعویٰ کرے گا تو کوئی اس کے دعوے کو نہیں سنے گا۔ میں کہتا ہوں کہ کیا آپ لوگوں میں ان ’’دس بیٹوں‘‘ جتنی بھی غیرت نہیں، آپ قادیانیوں کی یہ بات کیسے سن لیتے ہیں کہ دُنیا بھر کے مسلمان غلط ہیں اور مرزا ٹھیک ہے، دُنیا بھر کے مسلمان کافر ہیں اور مرزائی مسلمان ہیں۔ وہ تمہیں یہ سبق پڑھانے کے لئے تمہاری مجلسوں میں آتے ہیں اور آپ بڑے اطمینان سے ان کی باتیں سن لیتے ہیں، میں کہتا ہوں کہ دُنیا کا کوئی عقل مند ایسا نہیں ہوگا، جس کی عدالت میں یہ مقدمہ لے جایا جائے اور وہ ایک مجہول النسب شخص کے دعوے پر دس بیٹوں کے حرام زادے ہونے کا فیصلہ کردے۔ اور ان دس بیٹوں میں کوئی ایسا بے غیرت نہیں ہوگا جو اس مجہول النسب شخص کے دعوے کو سننا بھی گوارا کرے، لیکن کیسے تعجب کی بات ہے کہ ہمارے بدھو بھائی قادیانیوں کے اس دعوے کو سن لیتے ہیں اور انہیں ذرا بھی غیرت نہیں آتی۔

41

میرا اور آپ کا فرض!

میرا اور آپ کا ہر مسلمان کا فرض کیا ہونا چاہئے؟ قادیانیت نے ہمارا رشتہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کاٹنے کی کوشش کی ہے، وہ ہمیں کافر کہتے ہیں، حالانکہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے دِین کو مانتے ہیں، آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا دِین جس کو ہم مانتے ہیں وہ تو کفر نہیں ہوسکتا، جو شخص ہمیں کافر کہتا ہے، وہ ہمارے دِین کو کفر کہتا ہے، وہ ہمارا رشتہ محمدِ عربی صلی اللہ علیہ وسلم سے کاٹتا ہے، وہ یہ دعویٰ کرتا ہے کہ یہ سب ناجائز اولاد ہیں۔

اب مسلمانوں کی غیرت کا تقاضا کیا ہونا چاہئے؟ ہماری غیرت کا اصل تقاضا تو یہ ہے کہ دُنیا میں ایک قادیانی بھی زندہ نہ بچے، پکڑ پکڑ کر خبیثوں کو مارد یں، یہ میں جذباتی بات نہیں کر رہا بلکہ حقیقت یہی ہے، اسلام کا فتویٰ یہی ہے، مرتد اور زِندیق کے بارے میں اسلام کا قانون یہی ہے، مگر یہ داروگیر حکومت کا کام ہے، ہم اِنفرادی طور پر اس پر قادر نہیں، اس لئے کم از کم اتنا تو ہونا چاہئے، کہ ہم قادیانیوں سے مکمل قطع تعلق کریں، ان کو اپنی مجلس میں، کسی محفل میں برداشت نہ کریں، ہر سطح پر ان کا مقابلہ کریں اور جھوٹے کو اس کی ماں کے گھر تک پہنچاکر آئیں۔

الحمدللہ! ہم نے جھوٹے کو اس کی ماں کے گھر تک پہنچادیا ہے، برطانیہ قادیانیوں کی ماں ہے، جس نے ان کو جنم دیا، اب ان کا گروہ مرزا طاہر اپنی ماں کی گود میں جابیٹھا ہے، اور وہاں سے دُنیا بھر کے مسلمانوں کو للکار رہا ہے، یورپ، امریکا، افریقہ کے وہ بھولے بھالے مسلمان جو نہ پوری طرح اسلام کو سمجھتے ہیں، نہ ان کو قادیانیت کی حقیقت کا علم ہے، وہ قادیانیت کو نہیں جانتے کہ وہ کیا ہے؟ ان کو اہلِ علم کے پاس بیٹھنے کا موقع نہیں ملتا، ہمارے ان بھولے بھالے بھائیوں کو قادیانی، مرتد بنانے کا فیصلہ کرچکے ہیں اور وہ اس کا اعلان کر رہے ہیں، اس کے لئے اربوں کھربوں کے میزانئے بنارہے ہیں، لیکن اللہ تعالیٰ کے فضل وکرم سے ’’عالمی مجلس تحفظ ختمِ نبوّت‘‘ نے بھی حضرت ختمی مآب صلی اللہ علیہ وسلم کا جھنڈا پوری

42

دُنیا میں بلند کرنے کا فیصلہ کرلیا ہے، جس طرح پاکستان میں قادیانیوں کی حقیقت کھل چکی ہے، اور وہ مسلمانوں سے کاٹے جاچکے ہیں، اِن شاء اللہ العزیز پوری دُنیا میں، دُنیا کے ایک ایک حصے میں قادیانیوں کی قلعی کھل کر رہے گی، ایک وقت آئے گا کہ پوری دُنیا اس حقیقت کو تسلیم کرے گی کہ مرزائی مسلمان نہیں بلکہ یہ اسلام کے غدار ہیں۔ محمدِ عربی صلی اللہ علیہ وسلم کے غدار ہیں، پوری اِنسانیت کے غدار ہیں۔ اِن شاء اللہ پوری دُنیا میں قادیانیت کے خلاف تحریک چلے گی اور آخری فتح محمدِ عربی صلی اللہ علیہ وسلم کی اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے غلاموں کی ہوگی۔

پاکستان میں بھی یہ لوگ ایک عرصے تک مسلمان کہلاتے رہے، محمدِ عربی صلی اللہ علیہ وسلم کے غلاموں کی قربانیاں رنگ لائیں اور قادیانی ناسور کو جسدِ ملت سے کاٹ کر الگ کردیا گیا، اِن شاء اللہ پوری دُنیا میں دیر سویر یہی ہوگا۔ الحمدللہ! عالمی مجلس تحفظ ختمِ نبوّت نے عالمی سطح پر کام شروع کردیا ہے، میں ہر اس مسلمان سے، جو محمدِ عربی صلی اللہ علیہ وسلم کی شفاعت کا خواستگار ہے، یہ اپیل کرتا ہوں کہ وہ ختمِ نبوّت کے جھنڈے کو پورے عالم میں بلند کرنے کے لئے عالمی مجلس تحفظ ختمِ نبوّت سے بھرپور تعاون کرے، اور تمام مسلمان، قادیانیوں مرزائیوں کے بارے میں اِیمانی و دِینی غیرت کا مظاہرہ کریں، ہر مسلمان اس سلسلے میں جو قربانیاں پیش کرسکتا ہے وہ پیش کرے۔

وَآخِرُ دَعْوَانَا اَنِ الْحَمْدُللہِ رَبِّ الْعَالَمِیْنَ

محمد یوسف لدھیانوی

عالمی مجلس تحفظ ختمِ نبوّت

43

اسلام میں خاتم النبییّن کا مفہوم

اور قادیانیت

بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ

اَلْحَمْدُللہِ وَسَلَامٌ عَلٰی عِبَادِہِ الَّذِیْنَ اصْطَفٰی، اَمَّا بَعْدُ:

’’اس جلسے میں میرے لئے مقالے کا عنوان تجویز کیا گیا ہے: ’’اسلام میں ’’خاتم النبیین‘‘ کا مفہوم اور قادیانیت‘‘۔ جیسا کہ آپ دیکھ رہے ہیں، اس عنوان کے تحت دو چیزیں آتی ہیں: ’’خاتم النبیین‘‘ کی تشریح، اور قادیانیوں نے اس کے مفہوم کو بگاڑنے کی جو کوشش کی ہے، اس کی نقاب کشائی۔ انہی دونوں موضوعات پر مختصراً روشنی ڈالوں گا۔واللہ الموفق لکل خیر وسعادۃ!‘‘

حصۂ اوّل

اُمتِ اسلامیہ کا بغیر کسی نزاع واِختلاف کے یہ عقیدہ ہے کہ حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم خاتم النبیین ہیں۔ اکابرِ اُمت نے اس موضوع پر مستقل رسائل تصنیف فرمائے ہیں۔ حضرت مفتی محمد شفیع صاحب نوّر اللہ مرقدہٗ کا رسالہ ’’ختمِ نبوّت کامل‘‘ اس موضوع پر نہایت جامع ہے۔ اس ناکارہ نے بھی اس موضوع پر ’’عقیدۂ ختمِ نبوّت‘‘ کے نام سے ایک رسالہ تحریر کیا ہے، جو ’’تحفۂ قادیانیت‘‘ جلد اوّل کا سرعنوان ہے۔ اس مقالے میں مختصراً چند نکات ذِکر کروں گا جو اِن شاء اللہ سامعین وقارئین کے لئے بھی مفید ہوں گے اور جدید بھی۔

44

عقیدۂ ختمِ نبوّت کی اہمیت:

عقیدۂ ختمِ نبوّت قطعی ویقینی بھی ہے اور ضروری بھی، اور اس کا اِنکار درحقیقت آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوّت کا اِنکار ہے، نعوذ باللہ!

اسلامی عقائد پر جو کتابیں لکھی گئی ہیں، ان میں عقیدۂ ختمِ نبوّت بمع اس کی تشریح کے بطورِ خاص ذِکر کیا گیا ہے، چنانچہ شرح عقائد نسفی میں ہے:

’’أوّل الأنبیاء آدم وآخرھم محمد صلی اللہ علیہ وسلم۔‘‘

ترجمہ:... ’’انبیائے کرام کی جماعت میں سب سے پہلے نبی آدم علیہ السلام ہیں، اور سب سے آخری حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم ہیں۔‘‘

یعنی سلسلۂ نبوّت کا آغاز حضرت آدم علیہ السلام سے ہوا، اور اس کا اِختتام حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر ہوا۔ چنانچہ اس بنی نوعِ انسان میں حضرت آدم علیہ السلام سے پہلے کوئی نبی نہیں ہوا، اور حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد کوئی نبی نہیں ہوا، نہ قیامت تک ہوگا۔ گویا جو شخص آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو آخر النبیین نہیں مانتا، وہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوّت ورِسالت کا منکر ہے۔

یہی وجہ ہے کہ جن لوگوں نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد نبوّت کا دعویٰ کیا، انہوں نے یا تو اپنے آپ کو اُمتِ محمدیہ ...علیٰ صاحبہا الصلوٰۃ والسلام... سے الگ کرلیا، جیسے بہائی فرقہ، یا انہوں نے عام لوگوں کو گمراہ کرنے کے لئے دجل وتلبیس کا جال پھیلایا، اور مختلف تأویلیں کیں، لیکن وہ اس کا اِنکار نہ کرسکے کہ عقیدۂ ختمِ نبوّت، اسلام کا قطعی عقیدہ ہے۔

مناسب ہوگا کہ یہاں قرآنِ کریم، حدیثِ نبوی، اور اِجماعِ اُمت کی روشنی میں عقیدۂ ختمِ نبوّت کا جائزہ لیا جائے، اور آخر میں عقلِ سلیم کی روشنی میں اس پر غور کیا جائے۔

45

عقیدۂ ختمِ نبوّت اور قرآنِ کریم:

حضرت شیخ الاسلام اِمام العصر مولانا محمد انور شاہ کشمیری نوّر اللہ مرقدہٗ نے اپنے رسالہ ’’خاتم النبیین‘‘ میں ذِکر کیا ہے کہ عقیدۂ ختمِ نبوّت قرآنِ کریم کی تقریباً ایک سو آیات میں صراحۃً واِشارۃً ذِکر فرمایا گیا ہے، یہاں چند آیات ذِکر کرتا ہوں:

۱... حق تعالیٰ شانہ‘ کا اِرشاد ہے:

’’مَا کَانَ مُحَمَّدٌ اَبَآ اَحَدٍ مِّنْ رِّجَالِکُمْ وَلٰـکِنْ رَّسُوْلَ اللہِ وَخَاتَمَ النَّبِیّٖنَ۔‘‘

(الاحزاب:۴۰)

ترجمہ:... ’’محمد تمہارے مردوں میں سے کسی کے باپ نہیں، لیکن اللہ کے رسول ہیں، اور سب نبیوں کے ختم پر ہیں۔‘‘

(ترجمہ: حضرت تھانویؒ)

اس آیت میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو خاتم النبیین فرمایا ہے، اور خاتم النبیین کی تفسیر خود آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے: ’’لَا نبی بعدی‘‘ کے ساتھ فرمادی، یعنی خاتم النبیین کے معنی یہ ہیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد کوئی نبی نہیں ہوگا، اور تفسیرِ نبوی کی روشنی میں تمام مفسرین اس پر متفق ہیں کہ خاتم النبیین کے معنی یہ ہیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد کسی شخص کو نبوّت عطا نہیں کی جائے گی، جن حضرات کو نبوّت ورِسالت کی دولت سے نوازا گیا اور رسول ونبی کے منصب پر ان کو فائز کیا گیا، ان میں سب سے آخری حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہیں۔

’’خاتم النبییّن‘‘ کی تشریح:

حضراتِ مفسرین نے اس آیت کے ذیل میں ’’خاتم النبیین‘‘ کے لغوی اور شرعی معنی تفصیل کے ساتھ ذِکر فرمائے ہیں، ان کی تحقیقات کا خلاصہ یہ ہے کہ اس آیت شریفہ میں دو قراء تیں ہیں: ’’خَاتَمَ النَّبِیّٖنَ‘‘ (بفتح تا) اور ’’خَاتِم النَّبِیّٖنَ‘‘ (بکسر تا)، اور ان دونوں کا حاصل یہ ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم آخری نبی ہیں۔ یہاں چند مفسرین کا حوالہ نقل کرتا ہوں۔

46

ابنِ جریرؒ:

ابنِ جریرؒ نقل فرماتے ہیں:

’’فقرأ ذٰلک قراء الأمصار سوی الحسن وعاصم بکسر التاء من خاتم النبیین بمعنی انہ ختم النبیین ...إلٰی قولہٖ... وقرأ ذٰلک فیما یذکر الحسن والعاصم وخاتم النبیین بفتح التاء بمعنی انہ آخر النبیین۔‘‘

(ابنِ جریر ج:۱۲ ص:۱۶)

ترجمہ:... ’’اس معنی میں کہ حسنؒ اور عاصمؒ کے سوا تمام قاریوں نے اس کو خاتم النبیین بکسر التاء پڑھا ہے، یعنی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تمام انبیاء کو ختم کردیا ...... اور جیسا کہ نقل کیا جاتا ہے قراء میں سے حسنؒ اور عاصمؒ نے اس لفظ کو خاتم النبیین بفتح التاء پڑھا ہے، اس معنی میں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نبیوں کی جماعت میں سب سے آخری نبی ہیں۔‘‘

ابنِ کثیرؒ:

ابنِ کثیرؒ اپنی تفسیر میں فرماتے ہیں:

’’فھٰذہ الآیۃ نص فی انہ لَا نبی بعدہ وإذا کان لَا نبی بعدہ فلا رسول بالطریق الأولٰی، لأن مقام الرسالۃ أخصّ من مقام النبوّۃ، فإن کل رسول نبی ولَا ینعکس، وبذٰلک وردت الأحادیث المتواترۃ عن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم من حدیث جماعۃ من الصحابۃ رضی اللہ عنھم۔‘‘

(ابنِ کثیر ج:۸ ص:۸۹)

ترجمہ:... ’’پس یہ آیت اس بات میں نصِ صریح ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد کوئی نبی نہیں، اور جب کوئی نبی نہ ہوا تو

47

رسول بدرجۂ اَولیٰ نہ ہوگا، کیونکہ مرتبہ رسالت کا بہ نسبت مرتبہ نبوّت کے خاص ہے، ہر رسول کا نبی ہونا ضروری ہے، اور ہر نبی کا رسول ہونا ضروری نہیں، اور اس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے احادیثِ متواترہ وارِد ہوئی ہیں، جن کو صحابہ کرام علیہم الرضوان کی ایک بڑی جماعت نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے نقل کیا ہے۔‘‘

کشاف:

علامہ زمخشری نے اپنی مشہور ومقبول تفسیر ’’کشاف‘‘ میں اس آیت کی شرح کرتے ہوئے فرمایا ہے:

’’خاتم بفتح التاء بمعنی الطابع وبکسرھا بمعنی الطابع وفاعل الختم وتقویہ قرائۃ عبداللہ بن مسعود ’’ولٰـکن نبیًّا ختم النبیین‘‘ فإن قلت کیف کان آخر الأنبیاء وعیسٰی علیہ السلام ینزل فی آخر الزمان؟ قلت: معنی کونہ آخر الأنبیاء أنہ لَا ینبّأ أحد بعدہ وعیسٰی ممّن نبیء قبلہ ...الخ۔‘‘ (کشاف ج:۳ ص:۵۴۴)

ترجمہ:... ’’خاتم بفتح التاء بمعنی آلہ مہر اور بکسر التاء بمعنی مہر کرنے والا یا ختم کرنے والا، اور اس معنی (یعنی ختم کرنے والا) کی تقویت کرتی ہے حضرت عبداللہ بن مسعودؓ کی قراء ت ’’ولٰـکن نبیًّا ختم النبیین‘‘ پس اگر آپ یہ کہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم آخر الانبیاء کس طرح ہوسکتے ہیں حالانکہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام آخر زمانے میں آسمان سے اُتریں گے؟ تو ہم کہیں گے کہ آپ کے آخر الانبیاء ہونے کے یہ معنی ہیں کہ آپ کے بعد کوئی شخص نبی نہ بنایا جائے گا، تو اَب نزولِ عیسیٰ علیہ السلام سے کچھ اِعتراض نہیں ہوسکتا

48

کیونکہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام ان لوگوں میں سے ہیں جو آپ سے پہلے بناکر بھیجے گئے۔‘‘

رُوح المعانی:

تفسیر رُوح المعانی میں ہے:

’’والمراد بالنبی ما ھو أعم من الرسول فیلزم من کونہ صلی اللہ علیہ وسلم خاتم النبیین کونہ خاتم المرسلین۔‘‘

(رُوح المعانی ج:۲۲ ص:۳۴)

ترجمہ:... ’’اور نبی سے مراد وہ ہے جو رسول سے عام ہے، پس آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے خاتم النبیین ہونے سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا خاتم المرسلین ہونا بھی لازم ہوگا۔‘‘

اور دُوسری جگہ فرماتے ہیں:

’’والمراد بکونہ علیہ الصلٰوۃ والسلام خاتمھم انقطاع حدوث وصف النبوۃ فی أحد من الثقلین بعد تحلیۃ علیہ الصلٰوۃ والسلام بھا فی ھٰذہ النشاۃ، ولَا یقدح فی ذٰلک ما أجمعت علیہ الاُمّۃ واشتھرت فیہ الأخبار ولعلھا بلغت مبلغ التواتر المعنوی ونطق بہ الکتاب علٰی قول ووجب الْإیمان بہ وأکفر منکرہ کالفلاسفۃ من نزول عیسٰی علیہ السلام آخر الزمان لأنہ کان نبیًّا قبل تحلی نبینا صلی اللہ علیہ وسلم بالنبوۃ فی ھٰذہ النشاۃ۔‘‘

(رُوح المعانی ج:۲۲ ص:۳۴)

ترجمہ:... ’’اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے خاتم النبیین ہونے سے مراد یہ ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اس عالم میں وصفِ نبوّت کے ساتھ متصف ہونے کے بعد وصفِ نبوّت کا پیدا ہونا

49

بالکل منقطع ہوگیا، جن و اِنس میں سے کسی میں اب یہ وصف پیدا نہیں ہوسکتا۔ اور یہ مسئلۂ ختمِ نبوّت اس عقیدے سے ہرگز متعارض نہیں جس پر اُمت نے اِجماع کیا ہے، اور جس میں احادیث شہرت کو پہنچی ہوئی ہیں اور شاید درجۂ تواترِ معنوی کو پہنچ جائیں، اور جس پر قرآن نے تصریح کی ہے اور جس پر اِیمان لانا واجب ہے، اور اس کے منکر مثلاً فلاسفہ کو کافر سمجھا گیا ہے، یعنی عیسیٰ علیہ السلام کا آخری زمانے میں نازل ہونا۔ کیونکہ وہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے اس عالم میں نبوّت ملنے سے پہلے وصفِ نبوّت کے ساتھ متصف ہوچکے تھے۔‘‘

نیز اسی آیت کی تشریح کرتے ہوئے صاحبِ رُوح المعانی فرماتے ہیں:

’’وکونہ صلی اللہ علیہ وسلم خاتم النبیین مما نطق بہ الکتاب وصدعت بہ السُّنّۃ وأجمعت علیہ الاُمّۃ فیکفر مدعی خلافہ ویقتل إن أصر۔‘‘

(رُوح المعانی ج:۲۲ ص:۴۱)

ترجمہ:... ’’اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا آخر النبیین ہونا ان عقائد میں سے ہے جن پر قرآن ناطق ہے، اور جن پر اَحادیث نے صاف صاف تصریح کی، اور جن پر اُمت نے اِجماع کیا، اس لئے اس کے برخلاف کا دعویٰ کرنے والے کو کافر سمجھا جائے گا، اور اگر توبہ نہ کرے تو قتل کردیا جائے۔‘‘

زرقانی:

اور علامہ زرقانی رحمہ اللہ شرح مواہب لدنیہ میں آیتِ مذکورہ کی توضیح کرتے ہوئے فرماتے ہیں:

’’ومنھا (یعنی من خصائصہ علیہ السلام) انہ خاتم الأنبیاء والمرسلین کما قال تعالٰی: ولٰـکن رسول
50

اللہ وخاتم النبیّٖن، أی آخرھم الذی ختمھم، أو ختموا بہ، علٰی قرائۃ عاصم بالفتح۔ وروی أحمد والترمذی والحاکم باسناد صحیح عن أنس مرفوعًا ان الرسالۃ والنبوۃ قد انقطعت فلا رسول بعدی ولَا نبی۔ قیل من لَا نبیء بعدہ یکون أشفق علٰی اُمّتہ وھو کوالد لولد لیس لہ غیرہ ولَا یقدح نزول عیسٰی علیہ السلام بعدہ لأنہ یکون علٰی دینہ مع أن المراد أنہ آخر من نبیء۔‘‘

(زرقانی شرح مواہب ج:۵ ص:۲۶۷)

ترجمہ:... ’’اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی خصوصیات میں سے یہ بھی ہے کہ آپ سب انبیاء اور رُسل کے ختم کرنے والے ہیں، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے: ’’ولٰـکن رسول اللہ وخاتم النبیّٖن‘‘ یعنی آخر النبیین، جس نے انبیاء کو ختم کیا، یا وہ جس پر اَنبیاء ختم کئے گئے، اور یہ معنی عاصمؒ کی قراء ت یعنی بالفتح کے مطابق ہیں، اور اِمام احمدؒ اور ترمذیؒ اور حاکمؒ نے باسناد صحیح حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت کیا ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ: رِسالت ونبوّت منقطع ہوچکی، نہ میرے بعد کوئی رسول ہے، اور نہ نبی، کہا جاتا ہے کہ جس نبی کے بعد کوئی اور نبی نہ ہو، وہ اپنی اُمت کے لئے زیادہ شفیق ہوگا اور وہ مثل اس باپ کے ہے کہ جس کی اولاد کے لئے اس کے بعد تربیت اور نگرانی کرنے والا نہ ہو، اور نزولِ عیسیٰ علیہ السلام سے ختمِ نبوّت پر کوئی اِعتراض نہیں ہوسکتا اس لئے کہ عیسیٰ علیہ السلام اس وقت آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے دِین پر ہوں گے، علاوہ بریں ختمِ نبوّت سے مراد یہ ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سب سے آخر میں نبی بنائے گئے، اور ظاہر ہے کہ عیسیٰ علیہ السلام

51

پہلے نبی بن چکے ہیں۔‘‘

خلاصہ یہ کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم قیامت تک کے لئے پوری نوعِ انسانی کے لئے مبعوث فرمائے گئے ہیں، آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوّت کا آفتابِ عالم تاب قیامت تک روشن رہے گا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد نہ کسی نبی کی ضرورت ہے اور نہ گنجائش...!

۲:... ’’اَلْیَوْمَ اَکْمَلْتُ لَکُمْ دِیْنَکُمْ وَاَتْمَمْتُ عَلَیْکُمْ نِعْمَتِیْ وَرَضِیْتُ لَکُمُ الْاِسْلٰمَ دِیْنًا۔‘‘ (المائدۃ:۳)

ترجمہ:... ’’آج میں نے تمہارا دِین کامل کردیا، اور اپنی نعمت تم پر تمام کردی، اور تمہارے لئے دِین اسلام ہی کو پسند کیا۔‘‘

یہ آیت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے آخری حج حجۃالوداع میں جمعہ کے دن ۹؍ذوالحجہ کو نازل ہوئی، اور اس کے بعد آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ۸۰-۸۱ دِن دُنیا میں رونق افروز رہے، اور اس آیت شریفہ کے بعد حلت یا حرمت کا کوئی حکم نازل نہیں ہوا۔

اس آیت شریفہ میں دِین کے باہمہ وجوہ کامل ہونے اور نعمتِ خداوندی کے پورا ہونے کا اِعلان فرمایا گیا ہے۔ اور چونکہ قیامت تک کے لئے دِین کی تکمیل کا اِعلان کردیا گیا، اس لئے یہ اِعلان آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے خاتم النبیین ہونے کو بھی متضمن ہے۔ حافظ ابنِ کثیرؒ لکھتے ہیں کہ:

’’ھٰذہ أکبر نِعَم اللہ تعالٰی علٰی ھٰذہ الاُمّۃ حیث أکمل تعالٰی دینھم فلا یحتاجون إلٰی دین غیرہ ولَا إلٰی نبی غیر نبیھم صلوات اللہ وسلامہ علیہ۔ ولھٰذا جعلہ اللہ تعالٰی خاتم الأنبیاء وبعثہ إلی الْإنس والجِنّ۔‘‘

(ابنِ کثیر ج:۲ ص:۱۳)

ترجمہ:... ’’یہ اس اُمت پر اللہ تعالیٰ کی سب سے بڑی نعمت ہے کہ اس نے ان کے لئے دِین کو کامل فرمایا، لہٰذا اُمتِ محمدیہ

52

نہ اور کسی دِین کی محتاج ہے، نہ اور کسی نبی کی، اور اس لئے اللہ تعالیٰ نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو خاتم الانبیاء بنایا، اور تمام جن وبشر کی طرف مبعوث فرمایا۔‘‘

اس آیت شریفہ سے معلوم ہوا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم قیامت تک کے لئے تمام اِنسانوں اور جنوں کے لئے رسول ہیں، اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی تشریف آوری کے بعد قیامت تک کوئی نبی مبعوث نہیں ہوگا۔

۳:... حضرت آدم علیہ الصلوٰۃ والسلام سے سلسلۂ نبوّت شروع ہوا تو اِعلان ہوا کہ:

’’یٰـبَنِیْٓ اٰدَمَ اِمَّا یَاْتِیَنَّکُمْ رُسُلٌ مِّنْکُمْ یَقُصُّوْنَ عَلَیْکُمْ اٰیٰـتِیْ ...۔۔‘‘

(الاعراف:۳۵)

ترجمہ:... ’’اے اولاد آدم کی! اگر تمہارے پاس میرے پیغمبر آویں جو تم ہی میں سے ہوں گے، جو میرے اَحکام تم سے بیان کریں گے۔‘‘

لیکن حضرت عیسیٰ علیہ الصلوٰۃ والسلام جو خاتم انبیائے بنی اسرائیل ہیں، ان کی زبان مبارک سے یہ اعلان فرمایا گیا کہ میرے بعد ایک رسول آئے گا جن کا نامِ نامی اور اسمِ گرامی احمد ہوگا، ...صلی اللہ علیہ وسلم... جیسا کہ اِرشادِ باری ہے:

’’وَمُبَشِّرًام بِرَسُوْلٍ یَّاْتِیْ مِنْم بَعْدِی اسْمُہٗٓ اَحْمَدُ‘‘

(الصف:۶)

ترجمہ:... ’’اور میرے بعد جو ایک رسول آنے والے ہیں، جن کا نام (مبارک) احمد ہوگا، میں ان کی بشارت دینے والا ہوں۔‘‘

اس سے معلوم ہوا کہ حضرت عیسیٰ علیہ الصلوٰۃ والسلام کے بعد صرف ایک رسول کا آنا باقی تھا، اور وہ ہیں محمد مصطفی احمد مجتبیٰ صلی اللہ علیہ وسلم، ان کی تشریف آوری کے بعد قیامت تک ان کے علاوہ کسی اور نبی ورسول کی آمد متوقع نہیں۔

۴:... قرآنِ کریم کی متعدّد آیاتِ شریفہ میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے قبل

53

نازل ہونے والی وحی اور کتاب پر اِیمان لانے کا حکم دیا گیا ہے، مثلاً:

۱- ’’وَالَّذِیْنَ یُؤْمِنُوْنَ بِمَآ اُنْزِلَ اِلَیْکَ وَمَآ اُنْزِلَ مِنْ قَبْلِکَ وَبِالْاٰخِرَۃِ ھُمْ یُوْقِنُوْنَ‘‘

(البقرۃ:۴)

ترجمہ:... ’’اور وہ لوگ ایسے ہیں کہ یقین رکھتے ہیں اس کتاب پر بھی جو آپ کی طرف اُتاری گئی ہے، اور ان کتابوں پر بھی جو آپ سے پہلے اُتاری جاچکی ہیں، اور آخرت پر بھی وہ لوگ یقین رکھتے ہیں۔‘‘

۲- ’’لٰـکِنِ الرّٰسِخُوْنَ فِی الْعِلْمِ مِنْھُمْ وَالْمُؤْمِنُوْنَ یُؤْمِنُوْنَ بِمَآ اُنْزِلَ اِلَیْکَ وَمَآ اُنْزِلَ مِنْ قَبْلِکَ‘‘

(النساء:۱۶۲)

ترجمہ:... ’’لیکن ان میں جو لوگ علم (دِین) میں پختہ ہیں اور جو (ان میں) اِیمان لے آنے والے ہیں کہ اس (کتاب) پر بھی اِیمان لاتے ہیں جو آپ کے پاس بھیجی گئی اور (اس پر بھی اِیمان رکھتے ہیں) جو آپ سے پہلے بھیجی گئی تھی۔‘‘

۳- ’’یٰٓـاَیُّھَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْٓا اٰمِنُوْا بِاللہِ وَرَسُوْلِہٖ وَالْکِتٰبِ الَّذِیْ نَزَّلَ عَلٰی رَسُوْلِہٖ وَالْکِتٰبِ الَّذِیْٓ اَنْزَلَ مِنْ قَبْلُ‘‘

(النساء:۱۳۶)

ترجمہ:... ’’اے ایمان لانے والو! اِیمان لاؤ اللہ پر اور اس کے رسول (محمد صلی اللہ علیہ وسلم) پر اور اس کتاب پر جس کو نازل کیا اپنے رسول پر، اور اُس کتاب پر جو نازل کی تھی پہلے۔‘‘

۴- ’’وَلَقَدْ اُوْحِیَ اِلَیْکَ وَاِلَی الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِکَ‘‘

(الزمر:۶۵)

ترجمہ:... ’’اور آپ کی طرف بھی اور جو پیغمبر آپ سے پہلے

54

ہوگزرے ہیں ان کی طرف یہ (بات) وحی میں بھیجی جاچکی ہے۔‘‘

۵- ’’اَلَمْ تَرَ اِلَی الَّذِیْنَ یَزْعُمُوْنَ اَنَّھُمْ اٰمَنُوْا بِمَآ اُنْزِلَ اِلَیْکَ وَمَآ اُنْزِلَ مِنْ قَبْلِکَ‘‘

(النساء:۶۰)

ترجمہ:... ’’کیا آپ نے ان لوگوں کو نہیں دیکھا جو دعویٰ کرتے ہیں کہ وہ اس کتاب پر بھی اِیمان رکھتے ہیں جو آپ کی طرف نازل کی گئی اور اس کتاب پر بھی جو آپ سے پہلے نازل کی گئی۔‘‘

۶- ’’کَذٰلِکَ یُوْحِیْٓ اِلَیْکَ وَاِلَی الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِکَ اللہُ الْعَزِیْزُ الْحَکِیْمُ‘‘

(الشوریٰ:۳)

ترجمہ:... ’’ایسے ہی وحی بھیجتا ہے اللہ تعالیٰ آپ کی طرف اور آپ سے پہلوں کی طرف، جو زبردست اور حکمت والا ہے۔‘‘

ان آیاتِ شریفہ سے معلوم ہوا کہ قرآنِ کریم کے بعد کوئی کتاب اور کوئی وحی اور کوئی خطابِ اِلٰہی ایسا باقی نہیں رہا کہ اس پر اِیمان لانا واجب ہو، بلکہ جو وحی کہ انبیائے کرام علیہم السلام کے ساتھ مخصوص ہے، اور جو اِنسانوں کے لئے واجب الایمان ہے، وہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد باقی نہیں رہی، اس لئے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد کوئی نبی اور رسول آنے والا نہیں، اور یہ ناممکن ہے کہ دُنیا میں کوئی نبی ورسول آئے اور اس پر ایسی وحی نازل نہ ہو جس پر اِیمان لانا واجب ہو۔

۵:... قرآنِ کریم کی متعدّد آیات میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی اُمت کو ایک ہی اُمت شمار کرتے ہوئے اس اُمت کا دامن قیامِ قیامت تک پھیلایا گیا، مثلاً:

۱- ’’کُنْتُمْ خَیْرَ اُمَّۃٍ اُخْرِجَتْ لِلنَّاسِ‘‘

(آل عمران:۱۱۰)

ترجمہ:... ’’تم لوگ اچھی جماعت ہو کہ وہ جماعت لوگوں کے لئے ظاہر کی گئی۔‘‘

۲- ’’وَکَذٰلِکَ جَعَلْنٰـکُمْ اُمَّۃً وَّسَطًا لِّتَکُوْنُوْا

55

شُھَدَآئَ عَلَی النَّاسِ وَیَکُوْنَ الرَّسُوْلُ عَلَیْکُمْ شَھِیْدًا‘‘

(البقرۃ:۱۴۳)

ترجمہ:... ’’اور ہم نے تم کو ایسی ہی ایک جماعت بنادی ہے جو (ہر پہلو سے) اِعتدال پر ہے تاکہ تم (مخالف) لوگوں کے مقابلے میں گواہ ہو، اور تمہارے لئے رسول ...صلی اللہ علیہ وسلم... گواہ ہوں۔‘‘

۳- ’’فَکَیْفَ اِذَا جِئْنَا مِنْ کُلِّ اُمَّۃٍ مبِشَھِیْدٍ وَّجِئْنَا بِکَ عَلٰی ھٰٓـؤُلَآءِ شَھِیْدًا‘‘

(النساء:۴۱)

ترجمہ:... ’’سو اس وقت بھی کیا حال ہوگا جبکہ ہم ہر ہر اُمت میں سے ایک ایک گواہ کو حاضر کریں گے اور آپ ...صلی اللہ علیہ وسلم... کو ان لوگوں پر گواہی دینے کے لئے حاضر لاویں گے۔‘‘

ان آیات سے ثابت ہے کہ نہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد کوئی نبی ہے، نہ اُمتِ محمدیہ کے بعد کوئی اُمت۔ اس لئے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

’’أَنَا آخِرُ الْأَنْبِیَاءِ وَأَنْتُمْ آخِرُ الْأُمَمِ۔‘‘

ترجمہ:... ’’میں آخری نبی ہوں، اور تم آخری اُمت ہو۔‘‘

۶:... قرآنِ کریم میں بار بار آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے پہلے کے انبیائے کرام علیہم السلام کا تذکرہ کیا گیا ہے، لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد کسی رسول کے آنے کی طرف کوئی ہلکا سا اِشارہ بھی نہیں کیا گیا، مثلاً:

۱- ’’وَمَآ اَرْسَلْنَا مِنْ قَبْلِکَ مِنْ رَّسُوْلٍ...۔۔‘‘

(الانبیاء:۲۵)

ترجمہ:... ’’اور ہم نے آپ سے پہلے کوئی ایسا پیغمبر نہیں بھیجا......‘‘

56

۲- ’’وَمَآ اَرْسَلْنَا مِنْ قَبْلِکَ مِنْ رَّسُوْلٍ وَّلَا نَبِیٍّ...۔۔‘‘

(الحج:۵۲)

ترجمہ:... ’’اور (اے محمد صلی اللہ علیہ وسلم!) ہم نے آپ کے قبل کوئی رسول اور کوئی نبی ایسا نہیں بھیجا ...۔۔‘‘

۳- ’’وَمَآ اَرْسَلْنَا قَبْلَکَ مِنَ الْمُرْسَلِیْنَ ...۔۔‘‘

(الفرقان:۲۰)

ترجمہ:... ’’اور ہم نے آپ سے پہلے جتنے پیغمبر بھیجے ...۔۔‘‘

اس قسم کی آیات بہت زیادہ ہیں، ’’المعجم المفہرس لألفاظ القرآن‘‘ میں اس نوع کی آیات بتیس ذِکر کی گئی ہیں۔

ظاہر ہے کہ اگر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد کوئی نبوّت مقدّر ہوتی اور ان نبیوں کے اِنکار سے اُمت کی تکفیر لازم آتی تو لامحالہ وصیت وتاکید ہوتی کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد بھی نبی آئیں گے، ایسا نہ ہو کہ ان میں سے کسی کا اِنکار کرکے ہلاک ہوجاؤ۔

آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے پہلے نبیوں کے ذِکر کرنے کی بجائے اس سے زیادہ اہم یہ تھا کہ بعد میں آنے والے نبیوں کو ذِکر کیا جاتا، کیونکہ انبیائے سابقین پر اِیمانِ اِجمالی بھی کافی تھا خواہ ان کی تعداد جو بھی ہو، بخلاف بعد میں آنے والے نبیوں کے کہ ان کے ساتھ اُمت کو معاملہ پیش آنا تھا، اس لئے ضروری تھا کہ ان کا ذِکر تاکید کے ساتھ کیا جاتا، لیکن پورے قرآن میں ایک بھی آیت ایسی نہیں جس میں بعد میں آنے والے کسی نبی کا تذکرہ ہو، معلوم ہوا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم آخری نبی ہیں اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد قیامت تک کوئی نبی آنے والا نہیں ہے۔

ان نکات میں، میں نے قرآنِ کریم کی جن آیات کا حوالہ دِیا ہے ان میں ختمِ نبوّت کے مسئلے کو ہر پہلو سے روشن کردیا گیا ہے، اور ان سے آیت ’’خاتم النبیین‘‘ کی تفسیر باَکمل وجوہ معلوم ہوجاتی ہے کہ اس سے مراد ہے آخری نبی، جس کے بعد کوئی دُوسرا نبی مبعوث نہ ہو۔

57

تنبیہ:

اگر کسی کو خیال ہو کہ جب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد قیامت تک کوئی نبی آنے والا نہیں ہے، تو حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی دوبارہ تشریف آوری کیسے ثابت ہوسکتی ہے؟ تو جواب اس کا یہ ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ الصلوٰۃ والسلام آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے پہلے کے نبی ہیں، جیسا کہ اُوپر سورۂ صف کی آیت نقل کرچکا ہوں:

’’وَمُبَشِّرًام بِرَسُوْلٍ یَّاْتِیْ مِنْم بَعْدِی اسْمُہٗٓ اَحْمَدُ‘‘

(الصف:۶)

ترجمہ:... ’’اور میرے بعد جو ایک رسول آنے والے ہیں، جن کا نام (مبارک) احمد ہوگا، میں ان کی بشارت دینے والا ہوں۔‘‘

معلوم ہوا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم، حضرت عیسیٰ علیہ الصلوٰۃ والسلام کے بعد آنے والے تھے، چنانچہ حضرت عیسیٰ علیہ الصلوٰۃ والسلام کی بشارت کے مطابق آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے، حضرت عیسیٰ علیہ الصلوٰۃ والسلام چونکہ پہلے تشریف لائے تھے، اس لئے وہ انبیائے سابقین کی فہرست میں شامل ہیں۔

اور اُمتِ محمدیہ تمام انبیاء علیہم الصلوات والسلام پر پہلے سے اِیمان لاچکی ہے، البتہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے احادیثِ متواترہ میں اس کی اِطلاع دی ہے کہ عیسیٰ علیہ السلام آسمان پر زِندہ اُٹھالئے گئے ہیں اور قربِ قیامت میں جب کانا دَجال نکلے گا تو اس کو قتل کرنے کے لئے تشریف لائیں گے۔

اس ناکارہ نے ’’حضرت عیسیٰ علیہ الصلوٰۃ والسلام کی حیات ونزول کا عقیدہ‘‘ کے نام سے ایک رسالہ لکھا ہے جو ’’تحفۂ قادیانیت‘‘ جلد سوم کا پہلا رسالہ ہے، اس میں مستند حوالوں سے ثابت کیا ہے کہ قربِ قیامت میں عیسیٰ علیہ الصلوٰۃ والسلام کے نازل ہونے پر اللہ کا عہد ہے اور یہ تمام انبیائے کرام علیہم السلام کا اِجماعی عقیدہ ہے، تمام صحابہ کرام رضوان

58

اللہ علیہم اجمعین کا اس پر اِجماع ہے، اور صحابہؓ کے بعد چودہ صدیوں کے مجدّدین واکابرِ اُمت بھی اس پر متفق ہیں،واللہ الموفق!

’’خاتم النبیین‘‘ کا مفہوم احادیثِ متواترہ کی روشنی میں:

آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے تقریباً دو سو اَحادیث میں علیٰ رُؤس الاشہاد مسئلہ ختمِ نبوّت کو بیان فرمایا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم آخری نبی ہیں، آپ کے بعد کوئی نبی نہیں آئے گا، لیکن کسی حدیث میں اس طرف اِشارہ بھی نہیں فرمایا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد سلسلۂ نبوّت جاری رہے گا یا یہ کہ انبیاء آتے رہیں گے۔ ختمِ نبوّت پر چند اَحادیث ملاحظہ فرمائیں:

۱:... حضرت علی رضی اللہ عنہ سے فرمایا:

’’أَنْتَ مِنِّیْ بِمَنْزِلَۃِ ھَارُوْنَ مِنْ مُّوْسٰی إِلّا أَنَّہٗ لَا نَبِیَّ بَعْدِیْ۔‘‘

(صحیح بخاری ج:۲ ص:۶۳۳، صحیح مسلم ج:۲ ص:۲۷۸)

ترجمہ:... ’’یعنی تم مجھ سے وہی نسبت رکھتے ہو جو ہارون کو موسیٰ (علیہما السلام) سے تھی، مگر میرے بعد کوئی نبی نہیں ہے۔‘‘

اور صحیح مسلم کی ایک روایت میں ہے:

’’إِلّا أَنَّہٗ لَا نُبُوَّۃَ بَعْدِیْ۔‘‘

ترجمہ:... ’’مگر میرے بعد نبوّت نہیں۔‘‘

یہ حدیث ان پندرہ صحابہ کرامؓ سے مروی ہے: حضرت سعد بن ابی وقاص، حضرت جابر بن عبداللہ، حضرت عمر، حضرت علی، حضرت اسماء بنت عمیس، حضرت ابوسعید خدری، حضرت ابوایوب انصاری، حضرت جابر بن سمرہ، حضرت اُمِّ سلمہ، حضرت براء بن عازب، حضرت زید بن ارقم، حضرت عبداللہ بن عمر، حضرت حبشی بن جنادہ، حضرت مالک بن حسن بن حویرث، حضرت زید بن ابی اوفیٰ ...رضوان اللہ علیہم اجمعین... جن کو میں نے

59

اپنے رسالے ’’عقیدۂ ختمِ نبوّت‘‘ میں، باحوالہ ذِکر کیا ہے۔

حضرت ہارون، حضرت موسیٰ ...علیہما السلام... کے تابع تھے، اور ان کی کتاب وشریعت کے پابند تھے، گویا غیرتشریعی نبی تھے، لیکن آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے بعد ایسی نبوّت کی بھی نفی فرمادی، معلوم ہوا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد قیامت تک نہ کوئی تشریعی نبی آسکتا ہے، نہ غیرتشریعی۔

۲:... ’’عَنْ أَبِیْ ھُرَیْرَۃَ رَضِیَ اللہُ عَنْہُ عَنِ النَّبِیِّ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَالَ: کَانَتْ بَنُوْ إِسْرَاءِیْلَ تَسُوْسُھُمُ الْأَنْبِیَائَ، کُلَّمَا ھَلَکَ نَبِیٌّ خَلَفَہٗ نَبِیٌّ، وَإِنَّہٗ لَا نَبِیَّ بَعْدِیْ، وَسَیَکُوْنَ خُلَفَائُ فَیَکْثِرُوْنَ، قَالُوْا: فَمَا تَأْمُرُنَا یَا رَسُوْلَ اللہِ؟ قَالَ: فُوْا بِبَیْعَۃِ الْأَوَّلُ فَالْأَوَّلُ، أَعْطُوْھُمْ حَقَّھُمْ فَإِنَّ اللہَ سَاءِلُھُمْ عَمَّا اسْتَرْعَاھُمْ۔‘‘

(صحیح بخاری ج:۱ ص:۴۹۱، صحیح مسلم ج:۲ ص:۱۲۶، مسندِ احمد ج:۲ ص:۲۹۷، مشکوٰۃ ص:۳۲۰)

ترجمہ:... ’’حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بنی اِسرائیل کی قیادت خود ان کے نبی کرتے تھے، جب ایک نبی کی وفات ہوجاتی تو اس کی جگہ دُوسرا آجاتا، لیکن میرے بعد کوئی نبی نہیں، البتہ خلفاء ہوں گے اور بہت ہوں گے۔ صحابہؓ نے عرض کیا: ہمیں آپ کیا حکم فرماتے ہیں؟ فرمایا: جس سے پہلے بیعت ہوجائے اس کی بیعت کو پورا کرو، اسی طرح درجہ بدرجہ ان کو ان کا حق دو، کیونکہ اللہ تعالیٰ ان سے ان کی رعیت کے بارے میں خود سوال کرلیں گے۔‘‘

انبیائے بنی اِسرائیل سابقہ شریعت پر قائم تھے، خود اپنی شریعت نہیں رکھتے تھے، گویا غیرتشریعی نبی تھے، اور ان انبیائے کرام علیہم الصلوٰۃ والسلام کا ذِکر کرکے فرمایا کہ: میرے بعد کوئی نبی نہیں۔ معلوم ہوا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد نہ صرف یہ کہ

60

صاحبِ شریعت نبی نہیں آسکتے، بلکہ غیرتشریعی انبیاء کی آمد بھی بند کردی گئی، اور یہ بھی اِرشاد فرمایا کہ: اس اُمت کو اَنبیاء کے بجائے خلفاء سے واسطہ پڑے گا۔

۳:... آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ختمِ نبوّت کی ’’حسی‘‘ مثال بیان فرمائی، فرمایا:

’’مَثَلِیْ وَمَثَلُ الْأَنْبِیَاءِ مِنْ قَبْلِیْ کَمَثَلِ رَجُلٍ بَنٰی بُنْیَانًا فَأَحْسَنَہٗ وَأَجْمَلَہٗ إِلّا مَوْضِعَ لَبِنَۃٍ مِنْ زَاوِیَۃٍ مِّنْ زَوَایَاہُ، فَجَعَلَ النَّاسَ یَطُوْفُوْنَ بِالْبِنَاءِ وَیَتَعَجَّبُوْنَ لَہٗ وَیَقُوْلُوْنَ: ھَلّا وُضِعَتْ ھٰذِہِ اللَّبِنَۃُ؟ قَالَ: فَأَنَا اللَّبِنَۃُ، وَأَنَا خَاتَمُ النَّبِیِّیْنَ۔‘‘

(صحیح بخاری ج:۱ ص:۵۰۱، صحیح مسلم ج:۲ ص:۳۴۸ واللفظ لہٗ)

ترجمہ:... ’’میری اور مجھ سے پہلے انبیاء کی مثال ایسی ہے جیسے کہ ایک شخص نے بہت حسین وجمیل محل بنایا مگر اس کے کسی کونے میں ایک اِینٹ کی جگہ چھوڑ دی۔ لوگ اس کے گرد گھومنے لگے اور اس پر عش عش کرنے لگے، اور کہنے لگے کہ: یہ ایک اِینٹ کیوں نہیں لگادی گئی؟ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں وہی آخری اِینٹ ہوں اور میں نبیوں کو ختم کرنے والا ہوں۔‘‘

یہ حدیث حضرت ابوسعید خدریؓ سے بھی مروی ہے۔

اس حدیث پاک میں حسی مثال سے سمجھایا کہ نبوّت کے محل میں صرف ایک اِینٹ کی جگہ باقی تھی جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی تشریف آوری سے پُر ہوچکی ہے اور قصرِ نبوّت پایۂ تکمیل کو پہنچ چکا ہے، اب کسی اور نبی کی گنجائش ہی نہیں۔

۴:... آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بھی سمجھایا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا ساری مخلوق کی طرف مبعوث ہونا اور آپ کے ذریعے سے انبیائے کرام علیہم السلام کی آمد کا سلسلہ بند ہوجانا، آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی خصوصیت ہے:

’’عَنْ أَبِیْ ھُرَیْرَۃَ رَضِیَ اللہُ عَنْہُ أَنَّ رَسُوْلَ اللہِ
61

صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَالَ: فُضِّلْتُ عَلَی الْأَنْبِیَاءِ بِسِتٍّ: أُعْطِیْتُ جَوَامِعَ الْکَلِمِ، وَنُصِرْتُ بِالرُّعْبِ، وَأُحِلَّتْ لِیَ الْغَنَاءِمُ، وَجُعِلَتْ لِیَ الْأَرْضُ طُھُوْرًا وَّمَسْجِدًا، وَأُرْسِلْتُ إِلَی الْخَلْقِ کَافَّۃً وَّخُتِمَ بِیَ النَّبِیُّوْنَ۔‘‘

(صحیح مسلم ج:۱ ص:۱۹۹، مشکوٰۃ شریف ص:۵۱۲)

ترجمہ:... ’’حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ: مجھ چھ چیزوں میں انبیائے کرام علیہم السلام پر فضیلت دی گئی ہے: ۱-مجھے جامع کلمات عطا کئے گئے ہیں۔ ۲-رُعب کے ساتھ میری مدد کی گئی ہے۔ ۳-مالِ غنیمت میرے لئے حلال کردیا گیا ہے۔ ۴-رُوئے زمین کو میرے لئے پاک کرنے والی چیز اور مسجد بنادیا گیا ہے۔ ۵-مجھے تمام مخلوق کی طرف مبعوث کیا گیا ہے۔ ۶-اور مجھ پر نبیوں کا سلسلہ ختم کردیا گیا ہے۔‘‘

اس مضمون کی ایک حدیث صحیحین میں حضرت جابرؓ سے مروی ہے، جس میں پانچ خصائص کا ذِکر ہے، اور اس کے آخر میں ہے:

’’وَکَانَ النَّبِیُّ یُبْعَثُ إِلٰی قَوْمِہٖ خَاصَّۃً وَّبُعِثْتُ إِلَی النَّاسِ عَامَّۃً۔‘‘

(مشکوٰۃ ص:۵۱۲)

ترجمہ:... ’’پہلے انبیاء کو خاص ان کی قوم کی طرف مبعوث کیا جاتا تھا، اور مجھے تمام اِنسانوں کی طرف مبعوث کیا گیا ہے۔‘‘

اس حدیث سے معلوم ہوا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو قیامت تک کے تمام اِنسانوں کی طرف مبعوث کیا گیا ہے، اس لئے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد کسی نبی کے آنے کی گنجائش نہیں، لہٰذا جو شخص آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد نبوّت ورِسالت کا دعویٰ کرتا ہے وہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی تکذیب کرتا ہے، اور ایسا شخص دجال وکذّاب

62

ہے، چنانچہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسے دجالوں اور کذّابوں کے ظہور کی پیش گوئی بھی فرمائی ہے:

۵:... ’’عَنْ ثَوْبَانَ رَضِیَ اللہُ عَنْہُ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ: إِنَّہٗ سَیَکُوْنُ فِیْ أُمَّتِیْ کَذَّابُوْنَ ثَلَاثُوْنَ کُلُّھُمْ یَزْعَمُ أَنَّہٗ نَبِیٌّ وَّأَنَا خَاتَمُ النَّبِیِّیْنَ لَا نَبِیَّ بَعْدِیْ۔‘‘

(ابوداؤد ج:۲ ص:۲۲۸، ترمذی ج:۲ ص:۴۵)

ترجمہ:... ’’حضرت ثوبان رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ: میری اُمت میں تیس جھوٹے پیدا ہوں گے، ان میں سے ہر ایک یہی دعویٰ کرے گا کہ وہ نبی ہے، حالانکہ میں خاتم النبیین ہوں، میرے بعد کوئی نبی نہیں۔‘‘

یہ حدیث حضرت ثوبانؓ کے علاوہ گیارہ صحابہؓ سے مروی ہے، جن کو میں اپنے رسالے ’’عقیدۂ ختمِ نبوّت‘‘ میں باحوالہ نقل کرچکا ہوں، اس سے معلوم ہوا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اس اُمت میں نبوّت ورِسالت کا سلسلہ جاری رہنے کے بجائے جھوٹے مدعیانِ نبوّت کے ظہور کی اِطلاع دی ہے، اور اس اُمت میں نبوّت ورِسالت کے اِنقطاع کی خبر دی ہے، چنانچہ حدیث مبارکہ ہے:

۶:... ’’عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ رَضِیَ اللہُ عَنْہُ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ: إِنَّ الرِّسَالَۃَ وَالنُّبُوَّۃَ قَدِ انْقَطَعَتْ فَلَا رَسُوْلَ بَعْدِیْ وَلَا نَبِیَّ۔‘‘

(ترمذی ج:۲ ص:۱۵، مسندِ احمد ج:۳ ص:۲۶۷)

ترجمہ:... ’’حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ: نبوّت ورِسالت ختم ہوچکی ہے، پس میرے بعد نہ کوئی رسول ہے نہ کوئی نبی۔‘‘

حافظ ابنِ حجر رحمۃ اللہ علیہ نے ’’فتح الباری‘‘ میں اس حدیث میں بروایت

63

ابویعلیٰ اتنا اِضافہ نقل کیا ہے کہ:

’’وَلٰـکِنْ بَقِیَتْ مُبَشِّرَاتٌ، قَالُوْا: وَمَا الْمُبَشِّرَاتُ؟ قَالَ: رُؤْیَا الْمُسْلِمِیْنَ جُزْئٌ مِّنْ أَجْزَاءِ النُّبُوَّۃِ۔‘‘

(فتح الباری ج:۱۲ ص:۳۷۵)

ترجمہ:... ’’لیکن مبشرات باقی رہ گئے ہیں، صحابہؓ نے عرض کیا کہ: مبشرات کیا ہیں؟ فرمایا کہ: مؤمن کا خواب جو نبوّت کے اجزا میں سے ایک جز ہے۔‘‘

یہ حدیث حضرت انسؓ کے علاوہ حضرت ابوہریرہؓ، حضرت عائشہؓ، حضرت حذیفہ بن اُسیدؓ، حضرت ابنِ عباسؓ، حضرت اُمّ کرز الکعبیہؓ سے بھی مروی ہے۔

اس سے معلوم ہوا کہ نبوّت ورِسالت کا دروازہ بند ہوچکا ہے، لہٰذا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد کسی نبی کے آنے کی کوئی گنجائش نہیں، اور یہ بھی معلوم ہوا کہ مبشرات نبوّت کی قسم نہیں، بلکہ نبوّت کا ایک جز ہے، اور سب جانتے ہیں کہ کسی چیز کے ایک جز کے پائے جانے سے وہ چیز متحقق نہیں ہوتی۔

بہرحال احادیثِ نبویہ کی رُو سے بھی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا آخری نبی ہونا اور اس اُمت کا آخری اُمت ہونا ایسا قطعی اور دوٹوک ہے، جس میں ذرا بھی شک وشبہ کی گنجائش نہیں۔ یہاں صرف چند اَحادیث کا حوالہ دِیا گیا ہے، احادیث کی پوری تفصیل میرے رسالے ’’عقیدۂ ختمِ نبوّت‘‘ میں ملاحظہ کی جاسکتی ہے۔

اِجماعِ اُمت:

۱:... علامہ علی قاری رحمۃ اللہ علیہ شرح فقہِ اکبر میں لکھتے ہیں:

’’دعوی النبوّۃ بعد النبی صلی اللہ علیہ وسلم کفر بالْإجماع۔‘‘

(ص:۲۰۲)

ترجمہ:... ’’ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد نبوّت کا دعویٰ کرنا بالاجماع کفر ہے۔‘‘

64

۲:... حافظ ابنِ حزم اندلسیؒ ’’کتاب الفصل فی الملل والنحل‘‘ میں لکھتے ہیں:

’’وأما من قال ان اللہ عزّ وجلّ فلان للْإنسان بعینہ وان اللہ تعالٰی یحل فی جسم من أجسام خلقہ أو ان بعد محمد صلی اللہ علیہ وسلم نبیًّا غیر عیسَی بن مریم فانہ لَا یختلف اثنان فی تکفیرہ۔‘‘

(کتاب الفصل ج:۳ ص:۲۴۹، ۲۵۰)

ترجمہ:... ’’جس شخص نے کسی انسان کو کہا کہ یہ اللہ ہے، یا یہ کہا کہ اللہ اپنی خلقت کے اَجسام میں سے کسی جسم میں حلول کرتا ہے، یا یہ کہا کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد کوئی نبی ہے سوائے عیسیٰ علیہ السلام کے، پس ایسے شخص کے کافر ہونے میں دو آدمیوں کا بھی اِختلاف نہیں ہے۔‘‘

۳:... حافظ فضل اللہ تورپشتیؒ ’’معتمد فی المعتقد‘‘ میں مسئلۂ ختمِ نبوّت کی طویل وضاحت کے بعد لکھتے ہیں:

’’بحمداللہ ایں مسئلہ دریان اسلامیان روشن تر ازاں است کہ آںرا بکشف وبیان حاجت افتد، اما ایں مقدار از قرآن از ترس آں یاد کردیم کہ مبادا زندیقی، جاہلی را در شبہتی اندازد۔

ومنکر ایں مسئلہ کسی تواند بود کہ اصلاً در نبوّتِ او معتقد نہ باشد کہ اگر برسالتِ او معترف بودی ویرا در ہرچہ ازاں خبر داد صادق دانستی۔

وبہماں حجت ہا کہ از طریقِ تواتر رسالتِ او پیش از ما بداں درست شدہ است ایں نیز درست شدہ کہ وی باز پسیں پیغمبراں است در زمانِ او تا قیامت بعد از وی ہیچ نبی نباشد، وہر کہ دریں بشک است دراں نیز بشک است۔ وآنکس کہ گوید بعد ازیں نبی دیگر بود، یا

65

ہست، یا خواہد بود، وآنکس کہ گوید کہ اِمکان دارد کہ باشد، کافر است۔‘‘

(ص:۹۷)

ترجمہ:... ’’بحمداللہ! یہ مسئلہ اہلِ اسلام کے درمیان اس سے زیادہ روشن ہے کہ اس کی تشریح ووضاحت کی ضرورت ہو۔ اتنی وضاحت بھی ہم نے قرآنِ کریم سے اس اندیشے کی بنا پر کردی ہے کہ مبادا کوئی زِندیق کسی جاہل کو شبہ میں ڈالے۔

اور عقیدۂ ختمِ نبوّت کا منکر وہی شخص ہوسکتا ہے جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوّت پر بھی ایمان نہ رکھتا ہو، کیونکہ اگر یہ شخص آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی رِسالت کا قائل ہوتا تو جن چیزوں کی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے خبر دی ہے ان میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو سچا سمجھتا۔

اور جن دلائل اور جس طریقِ تواتر سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی رِسالت ونبوّت ہمارے لئے ثابت ہوئی ہے، ٹھیک اسی درجے کے تواتر سے یہ بات بھی ثابت ہوئی ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم آخری نبی ہیں اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں اور قیامت تک کوئی نبی نہ ہوگا، اور جس شخص کو اس ختمِ نبوّت میں شک ہو، اسے خود رِسالتِ محمدی میں بھی شک ہوگا، اور جو شخص یہ کہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد کوئی نبی ہوا تھا، یا اب موجود ہے، یا آئندہ کوئی نبی ہوگا، اسی طرح جو شخص یہ کہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد نبی ہوسکتا ہے، وہ کافر ہے۔‘‘

۴:... حافظ ابنِ کثیرؒ آیت ’’خاتم النبیین‘‘ کے تحت لکھتے ہیں:

’’فمن رحمۃ اللہ تعالٰی بالعباد إرسال محمد صلی اللہ علیہ وسلم إلیھم ثم من تشریفہ لھم ختم
66

الأنبیاء والمرسلین بہ وإکمال الدین الحنیف لہ وقد أخبر اللہ تبارک وتعالٰی فی کتابہ ورسولہ صلی اللہ علیہ وسلم فی السُّنَّۃ المتواترۃ عنہ انہ لَا نبی بعدہ لیعلموا ان کل من ادعی ھٰذا المقام بعدہ فھو کذَّاب، أفَّاک، دجَّال، ضال، مضل، ولو تخرق وشعبذ وأتی بأنواع السحر والطلاسم والنیرنجیات فکلھا محال وضلال عند اُولی الألباب، کما أجری اللہ سبحانہ وتعالٰی علٰی ید الأسود العنسی بالیمن ومسیلمۃ الکذّاب بالیمامۃ من الأحوال الفاسدۃ والأقوال الباردۃ ما علم کل ذی لب وفھم وحجی انھما کاذبان ضالّان لعنھما اللہ تعالٰی۔ وکذٰلک کل مدع لذٰلک إلٰی یوم القیامۃ حتّٰی یختموا بالمسیح الدَّجَّال فکل واحد من ھٰؤلآء الکذّابین یخلق اللہ معہ من الأمور ما یشھد العلماء والمؤمنون بکذب من جاء بھا۔‘‘

(ابن کثیر: تفسیر القرآن العظیم ج:۳ ص:۴۹۴، مطبوعہ قاہرہ ۱۳۷۵ھ)

ترجمہ:... ’’پس بندوں پر اللہ کی رحمت ہے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا ان کی طرف بھیجنا، پھر اللہ تعالیٰ کی جانب سے ان کی تعظیم وتکریم میں سے یہ بات بھی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر تمام انبیاء اور رُسل علیہم السلام کو ختم کیا اور دِینِ حنیف کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے کامل کردیا۔ اللہ تعالیٰ نے اپنی کتاب میں اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی احادیثِ متواترہ میں خبر دی ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد کوئی نبی پیدا ہونے والا نہیں، تاکہ اُمت جان لے کہ ہر وہ شخص جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد

67

اس مقامِ نبوّت کا دعویٰ کرے وہ بڑا جھوٹا، اِفتراپرداز، دجال، گمراہ اور گمراہ کرنے والا ہے، اگرچہ شعبدہ بازی کرے، اور قسم قسم کے جادو، طلسم اور نیرنگیاں دِکھلائے، اس لئے کہ یہ سب کا سب عقلاء کے نزدیک باطل اور گمراہی ہے، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے اسود عنسی (مدعیٔ نبوّت) کے ہاتھ پر یمن میں اور مسیلمہ کذّاب (مدعیٔ نبوّت) کے ہاتھ پر یمامہ میں اَحوالِ فاسدہ اور اَقوالِ باردہ ظاہر کئے، جن کو دیکھ کر ہر عقل وفہم اور تمیز والا یہ سمجھ گیا کہ یہ دونوں جھوٹے اور گمراہ کرنے والے ہیں۔ اللہ تعالیٰ ان پر لعنت کرے۔ اور ایسے ہی قیامت تک ہر مدعیٔ نبوّت پر، یہاں تک کہ وہ مسیحِ دجال پر ختم کردئیے جائیں گے، جس کے ساتھ اللہ تعالیٰ ایسے اُمور پیدا فرمادے گا کہ علماء اور مسلمان اس کے جھوٹے ہونے کی شہادت دیں گے۔‘‘

۵:... علامہ سفارینی حنبلیؒ ’’شرح عقیدہ سفارینی‘‘ میں لکھتے ہیں:

’’ومن زعم أنھا مکتسبۃ فھو زندیق یجب قتلہ، لأنہ یقتضی کلامہ وإعتقادہ ان لَا تنقطع، وھو مخالف للنص القرآنی والأحادیث المتواترۃ بأن نبیّنا صلی اللہ علیہ وسلم خاتم النبیین علیھم السلام۔‘‘

(محمد بن احمد سفارینی ج:۲ ص:۲۵۷ مطبع المنار، مصر ۱۳۲۳ھ)

ترجمہ:... ’’جو شخص یہ عقیدہ رکھے کہ نبوّت حاصل ہوسکتی ہے، وہ زِندیق اور واجب القتل ہے، کیونکہ اس کا کلام وعقیدہ اس بات کو مقتضی ہے کہ نبوّت کا دروازہ بند نہیں، اور یہ بات نصِ قرآن اور اَحادیثِ متواترہ کے خلاف ہے، جن سے قطعاً ثابت ہے کہ ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم خاتم النبیین ہیں (علیہم السلام)۔‘‘

۶:... علامہ زرقانی ؒشرح مواہب میں اِمام ابنِ حبانؒ سے نقل کرتے ہیں:

68
’’من ذھب إلٰی أن النبوّۃ مکتسبۃ لَا تنقطع أو إلٰی ان الولی أفضل من النبی، فھو زندیق یجب قتلہ لتکذیب القرآن وخاتم النبیّٖن۔‘‘

(شرح المواہب اللدنیہ ج:۶ ص:۱۸۸ مطبوعہ ازہریہ، مصر ۱۳۲۷ھ)

ترجمہ:... ’’جس شخص کا یہ مذہب ہو کہ نبوّت کا دروازہ بند نہیں، بلکہ حاصل ہوسکتی ہے، یا یہ کہ ولی نبی سے افضل ہوتا ہے، ایسا شخص زِندیق اور واجب القتل ہے، کیونکہ وہ قرآنِ کریم کی آیت ’’خاتم النبیین‘‘ کی تکذیب کرتا ہے۔‘‘

۷:... اور سیّد محمود آلوسی بغدادی تفسیر ’’رُوح المعانی‘‘ میں آیت خاتم النبیین کے ذیل میں لکھتے ہیں:

’’وکونہ صلی اللہ علیہ وسلم خاتم النبیین مما نطق بہ الکتاب وصدعت بہ السُّنَّۃ وأجمعت علیہ الاُمّۃ فیکفر مدعی خلافہ ویقتل إن أصرّ۔‘‘

(رُوح المعانی ج:۲۲ ص:۴۱)

ترجمہ:... ’’اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا آخری نبی ہونا ان مسائل میں سے ہے جن پر قرآن ناطق ہے، جن کو سنت نے واشگاف کیا ہے اور جن پر اُمت کا اِجماع ہے۔ پس اس کے خلاف دعویٰ کرنے والا کافر قرار دِیا جائے گا، اور اگر وہ اِصرار کرے تو اسے قتل کیا جائے گا۔‘‘

۸:... قاضی عیاضؒ ’’الشفاء‘‘ میں لکھتے ہیں:

’’وکذٰلک من ادعی نبوّۃ أحد مع نبیّنا صلی اللہ علیہ وسلم أو بعدہ ...۔۔ أو من ادعی النبوۃ لنفسہ أو جوّز اکتسابا ...۔۔ وکذٰلک من ادعی منھم انہ
69

یوحٰی إلیہ وإن لم یدع النبوۃ ...۔۔ فھٰؤلآء کلھم کفار مکذبون للنبی صلی اللہ علیہ وسلم، لأنہ أخبر صلی اللہ علیہ وسلم أنہ خاتم النبیین لَا نبی بعدہ، وأخبر عن اللہ تعالٰی أنہ خاتم النبیین، وأنہ أرسل کافۃ للناس، وأجمعت الاُمّۃ علٰی حمل ھٰذا الکلام علٰی ظاھرہ، وإن مفھومہ المراد بہ دون تأویل ولَا تخصیص فلا شک فی کفر ھٰؤلآء الطوائف کلھا قطعًا إجماعًا وسمعا۔‘‘

(الشفاء ج:۲ ص:۲۴۶، ۲۴۷)

ترجمہ:... ’’اسی طرح جو شخص ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ یا آپ کے بعد کسی شخص کے نبی ہونے کا مدعی ہو ...... یا خود اپنے لئے نبوّت کا دعویٰ کرے یا نبوّت کے حصول کو اور صفائے قلب کے ذریعے مرتبۂ نبوّت تک پہنچنے کو جائز رکھے ...... اسی طرح جو شخص یہ دعویٰ کرے کہ اس پر وحی نازل ہوتی ہے، خواہ صراحۃً نبوّت کا دعویٰ نہ کرے، تو یہ سب لوگ کافر ہیں، کیونکہ یہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی تکذیب کرتے ہیں کیونکہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے خبر دی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم خاتم النبیین ہیں، اور یہ کہ آپ کے بعد کوئی نبی نہیں، اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ تعالیٰ کی طرف سے بھی خبر دی ہے کہ آپ خاتم النبیین ہیں اور یہ کہ آپ تمام اِنسانوں کے لئے مبعوث کئے گئے ہیں، اور پوری اُمت کا اس پر اِجماع ہے کہ یہ کلام ظاہر پر محمول ہے اور یہ کہ بغیر کسی تأویل وتخصیص کے اس سے ظاہری مفہوم ہی مراد ہے، اس لئے ان تمام لوگوں کے کافر ہونے میں کوئی شک نہیں۔ اور ان کا کفر کتاب وسنت اور اِجماع کی رُو سے قطعی ہے۔‘‘

70

ایک اور جگہ لکھتے ہیں:

’’وقد قتل عبدالملک بن مروان الحارث المتنبّی وصلبہ وفعل ذٰلک غیر واحد من الخلفاء والملوک بأشباھھم وأجمع علماء وقتھم علٰی صواب فعلھم، والمخالف فی ذٰلک من کفرھم، کافر۔‘‘

(الشفاء ج:۲ ص:۲۵۷)

ترجمہ:... ’’اور خلیفہ عبدالملک بن مروان نے مدعیٔ نبوّت حارث کو قتل کرکے سولی پر لٹکایا تھا، اور بے شمار خلفاء وسلاطین نے اس قماش کے لوگوں کے ساتھ یہی سلوک کیا۔ اور اس دور کے تمام علماء نے بالاجماع ان کے اس فعل کو صحیح اور دُرست قرار دِیا۔ اور جو شخص مدعیٔ نبوّت کے کفر میں اس اِجماع کا مخالف ہو، وہ خود کافر ہے۔‘‘

ختمِ نبوّت عقلِ سلیم کی روشنی میں:

قرآنِ کریم، احادیثِ متواترہ، اور اِجماعِ اُمت کے بعد اس پر غور کریں کہ آیا عقلِ سلیم کی روشنی میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد کوئی نبی آسکتا ہے؟

دِینِ محمدی کے مؤخر ہونے کی عقلی وجوہ:

۱:... حجۃالاسلام مولانا محمد قاسم نانوتویؒ اپنے رسالے ’’تحذیر الناس‘‘ میں تحریر فرماتے ہیں کہ:

’’(آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا جماعتِ انبیاء میں سب سے آخر میں آنا لازم تھا، اوّل یا درمیان میں نہیں آسکتے تھے، کیونکہ) بالجملہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم وصفِ نبوّت میں موصوف بالذات ہیں اور سوا آپ کے اور انبیاء موصوف بالعرض۔

اس صورت میں اگر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اَوّل یا

71

وسط میں رکھتے تو اَنبیائے متأخرین کا دِین، اگر مخالف دِینِ محمدی ہوتا تو اعلیٰ کا ادنیٰ سے منسوخ ہونا لازم آتا، حالانکہ خود فرماتے ہیں:

’’مَا نَنْسَخْ مِنْ اٰیـَۃٍ اَوْ نُنْسِھَا نَاْتِ بِخَیْرٍ مِّنْھَآ اَوْ مِثْلِھَا۔‘‘

(البقرہ:۱۰۶)

(ترجمہ:... ’’ہم جس آیت کو منسوخ کرتے ہیں یا (اے نبی آپ کے ذہن سے) بھلادیتے ہیں تو اس کے بدلے میں اس سے بہتر یا اس جیسی دُوسری آیت بھیج دیتے ہیں۔‘‘)

اور کیوں نہ ہو، یوں نہ ہو تو اِعطاءِ دِین من جملہ رحمت نہ رہے، آثارِ غضب میں سے ہوجائے، ہاں اگر یہ بات متصوّر ہوتی کہ اعلیٰ درجے کے علماء کے علوم ادنیٰ درجے کے علماء کے علوم سے کمتر اور ادون ہوتے ہیں، تو مضائقہ بھی نہ تھا، پر سب جانتے ہیں کہ عالم کا عالی مرتبت ہونا مراتبِ علوم پر موقوف ہے، یہ نہیں تو وہ بھی نہیں، اور انبیائے متأخرین کا دِین اگر مخالف نہ ہوتا تو یہ بات ضرور ہے کہ انبیائے متأخرین پر وحی آتی اور اِفاضۂ علوم کیا جاتا، ورنہ نبوّت کے پھر کیا معنی؟ سو اس صورت میں اگر وہی علومِ محمدی ہوتے تو بعد وعدۂ محکم:

’’اِنَّا نَحْنُ نَزَّلْنَا الذِّکْرَ وَاِنَّا لَہٗ لَحٰفِظُوْنَ‘‘

(ترجمہ:... ’’ہم ہی نے قرآن کو اُتارا ہے، اور ہم ہی اس کی حفاظت کرنے والے ہیں۔‘‘)

کے جو بہ نسبت اس کتاب کے جس کو قرآن کہئے اور بہ شہادت آیت:

’’وَنَزَّلْنَا عَلَیْکَ الْکِتٰبَ تِبْیَانًا لِکُلِّ شَیْئٍ‘‘

(النحل:۸۹)

(ترجمہ:... ’’ہم نے تجھ پر (اے نبی! ایسی) کتاب

72

اُتاری ہے جو ہر چیز کو بیان کرتی ہے۔‘‘)

جامع العلوم ہے کیا ضرور تھی، اور اگر علومِ انبیائے متأخرین علومِ محمدی کے علاوہ ہوتے تو اس کتاب کا ’’تِبْیَانًا لِکُلِّ شَیْئٍ‘‘ ہونا غلط ہوجاتا۔ بالجملہ جیسے ایسے نبی جامع العلوم کے لئے ایسی ہی کتابِ جامع چاہئے تھی تاکہ علو مراتب نبوّت لاجرم علو مراتب علمی ہے چنانچہ معروض ہوچکا، میسر آئی ورنہ علوم مراتب نبوّت بے شک ایک قولِ دروغ اور حکایتِ غلط ہوتی، ایسے ہی ختمِ نبوّت بمعنی معروض کو تأخرِ زمانی لازم ہے ......‘‘

۲:... حق تعالیٰ شانہ‘ نے نبوّت حضرت آدم علیہ الصلوٰۃ والسلام کے وقت سے شروع کی اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر جو کہ دُنیا کے خاتمے پر ہیں، اس کی تکمیل فرمادی اور دین کے کامل کرنے اور نبوّت کے ختم ہونے کا اِعلان فرمادیا۔ گویا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے درمیان اور اُمت کے درمیان قیامت تک کوئی دُوسرا آدمی دخیل نہیں ہوگا، اور اُمت اس عقیدے پر قائم رہ کر رحمتِ خداوندی کے زیرِ سایہ ہوگی، اور کوئی ملحد وزِندیق اور دَجال وکذّاب اس اُمت کو بہکانے اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کا رشتہ کاٹنے کی جرأت نہیں کرے گا، خدانخواستہ اگر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد بھی نبوّت کا دروازہ کھلا رہتا تو ایک دُوسرے کی تکفیر کا دروازہ بھی کھلتا، چنانچہ غلام احمد نے نبوّت کا دعویٰ کرنے کے بعد پوری اُمتِ محمدیہ کو کافر ٹھہرایا، لہٰذا ختمِ نبوّت آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی اُمت کے حق میں سراپا رحمت ہے۔

۳:... حضرت شیخ الاسلام اِمام العصر مولانا انور شاہ کشمیری نوّر اللہ مرقدہٗ تحریر فرماتے ہیں:

’’وچوں حکیم تصریح کردہ است کہ ہر چیزے را کہ بدایت است نہایت لازم است، واز دوام مستقبل جواب دادیم کہ تجدد امثال ست لاغیر، پس حسبِ حدیثِ نبوی عمارتِ نبوّت ہم آغاز

73

وانجام داشت، کہ از آدمؑ شروع کردہ بر خاتم الانبیاء کہ آخرین لبنہ ازاں عمارت ہستذ، اِختتام فرمودند۔ اکنوں صدد آنست کہ برعالم طبل رحیل زنند، گویا نظامِ عالم مانند جلسہ بود کہ مجلس استقبالی منعقد شد، واز قدوم صدر جلسہ خبرداد، کہ ومبشرا برسول یأتی من بعدی اسمہٗ احمد وصدر کبیر قدوم میمنت لزوم ارزانی داشت، وخطبہ خواند، وجلسہ را پدر ود کردند۔‘‘

(خاتم النبیین ص:۸۶ اَز مولانا انور شاہ کشمیریؒ)

ترجمہ:... ’’اور جب حکماء نے تصریح کردی کہ جس چیز کے لئے بدایت ہے اس کے لئے نہایت بھی لازم ہے۔ اور دوام مستقبل کا ہم نے جواب دے دیا ہے کہ وہ صرف تجدّد امثال ہے، تو حدیثِ نبوی کے مطابق عمارتِ نبوّت بھی آغاز وانجام رکھتی ہے کہ اسے آدم علیہ السلام سے شروع کرکے حضرت خاتم الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم پر، جو اس عمارت کی آخری اِینٹ ہیں، ختم کردیا گیا۔ اور اَب تو صرف اس اَمر کا اِنتظار ہے کہ عالم کے کوچ کا نقارہ بجادیا جائے۔ گویا نظامِ عالم کی مثال ایک ایسے جلسے کی تھی جو مجلس اِستقبالیہ کے طور پر منعقد ہوا، اور صدرِ جلسہ کی آمد آمد کا اِعلان ہوا، چنانچہ (حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے فرمادیا) ’’اور میں خوشخبری سناتا ہوں ایک رسول کی، جو میرے بعد آئے گا، اس کا نامِ نامی احمد ہوگا۔‘‘ اور صدرِ کبیر کی تشریف آوری ہوئی، انہوں نے خطبہ پڑھا اور جلسہ برخاست کردیا گیا۔‘‘

حصۂ دوم

’’خاتم النبیین‘‘ کا مفہوم اور قادیانیت

گزشتہ سطور میں معلوم ہوچکا ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا خاتم النبیین ہونا بایں معنی ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم آخری نبی ہیں، آپ کے بعد قیامت تک کسی شخص

74

کو خلعتِ نبوّت سے سرفراز نہیں کیا جائے گا۔ قرآنِ کریم، احادیثِ متواترہ، اِجماعِ اُمت اور دلائلِ عقلیہ اس کے شاہد ہیں، اور یہ اُمت کا وہ عقیدہ ہے جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے لے کر آج تک اُمت میں متواتر چلا آرہا ہے، اور اس کے منکر اور اس سے منحرف کو بلاتأمل کافر وزِندیق قرار دِیا گیا ہے۔ اب آئیے یہ دیکھیں کہ ان تمام چیزوں کے برعکس خاتم النبیین کے بارے میں قادیانیت کا موقف کیا ہے؟ سب سے پہلے یہ سمجھنا چاہئے کہ مرزا غلام احمد قادیانی، مدعیٔ نبوّت کو ملعون، کاذِب، کافر اور دائرۂ اسلام سے خارج قرار دیتا تھا۔ چنانچہ لکھتا ہے:

’’ان پر واضح ہو کہ ہم بھی مدعیٔ نبوّت پر لعنت بھیجتے ہیں۔‘‘

(مجموعہ اِشتہارات ج:۲ ص:۲۹۷)

’’سیّدنا ومولانا حضرت محمد مصطفی ختم المرسلین کے بعد کسی دُوسرے مدعیٔ نبوّت ورِسالت کو کاذِب وکافر جانتا ہوں۔‘‘

(مجموعہ اِشتہارات ج:۲ ص:۲۳۰)

’’میں نبوّت کا مدعی نہیں، بلکہ ایسے مدعی کو خارج اَزاِسلام سمجھتا ہوں۔‘‘

(آسمانی فیصلہ ص:۳، رُوحانی خزائن ج:۴ ص:۳۱۳)

اور اس کے قلم سے اللہ تعالیٰ نے یہ بھی لکھوادیا کہ آنحضرت خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد کسی نبی ورسول کا آنا ممکن ہی نہیں، لہٰذا جو شخص رِسالت ونبوّت کا دعویٰ کرتا ہے وہ ایک اَمرِ محال کا دعویٰ کرتا ہے، جو سراسر باطل ہے، چند فقرے ملاحظہ فرمائیے:

’’ظاہر ہے کہ اگرچہ ایک ہی دفعہ وحی کا نزول فرض کیا جاوے اور صرف ایک ہی فقرہ حضرت جبرئیل لاویں اور پھر چپ ہوجاویں، یہ اَمر بھی ختمِ نبوّت کے منافی ہے، کیونکہ جب ختمیت کی مہر ہی ٹوٹ گئی اور وحیٔ رِسالت پھر نازل ہونا شروع ہوگئی تو پھر تھوڑا یا بہت نازل ہونا برابر ہے۔‘‘

(اِزالہ اوہام ص:۵۷۷، رُوحانی خزائن ج:۳ ص:۴۱۱)

75

’’ہر ایک دانا سمجھ سکتا ہے کہ اگر خدائے تعالیٰ صادق الوعد ہے اور جو آیت خاتم النبیین میں وعدہ دِیا گیا ہے اور جو حدیثوں میں بتصریح بیان کیا گیا ہے کہ اب جبرئیل بعد وفاتِ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمیشہ کے لئے وحیٔ نبوّت کے لانے سے منع کیا گیا ہے، یہ تمام باتیں سچ اور صحیح ہیں، تو پھر کوئی شخص بحیثیت رِسالت ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد ہرگز نہیں آسکتا۔‘‘

(ایضاً ص:۴۱۲)

’’لیکن خدا تعالیٰ ایسی ذِلت اور رُسوائی اس اُمت کے لئے اور ایسی ہتک اور کسرِ شان اپنے نبی مقبول خاتم الانبیاء کے لئے ہرگز روا نہیں رکھے گا کہ ایک رسول کو بھیج کر، جس کے آنے کے ساتھ جبرائیل کا آنا ضروری اَمر ہے، اسلام کا تختہ ہی اُلٹ دیوے، حالانکہ وہ وعدہ کرچکا ہے کہ بعد آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے کوئی رسول نہیں بھیجا جائے گا۔‘‘

(ایضاً ص:۴۱۶)

’’رسول کی حقیقت اور ماہیت میں یہ امر داخل ہے کہ دِینی علوم کو بذریعہ جبرائیل حاصل کرے، اور اَبھی ثابت ہوچکا ہے کہ اب وحیٔ رِسالت تابہ قیامت منقطع ہے۔‘‘

(ایضاً ص:۴۳۲)

ان حوالہ جات سے واضح ہے کہ:

🌟 :... ختمِ نبوّت، اسلام کا قطعی عقیدہ ہے، جس کا مفہوم آیت خاتم النبیین کی رُو سے یہ ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد کوئی شخص منصبِ نبوّت پر فائز نہیں ہوسکتا، نہ کسی پر وحیٔ نبوّت نازل ہوسکتی ہے۔

🌟 :... وحیٔ نبوّت حضرت جبریل علیہ السلام کے ذریعے نازل ہوتی ہے، اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد حضرت جبریل علیہ السلام کے وحیٔ نبوّت لے کر آنے کے سلسلے کو بند کردیا گیا ہے۔

🌟 :... آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد حضرت جبریل علیہ السلام کا کسی کے

76

پاس ایک فقرہ وحی لے کر آنا بھی ختمِ نبوّت کے منافی ہے۔

🌟 :... اللہ تعالیٰ نے آیت خاتم النبیین میں وعدہ فرمایا ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد حضرت جبریل علیہ السلام کسی کے پاس وحیٔ نبوّت لے کر نہیں آئیں گے۔ اب اگر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد کسی شخص کا رسول اور نبی ہونا فرض کیا جائے تو اللہ تعالیٰ کے اس وعدے کا جھوٹا ہونا لازم آتا ہے۔

🌟 :... آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد کسی شخص کا رسول اور نبی ہونا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی توہین ہے۔

🌟 :... اور اس سے اِسلام کا تختہ اُلٹ جاتا ہے۔

🌟 :... کوئی شخص رسول اور نبی نہیں ہوسکتا جب تک جبریل علیہ السلام اس کے پاس وحی لے کر نہ آئیں، اور وحیٔ رِسالت قیامت تک بند ہے۔

ان تمام تصریحات کے باوجود مرزا غلام احمد قادیانی نے یہ دعویٰ جڑ دیا کہ: ’’ہم نبی اور رسول ہیں‘‘ اور یہ کہ اس کے بقول وحیٔ اِلٰہی نے اسے ’’محمد رسول اللہ‘‘ قرار دِیا ہے۔

مرزا غلام احمد کا خلیفہ دوم اور اس کا فرزندِ اکبر مرزا محمود احمد بڑی شدّومدّ سے اپنے اَبا کی نبوّت کا قائل تھا، اور اس کی نبوّت کے منکروں کو کافر قرار دیتا تھا، اس کو مرزا غلام احمد کے ان حوالوں سے بڑی پریشانی ہوئی، بالآخر اس نے اِعلان کردیا کہ اس کے اَبا کے یہ حوالے منسوخ ہیں، اور ان سے حجت پکڑنا غلط ہے، چنانچہ مرزا محمود اپنی کتاب ’’حقیقۃالنبوۃ‘‘ میں ...جو خالص اسی موضوع پر لکھی گئی ہے... طویل بحث کے آخر میں لکھتا ہے:

’’اس سے معلوم ہوا کہ نبوّت کا مسئلہ آپ پر ۱۹۰۰ء یا ۱۹۰۱ء میں کھلا ہے، اور چونکہ ایک غلطی کا اِزالہ ۱۹۰۱ء میں شائع ہوئی ہے، جس میں آپ نے اپنی نبوّت کا اِعلان بڑے زور سے کیا ہے، اس سے ثابت ہوتا ہے کہ ۱۹۰۱ء میں آپ نے اپنے عقیدے میں تبدیلی کی ہے، اور ۱۹۰۰ء ایک درمیانی عرصہ ہے جو دونوں خیالات کے درمیان برزخ کے طور پر حدِ فاصل ہے، پس ایک طرف

77

آپ کی کتابوں سے اس اَمر کے ثابت ہونے سے کہ ۱۹۰۱ء سے آپ نے نبی کا لفظ بار بار اِستعمال کیا ہے، اور دُوسری طرف حقیقۃ الوحی سے یہ ثابت ہونے سے کہ آپ نے تریاق القلوب کے بعد نبوّت کے متعلق عقیدے میں تبدیلی کی ہے، یہ بات ثابت ہے کہ ۱۹۰۱ء سے پہلے کے وہ حوالے جن میں آپ نے نبی ہونے سے اِنکار کیا ہے، اب منسوخ ہیں، اور ان سے حجت پکڑنی غلط ہے۔‘‘

(حقیقۃ النبوۃ ص:۱۲۱)

مرزا محمود احمد کی یہ تحریر دُنیا کے عجائبات میں شمار کئے جانے کے لائق ہے، کیونکہ مرزا محمود یہ تسلیم کرتا ہے ...اور بالکل صحیح تسلیم کرتا ہے... کہ اس کا اَبا پہلے اپنی نبوّت سے اِنکار کرتا تھا، مدعیٔ نبوّت کو ملعون اور خارج اَزاِسلام قرار دیتا تھا، لیکن بعد میں خود مدعیٔ نبوّت بن گیا، مرزا محمود کے خیال میں اس تضاد کو دُور کرنے کا حل یہی تھا کہ اس کے اَبا کی ۱۹۰۱ء سے پہلے کی تمام متعلقہ عبارتوں کو منسوخ کردیا جائے، یہ طرفہ تماشا دُنیا نے کب دیکھا ہوگا کہ باپ کی عبارتوں کو بیٹا منسوخ کرڈالتا ہے...؟

اور یہ تماشا بھی قابلِ دید ہے کہ ۱۹۰۰ء سے پہلے غلام احمد مدعیٔ نبوّت کو کاذب وملعون قرار دیتا ہے، اس کو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی توہین سمجھتا ہے، اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد کسی شخص کے دعویٔ نبوّت کو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی توہین اور اِسلام کا تختہ اُلٹ دینے کے مترادف قرار دیتا ہے، لیکن اس کے مرید اس کو نبی بناتے ہیں، اور ۱۹۰۰ء کا پورا سال اس میں گزر جاتا ہے، تب مرزا غلام احمد ۱۹۰۱ء میں نبوّت کا دعویٰ کرتا ہے، اس سے پہلے جیسا کہ مرزا محمود نے لکھا ہے نبوّت کے خیالات شروع ہوگئے تھے اور مرزا کا خطیب مولوی عبدالکریم مرزائی ...الاعوَر الاعرَج... اپنے خطباتِ جمعہ میں دھڑلے سے مرزا کی نبوّت کا اِعلان کرتا تھا، کیا جھوٹے نبیوں کے سوا اس کی کوئی مثال مل سکتی ہے کہ مریدوں کے پروپیگنڈے سے متأثر ہوکر کسی شخص نے نبوّت کا دعویٰ کردیا ہو...؟ فَاعْتَبِرُوْا یَا اُولِی الْاَبْصَار!

78

الغرض! مرزا غلام احمد قادیانی ختمِ نبوّت کو اِسلام کا عقیدہ سمجھتا تھا اور مدعیٔ نبوّت کو کافر اور کاذِب اور خارج اَزاِسلام قرار دیتا تھا، لیکن جب شیطان نے اس کو بہکایا تو خود مدعیٔ نبوّت بن بیٹھا اور اپنے کفر اور خارج اَزاِسلام ہونے پر مہر ثبت کردی۔ اب اس کی اُمت مختلف تأویلات کے ذریعے سے نبوّت کے جاری ہونے کو ثابت کرنا چاہتی ہے۔ سوال یہ ہے کہ جو عقیدہ قرآنِ کریم کی آیاتِ بینات سے، احادیثِ متواترہ سے، اِجماعِ اُمت سے، عقلی شواہد ودلائل سے، اور خود مرزا غلام احمد قادیانی کی تحریرات سے ثابت ہو، اس کے خلاف اِجرائے نبوّت کا عقیدہ پیش کرنا سوائے دجل وفریب کے کیا ہوسکتا ہے...؟

میرا اِرادہ تھا کہ قادیانیوں کی ان تأویلات کا ذِکر کروں، جو اُنہوں نے مرزا قادیانی کو نبی بنانے کے لئے اِیجاد کی ہیں، مگر اہلِ فہم پر روشن ہے کہ کوئی شخص مسیلمہ کذّاب کی تأویلات کو موضوع بناکر ان کی تردید کی ضرورت محسوس نہیں کرے گا، اسی طرح مرزا غلام احمد قادیانی اور اس کے اَذناب واَتباع کی تأویلات بھی اہلِ علم کے لئے موضوعِ بحث بنانے کے لائق نہیں ہیں۔ قادیانی کبھی نبوّت کی اَقسام ذِکر کرتے ہیں کہ ایک نبوّت تشریعی ہوتی ہے اور ایک نبوّت غیرتشریعی، اور پھر غیرتشریعی کی دو قسمیں ہیں، ایک بلاواسطہ اور ایک بواسطہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے فیض کے، گویا نبوّت کی اب کل تین قسمیں ہوئیں، تشریعی نبوّت، غیرتشریعی نبوّت بلاواسطہ نبوّت، اور غیرتشریعی بالواسطہ نبوّت۔

لیکن یہ تقسیم مرزا غلام احمد کی جھوٹی نبوّت کا سکہ رائج کرنے کے لئے قادیانیوں کی اپنی ایجاد ہے، اہلِ اسلام اس تقسیم سے متعارف نہیں ہیں۔ مسلمان صرف ایک بات کو جانتے ہیں کہ بعض انبیائے کرام علیہم الصلوٰۃ والسلام کو مستقل شریعت یا مستقل اُمت دی گئی، ان کو صاحبِ شریعت نبی کہتے ہیں، اور بعض انبیائے کرام علیہم الصلوٰۃ والسلام کو پہلی شریعت کا تابع کیا گیا، ان کو بغیر شریعت وکتاب نبی کہتے ہیں۔ ورنہ حقیقت میں کوئی نبی بغیر شریعت کے نہیں ہوتا، کیونکہ ظاہر ہے کہ جو نبی بھی اللہ تعالیٰ کی جانب سے آئے گا وہ اپنی نبوّت کا اِعلان کرے گا، اور لوگوں پر فرض ہوگا کہ ان کی نبوّت پر اِیمان لائیں۔

ظاہر ہے کہ کسی نبی کا نبوّت کی دعوت دینا یہ بھی شریعت کا حکم ہے، بلکہ شریعت کا

79

اصل الاصول نبی کی نبوّت پر اِیمان لانا ہے، لہٰذا نبی بغیر شریعت کے ہوتا ہی نہیں۔

علاوہ ازیں جب غلام احمد قادیانی نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد نبوّت کا دعویٰ کرنے والوں کو کاذِب وکافر اور خارج اَزاِسلام قرار دِیا تو بالفرض اگر نبوّت کی یہ تقسیم ہوتی بھی جو قادیانی ذِکر کرتے ہیں، تب بھی اس کا تعلق آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے پہلے زمانے سے ہوسکتا تھا، آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد کسی قسم کی نبوّت ہی خارج اَز بحث ہے۔

لطیفہ:... ہمارے بزرگ مناظرِ اِسلام مولانا محمد حیاتؒ فاتح قادیان فرماتے تھے کہ: ایک دفعہ قادیانی مولوی اللہ دتہ سے میرا مناظرہ ہوا، موضوع تھا: مسئلۂ نبوّت۔ میں نے کہا: مولوی اللہ دتہ! تمام عقلاء کا مُسلَّمہ قاعدہ ہے کہ موضوع خاص ہو تو دلیل عام نہیں پیش کی جاتی۔ تم لوگ نبوّت کی تین قسمیں بتاتے ہو، تشریعی، غیرتشریعی نبوّت بلاواسطہ، اور غیرتشریعی نبوّت بالواسطہ۔ ان میں سے دو قسمیں تمہارے نزدیک بھی بند ہیں، صرف ایک جاری ہے، یعنی غیرتشریعی نبوّت بالواسطہ۔ سو تم قرآنِ کریم کی وہ آیتیں پیش کرو جو خاص اس دعوے کو ثابت کریں کہ نبوّت کی دو قسمیں بند ہیں، البتہ نبوّت غیرتشریعی بالواسطہ جاری ہے، فَبُھِتَ الَّذِیْ کَفَرَ، یعنی کافر کا منہ بند ہوگیا اور اس کو کوئی بات نہ سوجھی کہ کیا کہے۔

الغرض! قادیانیوں کا اِجرائے نبوّت کو موضوع بنانا محض دجل اور تلبیس ہے، ورنہ جیسا کہ اُوپر معلوم ہوچکا نبوّت خود قادیانیوں کے نزدیک بھی بند ہے، صرف غلام احمد کی نبوّت کو منوانے کے لئے یہ لوگ عوام کو فریب دیتے ہیں۔ مناسب ہے کہ ان کے دوچار فریب میں بھی ذِکر کردوں۔

الف:... قادیانی ہمیشہ یہ آیت پڑھتے ہیں:

’’یٰـبَنِیْٓ اٰدَمَ اِمَّا یَاْتِیَنَّکُمْ رُسُلٌ مِّنْکُمْ‘‘

(الاعراف:۳۵)

ترجمہ:... ’’اے اولادِ آدم! اگر تمہارے پاس رسول آئیں جو تم میں سے ہوں ......‘‘

قادیانی کہا کرتے ہیں کہ اس آیت میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد

80

رسولوں کے آنے کی خبر دی گئی ہے۔

جواب:... قریباً ۱۹۴۹ء کا واقعہ ہے میں مدرسہ قاسم العلوم فقیروالی ضلع بہاول نگر میں پڑھتا تھا، خدا جانے کس نے مجھے قادیانیوں کا پرچہ ’’الفضل‘‘ دے دیا، اس میں یہی آیت اور یہی اِستدلال درج تھا، میں پڑھ کر پریشان ہوا۔ حضرت اُستاذِ محترم حضرت مولانا محمد عبداللہ رائے پوریؒ کے پاس حاضر ہوا، انہوں نے کہا کہ یہ تو قادیانیوں کا بہت پُرانا اِستدلال ہے۔ انہوں نے رُوح المعانی نکالی اور مجھے عبارت پڑھ کر سنائی کہ یہ عہد، اللہ تعالیٰ نے بنی نوعِ انسان سے حضرت آدم علیہ السلام کی تخلیق سے پہلے لیا تھا، تو جو میثاق کہ حضرت آدم علیہ الصلوٰۃ والسلام کے پیدا ہونے سے پہلے لیا گیا ہو، اس کو خاتم الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے پر منطبق کرنا دجل وتلبیس کے سوا کیا ہے...؟

حضرت مولانا شبیر احمد عثمانی ؒ اس آیت کے ذیل میں لکھتے ہیں:

’’ابنِ جریرؒ نے ابویسار سلمی سے نقل کیا ہے کہ یہ خطاباِمَّا یَاْتِیَنَّکُمْ ...الخ کل اولادِ آدم کو عالمِ اَرواح میں ہوا تھا، جیسا کہ سورۂ بقرہ کے سیاق سے ظاہر ہوتا ہے: ’’قُلْنَا اھْبِطُوْا مِنْھَا جَمِیْعًا فَاِمَّا یَاْتِیَنَّکُمْ مِنِّیْ ھُدًی‘‘ اور بعض محققین کے نزدیک جو خطاب ہر زمانے میں ہر قوم کو ہوتا رہا، یہ اس کی حکایت ہے۔ میرے نزدیک دو رُکوع پہلے سے جو مضمون چلا آرہا ہے، اس کی ترتیب وتنسیق خود ظاہر کرتی ہے کہ جب آدم وحوا اپنے اصلی مسکن (جنت) سے جہاں ان کو آزادی وفراخی کے ساتھ بلاروک وٹوک زندگی بسر کرنے کا حکم دِیا جاچکا تھا، عارضی طور پر محروم کردئیے گئے تو ان کی مخلصانہ توبہ واِنابت پر نظر کرتے ہوئے مناسب معلوم ہوا کہ اس حرمان کی تلافی اور تمام اولادِ آدم کو اپنی آبائی میراث واپس دِلانے کے لئے کچھ ہدایتیں کی جائیں، چنانچہ ہبوطِ آدم کا قصہ ختم کرنے کے بعد معاً: ’’یٰـبَنِیْٓ اٰدَمَ قَدْ اَنْزَلْنَا عَلَیْکُمْ لِبَاسًا‘‘ سے خطاب

81

شروع فرماکر تین چار رُکوع تک ان ہی ہدایات کا مسلسل بیان ہوا ہے۔ ان آیات میں کل اولادِ آدم کو گویا بیک وقت موجود تسلیم کرکے عام خطاب کیا گیا ہے کہ جنت سے نکلنے کے بعد ہم نے بہشتی لباس وطعام کی جگہ تمہارے لئے زمینی لباس وطعام کی تدبیر فرمادی، گو جنت کی خوشحالی وبے فکری یہاں میسر نہیں تاہم ہر وقت کی راحت وآسائش کے سامان سے منتفع ہونے کا تم کو موقع دِیا تاکہ تم یہاں رہ کر اِطمینان سے اپنا مسکنِ اصلی اور آبائی ترکہ واپس لینے کی تدبیر کرسکو۔ چاہئے کہ شیطانِ لعین کے مکر وفریب سے ہوشیار رہو، کہیں ہمیشہ کے لئے تم کو اس میراث سے محروم نہ کردے۔ بے حیائی اور اِثم وعدوان سے بچو، اِخلاص وعبودیت کا راستہ اختیار کرو، خدا کی نعمتوں سے تمتع کرو، مگر جو حدود وقیود مالکِ حقیقی نے عائد کردی ہیں، ان سے تجاوز نہ کرو۔ پھر دیکھو ہر قوم اپنی اپنی مدّتِ موعودہ پوری کرکے کس طرح اپنے ٹھکانے پر پہنچ جاتی ہے۔ اس اثنا میں اگر خدا کسی وقت تم ہی میں سے اپنے پیغمبر مبعوث فرمائے جو خدا کی آیات پڑھ کر سنائیں، جن سے تم کو اپنے باپ کی اصلی میراث (جنت) حاصل کرنے کی ترغیب وتذکیر ہو اور مالکِ حقیقی کی خوشنودی کی راہیں معلوم ہوں، ان کی پیروی اور مدد کرو، خدا سے ڈرکر بُرے کاموں کو چھوڑو اور اَعمالِ صالحہ اِختیار کرو، تو پھر تمہارا مستقبل بے خوف وخطر ہے، تم ایسے مقام پر پہنچ جاؤگے جہاں سکھ اور اَمن واِطمینان کے سوا کوئی دُوسری چیز نہیں، ہاں! اگر ہماری آیتوں کو جھٹلایا اور تکبر کرکے ان پر عمل کرنے سے کترائے تو مسکنِ اصلی اور آبائی میراث سے دائمی محرومی اور ابدی عذاب وہلاکت کے سوا کچھ نہ ملے گا۔ بہرحال جو لوگ اس آیت سے ختمِ نبوّت کی نصوصِ قطعیہ کے خلاف

82

قیامت تک کے لئے انبیاء ورُسل کی آمد کا دروازہ کھولنا چاہتے ہیں، ان کے لئے اس جگہ کوئی موقع اپنی مطلب براری کا نہیں۔‘‘

(تفسیر عثمانی برحاشیہ ترجمہ شیخ الہندؒ)

۲- علاوہ ازیں اس آیتِ کریمہ میں تو بہت سے رسولوں کے آنے کا تذکرہ ہے، آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد تیرہ صدیوں تک تو کوئی رسول آیا نہیں، تیرہ سو سال کے بعد قادیانی کہتے ہیں کہ غلام احمد رسول آیا اور غلام احمد کے بعد کوئی رسول نہیں، تو قرآنِ کریم کی آیت قادیانیوں کے مذہب پر بھی منطبق نہ ہوئی۔

۳- علاوہ ازیں آیت میں رسولوں کے آنے کا ذِکر ہے، اور قادیانیوں کے نزدیک مطلق رسولوں کا آنا بند ہے، صرف غیرتشریعی اور بالواسطہ نبی آسکتے ہیں، اس اِعتبار سے بھی یہ آیت ان کے دعوے پر منطبق نہ ہوئی، الغرض اس آیت کو اِجرائے نبوّت کے ثبوت میں پیش کرنا محض دجل وتلبیس ہے۔

ب:... ’’اَﷲُ یَصْطَفِیْ مِنَ الْمَلٰٓءِکَۃِ رُسُلًا وَّمِنَ النَّاسِ، اِنَّ اللہَ سَمِیْعٌم بَصِیْرٌ‘‘

(الحج:۷۵)

ترجمہ:... ’’اللہ تعالیٰ کو اِختیار ہے رِسالت کے لئے جس کو چاہتا ہے، منتخب کرلیتا ہے، فرشتوں میں سے (جن کو چاہے) اَحکام پہنچانے والے مقرّر فرمادیتا ہے، اور اسی طرح آدمیوں میں سے، اللہ تعالیٰ خوب سننے والا خوب دیکھنے والا ہے۔‘‘

قادیانی کہتے ہیں کہ اس میں رسول بھیجنے کا قانون ذِکر فرمایا ہے، اور قانون نہیں بدلتا۔

جواب:... یہ ہے کہ یہ آیت بھی تمہارے دعوے پر منطبق نہیں، کیونکہ تم خود تسلیم کرتے ہو کہ تشریعی نبوّت بند ہے، اور غیرتشریعی بلاواسطہ بھی بند ہے، یہ سنت اللہ کیوں بدل گئی؟ پھر اس آیت میں تو رسولوں کے چننے کا ذِکر ہے، مگر تمہارے نزدیک ایک ہی رسول آیا، اور اس کو بھی خود اس کے ماننے والوں نے رسول نہیں مانا۔

ج:... اور کبھی کہتے ہیں کہ نبوّت رحمت ہے، جبکہ دُرود شریف میں اُمتِ محمدیہ کو یہ

83

دُعا سکھائی گئی ہے:

’’اَللّٰھُمَّ صَلِّ عَلٰی مُحَمَّدٍ وَّعَلٰی آلِ مُحَمَّدٍ کَمَا صَلَّیْتَ عَلٰی اِبْرَاھِیْمَ وَعَلٰی آلِ اِبْرَاھِیْمَ اِنَّکَ حَمِیْدٌ مَّجِیْدٌ۔‘‘

اگر ختمِ نبوّت کو تسلیم کیا جائے تو اُمت نبوّت سے محروم ہوجاتی ہے۔

جواب:... یہ ہے کہ تمہارے نزدیک بھی تشریعی نبوّت بند ہے، اور بلاواسطہ نبوّت بھی بند ہے، تو تمہارے نزدیک بھی یہ اُمت رحمت سے محروم ہوگئی، شاید تم یہ کہو کہ شریعت رحمت نہیں بلکہ ...نعوذباللہ... پولوس کے بقول شریعت ایک لعنت ہے۔

د:... ’’اِھْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِیْمَ‘‘

قادیانی کہا کرتے ہیں کہ اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے صراطِ مستقیم کی ہدایت کی دُعا سکھائی ہے، اور صراطِ مستقیم ہے منعم علیہم کا راستہ، اور سورۂ نساء میں منعم علیہم کے چار گروہ ذِکر کئے ہیں: نبی، صدیق، شہداء، صالحین۔ گویا اس آیت میں یہ دُعا سکھائی گئی ہے کہ یا اللہ! ہمیں نبی بنا، صدیق بنا، شہید بنا، صالحین میں سے بنا۔

جواب:... نبوّت تو عطیۂ خداوندی ہے، اور سورۂ فاتحہ پڑھنے کا حکم پوری اُمت کو ہے، گویا پوری اُمت کا ہر فرد اپنے لئے نبوّت کی دُعا کر رہا ہے، اور یہ بداہۃً باطل ہے۔

۲- نبوّت حضرت ہارون علیہ السلام کو موسیٰ علیہ السلام کی دُعا سے ملی، اور یحییٰ علیہ السلام کو ان کے والد حضرت زکریا علیہ السلام کی دُعا سے ملی، لیکن پوری تاریخِ نبوّت میں ایک مثال بھی نہیں ملتی کہ کسی شخص کو اس کی ذاتی دُعاؤں کے صلے میں نبوّت عطا کی گئی ہو، اور ایسی چیز کی دُعا کرنا لغو اور باطل ہے۔

۳- انبیائے کرام علیہم الصلوٰۃ والسلام میں تشریعی نبی بھی تھے تو لازم ہوا کہ تشریعی نبوّت کی بھی دُعا کی جائے، اور ہر شخص صاحبِ شریعت ہوا کرے، واللّازم باطل فالملزوم مثلہ!

۴- قادیانیوں کے نزدیک نبوّت آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے واسطے سے

84

جاری ہے، بلاواسطہ نہیں، تو جو چیز کہ اللہ تعالیٰ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے حوالے کرچکے ہیں، حق تعالیٰ شانہ‘ سے اس کی دُعا کرنا اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو اس کے لئے کچھ بھی نہ کہنا عقلاً باطل ہے۔

۵- سورۂ فاتحہ کی آیت شریفہ کا مطلب یہ ہے کہ: یا اللہ! تیرے جن بندوں پر اِنعام ہوا ہے، ہمیں مرتے دَم تک ان کے راستے پر رکھیو کہ نہ ان پر غضب ہوا، اور نہ وہ گمراہ ہوئے۔ اور جن بندوں پر اِنعام ہوا ہے، وہ چار گروہ ہیں: نبیین، صدیقین، شہداء، صالحین یعنی اعلیٰ درجے کے اولیاء اللہ، اور اس آیت شریفہ کا مطلب یہ ہے کہ عام اہلِ ایمان میں سے جو شخص اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی اِطاعت کرے گا، اس کو قیامت کے دن جنت میں ان حضرات کی رفاقت نصیب ہوگی۔

یہ میں نے قادیانی تحریفات کے چند نمونے ذِکر کردئیے ہیں، اس سے معلوم ہوتا ہے کہ قادیانی اِسلام سے اس طرح نکل چکے ہیں جس طرح سانپ اپنی کینچلی سے نکل جاتا ہے، اور اللہ اور اللہ کے رسول کا نام لینا محض ان کی ذاتی غرض ہے، ورنہ ان کو اللہ اور رسول سے کوئی تعلق نہیں۔

خاتمہ:

میں نے اپنے کئی رسائل میں ذِکر کیا ہے کہ مرزا غلام احمد قادیانی نے مولانا عبدالحق غزنویؒ کے ساتھ رُو دَر رُو مباہلہ کیا، اور مباہلے کے بعد حضرت مولاناؒ کی زندگی میں ہلاک ہوا، جبکہ اس کے ملفوظات جلد:۹ صفحہ:۴۴۰، ۴۴۱ میں خود اس کی زبان سے اِقرار ہے کہ مباہلہ کرنے والوں میں سے جو جھوٹا ثابت ہو، وہ سچے کی زندگی میں ہلاک ہوجاتا ہے۔ اس سے ثابت ہوا کہ مرزا غلام احمد قادیانی، اللہ کی نظر میں جھوٹا تھا، چونکہ اس نے مسیح ہونے کا دعویٰ کیا، اس لئے وہ اللہ کی نظر میں المسیح الکذّاب تھا، اور چونکہ اس نے نبوّت کا دعویٰ کیا، اس لئے وہ اللہ کی نظر میں مسیلمہ کذّاب تھا، اور جیسا کہ مرزا نے ’’اربعین‘‘ کے آخر میں لکھا ہے کہ جھوٹا نبی ہلاک کیا جاتا ہے، تتمہ اربعین میں ہے:

85

’’اس مقام سے ثابت ہوتا ہے کہ خدا تعالیٰ کی تمام کتابیں اس بات پر متفق ہیں کہ جھوٹا نبی ہلاک کیا جاتا ہے ...الخ۔‘‘

(رُوحانی خزائن ج:۱۷ ص:۴۷۷)

تو چونکہ مرزا غلام احمد نبوّت کا جھوٹا مدعی تھا اس لئے اللہ تعالیٰ نے خود اس کے قلم سے لکھوایا کہ تمام مسلمان اس کو کافر، دجال، بے دِین اور اللہ اور رسول کا دُشمن سمجھتے ہیں، چنانچہ مولانا عبدالحق غزنویؒ کے ساتھ مرزا کا جو مباہلہ ہوا، اس کے اِشتہار میں جو مباہلے سے ایک دن پہلے ۱۰؍ذُوالقعدہ ۱۳۱۰ھ کو شائع کیا گیا مرزا لکھتا ہے:

’’اے برادرانِ اِسلام! کل دہم ذیقعدہ روز شنبہ کو بمقام مندرجہ عنوان (یعنی بمقام امرتسر عیدگاہ متصل مسجد خان بہادر حاجی محمد شاہ مرحوم) میاں عبدالحق غزنوی اور بعض دیگر علماء جیسا کہ انہوں نے وعدہ کیا ہے اس عاجز سے اس بات پر مباہلہ کریں گے کہ وہ لوگ اس عاجز کو کافر اور دَجال اور بے دِین اور دُشمن اللہ جل شانہ‘ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا سمجھتے ہیں، اور اس عاجز کی کتابوں کو مجموعۂ کفریات خیال کرتے ہیں، اور اس طرف یہ عاجز نہ صرف اپنے تئیں مسلمان جانتا ہے بلکہ اپنے وجود کو اللہ اور رسول کی راہ میں فدا کئے بیٹھا ہے، لہٰذا ان لوگوں کی درخواست پر یہ مباہلہ تاریخِ مذکورہ بالا میں قرار پایا ہے، مگر میں چاہتا ہوں کہ مباہلہ کی بددُعا کرنے کے لئے بعض اور مسلمان بھی حاضر ہوجائیں کیونکہ میں یہ دُعا کروں گا کہ جس قدر بھی میری تالیفات ہیں اُن میں سے کوئی بھی خدا اور رسول کے فرمودہ کے مخالف نہیں ہے اور نہ میں کافر ہوں اور اگر میری کتابیں خدا اور رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمودہ کے مخالف اور کفر سے بھری ہوئی ہیں تو خدا تعالیٰ وہ لعنت اور عذاب میرے پر نازل کرے جو اِبتدائے دُنیا سے آج تک کسی کافر بے اِیمان پر نہ کی ہو،

86

اور آپ لوگ آمین کہیں، کیونکہ اگر میں کافر ہوں اور نعوذباللہ دِینِ اسلام سے مرتد اور بے اِیمان تو نہایت بُرے عذاب سے میرا مرنا ہی بہتر ہے، اور میں ایسی زندگی سے بہ ہزار دِل بے زار ہوں، اور اگر ایسا نہیں تو خدا تعالیٰ اپنی طرف سے سچا فیصلہ کردے گا، وہ میرے دِل کو بھی دیکھ رہا ہے اور میرے مخالفوں کے دِل کو بھی۔ بڑے ثواب کی بات ہوگی اگر آپ صاحبان کل دہم ذیقعدہ کو دوبجے کے وقت عیدگاہ میں مباہلہ پر آمین کہنے کے لئے تشریف لائیں۔ والسلام۔‘‘

(مجموعہ اِشتہارات ج:۱ ص:۴۲۶)

مرزا کو اس کے حریف مولانا عبدالحقؒ کی زندگی میں اللہ تعالیٰ نے قے، اِسہال اور وبائی ہیضے کی موت دے کر فیصلہ کردیا کہ مرزا کافر، دجال، بے دِین اور اللہ جل شانہ‘ کا اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا دُشمن تھا، اور اس کی کتابیں مجموعۂ کفریات ہیں، اب اس فیصلے کے بعد کوئی شخص نقدِ اِیمان اس کے ہاتھ فروخت کرتا ہے تو اس کے سوا کیا کہا جائے: خَتَمَ اللہُ عَلٰی قُلُوْبِھِمْ!

رَبَّنَا لَا تُزِغْ قُلُوْبَنَا بَعْدَ اِذْ ھَدَیْتَنَا وَھَبْ لَنَا مِنْ لَّدُنْکَ رَحْمَۃً اِنَّکَ

اَنْتَ الْوَّھَّابُ

وَآخِرُ دَعْوَانَا اَنِ الْحَمْدُللہِ رَبِّ الْعَالَمِیْنَ

87

گالیاں کون دیتا ہے؟

مسلمان ـــ یا ـــ قادیانی

اِبتدائیہ

بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ

زیرِ نظر کتابچہ ایک ولولہ انگیز تقریر ہے جو حضرت مولانا محمد یوسف لدھیانوی نے اکتوبر ۱۹۸۵ء کو عظیم الشان ختمِ نبوّت کانفرنس منعقدہ مرکز پاکستان ہال ابوظہبی میں ایک پُرشکوہ اِجتماع میں فرمائی۔ جس میں نہایت پُرمغز اور مدلل اسلوب سے قادیانیوں کے کفریہ عقائد کی تشریح کی گئی ہے۔ علاوہ ازیں مسلمانوں کے قادیانیوں سے سوشل بائیکاٹ کی اپیل، قادیانیوں کا اپنے آپ کو ’’احمدی‘‘ کہلانے کا دجل اور قادیانیوں کا تعلیم یافتہ طبقے کو یہ تأثر دینا کہ مولوی صاحبان محض گالیاں ہی دیتے ہیں، جیسے مضامین کو عام فہم انداز میں بیان فرمایا ہے۔ غرض مولانا نے قادیانیوں کے فریب کا لبادہ چاک کردیا ہے۔ آخر میں مولانا محترم نے نہایت دِلسوزی سے مسلم اُمہ کو حضرت رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم کے ’’عقیدۂ ختمِ نبوّت‘‘ کے تحفظ کے لئے میدانِ عمل میں آنے کی شدید ضرورت کا اِحساس دِلاکر ’’شافعِ محشر‘‘ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی شفاعت کے مستحق بننے کی ترغیب دی ہے۔ اللہ کریم محترم مولانا کو تادیر باحیات و باعافیت رکھیں۔

اِدارہ

88

بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ

اَلْحَمْدُللہِ وَسَلَامٌ عَلٰی عِبَادِہِ الَّذِیْنَ اصْطَفٰی!

میں آپ حضرات کا زیادہ وقت نہیں لوں گا، ایک سوال کا جواب، ایک درخواست اور ایک پیغام آپ کی خدمت میں پیش کروں گا۔

سوال عام طور سے قادیانیوں کی طرف سے بھی کیا جاتا ہے اور ہمارے اعلیٰ طبقے کے لکھے پڑھے بھائی بھی کیا کرتے ہیں؟ وہ یہ کہ مولوی صاحبان مرزائیوں کو گالیاں نکالتے ہیں؟ ہماری عظیم الشان ختمِ نبوّت کانفرنس جو ۴؍اگست ۱۹۸۸ء کو ویمبلے (Wembley) کانفرنس سینٹر لندن میں ہوئی، وہاں کے اخبارات نے لکھا کہ اتنا بڑا مسلمانوں کا اِجتماع لندن کی تاریخ میں کبھی نہیں ہوا، اور قادیانی اس سے اتنے پریشان ہوئے کہ اس کی تفصیل بیان کروں تو اس کے لئے مستقل گھنٹہ درکار ہے، لیکن مرزا طاہر نے اس پر تبصرہ کیا کہ مولویوں نے گالیاں نکالی ہیں۔ اور ہمارے لکھے پڑھے دوست بھی یہ کہا کرتے ہیں کہ یہ مولوی صاحبان مرزائیوں کو، قادیانیوں کو گالیاں دیتے ہیں۔ اور یہ (مرزائی قادیانی کا لفظ) تو میں کہہ رہا ہوں، یہ کہا کرتے ہیں ’’احمدیوں‘‘ کو گالیاں دیتے ہیں، ان کے مقدس اور مبارک منہ سے ’’احمدی‘‘ کا لفظ نکلا کرتا ہے، مرزائی یا قادیانی کبھی نہیں بولتے۔

سوال کا جواب تو میں بعد میں دُوں گا، پہلے عرض کردوں کہ غلام احمد قادیانی کے ماننے والوں کو مرزائی کہو، قادیانی کہو، مگر احمدی نہ کہو، اس لئے ’’احمدی‘‘ نسبت ہے احمد کی طرف، اور ’’احمد‘‘ کا لفظ قرآن میں صرف ایک جگہ سورۂ صف میں آیا ہے، جہاں اللہ تعالیٰ نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا یہ ارشاد نقل کیا ہے:

’’یٰـبَنِیْٓ اِسْرٰٓءِیْلَ اِنِّیْ رَسُوْلُ اللہِ اِلَیْکُمْ مُّصَدِّقًا لِّمَا بَیْنَ یَدَیَّ مِنَ التَّوْرٰۃِ وَمُبَشِّرًام بِرَسُوْلٍ یَّاْتِیْ مِنْم بَعْدِی

89

اسْمُہٗٓ اَحْمَدُ۔‘‘

(الصف:۶)

’’عیسیٰ علیہ السلام نے فرمایا کہ: اے بنی اسرائیل! میں اپنی سے پہلی کتاب یعنی توراۃ کی تصدیق کرتا ہوں اور اپنے بعد آنے والے ایک عظیم الشان رسول کی خوشخبری دیتا ہوں جن کا نامِ نامی اسمِ گرامی ’’احمد‘‘ ہوگا۔‘‘

قرآنی آیت میں ’’احمد‘‘ سے مراد ’’محمد‘‘ صلی اللہ علیہ وسلم ہیں:

یہاں جو لفظ ’’احمد‘‘ آیا ہے اس کے مصداق میں مسلمانوں اور قادیانیوں کا جھگڑا ہے، ہم مسلمان تو کہتے ہیں کہ قرآن مجید کی اس آیت میں ’’احمد‘‘ سے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مراد ہیں، اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی یہ بشارت آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے حق میں ہے۔ چنانچہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم ارشاد فرماتے ہیں:’’انّ لی اسماء‘‘ میرے بہت سے نام ہیں۔ ’’أنا محمد وأنا أحمد‘‘ میں محمد ہوں اور میں احمد ہوں۔ تو ’’احمد‘‘ حضور صلی اللہ علیہ وسلم ہوئے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف نسبت رکھنے والے ’’احمدی‘‘ ہوئے۔ تمہیں یاد ہوگا کہ متحدہ ہندوستان میں انگریز لوگ ہمیں بجائے مسلمان کہنے کے ’’محمدی‘‘ کہا کرتے تھے، یعنی محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف نسبت رکھنے والے۔ گو ’’محمدی‘‘ ہمارا لقب نہیں ہے، ہمارا لقب ’’مسلمان‘‘ ہے، لیکن اللہ کا شکر ہے ہم ’’محمدی‘‘ کہلانے پر فخر کرتے ہیں۔ لیکن مرزائیوں کا عقیدہ یہ ہے کہ اس آیت میں ’’احمد‘‘ سے غلام احمد قادیانی مراد ہے ...نعوذباللہ... ثم ...نعوذباللہ... قرآنِ کریم میں تو خوشخبری ’’احمد‘‘ کے بارے میں دی گئی ہے:

’’وَمُبَشِّرًام بِرَسُوْلٍ یَّاْتِیْ مِنْم بَعْدِی اسْمُہٗٓ اَحْمَدُ‘‘

جبکہ مرزا کا نام ’’احمد‘‘ نہیں بلکہ ’’غلام احمد‘‘ ہے، تو مرزا اس آیت کا مصداق کیسے ہوا؟ قادیانی کہتے ہیں کہ ’’غلام‘‘ کا لفظ ہٹادو، باقی ’’احمد‘‘ رہ گیا، لہٰذا یہ خوشخبری ’’غلام احمد‘‘ کے بارے میں ہوئی ...نعوذباللہ... اس طرح جعلی طور پر ’’غلام احمد‘‘ کو ’’احمد‘‘ بناکر اس کی طرف

90

نسبت کرکے یہ لوگ ’’احمدی‘‘ بنے اور اپنی جماعت کا نام انگریزوں سے ’’جماعتِ احمدیہ‘‘ رجسٹرڈ کرایا۔ تو قادیانیوں کا اپنے آپ کو ’’احمدی‘‘ کہنا قرآنِ کریم کی اس آیت کی تحریف پر مبنی ہے، اب جو لوگ قادیانیوں کو ’’احمدی‘‘ کہتے ہیں، وہ حقیقت میں قادیانیوں کے اس مکروہ اور کافرانہ نظریے کی تائید کرتے ہیں کہ اس آیت میں ’’احمد‘‘ سے مراد ’’مرزا غلام احمد قادیانی‘‘ ہے ...نعوذباللہ... ثم ...نعوذباللہ... اس لئے میں اپنے لکھے پڑھے بھائیوں سے کہوں گا کہ قادیانیوں کو ’’احمدی‘‘ مت کہیں، ’’قادیانی‘‘ کہیں، یا ’’مرزائی‘‘ کہیں۔ ’’مرزائی‘‘ مرزا کی طرف نسبت ہے، اور ’’قادیانی‘‘ قادیان کی طرف نسبت ہے۔ ’’اِزالہ اوہام‘‘ ہمارے پاس موجود ہے، اس میں غلام احمد قادیانی نے لکھا ہے کہ: ’’میرا اِلہامی نام ہے ’’غلام احمد قادیانی‘‘ اور اس نام کے عدد پورے ۱۳۰۰ ہیں۔‘‘ (اِزالہ اوہام ۱۹۰ خزائن) مرزا کا کہنا یہ ہے کہ چونکہ میں ۱۳۰۰ کے بعد آیا ہوں لہٰذا میرا یہ اِلہامی نام میرے مسیح ہونے کی دلیل ہے۔

قادیانیوں کو ہرگز ’’احمدی‘‘ نہ کہو!

یہ منطق تو الگ رہی کہ حروفِ ابجد کے حساب سے بھی مرزا مسیحِ کذّاب ثابت ہوتا ہے۔ بہرحال وہ کہتا ہے کہ یہ ’’غلام احمد قادیانی‘‘ اِلہامی نام ہے، خدا نے یہ نام نازل کیا ہے۔ اسی طرح ’’مرزا‘‘ کا لفظ بھی اِلہامی ہے، غلام احمد کہتا ہے کہ مجھے اِلہام ہوا ’’سنفرغ لک یا مرزا‘‘ (تذکرہ طبع دوم ص:۱۳۳) ’’اے مرزا! ٹھہرجا ہم ابھی تیرے لئے فارغ ہوتے ہیں) پس جب ہم مرزا کی طرف نسبت کرکے ان کو ’’مرزائی‘‘ کہتے ہیں تو ہم کوئی بُری بات نہیں کہتے، بلکہ ان کے عقیدے کے مطابق تو ان کے اِلہامی نام کی طرف نسبت کرتے ہیں۔ ’’قادیانی‘‘ بھی ان کا اِلہامی نام ہے، لیکن یہ لوگ ان دونوں ناموں سے چڑتے ہیں کہ ہمیں مسلمان ’’مرزائی‘‘ یا ’’قادیانی‘‘ کیوں کہتے ہیں؟ بہرحال ہم انہیں ’’احمدی‘‘ نہیں کہیں گے، مرزائی یا قادیانی کہیں گے، اور میں تمام مسلمان بھائیوں کو تاکید کرتا ہوں کہ مرزائیوں کو ’’احمدی‘‘ ہرگز نہ کہا کریں، بلکہ ان کو ’’قادیانی‘‘ یا

91

’’مرزائی‘‘ کہا کریں۔ یہ تو جملۂ معترضہ تھا۔ اب میں اس سوال کو پھر دُہراتا ہوں جہاں سے بات شروع کی تھی کہ میرے پڑھے لکھے بھائی یہ کہا کرتے ہیں کہ ان کو تم ’’گالیاں‘‘ نکالتے ہو،۔ ہمارے مولانا خلیل احمد صاحب نے مرزا کو ’’دجال‘‘ کہا، ’’کذّاب‘‘ کہا کہ مرزا قادیانی دجال اور کذّاب تھا۔ میں آپ سے پوچھتا ہوں ’’مسیلمہ‘‘ کو کیا کہا کرتے ہو؟ ’’مسیلمہ کذّاب‘‘ (سب حاضرین نے مل کر کہا ’’مسیلمہ کذّاب‘‘) یہ مسیلمہ کے ساتھ ساتھ ’’کذّاب‘‘ کا لفظ کیوں بولتے ہیں؟ اس لئے کہ مسیلمہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو خط لکھا تھا، جس میں یہ گستاخی کی تھی کہ: ’’من مسیلمۃ رسول اللہ إلیٰ محمد رسول اللہ‘‘ (یہ خط ہے مسیلمہ رسول اللہ کی طرف سے محمد رسول اللہ کے نام) اس کے جواب میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے جو خط لکھوایا وہ یہ تھا:

’’من محمد رسول اللہ إلیٰ مسیلمۃ الکذّاب‘‘

’’محمد رسول اللہ کی طرف سے مسیلمہ کذّاب (جھوٹے) کی طرف۔‘‘

اب کیا میرے بھائی کہیں گے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے مسیلمہ کو ’’گالی‘‘ دی تھی؟ ...نعوذباللہ...۔ ’’کذّاب‘‘ کے معنی جھوٹے کے ہیں، اگر تمہارا اِیمان ہے اور یقینا ایمان ہے اور سو فیصد اِیمان ہے کہ غلام احمد قادیانی نے نبوّت کا جھوٹا دعویٰ کیا، تو پھر مجھے کہنے دیجئے کہ جس طرح مسیلمہ کذّاب تھا اسی طرح غلام احمد قادیانی بھی کذّاب ہے، بتائیے! کیا یہ گالی ہے؟ (لوگوں نے کہا: نہیں) حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا کہ: میری اُمت میں تیس کے قریب دجال کذّاب آئیں گے۔ ’’دجال‘‘ کہتے ہیں فریبی کو جو لوگوں کو دھوکا دے کر انہیں اپنے دام میں پھنسائے، تو جھوٹے مدعیانِ نبوّت کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دجال، کذّاب کہا کیونکہ مکر و فریب اور جھوٹی تأویلات کے ذریعے لوگوں کو دھوکا دیتے ہیں۔ آپ بتائیے کہ دجال کہنا یہ گالی ہے؟ ہم کبھی کبھی مرزا کو ’’لعین، ملعون اور شقی‘‘ بھی کہا کرتے ہیں، اس لئے کہ جھوٹی نبوّت کا دعویٰ کرنے والا سب سے بڑا ملعون اور سب سے بڑا بدبخت ہے۔

92

لعنت کی گردان:

مرزا غلام احمد قادیانی کی ایک کتاب ’’نورالحق‘‘ ہے، اس میں ایک طرف سے وہ لکھنے لگا لعنت لعنت، پھر لعنت لعنت لعنت لکھتا چلا گیا، ہر ایک لعنت پر ۱، ۲، ۳ کا ہندسہ دیتا چلا گیا، جب پورا ایک ہزار کا عدد ہوگیا تو اس نے بس کی۔ اس طرح گن کر ہزار مرتبہ لعنت کا لفظ لکھا اور تین چار صفحے لعنت پر خرچ ہوئے، ہم نے کبھی مرزا اور مرزائیوں پر لعنت کی اتنی گردان نہیں کی۔

’’مغلظاتِ مرزا‘‘ کے نام سے مجلس تحفظ ختمِ نبوّت نے کتاب چھاپی ہے، جو مولانا نورمحمد سابق مبلغ مظاہرالعلوم سہارنپور کی تالیف ہے، اور جس میں غلام احمد کی وہ عبارتیں باحوالہ نقل کی گئی ہیں جن میں مسلمانوں کو، سکھوں کو، عیسائیوں کو، ہندوؤں کو، علماء کو، عوام کو، صحابہ کرامؓ کو، انبیائے کرام علیہم السلام کو، مرزا غلام احمد نے فحش گالیاں دی ہیں۔ ان گالیوں کی اصل عبارتیں لکھ کر ساتھ کے ساتھ حروفِ تہجی کے اعتبار سے ان گالیوں کی فہرست بھی بنادی ہے۔ میرے بھائی مرزا کی ان گالیوں کو پڑھ لیں، میرے لکھے پڑھے بھائی ذرا سینے پر ہاتھ رکھ کر اس کتاب کا بغور مطالعہ کریں اور پھر بتلائیں کہ مُلَّا گالی دیتا ہے یا قادیانی گالی دیتے ہیں اور ان کا اِمام گالی دیتا ہے؟ نمونے کے طور پر اگر چاہیں تو چند حوالے پیش کردوں، مشتے نمونہ از خروارے۔

مرزے کی ایک کتاب ہے ’’آئینۂ کمالاتِ اسلام‘‘ اور دُوسرا نام اس کا ’’دافع الوساوس‘‘ ہے، مولانا محمد حسین بٹالوی مرحوم اس کو ’’آئینۂ وساوس‘‘ کہا کرتے تھے، اس کے صفحہ نمبر۵۴۷ جلد۵ (رُوحانی خزائن) پر لکھتا ہے اپنی چند کتابوں کا تذکرہ کرکے:

’’تلک کتب ینظر إلیھا کل مسلم بعین المودۃ والمحبۃ، ویقبلنی ویصدقنی وینتفع من معارفھا، إلّا ذریۃ البغایا فھم لَا یقبلون۔‘‘

ترجمہ:... ’’یہ میری کتابیں ہیں جن کو ہر مسلمان دوستی اور

93

محبت کی نظر سے دیکھتا ہے، اور مجھے قبول کرتا ہے اور میری تصدیق کرتا ہے اور ان کتابوں میں، میں نے جو معرفت کی باتیں لکھی ہیں ان سے نفع اُٹھاتا ہے، مگر کنجریوں کی اولاد کہ نہیں مانتے۔‘‘

مرزا مسلمانوں کو کنجریوں کی اولاد کہتا ہے:

اس عبارت میں مرزا نے لوگوں کی دو قسمیں ذِکر کی ہیں، ایک مرزا کو ماننے والے، اس پر اِیمان لانے والے، اور اس کی تصدیق کرنے والے، وہ تو ہوگئے اس کے نزدیک’’کل مسلم‘‘ اور ایک اس کے انکار کرنے والے، وہ ہیں اس کے نزدیک ’’ذریۃ البغایا‘‘ ’’کنجریوں کی اولاد‘‘۔

آپ بتائیے! میرے منہ سے بھی آپ نے کبھی کسی قادیانی کے بارے میں سنا ہے کہ میں نے اسے کنجریوں کی اولاد کی گالی دی ہو، میں نہیں، کسی بھی عالم کے منہ سے آپ نے نہیں سنا ہوگا۔

میرے بھائی! انصاف کریں، ہم نے مرزا غلام احمد کا کیا قصور کیا تھا کہ اس نے ہمیں ’’ذریۃ البغایا‘‘ کی گالی دی۔

اور سنئے! ’’نجم الہدیٰ‘‘ مرزا غلام احمد کی کتاب ہے، اس میں لکھتا ہے:

’’إن العدی صاروا خنازیر الفلاء ونسائھم من دونھن إلّا کلب۔‘‘

’’دُشمن ہمارے بیابانوں کے خنزیر ہوگئے، اور ان کی عورتیں کتیوں سے بڑھ گئیں۔‘‘

(رُوحانی خزائن نجم الہدیٰ ج:۴ ص:۵۳)

کیا ہم نے بھی کسی قادیانی عورت کو ’’کتیا‘‘ کہا ہے؟ یا قادیانیوں کو جنگلوں کے سوَر کہا ہے؟

مرزا قادیانی کا حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو گالی دینا:

یہ دو مثالیں ہیں جو مرزا قادیانی نے مسلمانوں کو گالیاں دی ہیں۔ اب ذرا ایک

94

نبی کے بارے میں سن لیجئے۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام اللہ تعالیٰ کے اُولوالعزم نبی ہیں، ان کے بارے میں جو اس نے گل افشانیاں کی ہیں، وہ کسی شخص کے سننے کے لائق نہیں، اپنی کتاب ’’انجامِ آتھم‘‘ کے ضمیمے میں لکھتا ہے:

’’یہ بھی یاد رہے کہ آپ کو کسی قدر جھوٹ بولنے کی بھی عادت تھی، آپ کا خاندان بھی نہایت پاک اور مطہر ہے، تین دادیاں اور نانیاں آپ کی زناکار اور کسبی عورتیں تھیں، جن کے خون سے آپ کا وجود ظہور پذیر ہوا، مگر شاید یہ بھی خدائی کے لئے ایک شرط ہوگی۔‘‘

(ضمیمہ انجامِ آتھم ج:۱۱ ص:۷ خزائن ص:۲۸۹، ۲۹۰)

مرزا یہاں عیسائیوں کو لکھ رہا ہے ’’خدائی کے لئے یہ بھی شرط ہوگی‘‘ کہ کنجریوں کی اولاد سے پیدا ہو، میں اس سے پوچھتا ہوں کہ اگر حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو عیسائی خدا مانتے ہیں تو وہ مسلمانوں کے نبی ہیں، تو کیا یہ کہہ سکتے ہیں کہ شاید نبوّت کے لئے بھی یہ شرط ہو ...نعوذباللہ... مرزائیوں کو کچھ تو شرم آنی چاہئے۔

پھر ’’دافع البلاء ‘‘ کے حاشیہ میں لکھتا ہے، یہ اس کا چھوٹا سا رسالہ ہے جو اس کے نامۂ اَعمال کی طرح سیاہ ہے۔ اس رسالے میں مرزا، حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے بارے میں لکھتا ہے:

’’مسیح کی راست بازی اپنے زمانے میں دُوسرے راست بازوں سے بڑھ کر ثابت نہیں ہوتی، بلکہ یحییٰ نبی کو اس پر ایک فضیلت ہے، کیونکہ وہ شراب نہیں پیتا تھا، اور کبھی نہیں سنا گیا کہ کسی فاحشہ عورت نے آکر اپنی کمائی کے مال سے اس کے سر پر عطر ملا تھا، یا ہاتھوں اور سر کے بالوں سے اس کے بدن کو چھوا تھا، یا کوئی بے تعلق جوان عورت اس کی خدمت کرتی تھی، اسی وجہ سے خدا نے قرآن میں یحییٰ کا نام ’’حصور‘‘ رکھا مگر مسیح کا یہ نام نہ رکھا کیونکہ ایسے قصے اس نام کے رکھنے سے مانع تھے۔‘‘

(دافع البلاء، رُوحانی خزائن ج:۱۸ ص:۲۲۰)

95

بقول مرزا، خدا نے عیسیٰ علیہ السلام کو ’’حصور‘‘ اس لئے نہیں کہا کیونکہ وہ ...نعوذباللہ... نقلِ کفر کفر نباشد... ان قصوں میں مبتلا تھے، شراب پیا کرتے تھے اور کنجریوں کے ساتھ رہا کرتے تھے، اس لئے قرآن نے آپ کو ’’حصور‘‘نہیں کہا ...نعوذباللہ... آپ حضرات فرمائیے! اس شخص کے بارے میں کیا زبان استعمال کی جائے جو حضرت عیسیٰ علیہ السلام پر ایسے گندے بہتان لگاتا ہو...؟

سیّدنا علی المرتضیٰؓ، سیّدنا حسینؓ کی توہین:

پھر مرزا غلام احمد قادیانی اپنی کتاب ’’نزولِ مسیح‘‘ ص:۹۹ پرلکھتا ہے:

  1. کربلائیست سیر ہر آنم

    صد حسین است در گریبانم

(رُوحانی خزائن ج:۱۸ ص:۴۷۷)

’’ہر وقت کربلا میری سیر ہے، سو حسینؓ میرے گریبان میں ہیں۔‘‘

پھر کہتا ہے:

’’پرانی خلافت کا جھگڑا چھوڑو، اب نئی خلافت لو، ایک زندہ علی تم میں موجود ہے، اس (مرزا قادیانی) کو چھوڑتے ہو اور ’’مردہ علی‘‘ کو تلاش کرتے ہو۔‘‘

(ملفوظاتِ احمدیہ جلد دوم ص:۱۴۲ طبع ربوہ)

اسی مذکورہ بالا کتاب ’’دافع البلاء‘‘ صفحہ:۲۰ میں جس کا میں پہلے حوالہ دے چکا ہوں، لکھتا ہے:

  1. ابنِ مریم کے ذِکر کو چھوڑو

    اس سے بہتر غلام احمد ہے

(رُوحانی خزائن ج:۱۸ ص:۲۴۰)

ہمیں معاف کیجئے! گالیاں ہم تو نہیں دیتے لیکن آپ اس شخص کے بارے میں

96

فیصلہ کیجئے کہ اس کے بارے میں کیا زبان استعمال کی جائے؟ اور اِنسانیت کے کس مقام پر اس کو درجہ دیا جائے اور کیا درجہ دیا جائے؟ کیا یہ کسی شریف آدمی کی زبان ہے؟ اور کیا ایسے آدمی کو شریف کہہ سکتے ہیں...؟

ایک اور بات کہوں گا، وہ بھی نوٹ کرلیجئے۔ ابھی مولانا منظور احمد الحسینی صاحب نے آپ کو کتاب کا حوالہ بتایا ’’ایک غلطی کا اِزالہ‘‘ اس میں مرزا غلام احمد کا دعویٰ ہے کہ وہ ...نعوذباللہ... ’’محمد رسول اللہ‘‘ ہے، چنانچہ وہ لکھتا ہے:

’’محمد رسول اللہ والذین معہ اشدآء علی الکفار رحمآء بینھم۔ اس وحی اِلٰہی میں میرا نام محمد رکھا گیا اور رسول بھی۔‘‘

(ایک غلطی کا اِزالہ طبع ربوہ ص:۴، خزائن ج:۱۸ ص:۲۰۷)

کوئی شخص دیکھ لے یہ سورۂ فتح کی آیت ہے، لیکن غلام احمد قادیانی کہتا ہے کہ یہ آیت میرا اِلہام ہے اور اس میں میرا نام محمد رکھا گیا اور رسول بھی۔

اس آیت میں ’’محمد رسول اللہ‘‘ سے مرزا قادیانی کے بقول وہ خود مراد ہے، وہ اس میں لکھ رہا ہے کہ اس آیت میں محمدِ عربی صلی اللہ علیہ وسلم کو ’’محمد رسول اللہ‘‘ نہیں کہا گیا بلکہ مجھے ’’محمد رسول اللہ‘‘ کہا گیا ہے ...لاحول ولا قوۃ الا باللہ... آپ ہمیں معاف کریں، اگر ہم مرزا کی اس عبارت کو پڑھ کر اس کے بارے میں سخت زبان استعمال کریں، کیا مجھ سے یا آپ سے یہ بات برداشت ہوسکتی ہے کہ ایک ایسا شخص جو ایک آنکھ سے بھینگا اور ہاتھ سے ٹنڈا ہو، اور جو چائے کی پیالی پکڑ کر سیدھے ہاتھ سے منہ تک نہ لے جاسکتا ہو، جو اُلٹے ہاتھ سے چائے پیا کرتا ہو، ایسا بھینگا اور ٹنڈا شخص ...نعوذباللہ... ’’محمد رسول اللہ‘‘ ہونے کا دعویٰ کرے اور قرآنی آیت کا اپنے آپ کو مصداق ٹھہرائے؟ تہذیب و شرافت اپنی جگہ! لیکن خدارا مجھے بتائیے کہ کیا اس بات کو سن کر ایک مسلمان کا خون نہیں کھول جائے گا؟ کیا وہ اس کے بعد مرزا کے بارے میں ’’حضرت مرزا قادیانی ارشاد فرماتے ہیں‘‘ کے الفاظ استعمال کرے گا...؟

اب تک ہم یہی زبان استعمال کرتے رہے، میں نے قادیانیوں پر کتابیں لکھی

97

ہیں، ان کو اُٹھاکر دیکھو! ان میں یہ لکھا ہوا ملے گا: ’’مرزا غلام احمد صاحب فرماتے ہیں‘‘ لیکن واقعہ یہ ہے کہ ’’مرزا صاحب فرماتے ہیں‘‘ لکھنا غلط ہے، ایک زِندیق، ایک مرتد اور ایک دجال کے لئے یہ کہا جائے کہ ’’وہ فرماتے ہیں‘‘ یہ طرزِ گفتگو غلط ہے، اگر کوئی مسلمان یہ کہے کہ: ’’حضرت مسیلمہ کذّاب فرماتے ہیں‘‘ تو کیا یہ شریفانہ زبان کہلائے گی؟ میں پوچھنا چاہتا ہوں کہ مسیلمہ کذّاب اور غلام احمد قادیانی دونوں میں کیا فرق ہے؟ اس نے بھی حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو خط میں یہی لکھا تھا کہ:

’’أما بعد فإن اللہ تعالٰی أشرکنی فی نبوتکم‘‘

’’اللہ تعالیٰ نے تمہاری نبوّت میں مجھے شریک کردیا ہے، دونوں مل کر نبوّت کریں گے۔‘‘

’’من مسیلمۃ رسول اللہ إلیٰ محمد رسول اللہ‘‘ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو بھی وہ ’’رسول اللہ‘‘ کہہ رہا ہے، خود بھی ’’رسول اللہ‘‘ ہونے کا دعویٰ کر رہا ہے۔ ٹھیک یہی دعویٰ قادیانی کرتا ہے، وہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو بھی ’’محمد رسول اللہ‘‘ کہتا ہے اور اپنے آپ کو بھی ’’رسول اللہ‘‘ کہتا ہے، اور یہ دعویٰ کرتا ہے کہ: ’’محمد رسول اللہ‘‘ کی نبوّت کی چادر اب مجھے اوڑھادی گئی ہے، اور محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوّت مع کمالاتِ نبوّت کے مجھے حاصل ہے، اس لئے اب میں خود ’’محمد رسول اللہ‘‘ ہوں ...نعوذباللہ...!

غلام احمد قادیانی کا ایک مرید کہتا ہے:

  1. امام اپنا عزیزو اس جہاں میں

    غلام احمد ہوا دار الاماں میں

(دار الامان قادیان کو کہہ رہا ہے)

  1. غلام احمد ہے عرشِ رَبِّ اکبر

    مکاں اس کا ہے گویا لامکاں میں

  2. غلام احمد رسول اللہ ہے برحق

    شرف پایا ہے نوعِ انس و جاں میں

98

(نعوذباللہ ثم نعوذباللہ نقلِ کفر کفر نباشد) پھر آگے کہتا ہے:

  1. محمد پھر اُتر آئے ہیں ہم میں

    اور آگے سے ہیں بڑھ کر اپنی شاں میں

  2. محمد دیکھنے ہوں جس نے اکمل

    غلام احمد کو دیکھے قادیاں میں

فیصلہ آپ کریں:

قادیانیوں کا نعرہ ہے ’’محمد پھر اُتر آئے ہیں‘‘ جو ملعون غلام احمد قادیانی کو ’’محمد رسول اللہ‘‘ کہتا ہو، اور یہ کہتا ہو کہ ’’محمد پھر آگیا ہے اور پہلے محمد سے بڑھ کر یہ محمد ہے‘‘ اس کے بارے میں آپ کی عدالت کیا فیصلہ دیتی ہے؟ میں اپنے لکھے پڑھے بھائیوں سے پوچھتا ہوں، قادیانیوں کو چھوڑو، میں آپ سے دادِ اِنصاف طلب کرتا ہوں، آپ کو جج سمجھتا ہوں اور میں مستغیث ہوں محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے۔

ان لوگوں کے بارے میں ایک مسلمان کو کیا زبان استعمال کرنی چاہئے؟ اگر ابھی کچھ شک ہے تو اور سن لیجئے! مسلمانوں کے نزدیک محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی پیروی مدارِ نجات ہے، لیکن قادیانی کہتے ہیں کہ مرزے کی پیروی مدارِ نجات ہے، آئندہ تمام کی تمام سعادتیں مرزا غلام قادیانی کے قدموں سے وابستہ ہیں، جس طرح کہ مسلمان کہتے ہیں کہ انسانیت کی سعادت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے قدموں سے وابستہ ہے:

’’قُلْ اِنْ کُنْتُمْ تُحِبُّوْنَ اللہَ فَاتَّبِعُوْنِیْ یُحْبِبْکُمُ اللہُ‘‘

یہ قرآنِ کریم کی آیت ہے، مگر مرزا کہتا ہے کہ یہ میرے بارے میں ہے، اپنی کتاب اربعین نمبر۴ ص:۷ حاشیہ میں لکھتا ہے:

’’خدا نے میری وحی اور میری تعلیم اور میری بیعت کو نوح کی کشتی قرار دیا اور تمام انسانوں کے لئے مدارِ نجات ٹھہرایا۔‘‘

(رُوحانی خزائن ج:۱۷ ص:۴۳۵)

99

یہ ’’کشتی نوح‘‘ یہاں رسالہ موجود ہے، اس میں لکھتا ہے:

’’میں خدا کی سب راہوں میں سے آخری راہ ہوں، اور میں اس کے سب نوروں میں سے آخری نور ہوں، بدقسمت ہے جو مجھے چھوڑتا ہے کیونکہ میرے بغیر سب تاریکی ہے۔‘‘

(رُوحانی خزائن ج:۱۹ ص:۶۱)

آخری نور اور آخری نبی محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہیں، یہ غلام احمد قادیانی کہاں سے آٹپکا...؟

قادیانیوں کے نزدیک ’’محمد رسول اللہ‘‘ کی حقیقت:

اور سن لیجئے! ’’لا اِلٰہ اِلَّا اللہ محمد رسول اللہ‘‘ کلمہ ہم نے پڑھا، مسلمان ہوگئے، لیکن قادیانیوں کے نزدیک یہ کلمہ منسوخ ہے، ہزار بار پڑھتے رہو ’’لا اِلٰہ اِلَّا اللہ محمد رسول اللہ‘‘۔ جب تک ’’محمد رسول اللہ‘‘ سے مراد مرزا غلام احمد قادیانی نہیں لیتے، اس وقت تک مسلمان نہیں ہو۔ مرزا بشیر احمد ’’کلمۃ الفصل‘‘ (یہ کتاب ہمارے پاس موجود ہے) کے صفحہ:۱۱۰ پر لکھتا ہے:

’’ہر ایک ایسا شخص جو موسیٰ کو تو مانتا ہے مگر عیسیٰ کو نہیں مانتا، یا عیسیٰ کو مانتا ہے مگر محمدؐ کو نہیں مانتا، اور یا محمدؐ کو مانتا ہے پر مسیحِ موعودؑ (مرزا غلام احمد قادیانی) کو نہیں مانتا، وہ نہ صرف کافر بلکہ پکا کافر اور دائرۂ اسلام سے خارج ہے۔‘‘

تم کہا کرتے ہو کہ یہ مولوی کافر کافر کہتے رہتے ہیں، حالانکہ وہ ہمیں کافر کہتے ہیں، ہم ان کو کافر اس لئے کہتے ہیں کہ وہ ایک جھوٹے مدعیٔ نبوّت غلام احمد قادیانی پر اِیمان رکھتے ہیں، جو محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا غدار اور باغی ہے، اور وہ ہم کو اس لئے کافر کہتے ہیں کہ ہم غلام قادیانی دجال پر اِیمان نہیں رکھتے۔

مرزا محمود، مرزا قادیانی کا دُوسرا جانشین جس کو مرزائی ’’خلیفہ‘‘ کہتے ہیں، وہ کہتا ہے:

100

’’ ُکل مسلمان جو مسیحِ موعود کی بیعت میں داخل نہیں ہوئے، خواہ انہوں نے حضرت مسیحِ موعود کا نام بھی نہیں سنا، وہ کافر اور دائرۂ اسلام سے خارج ہیں۔‘‘

(آئینۂ صداقت ص:۳۵)

اور مرزا محمود اپنی دُوسری کتاب ’’انوارِ خلافت‘‘ میں لکھتا ہے:

’’ہمارا فرض ہے کہ ہم غیراحمدیوں کو مسلمان نہ سمجھیں اور ان کے پیچھے نماز نہ پڑھیں، کیونکہ ہمارے نزدیک وہ خدا کے ایک نبی کے منکر ہیں، یہ دِین کا معاملہ ہے، اس میں کسی کا اپنا اختیار نہیں کہ کچھ کرسکے۔‘‘

(انوارِ خلافت ص:۹۰)

مسلمان ’’لا اِلٰہ اِلَّا اللہ محمد رسول اللہ‘‘ پڑھنے کے باوجود ان کے نزدیک غیرمسلم ٹھہرے، اور ہمیں کہتے ہیں کہ قادیانیوں کو کیوں غیرمسلم کہا جاتا ہے؟ مولوی صاحب! جو شخص اپنے آپ کو مسلمان کہتا ہے بس اس کو مسلمان ماننا چاہئے۔ میں پوچھتا ہوں یہ قادیانی ہمیں کیوں غیرمسلم کہتے ہیں؟ کیا ہم اپنے آپ کو سکھ کہتے ہیں؟ کیوں بھائی! کیا ہم اپنے آپ کو مسلمان نہیں کہتے؟ یہ ہمارے خلاف کفر کا فتویٰ کیوں دیتے ہیں؟ اس لئے کہ ہم غلام احمد قادیانی کے منکر ہیں، اور اگر ہم ان کو کافر کہیں اس لئے کہ یہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے غدار ہیں، تو ہم پر کیوں اِلزام ہے...؟

اور مزید سن لیجئے! کہا جاتا ہے کہ ان کو کلمہ پڑھنے سے کیوں روکا جاتا ہے؟ کافر اگر کلمہ پڑھ لے تو اچھی بات ہے۔ میں پوچھتا ہوں کہ اگر کوئی سکھ کلمہ پڑھے (میں آپ سے گستاخی کی معافی چاہوں گا، اور اللہ تعالیٰ سے بھی، نعوذباللہ ثم نعوذباللہ ہزار بار توبہ) کوئی سکھ کلمہ پڑھے ’’لا اِلٰہ اِلَّا اللہ محمد رسول اللہ‘‘ اور ’’محمد رسول اللہ‘‘ سے مراد لے تاراسنگھ ...نعوذباللہ... میں پوچھتا ہوں ہم اس کو یہ کلمہ پڑھنے دیں گے؟ (حاضرین نے کہا: بالکل نہیں!) کسی مسلمان کی غیرت یہ گوارا کرے گی کہ اس کو یہ پتا چل جائے کہ یہ ’’محمد رسول اللہ‘‘ سے تارا سنگھ مراد لیتا ہے ...نعوذباللہ...ثم ...نعوذباللہ... آپ کہتے ہیں کہ اس کو پڑھنے دیں! میں کہتا ہوں، مسلمان زبان پکڑ کرکے گدی سے کھینچ لے گا...!

101

سنئے! یہ قادیانی کلمہ پڑھتے ہیں اور ’’محمد رسول اللہ‘‘ سے مرزا قادیانی مراد لیتے ہیں، مرزا غلام احمد کا بیٹا بشیر احمد ’’کلمۃ الفصل‘‘ صفحہ:۱۵۸ میں لکھتا ہے:

’’پس مسیحِ موعود (مرزا قادیانی) خود محمد رسول اللہ ہے، جو اِشاعتِ اسلام کے لئے دوبارہ دُنیا میں تشریف لائے، اس لئے ہم کو کسی نئے کلمے کی ضرورت نہیں، ہاں اگر محمد رسول اللہ کی جگہ کوئی اور آتا تو ضرورت پیش آتی۔‘‘

وہ کہتا ہے کہ ہمارے نزدیک تو دوبارہ ’’محمد رسول اللہ‘‘ ہی آیا ہے، اس لئے ہم کو نئے کلمے کی ضرورت نہیں، ہم تو ’’محمد رسول اللہ‘‘ اس لئے پڑھتے ہیں اور کہتے ہیں کیونکہ ہمارے نزدیک مرزا قادیانی خود ’’محمد رسول اللہ‘‘ ہے۔ کیوں بھائی! کیا اب بھی قادیانیوں کو کلمہ پڑھنے کی اجازت دی جائے؟ یا مسلمانوں کو اِجازت دی جائے کہ ان کی زبان پکڑ کر گدی سے کھینچ لی جائے۔ آپ ہمارے صبر کو نہیں دیکھتے، آپ یہ نہیں دیکھتے کہ ہم کتنا برداشت کر رہے ہیں، وہ موذی جو محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اِیذا پہنچارہے ہوں وہ ہمارے سامنے پھر رہے ہیں۔

’’ختمِ نبوّت والا دِین لعنتی اور قابلِ نفرت ہے‘‘ مرزا:

اور سنئے! قادیانیوں کے نزدیک حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی شریعت بھی ختم، حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا کلمہ بھی ختم، اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا دِین بھی ختم۔

مرزا قادیانی کے نزدیک اس کی اپنی نبوّت کے بغیر دِینِ اسلام محض قصوں کہانیوں کا مجموعہ، لعنتی، شیطانی اور قابلِ نفرت ہے، چنانچہ وہ لکھتا ہے:

’’وہ دِین دِین نہیں اور نہ وہ نبی نبی ہے جس کی متابعت سے انسان خدا تعالیٰ سے اس قدر نزدیک نہیں ہوسکتا کہ مکالماتِ اِلٰہیہ (یعنی نبوّت... ناقل) سے مشرف ہوسکے۔ وہ دِین لعنتی اور قابلِ نفرت ہے جو یہ سکھلاتا ہے کہ صرف چند منقولی باتوں پر (یعنی

102

شریعتِ محمدیہ پر جو کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول ہے ...ناقل) انسانی ترقیات کا اِنحصار ہے اور وحیٔ اِلٰہی آگے نہیں بلکہ پیچھے رہ گئی ہے ...... سو ایسا دِین بہ نسبت اس کے کہ اس کو رَحمانی کہیں شیطانی کہلانے کا زیادہ مستحق ہوتا ہے۔‘‘

(ضمیمہ براہین احمدیہ حصہ پنجم ص:۱۳۸ و ۱۳۹)

’’یہ کس قدر لغو اور باطل عقیدہ ہے کہ ایسا خیال کیا جائے کہ بعد آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے وحیٔ اِلٰہی کا دروازہ ہمیشہ کے لئے بند ہوگیا اور آئندہ کو قیامت تک اس کی کوئی بھی اُمید نہیں، صرف قصوں کی پوجا کرو۔ پس کیا ایسا مذہب کچھ مذہب ہوسکتا ہے جس میں براہِ راست خدا تعالیٰ کا کچھ بھی پتا نہیں لگتا ...... میں خدا تعالیٰ کی قسم کھاکر کہتا ہوں کہ اس زمانے میں مجھ سے زیادہ بیزار ایسے مذہب سے اور کوئی نہ ہوگا (دریں چہ شک؟...ناقل) میں ایسے مذہب کا نام شیطانی مذہب رکھتا ہوں نہ کہ رحمانی۔‘‘

(ضمیمہ براہین احمدیہ حصہ پنجم ص:۱۸۳، رُوحانی خزائن ج:۲۱ ص:۳۵۴)

آپ حضرات نے سنا! وہ لکھتا ہے کہ اگر ختمِ نبوّت کا مسئلہ تسلیم کیا جائے تو دِینِ اسلام دِین نہیں اور نہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم نبی ہیں؟ اسلام میں نبوّت کا سلسلہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم پر ختم ہے، مگر مرزا قادیانی کہتا ہے کہ جس دِین میں یہ عقیدہ ہو، وہ دِین لعنتی و شیطانی اور قابلِ نفرت ہے...!

مرزا کہتا ہے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی پیروی سے آدمی نبی بن جاتا ہے، میں کہتا ہوں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی پیروی سے نبی نہیں بنا کرتے، کسی کی پیروی سے نبی نہیں بنا کرتے۔ یاد رکھو! جب نبوّت کا سلسلہ جاری تھا اور نبی جب بنا کرتے تھے جب بھی کسی کی پیروی سے نبی نہیں بنتے تھے، بلکہ اللہ خود اِنتخاب کرتا تھا، اور اَب تو نبی بنتے ہی نہیں ہیں کیونکہ نبوّت ہی ختم ہوگئی، لہٰذا کسی کی پیروی سے نبی بننے یا نہ بننے کا کیا سوال...؟

103

پھر اسی حوالے میں مرزا نے دِینِ اسلام کو لعنتی اور شیطانی کہا، یہ کتاب ہمارے پاس موجود ہے، کوئی صاحب اس کا حوالہ دیکھنا چاہیں تو دیکھ لیں، یہ ہمارے دِین کو لعنتی اور شیطانی کہیں، قابلِ نفرت بتائیں، حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے کلمے کو منسوخ کہیں، اور ’’لا اِلٰہ اِلَّا اللہ محمد رسول اللہ‘‘ میں مرزا قادیانی کو داخل کریں اور لوگ کہیں کہ جی ان کے بارے میں سختی نہ کریں۔ یہ تو آپ کے اس سوال کا جواب ہوا کہ مولوی لوگ مرزائیوں کو گالیاں کیوں نکالتے ہیں؟

جواب کا خلاصہ یہ ہے کہ ہم گالیاں نہیں نکالتے، بلکہ ہم ان کو دجال، کذّاب، لعین، مرتد، بے اِیمان کہتے ہیں، اور یہ ہمارے نزدیک گالیاں نہیں ہیں بلکہ حقیقتِ واقعیہ کا اِظہار ہے، جو آدمی دِین سے پھر جائے اس کو مرتد نہ کہیں تو کیا کہیں؟ جو شخص نبوّت کا جھوٹا دعویٰ کرے، اس کو خود حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے کذّاب و دجال کہا ہے، ہم اس کو دجال اور کذّاب نہ کہیں تو کیا کہیں؟ باقی ہم ان کو حرام زادہ نہیں کہتے، لیکن مرزا تمام مسلمانوں کو ’’حرام زادہ‘‘ اور ’’ذریۃ البغایا‘‘ کی گالی بکتا ہے، مرزا اور مرزائی تمام مسلمانوں کو سوَر اور ان کی عورتوں کو کتیاں کہتے ہیں، یہ لفظ ہم ان کے بارے میں استعمال نہیں کرتے، قادیانی ہمارے بارے میں استعمال کرتے ہیں، اور ہمارے پڑھے لکھے بھائیوں کے بارے میں بھی استعمال کرتے ہیں، وہ تمام لوگ جو مرزا کو نہیں مانتے، ان سب کے بارے میں یہ الفاظ استعمال کرتے ہیں۔ اب اِنصاف کیجئے کہ کیا ہم قادیانیوں کو گالی دیتے ہیں یا قادیانی ہمیں اور تمام مسلمانوں کو گالیاں بکتے ہیں؟ اور اِنصاف کیجئے کہ قادیانی مظلوم ہیں یا مسلمان مظلوم ہیں...؟

اب ایک درخواست اور ایک پیغام!

تمام مسلمانوں کے نام ایک اہم پیغام:

پیغام یہ ہے کہ جو شخص قیامت کے دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی شفاعت کا

104

طالب ہے، وہ قادیانیوں کے مقابلے میں کھڑا ہوجائے۔ یاد رکھو! اس وقت دو جماعتیں بن گئی ہیں، ایک مسلمان اور دُوسرے قادیانی، اور ان دونوں جماعتوں کے درمیان لکیر کھنچ گئی ہے۔ اِدھر محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی جماعت ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی اُمت ہے، اور اُدھر قادیانی ملعون کی جماعت ہے، ایک طرف اصلی ’’محمد رسول اللہ‘‘ حضرت محمدِ عربی صلی اللہ علیہ وسلم ہیں، دُوسری طرف قادیان کا جعلی ’’محمد رسول اللہ‘‘ ہے۔

اب آپ درمیان میں نہیں رہ سکتے، مہربانی کرکے ایک طرف ہوجائیے، آپ کو اگر ان کی منطق پسند ہے، یہ بات پسند ہے کہ ظفراللہ خاں بہت بڑا بیرسٹر، وکیل اور قانون دان تھا، آپ کو اس پر ناز ہے کہ عبدالسلام قادیانی بہت بڑا سائنس دان ہے، اور آپ کو یہ خیال ہے کہ ایم ایم احمد بڑا بیوروکریٹ قسم کا آدمی ہے، ٹھیک ہے، آپ کو حق پہنچتا ہے، آپ اس سے متأثر ہیں، پھر لائن کے اُس طرف ہوجائیے، اور اگر نہیں تو اِس طرف آجائیے۔۔ـ۔!

یہ آپ نہیں کرسکتے کہ ہم ان دونوں جماعتوں کے درمیان غیرجانب دار رہیں گے، خدا کی قسم محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا مقابلہ مرزا قادیانی کے ساتھ ہو اور دو جماعتیں الگ الگ ہوجائیں، تو آپ غیرجانب دار رہ کر مسلمان رہ سکتے ہیں؟ درمیان میں ہونے یا غیرجانب دار رہنے کا کیا مطلب؟ مقابلہ میرا اور مرزا طاہر کا نہیں ہے، بلکہ حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا مرزا غلام احمد کے ساتھ ہے، اگر آپ اس مقابلے میں غیرجانب دار رہنا چاہتے ہیں تو رہئے! لیکن میں یہ کہوں گا کہ آپ قیامت کے دن محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اُمت میں شمار نہیں ہوں گے، کیونکہ آپ نے اِیمان اور کفر کے معاملے میں غیرجانب دار ہوکر اپنی مسلمانی کو تین طلاقیں دے دی ہیں۔ یہ الفاظ سوچ سمجھ کر کہہ رہا ہوں، جذبات میں نہیں کہہ رہا، اب آپ کو ایک طرف آنا پڑے گا،’’لَا اِلٰی ھٰؤُلَآءِ وَلَا اِلٰی ھٰؤُلَآءِ‘‘ جس کو قرآنِ کریم نے کہا، وہ منافقین کے بارے میں کہا ہے، کسی مسلمان کی شان نہیں ہوسکتی کہ وہ نہ اسلام اور مسلمانوں کا طرف دار ہو، اور نہ کفر اور کافروں کا، بلکہ غیرجانب دار ہو۔ جو شخص مرزائیوں کے

105

مقابلے میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا طرف دار نہ ہو، بلکہ اپنے آپ کو غیرجانب دار ظاہر کرے، وہ مسلمان کس طرح ہوسکتا ہے؟ اور قیامت کے دن اس کا حشر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی اُمت میں کس طرح ہوسکتا ہے؟ ہرگز نہیں...!

پیغام میرا یہ ہے کہ اگر آپ قیامت کے دن محمدِ عربی صلی اللہ علیہ وسلم کی شفاعت چاہتے ہیں اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے جھنڈے کے نیچے جگہ چاہتے ہیں تو آپ کو ختمِ نبوّت کا کام کرنا پڑے گا اور مرزا قادیانی کی اُمت اور جماعت کے مقابلے میں آنا پڑے گا، کیا آپ اس کے لئے تیار ہیں؟ (سب نے کہا: جی ہاں تیار ہیں، اور ہاتھ کھڑے کئے)۔

اللہ تعالیٰ آپ میں اور ہم میں یہ صحیح جذبہ پیدا فرمائے، آمین۔

آخر میں ایک درخواست:

آخر میں ایک درخواست ہے۔ درخواست یہ ہے کہ کیا تم باپ کے قاتل کے ساتھ بیٹھ کر روٹی کھایا کرتے ہو؟ بولو! (سب نے کہا: نہیں!) غیرمہذب الفاظ بولنے کی گستاخی کی معافی چاہتا ہوں، اگر کوئی کسی کی بہن یا بیٹی کو اغوا کرکے لے جائے، کیا اس کے ساتھ بیٹھ کر روٹی کھایا کرتے ہیں؟ اور ایسے شخص کے ساتھ آپ کی دوستی اور یارانہ رہا کرتا ہے؟ (سب نے کہا: ہرگز نہیں!) اگر ہمیں باپ کے قاتل کے بارے میں غیرت ہے، اور ہمیں کسی کی بہو بیٹی کی عزّت پر ہاتھ ڈالنے والے کے بارے میں غیرت ہے کہ ہماری اس کے ساتھ کبھی صلح نہیں ہوسکتی، کبھی دوستی نہیں ہوسکتی، کبھی اس کے ساتھ ملنا بیٹھنا نہیں ہوسکتا، تو میں پوچھتا ہوں کہ جن موذیوں نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی ناموسِ نبوّت پر ہاتھ ڈالا، جنہوں نے مرزا قادیانی کو ’’محمد رسول اللہ‘‘ بنا ڈالا، جنہوں نے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا کلمہ پڑھنے والے تمام مسلمانوں کو کافر، حرام زادے، سوَر اور کتیوں کا خطاب دیا، ان موذیوں کے بارے میں آپ کی غیرت کیوں مرگئی ہے...؟ آپ ان کے ساتھ کیوں لین دین کرتے ہیں؟ ان کے ساتھ کیوں میل جول رکھتے ہیں؟ مسلمانوں کے معاشرے

106

میں ان کے وجود کو کیوں برداشت کرتے ہیں؟ کیا حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ناموسِ نبوّت کسی کے باپ اور کسی کی بہو بیٹی کے برابر بھی نہیں؟ کیا آپ وعدہ کرتے ہیں کہ آئندہ ان موذیوں سے کوئی تعلق نہیں رکھیں گے، اور ان سے کوئی لین دین نہیں کریں گے؟ (سب نے اس کا وعدہ کیا) حق تعالیٰ شانہ‘ ہمیں اِیمانی غیرت نصیب فرمائیں اور ہم سب کو قیامت کے دن حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے خدام میں اُٹھائیں اور ہم سب کو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی شفاعت نصیب فرماکر ہماری بخشش فرمائیں۔

وَآخِرُ دَعْوَانَا اَنِ الْحَمْدُللہِ رَبِّ الْعَالَمِیْنَ

محمد یوسف لدھیانوی

۱۳؍جنوری ۱۹۸۹ء

107

فتنۂ قادیانیت اور پیامِ اقبال

بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ

نَحْمَدُہٗ وَنُصَلِّیْ عَلٰی رَسُوْلِہِ الْکَرِیْمِ، اَمَّا بَعْدُ!

