تحفۂ قادیانیت
(جلد دوم)
شہید اسلام حضرت مولانا محمد یوسف لدھیانوی نور اللہ مرقدہ کو قدرت نے تردید قادیانیت کے لئے
منتخب کیا تھا اورقدرت کی طرف
سے تردیدقادیانیت کے لئے آپ کو زندگی وقف کرنے کا حکم نامہ محدث العصر علامہ سیدمحمد یوسف بنوری رحمۃ اللہ علیہ
کی طرف سے
ملا اور آپؒ نے اپنی قلمی جولانیوں کا رُخ تردیدقادیانیت کی طرف ایسا پھیرا کہ آج اس موضوع پر سب سے زیادہ
لٹریچر آپؒ کا
تحریر کردہ ہے جو ’’تحفۂ قادیانیت‘‘ کی شکل میں ہزاروں صفحات پر مشتمل ہے(مفتی) محمد جمیل خان،خاکپائے حضرت شہیدِ
اسلامؒ
بسم اللہ الرحمن الرحیم
| نام کتاب: |
تحفۂ قادیانیت (جلد دوم) |
| مؤلفہ: |
حضرت مولانا یوسف لدھیانووی شہیدؒ |
| اشاعت: |
دسمبر2010 |
| ناشر: |
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کراچی |
2
نزولِ سیّدنا عیسیٰ علیہ السلام
چند تنقیحات وتوضیحات
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ
اَلْحَمْدُ لِلہِ وَسَلَامٌ عَلٰی عِبَادِہِ الَّذِیْنَ اصْطَفٰی، اَمَّا بَعْدُ!
’’ایک تعلیم یافتہ صاحب نے راقم الحروف کے نام ایک خط میں نزولِ عیسیٰ علیہ السلام کے عقیدے پر اِظہارِ خیال کیا، ذیل میں ان کے خط کا اِبتدائی حصہ نقل کرکے ان کے شبہات کے اِزالے کی کوشش کی گئی ہے، اللہ تعالیٰ فہمِ سلیم نصیب فرمائیں اور صراطِ مستقیم کی ہدایت سے دستگیری فرمائیں، وَاللہُ الْمُوَفِّقُ لِکُلِّ خَیْرٍ وَّسَعَادَۃٍ۔‘‘
ــــــــــــــــــ
مکرم ومحترم جناب خان شہزادہ صاحب! السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
مزاجِ گرامی۔۔۔! میری کتاب ’’آپ کے مسائل اور اُن کا حل‘‘ (جلد اوّل) میں نزولِ عیسیٰ علیہ السلام کی بحث سے متعلق آنجناب کا طویل گرامی نامہ موصول ہوا، آنجناب کے الطاف وعنایات پر تہ دِل سے ممنون ہوں۔
آنجناب نے خط کے اِبتدائی حصے میں ان اُصولِ موضوعہ کو قلم بند فرمایا ہے جن پر آپ کی تنقید کی بنیاد ہے، اس لئے مناسب ہوگا کہ آج کی صحبت میں آنجناب کی تحریر کے اس ’’اِبتدائی حصے‘‘ کو حرفاً حرفاً نقل کرکے آپ کے ان اُصولِ موضوعہ کے بارے میں چند معروضات پیش کروں۔
4
آنجناب لکھتے ہیں:
’’محترم مولانا محمد یوسف لدھیانوی صاحب!
السلام علیکم، مجھے میرے ایک بزرگ حاجی محمد یونس چوہدری صاحب نے آپ کی کتاب ’’آپ کے مسائل اور اُن کا حل‘‘ صفحہ نمبر:۲۳۷تا ۲۶۵ کے نقول مطالعہ کے لئے بھیجے ہیں، جو نزولِ عیسیٰ کے بارے میں ہیں۔ مولانا صاحب! اللہ تعالیٰ نے اپنے رسولؐ کو تبلیغ، تعلیم، تبشیر، تنذیر اور دِینِ اسلام کے ہر کام میں قرآنی ہدایات کا پابند کیا ہے، آپؐ کی زبان مبارک سے کوئی دِینی اِرشاد قرآنی تعلیمات کے علاوہ نہ ہوا، اور نہ آپؐ کا کوئی دِینی قدم قرآنی اِحاطے سے کبھی باہر نکلا، مگر بصدہا افسوس کہ ملاحدہ اور منافقینِ عجم نے تابعین اور تبع تابعین کے لبادے اوڑھ اوڑھ کر ایسے متعدّد عقیدے اور اَعمال، دِینی حیثیت کے نئے نئے پیدا کرکے ان کو رسول اللہؐ کی طرف منسوب کرکے ممالکِ اسلامیہ کے اَطراف واَکناف میں پھیلائے اور اس کے ماتحت یہ عقیدہ لوگوں کے دِلوں میں پیدا کرنے کی کوشش کی کہ قرآنِ کریم سے باہر بھی بعض دِینی اَحکام ہیں۔ عقائد و عبادات کی قسم کے بھی اور اُصول اخلاق ومعاملات کی قسم کے بھی۔ اور پھر روایت پرستی کا شوق اس قدر عوام میں بھڑکایا کہ عوام تو درکنار خواص بھی اس متعدی مرض میں مبتلا ہوکر رہ گئے۔ یہاں تک کہ روایت پرستی رفتہ رفتہ مستقل دِین بن کر رہ گئی اور قرآنِ کریم جو اَصل دِین تھا اس کو رِوایتوں کا تابع ہوکر رہنا پڑا۔ اس کے بعد یہ سوال بھی کسی کے ذہن میں نہ آیا کہ قرآنِ کریم ایک مکمل کتاب ہے بھی یا نہیں؟ لہٰذا جس مسئلے کا قرآن میں کوئی تذکرہ نہ ہو وہ عقائد اور اِیمانیات کا مسئلہ ہرگز نہیں بن سکتا اور اسی وجہ سے
5
وہ مدارِ کفر و اِیمان نہیں ہوسکتا۔ نزولِ مسیح کی تردید میں ہر زمانے میں علمائے اسلام نے قلم اُٹھایا ہے، اور کوشش کی ہے کہ اس موضوع عقیدے سے مسلمان نجات پائیں، ان میں ابنِ حزمؒ اور اِبنِ تیمیہؒ جیسے علماء سرِفہرست ہیں۔‘‘
اس اِقتباس کی تنقیح کی جائے تو آنجناب کا دعویٰ درج ذیل نکات میں پیش کیا جاسکتا ہے:
۱: … آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم چونکہ قرآن کی ہدایت پر عمل پیرا ہونے کے پابند تھے، اس لئے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے قرآنِ کریم کی ہدایت وتعلیمات کے اِحاطے سے باہر کبھی قدم نہیں رکھا، اور نہ قرآنِ کریم کے علاوہ کبھی کوئی دِینی ہدایت جاری فرمائی۔
۲: … قرآنِ کریم چونکہ بذاتِ خود ایک مکمل کتاب ہے، تمام دِینی ہدایات پر حاوی ہے، لہٰذا ہر دِینی مسئلے کے لئے قرآنِ کریم ہی سے رُجوع کرنا لازم ہے، روایات کی طرف رُجوع کرنا قرآنِ کریم کے ’’مکمل کتاب‘‘ ہونے کی نفی ہے۔
۳: … مندرجہ بالا دونوں اُصولوں سے دو باتیں ثابت ہوئیں:
اوّل: … یہ کہ جس مسئلے کا ذِکر قرآن میں نہ ہو، وہ دِین کا مسئلہ نہیں ہوسکتا ہے، نہ اس کو عقیدہ واِیمان کی حیثیت دی جاسکتی ہے، اور نہ اسے مدارِ کفر و اِیمان بنایا جاسکتا ہے۔
دوم: … یہ کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے اِرشادات، دِینی مسائل وعقائد کا مأخذ نہیں ہوسکتے، کیونکہ ان کو خود آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں بھی کبھی دِینی حیثیت نہیں دی گئی، چہ جائیکہ بعد کے زمانے میں دی جاتی۔
۴: … تابعین اور تبع تابعین کے دور میں منافقوں اور ملحدوں نے ’’اَحادیث‘‘ کے نام سے جھوٹی باتیں خود گھڑ گھڑ کر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے منسوب کردیں اور انہیں اِسلامی ممالک کے کونے کونے میں پھیلادیا۔ رفتہ رفتہ ان جھوٹی روایات کو درجۂ تقدس حاصل ہوگیا، اور مسلمانوں نے انہی خود تراشیدہ افسانوں کو دِین واِیمان بنالیا، گویا ’’قرآنی دِین‘‘ کے مقابلے میں یہ ’’روایاتی دِین‘‘ قرآن کے محاذی ایک مستقل دِین بن گیا، اور یوں
6
منافقوں اور ملحدوں کی برپا کی ہوئی سازشی تحریک کامیابی سے ہم کنار ہوئی۔
۵: … یہ سازشی جال جو منافقوں اور ملحدوں نے اُمت کو قرآن کے اصل اسلام سے منحرف کرنے کے لئے پھیلایا تھا، صرف عوام کالاَنعام ہی اس کا شکار نہیں ہوئے، بلکہ خواص بھی اسی سازشی جال کے صیدِ زبوں بن کر رہ گئے، یہاں تک کہ ایک شخص بھی ایسا باقی نہ رہا، جو منافقوں کے پھیلائے ہوئے روایاتی جال سے باہر رہ گیا ہو، ’’اس کے بعد یہ سوال ہی کسی کے ذہن میں نہ آیا کہ قرآنِ کریم ایک مکمل کتاب ہے بھی یا نہیں؟‘‘
۶: … علمائے اسلام نے ہر زمانے میں ’’عقیدۂ نزولِ مسیح‘‘ کی تردید کی اور اس کے خلاف قلمی جہاد کیا۔
۷: … ان جید علماء میں حافظ اِبنِ حزمؒ اور اِبنِ تیمیہؒ سرِفہرست ہیں، جنہوں نے ’’عقیدۂ نزولِ مسیح‘‘ کو غلط قرار دِیا۔
آنجناب کا مقصد ومدعا مندرجہ بالا نکات میں ضبط کرنے کے بعد، اب اِجازت چاہوں گا کہ ان کے بارے میں اپنی معروضات پیش کروں، لیکن پہلے سے وضاحت کردینا چاہتا ہوں کہ میرا مدعا مناظرانہ رَدّ وقدخ نہیں، بلکہ جس طرح آپ نے بے تکلف اپنا عندیہ پیش کیا ہے، چاہتا ہوں کہ میں بھی بے تکلف اپنا عندیہ آپ کی خدمت میں پیش کردُوں، اگر اس کوتاہ قلم سے کوئی بات صحیح نکل جائے اور عقلِ خداداد اس کی تائید وتوثیق کرے تو قبول کرنے سے عار نہ کی جائے، اور اگر کوئی غلط لکھ دُوں تو اس کی تصحیح فرماکر ممنون فرمائیے، اِنْ اُرِیْدُ اِلّا الْاِصْلَاحَ مَا اسْتَطَعْتُ، وَمَا تَوْفِیْقِیْ اِلّا بِاللہِ عَلَیْہِ تَوَکَّلْتُ وَاِلَیْہِ اُنِیْبُ!
تنقیحِ اوّل
۱: … آنجناب کا اِرشاد بالکل صحیح ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ساری عمر قرآنِ کریم کی ہدایات کے پابند رہے، اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا قدم مبارک کبھی قرآنِ کریم کی ہدایات کے حصار سے باہر نہیں نکلا، چنانچہ جب سعد بن ہشام نے حضرت اُمّ المؤمنین
7
عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے سوال کیا کہ مجھے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے اخلاق کے بارے میں بتائیے، تو جواب میں فرمایا کہ کیا تم قرآن نہیں پڑھتے؟ عرض کیا: پڑھتا ہوں! فرمایا: آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا اخلاق قرآن تھا:
’’یَا اُمَّ الْمُؤْمِنِیْنَ! نَبِّئِیْنِیْ عَنْ خُلُقِ رَسُوْلِ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ، قَالَتْ: أَلَسْتَ تَقْرَأُ الْقُرْآنَ؟ قُلْتُ: بَلٰی! قَالَتْ: فَإِنَّ خُلُقِ نَبِیِّ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ کَانَ الْقُرْآنَ۔‘‘
(صحیح مسلم ج:۱ ص:۶۵۲)
اِمام نوویؒ شارحِ مسلم حضرت اُم المؤمنینؓ کے اس فقرے کی تشریح میں فرماتے ہیں:
’’معناہ العمل بہ والوقوف عند حدودہ والتأدب بآدابہ والْإعتبار بأمثالہ وقصصہ وتدبرہ وحسن تلاوتہ۔‘‘
ترجمہ: … ’’اس سے مراد ہے قرآنِ کریم پر عمل کرنا، اس کے حدود کے پاس ٹھہرنا، اس کے آداب کے ساتھ متأدب ہونا، اس کی بیان کردہ مثالوں اور قصوں سے عبرت پکڑنا، اس میں تدبر کرنا، اور بہترین انداز میں اس کی تلاوت کرنا۔‘‘
الغرض! آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا ہر قول وفعل، ہر حال وقال، ہر طور وطریق اور ہر خلق وطرزِ عمل قرآنِ کریم کے مطابق تھا۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی حیاتِ مقدسہ مکمل طور پر قرآنِ کریم میں ڈھلی ہوئی تھی، اور قرآنِ کریم گویا عملی طور پر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرتِ طیبہ میں متشکل تھا۔ اگر آنجناب کی یہی مراد ہے تو یہ ناکارہ آنجناب کی اس رائے سے سوفیصد متفق ہے،فنعم الوفاق وحبذ الْإتفاق!
۲: … اسی کے ساتھ یہ حقیقت بھی ناقابلِ فراموش ہے کہ فہمِ قرآن کی دولت میں سبھی لوگ یکساں نہیں، قرآنِ کریم کو مؤمن بھی پڑھتا ہے اور منافق بھی، خوش عقیدہ بھی اور
8
بدعقیدہ بھی، ایک عامی بھی اور ایک عالم بھی، ایک عام قسم کا عالم بھی اور ایک راسخ فی العلم بھی، ایک ایسا شخص بھی جو قرآن فہمی کے لئے اُردو انگریزی ترجموں کی بیساکھیوں کا محتاج ہے، اور ایک قرآنِ کریم کی زبان کا ماہر اور لغتِ عرب کا اِمام بھی ــــ مگر یہ نہیں کہہ سکتے کہ ان سب کا فہمِ قرآن یکساں ہے، ایک مؤمن بھی قرآن سے بس اتنی ہی بات سمجھتا ہے جتنی کہ ایک بددِین منافق، اور ایک راسخ فی العلم بھی قرآنِ کریم کا بس اتنا ہی مطلب سمجھ سکتا ہے جتنا کہ ایک جاہل۔
الغرض فہمِ قرآن میں لوگوں کے ذہن و اِدراک کا مختلف ہونا ایک ایسی بدیہی حقیقت ہے جس کو جھٹلانا اپنی عقل ودانش اور حس ومشاہدہ کو جھٹلانا ہے۔ کون نہیں جانتا کہ ایک کتاب کے پڑھنے میں ایک جماعت شریک ہے، اُستاذ ان کے سامنے کتاب کے مطالب کی تشریح کرتا ہے، ذہین طالبِ علم فوراً سمجھ جاتے ہیں، اور بعض غبی اور کندذہن طالب کئی بار کی تقریر کے بعد بھی پورا مطلب نہیں سمجھ پاتے۔ جب ایک عام کتاب، جو اِنسانوں ہی کے ہاتھ کی لکھی ہوئی ہے، اس کے سمجھنے میں لوگوں کے ذہن کا اِختلاف اس قدر واضح ہے تو کلام رَبّ العالمین کے اِشاروں کو سمجھنے میں لوگوں کے ذہنی تفاوت کا کیا عالم ہوگا۔۔۔؟
۳: … قرآنِ کریم کے فہم و اِدراک میں لوگوں کی ذہنی سطح کا مختلف ہونا، اس کی ایک خاص وجہ یہ ہے کہ قرآنِ کریم کلامِ اِلٰہی ہے، اور اس کے معانی ومطالب اسی قلب وذہن میں جلوہ گر ہوتے ہیں جس کا دِل نورِ اِیمان سے منوّر اور کفر وشرک اور بدعات وخواہشات کی ظلمتوں سے پاک ہو، ایک کافر اور بدعتی پر قرآنِ کریم کا فہم حرام ہے۔ اسی طرح قرآن فہمی کے لئے ضروری ہے کہ قلب اپنی نفسانی خواہشات و اَغراض سے پاک ہو، اور آدمی کا ظاہر وباطن حق تعالیٰ شانہ‘ کے اِرشادات کے سامنے سرنگوں ہو، اس کے دِل میں حق تعالیٰ شانہ‘ کی عظمت اور بندے کی بے چارگی وبے مائیگی کا سمندر موجزن ہو، جو شخص اپنی جبلی عادات، اپنی نفسانی خواہشات، اپنے مخصوص اَغراض کے خول سے باہر نہ نکلا ہو، وہ قرآن فہمی کی لذّت سے کبھی آشنا نہیں ہوسکتا۔ اسی طرح جس شخص کا قلب کبر ونخوت،
9
عجب وخودپسندی اور اَخلاقِ رذیلہ کے حصار میں بند ہو، اس کا طائرِ فہم قرآنِ کریم کی رفعتوں تک کبھی پرواز نہیں کرسکتا۔ علمائے اُمت نے قرآن فہمی کی شرائط کو بڑی تفصیل سے قلم بند فرمایا ہے، مگر میں نے دو تین باتوں کی طرف اِشارہ کیا ہے، یہ اُمور جو قرآن فہمی سے مانع ہیں، ان میں لوگوں کے اَحوال چونکہ مختلف ہیں، اس لئے قرآنِ کریم کے مطالبِ عالیہ تک ان کے فہم کی رسائی کا مختلف ہونا بالکل واضح ہے۔
۴: … اور فہمِ قرآن میں یہ اختلاف تو ہم لوگوں کے اِعتبار سے ہے۔ اگر عام اَفرادِ اُمت کا مقابلہ صحابہ کرامؓ سے کیا جائے تو اَندازہ ہوگا کہ عام لوگوں کے فہمِ قرآن کو حضراتِ صحابہ کرامؓ کے فہم سے وہ نسبت بھی نہیں، جو ذرّے کو آفتاب سے ہوسکتی ہے:
-
چراغ مردہ کجا و آفتاب کجا
بہ بیں تفاوت رہ از کجا ست تا بہ کجا
صحابہ کرامؓ تنزیلِ قرآن کے عینی شاہد تھے، انہوں نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی زبان مبارک سے براہِ راست اس کا سماع کیا تھا، انہیں یہ معلوم تھا کہ فلاں آیت کس موقع پر نازل ہوئی؟ کس سیاق وسباق میں نازل ہوئی؟ اور اس کے ذریعے کن لوگوں کے کس عمل کی اِصلاح کی گئی؟ پھر ان کے قلوبِ صافیہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے فیضانِ صحبت کی برکت سے رشکِ آئینہ تھے، اور ان کے لیل و نہار کو دیکھ کر ایسا لگتا تھا کہ گویا پاکباز فرشتوں کا لشکر زمین پر اُتر آیا ہے، پھر قرآنِ کریم خود ان کی زبان اور لغت میں نازل ہوا تھا، انہیں نہ صَرف ونحو اور بلاغت کے قواعد سیکھنے کی ضرورت تھی، نہ الفاظِ قرآنِ کریم کے مفہوم ومعنی سمجھنے کے لئے قاموس، لسان العرب اور لغات القرآن کھولنے کی ضرورت تھی۔ الغرض ان میں اور ہم میں وہی فرق تھا جو دید وشنید میں ہوتا ہے، ان کے لئے فہم القرآن گویا ’’دید‘‘ تھا، اور ہمارے سامنے قرآن کے صرف الفاظ ونقوش ہیں اور فہمِ قرآن کا پورا منظر نظروں سے غائب ہے۔
غور کیا جاسکتا ہے کہ بعد کے لوگوں کا فہمِ قرآن، صحابہ کرامؓ کے فہم کے ہم سنگ کیونکر ہوسکتا ہے۔۔۔!
10
اور پھر صحابہ کرامؓ کی جماعت میں بھی تفاوت موجود تھا، ان میں سے بعض اکابر نہایت عالی فہم تھے، جو صحابہ کرامؓ کے لئے بھی اور بعد کی پوری اُمت کے لئے بھی فہمِ قرآن کا مرجع تھے، اور انہیں فہمِ قرآن میں اِمامتِ کبریٰ کا درجہ حاصل تھا، مثلاً حضراتِ خلفائے راشدین، عبداللہ بن مسعود، اُبیّ بن کعب، عبداللہ بن عباس ترجمان القرآن، رضی اللہ عنہم۔
حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کا یہ ارشاد تفسیر کے ہر طالبِ علم کو یاد ہے:
’’واللہ الذی لَا اِلٰہ غیرہ! ما نزلت آیۃ من کتاب اللہ اِلّا وأنا أعلم فیمن نزل وأین نزلت؟ ولو أعلم مکان أحد أعلم بکتاب اللہ مِنّی تنالہ المطایا لأتیتہ۔‘‘
(الاتقان، النوع الثمانون)
ترجمہ: … ’’اس ذات کی قسم جس کے سوا کوئی معبود نہیں! قرآنِ کریم کی ہر آیت کے بارے میں مجھے معلوم ہے کہ یہ کس کے بارے میں نازل ہوئی اور کہاں نازل ہوئی؟ اور اگر مجھے یہ علم ہوجاتا کہ اس وقت دُنیا میں کوئی ایسا شخص بھی موجود ہے جو مجھ سے زیادہ کتابُ اللہ کا علم رکھتا ہے تو میں اس کی خدمت میں ضرور حاضر ہوتا، بشرطیکہ سواری کا اس تک پہنچنا ممکن ہو۔‘‘
۵: … اور فہمِ قرآن کا آخری درجہ ۔۔۔جس سے بالاتر کوئی درجہ عالمِ اِمکان میں متصوّر نہیں۔۔۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو حاصل ہے، کیونکہ صاحبِ کلام جل شانہ‘ براہِ راست آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے معلم ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے قرآنِ کریم کا علم خود حق تعالیٰ شانہ‘ سے حاصل کیا ہے، ادھر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی علوِ اِستعداد کا یہ عالم کہ حق تعالیٰ شانہ‘ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو تمام عیوب ونقائص سے پاک پیدا فرمایا، جیسا کہ حضرت حسان رضی اللہ عنہ نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو مخاطب کرتے ہوئے عرض کیا:
-
وأحسن منک لم تر قط عینی
وأجمل منک لم تلد النساء
11
-
خلقت مبرأً من کل عیب
کأنک قد خلقت کما تشاء
ترجمہ: … ’’اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے زیادہ حسین کوئی شخص میری آنکھوں نے نہیں دیکھا، اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے زیادہ صاحبِ جمال کسی ماں نے کوئی بچہ نہیں جنا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہر عیب سے پاک اور مبرا پیدا کئے گئے ہیں، گویا جیسا آپ صلی اللہ علیہ وسلم چاہتے تھے ویسے پیدا کئے گئے۔‘‘
پھر حق تعالیٰ شانہ‘ نے پوری کائنات میں سے نبوّت ورِسالت اور ختمِ نبوّت کے لئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا اِنتخاب فرمایا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا وجودِ مبارک مرکزِ اِیمان واہلِ اِیمان ہے، قلبِ مبارک تجلیاتِ اِلٰہیہ سے رشکِ شعلہ صد طور ہے، سینہ مبارک اَسرارِ اِلٰہیہ کا امین اور علومِ ربانیہ کا سرچشمہ ہے، علوم الاوّلین والآخرین کا بحرِ بے کراں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی قوّتِ قدسیہ میں ودیعت ہے، وجودِ مبارک کو دُنیا کی آلائشوں، نفسانی خواہشوں اور بشری چاہتوں سے پاک وصاف کردیا گیا ہے، دِل ودِماغ اور زبان پر عصمت کا پہرہ بٹھادیا گیا تاکہ غبارِ بشریت کا کوئی شائبہ بھی دامنِ رِسالت کو آلودہ نہ کرسکے، گوش مبارک غیب سے پیامِ سروش سن رہے ہیں، چشمانِ مبارک جنت ودوزخ، قبر وحشر وغیرہ کا مشاہدہ کر رہی ہیں، آسمان سے فرشتے نازل ہوکر مناجات کی سعادت حاصل کرتے ہیں، جبریل ومیکائیل وزیر ومشیر ہیں، ابوبکرؓ وعمرؓ مصاحب وہمدم ہیں، انبیائے کرام علیہم السلام کے قدسی صفات مجمع میں سیادت وقیادت کا تاج فرقِ اَقدس پر سجایا جاتا ہے، اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اِمام الانبیاء کے منصب پر فائز کیا جاتا ہے۔ کیا کسی فردِ بشر کے لئے ممکن ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی علوِ اِستعداد، عبدیت وخشیت، حسن وجمال، جاہ وجلال، عزّت ورفعت، طہارت و نزاہت اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمہ جہتی کمالات کا اِدراک کرسکے؟ کَلّا وَرَبِّ الْکَعْبَۃ!
۶: … اور جب یہ معلوم ہوا کہ قرآنِ کریم کے معلمِ اوّل خود حق تعالیٰ شانہ‘ ہیں اور
12
متعلّمِ اوّل خود حاملِ قرآن صلی اللہ علیہ وسلم ہیں، تو اسی سے یہ بھی معلوم ہوا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے قرآنِ کریم کے لطیف اِشاروں کو جیسا سمجھا، ناممکن تھا کہ کوئی دُوسرا ایسا سمجھ سکے، مثلاً:
✨ : … قرآنِ کریم نے اِقامتِ صلوٰۃ کا حکم فرمایا، اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے قول وفعل سے اس کی تشریح اس طرح فرمائی کہ نہ صرف ’’اِقامتِ صلوٰۃ‘‘ کا مجسم نمونہ اُمت کے سامنے آگیا، بلکہ نماز کی شرائط و ارکان، آداب واوقات، تعدادِ رکعات، فرائض ونوافل اور حضور مع اللہ کی کیفیت وغیرہ کی تفصیلات بھی معلوم ہوگئیں۔ کیا کسی دُوسرے کے لئے ممکن ہے کہ قرآنِ کریم کے مختصر سے اِشارے ’’اَقِیْمُوا الصَّلٰوۃَ‘‘ کی ایسی شرح وتفصیل بیان کرسکے۔۔۔؟
✨ : … قرآنِ کریم نے مسلمانوں کو ’’اِیتائے زکوٰۃ‘‘ کا حکم فرمایا، آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اس حکمِ خداوندی کی پوری شرح وتفصیل بیان فرمادی کہ کن کن مالوں پر زکوٰۃ ہے؟ کتنے وقفے کے بعد زکوٰۃ فرض ہے؟ مال کی کتنی مقدار پر زکوٰۃ فرض ہوتی ہے؟ اور زکوٰۃ کی مقدارِ واجب کس مال میں کتنی ہے؟ وغیرہ وغیرہ۔ اگر حاملِ قرآن صلی اللہ علیہ وسلم بہ تعلیمِ خداوندی ان اُمور کی تفصیل بیان نہ فرماتے تو کیا کسی کے لئے ممکن تھا کہ اس حکم کی تشریح منشائے اِلٰہی کے مطابق کرسکتا۔۔۔؟
✨ : … قرآنِ کریم نے’’کُتِبَ عَلَیْکُمُ الصِّیَامُ‘‘ میں مسلمانوں کو روزے رکھنے کا حکم فرمایا، آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اس حکمِ خداوندی کی ایسی تفصیلات بیان فرمائیں جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سوا کسی کے اِحاطۂ علم واِدراک میں ہرگز نہیں آسکتی تھیں، خواہ وہ کیسا ہی علامہ وفہامہ اور ماہرِ لسانِ عرب ہوتا۔
✨ : … قرآنِ کریم نے ’’وَاَتِمُّوا الْحَجَّ وَالْعُمْرَۃَ ِﷲِ‘‘ کا حکم فرمایا، آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے قول وعمل سے اس حکمِ خداوندی کی ایسی تشریح فرمائی کہ پوری کتاب الحج تیار ہوگئی۔ کیا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے سوا کسی کے لئے ممکن تھا کہ ان تفصیلات کا اِدراک کرسکتا۔۔۔؟
13
✨ : … قرآنِ کریم نے قیامت کا ذِکر کرتے ہوئے ایک مختصر سا اِشارہ فرمادیا:’’فَقَدْ جَآئَ اَشْرَاطُھَا‘‘ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے نورِ نبوّت اور تعلیمِ اِلٰہی کی روشنی میں ان چھوٹے بڑے واقعات کو ذِکر فرمایا جو قیامت سے قبل رُونما ہوں گے، اور جو مسلمانوں میں ’’علاماتِ صغریٰ‘‘ اور ’’علاماتِ کبریٰ‘‘ کے عنوان سے مشہور و معروف ہیں۔ کیا کسی کے لئے ممکن تھا کہ مستقبل کے ان واقعات کو ٹھیک ٹھیک منشائے اِلٰہی کے مطابق بیان کردیتا۔۔۔؟
اس ناکارہ نے یہ چند مثالیں عرض کردی ہیں، ورنہ اہلِ نظر جانتے ہیں کہ اسلام کے تمام اُصول وفروع کا معدن ومنبع قرآنِ کریم ہی ہے، مگر قرآنِ کریم کے ان اشاروں کو سمجھنے کے لئے حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی چشمِ بصیرت، نورِ نبوّت اور وحیٔ خداوندی کے ذریعے تعلیم درکار ہے، حضرت اِمام شافعیؒ کا یہ اِرشاد بہت سے اکابر نے نقل کیا ہے کہ:
’’کل ما حکم بہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فھو مما فھمہ من القرآن۔‘‘
(تفسیر ابن کثیر ج:۱ ص:۹۱)
ترجمہ: … ’’آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے جو حکم بھی فرمایا، وہ قرآنِ کریم ہی سے سمجھ کر فرمایا ہے۔‘‘
یعنی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا ہر قول وفعل اور ہر حکم اور فیصلہ قرآنِ کریم ہی سے مأخوذ ہے۔
۷: … حق تعالیٰ شانہ‘ نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو تو خود بلاواسطہ قرآنِ کریم کی تعلیم دی اور اُمت کے لئے یہ انتظام فرمایا کہ قرآنِ کریم کے اوّلین مخاطب صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین تھے، ان کی تعلیم و تربیت کے لئے ہادیٔ اعظم آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو مرشد ومربی اور معلّم واتالیق مقرّر فرمایا، چنانچہ اِرشاد ہے:
’’لَقَدْ مَنَّ اللہُ عَلَی الْمُؤْمِنِیْنَ اِذْ بَعَثَ فِیْھِمْ رَسُوْلًا مِّنْ اَنْفُسِھِمْ یَتْلُوْا عَلَیْھِمْ اٰیٰـتِہٖ وَیُزَکِّیْھِمْ وَیُعَلِّمُھُمُ
14
الْکِتٰبَ وَالْحِکْمَۃَ، وَاِنْ کَانُوْا مِنْ قَبْلُ لَفِیْ ضَلٰلٍ مُّبِیْنٍ۔‘‘
(آل عمران:۱۶۴)
ترجمہ: … ’’حقیقت میں اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں پر اِحسان کیا جبکہ ان میں انہی کی جنس سے ایک ایسے پیغمبر کو بھیجا کہ وہ ان لوگوں کو اللہ تعالیٰ کی آیتیں پڑھ کر سناتے ہیں اور ان لوگوں کی صفائی کرتے رہتے ہیں، اور کتاب اور فہم کی باتیں بتلاتے رہتے ہیں، اور بالیقین یہ لوگ قبل سے صریح غلطی میں تھے۔‘‘ (اس مضمون میں آیات کا ترجمہ حضرت حکیم الامت تھانویؒ سے نقل کیا گیا ہے)
یہ مضمون قرآنِ کریم میں چار جگہ پر آیا ہے، البقرۃ:۱۲۹، ۱۵۱، آل عمران:۱۶۴، الجمعہ:۲۔
اس اِرشادِ خداوندی میں، جسے قرآنِ کریم میں چار بار دُہرایا گیا ہے، ہمارے لئے چند اُمور بطورِ خاص توجہ طلب ہیں:
اوّل: … آیتِ شریفہ میں حق تعالیٰ شانہ‘ نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے چار فرائضِ نبوّت ذکر فرمائے ہیں:
۱- لوگوں کے سامنے اللہ تعالیٰ کی آیات کی تلاوت کرنا۔
۲- ان کو کتابُ اللہ کی تعلیم دینا۔
۳- حکمت کی تعلیم دینا۔
۴- اور اَخلاقِ رذیلہ سے ان کا تزکیہ کرنا اور ان کو پاک کرنا۔
دوم: … آیتِ شریفہ میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت کو معرضِ اِمتنان میں ذِکر فرماکر ان فرائضِ چہارگانہ کا ذِکر کرنا، اس اَمر کی دلیل ہے کہ اگر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی تشریف آوری نہ ہوتی تو اُمت ان چاروں چیزوں سے محروم رہتی، نہ ان کو آیاتِ قرآنی کے الفاظ معلوم ہوتے، نہ کتابِ اِلٰہی کے صحیح معنی ومفہوم اور مرادِ خداوندی کا ان کو علم ہوتا، نہ حکمت ودانش کی ان کو خبر ہوتی، اور نہ ان کے قلوب واَبدان کا تزکیہ ہوتا، یہ ساری
15
چیزیں انہیں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے دم قدم سے میسر آئی ہیں،فللّٰہ الحمد والمنّۃ!
سوم: … آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ تعالیٰ کی کتاب سے اللہ تعالیٰ کی تعلیم کے مطابق جو مطالب سمجھے، اور ان کی اپنے قول وعمل سے جو تشریح وتفصیل فرمائی ۔۔۔جس کو اُوپر نکتہ ششم میں ذِکر کرچکا ہوں۔۔۔ اسی کو آیت شریفہ میں لفظِ ’’حکمت‘‘ کے ساتھ تعبیر فرمایا ہے، گویا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو دو چیزیں عطا فرمائی گئی تھیں، ایک قرآن، دُوسری قرآنِ کریم کی وہ تعلیمات جو اللہ تعالیٰ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اِلہام واِلقا فرمائیں، آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو ان دونوں کی تعلیم پر مأمور فرمایا گیا۔
چہارم: … صحابہ کرامؓ جیسا کہ پہلے عرض کرچکا ہوں، قرآنِ کریم کی زبان سے واقف تھے، بلکہ کہنا چاہئے کہ قرآن انہی کی زبان میں نازل ہوا تھا، اس کے باوجود وہ صاحبِ قرآن صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیم کے محتاج تھے، اور اگر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ان کو قرآنِ کریم کے مطالب کی تشریح وتفصیل تعلیم نہ فرماتے تو وہ اپنی عقل وفہم اور زبان دانی کے زور سے ہرگز ان مطالب تک رسائی حاصل نہ کرسکتے۔ جب صحابہ کرامؓ کا یہ حال ہے تو بعد کے لوگ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی ان تعلیمات کے کس قدر محتاج ہوں گے؟ اس کا اندازہ کچھ مشکل نہیں۔ اس سے معلوم ہوا کہ قرآن فہمی کے لئے اگر صحابہ کرامؓ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیم وتربیت کے محتاج ہیں، تو بعد کی اُمت فہمِ قرآن میں صحابہؓ سے بڑھ کر ان تعلیماتِ نبوّت اور حکمتِ آسمانی کی محتاج ہے جس نے صحابہ کرامؓ کے قلوب کو منوّر فرمایا۔
پنجم: … اور جب یہ ثابت ہوا کہ بعد کی اُمت بھی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیمات کی اسی طرح محتاج ہے، جس طرح صحابہ کرامؓ تھے تو لازم ہوا کہ رہتی دُنیا تک تعلیماتِ نبویہ بھی محفوظ رہیں، چنانچہ اللہ تعالیٰ نے ان علومِ نبوّت کی بقا کا یہ اِنتظام فرمایا کہ اِمام الہند شاہ ولی اللہ محدث دہلوی قدس سرہٗ کے بقول ہر دور، ہر زمانے میں جماعتوں کی جماعتوں کو مختلف شعبوں کی صیانت وحفاظت اور خدمت کے لئے مقرّر فرمادیا، اور یہ سلسلہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے وقت سے آج تک قرناً بعد قرنٍ اور نسلاً بعد نسلٍ مسلسل چلا آرہا ہے، جس میں کبھی ایک لمحے کے لئے بھی اِنقطاع نہیں ہوا۔
16
✨ : … ایک جماعت ان مجاہدوں اور غازیوں کی جنہوں نے میدانِ کارزار میں جرأت وبسالت اور مردانگی کے جوہر دِکھائے، اور اپنی جان پر کھیل کر اِسلامی سرحدوں کی حفاظت فرمائی۔
✨ : … بعض حضرات نے کتابُ اللہ کے الفاظ کی حفاظت و خدمت کو اَپنا وظیفۂ زندگی بنالیا، انہوں نے کلامِ اِلٰہی کی ترتیل وتجوید، حروف کے مخارج وصفات اور ان کے طریقۂ اَدا کو محفوظ رکھا، اپنی پوری زندگی قرآنِ کریم کی تلاوت وقرأت، ترتیل وتجوید اور اس کی تحفیظ میں صَرف فرمادی، اور قرآنِ کریم کے الفاظ کی حفاظت کا ایسا شاندار ریکارڈ قائم کیا جس کی نظیر کسی قوم میں نہیں ملتی، یہ حضرات قراء وحفاظ کی جماعت ہے۔
✨ : … بعض حضرات نے دِینی مسائل کی تنقیح وتخریج کو اپنا مقصدِ حیات بنالیا، اور انہوں نے شرعی مسائل میں اُمت کی راہنمائی کا فریضہ انجام دیا، یہ حضراتِ فقہاء اور اہلِ فتویٰ کی جماعت ہے۔
✨ : … بعض حضرات نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے اِرشادات اور کلماتِ طیبات کی حفاظت وصیانت کا فریضہ اپنے ذمے لے لیا اور ہر حدیث کی تنقیح کرکے صحیح وضعیف اور مقبول ومردود میں اس طرح تمیز کردی کہ دُودھ کا دُودھ اور پانی کا پانی الگ کردیا، یہ حضراتِ محدثین کی جماعت ہے۔
✨ : … بعض حضرات نے کتابِ اِلٰہی کی تشریح وتفسیر کا منصب سنبھالا، اور کتابُ اللہ کے مطالب اُمت کے سامنے پیش فرمائے، یہ حضراتِ مفسرین کی جماعت ہے۔
✨ : … بعض حضرات نے ملحدین ومنافقین اور اہلِ باطل کے پھیلائے ہوئے شکوک وشبہات کا تحقیقی و اِلزامی دلائل سے اِزالہ کیا، اور اُمت کے لئے ان کانٹوں سے صراطِ مستقیم کا راستہ صاف کیا، یہ حضراتِ متکلمین کی جماعت ہے۔
✨ : … بعض حضرات نے اپنے انفاسِ طیبات سے اُمت کے دِلوں کو مزکیٰ ومصفٰی کیا، اور ان کے دلوں کے زنگ دُور کرکے ان کو یادِ اِلٰہی سے معمور کیا:
17
دور باش افکار باطل! دور باش اغیار دِل!
سج رہا ہے شاہ خوباں کے لئے دربار دِل
یہ حضراتِ اہلِ قلوب صوفیا کی جماعت ہے۔
✨ : … بعض حضرات نے وعظ وتذکیر اور دعوت وتبلیغ کے ذریعے سوتے ہوؤں کو جگایا، غافلوں کو ہوشیار کیا، ان کی تأثیرِ وعظ سے اُمت کا قافلہ رواں دواں رہا۔
الغرض حق تعالیٰ شانہ‘ نے اپنے تکوینی نظام کے ذریعے دِین اور اس کے تمام شعبوں کی حفاظت کا ایسا اِنتظام فرمایا کہ دِین کا چشمۂ صافی نہ کبھی گدلا ہوا، نہ ہوگا۔ اس طرح اللہ کے بندوں پر اللہ کی حجت پوری ہوئی، اور اِن شاء اللہ جب تک دُنیا میں قرآنِ کریم باقی ہے، اس کے یہ خدام بھی تاقیامت قائم ودائم رہیں گے، یہ سلسلہ نہ کبھی ایک لمحے کے لئے منقطع ہوا، نہ ہوگا۔
حضرت اِمام الہند شاہ ولی اللہ محدث دہلوی قدس سرہٗ کے قصیدے ’’اطیب النغم فی مدح سیّدالعرب والعجم صلی اللہ علیہ وسلم‘‘ کی نویں فصل میں اس مضمون کو نظم کیا گیا ہے، جس کا خلاصہ میں نے اُوپر ذِکر کیا، مناسب ہوگا کہ بطورِ تبرک حضرت شاہ ولی اللہ صاحب قدس سرہٗ کے یہ اَشعار یہاں نقل کردئیے جائیں:
-
’’وأید دین اللہ فی کل دورۃ
عصائب تتلوا مثلھا من عصائب
-
فمنھم رجال یدفعون عدوھم
بسمر القنا والمرھفات القواضب
-
ومنھم رجال یغلبون عدوھم
بأقویٰ دلیل مفحم للمغاضب
-
ومنھم رجال بیّنوا شرع ربّنا
وما کان فیہ من حرام وواجب
18
-
ومنھم رجال یدرسون کتابہ
بتجوید ترتیل وحفظ مراتب
-
ومنھم رجال فسروہ بعلمھم
وھم علمونا ما بہ من غرائب
-
ومنھم رجال بالحدیث تولعوا
وما کان منہ من صحیح وذاھب
-
ومنھم رجال مخلصون لربھم
بأنفاسھم خصب البلاد الأجادب
-
ومنھم رجال یھتدی بعظاتھم
فیام الٰی دین من اللہ واصب
-
علی اللہ ربّ الناس حسن جزائھم
بما لَا یوافی عدہ ذھن حاسب‘‘
ترجمہ: … ’’۱- اور ہر دور میں اللہ کے دِین کی تائید ایسی جماعتوں نے کی کہ ان کے بعد لگاتار ویسی ہی جماعتیں آتی رہیں۔
۲- چنانچہ کچھ حضرات وہ ہیں جو گندم گوں نیزوں اور کاٹنے والی تیز تلواروں کے ذریعے دُشمنوں کا مقابلہ کرتے ہیں، یہ مجاہدین کی جماعت ہے۔
۳- کچھ حضرات ایسے ہیں جو اپنے دُشمن پر غالب آتے ہیں اور قوی ترین دلائل کے ذریعے معاندین کا منہ بند کردیتے ہیں، یہ متکلمینِ اسلام کی جماعت ہے۔
۴- کچھ حضرات وہ ہیں جنہوں نے ہمارے سامنے ہمارے رَبّ کی شریعت کو بیان فرمایا، اور اس میں جو حرام اور واجب وغیرہ اَحکامِ شرعیہ ہیں، ان کی شرح وتوضیح فرمائی، یہ حضراتِ
19
فقہائے اُمت اور اَربابِ فتویٰ کی جماعت ہے۔
۵- کچھ حضرات وہ ہیں جو اللہ کی کتاب کی تدریس میں مشغول ہیں، عمدہ ترتیل اور حفظِ مراتب کے ساتھ، یعنی حروف کے مخارج وصفات اور طریقۂ اَدا کی رعایت کے ساتھ، یہ حضراتِ قراء کی جماعت ہے۔
۶- کچھ حضرات وہ ہیں جنہوں نے اپنے علم سے کتابِ اِلٰہی کی تفسیر فرمائی، اور قرآنِ کریم میں جو عجیب وغریب لطائف ونکات ہیں، ہمیں ان کی تعلیم دی، یہ حضراتِ مفسرین ہیں۔
۷- کچھ حضرات حدیثِ نبوی کے عاشق ہیں، اور انہوں نے صحیح وضعیف اَحادیث کو چھانٹ کر رکھ دیا، یہ حضراتِ محدثین کی جماعت ہے۔
۸- کچھ حضرات وہ ہیں جو اپنے رَبّ کی عبادت میں اِخلاص کا اِہتمام کرنے والے ہیں، انہی کے دم قدم سے خشک علاقوں میں سرسبزی وشادابی ہے، یہ حضراتِ صوفیا صافیہ کی جماعت ہے۔
۹- اور کچھ حضرات ہیں جن کے وعظ ونصیحت اور دعوت وتبلیغ سے اِنسانوں کے گروہ در گروہ اللہ تعالیٰ کے دِین حق کی طرف ۔۔۔جو قائم ودائم ہے۔۔۔ ہدایت پاتے ہیں، یہ حضراتِ مبلغین وواعظین کی جماعت ہے۔
۱۰- ان سب حضرات کی بہترین جزا اللہ تعالیٰ نے جو رَبّ الناس ہے، اپنے ذمے لے رکھی ہے، اور قیامت کے دن ان حضرات کو ایسی جزا عطا فرمائیں گے کہ کسی حساب لگانے والے کا ذہن اس کا اِحاطہ نہیں کرسکتا۔‘‘
20
افسوس ہے کہ آنجناب کی پہلی تنقیح پر گفتگو طویل ہوگئی، ہرچند کہ میں نے قلم کو روک روک کر لکھنے کی کوشش کی، اور ہر نکتے کے اَطراف وجوانب کے پہلوؤں کو قلم انداز کرتا چلا گیا ہوں، اس کے باوجود گفتگو اندازے سے زیادہ طویل ہوگئی، مناسب ہوگا کہ ان معروضات کا خلاصہ عرض کردُوں:
✨ : … اللہ تعالیٰ نے ہمیں صرف قرآن ہی نہیں دیا، بلکہ قرآنِ کریم سے پہلے صاحبِ قرآن صلی اللہ علیہ وسلم عطا فرمائے، اور ان کے ذریعے قرآنِ کریم عطا ہوا۔
✨ : … حق تعالیٰ شانہ‘ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اَلفاظِ قرآنِ کریم کے معنی ومفہوم اور مرادِ خداوندی کی تعلیم بھی فرمائی:’’ثُمَّ اِنَّ عَلَیْنَا بَیَانَہٗ‘‘ (القیامہ) ’’پھر ہمارے ذمے رہا اس قرآن کو بیان کرنا بھی‘‘۔
✨ : … حق تعالیٰ شانہ‘ نے نبیٔ اُمی صلی اللہ علیہ وسلم کو معلّمِ اِنسانیت بنایا، اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ذمے چار وظائفِ رِسالت مقرّر فرمائے: ۱-تلاوتِ آیات، ۲-تعلیمِ کتاب، ۳-تعلیمِ حکمت، ۴-اُمت کا تزکیہ۔
✨ : … آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ وظائفِ نبوّت ایسے نفیس طریقے سے اَدا فرمائے، جس کی کوئی مثال عالمِ اِمکان اور تاریخِ اِنسانیت میں نہیں ملتی۔
✨ : … آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اُمت کو جو تعلیم اپنے قول وعمل سے دی، اسی کا نام ’’سنت وحدیث‘‘ ہے، اور اس تعلیمِ نبوی کے بغیر قرآنِ کریم کو مرادِ خداوندی کے مطابق سمجھنا ناممکن اور محال ہے۔
✨ : … حق تعالیٰ شانہ‘ نے اس کا وعدہ فرمایا کہ قرآن کے الفاظ و معانی اور مراداتِ خداوندی کی قیامت تک حفاظت فرمائیں گے۔
✨ : … وعدۂ اِلٰہی ظہور پذیر ہوا اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد ہر دور اور ہر زمانے میں اللہ تعالیٰ نے اس دِینِ قیم کی خدمت کے لئے جماعتوں کو کھڑا کردیا، یہ سلسلہ جاری ہے اور تاقیامت جاری رہے گا۔
✨ : … ’’کارخانۂ حفاظت‘‘ جس کا اِنتظام حق تعالیٰ شانہ‘ نے بقائے دِین کے
21
لئے فرمایا، اس کے نتیجے میں الحمدللہ ’’گلشنِ محمدی‘‘ سدابہار ہے، قرآنِ کریم کا ایک ایک حرف ہی نہیں، اس کا طریقۂ اَدا اور لب ولہجہ تک محفوظ ہے، اور معانیٔ قرآن، جن کی تعلیم آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے باذنِ اِلٰہی اپنے قول وفعل سے دی، اس کا بھی پورے کا پورا ریکارڈ آج تک محفوظ ہے، اور اِن شاء اللہ قیامت تک محفوظ رہے گا۔
تنقیحِ دوم
آنجناب کا یہ کہنا کہ ’’آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے قرآنِ کریم کے علاوہ کبھی کوئی دِینی بات اِرشاد ہی نہیں فرمائی‘‘ عجیب وغریب دعویٰ ہے، کیونکہ ہر شخص جانتا ہے کہ:
✨ : … آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز، روزہ، حج، زکوٰۃ وغیرہ قرآنی اَحکام کی اپنے قول وعمل سے تشریح وتکمیل فرمائی۔
✨ : … اور یہ بات بھی سب کو معلوم ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے دورِ مسعود سے لے کر، نماز، روزہ اور حج وزکوٰۃ کی یہ تفصیلات تواتر کے ساتھ محفوظ چلی آئی ہیں، اور تمام مسلمان نسلاً بعد نسلٍ ان کو مانتے چلے آئے ہیں، مسلمان تو مسلمان کافر تک جانتے ہیں کہ نماز، روزہ، حج اور زکوٰۃ مسلمانوں کے دِین کا جزو ہیں۔
یہ ساری چیزیں قرآنِ کریم میں صراحۃً مذکور نہیں، بلکہ اُمتِ اِسلامیہ نے ان چیزوں کو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے قول وعمل سے سیکھا ہے، اگر یہ ساری چیزیں آپ کے نزدیک قرآن ہی میں داخل ہیں، بایں معنی کہ یہ قرآنِ کریم ہی کے اَحکام کی شرح وتفسیر ہے تو جزاک اللہ، مرحبا، کہ آپ نے بھی سنتِ نبوی کے اس ذخیرے کو قرآنِ کریم کی شرح وتفسیر قرار دے کر اپنے اُمتی ہونے کا حق اَدا کردیا، کوئی شک نہیں کہ قرآنِ کریم کلامِ اِلٰہی ہے۔ اور ۔۔۔جیسا کہ پہلے عرض کرچکا ہوں۔۔۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا اُسوۂ حسنہ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اَقوال واَفعال اور اَعمال واَحوال، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرتِ مطہرہ اور سنتِ مبارکہ قرآنِ کریم کی نہایت مستند شرح ہے، اور ایسی شرح جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے قلب مبارک پر بالقائے رحمانی واِلہامی ربانی نازل ہوئی، یہ قرآنِ کریم کی
22
ایسی حکیمانہ شرح ہے کہ کوئی اُمتی تو کجا! آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے سوا دُوسرے انبیائے کرام علیہم السلام میں اس کی نظیر نہیں ملتی، نہ کوئی ایسا بلند مرتبہ شارح عالمِ اِمکان میں تھا، جس کا قلب حکمتِ ربانیہ، معرفتِ اِلٰہیہ، خشیتِ خداوندی، علومِ نبوّت اور نورِ اَزلی سے اس طرح لبریز ہو اور نہ کلامِ حکیم کی شرح وتفسیر حکیمِ انسانیت صلی اللہ علیہ وسلم کی سنتِ طیبہ سے بہتر عالمِ وجود میں آسکتی تھی، اسی بنا پر فرمایا ۔۔۔اور واللہ العظیم کہ بالکل برحق فرمایا۔۔۔ کہ:
’’لَوْ کَانَ مُوْسٰی حَیًّا مَا وَسِعَہٗ إِلّا اتِّبَاعِیْ۔‘‘
(مشکوٰۃ ص:۰۳)
ترجمہ: … ’’اگر موسیٰ علیہ السلام زندہ ہوتے تو ان کو بھی میری پیروی کے بغیر چارہ نہ ہوتا۔‘‘
الغرض قرآنِ حکیم متنِ متین ہے، اور سنتِ نبوی ۔۔۔علیٰ صاحبہا الصلوٰۃ والسلام۔۔۔ اس کی شرح وتفسیر ہے، جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے قلب مبارک پر من جانب اللہ اِلقا ہوتی تھی، لہٰذا نہ اس متنِ متین کو اس شرح تفسیر سے جدا کیا جاسکتا ہے، اور نہ یہ شرح اس متن کے بغیر وجود میں آسکتی تھی، اس لئے یہ کہنا بالکل صحیح ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا کوئی قول وعمل قرآنِ کریم سے باہر نہیں تھا، اور قرآنِ کریم میں جو کچھ ہے وہ بعینہٖ سنتِ نبویہ کے آئینے میں منعکس ہے، دونوں کے درمیان اگر فرق ہے تو بس متن اور شرح کا، وہ اِجمال ہے اور یہ اس کی شرح وتفصیل ہے، واللہ الموفق!
۲: … اور اگر آنجناب کا خیال یہ ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ۲۳ سالہ دورِ نبوّت میں صرف قرآنِ کریم پڑھ کر سنایا، اس کے اَحکام وفرامین کی تفصیل نہیں فرمائی، اس لئے سنت کے نام سے اُمت کے ہاتھ میں جو کچھ ہے، وہ بعد کا ساختہ وپرداختہ ہے، اور قرآنِ کریم کے محاذی اور مقابل ہے، لہٰذا ’’قرآن کا اِسلام‘‘ اور ہے ’’سنت کا اِسلام‘‘ اور ہے ۔۔۔العیاذباللہ۔۔۔ تو یہ سراسر غلط فہمی ہوگی، اور مجھے توقع نہیں کہ آنجناب جیسا فہیم شخص بھی اتنی بڑی غلط فہمی میں مبتلا ہوسکتا ہے۔
۳: … کیونکہ اگر بالفرض آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی سنتِ طیبہ کو درمیان میں
23
سے ہٹادیا جائے اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے نورِ نبوّت، اپنی فہم وفراست اور حق تعالیٰ شانہ‘ کے اِلقا واِلہام کے ذریعے شریعتِ اسلام کی جو تشکیل فرمائی، اس کو ’’ایں دفتر بے معنی غرق مئے ناب اولیٰ‘‘ کا مصداق قرار دے کر اس سے دستبرداری اِختیار کرلی جائے تو ہمیں پورے دِینِ اسلام کی ازسرِنو تشکیل کرنا ہوگی، مثلاً ’’اِقامتِ صلوٰۃ‘‘ کے فریضے کو لیجئے، جس کا بار بار قرآنِ کریم نے اِعلان کیا ہے، ہمیں پوری نماز کا نقشہ قرآنِ کریم کے حوالے سے ۔۔۔نہ کہ محض اپنی عقل سے۔۔۔ مرتب کرنا ہوگا، اور یہ بتانا ہوگا کہ:
✨ : … نماز کے فلاں فلاں اوقات ہیں، اور ہر وقت کی اِبتدا واِنتہا یہ ہے۔
✨ : … ہر نماز کی فرض رکعات اتنی ہیں اور زائد اَز فرض نوافل اتنے ہیں۔
✨ : … نماز کے اندر شرائط واَرکان یہ ہیں، فرائض وواجبات یہ ہیں۔
✨ : … فلاں فلاں کاموں سے نماز فاسد ہوجاتی ہے، فلاں فلاں اَفعال سے مکروہ ہوجاتی ہے۔
✨ : … فلاں فلاں کام نماز میں جائز ہیں، فلاں فلاں ناجائز ہیں۔
✨ : … فلاں اَشخاص پر نماز فرض ہے، فلاں فلاں پر نہیں۔
✨ : … نماز کا پورا طریقہ اوّل سے آخر تک یہ ہے، اس طرح قیام کیا جائے، اس طرح رُکوع وسجود بجالایا جائے، اس طرح نماز کو شروع کیا جائے، اس طرح ختم کیا جائے۔
الغرض صرف ایک حکم ’’اِقامتِ صلوٰۃ‘‘ کی تفصیل وتشکیل کے لئے پوری ’’کتاب الصلوٰۃ‘‘ اَزسرِنو مرتب کرنا ہوگی، اور ہر مسئلے میں صرف قرآن کا حوالہ دینا لازم ہوگا، اور حوالہ بھی بالکل صحیح اور صاف، جس کے مفہوم میں اِختلاف کی گنجائش نہ ہو، اور نہ اسے چیلنج کیا جاسکے۔
اسی طرح ’’کتاب الطہارۃ‘‘ سے ’’کتاب الفرائض‘‘ تک تمام اَبوابِ فقہیہ کی اَزسرِنو تشکیل کرنا ہوگی، اور ہر بحث کے ہر مسئلے میں قرآنِ کریم کی صاف اور صریح آیات کا حوالہ دینا ہوگا۔ پھر اَخلاق وعقائد، معاملات ومعاشرت اور آدابِ زندگی کی بہ تمام وکمال تفصیل مرتب کرنا ہوگی، جس میں ایک ایک عقیدہ، ایک ایک اَخلاق، ایک ایک معاملہ اور
24
ایک ایک شرعی ادب کو قرآنِ کریم کی صریح آیاتِ بینات کے حوالے سے قلم بند کرنا ہوگا، اور جب یہ کام بحسن وخوبی پایۂ تکمیل کو پہنچادیا جائے تب کسی کو یہ کہنے کا حق ہوگا کہ یہ تو ’’قرآن کا اِسلام‘‘ ہے اور مسلمانوں کے ہاتھ میں جو دِین ہے وہ ’’قرآن کا اِسلام‘‘ نہیں ’’روایات کا اِسلام‘‘ ہے۔
سوال یہ ہے کہ کیا کوئی شخص یہ کارنامہ انجام دے سکتا ہے؟ کلّا! ثمّ کلّا! یہ شریعت جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے قول وفعل سے وجود میں آئی، قرآنِ کریم اور نبوّتِ محمدیہ ۔۔۔علیٰ صاحبہا الصلوات والتسلیمات۔۔۔ کا اِعجاز ہے اور دعوے سے کہا جاسکتا ہے کہ اگر کسی شخص کو عمرِ نوح بھی عطا کردی جائے تب بھی ناممکن ہے کہ وہ اس کام کو کرسکے، خواہ اپنے ساتھ دُنیا بھر کے لوگوں کو ملالے، اِمام المتقین سیّد المرسلین سروَرِ کون ومکاں حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہدایتِ ربانی کے مطابق اپنے قول وفعل سے قرآنِ کریم کی جو تشریح فرمائی اور اِسلامی شریعت کی جو تشکیل فرمائی، واللہ العظیم! اس کی نظیر لانا حیطۂ اِمکان سے خارج ہے، وَلَوْ کَانَ بَعْضُھُمْ لِبَعْضٍ ظَھِیْرًا!
خود آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ۔۔۔ اور بخدا! صحیح فرمایا۔۔۔ کہ:
’’لَقَدْ تَرَکْتُکُمْ عَلَی الْبَیْضَائِ لَیْلُھَا کَنَھَارٍ، لَا یَزِیْغُ عَنْھَا بَعْدِیْ إِلّا ھَالِکٌ۔‘‘
(کنز العمال حدیث نمبر:۱۰۶۲)
ترجمہ: … ’’میں نے تمہیں روشن شریعت پر چھوڑا ہے، جس کی رات بھی دن کی طرح روشن ہے، میرے بعد اس سے اِنحراف نہیں کرے گا مگر ہلاک ہونے والا۔‘‘
الغرض اگر کسی شخص کو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے پیش کردہ ’’قرآنی اسلام‘‘ پر اِعتماد نہیں، یا کوئی شخص یہ سمجھتا ہے کہ اُمت نے نماز، روزہ، زکوٰۃ اور حج وغیرہ کی تفصیلات کو اَزخود گھڑکر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے منسوب کردیا ہے، اس لئے وہ دِینِ اسلام کی ان تمام تفصیلات کو، جو اُمت کے عملی تواتر سے ہم تک پہنچی ہیں، یا جو اَحادیثِ صحیحہ ومقبولہ سے ثابت ہیں ’’روایات کا اِسلام‘‘ سمجھتا ہے، اسے لازم ہے کہ صحیح ’’قرآنی اسلام‘‘ کا نقشہ پیش
25
کرے، جس میں نہ کسی اِختلاف کی گنجائش ہو، نہ کسی کے اُنگلی رکھنے کی، جب تک ’’قرآنی اِسلام‘‘ کی تشکیل کا یہ کارنامہ انجام نہیں دے لیا جاتا ۔۔۔اور ناممکن ہے کہ کوئی شخص ایسا کرسکے۔۔۔ تب تک محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لائے ہوئے اور خیرِ اُمت کے طبقہ درطبقہ تواتر کے ساتھ نقل کئے ہوئے دِین کو ’’روایات کا اِسلام‘‘ کہہ کر مسترد کردینا کسی عقل مند کا کام نہیں ہوسکتا۔۔!
۴: … آنجناب اس نکتے پر بھی غور فرمائیں کہ قرآنِ کریم نے سات جگہ کتاب کے ساتھ حکمت کا ذِکر فرمایا ہے:
✨ : … ’’وَیُعَلِّمُھُمُ الْکِتٰبَ وَالْحِکْمَۃَ‘‘
(البقرۃ:۱۲۹)
ترجمہ: … ’’اور وہ نبی سکھائے ان کو کتاب وحکمت۔‘‘
✨ : … ’’وَیُعَلِّمُکُمُ الْکِتٰبَ وَالْحِکْمَۃَ‘‘
(البقرۃ:۱۵۱)
ترجمہ: … ’’اور آپ تم کو کتاب وحکمت کی تعلیم دیتے ہیں۔‘‘
✨ : … ’’وَیُعَلِّمُھُمُ الْکِتٰبَ وَالْحِکْمَۃَ‘‘
(آل عمران:۱۶۴)
ترجمہ: … ’’اور آپ ان (اہلِ اِیمان) کو کتاب وحکمت کی تعلیم دیتے ہیں۔‘‘
✨ : … ’’وَیُعَلِّمُھُمُ الْکِتٰبَ وَالْحِکْمَۃَ‘‘
(الجمعہ:۲)
ترجمہ: … ’’اور آپ ان کو کتاب وحکمت کی تعلیم دیتے ہیں۔‘‘
✨ : … ’’وَاذْکُرُوْا نِعْمَتَ اللہِ عَلَیْکُمْ وَمَآ اَنْزَلَ عَلَیْکُمْ مِّنَ الْکِتٰبِ وَالْحِکْمَۃِ یَعِظُکُمْ بِہٖ، وَاتَّقُوا اللہَ وَاعْلَمُوْآ اَنَّ اللہَ بِکُلِّ شَیْئٍ عَلِیْمٌ‘‘
(البقرۃ:۲۳۱)
ترجمہ: … ’’اور حق تعالیٰ کی جو تم پر نعمتیں ہیں ان کو یاد کرو اور (خصوصاً) اس کتاب اور (مضامینِ) حکمت کو جو اللہ تعالیٰ نے تم پر اس حیثیت سے نازل کی ہیں کہ تم کو ان کے ذریعے سے نصیحت فرماتے ہیں، اور اللہ تعالیٰ سے ڈرتے رہو اور یقین رکھو کہ اللہ تعالیٰ
26
ہر چیز کو خوب جانتے ہیں۔‘‘
(ترجمہ حضرت تھانویؒ)
✨ : … ’’وَاَنْزَلَ اللہُ عَلَیْکَ الْکِتٰبَ وَالْحِکْمَۃَ وَعَلَّمَکَ مَا لَمْ تَکُنْ تَعْلَمْ، وَکَانَ فَضْلُ اللہِ عَلَیْکَ عَظِیْمًا‘‘
(النساء:۱۱۳)
ترجمہ: … ’’اور اللہ تعالیٰ نے آپ پر کتاب اور علم کی باتیں نازل فرمائیں، اور آپ کو وہ باتیں بتلائی ہیں جو آپ نہ جانتے تھے، اور آپ پر اللہ کا بڑا فضل ہے۔‘‘
(ترجمہ حضرت تھانویؒ)
✨ : … ’’وَاذْکُرْنَ مَا یُتْلٰی فِیْ بُیُوْتِکُنَّ مِنْ اٰیٰتِ اللہِ وَالْحِکْمَۃِ‘‘
(الاحزاب:۳۴)
ترجمہ: … ’’اور تم ان آیاتِ اِلٰہیہ کو اور اس علم (اَحکام) کو یاد رکھو جس کا تمہارے گھروں میں چرچا رہتا ہے۔‘‘
(ترجمہ حضرت تھانویؒ)
پہلی چار آیاتِ شریفہ میں فرمایا گیا ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اہلِ ایمان کو کتاب وحکمت کی تعلیم فرماتے ہیں، پانچویں آیتِ شریفہ میں اللہ تعالیٰ نے اہلِ اِیمان کو اَپنا اِنعام یاد دِلایا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ان پر (آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم) کے ذریعے کتاب وحکمت نازل فرمائی ہے۔
چھٹی آیتِ شریفہ میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے شرف وفضیلت اور علوِ مرتبت کا تذکرہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر کتاب وحکمت نازل فرمائی، اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو وہ علوم سکھائے جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو پہلے سے معلوم نہیں تھے، اور حق تعالیٰ شانہ‘ کا فضلِ عظیم آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے شاملِ حال تھا۔
ساتویں آیتِ شریفہ میں اُمہات المؤمنین رضی اللہ عنہن کو فرمایا کہ ان کے گھروں میں جو آیاتُ اللہ اور حکمت تلاوت کی جاتی ہیں، اس کا تذکرہ کیا کریں۔
ان آیاتِ شریفہ پر نظرِ فہم واِنصاف ڈال کر غور فرمائیے کہ ’’الکتاب‘‘ تو قرآن
27
مجید ہوا، یہ ’’الکتاب‘‘ کے ساتھ ساتھ جو ’’الحکمۃ‘‘ کا تذکرہ بار بار چلا آرہا ہے، یہ کیا چیز ہے؟
اکابرِ اُمت نے اس ’’حکمت‘‘ کو مختلف تعبیرات میں بیان فرمایا ہے، مفہوم سب کا متقارب ہے، اس کا جامع ترین مفہوم اِمام شافعیؒ اور دیگر اَکابر نے صرف ایک لفظ سے بیان فرمایا ہے، یعنی ’’السُّنَّۃ‘‘۔
ہمارے لئے جو چیز لائقِ توجہ ہے وہ یہ ہے کہ جب قرآنِ کریم یہ اِعلان کرتا ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر ’’الکتاب‘‘ کے ساتھ ’’الحکمۃ‘‘ بھی نازل کی گئی، اور یہ حکمت آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے قول وفعل ہی سے معلوم کی جاتی تھی، آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اُمت کو اس کی تعلیم فرماتے تھے، اور اُمت کو کتاب وحکمت دونوں کے یاد اور محفوظ رکھنے کا حکم فرمایا گیا، تو اس سے بدیہی طور پر ہر شخص یہ سمجھے گا کہ قرآنِ کریم کے ساتھ یہ ’’الحکمۃ‘‘ بھی دِین کا ایک اہم ترین حصہ ہے، جس کو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر نازل کیا گیا، اور جس کی تعلیم پر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو مأمور فرمایا گیا، اور یہ بات بھی ہر آدمی سمجھتا ہے کہ جب صحابہ کرامؓ بھی تعلیمِ کتاب وحکمت میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے محتاج تھے تو بعد کی اُمت ان سے زیادہ محتاج ہوگی، اور اس بات کو سمجھنے کے لئے بھی کسی دقیق علم وفہم کی ضرورت نہیں کہ اُمت دِین فہمی کے لئے جس چیز کی محتاج ہے، اس کا باقی اور محفوظ رہنا لازم بھی ہے، اگر وہ محفوظ ہی نہ رہے تو اُمت اس سے کیسے مستفید ہوگی۔ معلوم ہوا کہ کتاب وحکمت دونوں اِسلام کا منبع ہیں، دونوں اُمت کے لئے ضروری ہیں، اور دونوں کی حفاظت حق تعالیٰ شانہ‘ کی جانب سے ہوئی ہے تاکہ دِینِ اسلام رہتی دُنیا تک ہر شخص پر حجت رہے۔
جب صاحبِ قرآن الصادق المصدوق صلی اللہ علیہ وسلم کا اِرشاد لوگوں کے سامنے آتا ہے:
’’أَلَا! إِنِّیْ اُوْتِیْتُ الْقُرْآنَ وَمِثْلَہٗ مَعَہٗ۔‘‘
(مشکوٰۃ ص:۲۹)
28
ترجمہ: … ’’سنو! مجھے قرآن دیا گیا ہے اور اسی کی مثل کے ساتھ۔‘‘
تو بعض لوگ اس اِرشادِ نبوی کا مذاق اُڑاتے ہیں اور مزے لے لے کر اس پر پھبتیاں اُڑاتے ہیں، لیکن انصاف کیجئے کہ کیا اس حدیث شریف میں وہی بات نہیں کہی گئی جس کا اِعلان خود قرآن کر رہا ہے؟ کیا ان کو کبھی ان آیاتِ شریفہ کی تلاوت کی بھی توفیق نہیں ہوئی:
’’وَاَنْزَلَ اللہُ عَلَیْکَ الْکِتٰبَ وَالْحِکْمَۃَ‘‘
’’وَمَآ اَنْزَلَ عَلَیْکُمِ مِّنَ الْکِتٰبِ وَالْحِکْمَۃِ‘‘
’’وَاذْکُرْنَ مَا یُتْلٰی فِیْ بُیُوْتِکُنَّ مِنْ اٰیٰتِ اللہِ وَالْحِکْمَۃِ‘‘
یہی حکمت جس کے بارے میں قرآن نے اِعلان فرمایا کہ وہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر قرآن کے ساتھ نازل کی گئی ہے۔
یہی حکمت جس کے بارے میں اللہ تعالیٰ اہلِ اِیمان کو آگاہ فرما رہے ہیں کہ ان پر کتاب کے ساتھ حکمت نازل کی گئی ہے۔
یہی حکمت جس کے مذاکرے کا مسلمانوں کی ماؤں (اُمہات المؤمنینؓ) کو حکم دیا گیا۔
اگر اسی حکمت کو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اپنے بلیغ پیغمبرانہ الفاظ میں یوں تعبیر فرماتے ہیں:
’’أَلَا! إِنِّیْ اُوْتِیْتُ الْقُرْآنَ وَمِثْلَہٗ مَعَہٗ۔‘‘
تو اِنصاف فرمائیے کہ کیا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ٹھیک وہی بات نہیں دُہرائی جس کا بار بار اِعلان قرآنِ کریم نے ’’الکتاب والحکمۃ‘‘ کے الفاظ میں فرمایا ہے؟
اس صورت میں اس حدیث کا مذاق اُڑانا خود قرآن کا مذاق اُڑانا نہیں تو اور کیا ہے۔۔۔؟
یہ تو ایک ضمنی بات تھی، میں جو بات عرض کر رہا ہوں وہ یہ ہے کہ جب قرآنِ کریم کے اِعلان کے مطابق آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو دو چیزیں دی گئیں، ایک قرآن اور
29
دُوسری حکمت، اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو دونوں کی تعلیم پر مأمور بھی کیا گیا، تو آنجناب کا یہ کہنا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے قرآن کے علاوہ مسلمانوں کو کسی چیز کی تعلیم نہیں دی، نہ قرآن کے علاوہ کوئی دِینی بات اپنی زبان مبارک سے ارشاد فرمائی، کیا یہ دعویٰ خود قرآن کی زبان سے غلط اور باطل نہیں ہوجاتا۔۔۔؟
۵: … یہاں یہ ذکر کردینا بھی اَزبس ضروری ہے کہ، یہ حکمتِ نبوی جس کو سنت سے تعبیر کرتے ہیں، اور جس کے قرآن کے ساتھ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر نازل کئے جانے کا قرآن اِعلان کر رہا ہے، یہ صرف آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی خصوصیت نہیں، بلکہ قرآن ہی یہ بھی ثابت کر رہا ہے کہ ہر نبی کو کتاب کے ساتھ حکمت بھی عطا کی گئی، ملاحظہ فرمائیے:
۱-’’وَاِذْ اَخَذَ اللہُ مِیْثَاقَ النَّبِیّٖنَ لَمَا اٰتَیْتُکُمْ مِّنْ کِتٰبٍ وَّحِکْمَۃٍ‘‘
(آل عمران:۸۱)
ترجمہ: … ’’اور جبکہ اللہ تعالیٰ نے عہد لیا انبیاء (علیہم السلام) سے کہ جو کچھ تم کو کتاب اور علم (شریعت) دُوں۔‘‘
۲- ’’وَیُعَلِّمُہُ الْکِتٰبَ وَالْحِکْمَۃَ وَالتَّوْرٰۃَ وَالْاِنْجِیْل‘‘
(آل عمران:۴۸)
ترجمہ: … ’’اور اللہ تعالیٰ ان کو (عیسیٰ علیہ السلام کو) تعلیم فرمائیں گے کتابیں اور سمجھ کی باتیں اور توراۃ اور اِنجیل۔‘‘
(ترجمہ حضرت تھانویؒ)
۳- ’’وَاِذْ عَلَّمْتُکَ الْکِتٰبَ وَالْحِکْمَۃَ وَالتَّوْرٰۃَ وَالْاِنْجِیْلَ‘‘
(المائدہ:۱۱۰)
ترجمہ: … ’’اور جبکہ میں نے تم کو (عیسیٰ علیہ السلام کو) کتابیں اور سمجھ کی باتیں اور توراۃ اور اِنجیل تعلیم کیں۔‘‘
(ترجمہ حضرت تھانویؒ)
30
ان آیاتِ شریفہ سے واضح ہے کہ ہر نبی کو ۔۔۔اللہ تعالیٰ کی ان سب پر ہزاروں ہزار رحمتیں وبرکتیں ہوں۔۔۔ کتاب کے ساتھ ساتھ حکمت بھی عطا کی گئی، لطیفہ یہ ہے کہ نئی کتاب تو ہر نئے نبی کو نہیں دی گئی، بلکہ بہت سے انبیائے کرام ۔۔۔علیہم السلام۔۔۔ پہلی کتاب کے پابند تھے، مثلاً حضرت موسیٰ علیہ السلام کو توراۃ دی گئی، اور ان کے بعد بنی اِسرائیل میں ہزاروں نبی آئے، جیسا کہ خود قرآنِ کریم کا اِرشاد ہے:
’’وَلَقَدْ اٰتَیْنَا مُوْسَی الْکِتٰبَ وَقَفَّیْنَا مِنْم بَعْدِہٖ بِالرُّسُلِ وَاٰتَیْنَا عِیسَی ابْنَ مَرْیَمَ الْبَیِّنٰتِ وَاَیَّدْنٰـہُ بِرُوْحِ الْقُدُسِ‘‘
(البقرۃ:۸۷)
ترجمہ: … ’’اور ہم نے موسیٰ علیہ السلام کو کتاب دی، اور ان کے بعد یکے بعد دیگرے پیغمبروں کو بھیجتے رہے، اور ہم نے عیسیٰ بن مریم کو واضح دلائل عطا فرمائے، اور ہم نے رُوح القدس سے تائید دی۔‘‘
(ترجمہ حضرت تھانویؒ)
’’اِنَّآ اَنْزَلْنَا التَّوْرٰۃَ فِیْھَا ھُدًی وَّنُوْرٌ یَّحْکُمُ بِھَا النَّبِیُّوْنَ الَّذِیْنَ اَسْلَمُوْا لِلَّذِیْنَ ھَادُوْا وَالرَّبّٰنِیُّوْنَ وَالْاَحْبَارُ بِمَا اسْتُحْفِظُوْا مِنْ کِتٰبِ اللہِ وَکَانُوْا عَلَیْہِ شُھَدَآئَ‘‘
(المائدۃ:۴۴)
ترجمہ: … ’’ہم نے توراۃ نازل فرمائی، جس میں ہدایت تھی اور وضوح تھا، انبیاء جو کہ اللہ تعالیٰ کے مطیع تھے اس کے موافق یہود کو حکم دیا کرتے تھے، اور اہل اللہ اور علماء بھی، بوجہ اس کے کہ ان کو اس کتاب کی نگہداشت کا حکم دیا گیا تھا، اور وہ اس کے اِقراری ہوگئے تھے۔‘‘
(ترجمہ حضرت تھانویؒ)
یہ انبیائے کرام علیہم السلام جو حضرت موسیٰ علیہ السلام کے بعد یہود کی اِصلاح وتربیت کے لئے تشریف لاتے رہے، ان کی کتاب تو وہی ’’کتابِ موسیٰ‘‘ (توراۃ) تھی،
31
لیکن ظاہر ہے کہ ان پر وحی بھی نازل ہوتی تھی، کیونکہ یہی چیز ایک نبی کو غیرنبی سے ممتاز کرتی ہے۔
بہرحال قرآنِ کریم نے ذِکر فرمایا ہے کہ ہر نبی کو کتاب کے ساتھ حکمت عطا کی گئی، ہر نبی پر کتاب کے علاوہ وحی نازل ہوتی رہی، جو حکمت پر مشتمل تھی، جس کے ذریعے حضراتِ انبیائے کرام علیہم السلام کتابِ اِلٰہی کے صحیح منشا کو مرادِ خداوندی کے مطابق خود سمجھتے تھے اور دُوسروں کو سمجھاتے تھے۔ خود عمل فرماتے تھے اور دُوسروں سے عمل کرواتے تھے، پس کتابِ اِلٰہی کا فہم وتفہیم، اس کی تعلیم وتبلیغ، اس کی تعمیل وتنفیذ، اسی حکمت کی روشنی میں ہوتی تھی جو اَنبیائے کرام علیہم السلام کو وحیٔ اِلٰہی کے ذریعے اِلقا کی جاتی تھی، گویا کتاب اور حکمتِ نبوی دونوں لازم وملزوم ہیں، دونوں کو ایک دُوسرے سے جدا نہیں کیا جاسکتا۔
یہیں سے یہ سمجھ لیا جائے کہ یہ ’’حکمت‘‘ جو اَنبیائے کرام علیہم السلام کو بذریعہ وحی دی گئی، حضراتِ اہلِ علم کی اِصطلاح میں اس کو ’’وحیٔ خفی‘‘ کہا جاتا ہے، کتاب کی وحی ’’وحیٔ جلی‘‘ کہلاتی ہے، اور ’’حکمت کی وحی‘‘ وحیٔ خفی کہلاتی ہے۔ جو لوگ قرآن کی ’’کتاب وحکمت‘‘ کو نہیں سمجھتے، اور جو حقیقتِ نبوّت اور مرتبۂ نبوّت سے ناآشنا ہیں، وہ ’’وحیٔ جلی‘‘ اور ’’وحیٔ خفی‘‘ کے الفاظ کا مذاق اُڑانا، تمغۂ دانشوری سمجھتے ہیں، لیکن جن لوگوں کو حق تعالیٰ شانہ‘ نے چشمِ بصیرت عطا فرمائی ہے، ان کے لئے یہ سمجھنا کچھ مشکل نہیں کہ ’’وحیٔ جلی‘‘ اور ’’وحیٔ خفی‘‘ کی اِصطلاح قرآن ہی کے الفاظ ’’کتاب وحکمت‘‘ کے مراتب کی تعیین وتشخیص ہے:
الفاظ کے پیچوں میں اُلجھتے نہیں دانا
غوّاص کو مطلب ہے صدف سے کہ گہر سے!
۶: … کتاب وحکمت کے عطا کئے جانے کے بعد نبی کا ظاہر وباطن اور قلب وقالب رِضائے اِلٰہی پر ڈَھل جاتا ہے، چنانچہ اِرشادِ خداوندی ہے:
’’قُلْ اِنَّ صَلَاتِیْ وَنُسُکِیْ وَمَحْیَایَ وَمَمَاتِیْ للہ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ Y لَا شَرِیْکَ لَہٗ وَبِذٰلِکَ اُمِرْتُ وَاَنَا اَوَّلُ الْمُسْلِمِیْنَ‘‘
(الانعام:۱۶۲، ۱۶۳)
32
ترجمہ: … ’’آپ فرمادیجئے کہ بالیقین میری نماز اور میری ساری عبادات اور میرا جینا اور مرنا یہ سب خالص اللہ ہی کا ہے، جو مالک ہے سارے جہان کا، اس کا کوئی شریک نہیں، اور مجھ کو اسی کا حکم ہوا ہے، اور میں سب ماننے والوں میں پہلا ہوں۔‘‘
(ترجمہ حضرت تھانویؒ)
دُوسری جگہ حضرت اِبراہیم علیہ السلام کے بارے میں فرمایا:
’’اِذْ قَالَ لَہٗ رَبُّہٗٓ اَسْلِمْ قَالَ اَسْلَمْتُ لِرَبِّ الْعٰلَمِیْنَ‘‘
(البقرۃ:۱۳۱)
ترجمہ: … ’’جبکہ ان سے ان کے پروردگار نے فرمایا کہ: تم اِطاعت اِختیار کرو! انہوں نے عرض کیا کہ: میں نے اِطاعت اِختیار کی رَبّ العالمین کی۔‘‘
(ترجمہ حضرت تھانویؒ)
اور خود آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا اِرشادِ گرامی ہے:
’’مَا بَالُ أَقْوَامٍ یَتَنَزَّھُوْنَ عَنِ الشَّیْئِ أَصْنَعَہٗ فَوَاللہِ! إِنِّیْ أَعْلَمُھُمْ بِاللہِ وَأَشَدَّھُمْ لَہٗ خَشْیَۃً۔‘‘
(متفق علیہ، مشکوٰۃ ص:۲۷)
ترجمہ: … ’’ان لوگوں کا کیا حال ہے جو ایسی چیز سے پرہیز کرتے ہیں جس کو میں کرتا ہوں، پس اللہ کی قسم! میں ان سب سے زیادہ اللہ کو مانتا ہوں، اور سب سے زیادہ اللہ سے ڈَرتا ہوں۔‘‘
نبی کا دِل وحیٔ اِلٰہی سے سراپا نور اور رَشکِ صد شعلہ طور بن جاتا، اور یہ نورِ وحی اس کی رُوح وقلب میں سرایت کرجاتا ہے تو نبی کا ہر قول وفعل مرضیٔ اِلٰہی کے سانچے میں ڈھل کر نکلتا ہے، گویا نبی کا قول وفعل خود رضائے اِلٰہی کا پیمانہ بن جاتا ہے، نبی کو من جانب اللہ ایک شاہراہ اور ایک صراطِ مستقیم عطا کیا جاتا ہے، جس کو چشمِ نبوّت دیکھتی ہے، مگر دُوسروں کے سامنے اس کا ظہور نبی کے قول وفعل اور کردار وگفتار میں ہوتا ہے، اسی کا نام شریعت ہے:
33
’’وَلِکُلٍّ جَعَلْنَا مِنْکُمْ شِرْعَۃً وَّمِنْھَاجًا‘‘
(المائدۃ:۴۹)
ترجمہ: … ’’تم میں سے ہر ایک کے لئے ہم نے خاص شریعت اور خاص طریقت تجویز کی تھی۔‘‘
(ترجمہ حضرت تھانویؒ)
’’ثُمَّ جَعَلْنٰـکَ عَلٰی شَرِیْعَۃٍ مِّنَ الْاَمْرِ فَاتَّبِعْھَا وَلَا تَتَّبِعْ اَھْوَآئَ الَّذِیْنَ لَا یَعْلَمُوْنَ‘‘
(الجاثیہ:۱۸)
ترجمہ: … ’’پھر ہم نے آپ کو دِین کے ایک خاص طریقے پر کردیا، سو آپ اسی طریقے پر چلتے رہئے اور جہلاء کی خواہشوں پر نہ چلئے۔‘‘
(ترجمہ حضرت تھانویؒ)
قرآنِ کریم کی ان آیاتِ بینات سے واضح ہے کہ نبی پر نازل کی جانے والی کتاب وحکمت ایک رُوح ہے، جو نبی کے قول وفعل اور اس کی سنت کے قالب میں جلوہ گر ہوتی ہے، وہ برگِ گل ہے تو یہ بوئے گل ہے، کسی نے قرآن وحکمت کا جلال وجمال ظاہری آنکھوں سے دیکھنا ہو تو اسے نبی کے قول وفعل اور اس کی سنت میں جلوہ گر دیکھ لے، زیب النساء المتخلص بہ ’’مخفی‘‘ مرحومہ کے بقول:
-
در سخن ’’مخفی‘‘ منم چوں بوئے گل در برگِ گل
ہر کہ دیدن میل دارد در سخن بیند مر
ترجمہ: … ’’جس طرح بوئے گل برگِ گل میں مخفی ہوتی ہے، اسی طرح میں اپنے سخن میں مخفی ہوں، جو شخص مجھے دیکھنے کی خواہش رکھتا ہو، وہ مجھے میرے کلام میں دیکھے۔‘‘
چونکہ نبی کی پوری شخصیت سراپا مرضیٔ اِلٰہی بن جاتی ہے، اس لئے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی ذاتِ عالی کو اہلِ اِیمان کے لئے اُسوۂ حسنہ ۔۔۔بہترین نمونہ۔۔۔ قرار دِیا گیا ہے:
’’لَقَدْ کَانَ لَکُمْ فِیْ رَسُوْلِ اللہِ اُسْوَۃٌ حَسَنَۃٌ لِّمَنْ کَانَ یَرْجُوا اللہَ وَالْیَوْمَ الْاٰخِرَ وَذَکَرَ اللہَ کَثِیْرًا‘‘
(الاحزاب:۲۱)
ترجمہ: … ’’تم لوگوں کے لئے ۔۔۔یعنی ایسے شخص کے
34
لئے۔۔۔ جو اللہ سے اور روزِ آخرت سے ڈرتا ہو، اور کثرت سے ذِکرِ اِلٰہی کرتا ہو، رسول اللہ ۔۔۔صلی اللہ علیہ وسلم۔۔۔ کا ایک عمدہ نمونہ موجود تھا۔‘‘
(ترجمہ حضرت تھانویؒ)
آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا قول وفعل، آپ کا اُسوۂ حسنہ، آپ کی سنتِ مطہرہ ہی وہ شریعت ہے جس پر اللہ تعالیٰ نے آپ کو قائم کیا تھا، اور یہی وہ صراطِ مستقیم ہے جس پر چلنے کی توفیق ہر نماز کی ہر رکعت میں طلب کی جاتی ہے:
’’اِھْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِیْمَ‘‘
(یا اللہ! ہمیں صراطِ مستقیم کی ہدایت نصیب فرما)
۷: … گزشتہ نکات سے واضح ہوچکا ہے کہ کتاب وحکمت ہر نبی کو دی گئی، جو ہر نبی کے قول وفعل اور اس کی سنت کی شکل میں جلوہ گر ہوکر ان کی اُمت کے لئے شریعت بنی، اسی بنا پر ہر اُمت کو اپنے نبی کی اِطاعت کا حکم دیا گیا:
’’وَمَآ اَرْسَلْنَا مِنْ رَّسُوْلٍ اِلّا لِیُطَاعَ بِاِذْنِ اللہِ‘‘
(النساء:۶۴)
ترجمہ: … ’’اور ہم نے تمام پیغمبروں کو خاص اسی واسطے مبعوث فرمایا ہے کہ بہ حکمِ خداوندی ان کی اطاعت کی جاوے۔‘‘
(ترجمہ حضرت تھانویؒ)
چونکہ نبی سراپا طاعتِ خداوندی ہوتا ہے، اس لئے اس کی اِطاعت کو عین اِطاعتِ خداوندی قرار دِیا گیا:
’’وَمَنْ یُّطِعِ الرَّسُوْلَ فَقَدْ اَطَاعَ اللہَ وَمَنْ تَوَلّٰی فَمَآ اَرْسَلْنٰـکَ عَلَیْھِمْ حَفِیْظًا‘‘
(النساء:۸۰)
ترجمہ: … ’’جس شخص نے رسول کی اِطاعت کی اس نے خدا تعالیٰ کی اِطاعت کی، اور جو شخص رُوگردانی کرے، سو ہم نے آپ کو ان کا نگران کرکے نہیں بھیجا۔‘‘
(ترجمہ حضرت تھانویؒ)
35
آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو جو کتاب وحکمت عطا کی گئی، اور جس نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے قول وفعل میں ڈھل کر شریعتِ محمدیہ ۔۔۔علیٰ صاحبہا الصلوات والتسلیمات۔۔۔ کی شکل اِختیار کی، اس میں اور پہلے انبیائے کرام علیہم السلام کو عطا کی جانے والی کتاب وحکمت اور سنت وشریعت میں چند وجہ سے فرق ہے:
✨ : … ایک یہ کہ پہلے انبیائے کرام ۔۔۔علیہم السلام۔۔۔ خاص وقت اور خاص قوم کی ہدایت ورہنمائی کے لئے تشریف لاتے تھے، لامحالہ ان کی کتاب وحکمت بھی اور سنت وشریعت بھی اسی خاص وقت یا قوم کے پیمانے سے محدود تھی، لیکن آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نبی آخرالزمان ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی رِسالت ونبوّت کسی خاص وقت وقوم اور زمان ومکان کے پیمانے سے محدود نہیں، بلکہ کون ومکان اور زمین وزمان سب کو محیط ہے، تمام آفاقِ انفس اور تمام زمان ومکان واَکوان اس کے وسیع ترین دائرے میں سمٹے ہوئے ہیں، اس لئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو ایسی کتاب وحکمت اور ایسی سنت وشریعت عطا کی گئی جو تمام آفاق وزمان کو محیط ہو، اور ہر قوم، ہر ملک اور ہر زبان ومکان کی ہدایت کے لئے مکتفی ہو، ایسی جامع ہدایت اور شریعت آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے پہلے کسی نبی کو عطا نہیں کی گئی۔
✨ : … ایک یہ کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی تشریف آوری چونکہ تمام انبیائے کرام علیہم السلام کے بعد ہوئی، اس لئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو ایسی کتاب اور ایسی حکمت عطا کی گئی جو گزشتہ تمام کتابوں اور حکمتوں کی جامع ہے، چنانچہ اللہ تعالیٰ نے اس کتاب ۔۔۔قرآن مجید۔۔۔ کو تمام کتابوں کی مصدق اور ان کے علوم ومعارف کی محافظ ۔۔۔مہیمن۔۔۔ فرمایا ہے (المائدۃ:۴۸)، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی سنتِ مطہرہ گویا تمام انبیائے کرام علیہم السلام کی سنتوں کا مجموعہ ہے، اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی شریعت تمام سابقہ شریعتوں کا عطر۔
اس تنقیح کو انہی معروضات پر ختم کرتے ہوئے آنجناب کے فہمِ سلیم وعقلِ مستقیم سے توقع رکھتا ہوں کہ اس کم فہم، ہیچ مدان نے جو کچھ عرض کیا ہے۔۔۔اور تمام مطالب کو اپنے فہمِ ناقص کے مطابق آیاتِ بینات سے مرصع کیا ہے۔۔۔ اگر بنظرِ فہم واِنصاف غور فرمائیں گے تو آنجناب علم ودانش کی روشنی میں خود یہ فیصلہ فرمائیں گے کہ:
36
✨ : … آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ۲۳ سالہ دور میں صرف قرآنِ کریم پڑھ کر سنانے پر اِکتفا نہیں کیا، بلکہ وحیٔ اِلٰہی اور حکمتِ ربانی کی روشنی میں اس کی تعلیم بھی فرمائی۔
✨ : … آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر قرآنِ کریم کے ساتھ ساتھ حکمت بھی نازل کی گئی، اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس کی تعلیم پر بھی مأمور تھے۔
✨ : … آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی اس قولی وعملی تعلیم سے اسلام کے اُصول وفروع کی تشکیل ہوئی، اور جس شریعت پر اللہ تعالیٰ نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو قائم فرمایا تھا، وہ کامل ومکمل شکل میں جلوہ گر ہوئی۔
✨ : … محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی یہی ملتِ بیضا اور یہی شریعتِ غرا ہے جو اِنسانیت کی شاہراہِ اعظم ہے، جس کے لئے ہادیٔ عالم صلی اللہ علیہ وسلم کو مبعوث فرمایا گیا، اور یہی وہ صراطِ مستقیم ہے جس کی قرآنِ کریم نے دعوت دی، اور آج بھی پوری اِنسانیت کو جس کی دعوت دے رہا ہے، اور قیامت تک دیتا رہے گا:
’’وَاَنَّ ھٰذَا صِرَاطِیْ مُسْتَقِیْمًا فَاتَّبِعُوْہُ وَلَا تَتَّبِعُوا السُّبُلَ فَتَفَرَّقَ بِکُمْ عَنْ سَبِیْلِہٖ ذٰلِکُمْ وَصّٰکُمْ بِہٖ لَعَلَّکُمْ تَتَّقُوْنَ‘‘
(الانعام:۱۵۳)
ترجمہ: … ’’اور یہ کہ یہ دِین میرا راستہ ہے، جو کہ مستقیم ہے، سو اس راہ پر چلو، اور دُوسری راہوں پر مت چلو کہ وہ راہیں تم کو اللہ کی راہ سے جدا کردیں گی، اس کا تم کو اللہ تعالیٰ نے تاکیدی حکم دیا ہے، تاکہ تم اِحتیاط رکھو۔‘‘
(ترجمہ حضرت تھانویؒ)
اس آیتِ شریفہ کی تفسیر خود صاحبِ قرآن صلی اللہ علیہ وسلم نے اس طرح فرمائی:
’’وَعَنْ عَبْدِاللہِ بْنِ مَسْعُوْدٍ رَضِیَ اللہُ عَنْہُ قَالَ: خَطَّ لَنَا رَسُوْلُ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ خَطًّا ثُمَّ قَالَ: ھٰذَا سَبِیْلُ اللہِ، ثُمَّ خَطَّ خُطُوْطًا عَنْ یَّمِیْنِہٖ وَعَنْ شِمَالِہٖ وَقَالَ:
37
ھٰذِہٖ سُبُلٌ، عَلٰی کُلِّ سَبِیْلٍ مِّنْھَا شَیْطَانٌ یَّدْعُوْ إِلَیْہِ، وَقَرَأَ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ: ’’وَاَنَّ ھٰذَا صِرَاطِیْ مُسْتَقِیْمًا فَاتَّبِعُوْہُ‘‘ الآیۃ۔‘‘
(رواہ احمد والنسائی والدارمی، مشکوٰۃ ص:۳۰)
ترجمہ: … ’’حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمارے سامنے ایک خط کھینچا، پھر فرمایا: ’’یہ تو اللہ کا راستہ ہے۔‘‘ پھر اس کے دائیں بائیں خطوط کھینچے اور فرمایا: ’’یہ دُوسرے راستے ہیں، ان میں سے ہر راستے پر ایک شیطان کھڑا لوگوں کو اس کی دعوت دے رہا ہے۔‘‘ اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ آیتِ شریفہ تلاوت فرمائی:’’وَاَنَّ ھٰذَا صِرَاطِیْ مُسْتَقِیْمًا فَاتَّبِعُوْہُ‘‘ الآیہ، (یہ وہی آیتِ شریفہ ہے جس کا ترجمہ اُوپر نقل کیا گیا)۔‘‘
✨ : … حاملِ قرآن صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیمات، آپ کے اِرشادات واقوال، آپ کا عملی اُسوۂ حسنہ اور آپ کی سنتِ مطہرہ قرآنِ کریم کے مقابل ومحاذی نہیں، بلکہ ’’برگِ گل‘‘ سے مہکنے والی ’’بوئے گل‘‘ ہے۔
✨ : … قرآن فہمی کے لئے یا کسی بھی دِینی عقیدہ وعمل کے لئے سنت سے رُجوع کرنا قرآنِ کریم کی جامعیت وکمال کی نفی نہیں، بلکہ اس کے جامع ومکمل کتاب ہونے کا اِثبات ہے، کیونکہ صاحبِ قرآن صلی اللہ علیہ وسلم نے قرآنِ کریم کی جو تشریحات اپنے قول وعمل سے اِلہامِ ربانی اور وحیٔ اِلٰہی کی روشنی میں فرمائی ہیں، وہ قرآنِ کریم ہی کے اِجمال کی تفصیل، اسی کے مطالب کی تشریح اور اسی کے مقاصد کی تشکیل ہے۔
✨ : … آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر اِیمان رکھنے والوں کے لئے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی قولی وعملی سنت واجب التسلیم بھی ہے، اور واجب العمل بھی، کیونکہ یہ عقلاً ناممکن ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم جو کتابِ اِلٰہی اپنی زبان مبارک سے پڑھ کر سنائیں اس پر تو اِیمان لانا واجب ہو، اور بحکمِ خداوندی اس کے اَحکام کی جو تشریح وتشکیل فرمائیں،
38
ان کو نہ تو ماننا ضروری ہو اور نہ ان پر عمل کرنا لازم ہو۔
✨ : … شریعتِ محمدیہ ۔۔۔صلی اللہ علیٰ صاحبہا وسلم۔۔۔ جو قرآنِ کریم اور اس کی تشریحاتِ نبویہ سے تشکیل پاتی ہے، چونکہ قیامت تک کے لئے ہے، لہٰذا ضروری ہوا کہ قیامت تک قرآنِ کریم بھی محفوظ رہے، اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے قول وعمل سے اس کی جو تشریح وتشکیل فرمائی ہے، وہ بھی قیامت تک محفوظ رہے، کہ اس کے بغیر بعد میں آنے والی نسلوں پر ’’اللہ کی حجت‘‘ قائم نہیں ہوسکتی تھی،وَ ِﷲِ الْحُجَّۃُ الْبَالِغَۃ۔
تنقیحِ سوم
آنجناب تحریر فرماتے ہیں:
’’جس مسئلے کا قرآن میں کوئی تذکرہ نہ ہو، وہ عقائد واِیمانیات کا مسئلہ ہرگز نہیں ہوسکتا، اور اسی وجہ سے وہ مدارِ کفر واِیمان نہیں ہوسکتا۔‘‘
چونکہ یہ فقرہ پہلی دو تنقیحات کا نتیجہ ہے، اس لئے گزشتہ تنقیحات کے ذیل میں جو کچھ لکھ چکا ہوں، اس پر غور فرمالینا کافی ہوگا، تاہم ’’مدارِ کفر واِیمان‘‘ کی وضاحت کے لئے چند نکات عرض کرتا ہوں، واللہ الموفق!
۱: … آنجناب کے خیال میں مدارِ کفر واِیمان صرف وہ مسئلہ ہے جو قرآنِ کریم میں مذکور ہو، کہ اس پر اِیمان لانا ضروری ہے، اور اس کا اِنکار کفر ہے۔ بخلاف اس کے جو مسئلہ قرآنِ کریم میں صراحۃً مذکور نہیں، نہ اس پر اِیمان رکھنا ضروری ہے، اور نہ اس کا اِنکار کردینا کفر ہے۔ مگر جناب کا یہ خیال صحیح نہیں کیونکہ مدارِ کفر واِیمان کسی مسئلے کا قطعی ثبوت ہے، پس دِینِ اسلام کی جو باتیں قطعی ثبوت کے ساتھ ہم تک پہنچی ہیں، ان کا ماننا شرطِ اِیمان ہے اور ان میں سے کسی کا اِنکار کردینا کفر ہے۔
۲: … کسی چیز کا قطعی یقین حاصل ہونے کے عقلاً دو طریقے ہیں:
اوّل یہ کہ آدمی اپنی آنکھوں سے کسی چیز کو دیکھ لے یا خود اپنے کانوں سے کسی
39
بات کو سن لے، تو اس کا قطعی یقین حاصل ہوجاتا ہے۔
دوم یہ کہ خبرِ متواتر کے ذریعے ہمیں وہ بات پہنچی ہو، یعنی کسی بات کو اس قدر کثیرالتعداد لوگوں نے نقل کیا کہ عقل یہ تسلیم نہیں کرتی کہ ان سب لوگوں نے جھوٹ پر اِتفاق کرلیا ہوگا۔ مثلاً لندن یا نیویارک کا شہر بہت سے لوگوں نے نہیں دیکھا ہوگا، لیکن ان کو بھی ان دونوں شہروں کا اتنا ہی یقین ہے جتنا کہ خود اپنی آنکھ سے دیکھنے والوں کو۔ جب کوئی خبر نقلِ متواتر کے ذریعے ہم تک پہنچے تو ہمیں اس کا ایسا ہی یقین حاصل ہوجاتا ہے جیسا کہ آنکھوں دیکھی چیز کا، اور کانوں سنی بات کا۔
۳: … جن لوگوں نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اِرشادات بالمشافہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی زبان مبارک سے سنے ان کے لئے تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی ایک ایک بات قطعی ویقینی ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ہر بات کو ماننا شرطِ اِیمان، اور کسی ایک بات کا اِنکار کرنا کفر ہے۔ چنانچہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ۳۲ سالہ دورِ نبوّت میں ایک واقعہ بھی ایسا پیش نہیں کیا جاسکتا کہ کسی مسلمان نے یہ کہا ہو کہ جو بات آپ صلی اللہ علیہ وسلم قرآن کے حوالے سے بیان فرمائیں، اس پر تو ہم اِیمان لاتے ہیں، اور جو بات آپ صلی اللہ علیہ وسلم قرآن سے باہر بیان کرتے ہیں، ہم اس کو نہیں مانتے۔
۴: … جو لوگ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد آئے انہوں نے نہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا، نہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی زبان سے قرآنِ کریم کو سنا، اور نہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے لائے ہوئے دِینِ اسلام کی کوئی بات براہِ راست آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے حاصل کی، ان کو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوّت، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا لایا ہوا قرآن، اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے لائے ہوئے دِین کی ایک ایک بات نقل وروایات کے ذریعے پہنچی، پس بعد والوں کے لئے ان تمام چیزوں کے ثبوت کا مدار نقل وروایت پر ٹھہرا۔
۵: … پس دِینِ اسلام کی جو باتیں نقلِ متواتر کے ذریعے ہم تک پہنچیں، وہ ہمارے لئے اتنی ہی قطعی ویقینی ہیں گویا ہم نے خود آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی زبان وحی
40
ترجمان سے ان کو سنا ہے، ایسی تمام چیزیں جو نقلِ متواتر کے ذریعے ہمیں پہنچی ہیں ان کو ’’ضروریاتِ دِین‘‘ کہا جاتا ہے، ان تمام ’’ضروریاتِ دِین‘‘ کو ماننا شرطِ اِیمان ہے، اور ان میں سے کسی ایک بات کا اِنکار کردینا کفر ہے۔
آپ ذرا غور وفکر سے کام لیں گے تو واضح ہوگا کہ خود قرآنِ کریم کا، اور اس کے ایک ایک حرف کا ماننا اور اس پر اِیمان لانا بھی ہمارے لئے اسی وجہ سے ضروری ہے کہ یہ نقلِ متواتر کے ذریعے سے ہم تک پہنچا ہے، اسی طرح دیگر ’’ضروریاتِ دِین‘‘ جو نقلِ متواتر کے ذریعے ہم تک پہنچے ہیں، اس لئے ان کا ماننا اور ان پر اِیمان لانا بھی لازم ہوگا، کیونکہ اگر اہلِ تواتر قرآنِ کریم کے نقل کرنے میں سچے ہیں تو لامحالہ دیگر ’’ضروریاتِ دِین‘‘ کے نقل کرنے میں لائقِ اِعتماد ہوں گے۔ اور اگر یہ فرض کرلیا جائے کہ ’’ضروریاتِ دِین‘‘ میں سے کسی ایک بات کے نقل کرنے میں لائقِ اِعتماد نہیں تو ۔۔۔نعوذباللہ۔۔۔ وہ قرآنِ کریم کے نقل کرنے میں بھی لائقِ اِعتماد نہیں رہتے۔
۶: … تواتر کی چار قسمیں ہیں: تواترِ لفظی، تواترِ معنوی، تواترِ قدرِ مشترک اور تواترِ طبقہ عن طبقہ۔ تواتر کی یہ چاروں قسمیں یقین اور قطعیت کا فائدہ دیتی ہیں، اور ان کے ذریعے حاصل ہونے والی خبر قطعی اور یقینی کہلاتی ہے۔ جیسا کہ آنکھوں دیکھی اور کانوں سنی چیز، اور بحمداللہ! کہ دِینِ اسلام کا ایک بڑا حصہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے لے کر آج تک قطعی اور متواتر چلا آرہا ہے۔
۷: … جو خبر کہ درجۂ تواتر کو نہ پہنچی ہو وہ ’’خبرِ واحد‘‘ کہلاتی ہے، اور ’’خبرِ واحد‘‘ کی تین قسمیں ہیں:
۱- وہ خبر جس کے نقل کرنے والے حفظ واِتقان اور دیانت وامانت کے لحاظ سے لائقِ اِعتماد ہوں، ایسی خبر کو اِصطلاحاً ’’صحیح‘‘ کہا جاتا ہے (حدیثِ حسن بھی اسی میں داخل ہے)۔
۲- وہ خبر جس کے نقل کرنے والے مندرجہ بالا صفات میں پوری طرح لائقِ اِعتماد نہ ہوں، تاہم ان پر جھوٹ بولنے کی تہمت نہیں، ایسی روایت کو ’’ضعیف‘‘ کہا جاتا ہے۔
41
۳- وہ خبر جس کے نقل کرنے والوں میں سے کسی پر جھوٹ بولنے کی تہمت ہو، یا اسی نوعیت کی کوئی اور جرح ہو، ایسی روایت کو ’’موضوع‘‘ ۔۔۔یعنی من گھڑت۔۔۔ کہا جاتا ہے۔
دِینِ اسلام کی جو باتیں ’’صحیح‘‘ نقل وروایت سے ہم تک پہنچی ہیں، اگرچہ وہ اِیمانیات میں داخل نہیں، اور نہ ان کو مدارِ کفر و اِیمان قرار دِیا جاتا ہے، تاہم وہ واجب العمل ہیں، گویا یہ نقل موجبِ قطعیت نہیں، لیکن موجبِ عمل ہے۔
’’ضعیف‘‘ روایات نہ موجبِ یقین ہیں اور نہ موجبِ عمل، البتہ ان کو قطعی طور پر من گھڑت اور موضوع قرار دینا بھی دُرست نہیں ہے، بلکہ بعض موقعوں پر فضائلِ اعمال میں بشرائطِ معروفہ ان پر عمل کی گنجائش ہے۔
۸: … دِینِ اسلام کا بیشتر حصہ اَخبارِ صحیحہ ومقبولہ کے ذریعے ہم تک پہنچا ہے، اور ’’اَخبارِ آحاد‘‘ کا لائقِ اِعتماد ہونا دُنیا بھر کی عدالتوں میں اور تمام مہذّب معاشروں میں مُسلَّم ہے، جبکہ ان کے نقل کرنے والے لائقِ اِعتماد ہوں، یہ اس کی وضاحت کے لئے چند مثالیں ذِکر کردینا کافی ہے:
✨ : … ایک شخص دُوسرے پر ایک لاکھ روپے کا دعویٰ کرتا ہے، اور اس کے ثبوت میں دو عادل اور ثقہ گواہوں کی شہادت پیش کردیتا ہے، مدعاعلیہ ان گواہوں کی دیانت وامانت پر کوئی جرح نہیں کرتا، عدالت ان دو گواہوں کی شہادت پر اِعتماد کرتے ہوئے مدعاعلیہ کے خلاف ڈگری صادر کردے گی۔
✨ : … کسی مقتول کا وارث کسی شخص پر اس کے قتل کا دعویٰ کرتا ہے، اور اس دعوے کے ثبوت میں دو لائقِ اِعتماد اور ثقہ گواہ پیش کردیتا ہے، اور وہ چشم دِید گواہی دیتے ہیں کہ اس شخص نے ہمارے سامنے اس مقتول کو قتل کیا تھا، مدعاعلیہ ان گواہوں کی دیانت وامانت کو چیلنج نہیں کرسکتا، تو عدالت ان دو گواہوں کی شہادت پر مدعاعلیہ کے خلاف فیصلہ کردے گی۔
✨ : … ایک شخص کسی خاتون پر دعویٰ کرتا ہے کہ وہ اس کی بیوی ہے اور اپنے دعوے پر نکاح کے دو گواہ پیش کردیتا ہے، وہ خاتون ان گواہوں کی دیانت وامانت پر جرح نہیں کرسکتی، تو عدالت اس نکاح کو تسلیم کرنے پر مجبور ہوگی۔
42
میں نے یہ تین مثالیں ذِکر کی ہیں، ایک مال سے متعلق ہے، دُوسری جان سے، اور تیسری عزّت وناموس سے۔ گویا دُنیا بھر کی عدالتیں جان ومال اور عزّت وآبرو کے معاملات میں ’’خبرِ واحد‘‘ پر اِعتماد کرتی ہیں، اور دُنیا بھر کا نظامِ عدل ’’خبرِ واحد‘‘ کو لائقِ اِعتماد قرار دینے پر قائم ہے۔
۹: … آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرتِ طیبہ کا مطالعہ کیجئے تو معلوم ہوگا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ کرامؓ ’’خبرِ واحد‘‘ کو لائقِ اِعتماد اور واجب العمل قرار دیتے تھے۔ اس کی چند مثالیں عرض کرتا ہوں:
✨ : … آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے بے شمار صحابہ کرامؓ کو دعوتِ اِسلام کے لئے بھیجا، بہت سے لوگ ان کی دعوت پر مشرف باسلام ہوئے، مگر کسی نے یہ نکتہ نہیں اُٹھایا کہ اس مبلغ کی خبر ’’خبرِ واحد‘‘ ہے، لہٰذا لائقِ اِعتبار نہیں، نہ اس کی خبر پر عمل کرنا ضروری ہے۔
✨ : … آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے بہت سی جگہ صدقات وصول کرنے کے لئے عاملین کو بھیجا، وہ ان علاقوں میں گئے اور صدقات وصول کرکے لائے، مگر کسی نے یہ اِعتراض نہیں کیا کہ یہ عامل صاحب فردِ واحد ہیں، ان کی خبر کا کیا اِعتبار؟
✨ : … آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے متعدّد صحابہ کرامؓ کو حاکم کی حیثیت سے بھیجا، اور ان لوگوں نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بھیجے ہوئے حاکموں کو بسر وچشم قبول کیا، اور کسی نے یہ سوال نہیں اُٹھایا کہ ان صاحب کا یہ کہنا کہ: ’’میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا بھیجا ہوا حاکم ہوں‘‘، خبرِ واحد ہے، اور خبرِ واحد لائقِ اِعتماد نہیں۔
✨ : … آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے شاہانِ عالم اور رئیسانِ ممالک کے نام گرامی نامے تحریر فرمائے، اور ان کو اپنے معتمد صحابہ کرامؓ کے ہاتھ بھیجا، جن لوگوں کے پاس یہ کرامت نامے پہنچے، انہوں نے ان پر اپنے رَدِّعمل کا اِظہار کیا، مگر کسی کے ذہن میں یہ نکتہ نہیں آیا کہ اس خط کا لانے والا فردِ واحد ہے، اور ’’خبرِ واحد‘‘ لائقِ اِعتبار نہیں۔
ان اِجمالی اِشارات سے واضح ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ کرامؓ نے خبرِ واحد کو حجتِ ملزمہ قرار دِیا۔ علاوہ ازیں قرآنِ کریم بھی ’’خبرِ واحد‘‘ کو حجت قرار دیتا
43
ہے، مگر چونکہ بحث غیرضروری طور پر پھیل رہی ہے، اس لئے تفصیل کو چھوڑتا ہوں۔
مندرجہ بالا نکات کا خلاصہ یہ ہے کہ:
✨ : … پورے دِین کا مدار نقل و روایت پر ہے۔
✨ : … دِینِ اسلام کا جو حصہ نقلِ متواتر سے پہنچا، اس کا ثبوت قطعی ویقینی ہے، اس کو ماننا شرطِ اِیمان ہے، اور اس میں سے کسی چیز کا اِنکار کفر ہے۔
✨ : … اگر متواتراتِ دِین کا اِعتبار نہ کیا جائے تو قرآنِ کریم کا ثبوت بھی ممکن نہیں۔
✨ : … اَخبارِ صحیحہ ومقبولہ کے ذریعے جو کچھ پہنچا وہ واجب العمل ہے۔
✨ : … البتہ اَخبارِ ضعیفہ پر عمل نہیں کیا جاتا، نہ اَخبارِ موضوعہ پر۔
اس تمام تفصیل کو نظراَنداز کرکے تمام روایات کو ایک ہی ڈنڈے سے ہانکنا، اُونٹ اور بلی کو ایک ہی زنجیر میں باندھنے کے مترادف ہے، ظاہر ہے کہ یہ صحتِ فکر کے منافی ہے۔
۱۰: … آئیے! اب قرآنِ کریم کی روشنی میں اس پر غور کریں کہ جو چیز قرآنِ کریم میں مذکور نہ ہو، آیا وہ مدارِ کفر واِیمان ہوسکتی ہے یا نہیں؟
✨ : … قرآنِ کریم نے بار بار اِقامتِ صلوٰۃ کا حکم فرمایا ہے، مگر یہ تفصیل ذِکر نہیں فرمائی کہ دِن میں کتنی نمازیں پڑھی جائیں؟ کن کن وقتوں میں پڑھی جائیں؟ اور ہر نماز کی کتنی رکعتیں پڑھی جائیں؟ یہ تمام چیزیں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی سنتِ متواترہ سے ثابت ہیں، آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے دورِ مسعود سے لے کر آج تک ہر دور اور ہر زمانے میں جس طرح اُمت نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوّت اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی کتاب کو نقل کیا ہے، اسی طرح نمازِ پنج گانہ کو، ان کی تعدادِ رکعات کو، اور ان کے اوقات وشرائط کو بھی نقل کیا ہے، چونکہ یہ تمام چیزیں نقلِ متواتر سے ثابت ہیں، اس لئے ان کو ماننا شرطِ اِیمان ہے، اور ان کا اِنکار قطعی کفر ہے، اور یہ ایسا ہی کفر ہے جیسے کوئی شخص آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوّت کا یا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی لائی ہوئی کتاب کا اِنکار
44
کرڈالے، کیونکہ یہ دونوں چیزیں جس تواتر سے ثابت ہیں، اسی تواتر سے نمازِ پنج گانہ بھی ثابت ہے، اور جو چیزیں تواتر سے ثابت ہوں، ان میں سے کسی ایک چیز کا اِنکار تمام متواترات کا اِنکار ہے، چنانچہ قرآنِ کریم نے بھی اس کو کافروں کے جرائم میں نقل کیا ہے، سورۂ مدثر میں اِرشاد ہے کہ: ’’جب کافروں سے پوچھا جائے گا کہ تم کو دوزخ میں کس چیز نے داخل کیا؟‘‘ وہ جواب دیں گے:
’’لَمْ نَکُ مِنَ الْمُصَلِّیْنَ‘‘
ترجمہ: … ’’ہم نہیں تھے نماز پڑھنے والوں میں۔‘‘
یعنی کفار یہ اِقرار کرتے ہیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے جو نماز مسلمانوں کو تعلیم فرمائی، ہم اس کے قائل نہیں تھے۔ اس سے ثابت ہوا کہ نمازِ پنج گانہ پر اِیمان لانا فرض ہے، اور اس کا اِنکار کفر ہے، کیونکہ اگر اس میں نماز پر اِیمان لانا ضروری نہ ہوتا تو قرآنِ کریم اس کو کفار کے اِقرارِ کفر میں کیوں نقل کرتا؟
✨ : … اسی طرح قرآنِ کریم نے زکوٰۃ کا حکم فرمایا، لیکن زکوٰۃ کا نصاب کیا ہے؟ کن کن لوگوں پر زکوٰۃ ادا کی جائے گی اور مقدارِ زکوٰۃ کتنی ہے؟ یہ ساری تفصیلات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بیان فرمائیں، جو اُمت میں تواتر کے ساتھ منقول ہیں، اب اگر کوئی شخص اس زکوٰۃ کا منکر ہو، وہ مسلمان نہیں ہوگا، قرآنِ کریم کا فتویٰ سنئے!
’’وَوَیْلٌ لِّلْمُشْرِکِیْنَ الَّذِیْنَ لَا یُؤْتُوْنَ الزَّکٰوۃَ وَھُمْ بِالْاٰخِرَۃِ ھُمْ کٰفِرُوْنَ‘‘
(حٰمٓ السجدۃ:۷)
ترجمہ: … ’’اور ایسے مشرکوں کے لئے بڑی خرابی ہے جو زکوٰۃ نہیں دیتے، اور وہ آخرت کے منکر ہی رہتے ہیں۔‘‘
✨ : … اسی طرح قرآنِ کریم نے حج کی فرضیت کو ذِکر فرمایا، لیکن حج کس طرح کیا جائے؟ کس طرح اِحرام باندھا جائے؟ کس طرح دیگر مناسک اَدا کئے جائیں؟ یہ تمام تفصیلات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے قول وعمل سے اِرشاد فرمائیں، اور یہ طریقۂ حج آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے لے کر آج تک اُمت میں متواتر چلا آیا ہے، اگر کوئی شخص
45
حج کے ان متواتر اَفعال کا منکر ہو، وہ مسلمان نہیں ہوگا، چنانچہ قرآنِ کریم نے فرضیتِ حج کو ذِکر کرنے کے بعد فرمایا:
’’وَمَنْ کَفَرَ فَاِنَّ اللہَ غَنِیٌّ عَنِ الْعٰلَمِیْنَ‘‘
(آل عمران:۹۷)
ترجمہ: … ’’اور جو شخص منکر ہو، تو اللہ تعالیٰ تمام جہان والوں سے غنی ہیں۔‘‘
معلوم ہوا کہ جو شخص آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے تعلیم کردہ حج کا منکر ہو، وہ کافر ہے۔
ان مثالوں سے واضح ہوا کہ جو شخص متواتراتِ دِین کا منکر ہو وہ مسلمان نہیں، خواہ وہ قرآنِ کریم میں مذکور ہوں یا قرآنِ کریم سے باہر کی چیز ہوں۔
۱۱: … اس پر بھی غور فرمائیے کہ قرآنِ کریم ان چیزوں میں بھی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی اِطاعت کو شرطِ اِیمان قرار دیتا ہے جو قرآنِ کریم میں مذکور نہیں، چنانچہ سورۃ الاحزاب میں اِرشاد ہے:
’’وَمَا کَانَ لِمُؤْمِنٍ وَّلَا مُؤْمِنَۃٍ اِذَا قَضَی اللہُ وَرَسُوْلُہٗ اَمْرًا اَنْ یَّکُوْنَ لَھُمُ الْخِیَرَۃُ مِنْ اَمْرِھِمْ، وَمَنْ یَّعْصِ اللہَ وَرَسُوْلَہٗ فَقَدْ ضَلَّ ضَلٰـلًا مُّبِیْنًا‘‘
(الاحزاب:۳۶)
ترجمہ: … ’’اور کسی اِیمان دار مرد اور کسی اِیمان دار عورت کو گنجائش نہیں، جبکہ اللہ تعالیٰ اور اس کا رسول (صلی اللہ علیہ وسلم) کسی کام کا حکم دے دیں کہ (پھر) ان (مؤمنین) کو ان کے کسی کام میں کوئی اِختیار (باقی) رہے، اور جو شخص اللہ کا اور اس کے رسول (صلی اللہ علیہ وسلم) کا کہنا نہ مانے گا، وہ صریح گمراہی میں پڑا۔‘‘
(ترجمہ حضرت تھانویؒ)
اس آیتِ شریفہ میں چند اُمور توجہ طلب ہیں:
46
✨ : … یہ آیتِ شریفہ ایک خاص واقعے سے متعلق ہے، وہ یہ کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت زیدؓ کا نکاح اپنی پھوپھی زاد بہن حضرت زینب بن جحشؓ سے کرنا چاہا، چونکہ حضرت زیدؓ عام لوگوں میں غلام مشہور ہوچکے تھے، اس لئے حضرت زینبؓ اور ان کے بھائی حضرت عبداللہ بن جحشؓ نے اس رشتے کی منظوری سے عذر کیا، اس پر یہ آیتِ شریفہ نازل ہوئی، تو یہ حضرات سمع وطاعت بجا لائے۔
(بیان القرآن)
✨ : … کسی لڑکی کا نکاح کہاں کیا جائے اور کہاں نہ کیا جائے؟ یہ ایک خالص ذاتی اور نجی معاملہ ہے، جو لڑکی اور اس کے اولیاء کی رضا پر موقوف ہے، لیکن اگر اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کسی کے ایسے ذاتی اور خالص نجی معاملے میں کوئی حکم صادر فرمادیں تو ان کے حکم کی تعمیل واجب ہوجاتی ہے۔
✨ : … آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے جو حکم فرمایا تھا کہ حضرت زینبؓ کا نکاح حضرت زیدؓ سے کردیا جائے، اس کے بارے میں قرآنِ کریم کی کوئی آیت نازل نہیں ہوئی تھی، بلکہ یہ حکم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے وحیٔ خفی کے ذریعے ذاتی طور پر اِرشاد فرمایا تھا، لیکن اللہ تعالیٰ اس کو ’’اللہ ورسول کا حکم‘‘ فرما رہے ہیں، اس سے ثابت ہوا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی جانب سے جو حکم بھی صادر ہو، وہ ’’اللہ ورسول کا حکم‘‘ ہے، اور اہلِ اسلام پر اس کی تعمیل واجب ہے، آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی زبان سے حکم صادر ہونے کے بعد اس کو قرآنِ کریم میں ڈھونڈنا، اور اگر وہ قرآنِ کریم میں نہ ملے تو اس کے ماننے سے اِنکار کردینا، غیردانش مندی کا ایسا مظاہرہ ہے، جس کی قرآنِ کریم اِجازت نہیں دیتا۔
✨ : … قرآنِ کریم نے اس حکم کی اِبتدا اس عنوان سے فرمائی کہ ’’کسی اِیمان دار مرد اور کسی اِیمان دار عورت کے لئے گنجائش نہیں‘‘ اس عنوان سے ثابت ہوتا ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے اَحکام وفرامین کی تعمیل مقتضائے اِیمان ہے اور ان سے اِنحراف تقاضائے اِیمان کے منافی ہے۔
✨ : … آخر میں فرمایا کہ: ’’جو شخص اللہ ورسول کے حکم کی نافرمانی کرے وہ صریح گمراہی میں جاپڑا‘‘ اگر کوئی شخص اللہ ورسول کے حکم کو واجب التعمیل سمجھنے کے باوجود اس کی
47
نافرمانی کرتا ہے تو یہ عملی گمراہی درجۂ فسق میں ہوگی، اور اگر اللہ ورسول کے حکم کو واجب التعمیل ہی نہیں سمجھتا، تو صریح گمراہی درجۂ کفر میں ہوگی، اور آیتِ شریفہ میں صریح گمراہی سے یہی مراد ہے، واللہ اعلم!
✨ : … اس آیتِ شریفہ سے ثابت ہوا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے صریح حکم کو قبول کرنا ۔۔۔خواہ قرآنِ کریم میں مذکور نہ ہو۔۔۔ اِیمان ہے، اور اس سے اِنحراف کرنا کفر ہے۔
۱۲: … سورۃ النساء میں اِرشاد ہے:
’’مَنْ یُّطِعِ الرَّسُوْلَ فَقَدْ اَطَاعَ اللہَ وَمَنْ تَوَلّٰی فَمَآ اَرْسَلْنٰـکَ عَلَیْھِمْ حَفِیْظًا‘‘
(النساء:۸۰)
ترجمہ: … ’’جس شخص نے رسول کی اطاعت کی اس نے خدا تعالیٰ کی اطاعت کی، اور جو شخص (آپ کی اطاعت) سے رُوگردانی کرے سو (آپ کچھ غم نہ کیجئے، کیونکہ) ہم نے آپ کو ان کا نگران کرکے نہیں بھیجا (کہ آپ ان کو کفر نہ کرنے دیں)۔‘‘
(بیان القرآن)
اس آیتِ شریفہ سے معلوم ہو اکہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی اِطاعت بعینہٖ اللہ تعالیٰ کی اِطاعت ہے، کیونکہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم وحیٔ اِلٰہی کے ترجمان ہیں، لہٰذا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی اِطاعت کا اِلتزام شرطِ اِیمان ہے، اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی اِطاعت سے اِنحراف کفر ہے، لہٰذا مدارِ کفر واِسلام یہ نہیں کہ وہ مسئلہ قرآنِ کریم میں مذکور ہے یا نہیں، بلکہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی طاعت کا اِلتزام مدارِ اِیمان اور اس سے اِنحراف موجبِ کفر ہے۔
۱۳: … قرآنِ کریم میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت سے اِنحراف کرنے والوں کو منافق قرار دِیا گیا ہے، چنانچہ سورۃ النساء کے نویں رُکوع میں ان منافقین کا تذکرہ ہے جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے فیصلے سے اِنحراف کرتے تھے، اسی ضمن میں فرمایا:
48
’’وَاِذَا قِیْلَ لَھُمْ تَعَالَوْا اِلٰی مَآ اَنْزَلَ اللہُ وَاِلَی الرَّسُوْلِ رَأَیْتَ الْمُنٰـفِقِیْنَ یَصُدُّوْنَ عَنْکَ صُدُوْدًا‘‘
(النساء:۶۱)
ترجمہ: … ’’اور جب ان سے کہا جاتا ہے کہ آؤ اس حکم کی طرف جو اللہ تعالیٰ نے نازل فرمایا ہے اور رسول کی طرف، تو آپ منافقین کی یہ حالت دیکھیں گے کہ وہ آپ سے پہلوتہی کرتے ہیں۔‘‘
(ترجمہ حضرت تھانویؒ)
معلوم ہوا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم سے پہلوتہی کرنے والے منافق ہیں۔
اسی ضمن میں یہ بھی اِرشاد فرمایا:
’’وَمَآ اَرْسَلْنَا مِنْ رَّسُوْلٍ اِلّا لِیُطَاعَ بِاِذْنِ اللہِ‘‘
(النساء:۶۴)
ترجمہ: … ’’اور ہم نے تمام پیغمبروں کو خاص اسی واسطے مبعوث فرمایا ہے کہ بحکمِ خداوندی ان کی اطاعت کی جائے۔‘‘
(ترجمہ حضرت تھانویؒ)
اس سے ظاہر ہے کہ جو لوگ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت سے منحرف ہیں، وہ درحقیقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی رِسالت ونبوّت کے منکر ہیں۔
نیز اسی ضمن میں فرمایا:
’’فَلَا وَرَبِّکَ لَا یُؤْمِنُوْنَ حَتّٰی یُحَکِّمُوْکَ فِیْمَا شَجَرَ بَیْنَھُمْ ثُمَّ لَا یَجِدُوْا فِیْٓ اَنْفُسِھِمْ حَرَجًا مِّمَّا قَضَیْتَ وَیُسَلِّمُوْا تَسْلِیْمًا‘‘
(النساء:۶۵)
ترجمہ: … ’’پھر قسم ہے آپ کے رَبّ کی! یہ لوگ اِیمان دار نہ ہوں گے جب تک یہ بات نہ ہو کہ ان کے آپس میں جو جھگڑا واقع ہو، اس میں یہ لوگ آپ سے فیصلہ کراویں، پھر آپ کے فیصلے سے
49
اپنے دِلوں میں تنگی نہ پاویں، اور پورا پورا تسلیم کرلیں۔‘‘
(ترجمہ حضرت تھانویؒ)
معلوم ہوا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ہر فیصلے کو دِل وجان سے قبول کرلینا شرطِ اِیمان ہے، اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے فیصلوں کو قبول کرنے سے اِنحراف کرنا کفر ونفاق ہے۔
اسی طرح سورۂ توبہ، سورۂ محمد اور دیگر سورتوں میں منافقین کے کفر ونفاق کو بیان فرمایا گیا ہے، جو زبان سے تو توحید ورِسالت کا اِقرار کرتے تھے، لیکن چونکہ ان کے دِلوں میں اِیمان داخل نہیں ہوا تھا، اس لئے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی فرمانبرداری سے پہلوتہی اور اِنحراف کرتے تھے، حق تعالیٰ شانہ‘ نے ان کے اس منافقانہ کردار کی بار بار مذمت فرمائی۔
پس ایک مؤمن کا شیوہ یہ ہے کہ جب اس نے ’’لا اِلٰہ اِلَّا اللہ محمد رسول اللہ‘‘ کا دِل وجان سے اِقرار کرلیا تو ہر بات میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت کا بھی اِلتزام کرے، بخلاف اس کے کہ جو شخص زبان سے ’’لا اِلٰہ اِلَّا اللہ محمد رسول اللہ‘‘ کا اِقرار تو کرتا ہے لیکن ساتھ یہ بھی کہتا ہے کہ ہمارے ذمے صرف قرآنِ کریم کا ماننا لازم ہے، اس کے علاوہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی کسی بات کا ماننا ہمارے ذمے لازم نہیں، ایسا شخص منصبِ رِسالت سے ناآشنا ہے، اس نے رسول کی حیثیت ومرتبے ہی کو نہیں سمجھا، اور نہ رسول اور اُمتی کے باہمی ربط وتعلق کو جانا، یہ شخص درحقیقت آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی رِسالت ونبوّت پر اِیمان ہی نہیں رکھتا، اگر یہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں ہوتا تو اس کا شمار مسلمانوں کے بجائے منافقین کی صف میں ہوتا۔
وَاللہُ یَقُوْلُ الْحَقَّ وَھُوَ یَھْدِی السَّبِیْل!
تنقیحِ چہارم وپنجم
آنجناب نے چوتھی اور پانچویں تنقیح کے ذیل میں جو کچھ فرمایا ہے، اس کا خلاصہ
50
یہ ہے کہ تابعین وتبع تابعین کے دور سے لے کر آج تک اُمت گمراہ چلی آتی ہے۔ یہ خیال واِستدلال درج ذیل نکات پر مبنی ہے:
۱: … تابعینؒ وتبع تابعینؒ کے دور میں ملحدوں اور منافقوں نے جھوٹی روایات گھڑگھڑ کر انہیں اُمت میں پھیلایا، اور انہیں تقدس کا درجہ عطا کردیا، اور قرآن کے مقابلے میں جھوٹی روایات پر مبنی ایک نیا دِین تصنیف کرڈالا۔
۲: … اور یہ سادہ لوح اُمت ان منافقوں اور ملحدوں کے پھیلائے ہوئے سازشی جال کا شکار ہوگئی، قرآن کے دِین کو چھوڑ کر جھوٹی روایات والے اس دِین پر اِیمان لے آئی، جو منافقوں اور ملحدوں نے تصنیف کیا تھا، اور مسلمانوں کی سادہ لوحی اور بے وقوفی کا یہ عالم تھا کہ قرآن کو ان جھوٹی روایات کے تابع بنادیا گیا۔
۳: … وہ دن اور آج کا دِن! یہ اُمت روایات کی پرستار چلی آتی ہے، قرآن کے لائے ہوئے دِین کا کہیں نام ونشان نہیں، اور جو کچھ مسلمانوں کے پاس موجود ہے وہ خودساختہ روایات کا اِسلام ہے۔
اَزراہِ کرم! اپنی تحریر کے الفاظ پر دوبارہ ایک نظر ڈال لیجئے، اور فرمائیے کہ آپ یہی کہنا چاہتے ہیں یا کچھ اور؟
’’مگر بصدہا افسوس کہ ملاحدہ اور منافقینِ عجم نے تابعین اور تبع تابعین کے لبادے اوڑھ اوڑھ کر ایسے متعدّد عقیدے اور اَعمال دِینی حیثیت کے نئے نئے پیدا کرکے ان کو رسول اللہ کی طرف منسوب کرکے ممالکِ اِسلامیہ کے اَطراف واَکناف میں پھیلائے اور اس کے ماتحت یہ عقیدہ لوگوں کے دِلوں میں پیدا کرنے کی کوشش کی کہ قرآنِ کریم سے باہر بھی بعض دِینی اَحکام ہیں، عقائد وعبادات کی قسم کے بھی، اور اُصول واَخلاق ومعاملات کی قسم کے بھی ۔۔۔۔۔۔ اور پھر روایت پرستی کا شوق اس قدر عوام میں بھڑکایا کہ عوام تو درکنار خواص بھی اس متعدی مرض میں مبتلا ہوکر رہ گئے ۔۔۔۔۔۔
51
یہاں تک کہ روایت پرستی رفتہ رفتہ مستقل دِین بن کر رہ گئی، اور قرآنِ کریم جو اَصل دِین تھا، اس کو روایتوں کا تابع ہوکر رہنا پڑا، اس کے بعد یہ سوال بھی کسی کے ذہن میں نہ آیا کہ قرآنِ کریم ایک مکمل کتاب ہے بھی یا نہیں؟‘‘
میں بے تکلف عرض کرتا ہوں کہ آنجناب نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی اُمتِ مرحومہ کی جو تصویرکشی کی ہے، یہ محض فرضی تصویر ہے، جو دورِ حاضر کے ملحدوں کے ذہن کی اِختراع ہے، یہ محض ایک تخیلاتی افسانہ ہے، جس کا حقائق سے کوئی واسطہ نہیں۔ نہ جانے آنجناب نے اُمت کی یہ تاریخ کس کتاب کی مدد سے مرتب فرمائی ہے؟ اور اس افسانہ تراشی کا مأخذ کیا ہے؟ میں آنجناب کی توجہ چند نکات کی طرف مبذول کرانا چاہتا ہوں، اور درخواست کرتا ہوں کہ ٹھنڈے دِل سے ان پر غور فرمائیں، واللہ الموفّق لکلِّ خیر وسعادۃ!
۱: … آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو حق تعالیٰ شانہ‘ نے قیامت تک آنے والی اِنسانیت کے لئے رسول بناکر بھیجا، اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ذریعے رہتی دُنیا تک اِنسانوں پر حجت قائم فرمائی۔
جن لوگوں نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا زمانہ پایا، ان پر تو خود آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ذریعے اللہ تعالیٰ کی حجت قائم ہوئی، اور جو لوگ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد دُنیا میں آئے، ان پر اللہ تعالیٰ کی حجت اسی صورت میں قائم ہوسکتی تھی جبکہ ان تک آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا لایا ہوا دِین، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی لائی ہوئی کتاب اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیمات صحیح اور محفوظ حالت میں پہنچیں، ورنہ اگر یہ فرض کرلیا جائے کہ خدانخواستہ بعد والوں تک آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا صحیح دِین پہنچا ہی نہیں، تو ظاہر ہے کہ ان پر اللہ تعالیٰ کی حجت قائم نہیں ہوگی۔
اور ہم تک آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا دِین، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی کتاب اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیمات نقل و روایت کے ذریعے پہنچی ہیں، کیونکہ ہم نے نہ
52
آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی زیارت کی، نہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اَقوال واَعمال اور اَحوال کا خود مشاہدہ کیا، نہ قرآنِ کریم کو نازل ہوتے ہوئے دیکھا، نہ قرآنِ کریم کو خود آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی زبان مبارک سے سنا، بلکہ یہ ساری چیزیں ہمیں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے نقل وروایت کے ذریعے ملی ہیں، چنانچہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے نقل کیں، ان سے تابعینؒ نے، ان سے تبع تابعینؒ نے، وعلیٰ ھٰذا ہر قرن کے حضرات نے ان چیزوں کو بعد کے قرن تک منتقل کیا ہے۔
اور اہلِ عقل جانتے ہیں کہ کسی روایت کے لائقِ اِعتماد ہونے کا مدار نقل کرنے والوں کی دیانت و امانت پر ہے، اگر نقل کرنے والے دیانت وامانت کے لحاظ سے لائقِ اِعتماد ہیں، تو ان کی نقل کی ہوئی بات بھی لائقِ اِعتماد قرار پائے گی، اور اگر نقل کرنے والے لائقِ اِعتماد نہیں، بلکہ بے دِین اور بددیانت ہیں، تو ان کی نقل کی ہوئی بات کی قیمت ایک کوڑی کے برابر بھی نہیں ہوگی۔
اب آنجناب غور فرمائیں کہ اگر آنجناب کے بقول عجمی منافقوں اور ملحدوں نے تابعینؒ اور تبع تابعینؒ کے زمانے میں جھوٹی روایات گھڑگھڑ کر ان کو اُمت میں پھیلادیا، اور پوری کی پوری اُمت اس روایاتی دِین کی قائل ہوگئی، اور بقول آپ کے:
’’عوام تو درکنار؟ خواص بھی اس متعدی مرض میں مبتلا ہوکر رہ گئے، یہاں تک کہ روایت پرستی رفتہ رفتہ مستقل دِین بن کر رہ گئی، اور قرآن جو اَصل دِین تھا، اس کو روایتوں کے تابع ہوکر رہنا پڑا، اس کے بعد یہ سوال بھی کسی کے ذہن میں نہ آیا کہ قرآنِ کریم ایک مکمل کتاب ہے بھی یا نہیں؟‘‘
تو ظاہر ہے کہ جو اُمت قرآنِ کریم کو چھوڑ کر ملحدوں اور منافقوں کی خودتراشیدہ رِوایات پر اِیمان لاچکی ہو، اور جس نے قرآنِ کریم کے بجائے روایت پرستی کو اَپنا دِین واِیمان بنالیا ہو، ایسی اُمت یکسر گمراہ، بے دِین بلکہ بددِین کہلائے گی، اور اس کی حیثیت یہود ونصاریٰ سے بھی بدتر ہوگی، ایسی گمراہ اور بے دِین اُمت کے ذریعے ہمیں جو چیز بھی
53
پہنچے گی وہ کسی طرح بھی لائقِ اِعتماد نہیں ہوگی! آپ ہی فرمائیں کہ اس صورت میں تابعینؒ اور تبع تابعینؒ کے بعد والوں پر اللہ کی حجت کس طرح قائم ہوگی۔۔۔؟
اور یہ بھی ظاہر ہے کہ ہمارے پاس جو قرآنِ کریم موجود ہے، اور جس پر اِیمان رکھنے کا آنجناب کو بھی دعویٰ ہے، وہ بھی اسی اُمت کے ذریعے ہم تک پہنچا ہے، جو بقول آپ کے گمراہ تھی، بددِین تھی، ملحدوں اور منافقوں کی گھڑی ہوئی روایات پر اِیمان رکھتی تھی، اور جس نے آنجناب کے بقول جھوٹی روایات کا نیا دِین گھڑ کر قرآن کو اس کے تابع کردیا تھا۔
میں یہ پوچھنا چاہتا ہوں کہ ایسی گمراہ قوم کے ذریعے جو قرآن ہم تک پہنچا، وہ آنجناب کے نزدیک کیسے لائقِ اِعتماد ہوسکتا ہے؟ اور اس پر اِیمان لانا آپ کے لئے کس طرح ممکن ہے۔۔۔؟
اس نکتے پر غور کرنے کے بعد آپ اس نتیجے پر پہنچیں گے کہ اُمت کے بارے میں جو کچھ آپ نے لکھا ہے، وہ صحیح نہیں، کیونکہ پوری کی پوری اُمت کو گمراہ قرار دینے کے بعد ہمارے ہاتھ میں نہ قرآن رہ جاتا ہے، نہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوّت، نہ دِینِ اسلام کی کوئی اور چیز۔۔۔!
۲: … تمام مسلمانوں کا اِیمان ہے کہ قرآنِ کریم کلامِ اِلٰہی ہے، جو حق تعالیٰ شانہ‘ کی طرف سے حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر نازل ہوا، پھر حق تعالیٰ شانہ‘ کے درمیان اور ہمارے درمیان چار واسطے ہیں، یا یوں کہو کہ ہمارا سلسلۂ سند چار واسطوں کے ذریعے اللہ تعالیٰ تک پہنچتا ہے۔
✨ : … پہلا واسطہ جبریلِ امین علیہ السلام ہیں کہ وہ قرآنِ کریم کو لے کر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے قلب مبارک پر نازل ہوئے، جیسا کہ قرآنِ کریم میں ارشاد ہے:
’’وَاِنَّہٗ لَتَنْزِیْلُ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَY نَزَلَ بِہِ الرُّوْحُ الْاَمِیْنُYعَلٰی قَلْبِکَ لِتَکُوْنَ مِنَ الْمُنْذِرِیْنَY بِلِسَانٍ عَرَبِیٍّ مُّبِیْنٍ‘‘
(الشعراء:۱۹۲تا ۱۹۴)
54
ترجمہ: … ’’اور یہ قرآن رَبّ العالمین کا بھیجا ہوا ہے، اس کو اَمانت دار فرشتہ لے کر آیا ہے، آپ کے قلب پر، صافی عربی زبان میں، تاکہ آپ (بھی) من جملہ ڈرانے والوں کے ہوں۔‘‘
(ترجمہ حضرت تھانویؒ)
✨ : … دُوسرا واسطہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی ذاتِ گرامی ہے، جنہوں نے حضرت جبریل علیہ السلام سے اس قرآنِ کریم کو اَخذ کیا، اور اُمت تک پہنچایا۔
✨ : … تیسرا واسطہ حضراتِ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم ہیں، جنہوں نے براہِ راست آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی زبان مبارک سے اس قرآن کو اَخذ کیا، اور بعد کی اُمت تک پہنچایا۔
✨ : … چوتھا واسطہ تابعینؒ کے دور سے لے کر آج تک کے مسلمان ہیں، جنہوں نے قرناً بعد قرنٍ اس قرآنِ کریم کو بعد کی نسلوں تک پہنچایا، اس طرح یہ قرآن ہم تک پہنچا۔
اگر ان چار واسطوں کو لائقِ اِعتماد سمجھا جائے تو قرآنِ کریم کا سلسلۂ سند اللہ تعالیٰ تک پہنچے گا، اور قرآنِ کریم کے منزل من اللہ ہونے پر اِیمان لانا ممکن ہوگا، اور اگر کوئی شخص ان چار واسطوں میں سے کسی ایک پر بھی جرح کرتا ہے تو وہ اِیمان بالقرآن کی دولت سے محروم رہے گا، چنانچہ:
✨ : … یہود بے بہود نے پہلے واسطے پر جرح کی، اور اِیمان بالقرآن سے محروم رہے، چنانچہ قرآنِ کریم میں ہے:
’’قُلْ مَنْ کَانَ عَدُوًّا لِّجِبْرِیْلَ فَاِنَّہٗ نَزَّلَہٗ عَلٰی قَلْبِکَ بِاِذْنِ اللہِ‘‘ الآیۃ
(البقرہ:۹۷)
ترجمہ: … ’’آپ (ان سے) یہ کہئے کہ جو شخص جبریل سے عداوت رکھے (وہ جانے) سو انہوں نے یہ قرآن آپ کے قلب تک پہنچایا ہے خداوندی حکم سے۔‘‘
(ترجمہ حضرت تھانویؒ)
اس آیتِ کریمہ کے شانِ نزول میں نقل کیا ہے کہ:
55
’’بعض یہود نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ سن کر کہ جبریل علیہ السلام وحی لاتے ہیں، کہا کہ ان سے تو ہماری عداوت ہے، اَحکامِ شاقہ اور واقعاتِ ہائلہ ان ہی کے ہاتھوں آیا کئے ہیں، میکائیل خوب ہیں کہ بارش اور رحمت ان کے متعلق ہے، اگر وہ وحی لایا کرتے تو ہم مان لیتے، حق تعالیٰ اس پر رَدّ فرماتے ہیں۔‘‘
(بیان القرآن از حضرت تھانویؒ)
✨ : … مشرکینِ مکہ نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی ذاتِ گرامی پر بداِعتمادی کا اِظہار کیا، اور اِیمان بالقرآن کی دولت سے محروم رہے، جیسا کہ قرآنِ کریم میں بہت سی جگہ مشرکینِ مکہ کا قول نقل کیا گیا ہے کہ یہ قرآن اللہ تعالیٰ کا کلام نہیں، بلکہ ۔۔۔نعوذباللہ۔۔۔ محمد صلی اللہ علیہ وسلم خود اس کو تصنیف کرکے اللہ تعالیٰ کی طرف منسوب کر رہے ہیں۔ قرآنِ کریم میں جگہ جگہ ان کے اس شبہ کا رَدِّ بلیغ کیا گیا ہے، ایک جگہ فرماتے ہیں:
’’قَدْ نَعْلَمُ اِنَّہٗ لَیَحْزُنُکَ الَّذِیْ یَقُوْلُوْنَ فَاِنَّھُمْ لَا یُکَذِّبُوْنَکَ وَلٰـکِنَّ الظّٰلِمِیْنَ بِاٰیٰتِ اللہِ یَجْحَدُوْنَ‘‘
(الانعام:۳۳)
ترجمہ: … ’’ہم خوب جانتے ہیں کہ آپ کو ان (کفار) کے اَقوال مغموم کرتے ہیں، سو یہ لوگ آپ کو جھوٹا نہیں کہتے، لیکن یہ ظالم تو اللہ کی آیتوں کا (عمداً) اِنکار کرتے ہیں۔‘‘
(ترجمہ حضرت تھانویؒ)
✨ : … ایک فرقے نے اس سلسلۂ سند کی تیسری کڑی ۔۔۔صحابہ کرامؓ۔۔۔ کو ۔۔۔نعوذباللہ۔۔۔ گمراہ اور مرتد قرار دِیا، چونکہ قرآنِ کریم بعد کی اُمت تک صحابہ کرامؓ ہی کے ذریعے سے پہنچا تھا، اس لئے یہ لوگ بھی اِیمان بالقرآن سے محروم رہے، (اس کی تفصیل میری کتاب ’’شیعہ سنی اِختلافات اور صراطِ مستقیم‘‘ میں دیکھ لی جائے)۔
✨ : … منکرینِ حدیث نہ یہود کی طرح جبریل علیہ السلام پر جرح کرسکتے تھے، نہ مشرکینِ مکہ کی طرح آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی ذاتِ عالی شان کو نشانہ بناسکتے تھے، ورنہ
56
کھلے کافر قرار پاتے، نہ عبداللہ بن سبا کی طرح صحابہ کرامؓ کو گمراہ اور منافق ومرتد قرار دے سکتے تھے، ورنہ ان کا شمار بھی عجمی منافقین میں ہوتا، انہوں نے ہوشیاری وچالاکی سے ’’عجمی سازش‘‘ کا افسانہ تراشا، اور صحابہ کرامؓ کے بعد کی پوری اُمت کو گمراہ قرار دے دیا۔ مگر وہ نہیں جانتے تھے کہ اس کا نتیجہ بھی ’’ایمان بالقرآن‘‘ سے محرومی کی شکل میں ظاہر ہوگا، کیونکہ جب قرنِ اوّل کے بعد کی پوری کی پوری اُمت گمراہ قرار پائی تو ان کے ذریعے جو قرآنِ کریم ہم تک پہنچا، اس پر اِیمان لانا کیسے ممکن ہوسکتا ہے؟ منکرینِ حدیث نے ’’عجمی سازش‘‘ کا جو اَفسانہ تراشا ہے، اس کو عقل وفہم کی ترازو میں تول کر فیصلہ فرمائیں کہ منکرینِ حدیث کے موقف کو اِختیار کرلینے کے بعد قرآنِ کریم پر اِیمان لانا عقلاً کیسے ممکن ہے۔۔۔؟ منکرینِ حدیث کی مثال وہی ہے جو شیخ سعدیؒ نے ایک حکایت کے ضمن میں لکھی ہے:
-
یکے بر سر شاخ وبن می برید
خداوند بستان نگہ کرد ودید
-
بگفتا گر ایں شخص بد می کند
نہ با من کہ با نفس خود می کند
ترجمہ: … ’’ایک شخص شاخ پر بیٹھا اس کی جڑ کو کاٹ رہا تھا، باغ کے مالک نے ایک نظر اسے دیکھا، اور کہا کہ: اگر یہ شخص بُرا کر رہا ہے تو میرے ساتھ نہیں، بلکہ خود اپنے ساتھ کر رہا ہے۔‘‘
اُردو میں ضرب الامثال ہیں:
’’جس برتن / ہانڈی میں کھائیں، اسی میں چھید کریں۔‘‘
’’جس رکابی میں کھا، اسی میں چھید کر۔‘‘
’’جس رکابی میں کھانا اسی میں ہگنا/موتنا۔‘‘
’’جس کی گود میں بیٹھنا اسی کی داڑھی کھسوٹنا۔‘‘
ہمارے زمانے کے منکرینِ حدیث ان ضرب الامثال کے مصداق ہیں، وہ عجمی سازش کا افسانہ تراش کر جس اُمت کو گمراہ، بے اِیمان اور ’’عجمی سازش کی شکار‘‘ کے
57
خطابات دیتے ہیں، اسی اُمت کے ذریعے جو قرآنِ کریم ہم تک پہنچا ہے، اس پر اِیمان رکھنے کا دعویٰ بھی کرتے ہیں، بزعمِ خود اپنے آپ کو عقلِ ُکل سمجھتے ہیں، لیکن عقل کے نام پر بے عقلی کا ایسا تماشا دِکھاتے ہیں جو بھلے زمانوں میں کسی نے نہیں دیکھا ہوگا۔۔۔!
عقل کی عدالت میں ان کا مقدمہ پیش کیجئے تو ان کے لئے دو ہی راستے تھے، یا تو وہ یہود، مشرکینِ مکہ اور سبائی پارٹی کے نقشِ قدم پر چلتے ہوئے اِیمان بالقرآن کے دعوے سے دستبردار ہوجاتے، اور صاف صاف اِعلان کردیتے کہ ہم قرآن کو نہیں مانتے جو روایت پرست گمراہوں کے ذریعے ہم تک پہنچا ہے، لیکن ان میں اتنی اخلاقی جرأت نہیں، وہ قادیانیوں کی طرح اِسلام کی جڑوں پر تیشہ بھی چلاتے ہیں، مگر اِسلام کا مصنوعی لبادہ بھی اُتار پھینکنے کے لئے تیار نہیں۔
دُوسرا راستہ ان کے لئے یہ تھا کہ قرآنِ کریم کی سند اپنے سے لے کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تک پہنچاتے، اور یہ اِحتیاط ملحوظ رکھتے کہ درمیان میں کسی ’’روایت پرست‘‘ راوی کا نام نہ آنے پائے، ان کا سلسلۂ سند اس طرح ہونا چاہئے کہ ہم نے یہ قرآن اوّل سے آخر تک سنا ہے فلاں شخص سے، اور وہ منکرِ حدیث تھا، اس نے سنا فلاں شخص سے، اور وہ بھی منکرِ حدیث تھا، آخر تک سلسلۂ سند اسی طرح چلا جاتا۔ تو ہم سمجھتے کہ یہ لوگ کم سے کم قرآن پر اِیمان رکھتے ہیں، لیکن بحالتِ موجودہ گمراہوں اور روایت پرستوں کے ذریعے حاصل ہونے والے قرآن پر اِیمان رکھنے کا ان کا دعویٰ سراسر جھوٹ ہے، کیونکہ درحقیقت یہ لوگ منکرِ قرآن ہیں، یہ عقل کی عدالت کا فیصلہ ہے، اور کوئی منکرِ حدیث اس فیصلے کو چیلنج نہیں کرسکتا۔
۳: … مشہور ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے رفع کے بعد پولس نامی ایک یہودی نے ان کی تعلیمات کو مسخ کردیا تھا، اور اَب نصاریٰ کے ہاتھ میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا لایا ہوا اَصل دِین نہیں، بلکہ پولس کا خودتراشیدہ دِین ہے۔
شیخ الاسلام حافظ ابنِ تیمیہ رحمہ اللہ نے بھی ’’منہاج السنہ‘‘ میں اس کی تصریح فرمائی ہے، چونکہ آنجناب نے حافظ ابنِ تیمیہؒ پر اِعتماد کا اِظہار فرمایا ہے، اس لئے ان کی
58
عبارت کا پیش کردینا مناسب ہوگا، وہ لکھتے ہیں:
’’ذکر غیر واحد منھم أن أوّل من ابتدع الرفض والقول بالنَّصّ علٰی علیّ وعصمتہ کان منافقًا زندیقًا، أراد فساد دین الْإسلام، وأراد أن یصنع بالمسلمین ما صنع بولص بالنصاریٰ، لٰـکن لم یتأت لہ ما تأتی لبولص، لضعف دین النصاریٰ وعقلھم، فإن المسیح صلی اللہ علیہ وسلم رفع ولم یتبعہ خلق کثیر یعلمون دینہ ویقومون بہ علمًا وعملًا، فلمّا ابتدع بولص ما ابتدعہ من الغلو فی المسیح أتبعہ علٰی ذٰلک طوائف، وأحبوا الغلو فی المسیح، ودخلت معھم ملوک، فقام أھل الحق خالفوھم وأنکروا علیھم، فقتلت الملوک بعضھم، وداھن الملوک بعضھم، وبعضھم اعتزلوا فی الصوامع والدیارات۔ وھٰذہ الاُمّۃ وﷲ الحمد لَا یزال فیھا طائفۃ ظاھرۃ علی الحق فلا یتمکن ملحد ولَا مبتدع من إفسادہ بغلو وانتصار علی الحق، ولٰـکن یضل من یتبعہ علٰی ضلالۃ۔‘‘
(منہاج السنہ ج:۳ ص:۲۶۱)
ترجمہ: … ’’اور شیعہ جو اہلِ سنت کے خلاف اِمامِ معصوم وغیرہ کے دعوے کرتے ہیں، یہ دراصل ایک منافق زِندیق کا اِختراع ہے، چنانچہ بہت سے اہلِ علم نے ذِکر کیا ہے کہ سب سے پہلے جس نے رفض اِیجاد کیا، اور جو سب سے پہلے حضرت علی رضی اللہ عنہ کی اِمامت وعصمت کا قائل ہوا، وہ ایک منافق زِندیق ۔۔۔عبداللہ بن سبا۔۔۔ تھا، جس نے دِینِ اسلام کو بگاڑنا چاہا اور اس نے مسلمانوں
59
سے وہی کھیل کھیلنا چاہا جو پولس نے نصاریٰ سے کھیلا تھا، لیکن اس کے لئے وہ کچھ ممکن نہ ہوا جو پولس کے لئے ممکن ہوا، کیونکہ نصاریٰ میں دِین بھی کمزور تھا اور عقل کی بھی کمی تھی، کیونکہ حضرت مسیح علیہ السلام ۔۔۔آسمان پر۔۔۔ اُٹھالئے گئے، جبکہ ان کے پیروکار زیادہ نہ تھے، جو لوگوں کو ان کے دِین کی تعلیم دیتے اور ان کے علم وعمل کو لے کر کھڑے ہوجاتے، لہٰذا جب پولس نے حضرت مسیح علیہ السلام کے بارے میں غلوّ اِختراع کیا تو اس پر بہت سے گروہ اس کے پیرو ہوگئے، اور وہ مسیح علیہ السلام کے بارے میں غلوّ کو پسند کرنے لگے، اور ان غالیوں کے ساتھ بادشاہ بھی غلوّ میں داخل ہوگئے، اس وقت کے اہلِ حق کھڑے ہوئے، انہوں نے ان کی مخالفت کی اور ان کے غلوّ پر نکیر کی، نتیجہ یہ ہوا کہ ان اہلِ حق میں سے بعض کو بادشاہوں نے قتل کردیا، بعض نے مداہنت سے کام لیا اور ان کی ہاں میں ہاں ملائی، اور بعض گرجوں اور خلوَت خانوں میں گوشہ نشین ہوگئے، اور اُمتِ مسلمہ، اللہ تعالیٰ کا لاکھ لاکھ شکر ہے کہ اس میں ایک جماعت ہمیشہ حق پر قائم اور غالب رہی، اس لئے کسی ملحد اور کسی بدعت ایجاد کرنے والے کو یہ قدرت نہ ہوئی کہ اُمت کو غلوّ کی راہ پر ڈال دے اور حق پر غلبہ حاصل کرلے۔ ہاں! ایسے ملحد ان لوگوں کو ضرور گمراہ کردیتے ہیں جو ان کی گمراہی میں ان کی پیروی اِختیار کرلیں۔‘‘
حافظ ابنِ تیمیہؒ کی عبارت کا حاصل یہ ہے کہ پولس نے جو سازش دِینِ مسیحی کے خلاف کی تھی، ابنِ سبا اور اس کی جماعت نے ۔۔۔دورِ صحابہ میں، بلکہ خلفائے راشدینؓ کے دور میں۔۔۔ وہی سازش دِینِ اسلام کے خلاف بھی کرنا چاہی، لیکن بحمداللہ! یہ سازش ناکام ہوئی، پولس کی سازش کے کامیاب ہونے اور اس اُمت کے منافقین کے ناکام ہونے کے اسباب مختصراً حسبِ ذیل تھے:
60
✨ : … حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے براہِ راست فیض یافتہ حضرات کی تعداد بہت کم تھی، اس لئے ان کی صحیح تعلیمات بہت کم لوگوں کے ذہن نشین ہوئی تھیں، ادھر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے براہِ راست فیض یافتہ حضرات کی تعداد لاکھ ڈیڑھ لاکھ سے متجاوز تھی، ان میں بہت سے حضرات ایسے تھے جنہوں نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی طویل صحبت اُٹھائی تھی، اور وہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے رنگ میں پوری طرح رنگین تھے، گویا اس آیتِ شریفہ کے مصداق تھے:
’’صِبْغَۃَ اللہِ وَمَنْ اَحْسَنُ مِنَ اللہِ صِبغْۃً وَّنَحْنُ لَہٗ عٰبِدُوْنَ‘‘
(البقرۃ:۱۳۸)
ترجمہ: … ’’ہم اس حالت پر رہیں گے جس میں اللہ تعالیٰ نے رنگ دیا ہے، اور کون ہے جس کے رنگ دینے کی حالت اللہ تعالیٰ سے خوب تر ہو؟ اور ہم اسی کی غلامی اِختیار کئے ہوئے ہیں۔‘‘
(ترجمہ حضرت تھانویؒ)
✨ : … حضراتِ صحابہ کرامؓ کے فیض یافتہ حضرات ۔۔۔جن کو تابعین بالاحسان کہا جاتا ہے۔۔۔ ان کی غالب اکثریت صحابہؓ کے ساتھ والہانہ عشق رکھتی تھی، اور انہی کے رنگ میں رنگین تھی، بہت کم لوگ تھے جن کا حضرات صحابہؓ سے رابطہ نہیں تھا۔
✨ : … منافقین نے اپنی سازش کا دام حضراتِ صحابہ کرامؓ کے بلکہ خلافتِ راشدہ کے دور میں پھیلانا شروع کردیا تھا، ظاہر ہے ان کی یہ سازش نہ حضراتِ صحابہ کرامؓ پر کارگر ہوسکی تھی، اور نہ حضراتِ صحابہؓ کے فیض یافتہ تابعین بالاحسان پر۔
اس سازش کا شکار اگر ہوسکتے تھے تو وہ معدودے چند اَفراد جن کا حضراتِ صحابہؓ سے اور ان کے فیض یافتہ حضرات سے کوئی رابطہ نہیں تھا۔
✨ : … ان سازشی لوگوں کی کوئی حرکت حضراتِ صحابہ کرامؓ اور ان کے تابعینؒ تک پہنچتی تو وہ برملا اس کی تردید کردیتے تھے، جیسا کہ امیر المؤمنین حضرت علی رضی اللہ عنہ نے ایسی شکایت ملنے پر، ان لوگوں کے خیالات کی برسرِ منبر تردید فرمائی، اور ان لوگوں پر
61
لعنت فرمائی، بعض کو کیفرِ کردار تک پہنچایا۔
✨ : … صحابہؓ کا دورِ سعادت ۰۱۱ھ تک رہا، اور اس وقت تک اہلِ باطل، اہلِ حق سے ممتاز ہوچکے تھے، اور عام مسلمان ان دونوں فریقوں کو الگ الگ پہچان چکے تھے۔
✨ : … چونکہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا لایا ہوا دِین قیامت تک کے لئے تھا، اس لئے اس اُمت میں اہلِ حق، اہلِ باطل پر ہمیشہ غالب رہیں گے، تاکہ حق کا تواتر قیامت تک کے لئے باقی رہے، اور قیامت تک اللہ تعالیٰ کی حجت اس کے بندوں پر قائم رہے۔
✨ : … اور اللہ تعالیٰ نے حق وباطل کا ایسا معیار بیان فرمادیا جس پر جانچ کر آج بھی ہر شخص حق وباطل کو الگ الگ پہچان سکتا ہے، اور وہ معیار یہ ہے:
’’وَمَنْ یُّشَاقِقِ الرَّسُوْلَ مِنْم بَعْدِ مَا تَبَیَّنَ لَہُ الْھُدٰی وَیَتَّبِعْ غَیْرَ سَبِیْلِ الْمُؤْمِنِیْنَ نُوَلِّہٖ مَا تَوَلّٰی وَنُصْلِہٖ جَھَنَّمَ وَسَآئَتْ مَصِیْرًا‘‘
(النساء:۱۱۵)
ترجمہ: … ’’اور جو شخص رسول (مقبول صلی اللہ علیہ وسلم) کی مخالفت کرے گا، بعد اس کے کہ اس کو اَمرِ حق ظاہر ہوچکا تھا، اور مسلمانوں کا (دِینی) راستہ چھوڑ کر دُوسرے رَستے ہولیا تو ہم اس کو (دُنیا میں) جو کچھ کرتا ہے کرنے دیں گے، اور (آخرت میں) اس کو جہنم میں داخل کریں گے، اور وہ بُری جگہ ہے جانے کی۔‘‘
(ترجمہ حضرت تھانویؒ)
الغرض وعدۂ خداوندی کے مطابق الحمدللہ ہر دور اور ہر زمانے میں اہلِ حق کی جماعت غالب ومنصور رہی، اور اہلِ باطل ۔۔۔اپنی تمام تر شرارتوں اور ریشہ دوانیوں کے باوجود۔۔۔ مقہور ومغلوب رہے، اور جن لوگوں نے سبیل المؤمنین کو چھوڑ کر دُوسرا راستہ اپنایا وہ حق کا کچھ نہیں بگاڑ سکے، بلکہ وہ خود جہنم کا اِیندھن بن گئے۔ اللہ تعالیٰ کا راستہ جس طرح آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم، خلفائے راشدین اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے دور میں واضح اور روشن تھا ۔۔۔الحمدللہ ثم الحمدللہ۔۔۔ آج بھی اسی طرح روشن اور تابناک ہے، اور قیامت تک
62
رہے گا، یہ ملحدین اور منافقین جو اِسلام کے بارے میں بدگمانیاں پھیلاتے رہتے ہیں، اس آیت کا مصداق ہیں:
’’یُرِیْدُوْنَ لِیُطْفِئُوْا نُوْرَ اللہِ بِاَفْوَاھِھِمْ وَاللہُ مُتِمُّ نُوْرِہٖ وَلَوْ کَرِہَ الْکٰفِرُوْنَY ھُوَ الَّذِیْ اَرْسَلَ رَسُوْلَہٗ بِالْھُدٰی وَدِیْنِ الْحَقِّ لِیُظْھِرَہٗ عَلَی الدِّیْنِ کُلِّہٖ وَلَوْ کَرِہَ الْمُشْرِکُوْنَY‘‘
(الصف:۸،۹)
ترجمہ: … ’’یہ لوگ یوں چاہتے ہیں کہ اللہ کے نور (یعنی دِینِ اسلام) کو اپنے منہ سے (پھونک مارکر) بجھادیں، حالانکہ اللہ اپنے نور کو کمال تک پہنچاکر رہے گا، گو کافر لوگ کیسے ہی ناخوش ہوں (چنانچہ) وہ اللہ ایسا ہے جس نے (اسی اِتمامِ نور کے لئے) اپنے رسول (صلی اللہ علیہ وسلم) کو ہدایت (کا سامان یعنی قرآن) اور سچا دِین (یعنی اِسلام) دے کر (دُنیا میں) بھیجا ہے، تاکہ اس (دِین) کو تمام دِینوں پر غالب کردے، گو مشرک کیسے ہی ناخوش ہوں۔‘‘
(ترجمہ حضرت تھانویؒ)
الغرض حافظ ابنِ تیمیہؒ کے بقول اس اُمت کے خلاف سازش کرنے والوں کی سازش ناکام رہی، اور وہ اپنے چند پیروکاروں کو جہنم کا اِیندھن بناکر دُنیا سے چلتے بنے۔
لیکن اس کے برعکس آنجناب کی تحریر سے یہ تأثر ملتا ہے کہ جس طرح پولس نے دِینِ مسیحی کو مسخ کردیا تھا، اس اُمت کے منافقین نے بھی وہی کھیل کھیلا، اور یہ منافقین وملحدین اپنی اس سازش میں پوری طرح کامیاب ہوئے۔ غالباً یہ بات آنجناب نے کسی سے نقل کی ہوگی۔
میں یہ گزارش کرنا چاہتا ہوں کہ جن حضرات کے نزدیک اِسلام کی حیثیت بھی دِینِ نصاریٰ کی ہوکر رہ گئی ہے، اور یہاں بھی حق وباطل کے تمام نشانات ۔۔۔نعوذباللہ۔۔۔ مٹادئیے گئے ہیں، تو یہ حضرات اس اِسلام کی طرف اپنا اِنتساب کیوں فرماتے ہیں؟ کیا ان
63
کے لئے مناسب نہ ہوگا کہ کسی غار سے ’’قرآن کا اِسلام‘‘ برآمد کریں اور بصد شوق اس کی پیروی کریں۔۔۔؟ موجودہ اِسلام، جو ان کے خیال میں مسخ شدہ ہے، اس کی طرف اِنتساب کا تکلف ترک کردیں، جو اِسلام تواتر کے ساتھ ہم تک پہنچا ہے، اس کو غلط اور جھوٹ بھی کہنا، اور پھر اسی غلط اور جھوٹے اِسلام کی طرف اپنی نسبت کرکے مسلمان بھی کہلانا بڑی غیرموزوں اور نامناسب بات ہے:
وجد وترک بادہ اے زاہد چہ کافر نعمتیست
منع بادہ کردن وہم رنگ مستان زیستن
آنجناب کو یاد ہوگا کہ ایوب خان کے زمانے میں میگل یونیورسٹی کے تربیت یافتہ ایک شخص ڈاکٹر فضل الرحمن نے ’’روایتی اسلام‘‘ کا یہی نظریہ پیش کیا تھا، قدرت کا اِنتقام دیکھئے کہ اس کا خاتمہ ترکِ اِسلام پر ہوا، اور وہ نصرانی ہوکر مرا، جو لوگ اِسلام کے بارے میں اس قسم کی خوش فہمی کا مظاہرہ کرتے ہیں، ان کو اس سے عبرت پکڑنی چاہئے،فَاعْتَبِرُوْا یَا اُولِی الْاَبْصَار!