شاعر مشرق علامہ ڈاکٹر محمد اقبال مرحوم اپنے بلند پایہ ملی افکار کی بنا پر ہمارے جدید حلقوں کا مرجع عقیدت ہیں، ان کی زندگی کے مختلف پہلوؤں پر لوگوں نے جس فراخ قلبی سے تحقیق و تفتیش کا معرکہ سر کیا ہے، وہ ہمارے ماضی قریب کے کسی لیڈر کے حصہ میں نہیں آیا، لیکن علامہ مرحوم کی زندگی کا ایک نمایاں پہلو، جو ان کے آخری دور حیات میں گویا ان کی زندگی کا واحد مشن بن گیا تھا، مصلحت پسندوں نے اسے اجاگر کرنے سے پہلو تہی کی۔ اس کی وجہ غالباً یہ ہوگی کہ دیوبند کے ایک مرد قلندر (علامہ محمد انور شاہ کشمیریؒ) کے فیضان صحبت نے فطرت اقبال کے اس پہلو کی مشاطگی کی تھی، مولانا کشمیریؒ کے سوز جگر نے اقبال مرحوم کو قادیانیت کے خلاف شعلہ جوالہ بنادیا تھا، چنانچہ علامہ مرحوم جدید تعلیم یافتہ طبقے میں پہلے شخص تھے جن کو ’’فتنہ قادیانیت‘‘ کی سنگینی نے بے چین کر رکھا تھا۔ وہ اس فتنہ کو اسلام کے لئے مہلک اور وحدت ملت کے لئے مہیب خطرہ تصور کرتے تھے، ان کی تقریر و تحریر میں ’’قادیانی ٹولے‘‘ کو ’’غدارانِ اسلام‘‘ اور ’’باغیانِ محمد‘‘ سے یاد کیا جاتا تھا، اس لئے کہ ان کے نزدیک اس فرقہ کے موقف کی ٹھیک ٹھیک تعبیر کے لئے اس سے زیادہ موزوں کوئی لفظ نہیں تھا، نہ ہوسکتا تھا۔ وہ اس فتنہ کے استیصال کو سب سے بڑا ملی فریضہ سمجھتے تھے، اور وہ ایک شفیق اور صاحب بصیرت سرجن کی طرح مضطرب تھے کہ اس ’’ناپاک ناسور‘‘ کو جسد ملت سے کاٹ پھینکا جائے ورنہ یہ ساری اُمت کو لے ڈوبے گا۔ افسوس ہے کہ اقبال کے جانشینوں نے اقبال کی ’’بانگ درا‘‘ پر گوش بر آواز ہونے کی ضرورت نہ سمجھی،

108

ورنہ اگر نقاش پاکستان کے انتباہ پر توجہ کی جاتی تو اقبال کے پاکستان کی تاریخ، شہید ملت لیاقت علی خاں کے قتل سے شروع ہوکر مشرقی پاکستان کے قتل تک رونما ہونے والے واقعات سے یقینا پاک ہوتی ــــ ۷؍ستمبر ۱۹۷۴ء کا فیصلہ پیغام اقبال کا جواب نہیں، بلکہ اس کی بسم اللہ ہے، اقبال کا پیغام یہ ہے کہ مسلمانوں کے مذہبی، سیاسی اور معاشرتی اداروں میں اس باغی گروہ کی شرکت اُمتِ مسلمہ کی موت ہے، آج صرف پاکستان نہیں بلکہ پورا عالم اسلام (خصوصاً خطہ عرب اور مشرق وسطیٰ) ان باغیان اسلام کی سازشوں کی آماجگاہ بنا ہوا ہے۔ تل ابیب سے ربوہ کا رابطہ اہل نظر سے مخفی نہیں، اور یہودی فوج میں قادیانی ٹولے کی ’’خدمات‘‘ عالم آشکارا ہوچکی ہیں۔ اس تقریب میں ہم عالم اسلام کی خدمت میں ’’پیام اقبال‘‘ پیش کرتے ہوئے یہ کہنا چاہتے ہیں کہ یا تو ملت اسلامیہ کو عالم اسلام میں پھیلے ہوئے قادیانی گروہ سے جرأت مردانہ کے ساتھ نبٹنا ہوگا، یا پھر اسے اپنی خودکشی پر دستخط کرنے کے لئے تیار رہنا ہوگا۔ قاضی وقت بڑی عجلت کے ساتھ اپنا آخری فیصلہ لکھنے کے لئے بے تاب ہے، اور مستقبل کا پیشکار اس فیصلہ کا ریکارڈ ہمیشہ کے لئے محفوظ کرنے کے لئے مضطرب نظر آتا ہے۔ اب یہ سربراہان اسلام اور قائدین ملت کے تدبر پر منحصر ہے کہ یہ فیصلہ کس کے حق میں ہوتا ہے؟

ا:اسلام کی بنیاد

’’اسلام کا سیدھا سادا مذہب دو قضایا پر مبنی ہے، خدا ایک ہے اور محمد صلی اللہ علیہ و سلم اس سلسلہ انبیاء کے آخری نبی ہیں، جو وقتاً فوقتاً ہر ملک اور ہر زمانے میں اس غرض سے مبعوث ہوتے تھے کہ نوع انسان کی رہنمائی صحیح طرز زندگی کی طرف کریں۔‘‘

(حرفِ اقبال)

۲:ملحد دائرہ اسلام سے خارج:

’’جن دو قضایا (عقیدوں) پر اسلام کی تعقلی عمارت قائم ہے وہ اس قدر سادہ ہیں کہ ان میں الحاد ناممکن ہے۔ جس سے ملحد

109

دائرہ اسلام سے خارج ہوجاتا ہے۔‘‘

(حرف اقبال)

۳:ختمِ نبوّت کا تصور:

’’ختمِ نبوّت کے تصور کی تہذیبی قدر و قیمت کی توضیح میں نے کسی اور جگہ کردی ہے، اس کے معنی بالکل سلیس ہیں...... محمد صلی اللہ علیہ و سلم کے بعد کسی ایسے الہام کا امکان ہی نہیں جس سے انکار کفر کو مستلزم ہو، جو شخص ایسے الہام کا دعویٰ کرتا ہے وہ اسلام سے غداری کرتا ہے، قادیانیوں کا اعتقاد ہے کہ تحریک احمدیت کا بانی ایسے الہام کا حامل تھا۔ یہی وجہ ہے کہ وہ تمام عالم اسلام کو کافر قرار دیتے ہیں۔‘‘

(حرف اقبال)

۴:اسلام کی حد فاصل:

’’اسلام لازماً ایک دینی جماعت ہے جس کے حدود مقرر ہیں، یعنی وحدت الوہیت پر ایمان، انبیاء علیہم السلام پر ایمان اور رسول کریمؐ کی ختم رسالت پر ایمان، دراصل یہ آخری یقین ہی وہ حقیقت ہے جو مسلم اور غیرمسلم کے درمیان وجہ امتیاز ہے اور اس امر کے لئے فیصلہ کن ہے کہ فرد یا گروہ ملت اسلامیہ میں شامل ہے یا نہیں۔ مثلاً برہمو خدا پر یقین رکھتے ہیں اور رسول کریمؐ کو خدا کا پیغمبر مانتے ہیں، لیکن انہیں ملت اسلامیہ میں شمار نہیں کیا جاسکتا، کیونکہ قادیانیوں کی طرح وہ انبیاء کے ذریعے وحی کے تسلسل پر ایمان رکھتے ہیں اور رسول کریم صلی اللہ علیہ و سلم کی ختمِ نبوّت کو نہیں مانتے۔ جہاں تک مجھے معلوم ہے کوئی اسلامی فرقہ اس حد فاصل کو عبور کرنے کی جسارت نہیں کرسکا۔ ایران میں بہائیوں نے ختمِ نبوّت کے اصول کو صریحاً جھٹلایا، لیکن ساتھ ہی انہوں نے یہ بھی تسلیم کیا کہ وہ

110

الگ جماعت ہیں اور مسلمانوں میں شامل نہیں ہیں۔‘‘

۵:ختمِ نبوّت کے معنی:

’’ختمِ نبوّت کے معنی یہ ہیں کہ کوئی شخص بعد اسلام اگر یہ دعویٰ کرے کہ مجھ میں ہر دو اجزا نبوّت کے موجود ہیں، یعنی یہ کہ مجھے الہام وغیرہ ہوتا ہے اور میری جماعت میں داخل نہ ہونے والا کافر ہے، تو وہ شخص کاذب ہے اور واجب القتل۔ مسیلمہ کذاب کو اسی بنا پر قتل کیا گیا۔ حالانکہ جیسا طبری لکھتا ہے، وہ حضور رسالتمابؐ کی نبوّت کا مصدق تھا اور اس کی اذان میں حضور رسالتمابؐ کی نبوّت کی تصدیق تھی۔‘‘

(عکس تحریر علامہ اقبال بنام جناب نذیر نیازی صاحب، مندرجہ انوار اقبال ص:۴۴،۴۵ مرتبہ جناب بشیر احمد صاحب ڈار، شائع کردہ: اقبال اکادمی پاکستان، کراچی)

۶:قادیانیوں کے لئے دو راستے:

’’میری رائے میں قادیانیوں کے سامنے صرف دو راہیں ہیں، یا وہ بہائیوں کی تقلید کریں یا پھر ختمِ نبوّت کی تاویلوں کو چھوڑ کر اس اصول کو اس کے پورے مفہوم کے ساتھ قبول کرلیں۔ ان کی جدید تاویلیں محض اس غرض سے ہیں کہ ان کا شمار حلقہ اسلام میں ہو تاکہ انہیں سیاسی فوائد پہنچ سکیں۔‘‘

(حرف اقبال ص:۱۳۷)

۷:قادیانی علیحدہ اُمت:

’’میرے خیال میں قادیانی حکومت سے کبھی علیحدگی کا مطالبہ کرنے میں پہل نہیں کریں گے، ملت اسلامیہ کو اس مطالبہ کا پورا حق حاصل ہے کہ قادیانیوں کو علیحدہ کردیا جائے۔ اگر حکومت نے یہ مطالبہ منظور نہ کیا تو مسلمانوں کو شک گزرے گا کہ حکومت اس

111

نئے مذہب کی علیحدگی میں دیر کر رہی ہے، کیونکہ وہ ابھی اس قابل نہیں کہ چوتھی جماعت کی حیثیت سے مسلمانوں کی برائے نام اکثریت کو ضرب پہنچاسکے۔ حکومت نے ۱۹۱۹ء میں سکھوں کی طرف سے علیحدگی کے مطالبہ کا انتظار نہ کیا، اب وہ قادیانیوں سے ایسے مطالبہ کے لئے کیوں انتظار کر رہی ہے؟‘‘

(حرف اقبال ص:۱۳۸)

۸:قادیانیت، اسلام کے لئے مہلک:

’’میرے نزدیک ’’بہائیت‘‘، قادیانیت سے زیادہ مخلص ہے۔ کیونکہ وہ کھلے طور پر اسلام سے باغی ہے۔ لیکن مؤخر الذکر (قادیانیت) اسلام کی چند نہایت اہم صورتوں کو ظاہری طور پر قائم رکھتی ہے، لیکن باطنی طور پر اسلام کی روح اور مقاصد کے لئے مہلک ہے۔‘‘

(حرف اقبال ص:۱۲۳)

۹:قادیانیت، یہودیت کا چربہ:

’’اس کا (قادیانی فرقہ) حاسد خدا کا تصور کہ جس کے پاس دشمنوں کے لئے لاتعداد زلزلے اور بیماریاں ہوں، اس (قادیانی فرقہ) کے نبی کے متعلق نجومی کا تخیل اور اس کا روح مسیح کے تسلسل کا عقیدہ وغیرہ یہ تمام چیزیں اپنے اندر یہودیت کے اتنے عناصر رکھتی ہیں، گویا یہ تحریک ہی یہودیت کی طرف رجوع ہے۔‘‘

(حرف اقبال ص:۱۲۳، مرتبہ لطیف احمد شیروانی)

۱۰:قادیانی گستاخ:

جب علامہ مرحوم پر ان کی کسی سابقہ تحریر کا حوالہ دے کر قادیانی اخبار ’’سن رائز‘‘ نے اعتراض کیا کہ پہلے تو علامہ اس تحریک کو اچھا سمجھتے تھے اب خود ہی اس کے خلاف بیان دینے لگے، تو اس کے جواب میں علامہ مرحوم نے حسب ذیل بیان دیا:

112

’’مجھے یہ تسلیم کرنے میں کوئی باک نہیں کہ اب سے ربع صدی پیشتر مجھے اس تحریک سے اچھے نتائج کی امید تھی، اس تقریر سے بہت پہلے مولوی چراغ مرحوم نے جو مسلمانوں میں کافی سربرآوردہ تھے اور انگریزی میں اسلام پر بہت سی کتابوں کے مصنف بھی تھے، بانی تحریک (مرزا غلام احمد) کے ساتھ تعاون کیا اور جہاں تک مجھے معلوم ہے کتاب موسومہ ’’براہین احمدیہ‘‘ میں انہوں نے بیش قیمت مدد بہم پہنچائی، لیکن کسی مذہبی تحریک کی اصل روح ایک دن میں نمایاں نہیں ہوجاتی، اسے اچھی طرح ظاہر ہونے کے لئے برسوں چاہئیں، تحریک کے دو گروہوں کے (لاہوری، قادیانی) باہمی نزاعات اس امر پر شاہد ہیں کہ خود ان لوگوں کو جو بانی تحریک کے ساتھ ذاتی رابطہ رکھتے تھے، معلوم نہ تھا کہ تحریک آگے چل کر کس راستہ پر پڑجائے گی۔ ذاتی طور پر میں اس تحریک سے اس وقت بیزار ہوا جب ایک نئی نبوّت، بانی اسلام کی نبوّت سے اعلیٰ تر نبوّت کا دعویٰ کیا گیا۔ اور تمام مسلمانوں کو کافر قرار دیا گیا، بعد میں یہ بیزاری بغاوت کی حد تک پہنچ گئی۔ جب میں نے تحریک کے ایک رکن کو اپنے کانوں سے آنحضرت صلی اللہ علیہ و سلم کے متعلق نازیبا کلمات کہتے سنا۔ (اور یہ قادیانیوں کی روزمرہ عادت ہے، ناقل) درخت جڑ سے نہیں پھل سے پہچانا جاتا ہے۔ اگر میرے موجودہ رویہ میں کوئی تناقض ہے، تو یہ بھی ایک زندہ اور سوچنے والے انسان کا حق ہے کہ وہ اپنی رائے بدل سکے، بقول ایمرسن: ’’صرف پتھر اپنے آپ کو نہیں جھٹلاسکتے۔‘‘

(حرف اقبال ص:۱۳۱،۱۳۲)

113

۱۱:قادیانی حکمتِ عملی:

’’ہمیں قادیانیوں کی حکمت عملی اور دنیائے اسلام سے متعلق ان کے رویہ کو فراموش نہیں کرنا چاہئے، بانی تحریک (مرزا غلام احمد) نے ملت اسلامیہ کو سڑے ہوئے (ان لوگوں یعنی مسلمانوں کو ان کی ایسی حالت کے ساتھ اپنی جماعت کے ساتھ ملانا، یا ان سے تعلق رکھنا ایسا ہی ہے جیسا کہ عمدہ اور تازہ دودھ میں بگڑا ہوا دودھ ڈال دیں جو سڑ گیا ہے اور اس میں کیڑے پڑ گئے ہیں۔ اس وجہ سے ہماری جماعت کسی طرح ان سے تعلق نہیں رکھ سکتی اور نہ ہمیں تعلق کی حاجت ہے......ارشاد مرزا غلام احمد قادیانی، مندرجہ رسالہ ’’تشہیذ الاذہان‘‘ قادیان ج:۶، نمبر:۲ ص:۱۱۳۔ناقل) دودھ سے تشبیہ دی تھی اور اپنی جماعت کو تازہ دودھ سے اور اپنے مقلدین کو ملت اسلامیہ سے میل جول رکھنے سے اجتناب کا حکم دیا تھا۔ علاوہ بریں ان کا بنیادی اصولوں سے انکار، اپنی جماعت کا نیا نام (احمدی) مسلمانوں کی قیام نماز سے قطع تعلق، نکاح وغیرہ کے معاملات میں مسلمانوں سے بائیکاٹ اور ان سب سے بڑھ کر یہ اعلان کہ دنیائے اسلام کافر ہے، یہ تمام امور قادیانیوں کی علیحدگی پر دال ہیں۔ بلکہ واقعہ یہ ہے کہ وہ اسلام سے اس سے کہیں دور ہیں، جتنے سکھ، ہندوؤں سے، کیونکہ سکھ ہندوؤں سے باہمی شادیاں کرتے ہیں، اگرچہ وہ ہندو مندروں میں پوجا نہیں کرتے، اس امر کو سمجھنے کے لئے کسی خاص ذہانت یا غور و فکر کی ضرورت نہیں ہے کہ جب قادیانی مذہبی اور معاشرتی معاملات میں علیحدگی کی پالیسی اختیار کرتے ہیں پھر وہ سیاسی طور پر مسلمانوں میں

114

شامل رہنے کے لئے کیوں مضطرب ہیں؟‘‘

(حرف اقبال ص:۱۳۸،۱۳۷)

۱۲:قادیانی مذہبی سٹے باز:

’’ہندوستان میں کوئی مذہبی سٹے باز اپنی اغراض کی خاطر ایک نئی جماعت کھڑی کرسکتا ہے اور یہ لبرل حکومت اصل جماعت کی وحدت کی ذرہ بھر پروا نہیں کرتی۔ بشرطیکہ یہ مدعی اسے اپنی اطاعت اور وفاداری کا یقین دلادے اور اس کے پیرو حکومت کے محصول ادا کرتے رہیں۔ اسلام کے حق میں اس پالیسی کا مطلب ہمارے شاعر عظیم اکبرؔ نے اچھی طرح بھانپ لیا تھا، جب اس نے اپنے مزاحیہ انداز میں کہا:

  1. گورنمنٹ کی خیر یارو مناؤ

    انا الحق کہو اور پھانسی نہ پاؤ۔‘‘

(حرف اقبال ص:۱۲۵)

۱۳:قادیانی غداران اسلام:

’’فتوحات کی متعلقہ عبارتوں کو پڑھنے کے بعد میرا یہ اعتقاد ہے کہ ہسپانیہ کا یہ عظیم الشان صوفی (شیخ محی الدین ابن عربی ؒ) محمد صلی اللہ علیہ و سلم کی ختمِ نبوّت پر اسی طرح ایمان رکھتا ہے جس طرح کہ ایک راسخ العقیدہ مسلمان رکھ سکتا ہے۔ اگر شیخؒ کو اپنے صوفیانہ کشف میں یہ نظر آجاتا کہ ایک روز مشرق میں چند ہندوستانی، شیخؒ کی صوفیانہ نفسیات کی آڑ میں پیغمبر اسلام کی ختمِ نبوّت کا انکار کردیں گے تو یقینا علمائے ہند سے پہلے مسلمانان عالم کو ایسے غداران اسلام سے متنبہ کردیتے۔‘‘

(حرف اقبال)

115

۱۴:قادیانی ڈرامہ:

’’ان لوگوں کی قوت ارادی پر ذرا غور کرو جنہیں الہام کی بنیاد پر یہ تلقین کی جاتی ہے کہ اپنے سیاسی ماحول کو اٹل سمجھو، پس میرے خیال میں وہ تمام ایکٹر جنہوں نے احمدیت کے ڈرامہ میں حصہ لیا ہے، زوال و انحطاط کے ہاتھوں میں محض سادہ کٹ پتلی بنے ہوئے تھے۔‘‘

(حرف اقبال)

۱۵:قادیانی ملحدانہ اصطلاحات:

’’اسلامی ایران میں مئوبدانہ اثر کے ماتحت ملحدانہ تحریکیں اٹھیں اور انہوں نے بروز، حلول، ظل وغیرہ (قادیانی) اصطلاحات وضع کیں تاکہ تناسخ کے اس تصور کو چھپا سکیں، ان اصطلاحات کا وضع کرنا اس لئے لازم تھا کہ وہ مسلم کے قلوب کو ناگوار نہ گزریں، حتیٰ کہ مسیح موعود کی (قادیانی) اصطلاح بھی اسلامی نہیں بلکہ اجنبی ہے اور اس کا آغاز بھی اسی مئوبدانہ تصور میں ملتا ہے۔ یہ اصطلاح ہمیں اسلام کے دور اول کی تاریخی اور مذہبی ادب میں نہیں ملتی۔‘‘

(حرف اقبال ص:۱۲۳،۱۲۴)

۱۶:قادیانیت، اسلامی وحدت کے لئے خطرہ:

’’مسلمان ان تحریکوں کے معاملہ میں زیادہ حساس ہے جو اس کی وحدت کے لئے خطرناک ہیں۔ چنانچہ ہر ایسی مذہبی جماعت جو تاریخی طور پر اسلام سے وابستہ ہو، لیکن اپنی بنا نئی نبوّت پر رکھے اور بزعم خود اپنے الہامات پر اعتقاد نہ رکھنے والے تمام مسلمانوں کو کافر (کل مسلمان جو حضرت مسیح موعود کی بیعت میں شامل نہیں ہوئے خواہ انہوں نے حضرت مسیح موعود کا نام بھی نہیں سنا، وہ کافر اور

116

دائرہ اسلام سے خارج ہیں...... بیان مرزا محمود، خلیفہ قادیان، مندرجہ ’’آئینہ صداقت‘‘ ص:۳۵) سمجھے، مسلمان اسے اسلام کی وحدت کے لئے ایک خطرہ تصور کرے گا اور یہ اس لئے کہ اسلامی وحدت نبوّت سے ہی استوار ہوتی ہے۔‘‘

(حرف اقبال ص:۱۲۲، مرتبہ لطیف احمد شیروانی)

۱۷:قادیانیت کے خلاف شدت احساس:

’’ہندی مسلمانوں نے قادیانی تحریک کے خلاف جس شدت احساس کا ثبوت دیا ہے وہ جدید اجتماعیات کے طالب علم پر بالکل واضح ہے۔ عام مسلمان جسے پچھلے دن سول اینڈ ملٹری گزٹ میں ایک صاحب نے ملازدہ کا خطاب دیا تھا، اس تحریک کے مقابلہ میں حفظ نفس کا ثبوت دے رہا ہے۔ اگرچہ اسے ختمِ نبوّت کے عقیدہ کی پوری سمجھ نہیں، نام نہاد تعلیم یافتہ مسلمانوں نے ختمِ نبوّت کے تمدنی پہلو پر کبھی غور نہیں کیا اور مغربیت کی ہوا نے اسے حفظ نفس کے جذبہ سے بھی عاری کردیا ہے۔‘‘

(حرف اقبال ص:۱۲۴)

۱۸:قادیانی، تلعب بالدین:

’’حکومت کو موجودہ صورت حالات پر غور کرنا چاہئے اور اس معاملہ میں جو قومی وحدت کے لئے اشد اہم ہے عام مسلمانوں کی ذہنیت کا اندازہ لگانا چاہئے۔ اگر کسی قوم کی وحدت خطرے میں ہو تو اس کے لئے اس کے سوا چارہ کار نہیں رہتا کہ وہ معاندانہ قوتوں کے خلاف مدافعت کرے۔ سوال پیدا ہوتا ہے کہ مدافعت کا کیا طریقہ ہے؟ اور وہ طریقہ یہی ہے کہ اصل جماعت جس شخص کو تلعب بالدین کرتے پائے اس کے دعاوی کو تحریر و تقریر کے ذریعہ سے جھٹلایا

117

جائے۔ پھر یہ کیا مناسب ہے کہ اصل جماعت کو رواداری کی تلقین کی جائے حالانکہ اس کی وحدت خطرہ میں ہو اور باغی گروہ کو تبلیغ کی پوری اجازت ہو، اگرچہ وہ تبلیغ جھوٹ اور دشنام سے لبریز ہو۔‘‘

(حرف اقبال ص:۱۲۶)

۱۹:قادیانی خدمات کا صلہ:

علامہ اقبال، قادیانی تحریک کو انگریز کی آلہ کار سمجھتے تھے، اس لئے انہوں نے انگریزی حکومت سے طنزاً فرمایا کہ:

’’اگر کوئی گروہ (یعنی قادیانی) جو اصل جماعت کے نقطہ نظر سے باغی ہے، حکومت کے لئے مفید ہو تو حکومت اس کی ’’خدمات کا صلہ‘‘ دینے کی پوری طرح مجاز ہے، دوسری جماعتوں کو اس سے کوئی شکایت پیدا نہیں ہوسکتی، لیکن یہ توقع رکھنی بے کار ہے کہ خود (مسلمانوں کی) جماعت ایسی قوتوں کو نظر انداز کردے جو اس کے اجتماعی وجود کے لئے خطرہ ہیں۔‘‘

(حرف اقبال ص:۱۲۶)

۲۰:قادیانی پالیسی:

’’میں نے (سابقہ بیان میں) اس امر کی وضاحت کردی تھی کہ مذہب میں عدم مداخلت کی پالیسی ہی ایک ایسا طریقہ ہے جسے ہندوستان کی موجودہ حکمران قوم اختیار کرسکتی ہے۔ اس کے علاوہ کوئی پالیسی ممکن ہی نہیں، البتہ مجھے یہ احساس ضرور ہے کہ یہ پالیسی مذہبی جماعتوں کے فوائد کے خلاف ہے۔ اگرچہ اس سے بچنے کی راہ کوئی نہیں، جنہیں خطرہ محسوس ہو انہیں خود اپنی حفاظت کرنی پڑے گی، میری رائے میں حکومت کے لئے بہترین طریق کار یہ ہوگا کہ وہ قادیانیوں کو ایک الگ جماعت تسلیم کرلے۔ یہ قادیانیوں کی

118

پالیسی کے عین مطابق ہوگا۔‘‘

(حرف اقبال ص:۱۲۸،۱۲۹)

۲۱:اسلام اور ملک دونوں کے غدار:

’’میں اپنے ذہن میں اس امر کے متعلق کوئی شبہ نہیں پاتا کہ احمدی، اسلام اور ہندوستان دونوں کے غدار ہیں۔ (اس وقت ہندوستان انگریزی سامراج کے زیر تسلط تھا، اور قادیانی انگریزی سلطنت کی بقا و استحکام کے لئے سرتوڑ کوشش کر رہے تھے ...ناقل)۔‘‘

(پنڈت نہرو کے جواب میں، بحوالہ ’’کچھ پرانے خطوط‘‘ ج:۱ ص:۲۹۳، مرتبہ جواہر لال نہرو، مطبوعہ جامعہ لمیٹڈ دہلی (انڈیا) مترجمہ عبدالمجید الحریری ایم اے، ایل ایل بی)

۲۲:قادیانیت کا وظیفہ:

’’مسلمانوں کے مذہبی تفکر کی تاریخ میں احمدیت کا وظیفہ ہندوستان کی موجودہ سیاسی غلامی کی تائید میں الہامی بنیاد فراہم کرنا ہے۔‘‘

(حرف اقبال)

۲۳:قادیانی تفریق:

’’قادیانیوں کی تفریق کی پالیسی کے پیش نظر، جو انہوں نے مذہبی اور معاشرتی معاملات میں ایک نئی نبوّت کا اعلان کرکے اختیار کی ہے، خود حکومت کا فرض ہے کہ قادیانیوں اور مسلمانوں کے بنیادی اختلافات کا لحاظ رکھتے ہوئے آئینی قدم اٹھائے۔‘‘

(حرف اقبال)

۲۴:قادیانی مقصد:

’’قادیانی جماعت کا مقصد پیغمبر عرب کی اُمت سے ہندوستانی پیغمبر کی اُمت تیار کرنا ہے۔‘‘

(حرف اقبال)

119

۲۵:قادیانی جرم:

’’قرآن کریم کے بعد نبوّت و وحی کا دعویٰ تمام انبیائے کرام کی توہین ہے، یہ ایک ایسا جرم ہے جس کو کبھی معاف نہیں کیا جاسکتا۔ ختمیت کی دیوار میں سوراخ کرنا دینیات کے تمام نظام کو درہم برہم کردینے کے مترادف ہے، قادیانی فرقہ کا وجود عالم اسلامی، عقائد اسلام، شرافت انبیاء، خاتمیت محمد صلی اللہ علیہ و سلم اور کاملیت قرآن کے لئے قطعاً مضر و منافی ہے۔‘‘

(فیضان اقبال ص:۴۳۵)

120

مقامِ نبوّت اور قادیانیت

مسلمان اور قادیانی دونوں اس پر متفق ہیں کہ مرزا قادیانی جھوٹا تھا،

بلکہ قادیانی، مرزا کو بڑا جھوٹا سمجھتے ہیں

بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ

اَلْحَمْدُللہِ وَسَلَامٌ عَلٰی عِبَادِہِ الَّذِیْنَ اصْطَفٰی

اس جلسے کا موضوع قادیانیت ہے، حضراتِ علمائے کرام اپنے اپنے انداز میں اس مسئلے پر روشنی ڈالیں گے، میں کچھ باتیں آپ سے، اور کچھ باتیں مرزا طاہر، اور اس کی جماعت سے کرنا چاہتا ہوں، باتیں بہت زیادہ ہیں، اس لئے مختصر کروں گا، اور آپ حضرات سے درخواست کروں گا کہ ذرا توجہ سے بات کو سمجھ لیں۔

غلام احمد نے نبوّت کا دعویٰ کیا، قادیانیوں نے اس کو نبی، مسیحِ موعود اور نہ معلوم کیا کیا مان لیا۔ میں کہتا ہوں غلام احمد بھی نہیں جانتا تھا، مرزا طاہر بھی نہیں جانتا اور قادیانی بھی نہیں جانتے کہ نبوّت کس چیز کا نام ہے:

ناز ہے گل کو نزاکت پہ چمن میں اے ذوق!

اس نے دیکھے ہی نہیں ناز ونزاکت والے!

واللہ العظیم! اگر ان کے سامنے نبی کا صحیح تصوّر موجود ہوتا تو مرزا غلام احمد قادیانی کے لئے اُمتی ہونا بھی عار سمجھا جاتا، نبی ہونا تو دُور کی بات ہے۔

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم خاتم النبیین ہیں، اور یہ لقب مرکب ہے دو لفظوں سے، ’’خاتم‘‘ اور ’’النبیین‘‘، اس اِعتبار سے لازمی طور پر میرا مضمون دو حصوں میں تقسیم ہوجاتا ہے، ایک یہ کہ نبوّت کیا چیز ہے؟ دُوسرے یہ کہ خاتم کیا ہے؟

مختصر اَلفاظ میں یوں سمجھ لیجئے کہ تمام انسانی کمالات کا ایک مجموعہ اللہ تعالیٰ بناتے

121

ہیں، اور اس کا نام ’’نبی‘‘ رکھتے ہیں، کوئی انسانی نقص اس کے اندر نہیں رہنے دیتے، اس کی زبان میں، اس کے کان میں، اس کی آنکھوں میں، اس کے دِل ودِماغ میں، اس کے اعضاء میں کوئی نقص ایسا نہیں رہنے دیتے جو عیب سمجھا جائے، ظاہری اور باطنی تمام نقائصِ بشریت سے پاک کرکے اللہ تعالیٰ ایک ہستی کو منتخب فرماتے ہیں، اس کی تخلیق فرماتے ہیں، اور اس کا نام ’’نبی‘‘ رکھتے ہیں، یعنی اللہ تعالیٰ کا پیغام اللہ تعالیٰ سے لے کر مخلوق تک پہنچانے والا۔ نبی، صدق، سچائی، راستی اور کمالاتِ انسانی میں بے مثل اور بے مثال ہوتا ہے۔ اس کے زمانے کا کوئی آدمی، علم، فہم، عقل، دِین، دیانت، شرافت، نجابت میں اس کے برابر نہیں ہوتا، وہ سب سے عالی خاندن ہوتا ہے۔ تمہارے یہاں مسلمانوں میں سب سے عالی خاندان کون سمجھا جاتا ہے؟ سب سے عالی خاندان حضورِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا خاندان ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کسی نے پوچھا کہ: سب سے زیادہ معزّز آدمی کون ہے؟ یعنی عالی نسب، فرمایا: سب سے زیادہ عالی نسب ہوئے ہیں سیّدنا یوسف علیہ الصلوٰۃ والسلام، خود نبی، باپ نبی، دادا نبی، پردادا نبی۔ عرض کیا کہ: حضرت! یہ تو ہم نہیں پوچھنا چاہتے۔ فرمایا: تم قبائلِ عرب کے بارے میں مجھ سے پوچھتے ہو؟ عرض کیا: جی! فرمایا: جو جاہلیت کے زمانے میں سب سے اُونچا خاندان سمجھا جاتا تھا، وہ اسلام میں بھی اُونچا خاندان سمجھا جائے گا، بشرطیکہ تفقہ فی الدین حاصل کرلے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اِرشاد فرمایا: اللہ تعالیٰ نے تمام مخلوق میں سے اولادِ آدم کو منتخب فرمایا، اولادِ آدم میں عرب کو منتخب فرمایا، عرب میں قریش کو منتخب فرمایا، قریش میں ہاشم کو منتخب فرمایا، اور بنوہاشم میں اللہ تعالیٰ نے مجھے چن لیا۔ گویا پوری کائنات کا خلاصہ...!

فتحِ مکہ سے پہلے کا قصہ ہے کہ ابوسفیان مکہ سے ملکِ شام گیا ہوا تھا، یہ اس وقت مسلمان نہیں تھے، جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا گرامی نامہ شاہِ رُوم ہرقل کے پاس پہنچا، اس نے اپنے آدمیوں کو بلایا کہ دیکھو یہاں عرب کے کچھ لوگ آئے ہوئے ہوں گے، ان کو بلاؤ تاکہ ان سے ان صاحب کے بارے میں معلومات کریں۔ یہ واقعہ بخاری شریف کے پہلے ہی باب میں ہے۔ چنانچہ ابوسفیان کو اس کے رُفقاء سمیت لایا گیا، آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے اوصاف وکمالات کے بارے میں ہرقل نے سوالات کئے اور ابوسفیان نے

122

جواب د ئیے، رُومیوں کا سب سے بڑا کافر سوال کرنے والا، اور عرب کا سب سے بڑا کافر جواب دینے والا ...ناراض نہ ہونا، ابوسفیان ’’رضی اللہ عنہ‘‘ بعد میں بنے ہیں، اس وقت یہ کفارِ مکہ کے رئیس تھے... اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا کوئی نمائندہ اس موقع پر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے وکالت کرنے کے لئے موجود نہیں تھا۔ اس نے پوچھا کہ: محمد رسول اللہ ...صلی اللہ علیہ وسلم... جو نبوّت کا دعویٰ کرتے ہیں، ان کا حسب ونسب کیسا ہے؟ جواب دیا: وہ بڑا عالی نسب ہے۔ تمام اہلِ عرب مانتے تھے کہ قریش سے بڑھ کر کوئی معزّز خاندان نہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم خاندانِ قریش کا خلاصہ تھے، اور ان کی آنکھ کا تارا تھے۔ میں عرض کر رہا ہوں کہ سب سے بڑا دُشمن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا، آپ کے بارے میں شہادت دے رہا ہے، آگے ان گیارہ سوالات میں سے ہر ایک سوال کا جواب اس نے دیا، اور ہر جواب پر شاہِ رُوم نے تبصرہ کیا، اس جواب پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ: میں نے تجھ سے پوچھا تھا کہ ان کا نسب کیسا ہے؟ تو نے کہا کہ: وہ بڑا عالی نسب ہے، تمام کے تمام انبیاء اسی طرح عالی نسب پیدا ہوتے ہیں، کسی نبی کا نسب نامہ اس وقت کے لحاظ سے سب سے عالی نسب نامہ ہوتا ہے، اس سے زیادہ معزّز کوئی نسب نہیں ہوتا۔

تو خیر مختصر سی بات میں عرض کرتا ہوں، ظاہر کے اِعتبار سے، باطن کے اِعتبار سے اللہ تعالیٰ تمام کمالات کا ایک مجموعہ تیار کرتے ہیں، اور اس کا نام ’’نبی‘‘ رکھتے ہیں، اس کی خواہشات بھی پاک ہوتی ہیں، اس کا بچپن پاک، اس کی جوانی پاک، اس کی کہولت پاک، اس کا بڑھاپا پاک، اس کی زبان پاک، اس کا دِل پاک، کان پاک، پوری عمر میں کوئی لفظ کسی نبی کے منہ سے غلط نہیں سنا گیا، یہ ریکارڈ ہے، قبل اَز نبوّت بھی، اور بعد اَز نبوّت بھی۔ میرے منہ سے بہت سے غلط الفاظ نکل سکتے ہیں، اور بڑے بڑے لوگوں کے منہ سے کوئی غلط بات نکل سکتی ہے، لیکن کبھی کسی نبی کے منہ سے کوئی ایسا لفظ نہیں نکلا، جس پر اُنگلی رکھی جاسکے۔ مجھے ہمیشہ حفیظ جالندھری مرحوم کا یہ شعر پسند آیا کرتا ہے:

  1. محمدؐ جس کو دُنیا صادق الوعد وامیں کہہ دے

    وہ بندہ جس کو رحمن، رحمۃ للعالمین کہہ دے

123

یہ میں نبوّت کا ذِکر کر رہا ہوں، خاتمِ نبوّت تو الگ ہے۔ نبوّت کیا چیز ہے؟ قادیانیوں نے اس کو بچوں کا کھلونا بنادیا، اُونٹ رے اُونٹ تیری کون سی کل سیدھی؟ یہ غلام احمد کو نبی بناتے ہیں۔ میں نے ایک کتاب میں مرزا غلام احمد قادیانی کے امراض کی فہرست جمع کردی ہے۔ تیس اَمراض تھے، جن میں سے ایک قوّتِ مردمی کا کالعدم ہونا، یہ نبی ہے؟ اگر بہروپئے کے طور پر بھی کسی کو نبی بنانا تھا تو نقل مطابق اصل تو ہوتی! شکل دیکھو، عقل دیکھو، فہم دیکھو، فراست دیکھو، نبیوں کا مقابلہ کرتے ہیں...؟

اور سنو حافظ تاج الدین سبکیؒ نے طبقات شافعیہ میں اپنے والد ماجد علی بن عبدالکافی تقی الدین سبکیؒ ...بیٹا تاج الدین ہے اور باپ تقی الدین ہے... کا قول نقل کیا ہے کہ ناممکن ہے کہ کوئی اُمتی نبی کو سمجھ سکے۔ سمجھو! کیا کہہ رہے ہیں؟ بڑے بڑے اولیاء، اَقطاب، بزرگانِ دِین، اُونچی کرامتوں والے، شاہ عبدالقادر جیلانی،ؒ خواجہ معین الدین چشتیؒ جیسے، یہ نبی کو نہیں سمجھ سکتے کہ نبی کون ہوتا ہے؟ اور سنو ابوبکر ...رضی اللہ عنہ... اور عمر ...رضی اللہ عنہ... نہیں سمجھ سکتے کہ نبی کون ہوتا ہے؟ تقی الدین سبکیؒ لکھتے ہیں کہ اگر تھوڑا سا سمجھا ہے تو ابوبکر ...رضی اللہ عنہ... نے سمجھا ہے، کیونکہ وہ صدیقِ اکبر ہیں، اور صدیقِ اکبر ...رضی اللہ عنہ... کا سر وہاں ہوتا ہے، جہاں نبوّت کا پاؤں ہوتا ہے، جہاں نبی کے پاؤں لگتے ہیں وہاں صدیقیت کا سر لگتا ہے، اس لئے تھوڑی سی ان کو ہوا لگی ہوگی، ورنہ کسی اُمتی کی کیا مجال ہے کہ مقامِ نبوّت کو پہچان سکے...؟

تو یہ بات سمجھ لو کہ تمام کمالاتِ انسانی کا مجموعہ اللہ تعالیٰ تیار کرتے ہیں، اپنی پیغام رسانی کے لئے، اور اس کا نام ’’نبی‘‘ رکھتے ہیں، اور آخر میں محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو اِمام الانبیاء بنایا:’’أوّل الأنبیاء آدم وآخرھم محمد صلی اللہ علیہ وسلم‘‘ عقائد کی ہر کتاب ...مسلمانوں کے عقائد پر جتنی کتابیں لکھی گئی ہیں ان... میں یہ عقیدہ درج کیا گیا ہے، اور خاتم الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کو کمالاتِ انبیاء کا مجموعہ بنادیا، ہمارے حضرت نانوتویؒ کا شعر ہے، بانیٔ دارالعلوم دیوبند، حضرت مولانا محمد قاسم نانوتوی رحمہ اللہ تعالیٰ، آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو خطاب کرکے فرماتے ہیں:

  1. جہاں کے سارے کمالات ایک تجھ میں ہیں

    ترے کمال کسی میں نہیں مگر دو چار

124

کسی کو محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا حسن دے دیا، یوسف بن گئے، کسی کو اِعجاز دے دیا، وہ موسیٰ بن گئے، کسی کو محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی مسیحائی عطا کردی، وہ مسیح علیہ السلام بن گئے۔ تمام انبیائے کرام علیہم الصلوٰۃ والسلام کے کمالات کا خلاصہ اور عطر حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہیں۔ کوئی کمال انبیائے کرام علیہم الصلوٰۃ والسلام کے کمالات میں سے، مخلوق کے کمالات میں ایسا باقی نہیں بچا، جو حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ذاتِ عالی میں جمع نہ کردیا ہو، اور اس کے اِظہار کے لئے اللہ تعالیٰ نے عالمِ اَزل میں تمام انبیاء سے عہدِ میثاق لیا:’’وَاِذْ اَخَذَ اللہُ مِیْثَاقَ النَّبِیّٖنَ‘‘ اور اسی بات کے اِظہار کے لئے اللہ تعالیٰ نے شبِ اِسرا میں تمام انبیائے کرام علیہم الصلوٰۃ والسلام کو جمع کیا تھا۔ حضرتِ اقدس حکیم الامت مولانا اشرف علی تھانویؒ کی کتاب ہے ’’نشرالطہیب فی ذکر النبی الحبیب صلی اللہ علیہ وسلم‘‘ اس میں واقعاتِ معراج کے آٹھویں واقعے میں حضرتؒ نے لکھا ہے کہ تمام انبیائے کرام علیہم الصلوٰۃ والسلام بیت المقدس میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی تشریف آوری سے پہلے جمع تھے ...مقرّر بعد میں آتا ہے،، جلسہ پہلے جمع ہوتا ہے... آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’اتنے میں ایک نے اِقامت کہی، اور اِنتظار کرنے لگے کہ اِمام کون بنتا ہے؟ جبریل امین نے میرا ہاتھ پکڑا، اور ہاتھ پکڑ کر مجھے آگے کردیا۔‘‘ اس کو کہتے ہیں خاتم الانبیاء اور اِمام الانبیاء۔ اِمام الانبیاء کا مطلب کیا ہے؟ سمجھے نہیں ہو اس رمز واِشارے کو؟ اِمام جب تک اِمام ہے، مقتدی اس کے اِشارے پر چلے گا، یہ نہیں ہوسکتا کہ اِمام رُکوع میں ہو، اور یہ سجدے میں چلا جائے، اِمام الانبیاء بنانے میں اِشارہ تھا کہ اب قیامت تک حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اِمامت کا سکہ چلے گا۔

الغرض! آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی اِمامت کا آغاز عالمِ اَزَل میں ہوا تھا، جبکہ تمام نبیوں سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے عہد لیا گیا، اور یہ عہد آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں پورا ہوا، اور اس کا ایک ظہور آخری دن ہوگا ...آخری دن کونسا ہے؟ آخری دن قیامت کا دِن ہے: ’’وَبِالْاٰخِرَۃِ ھُمْ یُوْقِنُوْنَ‘‘ آخر پر بھی یقین رکھتے ہیں، قیامت کا دِن آخری دِن ہے، کیونکہ اس کے بعد پھر دِن اور رات کا سلسلہ ختم، زمانہ غیرمحدود، وقت

125

کے تعین کے لئے کوئی پیمانہ مقرّر کریں گے، لیکن یہ دن رات کا نظام وہاں نہیں ہوگا... آخری دِن میں اس کا اِظہار یوں فرمائیں گے کہ ’’لوائے حمد‘‘ ...حمد کا جھنڈا... آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھ میں عطا کیا جائے گا، اور تمام نبی، آدم علیہ الصلوٰۃ والسلام سے لے کر عیسیٰ علیہ الصلوٰۃ والسلام تک، سب حضورِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے جھنڈے کے نیچے ہوں گے۔ حجۃالاسلام حضرت مولانا محمد قاسم نانوتویؒ بانیٔ دارالعلوم دیوبند کے بقول: ’’آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نبی الانبیاء ہیں، اور جرنیلوں کے جرنیل ہیں، ہر نبی کی اُمت اس (نبی) کے ماتحت ہے، اور وہ نبی اپنی اُمت کے ساتھ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ماتحت ہے۔‘‘

شیخ سعدیؒ کا مشہور شعر ہے: ’’جو احمق روشن دن میں شمعِ کافوری جلائے، تم جلد دیکھوگے کہ اس کے چراغ میں تیل نہیں رہے گا۔‘‘ دوپہر کو سورج نکلا ہوا ہے، ہر چیز روشن ہے، اور کوئی آدمی چراغ جلاکر بیٹھ جائے تو تم اس کے بارے میں کیا کہوگے؟ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی رِسالت ونبوّت کا آفتاب طلوع ہونے کے بعد کسی اور کی نبوّت کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا، اس کے باوجود اگر کوئی نبوّت کا دعویٰ کرتا ہے تو وہ جھوٹا ہی نہیں بلکہ احمق بھی ہے...!

ہمارے ایک بزرگ تھے، حضرت بنوری رحمۃ اللہ علیہ کے دوست تھے، مولانا عبدالقدوسؒ۔ ہمارے حضرت بنوری رحمۃ اللہ علیہ کے ساتھ بہت دوستی تھی، حضرتؒ کے وصال کے بعد بھی وہ مجھ پر کرم فرماتے رہے، اور گھنٹوں آکر بیٹھتے تھے۔ پشاور یونیورسٹی میں اُستاذ تھے، کوئی قادیانی بھی اس میں ہوگا، مولانا فرماتے تھے کہ ایک دن میں نے اس قادیانی سے پوچھا کہ: کیا آپ احمدی ہوتے ہیں؟ بہت خوش ہوگیا، کہنے لگا: جناب نے کیسے پہچان لیا؟ مولانا فرماتے ہیں: میں نے نہایت سنجیدگی سے کہا کہ مرزائیوں کے منہ پر ایک خاص قسم کی لعنت برستی ہے، وہ تیرے چہرے پر بھی دیکھ رہا ہوں۔ چپ ہوگیا۔ واقعی! ہر قادیانی کے منہ پر ایک لعنت برستی ہے، جس کو اہلِ نظر فوراً پہچان لیتے ہیں۔ ذرا سوچو کہ جن لوگوں کے دِلوں کی سیاہی ان کے چہروں پر آگئی ہو، ان کے دِلوں کا کیا حال ہوگا...؟

اب یہ باتیں جو مجھے آپ سے عرض کرنی تھیں، وہ تو ختم ہوگئیں، اور باقی منٹ رہ گئے صرف دس۔ اب چند باتیں ان لوگوں کے بارے میں کرتا ہوں، اور پھر اگر اِطمینان کا

126

موقع ملا تو اِن شاء اللہ کچھ اور باتیں بھی کرنی ہیں ان سے۔ میں نے عرض کیا کہ نبی، اللہ سے پیغام لیتا ہے، اور بندوں کو وہ پیغام دیتا ہے، اگر وہ کبھی کچھ کہہ دیا کرے اور کبھی کچھ کہہ دیا کرے تو کیا اس پر اِعتماد ہوسکتا ہے؟ ہرگز نہیں!

کسی مرزائی سے پوچھ لو، غلام احمد نے اپنی پہلی کتاب براہین احمدیہ صفحہ:۴۹۸، ۴۹۹ میں قرآنِ کریم کے حوالے سے، اور ’’اس عاجز پر ظاہر کیا گیا ہے‘‘ کے حوالے سے، حضرت عیسیٰ علیہ الصلوٰۃ والسلام کے آنے کا عقیدہ لکھا تھا کہ عیسیٰ علیہ الصلوٰۃ والسلام آئیں گے، آسمان سے نازل ہوں گے، اور اللہ تعالیٰ نے اس کی پیشین گوئی فرمائی ہے، اور اس پیشین گوئی میں اللہ تعالیٰ نے مجھے بھی شریک کر رکھا ہے۔ یہ قصہ ہے ۱۸۸۴ء کا، اس وقت کی یہ تحریر ہے۔ اس کے بعد ۱۸۹۱ء آیا تو کہا کہ: مجھے اِلہام ہوا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ عیسیٰ مرگیا ہے، اور تو اس کی جگہ ہوکر آیا ہے۔ اور عیسیٰ علیہ الصلوٰۃ والسلام کے متعلق جو آیتیں تھیں، وہ بھی میرے نام کردیں۔

اب میں ایک بات پوچھتا ہوں، ’’عیسیٰ علیہ السلام آئیں گے‘‘ یہ مرزا کا ۱۸۸۴ء کا عقیدہ تھا، اور ’’عیسیٰ علیہ السلام نہیں آئیں گے‘‘ یہ ۱۸۹۱ء کا عقیدہ۔ ’’آئیں گے‘‘ اور ’’نہیں آئیں گے‘‘ یہ دونوں باتیں تو سچی نہیں ہوسکتیں، لامحالہ ان میں سے ایک بات سچی ہوگی، اور ایک جھوٹی، کیوں بھئی ٹھیک ہے؟ یہ اتنی موٹی بات ہے کہ اس کو سمجھنے کے لئے کسی منطق کی ضرورت نہیں، مثلاً جب کہا جائے کہ ’’زید آئے گا‘‘ تو اس کا مطلب ہے کہ وہ زِندہ ہے، اور جب کہا جائے کہ ’’زید مرگیا ہے‘‘ تو اس کا مطلب یہ ہے کہ نہیں آئے گا، ایک آدمی یہ دو خبریں ایک ہی زبان سے دے رہا ہے، اور ایک ہی قلم سے لکھ رہا ہے، ان میں سے ایک کو کہوگے سچی، اور ایک کو جھوٹی، اور جو جھوٹ بولے، وہ ہوگا جھوٹا، تو ہمارا اور قادیانیوں کا اس پر اِتفاق ہے کہ مرزا نے ۱۸۸۴ء میں قرآن اور اپنے اِلہام کے حوالے سے یہ خبر دی کہ مسیح علیہ السلام دوبارہ آئیں گے، اور اس کے چھ سال بعد ۱۸۹۱ء میں اپنے اِلہام کے حوالے سے خبر دی کہ وہ دوبارہ نہیں آئیں گے، لہٰذا اگر پہلی خبر سچی تھی تو دُوسری جھوٹی، اور اگر دُوسری سچی تھی تو پہلی خبر جھوٹی۔

127

گویا ہمارا اور قادیانیوں کا اس پر اِتفاق ہے کہ مرزا غلام احمد جھوٹا تھا، قرآن اور اپنے اِلہام کے حوالے سے جھوٹی خبریں دِیا کرتا تھا۔ میں مرزا طاہر اور ان کی قادیانی اُمت سے عرض کرتا ہوں کہ ہمارا اور تمہارا مرزا کے بارے میں کوئی جھگڑا نہیں ہے، تم بھی مانتے ہو کہ اس نے ایک خبر جھوٹی دی، ہم بھی مانتے ہیں کہ اس نے ایک خبر جھوٹی دی، پس مرزا کے جھوٹا ہونے پر ہم دونوں فریق متفق ہیں۔ ہمارا اور قادیانیوں کا اس بات پر اِتفاق ہے کہ اگر مرزا غلام احمد کی پہلی خبر سچی تھی تو دُوسری جھوٹی، اور اگر دُوسری صحیح تھی تو پہلی جھوٹی، تو معلوم ہوا کہ دونوں فریق مرزا غلام احمد کے جھوٹا ہونے پر متفق ہیں، تمہاری زبان میں کہتے ہیں ایگری (Agree) یعنی دونوں متفق ہیں کہ مرزا جھوٹا تھا، الحمدللہ! میں مرزا طاہر اور مرزائیوں کو چیلنج کرتا ہوں کہ مجھے کوئی منطق، کوئی فلسفہ، کوئی طریقہ بتاؤ جس سے مرزا غلام احمد سچا ثابت ہوسکے، کیا جھوٹی خبر دینے والا آدمی بھی سچا ہوسکتا ہے؟ الغرض! کوئی مرزائی، مرزا غلام احمد کو سچا ثابت کردے، کیا مرزا طاہر اور مرزائی میرا چیلنج قبول کریں گے؟

اب آگے چلو! مرزا غلام احمد ۱۸۹۱ء تک کہتا رہا کہ عیسیٰ علیہ السلام آئیں گے، چالیس سال کا تھا، جب ملہم بن گیا، اس کے باوجود باون سال کی عمر تک کہتا رہا کہ عیسیٰ علیہ السلام آئیں گے، تو یہ خبر کہ عیسیٰ علیہ السلام آئیں گے، باون(۵۲) سال کی خبر ہوئی، قادیانی کہتے ہیں کہ اس کی یہ خبر جھوٹی تھی، اور مرزا غلام احمد اِنتقال کرگیا ۲۶؍مئی ۱۹۰۸ء کو، سترہ سال چار مہینے چھبیس دن اس نے یہ خبر دی کہ عیسیٰ علیہ السلام مرگئے ہیں، نہیں آئیں گے، مسلمان کہتے ہیں کہ مرزا کی یہ خبر جھوٹی تھی، اب اس پر تو ہم دونوں فریق متفق ہیں کہ مرزا جھوٹا ہے، دیکھنا یہ ہے کہ بڑا جھوٹا کون مانتا ہے؟ مرزائی کہتے ہیں کہ مرزا باون سال جھوٹ بولتا رہا، اور ہم کہتے ہیں کہ اس نے صرف آخری ساڑھے سترہ سال جھوٹ بولا، جو باون سال جھوٹ بولے، وہ بڑا جھوٹا ہے؟ یا جو سترہ سال چار مہینے جھوٹ بولے، وہ بڑا جھوٹا ہے؟ کیوں بھئی! تمہاری عقل کیا کہتی ہے؟ باون سال جھوٹ بولنے والا بڑا جھوٹا کہلائے گا یا سترہ سال جھوٹ بولنے والا...؟

ہم کہتے ہیں کہ مرزا کی پہلی خبر سچی تھی، اس وقت جھوٹا نہیں تھا، ۱۸۹۱ء سے

128

جھوٹ بولنے لگا، تو اس کے جھوٹ کی میعاد صرف سترہ سال چار مہینے چھبیس دن ہے، اور مرزائی کہتے ہیں کہ کمبخت پہلے جھوٹ بولتا تھا، باون سال تک جھوٹ بولتا رہا، بکواس کرتا رہا، اور بعد میں راہِ راست پر آیا، اور سچ بولنے لگا، تو اللہ تعالیٰ نے اس کے باون سالہ جھوٹ سے خوش ہوکر اسے مسیحِ موعود (نبی) بنادیا ...نعوذباللہ... جن کا نبی باون سال جھوٹ بولتا رہے، تم سوچو کہ وہ کیسا مسیحِ موعود ہوگا؟ اور اس باون سال تک جھوٹ بکنے والے کو جو لوگ مسیحِ موعود مانتے ہیں، وہ کتنے جھوٹے ہوں گے؟ معلوم ہوا کہ مرزائی بڑا جھوٹا مانتے ہیں، اور ہم مرزا کو چھوٹا جھوٹا مانتے ہیں، یہ بات بھی سمجھ میں آگئی؟

اب ایک اور بات سمجھو! یہ تو ہوتا ہے کہ آدمی پہلے صحیح ہو، بعد میں بگڑ جائے، پہلے سچ بولتا ہو، بعد میں جھوٹ بولنے لگے، لیکن یہ ممکن نہیں کہ ایک آدمی باون سال تک جھوٹ بولتا رہے، اور بعد میں مسیحِ موعود بن جائے، اور کہے کہ میں مسیحِ موعود ہوں، کیونکہ اللہ کو مجھ پر بہت پیار آگیا کہ چونکہ یہ باون سال تک جھوٹ بولتا رہا ہے، اس لئے اس کو مسیحِ موعود بناؤ۔ کیا نبوّت کی تاریخ میں اس کی کوئی مثال ملے گی؟ کیا یہ نبوّت کا مذاق اُڑانا نہیں ہے؟ میرے اس سوال کا جواب دو کہ باون سال تک جھوٹ بکنے والا مسیحِ موعود کیسے بن گیا...؟

مرزائی اپنی حقانیت کی دلیل میں کہتے ہیں کہ مرزا طاہر ٹی وی پر تقریر کرتا ہے، اور اس کی آواز ساری دُنیا میں سنی جاتی ہے۔ میں کہتا ہوں کہ شیطان کی آواز ساری دُنیا میں سنی جاتی ہے، کسی نبی کی آواز ساری دُنیا میں نہیں سنی گئی، البتہ شیطان کی آواز ہر جگہ ہے، گانے ہندوستان میں بھی ہیں، پاکستان میں بھی ہیں، امریکا میں بھی ہیں، ہر ایک ملک میں گانے موجود ہیں، شیطان کی آواز! کیوں جی ٹھیک ہے؟ تم ٹی وی پر آنے کو کمال سمجھتے ہو، میں کہتا ہوں یہ اس کے شیطان ہونے کی علامت ہے۔ مرزا طاہر! میرا تم سے ایک ہی سوال ہے کہ تم ٹی وی پر ساری دُنیا کو اپنی شیطانی آواز سناؤ، لیکن اپنے دادا کو سچا ثابت کرکے دِکھادو...!

وَآخِرُ دَعْوَانَا اَنِ الْحَمْدُللہِ رَبِّ الْعَالَمِیْنَ

129

قادیانی نظریات

حضرت مجدد الف ثانی ؒ کی نظر میں

بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ

اَلْحَمْدُللہِ وَسَلَامٌ عَلٰی عِبَادِہِ الَّذِیْنَ اصْطَفٰی

اپنے نظریات کی ترویج کے لئے قادیانی حضرات، امام ربانی مجدد الف ثانی رحمہ اللہ کا نام پیش کیا کرتے ہیں۔ آج کی صحبت میں ہم امام ربانیؒ کے چند جواہر پارے، قادیانی صاحبان کی نذر کرتے ہیں، دعا ہے کہ یہ ان کے لئے سرمۂ چشم بصیرت ثابت ہوں اور وہ ان کی روشنی میں اپنے عقائد و نظریات کی اصلاح کرلیں،واللہ الموفّق لکل خیر وسعادۃ!

علاماتِ قیامت:

چونکہ قادیانی عقائد ’’علاماتِ قیامت‘‘ سے گہرا تعلق رکھتے ہیں، اس لئے تمہید کے طور پر پہلے علاماتِ قیامت کے بارے میں اسلامی عقیدہ حضرت امامِ ربانی رحمہ اللہ سے سنئے! فرماتے ہیں:

’’علاماتِ قیامت کہ مخبر صادق علیہ وعلیٰ آلہ الصلوات والتسلیمات ازاں خبر دادہ است حق است احتمال تخلف ندارد۔

مثل طلوعِ آفتاب از جانب مغرب برخلافِ عادت و ظہور حضرت مہدی علیہ الرضوان ونزولِ حضرت روح اللہ علی نبینا وعلیہ الصلوٰۃ والسلام و خروج دجال وظہور یاجوج و ماجوج و خروج دابۃ الارض ودخانے کہ از آسمان پیدا شود تمام مردم را فروگیرد وعذاب درد

130

ناک کند مردم از اضطراب گویند اے پروردگارما ایں عذاب را از ما دور کن کہ ما ایمان مے آریم، و آخر علامات آتش ست کہ از عدن برخیزد۔‘‘

(مکتوبات امام ربانی دفتر دوم مکتوب:۶۷)

ترجمہ:...’’علاماتِ قیامت، جن کی مخبر صادق صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے خبر دی ہے، حق ہیں، تخلّف کا احتمال نہیں رکھتیں۔

مثلاً: آفتاب کا خلافِ عادت مغرب کی جانب سے طلوع ہونا، حضرت مہدی علیہ الرضوان کا ظاہر ہونا، حضرت عیسیٰ روح اللہ (علیٰ نبینا وعلیہ الصلوٰۃ والسلام) کا آسمان سے نازل ہونا، دجال کا نکلنا، یاجوج و ماجوج کا ظاہر ہونا، دابۃ الارض کا نکلنا۔ اور وہ دہواں جو آسمان سے پیدا ہوگا تمام لوگوں کو گھیرلے گا، اور سخت مصیبت برپا کردے گا، لوگ بے چین ہوکر دعا کریں گے کہ: اے اللہ! یہ عذاب ہم سے ہٹالے، ہم ایمان لاتے ہیں، اور آخری علامت وہ آگ ہے جو عدن سے نکلے گی۔‘‘

علاماتِ مہدیؓ:

امام مہدیؓ کون ہیں؟ ان کی علامات و صفات کیا ہیں؟ ان کے زمانہ کے سیاسی و معاشی حالات کیا ہوں گے؟ وہ کیا کارنامے انجام دیں گے؟ کتنی مدت تک رہیں گے؟ ان کا مولد و مدفن کہاں ہوگا؟ یہ تمام امور احادیث میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بیان فرمادئیے ہیں، حضرت مجددؒ، فرقہ مہدویہ (جو سیّد محمد جونپوری کو امام مہدی مانتا تھا) کا ذکر کرتے ہوئے فرماتے ہیں:

’’جماعہ از نادانی گمان کنند شخصے را کہ دعویٔ مہدویت نمودہ بود از اہل ہند مہدی موعود بودہ است، پس بزعم ایشان مہدی گزشتہ است و فوت شدہ، نشان مید ہند کہ قبرش در فرہ است، در احادیث صحاح کہ بحد شہرت بلکہ بحد تواتر معنیً رسیدہ اند تکذیب ایں طائفہ

131

است، چہ آںسرور علیہ وعلیٰ آلہ الصلوٰۃ والسلام مہدی را علامات فرمودہ است در احادیث کہ درحق آں شخص کہ معتقد ایشانست آں علامات مفقود اند۔‘‘

(دفتر دوم مکتوب:۶۷)

ترجمہ:...’’ایک گروہ نادانی سے ایک ایسے شخص کے بارے میں، جس نے ہندوستان میں مہدویت کا دعویٰ کیا تھا، یہ گمان کرتا ہے کہ وہ مہدی موعود تھا، پس ان لوگوں کے خیال میں مہدی گزرچکا اور فوت ہوچکا ہے، اور بتاتے ہیں کہ اس کی قبر ’’فرہ‘‘ (آپ اس جگہ کو ’’قادیان‘‘ سمجھ لیجئے...ناقل) میں ہے۔ صحیح احادیث سے جو شہرت بلکہ تواتر معنوی کی حد کو پہنچی ہوئی ہیں، اس گروہ کی تکذیب ہوتی ہے کیونکہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے احادیث میں مہدی کی مخصوص علامات بیان فرمائی ہیں، اور یہ لوگ جس شخص کو مہدی سمجھتے ہیں اس میں یہ علامات مفقود ہیں۔‘‘

اس سلسلہ میں امام مہدیؓ کی علامات کے بارے میں چند احادیث ذکر کرنے کے بعد فرماتے ہیں:

’’بنظر انصاف باید دید کہ ایں علامات درآں شخص میت بودہ است یا نہ؟ وعلامات دیگر بسیار است کہ مخبر صادق فرمودہ است علیہ وعلیٰ آلہ الصلوٰۃ والسلام۔ شیخ ابن حجرؒ رسالہ نوشتہ است در علاماتِ مہدی منتظر کہ بہ دویست علامت میکشد۔ نہایت جہل است کہ باوجود وضوحِ امر مہدی موعود جمعے در ضلالت مانند۔ ھداھم اللہ سبحانہ سواء الصراط۔‘‘

(دفتر دوم مکتوب:۶۷)

ترجمہ:...’’بنظر انصاف دیکھنا چاہئے کہ یہ علامات اس مرے ہوئے شخص میں موجود تھیں یا نہیں؟ ان کے علاوہ اور بہت سی علامات مخبر صادق صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بیان فرمائی ہیں۔ شیخ ابن

132

حجرؒ نے مہدی منتظر کی علامات میں ایک رسالہ تحریر کیا ہے، جس میں تقریباً دو سو علامات جمع کردی ہیں۔ انتہائی جہالت ہے کہ مہدی موعود کا معاملہ اس قدر واضح ہونے کے باوجود ایک جماعت وادیٔ ضلالت میں بھٹک رہی ہے، اللہ تعالیٰ انہیں صراطِ مستقیم کی ہدایت نصیب فرمائے۔‘‘

حضرت مجدد رحمہ اللہ کی اپیل پر توجہ کرتے ہوئے مرزائی صاحبان بنظر انصاف تین باتوں پر غور فرمائیں:

اوّل:...امام مہدیؓ کی تقریباً دو صد علامات میں سے کیا ایک علامت بھی ’’قادیانی مہدی‘‘ میں پائی گئی؟

دوم:...امام مہدیؓ سے متعلقہ احادیث کو حضرت مجدد الف ثانی رحمہ اللہ ’’متواتر‘‘ فرماتے ہیں، اور مرزا صاحب سب کو ضعیف، موضوع اور غلط بتاتے ہیں۔ مرزا صاحب کے انکار کا سبب کہیں یہ تو نہیں تھا کہ چونکہ ان پر کوئی حدیث بھی صادق نہیں آتی تھی، اس لئے انہوں نے متواتر احادیث کا انکار کردینے میں ہی خیریت سمجھی؟

سوم:...جب مرزا صاحب کے نظریہ کے مطابق اسلام میں مہدی کا افسانہ ہی معاذاللہ! غلط ہے، اور اس سلسلہ کی تمام احادیث متواترہ خدانخواستہ من گھڑت ہیں، تو خود مرزا صاحب کے ’’امام مہدی‘‘ ہونے کا افسانہ بھی پا درِ ہوا تو ثابت نہیں ہوتا؟

مقصد عرض کرنے کا یہ ہے کہ اگر امام مہدی سے متعلقہ احادیث صحیح ہیں تو بسم اللہ! آئیے اور ایک ایک علامت مرزا صاحب کے سراپا سے ملاکر فیصلہ کرلیجئے کہ وہ واقعتا ’’امام مہدی‘‘ تھے یا نہیں؟ اور اگر مہدی کا افسانہ ہی غلط ہے تو مرزا صاحب آخر کس منطق سے ’’مہدی‘‘ بن گئے؟

حضرت عیسیٰ علیہ السلام آسمان پر:

اُمتِ اسلامیہ بالاجماع حضرت عیسیٰ علیٰ نبینا وعلیہ الصلوٰۃ والسلام کے رفع

133

جسمانی کی قائل ہے۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اسمائے گرامی ’’محمد‘‘ اور ’’احمد‘‘ کے نکات بیان کرتے ہوئے حضرت امام ربانی رحمہ اللہ لکھتے ہیں:

’’واحمد اسم دویم آںسرور ست علیہ الصلوٰۃ والسلام کہ در اہل سماوات بآں اسم معروف است، چنانچہ گفتہ انداز نیجا تو اند بود کہ حضرت عیسیٰ علیٰ نبینا وعلیہ الصلوٰۃ والسلام کہ از اہل سماوات گشتہ است بشارت قدومِ آںسرور باسم احمد دادہ است۔‘‘

(دفتر سوم مکتوب:۹۴)

ترجمہ:...’’اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا دوسرا اسم گرامی ’’احمد‘‘ ہے، آسمان والوں میں آپؐ اسی نام سے معروف ہیں، جیسا کہ علماء نے کہا ہے۔ اسی بنا پر یہ ہوسکا کہ حضرت عیسیٰ علیٰ نبینا وعلیہ الصلوٰۃ والسلام چونکہ (رفع جسمانی کے بعد) آسمان کے رہنے والوں میں شمار ہونے لگے، اس لئے انہوں نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی تشریف آوری کی بشارت اسم ’’احمد‘‘ کے ساتھ دی۔‘‘ (قادیانی عقیدہ یہ ہے کہ ’’اسمہ احمد‘‘ کی بشارت آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے حق میں نہیں بلکہ مرزا غلام احمد کے آنے کی بشارت ہے، انا ﷲ وانا الیہ راجعون!)

حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا آسمان سے نازل ہونا:

اُمتِ اسلامیہ کا عقیدہ ہے کہ سلسلۂ نبوّت حضرت آدم علیہ السلام سے شروع اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر ختم ہوا، آپؐ آخری نبی ہیں، آپؐ کے بعد کوئی شخص منصبِ نبوّت پر فائز نہیں ہوگا، البتہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام قربِ قیامت میں آسمان سے نازل ہوں گے، امام ربانی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:

’’اوّل انبیاء حضرت آدم است علیٰ نبینا وعلیہ وعلیہم الصلوات والتسلیمات والتحیات وآخر ایشاں و خاتم نبوّت شان

134

حضرت محمد رسول اللہ است علیہ وعلیہم الصلوات والتسلیمات ...... وحضرت عیسیٰ علیٰ نبینا وعلیہ الصلوٰۃ والسلام کہ از آسمان نزول خواہد فرمود متابعت شریعتِ خاتم الرسل خواہد نمود علیہ وعلیہم الصلوات والتسلیمات۔‘‘

(دفتر سوم مکتوب:۱۷)

ترجمہ:...’’انبیائے کرام علیہم السلام میں سب سے اول حضرت آدم علیٰ نبینا وعلیہ الصلوٰۃ والسلام ہیں، اور سب سے آخری اور سب کے خاتم حضرت محمد رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وعلیہم وسلم) ہیں ...... اور حضرت عیسیٰ علیٰ نبینا وعلیہ الصلوٰۃ والسلام جب آسمان سے نزولِ اجلال فرمائیں گے تو حضرت خاتم الرسل (علیہ وعلیہم الصلوات والتسلیمات) کی پیروی کریں گے۔‘‘

ہتک یا عزت؟

اُمتِ اسلامیہ کا عقیدہ ہے کہ خاتم الانبیاءِ بنی اسرائیل حضرت عیسیٰ علیٰ نبینا وعلیہ الصلوٰۃ والسلام کا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی تصدیق و تائید کے لئے نازل ہوکر آپؐ کی اُمت میں شمار ہونا، آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی عظیم ترین منقبت ہے، حضرت امام ربانی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:

’’وحضرت عیسیٰ علیٰ نبینا وعلیہ الصلوٰۃ والسلام کہ بعد از نزول متابعتِ ایں شریعت خواہد نمود اتباعِ سنتِ آں سرور علیہ وعلیٰ آلہ الصلوٰۃ والسلام نیز خواہد کرد کہ نسخ ایں شریعت مجوز نیست۔‘‘

(دفتر دوم مکتوب:۵۵)

ترجمہ:...’’اور حضرت عیسیٰ علیٰ نبینا وعلیہ الصلوٰۃ والسلام کہ نازل ہونے کے بعد اس شریعت کی پیروی کریں گے، آنحضرت صلی اللہ علیہ وعلیٰ آلہ وسلم کی سنت کی اتباع بھی کریں گے، کیونکہ اس

135

شریعت کا منسوخ ہونا جائز نہیں ہے۔‘‘

مرزا صاحب نے اپنی اُمت کو یہ تصور دیا ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے متبع شریعتِ محمدیہ ہونے سے اس اُمت کی ذلت و رسوائی اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی ہتک اور کسر شان لازم آتی ہے اور اسلام کا تختہ اُلٹ جاتا ہے (ازلہ ص:۵۸۶)۔ لیکن امام ربانی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:

’’وخاتم انبیاء محمد رسول اللہ است (صلی اللہ تعالیٰ وسلم علیہ وعلیٰ آلہ وعلیہم اجمعین) و دین او ناسخ ادیانِ سابق است و کتاب او بہترین کتب ما تقدم است، وشریعت او را ناسخے نخواہد بود بلکہ تا قیام قیامت خواہد ماند، وعیسیٰ علیٰ نبینا وعلیہ الصلوٰۃ والسلام کہ نزول خواہد فرمود عمل بشریعت او خواہد کردو بعنوانِ اُمت او خواہد بود۔‘‘

(دفتر دوم مکتوب:۶۷)

ترجمہ:...’’اور تمام انبیاء کے خاتم محمد رسول اللہ ہیں (صلی اللہ علیہ وعلیٰ آلہ وعلیہم اجمعین) آپؐ کا دین ادیانِ سابق کے لئے ناسخ ہے، اور آپؐ کی کتاب (قرآن مجید) سابقہ کتابوں سے برتر ہے، اور آپؐ کی شریعت کے لئے کوئی ناسخ نہیں ہوگا، بلکہ قیامت تک باقی رہے گی، اور عیسیٰ علیٰ نبینا وعلیہ الصلوٰۃ والسلام جو نازل ہوں گے آپؐ کی شریعت پر ہی عمل کریں گے اور آپؐ کی اُمت میں شامل ہوں گے۔‘‘

قادیانی صاحبان انصاف فرمائیں کہ حضرت مجدد الف ثانی رحمہ اللہ کا حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا اُمتی ماننا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی عزت ہے یا ہتک؟ اور مرزا صاحب کا ظلّیت کی سیڑھی سے خود ’’محمد‘‘، ’’احمد‘‘ اور ’’خاتم النبیین‘‘ بن جانا، آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے وفاداری ہے یا غداری؟

136

تنقیص سلف:

چونکہ چودہ صدی کی تمام اُمتِ اسلامیہ حضرت عیسیٰ علیٰ نبینا وعلیہ الصلوٰۃ والسلام کے رفع و نزولِ جسمانی کی قائل ہے، صحابہؓ، تابعینؒ، ائمہ مجتہدینؒ، محدثینؒ، مفسرینؒ، فقہاءؒ، صوفیاءؒ، متکلمینؒ سب کا یہی عقیدہ رہا اور حدیث، تفسیر اور عقائد کی کتابوں میں یہی عقیدہ درج ہے، اس لئے قادیانی صاحبان ان اکابر سے بے حد ناراض ہیں، اور انہیں نہایت نامناسب الفاظ سے یاد کرتے ہیں، کہیں ان حضرات کو ’’بے تکی ہانکنے والے‘‘ بتاتے ہیں، کہیں انہیں ’’معمولی انسان‘‘ اور کہیں ’’احمق اور نادان‘‘ قرار دیتے ہیں، کبھی اس عقیدہ کو ’’شرک‘‘ کہتے ہیں، کبھی یہودیانہ الحاد و تحریف کا خطاب دیتے ہیں، ان تمام القاب کا مقصد یہ ہے کہ مرزا صاحب سے پہلے تیرہ صدیوں کی اُمت معاذاللہ! گمراہ، ملحد اور مشرک تھی، اور یہ سب العیاذباللہ! بے تکی ہانکنے والے تھے۔ حضرت امام ربانی رحمہ اللہ نے اس کا فیصلہ بھی خوب فرمایا ہے، لکھتے ہیں:

’’جماعہ کہ ایں اکابر دین را اصحابِ رائے میدانندا گر ایں اعتقاد دارند کہ ایشاناں بہ رائے خود حکم میکردند و متابعتِ کتاب و سنت نمی نمودند پس سوادِ اعظم از اہل اسلام بزعم فاسد ایشاں ضال و مبتدع باشند بلکہ از جرگۂ اہل اسلام بیروں بودند۔ ایں اعتقاد نہ کند مگر جاہلے کہ از جہل خود بے خبر است یا زندیقے کہ مقصودش ابطالِ شطر دین است۔‘‘

(دفتر دوم مکتوب:۵۵)

ترجمہ:...’’جو گروہ ان اکابر کو اصحابِ رائے جانتا ہے، اگر ان کا یہ عقیدہ ہے کہ یہ حضرات محض اپنی رائے سے حکم کرتے تھے اور کتاب و سنت کی پیروی نہیں کرتے تھے تو ان کے زعمِ فاسد میں اہل اسلام کا سوادِ اعظم گمراہ اور بدعت پرست رہا، بلکہ دائرۂ اسلام سے ہی خارج رہا، یہ اعتقاد نہیں کرے گا مگر وہ جاہل جو اپنے جہل

137

سے بے خبر ہے، یا وہ زندیق جس کا مقصود ہی شطر دین کو باطل قرار دینا ہے۔‘‘

ظلّی اتحاد:

قادیانی صاحبان کو معلوم ہے کہ مرزا غلام احمد صاحب نے ’’ظلّی نبوّت‘‘ کا دعویٰ کیا تھا، جس کی تشریح خود ان کے اپنے الفاظ میں یہ ہے:

’’تمام کمالات محمدی مع نبوّتِ محمدیہ کے میرے آئینہ ظلّیت میں منعکس ہیں، تو پھر کون سا الگ انسان ہوا جس نے علیحدہ طور پر نبوّت کا دعویٰ کیا۔‘‘

’’میرا نفس درمیان نہیں، بلکہ محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم ہے، اسی لحاظ سے میرا نام ’’محمد‘‘ اور ’’احمد‘‘ ہوا، پس نبوّت اور رسالت کسی دوسرے کے پاس نہیں گئی، محمد کی چیز محمد کے پاس ہی رہی۔‘‘

’’اگر کوئی شخص اسی خاتم النبیین میں ایسا گم ہو کہ بباعث نہایت اتحاد اور نفی غیرت کے اسی کا نام پالیا ہو، اور صاف آئینہ کی طرح محمدی چہرہ کا اس میں انعکاس ہوگیا ہو تو وہ بغیر مہر توڑنے کے نبی کہلائے گا، کیونکہ وہ محمد ہے، گو ظلّی طور پر، پس باوجود اس شخص کے دعویٰ نبوّت کے، جس کا نام ظلّی طور پر محمد اور احمد رکھا گیا ہے، پھر بھی سیّدنا خاتم النبیین ہی رہا، کیونکہ یہ ’’محمد ثانی‘‘ اسی محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی تصویر اور اسی کا نام ہے۔‘‘

(ایک غلطی کا ازالہ ص:۵، روحانی خزائن ج:۱۸ ص:۲۰۹)

اور خطبہ الہامیہ میں مرزا صاحب فرماتے ہیں: ’’صار وجودی وجودہ‘‘ یعنی میرا وجود بعینہٖ آپؐ کا وجود بن گیا ہے۔ اور ’’من فرَّق بینی وبین المصطفی فما عرفنی وما راٰی‘‘ یعنی جس نے میرے درمیان اور مصطفی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے

138

درمیان فرق کیا، اس نے مجھے دیکھا اور پہچانا ہی نہیں۔

الغرض مرزا صاحب کی ظلّی نبوّت کے معنی ان کے نزدیک یہ ہیں کہ کمال اتباع کی وجہ سے ان کی ذات آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات سے متحد ہوگئی ہے، اور اس کمال اتحاد کی وجہ سے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوّت اور کمالاتِ نبوّت (بلکہ نام، کام اور مقام تک) ظلّی طور پر ان کی طرف منتقل ہوگئے، لہٰذا وہ نہ صرف نبی ہیں، بلکہ ظلّی طور پر بعینہٖ محمد رسول اللہ ہیں، لیکن امام ربانی رحمہ اللہ اس قسم کے ’’ظلّی اتحاد‘‘ کو تسلیم نہیں کرتے، بلکہ اسے حماقت اور جنون قرار دیتے ہیں اور جو شخص اس ظلّی اتحاد کا عقیدہ رکھتا ہو، اسے کافر و زندیق اور زمرۂ اسلام سے خارج قرار دیتے ہیں، سنئے:

’’وصولِ خادماں بامکنہ خاصۂ مخدومان تا، حقوق خدمت گاری بجا آرند، محسوس وضیع و شریف است، ابلہے بود کہ ازیں وصول توہم مساوات و شرکت نماید، ہر فراشے ومگس را نے و شمشیر بردارے قرین سلاطین عظام ست و در اخص امکنہ ایشاں حاضر، خیلے خبط مے طلبد کہ ازینجا توہم شرکت و مساوات نماید۔‘‘

(دفتر دوم مکتوب:۹۹)

ترجمہ:...’’خادموں کا مخدوموں کے خاص مقامات میں اس مقصد کے لئے پہنچنا کہ خدمتگاری کے حقوق بجا لائیں، ہر خاص و عام کو معلوم ہے۔ احمق ہے وہ شخص جو اس وصول سے مساوات و شرکت کا وہم دل میں لائے۔ دیکھئے! ہر فراش، مگس ران اور شمشیر بردار، سلاطین عظام کے ساتھ ہوتا ہے اور ان کے خاص ترین مقامات تک ان کی رسائی ہوتی ہے، نہایت خبط و جنون میں مبتلا ہے وہ شخص جو اس رسائی سے شرکت و مساوات کا وہم رکھتا ہے۔‘‘

اسی سلسلہ میں آگے چل کر فرماتے ہیں:

’’اگر اعتقاد دارند کہ صاحب ایں حال معتقد شرکت و مساوات ست بارباب آںمقامات عالی پس او را کافر و زندیق تصور

139

میکنند و از زمرۂ اہل اسلام مے برآرند۔ چہ شرکت در نبوّت و مساوات بانبیاء علیہم الصلوات والتسلیمات کفر است۔‘‘

(دفتر دوم مکتوب:۹۹)

ترجمہ:...’’اگر یہ اعتقاد رکھتے ہیں کہ یہ صاحب حال، اربابِ مقاماتِ عالی کے ساتھ شرکت و مساوات کا عقیدہ رکھتا ہے تو اس کے معنی یہ ہیں کہ اسے کافر و زندیق تصور کرتے ہیں اور اسے زمرۂ اہل اسلام سے خارج سمجھتے ہیں، کیونکہ نبوّت میں شرکت اور انبیاء علیہم السلام سے مساوات کا عقیدہ کفر ہے۔‘‘

(واضح رہے کہ مرزا غلام احمد قادیانی نہ صرف وصف نبوّت میں شرکت کا دعویٰ رکھتے ہیں، بلکہ اپنے آپ کو اولوالعزم انبیاء سے ’’تمام شان میں‘‘ بڑھ کر سمجھتے ہیں) اسی سلسلہ میں صحابہ کرامؓ کے فضائل و مناقب اور ان کی افضلیت کا ذکر کرنے کے بعد حضرت امام ربانی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:

’’ابلہے بود کہ خود را عدیل اصحاب خیرالبشر علیہ وعلیہم الصلوات والتسلیمات سازد۔ وجاہلے باشد از اخبار و آثار کہ خود را از سابقان تصور نماید۔‘‘

(دفتر دوم مکتوب:۹۹)

ترجمہ:...’’احمق ہوگا جو اپنے تئیں آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ واصحابہ وسلم کے برابر سمجھتا ہو، اور احادیث و آثار سے جاہل ہوگا وہ شخص جو اپنے کو سابقین (صحابہؓ و تابعینؒ) میں سے تصور کرتا ہو۔‘‘

واضح رہے کہ مرزا غلام احمد قادیانی اپنی جماعت کو صحابہ کی جماعت کے برابر قرا ردیتے ہیں، حضرت مجدد رحمہ اللہ کا مندرجہ ذیل فقرہ اگرچہ کسی دوسرے موقع سے متعلق ہے، لیکن یہاں کس قدر برمحل ہے؟:

’’کناسِ خسیس کہ بنقص و خبثِ ذاتی متسم است چہ مجال کہ خود را عین سلطان عظیم الشان کہ منشا خیرات و کمالات ست تصور

140

نماید، و صفات وافعالِ ذمیمہ خود را عین صفات و افعال جمیلہ او توہم کند۔‘‘

(دفتر دوم مکتوب:۱)

ترجمہ:...’’ایک خسیس بھنگی جس کی ذات ناقص و خبث کے عیب سے داغدار ہے، اس کی کیا مجال کہ اپنے آپ کو عظیم الشان سلطان کا جو منبع خیرات و کمالات ہے، عین تصور کرے؟ اور اپنے صفات و افعالِ ذمیمہ کو اس کے صفات و افعالِ جمیلہ کا عین خیال کرے؟‘‘

بروز و تناسخ:

مرزا غلام احمد قادیانی کی تحریک ان کے ’’نظریۂ بروز‘‘ پر قائم ہے، ’’بروزِ محمد‘‘، ’’بروزِ عیسیٰ‘‘ اور ’’بروزِ کرشن‘‘ وغیرہ کی جو تشریحات انہوں نے سپرد قلم کی ہیں، وہ صاف صاف ’’تناسخ‘‘، ’’حلول‘‘ اور ’’اواگون‘‘ سے جاملتی ہیں۔ یہ لفظ انہوں نے غالباً صوفیاء سے مستعار لیا اور اس پر اپنی تعبیرات کا خول چڑھایا، ’’بروز‘‘ کے بارے میں بھی حضرت امام ربانی رحمہ اللہ نے متعدد جگہ اظہارِ خیال فرمایا ہے، یہاں صرف ایک اقتباس کا نقل کرنا اہل بصیرت کے لئے کافی ہوگا، صوفیاء کے اصطلاحی ’’بروز‘‘ کی تشریح کرنے کے بعد امام ربانی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:

’’و مشائخ مستقیم الاحوال بعبارت کمون و بروز ہم لب نمی کشایند و ناقصان را در بلا دفتنہ نمی اندازند۔‘‘

(دفتر دوم مکتوب:۵۸)

ترجمہ:...’’اور جو مشائخ کہ مستقیم الاحوال ہیں، وہ کمون و بروز کی عبارت کے ساتھ بھی لب کشائی نہیں کرتے، اور ناقصوں کو فتنہ میں نہیں ڈالتے۔‘‘

امام ربانی رحمہ اللہ کی اس تصریح کی روشنی میں فیصلہ کیجئے کہ مرزا قادیانی کے بروزی نعرے ان کی استقامت کی علامت تھے یا کجی اور فتنہ اندازی کا مظہر تھے؟ اور یہ اِدعا

141

کہ روح محمدی نے مرزا قادیانی کا روپ دھار لیا ہے (آئینہ کمالات) صریح طور پر ملحدانہ تعبیر ہے، جس کے حق میں حضرت مجدد رحمہ اللہ کے الفاظ میں بس یہی کہا جاسکتا ہے کہ:

’’افسوس! ہزار افسوس! آں قسم بطالان خود را بمسند شیخی گرفتہ اند و مقتدائے اہل اسلام گشتہ اند، ضلوا فاضلوا ۔‘‘

(دفتر دوم مکتوب:۵۸)

ترجمہ:...’’افسوس! ہزار افسوس! کہ اس قسم کے مکاروں نے پیری مریدی کی مسند اپنے لئے آراستہ کر رکھی ہے اور بزعم خود مقتدائے اہل اسلام بن بیٹھے ہیں، خود بھی گمراہ ہوئے اور دوسروں کو بھی گمراہ کیا۔‘‘

رَبَّنَا لَا تُزِغْ قُلُوْبَنَا بَعْدَ اِذْ ھَدَیْتَنَا وَھَبْ لَنَا مِنْ لَّدُنْکَ رَحْمَۃً

اِنَّکَ اَنْتَ الْوَھَّابُ

بِحُرْمَۃِ سَیِّدِ الْمُرْسَلِیْنَ عَلَیْہِ وَعَلَیْھِمُ الصَّلَوَاتُ

وَالتَّسْلِیْمَاتُ

(ماہنامہ ’’بینات‘‘ کراچی ربیع الاوّل ۱۳۹۵ھ)

142

قادیانیت کا اِحتساب

بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ

اَلْحَمْدُللہِ وَسَلَامٌ عَلٰی عِبَادِہِ الَّذِیْنَ اصْطَفٰی!

’’س:...سورۃ الجمعہ میں:’’ھُوَ الَّذِیْ بَعَثَ فِی الْاُمِّیِّیْنَ رَسُوْلًا‘‘ آیت سے اگلی آیت: ’’وَآخَرِیْنَ مِنْھُمْ لَمَّا یَلْحَقُوْا بِھِمْ‘‘ سے کیا مراد ہے؟ کیا رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثتِ ثانیہ مراد ہے؟ یا کسی اور ہستی کی بعثت مراد ہے؟ مجھے اس کے متعلق دل میں بڑی الجھن سی ہے، اس کو حل فرماکر عنداللہ ماجور ہوں، کیا رسولِ کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے صحابہ کرامؓ نے بھی پوچھا تھا کہ آخرین کون ہیں؟

سائل محمد شفیع نجیب آبادی۔‘‘

ج:...آیتِ کریمہ میں نہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثتِ ثانیہ مراد ہے، نہ کسی اور ہستی کی، بلکہ اس میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت کی تعمیم مراد ہے، آیتِ کریمہ کا مفہوم یہ ہے کہ آپؐ صرف عرب کے اُمیوں کے لئے مبعوث نہیں ہوئے بلکہ آپؐ کی بعثت کا دائرہ عجم کے ان تمام لوگوں کے لئے بھی محیط ہے جو ابھی تک نہیں آئے، بلکہ قیامت تک ان کی آمد کا سلسلہ جاری رہے گا۔

آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کیا گیا تھا کہ ’’آخرین‘‘ کون ہیں؟ آپؐ نے حضرت سلمان فارسی رضی اللہ عنہ کے کندھے پر ہاتھ رکھ کر فرمایا کہ ان لوگوں میں سے کچھ لوگ ہوں گے کہ اگر دین بالفرض ثریا پر بھی پہنچ گیا ہو تو وہ اسے وہاں سے بھی لے آئیں گے۔

(صحیح بخاری)

143

اس حدیث پاک میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اہل فارس کو خصوصیت سے ’’آخرین‘‘ کا جو مصداق قرار دیا ہے، اس سے یہ مقصد نہیں کہ اہل فارس کے سوا دوسرا کوئی ’’آخرین‘‘ کا مصداق نہیں، ورنہ اس سے لازم آئے گا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم یا تو صرف امیوں کے رسول ہیں یا اہل فارس کے، بلکہ اس تخصیص میں وہی نکتہ ملحوظ ہے جو امیوں کو قرآن مجید میں الگ ذکر کرنے میں ملحوظ ہے، اس کا خلاصہ یہ ہے کہ اُمیانِ عرب، آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بلاواسطہ مخاطب تھے، اور آپؐ کے اور آنے والی اُمت کے درمیان واسطے کی حیثیت ان کو حاصل ہوئی، ٹھیک اسی طرح صحابہ کرامؓ اور بعد میں آنے والی اُمت کے درمیان اہل فارس کو واسطہ بنایا گیا، تابعینؒ اور تبع تابعینؒ کے دور میں اہل فارس نے دینی علوم کی تحصیل اور نشر و اشاعت میں جو جانفشانیاں کیں، انہوں نے اہل فارس کو آنے والی پوری اُمت کا امام بنادیا، حدیث کے سب سے بڑے امام، امام بخاریؒ، فقہ کے سب سے بڑے امام، امام ابوحنیفہؒ، تفسیر کے سب سے بڑے امام، ابن جریرؒ، حد یہ ہے کہ عربیت کے سب سے بڑے امام سیبویہؒ، ان سب کا تعلق فارس سے ہے، اور آج تک اُمت جس طرح عرب کے امیوں (حضرات صحابہ کرامؓ) کی زیر بارِ احسان ہے کہ جو کچھ ملا انہی اکابرؓ کے واسطے سے ملا، اسی طرح بعد کی اُمت اہل فارس کی ممنون منت ہے کہ آج تک انہی ائمہ دین کی محنتوں کا پھل سمیٹ رہی ہے۔

یہ تھا وہ نکتہ جس کی بنا پر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اہل فارس کو ’’آخرین‘‘ کا سرخیل ٹھہرایا، جن لوگوں نے اس سے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی دوبارہ بعثت کا نکتہ ایجاد کیا ہے، انہیں غلط فہمی ہوئی ہے، اگر اس نکتہ کو صحیح فرض کر لیا جائے تو اس کے معنی یہ ہوں گے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ایک بار عربوں میں مبعوث ہوئے اور ان کا تزکیہ فرمایا، اور دوسری بار اہل فارس میں مبعوث ہوئے اور ان کے مزکی بنے، باقی ساری دنیا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت اور آپؐ کی تعلیم و تزکیہ سے محروم رہی، مزید تفصیل کی گنجائش نہیں، اہل فہم کے لئے اتنا ہی کافی ہے۔

144

پہلے خط کا قادیانی جواب:

’’عرض خدمت ہے کہ آپ کا خط آیت:’’آخرین منھم‘‘ کی تفسیر کے متعلق مجھے موصول ہوا، میں اس کے لئے آپ کا بہت ممنون ہوں۔

آپ نے آیت:’’آخرین منھم لما یلحقوا بھم‘‘ کی تفسیر میں ’’آخرین‘‘ سے مراد قیامت تک کے غیرامی یعنی غیرعرب لئے ہیں تاکہ اس آیت سے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت عامہ ثابت ہو۔

اہل فارس سے متعلقہ حدیث نبوی جو انہیں: ’’آخرین منھم لما یلحقوا بھم‘‘ کا مصداق قرار دیتی ہے، میں نکتہ مستورہ آپ نے یہ بیان فرمایا ہے کہ اس حدیث میں خصوصیت سے ان اہل فارس کا ذکر ہے جنہوں نے صحابہؓ کے واسطہ سے تعلیم و تزکیہ حاصل کیا، جیسے امام بخاری علیہ الرحمۃ اور امام ابوحنیفہ علیہ الرحمۃ وغیرہ۔

مکرمی! آپ کی آیت: ’’آخرین منھم لما یلحقوا بھم۔‘‘ کے متعلق یہ تفسیر و تشریح پڑھ کر اب بعض امور دریافت طلب ہیں، امید ہے کہ آپ ان کا جواب دے کر مجھے پہلے سے زیادہ ممنون فرمائیں گے۔

اوّل:...اس آیت کریمہ میں’’منھم‘‘ کی ضمیر کا مرجع کیا ہے؟ بظاہر تو اس کا مرجع ’’امیین‘‘ ہیں،جنہوں نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے بلاواسطہ تعلیم و تزکیہ حاصل کیا، یہ ’’امیین‘‘ تو صحابہؓ تھے۔

لہٰذا اگر ’’آخرین‘‘ بقول آپ کے صحابہؓ سے تعلیم حاصل کرنے والے تھے نہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے، تو پھر یہ

145

’’امیین‘‘ میں کیسے داخل قرار پاسکتے ہیں؟ مشکل یہ درپیش ہے کہ ان ’’آخرین‘‘ کی خدا نے:’’لما یلحقوا بھم‘‘ کہہ کر صحابہؓ سے اس وقت الحاق کی نفی بھی کی ہے اور پھر انہیں ’’منھم‘‘ کہہ کر صحابہ میں شامل بھی کیا ہے، اس الجھن کا حل کیا ہے؟ نیز امام بخاریؒ اور امام ابوحنیفہ ؒ ’’منھم‘‘ کا مصداق کیسے ہوسکتے ہیں؟

دوم:...حضرت سیّد ولی اللہ شاہ صاحب مجدد صدی دوازدہم علیہ الرحمۃ نے اپنی کتاب ’’حجۃ اللہ البالغہ‘‘ میں ’’النبوۃ وخواصھا‘‘ کے باب میں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے دو بعث قرار دئیے ہیں، اس آیت کے علاوہ اس امر کا ماخذ کیا ہوسکتا ہے؟

سوم:...حدیث نبوی:’’لو کان الْإیمان معلقا بالثریا لنالہ رجل او رجال من ھؤلَاء‘‘ سے مراد صحابہؓ سے بالواسطہ تعلیم و تزکیہ پانے والے اہل فارس کیسے مراد ہوسکتے ہیں؟ جبکہ اس وقت ایمان صحابہؓ کے ذریعہ زمین پر موجود تھا، ثریا سے ایمان واپس لانے والا تو کوئی نبی ہی ہوسکتا ہے، اور نبی آپ کے نزدیک جو بعد میں آنے والا ہے وہ عیسیٰ علیہ السلام ہیں، پس عیسیٰ موعود علیہ السلام کا اہل فارس میں سے ہونا لازم آیا، اگر اسے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی ظلّی بعثت قرار نہ دیا جائے تو اس کا آنا ختمِ نبوّت کے منافی ہوگا، کیا اس بنا پر موعود عیسیٰ علیہ السلام کو سیّد ولی اللہ شاہ علیہ الرحمۃ نے اپنی کتاب ’’الخیر الکثیر‘‘ میں: ’’ھو شرح ...۔ الجامع المحمدی ونسخۃ منتخبۃ منہ‘‘ قرار نہیں دیا کہ وہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ہی ظل ہوگا؟

سائل: محمد شفیع نجیب آبادی۔‘‘

146

دوسرے قادیانی خط کا جواب:

مکرم و محترم، زیدت الطافہم آداب و دعوات!

گرامی نامہ محررہ ۲۶؍۵؍۱۹۷۹ء موصول ہوا، میں معذرت خواہ ہوں کہ جناب کا ۴؍اپریل کا رجسٹرڈ خط مجھے موصول ہوا تھا، میں نے اسے کھول کر پڑھا تھا، اور اس خیال سے کہ ہاتھ کے کام سے نمٹ کر اس کا جواب لکھوں گا، کہیں رکھ دیا، اور وہ کاغذات میں ایسا گم ہوا کہ تلاش بسیار کے باوجود آج تک نہیں مل پایا، میں اس کے بارے میں بے حد مشوش تھا، خدا آپ کا بھلا کرے اور صراط مستقیم کی توفیق نصیب فرمائے کہ آپ کے آج کے گرامی نامہ نے میری تشویش ختم کردی، آپ کے جوابی لفافہ کا قرض میرے ذمہ تھا، ہمرشتہ ہٰذا سادہ لفافہ بھیج کر وہ بھی ادا کر رہا ہوں۔

یہ ناکارہ اپنی ناقص عقل و فہم کے مطابق خطوط کا جواب دینا فرض سمجھتا ہے، خصوصاً مرزا صاحب کی جماعت کے خطوط کا جواب دینا تو اور بھی ضروری سمجھتا ہوں کہ اگر کسی کو واقعی غلط فہمی ہو تو اس کا اپنے امکان کی حد تک ازالہ کیا جاسکے، تاکہ وہ قیامت کے دن حق تعالیٰ کے حضور یہ عذر نہ کرسکیں کہ ہماری غلط فہمی کسی نے زائل ہی نہیں کی۔ ان تمہیدی کلمات کے بعد اب جناب کے گرامی نامہ کے بارے میں چند امور عرض کرتا ہوں:

اوّل:...میں نے عرض کیا تھا کہ حدیث پاک میں اہل فارس کو ’’آخرین‘‘ کا مصداق اس لئے قرار دیا گیا کہ عربوں کے بعد دینی علوم کی نشر و اشاعت جن حضرات نے کی ان میں اہل فارس سب سے نمایاں ہیں، اور میں نے بطور مثال چند اکابر کے نام تحریر کئے تھے، آنجناب نے میری تقریر کا جو خلاصہ نقل کیا ہے:

’’اس حدیث میں خصوصیت سے ان اہل فارس کا ذکر ہے، جنہوں نے صحابہؓ کے واسطہ سے تعلیم و تزکیہ حاصل کیا، جیسے امام بخاریؒ، امام ابوحنیفہؒ وغیرہ۔‘‘

یہ خلاصہ صحیح نہیں ہے، عبارت پر ایک بار پھر غور فرمائیے!

147

دوم:...’’منھم‘‘ کی ضمیر کا مرجع ’’امیین‘‘ ہیں، گویا آیت کریمہ میں اُمیوں کی دو قسمیں کی گئی ہیں، ایک عرب، جو اُمی تھے اور جن کی تعلیم و تربیت براہِ راست آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمائی، دوسرے دیگر اقوام عالم، جن کے سرکردہ اہل فارس ہیں، چونکہ اہل فارس بھی اہل کتاب نہیں تھے، اس لئے ان کو ’’اُمیین‘‘ میں شامل فرمایا گیا، گویا ’’اُمیین‘‘ کی اصطلاح اہل کتاب کے بالمقابل استعمال ہوئی ہے، اور ’’اُمیین‘‘ کا لفظ ان تمام اقوام عالم کو محیط ہے جو اہل کتاب نہیں، امام ابن کثیرؒ فرماتے ہیں:’’الاُمیون ھم العرب‘‘ اور اہل فارس والی حدیث نقل کرکے فرماتے ہیں:

’’ففی ھٰذا الحدیث دلیل علی ان ھٰذہ السورۃ مدنیۃ وعلی عموم بعثتہٖ صلی اللہ علیہ وسلم الی جمیع الناس لأنہ فسّر قولہ تعالیٰ: ’’وآخرین منھم‘‘ بفارس، ولہٰذا کتب کتبہ الی فارس والروم وغیرھم من الاُمم یدعوھم الی اللہ عز وجل والی اتباع ما جاء بہ، ولہٰذا قال مجاھد وغیر واحد فی قولہ تعالیٰ: ’’وآخرین منھم لما یلحقوا بھم‘‘ قال ھم الأعاجم وکل من صدق النبی صلی اللہ علیہ وسلم من غیر العرب۔‘‘

(تفسیر ابن کثیر ج:۴ ص:۳۶۳ طبع قاہرہ مصر)

ترجمہ:...’’پس اس حدیث میں اس امر کی دلیل ہے کہ یہ سورہ مدینہ میں نازل ہوئی اور اس میں اس امر کی بھی دلیل ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت تمام انسانوں کی طرف عام ہے، کیونکہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ’’وَآخَرِیْنَ مِنْہُمْ‘‘ کی تفسیر اہل فارس فرمائی ہے، اسی بنا پر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فارس، روم اور دیگر شاہانِ عالم کو گرامی نامے تحریر فرمائے، جن کے ذریعہ انہیں اللہ تعالیٰ کی اور آپؐ کے لائے ہوئے دین کی پیروی کی دعوت

148

دی، اس لئے امام مجاہدؒ اور دیگر بہت سے حضرات نے حق تعالیٰ کے ارشاد: ’’وَآخَرِیْنَ مِنْہُمْ لَمَّا یَلْحَقُوْا بِھِمْ‘‘ میں فرمایا کہ اس سے عجمی لوگ مراد ہیں، اور غیرعرب کے وہ تمام حضرات جنہوں نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی تصدیق کی اور آپؐ پر ایمان لائے۔‘‘

سوم:...آیت میں ’’آخرین‘‘ کے جس ’’لحوق بالایمان‘‘ کا ذکر ہے اس سے لحوق فی المرتبہ مراد نہیں، کیونکہ یہ اُمت کا اجماعی عقیدہ ہے کہ غیرصحابی کسی ادنیٰ صحابی کے مرتبہ کو نہیں پہنچ سکتا، بلکہ لحوق فی الدین مراد ہے، مطلب یہ ہے کہ فی الحال یہ لوگ مسلمانوں کی صف میں شامل نہیں ہوئے، آئندہ ہوں گے۔

چہارم:...’’حجۃ اللہ البالغہ‘‘ کا جو حوالہ جناب نے دیا ہے، آپ اس کا مطلب نہیں سمجھے، حضرت شاہ صاحبؒ نے پہلے تو انبیائے کرام علیہم السلام کی بعثت کو بایں الفاظ ذکر فرمایا ہے:

’’واذا اقتضت الحکمۃ الْإلٰھیۃ ان یبعث الی الخلق واحدًا من المفھمین فیجعلہ سببًا لخروج الناس من الظلمات الی النور وفرض اللہ علی عبادہ ان یسلموا وجوھھم وقلوبھم لہ وتاکد فی الملاء الأعلی الرضا عمن انقاد لہ وانضم الیہ واللعن علی من خالفہ وناواہ فاخبر الناس بذالک والزمھم طاعتہٗ فھو النبی۔‘‘

(حجۃ اللہ البالغہ ج:۱ ص:۸۴ طبع منیریہ)

ترجمہ:...’’اور جب حکمتِ الٰہیہ تقاضا کرتی ہے کہ مفہمین میں سے کسی کو مخلوق کی طرف مبعوث کرے تاکہ اسے لوگوں کے ظلمات سے نور کی طرف نکلنے کا سبب بنائے تو اللہ تعالیٰ اپنے بندوں پر فرض کردیتے ہیں کہ دل و جان سے اس کے سامنے سر تسلیم خم کردیں، اور ملأ اعلیٰ میں اس شخص کے لئے رضامندی مؤکد ہوجاتی

149

ہے جو اس کا مطیع ہوجائے اور اس کے ساتھ مل جائے، اور اس شخص پر لعنت مؤکد ہوجاتی ہے جو اس کی مخالفت کرے اور اس سے دشمنی کرے، پس وہ لوگوں کو اس کی خبر کرے اور اپنی اطاعت کو لوگوں پر لازم کرے وہ نبی کہلاتا ہے۔‘‘

گویا نبی کی بعثت کی علت غائیہ انسانوں کو ظلمات سے نکال کر نور کی طرف لانا ہے، چونکہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم خاتم النبیین تھے اور آپؐ کے بعد انبیائے کرام کی بعثت کا سلسلہ ختم ہوچکا تھا، اس لئے آپؐ کے بعد کارِ نبوّت اُمتِ مرحومہ کے سپرد کیا گیا، اور دعوت و ارشاد کی ذمہ داری اس پر ڈالی گئی، حضرت شاہ صاحبؒ اس کو ’’نوع آخر من البعث‘‘ سے تعبیر فرما رہے ہیں، چنانچہ فرماتے ہیں:

’’واعظم الأنبیاء شأنًا من لہ نوع آخر من البعثۃ ایضًا، وذالک ان یکون مراد اللہ فیہ ان یکون سببًا لخروج الناس من الظلمات الی النور۔ وان یکون قومہٗ خیر امۃ اخرجت للناس فیکون بعثہ یتناول بعثًا آخر، والی الأول وقعت الْإشارۃ فی قولہ تعالیٰ: ’’ھُوَ الَّذِیْ بَعَثَ فِی الْاُمِّیِّیْنَ رَسُوْلًا مِّنْہُمْ‘‘ الآیۃ، والی الثانی فی قولہ تعالیٰ: ’’کُنْتُمْ خَیْرَ اُمَّۃٍ اُخْرِجَتْ لِلنَّاسِ‘‘ وقولہ صلی اللہ علیہ وسلم: ’’فانما بعثتم میسرین ولم تبعثوا معسرین۔‘‘

(حجۃ اللہ البالغہ ج:۱ ص:۸۴ طبع منیریہ)

ترجمہ:...’’اور انبیاء میں سب سے عظیم الشان نبی وہ ہے جس کے لئے بعثت کی ایک نوع اور بھی ہے، اور وہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کی مراد اس میں یہ ہو کہ وہ لوگوں کے تاریکیوں سے نور کی طرف نکلنے کا سبب بنے اور اس کی اُمت خیر اُمت ہے، جو لوگوں کو خیر کی دعوت دینے کے لئے کھڑی کی گئی ہو، اس طرح پس نبی کی بعثت ایک اور

150

بعثت کو (یعنی اُمت کے مبعوث للدعوۃ ہونے کو) متضمن ہو، اول کی طرف حق تعالیٰ کے ارشاد:’’ھُوَ الَّذِیْ بَعَثَ فِی الْاُمِّیِّیْنَ رَسُوْلًا مِّنْہُمْ‘‘ میں اشارہ ہے، اور ثانی کی طرف ارشاد خداوندی:’’کُنْتُمْ خَیْرَ اُمَّۃٍ اُخْرِجَتْ لِلنَّاسِ‘‘ میں اور ارشاد نبویؐ: ’’تم لوگ آسانی کرنے والے بناکر بھیجے گئے ہو، تنگی کرنے والے بناکر نہیں بھیجے گئے۔‘‘ میں اشارہ ہے۔‘‘

یعنی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا خود ہدایت خلق کے لئے مبعوث ہونا متضمن ہے آپؐ کی اُمت کے داعی الی اللہ ہونے کو، جس کو قرآن کریم نے: ’’کُنْتُمْ خَیْرَ اُمَّۃٍ اُخْرِجَتْ لِلنَّاسِ‘‘ سے بیان فرمایا ہے، اور یہی شاہ صاحبؒ کے الفاظ میں:’’نوع آخر من البعثۃ‘‘ ہے، یہیں سے یہ بھی معلوم ہوا ہوگا کہ اس ’’نوع آخر من البعثۃ‘‘ کا ماخذ آیت کریمہ: ’’ھُوَ الَّذِیْ بَعَثَ فِی الْاُمِّیِّیْنَ رَسُوْلًا‘‘ نہیں بلکہ آیت: ’’کُنْتُمْ خَیْرَ اُمَّۃٍ اُخْرِجَتْ لِلنَّاسِ‘‘ ہے، نیز حدیث نبوی: ’’فانما بعثتم میسرین ولم تبعثوا معسرین۔‘‘

پنجم:...حدیث نبوی: ’’لو کان الْإیمان بالثریا لنالہ رجال من ھؤلَاء‘‘ کا منشا یہ نہیں کہ خدانخواستہ ایمان کسی وقت میں زمین پر سے اُٹھ جائے گا، کیونکہ اوّل تو یہ بات شرعاً ممتنع ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی لائی ہوئی ہدایت قیامت سے پہلے دنیا سے اُٹھ جائے، (البتہ قیامت کے بالکل قریب جبکہ اہل ایمان اُٹھالئے جائیں گے، تب قرآن کریم کے نقوش بھی اُٹھ جائیں گے اور پھر زمین پر صرف اشرار الناس باقی رہ جائیں گے، جن پر قیامت قائم ہوگی) علاوہ ازیں حدیث میں لفظ ’’لو‘‘ ہے، جو فرض محال کے لئے آتا ہے، جیسا کہ آیت کریمہ: ’’لَوْ کَانَ فِیْھِمَآ اٰلِھَۃٌ اِلّا اللہُ لَفَسَدَتَا‘‘ میں فرض محال کے طور پر ہے، اس لئے حدیث نبوی سے اہل فارس کی دین کے لئے محنت و جانکاہی اور ان کی فقاہت و دانش کی مدح مقصود ہے کہ اگر بفرض محال دین ثریا پر بھی چلا گیا ہوتا تو یہ حضرات اسے وہاں سے بھی حاصل کر لاتے، اور ان اکابر دین نے علوم نبوّت کی تحصیل اور نشر

151

واشاعت میں جو جانفشانیاں کی ہیں اور تفقہ فی الدین کے ذریعہ علوم دین کے لالہ زار میں جو گل کاریاں کی ہیں، اگر ان کی پوری تاریخ سامنے ہو تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے اس ارشاد کی حرف بحرف تصدیق ہوجاتی ہے۔

ششم:...اسلام میں ظلّی نبوّت کا تصور نہیں اور نہ نبوّت کوئی ظلّی چیز ہے، امام ربانی مجدد الف ثانی ؒفرماتے ہیں:

’’نبوّت عبارت از قرب الٰہی است جل سلطانہ کہ شائبہ ظلّیت ندارد، عروجش رو بحق دارد جل وعلا، ونزولش رو بخلق ایں قرب بالاصالۃ نصیب انبیاء است علیہم الصلوات والتسلیمات، وایں منصب مخصوص بایں بزرگواراں است علیہم الصلوات والبرکات و خاتم ایں منصب سیّد البشرؐ است علیہ وعلیٰ آلہ الصلوٰۃ والسلام، حضرت عیسیٰ علیٰ نبینا وعلیہ الصلوٰۃ والتحیۃ بعد از نزول متابع شریعت خاتم الرسلؐ خواہد بود۔‘‘

(مکتوبات امام ربانی دفتر اول مکتوب:۳۰۱)

ترجمہ:...’’نبوّت قرب الٰہی سے عبارت ہے، جو ظلّیت کا شائبہ بھی نہیں رکھتی، اس کا عروج رو بحق رکھتا ہے، اور اس کا نزول رو بخلق، یہ قرب بالاصالت انبیائے کرام علیہم السلام کا حصہ ہے اور یہ منصب انہی اکابر سے مخصوص ہے اور اس منصب کے خاتم سیّد البشر صلی اللہ علیہ وسلم ہیں اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام آسمان سے اترنے کے بعد خاتم الرسل صلی اللہ علیہ وسلم کی شریعت کی پیروی کریں گے۔‘‘

علاوہ ازیں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر منصب نبوّت ختم ہوچکا ہے، اور وحی نبوّت منقطع ہوچکی ہے، اس لئے آپؐ کے بعد یہ منصب کسی شخص کو نہ اصالۃً مل سکتا ہے، اور نہ ظلّی طور پر، جناب مرزا صاحب لکھتے ہیں:

’’جس طرح یہ بات ممکن نہیں کہ آفتاب نکلے اور اس کے

152

ساتھ روشنی نہ ہو، اسی طرح ممکن نہیں کہ ایک رسول اصلاح خلق اللہ کے لئے آوے اور اس کے ساتھ وحی الٰہی اور جبریل نہ ہو۔‘‘

(ازالہ اوہام ص:۵۷۸، روحانی خزائن ج:۳ ص:۴۱۲)

’’ظاہر ہے کہ اگرچہ ایک ہی دفعہ وحی کا نزول فرض کیا جاوے اور صرف ایک ہی فقرہ حضرت جبرئیل لاویں اور پھر چپ ہوجاویں یہ امر بھی ختمِ نبوّت کا منافی ہے، کیونکہ جب ختمیت کی مہر ہی ٹوٹ گئی اور وحی رسالت پھر نازل ہونی شروع ہوگئی تو پھر تھوڑا یا بہت نازل ہونا برابر ہے، ہر یک دانا سمجھ سکتا ہے کہ اگر خدائے تعالیٰ صادق الوعد ہے اور جو آیت خاتم النبیین میں وعدہ دیا گیا ہے اور جو حدیثوں میں بتصریح بیان کیا گیا ہے کہ اب جبرئیل بعد وفات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمیشہ کے لئے وحی نبوّت لانے سے منع کیا گیا ہے، یہ تمام باتیں سچ اور صحیح ہیں تو پھر کوئی شخص بحیثیت رسالت ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد ہرگز نہیں آسکتا۔‘‘

(ازالہ اوہام ص:۵۷۷، روحانی خزائن ج:۳ ص:۴۱۱)

’’خدائے تعالیٰ ایسی ذلت اور رسوائی اس اُمت کے لئے اور ایسی ہتک اور کسر شان اپنے نبی مقبول خاتم الانبیاء کے لئے ہرگز روا نہیں رکھے گا کہ ایک رسول بھیج کر جس کے آنے کے ساتھ جبرائیل کا آنا ضروری امر ہے، اسلام کا تختہ ہی اُلٹا دیوے، حالانکہ وہ وعدہ کرچکا ہے کہ بعد آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے کوئی رسول نہیں بھیجا جائے گا۔‘‘

(ازالہ اوہام ص:۵۸۶، روحانی خزائن ج:۳ ص:۴۱۶)

ہفتم:...آپ نے حضرت شاہ ولی اللہ محدث دہلویؒ کی کتاب ’’الخیر الکثیر‘‘ کے حوالے سے جو لکھا ہے کہ انہوں نے موعود عیسیٰ علیہ السلام کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہی کا

153

ظلّ اور آپ ہی کی بعثت ثانیہ لکھا ہے، یہ بالکل غلط ہے، حضرت شاہ صاحبؒ نے کسی ’’موعود عیسیٰ‘‘ (جس سے آپ کی مراد مرزا غلام احمد قادیانی ہے) ذکر نہیں فرمایا، بلکہ حضرت شاہ صاحبؒ انہی حضرت عیسیٰ ابن مریم علیہ السلام کا ذکر فرما رہے ہیں جو بنی اسرائیل کی طرف مبعوث ہوئے تھے، اور جن کو ساری دنیا، کیا یہودی، کیا نصرانی اور کیا مسلمان، عیسیٰ ابن مریم کے نام مبارک سے جانتی پہچانتی ہے۔

اُمید ہے یہ مختصر اِشارات کافی ہوں گے، فقط والدعا۔

(ہفت روزہ ختمِ نبوّت کراچی ج:۶ ش:۳۵)

154

قادیانی فریب!

بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ

اَلْحَمْدُللہِ وَسَلَامٌ عَلٰی عِبَادِہِ الَّذِیْنَ اصْطَفٰی

قادیانیت کا ُکل سرمایہ غلط بیانی اور فریب دہی ہے، مرزا غلام احمد قادیانی اور اس کی ذریت کے قول و فعل کا جس پہلو سے بھی جائزہ لیا جائے اس میں دجل و تلبیس، دھوکا اور فریب کے سوا کچھ نہیں ملے گا۔ راست گوئی و حق گوئی ان کی مذہبی لغت سے خارج ہے، وہ کذب بیانی و اِفترا پردازی میں گوئلز کے استاذ مانے جاتے ہیں، ان کے تازہ ترین غلط بہتان کی ایک عجیب و غریب مثال ملاحظہ فرمائیے:

حکیم الامت حضرت مولانا اشرف علی تھانویؒ کی کتاب ’’المصالح العقلیہ‘‘ ۱۳۳۵ھ میں لکھی گئی، اور اس وقت سے آج تک اس کے نامعلوم کتنے ایڈیشن نکل چکے ہیں، لیکن ستر سال بعد قادیانیوں نے انکشاف کیا کہ اس میں پانچ جگہ مرزا غلام احمد قادیانی کی پانچ کتابوں سے عبارتیں لفظ بہ لفظ نقل کی گئی ہیں، یہ انکشاف پہلے محمد شاہد قادیانی کے نام سے ۵؍ اور ۷؍مئی ۱۹۸۴ء کے ’’الفضل ربوہ‘‘ میں کیا گیا، اس کے بعد قادیانی ہفت روزہ ’’لاہور‘‘ نے اسے شائع کیا، اور پھر کسی عبداللہ ایمن زئی نامی شخص کے نام سے ایک کتابچہ ’’کمالات اشرفیہ‘‘ کے نام سے شائع کیا گیا، جس میں بڑی تحدی سے یہ دعویٰ کیا گیا کہ حضرت تھانویؒ نے مرزا غلام احمد قادیانی کی کتابوں سے ’’کسبِ فیض‘‘ کیا ہے۔

حالانکہ قادیانیوں میں اگر عقل و انصاف کی ذرا بھی رمق ہوتی تو حضرت تھانویؒ کی کتاب کا مقدمہ اصل حقیقت کے اظہار کے لئے کافی تھا، چنانچہ حضرت تھانویؒ لکھتے ہیں:

’’...۔۔ اس وقت بھی ایک ایسی کتاب جس کو کسی صاحبِ

155

قلم نے لکھا ہے، مگر علم و عمل کی کمی کے سبب تمام تر رطب و یابس وغُث و سمین سے پُر ہے، ایک دوست کی بھیجی ہوئی میرے پاس دیکھنے کی غرض رکھی ہوئی ہے ...... احقر نے نہایت بے تعصبی سے اس کتاب (المصالح العقلیہ) میں بہت سے مضامین کتاب مذکورہ بالا سے بھی جو کہ موصوف بصحت تھے، لے لئے ہیں۔‘‘

اس عبارت کے پیش نظر قادیانیوں کو بھی معلوم تھا کہ حضرت تھانویؒ نے مرزا غلام احمد کی کتابوں سے نہیں بلکہ اس کتاب سے بعض مضامین لئے ہیں، جس کا ذکر انہوں نے اپنے مقدمہ میں کیا ہے، مگر قادیانیوں کو اطمینان تھا کہ جو کتاب حضرت تھانویؒ کا اصل مأخذ ہے، اور جس کا حوالہ انہوں نے اپنے مقدمہ میں دیا ہے، اب دنیا سے نایاب ہوچکی ہے، نہ کوئی اس کتاب کو تلاش کرسکتا ہے، نہ حضرت تھانویؒ کے اصل مأخذ کی نشاندہی کی جاسکتی ہے، اور نہ کوئی اس شخص کا نام بتاسکتا ہے، جس کا حضرت تھانویؒ نے حوالہ دیا ہے، اس لئے اس تاریکی سے فائدہ اُٹھاؤ اور مرزا غلام احمد قادیانی کی جھوٹی نبوّت کو سہارا دینے کے لئے ایک جھوٹ اور گھڑ ڈالو کہ حضرت تھانویؒ نے مرزا غلام احمد کی کتابوں پر اِعتماد کیا ہے۔

حق تعالیٰ شانہ‘ علامہ خالد محمود کو جزائے خیر عطا فرمائیں، انہوں نے حضرت تھانویؒ کے حوالے کی کتاب ڈھونڈ نکالی اور قادیانی مکر و فریب کا سارا طلسم چاک کردیا۔

یہ کتاب جو حضرت تھانویؒ کا اصل مأخذ تھی، مرزا قادیانی کے ایک ہم عصر مولوی فضل محمد خان کی کتاب ’’اسرار شریعت‘‘ ہے، جو تین جلدوں میں ۱۳۲۷ھ میں شائع ہوئی۔

علامہ صاحب نے اپنے مضمون میں (جو پہلے ’’الخیر‘‘ ملتان میں اور پھر ماہنامہ ’’بینات‘‘ بنوری ٹاؤن کراچی بابت ماہ صفر المظفر ۱۴۰۵ھ میں شائع ہوا) یہ ثابت کیا ہے کہ حضرت تھانویؒ کی عبارتیں من و عن ’’اسرار شریعت‘‘ میں موجود ہیں، اور یہ کہ مرزا قادیانی نے نقل کرتے ہوئے عبارتوں میں قدرے تصرف کیا ہے۔

علامہ خالد محمود صاحب کا یہ مضمون مطالعے کے لائق ہے، اس کے ملاحظہ سے اس یقین میں مزید پختگی پیدا ہوگی کہ قادیانی لیڈروں کے پاس دجل و فریب اور مغالطہ آفرینی

156

کے سوا کچھ نہیں: وفی کل شیء لہٗ آیۃٌ تدل انہٗ کاذب!

اللہ تعالیٰ ان لوگوں کو عقل و فہم نصیب فرمائیں تاکہ یہ لوگ سوچیں کہ جس مذہب کی گاڑی ہی مکر و فریب سے چلتی ہے، دُنیا و آخرت میں رُسوائی کے سوا کیا دے سکتا ہے۔ اس لئے مناسب معلوم ہوتا ہے کہ تاریخ کی درستگی اور قادیانی دجل و تلبیس کا پردہ چاک کرنے کے لئے حضرت علامہ خالد محمود صاحب کا وہ مضمون بھی بطورِ ضمیمہ یہاں درج کیا جائے، لہٰذا ماہنامہ ’’بینات‘‘ سے وہ مضمون بلفظہٖ اس کتاب میں بھی نقل کیا جارہا ہے۔

(ہفت روزہ ختمِ نبوّت کراچی ج:۳ ش:۲۴)

ضمیمہ

برأت حضرت تھانوی

بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ

اَلْحَمْدُللہِ وَسَلَامٌ عَلٰی عِبَادِہِ الَّذِیْنَ اصْطَفٰی

’’ئَآﷲ خَیْرٌ اَمَّا یُشْرِکُوْنَ‘‘

قادیانیوں نے حکیم الامت حضرت مولانا محمد اشرف علی تھانویؒ کی کتاب ’’المصالح العقلیہ‘‘ میں بعض عبارات کو مرزا غلام احمد قادیانی کی عبارات سے لفظ بہ لفظ ملتے پایا، تو انہوں نے دعویٰ کیا کہ حضرت تھانویؒ نے یہ عبارات مرزا صاحب کی پانچ کتابوں سے لی ہیں، اور یقینا لی ہیں۔

ان کے دوست محمد شاہد نے ۵؍مئی اور ۷؍مئی ۱۹۸۳ء کے ’’الفضل‘‘ ربوہ میں پہلی بار انکشاف کیا، اور پھر ان کے ہفت روزہ ’’لاہور‘‘ نے اس مضمون کو بڑے اہتمام سے شائع کیا، اور دعویٰ کیا کہ مولانا تھانویؒ نے یہ مضامین مرزا صاحب کی کتابوں سے لئے ہیں، اور یہ بھی الزام لگایا کہ مولانا تھانویؒ نے کہیں نہیں لکھا کہ یہ مضامین انہوں نے کسی اور

157

مصنف سے لئے ہیں۔

دوست محمد صاحب کے اس الزام نے عوام میں ایک عجیب پریشانی پیدا کردی کہ مولانا تھانویؒ جیسے جلیل القدر عالم نے مرزا غلام احمد کی عبارات کو اپنا کیوں ظاہر کیا ہے؟ مگر ہماری حیرت کی انتہا نہ رہی جب ہم نے دیکھا کہ مولانا تھانویؒ نے اپنی اس کتاب کے مقدمہ میں صاف لکھ دیا ہے کہ انہوں نے اپنی اس کتاب میں بعض مضامین کسی اور کتاب سے لئے ہیں، اس میں بہت سی غلط باتیں بھی تھیں، اگرچہ اس میں کچھ صحیح مضامین بھی تھے، اس لئے مولانا تھانویؒ نے اس کتاب کا نام ذکر نہ کیا، تاکہ اس میں لوگوں کی غلط رہنمائی کا گناہ ان پر نہ آئے۔

’’المصالح العقلیہ‘‘ کے اس مقدمہ میں حضرت تھانویؒ کے اصل الفاظ ملاحظہ فرمائیے:

’’احقر نے غایت بے تعصبی سے اس میں بہت سے مضامین کتاب مذکورہ بالا سے بھی جو کہ موصوف بصحت تھے، لے لئے ہیں اور اس میں احکام مشہورہ کی کچھ کچھ ہی مصلحتیں مذکور ہوں گی جو اصولِ شرعیہ سے بعید نہ ہوں اور افہام عامہ کے قریب ہوں، مگر یہ مصلحتیں نہ سب منصوص ہیں، نہ سب مدارِ احکام ہیں اور نہ ان میں انحصار ہے۔‘‘

(ص:۱۵ مطبوعہ دارالاشاعت کراچی)

ہم نے حضرت تھانویؒ کی یہ تصریح دیکھی، تو قادیانی خیانت کا پردہ چاک ہوگیا، وہ حیرت جاتی رہی جو دوست محمد شاہد قادیانی کے مذکورہ سابقہ مضمون سے پیدا ہوئی تھی، مگر اس پر حیرت ضرور ہوئی کہ دوست محمد قادیانی کو اتنا صریح جھوٹ بولنے اور مغالطہ دینے کی جرأت کیسے ہوئی کہ مولانا تھانویؒ نے اس کتاب کے مصنف کا نام نہیں لیا، جہاں سے بعض عبارات انہوں نے لی ہیں، تو بے شک انہیں اس سوال کا حق پہنچتا تھا، لیکن اس حوالے کا سرے سے ذکر نہ کرنا اور لوگوں کو یہ تأثر دینا کہ مولانا تھانویؒ نے یہ عبارات بغیر کسی قسم کے حوالے دئیے، اپنے نام سے پیش کردی ہیں، قادیانیوں کی کھلی خیانت اور ان کے صریح جھوٹ کی ایک اور مثال ہے۔

158

ہم نے ماہنامہ ’’الرشید‘‘ ساہیوال کی اگست ۱۹۸۳ء کی ایک اشاعت میں دوست محمد صاحب شاہد سے مطالبہ کیا کہ وہ اس غلط بیانی کی برسرعام معافی مانگیں، مگر افسوس کہ انہیں اس کی توفیق نہ ہوئی، البتہ ان کے ایک ایڈوکیٹ محمد بشیر ہرل نے ہفت روزہ ’’لاہور‘‘ کی ۲۷؍اگست کی اشاعت میں دوست محمد صاحب کی اس خیانت کو حق بجانب ثابت کرنے کی بھرپور کوشش کی، ہم نے ہفت روزہ ’’خدام الدین‘‘ لاہور کی ۱۶؍ستمبر کی اشاعت میں ’’عذرِ گناہ بدتر از گناہ‘‘ کے عنوان سے اس کا پورا تعاقب کیا، قادیانیوں کے دو پہلوان دوست محمد اور محمد بشیر ہرل چت گرے تو ان کی طرف سے بورے والا کے عبدالرحیم بُھٹّہ، ہفت روزہ ’’لاہور‘‘ کی ۲۹؍اکتوبر کی اشاعت میں سامنے آئے، اور ایک ایسا مضمون لکھا جو تضاد بیانی، حیرت سامانی اور بوکھلاہٹ میں اپنی مثال آپ ہے، اور اس لائق نہیں کہ اس کی تردید کرنے کی کوئی ضرورت محسوس ہو۔

یہ قادیانی مضمون نگار اگر یہ کہتے کہ مولانا تھانویؒ نے اپنے اس مقدمہ کتاب میں صرف ایک کتاب کا حوالہ دیا ہے، حالانکہ ان کی کتاب ’’المصالح العقلیہ‘‘ میں مرزا صاحب کی ایک کتاب سے نہیں، ان کی پانچ کتابوں کے اقتباسات ہیں، تو پھر بھی کوئی بات تھی، اور ہمارے ذمہ ہوتا کہ ہم حضرت تھانویؒ کی طرف سے جواب گزارش کریں۔

مگر افسوس کہ دوست محمد قادیانی نے اپنے اس انکشاف کی خشتِ اول ہی کچھ ایسی ٹیڑھی رکھی کہ اس پر جو دیوار بنتی گئی ٹیڑھی بنتی گئی، یہاں تک کہ عبداللہ ایمن زئی نے اس پر ایک رسالہ ’’کمالاتِ اشرفیہ‘‘ لکھ مارا، اس طنز آمیز نام سے کتاب کی خوب اشاعت کی، ایمن زئی صاحب نے بھی کہیں ذکر نہ کیا کہ مولانا تھانویؒ نے اپنی اس کتاب کے مقدمہ میں لکھ دیا ہے کہ انہوں نے ایک کتاب کے بعض مضامین اپنی اس کتاب میں لئے ہیں، اگر وہ یہ بات لکھ دیتے تو ان کی یہ نشاندہی ’’مذہبی دنیا میں زلزلہ‘‘ کیسے بنتی اور وہ اپنے اس رسالہ کو ’’عقل گم کردینے والے انکشاف‘‘ کیسے کہتے؟

’’تقریب کچھ تو بہر ملاقات چاہئے!‘‘

افسوس کہ یہ لوگ ایک ہی لکیر پیٹتے رہے کہ مولانا تھانویؒ نے یہ مضامین مرزا

159

صاحب کی پانچ کتابوں سے بغیر کسی قسم کا حوالہ دئیے اپنی کتاب میں نقل کئے ہیں، ہم نے ان قادیانی مضمون نگاروں کے ہر مضمون پر ان کا نوٹس لیا اور انہیں اس غلط بیانی اور خیانت سے رجوع کرنے کی دعوت بھی دی، مگر افسوس کہ ان حضرات نے کہیں بھی اپنی اس خیانت پر پشیمانی کا اظہار نہ کیا اور نہ انہیں اس علمی خیانت سے توبہ کی توفیق ہوئی۔

عقلی حکمتیں مولانا تھانویؒ کی نظر میں:

حضرت مولانا اشرف علی تھانوی رحمۃ اللہ علیہ ایک نہایت بلند پایہ اور راسخ فی العلم عالم دین تھے، ان کے ہاں احکام دین کی یہ حکمتیں نہ منصوص ہیں، نہ مدارِ احکام، بلکہ وہ تو یہ چاہتے تھے کہ لوگ اس قسم کے مباحث میں نہ پڑیں، لیکن وہ انہیں اس سے روکنے پر قادر نہ تھے، مجبوراً انہوں نے انہیں ایک صحیح سمت موڑا۔

آپؒ نے ان میں سے وہ مضامین جو ان کے نزدیک اصولِ شریعت سے بعید نہ تھے، لے لئے، اور اس کتاب کے مؤلف کا نام نہ بتایا کہ ان کی نشاندہی پر لوگ اس کتاب کی طرف نہ دیکھیں، جو تمام تر رطب و یابس سے پُر تھی، اور عامۃ الناس کو اس کا دیکھنا سخت مضر تھا، مولانا تھانویؒ فرماتے ہیں:

’’غرض اس میں کوئی شک نہ رہا کہ اصل مدارِ ثبوت احکام شرعیہ فرعیہ کا نصوص شرعیہ ہیں، لیکن اسی طرح اس میں بھی شبہ نہیں کہ باوجود اس کے پھر بھی ان احکام میں بہت سے مصالح اور اسرار بھی ہیں، اور گو مدارِ ثبوت احکام کا ان پر نہ ہو، جیسا کہ اوپر مذکور ہوا، لیکن ان میں یہ خاصیت ضرور ہے کہ بعض طبائع کے لئے ان کا معلوم ہوجانا احکام شرعیہ میں مزید اطمینان پیدا ہونے کے لئے ایک درجہ میں معین ضرور ہے، گو اہل یقین راسخ کو اس کی ضرورت نہیں۔‘‘

(المصالح العقلیہ ص:۱۳ طبع دارالاشاعت کراچی)

حضرت مولانا تھانویؒ کی اس عبارت سے یہ واضح ہے کہ انہوں نے اس کتاب

160

سے مضامین اس لئے نہیں لئے کہ مولانا کو خود ان کی ضرورت تھی، یا وہ انہیں کسی درجہ میں علم و معرفت کا سرمایہ سمجھتے تھے، بلکہ محض اس لئے کہ ان کے بیان سے وہ علم و یقین کے ضعفاء کو کسی درجہ میں کچھ تسلّی دے سکیں، حضرت مولانا تھانویؒ کی اس تصریح کے باوجود جناب عبداللہ ایمن زئی، حضرت مولانا تھانویؒ کو اس آبِ حیات کا متلاشی بتلا رہے ہیں، یہ جانتے ہوئے کہ حضرت مولانا جیسے راسخین فی العلم کے ہاں ان مضامین عقلیہ کا کچھ وزن نہیں، وہ حضرت مولاناؒ کو اس ’’چشمۂ فیض‘‘ سے سیراب ہوتا یوں پیش کرتے ہیں، ان کے مندرجہ ذیل پانچ پیرے ملاحظہ فرمائیے:

۱:...’’حضرت تھانویؒ اس نکتے پر غور فرما رہے تھے کہ خنزیر کو حرام قرار دینے کا عقلاً کیا جواز ہے، اسلام کی چودہ سو سالہ تاریخ میں جو لٹریچر تخلیق ہوا، اور بڑے بڑے علماء و مفسرین نے اس مسئلے پر جو کچھ لکھا وہ سب حضرت تھانویؒ کی نظر میں تھا، مگر انہوں نے یہ سارا سرمایۂ معرفت ایک طرف رکھ دیا اور مرزا صاحب نے اپنی کتاب میں حرمت خنزیر کے جو اسباب بیان کئے تھے، وہ اپنی کتاب میں نقل کردئیے۔‘‘

(کمالاتِ اشرفیہ ص:۷)

۲:...’’حضرت تھانویؒ اپنی کتاب کی تصنیف کے وقت غور فرما رہے تھے کہ نماز پنجگانہ میں کیا حکمتیں ہیں، اسی دوران میں ان کی نظر سے مرزا صاحب کی مذکورہ بالا کتاب گزری، اس میں بیان کردہ حکمتیں حضرت تھانویؒ کو اس قدر پسند آئیں کہ لفظ بہ لفظ اپنی کتاب میں نقل فرمادیں۔‘‘

(ایضاً ص:۱۶)

۳:...’’حضرت مولانا تھانویؒ کتاب کے لئے اس موضوع پر غور و فکر اور مطالعہ فرما رہے تھے، تلاش و تحقیق کے دوران مرزا صاحب کی کتاب ’’نسیم دعوت‘‘ انہیں ملی، انہوں نے یہ کتاب پڑھی اور محسوس کیا انسانی قویٰ کے استعمال کے جو طریقے مرزا

161

صاحب نے قرآن شریف میں تدبر کرنے کے بعد بیان کئے ہیں، ان سے بہتر نکات بیان نہیں کئے جاسکتے۔‘‘

(ایضاً ص:۲۰)

۴:...’’روح اور قبر کے تعلق کے بارے میں صدیوں تک علمائاور حکمائے اسلام نے بحث کی اور آخر یہی نتیجہ نکالا کہ قبر کے ساتھ روح کا تعلق کچھ نہ کچھ ضرور ہوتا ہے، حضرت تھانویؒ کے پیش نظر بھی یہی مسئلہ تھا، اسی دوران میں حضرت تھانویؒ کی نظر سے مرزا صاحب کی ایک تقریر گزری ...... مرزا صاحب کی تقریر کی ساری عبارت حضرت تھانویؒ نے اپنی کتاب میں شامل کرلی۔‘‘

(ایضاً ص:۲۷)

۵:...’’حضرت مولانا تھانویؒ نکاح اور طلاق کی حکمتوں پر غور فرما رہے تھے، مرزا صاحب اپنی کتاب ’’آریہ دھرم‘‘ میں نکاح و طلاق کی حکمتوں پر بحث کرچکے تھے، حضرت تھانویؒ نے اس کتاب کا مطالعہ کیا اور اس سے استفادہ کیا، مولانا مغفور، مرزا صاحب کی بحث کو پڑھ کر اسے اپنے رنگ میں اور اپنے الفاظ میں بیان کرسکتے تھے ...... مگر حضرت تھانویؒ کو خراجِ تحسین ادا کرنا پڑتا ہے کہ انہوں نے دھوکہ، فریب سے کام لینے کے بجائے مرزا صاحب کی یہ ساری بحث مرزا صاحب ہی کے الفاظ میں اپنی کتاب کی زینت بنادی۔‘‘

(ایضاً ص:۳۳)

ان پانچوں اقتباسات کا حاصل یہ ہے کہ حضرت مولانا تھانویؒ ان مسائل میں واقعی ضرورتمند تھے، اور مرزا صاحب کی کتابوں میں ان کی مشکل کا حل موجود تھا، اور انہوں نے اپنی یہ مشکل مرزا صاحب کی کتابوں ہی سے حل کی، جناب عبداللہ ایمن زئی نے یہ عبارات لکھتے ہوئے حضرت مولانا تھانویؒ کے اس جملہ کو چھوا تک نہیں جو حضرت تھانویؒ اپنی اس کتاب کے مقدمہ میں لکھ چکے تھے اور اس سے پوری حقیقت حال سے پردہ اٹھتا تھا،

162

وہ جملہ یہ ہے:

’’اہل یقین اور راسخ العلم کو اس کی ضرورت نہیں، لیکن بعض ضعفاء کے لئے تسلی بخش اور قوت بخش بھی ہے۔‘‘

اب آپ ہی غور فرمائیں کہ حضرت تھانویؒ تو ان مضامین عقلیہ کو کوئی علم و عرفان کا موضوع قرار نہیں دے رہے، ضعفاءِ ایمان کے لئے محض ایک تسلّی کا سامان کہہ رہے ہیں، اور عبداللہ ایمن زئی صاحب ہیں کہ خلافِ مراد متکلم حضرت تھانویؒ کو ان مضامین میں تحقیق حق کا جویا بتلا رہے ہیں، حضرت تھانویؒ کو غور و فکر میں ڈوبا ہوا ظاہر کر رہے ہیں، اور لکھ رہے ہیں کہ حضرت تھانویؒ کو مرزا صاحب کے ہی سرچشمۂ فیض سے سیرابی نصیب ہوئی۔

جو شخص بھی حضرت تھانویؒ کے اس مقدمہ کو پڑھے گا اور پھر ایمن زئی صاحب کی ان عبارات کو دیکھے گا وہ بلاتامل کہے گا کہ ایمن زئی صاحب نے ان عبارات میں حق و انصاف کا خون کیا ہے، کچھ بھی خدا کا خوف نہیں کیا، جو بات حضرت تھانویؒ نے صرف ضعفاءِ ایمان کے لئے تسلّی کا سامان کہی تھی، اسے ایمن زئی نے خود حضرت تھانویؒ جیسے راسخ فی العلم کے لئے سرمایۂ یقین ٹھہرادیا ہے، یہ کھلی خیانت نہیں تو اور کیا ہے؟

عقلی حکمتیں اور رُوحانی معارف:

عبداللہ ایمن زئی نے یہ جانتے ہوئے کہ مولانا تھانویؒ کے نزدیک احکام اسلام کی مصلحتوں اور حکمتوں کا علم سرے سے کوئی اہمیت نہیں رکھتا، اور نہ وہ اسے کسی پہلو میں روحانی معارف میں جگہ دیتے ہیں، مولانا تھانویؒ کی کتاب ’’المصالح العقلیہ‘‘ کو روحانی معارف کی کتاب سمجھ لیا ہے، ایمن زئی صاحب یہ بھی نہ سمجھ سکے کہ مولانا تھانویؒ تو سرے سے ہی ان کے خلاف تھے، انہیں محض ضعیف الاعتقاد لوگوں کے لئے سامانِ تسلّی سمجھتے تھے، کاش کہ ایمن زئی صاحب حضرت تھانویؒ کی یہ عبارت ہی مقدمہ میں دیکھ لیتے:

’’چونکہ ہمارے زمانہ میں تعلیم جدید کے اثر سے جو

163

آزادی طبائع میں آگئی ہے، اس سے بہت سے لوگوں میں ان مصالح کی تحقیق کا شوق اور مذاق پیدا ہوگیا ہے، اور گو اس کا اصل علاج تو یہی تھا کہ ان کو اس سے روکا جائے۔‘‘

(المصالح العقلیہ ص:۱۴ طبع دارالاشاعت کراچی)

اس سے واضح ہوتا ہے کہ حضرت تھانویؒ کے ہاں ان کی یہ کتاب کوئی روحانی معارف کی کتاب نہ تھی، انہوں نے ادنیٰ سمجھ والوں کے لئے احکام اسلام کی یہ چند مصلحتیں ذکر کی تھیں تاکہ عوام کو ان میں رغبت ہو، افسوس کہ ایمن زئی صاحب نے انہیں روحانی معارف کا خزانہ، یا قرآن مجید کی کوئی بہت بڑی تفسیر سمجھ لیا، اور ثابت کرنے کی کوشش کی کہ دیکھو مولانا تھانویؒ جیسا جلیل القدر عالم، مرزا صاحب سے روحانی معارف کا سبق لے رہا ہے، ایمن زئی صاحب لکھتے ہیں:

’’لاکھوں انسانوں کے پیشوا حضرت مولانا اشرف علی صاحب تھانوی کی مشہور و معروف کتاب ’’احکام اسلام عقل کی نظر میں‘‘ ایک ایسی پُر معارف تصنیف ہے جس کے اسرار و معارف مرزا غلام احمد صاحب قادیانی کی مختلف اور متعدد کتابوں سے نقل کئے گئے ہیں۔‘‘

(کمالاتِ اشرفیہ ص:۵)

پھر ایمن زئی صاحب یہ بھی لکھ گئے:

’’اپنے زمانے کا اتنا بڑا عالم جس نے لاکھوں انسانوں کو علم دین پڑھایا، وہ اپنی کتاب ’’احکام اسلام عقل کی نظر میں‘‘ لکھتے ہوئے اتنا بے بس ہوگیا کہ روحانی معارف بیان کرنے کے لئے اسے مرزا صاحب کی کتابوں کا سہارا لینا پڑا۔‘‘

(ایضاً ص:۵)

مولانا تھانویؒ تو اپنی اس کتاب کو روحانی معارف کا خزانہ بالکل نہیں کہہ رہے، بلکہ صراحت کر رہے ہیں کہ راسخ العلم اہل یقین کو اس کی کوئی ضرورت نہیں، صرف ضعفاءِ اسلام کے لئے اس میں کچھ تسلّی کا سامان ہے، مگر ایمن زئی صاحب ان کی کتاب پر

164

عقیدت کا وہ حاشیہ چڑھا رہے ہیں جو حضرت تھانویؒ کے مریدین میں سے بھی کسی کو آج تک نہیں سوجھا ہوگا، یہ اس لئے نہیں کہ انہیں حضرت تھانویؒ سے عقیدت ہے، بلکہ اس لئے کہ وہ اپنے اس اظہار سے مرزا غلام احمد کے بارے میں اپنے ذہن کو کچھ تسکین دینا چاہتے ہیں۔

مولانا تھانویؒ کی کتاب میں غیرمسلموں کی نقول:

مولانا تھانویؒ نے اپنی اس کتاب میں احکام اسلام کی بعض حکمتیں غیرمسلموں سے بھی نقل کی ہیں، آپؒ ایک مقام پر ایک جرمن مقالہ نویس سے اسلام کے حفظ صحت کے اصولوں میں ایک حکمت ان الفاظ میں نقل کرتے ہیں:

’’اسلام نے صفائی اور پاکیزگی اور پاکبازی کی صاف و صریح ہدایات کو نافذ کرکے جرائم ہلاکت کو مہلک صدمہ پہنچا دیا ہے، غسل اور وضو کے واجبات نہایت دور اندیشی اور مصلحت پر مبنی ہیں، غسل میں تمام جسم اور وضو میں ان اعضا کا پاک صاف کرنا ضروری ہے جو عام کاروبار، یا چلنے پھرنے میں کھلے رہتے ہیں، منہ کو صاف کرنا اور دانتوں کو مسواک کرنا، ناک میں اندرونی گرد و غبار وغیرہ کو دور کرنا، یہ تمام حفظِ صحت کے لوازم ہیں، اور ان واجبات کی بڑی شرط آبِ رواں کا استعمال ہے، جو فی الواقع جراثیم کے وجود سے پاک ہوتا ہے، حضرت محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) نے لحم خنزیر میں اور بعضے ممنوع جانوروں کے اندر امراضِ ہیضہ و ٹان فالین بخار وغیرہ کا خطرہ دریافت کرلیا تھا۔‘‘

(المصالح العقلیہ ص:۲۹۹ منقول از اخبار وکیل ۱۸؍جون ۱۹۱۳ء)

عبداللہ ایمن زئی کیا اس جرمن مقالہ نویس کو قرآنی معارف کا سرچشمہ کہیں گے کہ مولانا تھانویؒ جیسا بڑا عالم، اسلامی احکام کی ایک حکمت اس غیرمسلم سے نقل کررہا ہے،

165

مولانا تھانویؒ نے جرمن کے ڈاکٹر کوخ کی بھی ایک تحریر احکام اسلام کے مصالح عقلیہ میں پیش کی ہے، ہم اس کا بھی ایک اقتباس یہاں پیش کرتے ہیں:

’’جس وقت سے مجھ کو نوشادر کا داء الکلب کے لئے تیر بہ ہدف علاج ہونا دریافت ہوگیا ہے، اس وقت سے میں عظیم الشان نبی (یعنی محمد صلی اللہ علیہ وسلم) کی خاص طور پر قدر و منزلت کرتا ہوں، اس انکشاف کی راہ میں مجھ کو انہیں کے مبارک قول کی شمع نور نے روشنی دکھائی، میں نے ان کی وہ حدیث پڑھی جس کا مفہوم یہ ہے کہ جس برتن میں کتا منہ ڈالے، اس کو سات مرتبہ دھو ڈالو، چھ مرتبہ پانی سے، اور ایک مرتبہ مٹی سے، یہ حدیث دیکھ کر مجھے خیال آیا کہ محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) جیسے عظیم الشان پیغمبر کی شان میں فضول گوئی نہیں ہوسکتی، ضرور اس میں کوئی مفید راز ہے، اور میں نے مٹی کے عنصروں کی کیمیائی تحلیل کرکے ہر ایک عنصر کا داء الکلب میں الگ استعمال شروع کیا، آخر میں نوشادر کے تجربہ کی نوبت آتے ہی مجھ پر منکشف ہوگیا کہ اس مرض کا یہی علاج ہے۔‘‘

(المصالح العقلیہ ص:۳۰۲ منقول از اخبار مدینہ بجنور ۹؍مارچ ۱۹۱۷ء)

ان مثالوں سے واضح ہے کہ حضرت مولانا تھانویؒ نے احکام اسلام کے مصالح عقلیہ بیان کرنے میں کچھ مضامین غیرمسلموں سے بھی لئے ہیں، ڈاکٹر موریس فرانسیسی، مسٹر آرنلڈ وہائٹ، مسٹر ایڈورڈ براؤن کی تحریرات کے ساتھ ساتھ آپ نے گوروبابا نانک سے بھی کچھ باتیں نقل کیں، یہ کوئی دینی سند یا قرآن و حدیث کی تفسیر نہیں جو غیرمسلموں سے نقل کی جارہی ہیں، مباحث عقلیہ میں غیرمسلموں سے کوئی بات لے لینا ہرگز کسی پہلو سے ممنوع نہیں، کوئی پڑھا لکھا شخص یہ نہیں کہہ سکتا کہ حضرت مولانا تھانویؒ نے اس جرمن مقالہ نویس یا ڈاکٹر کوخ سے یا ان دوسرے غیرمسلم مضمون نگاروں سے روحانی معارف حاصل کئے ہیں، اب آپؒ نے اگر ان غیرمسلموں سے بھی کچھ باتیں مباحث عقلیہ میں لے لیں تو

166

اس سے یہ نتیجہ کیسے نکل آیا جو ایمن زئی صاحب ان الفاظ میں نکال رہے ہیں:

’’راقم تو اس نتیجہ پر پہنچا ہے کہ اگر علامہ تھانوی جیسے عالم بے بدل اور لاکھوں مسلمانوں کے روحانی پیشوا نے روحانی علوم مرزا غلام احمد صاحب قادیانی کے سرچشمۂ علم و معرفت سے حاصل کیا تو پھر اس زمانے میں علم دین اور روحانیت کا سرچشمہ تو مرزا صاحب ہوئے۔‘‘

(کمالاتِ اشرفیہ ص:۴۸)

محترم! اگر آپ اپنی اس عبارت کا یہ آخری جزو یوں لکھتے تو آپ کی دیانت داری کسی درجہ میں لائق تسلیم ہوتی اور پھر ہم اس کا کچھ جواب بھی عرض کرتے:

’’مسلمانوں کے روحانی پیشوا نے روحانی علم جرمنی کے غیرمسلم مستشرق، جرمنی کے ڈاکٹر کوخ، بابا نانک اور مرزا غلام احمد قادیانی کے چشمۂ علم و معرفت سے حاصل کیا ہے۔‘‘

ایمن زئی صاحب کا اس مقام پر صرف مرزا غلام احمد کا ذکر کرنا ان کے رازِ دروں کا پتہ دے رہا ہے، اوپر کی عبارت میں خط کشیدہ لفظ اگر ہم نے اس لئے لکھا ہے کہ واقعتا حضرت تھانویؒ نے مرزا غلام احمد کی کتابوں سے کوئی بات بھی نہیں لی اور محض الفاظ اور عبارات کے ملنے سے یہ نتیجہ نکالنا کہ حضرت تھانویؒ نے یہ مضامین واقعی غلام احمد کی کتابوں ہی سے لئے ہیں، علمی اور منطقی پہلو سے کسی طرح صحیح نہیں، آئندہ ہم اس پر تفصیل سے بات کریں گے۔ یہاں صرف یہ بتانا مقصود ہے کہ حضرت مولانا تھانویؒ کی اس کتاب کا موضوع سرے سے روحانی معارف نہیں، یہ سب مباحث عقلیہ ہیں جو اس کتاب میں پائے جاتے ہیں، اور ان میں غیرمسلم کی بات لے لینی کسی پہلو سے بھی محل کلام نہیں، مولانا تھانویؒ کی اس کتاب میں احکام اسلام کی ہزاروں عقلی مصلحتیں مذکور ہیں، ان میں سے جو باتیں مرزا غلام احمد کے ساتھ مشترک ہیں، وہ مولانا تھانویؒ کی بیان کردہ کل مصالح عقلیہ کا سو واں حصہ بھی نہیں، جس کا دل چاہے گن کر دیکھ لے اور موازنہ کرلے، اور پھر اس پر قادیانیوں کے اس دعوے کو بھی منطبق کرے کہ یہ سب روحانی معارف مرزا غلام احمد ہی

167

سے ماخوذ ہیں، ہم بطورِ اصول تسلیم کرتے ہیں کہ مصالح عقلیہ کے اخذ کرنے میں ماخوذ منہ کا مسلمان ہونا شرط نہیں ہے، حکمت کی بات مؤمن کی اپنی متاع گمشدہ ہے، جہاں اسے ملے وہ اسی کی ہے۔

ایمن زئی صاحب کی عقیدت حضرت تھانویؒ سے صرف لفظی ہے:

جناب عبداللہ ایمن زئی گو اپنے آپ کو قادیانی نہیں کہہ رہے ہیں، لیکن ان کی سطر سطر راز دروں پر پردہ کا پتہ دے رہی ہے، حضرت تھانویؒ کی عقیدت میں بھی وہ رطب اللسان ہیں، لیکن ان کی ایک بات پر بھی وہ پورا یقین کرنے کے لئے تیار نہیں، مولانا تھانویؒ کی وہ کون سی بات ہے جسے ایمن زئی صاحب تسلیم نہیں کر رہے، وہ حضرت تھانویؒ کا یہ بیان ہے کہ انہوں نے یہ مضامین ایک کتاب سے لئے ہیں:

’’احقر نے غایت بے تعصبی سے اس میں بہت سے مضامین کتاب مذکور بالا سے بھی جو کہ موصوف بصحت تھے لے لئے ہیں۔‘‘

(احکام اسلام عقل کی نظر میں ص:۱۵ طبع دارالاشاعت کراچی)

ایمن زئی صاحب نے ’’کمالاتِ اشرفیہ‘‘ کے صفحہ: ۷، ۱۶، ۲۰، ۲۷، ۳۳ پر جو لکھا ہے، اس کا حاصل یہ ہے کہ حضرت تھانویؒ نے مرزا صاحب کی پانچ کتابوں سے اقتباسات لئے ہیں، مولانا تھانویؒ فرماتے ہیں کہ انہوں نے ایک کتاب سے (اور وہ بھی مرزا غلام احمد کی نہیں) یہ مضامین لئے ہیں، اب آپ ہی بتائیں کہ جو شخص حضرت تھانویؒ کی بات کا اعتبار نہیں کرتا، وہ کہاں تک ان کا معتقد ہوسکتا ہے؟ سو ایمن زئی صاحب کی حضرت تھانویؒ سے عقیدت محض ایک لفظی کھیل ہے، جس کی کوئی حقیقت نہیں۔

حضرت تھانویؒ کے حوالے میں مصنف کا نام کیوں نہیں؟

حضرت تھانویؒ نے اپنی کتاب کے مقدمہ میں یہ حوالہ تو دیا کہ انہوں نے اس کے بعض مضامین ایک کتاب سے نقل کئے ہیں، جس میں رطب و یابس ہر طرح کے مضامین تھے، جو مضامین ان کے ہاں رو بہ صحت تھے، انہوں نے ان میں سے مضامین لے لئے،

168

لیکن یہ سوال باقی رہا کہ اس کتاب کا مصنف کون ہے؟ اور یہ کہ حضرت تھانویؒ نے اس کا نام کیوں نہیں لیا؟

اس کا جواب معلوم کرنے سے پہلے آپ اس مصنف کے بارے میں حضرت تھانویؒ کی رائے معلوم کرلیں اور پھر خود سوچیں کہ آپؒ کے لئے اس کا نام لینا مناسب تھا یا نہیں؟ اور آپؒ نے اس کا نام نہ لے کر مسلمانوں کے ساتھ اور خود اس مصنف کے ساتھ خیرخواہی کی ہے یا بدخواہی؟

حضرت مولانا اشرف علی تھانویؒ حکیم الامت تھے، ان کے ہر عمل میں دینی حکمت جھلکتی ہے، وہ ایک کم علم اور کمزور فکر آدمی کا تعارف کراکر اس کے غلط افکار کی اشاعت میں حصہ دار بھی بننا نہیں چاہتے اور جو باتیں اس کے قلم سے صحیح نکلیں، انہیں بفحوائے حدیث ضائع جانے دینا بھی نہیں چاہتے کہ حکمت کی بات مؤمن کی گمشدہ چیز ہے، جہاں سے بھی ملے وہ اسے لے لے۔ اس نازک مرحلہ پر حضرت حکیم الامتؒ ایک بیچ کی راہ پر چلے، کتاب کا ذکر کردیا کہ انہوں نے کچھ باتیں ایک کتاب سے لی ہیں، جس کا مصنف علم و عمل کی کمی کے باعث اس کتاب میں رطب و یابس لے آیا ہے، اور اس کتاب کا نام نہ لیا کہ لوگ اس کے غلط مندرجات سے گمراہ نہ ہوں اور نہ مصنف کا نام لیا تاکہ اس کی مزید رسوائی نہ ہو، حکیم الامتؒ اس نازک موڑ پر ایک ایسی راہ چلے ہیں، جو ان کے پیرؤوں کے لئے واقعی ایک نمونہ ہے۔ کوئی غیرمحتاط عالم ہوتا وہ کبھی نہ اس سلامتی سے اس منجدھار سے باہر نکلتا، حضرت تھانویؒ نے اس کتاب اور اس کے مصنف کے بارے میں جو رائے تحریر فرمائی ہے، اسے ہم یہاں نقل کردیتے ہیں، اس کی روشنی میں اس کتاب اور اس کے مصنف کا ذکر نہ کرنے میں جو دینی حکمت تھی وہ خود آپ کے سامنے آجائے گی، آپؒ لکھتے ہیں:

’’چنانچہ اس وقت بھی ایک ایسی ہی کتاب جس کو کسی صاحب قلم نے لکھا ہے، مگر علم و عمل کی کمی کے سبب تمام تر رطب ویابس و غث و سمین سے پُر ہے، ایک دوست کی بھیجی ہوئی میرے پاس دیکھنے کی غرض سے آئی ہوئی رکھی ہے، اس کو دیکھ کر یہ خیال پیدا

169

ہوا کہ ایسی کتابوں کا دیکھنا تو عامہ کو مضر ہے، مگر عام مذاق کے بدل جانے کے سبب بدوں اس کے کہ اس کا دوسرا بدل لوگوں کو بتلایا جاوے، اس کے مطالعہ سے روکنا بھی خارج عن القدرۃ ہے، اس لئے اس کی ضرورت محسوس ہوئی کہ ایک ایسا مستقل ذخیرہ ان مضامین کا ہو جو ان مفاسد سے مبرا ہو، ایسے لوگوں کے لئے مہیا کیا جاوے تاکہ اگر کسی کو ایسا شوق ہو تو وہ اس کو دیکھ لیا کریں کہ اگر مورث منافع نہ ہوگا تو دافع مضار تو ہوگا (البتہ جس طبیعت میں مصالح کے علم سے احکام الٰہیہ کی عظمت و رفعت کم ہوجاوے یا وہ ان کو مدارِ احکام سمجھنے لگے کہ ان کے انتفاع سے احکام کو منتفی اعتقاد کرے، یا ان کو مقصود بالذات سمجھ کر دوسرے طریق سے ان کی تحصیل کو بجائے اقامت احکام کے قرار دے لے، جیسا کہ اوپر بھی ان مضار کی طرف اجمالاً اس قول میں اشارہ بھی کیا گیا ہے: ’’چنانچہ بعض اوقات یہ مذاق مضر بھی ہوتا ہے۔‘‘ تو ایسے طبائع والوں کو ہرگز اس کی اجازت نہیں ہے)، بہرحال وہ ذخیرہ یہی ہے جو آپ کے ہاتھوں میں موجود ہے۔ احقر نے غایت بے تعصبی سے اس میں بہت سے مضامین کتاب مذکور بالا سے بھی جو کہ موصوف بہ صحت تھے، لے لئے ہیں، اور اس میں احکامِ مشہورہ کی کچھ کچھ وہی مصلحتیں مذکور ہوں گی جو اصولِ شرعیہ سے بعید نہ ہوں، اور افہام عامہ کے قریب ہوں، مگر یہ مصلحتیں نہ سب منصوص ہیں، نہ سب مدارِ احکام ہیں اور نہ ان میں انحصار ہے۔‘‘

(المصالح العقلیہ ص:۱۴، ۱۵ طبع دارالاشاعت کراچی)

یہ عبارت خود بول رہی ہے کہ حضرت تھانویؒ نے اس کتاب یا اس کے مصنف کا نام کیوں نہیں لیا، افسوس کہ قادیانی مضمون نگار اس بات کو نہ پاسکے، انہوں نے مصنف کا نام نہ لکھنے کی یہ وجہ تصنیف کی:

170

’’اگر حضرت مولانا تھانویؒ اپنی کتاب میں مرزا صاحب کا نام یا ان کی کسی کتاب کا نام درج کر دیتے تو متعصب اور تنگ نظر لوگ ان کی جان کے دشمن ہوجاتے، اور ان کی کتاب کو نذرِ آتش کردیتے، یقین ہے کہ انہیں اپنے وطن (تھانہ بھون) کو بھی خیرباد کہنا پڑتا، اس لئے حضرت مولاناؒ نے فتنہ و فساد سے بچنے کے لئے یہ طریقہ اختیار کیا کہ مرزا صاحب کا حوالہ دئیے بغیر ان کے بیان کردہ معارف اپنی کتاب میں درج کردئیے۔‘‘

(کمالاتِ اشرفیہ ص:۴۶)

جواباً گزارش ہے کہ مصنف کا نام نہ لکھنے کی اگر یہی وجہ ہوتی اور حقیقت میں فیض حاصل کرنا پیش نظر ہوتا تو حضرت تھانویؒ چلتے چلتے مصنف پر یہ تبصرہ ہرگز نہ کرتے جاتے کہ موصوف علم و عمل کی کمی کے باعث رطب و یابس میں فرق کرنے کے لائق نہیں، مولانا کے الفاظ صاف بتا رہے ہیں کہ حضرتؒ کے دل میں اس کی کوئی عظمت نہ تھی، نہ حضرتؒ نے اس سے کوئی اکتسابِ فیض کیا تھا، انہوں نے اس کا نام محض اس لئے نہ لیا کہ اسے مزید بے آبرو نہ کیا جائے، نہ اس کتاب کی غلط اشاعت سے اپنے اوپر کوئی گناہ کا بار لیا جائے۔

کم علم اور بے عمل آدمی کے کلام میں اسرارِ حکمت کہاں؟

رہا یہ سوال کہ ایک کم علم اور بے عمل آدمی کے کلام میں یہ اسرارِ حکمت کہاں سے آگئے؟ جواباً گزارش ہے کہ یہاں علم سے مراد علم قرآن و سنت ہے، مصنف مذکور کو کم علم اسی پہلو سے کہا گیا ہے، رہے عقلی مباحث اور خیالی باتیں تو ان میں بعض دفعہ ان پڑھ لوگ بھی بڑی دور کی بات کہہ جاتے ہیں، حضرت تھانویؒ کی اس کتاب کا موضوع کوئی علمی معارف نہ تھے، محض عقلی باتیں تھیں جو ضعفاءِ ایمان کو کسی درجہ میں تسلّی دے سکیں، ایسی بعض باتیں اگر کسی کم علم اور کم عمل شخص پر بھی کھل جائیں تو کوئی تعجب کی بات نہیں۔ یہ بھی ہوسکتا ہے کہ اگر کوئی کم علم آدمی علماء سلف کی تحریروں میں غور و فکر کرتے کرتے اور ان سے اس قسم کا سرمایہ دانش اکٹھا کرتے کرتے بات سے بات نکالنے میں اس درجہ کامیاب ہوجائے کہ اس کے

171

بعض مضامین جو رو بہ صحت ہوں اور اُصولِ شرعیہ سے نہ ٹکراتے ہوں، وہ بعض راسخ فی العلم اہل یقین کو پسند آجائیں اور وہ انہیں اپنے الفاظ میں بدلنے کی محنت کئے بغیر اس کے اپنے لفظوں میں ہی انہیں نقل کردیں اور سرقہ کے الزام سے بچنے کے لئے محض اتنا کہہ دیں کہ انہوں نے بعض مضامین کسی اور کتاب سے لئے ہیں۔

حضرت تھانویؒ نے جس کتاب سے مضامین مذکورہ لئے اس کا مصنف اسی قبیل کا شخص معلوم ہوتا ہے اور یہ بات اپنی جگہ صحیح ہے کہ حضرت تھانویؒ نے یہ مضامین ہرگز ہرگز مرزا غلام احمد کی کتابوں سے نہیں لئے، ان کا ماخذ صرف ایک کتاب ہے، نہ کہ مرزا صاحب کی پانچ کتابیں، کشتیٔ نوح، آریہ دھرم، اسلامی اصول کی فلاسفی، نسیم دعوت اور برکات الدعا۔

عبارات ملنے سے کیا ضروری ہے کہ وہ انہی کتابوں سے لی گئی ہوں؟

حضرت تھانویؒ جیسے جلیل القدر عالم کی کتاب میں مرزا غلام احمد کی کتابوں کی بعض طویل عبارات کا من و عن پایا جانا، ہمیں اس باب میں زیادہ غور و فکر اور تحقیق و تفحص پر مجبور کرتا ہے، عبارات ملنے سے کیا یہ ضروری ہے کہ وہ مرزا صاحب کی ہی کتابوں سے لی گئی ہوں؟ کیا اس میں اور کسی احتمال کی گنجائش نہیں؟

کیا انسانی عقل و تجربہ یہاں کسی اور احتمال کو جگہ نہیں دیتا؟ کیا یہ نہیں ہوسکتا کہ کسی اور مصنف نے مرزا صاحب کی پانچ کتابوں سے یہ اقتباسات بلاحوالہ اپنی کتاب میں لئے ہوں یا مرزا صاحب نے انہیں اس سے لے کر اپنی پانچ کتابوں میں جگہ دی ہو، اور حضرت تھانویؒ نے انہیں اس مصنف کی اصل کتاب سے لیا ہو؟ ان سب احتمالات کے ہوتے ہوئے ایک ہی رٹ لگائے جانا کہ حضرت تھانویؒ نے یہ مضامین مرزا صاحب کی کتابوں سے ہی لئے ہیں اور انہیں عقل گم کردینے والے انکشاف کے نام سے عوام کے سامنے لانا، قادیانی علم کلام کی ہی انتہا ہے۔

قادیانی حضرات کہتے ہیں کہ یہ سب احتمالات عقلی ہیں اور ایسے موضوعات میں محض امکان کوئی وزن نہیں رکھتا، صرف اسی احتمال کو اہمیت دی جاسکتی ہے جو ناشی عن

172

الدلیل ہو، ہم جواباً کہیں گے کہ حضرت تھانویؒ نے جب واشگاف لفظوں میں کہہ دیا تھا کہ انہوں نے یہ اقتباسات ایک کتاب سے لئے ہیں (نہ کہ پانچ کتابوں سے) تو کیا یہ دلیل اس احتمال کو جگہ نہیں دیتی کہ حضرت تھانویؒ کے سامنے واقعی کوئی اور کتاب ہو، اس ناشی عن الدلیل احتمال کو کلیتاً نظر انداز کرنا اور اس پر اعتراض کرنا کہ حضرت تھانویؒ نے یہ مضامین لازماً مرزا صاحب کی کتابوں سے ہی لئے، محض ضد نہیں تو اور کیا ہے؟

دوست محمد شاہد، محمد بشیر ہرل اور عبداللہ ایمن زئی میں کچھ بھی تحقیق کا پاس ہوتا تووہ اس کتاب کی ضرور تلاش کرتے جس میں مرزا صاحب کی پانچ کتابوں کے اقتباسات ایک ہی جگہ مل جائیں، مگر افسوس کہ انہیں اس کی توفیق نہ ہوئی، حضرت تھانویؒ کی اس بات کو صحیح مانا جائے کہ انہوں نے یہ مضامین واقعی ایک کتاب سے لئے ہیں، تو پھر ان دو احتمالات میں سے ایک کو جگہ دینی ہوگی اور تسلیم کرنا پڑے گا کہ حضرت تھانویؒ نے یہ عبارات یقینا مرزا صاحب کی کتابوں سے نہیں لیں، ہم نے دوست محمد شاہد کے اس انکشاف کا مطالعہ کیا اور پھر ایمن زئی صاحب کی بھی زلزلہ فگن کتاب دیکھی تو اس یقین سے چارہ نہ رہا کہ حضرت تھانویؒ نے قطعاً یہ مضامین مرزا صاحب کی کتابوں سے نہیں لئے، اس پر ہم نے ہفت روزہ ’’خدام الدین‘‘ لاہور کی ۱۶؍ستمبر ۱۹۸۳ کی اشاعت میں اس عنوان کے تحت لکھا:

’’صورت حال کا صحیح جائزہ‘‘

’’قادیانیوں نے اس بحث میں اب تک جتنے مضامین لکھے ہیں، ان میں سے کسی میں حضرت مولانا تھانویؒ کی دیانت اور نیت پر کوئی الزام نہیں لگایا گیا، معلوم ہوتا ہے کہ ان کی صدقِ مقالی پر انہیں بھی عمومی اتفاق ہے۔

مولانا تھانویؒ ’’المصالح العقلیہ‘‘ کے مقدمہ میں تصریح کرتے ہیں کہ انہوں نے کئی مضامین ایک ایسی کتاب سے نقل کئے ہیں، جس میں بیشتر باتیں غلط تھیں، مولانا تھانویؒ نے اس ایک کتاب کے سوا اور کسی کتاب کا حوالہ نہیں دیا، معلوم ہوتا ہے کہ ان

173

کے پاس ایسی کتاب ایک ہی تھی۔

مگر دوسری طرف یہ بات بھی ہے کہ حضرت تھانویؒ کی اس کتاب ’’المصالح العقلیہ‘‘ میں مرزا صاحب کی پانچ کتابوں کی عبارات ملتی ہیں، سوال یہ ہے کہ حضرت تھانویؒ اپنے مقدمہ میں اگر ایک کتاب کا ذکر کرسکتے تھے تو پانچ کتابوں کا ذکر کرنے میں انہیں انکار کی کیا وجہ ہوسکتی تھی؟ کوئی نہیں! سو ہم یقین کرنے پر مجبور ہیں کہ آپؒ کے سامنے واقعی ایسی کتاب ایک تھی، جیسا کہ آپؒ نے بیان کیا نہ کہ پانچ، تاہم یہ حقیقت ہے کہ المصالح العقلیہ‘‘ میں مرزا صاحب کی پانچ کتابوں کی عبارات موجود ہیں۔‘‘

قادیانی مضمون نگار اپنے کسی مضمون میں اس تعارض کو حل نہیں کر پائے، نہ انہوں نے کوئی اور خارجی حوالہ پیش کیا کہ حضرت مولانا تھانویؒ نے یہ مضامین واقعی مرزا صاحب کی پانچ کتابوں سے ہی اخذ کئے ہیں۔

رفع تعارض:

رفع تعارض کے لئے تمام عقلی احتمالات سامنے لائے جاتے ہیں، یہاں رفع تعارض اس صورت میں ہوتا ہے کہ کسی اور کتاب کو مرزا صاحب اور حضرت مولانا تھانویؒ میں واسطہ بنایا جائے اور سمجھایا جائے کہ اس کتاب میں مرزا صاحب کی پانچ کتابوں کے مضامین بلاحوالہ منقول ہوں گے، اور مولانا تھانویؒ نے اس کتاب سے وہ مضامین اپنی کتاب میں لئے ہوں گے، رفع تعارض کے لئے سب احتمالات کو دیکھنا ہوتا ہے، راقم الحروف نے اس رفع تعارض کے لئے ’’عین ممکن ہے‘‘ اور ’’یہ بھی ممکن ہے‘‘ کے پہلوؤں پر اگر توجہ دلائی ہے تو کوئی گناہ نہیں کیا، معلوم ہوتا ہے کہ جناب محمد بشیر ہرل علمی مضامین اور تاریخی تحقیقات کے کوچہ میں کبھی بھول کر بھی نہیں گزرے، ورنہ وہ کبھی اسے عذرِ گناہ بدتر از گناہ کا عنوان نہ دیتے۔

174

قادیانی حضرات اس پر بہت سیخ پا ہوئے لیکن علمی طور پر وہ ان دو احتمالات کی راہ بند نہ کرسکے، ہمارے پیش کردہ احتمال ناشی عن الدلیل تھے اور قادیانیوں کو انہیں قرار واقعی جگہ دینی چاہئے تھی، مگر وہ تو اسی نشہ میں ڈوبے ہوئے تھے کہ انہوں نے واقعی عقل کو گم کردینے والے انکشافات کئے ہیں، ہم عرض کریں گے کہ ان سے عقل تمہاری گم ہوئی ہے، جنہوں نے اور طرف سوچنا ہی چھوڑ دیا، ہماری نہیں جنہوں نے صورتِ حال کا صحیح جائزہ لیا۔

قادیانیوں کو نصف صدی بعد یہ انکشاف کیوں ہوا؟

حضرت مولانا تھانویؒ کو دنیا سے رخصت ہوئے تقریباً نصف صدی ہو رہی ہے، سوال پیدا ہوتا ہے کہ قادیانیوں نے اب اس مسئلہ کو کیوں اٹھایا؟ اور نصف صدی کے قریب اس پر کیوں خاموش رہے؟ اگر یہ بات اس وقت اٹھائی جاتی جب حضرت تھانویؒ کے وہ احباب اور خلفاء موجود تھے جو اپنے وقت کے اساطین علم بھی تھے اور حضرت تھانویؒ سے بھی بہت قریبی تعلق رکھتے تھے، تو فوراً بتادیتے کہ حضرت تھانویؒ نے کس ایک کتاب سے یہ اقتباسات لئے، لیکن قادیانیوں نے یہ بات اس وقت اٹھائی جب حضرت مولانا عاشق الٰہی میرٹھیؒ، محدث العصر حضرت مولانا ظفر احمد عثمانیؒ، حضرت مولانا مفتی محمد شفیع صاحب دیوبندیؒ، شیخ الحدیث حضرت مولانا محمد زکریا صاحب سہارنپوریؒ اور حکیم الاسلام حضرت مولانا قاری محمد طیب صاحبؒ ایک ایک کرکے جاچکے تھے، جونہی حضرت مولانا قاری محمد طیب صاحبؒ کی وفات ہوئی، قادیانی یہ انکشاف لے کر سامنے آگئے کہ شاید اب اس دور کا کوئی شخص نہ ملے جو حضرت تھانویؒ کی اس تالیف کا پس منظر سامنے لاسکے۔

قادیانیوں کی اتنی طویل خاموشی خود اس بات کا پتہ دیتی ہے کہ انہیں اچھی طرح معلوم تھا کہ حضرت تھانویؒ نے یہ عبارات مرزا صاحب کی کتابوں سے نہیں لیں، لیکن محض اس امید پر کہ اب شاید اس دور کا کوئی آدمی نہ رہا ہو جو صورتِ واقعہ کی عینی شہادت دے سکے، وہ اچانک یہ انکشاف سامنے لے آئے۔

175

اہل اسلام کی طرف سے جوابی کاروائی:

ہم نے دوست محمد شاہد کے اس انکشاف کو پڑھتے ہی مذکورہ بالا احتمالات جو ناشی عن الدلیل تھے، پیش کردئیے تھے، تاکہ فریقین اس ایک کتاب کی تلاش کریں جہاں سے مرزا صاحب اور مولانا تھانویؒ دونوں نے یہ اقتباسات لیے ہیں، لیکن بجائے اس کے کہ ہماری اس درخواست پر کچھ عمل کیا جاتا، عبداللہ ایمن زئی نے ’’کمالاتِ اشرفیہ‘‘ کے نام سے ایک رسالہ اس پر لکھ مارا، اور وہی لکیر پیٹتے رہے کہ کچھ بھی ہو، حضرت تھانویؒ نے یہ مضامین مرزا صاحب کی کتابوں سے ہی لئے ہیں۔

دوست محمد شاہد تو اس مذکورہ انکشاف کے بعد سامنے نہیں آئے، ممکن ہے انہیں وہ کتاب مل گئی ہو، جہاں سے حضرت تھانویؒ نے یہ اقتباسات لئے تھے، لیکن ان کی جماعت کے محمد بشیر ہرل اور عبدالرحیم بُھٹّہ بورے والا، اس پر برابر مصر رہے کہ حضرت تھانویؒ نے یہ ’’کسبِ فیض‘‘ مرزا صاحب کی کتابوں سے ہی کیا ہے، دوست محمد شاہد کو بھی چاہئے تھا کہ اگر انہیں وہ کتاب مل گئی تھی تو اپنے ان ساتھیوں کو بھی اس کا پتہ دے دیتے۔

یہ صحیح ہے کہ ہم نے ان قادیانی مضمون نگاروں کا پورا تعاقب کیا اور ان کے مبلغ ومؤرخ سب اپنا سا منہ لے کر رہ گئے، اور ہم نے انہیں یہ اصولی بات سمجھائی کہ حضرت تھانویؒ نے اپنی اس کتاب کے مقدمہ میں جس کتاب کا حوالہ دیا ہے، وہ ایک کتاب ہے، اور حضرتؒ نے یہ باتیں سب اسی کتاب سے لی ہیں، نہ کہ مرزا صاحب کی پانچ کتابوں سے، اور انہیں (قادیانیوں کو) حضرت تھانویؒ کی اس بات کو سچ ماننا چاہئے اور حضرتؒ کا دیا ہوا حوالہ ذکر کرنے کے بغیر اپنے اس انکشاف کو آگے نہ پھیلانا چاہئے، کیونکہ یہ ایک انکشاف نہ ہوگا، ایک خیانت ہوگی۔

حضرت تھانویؒ کے اصل مأخذ کی نشاندہی:

یہ کتاب مرزا غلام احمد قادیانی کے ایک ہم عصر مولوی محمد فضل خان کی کتاب ہے، جو موضع جنگابنگیاں، تحصیل گوجر خان، ضلع راولپنڈی کے رہنے والے تھے، انگریز حکومت

176

کے خاصے مداح تھے، ایک مجلس کی طلاق ثلاثہ کے بارے میں انہوں نے جو لکھا ہے اس سے پتہ چلتا ہے کہ غیرمقلد تھے، مرزا غلام احمد کی پانچوں کتابوں کے اقتباسات اس کتاب میں مختلف مواقع پر من و عن موجود ہیں، اس مؤلف نے مرزا صاحب کی کتابوں سے یہ مضامین لئے ہیں، یا مرزا صاحب نے اس کے مسودات سے یہ مضامین نقل کئے ہیں، یا دونوں نے اپنے سے پہلے کی کسی کتاب سے لئے ہیں؟ سردست ہم اس پر بحث نہیں کرتے، اس وقت صرف حضرت تھانویؒ کی برأت پیش نظر ہے کہ حضرتؒ نے یہ مضامین مرزا غلام احمد کی کتابوں سے ہرگز نہیں لئے، اس ایک کتاب سے لئے ہیں، اور اس کتاب کا نام ’’اسرارِ شریعت‘‘ ہے۔

’’اسرارِ شریعت‘‘ کا تعارف:

اسرارِ شریعت تین ضخیم جلدوں میں ایک اردو تالیف ہے، مؤلف نے شریعت کے جملہ مسائل و احکام کو عقلی اور فطری استناد مہیا کرنے کی ایک بھرپور کوشش کی ہے، ناپختہ علم کے باعث جا بجا ٹھوکریں بھی کھائی ہیں اور بے بنیاد باتیں بھی بہت کی ہیں، تاہم یہ اندازہ ہوتا ہے کہ مؤلف مذکور کو اس عظیم مہم کو سرانجام دینے میں تیرہ سو سال کے علمائے اسلام اور فلاسفہ حکمت کی کتابوں کا مطالعہ کرنا پڑا ہوگا، یہ کاوش ان کی پوری زندگی کا نچوڑ معلوم ہوتی ہے، اس کتاب میں ضمنی طور پر بعض مسائل شریعت کو عقل کے ڈھانچے میں نہیں ڈھالا گیا، بلکہ جملہ مسائل شریعت کو باب وار عقلی اور فطری استناد مہیا کیا گیا ہے، سو اس باب میں یہ کتاب اصل الاصول کی حیثیت رکھتی ہے، بڑی جامع اور ضخیم کتاب ہے، مرزا صاحب نے اپنی پانچ کتابوں میں جہاں یہ بحثیں کی ہیں، ان کتابوں کا موضوع مسائل شریعت کا فطری جائزہ نہیں، سوائے ایک کتاب کے (اسلامی اصول کی فلاسفی)، باقی سب کتابوں کے موضوع دوسرے ہیں، مرزا صاحب نے ان میں ضمناً یہ عقلی مباحث ذکر کئے ہیں، کتابوں کے نام خود ان مختلف موضوعات کا پتہ دے رہے ہیں، کشتیٔ نوح، آریہ دھرم، برکات الدعا، نسیم دعوت وغیرہ، سو اس میں شک نہیں کہ کتاب ’’اسرارِ شریعت‘‘ اس موضوع کی ایک

177

اصولی کتاب ہے، اور مرزا صاحب کی کتابیں ضمناً کہیں کہیں ان عقلی مباحث کو لے آئی ہیں۔ ’’اسرارِ شریعت‘‘ تین جلدوں کی ایک ضخیم کتاب ہے، جسے دیکھ کر اندازہ ہوتا ہے کہ مؤلف کے کم از کم پندرہ بیس سال اس کتاب کی تالیف پر لگے ہوں گے، مؤلف نے اس کے سرِورق پر لکھا ہے:

’’یہ کتاب صرف میری طبع زاد یا خیالات کا نتیجہ نہیں، بلکہ اسلام میں تیرہ سو سال سے اس زمانہ تک جو بڑے بڑے مشہور ومعروف رُوحانی فلاسفر اور ربانی علمائے کرام اسلام گزرے ہیں، اکثر مسائل کے اسرار و فلاسفیاں ان کی تقاریر مقدسہ سے بھی اخذ کی گئی ہیں، الغرض اسلامی تائید کے لئے اردو زبان میں جامع وبے نظیر اس فن میں یہی ایک کتاب شائع ہوئی ہے، اور اسلامی علوم کے اسرار بیان کرنے میں بحر محیط ہے۔‘‘

اہل علم اور اہل قلم پر مخفی نہیں کہ تیرہ سو سال کے بڑے بڑے علماء کی کتابوں کو کھنگالنا، ان کے خلاصے نکالنے اور ان پر غور و فکر کرنا اور پھر انہیں اپنے الفاظ میں باب دار لانا اور تین ضخیم جلدوں پر ایک بحر محیط پیش کرنا، کوئی ایسا کام نہیں جو چار پانچ سال کی پیداوار ہو، یہ عظیم کام پندرہ بیس سال سے کم کسی طرح اس نہج پر ترتیب نہیں پاسکتا، بلکہ مؤلف کی پوری زندگی کا حاصل ہے، اس کتاب کے اس مختصر تعارف کے بعد اب ہم بھی چند انکشافات ہدیۂ قارئین پیش کرتے ہیں:

انکشاف:۱:

مرزا غلام احمد کی وفات ۱۳۲۶ھ میں ۶۸ سال کی عمر میں ہوئی، اسرارِ شریعت ۱۳۲۷ھ میں شائع ہوئی، ظاہر ہے کہ مرزا غلام احمد کی زندگی میں ہی کتاب نے ترتیب پائی اور جونہی یہ کتاب شائع ہوئی، قادیانی سربراہ حکیم نورالدین نے بیس کتابوں کا آرڈر دے دیا اور اسے عام تقسیم کردیا، قادیانیوں کی اس قسم کی کاروائی پتہ دیتی ہے کہ قادیانی علمی حلقے

178

اس کتاب کی اشاعت سے پہلے اس کتاب سے واقف تھے، اور انہیں اس کی اشاعت کا شدید انتظار تھا، ورنہ کسی کتاب کا اشتہار دیکھ کر انسان پہلے وہ کتاب منگاتا ہے، اسے صحیح پائے تو مزید نسخوں کا آرڈر دیتا ہے، اسرارِ شریعت جلد دوم کے آخری صفحہ پر مؤلف مولوی محمد فضل خاں صاحب لکھتے ہیں:

’’علامہ حکیم نورالدین صاحب امام فرقہ احمدیہ نے کتاب اسرارِ شریعت کا اشتہار دیکھتے ہی محض ازراہِ امداد اسلامی بیس نسخے خریدنے کا خط خاکسار کو لکھا اور بعد طبع سالم قیمت پر بیس نسخے خریدلئے ......‘‘

یہ خط کب لکھا گیا؟ کتاب کی طباعت سے پہلے، کتاب چھپنے پر، سالم قیمت پر بیس کتابیں خرید لی گئیں، کتاب کب شائع ہوئی؟ ۱۳۲۷ھ میں! ظاہر ہے کہ یہ خط کتاب کے اشتہار پر ایک دو سال پہلے لکھا گیا ہوگا، ان دنوں کتابوں کے اشتہار ان کی اشاعت سے کافی پہلے نکلتے تھے، خود مرزا غلام احمد کی کتاب ’’براہین احمدیہ‘‘ کا اشتہار اس کے چھپنے سے کتنا پہلے نکلا تھا؟ سو اس میں شک نہیں کیا جاسکتا کہ حکیم نورالدین صاحب کا یہ خط خود مرزا صاحب کی زندگی میں لکھا گیا تھا، اور متبادر یہی ہوتا ہے کہ مرزا صاحب کے ایما سے ہی لکھا گیا ہوگا، ہاں جس وقت مؤلف نے مذکورہ بالا نوٹ لکھا، اس وقت حکیم نورالدین صاحب بے شک جماعت کے امام بن چکے تھے، اگر یہ خط واقعی مرزا صاحب کے ایما سے لکھا گیا تھا تو ظاہر ہے کہ مرزا صاحب اس کتاب کی اشاعت سے پہلے اس سے اچھی طرح باخبر تھے، اور یہ اسی صورت میں ہوسکتا ہے کہ مسودہ یا مؤلف کی بعض تحریرات خطوط کی شکل میں ان کی نظر سے گزری ہوں اور مؤلف نے ان کی علمی امداد کے لئے انہیں بھیجی ہوں۔

انکشاف: ۲:

حکیم نورالدین صاحب سے زیادہ کون مرزا صاحب کے قریب ہوگا، اور ان سے زیادہ کس کی مرزا صاحب کی کتابوں پر نظر ہوگی؟ انہوں نے کتاب اسرارِ شریعت اتنے

179

شوق سے منگائی بھی اور پڑھی بھی، اور اس میں بعض لمبے لمبے مضامین کو مرزا صاحب کی کتابوں سے لفظ بہ لفظ ملتے بھی پایا، اور یہ بھی ملاحظہ کیا کہ مصنف نے ان عبارات کے آگے مرزا صاحب کی کسی کتاب کا حوالہ نہیں دیا، اس پر حکیم نورالدین صاحب اور ان کے حلقے کے لوگ برابر خاموش رہے اور کسی نے یہ بات نہ اٹھائی کہ اس کے بعض مندرجات مرزا صاحب کی پانچ کتابوں کے مندرجات سے ہوبہو ملتے ہیں۔ حکیم نورالدین صاحب یا ان کے کسی ساتھی نے یہ آواز کیوں نہ اٹھائی؟ اور عقل کو گم کردینے والا انکشاف آج نصف صدی بعد مولانا تھانویؒ کے خلاف ہورہا ہے، اور اسی وقت مولوی محمد فضل خاں آف گوجرخاں کے خلاف کیوں نہ ہوسکا؟

اس کا ایک ہی جواب ہے جو قرین قیاس ہے وہ یہ کہ اس وقت مولوی محمد فضل خاں زندہ تھے، جو اس بات پر واضح طور پر کہہ سکتے تھے کہ مرزا غلام احمد نے ان مضامین کا کسب فیض خود ان سے کیا ہے، اور یہ کہ مرزا صاحب کی عادت تھی کہ اپنی کتابوں کے دورانِ تصنیف وہ وقت کے دیگر اہل قلم سے علمی امداد لیتے رہتے تھے، اگر اس بات کے کھلنے کا ڈر نہ تھا تو بتلائیے کہ حکیم نورالدین صاحب اور ان کے احباب اس پر بالکل خاموش کیوں رہے؟ اور پوری جماعت پون صدی تک اس پر خاموش کیوں رہی؟ آئندہ ہم ان اقتباسات کو جو دوست محمد شاہد یا عبداللہ ایمن زئی نے مرزا غلام احمد اور حضرت تھانویؒ کی عبارات کے تقابلی مطالعہ میں پیش کئے ہیں، مولوی محمد فضل خاں اور مرزا غلام احمد کی تقابلی عبارات میں پیش کریں گے۔

انکشاف: ۳:

یہ گمان نہ کیا جائے کہ مولوی محمد فضل خاں نے ان مضامین پر مرزا غلام احمد کا حوالہ اس لئے نہ دیا ہوگا کہ عام لوگ ان کے مخالف نہ ہوجائیں، یہ وہ توجیہ ہے جو عبداللہ ایمن زئی نے حضرت تھانویؒ کے بارے میں اختیار کی ہے۔ ایمن زئی صاحب حضرت تھانویؒ کے بارے میں لکھتے ہیں:

180

’’انہوں نے مرزا صاحب کی کتابوں کے صفحات نقل کرتے ہوئے ان کی کتب کے حوالے کیوں درج نہیں کئے ...... اگر حضرت تھانویؒ اپنی کتاب میں مرزا صاحب کا نام، یا ان کی کسی کتاب کا نام درج کردیتے تو متعصب اور تنگ نظر لوگ ان کی جان کے دشمن ہوجاتے اور ان کی کتاب کو نذرِ آتش کردیتے۔‘‘

(کمالاتِ اشرفیہ ص:۴۵، ۴۶)

ممکن ہے قادیانی، مضمون نگار مولوی محمد فضل خاں کے بارے میں بھی یہی توجیہ اختیار کریں، ہم جواباً عرض کریں گے: یہاں ایسا کوئی احتمال سرے سے نہیں ہے، مولوی محمد فضل خاں نے اس کتاب ’’اسرارِ شریعت‘‘ میں بعض مضامین مرزا غلام احمد کے دوسرے ساتھیوں سے لئے ہیں، اور انہیں ان کا حوالے دے کر اپنی کتاب میں جگہ دی ہے، غلامی کی فلاسفی پر مولوی محمد علی لاہوری کا ایک پورا مضمون مصنف نے اپنی اس کتاب کی دوسری جلد کے صفحہ:۲۶۵ پر دیا ہے، جو صفحہ:۳۲۹ تک پھیلتا چلا گیا ہے، مضمون کے آخر میں لکھا ہے:

’’حقیقتِ غلامی کا مضمون رسالہ ’’ریویو آف ریلیجنز‘‘ مؤلفہ علامہ مولوی محمد علی سے لیا گیا ہے۔‘‘

(اسرارِ شریعت ج:۲ ص:۳۲۹)

مؤلف نے ایک مقام پر مرزا غلام احمد کا بھی نام لیا ہے، اور انہیں ایسے الفاظ سے ذکر کیا ہے جسے دیندار مسلمان کسی طرح بھی پسند نہیں کرتے، لیکن مؤلف نے کسی مخالفت کی پرواہ نہ کرتے ہوئے مرزا صاحب کا نام واضح طور پر لیا ہے، حکیم نورالدین صاحب کا حوالہ بھی ایک جگہ دیا ہے (اسرارِ شریعت ج:۲ ص:۳۸۰)، مرزا غلام احمد کے بارے میں موصوف لکھتے ہیں:

’’مرزا غلام احمد صاحب قادیانی مرحوم اور ان کے حلقہ کے لوگ حضرت عیسیٰ ؑ کو فوت شدہ مانتے اور ان کے نزول بروزی

181

وظہور مہدی و خروج دجال کے قائل ہیں۔‘‘

(اسرار شریعت ج:۳ ص:۳۷۶)

آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے معراج کے متعلق مؤلف مذکور جمہور مسلمانوں کے متفقہ عقیدے کے خلاف واشگاف لفظوں میں لکھتا ہے، اور اسے یہ فکر لاحق نہیں ہوتی کہ لوگ کیا کہیں گے؟ موصوف لکھتے ہیں:

’’درحقیقت یہ سر کشفی تھا جو بیداری سے اشد درجہ پر مشابہ ہے ...۔۔ یہ سرّ اس جسم کثیف کے ساتھ نہیں تھا۔‘‘

(ایضاً ص:۲۶۱)

ان تصریحات کے ہوتے ہوئے اس احتمال کو قطعاً کوئی راہ نہیں کہ مؤلف نے عامۃ الناس کے دباؤ کے تحت ان اقتباسات کو مرزا صاحب کے نام سے نہ لکھا ہوگا۔ حق یہ ہے کہ اس نے یہ مضامین مرزا صاحب کی کتابوں سے ہرگز نہیں لئے، نہ اسے دوسروں کی محنت کو اپنے نام سے پیش کرنے کا شوق تھا، اگر وہ مولوی محمد علی لاہوری کا مضمون اس کے نام سے پیش کرنے میں کوئی باک محسوس نہیں کرتا تو مرزا صاحب کی باتیں ان کے نام سے پیش کرنے میں اسے کیا خوف محسوس ہوسکتا تھا؟ سو یہ واضح ہے کہ اس نے یہ عبارات مرزا صاحب سے نہیں لیں۔

انکشاف: ۴:

ممکن ہے قادیانی کہیں کہ مرزا صاحب ملہم ربانی تھے اور مولوی محمد فضل خاں ایک عام مؤلف، اور دونوں ایک زمانے کے تھے، سو قرین قیاس یہ ہے کہ مولوی محمد فضل خاں نے مرزا صاحب سے مضامین لئے ہوں، نہ کہ مرزا صاحب نے مولوی محمد فضل خاں سے۔

جواباً گزارش ہے کہ مولوی محمد فضل خاں بھی اپنی جگہ مدعی الہام تھے اور اپنے آپ کو مرزا صاحب سے کم نہ سمجھتے تھے، ایک مقام پر لکھتے ہیں:

’’کئی ایام سے میں اسی مضمون بعث اُخروی کو مرتب کر رہا

182

ہوں، پرسوں دوپہر کے وقت لکھتے ہوئے مجھ پر نیند غالب آگئی، اور بین النوم و الیقظہ مجھ پر ایک حالت طاری ہوئی، جس کو میری روح اور جسم دونوں نے یکساں محسوس کیا، اور مجھے معلوم ہوا کہ حشر اجسام ضرور ہوگا، اور قبر و حشر میں عذاب و ثواب روح و جسم دونوں پر ہوگا ...۔۔ لیکن اس اجمال کی تفصیل منکشف نہیں ہوئی۔‘‘

(اسرار شریعت ج:۳ ص:۴۹۰)

مؤلف جب خود اس روحانی مقام کے مدعی ہیں کہ ایسی کیفیات ان پر اِجمالاً منکشف ہوں تو ظاہر ہے کہ انہیں مرزا صاحب کی کتابوں سے ان اقتباسات کو بلاحوالہ لینے کی قطعاً کوئی ضرورت نہ تھی، سو قرین قیاس یہی ہے کہ خود مرزا صاحب نے ہی ان سے قلمی استفادہ کیا ہوگا، ورنہ ان کی جماعت کے لوگ ’’اسرارِ شریعت‘‘ کے ان مندرجات پر ضرور سوال اٹھاتے۔

ایک سوال:

یہ بات کہ مرزا غلام احمد قادیانی نے مولوی محمد فضل خاں کے قلمی مسودات سے یا ان کے خطوط سے یہ مضامین لئے ہوں، تبھی لائق تسلیم ہوسکتی ہے کہ مرزا نے کبھی اپنی کتابوں کے دورانِ تالیف وقت کے دوسرے اہل علم سے مدد مانگی ہو، اور انہیں کہا ہو کہ وہ اپنی کتابوں میں ان کے مضامین کو بھی حسب موقع جگہ دیں گے، اور اس طرح اسلام کی ایک مشترکہ خدمت ہوگی۔

جواباً عرض ہے کہ ہاں مرزا غلام احمد کی واقعی عادت تھی کہ وہ وقت کے دیگر اہل علم سے علمی مدد مانگتے اور انہیں برملا کہتے کہ وہ اسے اپنی کتابوں میں حسب موقع جگہ دیں گے، سو کیا یہ ممکن نہیں کہ مرزا صاحب نے مولوی محمد فضل خاں صاحب سے بھی اسی قسم کی مدد مانگی ہو، اور یہ اقتباسات مولوی محمد فضل خاں کے ہوں، جنہیں مرزا صاحب نے اپنی پانچ کتابوں میں حسب موقع پھیلا دیا ہے۔

183

انکشاف: ۵:

مرزا غلام احمد قادیانی کی عام عادت تھی کہ وہ اپنی کتابوں کے دورانِ تالیف، وقت کے دوسرے اہل علم سے مدد مانگتے تھے، اس سلسلے میں ہم مرزا صاحب کے ہی چند خطوط پیش کرتے ہیں، جو انہوں نے مولوی چراغ علی صاحب (متوفی ۱۸۹۵ء) کو لکھے تھے، ڈاکٹر مولوی عبدالحق صاحب آنریری سیکرٹری انجمن ترقی اردو سلسلہ مطبوعات انجمن ترقی اردو پاکستان نمبر:۱۹۲ میں چند ہم عصر کے نام سے مولوی چراغ علی صاحب کے ذکر میں لکھتے ہیں:

’’جس وقت ہم مولوی صاحب مرحوم کے حالات کی جستجو میں تھے تو ہمیں مولوی صاحب کے کاغذات میں سے چند خطوط مرزا غلام احمد صاحب قادیانی مرحوم کے بھی ملے، جو انہوں نے مولوی صاحب کو لکھے تھے، اور اپنی مشہور اور پُرزور کتاب ’’براہین احمدیہ‘‘ کی تالیف میں مدد طلب کی تھی۔‘‘

(چند ہم عصر ص:۴۸، ناظم پریس کراچی طبع ۱۹۵۰ء)

مرزا غلام احمد قادیانی کے دوسروں سے کسبِ فیض کرنے کے بارے میں یہ ایک غیرجانبدار شہادت ہے، مولوی عبدالحق صاحب کا مرزا غلام احمد کے نام کے ساتھ ’’مرحوم‘‘ لکھنا، اس بات کا پتہ دیتا ہے کہ مولوی عبدالحق صاحب قادیانی اختلافات میں جمہور علمائے اسلام کے ساتھ نہ تھے، اور مرزا صاحب کی تکفیر نہ کرتے تھے، سو ان کی یہ شہادت ایک غیرجانبدار شہادت ہے جسے تسلیم کیا جانا چاہئے، ممکن ہے اسی طرح کے خطوط مرزا صاحب نے مولوی محمد فضل خاں کو بھی لکھے ہوں۔

اب ہم یہاں مرزا صاحب کے چار خط نقل کرتے ہیں، جو اس نے مولوی چراغ علی صاحب کو لکھے، معلوم نہیں اس قسم کے اور کتنے لاتعداد خطوط ہوں گے، جو مرزا صاحب نے وقت کے دیگر اہل علم کو لکھے ہوں گے؟

184

مرزا قادیانی کا خط بنام مولوی چراغ علی صاحب:

’’آپ کا افتخار نامہ محبت آمود ...... عز و رود لایا۔ اگرچہ پہلے سے مجھ کو بہ نیت الزام خصم اجتماع براہین قطعیہ اثبات نبوّت و حقیقت قرآن شریف میں ایک عرصے سے سرگرمی تھی کہ جناب کا ارشاد موجب گرم جوشی و باعث اشتعال شعلہ حمیت اسلام علی صاحبہ السلام ہوا، اور موجب ازدیاد و تقویت و توسیع حوصلہ خیال کیا گیا کہ جب آپ سا اولوالعزم صاحبِ فضیلت دینی و دنیوی تہہ دل سے حامی ہو اور تائید دین حق میں دل گرمی کا اظہار فرمادے تو بلاشائبہ ریب اس کو تائید غیبی خیال کرنا چاہئے، جزاکم اللہ نعم الجزاء۔

ما سوائے اس کے اگر اب تک کچھ دلائل یا مضامین آپ نے نتائج طبع عالی سے طبع فرمائے ہوں وہ بھی مرحمت ہوں۔‘‘

(چند ہم عصر مولوی عبدالحق ص:۴۴ طبع اردو اکیڈمی کراچی)

(مرزا صاحب یہاں وہ مضامین مانگ رہے ہیں جو کہیں چھپے ہوئے نہیں، مولوی صاحب کے اپنے طبع زاد اور ان کی اپنی فکر کا نتیجہ ہوں، مرزا صاحب یہاں انہیں اپنے مضامین میں جگہ دینا چاہتے ہیں، اسی طرح اگر مرزا صاحب نے مولوی محمد فضل خاں سے علمی مدد مانگی ہو، یا ان کے قلمی مسودوں سے استفادہ کیا ہو، یہ بالکل قرین قیاس ہے، کوئی تعجب کی بات نہیں۔)

مرزا قادیانی کا دوسرا خط بنام مولوی چراغ علی صاحب:

’’آپ کے مضمون اثبات نبوّت کی اب تک میں نے انتظار کی، پر اب تک نہ کوئی عنایت نامہ، نہ مضمون پہنچا، اس لئے آج مکرر تکلیف دیتا ہوں کہ براہِ عنایت بزرگانہ بہت جلد مضمون اثباتِ حقانیت قرآن مجید تیار کرکے میرے پاس بھیج دیں، اور میں نے بھی

185

ایک کتاب جو دس حصہ پر مشتمل ہے، تصنیف کی ہے اور نام اس کا ’’براہین احمدیہ علیٰ حقانیت کتاب اللہ القرآن والنبوۃ المحمدیہ‘‘ رکھا ہے، اور صلاح یہ ہے کہ آپ کے فوائد جرائد بھی اس میں درج کروں اور اپنے محقر کلام سے ان کو زیب و زینت بخشوں۔ سو اس امر میں آپ توقف نہ فرمائیں اور جہاں تک جلد ہوسکے مجھ کو مضمون مبارک اپنے سے ممنون فرماویں۔‘‘

(چند ہم عصر ص:۴۵)

(معلوم ہوا مرزا صاحب کی عادت تھی کہ وقت کے دوسرے اہل علم سے بذریعہ خط و کتابت علمی استفادہ کرتے تھے، اور ان کے طبع زاد مضامین کو اپنی کتابوں میں جگہ دیتے تھے، مرزا صاحب کی کتابوں میں ’’اسرارِ شریعت‘‘ کے مضامین اسی قبیل سے معلوم ہوتے ہیں، دوسروں کے مضامین کو اپنی کتابوں میں جگہ دینا اور انہیں اپنے ’’محقر کلام‘‘ میں ملا دینا، مرزا غلام احمد کے بائیں ہاتھ کا کھیل تھا۔)

مرزا قادیانی کا ایک اور خط مولوی چراغ علی صاحب کے نام:

(یہ خط ۱۹؍فروری ۱۸۷۹ء کا ہے)

’’قرآن مجید کے الہامی اور کلام الٰہی ہونے کے ثبوت میں آپ کا مدد کرنا باعث ممنونی ہے، نہ موجب ناگواری، میں نے بھی اسی بارے میں ایک چھوٹا سا رسالہ تالیف کرنا شروع کیا ہے اور خدا کے فضل سے یقین کرتا ہوں کہ عنقریب چھپ کر شائع ہوجائے گا، آپ کی اگر مرضی ہو تو وجوہات صداقت قرآن جو آپ کے دل پر القا ہوں (قرآن مجید کی صداقت پر مولوی چراغ علی کے دلائل اپنے رسالہ میں مختلف مواقع پر درج کرنا، مرزا صاحب کے ذوقِ تصنیف کا پتہ دے رہا ہے، مضامین اِلقا تو ہوں مولوی چراغ علی کے دل میں، چھپیں مرزا غلام احمد کے نام سے، سلطان القلم کا یہ عجیب ذوقِ

186

تصنیف ہے) میرے پاس بھیج دیں، تاکہ اسی رسالہ میں حسب مواقع اندراج پاجائے، یا سفیر ہند میں۔ لیکن جو براہین (جیسے معجزات وغیرہ) زمانہ گزشتہ سے تعلق رکھتے ہوں، ان کا تحریر کرنا ضروری نہیں کہ منقولات مخالف پر حجت قویہ نہیں آسکتیں۔ جو نفس الامر میں خوبی اور عمدگی کتاب اللہ میں پائی جائے یا عندالعقل اس کی ضرورت ہو وہ دکھلانی چاہئے، بہرصورت میں اس دن بہت خوش ہوں گا کہ جب میری نظر آپ کے مضمون پر پڑے گی۔ (دوسروں کے مضمونوں کا انتظار اور ان کی طلب میں یہ لجاجت اور عاجزی آج تک کسی ایسے شخص کے کلام میں نہیں دیکھی گئی جو آسمانی امامت کا مدعی ہو اور الہامی علوم کا دعویدار ہو، مرزا صاحب کی یہ عاجزی یا وقت کے ان اہل علم کے سامنے ہوتی ہے جن سے انہیں علمی مدد ملتی ہو، یا انگریزوں کے سامنے جن کے مراہم خسروانہ مرزا صاحب کے شامل حال ہوتے تھے)، آپ بمقتضا اس کے کہ ’’الکریم اذا وعد وفیٰ‘‘ مضمون تحریر فرمادیں، لیکن یہ کوشش کریں کہ ’’کیف ما اتفق‘‘ مجھ کو اس سے اطلاع ہوجائے۔‘‘

(چند ہم عصر ص:۴۶، ۴۷)

مرزا غلام احمد کا ایک خط بنام مولوی چراغ علی:

(یہ خط ۱۰؍مئی ۱۸۷۹ء کا ہے)

’’کتاب (براہین احمدیہ) ڈیڑھ سو جزو ہے، جس کی لاگت تخمیناً نو سو چالیس روپے ہے، اور آپ کی تحریر ملحق ہوکر اور بھی زیادہ ضخامت ہوجائے گی۔‘‘

(چند ہم عصر ص:۴۷)

مولوی عبدالحق صاحب ان خطوط کو نقل کرنے کے بعد اپنی رائے ان الفاظ میں نقل کرتے ہیں، اور یہ رائے ہماری رائے کے بہت قریب ہے:

187

’’ان تحریروں سے ایک بات تو یہ ثابت ہوتی ہے کہ مولوی صاحب مرحوم نے مرزا صاحب مرحوم کو ’’براہین احمدیہ‘‘ کی تالیف میں بعض مضامین سے مدد دی ہے۔‘‘

(چند ہم عصر ص:۵۰)

اس انکشاف کے بعد اس بات کے جاننے میں کوئی دقت نہیں رہی کہ مولوی محمد فضل خاں کے بعض مضامین شائع ہونے سے پہلے مرزا صاحب کی کتابوں میں کیسے آگئے؟

حرمتِ خنزیر:

مرزا صاحب حرمت خنزیر پر بحث کرتے ہوئے ’’اسلامی اصولوں کی فلاسفی‘‘ میں یہ بھی لکھ گئے ہیں کہ حرمت خنزیر، اسلام کی خصوصیات میں سے ہے جو پہلی شریعتوں میں نہ تھی، (ملاحظہ ہو اسلامی اصولوں کی فلاسفی بحث حرمت خنزیر)، حالانکہ قرآن شریف نے ہی خنزیر کو حرام قرار نہیں دیا، اس سے پہلے تورات میں بھی اس کی حرمت بیان کی گئی تھی، جس طرح مسلمان یہ کہہ سکتے ہیں کہ اسلامی اصول کی فلاسفی دیکھو کہ خنزیر جیسے نجاست خور اور بے غیرت جانور کو حرام کیا گیا، یہودی بھی کہہ سکتے ہیں کہ یہ اصول تمہارے ہاں ہی کارفرما نہیں، ہمارے ہاں بھی اسی طرح کارفرما ہے، تورات میں ہے:

’’اور سور تمہارے لئے اس سبب سے ناپاک ہے کہ اس کے پاؤں تو چرے ہوئے ہیں پر وہ جگالی نہیں کرتا، تم نہ تو ان کا گوشت کھانا اور نہ ان کی لاش کو ہاتھ لگانا۔‘‘

(کتاب مقدس استثنا باب:۱۴، آیت:۶،۷،۸)

ظاہر ہے کہ اس صورت میں اسے وجوہ حرمت خنزیر میں تو ذکر کیا جاسکتا ہے، تقابلی جلسہ مذاہب میں نہیں، جلسہ مذاہب میں وہی بات ہوتی ہے جو اور کسی مذہب میں نہ ہو، تاکہ اپنے مذہب کا امتیاز ظاہر کیا جاسکے، معلوم نہیں مرزا غلام احمد قادیانی نے حرمت خنزیر کا یہ مسئلہ جلسہ مذاہب میں کیسے پیش کردیا، ہوسکتا ہے کہ بعد میں مضمون میں لکھا گیا ہو، اور اس میں ’’اسرارِ شریعت‘‘ سے استفادہ کیا گیا ہو۔

188

مرزا صاحب نے اسے جن الفاظ میں پیش کیا ہے، اس میں عبارت کی غلطیاں ہیں، مثلاً ایک جگہ لکھتے ہیں:

’’یہ جانور اول درجہ کا نجاست خور اور نیز بے غیرت اور دیوث ہے۔‘‘

اس میں ’’اور‘‘ کے بعد ’’نیز‘‘ کا لفظ لائق غور ہے، ’’اور‘‘ کا بھی وہی معنی ہے جو ’’نیز‘‘ کا ہے، مرزا صاحب سے اس قسم کی غلطی عجیب فاش غلطی ہے، مرزا صاحب کے یہ الفاظ بھی ہم نے دیکھے ہیں:

’’غذاؤں کا بھی انسان کی روح پر ضرور اثر ہے۔‘‘

(اسلامی اصول کی فلاسفی ص:۴۱ طبع ۱۹۶۷ء)

ذہن اسی طرف گیا کہ عبارت یوں ہونی چاہئے: ’’روح پر ضرور اثر ہوتا ہے۔‘‘ مرزا غلام احمد کی اور تحریرات بھی ہم نے دیکھی ہیں، وہ صاحبِ قلم آدمی تھے، اس قسم کی غلطیاں ان سے متصور نہیں۔

معلوم ہوتا ہے کہ یہ عبارت انہوں نے کسی اور صاحبِ قلم کے مسودہ سے لی ہے اور اسے اپنا بنانے کے لئے کہیں کہیں بدلا ہے، اور اسی کوشش میں ان سے یہ غلطیاں ہوئی ہیں۔

مولوی محمد فضل خان کی کتاب ’’اسرارِ شریعت‘‘ (جن کے مسودہ سے مرزا صاحب نے یہ مضامین لئے) میں ہے:

’’اس بات کا کس کو علم نہیں کہ یہ جانور اوّل درجہ کا نجاست خور، بے غیرت و دیوث ہے، اب اس کے حرام ہونے کی وجہ ظاہر ہے کہ قانونِ قدرت یہی چاہتا ہے کہ ایسے پلید اور بد جانور کے گوشت کا اثر بدن اور روح پر بھی پلید ہی ہو، کیونکہ یہ بات ثابت شدہ اور مسلّم ہے کہ غذاؤں کا اثر بھی انسان کی روح پر ضرور ہوتا ہے، پس اس میں کیا شک ہے کہ ایسے بد کا اثر بھی بد ہی ہوگا، جیسا کہ

189

یونانی طبیبوں نے اسلام سے پہلے ہی یہ رائے ظاہر کی ہے کہ اس جانور کا گوشت بالخاصیت حیا کی قوت کو کم کردیتا ہے، اور دیوثی کو بڑھاتا ہے۔‘‘

(اسرارِ شریعت ج:۲ ص:۳۳۶، ۳۳۷)

مرزا غلام احمد کی ’’اسلامی اصولوں کی فلاسفی‘‘ میں عبارت اس طرح ہے:

’’اس بات کا کس کو علم نہیں کہ یہ جانور اول درجہ کا نجاست خور، اور نیز بے غیرت اور دیوث ہے، اب اس کے حرام ہونے کی وجہ ظاہر ہے کہ قانونِ قدرت یہی چاہتا ہے کہ ایسے پلید بد جانور کے گوشت کا اثر بھی بدن اور روح پر پلید ہی ہو، کیونکہ ہم ثابت کرچکے ہیں کہ غذاؤں کا بھی انسان کی روح پر ضرور اثر ہے، پس اس میں کیا شک ہے کہ ایسے بد کا اثر بھی بد ہی پڑے گا، جیسا کہ یونانی طبیبوں نے اسلام سے پہلے ہی یہ رائے ظاہر کی ہے کہ اس جانور کا گوشت بالخاصیت حیا کی قوت کو کم کرتا ہے اور دیوثی کو بڑھاتا ہے۔‘‘

(اسلامی اصولوں کی فلاسفی ص:۶۵، روحانی خزائن ج:۱۰ ص:۳۳۸)

یہ دونوں مصنف ایک دور کے ہیں، جو مولانا تھانویؒ سے قریباً ربع صدی پہلے ہوئے ہیں، مولانا تھانویؒ نے جیسا کہ وہ اپنی کتاب کے مقدمہ میں لکھ آئے ہیں کہ انہوں نے بعض مضامین ’’ایک کتاب سے لئے ہیں‘‘یہ مضمون ’’اسرارِ شریعت‘‘ سے لیا ہے، خوامخواہ کہے جانا کہ انہوں نے یہ مضامین مرزا صاحب کی کتابوں سے ہی لئے ہیں، منہ زوری اور سینہ زوری سے زیادہ کچھ وزن نہیں رکھتا، ’’اسرارِ شریعت‘‘ میں ’’اورنیز‘‘ کے الفاظ نہیں، مولانا تھانویؒ کی عبارت میں بھی یہ الفاظ نہیں ہیں، ان کی عبارت ’’اسرارِ شریعت‘‘ کے مطابق ہے، اس میں ہے:

’’کیونکہ یہ بات ثابت شدہ اور مسلّم ہے کہ غذاؤں کا اثر بھی انسان کی روح پر ضرور ہوتا ہے۔‘‘

(ص:۳۳۶)

190

مولانا تھانویؒ کی عبارت بھی یہی ہے، لیکن مرزا صاحب نے اسے اس طرح لکھا ہے:

’’کیونکہ ہم ثابت کرچکے ہیں کہ غذاؤں کا بھی انسان کی روح پر ضرور اثر ہے۔‘‘

اب آپ ہی فیصلہ کریں کہ حضرت تھانویؒ نے یہ اقتباس ’’اسرارِ شریعت‘‘ سے لیا ہوگا، یا مرزا غلام احمد کی کتابوں سے، اور عبداللہ ایمن زئی کی اس غلط بیانی کی بھی دل کھول کر داد دیں:

’’دیکھئے مرزا صاحب نے لکھا ہے کہ: ہم ثابت کرچکے ہیں، حضرت تھانویؒ نے ان الفاظ کو اس طرح تبدیل کردیا کہ: یہ بات ثابت شدہ اور مسلّم ہے۔‘‘

دیکھئے کیا یہ الفاظ ’’اسرارِ شریعت‘‘ کے نہیں؟ اب ایمن زئی صاحب کا یہ کہنا کہ حضرت تھانویؒ نے یہ الفاظ بدلے ہیں، کس قدر کھلا جھوٹ ہے، جو قادیانیوں ہی کو زیب دیتا ہے۔

’’اسرارِ شریعت‘‘ کی عبارت اصل معلوم ہوتی ہے، مباحثہ عقلیہ میں اپنے خیالات اور نتائج فکر سے استدلال نہیں کیا جاتا، یہاں امور مسلّمہ پیش کئے جاتے ہیں، مولوی محمد فضل خاں کا یہ کہنا کہ: ’’یہ بات ثابت شدہ اور مسلّم ہے‘‘ ایک وزن رکھتا ہے، اور مرزا صاحب کا یہ کہنا: ’’کیونکہ ہم ثابت کرچکے ہیں‘‘ یہ محض ان کا ایک اپنا نتیجہ فکر ہے، جس کی عام مباحث عقلیہ میں جگہ نہیں ہوسکتی۔

دونوں عبارتوں کو غور سے دیکھو، دونوں میں زیادہ صحیح اور موقع کے مطابق ’’اسرارِ شریعت‘‘ کی عبارت ملے گی، معلوم ہوتا ہے یہی اصل عبارت ہے، مرزا غلام احمد کی عبارت اس میں چند غلطیاں ملاکر مرتب ہوئی ہے، ’’اسرارِ شریعت‘‘ کا مرزا صاحب کی وفات کے ایک سال بعد چھپنا اس سے اس احتمال کی نفی نہیں ہوتی کہ مرزا صاحب کی نظر سے ’’اسرارِ شریعت‘‘ کے کچھ حصے بصورتِ مسودہ، بطریق خط و کتابت نہ گزرے ہوں گے، خصوصاً جبکہ

191

مؤلف ’’اسرارِ شریعت‘‘ قادیان سے بہت قریب کا تعلق رکھتے تھے، دونوں عبارتیں خود بول رہی ہیں کہ اصل کون سی عبارت ہوگی؟ پھر کس نے کس سے لیا ہوگا؟

مرزا صاحب نے اس عبارت میں ایک اور بے ڈھب اضافہ کیا ہے اور وہ قانونِ قدرت کے الفاظ ہیں، ان پر غور کیجئے۔

اب اس کے حرام ہونے کی وجہ ظاہر ہے کہ قانونِ قدرت یہی چاہتا ہے کہ ایسے پلید اور بد جانور کے گوشت کا اثر بھی بدن پر پلید ہو۔ یہ عبارت ’’اسرارِ شریعت‘‘ میں ان خط کشیدہ الفاظ کے بغیر ہے، اور حضرت تھانویؒ کی کتاب میں بھی اسی طرح ہے، مگر مرزا غلام احمد کی عبارت میں یہ الفاظ زائد ہیں، آپ ان الفاظ پر غور کریں اور ان کے بغیر عبارت کو آگے پیچھے سے پڑھ کر دیکھیں کہ یہ الفاظ جلی طور پر زائد اور بعد میں ملے ہوئے معلوم ہوں گے۔

ایک پڑھا لکھا آدمی یہ سمجھنے پرمجبور ہے کہ ’’اسرارِ شریعت‘‘ کی عبارت یقینا پہلے کی ہے، گو چھپی بعد میں ہو، اور مرزا صاحب کی عبارت میں چند غلطیوں کا اضافہ ہے، گو وہ چھپی پہلے ہو، اور مرزا صاحب نے اس کے مسودات سے اکتسابِ فیض کیا ہو، جیسا کہ ان کی عادت تھی کہ وہ معاصر اہل قلم سے علمی امداد لیا کرتے تھے۔کچھ بھی ہو یہ کوئی علمی معارف یا قرآن کریم کی کوئی عمیق تفسیریں نہیں جو ان مصنّفین پر ہی کھلی ہوں، بلکہ یہ وہ کتابیں ہیں جو ان دونوں نے قبل از اسلام کے یونانی طبیبوں سے لی ہیں، اور دونوں عبارات میں اس کا واضح اعتراف موجود ہے، اب اگر حضرت تھانویؒ نے بھی یہ عبارات ’’اسرارِ شریعت‘‘ سے لے لیں تو اس میں کیا اعتراض ہے؟ یہ وہ باتیں ہیں جو کافروں سے بھی لی جاسکتی ہیں، اور اس پر کسی کو تعجب نہ ہونا چاہئے، ہاں یہ حضرت تھانویؒ کا کمالِ دیانت ہے کہ انہوں نے اپنی کتاب کے مقدمہ میں صاف لکھ دیا کہ انہوں نے بعض مضامین ایک کتاب سے لئے ہیں۔

عبداللہ ایمن زئی کا ایک اور جھوٹ:

ایمن زئی صاحب، حضرت مولانا تھانویؒ کے بارے میں لکھتے ہیں:

192

’’اسلام کی چودہ سو سالہ تاریخ میں جو لٹریچر تخلیق ہوا اور بڑے بڑے علماء و مفسرین نے اس مسئلے پر جو کچھ لکھا وہ سب حضرت تھانویؒ کی نظر میں تھا، مگر انہوں نے یہ سارا سرمایہ معرفت ایک طرف رکھ دیا، اور مرزا صاحب نے اپنی کتاب میں حرمت خنزیر کے جو اسباب بیان کئے تھے، وہ اپنی کتاب میں نقل کردیئے۔‘‘

(کمالاتِ اشرفیہ ص:۷)

ایمن زئی صاحب نے خط کشیدہ الفاظ میں یہ دعویٰ کیا ہے کہ مولانا نے اس موضوع پر پہلے لکھے ہوئے لٹریچر کو بالکل درخور اعتنا نہیں سمجھا، اور مرزا صاحب کی عبارت کو اپنی کتاب میں جگہ دی ہے، ہم نے حضرت تھانویؒ کی کتاب پھر اس مقام سے دیکھی، آپؒ نے ’’اسرارِ شریعت‘‘ کی عبارت نقل کرنے کے بعد اس موضوع پر پھر اور مواد بھی فراہم کیا ہے، اور ’’اسرارِ شریعت‘‘ کی عبارت میں جو کمی رہ گئی تھی اسے دیگر مصنّفین کی عبارات سے پُر کیا ہے، بقول ایمن زئی صاحب اسے یوں سمجھئے کہ مرزا صاحب کی عبارت میں جو کمی رہ گئی تھی وہ حضرت تھانویؒ نے ’’مخزن الادویہ‘‘ سے پوری کی ہے، حضرت تھانویؒ لکھتے ہیں:

’’صاحب مخزن الادویہ فساد گوشت خوک (خنزیر) اور اس کی حرمت کے تیرہ وجوہ ذیل تحریر کرتے ہوئے ظاہر فرماتے ہیں کہ اس جانور کا گوشت فطرتِ انسانی کے برخلاف ہے، وہ لکھتے ہیں کہ:

’’گوشت خوک مولد خلط غلیظ است و مورث حرصِ شدید و صداع مزمن وداء الفیل واوجاع مفاصل وفساد عقل و زوالِ مروّت و غیرت و حمیت و باعث فحش است و اکثرے از فرق غیراسلامی آنرامے خورند و قبل ظہور نورِ اسلام گوشت آنرا در بازارہا مے فروختند و بعد ازاں در مذہب اسلام حرام و بیع آں ممنوع و موقوف گردید بسیار کثیف و بد ہیئت است۔‘‘

193

نیز اس کا گوشت کھانے سے انسان پر فوراً سوداوی امراض حملہ آور ہوتے ہیں۔‘‘

(المصالح العقلیہ ص:۲۰۴ طبع دارالاشاعت کراچی)

ناظرین غور فرمائیں کہ حضرت تھانویؒ نے دوسروں کی تحقیقات کیا یکسر نظر انداز کی ہیں، یا انہیں بھی اپنی اس کتاب میں نقل کیا ہے؟

تأثیرِ دُعا:

مولوی محمد فضل خاں نے ’’اسرارِ شریعت‘‘ میں حقیقت دُعا و قضا پر ایک مستقل عنوان قائم کیا ہے، اور بات اس طرح واضح کی ہے گویا وہ اصولی طور پر دُعا و قضا کی حقیقت سمجھا رہے ہیں، مرزا غلام احمد کا اس موضوع پر سرسیّد احمد خان سے واسطہ پڑا تھا، آپ نے اس میں عمومی پیرایہ ترک کرکے سرسیّد کو مخاطب بنایا ہے، ’’اسرارِ شریعت‘‘ مباحث عقلیہ کے موضوع کی ایک اصولی کتاب ہے، اور ایسی کتابوں کا پیرایہ بیانِ عام ہوتا ہے، ایسی کتابوں میں خاص افراد سے خطاب نہیں ہوتا، اب آپ دونوں کتابوں کو دیکھیں اور خود فیصلہ کریں کہ اصل عبارت کون سی ہوگی؟ اور اسے کس نے بدل کر اپنے خاص موضوع میں پیش کیا ہوگا، کچھ بھی ہو حضرت تھانویؒ نے یہ عبارات ’’اسرارِ شریعت‘‘ سے لی ہیں، اور یہ بات ان کے دئیے ہوئے حوالے کے عین مطابق ہے، مرزا صاحب کی کتابوں سے انہوں نے انہیں نقل نہیں کیا، چنانچہ ملاحظہ ہو ’’اسرار شریعت‘‘ کا اقتباس:

’’اگرچہ دنیا کی کوئی خیر و شر مقدر سے خالی نہیں، تاہم قدرت نے اس کے حصول کے لئے اسباب مقرر کر رکھے ہیں، جن کے صحیح اور سچے اثر میں کسی عقل مند کو کلام نہیں، مثلاً اگرچہ مقدر پر لحاظ کرکے دوا کا کرنا، نہ کرنا درحقیقت ایسا ہی ہے جیسا کہ دُعا یا ترکِ دُعا، مگر کیا کوئی یہ رائے ظاہر کرسکتا ہے کہ مثلاً علم طب سراسر باطل ہے، اور حکیم حقیقی نے دواؤں میں کچھ بھی اثر نہیں رکھا، جبکہ خدا تعالیٰ

194

اس بات پر قادر ہے کہ تربد او سقمونیا اور سنا اور حب الملوک میں تو ایسا قوی اثر رکھے کہ ان کی پوری خوراک کھانے کے ساتھ ہی دست چھوٹ جاتے ہیں، یا مثلاً سم الفار اور بیش اور دوسری ہلاہل زہروں میں وہ غضب کی تاثیر ڈال دی کہ ان کا کامل قدر شربت منٹوں میں ہی اس جہاں سے رخصت کردے، تو پھر کیونکر یہ امید کی جائے کہ خدا تعالیٰ اپنے برگزیدوں کو توجہ اور عقد ہمت اور تضرع کی بھری ہوئی دُعاؤں کو فقط مُردہ کی طرح رہنے دے، جن میں ایک ذرہ بھی اثر نہ ہو۔

کیا یہ ممکن ہے کہ نظام الٰہی میں اختلاف ہو، اور وہ ارادہ جو خدا تعالیٰ نے دواؤں میں اپنے بندوں کی بھلائی کے لئے کیا تھا وہ دواؤں میں مرعی نہ ہو، جو شخص دواؤں کی اعلیٰ تاثیروں پر ذاتی تجربہ نہ رکھتا ہو اور استجابت دعا کا قائل نہ ہو، اس کی مثال ایسی ہے جیسے کوئی ایک مدت تک ایک پرانی اور سال خوردہ اور مسلوب القویٰ دوا کو استعمال کرے، اور پھر اس کو بے اثر پاکر اس دوا پر عام حکم لگادے کہ اس میں کچھ بھی تاثیر نہیں۔‘‘

(ج:۱ ص:۲۴۵)

اس مضمون کو مرزا غلام احمد ’’برکات الدعا‘‘ میں یوں بیان کرتے ہیں:

’’اگرچہ دنیا کا کوئی خیر و شر مقدر سے خالی نہیں، تاہم قدرت نے اس کے حصول کے لئے ایسے اسباب مقرر کر رکھے ہیں جن کے صحیح اور سچے اثر میں کسی عقلمند کو کلام نہیں، مثلاً اگرچہ مقدر کا لحاظ کرکے دوا کا کرنا، نہ کرنا درحقیقت ایسا ہی ہے جیسا کہ دعا یا ترکِ دعا، مگر کیا سیّد صاحب یہ رائے ظاہر کرسکتے ہیں کہ مثلاً علم طب سراسر باطل ہے، اور حکیم حقیقی نے دواؤں میں کچھ بھی اثر نہیں رکھا ...۔۔ خدا تعالیٰ اس بات پر تو قادر تھا کہ تربد اور سقمونیا اور سنا اور حب الملوک

195

میں تو ایسا قوی اثر رکھیں کہ ان کی پوری خوراک کھانے کے ساتھ ہی دست چھوٹ جائیں، یا مثلاً سم الفار اور بیش اور دوسری ہلاہل زہروں میں وہ غضب کی تاثیر ڈال دی کہ ان کا کامل قدر شربت چند منٹوں میں ہی اس جہاں سے رخصت کردے، لیکن اپنے برگزیدوں کی توجہ اور عقد ہمت اور تضرع کی بھری ہوئی دعاؤں کو فقط مُردہ کی طرح رہنے دے، جن میں ایک ذرہ بھی اثر نہ ہو۔

کیا یہ ممکن ہے کہ نظام الٰہی میں اختلاف ہو اور وہ ارادہ جو خدا تعالیٰ نے دواؤں میں اپنے بندوں کی بھلائی کے لئے کیا تھا وہ دعاؤں میں مرعی نہ ہو، نہیں نہیں ہرگز نہیں، جو خود سیّد صاحب دعاؤں کی حقیقی فلاسفی سے بے خبر ہیں اور ان کی اعلیٰ تاثیروں پر ذاتی تجربہ نہیں رکھتے اور ان کی مثال ایسی ہے جیسے کوئی ایک مدت تک ایک پرانی اور سال خوردہ، مسلوب القویٰ دوا کو استعمال کرے اور پھر اس کو بے اثر پاکر اس دوا پر عام حکم لگادے کہ اس میں کچھ بھی تاثیر نہیں۔‘‘

(برکات الدعا)

دونوں عبارتوں کے آخری خط کشیدہ الفاظ پر غور کیجئے! ’’اسرارِ شریعت‘‘ کی عبارت میں کاتب کی غلطی سے دعا کی بجائے دوا کا لفظ لکھا گیا، جبکہ مرزا صاحب کی عبارت میں لفظ دعا لکھا ہوا ہے، ’’اسرارِ شریعت‘‘ کی عبارت اگر مرزا صاحب کی کتاب سے ماخوذ ہوتی تو اس میں یہ غلطی نہ ہوتی، اس قسم کی غلطیاں عام طور پر پہلی تحریر میں ہی ہوتی ہیں، اور زیادہ تر وہیں ہوتی ہیں جہاں کاتب قلمی مسودوں سے لکھ رہے ہوں، غلطیوں کی اصلاح بعد میں ہوتی ہے، مرزا غلام احمد کی عبارت اصلاح شدہ ہے۔ اور اس میں ’’اسرارِ شریعت‘‘ کے کتابت شدہ مسودہ کو ہی درست کیا گیا ہے۔

حقیقت حال کچھ بھی ہو، اس میں شبہ نہیں کہ حضرت تھانویؒ نے مرزا غلام احمد کی پانچ کتابوں سے عبارات نہیں لیں، جیسا کہ ایمن زئی صاحب کا دعویٰ ہے، بلکہ ایک کتاب

196

سے لی ہیں، اور وہ ’’اسرارِ شریعت‘‘ ہے، جس میں مرزا صاحب کی پانچوں کتابوں کی زیر بحث عبارات موجود ہیں، اس میں کوئی شخص اختلاف کرے کہ ان دو میں سے پہلا لکھنے والا کون ہے؟ بے شک اسے اس اختلاف کا حق ہے، ہم اس میں دخل نہیں دیتے، اپنی رائے ہم نے عرض کردی ہے، لیکن یہ بات ہر شبہ سے بالاتر ہے کہ حضرت تھانویؒ نے مرزا غلام احمد کی کتابوں سے کوئی عبارت نہیں لی، اسی ایک کتاب سے آپؒ نے یہ عبارات لی ہیں، اور آپؒ نے اسی کا حوالہ دیا ہے۔

نماز پنج گانہ کی عقلی حکمتیں:

مولوی فضل خاں اپنی کتاب ’’اسرارِ شریعت‘‘ میں لکھتے ہیں:

’’الغرض پنج گانہ نمازیں کیا ہیں، وہ تمہارے مختلف حالات کا فوٹو ہے، تمہاری زندگی کے لازم حال پانچ تغیر ہیں جو تم پر وارد ہوتے اور تمہاری فطرت کے لئے ان کا وارد ہونا ضروری ہے جن کی تفصیل حسب ذیل ہے:

پہلے جبکہ تم مطلع کئے جاتے ہو کہ تم پر ایک بلا آنے والی ہے، مثلاً جیسے تمہارے نام عدالت سے ایک وارنٹ جاری ہو، یہ پہلی حالت ہے جس نے تمہاری تسلی اور خوشحالی میں خلل ڈالا، کیونکہ اس سے تمہاری خوشحالی میں زوال آنا شروع ہوا، اس کے مقابل پر نماز ظہر متعین ہوئی، جس کا وقت زوالِ آفتاب سے شروع ہوتا ہے۔‘‘

(ج:۱ ص:۱۰۷)

اس مضمون کو مرزا غلام احمد نے اپنی کتاب میں اس طرح نقل کیا ہے:

’’پنج گانہ نمازیں کیا چیز ہیں، وہ تمہارے مختلف حالات کا فوٹو ہے، تمہاری زندگی کے لازم حال پانچ تغیر ہیں، جو بلا کے وقت تم پر وارد ہوتے ہیں، اور تمہاری فطرت کے لئے ان کا وارد ہونا

197

ضروری ہے: (۱)پہلے جبکہ تم مطلع کئے جاتے ہو کہ تم پر ایک بلا آنے والی ہے، مثلاً جیسے تمہارے نام عدالت سے ایک وارنٹ جاری ہوا، یہ پہلی حالت ہے جس نے تمہاری تسلی اور خوشحالی میں خلل ڈالا، سو یہ حالت زوال کے وقت سے مشابہ ہے، کیونکہ اس سے تمہاری خوشحالی میں زوال آنا شروع ہوا، اس کے مقابل نماز ظہر متعین ہوئی، جس کا وقت زوالِ آفتاب سے شروع ہوتا ہے۔‘‘

(کشتی نوح ص:۶۳، ۶۴)

مرزا صاحب کی عبارت میں ان الفاظ پر غور کیجئے:

’’تمہاری زندگی کے لازم حال پانچ تغیر ہیں، جو بلا کے وقت تم پر وارد ہوتے ہیں۔‘‘

’’بلا کے وقت‘‘ کے یہ الفاظ ’’اسرارِ شریعت‘‘ کے نہیں ہیں، ’’اسرارِ شریعت‘‘ میں پنج گانہ نمازوں کا جو نقشہ دیا گیا ہے، اس میں پانچوں نمازیں (نماز فجر) کو بلا کا وقت نہیں، نجات کا وقت بتلایا گیا ہے، چار وقت بلا کے تھے اور یہ پانچواں نجات کا، مرزا صاحب نے بھی پانچویں نماز کو نجات کا وقت بیان کیا ہے، سو یہ عبارت کہ پانچ تغیر بلا کے وقت تم پر وارد ہوتے ہیں، بعد میں بدلی ہوئی معلوم ہوتی ہے، سیاق و سباق سے ملتی عبارت وہی ہے جو ’’اسرارِ شریعت‘‘ میں دی گئی ہے، مرزا صاحب نے اس نقل کرنے میں جو اضافے کئے سب زائد عبارتیں معلوم ہوتی ہیں۔

مولوی محمد فضل خاں صاحب نے اس کے بعد اپنی تائید میں کچھ ارشادات نبوی اور بعض اطباء کے اقوال بھی درج کئے ہیں، انہیں دیکھ کر یہ معلوم ہوتا ہے کہ یہ احادیث اور اقوال، مولوی صاحب کے مضمون کا جزو ہیں، مرزا صاحب کی کتاب میں یہ موجود نہیں، اس سے پتہ چلتا ہے کہ مرزا صاحب نے اپنی کتاب ’’کشتی نوح‘‘ میں ’’اسرارِ شریعت‘‘ کے مسودے سے حسب خواہش تلخیص کی ہے، مرزا صاحب نے ’’اسرارِ شریعت‘‘ کی جو عبارت چھوڑ دی ہے، اسے ہم یہاں نقل کرتے ہیں:

’’آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے زوال کی ساعت کی

198

نسبت فرمایا کہ اس میں آسمان کے دوازے کھلتے ہیں، اس لئے میں پسند کرتا ہوں کہ اس وقت میرا کوئی عمل آسمان کی طرف صعود کرے، فرمایا رات کے فرشتوں سے پہلے دن کے فرشتے آسمان کی طرف صعود کرتے ہیں اور دن کے فرشتوں سے پہلے رات کے فرشتے صعود کرتے ہیں۔

اس وقت تغیرات کے آثار جو جسم انسانی پر ظاہر ہوتے ہیں طبیبوں نے اپنی کتابوں میں بیان فرمائے ہیں، چنانچہ مفرح القلوب شرح قانونچہ میں لکھا ہے ...۔۔الخ۔‘‘

(اسرارِ شریعت ج:۱ ص:۱۰۴)

جناب عبداللہ ایمن زئی کی ان سطور پر بھی غور کرو جب خدا کا خوف نہ رہے تو انسان اس قسم کے جھوٹ سے بھی پرہیز نہیں کرتا، ایمن زئی صاحب لکھتے ہیں:

’’بیان کردہ حکمتیں حضرت تھانویؒ کو اس قدر پسند آئیں کہ لفظ بہ لفظ اپنی کتاب میں نقل فرمادیں، البتہ اتنا کیا کہ مرزا صاحب کی بیان کردہ حکمتوں کی مزید تشریح کے لئے ارشاداتِ نبوی، شرح وقایہ اور اطباء کے اقوال درج کردئیے۔‘‘

(کمالاتِ اشرفیہ ص:۱۶)

’’اسرارِ شریعت‘‘ کی وہ عبارات جو مرزا صاحب نے چھوڑ دیں، ان میں واقعی کچھ ارشادات نبوی اور کچھ اقوالِ اطباء بھی موجود ہیں، حضرت تھانویؒ کی عبارت میں بھی یہ ارشادات نبوی اور اقوالِ اطباء موجود ہیں، اس سے یہ حقیقت نصف النہار کی طرح عیاں ہے کہ حضرت تھانویؒ نے یہ مضامین ’’اسرارِ شریعت‘‘ سے لئے ہیں، نہ کہ مرزا صاحب کی کتابوں سے۔ ’’اسرارِ شریعت‘‘ اور ’’المصالح العقلیہ‘‘ کی عبارات ایک دوسرے کے مطابق ہیں، اور مرزا غلام احمد کی تلخیص کچھ مختلف ہے، دونوں (مولوی محمد فضل خاں اور حضرت مولانا تھانویؒ) کی عبارات میں وہ پورے مضامین موجود ہیں، اب کسی کو یہ کہنے کا حق نہیں کہ حکیم الامت حضرت تھانویؒ نے یہ مضامین مرزا غلام احمد کی کتابوں سے لئے

199

ہیں۔ ایمن زئی صاحب نے غلط کہا ہے کہ مولانا تھانویؒ نے شرح وقایہ اور اطباء کے اقوال درج کئے ہیں، اقوالِ اطباء ’’اسرارِ شریعت‘‘ سے ماخوذ ہیں، اور شرح وقایہ کا تو اس عبارت میں سرے سے کوئی ذکر ہی نہیں، معلوم نہیں کہ ایمن زئی صاحب کو اس میں شرح وقایہ کا نام لانے کی ضرورت کیوں محسوس ہوئی، معلوم ہوتا ہے کہ شاید وہ شرح قانونچہ کو شرح وقایہ پڑھتے رہے ہوں۔

نماز عصر کی بحث میں ایمن زئی صاحب نے حضرت مولانا تھانویؒ کی عبارت کو مرزا صاحب کی عبارت کے بالمقابل نقل کرتے ہوئے معلوم نہیں یہ فقرہ کیوں حذف کردیا ہے:

’’صریح نظر آتا ہے کہ اب غروب نزدیک ہے، جس سے اپنے کمالات کے زوال کے احتمال قریب پر استدلال کرنا چاہئے۔ اس روحانی حالت کے مقابل نماز عصر مقرر ہوئی۔‘‘

(کمالاتِ اشرفیہ ص:۱۸)

ایمن زئی صاحب نے خط کشیدہ فقرہ شاید اس لئے حذف کردیا ہے کہ یہ عبارت مرزا صاحب کی عبارت کے مقابل بالکل ہی دکھائی دے اور وہ کہہ سکیں کہ حضرت تھانویؒ نے لفظ بہ لفظ مرزا صاحب سے نقل کی ہے، اس لئے اس فقرے کا حذف کرنا ضروری تھا۔ مولوی محمد فضل خان اور مرزا کی عبارتوں کا تغیر ملاحظہ ہو، چنانچہ مولوی محمد فضل خان لکھتے ہیں:

’’خدا تعالیٰ نے تمہارے فطری تغیرات میں پانچ نمازیں تمہارے لئے مقرر کی ہیں اس سے تم سمجھ سکتے ہو کہ یہ نمازیں خاص تمہارے نفس کے فائدے کے لئے ہیں، پس اگر تم چاہتے ہو کہ ان بلاؤں سے بچتے رہو اور پنجگانہ نمازوں کو ترک نہ کرو کہ وہ تمہارے اندرونی اور روحانی تغیرات کا ظل ہیں، نمازیں آنے والی بلاؤں کا علاج ہیں، تم نہیں جانتے کہ نیا دن چڑھنے والا کس قسم کی قضا و قدر تمہارے لئے لائے گا، پس تم قبل اس کے جو دن چڑھے اپنے مولا کی

200

جناب میں تضرع کرو کہ تمہارے لئے خیر و برکت کا دن چڑھے۔‘‘

(خاتم اولیا اسرار شریعت ج:۱ ص:۱۰۷)

اور مرزا صاحب لکھتے ہیں:

’’اور خدا نے تمہارے فطرتی تغیرات میں پانچ حالتیں دیکھ کر پانچ نمازیں تمہارے لئے مقرر کیں، اس سے تم سمجھ سکتے ہو کہ یہ نمازیں خاص تمہارے نفس کے فائدے کے لئے ہیں، پس اگر تم چاہتے ہو کہ ان بلاؤں سے بچے رہو تو پنجگانہ نمازوں کو ترک نہ کرو کہ وہ تمہارے اندرونی اور روحانی تغیرات کا ظل ہیں، نماز میں آنے والی بلاؤں کا علاج ہے، تم نہیں جانتے کہ نیا دن چڑھنے والا کس قسم کی قضا و قدر تمہارے لئے لائے گا، پس قبل اس کے جو دن چڑھے تم اپنے مولا کی جناب میں تضرع کرو کہ تمہارے لئے خیر و برکت کا دن چڑھے۔‘‘

(کشتیٔ نوح ص:۶۵، روحانی خزائن ج:۱۹ ص:۷۰)

ان دونوں عبارتوں میں اختلافِ الفاظ کا جائزہ لیجئے! انسانی زندگی کے یہ پانچ تغیرات ہی اس کی پانچ حالتیں جن میں پانچ نمازیں مقرر کی گئی ہیں، تغیر حالت بدلنے کو ہی کہتے ہیں اور یہ پانچ تغیرات، پانچ حالتیں ہی ہیں، پانچ تغیرات میں پانچ حالتیں بالکل بے معنی بات ہے۔

’’اسرارِ شریعت‘‘ میں ہے:

’’خدا تعالیٰ نے تمہارے فطری تغیرات میں پانچ نمازیں تمہارے لئے مقرر کی ہیں۔‘‘

(ص:۱۰۶)

اور مرزا غلام احمد کی عبارت یہ ہے:

’’خدا نے تمہارے فطری تغیرات میں پانچ حالتیں دیکھ کر، پانچ نمازیں تمہارے لئے مقرر کیں۔‘‘

(کشتیٔ نوح ص:۶۵، روحانی خزائن ج:۱۹ ص:۷۰)

201

یہاں بآسانی دیکھا جاسکتا ہے کہ اصل عبارت کون سی ہے؟ اور نقل کون سی؟ فطری تغیرات میں پانچ حالتیں وہی کہہ سکتا ہے جو تغیر کے معنی: ’’حالت بدلنا‘‘ نہ جانے، اصل عبارت اپنی جگہ پوری طرح واضح اور صحیح ہے، اور مرزا صاحب کی عبارت واقعی ایک بدلی ہوئی عبارت معلوم ہوتی ہے۔

اسی طرح اس عبارت کے آخری حصہ میں مرزا غلام احمد کے الفاظ: ’’پس قبل اس کے جو دن چڑھے تم اپنے مولیٰ کی جناب میں تضرع کرو۔‘‘ کا مولوی محمد فضل خاں کے الفاظ: ’’پس تم قبل اس کے جو دن چڑھے اپنے مولیٰ کی جناب میں تضرع کرو۔‘‘ سے مقابلہ کرو، لفظ ’’تم‘‘ کو مقدم لانے میں جو زور ہے، وہ پچھلی عبارت سے پوری طرح ہم آہنگ ہے، مرزا صاحب کی عبارت میں ایک تبدیلی معلوم ہوتی ہے۔

پھر اس فقرہ کو اس کے سیاق میں دیکھئے:

’’نمازیں آنے والی بلاؤں کا علاج ہیں۔‘‘

(اسرارِ شریعت)

اور مرزا غلام احمد کے اس فقرہ پر بھی غور کیجئے: ’’نمازوں میں آنے والی بلاؤں کا علاج ہے۔‘‘ جس سیاق و سباق میں اس مضمون پر بحث کی گئی ہے، وہ مختلف حالتوں کا بیان ہے، اس کے پیش نظر ’’اسرارِ شریعت‘‘ کا فقرہ صاف طور پر نظر آرہا ہے، اور مرزا صاحب کا پیرایہ یہاں وہ وزن نہیں رکھتا، معلوم ہوتا ہے وہ نماز کی تعریف کر رہے ہیں، پنجگانہ نمازوں کی تعریف نہیں کر رہے، حالانکہ موضوع وہی تھا، سو بات وہی صحیح ہے جو ’’اسرارِ شریعت‘‘ کے مصنف نے کہی کہ نمازیں آنے والی بلاؤں کا علاج ہیں۔

مولوی محمد فضل خاں نے جہاں اس بات کو ختم کیا ہے، وہاں ’’خاتم الاولیاء‘‘ کا حوالہ دیا ہے، مرزا غلام احمد نے جہاں یہ بات ختم کی ہے، وہاں کوئی حوالہ نہیں دیا، اس سے یہ بات عیاں ہے کہ مولوی محمد فضل خاں نے یہ مضمون ’’خاتم الاولیاء‘‘ سے لیا ہے، مرزا صاحب نے نہیں، افسوس کہ مرزا صاحب نے اسے ’’خاتم الاولیاء‘‘ یا ’’اسرارِ شریعت‘‘ کا حوالہ دئیے بغیر نقل کیا ہے۔

صورتِ حال کچھ بھی ہو، یہ ہمارا اصل موضوع نہیں، ہاں یہ بات روزِ روشن کی

202

طرح عیاں ہے کہ حضرت مولانا تھانویؒ نے عبارت زیر بحث ’’اسرارِ شریعت‘‘ سے لی ہے، مرزا غلام احمد کی کتاب ’’کشتیٔ نوح‘‘ سے نہیں، اختلافی الفاظ میں مولانا تھانویؒ کی عبارت ’’اسرارِ شریعت‘‘ کے موافق ہے، ’’کشتیٔ نوح‘‘ کے موافق نہیں، اس تقابلی مطالعہ سے دوست محمد شاہد یا ایمن زئی صاحب کا یہ دعویٰ کہ مولانا تھانویؒ نے یہ عبارات مرزا غلام احمد کی کتابوں سے ہی لی ہیں، اعلانیہ طور پر غلط ٹھہرتا ہے۔

قویٰ انسانی کا استعمال:

عبداللہ ایمن زئی نے ’’کمالاتِ اشرفیہ‘‘ میں(ص:۲۰ پر) یہ عنوان قائم کیا ہے، اور لکھا ہے:

’’حضرت مولانا تھانویؒ اپنی کتاب کے لئے اس موضوع پر غور و فکر اور مطالعہ فرما رہے تھے، تلاش و تحقیق کے دوران مرزا صاحب کی کتاب ’’نسیم دعوت‘‘ انہیں ملی، انہوں نے یہ کتاب پڑھی اور محسوس کیا کہ انسانی قویٰ کے استعمال کے جو طریقے مرزا صاحب نے قرآن شریف پر تدبر کرنے کے بعد بیان کئے ہیں، ان سے بہترین نکات بیان نہیں کئے جاسکتے، چنانچہ انہوں نے مرزا صاحب کی کتاب کا اقتباس پسند فرمایا اور اپنی کتاب کو اس سے آراستہ فرمالیا۔‘‘

سابقہ الزامات کی طرح یہ الزام بھی بالکل بے وزن ہے، حضرت مولانا تھانویؒ نے مرزا صاحب کی کتاب سے یہ اقتباس لیا، نہ اس سے اپنی کتاب کو آراستہ کیا، یہ مضمون بھی آپ نے اس کتاب ’’اسرارِ شریعت‘‘ سے لیا ہے، جس کا آپ نے اپنی اس کتاب کے مقدمہ میں ذکر کیا تھا، یہی عبارت نہیں، حضرت تھانویؒ پچھلے کئی عنوانات سے اس کتاب کے مضامین آگے لا رہے ہیں، ہم دونوں کے عنوانات درج ذیل کرتے ہیں:

۱:...’’برتن میں مکھی پڑنے سے اس کو اس میں ڈوبا دے کر

203

نکالنے کی وجہ۔‘‘

(اسرار شریعت ج:۲ ص:۳۶۷)

۲:...’’پانی اور برتن میں سانس لینا و پھونکنا منع ہونے کی وجہ۔‘‘

(اسرار شریعت ج:۲ ص:۳۶)

۳:...’’انسان کے لئے گوشت کھانا کیوں جائز ہے؟‘‘

(اسرار شریعت ج:۲ ص:۳۶۹)

۴:...’’گوشت و ترکاری کھانے سے انسان کے روحانی اخلاق کیسے پیدا ہوتے ہیں؟‘‘

(اسرار شریعت ج:۲ ص:۳۶۹)

۵:...’’انسان میں قوت غضبیہ و علم وغیرہ کی حکمت۔‘‘

(اسرار شریعت ج:۲ ص:۳۷۰)

حضرت مولانا تھانویؒ کی کتاب کے عنوانات بھی یہی ہیں:

۱:...’’برتن میں مکھی پڑنے سے اس کو اس میں غوطہ دے کر نکالنے کی وجہ۔‘‘

(احکام اسلام عقل کی نظر میں ص:۲۲۰ طبع دارالاشاعت کراچی)

۲:...’’پانی اور برتن میں سانس لینا و پھونکنا منع ہونے کی وجہ۔‘‘

(احکام اسلام عقل کی نظر میں ص:۲۲۰ طبع ایضاً)

۳:...’’انسان کے لئے گوشت کھانا کیوں جائز ہوا؟‘‘

(احکام اسلام عقل کی نظر میں ص:۲۲۱ طبع ایضاً)

۴:...’’گوشت، ترکاریاں کھانے سے انسان کے روحانی اخلاق کیسے پیدا ہوتے ہیں؟‘‘

(احکام اسلام عقل کی نظر میں ص:۲۲۲ طبع دارالاشاعت کراچی)

۵:...’’انسان میں قوت غضبیہ و حلم وغیرہ کی حکمت۔‘‘

(احکام اسلام عقل کی نظر میں ص:۲۲۳ طبع ایضاً)

آپ نے دیکھا یہ عنوانات کس طرح ہو بہو ایک دوسرے کے مطابق آرہے

204

ہیں، پانچویں نمبر کا عنوان ہے جس کے تحت وہ عبارت درج ہے جسے ایمن زئی صاحب مرزا صاحب کی کتاب سے لیا گیا اقتباس کہہ رہے ہیں، جب حضرت تھانویؒ کے پچھلے چار عنوانات ’’اسرارِ شریعت‘‘ سے منطبق چلے آرہے ہیں اور ان میں سے کوئی بھی مرزا صاحب کا موضوع نہیں، تو اس میں کوئی شک نہیں رہ جاتا کہ حضرتؒ نے یہ مضامین ’’اسرارِ شریعت‘‘ سے لئے ہیں، نہ کہ غلام احمد سے، اور ایمن زئی صاحب کا یہ کہنا کہ مرزا غلام احمد صاحب کی کتاب سے لئے ہیں، اس میں کسی طرح کا کوئی وزن نہیں رہتا، پھر ان دونوں کتابوں (مولوی محمد فضل خاں اور حضرت تھانویؒ کی کتابوں) کے مذکورہ پانچویں عنوان کو جو مناسبت ان کے چوتھے عنوان سے ہے، وہ بتارہی ہے کہ مولوی محمد فضل خاں کا یہ مضمون اپنے ماقبل سے مسلسل اور مربوط ہے، اور یہ صورت اس بات کی شاہد ہے کہ یہ مضمون ’’اسرارِ شریعت‘‘ میں اصل ہے، ’’نسیم دعوت‘‘ میں نہیں، اب اسے مرزا صاحب کی کتاب ’’نسیم دعوت‘‘ میں دیکھئے، انہوں نے یہاں کوئی ایسے عنوانات نہیں دئیے، البتہ پیرا بندی ضرور کی ہے، جو ایک مضمون کو دوسرے سے جدا کرتی ہے، ہم ان پیراجات کے ابتدائی الفاظ درج کرتے ہیں:

’’کوئی یہ خیال نہ کرے کہ ہم نے اس جگہ انجیل کی تعلیم کا ذکر نہیں کیا۔‘‘

(نسیم دعوت ص:۷۰، روحانی خزائن ج:۱۹ ص:۴۳۶)

’’علاوہ اس کے یہ بھی سخت غلطی ہے کہ انجیل کی تعلیم کو کامل کہا جائے۔‘‘

(نسیم دعوت ص:۷۱، روحانی خزائن ج:۱۹ ص:۴۳۶)

’’اب دیکھو اس آیت میں دونوں پہلو کی رعایت رکھی گئی ہے۔‘‘

(نسیم دعوت ص:۷۲، روحانی خزائن ج:۱۹ ص:۴۳۸)

’’اب ہم آریہ مذہب میں کلام کرتے ہیں۔‘‘

(نسیم دعوت ص:۷۲، روحانی خزائن ج:۱۹ ص:۴۳۸)

وہ عبارت جو ’’اسرارِ شریعت‘‘ اور حضرت تھانویؒ کی کتاب میں مشترک ہے، وہ مرزا صاحب کے مندرجہ بالا پیراجات میں سے دوسرے کے تحت دی گئی ہے کہ: ’’یہ بھی سخت غلطی ہے کہ انجیل کی تعلیم کو کامل کہا جائے۔‘‘

205

اب جو شخص ان تینوں کتابوں کو دیکھے، اسے یقین سے چارہ نہ رہے گا کہ حضرت تھانویؒ کی کتاب، ان کے عنوانات اور سیاق و سباق ’’اسرارِ شریعت‘‘ سے ملتے جلتے ہیں، نہ کہ مرزا صاحب کی کتاب ’’نسیم دعوت‘‘ سے۔

اب عبداللہ ایمن زئی کے کہنے پر کیسے باور کرلیا جائے کہ حضرت تھانویؒ نے مضمون زیر بحث مرزا صاحب کی کتاب ’’نسیم دعوت‘‘ سے لیا ہے؟

پھر مرزا صاحب کی عبارت میں یہ جملہ بھی لائق غور ہے:

’’اگر انسان میں خدا نے ایک قوت حلم اور نرمی اور درگزر اور صبر کی رکھی ہے، تو اسی خدا نے اس میں ایک قوت غضب اور خواہش انتقام کی بھی رکھی ہے۔‘‘

(کمالاتِ اشرفیہ ص:۲۱)

اب اسے حضرت تھانویؒ کی کتاب میں بھی دیکھئے:

’’اگر خدا نے انسان میں ایک قوت حلم اور نرمی اور درگزر اور صبر ...۔۔الخ۔‘‘

(از کمالاتِ اشرفیہ ص:۲۱)

اب آئیے دیکھیں کہ یہ جملہ ’’اسرارِ شریعت‘‘ میں کس طرح ہے؟ پھر آپ ہی فیصلہ کریں کہ حضرت تھانویؒ نے اسے ’’اسرارِ شریعت‘‘ سے لیا ہے، یا ’’نسیم دعوت‘‘ سے، ’’اسرارِ شریعت‘‘ میں یہ جملہ اس طرح ہے:

’’اگر خدا نے انسان میں ایک قوت حلم اور نرمی اور درگزر اور صبر کی رکھی ہے۔‘‘

(اسرارِ شریعت ج:۲ ص:۳۷۰)

اب بھی کیا کسی پڑھے لکھے آدمی کو یہ کہنے کی ہمت ہے کہ حضرت تھانویؒ نے مرزا صاحب کی کتاب ’’نسیم دعوت‘‘ سے یہ اقتباس لیا ہوگا؟

جہاں تک ’’اسرارِ شریعت‘‘ اور ’’نسیم دعوت‘‘ کے تقابلی مطالعہ کا تعلق ہے، ’’اسرارِ شریعت‘‘ کی عبارت اپنے محل اور سیاق و سباق میں خوب چسپاں دکھائی دیتی ہے، اور ذہن گواہی دیتا ہے کہ اصل عبارت یہیں کی ہے، اور مرزا صاحب نے اسے جس محل میں سمویا ہے، وہاں اسے تکلف سے چسپاں کیا گیا ہے، پس اس میں کوئی شک نہیں رہ جاتا کہ

206

مرزا صاحب نے ’’اسرارِ شریعت‘‘ کے مسودے سے کسی نہ کسی طرح استفادہ ضرور کیا ہے۔

پھر ایمن زئی صاحب نے ’’کمالاتِ اشرفیہ‘‘ میں مرزا صاحب کا ایک نو سطری اقتباس درج کیا ہے اور دعویٰ کیا ہے کہ:

’’مرزا صاحب کی جو عبارت حضرت تھانویؒ نے حذف کردی ہے وہ یہ ہے۔‘‘

(کمالاتِ اشرفیہ ص:۲۲)

جواباً عرض ہے کہ یہ نو سطریں ’’اسرارِ شریعت‘‘ میں جہاں سے حضرت تھانویؒ یہ عبارت لے رہے ہیں، نہیں ہیں، ہاں عبارت اسی طرح ہے جس طرح حضرت تھانویؒ نے پیش کی ہے، اب بجائے اس کے کہ ایمن زئی صاحب اقرار کریں کہ حضرت تھانویؒ نے واقعی مرزا صاحب کی ’’نسیم دعوت‘‘ سے یہ اقتباس نہیں لیا، الٹا یہ دعویٰ کر رہے ہیں کہ حضرت تھانویؒ نے ان نو سطروں کو حذف کردیا ہے، انہیں اگر یہ الزام کسی پر لگانا ہی تھا تو مولوی محمد فضل خاں صاحب پر لگاتے نہ کہ حضرت تھانویؒ پر، ایمن زئی صاحب کی اس جسارت پر ہمیں حیرت ہوتی ہے:

چہ دلاور است دزدے کہ بکف چراغ دارد

پردہ کی حکمتیں:

’’اسرارِ شریعت‘‘ جلد دوم، ص: ۲۴۴ پر مولوی محمد فضل خاں صاحب نے یہ عنوان قائم کیا ہے، اور اس کے تحت لکھا ہے:

’’مستورات و مردوں کے لئے اسلامی پردہ کے وجوہات‘‘

’’پردہ کے متعلق اسلام نے مرد و عورت کے لئے ایسے ایسے اصول بتائے جن کی پابندی سے ان کی عفت و عزت پر حرف نہ آئے، وہ بدی کے ارتکاب سے محفوظ اور مصئون رہیں، چنانچہ خدا تعالیٰ فرماتا ہے ...۔ ۔الخ۔‘‘

یہاں مولوی محمد فضل خاں صاحب نے سورۂ النور، بنی اسرائیل اور الحدید کی

207

آیتیں دی ہیں، اور ان کا ترجمہ کیا ہے، حضرت تھانویؒ نے ان آیات کا ترجمہ اسی مؤلف سے لے کر اپنی کتاب کے صفحہ: ۱۶۶ اور ۱۶۷ میں دیا ہے، جس کا دل چاہے دونوں کتابوں ’’اسرارِ شریعت‘‘ اور ’’احکامِ اسلام‘‘ کا تقابلی مطالعہ کرکے دیکھ لے۔

افسوس کہ ایمن زئی صاحب نے یہاں بھی وہی بات ہانکی ہے، اور اسی لکیر پر چلے ہیں کہ حضرت تھانویؒ نے ان آیات کا ترجمہ مرزا صاحب کی کتاب ’’اسلامی اصول کی فلاسفی‘‘ کے صفحہ: ۲۸ سے لیا ہے، اور اسی پر لکھا ہے:

’’اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ حضرت تھانویؒ، مرزا صاحب کے ترجمے کو مستند سمجھتے تھے۔‘‘

(کمالاتِ اشرفیہ ص:۲۹)

ایمن زئی صاحب کو سوچنا چاہئے تھا کہ حضرت تھانویؒ تو خود مترجم قرآن اور مفسر قرآن ہیں، کیا وہ یہاں اپنا ترجمہ بآسانی نہ دے سکتے تھے؟ لیکن مضمون چونکہ ’’اسرارِ شریعت‘‘ سے لے رہے تھے، اور اس کا وہ اجمالی حوالہ بھی دے چکے تھے، اس لئے انہوں نے ان آیات کا ترجمہ بھی اسی مؤلف سے لے لیا، اب اس میں خوامخواہ مرزا صاحب کو داخل کرنا کہ ہو نہ ہو مولانا تھانویؒ نے یہ ترجمہ مرزا صاحب سے ہی لیا ہے، سینہ زوری نہیں تو اور کیا ہے؟ مولوی محمد فضل خاں نے ان آیات کے ترجمہ اور تشریح کے بعد لکھا ہے:

’’ان آیات میں خدا تعالیٰ نے خلق احصان یعنی عفت حاصل کرنے کے لئے صرف اعلیٰ تعلیم ہی نہیں فرمائی بلکہ انسان کو پاکدامن رہنے کے لئے پانچ علاج بھی بتلادئیے، یعنی یہ کہ اپنی آنکھوں کو نامحرم پر نظر ڈالنے سے بچانا، دوسرا کانوں کو نامحرم کی آواز سننے سے بچانا، نامحرموں کے قصے سننا اور ایسی تمام تقریبوں سے جن میں اس فعل بد کا اندیشہ ہو اپنے تئیں بچانا، اگر نکاح نہ ہو تو روزہ رکھنا وغیرہ، یہ اعلیٰ تعلیم ان سب تدبیروں کے ساتھ جو قرآن کریم نے بیان فرمائی ہیں، صرف اسلام ہی سے خاص ہے، اور اس جگہ ایک نکتہ یاد رکھنے کے لائق ہے، اور وہ یہ کہ چونکہ انسان کی وہ طبعی حالت جو

208

شہوت کا منبع ہے، جس سے انسان بغیر کسی کامل تغیر کے الگ نہیں ہوسکتا ...۔۔ الخ۔‘‘

(اسرارِ شریعت ج:۲ ص:۲۴۵، ۲۴۶)

اس عبارت کو مرزا صاحب نے یوں نقل کیا ہے:

’’ان آیات میں خدا تعالیٰ نے خلق احصان یعنی عفت حاصل کرنے کے لئے صرف اعلیٰ تعلیم ہی نہیں فرمائی بلکہ اپنے تئیں پاک دامن رہنے کے لئے پانچ علاج بھی بتلادئیے، یعنی یہ کہ اپنی آنکھوں کو نامحرم پر نظر ڈالنے سے بچانا، کانوں کو نامحرموں کی آواز سننے سے بچانا، نامحرموں کے قصے سننا اور ایسی تمام تقریبوں سے جن میں اس فعل بد کا اندیشہ ہو، اپنے تئیں بچانا، اگر نکاح نہ ہو تو روزہ رکھنا وغیرہ، اس جگہ ہم بڑے دعوے سے کہہ سکتے ہیں کہ یہ اعلیٰ تعلیم ان سب تدبیروں کے ساتھ جو قرآن شریف نے بیان فرمائی ہیں، صرف اسلام ہی سے خاص ہے، اور اسی جگہ ایک نکتہ یاد رکھنے کے لائق ہے، اور وہ یہ کہ چونکہ انسان کی وہ طبعی حالت جو شہوت کا منبع ہے، جس سے انسان بغیر کسی کامل تغیر کے الگ نہیں ہوسکتا ...۔۔ الخ۔‘‘

(اسلامی اصولوں کی فلاسفی ص:۲۹، ۳۰)

ان دونوں عبارتوں میں خط کشیدہ فقرات کے سوا کوئی فرق نہیں، اب آئیے حضرت تھانویؒ کی کتاب سے اس عبارت کو لیں، یہ ’’احکام اسلام عقل کی نظر میں‘‘ کے صفحہ: ۱۶۸ میں درج ہے، اور اس میں یہ خط کشیدہ فقرے درج نہیں ہیں، اس کی عبارت ’’اسرارِ شریعت‘‘ کے مطابق ہے، اب اس یقین سے چارہ نہیں کہ حضرت تھانویؒ نے یہ اقتباسات مرزا غلام احمد کی کتاب سے ہرگز نہیں لئے۔

رہی یہ بات کہ ’’اسرارِ شریعت‘‘ کے مؤلف نے مرزا غلام احمد سے یہ مضامین لئے ہیں، یا مرزا صاحب نے ’’اسرارِ شریعت‘‘ کے مسودہ سے استفادہ کیا ہے؟ اس سلسلہ میں ان دو عبارتوں پر مزید غور فرماویں:

209

’’سو خدا تعالیٰ نے چاہا کہ نفسانی قویٰ کو پوشیدہ کاروائیوں کا موقع بھی نہ ملے، اور ایسی کوئی بھی تقریب پیش نہ آوے جس سے بدخطرات جنبش کرسکیں۔

اسلامی پردہ کا یہی راز ہے اور یہی ہدایت شرعی ہے خدا کی کتاب میں پردہ سے یہ مراد نہیں کہ فقط عورتوں کو قیدیوں کی طرح حراست میں رکھا جائے ...... اور ہر ایک پرہیزگار جو اپنے دل کو پاک رکھنا چاہتا ہے اس کو نہ چاہئے کہ حیوانوں کی طرح جس طرف چاہے بے محابا نظر اٹھاکر دیکھ لیا کرے۔‘‘

(اسرارِ شریعت ج:۲ ص:۲۹۶)

’’سو خدائے تعالیٰ نے چاہا کہ نفسانی قویٰ کو پوشیدہ کاروائیوں کا موقع بھی نہ ملے، اور ایسی کوئی بھی تقریب پیش نہ آئے جس سے بدخطرات جنبش کرسکیں۔

اسلامی پردہ کی یہی فلاسفی اور یہی ہدایت شرعی ہے خدا کی کتاب میں پردہ سے یہ مراد نہیں کہ فقط عورتوں کو قیدیوں کی طرح حراست میں رکھا جائے ...... اور ہر ایک پرہیزگار جو اپنے دل کو پاک رکھنا چاہتا ہے اس کو نہ چاہئے کہ حیوانوں کی طرح جس طرف چاہے بے محابا نظر اٹھاکر دیکھ لیا کرے۔‘‘

(اسلامی اصولوں کی فلاسفی ص:۳۰، روحانی خزائن ج:۱۰ ص:۳۴۴)

حضرت مولانا تھانویؒ نے ’’احکام اسلام عقل کی نظر میں‘‘ کے صفحہ: ۱۶۹ پر ’’اسرارِ شریعت‘‘ سے اقتباس لیتے ہوئے خط کشیدہ سطور نہیں لیں، اور آگے یہاں سے مضمون لے لیا ہے:

’’اور ہر ایک پرہیزگار جو اپنے دل کو پاک رکھنا چاہتا ہے ...... الخ۔‘‘

210

اب ایمن زئی صاحب کی ہوشیاری دیکھئے، آپ نے ’’کمالاتِ اشرفیہ‘‘ کے صفحہ:۳۱ پر یہ بات ثابت کرنے کے لئے کہ مولانا تھانویؒ اور مرزا صاحب کی عبارت ہوبہو ایک ہیں، مرزا صاحب کی عبارت نقل کرتے ہوئے، یہ چھ سطریں حذف کردی ہیں، اپنے مدعا کو ثابت کرنے کے لئے اس قسم کی کتربیونت کیا کسی خدا پرست کو زیب دیتی ہے؟ اس بحث میں مرزا غلام احمد کی اس عبارت پر غور کریں:

’’ان آیات میں خدا تعالیٰ نے خلق احصان یعنی عفت کے حاصل کرنے کے لئے صرف اعلیٰ تعلیم ہی نہیں فرمائی، بلکہ اپنے تئیں پاکدامن رکھنے کے لئے پانچ علاج بھی بتلا دیئے۔‘‘

(اسلامی اصولوں کی فلاسفی ص:۳۰)

یہاں ’’اپنے تئیں‘‘ سے ’’خدا کی ذات‘‘ مراد نہیں تو اور کیا ہے؟ ظاہر ہے کہ اللہ تعالیٰ کو اپنے تئیں پاکدامن رکھنے کے لئے کیا کسی علاج کی ضرورت ہے؟ سو اصل عبارت وہی ہوگی جو ’’اسرارِ شریعت‘‘ کی ہے:

’’ان آیات میں خدا تعالیٰ نے احصان یعنی عفت حاصل کرنے کے لئے صرف اعلیٰ تعلیم ہی نہیں فرمائی، بلکہ انسان کو پاکدامن رہنے کے لئے پانچ علاج بھی بتلادئیے۔‘‘

(اسرارِ شریعت ج:۲ ص:۲۴۶)

ان دونوں عبارتوں کو پھر سے دیکھو اور یہ معلوم کرو کہ اصل عبارت اور صحیح بات کون سی ہوگی؟ اور کس نے بات کو بگاڑا ہوگا؟

اس بات سے ایمن زئی صاحب بے خبر نہ تھے، آپ نے ’’کمالاتِ اشرفیہ‘‘ کے صفحہ:۲۹ پر مرزا غلام احمد کی عبارت نقل کرتے ہوئے یہ ’’اپنے تئیں‘‘ کے الفاظ ’’اسرارِ شریعت‘‘ کے الفاظ سے بدل دئیے ہیں، اصلاح بُری بات نہیں، لیکن اس عبارت کو مرزا غلام احمد کے نام سے پیش کرنا، اگر خیانت نہیں تو اور کیا ہے؟فاعتبروا یا اولی الأبصار!

211

نکاح و طلاق کا فلسفہ:

ایمن زئی صاحب ’’کمالاتِ اشرفیہ‘‘ کے صفحہ:۳۳ پر لکھتے ہیں:

’’مرزا صاحب اپنی کتاب آریہ دھرم میں نکاح اور طلاق کی حکمتوں پر بحث کرچکے تھے، حضرت تھانویؒ نے اس کتاب کا مطالعہ کیا اور اس سے استفادہ کیا۔‘‘

اب آئیے اس باب میں بھی ’’اسرارِ شریعت‘‘ اور ’’آریہ دھرم‘‘ کا تقابلی مطالعہ کریں، ’’اسرارِ شریعت‘‘ میں ہے:

’’واضح ہو مسلمانوں میں نکاح ایک معاہدہ ہے، جس میں مرد کی طرف سے مہر اور تعہد نان ونفقہ اور اسلام اور حسن معاشرت شرط ہے، اور عورت کی طرف سے عفت اور پاکدامنی اور نیک چلنی اور فرمانبرداری شرائط ضروریہ میں سے ہے، اور جیسا کہ دوسرے معاہدے شرائط کے ٹوٹ جانے سے قابل فسخ ہوجاتے ہیں، ایسا ہی یہ معاہدہ بھی شرطوں کے ٹوٹنے کے بعد قابل فسخ ہوجاتا ہے، کیونکہ وہ جسم تو اسی وقت سے تیرا جسم نہیں رہا جبکہ تو نے اسے کاٹ کر پھینک دیا۔‘‘

(اسرارِ شریعت ج:۲ ص:۱۸۷، ۱۸۸)

جبکہ مرزا صاحب لکھتے ہیں:

’’مسلمانوں میں نکاح ایک معاہدہ ہے جس میں مرد کی طرف سے مہر اور تعہد نان و نفقہ اور اسلام اور حسن معاشرت شرط ہے، اور عورت کی طرف سے عفت اور پاکدامنی اور نیک چلنی اور فرمانبرداری شرائط ضروریہ میں سے ہے، اور جیسا کہ دوسرے تمام معاہدے شرائط کے ٹوٹ جانے سے قابل فسخ ہوجاتے ہیں، ایسا ہی یہ معاہدہ بھی شرطوں کے ٹوٹنے کے بعد قابل فسخ ہوجاتا ہے ......۔

212

کیونکہ وہ جسم تو اسی وقت سے تیرا جسم نہیں رہا جبکہ تو نے اس کو کاٹ کر پھینک دیا۔‘‘

(آریہ دھرم ص:۳۴،۳۵ مطبوعہ ۱۹۰۳ء، روحانی خزائن ج:۱۰ ص:۳۷، ۳۹)

’’اسرارِ شریعت‘‘ کی اس عبارت اور ’’آریہ دھرم‘‘ کی اس عبارت میں لفظ ’’ہم‘‘ کا فرق ہے، دونوں کتابوں میں اس جملہ کو لیجئے:

’’مطلقہ کی حرکات سے شخص طلاق دہندہ پر کوئی بداثر نہیں پہونچتا یا دوسرے لفظوں میں یوں کہہ سکتے ہیں کہ ایک عورت کسی کی منکوحہ ہوکر ...۔۔ الخ۔‘‘

(اسرارِ شریعت ج:۲ ص:۱۸۸)

’’مطلقہ کی حرکات سے شخص طلاق دہندہ پر کوئی بداثر نہیں پہنچتا یا دوسرے لفظوں میں ہم یوں کہہ سکتے ہیں ...۔۔ الخ۔‘‘

(آریہ دھرم ص:۳۳، روحانی خزائن ج:۱۰ ص:۳۸)

دونوں عبارتوں میں ’’ہم‘‘ کا لفظ فارق ہے، اسی طرح ’’اسرارِ شریعت‘‘ کی عبارت ’’واضح ہو‘‘ کے لفظ سے شروع ہوتی ہے، جبکہ ’’آریہ دھرم‘‘ کی یہ عبارت اس سے شروع نہیں ہوتی۔

اب آئیے دیکھیں کہ حضرت تھانویؒ کی عبارت میں ’’واضح ہو‘‘ اور ’’ہم‘‘ کے الفاظ ہیں یا نہیں؟ اگر ہیں تو انہوں نے یہ عبارت ’’اسرارِ شریعت‘‘ سے لی ہے، ورنہ ’’آریہ دھرم‘‘ سے۔

’’احکام اسلام عقل کی نظر میں‘‘ میں یہ عبارت صفحہ:۱۵۷ سے شروع ہوکر صفحہ:۱۵۸ تک چلی گئی ہے، یہاں شروع میں ’’واضح ہو‘‘ کے الفاظ بھی موجود ہیں، اور درمیان عبارت میں ’’ہم‘‘ کا لفظ بھی نہیں، جو مرزا صاحب کی عبارت میں تھا۔

سو ایمن زئی صاحب کا یہ دعویٰ کہ حضرت تھانویؒ نے ’’آریہ دھرم‘‘ سے ہی یہ اقتباس لیا ہے، کسی طرح بھی لائق پذیرائی نہیں، اور حضرت تھانویؒ پر یہ ایک بہتان ہے۔

نوٹ:...مرزا غلام احمد قادیانی نے حسب دعویٰ خویش یہ مضمون ایک ہندو عورت

213

رام دئی سے لیا ہے، ’’آریہ دھرم‘‘ صفحہ:۳۴ پر لکھتے ہیں:

’’پھر رام دئی نے پنڈت کو مخاطب کرکے یہ بھی کہا کہ یہ جو تو نے کہا کہ آریوں میں نیوگ ایسا ہے جیسا کہ مسلمانوں میں طلاق، اس سے معلوم ہوا کہ تم اس گند کو کسی طرح چھوڑنا نہیں چاہتے ...۔۔ بھلا پنڈت جی طلاق کو نیوگ سے کیا مناسبت اور نیوگ کو طلاق سے کیا نسبت، مسلمان ہمارے پڑوسی ہیں اور اس بات کو ہم خوب جانتے ہیں کہ مسلمانوں میں نکاح ایک معاہدہ ہے جس میں مرد کی طرف سے مہر اور تعہد نان و نفقہ اور اسلام اور حسن معاشرت شرط ہے۔‘‘

(آریہ دھرم ص:۳۲، روحانی خزائن ج:۱۰ ص:۳۷)

مرزا غلام احمد نے یہ قرآنی معارف رام دئی سے لئے ہیں، یہ اس وقت زیر بحث نہیں، لیکن ایک عام مطالعہ کنندہ یہاں یہ سوال اٹھائے بغیر نہیں رہ سکتا کہ ادھر بات تو طلاق یا نیوگ کی ہو رہی تھی اور وہی زیر بحث تھے، مرزا صاحب یہ نکاح کی بحث یہاں کہاں سے لے آئے؟ دونوں مضمونوں میں کوئی قریب کا ربط نہیں، سیاقِ مضمون صاف بتارہا ہے کہ یہ عبارت کسی اور جگہ کی تھی جو مرزا صاحب نے خوامخواہ رام دئی کے الفاظ سے یہاں جڑ دی ہے، ’’اسرارِ شریعت‘‘ میں جہاں یہ مضمون شروع ہوتا ہے کہ: ’’مسلمانوں میں نکاح ایک معاہدہ ہے ...۔۔ الخ۔‘‘ وہاں اس سے پہلے ’’واضح ہو‘‘ کے الفاظ موجود ہیں، اور صاف معلوم ہوتا ہے کہ یہ عبارت اصلاً یہیں کی تھی جو مسودے سے لے کر ’’آریہ دھرم‘‘ میں نقل کردی گئی ہے۔

روح کا قبر سے تعلق:

عبداللہ ایمن زئی نے ’’کمالاتِ اشرفیہ‘‘ میں اس عنوان پر بھی مرزا صاحب اور حضرت تھانویؒ کی عبارات نقل کی ہیں، ہم اس سلسلہ میں بھی ’’اسرارِ شریعت‘‘ سے عبارت نقل کرتے ہیں، مؤلف نے جلد:۳ صفحہ:۴۲۶ پر یہ سرخی قائم کی ہے: ’’قبور سے تعلق

214

ارواح کی حقیقت‘‘ ہم اس مضمون کی آخری بحث یہاں نقل کرتے ہیں اور اس کے مقابل مرزا صاحب کی عبارت پیش کرتے ہیں:

’’ہم اپنے ذاتی تجربہ سے گواہ ہیں کہ روح کا تعلق قبر کے ساتھ ضرور ہوتا ہے، انسان میت سے کلام کرسکتا ہے، روح کا تعلق آسمان سے بھی ہوتا ہے، جہاں اس کے لئے ایک مقام ملتا ہے۔‘‘

(اسرارِ شریعت ج:۳ ص:۴۲۹)

’’ہم اپنے ذاتی تجربہ سے گواہ ہیں کہ روح کا تعلق قبر کے ساتھ ضرور ہوتا ہے، انسان میت سے کلام کرسکتا ہے، روح کا تعلق آسمان سے بھی ہوتا ہے، جہاں اس کے لئے ایک مقام ملتا ہے۔‘‘

(آریہ رھرم ص:۳)

ایمن زئی صاحب نے صفحہ:۳۸ سے لے کر صفحہ:۴۳ تک مرزا صاحب اور حضرت تھانویؒ کی عبارات ایک دوسرے کے سامنے درج کی ہیں، ہم بھی مرزا صاحب کی ان عبارات کو ’’اسرارِ شریعت‘‘ کے بالمقابل درج کرسکتے ہیں، لیکن بات طویل ہونے کا اندیشہ ہے، ’’اسرارِ شریعت‘‘ میں یہ عبارات صفحہ:۴۲۶ سے صفحہ:۴۲۹ تک پھیلی ہوئی ہیں، اور یہ وہی عبارتیں ہیں جو ایمن زئی صاحب نے مرزا غلام احمد کے نام سے نقل کرکے حضرت تھانویؒ کو ان سے استفادہ کرنے والا بتایا ہے۔

ہم دونوں کتابوں سے ایک دو جملے نقل کردیتے ہیں:

’’دو جداگانہ مزوں سے معلوم ہوجائے گا کہ یہ نمک ہے اور وہ مصری، پس اگر حس لسان ہی نہیں تو نمکین اور شیریں کا فیصلہ کوئی کیا کرے گا۔‘‘

(اسرارِ شریعت ج:۳ ص:۴۲۸)

اب مرزا غلام احمد کی عبارت بھی دیکھئے:

’’دو جداگانہ مزوں سے معلوم ہوجائے گا کہ یہ نمک ہے اور وہ مصری، لیکن اگر حس لسان ہی نہیں تو نمکین اور شیریں کا فیصلہ

215

کوئی کرے گا۔‘‘

(الحکم ۲۳؍جنوری)

پھر یہ فرق بھی ملحوظ رہے:

’’غرض روح کا تعلق قبر کے ساتھ ضرور ہوتا ہے۔‘‘

(اسرارِ شریعت ج:۳ ص:۴۲۹)

’’روح کا تعلق قبر کے ساتھ ضرور ہوتا ہے۔‘‘

(از مرزا غلام احمد، کمالاتِ اشرفیہ ص:۴۴)

اب آئیے دیکھیں کہ حضرت تھانویؒ کی عبارت میں لفظ ’’پس‘‘ ہے، یا ’’لیکن‘‘ اور آخری عبارت کے شروع میں ’’غرض‘‘ کا لفظ ہے یا نہیں؟

’’احکام اسلام عقل کی روشنی میں‘‘ کے صفحہ:۲۶۴ پر پہلا جملہ یوں ہے:

’’پس اگر کسی میں حس لسانی ہی نہیں تو نمکین اور شیریں کا وہ کیا فیصلہ کرے گا۔‘‘

اسی طرح آخری عبارت میں بھی لفظ ’’غرض‘‘ موجود ہے، جو بتارہا ہے کہ حضرت تھانویؒ کے سامنے ’’اسرارِ شریعت‘‘ تھی نہ کہ مرزا غلام احمد کی کوئی کتاب۔ رہی یہ بات کہ پھر اس آخری عبارت کے شروع میں جو جملہ ہے کہ: ’’ہم اپنے ذاتی تجربہ سے گواہ ہیں۔‘‘ اس کا مطلب کیا ہوگا؟ یہ تو مرزا صاحب کی بات معلوم ہوئی جو الہامات کے مدعی تھے، کیا مولوی محمد فضل خاں بھی اس قسم کے تجربات کے مدعی تھے؟

جواباً عرض ہے: ہاں! مولوی فضل محمد خاں بھی بے شک اس قسم کے تجربات کے مدعی تھے، ایک مقام پر لکھتے ہیں:

’’بین النوم والیقظہ مجھ پر ایک حالت طاری ہوئی جس کو میری روح اور جسم دونوں نے یکساں محسوس کیا اور مجھے معلوم ہوا کہ حشر اجسام ضرور ہوگا۔‘‘

(اسرارِ شریعت ج:۳ ص:۴۹۰)

’’۱۳۲۸ھ کی شب کو میں نے رؤیا دیکھا ...۔۔ آدمیوں کی شکل میں ملائکہ بھی کھڑے ہوئے دیکھے اور میرے خیال میں آیا کہ

216

وہ قضا و قدر کے ملائکہ ہیں ...۔۔الخ۔‘‘

(اسرارِ شریعت ج:۲ ص:۱۵۳)

کیا اب بھی کوئی عاقل شخص اس فقرے کو کہ: ’’ہم اپنے ذاتی تجربہ سے گواہ ہیں۔‘‘ مرزا صاحب کے ساتھ خاص کرسکے گا؟ حقیقت حال آپ کے سامنے آچکی، اب اس میں ایمن زئی صاحب کا تبصرہ بھی سنئے:

’’یہاں تک حضرت تھانویؒ نے مرزا صاحب کی عبارتیں بلاتکلف نقل فرمادیں، مگر اس کے بعد مرزا صاحب نے ایک جملہ لکھا تھا وہ حذف کردیا، یہ جملہ اس طرح تھا:

’’ہم اپنے ذاتی تجربہ سے گواہ ہیں کہ روح کا تعلق قبر کے ساتھ ضرور ہوتا ہے۔‘‘

اس مقام پر پہنچ کر حضرت تھانویؒ کی دیانت داری اور راست بازی کا اعتراف کرنا پڑتا ہے کہ انہوں نے یہ الفاظ چھوڑدئیے، کیونکہ انہیں اس قسم کا دعویٰ نہ تھا، اور نہ وہ کشف قبور کے معاملے میں صاحب تجربہ تھے، انہوں نے ایک غلط دعویٰ کرکے اپنے دامن صداقت کو داغدار کرنے سے محفوظ رکھا۔‘‘

(کمالاتِ اشرفیہ ص:۴۴)

ہم نے جب یہ ’’ذاتی تجربہ‘‘ رکھنے والی عبارت ’’اسرارِ شریعت‘‘ جلد:۳ صفحہ:۴۲۹ سطر:۸ میں دیکھی تو مرزا غلام احمد کے اس قسم کے تجربات کا دعویٰ اور زیادہ کمزور نظر آیا، ہم نے بار بار سوچا کہ مرزا صاحب اسے اپنا ذاتی تجربہ کیسے کہہ رہے ہیں؟ کیا وہ پہلے کبھی مرے تھے، اور ان کی روح کا تعلق ان کی قبر سے قائم ہوا ہوگا؟ ان کا کوئی اندھا معتقد اس بات کو مان لے تو مان لے، لیکن ہم پورے یقین سے کہہ سکتے ہیں کہ وہ اس تحریر سے پہلے کبھی مرے تھے اور نہ ان کی روح کا ان کی قبر سے کوئی ایسا تعلق قائم ہوا تھا، جس کی گواہی وہ اپنے ذاتی تجربہ سے دے رہے ہیں۔

اس پر ہمیں مرزا صاحب کا ایک ایسا تجربہ یاد آیا، اسے بھی ملاحظہ کیجئے، مرزا

217

صاحب لکھتے ہیں:

’’راقم کو تجربہ ہے کہ اکثر پلید طبع اور سخت گندے اور ناپاک اور بے شرم اور خدا سے نہ ڈرنے والے اور حرام کھانے والے فاسق و فاجر بھی سچی خوابیں دیکھ لیتے ہیں۔‘‘

(تحفہ گولڑویہ ص:۴۸)

مرزا صاحب اسے اپنا تجربہ کیسے کہہ رہے ہیں؟ کیا وہ واقعی ان صفات کے حامل تھے جو انہوں نے ذکر کی ہیں؟ مرزا صاحب کو اگر یہ دعویٰ تھا کہ وہ سچی خوابیں دیکھتے ہیں، تو کیا وہ اس تمہید کے بغیر یہ دعویٰ نہ کرسکتے تھے؟ ان کی سیرت لوگوں کے سامنے کیا ایسی ہی تھی کہ اس کے بغیر کوئی ان کے اس دعوے کو سننے کے لئے تیار نہ تھا؟

یہ تجربہ کہ روح کا تعلق قبر کے ساتھ ضرور ہوتا ہے، مولوی محمد فضل خاں کا تھا، انہوں نے ’’اسرارِ شریعت‘‘ میں اسے اس طرح بیان کیا ہے:

’’بین النوم والیقظہ مجھ پر ایک حالت طاری ہوئی، جس کو میری روح اور جسم دونوں نے یکساں قبول کیا اور مجھے معلوم ہوا کہ حشر اجسام ضرور ہوگا، اور قبر و حشر میں عذاب و ثواب روح و جسم دونوں پر وارد ہوگا۔‘‘

(اسرارِ شریعت ج:۳ ص:۴۹۰)

مرزا غلام احمد کے پورے لٹریچر میں ان کا کوئی اس قسم کا تجربہ یا مشاہدہ مذکور نہیں، سو یہ بات اصل میں مولوی محمد فضل خاں صاحب کی تھی، حضرت تھانویؒ نے اگر اس جملہ کو حذف کیا ہے تو ’’اسرارِ شریعت‘‘ کی عبارت سے حذف کیا ہے، نہ کہ مرزا غلام احمد کی عبارت سے، اور یہ بات آفتاب نیمروز کی طرح روشن ہے کہ حضرت تھانویؒ نے یہ مضامین زیر بحث ’’اسرارِ شریعت‘‘ سے لئے ہیں، نہ کہ مرزا غلام احمد کی کتابوں سے۔ اور یہ بات حضرت تھانویؒ اپنی کتاب کے مقدمہ میں لکھ چکے ہیں کہ انہوں نے:

’’یہ مضامین ایک کتاب سے لئے ہیں، جو تمام تر رطب و یابس اور غث و سمین سے پر ہے ...... احقر نے غایت بے تعصبی سے

218

اس میں سے بہت سے مضامین کتاب مذکورہ بالا سے بھی جو کہ موصوف بصحت تھے لے لئے ہیں۔‘‘

(احکام اسلام عقل کی روشنی میں ص:۱۴)

قادیانی حضرات اگر شروع سے ہی اس کتاب کی طرف رجوع کرتے اور حضرت تھانویؒ کی اس بات پر یقین کرتے کہ یہ مضامین انہوں نے واقعی ایک ایسی کتاب سے لئے ہیں تو یہ بات اتنا طول نہ پکڑتی، نہ عبداللہ ایمن زئی صاحب کو ’’کمالاتِ اشرفیہ‘‘ لکھنی پڑتی، مگر افسوس کہ دوست محمد قادیانی اور ان کے دوسرے مضمون نگاروں نے حضرت تھانویؒ کی عبارات ان کے مقدمہ میں دئیے گئے اس حوالے کے بغیر نقل کرکے مسلمانوں کو نہیں خود اپنے آدمیوں کو بھی ایک بڑا مغالطہ دیا ہے، ایمن زئی صاحب نے اسے ’’مذہبی دنیا میں ایک زلزلہ‘‘ کہا اور اسے ’’عقل گم کردینے والے انکشافات‘‘ قرار دیا، اور یہ نہ سوچا کہ حکیم الامت حضرت مولانا محمد اشرف علی تھانویؒ جیسا جلیل القدر اور ثقہ عالم جو کروڑوں مسلمانوں کا مرشد اور روحانی پیشوا ہو، وہ مرزا غلام احمد کی کتابوں سے کس طرح ان اقتباسات کو لے سکتا تھا...؟

ہم نے ہفت روزہ ’’خدام الدین‘‘ لاہور کی ۲۹؍جولائی ۱۹۸۳ء کی اشاعت میں قادیانیوں کی اس خیانت پر نوٹس لیا اور دوست محمد شاہد اور ان کے دوسرے رفقا سے مطالبہ کرتے رہے کہ وہ اپنی اس جلی خیانت کی برسرعام معافی مانگیں، مگر افسوس کہ انہوں نے حقیقت حال کا نہ اعتراف کیا اور نہ اپنے اس الزام سے رجوع کیا کہ حضرت تھانویؒ نے یہ اقتباسات مرزا غلام احمد کی کتابوں سے ہی لئے ہیں۔ (معاذاللہ)

حوالہ دینے کی اُصولی ذمہ داری:

حضرت مولانا تھانویؒ نے یہ صراحت کی کہ انہوں نے بعض مضامین ایک کتاب سے لئے ہیں، محض اس لئے کہ وہ دوسروں کے الفاظ کو اپنی طرف منسوب کرنا پسند نہ کرتے تھے، اور یہ بات بھی ان کے پیش نظر ہوگی کہ کوئی شخص ان پر سرقہ کا الزام نہ لگائے، لیکن آپ

219

نے جو اس مصنف (مولوی محمد فضل خاں) کا نام نہیں لیا، اس کا مقصد محض اسے مزید رسوائی سے بچانا تھا، اس پر بعض دوسرے حلقوں نے سوال اٹھایا کہ اصولی طور پر کس قدر حوالہ دینا ضروری ہوتا ہے؟ کیا یہ ضروری ہے کہ حوالہ پوری تفصیل سے دیا جائے؟

جواباً گزارش ہے کہ مصنف کا نام بتانا صرف افضل ہے، کسی درجہ میں ضروری نہیں، جامع ازہر کے کلیہ اصول الدین کے استاذ عبدالوہاب عبداللطیف جنہوں نے ’’تدریب الراوی‘‘ پر تحقیق کا کام کیا ہے، ایک مقام پر لکھتے ہیں:

’’قال الشوکانی ودأب المصنفین الأخذ من کتب من سبقھم، نعم الأفضل ان یعزو القول لصاحبہ۔‘‘

ترجمہ:...’’مصنّفین کا عام دستور سلف کی کتابوں سے استفادہ کا ہے، البتہ بہتر یہی ہے کہ ہر قول کی نسبت اصل قائل کی طرف جائے۔‘‘

امام سیوطیؒ نے اس موضوع پر ایک رسالہ بھی لکھا ہے، جس کا نام ’’الفارق بین المؤلف والسارق‘‘ ہے، اپنی عبارت میں پہلی عبارت سے تھوڑا سا فرق بھی آجائے تو علماء اسے پہلوں کی طرف منسوب نہیں کرتے، امام سیوطیؒ جو اجتہاد و مقید کے درجہ پر پہنچے ہوئے تھے، علامہ زین الدین العراقی، علامہ زرکشی، شیخ بلقینی کی عبارات ’’تدریب الراوی‘‘ میں لاتے ہیں اور ایسا بھی ہوتا ہے کہ وہ حوالہ نہیں دیتے اور پہلے اجمالی حوالوں پر ہی اکتفا کرلی جاتی ہے۔

الاستاذ عبدالوہاب ایک مقام پر لکھتے ہیں:

’’وتری ایضًا فی تدریب الراوی فانہ یلخص فیہ بعض عبارات الزین العراقی والزرکشی والبلقینی وتارۃ لَا یعزو وذالک الی احد منھم لعدمہ اخذہ بالنص۔‘‘

(مقدمہ تدریب الراوی ص:۲۲)

ترجمہ:...’’تدریب الراوی میں علامہ عراقی، زرکشی اور

220

بلقینی کی عبارات کی تلخیص نظر آئے گی، اور بعض اوقات علامہ سیوطیؒ اس کی تصریح بھی نہیں فرماتے۔‘‘

ان تفصیلات کی روشنی میں اہل علم پر مخفی نہیں کہ حوالہ جس درجہ میں دیا جائے، اس کا احترام ضروری ہے، حضرت تھانویؒ نے جو اجمالی حوالہ دیا ہے، وہ کافی ہے، اور اسے کلیتاً چھپاکر اخذ و اقتباس اور سرقہ و اختلاس کی بحثیں کرنا اہل علم کا طریق نہیں۔وفیہ کفایۃ لمن کان لہ درایۃ!

(بشکریہ ماہنامہ ’’الخیر‘‘ ملتان)

221

مسیحِ قادیان اور اس کے حواری

بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ

اَلْحَمْدُللہِ وَسَلَامٌ عَلٰی عِبَادِہِ الَّذِیْنَ اصْطَفٰی!

’’درخت اپنے پھل سے پہچانا جاتا ہے‘‘ یہ ایک خدا کے صادق نبی کا قول ہے، اور درحقیقت ایک بہت سچی بات ہے۔

اگر ایک شخص خود راستی پر نہیں بلکہ وہ کذّاب اور مفتری ہے، اور اس میں خود قوّتِ قدسی نہیں، بلکہ وہ ایک گمراہ کندہ آدمی ہے، جو مکر وفریب سے لوگوں کا مال کھاتا ہے، اور خدا پر گند کے اِفترا پر منہ مارتا ہے، تو وہ دُوسروں میں راستی کی رُوح کیونکر پھونک سکتا ہے؟ اور ان کو گندؤں سے کیونکر پاک کرسکے گا؟

مرزا صاحب کی صداقت یا غیرصداقت پرکھنے کے لئے آسان نسخہ یہی راہ ہے کہ جس جماعت کو وہ تیار کرکے چھوڑ گئے ہیں، اس جماعت کو دیکھ لو کہ اس کی کیا حالت ہے؟‘‘

(مصنفہ مسٹر محمد علی ایم اے، مندرجہ ریویو آف ریلیجنز قادیان جون، جولائی ۱۹۰۸ء)

یہ مرزا غلام احمد قادیانی کے جاںنثار صحابی اور اَمیر جماعتِ احمدیہ لاہور مسٹر محمد علی ایم اے کے الفاظ ہیں۔ ’’ریویو آف ریلیجنز قادیان‘‘ جناب مرزا صاحب نے ۱۹۰۱ء میں جاری کیا تھا، اور مسٹر محمد علی کو اس کا ایڈیٹر مقرّر کیا گیا تھا۔ ۲۶؍مئی ۱۹۰۸ء کو مرزا صاحب اس عالمِ مکر وفریب سے رُخصت ہوئے تو چونکہ ان کے بہت سے اِلہامی خواب تشنۂ تعبیر تھے، بہت سے دعوے محض دعوے تھے، بہت سے مقاصد نامکمل تھے ...اور آج ایک صدی

222

بعد بھی اس صورتِ حال میں کوئی تبدیلی واقع نہیں ہوئی... اس لئے قادیانی اُمت کو جوابدہی کی ضرورت محسوس ہوئی، چنانچہ مرزا صاحب کی وفات کے بعد جون، جولائی ۱۹۰۸ء کا جو ’’ریویو‘‘ نکلا تو اس کے بیشتر مضامین اس جوابدہی پر مشتمل تھے، حکیم نوردین صاحب، حکیم محمد احسن امروہوی اور مولوی محمد علی صاحب نے اپنے اپنے رنگ میں مرزا صاحب کی قبل ازوقت وفات پر تبصرہ کیا، اور ان اِعتراضات کو اُٹھانے کی کوشش کی جو مرزا صاحب کی وفات سے ان کی ذات پر وارِد ہوسکتے تھے۔ مندرجہ بالا اِقتباس ’’ریویو‘‘ کے اسی شمارے میں مندرج محمد علی ایم اے کے مضمون سے مأخوذ ہے، جس کا عنوان ہے: ’’حضرت مسیحِ موعود کے وصال پر چند مختصر نوٹ‘‘ (دیکھئے: جلد:۷ ص:۲۸۴)۔

مسٹر محمد علی صاحب نے مرزا صاحب کی صداقت کو پرکھنے کا جو آسان راستہ بتایا ہے، آج ہم اس پر چند قدم چل کر مرزا صاحب کی صداقت کا جائزہ لینا چاہتے ہیں۔ اس سلسلے میں وہ روایت بھی پیشِ نظر رکھنی چاہئے جو مرزا بشیر احمد صاحب ایم اے نے ’’سیرۃالمہدی‘‘ میں درج کی ہے، وہ لکھتے ہیں کہ ایک بار مسٹر محمد علی صاحب کا مرزا صاحب کے مقدس خسر جناب میر ناصر نواب صاحب سے کچھ اِختلاف ہوا تو میر صاحب نے مرزا صاحب سے شکایت کی۔ مسٹر محمد علی صاحب نے اس شکایت پر مرزا صاحب سے مؤدّبانہ اِحتجاج کیا، تو مرزا صاحب نے فرمایا کہ: میر صاحب نے کچھ کہا تو تھا مگر وہ اپنے خیال میں ایسے مستغرق تھے کہ انہیں کچھ خبر نہیں کہ میر صاحب نے کیا کہا تھا۔ اسی سلسلے میں مزید فرمایا:

’’چند دن سے ایک خیال میرے دِماغ میں اس زور کے ساتھ پیدا ہو رہا ہے کہ اس نے دُوسری باتوں سے مجھے بالکل محو کردیا ہے، بس ہر وقت اُٹھتے بیٹھتے وہی خیال میرے سامنے رہتا ہے، میں باہر لوگوں میں بیٹھا ہوتا ہوں اور کوئی شخص مجھ سے کوئی بات کرتا ہے تو اس وقت بھی میرے دِماغ میں وہی خیال چکر لگا رہا ہوتا ہے۔ وہ شخص سمجھتا ہوگا کہ میں اس کی بات سن رہا ہوں، مگر میں اپنے اس خیال میں محو ہوتا ہوں، جب میں گھر جاتا ہوں تو وہاں بھی وہی خیال

223

میرے ساتھ ہوتا ہے، غرض ان دِنوں یہ خیال اس زور کے ساتھ میرے دِماغ پر غلبہ پائے ہوئے ہے کہ کسی اور خیال کی گنجائش نہیں رہی، وہ خیال کیا ہے؟ وہ یہ ہے کہ میرے آنے کی اصل غرض یہ ہے کہ ایک ایسی جماعت تیار ہوجاوے جو سچی مؤمن ہو، اور خدا پر حقیقی اِیمان لائے، اور اس کے ساتھ حقیقی تعلق رکھے اور اِسلام کو اپنا شعار بنائے، اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے اُسوۂ حسنہ پر کاربند ہو، اور اِصلاح وتقویٰ کے رستے پر چلے، اور اَخلاق کا اعلیٰ نمونہ قائم کرے، تاپھر ایسی جماعت کے ذریعے دُنیا ہدایت پاوے اور خدا کا منشا پورا ہو۔ پس اگر یہ غرض پوری نہیں ہوتی تو اگر دلائل وبراہین سے ہم نے دُشمن پر غلبہ بھی پالیا، اور اس کو پوری طرح زیر بھی کرلیا تو پھر بھی ہماری فتح کوئی فتح نہیں، کیونکہ اگر ہماری بعثت کی اصل غرض پوری نہ ہوئی تو گویا ہمارا سارا کام رائیگاں گیا۔‘‘

(سیرۃالمہدی ج:۱ ص:۲۵۴)

مرزا صاحب کا اِرشاد کسی تشریح کا محتاج نہیں، ان کی بعثت کی اصل غرض ایک ایسی جماعت تیار کرنا تھی جو بقول ان کے اِیمان ویقین، زُہد وتقویٰ، اِخلاص وللہیت اور اَخلاق واعمال کا بلند ترین نمونہ ہو، ان کی بعثت کی یہ غرض اگر پوری نہ ہو، تو اگر بالفرض وہ ساری دُنیا کو بھی زیر کرلیں تب بھی یہ سمجھنا چاہئے کہ ان کا سارا کام فضول، ان کی ساری کوشش بے سود اور ان کے سارے دعاوی غلط ثابت ہوئے۔ اب صرف یہ دیکھنا باقی رہا کہ کیا مرزا صاحب ایسی جماعت تیار کرکے اپنی بعثت کی اصل غرض کی تکمیل کرگئے یا نہیں؟ اس نکتے پر غور کرنے کے لئے ہم قادیانی جماعت کی تاریخ کو تین اَدوار پر تقسیم کرتے ہیں، جنہیں قادیانی اُمت کے ’’خیرالقرون‘‘ کہنا چاہئے:

پہلا دور:... جناب مرزا صاحب کی زندگی میں جماعت کی حالت۔

دُوسرا دور:... حکیم نوردین کے زمانے میں جماعت کا نقشہ۔

تیسرا دور:... حکیم صاحب کے بعد جماعت کی کیفیت۔

224

دورِ اوّل:... قادیانی جماعت، مرزا غلام احمد کی زندگی میں:

مرزا غلام احمد قادیانی نے تقریباً ۱۸۸۰ء میں ملہم، مجدّد اور مأمور من اللہ کی حیثیت میں اپنی دعوت ودعاوی کا آغاز کیا، اور مختلف اِعلانات واِشتہارات کے ذریعے خلقِ خدا کو قادیان آنے کی دعوت دی، اور ۱۸۸۸ء میں باقاعدہ اَخذِ بیعت کا اور تعلیم وتلقین کا سلسلہ شروع کیا، اس کے دو برس بعد ۱۸۹۰ء میں انہوں نے مسیحِ موعود ہونے کا دعویٰ کیا۔

دعویٔ مسیحیت کے تین سال بعد ۱۸۹۳ء میں مرزا صاحب نے اپنی جماعت کے اَخلاق کی جو رپورٹ قلم بند کی، وہ ان کی کتاب ’’شہادۃ القرآن‘‘ (رُوحانی خزائن ج:۶ ص:۳۹۴) کے آخر میں ملحقہ ’’اِشتہار اِلتوائے جلسہ‘‘ میں محفوظ ہے، اس کے چند فقرے یہاں نقل کئے جاتے ہیں، جن سے مرزا صاحب کی تیرہ سالہ محنت کی ’’شاندار کامیابی‘‘ کا اندازہ آسانی سے ہوسکے گا۔

بدخوئی وکج خلقی:

مرزا صاحب لکھتے ہیں:

’’ہم افسوس سے لکھتے ہیں کہ چند ایسے وجوہ ہم کو پیش آئے جنہوں نے ہماری رائے کو اس طرف مائل کیا کہ اب کی دفعہ اس جلسے کو ملتوی رکھا جائے، اور چونکہ بعض لوگ تعجب کریں گے کہ اس اِلتوا کا موجب کیا ہے، لہٰذا بطورِ اِختصار کسی قدر ان وجوہ میں سے لکھا جاتا ہے:

اوّل یہ کہ اس جلسے سے مدعا اور مطلب یہ تھا کہ ہماری جماعت کے لوگ کسی طرح بار بار کی ملاقاتوں سے ایک ایسی تبدیلی اپنے اندر پیدا کرلیں کہ ان کے دِل آخرت کی طرف بکلی جھک جائیں، اور ان کے اندر خدا تعالیٰ کا خوف پیدا ہو۔ اور وہ زُہد اور تقویٰ اور خداترسی اور پرہیزگاری اور نرم دِلی اور باہم محبت اور

225

مواخات میں دُوسروں کے لئے ایک نمونہ بن جائیں، اور اِنکسار اور تواضع اور راست بازی ان میں پیدا ہو، اور دِینی مہمات کے لئے سرگرمی اِختیار کریں، لیکن اس پہلے جلسے کے بعد ایسا اثر نہیں دیکھا گیا، بلکہ خاص جلسے کے دنوں میں ہی بعض کی شکایت سنی گئی کہ وہ اپنے بعض بھائیوں کی بدخوئی سے شاکی ہیں، اور بعض اس مجمعِ کثیر میں اپنے اپنے آرام کے لئے دُوسرے لوگوں سے کج خلقی ظاہر کرتے ہیں، گویا وہ مجمع ہی ان کے لئے موجبِ اِبتلا ہوگیا۔ اور پھر میں دیکھتا ہوں کہ جلسے کے بعد کوئی بہت عمدہ اور نیک اثر اَب تک اس جماعت کے بعض لوگوں میں ظاہر نہیں ہوا، اور اس تجربے کے لئے یہ تقریب پیش آئی کہ ان دنوں سے آج تک ایک جماعتِ کثیر مہمانوں کی اس عاجز کے پاس بطورِ تبادل رہتی ہے، یعنی بعض آتے اور بعض جاتے ہیں، اور بعض وقت یہ جماعت سو سو مہمان تک بھی پہنچ گئی ہے، اور بعض وقت اس سے کم، لیکن اس اِجتماع میں بعض دفعہ بباعث تنگیٔ مکانات اور قلّتِ وسائلِ مہمان داری ایسے نالائق رنجش اور خودغرضی کی سخت گفتگو بعض مہمانوں میں باہم ہوتے دیکھی ہے کہ جیسے ریل میں بیٹھنے والے تنگیٔ مکان کی وجہ سے ایک دُوسرے سے لڑتے ہیں ...... سو ایسا ہی یہ اِجتماع بھی بعض اَخلاقی حالتوں کے بگاڑنے کا ایک ذریعہ معلوم ہوتا ہے۔‘‘

(مجموعہ اِشتہارات ج:۱ ص:۴۳۹، ۴۴۰)

چال چلن اور اَخلاق:

’’اور جب تک یہ معلوم نہ ہو، اور تجربہ شہادت نہ دے کہ اس جلسے سے دِینی فائدہ یہ ہے اور لوگوں کے چال چلن اور اَخلاق پر

226

اس کا یہ اثر ہے تب تک ایسا جلسہ صرف فضول ہی نہیں بلکہ اس علم کے بعد کہ اس اِجتماع سے نتائج نیک پیدا نہیں ہوتے، ایک معصیت اور طریقِ ضلالت اور بدعتِ شنیعہ ہے۔‘‘

(ایضاً ص:۴۴۱)

بھیڑیوں کی طرح:

’’اور اخی مکرم حضرت مولوی نورالدین صاحب سلّمہ تعالیٰ بارہا مجھ سے یہ تذکرہ کرچکے ہیں کہ ہماری جماعت کے اکثر لوگوں نے اب تک کوئی خاص اہلیت اور تہذیب اور پاک دِلی اور پرہیزگاری اور للّٰہی محبت باہم پیدا نہیں کی، سو میں دیکھتا ہوں کہ مولوی صاحب موصوف کا یہ مقولہ بالکل صحیح ہے۔ مجھے معلوم ہوا ہے کہ بعض حضرات جماعت میں داخل ہوکر اور اس عاجز سے بیعت کرکے اور عہد توبہ نصوح کرکے پھر بھی ویسے کج دِل ہیں کہ اپنی جماعت کے غریبوں کو بھیڑیوں کی طرح دیکھتے ہیں، وہ مارے تکبر کے سیدھے منہ سے السلام علیک نہیں کرسکتے۔ چہ جائیکہ خوش خلقی اور ہمدردی سے پیش آویں۔‘‘

(ایضاً)

سفلہ، خودغرض، گالیاں اور نفسانی بحثیں:

’’اور انہیں سفلہ اور خودغرض اس قدر دیکھتا ہوں کہ وہ ادنیٰ ادنیٰ خودغرضی کی بنا پر لڑتے اور ایک دُوسرے سے دست بدامن ہوتے ہیں، اور ناکارہ باتوں کی وجہ سے ایک دُوسرے پر حملہ ہوتا ہے، بلکہ بسااوقات گالیوں تک نوبت پہنچتی ہے، اور دِلوں میں کینے پیدا کرلیتے ہیں، اور کھانے پینے کی قسموں پر نفسانی بحثیں ہوتی ہیں۔‘‘

(ایضاً)

227

نفسانی لالچوں پر:

’’اگرچہ نجیب اور سعید بھی ہماری جماعت میں بہت، بلکہ یقینا دو سو سے زیادہ ہی ہیں ...... لیکن میں اس وقت کج دِل لوگوں کا ذِکر کرتا ہوں اور میں حیران ہوتا ہوں کہ خدایا یہ کیا حال ہے؟ یہ کونسی جماعت ہے جو میرے ساتھ ہے؟ نفسانی لالچوں پر کیوں ان کے دِل گرے جاتے ہیں؟ اور کیوں ایک بھائی دُوسرے بھائی کو ستاتا اور اس سے بلندی چاہتا ہے؟‘‘

(ایضاً ص:۴۴۱ تا ۴۴۲)

ایسی بے تہذیبی:

’’میں سچ سچ کہتا ہوں کہ انسان کا اِیمان ہرگز دُرست نہیں ہوسکتا جب تک اپنے آرام پر اپنے بھائی کا آرام حتی الوسع مقدم نہ ٹھہراوے ...... مگر میں دیکھتا ہوں کہ یہ باتیں ہماری جماعت کے بعض لوگوں میں نہیں، بلکہ بعض میں ایسی بے تہذیبی ہے کہ اگر ایک بھائی ضد سے اس کی چارپائی پر بیٹھا ہے تو وہ سختی سے اس کو اُٹھانا چاہتا ہے، اور اگر نہیں اُٹھتا تو چارپائی کو اُلٹ دیتا ہے، اور اس کو نیچے گرادیتا ہے، پھر دُوسرا بھی فرق نہیں کرتا اور وہ اس کو گندی گالیاں دیتا ہے اور تمام بخارات نکالتا ہے۔‘‘

(ایضاً)

ان سے درندے اچھے:

’’یہ حالات ہیں جو اس مجمع میں مشاہدہ کرتا ہوں، تب دِل کباب ہوتا اور جلتا ہے، اور بے اِختیار دِل میں یہ خواہش پیدا ہوتی ہے اگر میں درندوں میں رہوں تو ان بنی آدم سے اچھا ہے۔‘‘

(ایضاً)

میں تھک گیا:

’’میں کہتے کہتے ان باتوں کو تھک گیا کہ اگر تمہاری یہی

228

حالتیں ہیں تو پھر تم میں اور غیروں میں فرق ہی کیا ہے؟ لیکن یہ دِل کچھ ایسے ہیں کہ توجہ نہیں کرتے اور ان آنکھوں سے مجھے بینائی کی توقع نہیں، لیکن خدا اگر چاہے۔ اور میں تو ایسے لوگوں سے اس دُنیا اور آخرت میں بیزار ہوں، اگر میں صرف اکیلا کسی جنگل میں ہوتا تو میرے لئے ایسے لوگوں کی رفاقت سے بہتر تھا۔‘‘

(ایضاً ص:۴۴۴)

شوق پورا نہ ہوا:

’’میری جان اس شوق سے تڑپ رہی ہے کہ کبھی وہ بھی دن ہو کہ اپنی جماعت میں بکثرت ایسے لوگ دیکھوں جنہوں نے درحقیقت جھوٹ چھوڑ دیا اور ایک سچا عہد اپنے خدا سے کرلیا کہ وہ ہر ایک شر سے اپنے تئیں بچائیں گے اور تکبر سے جو تمام شرارتوں کی جڑ ہے بالکل دُور جاپڑیں گے اور اپنے رَبّ سے ڈرتے رہیں گے، مگر ابھی تک بجز خاص چند آدمیوں کے ایسی شکلیں مجھے نظر نہیں آتیں۔‘‘

(مجموعہ اِشتہارات ج:۱ ص:۴۴۵ طبع ربوہ)

یہ مرزا صاحب کی تیرہ سالہ محنت سے تیارکردہ جماعت کا وہ نقشہ تھا جو خود مرزا صاحب کے قلم نے مرتب کیا، اس کے ملاحظہ سے اندازہ کیا جاسکتا ہے کہ تیرہ برس تک مرزا صاحب کے دَمِ عیسوی کی تأثیر نے ان کے ہاتھ پر توبہ نصوح کرنے والوں میں کیا تبدیلی پیدا کی؟

اب مرزا صاحب کے آخری دور کی شہادت ملاحظہ فرمائیے ’’براہین احمدیہ‘‘ حصہ پنجم (رُوحانی خزائن ج:۲۱) ان کی آخری تصنیف ہے، جس سے فارغ ہونے کے چند دن بعد ان کا اِنتقال ہوگیا، اور کتاب ان کی وفات کے بعد چھپ سکی، اس میں مرزا صاحب نے اپنی جماعت کے بارے میں جو رائے ظاہر فرمائی ہے، وہ انہی کے الفاظ میں ہے:

229

جیسے کتا مردار کی طرف:

’’بیعت کے معنی بیچ دینے کے ہیں۔ پس جو شخص درحقیقت اپنی جان اور مال اور آبرو کو اس راہ میں بیچتا نہیں میں سچ سچ کہتا ہوں کہ وہ خدا کے نزدیک بیعت میں داخل نہیں، بلکہ میں دیکھتا ہوں کہ ابھی تک ظاہری بیعت کرنے والے بہت ایسے ہیں کہ نیک ظنی کا مادّہ بھی ہنوز ان میں کامل نہیں، اور ایک کمزور بچے کی طرح ہر ایک اِبتلا کے وقت ٹھوکر کھاتے ہیں، اور بعض بدقسمت ایسے ہیں کہ شریر لوگوں کی باتوں سے جلد متأثر ہوجاتے ہیں، اور بدگمانی کی طرف ایسے دوڑتے ہیں جیسے کتا مردار کی طرف، پس میں کیونکر کہوں کہ وہ حقیقی طور پر بیعت میں داخل ہیں۔ مجھے وقتاً فوقتاً ایسے آدمیوں کا علم بھی دِیا جاتا ہے، مگر اِذن نہیں دیا جاتا کہ ان کو مطلع کروں۔ کئی چھوٹے ہیں جو بڑے کئے جائیں گے، اور کئی بڑے ہیں جو چھوٹے کئے جائیں گے، پس مقامِ خوف ہے۔‘‘

(براہین احمدیہ حصہ پنجم ص:۸۷، رُوحانی خزائن ج:۲۱ ص:۱۱۴)

گویا قادیانی جماعت میں اَخلاقِ عالیہ تو کیا پیدا ہوتے، بقول مرزا صاحب کے ان میں نیک ظنی کا مادّہ بھی ان کی وفات تک کامل نہ ہوا، بلکہ وہ بدظنی کی طرف اس طرح دوڑتے ہیں جیسے کتا مردار کی طرف...!

جناب مرزا صاحب نے اپنی جماعت کی بدگمانی اور بدظنی کے جس مرض کی طرف اِشارہ کیا ہے، اس کا تعلق خود مرزا صاحب کی ذات سے تھا۔ قادیانی جماعت کے بہت سے افراد کو مرزا صاحب سے شکایت تھی کہ وہ قومی روپے میں اِسراف کرتے ہیں اور جو سرمایہ چندوں کی شکل میں جماعت کے خون پسینے کی کمائی سے ’’تبلیغِ اِسلام‘‘ کے لئے جمع کیا جاتا ہے، اسے مرزا صاحب ذاتی تعیش میں صَرف کرتے ہیں، مرزا صاحب کی جانب

230

سے اس شکایت کا جواب یہ تھا کہ انہیں جو کچھ ملتا ہے، خدا کی طرف سے ملتا ہے، لہٰذا کوئی شخص اس کے مصارف پر حرف گیری کا مجاز نہیں، البتہ جن لوگوں کو ان پر اِعتماد نہیں وہ آئندہ چندہ بند کردیں ...اور گزشتہ را صلوٰۃ کہیں... آپ ایک شخص کے خط کے جواب میں فرماتے ہیں:

’’میری نسبت آپ کے ...... کی جماعت کی طرف سے یہ پیغام پہنچایا تھا کہ روپیہ کے خرچ میں بہت اِسراف ہوتا ہے، آپ اپنے پاس روپیہ جمع نہ رکھیں اور یہ روپیہ ایک کمیٹی کے سپرد ہو جو حسبِ ضرورت خرچ کیا کریں، اور یہ بھی ذِکر تھا کہ اس روپیہ میں سے باغ کے چند خدمت گار بھی روٹیاں کھاتے ہیں، اور ایسا ہی اور کئی قسم کے اِسراف کی طرف اِشارہ تھا، جن کو میں سمجھتا ہوں آپ نے اپنی نیک نیتی سے جو کچھ لکھا بہتر لکھا، میں ضروری نہیں سمجھتا کہ اس کا رَدّ لکھوں (اور حقائق کو رَدّ کرنا ممکن بھی نہیں ...ناقل) میں آپ کو خدا تعالیٰ کی قسم دیتا ہوں جس کی قسم کو پورا کرنا مؤمن کا فرض ہے اور اس کی خلاف ورزی معصیت ہے کہ آپ ......۔ کی تمام جماعت کو اور خصوصاً ایسے صاحبوں کو جن کے دِلوں میں یہ اِعتراض پیدا ہوا ہے بہت صفائی سے اور کھول کر سمجھادیں کہ اس کے بعد ہم ......۔ کا چندہ بکلی بند کرتے ہیں۔ اور ان پر حرام ہے اور قطعاً حرام ہے اور مثل گوشت خنزیر ہے کہ ہمارے کسی سلسلے کی مدد کے لئے اپنی تمام زِندگی تک ایک حبہ بھی بھیجیں (اور جو کچھ اب تک وہ بھیج چکے ہیں اور مرزا صاحب اسے ذاتی مصارف پر خرچ کرچکے ہیں، اسے حلال، قطعاً حلال اور مثل شیرِمادر سمجھ کر درگزر کریں ...ناقل)۔ ایسا ہی ہر شخص جو ایسے اِعتراض دِل میں مخفی رکھتا ہے، اس کو بھی ہم یہی قسم دیتے ہیں۔

231

یہ کام خدا تعالیٰ کی طرف سے ہے اور جس طرح وہ میرے دِل میں ڈالتا ہے، خواہ وہ کام لوگوں کی نظر میں صحیح ہے یا غیرصحیح، دُرست ہے یا غلط، میں اسی طرح کرتا ہوں (لہٰذا اگر خدا تعالیٰ میرے دِل میں یہ ڈالے کہ اس روپیہ کو خانگی زیورات وملبوسات میں خرچ کیا جائے تو مجھے یہی کرنا ہوگا، خواہ وہ چندہ دینے والے اس کو غلط ہی سمجھیں ...ناقل)۔ پس جو شخص کچھ مدد دے کر مجھے اِسراف کا طعنہ دیتا ہے، وہ میرے پر حملہ کرتا ہے ایسا حملہ قابلِ برداشت نہیں (کیونکہ جب ایک شخص کو مأمور من اللہ سمجھ کر روپیہ دے دیا تو اس پر اِسراف کا طعنہ کیا؟ وہ اسے جہاں چاہے خرچ کرے ...ناقل) ...... پس اس کے بعد میں ایسے لوگوں کو ایک مرے ہوئے کیڑے کی طرح بھی نہیں سمجھتا جن کے دِلوں میں بدگمانیاں پیدا ہوتی ہیں ...... میں تاجر نہیں کہ کوئی حساب رکھوں، میں کسی کمیٹی کا خزانچی نہیں کہ کسی کو حساب دُوں۔‘‘

(ملفوظات ج:۷ ص:۳۲۵-۳۲۶ حاشیہ)

(ہفت روزہ ’’لولاک‘‘ فیصل آباد ۲۶؍اگست ۱۹۷۵ء)

232

معرکۂ لاہور و قادیان

مرزا غلام احمد قادیانی اور مسٹر محمد علی کے نظریات کا

تقابلی جائزہ

مرزائیوں کے لاہوری فرقہ کے امام جناب مسٹر محمد علی صاحب ایم اے اپنی مشہور تفسیر ’’بیان القرآن‘‘ میں آیت کریمہ:’’فَاخْتَلَفَ الْأَحْزَابُ مِنْ بَّیْنِھِمْ‘‘ کے تحت لکھتے ہیں:

’’احزاب یا فرقوں سے مراد عیسائیت کے مختلف فرقے ہیں۔ ان کے باہمی اختلافات حضرت عیسیٰ کے بارہ میں بہت ہیں اور ہر ایک عقیدۂ باطلہ کا یہی حال ہوتا ہے۔ مسلمانوں کے فرقوں اور عیسائیوں کے فرقوں میں کتنا فرق ہے کہ وہ سب فرقے حتیٰ کہ سنی اور شیعہ بھی رسول اللہ صلعم کے متعلق کوئی اختلاف ایسا نہیں رکھتے کہ آپ کا مرتبہ کیا تھا اور ان میں اصولی اختلاف کوئی نہیں مگر عیسائیوں کے تمام فرقوں میں ایک دوسرے سے اصولی اختلاف ہے اور کوئی دو فرقے اس پر اتفاق نہیں کرتے کہ حضرت عیسیٰ کو کیا کہیں اور ان لچر بحثوں سے دفتروں کے دفتر سیاہ ہوئے ہیں۔‘‘

(بیان القرآن ج:۲ ص:۱۲۱۶، ۸۶۰)

عیسائیت کے اصولی اختلاف کا جو بھیانک نقشہ مسٹر محمد علی نے کھینچا ہے، ٹھیک یہی حال مرزائیت کا (یا صحیح لفظوں میں جدید عیسائیت کا) ہوا۔ مرزائیت کئی فرقوں میں بٹی اور بقول مسٹر محمد علی ’’ان نئے عیسائیوں کے تمام فرقوں میں ایک دوسرے سے اصولی

233

اختلاف ہے، اور کوئی دو فرقے بھی اس پر اتفاق نہیں کرتے کہ مرزا غلام احمد قادیانی کیا ہیں اور ان لچر بحثوں سے دفتروں کے دفتر سیاہ ہوئے ہیں۔‘‘ لطف یہ کہ مرزائیوں کا یہ ’’اصولی اختلاف‘‘ خود مرزا غلام احمد آنجہانی کی زندگی میں رونما ہوچکا تھا۔ ایک مرزائی اگر ’’لَا نفرق بین احد من رسلہ‘‘ کی آیت پڑھ کر مرزا آنجہانی کی نبوّت کا اعلان برسر منبر کرتا تو دوسرا مرزائی اس کا گریبان پکڑ لیتا۔

دراصل مرزائیت کے اس ’’اصولی اختلاف‘‘ کی ذمہ داری مرزائیوں سے زیادہ مرزا آنجہانی پر عائد ہوتی ہے، موصوف نے موقع محل سے فائدہ اٹھاکر اتنے متناقض دعوے کر ڈالے کہ مرزا کی اصل حیثیت خود اس کی اُمت پر مشتبہ ہوکر رہ گئی اور ان کے لئے مرزا کے تمام متخالف اقوال اور دعوؤں کو ساتھ لے کر چلنا نہ صرف مشکل بلکہ ناممکن ہوگیا۔ بالآخر مرزا محمود صاحب نے اس تناقض سے عہدہ برآ ہونے کی یہ ترکیب نکالی کہ اپنے ابا کی ۱۹۰۱ء یا ۱۹۰۲ء سے قبل کی تمام تصریحات کو بیک جنبش قلم منسوخ کرڈالا اور کھل کر اعلان کردیا کہ حضرت صاحب کی ۱۹۰۱ء یا ۱۹۰۲ء سے قبل کی عبارتیں منسوخ ہیں، اور ان سے حجت پکڑنا غلط ہے۔

(حقیقۃ النبوۃ ملخصاً ص:۵۵)

ادھر لاہور پارٹی کے امیر جناب مسٹر محمد علی نے تاویل کے ڈنڈے سے مرزا آنجہانی کے متناقض دعاوی کے جنّ کو محدثیت کی بوتل میں بند کرنا چاہا۔ اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ وہ مرزا آنجہانی پر ایسی شدید تنقیدیں کرگئے کہ مرزائی نبوّت خود مرزائیوں کے نزدیک ایک گالی بن کر رہ گئی۔ ذیل میں مرزا غلام احمد قادیانی کے نظریات اور ان پر مسٹر محمد علی لاہوری کی تنقیدات کا ایک مختصر خاکہ پیش کیا جاتا ہے، جو دلچسپ بھی ہے اور عبرت آموز بھی۔ تمام مرزائیوں سے، بالخصوص لاہوریوں سے اپیل کرتا ہوں کہ وہ اس آئینے میں مرزائی نبوّت کا چہرہ دیکھ کر فیصلہ کریں کیا دنیا میں کوئی ایسا نبی یا مامور من اللہ ہوا ہے، جس کو خود اس کی اُمت نے جرح و تنقید کا ایسا نشانہ بنایا ہو؟

۱:...نبوّت اور پیش گوئیاں:

مرزا غلام احمد قادیانی لکھتا ہے:

234

’’اسلام کی رو سے جیسا کہ پہلے زمانہ میں خدا تعالیٰ اپنے خاص بندوں سے مکالمہ مخاطبہ کرتا تھا، اب بھی کرتا ہے اور ہم میں اور ہمارے مخالف مسلمانوں میں صرف لفظی نزاع ہے اور وہ یہ کہ ہم خدا کے ان کلمات کو، جو نبوّت یعنی پیش گوئیوں پر مشتمل ہوں، نبوّت کے اسم سے موسوم کرتے ہیں اور ایسا شخص جس کو بکثرت ایسی پیش گوئیاں بذریعہ وحی دی جائیں، یعنی اس قدر کہ اس کے زمانہ میں اس کی کوئی نظیر نہ ہو، اس کا نام ہم نبی رکھتے ہیں۔ کیونکہ نبی اس کو کہتے ہیں، جو خدا کے الہام سے بہ کثرت آئندہ کی خبریں دے، مگر ہمارے مخالف مسلمان مکالمہ الٰہیہ کے قائل ہیں لیکن اپنی نادانی سے ایسے مکالمات کو، جو بکثرت پیش گوئیوں پر مشتمل ہوں، نبوّت کے نام سے موسوم نہیں کرتے۔ حالانکہ نبوّت صرف آئندہ کی خبر دینے کو کہتے ہیں جو بذریعہ وحی و الہام ہو۔‘‘

(چشمۂ معرفت ص:۱۸۰، ۱۸۱، روحانی خزائن ج:۲۳ ص:۱۸۸، ۱۸۹)

مرزا غلام احمد صاحب کی اس عبارت سے واضح ہے کہ ان کے نزدیک نبوّت کی تعریف ہے : ’’خدا سے خبر پاکر پیش گوئیاں کرنا اور آئندہ کی خبریں دینا‘‘ اور ’’جو شخص بذریعہ الہام بکثرت پیش گوئیاں کرتا ہو اس کو نبی کہتے ہیں‘‘ اب اس پر مسٹر محمد علی لاہوری کا تبصرہ سنئے، فرماتے ہیں:

’’مبشرات (پیش گوئیوں) کو عین نبوّت قرار دینے میں میاں صاحب نے ایک ایسا اصول باطل باندھا ہے، جس کے لئے نہ صرف ان کے ہاتھ میں کوئی سند ہی نہیں، بلکہ جس میں خود نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی مخالفت ہے۔ صحیح احادیث کی مخالفت ہے، اکابر اہل سنت کی مخالفت ہے۔‘‘

’’پیش گوئیاں محض اس غرض کے لئے ہیں کہ تا مامور کی صداقت کا یقین آجائے۔ ورنہ پیش گوئی نبوّت کی اصل غرض نہیں۔

235

اللہ تعالیٰ نے کہیں نہیں فرمایا کہ سلسلۂ انبیاء کو قائم کرنے کی غرض یہ ہے کہ کسی قوم کو بتادیا جائے کہ وہ بڑی ہوجائے گی اور کسی کو کہہ دیا جائے کہ وہ ہلاک ہوگی۔ اگر عین نبوّت یہی چیز ہے تو پھر نبوّت کی غرض و غایت اور اس کا مقصود ایک نہایت حقیر سی بات رہ جاتی ہے اور سلسلۂ انبیاء کی عظمت ہی دنیا سے مفقود ہوجاتی ہے۔‘‘

’’مبشرات کو عین نبوّت قرار دینا دین کو محض ایک کھیل بنانا ہے۔‘‘

’’جو شخص پیش گوئیوں کو، تبشیر و انذار کو، مبشرات کو عین نبوّت قرار دیتا ہے، وہ اصل مقصد نبوّت سے بہت دور پڑا ہوا ہے۔ یہی مذہب تمام اُمت کا رہا ہے جس کا جی چاہے، کتابوں میں پڑھ لے۔‘‘

(النبوۃ فی الْإسلام ص:۱۶۳،۱۶۴)

نتیجہ:... مرزا غلام احمد قادیانی فرماتے ہیں کہ ’’نبوّت پیش گوئیوں کو کہتے ہیں‘‘ اور مسٹر محمد علی صاحب فرماتے ہیں کہ ’’۱-یہ اصول باطل ہے۔ ۲-نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے مخالف ہے۔ ۳-احادیث صحیحہ کے مخالف ہے۔ ۴-اکابر اہل سنت کے مخالف ہے۔ ۵-اس سے سلسلہ نبوّت کی توہین ہوتی ہے۔ ۶-دین ایک کھیل بن جاتا ہے۔ ۷-اور یہ مقصد و مقام نبوّت سے بہت دور ہونے کی علامت ہے۔‘‘

۲:...نبوّت کی تفسیر: کثرتِ مکالمہ و مخاطبہ:

مرزا غلام احمد قادیانی صاحب:

الف:... ’’جس بنا پر میں اپنے تئیں نبی کہلاتا ہوں، وہ صرف اس قدر ہے کہ میں خدا تعالیٰ کی ہم کلامی سے مشرف ہوں اور میرے ساتھ بکثرت بولتا اور کلام کرتا ہے... اور انہیں امور کی کثرت کی وجہ سے اس نے میرا نام نبی رکھا ہے، سو میں خدا کے حکم کے موافق نبی ہوں اور اگر میں اس سے انکار کروں تو میرا گناہ ہوگا اور جس حالت میں خدا میرا نام نبی رکھتا ہے تو میں کیونکر انکار کرسکتا ہوں، میں

236

اس پر قائم ہوں اس وقت تک جو اس دنیا سے گزر جاؤں۔‘‘

(مرزا صاحب کا خط بنام اخبار عام، مندرجہ ضمیمہ النبوۃ فی الاسلام ص:۳۴۳)

ب:... ’’نبی کے معنی صرف یہ ہیں کہ خدا سے بذریعہ وحی خبر پانے والا ہو اور شرف مکالمہ اور مخاطبہ الٰہیہ سے مشرف ہو۔‘‘

(ضمیمہ براہین پنجم ص:۱۳۸، روحانی خزائن ج:۲۱ ص:۳۰۶)

ج:... ’’ہر ایک شخص اپنی گفتگو میں ایک اصطلاح اختیار کرسکتا ہے لکل ان یصطلح سو خدا کی یہ اصطلاح ہے جو کثرت مکالمات و مخاطبات کا نام اس نے نبوّت رکھا ہے یعنی ایسے مکالمات، جن میں اکثر غیب کی خبریں دی گئی ہیں۔‘‘

(چشمۂ معرفت ص:۳۲۵، روحانی خزائن ج:۲۳ ص:۳۴۱)

د:... ’’ہمارا دعویٰ ہے کہ ہم رسول اور نبی ہیں۔ دراصل یہ نزاع لفظی ہے۔ خدا تعالیٰ جس کے ساتھ ایسا مکالمہ و مخاطبہ کرے جو بلحاظ کمیت و کیفیت دوسروں سے بڑھ کر ہو اور اس میں پیش گوئیاں بھی کثرت سے ہوں، اسے نبی کہتے ہیں اور یہ تعریف ہم پر صادق آتی ہے، پس ہم نبی ہیں۔‘‘

(’’بدر‘‘ ۵؍مارچ ۱۹۰۸ء، ضمیمہ حقیقۃ النبوۃ ص:۲۷۲، ملفوظات ج:۱۰ ص:۱۲۷)

مسٹر محمد علی صاحب:

’’کثرت مکالمہ و مخاطبہ بھی کثرت نشانات کی طرح معیار نبوّت نہیں۔ ایک شخص پہلی ہی وحی پر، اگر وہ وحی نبوّت ہے، نبی ہوجاتا ہے۔ ایک کو مدۃ العمر الہام ہوتے رہیں، وہ اس سے نبی نہیں بن سکتا۔ بلکہ کثرت الہامات سے مامور بھی نہیں بن جاتا۔ یہ نظارہ تو ہماری آنکھوں کے سامنے ہے کہ ہم دیکھتے ہیں کہ بعض لوگوں کو کثرت سے الہامات ہوتے رہتے ہیں۔ نہ وہ مجدد ہوتے ہیں نہ

237

نبی۔ بلکہ بعض تو کمال کے کسی بھی اعلیٰ درجہ پر پہنچے ہوئے نہیں ہوتے۔ حدیث میں آگیا ہے کہ اس اُمت میں ایسے لوگ ہوں گے، جن کے ساتھ کلام الٰہی تو ہوگی مگر وہ نبی نہیں ہوں گے اب یکلمون کا لفظ بتاتا ہے کہ ان کے ساتھ کلام ہوتی رہے گی، یہ نہیں کہ ایک دو کلمہ ان کو بطور وحی کے مل جائیں گے اور پھر ساری عمر ان سے محروم رہیں گے۔ کلام الٰہی کا تو ایک دروازہ ہے، جب کھلتا ہے تو پھر اسے بند کرنے والا کون ہے۔ پس (حدیث نبوی) ’’یکلمون من غیر ان یکونوا انبیاء‘‘ اس بات پر شاہد ہے کہ غیرنبی کو بھی کثرت مکالمہ ہوسکتی ہے......‘‘

’’......بہرحال میں کہتا ہوں کہ یہ تو صحیح حدیث میں آگیا کہ ایسے لوگ ہوں گے جو نبی نہیں ہوں گے مگر ان کے ساتھ مکالمہ الٰہیہ ہوگا۔ اب یہ کس حدیث سے نکالیں کہ تھوڑا مکالمہ ہوگا تو وہ محدث کہلائیں گے اور اگر زیادہ مکالمہ ہوگا تو وہ نبی بن جائیں گے؟ آخر مذہب کسی کے اباجان کا متروکہ مکان تو نہیں کہ جو چاہا، اس میں تغیر کیا۔ جس دیوار اور دروازہ کو چاہا، گرایا۔ جس کو چاہا قائم رکھا اور جہاں چاہا کوئی نیا کمرہ بنادیا۔ مذہب کی بنیاد قرآن و حدیث پر ہے۔ پھر قرآن و حدیث کی کون سی سند ہے جس کی بنا پر کہا جاتا ہے کہ کثرت مکالمہ والا نبی ہوجاتا ہے۔‘‘

(النبوۃ فی الْإسلام ص:۱۷۰،۱۷۱)

نتیجہ:... مرزا غلام احمد صاحب فرماتے ہیں کہ ’’کثرت مکالمہ مخاطبہ کا نام نبوّت ہے اور چونکہ یہ تعریف مجھ پر صادق آتی ہے، اس لئے خدا نے میرا نام نبی رکھا ہے اور میں خدا کے حکم کے موافق نبی ہوں۔‘‘ مسٹر محمد علی صاحب فرماتے ہیں کہ ’’اس سے تو آپ مامور اور مجدد بھی نہیں بن سکتے چہ جائیکہ... چشم بددور... آپ نبی بن جائیں۔‘‘ مرزا صاحب فرماتے ہیں کہ ’’خدا کی اصطلاح میں کثرت مکالمات و مخاطبات کا نام نبوّت ہے۔‘‘

238

مسٹر محمد علی فرماتے ہیں کہ ’’دین آپ کے اباجان کا متروکہ مکان نہیں کہ آپ جیسی چاہیں اس میں ترمیم کرتے پھریں۔‘‘ آخر آپ کے اس دعوے پر کہ ’’کثرت مکالمہ والا نبی ہوجاتا ہے۔‘‘ قرآن و حدیث کی کون سی سند ہے؟ اگر ہے تو پیش کیجئے، ھاتوا برھانکم ان کنتم صادقین۔

۳:...خاتم النبیین کی تفسیر:

الف:...مرزا غلام احمد قادیانی:

’’ولکن رسول اللہ وخاتم النبیین... آپؐ نبیوں کے لئے مہر ٹھہرائے گئے ہیں۔ یعنی آئندہ کوئی نبوّت کا کمال بجز آپؐ کی پیروی کے کسی کو حاصل نہیں ہوگا۔‘‘

(ملفوظات مرزا غلام احمد)

مسٹر محمد علی ایم اے:

’’انبیاء علیہم السلام ایک قوم ہیں اور کسی قوم کا خاتم یا خاتم صرف ایک ہی معنی رکھتا ہے۔ یعنی ان میں سے آخری ہونا، پس نبیوں کے خاتم کے معنی نبیوں کی مہر نہیں بلکہ آخری نبی ہیں۔‘‘

(بیان القرآن مسٹر محمد علی ج:۳ ص:۱۵۱۵)

نتیجہ:... مرزا آنجہانی کہتے ہیں ’’خاتم النبیین کے معنی ’’نبیوں کی مہر‘‘ مسٹر محمد علی ایم اے صاحب فرماتے ہیں کہ ’’خاتم النبیین کے معنی ’’نبیوں کی مہر‘‘ نہیں بلکہ آخری نبی ہیں۔‘‘

ب:...مرزا غلام احمد قادیانی:

’’روحانی نبوّت اور فیض کا سلسلہ آپؐ کے بعد جاری رہے گا اور وہ آپؐ میں سے ہوکر جاری ہوگا، نہ الگ طور سے وہ نبوّت چل سکے گی جس پر آپؐ کی مہر ہوگی۔ ورنہ اگر نبوّت کا دروازہ بالکل بند سمجھا جاوے تو نعوذباللہ اس سے تو انقطاع فیض لازم آتا ہے اور

239

اس میں تو نحوست ہے اور نبی کی ہتک شان ہوتی ہے۔‘‘

(ملفوظات ج:۵ ص:۳۴۴)

مسٹر محمد علی ایم اے:

’’...... اور دس حدیثوں میں ہے لا نبی بعدی یعنی ’’میرے بعد کوئی نبی نہیں‘‘ اور ایسی حدیثیں جن میں آپ کو آخری نبی کہا گیا ہے، چھ ہیں۔ اس قدر زبردست شہادت کے ہوتے ہوئے کسی مسلمان کا آنحضرت صلعم کے آخری نبی ہونے سے انکار کرنا بینات اور اصول دینی سے انکار ہے۔‘‘

(بیان القرآن ج:۳ ص:۱۵۱۶)

نتیجہ:... مرزا آنجہانی کہتے ہیں کہ ’’نبوّت کا دروازہ بند نہیں، بلکہ ’’آپؐ کی مہر‘‘ سے نبوّت چلتی ہے۔‘‘ ایم اے صاحب فرماتے ہیں کہ ’’یہ احادیث متواترہ کی شہادت کے خلاف ہے۔ اور یہ اصول دینی کا انکار ہے۔‘‘ (یاد رہے کہ اصول دینی کا انکار کفر ہے)

ج:...مرزا غلام احمد قادیانی:

۱:...’’نبوّت، جو اللہ تعالیٰ نے اب قرآن شریف میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد حرام کی ہے...۔۔ اس سے مراد یہ ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی مہر کے سوائے اب کوئی نبوّت نہیں چل سکے گی۔‘‘

(ملفوظات ج:۵ ص:۳۴۳)

۲:...’’ایک چراغ اگر ایسا ہو، جس سے کوئی دوسرا روشن نہ ہو وہ قابل تعریف نہیں ہے، مگر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ہم ایسا نور مانتے ہیں کہ آپ سے دوسرے روشنی پاتے ہیں...... اللہ تعالیٰ نے ختمِ نبوّت کی آیت میں فرمایا ہے کہ...... آپؐ خاتم ہیں۔ آپ کی مہر سے نبوّت کا سلسلہ چلتا ہے۔‘‘

(ملفوظات ج:۳ ص:۴۱۱)

مسٹر محمد علی ایم اے:

’’اگر خاتم النبیین کے معنی یہی ہیں کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ

240

علیہ وسلم اپنی مہر سے اپنے جیسے نبی بناسکتے ہیں تو سب سے پہلے اگر ہم واقعات کی طرف جائیں گے تو محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا مرتبہ بڑھاتے بڑھاتے درحقیقت ان کو ... معاذ اللہ ... نہایت ہی ناقابل استاد ثابت کریں گے، کیونکہ ہم پھر یہ غور کریں گے کہ آخر کتنے نبی تیرہ سو سال میں محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی مہر سے بنائے؟ بس لے دے کر ایک ہی (مرزا غلام احمد قادیانی...؟) اور وہ بھی ایسا جو آخر دم تک یہی کہتا رہا کہ میری نبوّت مجازی ہے اور قائلین نبوّت کے اپنے اقرار کے مطابق کم از کم پندرہ سال تک کھلا اور صاف انکار اپنی نبوّت کا کرتا رہا، بلکہ آنحضرتؐ کے بعد مدعی نبوّت کو کذاب اور مفتری اور دائرۂ اسلام سے خارج کہتا رہا۔‘‘

(النبوۃ فی الْإسلام طبع اول ص:۹۵)

نتیجہ:... مرزا آنجہانی کہتے ہیں کہ’’چراغ سے چراغ جلتا ہے اور آپؐ کی مہر سے سلسلہ نبوّت چلتا ہے...‘‘ ایم اے صاحب فرماتے ہیں کہ اس لفاظی کو چھوڑئیے۔ ذرا واقعات کی دنیا میں نکل کر یہ تو بتائیے کہ تیرہ صدیوں میں آپؐ کی مہر نے کتنے نبی بنائے؟ بس لے دے کر ایک آنجناب کی ذات شریفہ؟ ــــ اور وہ بھی ــــ چشمِ بددُور ـــ ایسا بہادر کہ پندرہ بیس سال تک تو اپنی نبوّت کا کھلا کھلا انکار ہی کرتا رہا۔ بالآخر مریدوں کی استعداد دیکھ کر نبوّت کا اعلان بھی کیا تو کیسا؟ آخر دم تک ظل و مجاز کے شیش محل سے باہر قدم رکھنے کی آنجناب کو جرأت نہ ہوئی۔ بس اسی لفاظی سے دنیا کی آنکھوں میں دھول ڈالی جارہی ہے؟

د:...مرزا غلام احمد آنجہانی:

۱:...’’اللہ جل شانہ نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو صاحب خاتم بنایا، یعنی آپؐ کو افاضہ کمال کے لئے مہر دی، جو کسی اور نبی کو ہرگز نہیں دی گئی۔ اسی وجہ سے آپؐ کا نام خاتم النبیین ٹھہرا۔ یعنی آپ کی پیروی کمالات نبوّت بخشتی ہے اور آپؐ کی توجہ روحانی ’’نبی تراش‘‘ ہے

241

اور یہ قوت قدسیہ کسی اور نبی کو نہیں ملی۔‘‘

(حقیقۃ النبوۃ ص:۹۷)

۲:...’’اور اس کی اُمت کے لئے قیامت تک مکالمہ اور مخاطبہ الٰہیہ کا دروازہ کبھی بند نہ ہوگا اور بجز اس کے کوئی نبی صاحب خاتم نہیں۔ ایک وہی ہے جس کی مہر سے ایسی نبوّت بھی مل سکتی ہے جس کے لئے امتی ہونا لازمی ہے۔‘‘

(حقیقۃ الوحی ص:۲۸)

مسٹر محمد علی ایم اے:

’’اگر محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم انہی معنوں میں خاتم النبیین تھے کہ آپ (اپنی مہر سے) اپنے جیسے بنایا کریں گے اور اب خدا سے براہ راست نبوّت کی بھی ضرورت باقی نہیں رہی۔ یہ عزت بھی آپ کو ہی دے دی گئی اور ایک گونہ خدائی اختیارات آپ کے ہاتھ میں آگئے تو پھر یہ کیا ہوگیا کہ آپ اپنے جیسا ایک بھی نبی نہ بناسکے؟‘‘

(النبوۃ فی الْإسلام ص:۱۳۳)

نتیجہ:... مرزا آنجہانی کہتے ہیں کہ ’’آپؐ کی روحانی توجہ سے نبی بنتے ہیں، آپ کی مہر سے نبی ڈھلتے ہیں اور آپؐ کی قوت قدسیہ سے نبوّت ملتی ہے۔‘‘ ایم اے صاحب فرماتے ہیں ’’چلئے مان لیا کہ قادیان میں عطائے نبوّت سے خداوندی اختیارات بھی آپؐ کو ہی دے دیئے گئے لیکن یہ تو فرمائیے کہ آپؐ کی قوت قدسیہ کی تأثیر سے تیرہ صدیوں میں ـــــ کتنے نبی پیدا ہوئے؟ تیرہ صدیوں تک آپؐ نے یہ خدائی اختیارات کیوں نہ استعمال کئے؟ آئیں بائیں شائیں کے سوا آپ کے پاس اس کا کوئی معقول جواب ہے؟ نہیں اور قطعاً نہیں:

  1. نہ خنجر اُٹھے گا نہ تلوار ان سے

    یہ بازو میرے آزمائے ہوئے ہیں

ھ:...مرزا غلام احمد قادیانی:

’’خاتم النبیین کے معنی یہ ہیں کہ آپؐ کی مہر کے بغیر کسی

242

نبوّت کی تصدیق نہیں ہوسکتی۔ جب مہر لگ جاتی ہے تو وہ کاغذ سند ہوجاتا ہے اور مصدقہ سمجھا جاتا ہے۔ اسی طرح آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی مہر اور تصدیق جس نبوّت پر نہ ہو، وہ صحیح نہیں ہے۔‘‘

(ملفوظات ج:۳ ص:۴۰۸)

مسٹر محمد علی ایم اے:

’’اگر غور کیا جائے تو درحقیقت یہ سارے خیالات خدا کے کلام میں قلت تدبر سے پیدا ہوئے ہیں۔ ’’محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ایک مہر دے دی گئی ہے کہ جو کام پہلے خدا کیا کرتا تھا، وہ اب آپؐ کے سپرد کیا جاتا ہے‘‘ یہ خود ایک لغو بات ہے۔‘‘

(النبوۃ فی الْإسلام ص:۱۲۳)

نتیجہ:... مرزا آنجہانی کہتے ہیں کہ ’’خاتم النبیین کا مطلب یہ ہے کہ آپؐ کو مہر دے دی گئی تاکہ آپؐ مہر لگا لگا کر آئندہ نبوتوں کی تصدیق کیا کریں......‘‘ ایم اے صاحب فرماتے ہیں کہ ’’یہ سارے خیالات خدا کے کلام میں قلّتِ تدبر کا نتیجہ ہیں‘‘۔ ذرا غور تو کیجئے کہ نبوّت عطا کرنا خدا کا کام ہے یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا؟ یہ آپ کیسی مہمل اور لغو بات کہہ رہے ہیں؟

۴:...حضرت عائشہؓ اور اِجرائے نبوّت:

مرزا غلام احمد قادیانی:

’’کثرت مکالمہ و مخاطبہ کو دوسرے الفاظ میں نبوّت کہا جاتا ہے۔ دیکھو حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کا یہ قول کہ ’’قولوا انہ خاتم النبیین ولَا تقولوا لَا نبی بعدہ‘‘ اس امر کی صراحت کرتا ہے، نبوّت اگر اسلام میں موقوف ہوچکی ہے تو یقینا جانو کہ اسلام بھی مرگیا اور پھر کوئی امتیازی نشان بھی نہیں ہے۔‘‘

(ملفوظات مرزا غلام احمد قادیانی مطبوعہ ربوہ ج:۱۰ ص:۴۲۱)

243

مسٹر محمد علی لاہوری:

’’اور ایک قول حضرت عائشہ کا پیش کیا جاتا ہے جس کی سند کوئی نہیں ’’قولوا انہ خاتم النبیین ولَا تقولوا لَا نبی بعدہ‘‘ خاتم النبیین کہو اور یہ نہ کہو کہ آپ کے بعد کوئی نبی نہیں۔‘‘ اس قدر حدیثوں کی شہادت جن میں خاتم النبیین کے معنی لا نبی بعدی کئے گئے ہیں، ایک بے سند قول پر پس پشت پھینکی جاتی ہیں۔ یہ غرض پرستی ہے، خدا پرستی نہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی تیس حدیثوں کی شہادت ایک بے سند قول کے سامنے رد کی جاتی ہے۔‘‘

(بیان القرآن مسٹر محمد علی لاہوری ج:۳ ص:۱۵۱۶)

نتیجہ:... مرزا آنجہانی، حضرت عائشہؓ کا قول پیش کرکے کہتے ہیں کہ ’’نبوّت اسلام میں جاری ہے‘‘ مسٹر محمد علی صاحب فرماتے ہیں کہ ’’یہ قول بے سند ہے اور ایک بے سند قول کی بنیاد پر ختمِ نبوّت کی متواتر احادیث کو رد کردینا اگر غرض پرستی نہیں تو کیا خدا پرستی ہے؟کچھ تو شرم چاہئے۔‘‘

مرزا غلام احمد صاحب کہتے ہیں کہ ’’اگر نبوّت اسلام میں موقوف ہو تو اسلام مردہ ہے‘‘ مسٹر صاحب فرماتے ہیں کہ ’’یہ سوال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کیجئے کہ آپؐ نے متواتر ارشادات میں خاتم النبیین کے معنی لا نبی بعدی کیوں کئے؟ مرزا صاحب! آپ ایک بے سند قول کو لے کر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشادات طیبہ کو پس پشت پھینک رہے ہیں کچھ تو خدا کا خوف کیجئے۔‘‘

۵:...وحی انبیاء اور اِلقاءِ شیطانی:

مرزا غلام احمد قادیانی:

’’الہام رحمانی بھی ہوتا ہے اور شیطانی بھی اور جب انسان اپنے نفس اور خیال کو دخل دے کر کسی بات کے استکشاف کے

244

لئے بطور استخارہ یا استخبارہ وغیرہ کے توجہ کرتا ہے...... تو شیطان اس وقت اس کی آرزو میں دخل دیتا ہے اور کوئی کلمہ اس کی زبان پر جاری ہوجاتا ہے اور دراصل وہ شیطانی کلمہ ہوتا ہے۔ یہ دخل کبھی انبیاء اور رسولوں کی وحی میں بھی ہوجاتا ہے مگر وہ بلا توقف نکالا جاتا ہے۔ اسی کی طرف اللہ جل شانہ قرآن کریم میں ارشاد فرماتا ہے وما ارسلنا من قبلک من رسول ولَا نبی الّا اذا تمنی القی الشیطان فی امنیتہ (الخ) ایسا ہی انجیل میں بھی لکھا ہے کہ شیطان اپنی شکل نوری فرشتوں کے ساتھ بدل کر بعض لوگوں کے پاس آجاتا ہے۔ دیکھو خط دوم قرنتھیاں، باب۱۱، آیت ۱۴ اور مجموعہ توریت میں سے سلاطین اول باب بائیس، آیت انیس میں لکھا ہے کہ ’’ایک بادشاہ کے وقت میں چار سو نبی نے اس کی فتح کے بارے میں پیش گوئی کی اور وہ جھوٹی نکلی اور بادشاہ کو شکست ہوئی۔ بلکہ وہ اسی میدان میں مرگیا۔ اس کا سبب یہ تھا کہ دراصل وہ الہام ایک ناپاک روح کی طرف سے تھا، نوری فرشتہ کی طرف سے نہیں تھا اور ان نبیوں نے دھوکا کھاکر ربانی سمجھ لیا تھا۔ اب خیال کرنا چاہئے کہ جس حالت میں قرآن کریم کی رو سے الہام اور وحی میں دخل شیطان ممکن ہے، اور پہلی کتابیں توریت اور انجیل اس دخل کی مصدق ہیں... الخ۔‘‘

(ازالہ اوہام ص:۶۲۸،۶۲۹، روحانی خزائن ج:۳ ص:۴۳۹)

مسٹر محمد علی لاہوری:

’’القی الشیطان فی امنیتہ اس کے معنی صرف اسی قدر ہیں کہ نبی کی نیک آرزو کے بارے میں شیطان لوگوں کے دلوں میں وساوس ڈالتا رہتا ہے نہ یہ کہ وہ نبی کی وحی میں کچھ ڈالتا رہتا ہے۔ پھر الفاظ (قرآنی) کے حصر کو دیکھو کوئی نبی اور رسول ایسا نہیں

245

بھیجا کہ اُس کے ساتھ یہ معاملہ نہ ہوا ہو تو کیا حضرت عیسیٰ کی وحی میں بھی شیطان نے القا کردیا تھا؟ غالباً اس سوال کا جواب رسول کریم سے بڑھ کر حضرت عیسیٰ سے محبت رکھنے والے مسلمان کبھی اثبات میں نہ دیں گے۔ پھر سب کو چھوڑو ایک بھی نبی کا ذکر قرآن شریف میں نہیں جس کی وحی میں القائے شیطان کا ذکر آیا ہو... پھر کیا یہ جائے تعجب نہیں؟ کہ حصر تو یہ کیا جائے کہ کوئی نبی اور رسول ایسا ہوا ہی نہیں جس کی وحی میں شیطان نے اِلقا نہ کیا ہو اور ایک نبی کی بھی مثال پیش نہ کی جائے کہ اس کی وحی میں شیطان نے یوں اِلقا کردیا تھا۔ پھر نتیجہ اس کا بتایا ولیعلم الذین اوتوا العلم انہ الحق تو کیا صاحب علم لوگوں کو اس کے حق ہونے کا علم نہ ہوسکتا تھا جب تک کہ شیطان وحی میں اِلقا نہ کرے۔ یہ کیسی بدیہی البطلان بات ہے۔‘‘

(بیان القرآن از مسٹر محمد علی لاہوری ج:۲ ص:۱۳۰۷)

نتیجہ:... مرزا غلام احمد قادیانی کا دعویٰ ہے کہ ’’انبیاء علیہم السلام کی وحی میں شیطان کا دخل ہوجاتا ہے اور وہ اس کے لئے قرآن کریم کی آیت کا سہارا لیتے ہیں۔ توریت میں چار سو نبیوں کی جھوٹی پیش گوئی اس کے ثبوت میں پیش کرتے ہیں اور اِنجیل کو بھی اس دعویٰ کا مصداق بتاتے ہیں۔‘‘ لیکن مسٹر محمد علی صاحب اس دعوے کو بدیہی البطلان قرار دیتے ہیں۔

’’وَرَدَّ اللہُ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا بِغَیْظِھِمْ لَمْ یَنَالُوْا خَیْرًا،

وَکَفَی اللہُ الْمُؤْمِنِیْنَ الْقِتَالَ، وَکَانَ اللہُ قَوِیًّا عَزِیْزًا‘‘

246

لاہوری قادیانیوں کی مضحکہ خیزیاں

’’۱۹۷۵ء میں جبکہ راقم الحروف اتنا عدیم الفرصت نہیں تھا، قوّت وہمت اور فکر وسوچ تازہ تھی، اور ہمہ وقت قادیانی اُمت کی نقل وحرکت پر نگاہ رہتی تھی، ان کے لٹریچر کے علاوہ ربوہ اور لاہور سے شائع ہونے والے تمام رسائل وجرائد زیرِ مطالعہ رہتے تھے۔ انہی دنوں لاہوریوں کے رسالے ’’پیغامِ صلح‘‘ میں لاہوریوں کی جانب سے شائع ہونے والے مضامین پر ’’تازہ بہ تازہ، نو بہ نو‘‘ کے عنوان سے ہفت روزہ ’’لالوک‘‘ فیصل آباد میں میرے چند ایک تبصرے شائع ہوئے تھے، جنہیں ’’لاہوری قادیانیوں کی مضحکہ خیزیاں‘‘ کے عنوان سے شائع کیا جارہا ہے۔‘‘

مرزا غلام احمد: اَمرِ اِلٰہی

’’فعسی اللہ ان یأتی بالفتح أو أمر من عندہ‘‘ اے مسلمانو! عنقریب اللہ تم کو فتح دے گا یا میری طرف سے کوئی تم میں اَمر آئے۔‘‘

(ہفت روزہ ’’پیغامِ صلح‘‘ ۲۹؍جنوری ۱۹۷۵ء جلد:۶۲ شمارہ:۵ کالم:۱)

’’یہ امر بھی ثابت کرتا ہے کہ یہ مجدّد اور اِمامِ زمانہ ہے جس کے ساتھ اللہ ہم کلام ہوتا رہے گا، یہ ہی دعویٰ حضرت غلام احمد صاحب ’’اِمام الزمان‘‘ نے کیا ہے۔‘‘

(ہفت روزہ ’’پیغامِ صلح‘‘ ۲۹؍جنوری ۱۹۷۵ء جلد:۶۲ شمارہ:۵ ص:۲)

247

جواب:... اور اسی دعویٔ ہم کلامی کی وجہ سے ’’اِمام الزمان‘‘ اور اس کی اُمت کو سکھوں اور ہندوؤں کی صف میں شامل کیا گیا ہے۔

فتویٰ:

’’پھر یہ بھی قرآن مجید نے فتویٰ دیا ہے کہ جو لوگ اس اِمتیازی امر (مرزا غلام احمد) سے قطع تعلق رکھیں گے، یعنی اس کے ساتھ اِختلاف کریں گے وہی گمراہ ہوں گے، وہی فاسق ہوں گے، وہی اللہ کا عہد توڑنے والے ہوں گے، اور فساد کریں گے زمین میں۔‘‘

(ہفت روزہ ’’پیغامِ صلح‘‘ ۲۹؍جنوری ۱۹۷۵ء جلد:۶۲ شمارہ:۵ کالم:۲)

جواب:... یہ لاہوری مرزائیوں کا ’’ذاتی فتویٰ‘‘ ہے کہ مرزا غلام احمد سے اِختلاف کرنے والے گمراہ، فاسق، مفسد اور عہدِ اِلٰہی کو توڑنے والے ہیں، اور پھر کتنی معصومیت سے کہا جاتا ہے کہ ہم تو اہلِ قبلہ کو کافر نہیں کہتے۔

احمدی مسلمان:

’’احمدی مسلمان (مرزائی) قرآن مجید کے مطابق عمل کرتے ہیں، وہ ہرگز فساد نہیں کرتے۔‘‘

(ہفت روزہ ’’پیغامِ صلح‘‘ ایضاً ص:۲ کالم:۲)

جواب:... جی ہاں! احمدی مسیحی فساد ہرگز نہیں کرتے، بس ذرا سی قرآن مجید میں کتربیونت کرتے ہیں اور وہ بھی اپنے اِمام الزمان کی ہدایت کی وجہ سے، شاید یہ فساد نہیں بلکہ اِصلاح ہے، منافق بھی تو یہی کہا کرتے تھے۔

اور ’’پیغامِ صلح‘‘ کو شاید یاد نہیں رہا کہ مرزا غلام احمد کو مسیحِ موعود ماننے والے مسیحی جو اپنے آپ کو ’’احمدی‘‘ کہتے ہیں، آئین کے مطابق مسلمان نہیں بلکہ غیرمسلم اقلیتوں میں شامل ہیں، ان کو ’’مسلمان‘‘ کہنا آئینی جرم ہے، آئندہ اِحتیاط رکھی جائے۔

248

نقشِ دوم:

’’مجھے اُمید ہے ’’احمدی مسلمان‘‘ اپنے اِمام الزمان (مرزا غلام احمد) کے نقشِ قدم پر ثابت قدم رہیں گے۔‘‘

(ہفت روزہ ’’پیغامِ صلح‘‘ ایضاً ص:۲ کالم:۲)

جواب:... بلاشک، اور ثابت قدمی سے جہاں اِمام الزماں صاحب پہنچے ہیں، وہاں جلد ہی پہنچیں گے، اِن شاء اللہ!

تعزیراتِ پاکستان:

’’۱۹؍جنوری کے انگریزی روزنامہ پاکستان ٹائمز کی اِطلاع ہے کہ پاکستان نیشنل اسمبلی میں جناب ملک اختر صاحب نے تعزیراتِ پاکستان کی دفعہ۲۹۵-۱ میں ایک وضاحتی اِضافے کی تجویز پیش کی ہے جس کا ترجمہ حسبِ ذیل ہے: ’’جو مسلمان حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کی ختمِ نبوّت کے خلاف، جس کی وضاحت آئین کی دفعہ (آرٹیکل) ۲۶۰کی شق (کلاز) ۳ میں کی گئی ہے، اِعتقاد رکھے، عمل کرے یا تبلیغ کرے گا وہ قانون کی رُو سے مستوجبِ سزا ہوگا۔‘‘

(ہفت روزہ ’’پیغامِ صلح‘‘ ایضاً ص:۳ کالم:۱)

جواب:... تعزیراتِ پاکستان میں اس وضاحتی اِضافے پر نیشنل اسمبلی اور تمام ملتِ اسلامیہ کو مبارک باد ــــــ اور ملتِ مرزائیہ کے لئے عبرت! صد عبرت...!

ختمِ نبوّت کا مقصد:

’’قومی اسمبلی کا یہ اِقدام ۷؍ستمبر ۱۹۷۴ء کی متعلقہ ترمیم کا قدرتی نتیجہ ہے۔ ختمِ نبوّت، دِینِ اسلام کا بنیادی عقیدہ ہے، اسلام کا مقصد ایک مربوط اور غیرمنقسم معاشرہ قائم کرنا ہے، ایک عالمگیر خدا، ایک عالمگیر کتاب اور ایک کامل عالمگیر اُسوۂ حسنہ، تمام

249

اس امر کے آئینہ دار ہیں کہ انسان کو ایک بار پھر ایک دِین اور نظامِ حیات میں جکڑدیا جائے اور اس طرح عالمی اُخوّت، مساوات اور اِنصاف پر تمام اِنسانوں کو متحد کردیا جائے۔‘‘

(ہفت روزہ ’’پیغامِ صلح‘‘ ایضاً ص:۳ کالم:۱)

جواب:... اور اس عالمگیر مقصد میں رخنہ اندازی کے لئے غلام احمد قادیانی ایسے لوگوں نے ظلّی نبوّت کے اَفسانے کھڑے کئے اور تمام اِنسانوں کو کافر، فاسق، مفسد، گمراہ، عہدِ اِلٰہی کو توڑنے والے اور جہنمی بناکر چلتے بنے، اس لئے ایسے اَعدائے اِنسانیت کا سدِ باب ضروری ہے۔

ہمیشہ ناکام ونامراد:

’’ختمِ نبوّت کو اس نظام میں مرکزی مقام حاصل ہے، قرآن وحدیث اس حقیقت کے مؤید ہیں، اس اُمت کا اس پر اِجماع چلا آیا ہے، اور گو مختلف زمانوں میں بعض طالع آزماؤں نے اس چٹان سے سر ٹکرایا ہے، لیکن مصلحت خداوندی نے انہیں ہمیشہ ناکام ونامراد کیا۔‘‘

(ہفت روزہ ’’پیغامِ صلح‘‘ ایضاً ص:۳ کالم:۱)

جواب:... بالکل صحیح! اس صدی میں تو ان ’’ناکام ونامراد‘‘ طالع آزماؤں کا ایک غول ہی جمع ہوگیا تھا، جن کے سرخیل مرزا غلام احمد قادیانی تھے، مگر ناکامی ونامرادی کا یہ عالم کہ اور تو اور ان کے مریدوں نے ہی مرزائی نبوّت کو کثرتِ تعبیر سے خوابِ پریشاں بنادیا۔ ایک نے کہا: حقیقی نبی تھے، دُوسرے نے کہا: نہیں، بلکہ مجازی نبی تھے، ایک نے کہا: تشریعی نبی تھے، دُوسرے نے کہا: نہیں بلکہ غیرتشریعی نبی تھے، کسی نے کہا: اصلی نبی تھے، دُوسرے نے کہا: نہیں بلکہ ظلّی اور نقلی نبی تھے۔ کسی نے کہا: مستقل نبی تھے، دُوسرے نے کہا: نہیں بلکہ غیرمستقل نبی تھے۔ کسی نے کہا: سچ مچ واقعی نبی تھے، دُوسرے نے کہا: نہیں بلکہ غیرواقعی نبی تھے۔ دیکھئے! ختمِ نبوّت کی چٹان سے ٹکرائے تو کیسا سر پھوٹا؟ اور مصلحتِ

250

خداوندی نے انہیں کیسا ناکام ونامراد کیا؟ وَقَدْ خَابَ مَنِ افْتَرٰی!

کارگر اور مؤثر:

’’ہمیشہ کی طرح آج بھی یہ حقیقت اپنی جگہ اٹل ہے کہ دُنیا میں اعمال وافعال پر تو تعزیر چل سکتی ہے مگر اَفکار وعقائد کی دُنیا میں تعزیر وتشدّد کبھی کارگر مؤثر نہیں ہوا۔‘‘

(ہفت روزہ ’’پیغامِ صلح‘‘ ایضاً ص:۳ کالم:۱)

جواب:... اگر اَعمال واَفعال پر تعزیر چل سکتی ہے تو اَقوال پر بھی یقینا چل سکے گی، دِل میں اَفکار وعقائد جو چاہے رکھے، معاملہ اللہ تعالیٰ کے ساتھ ہے، لیکن اگر ان غلط اَفکار وعقائد کا زہر زبان وقلم سے اُگلنا شروع کریں گے تو قانون وتعزیر کو بہرحال اپنا فرض ادا کرنا ہے، بخاری شریف کی حدیث سنی ہوگی: ’’من بدَّل دینہ فاقتلوہ!‘‘ ۔

تبرا:

’’آج سب کو معلوم ہے کہ کچھ مسلمان صحابہ کرام کو منافق ومرتد جانتے ہیں اور تبرا کرتے ہیں۔‘‘

(ہفت روزہ ’’پیغامِ صلح‘‘ ایضاً ص:۳ کالم۲)

جواب:... جو لوگ صحابہؓ پر تبرا کرتے ہیں، بُرا کرتے ہیں، لیکن کچھ غیرمسلم ...مرزا غلام احمد وغیرہ... ایسے ہیں جو صحابہ کو نادان اور اَحمق کہتے ہیں، اور اپنے مریدوں کو صحابہ کرام کی جماعت بتاتے ہیں، ان کے بارے میں کیا ارشاد ہے...؟

ایمان:

’’ہمیں ہر وہ شخص عزیز ہے جو کلمہ طیبہ لا اِلٰہ اِلَّا اللہ محمد رسول اللہ پر اِیمان رکھتا ہے۔‘‘

(ہفت روزہ ’’پیغامِ صلح‘‘ ایضاً ص:۳ کالم:۲)

جواب:... اور جو شخص کہے کہ خدا کی وحی کے مطابق ’’محمد رسول اللہ‘‘ میں ہوں،

251

کیا وہ بھی عزیز ہے؟ اور آپ اسی ظلّی ’’محمد رسول اللہ‘‘ پر اِیمان رکھنے والوں کو تو عزیز نہیں سمجھتے...؟

خدائی مقصد:

’’ہم دِل سے آرزومند ہیں کہ مسلمان ختمِ نبوّت وحدت اور اِتحادِ اِنسانیت کے خدائی مقصد کے لئے یک جان ہوجائیں اور غلبۂ دِین کے لئے مل کر کام کریں۔‘‘

(ہفت روزہ ’’پیغامِ صلح‘‘ ایضاً ص:۳ کالم:۲)

جواب:... بڑی مبارک آرزو ہے، مگر مرزا غلام احمد قادیانی کا فتنہ جب تک موجود ہے تب تک ختمِ نبوّت اور وحدتِ اُمت کا ’’خدائی مقصد‘‘ پورا نہیں ہوسکتا، بس دُعا بھی کیجئے اور کوشش بھی کہ یہ اس دور کا سب سے بڑا فتنہ جلد دفن ہوجائے۔

جماعتِ ربوہ: عجیب پوزیشن!

’’ہم جماعتِ ربوہ سے مایوس نہیں، انہوں نے اپنے لئے عجیب پوزیشن اِختیار کر رکھی ہے، وہ کہتے ہیں کہ ہم مسلمان ہیں، ختمِ نبوّت پر اِیمان رکھتے ہیں، قرآن پر اِیمان رکھتے ہیں، اس کے تمام حکموں پر عمل کرتے ہیں، اسلام کے بعد کوئی دِین نہیں آئے گا، لیکن جب یہی اعلان کوئی دُوسرا مسلمان کرتا ہے جو ان کی جماعت میں شامل نہیں تو اس کا نام کافر رکھتے ہیں۔‘‘

(ہفت روزہ ’’پیغامِ صلح‘‘ ایضاً ص:۳ کالم:۲)

جواب:... اور لاہوری مرزائی اس کا نام فاسق، گمراہ، عہدِ اِلٰہی کو توڑنے والے اور جہنمی رکھتے ہیں۔ یہ بھی تو عجیب پوزیشن ہے۔

کیوں کافر؟

’’اگر اسی خدا، رسول، کتاب پر اِیمان لاکر مرزا صاحب

252

اور جماعتِ ربوہ کے لوگ مسلمان کہلاسکتے ہیں، اور حضرت مرزا صاحب قرآنِ حکیم پر عمل کرکے خدارسیدہ ہوسکتے ہیں تو کوئی دُوسرا مسلمان اس پر اِیمان لاکر اور عمل کرکے کیوں کافر ہوسکتا ہے؟‘‘

(ہفت روزہ ’’پیغامِ صلح‘‘ ایضاً ص:۳ کالم:۲)

جواب:... اس لئے کہ ’’حضرت مرزا صاحب‘‘ نے اپنی نبوّت کو جزوِ اِیمان قرار دیا ہے، اپنی نبوّت کے بغیر اِسلام کو مردہ قرار دِیا ہے، اپنی نبوّت کے بغیر دِینِ اسلام کو لعنتی اور قابلِ نفرت قرار دِیا ہے، ظاہر ہے کہ ان کے مانے بغیر آدمی ’’احمدی‘‘ نہیں ہوسکتا، کافر ہی ہوسکتا ہے۔

ختمِ نبوّت کا مسئلہ:

’’مجھے یقین ہے کہ اگر حضرت مرزا صاحب کے اِرشاد کے مطابق جماعتِ ربوہ کا ہر شخص تین دفعہ نہیں، ایک ہی دفعہ حضرت مرزا صاحب کی کتاب پڑھ جائے تو ختمِ نبوّت کا مسئلہ ہمیشہ کے لئے حل ہوجائے گا۔‘‘

(ہفت روزہ ’’پیغامِ صلح‘‘ ایضاً ص:۳ کالم:۲)

جواب:... ماشاء اللہ! چشمِ بددُور! ’’حضرت صاحب‘‘ کی کتب تین دفعہ نہیں ایک ہی دفعہ پیغامِ صلح والوں نے پڑھی ہیں، وہ نوّے سال سے نہ تو جماعتِ ربوہ نے کبھی اُٹھاکر دیکھیں، نہ علمائے اُمت نے کبھی ان سے ’’اِستفادہ‘‘ کیا، نہ قومی اسمبلی کی خصوصی کمیٹی میں پیش ہوئیں، اس گنجِ مدفون کا سراغ بس ’’پیغامِ صلح‘‘ کو ہی مل سکا۔ جل جلالہٗ!

اور یہ تو فرمایا ہوتا کہ ’’حضرت مرزا صاحب‘‘ کی کتب تین دفعہ نہیں ایک ہی دفعہ پڑھ جانے سے تو ختمِ نبوّت کا مسئلہ ہمیشہ کے لئے حل ہوجاتا ہے، یہ مسئلہ اُلجھایا کس کی کتابوں نے؟ ظلّی، بروزی، اُمتی، غیراُمتی، تشریعی، غیرتشریعی، اصلی، نقلی، حقیقی، غیرحقیقی، مستقل، غیرمستقل نبوّت کا جال کس ’’حضرت صاحب‘‘ کی کتابوں نے پھیلایا ہے؟

ہمارا خیال ہے کہ اگر تعصب کی عینک اُتارکر ’’حضرت مرزا صاحب‘‘ کی نبوّت

253

اور اس کے صفات ولوازم اور آثار ونتائج کو ان کی کتابوں میں پڑھا جائے تو شاید ’’پیغامِ صلح‘‘ واقعۃً پیغامِ صلح ہوجائے۔ ’’حضرت مرزا صاحب‘‘ پر اِیمان لانا اور پھر مسلمانوں کی فہرست میں شامل ہونے کی کوشش کرنا ’’لَا اِلٰی ھٰؤلآء ولَا اِلٰی ھٰؤلآء‘‘ کا مصداق ہے۔

شرمناک حد تک مضحکہ خیز:

’’برادرانِ ربوہ نے ’’ختم‘‘ اور ’’آخری‘‘ کے جو معنی ’’اُوپر کی جانب‘‘ ختم اور آخری کر رکھے ہیں، وہ شرمناک حد تک مضحکہ خیز ہیں۔‘‘

(ہفت روزہ ’’پیغامِ صلح‘‘ ایضاً ص:۲ کالم:۲)

جواب:... جزاک اللہ! اور مرزا صاحب نے ’’آخری‘‘ کے جو معنی ’’محمد کی چیز محمد ہی کے پاس رہی‘‘ کئے ہیں، کیا وہ اس سے بھی زیادہ مضحکہ خیز اور شرمناک نہیں...؟

منہ چڑانے کے مترادف:

’’اور (مندرجہ بالا معنی) قرآن، حدیث، لغت، محاورہ، زبان اور خود مرزا کی ایک دو نہیں صدہا تحریروں کا منہ چڑانے کے مترادف ہیں اور اس طرح کھینچ تان کر اُمت میں قیامت تک صرف ’’ایک انوکھا نبی‘‘ لانے کے لئے اِجرائے نبوّت کا جو فتنہ کھڑا کر رکھا ہے اس سے نئے قانون کی روشنی میں جماعتِ ربوہ ایک چکر میں پڑجائے گی یا تو انہیں حقیقی نبوّت سے اِنکار کرکے ’’خانہ ساز نبوّت‘‘ کی تبلیغ کے لئے غیرمسلم اقلیت ہونے کا اعلان کرنا ہوگا، اور اگر وہ اپنے آپ کو مسلمان سمجھتے ہیں تو پھر انہیں اعلان کرنا ہوگا کہ ہم مسلمان ہیں اور اسی مفہوم میں ختمِ نبوّت پر اِیمان رکھتے ہیں جو آئین کا تقاضا ہے اور اس طرح اِجرائے نبوّت کے غیراِسلامی عقیدے سے دستبردار ہونا ہوگا اور حضرت صاحب نے جہاں جہاں اپنی تحریروں میں لغوی، جزوی اور ناقص مجازی وغیرہ نبی کا لفظ اِستعمال

254

کیا ہے اسے حضرت صاحب کے فرمودہ کے مطابق ’’کٹا ہوا‘‘ سمجھ کر اس کا حقیقی مترادف اِصطلاحی لفظ ’’محدث‘‘ اپنانا ہوگا۔‘‘

(ہفت روزہ ’’پیغامِ صلح‘‘ ایضاً ص:۳ کالم:۲، ص:۴ کالم:۱)

جواب:... کاش! یہ منہ چڑانے والی تقریر مرزا صاحب کی زندگی میں ان کے سامنے کی جاتی تو مرزا صاحب، عیسیٰ بن مریم اور محمد ثانی بننے کے لئے ایسی تاویلات نہ کرتے جو قرآن، حدیث، لغت، محاورہ، زبان اور خود ان کی اپنی تحریروں کا منہ چڑانے کے مترادف تھیں، اور اس طرح کھینچ تان کر اُمت میں ’’مسیح محمدی‘‘ کا جو فتنہ انہوں نے کھڑا کیا، اس سے نئے قانون کی روشنی میں مرزا صاحب کی اُمت چکر میں نہ پڑتی، اور مرزا صاحب کی ’’خانہ ساز نبوّت‘‘ کی بدولت انہیں غیرمسلم اقلیت قرار نہ دیا جاتا:

حذر اے چیرہ دستاں سخت ہیں فطرت کی تعزیریں!