۴: … یہود ونصاریٰ کو روزِ اوّل ہی سے دِینِ اسلام اور مسلمانوں کے ساتھ پیدائشی بغض چلا آتا ہے۔ یہ لوگ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں بھی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اور دِینِ اسلام کے خلاف زہر اُگلتے رہے، جس سے ان کا مدعا یہ تھا کہ کسی طرح کمزور مسلمانوں کو ورغلانے کی کوشش کی جائے، جیسا کہ قرآن مجید میں کئی جگہ اس کی تصریحات ہیں، ایک جگہ اِرشاد ہے:
’’وَدَّ کَثِیْرٌ مِّنْ اَھْلِ الْکِتٰبِ لَوْ یَرُدُّوْنَکُمْ مِّنْم بَعْدِ اِیْمَانِکُمْ کُفَّارًا حَسَدًا مِّنْ عِنْدِ اَنْفُسِھِمْ مِّنْم بَعْدِ مَا تَبَیَّنَ لَھُمُ الْحَقُّ، فَاعْفُوْا وَاصْفَحُوْا حَتّٰی یَاْتِیَ اللہُ بِاَمْرِہٖٓ اِنَّ اللہَ عَلٰی کُلِّ شَیْئٍ قَدِیْرٌ ‘‘
(البقرۃ:۱۰۹)
ترجمہ: … ’’ان اہلِ کتاب (یعنی یہود) میں سے بہتیرے دِل سے یہ چاہتے ہیں کہ تم کو تمہارے اِیمان لائے پیچھے پھر کافر
64
کرڈالیں محض حسد کی وجہ سے جو کہ ان کے دِلوں ہی سے (جوش مارتا) ہے، حق واضح ہوئے پیچھے، خیر (اب تو) معاف کرو اور درگزر کرو جب تک (اس معاملے کے متعلق) حق تعالیٰ اپنا حکم (قانونِ جدید) بھیجیں، اللہ تعالیٰ ہر چیز پر قادر ہیں۔‘‘
(ترجمہ حضرت تھانویؒ)
ایک اور جگہ اِرشاد ہے:
’’وَلَنْ تَرْضٰی عَنْکَ الْیَھُوْدُ وَلَا النَّصَارٰی حَتّٰی تَتَّبِعَ مِلَّتَھُمْ، قُلْ اِنَّ ھُدَی اللہِ ھُوَ الْھُدٰی، وَلَئِنِ اتَّبَعْتَ اَھْوَآئَھُمْ بَعْدَ الَّذِیْ جَآئَکَ مِنَ الْعِلْمِ مَا لَکَ مِنَ اللہِ مِنْ وَّلِیٍّ وَّلَا نَصِیْرٍ‘‘
(البقرۃ:۱۲۰)
ترجمہ: … ’’اور کبھی خوش نہ ہوں گے آپ سے یہ یہود اور نہ یہ نصاریٰ جب تک کہ آپ ان کے مذہب کے پیرو نہ ہوجاویں، آپ کہہ دیجئے کہ حقیقت میں تو ہدایت کا وہی راستہ ہے جس کو خدا نے بتلایا ہے، اور اگر آپ اِتباع کرنے لگیں ان کے غلط خیالات کا، علم آچکنے کے بعد، تو آپ کا کوئی خدا سے بچانے والا نہ یار نکلے نہ مددگار۔‘‘
(ترجمہ حضرت تھانویؒ)
ایک اور جگہ اِرشاد ہے:
’’وَدَّتْ طَآئِفَۃٌ مِّنْ اَھْلِ الْکِتٰبِ لَوْ یُضِلُّوْنَکُمْ وَمَا یُضِلُّوْنَ اِلّآ اَنْفُسَھُمْ وَمَا یَشْعُرُوْنَ‘‘
(آل عمران:۶۹)
ترجمہ: … ’’دِل سے چاہتے ہیں بعضے لوگ اہلِ کتاب میں سے اس اَمر کو کہ تم کو گمراہ کردیں، اور وہ کسی کو گمراہ نہیں کرسکتے مگر خود اپنے آپ کو، اور اس کی اِطلاع نہیں رکھتے۔‘‘
(ترجمہ حضرت تھانویؒ)
آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں جہاں وہ اپنی یہودیت ونصرانیت پر قائم رہتے ہوئے اِسلام، نبیٔ اِسلام اور اہلِ اِسلام کے خلاف زہر افشانی کرتے تھے، وہاں
65
نفاق کا لبادہ اوڑھ کر جھوٹی افواہیں پھیلانے کی بھی کوشش کرتے تھے، قرآنِ کریم میں جابجا ان یہودی منافقین کی ریشہ دوانیوں کا بھی تذکرہ موجود ہے۔
خلافتِ راشدہ کے دور میں اسلام کا حلقہ بہت وسیع ہوگیا تھا، اس لئے منافقین یہود نے اِسلام کا لبادہ اوڑھ کر جھوٹی روایات کو پھیلانے اور صدرِ اوّل کے مسلمانوں کو بدنام کرنے کی کوششیں کیں، جن کا تذکرہ اُوپر حافظ ابنِ تیمیہؒ کے حوالے سے گزرچکا ہے، لیکن ان کی یہ کوششیں بھی ناکام ہوئیں۔ حضرات اکابرِ اُمت نے اِسلامی سرحدوں کی پاسبانی کا ایسا فریضہ انجام دیا، اور ان لوگوں کے اس بزدلانہ حملے کا ایسا توڑ کیا کہ بالآخر یہ لوگ پسپا ہونے پر مجبور ہوئے، اور حضراتِ محدثین نے ان کی پھیلائی ہوئی جھوٹی روایات کو اس طرح چھانٹ کر الگ کردیا کہ دُودھ کا دُودھ اور پانی کا پانی الگ نظر آنے لگا، اس طرح یہ فتنہ بحمداللہ! اپنی موت آپ مرگیا۔
دورِ جدید میں گزشتہ صدی سے مغرب نے اسلام کے خلاف ’’اِستشراق‘‘ کے عنوان سے ایک نیا محاذ کھولا، اور مستشرقین کی کھیپ کی کھیپ اِسلام پر ’’تحقیقات‘‘ کرنے کے لئے تیار کی گئی، اور انہوں نے اپنے خاص نقطئہ نظر سے اِسلامی موضوعات پر کتابوں کا ڈھیر لگادیا، جس کی ایک مثال ’’انسائیکلوپیڈیا آف اِسلام‘‘ ہے، یہ مستشرقین، اکثر وبیشتر وہی یہود ونصاریٰ ہیں جن کی اِسلام سے معاندانہ ذہنیت کی طرف قرآنِ کریم کے اِشارات اُوپر ذِکر کئے گئے ہیں۔ ظاہر ہے کہ ایک شخص جو غیرمسلم بھی ہو اور اِسلام اور پیغمبرِ اِسلام صلی اللہ علیہ وسلم کا شدید معاند بھی، وہ جب اِسلام پر ’’تحقیقات‘‘ کرنے بیٹھے گا تو اس کو اِسلام میں وہی کچھ نظر آئے گا جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے کے معاندین کو نظر آتا تھا، اور وہ اِسلام کا ایسا خاکہ مرتب کرے گا جو دیکھنے والوں کو نہایت مکروہ اور بھونڈا نظر آئے، اور دیکھنے والا اس گھناؤنی تصویر کو دیکھتے ہی اِسلام سے متنفر ہوجائے، مفکرِ اِسلام جناب مولانا سیّد ابوالحسن علی ندوی، مستشرقین کے اِسلام کے عمومی مطالعے کے باوجود ان کی اِیمان سے محرومی کا ماتم کرتے ہوئے لکھتے ہیں:
’’مستشرقین عمومی طور پر اہلِ علم کا وہ بدقسمت اور بے توفیق
66
گروہ ہے جس نے قرآن وحدیث، سیرتِ نبوی، فقہِ اِسلامی اور اَخلاق وتصوف کے سمندر میں بار بار غوطے لگائے اور بالکل ’’خشک دامن‘‘ اور ’’تہی دست‘‘ واپس آیا، بلکہ اس سے اس کا عناد، اِسلام سے دُوری اور حق کے اِنکار کا جذبہ اور بڑھ گیا۔‘‘
(’’الفرقان‘‘ لکھنؤ، جلد:۳۱، شمارہ:۷ ص:۲)
مستشرقین کا یہ رویہ خواہ کتنا ہی لائقِ افسوس ہو، مگر لائقِ تعجب ذرا بھی نہیں، اس لئے کہ ان مستشرقین کے پیشرو لوگ ۔۔۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ہم عصر یہود ونصاریٰ۔۔۔ جب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنی آنکھوں سے دیکھ کر اور سیرتِ نبوی کے جمال جہاںآرا کا سر کی آنکھوں سے مشاہدہ کرکے بھی نہ صرف دولتِ اِیمان سے تہی دامن رہے، بلکہ ان کے حسد وعناد میں شدّت وحدّت پیدا ہوتی چلی گئی، تو ان کے جانشینوں ۔۔۔مستشرقین۔۔۔ کے طرزِ عمل پر کیا تعجب کیا جائے اور اس کی کیا شکایت کی جائے۔۔۔؟
الغرض مستشرقین کتاب وسنت اور دیگر علومِ اِسلامیہ کے بحرِ ناپیدا کنار میں بار بار غوطے لگانے کے باوجود، جو خشک دامن اور تشنہ لب رہے، اس کی وجہ ان کا اِسلام اور پیغمبرِ اِسلام صلی اللہ علیہ وسلم سے وہ موروثی عناد ہے جو انہیں اپنے آباء واجداد سے ورثے میں ملا ہے۔
مستشرقین نے اِسلام کے اُصول وفروع، نبیٔ اِسلام صلی اللہ علیہ وسلم کی شخصیت وسیرت، اور اِسلامی تاریخ کے بارے میں جو گوہر افشانیاں کی ہیں، گو انہوں نے بزعمِ خویش اعلیٰ تحقیقی کام کیا ہے، لیکن اگر ان اِعتراضات کا بغور تجزیہ کیا جائے تو صاف نظر آئے گا کہ یہ وہی شرابِ کہنہ ہے جو بڑی ہوشیاری سے نئی بوتلوں میں بھر دی گئی ہے، اور ان پر حسین لیبل چپکادیا گیا ہے، ان کے تمام اِعتراضات اور نکتہ چینیاں انہی اِعتراضات کی صدائے بازگشت ہیں جو ان کے اَسلاف یہود ونصاریٰ، آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی حیاتِ طیبہ میں کرتے رہے ہیں، اور جن کے جوابات قرآنِ کریم چودہ سو سال پہلے دے چکا ہے۔
لیکن ان مستشرقین کے مشرقی شاگرد، جن کو اِصطلاحاً ’’مستغربین‘‘ کہنا چاہئے،
67
نہ تو ان مستشرقین کے اصل اَغراض واَہداف سے واقف تھے، نہ اِسلام کے اُصول وفروع سے آشنا تھے، نہ مسلمانوں کے عروج وزوال کی تاریخ سے آگاہ تھے، اور نہ ان کو محقق علمائے اسلام کی خدمت میں بیٹھ کر اِسلامی علوم کے درس ومطالعہ کا موقع میسر آیا تھا۔ یہ لوگ اِسلام اور اِسلامی تعلیمات سے یکسر خالی الذہن تھے کہ یکایک انگریزی زبان میں مستشرقین اور ان کے شاگردوں کی تحریروں کے آئینے میں اسلام، اسلامی علوم اور اِسلامی تاریخ کا مطالعہ کیا، اور یہ سمجھ بیٹھے کہ واقعتا اِسلام کی تصویر ایسی ہی بھیانک اور بدنما ہوگی جیسی کہ دُشمنوں کے موئے قلم نے تیار کی ہے، نتیجہ یہ کہ یہ لوگ اسلام کی جانب سے ذہنی اِرتداد میں مبتلا ہوگئے، مولانا رُومیؒ کے بقول:
-
مرغ پر نا رستہ چو پراں شود
طعمہ ہر گرگک دراں شود
ترجمہ: … ’’جس چوزے کے ابھی پَر نہ نکلے ہوں، جب وہ اُڑان کی حماقت کرے گا، تو ہر پھاڑنے والے بھیڑیے کا نوالۂ تر بن کر رہ جائے گا۔‘‘
حافظ اسلم جیراج پوری ہو یا چوہدری غلام احمد پرویز، ڈاکٹر فضل الرحمن ہو یا تمنا عمادی، یا کوئی اور، ان سب میں قدرِ مشترک یہ ہے کہ اِسلام کے بارے میں یہودی ونصرانی مستشرقین اور ان کے شاگرد مستغربین نے جو کچھ لکھ دیا ہے، وہ اسی کو اِسلام کی اصل تصویر سمجھتے ہیں، اس لئے نہ ان کو اِسلام کی اَبدیت پر اِیمان ہے، نہ اِسلام کو اِنسانیت کی نجات کا واحد کفیل سمجھتے ہیں، نہ مسلمانوں کے تواتر وتسلسل کو حجت مانتے ہیں، نہ ان کی عقلِ نارسا میں یہ بات آتی ہے کہ مشرق ومغرب کے تمام اہلِ اسلام، جن کو کبھی ایک جگہ جمع ہونے کا اِتفاق نہیں ہوا، بلکہ وہ ایک دُوسرے سے واقف بھی نہیں، وہ غلط عقائد پر کیسے متفق ہوگئے؟ اور کس نے ان کو ان عقائد واَعمال پر جمع کردیا۔۔۔؟
جیسا کہ میں پہلے عرض کرچکا ہوں، اُمت کے مسلسل تواتر وتعامل کا اِنکار کرنے کے بعد یہ لوگ قرآنِ کریم کے من جانب اللہ ہونے کا ثبوت نہیں پیش کرسکتے، جس سے
68
واضح ہوتا ہے کہ نہ وہ قرآن کی حقانیت کو مانتے ہیں، اور نہ اس کی اَبدیت کے قائل ہیں۔ وہ قرآنِ کریم کا نام ضرور لیتے ہیں، مگر اس لئے نہیں کہ ان کا قرآن پر اِیمان ہے، بلکہ وہ ’’قرآن، قرآن‘‘ کا نعرہ بلند کرنے پر اس لئے مجبور ہیں کہ قرآنِ کریم کا اِنکار کردینے کے بعد ان کے لئے اِسلام کے دائرے میں کوئی جگہ نہیں رہتی، بلکہ وہ صریح مرتد اور خارج اَز اِسلام قرار پاتے ہیں۔
اس نمبر میں جو معروضات پیش کی گئی ہیں، ان کا خلاصہ یہ ہے کہ:
✨ : … یہ انگریزی لکھے پڑھے چند لوگ جو ’’روایتی اِسلام‘‘ اور ’’عجمی سازش‘‘ کی منادی کرتے پھرتے ہیں، یہ درحقیقت مغربی مستشرقین کے زلہ ربا ہیں۔
✨ : … مستشرقین کی اکثریت یہودی ونصرانی معاندینِ اسلام پر مشتمل ہے۔
✨ : … مستشرقین نے نام نہاد ’’تحقیقات‘‘ کے نام پر اِسلام اور مسلمانوں کی جو فرضی تصویر مرتب کی ہے، اس کا اصل حقائق سے دُور کا بھی کوئی تعلق نہیں۔
✨ : … اس فرضی تصویر کے تیار کرنے سے ان کا مقصد یہ تھا کہ مسلمانوں کو ان کے دِین اور اِیمان واذعان سے محروم کردیا جائے۔
✨ : … الحمدللہ! ان یہود ونصاریٰ کی یہ سازش بھی اسی طرح ناکام ہوئی جس طرح کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ہم عصر یہود ونصاریٰ کی سازشیں ناکام ہوئی تھیں، اور جس طرح کہ صدرِ اوّل کے منافقوں اور ملحدوں کی سازش ناکام ہوئی، دورِ قدیم کے منافقین وملحدین ہوں یا دورِ جدید کے مستشرقین اور ان کے تربیت یافتہ مستغربین، اِسلام اور ملتِ اسلامیہ کا کچھ نہیں بگاڑ سکے، اور نہ آئندہ کچھ بگاڑ سکیں گے۔ قرآنِ کریم کا یہ اِعلان فضا میں ہمیشہ گونجتا رہے گا:
’’وَقَدْ مَکَرُوْا مَکْرَھُمْ وَعِنْدَ اللہِ مَکْرُھُمْ وَاِنْ کَانَ مَکْرُھُمْ لِتَزُوْلَ مِنْہُ الْجِبَالُY فَلَا تَحْسَبَنَّ اللہَ مُخْلِفَ وَعْدِہٖ رُسُلَہٗ، اِنَّ اللہَ عَزِیْزٌ ذُوانْتِقَامٍ‘‘
(ابراہیم:۴۶، ۴۷)
ترجمہ: … ’’ان لوگوں نے (دِینِ حق کو مٹانے میں) اپنی
69
سی بڑی بڑی تدبیریں کی تھیں، اور ان کی (یہ سب) تدبیریں اللہ کے سامنے تھیں (اس کے علم سے مخفی نہ رہ سکتی تھیں) اور واقعی ان کی تدبیریں ایسی تھیں کہ (عجب نہیں) ان سے پہاڑ بھی (اپنی جگہ سے) ٹل جاویں (مگر پھر بھی حق ہی غالب رہا، اور ان کی ساری تدبیریں گاؤخورد ہوگئیں) پس اللہ تعالیٰ کو اپنے رسولوں سے وعدہ خلافی کرنے والا نہ سمجھنا، بے شک اللہ تعالیٰ بڑا زبردست (اور) پورا بدلہ لینے والا ہے۔‘‘
(ترجمہ حضرت تھانویؒ)
پس وعدۂ اِلٰہی یہ ہے کہ قیامت تک دِینِ اسلام کو غالب ومنصور رکھے گا، اور اس کے خلاف سازش کرنے والے اس عزیز ذُوانتقام کے قہر کا نشانہ بن کر رہیں گے۔ یہود ونصاریٰ تو قہرِ اِلٰہی کا نشانہ تھے ہی، ان کے ساتھ وہ لوگ بھی اس قہرِ اِلٰہی کی زَد میں آئیں گے جو ان یہود ونصاریٰ کی خودتراشیدہ کہانیوں پر اِیمان لاکر ملتِ اِسلامیہ کے خلاف زہر اُگلتے ہیں، اور اس پر عجمی سازش میں مبتلا ہونے کی تہمت لگاتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ اُمتِ اسلامیہ کی حفاظت فرمائیں، اور ان کو سلف صالحین کے راستے پر قائم رکھیں۔
حیات ونزولِ مسیح علیہ السلام اکابرِ اُمت کی نظر میں
تنقیحِ ششم
آنجناب تحریر فرماتے ہیں کہ:
’’نزولِ مسیح کی تردید میں ہر زمانے میں علمائے اسلام نے قلم اُٹھایا ہے، اور کوشش کی ہے کہ اس موضوع عقیدے سے مسلمان نجات پائیں۔‘‘
اگر ’’علمائے اسلام‘‘ کے لفظ سے آنجناب کی مراد دورِ قدیم کے ملاحدہ وفلاسفہ اور دورِ جدید کے نیچری اور ملحد ہیں، تو آنجناب کی یہ بات صحیح ہے کہ ان لوگوں نے اپنی پھونکوں سے ’’نورِ خدا‘‘ کو بجھانے کی بھرپور کوششیں کیں، اور بحمداللہ! ان کی یہ کوششیں ناکام ہوئیں:
70
نورِ خدا ہے کفر کی حرکت پر خندہ زن
پھونکوں سے یہ چراغ بجھایا نہ جائے گا
لیکن میں یہ کہنے کی اجازت چاہوں گا کہ ان ملاحدہ وزَنادقہ اور نیچریوں کو ’’علمائے اسلام‘‘ کا نام دینا، اِسلام اور مسلمانوں کی توہین ہے۔
اور اگر ’’علمائے اسلام‘‘ سے مراد وہ علمائے حقانی اور اَئمۂ ربانی ہیں جن کے علم وفہم، عقل وبصیرت اور دِین ودیانت پر اُمت نے ہمیشہ اِعتماد کیا ہے تو مجھے یہ کہنے کی اجازت دیجئے کہ آنجناب کی معلومات صحیح نہیں۔ اس لئے کہ اَئمۂ اِسلام اور اکابرینِ اُمت ومجدّدینِ ملت میں ایک شخص کا نام بھی پیش نہیں کیا جاسکتا جو حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے دوبارہ نزول کا منکر ہو۔ پہلی صدی سے آج تک اَئمۂ اِسلام اس عقیدے کے تواتر کے ساتھ قائل چلے آئے ہیں کہ قربِ قیامت میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام آسمان سے نازل ہوکر دجالِ اکبر کو قتل کریں گے۔
راقم الحروف نے چند سال پہلے اس موضوع پر ایک رسالہ مرتب کیا تھا، جو چھپا ہوا موجود ہے، آنجناب اس کا مطالعہ فرمائیں، اس میں نقولِ صحیحہ سے ثابت کیا گیا ہے کہ:
✨ : … نزولِ مسیح علیہ السلام کا عقیدہ ایک ایسا اَمر ہے جس پر اللہ تعالیٰ نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام سے عہد لیا ہے۔
✨ : … یہ عقیدہ تمام انبیائے کرام علیہم السلام کے یہاں بلانکیر مُسلَّم ہے۔
✨ : … اس عقیدے پر حضراتِ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کا اِجماع ہے، کسی ایک صحابی سے بھی اس کے خلاف منقول نہیں۔
✨ : … ۱۷ تابعینؒ کی نقولِ صریحہ درج کی ہیں، جن میں حضرت سعید بن مسیبؒ، اِمام محمد بن حنفیہؒ، اِمام حسن بصریؒ، اِمام محمد بن سیرینؒ، اِمام زین العابدینؒ، اِمام باقر،ؒ اِمام جعفر صادقؒ وغیرہ شامل ہیں، اور کسی ایک تابعی سے بھی اس کے خلاف ایک حرف منقول نہیں۔
✨ : … اسی ضمن میں اَئمۂ اَربعہؒ کا عقیدہ، اکابر مجتہدین کا عقیدہ اور حدیث کے
71
اَئمۂ ستہ ۔۔۔اِمام بخاری، اِمام مسلم، اِمام ابوداؤد، اِمام نسائی، اِمام ترمذی اور اِمام ابنِ ماجہ۔۔۔ (رحمہم اللہ تعالیٰ) کا عقیدہ درج کیا ہے۔
✨ : … چوتھی صدی کے ذیل میں ۱۴ اَکابرِ اُمت کا عقیدہ درج کیا ہے، جن میں اِمام اہلِ سنت ابوالحسن اشعریؒ، اِمام ابوجعفر طحاویؒ، اِمام ابواللیث سمرقندیؒ اور اِمام خطابیؒ جیسے مشاہیرِ اُمت شامل ہیں۔
✨ : … پانچویں صدی کے ذیل میں ۱۳اَکابرِ اُمت کا عقیدہ درج کیا ہے، جن میں اِمام ابنِ حزمؒ، اِمام بیہقی،ؒ شیخ علی ہجویریؒ (المعروف گنج بخش)، اِمام حاکم،ؒ اِمام ابنِ بطالؒ اور قاضی ابوالولید باجیؒ شامل ہیں۔
✨ : … چھٹی صدی کے ذیل میں اِمام غزالی،ؒ علامہ زمخشری، نجم الدین نسفیؒ، حضرت پیرانِ پیر شاہ عبدالقادر جیلانی،ؒ حافظ ابنِ جوزیؒ جیسے گیارہ اکابر کی تصریحات نقل کی ہیں۔
✨ : … ساتویں صدی کے ذیل میں ۱۴ اَکابر کی تصریحات نقل کی ہیں، جن میں اِمام فخرالدین رازیؒ، اِمام قرطبیؒ، اِمام نوویؒ، اِمام تورپشتیؒ اور خواجہ معین الدین چشتیؒ جیسے مشاہیر شامل ہیں۔
✨ : … آٹھویں صدی کے ذیل میں ۵۱ مشاہیرِ اُمت کی عبارتیں نقل کی ہیں، جن میں اِمام ابنِ قدامہ المقدسیؒ، حافظ ابنِ کثیرؒ، حافظ ابنِ قیمؒ، اِمام تقی الدین السبکیؒ، علامہ طیبیؒ شارحِ مشکوٰۃ جیسے اکابر شامل ہیں۔
✨ : … نویں صدی کے ذیل میں ۱۵اَکابرِ اُمت کی تصریحات درج ہیں، جن میں حافظ الدنیا ابنِ حجر عسقلانی،ؒ حافظ بدرالدین عینیؒ، شیخ ابنِ ہمامؒ صاحبِ فتح القدیر، اور شیخ مجدالدین فیروزآبادیؒ صاحبِ قاموس کے اسمائے گرامی شامل ہیں۔
✨ : … دسویں صدی کے ذیل میں حافظ جلال الدین سیوطیؒ، ابنِ حجر مکیؒ، شیخ الاسلام زکریا الانصاریؒ اور علامہ قسطلانی ؒ شارحِ بخاری جیسے بارہ اکابرِ اُمت کے نام درج کئے ہیں۔
72
✨ : … گیارہویں صدی میں اِمامِ ربانی مجدّد الف ثانی،ؒ شاہ عبدالحق محدث دہلویؒ، علامہ خفاجیؒ، سلطان العلماء علی القاریؒ اور علامہ عبدالحلیم سیالکوٹی ؒ جیسے اکابر کے نام آتے ہیں۔
اگر آنجناب کو اِسلامی تاریخ کی نابغہ شخصیات سے تعارف ہے تو فرمائیے! ان کے مقابلے میں آپ کن لوگوں کو ’’علمائے اِسلام‘‘ سمجھتے ہیں۔۔۔؟
میرا اَصل مقصود پہلی دس صدیوں کے اکابر کی تصریحات نقل کرنا تھا، چنانچہ بطورِ نمونہ صدی وار چند اکابر مشاہیر کی تصریحات نقل کرنے پر اِکتفا کیا گیا۔ اور ان اکابر کے مقابلے میں ایک نام بھی ایسا پیش نہیں کیا جاسکتا، جس کے علم وفہم اور دِین ودیانت پر اُمت نے اِعتماد کیا ہو، اور وہ نزولِ عیسیٰ علیہ السلام کے عقیدے کا منکر ہو۔
اس لئے آنجناب کا یہ کہنا کہ علمائے اسلام ہمیشہ ’’عقیدۂ نزولِ مسیح‘‘ کے خلاف جہاد کرتے آئے ہیں، نہایت غلط بات ہے، ہاں! یہ کہنا صحیح ہوگا کہ ’’علمائے اسلام‘‘ ’’عقیدۂ نزولِ مسیح‘‘ کے منکروں کے خلاف ہمیشہ جہاد کرتے آئے ہیں، کیونکہ یہ عقیدہ اُمتِ اِسلامیہ کا قطعی اور متواتر ہے جس کے بارے میں اہلِ حق کی کبھی دو رائیں نہیں ہوئیں۔
تنقیحِ ہفتم
آنجناب تحریر فرماتے ہیں:
’’ان میں ابنِ حزمؒ اور ابنِ تیمیہؒ جیسے جید علماء سرِفہرست ہیں، جنہوں نے ’’نزولِ مسیح‘‘ کے عقیدے کی تردید کی۔‘‘
آنجناب کا یہ دعویٰ بھی سراسر غلط فہمی پر مبنی ہے، معلوم ایسا ہوتا ہے کہ جناب کو ان ’’جید علماء‘‘ کی کتابیں دیکھنے کا موقع نہیں ملا، اور کسی شخص کی نقل وروایت پر آنجناب نے اِعتماد فرمایا ہے۔ ذیل میں حافظ ابنِ حزمؒ، حافظ ابنِ تیمیہؒ اور ان کے ناموَر شاگرد حافظ ابنِ قیمؒ کی عبارتیں براہِ راست خود ان کی کتابوں سے نقل کرتا ہوں، ان حوالوں کو پڑھ کر فیصلہ کیجئے کہ ان بزرگوں کا عقیدہ کیا تھا؟ اور جس شخص نے آپ کو یہ بتایا کہ یہ حضرات ’’نزولِ
73
مسیح‘‘ کے منکر تھے، وہ کتنا بڑا دَجال وکذّاب ہوگا۔ حافظ شیرازیؒ کے بقول:
چہ دلاور است دُزدے کہ بہ کف چراغ دارد
حافظ ابنِ حزم
اِمام ابومحمد علی بن حزم الاندلسی الظاہریؒ (متوفیٰ۶۵۴ھ)’’کتاب الفصل فی الملل والأھواء والنحل‘‘ میں فرماتے ہیں:
✨ : … ’’وقد صح عن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بنقل الکواف التی نقلت نبوتہ واعلامہ وکتابہ انہ أخبر أنہ لَا نبی بعدہٗ إلّا ما جائت الأخبار الصحاح من نزول عیسٰی علیہ السلام الذی بعث إلٰی بنی إسرائیل وادعی الیھود قتلہ وصلبہ، فوجب الْإقرار بھٰذہ الجملۃ وصح أن وجود النبوّۃ بعدہ علیہ السلام باطل لَا یکون ألبتۃ۔‘‘
(ج:۱ ص:۷۷)
ترجمہ: … ’’وہ پوری کی پوری اُمت، جس نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوّت، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے معجزات اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی کتاب کو نقل کیا ہے، اسی نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ بات بھی نقل کی ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے خبر دی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد کوئی نبی نہیں، مگر اس سے وہ عقیدہ مستثنیٰ ہے جس کے بارے میں صحیح اَحادیث وارِد ہوئی ہیں، یعنی عیسیٰ علیہ السلام کا نازل ہونا، وہی عیسیٰ علیہ السلام جو بنی اِسرائیل کی طرف مبعوث ہوئے تھے، اور جن کے بارے میں یہود کا قتل کرنے اور سولی پر چڑھانے کا دعویٰ ہے، پس اس عقیدے پر اِیمان لانا واجب ہے، اور یہ بات صحیح ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد نبوّت ملنا قطعاً باطل ہے، ہرگز نہیں ہوسکتا۔‘‘
74
دُوسری جگہ فرماتے ہیں:
✨ : … ’’وإنما عندھم أناجیل أربعۃ متغایرۃ من تألیف أربعۃ رجال معروفین لیس منھا إنجیل إلّا ألّف بعد رفع المسیح علیہ السلام بأعوام کثیرۃ ودھر طویل۔‘‘
(ج:۲ ص:۵۵)
ترجمہ: … ’’عیسائیوں کے پاس چار اِنجیلیں ہیں، جو باہم مختلف ہیں، اور چار معروف شخصوں (متی، مرقس، لوقا، یوحنا) کی تالیف ہیں۔ ان میں کوئی اِنجیل نہیں مگر وہ عیسیٰ علیہ السلام کے اُٹھائے جانے کے کئی سال اور زمانۂ طویل کے بعد لکھی گئی۔‘‘
ایک اور جگہ مدعیانِ نبوّت پر رَدّ کرتے ہوئے لکھتے ہیں:
✨ : … ’’ھٰذا مع سماعھم قول اللہ تعالٰی: ’’وَلٰـکِنْ رَّسُوْلَ اللہِ وَخَاتَمَ النَّبِیّٖنَ‘‘ وقول رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم: ’’لَا نبی بعدی‘‘ فکیف یستجیز مسلم أن یثبت بعدہ علیہ السلام نبیًّا فی الأرض حاشا ما استثناہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فی الآثار المستندۃ الثابتۃ فی نزول عیسَی بن مریم علیھما السلام فی آخر الزمان۔‘‘
(ج:۴ ص:۱۸۰)
ترجمہ: … ’’حق تعالیٰ کا اِرشاد: ’’وَلٰـکِنْ رَّسُوْلَ اللہِ وَخَاتَمَ النَّبِیّٖنَ‘‘ اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا اِرشاد:’’لَا نبی بعدی‘‘ ننے کے باوجود یہ لوگ ایسی باتیں کرتے ہیں، پس کوئی مسلمان اس بات کو کیسے برداشت کرسکتا ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد زمین میں کسی نبی کا وجود ثابت کرے، سوائے اس کے کہ جس کو خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے صحیح اور مستند اَحادیث
75
میں مستثنیٰ کردیا ہے، اور وہ ہے عیسیٰ بن مریم علیہما السلام کا آخری زمانے میں نازل ہونا۔‘‘
ایک جگہ اُصولِ تکفیر پر بحث کرتے ہوئے ابنِ حزمؒ لکھتے ہیں:
✨ : … ’’وأما من قال ان اللہ عزّ وجلّ ھو فلان لِانسان بعینہ، أو ان اللہ یحل فی جسم من أجسام خلقہ، أو ان بعد محمد صلی اللہ علیہ وسلم نبیًّا غیر عیسَی بن مریم فإنہ لَا یختلف الْإثنان فی تکفیرہ لصحۃ قیام الحُجّۃ بکل ھٰذا علٰی کل أحد۔‘‘
(ج:۳ ص:۲۴۹)
ترجمہ: … ’’جو شخص یہ کہے کہ اللہ تعالیٰ فلاں آدمی ہے، یا یہ کہے کہ اللہ تعالیٰ اپنی مخلوق میں سے کسی کے جسم میں حلول کرتا ہے، یا یہ کہے کہ حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد بھی کوئی نبی سوائے عیسیٰ علیہ السلام کے آئے گا تو ایسے شخص کے کافر ہونے کے بارے میں دو آدمیوں کا بھی اِختلاف نہیں، کیونکہ ان تمام اُمور میں ہر شخص پر حجت قائم ہوچکی ہے۔‘‘
ابنِ حزمؒ کی ان تصریحات سے واضح ہے کہ جس طرح ختمِ نبوّت کا مسئلہ قطعی اور متواتر ہے، اسی طرح حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے آخر زمانے میں نازل ہونے کا عقیدہ بھی احادیثِ صحیحہ متواترہ سے ثابت ہے، اس پر اِیمان لانا واجب ہے۔ نیز یہ بھی معلوم ہوا کہ جس عیسیٰ علیہ السلام کے آنے کی خبر دی گئی، اس سے بعینہٖ وہی عیسیٰ بن مریم علیہ السلام مراد ہیں جن کو ساری دُنیا ’’رَسُوْلًا اِلٰی بَنِیْ اِسْرٰٓئِیْل‘‘ کی حیثیت سے جانتی ہے، اور جن کے قتل وصلب کا یہودیوں کو دعویٰ ہے۔
حافظ ابنِ تیمیہ
عیسائیت کے رَدّ میں’’الجواب الصحیح لمن بدّل دین المسیح‘‘ شیخ الاسلام حافظ ابنِ تیمیہؒ کی مشہور کتاب ہے، جس میں انہوں نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے
76
نزول کا عقیدہ بڑی صراحت ووضاحت کے ساتھ ذِکر فرمایا ہے، یہاں اس کی چند عبارتیں نقل کی جاتی ہیں:
✨ : … ’’والمسلمون وأھل الکتاب متفقون علٰی إثبات مسیحَین، مسیح ھدی من ولد داوٗد، ومسیح ضلال، یقول أھل الکتاب: إنہ من ولد یوسف، ومتفقون علٰی أن مسیح الھدی سوف یأتی کما یأتی مسیح الضلالۃ، لٰـکن المسلمون والنصاریٰ یقولون: مسیح الھدی ھو عیسَی بن مریم وإن اللہ أرسلہ ثم یأتی مرۃ ثانیۃ، لٰکن المسلمون یقولون: إنہ ینزل قبل یوم القیامۃ فیقتل مسیح الضلالۃ، ویکسر الصلیب ویقتل الخنزیر، ولَا یبقی دینًا إلّا دین الْإسلام، ویؤمن بہ أھل الکتاب، الیھود والنصاریٰ، کما قال تعالٰی: ’’وَاِنْ مِّنْ اَھْلِ الْکِتٰبِ اِلّا لَیُؤْمِنَنَّ بِہٖ قَبْلَ مَوْتِہٖ‘‘ (النساء:۱۵۱) والقول الصحیح الذی علیہ الجمھور قبل موت المسیح وقال تعالٰی: ’’وَاِنَّہٗ لَعِلْمٌ لِّلسَّاعَۃِ فَلَا تَمْتَرُنَّ بِھَا‘‘ (الزخرف:۶۱)۔‘‘
(الجواب الصحیح ج:۱ ص:۳۲۹)
ترجمہ: … ’’مسلمان اور اہلِ کتاب دو مسیحوں کے ماننے پر متفق ہیں، ایک ’’مسیحِ ہدایت‘‘ جو نسلِ داؤد سے ہوں گے اور دُوسرا مسیحِ ضلالت، جس کے بارے میں اہلِ کتاب کا قول ہے کہ وہ یوسف کی اولاد سے ہوگا۔
مسلمان اور اہلِ کتاب اس پر بھی متفق ہیں کہ مسیحِ ہدایت آئندہ آئے گا، جیسا کہ مسیحِ ضلالت بھی آنے والا ہے، لیکن مسلمان اور نصاریٰ اس کے قائل ہیں کہ مسیحِ ہدایت حضرت عیسیٰ بن مریم علیہما
77
السلام ہیں، اور یہ کہ اللہ تعالیٰ نے ان کو رسول بناکر بھیجا، پھر وہ دوبارہ آئیں گے، لیکن مسلمانوں کا قول یہ ہے کہ وہ قیامت سے پہلے نازل ہوں گے، نازل ہوکر مسیحِ ضلالت کو قتل کریں گے، صلیب کو توڑ ڈالیں گے، خنزیر کو قتل کریں گے، دِینِ اسلام کے سوا کسی مذہب کو باقی نہیں چھوڑیں گے، اور اہلِ کتاب یہود ونصاریٰ ان پر اِیمان لائیں گے، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ’’اور نہیں کوئی اہلِ کتاب میں مگر اِیمان لائے گا، ان پر ان کی موت سے پہلے۔‘‘ اور حق تعالیٰ کا اِرشاد ہے: ’’اور وہ (یعنی حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا نازل ہونا) البتہ نشانی ہے قیامت کی، پس تم لوگ اس میں شک نہ کرو۔‘‘
تفصیل کے لئے ملاحظہ ہو حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی حیات ونزول کا عقیدہ مجدّدین واکابرِ اُمت کی نظر میں جلد اوّل صفحہ:۳۰۸پر ملاحظہ فرمائیں۔
حافظ ابنِ قیم
حافظ ابنِ قیمؒ، حافظ ابنِ تیمیہؒ کے مایہ ناز شاگرد ہیں، اور اپنے شیخ کے ذوق میں اس قدر ڈُوبے ہوئے ہیں کہ بال برابر بھی اپنے شیخ کے مسلک سے اِنحراف نہیں کرتے، اس لئے ذیل میں چند حوالے حافظ ابنِ قیمؒ کے بھی نقل کئے جاتے ہیں۔
’’ہدایۃ الحیاریٰ‘‘ میں حافظ ابنِ قیمؒ نے بائبل کی پیش گوئی پر، جو ’’فارقلیط‘‘ اور ’’رُوح الحق‘‘ سے متعلق ہے، بہت تفصیل سے گفتگو کی ہے، اور اس میں حضرت مسیح علیہ السلام کے درج ذیل فقروں کی تشریح فرمائی ہے:
’’میں نے یہ باتیں تمہارے ساتھ رہ کر تم سے کہیں، لیکن ’’وہ مددگار‘‘ یعنی رُوح القدس، جسے باپ میرے نام سے بھیجے گا، وہی تمہیں سب باتیں سکھائے گا، اور جو کچھ میں نے تم سے کہا ہے وہ سب تمہیں یاد دِلائے گا، میں تمہیں اِطمینان دئیے جاتا ہوں۔‘‘
(یوحنا ۱۴:۲۵-۲۷)
78
’’اس کے بعد میں تم سے بہت سی باتیں نہ کروں گا، کیونکہ ’’دُنیا کا سردار‘‘ آتا ہے اور مجھ میں اس کا کچھ نہیں۔‘‘
(یوحنا ۱۴:۳۰)
’’جب وہ مددگار آئے گا، جس کو میں تمہارے پاس باپ کی طرف سے بھیجوں گا، یعنی سچائی کا رُوح جو باپ سے صادر ہوتا ہے تو وہ میری گواہی دے گا۔‘‘
(یوحنا ۱۵:۲۶)
’’میں تم سے سچ کہتا ہوں کہ میرا جانا تمہارے لئے فائدہ مند ہے کیونکہ اگر میں نہ جاؤں تو وہ ’’مددگار‘‘ تمہارے پاس نہ آئے گا، لیکن اگر جاؤں گا تو اسے تمہارے پاس بھیج دُوں گا۔‘‘
(یوحنا ۱۶:۷)
’’مجھے تم سے اور بھی بہت سی باتیں کہنا ہے، مگر اَب تم ان کی برداشت نہیں کرسکتے، لیکن جب وہ یعنی سچائی کا رُوح آئے گا تو تم کو تمام سچائی کی راہ دِکھائے گا، اس لئے کہ وہ اپنی طرف سے نہ کہے گا، لیکن جو کچھ سنے گا وہی کہے گا، اور تمہیں آئندہ کی خبریں دے گا، وہ میرا جلال ظاہر کرے گا۔‘‘
(یوحنا ۱۶:۱۲ تا ۱۴)
اس پیش گوئی کو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی ذاتِ عالی پر چسپاں کرتے ہوئے آخر میں ابنِ قیمؒ لکھتے ہیں:
’’فمن ھٰذا الذی ھو روح الحق الذی لَا یتکلم إلّا بما یوحٰی إلیہ؟ ومن ھو العاقب للمسیح والشاھد لما جاء بہ والمصدق لہ بمجیئہ؟ ومن الذی أخبرنا بالحوادث فی الأزمنۃ المستقبلۃ؟ کخروج الدَّجَّال وظھور الدَّابّۃ وطلوع الشمس من مغربھا وخروج یأجوج ومأجوج ونزول المسیح بن مریم وظھور النار التی تحشر الناس وأضعاف أضعاف ذٰلک من الغیوب
79
التی قبل یوم القیامۃ والغیوب الواقعۃ من الصراط والمیزان والحساب وأخذ الکتب بالأیمان والشمائل وتفاصیل ما فی الجنّۃ والنّار ما لم یذکر فی التوراۃ والْإنجیل غیر محمد صلی اللہ علیہ وسلم۔‘‘
(ہدایۃ الحیاریٰ ص:۲۸۰)
ترجمہ: … ’’پس حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے سوا یہ ’’رُوح الحق‘‘ کون ہے جو وحیٔ اِلٰہی کے بغیر نہیں بولتا؟ اور وہ کون ہے جو حضرت مسیح علیہ السلام کے بعد آنے والا ہوا؟ اور وہ کون ہے جس نے حضرت مسیح علیہ السلام کی لائی ہوئی باتوں کی گواہی دی؟ اور وہ کون ہے جس نے اپنی آمد کے ذریعے مسیح علیہ السلام کی پیش گوئی کی تصدیق فرمائی؟ اور وہ کون ہے جس نے آئندہ زمانوں میں پیش آنے والے حوادث وواقعات کی خبریں دیں؟ مثلاً: دجال کا نکلنا، دابۃ الارض کا ظاہر ہونا، آفتاب کا مغرب سے طلوع ہونا، یأجوج ومأجوج کا نکلنا، مسیح بن مریم کا نازل ہونا، اور اس آگ کا ظاہر ہونا جو لوگوں کو میدانِ محشر کی طرف جمع کرے گی، ان کے علاوہ اور بہت سے غیب کے واقعات جو قیامت کے دن سے پہلے رُونما ہوں گے، اور وہ غیبی حقائق جو قیامت کے دن پیش آئیں گے، مثلاً: پل صراط، میزان، حساب وکتاب، نامۂ اعمال کا دائیں یا بائیں ہاتھ میں دِیا جانا، اور جنت ودوزخ کی تفصیلات، جو نہ تو توراۃ میں مذکور ہیں اور نہ اِنجیل میں۔‘‘
اور اسی پیش گوئی پر بحث کرتے ہوئے آگے لکھتے ہیں:
’’وتأمل قول المسیح فی ھٰذہ البشارۃ التی لَا ینکرونھا ان ار کون العالم سیأتی ولیس لی من الأمر
80
شیء کیف ھی شاھدۃ بنبوۃ محمد والمسیح معًا؟ فإنہ لما جاء صار الأمر لہ دون المسیح، فوجب علی العالم کلھم طاعتہ والْإنقیاد لأمرہ وصار الأمر لہ حقیقۃ، ولم یبق بأیدی النصاریٰ إلّا دین باطل أضعاف أضعاف حقہ وحقہ منسوخ بما بعث اللہ بہ محمدًا صلی اللہ علیہ وسلم، فطابق قول المسیح قول أخیہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم ینزل فیکم ابن مریم حَکَمًا عدلًا وإمامًا مقسطًا، فیحکم بکتاب اللہ بکم۔ وقولہ فی اللفظ الآخر: یأتیکم بکتاب ربکم۔ فطابق قول الرسولین الکریمین، وبشر الأول بالثانی وصدق الثانی بالأوّل۔‘‘
(ایضاً ص:۲۸۱)
ترجمہ: … ’’اور اس بشارت میں، جس کا یہ لوگ اِنکار نہیں کرتے حضرت مسیح علیہ السلام کے اس قول پر غور کرو کہ:
’’اس کے بعد میں تم سے بہت سی باتیں نہ کروں گا، کیونکہ دُنیا کا سردار آتا ہے اور مجھ میں اس کا کچھ نہیں۔‘‘
(یوحنا ۱۴:۳۰)
دیکھو! یہ بشارت آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اور حضرت مسیح علیہ السلام دونوں کی نبوّت پر کیسی شہادت دے رہی ہے؟ کیونکہ جب ’’دُنیا کا سردار‘‘ ۔۔۔صلی اللہ علیہ وسلم۔۔۔ آچکا تو سارے حکم اَحکام حضرت مسیح علیہ السلام کے بجائے اس کے حوالے ہوگئے، پس سارے جہان پر اس کی اطاعت اور اس کے فرامین کی تعمیل لازمی ہوئی، اور چونکہ تمام معاملات ’’دُنیا کے سردار‘‘ کے سپرد ہوچکے ہیں، لہٰذا نصاریٰ کے ہاتھ میں دِینِ باطل کے سوا کچھ نہیں رہا، ان کے دِین میں حق کے ساتھ ہزار گنا باطل کی آمیزش تو پہلے ہوچکی تھی، اور
81
جو تھوڑا بہت حق تھا وہ بھی حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت سے منسوخ ہوچکا ہے۔
غور کرو کہ حضرت مسیح علیہ السلام کا مندرجہ بالا قول ان کے بھائی حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے درج ذیل اِرشاد کے ساتھ کس قدر مطابقت رکھتا ہے، فرمایا:
’’نازل ہوں گے تم میں ابنِ مریم علیہ السلام حاکمِ عادل اور اِمامِ منصف کی حیثیت سے، پس تم میں کتاب اللہ کے ساتھ فیصلہ کریں گے۔‘‘
اور ایک دُوسری حدیث میں ہے:
’’وہ تمہارے پاس آئیں گے تمہارے رَبّ کی کتاب کے ساتھ۔‘‘
پس ان دونوں مقدس رسولوں کے اِرشادات باہم مطابقت رکھتے ہیں، پہلے نے دُوسرے کی بشارت دی اور دُوسرے نے پہلے کی تصدیق فرمائی۔‘‘
آگے ایک اور جگہ لکھتے ہیں:
✨ : … ’’(فصل) وتأمل قول المسیح انی لست ادعکم ایتامًا لأنی سآتیکم عن قریب کیف ھو مطابق لقول أخیہ محمد بن عبداللہ صلوات اللہ وسلامہ علیھما: ’’ینزل فیکم ابن مریم حکمًا عدلًا وإمامًا مقسطًا فیقتل الخنزیر ویکسر الصلیب ویضع الجزیۃ‘‘۔ وأوصی اُمّتہ بأن یقرأہ السلام منہ من لقیہ منھم۔ وفی حدیث آخر: کیف تھلک اُمّۃ أنا فی أوّلھا وعیسٰی فی آخرھا۔‘‘
(ص:۱۸۸، ۱۸۹)
82
ترجمہ: … ’’اور حضرت مسیح علیہ السلام کے اس قول پر غور کرو کہ:
’’میں تمہیں یتیم نہیں چھوڑوں گا، میں تمہارے پاس آؤں گا۔‘‘
(یوحنا ۱۴:۱۸)
ان کا یہ قول ان کے بھائی حضرت محمد بن عبداللہ صلوات اللہ وسلامہ علیہما کے اِرشاد کے کس قدر مطابق ہے، فرمایا:
’’نازل ہوں گے تم میں ابنِ مریم علیہ السلام حاکمِ عادل اور اِمامِ منصف کی حیثیت سے، پس خنزیر کو قتل کریں گے، اور صلیب کو توڑ ڈالیں گے، اور جزیہ موقوف کردیں گے۔‘‘
اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی اُمت کو وصیت فرمائی کہ ان میں سے جس شخص کی حضرت عیسیٰ علیہ السلام سے ملاقات ہو وہ ان کو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے سلام کہے۔
اور ایک اور حدیث میں فرمایا:
’’وہ اُمت کیسے ہلاک ہوسکتی ہے کہ میں جس کے اوّل میں ہوں اور عیسیٰ علیہ السلام اس کے آخر میں ہیں۔‘‘
✨ : … ’’فالمسلمون والیھود والنصاریٰ تنتظر مسیحًا یجیء فی آخر الزمان، فمسیح الیھود ھو الدَّجَّال، ومسیح النصاریٰ لَا حقیقۃ لہ، فإنہ عندھم إلٰہ وابن إلٰہ وخالق وممیت ومحی، فمسیحھم الذی ینتظرونہ ھو المصلوب المسمر المکلل بالشوک بین اللصوص والمصفوع الذی صفعتہ الیھود، وھو عندھم ربّ العالمین وخالق السماوات والأرضین، ومسیح
83
المسلمین الذی ینتظرونہ ھو عبداللہ ورسولہ وروحہ وکلمتہ ألقاھا إلٰی مریم العذراء البتول عیسَی بن مریم أخو عبداللہ ورسولہ محمد بن عبداللہ ویظھر دین اللہ وتوحیدہ ویقتل أعدائہ عباد الصلیب الذین اتخذوہ واُمّہ إلٰھین من دون اللہ وأعدائہ الیھود الذین رموہ واُمّہ بالعظائم، فھٰذا ھو الذی ینتظرہ المسلمون، وھو نازل علی المنارۃ الشرقیۃ بدمشق واضعًا یدیہ علٰی منکبی مَلَکین، یراہ الناس عیانًا بأبصارھم نازلًا من السماء، فیحکم بکتاب اللہ وسُنَّۃ رسولہ وینفذ ما اضاعہ الظلمۃ والفجرۃ والخونۃ من دین رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ویحیی ما أماتوہ، وتعود الملل کلھا فی زمانہ ملّۃ واحدۃ وھی ملّۃ محمد وملّۃ أبیھما إبراھیم وملّۃ سائر الأنبیاء، وھی الْإسلام الذی من یبتغی غیرہ دینًا فلن یقبل منہ وھو فی الآخرۃ من الخاسرین، وقد حمل رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم من أدرکہ من اُمّتہ السلام وأمرہ أن یقرأہ ایاہ منہ، فأخبر عن موضع نزولہ بأی بلد؟ وبأی مکان منہ؟ وبحالۃ وقت نزولہ وملبسہ الذی علیہ، وأنہ ممصرتان أی ثوبان، وأخبر بما یفعل عند نزولہ مفصلًا حتّٰی کان المسلمین یشاھدونہ عیانًا قبل أن یروہ، وھٰذا من جملۃ الغیوب التی أخبر بھا فوقعت مطابقۃ لخبرہ حذو القذۃ بالقذۃ فھٰذا منتظر المسلمین لَا منتظر المغضوب علیھم ولَا الضالِّین ولَا منتظر إخوانھم من الروافض المارقین وسوف یعلم
84
المغضوب علیھم إذا جاء منتظر المسلمین انہ لیس بابن یوسف النجار، ولَا ھو ولد زانیۃ، ولَا کان طبیبًا حاذقًا ماھرًا فی صناعتہ استولی علی العقول بصناعتہ، ولَا کان ساحرًا مخرقا ولَا مکنوا من صلبہ وتسخیرہ وصفعہ وقتلہ، بل کانوا أھون علی اللہ من ذالک، ویعلم الضالُّون أنہ ابن البشر وانہ عبداللہ ورسولہٗ لیس بإلٰہ ولَا ابن الْإلٰہ، وانہ بشر بنبوۃ محمد أخیہ أوّلًا وحکم بشریعتہ ودینہ آخرًا، وانہ عدو المغضوب علیھم والضالّین، وولی رسول اللہ وأتباعہ المؤمنین، ومکان اولیائہ الأرجاس الأنجاس عبدۃ الصلبان والصور المدھونۃ فی الحیطان، ان اولیائہ إلّا الموحدون عباد الرحمٰن أھل الْإسلام والْإیمان الذی نزھوہ واُمّہ عما رماھما بہ أعداؤھما من الشرک والسب للواحد المعبود۔‘‘
(ہدایۃ الحیاریٰ علیٰ ہامش ذیل الفارق ص:۴۳)
✨ : … ’’فبعث اللہ محمدًا صلی اللہ علیہ وسلم بما ازال الشبھۃ من أمرہ وکشف الغمۃ وبرأ المسیح واُمّہ من افتراء الیھود وبھتھم وکذبھم علیھما، ونزہ ربّ العالمین خالق المسیح واُمّہ مما افتراہ علیہ المثلثۃ عباد الصلیب الذین سبوہ أعظم السب، فأنزل المسیح أخاہ بالمنزلۃ التی أنزلہ اللہ بھا، وھی أشرف منازلہ فاٰمن بہ صدقہ وشھد لہ بأنہ عبداللہ ورسولہ وروحہ وکلمتہ ألقاھا إلٰی مریم العذراء البتول الطاھرۃ الصدیقۃ سیّدۃ
85
نساء العالمین فی زمانھا، وقرر معجزات المسیح وآیاتہ، وأخبر عن ربہ تعالٰی بتخلید من کفر بالمسیح فی النار، وان ربہ تعالٰی أکرم عبدہ ورسولہ ونزھہ وصانہ أن ینال إخوان القردۃ منہ ما زعمتہ النصاریٰ انھم نالوہ منہ، بل رفعہ إلیہ مؤیدًا منصورًا لم یشکہ أعداؤہ فیہ بشوکۃ، ولَا نالتہ أیدیھم بأذی، فرفعہ إلیہ وأسکنہ سمائہ وسیعیدہ إلی الأرض ینتقم بہ من مسیح الضلال وأتباعہ ثم یکسر بہ الصلیب ویقتل بہ الخنزیر ویعلی بہ الْإسلام وینصر بہ ملّۃ أخیہ أولی الناس بہ محمد علیہ الصلاۃ والسلام۔‘‘
(ذیل الفارق ص:۱۰۴)
✨ : … ’’وقد اختلف فی معنی قولہ ’’وَلٰـکِنْ شُبِّہَ لَھُمْ‘‘ فقال بعض شبہ للنصاریٰ ای حصلت لھم الشبھۃ فی أمرہ ولیس لھم علم بأنہ قتل ولَا صلب، ولٰـکن لما قال أعداؤہ انھم قتلوہ وصلبوہ واتفق رفعہ من الأرض وقعت الشبھۃ فی أمرہ، وصدقھم النصاریٰ فی صلبہ، لتتم الشناعۃ علیھم، وکیف ما کان فالمسیح صلوات اللہ وسلامہ علیہ لم یقتل ولم یصلب یقینًا لَا شک فیہ۔‘‘
ترجمہ: … ’’پس مسلمان اور یہود ونصاریٰ ایک مسیح کے منتظر ہیں جو آخری زمانے میں آئے گا، پس یہود کا مسیح تو دَجال ہے، اور نصاریٰ کے مسیح کی کوئی حقیقت نہیں، کیونکہ مسیح ان کے نزدیک خدا ہے، خدا کا بیٹا ہے، خالق ہے، وہی زندگی دینے والا، وہی موت دینے والا ہے۔
پس ان کا مسیح جس کے وہ منتظر ہیں، وہ ہے جس کو صلیب
86
دی گئی، جس کے بدن میں میخیں گاڑی گئیں، جس کو کانٹوں کا تاج پہنایا گیا، جس کے منہ پر یہودیوں نے طمانچے مارے، اور جس کو چوروں کے درمیان صلیب پر لٹکایا گیا، اس کے باوجود وہ ان کے نزدیک رَبّ العالمین بھی ہے اور آسمان وزمین کا خالق بھی۔
اور مسلمانوں کے مسیح، جس کے وہ منتظر ہیں، وہ ہیں جو اللہ تعالیٰ کے بندے ہیں، اس کے رسول ہیں، اس کی جانب سے بھیجی ہوئی خاص رُوح ہیں، اور اس کا کلمہ ہیں جو اللہ تعالیٰ نے مریم عذرا بتول کی طرف ڈالا، وہ عیسیٰ بن مریم ہیں جو اللہ تعالیٰ کے بندے اور اس کے رسول حضرت محمد بن عبداللہ صلی اللہ علیہما وسلم کے بھائی ہیں، پس وہ جب آئیں گے تو اللہ کے دِین اور اس کی توحید کو سربلند کریں گے، اللہ کے دُشمنوں، پرستارانِ صلیب کو قتل کریں گے، جنہوں نے اللہ تعالیٰ کو چھوڑ کر ان کو، اور ان کی والدہ ماجدہ کو، خدا بنالیا، نیز اپنے دُشمن یہودیوں کو قتل کریں گے، جنہوں نے ان پر اور ان کی والدہ ماجدہ پر بہتان تراشیاں کیں۔
پس یہ مسیح جس کے مسلمان منتظر ہیں، یہی مسیح دمشق کے مشرقی مینار پر اس شان سے نازل ہوں گے کہ دو فرشتوں کے کاندھوں پر ہاتھ رکھے ہوئے ہوں گے، ان کو لوگ بچشمِ سر آسمان سے نازل ہوتے ہوئے عیاناً دیکھیں گے۔
پس وہ نازل ہوکر اللہ تعالیٰ کی کتاب اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت کے مطابق اَحکام دیں گے۔ ظالموں، فاجروں اور خائنوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے دِین کا جو حصہ ضائع کردیا ہوگا، اسے نافذ کریں گے، اور جس حصۂ دِین کو ان لوگوں نے مٹا ڈالا تھا اسے دوبارہ زندہ کریں گے، اور ان کے زمانے
87
میں تمام ملّتیں ملتِ واحدہ میں تبدیل ہوجائیں گی، اور یہ ملت ہے حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی، ان کے جدِ اَمجد حضرت اِبراہیم علیہ السلام کی اور دیگر اَنبیائے کرام علیہم السلام کی، اور یہ ملت دِینِ اسلام ہے کہ جو شخص اس کے سوا کسی اور دِین کی پیروی کرے وہ اس سے ہرگز قبول نہیں کیا جائے اور وہ آخرت میں خسارہ اُٹھانے والوں میں سے ہوگا۔
اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی اُمت کے ان لوگوں کو، جو حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو پائیں، اس کا مکلف فرمایا ہے اور حکم دیا ہے کہ ان کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا سلام پہنچائیں، پس آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے نزول کی جگہ بتائی اور یہ کہ کس شہر میں نازل ہوں گے؟ کس جگہ نازل ہوں گے؟ نزول کے وقت ان کی حالت اور ان کا لباس جو ان کے زیبِ تن ہوگا، وہ بھی بیان فرمایا کہ وہ ہلکے زرد رنگ کی دو چادریں ہوں گی، اور نازل ہونے کے بعد حضرت عیسیٰ علیہ السلام جو کچھ کریں گے، اس کو بھی ایسی تفصیل سے بیان فرمایا گویا مسلمان ان کو دیکھنے سے پہلے اپنے سامنے دیکھ رہے ہیں، اور یہ تمام اُمور من جملہ غیب کی خبروں کے ہیں، جن کی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اِطلاع دی، پس واقعات آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خبر کے ٹھیک ٹھیک مطابق رُونما ہوئے۔
الغرض یہ ہے وہ مسیح جس کا مسلمان اِنتظار کرتے ہیں (علیہ الصلوٰۃ والسلام)، یہ مسیح نہ تو مغضوب علیہم ۔۔۔یہود۔۔۔ کا مسیحِ منتظر ہے، نہ ضالین ۔۔۔نصاریٰ۔۔۔ کا، اور نہ ان کے بھائیوں روافض کا جو اِسلام سے نکل گئے ہیں، اور جب مسلمانوں کے مسیحِ منتظر ۔۔۔علیہ السلام۔۔۔ تشریف لائیں گے تو مغضوب علیہم یہود کو پتا چل جائے گا کہ
88
یہ یوسف نجار کا بیٹا نہیں، نہ بدکار عورت کا بیٹا ہے، نہ وہ ماہر طبیب تھے جو اپنے فن میں حاذق تھے، اور جس نے اپنی صنعت سے عقلوں کو دہشت زدہ کردیا تھا، نہ وہ شعبدہ باز جادوگر تھے، نہ یہود کو ان کے پکڑنے اور صلیب پر دینے کی قدرت ہوئی، نہ ان کے منہ پر طمانچے مارنے اور قتل کرنے کی۔ بلکہ یہ لوگ اللہ کی نظر میں اس سے ذلیل تر تھے کہ ان کو ان اُمور کی قدرت دی جاتی، اور گمراہی میں بھٹکنے والے نصاریٰ کو بھی معلوم ہوجائے گا کہ وہ آدم زاد ہیں، اللہ تعالیٰ کے بندے اور اس کے رسول ہیں، نہ وہ خدا ہیں، نہ خدا کے بیٹے، اور یہ کہ انہوں نے پہلے اپنے بھائی حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوّت کی بشارت دی، اور آخری زمانے میں آکر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے دِین وشریعت کے مطابق اَحکامات صادر فرمائے، اور یہ بھی معلوم ہوجائے گا کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام یہود ونصاریٰ کے دُشمن ہیں، اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی پیروی کرنے والے اہلِ اِیمان کے دوست ہیں۔ ان کے دوست وہ گندے اور ناپاک لوگ نہیں تھے جو صلیبوں کی اور دیواروں میں لگائی ہوئی تصویروں کی پوجا کرتے تھے، ان کے دوست صرف اہلِ توحید ہیں جو رحمن کے بندے اہلِ اِسلام واِیمان ہیں، جنہوں نے ان کو اور ان کی والدہ کو ان کے دُشمنوں کی تراشیدہ تہمتوں سے بَری قرار دِیا، مثلاً شرک کرنا اور معبودِ واحد کو بُرا کہنا۔‘‘
ترجمہ: … ’’پس اللہ تعالیٰ نے حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو ان حقائق کے ساتھ مبعوث فرمایا، جن سے حضرت مسیح علیہ السلام کے بارے میں تمام شبہات زائل ہوگئے اور تاریکی چھٹ گئی۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت مسیح علیہ السلام کو اور ان کی
89
والدہ مطہرہ کو یہود کے کذب واِفترا اور بہتان تراشیوں سے بَری الذمہ قرار دِیا، اور مسیح علیہ السلام اور ان کی والدہ ماجدہ کے خالق رَبّ العالمین کو ان اِفتراؤں سے منزّہ قرار دِیا جو اَربابِ تثلیث صلیب پرستوں نے باندھ رکھے تھے، جنہوں نے اللہ تعالیٰ کو سب سے بڑی گالی دی۔
پس آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے بھائی مسیح علیہ السلام کو اس مرتبے میں اُتارا جس مرتبے میں ان کو اللہ تعالیٰ نے اُتارا تھا، اور یہی ان کا سب سے اشرف مرتبہ ہے، پس آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم حضرت مسیح علیہ السلام پر اِیمان لائے، ان کی تصدیق فرمائی اور ان کے حق میں گواہی دی کہ وہ اللہ تعالیٰ کے بندے ہیں، اس کے رسول ہیں، اس کی جانب سے آئی ہوئی خاص رُوح ہیں، اور اس کے کلمے (سے پیدا ہونے والے) ہیں، جو اللہ تعالیٰ نے کنواری مریم بتول کی طرف ڈالا تھا جو طاہرہ وصدیقہ ہیں، اپنے زمانے کی تمام جہان کی عورتوں کی سیّدہ ہیں، اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت مسیح علیہ السلام کے معجزات و آیات کی تصدیق فرمائی، اور اپنے رَبّ کی جانب سے خبر دی کہ جن لوگوں نے حضرت مسیح علیہ السلام کی نبوّت کا اِنکار کیا، وہ ہمیشہ کے لئے دوزخ میں رہیں گے، اور یہ کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے رَبّ نے اپنے بندے اور رسول حضرت مسیح علیہ السلام کو عزّت وکرامت عطا فرمائی ہے، اور ان کو اس سے منزّہ اور محفوظ رکھا ہے کہ بندروں کے بھائی ۔۔۔یہود۔۔۔ ان کی بے حرمتی کریں، جیسا کہ نصاریٰ دعویٰ کرتے ہیں کہ یہودیوں نے ان کی تذلیل واہانت کی، ہرگز نہیں! بلکہ اللہ تعالیٰ نے ان کو مؤید ومنصور اپنی طرف اُٹھالیا، ان کے دُشمن ان کو ایک کانٹا بھی
90
نہیں چبھوسکے، اور نہ اپنے ہاتھوں سے ان کو کوئی ادنیٰ اِیذا پہنچاسکے۔ پس اللہ تعالیٰ نے ان کو اپنی طرف اُٹھالیا، اور اپنے آسمان میں ان کو ٹھہرایا، اور عنقریب اللہ تعالیٰ ان کو دوبارہ زمین پر بھیجیں گے، پس اللہ تعالیٰ ان کے ذریعے دجال مسیحِ ضلالت اور اس کے پیرووں سے اِنتقام لیں گے، پھر ان کے ذریعے صلیب کو توڑ دیں گے، اور خنزیر کو قتل کریں گے، اور ان کے ذریعے اِسلام کو سربلند کریں گے، اور ان کے ذریعے ان کے بھائی جو ان کے ساتھ سب لوگوں سے زیادہ تعلق رکھتے ہیں، یعنی حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے دِین وملت کی تائید ونصرت کریں گے۔‘‘
ترجمہ: … ’’اور حق تعالیٰ کے اِرشاد:’’وَلٰـکِنْ شُبِّہَ لَھُمْ‘‘ کے معنی میں اِختلاف ہوا ہے، پس بعض حضرات نے کہا کہ نصاریٰ کو اِشتباہ ہوا، یعنی حضرت مسیح علیہ السلام کے معاملے میں ان کو اِشتباہ ہوگیا، اور ان کو کچھ علم نہیں کہ وہ قتل کئے گئے یا صلیب دئیے گئے؟ لیکن چونکہ حضرت مسیح علیہ السلام کے دُشمنوں نے مشہور کردیا کہ انہوں نے مسیح علیہ السلام کو قتل کردیا، اور سولی پر لٹکادیا، ادھر ان کے زمین سے اُٹھائے جانے کا واقعہ ہوا ۔۔۔اورحضرت مسیح علیہ السلام زمین سے غائب ہوگئے۔۔۔ اس لئے ان کے معاملے میں شبہ پڑگیا، اور نصاریٰ نے دُشمنوں کی اُڑائی ہوئی ہوائی کو تسلیم کرلیا کہ یہودیوں نے مسیح علیہ السلام کو دَار پر لٹکادیا، تاکہ ان کے حق میں شناعت زیادہ ہوجائے۔
کچھ بھی ہوا، یہ بات قطعی ویقینی ہے کہ حضرت مسیح علیہ السلام کو نہ قتل کیا گیا اور نہ سولی دی گئی، اس میں کسی ادنیٰ شک وشبہ کی گنجائش نہیں۔‘‘
91
حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا نزول قربِ قیامت کی علامت ہے
مندرجہ بالا تنقیحات کے بعد آنجناب لکھتے ہیں:
’’اب میں آپ کی تصنیف کی طرف آتا ہوں۔ صفحہ نمبر:۲۳۷ پر آپ نے سائل کو کچھ یوں جواب دیا ہے:
’’قرآنِ کریم میں حضرت عیسیٰ کا تذکرہ کرتے ہوئے فرمایا گیا ہے: ’’اور بے شک وہ نشانی ہے قیامت کی، پس تم اس میں ذرا بھی شک مت کرو۔‘‘
محترمی! آپ کا مذکورہ ترجمہ حقیقت پر مبنی نہیں ہے، وہ ایسے کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مشرکینِ مکہ کو قیامت آنے اور ان کے اعمال کی جواب دہی اللہ تعالیٰ کے حضور میں دینے کا بتایا تو مشرکینِ مکہ نے قیامت کے آنے سے اِنکار کردیا، اور کہنے لگے کہ جب ہم مٹی ہوجائیں گے تو پھر کیسے زِندہ ہوں گے اور کیسے قیامت آئے گی؟ تو اللہ تعالیٰ نے ان کو قیامت کے آنے کی خبر پر یقین دِلانے کے لئے عیسیٰ کی پیدائش بطورِ تمثیل پیش کرنے کے لئے سورۂ زُخرف کی مذکورہ آیت کا نزول کیا، کہ تمہاری عقل اور فہم میں تو یہ بات بھی نہیں آسکتی کہ بغیر باپ کے بھی کوئی بچہ پیدا ہوسکتا ہے؟ جبکہ میں (اللہ) نے عیسیٰ کو بغیر باپ کے نطفے سے مریم سے پیدا کردیا۔ اس کو اِنسان پیدا کیا اور نبوّت سے بھی سرفراز کیا۔ لہٰذا ان آیات میں اِرشادِ اِلٰہی کی منشا یہ ہے کہ جو اللہ باپ کے بغیر بچہ پیدا کرسکتا ہے اور جس اللہ کا ایک بندہ مٹی کے پتلے میں اللہ ہی کے حکم سے جان ڈال سکتا ہے اور مُردوں کو زِندہ کرسکتا ہے تو اس قادر مالک کے لئے آخر تم اس بات کو کیوں ناممکن سمجھتے ہو کہ وہ تمہیں اور تمام
92
اِنسانوں کو مرنے کے بعد بھی دوبارہ پیدا کرے اور جزا وسزا کا دِن قائم کرکے دُودھ کا دُودھ اور پانی کا پانی ہوجائے۔ اس کے علاوہ مذکورہ آیات میں خطاب مشرکینِ مکہ کو ہے جبکہ عیسیٰ کی آمدِ ثانی تو قیامت کے علم کا ذریعہ صرف ان لوگوں کے لئے بن سکتا ہے جو اس زمانے میں موجود ہوں یا اس کے بعد پیدا ہوں، کفارِ مکہ کے لئے آخر وہ کیسے ذریعہ علم قرار پاسکتا تھا کہ ’’تم عیسیٰ کی قربِ قیامت کی آمدِ ثانی میں شک نہ کرو؟‘‘ صحیح ترجمہ اس کا یہ ہے کہ: ’’تم قیامت کے آنے میں شک نہ کرو‘‘ لیکن ہمارے روایت پرست مولویوں نے اصل ترجمہ چھوڑ کر یہ ترجمہ کیا کہ ’’تم عیسیٰ کے آنے میں شک نہ کرو۔‘‘
تنقیح: … اس کے بارے میں چند گزارشات پر غور فرمایا جائے:
اوّل: … اس ناکارہ نے آیتِ شریفہ کا جو ترجمہ کیا ہے، اس کی دلیل بھی ساتھ نقل کردی ہے، جس پر آنجناب نے غور نہیں فرمایا، چنانچہ آیت کا ترجمہ نقل کرنے کے بعد میں نے لکھا:
’’بہت سے اکابر صحابہؓ وتابعینؒ نے اس آیت کی تفسیر میں فرمایا ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا نازل ہونا قربِ قیامت کی نشانی ہے، اور صحیح ابنِ حبان میں خود آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے بھی یہی تفسیر منقول ہے۔‘‘
(موارد الظمآن ص:۴۳۵)
حافظ ابنِ کثیرؒ لکھتے ہیں:
’’یہ تفسیر حضرت ابوہریرہؓ، ابنِ عباسؓ، ابوالعالیہؒ، ابومالکؒ، عکرمہؒ، حسن بصریؒ، قتادہؒ، ضحاکؒ اور دیگر حضرات سے مروی ہے، اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے اس مضمون کی متواتر اَحادیث وارِد ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے عیسیٰ علیہ السلام کے قیامت
93
سے قبل تشریف لانے کی خبر دی ہے۔‘‘
(تفسیر ابنِ کثیر ج:۴ ص:۱۳۲)
اس اِقتباس سے معلوم ہوجاتا ہے کہ میں نے جو ترجمہ کیا وہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہؓ وتابعینؒ کی تفسیر اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے اِرشاداتِ متواترہ کے مطابق ہے، اب آپ کو اِختیار ہے اس کو ’’مبنی برحقیقت‘‘ کہیں یا ’’بے حقیقت‘‘ سمجھیں۔
دوم: … آنجناب نے جو لمبا چوڑا شانِ نزول بیان فرمایا، اوّل تو بے ثبوت، آنجناب کی ذہنی کاوش ہے، اس سے قطع نظر اس سے میرے ترجمے کی نفی نہیں ہوتی، کیونکہ یہ دونوں باتیں اپنی جگہ صحیح ہیں کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی پیدائش بھی قیامت کے برحق ہونے کی دلیل ہے، اور ان کا نزول بھی قربِ قیامت کی دلیل ہے۔ سیّد محمود آلوسیؒ لکھتے ہیں:
’’ای انہ بنزولہ شرط من أشراطھا، أو بحدوثہ بغیر أب أو بإحیائہ الموتٰی دلیل علٰی صحۃ البعث الذی ھو معظم ما ینکرہ الکفرۃ من الاُمور الواقعۃ فی الساعۃ، وایامًا کان فعلم الساعۃ مجاز عما تعلم بہ والتعبیر بہ للمبالغۃ۔‘‘
(روح المعانی ج:۲۵ ص:۹۵)
ترجمہ: … ’’یعنی عیسیٰ علیہ السلام اپنے نزول کی وجہ سے قیامت کی ایک علامت ہیں، یا بن باپ پیدا ہونے یا مُردوں کو زِندہ کرنے کی وجہ سے ’’بعث‘‘ کے صحیح ہونے کی دلیل ہیں، اور جو اُمور قیامت کے دن واقع ہوں گے ان میں یہی سب سے بڑی چیز ہے، جس کے کفار منکر ہیں۔ بہرحال ’’قیامت کا علم‘‘ مجاز ہے اس چیز سے جس کے ذریعے قیامت کا علم ہو اور یہ ’’تعبیر‘‘ مبالغے کے لئے ہے۔‘‘
الغرض آنجناب کی تقریر سے میرے ذِکر کردہ ترجمے کی نفی نہیں ہوتی، کیونکہ ’’حضرت عیسیٰ علیہ السلام قیامت کا نشان ہیں‘‘ کا فقرہ ان دونوں باتوں پر حاوی ہے،
94
حضرت عیسیٰ علیہ السلام اپنے وجود اور اپنی پیدائش کے لحاظ سے صحتِ قیامت کی دلیل بھی ہیں اور قربِ قیامت کی بھی علامت ہیں۔
سوم: … آنجناب کا یہ کہنا بڑا ہی عجیب ہے کہ ’’عیسیٰ علیہ السلام کی آمدِ ثانی کفارِ مکہ کے لئے کیسے ذریعہ علم قرار پاسکتی ہے؟‘‘ کیونکہ قرآنِ کریم کا بیان ماننے والوں کے لئے ہے، نہ ماننے والوں کے لئے نہیں، کفارِ مکہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی بن باپ کی پیدائش کو تسلیم کرلیں تو یہ صحتِ قیامت کی دلیل ہے، اور ان کے نزول قبل القیامت کو مان لیں تو قربِ قیامت کی دلیل ہے، اور اگر نہ مانیں تو ان کے لئے نہ وہ مفید ہے، نہ یہ، قرآنِ کریم تو حقائق کو بیان کرتا ہے، خواہ کوئی مانے یا نہ مانے۔
چہارم: … آنجناب نے روایت پرست مولویوں پر بلاوجہ خفگی کا اِظہار فرمایا ہے، کیونکہ جہاں تک مجھے معلوم ہے کسی ’’مولوی‘‘ نے ’’فَلَا تَمْتَرُنَّ بِھَا‘‘ کا یہ ترجمہ نہیں کیا کہ ’’تم عیسیٰ علیہ السلام کے آنے میں شک نہ کرو‘‘ اگر آنجناب کی خوش فہمی نے یہ مفہوم کسی جگہ سے کشید کیا ہو تو اس کی ذمہ داری غریب ’’مولویوں‘‘ پر نہیں، آیت میں تو یہ فرمایا گیا ہے کہ ’’عیسیٰ علیہ السلام قیامت کی نشانی ہیں، لہٰذا تم قیامت میں ہرگز شک نہ کرو۔‘‘
انبیائے کرام علیہم السلام کے مجمع میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی تقریر
آنجناب لکھتے ہیں:
’’پھر اسی آیت کی تفسیر کے اِختتام پر صفحہ:۲۳۸ پر آپ نے (راقم الحروف نے) حوالے کچھ یوں دئیے ہیں (مسند احمد، ابنِ ماجہ، مستدرک حاکم، ابنِ جریر) آپ نے تو ابنِ جریر کا نام سب سے آخر میں لکھا ہے، کاش! آپ یہ جانتے کہ ابنِ جریر کون صاحب تھے؟‘‘
تنقیح:۔۔۔اس سلسلے میں چند گزارشات ہیں:
اوّل: … میں نے یہ حوالے اس حدیث شریف کے دئیے تھے، جس کا ترجمہ درج
95
ذیل الفاظ میں نقل کیا تھا:
’’حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا اِرشاد نقل کرتے ہیں کہ شبِ معراج میں میری ملاقات حضرت ابراہیم، حضرت موسیٰ اور حضرت عیسیٰ ۔۔۔علیہم الصلوات والتسلیمات۔۔۔ سے ہوئی، تو آپس میں قیامت کا تذکرہ ہونے لگا کہ کب آئے گی؟ پہلے حضرت ابراہیم علیہ السلام سے دریافت کیا گیا، انہوں نے فرمایا کہ: مجھے اس کا علم نہیں! پھر موسیٰ علیہ السلام سے پوچھا گیا، انہوں نے بھی لاعلمی کا اِظہار کیا، پھر حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی باری آئی تو انہوں نے فرمایا کہ: قیامت کے وقوع کا ٹھیک وقت تو اللہ تعالیٰ کے سوا کسی کو معلوم نہیں، البتہ میرے رَبّ کا مجھ سے ایک عہد ہے کہ قیامت سے پہلے جب دَجال نکلے گا تو میں اس کو قتل کرنے کے لئے نازل ہوں گا، وہ مجھے دیکھ کر اس طرح پگھلنے لگے گا جیسے سیسہ پگھلتا ہے، پس اللہ تعالیٰ اس کو میرے ہاتھ سے ہلاک کردیں گے، یہاں تک کہ شجر وحجر بھی پکار اُٹھیں گے کہ اے مسلم! میرے پیچھے کافر چھپا ہوا ہے اس کو قتل کردے۔
قتلِ دجال کے بعد لوگ اپنے اپنے علاقے اور ملک کو لوٹ جائیں گے، اس کے کچھ عرصے کے بعد یأجوج مأجوج نکلیں گے، وہ جس چیز پر سے گزریں گے اسے تباہ کردیں گے، تب لوگ میرے پاس ان کی شکایت کریں گے، پس میں اللہ تعالیٰ سے ان کے حق میں بددُعا کروں گا، پس اللہ تعالیٰ ان پر یکبارگی موت طاری کردیں گے، یہاں تک کہ زمین ان کی بدبو سے متعفن ہوجائے گی، پس اللہ تعالیٰ بارش نازل فرمائیں گے جو ان کے اَجسام کو بہاکر سمندر میں ڈال دے گی، پس میرے رَبّ کا مجھ سے یہ عہد ہے کہ
96
جب ایسا ہوگا تو قیامت کی مثال پورے دِنوں کی حاملہ کی سی ہوگی جس کے بارے میں اس کے مالک نہیں جانتے کہ اچانک دِن یا رات میں کسی وقت اس کا وضعِ حمل ہوجائے۔‘‘
(مسندِ احمد، ابنِ ماجہ، مستدرک حاکم، ابنِ جریر)
حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے اس ارشاد سے جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے نقل کیا ہے، معلوم ہوا کہ ان کی تشریف آوری بالکل قربِ قیامت میں ہوگی۔‘‘
سائل نے مجھ سے پوچھا تھا کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی تشریف آوری کب ہوگی؟ میں نے اس کے جواب میں لکھا کہ اس حدیث سے معلوم ہوا کہ ان کی تشریف آوری بالکل قربِ قیامت میں ہوگی۔
اگر آنجناب کو اس حدیث کی صحت میں کوئی شک وشبہ تھا تو آپ اس کی تصحیح کا مطالبہ فرماسکتے تھے، اس کے کسی راوی پر جرح کرسکتے تھے، لیکن آنجناب نے نہ تو حدیث نقل کی، نہ اس کی سند پر کوئی جرح فرمائی، نہ مجھ سے اس کی تصحیح کا مطالبہ فرمایا، بلکہ اس کے بجائے یہ کیا کہ جن چار کتابوں کے حوالے میں نے دئیے تھے: ’’مسندِ احمد، ابنِ ماجہ، مستدرک حاکم، ابنِ جریر‘‘ ان میں سے تین حوالوں کو چھوڑ کر آخری حوالے پر تنقید شروع کردی، اور یہ تنقید بھی حدیث پر نہیں بلکہ خود اِمام ابنِ جریرؒ پر۔ میں جناب سے پوچھنا چاہتا ہوں کہ کیا کسی علمی بحث میں گفتگو کا اَنداز یہی ہونا چاہئے؟ ایک لمحے کے لئے فرض کرلیجئے کہ اِمام ابنِ جریرؒ آپ کے نزدیک ناپسندیدہ شخصیت ہیں، لیکن اس سے میرے مدعا کو کیا نقصان پہنچا؟ اِمام ابنِ جریرؒ کی شخصیت کے پسندیدہ یا ناپسندیدہ ہونے کو حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے نازل ہونے یا نہ ہونے کی بحث سے کیا تعلق؟ اور اِمام ابنِ جریرؒ پر جرح کرکے آپ پہلے تین حوالوں سے کیسے عہدہ برآ ہوگئے؟ اگر آنجناب حقائق کا سامنا کرنے کی تب وتاب نہیں رکھتے، تو کس نے فرمائش کی تھی کہ آپ ان حقائق کو رَدّ کرنے کے لئے خامہ فرسائی فرمائیں۔۔۔؟
97
اِمام ابنِ جریرؒ پر رَافضیت کا اِتہام
آنجناب، الامام الحافظ محمد بن جریرؒ پر اپنے غیظ وغضب کا اِظہار فرماتے ہوئے لکھتے ہیں:
’’یہی ہے وہ شخصیت جس نے سب سے پہلے قرآنِ کریم کی تفسیر اور تاریخِ اِسلام مرتب کی، اس کا پورا نام ابوجعفر محمد بن جریر بن یزید بن کثیر بن غالب تھا۔ ۴۲۲ھ میں طبرستان (ایران) میں پیدا ہوا تھا، طبرستان کی طرف نسبت سے ’’طبری‘‘ کہلائے، علم وفضل میں اپنے وقت کا بے مثال شخص تھا اور مسلمان علماء میں آپ کا مقام بہت اُونچا تھا۔ لیکن البدایہ والنہایہ جلد:۱۱ صفحہ:۶۴۱ پر اس کو رافضی قرار دِیا ہے۔ اِمام ذہبی نے تذکرۃ الحفاظ جلد دوم صفحہ نمبر:۳۱۷ پر اس کو شیعہ لکھا ہے۔ میزان الاعتدال جلد سوم صفحہ:۵۳ پر حافظ احمد بن علی سلیمانی کہتے ہیں کہ ابنِ جریر رافضیوں کے لئے حدیثیں گھڑا کرتا تھا، اگر آپ محدث العصر علامہ تمنا عمادی کی کتاب ’’اِمام زہری واِمام طبری‘‘ کا مطالعہ کرلیں تو آپ کو بہت سے حقائق مل جائیں گے۔‘‘
تنقیح: … آنجناب کی اس عبارت سے مجھے ایسا محسوس ہوا کہ یا تو جناب کو ان تین کتابوں کی زیارت ہی کا شرف حاصل نہیں ہوا، بلاتحقیق سنی سنائی بات آگے نقل کردی، اور آپ نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے اس اِرشاد کی پروا نہیں کی:
’’کفٰی بالمرء کذبًا ان یحدث بکلّ ما سمع۔‘‘
(مشکوٰۃ ص:۲۸)
یا آنجناب ان بزرگوں کا مدعا سمجھنے سے قاصر رہے کہ ان اکابر نے اِمام ابنِ جریرؒ پر رافضیت کا اِتہام نہیں لگایا، بلکہ اس تہمت کی تردید کی ہے، اور ان کی برأت ظاہر فرمائی
98
ہے، ان کتابوں کی اصل عبارت جناب کے سامنے پیش کرتا ہوں۔
’’البدایہ والنہایہ‘‘ ج:۱۱ ص:۱۴۶کی عبارت یہ ہے:
’’وقد کانت وفاتہ وقت المغرب عشیۃ یوم الأحد لیومین بقیا من شوال من سنۃ عشر وثلثمائۃ، وقد جاوز الثمانین بخمس أو ست سنین، وفی شعر رأسہ ولحیتہ سواد کثیر۔
ودفن فی دارہ لأن بعض عوام الحنابلۃ ورعاعھم منعوا من دفنہ نھارًا، ونسبوہ إلی الرفض، ومن الجھلۃ من رماہ بالْإلحاد - وحاشاہ من ذالک کلہ- بل کان أحد أئمۃ الْإسلام علمًا وعملًا بکتاب اللہ وسُنّۃ رسولہ وإنما تقلدوا ذالک عن أبی بکر محمد بن داوٗد الفقیہ الظاھری، حیث کان یتکلم فیہ، ویرمیہ بالعظائم وبالرفض۔ ولما توفی اجتمع الناس من سائر أقطار بغداد وصلوا علیہ بدارہ ودفن بھا، ومکث الناس یترددون إلٰی قبرہ شھور یصلون علیہ۔‘‘
ترجمہ: … ’’اِمام ابنِ جریرؒ کی وفات اِتوار کی شام مغرب کے وقت شوال ۱۳۱۰ھ کے دو دِن رہنے پر ہوئی، سن مبارک اَسّی سال سے پانچ یا چھ سال متجاوز تھا، اس کے باوجود سر اور داڑھی کے بال بیشتر سیاہ تھے، ان کو گھر کے اِحاطے میں دفن کیا گیا، کیونکہ بعض حنابلہ نے اور ان کے اَحمق وبے وقوف لوگوں نے ان کو دِن کے وقت دفن کرنے سے روک دیا تھا، ان لوگوں نے موصوف پر رَفض کی تہمت لگائی، اور بعض جاہلوں نے اِلحاد کی تہمت دھری، توبہ توبہ! آپ ان تہمتوں سے بَری ہیں، بلکہ آپ اَئمۂ اِسلام میں سے ایک فرد
99
ہیں، جو کتابُ اللہ وسنتِ رسول کے علم وعمل کے جامع تھے، ان عوام نے اس تہمت تراشی میں ابوبکر محمد بن داؤد فقیہ ظاہری کی تقلید کی، یہ صاحب اِمام ابنِ جریرؒ پر تنقید کرتے تھے، گھناؤنے اُمور اور رَفض کی ان پر تہمت لگاتے تھے۔ جب اِمام کا اِنتقال ہوا تو لوگ بغداد کے اَکناف واَطراف سے جمع ہوگئے، ان کی نمازِ جنازہ پڑھ کر انہیں گھر کے اِحاطے میں دفن کردیا، اور لوگ کئی مہینے تک ان کی قبر پر آکر نمازِ جنازہ پڑھتے رہے۔‘‘
اس عبارت میں صاحب البدایہ والنہایہ انہیں رفض کی تہمت سے پاک اور منزّہ قرار دیتے ہیں، اور ایسی تہمت لگانے والوں کو جاہل، احمق، مفسد قرار دیتے ہیں، لیکن آنجناب کس خوبصورتی سے فرماتے ہیں کہ ’’البدایہ والنہایہ میں اس کو رافضی قرار دِیا ہے۔‘‘
اِمام ذہبیؒ نے ’’تذکرۃ الحفاظ‘‘ میں ان کا ذِکر ان الفاظ میں کیا ہے:
’’الْإمام العلم الفرد الحافظ أبو جعفر الطبری أحد العلام وصاحب التصانیف۔‘‘
آگے لکھا ہے:
’’قال أبوبکر الخطیب: کان ابن جریر أحد الأئمۃ، یحکم بقولہ، ویرجع إلٰی رأیہ، لمعرفتہ وفضلہ، جمع من العلوم ما لم یشارکہ فیہ أحد من أھل عصرہ، فکان حافظًا لکتاب اللہ، بصیرًا بالمعانی، فقیھًا فی أحکام القرآن، عالمًا بالسُّنن وطرقھا صحیحھا وسقیمھا، ناسخھا ومنسوخھا، عارفًا بأحوال الصحابۃ والتابعین ۔۔۔۔ إلخ۔‘‘
(ج:۲ ص:۷۱۱)
ترجمہ: … ’’ابوبکر الخطیب فرماتے ہیں کہ اِمام ابنِ جریر اَئمۂ اِسلام میں سے تھے، ان کے قول پر حکم کیا جاتا تھا اور ان کی
100
رائے کی طرف رُجوع کیا جاتا تھا، ان کے علوم ومعارف اور ان کی فضیلت کی وجہ سے۔ انہوں نے اتنے علوم کو جمع کیا تھا جن میں ان کے ہم عصروں میں سے ایک بھی ان کے ساتھ شریک نہیں تھا۔ پس وہ کتابُ اللہ کے حافظ تھے، معانی میں بصیرت رکھتے تھے، اَحکامِ قرآن میں فقیہ تھے، سنن کے، ان کے طرق کے، ان کے صحیح وسقیم اور ان کے ناسخ ومنسوخ کے عالم تھے، صحابہؓ اور تابعینؒ کے اَحوال سے واقف تھے ۔۔۔۔۔الخ۔‘‘
آگے اِمام ذہبیؒ لکھتے ہیں:
’’قال محمد بن علی بن سھل الْإمام سمعت ابن جریر قال: من قال إن أبابکر وعمر لیس بإمامی ھدی یقتل۔‘‘
(ج:۲ ص:۷۱۲)
ترجمہ: … ’’اِمام محمد بن علی بن سہلؒ فرماتے ہیں کہ: میں نے اِمام ابنِ جریرؒ کی زبان سے خود سنا ہے کہ آپ نے فرمایا: جو شخص یہ کہے کہ حضرت ابوبکر وعمر ۔۔۔رضی اللہ عنہما۔۔۔ اِمامِ ہدایت نہیں تھے (وہ واجب القتل ہے) اس کو قتل کیا جائے۔‘‘
کیا آنجناب کے نزدیک اِمام ذہبیؒ کی مندرجہ بالا تحریر کا یہی مفہوم ہے کہ ’’اِمام ذہبی نے اس کو شیعہ لکھا ہے‘‘۔۔۔؟
اور ’’میزان الاعتدال‘‘ میں اِمام ذہبیؒ لکھتے ہیں:
’’اقذع أحمد بن علی السلیمانی الحافظ، فقال: کان یضع للروافض، کذا قال السلیمانی، وھٰذا رجم بالظّنّ الکاذب، بل ابن جریر من کبار أئمۃ الْإسلام المعتمدین، وما ندعی عصمتہٗ من الخطا ولَا یحل لنا ان نؤذیہٗ بالباطل والھویٰ، فإن کلام العلماء
101
بعضھم فی بعض ینبغی أن یتأنی فیہ، ولَا سیما فی مثل إمام کبیر، فلعل السلیمانی أراد الآتی، ولو حلفت ان السلیمانی ما أراد إلّا الآتی بررت، والسلیمانی حافظ متقن، کان یدری ما یخرج من رأسہ، فلا أعتقد أنہ یطعن فی مثل ھٰذا الْإمام بھٰذا الباطل، واللہ أعلم!‘‘
(ج:۳ ص:۴۹۹)
ترجمہ: … ’’اور حافظ احمد بن علی سلیمانی نے یہ کہہ کر نہایت گندگی اُچھالی ہے کہ ’’وہ روافض کے لئے حدیثیں گھڑا کرتے تھے۔‘‘ ہرگز نہیں! بلکہ ابنِ جریر لائقِ اعتماد اکابر اَئمۂ اِسلام میں سے تھے، اور سلیمانی کا یہ قول جھوٹے گمان کے ساتھ اندھیرے میں تیر چلانا ہے، اور ہم یہ دعویٰ نہیں کرتے کہ وہ معصوم عن الخطا تھے، اور ہمارے لئے حلال نہیں کہ باطل اور خواہشِ نفس کے ساتھ ان کو اِیذا پہنچائیں، کیونکہ علماء کی ایک دُوسرے پر تنقید اس لائق ہے کہ اس میں تحقیق اور غور وفکر سے کام لیا جائے، خصوصاً ایسے بڑے اِمام کے حق میں۔ شاید کہ سلیمانی نے ان صاحب کا اِرادہ کیا ہوگا جن کا ذِکر آگے آیا ہے (یعنی محمد بن جریر بن رستم ابوجعفر طبری) اور اگر میں حلف اُٹھاؤں کہ سلیمانی کی مراد یہی شخص ہے جس کا ذِکر آگے آیا ہے، تو میں اپنے حلف میں سچا ہوں گا، کیونکہ سلیمانی حافظ متقن ہیں، وہ جانتے ہیں کہ ان کے سر سے کیا نکل رہا ہے، پس میں یہ عقیدہ نہیں رکھتا کہ سلیمانی اتنے بڑے اِمام پر ایسا باطل اور جھوٹا طعن بھی کرسکتے ہیں۔‘‘
ان تینوں کتابوں کی اصل عبارتیں آپ کے سامنے رکھنے کے بعد میں آنجناب کے بارے میں اس حسنِ ظن پر مجبور ہوں کہ آنجناب نے ان کتابوں کو بچشمِ خود ملاحظہ نہیں
102
فرمایا ہوگا، بلکہ کسی ایسے کذّاب کی نقل پر اِعتماد کرلیا ہوگا جو حافظ ذہبیؒ کے بقول: ’’یہ بھی نہیں جانتا کہ اس کے سر سے کیا نکل رہا ہے‘‘۔
الغرض ’’البدایہ والنہایہ‘‘، ’’تذکرۃ الحفاظ‘‘ اور ’’میزان الاعتدال‘‘ کے حوالے سے یہ کہنا کہ حافظ ابنِ جریرؒ رافضی تھے، بالکل ایسا ہی ہوگا جیسے کوئی شخص یہ کہے کہ قرآنِ کریم میں لکھا ہے کہ حضرت مسیح علیہ السلام ۔۔۔نعوذباللہ۔۔۔ خدا تھے، کیونکہ قرآن میں لکھا ہے: ’’اِنَّ اللہَ ھُوَ الْمَسِیْحُ ابْنُ مَرْیَمَ‘‘ ۔ قرآنِ کریم میں کفار ومشرکین کے بہت سے غلط دعووں کو نقل کرکے ان کی تردید کی گئی ہے، کون عقل مند ہوگا جو ان اَقوالِ مردودہ کو قرآنِ کریم ہی کی طرف منسوب کرنے لگے؟ مجھے تعجب ہوتا ہے کہ لوگ بایں فہم ودانش نہ صرف علمی مسائل میں ٹانگ اَڑاتے ہیں، بلکہ اپنی خوش فہمی کے حوالے سے تمام اکابرِ اُمت کے فہم کو غلط قرار دینے میں کوئی جھجک محسوس نہیں کرتے۔۔۔!
تمنا عمادی محدث العصر۔۔۔؟
آنجناب نے اس ناکارہ کے علم میں اِضافہ کرنے کے لئے یہ بھی تحریر فرمایا ہے کہ:
’’اگر آپ محدث العصر علامہ تمنا عمادی کی کتاب ’’اِمام زہری و اِمام طبری‘‘ کا مطالعہ کرلیں تو آپ کو بہت سے حقائق مل جائیں گے۔‘‘
تنقیح: … آنجناب نے اِمام جریرؒ کو رافضی ثابت کرنے کے لئے ’’البدایہ‘‘، ’’تذکرۃ الحفاظ‘‘ اور ’’میزان الاعتدال‘‘ کے جو حوالے دئیے ہیں، یہ غالباً ’’محدث العصر علامہ تمنا عمادی‘‘ کے گلشنِ اَفکار کی خوشہ چینی ہوگی، آنجناب کے پیش کردہ نمونے سے اندازہ ہوجاتا ہے کہ آپ کے ’’محدث العصر علامہ‘‘ نے اس کتاب میں کس قسم کے حقائق رقم فرمائے ہوں گے؟ کیا اس کے بعد بھی مجھے ان کی کتاب ’’اِمام زہری واِمام طبری‘‘ کے مطالعے سے آنکھیں ٹھنڈی کرنے کی ضرورت باقی رہ جاتی ہے؟ لطف یہ کہ ان ’’علامہ
103
محدث العصر‘‘ کو کتاب کا نام رکھنا بھی نہیں آیا، ایک طرف تو وہ زہری اور طبری پر رافضی ہونے اور رافضیوں کے مطلب کی حدیثیں گھڑنے کی تہمت لگاتے ہیں، اور دُوسری طرف ان دونوں بزرگوں کو ’’اِمام‘‘ بھی کہتے ہیں، العظمۃ ﷲ! جس زمانے میں ایسے لوگ ’’علامہ‘‘ اور ’’محدث العصر‘‘ کا خطاب پاتے ہوں، اس زمانے کا اور زمانے والوں کا خدا حافظ۔۔۔!
آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے اِرشاد: ’’اتخذ الناس رؤسًا جھالًا‘‘ کا کیسا دردناک منظر سامنے آتا ہے۔۔۔؟
قرآنِ کریم اور حیاتِ مسیح علیہ السلام
آنجناب نے میری کتاب کے صفحہ:۲۴۵ سے میری عبارت کا یہ اِقتباس نقل کیا ہے:
’’حضرت عیسیٰ جس عمر میں آسمان پر اُٹھائے گئے تھے، اسی عمر میں نازل ہوں گے، ان کا آسمان پر قیام ان کی صحت اور عمر پر اَثرانداز نہیں، جس طرح اہلِ جنت، جنت میں سدا جوان رہیں گے اور وہاں کی آب وہوا ان کی صحت اور عمر کو متأثر نہیں کرے گی۔‘‘
جیسا کہ اس اِقتباس سے ظاہر ہے میرا مدعا ان لوگوں کے اِستبعاد کو دُور کرنا تھا جو یہ کہتے ہیں کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام اتنی مدّت تک آسمان پر رہنے کے بعد کیا ۔۔۔نعوذباللہ۔۔۔ پیرفرتوت نہیں ہوگئے ہوں گے؟ لیکن آنجناب نے میرے اس مقدمے پر کوئی جرح کرنے کے بجائے اس نکتے پر قرآنِ کریم سے دلائل دینا شروع کردئیے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام آسمان پر گئے ہی نہیں، بلکہ وہ اپنی طبعی عمر زمین پر گزار کر فوت ہوگئے ہیں۔ یوں تو قرآنِ کریم کی کوئی آیت بھی لکھ کر کہہ سکتے ہیں کہ اس سے ثابت ہوا کہ مسیح علیہ السلام فوت ہوگئے، لیکن آنجناب نے جن آیات کو نقل فرمایا ہے، میں بالکل نہیں سمجھ سکا کہ ان سے وفاتِ مسیح علیہ السلام کیسے ثابت ہوئی؟ ذیل میں آپ کی ذِکر کردہ آیات مع آپ کی تقریر کے نقل کرتا ہوں:
104
’’وَیُکَلِّمُ النَّاسَ فِی الْمَھْدِ وَکَھْلًا‘‘
’’محترمی! اللہ تعالیٰ نے عیسیٰ علیہ السلام کی پیدائش سے لے کر مرنے تک اس کی عمر کی تعیین خود کردی ہے، جبکہ آپ نے مندرجہ بالا تأویل پیش کرکے ان آیات کو رَدّ کردیا ہے ’’وَیُکَلِّمُ النَّاسَ فِی الْمَھْدِ وَکَھْلًا وَّمِنَ الصّٰلِحِیْنَ‘‘
ترجمہ: ’’اور وہ لوگوں سے گہوارے میں بھی بات کرے گا اور ادھیڑ عمر میں بھی او روہ ایک مردِ صالح ہوگا۔‘‘
(سورۂ آل عمران آیت نمبر:۶۴)
دُوسری جگہ سورۃ المائدہ آیت نمبر:۱۱۵ میں اِرشادِ اِلٰہی ہے:
’’تُکَلِّمُ النَّاسَ فِی الْمَھْدِ وَکَھْلًا‘‘
ترجمہ: ’’تو گہوارے میں بھی لوگوں سے بات کرتا تھا اور ادھیڑ عمر کو پہنچ کر بھی لوگوں سے بات کرتا تھا۔‘‘
ان آیات سے صاف ظاہر ہے کہ عیسیٰ علیہ السلام کی دُنیاوی زندگانی ادھیڑ عمر تک تھی اور اس کے بعد طبعی موت سے وفات پائی تھی۔‘‘
تنقیح: … آنجناب ذرا غور فرمائیں کہ اس آیت کے کس لفظ کا یہ مفہوم ہے کہ ’’عیسیٰ علیہ السلام کو آسمان پر نہیں اُٹھایا گیا، بلکہ وہ اپنی طبعی عمر گزار کر وفات پاچکے ہیں۔‘‘
اگر آنجناب کو ذرا بھی غور وفکر کی توفیق ہوتی تو آپ سمجھ لیتے کہ ان دونوں آیتوں میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے رفعِ آسمانی کی طرف اِشارہ ہے، شرح اس کی یہ ہے کہ آیتِ شریفہ میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے بارے میں دو خارقِ عادت باتیں ذِکر فرمائی ہیں، ایک ان کا گہوارے میں باتیں کرنا، دُوسرے کہولت کی عمر میں باتیں کرنا۔
105
گہوارے میں باتیں کرنا تو قرآنِ کریم میں بھی مذکور ہے، اور سب لوگوں کو معلوم بھی ہے کہ جب ان کی والدہ ماجدہ ان کو گود میں اُٹھائے قوم کے پاس آئیں، اور لوگوں نے ان کے بارے میں شکوک وشبہات کا اِظہار کیا تو حضرت مریم بتول رضی اللہ عنہا نے اس بچے کی طرف اشارہ کردیا، اور جب لوگوں نے یہ کہا کہ ہم گود کے بچے سے کیسے پوچھیں؟ تو حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے طویل تقریر فرمائی، جو سورۂ مریم کے دُوسرے رُکوع میں اللہ تعالیٰ نے نقل فرمائی ہے، پس یہ گہوارے میں باتیں کرنا خارقِ عادت معجزہ تھا۔
ادھر کہولت کے زمانے میں باتیں کرنا بھی اللہ تعالیٰ نے اسی کے ساتھ ذِکر فرمایا، اور کہولت کا زمانہ خواہ تیس برس کی عمر کے بعد لیا جائے یا پچاس برس کی عمر کے بعد، بہرحال اس عمر میں سبھی باتیں کیا کرتے ہیں، اور اس میں کوئی اَعجوبہ نہیں، کہ اس کو ’’تکلم فی المہد‘‘ کے ساتھ ملاکر بطور خرقِ عادت کے ذِکر کیا جائے، ہاں! حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا آسمان پر اُٹھایا جانا اور ہزاروں سالوں کے بعد نازل ہوکر سنِ کہولت میں لوگوں سے باتیں کرنا واقعی ایک خرقِ عادت معجزہ ہے، اس لئے ہو نہ ہو، اسی نزول کے زمانے کے تکلم کو ’’تکلم فی المہد‘‘ کے ساتھ ملاکر ذِکر کیا گیا ہو، کہ ان کے تکلم کی یہ دونوں حالتیں خارقِ عادت معجزہ ہیں۔ادھر کہولت کے زمانے میں باتیں کرنا بھی اللہ تعالیٰ نے اسی کے ساتھ ذِکر فرمایا، اور کہولت کا زمانہ خواہ تیس برس کی عمر کے بعد لیا جائے یا پچاس برس کی عمر کے بعد، بہرحال اس عمر میں سبھی باتیں کیا کرتے ہیں، اور اس میں کوئی اَعجوبہ نہیں، کہ اس کو ’’تکلم فی المہد‘‘ کے ساتھ ملاکر بطور خرقِ عادت کے ذِکر کیا جائے، ہاں! حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا آسمان پر اُٹھایا جانا اور ہزاروں سالوں کے بعد نازل ہوکر سنِ کہولت میں لوگوں سے باتیں کرنا واقعی ایک خرقِ عادت معجزہ ہے، اس لئے ہو نہ ہو، اسی نزول کے زمانے کے تکلم کو ’’تکلم فی المہد‘‘ کے ساتھ ملاکر ذِکر کیا گیا ہو، کہ ان کے تکلم کی یہ دونوں حالتیں خارقِ عادت معجزہ ہیں۔
بہرحال اس آیتِ شریفہ سے تو بشرطِ فہم یوں نکلتا ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو آسمان پر اُٹھالیا گیا، اور وہ نازل ہونے کے بعد بطورِ خرقِ عادت لوگوں سے باتیں کریں گے، ایک تو اتنے طویل وقفے کے بعد باتیں کرنا بذاتِ خود خرقِ عادت اَعجوبہ ہے، پھر اتنی طویل مدّت کے بعد ان کا سنِ کہولت میں رہنا دُوسرا خرقِ عادت معجزہ ہے، یہی وجہ ہے کہ سخن شناسانِ کلامِ اِلٰہی نے اس آیت کی مراد یہ سمجھی ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام آسمان سے نازل ہونے کے بعد لوگوں سے باتیں کریں گے، اور ان کا یہ باتیں کرنا خارقِ عادت معجزہ ہوگا۔
(دیکھئے تفسیر قرطبی ج:۴ ص:۹۰)
بہرحال اس آیت سے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا وفات پاجانا تو آپ ثابت نہیں کرسکتے، اس کے برعکس اس آیت سے ان کا زِندہ ہونا اور آسمان پر اُٹھایا جانا عقلاً ونقلاً ثابت ہے۔
106
قَدْ خَلَتْ مِنْ قَبْلِہِ الرُّسُلُ
آنجناب لکھتے ہیں:
’’اسی سورت سے آیت نمبر:۷۵ کو بھی ذہن میں رکھیں:
’’مَا الْمَسِیْحُ ابْنُ مَرْیَمَ اِلّا رَسُوْلٌ قَدْ خَلَتْ مِنْ قَبْلِہِ الرُّسُلُ‘‘
ترجمہ: ’’مسیح ابنِ مریم اس کے سوا کچھ نہیں کہ بس ایک رسول تھا، اس سے پہلے اور بھی بہت سے رسول گزرچکے تھے۔‘‘
یعنی وفات پاچکے تھے، گویا عیسیٰ علیہ السلام تک جتنے انبیاء آچکے تھے تو اللہ تعالیٰ نے ان سب کی وفات پانے کی خبر دے دی اور بالکل اسی طرح سورۂ آل عمران آیت نمبر:۱۴۴حضرت محمد تک کے تمام رسولوں کی وفات پانے کی تصدیق کرتی ہے:
’’وَمَا مُحَمَّدٌ اِلّا رَسُوْلٌ قَدْ خَلَتْ مِنْ قَبْلِہِ الرُّسُلُ‘‘
ترجمہ: ’’محمد اس کے سوا کچھ نہیں کہ بس ایک رسول ہیں، ان سے پہلے اور رسول بھی گزرچکے ہیں۔‘‘
اسی آیت میں عیسیٰ کی وفات پانے کی تصدیق اللہ تعالیٰ کی طرف سے موجود ہے، اگر عیسیٰ زندہ ہوتے تو اس کو باقی رسولوں سے مستثنیٰ کردیتے۔‘‘
تنقیح: … یہاں بھی جناب نے وفاتِ مسیح علیہ السلام کے ثبوت میں ایک چھوڑ دو آیتیں نقل کردیں، لیکن آیاتِ شریفہ کا مدعا ذہن شریف کے لئے عنقا ہی رہا۔
اگر آنجناب ’’روایت پرست مولوی‘‘ کی پھبتی اس کم سواد پر چست نہ کریں تو مجھ سے سنئے۔۔۔!
پہلی آیت شریفہ میں دعویٰ ہے کہ حضرت مسیح علیہ السلام خدا نہیں، بلکہ صرف
107
ایک رسول ہیں، اس دعوے کی دلیل یہ اِرشاد فرمائی کہ: ’’ان سے پہلے بھی بہت سے رسول گزرچکے ہیں‘‘ اور آپ کی تشریح کے مطابق ’’یعنی وفات پاچکے ہیں‘‘۔
گویا دعویٰ یہ ہے کہ مسیح علیہ السلام ایک عظیم الشان رسول ہیں۔
اس دعوے کی دلیل کا صغریٰ کبریٰ یہ ہے:
صغریٰ: … اور ان سے پہلے بہت سے رسول گزرچکے ہیں (بقول آپ کے وفات پاچکے ہیں)۔
کبریٰ: … اور جو گزر جائے (بقول آپ کے وفات پاجائے) وہ خدا نہیں ہوتا۔
نتیجہ: … لہٰذا ثابت ہوا کہ مسیح علیہ السلام خدا نہیں۔
اب اس پر غور فرمائیے کہ اگر حضرت مسیح علیہ السلام خود فوت ہوچکے تھے تو ان کی اُلوہیت کو باطل کرنے کے لئے پہلے رسولوں کی وفات کا حوالہ دینے کی کیا ضرورت تھی؟ سیدھی سی بات فرمادی جاتی کہ مسیح علیہ السلام مرچکے ہیں، اور جو مرجائے وہ خدا نہیں ہوسکتا، لہٰذا ثابت ہوا کہ وہ خدا نہیں۔ اس کے بجائے ان کی اُلوہیت کو باطل کرنے کے لئے پہلے انبیاء علیہم السلام کا حوالہ دینا اس اَمر کی دلیل ہے کہ حضرت مسیح علیہ السلام ابھی تک زندہ ہیں، البتہ ان کی موت ممکن ہے، اور جس کو موت ممکن ہو وہ خدا نہیں ہوسکتا۔
آنجناب اس آیت کو وفاتِ مسیح علیہ السلام کی دلیل میں پیش فرماتے ہیں، حالانکہ آیت میں ایک حرف بھی ایسا نہیں جس سے آنجناب کا مدعا ثابت ہو، اس کے برعکس آیت کا سیاق وسباق اور قرآن کا طرزِ اِستدلال خود پکار رہا ہے کہ نزولِ آیت کے وقت حضرت مسیح علیہ السلام فوت شدہ نہیں تھے، بلکہ زِندہ تھے، اس لئے ان کی وفات کے اِمکان کو ثابت کرنے کے لئے دُوسرے رسولوں کا حوالہ دینے کی ضرورت پیش آئی۔
ٹھیک یہی طرزِ اِستدلال دُوسری آیتِ شریفہ: ’’وَمَا مُحَمَّدٌ اِلّا رَسُوْلٌ قَدْ خَلَتْ مِنْ قَبْلِہِ الرُّسُلُ‘‘ میں اِختیار کیا گیا ہے، یہاں بھی دعویٰ یہ ہے کہ حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم خدا نہیں کہ ان کا وفات پاجانا ناممکن ہو، بلکہ صرف ایک رسول ہیں، اور رسول کی
108
وفات ممکن ہے، چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے پہلے بہت سے رسول گزرچکے ہیں، ان کی وفات ناممکن نہیں تھی۔
یہاں بھی اِستدلال میں دُوسرے رسولوں کا حوالہ دیا گیا ہے، کیونکہ نزولِ آیت کے وقت آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اس جہان میں رونق افروز تھے، مگر شیطان نے چونکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کی جھوٹی خبر اُڑادی، جس کو سن کر صحابہ کرامؓ کے ہوش اُڑگئے، اس لئے انہیں تنبیہ فرمائی گئی کہ یہ خبر آج جھوٹی ہے تو کل سچی بھی ہوسکتی ہے، اس آیت سے بھی وفاتِ مسیح علیہ السلام کا سراغ تو دُور ونزدیک کہیں نہ نکلا، نکلا تو یہ نکلا کہ یہ طرزِ اِستدلال صرف اسی شخصیت کے بارے میں کیا جاسکتا ہے جو نزولِ آیت کے وقت زندہ موجود ہو، جو اَلفاظ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں فرمائے گئے، ٹھیک وہی الفاظ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے بارے میں اِستعمال کئے گئے، جس سے اِشاراتِ ربانی کے سمجھنے والوں نے یہی سمجھا کہ عیسیٰ علیہ السلام بھی نزولِ آیت کے وقت زندہ تھے، ورنہ یہ طرزِ اِستدلال صحیح نہ ہوتا۔
حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا رفعِ جسمانی قطعی ویقینی ہے
آنجناب تحریر فرماتے ہیں:
’’صفحہ نمبر:۲۴۷ پر آپ کا جواب ہے ’’قرآنِ کریم میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے رفعِ جسمانی کی تصریح ’’بَلْ رَّفَعَہُ اللہُ اِلَیْہِ‘‘ اور ’’اِنِّیْ مُتَوَفِّیْکَ وَرَافِعُکَ اِلَیَّ‘‘ میں موجود ہے، اور یہ کہنا غلط ہے کہ قرآنِ کریم حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے رفعِ جسمانی کی تصریح نہیں کرتا۔‘‘
محترم مولانا! آپ کے اس جواب سے مجھے اِختلاف ہے، اور وہ یہ کہ آپ ان آیات کا ترجمہ غلط کر رہے ہیں، لہٰذا اگر ناگوارِ خاطر نہ ہو تو آپ کے اس جواب میں تفصیلاً معروضات پیش کروں گا۔‘‘
109
تنقیح: … اس ناکارہ نے اپنے مندرجہ بالا دعوے کی دلیل بھی ساتھ ہی ذکر کردی تھی، آنجناب کا فرض تھا کہ اگر آپ کے خیال میں میرا دعویٰ صحیح نہیں تھا، تو میری ذِکر کردہ دلیل کو توڑ کر دِکھاتے، جناب سے یہ تو نہ ہوسکا، بس بے سوچے سمجھے لکھ دیا کہ: ’’آپ نے ترجمہ غلط کیا ہے‘‘ حالانکہ بندۂ خدا! میں نے آیات کا ترجمہ کب کیا تھا جس کو آپ غلط کہہ رہے ہیں؟ بہرحال میں اپنی پوری عبارت لکھ کر اس کی وضاحت بھی مختصراً کئے دیتا ہوں، کیا بعید ہے کہ اگر آپ سمجھنا چاہیں تو اللہ تعالیٰ فہم کو آسان فرمادیں، میں نے لکھا تھا:
’’قرآنِ کریم میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے رفعِ جسمانی کی تصریح ’’بَلْ رَّفَعَہُ اللہُ اِلَیْہِ‘‘ اور ’’اِنِّیْ مُتَوَفِّیْکَ وَرَافِعُکَ اِلَیَّ‘‘ میں موجود ہے، چنانچہ تمام اَئمۂ تفسیر اس پر متفق ہیں کہ ان آیات میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے رفعِ جسمانی کو ذِکر فرمایا ہے، اور رفعِ جسمانی پر اَحادیثِ متواترہ موجود ہیں، قرآنِ کریم کی آیات کو اَحادیثِ متواترہ اور اُمت کے اِجماعی عقیدے کی روشنی میں دیکھا جائے تو یہ آیات رفعِ جسمانی پر قطعی دلالت کرتی ہیں، اور یہ کہنا غلط ہے کہ قرآنِ کریم حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے رفعِ جسمانی کی تصریح نہیں کرتا۔‘‘
اس کی وضاحت یہ ہے کہ قرآن لفظ ومعنی کا نام ہے، یہ تو ہر مسلم وکافر کو مُسلَّم ہے کہ قرآنِ کریم آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے آج تک قطعی تواتر سے نقل ہوتا چلا آیا ہے، اس لئے اس کا ایک ایک حرف قطعی الثبوت ہے، اب رہا یہ کہ فلاں لفظ کی دلالت اس کے معنی پر قطعی ہے یا نہیں؟ اس کا معیار یہ ہے کہ جس طرح الفاظِ قرآن کا ثبوت متواتر ہے، اسی طرح اگر کسی لفظ کے معنی بھی متواتر ہوں تو یہ متواتر معنی ومفہوم بھی لاریب قطعی ہوگا، اور جس طرح الفاظِ قرآن پر اِیمان لانا فرض ہے، اسی طرح الفاظِ قرآن کے متواتر معنی پر اِیمان لانا فرض ہوگا، اور ان قطعی معنی ومفہوم کو چھوڑ کر کوئی دُوسرا مفہوم گھڑ لینا صحیح نہیں ہوگا۔
مثلاً قرآنِ کریم میں صلوٰۃ وزکوٰۃ اور حج وصیام کے جو اَلفاظ آئے ہیں، ان کے
110
معنی قطعی تواتر سے ثابت ہیں کہ صلوٰۃ سے مراد یہ ہے، زکوٰۃ کا مفہوم یہ ہے، حج اور صیام کے یہ معنی ہیں، جس طرح قرآن کے ان الفاظ پر اِیمان لانا شرطِ اِسلام ہے، اسی طرح ان کے اس متواتر مفہوم کو ماننا بھی شرطِ اِیمان ہے، اگر کوئی شخص یہ دعویٰ کرے کہ میں قرآنِ کریم کے ان الفاظ کے اس مفہوم کو نہیں مانتا، تو وہ منکرِ قرآن تصوّر کیا جائے گا۔
یا مثلاً قرآنِ کریم میں ’’مُحَمَّدٌ رَّسُوْلُ اللہِ وَالَّذِیْنَ مَعَہُ‘‘ کا جملہ ہے، جس کا مفہوم ومصداق قطعی تواتر کے ساتھ متعین ہے، اگر کوئی شخص اس کے مصداق کو بدل کر یہ دعویٰ کرتا ہے کہ ’’مُحَمَّدٌ رَّسُوْلُ اللہِ وَالَّذِیْنَ مَعَہُ‘‘ سے مراد میں ہوں اور میری جماعت ہے، تو وہ متواتر مفہوم کا منکر ہونے کی وجہ سے منکرِ قرآن شمار کیا جائے گا۔
یا مثلاً قرآنِ کریم میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو’’خَاتَمَ النَّبِیّٖنَ‘‘ فرمایا گیا ہے، اور اس کا مفہوم قطعی تواتر سے یہ ثابت ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد کوئی نبی نہیں۔ اگر کوئی شخص اس قطعی متواتر مفہوم کو چھوڑ کر اس کا کوئی اور مفہوم گھڑتا ہے تو وہ بھی آیت ’’خَاتَمَ النَّبِیّٖنَ‘‘ کا منکر سمجھا جائے گا۔
ٹھیک اسی طرح سمجھئے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے بارے میں قرآنِ کریم کے یہ الفاظ: ’’وَرَافِعُکَ اِلَیَّ‘‘ (آل عمران:۵۵) اور ’’بَلْ رَّفَعَہُ اللہُ اِلَیْہِ‘‘ (النساء:۱۵۸) جس طرح قطعی متواتر ہیں، اسی طرح ان کا یہ مفہوم بھی قطعی متواتر ہے کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو بجسدِ عنصری آسمان پر اُٹھالیا۔ اس کے خلاف آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا کوئی اِرشاد، کسی صحابی، کسی تابعی، کسی اِمامِ مجتہد، کسی محدث ومفسر اور کسی مجدّدِ ملت اور عالمِ ربانی کا کوئی قول پیش نہیں کیا جاسکتا۔ پس چونکہ ان دونوں آیتوں کا یہ مفہوم قطعی تواتر سے ثابت ہے کہ ان میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے رفعِ جسمانی آسمانی کی خبر دی گئی ہے، اس لئے ان آیاتِ شریفہ کا یہ مفہوم قطعی ویقینی طور پر مرادِ خداوندی ہے، جو ہر شک وشبہ سے بالاتر ہے، اور جو شخص اس مرادِ خداوندی کو نہیں مانتا، وہ قرآنِ کریم کا منکر ہے اور اللہ تعالیٰ کی گویا تکذیب کرتا ہے، نعوذ باللہ من الغباوۃ والغوایۃ!
اگر میں خانۂ کعبہ میں کھڑا ہوکر یہ حلف اُٹھاؤں کہ ان دونوں آیتوں میں
111
اگر میں خانۂ کعبہ میں کھڑا ہوکر یہ حلف اُٹھاؤں کہ ان دونوں آیتوں میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے ’’رفع الی اللہ‘‘ سے ان کا ’’رفعِ جسمانی الی السماء‘‘ مراد ہے، تو بحمداللہ میں اپنے حلف میں سچا ہوں گا، اور جس کا جی چاہے میں اس نکتے پر اس سے مباہلہ کرنے کو تیار ہوں۔
اس مختصر سی وضاحت کے بعد آپ کی طویل تقریر کا جواب دینے کی ضرورت نہیں رہ جاتی، تاہم اس خیال سے کہ آپ یہ محسوس کریں گے کہ میری تقریر کا جواب نہیں دیا، اس لئے آپ کی پوری تقریر حرفاً حرفاً نقل کرکے اس کے ضروری اجزا پر تبصرہ کرتا جاؤں گا، کیا بعید ہے کہ حق تعالیٰ شانہ‘ آپ کو سمجھنے کی توفیق عطا فرمادیں، ورنہ قیامت کے دن بارگاہِ خداوندی میں یہ تو عرض کرسکوں گا کہ میں نے خیرخواہی کے ساتھ ان کو سمجھانے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی تھی، مگر انہوں نے اپنے خیرخواہوں کو اپنا دُشمن سمجھا،واللہ الموفّق لکل خیر وسعادۃ!
آنجناب تحریر فرماتے ہیں:
’’یہود قتل اور پھانسی کی سزا سخت ترین دُشمن کو دِیا کرتے تھے، وہ جس کو گمنامی، رُسوائی، ذِلت اور بدترین موت مارنا چاہتے اس کو قتل یا پھانسی (صلیب) کی سزا دے کر مارتے۔ جب حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی تبلیغِ اسلام یہودیوں کو ناگوار گزری تو انہوں نے اس وقت کے بادشاہ پیلاطوس کو شکایت کی کہ یہ نوجوان ایک نیا دِین (اسلام) پیش کر رہا ہے، جس سے ہم مغلوب ہوجائیں گے، لہٰذا بادشاہِ وقت کی عدالت نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو اپنا سخت ترین دُشمن گردانتے ہوئے اس کو قتل اور پھانسی کی سزا سنائی۔ سزا سن کر حضرت عیسیٰ ضرور خوفزدہ ہوگئے ہوں گے، لہٰذا اللہ تعالیٰ نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو تسلی دے کر فرمایا:’’اِذْ قَالَ اللہُ یٰعِیْسٰٓی اِنِّیْ مُتَوَفِّیْکَ‘‘ جب اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ: ’’اے عیسیٰ! تجھے موت میں ہی دُوں گا‘‘ یہ کون ہوتے ہیں تجھے مارنے والے۔ ’’وَرَافِعُکَ
112
اِلَیَّ‘‘ ’’اور میں اپنی طرف سے تجھے رفعت عطا کروں گا‘‘۔ یعنی یہ لوگ (یہود) تجھے رُسوائی، گمنامی اور ذِلت کی موت مارنا چاہتے ہیں اور کہتے ہیں کہ عیسیٰ کو لعنتی موت ماردیں گے، لیکن تجھے ان کی ان تمناؤں کی ذرّہ برابر بھی فکر نہیں کرنی چاہئے، یہ آپ کا کچھ نہیں بگاڑ سکتے۔ ’’وَمُطَھِّرُکَ مِنَ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا‘‘ اور جنہوں نے تیری دعوت (اِسلام) کا اِنکار کیا، ان سے تجھے پاک کردُوں گا۔‘‘ ’’وَجَاعِلُ الَّذِیْنَ اتَّبَعُوْکَ فَوْقَ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا اِلٰی یَوْمِ الْقِیٰمَۃِ‘‘ ’’اور تیری پیروی کرنے والوں کو قیامت تک ان لوگوں پر فوقیت دُوں گا جنہوں نے تمہاری دعوت کا اِنکار کیا ہے۔‘‘
(سورۂ آل عمران:۵۵)
تنقیح: … آنجناب نے اس آیتِ شریفہ کی جو تشریح فرمائی ہے، اس کا لبِ لباب یہ ہے کہ یہود، عیسیٰ علیہ السلام کو قتل وصلب کے ذریعے لعنتی موت مارنا چاہتے تھے، اس سے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو اندیشہ ہوا کہ میں کہیں لعنتی موت نہ مارا جاؤں، اس لئے اللہ تعالیٰ نے ان کو تسلی دیتے ہوئے فرمایا کہ تم فکر مت کرو، میں تم کو لعنتی موت سے بچاکر تجھے اپنی طرف رفعت عطا کروں گا۔ خلاصہ یہ کہ آیت میں ’’وَرَافِعُکَ اِلَیَّ‘‘ کی خوشخبری بمقابلہ ’’لعنتی موت‘‘ کے ہے، لہٰذا اس کے معنی رفعت عطا کرنے کے ہوئے۔
مگر ’’لعنتی موت‘‘ کا یہودی مفہوم یہاں مراد لینا چند وجہ سے غلط ہے:
اوّل: … یہ مفہوم کبھی کسی مفسرِ قرآن کو نہیں سوجھا، سوائے مرزا غلام احمد قادیانی کے، معلوم نہیں آنجناب کو مرزا قادیانی سے ذہنی توارد ہوا ہے، یا ان کی ذاتِ شریفہ سے آپ نے اِستفادہ فرمایا ہے۔
دوم: … قرآنِ کریم نے قتل اور ’’رفع الی اللہ‘‘ کے درمیان مقابلہ کرکے قتل کی نفی فرمائی ہے، اور رَفع الی اللہ کا اِثبات فرمایا ہے، جیسا کہ آگے چل کر آپ خود بھی اس کو ذِکر کریں گے، لہٰذا لعنتی موت کا یہ افسانہ اگر کسی یہودی کے ذہن میں ہو بھی تو قرآنِ کریم نے
113
اس کا اِعتبار نہیں فرمایا۔ ایک شخص جو قرآن فہمی میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے اِرشادات اور اکابرِ سلف کے فرمودات کو بھی پائے اِستحقار سے ٹھکراتا ہو، کس قدر حیرت وتعجب کی بات ہے کہ وہ یہودی تصوّرات پر تشریحِ قرآنِ کریم کی بنیاد رکھے۔۔۔!
سوم: … یہودیوں کا تصوّر خواہ کچھ بھی ہو مگر قرآنِ کریم کسی مقبول بندے کی مظلومانہ شہادت کو اس کی ملعونیت کی علامت ہونا تسلیم نہیں کرتا، بلکہ خود ایسا دعویٰ کرنے والوں کو ملعون قرار دیتا ہے۔ حضرت یحییٰ اور حضرت زکریا علیہما السلام کو یہود نے کس طرح ظالمانہ انداز سے شہید کیا؟ مگر کیا وہ ۔۔۔نعوذباللہ۔۔۔ اس مظلومانہ شہادت کی وجہ سے ملعون ہوگئے؟ نہیں! بلکہ ان کے شہید کرنے والوں کو قرآنِ کریم نے ملعون قرار دیا: ’’وَبِقَتْلِھِمُ الْاَنْبِیَآئَ بِغَیْرِ حَقٍّ‘‘ ، لہٰذا اس یہودی تصوّر پر تفسیرِ قرآن کی بنیاد رکھنا سراسر غلط ہے۔ ایسا خیال مرزا قادیانی کو سوجھے، جو دِین اور عقل دونوں سے منسلخ تھا، تو چنداں تعجب خیز نہیں، لیکن آنجناب ایسے صاحبِ عقل ایم اے اسلامیات بھی اگر اس کی تقلید کرنے لگیں تو جائے حیرت ہے۔۔۔!
چہارم: … اور اگر ایک لمحے کے لئے اس ’’لعنتی موت‘‘ کے افسانے کو تسلیم بھی کرلیا جائے اور یہ بھی مان لیا جائے کہ ’’وَرَافِعُکَ اِلَیَّ‘‘ کے معنی ہیں ’’میں تجھے رفعت عطا کروں گا‘‘ تب بھی اس سے ’’رفع الی السماء‘‘ کی نفی نہیں ہوتی، کیونکہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا آسمان پر اُٹھایا جانا بھی تو ان کی بلند مرتبت اور رفعتِ شان کو دوبالا کرتا ہے، لہٰذا آیت کا ترجمہ بگاڑنے سے بھی آپ کا مدعا عنقا ہی رہا، آپ قرآنِ کریم کی وہ آیت پیش کیجئے جو حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے آسمان پر تشریف لے جانے کی نفی کرتی ہو، ’’وَرَافِعُکَ اِلَیَّ‘‘ اور ’’بَلْ رَّفَعَہُ اللہُ اِلَیْہِ‘‘ کا نیا مفہوم اِیجاد کرنے کے باوجود بھی حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی رفعت مرتبت ہی ثابت ہوتی ہے، آسمان پر اُٹھائے جانے کی نفی نہیں ہوتی۔
پنجم: … آنجناب نے ’’وَرَافِعُکَ اِلَیَّ‘‘ کا ترجمہ کیا ہے: ’’اور میں (اپنی طرف سے) تجھے رفعت عطا کروں گا‘‘ آنجناب غور فرمائیں کہ قرآنِ کریم میں ’’اِلَیَّ‘‘ کا
114
لفظ ہے، جس کے معنی ہیں: ’’اپنی طرف اُٹھاؤں گا‘‘ اور آنجناب اس کا ترجمہ کرتے ہیں کہ: ’’میں اپنی طرف سے تجھے رفعت عطا کروں گا‘‘ سوال یہ ہے کہ ’’اِلَیَّ‘‘ کے معنی ’’اپنی طرف سے‘‘ کرنا کس لغت کے مطابق ہے؟ ایک ’’ایم اے اسلامیات‘‘ تو کجا، نحومیر خواں مبتدی طالبِ علم بھی ایسی غلطی نہیں کرسکتا، کیا یہ امر لائقِ افسوس نہیں کہ ایسی بے پروائی سے قرآن کے مفہوم کو بگاڑا جائے۔۔۔؟
ایک اہم ترین نکتہ:
آنجناب نے’’اِنِّیْ مُتَوَفِّیْکَ‘‘ کا ترجمہ کیا ہے ’’تجھے موت میں ہی دُوں گا‘‘ میں آپ کے اس ترجمے کو مُسلَّم رکھتا ہوں، اس پر کوئی جرح نہیں کرتا، لیکن اگر آپ بھی حافظ ذہبیؒ کے بقول: ’’اس بات کو سمجھتے ہیں جو آپ کے سر سے نکل رہی ہے‘‘ (یہ اِمام ذہبیؒ کا فقرہ حافظ سلیمانی ؒ کے بارے میں نقل کرچکا ہوں) تو یہ تسلیم فرمائیں گے کہ اس آیتِ شریفہ میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام سے اللہ تعالیٰ نے یہ وعدہ فرمایا ہے کہ: ’’ان کو طبعی موت دیں گے‘‘۔ اب اگر آپ اس کے قائل ہیں کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام اپنی طبعی موت مرچکے ہیں تو قرآنِ کریم کی وہ آیت تلاوت فرمائیے جس کا مفہوم یہ ہو کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی وفات ہوچکی ہے، اِن شاء اللہ پورے قرآن کو بار بار پڑھنے کے بعد بھی آپ کوئی ایسی آیت نہیں نکال سکتے جس میں یہ تصریح کی گئی ہو کہ ان کی موت واقع ہوچکی ہے۔
آنجناب اپنے دعوے کو اچھی طرح سمجھ لیں، آپ اپنی طویل تقریر کے ذریعے صرف دو باتیں ثابت کرنا چاہتے ہیں، ایک یہ کہ ’’حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو آسمان پر نہیں اُٹھایا گیا۔‘‘ دوم یہ کہ ’’ان کی طبعی موت واقع ہوچکی ہے۔‘‘ اور یہ ناکارہ آنجناب ہی کی تحریر سے ثابت کر رہا ہے کہ آپ ان دونوں دعووں کا ثبوت قرآن سے نہیں دے سکے، اور نہ دے سکتے ہیں، ابھی آپ نے ’’اِنِّیْ مُتَوَفِّیْکَ‘‘ کے ترجمے میں تسلیم کرلیا کہ اس میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام سے وعدہ کیا گیا ہے کہ: ’’اے عیسیٰ! تجھے میں ہی موت دُوں گا‘‘ لہٰذا اس آیت سے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی موت ثابت نہ ہوئی، بلکہ موت دینے کا وعدہ
115
ہی ثابت ہوا، اور ’’رَافِعُکَ اِلَیَّ‘‘ کا آپ نے ترجمہ کیا ہے: ’’اور میں اپنی طرف (سے) تجھے رفعت عطا کروں گا‘‘۔ اور میں بتاچکا ہوں کہ اس سے ان کے آسمان پر اُٹھائے جانے کی نفی نہیں ہوتی، کیونکہ رفع الی السماء خود موجبِ رفعت ہے، نہ کہ اس کی نفی کرنے والا۔ لہٰذا آنجناب کے دونوں دعوے تشنہ ثبوت رہے، فرمائیے! کس آیت سے ثابت ہے کہ عیسیٰ علیہ السلام مرگئے ہیں، اور یہ کہ ان کو آسمان پر نہیں اُٹھایا گیا۔
اس کے بعد آنجناب لکھتے ہیں:
’’یہ تسلی بالکل اسی طرح ہے جیسی اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ اور اس کے بھائی حضرت ہارون کو فرعون کی طرف دعوتِ اسلام دینے کے لئے دی تھی، ملاحظہ ہو سورۂ طہ آیت نمبر:۴۵:
’’قَالَا رَبَّنَآ اِنَّنَا نَخَافُ اَنْ یَّفْرُطَ عَلَیْنَا اَوْ اَنْ یَّطْغٰی‘‘
ترجمہ: ’’پروردگار! ہمیں اندیشہ ہے کہ فرعون ہم پر زیادتی کرے گا یا ہم پر دفعۃً حملہ کرے گا۔‘‘
’’قَالَ لَا تَخَافَا اِنَّنِیْ مَعَکُمَا اَسْمَعُ وَاَرٰی‘‘
ترجمہ: ’’ڈرو مت، میں تمہارے ساتھ ہوں، سب کچھ سن رہا ہوں، اور دیکھ رہا ہوں۔‘‘
اور اسی طرح سورۃ المائدۃ آیت نمبر۶۷ میں اللہ تعالیٰ اپنے محبوب پیغمبر حضرت محمد کو بھی تسلی دے رہا ہے:
’’یٰٓـاَیُّھَا الرَّسُوْلُ بَلِّغْ مَآ اُنْزِلَ اِلَیْکَ مِنْ رَّبِّکَ وَاِنْ لَّمْ تَفْعَلْ فَمَا بَلَّغْتَ رِسَالَتَہٗ وَاللہُ یَعْصِمُکَ مِنَ النَّاسِ اِنَّ اللہَ لَا یَھْدِی الْقَوْمَ الْکٰفِرِیْنَ‘‘
ترجمہ: ’’اے پیغمبر (صلی اللہ علیہ وسلم) جو کچھ تمہارے رَبّ کی طرف سے تم پر نازل کیا گیا ہے وہ لوگوں تک پہنچادو، اگر تم
116
نے ایسا نہ کیا تو اس کی پیغمبری کا حق ادا نہ کیا، اللہ تم کو لوگوں کے شر سے بچانے والا ہے، یقین رکھو کہ وہ کافروں کو (تمہارے مقابلے میں) ہرگز کامیابی نصیب نہیں کرے گا۔‘‘
یعنی لوگوں کے شر سے بالکل نہ ڈرنا کیونکہ پوری انسانیت آپ کا کچھ نقصان نہیں کرسکتی، میں (اللہ) آپ کے ساتھ ہوں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم دِینِ اسلام کی تبلیغ کرتے جائیں۔ اسی طرح اللہ تعالیٰ نے عیسیٰ کو تسلی دی تھی کہ یہود آپ کا کچھ نہیں بگاڑ سکتے۔‘‘
تنقیح: … حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو اس موقع پر تسلی دئیے جانے کا مضمون مُسلَّم، مگر اس کو جناب کے مدعا سے کوئی تعلق نہیں، اس لئے یہ عبارت محض طول لاطائل ہے۔
آگے آنجناب تحریر فرماتے ہیں:
’’وَمَکَرُوْا وَمَکَرَ اللہُ وَاللہُ خَیْرُ الْمَاکِرِیْنَ‘‘
ترجمہ: ’’پھر بنی اسرائیل نے (مسیح کے خلاف) موت کے خفیہ تدبیریں کرنے لگے تو جواب میں اللہ تعالیٰ نے بھی (مسیح کو بچانے کی) خفیہ تدبیر کی اور ایسی تدبیروں میں اللہ تعالیٰ سب سے بڑھ کر ہے۔‘‘
(سورۂ آل عمران آیت نمبر:۵۴)
اللہ تعالیٰ نے چونکہ عیسیٰ کو بتایا تھا کہ: ’’وَمُطَھِّرُکَ مِنَ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا‘‘ یعنی جن لوگوں نے تیرا اِنکار کیا ہے (ان کی معیت سے اور ان کے گندے ماحول میں ان کے ساتھ رہنے سے) تجھے پاک کردوں گا، لہٰذا سورۂ مؤمنون آیت نمبر:۵۰ میں اِرشادِ اِلٰہی ہے:
’’وَجَعَلْنَا ابْنَ مَرْیَمَ وَاُمَّہٗ اٰیـَۃً وَّاٰوَیْنَاھُمَا اِلٰی رَبْوَۃٍ ذَاتِ قَرَارٍ وَّمَعِیْنٍ‘‘
ترجمہ: ’’اور ابنِ مریم اور اس کی ماں کو ہم نے ایک نشان
117
بنایا اور ان کو ایک سطحِ مرتفع پر رکھا جو اِطمینان کی جگہ تھی اور چشمے اس میں جاری تھے۔‘‘
ربوہ اس بلند زمین کو کہتے ہیں جو ہموار ہو، اور اپنے گرد وپیش کے علاقے سے اُونچی ہو۔ ذات قرار سے مراد یہ ہے کہ اس جگہ ضرورت کی سب چیزیں پائی جاتی ہوں اور رہنے والا وہاں بہ فراغت زندگی بسر کرسکتا ہو، اور معین سے مراد بہتا ہوا پانی یا جاری چشمہ۔ اسی آیت کے تحت اللہ تعالیٰ نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو بنی اسرائیل سے بچالیا، ایک روایت یہ بھی ہے کہ حضرت عیسیٰ اس واقعے کے بعد بارہ سال تک زندہ رہے اور پھر طبعی موت سے وفات پائی۔‘‘
تنقیح: … یہ ’’ربوہ‘‘ کا نکتہ بھی مرزا غلام احمد قادیانی کے دِماغ کی اِیجاد ہے، اور آنجناب کو قادیانی سے ذہنی توارد ہوا ہے، یا جناب نے اس کے خرمن کی خوشہ چینی کی ہے، مگر یہ سارا مضمون ’’وَمَکَرُوْا وَمَکَرَ اللہُ، وَاللہُ خَیْرُ الْمَاکِرِیْنَ‘‘ کی آیتِ شریفہ سے غیرمتعلق ہے۔
سورۃ المؤمنون (آیت نمبر:۵۰) میں جو ’’رَبْوَۃٍ ذَاتَ قَرَارٍ وَّمَعِیْنٍ‘‘ میں ان کو ٹھہرانے کا ذِکر ہے، یہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی پیدائش کے بعد کا ذِکر ہے، چونکہ بادشاہِ وقت اور یہودی لوگ ان کے پہلے ہی دُشمن تھے، اس لئے ’’بیت لحم‘‘ میں جب حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی پیدائش ہوئی تو وہ ان کے درپے آزار ہوئے، ان کی والدہ پہلے ان کو مصر لے گئیں، اور پھر ہیراڈوس اوّل کے مرنے کے بعد انہیں ’’ناصرہ‘‘ شہر میں لے آئیں، اسی کی نسبت سے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو ’’مسیحِ ناصری‘‘ یا اہلِ کتاب کی زبان میں ’’یسوع ناصری‘‘ کہا جاتا تھا۔ الغرض سورۃ المؤمنون کی آیتِ شریفہ میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام اور ان کی والدہ کو جو سرسبز وشاداب جگہ میں ٹھہرانے کا ذِکر ہے، یہ ان کے بچپن قبل اَزنبوّت کا واقعہ ہے، یہی وجہ ہے کہ اس میں ماں اور بیٹے دونوں کا ذِکر فرمایا گیا ہے، واقعہ صلیب کے بعد سے اس کا جوڑ ملانا، قرآنِ کریم کی ایسی تحریف ہے جو صرف مرزا قادیانی کو
118
سوجھی۔ اگر واقعہ صلیب سے اس کا تعلق ہوتا تو اللہ تعالیٰ یہ نہ فرماتے کہ میں یہود کے مکر سے بچاکر ’’تجھ کو اپنی طرف اُٹھالوں گا‘‘ بلکہ یہ فرماتے کہ ان کے مکر سے بچاکر تجھ کو اور تیری والدہ کو ’’ربوہ‘‘ میں پناہ دُوں گا۔ کچھ تو غور فرمائیے کہ حق تعالیٰ کا یہ فرمانا کہ ’’میں تجھے اپنی طرف اُٹھانے والے ہوں‘‘ اس میں دُور ونزدیک کی کوئی دلالت اس پر ہے کہ ’’تجھے ربوہ میں ٹھہراؤں گا‘‘؟
اور آنجناب نے آخر میں جو لکھا کہ ’’ایک روایت یہ بھی ہے کہ حضرت عیسیٰ اس واقعے کے بعد بارہ سال تک زندہ رہے، اور پھر طبعی موت سے وفات پائی‘‘ اس پر اس کے سوا کیا عرض کروں کہ:
وہ شیفتہ کہ دُھوم تھی حضرت کے زُہد کی!