عقیدہ ترک:

’’ہم تمام مسلمان فرقوں سے درخواست کرتے ہیں کہ وہ بھی ختمِ نبوّت کو کماحقہ‘ تسلیم کریں اور اس عقیدے کو ترک کردیں کہ ایک پُرانا نبی آسمان پر بیٹھا ہے۔‘‘

(ہفت روزہ ’’پیغامِ صلح‘‘ ایضاً ص:۴ کالم:۱)

جواب:... مشورہ خدا تعالیٰ کو دیجئے گا جس نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی تشریف آوری کو قیامت کا نشان ’’عِلْمٌ لِّلسَّاعَۃ‘‘ فرمایا، نیز رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیجئے کہ آپ نے دو صد اَحادیث میں قسمیں کھاکھاکر ان کے نازل ہونے کی اُمت کو خبر دی اور اِعلان فرمایا:

’’إِنَّ عِیْسٰی لَمْ یَمُتْ، وَإِنَّہٗ رَاجِعٌ إِلَیْکُمْ قَبْلَ یَوْمِ الْقِیَامَۃِ۔‘‘

ترجمہ:... ’’بے شک عیسیٰ علیہ السلام مرے نہیں، اور وہ

255

قیامت سے پہلے تمہاری طرف لوٹ کر آئیں گے۔‘‘

(درمنثور ج:۲ ص:۳۳)

اور پھر یہ مشورہ تیرہ صدیوں کے مجدّدین، محدثین، مفسرین اور اَئمہ دِین کو دیجئے کہ ہر ایک نے یہی عقیدہ رکھا، اس کی تبلیغ کی اور اسی کو اپنی کتابوں میں درج فرمایا۔

اور پھر یہ مشورہ ’’حضرت مرزا صاحب‘‘ کو دِیا ہوتا کہ انہوں نے مجدّد، محدث، ملہم اور اِمام الزماں ہونے کی حیثیت میں یہ عقیدہ ’’براہین احمدیہ‘‘ میں درج فرمایا اور ۵۲برس کی عمر تک اس پر قائم رہے کیونکہ اس وقت تک مریم بن کر عیسیٰ سے حاملہ نہیں ہوئے تھے۔ انصاف فرمائیے! جو عقیدہ اللہ تعالیٰ نے قرآن میں درج فرمایا ہو، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے احادیثِ متواترہ میں تاکید درتاکید کے ساتھ ذِکر فرمایا ہو، صحابہؓ وتابعینؒ اور مجدّدینِ اُمتؒ تیرہ صدی تک اس پر قائم رہے ہوں، خود آپ کے ’’خانہ ساز عیسیٰ بن مریم‘‘ ۵۲ برس تک اس پر اِیمان رکھتے رہے ہوں، بے چارے مسلمانوں کی کیا مجال ہے کہ وہ اس عقیدے کو ترک کردیں؟ یہ تو حضرت مرزا صاحب ہی کا کمال ہے کہ جب ان پر وحی آئی تو عقیدہ بدل لیا۔

اور ہاں! آپ کو یہ غلط فہمی بھی مرزا صاحب کے مریمی حمل اور دَردِ زہ نے ڈالی ہے کہ اس عقیدے میں ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی ہتک ہے، اور یہ بات ختمِ نبوّت کے منافی ہے، ذرا عقلِ خداداد سے سوچ کر فرمائیے کہ مرزا صاحب جب یہ عقیدہ ’’براہین احمدیہ‘‘ میں لکھ رہے تھے اس وقت ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی ہتک کرکے کافر تو نہیں ہوگئے تھے؟ اور ختمِ نبوّت کے منافی عقیدہ لکھ کر خارج اَزاِسلام تو نہیں ہوگئے تھے...؟

جانِ من! خاتم النبیین کے یہ معنی کس کتاب میں لکھے ہیں کہ آپ کی آمد سے تمام گزشتہ نبی مرگئے؟ یا ان کی نبوّت سلب ہوگئی؟ یا کسی گزشتہ نبی کے لئے آپ کا اُمتی بننا حرام ہوگیا...؟

بات کرنے کا سلیقہ چاہئے!

256

انبیاء سے بڑھ کر:

’’اب اس اُمت کی اِصلاح تاقیامت آنحضرت (صلی اللہ علیہ وسلم) کے خادم اُمتی اولیاء اللہ ہی پہلے کی طرح کرتے رہیں گے، نہ ہی اس اُمت میں اِمامِ معصوم آئیں گے، جن کا رُتبہ انبیاء سے بڑھ کر ہوگا، یہ بھی ختمِ نبوّت کے خلاف ہے، نہ ہی کوئی ایسا ولی اللہ آئے گا جس کا ماننا جزوِ ایمان ہوگا۔‘‘

(ہفت روزہ ’’پیغامِ صلح‘‘ ایضاً ص:۴ کالم:۱)

جواب:... عیسیٰ علیہ السلام، آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے خادم اور اُمتی کی حیثیت سے تشریف لائیں گے، اور ان کی آمد سے اِیمان کے کسی رُکن میں اِضافہ نہیں ہوگا، کیونکہ ان کی نبوّت پہلے ہی جزوِ اِیمان ہے، اس لئے آپ کی تقریر مسلمانوں کے خلاف نہیں، ہاں! آپ نے مرزا صاحب کی مسیحیت ومہدویت کی جڑ کاٹ دی، ان کا ماننا ان کے مسیحی دِین میں جزوِ اِیمان بھی ہے، اور عیسیٰ علیہ السلام بلکہ تمام انبیاء سے اپنی تمام شان میں بڑھ کر ہونے کا اِعلان بھی ہے، لہٰذا اگر آپ سچے تو مرزا جی ......۔؟

مدیر ’’پیغامِ صلح‘‘ صاحب! کسی مسئلے پر قلم اُٹھانا ہو تو ’’حضرت مرزا صاحب‘‘ کی پچاس الماریوں پر نظر ڈال لیا کریں، ورنہ وہی مثل ہوگی: ’’من چہ سرایم وطنبورہ من چہ سراید‘‘۔

ایمانیات کا دائرہ:

’’ایمانیات کا دائرہ قرآن تک محدود ہے۔‘‘

(ہفت روزہ ’’پیغامِ صلح‘‘ ایضاً ص:۴ کالم:۱)

جواب:... ایمانیات اِجمالاً قرآنِ کریم نے اور تفصیلاً رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے، اور تشریحاً مجدّدینِ اُمت نے بیان فرمائے ہیں، اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا زِندہ آسمان پر اُٹھایا جانا اور قربِ قیامت میں دوبارہ تشریف لانا بھی انہی ’’اِیمانیات‘‘ میں شامل

257

ہے، اس کا اِنکار وہی کرسکتا ہے جو نہ قرآنِ کریم پر اِیمان رکھتا ہو، نہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر، اور نہ مجدّدینِ اُمت کو مسلمان سمجھتا ہو، جس کے ایمان کی بنیاد مرزا صاحب کی ’’اعجازِ مسیح‘‘ اور ’’کشتی نوح‘‘ پر ہو، اس کا نام آئین میں عیسائیوں اور ہندوؤں کے بعد ہی درج ہوسکتا ہے...!

ایک لمحہ بھی:

’’ہماری جماعت حقیقی معنوں میں ختمِ نبوّت پر اِیمان رکھتی ہے، ہم کم از کم ساٹھ سال سے ختمِ نبوّت کے حق میں جماعتِ ربوہ سے لڑ رہے ہیں، اور ہماری کتابیں اور اَخبارات اس پر گواہ ہیں، ہم حلفیہ اِعلان کرتے ہیں کہ اگر ہمیں اس اَمر کا ذرّہ بھر بھی یقین ہو کہ حضرت مرزا صاحب نے قرآن کی اِصطلاح میں اپنے لئے لفظ نبی اِستعمال کیا تھا، آپ حضرت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد ختمِ نبوّت کے منکر تھے تو ہم ایک لمحہ بھی ان سے وابستہ نہ رہیں۔‘‘

(ہفت روزہ ’’پیغامِ صلح‘‘ ایضاً ص:۴ کالم:۱)

جواب:... قومی اسمبلی کی خصوصی کمیٹی میں آپ کی جماعت کے امیر مولانا صدرالدین صاحب بھی پیش ہوئے تھے، انہوں نے اپنا موقف بھی پیش کیا، ان پر جرح بھی ہوئی، افسوس ہے کہ آپ نے یہ نکات ان کو نہ سمجھادئیے، ورنہ وہ اہلِ دانش کو ضرور مطمئن کردیتے، اب تو آپ کی یہ تقریر ’’مشتے کہ بعد از جنگ یاد آید برکلۂ خود باید زد‘‘ کا مصداق ہے۔ آپ کو قومی عدالت میں کوئی سمجھ دار وکیل کھڑا کرنا چاہئے تھا، مقدمہ ہار جانے کے بعد قانونی نکات پیش کرنا بدحواسی کی علامت تو نہیں...؟

غلطی خوردہ:

’’ہمارے متعلق زیادہ سے زیادہ یہی کہا جاسکتا ہے ہ ہم غلطی خوردہ ہیں، تو ہم علمائے حق اور اِنصاف پسند اَربابِ حکومت

258

سے پوچھتے ہیں کہ اگر ہم غلطی کھاکر بھی ختمِ نبوّت پر اِیمان رکھتے ہیں تو اس میں اسلام اور اُمت کا کیا بگڑا؟ اور ہمارے خلاف قدغن کیسی؟‘‘

(ہفت روزہ ’’پیغامِ صلح‘‘ ایضاً ص:۴ کالم:۱)

جواب:... اگر ایک ’’غلطی خوردہ‘‘ اسلام کو خشک، مردہ، قابلِ نفرت اور لعنتی کہتا ہو، اور اُمتِ مسلمہ کو فاسق، گمراہ، مشرک اور جہنمی کے خطاب دیتا ہو، ایک برخود غلط مدعی کے منکروں پر کافر کا فتویٰ صادر کرتا ہو، اور پھر ان تمام اُمور کی ’’تبلیغ‘‘ کرتا ہو، اس پر قدغن نہیں ہونی چاہئے؟ اس کی غلط نگہی، غلط اندیشی اور غلط رَوِی سے اسلام اور اُمت کا کچھ نہیں بگڑتا...؟

ختمِ نبوّت پر تحقیق:

’’جہاں تک عقائد کا تعلق ہے حکومت کو چاہئے کہ وہ اہلِ علم کی اعانت سے ختمِ نبوّت پر تحقیق کرائے اور قرآن، حدیث اور گزشتہ مفسرین ومحدثین کی تحریروں کی مدد سے علمِ کلام کی تدوین کرائے۔‘‘

(ہفت روزہ ’’پیغامِ صلح‘‘ ایضاً ص:۴ کالم:۱)

جواب:... اسلام کا علمِ عقائد قرآن وحدیث اور مفسرین ومحدثین کی تحریروں کی روشنی میں الحمدللہ مدوّن شدہ موجود ہے، البتہ قادیانی اُمت کو اس پر اِیمان نہیں۔ رہی ختمِ نبوّت پر تحقیق! سو وہ بھی بحمداللہ کامل ومکمل ہوچکی ہے، اور قومی اسمبلی بھی ایک سو ایک دن تک گھاس نہیں کھودتی رہی، روزانہ اٹھارہ اٹھارہ گھنٹے تک ’’اہلِ علم کی اعانت سے‘‘ ختمِ نبوّت پر تحقیق ہی کرتی رہی۔ مگر حیف کہ قادیانی اُمت کو وہ تحقیق بھی مُسلَّم نہیں:

بریں عقل ودانش بباید گریست!

(ہفت روزہ ’’پیغامِ صلح‘‘ ایضاً ص:۹ کالم:۲)

اصل مطلب:

’’حکومت دِینی تعلیم وتدریس کا نظام اپنے ہاتھ میں لے

259

لے، اپنی تعلیم کو وقت کے تقاضوں سے ہم آہنگ کرے، اور اسے اس نصاب سے آزاد کرے جو صدیوں کے فرسودہ نظریات، افکار اور تحقیق پر مبنی ہے۔‘‘

(ہفت روزہ ’’پیغامِ صلح‘‘ ایضاً ص:۴ کالم:۱)

جواب:... ہاں! یہ تھی اصل مطلب کی بات! دِینی مدارس میں پڑھایا جاتا ہے: قرآن، حدیث، عقائد، اُصول، فقہ اور ان کے خادم علوم، یہ قادیانی اُمت کے نزدیک ’’صدیوں پہلے کے فرسودہ نظریات وافکار‘‘ ہیں، اس لئے ان کی جگہ قادیان کی جدید نبوّت، جدید مسیحیت اور جدید علمِ کلام کا نصاب رائج ہونا چاہئے۔

یوں بھی دِین کی حرارت کے لئے ایمان ویقین کی انگیٹھیاں بھی مدارس مہیا کرتے ہیں، اور چودھویں صدی کے ظلمت کدے میں قال اللہ وقال الرسول کی روشن قندیلیں بھی سر پھرے مدارس گھر گھر لئے پھرتے ہیں۔ قادیانی مسیحیت اور اِشتراکی دہریت کے خلاف علمِ بغاوت یہیں سے بلند ہوتا ہے، اس لئے ان کو اپنے ہاتھ میں لینا ضروری ہے۔

اور اس مشورے کا ایک فائدہ یہ بھی ہے کہ اس طرح حکومت کے لئے ایک نیا مسئلہ کھڑا ہوجائے گا، اور علمائے کرام، ملتِ اسلامیہ اور خود حکومت کی نظر قادیانی مسئلے سے ہٹ جائے گی اور آئین وقانون کو اپنے تقاضے پورے کرنے کی فرصت ہی نہیں ملے گی، اسے کہتے ہیں: ’’ایک تیر سے دو شکار!‘‘۔

تمام فتنوں کو:

’’اگر حکومت دِینی اُمور میں مخلص ہے تو اسے چاہئے کہ تمام مسلمانوں کو اِسلامی اَوامر ونواہی پر چلنے کے لئے قوانین بنائے اور ان تمام فتنوں کو ختم کرے جنہوں نے اسلامی اِتحاد کو کھوکھلا کر رکھا ہے۔‘‘

(ہفت روزہ ’’پیغامِ صلح‘‘ ایضاً ص:۴ کالم:۱)

جواب:... مشورہ بڑا صائب ہے، البتہ اس پر ایک فقرے کا اِضافہ کردینا چاہئے

260

کہ ان تمام فتنوں میں سب سے بڑا فتنہ مرزا غلام احمد کی مسیحیت ہے جو اِبتدائے آفرینش سے آج تک بقول علامہ اقبال، اسلام کی غدار اور انگریز کی جاسوس رہی۔

وَمَا عَلَیْنَا اِلّا الْبَلَاغ!

(ہفت روزہ ’’لولاک‘‘ لائل پور، ۱۷؍مارچ ۱۹۷۵ء)

انوکھی رحمت:

لاہوری ہفت روزہ ’’پیغامِ صلح‘‘ ۲۲؍جنوری ۱۹۷۵ء کی اِشاعت میں ہے:

’’ان فتاویٰ کفر کی کثرت دیکھ کر علمائے ربانی گھبرائے نہیں، انہوں نے اس کو رحمت سمجھ لیا، پتھروں کی بارش کو پھول سمجھ کر برداشت کرلیا۔‘‘

جواب:... فتویٔ کفر بھی رحمت ہے، تو دُعا کیجئے یہ دولت دونوں جہان میں مرزا صاحب کی جماعت کے شامل رہے، مرزا صاحب جو ’’رحمۃ للعالمین‘‘ بن کر آئے تھے، اس سے مراد بھی غالباً یہی رحمتِ کفر ہوگی ـــــــ مبارک باد...!

چودھویں صدی ختم ہونے کو:

’’پیغامِ صلح‘‘ کے اسی شمارے میں ہے:

’’اس صدی کے سر پر سوائے حضرت مرزا غلام احمد قادیانی کے اور کسی شخص نے دعویٔ مجدّدیت نہیں کیا، آج چودھویں صدی ختم ہونے کو ہے۔‘‘

جواب:... تو اَب بس کیجئے مرزا صاحب کا دورِ تجدید ختم ہولیا، ان کی رحمۃ للعالمینی کو جتنا گرجنا تھا گرج لی اور اس کا نتیجہ بھی نکل آیا۔

نئی خلافت نئے فتنے:

’’پیغامِ صلح‘‘ ۵؍فروری ۱۹۷۵ء میں ہے:

’’ہمارے زمانے میں ایک نئی خلافت (ربوہ) نے ان

261

(اسلامی) روایات کو ختم کرنے کے لئے سن ہجری کو ختم کرکے ایک نیا سن جاری کردیا، جس کی وجہ سے اس سن کی عظمت پر ضرب پڑتی ہے، حالانکہ جن لوگوں نے سنِ ہجری جاری کیا تھا وہ اسلام میں ہجرت اور اس کے بلند ترین مقام کو خوب سمجھتے تھے اور انہیں علم تھا کہ اللہ تعالیٰ نے ہجرت کو بلند ترین مقام بخشا تھا، لیکن اب مسلمانوں کو ’’ہش، وفا، تبوک‘‘ وغیرہ مہینوں کی راہ پر ڈال کر نئے نئے فتنوں کو اُبھارا جارہا ہے۔‘‘

جواب:... جزاک اللہ! بات ٹھیک کہی مگر ادھوری! اسلام میں قمری تقویم رائج ہے، سیکڑوں اِسلامی اَحکام اس قمری حساب سے وابستہ ہیں، قمری تقویم کی جگہ ’’ہش‘‘ جاری کرنا، دراصل ان اَحکام کو منسوخ کرنے کے مترادف ہے۔ مگر شکوہ کیجئے تو کس سے کیجئے؟ جس دورِ فتن میں اسودِ قادیاں کو محمدِ عربی صلی اللہ علیہ وسلم سے بڑھ کر مانا جائے، مسیلمہ ہند کو رُوح اللہ ...علیٰ نبینا وعلیہ الصلوٰۃ والسلام... سے افضل سمجھا اور مسیحِ پنجاب کو تمام کمالاتِ انبیاء کا جامع تصوّر کیا جائے، اس تاریک دور میں ان باریکیوں میں کون جاتا ہے...؟

اور جن لوگوں نے بقائمی عقل وخرد محمد ...صلی اللہ علیہ وسلم... کے مقابلے میں نیا محمد، نبوّت کے مقابلے میں نئی نبوّت، اُمہات المؤمنینؓ کے مقابلے میں نئی اُمّ المؤمنین، صحابہ کرامؓ کے مقابلے میں نئے صحابی، اہلِ بیتِ نبی کے مقابلے میں نئے اہلِ بیت، ابوبکر رضی اللہ عنہ کے مقابلے میں نیا ابوبکر، عمر فاروق رضی اللہ عنہ کے مقابلے میں فضل عمر، مردہ علی ...معاذاللہ... کے مقابلے میں زندہ علی، حسینؓ کے مقابلے میں نیا حسین، مہدیٔ اسلام کے مقابلے میں نیا مہدی، آدم علیہ السلام کے مقابلے میں نیا آدم، اِبراہیم علیہ السلام کے مقابلے میں نیا اِبراہیم، حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے مقابلے میں نیا عیسیٰ، مقامِ اِبراہیم کے مقابلے میں نیا مقامِ اِبراہیم، مسجدِ حرام کے مقابلے میں نیا حرم، مسجدِ اَقصیٰ کے مقابلے میں نئی مسجدِ اَقصیٰ، بیت اللہ کے مقابلے میں نیا بیت اللہ، حج کے مقابلے میں ظلّی حج، اور خلافتِ راشدہ کے مقابلے میں نئی خلافت ...وغیرہ وغیرہ... کا فتنہ کھڑا کرلیا ہو، ان کے لئے اسلامی

262

سن کے مقابلے میں قادیانی سن کا فتنہ کھڑا کرنا کیا حقیقت رکھتا ہے...؟

غور کیجئے! جب مرکزِ تجلیات، کعبہ کی جگہ قادیان بن جائے، جب مرکزِ عقیدت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی جگہ احمد ہندی ...مرزا صاحب... ٹھہرے، اور جب گنبدِ خضراء کے حقوق قادیان میں گنبدِ بیضاء کو عطا کردئیے جائیں، تو اور پیچھے کیا رہ جاتا ہے؟ ہمارے بھولے بھالے لاہوری دوست کہتے ہیں حضرت صاحب نے نبوّت کا دعویٰ نہیں کیا تھا، حیف ہے کہ اُدھر بروزی نقب لگاکر اِسلام کا سب کچھ لوٹ کر قادیان منتقل کردیا گیا اور اِدھر لاہوری دوست بیٹھے، سب اچھا ہے کی رَٹ لگا رہے ہیں...!

نیا دِین:

ہفت روزہ ’’پیغامِ صلح‘‘ ۵؍مارچ ۱۹۷۵ء میں ہے کہ:

’’معاصر ہفت روزہ لاہور ۱۷؍فروری ۱۹۷۵ء میں جناب چوہدری محمد ظفراللہ خاں سابق صدر عالمی عدالتِ انصاف کا ایک مضمون بعنوان ’’میرا دِین‘‘ شائع ہوا ہے، جس میں انہوں نے مرزا صاحب کو مجدّد، محدث، مصلح کہہ کر لاہوری جماعت کے عقائد پر ’’برہانِ نیر‘‘ پیش کی ہے اور مرزا صاحب کے ظہور کو ختمِ نبوّت کی مہر نہ توڑنے والا ٹھہرایا ہے۔ البتہ چوہدری صاحب کا یہ فقرہ کہ ’’آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے جہاں اس مسیحِ موعود کا ذِکر فرمایا ہے اس کے ساتھ ہر بار ’’نبی اللہ‘‘ کا لقب بھی شامل کیا ہے‘‘ اِصلاح طلب ہے۔‘‘

جواب:... ادارہ ’’پیغامِ صلح‘‘ نے اگر چوہدری صاحب کے مضمون سے یہ مطلب اخذ کیا ہے کہ مرزا صاحب نبی نہیں تھے، تو یہ ان کی غلط فہمی ہے۔

دراصل مرزا غلام احمد صاحب سے مرزا ناصر احمد تک قادیانی جماعت کا عقیدہ یہ ہے کہ مرزا صاحب، آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی مہرِ نبوّت کے فیضان سے نبی بنے ہیں،

263

اس لئے ان کی نبوّت سے مہرِ نبوّت نہیں ٹوٹتی، بلکہ اس کا کمال ثابت ہوتا ہے، اور کمالِ فیضان سے مطلب ہے فنا فی الرسول ہوکر آپ کے تمام کمالاتِ نبوّت کو جذب کرکے نبوّتِ محمدیہ کی چادر خود اوڑھ لینا۔ یہی معنی ہیں ظلّی اور بروزی نبوّت کے، اور یہی تفسیر ہے خاتم النبیین کی۔ خلاصہ یہ کہ مرزا صاحب نبی ہیں، واقعۃً نبی ہیں، حقیقۃً نبی ہیں، من جانب اللہ نبی ہیں، مگر بلاواسطہ نہیں، بلکہ بواسطہ اِتباعِ محمدی اور بذریعہ فیضانِ ختمِ نبوّت۔ یہ ہے قادیانی عقیدہ، اور یہی عقیدہ مختصراً چوہدری صاحب نے اپنے مضمون ’’میرا دِین‘‘ میں بیان کیا ہے۔ اور اسی کی تشریحات مرزا صاحب نے سیکڑوں صفحات پر پھیلائی ہیں، مگر لاہوری بھولے بادشاہ ہیں کہ چوہدری صاحب کے مضمون پر بغلیں بجانے لگے۔

لاہوری دوستو! مرزا صاحب کی ظلّی نبوّت طلسم ہوشربا ہے، یہ بروزی گورکھ دھندا ہے، اس گتھی کو سلجھانا تمہارے بس کا روگ نہیں، ہمت ہے تو مجازی نبوّت کے تارِ عنکبوت کو توڑ کر باہر نکل آؤ، اور اس بیضۂ مور سے باہر جھانک کر دیکھو کہ خدا کی زمین کتنی فراخ اور کشادہ ہے، اور اگر تمہارے کمزور اعضائے فکر اس مکڑی کے جالے کو توڑنے پر قادر نہیں تو ہمیشہ کے لئے اس میں پھڑپھڑاتے رہو، اور دُنیا ہی میں: ’’لَا یَمُوْتُ فِیْھَا وَلَا یَحْیٰی‘‘ کی عبرتناک تصویر بنے رہو۔ خدا شاہد ہے کہ ہمیں تم لوگوں سے ذاتی بغض نہیں، بلکہ تمہاری حالتِ زار پر رحم آتا ہے، مگر جب تم خود ہی اپنی ذات پر رحم نہ کرنا چاہو تو کیا کیا جائے؟ کس طرح تمہارا ہاتھ پکڑ کر تمہیں اس دَلدل سے نکالا جائے جس میں تم سر تک دھنس گئے ہو اور ابھی دھنستے ہی جارہے ہو۔ مولانا لال حسین اختر، مولانا عبدالکریم مباہلہ اور دیگر بیسیوں افاضل، قادیان کے ’’سبزباغ‘‘ کی سیر کرنے کے بعد وہاں کے گل وبلبل کی داستانیں ساتھ لے کر نکل آئے، تمہیں بڑے باپ کے بڑے بیٹے کے افسانے ازبر ہیں، اور پھر بڑے بیٹے کے بارے میں بڑے باپ کی اِلہامی بشارتیں اور دُعائیں بھی حفظ ہیں، اس کے بعد بھی تمہاری قوّتِ فکریہ صحیح فیصلہ نہ کرے اور تم نار کو عار پر، اور دُنیا کو عقبیٰ پر ترجیح دینے ہی کا فیصلہ کرو، تو تم ہی بتاؤ تمہیں کیسے سمجھایا جائے؟ اللہ تعالیٰ نے تمہارے سمجھنے سوچنے کے لئے بیسیوں موقعے پیدا کئے لیکن: ’’وَمَنْ لَّمْ یَجْعَلِ اللہُ لَہٗ نُوْرًا فَمَا لَہٗ مِنْ نُّوْرٍ‘‘ اللہ

264

تعالیٰ ہم سب کو صراطِ مستقیم کی ہدایت فرمائے۔

مدعیٔ نبوّت اور تأویل:

اسی ہفت روزہ ’’پیغامِ صلح‘‘ ۱۵؍مارچ ۱۹۷۵ء کے صفحہ:۱۲ پر ہے:

’’بے شک محمود احمد خلیفہ قادیان نے علیحدہ اُمت قائم کی اور ختمِ نبوّت کو توڑ کر اپنے والد بزرگوار کو ...۔۔ کی تائید کرتے ہوئے مدعیٔ نبوّت ثابت کرنے کی کوشش کی اور تمام مسلمانوں کو مرزا صاحب کو نبی نہ ماننے کی وجہ سے کافر کہا، مگر چونکہ ظاہراً وہ تمام ارکانِ اسلام بجا لاتے ہیں اور منہ سے بھی کلمہ پڑھتے رہے لہٰذا ’’احمدیہ جماعت لاہور‘‘ ان کی تکفیر سے اِجتناب کرتی رہی۔‘‘

جواب:... یہ ہے مرزائی اسلام، ایک شخص مدعیٔ نبوّت کو حقیقی نبی ثابت کرتا ہے، اس پر اِیمان نہ لانے کی وجہ سے تمام اُمتِ مسلمہ کو کافر کہتا ہے، مگر لاہوری مرزائیوں کے نزدیک وہ کافر نہیں بلکہ پکا مسلمان ہے۔

مرزا محمود خلیفہ قادیان اور ان کی جماعت کے عقائد سب کو معلوم ہیں، وہ مرزا غلام احمد قادیانی کو بعینہٖ محمد رسول اللہ سمجھ کر ’’لا اِلٰہ اِلَّا اللہ محمد رسول اللہ‘‘ میں محمد سے مرزا صاحب مراد لیتے ہیں، ان کا عقیدہ ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم ہی مرزا قادیانی کی شکل میں دوبارہ مبعوث ہوئے ہیں، وہی تمام دُنیا کے رسول ہیں، وہی رحمۃ للعالمین ہیں، اب قیامت تک انہی کے ذریعے فیض ملے گا، انہی کی پیروی میں اب نجات منحصر ہے، اور جو لوگ مرزا قادیانی کی بعثت ونبوّت پر اِیمان نہیں لائے ...ان میں لاہوری مرزائی بھی اپنے آپ کو شامل کرتے ہیں... وہ نہ صرف کافر بلکہ پکے کافر اور دائرۂ اسلام سے خارج ہیں، مشرک ہیں، جہنمی ہیں، کتوں اور خنزیروں کی اولاد ہیں۔ لیکن ان تمام خبیث عقائد کے باوجود لاہوری مرزائی ان کو اپنا بھائی سمجھتے ہیں، اگر یہی صحیح ہے تو لاہوری مرزائیوں کو اِعلان کردینا چاہئے کہ مسیلمہ کذّاب سے لے کر بہاء اللہ اِیرانی تک اور چراغ دین سے لے کر

265

اِسماعیل لندنی تک، جتنے جھوٹے نبی، مسیح، مہدی اور مدعی گزرے ہیں، وہ سب مسلمان تھے، اور ان کے ماننے والے ہماری برادری میں شامل ہیں۔ کیونکہ ہر مدعی کوئی نہ کوئی اِلہامی تأویل لے کر اُٹھتا ہے، اور اِلہام وتأویل ہی کے سہارے اپنی رِسالت ونبوّت اور مہدویت ومسیحیت کا اِعلان کرتا ہے، لہٰذا لاہوریوں کے نزدیک ہر تأویل کنندہ مسلمان ہے، اور ان کی برادری کا ممبر ہے۔

اسلامی عقائد میں وضاحت کردی گئی ہے کہ دِین کے مُسلَّمہ حقائق کو تأویل کے ذریعے بدلنے والا مسلمان نہیں۔ شیخ علی القاریؒ علمِ عقائد کی کتاب ’’قصیدہ بدء الامالی‘‘ کی شرح میں لکھتے ہیں:

’’فإن إعتقاد نبوۃ من لیس بنبی کفر، کإعتقاد نفی نبوۃ نبی من الأنبیاء۔‘‘

ترجمہ:... ’’غیرنبی کو نبی سمجھنا کفر ہے، جس طرح کہ کسی بھی نبی کے نبی نہ ہونے کا عقیدہ رکھنا کفر ہے۔‘‘

انصاف کرو کہ مرزا صاحب جو غیرنبی تھے، ان کو حقیقی یا ظلّی یا بروزی نبی سمجھنے والوں کا کیا حکم ہے؟ ان کی وحی پر اِیمان لانے والے کون ہیں؟ ان کے معجزات کی تصدیق کرنے والے کیا حکم رکھتے ہیں؟ اِمام ابوحنیفہؒ کا فتویٰ یہ ہے کہ: ’’جس نے خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد کسی نبوّت کا دعویٰ کرنے والے سے معجزہ طلب کیا، وہ بھی کافر ہے!‘‘۔

ان کی بھی سنئے:

روزنامہ ’’الفضل‘‘ ۸؍مارچ ۱۹۷۵ء میں ربوہ کے خلیفہ جناب مرزا ناصر احمد صاحب کا تازہ خطبۂ جمعہ شائع ہوا ہے، چند کلمات ان کے بھی سماعت فرمائیے، گزشتہ مہینہ ارشاد ہوتا ہے:

’’گزشتہ عرصے میں بہت سے مہینے ایسے گزرے ہیں جو بڑی پریشانیوں کے مہینے تھے اور فساد کے مہینے تھے، اور ظلم سہنے کے

266

مہینے تھے اور ظلم کو برداشت کے ساتھ اور مسکراتے چہروں کے ساتھ برداشت کرنے کے مہینے تھے، اور جو چیز حضرت مسیحِ موعود (مرزا غلام احمد) کے ذریعے ہمیں حاصل ہوئی، اس کو ظاہر کرنے کے مہینے تھے۔‘‘

جواب:...یعنی عبرت پکڑنے کے علاوہ باقی سب کچھ کے مہینے تھے...!

قرآن پر یقین:

اسی شمارے میں آگے مزید اِرشاد ہے:

’’یعنی یقین کی دولت کو ظاہر کرنے کے مہینے تھے، جو مرزا صاحب کے ذریعے ہم نے پائی، یقین اس بات پر کہ اللہ ہے (اور وہ مرزا صاحب کی رُؤیا کے مطابق خود مرزا صاحب ہیں ...ناقل) اور یقین اس بات پر کہ قرآنِ عظیم ایک نہایت ہی حسین شریعت اور ایک کامل ومکمل ہدایت ہے۔‘‘

جواب:... اگر یہ یقین ہوتا تو مرزا صاحب کو نئی ’’وحیٔ نبوّت‘‘ کے نئے بیس پارے لکھنے کی ضرورت نہ ہوتی، جبکہ مرزا صاحب لکھتے ہیں کہ ’’خدا کا کلام اس قدر مجھ پر نازل ہوا کہ اگر وہ تمام لکھا جائے تو بیس جزو سے کم نہیں ہوگا۔‘‘

(حقیقۃ الوحی ص:۲۹۱)

لولاک لما خلقت الافلاک:

مزید اِرشاد ہے:

’’یقین اس بات پر کہ حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم دُنیا کے لئے عظیم محسن ہیں اور آپ کا مقام اس کائنات میں ان الفاظ میں بیان ہوا:’’لَولَاک لما خلقت الأفلاک‘‘ کہ اگر محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو پیدا کرنا مقصود نہ ہوتا تو اس کائنات کو پیدا کرنے ہی کی ضرورت نہ تھی۔‘‘

جواب:... مرزائیوں کو حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی شانِ لولاک پر بھی یقین نہیں،

267

ان کا اِیمان یہ ہے کہ یہ شان مرزا غلام احمد کی ہے۔

(دیکھئے: تذکرہ ص:۶۰۴، ۶۴۹ طبع دوم)

رحمۃ للعالمین:

آگے مزید اِرشاد ہے:

’’حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم رحمۃ للعالمین ہیں، آپ کو صرف انسانوں کے لئے رحمت نہیں کہا گیا بلکہ رحمۃ للعالمین کہا گیا ہے۔‘‘

جواب:...بے شک حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم رسول اللہ بھی ہیں اور رحمۃ للعالمین بھی، لیکن مرزائیوں کا ’’محمد رسول اللہ‘‘ اور ’’رحمۃ للعالمین‘‘ تو مرزا غلام احمد ہے۔

(دیکھئے: تذکرہ ص:۹۷ اور ۱۸۳)

مہدی:

اسی شمارے میں آگے فرماتے ہیں:

’’اور یقین اس بات پر کہ حضرت محمد رسول اللہ کو ایک وعدہ دِیا گیا تھا کہ آخری زمانے میں آپ کی ’’رُوحانی اولاد‘‘ میں سے ایک مہدی، ایک بطل جلیل اور آپ کا سب سے زیادہ محبوب بیٹا رُوحانی لحاظ سے پیدا ہوگا، اور وہ ایک جماعت پیدا کرے گا۔‘‘

جواب:... اس اِرشاد پر چند گزارشات ملاحظہ فرمائیں:

۱:... مرزا صاحب نے لکھا ہے کہ مہدی سے متعلق حدیثیں جھوٹ ہیں، کیا مرزائی جھوٹ پر یقین رکھتے ہیں؟

۲:... مہدی کی احادیث میں کسی جگہ بھی ’’رُوحانی اولاد‘‘ کا لفظ نہیں آیا، کیا یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر اِفترا اور بہتان نہیں...؟

۳:... جو شخص ساری عمر صلیب پرستوں کا مطیع وفرماںبردار رہے، وہ بطلِ جلیل ہوتا ہے؟ اور جو شخص عیسائی کی عدالت میں انگوٹھا لگاکر آئے کہ فدوی آئندہ کوئی ایسا ویسا

268

اِلہام شائع نہیں کرے گا، وہ ’’مہدی بہادر‘‘ کہلاتا ہے؟

۴:... کس حدیث میں آیا ہے کہ مہدی کے مرجانے کے چالیس سال بعد اس کا پایۂ تخت قادیان شریف دارالکفر بن جائے گا، اور ۷۰ سال بعد اس کی جماعت کو بصد ذِلت خارج اَزاِسلام قرار دِیا جائے گا، اور جماعت کا اِمام اپنی جماعت کو غلبۂ اِسلام کے سبزباغ دِکھائے گا، اگر ایسا مضمون کسی حدیث میں آیا ہو تو خلیفہ صاحب اپنے خطبے میں اس حدیث کا حوالہ دیں۔

اللہ تعالیٰ نے فرمایا:

آگے فرماتے ہیں:

’’اللہ تعالیٰ نے فرمایا تھا کہ میں محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کے رُوحانی فرزند ...معاذاللہ، مرزا... کو ایک جماعت دُوں گا جو اس رُوحانی فرزند کے ذریعے حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے فیوض وبرکات کی وارث، آپ کی تعلیم پر چلنے والی اور آپس میں پیار کرنے والی ہوگی۔‘‘

جواب:... خلیفہ صاحب! یہ کس آیت کا ترجمہ ہے؟ اور یہ بھی فرمایا ہوتا کہ مہدی کی یہ جماعت ربوہ والی ہے یا لاہوری؟ یا حقیقت پسند پارٹی یا قادیان شریف کی طرف منہ کرکے نماز پڑھنے والی؟ ربوہ سے شہر بدر کئے گئے لوگ تو مہدی کی جماعت کا نقشہ کچھ اور ہی پیش کرتے ہیں...!

جماعت کا یقین:

آخر میں اِرشاد ہے:

’’میرے سامنے بعض دوست ایسے بھی ہیں جو اس حقیقت پر یقین نہیں رکھتے، وہ خدا کی نگاہ میں مسیحِ موعود کی جماعت میں شامل نہیں، صرف دُکھ اُٹھانے کے لئے حضرت مسیحِ موعود کی

269

طرف منسوب ہونا تو بڑی بدقسمتی کے مترادف ہے، بھلا یہ بھی کوئی بات ہے کہ دُکھ اُٹھانے کے لئے انسان مسیحِ موعود کی جماعت کی طرف منسوب ہوجائے اور فیوض اور رحمتوں سے اپنے آپ کو محروم کرلے۔‘‘

(ملخصاً)

جواب:... سارے خطبے میں یہی ایک سچی بات اِرشاد ہوئی، واقعۃً مرزائی اُمت کے تمام اَفراد بدقسمتی، محرومی اور دُکھ اُٹھانے کے لئے ایک فرضی ’’مسیحِ موعود‘‘ مرزا غلام احمد کی طرف منسوب ہوگئے، اور یہی محرومی وبدقسمتی ان کی دائمی قسمت ہے۔ خلیفہ صاحب ان کو غلبۂ اِسلام کے سبزباغ دِکھاکر چندہ تو جمع کرسکتے ہیں، مگر ان کی قسمت نہیں بدل سکتے۔

(ہفت روزہ ’’لولاک‘‘ ۲۶؍مئی ۱۹۷۵ء)

’’سیرت المہدی‘‘ فضول:

لاہوری رسالہ ’’پیغامِ صلح‘‘ ۲؍اپریل ۱۹۷۵ء میں ہے:

’’خیال تھا کہ شاید ربوائی جدّت طرازوں نے ’’سیرت المہدی‘‘ ایسی فضول کتاب سے کوئی سبق حاصل کرلیا ہوگا، مگر افسوس کہ ایسا نہیں ہوا اور لایعنی روایات کی اِختراع جاری ہے، ملاحظہ فرمائیں: ’’حضرت مسیحِ موعود علیہ السلام کے والد مرزا غلام مرتضیٰ صاحب سے جب کسی نے پوچھا کہ: آپ کا لڑکا کہاں ہے؟ تو انہوں نے کہا کہ: کسی صف میں لپٹا ہوگا، یا لوٹے کی ٹونٹی میں۔‘‘

(انصار اللہ جنوری ۱۹۷۵ء ص:۸)

ہوئے تم دوست جس کے دُشمن اس کا آسماں کیوں ہو؟

کیا لوٹے کی ٹونٹی میں ہونا بھی رُوحانیت کا کوئی مقام ہے؟‘‘

جواب:... کہتے ہیں کہ ایک حبشی جارہا تھا، راستے میں آئینہ ملا، اُٹھاکر دیکھا تو

270

اپنی پری پیکر صورت نظر آئی، گھبراکر اسے زمین پر دے مارا، اور بولا: اتنا بدصورت تھا جب ہی تو کسی نے یوں پھینک دیا۔

’’سیرت‘‘ کسی شخص کا آئینہ ہوتی ہے، ’’سیرت المہدی‘‘ میں قادیانی اُمت کو مرزا غلام احمد کے ملکوتی سراپا کی کچھ جھلکیاں نظر آتی ہیں، وہ حبشی کی طرح اس آئینے ہی کو توڑنے پر آمادہ ہے، حالانکہ اگر ’’سیرت المہدی‘‘ فضول ہے، تو اس میں قصور ’’سیرت‘‘ کا نہیں، بلکہ صاحبِ سیرت کا ہے۔ نام نہاد ’’مہدی‘‘ کے صفحاتِ زندگی ہی اتنے زَرّیں اور تابناک ہیں کہ قادیانی اُمت ان سے حبشی کے آئینے کی طرح جھنجلاتی ہے۔

رہا ’’پیغامِ صلح‘‘ کا یہ سوال کہ کیا لوٹے کی ٹونٹی میں ہونا بھی رُوحانیت کا کوئی مقام ہے؟ اس کا جواب نہ ’’ربوائی جدّت طراز‘‘ دے سکتے ہیں، نہ ’’لاہوری اِلہام پرست‘‘ اس عقدے کو حل کرسکتے ہیں، اس کا حل یہ ہے کہ جس مسیحِ موعود صاحب کے لئے چالیس برس کی عمر میں مراق اور سلس البول ’’رُوحانی مقامات‘‘ کی حیثیت رکھتے ہوں، اس کے بچپن کا ’’رُوحانی مقام‘‘ لوٹے کی ٹونٹی ہی ہوسکتا ہے۔ مثل مشہور ہے کہ ’’ہونہار بروا کے چکنے چکنے پات‘‘ اور یہ تو سنِ شعور کا ’’رُوحانی مقام‘‘ تھا، جب مسیحِ موعود اَبھی بچے ہی تھے، اس وقت آپ کا ’’رُوحانی مقام‘‘ تھا روٹی پر راکھ رکھنا اور کھانڈ کے دھوکے، گھر سے نمک چُرالے جانا۔

(دیکھئے: سیرت المہدی ج:۱۰ ص:۲۴۴، ۲۴۵)

توہین:

’’پیغامِ صلح‘‘ ۲؍اپریل ۱۹۷۵ء کے شمارے میں ہے:

’’گزشتہ سال ربوہ کے مولوی محمد شریف صاحب حج پر تشریف لے گئے اور مکہ معظمہ میں اَسیرِ زنداں رہے، جنوری ۱۹۷۵ء کے ’’انصارُاللہ‘‘ میں داستانِ قید وبند کی دُوسری قسط درج ہے، جس کو بارہ مصالحہ لگاکر چٹ پٹا بنانے کی کوشش کی گئی ہے، لیکن اس سلسلے میں ان کی وصیت کا تذکرہ یوں کیا ہے: ’’میں نے ان سے

271

کہا کہ میری ایک درخواست ہے، وہ یہ کہ اگر میں قتل کردیا جاؤں تو میری میّت میرے وطن بھجوائی جائے، کہنے لگے: ’’لَا فی ھٰذا الجھنم‘‘ یعنی جہنم میں دفن کی جائے گی۔‘‘ (ص:۲۵)۔

عربی کے اس سقیم فقرے کا ترجمہ ہے: ’’نہیں اس جہنم میں‘‘ لیکن ’’داستان سرا‘‘ نے ’’ھٰذا‘‘ کا ترجمہ ’’اس‘‘ حذف کردیا ہے۔ کیا کوئی مسلمان مکہ معظمہ کے بارے میں ایسے الفاظ استعمال کرسکتا ہے؟ (العیاذ باللہ)۔ ربوائی حضرات شعوری نہیں تو لاشعوری طور پر ایسی باتیں لکھ جاتے ہیں جن سے مقدس ہستیوں یا مقدس مقامات کی توہین ہوتی ہے، انہیں اس سے اِحتراز کرنا چاہئے۔‘‘

جواب:... لاہوری مرزائی بھی بڑے بھولے بادشاہ ہیں، ’’انصارُاللہ‘‘ نے مکہ مکرمہ کو جہنم لکھ دیا، بس اتنی سی بات پر مقدس ہستیوں یا مقدس مقامات کی توہین سے باز رہنے کا وعظ کہنے لگے، حالانکہ مقدس ہستیوں کی اہانت اور شعائر اللہ کی توہین تو مرزائی اُمت اور ان کے ’’مسیحِ موعود‘‘ کی سرشت میں داخل ہے، کیا ’’پیغامِ صلح‘‘ کو مرزا غلام احمد قادیانی کے تعلّی آمیز دعوے بھول گئے ہیں؟ کیا انہیں یاد نہیں کہ مرزا صاحب نے ’’اسلام‘‘ کے بارے میں فرمایا تھا:

’’نبی کے معنی صرف یہ ہیں کہ خدا سے بذریعہ وحی خبر پانے والا ہو، اور شرفِ مکالمہ اور مخاطبۂ اِلٰہیہ سے مشرف ہو۔ شریعت کا لانا اس کے لئے ضروری نہیں۔ وہ دِین، دِین نہیں ہے اور نہ وہ نبی، نبی ہے، جس کی متابعت سے انسان خدا تعالیٰ سے اس قدر نزدیک نہیں ہوسکتا کہ مکالماتِ اِلٰہیہ سے مشرف ہوسکے، وہ دِین لعنتی اور قابلِ نفرت ہے جو یہ سکھلاتا ہے کہ صرف چند منقولی باتوں (یعنی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی شریعت) پر اِنسانی ترقیات کا مدار ہے اور وحیٔ اِلٰہی آگے نہیں بلکہ پیچھے رہ گئی ہے ...۔۔ سو ایسا دِین بہ نسبت

272

اس کے کہ اس کو رحمانی کہیں، شیطانی کہلانے کا زیادہ مستحق ہوتا ہے۔‘‘

(براہین احمدیہ ج:۵ ص:۱۳۸)

مزید سنئے:

’’وہ مذہب مردار ہے جس میں ہمیشہ کے لئے یقینی وحی کا سلسلہ جاری نہیں، کیونکہ وہ اِنسانوں پر یقین کی راہ بند کرتا ہے اور ان کو قصوں کہانیوں پر چھوڑتا ہے اور ان کو خدا سے نااُمید کرتا اور تاریکی میں ڈالتا ہے۔ اور کیونکر کوئی مذہب خدانما ہوسکتا ہے اور کیونکر گناہوں سے چھڑاسکتا ہے، جب تک کوئی یقین کا ذریعہ اپنے پاس نہیں رکھتا ...... اب بتلاؤ اے مسلمان کہلانے والو! کہ ظلماتِ شک سے نورِ یقین کی طرف تم کیونکر پہنچ سکتے ہو، یقین کا ذریعہ تو خدا تعالیٰ کا کلام ہے۔‘‘ (نزولِ مسیح ص:۹۱)

(ہفت روزہ ’’لولاک‘‘ لائل پور، جون ۱۹۷۵ء)

اسلام اور قادیانیت:

۷؍ستمبر ۱۹۷۴ء کے آئینی فیصلے کے مطابق منکرینِ ختمِ نبوّت خارج اَزاِسلام ہیں، اس فیصلے کا مفہوم یہ ہے کہ اسلام اور قادیانیت دو ضدیں ہیں، اگر ایک شخص مسلمان ہے تو وہ مرزائی نہیں ہوسکتا، اور مرزائی ہے تو مسلمان نہیں کہلاسکتا۔ آئین کے تقاضوں کو اَب تدریجاً قانونی شکل دی جارہی ہے، چنانچہ صدرِ مملکت کے ایک حکم میں سینیٹ کی رُکنیت کے مسلمان اُمیدواروں کے لئے لازم قرار دِیا گیا ہے کہ وہ حلفیہ اِقرار کریں کہ وہ ختمِ نبوّت کے منکر اور مرزائی نہیں ہیں۔ حلف نامے کی عبارت حسبِ ذیل ہوگی:

’’میں حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے آخری نبی ہونے پر مکمل، پختہ اور غیرمشروط یقین رکھتا ہوں، اور میں ایسے شخص کو نبی یا مذہبی مصلح تسلیم نہیں کرتا جو حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد (مرزا

273

غلام احمد قادیانی کی طرح) نبی ہونے کا اِعلان کرتا ہے۔‘‘

قریباً اسی نوعیت کا حلف نامہ شناختی کارڈ کے فارم میں درج کیا گیا ہے، جس میں تصریح کی گئی ہے کہ جو شخص مذہب کے خانے میں اپنا مذہب ’’اسلام‘‘ درج کرے اسے حلفیہ بیان دینا ہوگا کہ:

’’میں اِقرار کرتا /کرتی ہوں کہ میں خاتم النبیین حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ختمِ نبوّت پر مکمل اور غیرمشروط طور پر اِیمان رکھتا /رکھتی ہوں اور یہ کہ میں کسی ایسے شخص کا / کی پیروکار نہیں ہوں، جو حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد اس لفظ کے کسی بھی مفہوم یا کسی بھی تشریح کے لحاظ سے پیغمبر ہونے کا دعوے دار ہو، اور نہ ایسے دعوے دار کو پیغمبر یا مذہبی مصلح مانتا /مانتی ہوں، نہ ہی میں قادیانی گروپ یا لاہوری گروپ سے تعلق رکھتا /رکھتی ہوں یا خود کو ’’احمدی‘‘ کہتا /کہتی ہوں۔‘‘

اس حلف نامے کے مطابق مرزا غلام احمد قادیانی مدعیٔ نبوّت کے پیروکار ...قادیانی گروپ، لاہوری گروپ... خود کو مسلم نہیں کہہ سکتے، اور اگر وہ ’’مسلم‘‘ لکھنے پر اِصرار کریں تو مرزا قادیانی کے پیروکار نہیں رہ سکتے۔ الغرض اِسلام اور قادیانیت دو ضدیں ہیں جو ایک جگہ جمع نہیں ہوسکتیں۔ مرزائی اُمت سے یہ توقع عبث ہے کہ وہ نفاق کو چھوڑ کر اِسلام اور قادیانیت دونوں میں سے ایک کو قبول کرنے کی کوشش کرے گی، بلکہ اندازہ یہی ہے کہ حسبِ سابق وہ مسلمانوں میں ہی گھسنے کی تدبیر نکالے گی، لیکن اس صورت میں خود ان کا اپنا نقصان ہوگا۔

’’غیرمسلم احمدی‘‘ کا لفظ چھوڑ کر اگر وہ ’’اسلام‘‘ کا لفظ اِستعمال کریں گے تو ان کی مردم شماری کم ہوگی اور مرزا ناصر احمد خلیفہ ربوہ کا یہ دعویٰ غلط ثابت ہوجائے گا کہ پاکستان میں ہماری تعداد نصف کروڑ ہے، اب دیکھنا یہ ہے کہ مرزائی صاحبان اپنی تعداد محفوظ رکھنے کو ترجیح دیتے ہیں، یا مصنوعی طور پر اِسلام کا لبادہ اوڑھنے کو؟

274

عجیب منطق:

صدرِ مملکت کے حکم پر تبصرہ کرتے ہوئے لاہوری مرزائیوں کا آرگن ’’پیغامِ صلح‘‘ لکھتا ہے:

’’ہم اس حکم کے دِل سے مؤید اور مجوّزہ حلف نامے کو ضروری سمجھتے ہیں بشرطیکہ اس کے ساتھ حلف لینے والے کے لئے یہ بھی لازمی قرار دِیا جائے کہ وہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی دوبارہ آمد پر اِیمان نہیں رکھتا، ورنہ جو شخص حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی دوبارہ آمد کا منتظر ہو، اس کا حضرت محمد رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وسلم) کے آخری نبی ہونے پر مکمل اور پختہ یقین تسلیم نہیں کیا جاسکتا۔‘‘

(پیغامِ صلح ۲؍جولائی ۱۹۷۵ء)

مثل مشہور ہے کہ ’’رسّی جل گئی مگر بل نہیں گیا‘‘ مرزا قادیانی کے مرید اپنے کفر واِلحاد کی وجہ سے اُمتِ مسلمہ سے کٹ چکے ہیں، عیسائیوں اور چوہڑوں، چماروں کی فہرست میں ان کا نام درج کیا جاچکا ہے، مگر کجی اور اِلحاد کا کانٹا ان کے حلق سے ابھی تک نہیں نکلا۔

’’پیغامِ صلح‘‘ نے مرزا قادیانی کی لکیر کا فقیر بن کر کتنی بڑی جسارت سے یہ لکھ دیا کہ جو شخص حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی تشریف آوری کا قائل ہو وہ ختمِ نبوّت پر اِیمان نہیں رکھتا، حالانکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم، صحابہ کرامؓ، تابعینِ عظامؒ، اَئمہ دِینؒ، مجدّدینِ اُمتؒ سب اسی عقیدے پر دُنیا سے رُخصت ہوئے ہیں، یہ تمام حضرات، حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی حیات اور ان کے رفع ونزول کے قائل رہے، اس کا اِعتراف خود مرزا قادیانی کو بھی ہے، چنانچہ مرزا کے ملفوظات میں لکھا ہے کہ:

’’ایک دفعہ ہم دِلّی میں گئے تھے، ہم نے وہاں کے لوگوں سے کہا کہ تم نے تیرہ۱۳۰۰ سو برس سے یہ نسخہ اِستعمال کیا ہے کہ حضرت عیسیٰ

275

کو زِندہ آسمان پر بٹھایا ...۔۔‘‘

(ج:۱۰ ص:۳۰۰)

مرزا کے اس ملفوظ سے معلوم ہوا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے لے کر مرزا تک کی تیرہ صدیوں کے کل مسلمان یہی عقیدہ رکھتے آئے ہیں کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام دوبارہ تشریف لائیں گے۔ اب ’’پیغامِ صلح‘‘ کی غلط منطق کے مطابق گویا تیرہ، چودہ صدیوں کی اُمت ختمِ نبوّت کی منکر اور دائرۂ اسلام سے خارج تھی، اور خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر بھی ’’پیغامِ صلح‘‘ کا یہی فتویٰ عائد ہوگا ...معاذاللہ... یہ ہے وہ کج ذہنی جو مرزائی اُمت کو اپنے ’’ظلّی اور جعلی نبی‘‘ سے میراث میں ملی ہے۔

سنگل اور ڈبل:

ہفت روزہ ’’پیغامِ صلح‘‘ نے پنجاب کے سابق وزیراعلیٰ کے ایک بیان کا حوالہ دیتے ہوئے لکھا ہے:

’’کیا جناب رامے اس بات پر غور کریں گے کہ یہ کہاں کا عدل اور اِنصاف ہے؟ یا عدل واِحسان کی رُوح کے کہاں تک مطابق ہے کہ ملک کی ایک بہت بڑی جماعت اپنے پیشوا کی تقلید میں بار بار قسمیں کھا کھاکر یہ اِعلان کر رہی ہے کہ ہم حضرت رسولِ کریم محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کے خاتم النبیین بمعنی آخری نبی ہونے پر کامل ومکمل یقین واِیمان رکھتے ہیں اور آپ کے بعد کسی نئے یا پُرانے نبی کے آنے کے قائل نہیں، باوجود اس کے انہیں ’’غیرمسلم اقلیت‘‘ قرار دیا گیا۔‘‘

(۲۱؍جولائی ۱۹۷۵ء ص:۵)

دراصل مرزا قادیانی کے ماننے والوں کا قادیانی ...ربوائی... گروپ اگر ’’سنگل کافر‘‘ ہے تو لاہوری گروپ ’’ڈبل کافر‘‘، کیونکہ مرزا غلام احمد قادیانی کا دعویٔ نبوّت تو آفتابِ نیمروز ہے، جس سے کسی طرح اِنکار نہیں کیا جاسکتا، مرزا نے حقیقۃ الوحی میں لکھا ہے کہ:

276

’’جس قدر مجھ سے پہلے اولیاء اور اَبدال اور اَقطاب اس اُمت میں سے گزرے ہیں ان کو یہ حصۂ کثیر اس نعمت کا نہیں دیا گیا، پس اس وجہ سے نبی کا نام پانے کے لئے میں ہی مخصوص کیا گیا اور دُوسرے تمام لوگ اس نام کے مستحق نہیں۔‘‘

(ص:۳۹۱)

اس لئے تمام مرزائی اگر مدعیٔ نبوّت کو پیشوا تسلیم کرکے دائرۂ اسلام سے خارج ہیں تو لاہوری مرزائی ایک ’’نبی‘‘ کی نبوّت کا اِنکار کرنے کی وجہ سے ڈبل کافر ہوئے ہیں، رہا ان کا قسمیں کھا کھاکر یہ کہنا کہ ہم تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو آخری نبی مانتے ہیں، تو اس کا جواب اللہ تعالیٰ نے سورۂ منافقون کی پہلی آیت میں دے دیا ہے:

’’وَاللہُ یَشْھَدُ اِنَّ الْمُنٰـفِقِیْنَ لَکٰذِبُوْنَ‘‘

ترجمہ:... ’’اللہ گواہ ہے کہ یہ منافق اپنی قسموں میں جھوٹے ہیں۔‘‘

صحیح مگر نامکمل:

اس سلسلے میں ’’پیغامِ صلح‘‘ نے مزید لکھا ہے کہ ’’قادیانی یا ربوائی جماعت کے معتقدات جو کچھ بھی ہوں، ہمیں ان کا مطلب نہیں۔‘‘

بلاشبہ لاہوری مرزائیوں کو ربوہ کے مرزائیوں سے کچھ مطلب نہیں ہوگا، مگر ربوہ والوں کے معتقدات تو ٹھیک وہی ہیں جو مرزا غلام احمد کی کتابوں میں درج ہیں، اس لئے ’’پیغامِ صلح‘‘ کا فقرہ نامکمل رہے گا، جب تک کہ ’’قادیانی جماعت‘‘ کے ساتھ مرزا قادیانی کا نام بھی شامل نہیں کیا جاتا۔ ’’پیغامِ صلح‘‘ کو یہ لکھنا چاہئے تھا کہ مرزا قادیانی اور قادیانی جماعت کے معتقدات کچھ بھی ہوں، ہمیں ان سے کچھ مطلب نہیں۔ ورنہ یہ کیسے ممکن ہے کہ آپ مدعیٔ نبوّت کو ’’حضرت مسیحِ موعود‘‘ بھی مانیں اور پھر یہ شکایت کریں کہ ہمیں ’’غیرمسلم اقلیت‘‘ کیوں قرار دِیا گیا...؟

’’پیغامِ صلح‘‘ سے ایک سوال:

لاہوری مرزائی، مرزا غلام احمد قادیانی کو ’’مسیحِ موعود‘‘ اور ’’مہدیٔ معہود‘‘ کا لقب

277

دیتے ہیں، اور حضرت مہدی علیہ الرضوان کے بارے میں حدیث میں فرمایا گیا ہے کہ وہ زمین کو عدل واِنصاف سے اسی طرح بھردیں گے جس طرح کہ ان سے پہلے ظلم وجور سے بھری ہوئی ہوگی۔

(مشکوٰۃ)

مرزائیوں کا مزعوم مہدی پون صدی قبل دُنیا میں آیا اور چلا گیا، سوال یہ ہے کہ مرزا قادیانی کی آمد کے بعد دُنیا عدل واِنصاف سے بھرگئی یا اس کے برعکس ظلم وجور میں مزید اِضافہ ہوا؟ اگر واقعی مرزا قادیانی کے دم قدم سے عدل واِنصاف دُنیا میں پھیل گیا ہوتا، تو حدیث کے مطابق وہ بلاشبہ اپنے دعویٔ مہدویت میں سچا تھا، لیکن اس صورت میں ’’پیغامِ صلح‘‘ جناب رامے صاحب سے عدل واِنصاف کی بھیک کیوں مانگ رہا ہے؟ مرزائی اُمت کا یہ وصفِ گدائی اِعلان کر رہا ہے کہ مرزا قادیانی کے دعویٔ مہدویت کے بعد عدل واِنصاف کا دور دورہ نہیں ہوا، جس سے لازم آتا ہے کہ مرزا قادیانی کا دعویٔ مہدویت ومسیحیت غلط تھا، لہٰذا مرزائی اُمت کو دُنیا کے جوروستم کی شکایت نہیں کرنی چاہئے، کیونکہ اس سے ان کے مہدی صاحب کے دعویٔ مہدویت کا سارا طلسم ٹوٹ جاتا ہے۔ اور اگر انہیں اس شکایت سے مفر نہیں تو پہلے خود عدل واِنصاف سے کام لے کر مرزا کی دعویٔ مہدویت سے دستبردار ہوجانا چاہئے۔

کیا لاہوری مرزائی، قادیانی مہدی کے بارے میں عدل واِنصاف سے کام لیں گے...؟

(ہفت روزہ ’’لولاک‘‘ لائل پور ۱۲؍اگست ۱۹۷۵ء)

278

مدیرِ ’’صدق‘‘ کی قادیانیت نوازی

بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ

اَلْحَمْدُللہِ الَّذِی ھَدَانَا لِلْاِیْمَانِ وَمَا کُنَّا لِنَھْتَدِیَ لَوْ لَا اَنْ ھَدَانَا اللہُ، وَالصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامُ عَلٰی سَیِّدِنَا وَمَوْلَانَا مُحَمَّدٍ الَّذِیْ اَرْشَدَنَا اِلَی الْاِحْسَانِ وَعَلٰی آلِہٖ وَاَصْحَابِہٖ وَاَتْبَاعِہِ الَّذِیْنَ لَوَّانَا عَلٰی فَھْمِ مَعَانِی الْقُرْآن، اَمَّا بَعْدُ!

مولوی عبدالماجد صاحب دریاآبادی پاک وہند کی ایک ممتاز شخصیت ہیں، اور اپنے گوناگوں اوصاف کی وجہ سے مشہور ہیں۔ لیکن ’’طائفہ ملعونہ قادیانیہ‘‘ اور اس کے سربراہ مرزا آنجہانی کے حق میں مدّت سے ان کی رائے بے جا حمایت کی حد تک نرم ہے۔ اس باب میں حضرت مولانا محمد قاسم صاحب نانوتویؒ کی حکمت، مولانا رشید احمد صاحب گنگوہیؒ کا تفقہ، مولانا خلیل احمد سہارنپوری صاحبؒ کا علم وفضل، مولانا مفتی کفایت اللہ صاحبؒ کا اِخلاص، حافظ العصر مولانا السید محمد انور شاہ صاحب کشمیریؒ کا تبحرِ علمی، شیخ الاسلام حضرت مولانا حسین احمد صاحب مدنی ؒ کی تواضع، اور حکیم الامت مولانا اشرف علی صاحب تھانویؒ کی معاملہ فہمی ان کے لئے قطعاً بے سود ہیں۔ وہ ان تمام حضرات ...رحمۃ اللہ علیہم... کو اپنے وقت کا مقتدا اور اکابر ضرور تسلیم کریں گے، لیکن جہاں تک ان حضرات کی تحقیق، اِستدلال یا اِستنباط کا تعلق ہے، مولانا موصوف جب تک اس کو خود اپنی تحقیق کی کسوٹی پر پرکھ نہیں لیں گے، ہرگز تسلیم نہ کریں گے، اب اسے ان کی بلندنظری کہئے یا کمزوری! ان کا اصل مرض جو اُن کے تمام کمالات پر غالب آگیا ہے، یہی ہے کہ ان کے نزدیک ’’تقلید‘‘ کا لفظ بے معنی ہے، ان کے ملاحظے سے بیسیوں نصوص گزار دیجئے، پچاسوں اَقوال پیش

279

کردیجئے، لیکن ان کو ماننے کے لئے ان کا اپنا ’’شرحِ صدر‘‘ ضروری ہے۔ کسی مسئلے میں ان سے ایک دفعہ اِنکار ہوجائے، تو آئندہ ’’شرحِ صدر‘‘ کی توقع بے کار ہوگی۔ اپنے ’’شرحِ صدر‘‘ کے خلاف ہمیں یاد نہیں کہ موصوف نے کبھی اپنے بڑوں کی بھی مانی ہو ...جن کو وہ خود بھی پیر ومرشد کے بغیر یاد کرنا سوءِ ادب سمجھتے ہیں... چہ جائیکہ اپنے ہم مرتبہ یا کم مرتبہ کی انہوں نے سنی ہو، اور اسے لائقِ توجہ قرار دِیا ہو۔ پھر اپنے تمام اکابر کے علی الرغم مرزائیت کی مفت وکالت اور بے جاحمایت میں وقتاً فوقتاً ان کے قلم سے ’’صدقِ جدید‘‘ کے صفحات پر جو نکات جلوہ گر ہوتے رہتے ہیں، ان کو پڑھ کر مشکل ہی سے آدمی اپنی ہنسی ضبط کرسکتا ہے۔ موصوف کو اس ’’طائفہ‘‘ کی حمایت اور نصرت میں قریب قریب وہی ’’شرحِ صدر‘‘ ہے جو اس ملعون جماعت کے رَدّ اور تعاقب میں السید الامام مولانا محمد انور شاہ صاحب کشمیری ...نوّراللہ مرقدہٗ... کو تھا۔ مولانا موصوف جب مرزائیت کی نصرت کے موضوع پر قلم اُٹھاتے ہیں تو ان کا جوش، ان کی نکتہ آفرینی اور ان کا طرزِ اِستدلال دیدہ باید کا مصداق ہوتا ہے، لطف یہ کہ بالکل فرضی اور وہمی مقدمات ملاکر مولانا جو نتیجہ نکالتے ہیں، وہ ان کے نزدیک سوفیصد قطعی اور واقعی ہوتا ہے، اور نظرِثانی کی گنجائش! مولانا کے خیال میں اس میں نہیں ہوتی۔ بنظرِ اِنصاف دیکھئے مندرجہ ذیل عبارت کیا اسی نوعیت کی نہیں؟ مولانا رقم طراز ہیں:

’’دعویٔ نبوّت! متعارف اور مصطلح معنی میں ہرگز یقین نہیں آتا کہ کوئی معمولی عقل وعلم کا شخص بھی زبان پر لاسکتا ہے، چہ جائیکہ مرزا صاحب سا ’’فہیم وذی ہوش‘‘۔ سوا اس صورت کے کہ اس نے نبوّت ہی کے کوئی مخصوص معنی متعارف ومتبادر مفہوم سے الگ اپنے ذہن میں رکھ لئے ہوں۔ اور جس طرح فارسی، اُردو کے بے شمار شاعروں نے شراب، کفر، اِسلام، صنم، بت وغیرہ کی مخصوص اِصطلاحیں ان کے لغوی اور شرعی دونوں مفہوموں سے بالکل الگ گھڑلی ہیں، اس نے نبوّت کا اِستعمال کسی خانہ ساز اِصطلاحی معنی میں شروع کردیا ہو، اور جب ایسا ہے تو اِنسان جس طرح ان بے شمار

280

شاعروں کے مقابلے میں اپنے کو بے بس پاتا ہے، ایک نبی کے مقابلے میں اور سہی۔‘‘

(صدقِ جدید ۲؍نومبر ۱۹۶۲ء)

غور فرمایا جائے! مولانا نے دانستہ یا نادانستہ اس چند سطری فقرے میں کتنے مقدمات بلادلیل، خلافِ واقعہ اور محض فرضی اور وہمی، بطورِ اُصولِ موضوعہ ذِکر کرڈالے:

۱:... مرزا صاحب آنجہانی معمولی عقل وعلم کا شخص نہیں، بلکہ مولانا باور کرانا چاہتے ہیں کہ وہ فہم وہوش کے غیرمعمولی درجے پر فائز تھا۔

۲:... دعویٔ نبوّت! متعارف اور مصطلح معنی میں مولانا کو یقین نہیں آتا کہ: ’’کوئی معمولی عقل وعلم کا شخص بھی زبان پر ...لایا ہوگا... یا لاسکتا ہے۔‘‘

۳:... اسی مفروضے کی بنیاد پر مولانا کو تسلیم کرنا ہوگا کہ: ’’کسی بھی محالِ عقلی یا شرعی کا دعویٰ کوئی معمولی عقل وعلم کا شخص زبان پر نہیں لاسکتا...!‘‘

۴:... ان فرضی مقدموں سے مولانا اس نتیجے پر پہنچتے ہیں کہ: ’’مرزا صاحب نے نبوّت کا متبادر اور متعارف معنی میں دعویٰ نہیں کیا۔‘‘

۵:... ’’مولانا کے نزدیک مرزا صاحب نے ’’نبوّت کا اِستعمال کسی خانہ ساز اِصطلاحی معنی میں کیا ہے، جو اس نے شرعی مفہوم سے بالکل الگ گھڑ لیا ہے۔‘‘

۶:... مولانا کا دعویٰ ہے کہ بے شمار شاعر، شرعی الفاظ کو ان کے شرعی ولغوی دونوں مفہوموں سے ہٹاکر اپنے اِصطلاحی معنی میں استعمال کرتے ہیں، لیکن ان سے کبھی تعرض نہیں کیا گیا، بلکہ ’’انسان ان بے شمار شاعروں کے مقابلے میں اپنے کو بے بس پاتا ہے۔‘‘

۷:... ان تمام مقدمات کو جوڑ کر مولانا کی تمنا ہے اور وہ مشورہ دیتے ہیں کہ لوگ جس طرح ان شاعروں کے مقابلے میں بے بس ہیں، ’’ایک نبی کے مقابلے میں اور سہی‘‘۔

کیا مولانا کی خدمت میں یہ اِلتماس کی جاسکتی ہے کہ وہ اپنے نظریات کو عقل وعلم اور فہم وہوش ہی کی روشنی میں واقعات پر منطبق کرنے کی زحمت گوارا فرمائیں...؟

281

مرزا صاحب علم وعقل اور فہم وہوش کی ترازو میں!

مولانا، مرزا صاحب کو غیرمعمولی عقل وعلم کا شخص اور فہیم وذی ہوش کا لقب پوری سادگی کے ساتھ دیں، لیکن واقعہ یہ ہے کہ مرزا صاحب کی شخصی زندگی کا بالاستیعاب مطالعہ کرنے، اس کی طفلی، شباب اور پیری کے واقعات اور اَحوال پر نظرِ غائر رکھنے، اس کے تمام معاملات پر غور کرنے، اور اس کی تحریرات کو بنظرِ صحیح دیکھ جانے کے بعد میرا خیال تھا کہ کوئی شخص بشرطِ عقلِ سلیم اس کو زیرک، دانا، عاقل، عالم، ذی فہم اور ہوش مند قرار نہیں دے سکتا، اِلَّا یہ کہ خود اسی کے حواس ماؤف ہوگئے ہوں۔ پہلی دفعہ مولانا کی تحریر پڑھ کر یہ جدید اِنکشاف ہوا کہ مرزا صاحب کے ثناخوانوں اور اس کو فہیم وذی ہوش قرار دینے والوں میں مولانا دریاآبادی جیسے فہیم اور ذی علم لوگ بھی شامل ہیں:

سوخت عقل زحیرت کہ ایں چہ بوالعجبی است

خدا ہی بہتر جانتا ہے کہ مولانا کے ذہن میں فہیم اور ذی ہوش کا مفہوم کیا ہے؟ اور وہ کن بنیادوں پر مرزا صاحب کو فہیم اور ذی ہوش لکھ ڈالنے پر اپنے کو بے بس پاتے ہیں؟

کسے نکشود ونکشاید بحکمت ایں معما را!

شواہدِ فہمِ مرزا!

مرزا صاحب جن کے نزدیک ...بقول مرزا محمود... ہر شخص بڑے سے بڑا مرتبہ حاصل کرسکتا ہے، حتیٰ کہ ...خاک بدہنِ گستاخ... محمد رسول اللہ ...بآبائنا واُمہاتنا... سے بھی بڑھ سکتا ہو، ان کے فہم وہوش اور غیرمعمولی عقل وعلم کا اندازہ لگانے میں مولانا دریاآبادی اب تک قاصر ہیں۔

جس کے نزدیک مسیح علیہ السلام کو ’’کنجریوں سے میلان اور صحبت رہی ہو‘‘، ’’ایک متقی انسان کی صفات سے وہ عاری ہوں‘‘، ’’زِناکار کسبیاں زناکاری کا پلید عطر ان کے سر پر اور اپنے بالوں کو ان کے پاؤں پر ملتی ہوں‘‘ مولانا دریاآبادی مصر ہیں کہ وہ ذی علم اور ہوش مند تھا...!

282

جو گستاخ، سیّدنا مسیح علیہ السلام کے پورے خاندان کو بطورِ تعریض وتہکم ’’پاک اور مطہر‘‘ بتلاتا ہو، ان کی تین دادیوں اور نانیوں کو ...العیاذباللہ... ’’زِناکار اور کسبی‘‘ بتلاتے ہوئے شرم نہیں کرتا، اور زِناکار خانوادے سے آپ کے وجود کے ظہور پذیر ہونے کا اِنکشاف کرتا ہو، وہ مولانا کے نزدیک غیرمعمولی عقل مند تھا...!

جو بدزبان، حضرت مسیح علیہ السلام کو شرابی، یوسف نجار کا بیٹا، ان کے قرآن میں ذِکر کردہ معجزات کو مکروہ عمل، قابلِ نفرت، اعجوبۂ نمایاں قرار دیتا ہو، اور ان کے معجزات کو مٹی کے کھیل سے زیادہ وقعت نہ دیتا ہو، مولانا چند آزاد ذہنوں سے مرعوب ہوکر اسے ’’فہیم اور ذی ہوش‘‘ مانتے ہیں...!

جو ’’ہوش مند‘‘ اِعلان کرتا ہو کہ ’’مسیح علیہ السلام ہدایت اور توحید اور دِینی اِستقامتوں کے کامل طور پر دِلوں میں اُتارنے سے قریب قریب ناکام رہے‘‘ اور ’’ان سے کوئی معجزہ نہ ہوا‘‘ حیف ہے کہ وہ مولانا دریاآبادی کے نزدیک ’’غیرمعمولی عقل وعلم کا شخص‘‘ تھا...!

جو فرعون صفت بار بار قسم کھا کھاکر مسیح علیہ السلام سے افضلیت کا دعویٰ رکھتا ہو، اور جو یہ اِعتقاد نہ رکھے، اسے ’’مبتلائے وسوسۂ شیطانی‘‘ قرار دیتا ہو، کون دانش مند اس کے حق میں مولانا دریاآبادی کا یہ خطاب تسلیم کرے گا کہ وہ فہم وہوش اور عقل وعلم کا شخص تھا...؟

جس غیرمعمولی عقل وعلم کے شخص نے اپنی تصنیفات میں بار بار یہ لکھا ہو کہ: ’’مریم بتول نے ایک مدّت تک بے نکاح رہ کر اور حاملہ ہوجانے کے بعد بزرگانِ قوم کی ہدایت اور اِصرار سے بوجہ حمل کے نکاح کرکے تعلیمِ توراۃ کی خلاف ورزی کی، بتول ہونے کے عہد کو توڑا، تعدد ازواج کی قبیح رسم ڈالی‘‘ اس کو ’’فہیم اور ذی ہوش‘‘ تسلیم کرنا، اور پورے ’’شرحِ صدر‘‘ کے ساتھ تسلیم کرنا، مولانا دریاآبادی ہی کی ہمت ہے...!

جس بکنے والے نے یہ بکا کہ: ’’مسیح علیہ السلام، مریم رضی اللہ عنہا کے بلاباپ اکلوتے بیٹے نہیں تھے، بلکہ مریم ان کے علاوہ چار بیٹوں اور دو بیٹیوں کی بھی ماں تھیں، اور یہ سب مسیح علیہ السلام کی طرح مریم اور یوسف نجار دونوں کی اولاد تھی‘‘ اور مسیح علیہ السلام ’’تمام

283

نبیوں سے بڑھ کر سخت زبان، زبان کی تلوار چلانے والے، اپنے کلام میں سخت اور آزردہ طریقے اِستعمال کرنے والے تھے‘‘ اور ’’مسیح علیہ السلام کو اس کی ذات سے کوئی نسبت نہیں‘‘ اور ’’مسیح علیہ السلام سے اپنی تمام شانوں میں وہ بڑھ کر ہے‘‘ اور ’’مسیح علیہ السلام سے بڑھ کر کام کرسکتا ہے‘‘، ’’مسیح علیہ السلام کے معجزات ’’سامری کے گئوسالہ‘‘ سے زیادہ حیثیت نہ رکھتے تھے‘‘ اور ’’وہ تمام نبیوں سے بزعمِ خود اَفضل ہے‘‘ خود ہی انہی کے فیصلے سے وہ یہ اِعلان کرنے پر اپنے کو مجبور سمجھتا ہے، مولانا کسی ماہر ڈاکٹر سے مشورہ کرکے بتلائیں کہ اس کے فہیم، ذی ہوش، غیرمعمولی عقل وعلم کا اِعلان کرنے والا خود بھی ان ہی اوصاف سے موصوف ہے...؟

جس شخص نے صلحائے اُمت کی تکفیر کی ہو، ان کو سب وشتم کا نشانہ بنایا ہو، ان پر لعنت وملامت کا ایک طومار کھڑا کردیا ہو، جو دامادِ رسول اللہ ...صلی اللہ علیہ وسلم... سیّدنا علی مرتضیٰ کرّم اللہ وجہہ کو ’’مردہ علی‘‘ ...خاکش بدہن... اور ان کے مقابلے میں اپنے کو ’’زندہ علی‘‘ کہتے ہوئے نہ شرمائے، جو ’’صد حسین است در گریبانم‘‘ کا نعرہ لگائے اور حیا نہ کرے، اپنی بیعت میں داخل، نامۂ اَعمال سیاہ کرنے والوں کو اَصحابِ رسول اللہ ...صلی اللہ علیہ وسلم... سے افضل بتلائے، اور اس کی جبینِ غیریت عرق آلود نہ ہو، کیا عقلاء کے نزدیک اس کو فہیم اور ذی ہوش، صاحبِ عقل وعلم کہنے والا حق بجانب ہے...؟

ہمارے مولانا دریاآبادی نے کمالِ سادگی سے مرزا صاحب کو غیرمعمولی عقل وعلم کا شخص اور فہیم وذی ہوش لکھ ڈالا، ذرا نہیں سوچا کہ اس کی زَد میں کون کون آجائیں گے؟ اور ان کا یہ فقرہ کتنے اہلِ عقل، اہلِ علم، اصحابِ فہم ودانش اور اَصحابِ بصیرت کے خلاف چیلنج ہے۔۔!

مولانا کو معلوم ہوگا کہ ان کا یہی ممدوح جو ان کے دربار سے فہم اور ہوش مندی کا تمغہ حاصل کرتا ہے، ان کے شیخ الشیوخ، قطب الارشاد، حضرت مولانا رشید احمد صاحب گنگوہیؒ کو شیطان، اعمیٰ، غول، اغویٰ، شقی اور ملعون قرار دیتا ہے، اب یہ فیصلہ مولانا کی دیانت اور بصیرت پر چھوڑتا ہوں کہ ان دونوں میں فہیم کون تھا اور بدفہم کون؟ صاحبِ عقل

284

وعلم کون تھا اور بے علم اور بے عقل کون...؟

دریاآبادی صاحب جانتے ہوں گے کہ ان کے ممدوح کو جن جن صلحائے اُمت کے نام یاد تھے، اس نے ان میں سے ایک ایک کا نام لے کر ان کی تکفیر، تضلیل، تفسیق اور تحمیق کی ہے، اس نے اکابرِ اُمت کی پوستین دری، اور اولیائے اُمت کی خون آشامی میں کوئی تکلف محسوس نہیں کیا، اس نے علماء وصلحاء کے سب وشتم کے موضوع پر مستقل تصانیف چھوڑی ہیں، اس نے پوری اُمت کو ’’حرامزادہ‘‘ کہا ہے، اس نے پوری ملت کو خنزیر، اور ملت کی ماؤں، بہنوں اور بیٹیوں کو ...جن میں دُوسرے مسلمانوں کی طرح میری اور مولانا دریاآبادی کی ماں، بہنیں اور بیٹی بھی شامل ہیں... کتیوں اور کنجریوں کے لقب سے ملقب کیا ہے، میں مولانا سے خدا کا واسطہ دے کر سوال کرتا ہوں، خدارا! بتلائیں کہ بایںہمہ اوصاف وہ کب تک مرزا صاحب کو ’’سینے پر ہاتھ رکھ کر، ٹھنڈے دِل کے ساتھ‘‘ سراہتے جائیں گے:

  1. بسے نادیدنی را دیدم ام من

    مرا اے کاشکے مادر نزادے

مرزا صاحب کے خرافات کی فہرست طویل الذیل ہے، میں یہ چند سطریں لکھ رہا ہوں، اور مرزا صاحب کی جرأت علی اللہ، تعلّی، بے حیائی اور بے ہودہ گوئی اور انبیاء علیہم السلام، صحابہ کرامؓ، علمائے اُمت کی مظلومیت کو نقل کرتے بھی قلم پر رعشہ طاری ہے، اس پر جب مولانا دریاآبادی کا فقرہ تصوّر میں آتا ہے تو دِل پارہ پارہ ہوجاتا ہے۔

ہائے اللہ! پوری اُمت، محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اُمت، خیرِ اُمت، اُمتِ وسط کو پوری بے دردی کے ساتھ گمراہ، جہنمی، کافر، منافق، بے ایمان، حرام زادہ، خنزیر، کنجریوں کی اولاد کہا جائے، اور مولانا دریاآبادی بضد ہوں کہ کہنے والا بہرحال غیرمعمولی ’’عقل وعلم کا شخص‘‘ ہے اور ’’فہیم اور ذی ہوش‘‘ بھی، اَلَیْسَ مِنْکُمْ رَجُلٌ رَّشِیْدٌ؟

وا اَسفاہ! پوری اُمت کے علماء، بدذات، یہودی خصلت، بے اِیمان، نیم عیسائی، دجال کے ہمراہی، اِسلام دُشمن، شیطان، غول، گدھے، مشرک، بے حیا، بے شرم

285

وغیرہ وغیرہ الفاظ سے ...معاذاللہ، اَستغفراللہ... یاد کئے جائیں، اسی شاتمِ اُمت کو ’’فہیم اور ذی ہوش‘‘ لکھنے پر، چند روشن خیالوں سے مرعوب ہوکر، مولانا مجبور ہوں...!

یا للعجب! اسی مرزا کی ’’صدق‘‘ کے صفحات میں دریاآبادی صاحب کے قلم سے مدح سرائی کی جاتی ہے، جس کے قلم نے انبیائؑ کی عصمت میں شگاف ڈالا، اُمہاتُ المؤمنینؓ کی عفت پر سیاہی پھینکی، صحابہؓ کے مقام پر حملہ کیا، علماء وصلحاء کی دستار کو چھیڑا اور پوری ملت، ملتِ اسلامیہ پر سنگ باری کی۔ کاش! مولانا کا ’’شرحِ صدر‘‘ مرزا صاحب پر ’’ترس‘‘ کھانے اور ان کے اِنتصار کی بجائے، مسیح علیہ السلام اور ان کی والدہ ماجدہ، انبیائے کرام اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کی اُمت پر ترس کھاتا، اور ان پر ظالم نے جو سوقیانہ حملے کئے، ان کا مقام، مولانا واضح کرتے، چند گریجویٹوں سے مرعوب ہونے کے بجائے، وہ اہل اللہ سے مرعوب ہوتے، لیکن افسوس کہ ایسا نہیں ہوا، کاش! مولانا اب بھی غور فرمالیں کہ وہ کس سے توڑتے ہیں اور کس سے جوڑتے ہیں...؟

  1. بقول دُشمن پیمان دوست بگستی

    ببیں از کہ بریدی وبا کہ پیوستی!

پھر جس کی طفلی کا عالم اس ’’ہوش‘‘ میں گزرا کہ ’’روٹی پر راکھ‘‘ کھاجانے کا کوئی مضائقہ ہے یا نہیں؟ اس کی تمیز سے وہ قریب قریب سن شعور میں بھی عاجز تھا، جو بچپن میں نہیں بلکہ بیوی کا شوہر، اولاد کا باپ، طائفہ کا اِمام، بزعمِ خویش وقت کا مجدّد اور ایک اُمت کی اِصلاح کا مدعی ہونے کے باوصف فرنگی پاپوش کے دائیں بائیں کی تمیز نہ کرپاتا ہو، اور دائیں بائیں کی جو علامت اس کی بیوی نے لگادی تھی، اس کے علی الرغم وہ ان کو اُلٹا سیدھا پہننے پر مجبور ہو، حیف ہے کہ ہمارے مولانا دریاآبادی کی بارگاہ سے اسی کو ’’فہیم اور ذی ہوش‘‘ کے خطاب سے نوازا جاتا ہے ...!

جو بیچارہ اپنی اُفتادِ طبع سے مجبور ہوکر ’’گڑ کی ڈلییں‘‘ اور بیماری کی لاچاری سے ’’مٹی کے ڈھیلے‘‘ ایک ہی جیب میں رکھنے کا عادی ہو، تعجب ہے کہ ’’صدقِ جدید‘‘ کی اِصطلاح میں وہ ’’غیرمعمولی عقل کا شخص‘‘ کہلاتا ہے...!

286

جس کی غفلت اسے گھڑی دیکھ کر وقت دریافت کرنے سے عاجز کردے، بالآخر ہندسے گن گن کر اسے وقت کا حساب لگانا پڑے، دریاآبادی صاحب کا دعویٰ ہے کہ وہ تھا بڑا ہوش مند اور ذی عقل...!

ہسٹریا اور مراق جس کے اُوپر کے دھڑ کو، اور ذیابیطس اس کے نیچے کے دھڑ کو لازم ہو، جس کے بے ہوشی کے دورے دائم اور طویل ہوں، جسے کثرتِ بول کی وجہ سے سو سو دفعہ یومیہ پیشاب خانے کا رُخ کرنا پڑے، اور نماز اس سے قل ھو اللہ کے ساتھ بھی نہ پڑھی جاسکے، سوچا جاسکتا ہے کہ اس کے حواس کس قدر ٹھکانے ہوں گے؟ اور وہ فہم وہوش کے کس بلند مرتبے پر فائز ہوگا...؟

بہرحال مولانا کا یہ دعویٰ سراسر خلافِ واقعہ ہے، اور ایک شخص کی حمایت میں نادانستہ بہت سے صلحاء سے وہ عناد اور ضد کی رَوِش اِختیار کئے ہوئے ہیں۔

۲:... مولانا کا دعویٰ ہے کہ: ’’نبوّت کا دعویٰ متعارف اور مصطلح معنی میں یقین نہیں آتا کہ کوئی بھی معمولی عقل وعلم کا شخص زبان پر لاسکتا ہے‘‘ بار بار سوچتا ہوں کہ مولانا ایسا ذی علم اس یقین سے کیوں خالی ہے؟ تاریخ کا ابجدخواں بھی واقف ہے کہ ہر قرن اور صدی میں، ایسے دجال اور مفتری ظاہر ہوتے رہے ہیں جنہوں نے نبوّت کے دعاوی سے اسلام کی بنیادوں کو صدمہ پہنچانے کی کوشش کی۔

سب جانتے ہیں کہ دعویٔ نبوّت ہی کا فتنہ اسلام کے خلاف سب سے پہلا فتنہ ہے، جو خود آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی موجودگی میں ظاہر ہوا۔ کیا کسی کے بس میں ہے کہ وہ اسود عنسی، مسیلمہ کذّاب اور طلیحہ اسدی کے ناموں کو حدیث اور سِیَر کی کتابوں سے کھرچ دے؟ کیا دریاآبادی صاحب ان متنبّیان کذّابین کے دعویٔ نبوّت میں تأویل کی ہمت کریں گے؟

اب سمجھ میں آتا ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے مبارک دور میں، بعض کوربختوں نے جو دعویٔ نبوّت کیا، اس میں تکوینی حکمت کیا تھی؟ گویا ’’خاتم النبیّین‘‘ کی تفسیر جیسے قولاً کھول کھول کر بیان کی گئی تھی، عملاً بھی اس کو واضح کردیا گیا، بتلادیا گیا کہ آپ

287

صلی اللہ علیہ وسلم کی تشریف آوری کے بعد دعویٔ نبوّت زبان پر لانے والے کس سلوک کے مستحق ہیں، اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے جاںنثاروں کو ان کے ساتھ کیا برتاؤ کرنا چاہئے؟ اور تاکہ اُمت کو آسانی کے ساتھ اس فتنے کا شکار نہ کیا جاسکے، صدق اللہ: ’’لِیَھْلِکَ مَنْ ھَلَکَ عَنْم بَیِّنَۃٍ وَّیَحْیٰی مَنْ حَیَّ عَنْم بَیِّنَۃٍ‘‘۔

مسیلمہ اور اَسود کے ساتھ جو معاملہ بارگاہِ رسالت پناہ ...صلی اللہ علیہ وسلم... کی طرف سے کیا گیا، جب اس ’’اُسوۂ حسنہ‘‘ کے باوجود گمراہ کرنے والے بدبخت، گمراہ کرنے میں کامیاب ہو رہے ہیں، خیرالقرون کی یہ مثال لوگوں کی نظروں سے اگر اوجھل ہوتی تو نہیں کہا جاسکتا کہ اُمت کو کن کن فتنوں میں مبتلا کردیا جاتا۔

بہرحال مولانا کو یقین دلادینا تو خدا ہی کے قبضے میں ہے، لیکن کم از کم وہ اس بے یقینی کی وجہ بتلائیں، کیا مولانا نہیں جانتے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے وصال کے بعد سب سے پہلا لشکر اسی دعویٔ نبوّت کو تہہ تیغ کرنے کے لئے بھیجا گیا تھا، دورِ صدیقی کا سب سے پہلا عظیم الشان کارنامہ یہی تھا کہ انہوں نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد دعویٔ نبوّت رکھنے والے گروہ کی سرکوبی فرمائی، اور اس مہم میں اس رواداری اور بے بسی سے کام نہیں لیا، جس کا مولانا دریاآبادی چند روشن خیالوں سے دَب کر علماء کو مشورہ دیتے ہیں، بلکہ ایک ہزار اَسّی صحابہؓ کو شہید کروادیا، جن میں کثرت قراءِ قرآن کی تھی۔ اور خلافتِ صدیقی میں سب سے پہلی جو خوشخبری حضرت صدیق رضی اللہ عنہ کو ملی وہ دعویٔ نبوّت زبان پر لانے والے کے قتل کی تھی۔

ضروری ہے کہ آگے بڑھنے سے پہلے مولانا دریاآبادی سے اس دُشواری کے حل کی درخواست کرلی جائے، کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اور سیّدنا صدیقِ اکبر رضی اللہ عنہ نے بھی یہ تحقیق، مسیلمہ کذّاب اور اَسود عنسی سے فرمائی تھی کہ وہ نبوّت بالمعنی المتبادر کے مدعی ہیں یا ’’لفظِ نبوّت کا اِستعمال انہوں نے اپنے تراشیدہ معنی میں کیا ہے‘‘؟ یا یہ قانونی نکتہ دریاآبادی صاحب کو ان کے حیدرآبادی دوست کی جانب سے تلقین ہوا ہے؟

حیرت ہے کہ دریاآبادی صاحب علم وفضل، قرآن کے مفسر، اِسلامی موضوعات

288

پر درجنوں کتابوں کے مصنف ہوکر یہ یقین نہیں کرپاتے کہ آسمان کے نیچے اور زمین کی سطح پر ایسے اَئمۂ تلبیس بھی ہوئے ہیں جن کے دعویٔ نبوّت نے ہزاروں بندگانِ خدا کو مبتلائے فتنہ کیا، گویا واقعے کی واقعیت خود مولانا دریاآبادی صاحب کے یقین کے تابع ہے، اگر کسی بدقسمت واقعے کا مولانا کو یقین نہ آئے تو وہ واقعہ نہیں، اس کی واقعیت مولانا کے زورِ قلم کے سامنے دَم مارنے کی مجال نہیں رکھتی۔

قرآنِ کریم کی آیت ختمِ نبوّت (وَخَاتَمَ النَّبِیّٖنَ) کی تفسیر لکھتے وقت، کتبِ تفسیر میں مولانا محترم کی نظر سے یہ حدیث گزری ہوگی:

’’عَنْ ثَوْبَانَ رَضِیَ اللہُ عَنْہُ (رفعہ) سَیَکُوْنُ فِیْ اُمَّتِیْ کَذَّابُوْنَ ثَلَاثُوْنَ، کُلُّھُمْ یَزْعَمُ اَنَّہٗ نَبِیٌّ، وَأَنَا خَاتَمُ النَّبِیِّیْنَ لَا نَبِیَّ بَعْدِیْ۔‘‘

(رواہ الترمذی وصححہ)

’’وَعَنْ أَبِیْ ھُرَیْرَۃَ رَضِیَ اللہُ عَنْہُ (مَرْفُوْعًا) لَا تَقُوْمُ السَّاعَۃُ حَتّٰی یَنْبَعِثَ کَذَّابُوْنَ دَجَّالُوْنَ قَرِیْبٌ مِّنْ ثَلَاثِیْنَ، کُلُّھُمْ یَزْعَمُ اَنَّہٗ رَسُوْلُ اللہِ۔‘‘

(رواہ الترمذی وقال: حسن صحیح)

اس حدیث میں دعویٔ نبوّت ورِسالت زبان پر لانے والوں کی خبر جو تاکید کے ساتھ سنائی گئی ہے، کیا مولانا کے نزدیک یہ کسی واقعے کی خبر نہیں؟ اس حکایت کے محکی عنہ پر مولانا کو ’’یقین‘‘ کیوں نہیں آتا؟ اور کیا اس حدیثِ پاک میں بھی نبوّت اور رِسالت کے کوئی دُوسرے معنی ہیں؟ جبکہ مدعی کے مقابلے میں حسبِ اِرشادِ مولانا: انسان بے بس سہی!

بہرحال مولانا کو یقین آئے یا نہ آئے، لیکن اہلِ فہم پر واضح ہوگیا ہوگا کہ مولانا کا یہ دعویٰ سراسر خلافِ واقعہ ہے۔

۳:... کاش! مولانا سے دریافت کیا جاسکتا کہ کس دلیلِ عقلی یا شرعی کی بنیاد پر ان کو قطعی واقعات سے اِنکار ہے، جب اسی زمین پر رینگنے والے ’’الانسان‘‘ کو ’’اَنَا رَبُّکُمُ الْاَعْلٰی‘‘ کا غلغلہ بلند کرتے ہوئے سنا گیا،’’اَنَا اُحْیٖ وَاُمِیْتُ‘‘ کا اِدّعا کرتے ہوئے پایا

289

گیا،’’اَمْ اَنَا خَیْرٌ مِّنْ ھٰذَا الَّذِیْ ھُوَ مَھِیْنٌ‘‘ کا نعرہ لگاتے ہوئے دیکھا گیا۔ کہنے والوں نے جب ’’اِنَّ اللہَ ثَالِثٌ ثَلَاثَۃٍ‘‘، ’’اِنَّ اللہَ فَقِیْرٌ وَّنَحْنُ اَغْنِیَآئُ‘‘، ’’یَدُ اللہِ مَغْلُوْلَۃٌ‘‘، ’’اِتَّخَذَ اللہُ وَلَدًا‘‘ تک کہہ ڈالا، تو آخر مولانا کیوں یقین نہیں کرتے کہ بدنصیبوں کی ایک ٹولی: ’’أنا نبی، أنا رسول اللہ‘‘ کا جھوٹا دعویٰ بھی زبان پر لاسکتی ہے، جبکہ مخبرِ صادق صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی خبر دی ہے۔

مولانا دریاآبادی نے خواہ مخواہ پہلے یہ نظریہ گھڑ لیا کہ دعویٔ نبوّت کسی صاحبِ عقل وعلم شخص کی طرف سے کیا ہی نہیں جاسکتا، لیکن ان کا یہ مفروضہ جب واقعات پر منطبق نہیں ہوتا تو تمام متنبّیانِ کذّاب کی جانب سے مولانا تأویل کرکے اپنے مفروضے کو صحیح کرنے کی کوشش کرتے ہیں (ملاحظہ ہوں مولانا کے حواشیٔ تفسیریہ متعلقہ آیت: ’’وَخَاتَمَ النَّبِیّٖنَ‘‘) ۔ کاش! مولانا اس مشکل کام کی بجائے غلط نظریہ ہی قائم نہ فرماتے، یا اگر ان سے یہ غلطی ہوگئی تھی تو رُجوع فرمالیتے۔ آخر غلط بات سے رُجوع کرلینے میں عار کیا ہے؟ غلطی پر متنبہ ہوجانا، اور اس سے رُجوع کرلینا عیب نہیں، بلکہ کمال ہے۔

میں نے ثقات بزرگوں سے سنا ہے کہ حبرالاسلام، حافظ العصر، السید الامام مولانا انور شاہ صاحب رحمۃ اللہ علیہ فرمایا کرتے تھے: ’’مولوی صاحب! بعض مسائل میں ہم پندرہ سال تک غلطی پر رہے، بالآخر اساتذہ کی تنبیہ سے تنبہ ہوا۔‘‘ لیکن یہ جگر اور حوصلہ ہر ایک کو نصیب نہیں، ’’کل الناس أفقہ من عمر حتّی النساء‘‘ کا اِعلان حضرت فاروقؓ ہی کی ہمت تھی، باوجودیکہ وہ غلطی پر بھی نہ تھے۔

بہرکیف! مولانا کا یہ دعویٰ واقعے کے قطعاً خلاف ہے، بہت بہتر ہوگا کہ مولانا موصوف، مسیلمہ کذّاب سے لے کر مرزا صاحب تک کے دعوؤں میں تأویل کا طویل راستہ اختیار کرنے کی بجائے خود اپنے نظریے میں غور وفکر اور نظرِثانی کا راستہ اختیار کرلیں۔

عقل وعلم!

مولانا کے نزدیک ’’معمولی عقل وعلم‘‘ ایسے دو نسخے ہیں کہ جس کے پاس وہ

290

موجود ہوں، وہ ان کو اِستعمال کرتا ہو یا نہ کرتا ہو، بہرحال ضرور یہی دو نسخے ضلالت، غلط بیانی، اِفترا پردازی کا حفظِ ماتقدم ہیں۔ جو شخص بھی معمولی عقل وعلم رکھتا ہو، یقین کرو کہ وہ معصوم ہوگیا، شیطان کی مجال نہیں کہ کوئی غلط دعویٰ اس کے زبان پر لاسکے:

  1. گر ایں ست مکتب ومُلَّا

    کارِ طفلاں تمام خواہد شد

مولانا کو معلوم ہونا چاہئے کہ معمولی عقل وعلم نہیں بلکہ خاصا علم اور بھاری عقل رکھنے کے باوجود اَشقیاء کے گمراہ ہونے اور غلط دعاوی کرنے کا تماشا دیکھا گیا ہے، مُعلّمِ ملائکہ کا خطاب رکھنے والا: ’’اَنَا خَیْرٌ مِّنْہُ‘‘ کا دعویٰ زبان پر لاتا ہے اور ’’فَاخْرُجْ مِنْھَا فَاِنَّکَ رَجِیْمٌ‘‘ کا مورد بنادیا جاتا ہے۔ ایک ہزار شاگردوں کو اِملا کرانے والا ’’وَاَضَلَّہُ اللہُ عَلٰی عِلْمٍ‘‘ میں مبتلا دیکھا گیا ہے، پوری متعارف انسانیت میں ابوالحکم کا خطاب رکھنے والا ابوجہل کے نام سے پکارا جاتا ہے، توراۃ کے سفینے چاٹ جانے والے کو ’’کَمَثَلِ الِْحمَارِ‘‘ فرمایا گیا ہے۔

یہ چند مثالیں ہیں، ورنہ شواہد ونظائر جمع کئے جائیں تو ضخیم جلد تیار ہوسکتی ہے، میں تو بتلانا چاہتا ہوں کہ کس قدر غیرذمہ دارانہ فقرہ ہے، جو مولانا ایسے فاضل کے قلم سے سرزد ہوگیا، کہ ’’معمولی عقل وعلم کا شخص دعویٔ نبوّت زبان پر نہیں لاسکتا‘‘۔ مولانا موصوف نے یہ فرض کرلیا کہ معمولی عقل وعلم والے کو نہ شیطان گمراہ کرسکتا ہے، نہ وہم وغلط کی آمیزش کا خطرہ اسے لاحق ہوسکتا ہے، نہ ہویٰ وہوس، طمع اور لالچ، حبِ جاہ ومال میں مبتلا ہوکر عقل وعلم کے دامن کو چھوڑ سکتا ہے، استغفراللہ! مولانا اگر تلاش کریں گے تو مسیح علیہ السلام اور ان کی والدہ کو خدا ماننے والے ’’پیرانِ نابالغ‘‘ اور ’’عاقلانِ خام فہم‘‘ ان کو یورپ میں بکثرت مل جائیں گے۔ ’’دیوتا گائے اور بیل ہے‘‘ کا دعویٰ کرنے والے ’’دانایانِ تیز ہوش‘‘ خود انہی کے دیس میں دستیاب ہوں گے۔ ’’یہ کارخانہ خودبخود چل رہا ہے‘‘ اور ’’ہم خود ہی پیدا ہوتے اور مرتے ہیں‘‘ کا راگ الاپنے والے کیا اسی زمین پر آباد نہیں؟ جو اپنی عقل وخرد، اور سائنس اور تجربے کا لوہا پوری دُنیا سے منوانا چاہتے ہیں...!

291

مولانا جانتے ہوں گے، اور جو نہیں جانتے، انہیں جان لینا چاہئے کہ یہاں مطلق عقل وعلم نہیں، بلکہ علمِ صحیح ومفید، اور عقلِ معاد کے ساتھ جاذبۂ اِلٰہی اور عنایتِ ربانی درکار ہے، اور یہ کہ بتِ اَحمر نادرالوجود ہے، نری حرف خوانی اور کالم نویسی کو کافی قرار دینا کسی طرح صحیح نہیں۔

نبوّت کے دو معنی!

مولانا نے اعجوبہ نمائی کی حد کردی، یعنی یہ لکھنے کے بعد کہ نبوّت کے ایک معنی تو متبادر اور معروف ہیں، جس کا دعویٰ مولانا یقین کئے بغیر لوگوں کو باور کرانا چاہتے ہیں کہ ’’کوئی معمولی عقل وعلم کا شخص نہیں کرسکتا‘‘ آگے مولانا رقم طراز ہیں:

’’سوا اس صورت کے کہ اس نے نبوّت ہی کے کوئی مخصوص معنی متبادر ومتعارف مفہوم سے الگ اپنے ذہن میں رکھ لئے ہوں، اور جس طرح فارسی اور اُردو کے بے شمار شاعروں نے شراب، کفر، اِسلام، صنم، بت وغیرہ کی مخصوص اِصطلاحیں ان کے لغوی وشرعی دونوں مفہوموں سے بالکل الگ گھڑلی ہیں، اس نے بھی نبوّت کا اِستعمال کسی خانہ ساز معنی میں شروع کردیا ہو، اور جب ایسا ہے تو اِنسان جس طرح ان بے شمار شاعروں کے مقابلے میں اپنے کو بے بس پاتا ہے، ایک نبی کے مقابلے میں اور سہی۔‘‘

کاش! یہ فقرہ لکھ کر مولانا نے اہلِ ایمان کی رُوح فرسائی، اور خود اپنی جگ ہنسائی کا سامان نہ کیا ہوتا، حیف ہے کہ ہم مولانا دریاآبادی کے قلم سے نبوّت کی یہ نئی تقسیم سننے کے لئے زندہ رکھے گئے کہ نبوّت کی دو قسمیں ہیں: ۱-معروف ومتبادر، ۲-اِصطلاحی اور خانہ ساز۔ اوّل کا دعویٰ ممکن نہیں، ثانی کے مقابلے میں انسان بے بس ہے، لا حول ولا قوّۃ اِلَّا باللہ!

سب جانتے ہیں کہ خدا، رسول، نبی، خدائی، رِسالت، نبوّت، قرآن، کتابُ اللہ وغیرہ شریعت کے وہ مخصوص اور مقدس الفاظ ہیں جن کے لغوی اور شرعی معنی میں

292

رَدّوبدل کی اجازت کبھی نہیں دی گئی، اور ان الفاظ کو شرعی معنی سے ہٹاکر کسی خودساختہ معنی پر اِطلاق کرنے والا زِندیق اور ملحد ہے، لیکن کتنی سادگی اور بھولے بھالے انداز میں مولانا دریاآبادی لوگوں کو اس خوش فہمی میں مبتلا کرنا چاہتے ہیں کہ لفظِ نبوّت کو اگر کوئی اپنے ’’خانہ ساز‘‘ معنی میں اِستعمال کرلے تو کیا مضائقہ ہے؟ علمِ عقائد وکلام کا ادنیٰ طالبِ علم بھی واقف ہے کہ آیاتِ اِلٰہیہ کے معانی میں تغییر کرنا، نصوصِ شرعیہ کے مفہومات میں تبدیلی کرنا، اور شریعت کے اِصطلاحی الفاظ کو خودساختہ معنی پہنانا، اِلحاد اور زَندقہ ہے۔ خود مولانا دریاآبادی آیت: ’’اِنَّ الَّذِیْنَ یُلْحِدُوْنَ‘‘ الآیہ، کے حواشی تفسیریہ میں محققین سے ناقل ہیں:

’’...... اَلَّذِیْنَ یُلْحِدُوْنَ فِی اٰیٰـتِنَا ...... مُکَذِّبُوْنَ، اور منکرون سے مراد ہونا تو ظاہر ہی ہے، لیکن علمائے محققین نے لکھا ہے کہ:

وعید ان باطل فرقوں پر بھی شامل ہے، جو آیاتِ قرآنی کے معنی گھڑ گھڑ کر، اور مسخ کرکر کے ایسے بیان کرتے ہیں جو حدودِ تأویل سے بالکل خارج ہوتے ہیں، متکلمین، اُصولیین اہلِ سنت نے یہ تصریح کردی ہے کہ ہر نص اپنے ظاہر ہی پر محمول ہوگی، تاوقتیکہ کوئی دلیلِ قطعی تأویل کی مقتضی نہ مل جائے، لغت، زبان، قواعدِ نحوی سے الگ ہوکر ایسے معنی گھڑنا، جس سے اَحکامِ شریعت ہی باطل ہوجائیں، باطنیہ اور زَنادقہ کا شیوہ رہا ہے۔

عالمگیریہ میں ہے:

’’وکذالک لو قال: أنا رسول اللہ، أو قال بالفارسیۃ: ’’من پیغمبرم‘‘ یرید بہ ’’من پیغام می برم‘‘ یکفر۔‘‘

(ج:۲ ص:۲۸۲)

کسی طاغی کو کب یہ اجازت دی جاسکتی ہے کہ کوئی ’’خانہ ساز‘‘ معنی ذہن میں

293

رکھ کر ...معاذاللہ... لفظِ ’’خدا‘‘ کو اپنے اُوپر چسپاں کرلے؟ کب گوارا کیا جاسکتا ہے کہ ایک مکان پر کوئی بدبخت ’’کعبۃ اللہ، بیت الحرام‘‘ کا لفظ اِطلاق کرلے؟ ...استغفراللہ... کسی ایسے کجرو کو کب برداشت کیا جاسکتا ہے جو اپنے ہذیانات پر قرآن کا اِطلاق کرے؟ ...معاذاللہ... کون سن سکتا ہے کہ پڑھنے والے ’’مُحَمَّدٌ رَّسُوْلُ اللہِ وَالَّذِیْنَ مَعَہُ‘‘ کی آیت کو اپنی ذات اور اپنے رُفقاء کے لئے پڑھتے جائیں...؟

اگر لفظِ ’’خدا‘‘ کا اِطلاق غیراللہ پر، قرآن یا کلامُ اللہ یا کتابُ اللہ کا اِطلاق غیرقرآن پر، بیت اللہ یا کعبۃ اللہ کا اِستعمال بیتِ عتیق کے علاوہ پر جائز نہیں، اور ایسا کرنے والا بے اِیمان اور ملحد ہے، اگر دِینی غیرت مر نہیں گئی تو میں پوچھنا چاہتا ہوں کہ نبوّت یا رِسالت کے مقدس اور پاکیزہ لفظ کا اِستعمال خودساختہ اور خانہ ساز معنی میں کس منطق کی رُو سے جائز اور صحیح ہے؟ اور ’’انسان ایسے ملحد کے مقابلے میں کیوں بے بس ہے‘‘؟

ابنائے زمانہ کی ستم ظریفی دیکھو! آج مولانا دریاآبادی کے طفیل شریعت کے اس ’’روشن‘‘، ’’بدیہی‘‘ اور بالکل ’’واضح مسئلے‘‘ پر بھی قلم اُٹھانا ناگزیر ہوا کہ اِصطلاحاتِ شرعیہ کو غیرمحل پر حمل کرنے والا، اور انہیں اپنے خانہ ساز معنی پہنانے والا بے دِین اور ملحد ہے۔

کاش! مولانا دریاآبادی سے عرض کیا جاسکتا کہ انہوں نے کمالِ اِخلاص کے ساتھ سہی، لیکن انتہائی سادگی کے ساتھ اس چھوٹے سے فقرے کے ذریعے کتنے ’’بڑے اِلحاد‘‘ کا دروازہ کھول دیا ہے، قطعاً نہیں سوچا کہ اس کی زَد میں صرف نبوّت نہیں بلکہ خدائی بھی آتی ہے، جب خدائی اور نبوّت پر ہاتھ صاف کردیا گیا، تو باقی رہ کیا جاتا ہے؟ لَقَدْ جِئْتُمْ شَیْئًا اِدًّا!

نبوّت یا شاعری؟

پھر ستم بالائے ستم یہ کہ نبوّت کا رِشتہ مولانا محترم نے شاعری سے جاملایا۔ دُنیا میں قیاس مع الفارق کی بدترین مثال اس سے بڑھ کر کیا ہوسکتی ہے؟ گویا لفظِ ’’نبوّت‘‘ بھی تماشائیوں اور بازی گروں کی ایک اِصطلاح ہے، جس طرح بے شمار اِصطلاحات کے

294

مقابلے میں کسی کا زور نہیں چلتا، وہ جو چاہیں کریں، سب ان کے مقابلے میں مولانا کے نزدیک بے بس ہیں۔

بس اسی طرح جو مسخرہ چاہے لفظِ ’’نبوّت‘‘ یا شریعتِ مقدسہ کے دُوسرے الفاظ کو اپنے خودساختہ پر حمل کرے، ان کو خانہ ساز مفہوم پہنائے، اس پر کوئی گرفت نہیں، بلکہ سب اس کے مقابلے میں بے بس ہیں۔

اوّل تو نبوّت کو شاعری یا شاعرانہ اِصطلاحات پر قیاس کرنا لفظِ ’’نبوّت‘‘ سے ہتک آمیز سلوک ہے، پھر مولانا سے یہ سوال بھی کرنا چاہتا ہوں کہ اسلام نے ان ’’بے شمار شاعروں‘‘ کو کب اجازت دی ہے کہ وہ ایسی اِصطلاحات وضع کریں جن میں حدودِ شرعیہ کو مسخ کیا گیا ہو؟ آیاتِ قرآنیہ میں کھل کر تحریف کی گئی ہو؟ احادیثِ نبویہ کو ہدفِ تشنیع بنایا گیا ہو؟ بایں ہمہ ان بے شمار شاعروں کے مقابلے میں شریعت نے بے بس ہوجانے کا حکم دیا ہو، کیا مولانا کوئی دلیل پیش فرمائیں گے...؟

کس بہ میداں در نمی آید سواراں را چہ شد؟

بے بسی یا بے حسی؟

پھر مولانا دریاآبادی، ان دجالوں کے مقابلے میں جو لوگوں کو ’’اِنسان بے بس سہی‘‘ کا بااِخلاص مشورہ دیتے ہیں، آخر ان کی مراد اس بے بسی سے کیا ہے؟ کیا مولانا یہی فرمائش کرنا چاہتے ہیں کہ زَنادقہ، نصوصِ شرعیہ کی غلط اور ’’جدید‘‘ تفسیریں کرتے رہیں، مگر لوگوں کی زبانیں گنگ ہوجانی چاہئیں۔ بے ایمانی کا گروہ انبیائے علیہم السلام کے اِحترام کو تہہ خاک کردے، لیکن علماء کے منہ بند رہنے چاہئیں، کج روؤں کے غول کے غول حصارِ اِسلام پر سنگ باری میں مصروف رہیں، مگر ضروری ہے کہ تنگ نظر مولوی اپنی زبان وقلم کو روک رکھیں، شریعت کے اَحکام میں نسخ اور مسخ کیا جاتا رہے، اُمت کو گمراہ کہا جاتا رہے، مگر لازم ہے کہ ملت کا ایک فرد بھی ٹس سے مس نہ ہو، بلکہ سب اطمینان سے ’’بے بس ہو رہیں‘‘۔ اگر اِنصاف اور دیانت عنقا نہیں، حمیت اور غیرت مفقود نہیں، تو عقلاء بتلائیں کہ

295

’’یہ بے حسی ہوگی یا بے بسی‘‘؟ فَھَلْ مِنْ مُّدَّکِرٍ؟

مولانا دریاآبادی صاحب کو واضح رہنا چاہئے کہ ایسا نہیں، کبھی نہ ہوگا، بخدا ہرگز نہ ہوگا،أَیُنْقَصُ فِی الدِّیْنِ وَأَنَا حَیٌّ!

مرزا صاحب اور ان کی جماعت کے مقابلے میں علمائے اُمت بایں معنی تو اب تک ’’بے بس‘‘ ہیں کہ ان اِیمان باختہ لوگوں پر شرعی تعزیر جاری نہیں کرسکتے، کہ اس کے لئے سلطنت شرط ہے۔ اب یہ مزید ’’بے بسی‘‘ جس کا مولانا دریاآبادی پُرخلوص مشورہ دیتے ہیں، یہی ہے کہ جس طرح علمائے کرام ہاتھ روکنے کے لئے ’’بے بس‘‘ ہیں، زبان وقلم کو روک کر بھی بے بس ہوجائیں، مرزا صاحب اور ان کی ذُرّیت پر گرفت نہ کریں، ان کے دجل وتلبیس سے نقاب کشائی نہ کریں، بلکہ مولانا دریاآبادی کی طرح اس کے دعویٔ نبوّت میں بے جا تأویل کرکے دائرۂ اسلام میں ان کے لئے گنجائش پیدا کریں، مرزا صاحب کی حوصلہ شکنی نہ کریں، بلکہ اسے بصد شوق نبی کہلانے دیں۔ گویا ’’سگہا را کشادہ وسنگہا را بستہ‘‘ کا سماں پیدا کرلیں۔ اگر یہی بے بسی ہے، جس کو وہ علمائے اُمت کے سر منڈھنا چاہتے ہیں، تو بصد معذرت! ان کا یہ مشورہ ناعاقبت اندیشانہ اور ناقابلِ قبول ہے، یہ حضرات آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا مشورہ بسر وچشم اور بجان ودِل قبول کرچکے ہیں:

’’قَالَ رَسُوْلُ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ: یَحْمِلُ ھٰذَا الْعِلْمَ مِنْ خَلْفٍ عَدُوْلُہٗ، یَنْفَوْنَ عَنْہُ تَحْرِیْفَ الْغَالِیْنَ وَانْتِحَالَ الْمُبْطِلِیْنَ وَتَأْوِیْلَ الْجَاھِلِیْنَ۔‘‘

بہتر ہوگا کہ مولانا دریاآبادی بھی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا مشورہ قبول کرلیں، اور مرزا صاحب جیسے غالی، باطل پرست اور نادان کی تحریف وتأویل کو صحیح قرار دینے کے بجائے اس کی نفی اور اِبطال کے لئے قلم اُٹھائیں، اور اگر انہیں اس سے عذر ہے تو ان کا اِحسان ہوگا کہ دُوسروں کو ’’بے بس سہی‘‘ کے مشورے سے معذور رکھیں، والعذر عند کرام الناس مقبول!

اَللّٰھُمَّ اَرِنَا الْحَقَّ حَقًّا وَّارْزُقْنَا اتِّبَاعَہٗ وَاَرِنَا الْبَاطِلَ بَاطِلًا وَّارْزُقْنَا اجْتِنَابَہٗ

296

اصل بحث:

یہ تمام تر کلام مولوی دریاآبادی صاحب کے مقدمات سے تھا، جن سے ’’بلایقین‘‘ وہ دُوسروں کو یقین دِلانا چاہتے ہیں کہ:

’’مرزا صاحب چونکہ غیرمعمولی عقل وعلم کے شخص تھے، اس لئے انہوں نے دعویٔ نبوّت مصطلح اور متبادر معنی میں نہیں بلکہ کسی خودساختہ اور خانہ ساز معنی میں کیا ہوگا۔‘‘

مندرجہ بالا گزارشات پر اگر مولانا غور فرمائیں گے تو ان پر واضح ہوجائے گا کہ ان کے ترتیب دادہ مقدمات سے ان کا دعویٰ ثابت نہیں ہوتا، پھر مولوی صاحب موصوف جانتے ہیں کہ جو مکروہ اور تلخ واقعہ روزِ روشن کی طرح کھل کر سامنے آگیا ہو، اور اس کے عمل اور رَدِّعمل نے ایک ضخیم کتب خانے کے علاوہ نصف صدی کی تاریخ کو جنم دیا ہو، اس واقعے کو زورِ اِستدلال اور قوّتِ منطق سے نہ تو مٹایا جاسکتا ہے، اور نہ اس کے اِنکار پر بے جا اِصرار کئے جانا، دِین وملت یا علم وادب کی کوئی مفید خدمت ہے۔

مرزا صاحب اور دعویٔ نبوّت!

مرزا صاحب نے قصرِ نبوّت میں رونق افروزی کے لئے اِمام، مجدّد، مصلح، مہدی، مثیلِ مسیح، مسیحِ موعود، ظلِ محمدی اور بروزِ اَحمدی وغیرہ کے جن اِرتقائی مدارج کو قریب قریب بیس پچّیس برس کی طویل مدّت میں طے کیا ہے، ان کی تاریخ، مولوی صاحب کی نظر سے اوجھل نہیں ہوگی۔ بلند عمارت میں جانے والا جن زینوں پر قدم رکھ رکھ کر اُوپر گیا ہے، ان ہی درمیانی سیڑھیوں میں اس کو تلاش کرتے رہنا، دانش مندی نہیں ہوگی۔

مطلب یہ کہ جاننے والے جانتے ہیں، اور جن لوگوں نے جان بوجھ کر اَنجان بن جانے کا فیصلہ نہیں کرلیا ہے، ان کو جان لینا چاہئے کہ مرزا صاحب نے دفعۃً دعویٔ نبوّت نہیں کیا، بلکہ اس بارِ اِفترا کو اُٹھانے اور لوگوں میں ’’بے بس سہی‘‘ کی اِستعداد پیدا کرنے کے لئے انہوں نے رُبع صدی تک تدریجی دعوے کئے ہیں، اور اس مدّت میں انہوں نے

297

دجل وتلبیس کے لئے متعدّد اِصطلاحیں وضع کی ہیں۔

سب سے پہلے وہ خدمتِ دِین اور دِفاع عن الاسلام کا لبادہ پہن کر میدانِ مناظرہ میں فروکش ہوئے، جب عوام کو مائل دیکھا تو ملہم اور مجدّد ہونے کا دعویٰ کیا، چند زُوداِعتقاد اور فریب خوردہ لوگ اسے تسلیم کرگئے، اور باقاعدہ ایک جدید دعوت میں بیعت کا سلسلہ کامیاب ہوا، تو بعض یارانِ وفاکیش کی خواہش اور درخواست پر مہدی ہونے کا دعویٰ زبان پر لایا گیا، یہ خوراک زُودہضم نہ تھی، لیکن زوردار تحدی، اور اِلہامات کی سحر آفرینی کے ساتھ اس کو ہضم کرانے میں بھی وہ بالآخر بزعمِ خویش کامیاب ہوئے، اب غذا ثقیل سے ثقیل تر تجویز ہو رہی تھی۔ ادھر اِلہامات کا ہاضوم لوگوں کو مسلسل پلایا جارہا تھا، ساتھ ساتھ تحدی اور اِشتہاربازی کے ذریعے ان کے دِل ودِماغ کو مسحور کیا جارہا تھا، اب مسیح علیہ السلام سے مماثلت اور فطری مناسبت کا دعویٰ کیا گیا، معاً یہ دعویٰ بھی کیا گیا کہ جس مسیح کے نزول اور آمدِ ثانی کی متواتر اَحادیث میں خبر دی گئی ہے، اس سے مراد یہی عاجز ہے۔ اس دعوے کے ہضم کرنے اور کرانے میں مرزا صاحب کن کن مشکلات سے دوچار ہوئے، کن کن دُشوارگزار صحراؤں سے وہ گزرے، حیص وبیص اور مایوسی کے کیا کیا عالم ان پر طاری ہوئے، ان کی تفصیل موجبِ طوالت ہوگی۔ پھر ان عقدہ کشائیوں کے لئے ان کو اپنے رجالِ کار سمیت کتنی محنت کرنی پڑی، اور تحریفات اور بے جا تأویلات کا جو طومار ان کو تصنیف کرنا ناگزیر ہوا، اس کی تفصیل بھی شاید کسی دُوسرے موقع پر بیان کرسکوں۔

بہرحال ان کی تصنیفات آج بھی پکار پکار کر اِعلان کر رہی ہیں کہ مسیحِ موعود کے دعوے کو ہضم کرنے اور کرانے کے لئے جتنی دِقت اور دُشواری مرزا صاحب اور ان کے ’’خاص الخاص‘‘ لوگوں کو پیش آئی، نہ پہلے دعاوی میں ان کو یہ دِقت پیش آئی نہ پچھلے دعاوی میں۔

اس دعوے کے دوران مرزا صاحب ’’مایوسی کے دوروں‘‘ میں بھی مبتلا ہوئے جو ماقبل اور مابعد کے دعاوی میں نظر نہیں آتے، جب ان کو خیال آتا کہ مسیحِ موعود کا دعویٰ ان پر کسی طرح منطبق نہیں ہوتا، تو کسی اور مسیح کی آمد کی گنجائش کا بھی وہ اِقرار کرلیتے ہیں، جیسا

298

کہ ایک جگہ مرزا صاحب لکھتے ہیں:

’’میرا یہ دعویٰ تو نہیں کہ کوئی مثیلِ مسیح پیدا نہیں ہوگا، بلکہ میرے نزدیک ممکن ہے کہ کسی آئندہ زمانے میں خاص کر دمشق میں مثیلِ مسیح پیدا ہوجائے۔‘‘

کبھی وہ لکھتے ہیں:

’’ہاں! اس بات سے اِنکار نہیں کہ شاید پیش گوئی کے ظاہری معنوں کے لحاظ سے کوئی اور مسیحِ موعود بھی آئندہ کسی وقت پیدا ہو۔‘‘

کبھی ان کے قلم سے یہ فقرہ بھی نکل جاتا:

’’ممکن ہے اور بہت ممکن ہے کہ کسی زمانے میں کوئی ایسا مسیح بھی آجائے جس پر اَحادیث کے ظاہری الفاظ صادق آجائیں، کیونکہ یہ عاجز تو دُنیا میں شان وشوکت کے ساتھ نہیں آیا۔‘‘

الغرض! مرزا صاحب کی اس قسم کی عبارتیں جن سے ان کی مایوسی جھلکتی ہے، ان کی کتاب ’’اِزالہ اوہام‘‘، میں آج بھی موجود ہیں، بالآخر دیکھتے ہی دیکھتے مرزا صاحب نے مخالفین کو مباحثوں اور مناظروں کے اُلجھاؤ میں مبتلا کردیا، اور مریدین کا وہ گروہ جو ان کے ہر دعوے کو آسمانی قرار دینے کا خوگر ہوگیا تھا، ان کو باور کرادیا کہ وہ واقعی مسیحِ موعود ہیں۔

جب اس وادیٔ خون میں غوطہ زنی کے باوجود وہ اپنے خیال میں تر دَامن نہ ہوئے، اور ماننے والوں میں اِستعداد کی پختگی نظر آئی تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے کمالات اور فیوض وبرکات سے علیٰ وجہ الکمال وہ فیض یاب ہونے کے مدعی ہوئے، کمالاتِ نبویہ کی اسی نشأۃِ ثانیہ کو مرزا صاحب نے ظل وبروز کی اِصطلاحات سے تعبیر کیا۔ لیکن اب تک وہ تمام تر اَوصافِ نبوّت کے ساتھ متصف ہونے کے باوجود دعویٔ نبوّت سے کسی مصلحت کی وجہ سے پرہیز کرتے تھے، بالآخر مولوی عبدالکریم صاحب نے خطبۂ جمعہ میں اس طلسم کو توڑا، اور مرزا صاحب کو نبی اور رسول کے خطابات سے نوازا، اور مرزا

299

صاحب کی جانب سے اس کی تصویب کی گئی۔ اب مرزا صاحب صریح الفاظ میں اپنے لئے نبی اور رسول کے الفاظ اِستعمال کرنے لگے۔ اس پر ختمِ نبوّت کے اِجماعی عقیدے کا ...جس کو مرزا صاحب بقلمِ خود بار بار دُہرا چکے تھے... اِشکال پیش آنا فطری بات تھی، لیکن ظل وبروز وغیرہ کے باطنی قسم کے الفاظ وہ پہلے سے وضع کرچکے تھے، بالآخر بحث ومباحثے کے اس میدان میں بھی ان کا بسیار نویس قلم رُکنے نہیں پایا، لیکن دجل وتلبیس کا کمال تھا کہ متناقض قسم کے دعاوی کو وہ خلط ملط کرتے رہے، نبوّت ورِسالت کے صریح دعوے کے ساتھ وہ مسیحِ موعود، مہدیٔ موعود، مجدّد وغیرہ کے مناصب بھی اپنے لئے تاحینِ حیات ثابت کرتے رہے۔ اس تناقض وتہافت اور دجل وتلبیس کا طبعی نتیجہ تھا کہ مرزا صاحب کے اس عالم سے رُخصت ہوجانے کے بعد خود ان کے عقیدت مند لوگ ان کے دعاوی کی روشنی میں ان کا مقام متعین کرنے سے قاصر رہے۔

مرزا بشیرالدین اور ان کے رُفقاء ...قادیانی جماعت... کے نزدیک وہ نبی تھے، اس کے علاوہ ان کے تمام دعاوی ان کے نزدیک مؤوّل ہیں ...اس کے لئے مرزا محمود صاحب کی تصنیف ’’حقیقۃ النبوۃ‘‘ کی طرف رُجوع کرنا چاہئے... اور مسٹر محمد علی اور ان کی جماعت کے نزدیک مرزا صاحب صرف اِمام یا مجدّد تھے، لیکن اس کے باوجود یہ لوگ ان کو مسیحِ موعود کے نام سے بلاتکلف یاد کرتے ہیں۔

حق یہ ہے کہ مرزا صاحب کے دعویٔ نبوّت کی صحیح توجیہ سے مسٹر محمد علی صاحب اور ان کی جماعت قاصر ہے۔

مدّت کے بعد تیسرا موقف مولوی دریاآبادی نے اِختیار کیا، کہ مرزا صاحب نے نبوّت کا دعویٰ ضرور کیا ہے، لیکن شرعی نبوّت کا نہیں، بلکہ مرزا صاحب کی وہ تمام عبارتیں جن میں صریح نبوّت کے الفاظ بار بار اِصرار وتکرار کے ساتھ دُہرائے گئے ہیں، محض شاعرانہ اِستعارات پر محمول ہیں، اور ان میں لفظِ ’’نبوّت‘‘ کا اِستعمال کسی خانہ ساز معنی کے لئے کیا گیا ہے، جس کے مقابلے میں انسان بے بس ہے، اس لئے دریاآبادی صاحب کے نزدیک صریح دعویٔ نبوّت کے باوجود نہ مرزا صاحب دائرۂ اِسلام سے خارج ہیں، نہ ان کی

300

جماعت کو سوءِ خاتمہ کا اندیشہ ہے، نہ نجات سے محرومی کا سوال ہے، اور نہ ان سے تعرض کرنا جائز ہے۔ کیونکہ اس خودساختہ معنی کے اِعتبار سے مرزا صاحب کا دعویٔ نبوّت مولانا کے نزدیک محلِ اِعتراض نہیں، افسوس یہ کہ دریاآبادی صاحب کا موقف مرزا صاحب کے متناقض دعاوی سے بھی زیادہ خمیدہ ہے، اور اِنصاف یہ ہے کہ مرزا صاحب کی ترجمانی سے موصوف کا یہ موقف بُری طرح ناکام ہے، بلکہ ’’توجیہ القول بما لَا یرضٰی بہ قائلہ‘‘ کا صحیح مصداق ہے۔

اب تک محلِ بحث یہ اَمر تھا کہ مرزا صاحب کا دعویٔ نبوّت قواعدِ شرعیہ کے اِعتبار سے جائز ہے یا ناجائز، لیکن دریاآبادی صاحب کی اس ’’بلایقین اور مجمل تشریح‘‘ نے ’’نیا فتنہ‘‘ کھڑا کردیا کہ مرزا صاحب کا دعویٔ نبوّت متعارف ومصطلح فی الشرع کے اِعتبار سے تھا، یا کسی ’’خانہ ساز مفہوم‘‘ کے اِعتبار سے تھا۔

کاش! وہ اس موقع پر ’’معنیٔ متعارف‘‘ اور ’’خانہ ساز مفہوم‘‘ کی کچھ وضاحت کرتے، اور پھر غور وفکر کی زحمت گوارا فرماتے، کہ مرزا صاحب کا دعویٔ نبوّت دونوں معنوں میں سے کس معنے پر منطبق ہوتا ہے...؟

دریاآبادی صاحب، مرزا صاحب کے دعویٔ نبوّت کے مفہوم کو پانے سے اب تک قاصر ہیں، اور ظلّی، بروزی اور اِتباعِ نبوی وغیرہ کے ابلہ فریب اور تلبیسانہ الفاظ سے مرزا صاحب نے جو تاریکی قصداً پھیلادی ہے، مولانا موصوف کمالِ سادگی سے اس تاریکی میں سرگرداں ہیں۔ دریاآبادی صاحب نہیں جانتے کہ یہ الفاظ قندِشیریں میں زہرِ ہلاہل لپیٹ کر دینے کی مکروہ کوشش ہے، ورنہ مرزا صاحب حقیقی معنی ہی میں نبوّت کا دعویٰ رکھتے تھے...!

دریاآبادی صاحب فرمائیں کہ جس نبوّت کی بنیاد ’’۲۳سالہ متواتر وحی‘‘ پر رکھی گئی ہو، جو وحی ان کے بقول توراۃ، اِنجیل کی طرح واجب الایمان ہو، اور قرآن مجید کی طرح قطعی ہو، اسی پاک وحی میں مرزا صاحب کو رسول، مرسل اور نبی کے الفاظ سے بہت تصریح اور توضیح کے ساتھ ایک دفعہ نہیں بلکہ صدہا دفعہ پکارا گیا ہو، کیا وہ نبوّت متعارف نہیں

301

ہوگی؟ اور کیا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد اس نبوّت کا مدعی کذّاب نہیں کہلائے گا...؟ مرزا صاحب کی عبارتیں ملاحظہ ہوں:

’’میں خدا تعالیٰ کی ۲۳ برس کی متواتر وحی کو کیونکر رَدّ کرسکتا ہوں، میں اس کی پاک وحی پر ایسا ہی اِیمان لاتا ہوں جیسا کہ ان تمام خدا کی وحیوں پر اِیمان لاتا ہوں جو مجھ سے پہلے ہوچکی ہیں۔‘‘

(حیققۃ الوحی ص:۱۵۰)

’’جبکہ مجھے اپنی وحی پر ایسا ہی اِیمان ہے جیسا کہ توریت واِنجیل وقرآنِ کریم پر، تو کیا انہیں مجھ سے یہ توقع ہوسکتی ہے کہ میں ان کی ظنیات بلکہ موضوعات کے ذخیرے کو سن کر اپنے یقین کو چھوڑ دُوں جس کی حق الیقین پر بنا ہے۔‘‘

(اربعین ص:۴ و ۱۹)

’’حق یہ ہے کہ خدا تعالیٰ کی وہ پاک وحی جو میرے پر نازل ہوتی ہے، اس میں ایسے لفظ رسول اور مرسل اور نبی کے موجود ہیں، نہ ایک دفعہ بلکہ صدہا دفعہ، پھر کیونکر یہ جواب صحیح ہوسکتا ہے کہ ایسے الفاظ موجود نہیں ہیں بلکہ اس وقت تو پہلے زمانے کی نسبت بھی بہت تصریح اور توضیح سے یہ الفاظ موجود ہیں۔‘‘

(ضمیمۃ حقیقۃ النبوۃ ص:۲۶۱)

’’اور میں جیسا کہ قرآن شریف کی آیات پر اِیمان رکھتا ہوں، ایسا ہی بغیر فرق ایک ذرّہ کے خدا کی اس کھلی کھلی وحی پر اِیمان لاتا ہوں جو مجھے ہوئی ہے۔‘‘

(اِشتہارات ایک غلطی کا اِزالہ، منقول از ضمیمہ حقیقۃ النبوۃ ص:۲۶۴)

ان عبارات میں مرزا صاحب اپنی وحی کو ...معاذاللہ... توراۃ اور اِنجیل اور قرآن کے ساتھ تشبیہ دیتے ہیں، کیا فرماتے ہیں دریاآبادی صاحب کہ اگر مرزا صاحب کی وحی، رِسالت، ایمان کے الفاظ متعارف معنی پر محمول نہیں، تو کیا توراۃ اور اِنجیل اور قرآن کا وحی

302

ہونا کسی ’’خانہ ساز مفہوم‘‘ پر محمول ہے؟ استغفراللہ...!

مرزا صاحب کا دعویٰ ہے کہ:

’’میں نے خدا کے فضل سے نہ اپنے کسی ہنر سے ’’اس نعمت‘‘ سے کامل حصہ پایا ہے، جو مجھ سے پہلے نبیوں اور رسولوں اور خدا کے برگزیدوں کو دی گئی تھی۔‘‘

(حقیقۃ الوحی ص:۶۲)

دریاآبادی صاحب فرمائیں کہ پہلے نبیوں اور رسولوں کو کیا نعمت ملی تھی، جس کا دعویٰ مرزا صاحب کو ہے...؟

کیا یہ واقعے سے صریح بے اِنصافی نہیں کہ ایک شخص اسی نعمتِ نبوّت کے پانے کا دعویٰ رکھتا ہے، جو انبیاء علیہم السلام کو دِی جاتی رہی، مگر دریاآبادی صاحب اس کے دعوے میں تأویل اور گنجائش پیدا کرنے کے لئے اپنی پوری صلاحیت صَرف کردیتے ہیں۔

پھر کون نہیں جانتا کہ مرزا صاحب جس نبوّت کے مدعی ہوئے ہیں، وہ بقول مرزا صاحب، تین لاکھ نشانات، بلکہ دس لاکھ سے زائد نشانوں کے ساتھ مؤید ہے، اور نشان بھی ایسے کھلے کھلے جو اَوّل درجے پر فائز ہیں۔

مولانا صاف فرمائیں کہ یوں سب نشانات کے مدعی کا دعویٰ کس خانہ ساز مفہوم کا تھا...؟

مرزا صاحب علی الاعلان بیان کرتے ہیں کہ:

’’میرا دعویٰ ثابت کرنے کے لئے اس قدر معجزات دِکھلائے ہیں کہ ’’بہت کم ہی نبی‘‘ ایسے ہیں جنہوں نے اس قدر معجزات دِکھلائے ہوں۔‘‘

(تتمہ حقیقۃ الوحی ص:۱۳۶)

’’بلکہ سچ تو یہ ہے کہ اس نے اس قدر معجزات کا دریا رواں کردیا ہے کہ باستثناء ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ’’باقی تمام انبیاء علیہم السلام‘‘ میں ان کا ثبوت اس کثرت کے ساتھ قطعی اور یقینی طور پر محال ہے، اور خدا نے اپنی حجت پوری کردی ہے، اور اَب

303

چاہے کوئی قبول کرے یا نہ کرے۔‘‘

(ایضاً ص:۱۳۶)

دریاآبادی صاحب بتلائیں کہ مرزا صاحب کے یہ معجزات جو ’’بہت کم نبیوں‘‘ کو دئیے گئے، اور باستثناء ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے جن کا ثبوت ’’باقی تمام انبیاء علیہم السلام‘‘ کے حق میں محال ہے، ان معجزات سے ثابت شدہ مرزا صاحب کی نبوّت کے معنی اگر شرعی نبوّت کے نہیں تو تمام انبیاء کی نبوّت کے معنی کیا ہیں؟ کیا یہ باعثِ حیرت نہیں کہ ایک شخص اپنی وحی کو مثلِ وحیٔ انبیاء، اپنے معجزات کو تمام انبیاء سے فائق، اور اپنی نبوّت کو ہم سنگِ نبوّتِ انبیاء قرار دیتا رہے، لیکن ہم کمالِ سادگی سے اس کے دعوے میں گنجائش پیدا کرتے رہیں، اور لوگوں کو اس کے مقابلے میں بے بس ہوجانے کا پُرخلوص مشورہ دیتے رہیں:ھٰذا لعمری فی الزمان بدیع!

دریاآبادی صاحب کا حال تو ان ہی کو معلوم ہوگا، لیکن اپنا حال یہ ہے کہ جب مرزا صاحب کی یہ عبارت پڑھتا ہوں:

’’اور خدا تعالیٰ میرے لئے اس کثرت سے نشان دِکھلا رہا ہے کہ اگر نوحؑ کے زمانے میں وہ نشان دِکھلائے جاتے تو وہ غرق نہ ہوتے۔‘‘

(تتمہ حقیقۃ الوحی ص:۱۳۷)

تو بے چینی کی کیفیت طاری ہوجاتی ہے، مرزا صاحب نے نہ صرف یہ کہ اپنی نبوّت اور معجزات کو سیّدنا نوح علیہ السلام کی نبوّت اور معجزات سے افضل بتلایا، بلکہ ظالم نے اس ۹۰۰سال کی تبلیغ کرنے والے بوڑھے پیغمبر ...صلوٰۃ اللہ وسلامہ‘ علیہ... کی نبوّت اور ان کے معجزات میں کیڑے نکالے، گویا قومِ نوح کی غرقابی میں خود اس قوم کے مجرمانہ افعال کا نہیں، بلکہ نوح علیہ السلام کے معجزات اور ان کی دعوت کے نقص کا دَخل تھا، ورنہ جو کامل معجزات مرزا صاحب کو ملے، اگر نوح علیہ السلام کے زمانے میں وہ ظاہر کردئیے جاتے تو وہ مسکین کیوں غرق ہوتے، استغفراللہ!

صد حیف کہ دریاآبادی صاحب اب تک مرزا صاحب کو سمجھنے سے قاصر ہیں، اور مرزا صاحب کی طرف سے مدافعت کرکے بزعمِ خود خدمتِ دِین کا فرض بجالارہے ہیں۔

304

مرزا صاحب بزعمِ خود آیت:’’ھُوَ الَّذِیْ اَرْسَلَ رَسُوْلَہٗ بِالْھُدٰی وَدِیْنِ الْحَقِّ لِیُظْھِرَہُ عَلَی الدِّیْنِ کُلِّہٖ‘‘ کا مصداق اس عاجز ...مرزا صاحب... کو قرار دیتے ہیں (اِعجازِ احمدی، اربعین وغیرہ) مگر دریاآبادی صاحب، مرزا صاحب کی کیا خوب ترجمانی کرتے ہیں کہ انہوں نے دعویٔ نبوّت متعارف اور متبادر معنی میں نہیں کیا۔

موصوف فرمائیں کہ آیت کا مصداق ’’جو بھی ہو‘‘ کیا وہ صرف شاعرانہ مفہوم کے اِعتبار سے رسول ہے؟

مرزا صاحب اپنی وحی کے اَوامر ونواہی پر مشتمل ہونے کی وجہ سے اپنے لئے ’’صاحبِ شریعت نبی‘‘ کا منصب تجویز کرتے ہیں (اربعین ص:۴) لیکن ان کے وکیل دریاآبادی صاحب ابھی تک اس اِشتباہ میں ہیں کہ ان کا دعویٔ نبوّت کس مفہوم کے اِعتبار سے تھا...؟

مرزا صاحب بطور لازمۂ نبوّت ان تمام لوگوں کی تکفیر کرتے ہیں، جو اس جدید نبوّت پر اِیمان نہیں لائے، اور ساتھ ہی وہ یہ تسلیم کرتے ہیں کہ حق صرف نبوّتِ تشریعیہ کا ہے، وہ لکھتے ہیں:

’’یہ نکتہ یاد رکھنے کے لائق ہے کہ اپنے دعوے سے انکار کرنے والے کو کافر کہنا، یہ صرف ان نبیوں کی شان ہے جو خدا تعالیٰ کی طرف سے شریعت اور اَحکامِ جدیدہ لاتے ہیں، لیکن صاحبِ شریعت کے ماسوا جس قدر ملہم، اور محدث ہیں، گو وہ کیسے ہی جنابِ باری میں اعلیٰ شان رکھتے ہوں اور خلعتِ مکالمہ اِلٰہیہ سے سرفراز ہوں ان کے اِنکار سے کوئی کافر نہیں بن سکتا۔‘‘

(اربعین ص:۴، حاشیہ ص:۱۵)

اس نکتے کی بنیاد پر مرزا صاحب نے ان تمام لوگوں کی تکفیر کی جو ان کے حلقۂ اِرادت میں داخل نہیں ہوئے، اور شقیٔ ازلی، کافر، جہنمی، دائرۂ اسلام سے خارج اور خدا ورسول کے باغی وغیرہ وغیرہ الفاظ سے ان کو نوازا۔ اور آج تک قادیانی جماعت اسی

305

عقیدے کو بیان کرتی ہے، اسی نبوّت کے منکرین سے مرزا صاحب نے کفار کا معاملہ کیا، ان سے مناکحت حرام، ان کا جنازہ ناجائز، ان کی اِمامت میں نماز باطل، وغیرہ ذالک، لیکن دریاآبادی صاحب کو خدا جانے کس نے بتلادیا ہے کہ مرزا صاحب نبوّت بالمعنی المتبادر کے مدعی نہ تھے۔

دریاآبادی صاحب جانتے ہوں گے کہ مرزا صاحب کے دعویٔ نبوّت ...جس کی وہ بے سروپا تأویلات میں مصروف ہیں... نے صرف لفظِ ’’نبوّت‘‘ نہیں بلکہ شریعت کی نامعلوم کتنی اِصطلاحات کو مسخ کیا ہے۔ دجل وتلبیس کے لئے اُمتی، فیض مآب، ظل اور بروز وغیرہ کے الفاظ انہوں نے ضرور اِستعمال کرلئے ہیں، لیکن نبی کے مقابلے میں ناسخِ شریعت نبی، اُمت کے مقابلے میں جدید اُمت، وحی کے مقابلے میں قطعی وحی، معجزات کے مقابلے میں معجزات، حرم کے مقابلے میں حرم، اُمہات المؤمنین کے مقابلے میں اُمّ المؤمنین، صحابہ کے مقابلے میں صحابہ، خلیفہ اوّل وثانی کے مقابلے میں خلیفہ اوّل وثانی، اسلام کے مقابلے میں اسلام، شرعی کفر کے مقابلے میں کفر، شرعی اِرتداد ومرتد کے مقابلے میں اِرتداد ومرتد وغیرہ وغیرہ، اگر یہ تمام اُمور محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے دِین میں دریاآبادی صاحب کے نزدیک قابلِ برداشت ہیں، تو اس دِین کا خدا حافظ ہے۔ پھر لوگ صرف مرزا صاحب کے مقابلے میں ’’بے بس نہیں‘‘ بلکہ دریاآبادی صاحب اور ان جیسے دُوسرے لوگوں کے مقابلے میں بھی ’’بے بس سہی‘‘۔ جدّت پسندی اور ستم ظریفی کی حد ہے کہ مرزائی نبوّت میں اسلامی قمری مہینوں کے نام تک بدل دئیے جاتے ہیں، اور جدّت پسند طبائع ابھی تک اس بحث میں مبتلا ہیں کہ مرزا صاحب اور ان کی جماعت سے تعرض کیوں کیا جاتا ہے؟ ان کے بلند بانگ دعاوی کو گنجائش پذیر، اور لائقِ تسامح کیوں نہیں قرار دِیا جاتا؟ گویا ان حضرات کی عدالتِ عالیہ میں مرزا صاحب ’’بایں ہمہ‘‘ مظلوم ہیں، اور علمائے کرام ان کے موقف کا شرعی حکم بیان کردینے کے جرم میں لائقِ ’’گردن زدنی‘‘ ہیں: ایں کار از تو آید مرداں چنیں کند۔

306

مرزا صاحب کا نظریۂ مسیحیت!

صرف یہی نہیں کہ مرزا صاحب نے ’’نبوّت کا دعویٰ‘‘ کیا، بلکہ اس ’’متنبی کذّاب‘‘ نے اپنی نبوّت کا سنگِ بنیاد رکھنے کے لئے کتنے انبیائے کرام علیہم السلام کی عزّت کو تہہ خاک کیا، اور اپنی نبوّت کا محل تعمیر کرنے کے لئے کتنی نبوتوں کو پامال کیا، اور اپنی آبروداری کی خاطر کتنوں کو بے آبرو کیا، اپنی حماقتوں کی پردہ داری کے لئے کتنی عصمتوں کی پوستین دری کی، اور اپنے غلیظ دعوے کی رقعہ دوزی کے لئے کتنے پاکیزہ پیرہن تار تار کئے۔ مرزا صاحب کے دعویٔ نبوّت میں اس متاعِ اِیمان رُبا کی اتنی کثرت ہے کہ ضخیم جلد بھی اس کے لئے ناکافی ہے۔ دریاآبادی صاحب کی خدمت میں چند مثالیں عرض کرتا ہوں، تاکہ مرزا صاحب کی جرأت اور لوگوں کی ’’بے بسی‘‘ کا ان کو اَندازہ ہوسکے۔

عیسیٰ علیہ السلام!

سیّدنا عیسیٰ بن مریم ...علیہما وعلیٰ نبینا الصلوٰۃ والسلام... اُولوالعزم انبیاء میں سے ہیں۔ قرآن مجید نے ان کی پیدائش، طفلی، کہولت غرض زندگی کے اوّل وآخر کو جس اِعجازی شان سے بیان کیا، وہ سب کو معلوم ہے۔ قرآنِ حکیم نے ان کے کمالات اور معجزات کو جس اِہتمام سے پُرشوکت انداز میں ذِکر کیا ہے، وہ بھی کسی سے مخفی نہیں۔ لیکن مرزا صاحب کے دعاویٔ باطلہ کے لئے ان کا وجود چونکہ سنگِ راہ کی حیثیت رکھتا تھا، اس لئے مرزا صاحب کو ان کے ساتھ رقیبانہ چشمک ہے، بالکل فرضی اور خانہ ساز اِعتراضات ان کے لئے اس قدر بے ہودہ انداز میں منسوب کرتے ہیں کہ انسانیت سر پیٹ لیتی ہے، اور شرافت ماتم کناں ہوجاتی ہے، مثلاً:

۱:... سیّدنا عیسیٰ علیہ السلام کا نفخۂ جبریلؑ سے بلاتوسط باپ کے پیدا ہونا قرآن سے ثابت ہے، جو ان کے لئے ممتاز منقبت کا حامل ہے۔ مرزا صاحب اس کو برداشت نہیں کرپاتے، بلکہ ان کو یوسف نجار کا بیٹا قرار دیتے ہیں۔

(کشتی نوح، رُوحانی خزائن ج:۱۹ ص:۱۸)

307

۲:... انبیاء علیہم السلام کے انساب کا ہر طرح کے اَغلاط سے پاک ہونا، ایسی ضرورتِ دِینیہ ہے کہ کسی عاقل کو بھی اس میں کلام کی گنجائش نہیں۔ لیکن ’’قاذفِ قادیان‘‘ کے نزدیک عیسیٰ علیہ السلام کو اس شرف سے محروم کردینا ہی اسلامی خدمت ہے، چنانچہ وہ لکھتا ہے:

’’آپ کا خاندان بھی نہایت پاک اور مطہر ہے، تین دادیاں اور نانیاں آپ کی زِناکار، کسبی عورتیں تھیں، جن کے خون سے آپ کا وجود ظہور پذیر ہوا۔‘‘ (العیاذباللہ)

(ضمیمہ انجامِ آتھم، مصنفہ مرزا صاحب)

۳:... مرزا صاحب اپنی عداوت کی وجہ سے عیسیٰ علیہ السلام کو اَنبیائے کرام کے اَخلاق واوصاف سے نہیں بلکہ ایک معمولی شریف اور پرہیزگار اِنسان کے اَخلاق سے بھی خالی دیکھنا چاہتے ہیں، اور اس کو ’’جدی مناسبت‘‘ قرار دیتے ہیں۔

(انجامِ آتھم ضمیمہ)

۴:... قرآن مجید نے عیسیٰ علیہ السلام کے جتنے معجزات ذِکر کئے ہیں، مرزا صاحب کے لئے وہ سرگرانی کا باعث ہیں، وہ لکھتے ہیں:

’’عیسائیوں نے بہت سے معجزات آپ کے بیان کئے ہیں، مگر حق یہ ہے کہ آپ سے کوئی معجزہ نہیں ہوا۔‘‘

(انجامِ آتھم ضمیمہ)

ان کا رقیبانہ حسد جوش میں آتا ہے تو ان کو اس پر تعجب ہونے لگتا ہے کہ لوگ عیسیٰ علیہ السلام کے معجزات کا تذکرہ ان کی محفل میں کیوں کرنے لگتے ہیں، ان کا چہرہ سرخ ہوجاتا ہے، اور وہ آگ بگولہ ہوجاتے ہیں، وہ غیظ وغضب سے لال پیلے ہوکر اِعلان کرنے لگتے ہیں:

’’یاد رکھنا چاہئے کہ یہ عمل (مردوں کو زِندہ کرنا...ناقل) ایسا قدر کے لائق نہیں جیسا کہ عوام الناس اس کو خیال کرتے ہیں، اگر یہ عاجز اس عمل کو مکروہ اور قابلِ نفرت نہ سمجھتا تو خدا تعالیٰ کے فضل وتوفیق سے اُمیدِ قوی رکھتا تھا کہ ان اعجوبہ نمائیوں میں حضرت مسیح

308

ابنِ مریم سے کم نہ رہتا۔‘‘

(اِزالہ اوہام ج:۳ ص:۲۵۷، ۲۵۸، حاشیہ ص:۳۰۹)

۵:... مرزا صاحب چونکہ خود دِینی اِستقامت سے محروم تھے، اس لئے ان کو عیسیٰ علیہ السلام کے متعلق وہی ’’رقیبانہ فکر‘‘ رہا کرتی تھی کہ ہائے وہ اس فضیلت سے کیوں سرفراز ہوگئے۔ بالآخر اسی ’’جذبۂ حسد‘‘ سے مغلوب ہوکر وہ اس فضیلت کی نفی کی وجہ بھی ڈھونڈ لائے، وہ لکھتے ہیں:

’’یہی وجہ ہے کہ گو حضرت مسیح جسمانی بیماریوں کو اس عمل کے ذریعے سے اچھا کرتے رہے، مگر ہدایت اور توحید اور دِینی اِستقامتوں کے کامل طور پر دِلوں میں قائم کرنے کے بارے میں ان کی کارروائیوں کا نمبر ایسا کم درجے کا رہا کہ قریب قریب ناکام کے رہے۔‘‘

(اِزالہ اوہام ج:۳ ص:۲۵۸، حاشیہ ص:۱۱۳)

۶:... مرزا صاحب کے اس ’’حسد وبغض‘‘ اور ’’غیظ و غضب‘‘ کی اصل وجہ اُمت کا یہ اِجماعی عقیدہ تھا کہ عیسیٰ علیہ السلام زِندہ آسمان پر اُٹھائے گئے ہیں، اور قربِ قیامت میں تشریف لائیں گے۔ یہ عقیدہ قرآن مجید نے بیان کیا، اَحادیثِ متواترہ نے اس کی تفصیلی جزئیات شرح وبسط سے ذِکر فرمائیں، اُمت نے اس کو بابُ الایمان کا ایک جزو قرار دیا، حکمائے اُمت نے اس کے اَسرار وحِکَم بیان کئے، فقہاء نے اس کی فقہی جزئیات سے بحث فرمائی، عقلِ صحیح اور فطرتِ سلیمہ نے عیسیٰ علیہ السلام کے رفع ونزول کی علتِ غائیہ کا سراغ لگایا، لیکن مرزا صاحب کے لئے عیسیٰ علیہ السلام کی ’’شانِ رفع ونزول‘‘ کیسے قابلِ برداشت ہوسکتی تھی؟ اس منقبتِ عیسویہ نے ان کو ’’حواس باختہ‘‘ کردیا، وہ بے چارے پوری اُمت کے مقابلے میں کیا کریں؟ لیکن جب تک عیسیٰ علیہ السلام کے لئے فضیلت ثابت رہے گی ان کی دُکانِ مسیحیت کیسے چلے گی؟ لیکن وہ یکہ وتنہا چند رُفقاء کے ساتھ کیا کیا کریں؟ عیسیٰ علیہ السلام کو کیسے ماریں؟ کہاں ان کی قبر بنائیں؟ اس رفع کا محال ہونا کس طرح لوگوں کو سمجھادیں؟ اس نزول میں جو ’’مفاسد‘‘ لازم آتے ہیں، وہ کیسے دِلوں میں اُتاردیں؟ اس

309

کے لئے مرزا صاحب نے اپنے رُفقاء سمیت ’’عقل وخرد‘‘ اور ’’دِین واِیمان‘‘ کی بڑی بڑی قربانیاں دیں، لیکن طوطی کی نقارخانے میں کون سنتا تھا؟ اس مایوس کون صورتِ حال نے ان کے اَعصاب پر بہت بُرا اَثر ڈالا، مراق اور ہسٹریا کے وہ پہلے سے مریض تھے ...دیکھو: سیرۃ المہدی... اس پر یہ صدمۂ جان کاہ اور سانحۂ ہوش رُبا ان کو پیش آیا، اس کا اَنجام جو ہونا چاہئے تھا وہ ہوا ...... ان کی یہی نفسیاتی کیفیت ہے جو اُن کی اس زمانے کی تحریروں سے نمایاں ہو رہی ہے، کبھی وہ دیوانہ وار آنے والے مسیح پر پل پڑتے:

’’ہزار کوشش کی جائے اور تأویل کی جائے، یہ بات بالکل غیرمعقول ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد کوئی ایسا نبی آنے والا ہے کہ جب لوگ نماز کے لئے مساجد کی طرف دوڑیں گے تو وہ کلیسا کی طرف بھاگے گا، اور جب لوگ قرآن شریف پڑھیں گے تو وہ اِنجیل کھول بیٹھے گا، جب لوگ عبادت کے لئے بیت اللہ کی طرف منہ کریں گے تو وہ بیت المقدس کی طرف متوجہ ہوگا، اور شراب پیئے گا، اور سوَر کھائے گا، اور اِسلام کے حلال وحرام کی کچھ پروا نہ رکھے گا۔‘‘

(حقیقۃ الوحی ص:۲۹)

اور کبھی اسی ’’مراقی کیفیت‘‘ میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی وہ متواتر اَحادیث جو آنے والے مسیح کی علامات بیان کرتی ہیں اور بدقسمتی سے مرزا صاحب پر منطبق نہیں ہوتیں، ان کا فحش انداز میں اِستہزا کرتے ہیں، ایک جگہ لکھتے ہیں:

’’کیا حضرت مسیح کا زمین پر اُترنے کے بعد عمدہ کام یہی ہوگا کہ وہ خنزیروں کا شکار کھیلتے پھریں گے، اور بہت سے کتے ساتھ ہوں گے، اگر یہی سچ ہے تو پھر سکھوں اور چماروں اور سانسیوں اور گنڈیلوں وغیرہ کو جو خنزیر کے شکار کو دوست رکھتے ہیں، خوشخبری کی جگہ ہے کہ ان کی خوب بن آئے گی۔‘‘(اِزالہ اوہام ج:۳ ص:۱۲۳)

(ماہنامہ ’’دارالعلوم‘‘ دیوبند جنوری ۱۹۶۴ء)

310

مفتیٔ اعظمؒ اور تردید قادیانیت

بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ

اَلْحَمْدُللہِ وَسَلَامٌ عَلٰی عِبَادِہِ الَّذِیْنَ اصْطَفٰی!