میں کیا کہوں کہ رات مجھے کس کے گھر ملے؟
کجا یہ ’’شورا شوری‘‘ کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے اِرشاداتِ مقدسہ اور اُمت کے اِجماع ومتواتر عقیدہ اور اَسلافِ اُمت کے اِرشادات کو بھی آنجناب کی بارگاہِ معلی میں باریابی نہیں، بلکہ روایت پرستی کہہ کر پائے اِستحقار سے ٹھکرادیتے ہیں، اور کجا ’’یہ بے تمکینی‘‘ کہ ایسی روایت کا ذِکر فرماتے ہیں جس کا نہ سر، نہ پاؤں، نہ کتاب کا حوالہ، نہ راوی کا پتا نشان، نہ یہ معلوم کہ یہ بات کس نے کہی؟ کس نے نقل کی؟ مستند ہے؟ یا بے سند؟
کیا آنجناب کی بے بسی ودرماندگی کا یہ تماشا لائقِ صد عبرت نہیں۔۔۔؟
بَلْ رَّفَعَہُ اللہُ اِلَیْہِ
آنجناب آگے لکھتے ہیں:
’’یہودیوں نے جس شخص کو پھانسی پر چڑھایا وہ اس کو عیسیٰ ابن مریم ہی سمجھ رہے تھے، حالانکہ وہ آپ کی ذاتِ مقدس نہ تھی بلکہ کوئی اور شخص تھا، اس شخص کی مصلوبیت کے بعد انہوں نے یہ خبر پھیلادی کہ ہم نے عیسیٰ بن مریم کو قتل کیا اور اس کو صلیب کی لعنتی
119
موت مارا، ملاحظہ ہو سورۃ النساء آیت نمبر:۱۵۷ اور ۱۵۸:
’’وَقَوْلِھِمْ اِنَّا قَتَلْنَا الْمَسِیْحَ عِیْسَی ابْنَ مَرْیَمَ رَسُوْلَ اللہِ‘‘
ترجمہ: ’’اور انہوں نے کہا کہ ہم نے مسیح بن مریم رسول اللہ کو قتل کردیا ہے۔‘‘
اور یہ بات وہ لوگ فخریہ انداز میں کہا کرتے تھے کہ ہم نے اس کو ذِلت اور رُسوائی کی موت مارا ہے اور قیامت تک اس کا کوئی نام لیوا نہ ہوگا‘‘ تو اللہ تعالیٰ نے ان کے اس قول کی تردید کرتے ہوئے فرمایا:
’’وَمَا قَتَلُوْہُ وَمَا صَلَبُوْہُ وَلٰـکِنْ شُبِّہَ لَھُمْ‘‘
ترجمہ: ’’عیسیٰ کو انہوں نے نہ تو قتل کیا اور نہ صلیب چڑھایا، بلکہ معاملہ ان کے لئے مشتبہ کردیا گیا۔‘‘
’’وَاِنَّ الَّذِیْنَ اخْتَلَفُوْا فِیْہِ لَفِیْ شَکٍّ مِّنْہُ، مَا لَھُمْ بِہٖ مِنْ عِلْمٍ اِلّا اتِّبَاعَ الظَّنِّ‘‘
ترجمہ: ’’اور جن لوگوں نے اس کے بارے میں اِختلاف کیا ہے وہ بھی دراصل شک میں مبتلا ہیں، ان کے پاس اس معاملے میں کوئی علم نہیں ہے محض گمان ہی کی پیروی ہے۔‘‘
’’وَمَا قَتَلُوْہُ یَقِیْنًا‘‘ ’’اور انہوں نے مسیح کو یقینا قتل نہیں کیا ہے‘‘، ’’بَلْ رَّفَعَہُ اللہُ اِلَیْہِ‘‘ ’’بلکہ اللہ تعالیٰ نے اس کو اپنی طرف سے رفعت عطا کی۔‘‘
یعنی یہودیوں نے عیسیٰ کو ذلیل کرنا چاہا تھا مگر اللہ تعالیٰ ان کے برخلاف فیصلہ کرکے عیسیٰ کو ان کے چنگل سے بچاکر اس کو بلند درجہ عطا کیا،’’وَکَانَ اللہُ عَزِیْزًا حَکِیْمًا‘‘ ’’اور اللہ تعالیٰ ہی
120
زبردست طاقت رکھنے والا اور حکمت والا ہے‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ اتنی زیادہ قوّت اور حکمت والا ہے کہ بنی اسرائیل کی اِنتظامی قوّت اور اِقتدار کے باوجود اس نے ’’عیسیٰ‘‘ کو ان کے بیچ سے اُٹھاکر ’’ایک محفوظ اور سرسبز وشاداب جگہ پر پہنچادیا۔‘‘
تنقیح: … آپ نے تحریر فرمایا ہے کہ: ’’اللہ تعالیٰ نے عیسیٰ علیہ السلام کو بنی اسرائیل کے بیچ سے اُٹھالیا۔‘‘ اس سے معلوم ہوا کہ آیت میں رفع سے رفعِ جسمانی مراد ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ان کے جسم کو بنی اسرائیل کے درمیان میں سے اُٹھالیا۔
رہا یہ کہ اُٹھاکر کہاں لے گئے؟ اس کا جواب خود قرآنِ کریم میں موجود ہے: ’’بَلْ رَّفَعَہُ اللہُ اِلَیْہِ‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو ان کے درمیان میں سے اُٹھاکر اپنی طرف لے گئے، اور ’’اپنی طرف لے جانا‘‘ یہی آسمان پر لے جانا ہے، جیسا کہ قرآنِ کریم کے محاورات اس پر شاہد ہیں، اور وہ جناب کے علم میں بھی ہیں، مثلاً
’’اِلَیْہِ یَصْعَدُ الْکَلِمُ الطَّیِّبُ‘‘
’’تَعْرُجُ الْمَلٰٓئِکَۃُ وَالرُّوْحُ اِلَیْہِ‘‘
’’ثُمَّ یَعْرُجُ اِلَیْہِ‘‘
لہٰذا اس کے بعد آنجناب کا یہ لکھنا کہ:
’’آسمان پر نہیں اُٹھایا بلکہ زمین پر ہی بنی اسرائیل (یہود) سے عیسیٰ کو اَمن دے دیا جیسا کہ سورۃ المؤمنون کی آیت کے ترجمے میں گزشتہ صفحات میں گزرچکا۔‘‘
نہ صرف قرآنی اِصطلاحات کے خلاف ہے، بلکہ خود آپ کے ترجمے کے اور آپ کے ضمیر ووجدان کی شہادت کے بھی خلاف ہے۔ بار بار غور فرمائیے کہ ’’رفع الی اللہ‘‘ کے معنی آپ کی تقریر کے بعد کیا بنتے ہیں؟ اور سورۃ المؤمنون کی آیت کے بارے میں عرض کرچکا ہوں کہ وہ پہلے زمانے کے متعلق ہے، واقعہ صلیب کے بعد سے متعلق نہیں، اور اس کے بعد آنجناب کا اکابرِ اُمت پر یہ کہہ کر برسنا محض آنجناب کی زبردستی ہے:
121
’’ہمارے روایت پرست مولوی چونکہ مفسرِ اوّل کے اندھے مقلد ہیں لہٰذا انہوں نے کئی آیات کے ترجمے عجیب وغریب انداز سے کئے ہیں۔‘‘
کیونکہ حضراتِ مفسرین نے جو تشریحات کی ہیں، یا جو تراجم فرمائے ہیں، انہوں نے مرادِ خداوندی کی ترجمانی کی ہے، ان کا قصور اگر ہے تو صرف یہ ہے کہ انہوں نے دورِ حاضر کے نیچریوں اور آزاد لوگوں کی طرح قرآنِ کریم کے الفاظ اپنی خواہش کے مطابق ڈھالنے کی سعیٔ مذموم نہیں فرمائی۔
اور آنجناب اپنی ’’اوّل المفسرین کی اندھی تقلید‘‘ والی پھبتی پر بہت خوش ہوں گے، لیکن آنجناب ان کے حق میں ایسی شہادت زیب رقم فرما گئے جو اِن شاء اللہ فردائے قیامت میں ان کے لئے نجات کی دستاویز ہوگی، کیونکہ قرآنِ کریم کے ’’اوّل المفسرین‘‘ خود آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم صاحبِ قرآن ہیں، اور الحمدللہ! اس ناکارہ کو بھی اور میرے اکابر کو بھی اور ہر مسلمان کو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی ’’اندھی تقلید‘‘ پر فخر ہے، کسی آیتِ شریفہ کی جو تشریح آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمادی، ہم بلاشبہ اس پر اِیمان لاتے ہیں، خواہ وہ ہماری عقل وفہم سے کتنی ہی بالاتر بات کیوں نہ ہو۔ لہٰذا میں آنجناب سے اِلتجا کرتا ہوں کہ قیامت کے دن اس رُوسیاہ کے حق میں ضرور شہادت دیجئے کہ یہ اوّل المفسرین صلی اللہ علیہ وسلم کا اندھا مقلد تھا، اس شہادت سے بڑھ کر میرے لئے کوئی اِعزاز نہ ہوگا۔ اور یہ ناکارہ اِخلاص کے ساتھ دُعا کرتا ہے کہ آنجناب کو بھی اللہ تعالیٰ اوّل المفسرین صلی اللہ علیہ وسلم کی ’’اندھی تقلید‘‘ کی سعادت نصیب فرمائیں۔
توفی اور رَفع کے معنی
اس کے بعد آنجناب نے توفی اور رَفع کے معانی پر اپنے خیالاتِ زرّیں زیب رقم فرمائے ہیں، چنانچہ ارشاد ہے:
’’سرِدست میں ’’توفی‘‘ اور ’’رفع‘‘ پر گفتگو کروں گا،
122
ہمارے جن مفسرین نے ’’اِنِّیْ مُتَوَفِّیْکَ‘‘ میں لفظ ’’توفی‘‘ سے عام موت مراد نہیں لیا ہے وہ سراسر غلطی پر ہے۔ ملاحظہ ہو سورۃ النحل کی آیت نمبر۲۸: ’’اَلَّذِیْنَ تَتَوَفّٰھُمُ الْمَلٰٓئِکَۃُ ظَالِمِیْ اَنْفُسِھِمْ‘‘ ، ’’جن لوگوں نے اپنی جانوں پر ظلم کیا ہے (یعنی کافر) تو جب فرشتے ان کی رُوح قبض کرتے ہیں‘‘۔ اس آیت میں تو سب نے توفی کا معنی موت ہی کیا ہے۔ اسی سورۃ کی آیت نمبر۳۲ میں اِرشاد ہے: ’’اَلَّذِیْنَ تَتَوَفّٰھُمُ الْمَلٰٓئِکَۃُ طَیِّبِیْنَ یَقُوْلُوْنَ سَلٰمٌعَلَیْکُمُ ادْخُلُوا الْجَنَّۃَ بِمَا کُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ‘‘ ’’جب نیک لوگوں کی رُوحیں فرشتے قبض کرتے ہیں تو کہتے ہیں ’’سلام ہو تم پر، جاؤ جنت میں اپنے نیک اعمال کے بدلے‘‘ اور بھی مختلف مقامات پر لفظ توفی موت ہی کے معنوں میں مستعمل ہے جیسا کہ نمازِ جنازہ کی دُعا میں ’’ومن توفّیتہ منّا فتوفّہ علی الْإیمان‘‘ ’’جس کو تو ہم میں سے وفات دے تو اسے اِیمان پر وفات دیجیو‘‘۔
اب اگر روایت پرستوں کا ترجمہ کرے تو نمازِ جنازہ کی دُعا کے مذکورہ فقرے کا ترجمہ کچھ یوں ہوگا: ’’جس کو تو ہم میں سے آسمان پر چڑھاتے ہو تو اس کو اِیمان کے ساتھ چڑھایا کرو‘‘۔ لیکن اب بھی اگر آپ اس توفی کا معنی عام موت نہیں کرتے تو میں آپ کو صرف پانچ(۵) اُمہات المؤمنین کے اسمائے مبارکہ بمعہ سنِ متوفی لکھ دیتا ہوں، آپ ان کی سن وفات مجھے لکھ کر بھیج دیں:
۱- اُمّ المؤمنین حضرت حفصہؓ متوفی سنہ ۵۴ھ
۲- اُمّ المؤمنین حضرت جویریہؓ متوفی سنہ۵۶ھ
۳- اُمّ المؤمنین حضرت عائشہؓ متوفی سنہ۵۸ھ
۴- اُمّ المؤمنین حضرت اُمِّ سلمہؓ متوفی سنہ۵۹ھ
123
۵- اُمّ المؤمنین حضرت میمونہؓ متوفی سنہ۶۱ھ۔‘‘
تنقیح: … آپ نے ’’یٰعِیْسٰٓی اِنِّیْ مُتَوَفِّیْکَ‘‘ ا ترجمہ کیا: ’’اے عیسیٰ! تجھے موت میں ہی دُوں گا‘‘ میں نے آپ کے ترجمے پر کوئی جرح نہیں کی، آپ کے ترجمے کو مُسلَّم رکھا، اس کے باوجود آپ اس سے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی موت کو ثابت نہیں کرسکے، جیسا کہ پہلے عرض کرچکا ہوں، اس کے بعد آپ کا’’اِنِّیْ مُتَوَفِّیْکَ‘‘ کے معنی پر بحث کرنا لغو ولایعنی نہیں تو اور کیا ہے؟ آپ کو اس طول لاطائل کی ضرورت کیا تھی؟ آپ ’’توفی‘‘ کے معنی موت ہی کے کریں، مگر اس سے عیسیٰ علیہ السلام کی موت ثابت نہیں ہوتی، موت کا وعدہ ثابت ہوتا ہے، وہ کون سی آیت ہے جس میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے بارے میں کہا گیا ہو کہ وہ مرچکے ہیں۔۔۔؟
۲: … ’’توفی‘‘ کا لفظ وفا سے ہے، اس کے تمام مشتقات میں پورا کرنے، پورا دینے، اور پورا لینے کے معنی پائے جاتے ہیں، ’’توفی‘‘ کے معنی ’’أخذ الشیء وافیا‘‘ تو تمام اہلِ لغت نے کئے ہیں، اس لئے اگر کسی نے ’’مُتَوَفِّیْکَ‘‘ کے معنی کئے ہیں: ’’تجھے پورا پورا وصول کرنے والا ہوں‘‘، ’’تجھے پورا پورا اپنے قبضہ وتحویل میں لینے والا ہوں‘‘ تو اس نے کیا جرم کیا ہے کہ آپ اس کا مذاق اُڑاتے ہیں۔۔۔؟
۳: … موت، توفی کے مجازی معنی ہیں، چنانچہ اہلِ لغت نے اس کی بھی تصریح کی ہے، اور یہ درحقیقت بطور کنایہ کے اِستعمال ہوئے ہیں، آپ کے خیال میں اگر یہی مجازی معنی راجح ہیں تو کوئی مضائقہ نہیں، یہی وجہ ہے کہ میں نے آپ کے ذِکر کردہ ترجمے پر کوئی جرح نہیں کی، لیکن آپ کا یہ اِصرار کہ مجازی معنی ہی مراد لئے جائیں، حقیقی معنی لینے کی اجازت ہی نہیں، بڑی غیرعلمی بات ہے، کم از کم کسی ایسے عالم سے جو لغتِ عربی اور اس کے اِستعمالات سے واقف ہو، اس کی توقع نہیں رکھنی چاہئے، ہاں! ایک عامی آدمی جو توفی کے موت کے سوا دُوسرے معنی جانتا ہی نہیں، اس کو البتہ اس کے جہل کی وجہ سے معذور سمجھنا چاہئے۔
۴: … اگر ایک لفظ کے ایک معنی کسی جگہ اِستعمال کئے جائیں تو اس سے یہ لازم
124
نہیں آتا کہ ہر جگہ اسی معنی کے اِستعمال پر اِصرار کیا جائے؟ اہلِ لغت نے ’’ضرب‘‘ کے معنی پچاس ساٹھ لکھے ہیں، وہ شخص بے وقوف کہلائے گا جو ہم سے یہ مطالبہ کرے کہ چونکہ تم نے ضرب کے معنی ’’مارنا‘‘ کے کئے ہیں، اس لئے ’’ضَرَبَ اللہُ مَثَلًا‘‘ کا ترجمہ بھی ’’اللہ نے مثال ماری‘‘ کرو۔ آپ نے جو مثالیں پیش فرمائی ہیں، وہ اسی قاعدے کے تحت آتی ہیں، توفی کے معنی مجازاً موت کے بھی آتے ہیں، لیکن اس سے یہ لازم نہیں آتا کہ اس لفظ کے دُوسرے معنی نہیں۔ (مردے کو متوفی کہتے ہیں، یعنی قبض شدہ اور عورت کو متوفاۃ کہا جاتا ہے، آپ نے اُمہات المؤمنین رضی اللہ عنہن کے نام لکھ لکھ کر آگے جو ’’متوفی، متوفی‘‘ تحریر فرمایا ہے، یہ صحیح نہیں)۔
رفع کے معنی
آگے اِرشاد ہے:
’’اسی طرح ہمارے مترجمین نے لفظ ’’رفع‘‘ کا معنی ’’آسمان پر اُٹھانا‘‘ کیا ہے، جو کہ سراسر غلط ہے، صحیح معنی ہے: ’’رفعت، بلند درجہ، اُونچا مقام‘‘، ملاحظہ ہو سورۃ البقرۃ آیت نمبر۲۵۳ ’’مِنْھُمْ مَّنْ کَلَّمَ اللہُ وَرَفَعَ بَعْضَھُمْ دَرَجٰتٍ‘‘ ’’ان میں کوئی ایسا تھا جس سے اللہ خود ہم کلام ہوا، کسی کو اس نے دُوسری حیثیتوں سے بلند درجے دئیے۔‘‘ سورۃ الانعام آیت نمبر۱۶۵ میں اِرشادِ اِلٰہی ہے:’’وَھُوَ الَّذِیْ جَعَلَکُمْ خَلٰٓئِفَ الْاَرْضِ وَرَفَعَ بَعْضَکُمْ فَوْقَ بَعْضٍ دَرَجٰتٍ‘‘ ’’اور وہی ہے جس نے تم کو زمین کا خلیفہ بنایا اور تم میں سے بعض کو بعض کے مقابلے میں زیادہ بلند درجات عطا کئے‘‘۔ ان آیات کے علاوہ سورۂ یوسف آیت نمبر۱۰۰، سورۂ رَعد آیت نمبر۲ اور سورۂ نازعات میں آیت نمبر۲۸ میں لفظ ’’رفع‘‘ موجود ہے، اور ان ہی معنوں میں
125
مستعمل ہے جو میں نے تحریر کئے ہیں۔ ان کے علاوہ قرآن میں پانچ مقامات پر ’’رَفَعْنَا‘‘ کا لفظ آیا ہوا ہے، ملاحظہ ہو سورۃ البقرۃ آیت نمبر۶۳ اور ۹۳، سورۃ النساء آیت نمبر۱۵۴، سورۃ الزخرف آیت نمبر۳۲ اور سورہ الم نشرح آیت نمبر۴۔ یہ بھی تقریباً ان ہی معنوں میں مستعمل ہے۔ سورۃ الرحمن میں اِرشادِ اِلٰہی ہے آیت نمبر۷: ’’وَالسَّمَآئَ رَفَعَھَا‘‘ ’’اور آسمان کو بلند کیا‘‘، سورۃ الغاشیہ آیت نمبر۱۸ میں ہے: ’’وَاِلَی السَّمَآئِ کَیْفَ رُفِعَتْ‘‘ ’’اور آسمان (کو نہیں دیکھتے کہ) کس طرح بلند کیا گیا ہے‘‘ اور بھی مختلف مقامات پر یہ لفظ بلند مقام، بلند درجات اور بلند شان کے معنوں میں مستعمل ہے اور عین ان ہی معنی میں سورۂ آل عمران آیت نمبر۵۵ میں’’وَرَافِعُکَ اِلَیَّ‘‘ ہے، جہاں اللہ تعالیٰ حضرت عیسیٰ کو تسلی دے رہا ہے کہ میں تمہیں رفعت عطا کرکے تمہاری شان اتنی بلند کروں گا کہ قیامت تک تیرا چرچا رہے گا، تم گمنام نہیں ہوگے۔ اور یہ حقیقت بھی ہے کہ آج اگر دُنیا کے تمام مسلمانوں اور عیسائیوں کی تعداد کی دُوسرے مذاہب کی تعداد سے موازنہ کیا جائے تو مسلمانوں اور عیسائیوں کی تعداد زیادہ ہوگی اور یہ دونوں مذاہب عیسیٰ کے معتقد ہیں خواہ کوئی کسی حیثیت سے مانتا ہو، قرآنِ کریم کی کسی بھی آیت سے یہ ثابت نہیں ہوتا کہ حضرت عیسیٰ آسمان پر اُٹھائے گئے تھے اور ہنوز زِندہ موجود ہیں، اور قربِ قیامت میں تشریف لائیں گے۔‘‘
تنقیح: … اُوپر ’’توفی‘‘ کے بارے میں جو کچھ عرض کرچکا ہوں، اس کو یہاں بھی ملحوظ رکھا جائے۔ ’’رفع‘‘ کے معنی اُٹھانے کے ہیں، جس کو اِبتدائی عربی خواں بھی جانتا ہے، اگر اس کا تعلق اَجسام سے ہو تو رفعِ جسمانی مراد ہوگا، مراتب ودرجات سے ہو تو رفعِ منزلت ودرجات مراد ہوگا۔
126
حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے بارے میں جو فرمایا: ’’وَرَافِعُکَ اِلَیَّ‘‘ اور’’بَلْ رَّفَعَہُ اللہُ اِلَیْہِ‘‘ اس کے بارے میں آپ خود تسلیم کرچکے ہیں کہ اللہ تعالیٰ عزیز وحکیم نے ان کو یہودیوں کے درمیان میں سے اُٹھاکر بلند وبالا مقام میں پہنچادیا، جس سے واضح ہے کہ ان دونوں آیتوں میں رفع کا تعلق حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی ذاتِ مقدسہ سے ہے، معلوم ہوا کہ رفعِ جسمانی مراد ہے، اور اس کا صلہ جو ’’اِلَیَّ‘‘ اور’’اِلَیْہِ‘‘ ذِکر فرمایا، اس کے بارے میں بتاچکا ہوں کہ قرآنی محاورے میں اس سے ’’رفع الی السماء‘‘ مراد ہوتا ہے، لہٰذا حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا رفع جسمانی تھا، اور یہ آسمان کی طرف ہوا، یہ دونوں باتیں تو خود ان دونوں آیتوں سے ثابت ہوگئیں، اور یہ بھی بتاچکا ہوں کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے رفع الی السماء میں ان کی تعظیم وتشریف بھی بدرجۂ کمال پائی جاتی ہے، اس لئے رفعِ درجات کا مفہوم بھی اس میں داخل ہوگیا۔
علاوہ ازیں سورۃ النساء کی آیتِ شریفہ میں قتل اور رفع کے درمیان میں تقابل کرکے اوّل کی نفی اور دُوسرے کا اِثبات فرمایا ہے، چنانچہ اِرشاد ہے: ’’وَمَا قَتَلُوْہُ یَقِیْنًام بَلْ رَّفَعَہُ اللہُ اِلَیْہِ‘‘ اور اس تقابل کا مقتضی یہ ہے کہ جس چیز سے نفیٔ قتل کا تعلق ہو، اسی چیز سے اِثباتِ رفع کا تعلق ہو، اور سب جانتے ہیں کہ قتل کا تعلق جسم سے ہے، رُوح سے نہیں، پس رفع الی اللہ کا تعلق بھی ان کے جسم سے ہوگا، صرف رُوح سے یا درجات سے نہیں، یعنی حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی صرف رُوح آسمان پر نہیں اُٹھائی گئی بلکہ ان کو زِندہ سلامت اُٹھالیا گیا۔
اور یہ بھی ذِکر کرچکا ہوں کہ تمام اُمتِ مسلمہ کے اکابر واَصاغر کا اس پر اِتفاق ہے کہ ان دونوں آیاتِ شریفہ’’رَافِعُکَ اِلَیَّ‘‘ اور ’’بَلْ رَّفَعَہُ اللہُ اِلَیْہِ‘‘ یں رفعِ جسمانی مراد ہے، گویا قرآنِ کریم کے الفاظ بھی رفعِ جسمانی میں نص ہیں، آیت کا سیاق وسباق بھی اسی کا اِعلان کر رہا ہے، اور اُمت کا اِجماعی عقیدہ بھی اس کی قطعیت پر مہرِ تصدیق ثبت کر رہا ہے، اس کے بعد اس دلالتِ قطعیہ کے تسلیم کرنے میں کیا عذر رہ جاتا ہے۔۔۔؟
آگے اِرشاد ہے:
127
’’البتہ عیسائیوں کے عقیدے کے مطابق بائبل (Bible) کے صفحہ نمبر:۱۴۹ میں لکھا ہوا ہے کہ عیسیٰ آسمان پر زِندہ موجود ہیں اور وہ دوبارہ دُنیا میں تشریف لائیں گے۔ اس خط کے ساتھ اس صفحے کی نقل منسلک ہے، آپ بھی پڑھئے اور پھر خود فیصلہ کرلیں کہ عقیدۂ نزولِ مسیح میں ہمارے روایت پرست مولوی اور عیسائی ایک برابر ہے یا نہیں؟ مجھے بذاتِ خود ایک دن ایک عیسائی نے کہا تھا کہ: ’’تم مسلمان لوگ عیسیٰ کو فوت شدہ مانتے ہو، جبکہ ہم عیسائی اس کو آسمان پر زندہ موجود مانتے ہیں، آپ کے قرآنِ کریم میں عیسیٰ کے بارے میں آسمان پر زِندہ موجود رہنے اور دوبارہ آسمان سے دُنیا میں تشریف لانے کا ذِکر کہیں نہیں ہے، اس لئے ہم آپ کے قرآن کو نہیں مانتے ہیں، جبکہ ہمارے بائبل میں صاف صاف لکھا ہوا ہے کہ عیسیٰ آسمان پر زِندہ موجود ہیں اور دُنیا میں دوبارہ تشریف لاکر عیسائیت کو عام کریں گے۔‘‘ ایک اور بائبل میں یہ بھی لکھا ہوا ہے کہ ’’عیسیٰ دُنیا میں دوبارہ ۲۰۰۰ء میں تشریف لائیں گے‘‘ البتہ بائبل میں مہدی کا ذِکر نہیں ہے۔‘‘
تنقیح: … آپ نے بائبل کا جو صفحہ بھیجا ہے، اس کی زحمت کی ضرورت نہیں، یہ حوالہ مجھے پہلے سے معلوم ہے، عیسائیوں کے دونوں فرقوں (کیتھولک او رپروٹسٹنٹ) کے مطبوعہ نسخے میرے پاس موجود ہیں، یہ حوالہ ’’عہد جدید‘‘ کی پانچویں کتاب ’’رسولوں کے اعمال‘‘ کا ہے، بہرحال آپ نے اچھا کیا کہ عیسائیوں کا عقیدہ بھیج کر مجھے ممنون فرمایا۔
اب توجہ سے میری معروض بھی سن لیجئے! اور دادِ اِنصاف دیجئے! عیسائیوں کا یہ عقیدہ نزولِ قرآن کے وقت ہوگا کہ ’’مسیح علیہ السلام کو آسمان پر اُٹھایا گیا‘‘ اب پورے قرآن کو پڑھئے! قرآنِ کریم میں وہ کونسی آیت ہے جس میں عیسائیوں کے اس عقیدے کی صراحۃً تردید کی ہو؟
128
یہودیوں کا دعویٰ قرآنِ کریم نے نقل کیا: ’’ہم نے مسیح بن مریم رسول اللہ کو قتل کردیا‘‘ قرآنِ کریم نے فوراً ان کے غلط دعوے کی تردید کی:’’وَمَا قَتَلُوْہُ وَمَا صَلَبُوْہُ ۔۔۔۔ وَمَا قَتَلُوْہُ یَقِیْنًا‘‘ کہ ان کا دعویٰ غلط اور قطعاً غلط ہے، انہوں نے ہرگز ان کو قتل نہیں کیا۔
اسی طرح اگر عیسائیوں کا یہ دعویٰ غلط ہوتا کہ ’’عیسیٰ علیہ السلام کو آسمان پر اُٹھالیا گیا‘‘ تو قرآنِ کریم اس کی بھی صریح تردید کرتا کہ ’’وما رفع إلی السماء بل مات فی الأرض‘‘ (کہ ان کو آسمان پر نہیں اُٹھایا گیا، بلکہ وہ زمین پر مرچکے ہیں)۔ اس کے بجائے ہم دیکھتے ہیں کہ قرآنِ کریم نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے رفعِ آسمانی کو ذِکر فرمایا ہے: ’’بَلْ رَّفَعَہُ اللہُ اِلَیْہِ‘‘ (بلکہ اللہ تعالیٰ نے ان کو اپنی طرف اُٹھالیا ہے) اس سے معلوم ہوا کہ قرآنِ کریم کا بھی وہی عقیدہ ہے جو بقول آپ کے روایت پرست مولویوں کا عقیدہ ہے، اگر آپ قرآنِ کریم کے اس عقیدے سے متفق نہیں تو اس میں روایت پرست مولویوں کا کیا قصور ہے۔۔۔؟
ایک دفعہ پھر سمجھ لیجئے! عیسائیوں کا عقیدہ ہے: ’’مسیح کو آسمان پر اُٹھایا گیا‘‘ اور قرآنِ کریم کا عقیدہ ہے کہ: ’’یہود نے ہرگز ان کو قتل نہیں کیا، بلکہ اللہ تعالیٰ نے ان کو اپنی طرف اُٹھالیا‘‘ بتائیے! مسیح علیہ السلام کے اُٹھائے جانے کے بارے میں عیسائیوں کے قول اور قرآنِ کریم کے قول میں کیا فرق ہے؟ اگر عیسائیوں کا یہ نظریہ غلط ہوتا تو قرآنِ کریم ’’بَلْ رَّفَعَہُ اللہُ اِلَیْہِ‘‘ کے بجائے یہ کہتا کہ: ’’ما رفع إلی السماء‘‘ یہ ایک ایسی کھلی بات ہے جو معمولی عقل کا آدمی بھی سمجھ سکتا ہے۔
باقی آپ کے عیسائی دوست کا یہ کہنا کہ: ’’قرآن عیسیٰ علیہ السلام کے رفع ونزول کا کوئی ذِکر نہیں کرتا۔‘‘ اس سے معلوم ہوا کہ وہ عیسائی قرآنِ کریم کو آپ سے زیادہ نہیں سمجھتا، اور اس کا یہ کہنا کہ: ’’وہ دُنیا میں دوبارہ تشریف لاکر عیسائیت کو عام کردیں گے‘‘ اس سے معلوم ہوا کہ وہ اپنی کتاب کو آپ سے زیادہ نہیں سمجھتا، کیونکہ بائبل کی رُو سے عام عیسائیوں کا عقیدہ ہے کہ: ’’وہ قیامت کے دن خدا کی حیثیت سے نازل ہوکر دُنیا کا اِنصاف کریں گے‘‘ عیسائیوں کا یہ عقیدہ غلط ہے۔
129
مسلمان قیامت سے پہلے نزولِ عیسیٰ علیہ السلام کے قائل ہیں، قیامت کے دن نہیں، اور قیامت کے دن بطور گواہ کے پیش ہوں گے، نہ کہ اَحکم الحاکمین کی حیثیت سے لوگوں کے اعمال کا بدلہ دیں گے۔
آنجناب نے یہ جو لکھا ہے کہ: ’’ایک اور بائبل میں لکھا ہے کہ۲۰۰۰ء میں عیسیٰ علیہ السلام تشریف لائیں گے۔‘‘
میرے علم میں ایسی کوئی اِنجیل نہیں جس میں یہ لکھا ہو، لوگوں کے قیافے اور اندازے ہوسکتے ہیں، چونکہ عیسیٰ علیہ السلام کا نزول قربِ قیامت میں ہوگا، اور قیامت کا علم اللہ تعالیٰ کے سوا کسی کو نہیں، اس لئے ان اندازوں اور قیافوں پر اِعتماد نہیں کیا جاسکتا۔
وَاِنْ مِّنْ اَھْلِ الْکِتٰبِ اِلّا لَیُؤْمِنَنَّ بِہٖ قَبْلَ مَوْتِہٖ
آنجناب تحریر فرماتے ہیں:
’’صفحہ نمبر:۲۴۷ پر آپ نے سورۃ النساء کی آیت نمبر۱۵۹ کا ترجمہ مشکوک کیا ہے کہ ’’اور نہیں کوئی اہلِ کتاب میں سے، مگر ضرور اِیمان لائے گا اس پر اس کی موت سے پہلے اور قیامت کے دن وہ ہوگا ان پر گواہ۔‘‘ لفظی ترجمہ تو آپ نے صحیح کیا ہے، لیکن اس آیت میں کون مخاطب ہے؟ اس کی آپ نے تشریح غلط کی ہے، آیت ملاحظہ ہو:
(وَاِنْ مِّنْ اَھْلِ الْکِتٰبِ اِلّا لَیُؤْمِنَنَّ بِہٖ قَبْلَ مَوْتِہٖ وَیَوْمَ الْقِیٰمَۃِ یَکُوْنُ عَلَیْھِمْ شَھِیْدًا)
ترجمہ: ’’اور اہلِ کتاب میں سے ان کا ہر فرد اپنی موت سے پہلے اس پر (وما قتلوہ وما صلبوہ کے عقیدے پر) اِیمان لائے گا اور قیامت کے دن ان (جھوٹے) اہلِ کتاب کے خلاف سرکاری گواہ ہوگا۔‘‘
130
یہ ہے اس آیت کا اصل ترجمہ۔ سورۃ البقرۃ آیت نمبر۱۲۱ میں اِرشادِ اِلٰہی ہے:
’’اَلَّذِیْنَ اٰتَیْنٰـھُمُ الْکِتٰبَ یَتْلُوْنَہٗ حَقَّ تِلَاوَتِہٖٓ اُولٰٓئِکَ یُؤْمِنُوْنَ بِہٖ۔‘‘
ترجمہ: ’’ہم نے جن لوگوں کو کتاب دی ہے اور وہ تلاوت کرنے کی طرح اس کی تلاوت کرتے ہیں، وہی لوگ اس علم پر جو تمہارے پاس تمہارے رَبّ کی طرف سے آیا ہے اِیمان لائیں گے۔‘‘ یا یہ کہا جائے کہ: ’’جن لوگوں کو ہم نے کتاب دی ہے اور وہ اس کی تلاوت اس طرح کرتے ہیں جیسا کہ تلاوت کا حق ہے تو وہی لوگ اس دی ہوئی کتاب پر اِیمان رکھتے ہیں۔‘‘ یعنی جو اپنے آپ کو اہلِ کتاب کہتے ہیں، اگر وہ اپنی کتاب کو اس طرح تلاوت کرتے ہیں جو تلاوت کا حق ہے، اور سمجھ بوجھ کر تلاوت کرتے ہیں اور اس کے مطابق عمل کرتے ہیں، اس کی آیتوں میں تحریف نہیں کرتے ہیں، اپنی خواہش کے مطابق مطلب نہیں نکالتے بلکہ اپنی خواہش کو اپنی کتاب کے اَحکام کے تابع رکھتے ہیں تو وہی لوگ دراصل اس اللہ کی دی ہوئی کتاب پر اِیمان رکھتے ہیں، اس لئے درحقیقت اہلِ کتاب وہی لوگ ہیں۔ صرف اپنے کو یہودی کہہ دینے سے اور حضرت موسیٰ اور توراۃ پر اِیمان کا محض زبانی دعویٰ رکھنے سے کوئی شخص صحیح معنوں میں اہلِ کتاب اور حضرت موسیٰ پر اِیمان رکھنے والا نہیں ہوسکتا۔ اسی طرح فقط اپنے کو نصاریٰ کہنے اور حضرت عیسیٰ اور اِنجیل پر اِیمان کا دعویٰ ظاہر کرنے سے کوئی واقعی اہلِ کتاب اور حضرت عیسیٰ اور اِنجیل پر اِیمان رکھنے والا نہیں ہوسکتا۔ غرض اہلِ کتاب ہونے کے لئے یہ شرط ہے کہ وہ جس کتاب پر اِیمان رکھنے کا
131
مدعی ہو، اس کتاب کی تلاوت بھی اسی طرح کیا کرتا ہو جو تلاوت کا حق ہے، اور جب تک اس کتاب کی ہدایتوں پر اِیمان نہ رکھے اور اس کے مطابق عمل نہ کرے، اپنی خواہشوں کو اس کتاب کی تعلیمات کے تابع نہ رکھے، ضد اور ہٹ دھرمی سے بچتا نہ رہے، اس وقت تک وہ تلاوت کا حق کبھی بھی اَدا نہیں کرسکتا، اور جب ایک یہودی توراۃ کی تلاوت اس طرح کرے گا کہ تلاوت کا حق ادا ہو تو وہ لامحالہ حضرت عیسیٰ اور اِنجیل پر بھی ضرور اِیمان لے آئے گا اور پھر اس کو اس پر بھی اِیمان لانا پڑے گا کہ ’’وَمَا قَتَلُوْہُ وَمَا صَلَبُوْہُ وَلٰـکِنْ شُبِّہَ لَھُمْ بَلْ رَّفَعَہُ اللہُ اِلَیْہِ‘‘ ۔ اور جب کوئی عیسائی اِنجیل کی تلاوت اس طرح کرے گا کہ اس کی تلاوت کا حق ادا ہو تو وہ مجبور ہوگا کہ حضرت محمدؐ اور قرآن پر اِیمان لے آئے اور حضرت عیسیٰ کے سولی دئیے جانے کے غلط عقیدے سے توبہ کرتے ہوئے وہ حضرت عیسیٰ کے اللہ یا اللہ کے بیٹے ہونے سے بھی توبہ کرے اور ان کو اللہ کا بندہ اور رسول سمجھنے پر مجبور ہو، لہٰذا مذکورہ آیت کا یہی مفہوم ہے کہ جو واقعی اہلِ کتاب ہیں یعنی اپنی کتاب کی تلاوت کا حق ادا کرتے ہیں اور اپنی کتاب پر واقعی اِیمان رکھتے ہیں تو ان کا اِیمان ان کو مجبور کرے گا کہ وہ مرنے سے پہلے حضرت عیسیٰ کے قتل وتصلیب کے عقیدے سے توبہ کرلیں اور ان کے قتل نہ کئے جانے اور سولی نہ دئیے جانے پر اِیمان لے آئیں اور اس پر اِیمان رکھنے لگیں جس طرح اللہ تعالیٰ نے اگلے انبیائؑ کو اپنی طرف اُٹھالیا، یعنی اللہ تعالیٰ نے ان کو وفات دی اور انہوں نے وفات پائی۔ ’’رفع اللہ الیہ‘‘ تو موت کے معنی میں ایسا مشہور ومعروف ہے کہ اُردو میں بھی ہم بولتے ہیں کہ فلانے کو اللہ تعالیٰ نے اُٹھالیا، یعنی وہ مرگیا۔ ’’وَیَوْمَ القِیٰمَۃِ یَکُوْنُ عَلَیْھِمْ
132
شَھِیْدًا‘‘ اور ان سچے اہلِ کتاب میں کا ہر فرد جو اپنے مرنے سے پہلے حضرت عیسیٰ کے قتل نہ کئے جانے اور سولی نہ دئیے جانے پر اِیمان لے آئے گا تو وہ قیامت کے دن ان جھوٹے اہلِ کتاب قتل وصلیب کے دعوے داروں کے خلاف شہادت دے گا کہ یہ لوگ جھوٹے تھے، ہم پر تو ہماری موت سے پہلے کتاب اللہ کی تلاوت کی بدولت یہ بات ظاہر ہوچکی تھی اور ہم نے مرنے سے پہلے یہ اِیمان لایا تھا کہ حضرت عیسیٰ کو نہ تو قتل کیا گیا تھا اور نہ سولی دی گئی تھی۔‘‘
تنقیح: … آپ کی اس طویل تقریر کا خلاصہ یہ ہے:
۱: … اہلِ کتاب سے تمام اہلِ کتاب مراد نہیں، بلکہ وہی اہلِ کتاب مراد ہیں جو اپنی کتاب کی صحیح تلاوت کرتے اور اس کے نتیجے میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر اِیمان لائے ہیں، خلاصہ یہ ہے کہ جو اہلِ کتاب مسلمان ہوگئے وہ مراد ہیں۔
۲: …’’لَیُؤْمِنَنَّ بِہٖ‘‘ میں ضمیر عیسیٰ علیہ السلام کی طرف نہیں پھرتی، بلکہ اس عقیدے کی طرف پھرتی ہے جو اس سے پہلے بیان ہوا، یعنی ’’یہودیوں نے ان کو (حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو) ہرگز قتل نہیں کیا، بلکہ اللہ تعالیٰ نے ان کو اپنی طرف اُٹھالیا‘‘،’’وَمَا قَتَلُوْہُ یَقِیْنًام بَلْ رَّفَعَہُ اللہُ اِلَیْہِ‘‘۔
۳: … ’’قَبْلَ مَوْتِہٖ‘‘ کی ضمیر لوٹتی ہے سچے اہلِ کتاب کی طرف جو مسلمان ہوگئے تھے، اور جو اہلِ کتاب سے مراد لئے گئے۔
۴: …’’یَوْمَ الْقِیٰمَۃِ یَکُوْنُ عَلَیْھِمْ شَھِیْدًا‘‘ میں ’’یَکُوْنُ‘‘ کی ضمیر انہی سچے اہلِ کتاب کی طرف لوٹتی ہے جو مسلمان ہوگئے تھے اور ’’عَلَیْھِمْ‘‘ کی ضمیر لوٹتی ہے جھوٹے اہلِ کتاب کی طرف۔
ان چار مقدمات کو تسلیم کرنے کے بعد آیت کا ترجمہ یہ بنتا ہے:
’’اور سچے اہلِ کتاب کا ہر فرد اپنی موت سے پہلے اس عقیدے(وَمَا قَتَلُوْہُ وَمَا صَلَبُوْہُ) پر اِیمان لائے گا، اور قیامت
133
کے دن ان (جھوٹے) اہلِ کتاب کے خلاف سرکاری گواہ ہوگا۔‘‘
اب ایک طرف میرا ترجمہ رکھئے (جس کے بارے میں آپ نے تسلیم کیا ہے کہ ’’لفظی ترجمہ تو آپ نے صحیح کیا ہے، اس کی آپ نے تشریح غلط کی ہے‘‘ حالانکہ میری کتاب اُٹھاکر دیکھ لیجئے، میں نے تشریح کی ہی نہیں) اور دُوسری طرف آپ کا ترجمہ رکھیئے، جو ان چار مقدمات پر مبنی ہے، اور پھر اِنصاف کیجئے کہ کس کا ترجمہ صحیح ہے۔۔۔؟
اب آپ کے ان چار مقدمات پر گفتگو کرتا ہوں۔
اوّل: … زیرِ بحث آیت سے پہلے اس رُکوع کے شروع سے ’’یَسْاَلُکَ اَھْلُ الْکِتٰبِ‘‘ (آیت:۱۵۳) سے اہلِ کتاب کے بارے میں گفتگو شروع کی گئی ہے جو زیرِ بحث آیت:۱۵۹ کے بعد تک جاری ہے، کیا اس آیت کے سیاق وسباق میں کوئی قرینہ ایسا ہے کہ یہاں اہلِ کتاب کے تمام اَفراد مراد نہیں، بلکہ خاص اَفراد مراد ہیں؟ قرآنِ کریم تو اہلِ کتاب کے ایک ایک فرد کے اِیمان لانے کی پیش گوئی کرتا ہے، کیا اپنی خواہش اور رائے سے اس کو خاص اَفراد پر محمول کرنا کلامِ اِلٰہی کو اپنی رائے پر ڈھالنا نہیں؟ متکلم کے وہ الفاظ جو اپنے عموم میں نصِ قطعی ہوں، ان کو خصوص پر محمول کرنا شرعاً وعقلاً ناروا ہے، اس لئے آنجناب نے جو مفہوم آیت کا گھڑا، قطعاً مرادِ اِلٰہی کے خلاف ہے۔
اگر آنجناب کے دِل میں کلام اللہ کے خلاف مراد ڈھالنے کا ذرا بھی اندیشہ ہے، اور محاسبۂ آخرت کا خوف ہے تو اس تحریفِ مرادِ اِلٰہی سے توبہ لازم ہے۔
میرے محترم! اہلِ کتاب میں سے جو منصف حضرات آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر اِیمان لے آئے ۔۔۔جن کا ذکر آپ کی ذِکر کردہ آیت:’’یَتْلُوْنَ حَقَّ تِلَاوَتِہٖ‘‘ میں کیا گیا ہے۔۔۔ وہ مسلمان کہلاتے ہیں، ان کے مسلمان ہوجانے کے بعد ان کو اہلِ کتاب نہیں کہا جاتا، جبکہ اللہ تعالیٰ نے زیرِ بحث آیت (النساء:۱۵۹) میں مسلمانوں کے اِیمان لانے کا ذِکر نہیں کیا، بلکہ ’’اہلِ کتاب کے ہر فرد‘‘ کے اِیمان لانے کا ذِکر کیا ہے، اس لئے اس آیت میں ’’اِنْ مِّنْ اَھْلِ الْکِتٰبِ‘‘ کی تفسیر ’’اہلِ کتاب میں سے جو اِیمان لائے تھے‘‘ کے ساتھ کرنا کسی طرح دُرست نہیں۔
134
دوم: … اُوپر سے تذکرہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا چلا آرہا ہے، اور ساری ضمیریں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی طرف لوٹ رہی ہیں، ملاحظہ فرمائیے:
’’حالانکہ انہوں نے نہ ان کو قتل کیا اور نہ ان کو سولی پر چڑھایا، لیکن ان کو اِشتباہ ہوگیا، اور جو لوگ ان کے بارے میں اِختلاف کرتے ہیں وہ غلط خیال میں ہیں، ان کے پاس اس اَمر پر کوئی دلیل نہیں، بجز تخمینی باتوں پر عمل کرنے کے اور انہوں نے ان کو یقینی بات ہے کہ قتل نہیں کیا، بلکہ ان کو خدائے تعالیٰ نے اپنی طرف اُٹھالیا، اور اللہ تعالیٰ بڑے زبردست حکمت والے ہیں۔‘‘
(النساء:۱۵۷، ۱۵۸)
اس کے بعد آیت:۱۵۹ہے، جس کا آپ نے ترجمہ کیا:
’’وَاِنْ مِّنْ اَھْلِ الْکِتٰبِ اِلّا لَیُؤْمِنَنَّ بِہٖ قَبْلَ مَوْتِہٖ وَیَوْمَ الْقِیٰمَۃِ یَکُوْنُ عَلَیْھِمْ شَھِیْدًا‘‘
عقلِ سلیم کہتی ہے کہ جس شخصیت کے بارے میں گفتگو چل رہی ہے، جس کی طرف گزشتہ آیتوں کی ساری ضمیریں لوٹ رہی ہیں، یعنی عیسیٰ علیہ السلام، ’’لَیُؤْمِنَنَّ بِہٖ‘‘ میں ’’ہ‘‘ ضمیر اسی کی طرف پھرنی چاہئے، چنانچہ جمہور مفسرین نے اس کا مرجع حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو قرار دِیا ہے۔ اگر آنجناب کی بات صحیح ہوتی تو ’’لَیُؤْمِنَنَّ بِہٖ‘‘ کے بجائے ’’لَیُؤْمِنَنَّ بِذٰلِکَ‘‘ فرمایا جاتا، حالانکہ اُوپر آیت:۱۵۷ میں فرمایا گیا: ’’مَا لَھُمْ بِہٖ مِنْ عِلْمٍ‘‘۔
یہاں اِمام الہند شاہ ولی اللہ محدث دہلویؒ اور ان کے صاحب زادہ گرامی شاہ عبدالقادر محدث دہلویؒ کا ترجمہ نقل کرتا ہوں، شاہ ولی اللہ محدث دہلویؒ کا ترجمہ ہے:
’’ونباشد ہیچ کس از اہلِ کتاب البتہ ایمان آورد بہ عیسیٰ پیش از مردن عیسیٰ، وروزِ قیامت باشد عیسیٰ گواہ بر ایشاں۔‘‘
اور شاہ عبدالقادر محدث دہلویؒ کا ترجمہ یہ ہے:
135
’’اور جو فرقہ ہے کتاب والوں میں سو اس پر اِیمان لاویں گے اس کی موت سے پہلے، قیامت کے دن ہوگا ان کا بتانے والا۔‘‘
شاہ ولی اللہ محدث دہلویؒ اس کے فائدے میں لکھتے ہیں:
’’مترجم گوید: یعنی یہودی کہ حاضر شوند نزولِ عیسیٰ را، البتہ اِیمان آرند۔‘‘
اور شاہ عبدالقادرؒ لکھتے ہیں:
’’حضرت عیسیٰ ابھی زندہ ہیں، جب یہود میں دجال پیدا ہوگا تب اس جہان آکر اس کو ماریں گے، اور یہود ونصاریٰ سب ان پر اِیمان لاویں گے کہ یہ نہ مرے تھے۔‘‘
الغرض جمہور مفسرین اس پر متفق ہیں کہ ’’لَیُؤْمِنَنَّ بِہٖ‘‘ کی ’’ہ‘‘ ضمیر حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی طرف لوٹتی ہے، اور ذوقِ سلیم بھی اسی کو چاہتا ہے۔
سوم: … ’’قَبْلَ مَوْتِہٖ‘‘ کی ضمیر میں دو اِحتمال ہیں، ایک یہ کہ یہ بھی حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی طرف لوٹائی جائے، تاکہ اِنتشار ضمائر لازم نہ آئے، اس وقت معنی یہ ہوں گے کہ تمام اہلِ کتاب حضرت عیسیٰ علیہ السلام پر ان کی وفات سے پہلے اِیمان لائیں گے، اور دُوسرا اِحتمال یہ ہے کہ یہ کتابی کی طرف راجع ہو، یہ دونوں اِحتمال صحیح ہیں، اور ان دونوں کے درمیان تعارض بھی نہیں، مگر پہلا اِحتمال راجح ہے، جیسا کہ شاہ ولی اللہ محدث دہلویؒ کے فارسی ترجمے میں اور حضرت شاہ عبدالقادر محدث دہلویؒ کے اُردو ترجمے میں گزرا، اور اس اِحتمال کے راجح ہونے کی وجوہ شیخ الاسلام ابنِ تیمیہؒ کے حوالے سے پہلے گزرچکی ہیں۔
لیکن آنجناب نے اس ضمیر کو ’’سچے اہلِ کتاب‘‘ کی طرف راجع کیا ہے، مگر یہ اَزبس غلط ہے، اس لئے کہ ’’لَیُؤْمِنَنَّ بِہٖ‘‘ مستقبل کا صیغہ ہے، اور یہ ’’سچے اہلِ کتاب‘‘ کے بارے میں صادق نہیں آسکتا ہے، کیونکہ یہ حضرات تو قرآنِ کریم کی تصدیق کرتے ہوئے اس عقیدے پر فی الحال اِیمان رکھتے ہیں، جو فی الحال اِیمان رکھتا ہو اس کے بارے میں یہ کہنا صحیح نہیں کہ وہ مستقبل میں اِیمان لائے گا۔ اگر ’’مؤمن اہلِ کتاب‘‘ کی طرف یہ
136
ضمیر لوٹتی تو ’’لَیُؤْمِنَنَّ بِہٖ‘‘ کہنے کے بجائے ’’یُؤْمِن بِہٖ‘‘ کہا جاتا نہ کہ ’’لَیُؤْمِنَنَّ بِہٖ‘‘ ، جیسا کہ دُوسری جگہ پر فرمایا ہے:’’وَمِنْ اَھْلِ الْکِتٰبِ مَنْ یُؤْمِنُ بِہٖ‘‘۔
چہارم: … عامہ مفسرین نے ’’وَیَوْمَ الْقِیٰمَۃِ یَکُوْنُ عَلَیْھِمْ شَھِیْدًا‘‘ میں ’’یَکُوْنُ‘‘ کی ضمیر حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی طرف راجع کی ہے، یعنی عیسیٰ علیہ السلام قیامت کے دن اہلِ کتاب پر گواہ ہوں گے، جیسا کہ دیگر انبیائے کرام علیہم السلام اپنی اُمتوں پر گواہ ہوں گے۔ لیکن آنجناب نے ’’سچے اہلِ کتاب‘‘ کی طرف اس ضمیر کو راجع کیا ہے، اور یہ خیال نہیں فرمایا کہ ایک ہی چیز کی طرف دو ضمیریں کیسے لوٹ سکتی ہیں؟ ’’یَکُوْنُ‘‘ کی ضمیر بھی ’’اہلِ کتاب‘‘ ہی کی طرف لوٹتی ہے اور ’’عَلَیْھِمْ‘‘ کی ضمیر بھی ’’اہلِ کتاب‘‘ہی کی طرف لوٹتی ہے، ایک جگہ ’’اہلِ کتاب‘‘ سے ’’سچے اہلِ کتاب‘‘ مراد ہیں، دُوسری جگہ عین اسی لفظ سے جھوٹے اہلِ کتاب مراد ہیں۔ ایسی تشریح کرنا ایک اَعجوبہ ہے۔۔۔!
مندرجہ بالا تفصیل سے معلوم ہوا کہ ایک آیت کے ترجمے میں آپ نے چار غلطیاں کی ہیں، اگر ایسی ایک غلطی بھی کی جاتی تو یہ ترجمہ لائقِ تسلیم نہ ہوتا، چہ جائیکہ ایک ایک لفظ میں غلطی۔ لیکن دِلچسپ بات یہ ہے کہ آپ کو ان غلطیوں پر ندامت نہیں، بلکہ فخر ہے، چنانچہ آنجناب فخریہ انداز میں لکھتے ہیں:
’’محترمی! قرآنِ کریم سے افضل کوئی کتاب نہیں ہے، اور اس مقدس کتاب کو اللہ تعالیٰ نے سمجھنے اور نصیحت کے لئے بہت ہی آسان بنادیا ہے جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے سورۃ القمر میں آیت نمبر:۱۷، ۲۲، ۳۲ اور ۴۰ پر فرمایا ہے:
’’وَلَقَدْ یَسَّرْنَا الْقُرْاٰنَ لِلذِّکْرِ فَھَلْ مِنْ مُّدَّکِرٍ‘‘
ترجمہ: ’’اور ہم نے اس قرآن کو نصیحت کے لئے آسان بنادیا ہے، کیا ہے کوئی اس سے نصیحت لینے والا؟‘‘
کہ اس کو سمجھے اور اس کے مطابق اپنی زندگی سنواردے۔ لیکن افسوس! کہ ہمارے روایت پرست مولویوں نے اس کو ہمارے
137
لئے مشکل بنادیا ہے، ایک مرتبہ پاکستان میں ایک مولوی سے میں نے پوچھا کہ: ’’وَمَکَرُوْا وَمَکَرَ اللہُ وَاللہُ خَیْرُ الْمَاکِرِیْنَ‘‘ سورۂ آل عمران آیت نمبر۵۴ کا کیا مفہوم ہے؟ تو فرمانے لگے: ’’اس آیت کا مفہوم تو مجھے معلوم نہیں ہے، البتہ ایک روایت میں آیا ہے کہ اگر کتے نے کاٹا، تو اسی آیت سے دَم کرنا۔‘‘ یہ ہیں ہمارے مولوی اور قرآن کا مفہوم۔
اللہ تعالیٰ سے دردمندانہ اور عاجزانہ سوال کرتا ہوں کہ وہ تمام مسلمین اور مسلمات کو اس مقدس اور مکمل کتاب کی فہم سے نواز دے اور ہر عام وخاص کو روایت پرستی کی مرض سے نجات دے کر ان کے دِلوں کو قرآنِ کریم کی نورانی تعلیمات سے منوّر کرے، آمین۔‘‘
تنقیح: … میرا بھائی! اللہ تعالیٰ نے بلاشبہ قرآنِ کریم کو ’’ذِکر‘‘ کے لئے آسان فرمایا ہے، لیکن قرآن فہمی کا کوئی اُصول بھی تو ہونا چاہئے، اس کے کچھ قواعد وضوابط بھی تو ہونے چاہئیں، یا آپ کے خیال میں قرآن کی آیتیں پڑھ پڑھ کر جو دِل میں آئے کہتا پھرے، آپ کے نزدیک رَوا ہے؟
میرا بھائی! قرآنِ کریم کلامِ اِلٰہی ہے، جب ہم کسی مضمون کو قرآنِ کریم کی طرف منسوب کرتے ہیں تو گویا یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ یہ مرادِ خداوندی ہے، اب اگر یہ واقعی مرادِ اِلٰہی ہے تب تو ٹھیک ہے، اور اگر اللہ تعالیٰ کی مراد یہ نہ ہو جو ہم قرآنِ کریم میں ٹھونس رہے ہیں تو ہم مفتری علی اللہ ہوں گے، اور: ’’وَمَنْ اَظْلَمُ مِمَّنِ افْتَرٰی عَلَی اللہِ کَذِبًا اَوْ کَذَّبَ بِاٰیٰتِہٖ‘‘ کی وعید ہماری طرف متوجہ ہوگی، اس سے ہر مؤمن کو اللہ کی پناہ مانگنا چاہئے، جو لوگ قرآنِ کریم کے الفاظ کا صحیح تلفظ نہیں کرسکتے، اور قرآن فہمی کے ضروری قواعد سے بھی واقف نہیں، وہ اگر جو جی میں آئے قرآنِ کریم میں ٹھونسنے کی کوشش کریں، اور ساتھ ہی یہ دعویٰ کریں کہ ان کے سوا قرآنِ کریم کو چودہ سو سال میں کسی نے سمجھا ہی نہیں، تو
138
یہ بڑی جرأت کی بات ہوگی، اس سے ڈریں کہ قیامت کے دن آپ کا حشر بھی اس قسم کے لوگوں کی صف میں ہو۔
جس مولوی صاحب نے آپ سے یہ کہا کہ فلاں آیت کا مفہوم تو مجھے معلوم نہیں، البتہ یہ آیت کتے کے کاٹے پر دَم کی جاتی ہے، اس نے بہت صحیح کہا، آدمی کو جس آیتِ کریمہ کا مفہوم معلوم نہ ہو، اپنے دِل سے گھڑکر اس کا مفہوم بیان نہیں کرنا چاہئے، کہ یہ اِفترا علی اللہ ہے۔
آپ کی دردمندانہ دُعا پر میں بھی آمین کہتا ہوں، اور آپ کو نصیحت کرتا ہوں کہ مرزا غلام احمد قادیانی یا ہمچو قسم کے لوگوں نے قرآن کی جو من مانی تأویلات وتحریفات کی ہیں، ان سے پُرحذر رہیں، سلف صالحین کی اِقتدا کو لازم پکڑیں، اور قرآنِ کریم سے ایسا مفہوم اخذ نہ کریں جس سے پوری اُمت کا گمراہ ہونا لازم آتا ہو۔
نزولِ عیسیٰ علیہ السلام کی احادیث متواتر ہیں
آنجناب لکھتے ہیں:
’’صفحہ نمبر۲۵۲ اور ۲۵۳پر آپ نے صحیح بخاری، کنزالعمال، الاسماء والصفات، تفسیر درمنثور، ابوداؤد اور مسندِ احمد کے حوالوں سے نزولِ عیسیٰ کے بارے میں رسول اللہ کی جو اَحادیث تحریر کی ہیں، تو غالباً آپ نے ان احادیث کی اسناد پر کبھی غور نہیں کیا ہے کہ ان احادیث کے راویان کون حضرات تھے؟ اس پر علامہ تمنا عمادی صاحب نے اپنی مایۂ ناز کتاب ’’اِنتظارِ مہدی ومسیح‘‘ میں فنِ رجال کی روشنی میں سیر حاصل بحث کی ہے۔‘‘
تنقیح: … میں نے جن احادیث کا حوالہ دیا ہے ان کی صحت پوری اُمت کو مُسلَّم ہے، اور اکابر محدثین نے تصریح کی ہے کہ خروجِ دجال اور نزولِ عیسیٰ علیہ السلام کی احادیث متواتر ہیں، یہی وجہ ہے کہ مسلمانوں کے نزدیک قیامت سے پہلے دجال کے نکلنے اور
139
حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے نازل ہونے کو اِیمانیات میں شمار کیا گیا ہے، جس طرح قیامت پر اِیمان رکھنا ایک مسلمان کے لئے شرطِ اِسلام ہے، اسی طرح علاماتِ قیامت پر بھی اِیمان رکھنا لازم ہے، ہاں! جس شخص کو قیامت پر اِیمان نہ ہو، وہ علاماتِ قیامت پر بھی اِیمان نہیں رکھے گا۔ الغرض تمام اکابرِ اُمت قیامت اور علاماتِ قیامت پر اِیمان رکھتے ہیں، چنانچہ ہمارے اِمامِ اعظم ابوحنیفہ رحمۃ اللہ علیہ ’’فقہِ اکبر‘‘ میں فرماتے ہیں:
’’وخروج الدَّجَّال، ویأجوج ومأجوج، وطلوع الشمس من مغربھا، ونزول عیسَی بن مریم علیہ السلام من السماء، وسائر علامات یوم القیامۃ علٰی ما وردت بہ الأخبار الصحیحۃ حق کائن، واللہ یھدی من یشاء إلٰی صراط مستقیم۔‘‘
ترجمہ: … ’’دجال کا اور یأجوج مأجوج کا نکلنا، آفتاب کا مغرب کی طرف سے طلوع ہونا، عیسیٰ بن مریم کا آسمان سے نازل ہونا، اور دیگر علاماتِ قیامت، جیسا کہ احادیثِ صحیحہ میں وارِد ہوئی ہیں، سب برحق ہیں، ضرور ہوکر رہیں گی۔ اور اللہ تعالیٰ جسے چاہے سیدھے راستے کی ہدایت دیتا ہے۔‘‘
اور اِمام طحاویؒ (متوفیٰ ۳۶۱ھ) نے ایک مختصر رسالہ عقائد اہلِ حق پر لکھا تھا جو ’’عقیدۃ الطحاوی‘‘ کے نام سے مشہور ہے، وہ اپنے رسالے کو ان الفاظ سے شروع کرتے ہیں:
’’ھٰذا ذکر بیان عقیدۃ أھل السُّنَّۃ والجماعۃ علٰی مذھب فقھاء الملّۃ أبی حنیفۃ نعمان بن الثابت الکوفی وأبی یوسف یعقوب بن إبراھیم الأنصاری وأبی عبداللہ محمد بن الحسن الشیبانی رضوان اللہ علیھم أجمعین، وما یعتقدون من أصول الدین ویدینون بہ لرب العالمین۔‘‘
(ص:۲)
140
ترجمہ: … ’’یہ اہلِ سنت والجماعت کے عقیدے کا بیان ہے جو فقہائے ملت اِمام ابوحنیفہ نعمان بن ثابت کوفی اِمام ابویوسف یعقوب بن اِبراہیم انصاری اور اِمام ابوعبداللہ محمد بن حسن شیبانی کے مذہب کے مطابق ہے، اللہ تعالیٰ ان سب سے راضی ہو، اور ان اُصولِ دِین کو اس رسالے میں ذِکر کیا جائے گا جن کا یہ حضرات عقیدہ رکھتے تھے، اور جن کے مطابق وہ رَبّ العالمین کی اِطاعت وفرمانبرداری کرتے تھے۔‘‘
اِمام طحاویؒ عقیدۂ اہلِ سنت اور مذہب فقہائے ملت کے مطابق خروجِ دجال اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے آسمان سے نازل ہونے کے عقیدے کو اِیمانیات میں شمار کرتے ہوئے اس رسالے میں لکھتے ہیں:
’’ونؤمن بخروج الدَّجَّال ونزول عیسَی بن مریم علیہ السلام من السماء وبخروج یأجوج ومأجوج ونؤمن بطلوع الشمس من مغربھا وخروج دآبّۃ الأرض من موضعھا۔‘‘
(ص:۱۳)
ترجمہ: … ’’اور ہم اِیمان رکھتے ہیں کہ دجال نکلے گا اور عیسیٰ بن مریم آسمان سے نازل ہوں گے، اور یأجوج مأجوج نکلیں گے، اور ہم اِیمان رکھتے ہیں کہ آفتاب مغرب سے نکلے گا اور دابۃ الارض اپنی جگہ سے نکلے گا۔‘‘
اسی طرح خروجِ دجال اور نزولِ عیسیٰ علیہ السلام کو ہر صدی کے اکابر اہلِ سنت عقائد میں درج کرتے آئے ہیں، اگر ان احادیث کی سند صحیح نہ ہوتی تو اَکابر اہلِ سنت ان کو عقائد میں داخل نہ کرتے۔
علامہ تمنا عمادی
آپ نے علامہ تمنا عمادی کی کتاب ’’اِنتظارِ مہدی ومسیح‘‘ کا ذِکر کیا ہے، میں نے
141
یہ کتاب دیکھی ہے، اس کو پڑھ کر مجھے یہ لطیفہ یاد آیا کہ ایک زمانے میں پنڈت دیانند سرسوتی نے ’’ستیارتھ پرکاش‘‘ کے نام سے ایک کتاب لکھی تھی، جس کے آخری باب میں قرآن مجید پر تنقید کی تھی، اس میں پنڈت جی نے بات یہاں سے شروع کی کہ قرآن مجید اللہ تعالیٰ کا کلام نہیں ہوسکتا، کیونکہ اس کی اِبتدا بسم اللہ شریف سے ہوئی ہے، اگر یہ کتاب خدا کا کلام ہوتا تو خدا کے نام سے اس کی اِبتدا کیسے ہوسکتی تھی؟ پنڈت جی کی قرآن مجید پر تنقید اوّل سے آخر تک اسی قسم کے لطیفوں اور چٹکلوں پر مشتمل تھی، آریہ لوگ تو پنڈت جی کی اس کتاب سے بہت خوش ہوئے کہ واہ! ہمارے پنڈت جی نے کیا موتی پروئے ہیں، مگر مسلمانوں نے ان لچر باتوں کو پنڈت جی کی بدفہمی وبے عقلی کا نشان سمجھا۔
جناب علامہ تمنا عمادی نے بھی ایسی ہی دانش مندی کا مظاہرہ اپنی اس کتاب میں فرمایا ہے، ان کے عقیدت مند تو بے شک خوش ہوں گے کہ واہ! ہمارے علامہ نے کیسی کتاب لاجواب رقم فرمائی ہے، مگر حدیث کے طالبِ علم جانتے ہیں کہ علامہ تمنا عمادی نے یہ کتاب لکھ کر اپنی علامی کو بٹّہ لگایا ہے، مولانا رُومیؒ کے بقول:
-
چوں خدا خواہد کہ پردہ کس درد
میلش اندر طعنہ پا کان زند
علامہ تمنا عمادی کی تحقیقات کے چند نمونے نقل کرتا ہوں:
۱- نواس بن سمعان صحابی رضی اللہ عنہ کی حدیث صحیح مسلم میں ہے، کبھی کسی کو یہ جرأت نہ ہوئی کہ اس حدیث سے جان چھڑانے کے لئے ان کی شخصیت کا اِنکار کرڈالے، یہ کارنامہ علامہ تمنا عمادی نے انجام دیا کہ حضرت نواس بن سمعان رضی اللہ عنہ کی شخصیت کو فرضی قرار دے دیا، اِنا ﷲ واِنا اِلیہ راجعون!
۲- سعید بن مسیبؒ المخزومی کے بارے میں حافظ ذہبیؒ لکھتے ہیں:
’’الْإمام العلم أبو محمد القرشی المخزومی عالم أھل المدینۃ وسیّد التابعین فی زمانہ‘‘
(سیر اعلام النبلاء ج:۴ ص:۲۱۷)
142
’’الْإمام شیخ الْإسلام فقیہ المدینۃ أبو محمد المخزومی أجل التابعین‘‘
(تذکرۃ الحفاظ ج:۱ ص:۵۴)
لیکن علامہ تمنا عمادی لکھتے ہیں:
’’یہ سنیوں میں سنی اور شیعوں میں شیعہ بنے رہے۔‘‘
(ص:۱۸۰)
۳- اِمام زہریؒ کے بارے میں علامہ ذہبیؒ لکھتے ہیں:
’’الْإمام العلم حافظ زمانہ‘‘
(سیر اعلام النبلاء ج:۴ ص:۱۶۱)
’’الْإمام الکبیر شیخ الکوفۃ‘‘
(سیر اعلام النبلاء ج:۴ ص:۱۶۱)
’’أعلم الحفاظ الْإمام‘‘
(تذکرۃ الحفاظ ج:۱ ص:۱۰۸)
علامہ تمنا عمادی کے نزدیک یہ واضعِ حدیث تھے۔
(ص:۱۸۱)
۴- ابووائل شقیق بن سلمہؒ کے بارے میں اِمام ذہبیؒ لکھتے ہیں:
’’الْإمام الکبیر شیخ الکوفۃ‘‘
(سیر اعلام النبلاء ج:۴ ص:۱۶۱)
’’شیخ الکوفۃ وعالمھا مخضرم جلیل‘‘
(تذکرۃ الحفاظ ج:۱ ص:۶۰)
۵- زر بن حبیش کے بارے میں لکھتے ہیں:
’’الْإمام القدوۃ مقریٔ الکوفۃ‘‘
(سیر اعلام النبلاء ج:۴ ص:۱۶۶، تذکرۃ الحفاظ ج:۱ ص:۵۷)
اور تمنا عمادی صاحب ان اکابرؒ کے وجود ہی کے منکر ہیں۔
۶- اِمام عامر بن شراحیل الشعبیؒ، اِمام ابوحنیفہؒ کے اُستاذ ہیں، حضرت اِبراہیم النخعیؒ اُستاذ الاستاذ ہیں، اور اِمام سفیان ثوریؒ اِمام ابوحنیفہؒ کے ہم عصر ہیں، اِسلامی تاریخ
143
میں ان اکابر کے نام آفتاب سے زیادہ روشن ہیں، مگر چونکہ کوفی ہیں، اس لئے ان کے بارے میں علامہ تمنا عمادی کی رائے یہ ہے:
’’اوّل تو ضروری نہیں کہ جن لوگوں کو محدثین ثقہ سمجھ لیں یا لکھ دیں وہ واقعی ثقہ ہوں بھی، ممکن ہے کہ ان کی ہوشیاریوں سے ان کا راز اَئمۂ رِجال اور مستند محدثین پر نہ کھل سکا ہو۔‘‘
(ص:۱۱۰)
۷- ایک جگہ لکھتے ہیں:
’’یعقوب کی وفات کے وقت اگرچہ ابنِ راہویہ تیس برس کے تھے، مگر یہ اس وقت غالباً مرو سے نیشاپور بھی نہ آئے ہوں گے۔‘‘
(ص:۱۷۵)
جی ہاں! تیس برس کا دُودھ پیتا بچہ مرو سے ستر میل کے فاصلے پر نیشاپور کہاں جاسکتا ہے۔۔۔؟
۸- صحیح مسلم ج:۲ ص:۳۹۲میں حدیث کے الفاظ یہ ہیں:
’’فینزل عیسَی بن مریم صلی اللہ علیہ وسلم فأمھم، فإذا أراہ عدو اللہ ذاب کما یذوب الملح فی الماء، فلو ترکہ لَانذاب حتّٰی یھلک، ولٰـکن یقتلہ اللہ بیدہ فیریھم دمہ فی حربتہ۔‘‘
ترجمہ: … ’’پس عیسیٰ بن مریم صلی اللہ علیہ وسلم نازل ہوکر مسلمانوں کی اِمامت کریں گے، جب اللہ کا دُشمن (دجال) ان کو دیکھے گا تو اس طرح پگھلنے لگے گا جس طرح نمک پانی میں پگھل جاتا ہے، اگر آپؑ اس کو چھوڑ دیتے (قتل نہ کرتے) تب بھی وہ پگھل کر ختم ہوجاتا، لیکن اللہ تعالیٰ اس کو آپؑ کے ہاتھ سے قتل کریں گے، پھر آپؑ مسلمانوں کو اپنے حربے میں اس کا لگا ہوا خون دِکھائیں گے۔‘‘
حدیث کا مضمون صاف ہے کہ جب عیسیٰ علیہ السلام نازل ہوں گے تو دَجال ان
144
کو دیکھتے ہی اس طرح پگھلنے لگے گا جس طرح پانی میں نمک تحلیل ہوجاتا ہے۔ اگر حضرت عیسیٰ علیہ السلام اس کو قتل نہ کرتے تو وہ خود ہی پگھل پگھل کر ختم ہوجاتا، مگر چونکہ اس کی موت اللہ تعالیٰ نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے ہاتھ سے مقدّر کردی ہے، اس لئے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے ہاتھ سے اللہ تعالیٰ اس کو قتل کرائیں گے۔ مسلمانوں کو اِطمینان دِلانے کے لئے کہ دجال قتل ہوچکا ہے، حضرت عیسیٰ علیہ السلام اپنے حربے میں لگا ہوا اس کا خون لوگوں کو دِکھائیں گے۔
علامہ تمنا عمادی نے حدیث کے آخری فقرے کا ترجمہ اس طرح کیا ہے:
’’لیکن اس کو اللہ تعالیٰ اپنے ہاتھ سے قتل کرلے گا، تو مسلمانوں کو اپنے حربے میں اس کا خون دِکھائے گا۔‘‘
کسی مبتدی سے پوچھ لیجئے کہ علامہ صاحب کا ترجمہ صحیح ہے؟ بہت سی احادیث میں وارِد ہیں کہ دجال کو عیسیٰ علیہ السلام قتل کریں گے، ان اَحادیث سے قطع نظر بھی کرلیجئے، لیکن اسی حدیث کے جو فقرے میں نے نقل کئے ہیں، یعنی عیسیٰ علیہ السلام کا نازل ہونا، ان کو دیکھتے ہی دجال کا تحلیل ہونے لگنا، اس حدیث کے انہی جملوں کو پڑھ کر ہر وہ شخص جو عربی زبان کی شدبد رکھتا ہو، آسانی سے سمجھ لے گا کہ علامہ تمنا عمادی کا ترجمہ صحیح نہیں، یا تو انہوں نے ترجمہ جان بوجھ کر بگاڑا ہے، یا سمجھے ہی نہیں۔
میں نے اپنے اس خیال کا اِمتحان کرنے کے لئے اپنے چھوٹے لڑکے کو بلایا جو درجۂ اُولیٰ کا طالبِ علم ہے، میں نے اُبیّ شارحِ مسلم سے اس حدیث کا متن نکالا (جو مشکول ہے) بچے سے کہا کہ حدیث کے الفاظ پڑھو، چونکہ زبر زیر لگی ہوئی تھی، اس لئے اس نے الفاظ صحیح پڑھ لئے، میں نے کہا: اب ان الفاظ کا ترجمہ کر، ’’فینزل عیسَی بن مریم‘‘ ‘ سے اس نے ترجمہ شروع کیا، اور جس لغت میں وہ اٹکتا میں اسے بتاتا رہا، اب آخر میں اِمتحانی الفاظ آئے: ’’ولٰـکن یقتلہ اللہ بیدہ‘‘ میں نے کہا: یہ بہت آسان الفاظ ہیں، سوچ کر اس جملے کا ترجمہ خود کرو، میں نہیں بتاؤں گا، اس نے بلاتکلف ترجمہ کیا:
’’لیکن قتل کرے گا اس کو اللہ تعالیٰ ان کے ہاتھ سے۔‘‘
145
میںنے پوچھا: کن کے ہاتھ سے؟ اس نے برجستہ کہا:
’’حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے ہاتھ سے، پس دِکھائیں گے عیسیٰ علیہ السلام لوگوں کو اس کا خون اپنے حربے میں۔‘‘
میں نے بچے کو تمنا عمادی صاحب کا ترجمہ پڑھ کر سنایا کہ ان صاحب نے تو یہ ترجمہ کیا ہے، تو بچے نے کہا: ’’کیا یہ شخص مسلمان تھا؟‘‘
لیکن علامہ تمنا عمادی اپنے غلط ترجمے کا اِلزام حدیثِ رسول پر دھرتے ہوئے لکھتے ہیں:
’’یہ ہے کہ جس کو حدیثِ رسول کہا جاتا ہے، جس کی تہمت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر لگائی جاتی ہے، ’’اللہ خود اپنے ہاتھ سے مسیحِ دجال کو قتل کرے گا، اور اپنا خون آلود حربہ مسلمانوں کو دِکھائے گا‘‘ تاکہ مسلمانوں کو یقین ہو کہ واقعی اللہ ہی نے دجال کو خود قتل کیا ہے۔ معاذ اللہ من تلک الھفوات، ما قدروا اللہ حق قدرہ، سبحان ربک رب العزۃ عما یصفون۔‘‘
(ص:۲۵۲)
اب فرمائیے! جن ہفوات سے تمنا صاحب پناہ مانگ رہے ہیں، وہ ہفوات حدیثِ رسول میں ہیں، یا خود تمنا صاحب کے نہاںخانۂ دِماغ میں؟ اور جس شخص کو سخن فہمی کا چشمِ بددُور ایسا سلیقہ ہو، ’’حدیثِ رسول‘‘ پر اس کی تنقید ایسی ہی ہوگی جیسی پنڈت جی کی تنقید قرآن پر، نعوذ باللہ من الغوایۃ والغباوۃ!
-
حملہ بر خود می کہی اے سادہ مرد
ہمچو آں شیرے کہ برخود حملہ کرد
۹- اِمام ابنِ ماجہؒ نے اپنی سنن (ص:۲۹۷-۲۹۹) میں حضرت ابو اُمامہ رضی اللہ عنہ کی حدیث نقل کی ہے، حدیث نقل کرنے کے بعد اِمام ابنِ ماجہؒ فرماتے ہیں:
’’قال أبو عبداﷲ: سمعت أبا الحسن الطنافسی یقول: سمعت عبدالرحمٰن الْمحاربی یقول: ینبغی ان
146
یدفع ھٰذا الحدیث إلی المؤدب حتّٰی یعلمہ الصبیان فی الکتاب۔‘‘
(ص:۲۹۹)
مطلب یہ کہ اِمام ابنِ ماجہؒ اپنے شیخ ابوالحسن طنافسیؒ سے نقل کرتے ہیں کہ ان کے شیخ عبدالرحمن المحاربیؒ فرماتے تھے کہ: یہ حدیث علاماتِ قیامت کی جامع ہے، یہ تو اس لائق ہے کہ مکتب کے اُستاذ کو دینی چاہئے تاکہ بچوں کو یاد کرائے۔
اِمام ابنِ ماجہؒ کی اس عبارت میں کوئی اُلجھن ہے، نہ کوئی اِشکال۔ عام طور سے محدثین حدیث نقل کرکے حدیث کے متعلق کوئی فائدہ اور کوئی نکتہ اِرشاد فرمادیا کرتے ہیں، اِمام ترمذیؒ ’’قال ابوعیسیٰ‘‘ کہہ کر فوائدِ حدیث پر بالالتزام کلام فرماتے ہیں، اور اِمام ابوداؤدؒ کا ’’قال ابوداؤد‘‘ ان کی کتاب کی گویا جان ہے، اِمام بخاریؒ ’’قال ابوعبداللہ‘‘ کہہ کر اور اِمام نسائی ؒ ’’قال ابوعبدالرحمن‘‘ کہہ کر کہیں کہیں کلام فرماتے ہیں۔ البتہ صحیح مسلم میں (مقدمہ کے علاوہ) بہت کم ’’قال مسلم‘‘ آتا ہے، اور اسی طرح ابنِ ماجہؒ میں بھی ’’قال ابوعبداللہ‘‘ کم آیا ہے۔
الغرض اِمام ابنِ ماجہؒ کا ’’قال ابوعبداللہ‘‘ کہہ کسی حدیثی فائدے کی طرف اشارہ کردینا محدثین کا جانا پہچانا معمول ہے، اس میں حدیث کے طالبِ علم کو کبھی اِشکال نہیں ہوا۔ لیکن علامہ تمنا عمادی پہلے شخص ہیں جس نے ’’قال ابوعبداللہ‘‘ کو دیکھ کر اس پر ہوائی قلعہ تعمیر کرلیا، اور ’’سر چڑھ کر بولنے والا جادُو‘‘ کی سرخی جماکر اس پر تین صفحے کی لغو تقریر جھاڑ دی۔
(ص:۲۹۵-۲۹۷)
یہ ہے علامہ تمنا عمادی کی احادیثِ نبویہ پر تنقید۔ اسی سے معلوم ہوجاتا ہے کہ ہمارے علامہ صاحب حدیث کے متن واسناد کو بس اتنا ہی سمجھتے تھے جتنا کہ پنڈت دیانند سرسوتی نے قرآن مجید کو سمجھا۔ پنڈت جی نے قرآن مجید پر نکتہ چینی کرکے بزعمِ خود ثابت کردیا کہ قرآن اللہ کا کلام نہیں ہوسکتا، اور ہمارے علامہ صاحب نے احادیث شریفہ میں کیڑے نکال کر بزعمِ خود یہ باور کرلیا کہ احادیث شریفہ کلامِ رسول (صلی اللہ علیہ وسلم) نہیں ہوسکتا۔ پنڈت جی نے کلامِ اِلٰہی پر حملہ کرکے اسلام کو باطل کرنا چاہا، مگر اس کے بجائے اپنی
147
بدعقلی، بدفہمی کا منہ بولتا ثبوت فراہم کرگئے۔ اور علامہ تمنا عمادی کلامِ رسول پر حملہ کرکے اسلامی سرمایہ سے اُمت کو بدظن کرنا چاہتے ہیں، مگر اس کے بجائے خود اپنی علامیت کو داغدار کرگئے۔ جس طرح پنڈت جی کی تنقید سے قرآن کا کچھ نہیں بگڑا، اسی طرح علامہ جی کی ان لغو تنقیدات سے حدیث کا کچھ نہیں بگڑا، کلامِ رسول، کلامِ اِلٰہی کے خادم کی حیثیت سے زندہ جاوید رہا ہے، اور قیامت تک اِن شاء اللہ رہے گا،وَلَوْ کَرِہَ الْکٰفِرُوْنَ!
صحیح بخاری کی احادیث
آنجناب تحریر فرماتے ہیں:
’’صحیح بخاری کی دو اَحادیث کے بارے میں لکھتا ہوں، بخاری شریف میں نزولِ عیسیٰ پر دو اَحادیث موجود ہیں، جس میں سے پہلی حدیث کا راوی اسحاق بن محمد بن اسماعیل بن ابی فروہ المدنی الاموی مولیٰ عثمانؓ ہیں۔ ان اِسحاق کے بارے میں اِمام ابوداؤدؒ صاحب السنن سے کسی نے پوچھا تو انہوں ان کو ’’واہی‘‘ قرار دیا۔ اِمام نسائی نے اس اِسحاق کو ’’متروک الحدیث‘‘ قرار دِیا ہے۔ اِمام دارقطنیؒ نے اس اِسحاق کو ’’ضعیف‘‘ کہا ہے، ساجیؒ نے اِقرار کیا ہے کہ اس اِسحاق میں ’’ضعف‘‘ ہے۔
(تہذیب التہذیب ج:۱ ص:۲۳۸)
صحیح بخاری کی دُوسری حدیث کا راوی ابنِ بکیر ہے جس کا پور انام یحییٰ بن عبداللہ بن بکیر المصری ہے۔ یہ ابنِ بکیر قریش کا آزاد کردہ غلام تھا، ابوحاتمؒ نے اس ابنِ بکیر کے متعلق کہا ہے کہ ان کی حدیث لکھ لی جائے مگر وہ سند حجت نہیں ہے۔ اِمام نسائی ؒنے اس ابنِ بکیر کو ’’ضعیف‘‘ اور ’’لیس بثقۃ‘‘ کہا ہے کہ یہ ثقہ راوی نہیں ہے۔ یحییٰ بن سعید نے کہا کہ ’’لیس بشیء‘‘ یہ کچھ بھی نہیں ہے۔ خود اِمام بخاریؒ نے تاریخ صغیر میں لکھا ہے کہ تاریخ میں ابنِ بکیر نے
148
جو کچھ اہلِ حجاز سے کہا ہے میں اس کی نفی کرتا ہوں۔ اِمام مالکؒ اور اِمام لیث بن سعدؒ سے ابنِ بکیر ایسی بہت سی حدیثیں روایت کرتے ہیں جو اور کوئی بھی روایت نہیں کرتا۔ صحیح بخاری کے علاوہ دُوسرے جن کتب کے حوالے آپ نے دئیے ہیں ان کتب کی نزولِ عیسیٰ والی احادیث میں بھی ایسے ہی اسحاق اور ابنِ بکیر کی طرح کالے ناگ موجود ہیں، جن پر محققین نے لمبی چوڑی بحث کی ہے۔‘‘
تنقیح: … یہاں چند اُمور قابلِ ذکر ہیں:
اوّل: … اِمام بخاریؒ نے ’’نزولِ عیسیٰ علیہ السلام‘‘ کے باب میں دو حدیثیں ذِکر کی ہیں، پہلی حدیث دو جگہ ذِکر کی ہے، اوّل:’’کتاب البیوع، باب قتل الخنزیر‘‘ میں، اس کی سند یہ ہے:
’’حدثنا قتیبۃ بن سعید ثنا اللیث عن ابن شھاب عن ابن المسیب ۔۔۔ إلخ۔‘‘
(ج:۱ ص:۲۹۶)
اور دُوسری جگہ اَحادیث الانبیاء ’’باب نزول عیسیٰ بن مریم صلی اللہ علیہ وسلم‘‘ میں، اس کی سند یہ ہے:
’’حدثنا إسحاق انا یعقوب بن إبراھیم ثنا ابی عن صالح عن ابن شھاب ۔۔۔ إلخ۔‘‘
(ج:۱ ص:۴۹۰)
آنجناب کی تنقید صرف دُوسری سند سے متعلق ہے، پہلی سند پر آپ کوئی تنقید نہیں کرسکے، اس لئے یہ حدیث آپ کی تنقید کے بعد بھی صحیح رہی،فَللّٰہِ الْحَمْدُ وَلَہُ الشُّکْرُ!
دوم: … دُوسری سند میں اِمام بخاریؒ کے شیخ اِسحاق بن اِبراہیم (المعروف بہ ابنِ راہویہ) ہیں، آنجناب نے ان کو بلاوجہ ’’اِسحاق بن محمد بن اسماعیل بن ابی فروہ المدنی الاموی مولیٰ عثمان‘‘ قرا ر دے کر ان کی تضعیف نقل کردی، اور سمجھ لیا کہ حدیث ضعیف ہے۔ یہ بناء الفاسد علی الفاسد ہے، کیونکہ حافظ الدنیا ابنِ حجرؒ نے ’’فتح الباری‘‘ میں ان کو اِسحاق بن ابراہیم المعروف ’’ابنِ راہویہ‘‘ قرار دِیا ہے، اور اس کی دلیل یہ نقل کی ہے:
149
’’وقد أخرج أبو نُعیم فی المستخرج ھٰذا الحدیث من مسند إسحاق بن راھویہ وقال أخرجہ البخاری عن إسحاق۔‘‘
(فتح الباری ج:۶ ص:۴۹۱)
ترجمہ: … ’’ابو نعیم نے ’’مستخرج‘‘ میں یہ حدیث مسندِ اِسحاق بن راہویہ سے تخریج کی ہے، اور کہا ہے کہ اِمام بخاریؒ نے یہ حدیث اِسحاق بن راہویہ سے روایت کی ہے۔‘‘
پس جب حدیث مسندِ اِسحاق بن راہویہ میں موجود ہے تو اِمام بخاریؒ کے اُستاذ کا نام اِسحاق بن محمد بن اِسماعیل بتانا بے دلیل بلکہ خلافِ دلیل ہے، لہٰذا آپ کا یہ اِعتراض اس سند پر بھی غلط ٹھہرا، اور الحمدللہ! بخاری کی حدیث دونوں سندوں سے صحیح نکلی۔
سوم: … اِمام بخاریؒ نے دُوسری حدیث اس سند سے روایت کی ہے:
’’حدثنا ابن بکیر ثنا اللیث عن یونس عن ابن شھاب عن نافع مولٰی أبی قتادۃ الأنصاری أن أبا ھریرۃ قال ۔۔۔ إلخ۔‘‘
اس پر آپ کا اِعتراض یہ ہے کہ ابوحاتم،ؒ نسائی،ؒ اور یحییٰ بن سعیدؒ نے اس کو ضعیف کہا ہے، خود اِمام بخاریؒ نے تاریخ صغیر میں لکھا ہے کہ: ’’ابنِ بکیر نے جو کچھ اہلِ حجاز سے کہا ہے میں اس کی نفی کرتا ہوں۔‘‘
اس سلسلے میں چند اُمور ملحوظ رکھے جائیں:
۱: … راویانِ حدیث کے بارے میں اگر جرح وتعدیل کا اِختلاف ہو تو دیکھنا یہ ہوگا کہ جرح لائقِ اِعتبار ہے یا نہیں؟ اِمام بخاریؒ اور اِمام مسلمؒ جن راویوں سے اَحادیث لیتے ہیں وہ ان کے نزدیک ثقہ ہوتے ہیں، کیونکہ ان کا اِلتزام ہے کہ وہ صحیح حدیث نقل کریں گے، اس لئے اگر وہ کسی راوی سے حدیث لیتے ہیں تو یہ ان کی طرف سے اس راوی کی توثیق ہے، اور معرفتِ رجال میں اِمام بخاریؒ اور اِمام مسلمؒ کا مرتبہ کسی محدث سے کم نہیں، اس لئے کسی دُوسرے محدث کی جرح ان پر حجت نہیں، اس لئے شیخ ابوالحسن المقدسیؒ فرماتے
150
تھے کہ: جس راوی سے اِمام بخاریؒ نے حدیث کی تخریج کی ہے ’’وہ پل سے پار ہوگیا‘‘۔ یعنی کسی دُوسرے کی جرح اس کے مقابلے میں لائقِ اِعتبار نہیں۔
(مقدمہ فتح الباری فصل:۹ ص:۳۸۴)
۲: … اِمام بخاریؒ کا جو مقولہ آپ نے تاریخ صغیر سے نقل کیا ہے، وہ تاریخ سے متعلق ہے، چنانچہ حافظؒ نے مقدمہ فتح میں یہ قول اس طرح نقل کیا ہے:
’’وما رویٰ یحیٰی بن بکیر عن أھل الحجاز فی التاریخ فإنی اتقیہ۔‘‘
(ج:۴۱ ص:۴۵۲)
ترجمہ: … ’’یحییٰ بن بکیر نے اہلِ حجاز سے جو کچھ نقل کیا ہے میں اس سے بچتا ہوں۔‘‘
آپ نے یہ حوالہ تہذیب التہذیب سے نقل کیا ہے، اس میں ’’اتقیہ‘‘ کے بجائے ’’انفیہ‘‘ غلط چھپا ہے، (تہذیب التہذیب میں مطبعی اغلاط بہ کثرت ہیں) آپ نے اس کے مطابق ترجمہ کردیا، اور فی التاریخ کا لفظ اُڑادیا۔ اس حوالے سے تو ثابت ہوتا ہے کہ اِمام بخاریؒ کی اپنے مشائخ کی تمام مرویات پر نظر تھی، اور وہ جو کچھ کسی سے لیتے تھے اسے نہایت حزم واِحتیاط سے لیتے تھے، چنانچہ حافظ ابنِ حجرؒ ان کے اسی قول پر یہ تعلیق فرماتے ہیں:
’’فھٰذا یدلک علٰی انہ ینتقی حدیث شیوخہ‘‘
ترجمہ: … ’’اِمام بخاریؒ کے اس قول سے تم کو واضح ہوگا کہ وہ اپنے مشائخ کی حدیث کو چن کر لیتے ہیں۔‘‘
الغرض اِمام بخاریؒ کے اس اِرشاد سے تو ان کا مزید تیقظ واِتقان ثابت ہوتا ہے، نہ کہ ان کی حدیث کا مجروح ہونا۔
۳: … اِمام بخاریؒ نے یحییٰ بن بکیر کی روایت کو نقل کرکے آخر میں لکھا ہے: ’’تابعہ عقیل والأوزاعی‘‘ یعنی ’’عقیل اور اوزاعی (یحییٰ بن بکیر کے شیخ الشیخ) نے یونس کی متابعت کی ہے۔‘‘ اور بخاری کے بین السطور حاشیہ میں ’’فتح الباری‘‘ کے حوالے سے اس متابعت کی سند بھی مذکور ہے، گویا اِمام بخاریؒ نے اس متابعت کو ذِکر کرکے یونس تک تین
151
سندیں ذِکر فرمائی ہیں۔
جب اِمام بخاریؒ نے یحییٰ بن بکیر کے علاوہ حدیث کی دو صحیح سندیں مزید ذِکر کردیں تو یحییٰ بن بکیر کی وجہ سے اس حدیث کو ضعیف قرار دینے کا کیا جواز رہا؟ الغرض یہ حدیث بھی بلاغبار صحیح نکلی، اور آنجناب کا اِعتراض غلط ثابت ہوا۔
چہارم: … آپ کو نزولِ عیسیٰ علیہ السلام کی تمام احادیث میں اِسحاق اور ابنِ بکیر جیسے ’’کالے ناگ‘‘ نظر آتے ہیں ۔۔۔نعوذباللہ۔۔۔ اگر میں صرف ان کتابوں کی اسانید جمع کروں جو ہمارے سامنے موجود ہیں، تو آپ کو نظر آئے گا کہ کتنے بڑے بڑے اَئمۂ دِین کو آپ نے ’’کالے ناگ‘‘ کا خطاب دے ڈالا، میں نہیں چاہتا کہ آپ کی جناب میں کوئی گستاخی کا لفظ لکھوں، لیکن آپ تمام اَئمۂ دِین کو ’’کالے ناگ‘‘ بتاتے ہیں، اس لئے اِخلاص اور خیرخواہی کے طور پر عرض کرتا ہوں کہ مالیخولیا کے مریض کو خواب میں ’’کالے ناگ‘‘ نظر آیا کرتے ہیں، خدا نہ کرے آپ تمام اکابرِ اُمت کی گستاخی کرکے کہیں ’’اِیمانی مالیخولیا‘‘ کے مریض نہ ہوجائیں، لہٰذا اس گستاخانہ لفظ سے توبہ کیجئے، اپنے اِیمان کی فکر کیجئے، اور کسی مصلحِ ربانی سے رُجوع کیجئے۔
میں قبل ازیں اِمامِ اعظمؒ کے رسالہ فقہِ اکبر کی عبارت نقل کرچکا ہوں، حضرتِ اِمامؒ کی ولادت علیٰ اِختلاف الاقوال ۶۰، ۷۱یا ۸۰ھ میں ہوئی، ۔۔۔آخری قول زیادہ مشہور ہے۔۔۔ اور بالاتفاق ۱۵۰ھ میں ان کی وفات ہوئی، گویا کم از کم تیس سال انہوں نے صحابہؓ کا زمانہ پایا ہے ۔۔۔کیونکہ آخری صحابی کا اِنتقال ۱۱۰ھ میں ہوا۔۔۔ وہ نزولِ عیسیٰ علیہ السلام پر اَحادیثِ صحیحہ متواترہ کا حوالہ دے کر اس کو اپنے عقائد میں شامل کرتے ہیں، اور اس کے بارے میں ’’حق کائن‘‘ فرماتے ہیں۔ اس وقت نہ اِمام بخاریؒ تھے اور نہ ان کے اُستاذ، مگر یہ عقیدہ اس وقت بھی اُمت میں متواتر تھا، اسی بنا پر اِمام الائمہ اِمامِ اعظمؒ نے اس کو عقائدِ اِسلامی میں شامل فرمایا، ذرا غور سے کام لیں تو آپ کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے تک تواتر کے ساتھ ’’نزولِ عیسیٰ علیہ السلام‘‘ کا عقیدہ نقل کرنے والے نظر آئیں گے، ان سب کو اگر ’’کالے ناگ‘‘ تصوّر کریں گے تو فرمائیے! آپ کا اِیمان کدھر جائے گا۔۔۔؟
152
خیرخواہی سے کہتا ہوں کہ اگر اِیمان کی خیر منانی ہے تو اپنا عقیدہ سلف صالحین صحابہؓ وتابعینؒ کے مطابق رکھئے: ’’مراد ما نصیحت بود وگفتیم‘‘۔
آنجناب تحریر فرماتے ہیں:
’’مولانا صاحب! میں منکرِ اَحادیث نہیں ہوں، لیکن مجروح یا مجہول راویوں کی احادیث کو کبھی بھی تسلیم نہیں کرسکتا۔ کسی حدیث کے صحیح وغلط ہونے کا اگر کوئی معیار صحیح ہوسکتا ہے تو وہ ایک ہی معیار ہے، یعنی اگر وہ حدیث عقائد وعبادات اور تعلیم اُصول اخلاق ومعاملات سے متعلق ہے تو اس کا نصِ قرآنی کے مطابق ہونا ضروری ہے، اور اگر محض دُنیاوی کسی ایسی بات سے متعلق ہے جس کا لگاؤ دِینی اُمور سے نہیں تو اگر وہ عقل قرآنی ودرایتِ قرآنیہ کے مطابق ہے جب ہی اس کی نسبت رسول اللہ کی طرف صحیح تسلیم کی جاسکتی ہے، لیکن یہ بھی کوئی ضروری نہیں کہ جو حدیث نصِ قرآنی کے بالکل مطابق ہو اور عقل ودرایتِ قرآنیہ کے بھی خلاف نہ ہو وہ صحیح ہو۔ چنانچہ اَئمۂ حدیث کی کتبِ موضوعات میں ایسی بہت سی احادیث ملیں گی جو نہ قرآن کے خلاف ہیں، نہ قرآنی عقل ودرایت کے خلاف، مگر محدثین نے ان کو دُوسرے اسباب کی بنا پر موضوع قرار دِیا ہے، ان میں اکثر وہی حدیثیں ہیں جن کے راوی مجروح ہیں یا مجہول۔ اس کو بھی محدثین نے تسلیم کرلیا ہے کہ کسی حدیث کا صحیح الاسناد ہونا اس کی صحت ثابت کرنے کے لئے کوئی قطعی دلیل نہیں، کیونکہ جھوٹی حدیثیں بنانے والے جھوٹے اسناد بھی بناسکتے تھے اور بناتے تھے، من گھڑت احادیث عالی اسناد کے ساتھ محدثین کی کتابوں میں داخل کردیا کرتے تھے، اکابر محدثین کے شاگرد بن کر ان کے ساتھ رہ کر ان کے مسوّدات میں رَدّوبدل اور کمی بیشی کے
153
علاوہ مستقل حدیثیں بھی بڑھادیا کرتے تھے۔ اس سے کوئی بھی شخص جس نے فنِ حدیث سے کسی حد تک بھی واقفیت حاصل کی ہو، انکار نہیں کرسکتا۔ اسی طرح صرف اس لئے کہ کسی حدیث کے بعض راوی مجروح یا وضاع وکذّاب ہیں، اگر وہ قرآنی درایت کے مطابق ہے تو اس کو قطعی طور سے موضوع یا غلط نہیں کہا جاسکتا، کیونکہ کوئی جھوٹے سے جھوٹا شخص ہر بات جھوٹی ہی نہیں بولتا، کبھی وہ کوئی سچی بات بھی ضرور بولتا ہے، اس تمہید کا خلاصہ یہ ہے کہ کوئی بھی حدیث جو موجودہ کتبِ حدیث میں ہے، چاہے وہ صحاحِ ستہ ہی نہیں بلکہ ساری کتبِ احادیث کی متفق علیہ کیوں نہ ہو، اس وقت تک صحیح نہیں کہی جاسکتی جب تک درایتِ قرآنیہ اس کی صحت پر مہرِ تصدیق ثبت نہ کردے۔ اور اِتفاق سے نزولِ عیسیٰ کے بارے میں جتنے بھی اَحادیث کتبِ اَحادیث میں موجود ہیں وہ سارے درایتِ قرآنیہ کے خلاف ہیں۔‘‘
تنقیح: … ۱:۔۔۔آپ منکرِ حدیث کیوں ہونے لگے، منکرِ حدیث تو منکرِ رسول ہے ۔۔۔صلی اللہ علیہ وسلم۔۔۔ اور منکرِ رسول، منکرِ قرآن ہے۔ خدا نہ کرے کہ آپ منکرِ حدیث ہوکر منکرِ رسول اور منکرِ قرآن ہوجائیں، لیکن یہاں بھی محض اِخلاص کے ساتھ ایک نصیحت کرتا ہوں، وہ یہ کہ صحیحین میری اور آپ کی رَدّوکد سے اُونچی ہیں، اِمام الہند شاہ ولی اللہ محدث دہلویؒ فرماتے ہیں:
’’أما الصحیحان فقد اتفق المحدثون علٰی ان جمیع ما فیھما من المتصل المرفوع صحیح بالقطع، وانھما متواتران إلیٰ مصنفیھما، وانہ کل من یھون أمرھما فھو مبتدع متبع غیر سبیل المؤمنین۔‘‘
(حجۃ اللہ البالغہ ج:۱ ص:۱۳۴)
ترجمہ: … ’’لیکن صحیح بخاری اور صحیح مسلم! پس محدثین اس
154
پر متفق ہیں کہ ان دونوں میں جو مرفوع متصل اَحادیث ہیں وہ قطعاً صحیح ہیں، اور یہ کہ یہ دونوں کتابیں اپنے مصنفوں تک متواتر ہیں، اور یہ کہ جو شخص ان دونوں کے بارے میں توہین کا مرتکب ہو وہ مبتدع ہے، المؤمنین کے راستے کو چھوڑ کر کسی اور راستے پر چلنے والا ہے۔‘‘
حضرت شاہ صاحبؒ نے اس عبارت میں تین باتیں فرمائی ہیں:
✨ : … صحیحین کی احادیث، جو مرفوع متصل ہیں، قطعی صحیح ہیں، ان میں شک وشبہ کی گنجائش نہیں۔
✨ : … صحیحین ان کے جلیل القدر مصنّفین سے آج تک متواتر ہیں، یہ اِحتمال نہیں کہ کسی نے درمیان میں گڑبڑ کردی ہوگی، یا ایسی چیز ان میں داخل کردی ہوگی جو اِمام بخاریؒ ومسلمؒ نے نہیں لکھی تھی۔
چنانچہ اَسّی ہزار آدمیوں نے تو براہِ راست اِمام بخاریؒ سے صحیح بخاری کا سماع کیا ہے، اور اس کے بعد یہ تعداد بڑھتی ہی چلی گئی ہے، مشرق ومغرب اور جنوب وشمال جہاں بھی جائیے، صحیح بخاری کے یہی نسخے ملیں گے، اور صحیح بخاری کی یہ مقبولیت من جانب اللہ ہے، کسی انسان کے بس کی بات نہیں۔
✨ : … جو لوگ صحیحین کی احادیث کی توہین کے مرتکب ہیں، وہ شاہ صاحبؒ کے بقول: ’’متبع غیرسبیل المؤمنین‘‘ ہیں، جن کے بارے میں اللہ تعالیٰ کا اِرشاد ہے:
’’وَمَنْ یُّشَاقِقِ الرَّسُوْلَ مِنْم بَعْدِ مَا تَبَیَّنَ لَہُ الْھُدٰی وَیَتَّبِعْ غَیْرَ سَبِیْلِ الْمُؤْمِنِیْنَ نُوَلِّہٖ مَا تَوَلّٰی وَنُصْلِہٖ جَھَنَّمَ وَسَآئَتْ مَصِیْرًا‘‘
(النساء:۱۱۵)
ترجمہ: … ’’اور جو شخص رسول کی مخالفت کرے گا بعد اس کے کہ اس کو اَمرِ حق ظاہر ہوچکا تھا اور مسلمانوں کا راستہ چھوڑ کر دُوسرے رستے ہولیا، تو ہم اس کو جو کچھ وہ کرتا ہے، کرنے دیں گے،
155
اور اس کو جہنم میں داخل کریں گے اور وہ بُری جگہ ہے جانے کی۔‘‘
۲: … اُوپر کے نمبر سے معلوم ہوگیا ہوگا کہ اَحادیثِ متواترہ نہ قرآن کے خلاف ہیں، نہ درایتِ قرآن کے خلاف۔ قرآنِ کریم کی آیات جو عیسیٰ علیہ السلام سے متعلق ہیں، ان پر گفتگو ہوچکی ہے، اور میں عرض کرچکا ہوں کہ قرآنِ کریم کی ایک آیت بھی ایسی نہیں جو حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی وفات پر دَلالت کرتی ہو، بلکہ قرآن مجید کی آیات میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے رفع ونزول کی تصریحات موجود ہیں۔ اپنے پاس سے ایک نظریہ تراش کر اسی کو درایتِ قرآنیہ کا نام دے لینا اور پھر اَحادیثِ نبویہ کو اس نام نہاد ’’درایت‘‘ کے معیار پر پَرکھنا صحیح نہیں، ایسی درایت سے ہر مؤمن کو پناہ مانگنی چاہئے۔
۳: … صحیح، مقبول، ضعیف اور موضوع اَحادیث کو اَکابر محدثینؒ نے چھانٹ کر اس طرح الگ کردیا ہے کہ دُودھ کا دُودھ اور پانی کا پانی الگ الگ کردیا ہے، مگر یہ کام بھی میرے اور آپ کے کرنے کا نہیں، اکابر محدثینؒ اس سے فارغ ہوچکے ہیں، اس کے بعد اس وہم میں مبتلا ہونے کی کوئی گنجائش نہیں جس نے آپ کو پریشان کر رکھا ہے، الحمدللہ! ہمارے دِین کی ہر ہر چیز اتنی صاف ستھری اور نکھری ہوئی ہے کہ گویا یہ دِین آج نازل ہوا ہے، دِینِ قیم کی حفاظت کے لئے اللہ تعالیٰ نے ایسے فوق العادت اسباب پیدا فرمائے، جن کا تصوّر بھی نہیں کیا جاسکتا۔
۴: … اُوپر عرض کرچکا ہوں کہ آج تک نزولِ عیسیٰ علیہ السلام کی احادیث کو کسی اِمام، مجدّد اور کسی صحابی وتابعی نے درایتِ قرآنیہ کے خلاف نہیں سمجھا، اگر کچھ لوگ ایسا سمجھتے ہیں تو ان کی درایت ہی نہیں بلکہ ان کا اِسلام بھی مشکوک ہے، ایسے لوگوں سے دریافت کیجئے کہ ان کی درایت کے صحیح ہونے کا معیار کیا ہے؟ قرآنی معیار تو اُوپر نقل کرچکا ہوں کہ جو شخص ’’غیرسبیل المؤمنین‘‘ کا متبع ہو، وہ’’نُوَلِّہٖ مَا تَوَلّٰی وَنُصْلِہٖ جَھَنَّمَ‘‘ کا مصداق ہے، ایسے شخص کی درایت جنتی درایت نہیں، بلکہ جہنمی درایت ہے۔ ایسی درایت سے اللہ تعالیٰ کی پناہ۔۔۔!
156
مسیحِ دجال
آنجناب تحریر فرماتے ہیں:
’’صفحہ نمبر۲۵۳پر ابوداؤد اور مسندِ احمد کے حوالے سے آپ نے لکھا ہے: ’’حضرت عیسیٰ علیہ السلام مسیحِ دجال کو ہلاک کردیں گے، پھر ان کی وفات ہوگی ۔۔۔۔الخ۔‘‘
مولانا صاحب! اگر آپ لفظ ’’دجال‘‘ کے معنی پر روایت پرستی کی حالت سے نکل کر، ٹھنڈے دِل سے غور فرمائیں گے تو ممکن ہے آپ پر یہ حقیقت کھل جائے کہ ’’دجال‘‘ والی حدیث وضعی ہے۔ ’’دجال‘‘ دجل سے ہے، عربی کا لفظ ہے، اور معنی ہے فریب، جھوٹ۔ حضرت ابوہریرہؓ سے ’’مسلم‘‘ میں رسول اللہ کی جو مسنون دُعائیں مروی ہیں ان میں ایک یہ بھی ہے کہ:
’’وَاَعُوْذُ بِکَ مِنْ فِتْنَۃِ الْمَسِیْحِ الدَّجَّال‘‘
ترجمہ: ’’اے اللہ! میں جھوٹے مسیح کے فتنے سے آپ کی پناہ مانگتا ہوں۔‘‘
گویا جو بھی مسیح ہونے کا دعویٰ کرے گا تو وہ جھوٹا ہوگا، اور فتنہ پھیلائے گا، لہٰذا میں اس ہر جھوٹے مسیح کے فتنے سے پناہ مانگتا ہوں۔ اس دُعا سے یہ بات روزِ روشن کی طرح عیاں ہے کہ قیامت تک کوئی بھی مسیح آئے گا ہی نہیں۔ اور جو آنے کا دعویٰ کرے گا تو وہ صریح جھوٹا ہوگا۔ عیسیٰ کے دوبارہ آنے کا عقیدہ چونکہ نصاریٰ (عیسائیوں) میں پہلے سے موجود تھا، اس لئے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی اس باطل عقیدے کی تردید اپنی دُعا میں کردی۔‘‘
تنقیح: … دجال کی حدیث بھی متواتر اور تمام اُمت کے نزدیک مُسلَّم ہے،
157
چنانچہ ’’فقہِ اکبر‘‘ کے حوالے سے نقل کرچکا ہوں کہ اِمام ابوحنیفہؒ نے اِمام ابوداؤدؒ اور اِمام احمدؒ سے پہلے ان احادیثِ صحیحہ کو ثبت فرماکر ’’حق کائن‘‘ فرمایا ہے، اور اوّل سے آخر تک پوری اُمت ان صحیح احادیث کے مطابق عقیدہ رکھتی آئی ہے کہ قربِ قیامت میں ’’الاعور الدجال‘‘ نکلے گا، اور اس کو قتل کرنے کے لئے حضرت عیسیٰ علیہ السلام آسمان سے نازل ہوں گے۔ اُمتِ اسلامیہ کے اکابر میں ایک نام بھی آپ پیش نہیں کرسکتے جو خروجِ دجال کا منکر ہو۔
۲: … آپ کی یہ بات صحیح ہے کہ دجال کا لفظ دجل سے نکلا ہے، جس کے معنی ہیں جھوٹ، فریب۔ ہر وہ شخص جو جھوٹ وفریب کے ذریعے حقائق کو تبدیل کرے، اور تأویلات اور چالاکیوں کے ذریعے سچ کو جھوٹ اور جھوٹ کو سچ ثابت کرنے کی کوشش کرے، اور حق کو باطل اور باطل کو حق باور کرانے کی کوشش کرے، وہ دجال ہے۔ لیکن ان تمام دجالوں کا پیر اور اُستاد آخری زمانے میں ظاہر ہوگا جس کو ’’دَجالِ اکبر‘‘، ’’دَجالِ اَعوَر‘‘ اور ’’المسیح الدجال‘‘ کہا جاتا ہے، گویا وہ سراپا دجل ہوگا، اور اس میں حق پرستی کی ادنیٰ رمق بھی موجود نہیں ہوگی، یہاں تک کہ اس کا کفر اس کی پیشانی سے ظاہر ہوگا، اور ہر مؤمن خواندہ وناخواندہ اس کی پیشانی پر ’’کافر‘‘ کا لفظ پڑھے گا۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اسی دجال سے اَحادیثِ متواترہ میں پناہ مانگی ہے، اور اُمت کو اس کی تعلیم فرمائی ہے، الحمدللہ! یہ ناکارہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیم وہدایت کے مطابق ہر نماز میں یہ دُعا مانگتا ہے:
’’اَللّٰھُمَّ اِنِّیْ اَعُوْذُ بِکَ مِنْ عَذَابِ جَھَنَّمَ، وَاَعُوْذُ بِکَ مِنْ عَذَابِ الْقَبْرِ، وَاَعُوْذُ بِکَ مِنْ فِتْنَۃِ الْمَسِیْحِ الدَّجَّالِ، وَاَعُوْذُ بِکَ مِنْ فِتْنَۃِ الْمَحْیَا وَالْمَمَاتِ، اَللّٰھُمَّ اِنِّیْ اَعُوْذُ بِکَ مِنَ الْمَأْثَمِ وَالْمَغْرَمِ۔‘‘
اور یہ ناکارہ اپنے اَحباب کو اس کی تاکید کرتا ہے کہ ہمیشہ اِلتزام کے ساتھ یہ دُعا کیا کریں۔
۳: … آپ کی یہ بات بھی صحیح ہے کہ جو شخص مرزا غلام احمد قادیانی کی طرح مسیح ہونے کا جھوٹا دعویٰ کرے، وہ دجال ہے، لیکن اس سے آخری زمانے میں نکلنے والے
158
’’دجالِ اکبر‘‘ کی نفی نہیں ہوتی، بلکہ تاکید ہوتی ہے، کیونکہ وہ بھی مسیح ہونے کا دعویٰ کرے گا، اور وہ آخری شخص ہوگا جو مسیح ہونے کا جھوٹا دعویٰ کرکے خلقِ خدا کو گمراہ کرے گا۔
سیّدنا عیسیٰ علیہ السلام کو ’’المسیح‘‘ کا لقب قرآن نے دِیا ہے، اور ہر مسلمان ان کو اس لقب سے جانتا پہچانتا ہے، اس لئے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو ’’مسیح‘‘ کا دعویٰ کرنے کی ضرورت نہیں ہوگی، نہ وہ اس کا دعویٰ کریں گے۔ کیونکہ جب وہ نازل ہوں گے تو ہر مسلمان ان کو پہچان لے گا کہ یہ ’’المسیح عیسیٰ بن مریم علیہ السلام‘‘ ہیں۔ اس لئے ان کی شخصیت جھوٹے مدعیانِ مسیحیت میں شامل نہیں، بلکہ وہ ان جھوٹوں کا ہمیشہ کے لئے خاتمہ کرنے کے لئے آئیں گے۔ الغرض آپ کا یہ سمجھنا صحیح نہیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی یہ دُعا حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے نزول کی نفی کرنے کے لئے ہے، آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے آنے کی نفی نہیں کی، بلکہ تاکید درتاکید کے ساتھ ان کی تشریف آوری کی خبر دی ہے، ان کو پہچان لینے کا حکم فرمایا، ان کے کارنامے بیان فرمائے ہیں جو وہ نزول کے بعد انجام دیں گے، ان کو سلام پہنچانے کا حکم فرمایا ہے۔
۴: … اس خیال کی اِصلاح پہلے کرچکا ہوں کہ ’’چونکہ عیسائی حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے رفع ونزول کے قائل تھے اس لئے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے عقیدے کی تردید فرمائی۔‘‘ میں بتاچکا ہوں کہ قرآنِ کریم نے ’’بَلْ رَّفَعَہُ اللہُ اِلَیْہِ‘‘ فرماکر ان کے رفعِ آسمانی کی تصریح کی ہے، آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی ایک بھی حدیث پیش نہیں کی جاسکتی جس میں یہ فرمایا ہو کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام نہیں آئیں گے، بلکہ یہ فرمایا ہے کہ عیسیٰ علیہ السلام زندہ ہیں، وہ دوبارہ تشریف لائیں گے۔
مہدی آخرالزمان
آنجناب تحریر فرماتے ہیں:
’’صفحہ نمبر:۲۵۷ پر آپ نے تحریر فرمایا ہے کہ:
’’آنحضرتؐ کی متواتر اَحادیث میں وارِد ہے کہ حضرت
159
عیسیٰ کے نزول کے وقت حضرت مہدیؓ اس اُمت کے اِمام ہوں گے اور حضرت عیسیٰ ان کی اِقتدا میں نماز پڑھیں گے۔‘‘
محترمی! میری کوشش ہوگی کہ مختصراً اور ٹھوس دلائل سے ’’اِمام مہدی‘‘ پر تبصرہ کروں کیونکہ عین ممکن ہے کہ آپ کی دِینی مصروفیات اتنے طویل خط کو تدبر اور تفکر کے ساتھ پڑھنے کا موقع نہ دیں گی۔ ’’مہدی‘‘ عربی زبان میں ہر ہدایت یافتہ کو کہا جاتا ہے، یہ کسی مخصوص شخص کا لقب نہیں اور نہ یہ لفظ کسی مخصوص شخص کے لئے قرآن وسنت میں اِستعمال کیا گیا ہے، اگر آپ احادیثِ صحیحہ پر غور کرلیں تو نبی کریم نے بھی عربیت کے لحاظ سے اسے عام طور پر اِستعمال فرمایا ہے، اور اس کا ثبوت وہ مشہور حدیثِ نبوی ہے جو حضرت جریرؓ بن عبداللہ سے مروی ہے کہ جب نبی کریمؐ نے انہیں یمن ذی الخلصہ کو گرانے کے لئے بھیجا جو کعبہ یمانیہ کہلاتا تھا، تو حضرت جریرؓ نے عرض کیا: یا رسول اللہ! میں گھوڑے پر جم کر نہیں بیٹھ سکتا، تو آپؐ نے میرے سینے پر ہاتھ مارا حتیٰ کہ آپؐ کی اُنگلیوں کے نشان میرے سینے پر نظر آنے لگے اور فرمایا: اے اللہ! اسے گھوڑے پر ثابت قدم رکھ اور اسے ہادی اور مہدی بنادے۔
(صحیح بخاری جلد اوّل، صفحہ:۴۲۴)
اس کے علاوہ سنن کی مشہور حدیث ہے: ’’میری سنت اور خلفائے راشدین مہدیین کی سنت کو لازم پکڑو‘‘ اس حدیث میں آپؐ نے لفظِ مہدی کو جمع کے طور پر اِستعمال کیا ہے اور خلفائے راشدینؓ کو مہدی قرار دیا ہے۔ چونکہ خلفائے راشدینؓ اور صحابہ کرامؓ سب کے سب ہدایت یافتہ تھے، لہٰذا تمام صحابہ کرامؓ مہدی ہیں، اور پھر اَمیر معاویہؓ تو ان میں بدرجہ اَولیٰ داخل ہیں، کیونکہ ان کے لئے
160
رسولؐ اللہ نے دُعا فرمائی تھی: ’’اے اللہ! معاویہ کو (ہادی اور مہدی) ہدایت یافتہ اور ہدایت کرنے والا بنادیجئے اور اس کے ذریعے دُوسروں کو ہدایت عطا کیجئے۔‘‘
(ترمذی جلد دوم صفحہ:۲۴۷)
اس حدیث کے تمام راوی ثقہ ہیں اور بلحاظِ سند یہ حدیث اسی نوعیت کی تمام احادیث سے ہزار درجہ بہتر ہے کیونکہ اس کے اکثر راوی بخاری کے راوی ہیں اور بقیہ راوی مسلم کے ہیں، اس لحاظ سے یہ شرطِ مسلم پر صحیح ہے، لہٰذا کیوں نہ تسلیم کیا جائے کہ اگر رُوئے زمین پر کوئی مہدی ہے تو وہ حضرت امیر معاویہؓ ہیں، اور اگر وہ اس منصب پر فائز نہیں ہوسکتے تو ان کے بعد کوئی اور مہدی نہیں، اسی لئے میں اس حدیث کی بنا پر یہ کہنے پر مجبور ہوں کہ دراصل ہمارے مہدی امیر معاویہؓ ہیں، اور وہ اس دارِ فانی سے کوچ فرماچکے ہیں، اب کوئی آنے والا مہدی باقی نہیں رہا۔‘‘
تنقیح: … آنجناب نے صحیح فرمایا کہ ’’مہدی‘‘ ہدایت یافتہ شخص کو کہتے ہیں، یہ بھی صحیح ہے کہ حضرت جریر بن عبداللہ البجلی رضی اللہ عنہ کے بارے میں ’’ہادی ومہدی‘‘ ہونے کی دُعا فرمائی، یہ بھی صحیح ہے کہ حضراتِ خلفائے راشدین رضی اللہ عنہم کو ’’المہدیین‘‘ قرار دے کر ان کی سنت کی اِقتدا کرنے کی تاکید فرمائی، یہ بھی صحیح ہے کہ امیرالمؤمنین حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کے حق میں دُعا فرمائی: ’’اَللّٰھُمَّ اجْعَلْہُ ھَادِیًا مَھْدِیًّا‘‘ (یا اللہ! ان کو ہادی ومہدی بنا)۔
یہ تمام اُمور صحیح ہیں، لیکن آنجناب نے اس سے جو نتیجہ اخذ کیا ہے کہ ’’آئندہ کوئی ہادی ومہدی نہیں ہوسکتا‘‘ یہ غلط ہے، اگر خلفائے راشدینؓ کے ہادی ومہدی ہونے سے حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کے ہادی ومہدی ہونے کی نفی نہیں ہوتی تو حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کے ہادی ومہدی ہونے سے آئندہ کسی کے ہادی ومہدی ہونے کی بھی نفی نہیں ہوتی، اگر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ فرمایا ہو کہ حضرت معاویہؓ کے بعد کوئی ہادی ومہدی نہیں
161
تو آپ کا اِستدلال صحیح ہے۔ لیکن میرے علم میں نہیں کہ کسی ایک حدیث میں بھی ایسا مضمون ارشاد فرمایا ہو، اگر ایسی کوئی حدیث آنجناب کے علم میں ہو تو اس کو پیش فرمائیں اور اگر ایسی کوئی حدیث نہیں تو آپ کا یہ اِستدلال بھی صحیح نہیں، اگر کوئی شخص یہ اِستدلال کرے کہ ’’چونکہ خلفائے راشدینؓ کو ’’مہدی‘‘ فرمایا گیا، اس سے یہ لازم آتا ہے کہ حضرت معاویہؓ مہدی نہ ہوں‘‘ تو کیا آپ کے نزدیک یہ اِستدلال صحیح ہوگا؟ ہرگز نہیں! بس خوب سمجھ لیجئے کہ اسی طرح آپ کا اِستدلال بھی صحیح نہیں۔
ادھر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے بہت سی احادیث میں یہ اِرشاد فرمایا ہے کہ آخری زمانے میں ایک خلیفہ ہوگا جو زمین میں عدل واِنصاف قائم کرے گا، اس کے زمانے میں دجالِ اکبر کا خروج ہوگا، اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام آسمان سے نازل ہوں گے تو عین نماز کے وقت مسلمانوں کی جماعت میں پہنچیں گے، مسلمانوں کا اِمام درخواست کرے گا:’’تقدم یا رُوح اللہ! فصلِّ لنا‘‘ لیکن وہ یہ نماز اسی اِمام کے پیچھے پڑھیں گے، اسی کو ’’اِمامِ مہدی‘‘ کہا جاتا ہے۔ علمائے اہلِ سنت نے تصریح کی ہے کہ اس خلیفۂ عادل کا ظہور قیامت کی علاماتِ صغریٰ اور کبریٰ کے درمیان برزخ ہے، کہ اس کے ظہور سے پہلے قیامت کی علاماتِ صغریٰ کا دور تھا، اور دجالِ اکبر کا خروج علاماتِ کبریٰ کا نقطئہ آغاز ہوگا، پس ایک مؤمن کو جس طرح قیامت پر اِیمان لانا ضروری ہے، اسی طرح علاماتِ قیامت پر اِیمان لانا ضروری ہے جو صحیح اَحادیث میں وارِد ہوئی ہیں،واللہ الموفّق!
مہدی کا شیعی تصوّر
آنجناب لکھتے ہیں:
’’البتہ شیعہ اثناعشری حضرت علیؓ سے حضرت اِمام مہدیؓ تک بارہ اِماموں کے معتقد ہیں، ان کا عقیدہ بلکہ اِیمان ہے کہ جس طرح اللہ تعالیٰ نے رسالت کا سلسلہ جاری فرمایا، اسی طرح رسولِ اکرمؐ کی وفات کی بعد بندوں کی ہدایت ورہنمائی اور سربراہی کے
162
لئے اِمامت کا سلسلہ قائم فرمایا، اور عین بارہویں اِمام (مہدی) کے آنے پر دُنیا کا خاتمہ اور قیامت ہے، یہ بارہ اِمام انبیائے کرامؑ کی طرح اللہ کی حجت اور معصوم ہیں، ان کی اطاعت بھی فرض ہے، اور مرتبہ ودرجہ میں رسولِ اکرمؐ اور دُوسرے تمام انبیائؑ سے افضل ہیں، وہ بارہ اِمام مندرجہ ذیل ہیں:
۱- اِمام حضرت علیؓ ولادت ۱۰ سال قبل بعثت، متوفی۴۰ھ
۲- اِمام حضرت حسنؓ ولادت ۷ھ، متوفی ۴۹ھ
۳- اِمام حضرت حسینؓ ولادت ۹ھ، متوفی ۶۱ھ
۴- اِمام حضرت زین العابدینؒ ولادت ۳۸ھ، متوفی ۹۵ھ
۵- اِمام حضرت محمد باقر ؒولادت ۵۶ھ، متوفی ۱۱۴ھ
۶- اِمام حضرت جعفر صادق ؒولادت ۸۲ھ، متوفی ۱۴۸ھ
۷- اِمام حضرت موسیٰ کاظمؒ ولادت ۱۲۸ھ، متوفی ۱۸۳ھ
۸- اِمام حضرت علی رضاؒ ولادت ۱۴۸ھ، متوفی ۲۰۳ھ
۹- اِمام حضرت محمد تقی ؒولادت ۱۹۵ھ، متوفی ۲۲۰ھ
۱۰- اِمام حضرت ابوالحسن علی نقی ؒولادت ۲۱۲ھ، متوفی ۲۵۴ھ
۱۱- اِمام حضرت حسن عسکریؒ ولادت ۲۳۲ھ، متوفی ۲۶۰ھ
۱۲- اِمام حضرت محمد بن حسنؒ ولادت ۲۵۵ھ، متوفی (قربِ قیامت)ھ۔
یہی بارہویں اِمام حضرت محمد بن حسنؒ ہیں جس کو شیعہ اثناعشری اِمام مہدی کہتے ہیں، اِمام مہدی کے علاوہ ان کو اِمامِ عصر اور اِمامِ غائب بھی کہا جاتا ہے، ان کے عقیدے کے مطابق یہی اِمام ۲۵۵ھ (اب سے ۱۱۶۱ سال پہلے) میں پیدا ہوکر چار یا پانچ سال کی عمر میں معجزانہ طور پر غائب ہوگئے اور اَب تک ’’سرمن رائے‘‘ کے غار میں رُوپوش ہیں۔ شیعہ کی معتبر کتابوں کے مطابق دُنیا میں
163
اللہ تعالیٰ کی طرف سے مقرّر کئے ہوئے اِمام کا رہنا ضروری ہے، اور یہ اللہ تعالیٰ کی ذمہ داری ہے، مزید لکھتے ہیں کہ بارہویں اِمام مہدی قیامت تک زندہ رہیں گے، اور قیامت سے پہلے کسی وقت غار سے برآمد اور ظاہر ہوں گے، اور اپنے ساتھ وہ اصلی قرآن جو حضرت علیؓ نے مرتب کیا تھا اور مصحفِ فاطمہؓ ونیز بندوں کی ہدایت کا وہ سب ذخیرہ جو ان سے پہلے تمام اِماموں سے وراثتاً ان کو ملا تھا جیسے الجفر اور الجامعہ وغیرہ، تو وہ سب کچھ غار سے لے کر برآمد ہوں گے، اس کے علاوہ مشہور شیعہ عالم مُلَّا باقر مجلسی اپنی کتاب ’’حق الیقین‘‘ صفحہ نمبر:۱۳۹ پر رقم طراز ہیں، ’’جب ہمارے اِمام قائم (اِمامِ مہدی) ظاہر ہوں گے تو عائشہ صدیقہؓ کو زِندہ کریں گے اور ان پر حد (حدِ زِنا) جاری کریں گے اور فاطمہؓ کا ان سے اِنتقام لیں گے۔‘‘ یہی مجلسی صاحب ’’حق الیقین‘‘ میں مزید لکھتے ہیں: ’’جب اِمام مہدی ظاہر ہوں گے تو وہ کافروں سے پہلے سنیوں اور خاص کر ان علماء سے کارروائی شروع کریں گے اور ان سب کو قتل کرکے نیست ونابود کریں گے۔‘‘ اب آپ خود فیصلہ کریں کہ آپ کو کون سا مہدی چاہئے؟ یعنی اہلِ سنت والجماعت والا جو تمام صحابہ کرامؓ اور خلفائے راشدینؓ تھے، یا شیعوں کے بارہویں اِمام محمد بن حسن عسکری؟‘‘
تنقیح: … اس ناکارہ نے کچھ عرصہ پہلے ’’شیعہ سنی اِختلافات اور صراطِ مستقیم‘‘ کے نام سے ایک کتاب لکھی تھی، جو اَپریل ۱۹۹۳ء میں شائع ہوئی، (اب تک اس کے چار ایڈیشن نکل چکے ہیں) اس کتاب کا پہلا باب شیعہ کے عقیدۂ اِمامت پر ہے، جو گیارہ مباحث پر مشتمل ہے، اس کی دسویں بحث، جو خاصی طویل ہے، ’’اِمامِ غائب‘‘ کے بارے میں ہے، اسے ملاحظہ فرمالیجئے، آنجناب کو معلوم ہوجائے گا کہ اِمامِ غائب کے بارے میں شیعوں کا نقطئہ نظر کیا ہے، اور اہلِ سنت کی رائے کیا ہے؟ اس کے بعد آپ کے اس طویل
164
اِقتباس کے جواب میں کچھ لکھنے کی ضرورت نہیں۔
۱۲کا نکتہ
آنجناب تحریر فرماتے ہیں:
’’ہمارے کئی مفسرین حضرات نے شیعوں کا اِمام مہدی برحق تسلیم کیا ہے، جس کے ثبوت کے لئے وہ قرآن کے ہر صفحے پر تفسیر کے اِختتام پر ’’۱۲منہؒ‘‘ کی اِصطلاح لکھ دیتے ہیں، ملاحظہ ہو شاہ رفیع الدین محدث دہلوی اور فتح محمد خان جالندھری کے مترجم قرآنِ کریم جس کے ہر صفحے کے حاشیئے پر ہر تشریح (تفسیر) کے اِختتام پر ’’۱۲منہؒ‘‘ لکھا ہوا ملے گا، یہ شیعوں کی خود ساختہ اِصطلاح ہے جس کا مطلب ہے کہ ’’ان بارہ اِماموں پر اللہ تعالیٰ اپنی رحمتیں نازل کرے جن میں سے بارہویں اِمام مہدی ہوں گے۔‘‘ اور عین ممکن ہے کہ ہمارے ان بے چارے روایت پرستوں کو خود ’’۱۲منہؒ‘‘ کے مفہوم کا پتا نہ ہو۔ لیکن مجھے تو شکوہ آپ سے ہے کہ اہلِ سنت والجماعت کے ممتاز عالمِ دِین ہوتے ہوئے آپ بھی شیعوں کے عقائد بے چارے سنیوں (جو واقعی سن ہی ہیں) پر مسلط کر رہے ہیں، حالانکہ آپ کو شیعوں کے مسائل اور عقائد سے کوئی سروکار نہیں ہونا چاہئے، ان کا اپنا دِین اور آپ کا اپنا، قیامت کے دن اللہ تعالیٰ آپ سے ہرگز ان کے اعمال کا نہیں پوچھے گا، ’’وَلَا تُسْئَلُوْنَ عَمَّا کَانُوْا یَعْمَلُوْنَ‘‘ (البقرۃ آیت:۱۴۱)۔
اللہ تعالیٰ سے دُعائیں ہیں کہ تمام مسلمین اور مسلمات کو موجودہ قرآنِ کریم پر متفق کرے اور تمام خرافات وبدعات کو ہم سے دُور کرے، آمین۔‘‘
165
تنقیح: … ان بے چاروں کو ’’۱۲منہؒ‘‘ کے مفہوم کی خبر ہے، اور نہ شیعوں کے بارہ اِماموں کی، لیکن آپ کی تحریر سے اندازہ ہوا کہ آنجناب کو ’’۱۲منہؒ‘‘ کا مفہوم بھی معلوم نہیں، شیعوں کا اپنے بارہ اِماموں کے بارے میں عقیدہ بھی معلوم نہیں۔
’’۱۲منہؒ‘‘ کی حقیقت تو اتنی ہے کہ جب کسی کا اِقتباس نقل کیا جاتا ہے تو اس کے خاتمے پر ’’انتہی‘‘ یا ’’آہ‘‘ لکھ دیا جاتا ہے، اور کبھی ختمِ عبارت پر ۱۲کا ہندسہ لکھ دیا جاتا ہے جو عبارت کی اِنتہا کو بتاتا ہے۔ یہ ’’ح د‘‘ کو ہندسوں میں لکھنے کی ایک شکل ہے، ابجد کے حساب سے ’’ح‘‘ کے عدد آٹھ بنتے ہیں اور ’’دال‘‘ کے چار۔ اور آٹھ اور چار کا مجموعہ ۱۲ ہوتا ہے، پھر اگر یہ عبارت مصنف کی ہوتی ہے تو اس کو ’’منہیہ‘‘ کہا جاتا ہے، پس ’’منہؒ‘‘ کا مفہوم ہے: ’’من المصنفؒ‘‘، اس لئے عبارت کے ختم پر ’’۱۲منہؒ‘‘ لکھ دیا جاتا ہے، اس اِصطلاح میں دُور ونزدیک بھی بارہ اِماموں کا تصوّر نہیں، یہ تو اس اِصطلاح کا مفہوم تھا۔
اور میں نے جو عرض کیا کہ آپ کو اپنے بارہ اِماموں کے بارے میں شیعوں کا عقیدہ بھی معلوم نہیں، اس کی شرح یہ ہے کہ شیعہ حضرات اپنے بارہ اِماموں کے ساتھ ’’رحمہ اللہ‘‘ نہیں لکھتے بلکہ ’’علیہ السلام‘‘ لکھتے ہیں، پس ’’۱۲منہؒ‘‘ میں ’’رحمہ اللہ‘‘ کا لفظ تو ان کے عقیدے کی نفی کرتا ہے، نہ کہ ان کے عقیدے کا اِثبات۔ ہاں! اگر کسی کے ذہن پر شیعوں کے بارہ اِماموں کا اس قدر تسلط ہو کہ جہاں ۱۲ کا عدد نظر پڑا اس نے سمجھا کہ یہ بارہ اِماموں کا ذِکر ہے، وہ البتہ بارہ کے عدد کو اپنی لغت سے ضرور خارج کردے گا، لیکن الحمدللہ! ہمارے اکابر کے ذہن پر ’’بارہ اِمامی‘‘ عقیدے کا ایسا تسلط نہیں، یہی وجہ ہے کہ سالہا سال تک ’’۱۲منہؒ‘‘ کی اِصطلاح پڑھتے رہے لیکن کسی کا ذہن آپ کے اِرشاد فرمودہ نکتے کی طرف منتقل نہیں ہوا۔
آخر میں جو آنجناب نے دُعا کی ہے، اس پر صمیمِ قلب سے آمین کہتا ہوں، اللہ تمام مسلمانوں کو سلف صالحین اہلِ سنت کے عقائد اَپنانے کی توفیق دے، اور نئے اور پُرانے منافقین کے وسوسوں سے ان کو محفوظ رکھے۔
166
حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا مدفن
آنجناب تحریر فرماتے ہیں:
’’صفحہ نمبر:۲۶۴ پر آپ نے سائل کو حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے مدفن کا جواب کچھ یوں دیا ہے: ’’حجرہ شریفہ میں چوتھی قبر حضرت مہدیؓ کی نہیں بلکہ حضرت عیسیٰ کی ہوگی۔‘‘
محترمی! میں بذاتِ خود جب سعودی عرب کے سفر پر تھا تو اس بات کا اِطمینان کرلیا تھا کہ رسولؐ اللہ کے روضۂ مبارک میں چوتھی قبر کے لئے کوئی جگہ نہیں ہے۔ اللہ تعالیٰ آپ کو بھی فریضۂ حج کا سفر نصیب کریں تو اِن شاء اللہ مسجدِ نبوی میں آپ کی تسلی ہوجائے گی کہ واقعی چوتھی قبر کے لئے روضۂ رسول میں کوئی جگہ نہیں ہے، اس کے علاوہ آپ بھی میری اس رائے سے اِتفاق کریں گے کہ عقائد تو سارے کے سارے قرآنِ کریم کی محکم آیات میں مذکور ہیں، اور قرآن سے باہر کسی کو خیال تو کیا حتیٰ کہ حقیقت کو بھی عقیدے میں داخل نہیں کیا جاسکتا ہے، لہٰذا اگر واقعی عیسیٰ دوبارہ دُنیا میں تشریف لاتے، اِمام مہدی بھی تشریف لاتے اور دجال کو قتل کرتے تو پھر اتنی اہم اور عقائد پر مبنی باتیں قرآن میں ذِکر کیوں نہیں کی گئی ہیں۔ یہ ساری باتیں من گھڑت ہیں جو صحابہ کرامؓ کے مبارک دور کے بعد ان کی طرف جھوٹی منسوب کرکے گھڑی گئی ہیں، اللہ تعالیٰ ہم سب کو ایسے خرافات سے بچائے، آمین۔‘‘
تنقیح: … بڑی خوشی کی بات ہے کہ آنجناب کو سعودی عرب جانے کا موقع ملا، لیکن آپ نے یہ نہیں لکھا کہ آپ نے کس طرح اِطمینان کرلیا تھا کہ حجرہ شریفہ میں چوتھی قبر کے لئے کوئی جگہ نہیں، یہ ناکارہ بیس پچّیس مرتبہ سے زیادہ بارگاہِ نبوی ۔۔۔علیٰ صاحبہا الف
167
الف تحیۃ وسلام۔۔۔ میں حاضری دے چکا ہے، اور حق تعالیٰ محض اپنے لطف سے ہر سال دو تین مرتبہ حاضری سے نوازتے رہتے ہیں ۔۔۔فلہ الحمد والشکر۔۔۔ لیکن اس ناکارہ کو تو ایسا اِطمینان کسی نے نہیں دِلایا، بلکہ کچھ عرصہ پہلے تک تو وہاں تختی آویزاں تھی، جس پر تحریر تھا:
’’ھٰذا موضع قبر عیسٰی علیہ السلام‘‘
اگر آنجناب ان کتابوں کا مطالعہ فرمالیتے جو آثارِ مدینہ پر لکھی گئی ہیں، کم سے کم علامہ سمہودی کی کتاب ’’وفاء الوفاء بأخبار دار المصطفٰی صلی اللہ علیہ وسلم‘‘ ہی دیکھ لیتے تو آنجناب کو ضرور حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے مدفن کا سراغ مل جاتا۔
رہا یہ کہ ان چیزوں کا ذِکر قرآن مجید میں کیوں نہیں ہے؟ میں آنجناب کے اُصولِ موضوعہ کی تنقیحات میں اس کا جواب عرض کرچکا ہوں، اَزراہِ کرم ملاحظہ فرمالیجئے۔
اور آنجناب کا یہ ارشاد کہ: ’’یہ ساری باتیں صحابہ کرامؓ کے بعد گھڑ کر ان کی طرف منسوب کردی گئی ہیں‘‘ اس کا آسان حل یہ ہے کہ آپ صحابہ کرامؓ سے اس کے خلاف صحیح نقل پیش کردیں، لیکن میں آپ کو اِطمینان دِلاتا ہوں کہ آپ کسی ایک صحابی کا قول بھی پیش نہیں کرسکتے۔
نفیس سوال اور لطیف جواب
آخر میں آنجناب تحریر فرماتے ہیں:
’’مولانا صاحب! اب میں آپ سے ایک سوال کرتا ہوں، لیکن بدقسمتی یہ ہے کہ ہمارے ملک میں طالبِ علم کی تشنگی دُور کرنے اور سوال کا جواب دینے کا علمی انداز ناپید ہوتا جارہا ہے، اور اس کی جگہ ہر اہلِ علم کے ہاں کم وبیش پانچ مہروں کا اِستعمال بڑھتا جارہا ہے۔ کسی طالبِ علم نے سوال کیا نہیں کہ فوراً کوئی نہ کوئی مہر لگائی گئی۔ مثلاً: منکرِ حدیث، وہابی، گستاخِ رسول، قادیانی اور مرتد وغیرہ۔ لیکن اس کے باوجود میں آپ سے اپنے سوال کا قرآن
168
واَحادیثِ صحیحہ کی روشنی میں مدلل جواب کی اُمید رکھتا ہوں، روایت ہے کہ شبِ معراج میں رسولِ کریمؐ نے بیت المقدس میں تمام انبیائے کرامؑ کو نمازِ باجماعت پڑھائی تھی۔ میرا سوال یہ ہے کہ آیا حضرت عیسیٰ بھی اس نماز میں موجود تھے؟ اگر موجود تھے تو کس حالت میں؟ یعنی بقیہ انبیائے کرامؑ کی طرح اس کی بھی صرف رُوح آئی تھی؟ اگر رُوح آئی تھی تو پھر تو اس کا جسم مبارک آسمان پر مردہ رہ گیا ہوگا، یعنی بغیر رُوح کے کیسے زندہ رہ گئے؟ یا کہ وہ اصلی حالت میں جسم اور رُوح سمیت آئے تھے؟ لہٰذا اگر وہ مجسم ہوکر آئے تھے تو جب اس نے اللہ تعالیٰ سے اُمتِ محمدیہ میں شامل ہونے کی دُعا مانگی تھی اور اُمتِ محمدیہ کے ہوتے ہوئے جب وہ مجسم تشریف لائے تھے پیغمبرؐ کے ساتھ نماز بھی بیت المقدس میں ادا کی تو اس وقت جبکہ پیغمبرؐ کو مسلمانوں کی مدد کی اشد ضرورت تھی اور گنتی کے چند نفوس اسلام قبول کرچکے تھے تو وہ بھی مشرکینِ مکہ کی ایذا رسانیوں سے اِنتہائی تنگ آچکے تھے حتیٰ کہ پیغمبرِ اسلام سمیت مدینہ منوّرہ کو اللہ تعالیٰ کے حکم سے ہجرت کی تو پھر اس سخت وقت میں حضرت عیسیٰ نے اُمتِ محمدیہ میں شرکت کیوں نہ کی؟ اور واپس آسمان پر کیوں تشریف لے گئے؟ پھر جب واپس گئے تو کس سواری اور کون سے فرشتے کی معیت میں گئے؟ جبکہ پیغمبرِ اسلام تو حضرت جبرئیل کی معیت میں براق (بازاری تصاویر میں جس کا سر اور چہرہ عورت کا ہے اور بقیہ بدن گھوڑے کا) پر سوار ہوکر تشریف لے گئے تھے، پھر عیسیٰ پیغمبرِ اسلام سے پہلے کیسے بیت المقدس سے رُخصت ہوگئے؟ جبکہ عام قاعدہ ہے کہ جب تک کسی تقریب کے مہمانِ خصوصی رُخصت نہ ہوں سامعین حرکت تک نہیں کرتے اور اس تقریب میں تو مہمانِ خصوصی رسولؐ
169
اللہ ہی تھے، کیونکہ جب رسولؐ اللہ آسمانوں پر پہنچتے ہیں تو وہاں حضرت عیسیٰ کو پہلے سے موجود پاتے ہیں، تو کیا یہ رسولؐ اللہ کی شان مبارک میں گستاخی نہیں ہوئی؟ آپ کے جواب کا مندرجہ پتے پر منتظر رہوں گا، وما علینا اِلَّا البلاغ۔
اخوک فی الاسلام
خان شہزادہ
(ایم اے اسلامیات)
سلطنت عمان
تنقیح: … آپ کا یہ سوال نفیس ہے، اس سے بڑا جی خوش ہوا، اگر واقعی سمجھنا چاہتے ہیں تو اس کا لطیف جواب عرض کرتا ہوں:
۱: … اَحادیثِ شریفہ میں اس کی تصریح موجود ہے کہ شبِ معراج میں بیت المقدس میں تمام انبیائے کرام علیہم السلام نے شرکت فرمائی، او رآنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی اِمامت کی، حضرت عیسیٰ علیہ السلام بھی شریکِ محفل تھے، اور اس موقع پر دیگر اَنبیائے کرام علیہم السلام کے بشمول آپ نے خطبہ بھی اِرشاد فرمایا، ان کے بعد آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے خطبۂ صدارت اِرشاد فرمایا۔ حضرت حکیم الامت مولانا اشرف علی تھانویؒ نے ’’نشر الطیب فی ذکر النبی الحبیب صلی اللہ علیہ وسلم‘‘ کی بارہویں فصل واقعہ ہشتم کے ذیل میں ان کو نقل کیا ہے، اس کا مطالعہ فرمالیا جائے اور اس ناکارہ کی کتاب ’’عہدِ نبوّت کے ماہ وسال‘‘ میں بھی تمام انبیائے کرام علیہم السلام کی شرکت کا ذِکر ہے۔
۲: … جو اَنبیائے کرام دُنیا سے رحلت فرماگئے ہیں، ظاہر ہے کہ ان کی ارواحِ طیبہ کسی نہ کسی شکل میں متشکل ہوئی ہوں گی، خواہ ان کو اجسامِ مثالیہ دئیے گئے ہوں، یا ان کی اَرواحِ طیبہ خود متجسد ہوئی ہوں، چنانچہ میری کتاب ’’عہدِ نبوّت کے ماہ وسال‘‘ میں یہ سوال نقل کیا ہے کہ انبیائے کرام علیہم السلام کی یہ حاضری مع الجسد ہوئی یا بغیر جسد؟
لیکن یہ بحث دیگر انبیائے کرام علیہم السلام کے بارے میں ہوسکتی ہے، حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے بارے میں نہیں، کیونکہ وہ بالاتفاق آسمان پر بجسدہ الشریف زندہ موجود
170
ہیں، اس لئے ان کی رُوح مبارک کو اَپنا جسمِ اصلی چھوڑ کر بدنِ مثالی اپنانے کی ضرورت نہ تھی، بلکہ وہ سراپا رُوح اللہ ہیں، اور وہاں ان پر ملائکہ واَرواح کے اَحکام جاری ہیں۔ الغرض اس اِجتماع میں ان کی شرکت بجسدہ الشریف ہوئی تھی، جیسا کہ حافظ ذہبیؒ نے ’’تجرید اسماء الصحابہ‘‘ میں اس کی تصریح کی ہے، اور حافظ تاج الدین السبکیؒ نے ’’طبقات الشافعیۃ الکبریٰ‘‘ میں بھی اس کو نقل کیا ہے۔
۳: … رہا یہ کہ حضراتِ انبیائے کرام بشمول حضرت عیسیٰ علیہ وعلیہم السلام کس ذریعے سے آئے تھے؟ اور کس ذریعے سے گئے تھے؟ کسی روایت میں اس کی تصریح نظر سے نہیں گزری، یوں بھی عقل مند پھل کھایا کرتے ہیں، پیڑ نہیں گنا کرتے، جب ان کا آنا اور جانا ثابت ومحقق ہے تو اس سے کیا مطلب کہ وہ کس ذریعے سے آئے اور کس طرح واپس گئے۔۔۔؟
الفاظ کے پیچوں میں اُلجھتے نہیں دانا
غوّاص کو مطلب ہے گہر سے کہ صدف سے؟
۴: … بیت المقدس کا جلسہ برخاست ہوا تو دیگر اَنبیائے کرام علیہم السلام کے ساتھ حضرت عیسیٰ علیہ السلام بھی رُخصت ہوکر اپنے مستقر پر پہنچ گئے، اور دُوسرے آسمان پر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا اِستقبال کیا، جیسا کہ احادیثِ صحیحہ میں مصرّح ہے، مہمانِ خصوصی ۔۔۔صلی اللہ علیہ وسلم۔۔۔ سے پہلے کسی کے رُخصت ہونے کا سوال ہی کب پیدا ہوتا تھا؟ اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے تشریف لے جانے کے بعد کسی کے وہاں ٹھہرنے کی کوئی وجہ نہ تھی۔
۵: … رہا یہ سوال کہ جب حضرت عیسیٰ علیہ السلام آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی زیارت ولقا سے مشرف بھی ہوچکے تھے، اور قبولیتِ دُعا کے نتیجے میں ان کو شرفِ خادمیت سے بھی مشرف کیا جاچکا تھا، تو اس وقت انہوں نے اِسلام اور مسلمانوں کی نصرت کیوں نہ کی؟ جبکہ اسلام کو اس وقت نصرت وحمایت کی اَزحد ضرورت تھی، اور مسلمان کفارِ مکہ کی ایذاؤں کا تختۂ مشق بنے ہوئے تھے۔
171
اس کا جواب یہ ہے کہ وہ تو خادم اور سپاہی کی حیثیت سے ہر وقت آمادۂ خدمت تھے، اب یہ مخدوم اور جرنیل کی صوابدید پر منحصر ہے کہ خادم کو کس وقت، کس خدمت پر مأمور کیا جائے، اور سپاہی کو کس وقت محاذ پر بھیجا جائے؟ اگر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے ان کو اس وقت نصرت وحمایت کا حکم ہوتا تو ان کو تعمیلِ حکم سے کیا عذر ہوسکتا تھا؟ لیکن افسرِ اعلیٰ کے حکم کے بغیر اپنے طور پر کسی اِقدام کا ان کے لئے کیا جواز تھا۔۔۔؟
۶: … یوں نظر آتا ہے کہ ہرچند کہ وہ وقت مسلمانوں کے لئے بڑا مشکل وقت تھا، اور سطحی نظر سے دیکھئے تو اس وقت اسلام کی نصرت وحمایت کی بڑی ضرورت محسوس ہوتی تھی، لیکن حقیقتِ واقعیہ یہ ہے کہ یہ ساری مشکلات صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کی اِصلاح وتربیت اور ریاضت ومجاہدہ کے لئے تھیں، ان حضرات کو پوری اُمت کا معلّم ومرشد بننا تھا، اس لئے مجاہدات کی بھٹی میں ڈال کر ان کو کندن بنایا جارہا تھا، اور پوری دُنیا کی اِصلاح وتربیت کی مسند ان مجاہدات کے ذریعے ان کے لئے بچھائی جارہی تھی، اور ایک عالم کی حکمرانی کے لئے ان کو تیار کیا جارہا تھا۔ حضراتِ صوفیائے کرامؒ کا اِرشاد ہے: ’’المشاہدۃ بقدر المجاہدہ‘‘ یعنی مجاہدہ جس قدر شدید ہو، اسی قدر مشاہدہ لطیف ہوتا ہے۔ کہتے ہیں کہ جب سیّدنا یوسف صدیق علیٰ نبینا وعلیہ الصلوات والتسلیمات کو بے کسی وبے بسی کی حالت میں برادرانِ یوسف کنویں میں ڈال رہے تھے تو آسمان کے مقرّب فرشتے چِلَّا اُٹھے کہ اِلٰہی! تیرے یوسف صدیق کے ساتھ کیا ہو رہا ہے؟ فرمایا: فکر نہ کرو، بھائی، ان کو کنویں میں نہیں ڈال رہے، بلکہ تختِ مصر پر بٹھا رہے ہیں۔
الغرض سطحی نظر سے دیکھا جائے تو عقل چِلَّا اُٹھتی ہے کہ مکہ، جو ہر ایک کے لئے دارُالامن ہے، اسی مکہ میں محبوب رَبّ العالمین صلی اللہ علیہ وسلم کے پاکباز صحابہؓ کے ساتھ کیا ہو رہا ہے؟ حکمتِ اِلٰہی کہتی ہے کہ کچھ نہیں، بس ان کے لئے:’’کُنْتُمْ خَیْرَ اُمَّۃٍ اُخْرِجَتْ لِلنَّاسِ‘‘ کا تاجِ کرامت تیار کیا جارہا ہے۔ پس مکی زندگی میں حضراتِ صحابہ کرامؓ کو جو اہلِ مکہ کے جور وستم کا تختۂ مشق بنایا جارہا تھا، اس کی وجہ یہ نہیں تھی کہ ان بے چاروں کا کوئی سہارا نہیں تھا، کوئی ان کا پُرسانِ حال نہیں تھا، کوئی ان کا حامی وناصر نہیں تھا، تاکہ یہ
172
سوال کیا جائے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے اس وقت ان کی مدد کیوں نہ کی؟ نہیں! بلکہ جو سب کا سہارا اور سب کا حامی وناصر ہے اسی نے اپنی حکمتِ بالغہ کے تحت ان کو اِمتحان وآزمائش کی بھٹی میں ڈال رکھا تھا، ورنہ ان میں مجسم رحمتِ عالم صلی اللہ علیہ وسلم بنفسِ نفیس موجود تھے، اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی رُوحانیت کا آفتاب عالم تاب نصف النہار پر تھا، اس کے سامنے کفر کی تاریکیاں ہبائً منثوراً تھیں۔
اور پھر اسی جماعت میں حضراتِ ابوبکر وعمر، عثمان وعلی ۔۔۔رضوان اللہ علیہم۔۔۔ جیسی اربابِ قوّتِ قدسیہ ہستیاں موجود تھیں، جن کے کمالات ہمرنگ کمالاتِ انبیاء تھے، اور سیّدالملائکہ جبریل ومیکائیل ۔۔۔علیہما السلام۔۔۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی نصرت کے لئے موجود تھے، ملک الجبال ۔۔۔جو فرشتہ پہاڑوں پر مقرّر ہے۔۔۔ حاضرِ خدمت ہوکر عرض پیرا ہوتا تھا کہ: اگر حکم ہو تو ان کفار ناہنجار کو دو پہاڑوں کے درمیان پیس کر رکھ دوں؟
الغرض کونسا سامان ایسا تھا جو مظلوم ومقہور مسلمانوں کی نصرت وحمایت کے لئے مہیا نہیں تھا، لیکن یہ ان کی آزمائش واِبتلا کا دور تھا، اور کسی کی حمایت کیا معنی؟ خود ان کو حکم تھا کہ ماریں کھاتے جاؤ، لیکن ہاتھ نہ اُٹھاؤ۔
پھر جب یہ دورِ اِبتلا ختم ہوا تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنے جاںنثار رُفقاء سمیت ہجرت الی المدینہ کا حکم ہوا، اور ہجرت کے دُوسرے سال دفعِ شرِ کفار کے لئے جہاد وقتال کا حکم ہوا، تب دُنیا نے دیکھا کہ صرف آٹھ سال کے قلیل عرصے میں کفر سرنگوں تھا، اور پورے جزیرۃ العرب پر اِسلام کا پرچم لہرا رہا تھا، اور دُنیا نے یہ بھی دیکھا کہ مشروعیتِ جہاد کے پہلے سال ’’یوم الفرقان‘‘ ۔۔۔جنگِ بدر۔۔۔ میں ۳۱۳ نہتوں نے کفر کا بھیجا نکال باہر کیا، اور اس اُمت کے فرعون ۔۔۔ابوجہل۔۔۔ کو واصلِ جہنم کرنے کے لئے کسی اِعجازِ موسوی کی ضرورت پیش نہیں آئی، محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے دو کمسن جاںنثاروں نے اس فرعون کے غرور وفرعونیت کو خاک میں ملادیا، اور اسے خاک وخون میں تڑپادیا۔ جب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم دُنیا سے رحلت فرما ہوئے تو اِسلامی عساکر قیصر وکسریٰ کے دروازے پر دستک دے رہے تھے، اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد خلفائے راشدین
173
۔۔۔رضی اللہ عنہم۔۔۔ جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے سچے جانشین اور خلفائے برحق تھے، کی قوّتِ قدسیہ نے بیس پچّیس سال کے قلیل عرصے میں قیصر وکسریٰ کے تخت اُلٹ دئیے، اور ’’نیل کے ساحل سے لے کر تابحد کاشغر‘‘ اِسلام کا پرچم لہرانے لگا۔ وہ تو کہئے کہ قضا وقدر غالب آئی، اور مفسدین ومنافقین کی سازش نے خلیفۂ مظلوم حضرت اَمیرالمؤمنین عثمان ۔۔۔رضی اللہ عنہ وجزاہ اللہ تعالیٰ عن الاسلام والمسلمین۔۔۔ کو جامِ شہادت پلاکر مسلمانوں کو خانہ جنگی کے الاؤ میں دھکیل دیا، وَکَانَ اَمْرُ اللہِ قَدَرًا مَّقْدُوْرًا ، ورنہ اگر ان حضرات کو دس بیس سال اور مل جاتے تو خدا جانے دُنیا کا نقشہ کیا ہوتا۔
۷: … الغرض یہ خیال کہ اس وقت اسلام کو حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی نصرت وحمایت کی ضرورت تھی، ایک سطحی خیال ہے۔ اس وقت آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اور خلفائے راشدین رضی اللہ عنہم موجود تھے، ان کی موجودگی میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی مسیحائی کی قطعاً ضرورت نہیں تھی۔
بعد کی صدیوں میں بھی اسلام اور مسلمانوں پر بڑے بڑے مشکل وقت آئے، مگر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی رُوحانیت سے فیض یافتہ اَئمۂ دِین، مجدّدین اور علمائے ربانی اس اُمت میں پیدا ہوتے رہے، جو ان فتنوں کا تدارک کرتے رہے، اور ہر فتنے کے زہر کا تریاق مہیا کرتے رہے، ہر صدی میں چھوٹے موٹے دجال بھی رُونما ہوتے رہے، مگر وعدۂ اِلٰہی:
’’یٰٓـاَیُّھَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا مَنْ یَّرْتَدَّ مِنْکُمْ عَنْ دِیْنِہٖ فَسَوْفَ یَاْتِی اللہُ بِقَوْمٍ یُّحِبُّھُمْ وَیُحِبُّوْنَہٗ اَذِلَّۃٍ عَلَی الْمُؤْمِنِیْنَ اَعِزَّۃٍ عَلَی الْکٰفِرِیْنَ یُجَاھِدُوْنَ فِیْ سَبِیْلِ اللہِ وَلَا یَخَافُوْنَ لَوْمَۃَ لَآئِمٍ، ذٰلِکَ فَضْلُ اللہِ یُؤْتِیْہِ مَنْ یَّشَآئُ وَاللہُ وَاسِعٌ عَلِیْمٌ‘‘
(المائدہ:۵۴)
ترجمہ: … ’’اے ایمان والو! جو شخص تم میں سے اپنے دِین سے پھر جائے تو اللہ تعالیٰ بہت جلد ایسی قوم کو پیدا کردے گا جن سے
174
اللہ تعالیٰ کو محبت ہوگی، اور ان کو اللہ تعالیٰ سے محبت ہوگی، مہربان ہوں گے وہ مسلمانوں پر، اور تیز ہوں گے کافروں پر، جہاد کرتے ہوں گے اللہ کی راہ میں، اور وہ لوگ کسی ملامت کرنے والے کی ملامت کا اندیشہ نہ کریں گے، یہ اللہ تعالیٰ کا فضل ہے جس کو چاہیں عطا فرمائیں، اور اللہ تعالیٰ بڑے وسعت والے ہیں بڑے علم والے ہیں۔‘‘
(ترجمہ حکیم الامت تھانویؒ)
منصہ شہود پر جلوہ گر ہوتا رہا، اور الحمدللہ ان اکابر کی قیادت میں قافلۂ اُمت رواں دواں رہا۔
۸: … لیکن جوں جوں زمانے کو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے دورِ سعادت سے بُعد ہو رہا ہے، اسی نسبت سے تاریکی بڑھ رہی ہے، اور رُوحانیت کمزور اور مضمحل ہوتی جارہی ہے، ادھر مسلسل فتنوں کی یورش تاریکیوں میں اضافہ کر رہی ہے، اور:
’’ظُلُمٰتٌم بَعْضُھَا فَوْقَ بَعْضٍ اِذَا اَخْرَجَ یَدَہُ لَمْ یَکَدْ یَرٰھَا۔‘‘
(النور:۴۰)
ترجمہ: … ’’اُوپر تلے بہت سے اندھیرے ہی اندھیرے ہیں کہ اگر کوئی ایسی حالت میں اپنا ہاتھ نکالے اور دیکھنا چاہے تو دیکھنے کا احتمال بھی نہیں۔‘‘
(ترجمہ حکیم الامت حضرت تھانویؒ)
کا منظر سامنے آرہا ہے، ادھر نورِ ہدایت مدہم ہوا جاتا ہے، اور ایسا لگتا ہے کہ کفر وضلالت کی رات بڑی تیزی سے چھا رہی ہے، اور وہ جو حدیث میں آیا ہے:
’’وَعَنْ أَبِیْ ھُرَیْرَۃَ رَضِیَ اللہُ عَنْہُ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ: بَادِرُوْا بِالْأَعْمَالِ فِتَنًا کَقِطَعِ اللَّیْلِ الْمُظْلَمِ یُصْبِحُ الرَّجُلُ مُؤْمِنًا وَّیُمْسِیْ کَافِرًا وَیُمْسِیْ مُؤْمِنًا وَیُصْبِحُ کَافِرًا، یَبِیْعُ دِیْنَہٗ بِعِرَضٍ مِّنَ الدُّنْیَا۔ رواہ مسلم۔‘‘
(مشکوٰۃ ص:۴۶۲)
175
ترجمہ: … ’’حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ: ایسے فتنوں کے آنے سے پہلے اعمال میں سبقت کرو جو تاریک رات کے ٹکڑوں کی طرح ہوں گے، آدمی صبح کو مؤمن ہوگا اور شام کو کافر، اور شام کو مؤمن ہوگا اور صبح کو کافر، دُنیا کے چند ٹکوں کے بدلے اپنا اِیمان بیچ ڈالے گا۔‘‘
کا منظر سامنے آرہا ہے، اس ناکارہ نے اپنے بچپن سے جوانی اور جوانی سے بڑھاپے تک جس طرح تاریکیوں کے سائے پھیلتے ہوئے دیکھے، اور زمانے کا رنگ دگرگوں ہوتے دیکھا ہے، اگر یہی حالت رہی تو:
’’محوِ حیرت ہوں کہ دُنیا کیا سے کیا ہوجائے گی؟‘‘
ہمارے شیخ ڈاکٹر عبدالحی عارفی قدس سرہٗ بڑی بے چینی سے فرماتے تھے:
’’میں تو سوچتا ہوں اس نادان نئی نسل کا کیا بنے گا؟‘‘
الغرض حالات کا جائزہ لیتے ہوئے اور صبح وشام زمانے کا رنگ بدلتے ہوئے دیکھ کر اندازہ ہوتا ہے کہ یہ سب ’’فتنۂ دجال‘‘ کے لئے تیاری ہو رہی ہے۔
۹: … اب ایک طرف دُنیا سے آثارِ ہدایت مٹ جانے اور قلوب سے اِیمان کے رُخصت ہوجانے اور اِستعدادِ اِیمان کے ضائع ہوجانے کا یہ عالم ہوگا، اور دُوسری طرف دجالِ لعین کا فتنہ اس قدر شدید ہوگا کہ ہر نبی نے اس فتنے سے ڈرایا، آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ہر نماز میں اس سے پناہ مانگتے تھے۔ اس کے فتنے کی جزئیات اَحادیث شریفہ میں بکثرت ذکر کی گئی ہیں، جن کا خلاصہ حضرت شاہ رفیع الدین محدث دہلویؒ کے ’’قیامت نامہ‘‘ میں درج ہے، یہاں اس کے اُردو ترجمے کا ایک اِقتباس ذِکر کرتا ہوں:
’’دجال قومِ یہود میں سے ہوگا، عوام میں اس کا لقب مسیح ہوگا، دائیں آنکھ میں پھلی ہوگی، گھونگردار بال ہوں گے، سواری میں ایک بہت بڑا گدھا ہوگا، اوّلاً اس کا ظہور ملکِ عراق وشام کے
176
درمیان ہوگا، جہاں نبوّت ورِسالت کا دعویٰ کرتا ہوگا، پھر وہاں سے اِصفہان چلا جائے گا، یہاں اس کے ہمراہ ستر ہزار یہودی ہوں گے، یہیں سے خدائی کا دعویٰ کرکے چاروں طرف فساد برپا کرے گا، اور زمین کے اکثر مقامات پر گشت کرکے لوگوں سے اپنے تئیں خدا کہلوائے گا، لوگوں کی آزمائش کے لئے خداوند کریم اس سے بڑے خرقِ عادات ظاہر کرائے گا، اس کی پیشانی پر لفظ ’’ک ف ر‘‘ لکھا ہوگا جس کی شناخت صرف اہلِ ایمان کرسکیں گے، اس کے ساتھ ایک آگ ہوگی جس کو دوزخ سے تعبیر کرے گا، اور ایک باغ جو جنت کے نام سے موسوم ہوگا، مخالفین کو آگ میں، موافقین کو جنت میں ڈالے گا، مگر وہ آگ درحقیقت باغ کے مانند ہوگی اور باغ آگ کی خاصیت رکھتا ہوگا۔ نیز اس کے پاس اشیائے خوردنی کا ایک بہت بڑا ذخیرہ ہوگا، جس کو چاہے گا دے گا، جب کوئی فرقہ اس کی اُلوہیت کو تسلیم کرے گا تو اس کے لئے اس کے حکم سے بارش ہوگی، اناج پیدا ہوگا، درخت پھل دار، مویشی موٹے گازے اور شیردار ہوجائیں گے، جو فرقہ اس کی مخالفت کرے گا تو اس سے اشیائے مذکورہ بند کردے گا، اور اسی قسم کی بہت سی ایذائیں مسلمانوں کو پہنچائے گا، مگر خدا کے فضل سے مسلمانوں کو تسبیح وتہلیل، کھانے پینے کا کام دے گی۔ اس کے خروج کے پیشتر دو سال تک قحط رہ چکا ہوگا، تیسرے سال دورانِ قحط ہی میں اس کا ظہور ہوگا، زمین کے مدفون خزانے اس کے حکم سے اس کے ہمراہ ہوجائیں گے، بعض آدمیوں سے کہے گا کہ
177
میں تمہارے مردہ ماں باپ کو زِندہ کرتا ہوں تاکہ تم اس قدرت کو دیکھ کر میری خدائی کا یقین کرلو، پس شیاطین کو حکم دے گا کہ زمین سے ان کے ماں باپ کی ہم شکل ہوکر نکلو، چنانچہ وہ ایسا ہی کریں گے، اس کیفیت سے بہت سے ممالک پر گزر ہوگا یہاں تک کہ وہ جب سرحدِ یمن میں پہنچے گا اور بددِین لوگ بکثرت اس کے ساتھ ہوجائیں گے۔‘‘
آپ چاہیں تو ان پیش آمدہ واقعات کو ’’روایت پرستی‘‘ کہہ کر رَدّ کردیجئے، لیکن میرا سوال یہ ہے کہ اگر دجالِ لعین کا بایں سحر وشعبدہ بازی آنا برحق ہو کہ اس وقت تمام علماء، صلحاء واتقیاء کی مجموعی رُوحانی قوّت بھی اس کا مقابلہ نہ کرسکے تو فرمائیے اس آڑے اور مشکل وقت میں فتنۂ دجال کے اِستیصال کے لئے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا تشریف لانا زیادہ موزوں ہوگا یا اس وقت موزوں تھا جب رحمتِ عالم صلی اللہ علیہ وسلم کی رحمۃ للعالمینی صحابہ کرامؓ کے سر پر سایہ فگن تھی، اور جب دُنیا میں آفتابِ رسالت نصف النہار پر تھا۔۔۔؟
۹: … آپ کے سوال کا بوضاحت جواب دینے کے بعد اپنی ایک تحریر درج کرتا ہوں، جس میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے نزول کے نکات کی طرف مختصراً اِشارہ کیا گیا ہے:
’’حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے دُعا کی تھی ۔۔۔جیسا کہ اِنجیل برنباس میں ہے۔۔۔ کہ اللہ تعالیٰ ان کو محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا خادم بنادے، اللہ تعالیٰ نے ان کی دُعا قبول فرمالی، اور اس مشکل وقت میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے خلیفہ کی حیثیت سے ان کو نازل فرمایا، قتلِ دجال کی مہم ان کے سپرد فرمائی، اور وہ بوجوہ چند اس خدمت کے لئے موزوں تر تھے:
✨ : … دجال اُلوہیت کا دعویٰ کرے گا، جبکہ ایک قوم نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام پر بھی یہی تہمت دھری تھی، اس کی مکافات کے لئے اس مدعیٔ اُلوہیت کا اِستیصال ان کے ہاتھ سے موزوں تر تھا، تاکہ ان کی عبدیتِ کاملہ کا ظہور ہوجائے جن کا اِظہار انہوں نے
178
مہد میں ’’اِنی عبداﷲ‘‘ کہہ کر عہد کیا تھا۔
✨ : … وہ خاتم انبیائے بنی اسرائیل تھے، اور انہوں نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی تشریف آوری کی بشارت دی تھی، اس لئے ان کا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے قرب وتعلق سب سے قوی تر تھا، آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے:’’وَأنا أولَی الناس بعیسَی بن مریم، فإنہ لم یکن بینی وبینہ نبیٌّ‘‘ میں اس طرف اشارہ فرمایا ہے۔
✨ : … ’’المسیح‘‘ ان کا خاص لقب ہے، جو ان کی پیدائش سے پہلے ان کے لئے تجویز کردیا گیا تھا، دجالِ لعین ان کے خاص لقب کا مدعی ہوگا، اور خرقِ عادت شعبدوں کے ذریعے اپنی ’’مسیحیت‘‘ کو ثابت کرنے کی کوشش کرے گا، اس دجل کا پردہ چاک کرنے کے لئے اصل ’’المسیح‘‘ کو نازل کیا جائے گا، اور جس طرح اِعجازِ موسوی کے سامنے ساحرانِ فرعون کا سحر باطل ہوکر رہ گیا، اسی طرح ’’المسیح عیسیٰ بن مریم صلی اللہ علیہ وسلم‘‘ کے سامنے اس جھوٹے مسیح کی ساری اعجوبہ نمائیاں باطل ہوکر رہ جائیں گی، اور وہ آپ کے دیکھتے ہی اس طرح پگھلنے لگے گا جس طرح پانی میں نمک تحلیل ہوجاتا ہے۔
✨ : … دجالِ اَعوَر یہودیوں کا بادشاہ ہوگا، اور یہود حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی قوم ہے، اس لئے وہ نازل ہوکر اپنی قوم کی کجی کی اِصلاح فرمائیں گے، ان میں جو اِیمان نہیں لائیں گے ان کو تہ تیغ کریں گے، یہی وجہ ہے کہ وہ جزیہ قبول نہیں کریں گے۔
خلاصہ یہ کہ حضرت رُوح اللہ صلی اللہ علیٰ نبینا وعلیہ وسلم کا
179
نازل ہونا اُمتِ محمدیہ ۔۔۔علیٰ صاحبہا الف الف تحیۃ وسلام۔۔۔ میں شامل ہونے کے لئے بھی ہے، اُمت کو دَجالی فتنے سے نجات دِلانے کے لئے بھی، اپنی قوم کے عقیدۂ تثلیث، عقیدۂ اِبنیت اور عقیدۂ نجات کی اِصلاح کے لئے بھی، اور اپنے معاندین یہود سے اِنتقام لینے کے لئے بھی، واللہ اعلم وعلمہ‘ اتم واَحکم!‘‘
خاتمۂ کلام پر تین باتیں
اس ناکارہ نے آنجناب کے اُٹھائے ہوئے نکات پر اپنے فہم کے مطابق گفتگو کی ہے، اس لئے جناب کا پورا گرامی نامہ بصورتِ اِقتباسات لے لیا ہے، اس کم فہم نے کوئی ٹھکانے کی بات کہی ہے یا نہیں؟ اس کا فیصلہ آنجناب کا کام ہے، یا دیگر اہلِ فہم کا، اس لئے فہم وقلم کی یہ امانت آپ کے حوالے کرکے رُخصت چاہوں گا، البتہ مقطعِ سخن پر تین باتوں کی اِجازت چاہوں گا:
اوّل: خلاصۂ مباحث:
چونکہ گفتگو خاصی طویل ہوگئی ہے، اس لئے مناسب ہے کہ خلاصۂ مباحث عرض کردُوں:
۱: … اگر گزشتہ صدیوں کی پوری اُمت کو گمراہ قرار دِیا جائے تو ہمارے لئے دِینِ اسلام کی کسی بات پر بھی اِعتماد ممکن نہیں، اس لئے روایت پرستی کے بارے میں آنجناب کا نظریہ اِصلاح طلب ہے۔
۲: … جن دِینی حقائق کو پوری اُمت مانتی اور نسلاً بعد نسلٍ طبقہ درطبقہ نقل کرتی چلی آئی ہے، وہ ’’ضروریاتِ دِین‘‘ کہلاتے ہیں، یہ چیزیں ہمارے حق میں اسی طرح قطعی ہیں جس طرح ہماری چشم دِید چیزیں۔ دِینِ اسلام کی ایسی ’’ضروریات‘‘ پر اِیمان لانا ہر مسلمان پر فرض ہے۔ اور قربِ قیامت میں دجال کا نکلنا اور کو قتل کرنے کے لئے حضرت عیسیٰ علیہ
180
السلام کا آسمان سے نازل ہونا دِینِ اسلام کے متواتر عقائد میں شامل ہے۔
۳: … ہر فن میں اس کے ماہرین پر اِعتماد کیا جاتا ہے، لہٰذا جن اَحادیثِ شریفہ کو جہابذہ محدثین نے صحیح قرار دِیا ہے، ان کو صحیح تسلیم کرنا چاہئے۔
۴: … قرآنِ کریم کی کسی آیت سے یہ ثابت نہیں ہوتا کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام فوت ہوچکے ہیں، ’’اِنِّیْ مُتَوَفِّیْکَ‘‘ کے معنی اگر یہ کئے جائیں کہ: ’’میں تجھ کو وفات ہی دُوں گا‘‘ تب بھی اس سے آئندہ کسی وقت میں وفات دینے کا وعدہ ثابت ہوتا ہے، نہ یہ کہ ان کی وفات ہوچکی ہے۔
۵: …’’قَدْ خَلَتْ مِنْ قَبْلِہِ الرُّسُلُ‘‘ دو جگہ آیا ہے، ایک جگہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے، اور دُوسری جگہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے لئے، قرآنِ کریم کا طرزِ اِستدلال بتاتا ہے کہ یہ دونوں حضرات نزولِ آیت کے وقت زِندہ تھے، لہٰذا یہ آیت عیسیٰ علیہ السلام کی وفات کی دلیل نہیں، بلکہ ان کے زِندہ ہونے کو ثابت کرتی ہے۔
۶: … ’’بَلْ رَّفَعَہُ اللہُ اِلَیْہِ‘‘ میں رفع بمقابلہ قتل کے آیا ہے، اور قتل جسم کا ہوتا ہے رُوح کا نہیں، لہٰذا آیت میں رفعِ جسمانی مراد ہے، اور ’’رفع اِلی اللہ‘‘ قرآن کے محاورے میں رفع الی السماء کے لئے اِستعمال ہوتا ہے، اور چونکہ آیت میں رفع الی اللہ سے رفعِ جسمانی آسمانی مراد ہونے پر پوری اُمت متفق ہے، اس لئے قرآن کا یہ مفہوم بھی اسی طرح قطعی ہے جس طرح قرآن کے یہ الفاظ قطعی ہیں، اور چونکہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے رفع الی السماء میں تعظیم وتشریف اور بلندیٔ درجات کے معنی بھی پوری طرح پائے جاتے ہیں، لہٰذا عیسیٰ علیہ السلام کا رفعِ جسمانی ان کے رفعِ رُوحانی اور رَفعِ درجات کی نفی نہیں کرتا، بلکہ اس کو مستلزم ہے۔
۷: … ’’وَاِنَّہُ لَعِلْمٌ لِّلسَّاعَۃِ‘‘ اور ’’وَاِنْ مِّنْ اَھْلِ الْکِتٰبِ‘‘ دونوں آیاتِ شریفہ میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے نزول من السماء کی خبر دی گئی ہے۔
۸: … اکابرِ اُمت میں ایک فرد بھی ایسا نہیں جو حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے رفع
181
ونزول کا منکر ہو، حافظ ابنِ حزمؒ، حافظ ابنِ تیمیہؒ اور حافظ ابنِ قیمؒ، جن کو آنجناب نے بھی محققین علماء تسلیم فرمایا ہے، ان کی صریح عبارتیں پیش کی جاچکی ہیں۔
دوم: کس کا عقیدہ صحیح ہے؟
آنجناب کا اور اس ناکارہ کا اس عقیدے میں اختلاف ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام زندہ ہیں یا نہیں؟ اور نازل ہوں گے یا نہیں؟ آپ رفع ونزول دونوں کا اِنکار کرتے ہیں، اور میں دونوں کا قائل ہوں، ہم دونوں کو اپنا اپنا عقیدہ لے کر بارگاہِ خداوندی میں پیش ہونا ہے، میرے دعوے کے دلائل یہ ہیں:
۱: … قرآنِ کریم نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے رفع الی اللہ ۔۔۔بمقابلہ: ’’وَمَا قَتَلَوْہُ یَقِیْنًا‘‘ ۔۔۔ کی خبر دی ہے، اور پوری اُمت متفق ہے کہ اس آیت میں رفع الی اللہ کے معنی رفعِ جسمانی الی السماء ہیں، اور جس طرح پوری اُمت کے نقل کردہ الفاظِ قرآن قطعی ہیں، ان میں غلطی کا وسوسہ بھی نہیں آسکتا، اسی طرح پوری اُمت کا نقل کردہ مفہوم بھی قطعی ہے، اس میں غلطی کا اِحتمال ممکن نہیں۔
۲: … آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی احادیثِ متواترہ، جن کی صحت پر تمام محدثین متفق ہیں، ان کے دوبارہ آنے کا اِعلان کرتی ہیں کہ عیسیٰ علیہ السلام دوبارہ آئیں گے۔
۳: … اُمتِ اِسلامیہ کے تمام اکابر کا متفقہ عقیدہ ہے، جس کے خلاف کسی صحابی، کسی تابعی اور کسی اِمامِ مجتہد کا ایک قول بھی پیش نہیں کیا جاسکتا۔
اس کے مقابلے میں آنجناب کا عقیدہ ہے جس پر آپ قرآنِ کریم سے ایک آیت بھی پیش نہیں کرسکتے، اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا ایک اِرشاد بھی پیش نہیں کرسکتے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام اِنتقال کرچکے ہیں، وہ دوبارہ نہیں آئیں گے، اور اُمتِ اِسلامیہ کے ایک بھی لائقِ اِعتماد بزرگ کا قول پیش نہیں کرسکتے۔
ہر نماز کی ہر رکعت میں:’’اِھْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِیْمَ‘‘ آپ بھی پڑھتے ہیں
182
اور میں بھی پڑھتا ہوں، اب آپ خود فیصلہ کرلیجئے کہ صراطِ مستقیم پر کون ہے؟ اور قیامت کے دن ہم دونوں میں سے حق پر کون ہوگا؟ اور بارگاہِ اِلٰہی میں کس عقیدے کو قبول کیا جائے گا۔۔۔؟
سوم: ایک اہم سوال!
انبیائے کرام علیہم السلام کو حق تعالیٰ شانہ‘ رُشد وہدایت کے ساتھ مبعوث فرماتے ہیں، اور وہ حضرات دعوت الی اللہ کا فریضہ انجام دیتے ہیں، جب دعوت الی اللہ کا کام اپنی آخری حد کو پہنچ جاتا ہے، لیکن ان کی قوم ضد وعناد، توہین وتذلیل اور اِیذارسانی کی آخر حد عبور کرلیتی ہے تو انبیائے کرام علیہم السلام کو اپنے رُفقاء سمیت کافروں کی بستی کو چھوڑنے اور وہاں سے ہجرت کرنے کا حکم دیا جاتا ہے۔ ہجرت کے بعد یا تو اس بستی کو ہلاک کردیا جاتا ہے، جیسا کہ حضرت نوح، حضرت صالح، حضرت ہود، حضرت اِبراہیم، حضرت شعیب، حضرت لوط اور حضرت موسیٰ ۔۔۔علیہم السلام۔۔۔ کی قوموں سے ساتھ ہوا، (البتہ حضرت یونس علیہ السلام کی قوم چونکہ عذاب کے اِبتدائی آثار دیکھ کر اِیمان لے آئی تھی، اس لئے اس کو ہلاکت سے بچالیا گیا)۔
یا دُوسری صورت یہ ہوتی ہے کہ ہجرت کے بعد نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور ان کے رُفقاء کو جہاد کا حکم ہوتا ہے، اور کچھ عرصے کے بعد وہ فاتحانہ حیثیت سے اس بستی میں داخل ہوتے ہیں، اور بستی کے کفار مغلوب ومقہور ہوجاتے ہیں، بلکہ مطیع وفرمانبردار بن جاتے ہیں، جیسا کہ ہمارے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ یہی صورت پیش آئی۔
ان دونوں صورتوں کے علاوہ کوئی اور تیسری صورت نہیں، کہ کسی نبی کو ہجرت کا حکم ہوجائے، پھر نہ تو اس کے مخالفین ومعاندین کو ہلاک کیا جائے، اور نہ بذریعہ جہاد ان کو نبی کے سامنے مغلوب ومقہور کیا جائے۔
آپ اور میں دونوں متفق ہیں کہ یہود جب درپے قتل واِیذا ہوئے تو اللہ تعالیٰ نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو ان کے درمیان میں سے اُٹھالیا، گویا یہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی اپنی قوم کے وطن سے ہجرت تھی۔
183
اس نکتے پر اِتفاق کے بعد میرا اور آپ کا اِختلاف ہے کہ ہجرت کس مقام کی طرف فرمائی؟ میں کہتا ہوں کہ ہجرت الی السماء ہوئی، اور آپ فرماتے ہیں کہ ہجرت الی الربوہ ہوئی، پھر ہجرت کے بعد کیا ہوا؟ آپ فرماتے ہیں کہ وہ ہجرت کے بارہ سال بعد اِنتقال فرماگئے، (ایسی کس مپرسی وگم نامی میں ان کا اِنتقال ہوا کہ نہ کسی کو ان کے اِنتقال کی کانوں کان خبر ہوئی، اور نہ ان کے مدفن کا کسی کو پتا نشان ملا)۔ سوال پیدا ہوتا ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے اپنی سنت کیوں بدل دی؟ یا تو ان کی ہجرت کے بعد ان کے دُشمنوں ۔۔۔یہود۔۔۔ کو ہلاک کردیا جاتا، جیسا کہ شعیب علیہ السلام اور لوط علیہ السلام وغیرہ دیگر انبیائے کرام علیہم السلام کی قوموں کو ہلاک کردیا گیا، مگر حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے دُشمن آج تک دندناتے پھر رہے ہیں، یا حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو فاتح کی حیثیت سے واپس لاکر ان کے دُشمنوں کو ان کے سامنے زبوں وسرنگوں کیا جاتا۔
میں کہتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے بارے میں اپنی سنت نہیں بدلی، وہ آسمان پر زِندہ ہیں ۔۔۔اور جہاں وہ رہائش پذیر ہیں وہاں کا ایک دن ہمارے ایک ہزار سال کے برابر ہے، جیسا کہ قرآن مجید میں اِرشاد ہے: ’’وَاِنَّ یَوْمًا عِنْدَ رَبِّکَ کَاَلْفِ سَنَۃٍ مِّمَّا تَعُدُّوْنَ‘‘ اس لئے وہاں کے پیمانۂ وقت کے لحاظ سے ان کی ہجرت کو ابھی دو دن بھی پورے نہیں ہوئے۔۔۔ اور جب ان کی ہجرت کی میعاد، جو علمِ اِلٰہی میں مقرّر ہے، پوری ہوجائے گی، اس وقت یہود اپنے رئیس دجالِ اکبر کی ماتحتی میں میدانِ قتال میں صف آرا ہوں گے، حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو فاتحانہ حیثیت میں دوبارہ لایا جائے گا، وہ اپنے دُشمنوں کے رئیس دجال کو خود قتل کریں گے، اور ان کے دُشمن یہود ان کے سامنے مغلوب ومقہور ہوجائیں گے۔ وَلَنْ تَجِدَ لِسُنَّۃِ اللہِ تَبْدِیْلًا!
جیسا کہ اُوپر عرض کرچکا ہوں، میرا یہ مقدمہ اور یہ موقف قرآنِ کریم، احادیثِ صحیحہ متواترہ اور اِجماعِ اُمت کے مطابق ہے، اگر آنجناب کے نزدیک یہ موقف اور عقیدہ
184
صحیح نہیں تو اس سوال کا جواب آپ کے ذمے قرض ہے کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے بارے میں اپنی سنت کو کیوں تبدیل فرمادیا، کہ ان کی ہجرت کے بعد نہ تو ان کے معاندین کو ہلاک کیا، اور نہ ان کے سامنے مغلوب ومقہور کیا۔۔۔؟
دُعا کرتا ہوں کہ حق تعالیٰ مجھے، آپ کو اور تمام مسلمانوں کو عقائدِ حقہ اِختیار کرنے کی توفیق عطا فرمائیں اور آخر دَم تک صراطِ مستقیم پر قائم رکھیں۔
رَبَّنَآ اِنَّنَا سَمِعْنَا مُنَادِیًا یُّنَادِیْ لِلْإِیْمَانِ اَنْ اٰمِنُوْا بِرَبِّکُمْ فَاٰمَنَّا، رَبَّنَا فَاغْفِرْ لَنَا ذُنُوْبَنَا، وَکَفِّرْ عَنَّا سَیِّئَاتِنَا وَتَوَفَّنَا مَعَ الْاَبْرَارِ Y رَبَّنَا وَاٰتِنَا مَا وَعَدْتَّنَا عَلٰی رُسُلِکَ وَلَا تُخْزِنَا یَوْمَ الْقِیٰمَۃِ اِنَّکَ لَا تُخْلِفُ الْمِیْعَادَ
وَآخِرُ دَعْوَانَا اَنِ الْحَمْدُ ِﷲِ رَبِّ الْعَالَمِیْنَ
وَصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی خَیْرِ خَلْقِہٖ سَیِّدِنَا مُحَمَّدٍ النَّبِیِّ الْاُمِّیِّ
وَآلِہٖ وَاَصْحَابِہٖ اَجْمَعِیْنَ
محمد یوسف لدھیانوی
185
ترجمہ
مقدمہ عقیدۃ الاسلام
پیش لفظ
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ
اَلْحَمْدُ لِلہِ وَسَلَامٌ عَلٰی عِبَادِہِ الَّذِیْنَ اصْطَفٰی!
اِمام العصر حضرت مولانا محمد انور شاہ کشمیری نوّراللہ مرقدہٗ کی بے نظیر تالیف ’’عقیدۃ الاسلام فی حیاۃ عیسیٰ علیہ السلام‘‘ مجلسِ علمی کراچی کے زیرِ اِہتمام شائع ہوئی ہے، جس پر حضرت الشیخ العلامہ مولانا محمد یوسف بنوری مدظلہٗ کے قلم سے ایک فاضلانہ مقدمہ ہے، جو اپنے قیمتی اِفادات کے لحاظ سے مستقل مقالے کی حیثیت رکھتا ہے۔
یہ کتاب حال ہی میں مجھے تبصرے کے لئے موصول ہوئی، تو جی چاہا کہ قارئینِ ’’بینات‘‘ کے لئے اس مقدمے کا اُردو ترجمہ بھی پیش کردیا جائے۔
یہ مقدمہ تین مباحث پر مشتمل ہے، اِمام العصرؒ کے اِجمالی حالات، عقیدۃ الاسلام کی خصوصیات کا تفصیلی تعارف، اور مسئلۂ نزولِ مسیح علیہ السلام پر محققانہ بحث،وَاللہُ الْمُوَفِّقُ لِکُلِّ خَیْرً وَّسَعَادَۃٍ!
محمد یوسف لدھیانوی
۱؍۸؍۱۳۸۷ھ
186
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ
الحمد ﷲ الذی جعل علماء ھٰذہ الاُمّۃ کنجوم السماء فبھم یھتدیٰ فی دیاجر الکفر وظلمات الْإلحاد غایۃ الْإھتداء، وبھم زینۃ ھٰذہ البسیطۃ الغبراء، وبھم یرجم شیاطین الْإنس فی کل لیلۃ لیلًا، والصلٰوۃ والسلام علٰی سیّد الرُّسل محمد خاتم الأنبیاء، الممثل للاُمّۃ بالمطر، والمبشر بنزول سیّدنا عیسٰی رُوح اللہ الأطھر، فیصلح بہ الاُمّۃ العوجاء، وعلٰی آلہ الأصفیاء وصحبہ السعداء ما استنار القمر وتجلت ذکاء، أمّا بعد:
حضرت الاستاذ اِمام العصر مولانا محمد انور شاہ کشمیری ۔۔۔نوّراللہ مرقدہٗ۔۔۔ کے مشکلات علوم، دُشوار مسائل اور دقیق حوادث ونوازل کی تحقیق کے سلسلے میں اُمت پر عظیم اِحسانات ہیں، ہر علم کے پیچیدہ اور دُشوار مسائل کے حل کے لئے آپ کی ذات سرزمینِ ہند میں اہلِ علم کا مرجع تھی، علومِ نبوّت کی تدریس اور کسی بھی موضوع سے متعلق متن وسند اور جرح وتعدیل کے تمام مباحث کی تحقیق میں منفرد طریقے کے موجد تھے، مذاہبِ اُمت کے اِستحضار وتحقیق میں ’’آیۃ من آیات اللہ‘‘ تھے، اور فقہائے اُمت کے مختلف فیہ مسائل کی تنقیح میں مجدّد تھے۔
اسی طرح اہلِ بدعت واہلِ فتن، بالخصوص فتنۂ کبریٰ ’’قادیانیت ومرزائیت‘‘ کی تردید کے سلسلے میں اُمتِ مسلمہ پر آپ کے اِحسانات ناقابلِ فراموش ہیں، اس ’’شجرۂ خبیثہ‘‘ ۔۔۔فتنۂ مرزائیت۔۔۔ کی بیخ کنی کے لئے آپ خود بھی متوجہ ہوئے، علمائے کرام پر حفاظتِ دِین کی جو ذمہ داری عائد کی گئی ہے، انہیں بھی اس کا اِحساس دِلایا، اس سلسلے میں زبان وقلم سے ان کی مدد فرمائی اور اپنے علمی ذخیروں اور قلمی یادداشتوں کے خزانوں کو سب
187
کے لئے وقفِ عام کردیا، جس کے نتیجے میں آپ کے فاضل تلامذہ نے ’’رَدِّمرزائیت‘‘ پر عظیم الشان اُردو، عربی کتابیں لکھیں، درآں حالیکہ آپ نہ کسی سے جزا کے طالب تھے، نہ شکریے کے، بلکہ یہ سب کچھ محض رضائے اِلٰہی کے لئے تھا، آپ کا دروازہ ہر مستفید کے لئے کھلا تھا، اور آپ کے علمی خزانے ہر طالب کے لئے وقف تھے۔ اس ’’تاریک فتنے‘‘ کی مضرّت کے اِحساس سے آپ کا ذکی اور حساس قلب مبارک بے تاب رہتا تھا، اور حریمِ دِین کی حفاظت میں اہلِ علم کی غفلت کوشی پر آپ کی پاکیزہ رُوح درد وکرب میں مبتلا رہتی تھی، بسااوقات آپ پر ان اَفکار کا اِتنا ہجوم ہوتا کہ ساری ساری رات آنکھوں میں کاٹ دیتے، آپ کی تمنا بس یہی تھی کہ کسی طرح حق کا جھنڈا سربلند ہو، اور نشانِ باطل سرنگوں ہو۔
اس لئے میں چاہتا ہوں کہ قارئین کے لئے اِمام العصر کی حیاتِ طیبہ کا اِجمالی خاکہ پیش کروں، اس کے بعد آپ کی تصنیف ’’عقیدۃ الاسلام‘‘ کے خصائص پر قدرے روشنی ڈالوں۔
نام ونسب:
الشیخ الامام محدثِ کبیر، محققِ زمان، اِمام العصر، محمد انور شاہ بن شیخ معظم شاہ بن شاہ عبدالکبیر۔ آپ کا سلسلۂ نسب شیخ مسعود نروری رحمۃ اللہ علیہ سے جاملتا ہے، آپ کے اَسلاف بغداد سے ملتان آئے، وہاں سے لاہور اور پھر لاہور سے کشمیر منتقل ہوئے، اور خطۂ کشمیر ان کی اولاد کا وطنِ مالوف بن گیا، گویا عربی شاعر کی زبان میں:
-
فالقٰی عصاہ واستقر بہ النویٰ
کما قر عینًا بالأیاب المسافر
ترجمہ: … ’’پس اس نے ڈیرے ڈال دئیے، اور مسلسل سفر سے سکون وقرار پالیا، جیسا کہ وطن کی واپسی سے مسافر کی آنکھیں ٹھنڈی ہوجاتی ہیں۔‘‘
188
ولادت مبارکہ اور نشوونما:
آپ کی ولادت ۲۷؍شوال المکرم ۱۲۹۲ھ کو بروز ہفتہ بارہ مولا (کشمیر) میں ہوئی، والدِ ماجد نہایت متقی عالم اور سلسلۂ سہروردیہ کے صاحبِ نسبت شیخ تھے، یہ سلسلہ ان کے خاندان میں پشت در پشت چلا آتا تھا۔ آپ کی والدہ ماجدہ بھی بڑی نیک بخت اور عبادت گزار خاتون تھیں، آپ نے ان دونوں نیک ونکوکار ہستیوں کی آغوشِ شفقت میں پروَرِش پائی، آپ کی صغرسنی میں والدِ ماجد نمازِ تہجد کے لئے بیدار ہوتے تو آپ کو اُٹھاکر اپنے پہلو میں بٹھالیتے اور خود نماز میں مشغول ہوجاتے۔
یوں بچپن ہی سے آپ پر برکات کا نزول ہوتا اور دعوتِ صالحہ آپ کا اِحاطہ کرتیں، ایسے علم وصلاح کے گھرانے میں ایسی خاص نگہداشت، اور عجیب تربیت کی آغوش میں آپ کا نشوونما ہوا۔
تعلیم:
اِبتدائی تعلیم والدِ ماجد سے حاصل کی، پھر اپنے قصبے کے دُوسرے علماء سے، پھر خطۂ کشمیر کے مشاہیر سے، پھر کشمیر سے ملحقہ علاقے ضلع ہزارہ کی طرف تعلیمی سفر کیا، پھر برِصغیر ہند وپاکستان کے سب سے بڑے علمی مرکز ’’دارالعلوم دیوبند‘‘ تشریف لے گئے، جو اس وقت کے فاضل ترین علماء واتقیاء کا مرکز تھا، جسے بلامبالغہ ہندوستان کا قرطبہ اور اَزہر کہا جاسکتا ہے۔ وہاں سے ۱۳۱۳ھ میں فارغ التحصیل ہوئے، جبکہ طالب علمی کے زمانے ہی سے آپ وفورِ علم، وسعتِ نظر، بے نظیر حافظہ اور وَرَع وتقویٰ کے اِعتبار سے ’’مشارٌ اِلیہ‘‘ تھے۔
میں نے ۱۳۷۴ھ میں سفرِ کشمیر کے دوران آپ کے والدِ ماجد کی زبان مبارک سے آپ کے اِبتدائی تعلیمی حالات سنے، انہوں نے فرمایا کہ: ’’مولوی محمد انور، قدوری کے سبق میں مجھ سے ایسے سوال کیا کرتے تھے جن کا جواب دینے کے لئے مجھے ہدایہ کے مطالعے کی ضرورت پیش آتی تھی، پھر میں نے ان کا سبق فلاں عالم کے سپرد کردیا تو انہوں نے بھی یہی شکایت کی کہ یہ صاحب زادے سوال بہت کرتے ہیں، حالانکہ اوقاتِ درس
189
کے علاوہ آپ بالکل ساکت وصامت رہا کرتے تھے، کھیل کود کی رغبت جو عموماً اس عمر کے بچوں میں پائی جاتی ہے، وہ آپ کے اندر قطعاً نہ تھی۔‘‘
نیز والدِ ماجد فرماتے تھے: میں ان کو ایک عارفِ کامل، مستجاب الدعوات بزرگ کی خدمت میں لے گیا، انہوں نے دیکھ کر فرمایا: ’’یہ لڑکا اپنے وقت کا سب سے بڑا عالم ہوگا۔‘‘
میں نے خود حضرت اِمام العصرؒ کی زبان مبارک سے سنا، فرماتے تھے: ’’میں نے فارسی کی تمام درسی کتابیں، جو اس وقت مروّج تھیں، پانچ سال میں پڑھیں، اور علومِ عربیہ کی تعلیم میں پانچ سال مشغول رہا۔‘‘ اس لحاظ سے آپ کی طالب علمی کی مدّت دس سال سے زائد نہیں ہوتی، آپ کے شاگردِ عزیز اور رفیقِ خاص مولانا مشیت اللہ بجنوری نے مجھے بتلایا کہ حضرت الاستاذ ۔۔۔طالب علمی کے زمانے میں۔۔۔ صرف جمعہ کی رات کو بستر پر سویا کرتے تھے، ورنہ اس کے علاوہ ہفتے کی باقی راتوں میں مطالعۂ کتب میں مصروف رہتے اور جب نیند کا غلبہ ہوتا تو بیٹھے بیٹھے سوجاتے۔
میں نے خود حضرت الاستاذ کی زبان مبارک سے سنا کہ: ’’جس سال حضرت الاستاذ شیخ الہند مولانا محمود حسن رحمۃ اللہ علیہ کے یہاں میرا بخاری شریف کا درس شروع ہونے والا تھا، اس سال میں نے رمضان المبارک میں پوری عمدۃالقاری شرح بخاری کا مطالعہ کرلیا تھا، اور کتاب شروع ہونے کے بعد بخاری شریف کے ساتھ ساتھ فتح الباری شرح بخاری کا مطالعہ سبقاً سبقاً کیا کرتا تھا، بعض اوقات پوری جلد کا مطالعہ ایک رات میں کرنا ہوتا، اسی سال میں ایک مرتبہ ۱۷ دِن بیمار رہا، جس کی وجہ سے شریکِ درس تو نہ ہوسکا مگر فتح الباری کا مطالعہ جاری رہا، اٹھارویں دن جب سبق میں حاضر ہوا تو معلوم ہوا کہ حضرت کا درس ابھی تک وہاں نہیں پہنچا ہے جہاں تک میں صحیح بخاری اور فتح الباری کا مطالعہ کرچکا ہوں۔‘‘
نیز فرماتے تھے: ’’میں نے حضرت شیخ الہند رحمۃ اللہ علیہ سے ہدایہ آخرین، صحیح بخاری، سنن ابی داؤد اور جامع ترمذی پڑھیں، اور حضرت مولانا محمد اِسحاق کشمیری ثم مدنی (متوفیٰ ۱۳۲۲ھ) سے صحیح مسلم، سنن نسائی اور سنن ابنِ ماجہ پڑھی ہیں۔‘‘
190
راقم الحروف (حضرت بنوری) نے آپ کے مآثرِ علمی اور نقوشِ زندگی پر ایک مستقل کتاب ’’نفحۃ العنبر فی حیاۃ الشیخ الأنور‘‘ کے نام سے لکھی ہے، نیز کچھ سوانح زندگی اور درسی خصوصیات کا تذکرہ مقدمہ فیض الباری اور مقدمہ مشکلات القرآن میں کیا ہے، یہاں چند مختصر اِشارات پر قناعت کروں گا۔
اَعمال واَشغال:
آپ طبعاً گمنامی کو پسند فرماتے تھے، فطری ذوق یہی تھا کہ کسی سے جان پہچان نہ ہو، بس ہمہ وقت مصروفِ مطالعہ رہا کریں، لیکن قدرت آپ کو کسی بڑے کام کے لئے تیار کر رہی تھی، سب سے پہلے آپ کے رفیقِ خاص مولانا امین الدین دہلوی رحمۃ اللہ علیہ نے آپ کو دعوت دی کہ دہلی میں ایک دِینی مدرسے کے قیام کے سلسلے میں آپ میری مدد کریں۔ چنانچہ آپ نے ان کی دعوت قبول فرمائی اور مدرسے کی تأسیس میں ان کی امداد فرمائی، مدرسے کا نام مدرسہ امینیہ رکھا گیا، جو اپنے بااِخلاص بانیوں کے خلوص اور للہیت کی برکت سے آج تک دہلی میں علم وہدایت کی شمعِ فروزاں ہے۔ آپ نے خود اَزراہِ اِخلاص واِیثار اس مدرسے کو سب سے پہلے دس روپے چندہ دیا اور آپ ہی اس کے پہلے صدر مدرّس ہوئے، پھر کچھ عرصے کے بعد آپ کو وطنِ مالوف (کشمیر) جانا پڑا، وہاں بھی برابر عوام کی اِصلاح میں مشغول رہے، وعظ وتذکیر کے ذریعے اِصلاحِ معاشرت، تصحیحِ عقائد اور اِصلاحِ بدعات ورُسوم کے سلسلے میں بڑی محنت برداشت فرمائی، ایک ایک بستی میں جاتے، فصیح کشمیری زبان میں وعظ وتلقین فرماتے، لوگ آپ کے مواعظِ حسنہ سے اس قدر متأثر ہوتے کہ وعظ سن کر بے تحاشا روتے اور بداَعمالیوں سے تائب ہوتے، بالآخر بستی بارہ مولا میں ’’فیضِ عام‘‘ کے نام سے ایک دِینی مدرسے کی بنیاد ڈالی، جس سے وہاں کے بہت سے لوگوں خصوصاً اہلِ علم کی اِصلاح ہوئی۔
سفرِ حج:
۱۳۲۳ھ میں بغرضِ حج و زیارت حجازِ مقدس کا سفر کیا، وہاں چند ماہ قیام رہا،
191
کتب خانہ شیخ الاسلام عارف حکمت، مکتبہ محمودیہ اور دُوسرے کتب خانوں کی بہت سی نایاب اور غیرمطبوعہ کتابوں کا مطالعہ کیا، علاوہ ازیں اس سفر میں اس زمانے کے باکمال اہلِ علم وفضل سے بکثرت ملاقاتیں میسر آئیں، اور علمی مذاکرات میں آپ کے وفورِ علم، فضل وشرف اور عبقریت کا ظہور ہوا، جن حضرات سے آپ کی ملاقاتیں ہوئیں، ان میں سلطنتِ عثمانیہ کے عالمِ کبیر شیخ حسین بن محمد طرابلسیؒ، مصنف رسالہ حمیدیہ، بطورِ خاص قابلِ ذِکر ہیں۔
سفرِ حرمین سے واپسی:
حرمین شریفین کے انوار وبرکات سے اِستفادہ کے بعد مراجعت فرمائے وطن ہوئے اور چند سال خطۂ کشمیر میں درس وتدریس میں مشغول رہے، اور علمائے کرام کو درس واِفتاء سے مستفید فرمایا، تین سال تک ماہرینِ فقہ وقضا کی ’’جدید فقہی مسائل‘‘ میں راہ نمائی فرمائی، اور وہ اِختلافی مسائل جو اَربابِ فتویٰ کے درمیان محلِ نزاع چلے آرہے تھے، ان کے بارے میں فیصلہ کن فتوے دئیے، جو بالاتفاق تسلیم کئے گئے اور عجیب بات یہ کہ اس سہ سالہ مدّتِ فتویٰ نویسی میں آپ کو فقہ وفتاویٰ کی کسی کتاب کی طرف مراجعت کی ضرورت پیش نہیں آئی ۔۔۔خارقِ عادت حافظے کی مدد سے ضخیم فقہی کتب کے حوالے پیش فرماتے، جو کتاب سے ملانے کے بعد بالکل صحیح نکلتے، بسااوقات مطبوعہ کتب میں کتابت یا نقل کی اغلاط کی نشاندہی بھی فرماتے۔۔۔ یہ بات میں نے خود حضرت الاستاذؒ کی زبان مبارک سے سنی ہے۔
ہجرتِ حجاز کا قصد اور دیوبند میں قیام:
پھر دیارِ حبیب کے اِشتیاق میں وطنِ مالوف کو ہمیشہ کے لئے چھوڑ دینے اور حرمین شریفین کی طرف ہجرت کرنے کا عزم فرمایا اور کشمیر سے حجاز جاتے ہوئے اثنائے سفر میں اپنے شیخ کبیر حضرت شیخ الہند مولانا محمود حسن رحمہ اللہ کی زیارت کے لئے دیوبند حاضر ہوئے، حضرت شیخ الہندؒ کو قصدِ ہجرت کا علم ہوا، انہوں نے محسوس فرمایا کہ سرزمینِ ہند اور مرکزِ علوم دارالعلوم دیوبند آپ کے علمی فیضان کے زیادہ مستحق ہیں، اور یہ بنجر علاقے آپ کی بارانِ علوم ومعارف کے لئے بے حد تشنہ ہیں، اس لئے حضرت شیخ الہندؒ نے آپ پر زور دِیا
192
کہ ہجرت کا اِرادہ ترک کردیں اور دیوبند میں مستقل قیام فرمائیں، چنانچہ آپ سے زادِ سفر لے کر کسی دُوسرے صاحب کو حج وزیارت کے لئے تیار کردیا۔ یہ واقعہ بھی میں نے حضرت الاستاذ (نوّراللہ مرقدہٗ) سے سنا۔
صدارت دارالعلوم دیوبند:
حضرت شیخ الہندؒ کے اِصرار پر آپ دیوبند کے قیام پر آمادہ ہوگئے، اور اسی سال دارالعلوم دیوبند میں اُستاذِ حدیث مقرّر ہوئے، اور جب ۱۳۳۳ھ میں حضرت شیخ الہندؒ نے اپنے خاص نصب العین کے تحت سفرِ حرمین شریفین کا قصد فرمایا تو اپنی جگہ حضرت الاستاذ (مولانا انور شاہؒ) کو صدر مدرّس اور شیخ الحدیث کے منصب پر متعین فرمادیا، آپ صحاحِ ستہ اور اُمہات کتبِ حدیث کی تدریس میں مشغول ہوگئے، اس وقت سرزمینِ ہند میں آپ ہی کی ذات مسندِ وقت تھی، ملک کے اَطراف واَکناف میں آپ کا علمی غلغلہ بلند ہوا، اور آپ کی بارگاہ اہلِ علم اور طالبانِ علومِ نبوّت کا مرجع بن گئی، دارالعلوم میں آپ کا سراپا علمی وجود طریقۂ تدریس کی اِصلاح وتجدید اور دقیق مسائل کے تجزیہ وتحلیل کا سبب بنا، آپ کے وفورِ علم، وسعتِ نظر اور کثرتِ معلومات کا سمندر ساحلِ دارالعلوم سے اُچھل اُچھل کر اَطراف واَکناف کے ہر تشنہ اور خشک خطے کو سیراب کرنے اور تشنگانِ علومِ نبوّت کی پیاس بجھانے لگا، سماحتِ نفس، کمالِ اِخلاص اور جذبہ فیض رسانی کا یہ حال تھا کہ آپ اپنی قلمی یادداشتیں جو مطالعۂ کتب کے دوران مرتب فرمالیا کرتے تھے، اور جو گراںقدر علمی ذخائر اور نفیس خزائن پر مشتمل ہوتی تھیں، اور جنہیں عام طور پر اہلِ علم کے حلقے میں بلامبالغہ جان سے زیادہ عزیز سمجھا جاتا ہے، مانگنے پر بڑی فیاضی اور کشادہ دِلی سے دے دیا کرتے تھے۔
ڈابھیل میں جامعہ اسلامیہ اور مجلسِ علمی کی تأسیس:
۱۳۴۶ھ میں بعض وجوہ کی بنا پر، جن کے بیان کرنے کا یہاں موقع نہیں، آپ دارالعلوم دیوبند کی صدارت سے سبکدوش ہوگئے، اور ملک کے ہر گوشے سے بااِخلاص ارادت مندوں کی جانب سے آپ کو اپنے یہاں لے جانے کی دعوت دی گئی، بالآخر آپ
193
قصبہ ڈابھیل، جو سورت کے قریب بمبئی کے علاقے میں واقع ہے، تشریف لے جانے پر مجبور ہوگئے، وہاں آپ کے وجودِ مسعود کی برکت سے ایک عظیم الشان دِینی مدرسہ ’’جامعہ اسلامیہ‘‘ کے نام سے، اور ایک اِدارۂ نشر واِشاعت ’’مجلسِ علمی‘‘ کے نام سے قائم ہوا، مؤخرالذکر اِدارہ مختلف موضوعات پر بڑی بلند پایہ کتابیں شائع کرچکا ہے۔ وہاں آپ کی حیاتِ طیبہ کے شب و روز درس وتدریس، تصنیف وتالیف، تذکیر وتلقین اور وعظ واِرشاد میں گزرتے تھے، چنانچہ آپ کے علوم ومعارف کے انوار سے یہ علاقے بھی منوّر ہوگئے اور علم وعمل اور سنت وحدیث کا رِواج عام ہوگیا، علاوہ ازیں آپ کی بدولت حق جل شانہ‘ نے وہاں کے بہت بڑے طبقے کی اِصلاح فرمادی۔
آپ پر رِقت کا بڑا غلبہ تھا، درس ووعظ کے دوران بے اِختیار گریہ طاری ہوجاتا، اور خوب روتے اور رُلاتے، اسی طرح حیاتِ مبارکہ کے آخری حصے میں حقائقِ اِلٰہیہ سے شغف بہت بڑھ گیا تھا، مجلسِ درس اور مجلسِ وعظ کے علاوہ عام مجلسی گفتگو میں بھی حقیقت تجلی، برزخی حالات اور دیگر حقائق کی شرح میں عجیب وغریب علوم ومعارف بیان فرماتے تھے، آخر وقتِ موعود آپہنچا، اور صفر ۱۳۵۲ھ میں بمقام دیوبند رحلت فرمائے عالم جاودانی ہوئے،رَحِمَہُ اللہُ رَحْمَۃَ الْاَبْرَارِ الصَّالِحِیْنَ، وَرَضِیَ عَنْہُ وَاَرْضَاہُ وَجَعَلَ الْجَنَّۃَ مَنْقَبَہٗ وَمَثْوَاہٗ۔
جامع کمالات:
حق تعالیٰ نے نسبی سیادت اور خاندانی مجد وشرف کے ساتھ آپ میں بہت سے خصائص وکمالات جمع کردئیے تھے، چنانچہ نیک سرشت والدین کے سایۂ شفقت میں تربیت پائی، وادیٔ کشمیر جیسے معتدل ترین خطے کی پاکیزہ فضا اور صاف ستھری آب وہوا میں نشوونما ہوا، فطرۃً پاک طینت اور ذکی طبیعت نصیب ہوئی، دُعائے بزرگاں کی برکات سے فیض یاب ہوئے، دائمی توفیق شاملِ حال رہی، صحت اتنی عمدہ تھی کہ نہ کبھی گرانی کا اِحساس ہوتا، نہ تھکاوٹ کا، مسلسل انتھک محنت کی عادت، فوق العادت حافظہ، عقلِ سلیم، فہمِ مستقیم
194
اور اپنے وقت کے اَئمہ رُشد وہدایت اور اَربابِ علم وفضل سے اِستفادے کی نعمتیں آپ کو میسر آئیں۔
مشیتِ اَزلیہ کا فیصلہ یہی تھا کہ آپ علم وعمل، دِین وعبادت، وَرَع وتقویٰ، فقہ وحدیث، ادب وتاریخ اور کلام وفلسفہ میں اپنے دور کے تمام فضلاء سے سبقت لے جائیں، علمی مشکلات کے حل میں غوطہ زنی، دقیق مباحث کی تحقیق، شبانہ روز مطالعہ، دائمی غور وفکر اور طویل سکوت آپ کا شعارِ زندگی تھا، جب کسی غامض اور مشکل مسئلے کے بارے میں آپ سے دریافت کیا جاتا تو آپ کا حسین چہرہ بجلی کی طرح چمک اُٹھتا، آپ سیلِ رواںکی طرح بہنے اور موسلا دھار بارش کی طرح برسنے لگتے، حق تعالیٰ نے ’’نورِ تقویٰ‘‘ کے ساتھ جمالِ خلق اور کمالِ خلق بھی نصیب فرمایا تھا، چہرۂ انور سے انوار کی شعاعیں پھوٹتی تھیں۔ حاصل یہ کہ اللہ تعالیٰ نے خارقِ عادت علمی تبحر کے ساتھ ساتھ جمالِ صورت، کمالِ سیرت اور حسنِ خلق کے تمام ظاہری وباطنی محاسن بھی آپ میں جمع کردئیے تھے، اس لئے آپ کی شخصیت بیک وقت نورافزائے دیدۂ ودِل تھی۔
جہاں تک مجھے معلوم ہے، آپ کے زمانے میں آسمان کی نیلی چھت کے نیچے کوئی شخص علم وفضل او رخصالِ حمیدہ کی جامعیت میں آپ سے فائق نہیں تھا۔
اِمام العصرؒ اکابر معاصرین کی نظر میں:
حکیم الامت حضرت مولانا اشرف علی تھانوی رحمۃ اللہ علیہ فرمایا کرتے تھے:
’’میرے نزدیک اُمتِ اسلامیہ میں مولانا محمد انور شاہ کا وجود اِسلام کی حقانیت وصداقت کا زندہ معجزہ ہے، اگر دِینِ اسلام میں ذرا بھی کجی یا خامی ہوتی تو مولانا انور شاہ کبھی اسلام پر قائم نہ رہتے۔‘‘
حضرت حکیم الامتؒ کا یہ اِرشاد سب سے پہلے میں نے اَمیرِ شریعت مولانا عطاء اللہ شاہ بخاری رحمۃ اللہ علیہ سے سنا، بعد اَزاں شیخ الاسلام مولانا شبیر احمد صاحب عثمانیؒ سے، پھر حضرت مولانا مفتی محمد حسن امرتسریؒ خلیفہ اجل حضرت حکیم الامت تھانویؒ سے۔
195
حضرت مولانا حبیب الرحمن عثمانی نائب مہتمم دارالعلوم دیوبند نے فرمایا:
’’مولانا محمد انور شاہ صاحب سطحِ زمین پر چلتا پھرتا اور بولتا چالتا زندہ کتب خانہ(۱) ہیں۔‘‘
نیز موصوف نے آپ کے بارے میں درج ذیل القاب تحریر فرمائے:
’’شیخ، ثقہ، ورع، تقی، حافظ، حجۃ، محدث، علومِ عقلیہ نقلیہ میں بحرِ بے کراں، غامض ومہم مسائلِ علمیہ میں تحقیق کا علم بلند کرنے والے۔‘‘
حضرت العلامہ مولانا سیّد سلیمان ندویؒ نے فرمایا:
’’مرحوم کی مثال اس سمندر جیسی ہے جس کی اُوپر کی سطح ساکن ہو اور اَندر کی گہرائیاں گراںقدر موتیوں سے معمور ہوں۔‘‘
شیخ الاسلام حضرت الاستاذ مولانا شبیر احمد عثمانی رحمہ اللہ شارحِ مسلم فرماتے ہیں:
’’فقیدالمثال، عدیم العدیل، بقیۃ السلف، حجۃ الخلف، بحرِ مواج، سراجِ وہاج (۲) ،(۲) جس کی مثال نہ آنکھوں نے دیکھی اور نہ خود
(۱) حضرت مولانا سیّد اصغر حسین صاحب دیوبندیؒ اُستاذِ حدیث دارالعلوم دیوبند فرماتے تھے:
’’مجھے جب کسی فقہی مسئلے میں اِشکال پیش آتا ہے تو دارالعلوم کے عظیم کتب خانے میں کتابوں کا تتبع اِستقرائِ بالغ کے ساتھ کرتا ہوں، اگر کسی کتاب میں وہ مسئلہ مل جائے فبہا، ورنہ مولانا محمد انور شاہ صاحب سے مراجعت کرتا ہوں، اگر وہ بیان فرماکر کسی کتاب کا حوالہ دیں تو خیر، لیکن اگر یہ فرمادیں: ’’کہیں نظر سے نہیں گزرا‘‘ تو یقین کرلیتا ہوں کہ اب یہ مسئلہ کسی کتاب میں نہیں ملے گا، اس لئے کتابوں میں اس کی تلاش بے سود ہے۔‘‘ (نفحۃ العنبر ص:۱۹۵)
(۲) لطیفہ عجیبہ: اصل عربی جملہ یوں ہے:’’لم تر العیون مثلہ ولم یر ھو مثل نفسہ‘‘ یہ عجیب اتفاق ہے کہ یہ جملہ جن جن اکابر کے حق میں کہا گیا، بالکل صحیح ثابت ہوا، چنانچہ:
✨ : … سب سے پہلے یہ جملہ شیخ عثمان بن سعید دارمیؒ کے بارے میں ابوالفضل الفراتؒ نے کہا، اور بجا طور پر ان پر صادق آیا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ (باقی اگلے صفحے پر)
196
آپ نے اپنی نظیر دیکھی۔‘‘
دُوسری جگہ لکھتے ہیں:
’’میں تو کیا چیز ہوں، اپنے زمانے کے بڑے بڑے مبصر ناقدین بھی مرحوم کو ’’آیۃ من آیات اللہ‘‘ اور ’’حجۃ اللہ علی العالمین فی زمانہ‘‘ سمجھتے رہے ہیں۔‘‘
حضرت مولانا رحیم اللہ بجنوریؒ تلمیذِ رَشید حجۃ الاسلام حضرت مولانا محمد قاسم
(بقیہ حاشیہ صفحۂ گزشتہ)
✨ : … پھر اِمام ابوالقاسم قشیریؒ (متوفیٰ۴۶۵ھ) کے حق میں کہا گیا، چنانچہ وہ علمِ ظاہر وباطن، ورع وتقویٰ اور معارفِ شرعیہ وحقائقِ کونیہ کے جامع ترین شخص تھے۔
✨ : … پھر حجۃ الاسلام اِمام ابوحامد محمد بن محمد غزالیؒ (متوفیٰ۵۰۵ھ) کے حق میں یہ جملہ کہا گیا، بلاشبہ وہ اپنے دور کی بے نظیر شخصیت تھے۔
✨ : … پھر اِمام موفق الدین ابنِ قدامہ حنبلی صاحب ’’المغنی‘‘ (متوفیٰ۶۸۲ھ) کے بارے میں شیخ ابنِ حاجب مالکیؒ نے یہ جملہ کہا، اور صحیح کہا۔
✨ : … پھر شیخ تقی الدین ابنِ دقیق العیدؒ (متوفیٰ۷۰۶ھ) کے حق میں اِمام ابنِ سیّدالناسؒ نے یہ جملہ کہا، اور بقول شاہ عبدالعزیز محدث دہلویؒ: ’’عہدِ صحابہ سے لے کر ان کے دور تک معانی حدیث کے بیان اور اِستخراجِ فوائد میں ان جیسا شخص پیدا نہیں ہوا، صرف ایک حدیث سے چار سو فوائد مستنبط فرمائے۔‘‘
✨ : … پھر یہی جملہ شیخ الاسلام ابنِ تیمیہ حرانی رحمۃ اللہ علیہ (متوفیٰ۸۲۷ھ) کے بارے میں کہا گیا، اور بلاشبہ متعدّد کمالات کے اِعتبار سے وہ بے نظیر تھے۔
✨ : … پھر حافظ شمس الدین ذہبیؒ نے اپنے اُستاذِ محترم حافظ ابوالحجاج مزیؒ (متوفیٰ۷۴۲ھ) کے بارے میں یہ جملہ کہا، اور واقعی وہ علومِ حدیث میں اپنی مثال آپ تھے۔
✨ : … پھر حافظ الدنیا شہاب الدین ابنِ حجرعسقلانی ؒ (متوفیٰ۸۵۲ھ) کے بارے میں یہی جملہ کہا گیا، اور بلاشک وہ وسعتِ اِطلاع، معرفتِ رِجال، ملکۂ تصنیف، اور شعر وعربیت وغیرہ بہت سے کمالات میں یکتائے زمانہ تھے۔(ھٰذا ما لخصتہ من نفحۃ العنبر ص:۱۹۱، ۱۹۳) ۔ مترجم
197
نانوتوی (نوّراللہ مرقدہٗ) فرماتے ہیں:
’’حبر کامل، محقق، مدقق، فخر الأقران وأبناء الزمان۔‘‘
اِمام المناظرین مولانا مرتضیٰ حسن دیوبندیؒ فرماتے ہیں:
’’شیخ الاسلام والمسلمین، مجمع بحور الدنیا والدین‘‘
اُستاذِ کبیر شیخ محمد زاہد کوثری ’’تانیب الخطیب‘‘ میں آپ کا تذکرہ ان الفاظ میں فرماتے ہیں:
’’العلامہ، الحبر البحر، محمد انور شاہ کشمیری‘‘
متکلم عصر، شیخ الاسلام مصطفی صبری ترکی نزیل قاہرہ اپنی تالیف ’’العلم والعقل والدین‘‘ (ج:۳ ص:۲۳۷) میں لکھتے ہیں:
’’میں نے ہندوستان کے عالمِ کبیر (مولانا) محمد انور شاہ کشمیری رحمہ اللہ کی تصنیف مرقاۃ الطارم (علیٰ حدوث العالم) کا مطالعہ کیا (اصل مسئلے کا تذکرہ کرنے کے بعد لکھتے ہیں) مجھے یہ دیکھ کر بڑی مسرّت ہوئی کہ ہم دونوں کی رائے (اس مسئلے میں) متفق ہے۔‘‘
شیخ مصطفی صبری جن دنوں مصر جدید میں اپنے دولت خانے میں مقیم تھے، میں نے ان کی خدمت میں مرقاۃ الطارم کا نسخہ پیش کیا، مطالعے کے بعد فرمایا:
’’میرا خیال نہیں تھا کہ ہندوستان کی سرزمین میں بھی ایسا محقق پیدا ہوسکتا ہے (صدر شیرازی کی کتاب اسفارِ اَربعہ سامنے رکھی تھی، اس کی طرف اِشارہ کرتے ہوئے فرمایا) میں اس رسالہ مرقاۃ الطارم کو اس کتاب اسفارِ اَربعہ سے بہتر سمجھتا ہوں۔‘‘
میں ۱۳۵۷ھ میں شیخ کوثریؒ کے دولت خانے العباسیہ (قاہرہ) میں حاضر تھا، شیخ کوثریؒ نے اس موقع پر فرمایا:
198
’’احادیثِ نبویہ کے تحت نادر اَبحاث کے اُٹھانے میں شیخ ابنِ ہمامؒ کے بعد مولانا محمد انور شاہ کشمیری جیسا شخص پیدا نہیں ہوا۔
پھر فرمایا: یہ پانچ چھ صدیوں کا وقفہ کوئی معمولی مدّت نہیں ہے۔‘‘
آپ کے اُستاذ شیخ کبیر حضرت شیخ الہند محمود حسن دیوبندی رحمہ اللہ نے سندِ اِجازت میں لکھا ہے:
’’قد اعطی فھمًا ثاقبًا ورأیًا صائبًا وطبیعۃً زکیۃً وأخلاقًا مرضیۃً‘‘
ترجمہ: … ’’(مولانا محمد انور شاہ کو) فہمِ ثاقب، رائے صائب، طبیعتِ زکیہ اور اَخلاقِ مرضیہ عطا کئے گئے ہیں۔‘‘
علامہ، فقیہ، محدث مولانا محمد سجاد بہاریؒ نے آپ کا تذکرہ ان الفاظ سے فرمایا:
’’علامۂ دَہر، فہامۂ عصر، فقیہِ زمان، محدثِ دوراں، روایت میں ثقہ، درایت میں حجت، علماء کے شیخ۔‘‘
شیخ حسین بن محمد طرابلسیؒ سے مدینہ منوّرہ میں آپ کی ملاقات ہوئی تھی، اس وقت آپ جواںعمر تھے، اور ابھی تک آپ کے علم وفضل کا عام چرچا بھی نہیں ہوا تھا، مگر اس وقت بھی شیخ طرابلسی نے آپ کو ’’الشیخ الفاضل‘‘ کے خطاب سے یاد کیا تھا۔
الحاصل آپ کے ہم عصر مشائخ اور طبقۂ مشائخ کے اکابر کی جانب سے آپ کے کمالات کا اِعتراف ایسے الفاظ سے کیا جانا جن کا کچھ حصہ ہم نے یہاں ذِکر کیا ہے، اس اَمر کی بین دلیل ہے کہ آپ علم وعمل اور فضل وکمال کے جس بلند مرتبے پر فائز تھے، آپ کے ہم عصر اہلِ علم وفضل وہاں تک رسائی پانے سے قاصر تھے، آپ کی شخصیت ان چیدہ جہابذہ واساطینِ اُمت کی نظیر تھی جن کی مثال صدیوں بعد دیکھنے میں آتی ہے۔
آپ کے بارے میں مختصراً اتنا کہا جاسکتا ہے کہ:
آپ کی نادر شخصیت میں حق سبحانہ وتعالیٰ نے گوناگوں
199
کمالات جمع کردئیے تھے، جمالِ صورت، حسنِ سیرت، پاکیزگیٔ عادات، وَرَع وزُہد، تقویٰ وطہارت، صبر وعزیمت، تربیتِ صالحہ، حیاتِ طیبہ، جامعیتِ علوم، روایت ودرایت، بصیرتِ نافذہ، رات دن مطالعے کا شغف، خارقِ عادت حافظہ، ہر چیز میں تحقیق وتدقیق کا عشق، سعیٔ مسلسل کی توفیق جس میں نہ تنگ دِلی کا نام تھا، نہ تھکن کا اِحساس، نہ گرانیٔ طبع کا شائبہ تھا، نہ تعب ومشقت کی پروا، باکمال اساتذہ سے تلمذ، علماء، صلحاء، عرفائے ربانیین سے گہرے روابط، یہ تمام اُمور بیک وقت اسی شخص میں جمع ہوسکتے ہیں جس کے حق میں مشیتِ اَزلیہ کا قطعی فیصلہ ہو کہ اسے اُمت کا اِمام اور مقتدیٰ بنایا جائے اور اس کی شان وہی ہو جو عربی شاعر نے بیان کی ہے:
-
لکل زمان واحدٌ یقتدیٰ بہٖ
وھٰذا زمان أنت لَا شک واحد
ترجمہ: … ’’ہر زمانے میں ایک منفرد شخصیت ایسی ہوتی ہے جس کی سبھی اِقتدا کرتے ہیں، بلاشبہ اس دور میں آپ ہی وہ منفرد شخصیت ہیں۔‘‘
آپ کی تصنیفات پر ایک نظر:
تصنیف وتألیف کا شغل آپ کا طبعی ذوق نہیں تھا، عادتِ مبارکہ یہ تھی کہ مطالعے کے دوران متفرّق اَفکار اور قیمتی نقول جو نظر سے گزرتے انہیں مختلف یادداشتوں (نوٹ بکوں) میں اِشاریے کے طور پر درج فرمالیا کرتے تھے۔ البتہ جب کسی خاص بحث کی تحقیق، کسی دِینی مسئلے کی وضاحت، کسی علمی نزاع کے حل یا کسی ایسے گوشے کی نقاب کشائی کے لئے جو عام طور سے اہلِ علم کی نظر سے مخفی ہو، آپ کسی خاص موضوع پر تألیف کے لئے مجبور ہی ہوجاتے تو اس کے لئے قلم اُٹھاتے تھے، آپ کی تمام تصنیفات اسی اُصول کے ذیل
200
میں آتی ہیں، یہاں اس کی وضاحت کا موقع نہیں، میں نے اس کی قدرے وضاحت اپنی عربی تألیف (۱) ’’نفحۃ العنبر فی حیاۃ الشیخ الأنور‘‘ میں نیز اپنے اُردو مقالے مشمولہ ’’حیاتِ انور‘‘ میں کردی ہے۔
قادیانیت ایک سازش:
مرزا غلام احمد قادیانی نے قصبہ قادیان ضلع گورداسپور (مشرقی پنجاب) میں فتنۂ قادیانیت کی بنیاد ڈالی۔ مرزائے قادیان نے اپنے دعاوی (۲) میں تدریجی رفتار ملحوظ رکھی، چنانچہ پہلے ’’مجدّدیت‘‘ کا دعویٰ کیا، پھر ’’مثیلِ مسیح‘‘ ہونے کا، پھر ’’مہدویت‘‘ کا، پھر (جب ان دعاوی میں کامیابی نظر آئی تو) ایک قدم اور آگے بڑھایا اور دعویٰ کیا کہ میں وہی ’’مسیحِ موعود‘‘ ہوں (۳) جنہیں آسمان سے نازل ہونا تھا، اس کے بعد ’’غیرتشریعی نبی‘‘ ہونے کا
(۱)نفحۃ العنبرمن ہدی الشیخ الأنور، اِمام العصرؒ کی حیاتِ طیبہ پر شیخ بنوری دامت برکاتہم کی بہترین تألیف ہے، جسے ملاحظہ فرماکر شیخ الاسلام علامہ شبیر احمد عثمانی رحمہ اللہ نے مولانا بنوری کو لکھا تھا:
’’آپ نے نفحۃ العنبر لکھ کر حضرت شاہ صاحب قدس سرہٗ کی یاد تازہ کردی اور مشامِ جان کو معطر کردیا ۔۔۔۔۔ حق یہ ہے کہ آپ نے ان کی بابرکات زندگی کے جن پہلوؤں کو نمایاں کیا ہے اور جن خصوصیات کی طرف نہایت بلیغ اور موجز انداز میں اِشارے کردئیے ہیں، میرے نزدیک اس سے آگے کچھ لکھنا ’’سواد فی بیاض‘‘ سے زیادہ وقعت نہیں رکھتا، یعنی بسط وتفصیل جس قدر چاہے کرلیجئے خلاصہ اور مآل پھر یہی رہے گا۔‘‘
یہ کتاب ۱۳۵۵ھ میں ’’مجلسِ علمی‘‘ کے زیرِ اِہتمام چھپی تھی، اب تقریباً نایاب ہے، کاش حضرت مؤلف کی نظرِثانی اور اِضافات کے ساتھ اسے دوبارہ شائع کرنے کی کسی صاحبِ ہمت کو توفیق ہوجائے۔ (الحمدللہ! بعد میں دوبارہ شائع ہوگئی) مترجم۔
(۲) یہ مرزا صاحب کے دعوؤں کا بہت مجمل تذکرہ ہے، اس موضوع پر ’’دعاویٔ مرزا‘‘ وغیرہ رسائل کا مطالعہ کرنا چاہئے۔ مترجم
(۳) مرزا ’’غلام احمد بن چراغ بی بی‘‘ (مرزا صاحب کی والدہ کا نام) کو سچ مچ ’’عیسیٰ بن مریم‘‘ بننے کے لئے ’’میں ولد میں‘‘ کا جو نظریہ اِیجاد کرنا پڑا اور اس کے لئے جو رکیک تأویلیں کرنا پڑیں، میرا خیال ہے کہ کسی سنجیدہ آدمی کے لئے کسی باوقار محفل میں اس کا تذکرہ بھی آسان نہیں۔ مترجم
201
دعویٰ کیا، پھر صاحبِ شریعت رسول ہونے کا دعویٰ کیا، اور اپنی وحی کو ’’قرآن کی مثل‘‘ بتلایا، نسخِ جہاد اور نسخِ حج کا اِعلان کیا، برطانوی سامراج کے بارے میں دعویٰ کیا کہ وہ زمانے میں ’’ظل اللہ‘‘ ہے، مرزا صاحب قرآن مجید کی آیات کو بڑی جسارت سے اپنی ذات پر منطبق کیا کرتے، باطنیہ اور زَنادقہ کی طرح ان کی عجیب وغریب تأویلیں کیا کرتے، اور ٹھیک ’’فرقہ بہائیہ‘‘ اور ’’بابیہ‘‘ جیسے ملعون فرقوں کے نقشِ قدم پر چلتے تھے۔
عوام الناس کو فریب دینے کے لئے مرزا صاحب نے بعض ایسے مسائل میں بحث شروع کی جنہیں ان کے دعوائے نبوّت سے کوئی دُور کا علاقہ بھی نہیں تھا، چنانچہ دعویٰ کیا کہ ’’عیسیٰ علیہ السلام کی وفات ہوچکی ہے‘‘:
’’ابنِ مریم مرگیا حق کی قسم!‘‘
اور اَب وہ آسمان سے نازل نہیں ہوں گے، اس مسئلے سے متعلقہ اَحادیثِ صحیحہ متواترہ کی غلط اور مضحکہ خیز تأویلیں کرنا اور آیاتِ قرآنیہ میں کھلی تحریف کرنا، ان کا دِلچسپ موضوع بن گیا، آیات واَحادیث کو نہایت بے محل پڑھتا اور ان کی عجیب وغریب تأویلیں کرتا، اس طرح وہ بہت سے بیہودہ دعوے ہانکتا، فتنہ برپا کرتا اور کفر و اِلحاد کی وادیوں میں بھٹکتا رہا، میں نے اس کی کچھ تفصیل ’’نفحۃ العنبر‘‘ میں ذِکر کی ہے، اور حضرت شیخ (مولانا محمد انور شاہ نوّراللہ مرقدہٗ) نے بھی ’’عقیدۃ الاسلام‘‘ کے شروع میں خطبۂ کتاب سے پہلے بطورِ مقدمہ، اس کا ذِکر کیا ہے۔
مرزا صاحب کے اَتباع واَذناب کا ایک مختصر سا ٹولہ وجود میں آگیا تھا، جو حکومتِ برطانیہ کے ’’ظلِ حمایت‘‘ میں پروَرِش پاتا رہا۔ اِسلامی عقائد میں رخنہ اندازی اور مسلمانوں میں ’’مذہبی انارکی‘‘ پھیلانے کے لئے حکومتِ برطانیہ کو ان کے دعاوی اور خوش فہمیوں سے بہتر اور کیا حربہ ہاتھ آسکتا تھا؟ چنانچہ حکومت نے اس فتنے کو خوش آمدید کہا، اور متعدّد وسائل سے، جن کی تفصیل کی یہاں گنجائش نہیں، اس کی حوصلہ افزائی کی۔ مختصر یہ کہ فتنۂ قادیانیت، گورنمنٹ برطانیہ کا ساختہ پرداختہ ۔۔۔یا خود مرزا صاحب کے الفاظ میں
202
۔۔۔ ’’خودکاشتہ پودا‘‘ تھا(۱)جو اسی کے ظلِ حمایت میں پھلاپھولا اور تدریج وترقی کے مراحل طے کرتا رہا۔ اس ملک میں کوئی اسلامی حکومت موجود نہ تھی، جو اپنی شرعی ذمہ داری کا اِحساس کرتے ہوئے اس فتنے پر کاری ضرب لگاتی اور اسے ہمیشہ کے لئے خاموش کردیتی ۔۔۔جیسا کہ اسلامی حکومتوں کے دور میں نبوّت کے جھوٹے دعوے داروں کے ساتھ یہی ہوتا رہا۔۔۔ ناچار علمائے کرام کو اپنی ذمہ داری پورا کرنے کے لئے میدان میں اُترنا پڑا، چنانچہ ان حضرات نے حقِ واجب ادا کیا، دِینِ اسلام کی حفاظت، مسلمانوں کے اِسلامی عقائد کی حمایت، اور فتنۂ قادیانیت کے رَدّ میں زبان وقلم سے جہاد کیا، اور مرزائے قادیان کے ایک ایک دعوے کی قلعی کھول کر رکھ دی، یہاں تک کہ ہر موضوع اور ہر مسئلے پر کتابوں کا اچھا ذخیرہ وجود میں آگیا۔
فتنۂ قادیانیت کی بیخ کنی میں اِمام العصرؒ کی خدمات:
ہمارے شیخ اِمام العصر رحمہ اللہ کو اس آفتِ کبریٰ ۔۔۔فتنۂ مرزائیت۔۔۔ نے بے چین کر رکھا تھا، آپ نے اس کے تابوت میں آخری کیل ٹھونکنے کے لئے کمرِ ہمت باندھی۔ خود بھی تقریر وتحریر کے میدان میں کود پڑے اور دُوسرے اہلِ علم کو بھی متوجہ فرمایا اور ان کی ہمت افزائی کی، چنانچہ آپ کے علوم کے سیلِ رواں سے علم کی وادیاں بہنے لگیں۔
آپ نے اپنی تألیفات میں عمدہ اَبحاث اور نادر تحقیقات کا بہترین ذخیرہ فراہم کردیا، آیاتِ قرآنیہ کی تشریحات کے ضمن میں عربیت کے عجیب وغریب دقائق واَسرار بیان فرمائے، اور ایسی تمام مطبوعہ اور غیرمطبوعہ کتابوں سے، جو عام طور پر اہلِ علم کی دسترس
(۱) مرزا صاحب نے برٹش گورنمنٹ کے حضور ’’خاکسار مرزا غلام احمد‘‘ کی جانب سے جو ’’عرضی‘‘ پیش کی تھی، اس میں بڑے فخر سے اپنی جماعت کو ’’گورنمنٹ برطانیہ کا خودکاشتہ پودا‘‘ کے لقب سے یاد کیا۔ نیز لکھتے ہیں: ’’اے بابرکت قیصرۂ ہند! تجھے یہ تیری عظمت اور نیک نامی مبارک ہو، خدا کی نگاہیں اس ملک پر ہیں، جس پر تیری نگاہیں ہیں، خدا کی رحمت کا ہاتھ اس رعایا پر ہے، جس پر تیرا ہاتھ ہے، تیری ہی پاک نیتوں کی تحریک سے خدا نے تجھے بھیجا ہے۔‘‘ (ستارۂ قیصر ص:۹)
203
سے بعید تھیں، رَدِّ قادیانیت پر اَحادیثِ مقدسہ کا ذخیرہ اس قدر حیرت انگیز طریق پر جمع کیا، جسے دیکھ کر عقل حیران رہ جاتی ہے۔
التصریح بما تواتر فی نزول المسیح:
چنانچہ نزولِ مسیح علیہ السلام کے سلسلے کی تمام احادیث ایک رسالے میں جمع کردیں جسے ’’التصریح بما تواتر فی نزول المسیح‘‘ کے نام سے موسوم فرمایا، یہ اپنے موضوع پر جامع ترین کتاب ہے۔
اِکفار الملحدین:
اسی طرح ایک کتاب ’’اِکفار الملحدین‘‘ کے نام سے مسئلۂ تکفیر پر لکھی، جس میں ہر فن کی مطبوعہ وغیرہ مطبوعہ ضخیم کتابوں سے ایک ہزار ایک کے قریب اَئمۂ دِین کی عبارتیں پیش کیں۔ بلاشبہ اس کتاب کی تألیف اُمتِ اسلامیہ پر آپ کا عظیم الشان اِحسان ہے، اس میں آپ نے مدارِ نجات، اور مناطِ کفر واِیمان، کی خوب تحقیق فرمائی، اور ان دقیق مسائل کو منقح کیا، جن میں مدّتِ دراز سے بڑے بڑے لوگوں کے لئے لغزش کا موقع تھا، اور ان دقیق علمی مسائل کی تنقیح کے لئے آپ نے آیات، احادیث، آثار اور اکابر متقدمین ومتأخرین کی عبارات سے دلائل پیش کئے۔ اس کتاب کو مرتب کرنے کے بعد آپ نے اسے اپنے دور کے اکابرِ اُمت اور محققین اہلِ سنت کی خدمت میں تصدیق وتصویب کے لئے پیش کیا، چنانچہ تمام اکابر نے اس کتاب پر تقریظیں لکھیں، بے حد تعریف فرمائی اور ان منقح تنقیحات میں آپ سے پورا پورا اِتفاق کیا۔ اس سے آپ کا مقصد یہ تھا کہ ’’مدارِ نجات‘‘ اور ’’مسئلۂ تکفیر‘‘ پر تمام علمائے کرام کا اِتفاقِ رائے ہوجائے۔ اس کتاب میں یہ ثابت فرمایا ہے کہ ’’ضروریاتِ دِین کا اِنکار کرنا، یا ان میں تأویل کرنا، دونوں باتیں موجبِ کفر ہیں۔‘‘ محققین علمائے اُمت کی تقریظات کے بعد یہ کتاب اس موضوع پر ’’اِجمالی دستاویز‘‘ کی حیثیت رکھتی ہے۔ اکابر علماء سے تقریظ لکھوانے سے آپ کا یہی مقصد تھا، ورنہ حضرت اِمام العصر کی شخصیت مدح وثنا سے بالاتر تھی، اور آپ کے ذوق سے یہ بات قطعاً بعید تھی کہ
204
لوگ آپ کی کتاب کی مدح وثنا میں رطب اللسان ہوں، آپ کے پیشِ نظر صرف یہی تھا کہ ’’مسئلۂ کفر واِیمان‘‘ پر تمام علمائے اُمت کا اِتفاق ہوجائے، ان کی آرا واَفکار جمع ہوجائیں اور ان لوگوں کی اِصلاح ہوجائے جن کے لئے ان دُشوار مسائل میں حق وباطل باہم مشتبہ ہوجاتے ہیں۔ یہ بات میں محض ظن وتخمین سے نہیں کہتا، بلکہ خود حضرتِ اقدس سے سن کر عرض کر رہا ہوں۔ قارئین کو یہ تاریخی حقائق ملحوظ رکھنے چاہئیں، تاکہ انہیں اس کتاب کی قدر وقیمت کا صحیح اندازہ ہوسکے۔ بہرحال یہ کتاب اپنے موضوع پر بے حد جامع، مفید اور اہم کتاب ہے، جس میں آپ نے ان تمام اِشکالات کو صاف کردیا ہے، جن کا حل مدّت سے مشکل سمجھا جاتا تھا۔ (۱)
رسالہ شرح خاتم النبیین:
ایک فارسی رسالہ آیت ’’خاتم النبیین‘‘ کی شرح میں تحریر فرمایا، جو آپ کے بلندپایہ اَفکار اور ان وہبی تحقیقات پر مشتمل ہے جن میں اللہ تعالیٰ نے آپ کو شرحِ صدر نصیب فرمایا تھا، لیکن یہ رسالہ بہت دقیق اور غامض ہے (الحمدللہ! کہ اس رسالے کے ترجمے کی ناکارہ مترجم کو توفیق ہوئی، جس پر حضرت بنوری نے وقیق مقدمہ تحریر فرمایا، یہ رسالہ ’’عالمی مجلس تحفظ ختمِ نبوّت‘‘ نے شائع کیا)۔
عقیدۃ الاسلام اور تحیۃ الاسلام:
’’عقیدۂ حیات مسیح علیہ السلام‘‘ کے موضوع پر ایک نہایت اہم اور قیمتی کتاب تحریر فرمائی، جس کا نام ’’عقیدۃ الاسلام فی حیاۃ عیسیٰ علیہ السلام‘‘ رکھا، پھر اس پر تعلیقات اور حواشی کا اِضافہ فرمایا اور ’’تحیۃ الاسلام‘‘ اس کا نام رکھا۔
اب یہ پانچ کتابیں ہوئیں، جو آپ نے رَدِّ قادیانیت کے سلسلے میں تحریر
(۱) الحمدللہ! اِمام العصر نوّراللہ مرقدہٗ کے تلمیذِ رشید حضرت مولانا محمد اِدریس میرٹھیؒ، اُستاذِ حدیث مدرسہ عربیہ اسلامیہ، نیوٹاؤن کراچی، کے قلم سے اس کا اُردو ترجمہ بھی ’’مجلسِ علمی‘‘ کراچی کے اِہتمام سے شائع ہوچکا ہے۔ مترجم
205
فرمائیں۔ میرے اس مقدمے کا موضوع اسی آخرالذکر کتاب (عقیدۃ الاسلام) اور اس کے حواشی کی اہمیت پر قدرے روشنی ڈالنا ہے۔
عقیدۃ الاسلام کا اصل موضوع:
اس کتاب ’’عقیدۃ الاسلام فی حیاۃ عیسیٰ علیہ السلام‘‘ کا دُوسرا نام حضرتِ شیخ نے ’’حیاۃ المسیح بمتن القرآن والحدیث الصحیح‘‘ بھی تجویز فرمایا تھا، اور آپ نے مجھ سے فرمایا تھا کہ: ’’میری اس کتاب کا موضوع قرآنِ کریم کے دلائل سے حیاتِ مسیح علیہ السلام کو ثابت کرنا ہے، احادیث وآثار محض آیاتِ قرآنیہ کی وضاحت کے لئے لائے گئے ہیں، تمام احادیث وروایات کو اس میں جمع کرنا مقصود نہیں۔‘‘ اس سے معلوم ہوا کہ بعض اہلِ علم کا یہ خیال صحیح نہیں کہ آپ نے اس کتاب میں تمام آیات واَحادیث کو جمع کردیا ہے۔ روایات کا اِستقصاء تو آپ کی دُوسری تألیف ’’التصریح بما تواتر فی نزول المسیح‘‘ میں کیا گیا ہے، جیسا کہ پہلے بتلایا جاچکا ہے۔ یہاں تو آپ کے پیشِ نظر صرف ان آیاتِ کریمہ کی تفسیر ہے جن کا حیاتِ مسیح سے تعلق ہے۔
البتہ وسعتِ نظر اور وفورِ علم کی بنا پر عادتِ مبارکہ یہ تھی کہ جب کسی مسئلے پر بحث فرماتے تو اس مقام سے متعلقہ تمام مواد، عمدہ نقول اور نفیس اَبحاث کو سمیٹتے چلے جاتے، عربیت و اَسرارِ عربیت میں تو اِمامِ مجتہد تھے، اگر آپ کو ’’علومِ عربیت کا خلیل وسیبویہ‘‘ کہا جائے تو بے جا نہ ہوگا، بلکہ آپ کے اس علمی پہلو کو اُجاگر کرنے کے لئے شاید یہ صحیح تر اور لطیف تر تعبیر ہوگی، جو بہت سے اہلِ علم وفضل کی نظر سے اوجھل ہے۔ چنانچہ اس کتاب میں علومِ بلاغت، بدیع اور عربیت کے ان مسائل کو بیان فرمایا ہے، جنہیں دیکھ کر آپ کے تبحر، ذوقِ سلیم اور بیانِ حقائق میں آپ کے ملکۂ راسخہ سے انسان دنگ رہ جاتا ہے، میں جب کبھی کسی بھی موضوع پر آپ کی کسی کتاب کا مطالعہ کرتا ہوں تو میری حیرت وتعجب میں اِضافہ ہوجاتا ہے، اور میں دیر تک سراسیمہ ہوکر اس سوچ میں ڈُوب جاتا ہوں، کہ زیرِ بحث مسئلے سے متعلقہ پورے کے پورے مواد کو آپ نے کیسے سمیٹ لیا، اور یہ عجیب وغریب
206
نکات ایسے بعید مقامات سے کس طرح نکال لائے، جن کے بارے میں کسی کو وہم وگمان بھی نہیں ہوسکتا تھا کہ وہاں اس موضوع سے متعلقہ کوئی چیز مل سکے گی؟ اس موقع پر جی چاہتا ہے کہ عربی شاعر کا وہی شعر دُہراؤں جو اِمام غزالیؒ پڑھا کرتے تھے:
-
ونادتنی الأشواق مھلًا فھٰذہ
منازل من تھویٰ رویدک فانزل
-
غزلت لھم غزالًا رقیقًا فلم أجد
لغزلی نساجًا فکسرت مغزلی
ترجمہ: … ’’جذباتِ عشق نے مجھ سے پکار کر کہا: ذرا ٹھہرو! منزلِ محبوب یہی ہے، میں نے ان کے لئے ایسا باریک سوت کاتا کہ مجھے اس سوت کے بننے والا نہ ملا، پس میں نے اپنا چرخہ توڑ ڈالا۔‘‘
نیز مجھے اِجازت دیجئے کہ میں آپ کے حق میں یہ شعر پڑھوں:
-
ولو ان ثوبًا حیک من نسج تسعۃ
وعشرین حرفًا من علاہ قصیر
ترجمہ: … ’’اور اگر کوئی کپڑا اُنتیس حرفوں کی بناوَٹ سے بنا جائے وہ بھی آپ کی قامت سے کوتاہ ہوگا۔‘‘
جس کسی ناقد بصیر محقق کو آپ کی کسی کتاب کے مطالعے کا اِتفاق ہوگا، وہ مجبور ہوگا کہ وہیں اپنی سواری ٹھہرادے، اپنا عصا ڈال دے اور یہ کہے:
-
فالقی عصاہ واستقرّ بہ النویٰ
کما قرّ عینًا بالأیاب المسافر
نیز وہ کہے گا:
-
ھل غادری الشعراء من متردم
ام قد عرفت الدار بعد توھم
ترجمہ: … ’’کیا شاعروں نے کسی کھنڈر کو چھوڑا ہے (جس
207
پر مرثیہ خوانی نہ کی ہو) یا میں نے منزلِ محبوب کو وہم وخیال کے بعد پہچانا ہے۔‘‘
محقق کوثریؒ مقالات (ص:۳۵۴) میں رقم طراز ہیں:
’’مولانا الحبر (علامہ محمد انور شاہ) کشمیری رحمہ اللہ کی کتاب ’’عقیدۃ الاسلام فی حیاۃ عیسیٰ علیہ السلام‘‘ میں اہلِ حق کے عقیدہ (حیاتِ عیسیٰ) پر دلائل کتاب اللہ کے ہر پہلو کو بڑی شرح وتفصیل سے واضح کیا گیا ہے، جو لوگ مزید دلائل معلوم کرنا چاہیں اس کی مراجعت فرمائیں۔‘‘
میں نے اس کتاب اور اس کے حواشی کے مآخذ شمار کئے تو صرف ان کتابوں کی تعداد تین سو نکلی جن سے براہِ راست عبارتیں نقل کیں، یا ان کے صفحات کا حوالہ دیا ہے، اور اگر کوئی بحث محض ضمنی طور پر زیرِ بحث آجاتی ہے، اس میں بھی کتابوں کے حوالے اس کثرت سے ملیں گے گویا آپ نے پوری عمر صرف اسی مسئلے کی تحقیق میں صَرف فرمائی ہو، اگر کہیں اَناجیلِ اَربعہ، عہدِ قدیم وعہدِ جدید اور ان کے شروح کماری وغیرہ سے یا کتبِ رَدّ ومناظرہ سے نقل کی نوبت آئی، تو کوئی کتاب ایسی نہیں ملے گی جس کا تذکرہ یہاں نہ آگیا ہو، اور کوئی دقیق نکتہ ایسا نہیں رہے گا جسے آپ نے ذِکر نہ کردیا ہو۔
پھر اس سے زیادہ حیران کن اَمر یہ ہے کہ اگر کسی موضوع سے متعلق کچھ عبارتیں کسی کتاب میں متفرّق جگہ بکھری ہوئی ہوں، اس کے ضخیم مجلدات سے چن چن کر ان کو ایک جگہ جمع کرلیتے ہیں، اور کسی کے لئے یہ گنجائش نہیں چھوڑتے کہ وہ اس کتاب سے اس مسئلے پر کوئی مزید نقل پیش کرسکے، یہ وجدانی اور بستانی کی دائرۃ المعارف جیسی ضخیم کتابیں آپ کی نظر میں گویا ایک صفحہ ہے، آپ نے ان دونوں کا حرفاً حرفاً مطالعہ کیا، اور کسی موقع پر ان میں موضوع سے متعلق کوئی چیز موجود ہو تو اسے نقل کردیتے ہیں، یا ان کا حوالہ دے جاتے ہیں۔ یہ فتح الباری، فتوحاتِ مکیہ اور اسی قسم کی ہزاروں صفحات پر پھیلی ہوئی ضخیم کتابوں میں موضوع سے متعلقہ کوئی چیز باقی نہیں چھوڑتے، پھر ایسی کتابوں سے بھی بہترین نقول لے آتے
208
ہیں، جنہیں بظاہر موضوع سے کوئی تعلق نہیں۔ حاصل یہ کہ ہر موضوع کے قریب وبعید مالہٗ وماعلیہ کو پوری طرح سمیٹ لیتے ہیں، یہ فوق العادت تبحر، بے مثال مہارت وفطانت، اور بیدار ذہنی، پھر یہ صبرآزما بحث وتفتیش، پھر یہ محیط حافظہ کہ جو چیز ایک دفعہ نظر سے گذر جاتی ہے وہ ہمیشہ کے لئے محفوظ ہوجاتی ہے، ان تمام اُمور سے آدمی حیرت زدہ رہ جاتا ہے، سبحان اللہ! حق تعالیٰ فضائل وکمالات عطا کرنے والے ہیں، جسے چاہیں اپنی رحمت سے نوازدیں، واللہ ذُوالفضل العظیم۔
پھر (بے نفسی کا یہ حال ہے کہ) اگر کسی ہم عصر نے کوئی بات لکھی ہو تو اسے نقل فرماتے ہیں یا اس کا حوالہ دیتے ہیں، اور پوری فراخ دِلی سے اس کی تعریف فرماتے ہیں، اس میں ذرا بخل واِخفا سے کام نہیں لیتے۔ اگر ان تمام اُمور کی مثالیں پیش کی جائیں تو بحث طویل ہوجائے گی، یوں بھی کتاب ہر صاحبِ نظر کے سامنے ہے، جو بھی فکرِ صحیح سے غور کرے گا، وہ ان معروضات کی تصدیق کرے گا، وَاللہُ یَقُوْلُ الْحَقَّ وَھُوَ یَھْدِی السَّبِیْل!
شیخ الاسلام علامہ شبیر احمد عثمانی ؒحواشی تفسیریہ میں لکھتے ہیں:
’’۔۔۔۔۔ میں اہلِ علم کو توجہ دِلاتا ہوں کہ ہمارے مخدوم علامہ فقید النظیر حضرت مولانا سیّد محمد انور شاہ کشمیری(اطال اللہ بقائہ) نے اپنے رسالے عقیدۃ الاسلام میں جو علمی لعل وجواہر ودیعت کئے ہیں، ان سے متمتع ہونے کی ہمت فرمائیں، میری نظر میں ایسی جامع کتاب اس موضوع پر نہیں لکھی گئی۔‘‘ (حاشیہ ترجمہ قرآن مجید از شیخ الہند)
اور فتح الملہم شرح مسلم میں فرماتے ہیں:
’’شیخ علامہ (حضرت مولانا) محمد انور شاہ (رحمہ اللہ) نے اپنی کتاب عقیدۃ الاسلام میں معنی توفی کی تحقیق اور حیاتِ عیسیٰ علیہ السلام سے متعلقہ تمام مباحث کی اس قدر تفصیل فرمائی ہے جس پر اِضافہ ممکن نہیں، اہلِ علم اس کی مراجعت کریں۔‘‘
(ج:۱ ص:۳۰۲)
شیخ محقق محمد زاہد کوثریؒ اس کتاب، نیز التصریح بما تواتر فی نزول المسیح کے بے حد
209
مداح تھے، میں نے یہ دونوں کتابیں ان کی خدمت میں پیش کی تھیں، التصریح ان سے کہیں گم ہوگئی، تو قاہرہ سے مجھے خط لکھا، میں ان دنوں بمبئی کے علاقے میں قیام پذیر تھا، چنانچہ دوبارہ بذریعہ ڈاک ان کی خدمت میں بھیجی گئی۔
شیخ کوثریؒ مقالات (ص:۳۵۵) میں لکھتے ہیں:
’’۔۔۔۔۔۔ مولانا (محمد انور شاہ) محدث کشمیری (نوّراللہ مرقدہٗ) کی کتاب التصریح بما تواتر فی نزول المسیح میں ستر مرفوع اَحادیث ذِکر کی گئی ہیں جن میں نزولِ عیسیٰ علیہ السلام کا بیان ہے۔‘‘
نیز مقالات (ص:۳۵۹) میں تحریر فرماتے ہیں:
’’اللہ سبحانہ‘ علامہ فقیہِ اِسلام محدث محجاح شیخ محمد انور کشمیری کو جنت کے بالاخانوں میں بلند مراتب عطا فرمائے اور انہیں حریمِ دِین کی حفاظت کرنے والوں کے شایانِ شان جزائے خیر عطا فرمائے، انہوں نے اپنے پُرزور اور قطعی دلائل سے قادیانیت کا قلع قمع کیا اور متعدّد زبانوں میں رَدِّ قادیانیت پر عمدہ کتابیں لکھ کر ہندوستان کے مداہنت شعار تجدّد پسندوں کے شر کو پھیلنے سے روک دیا، انہوں نے اپنی کتاب اِکفار الملحدین میں ان کی اور ان جیسے لوگوں کی تکفیر کا مسئلہ صاف کردیا۔‘‘
ضمنی ابحاث:
حضرت اِمام العصرؒ نے عقیدۃ الاسلام میں مناسبتِ مقام سے ضمنی طور پر چند نادر بحثیں بھی ذِکر فرمائی ہیں، جو بہت اہم تھیں، یا جن کا شمار نہایت پیچیدہ مسائل میں ہوتا تھا۔ مثلاً یأجوج مأجوج کی تعیین، ذی القرنین کی بحث اور سدِّ یأجوج کی تحقیق، یہ ایک عجیب وغریب تاریخی مقالہ ہے جو اس کتاب کے خصائص میں سے ہے یا یہ تحقیق کہ کنایہ حقیقت ہے یا مجاز؟ یہ مسئلہ علمِ بلاغت کے اہم مسائل میں سے ایک ہے۔ آپ اس کتاب میں فنِ
210
بلاغت کی چوٹی کی کتابوں سے، نیز اس فن کے بلندپایہ علماء کی عبارتوں کے اہم اقتباس ملاحظہ فرمائیں گے، یا مثلاً کتبِ سابقہ، اناجیل اور عہدِ قدیم کی کتابوں میں سیّدالمرسلین، خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم کی بشارت اور آپ کی سیادت وخاتمیت کا اِعلان، یا مثلاً دُنیا کی حقیقت اور حدوثِ عالم کی تحقیق، اور یہ تحقیق کہ اس عالم میں علت ومعلول کا سلسلہ نہیں، بلکہ سبب و مسبّب اور شرط ومشروط کا سلسلہ ہے۔
تمام عالم حق تعالیٰ شانہ‘ کی صنع قدرت کا کرشمہ ہے اور عالم اور صانعِ عالم کے مابین وہی وسائط ہیں جو فعل اور فاعل کے مابین ہوتے ہیں، یہ تمام اسباب ومسبّبات حادث اور مخلوق ہیں، وَکَانَ اللہُ وَلَمْ یَکُنْ مَعَہُ شَیْئٌ ۔۔۔۔۔ نیز معراج النبی صلی اللہ علیہ وسلم پر ایک قصیدہ بھی اس کتاب میں شامل ہے، جس میں آپ نے یہ ثابت فرمایا ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم شبِ اِسراء میں دِیدارِ خداوندی سے مشرف ہوئے۔ نیز آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں اعمال کی پیشی کا مسئلہ اور یہ تحقیق کہ یہ عرض، عرضِ اِجمالی ہے، جیسا کہ ملائکہ پر علم اسماء اِجمالاً اِلقا کیا گیا، یہ علم محیط نہیں۔ نیز آپ نے اپنے فارسی رسالے ’’خاتم النبیین‘‘ میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے جو خصائص بیان فرمائے تھے، عقیدۃ الاسلام میں ان مضامین کا بڑا عمدہ خلاصہ ’’تفسیر آیت ختمِ نبوّت‘‘ کے عنوان سے پیش فرمادیا۔ الغرض اسی قسم کے دیگر بے شمار عجیب مباحث اور بیش قیمت فوائد پر یہ کتاب مشتمل ہے، جن کی تحصیل کے لئے دُور دَراز کا سفر کیا جاتا تھا۔
مرزا قادیانی کے کفریات:
’’عقیدۃ الاسلام فی حیاۃ عیسیٰ علیہ السلام‘‘ میں اس عقیدے کا اِثبات ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام قربِ قیامت میں آسمان سے نازل ہوں گے، اُمتِ اِسلامیہ کا یہ قطعی عقیدہ ہے، جو روزِ اَوّل سے آج تک مُسلَّم و متواتر چلا آرہا ہے، مرزا غلام احمد قادیانی نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے رفع ونزول کا اِنکار کیا اور کہا کہ وہ آسمان سے نازل نہیں ہوں گے۔ اسی پر بس نہیں، بلکہ اس نے دعویٰ کیا کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو ۔۔۔نعوذباللہ۔۔۔
211
سولی پر لٹکایا گیا (جس سے وہ زِندہ اُتار لئے گئے، ایک حجرہ نما قبر میں ان کو رکھا گیا، وہاں ان کا علاج ہوتا رہا، بالآخر وہ کشمیر آکر فوت ہوگئے) اور یہ کہ وہ بن باپ پیدا نہیں ہوئے، بلکہ یوسف نجار کے بیٹے تھے:
’’آسمان پر یوسف نجار کا بیٹا کہاں؟‘‘
مرزائے قادیان نے سیّدنا مسیح علیہ السلام کے حق میں سب وشتم اور توہین وتذلیل کے ایسے ناشائستہ اور گھناؤنے الفاظ استعمال کئے ہیں جن کے سننے سے انسان کے رونگٹے کھڑے ہوجاتے ہیں اور دِل وجگر شق ہوجاتے ہیں، اس طرح صاف عیسیٰ علیہ السلام کے متعلق مرزائے قادیان کے کفر واِلحاد اور زَندقہ و اِرتداد کے متعدّد وجوہ جمع ہوگئے، جن کی علماء نے وضاحت کی ہے اور اسے منہ توڑ جواب دیا، اس کے دُوسرے کفریات مزید برآں رہے، مثلاً:
✨ : … نبوّت ورِسالت کا دعویٰ
✨ : … وحی وشریعت کے نزول کا دعویٰ۔
✨ : … نصوصِ شرعیہ قرآن وسنت کی تحریف۔
✨ : … ضروریاتِ دِین کا اِنکار۔
✨ : … عقیدۂ ختمِ نبوّت کا اِنکار۔
✨ : … تمام انبیاء ومرسلین سے خود کے افضل ہونے کا دعویٰ۔
✨ : … پھر سیّد المرسلین صلی اللہ علیہ وسلم سے بھی برتری کا دعویٰ۔
✨ : … اپنے لئے معجزات کا دعویٰ۔
✨ : … اپنے معجزات کو تمام انبیاء ومرسلین کے معجزوں سے زیادہ اور فائق بتلانا اور آیاتِ قرآنیہ کو اپنی ذات پر چسپاں کرنا، وغیرہ وغیرہ۔
ان صریح کفریات کے ہوتے ہوئے اس کا کفر کسی سے مخفی نہیں رہ سکتا تھا، لیکن اس نے اپنے کفر واِلحاد اور بے اِیمانی وبددِینی کے مکروہ چہرے پر پردہ ڈالنا چاہا اور کم فہم کے نادانوں کو شکار کرنے اور علمائے کرام کی تنقید سے بچنے کے لئے چند علمی مسائل میں
212
بحث چھیڑ دی اور اِسلام کے وہ قطعی عقائد جو تیرہ سو سال سے اُمتِ محمدیہ میں متواتر ومُسلَّم چلے آرہے تھے، ان میں طرح طرح کی تأویلیں شروع کیں، جیسا کہ ہر زمانے میں بے دِین ملحدوں کا یہی وطیرہ رہا ہے۔ اس لئے علمائے مجاہدین کے لئے دِین کا دِفاع اور اِسلامی عقائد کی حفاظت ناگزیر ہوئی، ان علمی حقائق کی بحث وتنقیح کے لئے جو سب سے بڑی شخصیت میدان میں آئی وہ ہمارے شیخ اِمام العصر مصنف عقیدۃ الاسلام کی گراںقدر ہستی تھی، آپ نے عیسیٰ علیہ السلام کی حیات ونزول کے موضوع پر مستقل کتاب ’’عقیدۃ الاسلام‘‘ تحریر فرمائی، جس میں قرآنِ حکیم کے دلائلِ شافیہ، احادیثِ متواترہ اور صحابہ وتابعین، مفسرین ومحدثین اور فقہاء ومتکلمین کے اِجماع سے نزولِ عیسیٰ علیہ السلام کو ثابت کیا، اور یہ واضح کیا کہ یہ عقیدہ ایسا قطعی ویقینی ہے جس میں کسی تأویل کی گنجائش نہیں، بلکہ یہ عقیدہ ان ضروریاتِ دِین میں داخل ہے جن کا منکر اور متأوّل دونوں کافر ہیں، اور یہ کہ حق تعالیٰ شانہ‘ کی قدرت حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے رفع ونزول جیسے تمام خوارق کو محیط ہے، اور یہ کہ قربِ قیامت تو خود ہی خوارقِ اِلٰہیہ کے ظہور کا زمانہ ہے، اس لئے اس وقت یہ خرقِ عادت معجزہ ظاہر ہونا بالکل قرینِ عقل وقیاس ہے۔
حکمتِ نزولِ عیسیٰ علیہ السلام:
تحیۃ الاسلام (حاشیہ عقیدۃ الاسلام) میں فرماتے ہیں:
’’جاننا چاہئے کہ اس عالم میں بھی آخرت کے کچھ نمونے موجود ہیں ۔۔۔۔۔ اور قربِ قیامت کا زمانہ تو خرقِ عادت کا وقت ہے، اور نبوّت، دجل وفریب کے مقابلے اور مقاومت کے لئے ہے، جیسا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے اِرشاد میں اس کی طرف اشارہ ہے کہ: ’’اگر وہ (دجال) میری موجودگی میں آیا تو اس کے مقابلے کے لئے میں خود موجود ہوں۔‘‘ اور عیسیٰ علیہ السلام تو درحقیقت اس باب میں دجال کی بالکل ضد ہیں، پس جب دُنیا ہی میں آخرت کے
213
نمونے موجود ہیں تو قیامت کے آنے کو کیوں مستبعد سمجھا جائے؟ اور علاماتِ قیامت کا کیوں اِنکار کیا جائے؟ اور جب ویسے بھی دُنیا میں دجل، سحر، شعبدہ بازی جیسے اعمال بہرحال پائے جاتے ہیں تو ان کے مقابلے میں معجزاتِ حسیہ کا وجود بھی ضروری ہے، کیونکہ سنت اللہ یونہی جاری ہے، اور چونکہ دجال، حضرت مسیح علیہ السلام کا نام چرالے گا (اور خود مسیح بن بیٹھے گا) تو اس کے مقابلے میں اس کی تردید وتکذیب کی غرض سے مسیح علیہ السلام کا نزول ضروری ہوا، اور چونکہ مسیح علیہ السلام خود من جملہ اَرواح کے ہیں اور نمونۂ آخرت ہیں، اس لئے ان کی حیات کا طویل ہونا بھی (کوئی مستبعد چیز نہیں بلکہ) سنت اللہ ہے۔‘‘
(تحیۃ الاسلام ص:۸)
تفصیل اس اِجمال کی یہ ہے کہ عادتُ اللہ ہمیشہ سے یوں ہی جاری ہے کہ نبوّت کے ذریعے ہر دور کے لوگوں پر حجت قائم ہوتی رہی ہے، اور انبیاء علیہم السلام کے ہاتھوں خوارقِ اِلٰہیہ کا ظہور ہوتا رہا ہے، تاکہ علیٰ رؤس الاشہاد یہ واضح ہوسکے کہ یہ اسبابِ عادیہ خواہ کتنی ہی حیرت انگیز ترقی کرجائیں، لیکن حق تعالیٰ کی قوّتِ قاہرہ بہرصورت ان سب سے بڑھ کر ہے، وہ پورے نظامِ کائنات پر غالب وقاہر ہے، اس کی قوّتِ قاہرہ، مخلوق کی ہر قوّت سے بڑھ کر ہے، اور اس کی قدرتِ خارقہ ہر قدرت پر غالب وبرتر ہے۔
پس جب عہدِ حاضر کی اس مادّیت کو یہ اِرتقا میسر ہے جس کا ہم مشاہدہ کر رہے ہیں، اور جب عالم میں قوائے طبعیہ کی تسخیر سے ایسے ایسے عجائبات ظہور پذیر ہو رہے ہیں جن سے فکر ونظر حیران ومبہوت ہے، اور جب دجالیت اور فریب کاری کا عالم یہ ہے کہ مادّہ پرست قومیں ان ہی وسائلِ طبعیہ اور حیرت افزا ترقیات کو، قوّتِ ربانیہ اور خوارقِ اِلٰہیہ کے اِنکار کا ذریعہ بنارہی ہیں، تو پھر کیا بعید ہے کہ اس دورِ ترقی کی اِنتہا ایسے دجال کی نشأۃ وظہور پر ہو جو نوامیسِ اِلٰہیہ کا دُشمن ہوگا، جو اپنی خدائی منوانے کے لئے عجائباتِ مادّیت کو پیش کرے گا، جو اپنے دجل وتلبیس سے ان ہی مادّی عجائبات کے بل بوتے پر لوگوں کے دِین
214
واِیمان کو برباد کرے گا، او رجو خالقِ علیم، قادرِ حکیم، مالکِ زمین وآسمان پر اِیمان لانے کے بجائے خود اپنی خدائی کے منوانے پر لوگوں کو مجبور کرے گا، جیسا کہ احادیثِ نبویہ میں اس کا تفصیلی بیان موجود ہے۔ یقینا اس وقت (حق تعالیٰ کی قدرتِ خارقہ اور قوّتِ قاہرہ ظہور پذیر ہوگی) عیسیٰ علیہ السلام آسمان سے اُتریں گے اور آپ کے دستِ مبارک پر ایسے معجزات کا ظہور ہوگا جن کا مقابلہ کرنے سے انسانی عقل اور مادّی اِرتقا عاجز ہوں گے، یوں اللہ تعالیٰ کی حجت ایک بار پھر قائم ہوجائے گی، جس طرح حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے اپنے دورِ اوّل میں حجۃاللہ قائم کی تھی اور باذنِ اللہ مُردوں کو زِندہ، مادرزاد اندھوں کو بینا اور کوڑھیوں کو شفایاب کرکے اس زمانے کے حاذق طبیبوں کو عاجز کردیا تھا، اسی طرح وہ اپنے دورِ ثانی میں باذنِ اِلٰہی حجۃاللہ قائم کریں گے، تاکہ وہ لوگ بھی قدرتِ اِلٰہیہ کے سامنے سپر ڈال دینے پر مجبور ہوجائیں جو مقناطیسی عجائبات، ایٹمی ایجادات، برق وباد کی دِل فریبیوں، اور مادّیت کی رنگینیوں پر اِیمان لاکر اپنا وقت ضائع اور اپنا دِین برباد کرتے رہے، اور جن لوگوں نے تسخیرِ مادّہ کے ذریعے فضاؤں میں اُڑنے، تباہ کن آلات کے بنانے اور بحر وبر کو مسخر کرنے ہی کو معراجِ کمال سمجھ لیا تھا اور ان تمام اُمور کو بر وبحر میں فساد برپا کرنے کا ذریعہ بنالیا تھا۔
الغرض! قرآن وحدیث کی تصریحات کے موجب سیّدنا عیسیٰ علیہ السلام کو اتنے طاقتور حسی معجزات دئیے جائیں گے، جن کے مقابلے میں سائنس کی تمام کرشمہ سازیاں بچوں کا کھیل بن کر رہ جائیں گی، تاکہ اللہ کی حجت ایک بار پھر پوری ہوجائے، اور تمام اَقوامِ عالم اس کے سامنے سپرانداز ہوجائیں۔
معجزات، اسباب وعلل سے بالاتر ہوتے ہیں:
یہ اللہ تعالیٰ کی عجیب حکمت ہے کہ انبیائے کرام علیہم السلام کے ہاتھ سے اسبابِ عادیہ کے بغیر خوارقِ اِلٰہیہ کو ظاہر کیا جاتا ہے، جیسا کہ تمام انبیائے کرام علیہم السلام کی تاریخ اس پر شاہد ہے، اور ہر اہلِ ملت کے نزدیک مُسلَّم ہے۔ مزید برآں یہ کہ ہر نبی کے معجزات
215
میں لطیف اشارہ اس نوع ترقی کی طرف ہوتا ہے جو مادّی اسباب ووسائل کے دائرے میں اِختراع واِیجاد کے ذریعے اس اُمت کو حاصل ہوگی، حضرت شیخ اِمام العصرؒ نے ضرب الخاتم علیٰ حدوث العالم میں اس کی طرف اِشارہ فرمایا ہے:
-
فذالک إعجاز وخرق لعادۃ
وإن کان کل الکون إعجاز منتھٰی
ترجمہ: … ’’جو اُمور کہ انبیاء علیہم السلام کے ہاتھ سے بغیر واسطۂ اَسباب صادر ہوں، یہ انبیائے کرام علیہم السلام کا خرقِ عادت معجزہ اور اِعجازِ نبوّت کہلاتے ہیں، اگرچہ درحقیقت یہ ساری کائنات اِعجاز ہی اِعجاز ہے۔‘‘
-
وقد قیل ان المعجزات تقدم
بما یرتقٰی فیہ الخلیقۃ فی مدیٰ
ترجمہ: … ’’اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ معجزاتِ انبیاء اس ترقی کی طرف پیش قدمی ہوتی ہے جو مخلوق کو مدت ہائے مدید کے بعد (اسباب کے دائرے میں رہ کر) نصیب ہوگی۔‘‘
آج سائنسی اِرتقاء کی بدولت جو چیزیں ہمارے گردوپیش میں پھیلی ہوئی ہیں، مثلاً برقی مشینیں ہیں، کہربائی آلات ہیں، ٹیلی فون ہے، تار ہے، ٹیلی ویژن ہے، طیارے ہیں، مصنوعی خلائی سیارے ہیں، رات دن قوائے طبعیہ کو مسخر کیا جارہا ہے، فضاؤں پر کمندیں ڈالی جارہی ہیں، سمندروں کے جگر شق کئے جارہے ہیں، صحراؤں کے طبعی دفینے تلاش کئے جارہے ہیں، ذرّے کا جگر چیر کر ایٹمی توانائی حاصل کی جارہی ہے اور ہلاکت آفرین ایٹمی ہتھیار ایجاد کئے جارہے ہیں، الغرض یہ اور اس قسم کی تمام چیزیں جنہیں آج سائنسی ترقی کا کرشمہ قرار دِیا جارہا ہے، انبیاء علیہم السلام کے معجزات میں یہ تمام اُمور آپ کو کامل ترین صورت میں ملیں گے۔ فرق یہ ہے کہ یہاں مادّی اسباب ووسائل کا واسطہ ہے، اور وہاں بدوں توسطِ اسباب، قدرتِ اِلٰہیہ کا اِعجاز ظاہر ہوتا ہے۔ پھر یہاں برسہابرس کی ٹھوکریں
216
کھانے، تجربات کرنے اور اَربوں کی رقمیں ضائع کرنے کے بعد کسی قدر کامیابی نصیب ہوتی ہے، اور وہاں بغیر کسی سابقہ تجربے کے چشمِ زدن میں قدرتِ قاہرہ کی اِعجازنمائی ظاہر ہوتی ہے، یہاں اس بحث کی مزید تفصیل کی گنجائش نہیں۔
قتلِ دجال کے لئے مسیح علیہ السلام کی تشریف آوری کا راز:
پھر جاننا چاہئے کہ دجال لعین مسیحِ ضلالت ہے، اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام مسیحِ ہدایت ہیں، یہود کی یہ بدقسمتی تھی کہ انہوں نے مسیحِ ہدایت عیسیٰ بن مریم علیہ السلام کی تو مخالفت کی اور آپ کے قتل وصلب کی سازش کی (مگر اللہ تعالیٰ نے آپ کی حفاظت فرمائی اور انہیں آسمان پر اُٹھالیا) لیکن وہ مسیحِ ضلالت دجال کی پیروی کریں گے، جو خود بھی یہودی ہوگا، اس لئے حکمتِ اِلٰہیہ کا تقاضا تھا کہ مسیحِ ہدایت، مسیحِ ضلالت کو قتل کرنے کے لئے نزول فرمائیں، اور ان یہود کو بھی قتل کریں جنہوں نے مسیحِ برحق مسیح بن مریم علیہ السلام کی تو مخالفت اور عداوت کی اور جھوٹے مسیح دجال کی پیروی کرلی، اسی کے ساتھ ساتھ ان عقائدِ باطلہ کی بھی اِصلاح کریں جو عیسائیت میں گھس آئے تھے اور صلیب کو توڑ ڈالیں۔
اور چونکہ دجال لعین مسیحیت کا لبادہ اوڑھ کر خود مسیح کہلائے گا، اُلوہیت کا دعویٰ کرے گا، خباثت اور ضلالت کی آخری حد پار کرجائے گا، قوائے طبعیہ پر حکمرانی کرے گا، مُردوں کو زِندہ کرکے مسیح علیہ السلام کے منصب میں تلبیس کرے گا، علاوہ ازیں شعبدہ بازیوں، جادو کے کرشموں اور حیوانات وجمادات کی تسخیر کے ذریعے لوگوں کے اِیمان پر ڈاکا ڈالے گا، اس لئے یہ بات بالکل قرینِ قیاس تھی کہ قتلِ دجال کے لئے ایک ایسی شخصیت کو لایا جائے جو تسخیری کمالات میں نہایت بلند درجے پر فائز اور منصبِ نبوّت سے سرفراز ہو، ایسی برگزیدہ شخصیت ہی قتلِ دجال پر قادر ہوسکتی اور دَجالی کرشمہ سازیوں کا مقابلہ کرسکتی تھی، یہ شخصیت حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی ہوگی۔
پھر چونکہ عیسیٰ علیہ السلام رُوحانیت میں اس قدر بلند مقام رکھتے ہیں کہ انہیں ’’رُوح اللہ‘‘ کے لقب سے مشرف کیا گیا، وہ حق تعالیٰ کے ’’کلمہ کن‘‘ سے پیدا ہوئے اور وہ
217
بحکمِ اِلٰہی اپنی مسیحائی سے مُردوں کو زِندہ کیا کرتے تھے، اس لئے وہ بجاطور پر اس کے مستحق تھے کہ آسمان میں طویل مدّت تک زِندہ رہ کر نزولِ اِجلال فرمائیں، تاکہ ان کے دستِ مبارک سے ایسے خوارقِ اِلٰہیہ کا ظہور ہو جو ’’دجالِ اکبر‘‘ اور عام دجالوں کے ہاتھ سے ظاہر ہونے والے تمام عجائبات سے بدرجہا فائق ہوں، تاکہ تمام لوگوں پر ’’حجتِ اِلٰہیہ‘‘ قائم ہوجائے، فَلِلّٰہِ الْحُجَّۃُ الْبَالِغَۃ!
اس موقع پر شیخ الاسلام مولانا شبیر احمد عثمانی ؒ نے’’فتح الملہم‘‘ (ج:۱ ص:۲۲۹) میں حجۃالاسلام مولانا محمد قاسم نانوتویؒ کے کلام کی وضاحت کرتے ہوئے جو کچھ لکھا ہے، نیز حافظ ابنِ تیمیہؒ کی کتاب ’’الجواب الصحیح‘‘ اور حافظ ابنِ قیمؒ کی کتاب ’’ہدایۃ الحیاریٰ‘‘ کی منتخب عبارتیں جو حضرت شیخ اِمام العصرؒ نے عقیدۃ الاسلام میں نقل کی ہیں، ان کا مطالعہ کیا جائے، نیز عقیدۃ الاسلام ’’فصل فی الحکمۃ فی نزولہٖ‘‘ (ص:۱۲تا ۴۲) کا مطالعہ بھی ضروری ہے۔ (۱)
عقیدۂ نزولِ عیسیٰ علیہ السلام، اِجماعِ اُمت کی روشنی میں:
خلاصۂ کلام یہ کہ نزولِ عیسیٰ علیہ السلام کا عقیدہ وہ اِجماعی عقیدہ ہے جس پر صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے زمانے سے آج تک تمام اہلِ حق کا اِتفاق چلا آیا ہے، راجح تفسیر کے مطابق قرآنِ عزیز نے اس کی تصریح کی ہے، اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے احادیثِ متواترہ میں اس کی تفصیل بیان فرمائی ہے، نزولِ عیسیٰ علیہ السلام پر اَحادیث کے متواتر ہونے کی تصریح اِمام ابوجعفر ابنِ جریر طبریؒ، ابوالحسن آبریؒ، ابنِ عطیہ مغربی،ؒ ابنِ رُشد الکبیرؒ، قرطبیؒ، ابوحیانؒ، ابنِ کثیرؒ، ابنِ حجرؒ وغیرہ اَئمہ دِین اور حفاظِ حدیث نے کی ہے۔ جیسا کہ شیخ محقق علامہ کوثریؒ نے اپنے رسالے ’’نظرۃ عابرۃ فی مزاعم من ینکر نزول
(۱) اُردو دان حضرات ’’ترجمان السنۃ‘‘ (ج:۲ ص:۵۲۱ تا ۵۹۳) مؤلفہ مولانا بدرِعالمؒ کا مطالعہ فرمائیں، مولانا بدرِ عالم صاحب کا یہ مضمون ’’نزولِ عیسیٰ علیہ السلام‘‘ کے نام سے الگ کتابی شکل میں بھی شائع ہوگیا ہے، قابلِ مطالعہ ہے۔ مترجم
218
عیسٰی علیہ السلام قبل الآخرۃ‘‘ (ص:۱۰) میں نقل کیا ہے۔
شیخ کوثریؒ اسی رسالے کے صفحہ:۷ پر فرماتے ہیں:
’’ایک طرف تمام صحابہؓ وتابعینؒ، فقہاءؒ ومحدثینؒ اور مفسرینؒ ومتکلمینؒ ہیں، جن کی تائید میں کتابُ اللہ، سنتِ رسول اللہ اور اِجماعِ اُمت موجود ہے، دُوسری طرف یہ متحامل ہے جس کی تائید میں لے دے کر قادیان کا مرزائے کذّاب ہے یا کسی زمانے میں طرہ کا فلسفی تھا اور بس۔‘‘
صفحہ:۱۹ پر فرماتے ہیں:
’’کتابُ اللہ، سنتِ متواترہ اور اِجماعِ اُمت عقیدۂ نزولِ مسیح علیہ السلام پر متفق ہیں۔‘‘
صفحہ:۳۶ پر کتابُ اللہ کی روشنی میں حیات ونزولِ مسیح علیہ السلام پر طویل بحث کے بعد فرماتے ہیں:
’’اور یہ بھی واضح ہوا کہ تنہا قرآنی نصوص ہی حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے زِندہ اُٹھائے جانے اور آخری زمانے میں ان کے نازل ہونے کو قطعی طور پر ثابت کرتے ہیں، کیونکہ ایسے خیالی اِحتمالات کا کوئی اِعتبار نہیں، جو کسی دلیل پر مبنی نہ ہوں، پھر جبکہ قرآنی تصریحات کے ساتھ اَحادیثِ متواترہ بھی موجود ہوں اور خلفاً عن سلف تمام اُمت اس عقیدے کی قائل چلی آتی ہو، اور دورِ قدیم سے لے کر آج تک اس عقیدے کو کتبِ عقائد میں درج کیا جاتا رہا ہو، تو اس کی قطعیت میں کیا شبہ باقی رہ سکتا ہے؟ فَمَاذَا بَعْدَ الْحَقِّ اِلّا الضَّلَالُ (اب حق کے بعد گمراہی کے سوا اور کیا رکھا ہے؟)۔‘‘
صفحہ:۳۷پر فرماتے ہیں:
’’اور ہم نے ثابت کردیا ہے کہ قرآنِ حکیم کے نصوصِ
219
قطعیہ رفع ونزول پر دَلالت کرتے ہیں، اور ہر زمانے میں اَئمہ دِین، علمائے اُمت، بالخصوص مفسرین قرآنی آیات کی یہی مراد سمجھتے چلے آتے ہیں۔‘‘
صفحہ:۳۸ پر فرماتے ہیں:
’’پس جو شخص رفع ونزول کا اِنکار کرتا ہے، وہ ملتِ اِسلامیہ سے خارج ہے، کیونکہ وہ ہوائے نفس کی رو میں بہ کر کتاب وسنت کو پشت انداز کرتا ہے، اور ملتِ اِسلامیہ کے اس قطعی عقیدے سے رُوگردانی کرتا ہے جو کتاب وسنت سے ثابت ہے۔‘‘
صفحہ:۴۰ پر فرماتے ہیں:
’’اَطرافِ حدیث پر نظر کرنے کے بعد نزولِ مسیح کا اِنکار بے حد خطرناک ہے، اللہ تعالیٰ محفوظ رکھے، رفع ونزول کے مسئلے میں احادیثِ متواترہ کا وجود قطعی ہے، اور بزدویؒ نے ’’بحثِ متواتر‘‘ کے آخر میں تصریح کی ہے کہ ’’متواتر کا منکر اور مخالف کافر ہے۔‘‘ شیخ بزدویؒ نے متواتر کی مثال میں ’’قرآنِ حکیم، نمازِ پنج گانہ، تعدادِ رکعات اور مقادیرِ زکوٰۃ‘‘ جیسی چیزوں کا ذِکر کیا ہے، اور کتبِ حدیث میں نزولِ عیسیٰ علیہ السلام کا ذِکر، مقادیرِ زکوٰۃ سے کسی طرح کم نہیں (پھر جب مقادیرِ زکوٰۃ کا منکر کافر ہے تو نزولِ عیسیٰ علیہ السلام کا منکر کیوں کافر نہ ہوگا؟)۔‘‘
صفحہ:۴۷ پر فرماتے ہیں:
’’نزولِ عیسیٰ علیہ السلام کا عقیدہ صرف کسی ایک مذہب کا عقیدہ نہیں، بلکہ یہ ’’اِجماعی عقیدہ‘‘ ہے، کوئی مذہب ایسا نہیں ملے گا جو اس کا قائل نہ ہو، چنانچہ فقہِ اکبر بروایت حماد، فقہِ اوسط بروایت ابومطیع، الوصیۃ بروایت ابی یوسف، اور عقیدۂ طحاوی سے واضح ہے
220
کہ اِمام ابوحنیفہؒ اور آپ کے تمام متبعین عیسیٰ علیہ السلام کی تشریف آوری کا عقیدہ رکھتے ہیں ۔۔۔نصف اُمت تو یہی ہوئی۔۔۔ اسی طرح اِمام مالکؒ اور تمام مالکیہ، اور تمام شافعیہ سب کے سب اس عقیدے پر متفق ہیں، اِمام احمد بن حنبلؒ نے عقائدِ اہلِ سنت کے بیان میں جو چند خطوط اپنے شاگردوں کے نام لکھے تھے، ان سب میں یہ عقیدہ مذکور ہے، یہ رسائل اہلِ علم کے یہاں صحیح سندوں سے ثابت اور مناقبِ احمد لابن جوزیؒ اور طبقاتِ حنابلہ لابی یعلیٰ میں مدوّن ہیں۔ اسی طرح ظاہریہ بھی نزولِ عیسیٰ علیہ السلام کے قائل ہیں، چنانچہ ابنِ حزمؒ کی تصریح، کتاب الفصل ج:۳ ص:۲۴۹ میں اور المحلیٰ ج:۱ ص:۹، ج:۷ ص:۳۹۱ میں موجود ہے، بلکہ معتزلہ بھی اس کے قائل ہیں، جیسا کہ علامہ زمخشری کے کلام سے واضح ہے، اسی طرح شیعہ بھی اس کے قائل ہیں، اب ایسا مسئلہ جس کی دلیل تمام صحاح، تمام سنن اور تمام مسانید میں موجود ہو، اور تمام اِسلامی فرقے جس کے قائل ہوں، اس میں مذہبی تعصب کا گمان کیسے ہوسکتا ہے؟‘‘
صفحہ:۴۹ پر فرماتے ہیں:
’’مہدی رضی اللہ عنہ، دجال اور مسیح علیہ السلام کے بارے میں احادیث کا تواتر ایسی چیز ہے جس میں حدیث کے معمولی طالبِ علم کے لئے بھی شک وشبہ کی گنجائش نہیں۔‘‘
صفحہ:۵۷ پر فرماتے ہیں:
’’صدرِ اوّل سے لے کر آج تک کتبِ عقائد کا مسئلہ رفع ونزول پر متفق ہونا ایسی چیز ہے جو اس عقیدے پر اِجماع کے منعقد ہونے میں ادنیٰ شک وشبہ کی گنجائش نہیں چھوڑتی۔‘‘
حافظ ابنِ حزمؒ ’’مراتب الاجماع‘‘ میں لکھتے ہیں:
221
’’اِجماع، ملتِ حنیفیہ کے قواعد میں سے ایک عظیم الشان قاعدہ ہے، جس کی طرف رُجوع کیا جاتا ہے، اس کی پناہ لی جاتی ہے، اور اس کے مخالف کی تکفیر کی جاتی ہے۔‘‘
شیخ کوثریؒ ’’الاشفاق‘‘ اور ’’النظرۃ‘‘ میں فرماتے ہیں:
’’اِجماع کے حجتِ شرعیہ ہونے پر تمام فقہائے اُمت متفق ہیں، اور اسے (کتاب وسنت کے بعد) تیسری دلیلِ شرعی قرار دیتے ہیں، حتیٰ کہ ظاہریہ بھی ۔۔۔فقہ سے بُعد کے باوجود۔۔۔ اِجماعِ صحابہ کو حجت مانتے ہیں، بلکہ بہت سے علماء نے یہاں تک تصریح کی ہے کہ مخالفِ اِجماع کافر ہے ۔۔۔۔۔۔ اور دلائل سے یہ ثابت ہے کہ یہ اُمت من حیث المجموع خطا سے محفوظ ہے، شہداء علی الناس ہے اور خیرِ اُمت ہے جو اِنسانوں (کی خیر وفلاح) کے لئے لائی گئی ہے، معروف کا حکم کرتی ہے اور منکر سے روکتی ہے، ان کا پیروکار، انابت الی اللہ کے راستے پر ہے، ان کا مخالف اہلِ ایمان کی راہ سے برگشتہ اور تمام علمائے دِین کا مخالف ہے ۔۔۔۔(چند سطر بعد لکھتے ہیں)۔۔۔۔ جب اہلِ علم، اِجماع کا ذِکر کرتے ہیں تو اس سے مراد ان ہی حضرات کا اِتفاق ہوتا ہے جو مرتبۂ اِجتہاد پر فائز ہوں، نیز وہ ورع وتقویٰ سے موصوف ہوں، جو انہیں محارم اللہ سے روک سکے، تاکہ ان کے حق میں ’’لوگوں پر گواہ‘‘ کا مفہوم صادق آئے، اس لئے جن لوگوں کا مرتبۂ اِجتہاد پر فائز ہونا علماء کے نزدیک مُسلَّم نہیں، مسئلہ اِجماع میں ان کا کلام قابلِ اِلتفات نہیں، خواہ وہ صالح اور پرہیزگار بھی ہوں۔‘‘
’’القنطرۃ‘‘ کے صفحہ:۶۰ پر فرماتے ہیں:
’’اِجماع کے معنی یہ نہیں کہ ہر مسئلے کے لئے ایک لاکھ صحابہ
222
کرام رضی اللہ عنہم کے ناموں پر مشتمل کئی کئی رجسٹر مرتب کئے جائیں اور پھر ہر صحابی سے روایت ذِکر کی جائے، بلکہ صحتِ اِجماع کے لئے اتنا کافی ہے کہ مجتہدین صحابہ رضی اللہ عنہم جو تقریباً بیس ہیں، سے صحیح روایت موجود ہو، اور ان میں سے کسی کا اِختلاف ثابت نہ ہو، بلکہ بعض مقامات پر ایک دو صحابہ کی مخالفت بھی صحتِ اِجماع کے لئے مضر نہیں ہوتی، یہی صورت عہدِ تابعین اور تبع تابعین میں سمجھنی چاہئے۔‘‘
صفحہ:۶۲-۶۳پر فرماتے ہیں:
’’نزولِ عیسیٰ علیہ السلام پر تیس صحابہ کرامؓ کی تصریح اور ان کے آثارِ موقوفہ علامہ (محمد انور شاہ) کشمیریؒ کی کتاب ’’التصریح بما تواتر فی نزول المسیح‘‘ میں موجود ہیں، اور کسی ایک صحابی سے اس کے خلاف ایک حرف بھی منقول نہیں۔ پس اگر ایسا مسئلہ بھی اِجماعی نہیں، تو کہنا چاہئے کہ دُنیا میں کوئی اِجماعی مسئلہ ہی موجود نہیں۔‘‘
شیخ کوثریؒ، علامہ تفتازانی ؒ سے نقل کرتے ہیں کہ:
’’نقل کبھی ظنی ہوتی ہے تو اِجماع سے قطعی بن جاتی ہے۔‘‘
الغرض نزولِ عیسیٰ علیہ السلام کا عقیدہ قرآنِ حکیم، سنتِ متواترہ اور چودہ سو سالہ اُمت کے قطعی اِجماع کی روشنی میں آفتاب نصف النہار سے زیادہ روشن ہے، احادیثِ نبویہ میں نزولِ عیسیٰ کے مسئلے پر جس قدر حلفیہ تاکیدات فرمائی گئی ہیں اس کی نظیر کسی دُوسرے مسئلے میں نظر نہیں آتی ہے، ان تمام تاکیدات کا منشا یہ ہے کہ یہ مسئلہ عام لوگوں کے لئے محلِ حیرت وتعجب، بلکہ بعض نادانوں کے لئے باعثِ رَدّ واِنکار ہوگا، چنانچہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں:
’’لَیَنْزِلَنَّ ابْنُ مَرْیَمَ حَکَمًا عَدْلًا، فَلَیَکْسُرَنَّ الصَّلِیْبَ، وَلَیَقْتُلَنَّ الْخِنْزِیْرَ، وَلَیَضَعْنَ الْجِزْیَۃَ، وَلَتَتْرُکَنَّ الْقَلَاص فَلَا یَسْعٰی عَلَیْھَا، وَلَتَذْھَبَنَّ الشَّحْنَائَ وَالتَّبَاغُضَ
223
وَالتَّحَاسُدَ، وَلَیَدْعُوَنَّ إِلَی الْمَالِ فَلَا یَقْبَلُہٗ أَحَدٌ۔‘‘
(صحیح مسلم ج:۱ ص:۸۷، مسندِ احمد ج:۲ ص:۴۹۴)
ترجمہ: … ’’ضرور بالضرور ایسا ہوگا کہ حضرت عیسیٰ بن مریم علیہ السلام حاکمِ عادل کی حیثیت سے نازل ہوں گے، پس وہ ضرور بالضرور صلیب کو توڑ ڈالیں گے، اور ضرور بالضرور خنزیر کو قتل کریں گے، اور ضرور بالضرور جزیہ کو موقوف کردیں گے، اور ضرور بالضرور (ان کے زمانے میں) جوان اُونٹنیوں کو چھوڑ دیا جائے گا، پس ان پر سواری نہ ہوگی، اور ضرور بالضرور لوگوں کے درمیان باہمی کینہ، بغض اور حسد جاتا رہے گا، اور یقینا وہ لوگوں کو مال کی طرف بلائیں گے، مگر کوئی اسے قبول نہیں کرے گا۔‘‘
(حدیث کے ہر فقرے پر تاکیدات ملاحظہ ہوں) یہ مسندِ احمد اور صحیح مسلم کی روایت کے الفاظ ہیں، اور صحیح بخاری میں یہ الفاظ ہیں:
’’وَالَّذِیْ نَفْسِیْ بِیَدِہٖ! لَیُوْشِکَنَّ أَنْ یَّنْزِلَ فِیْکُمُ ابْنُ مَرْیَمَ ۔۔۔ إلخ۔‘‘
(صحیح بخاری ج:۱ ص:۴۹۰)
ترجمہ: … ’’اس ذات کی قسم جس کے قبضے میں میری جان ہے! ضرور بالضرور تم میں عیسیٰ بن مریم نازل ہوں گے ۔۔۔ الخ۔‘‘
پھر ان حلفی تاکیدات پر بس نہیں، بلکہ احادیثِ نبویہ میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا نام، کنیت، نسب، والدہ کا نام، نانے کا نام، والدہ ماجدہ کے اوصاف، عیسیٰ علیہ السلام کی صورت، سیرت، رنگ، قدوقامت، بالوں کا رنگ، بالوں کی کیفیت، بالوں کا طول وغیرہ وغیرہ سو سے زائد صفات کی تصریح کی گئی ہے، جیسا کہ مولانا مفتی محمد شفیع صاحبؒ اور دُوسرے حضرات نے ان تمام اوصاف کو جمع کردیا ہے۔
ان تمام اوصاف کو سامنے رکھئے تو ہر قسم کے شک وشبہ کی جڑ کٹ جاتی ہے، مسئلۂ نزول میں ہر قسم کی تأویل ومجاز اور تمثیل کا سدِ باب ہوجاتا ہے اور اس باب میں کسی کے لئے
224
زیغ واِلحاد یا اِنکار وتحریف کی کوئی گنجائش نہیں رہ جاتی۔
آیتِ کریمہ:’’وَاِنَّہٗ لَعِلْمٌ لِّلسَّاعَۃِ فَلَا تَمْتَرُنَّ بِھَا‘‘ اپنی تاکیداتِ بلیغہ میں بالکل حدیثِ نبوی کے ہم رنگ ہے،وَاللہُ یَقُوْلُ الْحَقَّ وَھُوَ یَھْدِی السَّبِیْل!
عقیدۂ نزولِ مسیح سے اِنکار کیوں؟
گزشتہ بیان سے واضح ہوا کہ عیسیٰ علیہ السلام کی تشریف آوری کا ثبوت ناقابلِ تردید حقیقت ہے، قرآنِ کریم نے اس کی تصریح کی ہے، احادیثِ متواترہ قطعیہ نے اس کی شہادت دی ہے، اور تمام اُمتِ محمدیہ نے اس پر اِجماعی تصدیق کی مہر ثبت کی ہے، لہٰذا اس عقیدے کا اِنکار یا تو کھلی جہالت اور واضح اِلحاد ہے، یا اس کا منشا وہ خیالی ووہمی اِستبعاد ہے جس پر عقلِ صریح کی کوئی سند نہیں، یہ اِستبعاد، قدرتِ اِلٰہیہ کے نشانات اور آیاتِ بینات سے غفلت کا نتیجہ ہے۔
اِنسانی فہم کی بنیادی کمزوری:
اِنسانی فہم کی فطری کم ظرفی اور بنیادی کمزوری یہ ہے کہ جب اس کے سامنے کسی ایسی حقیقتِ واقعہ کا اِظہار کیا جائے جو اس کے ناقص علم، محدود تجربے، ناتمام مشاہدے، کمزور حواس اور ضعیف عقل کی گرفت سے بالاتر ہو، وہ اسے فوراً ناممکن اور محال کہہ کر اپنے عجز وجہل کو چھپانے کا عادی ہے۔ غور فرمائیے! دورِ جدید کی یہ اِیجادات واِختراعات، جو آج سب کے سامنے ہیں، کیا حد درجہ حیرت انگیز نہیں؟ یہ برقی لہریں، یہ زہریلی گیسیں، یہ تباہ کن اسلحہ، یہ ایٹم بم، یہ ہائیڈروجن بم، یہ فضائی راکٹ، یہ مصنوعی چاند، یہ خلائی سیارے، یہ فضائی اسٹیشن، پھر یہ راکٹ جو چاند پر اُتارا گیا، اور اس کے چاند کی سطح سے ٹکرانے کی آواز یہاں زمین پر ریکارڈ کی گئی، اور یہ راکٹ جو سائنس دانوں کے بقول چاند سے صحیح سالم واپس آیا، اور یہ عجیب وغریب راکٹ جس میں ’’لائکا‘‘ نامی کتیا کو بھیجا گیا اور اس میں ایسے آلات نصب کئے گئے جو کتیا کے دورانِ خون، حرکتِ قلب، حرارتِ جسم، نظامِ تنفس اور اس
225
کی شریانوں اور پھیپھڑوں کے تمام حالات ریکارڈ کرکے زمین پر بھیجیں، اور یہ مصنوعی سیارہ جس سے فضائی حالات، درجۂ حرارت اور شمسی شعاعوں کو ریکارڈ کیا گیا، پھر یہ نصف ’’ٹن‘‘ کا ’’سیوٹینک‘‘ نامی مصنوعی سیارہ جس نے ۱۶ منٹ میں زمین کے اردگرد ایک دورہ مکمل کیا، کیا دورِ جدید کے ان حیرت انگیز اِنکشافات کو کچھ عرصہ قبل محض وہم وخیال نہیں سمجھا جاتا تھا؟ لیکن آج یہ سب کچھ افسانہ طرازی نہیں، سامنے کے حقائق ہیں، اسی طرح نہیں معلوم کتنے حقائق اب تک پردۂ اِخفا میں ہوں گے، جنہیں عنقریب منصہ شہود پر جلوہ گر ہونا ہے، کیا ان تمام اُمور کو قبل اَزوقت ’’محال‘‘ اور ’’خلافِ عقل‘‘ کہنا عقل سے بے انصافی نہیں؟
اسی طرح علمِ کیمیا، فزیالوجی اور فلکیات کے عجیب وغریب اِنکشافات پر غور کرو، مثلاً ۱۹۵۷ء میں پہلی مرتبہ ’’زہرہ‘‘ سیارے سے لاسلکی رابطہ قائم کیا گیا، کیا قبل اَزوقت یہ تمام اِنکشافات حیرت افزا نہ تھے؟
ان فلکیات کو جانے دیجئے، ذرا انہی چیزوں پر غور کیجئے جو سب کو ان آنکھوں سے نظر آرہی ہیں، یہ فضاؤں میں پرواز کرتے ہوئے طیارے، یہ دریاؤں میں غوطہ زن آبدوزیں، یہ بحرِ منجمد میں شگاف ڈالنے والے ایٹمی بحری جہاز، یہ آواز سے زیادہ تیز رفتار جیٹ طیارے، اور اسی نوع کی دیگر سینکڑوں اِیجادات، کیا آج سے نصف صدی پہلے یہ محض خیالی چیزیں نہیں تھیں؟ کیا اس وقت کا اِنسان ان راکٹوں کی برق رفتاری کا تصوّر بھی کرسکتا تھا جو آج پچّیس ہزار میل فی گھنٹہ کی رفتار سے مصروفِ پرواز ہیں؟ کیا پچاس سال پہلے کے انسان کا وہم تسلیم کرسکتا تھا کہ ایسے مصنوعی سیارے بھی وجود میں آئیں گے جن میں نصب کردہ آلات فضائی حالات کو محفوظ کریں گے، پھر ’’لاسلکی‘‘ کے ذریعے یہ فضائی خبریں سینکڑوں میل دُور زمین پر سنی جائیں گی؟ کیا کوئی کہہ سکتا تھا کہ ایسے راڈار بھی اِیجاد ہوں گے جو ہزاروں میل سے جیٹ طیاروں کی پرواز اور سمتِ پرواز کا پتا بتلایا کریں گے؟
ان فضائیات کو بھی رہنے دیجئے، نائلون وغیرہ کے ان عجیب وغریب کپڑوں کو
226
لیجئے جو معدنی مواد سے تیار کئے جاتے ہیں، اور ریشم کی نرمی اور نفاست کو بھی مات کرتے ہیں، کیا یہ تمام چیزیں کسی زمانے میں محض خواب وخیال کے درجے میں نہیں تھیں؟ اگر ماضی قریب میں ان اُمور کو کوئی شخص بیان کرتا تو اسے مراق وجنون اور خرافات ولغویات کا نام نہ دیا جاتا؟ لیکن آج یہ روزمرّہ کے استعمال کی چیزیں ہیں، جن میں نہ حیرت ہے نہ اِستعجاب!
قدرتِ خداوندی کے مظاہر:
اب ایک طرف ان اِختراعات واِیجادات کو رکھو جو اِنسانِ ضعیف کی مادّی عقل نے دریافت کی ہیں، اور دُوسری طرف حق تعالیٰ کی قدرت وخالقیت، علم وحکمت اور عزّت وبرتری کو سامنے رکھ کر فیصلہ کرو کہ حق تعالیٰ کسی اِنسان (مثلاً عیسیٰ علیہ السلام) کو آسمان پر زِندہ اُٹھالینے، وہاں طویل مدّت تک زِندہ رکھنے اور پھر اسے زمین پر نازل کرنے کا فیصلہ فرمائیں، تو کیا قدرتِ اِلٰہیہ کے ان نشانات کو ’’ناممکن اور محال‘‘ کہنا صحیح ہوگا؟ نہیں! ہرگز نہیں۔۔۔! ہاں انہیں عجیب وغریب کہہ سکتے ہو، ’’خارقِ عادت‘‘ کا نام دے سکتے ہو، اِنسانی عقل وفکر سے بالاتر بتلاسکتے ہو۔ بلاشبہ ان کو ایسا ہونا بھی چاہئے کیونکہ یہ انسانی علم وقدرت کا کارنامہ نہیں، بلکہ یہ اس خالقِ کائنات ۔۔۔اللہ تعالیٰ۔۔۔ کی کن فیکونی صنعت ہے، جو علیم بھی ہے اور قدیر بھی، حکیم بھی ہے اور خبیر بھی۔ اس لئے صادق ومصدوق رسولِ امین صلی اللہ علیہ وسلم نے جن اُمور کی اِطلاع دی ہے، انہیں ’’خرقِ عادت‘‘ تو چاہے سو بار کہو، لیکن انہیں ’’محال‘‘ قطعاً نہیں کہا جاسکتا۔ اسی طرح دیگر وہ حقائق جو دِینِ اسلام نے بتلائے ہیں، مثلاً آسمانوں کا وجود، ملائکہ کا وجود، فرشتوں کا ایک لمحے میں آسمان سے زمین اور زمین سے آسمان پر پہنچ جانا، آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے اِسراء ومعراج کا واقعہ، یہ تمام اُمور اس کائنات میں قدرتِ اِلٰہیہ کے عجائبات ہیں، جو قدرتِ خداوندی کے لحاظ سے نہ محال ہیں نہ مستبعد۔
اِنسانی مصنوعات اور خدائی مخلوقات کے مابین موازنہ:
ایک طرف ان اِیجادات کو رکھو اور دُوسری طرف حق تعالیٰ کی قدرتِ کاملہ اور حکمتِ غالبہ کے نشانات کو رکھو، پھر ان میں موازنہ کرکے بتلاؤ کہ کیا انسانی اِیجادات کی
227
حیثیت نشان ہائے قدرت کے مقابلے میں ٹھیک وہی نہیں جو عاقل بالغ مردوں اور عورتوں کے حق میں بچوں کے کھلونوں اور بچیوں کی گڑیوں کی ہوا کرتی ہے؟ (۱)
عجیب وغریب کھلونے جن پر سائنس دانوں کو ناز ہے، جن کی اِیجاد پر مدح وتحسین کے ڈونگرے برسائے جاتے ہیں، جن کے اِعلانات سے مشرق ومغرب کو چونکا دِیا جاتا ہے، اور جنہیں پسندیدگی، قدردانی بلکہ حیرت ودہشت کی نظر سے دیکھا جاتا ہے، ذرا خیال کرو کہ چاند، سورج اور ستاروں کے مقابلے میں ان کی کیا حقیقت ہے؟ جو نامعلوم زمانے سے بے شمار اَسرارِ خفیہ پر مشتمل ہونے کے علاوہ ہماری زمین اور فضا کے لئے ایسے اَن گنت فوائد بھی رکھتے ہیں جو بالکل واضح اور روشن ہیں، یہ ہے عزیز وعلیم کی قدرت کا ادنیٰ کرشمہ، پس یہ بلند وبالا فضائی طبقات، یہ دُور سے نظر آنے والے بے شمار ستارے اور کائنات میں پھیلے ہوئے قدرتِ ربانیہ کے یہ نشانات کیا عقل مندوں کے لئے حیرت وتعجب کا کوئی سامان نہیں رکھتے؟
رَبَّنَا مَا خَلَقْتَ ھٰذَا بَاطِلًا، سُبْحٰنَکَ فَقِنَا عَذَابَ النَّارِ۔(آل عمران)
اِنسانی عقل کی بیچارگی:
یہ تو قدرت کے وہ نشانات ہیں، جن تک ہماری عقل وفکر اور علم ومشاہدہ کی رسائی کسی درجے میں ہوسکی ہے، اب ان کے مقابلے میں مادّہ وکائنات کے ان پوشیدہ اَسرار، پھر نفس ورُوح کے ان عجائبات پر غور کرو جو اَبھی تک ہماری سرحدِ اِدراک سے وراء الوراء ہیں اور خدا جانے کتنے حقائق ابھی تک مجہول ہیں۔ انسانی علم واِدراک کے عجز کا حال یہ
(۱) اور یہ بھی محض تفہیم اور تقریب الی الذین کے لئے کہا گیا ہے، ورنہ تمام عقلاء کی ذہنی کاوشیں اور اوّلین وآخرین کی ایجادات، قدرتِ اِلٰہیہ کے مقابلے میں ’’تارِ عنکبوت‘‘ کی حیثیت بھی نہیں رکھتیں، آخر جو خدا اپنے ’’کن فیکونی‘‘ اِرادے سے ایک لمحے میں سینکڑوں عالم پیدا کرسکتا ہے، اس کی قوّت سے بیچاری مخلوق کی قوّت کا موازنہ ہی کب کیا جاسکتا ہے؟ لیکن اس کا کیا کیجئے کہ آج ’’نظیر اور مثال‘‘ کے بغیر لوگ سمجھنے ہی کی صلاحیت کھو بیٹھے ہیں۔ مترجم
228
ہے کہ یہ زمین جس پر ہم دِن رات چلتے پھرتے، بیٹھتے اُٹھتے اور اس کی گود میں پروَرِش پاتے ہیں (۱) ابھی تک اسی کی ماہیت مجہول ہے، نہیں معلوم اس کے باطن اور گہرائی کی طبیعت کیا ہے؟ چنانچہ ماہرین علمائے طبیعات کو اِعتراف ہے کہ وہ کائنات کے بے شمار اَسرار کی دریافت سے قاصر ہیں، اور یہ کہ سائنس کی ان ترقیات کے باوجود ہماری معلومات ہنوز عہدِ طفولیت میں ہیں۔ حضرت شیخ اِمام العصر اپنے قصیدہ ’’ضرب الخاتم علیٰ حدوث العالم‘‘ میں فرماتے ہیں:
-
یقال إلی الحین استھاموا وما دروا
علاقۃ ما بین الروح والفکر ماذا
ترجمہ: … ’’کہا جاتا ہے کہ یہ لوگ آج تک کی سرگردانی کے باوجود یہ معلوم نہیں کرسکے کہ رُوح اور فکر کے درمیان کیا رابطہ ہے؟‘‘
-
بیولوجیا اضحٰی کذالک محبطًا
لتخریجھم سر الحیاۃ وما انجلٰی
ترجمہ: … ’’اسی طرح ’’بیالوجی‘‘ سرِّ حیات کے اِدراک سے آج تک قاصر ہے، اور اس کے لئے یہ بھید نہیں کھل سکا۔‘‘
-
فذالک إعجاز وخرق لعادۃ
وإن کان کل الکون إعجاز منتھٰی
ترجمہ: … ’’پس اسی کا نام ’’اِعجاز‘‘ اور ’’خرقِ عادت‘‘ ہے، اگرچہ درحقیقت ساری کائنات ہی قدرت کا معجزہ ہے۔‘‘
عقیدۂ نزولِ مسیح کا دیگر عقائدِ قطعیہ سے مقابلہ:
عقیدۂ نزولِ مسیح پر حیرت وتعجب کا اِظہار کرنے والوں کو دُوسرے اِسلامی عقائد
(۱) بلکہ اسی سے نکلتے اور اسی میں لوٹتے ہیں، ’’مِنْھَا خَلْقَنٰـکُمْ وَفِیْھَا نُعِیْدُکُمْ وَمِنْھَا نُخْرِجُکُمْ تَارَۃً اُخْرٰی‘‘ ۔ مترجم
229
سے اسے ملاکر دیکھنا چاہئے، مثلاً ملتِ اِسلامیہ اور دُوسرے تمام اہلِ ملل اس کے قائل ہیں، کہ ایک دن سارے نظامِ عالم کو توڑ پھوڑ کر قیامت برپا کردی جائے گی، مردے قبروں سے اُٹھائے جائیں گے، اور تمام اگلے پچھلے اور نیک وبد میدانِ محشر میں جمع ہوں گے، ظاہر ہے کہ عقیدۂ حشر ونشر حضرت عیسیٰ علیہ السالم کے رفع ونزول سے کہیں زیادہ حیرت واِستبعاد کا محل ہے، اب یہ قطعی عقیدہ جو تمام اَدیانِ سماویہ کے یہاں متفق علیہ عقیدہ ہے اور جس پر اِیمان لائے بغیر کوئی شخص مسلمان نہیں ہوسکتا، کیا کوئی شخص اس کے اِنکار کرنے میں محض اس وجہ سے معذور تصوّر کیا جاسکتا ہے کہ یہ حشر ونشر اور بعث وحساب کا مسئلہ اس کی عقلِ نارسا کے لئے محلِ حیرت وتعجب ہے؟ اگر نہیں، تو عقیدۂ نزولِ مسیح تو اس قدر عجیب وغریب بھی نہیں، پھر اس پر اِیمان لانے میں یہ عذر کیسے چل سکتا ہے؟
نزولِ مسیح کی حکمت:
بہرکیف! حکمتِ اِلٰہیہ کا تقاضا ہے کہ جب یہ مادّیت حیرت ودہشت کی حد تک ترقی کرجائے گی، سائنس دان ترقیاتی ایجاد واِختراع کے نقطئہ معراج کو پہنچ جائیں گے، ان کے قلوب فخر وغرور سے یہاں تک پھول جائیں گے کہ صانعِ عالم، خالقِ حکیم اور عزیز وعلیم ہی کا اِنکار کر بیٹھیں گے، اور مسیحِ لعین کانا دَجال ظاہر ہوگا، جو یہودی النسل ہوگا، جس کے ماتھے پر ’’کافر‘‘ یا ’’ک ف ر‘‘ لکھا ہوگا، اور اس کے کفر میں کسی مؤمن کو شک وشبہ نہیں ہوگا، وہ رُبوبیت واُلوہیت کا دعویٰ کرے گا، اس کے پاس بہت سے طلسم، شعبدے اور طبعی تسخیرات کے فن ہوں گے، اور یہ دُنیا کفر وضلالت، ظلم وعدوان اور قساوت وبدتہذیبی سے بھری ہوگی، اس وقت قدرتِ اِلٰہیہ اور مشیتِ اَزلیہ خاتمِ انبیائے بنی اسرائیل حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو حضرت خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابی کی حیثیت سے نازل کرے گی، وہ شریعتِ محمدیہ کو نافذ کریں گے، دُنیا کو عدل واِنصاف سے بھردیں گے، نشانِ کفر مٹادیں گے، صلیب توڑ ڈالیں گے، خنزیر کے قتل کا حکم کریں گے، ’’دجالِ اکبر‘‘ کو قتل کریں گے، اللہ تعالیٰ ان کے ہاتھ پر ایسے خارقِ عادت معجزات ظاہر کریں گے جن سے علمائے طبیعات
230
دنگ رہ جائیں گے، ان معجزات میں نہ مادّی وسائل ہوں گے، نہ طبعی تدابیر کا اِستعمال ہوگا۔
پس چونکہ مسیحِ ضلالت دجال دُنیا کو خبث وضلالت اور جور وظلم سے بھر دے گا، صنعتی عجائبات سے دہشت پھیلاکر اُلوہیت کا دعویٰ کرے گا، اور کسی کے لئے اس کے مقابلے کی تاب نہ ہوگی۔ اس لئے مسیحِ ہدایت عیسیٰ بن مریم علیہ السلام کو نازل کیا جائے گا، ان کو دیکھتے ہی دجال لعین برف کی طرف پگھلنے لگے گا یہاں تک آپ اسے قتل کرڈالیں گے، دُنیا کو عدل واِنصاف سے معمور کریں گے، ہر قسم کے کفر وخبث سے اسے پاک کردیں گے، کج ملتوں کو سیدھا کردیں گے اور دِینِ اسلام ہی تمام رُوئے زمین کا دِین ہوگا۔ پس حق تعالیٰ کا اِرشاد: ’’وَاِنَّہٗ لَعِلْمٌ لِّلسَّاعَۃِ فَلَا تَمْتَرُنَّ بِھَا‘‘ (اور بے شک عیسیٰ علیہ السلام قیامت کا نشان ہیں، پس تم اس پر ہرگز شک نہ کرو) ، گویا ان ہی معجزات کی طرف اشارہ ہے، جو بطورِ مقدمۂ قیامت عیسیٰ علیہ السلام کے ہاتھ پر ظاہر ہوں گے، پس یہ خوارقِ اِلٰہیہ، معجزات اور نشان قیامت کی کھلی نشانی ہوں گے، جس سے لوگوں کو یقین ہوجائے گا کہ قدرتِ اِلٰہیہ کے سب سے بڑے خارقِ عادت واقعے کے ظہور یعنی اس عالم کی بساط لپیٹ دئیے جانے کا وقت آن پہنچا ہے، اس آیتِ کریمہ کے خاتمے پر یہ اِرشاد: ’’فَاتَّبِعُوْنِیْ ھٰذَا صِرَاطٌ مُّسْتَقِیْم‘‘ ’’پس تم میری پیروی کرو، یہی سیدھا راستہ ہے‘‘ نہایت برمحل ہے، اس میں قبولِ حق کی دعوت ہے، اور اس اَمر کی وضاحت کہ وحیٔ اِلٰہی پر اِیمان لانا ہی صراطِ مستقیم ہے، اور اس سے اِنکار کرنا، شک وسوسے کے غار میں گرجانے کے مترادف ہے، اور کج راہی وگمراہی ہے۔
خلاصۂ کلام:
خلاصۂ کلام یہ کہ عیسیٰ علیہ السلام کی تشریف آوری کا واقعہ اس عالم کے عجیب واقعات میں سے ہے، جس کی قرآنِ حکیم نے تصریح کی ہے، احادیثِ نبویہ اس واقعے پر متواتر ہیں، اور عہدِ صحابہ سے آج تک اُمتِ اسلامیہ نسلاً بعد نسلٍ اس اِعتقاد پر قائم چلی آتی ہے، پھر یہ واقعہ نہ تو قدرتِ اِلٰہیہ کے اِعتبار سے ایسا عجیب ہے، نہ عقلِ صریح کے لحاظ سے
231
محال ہے، نہ موجودہ ترقیاتی ایجادات کی نیرنگیوں کے پیشِ نظر میں اس پر اِستبعاد کا کسی کو حق حاصل ہے، اس لئے:
عقیدۂ نزولِ عیسیٰ علیہ السلام پر اِیمان لانا فرض ہے، اس کا اِنکار کفر ہے، اور اس کی تأویل کرنا زیغ وضلال اور کفر واِلحاد ہے۔
اللہ تعالیٰ اُمتِ محمدیہ ۔۔۔علیٰ صاحبہا الف الف تحیۃ وسلام۔۔۔ کو صراطِ مستقیم کی توفیق بخشیں، اور اسے ہر قسم کے شر وفساد، ضلال واِلحاد اور کفر وعناد سے بچائیں۔
اِختتامیہ:
میں ان ہی سطور پر مقدمہ عقیدۃ الاسلام کو ختم کرتا ہوں، کتاب (عقیدۃ الاسلام) آپ کے سامنے ہے، اس کے مطالعے سے حق وصواب کی راہیں کھلیں گی، اور کسی کج رو کے کفر واِلحاد کی گنجائش نہ رہے گی، اس مقدمے کا نام ’’نزل أھل الْإسلام فی نزول عیسٰی علیہ السلام‘‘ رکھتا ہوں۔
وَصَلَّی اللہُ عَلٰی صَفْوَۃِ الْبَرِیَّۃِ خَاتَمَ النَّبِیِّیْنَ مُحَمَّدٍ وَّاِخْوَانِہِ الْأَنْبِیَآئِ وَالْمُرْسَلِیْنَ وَالشُّھَدَآئِ وَالصَّالِحِیْنَ اَجْمَعِیْنَ
الفقیر الی اللہ تعالیٰ
محمد یوسف بن سیّد زکریا بن سیّد میرمزمل شاہ
بن میر احمد شاہ البنوری الحسینی
مدیر مدرسہ عربیہ اسلامیہ کراچی نمبر۵
بروز ہفتہ ذی الحجہ ۱۳۷۹ھ
232
حیاتِ مسیح علیہ السلام
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ
اَلْحَمْدُ لِلہِ وَسَلَامٌ عَلٰی عِبَادِہِ الَّذِیْنَ اصْطَفٰی!
قرآنِ کریم میں ہے:
’’وَرَفَعْنَا فَوْقَھُمُ الطُّوْرَ بِمِیْثَاقِھِمْ وَقُلْنَا لَھُمُ ادْخُلُوا الْبَابَ سُجَّدًا، وَّقُلْنَا لَھُمْ لَا تَعْدُوْا فِی السَّبْتِ وَاَخَذْنَا مِنْھُمْ مِیْثَاقًا غَلِیْظًا۔ فَبِمَا نَقْضِھِمْ مِّیْثَاقَھُمْ وَکُفْرِھِمْ بِاٰیـَاتِ اللہِ وَقَتْلِھِمُ الْاَنْبِیَآئَ بِغَیْرِ حَقٍّ وَّقَوْلِھِمْ قُلُوْبُنَا غُلْفٌم بَلْ طَبَعَ اللہُ عَلَیْھَا بِکُفْرِھِمْ فَـلَا یُؤْمِنُوْنَ اِلّا قَلِیْـلًا۔ وَبِکُفْرِھِمْ وَقَوْلِھِمْ عَلٰی مَرْیَمَ بُھْتَانًا عَظِیْمًا۔ وَقَوْلِھِمْ اِنَّا قَتَلْنَا الْمَسِیْحَ عِیْسَی ابْنَ مَرْیَمَ رَسُوْلَ اللہِ وَمَا قَتَلُوْہُ وَمَا صَلَبُوْہُ وَلٰـکِنْ شُبِّہَ لَھُمْ، وَاِنَّ الَّذِیْنَ اخْتَلَفُوْا فِیْہِ لَفِیْ شَکٍّ مِّنْہُ، مَا لَھُمْ بِہٖ مِنْ عِلْمٍ اِلّا اتِّبَاعَ الظَّنِّ وَمَا قَتَلُوْہُ یَقِیْنًا۔ بَلْ رَّفَعَہُ اللہُ اِلَیْہِ وَکَانَ اللہُ عَزِیْزًا حَکِیْمًا۔‘‘
(النساء:۱۵۴تا ۱۵۸)
ترجمہ: … ’’اور ہم نے اُٹھایا ان پر پہاڑ اقرار لینے کے واسطے اور ہم نے کہا داخل ہو دروازہ میں سجدہ کرتے ہوئے اور ہم نے کہا کہ زیادتی مت کرو ہفتہ کے دن میں اور ہم نے ان سے لیا قول مضبوط، ان کو جو سزا ملی سو ان کی عہدشکنی پر اور منکر ہونے پر اللہ کی آیتوں سے اور خون کرنے پر پیغمبروں کا ناحق، اور اس کہنے پر کہ
233
ہمارے دل پر غلاف ہے، سو یہ نہیں بلکہ اللہ نے مہر کردی ان کے دلوں پر کفر کے سبب، سو ایمان نہیں لاتے مگر کم۔ اور ان کے کفر پر اور مریم پر بڑا بہتان باندھنے پر، اور ان کے اس کہنے پر کہ ہم نے قتل کیا مسیح عیسیٰ مریم کے بیٹے کو جو رسول تھا اللہ کا، اور انہوں نے نہ اس کو مارا اور نہ سولی پر چڑھایا ولیکن وہی صورت بن گئی ان کے آگے، اور جو لوگ اس میں مختلف باتیں کرتے ہیں تو وہ لوگ اس جگہ شبہ میں پڑے ہوئے ہیں، کچھ نہیں ان کو اس کی خبر، صرف اٹکل پر چل رہے ہیں، اور اس کو قتل نہیں کیا بے شک، بلکہ اس کو اُٹھالیا اللہ نے اپنی طرف اور اللہ ہے زبردست حکمت والا۔‘‘ (ترجمہ حضرت شیخ الہندؒ)
یہودیوں کے کفر کی وجوہ:
یعنی ان سے عہد لینے کے واسطے ہم نے ان کے اوپر کوہِ طور کو رکھ دیا، اور ہم نے ان سے کہا کہ شہر کے دروازے میں داخل ہونا جھکتے ہوئے، سجدہ کرتے ہوئے، مگر انہوں نے نہیں کیا، اور ہم نے ان سے یہ کہا تھا کہ ہفتہ کے دن میں زیادتی نہ کرنا، ہفتے کے دن ان کی چھٹی ہوتی تھی، اس دن کام نہیں کرنا، اور ہم نے ان چیزوں پر ان سے پختہ عہد لیا۔
اب یہ لوگ آپ سے جو کہہ رہے ہیں کہ ہم پر کتاب اُتاریں، اللہ تعالیٰ اُن کے یہ جرائم بتارہے ہیں، پس اس سبب سے کہ انہوں نے اپنے عہد کو توڑ دیا، اور اس سبب سے کہ انہوں نے اللہ کی آیتوں کے ساتھ کفر کیا، اور اس وجہ سے کہ انہوں نے انبیاء کو ناحق قتل کیا، اور اس وجہ سے کہ یہ کہتے ہیں کہ ہمارے دل پردے اور غلاف میں ہیں، یعنی محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیم ہم پر اثر نہیں کرتی، ہم محفوظ ہیں۔
اس کے درمیان میں بطور جملہ معترضہ کے اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں: نہیں پردے میں نہیں ہیں، بلکہ اللہ تعالیٰ نے مہر کردی ہے ان کے دلوں پر، پس یہ نہیں ایمان لائیں گے مگر بہت کم، جن کو اللہ توفیق عطا فرمائے۔ اور ان کے اس کفر کی وجہ سے (اور وہ کفر یہ تھا
234
کہ) انہوں نے مریم پر بہتانِ عظیم باندھا، فاحشہ کی نسبت ان کی طرف کی، بدکاری کی نسبت ان کی طرف کی، اور مریم بتول اور مریم صدیقہ کے دامن پر انہوں نے گندگی کے چھینٹے ڈالے، اور ان کے اس کہنے کی وجہ سے کہ ہم نے قتل کیا مسیح عیسیٰ بن مریم اللہ کے رسول کو، پھر فرمایا: ’’اس وجہ سے ملعون ہوئے‘‘، ’’اس وجہ سے ملعون ہوئے‘‘، ’’اس وجہ سے ملعون ہوئے‘‘، یہ تو سلسلہ آگے چلتا جائے گا۔
تو درمیان میں نکتہ آگیا کہ انہوں نے کہا کہ ہم نے مسیح عیسیٰ بن مریم کو قتل کردیا، اللہ تعالیٰ اس سلسلۂ سخن کو درمیان میں چھوڑ کر اس پر تبصرہ فرماتے ہیں، کیوں میاں! بات کو سمجھ رہے ہو کہ نہیں؟ تو اسی سے آگے آئے گا:
’’فَبِظُلْمٍ مِّنَ الَّذِیْنَ ھَادُوْا حَرَّمْنَا عَلَیْھِمْ طَیِّبَاتٍ اُحِلَّتْ لَھُمْ۔‘‘
(النساء:۱۶)
ترجمہ: … ’’سو یہود کے گناہوں کی وجہ سے ہم نے حرام کیں ان پر بہت چیزیں پاک جو ان پر حلال تھیں۔‘‘
چنانچہ یہودیوں کے مظالم کی وجہ سے، یعنی وہ سلسلہ اس کے ساتھ لگ رہا ہے، درمیان میں یہ اللہ تعالیٰ کا تبصرہ ہے اور تبصرہ کس بات پر ہے؟ ہاں تو تبصرہ ان کے اس بات کے کہنے پر ہے کہ: ’’ہم نے عیسیٰ بن مریم رسول اللہ کو قتل کردیا ہے۔‘‘
سمجھنے کی چند باتیں!
اب یہاں چند باتیں سمجھنے کی ہیں، یعنی مزید آگے بڑھنے سے پہلے یہاں چند باتوں کو سمجھ لیجئے!
قتلِ مسیح کا زبانی جھوٹا دعویٰ:
ارشادِ الٰہی: ’’ان کا یہ کہنا کہ ہم نے مسیح عیسیٰ کو قتل کیا ہے‘‘ معلوم ہوا کہ انہوں نے کیا کچھ نہیں تھا، اور قتل کا دعویٰ کرکے جھوٹ بولتے ہیں، اس لئے کہ پہلے تمام مقامات پر اللہ تعالیٰ نے ان کے افعال ذکر فرمائے ہیں کہ انہوں نے ’’یہ کیا تھا‘‘، ’’یہ کیا تھا‘‘، ’’یہ کیا
235
تھا‘‘ اس وجہ سے وہ ملعون ہیں اور اس وجہ سے وہ ملعون ہیں۔ گویا ان کے جرائم بتارہے ہیں، مگر یہاں صرف یہ فرمایا کہ: ’’ان کا یہ کہنا کہ ہم نے مسیح عیسیٰ کو قتل کیا ہے‘‘ ان کا جھوٹا قول نقل کیا ہے یعنی ان کا قتلِ مسیح کا دعویٰ کرنا اور حضرت عیسیٰ علیہ الصلوٰۃ والسلام کے قتل کرنے کا کہنا، جھوٹا دعویٰ اور محض قول ہے، عمل سے اس کا کوئی تعلق نہیں ہے۔ یہاں ایک بات تو یہ سمجھ میں آگئی کہ یہ ان کا محض قول اور دعویٰ ہے، جو کہ جھوٹا ہے، معلوم ہوا کہ انہوں نے کیا کچھ بھی نہیں اور وہ ان کو قتل کر بھی نہیں سکے۔
حضرت عیسیٰ ؑکو بابرکت ماننا اور قتل کا دعویٰ کرنا:
نمبر دو ان کا یہ کہنا کہ: ’’ہم نے قتل کیا مسیح کو‘‘ اور مسیح کے معنی مبارک کے ہیں تو ان کا یہ کہنا کہ ’’ہم نے مسیح کو قتل کردیا‘‘ گویا یہ کہنا ہے کہ ہم نے نبی کو قتل کردیا، یا ہم نے فلاں درویش کو قتل کردیا، گویا اس قول کے قائل جب یہ کہہ رہے ہیں اور دعویٰ کر رہے ہیں کہ ہم نے مسیح کو قتل کردیا ہے تو اس کا معنی یہ ہے کہ وہ خود اپنی زبان سے اُسے ’’مسیح‘‘ اور ’’بابرکت‘‘ بھی کہتے ہیں اور اس کے قتل کا دعویٰ بھی کرتے ہیں اور اس پر فخر بھی کرتے ہیں، اب بتاؤ تمہارے لئے ملعون ہونے میں کوئی شک و شبہ کی گنجائش ہے؟
مسیح کی تشخیص:
آگے مسیح کی تشخیص فرمائی، ’’مسیح‘‘ کے اگر لغوی معنی ’’مبارک‘‘ کے ہیں تو مبارک تو بہت سے لوگ ہوسکتے ہیں، چنانچہ کہا جاتا ہے کہ فلاں بھی بابرکت آدمی ہے، فلاں بھی بابرکت آدمی ہے، اس لئے اللہ تعالیٰ نے اس ’’مسیح‘‘ کی تشخیص فرمائی ہے کہ وہ عیسیٰ بن مریم ہے، چنانچہ فرمایا: ’’اِنَّا قَتَلْنَا الْمَسِیْحَ عِیْسَی ابْنَ مَرْیَمَ‘‘ مسیح ایک ہی ہے اور وہ ہے عیسیٰ بن مریم۔
پوری دُنیا میں دو آدمیوں کو مسیح کا لقب دیا گیا:
پوری دنیا میں اللہ نے صرف دو آدمیوں کا لقب مسیح رکھا ہے، ایک مسیح عیسیٰ بن مریم، اور ایک مسیح الدجال۔
236
دجال کو مسیح کیوں کہا گیا؟
رہی یہ بات کہ دجال کو ’’مسیح دجال‘‘ کیوں کہتے ہیں؟ علماء نے اس فرق کی وجہ بتائی ہے، لقب تو دونوں کا مسیح ہے یعنی حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا بھی اور دجال کا بھی، گویا دو ضدوں کا ایک ہی نام ہے۔
مسیح کے معنی یا تو بابرکت کے ہیں جیسا کہ تم سن چکے ہو، رہی یہ بات کہ دجال کو مسیح کیوں کہا جاتا ہے؟ اس کے کئی جواب دئیے گئے ہیں:
۱: … بعض حضرات نے کہا کہ: اس شخص نے چونکہ جھوٹے طور پر غلام احمد قادیانی کی طرح مسیح ہونے کا دعویٰ کرلیا ہے اسی بنا پر اصلی مسیح آکر اس کو قتل کرے گا، اس کا مطلب یہ ہوا کہ دجال کو جو مسیح کہا جاتا ہے اس لئے کہ وہ نام نہاد مسیح ہے، اور مسیحیت کا جھوٹا دعویدار ہے، اس لئے اس کا یہ لقب ہی بن گیا، جیسا کہ غلام احمد قادیانی کا لقب بن گیا مسیحِ کذّاب، تو جب مسلمان دجال کا نام لیتے ہوئے مسیح الدجال کہتے ہیں، یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کا نام رکھا ہے مسیحِ دجال تو مسیحِ دجال سے مراد ہوتا ہے: مسیحِ کذاب، یعنی جھوٹا مسیح، نام نہاد مسیح۔
۲: … اور بعضوں نے یہ کہا ہے کہ: عیسیٰ علیہ الصلوٰۃ والسلام مسیح تھے، مگر اس کذاب نے بھی حضرت عیسیٰ علیہ الصلوٰۃ والسلام کا بابرکت لقب چرالیا اور اپنے آپ کو مسیح کہلانے لگا، تو اس کا مسیح کہلانا اس کے جھوٹے عقیدے کے مطابق ہے۔
۳: … بعض نے کہا کہ: حضرت عیسیٰ علیہ السلام مسیح تھے کہ جس کے ہاتھ پھیر دیتے تھے وہ اچھا اور چنگا ہوجاتا تھا، اندھے کے ہاتھ پھیرتے تھے تو وہ آنکھ والا ہوجاتا، اسی طرح مادرزاد اندھے اور ابرص اور کوڑھی کے ہاتھ پھیر دیتے تو وہ شفایاب ہوجاتا تھا، مگر دجال جس تندرست کے سر پر ہاتھ پھیر دے گا، وہ گنجا ہوجائے گا، اگر کسی بینا کی آنکھوں پر ہاتھ پھیر دے گا تو وہ اندھی ہوجائیں گی تو اس لئے اس کا لقب مسیح ہوگیا۔
مسیلمہ کذّاب کی ’’سبزقدمیاں‘‘!
جیسا کہ مسیلمہ کذّاب بھی اپنے آپ کو ۔۔۔ نعوذ باللہ ۔۔۔ محمد رسول اللہ کہتا تھا، کسی نے
237
مسیلمہ کذّاب سے کہا کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم تو معجزہ دکھاتے ہیں، تم بھی کوئی معجزہ دکھاؤ! کہنے لگا کہ: محمد رسول اللہ کیا معجزہ دکھاتے ہیں؟ کہا گیا کہ: وہ کھاری پانی اور کھاری کنویں میں لعاب ڈال دیتے ہیں تو وہ میٹھا ہوجاتا ہے، خشک کنویں میں لعاب ڈالتے ہیں تو وہ پانی سے بھرکر اتنا اُوپر آجاتا ہے کہ چلّوؤں سے بھرلو، ڈول رسّی کے ساتھ نہیں بلکہ چلّو سے لے لو پانی۔ اس نے کہا: اچھا! اور کیا کرتے ہیں؟ کہا گیا کہ: وہ گنجے کے سر پر ہاتھ پھیرتے ہیں تو اس کے بال آجاتے ہیں، اور اندھے کی آنکھوں پر ہاتھ پھیرتے ہیں تو بینائی آجاتی ہے، کسی کے لئے دُعائے برکت فرماتے ہیں تو اللہ تعالیٰ اس کو صحت و عافیت اور برکت عطا فرمادیتے ہیں۔ کہنے لگا کہ: یہ تو میں بھی کرسکتا ہوں! ایسی کون سی بات ہے؟
چنانچہ ایک کنویں میں پانی تھا یہ وہاں گیا اور جاکر اس میں لعاب ڈال دیا، لعاب کا ڈالنا ہی تھا کہ کنویں کا پانی اتنا تلخ ہوگیا کہ پیا نہیں جاسکتا تھا، بلکہ منہ پر نہیں رکھا جاسکتا تھا۔
ایک خاتون اس کے پاس دو بچوں کو لے کر آئی، اُس نے دونوں کو پیار کیا، اور ان کے لئے دعا کی، اور کہا کہ: ان کی بڑی عمر ہوگی! وہ خاتون ان دونوں بچوں کو گھر لے گئی ایک بچہ چھوٹا تھا، اس کو ماں نے بٹھایا، اس نے کھیلتے ہوئے اپنے اوپر ہنڈیا اُنڈیل دی جس سے وہ جل گیا، اور دوسرے کو بھیڑیا کھاگیا۔ تو اس کی دعا کا یہ اثر ہوا اور ان بیچاروں کو اس طرح ’’بڑی عمر‘‘ لگ گئی کہ وہ دونوں آناً فاناً مرگئے۔ تو دجال کو مسیح کہنے کی ایک وجہ یہ ہوئی۔
۴: … بعضوں نے کہا: مسیح بھی پھرتا تھا، وہ دجال بھی ساری دنیا میں پھرے گا۔
خلاصہ یہ کہ میں کہنا چاہتا ہوں کہ اس انسانی تاریخ میں ’’مسیح‘‘ صرف دو آدمیوں کو لقب ملا، ایک مسیح عیسیٰ بن مریم کو اور دوسرے مسیح دجال کو۔
دجال کا چھوٹا بھائی ’’مسیحِ قادیان‘‘:
اور اب تیسرا ہے دجال کا چھوٹا بھائی غلام احمد قادیانی! اس نے بھی کہا کہ: میں بھی مسیح ہوں۔
238
دجال کو ’’دجال‘‘ کیوں کہا گیا؟
تو دجال کو ’’دجال‘‘ کیوں کہا گیا تھا؟ اس لئے کہ وہ جھوٹے طور پر ’’مسیح‘‘ بن گیا تھا، وہ اصل میں مسیح نہیں تھا، بلکہ اس نے مسیح ہونے کا جھوٹا دعویٰ کیا تھا، اس لئے دجال کہلایا۔
غلام احمد مسیحِ دجال:
چونکہ غلام احمد قادیانی نے بھی یہی کہا تھا اس لئے وہ بھی مسیحِ دجال کہلائے گا، کیونکہ سچا مسیح تو ابن مریم اور عیسیٰ بن مریم تھا، اس لئے اللہ تعالیٰ نے فرمایا:’’المسیح عیسی ابن مریم رسول اللہ‘‘
اللہ تعالیٰ یہ یہودیوں کا قول نقل کر رہے ہیں کہ: ’’ہم نے قتل کیا مسیح عیسیٰ بن مریم رسول اللہ کو۔‘‘
ایک سوال کا جواب:
سوال یہ ہے کہ وہ تو ’’رسول اللہ‘‘ نہیں مانتے تھے، تو پھر یہ کیوں کہا؟ اس کا جواب یہ ہے کہ ۔۔۔نعوذ باللہ ثم نعوذ باللہ ثم نعوذ باﷲ۔۔۔ ان کا یہ کہنا بطورِ اِستہزا کے تھا، گویا وہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے ’’رسول اللہ‘‘ ہونے کا مذاق اُڑا رہے تھے کہ وہ جو ’’رسول اللہ‘‘ بنا پھرتا تھا، اس کو ہم نے قتل کیا، یہ تو ان کا دعویٰ ہوا، مگر اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ ان کا یہ دعویٰ بالکل جھوٹا ہے، ان سے پوچھا کہ تم نے کیسے قتل کیا؟ کہتے ہیں کہ صلیب پر قتل کیا۔
ایک نکتہ:
یہاں ایک نکتہ سمجھو! وہ یہ کہ یہودیوں کا دعویٰ تھا کہ ہم نے ان کو صلیب دی، اور صلیب پر جو لٹکایا جائے وہ ملعون ہوتا ہے، لہٰذا ۔۔۔نعوذ باللہ۔۔۔ عیسیٰ علیہ السلام بھی ملعون تھے، اللہ تعالیٰ نے ان کے دعویٰ میں صلیب کا ذکر ہی نہیں کیا، بلکہ صرف قتل کا ذکر کرکے فرمایا:’’وَقَوْلِھِمْ اِنَّا قَتَلْنَا الْمَسِیْحَ عَیْسَی ابْنَ مَرْیَمَ رَسُوْلَ اللہِ‘‘ قرآن پاک تمہارے سامنے ہے، ان کے دعویٰ میں صلیب کا کہیں ذکر نہیں ہے، ہاں! البتہ آگے ان کے جھوٹے
239
دعویٰ کا جواب دیتے ہوئے صلیب کو ذکر کیا ہے، لیکن دعویٰ میں ذکر نہیں کیا۔
ناحق مقتول و مصلوب ملعون نہیں:
کیونکہ کسی کو صلیب دے دو یا کسی کو یوں ہی قتل کرڈالو، اگر تو اس کا قتل کرنا جائز اور حق ہوا تو ٹھیک، اور اگر وہ ناحق قتل ہوا تو قتل کرنے والا اور صلیب دینے والا ملعون ہے، جس کو صلیب پر چڑھایا تھا وہ ملعون نہیں ہے۔ اصل مقصد اللہ تعالیٰ نے قتل کو ذکر فرمایا۔ مگر غلام احمد قادیانی نے ساری تقریر کی بنیاد اس پر رکھی کہ یہودیوں کا یہ دعویٰ تھا۔
مرزا غلام احمد، یہودیوں کے نقشِ قدم پر:
چنانچہ ہم نے کہا کہ کیا اللہ تعالیٰ بھول گیا تھا ان کے دعویٰ کو کہ قرآن میں صلیب کو ذکر ہی نہیں کیا؟ غلام احمد قادیانی کہتا ہے کہ ان کا یہ کہنا تھا کہ ہم نے عیسیٰ کو صلیب دے دی، اور جو صلیب پر ماردیا جائے وہ ملعون ہوتا ہے، کیونکہ توریت میں لکھا ہے کہ جو کاٹھ پر مرے وہ ملعون ہے، لہٰذا یہودی یہ کہنا چاہتے تھے کہ ۔۔۔نعوذ باللہ۔۔۔ عیسیٰ علیہ السلام ملعون تھے، یہ تو غلام احمد قادیانی کی تقریر ہے جو اس نے یہودیوں کے دعویٰ کی تائید میں کی ہے، لیکن اللہ تعالیٰ نے یہ تقریر کی ہے اور اللہ تعالیٰ یہ کہتا ہے کہ یہودیوں کا ہ دعویٰ ہے کہ: ’’ہم نے قتل کردیا مسیح عیسیٰ بن مریم رسول اللہ کو‘‘ معلوم ہوا کہ غلام احمد قادیانی کو اللہ تعالیٰ سے اختلاف ہے، کیونکہ مرزا کہتا ہے کہ یہودیوں کا دعویٰ یہ تھا کہ عیسیٰ علیہ الصلوٰۃ والسلام ملعون مرا ہے، کیونکہ ہم نے اس کو صلیب پر مارا ہے، قرآن نے تو اس کو ذکر ہی نہیں کیا، اگر ان کا ایسا دعویٰ تھا بھی تو اس کا ردّ کردیا، اور فرمایا کہ وہ ملعون نہیں بلکہ مبارک تھا، اور مبارک کبھی ملعون نہیں ہوتا، آپ ہی بتلائیں کیا مبارک ملعون ہوتے ہیں؟ نہیں! ہرگز نہیں! اس لئے اللہ تعالیٰ نے اُن کے دعویٰ میں اس کا ذکر ہی نہیں کیا، یہ تو تھا ان کا دعویٰ، کیوں سمجھ میں آگیا؟
دعویٰ کی تردید:
اب آگے سنو! آگے اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں: ’’وَمَا قَتَلُوْہُ وَمَا صَلَبُوْہُ‘‘ حالانکہ
240
ان لوگوں نے نہ اس کو قتل کیا، نہ اس کو صلیب دی اور نہ صلیب پر چڑھایا۔ ’’وَلٰـکِنْ شُبِّہَ لَھُمْ‘‘ بلکہ ان لوگوں کو اشتباہ ہوگیا۔
یہودیوں کو کس میں شبہ ہوا؟
اب سوال یہ ہوتا ہے کہ ان لوگوں کو کس میں اشتباہ ہوگیا؟ یعنی ’’شبہ لھم المسیح بالمقتول والمصلوب‘‘ یا ’’شبہ المقتول والمصلوب بالمسیح‘‘ لیکن شاہ عبدالقادر رحمہ اللہ اس کا ترجمہ کرتے ہیں: ’’لیکن انہوں نے قتل نہیں کیا، نہ صلیب دیا، لیکن وہی شکل بن گئی ان کے سامنے۔‘‘ یعنی وہ مقتول و مصلوب حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی شکل بن گیا۔ حقیقت میں جس کو انہوں نے قتل کیا اور جس کو انہوں نے صلیب دی، وہ عیسیٰ نہیں تھے بلکہ عیسیٰ علیہ السلام کے شکیل (ہم شکل) تھے، لیکن وہی شکل بن گئی ان کے سامنے، یہ شاہ عبدالقادر محدث دہلوی نور اللہ مرقدہٗ کا ترجمہ ہے۔
اب مسئلہ سمجھ میں آگیا ہوگا کہ ’’وَلٰـکِنْ شُبِّہَ لَھُمْ‘‘ کا معنی یہ ہے کہ انہوں نے عیسیٰ علیہ السلام کو قتل نہیں کیا اور نہ عیسیٰ علیہ السلام کو صلیب دی، ہاں! البتہ وہی شکل بن گئی ان کے سامنے اس شخص کی جس کو قتل کیا گیا اور جس کو صلیب پر چڑھایا گیا تھا، وہ عیسیٰ نہیں تھا بلکہ وہ عیسیٰ کی شبیہ تھا۔
اٹکل پچو کا معنی؟
آگے فرمایا:
’’اور بے شک جو لوگ کہ اختلاف کر رہے ہیں اس میں، ان کو خود شک ہے، ان کو کوئی اس کا علم نہیں سوائے اَٹکل پچو باتوں کی پیروی کرنے کے۔‘‘
ایک ہوتا ہے علمِ قطعی کہ آدمی اپنے علم اور تحقیق کے مطابق ایک بات کہہ سکے، یہ قرآن کی اصطلاح میں علم کہلاتا ہے، یعنی یقین، اور کسی اَٹکل پچو بات کو مان لینا، اس کو علم نہیں کہتے، یہ شک و تردّد اور ظن ہے۔ اسی کو فرمایا کہ اَٹکل پچو بات کی پیروی کر رہے تھے۔
241
قتلِ عیسیٰ ؑکی جھوٹی خبر کیونکر پھیلی؟
میں نے تمہیں بتایا تھا کہ جب انہوں نے یہودا کو پکڑا جس کو انہوں نے صلیب پر چڑھایا وہ خود اس میں اختلاف کر رہے تھے کہ اگر یہ عیسیٰ ہے تو ہمارا ساتھی کدھر گیا؟ اور اگر یہ ہمارا ساتھی ہے تو عیسیٰ کدھر گیا؟ گویا ان کو تردّد ہوگیا، ’’اگر، مگر‘‘ یہ خود تردّد کی علامت ہے، چونکہ جب لوگ ان کو پکڑنے میں کامیاب ہوگئے اور شباہت بھی حضرت عیسیٰ علیہ الصلوٰۃ والسلام کی تھی تو کہنے لگے کہ نمٹادو، جان چھوٹی، نمٹادو، ہم کہہ سکیں گے کہ عیسیٰ کو نمٹادیا، تو انہوں نے اس کو قتل کردیا اور صلیب پر چڑھادیا، تو دراصل یہ پکڑنے والے اور صلیب پر چڑھانے والے چند خاص آدمی تھے، جب انہوں نے کہہ دیا کہ وہ عیسیٰ تھا تو سب کو ماننا پڑا، اب اگر وہ کسی آدمی کو بھی پکڑ کر اور اس کو قتل کرکے کہہ دیں کہ ہم نے عیسیٰ کو مار دیا تو ان کی بات تو نہیں مانی جائے گی، کیا ان کی شہادت سے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا قتل ہونا یا صلیب دیا جانا ثابت ہوجائے گا؟ نہیں! ہرگز نہیں!
پھر یہ بات بھی قابلِ توجہ ہے کہ جس کو پھانسی دیتے ہیں اس کے قریب بھی لوگوں کو نہیں آنے دیتے، شاید اس لئے کہ کوئی پہچان نہ پائے، اب ایک آدمی کو پکڑکر لے گئے اور چڑھادیا صلیب پر اور شہرت دے دی کہ عیسیٰ علیہ السلام کو ہم نے قتل کردیا، عیسیٰ علیہ السلام کہیں نظر نہیں آرہے، کبھی تو ان کی گلی اور بازاروں میں پھرتے تھے، گھر گھر پہ دستک دے رہے تھے، مگر اس دن سے عیسیٰ علیہ السلام بھی نظر نہیں آئے، تو ان کی یہ جھوٹی بات نہ صرف یہ کہ یہودیوں میں پھیل گئی بلکہ احمق کسانوں نے بھی اس کو مان لیا، حتیٰ کہ کسی احمق کی کیا بات ہے؟ خود ان کی کتابوں میں آتا ہے، اور بائبل میں ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ الصلوٰۃ والسلام کی والدہ ماجدہ حضرتِ مریم بھی اس لاش پر آکر روتی رہیں۔
قرآن نے اس قصہ کا پورا پس منظر بیان کردیا!
اس قصہ کا پورا پس منظر قرآنِ کریم تمہارے سامنے رکھ رہا ہے، کیونکہ اللہ تعالیٰ کا کام ہے کہ اصل قصہ کی تفصیلات تمہیں بتلائیں کہ ہوا کیا تھا؟ اور یہ جو چہ میگوئیاں ہونے
242
لگیں کہ بھائی عیسیٰ کو مار دیا وہ عیسیٰ بھی تھا یا کوئی اور تھا؟ یہ ان کو اشتباہ ہوا، یا یہ جو اَٹکل پچو خیالات میں مبتلا ہوئے اس کا منشا کیا تھا؟ آخر یہ صورتحال کیوں پیش آئی؟ اسی لئے اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:’’وَمَا قَتَلُوْہُ یَقِیْنًا۔ بَلْ رَّفَعَہُ اللہُ اِلَیْہِ‘‘ انہوں نے قطعاً عیسیٰ علیہ السلام کو قتل نہیں کیا بلکہ اللہ تعالیٰ نے ان کو اپنی طرف اُٹھالیا تھا۔ یہ تو میں اس کے بعد بات کروں گا، پہلے یہاں تک بات آجائے کہ ایک آدمی کو عیسیٰ کے دھوکے میں قتل کردیا گیا، اس پر شباہت ڈال دی گئی تھی؟ یا ویسے ہی لوگوں پر اشتباہ ڈال دیا گیا؟ یا ایک بے گناہ کو پولس نے قتل کرکے یہ کہہ دیا کہ یہی مجرم تھا؟ اور ایسے ہو بھی جاتا ہے کیونکہ اصل قصہ کا جو موضوع حضرت عیسیٰ علیہ الصلوٰۃ والسلام تھے وہ کہیں نظر بھی نہیں آرہے تھے، تو ایک گونا ان کے یقین کی بنیاد بن گئی اس لئے اللہ تعالیٰ قرآن کریم میں ان کے یقین کی اس بنیاد کو اُکھاڑ رہا ہے کہ ان کو شبہ کہاں سے پیدا ہوا تھا؟ وہ جو مقتول و مصلوب تھا اگر وہ عیسیٰ نہیں تھا تو پھر ان کو اشتباہ کیسے لگا؟ اللہ تعالیٰ پھر اس مقدمہ کو دُہرا رہے ہیں، پہلے تو ان کے دعویٰ کی نفی کی، یعنی حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے قتل کی نفی کی، پھر فرمایا: ’’بَلْ رَّفَعَہُ اللہُ اِلَیْہِ‘‘ بلکہ اللہ نے انہیں اپنی طرف اُٹھالیا تھا، یہ ہے اس شبہ کی وجہ۔
اس سے ایک بات تو یہ معلوم ہوگئی کہ ہمیں آج قرآن کریم کی روشنی میں اس بات کی تحقیق ہوگئی کہ یہود میں اور نصاریٰ میں اوّل دن سے آج تک جو اشتباہ اور اختلاف چلا آرہا ہے، اس کا منشا کیا تھا؟
اگر حضرت عیسیٰ علیہ السلام آسمان پر اُٹھائے نہ جاتے اور وہ کہیں زمین پر ہوتے تو ان لوگوں کی تردید کی جاسکتی تھی، جنہوں نے یہ جھوٹا دعویٰ کردیا تھا کہ ہم نے ان کو قتل کردیا ہے۔
اب چونکہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام زمین پر چلتے پھرتے نظر نہیں آرہے تھے اور یہودیوں کے جھوٹے دعویٰ سے لوگوں پر صورتِ حال مشتبہ تھی اس لئے اللہ تعالیٰ نے ان کے اس قول کو نقل کرکے نہ صرف اس کا ردّ کیا بلکہ اس پر لعنت فرمائی، اور ساتھ ساتھ ان کے اس جھوٹے دعویٰ کے منشا کو ذکر کردیا، اور یہ بھی بتلادیا کہ ان کا یہ دعویٰ کیوں پنپ گیا؟ اس کو بھی منشا میں ذکر کردیا۔
243
تمام شبہات کا جواب:
اب دوسری بات سمجھو اور اس کو اچھی طرح سمجھ لو! کیونکہ یہ بات ان تمام شبہات کا جواب ہے جو مرزائی اس مقام پر پیدا کرتے ہیں، وہ یہ کہ قرآن کریم میں یہودی دعویٰ کی تردید کرتے ہوئے فرمایا گیا: ’’وَمَا قَتَلُوْہُ یَقِیْنًا۔ بَلْ رَّفَعَہُ اللہُ اِلَیْہِ‘‘ یہاں آیت میں لفظ ’’بَلْ‘‘ موجود ہے، پہلے ایک دعویٰ ہے، جس کی نفی کی گئی ہے ’’بَلْ‘‘ کے ذریعہ، اب سوال یہ ہے کہ ’’بَلْ‘‘ سے پہلے کون سا دعویٰ ہے جس کی یہاں نفی مقصود ہے؟ اس کا سادہ سا جواب یہ ہے کہ ’’قتلِ عیسیٰ‘‘ کیونکہ یہودیوں کا دعویٰ تھا کہ ہم نے حضرت عیسیٰ کو قتل کردیا ہے، اللہ تعالیٰ نے فرمایا: نہیں کیا! ہرگز نہیں کیا! قطعاً نہیں کیا! یقینا نہیں کیا! ان کے دعویٰ کی تردید کی اور اس کے بعد’’بَلْ رَّفَعَہُ اللہُ اِلَیْہِ‘‘ (بلکہ اللہ نے ان کو اُٹھالیا اپنی طرف) کہہ کر ان کے دعویٰ کا توڑ کیا، تو اب سمجھو کہ یہاں ’’قتل‘‘ اور ’’رفع‘‘ دونوں کا تقابل ہے۔
’’بل‘‘ ابطال کے لئے:
اس کو ایک مثال سے سمجھو، مثلاً: ایک شخص دعویٰ کرتا ہے کہ زید سویا ہوا ہے اور فلاں وقت سویا تھا، اس کے مقابلے میں دوسرا کہتا ہے کہ یہ دعویٰ غلط ہے، کیونکہ زید سویا ہوا نہیں، بلکہ وہ تو کچہری گیا ہوا ہے، تو جس طرح زید کے سوئے ہونے کے دعویٰ کی نفی تو زید کے نہ سوئے ہونے کے جواب سے ہوگئی، البتہ ’’کچہری گیا ہوا ہے‘‘ کہنے سے اس کا مدلل توڑ بھی ہوگیا، تو گویا’’بَلْ رَّفَعَہُ اللہُ اِلَیْہِ‘‘ سے ان کا توڑ ہوگیا۔
’’بل‘‘ کہاں آتا ہے؟
اب یہ سمجھو کہ عربیت کے لحاظ سے ’’بل‘‘ کا لفظ کہاں آتا ہے؟ چنانچہ عربی کا قانون ہے کہ جہاں کسی کا ایک غلط دعویٰ نقل کرکے اس کی نفی کی جائے، اور اس کے مقابلے میں دوسرا صحیح دعویٰ پیش کیا جائے، تو وہاں ’’بل‘‘ کا لفظ آتا ہے، گویا دو دعووں کے درمیان میں ’’بل‘‘ آتا ہے جس سے پہلے دعویٰ کا ابطال اور دوسرے دعویٰ کا اثبات مقصود ہوتا ہے۔ گویا دو دعووں کے درمیان میں ’’بل‘‘ آتا ہے، جیسا کہ قرآن کریم میں ہے:
244
’’وَقَالُوا اتَّخَذَ اللہُ وَلَدًا۔ سُبْحَانَہٗ بَلْ ھُمْ عِبَادٌ مُّکْرَمُوْنَ۔‘‘
(اور انہوں نے کہا کہ: اللہ نے بیٹے بنالئے، کن کو بیٹا بنالیا؟ فرشتوں کو) تو’’بَلْ‘‘ سے پہلے کفار کے دعویٰ کا ذکر ہے کہ اللہ نے فرشتوں کو بیٹے بنالیا، اور ’’بَلْ‘‘ کے بعد ان کے اس دعویٰ کی نفی اور ملائکہ کی عبدیت کا اثبات ہے، گویا یہ اس کی تردید ہے، اور اس سے ان کے دعویٰ کی نفی کردی گئی اور کہا: ’’سُبْحَانَہٗ‘‘ (وہ ذات اولاد سے پاک ہے) اسی طرح’’وَقَالُوا اتَّخَذَ اللہُ وَلَدًا‘‘ ایک دعویٰ ہے، اور ’’سُبْحَانَہٗ‘‘ فرماکر اللہ تعالیٰ نے ان کے دعویٰ کی تردید کی ہے، اور ’’بَلْ ھُمْ عِبَادٌ مُّکْرَمُوْنَ‘‘ (بلکہ وہ اللہ کے بندے ہیں معزز) کہہ کر ان کے دعویٰ کا ابطال فرمایا، اور بتلایا کہ عبد (بندہ) اور ولد ہونا دونوں ٹکراتے ہیں، اس لئے کہ تم لوگوں نے علمِ فقہ کا یہ قاعدہ پڑھا ہوگا کہ اگر کسی کا بیٹا غلام ہو اور اس کا باپ اس کو خرید لے تو خریدتے ہی وہ آزاد ہوجائے گا، کیونکہ ملکیت اور ابنیت (بیٹا ہونا) دونوں ایک ساتھ اکٹھے جمع نہیں ہوسکتے، لہٰذا ایک آدمی بیٹا بھی ہو اور غلام بھی ہو، یہ نہیں ہوسکتا، جب یہ معلوم ہوا کہ وہ اللہ کے بندے ہیں تو یہ بھی واضح ہوگیا کہ وہ بیٹے نہیں ہیں۔
تو میں نے ایک مثال دی کہ جب دو آدمیوں یا دو شخصوں کا دعویٰ نقل کیا جائے اور ایک شخص کا دعویٰ غلط ہو تو پہلے غلط دعویٰ کو نقل کرکے تردید و نفی کی جاتی ہے، اور اس کے مقابلے میں ’’بل‘‘ کے ذریعہ اصل واقعہ کو ذکر کیا جاتا ہے، اس کو کہتے ہیں ’’بل ابطالیہ‘‘ تو عربیت کے لحاظ سے یہ ’’بَلْ‘‘ وہیں آتا ہے جہاں اس کے ما قبل میں کسی کا غلط دعویٰ نقل کرکے اس کی نفی کی جائے اور اس کے مقابلے میں جو صحیح بات ہو اس کو بتادیا جائے، تو یہاں’’بَلْ رَّفَعَہُ اللہُ‘‘ میں ’’بَلْ ابطالیہ‘‘ ہے، جس کے ذریعہ یہودیوں کے دعویٔ قتلِ عیسیٰ کی تردید کرکے ’’بَلْ رَّفَعَہُ اللہُ اِلَیْہِ‘‘ کہہ کر اس کا ابطال کیا گیا اور صحیح صورتِ حال بتلائی گئی ہے۔
تو یہاں بھی وہی کچھ کیا گیا کہ پہلے ان کا جھوٹا دعویٰ نقل کیا اور ’’سبحانہ‘‘ کہہ کر اس کی تردید کردی، پھر فرمایا:’’بل لہ ما فی السمٰوٰت والأرض‘‘ پوری کی پوری کائنات خواہ آسمان کی ہو یا زمین کی، سب اس کی ملکیت ہے، جب یہ سب ملکیت ہے تو بیٹے
245
کیسے ہوگئے؟ کیونکہ ملکیت اور ابنیت (بیٹا ہونا) دونوں جمع نہیں ہوسکتے۔
اچھا جب یہ بات سمجھ میں آگئی اور اصول بھی سمجھ میں آگیا تو اب یہ سمجھو کہ یہودیوں کا دعویٰ تھا کہ ہم نے مسیح ابن مریم، اللہ کے رسول کو قتل کردیا، تو سب سے پہلے اللہ نے اس کی تردید کی اور فرمایا: ’’وَمَا قَتَلُوْہُ وَمَا صَلَبُوْہُ‘‘ (ان لوگوں نے نہ اس کو قتل کیا اور نہ اس کو صلیب دی)۔
اب بات آگے لمبی ہوگئی اور ان پر جرح فرمائی کہ ایسا نہیں ہے، بلکہ وہ شک میں پڑگئے، پھر یہ کہ ایسے کیوں ہوا؟ اور یہ کہ ان کا یہ دعویٰ کیوں پنپ گیا؟ اس سب کو ذکر کیا تھا، اب پھر ان کا دعویٰ دُہرایا، دوبارہ وہی دعویٰ دُہراکر اس کی نفی کی اور فرمایا: ’’وَمَا قَتَلُوْہُ یَقِیْنًا‘‘ یعنی وہ کہتے ہیں کہ ہم نے مسیح ابن مریم رسول اللہ کو قتل کردیا ہے، اس کی تردید کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ: نہیں قتل کیا! ہرگز نہیں قتل کیا، قطعاً نہیں قتل کیا!