حق تعالیٰ کی حکمتِ بالغہ نے اس کائنات میں خیر و شر اور حق و باطل کا سلسلہ ابتدائے تخلیق سے جاری فرمایا، اور رہتی دنیا تک جاری رہے گا، اس کی اِبتدا اگر اِبلیس و آدم کی آویزش سے ہوتی ہے تو اس کی انتہا دجال و مسیح پر ہوگی۔

اس سنت الٰہیہ کے مطابق جب کسی شر کی قوت نے سر اٹھایا اس کا سر کچلنے کے لئے اللہ تعالیٰ نے رجال خیر کو کھڑا کردیا، اس صدی (چودھویں صدی ہجری) کا سب سے بڑا شر، سب سے بڑا فتنہ، سب سے بڑی گمراہی اور سب سے بڑا دجل و فریب، لعین بن لعین، لعین قادیان کا دعویٔ نبوّت و مسیحیت تھا، جس نے گزشتہ صدیوں کے سارے کفر و الحاد کا تعفن اپنے اندر سمیٹ لیا تھا۔

یہ فتنہ چونکہ دجل و فریب کی بیساکھیوں کے سہارے چل رہا تھا، اس لئے شروع شروع میں تو بہت سے لوگ اس کی حقیقت ہی نہ سمجھے، اور جن حضرات کو اصل حقیقت تک رسائی ہوئی انہوں نے اس کو ’’دیوانے کی بڑ‘‘ اور ’’گوز شتر‘‘ تصور کرتے ہوئے اسے لائق التفات ہی نہ سمجھا، ادھر انگریز کی عیاری و مکاری، اس کی اعانت و نصرت اور تائید و حمایت نے اس فتنہ کو کم فہم انگریزی خواندہ نوجوانوں اور سرکاری ملازموں میں پنپنے کا موقع دیا، تاآنکہ رفتہ رفتہ قادیانیت کی رگوں میں دجل و فریب کے علاوہ کبر و نخوت اور شیخی و تعلّی کا خون بھی دوڑنے لگا، وہ ہر راہ چلتے کا بازو پکڑ کر اسے حیات مسیح پر بحث کرنے کی دعوت دینے لگے، اور انہوں نے گلی کوچوں میں مناظروں اور مباحثوں کی فضا پیدا کردی، وہ ہر

311

داڑھی والے کو دیکھ کر اس پر پھبتیاں کسنے اور اسلامی عقائد کو چیلنج کرنے لگے۔

یہ وہ صورت حال تھی جس نے امام العصر حضرت مولانا محمد انور شاہ کشمیریؒ کو پریشان کردیا تھا۔ اور آپ کی راتوں کی نیند حرام کردی تھی، خطرہ ہوچلا تھا کہ اگر اس ملعون فتنہ کو لگام نہ دی گئی تو یہ نہ صرف مسلمانوں کی گمراہی کا ذریعہ بن جائے گا بلکہ دین محمدی (علیٰ صاحبہا الصلوٰۃ والسلام) کے کم از کم ہندوستان سے خاتمہ کا سبب ہوگا۔ علمائے اُمت بحمداللہ اس فتنہ کی سرکوبی پہلے سے کرتے آرہے تھے مگر حضرت امام العصرؒ کے پیش نظر اس فتنہ کے قلع قمع کے لئے چند اہم اقدامات تھے:

اوّل:...اس فتنہ کی ملعونیت و خباثت اس طرح اجاگر کی جائے کہ قادیانیت و مرزائیت کا لفظ بجائے خود گالی بن جائے، حتیٰ کہ خود قادیانی بھی اپنے آپ کو مرزائی، یا قادیانی کہلانا عار اور شرم کا موجب سمجھیں۔

دوم:...اہل علم کی ایک باتوفیق جماعت تیار کی جائے جو قادیانیوں کی تلبیسات کا پردہ چاک کرے اور ان تمام علمی مباحث کو نہایت صاف اور منقح کردے جو اسلام اور قادیانیت کے درمیان زیر بحث آئے ہیں۔

سوم:...دعوت و تبلیغ اور مباحثہ و مناظرہ کے میدان میں ایسی پیش قدمی کی جائے کہ حریف پسپا ہونے پر مجبور ہوجائے اور اسے ہر گلی کوچے میں مسلمانوں کو للکارنے کی جرأت نہ ہو۔

چہارم:...ردّ قادیانیت اور تحفظ ختمِ نبوّت مسلمانوں کا ایک مستقل مشن بن جائے تاکہ جہاں کہیں قادیانیت کے طاغوتی جراثیم پائے جائیں وہاں ختمِ نبوّت کا تریاق مہیا کیا جاسکے۔

حضرت شاہ صاحب نور اللہ مرقدہ کے علمی تفوق اور روحانی توجہ نے پورے دارالعلوم دیوبند کو اس محاذ پر لگادیا، آپ کے زیر اشراف جو جماعت قادیانیت کے استیصال کے لئے تیار ہوئی ان میں حضرت اقدس مفتی اعظم مولانا محمد شفیع دیوبندی قدس سرہ کی شخصیت بالآخر اپنے دور کی نمایاں ترین شخصیت بن گئی۔

312

حضرت مفتی اعظمؒ نے ردّ قادیانیت پر جو کام کیا اسے آسانی کے لئے تین حصوں میں تقسیم کیا جاسکتا ہے:

اوّل:...دعوت و تبلیغ کے ذریعہ نیز مباحثہ و مناظرہ کے میدان میں اور عدالت کے کٹہرے میں قادیانیت کا مقابلہ۔

دوم:...تصنیف و تالیف کے ذریعہ ردّ قادیانیت کی خدمت۔

سوم:...دارالعلوم دیوبند کی مسند دارالافتاء سے قادیانیوں کی دینی حیثیت کی تشخیص اور ان کے شبہات کا ازالہ۔

اوّل الذکر دونوں چیزوں کا مختصر سا خاکہ خود مفتی صاحبؒ کے اس مقالہ میں آجاتا ہے جو ’’حیاتِ انور‘‘ میں شامل ہے اور جو ہمارے پاس سب سے مستند ذریعہ معلومات ہے، اس لئے اس مقالہ کا ضروری حصہ یہاں نقل کیا جاتا ہے، جس سے اس دور کے بعض اہم واقعات بھی معلوم ہوں گے، حضرت شاہ صاحبؒ کے ردّ قادیانیت کے لئے اہتمام اور اپنے تلامذہ کی تربیت پر روشنی پڑے گی اور حضرت مفتی صاحب رحمہ اللہ کی خدمات کا اجمالی تعارف بھی ہوگا، حضرت مفتی صاحب لکھتے ہیں:

’’فتنۂ مرزائیت کی شدت اور اس کے بعض اسباب:

تقریباً ۱۳۴۰ھ کا واقعہ ہے کہ فتنۂ قادیانیت پورے ہندوستان کے اطراف و جوانب میں اور خصوصاً پنجاب میں ایک طوفانی صورت سے اٹھا، اس کا سبب خواہ یہ ہو کہ ۱۹۱۹ء کی جنگ عظیم میں قادیانی مسیح کی اُمت نے مسلمانوں کے مقابلہ میں عیسائیوں (انگریزوں) کو کافی مددبہم پہنچائی، جس کا اعتراف خود قادیانیوں نے اپنے اخبارات میں کیا ہے، اور یہی وجہ تھی کہ جب بغداد سات سو سال کے بعد مسلمانوں کے قبضہ سے نکل کر انگریزوں کے تسلط میں داخل ہوا تو جہاں محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کی پوری اُمت ان

313

کے رنج و غم میں مبتلا تھی وہیں قادیانی مرزا کی اُمت قادیان میں چراغاں کر رہی تھی۔

(الفضل قادیان)

اس جنگ میں امداد دینے اور مسلمانوں کے مقابلہ میں انگریزوں کو کامیاب بنانے کے صلہ میں انگریزوں کی حمایت (بقول مرزا صاحب) اپنے اس خود کاشتہ پودے کو زیادہ حاصل ہوگئی، اور اس کا یہ حوصلہ ہوگیا کہ وہ کھل کر مسلمانوں کے مقابلے میں آجائے اور ممکن ہے کہ کچھ اور بھی اسباب ہوں۔

یہ زمانہ دارالعلوم دیوبند میں میرے درس و تدریس کا ابتدائی دور تھا، اور میں اس بسم اللہ کے گنبد میں اپنی کتاب اور سبق پڑھانے کے سوا کچھ نہ جانتا تھا کہ دنیا میں کیا ہو رہا ہے؟

لیکن ہمارے بزرگ جن کو اللہ تعالیٰ نے اپنے دین کے فروغ اور اسلام کی خدمت ہی کے لئے پیدا فرمایا تھا، قادیانیت کے اس بڑھتے ہوئے طوفان سے سخت تشویش و اضطراب محسوس فرما رہے تھے اور تبلیغ و اشاعت کے ذریعہ اس کے مقابلے کی فکر کر رہے تھے، بالخصوص حضرت شاہ صاحب قدس سرہ پر اس فتنہ کا بہت اثر تھا، ایسا معلوم ہوتا تھا کہ اللہ تعالیٰ نے اس فتنہ کے مقابلہ کے لئے ان کو چن لیا ہے، جیسا ہر زمانہ میں عادۃ اللہ یہ رہی ہے کہ ہر فتنہ کے مقابلہ کے لئے اس وقت کے علمائے دین سے کسی کو منتخب کرلیا گیا اور اس کے قلب میں اس کی اہمیت ڈال دی گئی، فتنۂ قادیانیت کے استیصال میں حضرت ممدوح کی شبانہ روز جد و جہد اور فکر و عمل سے دیکھنے والے کو یقین ہوجاتا تھا کہ اللہ تعالیٰ نے اس خدمت کے لئے آپ کو چن لیا ہے۔

314

مصر و عراق وغیرہ ممالک اسلامیہ میں فتنۂ قادیانیت کا انسداد:

میں حسب عادت ایک روز استاذِ محترم حضرت شاہ صاحب قدس سرہ کی خدمت میں حاضر ہوا تو ان کی دائمی عادت کے خلاف یہ دیکھا کہ ان کے سامنے کوئی کتاب زیر مطالعہ نہیں، خالی بیٹھے ہوئے ہیں اور چہرے پر فکر کے آثار نمایاں ہیں، میں نے عرض کیا کہ کیسا مزاج ہے؟ فرمایا کہ بھائی! مزاج کو کیا پوچھتے ہو؟ قادیانیت کا ارتداد اور کفر کا سیلاب امنڈتا نظر آتا ہے، صرف ہندوستان میں نہیں عراق و بغداد میں ان کا فتنہ سخت ہوتا جاتا ہے اور ہمارے علماء و عوام کو اس طرف توجہ نہیں، ہم نے اس کے مقابلہ کے لئے جمعیۃ علمائے ہند میں یہ تجویز پاس کرائی تھی کہ دس رسالے مختلف موضوعات متعلقہ قادیانیت پر عربی زبان میں لکھے جائیں اور ان کو طبع کراکر ان بلادِ اسلامیہ میں بھیجا جائے، مگر اب کوئی کام کرنے والا نہیں ملتا، اس کام کی اہمیت لوگوں کے خیال میں نہیں۔ میں نے عرض کیا کہ اپنی استعداد پر تو بھروسہ نہیں لیکن حکم ہو تو کچھ لکھ کر پیش کروں، ملاحظہ کے بعد کچھ مفید معلوم ہو تو شائع کیا جائے، ورنہ بیکار ہونا بظاہر ہی ہے۔

ارشاد ہوا کہ مسئلۂ ختمِ نبوّت پر لکھو، احقر نے استاذِ محترم کی تعمیل ارشاد کو سرمایۂ سعادت سمجھ کر چند روز میں تقریباً ایک سو صفحات کا ایک رسالہ عربی زبان میں لکھ کر آپ کی خدمت میں پیش کیا، حضرت ممدوح رسالہ دیکھتے جاتے تھے اور بار بار دعائیہ کلمات زبان پر تھے، مجھے کوئی تصور نہ تھا کہ اس ناچیز خدمت کی اتنی قدر افزائی کی جائے گی، پھر خود ہی حضرت ممدوح نے اس رسالہ کا نام’’ھدیۃ

315

المھدیین فی آیۃ خاتم النبیین‘‘ تجویز فرماکر اس کے آخر میں ایک صفحہ بطور تقریظ تحریر فرمایا اور اپنے اہتمام سے اس کو طبع کرایا، مصر، شام، عراق، مختلف مقامات پر اس کے نسخے روانہ کئے۔

خاص قادیان میں پہنچ کر اِعلانِ حق اور رَدِّ مرزائیت:

اسی زمانہ میں حضرت ممدوح کے ایما پر امرتسر و پٹیالہ ولدھیانہ کے چند علماء نے یہ تجویز کیا کہ اس فتنہ کے استیصال کے لئے خاص قادیان میں ایک تبلیغی جلسہ سالانہ منعقد کیا جائے تاکہ قضیۂ زمین برسر زمین طے ہوسکے۔

یہ عوام کو فریب میں ڈالنے والے مناظرے اور مباہلے کے چیلنج جو اکثر اس فرقہ کی طرف سے چھپتے رہتے ہیں ان کی حقیقت لوگوں پر واضح ہوجائے، چنانچہ چند سال مسلسل یہ جلسے قادیان میں ہوتے تھے اور حضرت ممدوح اکثر بذاتِ خود ایک جماعت علمائے دیوبند کے ساتھ اس میں شرکت فرماتے تھے، احقر ناکارہ بھی اکثر ان میں حاضر رہا ہے۔

قادیانی گروہ نے اپنے آقاؤں (انگریزوں) کے ذریعہ ہر طرح کی کوشش کی کہ یہ جلسے قادیان میں نہ ہوسکیں لیکن کوئی قانونی وجہ نہ تھی جس سے جلسے روک دئیے جاویں، کیونکہ ان جلسوں میں عالمانہ بیانات تہذیب و متانت کے ساتھ ہوتے اور کسی نقص امن کے خطرہ کو موقع نہ دیتے تھے، جب قادیانی گروہ اس میں کامیاب نہ ہوا تو خود تشدد پر اتر آیا، حضرت شاہ صاحب قدس سرہ اور ان کے رفقا کو قادیان جانے سے پہلے اکثر ایسے خطوط گمنام ملا کرتے تھے کہ اگر قادیان میں قدم رکھا تو زندہ واپس نہ جاسکو گے، اوریہ صرف دھمکی

316

ہی نہ تھی بلکہ عملاً بھی اکثر اس قسم کی حرکتیں ہوتی تھیں کہ باہر سے جانے والے علماء و مسلمانوں پر حملے کئے جاتے تھے، ایک مرتبہ آگ بھی لگائی گئی۔

لیکن حق کا چراغ کبھی پھونکوں سے بجھایا نہیں گیا اس وقت بھی ان کے اخلاق باختہ حملے مسلمانوں کو ان جلسوں سے نہ روک سکے۔

مرزائیت میں تصانیف کا سلسلہ:

ایک مرتبہ کا واقعہ ہے کہ ہم چند خدام جلسہ قادیان میں حضرت ممدوح کے ساتھ حاضر تھے، صبح کی نماز کے بعد حضرت شاہ صاحب قدس سرہ نے اپنے مخصوص تلامذہ حاضرین کو خطاب کرکے فرمایا کہ زمانہ کو الحاد کے فتنوں نے گھیر لیا اور قادیانی دجال کا فتنہ ان سب میں زیادہ شدت اختیار کرتا جاتا ہے، اب ہمیں افسوس ہوتا ہے کہ ہم نے اپنی عمر و توانائی کا بڑا حصہ اور درس حدیث کا اہم موضوع حنفیت و شافعیت کو بنائے رکھا، ملحدین زمانہ کے وساوس کی طرف توجہ نہ دی، حالانکہ ان کا فتنہ مسئلہ حنفیت و شافعیت سے کہیں زیادہ اہم تھا، اب قادیانی فتنہ کی شدت نے ہمیں اس طرف متوجہ کیا تو میں نے اس کے متعلقہ مسائل کا کچھ مواد جمع کیا ہے، اگر اس کو میں خود تصنیف کی صورت سے مدون کروں تو میرا طرز ایک خالص علمی اصطلاحی رنگ ہے اور زمانہ قحط الرجال کا ہے، اس قسم کی تحریر کو نہ صرف یہ کہ پسند نہیں کیا جاتا بلکہ اس کا فائدہ بھی بہت محدود رہ جاتا ہے، میں نے مسئلہ قرأت فاتحہ خلف الامام پر ایک رسالہ ’’فصل الخطاب‘‘ بزبان عربی تحریر کیا، اہل علم اور طلباء میں عموماً مفت تقسیم کیا

317

لیکن اکثر لوگوں کو یہی شکایت کرتے سنا کہ پوری طرح سمجھ میں نہیں آتا، اس لئے اگر آپ لوگ کچھ ہمت کریں تو یہ مواد میں آپ کو دے دوں، اس وقت حاضرین میں چار آدمی تھے، احقر ناکارہ اور حضرت مولانا سیّد مرتضیٰ حسن صاحب رحمۃ اللہ علیہ سابق ناظم شعبہ تعلیم و تبلیغ دار العلوم دیوبند اور حضرت مولانا بدرعالم صاحب سابق مدرس دارالعلوم دیوبند و جامعہ اسلامیہ ڈابھیل سورت و دارالعلوم ٹنڈوالہ یار سندھ وحال مہاجر مدینہ طیبہ اور حضرت مولانا محمد ادریس صاحب سابق مدرس دارالعلوم دیوبند وشیخ الجامعہ بہاول پور و حال شیخ الحدیث جامعہ اشرفیہ لاہور ادام اللہ تعالیٰ فیوضہم، ہم چاروں نے عرض کیا کہ جو حکم ہو ہم امتثال امر کو سعادتِ کبریٰ سمجھتے ہیں۔

اسی وقت فرمایا کہ اس فتنہ کے استیصال کے لئے علمی طور پر تین کام کرنے ہیں: اول مسئلہ ختمِ نبوّت پر ایک محققانہ مکمل تصنیف جس میں مرزائیوں کے شبہات و اوہام کا ازالہ بھی ہو۔

دوسرے حیاتِ عیسیٰ علیہ السلام کے مسئلہ کی مکمل تحقیق قرآن و حدیث اور آثار سلف سے مع ازالہ شبہات ملحدین۔

تیسرے خود مرزا کی زندگی، اس کے گرے ہوئے اخلاق اور متعارض و متہافت اقوال اور انبیاء و اولیاء و علماء کی شان میں اس کی گستاخیاں اور گندی گالیاں، اس کا دعویٔ نبوّت و وحی اور متضاد قسم کے دعوے، ان سب چیزوں کو نہایت احتیاط کے ساتھ اس کی کتابوں سے مع حوالہ جمع کرنا جس سے مسلمانوں کو اس فرقہ کی حقیقت معلوم ہو اور اصل یہ ہے کہ اس فتنہ کی مدافعت کے لئے یہی چیز اہم اور کافی ہے، مگر چونکہ مرزائیوں نے مسلمانوں کو فریب میں ڈالنے کے لئے خواہ مخواہ کچھ علمی مسائل میں عوام کو الجھادیا ہے اس

318

لئے ان سے بھی اغماض نہیں کیا جاسکتا، پھر فرمایا کہ مسئلہ ختمِ نبوّت کے متعلق تو یہ صاحب (احقر کی طرف اشارہ کرکے فرمایا) ایک جامع رسالہ عربی زبان میں لکھ چکے ہیں اور اردو میں لکھ رہے ہیں اور آخر الذکر معاملہ کے متعلق مواد فراہم کرکے مدون کرنے کا سب سے بہتر کام حضرت مولانا سیّد مرتضیٰ حسن صاحب (رحمۃ اللہ علیہ) کرسکیں گے کہ اس معاملہ میں ان کی معلومات بھی کافی ہیں اور مرزائی کتابوں کا پورا ذخیرہ بھی ان کے پاس ہے، وہ اس کام کو اپنے ذمے لے کر جلد سے جلد پورا کریں۔

اب مسئلہ رفع و حیات عیسیٰ علیہ السلام رہ جاتا ہے اس کے متعلق میرے پاس کافی مواد جمع ہے، آپ تینوں صاحب دیوبند پہنچ کر مجھ سے لے لیں اور اپنی اپنی طرز پر لکھیں۔

یہ مجلس ختم ہوگئی مگر حضرت شاہ صاحب قدس سرہ کے قلبی تأثرات اپنا ایک گہرا نقش ہمارے دلوں پر چھوڑ گئے، دیوبند واپس آتے ہی ہم تینوں حضرت شاہ صاحب قدس سرہ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور مسئلہ حیاتِ عیسیٰ علیہ السلام سے متعلقہ مواد حاصل کیا۔

حضرت مولانا بدر عالم صاحب دامت برکاتہم نے:’’اِنِّیْ مُتَوَفِّیْکَ وَرَافِعُکَ اِلَیَّ‘‘ کی تفسیر سے متعلق مواد لے کر اس پر ایک مستقل رسالہ اردو میں بنام: ’’الجواب الفصیح فی حیات المسیح‘‘ تحریر فرمایا جو علمی رنگ میں لاجواب سمجھا گیا اور حضرت شاہ صاحب قدس سرہ نے پسند فرماکر اس پر تقریظ تحریر فرمائی، یہ رسالہ ۱۳۴۲ھ میں شعبہ تبلیغ دارالعلوم دیوبند سے شائع ہوا۔

حضرت مولانا محمد ادریس صاحب دامت فیوضہم نے اپنے مخصوص انداز میں اسی مسئلہ پر اردو زبان میں ایک جامع اور

319

محققانہ رسالہ بنام:’’کلمۃ اللہ فی حیٰوۃ روح اللہ‘‘ تصنیف فرماکر حضرت شاہ صاحب قدس سرہ کی خدمت میں پیش کیا، حضرت ممدوح نے بے حد پسند فرماکر تقریظ تحریر فرمائی اور ۱۳۴۲ھ میں دارالعلوم دیوبند سے شائع ہوکر مقبول و مفید خلائق ہوا۔

احقر ناکارہ کے متعلق یہ خدمت کی گئی کہ جتنی مستند و معتبر روایات حدیث حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی حیات یا نزول فی آخر الزمان کے متعلق وارد ہوئی ہیں ان سب کو ایک رسالہ میں جمع کردے، احقر نے تعمیل حکم کے لئے رسالہ: ’’التصریح بما تواتر فی نزول المسیح‘‘بزبان عربی لکھا اور حضرت ممدوح کی بے حد پسندیدگی کے بعد اسی سال شائع ہوا۔

اس کے بعد حسب ارشاد ممدوح مسئلہ ختمِ نبوّت پر ایک مستقل کتاب اردو زبان میں تین حصوں میں لکھی:

پہلا حصہ ختم النبوۃ فی القرآن:... جس میں ایک سو آیات قرآنی سے اس مسئلہ کا مکمل ثبوت اور ملحدوں کے شبہات کا جواب لکھا گیا ہے۔

دوسرا ختم النبوۃ فی الحدیث:...جس میں دو سو دس احادیث معتبرہ سے اس مضمون کا ثبوت اور منکرین کا جواب پیش کیا گیا ہے۔

تیسرا ختم النبوۃ فی الآثار:...جس میں سینکڑوں اقوال صحابہؓ و تابعینؒ اور ائمہ دینؒ اس کے ثبوت اور منکرین اور ان کی تاویلات باطلہ پر ردّ کے متعلق نہایت صاف و صریح نقل کئے گئے ہیں، یہ تینوں رسالے پہلی مرتبہ ۱۳۴۳ھ سے ۱۳۴۵ھ تک شائع ہوئے، اسی کے ساتھ مختصر رسالہ: ’’دعاوی مرزا‘‘ اور ’’مسیح موعود کی پہچان‘‘ اردو زبان میں احقر نے لکھ کر پیش کئے، ان رسائل کا جو کچھ

320

نفع مسلمانوں کی اصلاح و ہدایت اور ملحدین و منکرین پر اتمام حجت کے سلسلہ میں ہوا یا ہوگا اس کا علم تو اللہ ہی کو ہے مجھے تو اپنی محنت کا نقد صلہ حضرت شاہ صاحب قدس سرہ کی مسرت و خوشنودی اور بے شمار دعاؤں سے اسی وقت مل گیا اور جوں جوں ان رسائل کی اشاعت سے مسلمانوں کی ہدایت بلکہ بہت سے قادیانی خاندانوں کی توبہ و رجوع الی الاسلام کے متعلق حضرت کو معلوم ہوئے اسی طرح اظہار مسرت اور دعا کے انعامات ملتے رہے۔

مخدومنا حضرت مولانا سیّد مرتضیٰ حسن صاحب رحمۃ اللہ علیہ جو عمر اور طبقہ کے اعتبار سے حضرت شاہ صاحب قدس سرہ سے مقدم تھے، لیکن حضرت شاہ صاحب رحمۃ اللہ علیہ کے محیر العقول علم کے بے حد معتقد اور آپ کے ساتھ معاملہ بزرگوں کا سا کرتے تھے، جو خدمت اس سلسلہ کی ان کے سپرد فرمائی تھی اس کو آپ نے بڑی سعی بلیغ کے ساتھ انجام دینا شروع کیا اور مرزا قادیانی کی پوری زندگی، اس کے اخلاق و اعمال اور عقائد و خیالات، دعویٔ نبوّت و رسالت اور تکفیر عام اہل اسلام، گستاخی در شانِ انبیاء و اولیاء کو مرزا کی اپنی کتابوں سے بحوالہ صفحہ سطر نہایت انصاف اور احتیاط کے ساتھ نقل کرکے بہت سے رسائل تصنیف فرمائے اور حضرت شاہ صاحب قدس سرہ کے سامنے پیش فرماکر ان کی مراد پوری فرمائی، ان رسائل میں سے چند کے نام حسب ذیل ہیں:

قادیان میں قیامت خیز بھونچال، اشد العذاب علی مسیلمۃ البنجاب، فتح قادیان، مرزائیوں کی تمام جماعتوں کو چلینج، مرزائیت کا خاتمہ، مرزائیت کا جنازہ بے گور و کفن، ہندوستان کے تمام مرزائیوں کو چیلنج، مرزا اور مرزائیوں کو دربارِ نبوّت سے چیلنج۔ یہ

321

سب رسائل ۱۳۴۲ھ سے ۱۳۴۴ھ تک شائع ہوئے۔

فیروزپور پنجاب میں تاریخی مناظرہ:

اسی زمانہ میں چھاؤنی فیروزپور پنجاب میں قادیانیوں کا ایک خاصا جتھا جمع ہوگیا تھا، یہ لوگ وہاں کے مسلمانوں سے چھیڑ چھاڑ کرتے رہتے تھے اور اپنے دستور کے موافق عوام مسلمانوں کو مناظرہ، مباحثہ کا یہ چیلنج کیا کرتے تھے اور جب کسی عالم سے مقابلہ کی نوبت آتی تو راہ گریز اختیار کرتے، اسی زمانہ میں ضلع سہارنپور کے رہنے والے کچھ مسلمان جو فیروزپور میں بسلسلۂ ملازمت مقیم تھے ان لوگوں نے روز روز کی جھک جھک کو ختم کرنے کے لئے خود قادیانیوں کو دعوتِ مناظرہ دے دی۔

قادیانیوں نے سادہ لوح عوام سے معاملہ دیکھ کر بڑی دلیری اور چالاکی کے ساتھ دعوتِ مناظرہ قبول کرکے بجائے اس کے کہ مناظرہ کرنے والے علماء سے شرائط مناظرہ طے کرتے انہیں عوام سے ایسی شرائط مناظرہ پر دستخط لے لئے جن کی رو سے فتح بہرحال قادیانی گروہ کی ہو اور اہل اسلام کو مقررہ شرائط کی پابندی کی وجہ سے ہر قدم پر مشکلات درپیش ہوں۔

ان عوام مسلمین نے مناظرہ اور شرائط مناظرہ طے کرنے کے بعد دارالعلوم دیوبند سے چند علماء کو دعوت دی جو قادیانیوں سے مناظرہ کریں۔

مہتمم دارالعلوم دیوبند حضرت مولانا حبیب الرحمن صاحب رحمۃ اللہ علیہ اور حضرت شاہ صاحب رحمۃ اللہ علیہ کے مشورہ سے اس کام کے لئے حضرت مولانا سیّد مرتضیٰ حسن صاحبؒ، حضرت

322

مولانا بدر عالم صاحب، حضرت مولانا محمد ادریس صاحب اور احقر تجویز ہوئے، ادھر قادیانیوں نے یہ دیکھ کر کہ ہم نے اپنی من مانی شرائط میں مسلم مناظرین کو جکڑ لیا ہے، اپنی قوت محسوس کی اور قادیان کی پوری طاقت فیروزپور میں لا ڈالی، ان کے سب سے بڑے عالم اس وقت سرور شاہ کشمیری اور سب سے بڑے مناظر حافظ روشن علی اور عبدالرحمن مصری وغیرہ تھے، یہ سب اس مناظرہ کے لئے فیروزپور پہنچ گئے۔

ہم چار افراد حسب الحکم دیوبند سے فیروزپور پہنچے تو یہاں پہنچ کر چھپا ہوا پروگرام مناظرہ اور شرائط مناظرہ کا نظر سے گزرا، شرائط مناظرہ پر نظر ڈالی تو معلوم ہوا کہ ان میں ہر حیثیت سے قادیانی گروہ کے لئے آسانیاں اور اہل اسلام کے لئے ہر طرح کی بے جا پابندیاں عوام نے اپنی ناواقفیت کی بنا پر تسلیم کی ہوئی ہیں، اب ہمارے لئے دو ہی راستے تھے کہ یا ان مسلمہ فریقین شرائط مناظرہ کے ماتحت مناظرہ کریں جو ہر حیثیت سے ہمارے لئے مضر تھیں، یا پھر مناظرہ سے انکار کردیں کہ ہم ان شرائط کے ذمہ دار نہیں ہوسکتے جو بغیر ہماری شرکت کے طے کرلی گئی ہیں، لیکن دوسری شق پر مقامی مسلمانوں کی بڑی خفت اور سبکی تھی اور قادیانیوں کو اس پروپیگنڈے کا موقع ملتا کہ علماء نے مناظرہ سے فرار اختیار کیا، اس لئے ہم سب نے مشورہ کرکے مناظرہ کرنے کا تو فیصلہ کرلیا اور بذریعہ تار صورت حال کی اطلاع حضرت شاہ صاحب قدس سرہ کو دے دی۔

اگلے روز مقررہ وقت پر مناظرہ شروع ہوگیا، ابھی شروع ہی تھا عین مجلس مناظرہ میں نظر پڑی کہ حضرت شاہ صاحب اور

323

حضرت مولانا شبیر احمد صاحب رحمۃ اللہ علیہما مع چند دیگر علماء کے تشریف لا رہے ہیں، ان کی آمد پر ہم نے کچھ دیر کے لئے مجلس مناظرہ ملتوی کی اور ان حضرات کو صورت حال بتلائی، حضرت شاہ صاحب قدس سرہ نے فرمایا کہ جائیے ان لوگوں سے کہہ دیجئے کہ تم نے جتنی شرطیں اپنی پسند کے موافق عوام سے طے کرالی ہیں اتنی ہی اور لگالو، ہماری طرف سے کوئی شرط نہیں، تم چوروں کی طرح عام ناواقف مسلمانوں کے دین و ایمان پر ڈاکہ ڈالنے کے عادی ہو، کسی شرط اور کسی طریق پر ایک مرتبہ سامنے آکر اپنے دلائل بیان کرو اور ہمارا جواب سنو، پھر خدا کی قدرت کا تماشہ دیکھو۔

حضرت رحمۃ اللہ علیہ کے ارشاد کے موافق اسی کا اعلان کردیا گیا اور مناظرہ جاری ہوا، ان اکابرؒ کو مناظرہ کے لئے پیش کرنا ہماری غیرت کے خلاف تھا، اس لئے پہلے دن مناظرہ مسئلہ ختمِ نبوّت پر احقر نے کیا، دوسرے، تیسرے دن حضرت مولانا بدرعالم اور مولانا محمد ادریس صاحب نے دوسرے مسائل پر مناظرہ کیا۔

یوں تو مناظرہ کے بعد ہر فریق اپنی اپنی کہا ہی کرتا ہے لیکن اس مناظرہ میں چونکہ عموماً تعلیم یافتہ طبقہ شریک تھا اس لئے کسی فریق کو دھاندلی کا موقع نہ تھا، پھر اس مناظرہ کا کیا اثر ہوا، اس کا جواب فیروزپور کے ہر گلی کوچے سے دریافت کیا جاسکتا ہے کہ قادیانی گروہ کو کس قدر رسوا ہوکر وہاں سے بھاگنا پڑا، خود اس گروہ کے تعلیم یافتہ و سنجیدہ طبقہ نے اس کا اقرار کیا کہ قادیانی گروہ اپنے کسی دعوے کو ثابت نہیں کرسکا اور اس کے خلاف دوسرے فریق نے جو بات کہی قوی دلیل کے ساتھ کہی۔

مناظرہ کے بعد شہر میں ایک جلسہ عام ہوا، جس میں

324

حضرت شاہ صاحب اور حضرت مولانا شبیر احمد صاحب عثمانی رحمۃ اللہ علیہما کی تقریریں قادیانی مسئلہ کے متعلق ہوئیں، یہ تقریریں فیروزپور کی تاریخ میں ایک یادگارِ خاص کی نوعیت رکھتی ہیں، بہت سے وہ لوگ جو قادیانی دجل کے شکار ہوچکے تھے اس مناظرہ اور تقریروں کے بعد اسلام پر لوٹ آئے۔

حضرت شاہ صاحبؒ کا دورۂ پنجاب:

۱۳۴۳ھ میں جبکہ حضرت شاہ صاحب قدس سرہ کی کوشش سے بذریعہ تصنیف و تحریر قادیانی دجل و فریب کا پردہ پوری طرح چاک کردیا گیا اور قادیانیت سے متعلق ہر مسئلہ پر مختلف طرز و انداز کے بیسیوں رسائل شائع ہوچکے تو آپ نے اس کی بھی ضرورت محسوس فرمائی کہ ناخواندہ عوام کا طبقہ جو زیادہ کتابیں نہیں پڑھتا اور قادیانی مبلغین چل پھر کر ان میں اپنا دجل پھیلاتے ہیں، ان لوگوں کی حفاظت کے لئے پنجاب کے مختلف شہروں کا ایک تبلیغی دور کیا جائے۔

پنجاب و سرحد کے دورہ کا پروگرام بنا، علمائے دیوبند کی ایک جماعت ہمرکاب ہوئی، اس جماعت میں حضرت شاہ صاحب رحمۃ اللہ علیہ کے ساتھ اکابرین سے حضرت شیخ الاسلام مولانا شبیر احمد عثمانی رحمۃ اللہ علیہ، حضرت مولانا سیّد مرتضیٰ حسن صاحب رحمۃ اللہ علیہ شریک تھے، اور حضرت مولانا محمد طیب صاحب مہتمم دارالعلوم دیوبند، حضرت مولانا بدرعالم صاحب، حضرت مولانا محمد ادریس صاحب اور مولانا محمد نعیم صاحب لدھیانوی اور احقر ناکارہ شامل تھے، یہ علم کے پہاڑ اور تقویٰ کے پیکر پنجاب کے ہر بڑے شہر میں

325

پہنچے اور مرزائیت کے متعلق اعلانِ حق کیا، منکرین کو رفع شبہات کی دعوت دی، لدھیانہ، امرتسر، لاہور، گوجرانوالہ، گجرات، راولپنڈی، ایبٹ آباد، مانسہرہ ہزارہ، کھوٹہ وغیرہ میں ان حضرات کی بصیرت افروز عالمانہ تقریریں ہوئیں، مرزائی دجال جو آئے دن مناظرہ و مباہلہ کے چیلنج، عوام کو دکھانے کے لئے لیئے پھرتے تھے ان میں سے ایک سامنے نہ آیا، معلوم ہوتا تھا کہ وہ اس جہان میں نہیں ہیں۔

اس پورے سفر میں عام مسلمانوں نے’’جاء الحق و زھق الباطل‘‘ کا منظر گویا آنکھوں سے دیکھ لیا۔

مرزائیوں کے مقابلہ میں بہاول پور کا تاریخی مقدمہ:

حضرت شاہ صاحب قدس سرہ اور دیگر علماء کے بیانات، مرزائیوں کے مرتد ہونے کا فیصلہ:

۱۹۳۶ء میں احمد پور شرقیہ ریاست بہاول پور کی ایک مسلمان عورت کا دعویٰ اپنے شوہر کے مرزائی ہوجانے کی وجہ سے نکاح فسخ ہونے کے متعلق بہاول پور کی عدالت میں دائر ہوا اور سات سال تک یہ مقدمہ بہاول پور کی ادنیٰ، اعلیٰ عدالتوں میں دائر رہتے ہوئے آخر میں دربار معلی بہاول پور میں پہنچا، ۱۹۳۳ء میں دربار معلی نے پھر عدالت میں یہ لکھ کر واپس کیا کہ ہمارے خیال میں اس مسئلہ کی پوری تحقیق و تنقیح کرنا ضروری ہے، دونوں فریقوں کو موقع دیا جائے کہ وہ اپنے اپنے مذہب کے علماء کی شہادتیں پیش کریں اور دونوں طرف کے مکمل بیانات سننے کے بعد اس مسئلہ کا کوئی آخری فیصلہ کیا جائے۔

اب مدعا علیہ مرزائی نے اپنی حمایت کے لئے قادیان کی

326

طرف رجوع کیا، قادیان کا بیت المال اور اس کے رجال کار مقدمہ کی پیروی کے لئے وقف ہوگئے، ادھر مدعیہ بے چاری ایک غریب گھرانے کی لڑکی نہایت کسمپرسی میں وقت گزار رہی تھی، اس کی قدرت سے قطعاً خارج تھا کہ ملک کے مشاہیر علماء کو جمع کرکے اپنی شہادت میں پیش کرسکے یا اس مقدمہ کی پیروی کرسکے، مگر الحمدللہ بہاول پور کے غیور مسلمانوں کی انجمن مؤید الاسلام نے زیر سرپرستی حضرت مولانا محمد حسین صاحب شیخ الجامعہ بہاول پور اس کام کو اپنے ہاتھ میں لیا اور مقدمہ کی پیروی کا انتظام کیا، اور ملک کے مشاہیر علماء کو خطوط لکھ کر اس مقدمہ کی پیروی اور شہادت کے لئے طلب کیا، حضرت شاہ صاحب رحمۃ اللہ علیہ اس وقت جامعہ اسلامیہ ڈابھیل میں صدر مدرسی کے فرائض انجام دے رہے تھے اور کچھ عرصہ سے علالت کے سبب رخصت پر دیوبند تشریف لائے ہوئے تھے، طولِ علالت سے نقاہت بے حد ہوچکی تھی۔

لیکن جس وقت یہ معاملہ آپ کے سامنے آیا تو مسئلہ کی نزاکت اور ہیئت کے قوی احساس نے آپ کو اس کے لئے مجبور کردیا کہ اپنی صحت اور دوسری ضرورتوں کا خیال کئے بغیر وہ بہاول پور کا سفر کریں۔

آپ نے نہ صرف اپنے آپ کو شہادت کے لئے پیش فرمایا بلکہ ملک کے دوسرے علماء کو بھی ترغیب دے کر شہادت کے لئے جمع فرمایا۔

یہ واقعہ تقریباً ۱۳۵۰ھ کا ہے جبکہ احقر ناکارہ بحیثیت مفتی دارالعلوم دیوبند فتویٰ نویسی کی خدمت انجام دے رہا تھا۔

انجمن مؤید الاسلام بہاول پور کی دعوت کے علاوہ استاذِ

327

محترم حضرت شاہ صاحب قدس سرہ کا ایما بھی میری حاضری کے متعلق معلوم ہوا، احقر نے حاضری کا قصد کرلیا۔

لیکن حضرت الاستاذ شاہ صاحب قدس سرہ کو جو خداداد شغف دینی ضرورتوں کے ساتھ تھا اور آپ کو بے چین کئے رکھتا تھا اس کی وجہ سے آپ نے تاریخ مقدمہ سے کافی روز پہلے بہاول پور پہنچ کر اس کام کو پوری توجہ کے ساتھ انجام دینے کا فیصلہ فرماکر سب بیانات کے اختتام تک تقریباً بیس پچیس روز بہاول پور میں قیام فرمایا

حضرت شاہ صاحب قدس سرہ کا پُرشوکت عالمانہ بیان جو کمرۂ عدالت میں ہوا اس کی اصل کیفیت تو صرف انہی لوگوں سے پوچھئے جنہوں نے یہ منظر دیکھا ہے، اس کو بیان نہیں کیا جاسکتا، مختصر یہ کہ اس وقت کمرۂ عدالت دارالعلوم دیوبند کا دارالحدیث نظر آتا تھا، عدالت اور حاضرین پر ایک سکتہ کا عالم تھا، علوم ربانی کے حقائق و معارف کا دریا تھا جو اُمڈ چلا جاتا تھا۔

تین روز مسلسل بیان ہوا، تقریباً ساٹھ صفحات پر قلم بند ہوا، یہ بیان اور دوسرے حضرات کے بیانات ایک مستقل جلد میں طبع ہوئے۔

اس مقدمہ میں کیا ہوا؟ اس کی پوری تفصیل تو اس مفصل فیصلہ سے معلوم ہوسکتی ہے جو عدالت کی طرف سے ۷؍فروری ۱۹۳۵ء مطابق ۳؍ذیقعدہ ۱۳۵۳ھ کو دیا گیا، اور جو اسی وقت بزبان اردو ایک سو باون صفحات پر شائع ہوچکا تھا، اس کی اشاعت کا اہتمام حضرت مولانا محمد صادق صاحب استاذ جامعہ عباسیہ بہاول پور و حال ناظم امور مذہبیہ بہاول پور کے دست مبارک سے ہوا، اس مقدمہ کی پیروی علماء کے اجتماع اور ان کی ضروریات کا انتظام بھی

328

مولانا موصوف ہی کے ہاتھوں انجام پایا تھا، اور مولانا سے میرا پہلا تعلق ہی اسی سلسلہ میں پیدا ہوا، آپ نے اس فیصلہ کے شروع میں ایک مختصر تمہید لکھی ہے، اس کے چند جملے نقل کردینے سے کسی قدر حقیقت پر روشنی پڑسکتی ہے، وہ یہ ہیں:

’’مدعیہ کی طرف سے شہادت کے لئے حضرت شیخ الاسلام مولانا سیّد محمد انور شاہ صاحب رحمۃ اللہ علیہ، حضرت مولانا سیّد مرتضیٰ حسن صاحب چاندپوری، حضرت مولانا محمد نجم الدین صاحب پروفیسر اورنٹیئل کالج لاہور و مولانا محمد شفیع صاحب مفتی دارالعلوم دیوبند پیش ہوئے۔ حضرت شاہ صاحب رحمۃ اللہ علیہ کی تشریف آوری نے تمام ہندوستان کی توجہ کے لئے جذب مقناطیسی کا کام کیا، اسلامی ہند میں اس مقدمہ کو غیرفانی شہرت حاصل ہوگئی، حضرات علمائے کرام نے اپنی اپنی شہادتوں میں علم و عرفان کے دریا بہادئیے اور فرقۂ ضالہ مرزائیہ کا کفر و ارتداد روز روشن کی طرح ظاہر کردیا اور فریق مخالف کی جرح کے نہایت مسکت جواب دئیے، خصوصاً حضرت شاہ صاحب رحمۃ اللہ علیہ نے ایمان، کفر، نفاق، زندقہ، ارتداد، ختمِ نبوّت، اجماع تواتر، متواترت کے اقسام، وحی، کشف اور الہام کی تعریفات اور ایسے اصول و قواعد بیان فرمائے جن کے مطالعہ سے ہر ایک انسان علیٰ وجہ البصیرت بطلان مرزائیت کا یقین کامل حاصل کرسکتا ہے، پھر فریق ثانی کی شہادت شروع ہوئی، مقدمہ کی پیروکاری اور شہادت پر جرح کرنے اور قادیانی دجل و تزویر کو آشکارا کرنے کے لئے شہرۂ آفاق مناظر حضرت مولانا ابوالوفا صاحب نعمانی شاہجہاں پوری تشریف لائے، مولانا موصوف مختار مدعیہ ہوکر تقریباً ڈیڑھ سال مقدمہ کی پیروی فرماتے رہے،

329

فریق ثانی کی شہادت پر ایسی باطل شکن جرح فرمائی جس نے مرزائیت کی بنیادوں کو کھوکھلا اور مرزائی دجل و فریب کے تمام پردوں کو پارہ پارہ کرکے فرقہ مرزائیہ ضالہ کا ارتداد آشکارا عالم کردیا، فریقین کی شہادت ختم ہونے کے بعد مولانا موصوف نے مقدمہ پر بحث پیش کی اور فریق ثانی کی تحریری بحث کا تحریری جواب الجواب نہایت مفصل اور جامع پیش کیا، کامل دو سال کی تحقیق و تنقیح کے بعد عالی جناب ڈسٹرکٹ جج صاحب بہادر نے اس تاریخی مقدمہ کا بصیرت افروز فیصلہ ۷؍فروری ۱۹۳۵ء بحق مدعیہ سنایا، یہ فیصلہ اپنی جامعیت اور قوتِ استدلال کے لحاظ سے یقینا بے نظیر و بے عدیل ہے، مسلمانانِ ہند کی بہرہ اندوزی کی خاطر اس فیصلہ کو ایک کتابی صورت میں شائع کیا جاتا ہے درحقیقت یہ مواد مقدمہ کی تیسری جلد ہے اس سے پہلے دو جلدیں اور ہوں گی۔

جلد اول میں حضرات علمائے کرام کی مکمل شہادتیں اور جلد ثانی میں حضرت مولانا ابوالوفا صاحب شاہجہاں پوری کی بحث اور جواب الجواب شائع کیا جائے گا، باقی رہا یہ سوال کہ یہ دونوں جلدیں کب شائع ہوں گی؟ اس کا جواب مسلمانانِ ہند کی ہمت افزائی پر موقوف ہے، یہ تیسری جلد جتنی جلدی فروخت ہوگی اسی انداز سے پہلی دو جلدوں کی اشاعت میں آسانی ہوگی، حضرات علمائے کرام کے بیانات اور بحث اور جواب الجواب تردید مرزائیت کا بے نظیر ذخیرہ ہے، اگر خدا تعالیٰ کے فضل و کرم سے یہ تینوں جلدیں شائع ہوگئیں تو تردید مرزائیت میں کسی دوسری تصنیف کی قطعاً حاجت نہ رہے گی۔‘‘

اس مقدمہ میں حضرت شاہ صاحب قدس سرہ کے حکم کی بنا

330

پر پہلا بیان اس احقر کا ہوا، تین روز بیان اور ایک دو روز جرح ہوکر تقریباً ساٹھ صفحات پر بیان مرتب ہوا۔

پہلا پہلا بیان تھا، ابھی لوگوں نے اکابر کے بیان سنے نہ تھے، سب نے بے حد پسند کیا، مجھے یاد ہے کہ دورانِ بیان میں بھی اور مکان پر آنے کے بعد بھی حضرت شاہ صاحب قدس سرہ کے دل سے نکلی ہوئی دعاؤں کے ساتھ اپنی مسرت کا اظہار فرماتے تھے اور اس ناکارہ و آوارہ کے پاس دین و دنیا کا صرف یہی سرمایہ ہے کہ اللہ والوں کی رضا، رضائے حق کی علامت ہے، واللہ تعالی امثال ان یلحقنی بالصالحین۔‘‘

فتنۂ قادیانیت پر حضرت مفتی صاحبؒ کی تصنیفات:

رَدِّ قادیانیت کے سلسلہ میں حضرت مفتی اعظمؒ کی اہم ترین خدمت ان کی وہ گرانقدر تصنیفات ہیں جو آپ نے اسلام اور قادیانیت کے درمیان زیر بحث مسائل پر مرتب فرمائیں، ان میں اکثر کا ذکر اوپر کی تحریر میں آچکا ہے، مگر مناسب ہوگا کہ ان کا مختصر سا تعارف یہاں پیش کردیا جائے۔

حضرت مفتی صاحبؒ کی تمام تالیفات میں چند خصوصیات ایسی ہیں جو صرف ان کی تحریر کا مخصوص رنگ کہلاسکتی ہیں اور جن کی وجہ سے ان کی تالیفات مفید خاص و عام ہیں۔

پہلی خصوصیت ان کی زبان کی بے ساختگی اور سلاست ہے، حضرت مفتی صاحبؒ کسی مسئلہ پر قلم اٹھاتے ہیں تو ایسے عام فہم انداز میں صاف صاف بیان کرتے ہیں کہ متوسط استعداد کا آدمی بھی اس سے بھرپور استفادہ کرسکتا ہے، عبارت میں بے جا طول اور مطالب میں پیچیدگی سے ان کی تحریر مبرا ہوتی ہے۔

دوسری خصوصیت ان کے لب و لہجہ میں متانت اور سنجیدگی ہے، وہ کٹر سے کٹر مخالف کے مقابلہ میں تحمل اور متانت سے بات کرتے ہیں اور تلخی و اکتاہٹ سے ہمیشہ دامن

331

کشاں رہتے ہیں، ان کی تحریر میں آپ کو فقرے بازی کا کوئی نشان نہیں ملے گا۔

تیسری خصوصیت یہ ہے کہ وہ جس موضوع کو لیتے ہیں اس کے ساتھ پوری وفاداری کرتے ہیں، اور موضوع کا کوئی گوشہ تشنہ نہیں رہنے دیتے۔

چوتھی خصوصیت ان کا تفقہ، نکتہ سنجی اور استدلال کی قوت ہے، جو ان کی ہر تصنیف میں نمایاں ہے، وہ فقیہ النفس ہیں اور ان کی ہر عبارت تفقہ کی آئینہ دار ہے۔

پانچویں خصوصیت مطالب کی تہذیب اور مضامین کی ترتیب کا خداداد سلیقہ ہے۔

ان تمام خصوصیات کے بعد اب ان کی ردّ قادیانیت کے موضوع پر تصانیف کا مختصر تعارف پیش کیا جاتا ہے:

۱:...ہدیۃ المہدیین فی آیۃ خاتم النبیین:

آپ نے یہ رسالہ حضرت شاہ صاحبؒ کے حکم پر عربی میں تالیف فرمایا، اس کے مقدمہ میں فتنۂ قادیانیت کی شدت اور مرزا غلام احمد قادیانی کے دعاوی باطلہ کا خلاصہ ذکر کرنے کے بعد تحریر فرماتے ہیں:

’’واننا سمعنا انھا (ای الفتنۃ القادیانیۃ) تجاوزت حدود الھند وکادت تشیع فی ارض العراق وقاھا اللہ وبلاد المسلمین کلھا عن فتنتھم وفتنۃ المسیح الدجال، ولھٰذا اشار الیّ من اشارتہ حکم، واطاعتہ عنہ اعنی قدوۃ المحدثین والمفسرین فی اوانہٖ وزبدۃ العلماء والفقہاء المتقین فی زمانہ شیخنا الأکبر محمد انور الکمشیری صدر المدرسین بدارالعلوم الدیوبندیۃ، متعنا اللہ تعالیٰ بطول بقائہٖ، ان اکتب فی ھذا الباب رسالہ وجیزۃً اجمع فیھا ما ورد فی مسئلۃ ختم النبوۃ من نصوص قاطعۃٍ وافحۃٍ، واحادیث متواترۃٍ
332

بینۃ، ومن اجماع الاُمۃ واقوال السلف الصالحین علیٰ ان دعوی النبوۃ کیف کان بعد نبینا صلی اللہ علیہ وسلم کفر بواح۔‘‘

(ص:۶)

اس رسالہ میں نہایت اختصار کے ساتھ مسئلہ ختمِ نبوّت پر قرآن کریم کی ۳۳ آیات اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی ۱۱۶۴حادیث طیبہ جمع کی گئی ہیں، ۶ صحابہ کرامؓ اور بے شمار اکابر سلفؒ کی تصریحات ذکر کی گئی ہیں، اور آخر میں کتب سابقہ سے مسئلہ ختمِ نبوّت پر نقول پیش کی گئی ہیں۔

یہ رسالہ ۱۳۴۲ھ میں دیوبند سے شائع ہوا اور اس پر حضرت مولانا محمد انور شاہ کشمیری قدس سرہ، مفتی عزیز الرحمن دیوبندی، مولانا حبیب الرحمن عثمانی، مولانا اعزاز علی اور مولانا محمد رحیم اللہ بجنوری رحمہم اللہ تعالیٰ کی تقریظات ثبت ہیں۔

حضرت مفتی صاحبؒ کے وصال کے بعد مجلس تحفظ ختمِ نبوّت پاکستان کی جانب سے یہ رسالہ دو مرتبہ شائع ہوا۔

ختمِ نبوّت کامل:

متوسط تقطیع پر چار سو صفحے کی یہ ضخیم کتاب گویا ’’ہدیۃ المہدیین‘‘ کا اردو ایڈیشن ہے، اس میں حضرت مفتی صاحبؒ نے مسئلہ ختمِ نبوّت پر قرآن کریم، حدیث نبوی، اجماع اُمت اور کتب سابقہ کی نقول کا ذخیرہ پوری شرح و تفصیل سے ذکر کیا ہے، اور اسے تین حصوں پر تقسیم فرمایا ہے۔

۱:...ختم النبوۃ فی القرآن۔

۲:...ختم النبوۃ فی الحدیث۔

۳:...ختم النبوۃ فی الآثار۔

ختم النبوۃ فی القرآن میں قرآن کریم کی ۹۹ آیات معہ تشریح و تفسیر کے درج کی گئی ہیں۔ ختم النبوۃ فی الحدیث میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ۱۲۱۰رشادات نقل کئے

333

گئے ہیں۔ اور ختم النبوۃ فی الآثار میں صحابہؓ، تابعین، ائمہ مجتہدین، فقہاء، محدثین، مفسرین، صوفیاء، متکلمین، الغرض اُمت کے تمام طبقات کے اکابر کی تصریحات جمع کی گئی ہیں، اسی کے ساتھ انبیائے سابقین کے ارشادات اور کتب سابقہ کی نقول کا ایک بڑا ذخیرہ جمع کردیا گیا ہے۔

قادیانیت کی طرف سے آیات و احادیث کی جو تحریفات کی جاتی ہیں ان کا بھی نہایت شافی اور مدلل جواب دیا گیا ہے، یہ کتاب حضرت مصنفؒ کے ان محاسن میں سے ہے کہ اگر فتنۂ قادیانیت کے ردّ میں اس کے سوا ان کی اور کوئی تحریر نہ ہوتی تب بھی ان کی دنیوی و اُخروی سعادت کے لئے کافی تھی، یہ کتاب تقسیم سے قبل دیوبند سے شائع ہوتی رہی اور پاکستان میں بھی حضرت مفتی صاحبؒ کے ادارے سے بارہا شائع ہوئی۔

التصریح بما تواتر فی نزول المسیح:

قادیانیت کا سب سے بڑا مسئلہ حیات مسیح ہے، آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے لے کر آج تک پوری اُمت کا عقیدہ یہ ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا ابھی تک انتقال نہیں ہوا وہ زندہ ہیں، قیامت سے پہلے ان کا نزول ہوگا اور تمام اہل کتاب جو اس وقت موجود ہوں گے ان پر ایمان لائیں گے، آپؑ دین اسلام کی دعوت دیں گے اور پوری دنیا میں صرف ایک ہی دین ہوگا۔

حضرت امام العصر مولانا محمد انور شاہ کشمیری قدس سرہ نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے نزول کے متعلق تمام احادیث کو ذخیرۂ حدیث سے تلاش کرکے جمع فرمایا اور حضرت مفتی صاحبؒ کو ان کے مرتب کرنے کا حکم فرمایا، آپؒ نے ان احادیث کو ’’التصریح‘‘ کے نام سے مرتب کیا اور اس کے لئے ایک طویل اور پُرمغز مقدمہ تحریر فرمایا، یہ عظیم الشان کتاب نہ صرف اپنے موضوع پر اپنی نوعیت کی بے مثل کتاب ہے بلکہ ذخیرۂ حدیث میں اپنی نوعیت کی منفرد کتاب ہے، جس میں علامات قیامت، خصوصاً ظہور مہدی، خروج دجال، نزول عیسیٰ بن مریم، خروج یاجوج ماجوج، خروج دابۃ الارض کے بارے میں آنحضرت صلی اللہ

334

علیہ وسلم کی لسان وحی ترجمان کے لعل جواہر جمع کردئیے گئے ہیں۔

یہ کتاب پہلے دیوبند سے شائع ہوئی، پاکستان میں ’’مجلس تحفظ ختمِ نبوّت کوئٹہ‘‘ نے اسے شائع کیا اور چند سال پہلے الشیخ عبدالفتاح ابوغدہ مدظلہ العالی کی تحقیق و تعلیق کے ساتھ حلب سے اس کا جامع ترین ایڈیشن نکلا جو۳۵۰ صفحات پر مشتمل ہے، حال ہی میں مجلس تحفظ ختمِ نبوّت پاکستان کے اہتمام سے اس کا عکس شائع کیا گیا ہے۔

مسیحِ موعود کی پہچان:

یہ مختصر سا رسالہ ’’التصریح‘‘ کا گویا اشاریہ یا خلاصہ ہے، قرآن کریم اور احادیث شریفہ میں سیّدنا عیسیٰ علیہ السلام کی جتنی صفات، حالات اور علامات آئی ہیں حضرت مفتی صاحبؒ نے ان کو مرتب کرکے مرزا قادیانی کا ان سے مقابلہ کرکے دکھایا ہے کہ ان صفات میں سے کوئی صفت بھی مرزا قادیانی کو نصیب نہیں، لہٰذا جس مسیح کے آنے کا وعدہ دیا گیا ہے وہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام ہیں نہ کہ مرزا قادیانی، ’’التصریح‘‘ کے حلبی ایڈیشن میں اس رسالہ کا عربی ترجمہ برادرم مولانا محمد تقی عثمانی کے قلم سے شائع کردیا گیا ہے۔

نزولِ مسیح اور علاماتِ قیامت:

یہ ’’التصریح بما تواتر فی نزول المسیح‘‘ کا اردو ترجمہ ہے جو مولانا محمد رفیع عثمانی کے قلم سے ہے، اس کے ساتھ موصوف نے علاماتِ قیامت کا ایک جدول مرتب کردیا ہے، جس سے واقعات کی ترتیب ذہن نشین ہوجاتی ہے۔

وصول الافکار اِلی اُصول الاکفار:

کسی مسلمان کو کافر کہنا بھی بڑا سخت گناہ ہے، اور کسی کافر کو مسلمان ثابت کرنا بھی فسادِ عظیم کا موجب ہے کیونکہ اس سے اسلام اور کفر کی حدود مٹ جاتی ہیں، اس لئے ضرورت تھی کہ اسلام اور کفر کے مسئلہ کو منقح کیا جائے، حضرت امام العصر مولانا محمد انور شاہ کشمیری قدس سرہ نے اپنے مخصوص انداز میں اس موضوع پر ’’اکفار الملحدین‘‘ تالیف فرمائی، جسے حرفِ آخر کہا جاسکتا ہے مگر وہ عام فہم نہیں تھی، اس لئے حضرت مفتی صاحبؒ نے

335

خالص فقہی انداز میں اس پر قلم اٹھایا اور اسلام اور کفر کے معیار کو بالکل منقح کرکے رکھ دیا۔ حضرت حکیم الامت تھانوی قدس سرہ نے اپنے ایک گرامی نامہ میں جو عبدالماجد دریاآبادی کے نام ۷؍شعبان ۱۳۵۱ھ کو تحریر فرمایا اور ماہنامہ ’’النور‘‘ تھانہ بھون ربیع الثانی ۱۳۵۲ھ میں شائع ہوا، اس رسالے کے بارے میں تحریر فرمایا:

’’مولوی محمد شفیع صاحب نے اصول تکفیر میں ایک مختصر اور جامع مانع اور نافع رسالہ لکھا ہے، بعض اجزا میں میں بھی الجھا تھا، مگر ان کی تحریر و تقریر سے قریب قریب مسئلہ صاف ہوگیا، وہ عنقریب چھپ جاوے گا، میں نے اس کا نام رکھا ہے: ’’اصول الافکار الیٰ اُصول الاکفار‘‘ ۷؍شعبان۱۳۵۱ھ۔‘‘

یہ رسالہ الگ بھی کئی بار طبع ہوا، اور اب اسے ’’جواہر الفقہ‘‘ میں جو حضرت مفتی صاحب کے فقہی مسائل کا مجموعہ ہے، شامل کردیا گیا ہے۔

مرتد کی سزا:

کابل میں نعمت اللہ قادیانی کو بہ سزائے ارتداد سنگسار کیا گیا تو قادیانی اس سے آتش زیر پا ہوئے اور اسلام کے اس قطعی مسئلہ کا کہ ’’مرتد کی سزا قتل ہے‘‘ انکار کردیا، اس رسالہ میں حضرت مفتی صاحبؒ نے قرآن کریم، حدیث نبوی، تعامل صحابہ اور اجماع اُمت سے زیر بحث مسئلہ کو ثابت کرنے کے بعد فرمایا ہے کہ عقل صریح کا تقاضا بھی یہی ہے کہ مرتد کی سزا قتل ہے، یہ رسالہ بھی ’’جواہر الفقہ‘‘ میں شامل ہے۔

البیان الرفیع:

اس کا تذکرہ حضرت مفتی صاحبؒ کے مضمون میں بھی جو ’’حیاتِ انور‘‘ سے نقل کیا جاچکا ہے، آیا ہے، بہاول پور کے مشہور تاریخی مقدمہ میں وکیل مدعیہ کی طرف سے جو بیان حضرت مفتی صاحبؒ نے دیا تھا اسے ’’البیان الرفیع‘‘ کے نام سے ’’بیانات علمائے ربانی‘‘ میں شائع کیا گیا ہے، اس میں آپؒ نے قادیانیوں کے دعاوی، ان کی حیثیت اور ان

336

کے بارے میں شرعی حکم کی وضاحت فرمائی۔

یہ آٹھ رسائل راقم الحروف کے مطالعہ سے گزرے ہیں، ان کے علاوہ حضرت مفتی صاحبؒ نے اپنی مفید ترین تفسیر ’’معارف القرآن‘‘ میں اور عربی تفسیر ’’احکام القرآن‘‘ میں قادیانیت سے متعلقہ مباحث پر جو گرانقدر علمی ذخیرہ سپرد قلم فرمایا ہے اگر اسے یکجا کردیا جائے تو ایک ضخیم اور جامع کتاب مرتب ہوسکتی ہے۔

قادیانیت کے بارے میں فتاویٰ:

حضرت مفتی صاحب رحمہ اللہ کی یہ سعادت تھی کہ انہوں نے اکابر مشائخ کی نگرانی میں فتویٰ نویسی میں کمال حاصل کیا، اور پھر ایک وقت آیا کہ ایشیا کی سب سے بڑی یونیورسٹی دارالعلوم دیوبند میں انہیں صدارت افتاء کی مسند تفویض ہوئی، جس کی بدولت انہیں ’’مفتی اعظم‘‘ کا خطاب بجا طور پر حاصل ہوا، اس دوران آپ نے قادیانیت کے بارے میں بھی بہت سے فتاویٰ جاری فرمائے، جن میں سے بعض میں قادیانیوں کی شرعی حیثیت کو واضح فرمایا گیا اور بعض میں ان کے شبہات کا قلع قمع کیا گیا، یہاں چند فتووں کو نقل کردینا خالی از فائدہ نہ ہوگا۔

پہلا فتویٰ:

سوال:...’’لَا تکفر اھل قبلتک‘‘ حدیث ہے یا نہیں؟ اور اس کا کیا مطلب ہے؟

الجواب:...حدیث:’’لَا تکفر اھل قبلتک‘‘ کے متعلق جواباً عرض ہے کہ ان لفظوں کے ساتھ یہ جملہ کسی حدیث کی کتاب میں نظر سے نہیں گزرا لیکن اس مضمون کے جملے بعض احادیث میں وارد ہیں مگر قادیانی مبلغ جو ان الفاظ کو ناتمام نقل کرکے اپنے کفر کو چھپانا چاہتے ہیں، اور حقیقت یہ ہے کہ اس کی حیثیت اس سے زیادہ نہیں جیسے قرآن سے کوئی شخص: ’’لَا تقربوا الصلوٰۃ‘‘ نقل کرے، کیونکہ جن احادیث میں اس قسم کے الفاظ واقع ہیں ان کے ساتھ ایک قید بھی مذکور ہے یعنی: ’’بذنب او بعمل‘‘ وغیرہ جس کی غرض

337

یہ ہے کہ کسی گناہ و معصیت کی وجہ سے کسی اہل قبلہ کو یعنی مسلّم مسلمان کو کافر مت کہو، چنانچہ بعض روایات میں اس کے بعد ہی یہ لفظ بھی مذکور ہے: ’’الّا ان تروا کفرا بواحا‘‘ یعنی جب تک کفر صریح نہ دیکھو کافر مت کہو، خواہ گناہ کتنا بھی سخت کرے۔

یہ روایت ابوداؤد کتاب الجہاد میں حضرت انس رضی اللہ عنہ سے اس طرح مروی ہے:

’’الکف عمن قال لَا إلٰہ إلّا اللہ ولَا تکفرہ بذنب ولَا تخرجہ من الْإسلام بعمل۔‘‘

نیز بخاری نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت کیا ہے مرفوعاً:

’’من شھد ان لَا إلٰہ إلّا اللہ واستقبل قبلتنا وصلی صلاتنا واکل ذبیحنا فھو المسلم۔‘‘

اہل قبلہ سے مراد باجماع اُمت وہ لوگ ہیں جو تمام ضروریاتِ دین کو مانتے ہیں نہ یہ کہ قبلہ کی طرف نماز پڑھ لیں، چاہے ضروریاتِ اسلامیہ کا انکار کرتے رہیں۔

’’کما فی شرح المقاصد الجلد الثانی من صفحۃ: ۲۶۸ الیٰ صفحۃ:۲۷۰۔ قال: المبحث السابع فی حکم مخالف الحق من اھل القبلۃ لیس بکافر ما لم یخالف ما ھو من ضروریات الدین، الی قولہ والّا فلا نزاع فی کفر اھل القبلۃ المواظب طول العمر علی الطاعات باعتقاد قدم العالم ونفی الحشر ونفی العلم بالجزئیات وکذا بصدور شیء من موجبات الکفر... الخ۔ وفی شرح الفقہ الأکبر: وان غلا فیہ حتّٰی وجب اکفارہ لَا یعتبر خلافہ ووفاتہ ایضًا، الیٰ قولہ وان صلی الی القبلۃ واعتقد نفسہ مسلمًا لأن الاُمۃ لیست عبارۃ عن المصلین الی القبلۃ بل عن المؤمنین۔ ونحوہ فی الکشف البزدوی صفحۃ:۲۳۸ المجلد الثالث وفی الشامی صفحۃ:۳۷۷ المجلد الأول باب الْإمامۃ إذ لَا خلاف فی کفر المخالف فی ضروریات الْإسلام وان کان من اھل القبلۃ المواظب طول عمرہ علی الطاعات۔ وقال الشامی ایضًا: اھل القبلۃ فی اصطلاح
338

المتکلمین من یصدق بضروریات الدین ای الاُمور التی علم ثبوتھا فی الشرع واشتھر ومن انکر شیئًا من الضروریات کحدوث العالم وحشر الأجساد وعلم اللہ سبحانہ بالجزئیات وفرضیۃ الصلٰوۃ والصوم لم یکن من اھل القبلۃ ولو کان مجاھرًا بالطاعات، الیٰ قولہ ومعنی عدم تکفیر اھل القبلۃ ان لَا یکفر بارتکاب المعاصی ولَا بانکار الاُمور الخفیۃ غیر المشھورۃ۔ ھذا ما حققہ المحققون فاحفظہ، ومثلہ قال المحقق ابن امیر الحاج فی شرح التحریر لِابن ھمام: والنھی عن تکفیر اھل القبلۃ ھو الموافق علی ما ھو من ضروریات الْإسلام۔ ھذا جملۃ قلیلۃ من اقوال العلماء نقلتھا واکتفیت بھا لقلۃ الفراغۃ، وتفصیل ھذہ المسئلۃ فی رسالۃ ’’اکفار الملحدین فی شیء من ضروریات الدین‘‘ لشیخنا ومولَانا الکمشیری مدظلہ، واللہ اعلم!‘‘

(فتاویٰ دارالعلوم دیوبند ج:۲ ص:۱۱۱ تا ۱۱۳)

دوسرا فتویٰ:

سوال:۶:...کلمہ گو اور اہل قبلہ کی شرعاً کیا تعریف ہے؟ قادیانی مرزائی، لاہوری مرزائی، احمدی اہل قبلہ و کلمہ گو مسلمان ہیں یا نہیں؟ اگر نہیں تو کس وجہ سے؟

الجواب:...کلمہ گو اور اہل قبلہ ایک خاص اصطلاح ہے اسلام اور مسلمانوں کی، جس کا یہ مطلب کسی کے نزدیک نہیں کہ جو کلمہ پڑھ لے خواہ کسی طرح پڑھے وہ مسلمان ہے، یا جو قبلہ کی طرف منہ کرے وہ مسلمان ہے بلکہ یہ لفظ اصطلاحی نام ہے اس شخص کا جو تمام احکام اسلامیہ کا پابند ہو، جیسے کہا جاتا ہے کہ فلاں شخص ایم اے پاس ہے، تو ایم اے ایک اصطلاحی نام ہے ان تمام علوم کا جو اس درجہ میں سکھائے جاتے ہیں، نہ یہ کہ جو ایم اے کے الفاظ میں پاس ہوتا ہے اور یاد رکھتا ہو، اس طرح اہل قبلہ کے معنی بھی باتفاق اُمت یہی ہیں کہ جو تمام احکام اسلامیہ کا پابند ہو، کما صرح بہ فی عامۃ کتب الکلام اور اس کی مفصل بحث رسالہ ’’اکفار الملحدین‘‘ مصنفہ حضرت مولانا محمد انور شاہ صاحبؒ میں موجود ہے، ضرورت ہو تو ملاحظہ فرمایا جاوے مگر رسالہ عربی زبان میں ہے (اردو زبان میں بھی اس مضمون کا ایک

339

رسالہ احقر کا ہے جس کا نام ’’وصول الافکار‘‘ ہے) واللہ اعلم!

(فتاویٰ دارالعلوم دیوبند ج:۲ ص:۱۱۳)

تیسرا فتویٰ:

۱:...’’لو کان موسٰی وعیسٰی حیّین لما وسعھما إلّا اتباعی۔‘‘ (ابن کثیر برحاشیہ فتح البیان ج:۲ ص:۲۴۶، الیواقیت الجواہر ج:۲ ص:۲۴، شرح فقہ اکبر ص:۱۰ میں بھی یہ مضمون ہے)۔

۲:...’’ان عیسیٰ ابن مریم عاش عشرین ومائۃ سنۃ‘‘ (کنزالعمال ج:۶ ص:۱۲۵، جلالین مجتبائی ص:۵۰) اس حدیث سے وفات ثابت ہوتی ہے۔

۳:...خلاصہ سوال یہ ہے کہ ہمارے حضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کیوں ہوئی؟ حضرت عیسیٰ کی طرح آسمان پر کیوں نہ اٹھائے گئے؟

۴:... ’’ما المسیح بن مریم إلّا رسول قد خلت من قبلہ الرسل‘‘ (آل عمران) اس آیت سے وفات مسیح علیہ السلام پر استدلال کرنا کیسا ہے؟

۵:... ’’اموات غیر احیاء‘‘ الآیۃ، سے وفات عیسیٰ علیہ السلام ثابت ہوتی ہے۔

۶:...شیخ محی الدین ابن عربیؒ فرماتے ہیں: ’’لا نبی بعدی کے یہ معنی ہیں کہ تشریعی نبوّت ختم ہوچکی ہے، لیکن غیرتشریعی نبوّت ختم نہیں۔‘‘ کیا یہ صحیح ہے؟

الجواب:۱:...حدیث:’’لو کان موسٰی وعیسٰی حیّین‘‘ دو تین کتابوں میں مذکور ہے مگر سب میں بلا سند لکھی ہے اور جب تک سند معلوم نہ ہو، کیسے یقین کرلیا جائے کہ یہ حدیث، صحیح، قابل عمل ہے؟ اگر اسی طرح بلاسند روایات پر عمل کریں تو سارا دین برباد ہوجائے، اسی لئے بعض اکابر محدثین نے (غالباً عبداللہ بن مبارک نے) فرمایا ہے:’’لو لَا الْاسناد لقال من شاء ما شاء‘‘ دوسرے اگر بالفرض سند موجود بھی ہو اور مان لو کہ صحیح بھی ہے تو غایت یہ ہے کہ یہ حدیث دوسری احادیث سے جو حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے رفع آسمانی پر صریح ہیں اور درجہ تواتر کو پہنچ گئی ہیں، ان کی معارض ہوگی اور تعارض کے وقت

340

شرعی اور عقلی قاعدہ یہی ہے کہ اقویٰ کو ترجیح ہوتی ہے، اور ظاہر ہے کہ ایک غیرمعروف حدیث ان تمام صحیح اور قوی متواتر روایات حدیث پر راجح نہیں ہوسکتی، یہ قادیانی مذہب ہی کی خصوصیت ہے کہ مطلب کے موافق نہ ہو تو صحیح بخاری و مسلم کی حدیث کو معاذ اللہ! ردّی کی ٹوکری میں ڈالنے کے لئے تیار ہوجائیں اور مطلب کی بزعم خود موافق ہو تو ضعیف روایات کو ایسا اہم بنائیں کہ صحیح اور متواتر روایات پر ترجیح دیں، کوئی مسلمان ایسا نہیں کرسکتا، اس حدیث کی تحقیق پر مولانا سیّد مرتضیٰ حسن صاحب مدظلہم ناظم تبلیغ دارالعلوم نے ایک مستقل رسالہ بھی لکھا ہے جو عنقریب طبع ہوکر شائع ہونے والا ہے۔

۲:...اس حدیث سے وفات کا ثبوت پیش کرنا قادیانی فراست ہی کی خصوصیات سے ہے، اولاً اس لئے کہ حدیث خود متکلم فیہ ہے، بعض محدثین نے اس کو قابل اعتماد نہیں مانا، ثانیاً اگر حدیث ثابت بھی ہوجائے تو صحاح ستہ میں جو قوی اور صریح روایات حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے رفع آسمانی اور نزول فی آخر الزمان کے متعلق وارد ہیں، یہ حدیث ان کا معارضہ عقلاً و اصولاً نہیں کرسکتی۔

ثالثاً حدیث کی مراد صاف یہ ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام زمین پر ایک سو بیس سال زندہ رہے، آسمان پر زندہ رہنا چونکہ معجزہ ہے اس لئے اس حیات کو حیات دنیوی میں شمار نہ کرنا چاہئے تھا اور نہ کیا گیا، اور اس حدیث میں زمین اور اس عالم عناصر کی حیات کا ذکر ہے، بطور اعجاز جو حیات کسی کے لئے ثابت ہو اس کا اس میں شمار کرنا اور داخل سمجھنا عقل و نقل کے خلاف ہے۔

۳:...حق تعالیٰ کے معاملات ہر شخص کے ساتھ جداگانہ ہیں، کسی کو یہ حق نہیں پہنچتا کہ اللہ تعالیٰ سے یہ سوال کرے کہ جو معاملہ نوح علیہ السلام کے ساتھ کیا وہی موسیٰ علیہ السلام کے ساتھ کیوں نہ کیا؟ اور جو ابراہیم علیہ السلام کے ساتھ کیا وہی ہمارے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ کیوں نہ کیا؟ اور نہ صرف ان معاملات و واقعات سے ایک نبی کو دوسرے نبی پر کوئی ترجیح و تفضیل دی جاسکتی ہے جب تک دوسری صحیح و صریح روایات تفضیل پر دلالت نہ کریں، انبیاء علیہم السلام کی تاریخ پڑھنے والوں پر مخفی نہیں کہ بعض انبیاء کو آروں

341

کے ذریعہ دو ٹکڑے کردیا گیا اور بعض کو آگ میں ڈال دیا گیا اور بعض کو خندق وغیرہ میں، پھر کسی پر یہ آفات و مصائب اول جاری کردئیے پھر آخر الامر بچالیا، اور کسی کو اول ہی سے محفوظ رکھا، اب یہ سوال کرنا کہ جیسے عیسیٰ علیہ السلام کو آسمان پر اٹھاکر زندہ رکھا گیا ہے ایسے ہی حضرت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ معاملہ کیوں نہ کیا گیا؟ یہ تو ایسا ہی سوال ہے جیسے کوئی یوں کہے کہ جو معاملہ موسیٰ علیہ السلام اور لشکر فرعون کے ساتھ بنص قرآن کیا گیا وہی معاملہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور کفار مکہ کے ساتھ کیوں نہ ہوا کہ جنگ احد میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا دندانِ مبارک شہید ہونے، چہرۂ انور زخمی ہونے کی نوبت آئی، آپ کو ہجرت کرکے وطن اور مکہ چھوڑنا پڑا، غار میں چھپنا پڑا، سب کفار قریش پر ایک دفعہ ہی آسمانی بجلی کیوں نہ آگئی؟ یا دریا میں غرق کیوں نہ ہوگئے؟ جیسے یہ سوال حق تعالیٰ کے معاملات میں بے جا ہیں ایسے ہی یہ بھی بالکل بے جا اور نامعقول سوال ہے کہ جیسے عیسیٰ علیہ السلام کو زندہ رکھا آپؐ کو بھی زندہ آسمان پر رکھنا چاہئے تھا کیونکہ زیادہ دنوں تک زندہ رہنا یا آسمان پر رہنا ان سے کوئی فضیلت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر ثابت نہیں ہوتی، کیونکہ زیادتی عمر فضیلت ہوتی تو بہت سے صحابہ کرامؓ اور عوام اُمت کی عمریں آپ (صلی اللہ علیہ وسلم) سے دوگنی چوگنی ہوئی ہیں، ان کو بھی افضل کہہ سکیں گے اور اسی طرح اگر آسمان پر رہنا یا چڑھنا ہی مدار فضیلت ہو تو فرشتوں کو حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے افضل ماننا لازم آئے گا، جو نصوص شرعیہ اور اجماع اُمت کے خلاف ہے۔

۴:... ’’قد خلت من قبلہ الرسل‘‘ سے عیسیٰ علیہ السلام کی وفات پر استدلال کرنا انہیں لوگوں کا کام ہے جنہیں عربی عبارت سمجھنے سے کوئی علاقہ نہیں اور جو محاورات زبان سے بالکل واقف نہیں کیونکہ اول تو اس جیسے عمومات سے کسی خاص واقعہ مشہورہ پر کوئی اثر محاورات کے اعتبار سے نہیں پڑتا، بلکہ اس کی ایسی مثال ہے جیسے کوئی بیمار، طبیب سے پوچھے کہ پرہیز کس چیز کا ہے؟ وہ کہہ دے کہ ترشی اور تیل مت کھاؤ، ترشی اور تیل کے سوا ساری چیزیں کھاؤ، مضر نہیں۔ اب اگر یہ بے وقوف جاکر پتھر یا لوہا کھائے، یا سنکھیا کھائے اور استدلال میں قادیانی مجتہدین کا سا استدلال پیش کرے کہ حکیم صاحب نے کہا تھا کہ

342

ترشی اور تیل مت کھاؤ، ترشی اور تیل کے سوا ساری چیزیں کھاؤ، کوئی مضر نہیں، اور ساری چیزوں میں پتھر، لوہا اور سنکھیا (زہر) بھی داخل ہے، لہٰذا میں جو کچھ کھاتا ہوں حکیم صاحب کے فرمانے سے کھاتا ہوں۔ انصاف کیجئے کہ کوئی عقلمند اس کو صحیح العقل سمجھے گا؟ اور پھر یہ بھی انصاف کیجئے کہ اس قادیانی استدلال میں اور اس میں کوئی فرق ہے یا نہیں؟ ذرا غور سے معلوم ہوجائے گا کہ اگر بالفرض ’’خلت‘‘ کے معنی موت ہی ہوں تو بھی اس سے ان انبیاء کی موت ثابت نہیں ہوسکتی جن سے قرآن و حدیث کی دوسری نصوص حیات ثابت کرتی ہیں، جیسے: ’’سب چیز کھاؤ‘‘ کے قول سے پتھر اور زہر کا کھانا مراد نہیں، اس کے علاوہ ’’خلت‘‘ کے معنی لغت میں موت کے نہیں بلکہ گزر جانے کے ہیں خواہ مرکر، خواہ کسی دوسرے طریقہ سے جیسے عیسیٰ علیہ السلام کے لئے ہوا۔

امام راغب اصفہانی ؒمفردات القرآن میں اس لفظ کے یہی معنی لکھتے ہیں:

’’والخلو یستعمل فی الزمان والمکان لکن لما تصور فی الزمان المضی فسر اھل اللغۃ خلا الزمان بقولھم مضی الزمان وذھب۔ قال تعالیٰ: وما محمد إلّا رسول قد خلت من قبلہ الرسل۔‘‘

یہ لفظ صریح ہیں کہ ’’خلت‘‘ کے معنی قرآن شریف میں چلے جانے اور گزر جانے کے ہیں جس میں عیسیٰ علیہ السلام اور دوسرے انبیاء بلاشبہ برابر ہوگئے، تعجب ہے کہ قادیانی خانہ ساز پیغمبر کے ’’صحابی‘‘ اتنی سی بات کو کیوں نہیں سمجھتے؟ اور اگر حق تعالیٰ ان کو چشم بصیرت عطا فرمائے اور وہ اب بھی غور کریں تو سمجھیں گے کہ یہ آیت بجائے وفات عیسیٰ پر دلیل ہونے کے حیاتِ عیسیٰ کی طرف مشیر ہے، کیونکہ صریح لفظ ’’ماتت‘‘ کو چھوڑ کر ’’خلت‘‘ شاید خدا تعالیٰ نے اسی لئے اختیار فرمایا ہے کہ کسی بے وقوف کو موت عیسیٰ کا شبہ نہ ہوجائے، اگرچہ محاورہ شناس کو تو پھر بھی شبہ کی گنجائش نہ تھی۔

۵:... ’’اموات غیر احیاء‘‘ کی تفسیر باعتبار لغت بھی اور جو کچھ مفسرین نے تحریر فرمایا ہے اس کے اعتبار سے بھی یہی ہے کہ یہ سب حضرات ایک معین مدت کے بعد مرنے

343

والے ہیں نہ یہ کہ بالفعل مرچکے ہیں۔ اور یہ بالکل ایسا ہی جیسا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو خطاب کرکے فرمایا گیا: ’’انک میت وانھم میتون‘‘ تو کیا اس کا یہ مطلب تھا کہ معاذاللہ! آپؐ اس وقت وفات پاچکے ہیں؟ بلکہ بالاتفاق وہی معنی مذکور مراد ہیں کہ ایک وقت معین میں وفات پانے والے ہیں، یہ بھی جھوٹی نبوّت کی نحوست ہے کہ اتنی سی بات سمجھ میں نہ آئی۔

۶:...شیخ محی الدین ابن عربی ؒکا قول استدلال میں پیش کرنا اول تو اصولاً غلط ہے کیونکہ مسئلہ ختمِ نبوّت عقیدہ کا مسئلہ ہے جو باجماع اُمت بغیر دلیل قطعی کے کسی چیز سے ثابت نہیں ہوسکتا، اور دلیل قطعی قرآن کریم اور حدیث متواتر اور اجماع اُمت کے سوا کوئی نہیں، ابن عربی ؒکا قول ان میں سے فرمائیے کس میں داخل ہے؟ اس لئے اس کا استدلال میں پیش کرنا ہی اصولی غلطی ہے۔

ثانیاً خود ابن عربی ؒ اپنی کتاب ’’فتوحات‘‘ میں نیز ’’فصوص‘‘ میں اس کی تصریح کرتے ہیں کہ نبوّت شرعی ہر قسم کی ختم ہوچکی ہے، ابن عربیؒ اور دوسرے حضرات کی عبارتیں صریح اور صاف رسائل ذیل میں مذکور ہیں: ’’عقیدۃ الْإسلام فی حیاۃ عیسیٰ علیہ السلام، التنبیہ الطربی فی الذب عن ابن عربی‘‘ وغیرہ۔

اسی طرح صاحب مجمع البحار اور ملا علی قاریؒ بھی اپنی دوسری تصانیف میں اس کی تصریح کرتے ہیں جو جمہور کا مذہب ہے، یعنی ہر قسم کی نبوّت ختم ہوچکی ہے آئندہ یہ عہدہ کسی کو نہ ملے گا۔

چوتھا فتویٰ:

سوال:... ’’لو کان موسٰی وعیسٰی حیین‘‘کیا یہ حدیث کسی حدیث کی کتاب میں موجود ہے یا کہ نہ؟ بیہقی کا حوالہ دیا جاتا ہے اس میں ہے یا نہیں؟

الجواب:...حدیث:’’لو کان موسٰی وعیسٰی حیین‘‘ کسی بھی معتبر کتاب میں موجود نہیں، البتہ تفسیر ابن کثیر میں ضمناً یہ الفاظ لکھے ہیں اور اسی طرح اور بعض کتب

344

تصوف میں نقل کردیا ہے، مگر سب جگہ بلاسند نقل کیا ہے، اس لئے یہ حدیث بہ چند وجوہ احادیث مشہورہ کے معارض نہیں ہوسکتی، اولاً: معارض کے لئے مساوات فی القوۃ شرط ہے اور اس حدیث کا کہیں پتہ نہیں، جہاں کہیں ہے تو وہ بلاسند ہے، اور یہ قول ائمہ حدیث کا مقبول و مشہور ہے:’’لو لَا الْاسناد لقال من شاء ما شاء‘‘۔

ثانیاً: اگر بالفرض یہ حدیث معتبر ہی ہو تو احادیث متواترہ در بارہ حیات و نزول عیسیٰ علیہ السلام کے معارض ہوگی، اور ترجیح کی نوبت آئے گی تو ظاہر ہے کہ احادیث کثیرہ متواترۃ المعنی کو اس کے مقابلہ میں ترجیح ہوگی نہ کہ اس حدیث کو جس کا حدیث ہونا بھی ہنوز متعین نہیں۔

ثالثاً: اگر ان الفاظ کو صحیح و ثابت بھی مان لیا جائے تب بھی اس سے وفات عیسیٰ علیہ السلام ثابت نہیں ہوتی بلکہ اس کے معنی صاف یہ ہوتے ہیں کہ عالم زمین پر حیات ہوتے کیونکہ حدیث میں اتباع نبوّت کا ذکر ہے اور یہ اتباع اس عالم کے ساتھ تعلق رکھتا ہے، سو یہ صحیح ہے کہ اگر اس عالم میں زندہ ہوتے تو آپ کا اتباع کرتے، اب چونکہ دوسرے عالم میں زندہ ہیں اس لئے اتباع ان پر ضروری نہ رہا، سمجھنے کے لئے اتنا ہی کافی ہے اور اگر اس مضمون کو مبسوط دیکھنا چاہیں تو مولانا سیّد مرتضیٰ حسن صاحب نے اس مضمون پر مستقل رسالہ لکھا ہے وہ ملاحظہ فرمائیے۔

پانچواں فتویٰ:

سوال:...شیخ محی الدین ابن عربی ؒ فرماتے ہیں کہ: ’’لَا نبی بعدی‘‘ کے یہ معنی ہیں کہ تشریعی نبوّت ختم ہوچکی ہے، لہٰذا غیرتشریعی نبوّت ختم نہیں ہوئی، یہ صحیح ہے یا نہیں؟

الجواب:...شیخ محی الدین ابن عربی ؒکا قول استدلال میں پیش کرنا اوّل تو اُصولاً غلطی ہے کیونکہ مسئلہ ختمِ نبوّت عقیدہ کا مسئلہ ہے جو باجماع اُمت بغیر دلیل قطعی کے کسی چیز سے ثابت نہیں ہوسکتا اور دلیل قطعی قرآن کریم، حدیث متواتر اور اجماع اُمت کے سوا کوئی نہیں۔

345

ابن عربی ؒکا قول ان میں سے فرمائیے کس میں داخل ہے؟ اس لئے اس کا استدلال میں پیش کرنا ہی اصولی غلطی ہے، ثانیاً: خود ابن عربی ؒاپنی اسی کتاب فتوحات میں نیز فصوص میں اس کی تصریح کرتے ہیں کہ نبوّت شرعی ہر قسم کی ختم ہوچکی ہے، اور جس عبارت کو سوال میں پیش کیا ہے اس کا صحیح مطلب خود فتوحات کی تصریح سے یہ ہے کہ نبوّت غیرتشریعی ایک خاص اصطلاح شیخ اکبر کی ہے جو مرادف ولایت ہے، نہ وہ نبوّت جو مصطلح شرع ہے کیونکہ جمیع اقسام نبوّت کے انقطاع پر خود فتوحات کی بے شمار عبارتیں شاہد ہیں، ابن عربی اور دوسرے حضرات کی عبارتیں صریح اور صاف رسائل مذکورۃ الصدر میں کچھ مذکور ہیں اور قلمی احقر کے پاس منقول، لیکن سب کے نقل کرنے کی فرصت اور ضرورت نہیں۔

اسی طرح صاحب مجمع البحار اور ملا علی قاری بھی اپنی دوسری تصانیف میں اس کی تصریح کرتے ہیں جو جمہور کا مذہب ہے، یعنی ہر قسم کی نبوّت ختم ہوچکی ہے آئندہ یہ عہدہ کسی کو نہ ملے گا۔ واللہ تعالی اعلم!

(فتاویٰ دارالعلوم دیوبند ج:۲ ص:۱۲۹ تا ۱۳۴)

یہ چند فتاویٰ، جیسا کہ آپ دیکھ رہے ہیں قادیانیوں کے بڑے بڑے شبہات کے جواب پر مشتمل ہیں، اس لئے ان فتاویٰ کو حضرت مفتی اعظم رحمہ اللہ کے مآثر میں شمار کیا جائے گا۔ حق تعالیٰ انہیں اپنے دین مبین کی حفاظت کا بہترین اجر عطا فرمائے اور اُمتِ محمدیہ کو ان کے علوم و انفاس سے مستفید فرمائے۔

وآخر دعوانا ان الحمدﷲ رب العالمین

346

قادیانی نظریات

مُلَّا علی قاریؒ کی عدالت میں

بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ

اَلْحَمْدُللہِ وَسَلَامٌ عَلٰی عِبَادِہِ الَّذِیْنَ اصْطَفٰی!

حق تعالیٰ حافظ سیوطیؒ کو جزائے خیر عطا فرمائے انہوں نے کیسی عمدہ بات لکھی ہے:

’’اور ارباب بدعت کا مقصد صرف اور صرف آیات میں تحریف کرنا اور انہیں کاٹ چھانٹ کر اپنے مذہب فاسد پر چسپاں کرنا ہے، انہیں کہیں دور سے گری پڑی چیز نظر آجائے اسے فوراً اچک لیں گے، یا کسی جگہ انہیں ادنیٰ گنجائش نظر آئے دوڑ کر اس کی طرف لپکیں گے، رہا ملحد! تو اس کے کفر و الحاد کا کیا پوچھنا؟ وہ اللہ کی آیات میں کجروی اختیار کرتا ہے اور اللہ تعالیٰ پر ایسی بات کا اِفترا کرتا ہے جو اللہ تعالیٰ نے کبھی نہیں فرمائی۔ (چند مثالیں ذکر کرکے آگے لکھتے ہیں) اس قسم کی تحریفات ہی مہمل ہیں، اس حدیث کی جو ابویعلیٰ وغیرہ نے حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ: میری اُمت میں کچھ لوگ اس طرح قرآن پڑھیں گے کہ اسے ردی کھجوروں کی طرح جھاڑیں گے (یعنی بلاتدبر ردی سمجھ کر پڑھیں گے) اس کی بے محل تاویلیں کریں گے۔‘‘

(الاتقان ج:۲ ص:۱۹)

347

ہمیشہ سے ملاحدہ کی یہی تکنیک رہی ہے اور یہی طریقہ قادیانی فرقہ نے اختیار کیا۔ مرزا غلام احمد قادیانی کی ’’بروزی نبوّت‘‘ کے لئے جہاں قرآن و حدیث میں کھلی تحریف کی گئی وہاں چند اکابر کی عبارتوں کو بھی مسخ کیا گیا۔ اور پھر ان تحریفات کا اس شدت سے پروپیگنڈا کیا گیا کہ کم فہم لوگوں کو یہ غلط فہمی ہونے لگی کہ شاید یہی اسلامی عقیدہ ہے۔ قادیانی صاحبان، سلطان العلماء شیخ علی القاری رحمہ اللہ (المتوفی۱۰۱۴ھ)کا نام بھی اپنے نظریات کی ترویج کے لئے استعمال کیا کرتے ہیں، اس لئے ذیل میں شیخ رحمہ اللہ کی چند تصریحات نقل کی جاتی ہیں، امید ہے قادیانی صاحبان بنظر انصاف ملاحظہ فرماکر اپنے عقائد کی اصلاح فرمائیں گے۔

عیسیٰ علیہ السلام زندہ ہیں:

اُمتِ اسلامیہ کا اجماعی عقیدہ ہے کہ سیّدنا عیسیٰ علیہ السلام آسمان پر زندہ ہیں، شیخ علی قاریؒ شرح فقہ اکبر میں ’’شرح مقاصد‘‘ سے نقل کرتے ہیں:

’’بڑے بڑے علماء اس طرف گئے ہیں کہ چار نبی زندہ ہیں: خضر اور الیاس زمین میں، اور عیسیٰ اور ادریس آسمان میں (علیٰ نبینا وعلیہم الصلوٰۃ والتسلیمات)۔‘‘

(شرح فقہ اکبر ص:۳ مطبوعہ سعیدی کراچی)

واضح رہے کہ ان چار حضرات میں سے تین کے بارے میں علماء کی آرا مختلف ہیں، لیکن حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے زندہ ہونے میں اہل حق میں سے کسی کا اختلاف نہیں، مرزا غلام احمد قادیانی (بزعم خود ملہم اور مامور من اللہ ہونے کے باوجود) یہی عقیدہ رکھتا تھا۔ ’’مسیح موعود‘‘ کا ’’الہام‘‘ پانے کے بعد بھی بارہ برس تک ان کا یہی عقیدہ رہا، (اعجاز احمدی)۔ انہیں یہ بھی اعتراف ہے کہ اباً عن جدٍ ہمیشہ سے اسی عقیدے کے معتقد چلے آتے تھے (ایام الصلح فارسی ص:۳۹)۔ اور یہ کہ ظاہر قرآن اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے آثار مرویہ سے یہی عقیدہ ثابت ہے (ازالہ اوہام)۔ ان کے فرزند اکبر مرزا محمود احمد بھی اعتراف

348

کرتے ہیں کہ:

’’پچھلی صدیوں میں سب دنیا کے مسلمانوں میں مسیح (حضرت عیسیٰ علیہ السلام) کے زندہ ہونے پر ایمان رکھا جاتا تھا، اور بڑے بڑے بزرگ اسی عقیدہ پر فوت ہوئے، اور نہیں کہہ سکتے کہ وہ مشرک فوت ہوئے، گو اس میں شک نہیں کہ یہ عقیدہ مشرکانہ ہے، حتیٰ کہ حضرت مسیح موعود (مرزا غلام احمد) باوجود مسیح کا خطاب پانے کے بعد دس سال تک یہی خیال کرتے رہے کہ مسیح آسمان پر زندہ ہے۔‘‘

’’حضرت مسیح موعود (مرزا غلام احمد) کے دعوے سے پہلے جس قدر اولیاء، صلحاء گزرے ہیں، ان میں ایک بڑا گروہ عام عقیدے کے ماتحت حضرت مسیح (علیہ السلام) کو زندہ خیال کرتا تھا لیکن وہ مشرک اور قابل مواخذہ نہ تھا، مگر جب حضرت مسیح موعود (مرزا غلام احمد) نے قرآن کریم سے وفات مسیح ثابت کردی اور حیات مسیح کے عقیدہ کو مشرکانہ ثابت کردیا تو اب جو شخص حیاتِ مسیح کا قائل ہو وہ مشرک اور قابل مواخذہ ہے۔‘‘

(حقیقۃ النبوۃ ص:۱۴۲)

انصاف فرمائیے کہ جو عقیدہ ظاہر قرآن اور احادیث متواترہ سے ثابت ہو، گزشتہ صدیوں کے تمام مسلمان اور اکابر علماء، صلحاء اور مجددینِ اُمت میں متواتر چلا آیا ہو، اسے مشرکانہ عقیدہ کہنا، اسلام کی تکذیب نہیں؟ قرآن کریم کی وہ تیس آیات، جن سے بزعم خود مرزا غلام احمد قادیانی نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی وفات ثابت کی ہے، کیا وہ تیرہ چودہ صدیوں کے ائمہ دین اور مجددین اُمت کے سامنے نہیں تھیں؟ مرزا صاحب کو اپنی مسیحیت کے لئے راہ ہموار کرنا تھی، چونکہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا زندہ موجود ہونا ان کے دعویٰ کے لئے سنگ راہ تھا، اس لئے انہوں نے اپنی ساری زندگی حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو مارنے کے لئے صرف کرڈالی اور تاویلات و تحریفات کا طوفان برپا کردیا۔ حالانکہ اگر بالفرض عیسیٰ علیہ السلام زندہ نہ ہوتے تب بھی کیا مرزا غلام احمد بن غلام مرتضیٰ، عیسیٰ بن مریم بن جاتے؟

349

ہرگز نہیں! بقول شیخ شیرازیؒ:

کس نیاید بزیر سایہ بوم

ور شود ہما از جہاں معدوم

کاش انہیں کوئی مشورہ دیتا:

بصاحب نظرے بنما گوہر خود را

عیسیٰ نتواں گشت بتصدیق خرے چند

عیسیٰ علیہ السلام آسمان سے نازل ہوں گے:

قادیانی صاحبان، حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے آسمان پر جانے اور وہاں سے نازل ہونے کے منکر ہیں، لیکن امام اعظمؒ ’’فقہ اکبر‘‘ میں فرماتے ہیں:

’’دجال اور یاجوج و ماجوج کا نکلنا، آفتاب کا مغرب کی جانب سے طلوع ہونا، حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا آسمان سے نازل ہونا اور دیگر علامات قیامت جو احادیث صحیحہ میں وارد ہیں سب حق ہیں، ضرور ہوکر رہیں گی اور اللہ تعالیٰ جسے چاہتا ہے صراط مستقیم کی ہدایت دیتا ہے (اللہ تعالیٰ قادیانیوں کو بھی اپنے فضل سے ہدایت نصیب کرے)۔‘‘

شیخ علی قاریؒ اس کی شرح میں قرآن کریم سے اس کا ثبوت دیتے ہوئے فرماتے ہیں:

’’اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا آسمان سے نازل ہونا، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:

’’اور بے شک وہ یعنی عیسیٰ علیہ السلام البتہ قیامت کا نشان ہے یعنی علامت قیامت ہیں۔‘‘

اور اللہ تعالیٰ نے فرمایا:

350

ترجمہ:...’’اور نہیں اہل کتاب میں سے کوئی شخص مگر البتہ ایمان لائے گا اس پر اس کی موت سے پہلے۔‘‘

یعنی عیسیٰ علیہ السلام کی موت سے پہلے، قرب قیامت میں ان کے نازل ہونے کے بعد، پس اس وقت تمام مذاہب مٹ جائیں گے اور وہ دین حنیفی اسلام ہے۔‘‘

(شرح فقہ اکبر ص:۱۳۳)

شیخ علی قاریؒ نے جن دو آیتوں کو حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے نزول کے ثبوت میں پیش کیا ہے، ان کی یہ تفسیر صحابہؓ و تابعینؒ اور ائمہ مجددینؒ سے منقول ہے، مگر مرزا صاحب اس کو تحریف اور الحاد بتاتے ہیں، اور ان تمام اکابرؒ کو یہودی، ملحد اور مشرک قرار دیتے ہیں۔

علامات قیامت کی ترتیب:

اسی ذیل میں قرب قیامت کے اہم واقعات کی ترتیب بیان کرتے ہوئے شیخ علی قاریؒ فرماتے ہیں:

’’(فقہ اکبر کے) ایک نسخہ میں طلوع آفتاب کا ذکر پہلے ہے، بہرحال واؤ مطلق جمع کے لئے ہے، ورنہ واقعات کی ترتیب یوں ہے کہ: حضرت مہدی (رضی اللہ عنہ) اولاً حرمین شریفین میں ظاہر ہوں گے، پھر بیت المقدس جائیں گے، پھر دجال وہاں پہنچ کر حضرت مہدی (کے لشکر) کا اسی حالت میں محاصرہ کرے گا، پس عیسیٰ علیہ السلام دمشق شام کے شرقی مینارہ سے نزول فرمائیں گے، اور دجال سے مقابلہ کے لئے نکلیں گے، پس ایک ہی ضرب سے اس کو قتل کردیں گے، ورنہ عیسیٰ علیہ السلام کے آسمان سے نازل ہوتے ہی دجال اس طرح پگھلنے لگے گا جس طرح نمک پانی میں پگھل جاتا ہے، عیسیٰ علیہ السلام حضرت مہدی علیہ الرضوان کے ساتھ جمع ہوں گے، اس وقت نماز کی اقامت ہوچکی ہوگی، حضرت مہدی، حضرت

351

عیسیٰ علیہ السلام سے امامت کی درخواست کریں گے، مگر وہ یہ کہہ کر عذر کردیں گے کہ اس نماز کی اقامت آپ ہی کے لئے ہوئی ہے، اس لئے اس موقع پر امامت کے آپ زیادہ مستحق ہیں، اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام حضرت مہدیؓ کی اِقتدا کریں گے تاکہ ظاہر ہوجائے کہ وہ اس وقت آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے متبع ہیں، جیسا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اس مضمون کی جانب اپنے ارشاد میں اشارہ فرمایا ہے کہ: ’’اگر موسیٰ (علیہ السلام) زندہ ہوتے تو ان کو بھی میری پیروی کئے بغیر کوئی چارہ نہ ہوتا۔‘‘ اور میں اس کی وجہ ’’شرح شفاء‘‘ میں حق تعالیٰ کے ارشاد: ’’وَاِذْ اَخَذَ اللہُ مِیْثَاقَ النَّبِیِّیْنَ لَمَا اٰتَیْتُکُم مِّنْ کَتَابٍ وَّحِکْمَۃٍ ثُمَّ جَآئَکُمْ رَسُوْلٌ‘‘ الآیہ، کے تحت بیان کرچکا ہوں۔

اور حدیث میں آتا ہے کہ عیسیٰ علیہ السلام چالیس برس زمین میں رہیں گے، پھر ان کا وصال ہوگا اور مسلمان ان کی نماز جنازہ پڑھیں گے اور انہیں دفن کریں گے، جیسا کہ ابوداؤد طیالسی نے اپنی مسند میں روایت کیا ہے اور دوسری روایات میں آتا ہے کہ: ’’وہ روضۂ اطہر میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اور حضرت صدیق اکبر رضی اللہ عنہ کے درمیان دفن ہوں گے۔‘‘ اور یہ بھی مروی ہے کہ شیخینؓ کے بعد دفن ہوں گے، پس شیخینؓ کو مبارک ہو کہ دو نبی ان کے گرد و پیش ہیں۔‘‘

(شرح فقہ اکبر ص:۱۳۳)

دمشق اور قادیان:

مرزا غلام احمد قادیانی بزعم خود عیسیٰ علیہ السلام کو مارنے سے فارغ ہوئے تو خود عیسیٰ بن مریم بننے کے لئے ’’تاویلات‘‘ کرنے لگے۔ اور تاویلات ایسی کہ سننے والوں کو

352

قرآن و حدیث پر رحم اور مرزا صاحب پر ہنسی آنے لگے۔ عیسیٰ، مریم، دجال، دابۃ الارض، یاجوج ماجوج، آفتاب کا مغرب سے نکلنا، عیسیٰ بن مریم کی علامات، مہدی کی علامات، دجال کی علامات، یاجوج ماجوج کی علامات، دابۃ الارض کی علامات، وغیرہ وغیرہ، سینکڑوں امور میں مرزا صاحب نے تاویلیں کی ہیں۔ لیکن شیخ علی قاریؒ کی مندرجہ ذیل تصریح مرزا صاحب کی تمام تاویلات باطلہ کے رد کرنے کے لئے کافی ہے، بیت المقدس کے بارے میں لکھتے ہیں:

’’اور اسی طرح یہ بھی ثابت ہے کہ مہدی اہل ایمان کے ساتھ دجال کے مقابلہ میں دمشق میں قلعہ بند ہوں گے اور یہ کہ عیسیٰ علیہ السلام مسجد شام کے مینارہ سے نازل ہوں گے، پس وہ آکر دجال کو قتل کریں گے، اور مسجد میں ایسے وقت داخل ہوں گے جبکہ نماز کی اقامت ہوچکی ہوگی، مہدی کہیں گے کہ یا روح اللہ! آگے تشریف لائیے! وہ فرمائیں گے کہ اس نماز کی اقامت تو تمہارے لئے ہوئی ہے۔ مہدی آگے بڑھیں گے اور عیسیٰ علیہ السلام ان کی اِقتدا کریں گے، یہ بتانا مقصود ہوگا کہ وہ اس اُمتِ محمدیہ میں شامل ہیں، بعد ازاں عیسیٰ علیہ السلام ہی نماز پڑھایا کریں گے۔‘‘

(موضوعات کبیر ص:۱۲۱ مطبوعہ مطبع محمدی لاہور)

شیخ رحمہ اللہ کی اس تصریح کے بعد مرزائی تاویلات کا کوئی ادنیٰ جواز بھی باقی رہ جاتا ہے؟

آسمان سے عیسیٰ ؑ کا نازل ہونا ختمِ نبوّت کے منافی نہیں:

مرزا صاحب نے ناواقف لوگوں کے ذہن میں یہ وسوسہ بھی ڈالا ہے کہ عیسیٰ علیہ السلام کا آسمان سے نازل ہونا ختمِ نبوّت کے منافی ہے، لیکن اس کی تردید کے لئے شیخ علی قاریؒ کا ایک فقرہ کافی ہے، ’’فقہ اکبر‘‘ میں امام اعظمؒ کا ارشاد ہے:

353

’’اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد تمام انسانوں سے افضل ابوبکر صدیق ہیں رضی اللہ عنہ۔‘‘

اور شیخ علی قاریؒ اس کی شرح میں فرماتے ہیں:

’’اس سے وہ لوگ مراد ہیں جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے عالم وجود میں تشریف لانے کے بعد پیدا ہوئے کیونکہ آپؐ اپنی تشریف آوری کے وقت خاتم النبیین تھے (لہٰذا آپؐ کے بعد کوئی نبی پیدا نہیں ہوگا)، رہے عیسیٰ علیہ السلام! سو وہ آپؐ سے قبل عالم وجود میں تشریف لاچکے تھے، اگرچہ ان کا نزول آپؐ کے بعد ہوگا۔‘‘

(شرح فقہ اکبر ص:۷۳)

اس تصریح سے مندرجہ ذیل امور منقح ہوگئے:

اوّل:...آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد کوئی نبی عالم وجود میں نہیں آئے گا، نہ تشریعی، نہ غیرتشریعی، نہ ظلّی، نہ اصلی۔

دوم:...حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا زندہ ہونا اور دوبارہ آنا ختمِ نبوّت کے منافی نہیں کیونکہ وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے قبل عالم وجود میں آچکے تھے۔

سوم:...احادیث متواترہ میں ’’عیسیٰ‘‘ کے آنے کی خبر دی گئی ہے۔

(ازالہ اوہام ص:۲۳۱ طبع پنجم، شہادۃ القرآن ص:۱ تا ۷)

اس سے مراد اصلی عیسیٰ علیہ السلام ہیں جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے قبل تشریف لائے، یہ پیش گوئی کسی ’’فرضی عیسیٰ‘‘ سے متعلق نہیں جو ’’الہامی حمل‘‘ سے پیدا ہو، کیا قادیانی حضرات اس تصریح سے کوئی عبرت حاصل کریں گے؟

ختمِ نبوّت:

مرزا صاحب نے ناواقفوں کے دل میں یہ وسوسہ بھی ڈالا ہے کہ آیت خاتم النبیین نے صرف مستقل اور تشریعی نبوّت کا دروازہ بند کیا ہے، مگر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم

354

کی پیروی سے نبوّت حاصل کی جاسکتی ہے، قادیانی صاحبان اُمتِ محمدیہ میں سلسلۂ نبوّت جاری ہونے پر موضوعات کبیر سے حدیث: ’’لو عاش ابراھیم لکان صدیقًا نبیًّا‘‘ کے ذیل میں شیخ علی قاریؒ کی عبارت کا حوالہ دیا کرتے ہیں۔ آئیے ٹھیک اسی جگہ میں موصوف کا فیصلہ پڑھئے! مُلّا علی قاری صاحب ابن ماجہ سے اس حدیث کو نقل کرنے کے بعد فرماتے ہیں:

’’البتہ اس کی سند میں ابوشیبہ ابراہیم بن عثمان الواسطی ایک ضعیف راوی ہے، لیکن یہ تین طرق سے مروی ہے جو ایک دوسرے کی تائید کرتے ہیں، اور حق تعالیٰ کا ارشاد:’’مَا کَانَ مُحَمَّدٌ ...۔ الیٰ قولہ ...۔ وَخَاتَمَ النَّبِیِّیْن‘‘ بھی اسی کی طرف مشیر ہے، کیونکہ یہ آیت اشارہ کرتی ہے کہ آپ کا کوئی صاحبزادہ زندہ نہیں رہا جو بالغ مردوں کی عمر کو پہنچتا، کیونکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا صاحبزادہ بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی صلب سے ہے، اس کا تقاضا تھا کہ وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے کمالات کا حامل اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا خلاصۂ قلب ہوتا، جیسے کہا جاتا ہے کہ: ’’بیٹا باپ پر ہوتا ہے۔‘‘ اب اگر وہ زندہ رہتا اور چالیس برس کی عمر کو پہنچتا اور نبی بن جاتا تو اس سے لازم آتا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم خاتم النبیین نہیں۔‘‘

(موضوعات کبیر ص:۶۹)

شیخ رحمہ اللہ کی اس تصریح سے مندرجہ ذیل امور واضح ہوئے:

اوّل:...آیت خاتم النبیین میں ختمِ نبوّت کا اعلان ہے اور اس کی بنیاد نفی ابوت پر رکھی گئی ہے، گویا اشارتاً بتایا گیا ہے کہ اگر ہمیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد کوئی نبی بھیجنا ہوتا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی صلبی اولاد کو زندہ رکھتے۔

دوم:...ٹھیک یہی مضمون حدیث: ’’لو عاش ابراھیم ...الخ‘‘کا ہے، یعنی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد بابِ نبوّت مسدود نہ ہوتا تو صاحبزادہ گرامی زندہ رہتا، کیونکہ

355

جوہر طبعی کے لحاظ سے نبوّت کی استعداد رکھتا تھا، مگر چونکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد نبوّت مقدر نہ تھی اس لئے ابراہیم رضی اللہ عنہ کی حیات بھی مقدر نہ ہوئی۔

سوم:...شیخ علی قاریؒ تصریح فرماتے ہیں کہ صاحبزادہ کے نبی ہونے سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا خاتم النبیین نہ ہونا لازم آتا تھا، کیا اس کے بعد بھی کوئی عاقل یہ کہہ سکتا ہے کہ غیرتشریعی نبوّت کا دروازہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد بھی کھلا ہے؟ کتنی عجیب بات ہے کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ’’لُبِّ قلب‘‘ کے نبی بننے سے تو ختمِ نبوّت کی مہر ٹوٹ جاتی ہے، لیکن ایک مغل بچہ کے معاذاللہ! محمد رسول اللہ بن بیٹھنے سے مہر نبوّت نہیں ٹوٹتی...! قادیانیوں کے ظلم و ستم کی کوئی حد ہے؟

معراج جسمانی:

چونکہ مرزا صاحب کے نزدیک جسم عنصری کے ساتھ آسمان پر جانا فلسفہ کی رو سے ممتنع ہے اس لئے وہ معراج جسمانی کے منکر ہیں، وہ کہتے ہیں کہ معراج آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے جسم کثیف (نعوذباللہ) کے ساتھ نہیں تھی، بلکہ یہ ایک لطیف کشف تھا (اِزالہ اوہام)، اس کے بارے میں شیخ علی قاریؒ کا فیصلہ حسب ذیل ہے:

’’اور معراج کا واقعہ، یعنی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا بیداری کی حالت میں جسد اطہر کے ساتھ جانا آسمان تک اور آگے کے بلند مقامات تک جہاں اللہ تعالیٰ کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا لے جانا منظور تھا، حق ہے۔ یعنی متعدد طرق سے ثابت ہے، پس جس شخص نے اس خبر کو ردّ کیا اور اس کے مقتضٰی پر ایمان نہ لایا، وہ گمراہ اور بدعتی ہے، یعنی ضلالت و بدعت کا جامع ہے، اور کتاب الخلاصہ میں ہے کہ جس نے معراج کا انکار کیا تو دیکھا جائے گا، اگر مکہ مکرمہ سے بیت المقدس تک جانے کا منکر ہے تو کافر ہے، اور اگر بیت المقدس سے (آسمانوں تک کے) معراج کا منکر ہو تو کافر نہیں قرار

356

دیا جائے گا (البتہ گمراہ اور بدعتی تصور کیا جائے گا) اور وجہ اس کی یہ ہے کہ مسجد حرام سے بیت المقدس تک جانے کا واقعہ آیت سے ثابت ہے اور وہ قطعی الدلالت ہے، اور بیت المقدس سے آسمان تک کا عروج سنت سے ثابت ہے، اور روایت و درایت کے لحاظ سے ظنی ہے۔‘‘

قادیانی احباب انصاف فرمائیں کہ امام ابوحنیفہؒ سے لے کر شیخ علی قاریؒ تک کا عقیدہ قابل تسلیم ہے؟ یا مرزا غلام احمد قادیانی کا فلسفہ قدیمہ و جدیدہ لائق اتباع ہے؟

عالم حادث ہے، قدیم بالنوع نہیں:

ملت اسلامیہ کا اجماعی عقیدہ ہے کہ یہ تمام کائنات حادث ہے، اس کے برعکس مرزا غلام احمد قادیانی کا نظریہ یہ ہے کہ دنیا قدیم بالنوع ہے، وہ لکھتے ہیں:

’’چونکہ خدا قدیم سے خالق ہے اس لئے ہم مانتے ہیں اور ایمان لاتے ہیں کہ دنیا اپنی نوع کے اعتبار سے قدیم ہے، لیکن اپنے شخص کے اعتبار سے قدیم نہیں۔‘‘

(لیکچر لاہور ص:۳۳۹ دسمبر ۱۹۰۴ء)

اور شیخ علی قاریؒ کا فیصلہ اس سلسلہ میں یہ ہے:

’’بلاشبہ عالم حادث ہے، یعنی عدم سے وجود میں آیا، پس جو شخص عالم کے قدیم ہونے کا قائل ہو وہ کافر ہے۔‘‘

قادیانی احباب توجہ فرمائیں کہ عالم کو قدیم بالنوع ماننے والا مسلمان ہوسکتا ہے؟

مرزا غلام احمد ’’اہل قبلہ‘‘ میں شامل نہیں:

گزشتہ سطور سے واضح ہوچکا ہے کہ مرزا غلام احمد قادیانی کو اسلام کے بہت سے مسلّمہ عقائد سے انکار ہے، مثلاً ختمِ نبوّت کی تشریح، عیسیٰ علیہ السلام کا زندہ ہونا، ان کا آسمان سے نازل ہونا، معراج، ملائکہ، شیاطین، حشر جسمانی (حوادث عالم وغیرہ وغیرہ) اور شیخ علی

357

قاریؒ کا فیصلہ یہ ہے کہ جو شخص اسلام کے مسلّمہ عقائد اور ضروریاتِ دین میں سے کسی چیز کا منکر ہو وہ مسلمان نہیں، شیخ رحمہ اللہ فرماتے ہیں:

’’پھر یہ بھی یاد رہے کہ ’’اہل قبلہ‘‘ سے مراد وہ لوگ ہیں جو ضروریاتِ دین پر متفق ہوں، مثلاً: دنیا کا حادث ہونا، حشر جسمانی، اللہ تعالیٰ کا کلیات و جزئیات کا عالم ہونا اور ان جیسے دیگر مسائل، پس جو شخص عمر بھر طاعات و عبادات کی پابندی کرے، مگر ساتھ ہی عالم کے قدیم ہونے کا عقیدہ رکھتا ہو، یا حشر جسمانی کا قائل نہ ہو، یا یہ عقیدہ رکھتا ہو کہ اللہ تعالیٰ کو جزئیات کا علم نہیں، ایسا شخص ’’اہل قبلہ‘‘ میں سے نہیں۔ اور یہ مسئلہ کہ: ’’اہل سنت کے نزدیک اہل قبلہ میں سے کسی شخص کو کافر کہنا صحیح نہیں۔‘‘ اس سے مراد یہ ہے کہ کسی شخص کو اس وقت تک کافر نہ قرار دیا جائے جب تک کہ اس میں کفر کی کوئی علامت نہ پائی جائے، اور اس سے کوئی ایسی چیز سرزد نہ ہو جس سے کفر ثابت ہوجاتا ہے (جیسا کہ مرزا قادیانی سے کفریات سرزد ہوئی ہیں)۔‘‘

قادیانی احباب کو ٹھنڈے دل سے غور کرنا چاہئے کہ مرزا غلام احمد قادیانی نے ضروریاتِ دین میں سے کسی چیز کا انکار تو نہیں کیا؟ اسلام کے مسلّمہ عقائد میں تاویل کرکے ان کے مفہوم کو تبدیل تو نہیں کیا؟ اور موجبات کفر میں سے تو کوئی چیز ان میں نہیں پائی گئی؟ اسلامی عقائد کی کتابوں اور مرزا غلام احمد قادیانی کے افکار و نظریات کے غیرجانبدارانہ تقابلی مطالعہ سے صحیح راستہ واضح ہوسکتا ہے۔ واللہ الموفق!

مرزا غلام احمد زندیقوں کی صف میں:

مرزا غلام احمد قادیانی نے قرآن کریم اور سنت صحیحہ کے ایسے باطنی معنی بیان کئے جن سے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم، صحابہ کرامؓ اور چودہ صدیوں کے اکابر اُمت ناآشنا تھے، مرزا صاحب کو اس بات پر ناز اور فخر ہے کہ ان پر وہ علوم کھلے ہیں جو آنحضرت صلی اللہ علیہ

358

وسلم پر بھی معاذاللہ! نہیں کھلے تھے، وہ لکھتے ہیں:

’’پس یہ خیال کہ جو کچھ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے قرآن کے بارے میں بیان فرمایا اس سے بڑھ کر ممکن نہیں، بدیہی البطلان ہے۔‘‘

(کرامات الصادقین ص:۱۹)

اسی بنا پر انہوں نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی ارشاد فرمودہ تفسیر قرآن کو کئی جگہ غلط کہا ہے، مرزا صاحب نے ’’تاویلات‘‘ کے ذریعہ قرآن کریم اور حدیث نبویؐ کے اس مفہوم کو بدل ڈالا جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے دور سے آج تک مسلّم چلا آتا تھا، اسلام کی اصطلاح میں اسی کو زندقہ اور الحاد کہا جاتا ہے۔

شیخ علی قاریؒ فرماتے ہیں:

’’کتاب و سنت کے نصوص کو ان کے ظاہری مفہوم پر محمول کیا جائے گا ...۔ اور ظاہری معنوں سے ہٹاکر کتاب و سنت کو ایسے معنی پہنانا جن کا دعویٰ ملاحدہ اور باطنیہ کرتے ہیں، یہ زندقہ ہے۔‘‘

قادیانی احباب صحت فکر کے ساتھ ان احادیث و آیات کا مطالعہ فرمائیں جن کی من مانی تشریحات مرزا صاحب نے اپنی کتابوں میں سپرد قلم کی ہیں، اور پھر مرزا صاحب کی ان تشریحات کا مقابلہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم، صحابہ کرامؓ، تابعین عظامؒ اور ائمہ دینؒ کی ارشاد فرمودہ تشریحات سے کریں، اور پھر خود انصاف فرمائیں کہ مرزا صاحب کے بیان کردہ ’’معنی‘‘ خالص زندقہ اور الحاد نہیں تو اور کیا ہیں...؟

مرزا غلام احمد کاہنوں کی صف میں:

شیخ علی قاریؒ نے مستقبل کے بارے میں پیش گوئیاں کرنے والے کاہنوں کے متعلق لکھا ہے:

’’کاہن جو غیب کی خبریں دیتا ہے اس کی تصدیق کرنا کفر ہے، کیونکہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:

359

’’آپؐ کہہ دیجئے کہ اللہ تعالیٰ کے سوا آسمان و زمین میں رہنے والا کوئی شخص غیب نہیں جانتا۔‘‘

اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے:

’’جو شخص کاہن کے پاس گیا، پس اس نے جو کچھ بتایا اس کو سچا سمجھا تو اس نے محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) پر نازل شدہ دین کا انکار کیا۔‘‘

اور ’’کاہن‘‘ وہ شخص ہے جو آئندہ واقعات کی خبر دے اور معرفت اسرار کا دعویٰ کرے اور کہا گیا ہے کہ کاہن، جادوگر ہے، اور نجومی جب آئندہ زمانے کے واقعات کے علم کا دعویٰ کرے تو وہ بھی ’’کاہن‘‘ کی مثل ہے، اور اسی کے حکم میں رمال بھی داخل ہے۔

قونویؒ کہتے ہیں کہ مندرجہ بالا حدیث کاہن، عراف، نجومی سب کو شامل ہے، لہٰذا نجومی اور رمال وغیرہ مثلاً کنکریاں پھینکنے والے کی اتباع جائز نہیں۔ اور ان لوگوں کو جو اجرت دی جائے وہ بالاجماع حرام ہے، جیسا کہ بغویؒ اور قاضی عیاضؒ وغیرہ نے نقل کیا ہے، اسی طرح جو شخص حروف تہجی کے علم (حساب جمل) کا مدعی ہو اس کے قول کی پیروی جائز نہیں کیونکہ وہ بھی کاہن کے معنی میں ہے۔‘‘

(شرح فقہ اکبر ص:۱۷۸)

اس تصریح سے معلوم ہوا کہ جو شخص حساب جمل کے اسرار کا مدعی ہو وہ کاہن ہے اور اس کی تصدیق کفر ہے۔ مرزا غلام احمد قادیانی نے بہت سی جگہ ’’حساب جمل‘‘ سے اپنی نبوّت و مسیحیت کا ثبوت پیش کیا ہے اور سورۂ والعصر کے حروف سے تو دنیا کی اول سے آخر تک پوری تاریخ ہی بتادی، (دیکھئے لیکچر لاہور ص:۳۹، ۳؍دسمبر ۱۹۰۴ء)۔ اسی طرح بیسیوں جگہ حروف ابجد کا حساب لگا لگا کر مسیحیت کے دلائل مہیا کئے ہیں۔ اس لئے شیخ علی قاریؒ کے بقول مرزا غلام احمد کے ’’کاہن‘‘ ہونے میں کوئی شبہ نہیں، اور آنحضرت صلی اللہ

360

علیہ وسلم کا ارشاد آپ سن ہی چکے ہیں کہ: ’’کاہن کی تصدیق کرنا کفر ہے۔‘‘

مدعیٔ نبوّت مستحق قتل ہے:

شیخ رحمہ اللہ نے کاہنوں اور نجومیوں وغیرہ کے افعال و اطوار پر تفصیل سے لکھنے کے بعد کہا ہے:

’’ان (پیش گوئی کرنے والوں) میں بعض لوگ قتل کے مستحق ہیں، مثلاً وہ شخص جو ان بے ہودہ خوش گپیوں کے ذریعہ نبوّت کا دعویٰ کرڈالے یا شریعت کی کسی چیز کو بدلنا چاہے، اور اس قسم کے اور لوگ ......۔‘‘

مرزا غلام احمد قادیانی کا پیش گوئیوں کی بنیاد پر دعویٔ نبوّت کرنا تو ہر خاص و عام کو معلوم ہے، اور دینی حقائق کے بدل ڈالنے میں بھی موصوف نے کوئی کسر نہیں چھوڑی۔

دعویٔ نبوّت بالاجماع کفر ہے:

مرزا غلام احمد صاحب کا دعویٰ نبوّت محتاج ثبوت نہیں، انہوں نے اپنی نبوّت کے ثبوت میں، معجزات دکھانے کا اعلان بھی کیا ہے، شیخ علی قاریؒ لکھتے ہیں:

’’اور میں کہتا ہوں کہ معجزہ نمائی کا چیلنج دعویٔ نبوّت کی فرع ہے، اور ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد نبوّت کا دعویٰ کرنا بالاجماع کفر ہے۔‘‘

مرزا غلام احمد کی خاص علامت:

شیخ علی قاریؒ نے جھوٹے مدعیٔ نبوّت کی ایک عجیب علامت لکھی ہے کہ:

’’جب بھی کسی جھوٹے نے نبوّت کا دعویٰ کیا اس کی جہالت اور جھوٹ کا پول ہر ادنیٰ عقل و فہم کے آدمی کے سامنے کھل گیا۔‘‘

قادیانی صاحبان اگر مرزا صاحب کے الہامات کی تاریخ، ان کے دعاوی کی تدریج اور ان کی تحدی آمیز پیش گوئیوں کے انجام پر بنظر صحیح غور فرمائیں تو یہ علامت مرزا

361

صاحب پر ٹھیک چسپاں نظر آئے گی۔

کافر حکومت کی تعریف و توصیف:

شیخ علی قاریؒ فرماتے ہیں:

’’فتاویٰ بزازیہ میں ہے کہ جس نے ہمارے زمانے کی حکومت کو ’’عادل‘‘ کہا وہ کافر قرار دیا جائے گا، کیونکہ وہ بالیقین ’’ظالم‘‘ ہے (اور یہ ظلم کو عدل بتاتا ہے)۔

اللہ اکبر! ایک مسلمان مگر ظالم حکومت کو عادل کہنا شیخ رحمہ اللہ کے نزدیک کفر ہے، اور ایک کافر گورنمنٹ کو خدا کا نور، ظل الٰہی اور رحمت خداوندی قرار دینے کا کیا حکم ہوگا...؟

مرزا غلام احمد قادیانی نے صلیب پرست حکومت کی تعریف و توصیف میں بقول خود پچاس الماریاں تصنیف کی ہیں، جس ظالم نے مسلمانوں کو ظلم و استبداد کے شکنجے میں کسا، جس نے ہزاروں اولیاء، صلحاء کو تختۂ دار پر کھینچا، دار و رسن اور قید و بند کا تختۂ مشق بنایا، جس نے قرآن کریم کو جلایا، بیت اللہ پر گولیاں برسائیں، حرم مقدس کو خونِ شہیداں سے لالہ زار کیا، جس نے اسلام اور مسلمانوں کو صفحۂ ہستی سے مٹانے کے لئے ابلیسانہ حربے استعمال کئے، جس نے عالم اسلام پر جبر و تشدد کے پہاڑ توڑے، جس نے خود مرزا غلام احمد کی رپورٹ کے مطابق اسّی لاکھ مسلمانوں کو عیسائی بنایا، اور جس کی ’’تہذیب جدید‘‘ نے دنیا سے ردائے انسانیت چھین لی، مرزا صاحب اس جابر و ظالم اور کافر حکومت کو ’’خدا کا نور‘‘ کہتے ہیں، صرف اس لئے کہ یہ کافر حکومت قادیانی نبوّت کی پاسبان و حلیف تھی، کیا اس کے کفر ہونے میں کوئی شک و شبہ باقی رہ جاتا ہے...؟

(ہفت روزہ ختمِ نبوّت کراچی ج:۱۶ ش:۲۴، ۲۵)

362

صدی کا سرا!

بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ

اَلْحَمْدُللہِ وَسَلَامٌ عَلٰی عِبَادِہِ الَّذِیْنَ اصْطَفٰی، اَمَّا بَعْدُ!

اگرچہ مرزا غلام احمد صاحب کا دعویٔ نبوّت ومسیحیت اپنے منطقی انجام کو پہنچ چکا ہے، تاہم مرزائی اُمت کی خیرخواہی کے لئے ہم ایک نیا اور اچھوتا نکتہ پیش کرتے ہیں، اُمید ہے وہ ان کے لئے غوروفکر کے نئے زاویے مہیا کرے گا، لیجئے ذرا توجہ سے سنئے! ’’حقیقۃ الوحی‘‘ مرزا صاحب کی آخری دور کی تصنیف ہے، اس میں موصوف نے اپنی صداقت کی جو اوّل نمبر دلیل پیش کی ہے، وہ یہ ہے:

’’پہلا نشان:... قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم: ان اللہ یبعث لھٰذہ الاُمّۃ علٰی رأس کل مأۃ سنۃ من یجدّد لھا دینھا۔ رواہ ابوداؤد۔ یعنی خدا ہر ایک صدی کے سر پر اس اُمت کے لئے ایک شخص مبعوث فرمائے گا، جو اس کے لئے دِین کو تازہ کرے گا، اور اَب اس صدی کا چوبیسواں سال جاتا ہے، اور ممکن نہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمودہ میں تخلّف ہو ...... اور یہ بھی اہلِ سنت میں متفق علیہ امر ہے کہ آخری مجدّد اس اُمت کا مسیحِ موعود ہے، جو آخری زمانے میں ظاہر ہوگا، اب تنقیح طلب اَمر یہ ہے کہ یہ آخری زمانہ ہے یا نہیں؟ یہود ونصاریٰ دونوں قومیں اس پر اِتفاق رکھتی ہیں کہ یہ آخری زمانہ ہے، اگر چاہو تو پوچھ کر دیکھ لو، مری پڑ رہی ہے، زلزلے آرہے ہیں، ہر ایک قسم کی خارقِ عادت تباہیاں شروع ہیں،

363

پھر کیا یہ آخری زمانہ نہیں؟ اور صلحاء اسلام نے بھی اس زمانے کو آخری زمانہ قرار دِیا ہے، اور چودھویں صدی میں سے بھی تیئس سال گزرگئے ہیں، پس یہ قوی دلیل اس بات پر ہے کہ یہی وقت مسیحِ موعود کے ظہور کا وقت ہے (جی نہیں! آپ کو غلط فہمی ہوئی ہے ...ناقل) اور میں ہی وہ شخص ہوں، جس نے اس صدی کے شروع ہونے سے پہلے دعویٰ کیا (بلادلیل رجماً بالغیب اور قیاس آرئی شرعی حجت نہیں ...ناقل) اور میں ہی وہ ایک شخص ہوں، جس کے دعوے پر پچّیس برس گزرگئے، اور اَب تک زندہ موجود ہوں (نتیجہ؟ ...ناقل) اور میں ہی وہ ایک ہوں، جس نے عیسائیوں اور دُوسری قوموں کو خدا کے نشانوں کے ساتھ ملزم کیا (کون سا نشان؟ آسمانی نکاح والا؟ سلطان احمد کی موت والا؟ یا عبداللہ آتھم کی موت والا؟ چہ خوب! ...ناقل) پس جب تک میرے اس دعوے کے مقابل پر انہیں صفات کے ساتھ کوئی دُوسرا مدعی پیش نہ کیا جائے، تب تک میرا یہ دعویٰ ثابت ہے کہ وہ مسیحِ موعود، جو آخری زمانے کا مجدّد ہے، وہ میں ہی ہوں۔ (جب چودھویں صدی ’’آخری زمانہ‘‘ ہی نہیں تو آخری زمانے کے مجدّد ہونے کا دعویٰ ہی لغو ہے ...ناقل)۔‘‘

(حقیقۃ الوحی ص:۱۹۳، ۱۹۴، رُوحانی خزائن ج:۲۲ ص:۲۰۰، ۲۰۱)

مرزا صاحب کی اس طویل دلیل آرائی کا خلاصہ یہ ہے کہ:

۱:... حدیثِ صحیح کے مطابق ہر صدی کے سر پر ایک مجدّد کا آنا ضروری ہے، ورنہ فرمودۂ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ...معاذاللہ... غلط ہوجاتا ہے۔

۲:... آخری زمانے کے مجدّد بااِتفاقِ اہلِ سنت حضرت عیسیٰ علیہ السلام ہوں گے۔

۳:... چودھویں صدی ہی آخری زمانہ ہے، جس کے بارے میں نزولِ مسیح کی پیش گوئی تھی۔

364

۴:... اس صدی میں مرزا صاحب کے سوا کسی نے مجدّد ہونے کا دعویٰ نہیں کیا، لہٰذا وہ بلامقابلہ مجدّد منتخب ہوئے۔

۵:... اور جب وہ اس صدی کے مجدّد ہوئے تو ’’مسیحِ موعود‘‘ بھی ہوئے۔

ہمیں مرزا صاحب کے ان مقدمات کے صحیح یا غلط ہونے سے بحث نہیں، البتہ یہ سوال ضرور اُٹھتا ہے کہ کسی صدی کے تیئس سال گزر جانا مسیحِ موعود کے ظہور کے وقت کی دلیل کیسے بن گئی؟ مختصر یہ کہ مرزا صاحب کی تصریح کے مطابق ان کا دورِ تجدید ومسیحیت چودھویں صدی تک محدود تھا، اور اَب مرزاجی کی ’’مسیحی تجدید‘‘ کی معیاد پوری ہوچکی، اور ان کے تجدیدی کارناموں کا وقتِ مقدّر گزرچکا، لہٰذا اب مرزا صاحب کی ’’مسیحی اُمت‘‘ سے درخواست ہے کہ اب کسی نئے مجدّد کی آمد کے لئے جگہ خالی کیجئے:

’’بس ہوچکی نماز مصلیٰ اُٹھائیے!‘

مرزا صاحب نے چودھویں صدی کو ’’آخری زمانہ‘‘ سمجھ کر اپنی مسیحیت کی بنیاد رکھی، اور قاضیٔ وقت نے فیصلہ کردیا کہ ان کی یہ بنیاد غلط تھی، لہٰذا ’’آخری زمانہ‘‘ کے لئے جس مسیح کی آمد کا اِنتظار ہے، وہ کوئی اور ہوگا۔ پس ثابت ہوا کہ مرزا غلام احمد صاحب ’’آخری زمانے کا مجدّد‘‘ نہیں تھے، اب مرزا صاحب کی ’’مسیحی اُمت‘‘ کو کہنا چاہئے کہ:

’’خود غلط بود آنچہ ماپنداشتیم‘‘

مرزا صاحب کے دعوے کا اہم ستون یہ حدیث تھی کہ: ’’ہر صدی کے سر پر ایک مجدّد آئے گا‘‘ اگر یہ حدیث صحیح ہے تو چونکہ صدی کا سرا آن پہنچا ہے، اس لئے مرزا صاحب کی ’’مسیحی اُمت‘‘ کو نئے مجدّد کے لئے مسلمانوں کی صف میں شامل ہوجانا چاہئے۔ اور اگر یہ حدیث صحیح نہیں تو مرزا صاحب کی مسیحیت بھی حرفِ غلط اور دعویٔ باطل تھی، مرزائیوں کو اَب مزید متاعِ اِیمان اس کے ہاتھ فروخت نہیں کرنی چاہئے۔

لطیفہ:... جب کوئی سرکاری افسر کسی عہدے کا چارج لیتا ہے تو اس کا پُرجوش اِستقبال کیا جاتا ہے، اور جب اس کی سروِس ختم ہوتی ہے تو اس کے لئے ’’الوداعی پارٹی‘‘ کا اِہتمام ہوتا ہے۔ مرزا غلام احمد نے جب عہدۂ مسیحیت چودھویں صدی کا چارج لیا تو علمائے

365

اُمت نے ...جو دِینِ متین کے ہمہ وقتی ملازم ہیں... حضرت مسیحِ موعود کا پُرجوش خیرمقدم کیا، اور پھر کامل صدی تک ان کی خدمت وتواضع کے لئے ہر وقت کمربستہ رہے، اور بحمداللہ اس میں غفلت وتساہل سے کبھی کام نہیں لیا، تاآنکہ مرزاجی کی سروِس پوری ہوئی، اور ان کی ریٹائرمنٹ کا وقت آیا تو ملتِ اِسلامیہ کے نمائندوں پر مشتمل خصوصی کمیٹی کو ’’الوداعی پارٹی‘‘ کے فرائض سپرد ہوئے، دو ماہ تک رنگارنگ تقاریب رہیں، بالآخر بتاریخ ۷؍ستمبر ۱۹۷۴ء کو چودھویں صدی کے ’’مسیحِ موعود‘‘ صاحب کو نہایت پُروقار انداز میں الوداع کہی گئی، اور انہیں اِسلام سے رُخصت کردیا گیا۔ فالحمدللہ! کیا مرزا صاحب کی ’’مسیحی اُمت‘‘ کے لئے اس لطیفۂ غیبی میں کوئی درسِ عبرت ہے...؟

مرزا صاحب نے مختلف حیلوں بہانوں سے چودھویں صدی کو ظہورِ مہدی، نزولِ عیسیٰ اور خروجِ دجال وغیرہ کا حتمی وقت بتایا تھا، اور اس کے لئے کبھی اپنے کشف کے حوالے دئیے، کبھی تاریخی مادّے نکالے، کبھی حسابِ جمل کی پناہ لی، کبھی سابقہ کتب کا نام لیا، کبھی نصوصِ قرآن وسنت کو بگاڑا، اور کبھی بزرگانِ دِین کی آرا وقیاسات کا سہارا لیا، لیکن وقت نے خود فیصلہ کردیا کہ یہ سب مرزا صاحب کی سخن سازی تھی، ورنہ ان اُمور کو ’’دلائل‘‘ کہنا، ان کی توہین تھی۔ انہوں نے متعدّد جگہ نواب صدیق حسن خان صاحب رحمۃ اللہ علیہ کے حوالے سے بھی کہا ہے کہ وہ چودھویں صدی میں نزولِ مسیح کے قائل تھے، ذیل میں حضرت نواب صاحبؒ کی تصریح اس سلسلے میں نقل کی جاتی ہے، اُمید ہے مرزا صاحب کی اُمت کے لئے یہ حوالہ مفید ہوگا، نواب صاحب رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں:

’’گویم شک نیست کہ تعیین تاریخِ ظہورِ مہدی، یا نزولِ عیسیٰ، یا خروجِ دجال، یا جز آں از وقائع وفتن کہ اخبار وآثار بوقوع آں در آخر زمان بالاجمال وارد اند از پیش نفس خود بکشف، یا حساب نجوم، یا تخیل موہوم، یا مفہومِ لغت، یا انتحالِ نصوص یا تاویلِ اَدلہ تحریف کلام نبویست، ایں ہمہ ہاشود، لیکن وقت آں جز عالم الغیب والشہادہ ہیچ یکے را معلوم نیست، ونہ اُمید علم اوست در آئندہ، ومدعی

366

آں کاذب ومقرر آں خاطی است۔‘‘

(حجج الکرامۃ ص:۴۳۰)

ترجمہ:... ’’میں کہتا ہوں کہ ظہورِ مہدی، نزولِ عیسیٰ علیہ السلام، خروجِ دجال، یا ان کے علاوہ وہ واقعات اور فتن، جن کے آخری زمانے میں وقوع کے بارے میں اخبار وآثار بالاجمال وارِد ہیں، ان کی تاریخ کی تعیین اپنی طرف سے کرنا خواہ کشف سے ہو، یا حسابِ نجوم سے، وہمی تخیلات سے ہو یا مفہومِ لغت سے، نصوص کے سرقے سے ہو یا دلائل (کتاب وسنت) کی تأویل سے، بہرحال کلامِ نبوی کی تحریف ہے، یہ ساری چیزیں بلاشبہ ہوں گی، لیکن ان کا وقت خدائے عالم الغیب والشہادہ کے سوا کسی کو بھی معلوم نہیں، نہ آئندہ اس کی اُمید ہے، جو شخص اس کا دعویٰ کرے، وہ جھوٹا ہے، اور جو شخص اس کی تائید وتصدیق کرے، وہ خطاکار ہے۔‘‘

بنیادی غلطی

بعض اوقات ایک بنیادی غلطی اِنسان کو سنگین نتائج سے دوچار کردیتی ہے، مرزا غلام احمد قادیانی صاحب کا دعویٔ مسیحیت اس کی بہترین مثال ہے، تفصیل اس اِجمال کی یہ ہے کہ اُمتِ اسلامیہ کا تیرہ سو سال سے متواتر عقیدہ تھا کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام زندہ ہیں، اور قربِ قیامت میں آسمان سے نازل ہوں گے، حدیث کا ادنیٰ طالبِ علم بھی جانتا ہے کہ آخری زمانے میں آنے والے مسیح علیہ السلام کی جو تفصیلی علامات آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے بیان فرمائیں، ان میں سے ایک بھی مرزا غلام احمد مسیحِ قادیان پر صادق نہیں آتی، اور ان واضح علامات کی موجودگی میں مرزا صاحب کو ’’مسیحِ موعود‘‘ کہنا گویا زنگی کو کافور، اور بلی کو شیر کہنے کے مترادف ہے، مرزا صاحب خود بھی اس حقیقت سے بے خبر نہیں تھے، مگر ان سے بنیادی غلطی یہ ہوئی کہ انہوں نے فرض کرلیا کہ بس چودھویں صدی آخری زمانہ ہے، اور اسی آخری صدی میں ظہورِ مہدی اور نزولِ مسیح ہوگا، مرزا صاحب کے ایک حواری لکھتے ہیں:

367

’’ہم چھوٹے سے تھے تو ایک طرف اپنے بزرگوں سے سنا کرتے تھے کہ تیرھویں صدی سے بھیڑیوں نے بھی پناہ مانگی ہے، اور ہر چھوٹا بڑا یہی کہتا تھا کہ چودھویں صدی بڑی بابرکت ہوگی، کیونکہ اس میں اِمام مہدی علیہ السلام اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام تشریف لائیں گے۔‘‘

(عسلِ مصفی ج:۱ ص:۲۹ مصنفہ مرزا خدابخش ومصدقہ مرزا غلام احمد قادیانی)

ظاہر ہے کہ چودھویں صدی میں ظہورِ مہدی اور نزولِ عیسیٰ کا افسانہ محض ایک اٹکل پچو قیاس آرائی تھی، مگر مرزا غلام احمد مسیحِ قادیان نے اسے غلطی سے وحی منزل من اللہ سمجھ لیا، اور جب چودھویں صدی کے آغاز میں نہ مہدی آئے، نہ عیسیٰ علیہ السلام اُترے، تو انہوں نے اَزراہِ کرم اس عہدۂ جلیلہ کو پُر کرنے کے لئے اپنی خدمات پیش کردیں، اور مسندِ مسیحیت پر جلوہ افروز ہوتے ہی اِسلام کے مُسلَّمہ عقائد سے اِنحراف، اور نصوص میں مضحکہ خیز تحریف وتأویل کرکے ایک نیا ’’دِینِ مسیحی‘‘ ایجاد کرڈالا۔

مرزا صاحب جب ’’آخری زمانے‘‘ کا فلسفہ پیش کرکے اپنے ’’دِینِ مسیحی‘‘ کی بنیادیں اُٹھا رہے تھے، اس وقت انہیں کیا خبر تھی کہ زمانہ جب ایک صدی سے دُوسری صدی کی طرف کروَٹ بدلے گا تو ان کی خودساختہ مسیحیت کے تمام کس بل نکل جائیں گے؟ اور آنے والا مورّخ ان کا نام بھی انہی مسیحانِ کذّاب کی فہرست میں شامل کرے گا، جن کے بارے میں مرزا صاحب کی مصدقہ بائبل کے مطابق حضرت مسیح علیہ السلام نے یہ فرمایا تھا:

’’اور جب وہ زیتون کے پہاڑ پر تھا، اس کے شاگردوں نے الگ اس کے پاس آکر کہا کہ ہم کو بتا کہ یہ باتیں کب ہوں گی؟ اور تیرے آنے، اور دُنیا کے آخر ہونے کا نشان کیا ہوگا؟ یسوع نے جواب میں ان سے کہا کہ: خبردار! کوئی تم کو گمراہ نہ کردے، کیونکہ بہتیرے میرے نام سے آئیں گے، اور کہیں گے: ’’میں مسیح ہوں‘‘ اور بہت سے لوگوں کو گمراہ کردیں گے۔‘‘

(متی ب:۲۴، آیت:۵۰۳)

368

دیکھئے! حضرت مسیح علیہ السلام کی یہ پیشین گوئی کس صفائی سے حرف بحرف پوری ہوئی، بہت سے لوگوں نے لبادۂ مسیحیت اوڑھ کر خلقِ خدا کو گمراہ کیا، مگر چند دن بعد ان کے دعاوی کا سارا ملمع اُترگیا، ٹھیک یہی قصہ مسیحِ قادیان کے ساتھ پیش آیا، انہوں نے اپنی مسیحیت کی گواہی میں چودھویں صدی کو پیش کیا تھا، مگر آج خود انہی کا پیش کردہ گواہ ان کے کذب واِفترا کی شہادت دے رہا ہے، کاش! قادیانی مسیحیت کے سحرزدہ لوگوں کو اَب بھی اپنی بنیادی غلطی کی اِصلاح کے لئے توفیق ارزانی ہوجائے۔

سات ستمبر کے بعد

گزشتہ سال ریاست ربوہ کے خلیفہ مرزا ناصر صاحب اپنے مریدوں کو دھماکہ خیز بشارتیں سنارہے تھے، ادھر مرزائی، مسلمانوں کو علانیہ دھمکیاں دے رہے تھے کہ عنقریب ہماری حکومت آنے والی ہے، مگر قدرت کو کچھ اور منظور تھا، ۲۹؍مئی کو ربوہ اسٹیشن کا حادثہ پیش آیا، جو ۷؍ستمبر ۱۹۷۴ء کے ’’مرزائی غیرمسلم اقلیت‘‘ فیصلے پر منتج ہوا۔وَللہِ الْاَمْرُ مِنْ قَبْلُ وَمِنْ بَعْدُ ۔ ۷؍ستمبر کا آئینی فیصلہ مرزائی عزائم کے لئے صاعقۂ آسمانی ثابت ہوا، جس سے مرزائیوں کے خیالی محلات پیوندِ زمین ہوگئے، اور ان کا سب کیا دھرا خاک میں مل گیا، اس آئینی فیصلے سے مرزائیت پر کیا گزری؟ اس کا معمولی سا اندازہ ذیل کے مکتوب سے کیا جاسکتا ہے جو ’’الفرقان‘‘ ربوہ کے مدیر کے نام ان کے ایک مرزائی دوست نے لکھا ہے، اور جو مکتوب الیہ کے بقول ’’صدہا خطوط‘‘ میں سے ایک ہے:

’’محب محترم ابوالعطا صاحب! السلام علیکم! میں قریباً پانچ ماہ سے بستر پر پڑا ہوں، پُرانی بیماری عود کر آئی ہے، عزیز ڈاکٹر منور احمد نائیجریا سے نہیں آیا تھا کہ میں بیمار ہوگیا تھا۔ بیماری میں پنجاب پاکستان میں سخت ہنگاموں، لوٹ مار، لڑائی، جلائی، بائیکاٹ وغیرہ سے سخت پریشانی رہی، اور آخر میں اب ایسی سخت پریشانی بھٹو

369

صاحب نے ڈال دی ہے کہ میری رہتی سہتی جان بھی اب ختم ہونا چاہتی ہے، یا اس ملک سے نکل جانا چاہتی ہے، اس ملک کے واسطے ہم نے مسلمانوں کے ساتھ مل کر چندے دئیے، کوششیں کیں، لاہور ۱۹۴۰ء والے ریزولیشن کے پاس کرنے میں لاہور جاکر شامل ہوا، پھر پاکستان بنا، گھر امرتسر والا فسادیوں نے جلاکر خاک کردیا، یہاں آئے، سات آٹھ برس تک قائدِ اعظم کے پاکستان کا اثر رہا، پھر یہاں فساد ہوئے، دُکان جلائی گئی، مکان لوٹ لیا گیا، مارشل لا لگا، پھر اب۲۰برس کے بعد مارشل لا کی سی حالت ہوئی، پھر پٹائی ہوئی، بائیکاٹ ہوا، آگیں لگیں، لوگ گورنمنٹ کے قابو نہ آئے تو ہمیں جو قریباً دو سو برس سے جن کے اجداد مسلمان چلے آتے تھے، اور ان کی اولاد کو، جن میں پکے مسلمان صاحبِ کشوف ولی اللہ بھی تھے، اب بھٹو صاحب نے، جن کو ہم نے ووٹ دے کر اپنا ممبر کھڑا کیا، ہمیں ہی غیرمسلم کا فتویٰ دے کر مسلمانوں سے نکال دیا، انا ﷲ وانا الیہ راجعون۔

آپ ہی اب صرف میرے پُرانے عالم دوستوں میں سے رہ گئے ہیں، آپ کو میں عالم اور اپنا دوست ہونے کی وجہ سے مشورہ لینے کے لئے یہ خط لکھ رہا ہوں، آپ مجھ بیمار، غریب، نادار، کمزور، بجھے ہوئے دِل اور پریشان دِماغ والے اپنے دوست کو کیا مشورہ دیتے ہیں؟ میرا دِل چاہتا ہے کہ اس ملک سے نکل جاؤں، وہاں ہی مروں، اور پھر سلسلے کا خیال کرکے اور بھی ڈراؤنی صورتیں نظر آرہی ہیں، احمدیوں (مرزائیوں) کا کیا بنے گا؟ تبلیغ کا کیا بنے گا؟ اتنی محنت ہماری اب کیسے اُوپر کو چلے گی؟ اس خیال سے کہ باہر

370

تبلیغ ہم کرتے ہیں، اور ہمیں ہی غیرمسلم یہاں ملک نے بنادیا ہے، اس کا جواب کیا ہوگا؟ اللہ تعالیٰ نے ہم کمزوروں پر اتنا سخت ابتلا کیوں ڈال دیا ہے؟

خاکسار

آپ کا پُرانا دوست

غمزدہ

ڈاکٹر محمد منیر امرتسری

۱۰؍۹؍۱۹۷۴ء۔‘‘

(’’الفرقان‘‘ ربوہ ستمبر ۱۹۷۴ء)

۷؍ستمبر ۱۹۷۴ء کے آئینی فیصلے کے بعد بہت سے سعادت مندوں کو مرزائیت سے تائب ہوکر دوبارہ حلقۂ اِسلام میں آنے کی توفیق ہوئی، اور بعض نے مرزا محمود احمد سابق خلیفہ ربوہ کی سنت کے مطابق تقیۂ نفاق کا لبادہ اوڑھ لیا۔ مرزا بشیرالدین صاحب سابق خلیفہ ربوہ کے نزدیک جو لوگ ان کے اباحضور ...مرزا غلام احمد... کی خودساختہ نبوّت پر اِیمان نہیں لائے، وہ کافر اور دائرۂ اسلام سے خارج ہیں، مگر حکیم نوردین کے زمانے میں جب وہ حج کے لئے مکہ مکرمہ گئے تو بلاتکلف انہیں کافروں کی اِقتدا میں نمازیں پڑھتے رہے۔ (مباحثہ راولپنڈی ص:۲۲۶) بعد میں اپنے ڈیرے پر آکر ان کو لوٹالیتے ہوں گے۔ صنادیدِ مرزائیت بھی کچھ دنوں تک مبہوت رہے، اور ان پر ’’نہ جائے رفتن نہ پائے ماندن‘‘ کی کیفیت طاری رہی، تاہم محتاط لفظوں میں قومی اسمبلی اور اِسلامیانِ پاکستان پر طنز وتحقیر، اور طعن وتشنیع کے تیر ونشتر بھی چلاتے رہے، لیکن جلد ہی مرزائیت کی شکستہ کشتی کی اِصلاح ومرمت کے لئے تدابیر سوچی گئیں، ایک اِطلاع کے مطابق ربوہ میں نیا قطعہ اراضی حاصل کیا گیا، اور جہاں تہاں سے مرزائیوں کو لاکر انہیں وہاں آباد کرنے، اور اِسرائیل کی طرح اسے ناقابلِ تسخیر اسٹیٹ بنانے کا نیا نقشہ مرتب کیا گیا، آئینی فیصلے میں تعویق واِلتوا کے لئے دوڑ دُھوپ کی گئی، مسلمانوں کے درمیان تفریق واِنتشار پیدا کرنے، اور انہیں ایک

371

دُوسرے سے لڑانے کے لئے خاکے مرتب کئے گئے، پاکستان کی ملتِ اسلامیہ اور حکومت کے خلاف نفرت پھیلانے کے لئے بیرون ملک خوب پروپیگنڈا کیا گیا، اور قصرِ خلافت ربوہ سے جنوری ۱۹۷۵ء میں نئی خوشخبری سنانے کا اِعلان ہوا، جس کے نہ معلوم کیا کیا منصوبے زیرِ غور ہوں گے۔

زور آور حملے

مختصر یہ کہ ۷؍ستمبر ۱۹۷۴ء کے بعد مرزائیت پر یاس وقنوط کی فضا چھاگئی تھی، مگر صنادیدِ مرزائیت نے اس نیم بسمل کو ’’اِلہامات‘‘ کے انجکشن دے کر پھر مرزائیت کے غلبے واعلا کے سبز باغ دِکھانے شروع کردئیے، چنانچہ اُوپر ڈاکٹر محمد منیر صاحب کا جو خط درج کیا گیا ہے، اس پر مدیر ’’الفرقان‘‘ ...ابوالعطا اللہ دتہ صاحب... نے یہ نوٹ لکھا ہے:

’’مذہبی تاریخ پر نظر رکھیں کہ ہر زمانے کے فرستادہ کو دُنیا کے لوگ اسی طرح دُھتکارتے رہے، مگر آخرکار سچائی کی فتح ہوتی رہی ہے۔ حضرت مسیحِ موعود (مرزا غلام احمد) کے اِلہام پر غور فرمائیں کہ: دُنیا میں ایک نذیر (مرزا) آیا، پر دُنیا نے اس کو قبول نہ کیا، لیکن خدا اسے قبول کرے گا، اور بڑے زورآور حملوں سے اس کی سچائی ظاہر کردے گا۔‘‘

اس اِلہام کے ذِکر کرنے سے مدیر ’’الفرقان‘‘ کا مقصد مرزائی برادری کو یہ تسلی دینا ہے کہ مسلمانوں کا مذہب مرزاجی کے اِلہام کے مطابق سچا نہیں، بلکہ مرزاجی کا ’’مسیحی مذہب‘‘ سچا ہے، اور خدا ...معاذاللہ... اِسلام کے مقابلے میں اس کی سچائی ظاہر کرنے کے لئے زورآور حملے کرے گا۔

فرزندِ جلیل؟

اب مرزائیت بزعمِ خود ’’خدا کے زورآور حملوں‘‘ کے لئے تیار، اور نئے اسلحے سے مسلح ہوکر میدانِ وغا ...کارزار... میں پھر خم ٹھونک کر نکلی ہے، اور مسلمانوں کی غیرت کو

372

للکارنے کی ’’مقدس مہم‘‘ کا آغاز پھر سے ہو رہا ہے، ملاحظہ فرمائیے:

الف:... ’’چونکہ سیّدنا مسیحِ موعود (مرزا غلام احمد قادیانی) اس آخری زمانے میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے فرزندِ جلیل کی حیثیت میں اِحیا وغلبۂ اِسلام کی غرض سے بھیجے گئے تھے ......۔‘‘

(روزنامہ ’’الفضل‘‘ ربوہ ۹؍دسمبر ۱۹۷۴ء)

ب:... ’’اللہ تعالیٰ نے جب اس زمانے میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی پیش گوئی کے بموجب آنحضور (صلی اللہ علیہ وسلم) کے فرزندِ جلیل حضرت مسیحِ موعود (مرزا صاحب) کو اِحیا وغلبہ اسلام کی غرض سے مبعوث کرنے کا اِرادہ فرمایا تو ......۔‘‘

(’’الفضل‘‘ ۱۹؍دسمبر ۱۹۷۴ء)

مرزائیت کی بوالعجبی دیکھو! مرزا غلام احمد ایسے اسود عنسی اور مسیلمہ کذّاب کو کس ڈھٹائی کے ساتھ بار بار آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا ’’فرزندِ جلیل‘‘ باور کرایا جاتا ہے، اور جو شخص خود حلقۂ اِسلام میں داخل نہیں، اسے ’’اسلام کے اِحیا وغلبہ‘‘ کے لئے مبعوث بتایا جاتا ہے:

تفو بر تو اے چرخِ گرداں تفو!

وَآخِرُ دَعْوَانَا اَنِ الْحَمْدُللہِ رَبِّ الْعَالَمِیْنَ

وَصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی خَیْرِ خَلْقِہٖ مُحَمَّدٍ وَّآلِہٖ وَاَصْحَابِہٖ اَجْمَعِیْنَ

(ماہنامہ ’’بینات‘‘ کراچی محرم ۱۳۹۵ھ مطابق فروری ۱۹۷۵ء)

373

قادیانی پیش گوئیوں کا انجام!

مرزائی اِرادے اور خدائی اِرادے

بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ

اَلْحَمْدُللہِ وَسَلَامٌ عَلٰی عِبَادِہِ الَّذِیْنَ اصْطَفٰی!

مرزا محمود احمد صاحب سابق خلیفہ ربوہ نے ۲۳؍جولائی ۱۹۴۸ء کو پارک ہاؤس کوئٹہ میں خطبہ جمع کے دوران کہا تھا:

’’مجھے ہزارہا غیراحمدی ملے ہیں اور وہ کہتے ہیں کہ احمدی بولتے بہت زیادہ ہیں، اور یہ سچ ہے، جب کوئی احمدی بولنے لگ جاتا ہے تو پھر وہ چپ ہونے کا نام ہی نہیں لیتا، اور اگر موقع ملے تو مخاطب کو اِتنا تنگ کرتا ہے کہ اسے اپنی جان چھڑانی مشکل ہوجاتی ہے۔ مگر مصیبت یہ ہے کہ وہ بولتا ہی نہیں، اگر بولے تو پھر دُوسرے کو پیچھا چھڑانا مشکل ہوجائے، ہماری مثال تو ایسی ہے کہ لوگ کہتے ہیں: مردہ بولے کفن پھاڑے۔‘‘

(’’الفضل‘‘ ۱۳؍اگست ۱۹۴۸ء)

مرزا محمود صاحب کی یہ مثال مجھے ان کے صاحبزادہ گرامی قدر جناب مرزا ناصر احمد خلیفہ ربوہ کے ایک خطبے سے یاد آئی، خلیفہ جی نے ۱۷؍جنوری ۱۹۷۵ء کے خطبے میں اپنے مریدوں کو نئی ہدایات جاری کرتے ہوئے کہا:

’’اگلے چودہ سال کا زمانہ میرے نزدیک تربیت پر بہت زور دینے کا زمانہ ہے، جس میں ہزاروں ہزار احمدیوں کو تربیت یافتہ ہونا چاہئے، اور پھر اس کے بعد جیسا کہ میں نے پہلے بھی کئی دفعہ بتایا

374

ہے غلبۂ اِسلام کی صدی کا ہم نے استقبال کرنا ہے۔

پس انصارُ اللہ اپنی ذمہ داری کو سمجھیں اور تربیت کا پروگرام بنائیں ...۔۔ جبکہ غلبۂ اِسلام کی اس عالمگیر اور ہمہ گیر جدوجہد میں وسعتیں پیدا ہوں اور اس وقت ہزاروں مربیوں کی ضرورت ہو تو ہزاروں لاکھوں مربی موجود ہوں تاکہ دُنیا کو سنبھالا جاسکے۔‘‘

(روزنامہ ’’الفضل‘‘ ربوہ ۲۱؍فروری ۱۹۷۵ء)

غلبۂ اِسلام کا خواب اور اس کی اُلٹ تعبیر:

خلیفہ جی کے اس ’’کفن پھاڑ پروگرام‘‘ کو پڑھ کر ہمیں ان کے گزشتہ سال کے خطبے یاد آنے لگے، جن میں انہوں نے سات سال کے اندر اندر اپنی جماعت کو ’’غلبۂ اِسلام‘‘ کی تیاریاں مکمل کرنے کا حکم فرمایا تھا، اتنے کروڑ روپے جمع کردو، اتنے لاکھ سائیکلیں خرید لو، اتنے ہزار گھوڑے مہیا رکھو، سو میل یومیہ سائیکل چلانے کی مشق کرو، غلیل بازی میں مشاق ہوجاؤ، اور مجھ سے ان اَحکام کی مصلحت نہ پوچھو، کیوں؟ کیونکہ:

’’ہمیں یقین دِلایا گیا ہے کہ اسلام کے غلبے کا زمانہ آگیا، ہمیں یہ بتایا گیا ہے کہ وہ تمام بشارتیں جو اُمتِ مسلمہ کو یہ کہہ کر دی گئی تھیں کہ ایک جماعت پیدا ہوگی جس کے ذریعے اسلام ساری دُنیا میں غالب آئے گا، ان کے پورے ہونے کا وقت آگیا ہے ......۔ اسلام کے عالمگیر غلبے کی خوشیاں ہی ہمارے لئے حقیقی خوشیاں ہیں۔‘‘

(خطبہ عیدالفطر مندرجہ ’’الفضل‘‘ ۲۶؍فروری ۱۹۷۴ء)

خلیفہ صاحب کی ان اِلہامی بشارتوں کے نشے سے مخمور ہوکر ’’الفضل‘‘ نے ۹؍مارچ ۱۹۷۴ء کو ’’مخالفینِ حق کی رَوِش اور ان کا انجام‘‘ کے زیرِ عنوان ایک تیزوتند اِداریہ سپردِ قلم فرمایا جس میں اپنے مخالفین کی تباہی کی پیش گوئی کرتے ہوئے لکھا:

’’خدا تعالیٰ نے حقیقی اِسلام (مرزائیت) کو دُنیا میں

375

غالب کرنے کا فیصلہ کردیا ہے، وہ بہرصورت غالب آئے گا، کون ہے جو خدا کے فیصلے کو بدل سکے؟ اسلام کے غلبے کا ایک لازمی نتیجہ یہ بھی ہے کہ جو قومیں اپنی کثرت اور طاقت وقوّت کے گھمنڈ میں اسلام اور اس کے حقیقی عَلم برداروں کے درپے آزار ہیں اور انہیں کالعدم کرنے کے منصوبے بنارہی ہیں، اگر وہ اپنی اس رَوِش سے باز نہ آئیں تو پھر ان کا اس اَنجام سے دوچار ہونا یقینی ہے۔‘‘

لیکن ہوا یہ کہ خلیفہ جی کا ’’غلبۂ اِسلام کا وقت آگیا‘‘ کا اِعلان ابھی فضا میں گونج رہا تھا کہ خود خلیفہ جی کے شہر میں انہی مریدوں کے ہاتھوں ۲۹؍مئی ۱۹۷۴ء کو ایک ایسا حادثہ رُونما ہوا جو ۷؍ستمبر ۱۹۷۴کے ’’مرزائی غیرمسلم اقلیت فیصلے‘‘ پر منتج ہوا، گویا سات سال میں مرزائیت کے غالب آنے کا جو خواب خلیفہ صاحب نے دیکھا تھا، سات مہینے کے اندر اندر اس کی اُلٹ تعبیر سب کے سامنے آگئی۔ اب خلیفہ جی نے تازہ دم ہوکر غلبۂ اِسلام کی صدی شروع کرنے کا نیا اِعلان فرمایا ہے۔ صدی شروع ہونے میں ...سالِ رواں چھوڑکر... صرف پانچ سال باقی ہیں، ہمیں خطرہ ہے کہ گزشتہ اِعلانات کے مطابق نئی صدی کا آغاز قادیانیت کے لئے پیامِ اَجل ہی ثابت نہ ہو۔

بندوں کی مختلف شانیں:

دراصل اللہ تعالیٰ کا معاملہ اپنے مختلف بندوں کے ساتھ مختلف ہوا کرتا ہے، اللہ تعالیٰ کے بعض بندے وہ ہیں جو کسی کشف واِلہام سے نہیں، بلکہ اپنے ذاتی خیال سے بھی کوئی بات کہہ دیتے ہیں تو اللہ تعالیٰ ان کی بات پوری کردیتا ہے، حدیث میں اِرشاد ہے:

’’رُبَّ اَشْعَثَ مَدْفُوْعٌ بِالْأَبْوَابِ لَوْ أَقْسَمَ عَلَی اللہِ لَأَبَرَّہٗ۔‘‘

(صحیح مسلم)

ترجمہ:... ’’بہت سے پراگندہ منہ، جنہیں دروازوں سے دھکے دئیے جاتے ہیں، اللہ تعالیٰ کے یہاں ان کا مرتبہ اتنا بلند ہے

376

کہ اگر وہ قسم کھاکر کہیں کہ اللہ تعالیٰ ایسا کرے گا تو اللہ تعالیٰ ان کی قسم پوری کردیں گے۔‘‘

اور بعض بندوں سے معاملہ اس کے برعکس ہوتا ہے، کہ وہ جب بھی کسی امر کا اِظہار کرتے ہیں تو قضاوقدر کا فیصلہ اس کے خلاف ہوتا ہے، مسیلمہ کذّاب جو ’’مسیحِ یمامہ‘‘ کے لقب سے مشہور تھا، اس کے بارے میں اس قسم کے بہت سے اُمور منقول ہیں کہ اس نے جو خوشخبری دی، نتیجہ اس کے برعکس ہوا۔

مسیحِ قادیان سے اللہ تعالیٰ کا معاملہ:

مرزا غلام احمد صاحب کی تاریخ تجدید ومسیحیت پر قادیانی دوستوں کی دُوسروں سے زیادہ نظر ہوگی، وہ اگر مرزا صاحب کی تاریخ پر غور کریں گے تو انہیں نظر آئے گا کہ مرزا صاحب کو اللہ تعالیٰ نے ایک نہ ختم ہونے والے ’’اِبتلا‘‘ کے لئے پیدا کیا تھا، اور قریباً ایک صدی سے یہ ’’اِبتلائی شان‘‘ ان کا اور ان کے متبعین کا طرۂ اِمتیاز ہے۔ مرزا صاحب نے جو بات بھی بطور تحدی کے جزم وثوق کے ساتھ شائع کی، اس کا نتیجہ بطورِ اِبتلا برعکس ہی نکلا، جس کام کے کرنے یا ہونے کا انہوں نے اِرادہ کیا، قضاوقدر نے اس کی ضد کے سامان پیدا کردئیے، اور جس چیز کو مرزا صاحب نے چاہا، اللہ تعالیٰ نے اس کے خلاف فیصلہ فرمایا۔

مرزا صاحب کا دورِ تجدید:

مرزا صاحب نے اپنی پہلی کتاب ’’براہین احمدیہ‘‘ (حصہ اوّل) ۱۸۸۰ء میں شائع کی اور اس میں اپنے مأمور من اللہ اور مجدّدِ وقت ہونے کا اِعلان فرمایا، اور ۱۸۹۱ء میں مسیحِ موعود ہونے کا اِعلان فرمایا، گویا اس وقفے کو مرزا صاحب کا تجدیدی دور کہا جاسکتا ہے، اور اس کے بعد ۱۹۰۱ء تک ’’مسیحی دور‘‘ کہنا چاہئے اور ۱۹۰۱ء سے ان کا دورِ نبوّت شروع ہوا جو ۲۶؍مئی ۱۹۰۸ء پر ختم ہوا۔

براہین احمدیہ:

۱:... تجدیدی دور میں مرزا صاحب نے براہین احمدیہ میں حقانیتِ قرآنِ کریم پر

377

تین سو دلائل پیش کرنے کا اِعلان فرمایا، لیکن تقدیر کا فیصلہ اس کے برعکس تھا، چنانچہ پہلی دلیل ابھی نامکمل تھی کہ براہین احمدیہ کی اِشاعت خدا نے ملتوی کردی۔

۲:... مرزا صاحب نے براہین احمدیہ کی پچاس جلدیں لکھنے کا اِرادہ ظاہر کیا تھا، مگر تقدیر آڑے آئی اور چار حصوں کے بعد ۲۳برس تک پانچواں حصہ بھی ملتوی رہا، پھر پانچ کے ہندسے پر ایک نقطہ لگاکر پچاس کا عدد پورا کرنا پڑا، اور یہ حصہ بھی بعد اَز وفات منصہ شہود پر آیا۔

مصلحِ موعود:

مشیتِ اِلٰہی کا فیصلہ کس طرح مرزا صاحب کی خواہش کے خلاف ہوتا رہا؟ اس کی ایک مثال مصلحِ موعود کی پیش گوئی ہے، جس میں اِرادۂ خداوندی نے بار بار مرزا صاحب کے اِرادوں کو شکست دی، مثلاً:

۱:... ۲۰؍فروری ۱۸۸۶ء کو ایک لڑکے کے تولد کی خوشخبری سنائی، جس کی طویل وعریض صفات بیان فرمائیں، بعد میں یہ ’’مصلحِ موعود‘‘ کی پیش گوئی کے نام سے مشہور ہوئی، بہت سے لوگوں نے ’’پسرِ موعود‘‘ ہونے کا دعویٰ کیا مگر نہ یہ صفات آج تک کسی میں پائی گئیں، نہ باتفاق اسے مصلحِ موعود تسلیم کیا گیا، نہ مرزا صاحب خود ہی اس بارے میں کوئی واضح فیصلہ اپنی زندگی میں کرسکے، بلکہ ساری عمر شک وتذبذب میں مبتلا رہے۔

۲:... ۲۲؍مارچ ۱۸۸۶ء کو اس کے لئے نو سال کی مدّت تجویز فرمائی مگر نو سال کے اندر ایسا کوئی لڑکا پیدا نہیں ہوا۔

۳:... ۸؍اپریل ۱۸۸۶ء کو فرمایا کہ: ’’ایک لڑکا بہت ہی قریب ہونے والا ہے جو ایک مدّتِ حمل سے تجاوز نہیں کرسکتا۔‘‘ مگر مدّتِ حمل میں بھی لڑکا نہ ہوا۔

۴:... ۷؍اگست ۱۸۸۷ء کو ایک لڑکے کی ولادت ہوئی تو فوراً خوشخبری کا اِشتہار دیا اور اس میں لکھا:

’’اے ناظرین! میں آپ کو بشارت دیتا ہوں کہ وہ لڑکا

378

جس کے تولد کے لئے میں نے اِشتہار ۸؍اپریل ۱۸۸۶ء میں پیش گوئی کی تھی اور خدا تعالیٰ سے اِطلاع پاکر اپنے کھلے کھلے بیان میں لکھا تھا کہ اگر وہ حمل موجودہ میں پیدا نہ ہوا تو دُوسرے حمل میں جو اس کے قریب ہے ضرور پیدا ہوجائے گا، آج ...۔۔ وہ مولودِ مسعود پیدا ہوگیا۔‘‘

(مجموعہ اِشتہارات ج:۱ ص:۱۴۱)

تقدیر یہاں بھی تدبیر پر غالب آئی، اور ۳؍نومبر ۱۸۸۸ء کو ’’وہ لڑکا‘‘ داغِ مفارقت دے گیا۔

۵:... ۱۲؍جنوری ۱۸۸۹ء کو میاں محمود احمد کی ولادت ہوئی تو مرزا صاحب نے پھر اِشتہار دیا کہ:

’’آج ...... اس عاجز کے گھر میں بفضلہ تعالیٰ ایک لڑکا پیدا ہوگیا ہے، جس کا نام بالفعل محض تفاؤل کے طور پر بشیر اور محمود بھی رکھا گیا ہے، اور کامل اِنکشاف کے بعد پھر اِطلاع دی جائے گی، مگر ابھی تک مجھ پر یہ نہیں کھلا کہ یہی لڑکا مصلحِ موعود اور عمر پانے والاہے یا وہ کوئی اور ہے۔‘‘

(حاشیہ مجموعہ اِشتہارات ج:۱ ص:۱۹۱)

۶:... اس کے بعد ۱۹ برس تک مرزا صاحب زندہ رہے، کامل اِنکشاف کے بعد پھر کوئی اِطلاع نہ دی کہ مرزا میاں محمود ہی مصلحِ موعود ہے، تاآنکہ ۲۸؍فروری ۱۹۴۴ء کو مرزا صاحب کی وفات کے ۳۶ سال بعد مرزا محمود صاحب نے بالہامِ اِلٰہی مصلحِ موعود ہونے کا اِعلان کیا، مگر خود اپنے والد کے ’’صحابہ‘‘ سے وہ اپنا یہ دعویٰ تسلیم نہ کراسکے، بلکہ لاہوری جماعت نے ان پر ایسے سنگین اور گھناؤنے اِلزامات لگائے ...اور اب تک لگائے جارہے ہیں... جن کی موجودگی میں مصلحِ موعود تو کجا! انہیں عام انسانوں کا درجہ دینا بھی وہ تسلیم نہیں کرتے۔

۷:... جنوری ۱۸۹۷ء میں مرزا صاحب نے تحریر فرمایا کہ یہ مصلحِ موعود آسمانی منکوحہ سے پیدا ہوگا (ضمیمہ انجامِ آتھم ص:۵۳، رُوحانی خزائن ج:۱۱ ص:۳۳۷) مگر تقدیر

379

یہاں بھی مانع ہوئی، چنانچہ آسمانی منکوحہ مرزا صاحب کے نکاح ہی میں نہ آنے دی گئی، اس سے اولاد کیسے ہوتی...؟

۸:... ۱۴؍جون ۱۸۹۷ء کو صاحبزادہ مبارک احمد کی ولادت ہوئی تو مرزا صاحب نے ’’تریاق القلوب‘‘ میں اس کو ’’مصلحِ موعود‘‘ والی پیش گوئی کا مصداق قرار دے کر گویا مرزا محمود کے ’’مصلحِ موعود‘‘ ہونے کی نفی کردی، لیکن تقدیر یہاں بھی مسکرائی اور ۱۶؍ستمبر ۱۹۰۷ء کو یہ صاحبزادہ مبارک احمد بھی مرزا صاحب کی کشتِ تمنا کو خزاںنصیب کرکے ملکِ بقا کو سدھارے۔

۹:... اکیس برس تک تقدیر مرزا صاحب کو مصلحِ موعود کی پیش گوئی کے دریائے ناپیدا کنار میں ہچکولے دیتی رہی، لیکن مرزا صاحب پھر بھی مایوس نہ ہوئے، نہ معاملۂ خداوندی سے عبرت پذیر ہوئے، بلکہ مبارک احمد کی وفات پر ایک ’’نئے یحییٰ‘‘ کی خوشخبری کا اِعلان کردیا، مگر افسوس ہے کہ یحییٰ صاحب کی تشریف آوری سے پہلے ہی مرزا صاحب کا پیمانۂ عمر لبریز ہوگیا اور مصلحِ موعود کی پیش گوئی دھری کی دھری رہ گئی۔

خواتینِ مبارکہ:

۲۰؍فروری ۱۸۸۶ء کے اِشتہار میں مرزا صاحب نے تحدی آمیز خدائی اِعلان کیا تھا کہ:

’’خدائے کریم جل شانہ‘ نے مجھے بشارت دے کر کہا کہ تیرا گھر برکت سے بھرے گا اور میں اپنی نعمتیں تجھ پر پوری کروں گا، اور خواتینِ مبارکہ سے جن میں سے تو بعض کو تو اس کے بعد پائے گا، تیری نسل بہت ہوگی۔‘‘

اس اِعلان کے بعد مرزا صاحب کو کوئی نئی ’’خاتون مبارک‘‘ تو نصیب نہ ہوئی، البتہ ایک ’’خاتون مبارک‘‘ کو طلاق ضرور ہوئی، شاید ’’خدائی بشارت‘‘ کی تعبیر یہی ہوگی کہ بعض صاحبِ اولاد خواتینِ مبارکہ تیرے حبالۂ عقد سے آزاد ہوجائیں گی اور تیرا گھر اُجڑ

380

جائے گا، بیٹے عاق ہوجائیں گے، بہو کو طلاق ہوجائے گی، اور ایک نئی سنتِ مسیحی قائم ہوجائے گی...!

کنواری اور بیوہ:

۱۸۹۹ء میں مرزا صاحب نے خدائی اِعلان جاری کیا کہ قریباً اٹھارہ سال قبل بکر وثیّب کا اِلہام ہوا تھا:

’’خدا تعالیٰ کا اِرادہ ہے کہ وہ دو عورتیں میرے نکاح میں لائے گا، ایک بکر ہوگی اور دُوسری بیوہ۔ چنانچہ یہ اِلہام جو بکر کے متعلق تھا پورا ہوگیا ...۔۔ اور بیوہ کے اِلہام کی اِنتظار ہے۔‘‘

(تریاق القلوب ص:۳۴، رُوحانی خزائن ج:۱۵ ص:۲۰۱)

مرزا صاحب کو تادَمِ واپسیں بیوہ کا اِنتظار رہا، نہ جانے خدا تعالیٰ نے مرزا صاحب کی کون سی غلطی دیکھ کر اِلہامی اِرادہ تبدیل فرمالیا...؟

نیک سیرت اہلیہ:

۸؍جون ۱۸۸۶ء کو مرزا صاحب نے مولوی نوردین کو لکھا کہ:

’’شاید چار ماہ کا عرصہ ہوا کہ اس عاجز پر ظاہر کیا گیا تھا کہ ایک فرزند قوی الطاقتیں، کامل الظاہر والباطن تم کو عطا کیا جائے گا، سو اس کا نام بشیر ہوگا، میرا قیاسی طور پر خیال تھا کہ شاید وہ فرزند مبارک اسی اہلیہ سے ہوگا۔ اب زیادہ تر اِلہام اسی بات پر ہو رہے ہیں کہ عنقریب ایک عدد نکاح تمہیں کرنا پڑے گا اور جنابِ اِلٰہی میں یہ بات قرار پاچکی ہے کہ ایک پارسا طبع اور نیک سیرت اہلیہ تمہیں عطا ہوگی، وہ صاحبِ اولاد ہوگی۔‘‘

(مکتوباتِ احمدیہ ج:۵ ص:۲)

افسوس ہے کہ ’’اِلہامات‘‘ کے باوجود نہ کوئی پارسا طبع اور نیک سیرت اہلیہ انہیں عطا ہوئی، نہ اِلہامی فرزند متولد ہوا۔

381

تیسری شادی

تقدیرِ مبرم:

۲۰؍جون ۱۸۸۶ء کو مرزا صاحب نے مولوی نوردین کو لکھا کہ:

’’اس عاجز کی یہ عادت ہے کہ اپنے احباب کو ان کی قوّتِ اِیمانی بڑھانے کی غرض سے کچھ کچھ اُمورِ غیبیہ بتادیتا ہے، اور اصل حال اس عاجز کا یہ ہے کہ جب سے اس تیسرے نکاح کے لئے اِشارۂ غیبی ہوا ہے، تب سے خود طبیعت متفکر ومتردّد ہے، اور حکمِ اِلٰہی سے گریز کی جگہ نہیں، مگر بالطبع کارہ ہے، اور ہر چند اوّل اوّل چاہا کہ یہ اَمرِ غیبی موقوف رہے مگر متواتر اِلہامات اور کشوف اس بات پر دلالت کر رہے ہیں کہ یہ تقدیرِ مبرم ہے۔‘‘

(مکتوباتِ احمدیہ ج:۵ ص:۲)

لیکن افسوس ہے کہ مرزا صاحب کے یہ متواتر اِلہامات بھی غلط نکلے، اور نکاح کا نہ ہونا ’’تقدیرِ مبرم‘‘ ثابت ہوا۔

محمدی بیگم:

’’مرزا صاحباں‘‘ کی طرح ’’مرزا محمدی‘‘ کا قصہ بھی شہرۂ آفاق ہے، مرزا صاحب نے اپنے اعزہ میں ایک لڑکی ...محمدی بیگم... کا رِشتہ طلب کیا، مگر منظور نہ ہوا، ترغیب وتہدید سے کام لیا، مگر غیرمفید ثابت ہوا، منّت سماجت، خوشامد وسفارش کی ساری ترکیبیں غیرمؤثر ثابت ہوئیں، مرزا صاحب نے اس موضوع پر اِتنا لکھا کہ ایک دِلچسپ الف لیلیٰ مرتب ہوسکتی ہے، یہاں اس کا آغاز واَنجام ملاحظہ فرمائیے:

سلسلۂ جنبانی:

مرزا صاحب نے اس نکاح کی جانب اِشارہ اگرچہ ۲۰؍فروری ۱۸۸۶ء کے تحدی آمیز اِشتہار میں بھی کیا تھا، مگر باقاعدہ سلسلۂ جنبانی کے لئے ۲۰؍فروری ۱۸۸۸ء کو

382

محمدی بیگم کے والد مرزا احمد بیگ کے نام خدائی حکم نامہ بھیجا کہ:

’’ابھی مراقبے سے فارغ ہی ہوا تھا کہ کچھ غنودگی سی ہوئی اور خدا کی طرف سے یہ حکم ہوا کہ احمد بیگ کو مطلع کردے کہ وہ بڑی لڑکی کا رشتہ منظور کرے ...... اور میں نے اس کا حکم پہنچادیا تاکہ اس کے رحم وکرم سے حصہ پاؤ ...... اور اس کے علاوہ میری املاک خدا کی اور آپ کی ہے۔‘‘

(قادیانی مذہب طبع جدید فصل آٹھویں ص:۴۵۶)

اِعلانِ فسخ:

۲۰؍فروری ۱۸۸۶ء سے ۱۹۰۷ء تک مرزا صاحب اس خواہش کی تکمیل کے منتظر رہے، لیکن خدا کو منظور نہ ہوا، آخرکار حقیقۃ الوحی میں مرزا صاحب نے فسخِ نکاح کا اِعلان کردیا۔

(تتمہ حقیقۃ الوحی ص:۱۳۳، رُوحانی خزائن ج:۲۲ ص:۵۷۰)

صد شکر کہ آپہنچا لبِ گور جنازہ

لو بحرِ میّت کا کنارہ نظر آیا!

آتھم کا غم:

۵؍جون ۱۸۹۳ء کو مرزا صاحب نے اپنے دجال ...عبداللہ آتھم... کو پندرہ مہینے بہ سزائے موت ہاویہ میں گرانے کا آسمانی حربہ چلایا، ۵؍ستمبر ۱۸۹۴ء اس کی آخری میعاد تھی، مرزا صاحب نے اپنے لاؤ لشکر سمیت اس کی موت کے لئے ہزارہا جتن کئے، ٹونے ٹوٹکے بھی کئے کرائے، دُعائیں بھی کیں، مگر یہ حربہ بھی بہ تقدیرِ خداوندی ناکام رہا۔ مرزا صاحب کی ناکامی دیکھ کر بعض مرزائی عیسائی بن گئے اور مرزا صاحب کو کافی دِقتیں اُٹھانا پڑیں۔

الغرض جب سے مرزا صاحب ’’مسیحِ موعود‘‘ بنے، خدا تعالیٰ کی مشیت نے فیصلہ کرلیا کہ مرزا صاحب جو کچھ کہیں، واقعہ اس کے خلاف رُونما ہوا کرے۔ خود غلبۂ اِسلام کی پیش گوئی جو مرزا صاحب نے فرمائی تھی، اس کا اَنجام ایک صدی بعد بھی یہی نکلا کہ مرزا صاحب اور ان کے متبعین کو خارج اَزاِسلام قرار دے دیا گیا۔ قادیانی صاحبان اس فقیر کی

383

پیش گوئی نوٹ کرلیں کہ مرزا صاحب کی ’’غلبۂ اِسلام کی پیش گوئی‘‘ کبھی پوری نہیں ہوگی۔ اِسلام اِن شاء اللہ ضرور غالب آئے گا، مگر اصل مسیح علیہ السلام کے ذریعے، کسی نقلی مسیح کے ذریعے نہیں۔ قادیانی لیڈر جب بھی قادیانیت کے غلبے کی بڑ ہانکتے سنائی دیں، تو سمجھ لینا چاہئے کہ تقدیر کا فیصلہ اس کے اُلٹ ہونے والا ہے۔

(ہفت روزہ ’’لولاک‘‘ لائل پور ۷؍اپریل ۱۹۷۵ء)

384

مسیحِ قادیان کی عبرتناک ناکامی

اور اِسلام کے بارے میں مرزائیوں کی دشنام طرازی

بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ

اَلْحَمْدُللہِ وَسَلَامٌ عَلٰی عِبَادِہِ الَّذِیْنَ اصْطَفٰی!

حال ہی میں لاہوری مرزائیوں کا شائع کردہ ایک پمفلٹ نظر سے گزرا، جس میں لاہوری مرزائیوں کے اَمیرِ اوّل مسٹر محمد علی صاحب ایم اے کے ’’دو خطبے‘‘ درج ہیں۔ یہ پمفلٹ غالباً ۱۹۸۳ء میں شائع ہوا تھا، اس کے دو اِقتباس قارئین کی خدمت میں ہدیہ کرتا ہوں۔

۱:... ’’یورپ میں اسلام کے خلاف خوفناک طیاریاں‘‘ کے زیرِ عنوان فرماتے ہیں:

’’آج ایک صاحب کا خط آیا ہے، ان سے میری معمولی ملاقات ہے، جہاں تک یاد پڑتا ہے کسی چائے کی مجلس میں تعارف ہوا تھا، آج کل وہ حصولِ تعلیم کی غرض سے ولایت میں ہیں، وہیں سے انہوں نے یہ خط تحریر کیا ہے۔ اس میں لکھتے ہیں:

اس عیسائی دُنیا میں بحیثیت مذہب اسلام کو مٹادینے کے لئے بہت اِہتمام سے تیاریاں ہو رہی ہیں، بے شمار کتابیں اِسلامی ممالک اور اِسلامی معاشرت کے متعلق چھپ رہی ہیں، تاکہ عیسائی مبلغین کو ان ممالک میں عیسوی تبلیغ میں اِمداد دے سکیں، مسلمانوں کے عادات، خصائل، رسم ورِواج، ان کے نقائص، ان کی خوبیاں سب کچھ عیسائی پادری کی معلومات کا حصہ بن رہی ہیں، اس کے

385

علاوہ تقریباً ہر یونیورسٹی میں ایک عالم وفاضل پروفیسر آف اسلامکس مقرّر ہے، جو عام طور پر پادری یا یہودی ہوتا ہے۔ کالجوں اور یونیورسٹیوں کے علیحدہ علیحدہ مشن ہیں، جو ایشیا اور افریقہ میں نہایت کامیاب کام کر رہے ہیں۔ اس کے علاوہ بے شمار پادری اور دُوسرے عیسائی عربی زبان کی تعلیم حاصل کرتے رہتے ہیں، اور عربی کے فاضل انگلستان میں، افغانستان یا اِیران سے زیادہ ہوں گے، اور یہ سب اِہتمام تخریبِ اِسلام پر صَرف ہو رہے ہیں۔‘‘

مسٹر محمد علی کا یہ اِقتباس قادیانیوں کے لئے عبرت کا مرقع اور قادیان کے نام نہاد مسیح کی ناکامی پر زبردست شہادت ہے۔ قادیانی مسیح ۱۹۰۸ء میں مرچکا تھا، لیکن اس کا دجال اس کے تیس سال بعد ۱۹۸۳ء میں بھی، بقول مسٹر محمد علی کے ’’افریقہ اور ایشیا میں نہایت کامیاب کام کر رہا تھا‘‘ اور اس کا یہ ’’سب اہتمام تخریبِ اسلام پر صَرف ہو رہا تھا۔‘‘

۲:... ’’چند قابلِ غور اَعداد وشمار‘‘ کے عنوان کے تحت فرماتے ہیں:

’’ہم میں سے بعض لوگ اُٹھتے ہیں اور کہنا شروع کردیتے ہیں کہ یورپ مذہب سے بے زار ہوچکا ہے، اس لئے اس کے سامنے مذہب کو، قرآن کو پیش کرنا مفید نہیں ہوسکتا، اب یورپ کے لوگ مذہبی باتوں کو سننے کے لئے تیار نہیں، لیکن ایسا کہنے والے یہ نہیں سوچتے کہ اگر یورپ مذہب سے بیزار ہوچکا ہے تو اس کا قدم اپنی مذہبی کتاب یعنی بائبل کی اشاعت میں اس قدر آگے کیوں بڑھ رہا ہے؟ ذرا غور کیجئے کہ ۱۸۹۲ء تک بائبل کا ترجمہ دُنیا کی تین سو مختلف زبانوں میں ہوچکا تھا، ۱۹۰۶ء میں یعنی چودہ سال بعد ایک سو زبانوں کا اور اِضافہ ہوگیا، (پھر) ۱۹۱۷ء میں یعنی اور گیارہ سال بعد یہ تعداد پانچ سو تک پہنچ گئی، ۱۹۲۸ء میں، یعنی اور گیارہ سال بعد چھ سو زبانوں میں ان لوگوں نے بائبل کا ترجمہ کردیا، اور اس کے بعد

386

۱۹۲۸ء سے ۱۹۳۷ء یعنی ۹سال کے عرصے میں یہ تعداد ۷۱۲مزید زبانوں تک پہنچ گئی، گویا آخری نو سالوں میں ۱۱۲ مزید زبانوں میں بائبل کے ترجمے ہوگئے۔‘‘

( ص:۲۲، ۲۳)

دیکھا مرزا غلام احمد کی ’’کسرِ صلیب‘‘ کا کرشمہ! ۱۸۹۱ء میں جبکہ مرزا قادیانی کے دعویٔ مجدّدیت کو بارہ تیرہ سال گزرچکے تھے، مرزا نے مسیحِ موعود بن کر بزعمِ خود عیسائیت کو پاش پاش کرنا شروع کیا، صلیب کو توڑ ڈالا، دجال کو قتل کرڈالا، مگر مرزا قادیانی کے دور میں ۱۹۳۷ء تک سات سو بارہ زبانوں میں بائبل کے ترجمے ہوئے، اور مرزا صاحب کی مسیحیت اپنے قتل شدہ دجال اور ٹوٹی ہوئی صلیب کے ساتھ ان خوفناک کارناموں کا منہ تکتی رہی۔

اور یہ تو بائبل کی اِشاعت میں ترقی کا نقشہ مسٹر محمد علی نے کھینچا ہے، خود عیسائیت کو مرزا قادیانی کی مسیحیت کی بدولت کتنی ترقی ہوئی، اس کے لئے یورپ، افریقہ اور ایشیا، بلکہ برصغیر پاک وہند کے اعداد وشمار جمع کرنے کی بھی ضرورت نہیں، بلکہ قادیان کے ضلع گورداسپور کی عیسائی مردم شماری کا نقشہ دیکھ لینا کافی عبرت آموز ہے،وھو ھٰذا:

سال: عیسائیوں کی آبادی:
۱۸۹۱ء ۲۴۰۰
۱۹۰۱ء ۴۴۷۱
۱۹۱۱ء ۲۳۳۶۵
۱۹۲۱ء ۳۲۸۳۲
۱۹۳۱ء ۴۳۲۴۳

گویا جب سے مرزائیت نے جنم لیا ہے، عیسائیت روزافزوں ترقی کر رہی ہے، اس قلیل عرصے میں صرف قادیان کے اپنے ضلع گورداسپور میں عیسائی اَٹھارہ گنا بڑھ گئے۔ جب تک مرزا صاحب صرف مجدّد تھے، انہوں نے اپنے ضلع میں چوبیس سو عیسائی بنائے۔ جب مسیحِ موعود بن گئے، تو دس سال کے عرصے میں اکیس سو مزید عیسائیوں کا اِضافہ ہوا، اور جب وہ اس سے بھی ترقی کرکے ’’فل نبی‘‘ بنے تو عیسائیت نے دس سال کے عرصے میں

387

سینکڑوں کی بجائے ہزاروں کے اِعتبار سے ترقی شروع کردی۔ قادیانی نبوّت کی پہلی دہائی میں بیس ہزار، دُوسری میں نو ہزار اور تیسری میں گیارہ ہزار عیسائیوں کا اِضافہ مسیحِ موعود کے اپنے ضلع میں ہوا، عبرت۔! عبرت۔۔!! عبرت...!!!

اب ناظرین مرزا قادیانی کے مندرجہ ذیل الفاظ غور سے پڑھیں اور مندرجہ اَعداد وشمار کی روشنی میں خود فیصلہ کریں؟

’’میرا کام، جس کے لئے میں اس میدان میں کھڑا ہوں، یہ ہی ہے کہ میں عیسیٰ پرستی کے ستون کو توڑ دُوں، اور بجائے تثلیث کے توحید کو پھیلاؤں، اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی جلالت اور عظمت اور شان دُنیا پر ظاہر کردُوں، پس اگر مجھ سے کروڑ نشان بھی ظاہر ہوں، اور یہ علتِ غائی ظہور میں نہ آئے تو میں جھوٹا ہوں، پس مجھ سے کیوں دُشمنی کرتی ہے؟ وہ میرے انجام کو کیوں نہیں دیکھتے؟ اگر میں نے اسلام کی حمایت میں وہ کام کردِکھایا، جو مسیحِ موعود اور مہدیٔ معہود کو کرنا چاہئے تھا، تو پھر میں سچا ہوں ...... اور اگر کچھ نہ ہوا، اور میں مرگیا تو پھر سب لوگ گواہ رہیں کہ میں جھوٹا ہوں۔‘‘

(اخبار ’’بدر‘‘ ج:۳ نمبر:۲۹ مؤرخہ ۱۹؍جولائی ۱۹۰۶ء ص:۴، ’’المہدی‘‘ نمبر۱ ص:۴۳، بحوالہ قادیانی مذہب، جدید ایڈیشن ص:۴۵۱)

مرزا صاحب ۲۶؍مئی ۱۹۰۸ء کو وبائی ہیضے سے مرگئے، مگر عیسائیت کی ترقی ان سے نہ رُک سکی، اس لئے مرزا صاحب کی وصیت کے مطابق، سب لوگ گواہ رہیں کہ مرزا جھوٹا تھا...!

آپ شاید سوال کریں گے: پھر مرزا صاحب کے دعویٔ نبوّت کی غرض وغایت کیا تھی؟ اس کا جواب یہ ہے: اسلام کو گالیاں دینا، مسلمانوں کو کافر بنانا، انگریزوں کے لئے جاسوسی کرنا اور عیسائیوں کے اُصول تسلیم کرکے عیسائیت کی مدد کرنا۔

اس اِجمال کی تفصیل کبھی پھر عرض کی جائے گی، سرِدست یہ سن لیجئے کہ مرزا

388

قادیانی نے اپنی اُمت کو اِسلام کے خلاف زہر اُگلنے اور اسے مغلظات سنانے کی کیسی مشق کرائی تھی؟ راقم الحروف نے لاہوری مرزائیوں کے ایک اہم رُکن جناب ڈاکٹر اللہ بخش صاحب چیف ایڈیٹر ہفت روزہ ’’پیغامِ صلح‘‘ لاہور کو اِسلام کی دعوت دی تھی، اور دلائل کے ساتھ مرزا غلام احمد کی مسیحیت کا غلط ہونا ثابت کیا تھا۔ ڈاکٹر صاحب میرے دلائل سے ایسے مبہوت ہوئے کہ انہوں نے نفاق کا لبادہ اُتارکر اِسلام ہی سے براء ت کا اِظہار واِعلان کردیا، وہ مجھے مخاطب کرکے لکھتے ہیں:

’’آپ مجھے یہ دعوت دیتے ہیں کہ میں جمہور مسلمانوں کی راہ پر آؤں، تو سوال یہ ہے کہ وہ کونسی صورت اور شکل اسلام کی ہے، جو میں اِختیار کروں، کیونکہ اس وقت تہتر فرقے موجود ہیں، اور ہر فرقہ اپنے آپ کو ناجی کہتا ہے، (یہ تو مرزا صاحب سے پہلے بھی موجود تھے، کیا اس وقت بھی لوگوں کو اِسلام چھوڑ دینا چاہئے تھا؟ ...راقم) میرے دوست! آپ مجھے کس اسلام کی طرف بلانا چاہتے ہیں؟ وہ اسلام جس میں کوئی حرکت وطاقت باقی نہیں رہی، وہ اسلام جو علم وسائنس کے زمانے میں کوئی ہوش مند انسان قبول نہیں کرسکتا، وہ اسلام جو صرف رسم ورِواج اور لفظ پرستی، ظاہرپرستی کا مجموعہ، حقیقت سے خالی اور رُوح سے مردہ ہوچکا ہے۔‘‘

(پیغامِ صلح ۴؍اگست ۱۹۷۶ء ص:۱۲)

سن لیا آپ نے! مرزائیوں کے نزدیک مرزا غلام احمد کے مسیحِ موعود بننے کی بدولت اب اسلام میں کوئی حرکت وطاقت باقی نہیں رہی، وہ حقیقت سے خالی، رُوح سے عاری اور مردہ ہوچکا ہے، اور کوئی ہوش مند مرزائی علم وسائنس کے زمانے میں اسلام قبول نہیں کرسکتا۔ یہ تو اُمتِ مرزائیہ کے ایک اہم رکن کی اسلام کے بارے میں رائے تھی، اب اُمتِ مرزائیہ کے قادیانی نبی کی رائے اسلام کے بارے میں سنئے! اسلام کا عقیدہ ہے کہ وحیٔ نبوّت حضرت خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد بند ہوچکی ہے، مرزا قادیانی اس

389

عقیدے پر اِعتراض کرتے ہوئے لکھتا ہے:

’’وہ دِین، دِین نہیں ہے، اور نہ وہ نبی نبی ہے، جس کی متابعت سے انسان خدا تعالیٰ سے اس قدر نزدیک نہیں ہوسکتا کہ مکالماتِ الٰہیہ سے مشرف ہوسکے (یعنی نبی بن سکے)۔ وہ دِین لعنتی اور قابلِ نفرت ہے، جو صرف یہ سکھاتا ہے کہ چند منقولی باتوں پر (یعنی قرآن وحدیث پر) انسانی ترقیات کا اِنحصار ہے، اور وحیٔ اِلٰہی آگے نہیں بلکہ پیچھے رہ گئی ہے ......۔ سو ایسا دِین بہ نسبت اس کے کہ اس کو رحمانی کہیں، شیطانی کہلانے کا زیادہ مستحق ہے۔‘‘

(ضمیمہ براہین احمدیہ حصہ پنجم ص:۱۳۸، رُوحانی خزائن ج:۲۱ ص:۳۰۶)

اسی سلسلے میں دُوسری جگہ لکھتا ہے:

’’اور اگر یہ کہا جائے کہ اس اُمت پر قیامت تک دروازۂ مکالمہ، مخاطبہ اور وحیٔ اِلٰہی کا بند ہے، تو پھر اس صورت میں کوئی اُمتی نبی کیونکر کہلاسکتا ہے؟ کیونکہ نبی کے لئے ضروری ہے کہ خدا اس سے ہم کلام ہو، تو اس کا جواب یہ ہے کہ اس اُمت پر یہ دروازہ ہرگز بند نہیں ہے، اور اگر اس اُمت پر یہ دروازہ بند ہوتا تو یہ اُمت ایک مردہ اُمت ہوتی، اور خدا تعالیٰ سے دُور اور مہجور ہوتی۔

اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو جو خاتم الانبیاء فرمایا گیا ہے، اس کے یہ معنی نہیں کہ آپ کے بعد دروازہ مکالمات ومخاطباتِ الٰہیہ کا بند ہے، اگر یہ معنی ہوتے تو یہ اُمت ایک لعنتی اُمت ہوتی، جو شیطان کی طرح ہمیشہ سے خدا تعالیٰ سے دُور ومہجور ہوتی۔

ایسا نبی (یعنی محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم) کیا عزّت، اور کیا مرتبت، اور کیا تأثیر، اور کیا قوّتِ قدسیہ اپنی ذات میں رکھتا ہے، جس کی پیروی کے دعوے کرنے والے صرف اندھے اور نابینا

390

ہوں، اور خدا تعالیٰ اپنے مکالمات ومخاطبات سے ان کی آنکھیں نہ کھولے، یہ کس قدر لغو اور باطل عقیدہ ہے کہ ایسا خیال کیا جائے کہ بعد آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے وحیٔ اِلٰہی کا دروازہ ہمیشہ کے لئے بند ہوگیا ہے، اور آئندہ کو قیامت تک اس کی بھی کوئی اُمید نہیں، صرف قصوں کی (یعنی قرآن وحدیث کی) پوجا کرو، پس کیا ایسا مذہب کچھ مذہب ہوسکتا ہے؟ جس میں براہِ راست خدا تعالیٰ کا کچھ بھی پتا نہیں لگتا، جو کچھ ہیں قصے ہیں۔

میں خدا تعالیٰ کی قسم کھاکر کہتا ہوں کہ اس زمانے میں مجھ سے زیادہ بیزار ایسے مذہب سے اور کوئی نہ ہوگا، میں ایسے مذہب کا نام شیطانی مذہب رکھتا ہوں، نہ کہ رحمانی، اور میں یقین رکھتا ہوں کہ ایسا مذہب جہنم کی طرف لے جاتا ہے، اور اندھا رکھتا ہے، اور اندھا ہی مارتا ہے، اور اندھا ہی قبر میں لے جاتا ہے، مگر میں ساتھ ہی خدائے کریم ورحیم کی قسم کھاکر کہتا ہوں کہ اسلام ایسا مذہب نہیں ہے، بلکہ دُنیا میں صرف اسلام ہی یہ خوبی اپنے اندر رکھتا ہے کہ وہ بشرط سچی اور کامل اِتباع ہمارے سیّد ومولیٰ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے مکالماتِ اِلٰہیہ سے مشرف ہوسکتا ہے۔‘‘

(ضمیمہ براہین احمدیہ حصہ پنجم ص:۱۸۲، ۱۸۳، رُوحانی خزائن ج:۲۱ ص:۳۵۳، ۳۵۴)

مرزا قادیانی کی ان تحریروں کا لبِ لباب یہ ہے کہ یا تو مجھے نبی مانو، اور تسلیم کرو کہ مجھ پر بھی قرآنِ کریم جیسی قطعی وحی نازل ہوتی ہے، ورنہ اسلام شیطانی مذہب ہے، لعنتی اور قابلِ نفرت دِین ہے۔ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوّت باطل، اور آپ کی تمام اُمت اندھی ہے، اور قرآن وحدیث محض پُرانے قصے ہیں ـــــــ اور چونکہ اس اُمت میں مرزا غلام احمد قادیانی کے سوا کوئی ایسا شخص نہیں ہوا، جس کو مرزا قادیانی کے نزدیک نبوّت کا منصب عطا کیا گیا ہو، چنانچہ وہ لکھتا ہے:

391

’’اور یہ بات ایک ثابت شدہ اَمر ہے کہ جس قدر خدا تعالیٰ نے مجھ سے مکالمہ ومخاطبہ کیا ہے، اور جس قدر اُمورِ غیبیہ مجھ پر ظاہر فرمائے ہیں، تیرہ سو برس ہجری میں کسی شخص کو آج تک بجز میرے یہ نعمت عطا نہیں کی گئی۔ اگر کوئی منکر ہو تو بارِ ثبوت اس کی گردن پر ہے۔

غرض اس حصہ کثیر وحیٔ اِلٰہی اور اُمورِ غیبیہ میں اس اُمت میں سے میں ہی ایک فردِ مخصوص ہوں، اور جس قدر مجھ سے پہلے اولیاء اور اَبدال اور اَقطاب اس اُمت میں سے گزرچکے ہیں، ان کو یہ حصۂ کثیر اس نعمت کا نہیں دیا گیا، پس اس وجہ سے نبی کا نام پانے کے لئے میں ہی مخصوص کیا گیا، اور دُوسرے تمام لوگ اس نام کے مستحق نہیں، کیونکہ کثرتِ وحی اور کثرتِ اُمورِ غیبیہ اس میں شرط ہے، اور وہ شرط ان میں نہیں پائی جاتی۔‘‘

(حقیقۃ الوحی ص:۳۹۱، رُوحانی خزائن ج:۲۲ ص:۴۰۶، ۴۰۷)

یعنی تیرہ سو برس تک تو اِسلام نے کسی کو نبی نہیں بنایا، اور نہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی کامل پیروی کی برکت سے کوئی شخص اس منصب تک پہنچا، اس لئے تیرہ صدیوں تک تو اِسلام، بقول مرزا قادیانی کے، لعنتی اور قابلِ نفرت مذہب رہا، آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم قوّتِ قدسیہ سے محروم رہے، اور تیرہ صدیوں کے تمام مسلمان اندھے رہے، صرف قصے کہانیوں کی پوجا کرتے رہے ـــــــ اب اگر مرزا کی نبوّت ومسیحیت تسلیم کرلی جائے، تب تو اِسلام زندہ مذہب کہلائے گا، اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم بھی نبی ہوں گے، اور اگر مرزا کو نہ مانا جائے، اس کی وحی پر اِیمان نہ لایا جائے، تو نہ دِین، دِین ہے، نہ نبی، نبی ہے، بلکہ ایسا دِین لعنتی اور قابلِ نفرت ہے، شیطانی ہے، مردہ ہے، قصے کہانیوں کا پرستار ہے ...نعوذباللہ ثم نعوذباللہ...!