ان کے دعویٰ کی تردید کے بعد اب ضرورت یہ تھی کہ اس کے مقابلے میں اصل بات بتائی جائے، میں نے کہا ناں! کہ پہلے تو دعویٰ کی نفی کردی، اس کو غلط ثابت کردیا، اور اس کی تردید کردی، لیکن اس کے مقابلے میں اصل واقعہ بھی تو بتاؤ ناں! تو’’بَلْ‘‘ کے بعد فرمایا: ’’رَفَعَہُ اللہُ اِلَیْہِ‘‘ (بلکہ اللہ نے ان کو اُٹھالیا تھا)۔
’’بل‘‘ کے متعلق قاعدہ:
جب یہ بات معلوم ہوگئی کہ ’’بل‘‘ کے ماقبل اور مابعد دونوں متضاد ہوتے ہیں، اور تم جانتے ہو کہ یہ تضاد اس وقت ہوتا ہے جب ایک وقت میں آدمی ایک دعویٰ کرے اور عین اسی وقت دوسرا دعویٰ کیا جائے، مثلاً: اگر میں کہوں کہ زید سو رہا ہے، اور تم کہو نہیں بازار گیا ہے، اگر ہم ایک ہی لمحہ کے بارے میں بات کر رہے ہوں یعنی عین اس وقت جب میں کہہ رہا ہوں کہ وہ سو رہا ہے، مگر تم کہتے ہو نہیں اس وقت وہ بازار گیا ہوا ہے، یہ ہیں ’’بل‘‘ کے معنی، تو یہ تضاد ہوا ناں؟ لیکن اگر میں کہوں کہ زید رات کو سوتا ہے، اور تم کہتے ہو کہ نہیں وہ دن کو بازار میں جاتا ہے، تو کیا ان دونوں کے درمیان کوئی تضاد ہے؟ نہیں! کوئی تضاد نہیں!
246
تو ’’بل‘‘ کے استعمال کرنے کے لئے یہ بھی شرط ہوگئی کہ جس آن میں وہ پہلا دعویٰ نقل کیا گیا ہے اور جس آن اور گھڑی سے متعلق وہ دعویٰ ہے، آپ اسی آن اور گھڑی سے متعلق اس سے متضاد دعویٰ کرکے ’’بل‘‘ کے ذریعہ اس کی تغلیط کریں اور صحیح واقعہ بتائیں۔ اس کو خوب سمجھ لو! یعنی جس آن کے متعلق میں دعویٰ کر رہا ہوں کہ زید سو رہا ہے یا سوتا ہے، اگر آپ اسی آن کے بارے میں ہمیں بتائیںکہ نہیں وہ سو نہیں رہا، بلکہ وہ بازار میں ہے، یا بازار گیا ہوا ہے، تب تو میری بات غلط ہوگی، کیوں ٹھیک ہے ناں؟ اور اگر آپ کسی دوسری آن، دوسری گھڑی اور دوسرے وقت کی بات بتاتے ہیں تو گستاخی معاف! دونوں کے درمیان کوئی تضاد نہیں، آپ کو بات کرنے کا سلیقہ ہی نہیں آتا، آپ تو مخالف کی تردید کرنے گئے تھے کہ نہیں وہ رات کو سوتا نہیں بلکہ بازار جاتا ہے۔ مگر تم یہ کہتے ہو کہ وہ دن کو بازار کو جاتا ہے، تو کیا اس کی تردید ہوئی؟ ہاں اگر مخالف کہتا کہ وہ دن کو سوتا ہے اور آپ کہتے نہیں، بازار جاتا ہے، تو اس کی تردید و تغلیط ہوتی۔
اب اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ یہودیوں نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو قتل نہیں کیا تو جس آن کے بارے میں اللہ تعالیٰ کہہ رہے ہیں کہ یہودیوں نے قتل نہیں کیا، ’’بَلْ‘‘ کے بعد اسی آن کے بارے میں کہہ رہے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے انہیں اُٹھالیا۔ خلاصہ یہ کہ یہودی جس وقت عیسیٰ کے بارہ میں کہتے ہیں کہ ہم نے قتل کردیا، اللہ تعالیٰ ٹھیک اسی وقت کے بارہ میں کہتا ہے کہ ہم نے ان کو اُٹھالیا، اس لئے یہودی جھوٹ بولتے ہیں، یہ ہے اس کا صحیح محل اور صحیح کلام، اور اگر یہ معنی ہو کہ اسّی سال کے بعد اللہ تعالیٰ نے ان کو اُٹھایا تھا، بلکہ وہ اُن کو کشمیر لے گئے تھے، تو تم ہی انصاف سے بتاؤ کہ قرآن کریم کی یہ آیت اس پر چسپاں ہوتی ہے؟ نہیں! ہرگز نہیں! یہ ہے ایک مقدمہ، ٹھیک ہے ناں! کہ عین اس وقت جبکہ یہودی کہہ رہے تھے کہ ہم نے عیسیٰ کو صلیب دی عین اسی وقت کے بارہ میں اللہ نے کہا: میں نے عیسیٰ کو اپنی طرف اُٹھالیا۔ اب تم ہی بتاؤ کہ یہ اُٹھانا کہاں تھا؟ کشمیر کی طرف اُٹھالے جانا؟ یا آسمان کی طرف؟ اس تقریر اور مثال کے ذریعہ میں نے تمہیں ’’بَلْ ابطالیہ‘‘ کا معنی سمجھانے کی کوشش کی ہے، خدا کرے کہ تمہیں یہ بات سمجھ میں آجائے، کم از کم علماء تو سمجھ لیں۔
247
اب اسی ضمن میں ایک اور بات بھی سمجھ لیں، مثلاً: میں کہوں کہ زید باتیں کرتا ہے، اور تم کہو کہ: نہیں وہ ہنستا ہے۔ تو باتیں کرنے اور ہنسنے کے درمیان کیا تضاد ہے؟ پھر تم کہو: نہیں وہ ہنستا ہے۔ تو یہ مہمل فقرہ کیوں بولتے ہو؟ ہاں! تم یہ کہو کہ باتیں بھی کرتا ہے اور ہنستا بھی ہے تو یہ ٹھیک ہے۔ اور اگر میں کہوں کہ زید باتیں کرتا ہے اور تم کہو کہ: نہیں وہ ہنستا ہے، تو یہ بات کرنے کا ضد تو نہیں ہے، کیونکہ بات کرنے کا ضد تو سکوت اور چپ رہنا ہے۔
رفعِ رُوحانی اور قتل میں کوئی تضاد نہیں:
میرا بھائی! ایک آدمی دعویٰ کرتا ہے کہ میں نے اس کو قتل کردیا، اور اللہ تعالیٰ کہتا ہے کہ نہیں میں نے اس کو اُٹھالیا، اگر اس اُٹھانے سے مراد جسمانی اُٹھانا ہو تو یہ اس کی ضد ہوگا، اور اگر جسمانی اُٹھانا نہ ہو بلکہ روحانی رفع مراد ہو تو روحانی رفع کے معنی ہیں درجے بلند کرنا، تو اس یہودی دعویٔ قتل اور الٰہی دعویٔ رفعِ درجات میں کیا تضاد ہے؟ کوئی تضاد نہیں! کیونکہ یہودیوں نے نبیوں کو قتل کیا تھا اور اللہ نے انبیائے کرام کے درجے بلند کردئیے، لہٰذا اگر یہاں رفعِ روحانی مراد ہو تو گویا اللہ تعالیٰ یہ کہتا ہے کہ اے یہودیو! تم نے کہا تھا کہ ہم نے عیسیٰ بن مریم کو قتل کردیا، تم ٹھیک کہتے ہو، تم نے عیسیٰ بن مریم کو قتل کردیا تھا اس پر ہم نے اس کے درجے بلند کردئیے۔ اب سوال یہ ہے کہ قرآن کریم نے ان کے دعویٰ کی تائید کی ہے یا تردید کی؟ بھائی اس سے تو تائید ہوگئی، یہ ان کی تردید تو نہ ہوئی ناں! اس لئے یہ مرزائی جو کہتے ہیں کہ یہاں رفع سے مراد رفعِ روحانی ہے، یہ تو یہودیوں کے دعویٰ کی تائید ہے، کیونکہ کسی نبی کو قتل کرنا اس کے بلندیٔ درجات کا سبب ہے۔
دیکھو! مؤمن تو مؤمن ہے، اللہ کے فضل سے اس کے درجے ویسے ہی اچھے ہیں، لیکن اگر وہ تمہارے ظلم اور تمہاری تیغِ جفا سے شہید ہوجائے تو اس کے درجے بلند ہوجاتے ہیں، تو نبی کے درجات کیوں بلند نہیں ہوں گے؟ تو معلوم ہوا کہ یہودیوں کے دعویٔ قتل کے جواب میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی بلندیٔ درجات کے دعویٰ کرنے سے یہودیوں کی تردید نہیں ہوتی، اس سے معلوم ہوا کہ قتل اور رفعِ روحانی کے درمیان کوئی تضاد
248
نہیں ہے، ہاں! یہ تضاد کب ہوگا؟ جب اس رفع سے رفعِ جسمانی مراد لیا جائے۔
تو اس سے آپ یہ قاعدہ بھی اخذ کرلیں کہ جب بھی رفع کا لفظ قتل کے مقابلے میں بولا جائے گا اس وقت رفع سے رفعِ جسمانی ہی مراد ہوگا، کوئی دوسرا رفع مراد نہیں ہوسکتا۔
اس تقریر سے جب یہ قاعدہ معلوم ہوگیا تو آپ مرزائیوں کے سامنے یہ قاعدہ رکھیں اور انہیں کہیں کہ اس کا توڑ کرو، نہیں تو اس کی کوئی نظیر پیش کرو کہ قتل کے مقابلہ میں رفع کا لفظ بولا گیا ہو اور اس سے رفعِ روحانی مراد ہو؟ اگر ایسا نہیں کرسکتے اور قیامت تک نہیں کرسکیں گے تو انہیں کہو پھر غلام احمد قادیانی کے کذب و جھوٹ کا اعلان کردو۔
اب ایک بات اور سمجھو وہ کیا ہے؟ میں نے کہا ناں! کہ یہاں رفعِ جسمانی کے سوا کوئی دوسرا معنی ہو ہی نہیں سکتا، اور کوئی ممکن ہی نہیں، اگر علمِ بلاغت اور علمِ عربیت کے لحاظ سے کوئی دوسرا معنی کرسکتا ہے تو مجھے کرکے دکھائے!
پوری قادیانیت کو چیلنج!
اسی کے ساتھ یہ بات بھی ذہن میں رہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد صحابہؓ، تابعینؒ و تبع تابعینؒ اور ہمارے زمانے تک قرآن کریم کی تفسیریں لکھی گئی ہیں، سرسیّداحمد خان یا اس کے چیلے چانٹوں یا اس قماش کے لوگوں کی بات ہم نہیں مانیں گے، کسی معتبر محدث، مفسّر سے، صحابہؓ سے، تابعینؒ سے، کسی مُسلّمہ محقق سے یہ ثابت کردو کہ یہاں ’’رَفَعَہُ اللہُ‘‘ سے مراد یہ ہے کہ اللہ نے ان کے درجے بلند کردئیے، میں کسی ایک آدمی کو نہیں بلکہ پوری اُمتِ مرزائیہ کو چیلنج کرتا ہوں کوئی میدان میں آئے اور کسی معتبر تفسیر سے یہ معنی دکھادے؟ آج تک بحمداللہ ہزارہا تفسیریں لکھی گئی ہیں کسی نے یہ معنی نہیں کیا، تمام اہلِ حق نے جب بھی اس آیت کی تفسیر کی ہے اس رفع کا معنی رفعِ جسمانی سے کیا ہے، حتیٰ کہ جار اللہ زمخشری جیسے معتزلی نے بھی اس کا یہی ترجمہ کیا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ان کو آسمان پر اُٹھالیا۔
تو گویا’’بَلْ رَّفَعَہُ اللہُ اِلَیْہِ‘‘ (بلکہ اللہ نے اُٹھالیا اس کو آسمان کی طرف) یہ لفظ قرآنِ کریم میں وارد ہوا ہے، اور جیسے یہ قرآن کریم اُمت کے تواتر سے ثابت ہے، ٹھیک
249
اسی طرح قرآن کریم کا یہ معنی بھی متواتر ہے، تو جس طرح قرآن کے لفظ متواتر ہیں، اسی طرح ’’بَلْ رَّفَعَہُ اللہُ اِلَیْہِ‘‘ میں رفع کے معنی: ’’جسمانی طور پر اُٹھایا جانا‘‘، اس پر بھی پوری کی پوری اُمت متفق ہے، کوئی ایک آدمی ایسا نہیں جو اس میں اختلاف کرے، اس اعتبار سے رفع کا معنی ’’جسمانی رفع‘‘ بھی گویا متواتر ہے۔
کل میں نے بتایا تھا کہ جس طرح اقامتِ صلوٰۃ (نماز قائم کرنا) سے مراد ہے پنج گانہ نمازوں کا ادا کرنا، اس کے علاوہ اس کا دوسرا کوئی معنی نہیں ہوسکتا، تو جس طرح یہ نماز قطعی اور یقینی ہے، اور جب ’’اقامتِ صلوٰۃ‘‘ کا لفظ بولا جاتا ہے تو اس کا معنی ہوتا ہے پنج گانہ نمازوں کا ادا کرنا، ٹھیک اسی طرح جب قرآن کے الفاظ ’’بَلْ رَّفَعَہُ اللہُ اِلَیْہِ‘‘ بولے جائیں تو اس کا معنی ہوگا کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو اللہ تعالیٰ نے روح مع الجسد آسمان کی طرف اُٹھالیا، کیونکہ پوری کی پوری اُمت اس کی یہ تفسیر کرتی ہے کہ اس سے مراد ہے ’’رفعِ جسمانی‘‘ تو فرمائیے کہ قطعی دلیل کے ساتھ حضرت عیسیٰ علیہ الصلوٰۃ والسلام کا آسمان پر اُٹھایا جانا ثابت ہوگیا یا نہیں؟ اب اس سے زیادہ اور وضاحت سے کیونکر بتایا جائے؟
رہ گئے شک کے مریض اور ان کے شکوک کہ وہ جی کیوں اُٹھالیا تھا؟ اجی اللہ تعالیٰ نے آسمان پر ہی کیوں اُٹھالیا تھا؟ اجی کیا زمین پر کوئی جگہ نہیں تھی؟ پھر یہ کہ آسمان پر کیسے اُٹھ گئے؟ وہاں وہ کیسے رہ رہے ہیں؟ ان کو سردی لگتی ہوگی اور سردی کے بچاؤ کے لئے کمبل تو چاہئے ہوگا؟ وہ ننگے ہوں گے ان کو کوئی کپڑا وغیرہ بھی چاہئے ہوگا؟ یہ سب کے سب اوہام اور وساوِس ہیں، یہ اور اس کے قسم کے جتنے بھی اوہام، وساوس اور خیالات لوگوں کے دل میں آسکتے تھے، اللہ کو ان سب کا پہلے سے علم تھا، اس لئے درج ذیل آیت کے ان دو فقروں میں مختصر سا جواب دے کر مریضان اوہام و وساوس کو خاموش کرادیا، چنانچہ جب اللہ نے کہا: ’’بَلْ رَّفَعَہُ اللہُ اِلَیْہِ‘‘ نہیں! بلکہ اللہ نے اس کو اُٹھالیا اپنی طرف، اجی کیسے اُٹھایا؟ اس کے جواب میں فرمایا: ’’وَکَانَ اللہُ عَزِیْزًا حَکِیْمًا‘‘ اور اللہ زبردست ہے حکمت والا ہے۔ یعنی چونکہ عزیز تھا اس لئے اپنی زبردست قوت سے اُٹھالیا، اجی کیوں اُٹھایا؟ اس کے جواب میں فرمایا: وہ حکیم بھی ہے اس لئے یہ اس کی حکمت پر چھوڑ دو، تم دخل نہ دو کہ کیوں اُٹھایا۔
250
کل بھی میں نے ذکر کیا تھا کہ تمہاری ناک پیچھے کیوں نہ لگائی؟
-
حدیث از مطرب ومی گو و راز دہر کمتر جو
کہ کس نگشود ونگشاید بہ حکمت ایں معما را
یعنی حافظؒ نصیحت فرماتے ہیں کہ: تم مطرب و مے کی باتیں کرو، یہ ان کی خاص اصطلاحات ہیں، اللہ اور اللہ کے رسول کی باتیں نہ کرو، اور زمانے کے راز کھولنے کی اور دریافت کرنے کی کوشش نہ کرو کہ اس معمے کو کوئی آج تک حل نہ کرسکا، اللہ کی حکمت کے بھیدوں کی آج تک کوئی حکمت نہیں سمجھا سکی، اس کی حکمت سب پر غالب ہے، تمہاری حکمتیں وہاں تک پہنچ ہی نہیں سکتیں، نہ تمہاری عقل وہاں پہنچی، نہ فکر وہاں پہنچی۔ تمہاری عقل، فکر، ادراک، قیاس اور خیال سے ماورا اور وراء الوریٰ ہے، وہ عزیز و حکیم ہے، کیوں فرمائیے سارے شبہات دور ہوگئے کہ نہیں؟
ایک دفعہ پھر پیچھے لوٹ کر غور کرو کہ اگر رفع سے مراد رفعِ روحانی ہوتا تو یہاں’’عَزِیْزًا حَکِیْمًا‘‘ فرمانے کی کیا ضرورت تھی؟ پھر تو یوں کہنا چاہئے تھا کہ: ’’وکان بہ رئوفًا رحیمًا‘‘ اللہ تعالیٰ ان کے ساتھ بڑے شفیق تھے، بڑے رحم کرنے والے تھے، ان کے درجے اللہ نے بلند کردئیے، باوجودیکہ وہ صلیب پر تڑپ تڑپ کر مرے، لیکن اللہ نے ان کے درجے بلند کردئیے۔
علامہ انور شاہ کشمیریؒ کا ارشاد:
ہمارے حضرت امام العصر مولانا محمد انور شاہ کشمیری نور اللہ مرقدہٗ ’’عقیدۃ الاسلام فی حیات عیسیٰ علیہ السلام‘‘ میں تحریر فرماتے ہیں کہ: یہ آیت کسی خالی الذہن مسلمان کے سامنے پڑھ دو اور اس کے سامنے کوئی تقریر نہ کرو، (اب تو مرزائیوں نے اس پر شکوک و شبہات کی بہت سی دُھول مٹی ڈال دی ہے۔ اور میں نے بحمداللہ مرزائیوں کی اُڑائی ہوئی دُھول مٹی سے سونا نکال کر تمہیں دے دیا ہے، اگر یہ دُھول مٹی نہ ڈالی گئی ہوتی تو، حضرت شاہ صاحب رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ) اور پھر اس سے پوچھو کہ تم اس کا کیا مطلب سمجھے
251
ہو؟ تو اللہ کی قسم! وہ اس کے سوا دوسرا کوئی مطلب نہیں بتائے گا، یعنی اس کا مفہوم اتنا واضح ہے کہ کوئی معمولی عقل و فہم کا آدمی اس کے علاوہ دوسرا کوئی معنی کر ہی نہیں سکتا۔
رفعِ جسمانی میں شک و تردّد یہودی اور قادیانی پروپیگنڈا ہے:
رہا یہ کہ یہ رفع جسمانی ہے یا روحانی؟ اور اس میں شک و تردّد کا پیدا کرنا یہ سب یہودی پراپیگنڈا تھا اور ہے، البتہ ان کے منہ کے الفاظ مرزا غلام احمد قادیانی نے اُچک کر اپنی دجالی دُکان چمکانے کی ناکام کوشش کی اور مرزائی اُمت آج تک اسی لکیر کو پیٹ رہی ہے، ورنہ قرآن کریم کے صاف الفاظ ہیں کہ: ’’یہودی اپنے اس قول کی وجہ سے ملعون ہوئے کہ ہم نے قتل کردیا مسیح ابن مریم، اللہ کے رسول کو‘‘ حالانکہ نہ انہوں نے اس کو قتل کیا، نہ اس کو صلیب دی اور جولوگ اس کے بارہ میں شک میں ہیں، اختلاف کر رہے ہیں اس کی وجہ یہ ہے کہ:’’وَلٰـکِنْ شُبِّہَ لَھُمْ‘‘ کہ ان کو اشتباہ ہوگیا، اس لئے کہ وہی شکل بن گئی تھی ان کے سامنے، بلکہ ان کو اشتباہ ہوا تھا، یعنی جس کو قتل کیا گیا یا صلیب دی گئی، وہ ان پر مشتبہ ہوگیا، عیسیٰ علیہ السلام کے ساتھ۔
ایک مطلب یہ ہے کہ: ’’اور جو لوگ کہ اس میں اختلاف کر رہے ہیں وہ محض شک اور تردّد میں ہیں، اس لئے کہ: ’’مَا لَھُمْ بِہٖ مِنْ عِلْمٍ‘‘ ان کو حقیقتِ واقعہ کا کچھ علم نہیں، ان کے پاس کچھ نہیں ’’اِلَّا اتِّبَاعَ الظَّنِّ‘‘ (سوائے اَٹکل پچو خیالات کی پیروی کرنے کے) یعنی یہ بے چارے جانتے ہی نہیں کہ اصل واقعہ کیا ہوا تھا؟
اصل قصہ!
اب ہم تمہیں اصل واقعہ بتاتے ہیں، یعنی ایک دفعہ پھر سن لو کہ:’’وَمَا قَتَلُوْہُ یَقِیْنًا۔۔۔۔‘‘ ان لوگوں نے قطعاً عیسیٰ علیہ السلام کو قتل نہیں کیا ’’۔۔۔۔ بَلْ رَّفَعَہُ اللہُ اِلَیْہِ۔۔۔۔‘‘ بلکہ اللہ نے ان کو اپنی طرف اُٹھالیا ’’۔۔۔۔ وَکَانَ اللہُ عَزِیْزًا حَکِیْمًا‘‘ اور اللہ تعالیٰ بہت بڑا زبردست اور بے حد حکمت والا ہے۔
میں نے ابھی بتایا تھا کہ حضرت شاہ صاحب قدس سرہٗ فرماتے ہیں کہ یہ سارے
252
خیالات جو مرزائیوں کے ہیں اِدھر اُدھر کے ہیں، ورنہ ایک آدمی جو اِن اوہام و وساوس سے خالی الذہن ہو، اس کے سامنے قرآن کریم کی یہ آیت پڑھ دو اور اس آیت کا ترجمہ کردو، پھر اس سے پوچھو: اس کا کیا مطلب سمجھے؟ تو وہ اس کے سوا کوئی دوسرا مطلب نہیں سمجھے گا۔
چونکہ، چنانچہ چھوڑ دو!
قادیانیو! یہ چونکہ، چنانچہ اور یعنی، وانی چھوڑ دو، قرآن کے صاف الفاظ تمہارے سامنے موجود ہیں، ان کا معنی سمجھو اور سمجھاؤ۔ مگر افسوس! کہ قادیانیوں نے تأویلات کا گورکھ دھندا کھول رکھا ہے اور کہتے ہیں: اجی! یعنی چونکہ یہ تھا، چونکہ وہ تھا، اور چنانچہ یہ مشکل ہے، وغیرہ۔
ہاں! تو ابھی تک بات ختم نہیں ہوئی، وہی سلسلہ چل رہا ہے، یہودیوں کا یہ کہنا کہ ہم نے قتل کردیا، کس کو؟ بات کرتے کرتے یہاں تک پہنچادی تھی کہ اللہ نے آسمان پر اُٹھالیا اور اللہ تعالیٰ کے عزیز و حکیم ہونے کا یہی تقاضا تھا۔
حضرت عیسیٰ ؑکا نزول:
اب ایک سوال رہ گیا کہ اپنی طرف اُٹھا تو لیا، لیکن ان کا مصرف کیا ہے؟
ارشاد فرمایا:
’’وَاِنْ مِّنْ اَھْلِ الْکِتَابِ اِلّا لَیُؤْمِنَنَّ بِہٖ قَبْلَ مَوْتِہٖ، وَیَوْمَ الْقِیَامَۃِ یَکُوْنُ عَلَیْھِمْ شَھِیْدًا۔‘‘
(النساء:۱۵۹)
ترجمہ: … ’’نہیں ہوگا کوئی اہل کتاب میں سے مگر البتہ ضرور ایمان لائے گا اس پر اس کی موت سے پہلے، اور ہوگا وہ (یعنی عیسیٰ) ان پر قیامت کے دن گواہی دینے والا۔‘‘
کس پر ایمان لائے گا؟ عیسیٰ علیہ السلام پر! کس کی موت سے پہلے؟ عیسیٰ علیہ السلام کی موت سے پہلے!
صحیح بخاری میں امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ نے حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد نقل کیا ہے کہ:
253
’’والذی نفسی بیدہٖ! لیوشکن ان ینزل فکیم ابن مریم حکما عدلا، فیکسر الصلیب، ویقتل الخنزیر، ویضع الحرب ۔۔۔وفی روایۃ۔۔۔ ویضع الجزیۃ، ویفیض المال حتّٰی لَا یقبلہ احد، حتّٰی تکون السجدۃ الواحدۃ خیر مـن الدنیا ومـا فیھـا۔ ثم یقـول ابوھریرۃ رضی اللہ عنہ: اقرؤوا ان شئتم: وَاِنْ مِّنْ اَھْلِ الْکِتَابِ اِلّا لَیُؤْمِنَنَّ بِہٖ قَبْلَ مَوْتِہٖ، وَیَوْمَ الْقِیَامَۃِ یَکُوْنُ عَلَیْھِمْ شَھِیْدًا۔‘‘
(بخاری کتاب الانبیاء باب نزول عیسیٰ بن مریم ج:۱ ص:۴۹۰، قدیمی کتب خانہ کراچی)
ترجمہ: … ’’قسم ہے مجھے اس ذات کی جس کے قبضہ میں میری جان ہے! وہ وقت قریب ہے کہ جب ابنِ مریم تمہارے درمیان نازل ہوں گے، منصف حاکم ہوکر، وہ صلیب کو توڑ ڈالیں گے، خنزیر کو قتل کریں گے، جزیہ ختم کردیں گے، مال کو لٹائیں گے، حتیٰ کہ کوئی اس کو لینے والا نہ ہوگا، اس وقت ایک سجدہ دنیا و ما فیہا سے بہتر ہوگا۔ پھر حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے تھے: اگر تم چاہو تو اس کی تائید میں یہ آیت پڑھو کہ: اور کوئی اہلِ کتاب میں سے ایسا نہیں ہوگا جو وفاتِ عیسیٰ سے پہلے ان پر ایمان نہ لے آئے، اور قیامت کے دن حضرت عیسیٰ ان پر گواہ ہوں گے۔‘‘
یہاں پر حضرت شاہ صاحب نور اللہ مرقدہٗ نے بحث کی ہے کہ یہ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کا جو قول ہے کہ: ’’تم چاہو تو اس حدیث کی تائید میں قرآن کریم کی یہ آیت پڑھ لو: ’’وَاِنْ مِّنْ اَھْلِ الْکِتَابِ۔۔۔۔ الخ۔‘‘ یہ مرفوع حدیث ہے یا نہیں؟ مگر میں یہ کہتا ہوں چلو اس کو بھی چھوڑ دو، البتہ اتنا تو اس سے ثابت ہے کہ راویٔ حدیث حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ جب اس حدیث کو اس آیت کے حوالے کے ساتھ مزین فرما رہے ہیں، اور کسی ایک صحابی نے بھی اس کی تردید نہیں کی، حالانکہ مسجدِ نبوی میں بیٹھ کر حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ
254
حدیث کا درس دیتے تھے اور صحابہؓ اور تابعینؒ اس میں شریک ہوتے تھے، اگر کسی ایک آدمی نے بھی اس پر ان کو ٹوکا ہو تو مجھے اس کا نام بتاؤ؟ چنانچہ حدیث کے الفاظ ہیں: ’’ثم یقول ابوھریرۃ: وَاِنْ مِّنْ اَھْلِ الْکِتَابِ۔۔۔۔ اقرؤوا ان شئتم۔‘‘ (اگر تم چاہو تو یہ آیت پڑھ لو) معلوم ہوا کہ یہ آیت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اس ارشاد کی تائید کرتی ہے، اس سے معلوم ہوا کہ وہاں رفع کا مسئلہ ذکر فرمایا تھا، آگے نزول کا مسئلہ ذکر فرما رہے ہیں، اور یہاں بھی میں نے اسی اجماعِ صحابہ کا حوالہ دیا ہے۔
غلام احمد قادیانی کے خلاف اظہارِ نفرت:
لیکن اس کے برعکس غلام احمد قادیانی نے ۔۔۔۔۔ اب تم ہی بتاؤ میں اس کو کیا لقب دوں؟ اور کیا کہوں؟ کیونکہ صحابی کو ہم ’’رضی اللہ عنہ‘‘ کہہ دیتے ہیں، ولی کو ’’رحمہ اللہ‘‘ یا ’’نور اللہ مرقدہ‘‘ اور ’’قدس سرہ‘‘ کہتے ہیں، حضرات انبیائے کرام علیہم الصلوٰۃ والسلام کا اسم شریف آتا ہے تو ’’علیہم الصلوٰۃ والسلام‘‘ کہہ دیتے ہیں، اگر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا اسمِ گرامی آتا ہے تو ہم پیٹ بھر کر کہتے ہیں ’’صلی اللہ علیہ وسلم، صلوات اللہ وسلامہ علیہ‘‘ ۔۔۔۔۔ سوال یہ ہے کہ اس ملعون کا نام آئے تو ہم کیا کہیں؟ صحیح بات کہتا ہوں اس خبیث کے خلاف نفرت کا اظہار کرنے کے لئے ہمیں کوئی لفظ نہیں ملتا، ملعون کہیں، لعنہ اللہ کہیں یا کہیں اللہ کی لعنت ہو اس پر، بہرحال اس پر اللہ کی لعنت تو ہے ہی، بلکہ اس پر ہزاروں لعنتیں ہیں، انا ﷲ وانا الیہ راجعون!
حضرت ابوہریرہؓ کی توہین:
ہاں! تو میں یہ کہہ رہا تھا کہ غلام احمد قادیانی جیسا دریدہ دہن، بدزبان اور ملعون، حضراتِ صحابہ کرامؓ اور خصوصاً حضرت ابوہریرہؓ کے بارہ میں کہتا بلکہ بکتا ہے کہ:
’’بعض نادان صحابہ جن کو درایت میں سے کچھ حصہ نہیں تھا، جیسا کہ ابوہریرہ۔‘‘
(ضمیمہ براہینِ احمدیہ ج:۵ ص:۲۸۵، روحانی خزائن ج:۲۱ص:۲۸۵)
255
سن لیا آپ نے! کہ غلام احمد قادیانی نے حضرت ابوہریرہؓ کو روایت کرنے کی سزا میں یہ تمغہ دیا ہے کہ: ’’بعض نادان صحابہ جن کو درایت میں سے کچھ حصہ نہیں تھا، جیسا کہ ابوہریرہ۔‘‘ ۔۔۔۔۔۔ ملعون ابن ملعون، لعنہ اللہ، وخذلہ، واخذلہٗ۔
مرزا قادیانی بھی نزولِ عیسیٰ ؑکا قائل تھا:
غلام احمدقادیانی کی اس بکواس سے اتنا تو معلوم ہوگیا کہ وہ بھی سمجھتا ہے اور اس نے ’’نادان صحابہ کہہ کر‘‘ یہ تسلیم کرلیا کہ واقعتا غلام احمد قادیانی کے نزدیک بھی اس آیت سے اس حدیث کی روشنی میں یہی ثابت ہوتا ہے کہ عیسیٰ علیہ السلام آئیں گے، ورنہ اس کو ردّ کرنے کی ضرورت نہیں تھی۔ کیوں بھائی ٹھیک ہے ناں؟ اب تم اس پر کوئی جرح کرنا چاہتے ہو تو کرسکتے ہو۔
’’وَمَکَرُوْا وَمَکَرَ اللہُ‘‘ ک ا معنی:
یہاں ایک بات اور بھی سن لیں، میں زیادہ وقت نہیں لیتا، یہ پیچھے آرہا ہے ’’وَمَکَرُوْا وَمَکَرَ اللہُ‘‘ اور یہودیوں نے تدبیر کی عیسیٰ علیہ السلام کے خلاف، کاہے کی تدبیر کی تھی؟ پکڑنے اور صلیب دینے کے لئے، قتل کرنے کے لئے، یا سزا دینے کے لئے، اور اللہ تعالیٰ نے ان کی تدبیر کا توڑ کیا، اس لئے فرمایا: ’’وَمَکَرَ اللہُ‘‘ اور تدبیر کی اللہ نے، یعنی یہودی حضرت عیسیٰ علیہ الصلوٰۃ والسلام کو پکڑنے کی تدبیر ایسی کر رہے تھے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو پتہ نہ چلے، اس لئے فرمایا: ’’وَمَکَرُوْا‘‘ مکر کے معنی خفیہ تدبیر کے ہیں۔ عربی زبان میں ’’مکر‘‘ کہتے ہیں خفیہ تدبیر کو،’’وَمَکَرُوْا‘‘ اور انہوں نے عیسیٰ علیہ السلام کے خلاف سازش کی اور سازش اسی کو کہتے ہیں جو خفیہ تدبیر ہو کہ دُشمن کو اس کا پتہ بھی نہ چلے، چاہے بعد میں بھید کھل جائے، اسی لئے کہتے ہیں کہ یہ ہمارے خلاف سازش کر رہا تھا، تو انہوں نے خفیہ تدبیر کی، ایسی تدبیر کہ عیسیٰ کو پتہ نہ چلے ’’وَمَکَرَ اللہُ‘‘ اور اللہ نے بھی خفیہ تدبیر کی کہ یہودیوں کو پتہ نہ چلے، اللہ تعالیٰ کی یہ تدبیر ان کی تدبیر کا توڑ تھی۔
256
دو نکتے:
تو آیتِ کریمہ: ’’وَمَکَرُوْا وَمَکَرَ اللہُ۔۔۔۔‘‘ سے دو باتیں معلوم ہوگئیں:
۱: … ایک یہ کہ اللہ کی خفیہ تدبیر ان کی تدبیر کا توڑ تھا، یعنی ان کی تدبیر کو کامیاب نہیں ہونے دینا تھا، اور ان کو پکڑنے نہیں دینا تھا۔
۲: … اور دوسری بات یہ کہ ان کی تدبیر کے مقابلہ میں ایسے طور پر تدبیر کی گئی کہ ان کو پتہ بھی نہ چلے اور یہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے آسمان کی طرف اُٹھائے جانے کے بعد ہوا (ان کی شبیہ) کو پکڑتے رہ جائیں، چنانچہ اسی لئے فرمایا: ’’وَمَکَرُوْا وَمَکَرَ اللہُ وَاللہُ خَیْرُ الْمَاکِرِیْنَ۔‘‘ اور اللہ ہے سب سے بہتر تدبیر کرنے والا۔
اللہ تعالیٰ نے کب اور کیوں تدبیر کی؟
اب سوال یہ ہے کہ: ’’وَمَکَرُوْا وَمَکَرَ اللہُ‘‘ (انہوں نے بھی تدبیر کی اور اللہ نے بھی تدبیر کی) یعنی یہ قصہ کب کا ہے؟ اور انہوں نے کب تدبیر کی تھی؟ اور اللہ نے کب تدبیر کی تھی؟ اس کا جواب خود قرآن مجید میں ہے کہ یعنی یہودیوں کی تدبیر اور یہودیوں کے مقابلے میں اللہ کی تدبیر اس وقت ہوئی تھی:
’’اِذْ قَالَ اللہُ یَا عِیْسٰی اِنِّیْ مُتَوَفِّیْکَ وَرَافِعُکَ اِلَیَّ وَمُطَھِّرُکَ مِنَ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا وَجَاعِلُ الَّذِیْنَ اتَّبَعُوْکَ فَوْقَ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا اِلٰی یَوْمِ الْقِیَامَۃِ۔‘‘
(آل عمران:۵۵)
ترجمہ: … ’’جس وقت کہا اللہ نے اے عیسیٰ! میں لے لوں گا تجھ کو اور اُٹھالوں گا اپنی طرف اور پاک کروں گا تجھ کو کافروں سے اور رکھوں گا ان کو جو تیرے تابع ہیں غالب ان سے جو انکار کرتے ہیں، قیامت کے دن تک۔‘‘
(ترجمہ حضرت شیخ الہندؒ)
گویا یہ تدبیر اس وقت کا واقعہ ہے، کیونکہ یہ ’’اِذْ‘‘ظرف ہے ’’وَمَکَرُوْا وَمَکَرَ اللہُ‘‘ کے لئے، اللہ نے بتایا کہ انہوں نے بھی تدبیر کی اور ہم نے بھی تدبیر کی، ہاں! البتہ اللہ تعالیٰ نے یہودیوں کی تدبیر کا ذکر تو نہیں کیا، مگر ان کے اس قول کا ذکر کیا ہے کہ:
257
’’اِنَّا قَتَلْنَا الْمَسِیْحَ عَیْسَی ابْنَ مَرْیَمَ رَسُوْلَ اللہِ، وَمَا قَتَلُوْہُ وَمَا صَلَبُوْہُ۔۔۔۔۔‘‘ اب بتلاؤ کہ اللہ نے اپنی خفیہ تدبیر کس کے مقابلے میں کی تھی؟ اور خفیہ کس سے رکھا تھا؟ یہی ناں کہ یہودیوں سے، اور جس کے لئے تدبیر کی گئی تھی اس کو تو بتانا تھا، تاکہ وہ پریشان نہ ہو، تو یہودیوں کے خلاف تدبیر تھی اور عیسیٰ علیہ السلام کے حق میں تدبیر تھی، یعنی ان کو بچانے کے لئے تھی، اب وہ تدبیرِ الٰہی کیا تھی؟ اللہ تعالیٰ نے اپنی تدبیر سے آگاہ کرتے ہوئے حضرت عیسیٰ علیہ الصلوٰۃ والسلام سے فرمایا:
’’اِذْ قَالَ اللہُ یَا عِیْسٰی اِنِّیْ مُتَوَفِّیْکَ وَرَافِعُکَ اِلَیَّ وَمُطَھِّرُکَ مِنَ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا ۔۔۔۔۔ الخ۔‘‘
یعنی اللہ تعالیٰ نے صاف اور واضح الفاظ میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام سے فرمایا کہ: انہوں نے آپ کے قتل کی تدبیر کی مگر اللہ تعالیٰ نے آپ کو ان کے مکر سے بچانے، آپ کو ان کے ہاتھوں میں آنے سے بچانے کی تدبیر کی اور اللہ تعالیٰ بہترین تدبیر کرنے والا ہے۔
کیا نعوذ باللہ! اللہ کی تدبیر ناکام ہوگئی؟
مگر ۔۔۔نعوذ باللہ۔۔۔ مرزا غلام احمد قادیانی کہتا ہے کہ اللہ کی تدبیر ناکام ہوگئی، اور یہودی حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے قتل اور صلیب دینے میں کامیاب ہوگئے، جب مرزا سے کوئی پوچھتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے تو اس پیش گوئی میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو ان کے ہاتھوں سے بچانے کا وعدہ فرمایا تھا تو وہ کیونکر پورا نہ ہوا؟
تو مرزا کہتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے یہ پیش گوئی منسوخ کردی تھی، چنانچہ غلام احمد قادیانی اپنی کتاب ’’حقیقۃ الوحی‘‘ میں لکھتا ہے کہ:
’’اللہ تعالیٰ نے پیش گوئی منسوخ کردی۔‘‘
میں کہتا ہوں کہ حیرت ہے اس تعلّی باز پر جس نے پہلے دن یہ کہا تھا کہ کوئی پاجائے گا عزت اور کوئی رسوا ہوگا، مگر آج وہ کہتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے یہ پیش گوئی منسوخ کردی۔
اس لئے میں کہتا ہوں کہ مجھے مرزائی، غلام احمد کی ایسی کوئی پیش گوئی بتائیں جو اس نے تحدّی اور چیلنج کرکے کی ہو اور وہ پوری ہوئی ہو؟
258
مرزا کی کوئی پیش گوئی پوری نہیں ہوئی:
اللہ تعالیٰ نے اس کی ایک پیش گوئی بھی پوری نہیں ہونے دی، ہاں! البتہ یوں ہی وہ اپنے گھر میں بیٹھ کر پیش گوئی اور اس کے پورے ہونے کے دعوے ہانکتا رہا ہے، کبھی کہہ دیا کہ آج شام کو ہماری مرغی انڈا دے گی، ظاہر ہے جو مرغی روزانہ انڈا دے رہی ہو اور کوئی کہہ دے کہ آج شام کو مرغی انڈا دے گی، اور وہ حسبِ معمول انڈا دے دے تو کیا اس کو پیش گوئی کا پورا ہونا کہا جائے گا؟ کیا مرغی کے انڈے کی بھی کوئی پیش گوئی ہوا کرتی ہے؟
رفع و نزولِ عیسیٰ ؑکے مسئلہ پر مفید کتب:
آخر میں یہ عرض کروں گا کہ مسئلہ رفع و نزولِ عیسیٰ علیہ السلام کے لئے درج ذیل کتابوں کا مطالعہ فرمائیں تو اِن شاء اللہ آپ کو اس مسئلہ کے تمام پہلوؤں سے آگاہی ہوگی، اس عنوان پر میرے تین رسائل ہیں:
۱:۔۔۔نزولِ عیسیٰ علیہ السلام۔
۲:۔۔۔رفع و نزولِ مسیح کا عقیدہ اکابر اُمت کی نظر میں۔ بلکہ تحفۂ قادیانیت جلد سوم میں مستقل اس مسئلہ پر سیر حاصل بحث ہے، اگر کوئی آدمی اس کو سمجھ کر پڑھ لے تو اِن شاء اللہ اس مسئلہ کا کوئی گوشہ تشنہ نہیں رہے گا۔
۳:۔۔۔شناخت۔
۴:۔۔۔شہادت القرآن فی حیات عیسیٰ علیہ السلام۔
۵:۔۔۔اسلام اور قادیانیت ایک تقابلی مطالعہ۔
۶:۔۔۔احتسابِ قادیانیت جلد دوم مجموعہ رسائل مولانا محمد ادریس کاندھلویؒ جس میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی حیات، رفع و نزول کے متعلق کئی ایک جاندار رسائل ہیں۔
۷:۔۔۔ترجمان السنۃ میں بھی مولانا بدرعالم میرٹھیؒ نے اس پر بہت ہی فاضلانہ بحث کی ہے۔
وآخر دعوانا ان الحمدﷲ رب العالمین
259
عقیدۂ حیاتِ مسیح قرآن و سنت اور
مرزائی تصریحات کی روشنی میں
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ
س: … مولانا صاحب! میں نے اس سے پہلے آپ کو خط لکھا تھا مگر جواب سے محروم رہا۔ مولانا صاحب! آپ باطل پرستوں اور غیرمسلموں کے خلاف جو جہاد کر رہے ہیں اور مسلمانوں کے دین و ایمان بچانے کے لئے جو محنت کر رہے ہیں، اس پر میں آپ کو مبارک باد دیتا ہوں۔
مولانا صاحب! مجھے ایک دوست کے لئے چند قرآنی آیات کی تشریح مطلوب ہے، جن سے قادیانی وفاتِ مسیح پر استدلال کرتے ہیں۔
قادیانیوں کا کہنا ہے کہ ان کے پاس تیس سے زائد ایسی قرآنی آیات اور دلائل ہیں جو حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی وفات پر دلالت کرتے ہیں، ان کا کہنا ہے کہ درج ذیل تین آیات ایسی ہیں جن سے صراحتاً وفاتِ مسیح ثابت ہوتی ہے:
الف: … ’’کُلُّ نَفْسٍ ذَآئِقُۃُ الْمَوْتِ‘‘ (ہر نفس موت کا ذائقہ چکھنے والا ہے)۔
ب: … ’’وَمَا مُحَمَّدٌ اِلّا رَسُوْلٌ قَدْ خَلَتْ مِنْ قَبْلِہِ الرُّسُلُ‘‘ (محمدؐ صرف اللہ کے رسول ہیں جن سے پہلے کے سب رسول فوت ہوچکے ہیں)۔
ج: … ’’وَمَا جَعَلْنَا لِبَشَرٍ مِّنْ قَبْلِکَ الْخُلْدَ اَفَائِنْ مِّتَّ فَھُمُ الْخٰلِدُوْنَ‘‘ (ہم نے تجھ سے پہلے کے کسی انسان کے لئے دوام اور بقا نہیں رکھا، اگر آپ فوت ہوجائیں تو کیا وہ ہمیشہ زندہ رہیں گے؟)۔
260
ذرا اِن آیات کی تفصیل و تشریح کیجئے! تاکہ قادیانی عقیدہ وفاتِ مسیح کی حقیقت کھل سکے۔
والسلام
اقبال احمد - فیصل آباد
جواب:
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ
اَلْحَمْدُ لِلہِ وَسَلَامٌ عَلٰی عِبَادِہِ الَّذِیْنَ اصْطَفٰی!
برادرِ مکرّم، زید لطفہٗ السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ!
نامۂ کرم ملا تھا، مگر آپ نے پتہ نہیں لکھا تھا، اس لئے جواب سے معذور رہا، آپ نے جن ’’غیرمسلموں سے جہاد‘‘ کی بات ہے، وہ بے چارے ہمارے بھولے اور بھٹکے بھائی ہیں، وہ ازخود خطوط لکھتے ہیں اور میں انہیں جواب دیتا ہوں، کسی کو بذریعہ اخبار، اور اکثر حضرات کو براہِ راست۔ میں جن دوستوں کو خط لکھتا ہوں اسی جذبہ سے لکھتا ہوں کہ ان کو ساتھ لے کر جنت میں جاؤں۔ شاید اللہ کے کسی بندے کے دِل میں صحیح بات آجائے، اور اس کی ہدایت ہماری نجات کا بہانہ بن جائے۔ میں فرض سمجھتا ہوں کہ ان کی خیرخواہی کے لئے جو کچھ کرسکتا ہوں، کروں۔
جناب نے جن تین آیتوں کی تشریح طلب فرمائی ہے، وہ ہمارے بھولے بھالے قادیانی دوست حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی وفات ثابت کرنے کے لئے پیش کیا کرتے ہیں، آپ سے بھی کسی قادیانی دوست نے ان کا مطلب دریافت کیا ہوگا؟ آپ ان صاحب کو بتائیے کہ مرزا صاحب نے ’’براہینِ احمدیہ‘‘ جلد:۴ صفحہ:۴۹۸، ۴۹۹، روحانی خزائن ج:۱ ص:۴۹۸،۴۹۹ میں قرآن کریم سے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے دوبارہ آنے کا ثبوت دیا، اور: ’’اس عاجز پر ظاہر کیا گیا ہے‘‘ کہہ کر ان کو قرآنی پیش گوئی کا مصداق ٹھہرایا ہے، اور صفحہ:۵۰۵ پر خود اپنے سے بھی اس کی مستقل پیش گوئی کی ہے۔
مرزا صاحب کی یہ عبارتیں ان صاحب کے سامنے رکھ کر ان سے دریافت کیجئے کہ:
261
۱: … یہ آیات جو آپ ’’وفاتِ مسیح‘‘ کے ثبوت میں پیش کرتے ہیں، ’’براہینِ احمدیہ‘‘ کی تصنیف و اشاعت سے پہلے قرآن مجید میں موجود تھیں یا بعد میں نازل ہوئی ہیں؟ اگر پہلے بھی موجود تھیں تو جناب مرزا صاحب ان آیات کا مطلب سمجھتے تھے یا نہیں؟ اگر نہیں سمجھتے تھے تو جو شخص قرآن کریم کی تیس صریح آیات کا مطلب نہ سمجھے، اس کی قرآن دانی پر اعتماد کرکے سلف صالحین کے عقیدے کو چھوڑ دینا عقل و دیانت کی رُو سے جائز ہے یا نہیں؟
۲: … جو شخص صریح غلط اور خلافِ قرآن عقیدے اپنی کتابوں میں شائع کرکے برسہا برس تک ان کی تبلیغ کرتا پھرے، وہ مجدّد کہلاتا ہے یا ملحد اور بے دین؟
۳: … جو شخص فہمِ قرآن سے عاری ہو، غلط عقائد کے لئے قرآن کی تحریف کرتا ہو، اور اس کے لئے الہامات بھی گھڑتا ہو، وہ مسیحِ موعود کہلائے گا یا مسیحِ کذّاب؟
۴: … ’’براہین‘‘ میں جو عقیدہ مرزا صاحب نے درج کیا، اگر وہ خلافِ واقعہ تھا تو گویا حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے دوبارہ آنے کی مرزا صاحب نے جھوٹی پیش گوئی کی، ایسا شخص اگر مسیح ہونے کا دعویٰ کرے تو وہ سچا مسیح ہوگا یا جھوٹا مسیح؟
مسلمان تو مرزا صاحب کو جیسا سمجھتے ہیں، وہ سب کو معلوم ہے، مگر مجھے قادیانی دوستوں پر تعجب ہے کہ وہ مرزا صاحب کو مسیح بھی مانتے ہیں اور جھوٹا بھی۔ وہ کہتے ہیں کہ ’’براہینِ احمدیہ‘‘ کی تصنیف کے زمانے میں حضرت صاحب مسیح تو تھے، مگر انہیں پتہ نہیں تھا کہ وہ ’’مسیحِ موعود‘‘ ہیں، اور وہ ان الہامات کا مطلب نہیں سمجھے تھے جو انہیں ’’مسیحِ موعود‘‘ بناتے تھے۔ گویا ان کے نزدیک مرزا صاحب فہمِ قرآنی سے بھی عاری تھے، فہمِ الہامات سے محروم تھے، صحیح اسلامی عقائد سے بھی ناآشنا تھے، اس لئے وہ جھوٹے عقیدے بھی لکھتے رہے، اور ان کے لئے قرآن کی تحریف بھی کرتے رہے۔ دیکھئے! مسلمان بھی تو مرزا صاحب کے بارے میں یہی کہتے ہیں کہ وہ مسیحیت کے مدعی ضرور تھے، مگر فہمِ قرآن سے محروم، فہمِ الہامات سے عاری، قرآن کریم کی تحریف پر جری، اسلامی عقائد سے ناآشنا، اور غلط عقائد کے پرچارک تھے، آہ۔۔۔۔!
262
-
وہ شیفتہؔ کہ دُھوم تھی حضرت کے زُہد کی!
میں کیا کہوں کہ کل مجھے کس کے گھر ملے؟
قادیانی دوست کہا کرتے ہیں کہ: اس وقت حضرت صاحب کو صحیح حقیقت کی خبر نہیں تھی، اس لئے انہوں نے ’’براہین‘‘ میں ’’رسمی عقیدہ‘‘ لکھ دیا۔ مگر میں نے جو سوال عرض کئے ہیں، ان سے قادیانی دوستوں کی تأویل محض سخن سازی بن کر رہ جاتی ہے، اس لئے کہ ’’براہین‘‘ میں مرزا صاحب نے ’’رسمی عقیدہ‘‘ نہیں لکھا، بلکہ اس کے لئے قرآن کریم کا ثبوت پیش کرکے اس پر اپنی ’’الہامی مہر‘‘ ثبت فرمائی ہے، پھر ایک الگ الہام سے مستقل طور پر بھی اس کی پیش گوئی کی ہے، کیا یہ ’’رسمی عقیدہ‘‘ ہی رہا ہے؟ یا قرآن اور الہامی عقیدہ ہوا؟
چلئے ’’رسمی عقیدہ‘‘ ہی سہی! لیکن اس وقت مرزا صاحب کوئی دُودھ پیتے بچے تو نہیں تھے جنہیں دائیں بائیں کی خبر نہ ہو، جب ’’براہین‘‘ کا یہ حصہ شائع ہوا اس وقت وہ ۵۴ سال کے تھے، مجدّدِ وقت کہلاتے تھے، بارش کی طرح ان پر الہامات نازل ہوتے تھے، خیر سے ’’مسیح‘‘ بھی بنے بیٹھے تھے، ایسے وقت غلط عقائد لکھنا، ان کے لئے قرآن کے حوالے دینا، ان پر الہامی مہریں لگانا، مرزا صاحب کے دین و دیانت، علم و فہم، قرآن دانی اور الہامات سب پر پانی پھیر دیتا ہے، اور مرزا صاحب کی شخصیت کا وہی سراپا سامنے آتا ہے جو مرزا صاحب کے بارے میں مسلمانوں کا عقیدہ ہے۔
بس اپنے قادیانی دوست سے ایک یہی سوال کیجئے کہ اگر ان آیات سے وفاتِ مسیح ثابت ہوتی ہے تو ان کا سب سے پہلا نشانہ مرزا صاحب کی ’’مسیحیت‘‘ بنتی ہے، پہلے مرزا صاحب کے دامن سے یہ دَھبہ دُور کیجئے، پھر آپ کے ’’مسائل‘‘ کا جواب ہم پر لازم آئے گا۔
دراصل مرزا صاحب نے اپنی شخصیت کے گرد حصار قائم کرنے کے لئے اپنے مریدوں کے سامنے ’’وفاتِ مسیح‘‘ کی ’’دیوارِ چین‘‘ کھڑی کردی تھی، تاکہ وہ اسی سے ٹکرا ٹکرا کر اپنے دین و ایمان کا سر پھوڑتے رہیں، اور اسے پھلانگ کر انہیں مرزا صاحب کی شخصیت کی طرف جھانکنے کا موقع ہی نہ ملے، لیکن حیاتِ مسیحؑ کا اعجاز دیکھئے کہ جب ہم اسی
263
دیوار کے سوراخ سے مرزا صاحب کو جھانک کر دیکھتے ہیں تو وہ ہمیں کذب و اِفترا اور جہل وغباوت کے جامہ میں ملبوس کھڑے نظر آتے ہیں، ان کے مرید نوّے سال سے وفاتِ مسیح کی دیوارِ گریہ پر ’’عیسیٰ مرگیا، عیسیٰ مرگیا‘‘ کا ماتم کر رہے ہیں، مگر کسی بندۂ خدا کو یہ توفیق نہیں ہوتی کہ مرزا صاحب سے یہ دریافت کرلے کہ: حضرت! عیسیٰ ۱۸۹۱ء میں مرا تھا یا اس سے پہلے کسی زمانے میں مرچکا تھا؟ اور قرآن کریم کی وہ تیس آیتیں جو بقول آپ کے وفاتِ مسیح کا ’’صریح اعلان‘‘ کر رہی ہیں ۱۸۹۱ء میں پہلی بار نازل ہوئی ہیں یا پہلے بھی یہ دنیا کے سامنے موجود تھیں؟ کتنی موٹی بات ہے جو ہمارے بھائیوں کی عقل میں نہیں آتی کہ قرآن کریم تو دنیا میں تیرہ سو سال سے موجود تھا، اس میں یہ تیس آیتیں بھی تھیں، جن کو آپ وفاتِ مسیح پر پیش فرماتے ہیں، تو پھر آخر ۱۸۹۱ء میں آپ پر وفاتِ مسیح کا انکشاف پہلی بار کیوں ہوا؟ تیرہ سو سال سے اکابرِ اُمت، ائمہ مجدّدین اور سلف صالحین، حیاتِ مسیح کا عقیدہ کیوں رکھتے آئے؟ یہ معما ان کی سمجھ میں کیوں نہ آیا؟ اور پھر خود مسیحیت مآب ۴۵سے ۵۵ برس تک ان تیس آیتوں سے کیوں جاہل رہے؟ اور حیاتِ مسیح کے ثبوت میں قرآنی آیات اور اپنے الہامات کیوں پیش فرماتے رہے؟
برادرم! مرزا صاحب نے بزعمِ خود وفاتِ مسیح کے ثبوت میں قرآن کریم کی جو آیتیں پیش کی ہیں، انہیں اس عقیدہ سے قطعاً کوئی مس نہیں، اگر ان سے ’’وفاتِ مسیح‘‘ کا ثبوت ملتا تو گزشتہ صدیوں کے بزرگانِ دین اور مجدّدین نے ان آیتوں سے ’’وفاتِ مسیح‘‘ کا عقیدہ ثابت کرکے اس پر ایمان رکھا ہوتا، مگر آپ کو اسلامی لٹریچر کے مطالعہ سے پتہ چلے گا کہ سلف صالحین میں سے کسی صحابی، کسی تابعی، کسی امام، کسی مجدّد نے ان آیتوں سے وفاتِ مسیح کا عقیدہ نہیں نکالا۔
باقی مرزا صاحب نے جن بزرگوں کا نام لیا ہے کہ وہ وفاتِ مسیح کے قائل تھے، یہ بالکل غلط اور ان اکابر پر مرزا صاحب کا اِفترا ہے۔
اب ہمارے سامنے دو ہی راستے ہیں، یا یہ کہ گزشتہ صدیوں کے اکابر قرآن کو نہیں سمجھے تھے اور نہ قرآن کریم کی صریح آیات پر ان کا ایمان تھا، یا یہ تسلیم کرنا ہوگا کہ مرزا
264
صاحب قرآن کو نہیں سمجھتے تھے اور نہ ان کا قرآن کریم پر ایمان تھا۔ الغرض اگر قرآن کریم میں ’’وفاتِ مسیح‘‘ کا عقیدہ صاف اور صریح طور پر لکھا ہوا ہے ۔۔۔جیسا کہ مرزا صاحب کا دعویٰ ہے۔۔۔ تو اس سے لازم آئے گا کہ گزشتہ صدیوں کے تمام اکابر ۔۔۔نعوذ باللہ۔۔۔ قرآن سے جاہل اور بے ایمان تھے، اور اگر یہ عقیدہ قرآن میں نہیں ہے، تو مرزا صاحب کو جاہل اور بے ایمان ماننا پڑے گا۔
خود مرزا صاحب کو بھی اعتراف ہے کہ گزشتہ تیرہ صدیوں کے مسلمانوں کا عقیدہ یہی تھا کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام زندہ ہیں، چنانچہ فرماتے ہیں:
’’ایک دفعہ ہم دلّی میں گئے تھے، ہم نے وہاں کے لوگوں سے کہا کہ: تم نے تیرہ سو برس سے یہ نسخہ استعمال کیا ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو مدفون اور حضرت عیسیٰ ؑکو زندہ آسمان پر بٹھایا ۔۔۔۔۔ مگر اب دوسرا نسخہ ہم بتاتے ہیں، وہ استعمال کرکے دیکھو، اور وہ یہ ہے کہ حضرت عیسیٰ ؑ۔۔۔۔۔ کو فوت شدہ مان لو۔‘‘
(ملفوظات ج:۱۰ ص:۳۰۰، ملخصاً بلفظہٖ)
مرزا صاحب کی اس تصریح سے واضح ہے کہ مرزا صاحب مسلمانوں کو تیرہ سو سال کے عقائدِ اسلامی سے برگشتہ کرنے کے لئے تشریف لائے تھے۔
آخر میں مناسب ہوگا کہ ان تین آیتوں کے بارے میں بھی مختصراً عرض کردوں، جو آپ کو کسی قادیانی دوست نے بتائی ہیں۔
۱: …’’کُلُّ نَفْسٍ ذَآئِقَۃُ الْمَوْتِ‘‘ کا مطلب یہ ہے کہ ہر ذی رُوح کو اپنے مقررہ وقت پر مرنا ہے، یہ آیت آسمان کے فرشتوں سے لے کر زمین کے جانداروں تک سب کو شامل ہے، جو زندہ ہیں ان کو بھی، اور جو ابھی پیدا نہیں ہوئے ان کو بھی، اور اس آیت کے تحت مسلمانوں کا عقیدہ ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام بھی اپنے مقررہ وقت پر فوت ہوں گے، جیسا کہ حدیثِ پاک میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے کہ: وہ دوبارہ زمین پر اُتریں گے، چالیس سال رہیں گے، پھر ان کی وفات ہوگی اور مسلمان ان کی نمازِ جنازہ پڑھیں گے۔
265
فرمائیے! یہ آیت اسلامی عقیدے کے خلاف کیسے ہوئی؟ اور اس سے کیسے ثابت ہوگیا کہ عیسیٰ علیہ السلام مرچکے ہیں؟ ذرا سوچئے! اگر کوئی دانشمند اس آیت سے میری، آپ کی، سارے انسانوں کی، سارے فرشتوں کی موت ثابت کرنے لگے تو آپ اسے ’’مراقی‘‘ نہیں سمجھیں گے؟ ’’ہر نفس موت کا مزہ چکھنے والا ہے‘‘ اس سے یہ کیسے ثابت ہوا کہ فلاں شخص مرچکا ہے؟
۲: … آیت’’قَدْ خَلَتْ مِنْ قَبْلِہِ الرُّسُل‘‘ کا ترجمہ اس نے آپ کو غلط بتایا ہے، اس سے پوچھئے کہ اگر ’’سب رسول آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے پہلے فوت ہوچکے ہیں‘‘ تو مرزا صاحب کے دعوائے رسالت کے غلط اور جھوٹ ہونے میں کیا شک رہ جاتا ہے؟ ’’سب رسول‘‘ تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے پہلے فوت ہوچکے تھے، تو پھر مرزا صاحب رسول اور نبی کی حیثیت سے کدھر سے آدھمکے؟
علاوہ ازیں ٹھیک یہی الفاظ سیّدنا عیسیٰ علیہ السلام کے بارے میں بھی فرمائے گئے ہیں، جیسا کہ ارشاد ہے: ’’مَا الْمَسِیْحُ بْنْ مَرْیَمَ اِلّا رَسُوْلٌ قَدْ خَلَتْ مِنْ قَبْلِہِ الرُّسُلُ‘‘ (المائدہ:۷۵) (نہیں تھے مسیح ابنِ مریم مگر رسول، بے شک اس سے پہلے کے رسول گزرچکے) اور یہ آیت سورۂ آل عمران کی آیت کے بعد نازل ہوئی ہے جس سے ثابت ہوتا ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام اس آیت کے نزول کے وقت زندہ تھے، جس طرح کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سوۂ آل عمران کی آیت کے نزول کے وقت حیاتِ دنیوی کے ساتھ جلوہ فرما تھے۔ اگر نزولِ قرآن کے وقت حضرت عیسیٰ علیہ السلام زندہ نہ ہوتے تو یہ نہ فرمایا جاتا کہ: ’’ان سے پہلے بہت سے رسول گزر چکے ہیں‘‘ بلکہ یہ فرمایا جاتا ہے کہ وہ مرچکے ہیں، چونکہ نزولِ قرآن کے وقت یہ دونوں رسول زندہ تھے ۔۔۔یعنی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اور سیّدنا عیسیٰ علیہ السلام۔۔۔ اس لئے ان دونوں کے بارے میں فرمایا گیا: ’’قَدْ خَلَتْ مِنْ قَبْلِہِ الرُّسُلُ‘‘ (ان سے پہلے رسول گزر چکے ہیں) نہ کہ خود یہ دونوں۔
۳: … یہ آیت مشرکین کے رَدّ میں نازل ہوئی تھی، وہ کہا کرتے تھے کہ محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) مرجائیں تو ان کا دین بھی مٹ جائے گا، اس لئے وہ آپؐ کے وصال کی تمنائیں کیا کرتے
266
تھے، انہیں جواب دیا گیا کہ دنیا میں جو انسان بھی آتا ہے وہ یہاں ہمیشہ رہنے کے لئے نہیں آتا، بلکہ اسے اپنے مقررہ وقت پر جانا ہوتا ہے، اب اگر آپؐ اپنے مقررہ وقت پر دنیا سے تشریف لے جائیں تو کیا ان لوگوں نے یہاں ہمیشہ رہنے کا پٹہ لکھا رکھا ہے؟ کیا یہ نہیں مریں گے؟ لہٰذا کسی کی موت کی تمنا کرنا عبث ہی نہیں حماقت بھی ہے۔
سیّدنا عیسیٰ علیہ السلام بھی دنیا میں ہمیشہ نہیں رہیں گے، بلکہ ان کی وفات کے لئے جو وقت علمِ الٰہی میں مقرر ہے اس میں ان کا انتقال ہوگا۔ رہا یہ کہ وہ وقت ہے کون سا؟ اس کا جواب قرآنِ کریم اور حدیثِ نبوی میں دیا جاچکا ہے کہ وہ قربِ قیامت میں نازل ہوکر دجال کو قتل کریں گے، تمام اہلِ کتاب ان پر ایمان لائیں گے، ساری دنیا کو اسلام پر جمع کریں گے، نکاح کریں گے، ان کے اولاد ہوگی، چالیس برس دنیا میں رہیں گے، تب ان کا وقتِ موعود آئے گا، اور ان کی وفات ہوگی۔
فقط والسلام
محمد یوسف عفا اللہ عنہ
267
آخری زمانے میں آنے والے مسیح کی شناخت
اہلِ انصاف کو غور و فکر کی دعوت
پیش لفظ
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ
اَلْحَمْدُ لِلہِ وَسَلَامٌ عَلٰی عِبَادِہِ الَّذِیْنَ اصْطَفٰی!
آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے قیامت کی علاماتِ کبریٰ کے ضمن میں حضرت مہدی علیہ الرضوان کے ظہور، ان کے زمانے میں کانے دجال کے خروج اور حضرت مسیح عیسیٰ بن مریم علیہ السلام کے نازل ہونے کی خبر متواتر اَحادیث میں دی ہے۔ گزشتہ صدیوں میں بہت سے بے باک طالع آزماؤں نے مہدویت یا مسیحیت کے دعوے کئے، لیکن حقائق و واقعات کی کسوٹی پر ان کے دعوے غلط ثابت ہوئے، ان میں سے بعض مدعیانِ مسیحیت یا مہدویت کی جماعتیں اب تک موجود ہیں۔ ان کے تجربات سے فائدہ اُٹھاتے ہوئے چودھویں صدی میں مرزا غلام احمد قادیانی نے ۱۸۸۴ء میں مجدّدیت کا، ۱۸۹۱ء میں مسیحیت کا، اور ۱۹۰۱ء میں نبوّت کا دعویٰ کیا، اس طرح مدعیانِ مسیحیت ومہدویت میں ایک نئے نام کا اِضافہ ہوا۔
زیرِ نظر رسالہ ایک قادیانی کے خط کا جواب ہے، جو رجب ۱۳۹۹ھ میں لکھا گیا تھا، اور جس میں آنے والے مسیح کی علامات آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمودات سے ۔۔۔جو مرزا غلام احمد قادیانی کو بھی مُسلَّم ہیں۔۔۔ ذکر کی گئی ہیں، جن سے ثابت ہوتا ہے کہ مرزا
268
غلام احمد قادیانی کا مسیح اور مہدی ہونے کا دعویٰ غلط ہے، یہ رسالہ ’’شناخت‘‘ کے نام سے متعدّد بار شائع ہوچکا ہے، اور اَب نظرِ ثانی کے بعد اسے جدید انداز میں شائع کیا جارہا ہے، اللہ تعالیٰ اس کو شرفِ قبول نصیب فرمائیں اور اسے اپنے بندوں کی ہدایت کا ذریعہ بنائیں، آمین یا رَبّ العالمین!
محمد یوسف لدھیانوی
۱۴؍رجب ۱۴۱۰ھ
مکرم و محترم جناب ۔۔۔۔۔ صاحب! ۔۔۔زیدت الطافہم، آداب و دعوات
مزاجِ گرامی! جناب کا گرامی نامہ محرّرہ ۲۶؍مئی ۱۹۷۹ء آج ۱۶؍جون کو مجھے ملا، قبل ازیں چار گرامی ناموں کا جواب لکھ چکا ہوں، آج کے خط میں آپ نے مرزا صاحب کے کچھ دعوے، کچھ اشعار اور کچھ پیش گوئیاں ذکر کرکے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ ارشادِ گرامی نقل کیا ہے کہ: ’’جب مسیح اور مہدی ظاہر ہو تو اس کو میرا سلام پہنچائیں‘‘ اور پھر اس ناکارہ کو یہ نصیحت فرمائی ہے کہ:
’’اب تک آپ نے (یعنی راقم الحروف نے) اس کی تباہی و بربادی کی تدبیریں کرکے بہت کچھ اس کے خدا اور رسول کی مخالفت کرلی، اب خدا کے لئے اپنے حال پر رحم فرمائیں، اگر اپنی اِصلاح نہیں کرسکتے تو دُوسروں کی گمراہی اور حق سے دُوری کی کوششوں سے باز رہ کر اپنے لئے اِلٰہی ناراضگی تو مول نہ لیں۔‘‘
جناب کی نصیحت بڑی قیمتی ہے، اگر جناب مرزا صاحب واقعی مسیح اور مہدی ہیں تو کوئی شک نہیں کہ ان کی مخالفت خدا اور رسول کی مخالفت ہے، حق سے دُوری وگمراہی ہے، اور اِلٰہی ناراضگی کا موجب ہے۔ اور اگر وہ مسیح یا مہدی نہیں تو جو لوگ ان کی پیروی کرکے سچے مسیح اور سچے مہدی کے آنے کی نفی کر رہے ہیں، ان کے گمراہ ہونے، حق سے دُور ہونے، اِلٰہی ناراضگی کے نیچے ہونے اور خدا و رسول کے مخالف ہونے میں بھی کوئی شبہ نہیں
269
ہے۔ اگر واقعی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت مسیح علیہ السلام کو سلام پہنچانے کا حکم فرمایا ہے تو کھلی ہوئی بات ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اُمت کو یہ ہدایت بھی فرمائی ہوگی کہ حضرت مسیح اور حضرت مہدی کی کیا کیا علامتیں ہیں؟ وہ کب تشریف لائیں گے؟ کتنی مدّت رہیں گے؟ کیا کیا کارنامے انجام دیں گے؟ اور ان کے زمانے کا نقشہ کیا ہوگا؟ پس اگر مرزا صاحب اس معیار پر، جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے، پورے اُترتے ہیں تو ٹھیک ہے، انہیں ضرور مسیح مانئے اور ان کی دعوت بھی دیجئے۔ ورنہ ان کی حیثیت سیّد محمد جونپوری، مُلَّا محمد اٹکی اور علی محمد باب وغیرہ جھوٹے مدعیانِ مسیحیت ومہدویت کی ہوگی، اور ان کو مسیح کہہ کر احادیثِ نبویہ کو ان پر چسپاں کرنا ایسا ہوگا کہ کوئی شخص ’’بوم‘‘ کا نام ’’ہما‘‘ رکھ کر ہما کی صفات وکمالات اس پر چسپاں کرنے لگے، اور لوگوں کو اسے ’’ہما‘‘ سمجھنے کی دعوت دے۔ لہٰذا مجھ پر، آپ پر اور سارے انسانوں پر لازم ہے کہ مرزا صاحب کو فرمودۂ نبوی کی کسوٹی پر جانچیں، وہ کھرے نکلیں تو مانیں، کھوٹے نکلیں تو انہیں مسترد کردیں۔ اس منصفانہ اُصول کو سامنے رکھ کر میں جناب کو بھی آپ کی اپنی نصیحت پر عمل کرنے، اور مرزا صاحب کی حیثیت پر غور و فکر کی دعوت دیتا ہوں، اور اس سلسلے میں چند نکات مختصراً عرض کرتا ہوں، وَبِاللہِ التَّوْفِیْقُ!
۱۔۔۔ حضرت مسیح علیہ السلام کب آئیں گے؟
اس سلسلے میں سب سے پہلا سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ مسیح علیہ السلام کب آئیں گے؟ کس زمانے میں ان کی تشریف آوری ہوگی؟ اس کا جواب خود جناب مرزا صاحب ہی کی زبان سے سننا بہتر ہوگا۔ مرزا صاحب اپنے نشانات ذکر کرتے ہوئے لکھتے ہیں:
پہلا نشان : قَالَ رَسُوْلُ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ: اِنَّ اللہَ یَبْعَثُ لِھٰذِہِ الْأُمَّۃَ عَلیٰ رَأْسِ کُلِّ مِائَۃٍ مَنْ یُّجَدِّدُ لَھَا دِیْنَھَا۔
(رواہ ابو:داؤد)
یعنی خدا ہر ایک صدی کے سر پر اس اُمت کے لئے ایک
270
شخص کو مبعوث فرمائے گا جو اس کے لئے دِین کو تازہ کرے گا۔
اور یہ بھی اہلِ سنت کے درمیان متفق علیہ امر ہے کہ آخری مجدّد اس اُمت کا مسیحِ موعود ہے جو آخری زمانے میں ظاہر ہوگا، اب تنقیح طلب یہ امر ہے کہ یہ آخری زمانہ ہے یا نہیں؟ یہود و نصاریٰ دونوں قومیں اس پر اِتفاق رکھتی ہیں کہ یہ آخری زمانہ ہے، اگر چاہو تو پوچھ لو۔‘‘
(حقیقۃ الوحی ص:۱۹۳)
مرزا صاحب نے اپنی دلیل کو تین مقدموں سے ترتیب دیا ہے:
الف: … ارشادِ نبوی کہ ہر صدی کے سر پر ایک مجدّد ہوگا۔
ب: … اہلِ سنت کا اِتفاق کہ آخری صدی کا آخری مجدّد مسیح ہوگا۔
ج: … یہود ونصاریٰ کا اتفاق کہ مرزا صاحب کا زمانہ آخری زمانہ ہے۔
نتیجہ ظاہر ہے کہ اگر چودھویں صدی آخری زمانہ ہے تو اس میں آنے والا مجدّد بھی ’’آخری مجدّد‘‘ ہوگا، اور جو ’’آخری مجدّد‘‘ ہوگا لازماً وہی مسیحِ موعود بھی ہوگا۔ لیکن اگر چودھویں صدی کے ختم ہونے پر پندرھویں صدی شروع ہوگئی (۱) تو فرمودۂ نبوی کے مطابق اس کے سر پر بھی کوئی مجدّد آئے گا، اس کے بعد سولہویں صدی شروع ہوئی تو لازماً اس کا بھی کوئی مجدّد ضرور ہوگا۔
پس نہ چودھویں صدی آخری زمانہ ہوا اور نہ مرزا صاحب کا ’’آخری مجدّد‘‘ ہونے کا دعویٰ صحیح ہوا۔ اور جب وہ ’’آخری مجدّد‘‘ نہ ہوئے تو مہدی یا مسیح بھی نہ ہوئے، کیونکہ ’’اہلِ سنت میں یہ امر متفق علیہ امر ہے کہ ’’آخری مجدّد‘‘ اس اُمت کے حضرت مسیح علیہ السلام ہوں گے۔‘‘ اگر آپ صرف اسی ایک نکتے پر بنظرِ اِنصاف غور فرمائیں تو آپ کا فیصلہ یہ ہوگا کہ مرزا صاحب کا دعویٰ غلط ہے، وہ مسیح اور مہدی نہیں۔
(۱) یہ تحریر پندرھویں صدی شروع ہونے سے پہلے کی ہے۔
271
۲: … حضرت مسیح علیہ السلام کتنی مدّت قیام فرمائیں گے؟
زمانۂ نزولِ مسیح کا تصفیہ ہوجانے کے بعد دُوسرا سوال یہ ہے کہ مسیح علیہ السلام کتنی مدّت زمین پر قیام فرمائیں گے؟ اس کا جواب یہ ہے کہ احادیثِ طیبہ میں ان کی مدّتِ قیام چالیس سال ذِکر فرمائی گئی ہے۔ (حقیقۃ النبوۃ ص:۱۹۲، از مرزا محمود احمد صاحب) یہ مدّت خود مرزا صاحب کو بھی مُسلَّم ہے، بلکہ اپنے بارے میں ان کا چہل (۴۰) سالہ دعوت کا اِلہام بھی ہے، چنانچہ اپنے رسالے ’’نشانِ آسمانی‘‘ میں شاہ نعمت ولی کے شعر:
-
تا چہل سال اے برادر من!
دور آں شہسوار می بینم
کو نقل کرکے لکھتے ہیں:
’’یعنی اس روز سے جو وہ اِمامِ ملہم ہوکر اپنے تئیں ظاہر کرے گا، چالیس برس تک زندگی کرے گا، اب واضح رہے کہ یہ عاجز اپنی عمر کے چالیسویں بر س میں دعوتِ حق کے لئے بالہامِ خاص مأمور کیا گیا اور بشارت دی گئی کہ اَسّی ۰۸ برس تک یا اس کے قریب تیری عمر ہے، سو اس اِلہام سے چالیس برس تک دعوت ثابت ہوتی ہے، جن میں سے دس برس کامل گزر بھی گئے۔‘‘
(ص:۱۳طبع چہارم اگست ۱۹۳۴ء)
مرزا صاحب کے اس حوالے سے واضح ہے کہ حضرت مسیح علیہ السلام چالیس برس زمین پر رہیں گے اور سب جانتے ہیں کہ مرزا صاحب نے ۱۸۹۱ء میں مسیحیت کا دعویٰ کیا اور ۲۶؍مئی ۱۹۰۸ء کو داغِ مفارقت دے گئے، گویا مسیح ہونے کے دعوے کے ساتھ کل ساڑھے سترہ برس دُنیا میں رہے۔ اور اگر اس کے ساتھ وہ زمانہ بھی شامل کرلیا جائے جبکہ ان کا دعویٰ صرف مجدّدیت کا تھا، مسیحیت کا نہیں تھا، تب بھی جون ۱۸۹۲ء (جو ’’نشانِ آسمانی‘‘ کا سنِ تصنیف ہے) تک ’’دس برس کامل‘‘ کا زمانہ اس میں مزید شامل کرنا
272
ہوگا اور ان کی مدّتِ قیام ۲۶سال بنے گی۔ لہٰذا فرمودۂ نبوی (چالیس برس زمین پر رہیں گے) کے معیار پر تب بھی وہ پورے نہ اُترے، اور نہ ان کا دعویٔ مسیحیت ہی صحیح ثابت ہوا۔ یہ دُوسرا نکتہ ہے جس سے ثابت ہوتا ہے کہ مرزا صاحب مسیح نہیں تھے۔
۳: … حضرت مسیح علیہ السلام کے احوالِ شخصیہ:
الف: … شادی اور اولاد:
حضرت مسیح علیہ السلام زمین پر تشریف لانے کے بعد شادی کریں گے، اور ان کے اولاد ہوگی۔
(مشکوٰۃ ص:۴۸۰)
یہ بات جناب مرزا صاحب کو بھی مُسلَّم ہے، چنانچہ وہ اپنے ’’نکاحِ آسمانی‘‘ کی تائید میں فرماتے ہیں:
’’اس پیش گوئی(۱) کی تصدیق کے لئے جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی پہلے سے پیش گوئی فرمائی ہوئی ہے: ’’یتزوج ویولد لہ‘‘ یعنی وہ مسیحِ موعود بیوی کرے گا، اور نیز صاحبِ اولاد ہوگا۔ اب ظاہر ہے کہ تزوج اور اولاد کا ذِکر کرنا عام طور پر مقصود نہیں، کیونکہ عام طور پر ہر ایک شادی کرتا ہے اور اولاد بھی ہوتی ہے، اس میں کچھ خوبی نہیں، بلکہ تزوج سے مراد خاص تزوج ہے جو بطورِ نشان ہوگا۔ اور اولاد سے مراد خاص اولاد ہے، جس کی نسبت اس عاجز کی پیش گوئی ہے۔ گویا اس جگہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان سیاہ دِل منکروں کو ان کے شبہات کا جواب دے رہے ہیں کہ یہ باتیں ضرور پوری ہوں گی۔‘‘
(ضمیمہ انجامِ آتھم ص:۵۴)
بلاشبہ جو شخص آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشادات کے پورا ہونے سے منکر
(۱) محمدی بیگم سے مرزا صاحب کے نکاحِ آسمانی کی اِلہامی پیش گوئی۔
273
ہو، اس کے سیاہ دِل ہونے میں کوئی شبہ نہیں!(۱)
جناب مرزا صاحب کی یہ تحریر ۱۸۹۶ء کی ہے، اس وقت مرزا صاحب کی شادیاں ہوچکی تھیں، اور دونوں سے اولاد بھی موجود تھی، مگر بقول ان کے ’’اس میں کچھ خوبی نہیں‘‘ لیکن جس شادی کو بطورِ نشان ہونا تھا اور اس سے جو ’’خاص اولاد‘‘ پیدا ہونی تھی، جس کی تصدیق کے لئے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ’’یتزوج ویولد لہ‘‘ فرمایا تھا، وہ مرزا صاحب کو نصیب نہ ہوسکی۔ لہٰذا وہ اس معیارِ نبوی پر بھی پورے نہ اُترے۔ اور جو لوگ خیال کرتے ہوں کہ مسیح کے لئے اس خاص شادی اور اس سے اولاد کا ہونا کچھ ضروری نہیں، اس کے بغیر بھی کوئی شخص ’’مسیحِ موعود‘‘ کہلاسکتا ہے، مرزا صاحب کے بقول آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے مندرجہ بالا ارشاد میں ان ہی سیاہ دِل منکروں کے شبہات کا اِزالہ فرمایا ہے۔ یہ تیسرا نکتہ ہے جس سے ثابت ہوا کہ مرزا صاحب مسیح نہیں تھے۔
ب:۔۔۔حج و زیارت:
آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت مسیح علیہ السلام کے حالات ذِکر کرتے ہوئے ان کے حج وعمرہ کرنے اور روضۂ اقدس پر حاضر ہوکر سلام پیش کرنے کو بطورِ خاص ذِکر فرمایا ہے۔
(مستدرک حاکم ج:۲ ص:۵۹۵)
جناب مرزا صاحب کو بھی یہ معیار مُسلَّم تھا، چنانچہ ’’ایام الصلح‘‘ میں اس سوال کا جواب دیتے ہوئے کہ آپ نے اب تک حج کیوں نہیں کیا؟ کہتے ہیں:
’’ہمارا حج تو اس وقت ہوگا جب دجال بھی کفر اور دجل سے باز آکر طوافِ بیت اللہ کرے گا، کیونکہ بموجب حدیثِ صحیح کے وہی وقت مسیحِ موعود کے حج کا ہوگا۔‘‘
(ص:۱۶۸)
(۱) سیّدنا عیسیٰ علیہ السلام نے پہلی زندگی میں نکاح نہیں کیا تھا اور بیوی بچوں کے قصے سے آزاد رہے تھے، اس لئے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ وہ دوبارہ تشریف لائیں گے تو نکاح بھی کریں گے اور ان کے اولاد بھی ہوگی۔
274
ایک اور جگہ مرزا صاحب کے ملفوظات میں ہے:
’’مولوی محمد حسین بٹالوی کا خط حضرت مسیحِ موعود کی خدمت میں سنایا گیا۔ جس میں اس نے اِعتراض کیا تھا کہ آپ حج کیوں نہیں کرتے؟ اس کے جواب میں حضرت مسیحِ موعود نے فرمایا کہ:
میرا پہلا کام خنزیروں کا قتل اور صلیب کی شکست ہے، ابھی تو میں خنزیروں کو قتل کر رہا ہوں، بہت سے خنزیر مرچکے ہیں اور بہت سخت جان ابھی باقی ہیں، ان سے فرصت اور فراغت ہولے۔‘‘
(ملفوظاتِ احمدیہ حصہ پنجم ص:۲۶۴، مرتبہ: منظور اِلٰہی صاحب)
مگر سب دُنیا جانتی ہے کہ مرزا صاحب حج وزیارت کی سعادت سے آخری لمحۂ حیات تک محروم رہے، لہٰذا وہ اس معیارِ نبوی کے مطابق بھی مسیحِ موعود نہ ہوئے۔
ج: … وفات اور تدفین:
حضرت مسیح علیہ السلام کے حالات میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بھی ارشاد فرمایا کہ: اپنی مدّتِ قیام پوری کرنے کے بعد حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا اِنتقال ہوگا، مسلمان ان کی نمازِ جنازہ پڑھیں گے، اور انہیں روضۂ اطہر میں حضراتِ ابوبکر و عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہما کے پہلو میں دفن کیا جائے گا۔
(مشکوٰۃ ص:۴۸۰)
جناب مرزا صاحب بھی اس معیارِ نبوی کو تسلیم کرتے ہیں۔ ’’کشتی نوح‘‘ میں تحریر فرماتے ہیں:
’’آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ مسیحِ موعود میری قبر میں دفن ہوگا، یعنی وہ میں ہی ہوں۔‘‘
(ص:۱۵)
دُوسری جگہ لکھتے ہیں:
’’ممکن ہے کوئی مثیلِ مسیح ایسا بھی آجائے جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے روضے کے پاس دفن ہو۔‘‘
(ازالہ اوہام ص:۴۷۰)
275
اور سب دُنیا جانتی ہے کہ مرزا صاحب کو روضۂ اطہر کی ہوا بھی نصیب نہ ہوئی، وہ تو ہندوستان کے قصبہ قادیان میں دفن ہوئے، لہٰذا وہ مسیحِ موعود بھی نہ ہوئے۔
۴: … حضرت مسیح علیہ السلام آسمان سے نازل ہوں گے:
جس مسیح علیہ السلام کو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے سلام پہنچانے کا حکم فرمایا ہے، ان کے بارے میں یہ وضاحت بھی فرمادی ہے کہ وہ آسمان سے نازل ہوں گے۔
یہ معیارِ نبوی خود مرزا صاحب کو بھی مُسلَّم ہے، چنانچہ ازالہ اوہام میں لکھتے ہیں:
’’مثلاً صحیح مسلم کی حدیث میں جو یہ لفظ موجود ہے کہ حضرت مسیح جب آسمان سے نازل ہوں گے تو ان کا لباس زرد رنگ کا ہوگا۔‘‘
(ص:۸۱)
اور سب کو معلوم ہے کہ مرزا صاحب، چراغ بی بی کے پیٹ سے پیدا ہوئے تھے، اور یہ بھی سب جانتے ہیں کہ عورت کے پیٹ کا نام ’’آسمان‘‘ نہیں، لہٰذا مرزا صاحب مسیح نہ ہوئے۔
۵: … حضرت مسیح علیہ السلام کے کارنامے:
آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے جس مسیح کے آنے کی خبر دی اور جنہیں سلام پہنچانے کا حکم فرمایا، ان کے کارنامے بڑی تفصیل سے اُمت کو بتائیے، مثلاً صحیح بخاری کی حدیث میں ہے:
’’وَالَّذِیْ نَفْسِیْ بِیَدِہٖ! لَیُوْشِکَنَّ اَنْ یَّنْزِلَ فِیْکُمْ اِبْنُ مَرْیَمَ حَکَمًا عَدْلًا فَیُکْسِرُ الصَّلِیْبَ وَیَقْتُلُ الْخِنْزِیْرَ وَیَضَعُ الْحَرْبَ۔‘‘
(صحیح بخاری ج:۱ ص:۴۹۰)
ترجمہ: … ’’قسم ہے اس ذات کی جس کے قبضے میں میری جان ہے! کہ عنقریب تم میں حضرت عیسیٰ بن مریم حاکمِ عادل کی حیثیت سے نازل ہوں گے، پس صلیب کو توڑ دیں گے، خنزیر کو قتل
276
کردیں گے اور لڑائی موقوف کردیں گے۔‘‘
اس حدیث میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے بعد اَز نزول متعدّد کارنامے مذکور ہیں، ان کی مختصر تشریح کرنے سے پہلے لازم ہے کہ ہم اس حقیقت کو من وعن تسلیم کرنے کے لئے تیار ہوں جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے قسم کھاکر بیان فرمائی ہے۔ کیونکہ قسم اسی جگہ کھائی جاتی ہے، جہاں اس حقیقت کو شک و شبہ کی نظر سے دیکھا جاتا ہو، یا وہ مخاطبین کو کچھ اعجوبہ اور اچنبھا معلوم ہوتی ہو، اور اسے بغیر کسی تأویل کے تسلیم کرنے پر آمادہ نظر نہ آتے ہوں، قسم کھانے کے بعد جو لوگ اس قسم کو سچا سمجھیں گے وہ اس حقیقت کو بھی تسلیم کریں گے۔ لیکن جو لوگ اس حقیقت کو تسلیم کرنے سے گزیر کریں تو اس کے معنی یہ ہوں گے کہ انہیں قسم کھانے والے کی قسم پر بھی اعتبار نہیں، اور نہ وہ اسے سچا ماننے کے لئے تیار ہیں، یہ بات خود مرزا صاحب کو بھی مُسلَّم ہے، وہ لکھتے ہیں:
’’والقسم یدل علیٰ ان الخبر محمول علی الظاھر، لَا تأویل فیہ ولَا استثناء۔‘‘
(حقیقۃ النبوۃ ص:۱۴)
(قسم اس اَمر کی دلیل ہے کہ خبر اپنے ظاہر پر محمول ہے، اس میں نہ کوئی تأویل ہے اور نہ اِستثناء۔)
الف: … مسیح علیہ السلام کون ہیں؟
آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم قسم کھاکر فرماتے ہیں کہ:
۱: … آنے والے مسیح کا نام عیسیٰ ہوگا، جبکہ مرزا صاحب کا نام غلام احمد تھا، ذرا غور فرمائیے کہ کہاں عیسیٰ اور کہاں غلام احمد؟ ان دونوں ناموں کے درمیان کیا جوڑ؟
۲: … مسیح کی والدہ کا نام مریم صدیقہ ہے، جبکہ مرزا صاحب کی ماں کا نام چراغ بی بی تھا۔
۳: … مسیح علیہ السلام آسمان سے نازل ہوں گے، جبکہ مرزا صاحب نازل نہیں ہوئے۔
277
یہ تینوں خبریں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے حلفاً دی ہیں۔ اور ابھی معلوم ہوچکا ہے کہ جو خبر قسم کھاکر دی جائے اس میں کسی تأویل اور کسی اِستثناء کی گنجائش نہیں ہوتی۔ اب انصاف فرمائیے کہ جو لوگ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی ان حلفیہ خبروں میں تأویل کرتے ہیں کیا ان کو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر اِیمان ہے؟ یا ہوسکتا ہے؟ ہرگز نہیں۔۔۔!
ب: … حاکمِ عادل:
آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت مسیح عیسیٰ بن مریم علیہ السلام کے بارے میں حلفیہ خبر دی ہے کہ وہ حاکمِ عادل کی حیثیت سے تشریف لائیں گے اور ملتِ اِسلامیہ کی سربراہی اور حکومت وخلافت کے فرائض انجام دیں گے۔ اس کے برعکس مرزا صاحب پشتوں سے انگریزوں کے محکوم اور غلام چلے آتے تھے، ان کا خاندان انگریزی سامراج کا ٹوڈی تھا، خود مرزا صاحب کا کام انگریزوں کے لئے مسلمانوں کی جاسوسی کرنا تھا، اور وہ انگریزوں کی غلام پر فخر کرتے تھے، ان کو ایک دن کے لئے بھی کسی جگہ کی حکومت نہیں ملی۔ اس لئے ان پر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد صادق نہیں آتا۔ چنانچہ وہ خود لکھتے ہیں:
’’ممکن ہے اور بالکل ممکن ہے (۱) کہ کسی زمانے میں کوئی ایسا مسیح بھی آجائے جس پر حدیثوں کے ظاہری الفاظ صادق آسکیں، کیونکہ یہ عاجز اس دُنیا کی حکومت اور بادشاہت کے ساتھ نہیں آیا۔‘‘
(ازالہ اوہام ص:۲۰۰)
پس جب مرزا صاحب بقول خود حکومت و بادشاہت کے ساتھ نہیں آئے، اور ان پر فرمانِ نبوی کے الفاظ صادق نہیں آتے، تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشاد کے مطابق وہ مسیح نہ ہوئے۔
ج: … کسرِ صلیب:
سیّدنا عیسیٰ علیہ السلام کی تشریف آوری کا سب سے اہم اور اصل مشن اپنی قوم کی
(۱) صرف ’’ممکن‘‘ نہیں بلکہ قطعی و یقینی، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا حلفیہ بیان پورانہ ہو، ناممکن۔۔۔!
278
اِصلاح کرنا ہے، اور ان کی قوم کے دو حصے ہیں: ایک مخالفین یعنی یہود، اور دُوسرے محبین، یعنی نصاریٰ۔
ان کے نزول کے وقت یہود کی قیادت دجال یہودی کے ہاتھ میں ہوگی، اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام تشریف لاکر سب سے پہلے دجال کو قتل اور یہود کا صفایا کریں گے، (میں اسے آگے چل کر ذِکر کروں گا)۔ ان سے نمٹنے کے بعد آپ اپنی قوم نصاریٰ کی طرف متوجہ ہوں گے، اور ان کی غلطیوں کی اِصلاح فرمائیں گے۔ ان کے اِعتقادی بگاڑ کی ساری بنیاد عقیدۂ تثلیث، کفارہ اور صلیب پرستی پر مبنی ہے، حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی تشریف آوری سے واضح ہوجائے گا کہ وہ بھی دُوسرے انسانوں کی طرح ایک انسان ہیں، لہٰذا تثلیث کی تردید ان کا سراپا وجود ہوگا، کفارہ اور صلیب پرستی کا مدار اس پر ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو ۔۔۔معاذاللہ۔۔۔ سولی پر لٹکایا گیا، حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا بقیدِ حیات ہونا، ان کے عقیدۂ کفارہ اور تقدسِ صلیب کی نفی ہوگی۔ اس لئے تمام عیسائی اسلام کے حلقہ بگوش ہوجائیں گے اور اپنے سارے عقائدِ باطلہ سے توبہ کرلیں گے، اور ایک بھی صلیب دُنیا میں باقی نہیں رہے گی۔
خنزیر خوری ان کی ساری معاشرتی بُرائیوں کی بنیاد تھی، حضرت عیسیٰ علیہ السلام صلیب کو توڑ ڈالیں گے، اور خنزیر کو قتل کریں گے۔ جس سے عیسائیوں کے اِعتقادی اور معاشرتی بگاڑ کی ساری بنیادیں منہدم ہوجائیں گی۔ اور خود نصاریٰ مسلمان ہوکر صلیب کو توڑنے اور خنزیر کو قتل کرنے کا کام کریں گے۔ اور جو شخص صلیبی طاقتوں کا جاسوس ہو، اس کو کسرِ صلیب کی توفیق ہو بھی کیسے سکتی تھی۔۔۔؟
یہ ہے وہ ’’کسرِ صلیب‘‘ جس کو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی تشریف آوری کے ذیل میں حلفاً بیان فرمایا ہے۔
جناب مرزا صاحب کو کسرِ صلیب کی توفیق جیسی ہوئی، وہ کسی بیان کی محتاج نہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ان کی مزعومہ ’’کسرِ صلیب‘‘ کے دور میں عیسائیت کو روزافزوں ترقی ہوئی، خود مرزا صاحب کا بیان ملاحظہ فرمائیے:
279
’’اور جب تیرھویں صدی کچھ نصف سے زیادہ گزرگئی تو یک دفعہ اس دجالی گروہ کا خروج ہوا اور پھر ترقی ہوتی گئی۔ یہاں تک کہ اس صدی کے اَواخر میں بقول پادری ہیکر صاحب پانچ لاکھ تک صرف ہندوستان میں ہی کرسٹان شدہ لوگوں کی نوبت پہنچ گئی اور اندازہ کیا گیا کہ قریباً بارہ سال میں ایک لاکھ آدمی عیسائی مذہب میں داخل ہوجاتا ہے۔‘‘
(ازالہ اوہام ص:۴۹۱)
’’کیا آپ کو معلوم ہے کہ اس وقت ہندوستان میں عیسائیوں کے (۱۳۷) مشن کام کر رہے ہیں، یعنی ہیڈمشن۔ ان کی برانچوں کی تعداد بہت زیادہ ہے۔ ہیڈمشنوں میں اٹھارہ سو سے زائد پادری کام کر رہے ہیں۔ (۴۰۳) اسپتال ہیں، جن میں (۵۰۰) ڈاکٹر کام کر رہے ہیں، (۴۳) پریس ہیں اور تقریباً (۱۰۰) اخبارات مختلف زبانوں میں چھپتے ہیں۔ (۵۱) کالج، (۶۱۷) ہائی اسکول اور (۶۱) ٹریننگ کالج ہیں۔ ان میں ساٹھ ہزار طالبِ علم تعلیم پاتے ہیں۔ مکتی فوج (۱) میں (۳۰۸) یورپین اور (۲۸۸۶) ہندوستانی مناد کام کرتے ہیں۔ ان کے ماتحت (۵۰۷) پرائمری اسکول ہیں جن میں (۱۸۶۷۵) طالبِ علم پڑھتے ہیں، (۱۸) بستیاں اور گیارہ اخبارات ان کے اپنے ہیں، اس فوج کے
(۱) عیسائی مشنریوں نے ایک ’’سیلویشن آرمی‘‘ بنائی ہے، جس کے معنی ہیں ’’نجات دہندہ فوج‘‘ عرفِ عام میں ’’مکتی فوج‘‘ کہلاتی ہے، اس کے آدمی باقاعدہ وردیاں پہنتے ہیں اور اس کے رُموز سے بے خبر مسلمان ملکوں نے اس فوج کو اِرتداد پھیلانے کی کھلی چھٹی دے رکھی ہے۔
280
مختلف اداروں کے ضمن میں (۳۲۹۰) آدمیوں کی پروَرِش ہو رہی ہے۔ اور ان سب کوششوں اور قربانیوں کا نتیجہ یہ ہے کہ کہا جاتا ہے روزانہ (۲۲۴) مختلف مذاہب کے آدمی ہندوستان میں عیسائی ہو رہے ہیں۔ ان کے مقابلے میں مسلمان کیا کر رہے ہیں؟ وہ تو شاید اس کام کو قابلِ توجہ بھی نہیں سمجھتے۔ (یوں بھی یہ چارج مسیح کے سپرد کیا جاچکا تھا، اس لئے مسلمانوں کو اس طرف توجہ کیوں ہوتی؟ ۔۔۔ناقل) احمدی جماعت کو سوچنا چاہئے کہ عیسائیوں کی مشنریوں کی تعداد کے اس قدر وسیع جال کے مقابلے میں اس کی مساعی کی کیا حیثیت ہے، ہندوستان بھر میں ہمارے دو درجن مبلغ ہیں اور وہ بھی جن مشکلات میں کام کر رہے ہیں، انہیں بھی ہم خوب جانتے ہیں۔‘‘
دیدۂ عبرت سے ’’الفضل‘‘ کی رپورٹ پڑھئے کہ ۱۹۴۱ء میں (۸۱۷۶۰) اکیاسی ہزار سات سو ساٹھ آدمی سالانہ کے حساب سے صرف ہندوستان میں عیسائی ہو رہے تھے، باقی سب دُنیا کا قصہ الگ رہا۔ اب انصاف سے بتائیے کہ کیا یہی ’’کسرِ صلیب‘‘ تھی جس کی خوشخبری رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم حلفاً دے رہے ہیں؟ اور کیا یہی ’’کاسرِ صلیب‘‘ مسیح ہے جسے سلام پہنچانے کی آپ صلی اللہ علیہ وسلم وصیت فرما رہے ہیں؟ کسوٹی میں نے آپ کے سامنے پیش کردی ہے۔ اگر آپ کھوٹے کھرے کو پَرکھنے کی صلاحیت رکھتے ہیں تو آپ کے ضمیر کو فیصلہ کرنا چاہئے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ’’مسیحِ قادیانی‘‘ کو ’’کاسرِ صلیب‘‘ کہہ کر سلام نہیں بھجوا رہے، وہ کوئی اور ہی مسیح ہوگا جو چند دنوں میں عیسائیت کے آثار رُوئے زمین سے صفایا کردے گا، صلوات اللہ وسلامہ‘ علیہ۔
مرزا صاحب کی کوئی بات تأویلات کی بیساکھیوں کے بغیر کھڑی نہیں ہوسکتی تھی، حالانکہ میں عرض کرچکا ہوں کہ یہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا حلفیہ بیان ہے جس میں تأویلات کی سرے سے گنجائش ہی نہیں، اسی لئے مرزا صاحب نے ’’کسرِ صلیب‘‘ کے معنی ’’موتِ مسیح کا اعلان‘‘ کرنے کے فرمائے۔ چونکہ مرزا صاحب نے بزعمِ خود مسیح علیہ السلام کو
281
مارکر ۔۔۔نعوذباللہ۔۔۔ یوزا آسف کی قبر واقع محلہ خانیار سرینگر میں انہیں دفن کردیا۔ اس لئے فرض کرلینا چاہئے کہ بس صلیب ٹوٹ گئی، انا ﷲ وانا الیہ راجعون!
مرزا صاحب نے بہت سی جگہ اس بات کو بڑے طمطراق سے بیان کیا ہے کہ میں نے عیسائیوں کا خدا ماردِیا، ایک جگہ لکھتے ہیں کہ:
’’اصل میں ہمارا وجود دو باتوں کے لئے ہے، ایک تو ایک نبی کو مارنے کے لئے، دُوسرا شیطان کو مارنے کے لئے۔‘‘
(ملفوظات ج:۱۰ ص:۶۰)
اگر اللہ تعالیٰ نے کسی کو عقل وفہم کی دولت عطا فرمائی ہے تو اسے سوچنا چاہئے کہ ہندوستان میں عیسائیوں کے خدا کو مارنے کا سہرا ’’سر سیّد‘‘ کے سر پر ہے، جس زمانے میں مرزا صاحب حیاتِ مسیح کا عقیدہ رکھتے تھے اور ’’براہین احمدیہ‘‘ میں صفحہ:۴۹۸، ۴۹۹، ۵۰۵ میں قرآنِ کریم کی آیات اور اپنے اِلہامات کے حوالے دے کر حیاتِ مسیح ثابت فرماتے تھے، سرسیّد بزعمِ خود اسی وقت عیسیٰ علیہ السلام کی موت ۔۔۔نعوذباللہ۔۔۔ از رُوئے قرآن ثابت کرچکے تھے۔ حکیم نورالدین، مولوی عبدالکریم، مولوی محمد احسن امروہوی اور کچھ جدید تعلیم یافتہ طبقے سرسیّد کے نظریات سے متأثر ہوکر وفاتِ مسیح کے قائل تھے۔ اس لئے اگر وفاتِ مسیح ثابت کرنا ’’کسرِ صلیب‘‘ ہے تو ’’مسیحِ موعود‘‘ اور ’’کاسرِ صلیب‘‘ کا خطاب مرزا صاحب کو نہیں بلکہ سرسیّد احمد خان کو ملنا چاہئے۔
اور اس بات پر بھی غور فرمائیے کہ عیسائیوں کی صلیب پرستی اور کفارے کا مسئلہ صلیب کے اس تقدس پر مبنی ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام ۔۔۔نعوذباللہ۔۔۔ صلیب پر لٹکائے گئے، اور اس نکتے کو مرزا صاحب نے خود تسلیم کرلیا۔ مرزا صاحب کو عیسائیوں سے صرف اتنی بات میں اختلاف ہے کہ عیسیٰ علیہ السلام صلیب پر نہیں مرے، بلکہ کالمیت (مردہ کی مانند) ہوگئے تھے اور بعد میں اپنی طبعی موت مرے۔
بہرحال مرزا صاحب کو عیسیٰ علیہ السلام کا صلیب پر لٹکایا جانا بھی مُسلَّم اور ان کا فوت ہوجانا بھی مُسلَّم، اس سے تو عیسائیوں کے عقیدہ و تقدسِ صلیب کی تائید ہوئی نہ کہ
282
’’کسرِ صلیب‘‘۔
اس کے برعکس اسلام یہ کہتا ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے صلیب پر لٹکائے جانے کا افسانہ ہی یہودیوں کا خودتراشیدہ ہے، جسے عیسائیوں نے اپنی جہالت سے مان لیا ہے۔ ورنہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام نہ صلیب پر لٹکائے گئے، اور نہ صلیب کے تقدس کا کوئی سوال پیدا ہوتا ہے، اور یہی وہ حقیقت ہے جو حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے نزول پر کھلے گی، اور دونوں قوموں پر ان کی غلطی واضح ہوجائے گی۔ جس کے لئے نہ مناظروں اور اِشتہاروں کی ضرورت ہوگی نہ ’’لندن کانفرنسوں‘‘ کی، حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا وجودِ سامی ان کے عقائد کے غلط ہونے کی خود دلیل ہوگا۔
د: … لڑائی موقوف، جزیہ بند:
صحیح بخاری کی مندرجہ بالا حدیث میں حضرت مسیح علیہ السلام کا ایک کارنامہ ’’یضع الحرب‘‘ بیان فرمایا ہے، یعنی وہ لڑائی اور جنگ کو ختم کردیں گے۔ اور دُوسری روایات میں اس کی جگہ ’’ویضع الجزیۃ‘‘ کے لفظ ہیں، یعنی جزیہ موقوف کردیں گے۔
مرزا صاحب نے اپنی کتابوں میں بے شمار جگہ اس اِرشادِ نبوی کے حوالے سے انگریزی حکومت کی دائمی غلامی اور ان کے خلاف جہاد کو حرام قرار دِیا۔ حالانکہ حدیثِ نبوی کا منشا یہ تھا کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے نزول کے بعد لوگوں کے مذہبی اور نفسانی اختلافات مٹ جائیں گے (جیسا کہ آگے ’’زمانے کا نقشہ‘‘ کے ذیل میں آتا ہے)، اس لئے نہ لوگوں کے درمیان کوئی عداوت و کدورت باقی رہے گی، نہ جنگ و جدال۔ اور چونکہ تمام مذاہب مٹ جائیں گے، اس لئے جزیہ بھی ختم ہوجائے گا۔
ادھر مرزا صاحب کی سبزقدمی سے اب تک دو عالمی جنگیں ہوچکی ہیں، روزانہ کہیں نہ کہیں جنگ جاری ہے، اور تیسری عالمی جنگ کی تلوار اِنسانیت کے سروں پر لٹک رہی ہے، اور مرزا صاحب جزیہ تو کیا بند کرتے، وہ اور ان کی جماعت آج تک خود غیرمسلم قوتوں کی باج گزار ہے۔ اب انصاف فرمائیے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت
283
مسیح علیہ السلام کی جو یہ علامت حلفاً بیان فرمائی ہے کہ ان کے زمانے میں لڑائی بند ہوجائے گی اور جزیہ موقوف ہوجائے گا، کیا یہ علامت مرزا صاحب میں پائی گئی؟ اگر نہیں، اور یقینا نہیں، تو مرزا صاحب کو مسیح ماننا کتنی غلط بات ہے۔۔۔!
ہ: … قتلِ دجال:
سیّدنا عیسیٰ علیہ السلام کا ایک عظیم الشان کارنامہ ’’قتلِ دجال‘‘ ہے۔ احادیثِ طیبہ کی روشنی میں دجال کا مختصر قصہ یہ ہے کہ وہ یہود کا رئیس ہوگا، اِبتدا میں نیکی و پارسائی کا اِظہار کرے گا، پھر نبوّت کا دعویٰ کرے گا اور بعد میں خدائی کا۔ (فتح الباری ج:۱۳ص:۷۹) وہ آنکھ سے کانا ہوگا، ماتھے پر ’’کافر‘‘ یا (ک،ف،ر) لکھا ہوگا، جسے ہر خواندہ و ناخواندہ مسلمان پڑھے گا، اس نے اپنی جنت و دوزخ بھی بنا رکھی ہوگی (مشکوٰۃ ص:۴۷۳)۔ اِصفہان کے ستر ہزار یہودی اس کے ہمراہ ہوں گے (مشکوٰۃ ص:۴۷۵)۔ شام و عراق کے درمیان سے خروج کرے گا، اور دائیں بائیں فساد پھیلائے گا، چالیس دن تک زمین میں اودھم مچائے گا، ان چالیس دنوں میں سے پہلا دن ایک سال کے برابر ہوگا، دُوسرا ایک ماہ کے برابر، تیسرا ایک ہفتے کے برابر، اور باقی ۳۶ دن معمول کے مطابق ہوں گے۔ ایسی تیزی سے مسافت طے کرے گا جیسے ہوا کے پیچھے بادل ہوں۔
(مشکوٰۃ ص:۴۷۳)
لوگ اس کے خوف سے بھاگ کر پہاڑوں میں چلے جائیں گے۔ حق تعالیٰ کی طرف سے اس کو فتنہ و اِستدراج دِیا جائے گا۔ اس کے خروج سے پہلے تین سال ایسے گزریں گے کہ پہلے سال ایک تہائی بارش اور ایک تہائی غلے کی کمی ہوجائے گی، دُوسرے سال دوتہائی کی کمی ہوگی اور تیسرے سال نہ بارش کا قطرہ برسے گا اور نہ زمین میں کوئی روئیدگی ہوگی۔ اس شدّتِ قحط سے حیوانات اور درندے تک مریں گے۔ جو لوگ دجال پر اِیمان لائیں گے ان کی زمینوں پر بارش ہوگی اور ان کی زمین میں روئیدگی ہوگی، ان کے چوپائے کوکھیں بھرے ہوئے چراگاہ سے لوٹیں گے، اور جو لوگ اس کو نہیں مانیں گے، وہ مفلوک الحال ہوں گے، ان کے سب مال مویشی تباہ ہوجائیں گے۔
(مشکوٰۃ ص:۴۷۳، ۴۷۷)
284
دجال ویرانے پر سے گزرے گا تو زمین کو حکم دے گا کہ: ’’اپنے خزانے اُگل دے!‘‘ چنانچہ خزانے نکل کر اس کے ہمراہ ہولیں گے۔
(مشکوٰۃ ص:۴۷۳)
ایک دیہاتی اَعرابی سے کہے گا کہ: ’’اگر میں تیرے اُونٹ کو زندہ کردُوں تو مجھے مان لے گا؟‘‘ وہ کہے گا: ’’ضرور!‘‘ چنانچہ شیطان اس کے اُونٹوں کی شکل میں سامنے آئیں گے اور وہ سمجھے گا کہ واقعی اس کے اُونٹ زندہ ہوگئے ہیں، اور اس شعبدے کی وجہ سے دجال کو خدا مان لے گا۔
اسی طرح ایک شخص سے کہے گا کہ: ’’اگر میں تیرے باپ اور بھائی زندہ کردُوں تو مجھے مان لے گا؟‘‘ وہ کہے گا: ’’ضرور!‘‘ چنانچہ اس کے باپ اور بھائی کی قبر پر جائے گا تو شیاطین اس کے باپ اور بھائی کی شکل میں سامنے آکر کہیں گے: ’’ہاں! یہ خدا ہے، اسے ضرور مانو!‘‘
(مشکوٰۃ ص:۴۷۷)
اس قسم کے بے شمار شعبدوں سے وہ اللہ تعالیٰ کی مخلوق کو گمراہ کرے گا، اور اللہ تعالیٰ کے خاص مخلص بندے ہی ہوں گے جو اس کے دجل و فریب اور شعبدوں اور کرشموں سے متأثر نہیں ہوں گے۔ اس لئے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے وصیت فرمائی کہ جو شخص خروجِ دجال کی خبر سنے، اس سے دُور بھاگ جائے۔
(مشکوٰۃ ص:۴۷۷)
بالآخر دجال اپنے لاؤ ولشکر سمیت مدینہ طیبہ کا رُخ کرے گا، مگر مدینہ طیبہ میں داخل نہیں ہوسکے گا، بلکہ اُحد پہاڑ سے پیچھے پڑاؤ کرے گا، پھر اللہ تعالیٰ کے فرشتے اس کا رُخ ملکِ شام کی طرف پھیردیں گے، اور وہیں جاکر وہ ہلاک ہوگا۔
(مشکوٰۃ ص:۴۷۵)
دجال جب شام کا رُخ کرے گا تو اس وقت حضرت اِمام مہدی علیہ الرضوان قسطنطنیہ کے محاذ پر نصاریٰ سے مصروفِ جہاد ہوں گے، خروجِ دجال کی خبر سن کر ملکِ شام کو واپس آئیں گے، اور دجال کے مقابلے میں صف آرا ہوں گے، نمازِ فجر کے وقت، جبکہ نماز کی اِقامت ہوچکی ہوگی، عیسیٰ علیہ السلام نزول فرمائیں گے۔ حضرت مہدی علیہ الرضوان حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو نماز کے لئے آگے کریں گے، اور خود پیچھے ہٹ آئیں گے، مگر حضرت عیسیٰ علیہ السلام انہی کو نماز پڑھانے کا حکم فرمائیں گے (مشکوٰۃ ص:۴۸۰)۔ نماز
285
سے فارغ ہوکر حضرت عیسیٰ علیہ السلام دجال کے مقابلے کے لئے نکلیں گے، وہ آپ کو دیکھتے ہی بھاگ کھڑا ہوگا، اور سیسے کی طرح پگھلنے لگے گا، آپ ’’بابِ لُد‘‘ پر (جو اس وقت اسرائیلی مقبوضات میں ہے) اسے جالیں گے اور اسے قتل کردیں گے۔
(مشکوٰۃ ص:۴۷۳)
اِمام ترمذیؒ، حضرت مجمع بن جاریہ رضی اللہ عنہ کی روایت سے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ ارشاد نقل کرکے کہ: ’’حضرت عیسیٰ علیہ السلام دجال کو بابِ لُد پر قتل کریں گے‘‘ فرماتے ہیں:
’’اس باب میں عمران بن حصینؓ، نافع بن عقبہؓ، ابی برزہؓ، حذیفہ بن اُسیدؓ، ابی ہریرہؓ، کیسانؓ، عثمان بن ابی العاصؓ، جابرؓ، ابی اُمامہؓ، ابنِ مسعودؓ، عبداللہ بن عمرؓ، سمرہ بن جندبؓ، نواس بن سمعانؓ، عمر بن عوفؓ، حذیفہ بن یمانؓ (یعنی پندرہ صحابہ) سے احادیث مروی ہیں، یہ حدیث صحیح ہے۔‘‘
(ترمذی ج:۲ ص:۴۸)
یہ ہے وہ دجال جس کے قتل کرنے کی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پیش گوئی فرمائی ہے، اور جس کے قاتل کو سلام پہنچانے کا حکم فرمایا ہے۔
کوئی شخص رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر اِیمان ہی نہ رکھتا ہو تو اس کی بات دُوسری ہے، لیکن جو شخص آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر اِیمان رکھنے کا دعویٰ کرتا ہے، اسے انصاف کرنا چاہئے کہ کیا ان صفات کا دجال کبھی دُنیا میں نکلا ہے؟ اور کیا کسی عیسیٰ ابنِ مریم نے اسے قتل کیا ہے۔۔۔؟
جس طرح مرزا صاحب کی مسیحیت خودساختہ تھی، اسی طرح انہیں دجال بھی مصنوعی تیار کرنا پڑا، چنانچہ فرمایا کہ عیسائی پادریوں کا گروہ دجال ہے، یہ بات مرزا صاحب نے اتنی تکرار سے لکھی ہے کہ اس کے لئے کسی حوالے کی ضرورت نہیں۔
اوّل تو یہ پادری آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے بھی پہلے سے چلے آرہے تھے، اگر یہی دجال ہوتے تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اپنے زمانے ہی میں فرمادیتے کہ یہ دجال ہیں۔ پھر کیا وہ نقشہ اور دجال کی وہ صفات و احوال جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے
286
فرمائے ہیں، ان عیسائی پادریوں میں پائے جاتے ہیں؟
اور اگر مرزا صاحب کی اس تأویل کو صحیح بھی فرض کرلیا جائے تو عقل و انصاف سے فرمایا جائے کہ کیا مرزا صاحب کی مسیحیت سے پادری ہلاک ہوچکے؟ اور اَب دُنیا میں کہیں عیسائی پادریوں کا وجود باقی نہیں رہا؟ یہ تو ایک مشاہدے کی چیز ہے، جس کے لئے قیاس و منطق لڑانے کی ضرورت نہیں۔ اگر مرزا صاحب کا دجال قتل ہوچکا ہے تو پھر دُنیا میں عیسائی پادریوں کی کیوں بھرمار ہے؟ اور دُنیا میں عیسائیت روزافزوں ترقی کیوں کررہی ہے۔۔۔؟
۶: … مسیح علیہ السلام کے زمانے کا عام نقشہ:
آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے بابرکت زمانے کا نقشہ بھی بڑی وضاحت و تفصیل سے بیان فرمایا ہے۔ اِختصار(۱) کے مدِ نظر میں یہاں بطورِ نمونہ صرف ایک حدیث کا ترجمہ نقل کرتا ہوں، جسے مرزا محمود احمد صاحب نے حقیقۃ النبوۃ کے صفحہ:۱۹۲ پر نقل کیا ہے، یہ ترجمہ بھی خود مرزا محمود احمد صاحب کے قلم سے ہے۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں:
’’انبیاء علاتی بھائیوں کی طرح ہوتے ہیں، ان کی مائیں تو مختلف ہوتی ہیں، اور دِین ایک ہوتا ہے، اور میں عیسیٰ ابنِ مریم سے سب زیادہ تعلق رکھنے والا ہوں، کیونکہ اس کے اور میرے درمیان کوئی نبی نہیں، اور وہ نازل ہونے والا ہے، پس جب اسے دیکھو تو پہچان لو کہ وہ درمیانہ قامت، سرخی سفیدی ملا ہوا رنگ، زرد کپڑے پہنے ہوئے، اس کے سر سے پانی ٹپک رہا ہوگا، گو سر پر پانی ہی نہ ڈالا ہو۔ اور وہ صلیب کو توڑ دے گا اور خنزیر کو قتل کردے گا اور جزیہ ترک کردے گا، اور لوگوں کو اِسلام کی طرف دعوت دے گا۔ اس
(۱) تفصیل کے لئے دیکھئے: مشکوٰۃ ’’باب العلامۃ بین ید الساعۃ‘‘۔
287
کے زمانے میں سب مذاہب ہلاک ہوجائیں گے، اور صرف اسلام ہی رہ جائے گا، اور شیر اُونٹوں کے ساتھ، چیتے گائے بیلوں کے ساتھ، بھیڑیے بکریوں کے ساتھ چرتے پھریں گے، اور بچے سانپوں سے کھیلیں گے اور وہ ان کو نقصان نہ دیں گے۔ عیسیٰ بن مریم چالیس سال زمین پر رہیں گے اور پھر وفات پاجائیں گے اور مسلمان ان کے جنازے کی نماز پڑھیں گے۔‘‘
اس حدیث کو بار بار بنظرِ عبرت پڑھا جائے، کیا مرزا صاحب کے زمانے کا یہی نقشہ ہے؟ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ لڑائی بند ہوجائے گی، مگر اخباری رپورٹ کے مطابق اس صدی میں صرف ۲۴ دن ایسے گزرے ہیں جب زمین انسانی خون سے لالہ زار نہیں ہوئی۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے دور میں امن و آشتی کا یہ حال ہوگا کہ دو آدمیوں کے درمیان تو کیا، دو درندوں کے درمیان بھی عداوت نہیں ہوگی۔ مگر یہاں خود مرزا صاحب کی جماعت میں عداوت ونفرت کے شعلے بھڑک رہے ہیں، دُوسروں کی تو کیا بات ہے۔۔۔!
۷: … دُنیا سے بے رغبتی اور اِنقطاع الی اللہ:
صحیح بخاری شریف کی حدیث ۔۔۔جس کا حوالہ پہلے گزر چکا ہے۔۔۔ کے آخر میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بھی فرمایا ہے کہ عیسیٰ علیہ السلام کے زمانے میں مال سیلاب کی طرح بہ پڑے گا، یہاں تک کہ اسے کوئی قبول نہیں کرے گا، حتیٰ کہ ایک سجدہ دُنیا ومافیہا سے بہتر ہوگا۔
(صحیح بخاری ج:۱ ص:۴۹)
اس کی وجہ یہ ہوگی کہ ایک تو حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی تشریف آوری سے دُنیا کو قیامت کے قریب آلگنے کا یقین ہوجائے گا، اس لئے ہر شخص پر دُنیا سے بے رغبتی اور اِنقطاع الی اللہ کی کیفیت غالب آجائے گی، اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی صحبتِ کیمیااثر اس جذبے کو مزید جلا بخشے گی۔ دُوسرے، زمین اپنی تمام برکتیں اُگل دے گی اور فقر وافلاس کا
288
خاتمہ ہوجائے گا، حتیٰ کہ کوئی شخص زکوٰۃ لینے والا بھی نہیں رہے گا۔ اس لئے مالی عبادات کے بجائے نماز ہی ذریعۂ تقرّب رہ جائے گی اور دُنیا ومافیہا کے مقابلے میں ایک سجدے کی قیمت زیادہ ہوگی۔
جناب مرزا صاحب کے زمانے میں اس کے بالکل برعکس حرص اور لالچ کو ایسی ترقی ہوئی کہ جب سے دُنیا پیدا ہوئی ہے، اتنی ترقی اسے شاید کبھی نہیں ہوئی ہوگی۔
حرفِ آخر
چونکہ آنجناب نے حضرت مسیح علیہ السلام کے بارے میں خدا اور رسول کی مخالفت ترک کرنے کی اس ناکارہ کو فہمائش کی ہے، اس لئے میں جناب سے اور آپ کی وساطت سے آپ کی جماعت اور جماعت کے اِمام جناب مرزا ناصر احمد صاحب سے اپیل کروں گا کہ خدا اور رسول کے فرمودات کو سامنے رکھ کر مرزا صاحب کی حالت پر غور فرمائیں۔ اگر مرزا صاحب مسیح ثابت ہوتے ہیں تو بے شک ان کو مانیں، اور اگر وہ معیارِ نبوی پر پورے نہیں اُترتے تو ان کو ’’مسیحِ موعود‘‘ ماننا خدا اور رسول کی مخالفت اور اپنی ذا ت سے صریح بے انصافی ہے، اب چونکہ پندرھویں صدی کی آمد آمد ہے، (۱) ہمیں نئی صدی کے نئے مجدّد کے لئے منتظر رہنا چاہئے۔ اور مرزا صاحب کے دعوے کو غلط سمجھتے ہوئے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمودات کی تصدیق کرنی چاہئے، کیونکہ خود مرزا صاحب کا ارشاد ہے:
’’اگر میں نے اسلام کی حمایت میں وہ کام کردِکھایا جو مسیحِ موعود اور مہدیٔ موعود کو کرنا چاہئے، تو پھر میں سچا ہوں، اور اگر کچھ نہ ہوا اور میں مرگیا تو پھر سب گواہ رہیں کہ میں جھوٹا ہوں۔
(۱) یہ خط ۱۳۹۹ھ کے وسط میں آج سے بارہ سال پہلے لکھا گیا تھا، آج پندرھویں صدی کے بھی دس سال گزرچکے ہیں، اور چودھویں صدی کے ختم ہونے سے مرزا غلام احمد کا دعویٰ قطعاً غلط ثابت ہوچکا ہے۔
289
پس اگر مجھ سے کروڑ نشان بھی ظاہر ہوں اور یہ علتِ غائی ظہور میں نہ آوے تو میں جھوٹا ہوں۔‘‘
(مرزا صاحب کا خط بنام قاضی نذر حسین، مندرجہ اخبار ’’بدر‘‘ ۱۹؍جولائی ۱۹۰۲ء)
جناب مرزا صاحب کا آخری فقرہ آپ کے پورے خط کا جواب ہے۔
پیش گوئیوں کی، بلند آہنگ دعووں کی، اشعار کی، رسالوں کی، کتابوں کی، پریس کانفرنسوں کی، پریس (وغیرہ وغیرہ) کی صداقت و حقانیت کے بازار میں کوئی قیمت نہیں ہے، دیکھنے کی چیز وہ معیارِ نبوی ہے جو حضرت مسیح علیہ السلام کی تشریف آوری کے لئے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اُمت کو عطا فرمایا۔ اگر مرزا صاحب ہزار تأویلوں کے باوجود بھی اس معیارِ صداقت پر پورے نہیں اُترتے تو اگر آپ ان کی حقانیت پر ’’کروڑ نشان‘‘ بھی پیش کردیں تب بھی نہ وہ ’’مسیحِ موعود‘‘ بنتے ہیں اور نہ ان کو مسیحِ موعود کہنا جائز ہے۔ میں جناب کو دعوت دیتا ہوں کہ مرزا صاحب کے دعاوی سے دست بردار ہوکر فرموداتِ نبوی پر اِیمان لائیں، حق تعالیٰ آپ کو اس کا اَجر دیں گے، اور اگر آپ نے اس سے اِعراض کیا تو مرنے کے بعد اِن شاء اللہ حقیقت کھل کر سامنے آجائے گی۔
-
ستعلم لیلٰی ای دین تداینت
وای غریم فی التقاضی غریمھا
وَالْحَمْدْ ِللہِ اَوَّلًا وَّآخِرًا
فقط والدعا
محمد یوسف عفا اللہ عنہ
290
مرزا غلام احمد قادیانی کا مقدمہ
عقل و انصاف کی عدالت میں
مقدمہ
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ
اَلْحَمْدُ لِلہِ وَسَلَامٌ عَلٰی عِبَادِہِ الَّذِیْنَ اصْطَفٰی!
مرزا غلام احمد قادیانی ۱۸۹۱ء تک اس اِسلامی عقیدے کا اِظہار کرتا رہا کہ قربِ قیامت میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام آسمان سے نازل ہوں گے، لیکن ۱۸۹۱ء میں اس نے یہ دعویٰ کیا کہ اسے ’’خاص اِلہام‘‘ کے ذریعے بتایا گیا ہے کہ ’’مسیح ابنِ مریم رسول اللہ فوت ہوچکا ہے، اور اس کے رنگ میں ہوکر وعدے کے موافق ُتو آیا ہے۔‘‘
(تذکرہ، طبع سوم ص:۱۸۳، اِزالہ اوہام ص:۵۶۱، ۵۶۲)
مرزا صاحب نے اس اِلہام کی بنیاد پر اِسلامی عقیدے سے اِنحراف کرتے ہوئے مسیح علیہ السلام کے فوت ہوجانے اور اپنے ’’مسیحِ موعود‘‘ ہونے کا اِعلان کردیا۔ زیرِ نظر رسالے میں مرزا صاحب کے اس اِنحراف کے خلاف اہلِ عقل وفہم کی ’’عدالتِ اِنصاف‘‘ میں مقدمہ دائر کرکے ان سے دیانت دارانہ فیصلے کی درخواست کی گئی ہے۔
رسالہ ایک اِبتدائیہ، چھ ابواب اور ایک خاتمہ پر مشتمل ہے۔
✨ : … اِبتدائیہ میں اس مقدمے کے تمہیدی اُمور درج ہیں۔
✨ : … بابِ اوّل میں قرآنِ کریم، حدیثِ متواتر، اِجماعِ اُمت اور مدعاعلیہ
291
کے اِلہامات کے حوالے دئیے گئے ہیں، جن کی بنا پر مدعاعلیہ اِسلامی عقیدہ (حیات و نزولِ مسیح علیہ السلام) کا اِعلان و اِظہار کرتا تھا۔
✨ : … بابِ دوم میں مدعاعلیہ کے اسلامی عقیدے سے اِنحراف کی تفصیل درج ہے۔
✨ : … بابِ سوم میں مدعاعلیہ کے تبدیلیٔ عقائد کی اِلہامی بنیاد پر بحث کی گئی ہے۔
✨ : … بابِ چہارم میں مدعاعلیہ کی ان عذر تراشیوں پر گفتگو کی گئی ہے جو اس نے اپنے سابقہ عقیدے پر قائم رہنے کے بارے میں پیش کیں۔
✨ : … بابِ پنجم میں ان گل افشانیوں کا ذِکر ہے جو مدعاعلیہ نے اپنے سابقہ اسلامی عقیدے کے بارے میں کیں۔
✨ : … بابِ ششم میں مدعاعلیہ کے دو تعلّی آمیز دعووں کا ذِکر ہے جن سے مدعاعلیہ کے بارے میں اہلِ عقل کو صحیح فیصلے کرنے میں مدد ملے گی۔
✨ : … خاتمہ میں اس فیصلے کا حوالہ دیا گیا ہے جو اَحکم الحاکمین کی عدالت نے مدعاعلیہ کے بارے میں صادر فرمایا۔
اس رسالے کی تالیف سے مقصود مدعاعلیہ کی جماعت کی خیرخواہی ہے، کہ اگر توفیقِ اِلٰہی دستگیری فرمائے تو یہ حضرات فہم واِنصاف سے کام لیں، مدعاعلیہ کے بارے میں صحیح فیصلہ کرکے آخرت کے عذاب اور قہرِ اِلٰہی سے بچ جائیں، اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی اُمت کے ساتھ جنت میں جانے والے بن جائیں۔
مؤلف کو معلوم ہے کہ مذہبی تعصب، گروہی عصبیت اور شخصی مفادات، دیانت واِنصاف کے راستے میں دیوار بن کر کھڑے ہوجاتے ہیں، اور دیانت دارانہ فیصلے کی راہ میں رُکاوٹ بن جاتے ہیں، تاہم میں اپنے مخاطب حضرات سے خیرخواہانہ اِلتجا کروں گا کہ عقیدے کی تصحیح ہر شخص کا اوّلین فریضہ ہے، کل فردائے قیامت میں ہر شخص کو داورِ محشر کی عدالت میں پیش ہونا ہے، وہاں ہر شخص اپنا نامۂ عمل ہاتھ میں لئے حاضر ہوگا، نہ اَعوان واَنصار مدد کے لئے موجود ہوں گے، نہ چرب زبانی کام دے گی، نہ تأویلات وتسویلات
292
کام آئیں گی۔ ہر شخص کو اپنے عقیدہ وعمل کے بارے میں خود جوابدہی کرنی ہوگی۔ مؤلفِ رسالہ ان تمام حضرات سے، جن میں فہم واِنصاف کی کوئی رمق باقی ہے، نہایت خیرخواہی ودِل سوزی کے ساتھ درخواست کرتا ہے کہ جو حقائق اس رسالے میں پیش کئے گئے ہیں، ان پر غور فرماکر آج اپنے عقائد واعمال کا میزانیہ دُرست فرمالیں، تاکہ کل داورِ محشر کے سامنے آپ کو شرمندہ نہ ہونا پڑے۔
آخر میں دُعا کرتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ ہم سب کو صراطِ مستقیم کی ہدایت سے نوازیں، اپنے اِنعام یافتہ بندوں کی راہ پر مرتے دم تک قائم رہنے کی توفیق عطا فرمائیں، اور ہر ضلالت وگمراہی سے ہماری حفاظت فرمائیں۔
وَآخِرُ دَعْوَانَا اَنِ الْحَمْدُ ِﷲِ رَبِّ الْعَالَمِیْنَ
وَصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی خَیْرِ خَلْقِہٖ صَفْوَۃِ الْبَرِیَّۃِ سَیِّدِنَا مُحَمَّدٍ
النَّبِیِّ الْاُمِّیِّ وَآلِہٖ وَصَحْبِہٖ اَجْمَعِیْنَ۔
محمد یوسف لدھیانوی
خادم مجلس تحفظ ختمِ نبوّت
۷؍۱؍۱۴۱۷ھ
بروز شنبہ
293
اِبتدائیہ
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ
اَلْحَمْدُ لِلہِ وَسَلَامٌ عَلٰی عِبَادِہِ الَّذِیْنَ اصْطَفٰی!
مرزا غلام احمد قادیانی کا دعویٰ ہے کہ وہ مسیحِ موعود ہے، اور اس کے دعوے کی اصل بنیاد حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی حیات و وفات کا مسئلہ ہے، یعنی اگر قرآن وحدیث سے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی حیات کا عقیدہ ثابت ہو تو مرزا صاحب کا دعویٰ غلط ہے، اور اگر وفاتِ عیسیٰ کا عقیدہ ثابت ہو تو مرزا صاحب کا دعویٰ زیرِ بحث آسکتا ہے۔ چنانچہ مرزا صاحب لکھتے ہیں:
’’ایسے شخص کی نسبت، جو مخالفِ قرآن اور حدیث کوئی اِعتقاد رکھتا ہے، ولایت کا گمان ہرگز نہیں کرسکتے، بلکہ وہ دائرۂ اسلام سے خارج سمجھا جاتا ہے، اور اگر وہ کوئی نشان بھی دِکھاوے تو وہ نشان کرامت متصوّر نہیں ہوتا، بلکہ اس کو اِستدراج کہا جاتا ہے۔ اس صورت میں صاف ظاہر ہے کہ سب سے پہلے بحث کے لائق وہی اَمر ہے جس سے یہ ثابت ہوجائے کہ قرآن وحدیث اس دعوے کے مخالف ہیں، اور وہ اَمر مسیح ابنِ مریم کی وفات کا مسئلہ ہے، کیونکہ ہر شخص سمجھ سکتا ہے کہ اگر درحقیقت قرآنِ حکیم اور اَحادیثِ صحیحہ کی رُو سے حضرت مسیح علیہ السلام کی حیات ہی ثابت ہوتی ہے تو اس صورت میں پھر اگر یہ عاجز مسیحِ موعود ہونے کے دعوے پر ایک نشان کیا بلکہ لاکھ نشان بھی دِکھاوے تب بھی وہ نشان قبول کرنے کے لائق نہیں
294
ہوں گے، کیونکہ قرآن ان کی مخالف شہادت دیتا ہے، غایت کار وہ اِستدراج سمجھے جائیں گے، لہٰذا سب سے اوّل بحث جو ضروری ہے، مسیح ابنِ مریم کی وفات یا حیات کی بحث ہے، جس کا طے ہوجانا ضروری ہے، کیونکہ مخالف قرآن وحدیث کے نشانوں کا ماننا مؤمن کا کام نہیں، ہاں ان نادانوں کا کام ہے جو قرآن وحدیث سے کچھ غرض نہیں رکھتے۔‘‘
(اشتہار بمقابل مولوی سیّد نذیر حسین صاحب سرکردہ اہل حدیث، مندرجہ مجموعہ اِشتہارات، مطبوعہ لندن ج:۱ ص:۲۳۹)
’’ہمارے اور ہمارے مخالفین کے صدق وکذب آزمانے کے لئے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی وفات حیات ہے، اگر حضرت عیسیٰ درحقیقت زِندہ ہیں تو ہمارے سب دعوے جھوٹے اور سب دلائل ہیچ ہیں، اور اگر وہ درحقیقت قرآن کی رُو سے فوت شدہ ہیں تو ہمارے مخالف باطل پر ہیں۔‘‘
(تحفہ گولڑویہ حاشیہ ص:۱۷۸، خزائن ج:۱۷ ص:۲۶۴)
مرزا غلام احمد قادیانی کی یہ دونوں عبارتیں مزید کسی حاشیہ وتخریج کی محتاج نہیں، ان کا صاف صاف مدعا یہ ہے کہ اگر قرآن وحدیث سے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی حیات ثابت ہو تو مرزا صاحب کا دعویٔ مسیحیت سرے سے غلط ہے، اور اس صورت میں مرزا صاحب کو ولی یا مجدّد تو کجا؟ مسلمان بھی تصوّر نہیں کیا جاسکتا، بلکہ اسے دائرۂ اسلام سے خارج تصوّر کیا جائے گا، اور اگر وہ اپنے دعوے کے ثبوت میں لاکھ نشان بھی دِکھائے تو اسے مکر وفریب اور اِستدراج ہی سمجھا جائے گا۔ اور اگر قرآن وحدیث سے یہ ثابت ہو کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام زندہ نہیں، اور نہ انہیں دوبارہ دُنیا میں آنا ہے، تو پھر یہ دیکھنا ہوگا کہ مرزا صاحب کا یا کسی اور مدعیٔ مسیحیت کا دعویٰ کہاں تک صحیح ہے؟ اور اس کے دلائل کیا ہیں؟ الغرض مرزا صاحب کا دعویٰ اسی وقت لائقِ اِلتفات ہوسکتا ہے جبکہ قرآن وحدیث کی روشنی میں اُمتِ اِسلامیہ کو حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی آمدِ ثانی کا اِنتظار نہ رہے۔ لیکن اگر وہی عقیدہ
295
صحیح اور ثابت ہو کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام زندہ ہیں اور وہی دوبارہ تشریف لائیں گے، تو مرزا غلام احمد قادیانی یا کسی اور شخص کے ’’مسیحِ موعود‘‘ بننے کا سوال ہی خارج اَز بحث ہے۔ اس کے باوجود جو لوگ کسی دُوسرے شخص کو ’’مسیحِ موعود‘‘ مانتے ہیں، ان کے بارے میں مرزا صاحب فرماتے ہیں کہ وہ مؤمن نہیں، بلکہ نادان ہیں، جو قرآن اور حدیث سے کوئی غرض نہیں رکھتے۔
مرزا قادیانی کے خلاف اِستغاثہ:
مرزا صاحب کے اس اُصول کو تسلیم کرتے ہوئے میں مسلمانوں کی جانب سے مرزا غلام احمد قادیانی کے خلاف اہلِ عقل ودانش، بالخصوص قادیانی برادری کی عدالتِ اِنصاف میں اِستغاثہ کرنا چاہتا ہوں، اور ان سے درخواست کرتا ہوں کہ وہ اِنفرادی واِجتماعی غور وفکر کے بعد یہ منصفانہ فیصلہ کریں کہ مرزا غلام احمد صاحب کا یہ دعویٰ کہاں تک صحیح ہے کہ عیسیٰ مرگیا؟
اِثباتِ دعویٰ کے دو طریقے:
تمام دُنیا کی عدالتوں میں یہ اُصول مُسلَّم اور رائج ہے کہ کسی دعوے کے ثابت کرنے کی دو صورتیں ہیں، ایک یہ کہ مدعی اپنے دعوے پر ثقہ گواہ پیش کرکے عدالت کو مطمئن کردے۔ اور دُوسری صورت یہ ہے کہ مدعاعلیہ خود عدالت کے رُوبرو مدعی کے دعوے کو صحیح تسلیم کرلے۔ یہ دُوسری صورت اس اعتبار سے زیادہ مفید اور لائقِ وثوق ہوتی ہے کہ اس صورت میں گواہوں کی جرح و تعدیل اور واقعات کی تحقیق و تفتیش میں عدالت کا وقت ضائع نہیں ہوتا، اور عدالت کو شرحِ صدر کے ساتھ فیصلہ کرنے میں مدد ملتی ہے، اس لئے میں اپنے دعوے کے ثبوت میں یہی دُوسرا طریقہ اِختیار کرنا چاہتا ہوں۔
اِستغاثہ کی کہانی!
مرزا غلام احمد قادیانی کے خلاف مسلمانوں کا اِستغاثہ یہ ہے کہ ایک شخص بقیدِ حیات زندہ موجود ہے، مگر مدعاعلیہ مرزا غلام احمد قادیانی نے اس کی موت کا غلط افسانہ اُڑاکر
296
اس کی مسند ومنصب پر خود قبضہ کرلیا ہے۔ جس شخصیت کو مُردہ قرار دے کر مدعاعلیہ نے اس کی جائیداد اپنے نام منتقل کرانے کا فریب کیا ہے، اگر وہ کوئی لاوارث اور گمنام شخصیت ہوتی تو شاید کسی کو مدعاعلیہ کی اس جعل سازی اور غلط کارروائی کی جانب اِلتفات نہ ہوتا، مگر ستم ظریفی تو یہ ہے کہ مدعاعلیہ نے یہ سینہ زوری ایک ایسی شخصیت کے بارے میں روا رکھی ہے جس کے نام سے دُنیا کا بچہ بچہ واقف ہے، جس کا ہم نام پوری انسانی تاریخ میں کوئی دُوسرا نہیں ہوا، اور جس کے کروڑوں نہیں بلکہ اربوں جاںنثار دُنیا میں موجود ہیں، اور وہ شخصیت ہے سیّدنا المسیح عیسیٰ بن مریم صلی اللہ علیٰ نبینا وعلیہ وسلم۔
مسلمانوں کے پاس حضرت مسیح علیہ السلام کے زندہ موجود ہونے کے تین ثقہ گواہ موجود ہیں:
✨ : … اللہ تعالیٰ۔
✨ : … رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم۔
✨ : … اُمتِ اسلامیہ کے لاکھوں اکابر اولیاء اللہ اور مجدّدین۔
لیکن ہم عدالت کا وقت بچانے کی خاطر خود اپنی طرف سے شہادت پیش کرنے کے بجائے خود مدعاعلیہ کا اِقرار عدالت میں پیش کرتے ہیں کہ حضرت عیسیٰ زندہ ہیں اور وہی دوبارہ تشریف لائیں گے۔
بابِ اوّل
حیاتِ مسیح علیہ السلام کا ثبوت، کتاب وسنت، اِجماعِ اُمت
اور مرزا قادیانی کے اِلہامات سے
اس تمہید کے بعد یہ گزارش ہے کہ ہمارے مدعاعلیہ مرزا غلام احمد قادیانی کی زندگی کے دو دور ہیں، جب تک اس نے اپنی مسیحیت کا اِعلان نہیں کیا تھا، اس وقت تک وہ اس بات کا قائل تھا کہ قرآنِ کریم، حدیثِ نبوی اور اِجماعِ اُمت کی رُو سے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی حیات اور دوبارہ تشریف آوری ثابت ہے۔ نیز اس وقت مدعاعلیہ کو حضرت
297
عیسیٰ علیہ السلام کی دوبارہ تشریف آوری کا اِلہام بھی ہوا تھا۔ اس دور میں مدعاعلیہ نے جو اِقراری بیان دئیے تھے، ان کو حسبِ ذیل عنوانات کے تحت ملاحظہ فرمائیے:
✨ : … حیاتِ عیسیٰ علیہ السلام کا ثبوت قرآنِ کریم سے۔
✨ : … حیاتِ عیسیٰ علیہ السلام کا ثبوت اِرشادِ نبوی سے۔
✨ : … حیاتِ عیسیٰ علیہ السلام کا ثبوت اِجماعِ اُمت سے۔
✨ : … حیاتِ عیسیٰ علیہ السلام کا ثبوت مرزا غلام احمد کے اِلہام سے۔
ان چار مباحث کو چار فصلوں میں ذِکر کرتا ہوں:
فصلِ اوّل
حیاتِ عیسیٰ علیہ السلام کا ثبوت، قرآنِ کریم سے
مدعاعلیہ مرزا غلام احمد قادیانی اپنی پہلی اِلہامی کتاب ’’براہین احمدیہ‘‘ میں لکھتا ہے:
’’ھو الذی ارسل رسولہ بالھدٰی ودین الحق لیظھرہ علی الدین کلہ‘‘
’’یہ آیت جسمانی اور سیاستِ ملکی کے طور پر حضرت مسیح کے حق میں پیش گوئی ہے، اور جس غلبۂ کاملہ دِینِ اسلام کا وعدہ دیا گیا ہے کہ وہ غلبہ حضرت مسیح کے ذریعے ظہور میں آئے گا اور جب حضرت مسیح دوبارہ اس دُنیا میں تشریف لائیں گے تو ان کے ہاتھ سے دِینِ اسلام جمیع آفاق اور اَقطار میں پھیل جائے گا ۔۔۔۔۔۔ حضرت مسیح پیش گوئی متذکرہ بالا کا ظاہری اور جسمانی طور پر مصداق ہے۔‘‘
(براہین احمدیہ، حصہ چہارم ص:۴۹۸، ۴۹۹)
اس بیان میں مدعاعلیہ صاف اِقرار کرتا ہے کہ:
✨ : … حضرت مسیح علیہ السلام اس دُنیا میں دوبارہ تشریف لائیں گے۔
298
✨ : … ان کی آمد سے دِینِ اسلام تمام عالم میں پھیل جائے گا اور ان کے ذریعے دِینِ اسلام کو غلبۂ کاملہ نصیب ہوگا۔
✨ : … مدعاعلیہ یہ بھی صاف صاف اِقرار کرتا ہے کہ قرآن کی مندجہ بالا آیتِ کریمہ میں اللہ تعالیٰ نے حضرت مسیح علیہ السلام کی تشریف آوری کی پیش گوئی فرمائی ہے، اور وہی اس پیش گوئی کا ظاہری اور جسمانی طور پر مصداق ہیں۔
اور مدعاعلیہ مرزا غلام احمد قادیانی اپنی آخری تصنیف ’’چشمہ معرفت‘‘ میں ۔۔۔جو اس کی وفات سے دس دن پہلے شائع ہوئی۔۔۔ لکھتا ہے:
’’ھو الذی ارسل رسولہ بالھدٰی ودین الحق لیظھرہ علی الدین کلہ‘‘
’’یعنی خدا وہ خدا ہے جس نے اپنے رسول کو ایک کامل ہدایت اور سچے دِین کے ساتھ بھیجا تاکہ اس کو ہر ایک قسم کے دِین پر غالب کردے، یعنی ایک عالمگیر غلبہ اس کو عطا کرے اور چونکہ وہ عالمگیر غلبہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں ظہور میں نہیں آیا اور ممکن نہیں کہ خدا کی پیش گوئی میں کچھ تخلف ہو، اس لئے اس آیت کی نسبت ان سب متقدمین کا اِتفاق ہے جو ہم سے پہلے گزرچکے ہیں کہ یہ عالمگیر غلبہ مسیحِ موعود کے وقت میں ظہور میں آئے گا۔‘‘
(چشمہ معرفت ص:۸۳، رُوحانی خزائن ج:۲۳ ص:۹۱)
مدعاعلیہ نے اپنی آخری کتاب میں بھی وہی بات لکھی ہے جو سب سے پہلی کتاب میں لکھی تھی کہ اس آیتِ شریفہ میں جس عالمگیر غلبۂ اِسلام کی پیش گوئی کی گئی، وہ حضرت مسیح علیہ السلام کے وقت میں ہوگا، مگر یہاں ہمارے مدعاعلیہ کی اس تحریر میں دو فرق نظر آتے ہیں:
اوّل: … یہ کہ وہ حضرت مسیح علیہ السلام کا نام لکھنے سے شرماتا ہے، اور اس کی جگہ ’’مسیحِ موعود‘‘ کی اِصطلاح اِستعمال کرتا ہے، حالانکہ مدعاعلیہ سے پہلے ’’مسیحِ موعود‘‘ کی
299
اِصطلاح کسی نے اِستعمال نہیں کی۔
دوم: … یہ کہ وہ تیرہ صدیوں کے تمام بزرگانِ دِین اور اکابرِ اُمت کا اِجماع نقل کرتا ہے کہ اس آیت میں جو پیش گوئی کی گئی ہے وہ حضرت مسیح علیہ السلام کے وقت میں پوری ہوگی، اس عبارت سے دو باتیں صاف طور پر ثابت ہوجاتی ہیں:
✨ : … تیرہ صدیوں کے سب اکابر اس پر متفق ہیں کہ آخری زمانے میں حضرت مسیح علیہ السلام تشریف لائیں گے، جن کے ہاتھ سے اسلام تمام آفاق واَقطار میں پھیل جائے گا، اور اِسلام کے سوا تمام مذاہب ختم ہوجائیں گے، اور یہ کہ اس آیت شریفہ میں حضرت مسیح علیہ السلام کی تشریف آوری کی پیش گوئی کی گئی ہے۔
✨ : … ہمارے مدعاعلیہ مرزا غلام احمد قادیانی کے ہاتھ سے اسلام کا یہ عالمگیر غلبہ نہیں ہوا، اس کو مرے ہوئے بھی ایک صدی گزر رہی ہے، لیکن غلبۂ اِسلام کے دُور ونزدیک کوئی آثار نہیں، بلکہ معاملہ اس کے برعکس ہے کہ جب سے مدعاعلیہ نے ’’مسیح‘‘ ہونے کا دعویٰ کیا ہے، اسلام کمزور سے کمزورتر ہو رہا ہے، اور کفر ترقی پذیر ہے، لہٰذا مدعاعلیہ کا ’’مسیحِ موعود‘‘ ہونے کا دعویٰ غلط اور جھوٹ ہے، اور واقعات کا مشاہدہ گواہی دیتا ہے کہ مدعاعلیہ ’’مسیحِ موعود‘‘ نہیں، بلکہ ’’مسیحِ کذّاب‘‘ ہے۔
فصلِ دوم
حیاتِ عیسیٰ علیہ السلام کا ثبوت احادیثِ نبوی سے!
مدعاعلیہ مرزا غلام احمد قادیانی یہ بھی تسلیم کرتا ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے آثارِ مرویہ سے حیاتِ عیسیٰ علیہ السلام کا عقیدہ ثابت ہے، اس لئے اپنے نبی کے آثارِ مرویہ کی پیروی کرتے ہوئے وہ بھی ایک زمانے میں یہی عقیدہ رکھتا تھا۔ معزّز عدالت، مدعاعلیہ کا مندرجہ ذیل بیان بغور ملاحظہ فرمائے:
’’میں نے براہین میں جو کچھ مسیح بن مریم کے دوبارہ دُنیا میں آنے کا ذِکر لکھا ہے، وہ ذِکر صرف ایک مشہور عقیدے کے لحاظ
300
سے ہے جس کی طرف آج کل ہمارے مسلمان بھائیوں کے خیالات جھکے ہوئے ہیں، سو اسی ظاہری اِعتقاد کے لحاظ سے میں نے لکھ دیا تھا کہ میں صرف مثیلِ موعود ہوں اور میری خلافت صرف رُوحانی خلافت ہے، لیکن جب مسیح آئے گا تو اس کی ظاہری اور جسمانی طور پر خلافت ہوگی، یہ بیان جو براہین میں درج ہوچکا ہے صرف اس سرسری پیروی کی وجہ سے ہے، جو ملہم کو قبل از اِنکشاف اصل حقیقت اپنے نبی کے آثارِ مرویہ کے لحاظ سے لازم ہے۔‘‘
(اِزالہ اوہام ص:۸۳، طبع پنجم، رُوحانی خزائن ج:۳ ص:۱۹۶)
مدعاعلیہ کے مندرجہ بالا اِقتباس سے چند باتیں معلوم ہوئیں:
اوّل: … مسلمانوں کا مشہور عقیدہ یہی چلا آتا ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام زندہ ہیں اور وہ بنفسِ نفیس تشریف لائیں گے۔
دوم: … مدعاعلیہ اِقرار کرتا ہے کہ میں نے براہین میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے تشریف لانے اور ظاہری وجسمانی خلافت پر فائز ہونے کا عقیدہ درج کیا ہے۔
سوم: … جب تک مدعاعلیہ پر بذریعہ اِلہام براہِ راست اِلہامی اِنکشاف نہیں ہوا تھا، تب تک اس کا عقیدہ بھی اپنے نبی کے آثارِ مرویہ کی ’’سرسری پیروی‘‘ میں یہی تھا کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام زندہ ہیں اور وہی بنفسِ نفیس تشریف لاکر خلافت پر فائز ہوں گے۔
اس عبارت سے واضح ہے کہ مدعاعلیہ جس شخص کو اس وقت اپنا نبی سمجھتا تھا، یعنی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم، ان کے آثارِ مرویہ اور اَحادیثِ طیبہ میں حضرت مسیح علیہ السلام کی حیات ونزول کا مسئلہ ذِکر فرمایا گیا ہے، جس کی پیروی ہر اس شخص پر لازم ہے جو اپنے کو نبی کا اُمتی مانتا ہو۔ چنانچہ مدعاعلیہ بھی جب تک آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو واجب الاتباع سمجھتا رہا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اِرشادات کے مطابق حضرت مسیح علیہ السلام کی حیات ونزول کا معتقد رہا۔
301
فصلِ سوم
حیاتِ عیسیٰ علیہ السلام کا ثبوت اِجماعِ اُمت سے
مدعاعلیہ یہ بھی تسلیم کرتا ہے کہ تیرہ صدیوں سے نسلاً بعد نسلٍ اور قرناً بعد قرنٍ مسلمانوں کا یہی عقیدہ چلا آتا ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام زندہ ہیں اور کسی زمانے میں وہ خود دوبارہ تشریف لائیں گے۔ گویا مدعاعلیہ مرزا غلام احمد کو اِقرار ہے کہ ہمیشہ سے مسلمانوں کا اِجماعی اور متواتر عقیدہ یہی رہا ہے جو عقیدہ کہ آج اُمتِ اِسلامیہ کا ہے۔ معزّز عدالت، مدعاعلیہ کی حسبِ ذیل تصریحات بغور ملاحظہ فرمائے:
✨ : … ’’ایک دفعہ ہم دِلّی میں گئے تھے، ہم نے وہاں کے لوگوں سے کہا کہ تم نے تیرہ سو برس سے یہ نسخہ اِستعمال کیا کہ حضرت عیسیٰ کو زِندہ آسمان پر بٹھایا، مگر اَب دُوسرا نسخہ ہم بتاتے ہیں، وہ اِستعمال کر کے دیکھو، اور وہ یہ ہے کہ حضرت عیسیٰ کو وفات شدہ مان لو۔‘‘
(ملفوظات ج:۱۰ ص:۳۰۰، مطبوعہ ربوہ)
✨ : … ’’مسیح بن مریم (حضرت عیسیٰ علیہ السلام) کے آنے کی پیش گوئی ایک اوّل درجے کی پیش گوئی ہے جس کو سب نے بالاتفاق قبول کرلیا ہے اور جس قدر صحاح میں پیش گوئیاں لکھی گئی ہیں کوئی پیش گوئی اس کے ہم پہلو اور ہم وزن ثابت نہیں ہوتی، تواتر کا اوّل درجہ اس کو حاصل ہے، اِنجیل بھی اس کی مصدق ہے، اب اس قدر ثبوت پر پانی پھیرنا اور یہ کہنا کہ یہ تمام حدیثیں موضوع ہیں، درحقیقت ان لوگوں کا کام ہے جن کو خدا تعالیٰ نے بصیرت دی اور حق شناسی سے کچھ بھی بخرہ اور حصہ نہیں دیا۔‘‘
(اِزالہ اوہام ص:۲۳۱، طبع پنجم)
✨ : … ’’مسیحِ موعود (عیسیٰ علیہ السلام کی تشریف آوری)
302
کے بارے میں جو اَحادیث میں پیش گوئی ہے وہ ایسی نہیں کہ جس کو صرف اَئمہ حدیث نے چند روایتوں کی بنا پر لکھا ہو بس، بلکہ یہ ثابت ہوگیا ہے کہ یہ پیش گوئی عقیدے کے طور پر اِبتدا سے مسلمانوں کے رگ وریشے میں داخل چلی آتی ہے، گویا جس قدر اس وقت رُوئے زمین پر مسلمان تھے، اسی قدر اس پیش گوئی کی صحت پر شہادتیں موجود تھیں، کیونکہ عقیدے کے طور پر وہ اس کو اِبتدا سے یاد کرتے چلے آتے تھے۔‘‘
(شہادۃ القرآن ص:۸، خزائن ج:۶ ص:۳۰۴)
✨ : … ’’اس اَمر سے کسی کو بھی اِنکار نہیں کہ احادیث میں مسیحِ موعود (عیسیٰ بن مریم کے دوبارہ آنے) کی کھلی کھلی پیش گوئی موجود ہے بلکہ قریباً تمام مسلمانوں کا اس بات پر اِتفاق ہے کہ احادیث کی رُو سے ضرور ایک شخص آنے والا ہے جس کا نام عیسیٰ بن مریم ہوگا۔‘‘
(شہادۃ القرآن ص:۲، رُوحانی خزائن ج:۶ ص:۲۹)
✨ : … ’’یہ خبر مسیحِ موعود (عیسیٰ علیہ السلام) کے آنے کی اس قدر زور کے ساتھ ہر ایک زمانے میں پھیلی ہوئی معلوم ہوتی ہے کہ اس سے بڑھ کر کوئی جہالت نہیں ہوگی کہ اس کے تواتر سے اِنکار کیا جائے۔ میں سچ سچ کہتا ہوں کہ اگر اِسلام کی وہ کتابیں جن کی رُو سے یہ خبر سلسلہ وار شائع ہوتی چلی آئی ہے، صدی وار مرتب کرکے اِکٹھی کی جائیں تو ایسی کتابیں ہزارہا سے کچھ کم نہیں ہوں گی۔‘‘
(شہادۃ القرآن ص:۲، خزائن ج:۶ ص:۲۹۸)
مدعاعلیہ مرزا غلام احمد قادیانی کی ان تصریحات سے واضح ہوا کہ:
✨ : … تیرہ سو سال سے مسلمانوں کا یہی عقیدہ چلا آتا ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام آسمان پر زِندہ ہیں۔ واضح رہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی ہجرت سے مرزا غلام احمد کے دعویٔ مسیحیت تک تیرہ صدیاں ہی گزری تھیں۔
303
✨ : … مسلمان اَباً عن جدٍّ یہی عقیدہ سکھاتے چلے آئے ہیں اور یہ عقیدہ ہمیشہ سے ان کے رگ وریشے میں داخل رہا ہے۔
✨ : … مسلمانوں کا یہ عقیدہ ان اِرشاداتِ نبویہ پر مبنی ہے جن کو تواتر کا اوّل درجہ حاصل ہے۔
✨ : … تیرہ صدیوں کے کل مسلمان اور ان کا ہر ہر فرد اس عقیدے کی صحت کا گواہ رہا ہے۔
✨ : … یہ عقیدہ علمِ عقائد وغیرہ کی ہزارہا اِسلامی کتابوں میں صدی وار اِشاعت پذیر ہوتا رہا ہے۔
✨ : … ایسے متواتر عقیدے سے اِنکار کردینا، یا اس میں شک وشبہ کا اِظہار کرنا سب سے بڑی جہالت اور بصیرتِ دینی اور حق شناسی سے یکسر محرومی کی علامت ہے۔
✨ : … یہاں مدعاعلیہ کے اِلہامی فرزند اور اس کے خلیفہ دوم مرزا کی شہادت بھی پیش کرنا چاہتا ہوں، وہ لکھتے ہیں:
’’پچھلی صدیوں میں قریباً سب دُنیا کے مسلمانوں میں مسیح کے زِندہ ہونے پر اِیمان رکھا جاتا ہے اور بڑے بڑے بزرگ اس عقیدے پر فوت ہوئے ۔۔۔۔۔۔ حضرت مسیحِ موعود (غلام احمد مدعاعلیہ) سے پہلے جس قدر اولیاء صلحاء گزرے، ان میں ایک بڑا گروہ عام عقیدے کے ماتحت حضرت مسیح علیہ السلام کو زِندہ خیال کرتا تھا۔ (صرف بڑا گروہ نہیں، بلکہ بلااِستثناء اُمتِ اِسلامیہ کے ہر ایک فرد کا یہی عقیدہ رہا ہے ۔۔۔ناقل)۔‘‘
(حقیقۃ النبوۃ مصنفہ مرزا محمود ص:۱۴۲)
✨ : … نیز اس ضمن میں لاہوری گروپ کے امیر اور مرزا غلام احمد قادیانی کے پُرجوش مرید مسٹر محمد علی ایم اے کی محمود شہادت بھی ملاحظہ فرمائی جائے:
’’بانی فرقہ احمدیہ (مرزا غلام احمد قادیانی) نے پچاس یا اس سے بھی زیادہ کتابیں پبلک میں شائع کی ہیں، جن تمام میں یا ان
304
میں سے بہت سی کتابوں میں اس نے جہاد کے قطعاً حرام ہونے اور خونی مہدی کے عقائد کے جھوٹے ہونے پر زور دِیا ہے، اگر کوئی خاص اُصول احمدیہ فرقے کا سب سے بڑا قرار دِیا جاسکتا ہے تو وہ دو متذکرہ بالا خطرناک اُصولوں کی، جو تیرہ صدیوں سے مسلمانوں میں چلے آتے تھے، بیخ کنی کرنا ہے۔‘‘
(ریویو آف ریلیجنز جلد:۳ شمارہ:۳ ص:۹۰ بابت ماہ مارچ ۱۹۰۴ء)
مندرجہ بالا حوالوں میں مدعاعلیہ اور اس کے حواریوں کے اِعتراف سے ثابت ہوچکا ہے کہ تیرہ سو سال سے اَباً عن جدٍّ مسلمانوں کا یہی عقیدہ چلا آتا ہے کہ سیّدنا عیسیٰ علیہ السلام آسمان پر زِندہ ہیں اور آخری زمانے میں وہی دوبارہ تشریف لائیں گے، لیکن مدعاعلیہ تیرہ سو سال بعد اُمتِ اِسلامیہ کو مشورہ دیتا ہے کہ وہ ایک متواتر اِسلامی عقیدے کو خیرباد کہہ کر ایک نیا نسخہ آزمائے، جو خود مدعاعلیہ نے تجویز کیا ہے، یا بقول اس کے اس پر منکشف ہوا ہے۔
یہاں میں معزّز عدالت کو اس قانونی نکتے کی طرف متوجہ کرنا چاہتا ہوں کہ کیا کسی مسلمان کو اس کا حق حاصل ہے کہ وہ کوئی نیا عقیدہ اِختیار کرلے؟ معزّز عدالت کو صدیقِ اکبر رضی اللہ عنہ کی پہلی تقریر کا یہ فقرہ یاد ہوگا:
’’لوگو! میں تو صرف پیروی کرنے والا ہوں، نئی بات ایجاد کرنے والا نہیں ہوں۔‘‘
اس اُصول کی روشنی میں ایک مسلمان کو سو بار یہ حق حاصل ہے کہ وہ کسی عقیدے کے بارے میں پوری طرح یہ اِطمینان کرلے کہ آیا یہ عقیدہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ کرامؓ کے دور سے چلا آتا ہے؟ یا خیرالقرون کے بعد کی پیداوار ہے؟ لیکن جب یہ اِطمینان ہوجائے کہ فلاں عقیدہ خیرالقرون سے متواتر چلا آتا ہے تو اس کے بعد کسی مسلمان کو اِس پر اِعتراض کرنے یا اس سے اِنحراف کرنے کا حق حاصل نہیں، جس شخص کو اِسلام کے کسی متواتر عقیدے پر نکتہ چینی کا شوق ہو، اس کا فرض ہے کہ مسلمانوں کی صف سے نکل کر
305
غیرمسلموں کی صف میں کھڑا ہوجائے، اس کے بعد بصد شوق اِسلام کے متواترات و مُسلَّمات کو ہدفِ اِعتراض بنائے۔
ہمارے مدعاعلیہ مرزا غلام احمد قادیانی کی یہ منطق ناقابلِ فہم ہے کہ وہ حیاتِ عیسیٰ کے عقیدے کو تیرہ صدیوں سے متواتر بھی تسلیم کرتا ہے اور پھر اسے تبدیل کرکے ایک نیا نسخہ اِستعمال کرنے کا بھی مشورہ دیتا ہے، حالانکہ وہ یہ اُصول تسلیم کرتا ہے کہ:
’’حدیثوں کا وہ دُوسرا حصہ جو تعامل کے سلسلے میں آگیا اور کروڑہا مخلوقات اِبتدا سے اس پر اپنے عملی طریق سے محافظ اور قائم چلی آئی ہے اس کو ظنی اور شکی کیونکر کہا جائے؟ ایک دُنیا کا مسلسل تعامل جو بیٹوں سے باپوں تک، اور باپوں سے دادا تک، اور دادوں سے پڑدادوں تک بدیہی طور پر مشہور ہوگیا، اور اپنے اصل مبدا تک اس کے آثار اور اَنوار نظر آگئے، اس میں تو ایک ذرّہ گنجائش نہیں رہ سکتی، اور بغیر اس کے اِنسان کو کچھ نہیں بن پڑتا کہ ایسے مسلسل عمل درآمد کو اَوّل درجے کے یقینیات میں سے یقین کرے، پھر جبکہ اَئمہ حدیث نے اس سلسلۂ تعامل کے ساتھ ایک اور سلسلہ قائم کیا، اور اُمورِ تعاملی کا اسناد راست گو اور متدین راویوں کے ذریعے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم تک پہنچادیا تو پھر بھی اس پر جرح کرنا درحقیقت ان لوگوں کا کام ہے جن کو بصیرتِ اِیمانی اور عقلِ انسانی کا کچھ بھی حصہ نہیں ملا۔‘‘
(شہادۃ القرآن ص:۸، رُوحانی خزائن ص:۳۰۴)
آپ مدعاعلیہ کی زبان سے سن چکے ہیں کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا آسمان پر زِندہ ہونا اور پھر دوبارہ کسی وقت دُنیا میں تشریف لانا، اُمتِ اِسلامیہ کا تیرہ سو سال سے متواتر عقیدہ رہا ہے، آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے متواتر اِرشادات میں، جن کو تواتر کا اَوّل درجہ حاصل ہے، یہی عقیدہ بیان ہوا ہے، اور خیرالقرون میں یہ عقیدہ وہاں تک پہنچا ہوا
306
تھا جہاں کہیں ایک مسلمان بھی آباد تھا۔ اِنصاف فرمائیے کہ اس سے بڑھ کر اس عقیدے کی حقانیت کا اور کیا ثبوت پیش کیا جاسکتا ہے؟
اس کے بعد بھی جو شخص اس عقیدے پر زبانِ طعن دراز کرتا ہے، اِسلام کی مسلسل اور متواتر تاریخ کی تکذیب کرتا ہے، اِسلام کے متواترات وقطعیات کو، جن کی پشت پر تیرہ سو سالہ اُمت کا تعامل موجود ہے، جھٹلانے کی جرأت کرتا ہے، اِنصاف کیجئے کہ کیا ایسا شخص مسلمان کہلانے کا مستحق ہے؟
بہرحال ہمارے مدعاعلیہ مرزا غلام احمد قادیانی کا یہ مشہور کہ:
’’تم نے تیرہ سو برس سے یہ نسخہ اِستعمال کیا کہ حضرت عیسیٰ کو زِندہ آسمان پر بٹھایا، مگر اَب دُوسرا نسخہ ہم بتاتے ہیں، وہ اِستعمال کرکے دیکھو، اور وہ یہ ہے کہ حضرت عیسیٰ کو وفات شدہ مان لو۔‘‘
(ملفوظات ج:۱۰ ص:۳۰۰)
کسی مسلمان کے لئے لائقِ اِلتفات نہیں ہوسکتا، کیونکہ کسی مسلمان کے لئے یہ ممکن نہیں کہ وہ اسلام کے متواتر ومسلسل عقیدے کو بدل ڈالنے کی جرأت کرے، اور جو شخص ایسی جرأت کرے وہ مسلمان نہیں، بلکہ اِسلام کا دُشمن ہے۔
فصلِ چہارم
حیاتِ عیسیٰ علیہ السلام کا ثبوت مدعاعلیہ کے اِلہام سے
یہاں تک حیاتِ عیسیٰ علیہ السلام کا ثبوت قرآن مجید سے، اَحادیثِ متواترہ سے، اور اُمتِ اِسلامیہ کے مسلسل اور غیرمنقطع تعامل سے باقرارِ مدعاعلیہ پیش کیا جاچکا ہے۔ اب ذیل میں معزّز عدالت کی خدمت میں اس عقیدے کا ثبوت خود مدعاعلیہ، مرزا غلام احمد قادیانی کے اِلہام سے پیش کرنا چاہتا ہوں:
✨ : … اپنی اِلہامی کتاب ’’براہین احمدیہ‘‘ میں قرآنِ کریم کی آیت:’’ھُوَ الَّذِیْ اَرْسَلَ رَسُوْلَہٗ‘‘ کی ’’اِلہامی تفسیر‘‘ کرتے ہوئے مدعاعلیہ لکھتا ہے:
307
’’لیکن اس عاجز پر ظاہر کیا گیا ہے کہ یہ خاکسار مسیح کی پہلی زندگی کا نمونہ ہے ۔۔۔۔۔۔ سو چونکہ اس عاجز کو حضرت مسیح سے مشابہتِ تامہ ہے اس لئے خداوند کریم نے مسیح کی پیش گوئی میں اِبتدا سے اس عاجز کو بھی شریک رکھا ہے، یعنی حضرت مسیح پیش گوئی متذکرہ بالا کا ظاہری اور جسمانی طور پر مصداق ہے، اور یہ عاجز رُوحانی اور معقولی طور پر اس کا محل اور مورَد ہے۔‘‘
(براہین احمدیہ، حصہ چہارم ص:۴۹۸، ۴۹۹)
یعنی مدعاعلیہ کو اِلہام کے ذریعے اس آیتِ کریمہ کی جو تفسیر سمجھائی گئی ہے، اس کے نکات یہ ہیں:
✨ : … حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی زندگی کے دو دور ہیں، پہلا دور رَفعِ جسمانی سے قبل کا، اور دُوسرا دور ان کی آمدِ ثانی کا۔
✨ : … پہلے دور میں ان کی حالت غربت و اِنکساری کی تھی، اور دُوسرے دور میں ان کی آمد شاہانہ جاہ وجلال کے ساتھ ہوگی۔
✨ : … مدعاعلیہ (مرزا غلام احمد) پر ظاہر کیا گیا ہے کہ اس کی حالت حضرت مسیح علیہ السلام کی پہلی زندگی کا نمونہ ہے۔
✨ : … چونکہ مدعاعلیہ کو حضرت مسیح علیہ السلام سے مشابہتِ تامہ حاصل ہے، اس لئے مسیح علیہ السلام کی آمدِ ثانی کی پیش گوئی میں اس کو بھی اِبتدا ہی سے شریک کیا گیا ہے۔
✨ : … مدعاعلیہ کو اِلہام کے ذریعے بتایا گیا کہ قرآن مجید کی مندرجہ بالا پیش گوئی(ھُوَ الَّذِیْ اَرْسَلَ رَسُوْلَہٗ الآیۃ) کا ظاہری اور جسمانی مصداق حضرت مسیح علیہ السلام ہیں اور رُوحانی و معقولی طور پر اس کا مورَد مدعاعلیہ ہے۔
مدعاعلیہ کی مندرجہ بالا عبارت میں فاضل عدالت کے لئے جو اَمر خاص طور پر لائقِ توجہ ہے، وہ یہ ہے کہ قرآن مجید کی آیت قطعی الثبوت ہے اور مدعاعلیہ نے ’’اس عاجز پر ظاہر کیا گیا ہے‘‘ کہہ کر اس کی جو اِلہامی تفسیر کی ہے، وہ بھی مدعاعلیہ کے نزدیک قطعی ہے
308
کہ یہ آیت حضرت مسیح علیہ السلام کی ظاہری وجسمانی آمد کی پیش گوئی ہے۔ پس قرآن مجید کی آیت اور مدعاعلیہ کی اِلہامی تفسیر دونوں مل کر حضرت مسیح علیہ السلام کی ظاہری اور جسمانی آمدِ ثانی کو قطعی بنادیتے ہیں، جس کے بعد اس مسئلے میں ۔۔۔کم از کم مدعاعلیہ کو صاحبِ اِلہام ماننے والوں کے لئے۔۔۔ کسی قسم کے شک و شبہ کی کوئی گنجائش باقی نہیں رہ جاتی۔
✨ : … اسی کتاب میں مدعاعلیہ (مرزا غلام احمد قادیانی) اپنا ایک اِلہام ان الفاظ میں نقل کرتا ہے:
’’عسٰی ربکم ان یرحم علیکم، وان عدتم عدنا، وجعلنا جھنم للکافرین حصیرا۔‘‘
اور پھر اس کی مندرجہ ذیل تشریح کرتا ہے:
’’خدا تعالیٰ کا اِرادہ اس بات کی طرف متوجہ ہے جو تم پر رحم کرے، اور اگر تم نے گناہ اور سرکشی کی طرف رُجوع کیا تو ہم بھی سزا اور عقوبت کی طرف رُجوع کریں گے، اور ہم نے جہنم کو کافروں کے لئے قیدخانہ بنا رکھا ہے۔ یہ آیت اس مقام میں حضرت مسیح کے جلالی طور پر ہونے کا اِشارہ ہے، یعنی اگر طریقِ رِفق اور نرمی اور لطف احسان کو قبول نہیں کریں گے اور حق محض جو دلائلِ واضحہ اور آیاتِ بینہ سے کھل گیا ہے اس سے سرکش رہیں گے تو وہ زمانہ بھی آنے والا ہے کہ جب خدا تعالیٰ مجرمین کے لئے شدّت اور عنف اور قہر اور سختی کو اِستعمال میں لائے گا، اور حضرت مسیح علیہ السلام نہایت جلالیت کے ساتھ دُنیا پر اُتریں گے، اور تمام راہوں اور سڑکوں کو خس وخاشاک سے صاف کردیں گے، اور کج اور ناراست کا نام ونشان نہ رہے گا، اور جلالِ اِلٰہی گمراہی کے تخم کو اپنی تجلیٔ قہری سے نیست ونابود کردے گا۔ اور یہ (مرزا غلام احمد کا) زمانہ، اس زمانے کے لئے (جس میں عیسیٰ علیہ السلام تشریف لائیں گے) بطور ارہاص کے
309
واقع ہوا ہے، یعنی اس وقت جلالی طور پر خدا تعالیٰ اِتمامِ حجت کرے گا، اب بجائے اس کے جمالی طور پر یعنی رِفق اور اِحسان سے اِتمامِ حجت کر رہا ہے۔‘‘
(براہین احمدیہ، حصہ چہارم ص:۵۰۵)
نوٹ: … مدعاعلیہ مرزا غلام احمد قادیانی کے اِلہامات کا مجموعہ ’’تذکرہ‘‘ کے نام سے ربوہ سے شائع ہوا ہے، اس میں فاضل مرتب نے زیرِ بحث اِلہام ’’عسٰی ربکم ان یرحم علیکم إلخ‘‘ پر حسبِ ذیل نوٹ لکھا ہے:
’’حضرتِ اقدس نے اس اِلہام کو اَربعین نمبر۲ کے نمبر۵ پر اور اس کے علاوہ کئی اور مقامات پر بھی بحوالہ براہین احمدیہ ان یرحمکم درج فرمایا ہے، جس سے معلوم ہوتا ہے کہعلیٰ کا لفظ سہوِ کتابت ہے۔‘‘
(تذکرہ، طبع سوم ص:۷۹)
مدعاعلیہ کے اس اِلہام اور اس کی تشریح سے واضح ہوجاتا ہے کہ مدعاعلیہ کو قطعی اِلہام ہوا تھا کہ حضرت مسیح علیہ السلام نہایت جلالیت کے ساتھ دُنیا پر اُتریں گے اور وہ براہین احمدیہ کے زمانے میں خود اپنے اِلہام کی روشنی میں بھی یہی عقیدہ رکھتا تھا۔
بابِ دوم
مدعاعلیہ نے اپنا عقیدہ بدل لیا
فاضل عدالت کے رُوبرو مدعاعلیہ ۔۔۔مرزا غلام احمد قادیانی۔۔۔ کا اِقرار بیان گزشتہ سطور میں پیش کیا جاچکا ہے۔ اس کے بعد مدعاعلیہ کے گریز وفرار پر بحث کرنے کی حاجت نہیں رہ جاتی، کیونکہ یہ اُصول بھی تمام عدالتوں میں تسلیم شدہ ہے کہ اِقرار کے بعد مدعاعلیہ کا اِنکار معتبر نہیں ہوا کرتا، خود مدعاعلیہ بھی اس اُصول کو تسلیم کرتا ہے کہ:
’’جنابِ من! اِقرار کے بعد کوئی قاضی اِنکار نہیں سن سکتا۔‘‘
(اعجازِ احمدی ص:۳۰)
لہٰذا مدعاعلیہ ہزار بار بھی حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی حیات او رآمدِ ثانی کا اِنکار کرتا
310
رہے کہ اِقرار کے بعد یہ اِنکار عدالت کی نظر میں لغو اور لایعنی تصوّر کیا جائے گا۔
تاہم تکمیلِ بحث کی خاطر میں چاہتا ہوں کہ معزّز عدالت کے سامنے مدعاعلیہ مرزا غلام احمد قادیانی کے اسلامی عقیدے سے اِنحراف اور گریز وفرار کی داستان بھی پیش کردی جائے، تاکہ فاضل عدالت کو اَندازہ ہوسکے کہ مدعاعلیہ کا گریز وفرار کہاں تک اِخلاص وصداقت پر مبنی ہے؟
اُوپر معلوم ہوچکا ہے کہ مدعاعلیہ مرزا غلام احمد قادیانی نے چالیس سال کی عمر میں اپنی اِلہامی زندگی کا آغاز اپنی پہلی اِلہامی کتاب ’’براہین احمدیہ‘‘ سے کیا تھا، اور اس میں قرآن مجید کی آیت: ’’ھُوَ الَّذِیْ اَرْسَلَ رَسُوْلَہٗ بِالْھُدٰی‘‘ الآیۃ کے تحت یہ عقیدہ درج کیا تھا کہ: ’’حضرت عیسیٰ علیہ السلام دوبارہ دُنیا میں تشریف لائیں گے‘‘ اور یہ کہ:
✨ : … ’’اس عاجز پر ظاہر کیا گیا ہے کہ یہ خاکسار مسیح کی پہلی زندگی کا نمونہ ہے، اور حضرت مسیح پیش گوئی متذکرہ بالا کا ظاہری اور جسمانی طور پر مصداق ہے اور یہ عاجز رُوحانی اور معقولی طور پر اس کا محل اور مورد ہے۔‘‘
(براہین احمدیہ ص:۴۹۹)
پھر اسی کتاب کے صفحہ:۵۰۵ پر حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی تشریف آوری کا عقیدہ اپنے ایک اِلہام کی تشریح کرتے ہوئے درج کیا۔ پھر ’’براہین احمدیہ‘‘ کی اِشاعت کے دس بارہ برس بعد تک مدعاعلیہ اسی عقیدے پر قائم رہا، چنانچہ وہ خود لکھتا ہے:
✨ : … ’’پھر میں قریباً بارہ برس تک جو ایک زمانہ دراز ہے، بالکل اس سے بے خبر اور غافل رہا کہ خدا نے مجھے بڑی شدّ ومدّ سے براہین احمدیہ میں مسیحِ موعود قرار دِیا ہے، اور میں حضرت عیسیٰ کی آمدِ ثانی کے رسمی عقیدے پر جما رہا، اور جب بارہ برس گزرگئے، تب وہ وقت آگیا کہ مجھ پر اصل حقیقت کھول دی جائے۔‘‘
(اعجازِ احمدی ص:۷، رُوحانی خزائن ج:۱۹ص:۱۱۳)
✨ : … ’’میں نے براہین احمدیہ میں یہ اِعتقاد ظاہر کیا تھا
311
کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام پھر واپس آئیں گے، مگر یہ بھی میری غلطی تھی جو اس اِلہام کے مخالف تھی جو براہین احمدیہ میں ہی لکھا گیا تھا، کیونکہ اس اِلہام میں خدا تعالیٰ نے میرا نام عیسیٰ رکھا، اور مجھے اس قرآنی پیش گوئی کا مصداق ٹھہرایا جو حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے لئے خاص تھی، وہ آیت یہ ہے:ھو الذی ارسل رسولہ بالھدٰی ودین الحق لیظھرہ علی الدین کلہ۔‘‘
(ایام الصلح ص:۴۶، خزائن ج:۱۴ص:۲۷۲)
لیکن دس بارہ سال بعد مدعاعلیہ کی زندگی میں ایک نیا تغیر پیدا ہوا اور اس نے اپنی سابقہ تحریرات کو پشت انداز کرتے ہوئے یکایک یہ اِعلان کردیا کہ عیسیٰ علیہ السلام مرچکے ہیں، اور ان کی جگہ اللہ تعالیٰ نے مجھے ’’مسیحِ موعود‘‘ اور ’’عیسیٰ بن مریم‘‘ بناکر کھڑا کردیا ہے، اور قرآن کی جو پیش گوئی حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی آمدِ ثانی سے مخصوص تھی، اب اللہ تعالیٰ نے مجھ سے متعلق کردی ہے۔
یہاں سے مدعاعلیہ کے اِعتقاد کا دُوسرا دور شروع ہوتا ہے، اس دور کے بارے میں معزّز عدالت کو تین تنقیحات کا جائزہ لینا ہوگا:
✨ : … مدعاعلیہ نے اپنا عقیدہ کیوں تبدیل کیا اور اس کی بنیاد کیا تھی؟
✨ : … مدعاعلیہ نے اپنے سابقہ اِعتقاد کے بارے میں کیا عذر پیش کئے؟
✨ : … دُوسرے دور میں مدعاعلیہ نے اپنے سابقہ عقیدے کے بارے میں کن خیالات کا اِظہار کیا؟
ان تین مباحث کو ذیل کے ابواب میں ذِکر کیا جاتا ہے۔
بابِ سوم
مدعاعلیہ کے تبدیلیٔ عقیدہ کی بنیاد
اس سوال کا جواب معزّز عدالت کو مدعاعلیہ کی مندرجہ ذیل تصریحات سے
312
بوضاحت معلوم ہوجائے گا:
✨ : … ’’یہ اسی قسم کا تناقض ہے کہ جیسے براہین احمدیہ میں، میں نے یہ لکھا تھا کہ مسیح بن مریم آسمان سے نازل ہوگا، مگر بعد میں یہ لکھا کہ آنے والا مسیح میں ہی ہوں۔ اس تناقض کا بھی یہی سبب تھا کہ اگرچہ خدا تعالیٰ نے براہین احمدیہ میں میرا نام عیسیٰ رکھا اور یہ بھی مجھے فرمایا کہ تیرے آنے کی خبر خدا اور رسول نے دی تھی، مگر چونکہ ایک گروہ مسلمانوں کا اس اِعتقاد پر جما ہوا تھا، اور میرا بھی یہی عقیدہ تھا کہ حضرت عیسیٰ آسمان پر سے نازل ہوں گے، اس لئے میں نے خدا کی وحی کو ظاہر پر حمل نہ کرنا چاہا، بلکہ اس وحی کی تاویل کی، اور اِعتقاد وہی رکھا جو عام مسلمانوں کا تھا، اور اسی کو براہین احمدیہ میں شائع کیا، لیکن بعد میں اس کے اس بارے میں بارش کی طرح وحیٔ اِلٰہی نازل ہوئی کہ وہ مسیحِ موعود جو آنے والا تھا، تو ہی ہے۔‘‘
(حقیقۃ الوحی ص:۱۴۹، خزائن ج:۲۲ ص:۱۵۳)
✨ : … ’’اور مجھے یہ کب خواہش تھی کہ میں مسیحِ موعود بنتا، اور اگر مجھے یہ خواہش ہوتی تو براہین احمدیہ میں اپنے پہلے اِعتقاد کی بنا پر کیوں لکھتا کہ مسیح آسمان سے آئے گا؟ حالانکہ اسی براہین میں خدا نے میرا نام عیسیٰ رکھا ہے، پس تم سمجھ سکتے ہو کہ میں نے پہلے اِعتقاد کو نہیں چھوڑا تھا جب تک خدا نے روشن نشانوں اور کھلے کھلے اِلہاموں کے ساتھ نہیں چھڑایا۔‘‘
(تتمہ حقیقۃ الوحی ص:۱۶۲، خزائن ج:۲۲ ص:۶۰۲)
✨ : … ’’میں بھی تمہاری طرح بشریت کے محدود علم کی وجہ سے یہی اِعتقاد رکھتا تھا کہ عیسیٰ بن مریم آسمان سے نازل ہوگا، اور باوجود اس بات کے کہ خدا تعالیٰ نے براہین احمدیہ کے حصصِ
313
سابقہ میں میرا نام عیسیٰ رکھا، اور جو قرآن شریف کی آیتیں پیش گوئی کے طور پر حضرت عیسیٰ کی طرف منسوب تھیں، وہ سب میری طرف منسوب کردیں، اور یہ بھی فرمایا کہ تمہارے آنے کی خبر قرآن اور حدیث میں موجود ہے، مگر پھر بھی میں متنبہ نہ ہوا اور براہین احمدیہ حصصِ سابقہ میں، میں نے وہی غلط عقیدہ اپنی رائے کے طور پر لکھ دیا اور شائع کردیا کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام آسمان سے نازل ہوں گے۔
اور میری آنکھیں اس وقت تک بالکل بند رہیں جب تک کہ خدا نے بار بار کھول کر مجھ کو نہ سمجھایا کہ عیسیٰ بن مریم اسرائیلی تو فوت ہوچکا ہے، اور وہ واپس نہیں آئے گا، اس زمانے اور اس اُمت کے لئے تو ہی عیسیٰ بن مریم ہے۔‘‘
(براہین پنجم ص:۸۵، خزائن ج:۲۱ ص:۱۱۱)
مدعاعلیہ کی اس قسم کی تصریحات اس کی کتابوں میں بکثرت پائی جاتی ہیں، مگر سرِدست انہی پر اِکتفا کرتا ہوں۔ مندرجہ بالا عبارتوں میں مدعاعلیہ تسلیم کرتا ہے کہ:
✨ : … اسے براہین احمدیہ کے اِلہام کے ذریعے خدا تعالیٰ نے عیسیٰ بن مریم کہا تھا، اور یہ کہ خدا تعالیٰ نے اسے آگاہ کردیا تھا کہ وہی مسیحِ موعود ہے، اور خدا ورسول نے اسی کے آنے کی خبر دی تھی، اور قرآنِ کریم کی ان تمام آیات کو جن میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی تشریف آوری کی پیش گوئی تھی، اس کی طرف منسوب کردیا تھا۔
✨ : … مدعاعلیہ دس بارہ برس تک اس متواتر اِلہام کا مطلب سمجھنے سے قاصر رہا، اس لئے اس نے اس متواتر اِلہام کے ظاہری معنی مراد لینے سے اِجتناب کیا، اور اپنا عقیدہ وہی رکھا جو عام مسلمانوں کا تھا۔
✨ : … بارہ سال بعد مدعاعلیہ کو متواتر اِلہامات کے ذریعے اِنکشاف ہوا کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام مرچکے ہیں، اور ان کی جگہ مدعاعلیہ کو مسیحِ موعود نامزد کردیا گیا ہے۔
✨ : … اس سے یہ بات صاف ہوگئی کہ جب تک مدعاعلیہ مرزا غلام احمد قادیانی
314
کو ۔۔۔بقول اس کے۔۔۔ متواتر اِلہامات کے ذریعے نہیں بتایا گیا تھا کہ عیسیٰ علیہ السلام فوت ہوچکے ہیں، تب تک اس کے سابقہ عقیدے میں کوئی تبدیلی نہیں ہوئی، یہ تبدیلی اس وقت ہوئی جب مدعاعلیہ کو اِلہام کے ذریعے عیسیٰ علیہ السلام کی وفات معلوم ہوئی۔ لہٰذا مدعاعلیہ کی تبدیلیٔ عقیدہ کی بنیاد اس کا اِلہام، یا اِلہامی اِنکشاف ہے۔ اس انکشاف کے بعد مدعاعلیہ نے قرآنِ کریم کی متعدّد آیات سے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی موت کا عقیدہ کشید کرنے کی کوشش کی۔ یہ آیات حالانکہ قرآنِ کریم میں اس وقت بھی موجود تھیں جب مدعاعلیہ، حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے دوبارہ آنے کا عقیدہ رقم کر رہا تھا، مگر نہ مدعاعلیہ کے ذہنِ نارسا کی رسائی ان سے ’’موتِ مسیح‘‘ تک ہوئی، اور نہ پہلے اکابرِ اُمت نے ان آیات سے ’’وفاتِ مسیح‘‘ کا عقیدہ کشید کیا۔
اب میں معزّز عدالت کے سامنے مدعاعلیہ کی اس ’’اِلہامی بنیاد‘‘ کے بارے میں چند معروضات پیش کرتے ہوئے عدالت سے حق کوشی و اِنصاف پروَرِی کی درخواست کروں گا۔
اوّل: … گزشتہ سطور میں واضح کیا جاچکا ہے کہ مدعاعلیہ نے قرآنِ کریم کی آیات، آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے آثارِ مرویہ اور اُمتِ اسلامیہ کے تعامل وتواتر کے مطابق عیسیٰ علیہ السلام کی آمدِ ثانی کا عقیدہ براہینِ احمدیہ میں درج کیا تھا، جس پر بارہ سال تک قائم رہا اور اس کی نشر واِشاعت کرتا رہا۔ اب عدالت کو جس نکتے پر سب سے پہلے غور کرنا ہے، وہ یہ ہے کہ جو عقیدہ مدعاعلیہ کے بقول قرآن وحدیث اور اُمتِ اسلامیہ کے تعاملی تواتر سے ثابت ہو، کیا اس کو محض اِلہام کی بنا پر تبدیل کرنا جائز ہے؟ ہمارا موقف یہ ہے کہ اگر کسی کو ایسا اِلہام ہو تو خود اس اِلہام میں تو تأویل کی جاسکتی ہے، مگر اس کی بنیاد پر کسی عقیدے میں تبدیلی پیدا کرنا صحیح نہیں۔ اگر میں اس نکتے پر اِسلامی لٹریچر کے حوالے دُوں گا تو بحث طویل ہوجائے گی، اس لئے میں اس نکتے پر بھی مدعاعلیہ کا حوالہ پیش کردینا ہی مناسب سمجھتا ہوں، موصوف لکھتے ہیں:
’’قرآنِ کریم کی رُو سے اِلہام اور وحی میں دخلِ شیطانی
315
ممکن ہے، اور پہلی کتابیں توریت اور اِنجیل اس دخل کی مصدق ہیں، اور اسی بنا پر اِلہامِ ولایت یا اِلہامِ عامہ مؤمنین بجز موافقت ومطابقت قرآنِ کریم کے حجت بھی نہیں۔‘‘
(اِزالہ اوہام ص:۶۳۹، خزائن ج:۳ ص:۴۴۰)
مدعاعلیہ کا یہ اِلہام کہ عیسیٰ مرگیا ہے، چونکہ خود اسی کی سابقہ تصریحات کے مطابق قرآنِ کریم اور آثارِ نبویہ کے خلاف ہے، اس لئے اس اِلہام پر اِعتماد کرتے ہوئے تبدیلیٔ عقیدہ کی جرأت، ایک بے جا جرأت نہیں تو اور کیا ہے۔۔۔؟
دوم: … آغازِ بحث میں مدعاعلیہ کا یہ فقرہ نقل کرچکا ہوں کہ:
’’ایسے شخص کی نسبت، جو مخالفِ قرآن وحدیث کوئی اِعتقاد رکھتا ہے، ولایت کا گمان ہرگز نہیں کرسکتے، بلکہ وہ دائرۂ اسلام سے خارج سمجھنا چاہئے، اور اگر وہ کوئی نشان بھی دِکھاوے تو وہ نشان کرامت متصوّر نہیں ہوتا، بلکہ اس کو اِستدراج کہا جاتا ہے۔‘‘
عرض کیا جاچکا ہے کہ مدعاعلیہ ایک عرصہ تک حیاتِ عیسیٰ کا قائل اور مبلغ ومناد رہا ہے، سوال یہ ہے کہ مدعاعلیہ کا پہلا عقیدہ قرآن وحدیث کے خلاف تھا، تو وہ اپنی گزشتہ بالا تصریح کے مطابق باوَن برس تک دائرۂ اسلام سے خارج رہا۔ معزّز عدالت کو فیصلہ کرنا چاہئے کہ ایسا شخص جو باوَن برس تک دائرۂ اسلام سے خارج رہا ہو، کیا وہ یکایک اِلہام کے ذریعے مسیحِ موعود بنادیا جاتا ہے؟ اور کیا ایسے شخص کا اِلہام حجتِ شرعی ہونا تو کجا؟ لائقِ اِلتفات بھی ہوسکتا ہے۔۔۔؟
اور اگر مدعاعلیہ کا نیا عقیدہ قرآن وحدیث کے خلاف ہے، جیسا کہ اس کی گزشتہ تصریحات سے یہی عیاں ہوتا ہے، تو وہ اس نئے عقیدے کو اپناکر دائرۂ اسلام سے خارج ہوا، سوال یہ ہے کہ کیا ایسے شخص کو ’’مسیحِ موعود‘‘ مان لینا عقل واِنصاف کی رُو سے جائز ہے۔۔۔؟
مختصر یہ کہ مدعاعلیہ کے دو متناقض عقیدوں میں سے ایک تو لامحالہ قرآن وحدیث کے خلاف ہوگا، اس سے مدعاعلیہ کا خود اس کی تصریح کے مطابق خارج از اِسلام ہونا لازم
316
آتا ہے، اور ایسے شخص کے اِلہام کو ماننا ۔۔۔مدعاعلیہ کے بقول۔۔۔ ’’مؤمن کا کام نہیں، بلکہ ان نادانوں کا کام ہے جو قرآن اور حدیث سے کوئی غرض نہیں رکھتے۔‘‘
(اِشتہار بمقابل سیّد نذیر حسین صاحب مندرجہ مجموعہ اِشتہارات ج:۱ ص:۲۲۷)
سوم: … گزشتہ سطور میں مدعاعلیہ کے اِقرار سے ثابت کیا جاچکا ہے کہ تیرہ سو سال سے اُمت کا یہی عقیدہ رہا ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام آسمان پر زِندہ ہیں، لہٰذا مدعاعلیہ کا جدید اِلہامی عقیدہ اُمت کے اِعتقادی تواتر کے خلاف ہے، اور ایسے شخص کے بارے میں مدعاعلیہ کی رائے یہ ہے:
✨ : … ’’من زاد علٰی ھٰذہ الشریعۃ مثقال ذرّۃ أو نقص منھا أو کفر بعقیدۃ إجماعیۃ فعلیہ لعنۃ اللہ والملائکۃ والناس أجمعین۔‘‘
✨ : … ’’وہر کہ بمقدار یک ذرّہ بریں شریعت زیادہ کرد، یا کم نمود، یا اِنکار عقیدۂ اِجماعیہ کرد، پس برو لعنتِ خدا ولعنتِ فرشتگان ولعنتِ ہمہ آدمیاں۔‘‘
(انجامِ آتھم ص:۱۴۴)
ترجمہ: … ’’اور جو شخص اس شریعت میں ایک ذرّے کا اِضافہ کرے، یا اس میں کمی کرے، یا کسی عقیدۂ اِجماعیہ کا اِنکار کرے، اس پر اللہ کی لعنت، فرشتوں کی لعنت اور تمام آدمیوں کی لعنت۔‘‘
✨ : … ’’جو شخص اس شریعتِ اسلام میں سے ایک ذرّہ کم کرے یا ایک ذرّہ زیادہ کرے، یا ترکِ فرائض اور اِباحت کی بنیاد ڈالے، وہ بے اِیمان اور اِسلام سے برگشتہ ہے، غرض وہ تمام اُمور جن پر سلف صالحین کا اِعتقادی اور عملی طور پر اِجماع تھا، اور وہ اُمور جو اہلِ سنت کی اِجتماعی رائے سے اسلام کہلاتے ہیں، ان سب کا ماننا فرض ہے (اور فرض کا منکر بے اِیمان اور برگشتہ اَزاِسلام ہی کہلائے گا ۔۔۔ناقل)۔‘‘
(ایام الصلح اُردو ص:۸۷؍۹۷)
317
مدعاعلیہ کے ان حوالوں سے معلوم ہوا کہ جو شخص اُمت کے اِجماعی عقیدے خصوصاً عقیدۂ اہلِ سنت کا منکر ہو، اس پر خدا کی لعنت، فرشتوں کی لعنت اور سارے اِنسانوں کی لعنت! ایسا ملعون اور اَزَلی بدبخت بے اِیمان ہے، اسلام سے برگشتہ ہے۔ اب اِنصاف فرمایا جائے کہ ہمارا مدعاعلیہ مرزا غلام احمد قادیانی خود اپنے اِقرار سے ملعون، بے اِیمان اور برگشتہ اَزاِسلام ہوا یا نہیں۔۔۔؟
چہارم: … اُوپر مدعاعلیہ کے بیانات سے ثابت کیا جاچکا ہے کہ اکابر اولیاء اللہ، مجدّدینِ اُمت اور اَربابِ کشف و اِلہام، حیاتِ عیسیٰ علیہ السلام کے عقیدے پر دُنیا سے رُخصت ہوئے ہیں، اور انہوں نے کتاب وسنت سے یہی عقیدہ اخذ کیا ہے، اور مدعاعلیہ کا کہنا ہے کہ:
’’اور ممکن نہیں کہ ایک گروہِ کثیر اہلِ کشف کا جو تمام اوّلین اور آخرین کا مجمع ہے، وہ سب جھوٹے ہوں اور ان کے تمام اِستنباط بھی جھوٹے ہوں۔‘‘
(تحفہ گولڑویہ ص:۲۴۰، خزائن ج:۱۷ ص:۳۲۶)
اب اگر مدعاعلیہ کے اِلہامی عقیدے کو تسلیم کرلیا جائے تو اس سے ان تمام اہلِ کشف کا جھوٹا اور ان کے اِستنباط کا غلط ہونا لازم آتا ہے، اور یہ مدعاعلیہ کے نزدیک محال ہے، اور جس چیز سے محال لازم آتا ہو وہ خود محال ہوتی ہے، لہٰذا مدعاعلیہ کی یہ اِلہامی بنیاد خود اس کے اِعتراف سے محال ثابت ہوئی، اور اس بنیاد پر اس کا مسیحِ موعود ہونا بھی محال ہوا۔ کیا قادیانی برادری میں کوئی ایک آدمی بھی ایسا ہے، جو عقل واِنصاف سے کام لے؟ اَلَیْسَ مِنْکُمْ رَجُلٌ رَّشِیْدٌ ۔۔۔؟
پنجم: … اُوپر براہین احمدیہ کے صفحہ:۵۰۵ سے مدعاعلیہ کا اِلہام نقل کیا جاچکا ہے، جس میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے جلالی طور پر دُنیا میں آنے کی پیش گوئی کی گئی تھی، اور یہ بھی ظاہر ہے کہ مدعاعلیہ کا نیا اِلہام کہ ’’عیسیٰ مرچکا ہے‘‘ اس کے پہلے اِلہام کے معارض ہے، اور تعارض کی صورت میں دو صورتیں ممکن ہیں: اوّل یہ کہ ’’إذا تعارضا تساقطا‘‘ پر
318
عمل کرتے ہوئے ان دونوں اِلہاموں کو ساقط الاعتبار قرار دِیا جائے۔ دوم یہ کہ ان دونوں میں کسی ایک کو ترجیح دی جائے۔
اب معزّز عدالت کو فیصلہ کرنا چاہئے کہ مدعاعلیہ کا پہلا اِلہام قابلِ ترجیح ہے، جس کی پشت پر مدعاعلیہ کی سابقہ تصریحات کے مطابق، قرآنِ کریم ہے، آثارِ نبویہ ہیں اور اُمت کے سلف صالحین کا اِجماعی عقیدہ ہے، اور جس پر مدعاعلیہ خود بھی باوَن سال تک قائم رہا ہے، یا اس کے برعکس وہ اِلہام قابلِ ترجیح ہے جس سے مدعاعلیہ کی سابقہ تصریحات کی نفی ہوتی ہے، اُمتِ اسلامیہ کا متواتر عقیدہ غلط ٹھہرتا ہے، اور خود مدعاعلیہ کو طویل مدّت تک وادیٔ کفر وضلالت میں سرگرداں اور ملعون تسلیم کرنا پڑتا ہے؟ الغرض اگر مدعاعلیہ کو اپنے اِلہام پر اِیمان ہے اور وہ اس کے نزدیک شرعی حجت ہے تو براہین احمدیہ میں پہلے سے قائم شدہ حجت کو باطل کرنا قطعاً غیرمعقول ہے۔۔۔!
ششم: … معزّز عدالت کے سامنے روزِ روشن کی طرح واضح ہوچکا ہے کہ مدعاعلیہ کے عقائد میں بھی تناقض رہا ہے، نیز اس کے فہمِ قرآن میں بھی تناقض ہے، کیونکہ وہ پہلے قرآن کی روشنی میں حیاتِ عیسیٰ کا قائل تھا، پھر دورِ ثانی میں قرآن سے ہی اس نے وفاتِ عیسیٰ کا سراغ نکالنا شروع کردیا۔ اسی طرح مدعاعلیہ کے اِلہامات میں بھی تناقض ہے کہ پہلے اسے حیاتِ عیسیٰ کا اِلہام ہوا تھا، جو اس نے براہین احمدیہ کے صفحہ:۴۹۸، ۴۹۹ اور ۵۰۵ میں درج کیا، اور پھر اسے بارہ سال بعد وفاتِ عیسیٰ کا اِلہام ہوا، گویا مدعاعلیہ چار قسم کے تناقضات میں مبتلا رہا ہے:
|
۱: … عقائد میں تناقض۔ |
۲: … فہمِ قرآن میں تناقض۔ |
|
۳: … اِلہامات میں تناقض۔ |
۴:۔۔۔عبارات میں تناقض۔ |
چنانچہ مدعاعلیہ خود ہی اپنے تناقض کا اِقرار کرتے ہوئے لکھتا ہے کہ:
’’میں نے ان متناقض باتوں کو براہین میں جمع کردیا ہے۔‘‘
(اعجازِ احمدی ص:۸، خزائن ج:۱۹ص:۱۱۴)
319
جس شخص کے کلام میں تناقض ہو، اس کے بارے میں مدعاعلیہ کا فتویٰ حسبِ ذیل ہے:
✨ : … ’’کسی سچیار، عقل مند اور صاف دِل اِنسان کے کلام میں ہرگز تناقض نہیں ہوتا، ہاں اگر کوئی پاگل یا مجنوں یا ایسا منافق ہو کہ خوشامد کے طور پر ہاں میں ہاں ملادیتا ہو، اس کا کلام بے شک متناقض ہوجاتا ہے۔‘‘
(ست بچن ص:۳۰، خزائن ج:۱۰ ص:۱۴۲)
✨ : … ’’ظاہر ہے کہ ایک دِل سے دو متناقض باتیں نکل نہیں سکتیں، کیونکہ ایسے طریق سے یا اِنسان پاگل کہلاتا ہے یا منافق۔‘‘
(ست بچن ص:۳۱، خزائن ج:۱۰ ص:۱۴۳)
✨ : … ’’پھر تناسخ کا قائل ہونا اسی شخص کا کام ہے جو پرلے درجے کا جاہل ہو، جو اپنے کلام میں متناقض بیانوں کو جمع کرے اور اس پر اِطلاع نہ رکھے۔‘‘
(ست بچن ص:۲۹، خزائن ج:۱۰ ص:۱۴۱)
✨ : … ’’ہر ایک کو سوچنا چاہئے کہ اس شخص کی حالت ایک مخبوط الحواس آدمی کی حالت ہے کہ ایک کھلا کھلا تناقض اپنے کلام میں رکھتا ہے۔‘‘
(حقیقۃ الوحی ص:۱۸۴، خزائن ج:۲۲ ص:۱۹۱)
✨ : … ’’اور جھوٹے کے کلام میں تناقض ضرور ہوتا ہے۔‘‘
(ضمیمہ براہین حصہ پنجم ص:۱۱۱، خزائن ج:۲۲ ص:۲۷۵)
پس جبکہ مدعاعلیہ مرزا غلام احمد قادیانی تسلیم کرتا ہے کہ اس کے کلام میں تناقض ہے، اور یہ کہ جس شخص کے کلام میں تناقض ہو، وہ پاگل، مجنون، مخبوط الحواس، پرلے درجے کا جاہل، جھوٹا اور منافق ہوتا ہے، تو معزّز عدالت کے نزدیک مدعاعلیہ اور اس کے اِلہام کی حیثیت کیا ہونی چاہئے؟ آیا ایسے شخص کے اِلہام کی بنا پر کسی مُسلَّمہ عقیدے کو تبدیل کرلینا صحیح ہے؟ اور کیا ایسے شخص کو مسیحِ موعود ماننا رَوا ہے؟ ’’منصفی کرنا خدا کو دیکھ کر۔۔۔!‘‘
320
ہفتم: … مدعاعلیہ مرزا غلام احمد قادیانی کا یہ بیان قبل ازیں عدالت میں پیش کیا جاچکا ہے کہ:
’’اگرچہ خدا تعالیٰ نے براہین احمدیہ میں میرا نام عیسیٰ رکھا اور یہ بھی مجھے فرمایا کہ تیرے آنے کی خبر خدا اور رسول نے دی تھی، مگر چونکہ ایک گروہ مسلمانوں کا اس اِعتقاد پر جما ہوا تھا اور میرا بھی یہی اِعتقاد تھا کہ حضرت عیسیٰ آسمان پر سے نازل ہوں گے، اس لئے میں نے خدا کی وحی کو ظاہر نہ کرنا چاہا، بلکہ اس وحی کی تاویل کی اور اپنا اِعتقاد وہی رکھا جو عام مسلمانوں کا تھا اور اسی کو براہین احمدیہ میں شائع کیا، لیکن بعد اس کے اس بارے میں بارش کی طرح وحی اِلٰہی نازل ہوئی کہ وہ مسیحِ موعود جو آنے والا تھا، تو ہی ہے۔‘‘
مدعاعلیہ اِقرار کرتا ہے کہ خدا تعالیٰ کی طرف سے اِلہام کے ذریعے اس کو ’’براہین احمدیہ‘‘ میں عیسیٰ بنادیا گیا تھا مگر اس کے باوجود اس نے اپنا اِسلامی عقیدہ تبدیل نہیں کیا، بلکہ اپنے اِلہام میں تأویل کی، لیکن بعد کی مسلسل وحی نے مدعاعلیہ کو اس بات پر مجبور کردیا کہ وہ اپنے اِلہام کو ظاہری معنی پر محمول کرکے اپنے تئیں سچ مچ عیسیٰ سمجھ لے اور عیسیٰ علیہ السلام کو مرا ہوا فرض کرلے۔
اس سے یہ ثابت ہوجاتا ہے کہ مدعاعلیہ کے جس اِلہام پر اس کے دعویٰ اور تبدیلیٔ عقیدہ کی بنیاد ہے، اس میں تأویل ہوسکتی تھی، اور کچھ ضروری نہ تھا کہ خواہ مخواہ اسے ظاہری معنی پر ہی محمول کیا جاتا، یہی وجہ ہے کہ مدعاعلیہ اس تأویل کے سہارے ایک عرصے تک اپنے سابق اِسلامی عقیدے پر قائم رہا، اس کے عقیدے میں تبدیلی اس وقت واقع ہوئی جب اس نے اپنے اِلہام کی تاویل کو چھوڑ کر اس کے ظاہری معنی لئے، اور اپنے اِلہام کا یہ مطلب لیا کہ وہی سچ مچ عیسیٰ بن مریم اور مسیحِ موعود ہے۔ گویا مدعاعلیہ کو اپنے اِلہام کے بارے میں اِصرار ہے کہ اس کے ظاہری معنی ہی مراد ہیں۔ لیکن اس کے برعکس مدعاعلیہ کو اِصرار ہے کہ قرآن وحدیث میں جس ’’عیسیٰ بن مریم‘‘ کے آنے کی پیش گوئی کی گئی اس کے
321
ظاہری معنی مراد نہیں کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام بنفسِ نفیس آسمان سے نازل ہوں گے، بلکہ اس سے مراد یہ ہے کہ ایک شخص اس اُمت میں عیسیٰ علیہ السلام کی خوبو پر پیدا ہوگا، گویا وہ بعینہٖ عیسیٰ ہوگا۔
مدعاعلیہ کا یہ نظریہ صحیح ہے یا غلط؟ اس سے یہاں بحث نہیں، یہاں معزّز عدالت کے لئے لائقِ توجہ جو اَمر ہے وہ یہ ہے کہ مدعاعلیہ اپنے ’’اِلہام‘‘ کو اَصل ٹھہراکر قرآن وحدیث میں تو تأویل کرتا ہے، لیکن قرآن وحدیث کو اَصل ٹھہراکر اپنے اِلہام میں تأویل کرنے پر آمادہ نہیں۔ گویا اس کا اِلہام تو ایسی قطعی چیز ہے کہ اس کے ظاہری معنی ہی مراد لینا ضروری ہے، اور پھر اِلہام کو ظاہری معنی کے مطابق بنانے کے لئے قرآن وحدیث کے بے شمار نصوص میں تأویل کرنا لازم ہے، لیکن قرآن وحدیث کا درجہ مدعاعلیہ کے نزدیک ایسا نہیں کہ انہیں ظاہر پر محمول کرکے وہ اپنے اِلہامات کی تأویل کرے۔ سوال یہ ہے کہ جو شخص بارہ برس تک اپنے اِلہام کا مطلب سمجھنے سے قاصر رہا ہو، کیا اس کا اِلہام اور اِلہامی فہم اس درجہ لائقِ اِعتماد ہوسکتا ہے کہ اس کو اَصل ٹھہراکر قرآن وحدیث کے ظاہری معنی کو چھوڑ دِیا جائے، اور تیرہ سو سال کے سلف صالحین کے اِجماعی، قطعی اور متواتر عقیدے کو خیرباد کہہ کر ایک نیا عقیدہ تراش لیا جائے؟ کیا معزّز عدالت کی نظر میں قرآن وحدیث کی اتنی بھی قیمت نہیں جتنی کہ مرزا غلام احمد کے اِلہام کی ہے؟ اگر معزّز عدالت کی نظر میں قرآن وحدیث زیادہ قیمتی ہیں تو وہ مدعاعلیہ سے یہ دریافت کرے کہ اسے یہ حق کس نے دیا ہے کہ وہ اپنے اِلہام کو اَصل الاُصول قرار دے کر اس کو تو ظاہری معنی پر محمول کرے، اور پھر اپنے اِلہام کی سان پر چڑھاکر قرآن وحدیث کے کس بل نکالے۔۔۔؟
ایک سلیم الفطرت مسلمان کا فرض تو یہ ہونا چاہئے کہ قرآن وحدیث کا وہی مفہوم لے جو تیرہ سو سال سے سلف صالحین نے سمجھا ہے، اسی کے مطابق اپنا عقیدہ رکھے، اور اگر اس کے خلاف کسی کا اِلہام ہو تو زیادہ سے زیادہ یہی کہا جاسکتا ہے کہ اس اِلہام میں تأویل کرکے اسے قرآن وحدیث کے ظاہری اور مُسلَّمہ ومتواتر مفہوم کے مطابق کیا جائے، اور اگر یہ ممکن نہ ہو تو ایسے اِلہام کو ’’کالائے بد بریش خاوند‘‘ کہہ کر رَدّ کردیا جائے۔
322
اِسلامی عقائد کی کتابوں میں یہ اُصول درج کیا گیا ہے:
’’والنُّصوص من الکتاب والسُّنّۃ تحمل علٰی ظواھرھا، ما لم یصرف عنھا دلیل قطعی ۔۔۔۔۔ والعدول عنھا أی عن الظواھر إلیٰ معانی یدعیھا أھل الباطن إلحاد۔‘‘
(شرح عقائد نسفی ص:۱۶۶ مطبوعہ خیرکثیر کراچی)
ترجمہ: … ’’کتاب وسنت کے نصوص کو ان کے ظاہری معنوں پر محمول کیا جائے، اِلَّا یہ کہ دلیلِ قطعی کی رُو سے ان کا ظاہری معنوں پر محمول کرنا ممکن نہ ہو ۔۔۔۔۔ اور اہلِ باطن جن معانی کا دعویٰ کرتے ہیں وہ اِلحاد وزَندقہ ہے۔‘‘
اور خود مدعاعلیہ کو بھی یہ اُصول مُسلَّم ہے، چنانچہ وہ لکھتا ہے:
’’کیونکہ یہ مُسلَّم ہے کہ النصوص یحمل علٰی ظواھرھا۔‘‘
(ازالہ اوہام ص:۵۴۰، خزائن ج:۳ ص:۳۹۰)
لیکن ہمارے مدعاعلیہ مرزا غلام احمد کی منطق یہ ہے کہ اس کے اِلہام کو ظاہری معنی پر ۔۔۔جو اسے بارہ برس تک خود بھی سمجھ نہیں آئے۔۔۔ محمول کرو، اور پھر قرآن وحدیث کے تمام نصوص کے معنی بدل کر اسے اِلہام کے ظاہری معنی پر منطبق کرو۔ کیا دُنیا کی کوئی عدالت مدعاعلیہ کی اس ستم ظریفی کو صحیح اور دُرست تسلیم کرتی ہے۔۔۔؟
ہشتم: … مدعاعلیہ کہتا ہے کہ اسے معصوم ہونے کا دعویٰ نہیں، چنانچہ وہ لکھتا ہے:
’’افسوس کہ بطالوی صاحب نے یہ نہ سمجھا کہ نہ مجھے اور نہ کسی اور اِنسان کو بعد اَنبیاء علیہم السلام کے معصوم ہونے کا دعویٰ ہے۔‘‘
(کرامات الصادقین ص:۵، خزائن ج:۷ ص:۴۷)
ظاہر ہے کہ غیرمعصوم شخص کا اِلہام کبھی معصوم نہیں ہوسکتا، اور غیرمعصوم اِلہام پر تبدیلیٔ عقیدہ کی بنیاد رکھنا صحیح نہیں۔ معزّز عدالت مدعاعلیہ سے دریافت کرے کہ اس نے غیرمعصوم ہونے کے باوجود اپنے اِلہام کے ظاہری معنی کیوں مراد لئے؟ اور اس ظاہری معنی
323
کی بنیاد پر اِسلامی عقیدے کو کیوں تبدیل کیا؟ اور قرآن وحدیث کے ظواہر کو چھوڑنے کی جرأت کیوں کی۔۔۔؟
نہم: … مدعاعلیہ نے ’’آئینۂ کمالاتِ اسلام‘‘ میں لکھا ہے:
’’جو شخص ایسی بات منہ پر لائے جس کی کوئی اصل شرع میں موجود نہ ہو، خواہ وہ ملہم ہو یا مجتہد، وہ شیطان کے ہاتھ میں کھلونا ہے۔‘‘
(ص:۲۱، خزائن ج:۵ ص:۳۱)
اُوپر عرض کیا جاچکا ہے کہ وفاتِ عیسیٰ کی کوئی اصلِ صحیح مدعاعلیہ کو اُس وقت تک نہیں ملی جب تک اس نے اپنے اِلہام کو اَصل بناکر قرآن وحدیث کو اس پر منطبق کرنا شروع نہیں کیا۔ اگر حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے وفات پاجانے کی کوئی اصلِ صحیح قرآن وحدیث میں موجود ہوتی تو تیرہ سو سال کے اکابر اولیاء اللہ اور اَربابِ کشف اس سے بے خبر نہ ہوتے، اور خود مدعاعلیہ بھی ۲۵ برس کی عمر تک اس سے بے خبر نہ رہتا۔ وفاتِ عیسیٰ کی خبر مدعاعلیہ کو صرف اِلہام کے ذریعے حاصل ہوئی۔ اب معزّز عدالت کو فیصلہ کرنا ہے کہ مدعاعلیہ کے مندرجہ بالا فتویٰ کے مطابق اسے شیاطین کے ہاتھ کا کھلونا کیوں نہ تصوّر کیا جائے؟ اور کیوں اس کے اِلہام کو اَصل بناکر قرآن وحدیث کے معانی کو تبدیل کیا جائے۔۔۔؟
مندرجہ بالا وجوہ کا حاصل یہ ہے کہ مدعاعلیہ نے جس اِلہامی بنیاد پر اپنا عقیدہ تبدیل کیا، وہ علم وعقل کی میزان میں کوئی وزن نہیں رکھتی، اور نہ اس کی وجہ سے کسی مُسلَّمہ اِسلامی عقیدے کو تبدیل کرنا صحیح ہے، بلکہ ایسا شخص منافق، ملحد، زِندیق اور خارج اَزاِسلام قرار پاتا ہے۔ پس ہماری اِستدعا ہے کہ عدالت اَز رُوئے اِنصاف مدعاعلیہ مرزا غلام احمد قادیانی کو ان اَلقاب کا مستحق قرار دے۔
چونکہ ہمارے پیش کردہ دلائل کا اِنحصار صرف مدعاعلیہ کے مُسلَّمات پر ہے، اس لئے مدعاعلیہ کے وکلاء اس کی جانب سے کوئی معقول اور اِطمینان بخش صفائی پیش نہیں کرسکتے، نہ ہمارے دلائل کا کوئی معقول جواب دے سکتے ہیں۔
کیا ہم یہ توقع رکھیں کہ اِنصاف نام کی کوئی چیز دُنیا میں موجود ہے۔۔۔؟
324
بابِ چہارم
سابقہ عقیدے کے بارے میں مدعاعلیہ کی عذرتراشیاں
پہلے معلوم ہوچکا ہے کہ ہمارے مدعاعلیہ مرزا غلام احمد قادیانی نے اپنی کتاب ’’براہین احمدیہ‘‘ میں ’’حیاتِ مسیح‘‘ کا عقیدہ درج کیا تھا، لیکن ۱۸۹۱ء میں وہ اپنے اس عقیدے سے منحرف ہوگیا اور اس کی جگہ یہ عقیدہ تراش لیا کہ مسیح ابن مریم مرگیا ہے اور اس کی جگہ میں مسیح بن کر آیا ہوں۔ اس پر یہ سوال ہوا کہ پھر تو نے پہلے ’’حیاتِ مسیح‘‘ کا عقیدہ کیوں لکھا تھا؟ اس کے جواب میں اس نے جو اَعذار پیش کئے وہ ذیل میں پیش کئے جاتے ہیں، تاکہ معزّز عدالت ان اَعذار کو میزانِ عقل میں تول کر دیکھے کہ مدعاعلیہ کے یہ عذر کہاں تک سچائی پر مبنی ہیں؟
پہلا عذر: … میں نے رسمی عقیدہ لکھا تھا:
مدعاعلیہ مرزا غلام احمد قادیانی نے بار بار لکھا ہے کہ چونکہ عام مسلمانوں کا عقیدہ یہ تھا کہ حضرت مسیح علیہ السلام زندہ ہیں اور وہ دوبارہ تشریف لائیں گے، اس لئے میں نے بھی براہین میں رسمی عقیدہ لکھ دیا تھا۔ چنانچہ اپنی کتاب ’’اِزالہ اوہام‘‘ میں لکھتا ہے:
’’میں نے براہین میں جو کچھ مسیح بن مریم کے دوبارہ آنے کا ذِکر لکھا ہے، وہ ذِکر صرف ایک مشہور عقیدے کے لحاظ سے ہے، جس کی طرف آج کل ہمارے مسلمان بھائیوں کے خیالات جھکے ہوئے ہیں، سو اسی ظاہری اِعتقاد کے لحاظ سے میں نے براہین میں لکھ دیا تھا کہ ۔۔۔۔۔۔۔ جب مسیح بن مریم آئے گا تو اس کی ظاہری اور جسمانی دونوں طور پر خلافت ہوگی۔‘‘
(ازالہ اوہام ص:۱۹۷، ۱۹۸، خزائن ج:۳ ص:۱۹۶)
مدعاعلیہ اپنی کتابوں میں بار بار لکھتا ہے کہ میں نے براہین میں رسمی عقیدہ لکھا تھا، لیکن اربابِ عقل واِنصاف درج ذیل اُمور پر غور کرکے فیصلہ فرمائیں کہ اس کا یہ عذر اس کی
325
بریت ظاہر کرتا ہے، یا اس کے جرم کو مزید سنگین کردیتا ہے:
اوّل: … مدعاعلیہ نے اپنی کتاب ’’براہین احمدیہ‘‘ کے بڑے فضائل ومناقب بیان کئے تھے، مثلاً:
✨ : … ’’اوّل اس کتاب میں فائدہ یہ ہے کہ یہ کتاب مہماتِ دینیہ کے تحریر کرنے میں ناقص البیان نہیں، بلکہ وہ تمام صداقتیں کہ جن پر اُصول علمِ دِین کے مشتمل ہیں، اور وہ تمام حقائقِ عالیہ کہ جن کی ہیئت اِجتماعی کا نام اِسلام ہے، وہ سب اس میں مکتوب اور مرقوم ہیں۔ اور یہ ایسا فائدہ ہے کہ جس سے پڑھنے والوں کو ضروریاتِ دِین پر اِحاطہ ہوجائے گا، اور کسی مغوی یا بہکانے والے کے پنجے میں نہیں آئیں گے، بلکہ دُوسروں کو وعظ اور نصیحت اور ہدایت کرنے کے لئے ایک کامل اُستاذ اور ایک عیار رہبر بن جائیں گے۔‘‘
(براہین احمدیہ ص:۱۳۶)
✨ : … ’’پانچواں اس کتاب میں یہ فائدہ ہے کہ اس کو پڑھنے سے حقائق اور معارف کلامِ ربانی کے معلوم ہوجائیں گے ۔۔۔۔۔۔ اور وہ تمام کامل صداقتیں جو اس میں دِکھائی ہیں وہ سب آیاتِ بینات قرآن شریف سے ہی لی گئی ہیں ۔۔۔۔۔۔ پس حقیقت میں یہ کتاب قرآن شریف کے دقائق اور حقائق اور اس کے اَسرارِ عالیہ اور اس کے علومِ حکمیہ اور اس کے اعلیٰ فلسفے کو ظاہر کرنے کے لئے ایک عالی شان تفسیر ہے۔‘‘
(ص:۱۳۷)
✨ : … ’’اس احقر نے ۔۔۔۔۔۔ جناب خاتم الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کو خواب میں دیکھا اور اس وقت اس عاجز کے ہاتھ میں ایک دِینی کتاب تھی کہ جو خود اس عاجز کی تالیف معلوم ہوتی تھی۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کتاب کو دیکھ کر عربی زبان میں
326
پوچھا کہ تو نے اس کتاب کا کیا نام رکھا ہے؟ خاکسار نے عرض کیا کہ اس کا نام میں نے ’’قطبی‘‘ رکھا ہے۔ جس نام کی تعبیر اَب اِشتہاری کتاب (براہین احمدیہ) کی تالیف ہونے پر یہ کھلی کہ وہ ایسی کتاب ہے جو قطب ستارہ کی طرح غیرمتزلزل اور مستحکم ہے، جس کے کامل اِستحکام کو پیش کرکے دس ہزار روپے کا اِشتہار دیا گیا ہے۔‘‘
(براہین احمدیہ ص:۲۴۸)
✨ : … ’’براہین احمدیہ‘‘ کے آخر میں ایک اِشتہار ’’ہم اور ہماری کتاب‘‘ کے عنوان سے درج ہے، جس میں مدعاعلیہ لکھتا ہے:
’’یہ عاجز بھی حضرت ابنِ عمران کی طرح اپنے خیالات کی شبِ تاریک میں سفر کر رہا تھا کہ ایک دفعہ پردۂ غیب سے ’’اِنِّی انا ربُّک‘‘ کی آواز آئی، اور ایسے اَسرار ظاہر ہوئے کہ جن تک عقل اور خیال کی رسائی نہ تھی، سو اَب اس کتاب کا متولّی اور مہتمم ظاہراً وباطناً حضرت رَبّ العالمین ہے۔‘‘
(مجموعہ اِشتہارات ج:۱ ص:۵۶)
مدعاعلیہ کے اپنی کتاب ’’براہین احمدیہ‘‘ کے بارے میں ان بلندبانگ دعووں پر نظر کی جائے اور پھر اِنصاف کیا جائے، اگر یہ کتاب واقعی ان صفات کی حامل تھی تو اس میں غلط اور گمراہ کن عقائد کیسے درج کردئیے گئے؟ معلوم ہوا کہ مدعاعلیہ نے یہ عقیدہ محض رسمی طور پر نہیں لکھا تھا، بلکہ قرآن وحدیث کی روشنی میں پورے شرحِ صدر کے ساتھ لکھا تھا۔
دوم: … مدعاعلیہ کا یہ عذر اس وجہ سے بھی باطل ہے کہ اس نے بزعمِ خود یہ کتاب ملہم ومجدّد ہونے کی حیثیت سے لکھی تھی، جیسا کہ مندرجہ بالا اِقتباس سے ظاہر ہے کہ اسے بھی حضرت موسیٰ علیہ السلام کی طرح اس کو’’اِنِّی اَنا ربُّک‘‘ کے خطابِ وحی سے نوازا گیا، جو درحقیقت نبوّت کا دعویٰ ہے۔
علاوہ ازیں ایک دُوسرے اِشتہار میں مدعاعلیہ لکھتا ہے:
327
’’کتاب براہین احمدیہ، جس کو خدائے تعالیٰ کی طرف سے مؤلف نے ملہم ومامور ہوکر بغرضِ اصلاح و تجدیدِ دِین تالیف کیا ہے، جس کے ساتھ دس ہزار روپے کا اِشتہار ہے ۔۔۔۔۔۔ اور مصنف کو اس بات کا بھی علم دِیا گیا ہے کہ وہ مجدّدِ وقت ہے۔‘‘
(مجموعہ اِشتہارات ج:۱ ص:۲۳، مطبوعہ لندن)
اور مدعاعلیہ نے اس کتاب میں اپنے بہت سے اِلہام بھی درج کئے تھے، جن سے ثابت ہوتا ہے کہ وہ اپنے کو ملہم من اللہ سمجھتا تھا، الغرض مدعاعلیہ کے دعوے کے مطابق وہ ’’براہین احمدیہ‘‘ کی تالیف کے زمانے میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے مامور اور ملہم من اللہ تھا، اور اس نے مجدّدِ وقت کی حیثیت سے یہ کتاب اِصلاح و تجدیدِ دِین کے لئے لکھی تھی، اور جو شخص ملہم ومجدّد ہو، اس کے بارے میں مدعاعلیہ کی رائے یہ ہے:
✨ : … ’’وہ اس قدر طبعاً مرضاتِ اِلٰہیہ میں فنا ہوجاتا ہے کہ خدا میں ہوکر بولتا ہے، اور خدا میں ہوکر دیکھتا ہے، اور خدا میں ہوکر سنتا ہے، اور خدا میں ہوکر چلتا ہے، گویا اس کے جبے میں خدا ہی ہوتا ہے۔‘‘
(حقیقۃ الوحی ص:۲۳، خزائن ج:۲۲ ص:۲۵)
✨ : … ’’وہ اپنی نفسانی حیات سے مرکر خدا تعالیٰ کی ذات کا مظہرِ اَتم ہوجاتے ہیں، اور ظلّی طور پر خدا تعالیٰ ان کے اندر داخل ہوجاتا ہے۔‘‘
(ایضاً ص:۲۴، خزائن ص:۲۶)
✨ : … ’’خدا ان پر نازل ہوتا ہے، اور خدا کا عرش ان کا دِل ہوجاتا ہے۔‘‘
(ایضاً ص:۵۴، خزائن ص:۵۶)
✨ : … ’’خدا کے کلام کے متعلق وہ معارفِ صحیحہ (ان کو) سوجھتے ہیں جو دُوسروں کو نہیں سوجھ سکتے، کیونکہ وہ رُوح القدس سے مدد پاتے ہیں۔‘‘
(ایضاً ص:۵۰، خزائن ص:۵۷)
✨ : … ’’اور بباعث نہایت درجہ فنا فی اللہ ہونے کے اس
328
کی زبان ہر وقت خدا کی زبان ہوتی ہے، اور اس کا ہاتھ خدا کا ہاتھ ہوتا ہے، اور اگرچہ اس کو خاص طور پر اِلہام بھی نہ ہو، تب بھی جو کچھ اس کی زبان پر جاری ہوتا ہے، وہ اس کی طرف سے نہیں، بلکہ خدا کی طرف سے ہوتا ہے۔‘‘
(حقیقۃ الوحی ص:۱۶، خزائن ج:۲۲ ص:۱۸)
✨ : … ’’اس عاجز کو اپنے ذاتی تجربے سے یہ معلوم ہے کہ رُوح القدس کی قدسیت ہر وقت اور ہر دَم اور ہر لحظہ بلافصل ملہم کے تمام قویٰ میں کام کرتی رہتی ہے، اور وہ بغیر رُوح القدس اور اس کی تاثیرِ قدسیت کے ایک دَم بھی اپنے تئیں ناپاکی سے نہیں بچاسکتا۔‘‘
(آئینہ کمالاتِ اسلام ص:۹۳، خزائن ج:۵ ص:۹۳)
اس قسم کے تعلّی آمیز دعوے مدعاعلیہ کے کلام میں بہت زیادہ ہیں، سوال یہ ہے کہ جب مدعاعلیہ ملہم ومجدّد تھا، اور جب ملہم کی یہ صفات ہیں تو یہ گمراہ کن عقیدہ رسمی طور پر اس نے براہین میں کیسے درج کردیا؟ اب یا تو یہ کہا جائے کہ اس کا ملہمیت ومجدّدیت کا دعویٰ غلط ہے، یا یہ کہا جائے کہ ملہم کی یہ مبالغہ آمیز صفات جو درجۂ عصمت سے اُٹھاکر اسے درجۂ خدائی تک پہنچاتی ہیں، بالکل غلط ہیں۔ یا یہ تسلیم کیا جائے کہ اس نے جو عقیدہ ’’براہین‘‘ میں لکھا تھا، وہ عقیدہ صحیح تھا، من جانب اللہ تھا، کیونکہ مدعاعلیہ کے بقول:
’’اگرچہ خاص طور پر اس کو اِلہام بھی نہ ہو تب بھی جو کچھ اس کی زبان پر جاری ہوتا ہے وہ اس کی طرف سے نہیں ہوتا بلکہ خدا کی طرف سے ہوتا ہے۔‘‘
بہرحال اس کا یہ عذر کرنا کہ میں نے یہ عقیدہ رسمی طور پر لکھا تھا، قطعاً غلط اور جھوٹ ہے، اور اس کے ملہمیت ومجدّدیت کے دعووں پر پانی پھیردیتا ہے۔
مدعاعلیہ نے اپنی کتاب ’’اعجازِ احمدی‘‘ میں اس سلسلے میں کئی عذر پیش کئے ہیں، اور بڑی دِلچسپ باتیں لکھی ہیں، ذیل میں ایک ایک عذر کو نقل کرکے اس کا تجزیہ کرتا ہوں۔
329
دُوسرا عذر: … کہاں لکھا ہے کہ خدا کی وحی سے بیان کرتا ہوں؟
بابِ اوّل میں گزرچکا ہے کہ مدعاعلیہ نے ’’براہین احمدیہ‘‘ میں عیسیٰ علیہ السلام کی حیات ونزول کا عقیدہ قرآنِ کریم، حدیثِ نبوی اور خود اپنے اِلہامات کے حوالے سے لکھا تھا، لیکن ’’اعجازِ احمدی‘‘ میں لکھتا ہے:
’’اس وقت کے نادان مخالف بدبختی کی طرف ہی دوڑتے ہیں اور شقاوت سر پر سوار ہے، باز نہیں آتے، کیا کیا اِعتراض بنا رکھے ہیں، مثلاً کہتے ہیں کہ مسیحِ موعود کا دعویٰ کرنے سے پہلے براہین احمدیہ میں عیسیٰ علیہ السلام کے آنے کا اِقرار موجود ہے۔ اے نادانو! اپنی عاقبت کیوں خراب کرتے ہو؟ اس اِقرار میں کہاں لکھا ہے کہ یہ خدا کی وحی سے بیان کرتا ہوں اور مجھے کب اس بات کا دعویٰ ہے کہ میں عالم الغیب ہوں۔‘‘
(اعجازِ احمدی ص:۶، خزائن ج:۱۷ ص:۸)
مدعاعلیہ سے دریافت کیا جائے کہ کیا قرآنِ کریم کی وہ آیت جس کے حوالے سے تو نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی دوبارہ تشریف آوری کا عقیدہ درج کیا تھا، کیا تو اس کو ’’وحیٔ اِلٰہی‘‘ نہیں سمجھتا؟ اور ’’براہین‘‘ کے صفحہ:۵۰۵ پر اپنے اِلہام کے حوالے سے تو نے یہ عقیدہ درج کیا تھا، کیا وہ تیرے نزدیک وحیٔ اِلٰہی نہیں تھی؟ اور صفحہ:۴۹۸ پر تو نے جب لکھا تھا کہ ’’لیکن اس عاجز پر ظاہر کیا گیا ہے‘‘ تو یہ اِنکشاف خدا کی طرف سے تھا، یا شیطان کی طرف سے؟
الغرض اگر مدعاعلیہ قرآنِ کریم کو اور اپنے کشف واِلہام کو وحیٔ اِلٰہی سمجھتا ہے تو یہاں اِنکار کرنا خالص جھوٹ نہیں تو اور کیا ہے۔۔۔؟
تیسرا عذر: … میں نے کب کہا کہ میں عالم الغیب ہوں؟
رہا تیرا یہ کہنا کہ:
’’اور مجھے کب اس بات کا دعویٰ ہے کہ میں عالم الغیب ہوں۔‘‘
330
اوّلاً: … کیا صرف اسی شخص کا عقیدہ صحیح ہونا چاہئے جو عالم الغیب ہو؟ نہیں! بلکہ ہر مسلمان کا عقیدہ صحیح ہونا چاہئے، خصوصاً جو شخص مجدّدیت کا مدعی ہو، اس کا عقیدہ صحیح ہونا ضروری ہے، اگر تو مجدّدِ وقت تھا تو، تو نے غلط عقیدہ لکھ کر دُنیا کو گمراہ کیوں کیا؟
ثانیاً: … اگرچہ تو نے عالم الغیب ہونے کا دعویٰ نہیں کیا تھا، لیکن تو نے یہ دعویٰ ضرور کیا تھا کہ ظلّی طور پر خدا تیرے اندر داخل ہوگیا ہے، اور تیرے جبے میں خدا ہی ہے، اور تجھے ’’آواہن‘‘ کا بھی اِلہام ہوا تھا، یعنی ’’خدا تیرے اندر اُتر آیا‘‘ اس کے باوجود یہ عذر کرنا کہ میں ’’عالم الغیب‘‘ نہیں تھا، کس قدر لائقِ شرم عذر ہے۔۔۔!
چوتھا عذر: … کمالِ سادگی!
مدعاعلیہ نے اپنی سادگی کو بھی عذر قرار دِیا ہے، وہ لکھتا ہے:
’’جب تک خدا نے اس طرف توجہ نہ دی اور بار بار نہ سمجھایا کہ تو مسیحِ موعود ہے اور عیسیٰ فوت ہوگیا ہے، تب تک میں اسی عقیدے پر قائم تھا جو تم لوگوں کا عقیدہ ہے۔ اسی وجہ سے کمالِ سادگی سے میں نے حضرت مسیح کے دوبارہ آنے کی نسبت براہین میں لکھا ہے۔ جب خدا نے مجھ پر اَصل حقیقت کھول دی تو میں اس عقیدے سے باز آگیا۔ میں نے بجز کمالِ یقین کے جو میرے دِل پر محیط ہوگیا اور مجھے نور سے بھردیا اور اس رسمی عقیدے کو نہ چھوڑا حالانکہ اسی براہین میں میرا نام عیسیٰ رکھا گیا تھا اور مجھے خاتم الخلفاء ٹھہرایا گیا تھا اور میری نسبت کہا گیا تھا کہ تو ہی کسرِ صلیب کرے گا۔ اور مجھے بتلایا گیا تھا کہ تیری خبر قرآن وحدیث میں موجود ہے اور تو ہی اس آیت کا مصداق ہے کہ ھو الذی ارسل رسولہٗ بالھدٰی ودین الحق لیظھرہ علی الدین کلہ، تاہم یہ اِلہام جو براہین احمدیہ میں کھلے کھلے طور پر درج تھا خدا کی حکمتِ عملی نے میری نظر سے پوشیدہ رکھا
331
اور اسی وجہ سے باوجودیکہ میں براہین احمدیہ میں صاف اور روشن طور پر مسیحِ موعود ٹھہراگیا تھا، مگر پھر بھی میں نے بوجہ اس ذہول کے جو میرے دِل پر ڈالا گیا حضرت عیسیٰ کی آمدِ ثانی کا عقیدہ براہین احمدیہ میں لکھ دیا۔ پس میری کمالِ سادگی اور ذہول پر یہ دلیل ہے کہ وحیٔ اِلٰہی مندرجہ براہین احمدیہ تو مجھے مسیحِ موعود بناتی تھی مگر میں نے اس رسمی عقیدے کو براہین میں لکھ دیا۔ میں خود تعجب کرتا ہوں کہ میں نے باوجود کھلی کھلی وحی کے جو براہین احمدیہ میں مجھے مسیحِ موعود بناتی تھی کیونکر اسی کتاب میں یہ رسمی عقیدہ لکھ دیا۔
(اعجازِ احمدی ص:۱ تا۷، خزائن ج:۱۹ ص:۹)
اِنصاف فرمایا جائے کہ مدعاعلیہ مجدّدیت، ماموریت اور ملہمیت کے بلند بانگ دعوے بھی کرتا ہے، اور ساتھ ہی اپنی غباوت اور سادگی کا بھی اِقرار کرتا ہے کہ اسے بارہ برس تک یہی پتہ نہیں چلا کہ خدا نے اسے مسیحِ موعود بنایا ہے۔
اور یہ بھی عجیب ماجرا ہے کہ ایک طرف خدا مدعاعلیہ پر یہ ظاہر کرتا ہے کہ تو حضرت مسیح علیہ السلام کی پیش گوئی میں شامل ہے، یعنی حضرت مسیح علیہ السلام اس پیش گوئی کا ظاہری اور جسمانی طور پر مصداق ہیں، اور تو رُوحانی اور معقولی طور پر اس کا مورد ہے، اور دُوسری طرف وہی خدا مدعاعلیہ سے کہتا ہے کہ:
’’تیری خبر قرآن اور حدیث میں موجود ہے اور تو ہی اس آیت کا مصداق ہے کہ
332
آیت کا مصداق ہے کہھو الذی ارسل رسولہٗ بالھدٰی ودین الحق لیظھرہ علی الدین کلہ۔‘‘
یہ ایک ایسا تناقض ہے جو کسی مخبوط الحواس یا منافق ہی کے قلم سے سرزد ہوسکتا ہے۔۔۔!
پانچواں عذر: … خدا کی حکمتِ عملی:
مدعاعلیہ کہتا ہے کہ:
’’یہ اِلہام جو براہین احمدیہ میں کھلے کھلے طور پر درج تھا خدا کی حکمتِ عملی نے میری نظر سے پوشیدہ رکھا ۔۔۔۔۔۔ یہ خدا کی حکمتِ عملی میری سچائی کی ایک دلیل تھی اور میری سادگی اور عدم بناوَٹ پر ایک نشان تھا ۔۔۔۔۔۔ یہ میری سادگی تھی جو میری سچائی پر ایک عظیم الشان دلیل تھی ۔۔۔۔۔۔ یہ ایک لطیف اِستدلال ہے جو خدا نے میرے لئے براہین احمدیہ میں پہلے سے تیار کر رکھا ہے۔‘‘
(اعجازِ احمدی ص:۷،۸ ملخصاً)
مدعاعلیہ اپنی اس سادگی اور ذہول کو خدا کی ’’حکمتِ عملی‘‘ اور خدا کی طرف سے ایک ’’لطیف اِستدلال‘‘ قرار دیتا ہے، یہ بات بالکل صحیح ہے، لیکن یہ اس کی سچائی کی دلیل نہیں، بلکہ اس کے جھوٹ کی دلیل ہے، کیونکہ اللہ تعالیٰ علیم وخبیر کو معلوم تھا کہ یہ شخص باغوائے شیطانی آئندہ چل کر ’’مسیحِ موعود‘‘ ہونے کا دعویٰ کرے گا، اس لئے اللہ تعالیٰ نے اس پر ذہول کا پردہ ڈال کر اسے تناقض میں مبتلا کردیا، اور خود اس کے قلم سے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی حیات ونزول کا عقیدہ لکھوادیا، تاکہ آئندہ جب وہ ’’مسیحِ موعود‘‘ ہونے کا دعویٰ کرے تو خود اس کو اس کے الفاظ میں ملزم کہا جاسکے:
’’صاحبِ من! اِقرار کے بعد کوئی قاضی اِنکار نہیں سن سکتا۔‘‘
(اعجازِ احمدی ص:۳۰، خزائن ج:۱۹ ص:۱۳۹)
333
ایک اہم لطیفہ:
ہمارے مدعاعلیہ مرزا غلام احمد قادیانی کے دو دعوے معرکۃ الآراء ہیں، ایک ’’مسیحِ موعود‘‘ ہونے کا دعویٰ، اور دُوسرا نبوّت کا دعویٰ۔ عجیب کرشمہ لطفِ خداوندی یہ ہے کہ وہ اپنے دعووں کی جڑ پہلے سے کاٹ چکا تھا، چنانچہ اللہ تعالیٰ نے اس کی سب سے پہلی اِلہامی کتاب ’’براہین احمدیہ‘‘ میں لکھوادیا کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام زندہ ہیں اور وہ دوبارہ دُنیا میں نزولِ اجلال فرمائیں گے، تاکہ اس کے بعد وہ جب بھی اس عقیدے سے اِنحراف کرے، اس کے سامنے اس کا یہ قول پیش کردیا جائے:
’’صاحبِ من! اِقرار کے بعد کوئی قاضی اِنکار نہیں سن سکتا‘‘
اور اس کے دُوسرے دعوے کو باطل کرنے کے لئے اس کے قلم سے بار بار لکھوادیا کہ مدعیٔ نبوّت ملعون ہے، کاذب ہے، کافر ہے، دائرۂ اسلام سے خارج ہے، چنانچہ مدعاعلیہ کے چند فقرے ملاحظہ فرمائیے:
✨ : … ’’ان پر واضح ہو کہ ہم بھی مدعیٔ نبوّت پر لعنت بھیجتے ہیں۔‘‘
(مجموعہ اِشتہارات ج:۲ ص:۲۹۷)
✨ : … ’’سیّدنا ومولانا حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم ختم المرسلین کے بعد کسی دُوسرے مدعیٔ نبوّت ورِسالت کو کاذب وکافر جانتا ہوں۔‘‘
(مجموعہ اِشتہارات ج:۱ ص:۲۳۰)
✨ : … ’’میں نبوّت کا مدعی نہیں، بلکہ ایسے مدعی کو خارج اَزاِسلام سمجھتا ہوں۔‘‘
(آسمانی فیصلہ ص:۳، خزائن ج:۴ ص:۳۱۳)
اور اس کے قلم سے اللہ تعالیٰ نے یہ بھی لکھوادیا کہ آنحضرت خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد کسی نبی ورسول کا آنا ممکن ہی نہیں، لہٰذا جو شخص رِسالت ونبوّت کا دعویٰ کرتا ہے وہ ایک اَمرِ محال کا دعویٰ کرتا ہے، جو سراسر باطل ہے۔ چند فقرے ملاحظہ فرمائیے:
✨ : … ’’ظاہر ہے کہ اگرچہ ایک ہی دفعہ وحی کا نزول فرض
334
کیا جاوے اور صرف ایک ہی فقرہ حضرت جبریل لاویں اور پھر چپ ہوجاویں، یہ امر بھی ختمِ نبوّت کا منافی ہے، کیونکہ جب ختمیت کی مہر ہی ٹوٹ گئی اور وحیٔ رِسالت پھر نازل ہونی شروع ہوگئی تو پھر تھوڑا بہت نازل ہونا برابر ہے۔‘‘
(اِزالہ اوہام ص:۵۷۷، خزائن ج:۳ ص:۴۱۲)
✨ : … ’’ہر یک دانا سمجھ سکتا ہے کہ اگر خدائے تعالیٰ صادق الوعد ہے اور جو آیت خاتم النبیین میں وعدہ دیا گیا ہے اور جو حدیثوں میں بتصریح بیان کیا گیا ہے کہ اب جبرئیل بعد وفاتِ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمیشہ کے لئے وحیٔ نبوّت کے لانے سے منع کیا گیا ہے، یہ تمام باتیں سچ اور صحیح ہیں تو پھر کوئی شخص بحیثیت رسالت ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد ہرگز نہیں آسکتا۔‘‘
(ایضاً)
✨ : … ’’لیکن خدا تعالیٰ ایسی ذِلت اور رُسوائی اس اُمت کے لئے اور ایسی ہتک اور کسرِ شان اپنے نبی مقبول خاتم الانبیاء کے لئے ہرگز رَوا نہیں رکھے گا کہ ایک رسول کو بھیج کر جس کے آنے کے ساتھ جبرائیل کا آنا ضروری اَمر ہے اِسلام کا تختہ ہی اُلٹا دیوے حالانکہ وہ وعدہ کرچکا ہے کہ بعد آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے کوئی رسول بھیجا نہیں جائے گا۔‘‘
(ایضاً ص:۴۱۶)
✨ : … ’’رسول کی حقیقت اور ماہیت میں یہ اَمر داخل ہے کہ دِینی علوم کو بذریعہ جبرائیل حاصل کرے، اور ابھی ثابت ہوچکا ہے کہ اب وحیٔ رِسالت تا بقیامت منقطع ہے۔‘‘
(ایضاً ص:۴۳۲)
مدعاعلیہ کے ان حوالہ جات سے واضح ہے کہ:
✨ : … ختمِ نبوّت، اسلام کا قطعی عقیدہ ہے، جس کا مفہوم آیت خاتم النبیین کی رُو سے یہ ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد کوئی شخص منصبِ نبوّت پر فائز نہیں ہوسکتا، نہ
335
کسی پر وحیٔ نبوّت نازل ہوسکتی ہے۔
✨ : … وحیٔ نبوّت حضرت جبریل علیہ السلام کے ذریعے نازل ہوئی ہے، اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد حضرت جبریل علیہ السلام کے وحیٔ نبوّت لے کر آنے کا سلسلہ بند کردیا گیا ہے۔
✨ : … آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد حضرت جبریل علیہ السلام کا کسی کے پاس ایک فقرہ وحی کا لے کر آنا بھی ختمِ نبوّت کے منافی ہے۔
✨ : … اللہ تعالیٰ نے آیت خاتم النبیین میں وعدہ فرمایا ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد حضرت جبریل علیہ السلام کسی کے پاس وحیٔ نبوّت لے کر نہیں آئیں گے، اب اگر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد کسی شخص کا رسول اور نبی ہونا فرض کیا جائے تو اللہ تعالیٰ کے اس وعدے کا جھوٹا ہونا لازم آتا ہے۔
✨ : … آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد کسی شخص کا رسول اور نبی ہونا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی توہین ہے۔
✨ : … اور اس سے اِسلام کا تختہ اُلٹ جاتا ہے۔
✨ : … کوئی شخص رسول اور نبی نہیں ہوسکتا جب تک جبریل علیہ السلام اس کے پاس وحی لے کر نہ آئیں، اور وحیٔ رِسالت قیامت تک بند ہے۔
ان تمام تصریحات کے باوجود مدعاعلیہ مرزا غلام احمد قادیانی نے یہ دعویٰ جڑ دیا کہ ’’ہم نبی اور رسول ہیں‘‘ اور یہ کہ مدعاعلیہ کی وحیٔ اِلٰہی نے اسے ’’محمد رسول اللہ‘‘ قرار دیا ہے۔
مدعاعلیہ کا خلیفہ دوم اور اس کا فرزندِ اکبر مرزا محمود احمد بڑی شدومد سے اپنے ابا کی نبوّت کا قائل تھا، اور اس کی نبوّت کے منکروں کو کافر قرار دیتا تھا، اس کو مدعاعلیہ کے ان حوالوں سے بڑی پریشانی ہوئی، بالآخر اس نے اعلان کردیا کہ اس کے ابا کے یہ حوالے منسوخ ہیں، اور ان سے حجت پکڑنا غلط ہے، چنانچہ مرزا محمود اپنی کتاب ’’حقیقۃ النبوۃ‘‘ میں ۔۔۔جو خالص اسی موضوع پر لکھی گئی ہے۔۔۔ طویل بحث کے آخر میں لکھتا ہے:
336
’’اس سے معلوم ہوا کہ نبوّت کا مسئلہ آپ پر ۱۹۰۰ء یا ۱۹۰۱ء میں کھلا ہے، اور چونکہ ایک غلطی کا اِزالہ ۱۹۰۱ء میں شائع ہوا ہے، جس میں آپ نے اپنی نبوّت کا اِعلان بڑے زور سے کیا ہے، اس سے ثابت ہوتا ہے کہ ۱۹۰۱ء میں آپ نے اپنے عقیدے میں تبدیلی کی ہے، اور ۱۹۰۰ء ایک درمیانی عرصہ ہے جو دونوں خیالات کے درمیان برزخ کے طور پر حدِ فاصل ہے، پس ایک طرف آپ کی کتابوں سے اس امر کے ثابت ہونے سے کہ ۱۹۰۱ء سے آپ نے نبی کا لفظ بار بار اِستعمال کیا ہے، اور دُوسری طرف حقیقۃ الوحی سے یہ ثابت ہونے سے کہ آپ نے تریاق القلوب کے بعد نبوّت کے متعلق عقیدے میں تبدیلی کی ہے، یہ بات ثابت ہے کہ ۱۹۰۱ء سے پہلے کے وہ حوالے جن میں آپ نے نبی ہونے سے انکار کیا ہے، اب منسوخ ہیں، اور ان سے حجت پکڑنی غلط ہے۔‘‘
(حقیقۃ النبوۃ ص:۱۲۱)
مرزا محمود احمد کی یہ تحریر دُنیا کے عجائبات میں شمار کئے جانے کے لائق ہے، کیونکہ مرزا محمود یہ تو تسلیم کرتا ہے ۔۔۔اور بالکل صحیح تسلیم کرتا ہے۔۔۔ کہ اس کا ابا پہلے اپنی نبوّت کا اِنکار کرتا تھا، مدعیٔ نبوّت کو ملعون اور خارج اَزاِسلام قرار دیتا تھا، لیکن بعد میں خود مدعیٔ نبوّت بن گیا۔ مرزا محمود کے خیال میں اس تضاد کو دُور کرنے کا حل یہی تھا کہ اس کے ابا کی ۱۹۰۱ء سے پہلے کی تمام متعلقہ عبارتوں کو منسوخ کردیا جائے۔ یہ طرفہ تماشا دُنیا نے کب دیکھا ہوگا کہ باپ کی عبارتوں کو بیٹا منسوخ کرڈالتا ہے؟ بہرحال میں اہلِ عقل وفہم کی عدالتِ اِنصاف سے درخواست کرتا ہوں کہ وہ غور فرمائے کہ مرزا محمود احمد کی تحریر سے مرزا غلام احمد قادیانی کے مندرجہ بالا تمام اُصول کس طرح منسوخ ہوگئے؟ اور قرآن مجید کی آیت خاتم النبیین کس طرح منسوخ ہوگئی۔۔۔؟
اس کے بارے میں خود اپنی طرف سے کچھ کہنے کے بجائے بیٹے کی خدمت میں
337
اس کے باپ ہی کی تحریر نذر کرتا ہوں:
’’اے مسلمانوں کی ذُرّیت کہلانے والو! دُشمنِ قرآن نہ بنو! اور خاتم النبیین (صلی اللہ علیہ وسلم) کے بعد وحیٔ نبوّت کا نیا سلسلہ جاری نہ کرو! اور خدا سے شرم کرو جس کے سامنے حاضر کئے جاؤگے۔‘‘
(آسمانی فیصلہ ص:۲۵، خزائن ج:۴ ص:۳۳۵)
الغرض! حق تعالیٰ شانہ‘ کی حکمتِ عملی یہ تھی کہ اس علیم وخبیر کو معلوم تھا کہ یہ شخص (ہمارا مدعاعلیہ مرزا قادیانی) دو دعوے کرے گا، ایک دعویٰ مسیحِ موعود ہونے کا، اور دُوسرا مدعیٔ نبوّت ورِسالت کا۔ اللہ تعالیٰ کی حکمتِ بالغہ نے ان دونوں دعووں کے بارے میں اس کے قلم سے پہلے ہی ایسی تحریریں لکھوادیں کہ اس کے دعووں کی جڑ کٹ جائے، اور اس کا جھوٹا ہونا ہر عام وخاص کے سامنے کھل جائے، وَیَمْکُرُوْنَ وَیَمْکُرُ اللہُ، وَاللہُ خَیْرُ الْمَاکِرِیْنَ۔
چھٹا عذر: … حیاتِ مسیح کا عقیدہ منسوخ ہوگیا:
ایک عذر خود مدعاعلیہ مرزا غلام احمد قادیانی کی طرف سے اِشارۃً اور اس کے مذہب کے نمائندوں کی طرف سے صراحۃً یہ پیش کیا جاتا ہے کہ جس طرح پہلے بیت المقدس کو قبلہ مقرّر کیا گیا تھا، بعد میں وہ حکم منسوخ ہوگیا، اور بیت اللہ شریف کی طرف منہ کرنے کا حکم ہوا، اسی طرح حیات و نزولِ مسیح کا عقیدہ بھی منسوخ ہوگیا، اور اس کی جگہ مرزا غلام احمد قادیانی کو مسیحِ موعود مقرّر کردیا گیا۔
لیکن یہ عذر باطل ہے، اس لئے کہ نسخِ اَحکام میں ہوتا ہے، خبروں میں نسخ نہیں ہوتا، کیونکہ جب کوئی شخص پہلی خبر کے خلاف دُوسری خبر دے تو لامحالہ ان دونوں خبروں میں سے ایک خبر واقعے کے مطابق ہوگی، اور دُوسری واقعے کے خلاف۔ جو خبر واقعے کے مطابق ہو، وہ سچی کہلائے گی، اور جو واقعہ کے خلاف ہو، وہ جھوٹی ہوگی۔ ہمارے مدعاعلیہ مرزا غلام احمد قادیانی نے پہلے یہ خبر دی کہ:
338
’’حضرت مسیح علیہ السلام دوبارہ تشریف لائیں گے۔‘‘
بعد میں اس کے خلاف یہ خبر دی کہ:
’’حضرت مسیح علیہ السلام مرگئے ہیں، وہ دوبارہ نہیں آئیں گے۔‘‘
ظاہر ہے کہ ان دونوں میں سے جو خبر واقعے کے مطابق ہوگی، وہ سچی ہے، اور جو واقعے کے خلاف ہے، وہ جھوٹی ہے۔ اس لئے خبر کو سچی یا جھوٹی تو کہہ سکتے ہیں، مگر وہ ناسخ ومنسوخ نہیں ہوسکتی۔ اس لئے جس طرح مرزا محمود احمد کا نبوّت کے مسئلے میں اپنے ابا کی پہلی تحریروں کو منسوخ کہنا غلط ہے، اسی طرح مرزا کی اُمت کا حیات و نزولِ مسیح کی خبر کو منسوخ قرار دینا بھی غلط ہے۔
بابِ پنجم
مدعاعلیہ کی اپنے سابقہ عقیدے کے بارے میں گل افشانیاں
مدعاعلیہ مرزا غلام احمد قادیانی نے اپنے باوَن سالہ عقیدے کے بارے میں جو جو عذر پیش کئے، ان کا نمونہ گزشتہ باب میں سپردِ قلم کیا جاچکا ہے۔ اس باب میں ہمیں یہ دیکھنا ہے کہ مدعاعلیہ نے اپنے سابقہ باوَن سالہ عقیدے کے بارے میں کیا کیا گل افشانیاں کیں؟ ملاحظہ فرمائیے۔۔۔!
محض گپ:
مدعاعلیہ لکھتا ہے:
’’ہم ثابت کرچکے ہیں کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا زِندہ آسمان پر جانا محض گپ ہے۔‘‘
(ضمیمہ براہین پنجم ص:۱۰۰، خزائن ج:۲۱ص:۲۶۲)
کسی لغت کی کتاب کو اُٹھاکر دیکھ لیجئے ’’گپ‘‘ کے معنی ہیں جھوٹ، جھوٹی بات۔ گویا مدعاعلیہ یہ کہنا چاہتا ہے کہ ’’براہین احمدیہ‘‘ میں اس نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی
339
حیات ونزول کا عقیدہ درج کرکے ’’محض گپ‘‘ ہانکی تھی، اور پھر ۱۸۹۱ء تک اسی گپ پر اس کا اِیمان رہا۔ اہلِ عقل وفہم اِنصاف فرمائیں کہ کیا ایسا ’’گپ باز‘‘ آدمی مسیحِ موعود ہوسکتا ہے؟ کیا ایسا شخص مفتری اور کذّاب کہلانے کا مستحق نہیں ہے۔۔۔؟
لطیفہ یہ ہے کہ اس کے بجائے کہ ہم اس کو مفتری اور کذّاب کہیں، اللہ تعالیٰ نے خود مدعاعلیہ کے قلم سے لکھوادیا کہ وہ مفتری اور کذّاب ہے، وہ خود بھی ۔۔۔اور اس کے ماننے والے بھی۔۔۔ چنانچہ وہ اپنی کتاب ’’اِزالہ اوہام‘‘ میں ’’علمائے ہند کی خدمت میں نیازنامہ‘‘ کے زیرِ عنوان لکھتا ہے:
’’اے برادرانِ دِین و علمائے شرعِ متین! آپ صاحبان میری ان معروضات کو متوجہ ہوکر سنیں کہ اس عاجز نے جو مثیلِ موعود ہونے کا دعویٰ کیا ہے جس کو کم فہم لوگ مسیحِ موعود خیال کر بیٹھے ہیں، یہ کوئی نیا دعویٰ نہیں جو آج ہی میرے منہ سے سنا گیا ہو، بلکہ یہ وہی پُرانا اِلہام ہے جو میں نے خدائے تعالیٰ سے پاکر براہین احمدیہ کے کئی مقامات پر بتصریح درج کردیا تھا، جس کے شائع کرنے پر سات سال سے بھی کچھ زیادہ عرصہ گزر گیا ہوگا، میں نے یہ دعویٰ ہرگز نہیں کیا کہ میں مسیح بن مریم ہوں، جو شخص یہ اِلزام میرے پر لگاوے وہ سراسر مفتری اور کذّاب ہے۔‘‘
(اِزالہ اوہام ص:۱۹۰، خزائن ج:۳ ص:۱۹۲)
واضح رہے کہ مدعاعلیہ خود بھی اپنے کو ’’مسیحِ موعود‘‘ اور ’’اِبنِ مریم‘‘ کہتا ہے، اور اس کے ماننے والے بھی اس کے بارے میں یہی الفاظ اِستعمال کرتے ہیں، معلوم ہوا کہ یہ سب مدعاعلیہ کے اپنے فتوے کی رُو سے کم فہم اور مفتری وکذّاب ہیں۔
ایک اہم نکتہ:
ہمارا مدعاعلیہ مرزا قادیانی، ۱۸۹۱ء تک کہتا رہا کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام دوبارہ
340
آئیں گے، اس کے بعد یہ کہنا شروع کیا کہ وہ مرگئے ہیں، دوبارہ نہیں آئیں گے۔ مسلمان اور قادیانی دونوں فریق اس پر متفق ہیں کہ ان دونوں متضاد خبروں میں ایک سچی تھی اور ایک جھوٹی۔ فرق یہ ہے کہ مسلمان کہتے ہیں کہ مرزا کی پہلی خبر سچی تھی اور دُوسری جھوٹی۔ اس کے برعکس قادیانی کہتے ہیں کہ پہلی جھوٹی تھی اور دُوسری سچی۔
جھوٹی خبر دینے والا شخص جھوٹا کہلاتا ہے، لہٰذا دونوں فریق اس پر متفق ہیں کہ مرزا جھوٹا تھا۔۔۔!
ایک اور قابلِ غور نکتہ:
یہ تو آپ نے ابھی دیکھا کہ دونوں فریق مدعاعلیہ کے جھوٹا ہونے پر متفق ہیں، آئیے اب یہ دیکھیں کہ دونوں میں کون سا فریق مدعاعلیہ کو ’’بڑا جھوٹا‘‘ مانتا ہے؟
مسلمان کہتے ہیں کہ اِبتدا سے ۱۸۹۱ء تک مدعاعلیہ اپنی زندگی کے پچاس برس تک سچ بولتا رہا، آخری سترہ سالوں میں اس نے جھوٹ بولنا شروع کیا۔ اس کے برعکس قادیانیوں کا کہنا یہ ہے کہ مدعاعلیہ اپنی زندگی کے پچاس برس تک جھوٹ بکتا رہا اور آخری سترہ سال میں اس نے سچ بولا۔
خلاصہ یہ کہ مسلمانوں کے نزدیک مدعاعلیہ کے سچ کا زمانہ پچاس سال ہے، اور جھوٹ کا زمانہ صرف آخری سترہ سال ہے۔ اور قادیانیوں کے نزدیک مدعاعلیہ کے جھوٹ کا زمانہ پچاس سال ہے، اور اس کے سچ کا زمانہ صرف سترہ سال۔
بتائیے! دونوں میں سے کس فریق کے نزدیک مدعاعلیہ ’’بڑا جھوٹا‘‘ نکلا۔۔۔؟
ایک اور لائقِ توجہ نکتہ:
مسلمان کہتے ہیں کہ مدعاعلیہ قادیانی پچاس سال تک سچ کہتا رہا کہ عیسیٰ علیہ السلام دوبارہ آئیں گے، لیکن پھر شیطان نے اس کو بہکادیا اور شیطان کے بہکانے سے یہ کہنے لگا کہ عیسیٰ علیہ السلام دوبارہ نہیں آئیں گے، بلکہ میں خود مسیحِ موعود بن گیا ہوں۔
341
اور قادیانی کہتے ہیں کہ وہ پچاس سال تک جھوٹ بکتا رہا کہ عیسیٰ علیہ السلام آئیں گے، پھر اس کے پچاس سال جھوٹ بکنے کے صلے میں اللہ تعالیٰ نے اس کو ۔۔۔نعوذباللہ۔۔۔ مسیحِ موعود بنادیا۔ یہ بات تو ہر ایک کی عقل میں آسکتی ہے کہ ایک شخص پچاس برس تک صحیح عقیدے پر رہے اور سچ بولتا رہے، لیکن پھر ۔۔۔نعوذباللہ۔۔۔ اس کا دِماغ خراب ہوجائے، اور شیطان کے بہکانے سے جھوٹے دعوے کرنے لگے، لیکن کیا کسی کی عقل میں یہ بات آسکتی ہے کہ پچاس سال تک جھوٹ بولنے والے کو ’’مسیحِ موعود‘‘ بنادیا جائے؟
ایک اور دِلچسپ نکتہ:
اُوپر معلوم ہوچکا کہ مسلمان اور قادیانی دونوں فریق اس پر متفق ہیں کہ مدعاعلیہ جھوٹا تھا۔ ادھر مدعاعلیہ کا دعویٰ ہے کہ وہ مسیحِ موعود ہے۔ ظاہر ہے کہ جھوٹا آدمی جب مسیح ہونے کا دعویٰ کرے گا تو وہ ’’مسیحِ کذّاب‘‘ کہلائے گا، لہٰذا دونوں فریق اس پر بھی متفق ہوئے کہ وہ ’’مسیحِ کذّاب‘‘ تھا۔ اور اُوپر خود مدعاعلیہ کا اِقرار بھی نقل کیا جاچکا ہے کہ جو شخص مجھ کو مسیح ابنِ مریم کہے وہ مفتری اور کذّاب ہے۔
شرکِ عظیم:
مدعاعلیہ اپنی کتاب ’’حقیقۃ الوحی‘‘ کے عربی ضمیمہ ’’الاستفتاء‘‘ میں لکھتا ہے:
’’فمن سوء الأدب أن یقال أن عیسٰی ما مات إن ھو إلّا شرک عظیم یأکل الحسنات۔‘‘
(استفتاء ص:۹۳، خزائن ج:۲۲ ص:۶۶۰)
ترجمہ: … ’’سو من جملہ سوئِ ادب کے ہے کہ یہ کہا جائے کہ عیسیٰ مرا نہیں، یہ تو نرا شرکِ عظیم ہے، جو نیکیوں کو کھا جاتا ہے۔‘‘
مدعاعلیہ کے اس اِقتباس سے معلوم ہوا کہ وہ ۱۸۹۱ء تک حیاتِ عیسیٰ علیہ السلام کا عقیدہ رکھنے کی وجہ سے مشرک تھا، اور اسی ’’عظیم مشرک‘‘ کو اللہ تعالیٰ نے ۔۔۔نعوذباللہ۔۔۔ مسیحِ موعود بنادیا۔۔۔!
342
عیسائی عقیدہ:
مدعاعلیہ ’’حقیقۃ الوحی‘‘ میں لکھتا ہے:
’’حضرت عیسیٰ کے دوبارہ آنے کا عقیدہ عیسائیوں نے محض اپنے فائدے کے لئے گھڑا تھا۔‘‘
(حاشیہ حقیقۃ الوحی ص:۲۹، خزائن ج:۲۲ ص:۳۱)
اور ’’الاستفتاء‘‘ میں لکھتا ہے:
’’وان عقیدۃ حیاتہ قد جائت فی المسلمین من الملّۃ النصرانیۃ۔‘‘
(الاستفاء ص:۳۹، خزائن ج:۲۲ ص:۶۶۰)
ترجمہ: … ’’اور حیاتِ عیسیٰ علیہ السلام کا عقیدہ مسلمانوں میں نصرانی مذہب سے آیا ہے۔‘‘
اس سے معلوم ہوا کہ مدعاعلیہ ۱۸۹۱ء تک عیسائی عقائد رکھتا تھا، گویا پکا عیسائی تھا، اللہ کی شان ایک مسیحی بعد میں مسیح بن بیٹھا۔۔۔!
نصوصِ قطعیہ یقینیہ کے خلاف:
مدعاعلیہ اپنی کتاب ’’حمامۃ البشریٰ‘‘ میں لکھتا ہے:
’’اعلم أن وفاۃ عیسٰی علیہ السلام ثابت بالنصوص القطعیۃ الیقینیۃ۔‘‘
(ص:۵۶ حاشیہ، خزائن ج:۷ ص:۲۵۴)
ترجمہ: … ’’جان لیجئے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی وفات نصوصِ قطعیہ یقینیہ سے ثابت ہے۔‘‘
اس قسم کی تصریحات مدعاعلیہ کی کتابوں میں بہت سی جگہ پائی جاتی ہیں، جن سے ثابت ہوتا ہے کہ۱۸۹۱ء تک مدعاعلیہ نصوصِ قطعیہ یقینیہ کے خلاف عقیدہ رکھتا تھا، اور مدعاعلیہ کا یہ حوالہ پہلے نقل کرچکا ہوں کہ:
343
’’ایسے شخص کی نسبت، جو مخالفِ قرآن اور حدیث کوئی اِعتقاد رکھتا ہو، ولایت کا گمان ہرگز نہیں کرسکتے، بلکہ وہ دائرۂ اِسلام سے خارج سمجھا جاتا ہے۔‘‘
(مجموعہ اِشتہارات ج:۱ ص:۲۳۹)
معلوم ہوا کہ مدعاعلیہ خود اپنے فتوے کے مطابق ۱۸۹۱ء تک دائرۂ اِسلام سے خارج تھا، اُمتِ مرزائیہ کی خوش قسمتی کہ ایک غیرمسلم کو ۔۔۔جو دائرۂ اِسلام سے خارج تھا۔۔۔ ان کا مسیحِ موعود بننے کا شرف حاصل ہوگیا۔۔۔!
آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی توہین:
مدعاعلیہ اپنی کتاب ’’تحفہ گولڑویہ‘‘ کے حاشیہ میں لکھتا ہے:
’’ہم بار بار لکھ چکے ہیں کہ حضرت مسیح کو اتنی بڑی خصوصیت آسمان پر زِندہ چڑھنے اور اتنی مدّت تک زندہ رہنے اور پھر دوبارہ اُترنے کی جو دی گئی ہے، اس کے ہر ایک پہلو سے ہمارے نبیؐ کی توہین ہوتی ہے۔
خدا تعالیٰ نے آنحضرتؐ کے چھپانے کے لئے ایک ایسی ذلیل جگہ تجویز کی جو نہایت متعفن اور تنگ اور تاریک اور حشرات الارض کی نجاست کی جگہ تھی، مگر حضرت مسیح کو آسمان پر، جو بہشت کی جگہ اور فرشتوں کی ہمسائیگی کا مکان ہے، بلالیا۔‘‘
(تحفہ گولڑویہ ص:۱۱۹، خزائن ج:۱۷ ص:۲۰۵)
اس سے معلوم ہوا کہ ۱۸۹۱ء تک مدعاعلیہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی ہر پہلو سے توہین کرتا رہا، بعد میں توہینِ رِسالت کا یہ مرتکب مسیحِ موعود بن بیٹھا۔۔۔!
اور مدعاعلیہ کا دُوسرے فقرے میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے چھپانے کی جگہ کو: ’’ذلیل، نہایت متعفن، تنگ و تاریک اور حشرات الارض کی نجاست کی جگہ‘‘ کہنا توہینِ رِسالت کا ایسا شاہکار ہے کہ کبھی کسی راجپال کو اس کی جرأت شاید نہیں ہوئی ہوگی۔
344
موجبِ لعنت تحریف:
مدعاعلیہ لکھتا ہے:
’’وکیف یجوز لأحد من المسلمین أن یتکلم بمثل ھٰذا؟ ویبدل کلام اللہ من تلقاء نفسہ، ویحرفہ عن موضعہ، من غیر سند من اللہ ورسولہ، الیست لعنۃ اللہ علی الْمحرّفین؟‘‘
ترجمہ: … ’’اور کسی مسلمان کے لئے یہ کس طرح جائز ہے کہ وہ اس طرح کی بات کرے؟ یا اپنی طرف سے اللہ کے کلام میں کوئی تبدیلی کرے، اور اللہ اور اس کے رسول کی سند کے بغیر اسے اپنے محل سے پھیر دے، کیا ایسے تحریف کرنے والوں پر اللہ کی لعنت نہیں ہے؟‘‘
اس سے معلوم ہوا کہ مدعاعلیہ ۵۲ برس تک حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی حیات ونزول کا عقیدہ رکھ کر خود بھی ملعونوں کے زُمرے میں شامل رہا، اور یہی ملعون عقیدہ اس نے اپنی اِلہامی کتاب ’’براہین احمدیہ‘‘ میں لکھ کر اس کتاب کو ملعون بنایا۔
اِسلام تباہ!
مدعاعلیہ لکھتا ہے:
’’مذہبِ اِسلام ایسے باطل عقیدوں سے دن بدن تباہ ہوتا جارہا ہے۔‘‘
مدعاعلیہ سے دریافت کیا جائے کہ کیا تو نے اِسلام کی تباہی کے لئے یہ باطل عقیدہ ’’براہین‘‘ میں لکھا تھا۔۔۔؟
اِسلام سے تمسخر!
’’یوں تو قرآن شریف سے ثابت ہے کہ ہر ایک نبی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی اُمت میں داخل ہے، جیسا کہ اللہ تعالیٰ
345
فرماتا ہے:لتؤمننّ بہ ولتنصرنّہ (آل عمران:۸۲) پس اس طرح تمام انبیاء علیہم السلام آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی اُمت ہوئے، اور پھر حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو اُمتی بنانے کے کیا معنی ہیں؟ اور کون سی خصوصیت؟ کیا وہ اپنے پہلے اِیمان سے برگشتہ ہوگئے تھے جو تمام نبیوں کے ساتھ لائے تھے؟ تا نعوذباللہ یہ سزا دی گئی کہ زمین پر اُتار کر دوبارہ تجدیدِ اِیمان کرالی جائے، مگر دُوسرے نبیوں کے لئے وہی پہلا اِیمان کافی رہا، کیا ایسی کچی باتیں اِسلام سے تمسخر ہے یا نہیں؟‘‘
(ضمیمہ براہین پنجم ص:۱۳۳، خزائن ج:۲۱ص:۳۰۰)
اس حوالے میں مدعاعلیہ تسلیم کرتا ہے کہ:
✨ : … تمام انبیائے کرام علیہم السلام آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی اُمت ہیں۔
✨ : … اور یہ مضمون سورۂ آل عمران کی آیت: ’’لَتُؤْمِنُنَّ بِہٖ وَلَتَنْصُرُنَّہٗ‘‘ سے ثابت ہے۔
✨ : … اس کے باوجود مدعاعلیہ سوال کرتا ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی کیا خصوصیت؟ حالانکہ جب وہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی اُمت میں شامل ہے تو اللہ تعالیٰ کی جانب سے جو کام بھی ان کے سپرد کیا جائے گا وہ بجا لائیں گے۔ اس کے بعد مدعاعلیہ کا یہ سوال ایسا ہی بے ڈھنگا ہے جیسے کوئی سوال کرے کہ حضرت آدم علیہ السلام کو اَبوالبشر کیوں بنایا گیا؟ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو بن باپ کیوں پیدا کیا گیا؟ حضرت خاتم النبیین سیّدالمرسلین محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فلاں خصوصیت کیوں عطا کی گئی؟
✨ : … اور پھر مدعاعلیہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی تخصیص کی وجہ خود تراشتا ہے کہ کیا عیسیٰ علیہ السلام پہلے اِیمان سے منحرف ہوگئے تھے کہ دوبارہ نازل کرکے ان سے تجدیدِ اِیمان کرائی گئی؟ ایسا نکتہ کسی ایسے شخص ہی کو سوجھ سکتا ہے جو خود اپنے فتوے کی رُو سے کافر ہو، کیونکہ یہ فقرہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی صریح توہین ہے، اور خود مدعاعلیہ کا فتویٰ ہے کہ:
’’اِسلام میں کسی نبی کی تحقیر کفر ہے۔‘‘
(چشمہ معرفت)
346
اور اس سے بدتر تحقیر کا اِرتکاب مدعاعلیہ نے اپنی کتاب ’’حقیقۃ الوحی‘‘ میں کیا ہے، جس میں وہ لکھتا ہے:
’’اور یہ تأویل کہ پھر اس کو اُمتی نبی بنایا جائے اور وہی ’’نومسلم‘‘ مسیحِ موعود کہلائے گا، یہ طریق اِسلام سے بہت بعید ہے۔‘‘
(حقیقۃ الوحی ص:۳۰، خزائن ج:۲۲ ص:۲)
جب مدعاعلیہ خود تسلیم کرتا ہے کہ تمام انبیائے کرام علیہم السلام بنصِ قرآن آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی اُمت میں پہلے ہی سے شامل ہیں، تو حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی اُمت میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے دِین کی خدمت بجالانا کیوں ممنوع ہوا؟ اور اس پر ان کو تجدیدِ اِیمان اور ’’نومسلم‘‘ کے طعنے دینا صریح کفر نہیں تو کون سا اِیمان ہے۔۔۔؟
حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو اُمتی قرار دینا کفر ہے:
اُوپر کے اِقتباس میں مدعاعلیہ کا اِعتراف گزرچکا ہے کہ قرآنِ کریم سے ثابت ہے کہ تمام انبیاء علیہم السلام آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی اُمت میں داخل ہیں، لیکن اس کے باوجود مدعاعلیہ لکھتا ہے:
’’اور جو شخص اُمتی کی حقیقت پر نظرِ غور ڈالے گا وہ ببداہت سمجھ لے گا کہ حضرت عیسیٰ کو اُمتی قرار دینا ایک کفر ہے کیونکہ اُمتی اس کو کہتے ہیں کہ جو بغیر اِتباع آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اور بغیر اِتباعِ قرآن شریف محض ناقص اور گمراہ اور بے دِین ہو، اور پھر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی پیروی اور قرآن شریف کی پیروی سے اس کو اِیمان اور کمال نصیب ہو، اور ظاہر ہے کہ ایسا خیال حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی نسبت کرنا کفر ہے۔‘‘
(ضمیمہ براہین پنجم ص:۱۹۲، خزائن ج:۲۱ ص:۳۶۴)
347
مدعاعلیہ سے دریافت کیا جائے کہ:
✨ : … جب تو نے ’’براہین‘‘ میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی حیات و نزول کا عقیدہ درج کیا تھا تو تو نے قرآن اور اِلہام کے حوالے سے کفر درج کیا تھا؟
✨ : … تیرا دعویٰ تھا کہ تو مجدّدِ وقت ہے، کیا مجدّدین اُمت کو کفر کی تعلیم دینے کے لئے آتے ہیں؟
✨ : … اللہ تعالیٰ نے جب انبیائے کرام علیہم السلام سے بشمول عیسیٰ علیہ السلام کے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر اِیمان لانے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی نصرت کرنے کا اِقرار لیا تھا تو کیا تیرے بقول ان سے کفر کا اِقرار لیا تھا؟
✨ : … یا اللہ تعالیٰ اور انبیائے کرام علیہم السلام اُمتی کے یہ معنی نہیں جانتے تھے؟
✨ : … اور جب تو نے ’’براہین‘‘ میں یہ کفر لکھا تھا تو تو اس وقت اُمتی کے یہ معنی جانتا تھا یا نہیں، جو شیطان نے تجھے بعد میں تلقین کئے ہیں۔۔۔؟
فیح اعوج:
مدعاعلیہ لکھتا ہے:
’’اگر فیح اعوج کے زمانے میں ایسا خیال دِلوں میں ہوگیا تھا کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام زِندہ آسمان پر چلے گئے ہیں تو وہ قابلِ سند نہیں ہے۔‘‘
(ضمیمہ براہین پنجم ص:۱۱۹، خزائن ج:۲۱ ص:۲۸۴)
’’افسوس کہ قرونِ ثلاثہ کے بعد بعض مسلمانوں کے فرقے کا یہ مذہب ہوگیا تھا کہ گویا حضرت عیسیٰ علیہ السلام صلیب سے محفوظ رہ کر آسمان پر زِندہ چلے گئے، اور اَب تک وہیں زندہ مع جسمِ عنصری بیٹھے ہیں، ان پر موت نہیں آئی۔‘‘
(حقیقۃ الوحی حاشیہ ص:۵۹، خزائن ج:۲۲ ص:۶۱)
مدعاعلیہ سے دریافت کیا جائے کہ:
348
✨ : … اوّل تو تیرا یہ جھوٹ ہے کہ قرونِ ثلاثہ کے بعد یہ عقیدہ اِختراع کیا گیا، کیونکہ تو خود اِقرار کرچکا ہے کہ تیرہ صدیوں کے مسلمانوں کا یہی عقیدہ تھا جیسا کہ پہلے باب میں نقل کیا جاچکا ہے۔
(ملفوظات ج:۱۰ ص:۳)
✨ : … پھر حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ تو صحابی ہیں، اور وہ مسجدِ نبوی میں صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے سامنے برملا اس کا اِعلان کیا کرتے تھے، اور کسی صحابی نے ان کو اس پر نہیں ٹوکا، لیکن تو نے ان کو اس جرم میں جگہ جگہ غبی اور نادان کا خطاب دیا۔
✨ : … اور حضرت عمر رضی اللہ عنہ جن کے بارے میں تو لکھتا ہے:
’’حضرت عمر رضی اللہ عنہ کا درجہ جانتے ہو کہ صحابہ میں کس قدر بڑا ہے، یہاں تک کہ بعض اوقات ان کی رائے کے موافق قرآن شریف نازل ہوجایا کرتا تھا، اور ان کے حق میں یہ حدیث ہے کہ شیطان عمر کے سایہ سے بھاگتا ہے۔ دُوسری یہ حدیث ہے کہ اگر میرے بعد کوئی نبی ہوتا تو عمر ہوتا۔ تیسری حدیث ہے کہ پہلی اُمتوں میں محدث ہوتے رہے ہیں، اگر اس اُمت میں کوئی محدث ہے تو وہ عمرؓ ہے۔‘‘
(اِزالہ اوہام ص:۲۳۵، خزائن ج:۳ ص:۲۱۹)
یہی عمر رضی اللہ عنہ تھے جو تیرے اِقرار کے مطابق حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے رفعِ آسمانی کا اِعلان فرما رہے تھے۔
(تحفہ بغداد ص:۴۸، خزائن ج:۱۵ ص:۵۸۱)
اس لئے کہ انہوں نے حدیثِ صحیح کے مطابق جب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے ابنِ صیاد کے قتل کی اجازت چاہی تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:
’’إن یکن ھو فلست صاحبہ، إنما صاحبہ عیسَی بن مریم علیہ الصلٰوۃ والسلام۔‘‘
(مسندِ احمد ج:۳ ص:۳۶۸، مشکل الآثار ج:۴ ص:۹۷، مجمع الزوائد ج:۸ ص:۳،۴)
✨ : … اور اِمام ابوحنیفہؒ جن کے بارے میں تو لکھتا ہے:
349
’’اِمامِ اعظم کوفی رضی اللہ عنہ اپنی قوّتِ اِجتہادی اور اپنے علم اور درایت اور فہم وفراست میں اَئمہ ثلاثہ باقیہ سے افضل واعلیٰ تھے، اور ان کی خداداد قوّتِ فیصلہ ایسی بڑھی ہوئی تھی کہ وہ ثبوت وعدمِ ثبوت میں بخوبی فرق کرنا جانتے تھے، اور ان کی قوّتِ مدرکہ کو قرآن شریف کے سمجھنے میں ایک خاص دستگاہ تھی، اور ان کی فطرت کو کلامِ اِلٰہی سے ایک خاص مناسبت تھی، اور عرفان کے اعلیٰ درجے تک پہنچ چکے تھے، اسی وجہ سے اِجتہاد و اِستنباط میں ان کے لئے وہ درجہ علیا مسلّم تھا جس تک پہنچنے سے دُوسرے سب لوگ قاصر تھے۔۔۔۔۔۔ سبحان اللہ! اس زیرک اور ربانی اِمام نے اپنے رسالے ’’الفقہ الاکبر‘‘ میں فرمایا ہے (اور اسی پر اپنے رسالے کو ختم فرمایا ہے):
’’وخروج الدَّجَّال ویأجوج ومأجوج وطلوع الشمس من مغربھا ونزول عیسٰی علیہ السلام من السماء وسائر علامات یوم القیامۃ علٰی ما وردت بہ الأخبار الصحیحۃ حق کائن، واللہ یھدی من یشاء إلٰی صراط مستقیم۔‘‘
(شرح فقہ اکبر، مُلَّا علی قاریؒ ص:۱۳۶، مطبوعہ مجتبائی ۱۳۴۸ھ)
ترجمہ: … ’’دجال کا اور یأجوج ومأجوج کا نکلنا، آفتاب کا مغرب کی جانب سے طلوع ہونا، حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا آسمان سے نازل ہونا اور دیگر علاماتِ قیامت، جیسا کہ احادیثِ صحیحہ ان میں وارِد ہوئی ہیں، سب برحق ہیں، ضرور ہوکر رہیں گی، اور اللہ تعالیٰ ہدایت دیتے ہیں جس کو چاہتے ہیں صراطِ مستقیم کی۔‘‘
(اِزالہ ص:۵۳۰، خزائن ج:۳ ص:۳۸۵)
350
✨ : … پھر گزشتہ صدیوں کے اکابرینِ اُمت ومجدّدینِ ملت سب کے سب حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی حیات ونزول کا عقیدہ رکھتے آئے ہیں، کیا تیرے نزدیک یہ سب ’’فیح اعوج‘‘ تھے؟ اور دورِ قدیم کے فلاسفہ وملاحدہ اور دورِ حاضر کے نیچری اور ملحد وبے دِین جو تجھ سے بھی پہلے مسیح علیہ السلام کے منکر تھے، وہ تیرے نزدیک مجدّدینِ اُمت کے مقابلے میں حق پر ہیں۔۔۔؟
✨ : … اور پھر تو نے جب دعوائے ملہمیت ومجدّدیت کے باوجود ’’براہین‘‘ میں یہ عقیدہ لکھتا تھا، تو کیا ’’فیح اعوج‘‘ کی تقلید میں لکھا تھا؟ لہٰذا تو ’’اعوج الاعوج‘‘ ٹھہرا، تیرا ملہمیت ومجدّدیت کا دعویٰ باطل ٹھہرا، کیسی جرأت ہے کہ جو عقیدہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے، صحابہ کرامؓ سے، اَئمۂ دِین، مجدّدینِ اُمت سے، علمائے ربانیین سے تواتر وتسلسل کے ساتھ چلا آتا ہے، اس کو ’’فیح اعوج‘‘ کا عقیدہ کہا جائے۔۔۔؟
اسلام کی موت:
مدعاعلیہ لکھتا ہے:
’’عیسیٰ کی موت اسلام کی زندگی ہے، اور عیسیٰ کی زندگی اسلام کی موت ہے۔‘‘
(ضمیمہ براہین پنجم ص:۲۳۱، خزائن ج:۲۱ص:۴۰۶)
مدعاعلیہ کا دعویٰ قطعاً غلط ہے، اس لئے کہ سلف صالحین حیاتِ مسیح علیہ السلام کا عقیدہ رکھتے تھے، اس کے باوجود اِسلام غالب وسربلند تھا، اور تمام مذاہب اس کے سامنے سرنگوں تھے، اور جب سے چودھویں صدی کے نافہم ملحدوں سے عیسائیوں نے عیسیٰ علیہ السلام کو صلیب پر لٹکائے جانے کا عقیدہ منوالیا اور وفاتِ مسیح کا ’’نیا نسخہ‘‘ تجویز کیا گیا، جب سے اسلام مغلوب ہو رہا ہے، اس سے ثابت ہوتا ہے کہ اسلامی عقائد کو برحق ماننے میں اسلام کی زندگی ہے، اور جن لوگوں نے اسلام کے مُسلَّمہ عقائد سے اِنحراف کیا، ان کے دِل میں اسلام کی موت واقع ہوگئی۔
علاوہ ازیں مدعاعلیہ سے دریافت کیا جائے کہ کیا تو نے ’’براہین‘‘ میں حضرت
351
عیسیٰ علیہ السلام کی حیات و نزول کا عقیدہ درج کرکے اسلام کی موت پر دستخط کئے تھے؟ اور کیا تجھے اسلام کی موت پر دستخط کرنے کے لئے ملہم ومجدّد بنایا گیا تھا۔۔۔؟
بت پرستی:
مدعاعلیہ لکھتا ہے:
’’حضرت عیسیٰ علیہ السلام فوت ہوچکے ہیں، اور ان کا زِندہ آسمان پر مع جسمِ عنصری کے جانا اور پھر کسی وقت مع جسمِ عنصری کے زمین پر آنا یہ سب ان پر تہمتیں ہیں۔ افسوس! کہ اسلام بت پرستی سے بہت دُور تھا، لیکن آخرکار اِسلام میں بھی بت پرستی کے رنگ میں یہ عقیدہ پیدا ہوگیا کہ حضرت عیسیٰ کو ایسی خصوصیتیں دی گئیں جو دُوسرے نبیوں میں نہیں پائی جاتیں، خدا تعالیٰ مسلمانوں کو اس قسم کی بت پرستی سے رہائی بخشے۔‘‘
(ضمیمہ براہین پنجم ص:۲۳۰، خزائن ج:۲۱ص:۴۰۶)
مدعاعلیہ سے دریافت کیا جائے کہ کسی نبی میں ایسی خصوصیت تسلیم کرنا، جو دُوسرے انبیائے کرام علیہم السلام میں نہ پائی جاتی ہوں، اگر اسی کا نام ۔۔۔نعوذباللہ۔۔۔ بت پرستی ہے تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے خصائص کو تسلیم کرنا بھی بت پرستی ہوگا ۔۔۔نعوذباللہ۔۔۔ کیا کوئی صحیح العقل آدمی ایسی بات کہہ سکتا ہے؟
علاوہ ازیں ’’براہین‘‘ میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی حیات ونزول کا عقیدہ درج کرکے تو نے خود بت پرستی کا سنگِ بنیاد رکھا، کیا ایسا بت پرست مشرک، ملہم ومجدّد ہوسکتا ہے۔۔۔؟
ـــــــــــــــــــــــــــــ
میں نے ان بارہ نمبروں میں اربابِ عقل وفہم کی عدالتِ اِنصاف میں مدعاعلیہ کے جو اِقتباسات پیش کئے ہیں، ان کو عدل واِنصاف کی ترازو میں تول کر فیصلہ کیا جائے کہ کیا مدعاعلیہ کے یہ سارے فتوے خود اس پر عائد نہیں ہوتے؟ اور کیا ایسا شخص ملہم ومجدّد تو کجا؟
352
معمولی دیانت و امانت کا شخص بھی ہوسکتا ہے۔۔۔؟
بابِ ششم
مدعاعلیہ کی دو گستاخیاں
مدعاعلیہ نے اِسلامی عقیدہ ’’نزولِ مسیح‘‘ کے ساتھ جو گستاخیاں کی ہیں، ان کی فہرست طویل ہے، لیکن اس کے چند نمونے بابِ پنجم میں پیش کئے گئے۔ بزعمِ خود ’’مسیحِ موعود‘‘ کی مسند پر فائز ہوکر مدعاعلیہ نے سیّدنا عیسیٰ بن مریم رُوح اللہ علیہ الصلوٰۃ والسلام کی شان میں جو جگر شگاف گستاخیاں کی ہیں، ان پر مستقل رسائل لکھے جاچکے ہیں، اور یہ ناکارہ بھی اپنے رسالے ’’مرزا غلام احمد کے وجوہاتِ کفر‘‘ میں ان کے نمونے نقل کرچکا ہے۔ یہاں موضوع کی مناسبت سے مدعاعلیہ کی دو گستاخیاں نقل کرنا چاہتا ہوں، جن سے مدعاعلیہ کی عقل وفہم اور دِین ودیانت کے بارے میں فیصلہ کرنا آسان ہوگا۔
پہلی گستاخی
یہود کے نقشِ قدم پر، قتلِ مسیح کا دعویٰ
سورۃ النساء کے بائیسویں رُکوع میں اللہ تعالیٰ نے یہودیوں کے بڑے بڑے جرائم کی فہرست دی ہے، مثلاً: عہدشکنی، کفر بآیاتِ اللہ، قتلِ انبیاء، حضرت مریم رضی اللہ عنہا پر بہتان تراشی وغیرہ وغیرہ، اسی ضمن میں ان کا یہ جرم بھی ذِکر فرمایا گیا ہے:
’’وَقَوْلُھُمْ اِنَّا قَتَلْنَا الْمَسِیْحَ عِیسَی ابْنَ مَرْیَمَ رَسُوْلَ اللہِ وَمَا قَتَلُوْہُ وَمَا صَلَبُوْہُ وَلٰـکِنْ شُبِّہَ لَھُمْ، وَاِنَّ الَّذِیْنَ اخْتَلَفُوْا فِیْہِ لَفِیْ شَکٍّ مِّنْہُ، مَا لَھُمْ بِہٖ مِنْ عِلْمٍ اِلّا اتِّبَاعَ الظَّنِّ، وَمَا قَتَلُوْہُ یَقِیْنًام Y بَلْ رَّفَعَہُ اللہُ اِلَیْہِ وَکَانَ اللہُ عَزِیْزًا حَکِیْمًا‘‘
(النساء:۱۵۷)
ترجمہ: … ’’اور ان کے اس کہنے کی وجہ سے کہ ہم نے مسیح عیسیٰ بن مریم کو جو کہ رسول ہیں اللہ تعالیٰ کے، قتل کردیا، حالانکہ
353
انہوں نے نہ ان کو قتل کیا اور نہ ان کو سولی پر چڑھایا، لیکن ان کو اِشتباہ ہوگیا، اور جو لوگ ان کے بارے میں اختلاف کرتے ہیں وہ غلط خیال میں ہیں، ان کے پاس اس اَمر پر کوئی دلیل نہیں، بجز تخمینی باتوں پر عمل کرنے کے، اور انہوں نے ان کو یقینی بات ہے کہ قتل نہیں کیا بلکہ ان کو خدائے تعالیٰ نے اپنی طرف اُٹھالیا، اور اللہ تعالیٰ بڑے زبردست حکمت والے ہیں۔‘‘
(ترجمہ حضرت تھانویؒ)
یعنی یہود کا یہ دعویٰ کہ ہم نے مسیح بن مریم رسول اللہ کو قتل کردیا، اگرچہ خلافِ واقعہ ہے، لیکن ایک نبی کے قتل کا دعویٰ کرنا بھی ان کے کفر وملعونیت کا موجب ہوا۔ یہود جس نبی ۔۔۔مسیح بن مریم علیہ السلام۔۔۔ کے قتل کا جھوٹا دعویٰ کرکے کافر وملعون ہوئے، عجائبات میں سے ہے کہ ہمارا مدعاعلیہ مرزا غلام احمد قادیانی بھی اسی نبی ۔۔۔مسیح بن مریم علیہ السلام۔۔۔ کے قتل کا جھوٹا دعویٰ کرتا ہے، مرزا قادیانی کے ملفوظات میں ہے:
’’اصل میں ہمارا وجود دو باتوں کے لئے ہے، ایک تو ایک نبی کو مارنے کے لئے، دُوسرا شیطان کو مارنے کے لئے۔
حضرت عیسیٰ مرچکے ہیں ۔۔۔۔ مگر شیطان کا مرنا ابھی باقی ہے۔‘‘
(ملفوظات ج:۱۰ ص:۶۰ مطبوعہ لندن)
مدعاعلیہ کا ایک مرید قاضی ظہورالدین اکمل اپنے ایک نعتیہ قصیدے میں، جو اس نے مدعاعلیہ کی مدح میں لکھا تھا، مدعاعلیہ کے اس کارنامے کو اس کی نبوّت کا معجزہ قرار دیتے ہوئے لکھتا ہے:
بھلا اس معجزے سے بڑھ کے کیا ہو؟
خدا اِک قوم کا مارا جہاں میں
(اخبار ’’بدر‘‘ جلد۲، نمبر:۴۳، مؤرخہ ۲۵؍اکتوبر ۱۹۰۶ء)
مندرجہ بالا لطیفے سے چند دِلچسپ باتیں معلوم ہوئیں:
✨ : … یہود کی حضرت مسیح علیہ السلام سے عداوت اور دُشمنی تو معروف ہے، لیکن
354
ہمارے مدعاعلیہ کی ان سے عداوت مندرجہ بالا اِقتباس سے عیاں ہے کہ وہ حضرت مسیح علیہ السلام کو، اور شیطان دونوں کو ایک ہی لائن میں کھڑے کرکے دونوں کے قتل کے درپے ہے، معاذاللہ۔۔۔!
✨ : … یہود کو دھوکا ہوا تھا کہ ایک شخص کو حضرت مسیح علیہ السلام کے اِشتباہ میں سولی پر چڑھاکر سمجھ لیا کہ ہم نے مسیح کو قتل کردیا۔ ادھر ہمارے مدعاعلیہ کے چند عقل مندوں نے ’’دیوانہ گفت وابلہ باور کرد‘‘ کے مطابق ’’مسیح‘‘ مان لیا، جس سے مدعاعلیہ کو خیال ہوا کہ اگر مسیح علیہ السلام زِندہ ہوتے تو یہ عقل مند مجھے ’’مسیح‘‘ کیوں مان لیتے؟ لہٰذا اس نے بھی اعلان کردیا کہ میں نے مسیح بن مریم رسول اللہ کو مار دِیا، (اور مدعاعلیہ نے انہیں سری نگر کے محلہ خانیار کی ایک قبر میں دفن بھی کردیا) مگر مدعاعلیہ دانش مندوں کا قول بھول گیا جو شاید اسی کے بارے میں کہا گیا تھا:
صاحب خبرے بنما گوہر خود را
عیسیٰ نتواں گشت بہ تصدیق خرے چند
ترجمہ: … ’’اپنا جوہر کسی ’’صاحبِ خبر‘‘ کو دِکھا! چند گدھوں کے تصدیق کردینے سے عیسیٰ نہیں بن جایا کرتے۔‘‘
’’خرے چند‘‘ کی تصدیق سے وہ یہ سمجھ بیٹھا کہ شاید وہ سچ مچ عیسیٰ بن گیا ہے، اور چونکہ وہ خود عیسیٰ بن گیا ہے لہٰذا فرض کرلینا چاہئے کہ عیسیٰ علیہ السلام مرچکے ہیں، حالانکہ عیسیٰ علیہ السلام اب بھی زندہ ہیں، اور اَقوامِ عالم کی نظر میں مدعاعلیہ کا یہ دعویٰ گوزِ شتر (اُونٹ کے پاد) کی حیثیت بھی نہیں رکھتا۔
✨ : … جس طرح یہود نے حضرت مسیح علیہ السلام تک رسائی نہ ہونے کے باوجود فخراً یہ جھوٹا دعویٰ کیا کہ: ’’ہم نے مسیح بن مریم رسول اللہ‘‘ کو قتل کردیا، اسی طرح ہمارے مدعاعلیہ نے بھی یہود کے نقشِ قدم پر چلتے ہوئے بطورِ فخر یہ جھوٹا دعویٰ ہانک دیا کہ ’’میرا وجود ایک نبی کو قتل کرنے کے لئے ہے، اور حضرت عیسیٰ مرچکے ہیں‘‘۔
✨ : … اب قرآن مجید کی وہ آیت جو اُوپر نقل کرچکا ہوں ہمارے مدعاعلیہ کو
355
سامنے رکھ کر دوبارہ تلاوت فرمائیے، اور قرآنِ کریم کی زبان سے یہود اور ہمارے مدعاعلیہ دونوں کے کفر وملعونیت کا اِعلان سماعت فرمائیے۔
دُوسری گستاخی
نزولِ مسیح کا عقیدہ کسی پر منکشف نہیں ہوا
بابِ اوّل میں مدعاعلیہ ۔۔۔مرزا غلام احمد قادیانی۔۔۔ کی تحریروں سے معلوم ہوچکا ہے کہ پہلے کے تمام مسلمان حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی دوبارہ تشریف آوری پر اِیمان رکھتے تھے، اور خود مدعاعلیہ کا بھی اسی پر اِیمان تھا، ۱۸۹۱ء میں جب مدعاعلیہ کو ’’مسیحِ موعود‘‘ بنانے کا اِلہام ہوا تو مدعاعلیہ نے ’’مسیحِ موعود‘‘ کی مسند پر قدم رکھتے ہی اِعلان کردیا کہ عیسیٰ علیہ السلام مرچکے ہیں۔ اس پر سوال پیدا ہوا کہ تیرہ صدیوں کے اکابرِ اُمت، سلف صالحین، اَئمۂ دِین، مجدّدین کے سامنے قرآنِ کریم موجود تھا، آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی احادیث شریفہ کا پورا ذخیرہ بھی ان کے سامنے تھا، صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے آثار بھی موجود تھے، ان کو یہ بات کیوں نہ سوجھی کہ عیسیٰ علیہ السلام فوت ہوچکے ہیں اور ’’نزولِ مسیح‘‘ کا مطلب یہ ہے کہ عیسیٰ علیہ السلام کے نام پر کوئی دُوسرا شخص آئے گا، اور وہ ’’مسیحِ موعود‘‘ ہونے کا دعویٰ کرے گا۔
مدعاعلیہ نے اس اِشکال کا حل یہ نکالا کہ مدعاعلیہ سے پہلے کسی پر یہ عقیدہ کھلا ہی نہیں، مدعاعلیہ پہلا شخص ہے جس پر اس عقیدے کا راز کھلا، ورنہ اس سے پہلے کسی کو اس کی حقیقت کا علم ہی نہیں تھا، ذیل میں مدعاعلیہ کی تصریحات ملاحظہ فرمائیے:
مسلمانوں نے نزولِ مسیح کی حقیقت کو نہیں سمجھا
✨ : … ’’والھمت وعلمت من لدنہ ان النزول فی أصل مفھومہ حق، ولٰـکن ما فھم المسلمون حقیقتہ لأن اللہ تعالٰی ارادہ خفائہ فغلب قضائہ ومکرہ وابتلائہ علی الْافھام، فصرف وجوھھم عن الحقیقۃ الروحانیۃ
356
إلی الخیالَات الجسمانیۃ، فکانوا بھا من القانعین، وبقی ھٰذا الخبر مکتومًا مستورًا کالحب فی السنبلۃ قرنًا بقرن، حتّٰی جاء زماننا ۔۔۔۔۔ فکشف اللہ الحقیقۃ علینا۔‘‘
(آئینہ کمالاتِ اسلام، خزائن ج:۵ ص:۵۵۲)
ترجمہ: … ’’مجھے اِلہام کیا گیا اور بتایا گیا کہ نزولِ مسیح اپنے اصل مفہوم میں برحق ہے، لیکن مسلمانوں نے اس کی حقیقت کو نہیں سمجھا، کیونکہ اللہ تعالیٰ نے اس کو پوشیدہ رکھنے کا اِرادہ کیا، پس اس کی قضا، اس کی خفیہ تدبیر اور اس کا اِبتلا، فہموں پر غالب آگیا، پس اس نے ان کے چہروں کو رُوحانی حقیقت سے جسمانی خیالات کی طرف پھیر دیا، پس وہ اسی پر قانع ہوگئے، اور یہ خبر (کہ حضرت مسیح علیہ السلام دوبارہ نازل ہوں گے) قرناً بعد قرنٍ اسی طرح پوشیدہ راز رہا، جس طرح خوشے میں دانہ چھپا رہتا ہے، یہاں تک کہ ہمارا زمانہ آیا ۔۔۔۔۔۔ پس اللہ تعالیٰ نے اس کی حقیقت ہم پر کھول دی۔‘‘
✨ : … ’’اسی طرح مسیح کی حیات کا مسئلہ بھی ایک عجیب سر ہے ۔۔۔۔۔۔ باوجود اس قدر آشکارا ہونے کے خدا تعالیٰ نے اس کو مخفی کرلیا، اور آنے والے موعود کے لئے اس کو مخفی رکھا، چنانچہ وہ آیا تو اس نے اس راز کو ظاہر کیا۔‘‘
(ملفوظات ج:۵ ص:۳۴۳)
✨ : … ’’یہ اللہ تعالیٰ کی حکمت ہے کہ وہ جب چاہتا ہے کسی بھید کو مخفی کردیتا ہے، اور جب چاہتا ہے اسے ظاہر کردیتا ہے۔ اسی طرح اس نے اس بھید کو اپنے وقت تک مخفی رکھا مگر اَب جبکہ آنے والا آگیا اور اس کے ہاتھ میں اس سر کی کلید تھی اس نے اسے کھول کر دِکھادیا۔‘‘
(ملفوظات ج:۸ ص:۳۴۴)
✨ : … ’’یا اخوان ھٰذا الأمر الذی أخفا اللہ من
357
أعین القرون الأولیٰ، وجلٰی تفاصیلہ فی وقتنا ھٰذا، یخفی ما یشاء ویبدی ما یشاء۔‘‘
(آئینہ کمالاتِ اسلام، خزائن ج:۵ ص:۴۲۶)
ترجمہ: … ’’بھائیو! یہ وہی چیز ہے جس کو اللہ تعالیٰ نے پہلی صدیوں کے لوگوں کی آنکھ سے پوشیدہ رکھا، اور اس کی تفصیلات ہمارے اس وقت میں ظاہر کردیں، وہ جس چیز کو چاہے پوشیدہ رکھے، اور جس چیز کو چاہے ظاہر کردے۔‘‘
سلف صالحین صحابہؓ وتابعینؒ کو بھی حقیقت معلوم نہیں تھی:
✨ : … ’’ما کان إیمان الأخیار من الصحابۃ والتابعین بنزول المسیح علیہ السلام إلّا إجمالیًا وکانوا یؤمنون بالنزول إجمالًا۔‘‘
(تحفہ بغداد ص:۷، خزائن ج:۷ ص:۸)
ترجمہ: … ’’اللہ تعالیٰ کے مقبول بندوں صحابہؓ و تابعینؒ کا اِیمان نزولِ مسیح علیہ السلام پر صرف اِجمالی تھا، اور وہ اِجمالی طور پر نزول پر اِیمان رکھتے تھے۔‘‘
✨ : … ’’وأما السلف الصالح فما تکلّموا فی ھٰذہ المسئلۃ تفصیلًا بل آمنوا مجملًا بأن المسیح عیسَی بن مریم قد توفی کما ورد فی القرآن، وآمنوا بمجدد یأتی من ھٰذہ الاُمّۃ فی آخر الزمان عند غلبۃ النصاریٰ علٰی وجہ الأرض اسمہ عیسَی بن مریم۔‘‘
(حمامۃ البشریٰ ص:۱۸، خزائن ج:۷ ص:۱۹۸)
ترجمہ: … ’’سلف صالحین نے اس مسئلے میں تفصیلاً گفتگو نہیں کی، بلکہ وہ اِجمالی اِیمان لے آئے کہ عیسیٰ بن مریم کی وفات
358
ہوگئی ہے، جیسا کہ قرآن میں آیا ہے۔ اور وہ ایک مجدّد پر اِیمان لائے جو اس اُمت سے آخری زمانے میں آئے گا، رُوئے زمین پر نصاریٰ کے غلبے کے وقت، اس کا نام عیسیٰ بن مریم ہوگا۔‘‘
آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو بھی اس کی حقیقت تک رسائی نہ ہوئی:
’’اگر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر اِبنِ مریم اور دَجال کی حقیقتِ کاملہ، بوجہ نہ موجود ہونے کسی نمونے کے موبمو منکشف نہ ہوئی ہو ۔۔۔۔۔ تو کچھ تعجب کی بات نہیں۔‘‘
(اِزالہ اوہام ص:۶۹۱، خزائن ج:۳ ص:۴۷۳)
خود عیسیٰ علیہ السلام بھی نزولِ مسیح کی حقیقت کو نہیں سمجھے:
بابِ اوّل میں ’’اِزالہ اوہام‘‘ کے حوالے سے مدعاعلیہ کی یہ تحریر گزرچکی ہے کہ:
’’مسیح ابنِ مریم کے آنے کی پیش گوئی ایک اوّل درجے کی پیش گوئی ہے، جس کو سب نے بالاتفاق قبول کرلیا ہے، اور جس قدر صحاح میں پیش گوئیاں لکھی گئی ہیں، کوئی پیش گوئی اس کے ہم پہلو اور ہم وزن ثابت نہیں ہوتی، تواتر کا اوّل درجہ اس کو حاصل ہے، اِنجیل بھی اس کی مصدق ہے۔‘‘
(اِزالہ اوہام ص:۵۵۷، خزائن ج:۳ ص:۴۰۰)
گویا مدعاعلیہ تسلیم کرتا ہے کہ اِنجیل میں بھی حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے اپنے دوبارہ تشریف لانے کی پیش گوئی فرمائی ہے، جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی اس پیش گوئی کی تصدیق کرتی ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام دوبارہ تشریف لائیں گے۔ لیکن مدعاعلیہ کا دعویٰ ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام پر بھی اپنی پیش گوئی کی حقیقت ظاہر نہیں ہوئی، اور انہوں نے بھی اپنے دوبارہ آنے کا مطلب نہیں سمجھا، ملاحظہ فرمائیے:
✨ : … ’’بعض وقت نبی کو اِجتہاد اور تفہیمِ اِلہام میں غلطی
359
ہوجاتی ہے، یہ غلطی اگر اَحکامِ دِین کے متعلق ہو تو ان کو فوراً متنبہ کردیا جاتا ہے، لیکن دُوسرے اُمور میں ضروری نہیں کہ وہ اِطلاع دئیے جاویں، پس اس لئے یہ بات ممکن ہے کہ عیسیٰ علیہ السلام کو ان کے دوبارہ آنے کے بارے میں جو اِلہامات ہوئے خود انہوں نے بھی اسے حقیقی معنوں پر حمل کرلیا ہو۔‘‘
(ملفوظات ج:۷ ص:۱۰۹)
✨ : … ’’یہ اَمر بھی یاد رکھنے کے لائق ہے کہ یسوع کا اناجیل میںیہ وعدہ کہ وہ خود دوبارہ آئے گا، اس کے مثیل کی آمد سے پورا ہوچکا ہے۔ اوّل تو یہ اَمر بھی ناممکن نہیں کہ مسیح کو اپنی آمدِ ثانی کے معنے سمجھنے میں پہلے غلطی لگی ہو، اور بجائے رُوحانی آمد سمجھنے کے اس نے جسمانی آمد اس سے سمجھ لی ہو۔ اِجتہاد میں ایسی غلطی اس کے مسیح ہونے کے دعوے کی کسی طرح منافی نہیں، اور اس کی مثالیں خود اَناجیل میں موجود ہیں، اگرچہ وہ غلطی قائم نہیں رہی بلکہ خدا تعالیٰ اس کو بعد میں رفع کردیتا ہے ۔۔۔۔۔ ایسا ہی ممکن ہے کہ اس نے پہلے آمدِ ثانی کے معنے غلط سمجھے ہوں، لیکن بعد میں اس خیال کی اِصلاح ہوگئی ہو۔‘‘
(ریویو آف ریلیجنز جلد۳، نمبر۸ باب ماہِ اگست ۱۹۰۴ء ص:۲۸۱)
پہلے اللہ تعالیٰ نے بھی نہیں سمجھا:
گزشتہ اِقتباسات میں مدعاعلیہ نے تیرہ صدیوں کے اکابرِ اُمت پر، سلف صالحین، صحابہؓ وتابعینؒ پر، آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر اور خود صاحبِ واقعہ یعنی عیسیٰ علیہ السلام پر، ’’حقیقت ناشناسی‘‘ کا فتویٰ صادر کیا کہ ان میں سے کسی نے ’’نزولِ مسیح‘‘ کی حقیقت کو نہیں سمجھا، اور وہ سب کے سب ایک غلط عقیدے پر قائم رہے کہ عیسیٰ علیہ السلام دوبارہ تشریف لائیں گے۔
اس سے زیادہ دِلچسپ مدعاعلیہ کا یہ دعویٰ ہے کہ ۔۔۔نعوذباللہ۔۔۔ پہلے اللہ تعالیٰ کو
360
غلط فہمی رہی، اور اللہ تعالیٰ نے یہ سمجھا کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام تشریف لائیں گے، چنانچہ اللہ تعالیٰ نے آیت شریفہ ’’ھُوَ الَّذِیْ اَرْسَلَ رَسُوْلَہٗ بِالْھُدٰی وَدِیْنِ الْحَقِّ لِیُظْھِرَہُ عَلَی الدِّیْنِ کُلِّہٖ‘‘ (الصف:۱۰) میں مسیح علیہ السلام کی تشریف آوری کی پیش گوئی بھی فرمادی، اور مدعاعلیہ کو بھی بتادیا کہ حضرت مسیح علیہ السلام اس پیش گوئی کا ظاہری اور جسمانی طور پر مصداق ہیں، جیسا کہ مدعاعلیہ کی اس تحریر سے واضح ہے:
’’لیکن اس عاجز پر ظاہر کیا گیا ہے کہ یہ خاکسار مسیح کی پہلی زندگی کا نمونہ ہے، اور اس عاجز کی فطرت اور مسیح کی فطرت باہم نہایت متشابہ واقع ہوئی ہیں ۔۔۔۔۔ سو چونکہ اس عاجز کی حضرت مسیح سے مشابہت تامہ ہے، اس لئے خداوند کریم نے مسیح کی پیش گوئی میں اِبتدائً اس عاجز کو بھی شریک کر رکھا ہے، یعنی حضرت مسیح پیش گوئی متذکرہ بالا کا ظاہری اور جسمانی طور مصداق ہے، اور یہ عاجز رُوحانی اور معقولی طور پر اس کا محل اور مورَد ہے۔‘‘
(براہین احمدیہ حصہ چہارم ص:۴۹۸، ۴۹۹)
مدعاعلیہ کے اس حوالے سے یہ واضح ہے کہ:
✨ : … ’’براہین احمدیہ‘‘ کے زمانے تک اللہ تعالیٰ کے علم میں یہی تھا کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام دوبارہ تشریف لائیں گے۔
✨ : … اللہ تعالیٰ نے آیت شریفہ میں ان کی دوبارہ آمد کی پیش گوئی بھی مدعاعلیہ کے دُنیا میں آنے سے ۱۳سو سال پہلے فرما رکھی تھی۔
✨ : … اللہ تعالیٰ نے مدعاعلیہ پر بھی ظاہر کردیا تھا کہ ’’حضرت مسیح علیہ السلام اس آیت شریفہ کی پیش گوئی کا ظاہری اور جسمانی طور پر مصداق ہیں۔‘‘
✨ : … اللہ تعالیٰ نے مدعاعلیہ پر یہ بھی ظاہر کردیا تھا کہ یہ پیش گوئی بلاشرکتِ غیرے تیرے حق میں نہیں، البتہ تجھ کو (یعنی مدعاعلیہ کو) بھی مسیح کی پیش گوئی میں شریک کردیا گیا ہے۔
361
✨ : … اور اس شراکت کی صورت بھی اللہ تعالیٰ نے بتادی تھی کہ مسیح علیہ السلام ظاہری اور جسمانی طور پر اس پیش گوئی کو پورا کریں گے، اور رُوحانی اور معقولی طور پر تو اس کا مورَد ہے۔
خلاصہ یہ کہ مدعاعلیہ جس زمانے میں ’’براہین احمدیہ‘‘ میں آیت شریفہ اور اپنے اِلہامات کی روشنی میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے دوبارہ آنے کا عقیدہ رکھتے تھے، اس وقت تک اللہ تعالیٰ کو یہی معلوم تھا کہ یہ پیش گوئی ظاہری اور جسمانی طور پر حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے بارے میں ہے، اور وہ خود بنفسِ نفیس نزولِ اِجلال فرمائیں گے۔ لیکن شاید ۱۸۹۱ء سے کچھ دن پہلے اللہ تعالیٰ کو معلوم ہوا کہ ’’اوہو! عیسیٰ علیہ السلام کا تو اِنتقال ہوچکا ہے، وہ ظاہری اور جسمانی طور پر دوبارہ کیسے آسکتے ہیں؟‘‘ لہٰذا مدعاعلیہ کو فوراً ’’اِلہامِ خاص‘‘ کے ذریعے اِطلاع دی کہ:
’’حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا اِنتقال ہوچکا ہے، اور مسیح کا چارج اب بلاشرکتِ غیرے تیرے سپرد کیا جاتا ہے۔‘‘
۱۸۹۱ء میں مدعاعلیہ کو جو ’’خاص اِلہام‘‘ ہوا، اس کے الفاظ مدعاعلیہ کے بقول یہ تھے:
’’اس نے (اللہ تعالیٰ نے) مجھے بھیجا ہے، اور میرے پر اپنے خاص اِلہام سے ظاہر کیا کہ مسیح بن مریم فوت ہوچکا ہے، چنانچہ اس کا یہ اِلہام ہے کہ مسیح ابنِ مریم رسول اللہ فوت ہوچکا ہے، اور اس کے رنگ میں ہوکر وعدہ کے موافق تو آیا ہے، وکان أمر اللہ مفعولًا۔‘‘
(تذکرہ طبع سوم ص:۱۸۳، بحوالہ اِزالہ اوہام ص:۵۶۱، خزائن ج:۳ ص:۴۰۲)
مدعاعلیہ کے اس ’’خاص اِلہام‘‘ کا مطلب یہ ہے کہ ۱۸۹۱ء سے پہلے اللہ تعالیٰ نے قرآنِ کریم میں جو خبر دی تھی وہ بھی ۔۔۔نعوذباللہ۔۔۔ غلط فہمی پر مبنی تھی، اور مدعاعلیہ کو بذریعہ اِلہامات ’’براہین احمدیہ‘‘ کے زمانے میں جو کچھ بتایا گیا تھا، وہ بھی غلط فہمی پر تھا، گویا مرزا محمود
362
کے بقول ’’نزولِ مسیح‘‘ کا مسئلہ اللہ تعالیٰ پر ۱۸۹۱ء میں کھلا، جس کی اللہ تعالیٰ نے مدعاعلیہ کو اپنے ’’خاص اِلہام‘‘ کے ذریعے فوراً اِطلاع دی۔
اب اہلِ عقل ودیانت کی عدالتِ فہم واِنصاف سے دریافت کرتا ہوں کہ:
✨ : … مدعاعلیہ کا یہ ’’خاص اِلہام‘‘ جو اس کو ۱۸۹۱ء میں ہوا، اور جس میں اس کو ’’موتِ مسیح‘‘ کی اِطلاع دی گئی، کیا اس کو ’’رَحمانی اِلہام‘‘ کہا جائے گا یا ’’شیطانی اِلقاء‘‘۔۔۔؟
✨ : … اور کیا کسی صاحبِ عقل واِیمان کے لئے ایسے ’’شیطانی اِلہام‘‘ پر اِیمان لانا جائز ہوگا، جس کی رُو سے تمام اولیاء اللہ اور اہلِ کشف و اِلہام کو، سلف صالحین صحابہؓ وتابعینؒ کو، آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو، حضرت مسیح علیہ السلام کو، بلکہ اس اِلہام سے پہلے خود حق تعالیٰ شانہ‘ کو ’’حقیقت ناشناس‘‘ قرار دِیا گیا ہو۔۔۔؟
✨ : … اور اہلِ عقل وفہم یہ بھی اِرشاد فرمائیں کہ مدعاعلیہ کا یہ ’’خاص اِلہام‘‘ جو اس کو ۱۸۹۱ء میں ہوا، اگر اس کو بھی ۔۔۔نعوذباللہ۔۔۔ ’’رَحمانی اِلہام‘‘ قرار دِیا جائے تو ’’شیطانی اِلہام‘‘ کس کو کہتے ہیں؟ اِنصاف! خدارا اِنصاف۔۔۔!
مدعاعلیہ کا بہتان اور تہمت تراشی:
یہاں یہ وضاحت ضروری ہے کہ مدعاعلیہ کے جو حوالے اُوپر نقل کئے گئے ہیں کہ اکابرِ اُمتؒ میں سے کسی کو بھی ’’نزولِ مسیح‘‘ کی حقیقت معلوم نہیں تھی، نہ صحابہؓ وتابعینؒ کو، نہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو، نہ عیسیٰ علیہ السلام کو، بلکہ ۱۸۹۱ء کے ’’خاص اِلہام‘‘ سے پہلے ۔۔۔نعوذباللہ۔۔۔ اللہ تعالیٰ کو ٹھیک پتا نہیں تھا کہ عیسیٰ علیہ السلام خود آئیں گے؟ یا ان کی جگہ مدعاعلیہ کو ’’مسیحِ موعود‘‘ بنایا جائے گا؟ مدعاعلیہ کے یہ ہولناک دعوے خالص بہتان اور تہمت تراشی ہیں، مدعاعلیہ کے ان حوالوں کو پڑھ کر ہر مسلمان کا فرض ہے کہ وہ پکار اُٹھے: ’’سُبْحٰنَکَ ھٰذَا بُھْتَانٌ عَظِیْمٌ‘‘۔
حضراتِ اہلِ علم تو اس بہتان کی تردید کے محتاج نہیں، تاہم عام مسلمانوں کی خدمت میں چند نکات پیش کرتا ہوں، ان کو سامنے رکھ کر ہر شخص آسانی کے ساتھ مدعاعلیہ کی
363
بہتان تراشی کا فیصلہ کرسکتا ہے، وہ نکات یہ ہیں:
✨ : … آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی حضرت عیسیٰ علیہ السلام سے بالمشافہ ملاقات اور گفتگو ہوئی ہے، شبِ معراج میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو بہ چشمِ خود دیکھا، صحابہ کرامؓ سے ان کا حلیہ بیان فرمایا، اور ٹھیک اسی حلیہ کے عیسیٰ بن مریم ۔۔۔علیہ السلام۔۔۔ کے نازل ہونے کی صحابہ کرامؓ کو خبر دی۔
✨ : … آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی وہ تقریر، جو انہوں نے حضراتِ انبیائے کرام علیہم السلام کے مجمع میں فرمائی تھی، صحابہ کرامؓ کے سامنے نقل کی، جس میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے فرمایا کہ:
’’میرے ساتھ میرے رَبّ کا عہد ہے کہ آخری زمانے میں دجال نکلے گا تو میں نازل ہوکر اس کو قتل کروں گا۔‘‘
✨ : … آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے زمانۂ نزول کی اہم تفصیلات بھی اِرشاد فرمائیں۔
یہ تمام اُمور اَحادیثِ صحیحہ سے ثابت ہیں، اور صحابہ کرامؓ سے لے کر آج تک کے تمام اکابرِ اُمت ان پر اِیمان رکھتے آئے ہیں، کیونکہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی ہر بات برحق ہے، ہمالیہ اپنی جگہ سے ٹل سکتا ہے، مگر یہ ممکن نہیں کہ جو بات آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمائی ہو، وہ غلط ہوجائے۔ چنانچہ خود مدعاعلیہ کو بھی اس کا اِقرار ہے کہ:
’’اور ممکن نہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمودہ میں تخلّف ہو۔‘‘
(حقیقۃ الوحی ص:۱۹۳، خزائن ج:۲۲ ص:۲۰۰)
اب میں اہلِ عقل وفہم اور اہلِ دیانت واِنصاف کے سامنے مندرجہ بالا تینوں نکات پر مشتمل احادیثِ صحیحہ پیش کرتا ہوں:
حدیثِ اوّل: … ’’عَنْ جَابِرٍ رَضِیَ اللہُ عَنْہُ أَنَّ رَسُوْلَ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَالَ: عُرِضَ عَلَیَّ الْأَنْبِیَائَ فَإِذَا مُوْسٰی عَلَیْہِ السَّلَامُ ضَرْبٌ مِّنَ الرِّجَالِ کَأَنَّہٗ مِنْ رِجَالِ
364
شَنُؤَۃٍ، وَرَأَیْتُ عِیْسَی بْنَ مَرْیَمَ عَلَیْہِ السَّلَامُ فَإِذَا أَقْرَبَ مَنْ رَأَیْتُ بِہٖ شِبْھًا عُرْوَۃُ بْنُ مَسْعُوْدٍ، وَرَأَیْتُ إِبْرَاھِیْمَ فَرَأَیْتُ أَقْرَبَ النَّاسِ بِہٖ شِبْھًا صَاحِبُکُمْ، یَعْنِیْ نَفْسَہٗ ۔۔۔۔۔‘‘
(صحیح ابنِ حبان (الاحسان) ج:۹ ص:۴۳، صحیح مسلم ج:۱ ص:۹۵، مسندِ احمد ج:۳ ص:۳۳۴، مسندِ ابوعوانہ ج:۱ ص:۱۳۰، مشکوٰۃ ص:۵۰۸، کنزالعمال ج:۱۱ ص:۵۰۶، رقم:۳۲۳۷۰، شرح السنۃ للبغوی ج:۱۳ص:۲۲۷)
ترجمہ: … ’’حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ: حضراتِ انبیائے کرام علیہم السلام میرے سامنے پیش کئے گئے (اور ان سے میرا تعارف کرایا گیا) تو کیا دیکھتا ہوں کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام دُبلے پتلے طویل القامت آدمی ہیں، کیونکہ قبیلہ شنوہ کے لوگوں میں سے ہیں۔ اور میں نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو دیکھا تو ان تمام لوگوں سے، جن کو میں نے دیکھا ہے، ان کے ساتھ سب سے زیادہ مشابہت عروہ بن مسعود کو ہے، اور میں نے (اپنے جدِ اَمجد) حضرت ابراہیم علیہ السلام کو دیکھا تو میں نے دیکھا کہ ان کے ساتھ سب سے زیادہ مشابہت تمہارے رفیق ۔۔۔یعنی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی ذاتِ گرامی۔۔۔ کو ہے۔‘‘
حدیثِ دوم: … ’’عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ رَضِیَ اللہُ عَنْہُ أَنَّ رَسُوْلَ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَالَ: لَیْلَۃً اُسْرِیَ بِیْ وَضَعْتُ قَدَمِیْ حَیْثُ تُوْضَعُ أَقْدَامُ الْأَنْبِیَائِ مِنْ بَیْتِ الْمَقْدَسِ فَعُرِضَ عَلَیَّ عِیْسَی بْنُ مَرْیَمَ قَالَ: فَإِذَا أَقْرَبُ النَّاسِ بِہٖ شِبْھًا عُرْوَۃُ بْنُ مَسْعُوْدَ۔‘‘
(مسندِ احمد ج:۲ ص:۵۲۸، مجمع الزوائد ج:۱ ص:۶۶)
365
ترجمہ: … ’’حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ: شبِ معراج میں، میں نے وہاں قدم رکھا جہاں بیت المقدس میں انبیائے کرام علیہم السلام کے قدم واقع ہوئے، تو حضرت عیسیٰ بن مریم علیہ السلام میرے سامنے پیش کئے گئے، تو اچانک کیا دیکھتا ہوں کہ ان کے ساتھ قریب تر مشابہت سب لوگوں سے زیادہ عروہ بن مسعود کو ہے۔‘‘
حدیثِ سوم: … ’’عَنْ عَبْدِاللہِ بْنِ عَمْرٍو رَضِیَ اللہُ عَنْھُمَا قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ: یَخْرُجُ الدَّجَّالُ فِیْ اُمَّتِیْ، فَیَمْکُثُ أَرْبَعِیْنَ ۔۔۔ لَا أَدْرِیْ أَرْبَعِیْنَ یَوْمًا أَوْ أَرْبَعِیْنَ شَھْرًا أَوْ أَرْبَعِیْنَ عَامًا۔۔۔ فَیَبْعَثُ اللہُ عِیْسَی بْنَ مَرْیَمَ کَأَنَّہٗ عُرْوَۃُ بْنُ مَسْعُوْدٍ، فَیَطْلُبَہٗ فَیَھْلِکُہٗ۔‘‘
(صحیح مسلم ج:۲ ص:۴۰۳)
ترجمہ: … ’’حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ: دجال میری اُمت میں نکلے گا، پس چالیس تک زمین پر رہے گا، ۔۔۔مجھے معلوم نہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے چالیس دن فرمایا، چالیس مہینے، یا چالیس سال۔۔۔ پس اللہ تعالیٰ حضرت عیسیٰ بن مریم کو بھیجیں گے، گویا وہ عروہ بن مسعود ہیں، پس وہ اس کے تعاقب میں نکلیں گے، پس اس کو ہلاک کردیں گے۔‘‘
حدیثِ چہارم: … ’’عَنْ عَبْدِاللہِ بْنِ مَسْعُوْدٍ رَضِیَ اللہُ عَنْہُ عَنِ النَّبِیِّ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَالَ: لَقِیْتُ لَیْلَۃً اُسْرِیَ بِیْ إِبْرَاھِیْمَ وَمُوْسٰی وَعِیْسٰی، قَالَ: فَتَذَاکَرُوْا أَمْرَ السَّاعَۃَ، فَرُدُّوْا أَمْرَھُمْ إِلٰی إِبْرَاھِیْمَ، فَقَالَ: لَا عِلْمَ لِیْ بِھَا!