یہ تھا مرزا کے دعویٔ مسیحیت ونبوّت کا اصل مدعا ــــ اسلام کو ایسی ناپاک

392

گالیاں صرف قادیان کا مسیح اور اس کی ذُرّیت ہی دے سکتی ہے، کسی عیسائی، یہودی، ہندو، سکھ یا کسی کافر سے یہ کارنامہ کب انجام دیا جاسکتا تھا؟ لطیفہ یہ ہے کہ مرزا صاحب کے بعد اس کی اُمت میں سے بھی کوئی نبی ہوا؟ جو مکالمۂ اِلٰہیہ سے مشرف ہوکر براہِ راست خدا تعالیٰ کا پتا لگائے، اور صرف مرزا کے قصے کہانیوں کی پوجا نہ کرے، اس لئے مرزا قادیانی کی تحریر کے مطابق اب اس کا مذہب بھی لعنتی اور قابلِ نفرت ہے، اس کی اُمت بھی اندھی ہے، اندھی مرے گی، اور سیدھی جہنم میں جائے گی، کیا کوئی مرزائی اس عقدے کو حل کرے گا...؟

وَآخِرُ دَعْوَانَا اَنِ الْحَمْدُللہِ رَبِّ الْعَالَمِیْنَ

وَصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی خَیْرِ خَلْقِہٖ مُحَمَّدٍ وَّآلِہٖ وَاَصْحَابِہٖ اَجْمَعِیْنَ

393

حفاظتِ قرآن

بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ

اَلْحَمْدُللہِ وَسَلَامٌ عَلٰی عِبَادِہِ الَّذِیْنَ اصْطَفٰی!

قرآن کریم حق تعالیٰ شانہ کی آخری کتاب ہے، جس کی حفاظت کا اس نے خود ذمہ لیا ہے:’’اِنَّا نَحْنُ نَزَّلْنَا الذِّکْرَ وَاِنَّا لَہٗ لَحٰفِظُوْنَ‘‘ تاریخ شاہد ہے کہ بہت سے لوگوں نے قرآن کریم کے الفاظ و معانی کو بدلنے کی مذموم کوشش کی، مگر وہ ناکام و نامراد رہے۔ قرآن کریم کے الفاظ میں ترمیم اور تبدیلی کو تحریف لفظی کہا جاتا ہے، اور اس کے معنی ومفہوم بدلنے کو تحریف معنوی کہتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے اپنی قدرتِ کاملہ کے ذریعہ قرآن کو دونوں قسم کی تحریف سے محفوظ رکھا ہے۔

چودھویں صدی کے آغاز میں جس شخص نے قرآن کریم کی تحریف کا بیڑا اُٹھایا، وہ مرزا غلام احمد قادیانی تھا، ’’رئیس قادیان‘‘ کے مؤلف جناب مولانا ابوالقاسم رفیق دلاوری نے لکھا ہے کہ حکیم نورالدین، سرسیّد احمد خاں کے بڑے راسخ الاعتقاد مرید تھے، انہوں نے سرسیّد کو لکھا کہ:

’’رائج الوقت قرآن، عرب کے بدوؤں کی اصلاح کے لئے نازل ہوا تھا، اب زمانہ تیرہ سو سال کی مدت میں ترقی و عروج کی منزلیں طے کرگیا ہے، اس لئے میری خواہش ہے کہ قرآن میں عہد حاضر کی ضروریات کے مطابق اصلاح و ترمیم کرلی جائے۔‘‘

سرسیّد نے اس کے جواب میں لکھا کہ:

’’میرا اصل عقیدہ تو یہ ہے کہ بائے بسم اللہ سے لے کر

394

والناس کے سین تک، جو کچھ مابین الدفتین ہے، وہ سب کلامِ الٰہی ہے، اس میں سرِمو اِسقاط یا اِضافہ کی گنجائش نہیں، اور ناسوتی و ظلمانی بشر کی کیا بساط ہے کہ کلامِ الٰہی میں اصلاح و ترمیم کا حوصلہ کرے......۔‘‘

سرسیّد سے حکیم نور الدین کی خط و کتابت کی خبر جب مرزا غلام احمد نے سنی تو ان کا ساغرِدل خوشی سے چھلک گیا، اور انہیں یقین ہوگیا کہ حکیم صاحب سے رابطہ مودّت واتحاد کا استوار کرنا، تکمیل مقاصد میں بڑا معاون ہوگا، جھٹ رختِ سفر باندھ جموں کا راستہ لیا، وہاں حکیم صاحب کے پاس، مرزا صاحب دس بارہ روز رہے، مختلف مسائل پر گفتگو رہی، آخر آئندہ کا لائحہ عمل تیار کیا گیا۔‘‘

(رئیس قادیان ج:۱ ص:۱۴۶)

حکیم صاحب کی خواہش کی تکمیل مرزا صاحب نے یوں کی کہ مامورمن اللہ ہونے کے دعویٰ کے ساتھ قرآن کریم کی آیات میں قطع و برید کرکے انہیں الہامات کی شکل میں ڈھالنا شروع کیا اور انہی الہامات پر اپنے دعوؤں کی بنیاد رکھی، چنانچہ قادیانی الہامات میں سیکڑوں آیاتِ قرآن میں تحریف و ترمیم کی گئی اور ان میں مہمل اور لغو الفاظ کا پیوند لگایا گیا۔

یہ تو لفظی تحریف تھی، اس کے علاوہ قادیانی نبوّت نے بے شمار آیاتِ قرآن کے معنی و مفہوم میں بھی اُلٹ پھیر کیا، حد یہ کہ بہت سی وہ آیات جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی ذاتِ گرامی سے خاص تھیں، مرزا غلام احمد قادیانی نے برملا ان کا مصداق اپنی ذات کو قرار دیا، اور متحدہ ہندوستان میں یہ سب کچھ انگریزی اقتدار کے زیر سایہ ہوتا رہا۔ مملکت خداداد پاکستان کے منصہ وجود پر آنے کے بعد توقع تھی کہ اس ’’اسلامی ملک‘‘ میں قرآن کریم کے ساتھ یہ بدترین مذاق روا نہیں رکھا جائے گا، اور ایسے تمام لٹریچر کی اشاعت ممنوع قرار دی جائے گی جس میں قرآنِ کریم کو تحریف و ترمیم کا تختۂ مشق بنایا گیا ہے۔ لیکن: ’’اے بسا آرزو کہ خاک شدہ‘‘ پاکستان کو وجود میں آئے ہوئے تیسواں سال گزر رہا ہے، مگرآج تک

395

کسی مسلم حکمران کو توفیق نہیں ہوئی کہ قادیانی نبوّت کے اس گھناؤنے فعل کی طرف توجہ کرتا، موجودہ حکومت نے قرآن کریم کی صحیح اشاعت اور ترمیم و تحریف سے اس کی حفاظت کے لئے ایک قانون بھی وضع کر رکھا ہے، اس کے باوجود قادیانی تحریف پسندوں کو قرآنِ کریم سے تلعّب کی کھلی چھٹی ہے اور وہ لٹریچر باقاعدہ چھپ رہا ہے، جس میں قرآنِ کریم کو لفظاً و معناً مسخ کیا گیا ہے۔ حق تعالیٰ شانہ ان علمائے اُمت کو جزائے خیر عطا فرمائے جنہوں نے قادیانی تحریفات کا پردہ چاک کیا، اور قرآنِ کریم کی عزت و ناموس کی حفاظت و پاسبانی کا فریضہ انجام دیا ہے۔

حال ہی میں قرآنِ کریم کی لفظی اور معنوی تحریف کی دو مثالیں سامنے آئی ہیں۔

۱:...کراچی میں ’’تنظیم فکرِ چمن (پاکستان)‘‘ کے نام سے کوئی تنظیم قائم ہے جس کا ترجمان ’’عکس چمن‘‘ ۶/۲ جی، المدینہ کوارٹرز ناظم آباد، نزد مدینہ مسجد کراچی، سے شائع ہوتا ہے، ایڈیٹر کا نام سیّد ریاض حیدر نقوی درج ہے، اس کی محرم کی اشاعت میں سورۂ قصص کے حوالہ سے یہ آیت مع ترجمہ یوں درج کی گئی ہے:

’’منھم ائمۃ یدھون الی الجنۃ ومنھم ائمۃ یدھون الی النار۔‘‘

(سورۃ القصص:۴۱/۲۸)

’’دنیا میں امام دو طرح کے ہوتے ہیں، کچھ وہ خود جنت میں جاتے ہیں اور اپنے پیروی کرنے والوں کو بھی جنت میں لے جاتے ہیں، اور کچھ وہ امام جو خود دوزخ میں جاتے ہیں اور اپنے پیچھے چلنے والوں کو بھی دوزخ کا راستہ دکھاتے ہیں۔‘‘

ہمیں علم نہیں کہ ’’فکر چمن‘‘ سے وابستہ افراد کے افکار و نظریات کیا ہیں؟ اور ان کی ذہنی و علمی سطح کیا ہے؟ لیکن اس میں شک نہیں کہ ایک مصنوعی فقرہ قرآنِ کریم کی طرف منسوب کرنے کی جسارت کی گئی ہے، اور ستم یہ کہ سورت اور آیت نمبر کا حوالہ بھی دیا گیا ہے، یہ جسارت اگر نادانستہ ہے تو لائق صد افسوس ہے، اور اگر دانستہ ہے تو لائق صد نفریں! اسی سلسلہ میں مدرسہ عربیہ اسلامیہ نیوٹاؤن سے اِستفتاء لیا گیا ہے، جس کا جواب درج ذیل ہے:

396

’’الجواب باسمہٖ تعالٰی

۱:...قرآن کریم میں تحریف قطعاً نہیں ہوسکتی، ایک کلمہ یا ایک حرف کی تبدیلی بھی قرآن کریم میں ناممکن ہے۔ اللہ رب العالمین نے اس کی حفاظت کا ذمہ لیا ہے: ’’اِنَّا نَحْنُ نَزَّلْنَا الذِّکْرَ وَاِنَّا لَہٗ لَحٰفِظُوْنَ۔‘‘ آیت کریمہ میں تصریح ہے کہ اللہ تعالیٰ قرآن کریم کا نازل کرنے والا ہے، اور وہی اس کی حفاظت کرنے والا ہے۔ پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم نے قرآن کریم بلا کم و کاست صحابہؓ تک پہنچایا، اور صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین نے اُمتِ مسلمہ تک۔ اُمتِ مسلمہ نے اس کی حفاظت کی، اس کی آیات، کلمات، حروف تک سب کے سب شمار کئے ہوئے ہیں، ہزاروں لاکھوں انسان اپنے سینوں میں اس کی حفاظت کر رہے ہیں، تحریفِ لفظی کجا؟ تحریفِ معنوی بھی نہیں ہوسکتی! زنادقہ نے جب بھی تحریفِ معنوی کی کوشش کی، علمائے اُمت اور اُمتِ مسلمہ نے اس کو ردّ کردیا اور ان تحریفات کو اُمتِ مرحومہ کے اجتماعی ذہن نے کبھی قبول نہیں کیا، حفاظتِ قرآن کا وعدۂ الٰہی ہر دور اور ہر زمانہ میں اسی طرح پورا ہوتا رہا، اور تحریف کرنے والے ہمیشہ خائب و خاسر رہے۔

۲:...قرآنِ کریم میں ایک حرف کی بھی تحریف یا تبدیلی کرنے والا باجماعِ اُمت کافر اور دائرۂ اسلام سے خارج ہے، قرآن کریم میں ارشادِ ربانی ہے:

’’اَفَتَطْمَعُوْنَ اَنْ یُّؤْمِنُوْا لَکُمْ وَقَدْ کَانَ فَرِیْقٌ مِّنْھُمْ یَسْمَعُوْنَ کَـلَامَ اللہِ ثُمَّ یُحَرِّفُوْنَہٗ مِنْ بَعْدِ مَا عَقَلُوْہٗ وَھُمْ یَعْلَمُوْنَ۔‘‘

(البقرۃ:۷۵)

اس آیت سے واضح ہے کہ جو لوگ کلامِ الٰہی میں تحریف

397

کرتے ہیں ان کے ایمان کی قطعاً کوئی امید نہیں کی جاسکتی، اور نہ ان کو مؤمن کہا جاسکتا ہے، صاحبِ ’’روح المعانی‘‘ لکھتے ہیں:

’’وحاصل الآیۃ استبعاد الطمع فی ان یقع من ھؤلَاء السفلۃ ایمان، فقد کان احبارھم ومقدموھم علیٰ ھذا الحالۃ الشنعاء، ولَا شک ان ھؤلَاء اسوأ خلفًا واقل تمیزًا من اسلافھم او استبعاد الطمع فی ایمان ھؤلَاء الکفرۃ المحرفین۔‘‘

(ج:۱ ص:۲۹۹)

پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم کو بھی قرآن کریم میں کسی قسم کی تبدیلی کا حق نہیں تھا، ارشادِ خداوندی ہے:

’’وَاِذَا تُتْلٰی عَلَیْھِمْ آیـَاتُنَا بَیِّنَاتٍ قَالَ الَّذِیْنَ لَا یَرْجُوْنَ لِقَآئَنَا ائْتِ بِقُرْاٰنٍ غَیْرِ ھٰذَا اَوْ بَدِّلْہٗ، قُلْ مَا یَکُوْنُ لِیْ اَنْ اُبَدِّلَہٗ مِنْ تِلْقَـآءِ نَفْسِیْ، اِنْ اَتَّبِعُ اِلّا مَا یُوْحٰی اِلَیَّ، اِنِّیْ اَخَافُ اِنْ عَصَیْتُ رَبِّیْ عَذَابَ یَوْمٍ عَظِیْمٍ۔‘‘

(یونس:۱۵)

کفار اور منافقین، حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے بعض آیات کی تبدیلی کا مطالبہ کرتے تھے، اس کے جواب میں یہ آیت نازل ہوئی، اس سے معلوم ہوا کہ تبدیلی یا تحریف کا مطالبہ کرنے والے کافر یا منافق ہوتے ہیں، نیز کسی کو بھی قرآنِ کریم میں تبدیلی کا حق نہیں، فقہاء نے بھی قرآنِ کریم میں تحریف کرنے والوں کو بالاجماع کافر کہا ہے:

’’ومن استخف بالقراٰن او شیء منہ، او جحدہٗ او حرفًا منہ، او کذب بشیء منہ، او اثبت ما نفاہ، او نفیٰ ما اثبتہ علیٰ علم منہ بذالک، او شکّ فی شیء من ذالک، فھو کافر عند اھل العلم بالْإجماع، وکذا
398

من غیّر شیئًا منہ او زاد فیہ۔‘‘

(معین الحکام ص:۲۲۹)

یعنی جس شخص نے قرآن کریم کی یا اس کے کسی حصہ کی بے ادبی کی، یا اس کا یا اس کے کسی حرف کا انکار کیا، یا اس کی کسی بات کو جھٹلایا، یا دانستہ اس چیز کو ثابت کیا جس کی قرآن نے نفی کی ہے، یا اس چیز کی نفی کی جس کو قرآن نے ثابت کیا ہے، یا ان امور میں سے کسی چیز میں شک کیا، ایسا شخص اہل علم کے نزدیک بالاجماع کافر ہے، اسی طرح وہ شخص بھی کافر ہے جس نے قرآن کریم میں تغیر و تبدل کیا، یا اس میں کچھ اضافہ کیا۔

۳:...رسالہ ’’عکس چمن‘‘ میں سورۂ القصص کی آیت:۱۴ جن الفاظ میں لکھی ہے، وہ بلاشبہ تحریفِ لفظی ہے، اسلامی آئین کی رُو سے تحریف کرنے والا کافر و مرتد ہے، جس کی سزا قتل ہے (جبکہ توبہ نہ کرے۔ مدیر)۔ فقط واللہ اعلم!‘‘

۲:...تحریف کی دوسری افسوسناک مثال تحریفِ معنوی کی ہے، حال ہی میں اَمۃالکریم بیگم اسحق صاحبہ کی جانب سے، جو اپنا تعارف ’’مبلغہ ومفسرۂ قرآنِ حکیم‘‘ کی حیثیت سے کراتی ہیں، چند کتابچے شائع ہوئے ہیں، جو بڑی کثرت سے کراچی میں تقسیم ہو رہے ہیں۔

ان کتابچوں کے سرسری مطالعہ سے ظاہر ہوتا ہے کہ بیگم اسحق صاحبہ نے بڑے اخلاص و اشتیاق سے قرآن کریم پر لکھنے کی مشق شروع کی ہے، ان کا یہ جذبہ اپنی جگہ لائق تعریف سہی، لیکن افسوس ہے کہ ان کے قلم سے جو کتابچے شائع ہو رہے ہیں، ان میں بچکانہ طرزِ تحریر کے علاوہ قرآنِ کریم کی آیاتِ مقدسہ کا ایسا اُوٹ پٹانگ مفہوم گھڑا گیا ہے، جس کو ’’تفسیر‘‘ لکھنا، کتاب اللہ سے مذاق ہے۔ محترمہ کی بنیادی غلطی یہ ہے کہ انہوں نے قرآن پڑھتے وقت لغت کی کتاب پاس رکھنے کو ’’قرآن فہمی‘‘ کے لئے کافی سمجھ لیا ہے، اس کے سوا کسی ذہنی صلاحیت اور علمی قابلیت کو ضروری نہیں سمجھا، اگر خالی لغت کی مدد سے طبّی کتابوں

399

کا مطالعہ کرنے والا ’’حکیم حاذق‘‘ یا ’’ڈاکٹر‘‘ نہیں بن سکتا، اور اگر محض لغت کی مدد سے قانون کی کتابوں کا مطالعہ کرنے والا ’’بیرسٹر‘‘ نہیں بن سکتا، تو محترمہ کے لئے کوئی عار کی بات نہیں ہے کہ وہ ’’کریم اللغات‘‘ یا ’’المنجد‘‘ کی مدد سے ’’مفسرۂ قرآن‘‘ کا خطاب حاصل نہ کرسکیں۔ انہوں نے قرآن کریم سے جو ’’سائنسی اکتشافات‘‘ ثابت کئے ہیں، وہ نہ صرف لغو اور مہمل ہیں، بلکہ مرادِ خداوندی کو صریح طور پر مسخ کرنے کی کوشش ہے۔ قرآنِ کریم، سائنس کی کتاب نہیں کہ اس کی آیاتِ بینات کو توڑ مروڑ کر سائنسی اکتشافات پر فٹ کیا جائے، اس پر مزید لکھنے کی ضرورت نہیں، محترمہ سے ہماری گزارش یہ ہے کہ وہ اپنی اس قسم کی تحریروں کو تلف کردیں، اگر حق تعالیٰ شانہ نے انہیں قرآن کریم کی خدمت کا جذبہ عطا فرمایا ہے اور اس کے وسائل بھی عطا فرمائے ہیں تو انہیں الل ٹپ ضائع نہ کریں، اس کی اور بھی بہت سی صورتیں ہوسکتی ہیں، مثلاً: وہ قرآنِ کریم کا ایک بہت ہی عمدہ نسخہ چھپواکر مساجد اور مکاتب میں تقسیم کراسکتی ہیں، یہ ان کے لئے صدقہ جاریہ ہوگا، قرآنِ کریم کے موضوع پر کسی محقق عالم کی کتاب چھپواسکتی ہیں، کوئی عمدہ سی تفسیر اپنے خرچ پر چھپواسکتی ہیں، غرضیکہ خدمتِ قرآن کی عمدہ سے عمدہ صورتیں ہوسکتی ہیں، کیا ضروری ہے کہ جس شخص کے ذہن میں جو خیال آجائے، اسے جھٹ سے قرآن کی طرف منسوب کرکے شائع کرنا شروع کردیا جائے؟ اللہ تعالیٰ کی مقدس کتاب کو اپنے ذاتی خیالات سے آلودہ کرنا بڑا ظلم ہے...!!

(ماہنامہ ’’بینات‘‘ کراچی ذیقعدہ ۱۳۹۶ھ)

400

قادیانیوں کی اِشتعال انگیزی!

بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ

اَلْحَمْدُللہِ وَسَلَامٌ عَلٰی عِبَادِہِ الَّذِیْنَ اصْطَفٰی!

موضع ٹالہی ضلع تھرپارکر سے ہمارے نمائندے نے اطلاع دی ہے کہ:

’’یکم اگست بروز اتوار شام چھ بجے ٹالہی شہر میں قادیانیوں نے ایک بڑا جلوس نکالا، جس کی قیادت چودھری منور احمد اور قادیانی جماعت کے مبلغ نے کی جس میں کچھ بیرون ملک کے کالے حبشی قسم کے لوگ بھی شامل تھے، جو اشتعال انگیز نعرے لگا رہے تھے کہ ہم احمدی مسلمان ہیں، کون کہتا ہے احمدی مسلمان نہیں، قادیانیوں کے اس جلوس سے مسلمانوں کے جذبات مجروح ہوئے، مسلمانان پاکستان حکومت سے پرزور مطالبہ کرتے ہیں کہ ان لوگوں کو روکا جائے کہ جلوس اور نعرے نہ لگائے جائیں، تاکہ امن و امان کا مسئلہ پیدا نہ ہو، اور مارشل لاء کی خلاف ورزی کرنے پر مناسب کاروائی کرے تاکہ شرارت پسند لوگ شرارت سے باز آجائیں۔‘‘

موضع ٹالہی کے باشندگان نے ضلع تھرپارکر کے ڈپٹی کمشنر اور انتظامیہ کے دیگر اعلیٰ افسران کو قادیانیوں کی اس اشتعال انگیزی سے مطلع کرتے ہوئے لکھا:

’’ہم مسلمانان ٹالہی اسٹیشن گزارش کرتے ہیں کہ ہمارے شہر کے ساتھ قادیانیوں کا ایک فارم ہے، جہاں وہ پچھلے دو مہینوں

401

سے اس قدر سرگرم عمل ہیں کہ وہ کھل کر اپنی تبلیغ کے ذریعہ ہم مسلمانوں کے مذہبی جذبات کو مجروح کر رہے ہیں، حالانکہ وقت کے تقاضے کے ساتھ ہم انتہائی صبر و تحمل سے کام لیتے ہوئے، بالکل خاموش رہتے ہیں تاکہ کوئی ناخوشگوار واقعہ نہ ہو۔

جناب والا! ہماری خاموشی سے فائدہ اٹھاتے ہوئے یا ہمارے صبر و تحمل کو کمزوری سمجھتے ہوئے کل شام چھ بجے بتاریخ یکم اگست ۱۹۸۲ء کو قادیانیوں نے اپنے مبلغ اور منیجر چوہدری منور احمد کی قیادت میں ایک بڑا جلوس نکالا، نعرے لگائے اور ہم لوگوں کے جذبات کو اشتعال دلایا، انہوں نے کئی دوسرے اجنبی آدمیوں کو بھی ساتھ ملایا اور یہ تأثر دینے کی کوشش کی کہ یہ حضرات یوگنڈا، تنزانیہ، انڈونیشیا اور ملایا سے تشریف لائے ہیں، درحقیقت ان کے عزائم یہ تھے کہ جھگڑا اور فساد ہو، لیکن اس سب کے باوجود ہم نے بڑے صبر وتحمل کا مظاہرہ کیا، حالانکہ ہمارے جذبات ایک فطری بات تھی، اس لئے آپ صاحبان سے گزارش ہے کہ براہ کرم ان قادیانیوں کے مبلغ چوہدری منور احمد اور دوسرے ذمہ دار افراد کو سختی کے ساتھ منع کرنے کے احکامات صادر فرمادیں ورنہ امن کو خطرہ لاحق ہونے کی صورت میں ساری ذمہ داری ان قادیانیوں پر پڑے گی جو جھگڑا، فساد اور انتشار پھیلانا چاہتے ہیں۔‘‘

اس حقیقت سے ملتِ اسلامیہ کا ایک ایک فرد واقف ہے کہ قادیانی، شریعت اسلامی کی رو سے زندیق ہیں اور ان کا حکم مرتدین کا ہے اور پاکستان کے آئین کی رو سے بھی ملت اسلامیہ سے خارج ہیں، اپنے مرتدانہ عقائد کے باوجود ان کا اپنے تئیں مسلمان کہلانے پر اصرار کرنا اسلام اور اہل اسلام اور آئین پاکستان کا مذاق اڑانے کے مترادف ہے۔

402

سوال یہ ہے کہ قادیانیوں کو اس اشتعال انگیز مظاہرے اور جلوس کی جرأت کیوں ہوئی؟ کیا اس کا سبب یہ ہے کہ انتظامیہ کے اعلیٰ افسران قادیانی یا قادیانیوں کے زیر اثر ہیں، یا یہ کہ قادیانی ۱۹۵۳ء اور ۱۹۷۴ء کی طرح اپنی قوت کو آزما کر دیکھنا چاہتے ہیں، یا یہ کہ پاکستان کی موجودہ مشکلات سے فائدہ اٹھاکر مسلمانوں کو شر و فساد کی بھٹی میں جھونکنے کے خواہشمند ہیں، بہرکیف ہم حکومت پاکستان سے درخواست کرتے ہیں کہ وہ قادیانیوں کی اس اشتعال انگیزی کے وجوہ و اسباب اور اغراض و مقاصد سے مسلمانوں کو آگاہ کرے۔

(ہفت روزہ ختمِ نبوّت کراچی ج:۱ ش:۱۲)

403

قادیانی شرم

بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ

اَلْحَمْدُللہِ وَسَلَامٌ عَلٰی عِبَادِہِ الَّذِیْنَ اصْطَفٰی!

قادیانیوں کے سرکاری آرگن روزنامہ ’’الفضل‘‘ ربوہ نے ۲۹؍نومبر ۱۹۸۲ء کو مرزا قادیانی کی منقبت میں ایک مضمون شائع کیا، جس کا عنوان تھا: ’’ذکر حبیب صلی اللہ علیہ وسلم۔‘‘ ایک ہفتہ کے بعد خدا جانے کیا خیال آیا ’’الفضل‘‘ نے سجدۂ سہو کرتے ہوئے لکھا:

’’مؤرخہ ۲۹؍نومبر ۱۹۸۲ء کے الفضل میں صفحہ ۳ پر ’’ذکر حبیب‘‘ کے عنوان سے ایک مضمون میں ’’صلی اللہ علیہ وسلم‘‘ کے الفاظ غلطی سے شائع ہوگئے ہیں، یہ مضمون حضرت اقدس ...... کی سیرت طیبہ کے بیان میں ہے، اس پر یہ لفظ سہو سے شائع ہوگئے ہیں، ہم کبھی بھی حضرت اقدس کے لئے یہ لفظ استعمال نہیں کرتے، ادارہ اس خطا پر شرمندہ ہے اور معذرت کا اظہار کرتا ہے۔‘‘

(الفضل ۶؍دسمبر ۱۹۸۲ء)

ہم یہ سمجھنے سے قاصر ہیں کہ جب ان ’’الفضل‘‘ اور ان کے کارپردازوں کو مرزا قادیانی کو نبی و رسول کہتے ہوئے شرم نہیں آتی، جب مرزا صاحب کو ’’محمد رسول اللہ‘‘ کہتے ہوئے شرم نہیں آتی، اور جب مرزا صاحب کے لئے ’’ذکر حبیب‘‘ کی اصطلاح استعمال کرتے ہوئے شرم نہیں آتی، جب انہیں یہ کہتے ہوئے شرم نہ آئی کہ:

’’ہر شخص ترقی کرسکتا ہے، اور بڑے سے بڑا درجہ پاسکتا

404

ہے، حتیٰ کہ ’’محمد رسول اللہ‘‘ سے بڑھ سکتا ہے۔‘‘

(مرزا محمود صاحب کا بیان، مندرجہ ’’الفضل‘‘ قادیانی، ج:۱ نمبر:۵ مؤرخہ ۱۷؍جولائی ۱۹۲۲ء)

جب انہیں یہ کہتے ہوئے شرم نہ آئی کہ:

’’پس ظلّی نبوّت نے مسیح موعود (غلام احمد قادیانی) کے قدم کو پیچھے نہیں ہٹایا، بلکہ آگے بڑھایا، اور اس قدر آگے بڑھایا کہ نبی کریمؐ کے پہلو بہ پہلو لاکھڑا کردیا۔‘‘

(کلمۃ الفصل مندرجہ ریویو آف ریلیجنز ج:۱۴ نمبر:۳ ص:۱۱۳، مارچ و اپریل ۱۹۱۵ء)

جب انہیں یہ کہتے ہوئے شرم نہ آئی کہ:

’’مسیح موعود محمد است و عین محمد است‘‘

جب انہیں یہ کہتے ہوئے شرم نہ آئی کہ:

  1. ’’محمد پھر اتر آئے ہیں ہم میں

    اور آگے سے بڑھ کر ہیں اپنی شان میں

  2. محمد دیکھنے ہوں جس نے اکملؔ!

    غلام احمد کو دیکھے قادیاں میں!‘‘

اس قسم کی دو چار نہیں سینکڑوں عبارتیں ہیں جن میں ’’ظلّیت‘‘ کی اوٹ میں مرزا صاحب کو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے بڑھانے کی کوشش کی گئی ہے، جب ان کو تمام قسم کی لغویات سے شرم نہیں آئی تو اگر مرزا صاحب کے کسی مخلص نے ’’صلی اللہ علیہ وسلم‘‘ کے الفاظ (سہواً نہیں بلکہ جان بوجھ کر فرطِ عقیدت میں) لکھ دیئے تو ’’الفضل‘‘ اور ان کے کارپردازوں کو اس سے کیوں شرم آنے لگی؟ ہم تو یہ سمجھتے تھے کہ ’’شرم‘‘ کا لفظ قادیانی لغت ہی سے خارج ہے، اس لئے کہ قادیانیوں نے:

الف:...مرزا صاحب کو بے سر و پا دعوے کرتے ہوئے دیکھا، مگر انہیں کبھی شرم نہیں آئی۔

ب:...مرزا صاحب کو ’’محمد رسول اللہ‘‘ ہونے کا دعویٰ کرتے ہوئے دیکھا، مگر

405

انہیں مرزا صاحب پر ’’ایمان‘‘ لانے سے شرم نہ آئی۔

ج:...مرزا صاحب کو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے سے اپنے زمانے کو روحانیت میں اشد و اکمل اور قوی تر کہتے ہوئے سنا، مگر انہیں شرم نہ آئی۔

د:...آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں اسلام کو ’’ہلال‘‘ (پہلی رات کا چاند) اور اپنے زمانہ کو ’’بدر کامل‘‘ (چودھویں رات کا چاند) کہتے ہوئے سنا، انہیں کبھی شرم نہ آئی۔

ھ:...مرزا صاحب نے اپنی کتابوں میں سینکڑوں سفید جھوٹ لکھے، مگر قادیانیوں کو انہیں پڑھ کر کبھی شرم نہیں آئی۔

و:...مرزا صاحب نے انبیائے کرام کو جھوٹے کہا، مگر قادیانیوں کو سن کر کبھی شرم نہ آئی۔

ز:...مرزا صاحب نے انبیائے کرام پر شراب نوشی کی تہمت لگائی، مگر قادیانیوں کو اس سے بھی کبھی شرم نہ آئی۔

ح:...مرزا صاحب نے انبیائے کرام پر قرآن کریم کے حوالے سے بدچلنی کی تہمت لگائی، مگر شرم قادیانیوں کے کبھی نزدیک نہیں آئی۔

ط:...مرزا صاحب نے قرآن کریم اور احادیث طیبہ میں سینکڑوں تحریفیں کیں، مگر قادیانیوں نے کبھی شرم کا نام نہ لیا۔

ی:...مرزا صاحب نے بزرگان اُمت کے غلط حوالے دے کر ان پر تہمتیں لگائیں، مگر قادیانیوں کی شرم کو کبھی جنبش نہ ہوئی۔ (یہ جتنی باتیں ہم نے لکھی ہیں محض الزام نہیں، اس کا ثبوت پیش کرنے کے لئے تیار ہیں)

آج پہلی بار معلوم ہوا کہ قادیانی حضرات میں بھی شرم نام کی کوئی چیز ہے، اور وہ مرزا صاحب کے لئے صلوٰۃ وسلام کے ’’معصومانہ‘‘ الفاظ لکھنے سے بھی شرما جاتے ہیں، حالانکہ جب وہ مرزا صاحب کو ڈنکے کی چوٹ ’’نبی‘‘ اور ’’محمد رسول اللہ‘‘ کہتے ہیں تو ان کے لئے ’’صلوٰۃ وسلام‘‘ سے شرمندہ ہوجانا عقل و فہم سے بالاتر چیز ہے۔

406

’’الفضل‘‘ کو مطمئن رہنا چاہئے کہ ان کے دین و مذہب کے مطابق مرزا صاحب کو ’’صلی اللہ علیہ وسلم‘‘ کہنا لائق شرم نہیں، بلکہ مرزا صاحب کے بار بار کے الہامات اور قادیانیوں کے طرز عمل کے عین مطابق ہے، ’’الفضل‘‘ کے بزرجمہروں نے اگر قادیانی قرآن ’’تذکرہ شریف‘‘ کا کبھی مطالعہ کیا ہے تو انہیں اس میں یہ الہامات مل جائیں گے:

الف:...’’۷؍جنوری ۱۹۰۰ء کو صبح کی نماز کے وقت حضرت اقدس نے فرمایا کہ پرسوں کی نماز میں جب میں التحیات کے لئے بیٹھا تو بجائے التحیات کے یہ دعا پڑھنے لگ گیا:’’صلی اللہ علی محمد وعلیک ویرد دعاء اعدائک علیھم‘‘ اللہ تعالیٰ محمد پر صلوٰۃ بھیجے اور تجھ پر بھی اور تیرے دشمنوں کی بددعا ان پر لوٹا دی جائے گی۔ (ترجمہ از مرتب تذکرہ صفحہ:۷۷۷ حاشیہ) حضرت صاحب فرماتے تھے کہ میں نے خیال کیا کہ یہ کیا پڑھ رہا ہوں تو معلوم ہوا کہ الہام ہے۔‘‘

(تذکرہ ص:۷۷۷ طبع ربوہ سوم)

ب:...’’صاحبزادہ پیر سراج الحق صاحب جمالی نعمانی نے بیان کیا کہ ایک روز مغرب کی نماز پڑھی گئی اور میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کے پاس کھڑا تھا جب نماز کا سلام پھیرا گیا تو آپ نے بایاں ہاتھ میری دائیں ران پر رکھ کر فرمایا کہ صاحبزادہ صاحب! اس وقت میں التحیات پڑھتا تھا الہاماً میری زبان پر جاری ہوا کہ: صلی اللہ علیک وعلی محمد۔‘‘

(تذکرہ ص:۷۷۷)

ج:...’’نحمدک ونصلی صلوٰۃ العرش الی الفرش۔ ہم تیری تعریف کرتے ہیں اور تیرے پر درود بھیجتے ہیں، عرش سے فرش تک تیرے پر درود ہے۔‘‘

(تذکرہ ص:۶۴۹)

د:...’’یصلون علیک صلحاء العرب وابدال الشام ونصلی علیک الأرض والسماء ویحمدک اللہ

407

عن عرشہ۔‘‘ (تذکرہ ص:۱۶۲) (تجھ پر عرب کے صلحاء اور شام کے ابدال درود بھیجیں گے، زمین و آسمان تجھ پر درود بھیجتے ہیں اور اللہ تعالیٰ عرش سے تیری تعریف کرتا ہے۔ ترجمہ از مرتب تذکرہ حاشیہ ص:۱۶۲)

ھ:...’’اصحاب الصفۃ وما ادراک ما اصحاب الصفۃ تری اعینھم تفیض من الدمع یصلون علیک۔ (ترجمہ) اور ایسے لوگ بھی ہوں گے جو اپنے وطنوں سے ہجرت کرکے تیرے حجروں میں آکر آباد ہوں گے، وہی ہیں جو خدا کے نزدیک اصحاب صفہ کہلاتے ہیں اور تو کیا جانتا ہے کہ وہ کس شان اور کس ایمان کے لوگ ہوں گے، جو اصحاب الصفہ کے نام سے موسوم ہیں، وہ بہت قوی الایمان ہوں گے، تو دیکھے گا کہ ان کی آنکھوں سے آنسو جاری ہوں گے وہ تیرے پر درود بھیجیں گے۔‘‘

(تذکرہ ص:۵۲، ۵۳، ۶۲۲، ۲۴۲)

و:...’’یحمدک اللہ من عرشہ نحمدک ونصلی۔ (ترجمہ) خدا عرش پر سے تیری تعریف کر رہا ہے، ہم تیری تعریف کرتے ہیں اور تیرے پر درود بھیجتے ہیں۔‘‘

(تذکرہ ص:۴۸،۲۴۱، ۲۴۲، ۳۵۵، ۳۸۶، ۶۴۹)

ز:...مرزا صاحب کے امام حافظ محمد صاحب نماز پڑھاتے تو وہ صبح کی نماز میں التزام کے ساتھ دوسری رکعت کے رکوع کے بعد قنوت بالجہر پڑھا کرتے تھے، اور اس میں روزانہ درود شریف ان الفاظ میں پڑھا کرتے تھے:

’’اللّٰھم صل علی محمد واحمد وعلی آل محمد واحمد کما صلیت علی ابراھیم وعلی آل ابراھیم انک حمید مجید۔ اللّٰھم بارک علی محمد
408

واحمد وعلی آل محمد واحمد کما بارکت علی ابراھیم وعلی آل ابراھیم انک حمید مجید۔‘‘

یہ واقعہ قریباً ۱۳۱۶ھ کا یعنی ۱۸۹۸ء کا یا اس کے قریب کا ہے، انہوں نے کوئی تین چار ماہ تک متواتر نماز پڑھائی تھی، اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام بھی جماعت میں شامل ہوتے تھے، اور کبھی حضور نے حافظ محمد صاحب کے اس طرح پر درود شریف پڑھنے کے متعلق کچھ نہیں فرمایا تھا، ایک دفعہ قاضی سیّد امیر حسین صاحب، حافظ احمد اللہ خان صاحب اور (چودھری المعروف) بھائی عبدالرحیم صاحب (سابق جگت سنگھ) صاحب نے ان سے کہا کہ: درود اس طرح نہ پڑھو بلکہ جس طرح حدیث میں آتا ہے اور نماز میں تشہد کے بعد پڑھا جاتا ہے، اسی طرح پڑھنا چاہئے، حافظ محمد صاحب (کچھ تیز طبیعت کے تھے، انہوں) نے اس بات کا یہ جواب دیا کہ: آپ لوگوں کا مجھے اس سے روکنے کا کوئی حق نہیں ہے، اگر منع کرنا ہوگا تو حضرت صاحب اس سے مجھے خود منع فرمادیں گے، مگر حضور نے انہیں کبھی نہیں منع فرمایا تھا، اور نہ ہی ان بزرگوں نے اس معاملہ کو حضور کی خدمت میں پیش کیا، اور حافظ صاحب بدستور اسی طرح نماز صبح میں دعا قنوت میں درود شریف بالفاظ مذکورہ بالا پڑھتے رہے، اس زمانہ میں ابھی حضرت مولوی عبدالکریم صاحب سیالکوٹی رضی اللہ تعالیٰ عنہ ہجرت کرکے قادیان نہیں آئے تھے۔‘‘

(ضمیمہ ص:۱۴۴ رسالہ درود شریف ص:ب)

ان الہامی حوالہ جات سے واضح ہے کہ:

۱:...قادیانیوں کے بقول خدا مرزا صاحب پر درود شریف بھیجتا ہے۔

۲:...خود مرزا صاحب بھی اپنے اوپر درود پڑھا کرتے تھے (اور لطف یہ کہ

409

التحیات کی جگہ قادیانی درود رکھا گیا تھا، یہ گویا قادیانی شریعت کا نیا مسئلہ ہے)۔

۳:...مرزا صاحب کے امام الصلوٰۃ بھی مرزا صاحب پر درود پڑھتے تھے۔

۴:...قادیانی اصحاب صفہ کی یہ تعریف کی گئی ہے کہ وہ مرزا صاحب پر درود پڑھتے ہیں۔

۵:...عرش سے فرش تک کی ساری مخلوق مرزا صاحب پردرود پڑھتی ہے۔

اگر ان تمام نام نہاد الہامات سے قادیانیوں کو شرم نہیں آتی تو سوال یہ ہے کہ مرزا صاحب کے ایک عقیدت مند کے مرزا صاحب کے لئے صلوٰۃ و سلام لکھنے پر ’’الفضل‘‘ شرم سے پانی پانی کیوں ہو رہا ہے؟

اصل بات یہ ہے کہ ہاتھی کے دانت کھانے کے اور ہوتے ہیں، دکھانے کے اور، چونکہ ’’ذکر حبیب صلی اللہ علیہ وسلم‘‘ کے لفظ پر قانونی گرفت ہوسکتی تھی اس لئے ’’الفضل‘‘ نے؛ قانون کی گرفت سے بچنے کے لئے سجدہ سہو کرنا ضروری سمجھا۔

ورنہ اگر ان کا یہی عقیدہ ہو، وہ مرزا صاحب کے لئے صلوٰۃ و سلام روا نہیں سمجھتے تو انہیں مندرجہ بالا بے تکے الہامات سے بھی کبھی شرم آئی ہوتی۔

(ہفت روزہ ختمِ نبوّت کراچی ج:۱ ش:۲۹)

410

قادیانی فتنے کا سدّباب

چند تجاویز!

بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ

اَلْحَمْدُللہِ وَسَلَامٌ عَلٰی عِبَادِہِ الَّذِیْنَ اصْطَفٰی!

۱۲؍ربیع الاول ۱۴۰۴ھ بمطابق ۱۸؍دسمبر ۱۹۸۳ء کو آٹھویں قومی سیرت کانفرنس سے افتتاحی خطاب کرتے ہوئے صدر مملکت جنرل محمد ضیاء الحق نے ختمِ نبوّت کے عقیدہ کا اعلان کرتے ہوئے فرمایا:

’’حضرت رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پر نبوّت اور وحی کا سلسلہ ختم ہوگیا، اس لئے آپؐ کے بعد نبوّت کا ہر مدعی کاذب ہے، اور ایسا دعویٰ کرنے والے کو نبی، صاحب شریعت یا مجدد ماننے والے گمراہ اور غیرمسلم ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان میں غیرمسلموں کی حفاظت اور کفالت حکومت کا فرض ہے، لیکن اگر وہ اسلام کے بنیادی نظریے یعنی ختمِ نبوّت پر ضرب لگانے کی کوشش میں ہوں تو ان سے سختی سے نمٹا جائے گا۔ صدر نے کہا کہ پاکستان میں غیرمسلموں کو بہت سی آزادیاں حاصل ہیں، مگر مشرکین یا منافقین یا غیرمسلموں کو نظریۂ اسلام سے کھیلنے کی اجازت نہیں دی جاسکتی۔‘‘

(روزنامہ ’’جنگ‘‘ کراچی ۲۰؍دسمبر ۱۹۸۳ء)

ایک عرصہ سے صدر جنرل محمد ضیاء الحق صاحب کے بارے میں کچھ لوگ یہ پروپیگنڈہ کر رہے تھے کہ وہ قادیانی ہیں، یہ لوگ اس کے دلائل اور شواہد بھی پیش کرتے تھے،

411

ان میں سب سے بڑی دلیل یہ تھی کہ موصوف نے متعدد موقعوں پر قادیانیوں سے مسلمانوں کا سا سلوک روا رکھا، اور یہ کہ ان کے دور میں قادیانیوں کو مراعات دی گئیں۔ جناب صدر اس الزام کی تردید اگرچہ کراچی کے ایک جلسے میں بھی کرچکے تھے، تاہم موصوف کی زیر بحث تقریر کے بعد ان کے بارے میں غلط فہمیوں کے سارے بادل چھٹ جاتے ہیں، اس کے بعد اس مکروہ پروپیگنڈے کا کوئی اخلاقی جواز باقی نہیں رہ جاتا۔

بلاشبہ ختمِ نبوّت اسلام کا بنیادی عقیدہ ہے اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد کسی شخص کا یہ دعویٰ کرنا کہ اسے اللہ تعالیٰ کی طرف سے نبی و رسول بناکر مبعوث کیا گیا ہے، نبوّت محمدیہ (علیٰ صاحبہا الصلوٰۃ والسلام) کے خلاف ایک بغاوت ہے، یہ بات کسی تشریح و توضیح کی محتاج نہیں کہ انگریز کے منحوس دور میں ’’سرکار کے خود کاشتہ پودا‘‘ کی حیثیت سے مرزا غلام احمد قادیانی نے نبوّت و رسالت سے لے کر الوہیت تک کے بلند بانگ دعوے کئے، اگر ایسے دعوے کسی اسلامی حکومت میں کئے جاتے تو مدعی کو یا تو دماغی شفاخانے میں پہنچایا جاتا، یا اگر اس کی دماغی صحت معمول پر ہوتی تو اسے واصل جہنم کیا جاتا، جیسا کہ مسیلمہ کذاب اور اس کے متبعین کو حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ’’حدیقۃ الموت‘‘ میں فی النار والسقر کیا تھا، اور جیسا کہ بعد کے تمام خلفائے اسلام کے دور میں مدعیان نبوّت سے یہی سلوک ہوتا رہا، قاضی عیاض ’’الشفا بتعریف حقوق المصطفٰی صلی اللہ علیہ وسلم‘‘ میں لکھتے ہیں:

’’وقد قتل عبدالملک بن مروان الحارث المتنبی وصلبہ وفعل ذلک غیر واحد من الخلفاء والملوک باشباھھم واجمع علماء وقتھم علی صواب فعلھم والمخالف فی ذلک من کفرھم کافر۔‘‘

(ج:۲ ص:۲۵۷مطبوعہ فاروقی کتب خانہ ملتان)

ترجمہ:...’’عبدالملک بن مروان نے مدعی نبوّت حارث کو قتل کرکے سولی پر لٹکایا تھا، اور یہی سلوک بے شمار خلفاء اور سلاطین

412

نے اس قسم کے لوگوں سے کیا، اور ان کے دور کے علماء نے بالاجماع ان کے فعل کی تصویب کی، اور جس شخص کو ایسے لوگوں کے کفر میں اختلاف ہو وہ خود کافر ہے۔‘‘

چونکہ قادیانی نبوّت خودساختہ و پرداختہ اور اس کے گھر کی لونڈی تھی، اس لئے انگریز گورنمنٹ کے زیر سایہ قادیانی نبوّت کا شجرۂ خبیثہ پھلتا پھولتا رہا، قیام پاکستان کے بعد ہونا تو یہ چاہئے تھا کہ اس وطن پاک میں، جسے خدا اور رسول کے نام پر حاصل کیا گیا تھا، مرزا کی جھوٹی نبوّت کا سکہ نہ چلتا، لیکن بہت سے اسباب و عوامل کی بنا پر (جن کی تفصیل کا یہ موقع نہیں) قادیانی دسیسہ کاریاں پاکستان میں بدستور جاری رہیں، ہمارے حکمران طبقہ کی رواداری اور فراخدلی کا یہ عالم رہا کہ قیام پاکستان سے ستائیس سال بعد (ستمبر ۱۹۷۴ء میں) صرف اتنی بات تسلیم کی گئی کہ جو لوگ کسی مدعی نبوّت کو کسی معنی میں بھی اپنا مذہبی راہنما و پیشوا تسلیم کرتے ہیں وہ مسلمان نہیں، اور اب نو برس بعد جناب صدر صاحب نے پہلی بار یہ وعدہ فرمایا ہے کہ:

’’پاکستان میں غیرمسلموں کی حفاظت و کفالت حکومت کا فرض ہے، لیکن اگر وہ اسلام کے بنیادی نظریے یعنی ختمِ نبوّت پر ضرب لگانے کی کوشش میں ہوں تو ان سے سختی سے نمٹا جائے گا۔‘‘

جناب صدر کے ذہن میں اس ’’سختی سے نمٹنے‘‘ کا کیا خاکہ ہے؟ اس کی وضاحت تو وہ خود ہی فرما سکتے ہیں، تاہم سختی سے نہیں بلکہ ’’نرمی سے نمٹنے‘‘ کا جو خاکہ ہمارے ذہن میں ہے، وہ پیش خدمت ہے:

اوّل:...اگر یہ صحیح ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد دعویٔ نبوّت، اسلام کی بنیاد پر کاری ضرب ہے تو ایسے لٹریچر کی اشاعت پر پابندی عائد کی جانی چاہئے، جس میں ایک مدعی نبوّت کے مشن کی تبلیغ ہو رہی ہے، یہ ایک ایسی کھلی ہوئی بات ہے جس کے سمجھنے کے لئے کسی باریک مطالعہ کی ضرورت نہیں کہ کوئی حکومت باغیانہ لٹریچر کی اشاعت کی اجازت نہیں دیتی، پس جب ایسے لٹریچر کی اشاعت نہیں ہوسکتی جس میں حکومت کے خلاف

413

کھلی بغاوت اور ملک و وطن سے کھلی غداری کی دعوت دی گئی ہو تو ایسا لٹریچر جس میں نبوّت محمدیہؐ سے بغاوت کی دعوت دی جاتی ہو، اس کی اجازت ایک اسلامی مملکت میں کس طرح جائز ہوسکتی ہے؟

دوم:...گزشتہ سالوں میں حکومت نے مردم شماری کرائی تھی اور قادیانیوں سے کہا گیا تھا کہ وہ اپنے مذہب کا حلفیہ اندراج کرائیں، اس سے قادیانیوں کے اعداد و شمار بھی ضرور سامنے آئے ہوں گے، قادیانی (اپنے جھوٹے نبی کی سنت کے مطابق) بڑے مبالغہ آمیز انداز میں اپنے اعداد و شمار پیش کرکے دنیا کو مرعوب کرتے ہیں، اور مسلمانوں کے حقوق کا استحصال کرتے ہیں، ادھر مسلمانوں کو کچھ معلوم نہیں کہ وطن عزیز میں کتنے لوگ اس فرقۂ باطلہ سے منسلک ہیں، اس لئے قادیانیوں کے اعداد و شمار بلاتاخیر قوم کے سامنے آنے چاہئیں۔

سوم:...بہت سے قادیانی اپنے کو مسلمان ظاہر کرکے ایسے اسلامی ممالک میں (بشمول سعودی عرب) ملازمتیں کر رہے ہیں، جہاں قادیانیوں کا داخلہ ممنوع ہے، اور بہت سے قادیانی، مسلمانوں کے بھیس میں حرمین شریفین کو اپنے نجس قدموں سے ملوث کرتے ہیں، لیکن اب تک حکومت کی طرف سے اس کے انسداد کی کوئی تدبیر نہیں کی گئی، عالم اسلام خصوصاً حرمین شریفین کو قادیانی سازشوں سے محفوظ کرنے کے لئے ضروری ہے کہ قادیانیوں کے شناختی کارڈ اور پاسپورٹ پر ان کے مذہب کا اندراج کیا جائے۔

چہارم:...بہت سے قادیانی آفیسر اپنے منصب کو اپنی مذہبی تبلیغ کے لئے استعمال کرتے ہیں، اس لئے تحقیق کی جائے کہ ملک میں کتنے قادیانی افسر و ملازم ہیں، اس تحقیق کے نتائج سے قوم کو آگاہ کیا جائے۔

پنجم:...قادیانی اس بات پر مصر ہیں کہ نہ صرف یہ کہ وہ مسلمان ہیں، بلکہ دراصل وہی مسلمان ہیں، باقی سب غیرمسلم ہیں، ایک غیرمسلم کا اپنے تمام تر عقائد باطلہ کے باوجود، اپنے آپ کو مسلمان کہلانا، اسلام اور مسلمانوں کی توہین ہے، حکومت کو غیرمسلموں پر یہ پابندی عائد کرنی چاہئے کہ وہ اپنے آپ کو مسلمان ظاہر کرکے اسلام اور مسلمانوں کا

414

مذاق نہ اڑائیں۔

یہ پانچ نکات تو وہ ہیں جو سختی سے نہیں بلکہ ’’نرمی سے نمٹنے‘‘ کے ذیل میں آتے ہیں، اگر حکومت واقعتا ’’سختی سے نمٹنے‘‘ کا ارادہ رکھتی ہے تو اس کے لئے حسب ذیل اقدامات ناگزیر ہیں:

اول:...نبوّت کے جھوٹے مدعی کی اُمت کو خلاف قانون قرار دیا جائے، کیونکہ جب یہ واقعہ ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد نبوّت اسلامی قانون کے خلاف ہے، جیسا کہ تمام اسلامی کتب میں لکھا ہے، مثلاً شرح فقہ اکبر میں ہے:

’’التحدّی فرع دعوی النبوۃ، ودعوی النبوۃ بعد نبینا صلی اللہ علیہ وسلم کفر بالْإجماع۔‘‘

(ص:۲۲)

ترجمہ:...’’معجزہ نمائی کا چیلنج کرنا دعویٔ نبوّت کی فرع ہے، اور نبوّت کا دعویٰ ہمارے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد بالاجماع کفر ہے۔‘‘

تو لازم ہے کہ جو جماعت اس جھوٹے مدعیٔ نبوّت کو اپنا روحانی پیشوا مانتی ہے، اسلامی قانون کی رو سے اسے بھی خلاف قانون قرار دیا جائے۔

دوم:...حکومت نے اسلامی تعزیرات کا قانون ملک میں نافذ کیا ہے، لیکن سزائے ارتداد جسے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے متواتر ارشادات میں بیان فرمایا ہے کہ:

’’من بدّل دینہ فاقتلوہ۔‘‘

(بخاری ص:۱۰۲۳)

ترجمہ:...’’جو شخص اپنا دین اسلام تبدیل کرکے کفر اختیار کرے اسے قتل کردو۔‘‘

اور جس پر تمام فقہائے اُمت کا اتفاق ہے، اسے حکومت نے نافذ نہیں کیا، اگر اسلامی تعزیرات کا نفاذ مطلوب ہے تو سزائے ارتداد سے شرمانے کی کوئی وجہ نہیں، ارتداد، اسلام کی نظر میں زنا اور چوری سے زیادہ سنگین جرم ہے، اب اگر زنا اور چوری کا انسداد بذریعہ قانون ضروری ہے تو کوئی وجہ نہیں کہ ارتداد کے انسداد کی کوئی تدبیر نہ کی

415

جائے، الغرض یہ قانون فی الفور نافذ ہونا چاہئے کہ جو شخص اسلام کو چھوڑ کر کوئی اور مذہب اختیار کرے گا اس پر سزائے ارتداد جاری ہوگی، نیز یہ کہ زندیق بھی سزائے ارتداد کا مستوجب ہوگا۔

سوم:...اگر سرکاری ملازمین کا سروے کیا جائے تو معلوم ہوگا کہ ہر محکمے کی شہ رگ پر قادیانی بیٹھے ہیں، اس نوعیت کی کلیدی اسامیوں سے ان کو برطرف کیا جائے۔

ہم نے نہایت اختصار سے اسلام کے بنیادی عقیدہ ختمِ نبوّت سے کھیلنے والوں اور اسلام کی بنیادوں پر ضرب لگانے والوں کے بارے میں چند تجاویز پیش کردی ہیں، نرم بھی اور سخت بھی، اب یہ دیکھنا ہے کہ حکومت کتنی تدابیر بروئے کار لاتی ہے، یا اگر یہ تجاویز قابل عمل نہیں تو ان کو چھوڑ کر اس سلسلہ میں دیگر کیا اقدامات کرتی ہے؟

آخر میں یہ گزارش ضروری ہے کہ قادیانی اُمت کی مثال اس وقت زخم خوردہ سانپ کی ہے، جناب صدر ان کے خلاف کوئی اقدام کرتے ہیں یا نہیں، یہ تو بعد کی بات ہے، لیکن یہ لازم ہے کہ یہ زخمی سانپ جناب صدر ہی کو نہ کاٹ کھائے، اخبارات و رسائل آج کل جس طرح جناب صدر کے خلاف زہر اگل رہے ہیں وہ ان کے درونِ باطن کی نشاندہی کر رہی ہے، ’’وما تخفی صدورھم اکبر!‘‘ حق تعالیٰ شانہ انہیں تمام دشمنان اسلام کے شر سے محفوظ رکھے۔

(ہفت روزہ ختمِ نبوّت کراچی ج:۲ ش:۳۲)

416

عدالتِ عظمیٰ کی خدمت میں

بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ

اَلْحَمْدُللہِ وَسَلَامٌ عَلٰی عِبَادِہِ الَّذِیْنَ اصْطَفٰی!

پاکستان کی عدالتِ عظمیٰ میں ۳۰؍جنوری ۱۹۹۳ء سے ۳؍فروری ۱۹۹۳ء تک اِمتناعِ قادیانیت آرڈی نینس مجریہ ۲۵؍اپریل ۱۹۸۴ء کے خلاف قادیانیوں کی دائر کردہ اپیلیں زیرِ سماعت رہیں، قادیانیوں نے عدالتِ عظمیٰ میں یہ موقف اِختیار کیا کہ زیرِ بحث قانون، آئینِ پاکستان میں دی گئی مذہبی آزادی کے خلاف ہے، اس لئے اس کو کالعدم قرار دِیا جائے۔ عدالت نے مسلسل پانچ دن فریقین کے دلائل سننے کے بعد فیصلہ محفوظ کرلیا۔ تاہم دونوں طرف کے وکلاء اور علمائے کرام سے کہا کہ وہ چاہیں تو اپنے مزید دلائل تحریری طور پر عدالت میں پیش کرسکتے ہیں۔

جنابِ عالی! ’’عالمی مجلس تحفظ ختمِِ نبوّت‘‘ کی جانب سے درج ذیل حقائق عدالتِ عظمیٰ کی خدمت میں پیش کرتے ہوئے درخواست کرتا ہوں کہ اس نازک اور حساس مسئلے کے تمام پہلوؤں کا گہری نظر سے مطالعہ فرماکر ’’قانون اِمتناعِ قادیانیت‘‘ کو بحال رکھا جائے، جیسا کہ وفاقی شرعی عدالت نے اس کو بحال رکھا ہے۔

ملک کے دستور کے تحت قادیانی غیرمسلم قرار دئیے جاچکے ہیں، اس فیصلے کے باوجود قادیانی کھلے بندوں شعائر اللہ اور شعائرِ اِسلام اپناکر خود کو مسلمان ظاہر کرتے رہے تو قانون اِمتناعِ قادیانیت کا نفاذ ہوا، اور قادیانیوں کی اس دانستہ منصوبہ بندی کے تحت جاری خلافِ قانون حرکات پر قانونی پکڑ شروع ہوئی۔

417

وفاقی شرعی عدالت، لاہور ہائی کورٹ اور بلوچستان ہائی کورٹ کے تفصیلی فیصلے ریکارڈ پر موجود ہیں، بنیادی حقوق کو رنگ آمیزی سے آڑ بناتے ہوئے قادیانیوں نے یہ معاملہ فنی نکات کا معاملہ بناکر اس معزَّز عدالت میں پیش کیا، اور اپیل دائر کرنے کی خصوصی اجازت ملنے کے بعد معزَّز عدالت کے فیصلے کو آڑ بناکر ماتحت عدالتوں میں زیرِ سماعت تمام مقدمات، آئینی درخواستوں وغیرہ کی کارروائی رُکوادی۔ اس طرح ۱۹۸۴ء سے اس قانون کو عملاً غیرمؤثر بناکر رکھ دیا۔ فاضل عدالت نے کرمنل پٹیشن ۲۷۸-ایل برائے سال ۱۹۹۲ء میں ضمانت کی منظوری کا جو فیصلہ دیا اسے بھی نہ صرف اخبارات میں غلط انداز میں چھپواکر سپریم کورٹ کے حوالے سے یہ تأثر دِیا کہ سپریم کورٹ نے قادیانیوں کو اِسلامی اِصطلاحات اِستعمال کرنے کی اجازت دے دی (اخبارات کے تراشے منسلک ہیں)۔ بلکہ اس فیصلے کی بنیاد پر سندھ ہائی کورٹ کراچی میں آئینی درخواست نمبر ۲۶۷۴ سال ۹۲سماعت کے لئے منظور کرائی اور ماتحت عدالت کی کارروائی رُکوادی۔ لہٰذا یہ ضروری ہے کہ شعائر اللہ اور شعائرِ اِسلام کا قرآن اور سنت کی روشنی میں جائزہ لیا جائے۔

شعائر اللہ اور شعائرِ اِسلام سے کیا مراد ہے؟

جنابِ عالی! زیرِ بحث قانون میں جن چیزوں کا اِستعمال قادیانیوں کے لئے ممنوع قرار دِیا گیا ہے، ان کا تعلق ’’اسلامی شعائر‘‘ سے ہے، اس لئے سب سے پہلے ’’اسلامی شعائر‘‘ کا مفہوم متعین کرلینا چاہئے۔

’’شعائر‘‘ کا لفظ شعرہ یا شعارہ کی جمع ہے، جس کے معنی ہیں کسی چیز کی وہ مخصوص علامت جس سے اس چیز کی پہچان ہو، لہٰذا ’’شعائرِ اسلام‘‘ سے مراد ہیں اسلام کی وہ مخصوص علامات جن سے کسی شخص کا اسلام معلوم ہوتا ہے، اور جو شخص ان علامات کا اظہار کرے، اہلِ اسلام اسے اسلامی برادری کا ایک فرد سمجھنے اور اس کے ساتھ مسلمانوں کا سا برتاؤ کرنے کے پابند ہیں۔ مثلاً اس کی اِقتدا میں نماز پڑھنا، اس کی نمازِ جنازہ ادا کرنا، اس کے ذبیحے کا حلال ہونا، مسلمانوں کے ساتھ اس کے نکاح کا جائز ہونا، وغیرہ وغیرہ۔

اس مدعا کے ثبوت کے لئے اسلامی لٹریچر کے بہت سے حوالے پیش کئے جاسکتے

418

ہیں، مگر میں عدالت کا وقت بچانے کے لئے صرف چار حوالوں پر اِکتفا کرتا ہوں، ایک انگریزی کا، اور تین اُردو کے۔

الف:... جے-جی-حاواایس- جے کی عربی، انگریزی لغت ’’الفرائد‘‘ میں ’’شعائر‘‘ کے معنی یہ لکھے ہیں:

Under-garment, ’’شِعَار، ج:شُعُر وأَشْعِرَۃ:

Distinctive sign, Coat of arms, Cry of war, Horse-colth.

(ص: ۳۶۷)

ب:... جناب مفتی محمد شفیع، سابق مفتیٔ اعظم پاکستان، تفسیر ’’معارف القرآن‘‘ میں تحریر فرماتے ہیں:

’’لفظ شعائر جس کا ترجمہ نشانیوں سے کیا گیا ہے، شعیرہ کی جمع ہے، جس کے معنی ہیں علامت، اسی لئے شعائر اور شعیرہ اس محسوس چیز کو کہا جاتا ہے جو کسی چیز کی علامت ہو۔ شعائرِ اسلام ان اعمال و افعال کو کہا جائے گا جو عرفاً مسلمان ہونے کی علامت سمجھے جاتے ہیں اور محسوس و مشاہد ہیں، جیسے: نماز، اَذان، حج، ختنہ اور سنت کے موافق داڑھی وغیرہ۔‘‘

(تفسیر معارف القرآن ج:۳ ص:۱۸)

ج:... جناب مولانا ابوالاعلیٰ مودودی ’’تفہیم القرآن میں لکھتے ہیں:

’’ہر وہ چیز جو کسی مسلک یا عقیدے یا طرزِ فکر و عمل یا کسی نظام کی نمائندگی کرتی ہو وہ اس کا ’’شعار‘‘ کہلائے گی، کیونکہ وہ اس کے لئے علامت یا نشانی کا کام دیتی ہے۔ سرکاری جھنڈے، فوج اور پولیس وغیرہ کے یونیفارم، سکے، نوٹ اور اسٹامپ حکومتوں کے شعائر ہیں اور وہ اپنے محکوموں سے، بلکہ جن جن پر ان کا زور چلے، سب سے ان کے اِحترام کا مطالبہ کرتی ہیں۔ گرجا اور قربان گاہ اور صلیب، مسیحیت کے شعائر ہیں۔ چوٹی اور زنار اور مندر برہمنیت

419

کے شعائر ہیں۔ کیس اور کڑا اور کرپان وغیرہ سکھ مذہب کے شعائر ہیں۔ ہتھوڑا اور درانتی اِشتراکیت کا شعار ہے۔ سواستیکا آریہ نسل پرستی کا شعار ہے۔‘‘

(تفہیم القرآن جلد اوّل ص:۴۳۸)

د:... مسند الہند شاہ عبدالعزیز محدث دہلویؒ ارقام فرماتے ہیں:

’’شعائر دراصل جمع شعیرۃ است یا جمع شعارہ است بمعنی علامت و شعائر اللہ در عرف دین مکانات و ازمنہ و علامات و اوقات عبادت را گویند، اما مکانات عبادت پس مثل کعبہ وعرفہ و مزدلفہ و جمار ثلاثہ و صفا و مروہ و منیٰ و جمیع مساجدند واما ازمنہ پس مثل رمضان و اَشہرِ حرُم وعیدالفطر وعیدالنحر وجمعہ و اَیامِ تشریق اند، اما علامات پس مثل اَذان واِقامت و ختنہ و نماز جماعت و نمازِ جمعہ ونمازِ عیدین اند ودر ہمہ ایں چیزہا معنی علامت بودن متحقق ست زیرا کہ مکان و زمان عبادت نیز از عبادت بلکہ از معبود یاد میدہد۔‘‘

(تفسیر فتح العزیز فارسی ص:۳۶۹ طبع مجتبائی دہلی)

ترجمہ:... ’’شعائر اصل میں جمع شعیرہ یا شعارہ کی بمعنی علامت ہے، اور عرفِ دِین میں شعائر اللہ مکانات اور زمانوں اور علامات اور اوقاتِ عبادت کو کہتے ہیں، لیکن مکاناتِ عبادت! جیسے کعبہ اور عرفات و مزدلفہ و جمارِ ثلاثہ و صفا ومروہ اور تمام مساجد ہیں۔ اور زمانے عبادت کے! جیسے رمضان اور ماہ ہائے حرام اور عیدالفطر اور عیدالاضحی اور جمعہ اور اَیامِ تشریق ہیں۔ اور علاماتِ عبادت! جیسے اَذان و اِقامت و ختنہ و نمازِ باجماعت و نمازِ جمعہ ونمازِ عیدین ہیں۔ اور ان سب چیزوں میں علامت کے معنی متحقق ہیں، اس واسطے کہ مکان اور زمان بھی عبادت کی بلکہ معبود کی یاد دِلاتے ہیں۔‘‘

(تفسیر عزیزی اُردو ص:۸۹۴مطبوعہ ایچ ایم سعید کراچی)

420

کون کون سی چیزیں شعائرِ اِسلام ہیں؟

جب یہ نکتہ واضح ہوا کہ اسلام کی مخصوص علامات، جن کے ذریعے کسی مسلمان کی غیرمسلم سے شناخت ہوتی ہے، ان کو ’’شعائرِ اِسلام‘‘ کہا جاتا ہے، تو اَب یہ معلوم کرنا لازم ہے کہ ’’شعائرِ اِسلام‘‘ میں کون کون سی چیزیں شامل ہیں۔ ان میں سے چند اُمور کی تفصیل درج ذیل ہے:

الف:... کلمۂ طیبہ ’’لا اِلٰہ اِلَّا اللہ محمد رسول اللہ‘‘ اِسلام کا شعار ہے:

اسلامی شعائر میں سب سے پہلی چیز کلمۂ طیبہ ’’لا اِلٰہ اِلَّا اللہ محمد رسول اللہ‘‘ ہے، یہ ایک ایسی کھلی ہوئی بدیہی حقیقت ہے کہ معزَّز عدالت کے سامنے اس کے دلائل پیش کرنا محض وقت ضائع کرنا ہوگا، کیونکہ ہر مسلم و کافر جانتا ہے کہ کلمہ شریف پڑھنا مسلمانی کی علامت ہے، جو شخص کلمہ شریف پڑھتا ہو، اس کو تمام لوگ مسلمان سمجھتے ہیں، اور جو یہ کلمہ نہ پڑھتا ہو اس کو غیرمسلم سمجھا جاتا ہے۔ چونکہ کلمۂ طیبہ اسلام کی خاص علامت ہے، جس سے کسی شخص کے مسلم وغیرمسلم ہونے کی شناخت ہوسکتی ہے، اس لئے اس کے ’’شعائرِ اِسلام‘‘ ہونے میں کوئی شبہ نہیں۔

ب:... نمازِ باجماعت اسلام کا شعار ہے:

ہر قوم اپنے اپنے طریقے پر عبادات کی رُسوم بجالاتی ہے، لیکن مخصوص ہیئت کے ساتھ نماز باجماعت ادا کرنا اسلام کی خصوصیت اور اس کا مخصوص شعار ہے۔ جن لوگوں کو بھی آپ اس خاص ہیئت کے ساتھ علانیہ نماز اَدا کرتے ہوئے دیکھیں گے فوراً سمجھ لیں گے کہ یہ لوگ مسلمان ہیں۔

آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا اِرشادِ گرامی ہے:

’’مَنْ صَلّٰی صَلَاتَنَا وَاسْتَقْبَلَ قِبْلَتَنَا وَأَکَلَ ذَبِیْحَتَنَا فَذٰلِکَ الْمُسْلِمُ الَّذِیْ لَہٗ ذِمَّۃُ اللہِ وَذِمَّۃُ رَسُوْلِہٖ، فَلَا تُخْفِرُوا اللہَ فِیْ ذِمَّتِہٖ۔‘‘

(رواہ البخاری، مشکوٰۃ ص:۱۲)

421

ترجمہ:... ’’جو شخص ہمارے جیسی نماز پڑھے، ہمارے قبلے کی طرف رُخ کرے، اور ہمارا ذبیحہ کھائے تو یہ شخص مسلمان ہے، جس کے لئے اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا عہد ہے، سو تم لوگ اللہ کے عہد میں خیانت (کرکے اس کی عہدشکنی) نہ کرو۔‘‘

علمائے اُمت نے ’’نماز‘‘ کے شعائرِ اِسلام ہونے کی جابجا تصریحات فرمائی ہیں، یہاں عدالت کی توجہ فیلسوفِ اسلام شاہ ولی اللہ محدث دہلویؒ کی بے نظیر کتاب ’’حجۃاللہ البالغہ‘‘ کے چند فقروں کی طرف مبذول کرانا کافی ہوگا۔

ایک جگہ لکھتے ہیں:

’’اعلم أن الصلاۃ أعظم العبادات شأنا ... إلٰی قولہ ... وجعلھا أعظم شعائر الدین۔‘‘

(حجۃ اللہ البالغہ ج:۱ ص:۱۸۶)

ترجمہ:... ’’جاننا چاہئے کہ نماز تمام عبادات میں سب سے زیادہ عظیم الشان ہے، اس بنا پر شارع نے اس کو اِسلام کا سب سے بڑا شعار قرار دِیا ہے۔‘‘

ایک اور جگہ لکھتے ہیں:

’’الصلاۃ من أعظم شعائر الْإسلام وعلاماتہ التی إذا فقدت ینبغی أن یحکم بفقدہ ...... الملابسۃ بینھا وبینہ۔‘‘

(ایضاً ج:۱ ص:۱۸۷)

ترجمہ:... ’’نماز اِسلام کا بہت بڑا شعار ہے، اور اِسلام کی ایسی علامات میں سے ہے کہ جس کے جاتے رہنے سے اگر اِسلام کے جاتے رہنے کا حکم کیا جائے تو بجا ہے۔‘‘

ایک اور جگہ لکھتے ہیں:

422
’’أعظم شعائر اللہ أربعۃ: القرآن، والکعبۃ، والنبی، والصلٰوۃ۔‘‘

(حجۃ اللہ البالغہ ج:۱ ص:۷۰)

ترجمہ:... ’’اور بڑے شعائر اللہ چار ہیں: قرآن، کعبہ، نبی اور نماز۔‘‘

ج:... مسجد بھی اِسلام کا شعار ہے:

مسجد اس جگہ کا نام ہے جو نمازِ پنج گانہ کے لئے وقف کی گئی ہو۔ جس طرح نماز اِسلام کا شعار ہے، اسی طرح مسجد بھی اسلام کا شعار ہے جس کے ذریعے مسلمانوں کی شناخت کی جاتی ہے۔ یعنی کسی قریہ، کسی شہر یا کسی محلے میں مسجد کا ہونا وہاں کے باشندوں کے مسلمان ہونے کی علامت ہے، یہ دعویٰ درج ذیل دلائل کی روشنی میں بالکل واضح ہے:

۱:... مسجد مسلمانوں کی عبادت گاہ کا نام ہے:

مسجد کا لفظ مسلمانوں کی عبادت گاہ کے ساتھ مخصوص ہے، چنانچہ قرآنِ کریم میں مشہور مذاہب کی عبادت گاہوں کا ذِکر کرتے ہوئے ’’مسجد‘‘ کو مسلمانوں کی عبادت گاہ قرار دِیا گیا ہے:

’’وَلَوْ لَا دَفْعُ اللہِ النَّاسَ بَعْضَھُمْ بِبَعْضٍ لَّھُدِّمَتْ صَوٰمِعُ وَبِیَعٌ وَّصَلَوٰتٌ وَّمَسٰجِدُ یُذْکَرُ فِیْھَا اسْمُ اللہِ کَثِیْرًا۔‘‘

(الحج:۴۰، پارہ:۱۷ رکوع۶/۱۳)

ترجمہ:... ’’اور اگر اللہ تعالیٰ ایک دُوسرے کے ذریعے لوگوں کا زور نہ توڑتا تو راہبوں کے خلوَت خانے، عیسائیوں کے گرجے، یہودیوں کے معبد اور مسلمانوں کی مسجدیں، جن میں اللہ کا نام کثرت سے لیا جاتا ہے، گرادی جاتیں۔‘‘

اس آیت کے تحت مفسرین نے لکھا ہے کہ ’’صوامع‘‘ سے راہبوں کے خلوَت خانے، ’’بیع‘‘ سے نصاریٰ کے گرجے، ’’صلوات‘‘ سے یہودیوں کے عبادت خانے اور

423

’’مساجد‘‘ سے مسلمانوں کی عبادت گاہیں مراد ہیں۔

اِمام ابوعبداللہ محمد بن احمد القرطبیؒ (۶۷۱ھ) اپنی مشہور تفسیر ’’اَحکام القرآن‘‘ میں لکھتے ہیں:

’’وذھب خصیف إلٰی أن القصد بھٰذہ الأسماء تقسیم متعبدات الاُمم، فالصّوامع للرّھبان، والبِیَع للنّصاریٰ، والصَّلوات للیہود والمساجد للمسلمین۔‘‘

(تفسیر قرطبی ج:۱۲ص:۷۲)

ترجمہ:... ’’اِمام خصیفؒ فرماتے ہیں کہ ان ناموں کے ذِکر کرنے سے مقصود قوموں کی عبادت گاہوں کی تقسیم ہے۔ چنانچہ ’’صوامع‘‘ راہبوں کی، ’’بیع‘‘ عیسائیوں کی، ’’صلوات‘‘ یہودیوں کی اور ’’مساجد‘‘ مسلمانوں کی عبادت گاہوں کا نام ہے۔‘‘

اور قاضی ثناء اللہ پانی پتیؒ (۱۲۲۵ھ) ’’تفسیر مظہری‘‘ میں ان چاروں ناموں کی مندرجہ بالا تشریح ذِکر کرنے کے بعد لکھتے ہیں:

’’ومعنی الآیۃ: لَوْ لَا دَفْعُ اللہِ النَّاسَ لھدمت فی کل شریعۃ نبی مکان عبادتھم فھدمت فی زمن موسی الکنائس وفی زمن عیسی البِیَع والصّوامع وفی زمن محمد صلی اللہ علیہ وسلم المساجد۔‘‘

(تفسیر مظہری ج:۶ ص:۳۳۰)

ترجمہ:... ’’آیت کے معنی یہ ہیں کہ اگر اللہ تعالیٰ لوگوں کا زور نہ توڑتا تو ہر نبی کی شریعت میں جو اُن کی عبادت گاہ تھی، اسے گرادیا جاتا، چنانچہ موسیٰ علیہ السلام کے زمانے میں کنیسے، عیسیٰ علیہ السلام کے دور میں گرجے اور خلوَت خانے اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں مسجدیں گرادی جاتیں۔‘‘

424

یہی مضمون تفسیر ابنِ جریر جلد:۹ صفحہ:۱۱۴، تفسیر نیشاپوری برحاشیہ ابنِ جریر جلد:۹ صفحہ:۶۳، تفسیر خازن جلد:۳ صفحہ:۲۹۱، تفسیر بغوی جلد:۵ صفحہ:۵۹۴ برحاشیہ ابنِ کثیر، اور تفسیر رُوح المعانی جلد:۱۷ صفحہ:۱۷ وغیرہ میں موجود ہے۔

قرآنِ کریم کی اس آیت اور حضراتِ مفسرین کی ان تصریحات سے واضح ہے کہ ’’مسجد‘‘ مسلمانوں کی عبادت گاہ کا نام ہے اور یہ نام دیگر اَقوام و مذاہب کی عبادت گاہوں سے ممتاز رکھنے کے لئے تجویز کیا گیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اِبتدائے اسلام سے لے کر آج تک یہ مقدس نام مسلمانوں کی عبادت گاہ کے لئے مخصوص ہے، لہٰذا مسلمانوں کا یہ قانونی و اخلاقی فرض ہے کہ وہ کسی ’’غیرمسلم فرقے‘‘ کو اپنی عبادت گاہ کا یہ نام نہ رکھنے دیں۔

۲:... کافروں کو مسجد بنانے کا حق نہیں:

مسجد کی تعمیر ایک اعلیٰ ترین عبادت ہے، اور کافر اس کا اہل نہیں۔ چونکہ کافر میں تعمیرِ مسجد کی اہلیت ہی نہیں، اس لئے اس کو تعمیرِ مسجد کا کوئی حق نہیں، اور اس کی تعمیر کردہ عمارت مسجد نہیں ہوسکتی، قرآنِ کریم میں صاف صاف اِرشاد ہے:

’’مَا کَانَ لِلْمُشْرِکِیْنَ اَنْ یَّعْمُرُوْا مَسٰجِدَ اللہِ شٰھِدِیْنَ عَلیٰٓ اَنْفُسِھِمْ بِالْکُفْرِ اُولٰٓءِکَ حَبِطَتْ اَعْمَالُھُمْ وَفِی النَّارِ ھُمْ خٰلِدُوْنَ۔‘‘

(التوبۃ:۱۷)

ترجمہ:... ’’مشرکین کو حق نہیں کہ وہ اللہ کی مسجدوں کو تعمیر کریں، درآنحالیکہ وہ اپنی ذات پر کفر کی گواہی دے رہے ہیں، ان لوگوں کے عمل اکارت ہوچکے اور وہ دوزخ میں ہمیشہ رہیں گے۔‘‘

اس آیت میں مشرکین کو تعمیرِ مسجد کے حق سے محروم قرار دِیا گیا ہے، کیوں؟ صرف اس لئے کہ وہ کافر ہیں: ’’شٰھِدِیْنَ عَلیٰٓ اَنْفُسِھِمْ بِالْکُفْرِ‘‘ ، اور کوئی کافر تعمیرِ مسجد کا اہل نہیں، گویا قرآن یہ بتاتا ہے کہ تعمیرِ مسجد کی اہلیت اور کفر کے درمیان منافات ہے، یہ دونوں چیزیں بیک وقت جمع نہیں ہوسکتیں۔ پس جب وہ اپنے عقائدِ کفر کا اِقرار کرتے ہیں تو گویا وہ

425

خود اس اَمر کو تسلیم کرتے ہیں کہ وہ تعمیرِ مسجد کے اہل نہیں، نہ انہیں اس کا حق حاصل ہے۔ اِمام ابوبکر احمد بن علی الجصاص الرازی الحنفیؒ (متوفیٰ ۳۷۰ھ) لکھتے ہیں:

’’عمارۃ المسجد تکون بمعنیین أحدھما زیارتہ والکون فیہ والآخر ببنائہ وتجدید ما استرم منہ۔ فاقتضت الآیۃ منع الکفار من دخول المسجد ومن بنائھا وتولی مصالحھا والقیام بھا لِانتظام اللفظ لأمرین۔‘‘

(احکام القرآن ج:۳ ص:۱۰۸)

ترجمہ:... ’’یعنی مسجد کی آبادی کی دو صورتیں ہیں، ایک مسجد کی زیارت کرنا، اس میں رہنا اور بیٹھنا، اور دُوسرے اس کو تعمیر کرنا اور شکست و ریخت کی اِصلاح کرنا۔ پس یہ آیت اس اَمر کی مقتضی ہے کہ مسجد میں نہ کوئی کافر داخل ہوسکتا ہے، نہ اس کا بانی و متولّی اور خادم بن سکتا ہے، کیونکہ آیت کے الفاظ تعمیرِ ظاہری و باطنی دونوں کو شامل ہیں۔‘‘

اِمام ابوجعفر محمد بن جریر الطبریؒ (متوفیٰ ۳۱۰ھ) لکھتے ہیں:

’’یقول إن المساجد إنما تعمر لعبادۃ اللہ فیھا، لَا للکفر بہ، فمن کان باللہ کافرًا فلیس من شأنہ أن یعمر مساجد اللہ۔‘‘

(تفسیر ابن جریر ج:۱۰ ص:۹۳، دارالفکر، بیروت)

ترجمہ:... ’’حق تعالیٰ فرماتے ہیں کہ مسجدیں تو اس لئے تعمیر کی جاتی ہیں کہ ان میں اللہ کی عبادت کی جائے، کفر کے لئے تو تعمیر نہیں کی جاتیں، پس جو شخص کافر ہو، اس کا یہ کام نہیں کہ وہ اللہ کی مسجدوں کی تعمیر کرے۔‘‘

اِمامِ عربیت جارُاللہ محمود بن عمر الزمخشری (متوفیٰ ۵۲۸ھ) لکھتے ہیں:

426
’’والمعنی ما استقام لھم أن یجمعوا بین أمرین متنافیین عمارۃ متعبدات اللہ مع الکفر باللہ وبعبادتہ ومعنی شھادتھم علیٰ أنفسھم بالکفر ظھور کفرھم۔‘‘

(تفسیر کشاف ج:۲ ص:۲۵۳)

ترجمہ:... ’’مطلب یہ ہے کہ ان کے لئے کسی طرح دُرست نہیں کہ وہ دو متنافی باتوں کو جمع کریں کہ ایک طرف خدا کی مسجدیں بھی تعمیر کریں اور دُوسری طرف اللہ تعالیٰ اور اس کی عبادت کے ساتھ کفر بھی کریں، اور ان کے اپنی ذات پر کفر کی گواہی دینے سے مراد ہے ان کے کفر کا ظاہر ہونا۔‘‘

اِمام فخرالدین رازیؒ (متوفیٰ ۶۰۶ھ) لکھتے ہیں:

’’قال الواحدی: دلت علٰی أن الکفار ممنوعون من عمارۃ مسجد من مساجد المسلمین، ولو أوصی بھا لم تقبل وصیتہ۔‘‘

(تفسیر کبیر ج:۱۶ص:۷، مطبوعہ مصر)

ترجمہ:... ’’واحدی فرماتے ہیں: یہ آیت اس مسئلے کی دلیل ہے کہ کفار کو مسلمانوں کی مسجدوں میں سے کسی مسجد کی تعمیر کی اجازت نہیں، اور اگر کافر اس کی وصیت کرے تو اس کی وصیت قبول نہیں کی جائے گی۔‘‘

اِمام ابوعبداللہ محمد بن احمد القرطبیؒ (متوفیٰ ۶۷۱ھ) لکھتے ہیں:

’’فیجب إذًا علی المسلمین تولّی أحکام المساجد ومنع المشرکین من دخولھا۔‘‘

(تفسیر قرطبی ج:۸ ص:۸۹، دار الکتاب العربی، القاہرہ)

ترجمہ:... ’’مسلمانوں پر یہ فرض عائد ہوتا ہے کہ وہ اِنتظامِ

427

مساجد کے متولّی خود ہوں اور کفار و مشرکین کو ان میں داخل ہونے سے روک دیں۔‘‘

اِمام محی السُّنَّۃ ابو محمد حسین بن مسعود الفراء البغوی (متوفیٰ ۵۱۶ھ) لکھتے ہیں:

’’أوجب اللہ علی المسلمین منعھم من ذٰلک لأن المساجد إنما تعمر لعبادۃ اللہ وحدہ فمن کان کافرًا باللہ فلیس من شأنہ أن یعمرھا۔ فذھب جماعۃ إلٰی أن المراد منہ العمارۃ من بناء المسجد ومرمتہ عند الخراب فیمنع الکافر منہ حتّٰی لو أوصی بہ لا یمتثل۔ وحمل بعضھم العمارۃ ھٰھنا علیٰ دخول المسجد والقعود فیہ۔‘‘

(تفسیر معالم التنزیل للبغوی ج:۳ ص:۵۵، برحاشیہ خازن، مطبوعہ علمیہ مصر)

ترجمہ:... ’’اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں پر واجب کیا ہے کہ وہ کافروں کو تعمیرِ مسجد سے روک دیں، کیونکہ مسجدیں صرف اللہ تعالیٰ کی عبادت کی خاطر بنائی جاتی ہیں، پس جو شخص کافر ہو، اس کا یہ کام نہیں کہ وہ مسجدیں تعمیر کرے۔ ایک جماعت کا قول ہے کہ تعمیر سے مراد یہاں تعمیرِ معروف ہے، یعنی مسجد بنانا، اور اس کی شکست و ریخت کی اِصلاح و مرمت کرنا۔ پس کافر کو اس عمل سے باز رکھا جائے گا، چنانچہ اگر وہ اس کی وصیت کر مرے تو پوری نہیں کی جائے گی۔ اور بعض نے عمارت کو یہاں مسجد میں داخل ہونے اور اس میں بیٹھنے پر محمول کیا ہے۔‘‘

شیخ علاء الدین علی بن محمد البغدادی الخازن (متوفیٰ ۷۲۵ھ) نے تفسیر خازن میں اس مسئلے کو مزید تفصیل سے تحریر فرمایا ہے۔

مولانا قاضی ثناء اللہ پانی پتیؒ (متوفیٰ ۱۲۲۵ھ) لکھتے ہیں:

428
’’فإنہ یجب علی المسلمین منعھم من ذٰلک لأن مساجد اللہ إنما تعمر لعبادۃ اللہ وحدہ فمن کان کافرًا باللہ فلیس من شأنہ أن یعمرھا۔‘‘

(تفسیر مظہری ج:۴ ص:۱۴۶، طبع ندوۃ المصنّفین دہلی)

ترجمہ:... ’’چنانچہ مسلمانوں پر لازم ہے کہ کافروں کو تعمیرِ مسجد سے روک دیں، کیونکہ مسجدیں تو اللہ تعالیٰ کی عبادت کے لئے بنائی جاتی ہیں، پس جو شخص کہ کافر ہو، وہ ان کو تعمیر کرنے کا اہل نہیں۔‘‘

اور شاہ عبدالقادر دہلویؒ (متوفیٰ ۱۲۳۰ھ) اس آیت کے تحت لکھتے ہیں:

’’اور علماء نے لکھا ہے کہ کافر چاہے مسجد بناوے اس کو منع کرے۔‘‘

(موضح القرآن)

ان تصریحات سے یہ بات بالکل واضح ہوجاتی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے کافروں کو یہ حق نہیں دیا کہ وہ مسجد کی تعمیر کریں، اور یہ کہ اگر وہ ایسی جرأت کریں تو ان کو روک دینا مسلمانوں پر فرض ہے۔

۳:... مسجد کی تعمیر صرف مسلمانوں کا حق ہے:

قرآنِ کریم نے جہاں یہ بتایا کہ کافر تعمیرِ مسجد کا اہل نہیں، وہاں یہ تصریح بھی فرمائی ہے کہ تعمیرِ مسجد کا حق صرف مسلمانوں کو حاصل ہے، چنانچہ ارشاد ہے:

’’اِنَّمَا یَعْمُرُ مَسٰجِدَ اللہِ مَنْ اٰمـَنَ بِاللہِ وَالْیَوْمِ الْآخِرِ وَاَقَامَ الصَّلٰوۃَ وَاٰتـَی الزَّکٰوۃَ وَلَمْ یَخْشَ اِلّا اللہَ فَعَسٰٓی اُولٰٓءِکَ اَنْ یَّکُوْنُوْا مِنَ الْمُھْتَدِیْنَ۔‘‘

(التوبۃ:۱۸، پارہ:۱۱، رکوع:۳/۹)

ترجمہ:... ’’اللہ کی مسجدوں کو آباد کرنا تو بس اس شخص کا کام ہے جو اللہ پر اور آخرت کے دِن پر اِیمان رکھتا ہو، نماز اَدا کرتا ہو،

429

زکوٰۃ دیتا ہو، اور اس کے سوا کسی سے نہ ڈرے، پس ایسے لوگ اُمید ہے کہ ہدایت یافتہ ہوں گے۔‘‘

اس آیت میں جن صفات کا ذِکر فرمایا، وہ مسلمانوں کی نمایاں صفات ہیں، مطلب یہ ہے کہ جو شخص پورے دِینِ محمدی پر اِیمان رکھتا ہو اور کسی حصۂ دِین کا منکر نہ ہو، اسی کو تعمیرِ مساجد کا حق حاصل ہے۔

۴:... غیرمسلموں کی تعمیر کردہ مسجد ’’مسجدِ ضرار‘‘ ہے، اس کو ڈھایا جائے:

آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بابرکت زمانے میں بعض غیرمسلموں نے اسلام کا لبادہ اوڑھ کر، اپنے آپ کو مسلمان ظاہر کیا اور مسجد کے نام سے ایک عمارت بنائی، جو ’’مسجدِ ضرار‘‘ کے نام سے مشہور ہے۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو وحیٔ اِلٰہی سے ان کے کفر و نفاق کی اِطلاع ہوئی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے فی الفور منہدم کرنے کا حکم فرمایا، قرآنِ کریم کی آیاتِ ذیل اسی واقعے سے متعلق ہیں:

’’وَالَّذِیْنَ اتَّخَذُوْا مَسْجِدًا ضِرَارًا وَّکُفْرًا وَّتَفْرِیْقًام بَیْنَ الْمُؤْمِنِیْنَ وَاِرْصَادًا لِّمَنْ حَارَبَ اللہَ وَرَسُوْلَہٗ مِنْ قَبْلُ، وَلَیَحْلِفُنَّ اِنْ اَرَدْنَا الّا الْحُسْنٰی وَاللہُ یَشْھَدُ اِنَّھُمْ لَکٰذِبُوْنَ۔ لَا تَقُمْ فِیْہِ اَبَدًا ...إلٰی قولہ ... لَا یَزَالُ بُنْیَانُھُمُ الَّذِیْ بَنَوْا رِیْبَۃً فِیْ قُلُوْبِھِمْ الّااَنْ تَقَطَّعَ قُلُوْبُھُمْ، وَاللہُ عَلِیْمٌ حَکِیْمٌ۔‘‘

(التوبۃ:۱۰۷-۱۱۰، پ:۱۱، ع:۱۳/۳)

ترجمہ:... ’’اور جن لوگوں نے مسجد بنائی کہ اسلام اور مسلمانوں کو نقصان پہنچائیں اور کفر کریں اور اہلِ ایمان کے درمیان تفرقہ ڈالیں اور اللہ و رسول کے دُشمن کے لئے ایک کمین گاہ بنائیں، اور یہ لوگ زور کی قسمیں کھائیں گے کہ ہم نے بھلائی کے سوا کسی چیز کا اِرادہ نہیں کیا، اور اللہ گواہی دیتا ہے کہ وہ قطعاً جھوٹے ہیں، آپ

430

اس میں کبھی قیام نہ کیجئے ......... ان کی یہ عمارت جو انہوں نے بنائی، ہمیشہ ان کے دِل کا کانٹا بنی رہے گی، مگر یہ کہ ان کے دِل کے ٹکڑے ٹکڑے ہوجائیں، اور اللہ علیم و حکیم ہے۔‘‘

ان آیات سے واضح طور پر معلوم ہوا کہ:

الف:... کسی غیرمسلم گروہ کی اسلام کے نام پر تعمیر کردہ ’’مسجد‘‘، ’’مسجدِ ضرار‘‘ کہلائے گی۔

ب:... غیرمسلم منافقوں کی ایسی تعمیر کے مقاصد ہمیشہ حسبِ ذیل ہوں گے:

۱- اسلام اور مسلمانوں کو ضرر پہنچانا۔

۲- عقائدِ کفر کی اِشاعت کرنا۔

۳- مسلمانوں کی جماعت میں اِنتشار پھیلانا اور تفرقہ پیدا کرنا۔

۴- خدا اور رسول کے دُشمنوں کے لئے ایک اَڈّا بنانا۔

ج:... چونکہ منافقوں کے یہ خفیہ منصوبے ناقابلِ برداشت ہیں، اس لئے حکم دِیا گیا کہ ایسی نام نہاد مسجد کو منہدم کردیا جائے۔

مفسرین اور اہلِ سِیَر نے لکھا ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم سے مسجدِ ضرار کو ڈھادیا گیا، اور اسے نذرِ آتش کردیا گیا۔ چند حوالے درج ذیل ہیں:

سیرت ابن ہشام برحاشیہ الروض الانف جلد:۲ صفحہ:۳۲۲

تفسیر قرطبی جلد:۸ صفحہ:۲۵۴
تفسیر ابن کثیر جلد:۵ صفحہ:۳۸۸
تفسیر مظہری جلد:۴ صفحہ:۲۹۶
تفہیم القرآن جلد:۶ صفحہ:۲۳۴
معارف القرآن جلد:۴ صفحہ:۶۳

قادیانی منافقین کی بنائی ہوئی نام نہاد مسجدیں بھی مسجدِ ضرار ہیں، اس لئے معزَّز

431

عدالت کا فرض ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی اِقتدا کرتے ہوئے ان کے منہدم کرنے اور ان کو جلاکر خاکستر کردینے کا حکم صادر کرے۔

۵:... قرآنِ کریم نے غیرمسلموں کے مسجدوں پر داخل ہونے کو بھی ممنوع قرار دیا ہے:

نہ صرف یہ کہ قرآنِ کریم نے مسلمانوں کے علاوہ کسی دُوسرے کو تعمیرِ مسجد کا حق نہیں دِیا، بلکہ غیرمسلموں کو ان کے عقائدِ کفریہ کی وجہ سے نجس قرار دے کر یہ حکم دیا کہ ان کو مساجد میں نہ آنے دِیا جائے اور ان کی گندگی سے مساجد کو پاک رکھا جائے، ارشادِ خداوندی ہے:

’’یٰٓـاَیُّھَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا اِنَّمَا الْمُشْرِکُوْنَ نَجَسٌ فَلَا یَقْرَبُوا الْمَسْجِدَ الْحَرَامَ بَعْدَ عَامِھِمْ ھٰذَا۔‘‘

(التوبۃ:۲۸، پ:۱۰، ع:۴/۱۰)

ترجمہ:... ’’اے ایمان والو! مشرک تو نرے ناپاک ہیں، پس وہ اس سال کے بعد مسجدِ حرام کے قریب بھی پھٹکنے نہ پائیں۔‘‘

اس آیت سے معلوم ہوا کہ کافر اور مشرک کا مسجد میں داخلہ ممنوع ہے۔ اِمام ابوبکر جصاص رازیؒ (متوفیٰ ۳۷۰ھ) لکھتے ہیں:

’’إطلاق إسم النجس علی المشرک من جھۃ أن الشرک الذی یعتقدہ یجب اجتنابہ کما یجب اجتناب النجاسات والأقذار فلذٰلک سمَّاھم نجسًا، والنجاسۃ فی الشرع تنصرف علیٰ وجھین أحدھما نجاسۃ الأعیان والآخر نجاسۃ الذنوب۔ وقد أفاد قولہ: ’’اِنَّمَا الْمُشْرِکُوْنَ نَجَسٌ‘‘ منعھم عن دخول المسجد إلّا لعذر، إذ کان علینا تطھیر المساجد من الأنجاس۔‘‘

(احکام القرآن للجصاص ج:۳ ص:۱۰۸، سہیل اکیڈمی لاہور)

432

ترجمہ:... ’’مشرک پر ’’نجس‘‘ کا اِطلاق اس بنا پر کیا گیا کہ جس شرک کا وہ اِعتقاد رکھتا ہے، اس سے پرہیز کرنا اسی طرح ضروری ہے جیسا کہ نجاستوں اور گندگیوں سے، اسی لئے ان کو نجس کہا۔ اور شرع میں نجاست کی دو قسمیں ہیں، ایک نجاستِ جسم، دوم نجاستِ گناہ۔ اور اِرشادِ خداوندی ’’اِنَّمَا الْمُشْرِکُوْنَ نَجَسٌ‘‘ بتاتا ہے کہ کفار کو دُخولِ مسجد سے باز رکھا جائے گا، اِلَّا یہ کہ کوئی عذر ہو، کیونکہ مسلمانوں پر لازم ہے کہ مسجدوں کو نجاستوں سے پاک رکھیں۔‘‘

اس آیت شریفہ کے ذیل میں دیگر اکابر مفسرینؒ نے بھی تصریحات فرمائی ہیں کہ مسلمانوں کی اجازت کے بغیر مسجد میں غیرمسلموں کا داخلہ ممنوع ہے۔

۶:... احادیث شریفہ میں مساجد کو شعارِ اِسلام قرار دِیا ہے:

قرآنِ کریم کی آیاتِ بینات کے بعد آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشاداتِ شریفہ کو دیکھا جائے تو ان سے بھی معلوم ہوتا ہے کہ مسجد اِسلام کا شعار ہے۔

الف:... آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم جب جہاد کے لئے صحابہ کرامؓ کو بھیجتے تھے تو انہیں ہدایت فرماتے تھے:

’’إِذَا رَأَیْتُمْ مَسْجِدًا أَوْ سَمِعْتُمْ مُؤَذِّنًا فَلَا تَقْتُلُوْا أَحَدًا۔‘‘

(ترمذی، ابوداؤد، مشکوٰۃ ص:۳۴۲)

ترجمہ:... ’’جب تم کسی بستی میں مسجد دیکھو یا مؤذِّن کی آواز سنو تو کسی کو قتل نہ کرو۔‘‘

اس حدیث شریف سے معلوم ہوا کہ کسی بستی میں مسجد کا ہونا اس اَمر کی علامت ہے کہ یہ لوگ مسلمان ہیں۔

ب:... آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے مسجد کی خدمت کرنے کو اِیمان کی علامت قرار دِیا ہے، چنانچہ ارشاد ہے:

433
’’إِذَا رَأَیْتُمُ الرَّجُلَ یَتَعَاھَدُ الْمَسْجِدَ فَاشْھَدُوْا لَہٗ بِالْإیْمَانِ فَإِنَّ اللہَ تَعَالٰی یَقُوْلُ: اِنَّمَا یَعْمُرُ مَسٰجِدَ اللہِ مَنْ اٰمـَنَ بِاللہِ وَالْیَوْمِ الْآخِرِ۔‘‘

(ترمذی، ابن ماجہ، مشکوٰۃ ص:۶۹)

ترجمہ:... ’’جب تم کسی شخص کو دیکھو کہ وہ مسجد کی خدمت کرتا ہے تو اس کے لئے ایمان کی شہادت دے دو، کیونکہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ: اللہ تعالیٰ کی مساجد کی تعمیر وہ شخص کرتا ہے جو اللہ تعالیٰ پر اور آخرت کے دن پر اِیمان رکھتا ہو۔‘‘

ج:... آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے مساجد کو بیت اللہ قرار دِیا ہے:

’’أَخْبَرَنَا عَبْدُالرَّزَّاقِ عَنْ مَعْمَرٍ عَنْ أَبِیْ إِسْحَاقَ عَنْ عَمْرٍو بْنِ مَیْمُوْنِ الْأَوْدِیّ قَالَ: أَخْبَرَنَا رَسُوْلُ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ أَنَّ الْمَسَاجِدَ بُیُوْتُ اللہِ فِی الْأَرْضِ، وَإِنَّہٗ لَحَقٌّ عَلَی اللہِ أَنْ یُّکْرَمَ مَنْ زَارَہٗ فِیْھَا۔‘‘

(مصنف عبدالرزاق ج:۱۱ ص:۲۹۶)

ان احادیث شریفہ پر تبصرہ کرتے ہوئے شاہ ولی اللہ محدث دہلویؒ لکھتے ہیں:

’’فضل بناء المسجد وملازمتہ وانتظار الصلٰوۃ فیہ ترجع إلٰی أنہ من شعائر الْإسلام وھو قولہ صلی اللہ علیہ وسلم: إذا رأیتم مسجدًا أو سمعتم مؤذّنًا فلا تقتلوا أحدًا۔ وإنہ محل الصلٰوۃ ومعتکف العابدین ومطرح الرحمۃ ویشبہ الکعبۃ من وجہ۔‘‘

(حجۃاللہ البالغہ، مترجم ج:۱ ص:۴۷۸، نور محمد کتب خانہ کراچی)

ترجمہ:... ’’مسجد کے بنانے، اس میں حاضر ہونے اور وہاں بیٹھ کر نماز کا اِنتظار کرنے کی فضیلت کا سبب یہ ہے کہ مسجد اِسلام کا شعار ہے، چنانچہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے کہ:

434

’’جب کسی آبادی میں مسجد دیکھو، یا وہاں مؤذِّن کی اَذان سنو تو کسی کو قتل نہ کرو۔‘‘ (یعنی کسی بستی میں مسجد اور اَذان کا ہونا اس بات کی علامت ہے کہ وہاں کے باشندے مسلمان ہیں) اور مسجد نماز کی جگہ اور عبادت گزاروں کے اِعتکاف کا مقام ہے، وہاں رحمتِ اِلٰہی کا نزول ہوتا ہے اور وہ ایک طرح سے کعبہ کے مشابہ ہے۔‘‘

قرآنِ کریم کی ان آیاتِ بینات، آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے اِرشادات اور اکابرِ اُمت کی تصریحات سے واضح ہے کہ:

الف:... مسجد اِسلام اور مسلمانوں کا شعار ہے۔

ب:... اور یہ کہ کسی غیرمسلم کو مسجد بنانے کی، یا اپنی عبادت گاہ کو مسجد کہنے کی، یا مسجد کے مشابہ عبادت گاہ بنانے کی اجازت نہیں دی جاسکتی۔

ج:... اور یہ کہ اگر کوئی غیرمسلم ایسی حرکت کرے تو مسلمان عدالت کا فرض ہے کہ اس کو ڈھادینے اور جلادینے کا حکم دے، جس طرح کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ’’مسجدِ ضرار‘‘ کو منہدم کرنے اور اسے نذرِ آتش کرنے کا حکم دِیا تھا۔ اور جیسا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے کعبہ یمانیہ کو ڈھانے کے لئے صحابہ کرامؓ کا وفد بھیجا تھا۔ اِمام ابویوسفؒ نے ’’کتاب الخراج‘‘ میں اپنی سند کے ساتھ یہ واقعہ نقل کیا ہے:

’’حدثنا إسماعیل بن أبی خالد عن قیس بن أبی حازم عن جریر قال: قال لی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم: ألَا تریحنی من ذی الخلصۃ؟ بیت کان لخثعم کانت تعبدہ فی الجاھلیۃ یسمّٰی کعبۃ الیمانیۃ۔ قال: فخرجت فی مائۃ وخمسین راکبًا فحرقناھا حتّٰی جعلناھا مثل الجمل الأجرب۔ قال: ثم بعثت إلی النبی صلی اللہ علیہ وسلم رجلًا یبشرہ فلمّا قدم علیہ قال: والذی بعثک بالحق! ما أتیتک حتّٰی ترکناھا مثل
435

الجمل الأجرب۔ قال: فبرک النبی صلی اللہ علیہ وسلم علیٰ أحمس وخیلھا۔‘‘

(کتاب الخراج ص:۲۱۰)

ترجمہ:... ’’حضرت جریر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا کہ: تم ’’ذوالخلصہ‘‘ کی طرف سے مجھے راحت نہیں دوگے؟ یہ قبیلہ بنوخثعم کا ایک مکان تھا، جس کی وہ جاہلیت میں عبادت کیا کرتے تھے اور اسے ’’کعبہ یمانیہ‘‘ کہا جاتا تھا۔ حضرت جریرؓ فرماتے ہیں کہ: حکمِ نبوی سن کر میں ڈیڑھ سو سواروں کی جماعت لے کر نکلا، ہم نے اس کو جلاکر خارشتی اُونٹ کی طرح کردیا، پھر میں نے ایک قاصد بارگاہِ نبوی میں بھیجا جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس کے جلانے کی خوشخبری دے۔ قاصد نے بارگاہِ اقدس میں حاضر ہوکر عرض کیا کہ: اس ذات کی قسم جس نے آپ کو حق کے ساتھ مبعوث فرمایا ہے! میں آپ کے پاس اس وقت آیا ہوں جب ہم نے اس کو خارشتی اُونٹ کی طرح کردیا۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے قبیلہ احمس کے لئے اور اس کے سواروں کے لئے دُعائے برکت فرمائی۔‘‘

د:... اَذان بھی اسلام کا شعار ہے:

نمازِ پنج گانہ اور جمعہ کے لئے اَذان دینا بھی اسلام کا شعار ہے، اور یہ ایک ایسی کھلی ہوئی اور بدیہی حقیقت ہے جس پر کسی دلیل کے قائم کرنے کی ضرورت نہیں، کیونکہ مسلم و غیرمسلم سب جانتے ہیں کہ اَذان دینے کا دستور صرف اہلِ اسلام میں رائج ہے۔ مسلمانوں کے سوا دُنیا کی کوئی قوم ایسی نہیں جو اس معروف طریقے سے اَذان کہتی ہو۔ مثل مشہور ہے کہ ’’عیاں را چہ بیاں‘‘ یعنی جو چیز سر کی آنکھوں سے دیکھی جاسکتی ہو اس کے لئے حاجتِ اِستدلال نہیں۔ مگر چونکہ زمانے کی ستم ظریفی نے دِین کے بدیہی حقائق کو بھی نظری

436

بنادیا ہے، اس لئے اس مدعا پر بھی دلائل پیش کرتا ہوں۔

۱:... قرآنِ کریم میں ہے:

’’وَاِذَا نَادَیْتُمْ اِلَی الصَّلٰوۃِ اتَّخَذُوْھَا ھُزُوًا وَّلَعِبًا ذٰلِکَ بِاَنَّھُمْ قَوْمٌ لّا یَعْقِلُوْنَ۔‘‘

(المائدۃ:۵۸)

ترجمہ:... ’’اور جب تم پکارتے ہو نماز کے لئے تو وہ ٹھہراتے ہیں اس کو ہنسی اور کھیل، اس واسطے کہ وہ لوگ بے عقل ہیں۔‘‘

آیت شریفہ میں نماز کی طرف بلانے سے مراد ہے اَذان دینا، اَذان دینے والا اگرچہ ایک شخص ہوتا ہے مگر اللہ تعالیٰ نے اس کو مسلمانوں کی جماعت کی طرف منسوب کرکے یوں فرمایا کہ: ’’جب تم بلاتے ہو نماز کی طرف۔‘‘ علامہ بدرالدین عینیؒ اس کی وجہ بیان کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ چونکہ مؤذِّن مسلمانوں کو بلانے کے لئے اَذان کہتا ہے اس لئے اس کے فعل کو تمام مسلمانوں کا اِجتماعی عمل قرار دِیا گیا۔ ان کی عبارت یہ ہے:

’’قولہ: ’’وَاِذَا نَادَیْتُمْ اِلَی الصَّلٰوۃِ‘‘ یعنی إذا أذَّن المؤذِّن للصّلٰوۃ، وإنما أضاف النداء إلیٰ جمیع المسلمین لأن المؤذِّن یؤذّن لھم وینادیھم، فأضاف إلیھم۔‘‘

(عمدۃ القاری ج:۵ ص:۱۰۲، باب بدء الْأذان)

قرآنِ کریم کی اس آیتِ شریفہ سے ثابت ہوا کہ اَذان صرف مسلمانوں کا شعار ہے، کیونکہ یہ صرف مسلمانوں کو نماز کی طرف بلانے کے لئے کہی جاتی ہے۔

۲:... آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم جب مدینہ طیبہ تشریف لائے تو مشورہ ہوا کہ نماز کی اِطلاع کے لئے کوئی صورت تجویز ہونی چاہئے۔ بعض حضرات نے گھنٹی بجانے کی تجویز پیش کی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے یہ کہہ کر رَدّ فرمادیا کہ یہ نصاریٰ کا شعار ہے۔ دُوسری تجویز پیش کی گئی کہ بوق (باجا) بجادیا جائے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے بھی قبول نہیں فرمایا کہ یہ یہود کا وطیرہ ہے۔ تیسری تجویز آگ جلانے کی پیش کی گئی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا یہ مجوسیوں کا طریقہ ہے۔ یہ مجلس اس فیصلے پر برخاست ہوئی کہ ایک شخص نماز کے

437

وقت اِعلان کردیا کرے کہ نماز تیار ہے۔ بعد اَزاں بعض حضراتِ صحابہؓ کو خواب میں اَذان کا طریقہ سکھایا گیا، انہوں نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں پیش کیا، آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے وحیٔ اِلٰہی سے اس خواب کی تصدیق فرمائی۔ اس وقت سے مسلمانوں میں یہ اَذان رائج ہوئی۔

(فتح الباری ج:۲ ص:۸۰)

شاہ ولی اللہ محدث دہلویؒ اس واقعے پر بحث کرتے ہوئے لکھتے ہیں:

’’وھٰذہ القصۃ دلیل واضح علٰی أن الأحکام إنما شرعت لأجل المصالح وإن للإجتھاد فیھا مدخلا، وإن التیسیر أصل الأصیل، وإن مخالفۃ أقوام تمادوا فی ضلالتھم فیما یکون من شعائر الدِّین مطلوب وإن غیر النبی صلی اللہ علیہ وسلم قد یطلع بالمنام والنفث فی الروع علٰی مراد الحق لٰـکن لَا یکلف الناس بہ ولَا تنقطع الشبھۃ حتّٰی یقررہ النبی صلی اللہ علیہ وسلم واقتضت الحکمۃ الْإلٰھیۃ أن لَا یکون الأذان صرف أعلام وتنبیہ، بل یضم مع ذٰلک أن یکون من شعائر الدِّین بحیث یکون النداء بہ علٰی رؤس الخامل والتنبیہ تنویھا بالدِّین ویکون قبولہ من القوم آیۃ انقیادھم لدِین اللہ۔‘‘

(حجۃ اللہ البالغہ ج:۱ ص:۴۷۴ مترجم)

ترجمہ:... ’’اس واقعے میں چند مسائل کی واضح دلیل ہے۔ اوّل یہ کہ اَحکامِ شرعیہ خاص مصلحتوں کی بنا پر مقرّر ہوئے ہیں۔ دوم یہ کہ اِجتہاد کا بھی اَحکام میں دخل ہے۔ سوم یہ کہ اَحکامِ شرعیہ میں آسانی کو ملحوظ رکھنا بہت بڑا اَصل ہے۔ چہارم یہ کہ شعائرِ دِین میں ان لوگوں کی مخالفت جو اپنی گمراہی میں بہت آگے نکل گئے ہوں، شارع کو مطلوب ہے۔ پنجم یہ کہ غیرنبی کو بھی بذریعہ خواب یا اِلقا فی

438

القلب کے مرادِ اِلٰہی مل سکتی ہے، مگر وہ لوگوں کو اس کا مکلف نہیں بناسکتا۔ اور نہ اس سے شبہ دُور ہوسکتا ہے جب تک کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اس کی تصدیق نہ فرمائیں۔ اور حکمتِ اِلٰہیہ کا تقاضا ہوا کہ اَذان صرف اِطلاع اور تنبیہ ہی نہ ہو بلکہ اس کے ساتھ وہ شعائرِ دِین میں سے بھی ہو کہ تمام لوگوں کے سامنے اَذان کہنا تعظیمِ دِین کا ذریعہ ہو، اور لوگوں کا اس کو قبول کرلینا، ان کے دِینِ خداوندی کے تابع ہونے کی علامت ٹھہرے۔‘‘

حضرت شاہ صاحبؒ کی اس عبارت سے معلوم ہوا کہ اَذان اِسلام کا بلند ترین شعار ہے اور یہ کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اسلام کے اس شعار میں گمراہ قوموں کی مخالفت کو ملحوظ رکھا ہے۔

۳:... حدیث شریف میں ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم جب جہاد کے لئے تشریف لے جاتے تھے تو صبح کا اِنتظار کرتے، اگر اس بستی سے اَذان کی آواز سنتے تو حملہ کرنے سے باز رہتے، اور اگر اَذان کی آواز نہ سنتے تو ان پر حملہ کرتے۔

(صحیح بخاری ج:۱ ص:۸۶، ابوداؤد ج:۱ ص:۳۵۴، مشکوٰۃ ص:۳۴۱، کتاب الخراج ص:۲۰۸)

اکابر شارحینِ حدیث لکھتے ہیں کہ یہ حدیث اس اَمر کی دلیل ہے کہ اَذان اِسلام کا شعار ہے۔

(فتح الباری ج:۲ ص:۹۰، عمدۃ القاری ج:۵ ص:۱۱۶)

۴:... یہ حدیث پہلے گزرچکی ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم مجاہدین کو ہدایت فرمایا کرتے تھے کہ وہ جب کسی بستی میں مسجد دیکھیں یا وہاں اَذان سنیں تو کسی کو قتل نہ کریں۔

(ابوداؤد ص:۳۵۴، مشکوٰۃ ص:۳۴۲)

اس حدیث سے بھی معلوم ہوا کہ کسی بستی سے اَذان کی آواز بلند ہونا ان لوگوں کے مسلمان ہونے کی علامت ہے۔

۵:... اکابرِ اُمت نے بے شمار کتابوں میں اس کی تصریح فرمائی ہے کہ اَذان اِسلام کا شعار ہے، چند اکابر کی کتابوں کا حوالہ درج ذیل ہے:

439
نووی شرح مسلم ج:۱ ص:۱۶۴
ابنِ عربی شرح ترمذی ج:۱ ص:۳۰۹
فتح الباری ج:۲ ص:۷۷
عمدۃ القاری ج:۵ ص:۱۰۲
مجموع شرح مہذب ج:۳ ص:۸۰
قاضی خان بر حاشیہ فتاویٰ ہندیہ ج:۱ ص:۶۹
فتاویٰ حافظ ابن تیمیہ ج:۱ ص:۷۱
فتح القدیر شرح ہدایہ ج:۱ ص:۲۴۰
البحرالرائق شرح کنز ج:۱ ص:۲۶۹
ردّ المحتار شرح درمختار ج:۱ ص:۳۸۴
میزان کبریٰ شعرانی ج:۱ ص:۱۱۸

۶:... فقہائے اُمت نے یہ بھی تصریح فرمائی ہے کہ کافر کی اَذان صحیح نہیں، رحمت الامۃ میں ہے:

’’وأجمعوا أنہ لَا یعتد إلّا بأذان المسلم العاقل۔‘‘

(ص:۳۴، مطبوعہ قطر)

ترجمہ:... ’’اور تمام اَئمہ کا اس پر اِجماع ہے کہ اَذان صرف مسلمان عاقل کی لائقِ اعتبار ہے، اور کافر اور مجنون کی اَذان صحیح نہیں۔‘‘

اس کے مزید حوالے مندرجہ ذیل ہیں:

المجموع شرح مہذب ج:۳ ص:۹۸
مغنی ابن قدامہ ج:۱ ص:۱۸۵
شرح کبیر ج:۱ ص:۴۱۸
البحر الرائق ج:۱ ص:۲۷۹
440

ردّ المحتار ج:۱ ص:۳۹۳
میزان کبریٰ شعرانی ج:۱ ص:۱۱۸
الفقہ الاسلامی وادلتہ ج:۱ ص:۵۴۱

ان تمام دلائل سے واضح ہے کہ اَذان صرف مسلمانوں کا شعار ہے، کسی بستی میں اَذان کا ہونا، وہاں کے باشندوں کے مسلمان ہونے کی علامت ہے، اور کسی غیرمسلم کی اَذان صحیح نہیں۔

کیا کسی غیرمسلم کو اِسلامی شعائر کے اپنانے کی اجازت دی جاسکتی ہے؟

گزشتہ مباحث سے یہ حقیقت واضح ہوچکی ہے کہ ’’قانون اِمتناعِ قادیانیت‘‘ میں جن اُمور کا ذِکر ہے (یعنی کلمۂ طیبہ، نماز باجماعت، مسجد اور اَذان) یہ مسلمانوں کا شعار ہیں، اور یہ چیزیں مسلم وغیرمسلم کے درمیان خطِ اِمتیاز کھینچتی ہیں۔

اب صرف اس نکتے پر غور کرنا باقی رہا کہ کیا کسی غیرمسلم کو اِسلام کا شعار اَپنانے کی اجازت دی جاسکتی ہے؟ اس سلسلے میں چند گزارشات گوش گزار کرنے کی اجازت چاہوں گا۔

کسی فرد، جماعت یا قوم کا خاص شعار لائقِ اِحترام سمجھا جاتا ہے، اور کوئی غیرمتعلق شخص اس خاص شعار کو اَپنائے تو اسے ’’جعل سازی‘‘ کا مرتکب سمجھا جاتا ہے، مثلاً:

۱:... کوئی صنعتی یا تجارتی فرم اپنا علامتی نشان (ٹریڈ مارک) رجسٹرڈ کرالیتی ہے، یہ اس کا ’’علامتی نشان‘‘ ہے، اور کسی شخص کو اس کے اپنانے کا حق حاصل نہیں، اگر کوئی دُوسرا شخص اس ’’اِمتیازی نشان‘‘ کو اِستعمال کرے گا تو ’’چور‘‘ اور ’’جعل ساز‘‘ تصوّر کیا جائے گا۔

۲:... ہر ملک کی فوج کی ایک خاص وردی ہے، جو اس ملک کی فوج کا ’’یونیفارم‘‘ سمجھا جاتا ہے، پھر فوج کے خاص خاص عہدوں کے لئے الگ الگ نشان مقرّر ہیں، یہ جنرل کا نشان ہے، یہ میجر جنرل کا نشان ہے، یہ کرنل کا نشان ہے، یہ فل کرنل کا نشان ہے، یہ میجر کا نشان ہے، وغیرہ وغیرہ۔

441

یہ مختلف عہدوں کے نشانات ان عہدوں کی امتیازی علامات اور ان کا ’’شعار‘‘ ہیں، اگر کوئی غیرفوجی، فوجی وردی پہن کر گھومے پھرے تو اسے مجرم تصوّر کیا جائے گا۔ اسی طرح اگر کوئی فوجی اپنے عہدے کے علاوہ دُوسرے عہدے کا ’’علامتی نشان‘‘ لگالے تو وہ بھی مجرم تصوّر کیا جائے گا، اس لئے کہ اگر ان امتیازی نشانات کے استعمال کی دُوسروں کو اِجازت دی جائے تو فوجی اور غیرفوجی کے درمیان امتیاز نہیں رہے گا، اور فوج کے اعلیٰ و ادنیٰ عہدوں کی شناخت مٹ جائے گی۔ الغرض فوج کا شعار لائقِ احترام ہے، اور فوجی افسران کے خاص خاص نشانات بھی لائقِ احترام ہیں، کسی غیرمتعلقہ شخص کو ان کے استعمال کی اجازت نہیں دی جاسکتی۔

۳:... اسی طرح ہر ملک کی پولیس کا بھی ایک ’’یونیفارم‘‘ ہے جو اس کا علامتی نشان اور شعار ہے، پھر پولیس کے بڑے چھوٹے عہدوں کی شناخت کے لئے الگ الگ نشان مقرّر ہیں، جو بطورِ خاص ان عہدوں کا شعار ہے، کسی غیرشخص کو پولیس کا یونیفارم اور اس کے مختلف عہدوں کا علامتی نشان استعمال کرنے کی اجازت نہیں۔

اگر کسی فرم کا ٹریڈ مارک کسی دُوسرے کے لئے استعمال کرنا جرم ہے، اگر پولیس کی وردی اور اس کے عہدوں کی شناختی علامات کا استعمال کسی غیرشخص کے لئے جرم ہے، اور اگر فوج کے یونیفارم اور اس کے عہدوں کی خاص علامات کا استعمال دُوسرے شخص کے لئے جرم ہے، تو ٹھیک اسی طرح اسلام کے شعار کا اِستعمال بھی ’’غیرمسلم‘‘ کے لئے جرم ہے، اس کو دُنیا کے کسی قانون انصاف کی رُو سے جائز قرار نہیں دیا جاسکتا۔

فاضل عدالت کبھی گوارا نہیں کرے گی کہ کوئی ’’جعل ساز‘‘ ایک عمارت بناکر اس پر ’’سیشن کورٹ‘‘، ’’ہائی کورٹ‘‘ یا ’’سپریم کورٹ‘‘ کا بورڈ لگاکر لوگوں کے مقدمات نمٹانے لگے۔ بلاشبہ لوگوں کے تنازعات نمٹانا کارِ ثواب ہے، اور مظلوموں کی دادرسی کرنا اور ان کو ظالموں کے چنگل سے نجات دِلانا بڑی عبادت ہے، اس کے باوجود یہ شخص جعل سازی کا مرتکب اور مجرم سمجھا جائے گا، کیوں؟ اس لئے کہ اس شخص نے غلط طور پر معزَّز عدالت کے نام کو اِستعمال کرکے اس مقدس نام کی توہین کی ہے۔

442

ٹھیک اسی طرح ہم کہتے ہیں کہ کسی غیرمسلم کا (اپنے کفر پر قائم رہتے ہوئے) اسلام کے مقدس نام کو اِستعمال کرنا، اور اِسلام کے خصوصی شعائر و علامات کو اَپنانا بھی بدترین جرم ہے، اس لئے کہ یہ اسلام اور اِسلام کے خصوصی شعائر کی توہین ہے۔

فاضل عدالت اس بات کو کبھی برداشت نہیں کرے گی کہ کوئی مکار فراڈیا معزَّز عدالت کے سامنے اپنا کمرۂ عدالت سجائے اور اس پر ’’چیف جسٹس‘‘ کے نام کی تختی آویزاں کرکے بیٹھ جائے، کیونکہ اس بہروپئے کا ’’چیف جسٹس‘‘ کی تختی آویزاں کرنا اس معزَّز اور محترم لفظ کی توہین ہے۔ ٹھیک اسی طرح اگر کوئی غیرمسلم (جو اپنے کفر پر مصر ہے) اپنے سینے یا گھر کے دروازے پر، اپنی عبادت گاہ پر کلمۂ طیبہ ’’لا اِلٰہ اِلَّا اللہ محمد رسول اللہ‘‘ کی تختی آویزاں کرتا ہے تو یہ بھی اس پاک کلمے کی توہین ہے، جسے کوئی مسلمان کسی حال میں گوارا نہیں کرسکتا۔ کون مسلمان ہوگا جو اس کو برداشت کرے کہ کسی بت کدے پر، ہندوؤں کے کسی مندر پر کلمۂ طیبہ لکھ کر یہ تأثر دِیا جائے کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیم وہ نہیں تھی جسے مسلمان لئے پھرتے ہیں، بلکہ ...نعوذباللہ... وہ تھی جس کا مظاہرہ اس بت کدے میں اور اس مندر میں کیا جاتا ہے۔ شیخ الاسلام حافظ ابنِ تیمیہؒ سے سوال کیا گیا کہ کفار کی عبادت گاہوں کو بیت اللہ کہنا صحیح ہے؟ جواب میں تحریر فرمایا:

’’لیست بیوت اللہ! وإنما بیوت اللہ المساجد، بل ھی بیوت یکفر فیھا، وإن کان قد یذکر فیھا، فالبیوت بمنزلۃ أھلھا، وأھلھا کفار، فھی بیوت عبادۃ الکفار۔‘‘

(فتاویٰ ابن تیمیہ ج:۱ ص:۱۱۵)

ترجمہ:... ’’یہ بیت اللہ نہیں، بیت اللہ مسجدیں ہیں، یہ تو وہ جگہیں ہیں جہاں کفر ہوتا ہے، اگرچہ ان میں ذِکر بھی ہوتا ہو۔ پس مکانات کا وہی حکم ہے جو ان کے بانیوں کا ہے، ان کے بانی کافر ہیں، لہٰذا یہ کافروں کے عبادت خانے ہیں۔‘‘

ظاہر ہے کہ کفر معنوی نجاست ہے، پس جس طرح کسی نجاست خانے پر کلمۂ طیبہ

443

کا بورڈ لگانا کلمۂ طیبہ کی توہین اور بے ادبی ہے، اسی طرح بیت الکفر پر کلمۂ طیبہ کا آویزاں کرنا بھی کلمۂ طیبہ کی تذلیل ہے، جو مسلمانوں کے لئے ناقابلِ برداشت ہے۔

قانون اِمتناعِ قادیانیت کا نفاذ بھی ایسے جرائم کے تدارک کے لئے ہوا ہے۔

مذہبی آزادی کا صحیح تصوّر:

دورِ جدید میں ترقی یافتہ، لیکن لادِین اَقوام کی طرف سے ’’فرد کی آزادی‘‘ کا ایسا صور پھونکا گیا اور اس کے سحرآفریں نعرے نے کچھ لوگوں کو ایسا مسحور کیا کہ وہ ’’فرد کی آزادی‘‘ کے حدود و قیود ہی بھول گئے۔

مغرب میں ’’فرد کی آزادی‘‘ کو پانچ قسموں میں تقسیم کیا گیا ہے:

۱- آزادیٔ تقریر۔

۲- آزادیٔ تحریر۔

۳- آزادیٔ انجمن سازی۔

۴- آزادیٔ مذہب۔

۵- آزادیٔ بود و باش۔

دُنیا کے کسی مذہب میں ’’فرد کی آزادی‘‘ کی پانچوں اقسام کا مفہوم ’’مادر پدر آزادی‘‘ نہیں، بلکہ اس کے لئے بھی حدود و قیود ہیں:

اوّل:... یہ کہ یہ آزادی اخلاق و تہذیب کے دائرے سے باہر نہ ہو۔

دوم:... یہ کہ یہ آزادی آئین و قانون کے دائرے میں ہو۔

سوم:... یہ کہ ایک فرد کی آزادی سے معاشرے کا امن و سکون غارت نہ ہو، اور دُوسروں کے حقوق اس سے متأثر نہ ہوں۔ جو آزادی کہ دائرۂ تہذیب سے باہر ہو، جس آزادی میں آئین و قانون کو ملحوظ نہ رکھا جائے، اور جس آزادی سے معاشرے کا امن و سکون تہہ و بالا ہوجائے یا دُوسروں کے حقوق متأثر ہوں، ایسی آزادی پر ہر مہذب معاشرہ پابندی عائد کرے گا۔ مشہور ہے کہ ایک شخص بے ہنگم طریقے سے اپنا ہاتھ گھمارہا تھا، اس کا

444

ہاتھ کسی کی ناک پر لگا، ناک والے نے اس پر اِحتجاج کیا، تو آپ فرماتے ہیں کہ: ’’آزادی کا زمانہ ہے، مجھے اپنا ہاتھ گھمانے کی مکمل آزادی ہے، آپ میری آزادی میں خلل انداز نہیں ہوسکتے۔‘‘ جواب میں اس زخمی شخص نے کہا کہ: ’’آپ کو بلاشبہ آزادی ہے، جس طرح چاہیں ہاتھ گھمائیں، مگر یہ ملحوظ رہے کہ آپ کی آزادی کی حد میری ناک سے ورے ورے تک ہے، جہاں سے میری ناک کی سرحد شروع ہوئی وہاں سے آپ کی آزادی ختم!‘‘

الغرض! آزادیٔ تحریر و تقریر ہو، آزادیٔ مذہب و انجمن ہو، یا آزادیٔ بود و باش ہو، ان میں سے کوئی آزادی بھی حدود و قیود سے ماورا نہیں، مثلاً:

۱:... آزادیٔ تقریر:

آزادیٔ تقریر کو لیجئے! ہر شخص کو حق ہے کہ اپنی زبان کو جس طرح چاہے چلائے، لیکن شرط یہ ہے کہ:

الف:... لوگوں پر بہتان تراشی نہ کرے۔

ب:... لوگوں کو ملکی آئین کے خلاف بغاوت پر نہ اُکسائے۔

ج:... غیرقانونی طریقے سے حکومت کا تختہ اُلٹنے کی دعوت نہ دے۔

د:... اپنی تقریر میں دشنام طرازی نہ کرے اور مغلظات نہ بکے، حکومت کے کارندوں کو چور، ڈاکو، بدمعاش اور حرام خور کے خطابات سے نہ نوازے۔

ہ:... کسی کے گھر کے سامنے، کسی کے دفتر کے سامنے اور کسی نجی محفل کے پاس ایسا شور نہ کرے کہ لوگوں کا امن و سکون غارت ہوجائے۔

اگر کوئی شخص ’’آزادیٔ تقریر‘‘ کی آڑ لے کر ان حدود کو پھلانگنے کی جرأت کرتا ہے تو ہر مہذب ملک کا قانون حرکت میں آئے گا، اور اس شخص کو آزادی کے غلط مفہوم کا تلخ ذائقہ چکھنا پڑے گا۔

۲:... آزادیٔ تحریر:

جدید دور میں آزادیٔ تحریر کا غلغلہ بلند ہے، اور آزادیٔ تحریر پر قدغن لگانے کے

445

لئے اِحتجاج کیا جاتا ہے۔ اس آزادی کا زیادہ تعلق اخبارات و رسائل، کتب اور لٹریچر اور مقالات و مضامین سے ہے۔ لیکن آپ جانتے ہیں کہ ہر مہذب ملک میں پریس کے قوانین موجود ہیں، اور کسی کو یہ حق نہیں دیا جاتا کہ ان قوانین سے بالاتر ہوکر ’’آزادیٔ تحریر‘‘ کا مظاہرہ کرے، اگر کوئی اخبار نویس دُوسروں کو فحش مغلظات بکتا ہے، کسی پر ناروا تہمتیں دھرتا ہے، لوگوں کو آئین و قانون سے بغاوت کی دعوت دیتا ہے، فوج یا عدلیہ کی توہین کرتا ہے، یا معاشرے میں اخلاقی انارکی پھیلاتا ہے تو قلم کی اس آزادی کو لگام دینے کے لئے قانون حرکت میں آئے گا، اور ایسے شخص کو پسِ دیوارِ زنداں بھیجا جائے گا، یا پھر اس کا صحیح مقام دِماغی شفاخانہ ہوگا۔ الغرض! کسی بھی مہذب معاشرے میں ’’آزادیٔ قلم‘‘ کے یہ معنی ہرگز نہیں کہ ان ’’آزاد صاحب‘‘ کو لوگوں کی عزّت و آبرو سے کھیلنے اور معاشرے کی زندگی اجیرن کرنے کا بھی حق حاصل ہے۔

۳:... آزادیٔ انجمن سازی:

ہم ذوق و ہم مشرب لوگوں کو اِختیار ہے کہ اپنی ایک انجمن بنائیں، اور اپنی جماعت تشکیل دیں، لیکن یہ آزادی بھی اخلاق و قانون کے دائرے میں محدود رہنی چاہئے، اگر بدنام قسم کے ڈاکو ’’انجمنِ قزاقاں‘‘ کے نام سے ایک تنظیم بنائیں، اور اس تنظیم کے اُصول و قواعد مرتب کریں، اور انہیں اخباروں میں، رسالوں میں، کتابوں میں شائع کریں، تو کوئی مہذب حکومت اور مہذب معاشرہ اس کی اجازت نہیں دے گا، بلکہ ایسی تنظیم کو خلافِ قانون قرار دیا جائے گا، اور اس تنظیم کے ارکان اگر حکومت کی گرفت میں آجائیں تو ان کو قرار واقعی سزا دی جائے گی۔

اسی طرح حکومت کے باغیوں کا گروپ اگر ’’انجمنِ باغیان‘‘ بنانے کا اعلان کرے تو اس کا جو حشر ہوگا وہ سب کو معلوم ہے، اس سے ثابت ہوا کہ انجمن سازی کی آزادی بھی مادر پدر آزادی نہیں، بلکہ اخلاق و قانون کے حدود کی پابند ہے۔

446

۴:... آزادیٔ بود و باش:

ہر شخص کو آزادی ہے کہ جیسے مکان میں چاہے رہے، جب کھانا چاہے کھائے، جیسا لباس چاہے پہنے، جیسی معاشرت چاہے اختیار کرے، لیکن یہ آزادی بھی غیرمحدود نہیں، بلکہ اس پر کچھ اخلاقی و قانونی پابندیاں عائد ہوں گی، چنانچہ سکونتی مکان کی تعمیر میں اسے بلدیہ کے قواعد کی پابندی کرنی ہوگی۔

لباس کی تراش خراش کا اِختیار ہے، لیکن اگر کوئی شخص پولیس یا فوج کی وردی پہن کر نکلے گا تو گرفتار کرلیا جائے گا، اپنے گھر میں اگر چاہے تو ملکہ برطانیہ کا تاج بھی زیبِ سر کرے، لیکن اگر جذبۂ آزادی کی چھلانگ لگاکر تاجِ برطانیہ کو سرِ عام پہنے گا تو دست اندازی پولیس کا مستوجب ہوگا۔ اپنے گھر میں جو گائے بجائے، لیکن اگر مکان کی چھت پر چڑھ کر طبل غازی بجانے لگے تو فوراً اس کو منع کیا جائے گا۔ گھر میں آزاد ہے کہ لنگی پہنے یا بنیان، یا اپنے بند کمرے میں لباسِ بے لباسی زیبِ تن کرے، لیکن اگر اسی لباسِ بے لباسی میں لوگوں کے سامنے آئے گا تو دَھر لیا جائے گا۔ معلوم ہوا کہ آزادیٔ بود و باش بھی بے قید نہیں، بلکہ عقلائے عالم اس آزادی کو اَخلاق و قانون کے دائرے میں رکھنے پر متفق ہیں، خلاصہ یہ کہ ان تمام قسم کی آزادیوں کے لئے شرط یہ ہے کہ ایک فرد کی آزادی، دُوسروں کی آزادی میں خلل انداز نہ ہو، اور اس آزادی سے دُوسروں کا امن و سکون تہہ و بالا نہ ہو۔

۵:... آزادیٔ مذہب:

اسی طرح ہر شخص کو اِختیار ہے کہ جس مذہب کو چاہے اختیار کرے، خدا کو مانے یا نہ مانے، کرشن مہاراج کو مانے، ہنومان جی کی پوجا کرے، زرتشت کو مانے، یہودی مذہب کو اَپنائے، عیسائی مذہب کو اِختیار کرے، یا حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر اِیمان لائے، کسی شخص کو کسی دِین و مذہب کے قبول کرنے پر مجبور نہیں کیا جائے گا، کیونکہ دِین و مذہب کا معاملہ عقیدہ و نجاتِ آخرت کا معاملہ ہے، اور یہ خوداِختیاری معاملہ ہے، اس میں

447

کسی پر جبر نہیں کیا جاسکتا، لیکن یہ آزادی اخلاق و قانون سے ماورا نہیں، بلکہ یہ آزادی بھی اخلاق و قانون کے دائرے میں محدود ہے، مثلاً ایک پابندی تو اس پر اس مذہب کی طرف سے عائد ہوگی جس کو وہ قبول کرنے جارہا ہے کہ اگر وہ اس مذہب کو قبول کرنا چاہتا ہے تو اس مذہب کو قبول کرنے سے پہلے اس کے اُصول کو خوب ٹھونک بجاکر دیکھ لے، اور گہری نظر سے ان کا مطالعہ کرلے، یہ دیکھ لے کہ اس کے لئے قابلِ قبول بھی ہیں یا نہیں؟ اور جب اس مذہب کو قبول کرلے گا تو اس مذہب کے تمام مُسلَّمہ اُصول کی پابندی اس پر لازم ہوگی، اور اس مذہب کے مُسلَّمہ اُصول سے اِنحراف اس کے لئے جائز نہیں ہوگا، اگر یہ شخص اس مذہب کو قبول کرنے کا اِلتزام بھی کرتا ہے، اس کے باوجود اس مذہب کے اُصولِ مُسلَّمہ سے اِنحراف کرتا ہے تو اس مذہب کو اس کے خلاف کارروائی کا پورا حق حاصل ہوگا۔

دُوسری پابندی اس پر دُوسرے مذاہب کی طرف سے عائد ہوگی کہ اس کی ’’مذہبی آزادی‘‘ سے دُوسروں کی مذہبی آزادی متأثر نہ ہو، مثلاً ایک شخص اپنے دوستوں کی ایک جماعت بنالیتا ہے اور پھر یہودی مذہب کے ماننے والوں کو مخاطب کرکے کہتا ہے کہ: ’’میں موسیٰ علیہ السلام ہوں، اللہ تعالیٰ نے مجھے دوبارہ بھیجا ہے تاکہ میں توریت کی تجدید کروں، اور سچی یہودیت کو لوگوں کے سامنے پیش کروں۔ چونکہ سچا یہودی مذہب وہ ہے جو میں بیان کر رہا ہوں، لہٰذا تمام یہودی برادری کا فرض ہے کہ مجھ پر اِیمان لائے، مجھے موسیٰ علیہ السلام کی حیثیت سے تسلیم کریں، اور میری پیروی کریں، کیونکہ صرف میری تعلیم ان کے لئے مدارِ نجات ہے۔ جو لوگ مجھے نہیں مانیں گے وہ یہودی مذہب کے دائرے سے خارج ہیں‘‘ وغیرہ وغیرہ۔

یہ شخص اپنے ان خیالات کو کتابوں میں، رسالوں میں اور اَخباروں میں شائع کرتا ہے، اس کے ان خیالات سے یہودی برادری میں اشتعال پیدا ہوتا ہے، اور اس کا یہ دِل آزار رویہ یہودی برادری کے لئے ناقابلِ برداشت ہوجاتا ہے، یہاں تک کہ نوبت مناظروں مباحثوں سے گزرکر فتنہ و فساد تک پہنچ جاتی ہے۔ ہر وہ شخص جس کو اللہ تعالیٰ نے معمولی عقل ودانش سے نوازا ہے اس شخص کے رویے کو یہودی مذہب میں مداخلت قرار دے گا، اور اس

448

کی اس ’’غلط مذہبی آزادی‘‘ پر پابندی عائد کرنے کے حق میں رائے دے گا۔

یا مثلاً ایک عیسائیوں کو مخاطب کرکے کہتا ہے کہ: ’’میں عیسیٰ علیہ السلام ہوں‘‘ اور وہی تقریر جو اُوپر یہودیت کے بارے میں ذکر کی گئی ہے، عیسائیوں کے بارے میں کرتا ہے۔ یہاں تک کہ اس کی اس اشتعال انگیزی سے عیسائی برادری کے دِل مجروح ہوتے ہیں، اور دونوں کے درمیان تصادم کی نوبت آجاتی ہے، تو یہاں بھی اس شخص کے رویے پر نفرین کی جائے گی، اور عیسائی مذہب کے اِستحصال سے روکا جائے گا۔

یا مثلاً ایک شخص دعویٰ کرتا ہے کہ ...نعوذباللہ... ’’میں محمد رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وسلم) ہوں، اللہ تعالیٰ نے مجھے دُنیا میں دوبارہ مبعوث فرمایا ہے، مسلمان جس اسلام کو لئے پھرتے ہیں وہ مردہ اسلام ہے، زندہ اسلام وہ ہے جو میں پیش کر رہا ہوں، اب صرف میری پیروی مدارِ نجات ہے، صرف میرے ماننے والے مسلمان ہیں، باقی سب دائرۂ اسلام سے خارج ہیں‘‘ وغیرہ وغیرہ۔

اس شخص کی یہ حرکتیں مسلمانوں کے لئے حد درجہ اذیت کا باعث بنتی ہیں، ان میں اِشتعال پیدا ہوتا ہے، اور وہ اس موذی کی ان اِشتعال انگیز حرکتوں کے خلاف سراپا اِحتجاج بن جاتے ہیں، ظاہر ہے کہ اس شخص کی اس اِشتعال انگیزی کو ’’مذہبی آزادی‘‘ کا نام دینا غلط ہے، یہ ’’مذہبی آزادی‘‘ نہیں، بلکہ مسلمانوں کے دِین و مذہب میں مداخلت ہے، اور ان کے مذہب پر ڈاکا ڈالنا ہے، پس جس طرح دُنیا کی کوئی عدالت ’’انجمنِ قزاقاں‘‘ قائم کرنے کی اجازت نہیں دے سکتی، اسی طرح دُنیا کی کوئی عدالت اس شخص کی جماعت کو ’’مذہبی قزاقی‘‘ کی اجازت نہیں دے سکتی۔

الغرض! ’’مذہبی آزادی‘‘ سر آنکھوں پر، لیکن مذہبی آزادی کے نام پر ’’مذہبی قزاقی‘‘ کی اجازت دینا عدل و انصاف کا خون کرنا ہے۔

قادیانیوں کی مذہبی آزادی اور ہمارا آئین:

قادیانیوں کی طرف سے عدالتِ ھٰذا میں یہ نکتہ اُٹھایا گیا ہے کہ اگرچہ پاکستان

449

کے آئین کی رُو سے ہم غیرمسلم ہیں، لیکن تمہارا آئین غیرمسلم اقلیتوں کو مذہبی آزادی دیتا ہے، لہٰذا ہمارا جو مذہب بھی ہو، ہمیں اس کی پوری آزادی ملنی چاہئے۔ اور یہ کہ ’’قانون اِمتناعِ قادیانیت‘‘ جو اس آئینی حق سے ہمیں محروم کرتا ہے، اس کو منسوخ قرار دِیا جائے۔

قادیانیوں کے اس نکتے پر غور کرنے کے لئے ضروری ہے کہ یہ دیکھا جائے کہ قادیانیت کیا چیز ہے؟ اور آئین میں قادیانیوں کو غیرمسلم اقلیت قرار دینے کی ضرورت کیوں پیش آئی؟ اس سلسلے میں چند معروضات پیشِ خدمت ہیں:

۱:... اُمتِ اسلامیہ کا متفق علیہ عقیدہ ہے کہ آنحضرت محمدِ مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم آخری نبی ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد نبوّت و رِسالت کا سلسلہ بند ہے، اب قیامت تک کسی کو نبوّت عطا نہیں کی جائے گی۔

۲:... مرزا غلام احمد قادیانی نے اپنی کتاب ’’براہین احمدیہ‘‘ میں (جو ۱۸۸۴ء میں شائع ہوئی تھی) قرآنِ کریم کی آیات اور اپنے اِلہامات کے حوالے سے یہ دعویٰ کیا کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام دوبارہ دُنیا میں آئیں گے۔ اور یہ کہ وہ عیسیٰ علیہ السلام کا مثیل بن کر تجدیدِ اسلام کے لئے آیا ہے۔

(براہین احمدیہ حصہ چہارم ص:۴۹۸، ۴۹۹، ۵۰۵)

۱۸۹۱ء میں دعویٰ کیا کہ مجھے اِلہام ہوا کہ عیسیٰ علیہ السلام فوت ہوچکے ہیں، وہ دوبارہ نہیں آئیں گے، اور یہ کہ ان کی جگہ اللہ تعالیٰ نے اس کو مسیحِ موعود بناکر بھیجا ہے۔

۱۹۰۱ء میں دعویٰ کیا کہ وہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا مظہرِ ثانی ہے، اس لئے نہ صرف نبی و رسول ہے، بلکہ بعینہٖ خاتم الانبیاء ہے۔

۳:... محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا رُوپ دھارنے کے بعد مرزا غلام احمد قادیانی نے وہ تمام آیات اپنی ذات پر چسپاں کرلیں جو قرآنِ کریم میں حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں نازل ہوئی ہیں۔

بطورِ مثال یہاں بیس آیات کا حوالہ دیا جاتا ہے:

۱:... ’’مُحَمَّدٌ رَّسُوْلُ اللہِ وَالَّذِیْنَ مَعَہُٓ اَشِدَّآئُ عَلَی

450

الْکُفَّارِ رُحَمَآئُ بَیْنَھُمْ۔‘‘

(الفتح:۴۹) (ایک غلطی کا اِزالہ ص:۳، تذکرہ ص:۹۴طبع چہارم)

ترجمہ:... ’’محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) خدا کا رسول ہے، اور جو لوگ اس کے ساتھ ہیں، وہ کفار پر سخت ہیں ...یعنی کفار ان کے سامنے لاجواب اور عاجز ہیں، اور ان کی حقانیت کی ہیبت کافروں کے دلوں پر مستولی ہے... اور وہ لوگ آپس میں رحم کرتے ہیں۔‘‘

۲:... ’’ھُوَ الَّذِیْٓ اَرْسَلَ رَسُوْلَہٗ بِالْھُدٰی وَدِیْنِ الْحَقِّ لِیُظْھِرَہٗ عَلَی الدِّیْنِ کُلِّہٖ۔‘‘

(الصف:۹) (تذکرہ ص:۳۸۷، ۳۸۸، طبع چہارم)

ترجمہ:... ’’خدا وہی خدا ہے جس نے اپنا رسول ہدایت اور دِینِ حق کے ساتھ بھیجا تاکہ اس دِین کو تمام دِینوں پر غالب کرے۔‘‘

۳:... ’’قُلْ اِنْ کُنْتُمْ تُحِبُّوْنَ اللہَ فَاتَّبِعُوْنِیْ یُحْبِبْکُمُ اللہُ۔‘‘

(آل عمران:۳۱) (حقیقۃ الوحی ص:۸۲)

ترجمہ:... ’’ان کو کہہ کہ تم خدا سے محبت کرتے ہو تو آؤ میری پیروی کرو، خدا بھی تم سے محبت کرے۔‘‘

۴:... ’’قُلْ یٰٓـاَیُّھَا النَّاسُ اِنِّیْ رَسُوْلُ اللہِ اِلَیْکُمْ جَمِیْعًا۔‘‘

(الاعراف:۱۵۸) (تذکرہ ص:۳۵۲، طبع چہارم)

ترجمہ:... ’’کہہ کہ اے لوگو! میں تم سب کی طرف خدا تعالیٰ کا رسول ہوکر آیا ہوں۔‘‘

۵:... ’’وَمَا یَنْطِقُ عَنِ الْھَوٰی اِنْ ھُوَ اِلّا وَحْیٌ یُّوْحٰی۔‘‘

(النجم:۳-۴) (تذکرہ ص:۳۷۸)

ترجمہ:... ’’اور وہ اپنی خواہش کے ماتحت نہیں بولتا، بلکہ

451

وحی کا تابع ہے، جو نازل کی جاتی ہے۔‘‘

۶:... ’’اِنَّ الَّذِیْنَ یُبَایِعُوْنَکَ اِنَّمَا یُبَایِعُوْنَ اللہَ یَدُ اللہِ فَوْقَ اَیْدِیْھِمْ۔‘‘

(الفتح:۱۰) (حقیقۃ الوحی ص:۸۰)

ترجمہ:... ’’وہ لوگ جو تیرے ہاتھ میں ہاتھ دیتے ہیں، وہ خدا کے ہاتھ میں ہاتھ دیتے ہیں، یہ خدا کا ہاتھ جو اُن کے ہاتھ پر ہے۔‘‘

۷:... ’’قُلْ اِنَّمَآ اَنَا بَشَرٌ مِّثْلُکُمْ یُوْحٰٓی اِلَیَّ اَنَّمَآ اِلٰـھُکُمْ اِلٰـہٌ وَّاحِدٌ۔‘‘

(الکہف:۱۱۰) (حقیقۃ الوحی ص:۸۱)

ترجمہ:... ’’ان کو کہہ کہ میں تو ایک انسان ہوں، میری طرف یہ وحی ہوئی ہے کہ تمہارا خدا ایک خدا ہے۔‘‘

۸:... ’’اِنَّا فَتَحْنَا لَکَ فَتْحًا مُّبِیْنًا، لِیَغْفِرَ لَکَ اللہُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِکَ وَمَا تَأَخَّرَ۔‘‘

(الفتح:۱) (حقیقۃ الوحی ص:۹۴)

ترجمہ:... ’’میں ایک عظیم فتح تجھ کو عطا کروں گا، جو کھلی کھلی فتح ہوگی، تاکہ تیرا خدا تیرے تمام گناہ بخش دے جو پہلے ہیں اور پچھلے ہیں۔‘‘

۹:... ’’اِنَّآ اَرْسَلْنَآ اِلَیْکُمْ رَسُوْلًا شَاھِدًا عَلَیْکُمْ کَمَآ اَرْسَلْنَا اِلٰی فِرْعَوْنَ رَسُوْلًا۔‘‘

(المزمل:۱۵) (حقیقۃ الوحی ص:۱۰۱)

ترجمہ:... ’’ہم نے تمہاری طرف ایک رسول بھیجا ہے اس رسول کی مانند جو فرعون کی طرف بھیجا گیا تھا۔‘‘

۱۰:...’’اِنَّآ اَعْطَیْنٰـکَ الْکَوْثَرَ۔‘‘

(الکوثر:۱) (حقیقۃ الوحی ص:۱۰۲)

ترجمہ:... ’’ہم نے کثرت سے تجھے دیا ہے۔‘‘

452

۱۱:... ’’اراد اللہ أن یبعثک مقامًا محمودًا‘‘

(حقیقۃ الوحی ص:۱۰۲)

ترجمہ:... ’’خدا نے ارادہ کیا ہے جو تجھے وہ مقام بخشے جس میں تو تعریف کیا جائے گا۔‘‘

۱۲:... ’’یٰسٓ۔ وَالْقُرْاٰنِ الْحَکِیْمِ۔ اِنَّکَ لَمِنَ الْمُرْسَلِیْنَ۔ عَلٰی صِرَاطٍ مُّسْتَقِیْمٍ۔‘‘

(حقیقت الوحی ص:۱۰۷، تذکرہ ص:۴۷۹)

ترجمہ:... ’’اے سردار! تو خدا کا مرسل ہے، راہِ راست پر۔‘‘

۱۳:... ’’وَمَا رَمَیْتَ اِذْ رَمَیْتَ وَلٰـکِنَّ اللہَ رَمٰی‘‘

(الانفال:۱۷) (حقیقۃ الوحی ص:۷۰)

ترجمہ:... ’’جو کچھ تو نے چلایا وہ تو نے نہیں چلایا بلکہ خدا نے چلایا۔‘‘

۱۴:... ’’اَلرَّحْمٰنُ۔ عَلَّمَ الْقُرْاٰنَ۔‘‘

(الرحمن:۱) (حقیقۃ الوحی ص:۷۰)

ترجمہ:... ’’خدا نے تجھے قرآن سکھلایا، یعنی اس کے صحیح معنی تجھ پر ظاہر کئے۔‘‘

۱۵:...’’قل انی امرت وانا اول المؤمنین‘‘

(حقیقۃ الوحی ص:۷۰)

ترجمہ:... ’’کہہ میں خدا کی طرف سے مامور ہوں اور میں سب سے پہلے ایمان لانے والا ہوں۔‘‘

۱۶:... ’’وَاتْلُ مَآ اُوْحِیَ اِلَیْکَ مِنْ رَّبِّکَ‘‘

(الکہف:۲۷) (ایضاً ص:۷۴)

ترجمہ:... ’’اور جو کچھ تیرے رَبّ کی طرف سے تیرے پر

453

وحی نازل کی گئی ہے، وہ ان لوگوں کو سنا جو تیری جماعت میں داخل ہوں گے۔‘‘

۱۷:... ’’وَدَاعِیًا اِلَی اللہِ بِاِذْنِہٖ وَسِرَاجًا مُّنِیْرًا‘‘

(الاحزاب:۴۶) (ایضاً ص:۴۵)

ترجمہ:... ’’اور خدا کی طرف بلاتا ہے اور ایک چمکتا ہوا چراغ ہے۔‘‘

۱۸:... ’’دَنٰی فَتَدَلّٰی۔ فَکَانَ قَابَ قَوْسَیْنِ اَوْ اَدْنٰی۔‘‘

(النجم:۸،۹) (ایضاً ص:۷۶)

ترجمہ:... ’’وہ خدا سے نزدیک ہوا، پھر مخلوق کی طرف جھکا اور خدا اور مخلوق کے درمیان ایسا ہوگیا جیسا کہ دو قوسوں کے درمیان خط ہوتا ہے۔‘‘

۱۹:... ’’سُبْحٰنَ الَّذِیْ اَسْرٰی بِعَبْدِہٖ لَیْلًا۔‘‘

(الاسراء:۱) (ایضاً ص:۷۸)

ترجمہ:... ’’وہ پاک ذات وہی خدا ہے جس نے ایک رات میں تجھے سیر کرادیا۔‘‘

۲۰:... ’’وَمَا اَرْسَلْنٰکَ اِلّا رَحْمَۃً لِّلْعٰلَمِیْنَ۔‘‘

(الانبیاء:۱۰۷) (اربعین نمبر۳ ص:۲۳)

ترجمہ:... ’’اور ہم نے دُنیا پر رحمت کرنے کے لئے تجھے بھیجا ہے۔‘‘

ہر مسلمان واقف ہے کہ یہ آیات حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں ہیں، مگر مرزا قادیانی نے پوری ڈھٹائی کے ساتھ ان کو اپنی ذات پر چسپاں کرلیا۔

علاوہ ازیں مرزا قادیانی نے تمام انبیائے کرام علیہم السلام سے افضل ہونے کا دعویٰ کیا، حتیٰ کہ حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بھی افضل ہونے کا دَم بھرا، اس کی

454

بہت سی عبارتوں میں سے چند حوالے ملاحظہ فرمائیں:

مرزا افضل الرسل:

الف:... ’’آسمان سے کئی تخت اُترے مگر تیرا تخت سب سے اُونچا بچھایا گیا۔‘‘

(مرزا کا اِلہام، مندرجہ تذکرہ طبع دوم ص:۳۴۶)

ب:... ’’کمالاتِ متفرقہ جو تمام دیگر انبیاء میں پائے جاتے تھے وہ سب حضرت رسولِ کریم میں ان سے بڑھ کر موجود تھے، اور وہ سارے کمالات حضرت رسولِ کریمؐ سے ظلّی طور پر ہم کو عطا کئے گئے، اور اسی لئے ہمارا نام آدم، ابراہیم، موسیٰ، نوح، داؤد، یوسف، سلیمان، یحییٰ، عیسیٰ وغیرہ ہے ...... پہلے تمام انبیاء ظل تھے نبی کریمؐ کی خاص خاص صفات میں، اور اب ہم ان تمام صفات میں نبی کریمؐ کے ظل ہیں۔‘‘

(ملفوظات جلد سوم ص:۲۷۰، مطبوعہ ربوہ)

فخر الاوّلین وآخرین:

ج:... روزنامہ ’’الفضل‘‘ قادیان، مسلمانوں کو للکارتے ہوئے کہتا ہے:

’’اے مسلمان کہلانے والو! اگر تم واقعی اسلام کا بول بالا چاہتے ہو اور باقی دُنیا کو اپنی طرف بلاتے ہو تو پہلے خود سچے اسلام کی طرف آجاؤ (یعنی مسلمانوں کا اسلام جھوٹا ہے ...نعوذباللہ...ناقل) جو مسیحِ موعود (مرزا قادیانی) میں ہوکر ملتا ہے، اسی کے طفیل آج بر وتقویٰ کی راہیں کھلتی ہیں، اسی کی پیروی سے انسان فلاح و نجات کی منزلِ مقصود پر پہنچ سکتا ہے، وہ وہی فخرِ اوّلین و آخرین ہے، جو آج سے تیرہ سو برس پہلے رحمۃ للعالمین بن کر آیا تھا۔‘‘

(’’الفضل‘‘ قادیان، ۲۶؍ستمبر ۱۹۱۷ء، بحوالہ قادیانی مذہب ص:۲۱۱، ۲۱۲، طبع نہم، لاہور)

455

پہلے محمد رسول اللہ سے بڑھ کر:

د:... ’’اور جس نے اس بات سے اِنکار کیا کہ نبی علیہ السلام کی بعثت چھٹے ہزار سے تعلق رکھتی ہے، جیسا کہ پانچویں ہزار سے تعلق رکھتی تھی، پس اس نے حق کا اور نصِ قرآن کا اِنکار کیا، بلکہ حق یہ ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی رُوحانیت چھٹے ہزار کے آخر میں یعنی ان دنوں میں بہ نسبت ان سالوں کے اقویٰ اور اکمل اور اَشد ہے، بلکہ چودھویں رات کی طرح ہے۔‘‘

(خطبہ اِلہامیہ ص:۱۸۱)

ہ:... مرزا کے مرید قاضی ظہورالدین اکملؔ نے مرزا کی شان میں ایک قصیدہ لکھا، جو خوش خط لکھ کر، فریم کراکر مرزا کی خدمت میں پیش کیا، اور پھر وہ قصیدہ مرزا کے اخبار ’’بدر‘‘ میں شائع ہوا، اس کے چند شعر ملاحظہ ہوں:

  1. امام اپنا عزیزو اس جہاں میں

    غلام احمد ہوا دار الاماں میں

  2. غلام احمد ہے عرشِ رَبِّ اکبر

    مکاں اس کا ہے گویا لامکاں میں

  3. غلام احمد رسول اللہ ہے برحق

    شرف پایا ہے نوعِ انس و جاں میں

  4. محمد پھر اُتر آئے ہیں ہم میں

    اور آگے سے ہیں بڑھ کر اپنی شاں میں

  5. محمد دیکھنے ہوں جس نے اکمل

    غلام احمد کو دیکھے قادیاں میں

(اخبار ’’بدر‘‘ قادیان ۲۵؍اکتوبر ۱۹۰۲ء)

و:... مرزا قادیانی نے خطبہ اِلہامیہ میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی مکی بعثت اور

456

قادیانی ظہور کے درمیان تقابل کرتے ہوئے لکھا ہے کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی مکی بعثت کے زمانے میں اسلام ہلال کی مانند تھا، جس میں کوئی روشنی نہیں ہوتی، اور قادیانی بعثت کے زمانے میں اسلام بدرِ کامل کی طرح روشن اور منوّر ہوگیا۔ چنانچہ ملاحظہ ہو:

’’اور اِسلام ہلال کی طرح شروع ہوا، اور مقدّر تھا کہ انجام کار آخری زمانے میں بدر (چودھویں کا چاند) ہوجائے خدا تعالیٰ کے حکم سے ــــــ پس خدا تعالیٰ کی حکمت نے چاہا کہ اسلام اس صدی میں بدر کی شکل اختیار کرے جو شمار کے رُو سے بدر کی طرح مشابہ ہو (یعنی چودھویں صدی)۔‘‘

(خطبہ اِلہامیہ ص:۱۸۴)

ز:... مرزا غلام احمد کا لڑکا مرزا بشیر احمد ایم اے ’’کلمۃ الفصل‘‘ میں اسی ’’ہلال وبدر‘‘ کی نسبت کے حوالے سے لکھتا ہے:

’’آنحضرت کے بعثتِ اوّل میں آپ کے منکروں کو کافر اور دائرۂ اسلام سے خارج قرار دِینا، لیکن ان کی بعثتِ ثانی میں آپ کے منکروں کو داخلِ اسلام سمجھنا یہ آنحضرت کی ہتک اور آیت اللہ سے اِستہزا ہے۔ حالانکہ خطبہ اِلہامیہ میں حضرت مسیحِ موعود نے آنحضرت کی بعثتِ اوّل و ثانی کی باہمی نسبت کو ہلال اور بدر کی نسبت سے تعبیر فرمایا ہے۔‘‘

(اخبار ’’الفضل‘‘ قادیان جلد:۳ نمبر:۱۰، مؤرخہ ۱۵؍جولائی ۱۹۱۵ء، بحوالہ قادیانی مذہب ص:۲۶۲)

بڑی فتحِ مبین:

ح:... مرزا نے اِظہارِ اَفضلیت کے لئے ایک عنوان یہ اختیار کیا کہ مرزا قادیانی کے زمانے کی فتحِ مبین، آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی فتحِ مبین سے بڑھ کر ہے۔ چنانچہ ملاحظہ ہو:

’’اور ظاہر ہے کہ فتحِ مبین کا وقت ہمارے نبی کریمؐ کے

457

زمانے میں گزرگیا اور دُوسری فتحِ مبین باقی رہی جو کہ پہلے غلبے سے بہت بڑی اور زیادہ ظاہر ہے، اور مقدّر تھا کہ اس کا وقت مسیحِ موعود (مرزا قادیانی) کا وقت ہو۔‘‘

(خطبہ اِلہامیہ ص:۱۹۳، ۱۹۴)

رُوحانی کمالات کی ابتدا اور اِنتہا:

ط:... یہ بھی کہا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی مکی بعثت کا زمانہ رُوحانی ترقیات کا پہلا قدم تھا اور قادیانی ظہور کا زمانہ رُوحانی ترقیات کی آخری معراج ہے۔ چنانچہ ملاحظہ ہو:

’’ہمارے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی رُوحانیت نے پانچویں ہزار میں (یعنی مکی بعثت میں) اِجمالی صفات کے ساتھ ظہور فرمایا، اور وہ زمانہ اس رُوحانیت کی ترقیات کا اِنتہا نہ تھا، بلکہ اس کے کمالات کے معراج کے لئے پہلا قدم تھا، پھر اس رُوحانیت نے چھٹے ہزار کے آخر میں یعنی اس وقت پوری طرح سے تجلی فرمائی۔‘‘

(خطبہ اِلہامیہ ص:۱۷۷)

ذہنی ارتقا:

ی:... مرزا کے مریدوں نے یہاں تک کہہ دیا کہ مرزا قادیانی کا ذہنی اِرتقا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے بڑھ کر تھا، چنانچہ ملاحظہ ہو:

’’حضرت مسیحِ موعود (مرزا صاحب) کا ذہنی اِرتقا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے زیادہ تھا ...... اور یہ جزوی فضیلت ہے جو حضرت مسیحِ موعود (مرزا قادیانی) کو آنحضرت صلعم پر حاصل ہے، نبی کریمؐ کی ذہنی اِستعدادوں کا پورا ظہور بوجہ تمدن کے نقص کے نہ ہوا، اور نہ قابلیت تھی، اب تمدن کی ترقی سے حضرت مسیحِ موعود کے ذریعے ان کا پورا ظہور ہوا۔‘‘

(ریویو، مئی ۱۹۲۹ء بحوالہ قادیانی مذہب ص:۲۶۶ اشاعت نہم مطبوعہ لاہور)

458

عیسیٰ علیہ السلام کے مقابلے میں مرزا کی تعلّیاں:

اسلامی عقیدے کے مطابق حضرت عیسیٰ علیہ السلام جلیل القدر صاحبِ شریعت رسول ہیں، مرزا قادیانی نے ان کے مقابلے میں بطورِ خاص تعلّی کا مظاہرہ کیا۔ اس کے چند حوالے ملاحظہ فرمائیے:

الف:... ’’اے عیسائی مشنریو! اب ربنا المسیح مت کہو، اور دیکھو کہ آج تم میں ایک ہے جو اس مسیح سے بڑھ کر ہے۔‘‘

(دافع البلا ص:۱۳)

ب:... ’’خدا نے اس اُمت میں سے مسیحِ موعود بھیجا جو اس پہلے مسیح سے اپنی تمام شان میں بہت بڑھ کر ہے، اور اس دُوسرے مسیح کا نام غلام احمد رکھا۔‘‘

(دافع البلا ص:۱۳)

ج:... ’’خدا نے اس اُمت میں سے مسیحِ موعود بھیجا جو اس پہلے مسیح سے اپنی تمام شان میں بہت بڑھ کر ہے، مجھے قسم ہے اس ذات کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے کہ اگر مسیح ابن مریم میرے زمانے میں ہوتا تو وہ کام جو میں کرسکتا ہوں وہ ہرگز نہ کرسکتا اور وہ نشان جو مجھ سے ظاہر ہو رہے ہیں وہ ہرگز دِکھلا نہ سکتا۔‘‘

(حقیقۃ الوحی ص:۱۴۸)

د:... ’’پھر جبکہ خدا نے اور اس کے رسول نے اور تمام نبیوں نے آخری زمانے کے مسیح کو اس کے کارناموں کی وجہ سے افضل قرار دِیا ہے، تو پھر یہ شیطانی وسوسہ ہے کہ یہ کہا جائے کہ کیوں تم مسیح ابن مریم سے اپنے تئیں افضل قرار دیتے ہو۔‘‘

(حقیقۃ الوحی ص:۱۵۵)

ہ:... ’’ابن مریم کے ذکر کو چھوڑو، اس سے بہتر غلام احمد ہے۔‘‘

(دافع البلا ص:۲۰)

459

ز:... ’’اور مجھے قسم ہے اس ذات کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے کہ اگر مسیح بن مریم میرے زمانے میں ہوتا تو وہ کام جو میں کرسکتا ہوں، وہ ہرگز نہ کرسکتا، اور وہ نشان جو مجھ پر ظاہر ہو رہے ہیں وہ ہرگز دِکھلا نہ سکتا۔‘‘

(کشی نوح ص:۵۶)

۵:... مرزا نے اپنی نام نہاد وحی کو توریت، اِنجیل اور قرآن کی طرح قطعی قرار دِیا:

الف:... ’’اور میں جیسا کہ قرآن شریف کی آیات پر اِیمان رکھتا ہوں ایسا ہی بغیر فرق ایک ذرّے کے خدا کی اس کھلی کھلی وحی پر اِیمان لاتا ہوں جو مجھے ہوئی۔ جس کی سچائی اس کے متواتر نشانوں سے مجھ پر کھل گئی ہے۔ اور میں بیت اللہ میں کھڑے ہوکر یہ قسم کھاسکتا ہوں کہ وہ پاک وحی جو میرے پر نازل ہوتی ہے وہ اسی خدا کا کلام ہے جس نے حضرت موسیٰ اور حضرت عیسیٰ اور حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم پر اپنا کلام نازل کیا تھا۔‘‘

(ایک غلطی کا اِزالہ ص:۸)

ب:... ’’یہ مکالمہ اِلٰہیہ جو مجھ سے ہوتا ہے، یقینی ہے، اگر میں ایک دم کے لئے بھی اس میں شک کروں تو کافر ہوجاؤں اور میری آخرت تباہ ہوجائے۔ وہ کلام جو میرے پر نازل ہوا یقینی اور قطعی ہے اور جیسا کہ آفتاب اور اس کی روشنی کو دیکھ کر کوئی شک نہیں کرسکتا کہ یہ آفتاب اور یہ اس کی روشنی ہے ایسا ہی میں اس کلام میں بھی شک نہیں کرسکتا جو اللہ تعالیٰ کی طرف سے میرے پر نازل ہوتا ہے۔ اور میں اس پر ایسا ہی اِیمان لاتا ہوں جیسا کہ خدا کی کتاب پر۔ یہ تو ممکن ہے کہ کلامِ اِلٰہی کے معنی کرنے میں بعض مواقع میں ایک وقت تک مجھ سے خطا ہوجائے، مگر یہ ممکن نہیں کہ میں شک

460

کروں کہ خدا کا کلام نہیں۔‘‘

(تجلیاتِ اِلٰہی ص:۲۰، طبع ربوہ)

ج:... ’’میں خدا تعالیٰ کی تیئس برس کی متواتر وحی کو کیونکر رَدّ کرسکتا ہوں، میں اس کی اس پاک وحی پر ایسا ہی ایمان لاتا ہوں جیسا کہ ان تمام خدا کی وحیوں پر اِیمان لاتا ہوں جو مجھ سے پہلے ہوچکی ہیں۔‘‘

(حقیقۃ الوحی ص:۱۵۰)

۶:... قطعی رِسالت و نبوّت اور توریت و اِنجیل اور قرآن جیسی وحی کے دعوے کے ساتھ مرزا نے تمام انسانوں کو اپنے اُوپر اِیمان لانے کی دعوت دی، اس کے بے شمار حوالوں میں سے چند حوالے ملاحظہ فرمائیں:

الف:...’’قُلْ یٰـاَیُّھَا النَّاسُ اِنِّیْ رَسُوْلُ اللہِ اِلَیْکُمْ جَمِیْعًا۔‘‘

(تذکرہ ص:۳۵۲، طبع چہارم)

ترجمہ:... ’’اور کہہ اے لوگو! میں تم سب لوگوں کی طرف خدا کا رسول ہوکر آیا ہوں۔‘‘

ب:... ’’اِنَّـآ اَرْسَلْنَا اِلَیْکُمْ رَسُوْلًا شَاھِدًا عَلَیْکُمْ کَمَآ اَرْسَلْنَـآ اِلٰی فِرْعَوْنَ رَسُوْلًا۔‘‘

(حقیقۃ الوحی ص:۱۰۱)

ترجمہ:... ’’ہم نے تمہاری طرف ایک رسول بھیجا ہے، اسی رسول کی مانند جو فرعون کی طرف بھیجا گیا تھا۔‘‘

ج:...’’قل جائکم نور من اللہ فلا تکفروا ان کنتم مؤمنین۔‘‘

(تذکرہ ص:۱۱۳)

ترجمہ:... ’’کہہ خدا کی طرف سے نور اُترا ہے، سو تم اگر مؤمن ہو تو اِنکار مت کرو۔‘‘

د:... ’’مبارک وہ جس نے مجھے پہچانا، میں خدا کی سب راہوں میں سے آخری راہ ہوں، اور میں اس کے سب نوروں میں سے آخری نور ہوں، بدقسمت ہے وہ جو مجھے چھوڑتا ہے کیونکہ میرے

461

بغیر سب تاریکی ہے۔‘‘

(کشتی نوح ص:۵۶)

۷:... جو لوگ مرزا کی خودساختہ خانہ ساز نبوّت پر اِیمان نہیں لائے ان کو کافر و مشرک، دوزخی، یہودی، بلکہ کتے، خنزیر، حرام زادے اور کنجریوں کی اولاد قرار دِیا، اس کے چند حوالے ملاحظہ فرمائیے:

الف:... ’’قل یا أیھا الکفار إنی من الصادقین۔‘‘

(مرزا کا اِلہام مندرجہ تذکرہ ص:۳۷۳، طبع چہارم)

ترجمہ:... ’’کہہ اے کافرو! میں سچا ہوں۔‘‘

ب:... ’’ویقول الذین کفروا لست مرسلا۔‘‘

(مرزا کا اِلہام، مندرجہ مباحثہ راولپنڈی ص:۲۴۰)

ترجمہ:... ’’اور کافر کہتے ہیں کہ تو مرسل نہیں۔‘‘

ج:... ’’تلک کتب ینظر إلیھا کل مسلم بعین المحبۃ والمودۃ وینتفع من معارفھا ویقبلنی ویصدق دعوتی إلّا ذریۃ البغایا الذین ختم اللہ علٰی قلوبھم فھم لَا یقبلون۔‘‘

(آئینہ کمالاتِ اسلام ص:۵۴۷، ۵۴۸)

ترجمہ:... ’’ہر مسلمان میری کتابوں کو محبت کی آنکھ سے دیکھتا ہے اور ان کے معارف سے فائدہ اُٹھاتا ہے، اور مجھے قبول کرتا ہے، لیکن رنڈیوں و زناکاروں کی اولاد جن کے دِلوں پر خدا نے مہر کردی وہ مجھے قبول نہیں کرتے۔‘‘

د:... ’’اس کو ولد الحرام بننے کا شوق ہے اور حلال زادہ نہیں، پس حلال زادہ بننے کے لئے واجب یہ تھا کہ اگر وہ مجھے جھوٹا جانتا ہے اور عیسائیوں کو غالب اور فتح یاب قرار دیتا ہے تو میری اس حجت کو واقعی طور پر رفع کرے جو میں نے پیش کی ہے، پس اس پر کھانا پینا حرام ہے، اگر وہ اس اِشتہار کو پڑھے اور مسٹر عبداللہ آتھم

462

کے پاس نہ جائے اور اگر خداوند تعالیٰ کے خوف سے نہیں تو اس گندے لقب کے خوف سے بہت زور لگادے تاکہ وہ کلماتِ مذکورہ کا اِقرار دیں اور تین ہزار روپیہ لے لیں اور یہ کارروائی کردِکھائیں پس اگر عبداللہ آتھم عہد قراردادہ سے بچ جائے تو بے شک تمام دُنیا میں مشہور کردے کہ عیسائیوں کی فتح ہوئی، ورنہ حرام زادے کی یہی نشانی ہے کہ سیدھی راہ اختیار نہ کرے۔‘‘

(انوار الاسلام ص:۳۰، رُوحانی خزائن ج:۹ ص:۳۲)

ہ:... ’’دُشمن ہمارے بیابانوں کے خنزیر ہوگئے، اور ان کی عورتیں کتیوں سے بڑھ گئی ہیں۔‘‘

(رُوحانی خزائن ج:۱۴ ص:۵۳)

ط:... ’’جو میرے مخالف تھے ان کا نام عیسائی اور یہودی اور مشرک رکھا گیا۔‘‘

(نزول المسیح ص:۴ حاشیہ، رُوحانی خزائن ج:۱۸ ص:۳۸۲)

۸:... مرزا نے اپنی تعلیم اور اپنی وحی کو تمام انسانوں کے لئے مدارِ نجات قرار دیا۔

الف:... ’’ان کو کہہ! کہ اگر تم خدا سے محبت کرتے ہو تو آؤ میری پیروی کرو تاکہ خدا بھی تم سے محبت کرے۔‘‘

(مرزا قادیانی کا اِلہام مندرجہ حقیقۃ الوحی ص:۸۲)

ب:... ’’چونکہ میری تعلیم میں امر بھی ہے اور نہی بھی اور شریعت کے ضروری اَحکام کی تجدید ہے، اس لئے خدا تعالیٰ نے میری تعلیم کو اور اس وحی کو جو میرے اُوپر ہوتی ہے، فلک یعنی کشتی کے نام سے موسوم کیا ...... اب دیکھو! خدا نے میری وحی اور میری تعلیم اور میری بیعت کو نوح کی کشتی قرار دِیا اور تمام اِنسانوں کے لئے مدارِ نجات ٹھہرایا، جس کی آنکھیں ہوں دیکھے، اور جس کے کان ہوں سنے۔‘‘

(اربعین نمبر۴، ص:۷ حاشیہ)

463

۹:... مرزا نے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لائے ہوئے اسلام کو مردار اور لعنتی دِین قرار دیا، جب تک کہ مرزا کو نہ مانا جائے۔

مردہ اسلام:

یہی وجہ ہے کہ قادیانیوں کے نزدیک مرزا قادیانی کے بغیر دِینِ اسلام مردہ ہے، چنانچہ ملاحظہ ہو:

الف:... ’’غالباً ۱۹۰۶ء میں خواجہ کمال الدین صاحب کی تحریک سے اخبار وطن کے ایڈیٹر کے ساتھ مولوی محمد علی صاحب نے ایک سمجھوتا کیا کہ ریویو آف ریلیجنز میں سلسلے کے متعلق کوئی مضمون نہ ہو، صرف عام اسلامی مضامین ہوں اور وطن کے ایڈیٹر رسالہ ریویو کی امداد کا پروپیگنڈا اپنے اخبار میں کریں گے، حضرت مسیحِ موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے اس تجویز کو ناپسند فرمایا اور جماعت میں بھی عام طور پر اس کی بہت مخالفت کی گئی۔ حضرت صاحب نے فرمایا کہ کیا مجھے چھوڑ کر تم مردہ اسلام دُنیا کے سامنے پیش کروگے؟‘‘

(ذکرِ حبیب، مؤلفہ: مفتی محمد صادق قادیانی ص:۱۴۶، طبع اوّل قادیان)

ب:... ’’ہمارا مذہب تو یہ ہے کہ جس دِین میں نبوّت کا سلسلہ نہ ہو (جیسا کہ دِینِ اسلام ...ناقل) وہ مردہ ہے، یہودیوں، عیسائیوں، ہندوؤں کے دِین کو جو ہم مردہ کہتے ہیں تو اسی لئے کہ ان میں اب کوئی نبی نہیں ہوتا، اگر اسلام کا بھی یہی حال ہوتا تو پھر ہم بھی قصہ گو ٹھہرے۔ کس لئے اس کو دُوسرے دِینوں سے بڑھ کر کہتے ہیں، آخر کوئی امتیاز بھی ہونا چاہئے۔‘‘

(ملفوظات مرزا ج:۱۰ ص:۱۲۷ مطبوعہ ربوہ)

ج:... ’’حضرت مسیحِ موعود علیہ السلام (مرزا قادیانی) کی

464

زندگی میں مولوی محمد علی صاحب اور خواجہ کمال الدین صاحب کی تجویز پر ۱۹۰۵ء میں ایڈیٹر اخبار وطن نے ایک فنڈ اس غرض سے شروع کیا تھا کہ اس سے ریویو آف ریلیجنز کی کاپیاں بیرونی ممالک میں بھیجی جائیں بشرطیکہ اس میں حضرت مسیحِ موعود (مرزا قادیانی) کا نام نہ ہو، مگر حضرت اقدس (مرزا قادیانی) نے اس تجویز کو اس بنا پر رَدّ کردیا کہ مجھ کو چھوڑ کر کیا مردہ اسلام پیش کروگے؟ اس پر ایڈیٹر صاحب وطن نے اس چندے کے بند کرنے کا اعلان کردیا۔‘‘

(اخبار ’’الفضل‘‘ قادیان جلد نمبر:۶ شمارہ نمبر:۳۲، ۱۹؍اکتوبر ۱۹۲۸ء، بحوالہ قادیانی مذہب ص:۴۵۸)

لعنتی، شیطانی اور قابلِ نفرت:

د:... ’’وہ دِین دِین نہیں اور نہ وہ نبی نبی ہے جس کی متابعت سے انسان خدا تعالیٰ سے اس قدر نزدیک نہیں ہوسکتا کہ مکالماتِ اِلٰہیہ (یعنی نبوّت... ناقل) سے مشرف ہوسکے۔ وہ دِین لعنتی اور قابلِ نفرت ہے جو یہ سکھلاتا ہے کہ صرف چند منقولی باتوں پر (یعنی شریعتِ محمدیہ پر جو کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول ہے ...ناقل) انسانی ترقیات کا اِنحصار ہے اور وحیٔ اِلٰہی آگے نہیں بلکہ پیچھے رہ گئی ہے ...... سو ایسا دِین بہ نسبت اس کے کہ اس کو رَحمانی کہیں شیطانی کہلانے کا زیادہ مستحق ہے۔‘‘

(ضمیمہ براہین احمدیہ حصہ پنجم ص:۱۳۸ و ۱۳۹)

ہ:... ’’یہ کس قدر لغو اور باطل عقیدہ ہے کہ ایسا خیال کیا جائے کہ بعد آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے وحیٔ اِلٰہی کا دروازہ ہمیشہ کے لئے بند ہوگیا اور آئندہ کو قیامت تک اس کی کوئی بھی اُمید نہیں،

465

صرف قصوں کی پوجا کرو۔ پس کیا ایسا مذہب کچھ مذہب ہوسکتا ہے جس میں براہِ راست خدا تعالیٰ کا کچھ بھی پتا نہیں لگتا ...... میں خدا تعالیٰ کی قسم کھاکر کہتا ہوں کہ اس زمانے میں مجھ سے زیادہ بیزار ایسے مذہب سے اور کوئی نہ ہوگا (دریں چہ شک؟...ناقل) میں ایسے مذہب کا نام شیطانی مذہب رکھتا ہوں نہ کہ رحمانی۔‘‘

(ضمیمہ براہین احمدیہ حصہ پنجم ص:۱۳۸)

۱۰:... قادیانیوں نے تمام مسلمانوں کو خارج اَز اِسلام قرار دے کر گویا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے کلمے کو منسوخ قرار دِیا کہ کوئی شخص اب محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا کلمہ پڑھنے سے مسلمان نہیں ہوسکتا، اور اس کا بھی برملا اِعتراف کیا کہ قادیانیوں کے کلمے میں مرزا غلام احمد قادیانی بھی داخل ہے۔

مرزا بشیر احمد ایم-اے لکھتا ہے:

’’ہاں حضرت مسیحِ موعود (مرزا قادیانی) کے آنے سے (کلمے کے مفہوم میں) ایک فرق ضرور پیدا ہوگیا ہے، اور وہ یہ ہے کہ مسیحِ موعود (مرزا قادیانی) کی بعثت سے پہلے تو ’’محمد رسول اللہ‘‘ کے مفہوم میں صرف آپ سے پہلے گزرے ہوئے انبیاء شامل تھے، مگر مسیحِ موعود (مرزا قادیانی) کی بعثت کے بعد ’’محمد رسول اللہ‘‘ کے مفہوم میں ایک اور رسول کی زیادتی ہوگئی، لہٰذا مسیحِ موعود کے آنے سے نعوذباللہ ’’لا اِلٰہ اِلَّا اللہ محمد رسول اللہ‘‘ کلمہ باطل نہیں ہوتا بلکہ اور بھی زیادہ شان سے چمکنے لگ جاتا ہے (کیونکہ زیادہ شان والا نبی مرزا قادیانی اس کے مفہوم میں داخل ہوگیا، ہاں مرزا کے بغیر یہ کلمہ مہمل، بے کار اور باطل رہا، اسی وجہ سے مرزا کے بغیر اس کلمے کو پڑھنے والے کافر، بلکہ پکے کافر ٹھہرے ...ناقل) غرض اب بھی اسلام میں داخل ہونے کے لئے یہی کلمہ ہے، صرف فرق اتنا ہے کہ

466

مسیحِ موعود (مرزا قادیانی) کی آمد نے ’’محمد رسول اللہ‘‘ کے مفہوم میں ایک رسول کی زیادتی کردی ہے۔‘‘

’’علاوہ اس کے اگر ہم بفرضِ محال یہ بات مان بھی لیں کہ کلمہ شریف میں نبی کریمؐ کا اسم مبارک اس لئے رکھا گیا ہے کہ آپ آخری نبی ہیں تو تب بھی کوئی حرج واقعی نہیں ہوتا، اور ہم کو نئے کلمے کی ضرورت پیش نہیں آتی کیونکہ مسیحِ موعود نبی کریمؐ سے کوئی الگ چیز نہیں ہے جیسا کہ وہ خود فرماتا ہے: ’’صار وجودی وجودہ‘‘ (میرا وجود بعینہٖ محمد رسول اللہ کا وجود ہے ...ترجمہ از ناقل) نیز ’’من فرق بینی وبین المصطفیٰ فما عرفنی وما رایٰ‘‘ (جس نے میرے درمیان اور مصطفیؐ کے درمیان تفریق کی، اس نے مجھے نہیں پہچانا اور نہ دیکھا ...ترجمہ از ناقل) اور یہ اس لئے ہے کہ اللہ تعالیٰ کا وعدہ تھا کہ وہ ایک دفعہ اور خاتم النبیین کو دُنیا میں مبعوث کرے گا، جیسا کہ آیت آخرین منہم سے ظاہر ہے، پس مسیحِ موعود (مرزا قادیانی) خود محمد رسول اللہ ہے، جو اِشاعتِ اسلام کے لئے دوبارہ دُنیا میں تشریف لائے، اس لئے ہم کو کسی نئے کلمے کی ضرورت نہیں، ہاں اگر محمد رسول اللہ کی جگہ کوئی اور آتا تو ضرورت پیش آتی ـــــ فتدبروا۔‘‘

(کلمۃ الفصل ص:۱۵۸)

ان تمام اُمور کا خلاصہ یہ ہے کہ مرزا غلام احمد قادیانی نے ’’اسلام‘‘ کے نام پر ایک نیا دِین پیش کیا، جو محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لائے ہوئے اسلام کے متوازی تھا۔ یہ تھی مسلمانوں اور قادیانیوں کے درمیان تنازع کی بنیاد ــــــ مسلمان جس دِینِ اسلام کو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے نسلاً بعد نسلٍ نقل کرتے ہوئے چلے آرہے تھے، قادیانیوں کی طرف سے اس کی توہین وتذلیل کی جارہی تھی، اور اِسلام کے بالمقابل غلام احمد قادیانی کا لایا ہوا مذہب ’’اسلام‘‘ کے نام سے پیش کیا جارہا تھا۔ اور مرزا قادیانی کے یہ دعوے اور

467

دعوت اس کی ذات یا اس کی جماعت کے افراد تک محدود نہیں، بلکہ مسلمانوں کے مجمعوں میں بلکہ ان کے گھروں میں جاکر اس کی تبلیغ کی جارہی تھی، ان حالات میں مسلمانوں میں اشتعال پیدا ہونا لازم تھا، اس کے باوجود مسلمانوں نے غیرمعمولی صبر و تحمل کا مظاہرہ کیا، اور مرزا قادیانی اور اس کی ذُرّیت سے وہ سلوک نہیں کیا جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے موذیوں کے ساتھ سلوک کرنے کے مسلمان عادی ہیں، اور جس کا نمونہ مسیلمہ کذّاب اور راجپال کے مقابلے میں سامنے آچکا ہے، تاہم علمائے اُمت نے مناظروں اور مباحثوں کے ذریعے ان کو لاجواب کیا، اور دونوں طرف سے بے شمار کتابیں لکھی گئیں۔ بالآخر مباحثوں سے گزر کر نوبت مباہلوں تک پہنچی، اور دونوں فریقوں نے مباہلے کے ذریعے یہ مقدمہ اللہ تعالیٰ کی عدالتِ عظمیٰ میں پیش کیا۔ اور عدالتِ خداوندی نے ہمیشہ مرزا اور اس کی جماعت کو کافر، بے ایمان اور دجال و کذّاب ٹھہرایا، یہاں بطورِ مثال ایک مباہلے کا ذِکر کردینا کافی ہوگا:

’’۱۰؍ذیقعدہ ۱۳۱۰ھ کو عیدگاہ امرتسر کے میدان میں مولانا عبدالحق غزنوی اور مرزا غلام احمد قادیانی کے درمیان مباہلہ ہوا۔

مرزا غلام احمد قادیانی کا دعویٰ تھا کہ: ’’میں اور میرے ماننے والے مسلمان ہیں۔‘‘ اور مولانا عبدالحق غزنوی کا دعویٰ تھا کہ: ’’مرزا اور مرزا کے ماننے والے سب کافر، مرتد، زِندیق، بے ایمان دجال اور اللہ و رسول کے دُشمن ہیں، اور مرزا کی کتابیں کفریات کا مجموعہ ہیں۔‘‘ دونوں فریقوں میں سے ہر ایک نے میدان میں یہ دُعا کی کہ: ’’یا اللہ! اگر میں جھوٹا ہوں تو مجھ پر لعنت فرما، اور تمام حاضرین نے مل کر آمین کہی۔‘‘

(مجموعہ اشتہارات مرزا قادیانی ج:۱ ص:۴۲۷ ومابعد)

یہ تو مباہلہ ہوا، جس میں فریقین نے اپنا فیصلہ اللہ تعالیٰ پر چھوڑ دیا۔ مرزا غلام احمد قادیانی نے ۲؍اکتوبر ۱۹۰۷ء کو خود لکھا کہ خدائی فیصلے کی صورت یہ ہوتی ہے کہ مباہلہ کرنے

468

والے دو فریقوں میں جو جھوٹا ہو وہ سچے کی زندگی میں ہلاک ہوجاتا ہے۔

(ملفوظات مرزا قادیانی ج:۹ ص:۴۴۰، ۴۴۱)

چنانچہ اس اُصول کے مطابق مرزا قادیانی ۲۶؍مئی ۱۹۰۸۱ء کو حضرت مولانا عبدالحق غزنویؒ کی زندگی میں وبائی ہیضے سے ہلاک ہوگیا۔

(حیاتِ ناصر ص:۱۴)

اور مولانا مرحوم، مرزا کے نو سال بعد تک باسلامت و کرامت رہے، ان کا انتقال ۱۶؍مئی ۱۹۱۷ء کو ہوا۔

(رئیس قادیان ج:۲ ص:۱۹۲)

اسی طرح آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی مرزا قادیانی کو جھوٹا دجال قرار دِیا، چنانچہ حدیث میں فرمایا:

(ترمذی ج:۲ ص:۴۵)

لیکن اللہ و رسول کے فیصلے کے باوجود قادیانیوں کو عبرت نہ ہوئی اور انہوں نے اپنا غیرمسلم ہونا تسلیم نہیں کیا، تاآنکہ علامہ اقبال مرحوم نے حکومتِ ہند سے مطالبہ کیا۔ قیامِ پاکستان کے بعد قادیانیوں کی اِرتدادی سرگرمیاں نہایت شدّت اِختیار کرگئی تھیں، جس کا ذِکر منیر انکوائری رپورٹ میں موجود ہے، تو مسلمانوں نے علامہ اقبال والا مطالبہ اس وقت کی حکومت سے کیا، مگر ۱۹۵۳ء میں مسلمانوں کے معقول مطالبے کو مارشل لا کے جبر اور گولی کی آواز سے دبایا گیا، بیس سال کے بعد پھر یہی مطالبہ اس وقت اُبھرا جب ۱۹۷۴ء میں ربوہ اسٹیشن پر قادیانیوں نے نشتر کالج ملتان کے طلبہ پر تشدّد کا مظاہرہ کیا، بالآخر قومی اسمبلی نے قادیانیوں کی دونوں جماعتوں کے سربراہوں کے بیانات سننے کے بعد فیصلہ کیا کہ قادیانی غیرمسلم ہیں، ان کا اِسلام کے ساتھ کوئی تعلق نہیں، چنانچہ آئینی طور پر ان کو غیرمسلم اقلیت قرار دیا گیا۔

اب بھی حق و انصاف کا تقاضا یہ تھا کہ قادیانی اس آئینی فیصلے کو قبول کرلیتے، اور ’’اسلام‘‘ کے نام کا اِستحصال نہ کرتے، لیکن انہوں نے آئینی فیصلے کا مذاق اُڑاکر قوم اور قومی

469

اسمبلی کی توہین کی، اور مسلمانوں سے کہا کہ ہم خدائی مسلمان ہیں، اور تم سرکاری مسلمان ہو۔ انہوں نے نہ صرف اس پر اِکتفا کیا بلکہ اپنی اِرتدادی تبلیغ اور اِشتعال انگیزی میں مزید اِضافہ کردیا۔ اور اندرون و بیرون ملک پاکستان کی حکومت اور پاکستان کے آئین کے خلاف زہر اُگلنے لگے، ۱۹۴۷ء سے لے کر آج تک انہوں نے آئینِ پاکستان کے خلاف جو زہر افشانی کی ہے، اس کے لئے ایک دفتر درکار ہوگا، مگر یہاں ان کے چند حوالے بطورِ نمونہ نقل کرتا ہوں۔

الف:... ’’پاکستان کے آئین میں ہمارے وجود کی نفی کی گئی ہے، ہم اسے تسلیم نہیں کریں گے‘‘

’’لندن میں احمدی رہنماؤں کی پریس کانفرنس‘‘

’’لندن (نمائندہ جنگ) احمدی رہنماؤں نے کہا ہے کہ یہ قطعی ’’بے بنیاد‘‘ الزام ہے کہ احمدی تحریک کے بانی اور ان کے جانشینوں نے احمدی جماعت میں شامل نہ ہونے والے مسلمانوں کو کبھی غیرمسلم قرار دِیا ہے، انہوں نے کہا کہ نہ کبھی بانیٔ تحریکِ احمدیہ نے کسی کو غیرمسلم کہا ہے اور نہ ان کے کسی جانشین نے مسلمانوں کو غیرمسلم کہا ہے، جبکہ مسلمانوں نے پاکستان میں احمدیوں کو غیرمسلم قرار دے کر ان کی اپنے قبرستانوں میں تدفین اور اپنی مساجد میں عبادت ممنوع قرار دے دی۔ یہ رہنما احمدی جماعت کی سہ روزہ سالانہ کانفرنس کے اِختتام پر بدھ کو پکاڈلی، لندن کے ایک ریستوران میں پریس کانفرنس سے خطاب کر رہے تھے ...... جس میں ضیاء حکومت کو تند و تیز تنقید کا نشانہ بنایا گیا اور کہا گیا کہ پاکستان میں قادیانیوں کے خلاف نفرت کی جو مہم شروع کی گئی تھی وہ اب بیرون ملک بھی پھیلنے لگی ہے۔ انہوں نے مغربی اخبارات اور دیگر ذرائع ابلاغ سے اپیل کی کہ وہ جراح کا کردار ادا کرتے ہوئے اس

470

کینسر کو پھیلنے سے قبل ہی اپنے نشتر سے کاٹ کر پھینک دے اور اپنی حکومتوں اور رائے عامہ کو احمدیوں پر ہونے والے مظالم کے خلاف منظم کرے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان میں احمدیوں کے بنیادی حقوق سلب کرنے سے عالمی امن و اِستحکام کو خطرہ لاحق ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومتِ پاکستان کی شہ پر عرب ملکوں میں بھی احمدیوں پر عرصۂ حیات تنگ کیا جارہا ہے۔ صدر ضیاء الحق کے نمائندے راجہ ظفرالحق کی ایما پر مصری اسمبلی سے یہ قانون منظور کرانے کی کوشش کی گئی کہ جو شخص احمدی ہوجائے، اسے سزائے موت یا عمرقید کی سزا دی جاسکے ...... انہوں نے جنوبی افریقہ اور پاکستان کو ہم پلہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ اگر جنوبی افریقہ میں رنگ کی وجہ سے، تو پاکستان میں مذہبی عقائد کی وجہ سے لوگوں کے ساتھ امتیازات روا رکھے جارہے ہیں۔ انہوں نے ناموسِ رسولؐ کے تحفظ کے لئے نئے مجوّزہ قانون پر گہری تشویش کا اِظہار کرتے ہوئے کہا کہ اس کے ذریعے عیسائیوں کو بھی ناموسِ رسولؐ کے نام پر سزا دی جاسکے گی۔ انہوں نے کہا کہ آج کے ترقی یافتہ دور میں اس کی کوئی گنجائش نہیں ہے۔

دستور کی پابند:

احمدی رہنماؤں سے جب دریافت کیا گیا کہ کیا وہ پاکستان کے دستور کو اور قومی اسمبلی کے بنائے ہوئے قوانین کو تسلیم کرلیں، تو وہ امن و تحفظ کے ساتھ اقلیت کے طور پر رہنے کی پیشکش قبول کرنے کے لئے تیار ہیں۔ تو انہوں نے کہا کہ ہم ایک ایسے دستور کو کیسے تسلیم کرسکتے ہیں جس میں ہمارے وجود کی نفی کی گئی ہو۔ ہمیں یہ دستور اس وقت تک قبول تھا جب تک اس میں ترمیم نہیں کی گئی تھی۔ اس سے قبل ہم نے ہمیشہ حکومت کی حمایت کی۔ احمدی

471

حضرات نے فوج اور سوِل انتظامیہ میں اعلیٰ عہدوں پر خدمات انجام دیں، اور بیرونی دُنیا میں پاکستان کے بہترین سفیر تھے۔ انہوں نے سوال کیا کہ ذوالفقار علی بھٹو اور ضیاء الحق کو کس نے یہ اختیار دیا تھا کہ وہ یہ طے کریں کہ کون مسلمان ہے اور کون غیرمسلم ہے۔ اسی طرح کسی پارلیمنٹ کو بھی یہ حق نہیں پہنچتا کہ وہ لوگوں کے عقائد کا فیصلہ کرے۔ برطانوی پارلیمنٹ کو یہ اختیار نہیں کہ وہ یہ قانون بناسکے کہ کیتھولک یا میتھوڈسٹ عیسائی نہیں ہیں ......۔‘‘

(۳۱؍جولائی ۱۹۸۶ء روزنامہ ’’جنگ‘‘ لندن)

ب:... ’’اسلام آباد (نمائندہ خصوصی) معلوم ہوا ہے کہ احمدیوں نے قومی اور صوبائی اسمبلیوں میں قادیانیوں کی مخصوص نشستوں پر اِنتخاب سے لاتعلقی کا اعلان کیا ہے، الیکشن کمیشن کے اعلان کے مطابق قومی اسمبلی اور سرحد و سندھ کی صوبائی اسمبلیوں میں قادیانیوں کی ایک ایک مخصوص نشست کے لئے منگل کو کاغذاتِ نامزدگی وصول کئے جائیں گے۔ جماعتِ احمدیہ کے ترجمان نے بتایا ہے کہ مخصوص نشستوں پر کوئی قادیانی الیکشن میں حصہ نہیں لے گا۔ ترجمان نے کہا کہ ۱۹۷۴ء کے آرڈی نینس کو ہم تسلیم نہیں کرتے، جس کی رُو سے قادیانیوں کو غیرمسلم قرار دِیا گیا تھا۔ ترجمان کے مطابق جماعتِ احمدیہ نے آرڈی نینس کے نفاذ کے بعد یہ فیصلہ کیا تھا کہ کوئی قادیانی اپنے آپ کو غیرمسلم تصوّر نہ کرے۔ ترجمان نے کہا کہ اگر کسی شخص نے احمدی کے طور پر مخصوص نشستوں میں حصہ لیا تو جماعتِ احمدیہ اس کی نمائندہ حیثیت تسلیم نہیں کرے گی۔‘‘

(۲۲؍اگست ۱۹۸۹ء روزنامہ ’’جنگ‘‘ کراچی)

گویا آئینی فیصلے کے بعد بھی صورتِ حال جوں کی توں رہی اور مسلمانوں کو

472

قادیانیوں کی چیرہ دستیوں سے نجات نہیں ملی، نہ قادیانیوں نے اسلام اور اِسلامی شعائر کے اِستحصال کو ترک کیا۔ بالآخر ۱۹۸۳-۱۹۸۴ء میں پھر قادیانیوں کے خلاف تحریک اُٹھی اور حکومت سے مطالبہ کیا گیا کہ قادیانیوں کو آئین میں غیرمسلم قرار دئیے جانے کے تقاضوں کو پورا کیا جائے، اور ان کو اِسلام کے نام اور اِسلامی شعائر کے استعمال سے روکا جائے، چنانچہ آئین کے منشا کی تکمیل کے لئے ۲۵؍اپریل ۱۹۸۴ء کا قانون اِمتناعِ قادیانیت نافذ کیا گیا۔

اس تفصیل سے معلوم ہوا کہ یہ قانون قطعاً منصفانہ ہے اور اس کا منشا قادیانیوں کو مسلمانوں کے مذہب میں مداخلت کرنے اور اِسلام کے شعائر کا اِستعمال کرنے باز رکھنا ہے، اور بس۔

مہذب ممالک میں مذہب کے پیروکاروں کو اپنے مذہبی رُسوم ادا کرنے کی اس شرط پر اِجازت دی جاتی ہے کہ دیگر باشندگانِ ملک کو ان سے اذیت نہ ہو، مثلاً مغربی ممالک میں مسلمانوں کو لاؤڈ اسپیکر پر اَذان کہنے کی اجازت نہیں، کسی آبادی میں مسجد بنانے کی اجازت نہیں، جبکہ اہلِ محلہ کو اس پر اِعتراض ہو۔ ہمارا موقف یہ ہے کہ قادیانی مرزا غلام احمد کی جھوٹی نبوّت پر اِیمان رکھتے ہیں تو رکھیں، اور اس کے دِین پر عمل کرنا چاہتے ہیں تو کریں، لیکن اسلام کے مقدس نام کو اِستعمال کرکے مسلمانوں کا مذاق نہ اُڑائیں۔ اور اِسلامی شعائر اِستعمال کرکے مسلمانوں کو دھوکا نہ دیں، مسلمان ان کو شعائرِ اِسلام کی اجازت نہیں دے سکتے۔

آخر میں یہ عرض کردینا ضروری ہے کہ موجود ’’قانون اِمتناعِ قادیانیت‘‘ میں قادیانیوں کے ساتھ بے حد رعایت کی گئی ہے کہ ان کے وجود کو تسلیم کرتے ہوئے انہیں بحیثیت غیرمسلم اقلیت کے رہنے کا حق دیا گیا ہے، ورنہ شرعی قانون کی رُو سے قادیانی ٹولہ مرتد، زِندیق اور واجب القتل ہے، اور ان کا حکم وہی ہے جو مسیلمہ کذّاب کے ماننے والوں کا ہے۔ ان کی انجمن کو ’’انجمن قزاقانِ اسلام‘‘ اور ’’جماعتِ باغیانِ اسلام‘‘ کہنا بجا ہے، اگر قادیانی اپنا غیرمسلم اقلیت ہونا تسلیم نہیں کرتے اور اِسلام کے مقدس شعائر سے کھیلنا بند نہیں کرتے، تو علمائے اسلام، اسلامی قانون کی روشنی میں یہ فتویٰ دینے پر مجبور ہوں گے کہ قادیانی قزاقان، اسلام کے باغی اور واجب القتل ہیں، ان کو قتل کیا جائے، اور اس ’’انجمن

473

قزاقانِ اسلام‘‘ کو خلافِ قانون قرار دِیا جائے۔

بہرحال اگر توہینِ عدالت جرم ہے ...اور یقینا جرم ہے... تو توہینِ رِسالت بھی کچھ کم جرم نہیں۔ اور اگر ملک و ملت کے خلاف سازش کرنا جرم ہے تو اِسلام کے خلاف سازش کرنا بھی اس سے کم درجے کا جرم نہیں، اور اگر حکومت کے خلاف بغاوت کرنا جرم ہے تو محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے خلاف بغاوت کرنا بھی اس سے بدتر جرم ہے۔

وَاللہُ یَقُوْلُ الْحَقَّ وَھُوَ یَھْدِی السَّبِیْلَ

474

۷؍ستمبر آئینی تقاضے!

بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ

اَلْحَمْدُللہِ وَسَلَامٌ عَلٰی عِبَادِہِ الَّذِیْنَ اصْطَفٰی!

چودھویں صدی کا سب سے تاریک اور سب سے بدتر فتنہ قادیانیت ہے، جس کے دو پہلو ہیں، ایک پہلو اعتقادی اور دینیاتی اور دوسرا سیاسی ہے، اعتقادی لحاظ سے:

🌟 :... قادیانیت اسلام کے متوازی ایک نیا دین ہے۔

🌟 :... نبوّت محمدیہ کے متوازی ایک نئی نبوّت۔

🌟 :... قرآن کریم کے متوازی نئی وحی۔

🌟 :... اسلامی شعائر کے متوازی قادیانی شعائر۔

🌟 :... اُمتِ محمدیہ کے متوازی ایک نئی اُمت۔

🌟 :... مسلمانوں کے مکہ مکرمہ کے مقابلے میں نیا مکۃ المسیح۔

🌟 :... مدینہ منورہ کے مقابلے میں مدینۃ المسیح۔

🌟 :... اسلامی حج کے مقابلے میں ظلی حج۔

🌟 :... اسلامی خلافت کے مقابلے میں قادیانی خلافت۔

🌟 :... امہات المؤمنین کے مقابلے میں قادیانی اُمّ المؤمنین۔ وغیرہ وغیرہ۔

مرزا محمود احمد صاحب (قادیانیوں کے خلیفۂ دوم) نے اسلام اور قادیانیت کا خلاصہ ان الفاظ میں پیش کیا تھا:

’’حضرت مسیح موعود علیہ السلام (مرزا غلام احمد) کے منہ سے نکلے ہوئے الفاظ میرے کانوں میں گونج رہے ہیں، آپ نے

475

فرمایا کہ یہ غلط ہے کہ دوسرے لوگوں سے ہمارا اختلاف صرف وفات مسیح اور چند مسائل میں ہے۔ آپ نے فرمایا اللہ تعالیٰ کی ذات، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم، نماز، روزہ، حج، زکوٰۃ، غرض کہ آپ نے تفصیل سے بتایا کہ ایک ایک چیز میں ان سے (مسلمانوں سے ) اختلاف ہے۔‘‘

(خطبہ جمعہ میاں محمود احمد خلیفہ قادیان مندرجہ الفضل۳۰ جولائی ۱۹۳۸ء)

اس طرح مرزا قادیانی کی اس نئی نبوّت اور نئے دین کو نہ ماننے والے مسلمان کافر اور جہنمی قرار پائے، چنانچہ مرزا قادیانی کا الہام ہے:

’’جو شخص تیری پرواہ نہیں کرے گا، اور تیری بیعت میں داخل نہیں ہوگا اور تیرا مخالف رہے گا وہ خدا اور رسول کی نافرمانی کرنے والا جہنمی ہے۔‘‘

(اشتہار معیار الاخیارمندرجہ تبلیغ رسالت جلد نہم ص:۲۷)

مرزا غلام احمد قادیانی کے بڑے لڑکے مرزا محمود احمد صاحب لکھتے ہیں:

’’کُل مسلمان جو حضرت مسیح موعود (مرزا قادیانی) کی بیعت میں شامل نہیں ہوئے، خواہ انہوں نے حضرت مسیح موعود کا نام بھی نہیں سنا وہ کافر اور دائرۂ اسلام سے خارج ہیں۔‘‘

(آئینہ صداقت ص:۳۵)

مرزا قادیانی کے منجھلے لڑکے مرزا بشیر احمد صاحب لکھتے ہیںکہ :

’’ہر ایک ایسا شخص جو موسیٰ ؑکو تو مانتا ہے مگر عیسیٰ کو نہیں مانتا، یا عیسیٰ کو مانتا ہے مگر محمد کو نہیں مانتا اور یا محمد کو مانتا ہے پر مسیح موعود (مرزا قادیانی) کو نہیں مانتا وہ نہ صرف کافر بلکہ پکا کافر اور دائرۂ اسلام سے خارج ہے۔‘‘

(کلمۃ الفصل ص:۱۱۰)

بنیادی طور پر قادیانیت ہمیشہ انگریز کی حلیف اور اسلام اور مسلمانوں کی حریف

476

ہے۔ قرآن کریم، یہود اور مشرکین کو مسلمانوں کا سب سے بدتر دشمن قرار دیتا ہے، مگر ان کے بعد قادیانی مسلمانوں کے بدترین دشمن ہیں۔ قادیانیوں کے خلیفۂ دوئم مرزا محمود صاحب نے اپنے مریدوں کو اسلام کی مخالفت کی بار بار تاکید کی ہے، مثلاً:

الف:...’’ساری دنیا ہماری دشمن ہے، اور جب تک ہم ساری دنیا کو احمدیت میں شامل نہ کرلیں ہمارا کوئی ٹھکانہ نہیں۔‘‘

(اخبار الفضل قادیان ۲۵؍ اپریل ۱۹۳۰ء)

ب:...’’ہماری بھلائی کی صرف ایک صورت ہے، اور وہ یہ کہ ہم تمام لوگوں کو اپنا دشمن سمجھیں۔‘‘

(الفضل ۲۵؍ اپریل ۱۹۳۰ء)

ج:...’’وہ لوگ جو حضرت مسیح موعود (غلام احمد قادیانی) پر ایمان رکھتے ہیں وہ سمجھتے ہیں اور یقین رکھتے ہیں کہ سب کچلے جائیں گے صرف ہم باقی رہیں گے۔‘‘

(الفضل ۳؍اپریل ۱۹۲۸ء)

د:...’’جب تک تمہاری بادشاہت قائم نہ ہوجائے تمہارے راستے کے کانٹے دور نہیں ہوسکتے۔‘‘

(الفضل ۲۵؍ اپریل ۱۹۳۰ء)

قادیانیوں کی اسلام دشمنی کا ایک مظہر یہ ہے کہ مسلمانوں پر جب بھی افتاد پڑی تو قادیانیوں نے اس پر خوشی کے شادیانے بجائے، مثلاً جب جنگ عظیم میں اسلام دشمن طاقتیں ترکی کو تاراج کر رہی تھیں، قادیانی خوشی سے پھولے نہیں سماتے تھے، اور قادیانیوں کا سرکاری اخبار ’’الفضل‘‘ بڑی بے دردی سے اعلان کررہا تھا :

الف:...’’ترکی حکومت اسلام کے لئے مفید ثابت ہونے کے بجائے مضر ثابت ہوئی ہے، اگر وہ اپنی بداعمالی اور بدکرداری کے باعث مٹتی ہے تو مٹنے دو۔ اور یاد رکھو کہ ترک اسلام نہیں۔‘‘

(الفضل ۲۳؍مارچ ۱۹۱۵ء)

ب:...’’قادیان سے تعلق رکھنے والے کسی احمدی کا عقیدہ

477

نہیں سلطان ترکی خلیفۃ المسلمین ہے۔‘‘

(الفضل ۱۶؍فروری ۱۹۲۰ء)

ج:...’’ہمارے خلیفہ حضرت مسیح موعود (مرزا صاحب) کے خلیفۂ ثانی ہیں اور بادشاہ حضور ملک اعظم (جارج پنجم فرمانروائے برطانیہ)۔‘‘

(الفضل ۲۲؍دسمبر ۱۹۱۹ء)

اور جب انگریزی فوجیں عروس البلاد بغداد شریف کو پامال کررہی تھیں، تب پورا عالم اسلام خون کے آنسو رو رہا تھا مگر قادیانی، قادیان میں خوشی کا جشن منارہے تھے،چراغاں کیا جارہا تھااور قادیانیوں کا سرکاری اخبار بڑے فخر سے اعلان کررہا تھا کہ حضرت مسیح موعود (مرزا قادیانی) فرماتے ہیں کہ:

’’میں مہدی ہوں، اور گورنمنٹ برطانیہ میری تلوار ہے۔ (جیسا مہدی ویسی تلوار...ناقل) اب غور کرنے کا مقام ہے کہ پھر ہم احمدیوں کو اس فتح (یعنی انگریزوں کی بغداد پر فتح) پر کیوں خوشی نہ ہو، عراق، عرب ہو یا شام، ہر جگہ ہم اپنی تلوار کی چمک دیکھنا چاہتے ہیں۔‘‘

(الفضل ۷؍دسمبر ۱۹۱۸ء)

یہ اسلام دشمنی کا وہ گھٹیا مظاہرہ ہے جس کی توقع صلیب پرستوں یا ان کے زلہ بار قادیانیوں ہی سے کی جاسکتی ہے۔ قادیانی اسلام کی مخالفت میں اس پست سطح پر اتر آئے ہیں کہ وہ تمام اسلامی ممالک پر برطانیہ کا تسلط دیکھنا چاہتے ہیں، کیونکہ انگریزی حکومت ان کے خودساختہ مہدی کی تلوار ہے۔

قادیانیت کی اسلام سے بغاوت اور پھر اسلام دشمنی کے گھٹیا کردار کو دیکھتے ہوئے علامہ اقبال مرحوم نے اس وقت کی حکومت سے مطالبہ کیا تھا کہ وہ قانونی طور پر قادیانیوں کو مسلمانوں سے الگ اقلیت تسلیم کرے، لیکن انگریز اپنے خود کاشتہ پودے (قادیانیت) کے حق میں مسلمانوں کا یہ مطالبہ کیسے تسلیم کرسکتا تھا۔ چنانچہ انگریزی دور میں قادیانی اپنے آپ کو مسلمان ظاہر کر کے مسلمانوں کی جاسوسی کرتے رہے، قیام پاکستان کے بعد ملکی حالات بہت کمزور تھے، اس سے فائدہ اٹھاتے ہوئے قادیانیوں نے اپنے جامہ سے

478

باہر پاؤں پھیلانا شروع کئے، اور پورے پاکستان کو یا کم از کم بلوچستان کو مرتد کرنے کا اعلان کردیا، اس سے مسلمان مشتعل ہوگئے، ۱۹۵۳ء کی تحریک چلی اور وہی مطالبہ کیا گیا جو علامہ اقبال نے انگریزی حکومت سے کیا تھا کہ قادیانیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دیا جائے، لیکن اس وقت کی حکومت پر قادیانیوں کا گہرا تسلط تھا، اس لئے مسلمانوں کے مطالبہ کو ٹھکرا دیا گیا، اور فوج کی طاقت سے تحریک کو کچل دیا گیا، شہیدان ختمِ نبوّت کے خون سے نہ صرف بازار اور سڑکیں لالہ زار ہوئیں، بلکہ دریائے راوی کی موجیں ان لاشوں کا مدفن بنیں۔ ۱۹۵۳ء کی تحریک ختمِ نبوّت اگرچہ کچل دی گئی، لیکن اس سے قادیانیت کو اپنی قدر و قیمت معلوم ہوگئی، اور اس کا غلغلہ تھم گیا، نیز قدرت کی بے آواز لاٹھی نے ان تمام لوگوں سے انتقام لیا جنہوں نے تحریک ختمِ نبوّت سے غداری کی تھی، خواجہ ناظم الدین صاحب، ظفر اللہ خان قادیانی کو وزارت خارجہ سے الگ کرنے پر آمادہ نہ تھے، قدرت نے قادیانی وزارت خارجہ کے ساتھ خواجہ ناظم الدین کی وزارت عظمیٰ پر بھی خط تنسیخ کھینچ دیا، خواجہ صاحب بڑے بے آبرو ہوکر کوچۂ وزارت سے نکلے ـــ اور آخر تک ان کا سیاسی وقار بحال نہ ہوسکا، پنجاب سے دولتانہ حکومت رخصت ہوئی، اور پھر کبھی ان کو حکومت کا خواب دیکھنا نصیب نہ ہوا۔

۱۹۷۱ء کے انتخابات میں قادیانی، مسٹر بھٹو کے حلیف تھے اور انہوں نے بھٹو صاحب کو جتوانے میں ہر ممکن تعاون کیا تھا۔چنانچہ جب پاکستان کو دو ٹکڑے کر کے مسٹر بھٹو تخت اقتدار پر براجمان ہوئے تو قادیانیوں کے لئے ایک بار پھر مسٹر ظفر اللہ خاں کا دور لوٹ آیا۔ اور انہوں نے نہ صرف تعلیم گاہوں میں قادیانی ارتداد کی تبلیغ شروع کردی۔ بلکہ مسلمانوں کے گھروں اور مسجدوں میں بھی اشتہارات اور پمفلٹ پھینکنے شروع کردیئے۔ قادیانی نجی مجلسوں میں مسلمانوں کو دھمکیاں دینے لگے کہ ان کی حکومت عنقریب قائم ہونے والی ہے، اور قادیانیوں کے خلیفہ ربوہ نے اشاروں، کنایوں میں قادیانیوں کو خاص قسم کی تیاریوں کا حکم دے دیا، لیکن قدرت ایک بار پھر ان کے غرور کو خاک میں ملانا چاہتی تھی۔ قادیانیوں نے ربوہ اسٹیشن پر نشتر کالج ملتان کے طلباء پر اپنی قوت کا مظاہرہ کیا۔ اور نوجوان طلباء کو لہولہان کردیا، اس سے پورے ملک میں قادیانیوں کی اسلام دشمنی کے خلاف نفرت

479

وبے زاری کی تحریک پیدا ہوئی اور ملک کے ایک سرے سے دوسرے سرے تک یہ مطالبہ کیا جانے لگا کہ :

🌟 :... قادیانیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دیا جائے۔

🌟 :... ان کو کلیدی مناصب سے برطرف کیا جائے۔

🌟 :... ان کی اسلام کش سرگرمیوں کا تدارک کیا جائے۔

تحریک کو نظم و ضبط کا پابند رکھنے کے لئے ایک ’’مجلس عمل تحفظ ختمِ نبوّت‘‘ وجود میں آئی، جس میں ملک کی تمام سیاسی و مذہبی جماعتوں نے شرکت کی۔

بھٹو حکومت کے لئے یہ تحریک ’’دوگونہ عذاب است جان مجنوں را‘‘ کے مصداق تھی، ایک طرف بھٹو شاہی کے محبوب حلیف قادیانی تھے، اور دوسری طرف مسلمانوں کا مجموعی ردِّ عمل تھا۔

بھٹو صاحب نے اس تحریک کو کچلنے کے لئے تمام حربے استعمال کئے، لاکھوں افراد کو جیلوں میں بند کیا گیا، مسلمانوں کے جلسوں، جلوسوں پر پابندی لگانے کی کوشش کی گئی۔

اور جیلوں میں علماء و طلباء اور وکلاء کو نہایت غیرشریفانہ اذیتیں دی گئیں۔ قرطاسِ ابیض سے یہ بات بالکل کھل کر سامنے آگئی ہے کہ بھٹو شاہی، قادیانیوں کی ناز برداریوں میں تمام سابقہ حکومتوں سے سبقت لے گئی تھی، وہ قادیانی مسئلہ کے حل کرنے میں قطعی مخلص نہ تھی، بلکہ اس مسئلے کو کھٹائی میں ڈالنے، تحریک کو کچلنے اور معاملے کو اُلجھانے کے لئے ہر حربہ استعمال کر رہی تھی، مثلاً:

حضرت علامہ سیّد محمد یوسف بنوریؒ امیر مجلس تحفظ ختمِ نبوّت، جو اس تحریک کے قائد اور رُوحِ رواں تھے، ان کو بدنام کرنے کے لئے تمام اخبارات میں لاکھوں روپے کے بڑے بڑے اشتہارات شائع کئے گئے، جن میں بالکل لچر اور بے ہودہ الزامات عائد کئے گئے، مقصد یہ تھا کہ قیادت بدنام اور تحریک غیرمؤثر ہوجائے، یہ ’’مقدس فریضہ‘‘ مولانا کوثر نیازی، پیر علی محمد راشدی اور یوسف بچ پر مشتمل ایک کمیٹی انجام دے رہی تھی۔

جسٹس صمدانی نے سانحۂ ربوہ کی تحقیقاتی رپورٹ مرتب کی تھی، جس میں بھرپور

480

دلائل و شواہد کی روشنی میں لکھا گیا تھا کہ حکومت قادیانیوں کی بے جا حمایت کررہی ہے، اور اس اشتہاری مہم سے عوام محسوس کررہے ہیںکہ اس میں حکومت کے محکمہ اطلاعات کا ہاتھ ہے۔

جب یہ رپورٹ آخری منظوری کے لئے مسٹر بھٹو کے دربارِ معلی میں پیش ہوئی تو انہوں نے اس پر یہ نوٹ لکھا کہ:

’’اس رپورٹ کو اس طرح شائع کیا جائے کہ لوگ سمجھیںکہ حکومت نے صحیح فیصلہ کیا ہے، یہ نہ ہو کہ لوگ ان حقائق کو پڑھ کر قادیانیوں سے برہم ہوجائیں، اس بات کا خاص خیال رکھا جائے۔‘‘

گویا بھٹو صاحب یہ حکم صادر فرما رہے تھے کہ اس رپورٹ کو شائع کرنا ہو تو رَدّ و بدل اور تنسیخ کے بعد شائع کیا جائے، چنانچہ آج تک یہ رپورٹ شائع نہیں ہوئی۔ اور نہیں کہا جاسکتا کہ وہ اپنی اصل حالت میں باقی بھی ہے یا مسخ کردی گئی ہے۔ الغرض مسٹر بھٹو ہر ممکن طریقے سے تحریک کو کچلنا اور قادیانیوں کی پاسبانی کرنا چاہتے تھے،لیکن جب کوئی تدبیر کارگر نہ ہوئی تو بھٹو صاحب نے قومی اسمبلی کو خصوصی کمیٹی کی حیثیت دے کر اس مقدمہ کا فیصلہ اس کے سپرد کردیا۔ بھٹو صاحب شاید یہ خیال کرتے تھے کہ اسمبلی کے ارکان کی اکثریت ان کی پارٹی کی ہے، اس کے ذریعہ مسلمانوں کے مطالبہ کو آئینی طور پر ٹالا جاسکے گا، لیکن معاملہ ان کی خواہشات کے برعکس ہوا۔ قادیانیوں کے سربراہ مرزا ناصر نے اپنی جماعت کا موقف پیش کیا، اور گیارہ دن اس پر جرح ہوئی، لاہوری جماعت کے سربراہ مسٹر صدر الدین صاحب نے اپنی جماعت کا موقف پیش کیا، اور دو دن اس پر جرح ہوئی۔ ان بیانات اور ان پر کی گئی جرح سے قادیانیوں کا کفر و ارتداد سب ارکان اسمبلی پر کھل گیا، اور ہر رکن اسمبلی کو معلوم ہوگیا کہ واقعۃً قادیانیت، اسلام کی ضد ہے۔

اسمبلی کے سامنے ایک قرارداد سرکاری پارٹی کی جانب سے پیش کی گئی تھی، اور ایک حزب اختلاف کی جانب سے، ان دونوں پر اسمبلی کو بحیثیت خصوصی کمیٹی کے غور کرنا تھا، چنانچہ خصوصی کمیٹی نے اسمبلی کے سامنے پیش کی گئی قراردادوں پر غور کرنے، دستاویزات کا

481

مطالعہ کرنے اور گواہوں ــبشمول سربراہان انجمن احمدیہ ربوہ اور انجمن احمدیہ اشاعت اسلام لاہور ــ کی شہادتوں اور جرح پر غور کرنے کے بعد حسب ذیل سفارشات پیش کیں:

۱:...پاکستان کی دفعہ ۱۰۶(۳) میں ترمیم کرکے غیر مسلم اقلیتوں میں قادیانیوں کا نام درج کیا جائے، نیز دفعہ ۲۶۰(۲) کے بعد حسب ذیل شق کا اضافہ کیا جائے:

(۳)’’جو شخص محمد صلی اللہ علیہ وسلم، جو آخری نبی ہیں، کے خاتم النبیین ہونے پر قطعی اور غیر مشروط طور پر ایمان نہیں رکھتا یا جو محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد کسی بھی مفہوم میں یا کسی بھی قسم کا نبی ہونے کا دعویٰ کرتا ہے یا جو کسی ایسے مدعی کو نبی یا دینی مصلح تسلیم کرتا ہے وہ آئین یا قانون کی اغراض کے لئے مسلمان نہیں ہے۔‘‘

۲:...مجموعہ تعزیرات پاکستان کی دفعہ ۲۹۵الف میں حسب ذیل تشریح درج کی جائے:

’’(تشریح ) کوئی مسلمان جو آئین کی دفعہ۲۶۰کی شق (۳) کی تصریحات کے مطابق محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے خاتم النبیین ہونے کے تصور کے خلاف عقیدہ رکھے یا عمل یا تبلیغ کرے وہ دفعہ ہذا کے تحت مستوجب سزا ہوگا۔‘‘

۳:...متعلقہ قوانین مثلاً قومی رجسٹریشن ایکٹ ۱۹۷۳ء اور انتخابی فہرستوں کے قواعد ۱۹۷۴ء میں منتخبہ قانونی اور ضابطہ کی ترمیمات کی جائیں گی۔

۴:...پاکستان کے تمام شہریوں کے، خواہ وہ کسی بھی فرقہ سے تعلق رکھتے ہوں، جان و مال، آزادی،عزت اور بنیادی حقوق کا پوری طرح تحفظ اور دفاع کیا جائے گا۔

یہ سفارشات جب مسٹر بھٹو کے سامنے پیش ہوئیں تو انہوں نے قادیانیوں کو بچانے کی ایک بار پھر کوشش کی، اور اصرار کیا کہ آئین کی دو دفعات میں جو ترمیمات تجویز کی گئی ہیں، یہ غیر ضروری ہیں، صرف ایک دفعہ میں ترمیم کافی ہے، یعنی آئین کی دفعہ ۲۶۰میں شق (۳) کا اضافہ کردیا جائے، مگر غیر مسلم اقلیتوں کی فہرست میں قادیانیوں کا نام درج

482

نہ کیا جائے، بلکہ یہ بات عدالت پر چھوڑ دی جائے کہ دفعہ ۲۶۰ (۳) کا اطلاق قادیانیوں پر ہوتا ہے یا نہیں؟

حزب اختلاف کے قائد مفتی محمود صاحب اور مجلس عمل کے دوسرے رہنماؤں کا اصرار تھا کہ دفعہ ۱۰۶(۳) میں قادیانیوں کا غیر مسلم اقلیتوں میں درج ہونا بہت ضروری ہے۔

مسٹر بھٹو نے اس رَدّ و کد پر خاصا وقت ضائع کیا، لیکن جب دیکھا کہ اب اس کے بغیر ان کے لئے کوئی چارۂ کار نہیں تو بادل نخواستہ اس کو منظور کرنا پڑا۔

اس طرح قادیانیوں کو غیرمسلم اقلیت قرار دینے کا جو مطالبہ علامہ محمد اقبال مرحوم نے انگریزی دور میں کیا تھا، وہ مسلمانوں کی مسلسل تحریک کی بدولت قیام پاکستان کے ۲۷ برس بعد (۷؍ستمبر ۱۹۷۴ء) کو منوالیا گیا۔ والحمد ﷲ علی ذالک!

چونکہ بھٹو صاحب اس آئینی فیصلے میں مخلص نہیں تھے، صرف دفع الوقتی کے لئے انہوں نے طوعاً و کرہاً یہ فیصلہ تسلیم کیا تھا، اس لئے انہوں نے اپنے پورے دورِ حکومت میں اس فیصلے کو عملی جامہ پہنانے کی نہ صرف یہ کہ کوشش نہیں کی بلکہ اس کے راستے میں رُکاوٹ بنے، چنانچہ اس آئینی فیصلے کی تعمیل کے لئے انہوں نے قانون سازی اپنے معزول ہونے کے آخری لمحہ تک نہیں ہونے دی، حزبِ اختلاف نے ایک مسوّدۂ قانون اسمبلی میں پیش کیا، مگر اس کو مسترد کردیا گیا۔

مسٹر بھٹو تو صاحبِ غرض تھے، انہیں قادیانیوں سے ووٹ لینے تھے اس لئے وہ انہیں ناراض نہیں کرنا چاہتے تھے، مگر موجودہ حکومت کو قادیانیوں سے کوئی لالچ نہیں اس لئے مسلمان موجودہ حکومت سے اُمید رکھتے ہیں کہ وہ ۷؍ستمبر ۱۹۷۴ء کے آئینی تقاضوں کو پورا کرتے ہوئے قادیانیوں کے سلسلہ میں جو مسائل فوری توجہ کے مستحق ہیں وہ انہیں حل کرے، مثلاً:

۱:...قادیانی غیرمسلم ہونے کے باوجود اسلامی شعائر کو استعمال کر تے ہیں، ان کو اس سے قانوناً روکا جائے، مثلاً اپنی عبادت گاہ کو مسجد کہنا، یا مسجد سے مشابہ عبادت گاہ بنانا، اذان کہنا، وغیرہ۔

483

۲:...قادیانی جن کلیدی عہدوں پر فائز ہیں انہیں برطرف کیا جائے اور حکومت کے خاص راز ان پر افشا نہ کئے جائیں، کیونکہ وہ اسلام اور مسلمانوں کے خیر خواہ نہیں، بلکہ بدترین دشمن ہیں۔

۳:...جن دفاتر میں قادیانی افسر ہیں وہ اپنے ماتحت مسلمانوں کو قادیانی کرنے کی کوشش کرتے ہیں، اور جو ان کے ڈھب پر نہیں آتا اسے ہر ممکن طریقہ سے تنگ کرنے کی کوشش کرتے ہیں ان کا فوری طور پر نوٹس لیا جائے۔

۴:...قادیانی مسلمانوں کے نام پر حج پر جاتے ہیں اور بشمول سعودی عرب کے اسلامی حکومتوں میں (جہاں قادیانیوں کا داخلہ ممنوع ہے) ملازمت کرتے ہیں اس کی وجہ یہ ہے کہ ہماری حکومت نے مسلمانوں اور قادیانیوں کے شناختی کارڈوں اور پاسپورٹوں میں کوئی امتیازی علامت نہیں رکھی ہے، اس لئے ضروری ہے کہ ان کے شناختی کارڈوں اور پاسپورٹوں پر لفظ ’’غیر مسلم قادیانی‘‘ درج کیا جائے۔

۵:...قادیانیوں نے بیرون ملک پاکستان کے خلاف جو زہریلا پروپیگنڈہ کیا ہے اس کا توڑ کیا جائے۔

۶:...حال ہی میں اسلامی ایشیائی کانفرنس منعقدہ کراچی میں اس کے بارے میں جو قرارداد منظور کی گئی تھی، اس پر ٹھوس طریقے پر عمل کیا جائے۔

آخر میں ہم حکومت سے مطالبہ کریں گے کہ یہ دن چونکہ مسلمانوں کے لئے ایک عظیم اور مبارک دن ہے اور اس دن ان کو ایک خفیہ دشمن سے نجات ملی لہٰذا مطالبہ ہے کہ قومی سطح پر اس دن کا خاص طور پر اہتمام کیا جائے۔

484

۷؍ستمبر کے فیصلے پر بے جا اعتراض!

بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ

اَلْحَمْدُللہِ وَسَلَامٌ عَلٰی عِبَادِہِ الَّذِیْنَ اصْطَفٰی!

’’لاہوری فرقہ کہتا ہے کہ مرزا صاحب نبی نہیں تھے، اور ربوائی فرقہ کہتا ہے کہ نبی تھے۔ اور دنیا جانتی ہے کہ نبی کو نبی نہ ماننا کفر ہے، اور غیر نبی کو نبی ماننا بھی کفر ہے۔ اب لاہوری مرزائیوں کے نزدیک ’’ربوائی فرقہ‘‘ کافر ہے، اور ربوہ والوں کے نزدیک ’’لاہوری فرقہ‘‘ مرزا کو نبی نہ ماننے کی وجہ سے کافر ہے۔ ۷؍ستمبر ۱۹۷۴ء کے آئینی فیصلہ پر ایک معترض کے جواب میں حکیم العصر حضرت مولانا یوسف لدھیانویؒ کی چشم کشا تحریر ملاحظہ فرمائیں۔‘‘ ............(مدیر)

پاکستان کی اسمبلی کا قادیانیوں کو کافر قرار دینا ۱۹۷۴ء کے اہم ترین واقعات میں سے تو ضرور ہے مگر یہ معاملہ یا فیصلہ ایک اعلیٰ سیاسی و آئینی ادارہ کی جانب سے صادر ہوا ہے جو خالصتاً ایک سیاسی فیصلہ ہے چوہدری غلام احمد پرویز صاحب کا اس سیاسی فیصلہ کو اپنی مری اور مٹتی ہوئی ساکھ کو بحال کرنے یا برقرار رکھنے کے لئے استعمال کرنا ہمارے نزدیک انتہائی عیاری اور عوام دشمنی ہے۔

معروضی تجزیہ:

واقعات و حالات کا تجزیہ معروضی انداز میں کیا جانا چاہئے، اپنی اپنی رنگین و طرحدار خواہشات کی عینکیں لگاکر مشاہدہ کرنے والے ہی ہمیشہ ناکام و نامراد ہوئے ہیں۔ ہمارے خیال میں ربوائی گروپ نے اپنی حکمت عملی سے حکومت وقت کے ساتھ ٹکراؤ و

485

تصادم کی پالیسی اختیار کرنے کا فیصلہ واقعہ ربوہ سے بہت قبل کرلیا تھا، اس سلسلہ میں کئی ایک شہادات اخبارات میں بھی ظاہر ہوچکی ہیں۔ ہم جیسے عام انسانوں کی آنکھوں نے بھی ان کا مشاہدہ کیا ہے، قادیانیوں نے ایک لمبے عرصہ سے اپنے آپ کو عام مسلمانوں سے الگ کرلیا تھا، وہ ان کے پیچھے نماز پڑھنا، ان کے ساتھ رشتہ و نکاح کرنا، ان کی نماز جنازہ پڑھنا، غرضیکہ کسی بھی مشترک امر پر عام مسلمانوں سے تعاون کرنے پر تیار نہ تھے۔

انہوں نے مرزا صاحب کو عملاً ایک مستقل نبی اور اپنے آپ کو ایک مستقل اُمت مان کر اپنی حکمت عملی کے قیام کا پاکستان سے بہت پہلے ہی آغاز کردیا تھا، ان کی آمرانہ قیادت نے برطانوی حکومت، کانگرس اور مسلم لیگ کی ایک تثلیث کے بارِگراں کو وقتاً فوقتاً اپنی نازک کمر پر اٹھانے کی کوشش کی اور آخر میں کچھ مخصوص مفادات اور حالات کے پیش نظر اس آمرانہ قیادت نے پی پی پی کے ساتھ انتخابات کے دوران ہر طرح کے تعاون کا فیصلہ کرلیا اور جہاں تک ہماری معلومات کا تعلق ہے اس نے رات دن کام کیا، اس کے ہمہ وقتی مذہبی مبلغین نے اپنے اپنے جماعتی حلقوں اور دیگر زیر اثر علاقوں میں پی پی پی کے لئے کام کیا، اس قادیانی حکمت عملی کے پس منظر میں کچھ مخصوص ذہنی تحفظات اور مقدمات فکر کام کر رہے تھے۔ انہیں خطرہ یہ تھا کہ کہیں کوئی مذہب پسند سیاسی جماعت پاکستان کی ہیئت مقتدرہ پر قبضہ نہ کرے، اس خطرہ کے پیش نظر انہوں نے پی پی پی کے ساتھ ہر طرح کے تعاون یا اشتراک کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔ پی پی پی کو توقع سے زیادہ کامیابی حاصل ہوئی، اس کی اس کامیابی کو بھی ربوہ کی آمرانہ قیادت نے اپنے مخصوص عقائد و نظریات اور مستقبل کی خوش آئند توقعات کے زاویہ نگاہ سے دیکھنا شروع کردیا اور ان کے مہم جو عناصر نے آہستہ آہستہ حکومت کی مسند اور اقتدار کی کرسی پر پہنچنے کے سہانے خواب دیکھنے شروع کردئیے، اگر قارئین نے اس تقریر کو پڑھا ہے جو ناصر احمد خلیفہ ربوہ نے کشمیر اسمبلی کے فیصلہ کے متعلق ایک جمعہ میں خطاب کرتے ہوئے کی تھی، تو وہ ہماری اس رائے کی تائید کریں گے، اس تقریر میں جو تعلّی و انانیت اور جس خود فریبی کی نمود و نمائش کی گئی اس سے صاف نظر آرہا تھا کہ یہ قیادت کسی وقت بھی تصادم و ٹکراؤ کو لبیک کہنے کے لئے تیار بیٹھی ہے۔ لیکن انہیں اس

486

امر کا احساس نہیں ہوا کہ اس وقت پاکستان کی سیاسی زمام اقتدار ایک ایسے انسان کے قبضہ میں ہے جو سیاست و حکمت عملی کے تہہ در تہہ اسرار ورموز کا کامل ماہر ہے۔ پھر وہ عوامی مزاج کا لیڈر ہے، وہ تحفظ و استحکام پاکستان کا ہر قیمت پر متمنی ہے، لہٰذا جب بھی اس کی کسی قوت کو چیلنج کیا گیا وہ اپنی حکمت عملی، اپنے عوام پسند مزاج، تحفظ و استحکام پاکستان کے مخصوص مفادات کے پیش نظر اپنے عزیز سے عزیز تر رفیقوں اور غدار ساتھیوں کو چھوڑنے اور انہیں اپنی موت مرنے کے لئے تنہا چھوڑ دے گا۔

خالص سیاسی فیصلہ:

ہمارے نزدیک قادیانیوں کو اقلیت قرار دینے کی اصل وجوہ سیاسی ہیں، اور چونکہ انہوں نے عملاً اپنے آپ کو عام ملت سے الگ ایک اُمت بنالیا ہے، ایک نئی نبوّت کے و ہ مدعی بن چکے ہیں، لہٰذا اسمبلی نے خود انہیں کے آلہ و ہتھیار سے انہیں مفلوج کردینے کا فیصلہ کیا ہے۔ اسے پرویز صاحب اپنے کھاتے میں ڈالنا چاہتے ہیں تو یہ ان کی بھول ہے۔ خود پرویز صاحب نے بھی جناب وزیراعظم کی اس تقریر پر جو انہوں نے اسمبلی میں فیصلہ کئے جانے کے دوران کی تھی اظہار حیرت و تعجب کیا ہے، پرویز صاحب نے بحوالہ ’’ہفت روزہ ایشیا‘‘ وزیراعظم کے یہ الفاظ نقل کئے ہیں:

’’یہ فیصلہ مذہبی بھی ہے اور سیکولر بھی، سیکولر اس معنی میں کہ ہم عصر جدید میں سے گزر رہے ہیں اور ہمارا دستور سیکولر ہے کیونکہ ہمارا ایمان ہے کہ ملک کے تمام شہری یکساں سلوک کے حقدار ہیں۔‘‘

(ماہنامہ طلوع اسلام نومبر ص:۲۹)

ان الفاظ پر جو شخص بھی ذرا گہرائی میں اتر کر مستقبل قریب اور بعید پر ایک گہری نگاہ ڈال کر بات کرے گا، وہ یہ کہے بغیر نہیں رہے گا کہ جن جن مذہبی جماعتوں یا مفکروں نے قادیانیوں کو اقلیت قرار دئیے جانے کا کریڈٹ اپنے کھاتے میں ڈالنے کی کوشش کی ہے انہوں نے نہ صرف انتہائی سادہ لوحی سے کام لیا ہے بلکہ عوام اور پاکستان سے بھی کوئی اچھا برتاؤ نہیں کیا۔

487

جماعت احمدیہ لاہور کا قصور:

بظاہر اس فیصلہ میں شدت و غلظت نظر آئی ہے اور ایسا محسوس ہوتا ہے کہ کم از کم جماعت احمدیہ لاہور کے ساتھ انصاف نہیں کیا گیا اور انہیں بلاوجہ کافر قرار دے دیا گیا ہے، لیکن اگر خود جماعت لاہور کی خارجہ و داخلہ حکمت عملی کا تجزیہ کیا جائے تو اس میں بھی کافی تضادات ہیں۔

مثلاً: اگر وہ یہ مانتے ہیں کہ ان کے محمودی ٹولے سے اختلاف کی وجہ یہ ہے کہ یہ ٹولہ مرزا صاحب کو حقیقی نبوّت کا مدعی مانتا ہے اور اس طرح اپنے آپ کو ایک الگ اُمت منوانا چاہتا ہے اور اپنے طرز عمل سے بھی ربوائی گروہ اسی طرح کے شواہد مہیا کرچکا ہے، تو آخر اس کی کیا وجہ ہے کہ جماعت لاہور جماعتی سطح پر نام لے کر ربوائی گروہ کو کافر نہیں کہتی؟ ان سے بیزاری و علیحدگی اختیار نہیں کرتی؟ ہمیں ان کے اخلاص نیت سے انکار نہیں لیکن ہم یہ کہے بغیر نہیں رہ سکتے کہ ان کی اس نیمے دروں اور نیمے بروں قسم کی پالیسی نے ہی انہیں موجودہ بدحالی اور شومیٔ قسمت سے دوچار کیا ہے۔ یہ ٹھیک ہے کہ حکومتوں کے فیصلوں سے کفر و ایمان کے فیصلے نہیں ہوتے مگر یہ بھی غلط نہیں کہ حکومتوں کے فیصلے بھی آدمیوں کے کفر و ایمان پر بڑے ہی گہرے مثبت و منفی اثرات ڈالتے ہیں، اور جب تک کسی تنظیم و تحریک کے پاس جانبدار، فعال اور حالات و واقعات سے پوری طرح باخبر قیادت موجود نہ ہو اس وقت تک وہ تحریک و تنظیم بیسویں صدی کے اس خالص مادی و اقتصادی دور میں زندہ نہیں رہ سکتی۔

۷؍ستمبر کے آئینی فیصلہ کے بارے میں مضمون نگار کے معروضی تجزیہ کا خلاصہ صرف یہ ہے کہ جماعت ربوہ نے مرزا صاحب کو مستقل نبی قرار دے کر اور لاہوری جماعت نے قادیانیوں کو مسلمان سمجھ کر اپنے غیرمسلم اقلیت ہونے کا ثبوت دیا، اس لئے اس فیصلہ کی ذمہ داری ان پر عائد ہوتی ہے۔

دوم:...قادیانی اُمت نے مرزا صاحب کی تلقین کے مطابق مسلمانوں سے ہر قسم کے تعلقات منقطع کرلئے، مرزا صاحب نے اپنی اُمت کو خدائی حکم سنایا کہ:

’’وہ (مسلمان) اس لائق نہیں ہیں کہ میری جماعت میں

488

سے کوئی شخص ان کے پیچھے نماز پڑھے، کیا زندہ مردے کے پیچھے نماز پڑھ سکتا ہے؟ پس یاد رکھو کہ جبکہ خدا نے مجھے اطلاع دی ہے تمہارے پر حرام ہے اور قطعی حرام ہے کہ کسی مکفر اور مکذب یا متردد کے پیچھے نماز پڑھو ...... تمہیں دوسرے فرقوں کو جو دعویٔ اسلام کرتے ہیں بکلی ترک کرنا پڑے گا۔‘‘

(حاشیہ اربعین نمبر:۳ ص:۲۸، ضمیمہ تحفہ گولڑویہ، روحانی خزائن ج:۱۷ ص:۴۱۷)

سوم:...قادیانی اُمت نے مرزا صاحب کے فتویٰ کے مطابق مرزا کے نہ ماننے والوں کو پکا کافر قرار دیا، مرزا صاحب کا فتویٰ یہ تھا کہ:

’’ہر ایک شخص جس کو میری دعوت پہنچی ہے اور اس نے مجھے قبول نہیں کیا وہ مسلمان نہیں ہے۔‘‘

(حقیقۃ الوحی ص:۱۶۳، روحانی خزائن ج:۲۲ ص:۱۶۷)

’’جو شخص مجھے نہیں مانتا وہ مجھے مفتری قرار دے کر مجھے کافر ٹھہراتا ہے، اس لئے میری تکفیر کی وجہ سے آپ کافر بنتا ہے۔‘‘

(ایضاً حاشیہ روحانی خزائن ج:۲۲ ص:۱۶۷)

چہارم:...اس ترنگ میں مرزا غلام احمد قادیانی نے لاہوری فرقے کو بھی معاف نہیں کیا، بلکہ ان کے طرز عمل کے بارے میں تخم دیانت سے عاری، ایمان سے محروم اور منافق ہونے کا فتویٰ صادر فرمایا، سنئے:

’’اگر دوسرے لوگوں (لاہوری مرزائیوں) میں تخم دیانت اور ایمان ہے اور منافق نہیں ہیں تو ان کو چاہئے کہ ان مولویوں کے بارے میں (جو مرزا صاحب کو مسلمان نہیں سمجھتے) ایک لمبا اشتہار ہر ایک مولوی کے نام کی تصریح سے شائع کردیں کہ یہ سب کافر ہیں کیونکہ انہوں نے ایک مسلمان کو کافر بنایا تب میں ان

489

کو مسلمان سمجھ لوں گا، بشرطیکہ ان میں نفاق کا شبہ نہ پایا جائے۔‘‘

(حقیقۃ الوحی ص:۱۶۵، روحانی خزائن ج:۲۲ ص:۱۶۹)

۷؍ستمبر کے آئینی فیصلے سے پہلے اور بعد قریباً تمام عالم اسلام کے مسلمانوں نے مرزا صاحب کو دعویٔ نبوّت کی وجہ سے خارج از اسلام قرار دیا۔ اب مرزا صاحب کے فتویٰ کے مطابق لاہوری فرقہ اسی وقت مسلمان سمجھا جائے گا جب کہ وہ ایک بہت ہی لمبا اشتہار شائع کرے اور تمام عالم اسلام کے ایک ایک فرد کا نام لے کر اس کے کافر ہونے کا اعلان کرے، جب تک وہ اتنا لمبا چوڑا اشتہار شائع نہیں کرتے اس وقت تک یہی سمجھا جائے گا کہ مرزا صاحب کے فتویٰ کے مطابق وہ منافق اور تخم دیانت و ایمان سے محروم ہیں۔

پنجم:...لاہوری فرقہ کہتا ہے کہ مرزا صاحب نبی نہیں تھے اور ربوائی فرقہ کہتا ہے کہ نبی تھے، اور دنیا جانتی ہے کہ نبی کو نبی نہ ماننا کفر ہے اور غیرنبی کو نبی ماننا بھی کفر ہے، اب لاہوریوں کے نزدیک ربوائی فرقہ غیرنبی کو نبی ماننے کی وجہ سے کافر ہے، اور ربوہ والوں کے نزدیک لاہوری فرقہ نبی کو نبی نہ ماننے کی وجہ سے کافر ہے۔ اس کے باوجود دونوں ایک دوسرے کو مسلمان کہتے ہیں، اس وجہ سے آئینی فیصلہ میں دونوں کا حکم ایک رکھا جانا ضروری تھا، گویا اس کی ذمہ داری بھی خود لاہوری فرقہ پر عائد ہوتی ہے کہ انہوں نے جھوٹے نبی کے ماننے والوں کو کیوں مسلمان سمجھا اور کیوں ان سے برادرانہ تعلقات رکھے؟

ششم:...باقی رہی قادیانی اُمت کی تعلّی، انانیت، خودفریبی اور نمود و نمائش جس کا صاحب مضمون نے شکوہ کیا ہے تو ہمارے نزدیک یہ ساری چیزیں مرزائیت کے زمرے میں داخل ہیں اور مرزا غلام احمد کی مسیحیت سے مرزا ناصر کی خلافت تک ان کی تین نسلیں اسی تعلّی، انانیت، خودفریبی اور نمود و نمائش میں گزری ہیں، اس لئے یہ لاعلاج مرض ہے:

  1. خدا کی شان ہے ایک ریزہ چیں خوانِ نصاریٰ کا

    گدائی کرتے کرتے مسیح موعود ہوجائے

(ظفر علی خان)

(ہفت روزہ ختمِ نبوّت کراچی ج:۱۷ ش:۳۶)

490

اِمتناعِ قادیانیت آرڈی نینس میں

مسلمانوں کی کامیابی

بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ

اَلْحَمْدُللہِ وَسَلَامٌ عَلٰی عِبَادِہِ الَّذِیْنَ اصْطَفٰی، اَمَّا بَعْدُ!

صدر جنرل محمد ضیاء الحق نے قادیانیوں کی خلافِ اسلام سرگرمیوں کو روکنے کے لئے جو آرڈی نینس ۲۶؍اپریل ۱۹۸۴ء کو جاری کیا تھا، مئی کے اواخر میں قادیانیوں نے اسے وفاقی شرعی عدالت میں چیلنج کردیا تھا، اور عدالت نے قادیانی درخواست سماعت کے لئے منظور کرلی تھی، چنانچہ ۱۵؍جولائی سے لاہور ہائی کورٹ میں اس کی سماعت شروع ہوئی، اور جمعہ، ہفتہ کی تعطیل کو چھوڑ کر۱۲؍اگست تک سماعت مسلسل جاری رہی۔ ...۸؍اگست بروز بدھ کو چیف جسٹس صاحب کی اسلام آباد تشریف بری کی وجہ سے عدالت کا اِجلاس نہیں ہوسکا تھا، اس کے بجائے ہفتہ ۱۱؍اگست کو اِجلاس ہوا... مجموعی طور پر ۷۲گھنٹے اس مقدمے کی سماعت ہوئی۔

قادیانیوں کی جماعت ربوہ کی طرف سے مجیب الرحمن قادیانی، اور جماعتِ لاہور کی طرف سے ریٹائرڈ کیپٹن عبدالواحد پیش ہوئے، اور سرکار کی طرف سے جناب ریاض الحسن گیلانی اور جناب حاجی غیاث محمد صاحب نے اپنے دلائل پیش کئے۔ پروفیسر قاضی مجیب الرحمن، پروفیسر محمود غازی، پروفیسر مولانا محمد اشرف خان، مولانا صدرالدین رفاعی، مولانا تاج الدین حیدری، علامہ مرزا یوسف حسین اور پروفیسر طاہرالقادری نے مشیرانِ عدالت کی حیثیت سے عدالت کو خطاب کیا۔

مقدمے کی سماعت وفاقی شرعی عدالت کے فل بنچ نے کی، جو مندرجہ ذیل

491

مقدمے کی سماعت وفاقی شرعی عدالت کے فل بنچ نے کی، جو مندرجہ ذیل حضرات پر مشتمل تھا:

۱:... چیف جسٹس جناب جسٹس آفتاب حسین صاحب

۲:... جناب جسٹس سردار فخر عالم صاحب

۳:... جناب جسٹس چوہدری محمد صدیق صاحب

۴:... جناب جسٹس ملک غلام علی صاحب

۵:... جناب جسٹس مولانا محمد عبدالقدوس قاسمی صاحب

قادیانیوں کے دونوں گروپوں نے اپنی درخواستوں میں یہ موقف اِختیار کیا تھا کہ چونکہ اس آرڈی نینس نے ان کی مذہبی آزادی پر پابندی عائد کردی ہے، اس لئے اسے خلافِ کتاب وسنت قرار دِیا جائے۔ فاضل عدالت نے فریقین کے دلائل سننے کے بعد اپنے متفقہ فیصلے میں قرار دِیا کہ زیرِ بحث آرڈی نینس کتاب وسنت کے خلاف نہیں، اس لئے قادیانیوں کی دونوں درخواستیں خارج کی جاتی ہیں۔

راقم الحروف، مسلمان وکلاء کی اعانت کے لئے ۱۳؍جولائی جمعہ کی شام کو لاہور پہنچ گیا تھا، اور علامہ ڈاکٹر خالد محمود، مولانا عبدالرحیم اشعر رئیس المبلغین عالمی مجلس تحفظ ختمِ نبوّت اور مولانا منظور احمد چنیوٹی کی رفاقت میں ایک مہینے تک لاہور میں قیام رہا۔ حق تعالیٰ شانہ‘ کا لاکھ لاکھ شکر ہے کہ عدالتی فیصلے کے اِعلان کے بعد فتح وکامرانی کے ساتھ واپسی ہوئی۔

’’اَللّٰھُمَّ لَکَ الْحَمْدُ حَمْدًا دَآءِمًا مَّعَ دَوَامِکَ، وَلَکَ الْحَمْدُ حَمْدًا خَالِدًا مَّعَ خُلُوْدِکَ، وَلَکَ الْحَمْدُ حَمْدًا لَا مُنْتَھٰی لَہٗ دُوْنَ مَشِیَّتِکَ، وَلَکَ الْحَمْدُ حَمْدًا لَا یُرِیْدُ قَاءِلُہٗ اِلّا رِضَاکَ، وَلَکَ الْحَمْدُ عِنْدَ کُلِّ طَرْفَۃِ عَیْنٍ وَّتَنَفُّسِ کُلَّ نَفَسٍ‘‘

مقدمے کی سماعت کے لئے کراچی سے پشاور تک کے اکابر وقتاً فوقتاً تشریف لاتے رہے۔ حضرت مولانا عبدالقادر آزاد خطیب بادشاہی مسجد لاہور، اور اَمیرِ اہلِ سنت حضرتِ اقدس سیّد انور حسین نفیس رقم کی قیادت میں زندہ دلانِ لاہور نے اس مقدمے کے

492

سلسلے میں ناقابلِ فراموش نقوش ثبت کئے۔ ہمارے رُفقاء کا قیام جامعہ اشرفیہ لاہور میں رہا، اور حضرت مولانا قاری عبیداللہ صاحب مہتمم جامعہ اشرفیہ اور حضرت مولانا عبدالرحمن صاحب نائب مہتمم نے اس طویل عرصے میں میزبانی سے مشرف فرمایا۔ حق تعالیٰ شانہ‘ ان تمام بزرگوں کو جزائے خیر عطا فرمائے۔ آمین!

وَآخِرُ دَعْوَانَا اَنِ الْحَمْدُللہِ رَبِّ الْعَالَمِیْنَ

وَصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی خَیْرِ خَلْقِہٖ مُحَمَّدٍ وَّآلِہٖ وَاَصْحَابِہٖ اَجْمَعِیْنَ

(ماہنامہ ’’بینات‘‘ کراچی ذُوالحجہ ۱۴۰۴ھ مطابق اکتوبر ۱۹۸۴ء)

493

اِمتناعِ قادیانیت آرڈی نینس پر تبصرہ

بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ

اَلْحَمْدُللہِ وَسَلَامٌ عَلٰی عِبَادِہِ الَّذِیْنَ اصْطَفٰی، اَمَّا بَعْدُ!

صدرِ پاکستان جنرل محمد ضیاء الحق نے ۲۶؍اپریل کو مرزائیوں کو خلافِ اسلام سرگرمیوں سے روکنے کے لئے ایک آرڈی نینس جاری کیا، جو فوری طور پر نافذالعمل ہوگا۔ اس آرڈی نینس کے ذریعے تعزیراتِ پاکستان میں دو نئی دفعات ۲۹۸ (ب) اور ۲۹۸(ج) کا اِضافہ کیا گیا ہے۔

دفعہ ۲۹۸(ب) کے مطابق ایسا شخص جو اپنے آپ کو اَحمدی کہتا ہو ...خواہ اس کا تعلق قادیانی گروپ سے ہو یا لاہوری گروپ سے... اگر کسی ایسے شخص کو ’’امیرالمؤمنین، خلیفۃ المسلمین، صحابی یا رضی اللہ عنہ‘‘ کہے، جس کا تعلق نبی آخرالزمان حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم سے نہیں، یا کسی ایسی خاتون کو ’’اُمّ المؤمنین‘‘ کہے، جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی اَزواجِ مطہراتؓ میں سے نہ ہو، یا کسی ایسے شخص کو ...مرد یا عورت... جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے خاندان سے نہیں ’’اہلِ بیت‘‘ کہے یا قرار دے، نیز اپنی عبادت گاہ کو ’’مسجد‘‘ کہے، اور اپنے ہم عقیدہ اَفراد کو بلانے یا جمع کرنے کے طریقے کو ’’اَذان‘‘ کہے، یا مسلمانوں جیسی اَذان دے، تو اس کا یہ فعل قابلِ دست اندازی پولیس ...ناقابلِ ضمانت... جرم ہوگا، جس پر اسے تین سال قید اور جرمانے کی سزا دی جائے گی۔

۲۹۸(ج) کی رُو سے ایسا شخص ...مرد یا عورت... جو اپنے آپ کو اَحمدی کہتا ہے ...خواہ اس کا تعلق قادیانی گروپ سے ہو یا لاہوری گروپ سے... اگر بلاواسطہ یا بالواسطہ اپنے آپ کو مسلمان کہے، یا اپنے عقیدے کو اِسلام کے نام سے موسوم کرے، یا اپنے مذہب

494

کی تبلیغ واِشاعت کرے، یا دُوسروں کو اَپنا مذہب قبول کرنے کی دعوت دے، یا کسی طرح بھی مسلمانوں کے جذبات کو مجروح کرے تو اسے بھی تین سال قید اور جرمانے کی سزا دی جائے گی، اور اس کا یہ جرم قابلِ دست اندازی پولیس اور ناقابلِ ضمانت ہوگا۔

نیز اس آرڈی نینس کے ذریعے ضابطہ فوجداری کی دفعہ ۱۹۹-الف میں ترمیم کردی گئی ہے، جس کی رُو سے صوبائی حکومت کو کسی ایسے اخبار، کتاب یا دیگر کسی ایسی دستاویز کو ضبط کرنے کا اِختیار دے دیا گیا ہے، جو تعزیراتِ پاکستان میں شامل ...مذکورہ بالا... نئی دفعات کی خلاف ورزی میں چھاپی گئی ہو۔

اس آرڈی نینس کے ذریعے ’’مغربی پاکستان پریس اینڈ پبلیکشنز آرڈی نینس‘‘ کی دفعہ۲۴میں ایک نئی شق شامل کردی گئی ہے، جس کے ذریعے صوبائی حکومت کو اِختیار مل جائے گا کہ وہ تعزیراتِ پاکستان میں شامل کی گئی نئی دفعات کی خلاف ورزی کرنے والی کسی کتاب یا دستاویز کی طباعت واِشاعت کے لئے اِستعمال ہونے والے پریس کو بند کردے، یا اس اَخبار کا ڈیکلریشن منسوخ کردے، جو ان دفعات کی خلاف ورزی کرے، اور کسی ایسی کتاب یا دستاویز کو ضبط کرے، جس میں ایسا مواد شامل ہو، جس کی طباعت واِشاعت مذکورہ دفعات کی رُو سے ممنوع قرار دی گئی ہو۔

۷؍ستمبر ۱۹۷۴ء کی آئینی ترمیم کے ذریعے قادیانیوں کو غیرمسلم اقلیت قرار دِیا گیا تھا، اور بھٹو صاحب نے اس وقت وعدہ بھی کیا تھا کہ اس آئینی ترمیم کے تقاضوں کو بروئے کار لانے کے لئے قانون سازی بھی کی جائے گی، لیکن بھٹو صاحب بوجوہ ...جن کی تفصیل کا یہ موقع نہیں... اس وعدے کا اِیفا نہیں کرسکے، یوں ۱۹۷۴ء کی آئینی ترمیم بھی عملاً غیرمؤثر اور بے کار ہوکر رہ گئی تھی، یہ سعادت اللہ تعالیٰ نے صدر جنرل محمد ضیاء الحق کے لئے مقدّر فرمائی کہ انہوں نے اس آرڈی نینس کے ذریعے ۱۹۷۴ء کی آئینی ترمیم کے تقاضوں کو قانونی شکل دے کر نہ صرف ملتِ اسلامیہ کے دیرینہ مطالبے کو پورا کردیا، بلکہ قادیانیوں کی روزافزوں شرارتوں کا بھی سدِ باب کردیا، جس پر جنابِ صدر اور ان کے رُفقاء پوری ملتِ اسلامیہ کی طرف سے ہدیۂ تبریک اور ستائش وتشکر کے مستحق ہیں،فجزاھم اللہ عن

495

الْإسلام والمسلمین خیر الجزاء۔

اسلامی حصار کو زِندیقوں، ملحدوں اور منافقوں کی نقب زنی سے محفوظ کرنا ایک مسلمان حکمران کا اوّلین فریضہ ہے، اور ہم جنابِ صدر کو مبارک باد پیش کرتے ہیں کہ انہوں نے ایک اہم ترین فریضے کی تعمیل کرکے بارگاہِ اِلٰہی میں سرخروئی حاصل کی ہے، ہمیں اُمید ہے کہ وہ اس اِقدام پر اِن شاء اللہ سیّدالرسل خاتم الانبیاء حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی شفاعت کے مستحق ہوں گے۔

یہ آرڈی نینس، قادیانیت کے خلاف اِنتہائی اور آخری اِقدام نہیں، بلکہ اسے ہلکے سے ہلکا، اور کم سے کم درجے کا اِقدام قرار دِیا جاسکتا ہے، ورنہ اسلامی فقہ کی رُو سے کسی اسلامی مملکت میں کسی مدعیٔ نبوّت، یا اس کی ذُرّیتِ خبیثہ کا وجود سرے سے قابلِ برداشت ہی نہیں، کیونکہ یہ لوگ اسلامی اِصطلاح میں ’’زِندیق‘‘ کہلاتے ہیں، اور تمام فقہائے اُمت اس پر متفق ہیں کہ ’’مرتد‘‘ اور ’’زِندیق‘‘ کو اِسلامی مملکت کے غیرمسلم شہری کی حیثیت سے باقی نہیں رکھا جاسکتا، بلکہ وہ سزائے موت کا مستحق ہے، یہی وجہ ہے کہ حضرت صدیقِ اکبر رضی اللہ عنہ نے مسیلمہ کذّاب اور اس کے پیروؤں کی سرکوبی کے لئے حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ کو بھیجا، اور انہوں نے زِندیقوں کے اس ٹولے کو واصل جہنم کیا۔ خود آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے آخری دورِ حیات میں جب حضرت فیروز دیلمی رضی اللہ عنہ نے یمن کے اسود عنسی کو قتل کیا، اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو وحی کے ذریعے اس کی اِطلاع ہوئی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:’’فَازَ فَیْرُوْز!‘‘ ...فیروز کامیاب ہوگیا! ... یہی وجہ ہے کہ بعد کے اَدوار میں جب بھی کسی مدعیٔ نبوّت نے سر اُٹھایا تو فوراً اس کا سر کچل دیا گیا، قاضی عیاضؒ ’’الشفاء‘‘ میں لکھتے ہیں:

’’وقد قتل عبدالملک بن مروان الحارث المتنبّی وصلبہ، وفعل ذٰلک غیر واحد من الخلفاء والملوک بأشباھھم وأجمع علماء وقتھم علٰی صواب
496

فعلھم والمخالف فی ذٰلک من کفرھم کافر۔‘‘

(ج:۲ ص:۲۵۸، مطبوعہ ملتان)

ترجمہ:... ’’اور خلیفہ عبدالملک بن مروان نے جھوٹے مدعیٔ نبوّت حارث کو قتل کرکے سولی پر لٹکایا، اور بے شمار خلفاء وسلاطین نے اس قماش کے لوگوں کے ساتھ یہی سلوک کیا، اور ہر دور کے علماء نے ان کی اس کارروائی کی تصویب کی، اور جو شخص ایسے لوگوں کے کفر میں اِختلاف کرے، وہ بھی کافر ہے۔‘‘

پوری اِسلامی تاریخ میں اس کی ایک مثال بھی پیش نہیں کی جاسکتی کہ کسی مدعیٔ نبوّت، یا اس کے پیروؤں کے وجود کو غیرمسلم شہری کی حیثیت سے برداشت کیا گیا ہو۔ الغرض تمام فقہائے اُمت اس پر متفق ہیں کہ اِسلامی مملکت میں ایک مرتد اور زِندیق، غیرمسلم شہری کی حیثیت سے نہیں رہ سکتا، علامہ شامی رحمۃ اللہ علیہ نے ’’رَدّالمحتار‘‘ میں قرامطہ باطنیہ پر بحث کرتے ہوئے لکھا ہے:

’’ونقل عن المذاھب الأربعۃ أنہ لَا یحل اقرارھم فی دیار الْإسلام بجزیۃ ولَا غیرھا ولَا تحل مناکحتھم ولَا ذبائحھم ...۔۔ والحاصل انھم یصدق علیھم إسم الزندیق والمنافق والملحد۔‘‘

(ج:۴ ص:۲۲۴، طبع جدید مصر)

ترجمہ:... ’’اور مذاہبِ اربعہ سے نقل کیا ہے کہ ان کو دارالاسلام میں ٹھہرانا جائز نہیں، نہ جزیہ کے ساتھ، اور نہ بغیر جزیہ کے، اور نہ ان سے شادی بیاہ جائز ہے، اور نہ ان کا ذبیحہ حلال ہے، اور حاصل یہ کہ ان پر زِندیق اور منافق اور ملحد کا نام صادق آتا ہے۔‘‘

اس لئے اسلامی مملکت پاکستان میں قادیانی زِندیقوں کے وجود کو برداشت کرتے ہوئے ان کی خلافِ اسلام سرگرمیوں پر پابندی عائد کرنا، ان کے ساتھ اِنتہائی

497

درجے کی رعایت ہے۔

اس آرڈی نینس کے ذریعے صوبائی حکومتوں کو اِختیار دِیا گیا ہے کہ وہ قادیانیوں کا ایسا تمام لٹریچر ضبط کرسکتی ہیں، جو آرڈی نینس میں مندرج دفعات کے تحت آتا ہو، اور ایسے اخباروں اور رِسالوں کا اِجازت نامہ بھی منسوخ کرسکتی ہیں، اور پریس بھی ضبط کرسکتی ہیں۔ ہم صوبائی حکومتوں کی توجہ اس طرف مبذول کرانا چاہتے ہیں کہ قادیانی لٹریچر سارے کا سارا اس آرڈی نینس کے تحت قابلِ ضبطی ہے، اس لئے مرزا غلام احمد قادیانی، اور اس کے اَتباع واَذناب کی تمام کتابیں اور رِسالے ملک میں ممنوع الاشاعت قرار دیئے جانے چاہئیں۔ صوبائی حکومتوں کا فرض ہے کہ وہ قادیانی کتابوں، اخباروں اور رِسالوں کی فہرست طلب کریں، اور ان کے خلاف قانونی کارروائی کریں، یہاں صرف ایک مثال درج کی جاتی ہے، قادیانی ہفت روزہ ’’لاہور‘‘ صدارتی آرڈی نینس پر تبصرہ کرتے ہوئے لکھتا ہے:

’’گویا اس آرڈی نینس کے نفاذ کے بعد پاکستان میں عیسائی، یہودی، ہندو، پارسی اور سکھ تو اپنے اپنے مذہب کی کھلے بندوں تبلیغ واِشاعت کرسکیں گے، یہاں تک کہ کمیونسٹ اور دہریے تک مسلمانوں میں اپنے اَفکار ونظریات کا پرچار کرسکیں گے، اور ان پر کوئی قدغن نہیں ہوگی، البتہ قدغن ہوگی تو صرف اس جماعت کے ارکان پر، جن کی خدماتِ اسلامی کے درخشندہ وتابندہ نقوش ساری دُنیا میں جگمگ جگمگ کر رہے ہیں، اور جو قرآنِ کریم کا درجنوں معروف زبانوں میں ترجمہ کرکے خدا کے اس نور کو اَقصائے دہر میں پھیلا چکی ہے، اور جس کا اس کے صرف بہی خواہوں ہی کو نہیں (اس کے) شریف الطبع بدخواہوں کو بھی اِعتراف ہے۔‘‘

اسی سلسلے میں آگے لکھتا ہے:

’’ہم اپنی مملکتِ عزیز کے صدر کی خدمت میں بڑے

498

ادب اور اِحترام کے ساتھ امن و جمہوریت پسند شرفائے وطن کا یہ تأثر پیش کردینا اپنا فرضِ منصبی سمجھتے ہیں کہ انہوں نے ہزیمت خوردہ طائفہ مولویان کی دلدہی کے لئے (حق واِنصاف کے تمام تقاضوں کے سرتاسر منافی) اس اِقدام کو ’’قومی المیہ‘‘ کے علاوہ قومی یکجہتی کی دیوار میں ایک ایسی نئی دراڑ سے تعبیر کیا ہے، جو بلاوجہ وبلاضرورت خود حکومت کے تیشہ اِختیار سے پیدا کی گئی ہے، اور جس کو دُنیا بھر میں اِسلام سے سچی محبت رکھنے والے کسی بھی طبقے اور حلقے میں پسندیدگی کی نظروں سے نہیں دیکھا جائے گا۔‘‘

(ہفت روزہ ’’لاہور‘‘ جلد:۳۲ شمارہ:۱۸ مؤرخہ ۵؍مئی ۱۹۸۴ء)

کیا ہفت روزہ ’’لاہور‘‘ کا یہ تبصرہ آرڈی نینس کی دفعات کے ذیل میں نہیں آتا...؟

اس آرڈی نینس کے بارے میں قادیانیوں کے تأثرات تو ہفت روزہ ’’لاہور‘‘ کے مندرجہ بالا تبصرے سے واضح ہیں۔ ہمیں اندیشہ یہ ہے کہ قادیانی اپنی سرشت کے عین مطابق نہ صرف صدرِ پاکستان جنرل محمد ضیاء الحق کے خلاف، بلکہ مملکتِ خداداد پاکستان کے خلاف بھی زیرِ زمین سازشیں کریں گے، اور ملک میں اِنتشار پھیلانے کے لئے اپنے تمام وسائل اِستعمال کریں گے، بہت سے ایسے لوگوں کو بھی اپنا آلۂ کار بنانے کی کوشش کریں گے، جن کو شاید خود بھی معلوم نہیں ہوگا کہ وہ قادیانی سازشی منصوبے کے تحت کام کر رہے ہیں، قادیانی سازشوں کا جال کس کس طرح پھیلایا جائے گا؟ کیسے کیسے لوگوں کو اس کے لئے اِستعمال کیا جائے گا؟ اور اس کے لئے کیا کیا وسائل اِختیار کئے جائیں گے...؟ ان اُمور کی تفصیل کا یہ موقع نہیں، صرف اس طرف اِشارہ کرنا مقصود ہے کہ اگر ملک کو قادیانی شر سے بچانا مقصود ہے تو نہ صرف پوری ملت کو چوکنا رہنا چاہئے، بلکہ حکومت کو بھی قادیانیوں کے جلی وخفی دوائر پر کڑی نظر رکھنی چاہئے۔

یہ آرڈی نینس جس تحریک کے نتیجے میں معرضِ ظہور میں آیا، وہ مولانا محمد اسلم قریشی ...مبلغ عالمی مجلس تحفظ ختمِ نبوّت سیالکوٹ... کے اِغوا ...۱۷؍فروری ۱۹۸۳ء... سے

499

شروع ہوئی تھی، اس کے واضح قرائن موجود ہیں کہ یہ اِغوا قادیانی طائفہ کے ممتاز اَفراد نے پولیس کی ملی بھگت سے کرایا تھا۔ مولانا قریشی کا آج تک سراغ نہیں مل سکا، اور یہ جنرل محمد ضیاء الحق کی حکومت کے لئے بہت بڑا چیلنج ہے، جب تک مولانا قریشی بازیاب نہیں ہوجاتے، مسلمانوں کے لئے اِطمینان کا سانس لینا مشکل ہے، ہم سمجھتے ہیں کہ جنابِ صدر کو اس اِمتحان وآزمائش سے بھی عہدہ برآ ہونا چاہئے۔

وَآخِرُ دَعْوَانَا اَنِ الْحَمْدُللہِ رَبِّ الْعَالَمِیْنَ

وَصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی خَیْرِ خَلْقِہٖ مُحَمَّدٍ وَّآلِہٖ وَاَصْحَابِہٖ اَجْمَعِیْنَ

(ماہنامہ ’’بینات‘‘ کراچی شعبان ۱۴۰۴ھ مطابق جون ۱۹۸۴ء)

500

قادیانی مسئلہ آئینی ترمیم کے بعد

بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ

اَلْحَمْدُللہِ وَسَلَامٌ عَلٰی عِبَادِہِ الَّذِیْنَ اصْطَفٰی!

اخبارات میں چیف مارشل لا ایڈمنسٹریٹر کے مشیر جناب لیفٹیننٹ جنرل فیض علی چشتی کا ایک بیان شائع ہوا ہے، جس میں یہ صراحت کی گئی ہے کہ:

’’پاکستان بنیادی طور پر اِسلام کے لئے اور خاص مسلمانوں کے لئے معرضِ وجود میں آیا تھا، اس لئے یہاں کسی غیرمسلم اقلیت کو عام تبلیغ کرنے کی اجازت نہیں ہوگی۔ وہ اپنے عقیدے کے مطابق عبادت کرسکتے ہیں، لیکن وہ مسلمانوں میں اسلام کے خلاف کسی دُوسرے مذہب کی کھلے بندوں تبلیغ نہیں کرسکتے۔‘‘

اس ضمن میں موصوف نے یہ اِنکشاف بھی فرمایا ہے کہ ۱۹۷۲ء کی مردم شماری کے مطابق دس سال کے عرصے میں قادیانیوں کی مردم شماری میں دس فیصد اِضافہ ہوگیا ہے۔ موصوف کے اس بیان پر معاصرِ عزیز ’’نوائے وقت‘‘ لاہور لکھتا ہے:

’’قادیانی مسئلہ آئینی ترمیم کے بعد

چیف مارشل لا ایڈمنسٹریٹر کے مشیر اُمورِ کشمیر لیفٹیننٹ جنرل ایف اے چشتی نے کوٹلی (آزاد کشمیر) کی بار ایسوسی ایشن کے ارکان سے بات چیت میں یہ خیال ظاہر کیا ہے کہ پاکستان اسلام کے نام پر قائم کیا گیا تھا، اس لئے یہاں کسی بھی دُوسرے مذہب یا عقیدے کے پرچار کی اِجازت نہیں دی جاسکتی۔ موصوف کا یہ بیان

501

ایک بنیادی اور مُسلَّمہ اُصول کے اِظہار کے ضمن میں آتا ہے، اور دُنیا بھر میں نظریاتی مملکتوں کا یہی معمول ہے کہ ان کے اساسی نظریے سے متصادم ومنحرف دِینی عقائد یا سیاسی افکار کی تبلیغ اور نشر واِشاعت کی اجازت نہیں دی جاتی۔ البتہ اس ضمن میں انہوں نے بار ایسوسی ایشن کے ایک قادیانی رُکن کے سوال پر ۱۹۷۲ء کی مردم شماری کے حوالے سے جو اِنکشاف کیا ہے، وہ صرف حکمرانوں کے لئے ہی نہیں، علمائے کرام کے لئے بھی لمحۂ فکریہ ہے کہ اس مردم شماری کی رپورٹ کے مطابق ۱۹۶۱ء کے بعد دس سال کے عرصے میں قادیانیوں کی آبادی میں دس فیصد اِضافہ ہوگیا۔

اب یہ کہنا تو مشکل ہے کہ اس مردم شماری کے اَعداد وشمار اور کوائف (جس میں سیاسی مصلحتوں کی بنیاد پر کراچی کی آبادی اصل کے مقابلے میں ۲۵-۳۰ فیصد کم دِکھائی گئی تھی، اور پنجاب کی آبادی میں بھی اِضافے کے بجائے کمی دِکھائی گئی تھی) کس حد تک مستند اور قابلِ اِعتبار ہیں، لیکن قادیانیوں کے متعلق ستمبر ۱۹۷۴ء میں آئینی ترمیم کے مطابق قانون یعنی ضابطہ تعزیرات میں بھی تبدیلی کردی جاتی تو آج وہ صورتِ حال ہرگز نہ ہوتی جسے جنرل چشتی نے افسوس ناک قرار دِیا ہے۔ اس آئینی ترمیم کے بعد شناختی کارڈوں، رجسٹریشن وغیرہ کے حلف ناموں میں تو اس کے مطابق تبدیلی کردی گئی ہے۔ لیکن ضابطۂ تعزیرات میں ترمیم نہ ہونے کے باعث قادیانیوں کو غیرمسلم اقلیت قرار دینے کا مقصد تشنہ تکمیل چلا آرہا ہے۔

اس آئینی ترمیم کی روشنی میں کچھ عرصہ بعد ضابطہ تعزیرات میں بھی ضروری تبدیلی کے لئے ایک مسوّدۂ قانون قومی اسمبلی میں پیش کردیا گیا تھا، لیکن پیپلز پارٹی کی سیاسی، خاص طور پر اِنتخابی

502

مصلحتوں نے اسے ناتمام رہنے دیا تھا۔ یہ کوئی راز کی بات نہیں کہ اپنے متعلق آئینی ترمیم کی وجہ سے قادیانی، مسٹر بھٹو اور پیپلز پارٹی سے خوش نہیں رہے تھے، لیکن مارچ ۱۹۷۷ء کے مخلوط اِنتخابات میں بھی ان کی ساری ہمدردیاں بوجوہ پیپلز پارٹی کے لئے وقف تھیں۔ اب آئندہ اِنتخابات کے لئے نئی اِنتخابی فہرستیں تیار ہونے والی ہیں، لیکن قادیانیوں کو اقلیت قرار دینے کا اِقدام صرف اس وقت اپنے منطقی تقاضے پورے کرسکے گا جب آئینی ترمیم کی روشنی میں ضابطہ تعزیرات میں بھی ترمیم کردی جائے گی، تاکہ کوئی بھی قادیانی مسلمان ووٹروں کی فہرست میں اپنا نام نہ لکھا سکے اور اگر لکھانے کی کوشش کرے تو قانون کی خلاف ورزی کا مرتکب قرار پائے۔‘‘

(’’نوائے وقت‘‘ لاہور ۱۹؍جمادی الآخر ۱۳۹۸ھ -۲۷؍مئی ۱۹۷۸ء)

اس ضمن میں ہم جناب جنرل فیض علی چشتی اور دیگر اَربابِ حل وعقد کی توجہ چند اُمور کی جانب مبذول کرانا چاہتے ہیں:

۱:... قادیانی صاحبان اپنی مردم شماری کے بیان کرنے میں مبالغے کی حد تک غلط بیانی کے عادی ہیں، چنانچہ ذیل میں اس کا مختصر سا خاکہ پیش کیا جاتا ہے:

الف:- مرزا غلام احمد قادیانی کا دعویٰ تھا کہ ان کے مرید تقریباً چار لاکھ انسان ہیں۔

(تتمہ حقیقۃ الوحی ص:۱۱۷، رُوحانی خزائن ج:۲۲ ص:۵۵۳)

ب:- ۱۹۲۲ء میں مرزا محمود قادیانی کا دعویٰ تھا کہ ان کی جماعت چار پانچ لاکھ ہے۔

(’’الفضل‘‘ ۲۶-۲۹؍جون ۱۹۲۲ء)

ج:- ’’اخبار مباہلہ‘‘ کے مقدمے میں قادیانی گواہوں نے قادیانیوں کی تعداد دس لاکھ بیان کی۔

د:- ۱۹۲۰ء میں ’’کوکب دری‘‘ کے قادیانی مصنف کے مطابق قادیانی بیس لاکھ تھے۔

503

ہ:- ستمبر ۱۹۳۲ء میں بھیرہ (پنجاب) کے مناظرے میں قادیانی مناظر مبارک احمد پروفیسر جامعہ احمدیہ قادیان نے قادیانیوں کی تعداد پچاس لاکھ بتائی۔

د:- قادیانی مبلغ عبدالرحیم درد جب اِنگلستان گئے تو انہوں نے مسٹر فلبی کے سامنے بیان کیا کہ پنجاب کے مسلمانوں میں غالب اکثریت قادیانیوں کی ہے۔

(اس وقت پنجاب میں قریباً ڈیڑھ کروڑ مسلمان تھے، اب بقول عبدالرحیم درد گویا ۷۵لاکھ سے بھی زیادہ قادیانی صرف پنجاب میں موجود تھے۔)

لیکن سرکاری رپورٹ کے مطابق ۱۹۳۱ء میں قادیانیوں کی مجموعی تعداد پنجاب میں ۵۵ہزار تھی، جس میں کئی ہزار افراد لاہوری جماعت کے بھی شامل تھے۔

(قادیانی مذہب جدید ایڈیشن ص:۶۵۰)

ملاحظہ فرمائیے مرزا قادیانی کے ۲۳ سال بعد بھی اس جماعت کی تعداد پنجاب میں ۵۵ہزار اور باقی تمام ہندوستان میں پندرہ بیس ہزار تھے۔

(’’الفضل‘‘ ۲؍جون ۱۹۳۴ء)

لیکن مرزا قادیانی اور ان کی جماعت کی غلط بیانی اور مبالغہ آمیز پروپیگنڈے کا یہ عالم ہے کہ وہ دوچار لاکھ سے شروع ہوکر ۷۵لاکھ پر جاکر دَم لیتے ہیں۔ آج کل قادیانی اُمت دعویٰ کر رہی ہے کہ کل دُنیا میں ان کی مردم شماری ایک کروڑ ہے۔ یہ بھی اسی طرح کا مبالغہ آمیز جھوٹ ہے۔ محتاط اندازے کے مطابق آج بھی ان کی آبادی پانچ، چھ لاکھ سے زیادہ نہیں ہوگی۔

۲:... چونکہ غلط بیانی کرنا اور سنسنی خیز اور مبالغہ آمیز اَعداد وشمار کے ذریعے دُنیا کو مرعوب کرنا قادیانیوں کے نبی کی سنت اور کارِ ثواب ہے، اس لئے یہ بات قرینِ قیاس ہے کہ وہ مردم شماری کے اِندراج میں بھی اس مبالغہ آمیزی سے کام لیتے ہیں، اور ایک قادیانی کئی کئی جگہوں، بلکہ کئی کئی ملکوں میں اپنے نام کا اِندراج کراتا ہے، اور پھر ایک ایک کنبے کے افراد کی تعداد کے اِندراج میں بھی اسی مبالغہ آمیز غلط بیانی سے کام لیا جاتا ہے۔ اس لئے قادیانیوں کی مرعوب کن تعداد پر اِظہارِ تشویش کے بجائے ہم جناب فیض علی چشتی اور مارشل لا حکومت سے درخواست کریں گے کہ نئی مردم شماری میں قادیانیوں کی اس تکنیک کو

504

بطورِ خاص ملحوظ رکھا جائے۔ پھر ان کے بوگس اِندراجات کا پوری سختی سے اِنسداد کیا جائے۔ جو عملہ اس کام پر مأمور ہو، اسے پوری طرح محتاط رہنے کا حکم دیا جائے۔ اگر مارشل لا حکومت قادیانی مردم شماری کو مبالغہ آمیز اِندراجات سے پاک کرنے میں کامیاب ہوجاتی ہے، تو قادیانیوں کی مردم شماری میں مبالغے کے بجائے کمی ـــــــ حیرت انگیز کمی کا اِنکشاف ہوگا۔ اور اس سے قادیانیوں کے مرعوب کن پروپیگنڈے کی قلعی بھی کھل جائے گی۔

۳:... قادیانیوں کی تعداد میں فرضی اِضافے سے بڑھ کر افسوس ناک بات یہ ہے کہ قادیانی غیرمسلم اقلیت ہونے کے باوجود حج پر بھی جاتے ہیں، اور ان ممالکِ اِسلامیہ میں بھی، جہاں ان کا داخلہ ممنوع ہے۔ اعلیٰ ملازمتوں پر فائز ہوتے ہیں، اس لئے کہ اب تک حکومتِ پاکستان نے کوئی قانونی اِقدام ایسا نہیں کیا، جس سے مسلمانوں اور قادیانیوں کے درمیان اِمتیاز ہوسکے۔ اگر شناختی کارڈ اور پاسپورٹ میں ایک خانہ مذہب کی تشخیص کے لئے رکھا جائے اور قادیانی کے شناختی کارڈ اور پاسپورٹ میں ’’غیرمسلم ‘‘ کا اِندراج کیا جائے، تو حکومتِ پاکستان عالمِ اسلام کو قادیانیوں کے فریب سے بچاسکتی ہے۔ ہم یہ سمجھنے سے قاصر ہیں کہ حکومتِ پاکستان کو اَب تک اس اہم قضیہ کی طرف کیوں توجہ نہیں ہوئی...؟

۴:... اسی بحث کا ایک افسوس ناک پہلو یہ ہے کہ قادیانی، پاکستان اور دیگر اِسلامی ممالک کے اہم ترین کلیدی مناصب پر فائز ہیں، اور پاکستان سمیت اسلامی ممالک کا کوئی خفیہ سے خفیہ راز ایسا نہیں، جو قادیانیوں سے مخفی ہو، جبکہ قادیانی اپنی ابتدائے آفرینش سے لے کر آج تک مسلمانوں کے بدترین دُشمن ہیں۔ ان کے روابط ہمیشہ اسلام دُشمن قوتوں کے ساتھ رہے ہیں، آج بھی ان کی ہمدردیاں مسلمانوں کے بجائے انہی طاغوتی طاقتوں کے ساتھ ہیں۔

کون نہیں جانتا کہ جب انگریزوں کا بغداد پر تسلط ہوا تو قادیان میں چراغاں کیا گیا اور خوشی کے جشن منائے گئے۔

کون نہیں جانتا کہ جب ترکی کو تاراج کیا جارہا تھا تو قادیانی بڑے فخر اور طمطراق سے اِعلان کرتے تھے:

505

’’ترکی حکومت اگر مٹتی ہے تو مٹنے دو، اور یاد رکھو ترک اسلام نہیں ہے۔‘‘

کون نہیں جانتا کہ جب انگریز ممالکِ اسلامیہ کو ایک ایک کرکے پامال کر رہا تھا، تو قادیانی بڑے فخر سے اِعلان کر تے تھے:

’’حضرت مسیحِ موعود (مرزا قادیانی) فرماتے ہیں کہ: میں وہ مہدیٔ معہود ہوں اور گورنمنٹِ برطانیہ میری وہ تلوار ہے جس کے مقابلے میں ان علماء کی کچھ پیش نہیں جاتی۔ اب غور کرنے کا مقام ہے کہ پھر ہم احمدیوں کو اس فتح (انگریزی طاغوت کی فتح) پر کیوں خوشی نہ ہو؟ عراق، عرب ہو یا شام، ہم ہر جگہ اپنی تلوار کی چمک دیکھنا چاہتے ہیں۔‘‘

کون نہیں جانتا کہ قادیانیوں کے نزدیک مسلمانوں کی حیثیت چوہڑے، چماروں کی سی ہے اور وہ تمام عالمِ اسلام کو اسی حیثیت میں دیکھنے کے متمنی ہیں۔

اور پھر قادیانی خلیفہ کے یہ اِعلانات کس کس کو معلوم نہیں؟ کہ:

’’ساری دُنیا ہماری دُشمن ہے اور جب تک ہم ساری دُنیا کو احمدیت میں داخل نہ کرلیں، ہمارا کوئی ٹھکانا نہیں۔‘‘

’’ہماری بھلائی کی صرف ایک ہی صورت ہے اور وہ یہ کہ ہم دُنیا کو اپنا دُشمن سمجھیں۔‘‘

’’جب تک ہماری بادشاہت نہ قائم ہوجائے، تمہارے راستے سے یہ کانٹے ہرگز دُور نہیں ہوسکتے۔‘‘

’’وہ لوگ جو اس واقعے میں حضرت مسیحِ موعود (مرزا غلام احمد قادیانی) پر اِیمان لائے ہیں، وہ سمجھتے اور یقین رکھتے ہیں کہ سب کچلے جائیں گے، صرف ہم باقی رہیں گے۔‘‘

’’نہ صرف ہندوستان کی سلطنت کے حکمران احمدی

506

جماعت کے ممبر ہوں گے بلکہ جیسا کہ وعدہ دِیا گیا ہے، زار رُوس کا عصا بھی ان ہی کے ہاتھوں میں ہوگا، وہ دُنیا میں عالمگیر حکومت قائم کریں گے۔‘‘

’’اس (یعنی قادیانی جماعت) کی بنیاد ہی اس پر ہے کہ دُنیا کو کھا جانا چاہئے۔‘‘

کیا قادیانی خلیفہ کے ان اِعلانات کے بعد بھی کوئی شک رہ سکتا ہے کہ ’’قادیانی‘‘ مسلمانوں کے بدترین دُشمن ہیں؟ ان ساری باتوں سے قطع نظر کیجئے، ستمبر۱۹۷۴ء کے بعد سے اب تک قادیانیوں نے پاکستان کو بیرونِ ملک بدنام کرنے کے لئے جو مکروہ پروپیگنڈا کیا ہے، وہ کس کے علم میں نہیں؟ اور اندرونِ ملک اِنتشار پھیلانے کے لئے انہوں نے جو کچھ کیا ہے، کیا وہ ہمارے محکمہ انٹیلی جنس کے علم سے باہر ہے...؟

ایک ایسی جماعت جو کہ مسلمانوں کو بدترین دُشمن سمجھتی ہو، جس کی ہمدردیاں مسلمانوں کے خلاف ہوں، جو طاغوتی قوتوں کی حلیف ہو، اور جس کے مشن لندن اور ہندوستان میں ہی نہیں بلکہ اسرائیل میں بھی کام کر رہے ہوں، ان کو مسلمانوں کی کلیدی اسامیوں پر مسلط اور اِسلامی ممالک کے تمام خفیہ سے خفیہ رازوں سے مطلع کرنا عقل ومنطق کی کس دلیل سے صحیح ہے؟

۵:... جناب جنرل چشتی صاحب اِعلان فرماتے ہیں کہ پاکستان میں کسی ’’غیرمسلم‘‘ اقلیت کو اپنے عقائد کی کھلے بندوں تبلیغ کی اِجازت نہیں دی جاسکتی، جبکہ افسوس ناک حقیقت یہ ہے کہ قادیانی غیرمسلم اقلیت نہ صرف کھلے بندوں تبلیغ کر رہی ہے، بلکہ اسلام کے نام پر کر رہی ہے۔ کیا کسی ہندو، سکھ، یہودی، عیسائی اور پارسی کو پاکستان میں یہ اِجازت ہے کہ وہ اسلام کے نام پر اپنے عقائد کی تبلیغ وتشہیر کرے؟ اگر نہیں، اور یقینا نہیں، تو حکومتِ پاکستان قادیانیوں کی اس جارحیت کا نوٹس کیوں نہیں لیتی...؟

507

لندن میں اسلام آباد

بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ

اَلْحَمْدُللہِ وَسَلَامٌ عَلٰی عِبَادِہِ الَّذِیْنَ اصْطَفٰی!

اخباری اِطلاع کے مطابق قادیانیوں نے انگلینڈ میں ’’سرے‘‘ کے مقام پر ۲۵ایکڑ زمین خرید کر اس کا نام ’’اِسلام آباد‘‘ رکھا ہے۔ قادیانی جماعت کے سربراہ مرزا طاہر نے وہاں قادیانیوں کے جلسے کے اِختتامی اِجلاس سے خطاب کرتے ہوئے اِلزام لگایا ہے کہ پاکستان میں قادیانیوں کو ظلم کا نشانہ بنایا جارہا ہے، اور یہ صورتِ حال افسوس ناک ہے۔ مرزا طاہر احمد نے اپنے پانچ گھنٹے کے مسلسل خطاب میں دھمکی دی کہ اگر پاکستان میں قادیانی جماعت پر ظلم وستم بند نہ ہوا تو وہاں بھی افغانستان جیسے حالات پیدا ہوسکتے ہیں۔ مرزا طاہر احمد نے مسلمانوں کو چیلنج کیا کہ اگر وہ حضرت عیسیٰ کو دوبارہ زِندہ کردیں تو وہ اور ان کی جماعت حضرت عیسیٰ سے بیعت کرلیں گے۔ انہوں نے کہا کہ اگر ایسا ہوا بھی تو قادیانی جماعت کے مخالفین اپنی روایت کے تحت حضرت عیسیٰ کی بھی مخالفت کریں گے مرزا طاہر احمد نے کہا کہ پاکستان کی موجودہ حکومت مودودیت پر خصوصی نوازشات کر رہی ہے۔

(اخبار ’’جنگ‘‘ کراچی ۹؍اپریل ۱۹۸۵ء)

اخباری نمائندوں نے مرزا طاہر احمد کی پانچ گھنٹے کی تقریر کا جو خلاصہ نقل کیا ہے، اس میں قادیانیت کی رُوح نمایاں طور پر نظر آتی ہے۔

اوّل، مسلمانوں کی دل آزاری کے لئے پاکستان کے دارالحکومت ’’اسلام آباد‘‘ کے مقابلے میں ’’قادیانی اسلام آباد‘‘ بسانے کا منصوبہ! قادیانی اگر چاہتے تو اپنے مذہبی دارالحکومت کا کوئی اور نام بھی رکھ سکتے تھے، لیکن روزِ اوّل سے ان کی تکنیک یہ رہی ہے کہ ہر

508

چیز میں مسلمانوں کا مقابلہ کیا جائے، مثلاً:

۱:... محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے مقابلے میں مرزا قادیانی کو ...نعوذباللہ... محمد رسول اللہ کی حیثیت سے کھڑا کیا گیا۔ اور مسلمانوں کے جگر چھلنی کرنے کے لئے اس قادیانی محمد رسول اللہ کو رحمۃ للعالمین، فخرِ اَوّلین وآخرین، افضل الرسل، صاحبِ کوثر، صاحبِ معراج، صاحبِ لولاک وغیرہ کے القاب دئیے گئے۔ اور دعویٰ کیا گیا کہ حضرت آدم علیہ السلام سے لے کر حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تک تمام انبیائے کرام سے مرزا قادیانی پر اِیمان لانے، اور اس کے ہاتھ پر بیعت لینے کا عہد لیا گیا۔

۲:... اُمہاتُ المؤمنینؓ کے مقابلے میں مرزا قادیانی کی بیوی کو ’’اُمّ المؤمنین‘‘ کا خطاب دیا گیا۔

۳:... خلفائے راشدینؓ کے مقابلے میں مرزا قادیانی کے جانشینوں کو ’’خلیفہ‘‘ اور ’’امیرالمؤمنین‘‘ کے خطاب سے نوازا گیا۔

۴:... مکہ ومدینہ کے مقابلے میں قادیان کو ’’حرم‘‘ اور ’’دارالامان‘‘ کہا گیا۔

۵:... شریعتِ محمدیہ کے مقابلے میں مرزا کی وحی اور تجدید کردہ شریعت کو مدارِ نجات قرار دِیا گیا۔

۶:... ’’رسولِ مدنی‘‘ کے مقابلے میں ’’رسولِ قدنی‘‘ کی اِصطلاح جاری کی گئی۔

۷:... گنبدِ خضراء کے مقابلے میں مرزا قادیانی کی قبر کو گنبدِ بیضاء کا نام دیا گیا۔

۸:... حد یہ ہے کہ اسلامی مہینوں کے مقابلے میں نئے قادیانی مہینے رائج کئے گئے، وغیرہ وغیرہ۔

البتہ اب تک مسلمانوں کے اسلام آباد کے مقابلے میں قادیانی اسلام آباد کی کسر باقی تھی، اس لئے قادیانیوں نے اپنے سفید آقاؤں کی آغوش میں بیٹھ کر یہ کسر بھی نکال لی۔ اس سے ہماری حکومت اور پاکستانی عوام کو کم از کم علامہ ڈاکٹر محمد اقبال مرحوم کے اس قول کا یقین ضرور آجائے گا کہ:

’’قادیانی اسلام اور وطن دونوں کے غدار ہیں!‘‘

509

اپنی فرضی مظلومیت کا جھوٹا پروپیگنڈا کرنا بھی قادیانیوں کی خاص عادت ہے، جو لوگ قادیان میں ایک فرضی ’’محمد رسول اللہ‘‘ کھڑا کرنے سے نہیں شرماتے، ان کو خلافِ واقعہ غلط پروپیگنڈا کرنے سے کیا عار ہوسکتی ہے؟ قادیانیوں کا سربراہ مرزا طاہر جب سے ملک سے فرار ہوا ہے، وہ مسلسل پاکستان کے خلاف زہر اُگلنے میں مصروف ہے، اس کی تقریروں کی کیسٹیں پاکستان میں درآمد کی جاتی ہیں، اور قادیانی حلقوں میں کھلے بندوں تقسیم کی جاتی ہیں۔ یہ کیسٹیں صدرِ مملکت اور اعلیٰ حکام تک پہنچائی جاچکی ہیں، اور اَخبارات میں بھی چھپ چکی ہیں، لیکن جہاں تک ہمیں معلوم ہے، حکومت کی طرف سے ان کا کوئی نوٹس نہیں لیا گیا، اور نہ پاکستان کے خلاف نفرت وبغاوت پھیلانے کے جرم میں کسی قادیانی سے بازپُرس کی گئی ہے، بلکہ اس کے برعکس قادیانی اُونچے اُونچے مناصب پر بدستور براجمان ہیں، وہ اپنے ماتحت مسلمانوں کو اپنا لٹریچر تقسیم کرنے پر مجبور کرتے ہیں، جہاں کوئی بڑا اَفسر قادیانی ہے، وہ اپنے ہم مذہب اَفراد کے ساتھ ترجیحی سلوک کرتا ہے، مسلمان ان کے ہاتھوں حیران وپریشان ہیں۔ پاکستان کے سائنسی مرکز میں، جو پاکستان کے لئے شہ رگ کی حیثیت رکھتا ہے، قادیانیوں کی کھیپ کی کھیپ موجود ہے۔ پورے ملک کی ملازمتوں کا اگر سروے کیا جائے تو معلوم ہوگا کہ قادیانی ہر جگہ موٹے موٹے عہدوں پر مسلط ہیں، اور اپنے کوٹے سے سو گنا زیادہ حصے پر قابض ہیں۔ یہ ہے قادیانیوں کی وہ مظلومیت، جس کا ڈھنڈورا مرزا طاہر احمد بیرون ملک پیٹ رہا ہے۔

مرزا طاہر کی یہ دھمکی کہ پاکستان میں افغانستان جیسے حالات پید اکئے جاسکتے ہیں، صریح طور پر پاکستان کے خلاف اِعلانِ بغاوت ہے، اور اس سے یہ مترشح ہوتا ہے کہ مرزا طاہر پاکستان کے خلاف ملحد اور لادِین طاقتوں سے گٹھ جوڑ کر رہا ہے، یہی وجہ ہے کہ پاکستان میں ملحد اور کمیونسٹ قسم کے لوگ مرزائیوں کی حمایت میں بیانات جاری کر رہے ہیں۔ قرآنِ پاک میں ارشاد ہے:’’قَدْ بَدَتِ الْبَغْضَآئُ مِنْ اَفْوَاھِھِمْ وَمَا تُخْفِیْ صُدُوْرُھُمْ اَکْبَرُ‘‘ یعنی ’’اسلام اور مسلمانوں کے خلاف بغض ونفرت کا اِظہار وہ اپنے منہ سے کرنے لگے ہیں، اور ان کے سینوں میں غیظ وغضب کی جو بھٹی سلگ رہی ہے، وہ اس

510

سے کہیں بڑھ کر ہے۔‘‘

یہ قادیانیوں کی اندرونی کیفیت کا کل نقشہ ہے، وہ ...خاکم بدہن... اس ملک کی اِینٹ سے اِینٹ بجادینا چاہتے ہیں، اللہ تعالیٰ کے فضل وکرم سے قادیانیوں کا یہ خواب اِن شاء اللہ کبھی شرمندۂ تعبیر نہیں ہوگا، لیکن ہم حکومت سے اور پاکستان کے مسلمانوں سے دریافت کرنا چاہتے ہیں کہ قادیانی جماعت کے جو لوگ پاکستان میں رہ کر پاکستان کے باغی مرزا طاہر کی اِطاعت پر یقین رکھتے ہیں، ان کے ساتھ ہمارا رویہ کیا ہونا چاہئے؟ قادیانیوں کو پاکستان کے خلاف زہر اُگلنے اور دھمکیاں دینے کے باوجود کس طرح لائقِ اِعتماد سمجھا جاسکتا ہے؟ اور ان کے خلاف قانونی کارروائی کیوں نہیں کی جاتی؟ کیا ہماری حکومت قادیانیوں کی طرف اس وقت متوجہ ہوگی، جب وہ یہاں ...خاکم بدہن... افغانستان جیسے حالات پیدا کرنے میں کامیاب ہوجائیں گے؟ کیا ابھی وقت نہیں آیا کہ ہماری حکومت اور ہمارا دانشور طبقہ قادیانیوں کے عزائم ومقاصد کا نوٹس لے...؟

مرزا طاہر احمد نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے دوبارہ زندہ ہونے کے بارے میں جو کچھ کہا ہے، وہ اس یہودیانہ بغض وعداوت کا شاخسانہ ہے، جو مرزا قادیانی اور اس کی جماعت کو حضرت عیسیٰ علیہ السلام سے ہے، یہودیوں کا دعویٰ تھا کہ ہم نے مسیح بن مریم کو قتل کردیا، قتلِ عیسیٰ کا ٹھیک یہی دعویٰ مرزا قادیانی کو بھی ہے کہ:

’’ہمارا وجود دو باتوں کے لئے ہے، ایک تو ایک نبی (یعنی عیسیٰ علیہ السلام) کو مارنے کے لئے......‘‘

(ملفوظات ج:۱۰ ص:۶۰حاشیہ)

جس طرح یہود قتلِ عیسیٰ کا جھوٹا دعویٰ کرکے ملعون وکافر ہوئے، اسی طرح مرزا قادیانی بھی عیسیٰ علیہ السلام کو مارنے کا دعویٰ کرکے کافر وملعون ہوا۔ جس طرح یہودی حضرت عیسیٰ علیہ السلام پر اِیمان لانے سے محروم رہے، اسی طرح قادیانیوں نے حضرت عیسیٰ علیہ السالم کے دورِ ثانی پر اِیمان لانے سے اِنکار کردیا۔ جس طرح یہودیوں نے عیسیٰ علیہ السلام کے بجائے ’’المسیح الدجال‘‘ کو مسیح مان لیا، اسی طرح قادیانیوں بھی عیسیٰ علیہ

511

السلام کے بجائے ایک ’’الاعور الدجال‘‘ کو مسیح مان کر خوش ہوگئے۔

الغرض عیسیٰ علیہ السلام کے مسئلے میں قادیانی ٹھیک یہودیوں کے نقشِ قدم پر ہیں، جس طرح یہودیوں کو حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی تشریف آوری پر اِیمان لانے کی توفیق نہیں ہوگی، بلکہ وہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام اور ان کی جماعت کے ہاتھوں قتل ہوں گے، اسی طرح قادیانیوں کو بھی حضرت عیسیٰ علیہ السلام پر اِیمان لانے کی کبھی توفیق نہیں ہوگی، اور وہ بھی یہودیوں کے زُمرے میں شامل ہوکر حضرت عیسیٰ علیہ السلام اور ان کی افواج کے ہاتھوں قتل ہوں گے۔

اللہ تعالیٰ تمام مسلمانوں کو قادیانی- یہودی فتنے سے محفوظ رکھے،

بِحُرْمَۃِ نَبِیِّہِ الْکَرِیْمِ سَیِّدِنَا وَمَوْلَانَا مُحَمَّدٍ النَّبِیِّ الْاُمِّیِّ، صَلَّی

اللہُ عَلَیْہِ وَعَلٰی آلِہٖ وَاَصْحَابِہٖ وَاَتْبَاعِہٖ اَجْمَعِیْنَ۔

512

دستوری کمیشن اور قادیانی

بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ

اَلْحَمْدُللہِ وَسَلَامٌ عَلٰی عِبَادِہِ الَّذِیْنَ اصْطَفٰی!

ان کالموں میں متعدد بار اس امر کی نشاندہی کی جاچکی ہے کہ موجودہ حکومت مختلف طریقوں سے قادیانیوں کو نہ صرف مسلمانوں کی صف میں شامل کرنے کی کوشش کر رہی ہے بلکہ انہیں اسلامی برادری کی قیادت و رہنمائی کے فرائض بھی سپرد کر رہی ہے، ڈاکٹر عبدالسلام قادیانی کو جس طرح اسلامی کانفرنس میں مدعو کرکے ایک مسلمان کی حیثیت سے اس کی پذیرائی کی گئی اور اس قادیانی کو جس طرح اسلامی سائنس کمیشن کا چیئرمین تجویز کیا گیا ہے، اس پر بھرپور احتجاج کے باوجود حکومت نے کسی وضاحت یا معذرت کی ضرورت محسوس نہیں کی، اب جو دستوری کمیشن مقرر کیا گیا ہے، مولانا شاہ احمد نوارنی کے انکشاف کے مطابق اس کے تین مشیروں میں ایک قادیانی ہے، مولانا نورانی کے بیان کا اخباری متن حسبِ ذیل ہے:

’’ملک قادیانی اسٹیٹ کے قیام کی طرف گامزن ہے‘‘

’’کراچی ۱۴؍جولائی (پ ر) حکومت نے جس ڈھانچے کا چودہ اگست کو اعلان کرنے کا وعدہ کیا تھا، آج اس کے بارے میں کمیشن کے قیام کے اعلان کے بعد ہمارے شکوک یقین کو پہنچ گئے کہ یہ ملک جو اسلام کے نام پر لاکھوں جانوں کی قربانی اور عزت و آبرو کو داؤ پر لگاکر حاصل کیا گیا تھا، قادیانی اسٹیٹ کی طرف گامزن ہے، یہ بات علامہ شاہ احمد نوارنی نے تحریک مصطفی نارتھ کراچی کی جانب سے دی گئی ایک افطار پارٹی سے خطاب کرتے

513

ہوئے کہی، انہوں نے مزید کہا کہ حکومت نے کمیشن کے مشیروں کی جس تین رکنی ٹیم کا اعلان کیا ہے، اس میں ایک شخص محمد اسد نامی کی مذہبی حیثیت مشکوک ہے، اس شخص کی قابلیت کا پس منظر قرآن مجید کا انگریزی ترجمہ بتایا گیا ہے، اس ترجمہ کی ایک کاپی میرے پاس بھی موجود ہے، جس میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو آسمان پر اٹھائے جانے کی نفی کی ہے اور ختمِ نبوّت کی تشریح اسی انداز میں کی گئی ہے کہ جیسے قادیانی، لاہوری یا مرزائی کرتے ہیں، اگر کوئی نام نہاد مسلمان اس شخص کے ترجمہ سے اتنا ہی متأثر ہے تو وہ اس کو خود پڑھ کر کسی بھی تفسیر سے اس کا موازنہ کرے، بصورت دیگر میں اس شخص کے ترجمہ پر دنیا کے کسی بھی مقام پر مناظرہ کرنے کو تیار ہوں۔ علامہ شاہ احمد نورانی نے کمیشن کے قیام پر شدید برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اس نام نہاد کمیشن کے شرکاء اگر مسلمان ہیں اور ان میں ایمان کی معمولی سی رمق بھی موجود ہے تو انہیں اس کمیشن سے فوری طور پر کنارہ کشی اختیار کرلینی چاہئے، کیونکہ اول تو ایک متعلقہ دستور کی موجودگی میں کسی سیاسی ڈھانچہ کو تیار کرنا ۱۹۷۳ء کے آئین کی دفعہ چھ کے تحت غداری کے مترادف ہے، اور کسی ڈھانچہ کی تشکیل یا اس کی مشاورت غدار کی طرفداری کے مترادف ہے جبکہ اس کمیشن میں ایسا فرد مشیر کی حیثیت سے شامل ہو کہ جس کی مذہبی حیثیت بھی مشکوک ہے اور اس نے قرآن پاک کے ترجمہ میں قادیانی اعتقادات کو تحفظ دیا، جبکہ ۷۳ء کے آئین کی سب سے خاص بات قادیانیوں کو غیرمسلم قرار دیا جانا ہے، ہم کسی قادیانی سے اسلامی نظام حکومت کے بارے میں کسی غلط فہمی کا شکار نہیں۔‘‘

(روزنامہ جنگ کراچی ۱۵؍جولائی ۱۹۸۳ء)

514

مولانا نورانی کے جواب میں دستوری کمیشن کے چیئرمین جناب ظفر احمد انصاری نے فرمایا کہ کمیشن پر قادیانی اثرات کا الزام سیاسی چال ہے، چنانچہ روزنامہ جنگ میں ہے:

’’مولانا انصاری نے کمیشن پر قادیانی اثرات کے الزام کو مضحکہ خیز اور ایک سیاسی چال قرار دیا اور کہا کہ ہم تو پہلے ۱۹۷۴ء میں قادیانیوں کو غیرمسلم اقلیت قرار دینے اور پھر جنوبی افریقہ میں قادیانیوں کے خلاف مقدمہ لڑنے میں اہم کردار ادا کرچکے ہیں۔‘‘

(جنگ کراچی ۱۶؍جولائی ۱۹۸۳ء)

افسوس ہے کہ انصاری صاحب کا یہ جوابی بیان یکسر غیرمتعلق ہے، کیونکہ مولانا نورانی نے جس شخص پر قادیانی ہونے کا الزام لگایا، انصاری صاحب کے بیان میں اس کے بارے میں کوئی وضاحت نہیں کی گئی، بلکہ صرف ’’در مدح خویش میگویم‘‘ کے طور پر یہ بتایا گیا ہے کہ (یعنی مولانا انصاری) قادیانیوں کے خلاف کوئی کام کرچکے ہیں، تو اس سے یہ کیسے ثابت ہوا کہ ’’محمد اسد‘‘ قادیانی نہیں، مولانا انصاری کو چاہئے تھا کہ پہلے اس امر کی تحقیق کرتے کہ عقائد میں نام نہاد علامہ محمد اسد مسلمانوں کے عقائد رکھتے ہیں، یا قادیانیوں کے ہم نوا ہیں؟

اگر مولانا انصاری دلائل سے ثابت کر دیتے کہ اس شخص کے عقائد واقعی مسلمانوں کے عقائد ہیں تو مولانا نورانی کا الزام از خود باطل ہوجاتا، لیکن اگر تحقیق کے بعد یہ ثابت ہوجاتا کہ اس شخص کے عقائد قادیانیوں کے موافق ہیں تو مولانا انصاری اور کمیشن کے دوسرے ارکان کی ایمانی غیرت کا تقاضا یہ تھا کہ اس شخص کے دستوری کمیشن کے مشیر مقرر کئے جانے پر احتجاج کرتے، اور اگر ان کا یہ احتجاج مؤثر نہ ہوتا تو ایسے کمیشن پر دو حرف بھیج کر باہر نکل آتے جس میں ایک ایسے مشکوک کو مسلمانوں پر مسلط کردیا گیا ہے، چونکہ مولانا انصاری نے اس متنازعہ فیہ شخصیت کے بارے میں کوئی وضاحت نہیں کی، اس لئے مولانا نورانی کا الزام اب تک قائم ہے، بلکہ یہ کہنا صحیح ہوگا کہ حکومت اور مولانا انصاری صاحب نے ’’محمد اسد‘‘ کے بارے میں خاموشی اختیار کرکے مولانا نورانی کے الزام کو تسلیم

515

کرلیا ہے، چنانچہ مولانا نورانی کی جماعت کے ایک راہنما جناب شاہ فرید الحق صاحب نے بڑے وثوق اور تحدی سے اعلان کیا ہے کہ یہ شخص قادیانی عقائد رکھتا ہے، انہوں نے کہا:

’’مولانا انصاری نے لیوپولڈ اسد کو ’’علامہ‘‘ کے محترم خطاب سے یاد کیا ہے، جبکہ لیوپولڈ اسد پولش نژاد یہودی ہے، جو اسلام قبول کرنے کے بعد پاکستان کی سول سروس میں ایک قادیانی وزیر (غالباً چودھری ظفراللہ خان مراد ہے، ناقل) کے ذریعہ متعارف ہوا، اس نے اپنے حالیہ ترجمہ قرآن میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے بارے میں اسلام کے بنیادی عقیدے کی نفی کی ہے، اس کا ترجمہ قرآن یہودی اور قادیانی پروپیگنڈے سے قریب ترین ہے، جس کی مثال ختمِ نبوّت کی تشریح ہے۔‘‘

(روزنامہ جنگ کراچی ۱۷؍جولائی ۱۹۸۳ء)

ہم نے مولانا نورانی اور شاہ فرید الحق کے الزامات کی تحقیق کے لئے ضروری سمجھا کہ لیوپولڈ اسد کے عقائد و نظریات کا خود اس کی اپنی تحریروں کے آئینہ میں مطالعہ کیا جائے، چنانچہ اس کے ترجمہ قرآن اور تشریحی حواشی کے مطالعہ کے بعد ہم اس نتیجے پر پہنچے ہیں کہ یہ شخص اپنے عقائد کے لحاظ سے واقعی مشکوک ہے اور مولانا نورانی کا الزام، محض الزام نہیں، بلکہ ایک حقیقت واقعہ ہے، (ہم اسی شمارے میں اس کے ترجمہ قرآن کے اقتباسات ایک مضمون کی شکل میں پیش کر رہے ہیں) ہم مولانا انصاری اور دوسرے غیرت مند مسلمانوں سے درخواست کرتے ہیں کہ لیوپولڈ اسد کو دستوری کمیشن سے نکلوائیں، ورنہ خود کمیشن سے نکل جائیں،وَلَا تَرْکَنُوْٓا اِلَی الَّذِیْنَ ظَلَمُوْا فَتَمَسَّکُمُ النَّارُ!

قوم نہ ایسے مشکوک فرد کو جو قادیانیوں جیسے عقائد رکھتا ہو برداشت کرنے کے لئے تیار ہے، اور نہ قادیانیوں کے ہم نوالہ و ہم پیالہ لوگوں کو جو ’’اسلامی دستور‘‘ کی آڑ میں لیوپولڈ کو اسلام کا ہیرو ثابت کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

(ہفت روزہ ختمِ نبوّت کراچی ج:۲ ش:۹)

516

ضمیمہ

دستوری کمیشن کے رکن

محمد اسد صاحب کی مذہبی حیثیت

’’دی میسج آف دی قرآن‘‘ کے آئینے میں

بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ

اَلْحَمْدُللہِ وَسَلَامٌ عَلٰی عِبَادِہِ الَّذِیْنَ اصْطَفٰی!

روزنامہ ’’جنگ‘‘ کے خصوصی نمائندے کو انٹرویو دیتے ہوئے دستوری کمیشن کے سربراہ مولانا ظفر احمد انصاری صاحب نے کہا کہ:

’’کمیشن پر قادیانی اثرات کا الزام سیاسی چال اور مضحکہ خیز ہے۔ ہم تو پہلے ۱۹۷۴ء میں قادیانیوں کو غیرمسلم اقلیت قرار دینے اور پھر جنوبی افریقہ میں قادیانیوں کے خلاف مقدمہ لڑنے میں اہم کردار ادا کرچکے ہیں۔‘‘

اس بیان کا پس منظر یہ تھا کہ دراصل مولانا شاہ احمد نورانی صاحب نے دستوری کمیشن کے ایک رکن محمد اسد صاحب کو مذہبی لحاظ سے مشکوک قرار دیا ہے، اور انگلش میں اس کے کئے گئے ترجمہ قرآن کے حوالے سے یہ بھی بتایا ہے کہ اس نے اپنے ترجمہ میں قادیانی عقائد کے تحفظ پر زور دیا ہے۔

مولانا نورانی صاحب کے بیان کو مدنظر رکھ کر جب مولانا ظفر احمد انصاری صاحب کے اس بیان کا بغور مطالعہ کیا گیا تو یہ بات واضح ہوگئی کہ انصاری صاحب نے جو

517

کچھ کہا ہے وہ دراصل خود مضحکہ خیز ہے اور من چہ سرایم وطنبورہ من چہ سراید کے مصداق ہے، اس لئے کہ نورانی صاحب محمد اسد کو مشکوک قرار دیتے ہیں جبکہ انصاری صاحب اپنی ختمِ نبوّت کے سلسلہ کی خدمات کا ذکر فرما رہے ہیں۔

انصاری صاحب کو اگر وکالت کرنی ہی تھی تو اسد صاحب کی طرف سے ٹھوس وکالت کرتے تاکہ کسی کو کچھ کہنے کا موقع ہی نہ ملتا، لیکن ایسا کرنا ان کے لئے تب ممکن ہوتا جب ان کے پاس ٹھوس دلائل ہوتے۔

بہرحال ہم نے محمد اسد کے ترجمہ قرآن (دی میسج آف دی قرآن) کے ان مقامات کا مطالعہ کیا، جن کی نشاندہی مولانا نورانی صاحب نے اپنے بیان میں کی تھی، خاص کر آیت: ’’وَاِذْ قَالَ اللہُ یَا عِـیْسٰی اِنِّیْ مُـتَـوَفِّـیْکَ وَرَافِـعُـکَ اِلَیَّ ...۔۔ الخ‘‘ اور اس سلسلے کی دیگر آیات پر غور کیا، پھر مرزا بشیرالدین محمود، مولوی شیر علی قادیانی، ملک غلام فرید قادیانی، چودھری ظفراللہ خان قادیانی اور محمد علی لاہوری کے تراجم سے اس کا موازنہ کیا تو سب کو یکساں پایا۔

محمد اسد صاحب: ’’اِنِّیْ مُتَوَفِّیْکَ وَرَافِعُکَ اِلَیَّ‘‘ کا ترجمہ کرتے ہوئے لکھتے ہیں:

"I shall cause thee to die and shall exalt thee unto Me."

ہوبہو انہی الفاظ کے ساتھ محمد علی لاہوری نے آیت بالا کا ترجمہ کیا ہے۔ (ملاحظہ ہو دی قرآن، چھٹا ایڈیشن ص:۱۴۷)۔

۲:...شیر علی قادیانی نے چونکہ مرزا بشیرالدین محمود کے اردو ترجمہ کا ترجمہ کیا ہے، اس لئے "To Die" کے بعد ’’نیچرل ڈیتھ‘‘ کے الفاظ کا اضافہ کیا ہے، حالانکہ مرزا بشیرالدین محمود کے ترجمہ میں یہ الفاظ بریکٹ کے اندر ہیں۔ (ملاحظہ ہو ترجمہ شیر علی قادیانی ص:۵۴ طبع ربوہ، چھوٹا سائز)۔

۳:...ملک غلام فرید قادیانی نے بھی شیر علی قادیانی اور مرزا بشیرالدین محمود کی

518

طرح ’’آئی شیل کاز دی ٹوڈائی‘‘ کے الفاظ استعمال کئے ہیں۔ (دیکھئے دی ہولی قرآن ص:۱۴۲طبع ربوہ بار اول)۔

۴:...چودھری ظفراللہ خان قادیانی کے الفاظ بھی یہی ہیں۔

مرزا بشیرالدین محمود، آیت:’’یٰعِیْسٰٓی اِنِّیْ مُتَوَفِّیْکَ‘‘ کے تحت لکھتے ہیں:

’’(اس وقت کو یاد کرو) جب اللہ نے کہا: اے عیسیٰ! میں تجھے (طبعی طور پر) وفات دوں گا اور تجھے اپنے حضور میں عزت بخشوں گا اور کافروں کے (الزامات) سے تجھے پاک کروں گا۔‘‘

(ترجمہ مرزا بشیرالدین محمود ص:۵۱)

اسد صاحب نے یہاں ہوبہو محمد علی لاہوری کے ترجمہ کی متابعت کی ہے، اور اس آیت کی تشریح کے لئے:’’بَل رَّفَعَہُ اللہُ اِلَیْہِ‘‘ کے تحت تشریح کا حوالہ دیا ہے۔ یہاں یہ نہ سمجھنا چاہئے کہ ’’نیچرل ڈیتھ‘‘ کے الفاظ چھوڑ کر محمد اسد صاحب نے قادیانی تراجم کا ساتھ چھوڑ دیا ہے، یہ الفاظ ان تراجم میں بھی درحقیقت اضافی ہیں، اصلی نہیں، مرزا بشیرالدین محمود نے چونکہ ’’طبعی طور پر‘‘ کے الفاظ بریکٹ کے اندر استعمال کئے ہیں، اس لئے دیگر قادیانی مفسرین نے بھی ان کے تتبع میں ایسا کیا ہے۔ محمد علی لاہوری نے یہ الفاظ استعمال نہیں کئے جبکہ عقیدہ اس کا اور ان کا ایک ہے: ’’آئی شیل کاز دی ٹو ڈائی‘‘ سے ان کا مقصد پورا ہوجاتا ہے۔

محمد اسد صاحب:’’بَل رَّفَعَہُ اللہُ اِلَیْہِ‘‘ کے تحت تشریحاً لکھتے ہیں کہ کسی انسان کے رفع کا فعل جب اللہ تعالیٰ کی طرف منسوب ہوتا ہے تو اس سے مراد رفع جسمانی نہیں ہوتا بلکہ عزت مراد ہوتی ہے۔ مزید لکھتے ہیں کہ قرآن میں کسی جگہ مشہور عقیدے: ’’خدا نے عیسیٰ علیہ السلام کو جسمانی طور پر ان کی زندگی میں آسمان پر اٹھالیا‘‘ کی کوئی سند نہیں ہے۔

ذیل میں محمد اسد کے ترجمہ کے چند نمونے ملاحظہ ہوں:

الف:...’’اِذْ قَالَ اللہُ یٰعِیْسٰٓی اِنِّیْ مُتَوَفِّیْکَ وَرَافِعُکَ اِلَیَّ وَمُطَہِّرُکَ مِنَ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا وَجَاعِلُ

519

الَّذِیْنَ اتَّبَعُوْکَ فَوْقَ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا اِلٰی یَوْمِ الْقِیٰمَۃِ ثُمَّ اِلَیَّ مَرْجِعُکُمْ فَاَحْکُمُ بَیْنَکُمْ فِیْمَا کُنْتُمْ فِیْہِ تَخْتَلِفُوْنَ۔‘‘

(آل عمران:۵۵)

"(55) Lo! God said: "O Jesus! Verily, I shall cause thee to die, and shall exalt thee unto Me, and cleanse thee of [the presence of] those who are bent on denying the truth; and I shall place those who follow thee [far] above those who are bent on denying the truth, unto the Day of Resurrection. In the end, unto Me you all must return, and I shall judge between you with regard to all on which you were wont to differ.45

45 This refers to all who revere jesus (i.e., the Christians, who believe him to be "the son of God", and the Muslims, who regard him as a prophet) as well as to those who deny him altogether. Regarding God's promise to Jesus, "I shall exalt thee unto Me", see surah 4, note 172.

اس کی مزید تفصیل اگلے نمبر کے حوالے میں ملاحظہ فرمائیے۔

ب:...’’وَمَا قَتَلُوْہُ وَمَا صَلَبُوْہُ وَلٰـکِنْ شُبِّہَ لَھُمْ‘‘ کے تحت لکھتے ہیں کہ مسلمانوں میں کئی فرضی داستانیں پائی جاتی ہیں، جو یہ بتاتی ہیں کہ صلیب دئیے جانے سے قبل، آخر وقت میں عیسیٰ علیہ السلام کو ایک شخص سے تبدیل کردیا گیا جو ان سے قریبی مشابہت رکھتا تھا، جسے ان کی جگہ مصلوب کردیا گیا، ان میں سے کسی داستان کی قرآن یا مستند احادیث سے ذرہ بھر تائید نہیں ہوتی اور اس حوالے سے قدیم مفسرین کی تراشیدہ کہانیوں کو یکسر مسترد کردینا چاہئے، یہ قرآنی بیان کہ: ’’عیسیٰ کو صلیب نہیں دی گئی‘‘ کو بائبل کے ’’گوسپل‘‘ یا بشارت عیسوی میں انہیں مصلوب کئے جانے کی تحریری وضاحت سے ہم آہنگ کرنے کی چند بے ربط کوششوں کی نمائندگی کرتی ہیں۔ پھر لکھتے ہیں کہ میرے نزدیک: ’’وَلٰـکِنْ شُبِّہَ لَھُمْ‘‘ کی اس سے بہتر کوئی تشریح نہیں ہوسکتی کہ اسے: ’’ولکن خُیِّلَ لھم‘‘ سے تعبیر کیا جائے، چنانچہ ملاحظہ ہو:

520

’’وَقَوْلِھِمْ اِنَّا قَتَلْنَا الْمَسِیْحَ عِیْسَی بْنَ مَرْیَمَ رَسُوْلَ اللہِ وَمَا قَتَلُوْہُ وَمَا صَلَبُوْہُ وَلٰـکِنْ شُبِّہَ لَھُمْ وَاِنَّ الَّذِیْنَ اخْتَلَفُوْا فِیْہِ لَفِیْ شَکٍّ مِّنْہُ مَا لَھُمْ بِہٖ مِنْ عِلْمٍ اِلّا اتِّبَاعَ الظَّنِّ وَمَا قَتَلُوْہُ یَقِیْنًا۔ بَل رَّفَعَہُ اللہُ اِلَیْہِ وَکَانَ اللہُ عَزِیْزًا حَکِیْمًا۔‘‘

(النساء:۱۵۷، ۱۵۸)

"(157) and their Boast, "Behold, we have slain the Christ Jesus, son of Mary, [who claimed to be] an apostle of God!"

However, they did not slay him, and neither did they crucify him, but it only seemed to them [as if it had been] so;171 and, verily, those who hold conflicting views thereon are indeed confused, having no [real] knowledge thereof, and following mere conjecture. For, of a certainty, they did not slay him: (158) nay, God exalted him unto Himself 172. and God ....."

"171 Thus, the Quran categorically denies the story of the crucifixion of Jesus. There exist, among Muslims, many fanciful legends telling us that at the last moment God substituted for Jesus a person closely resembling him (according to some accounts, that person was Judas), who was susbequently crucified in his place. However, none of these legends finds the slightest support in the Quran or in authentic Traditions, and the stories produced in this connection by the classial commentators must be summarily rejected. They represent no more than confused attempts at "harmonizing" the Quranic statement that Jesus was not crucified with the graphic description, in the Gospels, of his crucifixion. The story of the crucifixion as such has been succinctly explained in the Quranic phrase wa-lakin shubbiha lahum, which I render as "but it only appeared to them as if it had been so" -implying that in the course of time, long after the time of Jesus, a legend had

521

somehow grown up (possibly under the then-powerful influence of Mirthraistic beliefs) to the effect that he had died on the cross in order to atone for the "original sin" with which mankind is allegedly burdened; and this legend became so firmly established among the latter-day followers of Jesus that even his enemies, the Jews, began to believe it - ableit in a derogatory sense (for crucifixion was, in those times, a heinous form of death-penalty reserved for the lowest of criminals). This, to my mind, is the only satisfactory explanation of the phrase wa-lakin shubbiha lahum, the more so as the expression shubbiha li is idiomatically synonymous with khuyyila li "[a thing] became a fancied image to me", i.e., "in my mind" - in other words, "[it] seemed to me" (see Qamus, art. khayala, as well as Lane II, 833, and IV, 1500).

172 Cf. 3:55, where God says to Jesus, "Verily, I shall cause thee to die, and shall exalt thee unto Me." The verb rafa'ahu (lit., "he raised him" or "elevated him") has always, whenever the act of raf' ("elevating") of a human being is attributed to God, the meaning of "honouring" or "exalting". Nowhere in the Quran is there any warrant for the popular belief that God has "taken up" Jesus bodily, in his lifetime, into heaven. The expression "God exalted him unto Himself" in the above verse denotes the elevation of Jesus to the realm of God's special grace - a blessing in which all prophets partake, as is evident from 19:57, where the verb rafa'nahu ("We exalted him") is used with regard to the Prophet Idris. (See also Muhammad Abduh in Manar III, 316 f. and VI, 20 f.) The "nay" (bal) at the beginning of the sentence is meant to stress the contrast between the belief of the Jews that they had put Jesus to a shameful death on the cross and the fact of God's having "exalted him unto Himself."

522

ج:...معجزاتِ عیسیٰ علیہ السلام کے متعلق لکھتے ہیں کہ یہ تمام الفاظ استعارۃً استعمال کئے گئے ہیں، مردوں کو زندہ کرنا، جذامی اور اندھے کو اچھا کرنا، یہ سب کچھ روحانی طور پر تھا، نہ کہ واقعی ایسا ہوتا تھا، ملاحظہ فرمائیں:

’’وَرَسُوْلًا اِلٰی بَنِیٓ اِسْرَآءِیْلَ اَنِّیْ قَدْ جِئْتُکُمْ بِـٰایَۃٍ مِّن رَّبِّکُمْ اَنِّیْ اَخْلُقُ لَکُم مِّنَ الطِّیْنِ کَھَیْئَۃِ الطَّیْرِ فَاَنْفُخُ فِیْہِ فَیَکُوْنُ طَیْرًا بِاِذْنِ اللہِ وَاُبْرِیُٔ الْاَکْمَہَ وَالْاَبْرَصَ وَاُحْیِ الْمَوْتٰی بِاِذْنِ اللہِ وَاُنَبِّئُکُمْ بِمَا تَأْکُلُوْنَ وَمَا تَدَّخِرُوْنَ فِیْ بُیُوْتِکُمْ، اِنَّ فِیْ ذٰلِکَ لَاٰیَۃً لَّکُمْ اِنْ کُنْتُم مُّؤْمِنِیْنَ۔ وَمُصَدِّقًا لِّمَا بَیْنَ یَدَیَّ مِنَ التَّوْرَاۃِ وَلِاُحِلَّ لَکُمْ بَعْضَ الَّذِیْ حُرِّمَ عَلَیْکُمْ وَجِئْتُکُمْ بِـٰایَۃٍ مِّنْ رَّبِّکُمْ فَاتَّقُوا اللہَ وَاَطِیْعُوْنِ۔‘‘

(آل عمران:۴۸ تا ۵۰)

(49) ".....I HAVE COME unto you with a message from your Sustainer. I shall create for you out of clay, as it were, the shape of [your] destiny, and then breathe into it, so that it might become [your] destiny by God's leave;37 and I shall heal the blind and the leper, and bring the dead back to life by God's leave;38 and I shall let you know what you may eat and what you should store up in your houses.39 Behold, in all this there is indeed a message for you, if you are [truly] believers.

(50) "And [I have come] to confirm the truth of whatever there still remains 40 of the Torah, and to make lawful unto you some of the things which [aforetime] were forbidden to you. And I have come unto you with a message from your Sustainer; remain, then, conscious of God, and pay heed unto me."

"37 Lit., "[something] like the shape of a bird (tayr); and then I shall breathe into it, so that it might [or "whereupon it will"] become a bird...".

523

The noun tayr is a plural of tair ("flying creature" or "bird"), or an infinitive noun ("flying") derived from the verb tara ("he flew"). In pre-Islamic usage, as well as in the Quran, the words tair and tayr often denote "fortune" or "destiny", whether good or evil (as, for instance, in 7:131, 27:47 or 36:19, and still more clearly in 17:13). Many instances of this idiomatic use of tayr and tair are given in all the authoritative Arabic dictionaries; see also Lane V, 1904 f. Thus, in the parabolic manner so beloved by him, Jesus intimated to the children of Israel that out of humble clay of their lives he would fashion for them the vision of a soaring destiny, and that this vision, brought to life by his God-given inspiration, would become their real destiny by God's leave and by the strength of their faith (as pointed out at the end of this verse).

38 It is probable that the "raising of the dead" by Jesus is a metaphorical description of his giving new life to people who were spiritually dead; cf. 6:122- "Is then he who was dead [in spirit], and whom We thereupon gave life, and for whom We set up a light whereby he can see his way among men- [is then he] like unto one [who is lost] in darkness deep, out of which he cannot emerge?" If this interpretation is - as I believe - correct, then the "healing of the blind and the leper" has a similar significance: namely, an inner regeneration of people who were spiritually diseased and blind to the truth.

قارئین کرام کی سہولت کے لئے ہم نے محمد اسد صاحب کے ترجمہ قرآن سے متعلقہ اقتباسات پیش کئے، انہیں پڑھ کر یہ حقیقت واضح ہوجاتی ہے کہ محمد اسد صاحب نے قرآن مجید کا جو ترجمہ اور تفسیر کی ہے اس میں قادیانی عقائد کا تحفظ کیا گیا ہے۔ عیسیٰ علیہ السلام کے رفع جسمانی سے انکار اس بات کے لئے ایک ٹھوس ثبوت ہے کہ جناب مذکور عقیدۂ نزولِ عیسیٰ علیہ السلام اور عقیدۂ حیات عیسیٰ علیہ السلام کے بھی منکر ہیں۔

524

عقیدۂ حیاتِ عیسیٰ علیہ السلام چونکہ پوری اُمتِ مسلمہ کا متفقہ عقیدہ ہے، اور قرآن و حدیث سے صراحتاً ثابت ہے، اس لئے ہم یہ کہتے ہوئے کوئی جھجک محسوس نہیں کرتے کہ محمد اسد صاحب اپنے عقائد کی وجہ سے ’’مشکوک‘‘ ہیں، اور ایسے ’’مشکوک‘‘ شخص کو اتنی اہم ذمہ داری سونپنا خالی از خطر نہیں۔

’’فَلَمَّا تَوَفَّیْتَنِیْ کُنْتَ اَنْتَ الرَّقِیْبَ عَلَیْھِمْ‘‘ کا ترجمہ کرتے ہوئے بھی محمد اسد صاحب نے وفاتِ مسیح ثابت کرنے کی کوشش کی ہے۔ ابھی ہم نے پورے ترجمہ کا مطالعہ نہیں کیا، تاہم ہمیں یقین ہے کہ اس نے اور بھی کئی مقامات پر ترجمہ قرآن مجید میں قادیانی مفسرین کی طرح اپنی طبع زاد تاویلیں گھڑ لی ہوں گی۔

ہم بالآخر یہی عرض کریں گے کہ محمد اسد جیسے مشکوک شخص کو ایسی اہم ذمہ داری سونپنا کسی طرح بھی صحیح نہیں، نیز اپنے قارئین کرام اور مسلم برادری کو اپنی ذمہ داری سمجھتے ہوئے یہ بتانا چاہتے ہیں کہ وہ اپنے ملک و ملت اور عقائد کے تحفظ کے سلسلے میں بیدار رہیں، اللہ تعالیٰ ہم سب کو صراطِ مستقیم پر چلنے کی توفیق عطا فرمائے۔

شب تاریک بیم موج گرداب چنیں حائل

کجا دانند حالِ ما سبکساران ساحلہا!

(مولانا اصغر علی چشتی صاحب)

(ہفت روزہ ختمِ نبوّت کراچی ج:۲ ش:۹)

525

مراق اور نبوّت

شیخ عبدالرحمن مصری کی خدمت میں

بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ

اَلْحَمْدُللہِ وَسَلَامٌ عَلٰی عِبَادِہِ الَّذِیْنَ اصْطَفٰی!

راقم الحروف کا ایک مختصر سا مضمون ’’مرزا غلام احمد قادیانی کے سات دِن‘‘ کے عنوان سے ماہنامہ ’’الحق‘‘ اکوڑہ خٹک (جولائی ۱۹۷۵ء) میں شائع ہوا تھا، جس میں مرزا غلام احمد قادیانی کی ایک عبارت پر چند سوالات اُٹھائے گئے تھے، اس کے جواب میں لاہوری جماعت کے رُکنِ رکین جناب شیخ عبدالرحمن مصری نے لاہوری مرزائیوں کے ہفت روزہ ’’پیغامِ صلح‘‘ لاہور کی چھ قسطوں میں ایک طویل مضمون رقم فرمایا، جو ۱۳؍اگست ۱۹۷۵ء کی اِشاعت سے شروع ہوکر ۸؍اکتوبر ۱۹۷۵ء کی اِشاعت پر ختم ہوا۔

میں جناب مصری صاحب کا ممنون ہوں کہ انہوں نے میری معروضات پر توجہ فرمائی، تاہم مجھے شکایت ہے کہ میرے سوالات کو ٹھیک سمجھ کر ان سے عہد برآ ہونے کی کوشش نہیں فرمائی، یہاں میں صرف ایک مثال پر اِکتفا کرتا ہوں، میں نے اپنے مضمون کے آغاز میں لکھا تھا:

’’مرزا غلام احمد قادیانی، مراق اور ذیابیطس کے مریض تھے، اور یہ دونوں مرض ان کو دعوئے نبوّت ومسیحیت کے اِنعام میں ملے تھے۔‘‘

اس پر مصری صاحب خفا ہوکر فرماتے ہیں:

’’مولوی صاحب موصوف (راقم الحروف) نے اپنے

526

مندرجہ بالا بیان میں دو صریح غلط بیانیوں سے کام لیا ہے، ایک تو یہ کہ انہوں نے حضرتِ اقدس المسیح الموعود کی طرف مراق کی (۱) مرض منسوب کی ہے، اور دُوسرے حضور کی طرف دعوائے نبوّت منسوب کیا ہے، اور یہ دونوں باتیں غلط، اور مبنی بر اِفترا ہیں۔‘‘

(پیغامِ صلح ص:۶، ۲۰؍اگست ۱۹۷۵ء)

حالانکہ اگر یہ دونوں باتیں غلط، اور مبنی بر اِفترا ہیں، تو اس غلط گوئی اور اِفتراپردازی کا اِلزام خود مصری صاحب کے ’’حضرتِ اقدس‘‘ اور اس کے حواریوں پر عائد ہوسکتا ہے، نہ کہ مجھ غریب ناقل پر، کیونکہ راقم الحروف نے تو جو کچھ لکھا ہے، بحیثیت ناقل کے لکھا ہے، مشہور ہے کہ: ’’نقلِ کفر، کفر نباشد‘‘۔ مرزا غلام احمد قادیانی کی جانب مراق کی نسبت کرنا غلط نہیں، اُمید ہے مصری صاحب مندرجہ ذیل حوالے ملاحظہ فرماکر غلط گوئی اور اِفتراپردازی کا فتویٰ متعلقہ افراد پر صادر فرمائیں گے:

۱:... مرزا غلام احمد صاحب فرماتے ہیں:

’’دیکھو میری بیماری کی نسبت بھی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے پیش گوئی کی تھی، جو اسی طرح وقوع میں آئی، آپ نے فرمایا تھا کہ مسیح آسمان پر سے جب اُترے گا، تو دو زَرد چادریں اس نے پہنی ہوئی ہوں گی، تو اسی طرح مجھ کو دو بیماریاں ہیں، ایک اُوپر کے دھڑ کی، اور ایک نیچے کے دھڑ کی، یعنی مراق، اور کثرتِ بول۔‘‘

(تشحیذ الاذہان جون۱۹۰۶ء، بدر ۲؍جون ۱۹۰۶ء، ملفوظات ج:۸ ص:۴۴۵)

۲:... دُوسری جگہ فرماتے ہیں:

’’میرا تو یہ حال ہے کہ باوجود اس کے کہ دو بیماریوں میں ہمیشہ سے مبتلا رہتا ہوں، پھر بھی آج کل میری مصروفیت کا یہ حال

(۱)’’مرض‘‘ مؤنث نہیں مذکر ہے، مگر مرزا صاحب اور مرزائی اُمت کے نزدیک چونکہ مریم رفتہ رفتہ ابنِ مریم بن جاتا ہے، اس لئے وہ مذکر ومؤنث کے درمیان فرق نہیں کرتے۔ (محمد یوسف)

527

ہے کہ رات کو مکان کے دروازے بند کرکے بڑی بڑی رات تک بیٹھا اس کام کو کرتا رہتا ہوں، حالانکہ زیادہ جاگنے سے ’’مراق کی بیماری‘‘ ترقی کرتی جاتی ہے، اور دورانِ سر کا دورہ زیادہ ہوجاتا ہے، مگر میں اس بات کی پروا نہیں کرتا۔‘‘

(کتاب منظور اِلٰہی ص:۳۴۸، ملفوظات ج:۲ ص:۳۷۶)

۳:... مرزا بشیر احمد ایم اے نقل کرتے ہیں:

’’حضرت خلیفۃ المسیح اوّل نے حضرت مسیحِ موعود علیہ السلام (مرزا غلام احمد قادیانی) سے فرمایا کہ: حضور! غلام نبی کو مراق ہے، تو حضور علیہ السلام نے فرمایا کہ ایک رنگ میں سب نبیوں کو مراق ہوتا ہے، اور مجھ کو بھی ہے۔‘‘

(سیرۃ المہدی ج:۳ ص:۳۰۴)

۴:... نیز مرزا بشیر احمد صاحب موصوف اپنے ماموں ڈاکٹر محمد اِسماعیل صاحب کی شہادت نقل کرتے ہیں کہ:

’’میں نے کئی دفعہ حضرت مسیحِ موعود علیہ السلام (مرزا غلام احمد قادیانی) سے سنا ہے کہ مجھے ہسٹریا ہے، بعض اوقات آپ مراق بھی فرمایا کرتے تھے۔‘‘

(سیرۃ المہدی ج:۲ ص:۵۵)

۵:... ڈاکٹر شاہنواز صاحب لکھتے ہیں:

’’واضح ہو کہ حضرت صاحب کی تمام تکالیف مثلاً: دورانِ سر، دردِ سر، کمی خواب، تشنج دِل، بدہضمی، اِسہال، کثرتِ پیشاب اور مراق وغیرہ کا صرف ایک ہی باعث تھا، اور وہ عصبی کمزوری تھی۔‘‘

(ریویو آف ریلیجنز مئی ۱۹۲۷ء ص:۲۶)

۶:... نیز ڈاکٹر صاحب لکھتے ہیں:

’’جب خاندان سے اس کی اِبتدا ہوچکی تھی، تو پھر اگلی نسل میں بے شک یہ مرض منتقل ہوا، چنانچہ حضرت خلیفۃ المسیح ثانی نے

528

فرمایا کہ: مجھ کو بھی کبھی کبھی مراق کا دورہ ہوتا ہے۔‘‘

(ریویو، اگست ۱۹۲۶ء ص:۱۱)

ان چھ شہادتوں میں سے چار خود مرزا غلام احمد صاحب کی ہیں، اور دو ڈاکٹر شاہنواز قادیانی کی، اب مصری صاحب اِنصاف فرمائیں کہ مرزا صاحب کی طرف مرضِ مراق کا اِنتساب کرکے غلط گوئی اور اِفتراپردازی سے کس نے کام لیا ہے؟

چوں بشنوی سخن اہلِ دِل مگو کہ خطا است

سخن شناسی نہ ئی دِلبرا خطا اینجا است

اب رہی بحث دُوسرے اِتہام کی! جناب مصری صاحب نے مرزا صاحب کی جانب دعوائے نبوّت کے اِنتساب کو بھی اِفتراپردازی قرار دِیا ہے، جواباً گزارش ہے کہ اگر یہ اِفترا ہے تو یہ کارِ خیر بھی قادیان میں ہی انجام دِیا گیا ہے، راقم الحروف کی حیثیت یہاں بھی ناقلِ محض کی ہے۔

جناب شیخ عبدالرحمن مصری صاحب کو شاید یاد ہوگا کہ جب وہ ہندو مذہب ترک کرکے مرزا غلام احمد کی مسیحیت کے حلقہ بگوش ہوئے تھے، اس وقت انہوں نے مرزا محمود احمد صاحب ’’خلیفۃ المسیح ثانی‘‘ کے ہاتھ پر بیعت کرتے ہوئے مرزا غلام احمد صاحب کی نبوّت کا نہ صرف اِقرار واِعتراف کیا تھا، بلکہ اپنی عمرِ عزیز کا بہترین حصہ انہوں نے مرزا صاحب کی نبوّت کی پُرجوش تبلیغ میں صَرف کیا، بالآخر جب خلیفہ محمود احمد صاحب کا دستِ ناز مصری صاحب کی دامنِ عصمت تک پہنچا، اور وہ اپنے ’’خلیفہ صاحب‘‘ کے حق میں یہ عدالتی بیان دینے پر مجبور ہوئے کہ:

’’موجودہ خلیفہ سخت بدچلن ہے، یہ تقدس کے پردے میں عورتوں کا شکار کھیلتا ہے، اس کام کے لئے اس نے بعض مردوں اور بعض عورتوں کو بطورِ ایجنٹ رکھا ہوا ہے، ان کے ذریعے یہ معصوم لڑکیوں اور لڑکوں کو قابو کرتا ہے، اس نے ایک سوسائٹی بنائی ہوئی ہے، جس میں مرد اور عورتیں شامل ہیں، اور اس سوسائٹی میں زنا ہوتا

529

ہے۔‘‘

(فتح حق ص:۴۱، مؤلفہ جناب ممتاز احمد فاروقی مطبوعہ ۱۹۶۵ء)

اس وقت وہ قادیان کے آسمان سے گرکر لاہور کے کھجور میں آاٹکے۔ کیا میں جناب مصری صاحب سے دریافت کرسکتا ہوں کہ اگر مرزا غلام احمد کی جانب دعوائے نبوّت کو منسوب کرنا غلط اِفترا ہے، تو آنجناب بقائمی ہوش وحواس، بہ دعوائے علم وفضل سالہا سال تک اِفتراپردازی کا یہ مقدس فریضہ کیوں انجام دیتے رہے؟ کیا آنجناب اس وقت خوفِ خدا اور محاسبۂ آخرت سے عاری تھے...؟

نیز کیا مصری صاحب اس عقدے کو حل فرمائیں گے کہ مرزا محمود احمد صاحب کے بارے میں آپ نے عدالت میں جو حلفیہ بیان داخل کیا تھا، اس میں اگر کچھ قصور تھا تو آپ کے مدعاعلیہ کا تھا، مرزا غلام احمد صاحب نے آخر کیا قصور کیا تھا کہ آپ کے نزدیک مرزا صاحب کی نبوّت باطل ہوگئی؟ اور اس واقعے کے بعد آپ ان کی نبوّت سے دست کش ہوگئے؟ یہ آخر کس شریعت کا مسئلہ ہے کہ بیٹا زِنا کرے تو اس سے باپ کی نبوّت، مجدّدیت ومحدثیت میں تبدیل ہوجاتی ہے؟ اور وہ نبی کی بجائے مجدّد ومحدث بن جاتا ہے...؟

نیز جناب مصری صاحب سے یہ امر بھی دریافت طلب ہے کہ مرزا محمود احمد صاحب کی حالت کسی دُوسرے سے پوشیدہ ہو تو ہو، مگر آپ تو خود صاحبِ واقعہ ہیں، آپ نے اپنے مقدس خلیفہ کے بارے میں عدالت میں تحریری بیان دیا تھا کہ:

’’موجودہ خلیفہ سخت بدچلن ہے، یہ تقدس کے پردے میں عورتوں کا شکار کھیلتا ہے ...الخ۔‘‘

یہ بیان صحیح تھا یا غلط؟ یہ مبنی بر واقعہ تھا یا مبنی براِفترا؟ اگر یہ بیان غلط اور اِفترا تھا تو خود ہی اِنصاف سے کہئے کہ جس شخص نے اپنے اِمام اور خلیفۃ المسیح پر دُنیا کی سب سے گندی تہمت دھری ہو، اس سے بڑا مفتری کون ہوگا...؟ اور اگر یہ بیان صحیح واقعات پر مبنی تھا تو اس شخص سے بڑا مفتری کون ہے، جس نے اس قماش کے آدمی کو ’’پنج تن پاک‘‘ میں شامل کرتے ہوئے یہ کہا ہو:

530

’’یہی ہیں پنجتن جن پر بنا ہے‘‘

(دُرثمین، منظوم اُردو کلام، مرزا غلام احمد قادیانی ص:۴۵)

مصری صاحب! ایک طرف ان اِلہامات کو رکھئے، جو مرزا غلام احمد صاحب نے اپنے پیارے بیٹے مرزا محمود صاحب کے حق میں اِرشاد فرمائے، اور دُوسری طرف ان واقعات کو رکھئے، جو مرزا صاحب کے پیارے بیٹے کی جانب سے آپ پر، اور مولوی عبدالکریم مباہلہ پر گزرے، اور جن کے آپ خود شاہد ہیں، اور جن کی وجہ سے آپ نے عدالت میں مرزا صاحب کے بارے میں سنگین ریمارکس دئیے، اور ان دونوں کی روشنی میں فیصلہ کیجئے کہ کیا مرزا غلام احمد صاحب کو ایک سیکنڈ کے لئے بھی مأمور من اللہ تصوّر کیا جاسکتا ہے...؟

باپ اپنے بیٹے کو ’’یہی ہیں پنجتن جن پر بنا ہے‘‘ کا تمغۂ فضیلت عطا کرتا ہے، اور بیٹا ...بقول آپ کے... تقدس کے پردے میں عورتوں کا شکار کھیلتا ہے، فرمائیے کہ اس کے بعد بھی باپ کو’’وما ینطق عن الھویٰ‘‘ سمجھتے رہنے کا آپ کے پاس کیا جواز ہے...؟

ہمارا موقف یہ ہے کہ اگر مرزا غلام احمد واقعی سچا تھا، تو یقینا اس کا اِلہامی بیٹا مرزا محمود بھی سچا ہے، اور اس پر تہمتیں لگانے والے ...مصری وغیرہ... بلاشبہ مفتری ہیں، اور اگر مصری صاحب اپنے عائد کردہ اِلزامات میں سچے ہیں، اور مرزا محمود صاحب کی وہی پوزیشن ہے، جو مصری صاحب کے بیان میں ذِکر کی گئی ہے، تو پھر مرزا غلام احمد صاحب کے اِلہامات کے غلط ہونے، اور ان کے مفتری ہونے میں کسی شبہ کی گنجائش نہیں...!

گزشتہ سطور سے واضح ہوچکا ہے کہ مرزا غلام احمد صاحب کے دعوائے نبوّت کا اِقرار خود مصری صاحب کو بھی ایک طویل مدّت تک رہا ہے، اور غالباً مصری صاحب کو صرف مرزا محمود صاحب کے اعمال وافعال نے ...بقول مصری صاحب کے... مرزا غلام احمد کی نبوّت سے برگشتہ کیا ہے، اگر خدانخواستہ انہیں مرزا محمود احمد صاحب سے رنجش نہ ہوجاتی، تو وہ آج بھی مرزا صاحب کی نبوّت کے سب سے بڑے پرچارک ہوتے، لیکن صد حیف! کہ آج وہ ’’اُلٹا چور کوتوال کو ڈانٹے‘‘ کے مصداق مسلمانوں کو یہ طعنہ دیتے ہیں

531

کہ یہ لوگ خواہ مخواہ ’’حضرت صاحب‘‘ ...مرزا غلام احمد قادیانی... کی طرف دعوائے نبوّت کو منسوب کرتے ہیں۔

علاوہ ازیں، مصری صاحب، یا لاہوری جماعت کے کسی ممبر کو اس اَمر میں اِختلاف نہیں، نہ کسی عاقل کو ہوسکتا ہے، کہ مرزا صاحب نے نبوّت کا دعویٰ کیا، اِختلاف اس میں ہے کہ مرزا صاحب کی نبوّت کس نوعیت کی تھی؟ ظلّی تھی یا حقیقی؟ جعلی تھی یا اصلی؟ اب اگر راقم الحروف نے مرزا صاحب کی نبوّت کی نوعیت متعین کرکے یہ کہا ہوتا کہ مرزا صاحب نے فلاں قسم کی نبوّت کا دعویٰ کیا تھا، تو مصری صاحب کو اس پر اِعتراض کرنے کا کسی درجے میں حق حاصل تھا، مگر میں نے تو صرف مرزا صاحب کی نبوّت کا ذِکر کیا تھا، اگر مرزا صاحب کی جانب نبوّت کا منسوب کرنا ہی ...خواہ اس کی نوعیت کچھ بھی ہو... اِفترا ہے، تو اس اِفتراپردازی کی ذمہ داری بھی مرزا غلام احمد صاحب پر عائد ہوتی ہے، انہوں نے سیکڑوں جگہوں پر اپنی نبوّت کا ڈنکے کی چوٹ پر اِعلان کیا ہے، اس لئے اگر میں مصری صاحب کی زبان میں مرزا غلام احمد صاحب کو چودھویں صدی کا سب سے بڑا مفتری کہوں، تو کیا یہ بے جا بات ہوگی...؟

آخر یہ کیا منطق ہے کہ اگر مرزا صاحب اِعلان کریں کہ: ’’ہمارا دعویٰ ہے کہ ہم رسول اور نبی ہیں‘‘ (بدر ۵؍مارچ ۱۹۰۸ء) تو وہ مصری صاحب کے ’’حضرتِ اقدس المسیح الموعود‘‘ بن جائیں، اور اگر یہ الفاظ محمد یوسف لدھیانوی دُہرادے کہ مرزا صاحب نے رِسالت ونبوّت کا دعویٰ کیا ہے، تو وہ مصری صاحب کے نزدیک غلط گو اور مفتری کہلائے...؟

میں یہاں یہ بحث نہیں اُٹھانا چاہتا کہ مرزا غلام احمد صاحب نے جس نبوّت کا دعویٰ کیا ہے، وہ صرف مجدّدیت ومحدثیت تک محدود ہے؟ یا یہ کہ مرزا صاحب کی مجدّدیت ومحدثیت دیگر انبیائے کرام کی نبوّت کے اوصاف ولوازم بھی اپنے ساتھ رکھتی ہے؟ اس پر بہت سی بحثیں ہوچکی ہیں، تاہم میں اس موضوع پر بھی مصری صاحب سے گفتگو کرنے کو تیار ہوں، میرا دعویٰ یہ ہے کہ مرزا غلام احمد صاحب نے اسی نوعیت کی نبوّت کا دعویٰ کیا، جو نوعیت دیگر انبیاء علیہم السلام کی نبوّت کی ہے، اس سلسلے میں سرِدست شیخ عبدالرحمن صاحب کو

532

مشورہ دُوں گا کہ وہ اپنی درج ذیل تحریر بغور پڑھیں:

’’میں حضرت صاحب، یعنی حضرت مسیحِ موعود کے زمانے کا احمدی ہوں، میں نے ۱۹۰۵ء میں بیعت کی تھی، میں حضرت مسیحِ موعود کو اسی طرح کا نبی یقین کرتا تھا، اور کرتا ہوں، جس طرح خدا کے دیگر نبیوں اور رسولوں کو یقین کرتا ہوں، نفسِ نبوّت میں نہ اس وقت کوئی فرق کرتا تھا، نہ اب کرتا ہوں۔ لفظ اِستعارہ اور مجاز اس وقت میرے کانوں میں کبھی نہیں پڑے تھے، بعد میں حضور کی کتب میں یہ الفاظ جن معنوں میں، میں نے اِستعمال ہوتے ہوئے دیکھے ہیں، وہ میرے عقیدے کے منافی نہیں، ان معنوں میں میں اب بھی حضور کو علیٰ سبیل المجازی نبی سمجھتا ہوں، یعنی شریعتِ جدید کے بغیر نبی، اور نبی کریم (صلی اللہ علیہ وسلم) کے اِتباع کی بدولت، اور حضور (صلی اللہ علیہ وسلم) کی اِطاعت میں فنا ہوکر حضور (صلی اللہ علیہ وسلم) کا کامل بروز ہوکر مقامِ نبوّت کو حاصل کرنے والا نبی۔ میرے اس عقیدے کی بنیاد حضرت مسیحِ موعود کی تقاریر، اور تحریرات، اور جماعتِ احمدیہ کا متفقہ عقیدہ تھا۔‘‘

آخر میں شیخ عبدالرحمن مصری صاحب سے گزارش کروں گا کہ اگر وہ مرزا غلام احمد صاحب کے ’’مراق اور نبوّت‘‘ سے آنکھیں بند کرکے لوگوں پر ’’مفتری، مفتری‘‘ کا فتویٰ لگاتے رہیں گے، تو ان کا یہ طرزِ عمل خود ان کے بارے میں کوئی اچھا تأثر پیدا نہیں کرے گا، کیونکہ ساری دُنیا مرزا غلام احمد کی عقیدت میں اندھی بہری نہیں ہے...!

533

 

حضرت جالندھریؒ کے بیانات کا تعارف

بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ

اَلْحَمْدُللہِ وَسَلَامٌ عَلٰی عِبَادِہِ الَّذِیْنَ اصْطَفٰی!

حضرت اقدس مجاہد ملت مولانا محمد علی جالندھری (نور اللہ مرقدہ) امام العصر مولانا محمد انور شاہ کشمیریؒ کے تلمیذ رشید، قطب العالم شاہ عبدالقادر رائے پوریؒ کے مسترشد، امیر شریعت سیّد عطاء اللہ شاہ بخاریؒ کے دست راست اور کاروانِ تحریک ختمِ نبوّت کے سالار تھے، حق تعالیٰ نے ان کو بعض ایسے کمالات و صفات سے آراستہ فرمایا تھا جن میں اپنے اقران و امثال میں عدیم النظیر تھے، عقل و دانش اور فہم و فراست میں اس درجہ ممتاز تھے کہ تمام ہم عصر اکابر ان کی رائے کا احترام کرتے تھے، زبان و بیان کا ایسا سلیقہ تھا کہ مشکل سے مشکل مسائل ایک عامی سے عامی آدمی کے ذہن نشین کرانے کی مہارت رکھتے تھے، جس موضوع پر بھی گفتگو فرماتے اس کو ایسا مدلل کرتے کہ بڑے سے بڑا مخالف بھی استدلال کے آگے سرتسلیم خم کرنے پر مجبور ہوجاتا، ہمارے حضرت شیخ الاسلام مولانا سیّد محمد یوسف بنوریؒ ان کو وکیل العلماء کے خطاب سے یاد فرماتے تھے۔

تحریک ختمِ نبوّت ۱۹۵۳ء کے بعد حکومت نے رسوائے زمانہ جسٹس منیر کی سربراہی میں ایک تحقیقی عدالت قائم کی جس کا دائرہ کار اس تحریک کے اسباب و علل کا دریافت کرنا تھا، اس عدالت کی رپورٹ ’’تحقیقاتی رپورٹ‘‘ فسادات پنجاب ۱۹۵۳ء کے نام سے شائع ہوچکی ہے، اس عدالت کے سامنے متعلقہ فریقوں میں سے ہر ایک نے اپنا موقف تحریری طور پر پیش کیا تھا، حضرت مولانا محمد علی جالندھریؒ نے دو بیان عدالت کے ریکارڈ میں داخل کرائے، ایک بیان میں مجلس احرار اسلام (جس کو حکومت تحریک ختمِ نبوّت

534

۱۹۵۳ء کا بلاشرکت غیرے ذمہ دار سمجھتی تھی) کے موقف کی وضاحت اور قادیانیت کے بارے میں اسلامی احکامات کی تشریح نہایت دل کش اور مدلل انداز میں کی گئی۔

دوسرے بیان میں قادیانیوں کے جواب کا جواب الجواب تھا، اس کا پس منظر یہ ہے کہ منیر تحقیقاتی عدالت نے قادیانیوں کے لیڈر مرزا محمود سے چند اہم نوعیت کے سوال کئے تھے، اگر ان سوالوں کے ٹھیک ٹھیک جوابات دئیے جاتے تو قادیانیت کا سارا طلسم ہوش ربا ٹوٹ جاتا اور قادیانی عقائد و عزائم کا سارا بھرم کھل جاتا، مگر چونکہ قادیانی نبوّت اور قادیانی تحریک تمام تر دجل و فریب اور مکاری و عیاری پر قائم ہے اس لئے مرزا محمود نے ان سات سوالوں کے جواب میں ایسی ابلہ فریبی سے کام لیا کہ اصل حقائق عدالت کے سامنے نہ آسکے، چنانچہ حضرت مولانا محمد علی جالندھریؒ نے اپنے جواب الجواب میں قادیانی دجل و فریب سے پردہ اٹھایا، اور عدالت کے سامنے واضح کیا کہ عدالت نے مرزا محمود سے جو کچھ پوچھا تھا، مرزا نے اس کا جواب نہیں دیا، بلکہ تقیہ و توریہ سے کام لے کر اصل حقائق کو چھپانے کی کوشش کی ہے۔

حضرت مجاہد ملت کے یہ دونوں تاریخی بیان برادر محترم مولانا اللہ وسایا زید مجدہ کی کتاب ’’تحریک ختمِ نبوّت ۱۹۵۳ء‘‘ میں شائع ہوئے تو ان کی اہمیت کے پیش نظر مناسب معلوم ہوا کہ ان دونوں کو الگ بھی شائع کیا جائے۔

چنانچہ ارباب فکر و نظر کی خدمت میں یہ تحفہ پیش کرتے ہوئے ہم امید کرتے ہیں کہ اہل دانش مولانا مرحوم کے ان بیانات کی مقبولیت و متانت کا وزن محسوس کریں گے اور اسلام اور قادیانیت کے تصادم کو سمجھنے کے لئے اس عجالہ کا بغور مطالعہ فرمائیں گے۔

حضرت مجاہد ملت ایک طرف تقریر و بیان کے بادشاہ تھے اور دوسری طرف ان کی ہیجان انگیز زندگی نے ان کو قلم تک پکڑنے کی مہلت نہ دی، ان کی خداداد صلاحیتوں کے پیش نظر مجھے یقین ہے کہ اگر وہ اس میدان کا رخ کرتے اور خامہ و قرطاس سے رشتہ جوڑتے تو ان کے دور میں ان کی ٹکر کا کوئی ادیب اور انشا پرداز مشکل ہی سے ملتا، قلم و قرطاس سے ایک قسم کی لاتعلقی کے باوجود حضرت مرحوم نے دقیق علمی مضامین کو جس طرح

535

نوک قلم سے دلوں میں اتارنے کی کامیاب کوشش کی ہے وہ بجائے خود ان کی کرامت ہے، دعا ہے کہ حق تعالیٰ شانہ حضرت مرحوم کے درجات بلند فرمائیں اور ان کی فاتح جماعت مجلس تحفظ ختمِ نبوّت کو اپنی مرضیات کے مطابق چلنے کی توفیق عطا فرمائیں اور مجلس نے جو صدیقی مشن اپنایا ہے حق تعالیٰ شانہ اس کا صحیح حق ادا کرنے کی توفیق عطا فرمائیں:

  1. تیغ براں بہر مہر زندیق باش

    اے مسلمان پیرو صدیق باش

سُبْحٰنَ رَبِّکَ رَبِّ الْعِزَّۃِ عَمَّا یَصِفُوْنَ

وَسَلٰمٌ عَلَی الْمُرْسَلِیْنَ وَالْحَمْدُللہِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ

(ہفت روزہ ختمِ نبوّت کراچی ج:۱۲ ش:۴۱)

536

قادیانیت کا پوسٹ مارٹم

حضرت مولانا محمد یوسف لدھیانوی شہیدؒ نے یہ تقریر ۷؍اکتوبر ۱۹۸۵ء کو عالمی ختمِ نبوّت کانفرنس لندن میں فرمائی تھی، جسے مولانا منظور احمد الحسینی مدظلہٗ کی ترتیب کے بعد ہفت روزہ ختمِ نبوّت میں شائع کیا گیا.........۔ سعید احمد جلال پوری

بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ

اَلْحَمْدُللہِ وَسَلَامٌ عَلٰی عِبَادِہِ الَّذِیْنَ اصْطَفٰی!

آج میرا ارادہ تھا کہ قادیانیوں کے سلسلے میں چند سوالوں کا جواب دوں، میں سیاسی آدمی نہیں ہوں، اس لئے مجھے سیاسی باتیں نہیں آتیں، لیکن میرے بھائی عبدالرحمن یعقوب باوا صاحب نے جن باتوں کی طرف اشارات کئے ہیں، میں پہلے ان میں سے صرف دو کی مختصر سی تفصیل عرض کرنا چاہتا ہوں، اس کے بعد اپنا مضمون عرض کروں گا۔

قادیانیوں کا انگریزی اقتدار کی حفاظت و حمایت کا راز!