366
فَرُدُّوا الْأَمْرَ إِلٰی مُوْسٰی، فَقَالَ: لَا عِلْمَ لِیْ بِھَا! فَرُدُّوا الْأَمْرَ إِلٰی عِیْسٰی، فَقَالَ: أَمَّا وَجَبَتْھَا فَلَا یَعْلَمُھَا إِلّا اللہُ تَعَالٰی ذٰلِکَ، وَفِیْمَا عَھِدَ إِلَیَّ رَبِّیْ عَزَّ وَجَلَّ إِنَّ الدَّجَّالَ خَارِجٌ، قَالَ: وَمَعِیَ قَضِیْبَانِ، فَإِذَا رَآنِیْ ذَابَ کَمَا یَذُوْبُ الرَّصَاصُ، قَالَ: فَیَھْلِکَہُ اللہُ (وَفِیْ رِوَایَۃِ ابْنِ مَاجَۃَ: قَالَ: فَأَنْزِلُ فَأَقْتُلُہٗ) ۔۔۔ إِلٰی قَوْلِہٖ۔۔۔ فَفِیْمَا عَھِدَ إِلَیَّ رَبِّیْ عَزَّ وَجَلَّ إِنَّ ذٰلِکَ إِذَا کَانَ کَذٰلِکَ فَإِنَّ السَّاعَۃَ کَالْحَامِلِ الْمُتِمِّ الَّتِیْ لَا یَدْرِیْ مَتٰی تَفْجَؤُھُمْ بِوَلَادِھَا لَیْلًا أَوْ نَھَارًا۔‘‘
(ابنِ ماجہ ص:۳۰۹، مسندِ احمد ج:۱ ص:۳۷۵، ابنِ جریر ج:۱۷ ص:۷۲، مستدرک حاکم ج:۴ ص:۴۸۸، فتح الباری ج:۱۳ ص:۷۹، در منثور ج:۴ ص:۳۲۶)
ترجمہ: … ’’حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ: معراج کی رات میری ملاقات حضرت ابراہیم، حضرت موسیٰ اور حضرت عیسیٰ (اور دیگر انبیائے کرام علیہم السلام) سے ہوئی، مجلس میں قیامت کا تذکرہ آیا (کہ قیامت کب آئے گی؟) سب سے پہلے اِبراہیم علیہ السلام سے دریافت کیا گیا، انہوں نے فرمایا: مجھے علم نہیں! پھر موسیٰ علیہ السلام سے پوچھا، انہوں نے بھی فرمایا: مجھے علم نہیں! پھر حضرت عیسیٰ علیہ السلام سے پوچھا گیا، تو انہوں نے فرمایا کہ: قیامت کا ٹھیک وقت تو اللہ تعالیٰ کے سوا کسی کو بھی معلوم نہیں، اور میرے رَبّ عزوجل کا مجھ سے ایک عہد ہے کہ قیامت سے پہلے دجال نکلے گا تو میں نازل ہوکر اس کو قتل کروں گا، میرے ہاتھ میں دو شاخیں ہوں گی، پس جب وہ مجھے دیکھے گا تو سیسے کی طرح پگھلنے لگے گا، پس اللہ
367
تعالیٰ اس کو ہلاک کردیں گے۔ (آگے یأجوج مأجوج کے خروج اور ان کی ہلاکت کا ذِکر کرنے کے بعد فرمایا) پس میرے رَبّ کا جو مجھ سے عہد ہے وہ یہ ہے کہ جب یہ ساری باتیں ہوچکیں گی تو قیامت کی مثال پورے دن کی حاملہ کی ہوگی، جس کے بارے میں کوئی پتا نہیں ہوتا کہ کس وقت اچانک اس کے وضعِ حمل کا وقت آجائے، رات میں یا دن میں۔‘‘
حدیثِ پنجم: … ’’عَنْ أَبِیْ ھُرَیْرَۃَ رَضِیَ اللہُ عَنْہُ أَنَّ النَّبِیَّ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَالَ: اَلْأَنْبِیَائُ إِخْوَۃٌ لِعَلّاتٍ، أُمَّھَاتُھُمْ شَتّٰی وَدِیْنُھُمْ وَاحِدٌ، وَأَنَا أَوْلَی النَّاسِ بِعِیْسَی بْنِ مَرْیَمَ لِأَنَّہٗ لَمْ یَکُنْ بَیْنِیْ وَبَیْنَہٗ نَبِیٌّ، وَإِنَّہٗ نَازِلٌ، وَإِذَا رَأَیْتُمُوْہُ فَأَعْرِفُوْہُ، رَجُلٌ مَّرْبُوْعٌ إِلَی الْحُمْرَۃِ وَالْبَیَاضِ، عَلَیْہِ ثَوْبَانِ مُمَصَّرَانِ، کَأَنَّ رَأْسُہٗ یَقْطُرُ وَإِنْ لَّمْ یُصِبْہُ بَلَلٌ، فَیَدُقُّ الصَّلِیْبَ وَیَقْتُلُ الْخِنْزِیْرَ وَیَضَعُ الْجِزْیَۃَ وَیَدْعُو النَّاسَ إِلَی الْإسْلَامِ، فَیَھْلِکُ اللہُ فِیْ زَمَانِہِ الْمِلَلُ کُلَّھَا إِلّا الْإسْلَامُ، وَیَھْلِکُ اللہُ فِیْ زَمَانِہِ الْمَسِیْحِ الدَّجَّال، وَتَقَعُ الْأَمَنَۃَ عَلَی الْأَرْضِ حَتّٰی تَرْتَعَ الْأَسْوَدَ مَعَ الْإبِلِ، وَالنِّمَارِ مَعَ الْبَقَرِ، وَالذِّیَابِ مَعَ الْغَنَمِ وَتَلْعَبُ الصِّبْیَانَ بِالْحَیَّاتِ فَلَا تَضُرُّھُمْ، فَیَمْکُثُ أَرْبَعِیْنَ سَنَۃً ثُمَّ یُتَوَفّٰی وَیُصَلِّیْ عَلَیْہِ الْمُسْلِمُوْنَ۔‘‘
(ابنِ جریر طبری ج:۶ ص:۲۲، درمنثور ج:۲ ص:۲۴۲، مسندِ احمد ج:۲ ص:۴۰۶، ابوداؤد ج:۲ ص:۲۳۸، مصنف عبدالرزّاق ج:۱۱ ص:۴۰۱ (باب نزول عیسیٰ بن مریم علیہ السلام)، صحیح ابنِ حبان (الاحسان) ج:۸ ص:۲۸۷، حدیث نمبر:۶۷۷۵، موارد الظمآن ج:۶ ص:۱۶۴، حدیث نمبر:۱۹۰۲، حافظ ابنِ حجرؒ اس حدیث کے
368
بارے میں فرماتے ہیں: ’’صحیح بلا تردّد‘‘ فتح الباری ص:۴۸۹، مرزا محمود احمد نے حقیقۃ النبوۃ ص:۱۹۲ میں اور مسٹر علی لاہوری نے النبوۃ فی الاسلام ص:۹۲میں اس کو بطورِ اِستدلال نقل کیا ہے)
ترجمہ: … ’’حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ: انبیائے کرام علاتی بھائی ہیں، ان کی شریعتیں تو مختلف ہیں، اور دِین سب کا ایک ہے۔ اور مجھے عیسیٰ بن مریم علیہ السلام کے ساتھ سب سے زیادہ تعلق ہے، کیونکہ ان کے درمیان اور میرے درمیان کوئی نبی نہیں ہوا (اس لئے انہوں نے میرے آنے کی بشارت دی)، اور وہ نازل ہوں گے، پس ان کو دیکھو تو پہچان لینا، قد میانہ، سرخی اور سفیدی ملا ہوا رنگ، دو زرد رنگ کے کپڑے پہنے ہوں گے، سر سے گویا پانی ٹپک رہا ہوگا، گو پانی نہ ڈالا ہو۔ پس وہ صلیب کو توڑ ڈالیں گے، خنزیر کو قتل کریں گے، جزیہ موقوف کردیں گے، لوگوں کو اِسلام کی دعوت دیں گے۔ پس اللہ تعالیٰ ان کے زمانے میں تمام مذاہب کو مٹادیں گے، صرف اسلام باقی رہ جائے گا، اور ان کے زمانے میں اللہ تعالیٰ مسیحِ دجال کو ہلاک کردیں گے، اور رُوئے زمین پر اَمن وامان کا دور دورہ ہوگا، یہاں تک کہ شیر، اُونٹوں کے ساتھ چریں گے، چیتے، گائے بیلوں کے ساتھ، اور بھیڑیے بکریوں کے ساتھ چرتے پھریں گے، اور بچے سانپوں سے کھیلیں گے، اور وہ ان کو نقصان نہیں پہنچائیں گے، حضرت عیسیٰ بن مریم علیہ السلام چالیس برس رہیں گے، پھر ان کی وفات ہوگی، اور مسلمان ان کی نمازِ جنازہ پڑھیں گے۔‘‘
حدیثِ ششم: … ’’عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِیَ اللہُ عَنْہُمَا عَنِ النَّبِیِّ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فِیْ قَوْلِہٖ: ’’وَاِنَّہٗ
369
لَعِلْمِ لِّلسَّاعَۃِ‘‘ قَالَ: نُزُوْلُ عِیْسَی ابْنِ مَرْیَمَ مِنْ قَبْلِ یَوْمِ الْقِیَامَۃِ۔‘‘
(صحیح ابنِ حبان (الاحسان) ج:۱ ص:۲۸۸، موارد الظمآن ج:۵ ص:۴۳۶، مجمع الزوائد ج:۷ ص:۱۰۴)
ترجمہ: … ’’حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اِرشادِ خداوندی: ’’وَاِنَّہٗ لَعِلْمٌ لِّلسَّاعَۃِ‘‘ (الزخرف:۶۱) (اور وہ ۔۔۔یعنی عیسیٰ علیہ السلام۔۔۔ قیامت کے یقین کا ذریعہ ہے) کی تفسیر میں فرمایا کہ: (اس سے مراد ہے) قیامت سے پہلے عیسیٰ بن مریم علیہ السلام کا نازل ہونا۔‘‘
ان احادیثِ صحیحہ کے نتائج پر غور فرمائیے:
پہلی اور دُوسری حدیث میں ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے شبِ معراج میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو بچشمِ خود دیکھا اور ان کا حلیہ شریفہ حضراتِ صحابہؓ کے سامنے بیان فرمایا، چنانچہ اِمام اِبنِ حبانؒ نے اپنی کتاب ’’صحیح ابنِ حبان‘‘ میں اس حدیث پر یہ عنوان قائم فرمایا ہے:
’’ذکر تشبیہ المصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم عیسَی بن مریم بعروۃ بن مسعود۔‘‘
یعنی: آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا حضرت عیسیٰ بن مریم علیہ السلام کو عروہ بن مسعودؓ کے ساتھ تشبیہ دینا۔‘‘
چوتھی حدیث میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی گفتگو کا بالمشافہ سننا مذکور ہے، جو اَنبیاء علیہم السلام کے مجمع میں انہوں نے فرمائی کہ: ’’میرے رَبّ کا مجھ سے عہد ہے کہ آخری زمانے میں دجال نکلے گا تو میں نازل ہوکر اس کو قتل کروں گا۔‘‘ اس تقریر کو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم صحابہ کرامؓ کے سامنے نقل فرماتے ہیں۔ اس حدیثِ صحیح سے معلوم ہوا کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا آخری زمانے میں نازل ہونا ایک ایسی حقیقت ہے جس کا اللہ تعالیٰ نے عیسیٰ علیہ السلام سے عہد کر رکھا ہے، حضراتِ انبیائے کرام علیہم
370
السلام جس پر اِیمان رکھتے ہیں، اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ کرامؓ جس کی تصدیق فرماتے ہیں۔
پانچویں حدیث میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم، حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے ان کارناموں کو اِرشاد فرمارہے ہیں جو آسمان سے نازل ہونے کے بعد وہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے خادم کی حیثیت سے انجام دیں گے۔
اور چھٹی حدیث میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم، حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے نزول کو علاماتِ قیامت میں شمار کرتے ہوئے اس کو حق تعالیٰ شانہ‘ کے اِرشاد کا مصداق قرار دیتے ہیں۔
اِنصاف فرمائیے کہ مدعاعلیہ کا یہ کہنا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی ’’نزولِ عیسیٰ کی حقیقت کو نہیں سمجھا اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے بھی‘‘ کیا اس سے بڑھ کر کوئی بہتانِ عظیم ہوسکتا ہے۔۔۔؟
مرزا غلام احمد قادیانی کا مقدمہ
احکم الحاکمین کی عدالت میں
آیتِ مباہلہ:
نجران کے عیسائیوں کا ایک وفد آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا، اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے مذہبی گفتگو کی، لیکن اس کے باوجود کہ چند منٹ میں لاجواب ہوگئے تھے، انہوں نے اپنی رَوِشِ عناد نہیں بدلی، سورۂ آل عمران کا اِبتدائی حصہ ان کے شبہات کے جواب میں نازل ہوا۔ اسی سلسلے میں آیتِ شریفہ نازل ہوئی:
’’فَمَنْ حَآجَّکَ فِیْہِ مِنْم بَعْدِ مَا جَآئَکَ مِنَ الْعِلْمِ فَقُلْ تَعَالَوْا نَدْعُ اَبْنَآئَنَا وَاَبْنَآئَکُمْ وَنِسَآئَنَا وَنِسَآئَکُمْ وَاَنْفُسَنَا وَاَنْفُسَکُمْ ثُمَّ نَبْتَھِلْ فَنَجْعَلَ لَّعْنَتَ اللہِ عَلَی الْکٰذِبِیْنَ۔‘‘
(آل عمران:۶۱)
371
ترجمہ: … ’’پس اگر آپ سے عیسیٰ علیہ السلام کے بارے میں کوئی جھگڑا کرے بعد اس کے کہ آپ کے پاس قطعی علم آچکا ہے تو یہ کہہ دیجئے کہ آؤ! بلائیں ہم سب مل کر اپنے بیٹوں کو اور تمہارے بیٹوں کو، اور اپنی عورتوں کو اور تمہاری عورتوں کو، اور اپنی ذاتوں کو اور تمہاری ذاتوں کو، پھر ہم سب عجز وزاری کے ساتھ حق تعالیٰ سے دُعا کریں، پس ڈالیں اللہ کی لعنت جھوٹوں پر۔‘‘
مباہلہ سے عیسائیوں کا گریز اور صلح کی درخواست:
جب یہ آیت نازل ہوئی تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے وفدِ نجران کے نمائندوں کو بلاکر ان کو یہ آیت شریفہ سنائی، اور مباہلے کی دعوت دی۔ انہوں نے کہا: ہمیں مہلت دیجئے تاکہ ہم باہم مشورہ کرلیں۔ چنانچہ آپس میں مشورہ کیا، تو ان کے بڑے پادری نے کہا: اگر تم نے ان صاحب سے مباہلہ کرلیا تو تمہاری جڑ کٹ جائے گی، کیونکہ یہ نبیٔ برحق ہیں، اگر تم ان کی پیروی نہیں کرنا چاہتے، بلکہ اپنے دِین پر قائم رہنے پر مصر ہو، تو ان صاحب سے صلح کرلو۔ اگلے دن وہ لوگ حاضرِ خدمت ہوئے اور کہا کہ: ہم آپ سے مباہلہ نہیں کرنا چاہتے، جو آپ تجویز فرمائیں جزیہ دینے کو تیار ہیں۔ چنانچہ انہوں نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے اس شرط پر صلح کرلی کہ کپڑوں کا ایک ہزار جوڑا (لنگی اور چادر) صفر میں، اور ایک ہزار جوڑا رجب میں پیش کیا کریں گے۔ علاوہ ازیں سالانہ ۳۳زرہیں، ۳۳ اُونٹ اور ۳۴گھوڑے بھی بطورِ جزیہ ادا کیا کریں گے۔
آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ: مجھ سے مباہلہ کرلیتے تو ان کے درختوں پر چڑیا تک بھی باقی نہ بچتی۔ اور ایک حدیث میں ہے کہ اگر یہ مباہلہ کرلیتے تو ان کی وادی پر آگ برستی۔ (رُوح المعانی ج:۳ ص:۱۸۸) یہ ہے ایک سچے نبی کا مباہلہ۔۔۔!
مرزا قادیانی کے دعوے پر طوفان:
مرزا غلام احمد قادیانی نے جب اسلامی عقیدے سے اِنحراف کرتے ہوئے اپنے
372
’’خاص اِلہام‘‘ کی بنیاد پر ۱۸۹۱ء میں اعلان کیا کہ: ’’عیسیٰ علیہ السلام فوت ہوگئے ہیں، اور ان کی جگہ مجھے مسیح بنادیا گیا ہے‘‘ تو ملک میں ایک طوفان برپا ہوگیا، گھر گھر بحثیں شروع ہوگئیں، مناظرے ہوئے، مباحثے ہوئے، دونوں طرف سے کتب و رسائل شائع کئے گئے، اِشتہارات چھاپے گئے، الغرض ملک میں ایک ہنگامہ رستاخیز برپا ہوگیا۔ حد یہ کہ مرزا قادیانی کے چند نیچری مریدوں کے سوا، جو سرسیّد کے زیرِ اَثر پہلے ہی سے ’’وفاتِ مسیح‘‘ کا عقیدہ رکھتے تھے، اس کے اپنے مرید حیرت و پریشانی کے درمیان میں غرق ہوگئے، اس کا کچھ اندازہ مرزا قادیانی کے مریدِ باصفا نواب سردار محمد علی خاں کے درج ذیل خط سے کیا جاسکتا ہے، جو اس نے مرزا قادیانی کے نام لکھا:
’’جب سے کہ دعویٰ مثیل المسیح کی اشاعت ہوئی ہے، ہر ایک آدمی ایک عجیب خلجان میں ہو رہا ہے، گو بعض خواص کی یہ حالت ہو کہ کوئی شک پیدا نہ ہوا ہو، بندہ جب ہی سے شش وپنج میں ہے، کبھی آپ کا دعویٰ ٹھیک معلوم ہوتا ہے، اور کبھی تذبذب کی حالت ہوجاتی ہے۔ گویا قبض و بسط کی سی کیفیت ہے، اب قال قیل بہت ہوچکی، اپنی تو اس سے اِطمینان نہیں ہوتی، کیونکہ مخالف اور موافق باتوں نے دِل کی عجب کیفیت کردی ہے، بلکہ بعض اوقات اِسلام کے سچے ہونے میں شبہ ہوجاتا ہے۔‘‘
(آئینہ کمالاتِ اسلام، خزائن ج:۵ ص:۳۲۶)
علمائے اُمت کی طرف سے مرزا کو مباہلے کی دعوت:
حضراتِ علمائے کرام نے جب دیکھا کہ بحث مباحثے سے مرزا قادیانی اور اس کے مریدوں کی اِصلاح نہیں ہو رہی، بلکہ ان کی ضد وعناد میں اِضافہ ہو رہا ہے، تو انہوں نے حق و باطل کے فیصلے کے لئے مرزا قادیانی کو مباہلے کا چیلنج کیا، کیونکہ اللہ تعالیٰ کی عدالت سب سے بڑی عدالت ہے، اور اس کا فیصلہ قطعی فیصلہ ہے، جو لوگ کہ اللہ تعالیٰ کو ماننے کا
373
دعویٰ کرتے ہیں، وہ خدائی فیصلے کو حرفِ آخر سمجھتے ہیں، اس لئے بحث ومباحثے کے بعد اب آخری صورت یہی رہ جاتی ہے کہ مباہلے کے ذریعے یہ قضیہ احکم الحاکمین کی عدالت میں پیش کیا جائے۔
مرزا قادیانی کا مباہلے سے گریز وفرار:
یہ عجیب بات ہے کہ نجران کے عیسائیوں کو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اَزخود مباہلے کی دعوت دی تھی، جس کو انہوں نے قبول نہیں کیا، لیکن یہاں معاملہ اُلٹ ہو رہا تھا کہ علمائے کرام، مرزا قادیانی کو مباہلے کی دعوت دے رہے تھے۔ مباہلے کے نام سے مرزا قادیانی کی رُوح کانپتی تھی، چنانچہ حضراتِ علمائے کرام نے جب مرزا قادیانی کو مباہلے کی دعوت دی تو اس نے حیلوں بہانوں سے اس دعوت کو ٹال دیا، مرزا قادیانی ’’اِزالہ اوہام‘‘ میں لکھتا ہے:
’’ناظرین پر واضح ہو کہ میاں عبدالحق نے مباہلہ کی بھی درخواست کی تھی، لیکن اب تک میں نہیں سمجھ سکتا کہ ایسے اِختلافی مسائل میں، جن کی وجہ سے کوئی فریق کافر یا ظالم نہیں ٹھہرسکتا، کیونکر ’’مباہلہ‘‘ جائز ہے؟ قرآنِ کریم سے ظاہر ہے کہ مباہلہ میں دونوں فریق کا اس بات پر یقین چاہئے کہ فریقِ مخالف میرا کاذب ہے، یعنی عمداً سچائی سے رُوگردان ہے، مخفی نہیں ہے۔ تاہریک فریق ’’لعنۃ اللہ علی الکاذبین‘‘ کہہ سکے۔ اب اگر میاں عبدالحق اپنے قصورِ فہم کی وجہ سے مجھے کاذب خیال کرتے ہیں، لیکن میں انہیں کاذب نہیں کہتا، بلکہ مخطی جانتا ہوں، اور مخطی مسلمان پر لعنت جائز نہیں، کیا بجائے ’’لعنۃ اللہ علی الکاذبین‘‘ یہ کہنا جائز ہے کہ’’لعنۃ اللہ علی المخطئین‘‘ ؟ کوئی مجھے سمجھا دے کہ اگر میں مباہلہ میں فریقِ مخالف پر لعنت کروں تو کس طرح کروں؟‘‘
(ازالہ اوہام ص:۶۳۷، خزائن ج:۳ ص:۴۴۳)
374
مدعاعلیہ نے اس اِختلاف کو ’’فروعی اِختلاف‘‘ قرار دیتے ہوئے یہ بھی لکھا ہے کہ مسلمانوں کے درمیان اِختلافات بہت ہیں:
’’اب کیا یہ انسانیت ہے یا ہمدردی اور ترحم میں داخل ہے کہ طریقِ تصفیہ یہ ٹھہرایا جائے کہ تمام مسلمان، کیا اَئمہ اَربعہ کے پیرو، اور کیا محدثین کے پیرو، اور کیا متصوفین، ان ادنیٰ ادنیٰ اِختلافات کی وجہ سے مباہلہ کے میدان میں آکر ایک دُوسرے پر لعنت شروع کردیں؟‘‘
(ایضاً ص:۴۲۱، خزائن ج:۳ ص:۵۹۵)
کیا مرزا قادیانی کا مسلمانوں سے فروعی اِختلاف تھا؟
مرزا قادیانی کا اس اِختلاف کو ’’فروعی اِختلاف‘‘ یا ’’اِجتہادی خطا‘‘ قرار دے کر مباہلے سے راہِ فرار اِختیار کرنا محض سخن سازی اور حیلہ تراشی تھا، کیونکہ مرزا قادیانی نے ایک قطعی اور متواتر اِسلامی عقیدے سے اِنحراف کیا تھا، اور کتابوں پر کتابیں لکھ کر اِلحاد وزَندقہ کے پھریرے اُڑا رہا تھا، علمائے اسلام اسے قطعی کفر و اِرتداد اور زَندقہ واِلحاد قرار دے رہے تھے، اور علمائے اسلام کی اس کے بارے میں جو رائے تھی، اسے خود اپنے قلم سے نقل کرچکا تھا کہ:
’’میاں عبدالحق صاحب غزنوی اور مولوی محی الدین لکھو والے اس عاجز کے بارے میں لکھتے ہیں کہ ہمیں اِلہام ہوا ہے کہ یہ شخص جہنمی ہے۔ چنانچہ عبدالحق صاحب کے اِلہام میں تو صریح ’’سیصلیٰ نارًا ذات لھب‘‘ موجود ہے، اور محی الدین صاحب کو یہ اِلہام ہوا ہے کہ یہ شخص ایسا ملحد اور کافر ہے کہ ہرگز ہدایت پذیر نہیں ہوگا، اور ظاہر ہے کہ جس کافر کا مآلِ کار کفر ہی ہو وہ بھی جہنمی ہی ہوتا ہے، غرض ان دونوں صاحبوں نے کہ خدا انہیں بہشت نصیب کرے اس عاجز کی نسبت جہنم اور کفر کا فتویٰ دے دیا، اور بڑے زور سے
375
اپنے اِلہامات کو شائع کردیا۔‘‘
(ازالہ ص:۶۲۷، خزائن ج:۳ ص:۴۳۸)
اور اپنے ۱۲؍اپریل ۱۸۹۱ء کے اِشتہار میں ۔۔۔جومولانا عبدالحق غزنویؒ کی درخواستِ مباہلہ کے جواب میں شائع کیا گیا۔۔۔ خود تسلیم کرچکا تھا کہ:
’’مسنون طریق مباہلہ کا یہ ہے کہ جو شخص مباہلہ کی درخواست کرے، اس کے دعوے کی بنا ایسے یقین پر ہو جس یقین کی وجہ سے وہ اپنے فریقِ مقابل کو قطعی طور پر مفتری اور کاذب خیال کرے۔‘‘
(مجموعہ اِشتہارات ج:۱ ص:۲۱۵)
ظاہر ہے کہ مرزا قادیانی کی خودنوِشتہ شرط مولانا عبدالحق کی درخواستِ مباہلہ میں موجود تھی، وہ قطعی طور پر مرزا کو کافر وملحد اور ابولہب کا بروز قرار دے رہے تھے، اس کے باوجود اس کو ’’فروعی اِختلاف‘‘ کہہ کر مباہلہ سے راہِ فرار اِختیار کرنا، کیا کسی حق پرست کا شیوہ ہوسکتا ہے۔۔۔؟
قطعی یقینی بات پر مباہلے کا چیلنج کیا جاسکتا ہے:
مرزا سے عرض کیا گیا کہ آدمی کو اپنے موقف کی سچائی کا سوفیصد یقین ہو تو مباہلہ کرسکتا ہے، دیکھو! حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ، ایک جلیل القدر صحابی ہیں، کسی نے ان سے کہا کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ فلاں مسئلے میں یہ فتویٰ دیتے ہیں، حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ’’جو شخص چاہے میں اس سے مباہلہ کرنے کو تیار ہوں کہ سورۃ الطّلاق، سورۃ البقرۃ کے بعد نازل ہوئی ہے۔‘‘
(ابوداؤد ج:۱ ص:۳۱۶)
اس سے معلوم ہوا کہ آدمی کو اپنے موقف پر سوفیصد یقین ہو تو فروعی مسئلے میں مباہلہ کی دعوت دے سکتا ہے۔
اس پر مرزا قادیانی نے لکھا:
’’یہ نادان کہتے ہیں کہ ابنِ مسعودؓ نے جو مباہلہ کی
376
درخواست کی تھی اس سے نکلتا ہے کہ مسلمانوں کا باہم مباہلہ جائز ہے، مگر یہ ثابت نہیں کرسکتے کہ ابنِ مسعودؓ نے اپنے اس قول سے رُجوع نہیں کیا، اور نہ یہ ثابت کرسکتے ہی کہ مباہلہ ہوکر مخطیوں پر یہ عذاب نازل ہوا تھا۔ حق بات یہ ہے کہ ابنِ مسعودؓ ایک معمولی انسان تھا، نبی اور رسول تو نہیں تھا، اس نے جوش میں آکر غلطی کھائی تو کیا اس کی بات کو إن ھو إلّا وحیٌ یوحٰی میں داخل کیا جائے؟‘‘
(اِزالہ اوہام ص:۵۹۶، خزائن ج:۳ ص:۴۲۱)
مرزا کو مباہلے کی اجازت کا اِلہام:
دراصل مرزا قادیانی نہ قرآن کو مانتا تھا، نہ حدیث کو، نہ کسی صحابی کے یا اِمام کے قول کو، اس کے لئے بس ایک چیز حجت تھی، اور وہ تھا اس کا اپنا اِلہام۔ صد شکر علمائے کرام کی یہ مشکل حل ہوئی، اور یہ نئی بحث جو چل نکلی تھی کہ آیا مرزا قادیانی کے لئے مباہلہ جائز ہے یا نہیں؟ مرزا کے اِلہام نے اس بحث میں علمائے کرام کے موقف کو صحیح اور برحق قرار دِیا اور مرزا قادیانی کے موقف کو غلط۔ اس اِلہامی اجازت کی تقریب یہ ہوئی کہ مرزا کے مریدِ خاص نواب سردار محمد علی خاں نے اپنے خط میں ۔۔۔جس کا حوالہ اُوپر گزرچکا ہے۔۔۔ مرزا قادیانی کو یہ بھی لکھا:
’’اب کوئی عذر اس قسم کا نہیں رہا کہ اب مباہلہ کے لئے مخالفوں کو نہ بلایا جائے، کیونکہ جیسا کہ آپ نے مولوی عبدالحق کے جواب میں تحریر فرمایا تھا کہ: ’’جب تک مباحثہ ہوکر مباہلہ نہ ہو، مباہلہ نہیں ہوسکتا، کیونکہ یہ اِختلاف اِجتہادی ہے‘‘ لیکن اب یہ بات نہیں رہی، بلکہ مخالفت بہت ہوگئی ہے، اور حجت قائم ہوچکی، اب آپ کو مخالفوں سے مباہلہ کرنا چاہئے اور توجہ کرکے خداوند تعالیٰ سے اس کی اجازت چاہنی چاہئے کہ مباہلہ کیا جاوے۔‘‘
(آئینہ کمالاتِ اسلام، خزائن ج:۵ ص:۳۲۶، ۳۲۷)
377
مرزا قادیانی نے نواب صاحب کے تیور بدلے ہوئے دیکھے تو اس کو مباہلہ کی اجازت فوراً مل گئی، چنانچہ مذکورہ بالا خط کے جواب میں مرزا قادیانی لکھتا ہے:
’’مباہلہ کی نسبت آپ کے خط سے چند روز پہلے مجھے خودبخود اللہ جل شانہ‘ نے اجازت دے دی، اور یہ خدا تعالیٰ کے اِرادے سے آپ کا توارد ہے کہ آپ کی طبیعت میں یہ جنبش پیدا ہوئی۔‘‘
(ایضاً ص:۳۳۱)
تعجب ہے کہ مرزا قادیانی کے سامنے قرآن پیش کیا جاتا ہے، حدیث پیش کی جاتی ہے، حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کا اِرشاد پیش کیا جاتا ہے، مگر اس کے اِلہام کو ان چیزوں سے توارد نہیں ہوتا، لیکن ایک نواب رئیس کا تیز وتند خط آتا ہے کہ: ’’اب آپ کو مخالفوں سے مباہلہ کرنا چاہئے‘‘ تو خدا تعالیٰ کے اِرادے کا فوراً توارد ہوجاتا ہے۔ بہرحال اہلِ اسلام کو نواب صاحب کا شکریہ اَدا کرنا چاہئے کہ انہوں نے مرزا کو ایک خط لکھ کر اِرادۂ اِلٰہی کو مباہلے کی اِجازت کے لئے کھینچ لیا، علمائے کرام کو اس نئی بحث سے نجات دِلائی، اور یہ ثابت کردیا کہ مباہلے کے جواز میں علمائے کرام کا موقف برحق تھا۔ کہنا چاہئے کہ یہ مباہلے میں علمائے کرام کی پہلی فتح تھی۔
مباہلے کے لئے قادیانی شرط:
اِلہامی اِجازت ملنے کے باوجود مرزا قادیانی غیرمشروط مباہلے کے لئے تیار نہیں ہوا، بلکہ ایسی شرطیں لگادیں کہ مخالفین ان پر رضامند نہ ہوں، اور گھر بیٹھے اِعلان کردیا جائے کہ ہم نے تو مخالفین کو مباہلے کے لئے بلایا تھا، مگر کوئی اس پر تیار ہی نہیں ہوا، چنانچہ اِشتہارِ مباہلہ جو ۱۰؍دسمبر ۱۸۹۲ء کو شائع کیا، اس میں لکھا:
’’ان تمام مولویوں اور مفتیوں کی خدمت میں، جو اس عاجز کو جزئی اِختلافات کی وجہ سے یا اپنی نافہمی کے باعث کافر ٹھہراتے ہیں، عرض کیا جاتا ہے کہ اب میں خدا تعالیٰ سے مأمور ہوگیا
378
ہوں کہ تامیں آپ لوگوں سے مباہلہ کرنے کی درخواست کروں، اس طرح پر کہ اوّل آپ کو مجلسِ مباہلہ میں اپنے عقائد کے دلائل اَزرُوئے قرآن وحدیث کے سناؤں، اگر پھر بھی آپ لوگ تکفیر سے باز نہ آویں تو اسی مجلس میں مباہلہ کروں۔ سو میرے پہلے مخاطب میاں نذیر حسین دہلوی ہیں، اگر وہ اِنکار کریں تو پھر شیخ محمد حسین بطالوی، اور اگر وہ اِنکار کریں تو پھر بعد اس کے تمام وہ مولوی صاحبان جو مجھ کو کافر ٹھہراتے اور مسلمانوں میں سرگروہ سمجھے جاتے ہیں۔ اور میں ان تمام بزرگوں کو آج کی تاریخ سے، جو دہم دسمبر ۱۸۹۲ء ہے، چار ماہ تک مہلت دیتا ہوں، اگر چار ماہ تک ان لوگوں نے مجھ سے بشرائطِ متذکرہ مباہلہ نہ کیا، اور نہ کافر کہنے سے باز آئے تو پھر اللہ تعالیٰ کی حجت ان پر پوری ہوگی۔‘‘
(آئینہ کمالاتِ اسلام، خزائن ج:۵ ص:۲۶۱، ۲۶۲)
ملاحظہ فرمائیے کہ گھر بیٹھے مباہلے میں اپنی فتح کے شادیانے بجانے کی کیسی اچھی ترکیب ہے۔ سب سے اوّل تو یہ کہ مباہلہ سے پہلے جناب کے دلائل سنے جائیں، حالانکہ مباہلے کی ضرورت ہی اس بنا پر پیش آئی کہ جناب قرآن وحدیث میں بے دریغ تحریفات فرماتے ہیں، مباہلے کی مجلس میں انہی تحریفات کو مکرّر سننے کی شرط کون قبول کرے گا؟ پس اگر کسی نے کہہ دیا کہ ہم آپ کی تحریفات سننے کے لئے تیار نہیں تو جناب کی شرط فوت ہوگئی، لہٰذا اِعلان کردیا جائے گا کہ ہم نے تو مولویوں کو مباہلے کی دعوت دی تھی، مگر کوئی مردِ میدان ہی نہیں نکلا، لہٰذا ہماری فتح ہوئی۔
دوم یہ کہ مباہلہ کے لئے اوّل فلاں آئے، وہ اِنکار کرے تو فلاں آئے، وہ بھی اِنکار کرے تو فلاں فلاں آئیں، گویا اگر کوئی دُور ونزدیک کا بزرگ کسی عذر کی بنا پر مباہلہ کے لئے نہ آئے تو یہ اس کا اِنکار شمار ہوگا، اور اِشتہار دے دیا جائے گا کہ فلاں نے مباہلہ کے میدان میں آنے سے اِنکار کردیا، لہٰذا ہم جیت گئے۔
379
سوم یہ کہ مباہلہ کے لئے جو آئے وہ پہلے سند پیش کرے کہ وہ مسلمانوں میں سرگروہ سمجھا جاتا ہے، تب میدانِ مباہلہ میں قدم رکھے، یہ شرط بھی اہلِ علم کی غیرت کے خلاف ہے کہ وہ ثبوت پیش کرتے پھریں کہ فقیر مسلمانوں میں سرگروہ سمجھا جاتا ہے۔
مرزا قادیانی کے مریدوں میں کسی نے اس سے نہیں پوچھا کہ حضور! آپ نے مباہلہ کی جو شرطیں تحریر فرمائی ہیں، آیا یہ بھی اِلہامی ہیں؟ یا حضور نے اپنے اِجتہاد سے زیبِ قلم فرمائی ہیں؟ اور کیا سیّدالصادقین صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی اپنے مخالفین کو ایسی شرائط میں جکڑا تھا؟ نہیں! بلکہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر رات کو مباہلے کی آیت نازل ہوئی اور صبح دم آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے بغیر کسی شرط کے نصاریٔ نجران کو مباہلے کی دعوت دی۔
برعکس اس کے قادیانی صاحب ان شرائط کی شعبدہ بازی کے ذریعے اپنے خوش فہم مریدوں کو اِطمینان دِلانا چاہتے تھے کہ حضرت مسیحِ موعود نے مباہلے کا اِشتہار شائع کیا ہے، لیکن کوئی مولوی، کوئی مفتی اور کوئی صوفی حضرت کے مقابلے پر آکر مباہلے کی جرأت نہیں کرتا، چنانچہ اِشتہار ۲۵؍اپریل ۱۸۹۳ء کے آغاز میں قادیانی صاحب لکھتے ہیں:
’’ناظرین کو معلوم ہوگا کہ کچھ تھوڑا عرصہ ہوا کہ غزنوی صاحبوں کی جماعت میں سے، جو اَمرتسر میں رہتے ہیں، ایک صاحب عبدالحق نام نے اس عاجز کے مقابلے پر مباہلہ کے لئے اِشتہار دیا تھا، مگر چونکہ اس وقت یہ خیال تھا کہ یہ لوگ کلمہ گو اور اہلِ قبلہ ہیں، ان کو لعنتوں کا نشانہ بنانا جائز نہیں، اس لئے اس درخواست کو قبول کرنے سے اس وقت تک تأمل رہا جب تک کہ ان لوگوں نے کافر ٹھہرانے میں اِصرار کیا، اور پھر تکفیر کا فتویٰ تیار ہونے کے بعد اس طرف سے بھی مباہلہ کا اِشتہار دیا گیا، جو کتاب ’’آئینہ کمالاتِ اسلام‘‘ کے ساتھ بھی شامل ہے، اور اَبھی تک کوئی شخص مباہلہ کے لئے مقابلے پر نہیں آیا۔‘‘
(مجموعہ اِشتہارات ج:۱ ص:۳۹۵)
کاش! ان کے مریدوں میں کوئی دانش مند ان سے اتنا تو پوچھ لیتا کہ حضرت!
380
عبدالحق غزنوی تو حضور کو کافر ٹھہرانے پر پہلے ہی مصر تھا، جیسا کہ اُوپر ’’اِزالہ اوہام‘‘ کے حوالے سے نقل کرچکا ہوں کہ مولانا عبدالحق غزنویؒ نے مرزا قادیانی کو قطعی کافر ومرتد اور جہنمی قرار دے کر اس سے مباہلے کا مطالبہ کیا تھا، اس کے باوجود مرزا نے اس وقت ان سے مباہلے کو ناجائز قرار دِیا تھا، اب ان کے موقف میں کون سی تبدیلی پیدا ہوئی تھی کہ اب مباہلہ جائز ہوگیا؟
دوم یہ کہ مولانا غزنویؒ تو ۱۸۹۱ء میں مباہلے کی درخواست بذریعہ اِشتہار آپ کے پاس جمع کراچکے تھے، اور آپ سوا دو سال بعد ۲۵؍اپریل ۱۸۹۳ء کو لکھ رہے ہیں کہ ’’ابھی تک کوئی شخص مباہلہ کے لئے مقابلے پر نہیں آیا‘‘ کیا یہ اپنے مریدوں کو دھوکا دینے کے لئے صریح جھوٹ نہیں؟ کیا مولانا غزنویؒ نے دو سال پہلے کی وہ درخواست واپس لے لی تھی؟ یا آپ نے اس کے منسوخ ہونے کا اِعلان فرمادیا تھا؟ آپ دو سال سے اِشتہارات کی پتنگ بازی فرما رہے تھے لیکن مولانا غزنویؒ کے مقابلے میں میدانِ مباہلہ میں قدم رکھنے کی آنجناب کو ہمت نہ ہوئی، مگر مریدوں پر جھوٹ کا یہ افسون پھونک رہے ہیں کہ ہمارے مقابلے میں مباہلہ کے لئے کوئی شخص نہیں آتا۔
الغرض! قادیانی صاحب کا مقصود مباہلہ کے ذریعے فیصلہ کرنا نہیں تھا، بلکہ اس پتنگ بازی کے ذریعے مریدوں کے ذہن میں یہ بٹھانا تھا کہ ہمارے ’’حضرت مسیحِ موعود‘‘ کے مقابلے میں آنے کی کوئی جرأت نہیں کرسکتا۔
مولانا غزنویؒ سے حافظ محمد یوسف کا مباہلہ:
الغرض جو لوگ مرزا قادیانی کے حلقہ بگوش تھے، وہ قادیانی کے اس جھوٹ کو بھی سچ سمجھتے تھے کہ ہمارے مسیحِ موعود’’جری اللہ فی حلل الأنبیاء‘‘ کے مقابلے میں آنے کی کسی میں بھی تب وتاب نہیں، دیکھو! ہمارا مسیح میدان میں کھڑا دُنیا بھر کے مولویوں، مفتیوں، صوفیوں اور سجادہ نشینوں کو للکار رہا ہے، لیکن حضرت کی صداقت کا ایسا لرزہ سب کے دِلوں پر طاری ہے کہ کیا مجال کہ کوئی شخص میدانِ مباحثہ یا مباہلہ میں قدم رکھے؟ اس
381
سے بڑھ کر حضرت کی صداقت کی کیا دلیل ہوسکتی ہے۔۔۔؟
غالباً حافظ محمد یوسف صاحب، جو مرزا قادیانی کے غالی عقیدت مند تھے، وہ بھی اسی دامِ فریب میں مبتلا تھے، انہوں نے مرزا صاحب کی عقیدت کے جوش میں ۲؍شوال ۱۳۱۰ھ کو یکایک مولانا عبدالحق غزنویؒ سے مباہلہ کرڈالا۔ اس کی تفصیل مرزا قادیانی نے اپنے اِشتہار ۲۵؍اپریل ۱۸۹۳ء میں ۔۔۔جس کی اِبتدائی عبارت ابھی اُوپر گزرچکی ہے۔۔۔ حسبِ ذیل لکھی ہے:
’’مجھے اس بات کے سننے سے بہت خوشی ہوئی کہ ہمارے ایک معزّز دوست حافظ محمد یوسف صاحب نے اِیمانی جواںمردی اور شجاعت کے ساتھ ہم سے پہلے اس (مباہلہ کے) ثواب کو حاصل کیا، تفصیل اس اِجمال کی یہ ہے کہ حافظ صاحب اِتفاقاً ایک مجلس میں بیان کر رہے تھے کہ مرزا صاحب یعنی اس عاجز سے کوئی آمادۂ مناظرہ یا مباہلہ نہیں ہوتا، اور اسی سلسلۂ گفتگو میں حافظ صاحب نے یہ بھی فرمایا کہ عبدالحق نے جو مباہلہ کے لئے اِشتہار دیا تھا، اب اگر وہ اپنے تئیں سچا جانتا ہے تو میرے مقابلے پر آوے، میں اس سے مباہلہ کے لئے تیار ہوں۔ تب عبدالحق جو اسی جگہ کہیں موجود تھا، حافظ صاحب کے غیرت دِلانے والے لفظوں سے طوعاً وکرہاً مستعدِ مباہلہ ہوگیا۔ اور حافظ صاحب کا ہاتھ آکر پکڑلیا کہ میں تم سے اسی وقت مباہلہ کرتا ہوں، مگر مباہلہ فقط اس بارے میں کروں گا کہ میرا یقین ہے کہ مرزا غلام احمد، مولوی حکیم نورالدین اور مولوی محمد احسن یہ تینوں مرتدین اور کذّابین اور دَجالین ہیں، حافظ صاحب نے فی الفور بلاتأمل منظور کیا کہ میں اس بارے میں مباہلہ کروں گا، کیونکہ میرا یقین ہے کہ یہ تینوں مسلمان ہیں۔ تب اسی بات پر حافظ صاحب نے عبدالحق سے مباہلہ کیا، اور گواہانِ مباہلہ منشی محمد یعقوب اور میاں
382
نبی بخش صاحب اور میاں عبدالہادی صاحب اور میاں عبدالرحمن عمرپوری قرار پائے۔‘‘
(مجموعہ اِشتہارات ج:۱ ص:۳۹۶)
حافظ محمد یوسف کے مباہلہ کے نتائج:
حافظ صاحب ’’اپنے مسیحِ موعود‘‘ کی محبت کے نشے میں مخمور اور اس کے افسوں سے مسحور تھے، اس لئے مولانا عبدالحق کی دعوت پر فوراً بلاتأمل میدانِ مباہلہ میں کود گئے، اور مرزا قادیانی نے ان کے مباہلے پر اِظہارِ مسرّت کرکے ان کے اس مباہلہ کو اپنے اِشتہار میں شائع کیا اور اس پر اپنی مہرِ تصدیق ثبت فرمادی، گویا اس مباہلہ کے نتائج کی ذمہ داری قبول کرلی۔ آئیے اب اس مباہلہ کے نتائج پر غور کریں!
پہلا نتیجہ: … حافظ صاحب مرزائیت سے تائب ہوگئے:
حافظ صاحب اور مولانا عبدالحق کے مباہلہ کا موضوع، جیسا کہ آپ نے مرزا صاحب کی مندرجہ بالا تحریر میں پڑھا، یہ تھا کہ مرزا قادیانی اور اس کے دونوں بڑے چیلے حکیم نورالدین اور مولوی محمد احسن مسلمان ہیں یا کافر و مرتد اور دَجال وکذّاب؟ حافظ صاحب کا یقین و اذعان یہ تھا کہ یہ تینوں مسلمان ہیں، اور مولانا کا دعویٰ تھا کہ یہ تینوں کافر ومرتد اور دَجال وکذّاب ہیں۔
اللہ کی شان! کہ مولانا عبدالحق اس مباہلہ میں اپنے حریف پر غالب آئے، اور جس طرح ساحرانِ فرعون حضرت موسیٰ علیہ السلام کے مقابلے میں فرعون کا بول بالا کرنے کے لئے آئے تھے، مگر حضرت موسیٰ علیہ السلام کی حقانیت دیکھ کر ان کے ہاتھ پر تائب ہوگئے، اور: ’’اٰمَنَّا بِرَبِّ الْعٰلَمِیْنَ رَبِّ مُوْسٰی وَھَارُوْنَ‘‘ پکار اُٹھے، اسی طرح اس مباہلہ کے بعد مرزا قادیانی کے نمائندے حافظ محمد یوسف کو اللہ تعالیٰ نے ہدایت عطا فرمائی، انہوں نے مولانا عبدالحق غزنویؒ کے ہاتھ پر مرزائیت سے تائب ہوکر اِسلام قبول کرلیا، اور مرزا قادیانی کو کافر ودَجال اور مفتری کہنے لگے، اور جس جوش وخروش کے ساتھ وہ مرزائیت کی تبلیغ کرتے تھے، اب مرزا قادیانی کی تردید کرنے لگے، یہاں تک کہ مرزا قادیانی کو
383
اَربعین نمبر۳ کا اِشتہار ان کے مقابلے میں شائع کرنا پڑا۔
قادیانی جماعت کے لئے آج بھی یہ مباہلہ عبرت کا نشان ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اس مباہلے میں حافظ محمد یوسف کے مقابلے میں مولانا عبدالحق کو فتح عطا فرمائی، قطعی فیصلہ فرمادیا کہ مرزا غلام احمد قادیانی اور اس کے دونوں چیلوں حکیم نورالدین اور مولوی محمد احسن کے بارے میں مولانا مرحوم کا موقف صحیح تھا، یہ لوگ اللہ تعالیٰ کے نزدیک واقعی کافر ومرتد اور دَجال وکذّاب ہیں، کیا کسی قادیانی کو اس فیصلۂ خداوندی سے عبرت ہوگی۔۔۔؟
دُوسرا شاندار نتیجہ: … مباہلہ کا نتیجہ نہ ماننے والوں کے بارے میں مرزا قادیانی کے فتوے:
اہلِ حق کو اپنے موقف پر قطعی یقین و وثوق ہوتا ہے، اس لئے جواریوں کی طرح یہ شرطیں لگانے کی ضرورت نہیں کہ اگر مباہلے کا نتیجہ ہمارے خلاف نکلا تو ہم اپنے موقف سے دستبردار ہوجائیں گے۔
کیونکہ اگر کسی کو اپنے موقف میں ذرا بھی غلطی کا اِحتمال ہو تو ایسے آدمی کو مباہلہ کے میدان میں قدم ہی نہیں رکھنا چاہئے، اس لئے یہ شرط رکھنا ہی غلط ہے کہ اگر مباہلے کا اثر میرے خلاف ظاہر ہوا تو اپنے موقف سے دستبردار ہوجاؤں گا۔
مولانا عبدالحق غزنویؒ نے حافظ محمد یوسف سے جو مباہلہ کیا اس کی بنیاد قطعی یقین و اذعان پر تھی، جس میں غلطی کا اِحتمال ہی نہیں تھا، اس لئے اس میں ’’اگر، مگر‘‘ کی کوئی گنجائش ہی نہیں تھی، اس لئے مباہلے کے بعد مرزا کے وکیل حافظ محمد یوسف نے کہا کہ:
’’اب میں تو اس بات کا اِقرار کرتا ہوں کہ اگر اس لعنت اور اس عذاب کی درخواست کا اثر مجھ پر وارِد ہوا، اور کوئی ذِلت اور رُسوائی مجھ کو پیش آگئی تو میں اپنے اس عقیدے سے رُجوع کرلوں گا، سو اَب تم بھی اس وقت اپنا اِرادہ بیان کرو کہ اگر تم خدا تعالیٰ کے نزدیک کاذب ٹھہرے اور کچھ لعنت اور عذاب کا اثر تم پر وارِد ہوگیا تو
384
تم بھی اپنے اس تکفیر کے عقیدے سے رُجوع کروگے یا نہیں؟‘‘
اس کا جواب مولانا غزنویؒ کی طرف سے یہ ہونا چاہئے تھا کہ بھائی! تمہیں اپنے عقیدے میں غلطی کا اِحتمال ہوگا، اس لئے تمہیں مباہلہ کے اثر سے ضرور ڈَرنا چاہئے، اور مباہلے کا اثر وارِد ہونے کی صورت میں ضرور اپنے عقیدے سے توبہ کرنی چاہئے، فقیر کو اپنے عقیدے پر الحمدللہ ایسا اذعان ہے کہ مجھ پر مباہلہ کا اثر بحمداللہ وارِد ہی نہیں ہوسکتا، لہٰذا تمہارا یہ سوال ہی غلط ہے۔ لیکن مولانا مرحوم نے اپنے اذعان و یقین کو ان الفاظ میں بیان کیا کہ: ’’اگر مباہلہ کا اثر مجھ پر وارِد ہو، تب بھی مرزا کو کافر کہنے سے رُجوع نہیں کروں گا۔‘‘
یہ مولانا مرحوم کی لغزشِ لسانی تھی، جو محض غضبًا ِﷲِ وغیرۃً لِلدِّین ان سے سرزد ہوئی، جیسا کہ آگے مولانا مرحوم کے جواب سے یہ بات واضح ہوگی۔
لیکن مثل مشہور ہے کہ ’’فعل الحکیم لَا یخلو عن الحکمۃ‘‘ ‘ اللہ تعالیٰ نے اپنے ایک مقبول بندے ۔۔۔مولانا عبدالحق مرحوم۔۔۔ سے جو یہ لغزش کرائی، شاید اس میں ایک بڑی حکمت کارفرما تھی۔ وہ یہ کہ اللہ تعالیٰ کو معلوم تھا کہ حافظ محمد یوسف کے مباہلہ سے اسلام اور مرزائیت کے درمیان مقابلے کا ایک نیا محاذ کھل رہا ہے، اور وہ ہے مباہلوں کا محاذ! اس محاذ پر مرزائیت کو اِسلام کے مقابلے میں پے درپے شکستیں ہونا علمِ اِلٰہی میں مقدّر ہے، ادھر مرزائیوں کی یہ عادت معلوم ہے کہ جب کوئی بات ان کے خلاف ظہور پذیر ہو تو وہ دِین وایمان اور عقل ودانش ہی کے نہیں، بلکہ انسانیت کی حدود بھی پھلانگ جاتے ہیں، اس لئے حکمتِ خداوندی کا تقاضا ہوا کہ مولانا مرحوم سے الفاظ کی ذرا سی لغزش کرادی جائے، تاکہ مرزا غلام احمد قادیانی ان کے ان الفاظ پر تبصرہ کرنے بیٹھے تو اس کے قلم سے ایسے فقرے لکھوادئیے جائیں جو ہمیشہ کے لئے اہلِ حق کے ہاتھ میں مرزا قادیانی اور اس کی جماعت کے خلاف برہانِ قاطع کا کام دیں، اور اہلِ حق مرزا غلام احمد قادیانی کے الفاظ کا آئینہ اس کی جماعت کو دِکھاکر انہیں اپنا چہرہ پہچاننے کی دعوت دے سکیں۔
لیجئے! اب میں مرزا قادیانی کا تیار کردہ یہ آئینہ ان کی جماعت کے سامنے پیش کرکے دعوت دیتا ہوں کہ وہ اپنا چہرہ پہچانیں، اور اگر توفیقِ اِلٰہی دستگیری کرے تو مرزائیت
385
سے توبہ کرکے اپنے مکروہ چہرے کی سیاہی کو دُور کرنے کی کوشش کریں۔
حافظ محمد یوسف اور مولانا عبدالحق غزنویؒ کے مباہلے کا اور مباہلے کے بعد ان کے مکالمے کا قصہ اُوپر ذِکر کرچکا ہوں، مرزا قادیانی نے اس پر جو تبصرہ کیا ہے، اس کے اِقتباسات درج ذیل عنوان کے تحت حرف بحرف نقل کرتا ہوں۔
حق وباطل کا معیار:
مولانا مرحوم کا مندرجہ بالا فقرہ نقل کرکے مرزا قادیانی لکھتا ہے:
’’تب حاضرین کو نہایت تعجب ہوا کہ جس مباہلہ کو حق اور باطل کے آزمانے کے لئے اس نے معیار ٹھہرایا تھا، اور جو قرآنِ کریم کی رُو سے بھی حق اور باطل میں فرق کرنے کے لئے ایک معیار ہے، کیونکر اور کس قدر جلد اس معیار سے یہ شخص پھرگیا؟‘‘
(مجموعہ اِشتہارات ج:۱ ص:۳۹۷)
مرزا قادیانی کی جماعت غور کرے کہ کیا واقعی مباہلہ قرآنِ کریم کی رُو سے حق وباطل کی آزمائش کا معیار ہے؟ اگر آپ حضرات اس کو سچ مچ قرآنِ کریم کی رُو سے حق وباطل کی آزمائش کا معیار مانتے ہیں تو جب اس مباہلے کا نتیجہ کھلے طور پر سامنے آگیا کہ مولانا عبدالحق غالب ہوئے، اور ان کے حریفِ مقابل نے مرزائیت سے تائب ہوکر ان کے ہاتھ پر اِسلام قبول کرلیا تو صاف صاف کھل گیا کہ مرزا قادیانی مسلمان نہیں، بلکہ کافر ومرتد اور دَجال وکذّاب ہے۔ اب اگر آپ حضرات کو قرآنِ کریم پر اِیمان ہے تو اس مباہلے کا نتیجہ سامنے آنے کے بعد آپ کے لئے کیسے جائز ہوا کہ جس شخص کے کافر ومرتد ہونے کا اللہ تعالیٰ فیصلہ دے چکے ہیں، آپ اسی کو مسیحِ موعود اور مہدیٔ معہود مانتے ہیں، اور اس کی جماعت میں شامل رہ کر دوزخ میں چھلانگ لگاتے ہیں۔۔۔؟
ظلم وتعصب، امانت ودیانت سے دُور:
مرزا صاحب آگے لکھتے ہیں:
386
’’اور زیادہ تر ظلم اور تعصب اس کا اس سے ظاہر ہوا کہ وہ اس بات کے لئے تو تیار ہے کہ فریقِ مخالف پر مباہلہ کے بعد کسی قسم کا عذاب نازل ہو، اور وہ اس کے اس عذاب کو اپنے صادق ہونے کے لئے بطور دلیل اور حجت کے پیش کرے، لیکن وہ اگر آپ ہی موردِ عذاب ہوجائیں تو پھر مخالف کے لئے اس کے کاذب ہونے کی یہ دلیل اور حجت نہ ہو۔ اب خیال کرنا چاہئے کہ یہ قول عبدالحق کا کس قدر اَمانت اور دیانت اور اِیمان داری سے دُور ہے، گویا مباہلہ کے بعد ہی اس کی اندرونی حالت کا مسخ ہونا کھل گیا۔‘‘
(حوالۂ بالا)
مرزا صاحب نے مولانا مرحوم کے جس ظلم وتعصب کی شکایت کی ہے، اور اسے امانت و دیانت اور اِیمان داری سے بعید قرار دِیا ہے، اور آخر میں دیانت وامانت کو چھوڑ کر ظلم وتعصب کو اَپنانے پر ’’اندرونی حالت کے مسخ‘‘ ہوجانے کا فتویٰ صادر فرمایا ہے، جب تک مباہلے کا نتیجہ سامنے نہیں آیا تھا، تب تک آپ مولانا مرحوم کو جو چاہتے کہتے، لیکن جب مباہلے کا نتیجہ کھل کر سامنے آگیا، اور اس سے فیصلہ ہوگیا کہ مرزا قادیانی بلاشک وشبہ کافر ومرتد اور کذّاب ودَجال ہے، تو اس کے بعد قادیانی جماعت سے وابستہ رہنا سراسر ظلم وتعصب ہے یا نہیں؟ اور محض مفادِ دُنیوی کے لئے دیانت و امانت اور اِیمان داری کا خون کرنا ہے یا نہیں؟ اور جب آپ حضرات مباہلے کا نتیجہ کھل کر سامنے آجانے کے باوجود مرزا قادیانی کی جماعت کو نہیں چھوڑ رہے، تو غور فرمائیے کہ آپ کی اندرونی حالت مسخ تو نہیں ہوگئی؟ دُعا ہے کہ اللہ تعالیٰ آپ حضرات پر ہدایت کا راستہ کھول دیں، اور آپ حضرات اپنی مسخ شدہ اندرونی حالت کی فکر کریں۔۔۔ـ!
مسخ شدہ لوگوں کی علامت:
مرزا صاحب مزید لکھتے ہیں:
’’یہودی لوگ جو موردِ لعنت ہوکر بندر اور سوَر ہوگئے تھے،
387
ان کی نسبت بھی تو بعض تفسیروں میں یہی لکھا ہے کہ بظاہر وہ اِنسان ہی تھے لیکن ان کی باطنی حالت بندروں اور سوَروں کی طرح ہوگئی تھی، اور حق کے قبول کرنے کی توفیق بہ کلی ان سے سلب ہوگئی تھی، اور مسخ شدہ لوگوں کی یہی تو علامت ہے کہ اگر حق کھل بھی جائے تو اس کو قبول نہیں کرسکتے۔‘‘
(ایضاً حوالۂ بالا)
مرزا قادیانی کی جماعت کے دانش مندوں سے گزارش کرتا ہوں کہ مرزا صاحب کے اس اِقتباس کے آئینے میں اپنا چہرہ پہچانئے! جب مباہلے کا نتیجہ سامنے آگیا، اور مرزا قادیانی کے کافر ودَجال ہونے کا فیصلہ اللہ تعالیٰ نے فرمادیا تو اس سے بڑھ کر حق کا کھل کر سامنے آنا کیا ہوسکتا ہے۔۔۔؟ اب اگر اس کے بعد بھی آپ کو اس کے قبول کرنے کی توفیق نہیں ہوتی تو مرزا صاحب کے یہ الفاظ آپ پر پوری طرح چسپاں ہوتے ہیں۔ خدارا! اپنی حالت کی اِصلاح کیجئے، مرزا قادیانی دجال وکذّاب کی جماعت سے توبہ کیجئے، اور بندروں اور سوَروں کے بجائے انسانوں کی صف میں آکر شامل ہوجائیے، واللہ الموفق!
ملعون اور مسخ شدہ فرعون:
مرزا صاحب آگے رقم طراز ہیں:
’’قرآنِ کریم اسی طرف اشارہ فرماکر کہتا ہے:وقالوا قلوبنا غلف بل لعنھم اللہ بکفرھم فقلیلًا ما یؤمنون۔ (البقرۃ:۸۸) وقولھم قلوبنا غلف بل طبع اللہ علیھا بکفرھم فلا یؤمنون إلّا قلیلًا۔ (النساء:۱۵۵) یعنی کافر کہتے ہیں کہ ہمارے دِل غلاف میں ہیں، ایسے رقیق اور پتلے دِل نہیں کہ حق کا اِنکشاف دیکھ کر اس کو قبول کریں، اللہ جل شانہ‘ اس کے جواب میں فرماتا ہے کہ یہ کچھ خوبی کی بات نہیں بلکہ لعنت کا اثر ہے جو دِلوں پر ہے، یعنی لعنت جب کسی پر نازل ہوتی ہے اس کے نشانوں میں سے
388
یہ بھی ایک نشان ہے کہ دِل سخت ہوجاتا ہے، اور گو کیسا ہی حق کھل جائے، پھر اِنسان اس حق کو قبول نہیں کرتا، سو یہ حافظ صاحب کی اسی وقت ایک کرامت ظاہر ہوئی کہ دُشمن نے مسخ شدہ فرعون کی طرح اسی وقت مباہلہ کے بعد ایسی باتیں شروع کردیں، گویا اسی وقت لعنت نازل ہوچکی تھی۔‘‘
(حوالۂ بالا)
واقعی حافظ صاحب کی یہ کرامت ہے کہ انہوں نے مولانا مرحوم سے یہ سوال جواب کرکے مرزا قادیانی کو اپنی اُمت کا چہرہ دیکھنے کے لئے ایک آئینہ مہیا کرنے کا موقع دیا، قادیانی حضرات اِنصاف فرمائیں کہ مرزا قادیانی نے جو آیات شریفہ کافروں کے بارے میں نقل کی ہیں: ’’بل لعنھم اللہ بکفرھم‘‘ اور ’’بل طبع اللہ علیھا بکفرھم‘‘ کیا مباہلے کا کھلا اثر ظاہر ہوجانے کے بعد مرزا قادیانی اور اس کی جماعت کا اپنے کفر و اِرتداد پر اَڑے رہنا ان آیات کا مصداق ہیں یا نہیں؟ باوجودیکہ اللہ تعالیٰ نے قطعی فیصلے کے ذریعے حق کو کھول کر رکھ دیا کہ مرزا کافر ومرتد ہے، دجال وکذّاب ہے، نہ مرزا کو اپنے کفر واِرتداد اور دَجل وکذب سے عمر بھر توبہ کی توفیق نصیب ہوئی، اور نہ مرزائی جماعت کو۔ آپ نے ملاحظہ فرمایا کہ حافظ صاحب کی کیسی کرامت ظاہر ہوئی کہ مباہلے کا اثر ظاہر ہوئے پوری صدی گزرچکی ہے، مگر یہ لوگ آج تک مسخ شدہ فرعون کی طرح لعنت کا نشانہ بنے ہوئے ہیں، یا اللہ! ان بھائیوں کو توبہ کی توفیق عطا فرماکر ان کو لعنت سے نجات عطا فرما۔
حق سے اِنحراف کرنے والا ملہم نہیں ہوسکتا:
مرزا صاحب مزید فرماتے ہیں:
’’اس جگہ یہ بھی واضح رہے کہ یہ وہی عبدالحق ہے کہ جس نے اِلہام کا بھی دعویٰ کیا تھا، اب ناظرین ذرا ایک انصاف کی نظر اس کے حال پر ڈالیں کہ یہ شخص سچائی سے دوستی رکھتا ہے یا دُشمنی؟ ظاہر ہے کہ ملہم وہ شخص ہوسکتے ہیں جو ہمیشہ سچائی کے پیاسے اور
389
بھوکے ہوتے ہیں، اور جب دیکھتے ہیں کہ سچائی ہمارے ساتھ نہیں بلکہ فریقِ مخالف کے ساتھ ہے، اسی وقت اپنی ضد کو چھوڑ دیتے ہیں، اور حق کے قبول کرنے کے لئے ننگ وناموس بلکہ موت سے بھی نہیں ڈرتے۔‘‘
(حوالۂ بالا ص:۳۹۸)
میں اس عبارت سے حرف بحرف اِتفاق کرتے ہوئے صرف ’’عبدالحق‘‘ کی جگہ ’’مرزا غلام احمد قادیانی‘‘ کا نام لکھ دینا کافی سمجھتا ہوں۔ جب حافظ محمد یوسف تائب ہوکر مسلمان ہوگیا تو حق کھل کر واضح ہوگیا، اور مرزا اور اس کے چیلوں کا کافر ومرتد ہونا آفتاب نصف النہار سے زیادہ روشن ہوگیا، اگر مرزا واقعی ملہم ہوتا تو وہ بھی حق کا پیاسا ہوتا، اپنی ضد فوراً چھوڑ دیتا، اور ننگ وناموس کی پروا نہ کرتا۔ جب فیصلۂ خداوندی کا روشن دن طلوع ہوجانے کے بعد بھی مرزا اور مرزائیوں کو توبہ کی توفیق نہ ہوئی تو ثابت ہوا کہ اِلہام کے سب دعوے جھوٹے تھے۔ قادیانی جماعت میں اگر کوئی صاحب عقل وشعور رکھتے ہیں تو وہ اِنصاف فرمائیں کہ مرزا کے اپنے فتوے کی روشنی میں جو بات کہہ رہا ہوں وہ صحیح ہے یا غلط؟
خلاصہ یہ کہ حافظ محمد یوسف صاحب کے مباہلے کا ایک اہم نتیجہ یہ نکلا کہ مرزا قادیانی کے یہ تمام تیزوتند الفاظ مولانا عبدالحق مرحوم کے بجائے خود مرزا قادیانی اور اس کی جماعت پر لوٹ گئے۔ کاش! مرزائی جماعت کو اَب بھی غیرت ہو، اور جس طرح حافظ محمد یوسف مرحوم حق کھل جانے کے بعد مرزائیت سے تائب ہوکر دوبارہ حلقہ بگوش اسلام ہوگئے تھے، اسی طرح یہ حضرات بھی مرزا قادیانی کے مندرجہ بالا فتوے پڑھ کر اللہ تعالیٰ سے ڈریں، اور اس دجال وکذّاب کی جماعت کا ساتھ چھوڑ کر اپنی نجاتِ اُخروی کی فکر کریں۔
تیسرا نتیجہ: … مرزا کے اِشتہار کے جواب میں مولانا غزنویؒ کا اِشتہار:
حافظ محمد یوسف مرحوم کا مولانا عبدالحق غزنویؒ سے یہ مباہلہ، جو ۲؍شوال ۱۳۱۰ھ (مطابق ۱۹؍اپریل ۱۸۹۳ء) کو ہوا تھا، اس کا ایک اہم ترین نتیجہ یہ نکلا کہ خود مرزا قادیانی کو میدانِ مباہلہ میں نکلنا پڑا۔
390
تفصیل اس کی یہ ہے کہ مرزا قادیانی نے اس مباہلے کے ایک ہفتے بعد ۲۵؍اپریل ۱۸۹۳ء کا اِشتہار شائع کردیا، جس میں مولانا غزنویؒ کے ایک فقرے کو لے کر اس پر اپنی فتح کے پھریرے اُڑانے شروع کردئیے، مولانا غزنوی مرحوم نے مرزا کے دجل وفریب کا پردہ چاک کرنے کے لئے اس کے جواب میں ۲۶؍شوال ۱۳۱۰ھ کو ایک اِشتہار شائع کیا، جو مرزا قادیانی کے ’’مجموعہ اِشتہارات‘‘ جلد اوّل کے صفحہ:۴۲۱ تا ۴۲۵ کے حاشیہ میں درج ہے، مولانا مرحوم نے اس اِشتہار میں قادیانی صاحب کی تعلّیوں کا بھی جواب دیا، اس کی مکاریوں کا بھی پردہ چاک کیا، حافظ محمد یوسف مرحوم کے ساتھ اپنے مباہلے کی تفصیل بھی بیان فرمائی، اور آخر میں مرزا قادیانی کو بنفسِ خود میدانِ مباہلہ میں قدم رکھنے کی بھی دعوت دی۔ ذیل میں مولانا مرحوم کا اِشتہار نقل کیا جاتا ہے:
’’اِستدعا مباہلہ از مرزا قادیانی بذریعہ اِشتہار‘‘
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ
’’ایک اِشتہار مطبوعہ ۲۵؍اپریل ۱۸۹۳ء از جانب مرزا بتاریخ ۱۹؍شوال ۱۳۱۰ھ میری نظر سے گزرا، جس میں اس مباہلے کا ذِکر تھا جو بتاریخ ۲؍شوال ۱۳۱۰ھ میرے اور حافظ محمد یوسف کے درمیان مرزا اور اس کے چیلوں کے اِرتداد کی بابت ہوا تھا۔ نیز اس میں اِستدعا مباہلہ علمائے اسلام سے تھی، صاحب قادیانی کا یہ اِشتہار حسبِ عادت خود پُر اَز کذب وبہتان واِفترا ہے۔
ارے مرزا! جب تجھے کلام اللہ اور حدیثِ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور چودہ سو برس کے مسلمانوں کو جھٹلاتے ہوئے شرم نہ آئی تو ہم سے کیا شرم؟ إذا لم تستحی فاصنع ما شئت (جب تجھے شرم نہ رہے تو جو چاہے کر!)
-
طعنہ گیرد در سخن بر بایزید
ننگ دارد اَز درونِ او یزید
391
(ترجمہ: … ’’باتیں کرتے ہوئے تو بایزید بسطامیؒ پر طعن کرتا ہے، اور اس کے باطن سے یزید بھی عار اور نفرت کرتا ہے۔‘‘)
جو لوگ بہ مضمونسلام علیکم لَا نبتغی الجاھلین، جاہلوں اور یاوہ گوؤں کے جھگڑوں سے بچتے اور کنارہ کرتے ہیں، اور آیت:’’خذ العفو وامر بالعرف وأعرض عن الجاھلین‘‘ پر عامل اور گوشہ نشینی اور خلوَت گزینی کی طرف مائل ہیں، ان سے مباحثہ ومباہلہ کی درخواست ہے، اور جو لوگ شاہ سوارِ میدان ہیں، اور بار بار مباہلے اور مباحثے کے اِشتہار چھپواکر، اور رِجسٹری شدہ خطوط اور دَستی خطوط معتبر اَشخاص کی وساطت سے پہنچاکر دِل وجان سے تیرے لقا کے میدانِ مباحثہ ومباہلہ میں شائق ومشتاق ہیں، ان سے کیوں گریز اور چشم پوشی کرتے ہو؟ اور مصداق’’کأنھم حُمر مستنفرۃ فرّت من قسورۃ‘‘ بنتے ہو؟
-
اے دِل عشاق در دام تو صید
مابہ تو مشغول، تو با عمرو وزید
اور اگر ان اِشتہاروں سے آنکھوں پر پردہ اور گوش باطل نیوش بہرے ہوگئے ہوں تو ناظرین کے ملاحظہ اور اِتمامِ حجت کے لئے پھر ان کا ذِکر کردیتے ہیں:
اوّل: … تین خط مفتی عبداللہ صاحب ٹونکی متضمن اِستدعائے مباحثہ۔ خط اوّل مؤرخہ ۲۴؍ستمبر ۱۸۹۱ء، مطبوعہ جعفری پریس لاہور۔
خط دوم ۱۴؍اکتوبر ۱۸۹۱ء مطبوعہ لاہور۔
خط سوم مؤرخہ ۲۴؍جنوری ۱۸۹۲ء مطبوعہ لاہور۔
دوم: … ’’اِشتہار ضروری‘‘ مولوی غلام دستگیر قصوری،
392
مؤرخہ ۲۶؍مارچ ۱۸۹۱ء مطبوعہ اسلامیہ پریس لاہور۔
سوئم: … ’’اعلانِ عام‘‘ از طرف انجمن اسلامیہ لدھیانہ، مؤرخہ ۲۱؍ستمبر ۱۸۹۱ء، مطبوعہ انصاری دہلی۔
چہارم: … نوٹس مولوی محمد حسین صاحب بٹالوی، مؤرخہ ۱۵؍فروری ۱۸۹۱ء، مطبوعہ لاہور۔
پنجم: … نوٹس ’’اِتمامِ حجت‘‘ مولوی عبدالمجید مالک مطبع انصاری مؤرخہ ۱۳؍ربیع الاوّل ۱۳۰۹ھ۔
ششم: … اِشتہار مولوی صاحب عبدالحق دہلوی مصنف تفسیر حقانی، مؤرخہ یکم اکتوبر ۱۸۹۱ء، مطبوعہ انصاری۔
ہفتم: … اِشتہار محمد عبدالحمید، مؤرخہ ۷؍اکتوبر ۱۸۹۱ء، مطبوعہ دہلی۔
ہشتم: … اِشتہار مولوی محمد صاحب اور مولوی عبدالعزیز صاحب اور مولوی عبداللہ صاحب مفتیان شہر لدھیانہ، مؤرخہ ۲۹؍رمضان المبارک، مطبوعہ لدھیانہ۔
نہم: … اِشتہار مولوی مشتاق احمد صاحب مدرّس، مؤرخہ ۲۴؍رمضان شریف، مطبوعہ لدھیانہ۔
وغیرہ ما لَا یحصیھا إلّا اللہ (ان کے علاوہ بے شمار اِشتہارات وخطوط جن کی تعداد اللہ تعالیٰ ہی جانتے ہیں)۔
اب اتنے اِشتہار متفرق علماؤں نے متفرق شہروں میں دئیے، تم نے کس سے بحث کی؟ اور کس جگہ میدان میں حاضر ہوئے؟ پس جب تمہاری مکاری اور دھوکادہی عام پر کھل گئی تو پھر تمہارے دام میں وہی شخص آوے گا جو شقی سرمدی ہوگا۔
انہ لیس لہ سلطان علی الذین اٰمنوا وعلٰی
393
ربھم یتوکلون ر إنما سلطانہ علی الذین یتولونہ والذین ھم بہ مشرکون ر
ایک اور ابلہ فریبی وشعبدہ بازی کاریگر کی سنئے، ایک اِشتہار مؤرخہ ۳۰؍مارچ ۱۸۹۳ء میں خامہ فرسائی کی ہے کہ:
’’ایک سورۃ کی تفسیر عربی میں لکھتا ہوں، اور ایک جانب مخالف لکھے، اور اس میں ایسے معارفِ جدید و لطائفِ غریبہ لکھے جائیں جو کسی دُوسری کتاب میں نہ پائے جائیں۔‘‘
ارے مخبوط الحواس! ہم تو اسی سبب سے تجھے ملحد اور ضال اور مضل اور زِندیق کہتے ہیں کہ تم وہ معانی قرآن اور حدیث کے کرتے ہو جو آج تک کسی مفسر ومحدث متبع سنت نے نہیں کئے، پھر اور جو کوئی مسلمان ایسے معانی کرے گا تو وہ بھی آپ کا ہی بھائی ہوگا۔
نیز اسی اِشتہار میں لکھا ہے کہ: ’’آخر میں ۱۰۰شعر لطیف بلیغ وفصیح، عربی میں بطورِ قصیدہ فریقین بناویں، پھر دیکھیں کہ کس کا قصیدہ عمدہ وپسندیدہ ہے۔‘‘
قصیدہ وشعر گوئی تو کوئی فضیلت اور بزرگی اور حقانیت وعلمیت کا معیار ومدار نہیں، تک بندی اور قافیہ سازی ایک ملکہ ہے جو فساق اور فجار اور بے دِینوں کو بھی دِیا جاتا ہے، بلکہ ایک طرح کا نقص ہے، اس لئے اللہ تبارک وتعالیٰ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس سے بچایا: ’’وما علّمناہ الشعر وما ینبغی لہٗ‘‘ اگر کچھ فضیلت اور حقیت کی بات ہوتی تو اوّل رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دِی جاتی، کچھ مردانگی بھی چاہئے، مخنثوں کی طرح بیہودہ سمع خراشی اور بکواس کیوں کرتے ہو؟
394
-
إن کنتم انتم فحولًا فابرزوا
ودعو الشکاری حیلۃ النسوان
شاید اب یہ حیلہ کرو کہ تم سے مباہلے کا کیا فائدہ؟ کیونکہ تم حافظ محمد یوسف کو کہہ چکے کہ اگر مجھ پر لعنت کا اثر بھی ظاہر ہوا تو بھی میں کافر کافر کہنے سے باز نہیں آؤں گا۔ سو اس کا جواب یہ ہے کہ میں تو مسیحِ قادیانی کی طرح معصومیت کا دعویٰ نہیں رکھتا ہوں، اگر مجھ سے غضبًا ِﷲِ وغیرۃ لدِین اللہ کوئی کلمہ زیادتی یا خلافِ ادب نکلا بھی ہو تو میں اس سے بہزار زبان تائب ہوں:
-
گفتگوئے عاشقاں در باب رب
جوشش عشق است نے ترک ادب
-
ہر کہ کرد از جام حق یک جرعہ نوش
نے ادب ماند درو نے عقل وہوش
حافظ کے مباہلے کی تفصیل یہ ہے کہ حافظ محمد یوسف جو مرزا کا اوّل درجے کا ناصر و مؤید ومددگار ہے، اس نے ۲؍شوال بوقتِ شب مجھ سے بار بار درخواستِ مباہلہ کی، آخر الامر اس وقت اس بات پر مباہلہ ہوا کہ مرزا اور نورالدین و محمد احسن امروہی یہ تینوں مرتد اور دَجال اور کذّاب ہیں، چونکہ تاہنوز لعنت کا اثر ظاہراً اس پر نمودار نہیں ہوا، لہٰذا پیرجی کو بھی گرمی آگئی، اور عام طور پر اِشتہارِ مباہلہ دے دیا، ذرا صبر تو کرو! دیکھو! اللہ کیا کرتا ہے، وکل شیء عندہ بأجل مسمّی انہ حکیم حمید۔
مجھ کو دو روز پیشتر محمد یوسف کے مباہلہ سے دِکھایا گیا کہ میں نے ایک شخص سے مباہلہ کی درخواست کی اور یہ شعر سنایا:
395
-
بہ صوتِ بلبل وقمری اگر نگیری پند
علاج کے کنمت آخر الدواء الکے
(ترجمہ از ناقل: … ’’اگر تو بلبل وقمری کی صورت میں نصیحت نہیں پکڑے گا، تو میں داغ دے کر تیرا علاج کروں گا، کیونکہ مثل مشہور ہے کہ آخری علاج داغ دینا ہے۔‘‘)
اور بھی کچھ دیکھا جس کا بیان اس وقت مناسب نہیں، میں خود حیران ہوا کہ یہ کیا بات ہے، دو دن بعد یہ مباہلہ درپیش ہوا۔
اب بذریعہ اِشتہار ہذا بدستخطِ خود مطلع کرتا ہوں اور سب جہان کو گواہ کرتا ہوں کہ اگر تمہارے ساتھ مباہلہ کرنے سے مجھ پر لعنت کا اثر صریح طور پر، جو عموماً سمجھا جاوے کہ بے شک یہ مباہلے کا اثر ہوا ہے، تو میں فوراً تمہارے کافر کہنے سے تائب ہوجاؤں گا، اب حسبِ اِشتہارِ خود مباہلہ کے واسطے بمقام امرتسر آؤ۔
مباہلہ اس بات پر ہوگا کہ تم اور تمہارے سب اَتباع دجالین کذّابین ملاحدہ اور زَنادقہ باطنیہ ہیں۔
اور میدانِ مباہلہ عیدگاہ ہوگا، تاریخ جو تم مقرّر کرو، اب بھی تم بموجب اِشتہارِ خود، میرے ساتھ مباہلہ کے واسطے بمقام امرتسر نہ آئے تو پھر اور علماؤں سے درخواستِ مباہلہ اوّل درجے کی بے شرمی اور پرلے سرے کی بے حیائی ہے، اور اَلَا لعنت اللہ علی الکاذبین کا مصداق بننا ہے۔ اب ضرور دلیری اور توکل کرکے ہزیمت نہ کرو، بلوغ الآمال فی رکوب الأھوال، اور اگر ایسے ہی کاغذوں کی گڈیاں اُڑانا ہے اور حقیقت اور نتیجہ کچھ نہیں، پھر تم پر یہ مسیحیت مبارک ہو، اللہ نے تمہاری عمر کو ضائع کیا اور مسلمانوں کی عمرِ عزیز کا ناحق خون کیوں کرتے ہو:
396
-
گر ازیں بار باز ہم بہ پیچی سرے
بر تو شد نفریں رَبِّ اکبرے
المشتہر
عبدالحق غزنوی، از امرتسر (پنجاب) ۲۶؍شوال ۱۳۱۰ھ۔‘‘
(مجموعہ اِشتہارات ج:۱ ص:۴۲۲تا ۴۲۵)
مرزا قادیانی مباہلے کے شکنجے میں:
مولانا غزنوی مرحوم کے مندرجہ بالا اِشتہار کے بعد مرزا قادیانی کے لئے اس کے سوا کوئی چارہ نہ رہا کہ خود مباہلے کے لئے میدانِ مباہلہ میں آئے، چنانچہ مولانا کے جواب میں مرزا نے ۳۰؍شوال ۱۳۱۰ھ کو حسبِ ذیل اِشتہار شائع کیا، جس میں مباہلہ کی تاریخ، جگہ اور وقت کا اِعلان کیا:
’’اعلانِ مباہلہ بجواب اِشتہار عبدالحق غزنوی
مؤرخہ ۲۶؍شوال ۱۳۱۰ھ
’’ایک اِشتہار مباہلہ ۲۶؍شوال ۱۳۱۰ھ شائع کردہ عبدالحق غزنوی میری نظر سے گزرا، سو اس لئے یہ اِشتہار شائع کیا جاتا ہے کہ مجھ کو اس شخص اور ایسا ہی ہر ایک مکفر سے جو عالم یا مولوی کہلاتا ہے، مباہلہ منظور ہے، اور میں اُمید رکھتا ہوں کہ اِن شاء اللہ القدیر میں تیسری یا چوتھی ذیقعدہ ۱۳۱۰ھ تک امرتسر میں پہنچ جاؤں گا اور تاریخِ مباہلہ دہم ذیقعدہ اور یا بصورتِ بارش وغیرہ کسی ضروری وجہ سے گیارھویں ذیقعدہ ۱۳۱۰ھ قرار پائی ہے، جس سے کسی صورت میں تخلف لازم نہیں ہوگا، اور مقامِ مباہلہ عیدگاہ جو قریب مسجد خاں بہادر محمد شاہ مرحوم قرار پایا ہے۔ اور چونکہ دن کے پہلے حصے میں قریباً بارہ بجے تک عیسائیوں سے دربارہ حقیقتِ اسلام اس
397
عاجز کا مباحثہ ہوگا، اس لئے مکفرین، جو مجھ کو کافر ٹھہراکر مجھ سے مباہلہ کرنا چاہتے ہیں، دو بجے سے شام تک مجھ کو فرصت ہوگی، اس وقت میں بتاریخ دہم ذیقعدہ یا بصورت کسی عذر کے گیاراں ذیقعدہ ۱۳۱۰ھ کو مجھ سے مباہلہ کرلیں۔‘‘
اس اِشتہار کے آخر میں لکھا:
’’یاد رہے کہ ہم بار بار مباہلہ کرنا نہیں چاہتے کہ مباہلہ کوئی ہنسی کھیل نہیں، ابھی تمام مکفرین کا فیصلہ ہوجانا چاہئے، پس جو شخص اب ہمارے اِشتہار کے شائع ہونے کے بعد گریز کرے گا اور تاریخِ مقرّرہ پر حاضر نہیں ہوگا، آئندہ اس کا کوئی حق نہیں رہے گا کہ پھر کبھی مباہلہ کی درخواست کرے اور پھر ترکِ حیا میں داخل ہوگا کہ غائبانہ کافر کہتا رہے۔ اِتمامِ حجت کے لئے رجسٹری کراکر یہ اِشتہار بھیجے جاتے ہیں، تااس کے بعد مکفرین کو کوئی عذر باقی نہ رہے، اگر بعد اس کے مکفرین نے مباہلہ نہ کیا اور نہ تکفیر سے باز آئے تو ہماری طرف سے ان پر حجت پوری ہوگئی۔‘‘
(مجموعہ اِشتہارات ج:۱ ص:۴۲۰ ومابعد)
اور مباہلہ کی تاریخ سے ایک دن پہلے ۹؍ذیقعدہ ۰۱۳۱ھ کو بروز جمعۃ المبارک درج ذیل اِشتہار دِیا:
’’اس مباہلہ کی اہلِ اسلام کو اِطلاع
جو دہم ذیقعدہ روز شنبہ کو بمقام امرتسر عیدگاہ متصل مسجد خان بہادر
حاجی محمد شاہ صاحب مرحوم ہوگا‘‘
’’اے برادران اہلِ اسلام! کل دہم ذیقعدہ روز شنبہ کو بمقام مندرجہ عنوان، میاں عبدالحق غزنوی اور بعض دیگر علماء جیسا کہ انہوں نے وعدہ کیا ہے اس عاجز سے اس بات پر مباہلہ کریں گے کہ
398
وہ لوگ اس عاجز کو کافر اور دَجال اور بے دِین اور دُشمن اللہ جل شانہ‘ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا سمجھتے ہیں، اور اس عاجز کی کتابوں کو مجموعہ کفریات خیال کرتے ہیں، اور اس طرف یہ عاجز نہ صرف اپنے تئیں مسلمان جانتا ہے بلکہ اپنے وجود کو اللہ اور رسول کی راہ میں فدا کئے بیٹھا ہے، لہٰذا ان لوگوں کی درخواست پر یہ مباہلہ تاریخِ مذکورہ بالا میں قرار پایا ہے، مگر میں چاہتا ہوں کہ مباہلہ کی بددُعا کرنے کے وقت بعض اور مسلمان بھی حاضر ہوجائیں، کیونکہ میں یہ دُعا کروں گا کہ جس قدر میری تالیفات ہیں، ان میں سے کوئی بھی خدا اور رسول کے فرمودہ کے مخالف نہیں، اور نہ میں کافر ہوں۔ اور اگر میری کتابیں خدا اور رسول کے فرمودہ کے مخالف اور کفر سے بھری ہوئی ہیں تو خدا تعالیٰ وہ لعنت اور عذاب میرے پر نازل کرے جو اِبتدائے دُنیا سے آج تک کسی کافر بے اِیمان پر نہ کی ہو۔ اور آپ لوگ آمین کہیں۔ کیونکہ اگر میں کافر ہوں اور نعوذباللہ دِینِ اسلام سے مرتد اور بے اِیمان تو نہایت بُرے عذاب سے میرا مرنا ہی بہتر ہے، اور میں ایسی زندگی سے بہزار دِل بیزار ہوں۔ اور اگر ایسا نہیں تو خدا تعالیٰ اپنی طرف سے سچا فیصلہ کردے گا۔ وہ میرے دِل کو بھی دیکھ رہا ہے اور میرے مخالفوں کے دِل کو بھی۔ بڑے ثواب کی بات ہوگی اگر آپ صاحبان کل دہم ذیقعدہ کو دو بجے کے وقت عیدگاہ میں مباہلہ پر آمین کہنے کے لئے تشریف لائیں۔ والسلام
خاکسار غلام احمد قادیانی عفی اللہ عنہ
۹؍ذیقعدہ ۱۳۱۰ھ۔‘‘
(مجموعہ اِشتہارات ج:۱ ص:۴۲۶، ۴۲۷)
399
اسی دن ایک اِشتہار ’’اِتمامِ حجت‘‘ کے عنوان سے مولانا محمد حسین بٹالوی کے نام بھی جاری کیا، جس میں ان کو اس مباہلہ میں شرکت کی دعوت دی، اور لکھا کہ اگر وہ اس مباہلہ میں شریک نہ ہوئے تو سمجھا جائے گا کہ جو پیش گوئی اس کے حق میں کی گئی تھی کہ ’’وہ کافر کہنے سے توبہ کرے گا‘‘ پوری ہوگئی۔
(حوالۂ بالا ص:۴۲۸)
مباہلے کا انجام:
انہی دنوں عیسائیوں سے مرزا قادیانی کا مباحثہ چل رہا تھا، جو ۲۲؍مئی سے ۵؍جون ۱۸۹۳ء تک چلتا رہا، اور آخری دن مرزا نے ایک اِلہامی پیش گوئی جڑ دی کہ اس کا حریف ۱۵ماہ تک ہاویہ میں گرایا جاوے گا، اور یہ اِقرار لکھ کر دیا کہ:
’’میں اس وقت اِقرار کرتا ہوں کہ اگر یہ پیش گوئی جھوٹی نکلی یعنی وہ فریق جو خدا تعالیٰ کے نزدیک جھوٹ پر ہے، پندرہ ماہ کے عرصے میں آج کی تاریخ سے بہ سزائے موت ہاویہ میں نہ پڑے تو میں ہر ایک سزا کے اُٹھانے کے لئے تیار ہوں، مجھ کو ذلیل کیا جاوے، رُوسیاہ کیا جاوے، میرے گلے میں رسہ ڈال دیا جاوے، مجھ کو پھانسی دیا جاوے، ہر ایک بات کے لئے تیار ہوں، اور میں اللہ جل شانہ‘ کی قسم کھاکر کہتا ہوں کہ ضرور وہ ایسا ہی کرے گا، ضرور کرے گا، ضرور کرے گا، زمین و آسمان ٹل جائیں پر اس کی باتیں نہ ٹلیں گی ۔۔۔۔۔۔ اب ناحق ہنسنے کی جگہ نہیں، اگر میں جھوٹا ہوں تو میرے لئے سولی تیار رکھو اور تمام شیطانوں اور بدکاروں اور لعنتیوں سے زیادہ مجھے لعنتی قرار دو۔‘‘
(مجموعہ اِشتہارات ج:۱ ص:۴۳۵)
مرزا کی اِلہامی پیش گوئی کے مطابق اس کے حریف کو ۵؍ستمبر ۱۸۹۴ء کی تاریخ تک مرنا چاہئے تھا، لیکن اللہ کی شان! کہ وہ نہیں مرا۔ مرزا کے تحریری اِقرار کے مطابق اس کو تمام لوگوں نے، کیا مسلمانوں اور کیا عیسائی ’’تمام شیطانوں اور بدکاروں اور لعنتیوں سے
400
زیادہ اسے لعنتی قرار دِیا‘‘ اور ذِلت ورُسوائی کا وہ منظر سامنے آیا جو نہ کبھی دیکھا، نہ سنا۔
مولانا غزنویؒ کا اِشتہار:
مولانا غزنویؒ سے مرزا قادیانی کے مباہلہ کو پندرہ مہینے گزرچکے تھے، جب مرزا قادیانی کو آتھم کے نہ مرنے پر ایسی ذِلت و رُسوائی ہوئی کہ باقرارِ خود ’’تمام شیطانوں اور بدکاروں اور لعنتیوں سے بڑھ کر لعنتی ٹھہرا‘‘ تو مولانا غزنویؒ نے اس خیال سے کہ شاید مرزا کے دِل میں عبرت و نصیحت کی کوئی رمق موجود ہوگی، یا حق پرستی کا کچھ اثر باقی ہوگا، اس کو عبرت دِلانے اور مسلمانوں کو اس کی حقیقت سے آگاہ کرنے کے لئے ۱۴؍ربیع الثانی ۱۳۱۲ھ کو ایک اِشتہار شائع کیا، جس کا عنوان تھا:
’’اثرِ مباہلہ عبدالحق غزنوی بر غلام احمد قادیانی‘‘
اس اِشتہار میں مولانا مرحوم نے مرزا قادیانی کی ذِلت ورُسوائی کو اپنے مباہلے کا نتیجہ قرار دیا، اور قادیانی کو مخاطب کرتے ہوئے لکھا:
’’آپ جو فرماتے تھے کہ مباہلہ کے بعد جو باطل پر ہوگا وہ ذلیل ورُوسیاہ ہوگا، اب بتائیے کہ ہم دونوں میں باطل پر کون ہے؟ اور ذلیل ورُوسیاہ کون ہوا؟ آپ نے مولوی عبدالجبار امرتسری کو لکھا تھا کہ میں اپنے اِلہام پر ایسا ہی اِیمان رکھتا ہوں جیسے کتابُ اللہ پر، مرگِ آتھم کی پیشین گوئی کے جھوٹا نکلنے پر بھی تمہیں اپنے اِلہام پر وہی اِیمان ہے یا کچھ فرق آگیا؟ پنڈتوں، جوتشیوں اور برہمنوں کی بھی کوئی نہ کوئی پیشین گوئی صحیح نکل آتی ہے، لیکن آپ کو اپنی پیشین گوئیوں میں ہمیشہ ذِلت ونامرادی کی بھیانک صورت دیکھنی نصیب ہوتی ہے، پیشین گوئی کی میعاد گزرچکی، آتھم اب پہلے سے زیادہ قوی، تندرست اور صحیح المزاج ہے، تمہاری یہ ذِلت ورُسوائی مباہلے کا اثر نہیں تو اور کیا ہے؟‘‘
401
اس کے بعد مولوی صاحب نے لکھا:
’’اب میں مسلمانوں کو عموماً اور مرزائیوں کو خصوصاً قسم دیتا ہوں کہ میرے اور مرزا کے حال کو دیکھ کر خود ہی اندازہ کرلو کہ مباہلہ کو پندرہ مہینے گزر گئے، اب میرے اُوپر مباہلہ کی تأثیر پڑی یا مرزا پر؟ میں ہمیشہ بیمار رہتا تھا، اب کے سال اللہ کے فضل سے میرے بدن پر پھوڑا پھنسی تک نہیں نکلا، اور وہ باطنی نعمتیں اللہ عزوجل نے اس عاجز کو عطا کی ہیں جو نہ بیان کرسکتا ہوں اور نہ مناسب جانتا ہوں کہ ان کا اِظہار کروں، اور مرزا کا حال تو ظاہر ہے اور اس کے مریدوں کا یہ حال ہے کہ اسماعیل ساکن جنڈیالہ بانی مبانی مباحثہ امرتسر جس نے مرزا کو مباحثے کے واسطے منتخب کیا تھا اور یوسف خاں سرحدی جو مدّت سے مرزا کا مرید تھا اور محمد سعید خالہ زاد بھائی مرزا کی بی بی کا یہ سب عیسائی ہوگئے، پیر کا یہ حال اور مریدوں کا یہ کہ دِین و دُنیا کی رُسوائی و ذِلت ان پر آن پڑی۔‘‘
(رئیس قادیان ج:۲ ص:۱۹۰)
مرزا کی طرف سے مباہلے کے نتیجے پر خاک ڈالنے کی کوشش:
مباہلہ کا یہ نتیجہ ایسا واضح اور صاف تھا کہ اس کا اِنکار آفتاب نصف النہار کا اِنکار تھا، اگر مرزا قادیانی میں عقل ودیانت یا انسانیت و شرافت کی کوئی رمق باقی ہوتی تو وہ اس بے نظیر ذِلت ورُسوائی کو دیکھ کر سمجھ لیتا کہ یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے مجھ پر ذِلت و رُسوائی کی مار پڑی ہے، لیکن وہ مسخ ہوچکا تھا، اس لئے اس پر خود اَپنا قول صادق آیا، جس کو پہلے نقل کرچکا ہوں کہ:
’’مسخ شدہ لوگوں کی یہی تو علامت ہے کہ اگر حق کھل بھی جائے تو اس کو قبول نہیں کرسکتے۔‘‘
لوگوں نے عرض کیا کہ: حضور! عبدالحق پر تو مباہلے کا کوئی اثر نہیں ہوا؟ اس پر اِرشاد ہوا:
402
’’وہ مباہلہ درحقیقت میری درخواست سے نہیں ہوا تھا، اور نہ میرا اس میں یہ مدعا تھا کہ عبدالحق پر بددُعا کروں، اور نہ میں نے بعد مباہلہ کبھی اس بات کی طرف توجہ کی، اس بات کو اللہ تعالیٰ خوب جانتا ہے کہ میں نے کبھی عبدالحق پر بددُعا نہیں کی، اور اپنے دِل کے جوش کو ہرگز اس طرف توجہ نہیں دیا۔‘‘
(ضمیمہ انجامِ آتھم ص:۱۶، خزائن ج:۱۱ ص:۳۰۵)
اور مریدوں کو یہ کہہ کر مطمئن کردیا کہ دیکھو! مباہلے کے بعد ہمیں یہ یہ برکتیں ملی ہیں، جماعت زیادہ ہوگئی، اتنی فتوحات مالی میسر آئیں، وغیرہ وغیرہ۔
مباہلے کا آخری انجام:
اللہ تعالیٰ علیم وخبیر تھے، وہ دیکھ رہے تھے کہ اس مکار کذّاب نے ’’اِستدراج‘‘ کو برکت سمجھ لیا ہے، اس لئے حکمتِ اِلٰہی نے فیصلہ کیا کہ ’’مباہلے کا انجام‘‘ اسی شکل میں ظاہر کیا جائے کہ کسی بڑے سے بڑے ملحد اور دَجال کو بھی اس میں تأویل کی گنجائش نہ رہے۔ اس کی صورت اللہ تعالیٰ نے یہ تجویز فرمائی کہ خود مرزا کی زبان سے کہلایا کہ مباہلہ کرنے والوں میں جو جھوٹا ہو وہ سچے کی زندگی میں مرجاتا ہے، چنانچہ مرزا قادیانی کے ملفوظات میں ہے:
’’۲؍اکتوبر ۱۹۰۷ء (بوقتِ سیر): ہماری جماعت کے ایک شخص نے کسی غیراحمدی کا سوال پیش کیا کہ آپ نے اپنی تصانیف میں لکھا ہے کہ جھوٹا سچے کی زندگی میں ہی ہلاک ہوجاتا ہے، یہ دُرست نہیں کیونکہ مسیلمہ کذّاب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد فوت ہوا تھا۔
حضرتِ اقدس نے فرمایا: یہ کہاں لکھا ہے کہ جھوٹا سچے کی زندگی میں مرجاتا ہے، ہم نے تو اپنی تصانیف میں ایسا نہیں لکھا، لاؤ پیش کرو وہ کونسی کتاب ہے جس میں ہم نے ایسا لکھا ہے۔
403
صرف جھوٹا نہیں بلکہ جھوٹا مباہلہ کرنے والا سچے کی زندگی میں ہلاک ہوتا ہے
ہم نے تو یہ لکھا ہوا ہے کہ مباہلہ کرنے والوں میں سے جو جھوٹا ہو، وہ سچے کی زندگی میں ہلاک ہوجاتا ہے، مسیلمہ کذّاب نے تو مباہلہ کیا ہی نہیں تھا، آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اتنا فرمایا تھا کہ اگر تو میرے بعد زندہ بھی رہا تو ہلاک کیا جائے گا، سو ویسا ہی ظہور میں آیا، مسیلمہ کذّاب تھوڑے ہی عرصے بعد قتل کیا گیا اور پیش گوئی پوری ہوئی۔
یہ بات کہ جھوٹا سچے کی زندگی میں مرجاتا ہے، یہ بالکل غلط ہے۔ کیا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے سب اعداء ان کی زندگی میں ہی ہلاک ہوگئے تھے؟ بلکہ ہزاروں اعداء آپ کی وفات کے بعد زندہ رہے تھے۔ ہاں جھوٹا مباہلہ کرنے والا سچے کی زندگی میں ہی ہلاک ہوا کرتا ہے ۔۔۔۔۔۔ کیا یہ کسی نبی ولی قطب غوث کے زمانے میں ہوا کہ اس کے سب اعداء مرگئے ہوں؟ بلکہ کافر منافق باقی رہ ہی گئے تھے۔ ہاں اتنی بات صحیح ہے کہ سچے کے ساتھ جو جھوٹے مباہلہ کرتے ہیں تو وہ سچے کی زندگی میں ہی ہلاک ہوتے ہیں۔‘‘
(ملفوظات ج:۹ ص:۴۴۰، ۴۴۱)
اور دُنیا جانتی ہے کہ مرزا قادیانی ۲۶؍مئی ۱۹۰۸ء کو وبائی ہیضے سے ہلاک ہوا، اور حضرت مولانا عبدالحق غزنوی مرحوم پورے نو سال کے بعد ۶۱؍مئی ۷۱۹۱ء کو اپنے رَبّ کے حضور پہنچے۔
یہ ہے مباہلے کا وہ خدائی فیصلہ جس کو ہر عام وخاص پڑھ سکتا ہے کہ اس مباہلے میں مرزا قادیانی جھوٹا تھا، اور وہ مولانا عبدالحق غزنویؒ ہی کی نظر میں نہیں، بلکہ اللہ تعالیٰ کی عدالت میں بھی کافر ومرتد اور دَجال وکذّاب تھا۔ کیا قادیانی برادری میں کوئی ہے جو مرنے
404
سے پہلے اللہ تعالیٰ کے اس فیصلے پر اِیمان لاکر آتشِ جہنم سے بچ جائے؟ اگر اللہ تعالیٰ کے اس کھلے فیصلے کے باوجود قادیانیوں کو ہدایت وحق پرستی کی توفیق نہ ہو تو ان کی خدمت میں ان کے ’’مسیحِ موعود‘‘ کا قول بطورِ تحفہ کے پیش کرتا ہوں:
’’دُنیا میں سب جانداروں سے زیادہ پلید اور کراہت کے لائق خنزیر ہے، مگر خنزیر سے زیادہ پلید وہ لوگ ہیں جو اپنے نفسانی جوش کے لئے حق اور دیانت کی گواہی کو چھپاتے ہیں۔‘‘
(ضمیمہ انجامِ آتھم ص:۲۱، خزائن ج:۱۱ ص:۳۰۵)
اللہ تعالیٰ ہمارے ان بھائیوں کو بھی ہدایت نصیب فرمائیں، اور ان کو مرزا قادیانی کے مندرجہ بالا الفاظ کا مصداق نہ بنائے۔
وَآخِرُ دَعْوَانَا اَنِ الْحَمْدُ ِﷲِ رَبِّ الْعَالَمِیْنَ
وَصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی خَیْرِ خَلْقِہٖ سَیِّدِنَا مُحَمَّدٍ
وَّآلِہٖ وَاَصْحَابِہٖ اَجْمَعِیْنَ
محمد یوسف لدھیانوی عفا اللہ عنہ
405
نزولِ عیسیٰ علیہ السلام
چند شبہات کا جواب
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ
اَلْحَمْدُ لِلہِ وَسَلَامٌ عَلٰی عِبَادِہِ الَّذِیْنَ اصْطَفٰی!
مکرم ومحترم- زیدت الطافہم - آداب و دعوات!
گرامی نامہ مرسلہ (۵؍۱۱؍۱۹۷۹ء) موصول ہوکر موجبِ منّت ہوا۔ جناب کے خیالات کو بغور پڑھا اور اس سے خوشی ہوئی کہ جناب نے بحث ومجادلہ کا نہیں بلکہ اِفہام وتفہیم کے مقصد کا اظہار فرمایا۔ حق تعالیٰ شانہ‘ فہمِ سلیم اور جذبۂ حق طلبی سے مجھے اور آپ کو نوازیں۔ اس ناکارہ کو زیادہ تر انہیں لوگوں سے سابقہ پڑا ہے جو بحث و مجادلہ ہی کے شوقین ہیں۔ جناب نے یہ لکھا ہے کہ: ’’آپ کو مرزائی نہ سمجھا جائے، مرزائیت سے آپ کو کوئی واسطہ نہیں، آپ ایک سیدھے سادے مسلمان ہیں‘‘ اس ناکارہ کو کسی مسلمان کو خواہ مخواہ ’’مرزائی‘‘ بناڈالنے کا شوق نہیں۔ نہ اس سے بحث کہ لکھنے والا کون ہے؟ مجھے تو یہ دیکھنا ہے کہ کیا لکھا ہے، اور وہ صحیح ہے یا غلط؟ میں جناب سے بھی توقع رکھوں گا کہ میری معروضات کو ٹھنڈے دِل ہی سے ملاحظہ فرمائیں گے، کوئی صحیح بات قلم سے نکل جائے تو اس کے قبول کرنے میں عار نہیں کریں گے، اور اگر کوئی خطا وسہو واقع ہو تو اس سے مجھے آگاہ فرمائیں گے، وَمَا تَوْفِیْقِیْ اِلّا بِاللہِ۔
حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی حیات و نزول کا عقیدہ، اِجماعی عقیدہ ہے:
جناب نے گرامی نامے کا آغاز اس فقرے سے کیا ہے کہ: ’’کئی محققینِ اُمت
406
وفاتِ مسیح علیہ السلام کے قائل ہیں۔‘‘
تمہیداً گزارش ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی حیات اور دوبارہ تشریف آوری کا عقیدہ اِختلافی نہیں، بلکہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے لے کر مجدّد الف ثانی ؒ اورشاہ ولی اللہ محدث دہلویؒ تک تمام اُمت کا اِجماعی اور متفق علیہ عقیدہ ہے۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہؓ وتابعینؒ کی سو سے زیادہ احادیث اس میں وارِد ہیں، اور صحابہؓ و تابعینؒ سے لے کر آج تک یہ عقیدہ متواتر چلا آتا ہے۔
اِمام ابوحنیفہؒ کا حوالہ:
حضرت اِمامِ اعظم ابوحنیفہؒ، جنہوں نے صحابہؓ وتابعینؒ کا زمانہ پایا ہے اور جن کا دورِ حیات ۸۰ھ سے ۱۵۰ھ پر محیط ہے، ان کا رسالہ ’’فقہِ اکبر‘‘ اسلامی عقائد پر غالباً سب سے پہلی کتاب ہے، اس میں حضرتِ اِمامؒ فرماتے ہیں:
’’وخروج الدَّجَّال ویأجوج ومأجوج وطلوع الشَّمس من مغربھا ونزول عیسَی بن مریم علیہ السلام من السماء، وسائر علامات یوم القیامۃ علٰی ما وردت بہ الأخبارُ الصحیحۃ حقٌّ کائن واللہ یھدی من یشاء إلٰی صراط مستقیم۔‘‘
(شرح فقہِ اکبر ص:۱۳۶)
ترجمہ: … ’’دجال کا اور یأجوج مأجوج کا نکلنا، آفتاب کا مغرب سے طلوع ہونا، عیسیٰ بن مریم علیہ السلام کا آسمان سے نازل ہونا، اور دیگر علاماتِ قیامت جیسا کہ احادیثِ صحیحہ میں وارِد ہوئی ہیں، سب حق ہیں، ضرور ہوکر رہیں گی، اور اللہ تعالیٰ جسے چاہے سیدھے راستے کی ہدایت دیتا ہے۔‘‘
حضرت اِمام ابوحنیفہؒ پہلی اور دُوسری صدی کے شخص ہیں، ان کا نزولِ عیسیٰ علیہ السلام کے عقیدے کو اپنے عقائد کے ذیل میں درج کرنا، اس اَمر کی دلیل ہے کہ پہلی اور
407
دُوسری صدی کے اکابر اَئمۂ دِین بغیر کسی اِختلاف کے اس پر اِیمان رکھتے تھے، اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم سے انہوں نے یہی عقیدہ سیکھا تھا۔ اس کے بعد جتنے اَئمۂ دِین ہوئے، اور جتنی کتابیں اسلامی عقائد پر لکھی گئیں ان میں تواتر اور تسلسل کے ساتھ یہی عقیدہ درج ہوتا رہا۔ اگر یہ سب حضرات دِین کے عالم بھی تھے، قرآن کے ماہر بھی، اور دیانت و تقویٰ سے متصف بھی، تو یہ عقیدہ بھی برحق ہے، اور ایک سیدھے سادے مسلمان کو ۔۔۔جیسا کہ آپ نے اپنے بارے میں تحریر فرمایا ہے۔۔۔ اس پر اِیمان لانا واجب ہے۔
اِمام طحاویؒ کا حوالہ:
چوتھی صدی کے مجدّد اِمام طحاویؒ (متوفیٰ ۳۶۱ھ) نے ایک مختصر رسالہ عقائد اہلِ حق پر لکھا تھا جو ’’عقیدۃ الطحاوی‘‘ کے نام سے مشہور ہے، اور مکتب کے بچے بھی اسے پڑھتے ہیں۔ وہ اپنے رسالے کو ان الفاظ سے شروع کرتے ہیں:
’’ھٰذا ذکر بیان عقیدۃ أھل السُّنَّۃ والجماعۃ علیٰ مذھب فقھاء الملّۃ أبی حنیفۃ نعمان بن الثابت الکوفی وأبی یوسف یعقوب بن الْإبراھیم الأنصاری وأبی عبداللہ محمد بن الحسن الشیبانی رضوان اللہ علیھم أجمعین۔ وما یعتقدون من اُصول الدِّین ویدینون بہ لربّ العالمین۔‘‘
(ص:۲)
ترجمہ: … ’’یہ اہلِ سنت والجماعت کے عقیدے کا بیان ہے، جو فقہائے ملت اِمام ابوحنیفہ نعمان بن ثابت کوفی، اِمام ابویوسف یعقوب بن ابراہیم انصاری اور اِمام ابوعبداللہ محمد بن حسن شیبانی کے مذہب کے مطابق ہے، اللہ تعالیٰ ان سب سے راضی ہو۔ اور ان اُصولِ دِین کو اس رسالے میں ذِکر کیا جائے گا جن کا یہ
408
حضرات عقیدہ رکھتے تھے، اور جن کے مطابق وہ رَبّ العالمین کی اطاعت و فرمانبرداری کرتے تھے۔‘‘
اِمام طحاویؒ عقیدۂ اہلِ سنت اور مذہبِ فقہائے ملت کے مطابق حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے آسمان سے نازل ہونے کے عقیدے کو اِیمانیات میں شمار کرتے ہوئے اس رسالے میں لکھتے ہیں:
’’ونؤمن بخروج الدَّجَّال ونزول عیسَی بن مریم علیہ السلام من السَّماء وبخروج یأجوج ومأجوج ونؤمن بطلوع الشَّمس من مغربھا وخروج دابۃ الأرض من موضعھا۔‘‘
(ص:۱۳)
ترجمہ: … ’’اور ہم ایمان رکھتے ہیں کہ دجال نکلے گا اور عیسیٰ بن مریم علیہ السلام آسمان سے نازل ہوں گے، اور یأجوج مأجوج نکلیں گے، اور ہم ایمان رکھتے ہیں کہ آفتاب مغرب سے نکلے گا اور دابۃ الارض اپنی جگہ سے نکلے گا۔‘‘
یہ سب علاماتِ قیامت کبریٰ ہیں، جن کو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے تفصیلاً، اور قرآنِ کریم نے اِجمالاً بیان فرمایا ہے، اور جن پر اِمام طحاویؒ کی تصریح کے مطابق پوری اُمت ’’ایمان‘‘ رکھتی ہے۔
علامہ سفارینیؒ کا حوالہ:
حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے آسمان سے نازل ہونے کا اِنکار دورِ قدیم میں صرف فلاسفہ اور ملاحدہ نے کیا، ورنہ کوئی ایسا شخص جو خدا اور رسول پر اِیمان رکھتا ہو، اس عقیدے سے منکر نہیں ہوا۔ چنانچہ علامہ سفارینیؒ (المتوفیٰ ۱۱۸۸ھ) ’’لوامع انوار البہیہ‘‘ میں اس عقیدے کو قرآنِ کریم، حدیثِ نبوی اور اِجماعِ اُمت سے ثابت کرتے ہوئے لکھتے ہیں:
’’أما الْإجماع فقد اجتمعت الأمّۃ علیٰ نزول
409
عیسَی بن مریم علیہ السلام ولم یخالف فیہ أحدٌ من أھل الشریعۃ۔ وإنما أنکر ذٰلک الفلاسفۃ والملاحدۃ ممن لَا یعتد بخلافہٖ وقد انعقد إجماع الأمّۃ أنہ ینزل ویحکم بھٰذہ الشریعۃ المحمدیۃ ولیس ینزل بشریعۃ مستقلّۃ عند نزولہ من السماء وإن کانت النبوّۃ قائمۃ وھو متصف بھا۔‘‘
(ج:۲ ص:۹۴)
ترجمہ: … ’’رہا اِجماع! تو اُمت کا اِجماع ہے کہ عیسیٰ علیہ السلام نازل ہوں گے اور جو لوگ شریعتِ محمدیہ پر اِیمان رکھتے ہیں ان میں سے کسی نے بھی اس کے خلاف نہیں کہا۔ اس کا انکار صرف فلاسفہ اور بددِینوں نے کیا ہے، جن کی مخالفت کا کوئی اعتبار نہیں۔ اور اُمت کا اِجماع منعقد ہوچکا ہے کہ وہ نازل ہوکر شریعتِ محمدیہ کے مطابق عمل کریں گے، اور آسمان سے اُترتے وقت کوئی الگ شریعت لے کر نہیں اُتریں گے، اگرچہ ان کی نبوّت ان کے ساتھ قائم رہے گی اور وہ نبوّت کے ساتھ متصف ہوں گے۔‘‘
اِمام اشعریؒ کا حوالہ:
اِمام ابوالحسن اشعریؒ (المتوفیٰ ۳۲۴ھ) جو ’’اِمامِ اہلِ سنت‘‘ کے لقب سے مشہور ہیں، اور جنہیں تیسری صدی کا مجدّد تسلیم کیا گیا ہے، ’’کتاب الابانۃ‘‘ (مطبوعہ حیدرآباد دکن) میں لکھتے ہیں:
’’وأجمعت الأمّۃ علیٰ أنّ اللہ عزّ وجلّ رفع عیسٰی إلی السماء۔‘‘
(طبع دوم مطبوعہ ۱۳۶۵ھ ص:۳۸)
ترجمہ: … ’’اور اُمت کا اس پر اِجماع ہے کہ اللہ تعالیٰ نے عیسیٰ علیہ السلام کو آسمان کی طرف اُٹھالیا۔‘‘
410
اِمام سیوطیؒ کا حوالہ:
چونکہ یہ عقیدہ نماز روزہ اور حج و زکوٰۃ کی طرح متواترِ قطعی ہے، اس لئے اس کے منکر کو دائرۂ اسلام سے خارج قرار دِیا گیا۔ چنانچہ نویں صدی کے مجدّد اِمام جلال الدین سیوطیؒ (المتوفیٰ ۹۱۱ھ) اپنے رسالے ’’الاعلام بحکم عیسیٰ علیہ السلام‘‘ میں ایک معترض کے جواب میں تحریر فرماتے ہیں:
’’ثم یقال لھٰذا الزاعم ھل أنت اخذ بظاھر الحدیث من غیر حمل علی المعنی المذکور؟ فیلزمک أحدُ الأمرین: إما نفی نزول عیسٰی او نفی النبوّۃ عنہ، وکلاھما کفر۔‘‘
(الحاوی للفتاویٰ ج:۲ ص:۱۶۶)
ترجمہ: … ’’پھر اس مدعی سے کہا جائے گا کہ کیا تم اس حدیث کے ظاہر کو لیتے ہو؟ اور جو مطلب ہم نے اس کا کیا ہے اس پر محمول نہیں کرتے ہو؟ تو اس صورت میں تجھے دو میں سے ایک صورت لازم آئے گی، یا یہ کہ نزولِ عیسیٰ علیہ السلام کی نفی کرو، یا بوقتِ نزول ان سے نبوّت کی نفی کرو۔ اور یہ دونوں باتیں کفر ہیں۔‘‘
اس تقریر سے جناب نے اندازہ کیا ہوگا کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے آخری زمانے میں دوبارہ آنے کا عقیدہ کس قدر اہم اور ضروری ہے۔ اب آپ کے خط کے بارے میں چند اُمور عرض کرتا ہوں۔
اِمام مالکؒ اور اِبنِ حزمؒ اِجماعی عقیدے کے قائل ہیں:
آپ نے اِمام مالکؒ اور اِمام اِبنِ حزمؒ کے بارے میں لکھا ہے کہ وہ وفاتِ مسیح کے قائل تھے، اور اس سے جناب نے یہ سمجھا کہ وہ ان کے نزول کے بھی منکر ہوں گے، مگر یہ صحیح نہیں۔ اِمام مالکؒ اور اِمام اِبنِ حزمؒ دونوں اس اِجماعی عقیدے پر اِیمان رکھتے ہیں کہ سیّدنا عیسیٰ علیہ السلام آخری زمانے میں نازل ہوں گے۔ دُوسروں کے حوالوں پر اِعتماد
411
کرنے کے بجائے مناسب ہوگا کہ ہم اِمام مالکؒ اور اِمام اِبنِ حزمؒ کی اپنی کتابوں پر اِعتماد کریں، اور ان کی اپنی تصریحات کی روشنی میں ان کا عقیدہ معلوم کریں۔
اِمام مالکؒ کا حوالہ:
اِمام مالکؒ کی کتاب ’’العتیبہ‘‘ کا تذکرہ آنجناب نے خود بھی فرمایا ہے، اور اس کے حوالے کے لئے اُبیّ کی شرح مسلم اور سنوسی کی ’’اکمال اکمال المعلم‘‘ پر اِعتماد فرمایا ہے۔ اس ناکارہ کا خیال کہ دُوسری کتابوں کی طرح اُبیّ اور سنوسی کی شرحِ مسلم بھی جناب نے خود مطالعہ نہیں فرمائی، بغیر دیکھے کسی کا نقل کردہ حوالہ زیبِ قرطاس کردیا ہے، مناسب ہوگا کہ شرحِ مسلم کی پوری عبارت یہاں نقل کردی جائے:
’’قولہ صلی اللہ علیہ وسلم: ’’ینزل فیکم ابن مریم‘‘ قلتُ: الأکثر علیٰ أنہ لم یمت بل رُفع وفی العتیبۃ قال مالک: مات عیسَی بن مریم ثلاث وثلاثین سنۃ (ابن رشد) یعنی بموتہ خروجہ من عالم الأرض إلیٰ عالم السماء۔ قال ویحتمل: أنہٗ مات حقیقتہ ویحیٰی فی آخر الزمان إذ لَابد من نزولہ لتواتر الأحادیث بذٰلک۔ وفی العتیبۃ: کان أبو ھریرۃ یلقی الفتی إلی الشاب فیقول: یا ابن أخی! إنک عسٰی أن تلقٰی عیسَی بن مریم فاقرأہ منِّی السَّلام۔‘‘
(ج:۱ ص:۲۶۵)
ترجمہ: … ’’آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے کہ: ’’تم میں ابنِ مریم نازل ہوں گے‘‘ میں کہتا ہوں اکثر اس پر ہیں کہ وہ فوت نہیں ہوئے بلکہ اُٹھالئے گئے۔ اور ’’العتیبہ‘‘ میں ہے کہ اِمام مالکؒ نے فرمایا کہ عیسیٰ علیہ السلام ۳۳ برس کی عمر میں فوت ہوئے۔ اِمام ابنِ رُشدؒ کہتے ہیں کہ مالکؒ کی مراد ان کے فوت ہونے سے ان کا زمین کے عالم سے نکل کر آسمان کے عالم میں پہنچ جانا ہے۔ اور یہ
412
بھی اِحتمال ہے کہ وہ واقعۃً فوت ہوگئے ہوں، اور آخری زمانے میں پھر زندہ ہوں، کیونکہ ان کا نزول لازم ہے، کیونکہ اس پر اَحادیث متواتر ہیں۔ اور ’’العتیبہ‘‘ میں ہے کہ حضرت ابوہریرہؓ کسی نوجوان سے ملتے تو اس سے فرمائش کرتے کہ: بھتیجے! شاید تم عیسیٰ بن مریم علیہ السلام سے ملاقات کرو، تو ان سے میرا سلام کہہ دینا۔‘‘
’’وفی العتیبۃ: قال مالک: بین الناس قیام یستمعون لاِقامۃٍ فتغشاھم غمامۃ فإذا عیسٰی قد نزل۔‘‘
(ج:۱ ص:۲۶۶)
ترجمہ: … ’’اور ’’العتیبہ‘‘ میں ہے کہ اِمام مالکؒ نے فرمایا کہ: دریں اثنا کہ لوگ کھڑے نماز کی اِقامت سن رہے ہوں گے کہ اتنے میں ان کو ایک بدلی ڈھانک لے گی، دیکھتے کیا ہیں کہ عیسیٰ علیہ السلام نازل ہوچکے ہیں۔‘‘
اس پورے حوالے کو بار بار پڑھئے، اس سے آپ مندرجہ نتائج پر پہنچیں گے:
الف: … حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے دوبارہ آنے کی احادیث متواتر ہیں۔
ب: … ’’العتیبہ‘‘ میں اِمام مالکؒ کی تصریح کے مطابق حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا نزول ٹھیک اس وقت ہوگا جبکہ نماز کی اِقامت ہو رہی ہوگی، اور اِمام مصلیٰ پر جاچکا ہوگا (یہ مضمون احادیثِ صحیحہ میں صراحۃً آیا ہے)۔
ج: … ’’العتیبہ‘‘ ہی میں اِمام مالکؒ کی تصریح کے مطابق صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی تشریف آوری پر اس قدر وثوق تھا کہ وہ نوجوانوں کو ان کی خدمت میں سلام پیش کرنے کی وصیت کیا کرتے تھے۔
د: … اِمام مالکؒ کے ان ارشادات کی روشنی میں حضراتِ مالکیہ نے اِمام مالکؒ کے قول کی تشریح یہ فرمائی کہ اس سے حقیقی موت مراد نہیں بلکہ عالمِ اَرضی کے بجائے آسمان پر جارہنا مراد ہے۔
413
اس پوری تفصیل کے بعد اَب آپ خود فیصلہ فرماسکتے ہیں کہ باقی ساری باتوں سے آنکھیں بند کرکے یہ پروپیگنڈا کرنا کہ اِمام مالکؒ وفاتِ مسیح کے قائل ہیں، دیانت اور امانت کی آخر کون سی قسم ہے؟ اور یہ بھی دیکھئے کہ اِمام مالکؒ کے بارے میں یہ تصوّر کیا جاسکتا ہے کہ وہ عیسیٰ علیہ السلام کے عین بوقتِ نماز اچانک نازل ہونے کے بھی قائل ہوں، اور انہیں عام مردوں کی طرح وفات شدہ بھی مانتے ہوں؟ اور یہ بھی سوچئے کہ اگر اِمام مالکؒ وفاتِ مسیح کے قائل ہوتے تو ان کے مقلدین اور اَصحابِ مذہب بالاتفاق حیاتِ عیسیٰ علیہ السلام کے قائل کیونکر ہوسکتے تھے۔۔۔؟
نزولِ عیسیٰ کا عقیدہ متواتر ہے، اُبیّ اور سنوسی کا حوالہ:
یہاں یہ عرض کردینا بھی خالی از فائدہ نہ ہوگا کہ اِمام ابوعبداللہ محمد بن خلیفہ الوشتانی الاُبیّ (متوفیٰ ۸۲۷ھ) اور اِمام ابوعبداللہ محمد بن محمد بن یوسف السنوسی الحسنی (متوفیٰ۸۹۵ھ) جن کا آپ نے حوالہ دیا ہے، انہوں نے علاماتِ قیامت کو دو حصوں میں تقسیم کیا ہے۔ ایک حصہ ان علاماتِ کبریٰ کا جن کا ثبوت متواتر اور قطعی ہے، اور جن کے وقوع پر اِیمان لانا واجب ہے۔ یہ پانچ علامتیں ہیں: دجال کا نکلنا، عیسیٰ بن مریم علیہ السلام کا نازل ہونا، یأجوج مأجوج کا خروج کرنا، دابۃ الارض کا نکلنا، اور آفتاب کا مغرب سے طلوع ہونا۔ اور پانچ کے تواتر میں اختلاف ہے: خسف بالمشرق، خسف بالمغرب، خسف بجزیرۃ العرب، دُخان اور عدن سے آگ کا نکلنا۔ اور بعض حضرات نے علاماتِ کبریٰ میں دو مزید علامتوں کو شمار کیا ہے: فتح قسطنطنیہ اور ظہورِ مہدی۔ یہ ساری تفصیل انہوں نے حدیثِ جبریل کے تحت ذِکر کی ہے (دیکھئے ج:۱ ص:۷۰) اور حدیثِ نبوی:’’لَا تقوم الساعۃ حتّٰی تطلع الشمس من مغربھا‘‘ کے تحت لکھتے ہیں:
’’طلوعھا کذٰلک أحد أشراط المنتظرۃ وھو علیٰ ظاھرہ وتاؤلتہ المبتدعۃ یعنی القائلین بالقدم ۔۔۔۔۔ وتقدم فی حدیث جبریل علیہ السلام قول ابن رُشد
414
الأشراط عشرۃ والمتواتر منھا خمسۃ۔‘‘
(ص:۲۶۹)
ترجمہ: … ’’سورج کا اس طرح اُلٹی سمت سے طلوع ہونا قیامت کے دن کی علامتوں میں سے ہے، جن کا اِنتظار کیا جاتا ہے۔ اور یہ اپنے ظاہر پر محمول ہے۔ اور مبتدعہ یعنی (فلاسفہ) جو عالم کے قدیم ہونے کے قائل ہیں (اور نظامِ عالم درہم برہم ہونے کے اور قیامت برپا ہونے کے منکر ہیں) اس میں تأویلیں کرتے ہیں ۔۔۔۔۔۔ اور حدیثِ جبریل میں ابنِ رُشد کا قول گزرچکا ہے کہ قیامت کی علاماتِ کبریٰ دس ہیں اور پانچ ان میں (بشمول نزولِ عیسیٰ علیہ السلام کے) متواتر ہیں۔‘‘
ابنِ رُشد، اُبیّ اور سنوسی سب مالکی ہیں، اور وہ نزولِ عیسیٰ علیہ السلام کو متواتر کہہ رہے ہیں اور اِسلام کا معمولی طالب بھی جانتا ہے کہ دِینی متواترات کا اِنکار کفر ہے، اگر اِمام مالکؒ عیسیٰ علیہ السلام کی حیات و نزول کے منکر ہوتے تو یہ مالکی اَئمہ اس کے تواتر کے کیسے قائل ہوگئے۔۔۔؟
مجمع البحار کا حوالہ:
آنجناب نے مجمع البحار کے حوالے سے بھی لکھا ہے کہ: ’’والأکثر أنّ عیسٰی لم یمت، وقال مالک مات۔‘‘ خیال ہے کہ جناب کو اس کتاب کے دیکھنے کا بھی اتفاق نہیں ہوا، اُوپر کی عبارت پڑھنے کے بعد مجمع البحار کے حوالے پر تبصرے کے آپ محتاج نہیں ہوں گے، لیکن غلط فہمی دُور کرنے کے لئے میں اس کتاب کی پوری عبارت بھی نقل کئے دیتا ہوں۔ شیخ محمد طاہرؒ مادّہ: ’’حکم‘‘ کے تحت لکھتے ہیں:
’’وفیہ ینزل أی حکمًا بھٰذا الشریعۃ، لَا نبیًّا والأکثر ان عیسٰی لم یمت وقال مالک مات وھو ابن ثلاث وثلاثین سنۃ ولعلہ أراد رفعہ إلی السماء أو حقیقۃ
415
ویجیُٔ آخر الزمان لتواتر خبر النزول۔‘‘
ترجمہ: … ’’حدیث میں ہے کہ عیسیٰ علیہ السلام حَکم کی حیثیت سے نازل ہوں گے، یعنی اس شریعتِ مطہرہ کے مطابق فیصلہ کرنے والے حاکم کی حیثیت سے، نہ کہ نبی کی حیثیت سے، اور اکثر اس پر ہیں کہ عیسیٰ علیہ السلام فوت نہیں ہوئے۔ اور اِمام مالکؒ نے فرمایا کہ وہ ۳۳ برس کی عمر میں فوت ہوئے، غالباً اِمامؒ کی مراد ان کا رفعِ آسمانی ہے، یا حقیقتاً فوت ہونا مراد ہے۔ بہرحال وہ آخری زمانے میں دوبارہ آئیں گے، کیونکہ ان کے نزول کی خبر متواتر ہے۔‘‘
یہ ٹھیک وہی مضمون ہے جو اُوپر اُبیّ کی شرحِ مسلم سے نقل کرچکا ہوں، جس کا خلاصہ یہ ہے کہ اِمام مالکؒ یا تو وفات کے قائل ہی نہیں، بلکہ رفع الی السماء پر وفات کا اِطلاق مجازاً ہے، اور اگر بالفرض قائل بھی ہوں تو اسی کے ساتھ حیات بعد الموت کے بھی قائل ہیں۔ ان حضرات کی عقل و فہم بھی قابلِ داد ہے جو اِمام محمد طاہرؒ کو اِمام مالکؒ کا قول نقل کرنے میں تو لائقِ اِعتماد سمجھتے ہیں، اور ٹھیک اسی جگہ جب اِمام محمد طاہرؒ نزولِ عیسیٰ علیہ السلام کے عقیدے کو قطعی متواتر کہتے ہیں تو وہ ان حضرات کے نزدیک نالائقِ اِعتماد قرار پاتے ہیں۔ قرآنِ کریم نے’’اَفَتُؤْمِنُوْنَ بِبَعْضِ الْکِتٰبِ وَتَکْفُرُوْنَ بِبَعْض‘‘ کہہ کر ایسے ہی لوگوں کی دیانت و امانت کا ماتم کیا ہے۔
خلاصہ یہ کہ اِمام مالکؒ نزولِ عیسیٰ علیہ السلام کے عقیدے میں پوری اُمت سے متفق ہیں۔ متواتر اَحادیث، اِجماعِ اُمت اور خو داِمام مالکؒ کے اپنے اِرشاداتِ عالیہ صریحہ کے مقابلے میں مبہم اور مؤوّل حوالے پر اِعتماد کرکے یہ کہنا کہ اِمام مالکؒ، عیسیٰ علیہ السلام کو عام مرنے والوں کی طرف فوت شدہ سمجھتے ہیں، اس پر وہی مثال صادق ہے کہ ایک صوفی جی بیٹھے رو رہے تھے، کسی نے وجہ پوچھی تو بولے کہ: ’’گھر سے خط آیا ہے کہ میری بیوی بیوہ ہوگئی ہے!‘‘ کسی نے عرض کیا کہ: ’’حضرت! آپ زندہ سلامت موجود، نصیبِ
416
دُشمناں آپ کی بیگم کو بیوہ ہونے کا حادثہ کیسے پیش آیا؟‘‘ بولے: ’’سوچتا تو میں بھی ہوں، مگر کیا کیجئے گھر کا نائی بھی معتبر ہے!‘‘ ممکن ہے کسی ظریف نے، یا خود بیگم صاحبہ ہی نے لکھ دیا ہو کہ آپ نے تو جیتے جی مجھے ’’بیوہ‘‘ کرچھوڑا ہے، گھر کا منہ ہی نہیں دیکھتے، اس سے صوفی جی سمجھے کہ شاید بیگم صاحبہ سچ مچ میرے جیتے جی بیوہ ہوگئی ہیں۔ اسی طرح اِمام مالکؒ اور مالکی حضرات کتنا ہی کہتے رہیں کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام آئیں گے، ضرور آئیں گے، ان کے آنے کی خبر متواتر ہے، یقینی ہے، قطعی ہے، مگر ہمارے ’’صوفی جی‘‘ انہی کے حوالے سے اُڑا رہے ہیں کہ وہ مرچکے ہیں، نہیں آئیں گے۔
حاشیہ جلالین اور اِبنِ حزمؒ کے حوالے:
جناب نے حاشیہ جلالین وغیرہ کے حوالے سے لکھا ہے کہ اِمام اِبنِ حزمؒ وفاتِ مسیح کے قائل ہیں۔ غالباً جناب کو اِمام اِبنِ حزمؒ کی کتابیں بھی براہِ راست دیکھنے کا اِتفاق نہیں ہوا، اِمام ابنِ حزمؒ کی کتاب’’الفصل فی الملل والأھواء والنحل‘‘ اس ناکارہ کے سامنے ہے، جس میں انہوں نے کئی جگہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے نزول کا عقیدہ درج فرمایا ہے۔ اب آپ خود فرمائیں کہ میں اِمام ابنِ حزمؒ کی اپنی تصریحات کا یقین کروں، یا آپ کے حوالے پر اِعتماد کرکے صوفی جی کی بیگم کی بیوگی کا ماتم کروں۔۔۔؟
ایک جگہ اِجرائے نبوّت کا نظریہ رکھنے والوں پر نکیر کرتے ہوئے حافظ ابنِ حزمؒ لکھتے ہیں:
’’وقد صح عن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بنقل الکواف التی نقلت نبوّتہ وأعلامہ، وکتابہ، أنہ أخبر أنہ لَا نبی بعدہ إلّا ما جائت الأخبار الصحاح من نزول عیسٰی علیہ السلام الذی بعث إلیٰ بنی إسرائیل۔ وادعی الیھود قتلہ وصلبہ فوجب الْإقرار بھٰذہ الجملۃ وصح أن وجود النبوّۃ بعدہ علیہ السلام باطلٌ لَا یکون البتۃ۔‘‘
(ج:۱ ص:۷۷)
417
ترجمہ: … ’’پوری کی پوری اُمت جس نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوّت، آپ کے معجزات اور آپ کی کتاب کو نقل کیا ہے، اس نے تواتر کے ساتھ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ قول بھی نقل کیا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد کوئی نبی نہیں سوائے عیسیٰ علیہ السلام کے، جن کے نازل ہونے پر احادیثِ صحیحہ موجود ہیں، اور یہ وہی عیسیٰ علیہ السلام ہیں جو بنی اِسرائیل کی طرف مبعوث ہوئے، اور جن کے قتل و صلب کا یہود کو دعویٰ ہے۔ پس اس سارے مضمون پر اِیمان لانا ضروری ہے، اور یہ بھی صحیح ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد نبوّت کا حصول باطل ہے، قطعاً باطل۔‘‘
ایک جگہ اُصولِ تکفیر پر بحث کرتے ہوئے ابنِ حزمؒ لکھتے ہیں:
’’وأما من قال: ان اللہ عزّ وجلّ ھو فلان، لاِنسان بعینہ، أو ان اللہ یحل فی جسم من أجسام خلقہ، أو ان بعد محمد صلی اللہ علیہ وسلم نبیًّا غیر عیسَی بن مریم فإنہ لَا یختلف اثنان فی تکفیرہ لصحتہ قیام الحجۃ بکل ھٰذا علیٰ کل أحدٍ۔‘‘
(ج:۳ ص:۲۴۹)
ترجمہ: … ’’جو شخص یہ کہے کہ اللہ تعالیٰ فلاں آدمی ہے، یا یہ کہے کہ اللہ تعالیٰ اپنی مخلوق میں سے کسی کے جسم میں حلول کرتا ہے، یا یہ کہے کہ حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد بھی کوئی نبی سوائے عیسیٰ علیہ السلام کے آئے گا، تو ایسے شخص کے کافر ہونے کے بارے میں دو آدمیوں کا بھی اختلاف نہیں، کیونکہ ان تمام اُمور میں ہر شخص پر حجت قائم ہوچکی ہے۔‘‘
ابنِ حزمؒ کی ان تصریحات سے واضح ہے کہ جس طرح ختمِ نبوّت کا مسئلہ قطعی اور متواتر ہے، اسی طرح حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے آخر زمانے میں نازل ہونے کا عقیدہ بھی
418
احادیثِ صحیحہ متواترہ سے ثابت ہے اور اس پر اِیمان لانا واجب ہے۔ نیز یہ بھی معلوم ہوا کہ جس عیسیٰ بن مریم علیہ السلام کے آنے کی خبر دی گئی ہے، اس سے کوئی نام نہاد مسیح مراد نہیں بلکہ وہی عیسیٰ بن مریم علیہ السلام مراد ہیں جن کو ساری دُنیا’’رَسُوْلًا اِلیٰ بَنِیْٓ اِسْرٰٓئِیْلَ‘‘ کی حیثیت سے جانتی ہے، اور جن کے قتل و صلب کا یہودیوں کو دعویٰ ہے۔
اب ایک نظر اپنے حوالوں پر بھی ڈال لیجئے!
الف:۔۔ آپ نے کتاب الفصل ج:۱ ص:۸۹ کے حوالے سے لکھا ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے شبِ معراج میں انبیاء علیہم السلام کی ارواح کو دیکھا۔ اوّل تو اُوپر کی تصریحات کے مقابلے میں اس عبارت سے وفاتِ مسیح پر اِستدلال کرنا ایسا ہے کہ کوئی شخص قرآنی آیت’’وَلَقَدْ خَلَقْنَا الْاِنْسٰنَ مِنْ نُّطْفَۃٍ‘‘ سے یہ دعویٰ کرنے لگے کہ حضرت آدم علیہ السلام بھی چونکہ انسان تھے لہٰذا وہ بھی ضرور نطفے ہی سے پیدا ہوئے ہوں گے، اس طرح وہ حضرت آدم علیہ السلام کا نسب نامہ ثابت کرنے لگے۔ اور ’’مِنْ نُّطْفَۃٍ اَمْشَاجٍ‘‘ سے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی پیدائش بھی ’’نُطْفَۃٍ اَمْشَاجٍ‘‘ سے ثابت کرنے بیٹھ جائے، اور یہ دعویٰ کرے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی پیدائش بھی مرد و زَن کے اِختلاط سے ہوئی تھی۔ اہلِ فہم جانتے ہیں کہ ایسے عمومات سے کسی خصوصی مسئلے پر اِستدلال کرنا مضحکہ خیز ہے۔ کیونکہ جب کسی مسئلے میں صاف نص موجود ہو جو اس کی خصوصیت کو بیان کر رہی ہو تو اس کے خلاف عمومات سے اِستدلال صریحاً غلط ہے۔
دُوسرے، انبیاء علیہم السلام کی اَرواح کا مشاہدہ ظاہر ہے کہ بغیر اَجسام کے نہیں ہوا ہوگا۔ اب خواہ اَجسامِ مثالیہ مراد لئے جائیں یا اَرواح کا تجسُّد یعنی اَجسام کی شکل میں ظاہر ہونا، فرض کیا جائے جیسا کہ حضراتِ صوفیہ قائل ہیں، بہرحال اَرواحِ انبیاء کسی نہ کسی جسم میں متشکل ہوئی ہوں گی، اور کہا یہی جائے گا کہ اَرواح کو دیکھا۔ ادھر عیسیٰ علیہ السلام اپنے اسی جسم کے ساتھ رُوح اللہ کہلاتے ہیں، پس جس طرح دیگر انبیائے کرام کی اَرواحِ طیبات پر اَحکامِ جسد طاری ہوئے، اسی طرح حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے جسمِ اطہر پر رُوح کے اَحکام عارض ہیں۔ وہاں اَرواح کا تجسُّد تھا، یہاںجسم کا تروّح ہے، اس لئے عیسیٰ علیہ
419
السلام بھی زندہ ہونے کے باوجود ان کے ساتھ دیکھے گئے۔ الغرض ان کا اَرواحِ انبیاء علیہم السلام میں دیکھا جانا ان کے رفعِ جسمانی کے منافی نہیں۔
تیسرے، حافظ ابنِ حزمؒ نے یہ بات جس سیاق میں کہی ہے اس کو پیشِ نظر رکھنا بھی ضروری ہے، حافظ ابنِ حزمؒ یہاں ان لوگوں کے دعوے کو رَدّ کر رہے ہیں جن کا دعویٰ تھا کہ:
’’ان محمد بن عبداللہ بن عبدالمطلب صلی اللہ علیہ وسلم لیس ھو الآن رسول اللہ ولٰـکنہ کان رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم۔‘‘
ترجمہ: … ’’آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم حالتِ حیات میں رسول اللہ تھے، اب رسول نہیں ۔۔۔معاذ اللہ- استغفراللہ۔۔۔‘‘
اس خبیث قول کی وجہ اور بنیاد کیا تھی؟ اس کا ذِکر کرتے ہوئے ابنِ حزمؒ لکھتے ہیں:
’’وان ما حملھم علیٰ ھٰذا قولھم الفاسد ان الروح عرض والعرض یفنی ابدًا ویحدث ولا یبقی زمانین۔‘‘
ترجمہ: … ’’ان کے اس قولِ فاسد کا منشا یہ ہے کہ رُوح عرض ہے، اور عرض دو زمانوں میں باقی نہیں رہتا، بلکہ اس کے فنا وحدوث کا سلسلہ جاری رہتا ہے۔‘‘
اس خبیث قول کے سخیف منشا کو رَدّ کرنے کے لئے انہوں نے متعدّد دلائل پیش کئے ہیں، انہیں میں سے ایک دلیل یہ ہے کہ معراج میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے مختلف آسمانوں میں انبیاء علیہم السلام کو دیکھا:
’’فھل رأی إلّا أرواحھم التی ھی أنفسھم۔‘‘
ترجمہ: … ’’پس آپ نے ان کی اَرواح ہی کو دیکھا، جو ان کی عین ذات تھیں۔‘‘
420
اس سے ثابت ہوا کہ مرنے کے بعد رُوح فنا نہیں ہوتی، بلکہ باقی رہتی ہے۔ اور یہ بھی معلوم ہوا کہ رُوح عرض نہیں بلکہ جوہر ہے۔ اس تقریرِ جواب کو ملاحظہ فرمائیے تو اس سے انبیاء علیہم السلام کی اَرواح کا بقاء اور ان کا (بواسطہ جسمِ مثالی یا بشکل تجسُّدِ رُوح‘‘ قابلِ رُؤیت ہونا بیان کرنا منظور ہے، اور یہ بات حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے رفعِ جسمانی کے ساتھ نفیاً یا اِثباتاً ادنیٰ مس بھی نہیں رکھتی۔ پس ایک عقیدہ قطعیہ اِجماعیہ کے مقابلے میں ایسی عبارت سے اِستدلال کرنا عقل و انصاف سے بے انصافی ہے۔
کشف المحجوب کا حوالہ:
میری اس تقریر کی تائید (اِبنِ حزمؒ کی تصریحات کے علاوہ) اس بات سے بھی ہوتی ہے کہ آنجناب نے شیخ علی ہجویری قدس سرہٗ کا قول بھی ’’کشف المحجوب‘‘ سے نقل کیا ہے کہ: ’’معراج میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے عیسیٰ علیہ السلام کی رُوح کو دیکھا۔‘‘
حضرتِ شیخ کی پوری عبارت یہ ہے:
’’پس آں جسمے بود لطیف کہ بیاید بفرمان خدائے عزوجل، وبرود بفرمان وے، وپیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم گفت من اندر شبِ معراج آدم، و ابراہیم، و یوسف، و موسیٰ، و ہارون، و عیسیٰ علیہم السلام در آسمانہا بدیدم، لامحالہ آں ارواح ایشاں باشند۔‘‘
(کشف المحجوب ص:۲۳۲، بحث الکلام فی الروح)
ترجمہ: … ’’پس رُوح ایک جسمِ لطیف ہے، جو اللہ تعالیٰ کے حکم سے آتا بھی ہے، اور اسی کے حکم سے جاتا بھی ہے۔ اور پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میں نے شبِ معراج میں حضرت آدم، حضرت ابراہیم، حضرت یوسف، حضرت موسیٰ، حضرت ہارون اور حضرت عیسیٰ علیہم السلام کو آسمان میں دیکھا، لامحالہ یہ ان حضرات کی اَرواح ہی ہوں گی۔‘‘
421
اس عبارت سے دو باتیں ثابت ہوئیں: ایک یہ کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے انبیائے کرام علیہم السلام کا جو دیکھنا فرمایا ہے، شیخؒ نے اس سے تجسُّدِ اَرواح پر اِستدلال فرمایا۔ حضراتِ صوفیاء اَرواح کے تجسُّد اور جسم کے تروّح کے قائل ہیں، مگر ظاہر ہے خود اَرواح کے تجسُّم کی ضرورت اسی صورت میں پیش آئے گی جبکہ رُوح کو جسم سے الگ فرض کیا جائے، اور سیّدنا عیسیٰ علیہ السلام کا آسمان پر اسی جسم کے ساتھ ہونا چونکہ معلوم و مُسلَّم عقیدہ ہے، اس سے بقرینۂ عقل وہ اس سے مستثنیٰ ہوں گے جیسا کہ’’اِنَّا خَلَقْنٰـکُمْ مِّنْ ذَکَرٍ وَّاُنْثٰی‘‘ سے بقرینۂ عقل حضرت آدم اور حضرت عیسیٰ علیہما السلام مستثنیٰ ہیں۔ دُوسری بات یہ معلوم ہوئی کہ حضرتِ شیخؒ نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی رُوح کو دیکھنا نہیں لکھا، بلکہ ان کا ذکر تغلیباً کیا ہے، جس طرح حضرت ابوبکر و عمر رضی اللہ عنہما کو تغلیباً ’’عمرین‘‘ یا شمس و قمر کو تغلیباً ’’قمرین‘‘ کہا جاتا ہے۔ لیکن تنہا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کو ’’عمر‘‘ اور سورج کو ’’قمر‘‘ نہیں کہا جائے گا، اسی طرح تنہا یہ کہنا کہ عیسیٰ علیہ السلام کی رُوح کو دیکھا، قطعاً غلط بیانی ہوگی۔
بہرحال نصوصِ قطعیہ، احادیثِ متواترہ اور اِجماعِ اُمت کو ایسی مبہم عبارتوں سے رَدّکرنا سلامتِ فکر کے خلاف ہے۔ حضرت شیخ علی ہجویریؒ جیسا کہ ’’کشف المحجوب‘‘ سے واضح ہے، پکے حنفی ہیں اور اِمام ابوحنیفہؒ کا عقیدہ میں اُوپر ذِکر کرچکا ہوں، ناممکن ہے کہ شیخؒ عقائد میں اپنے اِمام کے عقیدے سے منحرف ہوں، اس لئے عقیدہ ان کا بھی وہی ہے جو اِمام ابوحنیفہؒ کا، ان کے اصحابِ مذہب کا، اور پوری اُمت کا ہے، چنانچہ اسی ’’کشف المحجوب‘‘ میں حضرتِ شیخؒ لکھتے ہیں:
’’اندر آثار صحیح وارد است کہ عیسیٰ بن مریم علیہ السلام مرقعۂ داشت وے را باآسمان بردند۔
(کشف المحجوب ص:۴۲، شائع کردہ: اسلامک بک فاؤنڈیشن، ۲۴۹ این سمن آباد، لاہور)
ترجمہ: … ’’صحیح احادیث میں وارِد ہے کہ عیسیٰ علیہ السلام ایک گدڑی پہنے ہوئے تھے کہ اسی حالت میں ان کو آسمان پر اُٹھالیا گیا۔‘‘
422
اس عبارت سے معلوم ہوا کہ حضرت شیخ علی ہجویریؒ بھی حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے آسمان پر اُٹھائے جانے کے قائل ہیں۔
اب آپ خود اِنصاف فرمائیں کہ اکابر کی عبارتوں کو ان کے اپنے عقائد اور ان کی اپنی تصریحات کے خلاف محمول کرنا اور ان سے غلط عقائد کشید کرنا کیا انصاف سے بعید نہیں۔۔۔؟
المحلّٰی ا حوالہ:
آنجناب نے اِمام ابنِ حزمؒ کی ’’المحلّٰی‘‘ ج:۱ ص:۲۳سے یہ عبارت نقل کی ہے:
’’ان عیسٰی لم یقتل ولم یصلب، ولٰـکن توفاہ اللہ عزّ وجلّ ثم رفعہ ۔۔۔۔۔ بقولہ فلما توفیتنی وفاۃ النوم فصح انہ انما عنی وفات الموت۔‘‘
مجھے افسوس ہے کہ جناب نے نہ تو حافظ ابنِ حزمؒ کا مدعا سمجھا ہے، اور نہ آپ نے اپنی منقولہ عبارت کے ٹکڑے میں لفظی ربط ہی ملحوظ رکھا ہے، میری مشکل یہ ہے کہ میں آپ کے ایک ایک حوالے کی تصحیح کروں تو بات پھیلتی ہے، بہرحال اس عبارت کے سلسلے میں بھی چند باتیں گوش گزار کرتا ہوں۔
۱: … حافظ ابنِ حزمؒ کی کتاب ’’الفصل‘‘ سے نقل کرچکا ہوں کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے نزول پر اَحادیثِ صحیحہ ثابتہ مسندہ موجود ہیں، اور یہ کہ اس پر اِیمان لانا واجب ہے، یہی بات انہوں نے ’’المحلّٰی‘‘ میں بھی دُہرائی ہے، چنانچہ اس کے صفحہ:۹ (جلد اوّل) پر لکھتے ہیں:
’’وانہ صلی اللہ علیہ وسلم خاتم النبیین لَا نبی بعدہ ۔۔۔۔۔۔ إلّا أن عیسَی بن مریم علیہ السلام سینزل۔‘‘
ترجمہ: … ’’آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم خاتم النبیین ہیں،
423
آپ کے بعد کوئی نبی نہیں ہوگا ۔۔۔۔۔۔۔ مگر عیسیٰ بن مریم علیہ السلام نازل ہوں گے۔‘‘
اس کی تائید میں وہ اپنی سندِ متصل سے صحیح مسلم کی یہ حدیث نقل کرتے ہیں:
’’جَابِرُ بْنُ عَبْدُاللہِ یَقُوْلُ: سَمِعْتُ النَّبِیَّ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یَقُوْلُ: لَا تَزَالُ طَائِفَۃٌ مِّنْ أُمَّتِیْ یُقَاتِلُوْنَ عَلَی الْحَقِّ ظَاھِرِیْنَ إِلیٰ یَوْمِ الْقِیَامَۃِ۔ قَالَ: فَیَنْزِلُ عِیْسَی بْنُ مَرْیَمَ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فَیَقُوْلُ أَمِیْرُھُمْ: تَعَالْ صَلِّ بِنَا! فَیَقُوْلُ: لَا، إِنَّ بَعْضَکُمْ عَلٰی بَعْضٍ أُمَرَائٌ تَکْرِمَۃَ اللہِ ھٰذِہِ الْأُمَّۃِ۔‘‘
(المحلّٰی ج:۱ ص:۹)
ترجمہ: … ’’جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ: میں نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ: میری اُمت میں سے ایک جماعت ہمیشہ حق پر لڑتی رہے گی، اور قیامت تک غالب رہے گی۔ فرمایا: پس (قربِ قیامت میں) حضرت عیسیٰ علیہ السلام نازل ہوں گے تو مسلمانوں کا اَمیر (یہ اِمام مہدیؓ ہوں گے ۔۔۔ناقل) ان سے عرض کرے گا کہ: آئیے! ہمیں نماز پڑھائیے۔ تو آپ فرمائیں گے: نہیں! (یہ نماز آپ ہی پڑھائیں گے) بے شک تم میں سے بعض پر اَمیر ہیں، یہ اللہ تعالیٰ کی جانب سے اس اُمت کا اِکرام ہے (کہ ایک اُولوالعزم رسول، اُمتِ محمدیہ کے ایک فرد کی اِقتدا میں نماز پڑھے)۔‘‘
۲: … جیسا کہ سب جانتے ہیں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا نزول قتلِ دجال کے لئے ہوگا، گویا دجال کا خروج اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا نزول دونوں لازم و ملزم ہیں، اور ایک کا اِقرار، دُوسرے کے اِقرار کو مستلزم ہے۔ حافظ ابنِ حزمؒ اسی ’’المحلّٰی‘‘ میں خروجِ دجال کی تصریح بھی فرماتے ہیں:
424
’’وإن الدَّجَّال سیأتی وھو کافر أعور ممخرق ذو حیل‘‘
(المحلّٰی ج:۱ ص:۴۹)
ترجمہ: … ’’اور یہ کہ آخری زمانے میں دجال آئے گا، اور وہ کانا کافر ہے، جو بہت سے خرقِ عادت شعبدے دِکھائے گا۔‘‘
اور اس عقیدے پر وہ دو حدیثیں صحیح مسلم کی اور ایک حدیث ابوداؤد کی اپنی سند سے نقل کرتے ہیں (دیکھئے: المحلّٰی ج:۱ ص:۴۹، ۵۰)۔
۳: … گزشتہ سطور سے معلوم ہوا کہ ابنِ حزمؒ کے نزدیک نزولِ عیسیٰ علیہ السلام اور خروجِ دجال کا عقیدہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی احادیثِ صحیحہ سے ثابت ہے۔
اب ابنِ حزمؒ کا ایک قاعدہ سن لیجئے جو انہوں نے اسی ’’المحلّٰی‘‘ میں ذکر کیا ہے:
’’وکل من کفر بما بلغہ وصح عندہ عن النبی صلی اللہ علیہ وسلم أو أجمع علیہ المؤمنون مما جاء بہ النبی علیہ السلام فھو کافر۔ کما قال اللہ تعالٰی: وَمَنْ یُّشَاقِقِ الرَّسُوْلَ مِنْم بَعْدِ مَا تَبَیَّنَ لَہُ الْھُدٰی وَیَتَّبِعْ غَیْرَ سَبِیْلِ الْمُؤْمِنِیْنَ نُوَلِّہٖ مَا تَوَلّٰی وَنُصْلِہٖ جَھَنَّمَ۔‘‘
(المحلّٰی ج:۱ ص:۱۲)
ترجمہ: … ’’اور ہر شخص جس نے کسی ایسی بات کا اِنکار کیا جو اسے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے پہنچی اور اس کے نزدیک اس کا ثبوت آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے صحیح تھا، یا اس نے ایسی بات کا انکار کیا جس پر اہلِ ایمان کا اِجماع ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمائی ہے، تو ایسا شخص کافر ہے۔ چنانچہ ارشادِ خداوندی ہے: اور جس نے مخالفت کی رسول کی بعد اس کے کہ اس پر صحیح بات کھل گئی، اور وہ چلا مؤمنوں کا راستہ چھوڑ کر، تو ہم اسے پھردیں گے جدھر پھرتا ہے، اور جھونک دیں گے جہنم میں۔‘‘
425
۴: … پس جب اُوپر معلوم ہوچکا کہ ابنِ حزمؒ کے نزدیک نزولِ عیسیٰ علیہ السلام کا عقیدہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے ثابت شدہ ہے، اور یہ کہ اس عقیدے پر پوری اُمت کا اِجماع ہے، اور یہ کہ ایسی ثابت شدہ دِینی حقیقت کا منکر کافر ہے، تو ظاہر ہے کہ ابنِ حزمؒ کو نزولِ عیسیٰ کا منکر قرار دینا ان کے اپنے اُصول کے مطابق ان کو کافر قرار دینے کے ہم معنی ہوا ۔۔۔نعوذباللہ۔۔۔۔ اس لئے اب دو ہی صورتیں ممکن ہیں، یا تو یہ کہا جائے گا کہ ابنِ حزمؒ بھی پوری اُمت کی طرح حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی حیات کے قائل ہیں، تو اس صورت میں آپ کے حوالے بے کار ہیں، یا یہ کہا جائے کہ ان کے نزدیک حضرت عیسیٰ علیہ السلام ایک بار فوت ہوچکے ہیں، مگر دوبارہ زندہ ہوکر نازل ہوں گے، جیسا کہ آنجناب نے ’’مجموعہ مکاتیبِ اقبال‘‘ جلد اوّل صفحہ:۱۹۴ کے حوالے سے مولانا سیّد سلیمان ندویؒ کا فقرہ نقل کیا ہے کہ: ’’ابنِ حزمؒ وفاتِ مسیح کے قائل تھے، ساتھ نزول کے بھی۔‘‘ اگر یہ صورت بھی تجویز کی جائے (جو غالباً آپ کے نزدیک بھی صحیح نہیں) تب بھی یہ ہمیں مضر نہیں۔ اصل بحث تو ان کے نزول کی ہے، حیات و وفات کا مسئلہ تو نزول یا عدمِ نزول کی تمہید ہے کیونکہ جو لوگ حیات کے قائل ہیں، وہ ان کے نزول ہی کی خاطر قائل ہیں، اور جو لوگ وفات کے منکر ہیں، ان کی اصل دِلچسپی بھی انکارِ نزول سے ہی وابستہ ہے۔ پس جبکہ اِمام ابنِ حزمؒ، نزولِ عیسیٰ علیہ السلام کے قائل ہیں تو گویا نتیجہ و مآل میں اِجماعِ اُمت کے ساتھ متفق ہیں، اور یہ بحث زائد از ضرورت ہوجاتی ہے کہ عیسیٰ علیہ السلام بدستور زندہ ہیں، یا ایک بار مرچکے ہیں، اور پھر زندہ ہوئے یا ہوں گے۔ اس لئے اگر آپ ابنِ حزمؒ کی کسی صریح عبارت سے یہ بھی ثابت کردِکھائیں کہ ابنِ حزمؒ وفاتِ مسیح کے قائل ہیں تو اسی کے ساتھ یہ بھی تسلیم فرمالیجئے کہ وہ عیسیٰ علیہ السلام کے دوبارہ زندہ ہوکر آنے کے بھی قائل ہیں، اور اس اِقرار کے بعد بتائیے کہ مآل و نتیجے کے اعتبار سے میرے عقیدے پر کیا زَد پڑی؟ اور منکرینِ نزولِ مسیح کو اِبنِ حزمؒ کے موقف سے کیا نفع ہوا؟ ہاں! اگر ابنِ حزمؒ کو نزولِ عیسیٰ کا منکر ثابت کرنا منظور ہے تو شوق سے کیجئے، مگر ساتھ ہی ان کے اپنے قاعدے کے مطابق ’’فھو کافر‘‘ کا فتویٰ بھی تیار رکھئے۔ اور اگر اِبنِ حزمؒ سے یہ کہلانا مقصود ہے کہ پہلا عیسیٰ مرگیا، اور آخری زمانے میں
426
ایک اور نام نہاد عیسیٰ آئے گا تو اَزراہِ کرم ’’کتاب الفصل‘‘ جلد اوّل صفحہ:۷۷ کی عبارت ایک بار پھر پڑھ لیجئے، جس میں انہوں نے تصریح کردی ہے کہ وہی عیسیٰ علیہ السلام دوبارہ تشریف لائیں گے جو بنی اِسرائیل کی طرف مبعوث ہوئے تھے۔
۵: … یہ ساری تقریر میں نے اس صورت میں کی ہے جبکہ ابنِ حزمؒ عیسیٰ علیہ السلام کی وفات کے واقعۃً قائل بھی ہوں۔ میری نظر سے اب تک اِمام ابنِ حزمؒ کی کوئی ایسی عبارت نہیں گزری جس میں انہوں نے عیسیٰ علیہ السلام کے فوت ہوجانے کی تصریح کی ہو۔ آنجناب نے جو عبارت نقل کی ہے، اس کے سیاق کو دیکھنے سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ ان لوگوں کا رَدّ کرنا چاہتے ہیں جو عیسیٰ علیہ السلام کے قتل و صلب کے قائل ہیں، اس لئے انہوں نے یہ دعویٰ کیا ہے کہ عیسیٰ علیہ السلام مقتول اور مصلوب نہیں ہوئے، بلکہ اللہ تعالیٰ نے انہیں اپنی تحویل میں لے کر اپنی طرف اُٹھالیا: ’’وان عیسٰی لم یقتل ولم یصلب ولٰـکن توفّاہ اللہ عزّ وجلّ ثم رفعہ إلیہ‘‘۔
اس رفعِ آسمانی کے دعوے پر انہوں نے دو آیتیں پیش کی ہیں: ’’وَمَا قَتَلُوْہُ وَمَا صَلَبُوْہُ‘‘ (النساء:۱۵۷) اور ’’اِنِّیْ مُتَوَفِّیْکَ وَرَافِعُکَ اِلَیَّ‘‘ (آل عمران:۵۵) اور اس دعوے پر کہ ان کی وفات قتل و صلب کے بجائے طبعی موت سے ہوگی انہوں نے قرآنِ کریم کی یہ آیت نقل کی ہے کہ عیسیٰ علیہ السلام قیامت کے دن بارگاہِ خداوندی میں عرض کریں گے: ’’وَکُنْتُ عَلَیْھِمْ شَھِیْدًا مَّادُمْتُ فِیْھِمْ فَلَمَّا تَوَفَّیْتَنِیْ کُنْتَ اَنْتَ الرَّقِیْبَ عَلَیْھِمْ وَاَنْتَ عَلٰی کُلِّ شَیْئٍ شَھِیْدٌ‘‘ (المائدۃ:۱۱۷) ترجمہ: ’’اور میں ان پر مطلع رہا جب تک ان میں رہا، پھر جب آپ نے مجھ کو اُٹھالیا تو آپ ان پر مطلع رہے، اور آپ ہر چیز کی پوری خبر رکھتے ہیں۔‘‘ اور پھر یہ آیت: ’’اَﷲُ یَتَوَفَّی الْاَنْفُسَ‘‘ سے وہ ثابت کرتے ہیں کہ وفاتِ معتاد کی دو ہی قسمیں ہیں: وفاتِ نوم، وفاتِ موت۔ اور ظاہر ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے قول ’’فَلَمَّا تَوَفَّیْتَنِیْ‘‘ میں وفاتِ نوم کا اِرادہ نہیں کیا گیا، اس لئے یہ کہنا صحیح ہے کہ انہوں نے اس سے وفاتِ موت کا اِرادہ کیا ہے، پس ثابت ہوا کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام مقتول و مصلوب نہیں ہوئے، بلکہ ان کی وفات طبعی موت سے
427
ہوگی، اور اس پر پوری بحث کے نتیجے میں وہ لکھتے ہیں:
’’ومن قال انہ علیہ السلام قتل أو صلب فھو کافر مرتد حلال دمہ ومالہ لتکذیبہ القرآن وخلافہ الْإجماع۔‘‘
(المحلّٰی ج:۱ ص:۲۳)
ترجمہ: … ’’اور جو شخص یہ کہے کہ عیسیٰ علیہ السلام قتل ہوگئے، یا صلیب دئیے گئے، پس وہ کافر مرتد ہے، اس کا خون و مال حلال ہے، کیونکہ وہ قرآن اور اِجماعِ اُمت کو جھٹلاتا ہے۔‘‘
اس تقریر سے واضح ہوا کہ اِمام اِبنِ حزمؒ یہ بتانا چاہتے ہیں کہ عیسیٰ علیہ السلام مقتول و مصلوب نہیں ہوئے، بلکہ ان کو اللہ تعالیٰ نے آسمان پر اُٹھالیا۔ اور آیت: ’’فَلَمَّا تَوَفَّیْتَنِیْ‘‘ کے مطابق ان کی وفات جب بھی ہوگی، طبعی موت سے ہوگی۔ رہا یہ کہ یہ موت واقع بھی ہوچکی ہے یا نہیں؟ اور ہوگی تو کب ہوگی؟ اس بحث سے یہاں تعرض نہیں کیا گیا، کیونکہ ’’فَلَمَّا تَوَفَّیْتَنِیْ‘‘ کا قول قیامت کے دن ہوگا، اس لئے قیامت سے پہلے کسی وقت بھی ان کی وفات ہو، یہ جملہ اس پر صادق آتا ہے۔
جہاں تک میں نے مطالعہ کیا ہے، میری نظر سے نہیں گزرا کہ اِمام اِبنِ حزمؒ نے کہیں عیسیٰ علیہ السلام کے فوت ہوجانے کی تصریح کی ہو۔ مگر وہ ظاہری ہیں اور ظاہر اَحادیث سے اِنحراف کو قطعاً رَوا نہیں رکھتے۔ ادھر اَحادیثِ صحیحہ میں وارِد ہے کہ قربِ قیامت میں بعد اَز نزول ان کی وفات ہوگی: ’’ثم یتوفی ویصلی علیہ المسلمون‘‘ (مسندِ احمد ج:۲ ص:۴۰۶، ابوداؤد ج:۲ ص:۵۹۴) اس لئے قیاس یہی کہتا ہے کہ وہ بعد اَز نزول ہی وفات کے قائل ہوں گے، ورنہ دو مرتبہ مرنے کا قول ان کی طرف منسوب کرنا پڑے گا۔
حضرت ابنِ عباسؓ کے حوالے:
آنجناب نے تحریر فرمایا ہے کہ حضرت ابنِ عباسؓ نے ’’مُتَوَفِّیْکَ‘‘ کی تفسیر
428
’’ممیتک‘‘ کے ساتھ کی ہے۔ یہاں بھی آپ نے ادھوری نقل پیش کردی، یہ صحیح ہے کہ حضرت ابنِ عباسؓ سے ایک روایت یہ بھی مروی ہے، لیکن ان کا مطلب خود ان کے الفاظ میں یہ ہے:
’’قال إنّی رافعک ثم متوفیک فی آخر الزمان۔‘‘
(تفسیر درمنثور ج:۲ ص:۳۶)
ترجمہ: … ’’اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ: اے عیسیٰ! تجھے سردست اُٹھانے والا ہوں، پھر آخری زمانے میں تجھ کو وفات دُوں گا۔‘‘
حضرت ابنِ عباسؓ کی مکمل تشریح سے آنکھیں بند کرکے یہ لے اُڑنا کہ انہوں نے ’’مُتَوَفِّیْکَ‘‘ کی تفسیر ’’ممیتک‘‘ کے ساتھ کی ہے، اور اس پر یہ ہوائی قلعہ تعمیر کرلینا کہ وہ وفاتِ مسیح کے قائل ہیں، اس کی مثال ایسی ہے کہ کوئی شخص ’’لَا تَقْرَبُوا الصَّلٰوۃَ‘‘ سے نماز کی حرمت پر اِستدلال کرنے لگے۔
لطیفہ یہ کہ آپ نے’’مُتَوَفِّیْکَ‘‘ ’’ممیتک‘‘ کی سند نقل کرنے کا تکلف بھی فرمایا ہے: ’’عبداللہ بن صالح نے معاویہؓ سے اور معاویہؓ نے حضرت علیؓ سے اور علی رضی اللہ عنہ نے ابنِ عباسؓ سے۔۔۔۔۔‘‘ جناب کی معلومات کی تصحیح کے لئے عرض ہے کہ یہ ’’معاویہ‘‘ اور ’’حضرت علی‘‘ مشہور صحابی نہیں، جیسا کہ جناب سمجھ رہے ہیں، بلکہ یہ بہت بعد کے راویوں کے نام ہیں، اور ’’علی‘‘ سے مراد یہاں ’’علی بن ابی طلحہ‘‘ ہیں جو ضعیف بھی ہیں اور ان کا سماع بھی حضرت ابنِ عباسؓ سے ثابت نہیں۔ اس لئے یہ روایت ضعیف بھی ہے اور منقطع بھی۔ اسی بنا پر میں نے کئی جگہ اس حسنِ ظن کا اِظہار کیا ہے کہ جناب نے حدیث و تفسیر اور دیگر کتابوں کا مطالعہ نہیں فرمایا بلکہ کسی دُوسرے کا جمع کردہ خام مواد آنجناب کے پیشِ نظر ہے۔
جناب کی خدمت میں یہ عرض کرنا بھی ضروری ہے کہ حضرت ابنِ عباسؓ سے بسندِ صحیح ثابت ہے کہ یہود، حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو پکڑنے اور دار پر کھینچنے میں کامیاب نہیں ہوسکے، بلکہ اللہ تعالیٰ نے ان کو زندہ سلامت آسمان پر اُٹھالیا اور یہود نے ان کی جگہ کسی دُوسرے شخص کو پکڑ کر قتل و صلب کیا۔
(تفسیر ابنِ کثیر ج:۱ ص:۵۷۴)
429
ان سے یہ بھی بسندِ صحیح منقول ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام آخری زمانے میں دوبارہ تشریف لائیں گے، تب تمام اہلِ کتاب ان پر اِیمان لے آئیں گے۔ یہی مطلب ہے حق تعالیٰ کے ارشاد:’’وَاِنْ مِّنْ اَھْلِ الْکِتٰبِ اِلّا لَیُؤْمِنَنَّ بِہٖ قَبْلَ مَوْتِہٖ، وَیَوْمَ الْقِیٰمَۃِ یَکُوْنُ عَلَیْھِمْ شَھِیْدًا‘‘۔
(تفسیر درمنثور ج:۱ ص:۲۴۰)
وہ اس کے بھی قائل ہیں کہ بنصِ قرآن ’’وَاِنَّہٗ لَعِلْمٌ لِلسَّاعَۃِ‘‘ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا آخری زمانے میں نازل ہوکر دجال کو قتل کرنا قیامت کی نشانی ہے۔
(درمنثور ج:۶ ص:۲۰، مجمع الزوائد ج:۷ ص:۱۰۴، ابنِ جریر ج:۲۵ ص:۵۴)
کیا ان تصریحات کے بعد کوئی عاقل یہ کہہ سکتا ہے کہ حضرت ابنِ عباسؓ، حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو فوت شدہ مانتے ہیں۔۔۔؟
مولانا سندھیؒ کا حوالہ:
آنجناب نے مولانا عبیداللہ سندھیؒ کی جانب منسوب تفسیر ’’اِلہام الرحمن‘‘ کے حوالے سے لکھا ہے کہ وہ وفات کے قائل ہیں۔ ’’اِلہام الرحمن‘‘ مولانا کی طرف منسوب ضرور کی جاتی ہے، مگر جس نے اس کا مطالعہ کیا ہوگا وہ یہ سمجھنے میں تأمل نہیں کرے گا کہ اس کے مضامین مولانا مرحوم کی طرف منسوب کرنا ان پر بڑی زیادتی ہے۔ اس ناکارہ کی تحقیق یہ ہے کہ مولانا مرحوم، حیاتِ عیسیٰ علیہ السلام کے منکر نہیں تھے، چنانچہ مولانا مرحوم اپنے ’’رسالہ محمودیہ‘‘ میں لکھتے ہیں:
’’قال الْإمام ولی اللہ فی التفھیمات الْإلٰھیۃ: فھّمنی ربّی جلّ جلالہ، أنک انعکس فیک نور الْإسمین الجامعین نور الْإسم المصطفوی والْإسم العیسوی علیھما الصلوٰۃ والتسلیمات، فعسی أن تکون سادًا لأفق الکمال، غاشیًا لاِقلیم القرب، فلن یوجد بعدک إلّا ولک دخل فی تربیتہ ظاھرًا وباطنًا حتّٰی
430
ینزل عیسٰی علیہ السلام۔‘‘
(رسالہ محمودیہ ص:۲۴-۲۶)
ترجمہ: … ’’اِمام ولی اللہ تفہیماتِ اِلٰہیہ میں فرماتے ہیں کہ: مجھے میرے رَبّ جل جلالہٗ نے اِلہام فرمایا ہے کہ: تجھ میں دو جامع اسموں کا نور منعکس ہے، ایک نورِ مصطفوی، اور دُوسرا نورِ عیسوی (علیہما الصلوٰۃ والتسلیمات) پس توقع ہے کہ تو اُفقِ کمال کو بھرنے والا اور اِقلیمِ قرب کو ڈھانکنے والا ہوگا۔ پس تیرے بعد جو شخص بھی ہوگا اس کی ظاہری و باطنی تربیت میں تیرا دخل ہوگا۔ یہاں تک حضرت عیسیٰ (علیٰ نبینا وعلیہ الصلوٰۃ والسلام) نازل ہوجائیں گے۔‘‘
مولانا سندھی مرحوم، شاہ ولی اللہ محدث دہلویؒ کے شارح ہیں، اور وہ حضرت شاہ صاحبؒ کی تحقیقات سے سرِمو تجاوز نہیں کرتے۔ حضرت شاہ صاحبؒ عقیدۂ حیات و نزولِ مسیح کے مناد ہیں، اس لئے جن ملاحدہ نے مولانا سندھیؒ کی جانب غلط عقائد منسوب کئے، ان کی کوئی ذمہ داری مولانا مرحوم پر عائد نہیں ہوتی۔
عہدِ حاضر کے چند لوگوں کا حوالہ:
آپ نے عہدِ حاضر کے چند حضرات کا حوالہ دیا ہے کہ وہ وفات کے قائل ہیں، جن میں سرسیّد، علامہ مشرقی، چراغ علی، مولانا آزاد، مولانا ظفر علی خان، علامہ فرید وجدی، رشید رضا، محمد عبدہ، علامہ شلتوت، استاد احمد عجوز، مصطفی مراغی، عبدالکریم شریف، عبدالوہاب النجار، ڈاکٹر احمد ذکری کا نام لیا ہے، ان میں سے بعض حضرات کی طرف تو نسبت ہی غلط ہے، مثلاً مولانا آزاد مرحوم، مولانا ظفر علی خان اور علامہ فرید وجدی۔ اس سے قطع نظر میری گزارش یہ ہے کہ یہ حضرات دِینی عقائد میں سند اور حجت نہیں۔ فہمِ قرآن میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم، صحابہ کرامؓ، تابعین عظامؒ اور سلف صالحینؒ کا ارشاد لائقِ اِستناد ہے۔ مثلاً سرسیّد احمد خان کے بارے میں کون نہیں جانتا کہ وہ جنت ودوزخ، حشرِ اَجساد، ملائکہ، وحی وغیرہ قطعیاتِ اسلامیہ کے بھی منکر تھے، اور ان میں رکیک تأویلات
431
کیا کرتے تھے۔ کچھ یہی حالت مصر کے مفتی محمد عبدہ، اور ان کے شاگردوں کی تھی۔ بہرحال اگر کسی شخص کے نزدیک یہ لوگ صحابہؓ، وتابعینؒ اور اَئمۂ مجدّدینؒ کے مقابلے میں لائقِ اِقتدا ہیں اور وہ قیامت کے دن اپنا حشر ایسے لوگوں کے ساتھ چاہتا ہو تو وہ شوق سے ان کے عقائد اپنائے اور ان کی پیروی پر فخر کرے۔ لیکن مجھ ایسا فقیر جو یہ چاہتا ہے کہ وہ قیامت کے دن آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے سچے متبعین میں اُٹھایا جائے، اور اس کا حشر صحابہؓ وتابعینؒ، مجدّدینِ اُمتؒ اور اکابرِ ملتؒ کے ساتھ ہو، اس کے لئے سلف صالحینؒ کے راستے سے ہٹ کر کسی اور کی آواز کے پیچھے چل پڑنا مشکل ہے:
-
ستعلم لیلیٰ أیّ دین تداینت
وأیّ غریمٍ فی التقاضی غریمھا
ترجمہ: … ’’لیلیٰ کو بہت جلد معلوم ہوجائے گا کہ اس نے کیا اُدھار لیا ہے؟ اور وصولی کے دن اس کا قرض خواہ کون اور کیسا ہوگا؟‘‘
میں اِجماعِ اُمت کے مقابلے میں عہدِ حاضر کے چند متجدّدین کے اقوال کو گوزِشتر سمجھتا ہوں، اور سلف صالحینؒ سے منحرف کج رو لوگوں کی ہم نوائی سے اللہ کی پناہ مانگتا ہوں، یہ وہی لوگ ہیں جن کو حدیث شریف میں ’’فیح اعوج‘‘ (گمراہ اور کج رو لوگ) فرمایا گیا ہے۔
کیا حیاتِ مسیح کا عقیدہ عیسائیوں سے لیا گیا ہے؟
جناب نے ایک خاص نکتہ یہ ارشاد فرمایا ہے کہ: ’’ہماری سابقہ تفاسیر اِسرائیلی روایات کے اثر سے خالی نہیں‘‘ اور یہ کہ: ’’اکثر مسلمانوں نے عیسائی عورتوں سے شادیاں کیں، گو بعد میں حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے منع بھی کردیا۔‘‘ غالباً آپ مجھے یہ باور کرانا چاہتے ہیں کہ حیات و نزولِ عیسیٰ علیہ السلام کا مسئلہ مسلمانوں نے عیسائی عورتوں کی تعلیم سے لیا ہے۔ یوں تو آج کل عقل و شعور سے کام لینے کی ضرورت کم ہی سمجھی جاتی ہے،
432
اس لئے یہ ایک فیشن بن گیا ہے کہ جو بات اپنی خواہش اور عقلِ نارسا کے ذرا بھی خلاف ہو، اسے یا تو غریب مُلَّا کے سر مڑھ دیا جائے، یا کم از کم یہ پروپیگنڈا تو ضرور کیا جائے کہ یہ کسی غیرقوم کی سکھائی ہوئی بات ہے۔ پرویز صاحب نے ’’عجمی سازش‘‘ کا ہوّا کھڑا کرکے اپنے نیازمندوں کو نماز روزہ اور حج و زکوٰۃ ایسے بنیادی ارکانِ اسلام سے بھی چھٹی دِلادی۔ اگر حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی حیات و نزول کو بھی ’’عیسائی سازش‘‘ کہہ کر اس اسلامی عقیدے سے سبکدوش کردیا جائے تو کون سی تعجب کی بات ہے؟ جب خدا کا خوف دِل میں نہ ہو، اور اُمت کے اکابر و اعاظم کی عظمت سے سینہ خالی ہو تو اِسلام کے قطعیات و متواترات کو ٹھکرا دینا کون سی مشکل بات ہے۔۔۔؟ لیکن آپ کو ماشاء اللہ عقل و شعور کی اور فہم و اِدراک کی دولت اللہ تعالیٰ نے مفت دے رکھی ہے، اس لئے میں آپ سے چند موٹی موٹی باتوں پر غور کرنے کی اپیل کرتا ہوں، سوچ سمجھ کر آپ جو فیصلہ فرمائیں وہ آپ کی صوابدید ہے۔
مسلمانوں اور عیسائیوں کے عقیدے میں چھ وجہ سے فرق ہے:
۱- سب سے پہلے تو اس پر غور کیجئے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے بارے میں مسلمانوں کا عقیدہ کیا ہے؟ اور عیسائی عقیدہ کیا ہے؟ اور یہ کہ ان دونوں کے درمیان کوئی مطابقت اور ہم آہنگی پائی جاتی ہے جس سے اس بدگمانی کی گنجائش ہو کہ مسلمانوں نے یہ عقیدہ ۔۔۔نعوذباللہ۔۔۔ عیسائی عورتوں سے سیکھا ہوگا؟ اس کے لئے مندرجہ ذیل نکات پر غور فرمائیے:
پہلا فرق: … عیسائیوں کے نزدیک حضرت مسیح علیہ السلام یہودیوں کے ہاتھ گرفتار ہوئے، انہوں نے آپ کو ذلیل کیا، منہ پر تھوکا، طمانچے رسید کئے، کانٹوں کا تاج پہنایا، اور ’’یہودیوں کا بادشاہ‘‘ کی پھبتی ان پر اُڑائی، جبکہ مسلمانوں کے نزدیک حضرت عیسیٰ علیہ السلام یہودِ ناہنجار کے ہاتھ ہی نہیں آئے، اور وہ عیسائیوں کے مندرجہ بالا خیالات کو خالص کذب و دروغ اور کفرِ صریح سمجھتے ہیں،لقولہ تعالیٰ: ’’وَجِیْھًا فِی الدُّنْیَا وَالْاٰخِرَۃِ وَمِنَ الْمُقَرَّبِیْنَ‘‘ وقولہ تعالیٰ: ’’وَاِذْ کَفَفْتُ بَنِیْٓ اِسْرٰٓئِیْلَ عَنْکَ‘‘۔
433
دُوسرا فرق: … عیسائیوں کا عقیدہ ہے کہ مسیح علیہ السلام صلیب پر لٹکائے گئے، اس کے برعکس اسلام کا عقیدہ یہ ہے کہ وہ نہ مقتول ہوئے نہ مصلوب، بلکہ اسلام، حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے صلیب پر لٹکائے جانے کے عقیدے کو خالص کفر سمجھتا ہے، لقولہ تعالیٰ: ’’وَمَا قَتَلُوْہُ وَمَا صَلَبُوْہُ‘‘۔
تیسرا فرق: … عیسائیوں کا عقیدہ ہے کہ مسیح تین دن قبر میں مدفون رہے، اسلام اس کی سرے سے نفی کرتا ہے۔
چوتھا فرق: … عیسائیوں کا عقیدہ ہے کہ مسیح تیسرے دن خدا بن کر آسمان پر چلے گئے، جبکہ اسلام ان کی اُلوہیت کو کفر قرار دیتا ہے، لقولہ تعالیٰ: ’’لَقَدْ کَفَرَ الَّذِیْنَ قَالُوْا اِنَّ اللہَ ھُوَ الْمَسِیْحُ ابْنُ مَرْیَمَ‘‘ (المائدۃ:۱۷) ترجمہ: ’’بلاشبہ وہ لوگ کافر ہیں جو یوں کہتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ عین مسیح ابنِ مریم ہے۔‘‘
اسلام کا یہ عقیدہ ہے کہ جس طرح ملائکہ اور رُوحیں آسمان پر جاتی ہیں،لقولہ تعالیٰ: ’’تَعْرُجُ الْمَلٰٓئِکَۃُ وَالرُّوْحُ اِلَیْہِ‘‘ (المعارج:۴) اور اس سے ان کا خدا ہونا لازم نہیں آتا، بلکہ مخلوق ہونا ثابت ہوتا ہے، اسی طرح حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو بھی اللہ تعالیٰ نے یہود کے شر و مکر سے بچاکر آسمان پر اُٹھالیا، لقولہ تعالیٰ: ’’وَمَا قَتَلُوْہُ یَقِیْنًام بَلْ رَّفَعَہُ اللہُ اِلَیْہِ‘‘ (النساء:۱۵۷، ۱۵۸) ترجمہ: ’’اور انہوں نے ان کو یقینی بات ہے کہ قتل نہیں کیا، بلکہ ان کو خدا تعالیٰ نے اپنی طرف اُٹھالیا‘‘۔
اور چونکہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی پیدائش حضرت جبریل علیہ السلام کے پھونک مارنے سے ہوئی تھی،لقولہ تعالیٰ: ’’فَنَفَخْنَا فِیْھَا مِنْ رُّوْحِنَا‘‘ (الانبیاء:۹۱) اور ان کو مجسم رُوح اللہ فرمایا گیا ہے، اس لئے فرشتوں اور اَرواح کی طرح ان کا آسمان پر اُٹھایا جانا ذرا بھی مستبعد نہیں، اور نہ اس سے ان کی خدائی لازم آتی ہے، اَرواح و ملائکہ کی طرح وہ مخلوق اور بندے تھے، بندے ہیں اور بندے ہی رہیں گے، مخلوق کا خالق بن جانا عقلاً ممتنع اور شرعاً باطل اور کفر ہے۔
پانچواں فرق: … عیسائی کہتے ہیں کہ اب مسیح کو کبھی موت نہیں آئے گی، مگر
434
مسلمانوں کا عقیدہ ہے کہ عیسیٰ علیہ السلام کو بھی موت آئے گی، چنانچہ قیامت کے قریب نازل ہونے اور خدماتِ مفوّضہ انجام دینے کے بعد ان کی بھی وفات ہوگی، لقولہ تعالیٰ: ’’قُلْ فَمَنْ یَّمْلِکُ مِنَ اللہِ شَیْئًا اِنْ اَرَادَ اَنْ یُّھْلِکَ الْمَسِیْحَ ابْنَ مَرْیَمَ‘‘ (المائدۃ:۱۷) ترجمہ: ’’آپ یوں پوچھئے کہ اگر ایسا ہے تو یہ بتلاؤ کہ اگر اللہ تعالیٰ حضرت مسیح ابنِ مریم کو اور ان کی والدہ کو اور جتنے زمین میں ہیں ان سب کو ہلاک کرنا چاہیں تو کوئی شخص ایسا ہے جو خدا تعالیٰ سے ان کو ذرا بھی بچاسکے۔‘‘
وقولہ تعالیٰ: ’’وَاِنْ مِّنْ اَھْلِ الْکِتٰبِ اِلّا لَیُؤْمِنَنَّ بِہٖ قَبْلَ مَوْتِہٖ‘‘ (النساء:۱۵۹) ترجمہ: ’’اور جتنے فرقے ہیں اہلِ کتاب کے، سو عیسیٰ پر یقین لاویں گے اس کی موت سے پہلے‘‘ (ترجمہ شیخ الہندؒ)۔
وقولہ علیہ السلام: ’’وان عیسٰی یأتی علیہ الفناء‘‘ (درمنثور ج:۲ ص:۳) اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے کہ: ’’بے شک عیسیٰ علیہ السلام پر فنا آئے گی۔‘‘
وقولہ علیہ السلام: ’’ثم یتوفّٰی ویصلی علیہ المسلمون‘‘ (مسند احمد ج:۲ ص:۴۰۶، ابوداؤد ج:۲ ص:۵۹۴) اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے کہ: ’’پھر عیسیٰ علیہ السلام کا اِنتقال ہوجائے گا اور مسلمان ان کی نمازِ جنازہ پڑھیں گے۔‘‘
وقولہ علیہ السلام: ’’ثم یموت ویدفن معی فی قبری‘‘ (مشکوٰۃ ص:۴۸۰) اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے کہ: ’’پھر عیسیٰ علیہ السلام کی وفات ہوگی اور ان کو میرے ساتھ میرے روضے میں دفن کیا جائے گا۔‘‘
چھٹا فرق: … عیسائی عقیدہ یہ ہے کہ مسیح قیامت کے دن دَاورِ محشر کی حیثیت میں آکر دُنیا کے درمیان عدالت کرے گا، اس کے برعکس اسلام کا عقیدہ یہ ہے کہ وہ قیامت سے ذرا پہلے فتنۂ دجال کا قلع قمع کرنے اور یہود کے شرور و فتن کو مٹانے کے لئے آئیں گے، لقولہ تعالیٰ: ’’وَاِنْ مِّنْ اَھْلِ الْکِتٰبِ اِلّا لَیُؤْمِنَنَّ بِہٖ قَبْلَ مَوْتِہٖ‘‘ (النساء:۱۵۹)۔
وقولہ علیہ السلام: ’’والذی نفسی بیدہ! لیوشکن ان ینزل فیکم ابن مریم حَکَمًا عدلًا‘‘ (بخاری ج:۱ ص:۴۹۰) اور قیامت کے دن وہ خود دَاورِ محشر
435
نہیں ہوں گے، بلکہ داورِ محشر کی عدالت میں گواہ ہوں گے، لقولہ تعالیٰ: ’’وَیَوْمَ الْقِیٰمَۃِ یَکُوْنَ عَلَیْھِمْ شَھِیْدًا‘‘ (النساء:۱۵۹)۔
مندرجہ بالا چھ وجوہِ فرق پر غور کرکے اِنصاف کیجئے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے بارے میں اسلامی عقیدہ، عیسائیوں کے اوہامِ باطلہ کی قطعاً ضد ہے یا نہیں؟ اور پھر خود اپنی عقلِ خداداد سے فتویٰ پوچھئے کہ آخر غریب مسلمانوں نے عیسائی عورتوں سے کیا سیکھ لیا تھا؟ اگر عیسائیت نے مسلمانوں کو متأثر کیا ہوتا تو وہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی یہود کے ہاتھوں گرفتاری، مضروبیت اور مصلوبیت کے قائل ہوتے۔ مسلمانوں کا عقیدہ تو ’’وَمَا قَتَلَوْہُ وَمَا صَلَبُوْہُ‘‘ کی نصِ قطعی کے کلہاڑے سے تقدیسِ صلیب کے عیسائی عقیدے کی سرے سے جڑ کاٹ دیتا ہے، بیچاری عیسائی عورتیں مسلمانوں کو کیا سکھاسکتی تھیں۔۔۔؟
۲: … یہ بھی دیکھئے کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کا وصال آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بارہ تیرہ سال بعد ہوا ہے، اور بقول آپ کے انہوں نے مسلمانوں کو عیسائی عورتوں کے نکاح سے منع کردیا تھا۔ گویا عیسائی عورتوں کا جادو اس سے پہلے چل چکا تھا، اور وہ بقول آپ کے مسلمانوں کے ذہن میں عیسائی عقیدہ اُتار چکی تھیں۔ اگر اللہ تعالیٰ نے فہم و شعور بخشا ہے، تو کیا صحابہ کرامؓ کے حق میں اس اِحتمال کی گنجائش ہے کہ انہوں نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی ۲۳ سالہ تعلیم کو آٹھ دس سال ہی کے عرصے میں ایسا مٹایا کہ ناپاک عیسائی عورتوں نے ان کے ذہنوں کو عیسائی عقائد کے سانچے میں ڈھال دیا۔ اگر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے مقدس رُفقاء کے حق میں آنجناب ۔۔۔بقائمی عقل و شعور۔۔۔ ایسا حسنِ ظن رکھتے ہیں تو میں یہ سمجھنے سے قاصر ہوں کہ آج چودہ سو سال بعد آپ کو اِسلام کی کسی بات پر کیسے یقین ہے۔۔۔؟
۳: … اور پھر آنجناب کا یہ فقرہ کس قدر غیرذمہ دارانہ ہے کہ: ’’اکثر مسلمانوں نے عیسائی عورتوں سے شادیاں کیں‘‘ گویا عیسائی عورتوں سے شادیاں کرنے والوں کی اکثریت تھی اور دُوسرے مسلمان اقلیت میں تھے۔ جناب کو علم ہے کہ رحلتِ نبوی کے وقت صحابہ کرامؓ کی تعداد سوا لاکھ کے قریب تھی، اور شام و عراق کی فتوحات کے نتیجے میں اس تعداد
436
میں کئی گنا اِضافہ ہوا ہوگا۔ اب اگر بطورِ مثال مسلمانوں کی تعداد دس لاکھ فرض کرلی جائے، تو آپ کے قول کے مطابق کم از کم پانچ لاکھ سے زیادہ مسلمانوں نے تو ایسی شادیاں ضرور کی ہوں گی۔ کیا آپ ان ہولناک اعداد و شمار کا کوئی تاریخی ثبوت پیش کرسکتے ہیں؟ ثبوت تو خیر بعد کی بات ہے، کیا آپ کی عقل اس کو تسلیم کرتی ہے؟ مسلمانوں کو اِسلام کے قطعی عقائد سے بدظن کرنے کے لئے تاریخی حقائق کو اس طرح مسخ کرنا، خود سوچئے کہ کتنی بڑی ستم ظریفی ہے۔۔۔!