پہلی بات تو یہ ہے کہ قادیانیوں کا سربراہ مرزا محمود احمد، تقسیم سے پہلے نہ کانگریس کا ساتھی تھا، نہ مسلم لیگ کا، کسی نے اس سے پوچھا کہ: ہونا کیا چاہئے؟ اس کے جواب میں اس نے جو کچھ کہا، بحوالہ روزنامہ ’’الفضل‘‘ ملاحظہ ہو:

’’ایک صاحب نے عرض کیا کہ: بعض لوگ سوال کرتے ہیں کہ انگریزوں کی سلطنت کی حفاظت اور ان کی کامیابی کے لئے حضرت مسیح موعود (مرزا غلام احمد قادیانی) نے کیوں دعائیں کی

537

تھیں؟ حضور (مرزا محمود احمد قادیانی) بھی ان کی کامیابی کے لئے دعا کرتے ہیں اور اپنی جماعت کے لوگوں کو جنگ میں مدد دینے کے لئے بھرتی ہونے کا ارشاد فرماتے ہیں، حالانکہ انگریز مسلمان نہیں۔ اس کے جواب میں حضور (مرزا محمود احمد) نے جو ارشاد فرمایا، اس کا خلاصہ عرض کیا جاتا ہے۔ فرمایا: اس سوال کا جواب قرآن کریم میں موجود ہے، حضرت موسیٰ علیہ السلام کو جو نظارے دکھائے گئے ان میں سے ایک یہ تھا کہ ایک گری ہوئی دیوار بنادی گئی جس کی وجہ بعد میں یہ بیان کی گئی کہ اس کے نیچے خزانہ تھا جس کے مالک چھوٹے بچے تھے، دیوار اس لئے بنادی گئی کہ ان لڑکوں کے بڑا ہونے تک خزانہ کسی اور کے ہاتھ میں نہ لگے اور ان کے لئے محفوظ رہے۔ دراصل حضرت مسیح موعود مرزا غلام احمد قادیانی کی جماعت کے متعلق پیشنگوئی ہے، جب تک جماعتِ احمدیہ نظامِ حکومت سنبھالنے کے قابل نہیں ہوتی، اس وقت تک ضروری ہے کہ اس دیوار کو قائم رکھا جائے تاکہ یہ نظام کسی ایسی طاقت (مسلمان ہی مراد ہوسکتے ہیں) کے قبضے میں نہ چلا جائے، جو احمدیت کے مفادات کے لئے زیادہ مضر اور نقصان رساں ہو۔جب جماعت میں قابلیت پیدا ہوجائے گی اس وقت نظام اس کے ہاتھ میں آجائے گا۔ یہ وجہ ہے انگریزوں کی حکومت کے لئے دعا کرنے اور ان کو فتح حاصل کرنے میں مدد دینے کی۔‘‘

(روزنامہ الفضل قادیان ۳؍جنوری ۱۹۵۴ء)

یہ وہی بات ہے جس کو بدنامِ زمانہ جج جسٹس منیر نے اپنی رپورٹ میں یوں لکھا تھا کہ:

’’احمدیوں کی بعض تحریروں سے یہ مترشح ہوتا ہے کہ وہ انگریزوں کا جانشین بننے کا خواب دیکھ رہے تھے۔‘‘

538

اکھنڈ بھارت کا خواب:

وہ تو خدا جانے کہ اللہ تعالیٰ کی مشیت جو مرزا محمود کو معلوم ہوئی تھی کدھر چلی گئی؟ فضا کا رنگ بدل گیا اور ملک کی تقسیم کے آثار پیدا ہونے لگے، تو مرزا محمود نے پھر اعلان کیا اور ’’الہامی اعلان‘‘ کیا، اپنا ایک خواب ذکر کیا اور کہا کہ مجھے یہ رؤیا ہوا ہے، چنانچہ اپنے اس رؤیا کی خود تشریح کرتے ہوئے کہا:

’’اللہ تعالیٰ کی مشیت ہندوستان کو اکٹھا رکھنا ہے، لیکن قوموں کی منافرت کی وجہ سے عارضی طور پر الگ بھی کرنا پڑے، یہ اور بات ہے کہ ہم ہندوستان کی تقسیم پر رضامند ہوئے تو خوشی سے نہیں بلکہ مجبوری سے، اور پھر یہ کوشش کریں گے کہ کسی نہ کسی طرح جلد متحد ہوجائیں۔‘‘

(الفضل ۱۷؍مئی ۱۹۴۷ء)

یہ ان کا ’’الہامی‘‘ عقیدہ تھا، اس ضمن میں یہ اس بات کی بھی کوشش کرتے رہے کہ کم از کم اور نہیں تو قادیان کو ایک آزاد اسٹیٹ بنادیا جائے، اور وہ ایک آزاد ریاست ہو، کم از کم اتنا ہی خطہ کا اقتدار ان کو مل جائے، وہ کہتے تھے کہ ہمیں اس سے زیادہ نہیں چاہئے۔

افسوس کہ یہ بھی نہ ہوا، بالآخر مرزا محمود کو وہاں سے آنا پڑا اور بتانے والے بتاتے ہیں اور صحیح بتاتے ہیں کہ مرزا محمود عورتوں کا برقع پہن کر قادیان سے نکلا، جیسا کہ اس کا بیٹا مرزا طاہر ربوہ سے راتوں کو چھپ کر نکلا اور فوراً لندن بھاگ گیا۔ یہاں لاہور آکر پہلے اس نے ہندوؤں کی دو بڑی بڑی بلڈنگوں پر قبضہ جمایا، ڈیڑھ دو سال تک قادیانی وہاں رہے اور پھر وہاں سے آکر ربوہ نامی ایک مستقل شہر آباد کیا اور وہاں رہے۔

مرزا محمود کی وصیت:

مجھے کہنا یہ ہے کہ مرزا محمود جب مرا تو اس کی قبر پر یہ کتبہ لکھا گیا اور یہ وصیت لکھی گئی کہ جماعتِ احمدیہ کو وصیت کرتا ہوں کہ جب کبھی قادیان جانا ہو تو میری لاش کو قادیان لے جائیں، قادیان میں دفن کریں، مجھے بھی وہیں دفن کریں اور ان کی ماں کو بھی۔

539

کشمیر کی جنگ اور قادیانی سازش:

یہ جو سرکاری راز ہوتے ہیں، بعد میں وہ آؤٹ بھی ہوجاتے ہیں، اور بعد از وقت کی جو بات ہوتی ہے وہ کوئی ایسی بات نہیں ہوتی، چنانچہ یہ بھی ایک سرکاری راز ہے کہ یہ جو کشمیر کی جنگ ہوئی، یہ محاذ بھی ان قادیانیوں نے حکام کے علی الرغم کھولا تھا، مقصود یہ تھا کہ کسی طرح وہ قادیان تک پہنچ جائیں اور قادیان تک پہنچ کر پھر کوئی گھپلا کرلیں، چنانچہ سیالکوٹ کے محاذ پر فرقان بٹالین لگی رہی، اس طرح کشمیر کے محاذ پر بھی یہ لگے رہے۔

قصور اپنا نکل آیا!

ایک تو مجھے اس بات کی وضاحت کرنی تھی کہ ان کو بادل نخواستہ پاکستان میں آنا پڑا ہے، مگر افسوس کہ بدنام کرتے ہیں ’’احراری‘‘ مُلَّاؤں کو، اور آج تک کہتے چلے آئے ہیں کہ یہ کانگریسی احراری مُلَّا پاکستان کے خلاف تھے، لیکن کبھی کسی عالم یا مولوی نے یہ تو نہیں کہا تھا کہ مجھے الہام ہوا ہے کہ اللہ کی مشیت یہ چاہتی ہے کہ ہندوستان کو متحد رہنا چاہئے، پاکستان نہیں بننا چاہئے، کیونکہ اللہ کی مشیت یہ چاہتی ہے۔ کیوں بھائی! کوئی بتلائے کہ کسی عالم نے یہ کہا تھا؟

ہاں یہ دوسری بات ہے کہ کچھ علماء ایسے تھے جو یہ سمجھتے تھے کہ مسلمانوں کے حق میں بہتر یہ ہے کہ تمام مسلمان متحد رہیں، اور کچھ حضرات کی رائے یہ تھی کہ مسلمانوں کا حصہ الگ مل جانا چاہئے، یہ ایک سیاسی نظریہ تھا۔ لیکن جب پاکستان بن گیا تو اُسے مسجد کا درجہ دیتے ہوئے تن، من، دھن سے اس کی حفاظت میں لگ گئے، آپ نے کسی مُلَّا کی یہ وصیت نہ سنی ہوگی جس نے کہا ہو کہ میری لاش کو ہندوستان لے جانا!

قادیانی، پاکستان کے وجود کے مخالف!

کہنا مجھے یہ ہے کہ قادیانی الہامی طور پر پاکستان کی پیدائش کے بھی مخالف اور پاکستان کے وجود کے بھی مخالف ہیں، اس لئے کہ ان کو معلوم ہے کہ پاکستان ایک اسلامی سلطنت ہے، اور اسلامی سلطنت میں قادیانیوں کو جتنا خطرہ ہوسکتا ہے، اتنا غیراسلامی یا

540

سیکولر سلطنت میں نہیں ہوسکتا۔

عبدالسلام قادیانی کی پاکستان دُشمنی اور...:

ایک تو مجھے اس بات کی وضاحت کرنی تھی، دوسری مجھے اس بات کی وضاحت کرنی تھی کہ ڈاکٹر عبدالسلام طبیعیات کا ماہر ہے، یہودیوں نے اس کو انعام دیا، انعام دے کر اسے ساری دنیا میں اُچھالا، جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ پاکستان کی وہی اسمبلی، جس میں قادیانیوں کو غیرمسلم اقلیت قرار دیا گیا تھا، اس اسمبلی میں عبدالسلام قادیانی کے اعزاز میں ایک تقریب منعقد کی گئی، یعنی اس کو انعام دینے کے لئے تقریب منعقد کی گئی، صدرِ مملکت خود تشریف فرما تھے، ان کے سر پر کھڑے ہوکر عبدالسلام قادیانی نے کہا: ’’میں پہلا مسلمان ہوں جس کو یہ انعام ملا ہے!‘‘

گویا اس نوبل پرائز کے ذریعہ اس نے ہمارے صدر کو سامنے بٹھاکر اسلام کی سند حاصل کی، اور اس اسمبلی میں، جس اسمبلی نے اس کو غیرمسلم قرار دیا تھا، حالانکہ یہ وہی ڈاکٹر عبدالسلام تھا کہ جب ۴۷۹۱ء میں اسمبلی نے قادیانیوں کے خلاف فیصلہ دیا تو اس نے اپنی پاکستان کی شہریت منسوخ کردی تھی اور کہا تھا کہ: میں اس ملک میں نہیں آؤں گا جو احمدیوں کو غیرمسلم کہتا ہے۔ اور پھر جیسا کہ آپ کو معلوم ہے، دوسرے اسلامی ممالک کے دورے بھی اس سے کروائے گئے اور رفتہ رفتہ یہاں تک نوبت پہنچی کہ مسلمان ممالک کا ٹیکنالوجی اور سائنس کا جو ادارہ بنایا گیا، یعنی تمام مسلمانوں کا متحدہ سائنسی ادارہ، اس ادارے کا سربراہ بھی عبدالسلام قادیانی کو بنایا گیا، اور پانچ ارب ڈالر اس کے سپرد کئے گئے۔

میرا اپنے ملک کے صدرِ محترم، وزیراعظم اور اس طرح دوسرے اسلامی ممالک جتنے بھی ہیں ... اللہ کا فضل ہے، بہت سے اسلامی ممالک ہیں... ان کے تمام چھوٹوں بڑوں سے یہ سوال ہے، اور میں یہ معلوم کرنا چاہتا ہوں کہ وہ ’’اسلامی سائنس فاؤنڈیشن‘‘ کون سی ہوگی جس کا سربراہ قادیانی ہو؟ وہ کیسی ’’اسلامی‘‘ ہے؟

541

سقوطِ بغداد پر قادیان میں چراغاں:

یہ وہی قادیانی ہیں، جب بغداد پر انگریزوں نے قبضہ کیا، انگریزوں نے تسلط حاصل کیا اور جب اس کا سقوط ہوا تو ’’الفضل‘‘ اخبار نے لکھا کہ حضرت مسیح موعود فرماتے ہیں کہ:

’’انگریز میری تلوار ہیں، اپنے مہدی کی تلوار کی چمک ساری دنیا میں دیکھنا چاہتے ہیں۔‘‘

بغداد کے سقوط پر قادیان میں چراغاں کیا گیا، اسی طرح جس دن قسطنطنیہ میں خلافت کا سقوط ہوا، یعنی خلافت ختم کردی گئی، تمام عالم اسلام خون کے آنسو رو رہا تھا، کیونکہ آلِ عثمان کی خلافت خواہ جیسی بھی تھی، فرض کرلو وہ نکمّے تھے، ان میں سو عیب ہوں گے، لیکن خلافت اسلام کا ایک نشان تھا، کمال اتا ترک کے ذریعہ ان طاغوتی طاقتوں نے آلِ عثمان کا تختہ اُلٹا اور خلافت ختم کردی، خلافت پر خطِ تنسیخ پھیر دیا کہ آئندہ کے لئے خلافت نہیں ہوسکتی۔

تم سب کچھ حاصل کرسکتے ہو، لیکن اسلامی خلافت آج تمہیں نہیں مل سکتی، تو جس دن آلِ عثمان کا تختہ اُلٹا گیا اور اسلامی خلافت پر لکیر کھینچی گئی، سارا عالم اسلام خصوصیت کے ساتھ ہندوستان خون کے آنسو رو رہا تھا، لیکن قادیانی اس دن بھی چراغاں کر رہے تھے، گھی کے چراغ جلا رہے تھے، اور قادیانیوں کے آرگن ’’الفضل‘‘ نے اس وقت اداریہ لکھا کہ:

’’آلِ عثمان مٹتے ہیں تو مٹنے دو، ہم ان کو خلیفہ نہیں سمجھتے، ہمارا بادشاہ جارج پنجم ہے اور ہمارے خلیفہ امیرالمؤمنین مرزا محمود ہیں۔‘‘

قادیانی مہرے پاکستان کے خیرخواہ نہیں:

کیا یہ قادیانی اس لائق ہیں کہ ان کو کلیدی عہدوں پر بٹھایا جائے؟ آج یہاں ہم پاکستانی سفارت خانہ میں گئے، وہاں ان سے ہماری باتیں ہوتی رہیں، ایک بات یہ بھی

542

ہوئی کہ دنیا کا کوئی ملک بشمول سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کے ایسا نہیں ہے جہاں کوئی نہ کوئی خفی و جلی قادیانی ہر ادارے میں موجود نہ ہو۔

چنانچہ ہم انڈونیشیا گئے، وہاں کے سفارت خانہ میں پتہ کیا، وہاں ایک ٹائپسٹ قادیانی ہے، قادیانی، اگر اپنا چپڑاسی بھی کہیں رکھوا دیں تو ان کا کام چلتا ہے۔ مطلب یہ ہے کہ اس پوری ایمبسی کی خبریں اور رپورٹیں قادیانیوں کے مرکز کو پہنچتی ہوں گی۔ مسلمانوں کا کوئی راز قادیانیوں سے راز نہیں رہتا، میں نے وہاں سفارت خانہ میں کہا کہ: ہم نہیں سمجھتے کہ مسلمانوں کو عقل کب آئے گی؟ قادیانی اسلام اور مسلمانوں کے بدترین دشمن ہیں، اور تمام ملکی راز ان کے سامنے ہیں، مگر جب ہم اربابِ اقتدار کو قادیانیوں سے ہوشیار رہنے اور ان کو حساس مقامات سے ہٹانے کی بات کرتے ہیں، تو یہ کہتے ہیں کہ کیا ہم ان کو سمندر میں پھینک دیں؟ سمندر میں نہ پھینکو، ان کا کوئی علاج کرو، ہم کیا کریں، یعنی ہم سے کیوں سوال کرتے ہو؟

قادیانی شبہات کے جواب کی تیاری کرو:

آپ حضرات سے ایک بات تو میں یہ کرنا چاہتا تھا کہ ہر قادیانی کو دو، چار، دس، بیس باتیں ایسی یاد ہوتی ہیں کہ جب وہ ہمارے کسی مسلمان کے ساتھ بات کرتا ہے تو وہ اس کو مغالطہ میں ڈال دیتا ہے، کیونکہ انہوں نے ہر قادیانی کو ایسی دو چار باتیں ضرور رٹائی ہوتی ہیں، مثلاً:

۱:... ایک یہ کہ اگر عیسیٰ علیہ السلام زندہ ہیں تو وہ ٹٹی اور پیشاب کہاں کرتے ہیں؟ العیاذ باللہ!

۲:... اجی خدا کو انہیں وہاں آسمان پر لے جانے کیا ضرورت تھی؟ کیا خدا زمین پر اس کی حفاظت نہیں کرسکتا تھا؟

یہ دوچار ایسی باتیں اور عقلی شبہات انہوں نے ہر قادیانی کو رٹائے ہوئے ہیں، ہر مسئلے پر ایسے عقلی شبہات رٹائے ہوئے ہیں، جس کا نتیجہ یہ ہے کہ کوئی اچھا خاصا پڑھا لکھا

543

مولوی بھی ان سے گفتگو کرے، تو وہ اُسے چپ کرادیں گے، ان سے وہی بات کرسکتا ہے جو ان کی رگ کو جانتا ہو۔

قادیانیوں سے بات کرنے کے چند عنوانات:

اس کے پیشِ نظر میں آپ سے یہ عرض کرنا چاہتا ہوں کہ قادیانیوں کے مقابلے میں آپ میں سے ہر مسلمان کو بھی کم از کم دوچار نکتے ایسے رَٹ لینے چاہئیں کہ اگر کسی قادیانی سے بات کا موقع آئے تو آپ لوگ بھی ان کو چپ کراسکیں، لمبی چوڑی تقریریں تو شاید آپ کو محفوظ نہ رہیں، لیکن دوچار نکتے تو آپ بھی یاد کرسکتے ہیں۔ ہمارے کسی عالم کے پاس بیٹھ جائیے! اور ان سے درخواست کیجئے! کہ ایک آدھ گُر کی ایسی بات بتادیجئے کہ اِدھر پھونک ماریں اُدھر قادیانی بھاگ جائے!

قادیانی اُستانی اور مسلمان طالبات:

ہمارے حضرت مولانا محمد علی جالندھری قدس سرہٗ ونور اللہ مرقدہٗ ایک دفعہ فرمانے لگے کہ شیخوپورہ کے ایک اسکول میں ایک قادیانی اُستانی آگئی ... یہ بھی ایک مستقل موضوع ہے کہ کن کن محکموں پر، کس کس طرح قادیانی مسلط ہیں ... اس اُستانی کا کام تھا لڑکیوں کو گمراہ کرنا... میرا ایک دفعہ وہاں جانا ہوا تو بچیوں نے مجھ سے شکایت کی کہ قادیانی اُستانی تبلیغ کرتی رہتی ہے اور ہمیں کچھ پتہ نہیں۔ مولانا نے فرمایا کہ: میں تمہیں ایک بات بتادیتا ہوں، تم اپنی اُستانی جی سے وہ بات پوچھ لینا، تم ان سے یہ پوچھنا کہ: ’’تمہارا مرزا ’’بھانو‘‘ سے پاؤں کیوں دبوایا کرتا تھا؟‘‘ بس اس سے زیادہ نہیں، اب چار پانچ لڑکیاں تیار ہوگئیں، اُستانی آئی اور بات کرنے لگی تو ایک لڑکی نے کہا: اُستانی وہ تمہارا مرزا بھانو سے پاؤں کیوں دبواتا تھا؟ دوسری نے بھی اُستانی سے یہی بات کی، تیسری نے بھی یہی بات کہی اور سب نے کہہ دیا: بھانو، بھانو، بھانو، بھانو۔ تیسرے دن اس نے اسکول چھوڑ کر اپنا تبادلہ کروالیا۔ بھلا وہ برداشت کرسکتی تھی؟

544

قادیانی نبی سے عورتوں کا لمس و اختلاط جائز ہے:

میں نے حوالہ بتایا تھا کہ کسی قادیانی نے سوال پوچھا کہ: ’’حضرت مسیح موعود غیرعورتوں سے ہاتھ پاؤں کیوں دبواتے ہیں؟ کیا ان سے پردہ منع ہے؟‘‘ جواب میں ان کا مفتی فضل دین لکھتا ہے:

’’حضرت مسیح موعود نبی معصوم ہیں، ان سے مس اور اختلاط منع نہیں، بلکہ موجبِ ثواب و برکات ہے۔‘‘

تم ختمِ نبوّت کے دفتر سے اس اخبار کا فوٹو لے لو اور ایک ایک قادیانی کو دکھاؤ، اور کہو کہ پہلے یہ بات بتاؤ، آگے پھر بات کرنا۔ حیاتِ مسیح، وفاتِ مسیح، ختمِ نبوّت جاری ہے یا بند ہے؟ یہ تم نے کیا چکر چلا رکھے ہیں؟ صرف یہ بتاؤ کہ نبی معصوم غیرمحرم عورتوں سے تنہائی میں ٹانگیں دبوایا کرتے ہیں؟ یہ میں نے ایک بات بتائی دوچار ایسے نکتے یاد کرلو۔

وبائی ہیضہ اور قادیانی:

ایک بات قادیانیوں سے یہ کہو کہ کیا کسی شریف آدمی کے مرتے وقت ایسا دیکھا گیا ہے کہ آگے کی طرف سے اور پیچھے کی طرف سے پاخانہ جاری ہو؟ مرزا ’’وبائی ہیضہ‘‘ کی موت مرا، اِدھر تم نے ’’وبائی ہیضہ‘‘ کہا اور اُدھر قادیانی بھاگا۔ اس کا حوالہ اور فوٹواسٹیٹ بھی ہمارے ختمِ نبوّت کے دفتر سے لے لو، اور ایک ایک قادیانی کو دکھاؤ۔

مولوی ثناء اللہؒ سے قادیانی مباہلہ کا نتیجہ:

مولوی ثناء اللہ امرتسریؒ سے مرزا نے مباہلہ کیا تھا اور بددُعا کی تھی، اس کا لمبا واقعہ ہے، بہرحال اس کا خلاصہ یہ ہے کہ مرزا نے اپریل ۷۰۹۱ء میں بددُعا کی کہ یا اللہ! مولوی ثناء اللہ مجھے دجال، کذّاب، مکار، جھوٹا، فریبی وغیرہ یہ، یہ کہتا ہے، یا اللہ! ہمارے درمیان میں سچا فیصلہ فرمادے، اگر میں واقعی تیری طرف سے ہوں تو مولوی ثناء اللہ میرے سامنے مرے، نہ انسانی ہاتھوں سے بلکہ خدائی عذاب سے، جیسے ہیضہ، طاعون، ایسے عذاب سے مرے، اور اگر میں جھوٹا ہوں اور مولوی ثناء اللہ سچا ہے تو ثناء اللہ کے مقابلے میں مجھے

545

موت دے دے اور ثناء اللہ کی زندگی میں۔ پھر نتیجہ کیا ہوا؟ اس مباہلہ کے ایک سال بعد مرزا وبائی ہیضہ سے مرگیا۔

مرزا قادیانی اپنی بددُعا کے نتیجے میں مرا، ایک سکھ جج کا فیصلہ:

یہاں درمیان میں ایک لطیفہ سنادوں، وہ یہ کہ جب مرزا مرگیا تو قادیانیوں نے بڑا شور مچایا، مولانا ثناء اللہ صاحبؒ نے لکھنا شروع کیا ... مولانا ثناءؒ اللہ اہلِ حدیث عالم تھے، ان کو لوگ فاتحِ قادیان کہا کرتے تھے، امرتسر میں رہتے تھے، اور ان کا مرزے کے ساتھ مقابلہ رہتا تھا۔ اللہ تعالیٰ ان کے درجات بلند فرمائے۔

آخرکار اس مسئلے پر گفتگو کے لئے مرزا کے ایک مرید میر قاسم علی نے طے کرلیا کہ لدھیانہ میں ہی اس موضوع پر مولانا ثناء اللہ سے مناظرہ ہوگا کہ مرزا صاحب جو مرے ہیں یہ اپنی بددُعا کے نتیجے میں مرے ہیں، یہ اس کے جھوٹے ہونے کی علامت ہے یا نہیں؟ اتفاق کی بات ہے کہ یہ جگہ بھی لدھیانہ میں آتی ہے، یہ مناظرہ بھی لدھیانہ میں طے ہوا۔ اب مشکل یہ پیش آئی کہ مناظرہ کا فیصلہ کرنے کے لئے جج کس کو بنایا جائے؟ اگر کسی مسلمان کو بناتے ہیں تو وہ مولوی ثناء اللہ کی رعایت کرے گا، اور اگر کسی مرزائی کو بناتے ہیں تو وہ ان کی رعایت کرے گا۔ بالآخر یہ بات ٹھہری کہ وہاں لدھیانہ کے ایک سردار صاحب اور خالصہ جی، جج تھے، خود میر قاسم علی نے اس کا نام پیش کیا کہ اس کو منصف بنالیا جائے اور تین سو روپے انعام رکھا گیا کہ جو ہار جائے وہ تین سو روپیہ جیتنے والے کو دے۔ لدھیانہ میں مولانا ثناء اللہ اور میر قاسم علی کا اس موضوع پر مناظر ہوا کہ مرزا نے جو بددُعا کی تھی، اس کے مطابق وہ مرا ہے یا نہیں؟ اور وہ مرکر اپنے جھوٹے ہونے پر مہر لگاگیا ہے یا نہیں؟ جج نے مناظرہ سننے کے بعد مولانا ثناء اللہؒ کے حق میں فیصلہ دے دیا اور تین سو روپے جیب میں ڈال کر مولانا امرتسر آگئے۔

مرزا وبائی ہیضہ سے مرا:

کہنا یہ ہے کہ اپنی اس پیش گوئی اور بددُعا کے نتیجے میں مرزا ہیضے کی موت مرا، اور

546

ہیضہ بھی وبائی ہیضہ، ہمارے پاس اس کا ثبوت بھی موجود ہے، آپ ختمِ نبوّت کے دفتر سے یہ بھی منگوائیں۔ چنانچہ ’’حیاتِ ناصر‘‘ نامی کتاب مرزا کے سسر (میر ناصر نواب) کی سوانح عمری ہے، اس کے صفحہ:۴۱ پر لکھا ہے کہ: میں حضرت صاحب کی خدمت میں حاضر ہوا، دس بجے رات ہیضہ ہوا تھا، دو بجے ہلچل مچ گئی تو کہتا ہے کہ میں دو بجے غالباً حاضر ہوا تھا، حضرت صاحب نے مجھے دیکھتے ہی فرمایا: میر صاحب! مجھے وبائی ہیضہ ہوگیا ہے۔ یہ آخری الفاظ تھے جو آپ کے منہ سے نکلے، اس کے بعد کوئی صاف بات میرے علم میں آپ نے نہیں کی۔ یہ مرزے کے آخری الفاظ ہیں: ’’میر صاحب! مجھے وبائی ہیضہ ہوگیا ہے‘‘ کلمہ کس کو نصیب ہوتا؟

تو میں کہتا ہوں کہ تم مرزائیوں سے وبائی ہیضہ کی بات کرو، بھانو کی بات کرو، اور ایسے دوسرے بہت سے نکتے ہم بتاسکتے ہیں۔ میں کہتا ہوں کہ قادیانی جو مسلمانوں کو مغالطہ دیتے ہیں، اور خواہ مخواہ پکڑ لیتے ہیں، اگر ہر مسلمان اس طرح کے دوچار نکتے یاد کرلے تو ان کے مقابلہ میں کوئی قادیانی نہیں ٹھہرسکے۔

مرزا کو حیض آتا تھا، وہ عورت تھی یا مرد؟

مرزا قادیانی کہتا ہے: ’’مجھے حیض آتا ہے!‘‘ بتاؤ! حیض عورت کو آیا کرتا ہے یا مرد کو آیا کرتا ہے؟ تو مرزا مرد تھا یا عورت تھی؟

مرزا کو دس ماہ حمل بھی رہا، وہ عورت تھی یا کھوتی؟

اسی طرح وہ کہتا ہے کہ: پہلے اللہ نے مجھے مریم بنایا، پھر میں مریمی حالت میں نشوونما پاتا رہا، اس کے بعد مجھے حمل ہوگیا اور دس مہینے تک میں حاملہ رہا۔

اُوے دس مہینے تے کھوتی حاملہ رہندی اے! (یعنی دس مہینے کا حمل تو گدھی کو ہوتا ہے)، مرزا کہتا ہے میں دس مہینے حاملہ رہا، اور اس کے بعد مجھ میں سے بچہ پیدا ہوا اور وہ تھا عیسیٰ، اس لئے میں عیسیٰ بن مریم ہوں۔ عیسیٰ بن مریم یعنی عیسیٰ بیٹا مریم کا، خود ہی مریم، خود ہی غلام احمد، اور خود ہی پیدا ہونے والا عیسیٰ...!

547

یہ تو ہم سنتے تھے کہ عیسائی لوگ کہتے ہیں کہ تین ایک ہے اور ایک تین ہیں، عیسائی تو آج تک ہمیں یہ معما نہیں سمجھاسکے تھے کہ تین ایک اور ایک تین کیسے ہوتا ہے؟ سوال یہ ہے کہ یہ مرزا غلام احمد قادیانی کا معما قادیانی لوگوں کو کیسے سمجھ میں آیا...؟

قادیانی اور اقوامِ متحدہ کا انسانی حقوق کمیشن:

دوسری بات جو مجھے عرض کرنی ہے وہ یہ کہ قادیانیوں کے چند سوالات ہیں، ان میں سے ایک سوال انہوں نے اقوامِ متحدہ کے انسانی حقوق کے کمیشن کے سامنے بھی پیش کیا ہے، آپ نے ریڈیو میں سنا اور اخباروں میں پڑھا ہوگا کہ اقوامِ متحدہ کے انسانی حقوق کے کمیشن کے سامنے انہوں نے اپنی یہ درخواست پیش کی کہ پاکستان میں جو قانون نافذ کیا گیا ہے، اس سے قادیانی (احمدی) اقلیت کے حقوق کی پامالی ہوئی ہے، چنانچہ اقوامِ متحدہ کے اس کمیشن نے حکومتِ پاکستان سے مطالبہ کیا ہے کہ اس قانون کو منسوخ کیا جائے اور اس قانون کی انہوں نے مذمت کی ہے۔ وہ کون سا قانون ہے؟ یہ وہ آخری قانون ہے جو ۲۶؍اپریل ۱۹۸۴ء جمعرات کی شام سے نافذ ہوا ہے کہ قادیانی، اسلامی اصطلاحات استعمال نہیں کرسکتے، قادیانی اپنی عبادت گاہوں کو مسجد نہیں کہہ سکتے، قادیانی اپنے آپ کو اسلام کی طرف منسوب نہیں کرسکتے، اپنے آپ کو مسلمان نہیں کہہ سکتے، اور قادیانی کسی مسلمان کو اپنے مذہب کی تبلیغ نہیں کرسکتے، یعنی جنرل محمد ضیاء الحق نے جو قانون نافذ کیا ہے، اس کی انسانی حقوق کے ادارے نے مذمت کی ہے اور حکومتِ پاکستان سے اپیل کی ہے کہ اس قانون کو واپس لیا جائے۔

یہاں اس سلسلے میں ایک دو باتیں عرض کرنا چاہتا ہوں، سب سے پہلی بات یہ ہے کہ قادیانیوں کا ہم پر اعتراض ہے کہ اس قانون کی وجہ سے ہمارے حقوق کو پاکستان میں پامال کیا جارہا ہے، میرے جو لکھے پڑھے بھائی ہیں، ان میں سے بعض تو ایسے ہیں کہ وہ چشم بددور! اللہ تعالیٰ کے قرآن اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث پر کم ایمان رکھتے ہیں، مگر ان لوگوں کی باتوں پر زیادہ ایمان رکھتے ہیں، یعنی جو بات مغرب کی طرف سے آجائے، وہ اس

548

کو حجت و سند مانتے ہیں، یقینا ایسے لوگ قادیانیوں اور اقوامِ متحدہ کے کمیشن کے اعتراض سے متأثر ہوئے ہوں گے۔

قادیانی پاکستان کے دُشمن ہیں:

اس سلسلے میں پہلی بات تو مجھے یہ عرض کرنا ہے کہ اس قرارداد سے اور قادیانیوں کی اس درخواست سے جو انہوں نے اقوامِ متحدہ میں پیش کی ہے، یہ بات تو معلوم ہوگئی کہ قادیانی پاکستان کے دشمن ہیں۔ دیکھو بھائی! عدالت میں دو فریق جاتے ہیں، ایک مدعی ہوتا ہے اور دوسرا مدعا علیہ، مدعی اور مدعا علیہ کے درمیان میں اگر دوستی ہوتی تو ان کو اپنا مقدمہ عدالت میں لے جانے کی ضرورت ہی نہ تھی، کیوں جی! اگر ان کی دوستی ہوتی اور آپس میں جھگڑا اور دشمنی نہ ہوتی تو معاملہ عدالت میں لے جانے کی ضرورت ہی نہیں تھی، بلکہ اپنے گھر میں طے کرسکتے تھے، ہاں! عدالت میں جھگڑا اور مقدمہ لے جانے کی ضرورت اس لئے پیش آئی کہ دونوں ایک دوسرے کے دشمن ہیں۔ قادیانیوں نے اقوامِ متحدہ کے انسانی حقوق کے کمیشن کو درخواست دی تو اس سے یہ بات واضح ہوگئی کہ قادیانی، پاکستان کے اور پاکستان کے قانون کے دشمن ہیں، یہی وجہ ہے کہ وہ اس کو تسلیم کرنے کے لئے تیار نہیں۔

قادیانی ہندؤوں، سکھوں اور عیسائیوں سے بھی زیادہ پاکستان کے دُشمن ہیں:

دوسری بات یہ کہ آپ حضرات کو معلوم ہے کہ اقوامِ متحدہ کی قراردادیں کیا قیمت رکھتی ہیں؟ وہ مجھے بھی معلوم ہے، آپ کو بھی معلوم ہے، فلسطینیوں کے بارے میں اقوامِ متحدہ کتنی قراردادیں پاس کرچکا ہے؟ کشمیر کے مسئلے میں کتنی قراردادیں پاس ہوچکی ہیں؟ قبرص کے مسلمانوں کے بارے میں کتنی قراردادیں پاس ہوچکی ہیں، وغیرہ وغیرہ، اور جنوبی افریقہ کے کالوں کے بارے میں کتنی قراردادیں پاس ہوچکی ہیں، یہ دیکھو کاغذ کا ایک پُرزا ہے، اس کی بھی کوئی قیمت ہوتی ہے، کیونکہ آدمی اس کو جلاسکتا ہے یا کم از کم نسوار کی پڑیا بناسکتا ہے، مگر اقوامِ متحدہ کی قراردادوں کی اتنی بھی قیمت نہیں ہے کہ اس کو جلانے یا نسوار کی پڑیا بنانے کا کام لیا جائے۔ یہ مجھے بھی معلوم ہے، آپ کو بھی معلوم ہے کہ اس قرارداد کی کوئی

549

قیمت نہیں ہے، اقوامِ متحدہ کی قرارداد سے ہماری صحت پر کوئی اثر نہیں پڑے گا، لیکن ایک بات ضرور ہے، وہ یہ کہ تمام دنیا کی نظریں ان کی طرف متوجہ ہوجائیں گی اور وہ یہ کہیں گے کہ واقعتا پاکستان میں اقلیتوں کے حقوق غصب کئے جارہے ہیں، اس سے پاکستان بدنام ہوگا۔ میں کہتا ہوں کیا کبھی کسی ہندو، سکھ، پارسی، عیسائی اور کسی دوسرے مذہب والے نے پاکستان کے خلاف یہ الزام لگایا ہے کہ وہ اقلیتوں کے حقوق کو پامال کر رہا ہے؟ یہ پہلی اقلیت ہے جس نے پاکستان پر یہ الزام لگایا ہے کہ وہ اقلیتوں کے حقوق غصب کر رہا ہے، گویا قادیانیوں کا اقوامِ متحدہ کے کمیشن میں یہ درخواست دینا پاکستان کو بدنام کرنے کی سازش ہے۔

اِمتناعِ قادیانیت آرڈی نینس کسی کی آزادی سلب نہیں، حدود متعین کرتا ہے:

تیسری بات اس سلسلے کی یہ ہے کہ ہم نے اس قانون کے ذریعہ کون سا حق غصب کیا ہے؟ صرف یہی ناں کہ ان پر پابندی لگادی گئی ہے کہ یہ کلمہ نہیں پڑھ سکتے، یہ اپنی عبادت گاہ کو مسجد نہیں کہہ سکتے، وغیرہ وغیرہ۔

اس کے لئے میں ایک بات عرض کرتا ہوں اور یہ بات اچھی طرح سمجھ لینی چاہئے، آپ تو ماشاء اللہ سمجھے ہوئے ہوں گے، لیکن میں اپنا سبق دُہرانے کے لئے عرض کر رہا ہوں، استاذ کو سبق سنایا بھی تو جاتا ہے، میں اپنا سبق آپ حضرات کو سنانے کے لئے عرض کرتا ہوں، یہ نہیں کہ آپ مجھ سے سمجھیں گے، نہیں، نہیں! مجھے توقع ہے کہ آپ تو ماشاء اللہ پہلے سے ہی سمجھے ہوئے ہوں گے، لیکن میں ذرا اپنا آموختہ دُہراتا ہوں۔

اس مسئلہ کو میں ایک مثال کے ذریعہ سمجھانا چاہوں گا، مثلاً: ایک شخص اس طرح اپنا ہاتھ فضا میں لہرا رہا تھا کہ دوسرے کے کان پر زور سے لگا، اس نے کہا: میاں! عقل رکھتے ہو کہ نہیں؟ تم اس طرح ہاتھ لہرا رہے ہو۔ وہ کہنے لگا: میں آزاد فضا میں سانس لے رہا ہوں اور مجھے ہاتھ پھیلانے کی مکمل آزادی ہے، مجھ پر کوئی پابندی نہیں لگاسکتا! اس پر دوسرے نے کہا کہ: آپ بجا فرماتے ہیں، آپ کو مکمل آزادی ہے، لیکن آپ کی آزادی اس حد تک

550

ہے، جہاں تک میرا کان شروع نہیں ہوتا، جہاں سے میرے کان کی حد شروع ہوجاتی ہے، وہاں آپ کی آزادی ختم!

ٹھیک اسی طرح یہ بات انصاف کی ہے کہ قادیانیوں کو مکمل آزادی ہے، لیکن ان کی یہ آزادی وہاں تک ہے، جہاں تک اسلام کی حد شروع نہیں ہوتی، جب یہ بات سمجھ میں آگئی، تو اب سمجھئے ہم نے ان پر کیا پابندی لگائی ہے؟ ہم نے ان سے یہ نہیں کہا کہ: تم اپنی جس طرح عبادت کرتے ہو نہ کرو، ہم نے انہیں کہا کہ چونکہ تم کافر ہو اور اذان دیتے ہو، اور اذان مسلمانوں کا شعار ہے، اذان سن کر ایک مسلمان تمہارے پیچھے آکھڑا ہوتا ہے اور نماز پڑھ لیتا ہے، کیا اس کی نماز ہوجائے گی؟ اذان ہمارا شعار اور اسلام کی علامت ہے، مسجد اسلام کی علامت ہے، چنانچہ ابوداؤد اور حدیث شریف کی دوسری کتابوں، بلکہ ترمذی شریف میں بھی یہ حدیث موجود ہے کہ:

’’کان رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اذا بعث جیشًا او سریۃً یقول لھم: اذا رأیتم مسجدًا او سمعتم مؤذنًا، فلا تقتلوا احدًا!‘‘

(ترمذی ج:۱ ص:۱۸۷)

ترجمہ:... ’’آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم جب صحابہ کرامؓ کو باہر جہاد کے لئے بھیجتے تھے، تو ارشاد فرمایا کرتے تھے: جب تم اذان سنو یا کسی بستی میں مسجد دیکھو تو اپنے ہاتھ روک لو اور ان کو قتل نہ کرو!‘‘

اس لئے کہ اذان کی آواز کا آنا اور مسجد کا ہونا، یہ بستی کے مسلمان ہونے کی علامت ہے۔

ہم نے قادیانیوں سے اپنا اور اسلام کا دامن چھڑایا ہے:

تو ہم نے صرف اتنا کہا کہ چونکہ قادیانیوں نے اپنے کفر کو اسلام باور کراکر جو ہمارا گلا پکڑا ہوا تھا، ہم نے قانون کی روشنی میں ان کے کفر و زندقہ سے تھوڑا سا اپنا اور اسلام کا پیچھا چھڑانے کی کوشش کی ہے، اور کہا ہے کہ: تمہارا اسلام اور ہمارے ساتھ کوئی تعلق نہیں

551

ہے، اس لئے ہمارا پنڈ چھوڑو۔ ہم نے ان پر کوئی پابندی نہیں لگائی، بلکہ صرف اتنا کہا ہے کہ خدا کے لئے اسلام میں مداخلت نہ کرو، تمہیں آزادی ہے، مگر اسلام کے دائرے سے باہر باہر تک کی آزادی ہے، اسلام کے اندر نہیں، کیوں بھائی! یہ بات منصفانہ ہے کہ نہیں؟

چور کو چوری سے روکنا، انسانی حقوق کی خلاف ورزی ہے؟

اب میں انسانی حقوق کے کمیشن سے یہ بات پوچھنا چاہتا ہوں کہ اگر ظفراللہ خان قادیانی کا ایک مکان ہو، اور چور اس میں نقب لگانا چاہتا ہو، تو کیا چور کو اس نقب لگانے کی اجازت ہونی چاہئے؟ اگر جواب نفی میں ہے، تو سوال یہ ہے کہ اگر حکومت اس چور کے خلاف کوئی قانون بنائے تو کیا چور کو بھی یہ حق حاصل ہوگا کہ وہ انسانی حقوق کے کمیشن میں دعویٰ کرے کہ جی میرے انسانی حقوق تلف ہو رہے ہیں، یا اس کے حقوق غصب کئے جارہے ہیں، اور مجھے اپنا پیشہ نہیں کرنے دیا جاتا، کیونکہ لوگوں کے مکانوں میں نقب لگانا میرا پیشہ ہے، اور یہ میرے پیشے پر پابندی لگاتے ہیں، یہ میری معاش پر پابندی لگاتے ہیں، حکومتِ پاکستان بڑی ظالم ہے، اس کے خلاف قراردادِ مذمت ہونی چاہئے۔

انسانی حقوق کے کمیشن میں کوئی بزرچ مہر کوئی عقل مند اور افلاطون ایسا ہے جو اس کی تائید کرے گا؟ یقینا کوئی عقل مند اس کی تائید نہیں کرے گا، اس لئے کہ یہ اپنی جگہ ٹھیک ہے کہ نقب لگانے والا نقب لگاتا ہے اور یہ اس کا پیشہ ہے، اور اس کو اس پیشہ اختیار کرنے سے شاید کوئی منع نہ کرے، مگر اس کو نقب لگانے کی اس وقت تک آزادی اور اجازت دی جاسکتی ہے، جب تک کہ اس کے نقب سے کسی کی جائیداد و املاک اور آزادی میں خلل واقع نہ ہو، لیکن اگر اس کے نقب سے دوسرے کی جان، مال، جائیداد اور مکان میں مداخلت کی گئی، تو اس کا نقب لگانا دوسرے کے حقوق میں مداخلت ہوگی، اس لئے نقب لگانے والا مجرم کہلائے گا، نہ کہ وہ جو اس کی روک تھام کے لئے قانون سازی کرے گا۔

قادیانی قلعۂ اسلام میں نقب لگاتے ہیں:

ٹھیک اسی طرح قادیانیوں نے کافر، پکے کافر اور چٹے کافر ہونے کے باوجود

552

قلعۂ اسلام میں نقب لگائی اور پورے نوے۰۹ سال تک وہ اس میں داخل رہے، اسلام کے نام پر لوٹ مار کرتے رہے، صرف اسلام اور مسلمانوں کو ہی نہیں، بلکہ پوری دنیا کو دھوکا دیتے رہے، اسلام کے اندر گھس کر جو کچھ ان سے لوٹ مار ہوسکی انہوں نے کی، نوے سال تک ان کو مہلت ملی رہی، بالآخر ان کا وہ سوراخ بند کردیا گیا، جہاں سے انہوں نے نقب لگائی تھی، اور ان کو غیرمسلم اقلیت قرار دے کر اس قلعۂ اسلام سے باہر کردیا گیا، اب باہر کئے جانے کے باوجود یہ مدعی تھے کہ یہ مکان تو ہمارا تھا، ہم لوٹ مار کرتے تھے، ہمیں لوٹ مار کرنے سے کیوں منع کیا گیا؟ ہم نے کہا اب تم ایسا نہیں کرسکتے، اب تمہیں اس کی اجازت نہیں ہوگی۔ آپ ہی انصاف فرمائیے کہ حکومتِ پاکستان کا یہ قانون انصاف پر مبنی ہے یا اقوامِ متحدہ کے کمیشن نے اس کے خلاف جو قرارداد پاس کی ہے وہ انصاف پر مبنی ہے؟

کیا مسلمانوں کے کوئی حقوق نہیں؟

میں نے جب سے یہ بات سنی ہے، اس وقت سے آج تک یہی سوچ رہا ہوں کہ یا اللہ وہ کیسے لوگ ہیں؟ جن کو اتنی بھی تمیز نہیں کہ انسانی حقوق کیا ہوتے ہیں؟ اور ان کی پامالی کیا ہوتی ہے؟ یہ کیسے انسانی حقوق کے ماہرین ہیں؟ کیا مسلمان انسانی حقوق نہیں رکھتے؟ سوال یہ ہے کہ مسلمانوں کے حقوق میں جو قوم، ٹولہ یا جو گروہ مداخلت کرتا ہے، کیا ہم ان کو نہ روکیں؟

وہی قاتل، وہی شاہد، وہی منصف!

چوتھے نمبر کی بات یہ ہے کہ مشہور شعر:

  1. وہی قاتل، وہی شاہد، وہی منصف ٹھہرا!

    اقربا میرے کریں خون کا دعویٰ کس پر؟

کے مصداق قرارداد پیش کرنے والے بھی قادیانی، گواہی دینے والے بھی قادیانی، گویا مدعی بھی وہ خود اور گواہ بھی، دوسری جانب سے مسلمانوں کی طرف سے دفاع کرنے والا کوئی نہیں ہے، اگر ہماری طرف سے کوئی وکالت کرتا یا جواب دیتا تو وہ ہمارا سفیر ہی تھا، یعنی جنیوا

553

میں جو ہمارا سفیر اور پاکستان کا نمائندہ تھا، وہ ہماری وکالت کرتا اور یہ کہتا کہ اقوامِ متحدہ میں میرے ملک کے خلاف جو قراردادِ مذمت پاس کی جارہی ہے وہ غلط ہے، میں اس کے خلاف احتجاج کرتا ہوں اور میں دلائل دیتا ہوں۔ الغرض پاکستان کے نمائندہ کو یہ کام کرنا چاہئے تھا، مگر افسوس کہ جب جنیوا میں متعین پاکستانی سفیر خود ہی قادیانی ہے، تو وہ کیونکر پاکستان کی وکالت کرے گا؟ ظاہر ہے وہ تو قادیانیوں کی وکالت کرے گا، اب آپ خود ہی اندازہ لگالیجئے کہ انصاف کی کس سے توقع کی جائے؟ کیونکہ قرارداد پیش کرنے والے، گواہی دینے والے، اور ہماری طرف سے جس نے نمائندگی اور وکالت کرنی تھی وہ بھی قادیانی ہوں، تو چشم بددُور! مقدمہ پاکستان کے حق میں جائے گا یا مخالفت میں؟

میں یہ پوچھنا چاہتا ہوں کہ جنیوا میں اس قادیانی منصور احمد کو کیوں بٹھلایا گیا ہے؟ وہ کس مرض کی دوا ہے؟ کیا اقوامِ متحدہ کے ادارے میں پاکستان کی نمائندگی قادیانی کرے گا؟ کیا پاکستان میں دوسرا کوئی مسلمان نہیں تھا کہ ایک قادیانی کو پاکستان کی نمائندگی کا فریضہ سپرد کیا گیا ہے؟

تازہ ترین معلومات کے مطابق اس وقت منصور احمد کو جاپان کا سفیر بنادیا گیا ہے، اور اس کی جگہ جس کو لایا گیا ہے وہ بھی قادیانی ہے۔

ہم نے پاکستان میں قادیانیوں پر پابندی عائد کی ہے، بلکہ ہماری حکومت نے پابندی عائد کی ہے، اور حکومت نے بھی مفت میں نہیں کی، بلکہ اس کے لئے ایک زبردست تحریک چلی، جس کے نتیجے میں یہ پابندی عائد کی گئی ہے۔ میں اس وقت اس کی داستان نہیں بیان کرنا چاہتا، مجھے کہنا یہ ہے کہ پاکستان نے قادیانیوں پر کچھ پابندیاں عائد کی ہیں، لیکن قادیانیوں کی جو اصل سزا ہے اس کی نسبت یہ پابندی کوئی پابندی ہی نہیں ہے۔

قادیانیوں کی اصل سزا؟

سوال یہ ہے کہ قادیانیوں کی اصل سزا کیا ہے؟ وہ میں آپ حضرات کو بتانا چاہتا ہوں۔ قادیانی چونکہ زندیق و مرتد ہیں، اور مرتد و زندیق کی سزا یہ ہے کہ اُسے قتل

554

کردیا جائے، جیسا کہ صحیح بخاری میں سزائے مرتد کے سلسلہ کا ایک قصہ مذکور ہے کہ حضرت معاذ بن جبل اور حضرت ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہما، ان دونوں بزرگوں کو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے یمن بھیجا تھا، یعنی ایک کو ایک علاقے میں، دوسرے کو دوسرے علاقے میں، حضرت معاذ بن جبلؓ ایک دفعہ حضرت ابوموسیٰ اشعریؓ سے ملنے کے لئے گئے، تو دیکھا کہ انہوں نے ایک آدمی کو دھوپ میں کھڑا کیا ہوا ہے، یہ ابھی سواری پر ہی تھے کہ پوچھا: آپ نے اس کو دھوپ میں کیوں کھڑا کر رکھا ہے؟ وہ کہنے لگے کہ: یہ مرتد ہوگیا ہے! یعنی پہلے مسلمان ہوا، اس کے بعد اسلام سے پھر گیا، اس لئے بطورِ سزا کے کھڑا کر رکھا ہے۔ حضرت معاذ بن جبلؓ نے فرمایا: اللہ کی قسم! میں سواری سے اس وقت تک نیچے نہیں اُتروں گا، جب تک اس کو قتل نہیں کردیا جاتا، اس لئے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے کہ: ’’من بدل دینہ فاقتلوہ!‘‘ (جو شخص اپنے دین کو تبدیل کردے اس کو قتل کردو!) یعنی یہ بات میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے خود اپنے کانوں سے سنا ہے، چنانچہ اس مرتد کو قتل کیا گیا اور یہ سواری سے نیچے اُترے۔

قادیانیوں کی سزا بوجۂ اِرتداد و زَندقہ، قتل ہے:

قادیانی چونکہ مدعیٔ نبوّت کو ماننے والے ہیں، اس لئے زندیق اور مرتدوں کے حکم میں ہیں، اور ان کی سزائے ارتداد ... قتل ہے ... اس لئے اب ہم حکومت سے مطالبہ کرتے ہیں کہ حکومت ان پر سزائے ارتداد جاری کرے، جب حکومت ان پر سزائے ارتداد جاری کرے گی، اس وقت ان کو پتہ چلے گا کہ پاکستان نے ان پر پابندی عائد نہیں کی تھی، بلکہ ان کے ساتھ رحم و کرم کا معاملہ کیا تھا۔

اگر کسی ملک کے باغی کا قتل جائز ہے، تو محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے باغی کا کیوں نہیں؟

قادیانیو! تم اپنے طرزِ عمل سے وہ وقت لانا چاہتے ہو کہ عالم اسلام میں جہاں کہیں کوئی قادیانی ملے، اس پر سزائے ارتداد جاری کی جائے؟ اور تم پر سزائے موت جاری

555

کی جائے؟ پھر اس وقت تم دنیا کو کہو گے کہ ہائے ہم پر ظلم ہوگیا، اگر ایسا مرحلہ آگیا تو میں اس وقت بھی جواب دوں گا کہ یہ ظلم نہیں ہے، عینِ انصاف ہے، اس لئے کہ اگر کسی ملک کے باغی کو قتل کیا جاتا ہے کیونکہ اس کی سزا قتل ہے، تو محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے باغی کی سزا بھی قتل ہے!

روس، امریکہ، برطانیہ، فرانس، جرمنی یا بڑے سے بڑا کوئی ایسا مہذب ملک بتاؤ، جس میں باغی کو سزائے موت نہ دی جاتی ہو؟ مجھے بتلاؤ کہ کوئی ایسا ملک ہے جس میں باغی کو سزائے موت نہ دی جاتی ہو؟ اگر ایسا کوئی ملک نہیں ہے تو سوال یہ ہے کہ ملک کے باغی کو سزائے موت دی جاسکتی ہے تو اسلام کے قانون میں محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے باغی کو بھی سزائے موت ملے گی۔

تم انسانی حقوق کے کمیشن کے پاس جاؤ، اور درخواستیں دو، لیکن محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے غلاموں کو انسانی حقوق کے کمیشن کی کوئی پرواہ نہیں ہے۔

احمقوں کے لئے اسلام کا قانون نہیں بدل سکتے:

ایک صحابی حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ کا قصہ ہے، کھانا کھارہے تھے، اتفاق سے لقمہ نیچے گرگیا، انہوں نے اُٹھایا اور صاف کرکے کھالیا۔ کسی پاس بیٹھنے والے نے کہا: اس علاقے کے لوگ اس کو معیوب سمجھتے ہیں کہ جو لقمہ نیچے گرجائے اس کو صاف کرکے کھالیا جائے، اس پر نہایت جوش سے فرمایا: ’’أاترک سنۃ نبی صلی اللہ علیہ وسلم لھؤلَاء الحمقاء؟‘‘ (کیا میں ان احمقوں کی خاطر اپنے نبی کی سنت چھوڑ دوں؟)۔

اسی طرح میں بھی کہنا چاہتا ہوں کہ کیا ہم ان احمقوں کی خاطر اسلام کے قانون کو بدل دیں؟ کیا ہم امریکہ، برطانیہ اور مغرب کے لوگوں کی خاطر اسلام کے قانون کو بدل دیں؟ کلّا ورب الکعبۃ! ربِّ کعبہ کی قسم ایسا نہیں ہوگا! مرتد کی سزا موت ہے اور یہ سزا برحق ہے، اور یہ قادیانیوں پر جاری ہوکر رہے گی، تم ہمارے صبر کا کب تک امتحان لینا چاہتے ہو؟ تمہیں معلوم ہے کہ ایک پوری صدی سے ہم صبر کر رہے ہیں، ہم تمہیں رعایتیں

556

دے رہے ہیں، تمہیں نواز رہے ہیں، تمہاری منت سماجت کر رہے ہیں اور تم نخرے کر رہے ہو، جس دن سزائے موت جاری ہوگئی، اس دن تمہیں پتہ چلے گا کہ تمہارے ساتھ اب تک بہت رعایت کی جاتی رہی، اِن شاء اللہ پھر تم دیکھو گے کہ اس وقت قادیانی اس طرح چھپیں گے، جس طرح چوہا اپنے بل میں چھپ جاتا ہے۔

پاکستان میں قادیانیوں کی تعداد؟

ایک آخری بات کرکے ختم کرتا ہوں، وہ یہ کہ ایک بزرگ نے ایک سوال کیا کہ قادیانیوں کی کتنی تعداد ہے؟ ہم نے کہا کہ: پاکستان میں قادیانیوں کی کل تعداد ایک لاکھ چار ہزار تین سو ستر ہے، وہ کہنے لگے: جی نہیں! اتنے تو نہیں، کیونکہ کچھ ایسے بھی ہوں گے، جنہوں نے اپنے آپ کو مسلمان لکھوایا ہوگا، میں نے کہا: چلو ان کو دس ہزار فرض کرلو! کہنے لگے: نہیں! اس سے زیادہ ہوں گے۔ میں نے کہا: چلو بیس ہزار فرض کرلو! کہنے لگے: نہیں! زیادہ ہوں گے۔ میں نے کہا: چلو ایک لاکھ فرض کرلو! تب بھی پاکستان میں قادیانیوں کی تعداد دو لاکھ ہوئی۔

اس معمولی اقلیت کے لئے قانون کا سہارا کیوں؟

اس پر وہ کہنے لگے کہ: جی میں ایک بات پوچھتا ہوں! وہ یہ کہ جب قادیانی اتنی چھوٹی سی اقلیت میں ہیں اور اتنی مختصر سی اقلیت ہے، اور مسلمانوں کی اکثریت بلکہ بھاری اکثریت ہے، تو قادیانیوں کی مخالفت کے لئے قانون کا کیوں سہارا لینا پڑا؟ تبلیغ کے ذریعہ یہ کام کرنا چاہئے تھا، آخر اس کے لئے قانون کا سہارا لینے کی کیا ضرورت ہے؟

میں کہتا ہوں یہ بات بھی مرزا طاہر کی بتائی ہوئی ہے جو ہمارے اس بزرگ تک پہنچ گئی ہوگی، موصوف کی یہ بات سن کر مجھے اتنا غصہ آیا کہ میں سر سے پاؤں تک جل گیا، یقینا میرے رُفقا متانت سے کوئی جواب سوچ رہے ہوں گے کہ اس کا کیا جواب دیا جائے؟ لیکن چونکہ مجھے تو آگ لگ گئی تھی، اس لئے میں نے فوراً کہا: جی کیا مطلب؟ کہنے لگے کہ: قادیانیوں پر جو قانونی پابندی عائد کی گئی ہے، اس کا سہارا لینے کی کیا

557

ضرورت تھی؟ جب ہمارا مذہب برحق ہے اور ان کا مذہب جھوٹا ہے، ہم اکثریت میں ہیں اور وہ معمولی سی اقلیت ہے، تو ان پر قانونی پابندی کیوں عائد کی گئی؟ قانون کا سہارا لینے کی آخر کیا ضرورت پیش آئی؟

جواب:... میں نے کہا کہ: جی! پاکستان میں چوروں کی اکثریت ہے یا شریفوں کی؟ کہنے لگے کہ: اجی! چور تو بہت چھوٹی سی اقلیت ہے۔ میں نے کہا کہ: چوری بند کرنے کے لئے قانون کا سہارا کیوں لیا جاتا ہے؟ بس اس پر وہ بیچارے خاموش ہوگئے، اس سے آگے انہوں نے کوئی بات نہیں کی۔

میرے بھائیو! یہ بات بھی قادیانیوں نے پڑھائی ہے، یا ممکن ہے کہ ذہنی توارد ہوگیا ہو، یعنی قادیانی بھی وہی بات کہتے ہیں اور ہمارے اس سرکاری ’’بزرگ‘‘ کے ذہن میں بھی وہی بات قدرتی طور پر آگئی ہو... ذہنی مناسبت کی وجہ سے ...۔

قانون کا ایک میدان ہے:

یہ بات یاد رکھو کہ تبلیغ اور دعوت کا بھی اپنی جگہ ایک میدان ہے، اور الحمدللہ علماء نے اپنا فرض ادا کرنے میں کبھی کوتاہی نہیں کی، بلاشبہ ہم بہت کمزور ہیں اور ہم اپنی تقصیرات کا اللہ کی بارگاہ میں اقرار اور اعتراف بھی کرتے ہیں، لیکن الحمدللہ! اس کے باوجود علمائے حق نے کبھی بھی تبلیغ کے میدان میں کوتاہی نہیں کی، لیکن جس طرح تبلیغ کا ایک میدان ہے، ٹھیک اسی طرح ایک میدان قانون کا ہے۔

سارے کام تبلیغ سے نہیں چلتے:

جہاں تک تبلیغ کا میدان ہے وہ بھی اپنی جگہ ہونا چاہئے، لیکن جہاں قانون کا میدان ہے وہ بھی اپنی جگہ ہونا چاہئے، یہ مطلب نہیں ہے کہ سارے کام تبلیغ ہی سے چلا کریں۔

حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد گرامی آپ نے سنا ہوگا:

’’من رأی منکم منکرًا فلیغیرہ بیدہ فان لم یستطع فبلسانہ وان لم یستطع فبقلبہ وذالک اضعف
558

الْإیمان۔‘‘

(مستدرک حاکم ج:۳ ص:۲۰)

ترجمہ:... ’’جو شخص تم میں سے کسی برائی کو دیکھے اسے چاہئے کہ ہاتھ سے روک دے، اس کی طاقت نہ ہو تو زبان سے روک دے، اس کی بھی طاقت نہ ہو تو اُسے دل سے بُرا جانے، اور یہ ایمان کا کمزور تر درجہ ہے۔‘‘

چونکہ دعوت و تبلیغ زبان سے ہوتی ہے، اس لئے اس کا درجہ درمیان کا ہے، اصل درجہ ہے ہاتھ سے روکنے کا، اور علماء نے فرمایا ہے کہ ہاتھ سے روکنا حکومت کا کام ہے۔ اسی کو قانونی پابندی کہتے ہیں۔

منکرات کا روکنا حکومت کا فرض ہے:

تو منکرات اور برائیوں کا روکنا، چاہے زنا ہو، چاہے چوری ہو، چاہے شراب نوشی ہو، یا مدعیانِ نبوّت کا فتنہ ہو، یا منکرینِ حدیث کا فتنہ ہو یا دوسرے فتنے ہوں، ان کو روکنا سب سے زیادہ، سب سے اوّل نمبر پر، حکومت کی ذمہ داری ہے، اس لئے یہ کہنا کہ تبلیغ کے ذریعہ ان کو روکو، بہت غلط بات ہے، جو کہ شیطان نے اپنے چیلوں کو پڑھائی ہے۔

ہم ہر قادیانی کو ہر وقت سمجھانے کو تیار ہیں:

ہاں! ہم تبلیغ بھی کرتے ہیں، مناظرے بھی کرتے ہیں، کیونکہ علماء کا کام ہے بحث کرنا، مناظرہ کرنا، دلائل سے سمجھانا۔ ہم دلائل سے سمجھانے کے لئے ہر وقت تیار ہیں، اور ہر قادیانی کو سمجھانے کے لئے تیار ہیں، جو بھی سمجھنا چاہے بشرطیکہ وہ سمجھنا بھی چاہے، لیکن جو سمجھنا نہ چاہے، ’’خَتَمَ اللہُ عَلٰی قُلُوْبِھِمْ‘‘ (اللہ نے ان کے دلوں پر مہر کردی ہے) ، ظاہر بات ہے کہ مہرشدہ دلوں کے اندر ہم حق اور ہدایت کو نہیں اُتار سکتے، کیونکہ ارشادِ الٰہی ہے: ’’اِنَّکَ لَا تَھْدِیْ مَنْ اَحْبَبْتَ وَلٰکِنَّ اللہَ یَھْدِیْ مَنْ یَشَآئُ‘‘ ۔

یعنی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو فرمایا گیا کہ آپ جس کو چاہیں اس کو ہدایت نہیں دے سکتے، اللہ جس کو چاہے ہدایت دے، نبی کا کام بھی ہدایت کی بات پہنچادینا ہے،

559

ہدایت کی بات دل میں اُتاردینا نہیں ہے۔

ہم ایمان دِلوں میں نہیں اُتار سکتے:

لوگ ہم سے یہ مطالبہ کرتے ہیں کہ قادیانیوں کو سمجھاؤ، آخر یہ کیوں نہیں سمجھتے؟ ہم کہتے ہیں کہ: ہم ان کے کانوں تک پہنچاسکتے ہیں، ان کے دلوں میں اُتارنا ہمارا کام نہیں ہے۔

علماء کے مناظروں سے حکومت کی ذمہ داری ختم نہیں ہوتی:

لیکن علماء کے مناظرے اور مباحثے سے حکومت کی ذمہ داری ختم نہیں ہوجاتی، حکومت پر لازم ہے کہ جس طرح وہ ڈاکوؤں اور چوروں کے خلاف قانون بناتی ہے، اسی طرح ان کذّابوں کے خلاف بھی قانون بنائے اور ان پر سزا جاری کرے۔

غیرجانبداری کا وبال:

اب میں چاہتا ہوں کہ اس موضوع کو ختم کردوں، البتہ آخر میں ایک بات ضرور کہنا چاہوں گا، وہ یہ کہ ہم لندن میں جنگ اخبار کے دفتر گئے، وہاں کا ایک اخبار نویس، جو کچھ مشکوک سا آدمی تھا، اس نے کہا کہ: جی ہم نے تو یہ فیصلہ کیا تھا کہ ہم غیرجانبدار رہیں گے، نہ قادیانیوں کی طرف داری کریں گے، نہ مسلمانوں کی طرف داری کریں گے، بلکہ دونوں کی چیزیں شائع کریں گے اور دونوں کی خبریں شائع کریں گے، دونوں کے اشتہار شائع کریں گے، میں نے کہا: بھائی! بڑی اچھی بات ہے، بڑی سوہنی گل اے! قیامت کے دن ایک طرف محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا اور آپؐ کی اُمت کا کیمپ ہوگا، اور ایک طرف ملعون، دجال، خبیث، مرتد مرزا غلام احمد قادیانی اور اس کی مرتد ذرّیت کا کیمپ ہوگا، اور تم درمیان میں کھڑے ہوجانا اور کہنا کہ ہم غیرجانبدار رہنا چاہتے ہیں، نہ اِس طرف، نہ اُس طرف۔ کیوں بھائی! تم میں سے جو غیرجانبدار رہنا چاہتا ہو، وہ ہاتھ کھڑا کرے، کیا تم غیرجانبدار رہنا پسند کروگے، نہیں! ہرگز نہیں...!

560

غیرجانبدار، منافق ہے:

اللہ تعالیٰ اس غیرجانبداری سے بچائے، اسی کو اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے: ’’لَا اِلٰی ھٰؤُلَآءِ وَلَا اِلٰی ھٰؤُلَآءِ‘‘ نہ اِدھر، نہ اُدھر، ایسے غیرجانبداروں کو اللہ تعالیٰ نے منافق فرمایا ہے، جب یہ بات طے ہوگئی تو اب سمجھو کہ جو شخص بھی ’’لا الٰہ الا اللہ محمد رسول اللہ‘‘ کا قائل ہے، اس کو اس دائرے میں آنا پڑے گا جو محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اُمت کا دائرہ ہے، اُسے اس کیمپ میں آنا پڑے گا جو محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اُمت کا کیمپ ہے، اور اس کو مجلس تحفظ ختمِ نبوّت کا رکن بننا پڑے گا، کیوں بھائی! ٹھیک ہے ناں؟

ختمِ نبوّت کے کارکن بنو!

بھائی! یہ سمجھ لو کہ تمام مسلمان، مجلس تحفظ ختمِ نبوّت کے کارکن اور اس کے رکن ہیں، الحمدللہ! میں اپنے دوستوں سے کبھی کبھی کہا کرتا ہوں کہ تم جس ملک میں چلے جاؤ، جس جگہ چلے جاؤ، جس مسجد میں چلے جاؤ، وہ تمہاری ختمِ نبوّت کا مرکز ہے اور تمہارا دفتر ہے۔ ہر مسلمان الحمدللہ! مجلس تحفظ ختمِ نبوّت کا رکن ہے، کیونکہ وہ ختمِ نبوّت پر عقیدہ اور ایمان رکھتا ہے۔

تقسیمِ کار:

لیکن اسی کے ساتھ ساتھ یہ بھی معلوم ہونا چاہئے کہ کام کرنے والے تھوڑے لوگ ہوتے ہیں، کیونکہ کچھ لوگ جہاد کرنے والے ہوتے ہیں، کچھ لوگ ان کو امداد پہنچانے والے ہوتے ہیں، کچھ اخلاقی مدد، کچھ مالی مدد اور کچھ دوسری مدد، جس قسم کی بھی مدد ان کو پہنچائی جاسکتی ہے، پہنچانی چاہئے، کیونکہ جو فوج مورچے پر لڑ رہی ہے اور دشمن کے مقابلے میں ہماری طرف سے دفاع کر رہی ہے، ہمارا فرض ہے کہ ہم ان کی رسد ختم نہ ہونے دیں، ان کا اسلحہ ختم نہ ہونے دیں، اور جو مدد بھی ہم انہیں پہنچاسکتے ہیں، ضرور پہنچائیں، اگر وہ رسد کے بغیر رہ گئے، اگر وہ اسلحہ کے بغیر رہ گئے، اگر اخلاقی اور مالی مدد ان کو نہ پہنچی، تو ظاہر ہے کہ وہ مورچوں کو سنبھال نہیں سکیں گے، ٹھیک اسی طرح آپ سارے کے سارے مجلس تحفظ ختمِ نبوّت کے رکن ہیں، اس لئے کہ آپ سب ختمِ نبوّت کے قائل ہیں، اور یہ بات بھی ظاہر

561

ہے کہ آپ سب کے سب تو یہ کام نہیں کرسکتے، لیکن جو لوگ قادیانیوں کا تعاقب کر رہے ہیں اور مسلمانوں کو اس فتنہ سے آگاہ کر رہے ہیں، ان کی امداد و تعاون کرنا یہ آپ کا اور میرا فرض ہے۔

پوری دُنیا میں قادیانیوں کا تعاقب:

بس میں یہ کہنا چاہتا ہوں کہ اب تک ہم قادیانیوں کا اپنے ملک میں تعاقب کرتے رہے، اللہ کا لاکھ لاکھ شکر ہے کہ مرزا طاہر قادیانی کو وہاں سے بھاگنے پر مجبور کردیا، اللہ نے اس کو بھگادیا وہ لندن چلا گیا، اب ہمیں پوری دنیا میں قادیانیت کا مقابلہ کرنا ہے، بزدل دشمن نے ہمیں للکارا ہے، محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے غلاموں کو للکارا ہے، انہیں معلوم نہیں ہے کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے غلام غازی علم دین شہیدؒ کی مثالیں بھی پیش کردیا کرتے ہیں۔ لندن میں ایک ختمِ نبوّت کا مرکزی دفتر بنایا جائے گا، آپ حضرات میں سے بہت سے حضرات ہیں، جنہوں نے اس میں اپنی خدمات پیش کی ہیں، میں ان سب کے لئے دعا کرتا ہوں، اللہ تعالیٰ ان کو جزائے خیر عطا فرمائے اور اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اپنے حبیب پاک صلی اللہ علیہ وسلم کی شفاعت ان کو نصیب فرمائے!

وآخر دعوانا ان الحمدﷲ رب العالمین

562

کیا قادیانی جماعت دُنیا پر غالب آئے گی؟

بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ

اَلْحَمْدُللہِ وَسَلَامٌ عَلٰی عِبَادِہِ الَّذِیْنَ اصْطَفٰی!

۷؍ستمبر ۱۹۷۴ء کے آئینی فیصلے سے قادیانیت کی کمر ٹوٹ گئی ہے، تمام عالم اسلام ان کے کفر و نفاق سے آگاہ ہوچکا ہے، ان پر ہر جگہ ذلت و ادبار کی فضا طاری ہے، قادیانی اخبارات و رسائل اپنی جماعت کی گرتی ہوئی دیوار کو سنبھالا دینے کے لئے یہ پروپیگنڈہ کر رہے ہیں کہ اب چند سالوں میں قادیانیت کے غلبہ کی صدی شروع ہونے والی ہے۔

قادیانی اس نام نہاد ’’غلبۂ اسلام کی مہم‘‘ کے لئے دھڑا دھڑ چندے جمع کر رہے ہیں، تربیتی کورس جاری کر رہے ہیں، اور خفی و جلی منصوبے بنا رہے ہیں، سب سے زیادہ زور اس بات پر دیا جارہا ہے کہ مرزا غلام احمد قادیانی نے پیش گوئی کی تھی کہ میری جماعت مسلمانوں پر غالب آئے گی۔ اس لئے ممکن نہیں کہ مرزا صاحب کی پیش گوئی ٹل جائے، مرزائی عوام چونکہ مرزا صاحب کو سچ مچ ’’مسیح موعود‘‘ سمجھتے ہیں، اس لئے وہ واقعی یقین کر بیٹھے ہیں کہ مرزا صاحب کی پیش گوئی پوری ہوکر رہے گی۔ لیکن جب پوری نہیں ہوتی تو قادیانی لیڈر انہیں پھر تاویل کے چکر میں ڈال دیتے ہیں۔ قریباً نوے سال سے قادیانی جماعت کے دنیا پر غالب آنے کا غلغلہ بلند کیا جارہا ہے، لیکن آج تک یہ قادیانی خواب شرمندہ تعبیر نہیں ہوسکا اور نہ اِن شاء اللہ! آئندہ کبھی ہوسکے گا۔

زمانے کے واقعات نے مرزا غلام احمد قادیانی کی ایک ایک پیش گوئی کو غلط ثابت کر دکھایا ہے۔

563

ذیل کی سطور میں ہم قادیان کے بارے میں مرزا قادیانی کی پیش گوئیوں کا جائزہ لیں گے جس سے یہ امر واضح ہوجائے گا کہ مرزا صاحب کے تمام دعوے محض زبانی جمع خرچ تھے، حقیقت و واقعیت سے انہیں کچھ بھی تعلق نہیں تھا۔ انبیائے کرام علیہم السلام کی مقدس وحی یا اولیاء اللہ کے کشف و الہام تو بہت ہی اعلیٰ و ارفع چیز ہے جس کا تصور بھی عام انسانوں کے لئے مشکل ہے، ایک مؤمن کی فراست سے کوئی بات پوری ہوسکتی ہے، لیکن یہ عجیب بات ہے کہ مرزا غلام احمد قادیانی نے وحی قطعی اور کشف و الہام کے بلند بانگ دعوؤں کے ساتھ جو بات بھی کہی قدرت نے اس کا الٹ کر دکھایا۔ چنانچہ قادیان کے بارے میں مرزا قادیانی کے درج ذیل ’’کشف و الہام‘‘ ملاحظہ فرماکر ان کو واقعات پر منطبق کیجئے:

۱:...مرزا قادیانی پر جو مقدس وحی نازل ہوتی تھی، مرزائیوں نے اسے ایک مجموعہ کی شکل میں مرتب کرکے پہلے اس کا نام ’’البشریٰ‘‘ رکھا تھا۔ یعنی قادیانی مسیح کی انجیل، مگر اب شاید اس خیال سے کہ قادیانی مسیح صرف مسیح نہیں بلکہ ’’محمد رسول اللہ‘‘ بھی ہے اس کی مقدس وحی کے مجموعہ کا نام ’’تذکرہ‘‘ رکھا گیا ہے۔ یعنی ظلّی محمد رسول اللہ کا ظلّی قرآن ......۔۔ (’’تذکرہ‘‘ قرآن مجید کا نام ہے)، بہرحال قادیانی انجیل یا قادیانی قرآن (تذکرہ طبع دوم ص:۴۳۳) میں مرزا قادیانی کا کشف درج ہے:

’’حضرت اقدس مرزا صاحب ایک روز فرماتے تھے: ہم نے کشف میں دیکھا کہ قادیان ایک بڑا عظیم الشان شہر بن گیا، اور انتہائے نظر سے بھی باہر تک بازار نکل گئے۔ اونچی اونچی دو منزلی یا چو منزلی یا اس سے بھی زیادہ اونچے اونچے چبوتروں والی دکانیں عمدہ عمارات کی بنی ہوئی ہیں، اور موٹے موٹے سیٹھ، بڑے بڑے پیٹ والے جن سے بازار کو رونق ہوتی ہے، بیٹھے ہیں۔ اور ان کے آگے جواہرات اور لعل اور ہیروں اور موتیوں، روپوں، اشرفیوں کے ڈھیر لگ گئے ہیں (گویا قارون کے خزانے اور دنیا بھر کی دولت وہیں سمٹ آئی ہے...ناقل) اور قسم ہا قسم کی دکانیں خوبصورت اسباب

564

سے جگمگا رہی ہیں، یکے، بگھیاں ٹم ٹم، فٹن پالکیاں، گھوڑے شکرمین، پیدل اس قدر بازار میں آتے جاتے ہیں کہ مونڈے سے موڈھا بھڑ کر چلتا ہے اور راستہ بمشکل ملتا ہے۔‘‘

(تذکرہ طبع دوم ص:۴۳۳)

مرزا قادیانی کے کشف نے ’’قادیان‘‘ کی مادی عظمت کا جو نقشہ کھینچا ہے اس پر کسی عظیم ترین ترقی یافتہ ملک کے دارالحکومت کا شبہ ہوتا ہے، اور اس کی کشفی عظمت کے سامنے پیرس، لندن اور نیویارک بھی شرمندہ ہوکر رہ جاتے ہیں، لیکن کشف کا نتیجہ کیا ہوا؟ اس پر ہم خود قادیانیوں کو تبصرہ کرنے کی دعوت دیتے ہیں۔

۲:...مرزائیوں کی اسی مسیحی انجیل موسوم بہ تذکرہ (طبع دوم) کے صفحہ:۷۷۸، ۷۷۹ پر مرزا قادیانی کے دو کشف مرزا محمود احمد صاحب پسر مرزا قادیانی کی روایت سے ذکر کئے ہیں:

الف:...’’جب قادیان کی زندگی احمدیوں (مرزائیوں) کے لئے اس قدر تکلیف دہ تھی کہ مسجد میں خدا تعالیٰ کی عبادت کے لئے آنے سے روکا جاتا، راستہ میں کیلے (کھونٹے) گاڑ دئیے جاتے تاکہ گزرنے والے گریں، (یہ کارنامہ مرزا صاحب کا مرزائی خاندان ہی انجام دیتا تھا...ناقل) اس وقت مسیح موعود (مرزا غلام احمد صاحب) نے بتایا: مجھے دکھایا گیا ہے کہ یہ علاقہ اس قدر آباد ہوگا کہ یہ دریائے بیاس تک آبادی پہنچ جائے گی۔‘‘

ب:...’’مجھے (مرزا محمود صاحب کو) اس میدان سے جاتے ہوئے حضرت مسیح موعود (مرزا غلام احمد صاحب) نے اپنا رؤیا سنایا کہ قادیان بیاس تک پھیلا ہوا ہے، اور مشرق کی طرف بھی بہت دور تک اس کی آبادی چلی گئی ہے۔‘‘

(تذکرہ طبع دوم ص:۷۷۸، ۷۷۹)

’’قادیان‘‘ کی آبادی قادیانی کشف میں ایک طرف بیاس تک (قریباً آٹھ دس میل تک) جاپہنچی، دوسری طرف مشرقی سمت دور دور تک چلی گئی، لیکن مرزا قادیانی کو

565

کشف میں یہ نظر نہ آیا کہ قادیان اجڑ جائے گا اور ہم قادیانی خاندان بیک بینی و دو گوش وہاں سے نکال دئیے جائیں گے، اور وہ دریائے چناب کے کنارے آکر دم لیں گے، یا یوں بھی کہا جاسکتا ہے کہ وہ قادیان سے نکال دئیے جائیں گے، مرزا صاحب کو قادیانی آبادی کی وسعت کی شکل میں دکھایا گیا، کیونکہ مرزا قادیانی کے ہر الہام اور وحی کی تعبیر ہمیشہ الٹ ہوجاتی ہے۔

۳:...مرزا غلام احمد ازالہ اوہام (طبع پنجم ص:۱۶) میں ہندوستان، خصوصاً قادیان کے ہندوؤں کے بارے میں رقم طراز ہیں:

’’اب وہ مقابلہ پر آکر اور میدان میں کھڑے ہوکر ہمارے تیز ہتھیاروں کے نیچے آپڑے ہیں، اور اس صید قریب کی طرح ہوگئے ہیں جس کا ایک ہی ضرب میں کام تمام ہوسکتا ہے، ان کی آہوانہ سرکشی سے ڈرنا نہیں چاہئے، دشمن نہیں ہیں وہ تو تمہارے شکار ہیں، عنقریب وہ زمانہ آنے والا ہے کہ تم نظر اٹھاکر دیکھو گے کہ کوئی ہندو دکھائی دے، مگر ان پڑھے لکھوں میں سے ایک ہندو بھی تمہیں دکھائی نہیں دے گا، سو تم ان کے جوشوں سے گھبراکر نومید مت ہو، کیونکہ وہ اندر ہی اندر اسلام کے قبول کرنے کے لئے تیاری کر رہے ہیں، اور اسلام کی ڈیوڑھی کے قریب آپہنچے ہیں۔‘‘

(ازالہ اوہام طبع پنجم ص:۱۶)

مرزا قادیانی کی اس پیش گوئی پر پچاسی سال گزر چکے ہیں لیکن آج تک قادیان میں ہندوؤں کی موجودگی مرزا صاحب کی اس پیش گوئی کا منہ چڑا رہی ہے، ہاں اگر اس پیش گوئی میں ہندوؤں سے مراد قادیانی ہوں تو پھر کوئی شک نہیں کہ مرزا صاحب کی پیش گوئی کے مطابق ’’قادیان‘‘ مرزائیوں کے تسلط سے پاک ہوگیا اور مرزا محمود صاحب خلیفہ قادیان اپنی جماعت سمیت وہاں سے جلا وطن کردئیے گئے۔

۴:...قادیان کے بارے میں ایک الہام مرزا صاحب نے ازالہ اوہام (حاشیہ

566

ص: ۳۰ طبع پنجم) میں یوں درج فرمایا ہے:

’’دمشق کے لفظ کی تعبیر میں میرے پر منجانب اللہ یہ ظاہر کیا گیا ہے کہ اس جگہ اس قصبہ کا (یعنی قادیان کا نام دشمن رکھا گیا ہے) جس میں ایسے لوگ رہتے ہیں جو یزیدی الطبع ہیں اور یزید پلید کی عادات اور خیالات کے پیرو ہیں، جن کے دلوں میں اللہ و رسول کی کچھ محبت نہیں اور احکام کی کچھ عزت نہیں، جنہوں نے اپنی نفسانی خواہشوں کو اپنا معبود بنا رکھا ہے، اور اپنے نفس امارہ کے حکموں کے ایسے مطیع ہیں کہ مقدسوں اور پاکوں کا خون بھی ان کی نظر میں سہل اور آسان امر ہے، اور آخرت پر ایمان نہیں رکھتے اور خدائے تعالیٰ کا وجود ہونا ان کی نگاہ میں ایک پیچیدہ مسئلہ ہے (یہ تمام الہامی صفات قادیانیوں کی ہیں...ناقل)۔‘‘

آگے چل کر اسی کے حاشیہ پر لکھتے ہیں:

’’قادیان کی نسبت مجھے یہ بھی الہام ہوا کہ: ’’اخرج منہ الیزیدیون‘‘ یعنی اس میں یزیدی لوگ پیدا کئے گئے ہیں۔‘‘

(ازالہ اوہام طبع پنجم ص:۳۲، تذکرہ طبع دوم ص:۱۱۸)

مرزا صاحب نے (عربی) عبارت کا ترجمہ صحیح نہیں کیا، اس کا لفظی ترجمہ یہ ہے کہ نکال دئیے گئے اس سے یزیدی لوگ اور یہ الہامی صفت بھی قادیانیوں پر صادق آتی ہے، چنانچہ جناب ممتاز احمد صاحب فاروقی اپنی کتاب ’’فتح حق‘‘ کے صفحہ:۴۵، ۴۷ پر لکھتے ہیں:

ج:...’’پھر حضرت مرزا صاحب کو قادیان کے متعلق الہام ہوا: ’’اخرج منہ الیزیدیون‘‘ تذکرہ (ص:۱۸۳) یعنی یزیدی صفت لوگ اس بستی میں پیدا ہوں گے، اب ’’یزیدی‘‘ کسی خاص قوم یا قبیلہ کا نام نہیں، بلکہ یزید پلید کی رعایت سے اس کے

567

پیروکاروں کو ’’یزیدی‘‘ کہا جاتا ہے۔ کوئی ایسا خلیفہ ہوگا جو یزید کی طرح خلافت حقہ اسلامیہ کا دعویدار ہوگا، پھر خدا تعالیٰ ایسے سامان کرے گا کہ یہ خلیفہ مع اپنے پیروکاروں کے قادیان سے نکال دیا جائے گا، جبکہ ’’اخرج‘‘ کے لفظ سے ظاہر ہے، اور اس کی تخصیص کرنے کے لئے حضرت مرزا صاحب کو ’’بلائے دمشق‘‘ (تذکرہ ص:۷۱۰) کا بھی الہام ہوا تھا، واضح ہو کہ یزید کا پایہ تخت دمشق تھا، اسی قسم کی بلا قادیان میں بھی پیدا ہوجائے گی۔‘‘

د:...’’حضرت مسیح موعود (مرزا غلام احمد قادیانی) فرماتے ہیں کہ : میں جماعت کے لئے دعا کر رہا تھا کہ الہام ہوا:

۱:...زندگی کے فیشن سے دور جا پڑے ہیں۔

۲:...’’فَسَحِّقْھُم تسحیقًا‘‘ پس پیس ڈال ان کو خوب پیس ڈالنا۔‘‘

(تذکرہ ص:۵۱۲)

سو جس طرح قادیان سے اس محمودی جماعت کو اکھاڑ پھینکا گیا ہے وہ اب تاریخ کا حصہ ہے، خود میاں محمود احمد نے وہاں سے برقعہ پہن کر عورت کا بھیس بدل کر بھاگ کر جان بچائی تھی۔‘‘

(فتح حق ص:۴۷، ۴۸ از ممتاز احمد فاروقی شائع کردہ احمدیہ انجمن اشاعت اسلام لاہور ۱۹۶۰ء)

اس تفصیل سے معلوم ہوگا کہ مرزا صاحب کا یہ الہام کہ: ’’قادیان میں یزیدی لوگ رہتے ہیں۔‘‘ اور یہ کہ: ’’وہاں سے یزیدی لوگ نکال دئیے جائیں گے۔‘‘ اگر یزیدی لوگوں سے مراد قادیانی ہیں تو بلاشبہ یہ الہام حرف بہ حرف صحیح نکلا جیسا کہ ممتاز فاروقی صاحب نے لکھا، چنانچہ ۱۹۱۴ء میں وہاں سے لاہور نکال دئیے گئے اور ۱۹۷۴ء میں مرزا محمود کی جماعت کو جلا وطن کیا گیا۔ اور اگر اس سے مرزا کے مخالفین مراد ہیں تو اس الہام کی تکذیب واقعات سے ہوجاتی ہے۔

568

قادیان کے بارے میں مرزا صاحب کے اور الہامات بھی ہیں، مگر ہم آج کی صحبت میں انہی چار نمبروں پر اکتفا کرتے ہوئے قادیانیوں کی توجہ اس امر کی طرف مبذول کروانا چاہتے ہیں کہ جب مرزا صاحب کے ’’الہامات‘‘ قادیان کے بارے میں غلط ثابت ہوئے جو مرزا صاحب کے بقول: ’’ارض حرم‘‘ اور ’’رسول کا پایۂ تخت‘‘ تھا، اور وہ دارالحرب اور دارالکفر ہی رہی، تو ان کے الہام ان کی جماعت کے بارے میں کیسے سچے ثابت ہوسکتے ہیں؟

تقدیر الٰہی کا فیصلہ ہر مرزائی کو ہمیشہ یاد رکھنا چاہئے کہ مرزا غلام احمد قادیانی نے پیش گوئی کے طور پر جو دعویٰ بھی کیا ہے واقعات ہمیشہ اس کے برعکس ظہور پذیر ہوں گے، اس لئے اگر مرزا صاحب کی کوئی پیش گوئی ایسی ہے کہ ان کی جماعت دنیا بھر کے مسلمانوں پر غالب آئے گی تو اس کا مفہوم اس کے سوا کچھ نہیں کہ قادیانی ہمیشہ خائب و خاسر اور ناکام و نامراد رہیں گے۔

(ہفت روزہ ختمِ نبوّت کراچی ج:۱۵ش:۵۰)

569

قادیانیوں کا مقابلہ مسلمانوں سے نہیں،

محمدِ عربی صلی اللہ علیہ وسلم سے ہے!

سالانہ ختمِ نبوّت کانفرنس برمنگھم (برطانیہ) میں مؤرخہ ۲۸؍رجب ۱۴۱۴ھ کو حضرت مولانا محمد یوسف لدھیانوی شہیدؒ نے خطاب فرمایا، جسے کیسٹ سے نقل کرکے قارئین کی خدمت میں پیش کیا جارہا ہے۔

سعید احمد جلال پوری

بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ

اَلْحَمْدُللہِ وَسَلَامٌ عَلٰی عِبَادِہِ الَّذِیْنَ اصْطَفٰی!

میں نے اپنے ساتھیوں سے کہا تھا کہ میرے دوسرے اکابر موجود ہیں، ان کو موقع دیا جائے، مجھے بیان کے لئے نہ کہا جائے، کیونکہ ختمِ نبوّت کی طرف سے مولانا اللہ وسایا صاحب کی تقریر کافی ہے۔ لیکن انہوں نے کہا: نہیں! چند منٹ کے لئے آپ بھی کچھ بیان کردیں۔ اس لئے تقریر کا تو موقع نہیں، البتہ چند باتیں بہت ہی اختصار کے ساتھ میں بھی عرض کئے دیتا ہوں۔

قادیانیوں کا ہم سے نہیں محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے مقابلہ ہے:

عام طور پر لوگ یہی کہتے ہیں کہ ہمارا مقابلہ قادیانیوں کے ساتھ ہے، کیوں بھائی! ہمارا مقابلہ کس سے ہے؟ اور قادیانیوں کا کس سے مقابلہ ہے؟ ہمارا مقابلہ قادیانیوں سے نہیں، اور قادیانیوں کا ہم سے نہیں، دراصل قادیانیوں کا مقابلہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ہے، بلاشبہ قادیانیوں کا مقابلہ براہِ راست محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ

570

وسلم سے ہے، ہم تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سپاہی ہیں، اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے لڑ رہے ہیں۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے لڑنا اور قادیانیوں کو منہ توڑ جواب دینا ہمارا فرض ہے، باقی مقابلہ ہمارا قادیانیوں کے ساتھ نہیں ہے، نہ قادیانیوں کا ہمارے ساتھ ہے، قادیانیوں کا مقابلہ ہمارے آقا حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ہے، اس لئے کہ انہوں نے ...نعوذ باللہ ثم نعوذ باللہ... آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے تاجِ نبوّت پر ہاتھ ڈالا ہے۔

حق کو بگاڑا اور باطل کو سنوارا نہیں جاسکتا:

حق اور باطل ہمیشہ سے متصادم چلے آئے ہیں۔ حق، حق ہے، باطل، باطل ہے۔ حق کو ہزار پردوں میں چھپاکر بگاڑنے کی کوشش کی جائے، تب بھی حق، حق ہی رہتا ہے، جب بھی وہ پردہ ہٹے گا، حق کا حسین چہرہ سامنے آجائے گا۔ اسی طرح باطل، باطل ہے، ہزاروں چالوں، فریب کاریوں اور سرخی پوڈر کے ساتھ اس کو اور اس کے مکروہ چہرے کو چھپانے کی کوشش کی جائے لیکن جوں ہی وہ نقاب نوچی جائے گی فوراً اس کا چڑیل جیسا مکروہ چہرہ سامنے آجائے گا۔

قادیانی اپنے مکروہ چہرے کو چھپانے کی ہزار کوشش اور ہزار جتن کریں، مگر واللہ! وہ چھپائے چھپ نہیں سکتا، اس لئے کہ باطل، باطل ہے، اور باطل بھی وہ جو حق کے مقابلے میں، اور باطل بھی وہ جو محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے مقابلے میں۔

باطل کے بطلان کے دلائل کی اقسام:

کسی باطل کے باطل ہونے کے لئے دلائل دو قسم کے ہوتے ہیں، ایک عقلی جن کو دانش مند سمجھ سکتے ہیں، اور ایک بدیہی یعنی بالکل واضح، ایسے جیسے دو اور دو چار، جو شخص ’’دو اور دو چار‘‘ کے مفہوم سے واقف ہے، وہ کبھی یہ حماقت نہیں کرسکتا کہ وہ دو اور دو کو تین کہے، اور جو دو اور دو کے مفہوم سے واقف ہے اور دو کے ہندسے کو جانتا ہے، اور جمع کا طریقہ ... جیسے بچے جانتے ہیں ... اس کو آتا ہے، وہ کبھی دو اور دو کو پانچ نہیں کہہ سکتا، دو اور دو

571

ہمیشہ چار ہی رہیں گے، ہزار دلائل سے ثابت کرنے کی کوشش کرو کہ دو اور دو پانچ ہوتے ہیں، وہ پانچ نہیں بنیں گے۔

قادیانیت کے بطلان کے دسیوں دلائل:

قادیانیت کے باطل ہونے پر اور غلام احمد کے جھوٹا ہونے پر اللہ تعالیٰ نے اتنے دلائل جمع کردئیے کہ جن کا شمار نہیں، بغیر مبالغہ کے کہتا ہوں کہ گن کر دسیوں دلائل اسی مجلس میں پیش کرسکتا ہوں، اور ایسے واضح جیسے دو اور دو چار۔

کذبِ مرزا کی عقلی دلیل:

مثال کے طور پر ایک عقلی دلیل جو اہلِ فہم کو سمجھ میں آئے گی، بے چارے عام لوگ اُسے نہیں سمجھیں گے، وہ یہ کہ حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے آقا و مولا، دُنیا سے تشریف لے گئے، آپ کے بعد کون خلیفہ ہوا؟ ...حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ... ان کے بعد؟ ...حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ... ان کے بعد؟ ...حضرت عثمان رضی اللہ عنہ ... اور ان کے بعد؟ ...حضرت حیدرِ کرّار علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ... یہ چار خلفاء ہوئے، تاریخ اُٹھاکر دیکھو اور انساب، نسب نامے بھی دیکھو، حضرت علی رضی اللہ عنہ کا نسب نامہ حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے سب سے زیادہ قریب ہے، حضرت علی رضی اللہ عنہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے دادے میں شریک ہیں، اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سچے چچا کے لڑکے ہیں، ان سے اُوپر جاؤ تو حضرت عثمان رضی اللہ عنہ تیسرے دادے میں شریک ہیں، اس سے اُوپر آؤ تو اگلے دادے میں کہیں جاکر حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم سے جاکر ملتے ہیں، اور سب سے دور نسب نامہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کا جاکر ملتا ہے، تو جو سب سے دُور تھے وہ تقویٰ کی بنیاد پر سب سے قریب آئے، اور جو سب سے قریب تھے اپنے نمبر کے اعتبار سے سب سے بعد میں آئے۔

نیابتِ نبوّت کی بنیاد:

معلوم ہوا کہ نیابتِ نبوّت کی بنیاد قرابت پر نہیں ہے، گویا نبوّت کی اور خلافتِ

572

نبوّت کی بنیاد قرابت پر نہیں ہے، قرابت جس کی جتنی دُور تھی وہ پہلے آیا، اور جس کی جتنی نزدیک تھی وہ بعد میں آیا۔

غلام احمد کے خلفاء کی ترتیب:

اور یہاں غلام احمد کے بھی چار خلیفہ ہوئے ہیں، اس کا پہلا خلیفہ نورالدین تھا، نورالدین کو جانتے ہو کون تھا؟ وہ ویسے بھی ’’خلیفہ‘‘ تھا، ’’خلیفہ‘‘ ہماری زبان میں ’’نائی‘‘ کو کہتے ہیں، اور نورالدین واقعی قوم کا ’’نائی‘‘ تھا، تو خلیفہ نورالدین کو ایک مجبوری کی بنا پر مرزا کا خلیفہ اور جانشین بنانا پڑا، کیونکہ اس وقت مرزے کے لڑکوں میں کوئی ایسا لائق نہیں تھا، جو اس کی جگہ لیتا۔ خیر! نورالدین گیا تو اس کی جگہ محمود آگیا، یعنی بشیرالدین محمود، میرے دوست بھی کہتے ہیں ’’بشیرالدین محمود‘‘ مت کہا کرو، کیونکہ وہ ’’بشیرالدین‘‘ نہیں تھا، اس کو ’’بشیرالدین‘‘ کہنا غلط ہے، یہ لقب قادیانیوں نے بعد میں استعمال کیا ہے، ورنہ اس کے ابّا نے اس کا نام ’’بشیرالدین‘‘ نہیں رکھا، اس کا نام صرف ’’محمود‘‘ ہے، یہ ’’بشیر‘‘ کی کوئی پیش گوئی فٹ کرنے کے لئے جھوٹے طور پر اس کا نام بشیرالدین رکھا گیا۔ خیر! بشیرالدین اس کا لقب بنالیا گیا، اور وہ خلیفۂ دوم بن گیا۔ اس کے بعد کون آیا؟ مرزا محمود کا لڑکا ...مرزا ناصر... وہ مرا تو کون آیا؟ مرزا محمود کا دوسرا لڑکا ...مرزا طاہر... تمہاری زندگی رہی تو دیکھتے رہو گے، جب تک قادیانی زندہ ہیں یہ خلافت کی گدی اس نسل سے نہیں نکلے گی، ... (چنانچہ مرزا طاہر کے بعد اس کا بھائی مرزا مسرور آگیا ہے۔ مرتب) ... اللہ تعالیٰ نے تو سچے نبی کا کوئی لڑکا ہی باقی نہ رکھا، جو اس کا جانشین بنے، ادھر جھوٹے نبی نے ایک گدی ایجاد کی، اولاد پر اولاد، اولاد پر اولاد، اس کی وارث چلی آرہی ہے اور لوگوں سے مال لوٹتے جارہے ہیں، تاکہ خاندان کا خاندان کھاتا رہے، گویا یہ ایک شاہی گدی بن گئی ہے، مگر لوگ اس پکھنڈ کو نبوّت سمجھتے ہیں، اگر یہی بات سمجھ لی جائے تو سمجھنے والوں کے لئے صرف یہی کافی ہے۔

انبیائے کرامؑ گدیاں قائم نہیں کرتے:

انبیائے کرام علیہم الصلوٰۃ والسلام گدیاں قائم کرنے کے لئے نہیں آتے، ہدایت

573

کے لئے آتے ہیں، ہمارے آقا کا اُسوۂ حسنہ سب کے سامنے ہے۔ یہ تو وہ بات تھی جن کو اہلِ عقل سمجھ سکتے ہیں، اور دانا غور و فکر کرسکتے ہیں، باقی میرے جیسے اُجڈ لوگوں کے لئے بھی دو اور دو چار کی طرح، ایک دو باتیں عرض کرتا ہوں۔

کذبِ مرزا کی بدیہی دلیل:

نبی کے لئے ضروری ہے کہ وہ امانت دار ہو، ٹھیک ہے ناں بھائی؟ حضرت جبریل علیہ السلام کے ساتھ کیا لقب لگاتے ہیں؟ ’’جبریلِ امین‘‘ اس لئے کہ وہ اللہ کی وحی پر امین ہے، جیسا کہ قرآن میں ہے:’’ثَمَّ اَمِیْنٌ‘‘ پھر وہ وحی جبریل کے واسطے سے نبی پر آتی ہے، پھر نبی بھی درمیان میں امین ہوتا ہے، اگر نبی امین نہ ہو تو وحی کا کیا اعتبار؟ جیسے ابھی مولانا کہہ رہے تھے: ’’جھوٹا نبی‘‘، بھلا نبی جھوٹا ہوسکتا ہے؟ بھائی! امانت سب سے پہلی صفت ہے جو کسی پر اعتماد دلاتی ہے۔ حفیظ جالندھری مرحوم کا ایک شعر مجھے بہت ہی پسند آتا ہے، جس کو شاہِ ابیات کہنا چاہئے، وہ کہتا ہے:

  1. محمدؐ جس کو دنیا صادق الوعد الامین کہہ دے

    وہ بندہ جس کو رحماں رحمۃ للعالمین کہہ دے

غلام احمد کی خیانت کا قصہ:

غلام احمد کا لڑکا بشیر احمد ’’سیرت المہدی‘‘ میں اپنی اماں کی روایت سے لکھتا ہے: ’’بسم اللہ الرحمن الرحیم، بیان فرمایا مجھ سے والدہ صاحبہ نے‘‘ گویا وہ بھی روایت کو اسی طرح نقل کرتا ہے جس طرح محدثین سند سے روایت نقل کرتے ہیں، چنانچہ محدثین جیسے: ’’عن أبی ھریرۃ، عن أُمّ المؤمنین عائشۃ‘‘ وغیرہ سے روایت لاتے ہیں، یہ خبیث بھی اپنے جھوٹے نبی اور باپ کی سوانح عمری کو روایتوں کی شکل میں نقل کرتا ہے، تو راوی ہے غلام احمد کا لڑکا جو یقینا قادیانیوں کے ہاں ثقہ ہوگا، اور ان کے نزدیک قابلِ اعتماد ہونا چاہئے، چنانچہ وہ اپنی اماں سے روایت کرتا ہے کہ ایک دفعہ حضرت مسیحِ موعود ...(مردود) لفظ بولتے ہوئے بھی شرم نہیں آتی... ایک دفعہ مسیحِ موعود تمہارے دادا کی زندگی میں اپنے ابا

574

(یعنی غلام احمد کے ابا، غلام مرتضیٰ) کی زندگی میں امرتسر تمہارے دادا کی پنشن وصول کرنے کے لئے گئے، وہ پنشن اس زمانہ میں سات سو روپے تھی، آج کے سات سو کو دیکھ لو کہ اس کی کیا قیمت بنتی ہے؟ خیر تو وہ تمہارے دادا کی پنشن وصول کرنے کے لئے گئے جو سات سو روپے تھی، پیچھے امام دین چلا گیا ... امام دین غلام احمد کا چچازاد بھائی تھا ...ناقل۔ جب حضرت صاحب نے پنشن وصول کرلی، تو اس کے پیچھے لگ گیا اور اِدھر اُدھر گھماتا رہا، ذرا سوچو! ...’’اِدھر اُدھر گھماتا رہا‘‘... اور چند دنوں میں وہ پنشن ختم کردی، تو حضرت صاحب شرمندگی کی وجہ سے گھر نہیں آئے بلکہ سیالکوٹ میں ڈپٹی کمشنر کی کچہری میں محرر کے عہدے پر دس روپے ماہانہ تنخواہ پر لگ گئے، گویا حضرت صاحب کی دس روپیہ تنخواہ تھی۔

جو باپ کی پنشن پر امین نہیں، وہ وحی پر کیسے؟

میں قادیانیوں سے پوچھتا ہوں، کوئی مجھے اس کا جواب دے کہ جو شخص اپنے باپ کی سات سو کی پنشن پر امین نہیں ہوسکتا، وہ خدا کی وحی پر کیسے امین ہوسکتا ہے؟

مرزا کے لئے دجال، بے ایمان اور مردود کے القاب بھی ناکافی ہیں:

غلام احمد کے بارے میں ہم کہتے ہیں کہ وہ دجال تھا، بے ایمان تھا، مردود تھا، کافر تھا، مگر سچ پوچھو تو مرزا کے لئے یہ القابات استعمال کرنے سے بھی مزہ نہیں آتا، اس لئے کہ کتے کو کتا کہہ دیا جائے تو کیا فرق پڑے گا؟ بھائی! تم نے خنزیر کو خنزیر کہہ دیا تو کیا ہوا؟ مزہ نہیں آتا، ہاں! تو میں تمہیں بتاؤں کہ مزہ کس سے آتا ہے؟ مزہ تو ان القابات سے آتا ہے جو مرزا غلام احمد نے آتھم کے مقابلہ میں خود اپنے لئے استعمال و اختیار کئے تھے، چنانچہ غلام احمد کا ۵؍جون ۱۸۹۳ء کو آتھم پادری کے ساتھ مقابلہ ہوا تھا، اور مرزا غلام احمد نے پیش گوئی کی تھی کہ آتھم پندرہ مہینے میں سزائے موت ہاویہ میں گرے گا ...اللہ سے الہام پاکر... پیش گوئی کی تھی، خیر لمبی چوڑی عبارت ہے۔

مرزا کے اپنی ذات کے لئے تجویز کردہ القاب:

اس کے بعد اس نے لکھا ... سنو! مرزا غلام احمد کے الفاظ ہیں: ’’اب میں اقرار

575

کرتا ہوں کہ اگر یہ پیش گوئی پوری نہ ہوئی تو مجھے تمام شیطانوں اور بدکاروں اور لعنتیوں سے بڑھ کر لعنتی سمجھو۔‘‘ اب مزہ آیا کہ خود اپنے بارہ میں کہتا ہے کہ: ’’مجھے تمام شیطانوں، بدکاروں اور لعنتیوں سے بڑھ کر لعنتی سمجھو۔‘‘ اس کے باوجود پندرہ مہینے میں بھی آتھم نہیں مرا، حالانکہ غلام احمد نے کہا تھا کہ میں اقرار کرتا ہوں کہ اگر آتھم پندرہ مہینے میں نہ مرے، سزائے موت ہاویہ میں نہ گرے تو میرے لئے سولی تیار رکھو، اور تمام شیطانوں اور بدکاروں اور لعنتیوں سے بڑھ کر مجھ کو لعنتی سمجھو۔ مگر جب آتھم نہیں مرا تو مرزا غلام احمد اپنے قول و قرار کے مطابق: تمام شیطانوں اور بدکاروں اور لعنتیوں سے بڑھ کر لعنتی ٹھہرا کہ نہیں؟ گویا جتنے یہودی، نصرانی اور جتنے کافر و بے ایمان ہوئے ہیں، ان سب کا ایک گولہ بنالو، تو غلام احمد کا ایک گالہ (گالیوں کا مجموعہ) بنتا ہے۔ مرزائیو! تمہیں کچھ تو سوچنا چاہئے، یہ تو دو اور دو چار کی طرح واضح ہے، تم تأویلیں کرکے دو کو تین ثابت کرنے کی کوشش کرتے ہو۔

مرزا ہر ایک بد سے بدتر:

اسی طرح غلام احمد نے کہا تھا کہ محمدی بیگم سے میرا نکاح ہوگا، ایک بات اور صرف ایک فقرہ عرض کرتا ہوں، محمدی بیگم کا نکاح سلطان محمد سے ہوگیا، تو مرزا غلام احمد کہنے لگا: چلو کوئی بات نہیں، سلطان محمد مر جائے گا تو میرے نکاح میں آجائے گی، تو پیش گوئی کے دو حصے ہیں، ایک یہ کہ محمدی بیگم کا باپ مرے گا، اور دوسرا حصہ یہ کہ محمدی بیگم کا شوہر سلطان محمد مرے گا۔ یاد رکھو! یہ مرزے کے الفاظ ہیں اور موٹے الفاظ میں لکھا ہوا ہے، یعنی عام عبارت اور عام تحریر سے موٹے الفاظ ہیں، ’’یاد رکھو! اگر پیش گوئی کی دوسری جزو پوری نہ ہوئی‘‘، جزو کہتے ہیں حصے کو، پیش گوئی کا دوسرا حصہ ہے سلطان محمد کا مرنا، اور محمدی بیگم کا بیوہ ہونا، اور غلام احمد کے نکاح میں آنا، اور پھر مرزا کا محبوب سے متمتع ہونا، تو مرزا کہتا ہے: ’’یاد رکھو! اگر پیش گوئی کی دوسری جزو پوری نہ ہوئی تو میں ہر ایک بد سے بدتر ٹھہروں گا۔‘‘ کیوں بھائی! مرزا کی پیش گوئی کے الفاظ سن لئے آپ نے؟ پھر سنو! ’’یاد رکھو! اگر اس پیش گوئی کی

576

دوسری جزو پوری نہ ہوئی (یعنی سلطان محمد نہ مرا) تو میں ہر ایک بد سے بدتر ٹھہروں گا۔‘‘ جتنے دنیا میں بُرے ہیں، ابوجہل، ابولہب، ہامان، فرعون، شداد، نمرود، جہان بھر کے خنزیر، کتے، ابلیس غرض میں ہر ایک سے بدتر ٹھہروں گا، ہاں! اب غلام احمد کو گالی دینے کا مزہ آیا، کیونکہ جب غلام احمد اپنے آپ کو گالی دے تو اس میں مزہ آتا ہے، ہمارے گالی دینے سے کیا مزہ آئے گا؟ ہم کہیں گے دجال ہے، کذّاب ہے، کیا مزہ آئے گا؟ کیونکہ دجال کو دجال کہہ دیا تو ہم نے کیا تیر مارلیا؟ پھر کذّاب تو ہے ہی کذّاب۔

مرزا کا مولانا عبدالحق غزنوی سے مباہلہ:

مزید سنو! غلام احمد نے مولانا عبدالحق غزنویؒ سے مباہلہ کیا، مباہلہ کے معنی ہوتے ہیں کہ دو فریق اللہ کی بارگاہ میں اپنا مقدمہ پیش کردیں، اور درخواست کریں کہ: یا اللہ! جھوٹے کو جھوٹا ثابت کردے، اور سچے کو سچا ثابت کردے، جھوٹے پر تیری ایسی لعنت ہو جو کسی پر نہ ہوئی ہو۔

جھوٹا سچے کی زندگی میں مرے گا:

اب جب مولانا عبدالحق نے غلام احمد سے مباہلہ کیا، اور مباہلہ کی تاریخ ۱۰؍ذوالقعدہ ۱۳۱۰ھ تھی، اور مباہلہ ہوا، ظہر کے بعد امرتسر کی عیدگاہ کے میدان میں، دونوں فریق آئے، غلام احمد نے کہا کہ: جھوٹا، سچے کی زندگی میں مرے گا۔

مولانا سے مباہلہ کا نتیجہ:

چنانچہ اللہ تعالیٰ نے غلام احمد کو ۲۶؍مئی ۱۹۰۸ء کو وبائے ہیضہ یا بہ سزائے ہیضہ ہلاک کردیا، اور حضرت مولانا عبدالحق غزنویؒ ۱۶؍مئی ۱۹۱۷ء تک زندہ حیات رہے، اور اس کے بعد دنیا سے تشریف لے گئے، گویا حضرت مولانا عبدالحق غزنویؒ، مرزا کے بعد نو سال تک زندہ رہے، اور اللہ کے فضل سے باوجود معمر اور سن رسیدہ ہونے کے بالکل صحیح، تندرست اور سلامت رہے، یوں اللہ نے سچے اور جھوٹے کا فیصلہ کردیا، اور جھوٹا، سچے کی زندگی میں ہلاک ہوگیا۔ اب تم ہی بتلاؤ کہ جس کو اللہ نے جھوٹا کردیا ہو، اس کو کون سچا کرسکتا ہے؟

577

حافظ محمد یوسف مرزائی کا مباہلہ:

اور سنو! اس سے سوا مہینہ پہلے شوال کی ۲؍ تاریخ کو رات کے وقت حافظ محمد یوسف مرزائی نے انہی مولانا عبدالحق غزنویؒ سے مباہلہ کیا۔ اور مباہلہ اس بات پر تھا کہ مولانا عبدالحق صاحب کہتے تھے کہ غلام احمد قادیانی، حکیم نورالدین اور محمد احسن امروہوی، تینوں دجالین، کذّابین اور مرتدین ہیں۔ دوسری طرف حافظ محمد یوسف کہتا تھا کہ یہ سچے ہیں، اور مرزا صاحب مسیحِ موعود ہیں، اس پر مباہلہ ہوا۔

مباہلہ کے بعد حافظ محمد یوسف کا اسلام لاکر مرزا کے کذب پر مہر لگانا:

غلام احمد کا اپنے مجموعۂ اشتہارات میں اس سلسلہ کا ایک اشتہار موجود ہے، جس میں اس نے تصدیق کی ہے کہ ہم سے پہلے حافظ محمد یوسف نے یہ ثواب حاصل کرلیا، اس مباہلہ کا نتیجہ بھی وہی ہوا جو موسیٰ علیہ السلام کے مقابلے میں فرعون کے جادوگروں کا ہوا تھا، کہ وہ سارے کے سارے مسلمان ہوکر حضرت موسیٰ علیہ السلام کے قدموں میں آگرے، اسی طرح حافظ محمد یوسف بھی مسلمان ہوکر مولانا عبدالحق غزنویؒ کے قدموں میں آگرا، اللہ نے فیصلہ کردیا کہ غلام احمد مع اپنے چیلوں چانٹوں کے واقعی دجال اور کذّاب اور مفسد، مرتد اور بے ایمان ہے۔

مرزا غلام احمد کے دو مقابلے تو مسلمانوں کے ساتھ ہوئے، اور ایک عیسائی آتھم کے ساتھ ہوا۔

مرزا کا لیکھ رام سے مباہلہ اور اس کا انجام:

اب ایک آریہ ہندو کے ساتھ بھی اس کے مقابلہ کی روئیداد سن لو! اس آریہ ہندو کے ساتھ بھی غلام احمد کا مقابلہ ہوا، غلام احمد قادیانی نے ’’سرمۂ چشم‘‘ میں اس کی تفصیل لکھی ہے، چنانچہ مرزا غلام احمد نے لیکھ رام سے بھی مباہلہ کیا تھا، بس دو لفظ سن لو بھائی! مباہلے کی شرط کیا ہوگی، ایک سال کی میعاد ہوگی۔ مرزا غلام احمد نے کہا کہ اگر میں سچا نکلا تو فریقِ مخالف پر عذاب نازل ہوجائے گا، اس ایک سال کی میعاد میں اگر فریقِ مخالف پر عذاب

578

نازل نہ ہوا، یا مجھ پر عذاب نازل ہوجائے تو میں جھوٹوں میں سے ہوں گا اور پانچ سو روپے جرمانہ دوں گا۔ کیوں بھائی! میعاد کتنی تھی؟ ایک سال، اور غلام احمد کے جیتنے کی ایک شکل ہی تھی کہ فریقِ مخالف پر عذاب نازل ہوجائے۔ اور اس کے ہارنے کی دو شکلیں تھیں، یا اس پر عذاب نازل ہو، یا کسی پر بھی عذاب نازل نہ ہو۔ چنانچہ مرزا کے مقابلہ میں لیکھ رام آیا اور ۱۸۸۸ء میں اس نے اس کے رسالے کے جواب میں ایک کتاب لکھی ’’نسخۂ خبطِ احمدیہ‘‘ یعنی غلام احمد کو خبط ہوگیا ہے، اور میں اس کے لئے نسخہ لکھ رہا ہوں۔ لیکھ رام نے اس کتاب ’’نسخۂ خبطِ احمدیہ‘‘ میں غلام احمد کے چیلنج کو قبول کرتے ہوئے کہا کہ مجھے آپ کا چیلنج منظور ہے، غلام احمد نے ’’حقیقۃ الوحی‘‘ میں اس کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ میں نے آریوں کو مباہلے کی دعوت دی تھی، کسی نے قبول نہیں کیا، سوائے لیکھ رام کے، اس نے یہ تحریر لکھی تھی ۱۸۸۸ء میں، اب میعاد اور مقررہ شرط کے مطابق ایک سال ۱۸۸۹ء کے اندر اندر اس کو مرنا چاہئے تھا، یا اس پر کوئی ہلاکت آنی چاہئے تھی، مگر افسوس کہ اس کو زکام بھی نہیں ہوا، چنانچہ شرط کے مطابق مرزا غلام احمد اپنا مباہلہ ہار گیا، اور جھوٹا نکلا، جس شخص کو اللہ تعالیٰ نے عیسائی کے مقابلے میں ذلیل کیا، جس شخص کو اللہ تعالیٰ نے آریہ ہندو کے مقابلے میں ذلیل کیا، اور جس شخص کو اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کے مقابلے میں ذلیل کیا، وہ نبوّت کا دعویٰ کرتا ہے! اُسے اور اس کے ماننے والوں کو شرم بھی نہیں آتی؟

قادیانی دھوکا اور اس کا جواب:

اب آخری بات! قادیانی، مسلمانوں کو دھوکا دیتے ہیں اور کہتے ہیں کہ جی ہم کلمہ پڑھتے ہیں، قرآن پڑھتے ہیں، نماز پڑھتے ہیں، یہ کرتے ہیں اور وہ کرتے ہیں، تم ہمیں کافر کیوں کہتے ہو؟ کسی کلمہ گو کو کافر نہیں کہنا چاہئے، اور جو اپنے آپ کو مسلمان کہتا ہے، اس کو کافر کہنے کا کسی کو حق نہیں۔ میں کہتا ہوں کہ آپ ان سے پلٹ کر پوچھیں کہ تم اور تمہارے ابا، مسلمانوں کو کافر کیوں کہتے ہیں؟ میں نے گزشتہ سال بھی عرض کیا تھا، اب پھر کہتا ہوں اور خصوصاً مرزا طاہر احمد سے کہتا ہوں کہ: ’’لا الٰہ الا اللہ محمد رسول اللہ‘‘ یعنی

579

میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لائے ہوئے دین پر اَوّل سے آخر تک، الف سے یا تک، خدا شاہد ہے، آپ لوگوں کے سامنے بہ صمیمِ قلب اس کی گواہی دیتا ہوں، ایمان رکھتا ہوں، کیوں جی! میں مسلمان ہوں یا کافر؟ سوال یہ ہے کہ قادیانیو! حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو ماننے والے دُنیا کے ڈیڑھ ارب مسلمان، جو ’’لا الٰہ الا اللہ محمد رسول اللہ‘‘ پڑھ کر حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے دین کی ایک، ایک بات کو مانتے ہیں، تم ان کو کافر کیوں کہتے ہو؟ اس سوال کا جواب دے دو، پھر ہم تم کو بتلائیں گے کہ تم کیوں کافر ہو؟ تم دُنیا میں مظلومیت کا ڈھنڈورا پیٹتے ہو کہ ہم پر ظلم ہو رہا ہے، ہمیں زبردستی غیرمسلم بنایا جارہا ہے، مہربانِ من! تم ہمیں کیوں غیرمسلم بتاتے ہو؟

مرزا غلام احمد کا حضرت عیسیٰ ؑکو ’’نومسلم‘‘ کہنا:

کافر، غیرمسلم کا نام ہے، اور سنو! غالباً یہ حوالہ تم آج پہلی دفعہ سن رہے ہوگے کہ مرزا نے حضرت عیسیٰ علیہ الصلوٰۃ والسلام کو ’’نومسلم‘‘ کہا ...استغفر اللہ، نعوذ باللہ... ابھی تک دادیوں، نانیوں کی بدکاری تو سن رہے تھے، اب آپ دادیوں، نانیوں کو تو چھوڑو، حرامزادہ تو اس کی زبان پر ہوتا تھا، خنزیر ہمیشہ اس کے منہ میں رہتا تھا، خنزیر، کتے، حرامزادے، یہ تو وہ ہر ایک کو بکتا تھا، لیکن کسی شخص کی سب سے بڑی توہین یہ ہے کہ اس کو کافر کہا جائے، اور کافر کے بعد جب وہ مسلمان ہوجاتا ہے تو اس کو کہا جاتا ہے ...نومسلم...، نومسلم کا معنی کیا ہے...؟ یہی ناں کہ جو پہلے مسلمان نہیں تھا، اب مسلمان ہوا ہو، کیا اللہ کا کوئی نبی ایسا بھی ہوا ہے جو ’’نومسلم‘‘ ہو؟ چنانچہ ’’حقیقۃ الوحی‘‘ میں غلام احمد قادیانی نے صاف لکھا ہے کہ: ’’اور پھر اسی نومسلم نبی کو۔‘‘

ظالم تم یا ہم؟

مرزائیو! تم مسلمانوں کو اور پوری اُمتِ مسلمہ کو کافر کہتے ہو، اس لئے کہ وہ مرزا کو نبی نہیں مانتی، جیسے میں غلام احمد کی نبوّت پر ایمان نہیں رکھتا ... ہاں، ہاں نہیں رکھتا ...نہیں رکھتا ...ٹھیک ہے ناں ... کہو: ہم بھی ... غلام احمد کی جھوٹی نبوّت پر ایمان نہیں رکھتے... اس لئے کہ

580

’’کَفَرْنَا بِکُمْ‘‘ ہم نے تمہارا انکار کیا ہے، چنانچہ حضرت ابراہیم علیہ السلام نے بھی یہی کہا تھا کہ:

’’...۔۔کَفَرْنَا بِکُمْ وَبَدَا بَیْنَنَا وَبَیْنَکُمُ الْعَدَاوَۃُ وَالْبَغْضَآئُ أَبَدًا حَتّٰی تُؤْمِنُوْا بِاللہِ وَحْدَہٗ...۔۔‘‘ (الممتحنہ:۴)

یعنی ہماری اور تمہاری ہمیشہ کے لئے لڑائی اور دُشمنی ہے یہاں تک کہ تم اللہ پر ایمان لے آؤ، ہم تمہارا کفر کرتے ہیں، ابراہیم علیہ الصلوٰۃ والسلام نے بھی یہی کہا تھا کہ ہم تمہارا انکار کرتے ہیں۔ میں غلام احمد کی جھوٹی نبوّت پر ایمان نہیں رکھتا اور آپ بھی ایمان نہیں رکھتے، اسی طرح اس وقت کے ڈیڑھ یا سوا اَرب انسان غلام احمد کی نبوّت پر ایمان نہیں رکھتے تو تمہارے نزدیک کافر ہیں۔ میں کہتا ہوں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد سب سے پہلے اُمتی ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ ہیں، ان سے لے کر ہمارے شیخ و مرشد، ہمارے امیر حضرت مولانا خواجہ خان محمد صاحب تک پوری اُمتِ مسلمہ، غلام احمد قادیانی کی نبوّت کی منکر ہے، کیوں بھائی! سچ کہتا ہوں یا جھوٹ کہتا ہوں؟ گویا غلام احمد قادیانی کی نبوّت کی پوری اُمت منکر ہے، ابوبکر صدیقؓ سے لے کر ہم تک اور اِن شاء اللہ قیامت تک مسلمان جو بھی حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوّت پر ایمان رکھیں گے، وہ غلام احمد کی نبوّت کے منکر ہوں گے، اور تمہارے نزدیک غلام احمد کی نبوّت کا منکر کافر ہے، اس کے یہ معنی ہوئے کہ تم ساری کی ساری اُمت کو کافر کہتے ہو، اب تم ہی بتلاؤ کہ تم ظالم ہو یا ہم؟ تم ہمیں کہتے ہو کہ ہم تم پر ظلم کرتے ہیں، حالانکہ تم ہم پر حکومت کرتے ہو، مگر پھر بھی تم کہتے ہو کہ ہم تم پر ظلم کرتے ہیں...!

ہر محکمہ میں چوٹی پر قادیانی:

مولانا اللہ وسایا صاحب پاکستان میں جرنیلوں کا تذکرہ کر رہے تھے، اور فرما رہے تھے کہ پاکستان کے ہر محکمے کی چوٹی پر اب کوئی نہ کوئی قادیانی براجمان ہے، گویا:

ہر شاخ پر اُلو بیٹھا ہے! انجامِ گلستاں کیا ہوگا؟

581

ہاں سنو! پاکستان میں اب بھی ہر محکمے کی چوٹی پر قادیانیوں کو بٹھا رکھا ہے، اور اگر کسی محکمے میں کوئی قادیانی چپراسی بھی ہوگا تو اس نے تمام ملازموں، تمام اہلکاروں بلکہ افسروں تک کی ناک میں دَم کر رکھا ہوگا، وہ ان کی جھوٹی شکایتیں کر کرکے کہ مسلمان مجھے ستاتے ہیں، مجھے مارتے ہیں، کیونکہ جو جھوٹی نبوّت کا جھوٹا دعویٰ کرسکتے ہیں، وہ ہر جھوٹ بول سکتے ہیں۔

قادیانی، کفر میں بھی مخلص نہیں:

میں مرزا طاہر سے کہنا چاہتا ہوں: مرزا طاہر!

در کفر مخلص نہی زنار را رُسوا مکن!

اگر تم کفر میں بھی مخلص نہیں ہو تو زنار کو رُسوا مت کرو، اگر واقعتا تم غلام احمد قادیانی کی نبوّت پر ایمان رکھتے تو مسلمانوں کے ساتھ مل کر رہنے کی کوشش نہ کرتے، ایک طرف پوری اُمت کو کافر کہتے ہو، اور دوسری طرف یہ ڈھنڈورا پیٹتے ہو کہ ہمیں کافر کہا جاتا ہے، گویا یہ کہنا چاہتے ہو کہ ہم کافر نہیں ہیں بلکہ ہمیں کافر کہا جاتا ہے۔

مرزائیت کی موت کا وقت:

ایک اور بات! مرزا طاہر تو آج کل ہوا میں پرواز کر رہا ہے، اس لئے کہ اس کو تاریک فضا مل گئی ہے، چنانچہ یہ جو کیڑے مکوڑے ہوتے ہیں ناں! یعنی تاریکی کے فرزند یہ پتنگے وغیرہ، یہ رات کی تاریکی میں نکلتے ہیں، وہ دن کو کبھی نظر نہیں آتے، ٹھیک اسی طرح جہاں علم کی روشنی ہو، جہاں علمائے کرام موجود ہوں، وہاں تم سر نہیں اُٹھاؤگے، اور جہاں جہالت کا اندھیرا ہو، وہاں تم لوگوں کو گمراہ کروگے۔ میں جانتا ہوں کہ انگلینڈ، امریکا اور دوسرے مغربی ممالک جہالت کی تاریکیوں میں ڈوبے ہوئے ہیں، اور تمہیں یہاں کھل کھیلنے کا موقع مل رہا ہے، جو چاہو کہو، جو چاہو کرو، تمہاری زبان کو پکڑ کر کوئی کھینچنے والا نہیں، اس لئے تم ہوا میں پرواز کر رہے ہو، لیکن میں تمہیں بتادینا چاہتا ہوں کہ چیونٹی کے جب پَر لگتے ہیں تو اس کی موت کا وقت قریب آجاتا ہے، ہماری زبان میں کہتے ہیں: چیونٹی کی جب

582

موت آتی ہے تو اس کو پَر لگ جاتے ہیں۔ تمہاری ہلاکتوں کا وقت منجانب اللہ مقدر ہوچکا ہے، تم پرواز کرلو، یہ اُڑانیں بھرلو، تمہیں آج کل جو پَر لگے ہوئے ہیں، یہ حقیقت میں تمہاری موت کا انتظام ہے، اور تمہاری ہلاکت کی گھنٹی ہے، اِن شاء اللہ حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی یہ ٹوٹی پھوٹی اور کمزور اُمت جس کے نبی کی تشریف آوری کو چودہ سو سال ہوگئے اور اس نے اپنے نبی کو دیکھا تک نہیں، بلاشبہ ہم بہت پیچھے رہ گئے اور ہم بچھڑگئے، اور بہت ہی خستہ حال ضرور ہیں، مگر اِن شاء اللہ یہ اُمت اپنی تمام تر کمزوریوں کے باوجود چلتی رہے گی اور اُمتِ محمدیہؐ کا یہ قافلہ رواں دواں رہے گا، ہاں! تم بلبلے کی طرح اُٹھے تھے اور اِن شاء اللہ بلبلے کے طور پر بیٹھ جاؤگے، اِن شاء اللہ تعالیٰ! ثم اِن شاء اللہ!

وآخر دعوانا ان الحمدﷲ رب العالمین

583

حضرت گنگوہیؒ اور تکفیرِ مرزا

بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ

اَلْحَمْدُللہِ وَسَلَامٌ عَلٰی عِبَادِہِ الَّذِیْنَ اصْطَفٰی!

بریلویوں کے ایک مکتبہ ’’مکتبہ قادریہ، جامعہ نظامیہ رضویہ، اندرون لوہاری دروازہ، لاہور‘‘ نے فتاویٰ قادریہ مؤلفہ مولوی محمد لدھیانوی شائع کیا تھا، اس پر یہ خط لکھا گیا تھا۔

(محمد یوسف لدھیانوی)

مکرم و محترم، زیدت مکارمہم، السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ!

مزاجِ گرامی! آنجناب کا طبع کردہ رسالہ ’’فتاویٰ قادریہ‘‘ نظر سے گزرا، میں جناب کا شکریہ ادا کرتا ہوں کہ آپ نے علمائے لدھیانہ کے علمی افادات شائع کرکے ہمیں ان سے مستفید ہونے کا موقع عنایت فرمایا، فجزاکم اللہ احسن الجزاء!

کتاب پر جناب مولانا محمد عبدالحکیم شرف قادری صاحب کا حرفِ آغاز ہے، جس میں انہوں نے حضرت مولانا رشید احمد گنگوہیؒ کے توقف دربارۂ تکفیرِ قادیانی کا ذکر کرتے ہوئے لکھا ہے:

’’ابوالقاسم رفیق دلاوری اپنی کتاب رئیس قادیانی (قادیاں) جلد دوم میں لکھتے ہیں کہ آخر گنگوہی صاحب نے بھی مرزا کی تکفیر پر اتفاق کرلیا تھا، جہاں تک فتاویٰ قادریہ کا تعلق ہے اس سے اس اتفاق کا نشان نہیں ملتا، فتاویٰ رشیدیہ میں بھی ایسا کوئی عنوان نہیں، اگر کوئی صاحب اس کی نشاندہی کریں تو تاریخ کے ایک طالبِ علم ہونے کی حیثیت سے ہمیں اس کے قبول کرنے میں کوئی باک نہ ہوگا۔‘‘

میں جناب شرف قادری صاحب کی خدمت میں عرض کرنا چاہتا ہوں کہ مولانا

584

ابوالقاسم رفیق دلاوری مرحوم کی تحقیق دُرست ہے، حضرت گنگوہیؒ کو قادیانی کے کفریات کی اَوّل اَوّل اطلاع نہیں تھی، اس لئے تکفیر کے معاملہ میں احتیاط کی رَوش اختیار فرماتے تھے، اور قادیانی کے کلمات موحشہ (وحشت پیدا کرنے والے) کی حتی الوسع تأویل فرماتے تھے، لیکن جب قادیانی کے کفریات تأویل کے متحمل نہ رہے تو اس کی تکفیر فرمائی، اور چونکہ آخر الاقوال یہی ہے، اس لئے حضرت گنگوہیؒ کی پہلی رائے مرجوع عنہ (رُجوع شدہ) تصور کی جائے گی، حضرت قدس سرہٗ کے اس رجوع کی سردست دو شہادتیں پیش کرتا ہوں، ایک حضرتؒ کی اپنی تحریر، اور دوسرے مرزا غلام احمد قادیانی کی تحریر۔

اوّل:... غالباً آنجناب کو علم ہوگا کہ حضرت گنگوہیؒ کے مکاتیب کا ایک مجموعہ ’’مفاوضاتِ رشیدیہ‘‘ کے نام سے ۱۹۳۸ء میں شائع ہوا تھا، یہ وہ خطوط ہیں جو آپ نے اپنے خلیفۂ مجاز حضرت مولانا سیّد اشرف علی سلطان پوری کے نام تحریر فرمائے تھے، یہ مجموعہ اب شوال ۱۳۹۶ھ میں کتب خانہ اشاعت العلوم محلہ مفتی سہارنپور سے دوبارہ شائع ہوا ہے، اس میں متعدد خطوط میں مرزا قادیانی کے بارے میں اظہارِ رائے فرمایا ہے، ۲۷؍ذیقعدہ ۱۳۰۸ھ کے خط میں لکھتے ہیں:

’’مرزا، حسبِ وعدہ فخرِ عالم علیہ السلام دجال کذّاب پیدا ہوا ہے، مثل مختار (ثقفی) کے اَوّل دعویٰ تائید دین کیا، اب مدعیٔ نبوّت درپردہ ہوکر مضل خلق ہوا، اور بڑا چالاک ہے کہ اشتہارِ مناظرہ دیتا ہے، اور جب کوئی مقابل ہوتا ہے بلطائف الحیل ٹال دیتا ہے، اور مناظرہ موت و حیاتِ عیسیٰ علیہ السلام میں کرتا ہے، اور اپنے دعویٰ کے باب میں بالکل مناظرہ نہیں کرتا، بندہ نے اس کے باب میں فتویٰ لکھا ہے، وہ ملفوف ہے، ہرگز تردّد نہ کرنا چاہئے، جو نصوص کا منکر ہوگا وہ اہلِ ہویٰ میں داخل ہے، آپ اپنی طرف سے لوگوں کو قطعاً ممانعت اس سے ملنے کی کردیں، ہرگز اس کے ناحق اور اہلِ باطل ہونے میں تأمل نہ فرمائیں۔‘‘

(ص:۴۱خط نمبر: ۲۶)

حضرتؒ کی اس تحریر سے ثابت ہے کہ حضرتؒ کے نزدیک مرزا دجال، کذّاب،

585

مدعیٔ نبوّت، مثیلِ مختار ثقفی اور منکرِ نصوص تھا، اور حضرتؒ نے اس کے بارے میں فتویٰ بھی تحریر فرمایا تھا۔

دوم:... مرزا غلام احمد قادیانی ’’انجامِ آتھم‘‘ میں اپنے مکفرین کی فہرست میں مولانا نذیر حسین دہلوی، مولانا عبدالحق دہلوی، مولانا عبداللہ ٹونکی، مولانا احمد علی سہارنپوری، مولانا سلطان الدین جے پوری، مولانا محمد حسن امروہی کا نام درج کرتے ہوئے آخر میں لکھتا ہے:

’’وآخرھم الشیطان الأعمٰی والغول الأغویٰ یقال لہٗ رشید الجنجوھی، وہو شقی کالأمروھی، ومن الملعونین، فھؤلَاء تسعۃ رہط کفّرونا، وسبّونا، وکانوا مفسدین، ونذکر معھم الشیخین المشہورین، یعنی الشیخ الٰہ بخش التونسوی، والشیخ غلام نظام الدین البریلوی، وانھما من المعرضین، فندخلھم فی الذین خاطباھم، لیکونا من المصدقین او المکذبین۔‘‘

(ص:۲۵۲ مطبوعہ ربوہ)

مرزا کی اس تحریر سے ثابت ہوتا ہے کہ حضرت گنگوہیؒ نے بھی مرزا کی تکفیر کی تھی، جس کی پاداش میں مرزا نے حسبِ عادت، حضرت گنگوہیؒ کو گندی گالیاں بکیں، نیز یہ کہ اس وقت تک (یہ کتاب مرزا صاحب نے ۱۸۹۷ء میں لکھی تھی) خواجہ اللہ بخش تونسوی اور مولانا غلام نظام الدین بریلوی، مرزا کے بارے میں متوقف تھے، نہ مصدق تھے، نہ مکذب۔

میں جناب مولانا شرف قادری صاحب کے طالب علمانہ ذوق سے توقع رکھتا ہوں کہ وہ اس ناکارہ کی نشاندہی کو حسبِ وعدہ قبول فرمائیں گے، اور اس قبول کی اطلاع سے اس ناکارہ کو سرفراز فرمائیں گے، ان کی سہولت کے لئے جوابی لفافہ بھیج رہا ہوں، اور اس خیال سے کہ شاید دونوں حوالے کی کتابیں انہیں نہ مل سکیں، متعلقہ صفحات کے فوٹواسٹیٹ بھی ارسالِ خدمت ہیں۔ اُمید ہے مزاجِ سامی بعافیت ہوں گے۔والسلام

محمد یوسف عفا اللہ عنہ

۲۶؍۷؍۱۴۰۰ھ

۱۰؍۶؍۱۹۸۰ء

586

مسئلۂ ختمِ نبوّت اور قادیانیت

جامع مسجد فلاح نصیرآباد کراچی میں حضرت شہیدؒ نے یہ مختصر خطاب کیا، جسے کیسٹ سے نقل کرکے قارئین کی خدمت میں پیش کیا جارہا ہے۔

سعید احمد جلال پوری

بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ

اَلْحَمْدُللہِ وَسَلَامٌ عَلٰی عِبَادِہِ الَّذِیْنَ اصْطَفٰی!

ہمارے باوا صاحب نے ختمِ نبوّت کا مسئلہ ذکر کیا ہے، رمضان المبارک کا پہلا جمعہ چونکہ ختمِ نبوّت کے لئے ہوتا ہے اس لئے رمضان المبارک کے پہلے جمعہ میں ختمِ نبوّت کے مسئلے پر روشنی ڈالی جاتی ہے، اور آپ حضرات کو یاد ہوگا کہ آپ سے ختمِ نبوّت کے لئے چندہ کی اپیل کی جاتی ہے۔ اس دفعہ چونکہ ابھی تک ہمارا (عمرہ کے لئے جانا) نہیں ہوسکا، اِن شاء اللہ ابھی جمعہ کے بعد روانگی ہوگی... عموماً واپسی کے بعد ختمِ نبوّت کے چندہ کے لئے اپیل ہوتی ہے۔ خیر وہ تو چلتی ہی رہے گی اور اِن شاء اللہ ساری زندگی چلتی رہے گی۔

باوا صاحب نے ختمِ نبوّت کی بات کی ہے، تو میں بھی دو چار باتیں اسی موضوع پر کہہ دیتا ہوں۔

مسئلۂ ختمِ نبوّت پر کبھی نزاع نہیں رہا:

ایک یہ کہ ختمِ نبوّت کا مسئلہ کبھی اُمت کے درمیان نزاع کا موجب نہیں رہا، یعنی کبھی ایسا نہیں ہوا کہ اس مسئلہ میں دو آدمیوں کی رائے مختلف رہی ہو، مثلاً: ایک کہتا ہو کہ نبوّت ختم ہے، اور دوسرا کہتا ہو کہ نہیں، ختم نہیں ہوئی بلکہ جاری ہے۔ پوری پوری کی اُمت

587

آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے لے کر آج تک اس پر متفق ہے کہ نبوّت ختم ہوچکی ہے، چنانچہ جو مسلمان ہے وہ ختمِ نبوّت کا قائل ہے، اور اس کا عقیدہ ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم آخری نبی ہیں، اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد کوئی نبی مبعوث نہیں ہوگا، یعنی کوئی نیا نبی نہیں آئے گا، جو اس کا قائل نہیں، وہ مسلمان نہیں۔

ختمِ نبوّت کے دلائل:

ختمِ نبوّت کے عقلی دلائل بھی ہیں، یعنی عقل تقاضا کرتی ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد کسی شخصیت کو نبی نہ بنایا جائے، اور اس کے سر پر نبوّت کا تاج نہ رکھا جائے، اور زمان و مکان بھی اس کی شہادت دیتے ہیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم تمام زمانوں کے اور تمام مکانوں کے نبی ہیں۔ جس طرح ایک جوتے میں دو پاؤں نہیں آسکتے، اور ایک قالب میں دو چیزوں کی بھرتی نہیں کی جاسکتی، اسی طرح تمام زمان و مکان آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوّت سے بھرے ہوئے ہیں، کسی اور نبی کی گنجائش ہی نہیں۔ یہ ٹھیک اسی طرح ہے جس طرح اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:

’’مَا جَعَلَ اللہُ لِرَجُلٍ مِّنْ قَلْبَیْنِ فِیْ جَوْفِہٖ...۔‘‘

(الاحزاب:۴)

یعنی اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ: ہم نے کسی آدمی کے پہلو میں دو دِل نہیں رکھے، ایک ہی دِل ہے۔

منکرِ خدا کی طرح منکرِ رسالت بھی کافر ہے:

آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد آنے والی تمام نسلِ انسانی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی اُمت ہی ہے، ممکن ہی نہیں کہ کسی دوسرے نبی کی اُمت بن جائے، جس طرح خدا تعالیٰ کا منکر دہریہ اور منکرِ خدا ہے، اسی طرح خدا تعالیٰ کی وحدانیت میں کسی اور کو شریک کرنے والا بھی منکرِ خدا ہے۔ ٹھیک اسی طرح جو لوگ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے قائل نہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو نہیں مانتے، وہ بھی منکرِ رسالت ہیں، اور جو لوگ کسی دوسرے کو اس

588

رسالت میں ظلّی، بروزی، مجازی، حقیقی وغیرہ انداز سے شریک کردیتے ہیں، وہ بھی مشرک فی النبوۃ ہونے کی وجہ سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے منکر ہیں۔

’’لَا نبی بعدی‘‘ کے بعد کسی نبی کی گنجائش نہیں:

جس طرح کلمہ ’’لا الٰہ الا اللہ‘‘ (نہیں کوئی معبود سوائے اللہ کے) کے اقرار کے بعد کسی دوسرے چھوٹے موٹے، ظلّی، بروزی، حقیقی، مجازی، خدا کی گنجائش کے نہیں ہے اور اللہ کے سوا کسی قسم کا کوئی بھی معبود نہیں، اسی طرح ارشادِ نبوی:’’لا نبی بعدی!‘‘ (میرے بعد کوئی نبی نہیں) کے بعد بھی کسی نبی کی گنجائش نہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشاد: ’’لا نبی بعدی!‘‘ (میرے بعد کوئی نبی نہیں) کا معنی یہ ہے کہ مجھ سے پہلے نبی تھے، مگر میرے بعد کوئی نبی نہیں۔

پہلے کا کوئی نبی آجائے تو ختمِ نبوّت کے منافی نہیں:

جس سے معلوم ہوا کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے پہلے نبی ہوتے رہے ہیں، ہاں! بعد میں کوئی نہیں آئے گا۔ اب اگر حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے پہلے کا کوئی رسول آجائے یا سارے نبی موجود ہوں تو آخری نبی کون ہوگا؟ ظاہر ہے حضور صلی اللہ علیہ وسلم ہی آخری نبی ہوں گے، کیونکہ نبوّت سب سے پہلے حضرت آدم علیہ السلام کو دی گئی، اور سب سے آخر میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو دی گئی، آپ آخری نبی اور خاتم النبیین ہیں، آپ کے بعد کوئی نبی نہیں، لہٰذا اگر پہلے کے نبی سارے کے سارے ایک لاکھ چوبیس ہزار نبی آکر حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے دین کی خدمت کریں اور آپ کے خادم بن جائیں تو کوئی فرق نہیں پڑے گا، تب بھی آپ خاتم النبیین رہیں گے۔

قادیانی دھوکا!

قادیانی یہ دھوکا دیا کرتے ہیں کہ اگر حضور صلی اللہ علیہ وسلم خاتم النبیین ہیں تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد حضرت عیسیٰ علیہ السلام کیسے آئیں گے؟ میں نے اس کا جواب عرض کردیا کہ عیسیٰ علیہ السلام کو حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد نبوّت نہیں دی گئی۔

589

مرزا قادیانی مریم سے عیسیٰ کیسے بنا؟

مرزا غلام احمد ’’کشتیٔ نوح‘‘ میں کہتا ہے کہ: ’’دو سال تک میں مریمی صفت میں نشوونما پاتا رہا۔‘‘ حیرت ہے کہ اس وقت بھی مرزا جی کی داڑھی اور موچھیں بھی تھیں، اس نے کوٹ بھی پہن رکھا تھا، لیکن اس کے باوجود کہتا ہے کہ میں مریمی صفت میں نشوونما پاتا رہا، یعنی مریم بن گیا۔

ذرا کسی قادیانی سے پوچھو کہ مریمی صفت کیا ہوتی ہے؟

پھر کہتا ہے کہ: اس کے بعد استعارہ کے رنگ میں مجھ میں عیسیٰ کی رُوح نفخ کی گئی، یعنی استعارہ کی پچکاری سے عیسیٰ کی رُوح کا انجکشن لگایا گیا۔ گویا وہ کہتا ہے کہ میں مریم تو پہلے بن گئی تھی نا، دو سال تک مرزا مریم بنی رہی، پھر میرے اندر استعارہ کے رنگ میں عیسیٰ کی رُوح نفخ کی گئی، اور اس طرح مجھے حاملہ ٹھہرایا گیا، پھر ایک مدتِ حمل کے بعد جو دس مہینے سے کم نہیں، (لاہور میں ہمارے ریاض الحسن گیلانی صاحب ہوتے ہیں، وہ کہتے ہیں کہ دس مہینے میں تو گدھی حاملہ رہا کرتی ہے)۔ چنانچہ کہتا ہے کہ: پھر ایک مدتِ حمل کے بعد جو دس مہینے سے کم نہیں، میں مریمی صفت سے عیسیٰ کی صفت کی طرف منتقل ہوا، یعنی وضعِ حمل ہوگیا، اس طرح میں عیسیٰ ابن مریم کہلایا، لہٰذا میں عیسیٰ بھی ہوں، اور مریم کا بیٹا بھی ہوں، اور خود مریم بھی تھا، گویا وہ کہتا ہے کہ میں خود بیٹا، خود ہی باپ اور خود ہی ماں، اور جب مریم سے عیسیٰ بن گیا تو پھر نبوّت بھی مل گئی۔

میں یہ کہنا چاہتا ہوں کہ غلام احمد کا دعویٰ ہے کہ مجھے نبوّت دی گئی، مگر اس کے برعکس اسلام کہتا ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد نبوّت کسی کو دی نہیں جائے گی، بس اتنا ہی فرق ہے قادیانیوں اور مسلمانوں کے عقیدہ میں۔

تمام انبیاء آپؐ کے ماتحت ہیں:

بلاشبہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی آمد سر آنکھوں پر، بلکہ اگر حضرت ابراہیم علیہ السلام بھی آجائیں جو کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے نسب کے اعتبار سے جدِامجد ہیں، مگر

590

مرتبے کے اعتبار سے وہ بھی حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے دین کے خادم ہیں، سنو! ایک لاکھ چوبیس ہزار نبی، حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوّت کے ماتحت ہیں، جب تمام انبیائے کرامؑ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے خادم ہوئے تو آپ نبی الانبیاء ہوئے، دوسرے انبیائے کرام علیہم الصلوٰۃ والسلام نبی ہیں، مگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نبوّت کے جرنیلِ اعظم، سب سے بڑے سپہ سالار ہیں، اور سب جرنیل آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ماتحت ہیں، اس لئے کہ ہر جرنیل اپنی ماتحت فوج کے ساتھ سپہ سالارِ اعظم کے ماتحت ہوتا ہے، اس طرح تمام کی تمام اُمتیں اپنے نبیوں کے توسل سے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی اُمت میں شامل ہوجاتی ہیں، اس لئے فرمایا کہ:

’’بیدی لواء الحمد یوم القیامۃ ولَا فخر! واٰدم ومن دونہ تحت لوائی یوم القیامۃ ولَا فخر!‘‘

ترجمہ:... ’’اور میرے ہاتھ میں حمد کا جھنڈا ہوگا قیامت کے دن، فخر کی بات نہیں، اور آدم اور آدم سے نیچے کے تمام انبیائے کرام (علیہم الصلوٰۃ والسلام) سب کے سب میرے جھنڈے کے نیچے ہوں گے، فخر کی بات نہیں۔

’’لواء الحمد‘‘ حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھ میں ہوگا، کیونکہ سپہ سالار آپ ہیں، اور باقی تمام انبیائے کرام علیہم السلام ان کے ماتحت ہیں۔

رفع و نزولِ عیسیٰ ؑکا عقیدہ:

حضرت عیسیٰ علیہ السلام قربِ قیامت میں زمین پر تشریف لائیں گے، کیونکہ اللہ نے ان کو زندہ آسمان پر اُٹھالیا تھا، اور قرآنِ کریم میں اس کا تذکرہ موجود ہے، چنانچہ ارشاد ہے:

’’بَلْ رَّفَعَہُ اللہُ اِلَیْہِ وَکَانَ اللہُ عَزِیْزًا حَکِیْمًا۔‘‘

ترجمہ:... ’’بلکہ اُٹھالیا اللہ نے اس کو اپنی طرف، (کیسے

591

اُٹھالیا؟) اس لئے کہ اللہ بڑا زبردست ہے۔‘‘

تمہارے لئے ’’کیسے؟‘‘ کا سوال ہوسکتا ہے، اللہ کے لئے ’’کیسے؟‘‘ کا سوال نہیں ہوسکتا،’’حَکِیْمًا‘‘ کیوں اُٹھالیا تھا؟ اللہ تعالیٰ حکمت والے ہیں، وہ اپنی حکمت کو خود جانتے ہیں، ’’کیوں؟‘‘ کا سوال تمہارے اور میرے لئے ہوسکتا ہے، اس کے لئے نہیں ہوسکتا۔ قادیانیوں کے تمام شبہات کا جواب قرآن پہلے سے دے کر فارغ ہوچکا ہے۔

نزولِ عیسیٰ ؑاور قرآنِ کریم:

حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے نزول کے بارہ میں بھی قرآنِ کریم میں تصریح موجود ہے جیسا ارشاد ہے:

’’وَاِنْ مِّنْ اَھْلِ الْکِتَابِ اِلّا لَیُؤْمِنَنَّ بِہٖ قَبْلَ مَوْتِہٖ۔‘‘

ترجمہ:... ’’اور نہیں ہیں اہلِ کتاب میں سے کوئی مگر ضرور ایمان لائے گا اس پر، اس کی موت سے پہلے۔‘‘

’’اس پر‘‘ یعنی عیسیٰ علیہ السلام پر، ’’اس کی موت سے پہلے‘‘ یعنی عیسیٰ علیہ السلام کی موت سے پہلے، معلوم ہوا کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام مرے نہیں ابھی زندہ ہیں، جب قرآن نازل ہو رہا تھا اس وقت قرآن کہہ رہا ہے: ’’قَبْلَ مَوْتِہٖ‘‘ اس کی موت سے پہلے ایمان لائیں گے۔ معلوم وہا کہ وہ مرا نہیں۔

جب آپ کہیں کہ مرنے سے پہلے یہ کام اِن شاء اللہ کرنا ہے، تو اس کا کیا مطلب ہے؟ کہ آپ مرگئے؟ یا بعد میں کریں گے؟ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ عیسیٰ کی موت سے پہلے تمام اہلِ کتاب ان پر ایمان لائیں گے، اور بسندِ صحیح حضرت عبداللہ بن عباسؓ اور دوسرے اکابر سے منقول ہے کہ اس کا مطلب یہ ہے کہ عیسیٰ علیہ الصلوٰۃ والسلام قربِ قیامت میں دجال کو قتل کرنے کے لئے نازل ہوں گے تو تمام کے تمام اہلِ کتاب مسلمان ہوجائیں گے، یہ تو مختصر سی بات ہوئی ختمِ نبوّت کے متعلق۔

592

قادیانیت کی تعریف:

دوسری طرف ختمِ نبوّت کی نفی کا نام قادیانیت ہے، مگر اس کے باوجود قادیانی کہتے ہیں کہ ’’ہم مسلمان ہیں!‘‘ بھائی! نوّے سال تک ہماری ان کے ساتھ لڑائی ہوتی رہی اور جنگ جاری رہی، مباحثے ہوئے، مناظرے ہوئے، اس کے بعد پھر مباہلے ہوئے۔

مباہلہ کی تعریف:

مباہلہ کا یہ مطلب ہوتا ہے کہ ایک فریق اِس طرف سے، ایک فریق اُس طرف سے، دونوں اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں دُعا کرتے ہیں کہ: یا اللہ! ان دونوں میں سے جو جھوٹا ہو، اس کو ہلاک کر، اور اس پر لعنت فرما۔ اے اللہ! اتنی لعنتیں فرما، اتنی لعنتیں فرما، اتنی لعنتیں فرما جتنی کہ غلام احمد پر نازل ہوئیں۔

حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا نصرانیوں سے مباہلہ:

سورۂ آل عمران میں نصاریٰ کے وفد کا تذکرہ ہے انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے مذہبی گفتگو کی تھی، لاجواب تو ہوگئے، لیکن مانے نہیں، یہ مباحثہ پندرہ دن نہیں، بلکہ پندرہ منٹ بھی نہیں رہا، صرف پانچ منٹ میں ان کے اس وقت کے سب سے بڑے بڑے، موٹے موٹے اسی۰۸ عالم جمع ہوکر حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے گفتگو کرنے آئے تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس موقع پر ان سے تین فقرے ارشاد فرمائے تھے، چوتھا فقرہ نہیں فرمایا کہ وہ لاجواب ہوگئے۔

آتھم کے مقابلہ میں مرزا کی بے بسی:

ادھر مرزا غلام احمد قادیانی، ایک عیسائی عبداللہ آتھم جیسے ایک معمولی دیسی پادری، جو کہ عبداللہ سے مرتد ہوکر آتھم بنا تھا، اس جیسے بگڑے ہوئے خبیث، دیسی پادری کے ساتھ پندرہ دن تک مناظرہ کرتا رہا، مگر غلام احمد اس کا کچھ نہیں بگاڑ سکا۔

نصرانیوں سے مباہلہ کی تفصیلات:

خیر حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے عیسائی لاجواب ہوگئے، لیکن مان کے نہیں

593

دئیے، اس پر قرآنِ کریم کی یہ آیتِ شریفہ نازل ہوئی:

’’فَمَنْ حَآجَّکَ فِیْہِ مِنْ بَعْدِ مَا جَآئَکَ مِنَ الْعِلْمِ فَقُلْ تَعَالَوْا نَدْعُوْا اَبْنَآئَنَا وَاَبْنَآئَکُمْ وَنِسَآئَنَا وَنِسَآئَکُمْ وَاَنْفُسَنَا وَاَنْفُسَکُمْ ثُمَّ نَبْتَھِلْ فَنَجْعَلْ لَّعْنَتَ اللہِ عَلَی الْکَاذِبِیْنَ۔‘‘

ترجمہ:... ’’(اے نبی!) اس مسئلے میں جو لوگ آپ سے اس کے بعد بھی جھگڑا کرتے ہیں تو ان سے کہو کہ آؤ ہم بلاتے ہیں اپنے بیٹوں کو، تم بلاؤ اپنے بیٹوں کو، ہم بلاتے ہیں اپنی عورتوں کو، تم بلاؤ اپنی عورتوں کو، ہم اپنے آپ کو لاتے ہیں، تم اپنے آپ کو لاؤ، (ایک میدان میں جمع ہوجائیں) پھر اللہ کے سامنے گڑگڑائیں، جھوٹوں پر اللہ کی لعنت کریں۔‘‘

حضورِ اقدس صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو یہ آیت سنادی، کہنے لگے: اے محمدؐ! ہمیں ایک دن کی مہلت دے دیجئے تاکہ ہم مشورہ کرلیں، فرمایا: ٹھیک ہے! اگلے دن وہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں جب آئے ... دراصل حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے ٹھہرنے کا انتظام فرمایا ہوا تھا، اور وہ آپؐ کے مہمان تھے ... تو آکر کہنے لگے کہ: حضور! ہماری رائے یہ ہے کہ آپ سے مباہلہ نہ کریں، بلکہ آپ کے ساتھ صلح کرلیں، اور آپ کو جزیہ اور ٹیکس دیا کریں، ذمیوں والا معاملہ کرلیں، نبوّت اس کو کہتے ہیں۔

لاٹ پادری کا اعتراف:

رات کو جب یہ آپس میں مشورہ کر رہے تھے تو ان کا سب سے بڑا پادری عبدالمسیح اپنے ساتھیوں سے کہنے لگا: تم جو مشورہ کروگے، اس پر عمل کرلیں گے، لیکن میری ایک بات سن لو! وہ یہ کہ اتنا تو تم بھی جانتے ہو کہ یہ نبیٔ برحق ہے، اپنے گھر کی بات ہے ناں، تم بھی جانتے ہو کہ یہ نبیٔ برحق ہیں۔

594

ابوجہل کا اعترافِ صداقت:

اور تو اور جب ابوجہل سے تنہائی میں پوچھا گیا تھا کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے بارہ میں تمہاری کیا رائے ہے؟ سچے ہیں یا جھوٹے؟ اس پر ابوجہل نے کہا کہ: کبھی انہوں نے جھوٹ بولا ہی نہیں کہ ان کو جھوٹا کہا جائے، جب انہوں نے جھوٹ ہی نہیں بولا تو ان کو جھوٹا کیسے کہیں؟ اس سے کہا گیا کہ: پھر مانتے کیوں نہیں ہو؟ کہنے لگا: فلاں منصب ان ہاشمیوں کے پاس، فلاں بھی ان کے پاس، فلاں بھی ان کے پاس، سقایا ان کے پاس، رفادہ ان کے پاس، اور حجابہ ان کے پاس، اور اب ایک باقی رہ گئی تھی نبوّت، یہ بھی ان کے یہاں چلی جائے؟ اس سے تو قریش کی ناک کٹ جائے گی۔ لا حول ولا قوۃ الا باللہ! مکے کا سب سے بڑا مشرک اور ’’فرعون ھٰذہ الاُمۃ‘‘ کہتا ہے کہ حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم سچے ہیں۔

سچے نبی سے مباہلہ، پروانۂ موت پر دستخط کرنا ہے:

تو ان عیسائی پادریوں کا سب سے بڑا پادری بھی اپنی قوم میں تقریر کرتا ہے کہ تم جانتے ہو کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم سچے ہیں۔ اسی طرح اس پادری نے دوسری بات یہ بھی کہی کہ: یہ بات تو تم بھی جانتے ہو کہ سچے نبی کے ساتھ مباہلہ کرکے کبھی کوئی بچا نہیں ہے، اس لئے میری رائے یہ ہے کہ ان سے مباہلہ کرکے اپنی موت اور موت کے پروانے پر دستخط نہ کرو، لہٰذا وہ جس شرط پر بھی راضی ہوجائیں، ان سے صلح کرلو۔ اگلے دن عیسائی پادری آئے اور آکر صلح کرلی، حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ٹھیک ہے! کوئی اصرار نہیں تھا، کیونکہ سچی نبوّت تھی۔

اگر عیسائی مباہلہ کرتے تو ...:

البتہ اس موقع پر ایک بات فرمائی کہ: ’’اگر یہ لوگ مباہلہ کے میدان میں اللہ کے نبی کے مقابلہ میں ہاتھ اُٹھالیتے تو اللہ کی قسم! ان کے درختوں پر ایک چڑیا بھی زندہ باقی نہ رہتی۔‘‘ اس کو کہتے ہیں صداقت...!

595

غلام احمد کے مباہلوں کا انجام؟

غلام احمد قادیانی کے ساتھ مسلمانوں کے مباہلے ہوئے اور ان میں وہ جھوٹا بھی نکلا، صرف ایک بار نہیں، بلکہ دو بار، تین بار، چار بار، پانچ بار، چھ بار اور سات بار جھوٹا نکلا، میرے پاس اس کے حوالے موجود ہیں، مگر قادیانی آج تک آئیں بائیں شائیں کرتے ہیں، کہ جی یہ ہوگیا تھا، اس میں یوں ہوگیا تھا، اور طرح طرح کی تأویلیں کرتے ہیں، مجھے بتلاؤ نبی کے ساتھ مباہلہ کرنے والا کبھی کوئی بچا ہے؟ ممکن ہی نہیں، مگر افسوس! کہ قادیانی مان کر نہیں دیتے۔ پھر بات چلی گئی عدالت میں، عدالت بھی کون سی؟ کہ ایک جج ہوتا ہے چھوٹا، ایک بڑا، اس سے بڑی عدالتِ عالیہ ہوتی ہے، اس کے بعد عدالتِ عظمیٰ ہوتی ہے، اس میں بنچ بیٹھتی ہے، اور یہاں کی پوری کی پوری قومی اسمبلی کو عدالت بنادیا گیا تھا، سپریم کورٹ نہیں اس سے بھی اُوپر کی عدالت، پوری کی پوری قومی اسمبلی مسٹر بھٹو نے اس کو عدالت کی حیثیت دے دی تھی، اور وہ باقاعدہ مقدمے کی سماعت کر رہی تھی، جس نے فیصلہ دے دیا کہ غلام احمد قادیانی جھوٹا تھا اور اس کی ذریت بھی جھوٹی ہے، چنانچہ انہیں متفقہ طور پر قومی اسمبلی نے غیرمسلم قرار دے دیا۔

مرزائیوں پر بغاوت کی سزا کا حکم:

یوں مرزائیوں کا فیصلہ ہوگیا کہ ان کا ملتِ اسلامیہ سے کوئی تعلق نہیں، وہ حضرت محمد عربی صلی اللہ علیہ وسلم کے باغیوں کا ٹولا ہے۔

گویا اب حق ہے کہ ان کو بغاوت کی سزا دی جائے، اور آپ جانتے ہیں کہ بغاوت کی سزا قتل ہے، مگر یہ حکومت کا کام ہے، اگر کوئی مسلمان اور اسلامی حکومت آئے گی تو ضرور اس پر عمل ہوگا۔

وَآخِرُ دَعْوَانَا اَنِ الْحَمْدُللہِ رَبِّ الْعَالَمِیْنَ

596

حقیقت چھپ نہیں سکتی ...!

قادیانی خواب!

بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ

اَلْحَمْدُللہِ وَسَلَامٌ عَلٰی عِبَادِہِ الَّذِیْنَ اصْطَفٰی!

صحیحین کی روایت میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ ارشاد متعدد اور مختلف الفاظ میں مروی ہے کہ:

’’من راٰنی فی المنام فقد راٰنی، فان الشیطان لَا یتمثل بی۔‘‘

ترجمہ:...’’جس نے مجھے خواب میں دیکھا، اس نے مجھ ہی کو دیکھا، کیونکہ شیطان میری صورت میں نہیں آسکتا۔‘‘

ایک اور روایت میں ہے:

’’من راٰنی فقد رأی الحق۔‘‘

(مشکوٰۃ ص:۳۹۴)

ترجمہ:...’’جس نے مجھے دیکھا اس نے سچا خواب دیکھا۔‘‘

خواب میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی زیارت شریفہ کی دو صورتیں ہیں، ایک یہ کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اصل شکل و ہیئت اور حلیۂ مبارکہ میں دیکھے، دوم یہ کہ کسی دوسری ہیئت و شکل میں دیکھے۔ اہل علم کا اس پر تو اتفاق ہے کہ اگر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی زیارت آپؐ کے اصلی حلیہ مبارکہ میں ہو تو ارشاد نبوی کے مطابق واقعی آپؐ کی زیارت نصیب ہوئی، لیکن اگر کسی دوسری ہیئت و شکل میں دیکھے تو اس کو بھی زیارت نبوی کہا جائے گا یا نہیں؟ اس میں علماء کے دو قول ہیں، ایک یہ کہ یہ زیارت نبوی نہیں، کیونکہ ارشاد نبوی کے

597

مطابق خواب میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی زیارت کا صرف یہ مطلب ہے کہ آپؐ کو اصلی شکل و صورت اور حلیہ مبارکہ میں دیکھے، پس اگر کسی نے مختلف حلیہ میں آپؐ کو دیکھا تو یہ حدیث بالا کا مصداق نہیں۔ اور بعض اہل علم کا قول یہ ہے کہ آپؐ کو خواہ کسی شکل و صورت اور حلیہ میں دیکھے، وہ آپؐ ہی کی زیارت ہے، اور آپؐ کے اصل حلیہ مبارکہ سے مختلف شکل میں دیکھنا خواب دیکھنے والے کے نقص کی علامت ہے، شیخ عبدالغنی نابلسی ’’تعطیر الانام فی تعبیر المنام‘‘ میں دونوں قسم کے اقوال نقل کرنے کے بعد لکھتے ہیں:

’’فعلم ان الصحیح بل الصواب کما قالہ بعضھم ان رؤیاہ حق علی ایّ حالۃٍ فرضت، ثم ان کانت بصورتہ الحقیقیۃ فی وقت ما سواء کان فی شبابہ او رجولیتہ او کہولتہ او آخر عمرہ لم تحتج الی تاویل۔ والّا احتیجت لتعبیر یتعلق بالرأی، ومن ثم قال بعض علماء التعبیر من راٰہ شیخا فھو غایۃ سلم، ومن راٰہ شابا فھو غایۃ حرب، ومن راٰہ متبسمًا فھو متمسک بسنتہ۔
وقال بعضھم من راٰہ علی ھیئتہ وحالہ کان دلیـلًا علی صلاح الرأی وکمال جاھہ وظفرہ بمن عاداہ ومن راٰہ متغیر الحال عابسًا کان دلیـلًا علیٰ سوء حال الرائی۔ وقال ابن ابی جمرۃ: رؤیاہ فی صورۃ حسنۃ حسن فی دین الرائی، ومع شین او نقص فی بعض بدنہ خلل فی دین الرائی، لأنہ صلی اللہ علیہ وسلم کالمراٰۃ الصیقلۃ ینطبع فیھا ما یقابلھا، وان کانت ذات المراٰۃ علی احسن حال واکملہ وھذہ الفائدۃ الکبریٰ فی رؤیاہ علیہ السلام اذ بہا یعرف حال
598

الرائی۔‘‘

(ج:۲ ص:۲۷۶، ۲۷۷ طبع حلبی مصر)

ترجمہ:...’’پس معلوم ہوا کہ صحیح بلکہ صواب وہ بات ہے جو بعض حضرات نے فرمائی کہ خواب میں آپؐ کی زیارت بہرحال حق ہے، پھر اگر آپؐ کے اصل حلیہ مبارکہ میں دیکھا، خواہ وہ حلیہ آپؐ کی جوانی کا ہو، یا پختہ عمری کا، یا زمانۂ پیری کا، یا آخری عمر شریف کا، تو اس کی تعبیر کی حاجت نہیں، اور اگر آپؐ کی اصل شکل مبارک میں نہیں دیکھا تو خواب دیکھنے والے کے مناسب حال تعبیر ہوگی، اسی بنا پر بعض علمائے تعبیر نے کہا کہ جس نے آپؐ کو بڑھاپے میں دیکھا تو یہ نہایت صلح اور جس نے آپؐ کو جوان دیکھا تو یہ نہایت جنگ ہے، اور جس نے آپؐ کو مسکراتے دیکھا تو یہ شخص آپؐ کی سنت کو تھامنے والا ہے۔

اور بعض علمائے تعبیر نے فرمایا کہ جس نے آپؐ کو اصلی شکل و حالت میں دیکھا تو یہ دیکھنے والے کی درست حالت، اس کی کمال وجاہت اور دشمنوں پر اس کے غلبہ کی علامت ہے، اور جس نے آپؐ کو غیرحالت میں (مثلاً) تیور چڑھائے ہوئے دیکھا تو یہ دیکھنے والے کی حالت کے برا ہونے کی علامت ہے، حافظ ابن ابی جمرہ فرماتے ہیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو اچھی صورت میں دیکھنا دیکھنے والے کے دین کے اچھا ہونے کی علامت ہے اور عیب یا نقص کی حالت میں دیکھنا دیکھنے والے کے دین میں خلل کی علامت ہے، کیونکہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی مثال شفاف آئینہ کی سی ہے کہ آئینہ کے سامنے جو چیز آئے اس کا عکس اس میں آجاتا ہے، آئینہ بذات خود خواہ کیسا ہی حسین و باکمال ہو (مگر بھدی چیز اس میں بھدی ہی نظر آئے گی) اور خواب میں آنحضرت صلی اللہ

599

علیہ وسلم کی زیارت شریفہ کا بڑا فائدہ یہی ہے کہ اس سے خواب دیکھنے والے کی حالت پہچانی جاتی ہے۔‘‘

اس سلسلہ میں مسند الہند شاہ عبدالعزیز محدث دہلویؒ کی ایک تحقیق فتاویٰ عزیزی میں درج ہے، جو حسب ذیل ہے:

’’سوال:...آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی زیارت خواب میں اہل سنت اور شیعہ دونوں فرقہ کو میسر ہوتی ہے، اور ہر فرقہ کے لوگ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا لطف و کرم اپنے حال پر ہونا بیان کرتے ہیں، اور اپنے موافق احکام آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے سننا بیان کرتے ہیں، غالباً دونوں فرقوں کو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی شان میں افراط کرنا اچھا نہیں معلوم ہوتا اور خطرات شیطانی کو اس مقام میں دخل نہیں، تو ایسے خواب کے بارے میں کیا خیال کرنا چاہئے؟

جواب:...یہ جو حدیث شریف ہے کہ: ’’من راٰنی فی المنام فقد راٰنی‘‘ یعنی جناب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ جس نے مجھ کو خواب میں دیکھا ہے تو اس نے فی الواقع مجھ کو دیکھا ہے، اکثر علماء نے کہا ہے کہ یہ حدیث خاص اس شخص کے بارے میں ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو اس صورت مبارک میں دیکھے جو بوقت وفات آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی صورت مبارک تھی، اور بعض علمائے کرام نے کہا ہے کہ یہ حدیث عام ہے، آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے کسی وقت کی صورت میں دیکھے تو وہ خواب صحیح ہوگا، یعنی ابتدائے نبوّت سے تا وقت وفات، جوانی اور کلاں سالی اور سفر و حضر، اور صحت اور مرض میں جس وقت آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی جو صورت مبارک تھی ان صورتوں میں سے جس

600

صورت میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو خواب میں دیکھے تو وہ خواب صحیح ہوگا، یعنی فی الواقع اس نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا ہوگا، اور جیسا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی صورت میں سنی نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو خواب میں دیکھا ہے اسی طرح شیعہ نے کبھی نہ دیکھا ہے، اور فرضیات کا اعتبار نہیں، تحقیق یہ ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو خواب میں دیکھنا چار قسموں پر ہے:

۱:...ایک قسم رؤیا الٰہی ہے کہ اتصال تعین کا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ہے۔

۲:...اور دوسری قسم ملکی ہے، اور وہ متعلقات آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھنا ہے، مثلاً آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا دین اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ورثہ اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا نسب مطہرہ اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت اور محبت میں سالک کا درجہ اور اس کے مانند اور جو امور ہیں تو ان امور کو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی صورت مقدس میں دیکھنا پردہ مناسبات میں ہو جو فن تعبیر میں معتبر ہے۔

۳:...تیسری قسم رؤیائے نفسانی ہے کہ اپنے خیال میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی جو صورت ہے اس صورت میں دیکھنا اور یہ تینوں اقسام آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو خواب میں دیکھنے کے بارے میں صحیح ہیں۔

۴:...اور چوتھی قسم شیطانی ہے، یعنی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی صورت مقدس میں شیطان اپنے کو خواب میں دکھلاوے، اور یہ صحیح نہیں ہوسکتا، یعنی ممکن نہیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی صورت مقدس کے مطابق شیطان اپنی صورت خبیث بناسکے اور

601

خواب میں دکھلا دے، البتہ مغالطہ دے سکتا ہے۔

تیسرے قسم کے خواب میں بھی کبھی شیطان ایسا کرتا ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی آواز اور بات کے مشابہ شیطان بات کرتا ہے اور وسوسہ میں ڈالتا ہے، چنانچہ بعض روایات سے ثابت ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سورۂ نجم پڑھتے تھے اور بعض آیت کے بعد جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے سکوت فرمایا تو شیطان نے کچھ عبارت خود بناکر پڑھ دی کہ اس سے بعض سامعین مشرکین کا شبہ قوی ہوگیا ــ یہ روایت اوپر ایک مقام پر مفصل مذکور ہوئی ہے ــ جب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ حیات میں شیطان نے ایسا کیا تو خواب میں ایسا کیوں نہیں ہوسکتا؟ اور اسی وجہ سے شریعت میں ان احکام کا اعتبار نہیں جو خواب میں معلوم ہوویں، اور خواب کی بات حدیث نہیں شمار کی جاتی، اور اگر کاش کوئی بدعتی کہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو خواب میں دیکھا ہے اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فلاں حکم فرمایا ہے، اور وہ حکم خلاف شرع ہوتو اس بدعتی کے قول پر اعتبار نہ کیا جاوے گا، واللہ اعلم!‘‘

(فتاویٰ عزیزی اردو ج:۱ ص:۲۷۵ تا ۲۸۷)

گزشتہ دنوں قادیانیوں کے نئے سربراہ مرزا طاہر احمد صاحب کی ’’خلافت‘‘ کی تائید میں قادیانی اخبار ’’الفضل ربوہ‘‘ میں ’’آسمانی بشارت‘‘ کے عنوان سے بعض چیزیں شائع کی گئیں، ان میں سے ایک کا تعلق خواب میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی زیارت سے ہے، اس لئے اس کا اقتباس بلفظہٖ درج ذیل ہے:

’’دیکھا کہ میں مسجد مبارک میں داخل ہو رہا ہوں، ہر طرف چاندنی ہی چاندنی ہے، جتنی تیزی سے ورد کرتا ہوں سرور بڑھتا جاتا ہے، اور چاندنی واضح ہوتی جاتی ہے، محراب میں حضرت

602

باباگرونانک رحمۃ اللہ علیہ جیسی بزرگ شبیہ کی صورت میں حضرت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف فرما ہیں، آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم کے گرد نور کا ہالہ اس قدر تیز ہے کہ آنکھیں چندھیا جاتی ہیں، باوجود کوشش کے شبیہ مبارک پر نظر نہیں ٹکتی۔‘‘

(الفضل ربوہ ۶؍ نومبر ۱۹۸۲ء)

علم تعبیر کی رو سے اس خواب کی تعبیر بالکل واضح ہے، صاحب خواب کو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا سکھوں کے پیشوا کی شکل میں نظر آنا اس امر کی علامت ہے کہ ان کا دین و مذہب، جسے وہ غلط فہمی سے اسلام سمجھتے ہیں، دراصل سکھ مذہب کی شبیہ ہے، اور ان کے روحانی پیشوا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بروز نہیں بلکہ سکھوں کے پیشوا بابا گرونانک کے بروز ہیں۔

اور صاحب خواب کو انوارات کا نظر آنا جس کی وجہ سے وہ خواب کی اصل مراد کو نہ پہنچ سکے، شیطان کی وہی تلبیس ہے جس کا تذکرہ حضرت شاہ عبدالعزیز محدث دہلویؒ نے فرمایا ہے، اور ان انوارات میں یہ اشارہ تھا کہ ان کے پیشوا نے بابا گرونانک کا بروز ہونے کے باوجود تلبیس و تدلیس کے ذریعہ اپنے آپ کو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا پیرو ثابت کرنے کی کوشش کی ہے جس سے ان کی طرح بہت سے حقیقت شناس لوگوں نے دھوکا کھایا۔

چونکہ خواب کی یہ تعبیر بالکل واضح تھی، شاید اسی لئے صاحب خواب کو مرزا بشیر احمد صاحب اور مرزا ناصر احمد صاحب نے خواب کے اظہار سے منع کیا۔

چنانچہ صاحب خواب لکھتے ہیں:

’’پھر (مرزا بشیر احمد صاحب نے) فرمایا کسی سے خواب بیان نہیں کرنی، خلافت ثلاثہ کا انتخاب ہوا تو پھر یہ نظارہ لکھ کر (مرزا طاہر احمد صاحب کی خدمت میں) بھجوادیا، حضرت مولانا جلال الدین شمس صاحب کے ذریعہ پیغام ملا کہ حضور (یعنی مرزا ناصر احمد

603

صاحب) فرماتے ہیں کہ خواب آگے نہیں بیان کرنی۔‘‘

(مرزا عبدالرشید وکالت پیشتر، ربوہ)

مناسب ہے کہ اس خواب کی تائید میں بعض دیگر اکابرؒ کے خواب و کشوف بھی ذکر کردئیے جائیں:

۱:...مولانا محمد لدھیانوی مرحوم فتاویٰ قادریہ میں لکھتے ہیں:

’’مولانا صاحب (مولانا محمد یعقوب صاحب نانوتویؒ صدر المدرسین دارالعلوم دیوبند) نے حسب وعدہ کے ایک فتویٰ ہاتھ سے لکھ کر ہمارے پاس ڈاک میں ارسال فرمایا جس کا مضمون یہ تھا، کہ یہ شخص میری دانست میں غیرمقلد معلوم ہوتا ہے اور اس کے الہامات اولیاء اللہ کے الہامات سے کچھ علاقہ نہیں رکھتے اور نیز اس شخص نے کسی اہل اللہ کی صحبت میں رہ کر فیض باطنی حاصل نہیں کیا، معلوم نہیں کہ اس کو کس روح کی ادلیسیّت ہے۔‘‘

(فتاویٰ قادریہ ص:۱۷مطبعہ قیصر ہند، لدھیانہ)

حضرت مولانا محمد یعقوب نانوتویؒ نے تو اس سے لاعلمی کا اظہار فرمایا کہ مرزا صاحب کو کس کی روح سے ’’فیض‘‘ پہنچا ہے، مگر ’’الفضل‘‘ میں ذکر کردہ خواب سے یہ عقدہ حل ہوجاتا ہے کہ مرزا صاحب کو سکھوں کے مذہبی پیشوا سے روحانی ارتباط تھا، مرزا نے جو کچھ لیا ہے انہی سے لیا ہے۔

۲:...’’مرزا غلام احمد قادیانی نے شہر لودیانہ میں آکر ۱۳۰۱ھ میں دعویٰ کیا کہ میں مجدد ہوں، عباس علی صوفی اور منشی احمد جان مع مریدان اور مولوی محمد حسن مع اپنے گروہ اور مولوی شاہدین اور عبدالقادر اور مولوی نور محمد مہتمم مدرسہ حقانی وغیرہ نے اس کے دعوے کو تسلیم کرکے امداد پر کمر باندھی، منشی احمد جان نے معہ مولوی شاہدین و عبدالقادر ایک مجمع میں جو واسطے اہتمام مدرسہ اسلامیہ کے

604

اوپر مکان شاہزادہ صفدر جنگ صاحب کے تھا بیان کیا کہ علی الصباح مرزا غلام احمد قادیانی صاحب اس شہر لودیانہ میں تشریف لائیں گے، اور اس کی تعریف میں نہایت مبالغہ کرکے کہا کہ جو شخص اس پر ایمان لائے گا گویا وہ اول مسلمان ہوگا۔

مولوی عبداللہ صاحب مرحوم برادرم نے بعد کمال بردباری اور تحمل کے فرمایا: ’’اگرچہ اہل مجلس کو میرا بیان کرنا ناگوار معلوم ہوگا لیکن جو بات خدا جل شانہ نے اس وقت میرے دل میں ڈالی ہے، بیان کئے بغیر میری طبیعت کا اضطراب دور نہیں ہوتا، وہ بات یہ ہے کہ مرزا قادیانی جس کی تم تعریف کر رہے ہو، بے دین ہے۔‘‘ منشی احمد جان بولا کہ میں اول کہتا تھا کہ اس پر کوئی عالم یا صوفی حسد کرے گا۔

راقم الحروف (مولانا محمد بن عبدالقادر لودیانویؒ) نے مولوی عبداللہ صاحب کو بعد برخاست ہونے جلسہ کے کہا کہ جب تک کوئی دلیل معلوم نہ ہو بلا تأمل کسی کے حق میں زبان طعن کی کھولنی مناسب نہیں، مولوی عبداللہ صاحب نے فرمایا کہ اس وقت میں نے اپنی طبیعت کو بہت روکا لیکن آخرالامر یہ کلام خدائے جل شانہ‘ نے جو میرے سے اس موقع پر سرزد کروایا ہے خالی از الہام نہیں۔

اس روز مولوی عبداللہ صاحب بہت پریشان خاطر رہے، بلکہ شام کو کھانا بھی تناول نہ کیا، بوقت شب دو شخصوں نے استخارہ کروایا، اور آپ بھی اسی فکر میں سوگئے، کیا دیکھتے ہیں کہ میں ایک مکان بلند پر مع مولوی محمد صاحب و خواجہ احسن شاہ صاحب بیٹھا ہوں، تین آدمی دور سے دھوتی باندھے ہوئے چلے آتے معلوم ہوئے، جب نزدیک پہنچے تو ایک شخص جو آگے آگے آتا تھا اس نے

605

دھوتی کھول کر تہبند کی طرح باندھ لیا، خواب ہی میں غیب سے یہ آواز آئی کہ مرزا غلام احمد قادیانی یہی ہے، اسی وقت خواب سے بیدار ہوگئے اور دل کی پراگندگی یک لخت دور ہوگئی، اور یقین کلّی حاصل ہوا کہ یہ شخص پیرایۂ اسلام میں لوگوں کو گمراہ کر رہا ہے، موافق تعبیر خواب کے دوسرے دن قادیانی مع دو ہندوؤں کے لودھیانہ میں آیا۔‘‘

(فتاویٰ قادریہ ص:۲ مطبعہ قیصر ہند، لدھیانہ)

۳،۴:...مولانا عبداللہ لدھیانویؒ کے ساتھ جن دو شخصوں نے استخارہ کیا تھا، ان کے بارے میں مولانا محمد صاحبؒ لکھتے ہیں:

’’استخارہ کنندگان میں سے ایک کو معلوم ہوا کہ یہ شخص بے علم ہے، اور دوسرے شخص نے خواب میں مرزا کو اس طرح دیکھا کہ ایک عورت برہنہ تن کو اپنی گود میں لے کر اس کے بدن پر ہاتھ پھیر رہا ہے، جس کی تعبیر یہ ہے کہ مرزا دنیا کے جمع کرنے کے درپے ہے، دین کی کچھ پرواہ نہیں۔‘‘

(حوالہ بالا)

۵:...اسی فتاویٰ قادریہ میں ہے کہ:

’’شاہ عبدالرحیم صاحب سہارنپوری مرحوم نے (جو صاحب کشف و کرامت بزرگ تھے) بروقت ملاقات فرمایا کہ مجھ کو بعد استخارہ کرنے کے یہ معلوم ہوا کہ یہ شخص بھینسے پر اس طور سے سوار ہے کہ منہ اس کا دم کی طرف ہے، جب غور سے دیکھا تو زنار اس کے گلے میں پڑا ہوا نظر آیا، جس سے اس شخص کا بے دین ہونا ظاہر ہے، اور یہ بھی میں یقینا کہتا ہوں کہ جو اہل علم اس کے تکفیر میں اب متردد ہیں کچھ عرصہ بعد سب کافر کہیں گے۔‘‘

(ص:۱۷)

۶:...مولانا حافظ محمد ابراہیم میرسیالکوٹی ’’شہادۃ القرآن‘‘ میں لکھتے ہیں:

’’جب ان لوگوں (فرقہ مبتدعہ مرزائیہ) کو کوئی پچھلی تفسیر

606

بتائیں تو (کفار کی طرح) اساطیر الاولین کہہ کر جھٹ انکار کردیتے ہیں، اور اگر ان کے رو برو حدیث نبویؐ پڑھیں تو اسے بوجہ بے علمی کے مخالف و معارضِ قرآن بناکر دور پھینک دیتے ہیں، اور اپنی تفسیر بالرائے کو، جو حقیقت میں تحریف و تاویل منہی عنہ ہوتی ہے، مؤید بالقرآن کہتے ہیں (ظاہر ہے یہ طرز عمل کسی مسلمان کا نہیں ہوسکتا...ناقل) بے چارے کم علم لوگ اس سے دھوکہ کھا جاتے ہیں اور ورطۂ ترددات و گرداب شبہات میں گھر جاتے ہیں ... سو ایسے شبہات کے وقت میں اللہ عزیز حکیم نے مجھ عاجز کو محض اپنے فضل و کرم سے راہ حق کی ہدایت کی اور ہر طرح سے ظاہراً و باطناً، معقولاً و منقولاً مسئلہ حقہ سمجھادیا۔ چنانچہ شروع جوانی ۱۸۹۱ء میں (جب میں انگریزی اسکول میں پڑھتا تھا) حضرت مسیح علیہ السلام کی زیارت بابرکت سے مشرف ہوا، اس طرح کہ آپ ایک گاڑی پر سوار ہیں اور بندہ اس کو آگے سے کھینچ رہا ہے، اس حالت باسعادت میں آپ سے قادیانی کے دعویٰ کی نسبت عرض کی، آپ نے زبانِ وحی ترجمان سے بالفاظِ طیبہ یوں جواب فرمایا کہ کوئی خطرے کی بات نہیں، اللہ تعالیٰ اس کو جلد ہلاک کردے گا۔‘‘

(شہادۃ القرآن ص:۹،۱۰)

(ہفت روزہ ختمِ نبوّت کراچی ج:۱ ش:۳۳)

607