ان صحابہؓ کے نام جنہوں نے نزولِ مسیح کا عقیدہ نقل کیا:
۴: … جناب کو یہ بات بھی فراموش نہیں کرنی چاہئے کہ حضراتِ صحابہ کرام علیہم الرضوان میں سے جنہوں نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی حیات و نزول کا عقیدہ نقل کیا ہے، ان کی تعداد کتنی ہے؟ ذیل میں ایک مختصر سی فہرست پر نظر ڈالئے:
|
۱- ابو اُمامہ باہلیؓ |
۲- ابوالدرداءؓ |
|
۳-ابو رافعؓ مولیٰ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم |
۴- ابوسعید الخدریؓ |
|
۵- ابوہریرہؓ |
۶- انس بن مالکؓ |
|
۷- ثوبانؓ مولیٰ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم |
۸-جابر بن عبداللہؓ |
|
۹- حذیفہ بن اُسیدؓ |
۱۰- حذیفہ بن الیمانؓ |
|
۱۱- سفینہؓ مولیٰ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم |
۱۲- سمرۃ بن جندبؓ |
|
۱۳- سلمہ بن نفیلؓ |
۱۴- اُمّ المؤمنین صفیہؓ |
|
۱۵- اُمّ المؤمنین عائشہ صدیقہ |
۱۶- عبدالرحمن بن سمرہؓ |
|
۱۷- عبداللہ بن سلامؓ |
۱۸- عبداللہ بن عباسؓ |
|
۱۹- عبداللہ بن عمرؓ |
۲۰- عبداللہ بن عمرو بن عاصؓ |
|
۲۱- عبداللہ بن مسعودؓ |
۲۲- عبداللہ بن المغفلؓ |
|
۲۳- عثمان بن عاصؓ |
۲۴- عمار بن یاسرؓ |
437
|
۲۵- عمران بن حصینؓ |
۲۶- عمرو بن عوف المزنی ؓ |
|
۲۷- کیسان بن عبداللہؓ |
۲۸- نافع بن کیسانؓ |
|
۲۹- نواس بن سمعانؓ |
۳۰- واثلہ بن الاسقع ؓ |
یہ تیس صحابہ کرام علیہم الرضوان کے اسمائے گرامی کی فہرست ہے، جو میں نے ’’التصریح بما تواتر فی نزول المسیح‘‘ سے عجلت میں نقل کی ہے۔ اگر فرصت میں تتبع اور تلاش سے کام لیا جائے، تو اس میں خاصا اِضافہ ممکن ہے۔ اب میں جناب سے دو باتیں دریافت کرتا ہوں۔ ایک یہ کہ ان تیس صحابہ کرامؓ میں سے کس کے گھر میں ایسی عورت تھی جس کی تعلیم سے متأثر ہوکر اس نے حیاتِ عیسیٰ علیہ السلام کے عقیدے کی تبلیغ شروع کردی؟ یقینا اس کا جواب آپ نفی میں دیں گے۔ اب خود ہی اِنصاف فرمائیے کہ عیسائی عورتوں کے افسانے تراش کر ایک قطعی و اِجماعی عقیدے پر خاک ڈالنے کی کوشش کرنا کیا عقل و دانش کی رُو سے صحیح ہے؟
دُوسری بات مجھے یہ عرض کرنی ہے کہ دِینِ اسلام کے وہ یقینی و قطعی مسائل جن پر اِسلام کی بنیاد ہے، اور جن کا اِنکار بغیر کسی شک و شبہ کے کفر ہے، کیا آپ ان میں سے ایک ایک پر تیس صحابہ کرامؓ کی شہادت پیش کرسکتے ہیں؟ مثلاً نمازِ فجر کی دو، ظہر، عصر، عشاء کی چار چار اور مغرب و وتر کی تین تین رکعتیں ہیں، سونے چاندی کی زکوٰۃ ڈھائی فیصد ہے، وغیرہ وغیرہ، یہ ایسے مسائل ہیں جن کا کوئی مسلمان انکار نہیں کرسکتا، اور جو شخص اِنکار کرے وہ مسلمان نہیں رہ سکتا۔ کیا آپ ان میں سے ہر ایک پر تیس صحابہ کرامؓ کی سو سے زائد احادیث کا حوالہ دے سکتے ہیں؟ پھر کس قدر عجیب بات ہے کہ جو عقیدہ تیس صحابہ کرامؓ کی ایک سو سے زائد اَحادیث سے ثابت ہے، اور جس پر پوری اُمت کے اکابر مجدّدینؒ کی مہرِ تصدیق بھی ثبت ہے، وہ آنجناب کو عیسائی عورتوں کی تعلیم کا شاخسانہ نظر آتا ہے۔۔۔!
انصاف کیجئے! اگر ایسے قطعی عقائد کو جو تمام اُمت کے مُسلَّمہ ہوں، اور جن پر ایک دو نہیں، اِکٹھے تیس صحابہؓ کی سو سے زیادہ شہادتیں موجود ہوں، عیسائی عورتوں کی تعلیم کا اثر کہہ
438
کر رَدّ کیا جاسکتا ہے، تو کیا دِین کے ایک ایک رُکن، ایک ایک عقیدے اور ایک ایک مسئلے کو اسی غلط منطق سے نہیں اُڑایا جاسکتا۔۔۔؟
۵: … جناب کو اس نکتے پر بھی غور کرنا چاہئے کہ کیا صحابہ کرامؓ ۔۔۔نعوذباللہ۔۔۔ ایمان کے ایسے ہی کچے تھے کہ ان پر عیسائی عورتوں کا جادو چل گیا اور وہ اس سے متأثر ہوکر عیسیٰ علیہ السلام کی حیات و نزول کا عقیدہ جما بیٹھے، اور ستم بالائے ستم یہ کہ وہ اس کو ’’قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم‘‘ اور ’’سمعتُ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یقول‘‘ کہہ کر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے منسوب کرنے لگے؟ انا ﷲ وانا الیہ راجعون!
کیا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے جاںنثار شاگردوں کے بارے میں کسی معمولی عقل و فہم کے آدمی کی عقل ایک لمحے کے لئے بھی یہ تسلیم کرسکتی ہے کہ وہ اجنبی عقائد و افکار کو اپنے محبوب پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف منسوب کرکے اِفتراء علی اللہ اور اِفتراء علی الرسول ایسے سنگین جرم کا اِرتکاب کرسکتے تھے؟ مجھے توقع ہے کہ اگر آپ ان اُمور پر غور فرمائیں گے تو آپ کا ضمیر و وجدان خود شہادت دے گا کہ آپ نے صحیح نقطئہ نظر سے اس مسئلے کا جائزہ نہیں لیا۔
’’اِنِّیْ مُتَوَفِّیْکَ‘‘ کی تفسیروں میں تضاد نہیں:
آنجناب نے آیت: ’’اِنِّیْ مُتَوَفِّیْکَ‘‘ کے بارے میں مفسرین کے اختلاف کا تذکرہ کرتے ہوئے تیرہ اقوال نقل فرمائے ہیں، اور اس سے یہ نتیجہ اخذ فرمایا ہے کہ:
’’ان تمام متضاد خیالات سے یہ امر واضح ہے کہ مفسرین سے قطعی طور پر کوئی فیصلہ نہیں ہوسکا اور یہ عقیدہ ظنی بنا پر قائم ہے، اگر کسی نصِ صریح پر بنا ہوتی تو اس قدر متضاد آراء نہ ہوتیں، اور کئی توجیہیں نہ کرنا پڑتیں۔‘‘
جناب کا یہ شبہ بھی صحیح طرزِ فکر اِختیار نہ کرنے کا نتیجہ ہے، اس سلسلے میں چند اُمور گوش گزار کرتا ہوں۔
439
حیاتِ عیسیٰ علیہ السلام کا عقیدہ کتاب و سنت اور اِجماع سے ثابت ہے:
۱: … جہاں تک اس عقیدے کے قطعی یا ظنی ہونے کا تعلق ہے، اس پر گزشتہ سطور میں عرض کرچکا ہوں، تاہم مختصراً اتنی بات مزید عرض کرتا ہوں کہ ہمارے دِین کا مدار نقل پر ہے، اس لئے دِین کے مسائل دو قسم کے ہیں، جو مسائل قرآنِ کریم کی نص، حدیثِ متواتر یا اِجماعِ اُمت سے ثابت ہوں، وہ قطعی ہیں، اور جو مسائل دلیلِ ظنی سے ثابت ہوں وہ ظنی کہلاتے ہیں۔ اسلامی عقائد میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا عقیدہ قرآنِ کریم، حدیثِ متواتر اور اِجماعِ اُمت تینوں سے ثابت ہے۔
قرآنِ کریم سے ثبوت:
قرآنِ کریم کی متعدّد آیات میں اس عقیدے کو بیان فرمایا گیا ہے، مثلاً:
الف: … ’’وَمَا قَتَلُوْہُ یَقِیْنًام بَلْ رَّفَعَہُ اللہُ اِلَیْہِ‘‘
(النساء:۱۵۹)
ترجمہ: … ’’اور انہوں نے ان کویقینی بات ہے کہ قتل نہیں کیا، بلکہ ان کو خدا تعالیٰ نے اپنی طرف اُٹھالیا۔‘‘
اس آیت میں ان کے صحیح سالم آسمان پر اُٹھائے جانے کی خبر دی گئی ہے۔
ب: … ’’وَمَکَرُوْا وَمَکَرَ اللہُ وَاللہُ خَیْرُ الْمَاکِرِیْنَ‘‘
(آل عمران:۵۴)
ترجمہ: … ’’اور لوگوں نے خفیہ تدبیر کی اور اللہ تعالیٰ نے خفیہ تدبیر فرمائی، اور اللہ تعالیٰ سب تدبیریں کرنے والوں سے اچھے ہیں۔‘‘
اس آیت میں یہود کی تدبیر کے مقابلے میں جس اِلٰہی تدبیر کا ذِکر فرمایا گیا ہے، اس سے حضراتِ مفسرین نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا بحفاظت زندہ آسمان پر اُٹھالینا مراد لیا ہے۔
440
ج: …’’وَاِنْ مِّنْ اَھْلِ الْکِتٰبِ اِلّا لَیُؤْمِنَنَّ بِہٖ قَبْلَ مَوْتِہٖ۔‘‘
(النساء:۱۵۹)
ترجمہ: … ’’اور جتنے فرقے ہیں اہلِ کتاب کے، سو عیسیٰ پر یقین لاویں گے اس کی موت سے پہلے۔‘‘
اس آیت میں ان کے قربِ قیامت میں آنے کی خبر دی گئی ہے۔
د: … ’’وَاِنَّہٗ لَعِلْمٌ لِّلسَّاعَۃِ‘‘
(الزخرف:۶۱)
ترجمہ: … ’’اور وہ (یعنی عیسیٰ) قیامت کے یقین کا ذریعہ ہیں۔‘‘
اس آیت میں ان کے نزول کو قیامت کی نشانی فرمایا گیا ہے۔ چنانچہ صحیح ابنِ حبان میں اس آیت کی تفسیر خود آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ نقل کی ہے:
’’قال: نزول عیسَی بن مریم قبل یوم القیامۃ۔‘‘
(موارد الظمآن ص:۴۳۵)
ترجمہ: … ’’آپ نے فرمایا کہ اس سے مراد ہے قیامت سے پہلے عیسیٰ بن مریم کا نازل ہونا۔‘‘
ہ: … ’’ھُوَ الَّذِیْ اَرْسَلَ رَسُوْلَہٗ بِالْھُدٰی وَدِیْنِ الْحَقِّ لِیُظْھِرَہُ عَلَی الدِّیْنِ کُلِّہٖ۔‘‘
(الصف:۹)
ترجمہ: … ’’(چنانچہ) وہ اللہ ایسا ہے جس نے (اس اِتمامِ نور کے لئے) اپنے رسول کو ہدایت (کا سامان یعنی قرآن) اور سچا دِین (یعنی اسلام) دے کر بھیجا ہے تاکہ اس (دِین) کو تمام (بقیہ) دِینوں پر غالب کردے۔‘‘
اس آیت کے بارے میں مرزا غلام احمد قادیانی ۔۔۔ جو اس عقیدے کے بدترین مخالف ہیں۔۔۔ یہ اِقرار کرنے پر مجبور ہیں کہ:
’’یہ آیت جسمانی اور سیاستِ ملکی کے طور حضرت مسیح کے
441
حق میں پیش گوئی ہے، اور جس غلبۂ کاملہ دِینِ اسلام کا (اس آیت میں) وعدہ دِیا گیا ہے وہ غلبہ مسیح کے ذریعے سے ظہور میں آئے گا، اور جب حضرت مسیح علیہ السلام دوبارہ اس دُنیا میں تشریف لائیں گے تو ان کے ہاتھ سے دِینِ اسلام جمیع آفاق اور اَقطار میں پھیل جائے گا۔‘‘
(براہین احمدیہ ص:۴۹۸)
اس عبارت میں مرزا صاحب نے تصریح کی ہے:
ا- مندرجہ بالا آیت میں اللہ تعالیٰ نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے دوبارہ آنے کی پیش گوئی فرمائی ہے۔
۲- اس آیت میں جس غلبۂ اِسلام کا ذِکر ہے، وہ حضرت مسیح علیہ السلام کے ذریعے ہوگا۔
۳- آیت میں بتایا گیا ہے کہ حضرت مسیح علیہ السلام قربِ قیامت میں دوبارہ تشریف لائیں گے تو پوری دُنیا میں ہر چار سو اِسلام ہی اِسلام ہوگا، باقی تمام مذاہب مٹ جائیں گے۔
یہی بات مرزا صاحب نے مع اِضافہ کے ’’چشمہ معرفت‘‘ میں دُہرائی ہے، چنانچہ لکھتے ہیں:
’’ھو الذی ارسل رسولہ بالھدی ودین الحق لیظھرہ علی الدین کلہ۔
(الصف:۹)
یعنی خدا وہ خدا ہے جس نے اپنے رسول کو ایک کامل ہدایت اور سچے دِین کے ساتھ بھیجا تا اس کو ہر ایک قسم کے دِین پر غالب کردے، یعنی ایک عالمگیر غلبہ اس کو عطا کردے۔
اور چونکہ وہ عالمگیر غلبہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں ظہور میں نہیں آیا اور ممکن نہیں کہ خدا کی پیش گوئی میں کچھ تخلّف ہو اس لئے اس آیت کی نسبت ان سب متقدمین کا جو ہم سے
442
پہلے گزرچکے ہیں، اتفاق ہے کہ یہ عالمگیر غلبہ ’’مسیحِ موعود‘‘ کے وقت میں ظہور میں آئے گا۔‘‘
(چشمہ معرفت ص:۸۳)
مرزا صاحب نے اس عبارت میں جو زورِ کلام صَرف کیا ہے وہ ہر اُردو خواں شخص پر واضح ہے، اس عبارت کا خلاصہ یہ ہے کہ:
۱- مندرجہ بالا آیت میں غلبۂ اِسلام کی قطعی اور دوٹوک پیش گوئی کی گئی ہے۔
۲- یہ پیش گوئی آج تک ظاہر نہیں ہوئی، نہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں، اور نہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد کے کسی زمانے میں۔
۳- یہ بات خود ناممکن اور محال ہے کہ اللہ تعالیٰ بطورِ پیش گوئی کے کوئی خبر دیں اور وہ پوری نہ ہو۔
۴- اس لئے گزشتہ صدیوں کے تمام مفسرین، محدثین، مجدّدین اور اکابرِ اُمت کا اس پر اِجماع و اِتفاق ہے کہ اس آیت میں جو پیش گوئی کی گئی ہے، یہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے زمانے سے متعلق ہے، اور اِسلام کا یہ عالمگیر غلبہ آخری زمانے میں حضرت مسیح علیہ السلام کے دور میں ظہور پذیر ہوگا، جبکہ اسلام کے سوا باقی تمام مذاہب ختم ہوجائیں گے۔
پس مرزا صاحب کی ان دونوں عبارتوں سے دو باتیں قطعی طور پر ثابت ہوئیں:
۱- قرآنِ کریم میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے دوبارہ آنے کی قطعی اور غیرمبہم پیش گوئی کی گئی ہے، ناممکن ہے کہ وہ پوری نہ ہو۔
۲- قرآنِ کریم کی اس قطعی پیش گوئی کے مطابق گزشتہ صدیوں کی پوری اُمت کا اس عقیدے پر اِجماع ہے کہ آخری زمانے میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام دوبارہ تشریف لائیں گے۔ اب اگر آنجناب کے دِل میں انصاف کی کوئی رمق باقی ہے تو میں آپ ہی سے پوچھتا ہوں کہ کیا قرآنِ کریم کی اس قطعی پیش گوئی کے بعد ۔۔۔جس پر تمام متقدمین کی ’’مہرِ اِجماع‘‘ ثبت ہے۔۔۔ کیا اس عقیدے میں کوئی شبہ رہ جاتا ہے کہ قربِ قیامت میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی دوبارہ تشریف آوری ہوگی۔۔۔؟
443
حدیثِ متواتر اور اِجماع سے ثبوت:
جہاں تک حدیثِ متواتر اور اِجماعِ اُمت کا تعلق ہے، وہ آنجناب نے گزشتہ سطور میں ملاحظہ فرمالیا ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی دوبارہ تشریف آوری کی خبر متواتر ہے اور پوری اُمتِ محمدیہ کا اس پر اِجماع ہے۔ مناسب ہے کہ یہاں بھی مرزا قادیانی کا مزید حوالہ پیش کردُوں، کیونکہ سب سے بڑے معاند کی شہادت زیادہ لائقِ اِطمینان ہوتی ہے، وہ ’’اِزالہ اوہام‘‘ میں لکھتے ہیں:
’’مسیح ابنِ مریم کے آنے کی پیش گوئی ایک اوّل درجے کی پیش گوئی ہے جس کو سب نے بالاتفاق قبول کرلیا ہے، اور جس قدر صحاح میں پیش گوئیاں لکھی گئی ہیں کوئی پیش گوئی اس کے ہم پہلو اور ہم وزن نہیں ہوتی، تواتر کا اوّل درجہ اس کو حاصل ہے۔‘‘
(ص:۵۵۷)
اور ’’شہادۃ القرآن‘‘ میں مرزا صاحب نے اس مضمون کو کئی صفحوں میں بڑی تفصیل سے لکھا ہے، صفحہ:۹ پر اس کے تواتر کو ذِکر کرتے ہوئے لکھتے ہیں:
’’یہ پیش گوئی عقیدے کے طور پر اِبتدا سے مسلمانوں کے رگ و ریشے میں داخل چلی آتی ہے، گویا جس قدر اس وقت رُوئے زمین پر مسلمان موجود تھے اسی قدر اس پیش گوئی کی صحت پر شہادتیں موجود تھیں، کیونکہ عقیدے کے طور پر وہ اس کو اِبتدا سے یاد کرتے چلے آتے تھے اور اَئمہ حدیث اِمام بخاری وغیرہ نے اس پیش گوئی کی نسبت اگر کوئی اَمر اپنی کوشش سے نکالا ہے تو صرف یہی کہ جب اس کو کروڑہا مسلمانوں میں مشہور اور زبان زَد پایا تو اپنے قاعدے کے موافق مسلمانوں کے اس قولی تعامل کے لئے روایتی سند کو تلاش کیا اور روایاتِ صحیحہ مرفوعہ متصلہ سے جن کا ذخیرہ ان کی کتابوں میں پایا
444
جاتا ہے، اسناد کو دِکھایا۔‘‘
اس سے پہلے مرزا صاحب فرماتے ہیں کہ جب اس پیش گوئی کے تواتر کا سلسلہ ہم سے لے کر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم تک بدیہی طور پر پہنچتا ہے ’’تو پھر بھی اس پر جرح کرنا درحقیقت ان لوگوں کا کام ہے جن کو بصیرتِ اِیمانی اور عقلِ انسانی کا کچھ بھی حصہ نہیں ملا۔‘‘
الغرض جب حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے دوبارہ آنے کا عقیدہ پوری اُمت کا متفق علیہ ہے، متواتر اَحادیث اور قرآنِ کریم کی آیاتِ بینات اس کی پشت پر موجود ہیں اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ کرامؓ سے لے کر شاہ ولی اللہ محدث دہلویؒ تک ایک بھی عالم دِین اور لائقِ اِقتدا اِمام اس کا منکر نہیں تو اس عقیدے کو ’’ظنی‘‘ اور مشکوک نہیں کہا جاسکتا، اور کوئی سلیم العقل شخص متواترات کو ’’ظنی‘‘ کہنے کی جرأت نہیں کرسکتا۔۔۔!
آیت’’اِنِّیْ مُتَوَفِّیْکَ‘‘ میں تفسیری اقوال کی شرح:
۲: … آنجناب نے آیتِ کریمہ: ’’مُتَوَفِّیْکَ وَرَافِعُکَ اِلَیَّ‘‘ میں ذکر کردہ اقوال کو ’’متضاد‘‘ فرمایا ہے۔ یہ بھی جناب کی غلط فہمی ہے، حقیقت یہ ہے کہ اس آیت میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام سے کئے گئے چار وعدوں کا ذِکر ہے: توفی، رفع، تطہیر اور آپ کی پیروی کرنے والوں کو آپ کے منکروں پر غالب رکھنا۔ تمام مفسرین اس پر متفق ہیں کہ اس آیت میں ’’رفع‘‘ کا وعدہ رفعِ جسمانی پر محمول ہے، اور یہ وعدہ پورا ہوچکا ہے، جس کی اطلاع سورۃ النساء کی آیت:’’وَمَا قَتَلُوْہُ یَقِیْنًام بَلْ رَّفَعَہُ اللہُ اِلَیْہِ‘‘ میں دی گئی ہے۔ یعنی اللہ تعالیٰ نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو یہود کی دست بُرد سے نکال کر صحیح سالم اپنی طرف اُٹھالیا۔ آیتِ کریمہ کا یہی وہ مرکزی نقطئہ نظر ہے جس پر تمام مفسرین اور پوری اُمت متفق ہے اور جس میں کسی کو نہ کلام ہے نہ اِختلاف، بلکہ وہ پوری اُمت کا اِجماعی عقیدہ ہے۔
مفسرین نے توفی کے مفہوم میں جو متعدّد توجیہات کی ہیں اور جن سے آپ پریشان خاطر ہیں ان کا منشا یہ ہے کہ ’’توفی‘‘ کی مفہوم میں متعدّد اِحتمالات کی گنجائش ہے،
445
اور جو اِحتمال بھی لیا جائے وہ ’’رفعِ جسمانی‘‘ کے موافق ہے۔ ’’توفی‘‘ کو خواہ بمعنی قبض لیا جائے، خواہ استیفا، نوم یا موت کے معنوں میں، بہرصورت وہ رفعِ جسمانی سے ہم آہنگ ہے۔ اس کے خلاف ان توجیہات کا یہ مدعا نہیں کہ حضراتِ مفسرین کو حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے رفعِ جسمانی الی السماء میں تردّد ہے، بلکہ یہ مقصد ہے کہ ’’توفی‘‘ کے مفہوم میں کوئی ایسا اِحتمال نہ رہنے دیا جائے جس کی تطبیق رفعِ جسمانی الی السماء کے ساتھ نہ کر دِکھائی جائے، تاکہ کل کسی ملحد کو یہ جرأت نہ ہو کہ وہ کوئی اِحتمال نکال کر رفعِ جسمانی کی نفی پر آمادہ ہوجائے۔ یہ قرآنِ کریم کا اِعجاز اور حضراتِ مفسرینؒ کی ژرف نگاہی و نکتہ سنجی کا کمال ہے کہ ’’توفی‘‘ کے جو معنی بھی لئے جائیں اور اس کی جو توجیہ بھی کی جائے، مدعا وہی رہتا ہے، اور نتیجہ وہی رفعِ جسمانی الی السما نکلتا ہے۔ مجھے آنجناب کی انصاف پسندی سے سخت شکوہ ہے کہ جو بات قرآنِ کریم کے محاسن اور علمائے قرآن کے کمالات میں شمار کرنے کے لائق تھی، اسی کو آپ عیب اور فضیحتاً سمجھ رہے ہیں۔
خلاصہ یہ کہ لفظ’’مُتَوَفِّیْکَ‘‘ کی متعدّد توجیہات سے یہ نتیجہ اخذ کرنا کہ حضراتِ مفسرینؒ کو اس عقیدے میں ۔۔۔معاذاللہ۔۔۔ تردّد تھا، یا یہ کہ اس عقیدے کی بنیاد قطعی نہیں ظنی ہے، علم و دانش سے بہت بڑی بے انصافی ہے۔ خوب سمجھ لیجئے کہ جس عقیدے کی قطعیت ہر شک و اِرتیاب اور ظنون و اَوہام سے بالاتر ہے، وہ ہے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا صحیح سالم آسمان پر اُٹھایا جانا۔ جس کو قرآنِ کریم نے ’’بَلْ رَّفَعَہُ اللہُ اِلَیْہِ‘‘ میں ذِکر فرمایا ہے اور جس کا وعدہ ان سے ’’وَرَافِعُکَ اِلَیَّ‘‘ میں کیا گیا تھا۔ اس میں نہ کسی مسلمان کو کبھی شک ہوا ہے، نہ حضراتِ مفسرین کو اس میں کوئی تردّد ہے، یہ عقیدہ ہمیشہ سے بحث و تمحیص سے بالاتر رہا ہے۔ مفسرینؒ کی ساری بحث و کرید اور تحقیق و توجیہ اس میں ہے کہ ’’مُتَوَفِّیْکَ‘‘ کا جو وعدہ بطورِ تمہید کیا گیا تھا اس کی تطبیق رفعِ جسمانی الی السماء کے قطعی عقیدے کے ساتھ کس طرح ہے؟ چونکہ ’’توفی‘‘ کا مفہوم کئی اِحتمالات کا حامل تھا، اس لئے حضراتِ مفسرینؒ نے ایک ایک اِحتمال کو لے کر اس کی تطبیق رفعِ جسمانی کے ساتھ کردِکھائی۔
446
اگر اِسلامی عقیدے کو برقرار رکھتے ہوئے کسی آیت کی مختلف توجیہات کی جائیں تو یہ امر نہ صرف یہ کہ لائقِ اِعتراض نہیں بلکہ قرآنی معارف کے اتھاہ سمندر سے موتی نکالنے کے مترادف ہے، جس کے لئے کلامِ اِلٰہی کے رمزشناس ہمارے شکریے کے مستحق ہیں۔ ہاں! ایسی تأویل و توجیہ، جو کسی اِسلامی اُصول سے ٹکرائے یا اُمت کے اِجماعی عقیدے کے خلاف ہو، یا قواعدِ زبان کے خلاف ہو، وہ ناقابلِ قبول ہے، اور ایسی تأویل کرنے والا تفسیر بالرائے کا مرتکب اور اِرشادِ نبوی:
’’مَنْ قَالَ فِی الْقُرْآنِ بِرَأْیِہٖ فَلْیَتَبَوَّأْ مَقْعَدَہٗ مِنَ النَّارِ۔‘‘
(مشکوٰۃ ص:۳۵)
ترجمہ: … ’’جس نے اپنی رائے سے قرآن کے معنی کئے، اسے اپنا ٹھکانا دوزخ میں بنانا چاہئے۔‘‘
کا مصداق ہے۔ آنجناب نے اگر اِمام رازیؒ کی تفسیر یا دیگر بڑی تفاسیر کا مطالعہ کیا ہے تو آپ کو معلوم ہوگا کہ ایک ایک آیت بلکہ ایک ایک جملے کے بارے میں کئی کئی توجیہات کی گئی ہیں، حتیٰ کہ اِقامتِ صلوٰۃ اور اِیتائے زکوٰۃ ایسے قطعی اَحکام میں بھی مختلف توجیہات ملیں گی، اب ان توجیہات کو دیکھ کر یہ کہہ دینا کہ: ’’قرآنِ کریم کا کوئی حکم بھی قطعی نہیں، اگر قطعی ہوتا تو مختلف توجیہات کیوں کی جاتیں؟‘‘ کسی عاقل کے نزدیک دانش مندانہ طرزِ فکر نہیں ہوگا۔ ذرا ٹھنڈے دِل سے غور فرمائیے کہ ’’مُتَوَفِّیْکَ‘‘ کی متعدّد توجیہات سے اگر یہ نتیجہ نکلتا ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی حیات و نزول کا عقیدہ ۔۔۔معاذاللہ۔۔۔ مشکوک ہوگا تو کیا اسی منطق سے دِینِ اسلام کے تمام ارکان کو مشکوک نہیں ٹھہرایا جاسکتا۔۔۔؟
آیت ’’مُتَوَفِّیْکَ‘‘ میں تفسیری اقوال کی تعداد:
۳: … آنجناب نے آیت:’’مُتَوَفِّیْکَ‘‘ کے تفسیری اقوال کی تعداد تیرہ ذِکر کی ہے، اور مرزا خدا بخش صاحب نے ’’عسلِ مصفی‘‘ میں ان اقوال کی فہرست کو اَٹھارہ بیس تک پہنچادیا ہے۔ مگر یہ تعداد نہ تیرہ ہے، نہ اَٹھارہ، غلط فہمی کی بنا پر آپ نے اِختلافِ تعبیر کو بھی
447
اِختلافِ تفسیر سمجھ لیا ہے، یعنی ایک ہی مفہوم کو جو مختلف تعبیرات سے اَدا کیا گیا، آپ کے خیال میں ہر تعبیر جداگانہ تفسیر ٹھہری، خواہ مطلب و مفہوم میں وہ متحد ہوں۔ اور پھر لطف یہ کہ ان اوصافِ متعدّدہ کو جو بیک وقت جمع ہوسکتے ہیں آپ نے ’’متضاد‘‘ سمجھ لیا۔ اگر میں قلم روک کر بھی اس مقام کی تشریح کروں تو اس کے لئے بھی ایک اچھا خاصا رسالہ لکھنا پڑے گا، مگر صرف جناب کو توجہ دِلانے کے لئے یہاں مختصر سا اِشارہ کردینا ضروری سمجھتا ہوں،والعاقل تکفیہ الْإشارۃ!
الف: … جناب نے نمبر۱ پر ’’من غیر تقدیم ولَا تأخیر‘‘ اور نمبر۲ پر ’’فرض تقدیم والتأخیر‘‘ کا ذِکر فرمایا ہے، حالانکہ یہ دونوں صورتیں باقی صورتوں میں سے کسی نہ کسی کے ساتھ جمع ہوتی ہیں، اس لئے محض تعداد بڑھانے کے لئے ان دونوں کو الگ ذِکر کرنا غلط ہوگا۔
ب: … جناب نے نمبر۴ پر ’’ممیتک حتف أنفک‘‘ کو، نمبر۵ پر’’المراد بالتوفی حقیقۃ الموت‘‘ کو ذِکر فرمایا ہے۔ غور فرمائیے کہ دونوں کا مفہوم ایک ہے تو ان کو الگ الگ نمبروں میں درج کرنے کا کیا جواز؟ بلکہ اسی کے ساتھ نمبر۷ ’’ممیتک عن الشھوات‘‘ کو بھی ملائیے، کیونکہ اس توجیہ میں بھی ’’توفیٰ‘‘ بمعنی موت لے کر ہی تقریر کی گئی ہے۔
ج: … جناب نے نمبر۶ میں’’متوفیک نائمًا‘‘ کو، اور نمبر۱۳ پر ’’وھٰھنا عنی بہ عن النوم‘‘ کو ذِکر فرمایا ہے، فرمائیے! دونوں کے درمیان کیا اختلاف ہے؟
د: … نمبر۸ ’’اخذ الشیء وافیا‘‘ کو، نمبر۱۰ میں ’’متوفیک أی قابضک‘‘ کو، نمبر۱۱ میں ’’میں تجھے بھرنے والا ہوں‘‘ کو ذِکر کیا ہے، حالانکہ تینوں کا ایک ہی مفہوم ہے۔
۴: … اگر جناب نے صحیح غور وفکر سے کام لیا ہوتا تو آپ کو یہ سمجھنے میں کوئی اُلجھن پیش نہ آتی کہ آیتِ کریمہ: ’’یٰعِیْسٰٓی اِنِّیْ مُتَوَفِّیْکَ وَرَافِعُکَ اِلَیَّ‘‘ میں’’وَرَافِعُکَ اِلَیَّ‘‘ سے تو قطعاً ویقینا رفعِ جسمانی الی السماء مراد ہے، جس میں کسی لائقِ
448
ذکر شخص کا کوئی اِختلاف ہی نہیں، اور اس کی تمہید کے طور پر جو ’’توفی‘‘ کا وعدہ فرمایا گیا ہے، اس کی متعدّد توجیہات ہیں، جو اپنی جگہ سب صحیح ہیں اور ان میں سے جس توجیہ کو بھی اِختیار کرلیا جائے دُرست ہے، لیکن اُصولی طور پر وہ بھی تین ہی چار میں سمٹ آتی ہیں۔
ایک یہ کہ ’’توفی‘‘ کے حقیقی معنی مراد ہیں، یعنی پورا پورا لینا، وصول کرنا، اسی کو بعض حضرات نے قبض کے ساتھ تعبیر فرمایا ہے، بعض نے اِستیفائے عمر یا اِستیفائے عمل کے ساتھ، بعض نے تسلیم ووصول کے ساتھ، کیونکہ جب عیسیٰ علیہ السلام کے ساتھ یہ وعدہ فرمایا جارہا ہے کہ حق تعالیٰ شانہ‘ انہیں یہود کی دست بُرد سے بچاکر اپنے قبضے و تحویل میں لینے والے ہیں، تو اس میں اِستیفائے عمر، اِستیفائے اجل، اِستیفائے عمل، عصمت عن القتل کے سارے مضامین ازخود آجاتے ہیں۔
دوم: … یہ کہ ’’توفی‘‘ کے معنی یہاں موت کے لئے جائیں جو اس لفظ کے مجازی معنی ہیں، اس کی توجیہ ایک تو یہ ہوسکتی ہے کہ آیت میں تقدیم و تأخیر تسلیم کی جائے، یعنی موت کا وعدہ اگرچہ ایک خاص نکتے کی وجہ سے ذکر تو پہلے کیا ہے، لیکن وقوع اس کا آخری زمانے میں ہوگا۔ سیّدنا ابنِ عباسؓ نے اسی توجیہ کو لیا ہے، جیسا کہ درمنثور سے ان کا قول پہلے نقل کرچکا ہوں کہ:
’’قال: إنّی رافعک ثم متوفیک فی آخر الزمان۔‘‘
(ج:۲ ص:۳۶)
ترجمہ: … ’’فرمایا کہ: میں تجھے سرِدست اپنی طرف اُٹھانے والا ہوں، پھر آخری زمانے میں تجھے وفات دُوں گا۔‘‘
یہی توجیہ آنجناب نے تفسیر ثعالبی کے حوالے سے: ’’ونحوہ لمالک فی العتیبۃ‘‘ کے الفاظ میں نقل کی ہے۔
سوم: … بعض حضرات نے یہاں ’’توفی‘‘ کو مجازی موت کے معنی میں لیتے ہوئے:’’اجعلک کالمتوفی‘‘ اور ’’متوفیک نائمًا‘‘ کے ساتھ کی ہے۔ جس کی مفصل تقریر تفسیر کبیر میں اِمام رازیؒ نے فرمائی ہے، اور بعض صوفیاء نے اپنے ذوق کے
449
مطابق اسی مجازی موت کو ’’موت عن الشھوات‘‘ سے تعبیر کردیا۔
یہ تین توجیہیں تو عقیدۂ اسلام کے مطابق تھیں، جن میں کوئی تضاد نہیں، بلکہ جو توجیہ بھی اِختیار کرلی جائے آیت کا مضمون بالکل واضح ہے۔ ان صحیح توجیہات کے علاوہ ابنِ اسحاق اور وہب بن منبہ نے نصاریٰ کا تین ساعت یا تین دن مردہ رہ کر زندہ ہونے کا قول نقل کیا تھا، اس کو اہلِ اسلام نے قبول نہیں کیا، تاہم بطورِ اِحتمال یہ توجیہ کردی کہ ممکن ہے کچھ دیر مردہ رہنے کے بعد بحالتِ حیات انہیں اُٹھایا گیا ہو۔ مگر چونکہ یہ قول خود ضعیف ہے اس لئے اگر اس توجیہ میں ضعف نظر آئے تو جائے تعجب نہیں۔
یہ ہے وہ تفسیری اِختلاف، جس کی بنیاد پر آپ ایک مُسلَّم الثبوت اور قطعی عقیدے کو ’’ظنی‘‘ ثابت کرنا چاہتے ہیں، میں نہیں سمجھتا کہ ’’مُتَوَفِّیْکَ‘‘ کی صحیح توجیہات کرنے سے ’’رفع إلی السماء‘‘ کا عقیدہ کیسے مشکوک ہوگیا۔۔۔؟
۵: … اگر آنجناب ذرا بھی غور وفکر سے کام لیں تو ایک اور نکتہ بھی لائقِ توجہ ہے۔ وہ یہ کہ قطعیت کا مطالبہ مدعی اور مستدل سے کیا جاتا ہے، نہ کہ مدعاعلیہ اور مجیب سے! اب ہمارے زیرِ بحث مسئلے میں غور فرمائیے کہ ایک فریق ’’وفاتِ مسیح‘‘ ثابت کرنا چاہتا ہے اور وہ لفظ ’’مُتَوَفِّیْکَ‘‘ کو دلیل میں پیش کرتا ہے۔ اس کے مقابلے میں مسلمان حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے ’’رفع إلی السماء‘‘ کے قائل ہیں اور وہ دلیل میں’’وَرَافِعُکَ اِلَیَّ‘‘اور’’وَمَا قَتَلُوْہُ یَقِیْنًام بَلْ رَّفَعَہُ اللہُ اِلَیْہِ‘‘ کو پیش کرتے ہیں۔ مسلمانوں کے اِستدلال کی قطعیت تو اسی سے ثابت ہے کہ از اوّل تا آخر پوری اُمت نے ان آیتوں میں رفع الی اللہ سے رفعِ جسمانی مراد لیا ہے۔ اس کے برعکس جو فریق لفظ ’’مُتَوَفِّیْکَ‘‘ سے اس متواتر عقیدے کی نفی کرکے حضرت مسیح کی موت ثابت کرنے کے درپے ہے، یہ فرض اس پر عائد ہوتا ہے کہ وہ یہ ثابت کرے کہ اس لفظ ’’مُتَوَفِّیْکَ‘‘ سے بغیر کسی اِختلاف کے موت کے معنی مراد لئے گئے ہیں اور پوری کی پوری اُمت اسی ایک معنی پر متفق ہے، جس میں کسی دُوسرے اِحتمالِ صحیح کی گنجائش نہیں، اور مسلمانوں کی طرف سے اگر یہ ثابت کردیا جائے کہ اس لفظ کی اور بھی صحیح توجیہات ہوسکتی ہیں اور علمائے راسخین نے کی بھی ہیں، تو ’’إذا جاء
450
الْإحتمال بطل الْإستدلَال‘‘ کے قاعدے سے اس فریق کا اِستدلال اَزخود باطل ہوجاتا ہے جو اس لفظ سے وفاتِ مسیح ثابت کرنا چاہتا ہے۔ اس تقریر سے جناب کو اِحساس ہوا ہوگا کہ ’’مُتَوَفِّیْکَ‘‘ کے لفظ میں تفسیری اِختلاف کا جو ہوّا کھڑا کیا جاتا ہے وہ خود انہی لوگوں کو مضر ہے، وہ غلطی سے وفاتِ مسیح کے قائل ہیں، مسلمانوں کو ذرا بھی مضر نہیں، کیونکہ یہ لفظ انہی لوگوں کا مدارِ اِستدلال ہے، مسلمانوں کا مدارِ اِستدلال ہی نہیں، مسلمانوں کا مدار جس لفظ پر ہے وہ لفظ ’’رفع‘‘ ہے اور یہ باجماعِ مفسرین رفعِ جسمانی کے لئے ہے۔
مجہول لوگوں کے حوالے حجت نہیں:
۶: … آنجناب نے سراج الدین کی ’’حریدۃ العجائب وفریدۃ الرغائب‘‘ سے اور شیخ محمد اکرم صابری کی ’’اقتباس الانوار‘‘ سے بعض لوگوں کا یہ قول نقل کیا ہے کہ نزولِ عیسیٰ سے بروزِ عیسیٰ مراد ہے۔ اگرچہ جناب کو تسلیم ہے کہ خود شیخ صابری نے ان لوگوں کی یہ کہہ کر تردید کردی ہے کہ: ’’وایں مقدمہ بغایت ضعیف است‘‘ (یہ نظریہ حد سے زیادہ کمزور ہے) لیکن آپ کا کہنا ہے کہ: ’’اس گروہ کا پایا جانا ضروری ہے مسلمانوں میں۔‘‘ میری گزارش یہ ہے کہ ایسے برخود غلط لوگ اب بھی ہیں، یقینا پہلے زمانے میں بھی کچھ سرپھرے ضرور ہوئے ہوں گے، لیکن ایسے مبہم اور مجہول لوگ جن کا پتا نشان تک تاریخ کی کروٹوں کے نیچے دب کر مٹ چکا ہے، ان کو کسی علمی بحث میں بطورِ سند پیش کرنا اور اس کے ذریعے اسلامی عقائد پر خاک ڈالنے کی کوشش کرنا، کیا کسی سلیم القلب اور صحیح الفطرت آدمی کا کام ہوسکتا ہے؟ نظریات و اَفکار کے نگارخانے میں ہزاروں نہیں لاکھوں آئے اور اپنے اپنے کرتب دِکھاکر چلتے بنے، مگر ایک مؤمن کے لئے ان مداریوں کے نظریاتی شعبدوں میں کیا کشش ہوسکتی ہے؟ اس کے لئے خدا و رسول کے فرمودات اور سلف صالحینؒ اور اکابر مجدّدینؒ کا مسلک و عقیدہ ہی موجبِ اِطمینان ہے۔ ایسے مجہول الذات اور مجہول الاسم لوگوں کے اقوال کو اُچک کر سینے سے چمٹالینا انہی لوگوں کا کام ہوسکتا ہے جن کا رشتۂ اِیمان
451
کٹ چکا ہو اور وہ وبال و ضلال کی وادیوں میں اپنے پیشروؤں کی طرح بھٹک رہے ہوں۔۔۔!
کیا محققین نزولِ مسیح کے منکر ہیں؟
جناب نے ’’بعض محققینِ ملتِ اسلامیہ‘‘ کا موقف نقل کیا ہے کہ ’’اُمتِ محمدیہ میں کسی مسیح و مہدی کی ضرورت نہیں، چونکہ دِینِ محمدی مکمل و اکمل ہے۔‘‘ اور جناب نے خود بھی اسی پر صاد کرتے ہوئے فرمایا ہے کہ: ’’یہی عقیدہ صحیح ہے‘‘۔ یہاں دو باتیں گوش گزار کرنے کی جسارت کروں گا۔ ایک یہ کہ زمانۂ سابق میں ملاحدہ و زَنادقہ کا ایک ٹولہ ایسا ہوا ہے جو اس عقیدۂ متواترہ کا منکر تھا، اور جن کو اَئمۂ دِین نے اہلِ شریعت اور ملتِ اسلامیہ سے خارج قرار دیا تھا (جیسا کہ عقیدہ سفارینیؒ اور علامہ سیوطیؒ کا حوالہ پہلے نقل کرچکا ہوں)، اور دورِ جدید میں مسٹر پرویز وغیرہ یہی نظریہ رکھتے ہیں۔ اگر ’’بعض محققینِ ملتِ اسلامیہ‘‘ سے جناب کی مراد اسی قماش کے لوگ ہیں، تو میں جناب سے گزارش کروں گا کہ صرف ’’عقیدۂ نزولِ مسیح‘‘ پر کیا منحصر ہے، ان ’’محققین‘‘ کی پیروی میں نماز، روزہ، زکوٰۃ، قربانی، وحی، ملائکہ، شیاطین وغیرہ وغیرہ کسی بھی چیز کی ۔۔۔بقول ان کے۔۔۔ اُمتِ محمدیہ کو ضرورت نہیں رہتی، بس ایک سرے سے دُوسرے سرے تک سارے دِین کا صفایا کردیجئے۔ اور اگر ’’بعض محققین‘‘ سے جناب کی مراد کچھ اور حضرات ہیں تو مجھے ان کے اسمائے گرامی معلوم کرکے بڑی خوشی ہوگی۔ میں یہ جاننا چاہوں گا کہ اِمام ابوحنیفہؒ، اِمام مالکؒ، اِمام احمد بن حنبلؒ، اِمام غزالی،ؒ پیرانِ پیر شاہ عبدالقادر جیلانی،ؒ اِمام ابنِ تیمیہؒ، اِمام ابنِ قیمؒ، مجدّد الف ثانی،ؒ شاہ ولی اللہ محدث دہلویؒ وغیرہ وغیرہ ہزاروں اکابر سے بڑھ کر کون ’’محققین‘‘ جناب کے ذہن میں ہیں، جن کا حوالہ دے کر ان اکابر کی تکذیب فرمائی جارہی ہے۔۔۔؟ نہیں۔۔۔! میں نے بات بہت نیچے سے شروع کی۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم، صحابہ کرامؓ اور تابعین عظامؒ سے بڑا ’’دِین کا محقق‘‘ آپ کس کو مانتے ہیں؟ یہ سارے اکابر تو حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے آنے کا اِعلان فرماتے ہیں، ان اکابر کے کچھ حوالے تو عرض کرہی چکا ہوں، اور جتنے آپ چاہیں عرض کرنے کو حاضر ہوں۔ کاش! آپ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اور سلف
452
صالحینؒ کے فرمودات پر اِعتماد کرکے اپنے ان ’’محققین‘‘ کی کج ادائی کا تماشا دیکھتے، وَبِاللہِ التَّوْفِیْقُ!
۷: … دُوسری گزارش میں آپ سے یہ کرنا چاہتا ہوں کہ کسی عقیدے کو صحیح یا غلط ٹھہرانا، میرا آپ کا کام نہیں، بلکہ ہمارا منصب، خدا و رسول کے بتائے ہوئے اس راستے پر چلنا ہے جس پر صحابہؓ و تابعینؒ چلے، اور جسے اکابرِ اُمت اور مجدّدینِ ملت نے نسلاً بعد نسلٍ تواتر وتسلسل کے ساتھ اپنایا۔ پہلی صدی سے لے کر ہماری رواں صدی تک، جس دور اور جس زمانے کے بارے میں آپ فرمائیں، میں اس کا ثبوت دینے کو تیار ہوں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے لے کر ہم تک، ہر زمانے کے مسلمان یہی عقیدہ رکھتے تھے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام اس اُمت میں دوبارہ تشریف لائیں گے (اور ذہن میں رکھئے کہ بات عام مسلمانوں کی نہیں کر رہا ہوں، بلکہ ان اکابر و اعاظم کی جن کا قرآن و حدیث کے دریائے ناپیداکنار میں غوطہ لگانے کے سوا کوئی مشغلہ ہی نہ تھا) کیا اس ثبوت و قطعیت کے بعد بھی کسی کو کوئی نیا نظریہ دِین کے معاملے میں تراشنے کا حق ہوگا۔۔۔؟
رہا آپ کا یہ ارشاد کہ: ’’قرآنی آیت خاتم النبیین اور حدیثِ صحیح:’’لَا نبی بعدی‘‘ میں انقطاعِ نبوّت کا ذِکر ہے، ’’لَا نبی بعدی‘‘ میں ’’لَا‘‘ ‘ نفیٔ جنس ہے، جو نکرہ پر داخل ہے، جس کا معنی یہ ہے کہ نہ کوئی نیا نبی آسکتا ہے، نہ پرانا، نبوّت ہر قسم کی بند ہے۔‘‘ جناب کو اس جگہ متعدّد غلط فہمیاں ہوئی ہیں۔
اوّل: … یہ کہ جس طرح ختمِ نبوّت کی احادیث متواتر ہیں، ٹھیک اسی طرح حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے دوبارہ آنے کی احادیث بھی متواتر ہیں، اگر حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی تشریف آوری کا عقیدہ، ختمِ نبوّت کے منافی ہوتا تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اس کی متواتر خبر کیوں دیتے؟
دوم: … یہ کہ حدیثِ صحیح میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا یہ اِرشاد نقل کیا ہے جو انہوں نے حضراتِ انبیائے کرام علیہم السلام کی بھری محفل
453
میں فرمایا تھا کہ: ’’میرے رَبّ کا مجھ سے عہد ہے کہ قربِ قیامت دجال نکلے گا، تو میں اس کو قتل کروں گا۔‘‘
(مسندِ احمد ج:۱ ص:۳۷۵، ابنِ ماجہ ص:۳۰۹، مستدرک حاکم ج:۴ ص:۴۸۸ و۵۴۵، فتح الباری ج:۱۳ ص:۷۹)
اب انصاف فرمائیے کہ کیا اللہ تعالیٰ کو عیسیٰ علیہ السلام کے ساتھ عہد کرتے وقت معلوم نہیں تھا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم خاتم النبیین ہیں؟ اور پھر کیا حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو، حاضرینِ محفل انبیائے کرام علیہم السلام کو، اور خود آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو ختمِ نبوّت کا مسئلہ معلوم نہیں تھا؟ اور صحابہ کرامؓ سے لے کر مجدّد الف ثانی ؒؒ تک تمام اکابرِ اُمت جو حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے آنے پر اِیمان رکھتے تھے، یہ سب کے سب آیت خاتم النبیین اور حدیث: ’’لَا نبی بعدی‘‘ کے معنی سے بے خبر تھے؟ آپ جو اپنی علمی قابلیت کے زور سے یہ منوانا چاہتے ہیں کہ ’’لَا نبی کے معنی یہ ہیں کہ نہ تو کوئی نیا نبی آسکتا ہے، نہ پرانا‘‘ اگر آپ کی یہ سینہ زوری چل جائے تو کیا اس سے خدا تعالیٰ کی، انبیاء علیہم السلام کی، آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی، صحابہؓ و تابعینؒ کی، اَئمۂ دِین کی، مجدّدینِ اُمت کی، اکابرِ ملت کی تجہیل وتکذیب لازم نہیں آئے گی؟ عقل و شعور اور فہم و اِدراک کی دولت اللہ تعالیٰ نے آنجناب کو بھی دے رکھی ہے، اس سے تھوڑا سا کام لے کر سوچئے کہ آج جو معنی اس حدیث کے آپ اِیجاد فرما رہے ہیں، آپ سے پہلے کسی کو بھی آخر کیوں نہ سوجھے؟ صد حیف! کہ تشریح آپ خدا و رسول کے کلام کی فرما رہے ہیں، مگر تشریح ایسی کہ تکذیب اس سے تمام اکابرِ اُمت ہی کی نہیں، خود خدا و رسول کی بھی ہو رہی ہے۔ کیا آپ کے خیال میں قرآن و حدیث پہلی بار آپ ہی کے ہاتھ لگے ہیں؟ یا یہ کہ آپ سے پہلے عربی زبان سے کوئی واقف تھا ہی نہیں۔۔۔؟
سوم: … آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا اِرشادِ مقدس:’’لَا نبی بعدی‘‘ بالکل برحق ہے، مگر آپ نے تھوڑی سی زحمت ’’بعدی‘‘ کے لفظ پر غور کرنے کی بھی فرمائی ہوتی، جس کا مطلب یہ ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے منصبِ نبوّت پر فائز ہونے کے بعد اَب کسی کو نبوّت نہ ملے گی، اور جو شخص آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد حصولِ نبوّت کا دعویٰ کرے،
454
وہ دجال و کذّاب شمار ہوگا۔ اسی کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دُوسرے عنوان سے یوں فرمایا ہے: ’’لَا نبوّۃ بعدی‘‘ کہ میرے بعد نبوّت نہیں، اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے بارے میں کون کہتا ہے کہ ان کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد نبوّت ملے گی؟ ان کو تو نبوّت آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے پونے چھ سو سال پہلے مل چکی ہے۔ خلاصہ یہ کہ ’’لَا نبی بعدی‘‘ ‘ کا اِرشاد آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد حصولِ نبوّت کی نفی کرتا ہے، جن انبیائے کرام علیہم السلام کو نبوّت آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے پہلے مل چکی ہو، ان کے آنے کی نفی نہیں کرتا۔ آپ نے اپنے گرامی نامے کے صفحہ:۴ پر حافظ ابنِ حجرؒ کو ’’شیخ الاسلام‘‘ لکھا ہے، اگر میری بات پر اِعتبار نہیں تو اپنے ’’شیخ الاسلام‘‘ پر ہی اِعتبار کرلیجئے! وہ لکھتے ہیں:
’’فوجب حمل النفی علٰی إنشاء النبوّۃ لکل أحد من الناس لَا علیٰ وجود نبی قد نبیٔ قبل ذٰلک۔‘‘
(الاصابہ فی تمییز الصحابہ ج:۱ ص:۴۲۵)
ترجمہ: … ’’پس لَا نبی بعدی کی نفی کو اس معنی پر محمول کرنا واجب ہے کہ آئندہ کسی شخص کے حق میں نبوّت کا اِنشا و حصول نہیں ہوگا، اس سے کسی ایسے نبی کے وجود کی نفی نہیں ہوتی جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے پہلے منصبِ نبوّت سے سرفراز کیا جاچکا ہو۔‘‘
اس قسم کی عبارتوں کا ایک بڑا ذخیرہ میرے سامنے ہے، لیکن ماننے والوں کے لئے یہی ایک حوالہ کافی ہے، اور نہ ماننے والوں کے لئے دفتر بھی بے کار ہے۔ ان کی ’’میں نہ مانوں‘‘ کا علاج ہی کب ممکن ہے؟ خیر کسی کے ماننے نہ ماننے سے کیا غرض! اپنا کام منوانا نہیں، سمجھانا ہے، کوئی سمجھنا چاہے تو اس کی سعادت، نہ چاہے تو اس کی قسمت۔ اس لئے دو حوالے تو اور سن ہی لیجئے، پہلا حوالہ اِمام ابنِ حزمؒ کا ہے، وہ کتاب ’’الفصل‘‘ میں بعض کج رو لوگوں پر گرفت کرتے ہوئے لکھتے ہیں:
’’وھٰذا مع سماعھم قول اللہ تعالٰی: ’’وَلٰـکِنْ
455
رَّسُوْلَ اللہِ وَخَاتَمَ النَّبِیّٖنَ‘‘ وقول رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم: ’’لَا نبی بعدی‘‘ فکیف یستجیز مسلم ان یثبت بعدہ علیہ السلام نبیًّا فی الأرض حاشا ما استثناہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فی الآثار المسندۃ الثابتۃ فی نزول عیسَی بن مریم علیہ السلام فی آخر الزمان۔‘‘
(کتاب الفصل ج:۳ ص:۱۸۰)
ترجمہ: … ’’اور یہ لوگ حق تعالیٰ کا اِرشاد’’وَلٰـکِنْ رَّسُوْلَ اللہِ وَخَاتَمَ النَّبِیّٖنَ‘‘ اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا اِرشاد: ’’لَا نبی بعدی‘‘ سننے کے بعد ایسی باتیں کرتے ہیں، پس کوئی مسلمان اس بات کو جائز رکھے گا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد زمین کسی نبی کا وجود ثابت کرے؟ ہاں! جس شخصیت کو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے آثارِ مسندہ ثابتہ میں خود ہی مستثنیٰ فرمایا ہے یعنی عیسیٰ بن مریم علیہ السلام کا آخری زمانے میں نازل ہونا، وہ البتہ اس سے مستثنیٰ ہیں۔‘‘
اور دُوسرا حوالہ تیرھویں صدی کے شیخ الاسلام علامہ سیّد محمود آلوسی بغدادیؒ تفسیر ’’رُوح المعانی‘‘ کے مؤلف کا ہے، وہ آیتِ کریمہ: ’’وَلٰـکِنْ رَّسُوْلَ اللہِ وَخَاتَمَ النَّبِیّٖنَ‘‘ کے ذیل میں تحریر فرماتے ہیں:
’’ولَا یقدح فی ذٰلک ما اجمعت الاُمّۃ علیہ واشتھرت فیہ الأخبار ولعلھا بلغت مبلغ التواتر المعنوی ونطق بہ الکتاب علیٰ قول ووجب الْإیمان بہ واکفر منکرہ کالفلاسفۃ من نزول عیسٰی علیہ السلام آخر الزمان لأنہ کان نبیًّا قبل تحلّی نبینا صلی اللہ علیہ
456
وسلم بالنبوّۃ فی ھٰذا النشأۃ۔‘‘
(تفسیر رُوح المعانی ج:۲۲ ص:۳۴)
ترجمہ: … ’’اور اس (ختمِ نبوّت) میں رخنہ انداز نہیں وہ عقیدہ جس پر اُمت کا اِجماع ہے، جس میں احادیث مشہور ہیں، جو غالباً تواترِ معنوی کی حد کو پہنچتی ہیں، جس پر کتابُ اللہ ناطق ہے، جس پر اِیمان لانا واجب ہے اور جس کے منکر کو، جیسے کہ فلاسفہ، کافر قرار دیا گیا ہے، میری مراد آخری زمانے میں عیسیٰ علیہ السلام کے نزول کا عقیدہ ہے۔ (اور یہ عقیدہ ختمِ نبوّت کے منافی اس لئے نہیں کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد نبوّت نہیں ملے گی) اس لئے کہ وہ تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے اس عالمِ وجود میں زیورِ نبوّت سے آراستہ ہونے سے پہلے ہی نبی تھے۔‘‘
اگر جناب واقعتا اِفہام و تفہیم کے جذبے سے ملاحظہ فرمائیں تو یہی ایک حوالہ جناب کی ساری غلط فہمیوں کے دُور کرنے کے لئے کافی ہوسکتا ہے، اس لئے اسی پر اپنے ٹوٹے پھوٹے الفاظ کو ختم کرتا ہوں، وَاللہُ یَھْدِیْ مَنْ یَّشَآئُ اِلٰی صِرَاطٍ مُّسْتَقِیْمٍ!
اور ہاں! یہ تو عرض کرنا ہی بھول گیا کہ حضرت مہدی علیہ الرضوان کا ظاہر ہونا یا حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا نازل ہونا ہمارے دِین کی تکمیل کے لئے نہیں۔ دِین بلاشبہ چودہ سو سال سے کامل ومکمل چلا آرہا ہے، ان حضرات کی آمد دِین کی تکمیل کے لئے نہیں، بلکہ تنفیذ (نافذ کرنے) کے لئے ہوگی۔ منشائے خداوندی یہ ہے کہ قیامت سے پہلے تمام اَدیان کو مٹاکر اِنسانیت کو دِینِ اسلام پر جمع کردیا جائے۔ پس حضرت مہدیؓ اُمتِ محمدیہ کی اِصلاح کے لئے اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام فتنۂ دجال (جو یہودی ہوگا) کو فرو کرنے اور یہود و نصاریٰ کے شرور و تحریفات کو مٹانے کے لئے آئیں گے۔ اس ناکارہ نے کوشش کی ہے کہ آنجناب کے تمام شبہات کو ایک ایک کرکے صاف کردیا جائے، آنجناب نے اپنے خط
457
میں تحریر فرمایا تھا کہ آپ محض حق طلبی کے لئے خط لکھ رہے ہیں۔ اس لئے اب میں آنجناب سے بجاطور پر توقع رکھتا ہوں کہ آپ انصاف و دیانت سے کام لیتے ہوئے عقیدۂ نزولِ عیسیٰ علیہ السلام پر اِیمان رکھیں گے، اور اُمت کے اس اِجماعی اور قطعی عقیدے سے اِنحراف کرکے ملحدین کی صف میں شامل نہیں ہوں گے۔ وَاللہُ الْمُوَفِّقُ لِکُلِّ خَیْرٍ وَّسَعَادَۃٍ!
فقط
محمد یوسف لدھیانوی
۲۶؍۱۲؍۱۳۹۹ھ
458
عقیدۂ حیاتِ سیّدنا مسیح علیہ السلام
مدیر ’’پیغامِ صلح‘‘ کے جواب میں
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ
اَلْحَمْدُ لِلہِ وَسَلَامٌ عَلٰی عِبَادِہِ الَّذِیْنَ اصْطَفٰی!
مکرم ومحترم جناب پروفیسر خلیل الرحمن صاحب! زیدت عنایاتہم
میرے خط محرّرہ ۹؍جون ۱۹۷۷ء کا جواب بذریعہ ’’پیغامِ صلح‘‘ (۳؍اگست ۱۹۷۷ء) مجھے موصول ہوا، اور میں نے بڑی دِلچسپی سے اس کا مطالعہ کیا۔ جواباً چند گزارشات پیشِ خدمت ہیں:
۱: … میں نے عرض کیا تھا کہ کسی اِسلامی عقیدے کا ثبوت ۱-یا تو قرآنِ کریم سے ہوسکتا ہے، ۲-یا حدیثِ متواتر سے، ۳-یا اِجماعِ اُمت سے، اور یہ کہ حیاتِ عیسیٰ علیہ السلام کا عقیدہ قرآنِ کریم، حدیثِ متواتر اور اِجماعِ اُمت تینوں سے ثابت ہے، اس کے بعد میں نے ان تینوں کے حوالے علی الترتیب پیش کئے تھے، جن کا اِنکار آپ نہیں کرسکے، مگر ان کے جواب میں آپ فرماتے ہیں کہ: ’’میرے لئے قرآن سے باہر کوئی دلیل منظور نہیں‘‘ گویا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے متواتر اِرشادات، اور اَئمہ ہدیٰ کے متفق علیہ واِجماعی عقائد کی آپ کے نزدیک کوئی قیمت نہیں، آپ صرف قرآن کو مانتے ہیں، اور اس کی تفسیر بھی صرف وہی، جو آنجناب کے ذہنِ عالی میں آئے، اس کے علاوہ کوئی تفسیر آپ کے لئے قابلِ قبول نہیں، خواہ وہ پوری اُمت کی متفقہ ومُسلَّمہ ہو، اور خواہ وہ آپ کے ’’مأمور من اللہ‘‘ کی تفسیر ہو۔
حیاتِ عیسیٰ علیہ السلام کو تو قبول کیجئے یا نہ کیجئے، آپ کی اپنی صوابدید ہے، مگر یہ
459
گزارش ضرور کروں گا کہ آپ نے حیاتِ عیسیٰ علیہ السلام کے عقیدے سے گریز اِختیار کرنے کا جو راستہ اپنایا ہے، وہ بڑا ہی خطرناک راستہ ہے، اور اس کی وجوہ حسبِ ذیل ہیں:
اوّلاً: … میں آپ کے سامنے قرآنِ کریم اور آپ کے مُسلَّمہ مأمور من اللہ کی اِلہامی تفسیر پیش کروں، آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے اِرشاداتِ متواترہ کا حوالہ دُوں، گزشتہ صدیوں کے اِجماعِ سلف صالحین کو ذِکر کروں، اور آپ ہر ایک کے جواب میں ’’نامنظور!‘‘ کا لفظ کہہ کر فارغ ہوجائیں، تو اِنصاف سے کہئے کہ پھر میں کسی اِسلامی عقیدے کے ثبوت میں اور کیا پیش کروں۔۔۔؟ بقول سعدیؒ:
-
ہر کس کہ بہ قرآن وخبر زد نرہی
آنست جوابش کہ جوابش ندہی
ترجمہ: … ’’جو شخص، کہ قرآن وحدیث کا حوالہ دے کر بھی تم اس سے عہدہ برآ نہ ہوسکو، اس کا جواب یہی ہے کہ اس کو جواب نہ دو۔‘‘
ثانیاً: … خود قرآنِ کریم کا ثبوت بھی تواتر سے ہے، اگر تواتر ہی آپ کے لئے ’’نامنظور‘‘ ہو تو قرآنِ کریم کا قطعی ثبوت آپ کس دلیل سے پیش کریں گے۔۔۔؟
ثالثاً: … جناب مرزا صاحب فرماتے ہیں:
’’تواتر ایک ایسی چیز ہے کہ اگر غیرقوموں کی تواریخ کے رُو سے بھی پایا جائے تو تب بھی ہمیں قبول کرنا ہی پڑتا ہے۔‘‘
(اِزالہ اوہام ص:۵۵۶، رُوحانی خزائن ج:۳ ص:۳۹۹)
اور پھر تواتر سے جو علم حاصل ہوتا ہے، وہ آنکھوں دیکھی چیز کی طرح قطعی اور بدیہی ہوتا ہے، اس میں کبھی کسی نادان بچے کو بھی شک نہیں ہوتا، مگر کتنے تعجب کی بات ہے کہ اُمتِ محمدیہ کے ثقہ اور اَمین لوگوں کے تواتر کو آپ حیاتِ عیسیٰ علیہ السلام سے بچنے کے لئے ’’نامنظور!‘‘ فرما رہے ہیں۔ اِنصاف فرمائیے کہ عقلاء کو آپ کے اس ’’نامنظور‘‘ کے بارے میں کیا رائے قائم کرنی چاہئے۔۔۔؟
460
رابعاً: … آپ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے متواتر اِرشادات کو ’’نامنظور‘‘ فرما رہے ہیں، مگر جناب مرزا صاحب کی وصیت یہ ہے:
-
کیوں چھوڑتے ہو لوگو! نبی کی حدیث کو
جو چھوڑتا ہے چھوڑ دو تم اس خبیث کو
(ضمیمہ تحفہ گولڑویہ ص:۲۷، رُوحانی خزائن ج:۱۷ ص:۷۸)
آپ اَئمہ اہلِ سنت کے اِجماعی عقیدے کو نامنظور کہہ کر مسترد کر رہے ہیں، مگر جناب مرزا صاحب کی تصریح یہ ہے کہ:
’’وہ تمام اُمور جن پر سلف صالحین کو اِعتقادی اور عملی طور پر اِجماع تھا، اور وہ اُمور جو اہلِ سنت کی اِجماعی رائے سے اِسلام کہلاتے ہیں، ان سب کا ماننا فرض ہے۔‘‘
(ایامِ صلح ص:۹۷، رُوحانی خزائن ج:۱۴ ص:۳۲۳)
’’اور جس شخص نے اس شریعت میں ایک ذرّے کی کمی بیشی کی، یا کسی اِجماعی عقیدے کا اِنکار کیا، اس پر خدا کی لعنت، فرشتوں کی لعنت اور تمام اِنسانوں کی لعنت۔‘‘
(انجامِ آتھم ص:۱۴۴، رُوحانی خزائن ج:۱۱ ص:۱۴۴)
خامساً: … اگر آپ قرآن سے باہر کوئی دلیل قبول نہیں کرتے تو آپ کے اور مسٹر غلام احمد پرویز کے مسلک میں کیا فرق رہ جاتا ہے؟ اہلِ قرآن بھی تو یہی نعرہ لگاتے ہیں کہ قرآن سے باہر کوئی دلیل، اور ان کی خود تراشیدہ تفسیر کے سوا کسی بڑی سے بڑی شخصیت کی تفسیر ان کے لئے لائقِ قبول نہیں، بلکہ خوارج، جہمیہ، معتزلہ، باطنیہ وغیرہ سے لے کر دورِ حاضر کے پڑھے لکھے جاہلوں تک سب کا موقف یہی رہا ہے کہ سلف صالحین پر اِعتماد نہ کیا جائے، بلکہ جو کچھ اپنی عقل میں آئے، اسی کو قرآن کے نام پر پیش کیا جائے۔
مجھے معاف کیجئے! اگر میں گزارش کروں کہ ایمان کی حفاظت اور دِین کی سلامتی کا واحد راستہ سلف صالحین کی اِقتدا، اور گزشتہ صدیوں کے اَئمۂ ہدیٰ کی پیروی ہے، اور یہ
461
میری اِختراعی رائے نہیں، بلکہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اور تمام مجدّدینِ اُمت کی یہی وصیت ہے، اس لئے ہمیں کسی عقیدے کے صحیح یا غلط ہونے کا فیصلہ کرنے کے لئے یہ دیکھنا ہوگا کہ صحابہؓ وتابعینؒ اور سلف صالحینؒ کا عقیدہ کیا تھا؟ اور انہوں نے قرآنِ کریم اور اِرشاداتِ نبویہ کا کیا مطلب سمجھا تھا؟ پس جبکہ میں نے حیاتِ عیسیٰ علیہ السلام کا ثبوت قرآنِ کریم اور حدیثِ متواتر سے پیش کرنے کے ساتھ یہ بھی ثابت کردیا تھا کہ تیرہ سو سال سے تمام اکابرِ اُمت کا عقیدہ بھی یہی چلا آتا ہے تو اس کے بعد آنجناب کا یہ کہنا قطعاً قرینِ اِنصاف نہیں کہ آپ نہ تو قرآنِ کریم سے باہر کوئی دلیل قبول کرنے کے لئے تیار ہیں، نہ کسی اُصول اور ضابطے کی پابندی کے لئے آمادہ ہیں، کیونکہ آنجناب کے اس اِرشاد کا مطلب تو یہ ہے کہ آپ سے پہلے کسی نے قرآنِ کریم کو نہیں سمجھا، نہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے، نہ صحابہؓ وتابعینؒ نے، نہ اَئمہ مجدّدینؒ نے، بلکہ یہ سب کے سب ۔۔۔نعوذباللہ۔۔۔ فہمِ قرآن سے عاری، اور اپنی اٹکل پچو رائے کے پیرو تھے۔ یہاں میں آنجناب کو اِمامِ ربانی مجدّد الف ثانی رحمۃ اللہ علیہ کا ایک فقرہ یاد دِلاؤں گا:
’’جماعت کہ ایں اکابر دین را اصحاب رائے میدانند اگر ایں اعتقاد دارند کہ ایشاناں بہ رائے خود حکم میکردند ومتابعت کتاب وسنت نمے نمودند پس سوادِ اعظم از اہلِ اسلام بزعم فاسد ایشاں ضال ومبتدع باشند بلکہ از جرگہ اہلِ اسلام بیروں بوند۔ ایں اعتقاد نکند مگر جاہلے کہ از جہل خود بے خبر است یا زندیقے کہ مقصودش ابطال شطر دین است۔‘‘
(مکتوبات اِمامِ ربانی دفترِ دوم، مکتوب:۵۵ ج:۲ ص:۱۵۵)
ترجمہ: … ’’جو لوگ ان اکابرِ دِین کو ’’اَصحابِ رائے‘‘ سمجھتے ہیں، اگر وہ یہ اِعتقاد رکھتے ہیں کہ یہ حضرات اپنی رائے سے حکم کرتے تھے، اور کتاب وسنت کی پیروی نہیں کرتے تھے تو مسلمانوں کا سوادِ اَعظم ان کے زعمِ فاسد کے مطابق گمراہ اور بدعتی ٹھہرے گا، بلکہ اہلِ اسلام کی جماعت ہی سے خارج ہوگا۔ ایسا
462
نظریہ یا تو اس جاہل کا ہوسکتا ہے، جو اپنی جہالت سے بے خبر ہو، یا ایسے زِندیق کا، جس کا مقصود دِینِ اسلام کے ایک حصے کو باطل ٹھہرانا ہو۔‘‘
۲: … میں نے سب سے پہلے عقیدۂ حیاتِ عیسیٰ علیہ السلام پر قرآن کی آیت، اور اس کے ذیل میں جناب مرزا صاحب کی اِلہامی تفسیر پیش کی تھی، اور لکھا تھا کہ یہ آیت ہمارے زیرِ بحث عقیدے میں قطعی الثبوت بھی ہے، اور قطعی الدلالۃ بھی، اور خدا تعالیٰ کی قطعی پیش گوئی پر اِیمان لانے میں پس وپیش کرنا کسی مؤمن کا شیوہ نہیں، آنجناب نے اس کا جو جواب دِیا ہے، وہ میرے لئے سرمایۂ صد حیرت ہے، آنجناب لکھتے ہیں:
’’آپ یہ بھول گئے ہیں کہ براہین احمدیہ حصہ چہارم ۱۸۸۴ء میں شائع ہوا، اور حضرت مسیح علیہ السلام کی وفات کا راز آپ پر (یعنی مرزا صاحب پر) ۱۸۹۰ء میں اس اِلہام کے ذریعے منکشف ہوا: ’’مسیح بن مریم فوت ہوگیا ہے،وجعلناک المسیح بن مریم۔‘‘ اس کے مدِ نظر آپ نے ۱۸۹۱ء میں دعویٰ مسیحِ موعود تک قرآنِ کریم کی روشنی میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے دی گئی اِطلاع کو جانچا اور پرکھا، جب آپ کو یقین ہوگیا کہ قرآنِ کریم وفاتِ مسیح کی تصدیق کرتا ہے تو آپ نے مسیحِ موعود ہونے کا دعویٰ کیا، اور اپنے وفاتِ مسیح کے عقیدے کی تائید میں قرآنِ کریم سے ۳۰ آیات پیش کیں، جو اِزالہ اوہام میں بالتفصیل مذکور ہیں، اس لئے آپ کو (یعنی راقم الحروف کو) چاہئے تھا کہ آپ ۱۸۹۱ء کے بعد کوئی تفسیر پیش کرتے، جس میں سے حضرت مرزا صاحب کا عقیدہ دوبارہ حیاتِ مسیح مستنبط ہوسکتا۔‘‘
میں صفائی سے عرض کردینا چاہتا ہوں کہ میں آپ کے اس جواب کو آنجناب ایسے بالغ نظر پروفیسر کی شان سے قطعاً فروتر سمجھتا ہوں، غالباً آنجناب نے مندرجہ ذیل
463
اُمور پر توجہ نہیں فرمائی:
اوّل: … سب سے پہلے تو ’’وفاتِ مسیح‘‘ کو ایک راز کہنا ہی سائنسی دُنیا میں ایک نیا اِنکشاف کہلانے کا مستحق ہے۔ جو مسئلہ بقول آپ کے قرآنِ کریم کی تیس آیتوں میں صراحۃً بیان کیا گیا، کیا اسے ’’راز‘‘ کہنا علم وعقل سے اِنصاف ہے؟ آپ جانتے ہیں کہ وضو کا مسئلہ قرآنِ کریم کی صرف دو آیتوں میں بیان کیا گیا ہے، کیا آپ دُنیا کے کسی عاقل کا نام بتاسکتے ہیں جو بقائمی ہوش وحواس وضو کو ایک ’’راز‘‘ سمجھتا ہو۔۔۔؟
دوم: … پھر اس ’’راز‘‘ کے لئے اِلہام کی کیا ضرورت تھی؟ کیونکہ مرزا صاحب سے پہلے جناب سرسیّد احمد خان بہادر کی نیچریت اس راز کا افشا کرچکی تھی، اور جناب حکیم نوردین، جناب مولوی عبدالکریم، جناب محمد احسن امروہوی وغیرہ سرسیّد کی تقلید میں وفاتِ مسیح کی منادی کر رہے تھے۔ سرسیّد کے نیچری نظریات کے زیرِ اَثر جس مسئلے کا اخبارات ورسائل میں غلغلہ بلند تھا، اسے نہ تو ’’راز‘‘ کہنا صحیح ہے، نہ اس کے ’’اِنکشاف‘‘ کے لئے اِلہام کی اِحتیاج۔۔۔!
سوم: … ایک طرف اُمت کا اِجماعی عقیدہ تھا کہ مسیح علیہ السلام زِندہ ہیں، دُوسری طرف سرسیّد اور اس کے رُفقاء کا نیچری عقیدہ تھا کہ مسیح مرگیا، عین اس حالت میں بقول آپ کے مرزا صاحب کو وفاتِ مسیح کا اِلہام ہوتا ہے، اور وہ اُمت کے اِجماعی عقیدے سے اِنحراف کرکے قرآن میں وفاتِ مسیح کا گمشدہ راز ڈھونڈھنے لگتے ہیں، ان پر یہ اِنکشاف ہوتا ہے کہ قرآن کی تیس آیتیں وفاتِ مسیح کی تصریح کرتی ہیں۔ آپ کی یہ تقریر جناب مرزا صاحب کے بارے میں بے حد بدظنی پیدا کرتی ہے، اور ان کی حیثیت کو یکسر مشکوک بنادیتی ہے، کیونکہ ایک غیرجانبدار یہ کہہ سکتا ہے کہ مرزا صاحب کا اِلہام، اور اس سے پیدا شدہ نظریات ودعاوی سرسیّد کے اَفکار کی صدائے بازگشت تھے۔ یہی وجہ ہے کہ جناب مرزا صاحب کو سب سے پہلے انہی لوگوں نے قبول کیا ہے، جو سرسیّد کے غالی معتقد تھے، وہاں نیچریت پر عقلیت کا غلبہ تھا، اور یہاں کشف واِلہام کا دبیز پردہ۔۔۔!
چہارم: … آنجناب نے مرزا صاحب کی زندگی کے دو دور تجویز کئے ہیں، پہلا
464
جوانی سے لے کر ۱۸۹۰ء تک کا، اور دُوسرا ۱۸۹۱ء سے آخر حیات تک کا۔ پہلے دور میں وہ حیاتِ مسیح کے قائل تھے، اور دُوسرے میں وفاتِ مسیح کے۔ پہلے دور میں وہ قرآنِ کریم سے عقیدۂ حیات پیش کرتے تھے، اور دُوسرے دور میں وفات کا عقیدہ۔ پہلے دور میں ان پر ظاہر کیا گیا تھا کہ مسیح علیہ السلام کی زندگی کے دو دور ہیں، اور یہ کہ انہیں مسیح کی پہلی زندگی سے مشابہت ہے، اور یہ کہ انہیں اللہ تعالیٰ نے مسیح کی پیش گوئی میں شریک کر رکھا ہے، اور یہ کہ آیت کا مصداق مسیح علیہ السلام کی جلالی آمد ہے، اور دُوسرے دور میں اس کے برعکس ان پر یہ ظاہر کیا گیا کہ مسیح کی زندگی کا بس ایک ہی دور تھا، جسے وہ پورا کرکے فوت ہوچکے ہیں۔ پہلے دور میں ان کو ’’وان عدتم عدنا‘‘ کا اِلہام ہوا تھا، جس میں مسیح علیہ السلام کے دوبارہ آنے کی پیش گوئی کی گئی تھی، اور دُوسرے دور میں اس کے برعکس اِلہام ہوا کہ مسیح مرگیا ہے، دوبارہ نہیں آئے گا۔
الغرض حیات ووفاتِ مسیح کے بارے میں مرزا صاحب کے دو عقیدے ہیں، دو تفسیریں ہیں، اور دو اِلہام ہیں، جو آپس میں متناقض ہیں، ہم اور آپ اتنی بات پر تو متفق ہیں کہ ان میں سے ایک صحیح ہے، اور ایک غلط۔ گویا مرزا صاحب کی اِعتقادی غلطی، تفسیری غلطی، اور اِلہامی غلطی تو ہماری طرح آنجناب کو بھی مُسلَّم ہے، اب دیکھنا یہ ہے کہ مرزا صاحب اپنے پہلے دور میں غلطی پر تھے یا دُوسرے دور میں؟ ہمارا کہنا یہ ہے کہ پہلے دور میں مرزا صاحب سلف صالحینؒ کے مسلک پر تھے، لہٰذا ان کا اس دور کا عقیدہ، اس دور کا اِلہام، اور ان کی اس دور کی اِلہامی تفسیر ہی قابلِ قبول ہے۔ اس کے مقابلے میں آنجناب کا خیال یہ ہے کہ جب تک مرزا صاحب، آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے اِرشاداتِ متواترہ، اور سلف صالحینؒ کے اِجماع سے متفق تھے، اس وقت تک تو ان کا عقیدہ بھی غلط تھا، ان کا فہمِ قرآن بھی غلط تھا، اور ان کا اِلہام بھی غلط تھا، جونہی انہوں نے سرسیّد احمد خان سے ہم نوائی کی، ان کا عقیدہ بھی صحیح ہوگیا، ان کے اِلہام بھی قابلِ اِعتبار ہوگئے، اور انہیں قرآنِ کریم بھی صحیح سمجھ آنے لگا۔ میں آنجناب ہی کو منصف بناتا ہوں کہ عقل واِنصاف کی میزان میں ہمارا موقف وزنی ہے یا آپ کا۔۔۔؟
465
پنجم: … آپ فرماتے ہیں کہ ۱۸۹۰ء میں مرزا صاحب پر وفاتِ مسیح کا راز منکشف ہوا، اور اس کے بعد انہوں نے وفاتِ مسیح کی تیس آیات ڈھونڈھ نکالیں۔ میں پوچھتا ہوں ۱۸۹۰ء تک یہ تیس آیات مرزا صاحب کو قرآنِ کریم میں کیوں نظر نہ آئیں؟ کیا یہ تیس آیات ۱۸۹۰ء کے بعد نازل ہوئی تھیں؟ یا اس سے پہلے جناب مرزا صاحب کے علم وفہم میں کچھ نقص تھا؟ آنجناب کی تحقیق کے مطابق اس وقت مرزا صاحب کی عمر ۵۵برس تھی، گویا وہ چالیس برس سے عاقل وبالغ تھے، اور پندرہ برس سے وہ اپنے مجدّد، محدث، ملہم اور مأمور من اللہ ہونے کا اِشتہار بھی دے رہے تھے، انہیں ساری دُنیا سے زیادہ فہمِ قرآن کا بھی دعویٰ تھا، سوال یہ ہے کہ مسلسل چالیس برس تک انہیں قرآنِ کریم کی یہ تیس آیتیں کیوں سمجھ نہ آئیں؟ اور مرزا صاحب کے فہمِ رسا کی رسائی ان تک کیوں نہ ہوئی؟ کیا یہ عجیب بات نہیں کہ سرسیّد تو قرآن کی ان آیات کا مطلب سمجھ جائے، لیکن مرزا صاحب نہ سمجھیں؟ اور پھر سوال صرف مرزا صاحب کا نہیں، بلکہ یہی سوال آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے لے کر صحابہؓ وتابعینؒ اور اَئمہ مجدّدینؒ کے بارے میں بھی پیدا ہوتا ہے کہ ان تیس آیات کا مطلب ان اکابرین نے کیوںنہ سمجھا؟ اور وہ تسلسل اور تواتر کے ساتھ حیاتِ عیسیٰ علیہ السلام کا عقیدہ کیوں رکھتے آئے؟ کیا قرآن کسی ایسی زبان میں نازل ہوا، جس کو صرف سرسیّد کی نیچریت، اور جناب مرزا صاحب کا اِلہام ہی سمجھ سکتا ہے۔۔۔؟
ششم: … دورِ اوّل میں جناب مرزا صاحب نے حیاتِ مسیح کا عقیدہ خود تحریر فرمایا، اس کے لئے قرآنِ کریم کی سند پیش کی، اور اس کی تائید میں اپنا اِلہام بھی پیش فرمایا، لیکن دُوسرے دور میں انہوں نے اس عقیدے کے بارے میں جو کچھ تحریر فرمایا، وہ مجھ سے زیادہ آپ کو معلوم ہے، مثلاً:
’’حضرت عیسیٰ کا زِندہ آسمان پر جانا محض گپ ہے۔‘‘
(ضمیمہ براہین احمدیہ حصہ پنجم ص:۱۰۰، رُوحانی خزائن ج:۲۱ص:۲۶۲)
’’بتلاؤ یہ اِیمان داری ہے یا بے اِیمانی؟‘‘
(ضمیمہ براہین احمدیہ ص:۱۱۸، رُوحانی خزائن ج:۲۱ ص:۲۸۴)
466
’’صاف اور صریح طور پر نصوصِ صریحہ قرآن شریف کے برخلاف ہے۔‘‘
(ضمیمہ براہین احمدیہ ص:۱۱۷، رُوحانی خزائن ج:۲۱ص:۲۸۳)
’’پس یہ کس قدر جھوٹ ہے۔‘‘
(ضمیمہ براہین احمدیہ ص:۱۱۸، رُوحانی خزائن ج:۲۱ص:۲۸۳)
’’محض جھوٹ کی حمایت۔‘‘
(ضمیمہ براہین احمدیہ ص:۲۰۴، رُوحانی خزائن ج:۲۱ ص:۳۷۷)
یہ بطورِ نمونہ چند فقرے نقل کئے ہیں، ورنہ ان کے اس قسم کے اِرشادات اس کثرت سے ہیں کہ ان کا اِحصا ممکن نہیں۔ اِنصاف فرمائیے کیا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے متواتر اِرشادات ۔۔۔نعوذباللہ۔۔۔ انہی خطابات کے مستحق ہیں؟ اور اُمتِ محمدیہ کے تمام اکابر مجدّدین ۔۔۔نعوذباللہ۔۔۔ محض گپیں ہانکتے رہے؟ قرآنِ کریم کے نصوصِ صریحہ کی صاف اور صریح طور پر خلاف ورزی کرتے رہے؟ بے ایمانی اور جھوٹ پر متفق رہے؟ اور محض جھوٹ کی حمایت کرتے رہے؟ اس بات کو بھی جانے دیجئے، صرف یہی دیکھئے کہ تبدیلیٔ عقیدہ کے بعد خود مرزا صاحب کی پہلی شخصیت کیسی نظر آتی ہے، اور ان کے تجویز فرمائے ہوئے القاب خود ان پر کیسے چسپاں نظر آتے ہیں؟ انہوں نے ’’براہین احمدیہ‘‘ میں قرآن واِلہام کے حوالے سے جب حیاتِ عیسیٰ علیہ السلام کا عقیدہ لکھا تھا، کیا یہ محض گپ تھی؟ خالص جھوٹ تھا؟ بے ایمانی تھی؟ صریح طور پر نصوصِ قطعیہ سے اِنحراف تھا۔۔۔؟
محترم پروفیسر صاحب! حق تعالیٰ نے آپ کو عقل وفہم کا جوہر عطا فرمایا، سوچئے اور اِنصاف کیجئے، اگر قرآنِ کریم کی تیس آیتوں میں واقعی وفاتِ مسیح کی تصریح کی گئی ہوتی تو کیا اُمتِ محمدیہ کے اکابر بقول مرزا صاحب کے، قرآن شریف کے نصوصِ صریحہ کے برخلاف عقیدہ رکھ سکتے تھے؟ محض گپ تراشی کرسکتے تھے؟ جھوٹ اور بے ایمانی کے مرتکب ہوسکتے تھے؟ کیا اس کے بجائے ہمارے لئے یہ آسان نہیں کہ ہم یہ یقین رکھیں کہ جناب مرزا صاحب کو اِلہام میں غلطی لگی ہے، اور پھر دُوسری غلطی ان سے یہ سرزد ہوئی کہ انہوں
467
نے قرآنِ کریم کو اس غلط ’’اِلہام‘‘ کے مطابق ڈھالنا شروع کردیا، جناب مرزا صاحب لکھتے ہیں:
’’من تفوہ بکلمہ لیس لہ (لھا) اصل صحیح فی الشرع ملھما کان أو مجتھدًا فبہ الشیاطین متلاعبہ۔‘‘
(آئینہ کمالاتِ اسلام ص:۲۱، رُوحانی خزائن ج:۵ ص:۲۱)
ترجمہ: … ’’جو شخص ایسا کلمہ منہ سے نکالے جس کی کوئی اصل صحیح شرع میں نہ ہو، خواہ وہ ملہم ہو یا مجدّد، پس شیاطین اس کے ساتھ کھیل رہے ہیں۔‘‘
گزارش یہ ہے کہ ایک طرف آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے لے کر چودہ صدیوں کے اکابرِ اُمت اور اَئمۂ ہدیٰ ہیں، اور دُوسری طرف جناب مرزا صاحب، ان دونوں فریقوں میں سے کسی ایک فریق کے بارے میں ماننا پڑے گا کہ بقول مرزا صاحب: ’’شیاطین اس کے ساتھ کھیل رہے ہیں۔‘‘ اب دیکھئے کہ حیاتِ عیسیٰ علیہ السلام کی کوئی اصل صحیح شرع میں موجود ہے یا نہیں؟ اگر نہیں تو ۔۔۔نعوذباللہ۔۔۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اور تمام اَئمہ مجدّدینؒ پر مرزا صاحب کا یہ فتویٰ عائد ہوتا ہے، اور اگر حیاتِ عیسیٰ علیہ السلام کا شرعی ثبوت موجود ہے تو یہی فتویٰ خود مرزا صاحب پر عائد ہونا چاہئے۔ غالباً آنجناب مرزا صاحب کے بجائے سلف صالحینؒ کو ’’شیاطین کے ہاتھ کا کھلونا‘‘ سمجھتے ہوں گے، مگر میں آپ کو اِطمینان دِلاتا ہوں کہ کسی فرد کے اِلہام واِجتہاد اور فہمِ قرآن میں تو غلطی لگ سکتی ہے، مگر پوری اُمت گمراہی پر متفق نہیں ہوسکتی، اور اگر عقیدۂ حیات کا صحیح ثبوت نہ ہوتا تو سلف صالحین اور اکابر مجدّدین کبھی یہ عقیدہ نہ رکھتے، اس سے واضح ہوتا ہے کہ غلطی جناب مرزا صاحب ہی کو لگی۔ شیخ محی الدین ابنِ عربیؒ فتوحات کے باب۸۱میں فرماتے ہیں:
’’اس قسم کے شبہات سالکین کو پیش آتے رہتے ہیں، اور ایسی حالت میں شیخ ومرشدِ کامل کی تربیت واِصلاح کی ضرورت پیش آتی ہے، چنانچہ ہمارے شیخ کو بھی ایک دفعہ ایسا واقعہ پیش آیا تھا، جبکہ
468
ان کو اِلہام ہوا کہ تو عیسیٰ بن مریم ہے۔‘‘
اگر جناب مرزا صاحب کا بھی کوئی مرشد ہوتا تو اس کی توجہ سے ان کا یہ شبہ زائل ہوجاتا، مگر افسوس کہ مرشدِ کامل کے نہ ہونے کی وجہ سے مرزا صاحب نے اپنے اِلہام کو واقعی سمجھ لیا، اور اس پر یہاں تک اِعتماد کرلیا کہ اس کے مطابق قرآنِ کریم کی تفسیر بھی کرنے لگے، اس طرح ان کا راستہ مسلمانوں سے الگ ہوگیا، نعوذ باللہ من الحور بعد الکور!
ہفتم: … آنجناب فرماتے ہیں کہ ۱۸۹۰ء میں مرزا صاحب کو بذریعہ اِلہام ’’مسیح بن مریم‘‘ بنادیا گیا، اور اس اِلہام کی بنیاد پر انہوں نے ۱۸۹۱ء میں ’’مسیحِ موعود‘‘ ہونے کا دعویٰ کیا، مگر اس کے برعکس مرزا صاحب لکھتے ہیں:
’’اے برادرانِ دِین وعلمائے شرعِ متین! آپ صاحبان میری ان معروضات کو متوجہ ہوکر سنیں کہ اس عاجز نے جو مثیلِ موعود ہونے کا دعویٰ کیا ہے، جس کو کم فہم لوگ ’’مسیحِ موعود‘‘ خیال کربیٹھے ہیں، یہ کوئی نیا دعویٰ نہیں، جو آج ہی میرے منہ سے سنا گیا ہو، بلکہ یہ وہی پُرانا اِلہام ہے، جو میں نے خدا تعالیٰ سے پاکر براہین احمدیہ کے کئی مقامات پر بتصریح درج کردیا تھا، جس کے شائع کرنے پر سات سال سے بھی کچھ زیادہ عرصہ گزرگیا ہوگا۔ میں نے یہ دعویٰ ہرگز نہیں کیا کہ میں مسیح بن مریم ہوں، جو شخص یہ اِلزام میرے پر لگاوے، وہ سراسر مفتری اور کذّاب ہے، بلکہ میری طرف سے عرصہ سات یا آٹھ سال سے برابر یہی شرائع ہو رہا ہے کہ میں مثیلِ مسیح ہوں۔‘‘
(اِزالہ اوہام ص:۱۹۰، رُوحانی خزائن ج:۳ ص:۱۹۲)
آپ کی اور جناب مرزا صاحب کی عبارت میں واضح طور پر تناقض ہے، چنانچہ:
۱:- آپ فرماتے ہیں کہ مرزا صاحب کو ۱۸۹۰ء میں اِلہام ہوا کہ ’’ہم نے تجھ کو مسیح بن مریم بنادیا‘‘، اس کے برعکس مرزا صاحب فرماتے ہیں کہ یہ وہی پُرانا اِلہام ہے جو ’’براہین احمدیہ‘‘ کے کئی مقامات پر بتصریح درج ہے۔
469
۲:- آپ فرماتے ہیں کہ ۱۸۹۱ء میں مرزا صاحب نے مسیحِ موعود ہونے کا دعویٰ کیا، اس کے برعکس مرزا صاحب کا اِرشاد ہے کہ یہ کوئی نیا دعویٰ نہیں، جو آج ہی میرے منہ سے سنا گیا ہو۔
۳:- آپ کہتے ہیں کہ مرزا صاحب نے مسیحِ موعود ہونے کا دعویٰ کیا، مگر مرزا صاحب کہتے ہیں کہ: ’’اس عاجز نے مثیلِ موعود ہونے کا دعویٰ کیا ہے، جس کو کم فہم لوگ ’’مسیحِ موعود‘‘ خیال کربیٹھے ہیں۔‘‘
۴:- آپ لکھتے ہیں کہ اِلہام نے مرزا صاحب کو مسیح بن مریم بنایا (انا جعلناک المسیح بن مریم) مگر مرزا صاحب لکھتے ہیں کہ: ’’میں نے مسیح بن مریم ہونے کا دعویٰ ہرگز نہیں کیا، جو شخص یہ اِلزام میرے پر لگائے، وہ سراسر مفتری اور کذّاب ہے۔‘‘
کیا آپ بتاسکتے ہیں کہ آپ کی بات صحیح ہے یا مرزا صاحب کی؟ وہ کم فہم لوگ کون ہیں، جو مرزا صاحب کو ’’مسیحِ موعود‘‘ خیال کربیٹھے ہیں؟ اور وہ سراسر مفتری اور کذّاب کون ہے، جس نے مرزا صاحب کو ’’مسیح بن مریم‘‘ کا خطاب دیا؟ مسیح اور مثیلِ مسیح ایک ہی چیز ہے یا الگ الگ؟ کیا مرزا صاحب کا کوئی اِلہام ایسا ہے، جس میں ان کو ’’مثیلِ مسیح‘‘ کہا گیا ہو؟ آپ قرآن سے باہر کوئی دلیل قبول نہیں کرتے، قرآنِ کریم کی وہ کونسی آیت ہے، جس میں مرزا غلام احمد قادیانی کو ’’مسیح‘‘ یا ’’مثیلِ مسیح‘‘ کہا گیا ہے؟ اور آنجناب نے وہ آیت پڑھ کر مرزا صاحب کو ۔۔۔ان کے دعوے کے علی الرغم۔۔۔ مسیحِ موعود مان لیا ہے۔
۳: … آپ لکھتے ہیں: ’’قرآنِ کریم سے حیاتِ مسیح ثابت کرنے کے لئے آپ نے ۔۔۔یعنی راقم الحروف نے۔۔۔ تین آیات پیش کی ہیں۔ الف: ’’ھو الذی ارسل ۔۔۔الخ‘‘ ، ب: ’’میثاق النبیّٖن‘‘، ج: ’’ان عدتم عدنا ۔۔۔الخ‘‘ ۔
معاف کیجئے! آپ کو غلط فہمی ہوئی ہے، میں نے حیاتِ مسیح پر تین نہیں بلکہ صرف ایک ہی آیت پیش کی تھی، آیت ’’میثاق النبیّٖن‘‘ حیاتِ مسیح پر دلیل کی حیثیت سے پیش نہیں کی تھی، بلکہ آپ کے اس شبہ کے اِزالے کے لئے پیش کی تھی کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی آمد سے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی تنقیص ہوتی ہے، میں نے آیت ’’میثاق النبیّٖن‘‘
470
کے حوالے سے لکھا تھا کہ اگر سارے انبیاء علیہم السلام بھی دوبارہ تشریف لے آئیں تو اس سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی تنقیص نہیں، بلکہ تعظیم ظاہر ہوتی ہے۔ اسی طرح ’’وان عدتم عدنا‘‘ والی آیت مرزا صاحب کا اِلہام ہے، اور میں نے جناب مرزا صاحب کا اِلہام ہی نقل کیا تھا، نہ کہ قرآن مجید کی آیت۔ بہرحال میرے عریضے کو آپ دوبارہ ملاحظہ فرمائیں، وہاں حیاتِ مسیح پر آپ کو ایک ہی آیت ملے گی، نہ کہ تین، ایک کو تین سمجھنا بھی اسی طرح کی غلطی ہے، جس طرح کہ تین کو ایک سمجھنا۔
۴: … ’’ھو الذی ارسل ۔۔۔ کلہ‘‘ میں آنجناب نے مرزا صاحب کی تفسیر کو مسترد کرکے خود اپنی تفسیر پیش کردی ہے، بے شک آنجناب علم وفہم اور عقل ودانش میں مرزا صاحب سے فائق ہوں گے، اس لئے آپ کو یقینا اس کا حق ہوگا، مگر افسوس ہے کہ میں آنجناب کی ایجاد کردہ تفسیر کو دو وجہ سے قبول نہیں کرسکتا۔ اوّل اس لئے کہ آنجناب، مرزا صاحب پر اِیمان رکھتے ہیں، اور انہیں ’’مأمور من اللہ‘‘ مانتے ہیں، ادھر مرزا صاحب اس آیت کی تفسیر کرتے ہوئے تصریح کرتے ہیں کہ ’’اس عاجز پر ظاہر کیا گیا ہے‘‘ جس سے ہر شخص یہ سمجھنے پر مجبور ہے کہ مرزا صاحب نے اس آیت کے تحت جو کچھ لکھا ہے وہ ’’اس عاجز پر ظاہر کیا گیا ہے‘‘ کی روشنی میں لکھا ہے، اور میں کسی شخص کو یہ حق نہیں دیتا کہ وہ اپنے ’’مأمور من اللہ‘‘ کے اِلہام کے خلاف قرآن کی تفسیر کرنے بیٹھ جائے، البتہ اگر آپ مرزا صاحب کے مأمور من اللہ ہونے کا اِنکار کردیں، اور ان کے اِلہامات کو غلط اور جھوٹ قرار دیں تو آپ کو ان کے مقابلے پر قرآن کی تفسیر کرنے کا حق کسی درجے میں تسلیم کیا جاسکتا ہے، مأمور من اللہ کے مقابلے میں تفسیر کرنا تو عقل ودانش اور دِین ودیانت کے صریح خلاف ہے، دُوسری وجہ یہ کہ مرزا صاحب تمام مفسرین کا اِجماع نقل کرتے ہیں کہ یہ آیت سیّدنا عیسیٰ علیہ السلام کے زمانۂ نزول سے متعلق ہے، ملاحظہ فرمائیے:
’’اس آیت کی نسبت ان سب متقدمین کا اِتفاق ہے جو ہم سے پہلے گزر چکے ہیں کہ یہ عالمگیر غلبہ مسیحِ موعود کے وقت میں ظہور میں آئے گا (اور چونکہ مرزا صاحب کے وقت میں یہ عالمگیر غلبہ ظہور میں
471
نہیں آیا، اس سے ثابت ہوا کہ مرزا صاحب مسیحِ موعود نہیں ۔۔۔ناقل)۔‘‘
(چشمہ معرفت ص:۸۳، رُوحانی خزائن ج:۲۳ ص:۹۱)
اسی مضمون کو مرزا صاحب نے ’’اِزالہ اوہام‘‘ ص:۶۷۵، ’’رُوحانی خزائن‘‘ ج:۳ ص:۴۶۴، ’’تریاق القلوب‘‘ ص:۴۷ و۵۳، ’’رُوحانی خزائن‘‘ ج:۵۱ ص:۲۳۱، ۲۳۲ و۲۴۶، اور ’’تحفہ گولڑویہ‘‘ ص:۱۲۳ ’’رُوحانی خزائن ج:۱۷ ص:۳۰۳ میں بھی بیان فرمایا ہے۔ اس صورت میں تمام متقدمین کے اِتفاق کو، جس پر مرزا صاحب کی اِلہامی مہر بھی ثبت ہے، ترک کرکے آنجناب کی ایجاد کردہ تفسیر کو کیوں قبول کیا جائے۔۔۔؟
۵: … آنجناب نے آیت’’میثاق النبیّٖن‘‘ کے ذیل میں اس ناکارہ سے سوال فرمایا کہ:
’’کیا آپ قرآنِ کریم سے کوئی ایک ایسی آیت دِکھاسکتے ہیں جس میں یہ ذِکر ہو کہ حکمتِ اِلٰہیہ نے ان مصالح کی بنا پر حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کو اَنبیاء علیہم السلام کی نیابت کے لئے منتخب کیا؟‘‘
جواباً گزارش ہے کہ ایک طرف تو قرآنِ کریم نے عیسیٰ علیہ السلام کے دوبارہ آنے کی قطعی پیش گوئی کی، جسے میں ’’براہین احمدیہ‘‘ کے حوالے سے ذِکر کرچکا ہوں، دُوسری طرف قرآنِ کریم نے یہ اِطلاع بھی دی کہ تمام انبیائے کرام علیہم السلام سے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی تصدیق ونصرت کا عہد لیا گیا، تیسری طرف یہ عقلی مقدمہ ہے کہ کسی جماعت کی جانب سے ایک نمائندہ منتخب ہوکر کوئی کارروائی کرے تو وہ نیابۃً پوری جماعت کی جانب سے سمجھی جاتی ہے، ان مقدماتِ صحیحہ کے پیشِ نظر میں نے لکھا تھا کہ ممکن ہے اس عہد وپیمان کے ایفا کی ایک شکل یہ بھی ہو کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام تشریف لاکر اپنی طرف سے اِصالۃً، اور دیگر انبیائے کرام علیہم السلام کی جانب سے نیابۃً ایمان ونصرت کا عہد پورا فرمائیں۔ رہی یہ بات کہ انبیائے کرام علیہم السلام کی جماعت میں سے حضرت عیسیٰ علیہ السلام ہی کو کیوں اس منصب کے لئے تجویز کیا گیا؟ اس کے بارے میں، میں نے
472
لکھا تھا کہ اس کی مصلحت اللہ تعالیٰ ہی بہتر جانتا ہے۔ یہ ایک ایسی صاف اور واضح بات ہے جس میں کسی گنجلک کی گنجائش نہیں تھی، مگر آپ ماشاء اللہ اَسرار وحِکَم پر بھی قرآنی آیات کا مطالبہ فرماتے ہیں، اور مطالبے کی دلیل یہ کہ:
’’میرا اِیمان ہے کہ انسانوں کی فلاح وبہبود اور اِصلاح نفوس کے لئے جو بات ضروری ہوتی ہے، اس کو اس کی حکمت نے کبھی پوشیدہ نہیں رکھا، اپنے ایسے اَحکام کو وہ ’’آیاتِ بینات‘‘ سے تعبیر کرتا، اور ان ’’بینات‘‘ کے بعد ہی وہ منکرین کو کافر کا خطاب دیتا ہے۔‘‘
مگر آپ نے یہ بات ملحوظ نہیں رکھی کہ قطعی اَحکام کا نام ’’بینات‘‘ ہے، نہ کہ اَحکام کی حکمتوں کا، اور آپ مجھ سے کسی حکم پر قرآنِ کریم کی آیت کا مطالبہ نہیں فرما رہے، بلکہ ایک قطعی حکم کی جو حکمت میں نے بیان کی، اس پر آیت پیش کرنے کو کہہ رہے ہیں۔ محترما! سیّدنا عیسیٰ علیہ السلام کا قربِ قیامت میں تشریف لانا قطعی ہے، ’’آیاتِ بینات‘‘ میں شامل ہے، قرآنِ کریم، حدیثِ متواتر اور اِجماعِ اُمت سب اس کی قطعیت پر مہرِ تصدیق ثبت کر رہے ہیں، مگر ان کی تشریف آوری میں کیا کیا حکمتیں اور مصلحتیں ہیں؟ نہ ان کا اِحاطہ ممکن ہے، نہ ان کی تفصیل کا جاننا ضروری ہے، نہ ہم جاننے کے مکلف ہیں۔ اور اگر کوئی شخص کسی حکمت کو بیان کرے تو اس کے لئے اتنا کافی ہے کہ اس کے صحیح شواہد موجود ہوں اور بس۔ اگر آپ ہر حکم اور اس کی ہر حکمت کے لئے قرآنی آیات کا مطالبہ شروع کردیں گے، تو آپ کو سخت دِقت پیش آئے گی۔ غور فرمائیے کہ مرزا صاحب کے ۔۔۔بقول آپ کے۔۔۔ مسیحِ موعود ہونے کا تعلق انسانوں کی فلاح وبہبود اور اِنسانوں کی اِصلاح سے ہے یا نہیں؟ کیا آپ قرآنِ کریم کی کوئی آیت دِکھا سکتے ہیں کہ مرزا غلام احمد بن غلام مرتضیٰ قادیانی کے مسیحِ موعود بنائے جانے میں فلاں فلاں حکمتیں ہیں؟ میرے محترم! کچھ تو اِنصاف فرمائیے کہ جب آپ ماننے پر آتے ہیں تو مرزا صاحب کے اِلہام پر اِیمان لے آتے ہیں، اور نہیں ماننا ہوتا تو قرآنِ کریم کی آیت قطعی الدلالت اور حدیثِ متواتر و اِجماعِ اُمت سن کر بھی نہیں مانتے، بہرحال منوانا میرا کام نہیں، تاہم اِنصاف و دیانت کی اپیل ضرور کرتا ہوں۔
473
۶: … آنجناب کے جوابات پر گفتگو کرنے کے بعد اَب میں آپ کے پیش کردہ شبہات کا اِزالہ کرنا چاہتا ہوں۔ آنجناب کے شبہات کا مختصر اور جامع جواب یہ ہے کہ جو اَمر عقلاً ممکن ہو، اور مخبرِ صادق نے اس کی خبر دی ہو، اس کا ماننا لازم ہے، اور محض اِحتمالات کے ذریعے اسے رَدّ کرنا نارَوا ہے۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا زِندہ آسمان پر اُٹھایا جانا ممکن ہے، اور مخبرِ صادق صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی تشریف آوری کی قطعی خبر دی ہے، اس لئے اس خبر کا ماننا مؤمن کا فرض ہے، اور شبہات کے ذریعے شارع کی خبر کو رَدّ کردینا اس کی تکذیب وتوہین ہے، اور آپ کو معلوم ہے کہ شارع صلی اللہ علیہ وسلم کی تکذیب کفر ہے، اس اِجمال کے بعد اَب تفصیل عرض کرتا ہوں:
پہلا شبہ: … ’’وَمَآ اَرْسَلْنَا مِنْ رَّسُوْلٍ اِلّا لِیُطَاعَ بِاِذْنِ اللہِ‘‘ سے آپ نے یہ اِجتہاد کیا ہے کہ: ’’رسول مطاع ہوتا ہے، نہ کہ مطیع، اس لئے حضرت عیسیٰ علیہ السلام بھی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے مطیع نہیں ہوسکتے۔‘‘ حالانکہ آیت کا مفہوم یہ ہے کہ رسول اپنی اُمت کا مطاع ہوتا ہے، اس سے یہ لازم نہیں آتا کہ ایک رسول دُوسرے رسول کا بھی پیرو نہیں ہوسکتا۔ دیکھئے! حضرت موسیٰ علیہ السلام، حضرت خضر علیہ السلام کے حکم کی پابندی کا عہد کرتے ہیں، حضرت ہارون علیہ السلام، حضرت موسیٰ علیہ السلام کی پیروی کرتے ہیں، آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ اگر موسیٰ علیہ السلام زندہ ہوتے تو میری پیروی کرتے (مشکوٰۃ ص:۳۰)۔ ان تصریحات سے ثابت ہوا کہ ایک رسول دُوسرے رسول کا پیرو ہوسکتا ہے، اس میں کوئی خدشہ اور دغدغہ نہیں۔
دُوسرا شبہ: … ’’عیسیٰ علیہ السلام’’وَاٰخَرِیْنَ مِنْھُمْ‘‘ میں شامل نہیں ہوسکتے، اس لئے وہ آبھی نہیں سکتے، اور زِندہ بھی نہیں۔‘‘
جب اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے خبر دی ہے کہ عیسیٰ علیہ السلام اُمتِ محمدیہ کے ایک فرد کی حیثیت سے تشریف لائیں گے تو وہ اس اُمت میں کیوں شامل نہیں ہوسکتے؟ اور کیوں نہیں آسکتے؟
تیسرا شبہ: … الفاظ ’’وَیُزَکِّیْھِمْ‘‘ سے یہ نتیجہ اخذ کرنا کہ ’’ان کا تزکیہ بھی
474
آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ذریعے ہوگا‘‘ صحیح نہیں، کیونکہ آیت کا مطلب تو یہ ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اُمت کے قابلِ تزکیہ لوگوں کا تزکیہ فرماتے ہیں، یہ کہاں سے نکل آیا کہ کوئی مزکی شخص اُمت میں شامل ہی نہیں کیا جاسکتا؟ اور پھر تزکیہ کے مدارج بھی غیرمتناہی ہیں، اس لئے اگر یہ کہا جائے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو رفعت وبلندی اور تزکیہ وتصفیہ کی جو دولت اپنی شریعت پر عمل کرنے سے حاصل ہوئی تھی، اس سے کہیں بڑھ کر شریعتِ محمدیہ کی پیروی سے حاصل ہوگی، تو اس میں کیا علمی اِشکال ہے؟ دیکھئے آنجناب نے خود ہی اِنجیل برنباس سے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا یہ اِرشاد نقل کیا ہے:
’’اے محمد! (صلی اللہ علیہ وسلم) اللہ تعالیٰ تیرے ساتھ ہو، اور مجھ کو اس قابل بنائے کہ میں تیری جوتی کا تسمہ کھولوں، کیونکہ اگر میں یہ شرف حاصل کرلوں تو بڑا نبی اور اللہ کا مقدس بن جاؤں گا۔‘‘
کیا کوئی آپ جیسا عقل مند اس کا یہ مطلب نکالے گا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی جوتی کا تسمہ کھولنے سے پہلے نہ تو وہ ’’بڑے نبی‘‘ تھے، نہ ’’مقدس‘‘؟ اور یہ میں آگے چل کر بتاؤں گا کہ ان کی یہ دُعا درحقیقت اُمتِ محمدیہ میں شامل ہونے کی دُعا ہے، جسے اللہ تعالیٰ نے شرفِ قبول بخشا، اور اس ’’شرف‘‘ کے حاصل ہونے سے ان کی بڑائی اور تقدس میں واقعۃً اِضافہ ہوا۔
چوتھا شبہ: … ’’کوئی نبی بیک وقت نبی بھی اور اُمتی بھی نہیں ہوسکتا۔‘‘
یہ مقدمہ بالکل غلط ہے، محققین کا مسلک تو یہ ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نبی الانبیاء ہیں، تمام نبی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے مقتدی اور تابع ہیں، یہی وجہ ہے کہ تمام نبی قیامت کے دن آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے جھنڈے تلے ہوں گے، قرآن میں جو انبیائے کرام کے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر اِیمان لانے، اور آپ کی نصرت کرنے کا ذِکر ہے، اس میں بھی اسی طرف اِشارہ ہے، خود مرزا صاحب لکھتے ہیں:
’’قرآن شریف سے ثابت ہے کہ ہر ایک نبی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی اُمت میں داخل ہے، جیسا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا
475
ہے: ’’لتؤمنن بہ ولتنصرنہ‘‘ پس اس طرح تمام انبیاء علیہم السلام آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی اُمت ہوئے۔‘‘
(ضمیمہ براہین احمدیہ حصہ پنجم ص:۱۳۳، رُوحانی خزائن ج:۲۱ص:۳۳۰)
مرزا صاحب کے اس حوالے سے ثابت ہوا کہ تمام انبیائے کرام علیہم السلام اپنی جگہ نبی بھی ہیں، اور آیت شریفہ : ’’لَتؤمنن بہ ولتنصرنہ‘‘ کی رُو سے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے اُمتی بھی ہیں، اس سے ثابت ہوا کہ آنجناب کا یہ اُصول قطعاً غلط ہے کہ کوئی نبی بیک وقت نبی اور اُمتی نہیں ہوسکتا۔
علاوہ ازیں آپ کا قاعدہ مرزا صاحب کے بھی خلاف ہے، کیونکہ ان کا دعویٰ ہے کہ وہ ’’اُمتی بھی ہیں، اور نبی بھی۔‘‘
پانچواں شبہ: … ’’لتؤمنن بہ ولتنصرنہ، کے مطابق آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت کے وقت حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو اللہ تعالیٰ سے کہنا چاہئے تھا کہ اب وہ رسول مبعوث ہوگیا ہے، اب مجھے نیچے اُتار دیجئے کہ میں وہ میثاق پورا کروں۔ اللہ تعالیٰ نے عہد لے کر اس عہد کو پورا کرنے کے لئے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو آپؐ کی مدد کے لئے نہ بھیجا، آخر کیوں؟‘‘
اس سوال کا جواب یا تو عیسیٰ علیہ السلام دے سکتے ہیں، یا اللہ تعالیٰ، کیونکہ یہ سوال مجھ پر نہیں، بلکہ عیسیٰ علیہ السلام پر ہے، یا خدا پر، اس لئے اس سوال کو قیامت کے دن کے لئے اُٹھا رکھئے، وہاں اِن شاء اللہ ٹھیک ٹھیک جواب مل جائے گا۔ اور اگر مجھ ہی سے اس کا جواب مطلوب ہے تو سنئے! حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے نازل کئے جانے کا ایک خاص وقت پہلے سے طے شدہ ہے، اور وہ ہے قربِ قیامت میں خروجِ دجال کا وقت، اس مقرّرہ وقت سے پہلے ان کے نزول کے کوئی معنی نہیں تھے، نہ وہ یہ احمقانہ سوال کرسکتے تھے کہ مجھے قبل اَزوقت بھیج دیا جائے، اور نہ کسی کو خدا تعالیٰ سے یہ پوچھنے کا حق ہے کہ اب تک انہیں کیوں نہیں بھیجا؟
مسندِ احمد اور ابنِ ماجہ وغیرہ میں بروایت ابنِ مسعود رضی اللہ عنہ آنحضرت صلی
476
اللہ علیہ وسلم کا اِرشاد مروی ہے کہ معراج کی رات میری ملاقات حضرت اِبراہیم، حضرت موسیٰ اور حضرت عیسیٰ ۔۔۔علیٰ نبینا وعلیہم السلام۔۔۔ سے ہوئی، آپس میں قیامت کا تذکرہ ہونے لگا تو سب سے پہلے حضرت اِبراہیم علیہ السلام سے دریافت کیا گیا، انہوں نے لاعلمی کا اِظہار فرمایا، پھر موسیٰ علیہ السلام سے پوچھا گیا، انہوں نے بھی لاعلمی ظاہر کی، پھر عیسیٰ علیہ السلام کا نمبر آیا، انہوں نے فرمایا:
’’قیامت کے وقوع کا ٹھیک ٹھیک وقت تو اللہ کے سوا کسی کو معلوم نہیں، ہاں! قیامت کے وقوع سے پہلے پہلے میرے رَبّ کا مجھ سے ایک عہد ہے، وہ یہ کہ دجال نکلے گا تو میں نازل ہوکر اسے قتل کروں گا ۔۔۔الخ۔‘‘
(ابن ماجہ ص:۲۹۹، مسندِ احمد ج:۱ ص:۲۷۵، مستدرک حاکم ج:۴ ص:۴۸۸، فتح الباری ج:۱۳ص:۷۹، اِمام حاکمؒ نے اس کو صحیح کہا ہے، اور اِمام ذہبیؒ نے اس کی تصدیق اور حافظ ابنِ حجرؒ نے تائید کی ہے)
اس حدیث سے واضح ہوجاتا ہے کہ ان کی تشریف آوری کا ایک وقت پہلے سے طے ہوچکا ہے۔
چھٹا شبہ: … ’’عیسائیوں اور یہودیوں کا اِختلاف قیامت تک رہے گا، تو حضرت عیسیٰ آکر کیا کارنامہ انجام دیں گے؟‘‘
وہی کارنامہ انجام دیں گے، جو مرزا صاحب نے ’’براہین احمدیہ‘‘ ص:۴۹۸ میں ذِکر کیا ہے کہ:
’’جس غلبۂ کاملہ دِینِ اسلام کا وعدہ دِیا گیا ہے، وہ غلبہ مسیح کے ذریعے سے ظہور میں آئے گا، اور جب حضرت مسیح علیہ السلام دوبارہ اس دُنیا میں تشریف لائیں گے تو ان کے ہاتھ سے دِینِ اسلام جمیع آفاق اور اَقطار میں پھیل جائے گا۔‘‘
اور جسے صحیح حدیث میں: ’’ویھلک اللہ فی زمانہ الملل کلھا إلّا الْإسلام‘‘ سے تعبیر
477
فرمایا ہے، یعنی اللہ تعالیٰ ان کے زمانے میں اسلام کے سوا تمام مذاہب کو نیست ونابود کردے گا۔
’’عیسائیوں اور یہودیوں کا اِختلاف قیامت تک رہے گا‘‘ اس کا مطلب یہ نہیں کہ قیامت کے صور پھونکنے تک رہے گا، بلکہ قربِ قیامت تک مراد ہے، اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی آمد قربِ قیامت کی علامت ہے، لہٰذا ان کے آنے تک اِختلاف رہے گا، جب وہ تشریف لائیں گے تو اِختلاف ختم ہوجائے گا۔
ساتواں شبہ: … ’’جب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد ایک صاحبِ کتاب نبی آئے گا تو ختمِ نبوّت کی مہر کہاں رہے گی؟‘‘
آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد کسی شخص کو نبوّت عطا کی جائے، تب تو مہرِ ختمِ نبوّت ٹوٹ جاتی ہے، خواہ وہ صاحبِ کتاب ہو یا بغیر کتاب کے، تشریعی ہو یا غیرتشریعی، اصلی ہو یا ظلّی، لیکن آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے پہلے کے تمام نبی بھی اگر زندہ رہتے، اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی پیروی کرتے تو اس سے ختمِ نبوّت کی مہر نہیں ٹوٹتی، دیکھئے جناب مرزا صاحب اپنے والدین کے لئے خاتم الاولاد تھے (تریاق القلوب ص:۳۵۱، رُوحانی خزائن ج:۱۵ ص:۴۷۹)، اب اگر وہ اپنے تمام بہن بھائیوں سے پہلے دُنیا سے رُخصت ہوجاتے، تب بھی ان کی ’’ختمِ ولادت‘‘ کی مہر نہیں ٹوٹ سکتی تھی، ہاں ان کے والدین کے یہاں ان کی ولادت کے بعد کوئی اور بچہ پیدا ہوجاتا تو اس سے ختمِ ولادت کی مہر ضرور ٹوٹ جاتی، ختمِ نبوّت کی مہر کو بھی اسی طرح سمجھ لیجئے۔
آٹھواں شبہ: … ’’اگر حضرت عیسیٰ کو زندہ رکھنا تھا تو قرآن ان کی زندگی کو صاف صاف بیان کرتا، اور وہاں ایسی آیات نہ ہوتیں، جن سے کہیں تو حیات ثابت ہوتی ہے، اور کہیں ممات، اور اس پر مسلمانوں میں اِختلاف رُونما نہ ہوتا۔‘‘
آنجناب کا یہ شبہ تین دعاوی پر مشتمل ہے، اوّل یہ کہ قرآن نے ان کی زندگی کو صاف صاف بیان نہیں کیا، دوم یہ کہ اس مسئلے میں آیاتِ قرآن میں تعارض ہے، کہیں سے ان کی حیات ثابت ہوتی ہے، اور کہیں سے ممات، سوم یہ کہ اس مسئلے میں مسلمانوں کا
478
اِختلاف رہا ہے۔
مجھے افسوس ہے کہ یہ تینوںدعاوی قطعی بے بنیاد، اور یکسر بے دلیل ہیں، قرآن اور شارحِ قرآن صلی اللہ علیہ وسلم نے جس صراحت کے ساتھ ان کی حیات، اور تشریف آوری کی خبر دی ہے، اور اُمتِ اسلامیہ نے جس تواتر اور تسلسل کے ساتھ اس قرآنی ونبوی پیش گوئی کو لوحِ قلب پر رقم کیا ہے، اس کا حوالہ خود آنجناب کے ’’مأمور ومرسل‘‘ سے دِلاچکا ہوں، اور اگر آپ کو ان کی شہادت پر اِعتماد نہ ہو تو گزشتہ اکابر کی جتنی شہادتیں آپ کہیں، پیش کرنے کو حاضر ہوں۔
میرے محترم! فروعی اور اِجتہادی مسائل میں اِختلاف ہوسکتا ہے، اور اسے گوارا بھی کیا جاسکتا ہے، مگر دِین کے قطعی ویقینی اور متواتر عقائد میں کتربیونت ناقابلِ برداشت ہے۔ کسی عقیدے کے صحیح یا غلط ہونے کا بس ایک ہی معیار ہے کہ وہ سلف صالحینؒ، صحابہؓ وتابعینؒ، اَئمہ مجدّدینؒ کے مطابق ہے، یا اس کے خلاف؟ اگر وہ سلف صالحین سے متواتر چلا آتا ہے تو اسے بغیر کسی حیل وحجت کے ماننا لازم ہے، اگر ایسے قطعی اور متواتر عقیدے کے خلاف کوئی رائے زنی کرتا ہے تو سمجھ لیجئے کہ وہ مسلمانوں کی راہ سے ہٹ چکا ہے، اس کی عقل زنگ خوردہ اور اس کی قرآن فہمی زیغ آلود ہے، حیاتِ عیسیٰ علیہ السلام کی قطعیت پر مرزا صاحب کی یہ عبارت آپ پڑھ چکے ہیں:
’’مسیح ابنِ مریم کے آنے کی پیش گوئی ایک اوّل درجے کی پیش گوئی ہے، جس کو سب نے بالاتفاق قبول کرلیا ہے۔‘‘
(اِزالہ اوہام ص:۵۵۷، رُوحانی خزائن ج:۳ ص:۴۰۰)
پہلے عریضے میں اس کے تحت میں نے جو نوٹ لکھا ہے، اسے ایک بار پھر بطورِ خاص ملاحظہ فرمالیا جائے۔
آنجناب کو غلط فہمی ہوئی کہ آپ نے ان لوگوں کی گری پڑی آرا کو ’’مسلمانوں کا اِختلاف‘‘ سمجھ لیا، جن کے بارے میں مرزا صاحب لکھتے ہیں:
’’حال کے نیچری جن کے دِلوں میں کچھ بھی عظمت قال
479
اللہ اور قال الرسول کی باقی نہیں رہی۔‘‘
(اِزالہ اوہام ص:۵۵۵، رُوحانی خزائن ج:۳ ص:۳۹۹)
آپ نے ان نیچریوں کی آرا کو مسلمانوں کے اِختلاف سے تعبیر کرتے ہوئے یہ نہیں سوچا کہ بقول مرزا صاحب:
’’وہ اس قدر متواترات سے اِنکار کرکے اپنے ایمان کو خطرے میں ڈالتے ہیں۔‘‘
(اِزالہ اوہام ص:۵۵۶، رُوحانی خزائن ج:۳ ص:۳۹۹)
میرے محترم! دِینی عقائد میں ملاحدہ اور زَنادقہ کی آرا کا اِعتبار نہیں، نہ ان کا اِختلاف کسی عقیدے کی قطعیت پر خاک ڈال سکتا ہے، میں عرض کرچکا ہوں کہ اُمت کے ثقہ وامین اکابر اَز اَوّل تا آخر، حیاتِ عیسیٰ علیہ السلام کے عقیدے پر متفق رہے ہیں، یہ وہی حضرات ہیں، جن کے بارے میں آنجناب خود لکھتے ہیں:
’’تاریخِ اسلام گواہ ہے کہ آپؐ کے بعد ایسے عظیم المرتبت انسان پیدا ہوئے، جنہیں اولیاء اور مجدّد کہا جاتا ہے، اور جن کے ذریعے اپنے اپنے زمانوں میں مسلمانوں میں پیدا ہونے والی خرابیاں دُور ہوئیں۔‘‘
کیا ان عظیم المرتبت انسانوں میں کبھی اس مسئلے پر اِختلاف ہوا؟ کیا کسی صدی کے مجدّد نے اِعلان کیا کہ حیاتِ مسیح کا عقیدہ غلط ہے؟ ’’عسلِ مصفی‘‘ میں مجدّدین کی فہرست دیکھ لیجئے، اور پھر مجھے بتائیے کہ فلاں فلاں اکابر نے اس عقیدے کے غلط ہونے کا اِعلان کیا تھا، اور میں بفضلِ خدا پہلی صدی سے لے کر پندرھویں صدی تک کے اکابر کا عقیدہ پیش کرنے کو حاضر ہوں۔ بحمداللہ ’’حیات و نزولِ عیسیٰ علیہ السلام کا عقیدہ چودہ صدیوں کے اکابر کی نظر میں‘‘ ’’تحفۂ قادیانیت‘‘ جلد سوم میں شائع ہوچکا ہے۔ کیا اس کے بعد بھی آپ اپنی غلط فہمی پر اِصرار کرنے میں حق بجانب ہوں گے؟
بندہ پرور! منصفی کرنا خدا کو دیکھ کر۔۔۔!
480
نواں شبہ: … ’’حضرت ابنِ عباسؓ نے فرمایا:’’إنما أخذ اللہ میثاق النبیین علٰی اُممھم‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ نے نبیوں کا میثاق ان کی اُمتوں پر لیا، اس لئے حضرت عیسیٰ کو شہادت دینے کی کیا ضرورت؟‘‘
پروفیسر صاحب! آپ کے منہ میں گھی شکر، آج آپ نے ترجمان القرآن، حبرالامت حضرت ابنِ عباس رضی اللہ عنہ کا نام لیا، جزاک اللہ! مرحبا! اچھا یہ فرمائیے کہ اگر یہی حضرت ابنِ عباس رضی اللہ عنہ فرمادیں کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو آسمان پر اُٹھالیا گیا، اور یہ کہ وہ قرآنی ونبوی پیش گوئی کے مطابق قربِ قیامت میں دوبارہ تشریف لائیں گے، تو کیا میری اور آپ کی بحث کا فیصلہ ہوجائے گا؟ اور کیا آپ ان کے فیصلے پر سرِ تسلیم خم کردیں گے؟ اگر جواب اِثبات میں ہو تو ماشاء اللہ، اور اگر نہیں، تو اِنصاف فرمائیے کیا حضرت ابنِ عباس رضی اللہ عنہ کا اِرشاد صرف میرے ہی سامنے پیش کرنے کی چیز ہے؟ یہ تو شاید آنجناب کو بھی مُسلَّم ہوگا کہ سیّدنا ابنِ عباس رضی اللہ عنہ مجھ سے اور آپ سے زیادہ قرآن جانتے تھے، اس کے مفہوم ومدعا سے باخبر تھے، اور اس کی تصریحات واِرشادات کو سمجھتے تھے، یا نہیں۔۔۔؟
اب سنئے میثاق کی بات! قرآنِ کریم نے اس عہد وپیمان کا ذِکر کیا ہے، جو ۔۔۔غالباً عالمِ اَرواح میں۔۔۔ انبیائے کرام علیہم السلام سے حضرت خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں لیا گیا، سب نے ایمان ونصرت کا عہد وپیمان باندھا، اب رہی یہ بات کہ یہ عہد پورا کس کس وقت ہوا؟ اور کس کس شکل میں ہوا؟ اس کو قرآنِ کریم نے ذِکر نہیں فرمایا، میرے آقا حضرت ابنِ عباس رضی اللہ عنہ نے اس کی ایک شکل تجویز فرمادی کہ ہر نبی سے یہ عہد لیا گیا کہ وہ اپنے وقت میں اپنی اُمت کو اس عہد وپیمان کی وصیت کرے کہ جب حضرت خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائیں تو فوراً آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر اِیمان لاؤ، اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی نصرت وحمایت کے لئے کمربستہ ہوجاؤ، گویا انبیائے کرام علیہم السلام کا اپنی اپنی اُمتوں کو وصیت کرنا، اور اُمتوں کا نیابۃً اس عہد کو پورا کرنا، یہ ایفائے عہد کی ایک شکل ہوئی۔ اور اس سے یہ بھی معلوم ہوگیا کہ سیّدنا ابنِ عباس رضی اللہ عنہ کے
481
اِرشاد میں آپ نے تدبر نہیں فرمایا، ورنہ وہ بھی اس عہد کے نیابۃً پورا ہونے ہی کے قائل ہیں، اس کے برعکس آنجناب نے جو تقریر فرمائی ہے، اس سے یا تو قرآنِ کریم کی تکذیب لازم آتی ہے، یا انبیائے کرام علیہم السلام پر ۔۔۔نعوذباللہ۔۔۔ عہدشکنی کا اِلزام عائد ہوتا ہے، کیونکہ قرآنِ کریم یہ کہتا ہے کہ انبیائے کرام علیہم السلام سے یہ عہد لیا گیا کہ: ’’تم ایمان لاؤگے، اور نصرت کروگے‘‘ اب ظاہر ہے کہ انبیائے کرام علیہم السلام بذاتِ خود تو نصرت کر نہیں سکے، ادھر نیابت کے اُصول کو آنجناب تسلیم نہیں کرتے، کیونکہ بقول آپ کے:
’’ایمان اسی نبی نے لانا ہے، اور مدد اسی نبی نے کرنی ہے، اس میں کیا تک ہے کہ وہ دُوسرے کو کہے کہ بھئی میں تو نہ ایمان لاتا ہوں، اور نہ مدد کرتا ہوں، تم میری طرف سے ایمان بھی لے آؤ، اور مدد بھی کرو، کیا یہ خدا کے حکم کی حکم عدولی اور عہدشکنی نہیں؟‘‘
ظاہر ہے کہ آپ کے اُصول کے مطابق جب اس معاملے میں ایک نبی دُوسرے نبی کی نیابت نہیں کرسکتا، کیونکہ بقول آپ کے یہ عہدشکنی ہے، تو کوئی اُمتی اس معاملے میں کسی نبی کی نیابت کیسے کرسکتا ہے؟ اور اس کی نیابت آنجناب کی بارگاہ میں کیسے قبول ہوسکتی ہے؟ گویا آپ کے نظریے کے مطابق یا تو قرآن نے اس میثاق کی خبر ۔۔۔نعوذباللہ۔۔۔ غلط دی ہے، یا انبیائے کرام علیہم السلام عہدشکنی کے مرتکب ہوئے۔
بہرحال سیّدنا ابنِ عباس رضی اللہ عنہ نے ایفائے عہد کی جو شکل بیان فرمائی ہے، اسی میں حصر نہیں، اس کے علاوہ بھی اور شکلیں ہوسکتی ہیں، مثلاً شبِ معراج میں تمام انبیائے کرام علیہم السلام مقتدی ہوئے، اِمام الرسل صلی اللہ علیہ وسلم کو منصبِ اِمامت تفویض کیا گیا، سب نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی اِقتدا میں نماز اَدا کی، کیوں نہ اس واقعے کو بھی اسی ’’لتؤمنن بہ ولتنصرنہ‘‘ کی ایک شکل سمجھا جائے؟ اور جب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اُمت کو آگاہ فرمادیا ہے کہ:
’’اَلْأَنْبِیَائُ إِخْوَۃٌ لِعَلّاتٍ، أُمَّھَاتُھُمْ شَتّٰی وَدِیْنُھُمْ وَاحِدٌ، وَإِنِّیْ أَوْلَی النَّاسِ بِعِیْسَی ابْنُ مَرْیَمَ، لَمْ یَکُنْ بَیْنِیْ
482
وَبَیْنَہٗ نَبِیٌّ وَاِنَّہٗ نَازِلٌ فَإِذَا رَأَیْتُمُوْہُ ۔۔۔الخ۔‘‘
(النبوۃ فی الاسلام ص:۹۲)
ترجمہ: … ’’نبی علاتی بھائی ہوتے ہیں، ان کی مائیں مختلف ہوتی ہیں، اور ان کا دِین ایک ہے، اور میں سب سے زیادہ قریب ہوں عیسیٰ بن مریم سے، میرے اور ان کے درمیان کوئی نبی نہیں ہوا، اور وہ ضرور نازل ہونے والا ہے، پس جب تم اس کو دیکھو۔۔۔الخ۔‘‘
پس جب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم خود بیان فرما رہے ہیں کہ عیسیٰ علیہ السلام کی تشریف آوری دِینِ اسلام کی نصرت وحمایت کے لئے ہونے والی ہے، تو اگر میں نے یہ عرض کردیا کہ یہ بھی اسی عہد وپیمان کے ایفا کی ایک شکل ہے تو اس میں کیا بے جائیت ہے؟ اور سیّدنا ابنِ عباس رضی اللہ عنہ کے ارشاد سے اس کا کیا تعارض ہے؟
رہا آنجناب کا یہ ارشاد کہ ’’وہ ایک بار یہ میثاق پورا کرچکے ہیں، اب دوبارہ کیا ضرورت؟‘‘ یہ میری عقل وفہم سے بالاتر ہے، جب وہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی اُمت میں شامل ہیں تو انہیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی حمایت ونصرت کے فرض پر جب بھی مأمور کیا جائے گا، وہ اسے بسر وچشم بجا لائیں گے۔ مأمور کرنے والا خدا ہے، فرض بجائی عیسیٰ علیہ السلام کر رہے ہیں، میں، آپ، یا کوئی اور کون ہوتا ہے جو اُن پر یہ حکمِ اِمتناعی جاری کردے کہ: ’’نہیں جناب! آپ ایک بار یہ کام کرچکے ہیں، اب ضرورت نہیں، تشریف لے جائیے۔‘‘
اسی طرح آنجناب کا یہ ارشاد بھی ناقابلِ فہم ہے کہ ’’عہد ومیثاق ہمیشہ تحریری ہوتا ہے۔‘‘ جو عہد وپیمان زبانی ہو، اس کو آپ کیا نام دیں گے؟ اور اس کا پورا کرنا بھی لازم ہے یا نہیں؟ اور پھر انبیائے کرام علیہم السلام سے تو یہ عہد عالمِ اَرواح میں لیا گیا تھا، کیا اسی وقت ان سب کو تحریر لکھ کر بھی دے دی گئی تھی۔۔۔؟
دسواں شبہ: … ’’ایک بار تو حضرت عیسیٰ پر اِنجیل اُترچکی ہے، جس میں
483
آنحضرت صلعم کے متعلق شہادت موجود ہے، اب ان پر کوئی دُوسری کتاب اُترنی چاہئے۔‘‘
افسوس ہے اس ’’اُترنی چاہئے‘‘ کی منطق میں نہیں سمجھ سکا، کیوں اُترنی چاہئے؟ اس کی ضرورت اور وجہ؟ شاید لفظ ’’ثم‘‘ پر نظر نہیں گئی، اس پر ذرا اچھی طرح غور فرماکر سوال کیجئے۔
گیارہواں شبہ: … ’’یثرب کے نبیٔ معصوم کو، جنہیں ساری نسلِ انسانی کی ہدایت کے لئے بھیجا گیا، آپ مدینہ میں مدفون سمجھتے ہیں، مگر حضرت عیسیٰ کو، جنہیں اِنجیل اور قرآن دونوں بنی اسرائیل کی طرف بھیجا جانے والا رسول کہتے ہیں، انہیں عرش پر زِندہ سلامت سمجھے بیٹھے ہیں۔‘‘
یہ شبہ آپ سے پہلے کئی بار پیش کیا جاچکا ہے، مجھے توقع نہ تھی کہ آنجناب بھی اسے زیب رقم فرمائیں گے، تاہم مجھے مسرّت ہے کہ آپ جتنے شبہات بھی پیش کریں گے، میں اپنی ناچیز اِستطاعت کے مطابق انہیں زائل کرنے کی کوشش کروں گا، وما توفیقی اِلَّا باﷲ!
سب سے پہلے تو میں آنجناب کی یہ غلط فہمی زائل کرنا چاہتا ہوں کہ: ’’ہم حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو عرش پر بیٹھے سمجھتے ہیں‘‘ غالباً آنجناب نے آسمان اور عرش کو مترادف سمجھ لیا ہے، مگر واقعہ یہ ہے کہ آسمان اور چیز ہے، اور عرش اس سے الگ چیز ہے۔ مسلمان حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو عرش پر نہیں، بلکہ آسمان پر زِندہ سمجھتے ہیں، اور ان دونوں کے درمیان زمین وآسمان کا فرق ہے۔
دُوسری گزارش یہ ہے کہ آپ کا یہ شبہ دراصل تین شبہات کا مجموعہ ہے:
۱:- آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا فوت شدہ ہونا اور حضرت عیسیٰ کا زِندہ ہونا۔
۲:- آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا زمین پر ہونا یا زمین میں مدفون ہونا اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا آسمان پر ہونا۔
۳:- آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی عمر مبارک کا مختصر اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی عمر کا طویل ہونا۔
یہ تمام چیزیں آنجناب کے خیال میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی توہین وتنقیص
484
کی موجب، اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی فضیلت وبرتری کو مستلزم ہیں، مگر مجھے افسوس ہے کہ یہ سراسر غلط فہمی ہے، غالباً آنجناب کی غلط فہمی کا منشا یہ ہے کہ آپ نے ۔۔۔معاف کیجئے! عیسائیوں اور نیچریوں کے پروپیگنڈے سے متأثر ہوکر۔۔۔ اپنے خیال میں یہ طے کرلیا ہے کہ جو زِندہ ہو، وہ فوت شدہ سے افضل ہوتا ہے، جو آسمان پر ہو، وہ زمین والوں سے برتر ہوتا ہے، اور جس کی عمر لمبی ہو، وہ چھوٹی عمر والے سے بہتر ہوتا ہے۔
میں پوچھتا ہوں کیا یہ اُصول، جس پر آپ کے شبہ کی ساری عمارت کھڑی ہے، صحیح ہے؟ اور آپ کو مُسلَّم ہے؟ آپ ذرا بھی تأمل سے کام لیں گے تو آپ پر اس اُصول کی غلطی فوراً واضح ہوجائے گی۔ محترما! کسی شخص کا مدفون اور دُوسرے کا زِندہ ہونا، نہ اوّل الذکر کی تنقیص کا موجب ہے، نہ ثانی الذکر کی فضیلت کا۔ دیکھئے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی رحلت کے وقت جو لوگ زِندہ تھے، یا اب زِندہ ہیں، کیا آپ ان کو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے افضل سمجھ لیں گے؟ ۔۔۔نعوذباللہ۔۔۔ یا کیا ان لوگوں کا زِندہ ہونا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی تنقیص کا موجب ہے؟ دُور کیوں جائیے! مرزا صاحب زیرِ زمین مدفون ہیں، اور آنجناب ماشاء اللہ زِندہ سلامت ۔۔۔عرش پر نہ سہی۔۔۔ کرسی پر متمکن ہیں، کیا کسی احمق کو اس سے یہ نتیجہ اخذ کرنا چاہئے کہ آپ مرزا صاحب سے افضل ہیں؟ یا یہ کہ آپ کے زِندہ ہونے میں مرزا صاحب کی توہین وتنقیص ہے؟ غور فرمائیے! کیا یہ دلیل ہے یا محض سفسطہ۔۔۔؟
اسی طرح کسی شخص کا محض آسمان پر ہونا، اور دُوسرے کا زمین پر ہونا، نہ تو اَوّل الذکر کی افضلیت کی دلیل ہے، اور نہ مؤخر الذکر کی تنقیص کا موجب ہے، کون نہیں جانتا کہ انبیائے کرام علیہم السلام آسمان کے فرشتوں سے، بلکہ حاملینِ عرش سے بھی افضل ہیں، جب جبریل علیہ السلام کے آسمان پر زِندہ ہونے سے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی تنقیص نہیں ہوتی، نہ جبریل علیہ السلام کا آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے افضل ہونا لازم آتا ہے، تو حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا وجود کیوں بارِ خاطر ہے؟ جبکہ وہ جبریل علیہ السلام سے تو افضل ہی ہیں۔
اور سنئے! جناب مرزا صاحب لکھتے ہیں:
’’جنات آسمان تک پہنچ جاتے ہیں، جیسا کہ ’’فأتبعہ
485
شھاب ثاقب‘‘ سے ظاہر ہوتا ہے۔‘‘
اگر خبیث جنات کے آسمان تک پہنچ جانے سے کوئی پہاڑ نہیں ٹوٹتا ۔۔۔البتہ ستارے ضرور ٹوٹتے ہیں۔۔۔ کسی نبی کی توہین نہیں ہوتی، نہ کسی کو جنات کی برتری وفضیلت کا شبہ گزرتا ہے، تو ایک حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا نام سن کر ہی کیوں طوفان برپا ہوجاتا ہے؟ اور پھر نیک رُوحوں کے اعلیٰ علّییّن پر جانے کا عقیدہ کس کو معلوم نہیں؟ کیا محض ان کے آسمان پر ہونے سے یہ فرض کرلیا جائے کہ ہر نیک رُوح زمین کے تمام باشندوں سے افضل ہوتی ہے؟ اور پھر میں کہتا ہوں کہ جب رُوحیں آسمان پر جاتی ہیں، اور وہی ان کا مستقر بھی ہے تو حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا تو لقب ہی ’’رُوح اللہ‘‘ ہے، اگر وہ آسمان پر جائیں، اور وہاں رہیں تو اس سے کیوں بدکا جائے۔۔۔؟
ضمناً یہ بھی عرض کردُوں کہ جن عیسائیوں نے یہ دانش مندانہ گپ اُڑائی ہے کہ عیسیٰ علیہ السلام چونکہ آسمان پر ہیں، اس لئے وہ خدا، یا خدا کے بیٹے ہیں، ان سے کہئے کہ اگر آسمان پر جانے سے ہی خدائی مل جاتی ہے تو ایسے سستے خدا انہیں اور بھی مل جائیں گے، اس لئے وہ ان سارے صعودِ آسمانی والے خداؤں کی پرستش کے لئے تیار رہیں، آسمان کے سارے فرشتے ان کی خدائی کے لئے موجود ہیں، علّییّن کی تمام رُوحیں ان کی خدا بننے کو حاضر ہیں، اور آسمان تک پہنچنے والے سب شیاطین ان سادہ لوحوں سے اپنی خدائی کا سکہ منوانے کے لئے موجود ہیں۔ محترم! یہ اُصول سراسر عیسائی گپ ہے کہ جو آسمان پر چلا جائے، وہ خدا بن جاتا ہے، وہ زمین والوں سے افضلیت کا اِستحقاق رکھتا ہے، میں نہیں سمجھتا کہ آپ ایسے عاقل وفہیم بھی عیسائیوں کے غلط، مگر مکروہ پروپیگنڈے کو اپنے دلائل کے دامن میں ٹانک سکتے ہیں۔ سرسیّد مسکین پر اِحساسِ کہتری طاری تھا، وہ اور اس کے حواری عیسائی پروپیگنڈے کے سیلاب میں بہ کر اِسلامی عقائد پر مشقِ جراحی کرتے رہے، انہوں نے یہ دیکھنے کی زحمت نہیں کی کہ یہ پروپیگنڈا عقل واِستدلال سے کس قدر عاری ہے، مگر اَب تو ہم غلام نہیں، اب تو یہ طرزِ فکر چھوڑ دینا چاہئے۔
ہاں! کسی کی عمر کا مختصر، اور دُوسرے کی عمر کا طویل ہونا بھی معیارِ فضیلت نہیں۔
486
حضرت آدم علیہ السلام کی عمر ہزار برس ہوئی،اور نوح علیہ السلام کی اس سے بھی زیادہ، کیا اس سے یہ اِستدلال کرنا صحیح ہوگا کہ یہ دونوں حضرات ہمارے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے افضل تھے؟ یا ان کا طویل عمر پانا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی تنقیص کا موجب ہے؟ الغرض نہ کسی کا زِندہ ہونا معیارِ فضیلت ہے، نہ آسمان پر ہونا، نہ طویل العمر ہونا، اس لئے آنجناب کا یہ شبہ محض جذباتی ہے، اور اس کا منشا صرف غلط فہمی، اور عیسائی پروپیگنڈے سے مرعوبیت ہے۔
بارہواں شبہ: … آنجناب کی مندرجہ بالا عبارت میں ضمناً ایک اور شبہ بھی پیش کیا گیا ہے، اسے بھی صاف ہونا چاہئے، آپ فرماتے ہیں:
’’حضرت عیسیٰ کو اِنجیل اور قرآن دونوں بنی اسرائیل کی طرف بھیجا جانے والا رسول کہتے ہیں۔‘‘
اس سے آپ یہ تأثر دینا چاہتے ہیں کہ بنی اسرائیل کی طرف بھیجا جانے والا رسول اُمتِ محمدیہ ۔۔۔علیٰ صاحبہا الصلوٰۃ والسلام۔۔۔ کی طرف کیونکر آسکتا ہے؟
جواباً گزارش ہے کہ وہ اُمتِ محمدیہ ۔۔۔علیٰ صاحبہا الصلوٰۃ والسلام۔۔۔ کی طرف رسول بن کر نہیں آئیں گے، بلکہ اس اُمت میں اس کے ایک فرد کی حیثیت سے تشریف لائیں گے، وہ بنی اسرائیل کے رسول تھے، مگر ان کی دوبارہ تشریف آوری اس دور میں ہوگی، جس دور کے تمام لوگوں کے لئے رسول حضرت خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم ہیں، اس اُمت کے لئے بھی، خود حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے لئے بھی، اور ان کی اُمت کے لئے بھی، اور دیگر انبیائے کرام علیہم السلام اور ان کی اُمتوں کے لئے بھی۔ بعید نہیں کہ ان کا اسی دُنیا میں اُمتِ محمدیہ ۔۔۔علیٰ صاحبہا الصلوٰۃ والسلام۔۔۔ میں آشامل ہونا ان کی اس دُعا کا ثمر ہو، جو آنجناب نے اِنجیل برنباس سے نقل کی ہے:
’’اے محمد! (صلی اللہ علیہ وسلم) اللہ تعالیٰ تیرے ساتھ ہو، اور مجھ کو اس قابل بنائے کہ میں تیری جوتی کا تسمہ کھولوں، کیونکہ اگر میں یہ شرف حاصل کرلوں تو بڑا نبی اور اللہ کا مقدس بن جاؤں گا۔‘‘
ان کی اس دُعا میں دو باتیں بالکل نمایاں ہیں، ایک یہ کہ ’’جوتی کا تسمہ کھولنا‘‘
487
کنایہ ہے خوردانہ خدمت اور نصرت وحمایت سے، گویا دُعا یہ ہے کہ حق تعالیٰ ان کو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا حامی وخادم بنائے، اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی اُمت میں شامل کرکے ان سے دِینِ قیم کی خدمت لے۔
دُوسرے یہ کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی اُمت میں داخل ہونا ان کے حق میں ذِلت کا موجب نہیں، بلکہ ان کی بڑائی اور تقدس وشرف کا باعث ہے، شاید ان کی اسی دُعا کو قبول کرکے اللہ تعالیٰ نے ان سے وہ وعدہ کیا ہو، جسے میں حدیثِ معراج کے حوالے سے اُوپر نقل کرچکا ہوں ۔۔۔دیکھئے پانچواں شبہ۔۔۔ الغرض ان کے اس اُمت میں تشریف لانے سے ان کی سابقہ حیثیت ختم نہیں ہوگی، البتہ بنی اسرائیل کے رسول ہونے کے ساتھ ساتھ وہ اُمتِ محمدیہ کے ایک فرد بھی ہوں گے ۔۔۔اور یہ میں پہلے لکھ چکا ہوں کہ تمام انبیاء آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی اُمت ہیں۔۔۔ اور اُمتِ محمدیہ میں ان کی تشریف آوری کا سب سے اہم مقصد بھی اپنی ہی قوم یعنی بنی اسرائیل کی اِصلاح ہوگا۔ شاید اسی نکتے کے پیشِ نظر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے یہود سے فرمایا تھا:
’’إن عیسٰی لم یمت وإنہ راجع إلیکم قبل یوم القیامۃ۔‘‘
(درمنثور)
ترجمہ: … ’’بے شک عیسیٰ علیہ السلام مرے نہیں، اور قیامت سے پہلے وہ تمہاری طرف واپس لوٹ کر آئیں گے۔‘‘
آپ دیکھ رہے ہیں کہ اس اُمت کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ’’نازل فیکم‘‘ کی خوشخبری دی، یعنی ’’تم میں نازل ہوں گے‘‘، اور بنی اسرائیل کو ’’راجع إلیکم‘‘ فرمایا، یعنی ’’تمہاری طرف لوٹ کر آئیں گے‘‘ اس طرزِ تعبیر میں یہی نکتہ معلوم ہوتا ہے، واللہ اعلم!
ہاں! یاد آیا! اِنجیل برنباس، جس سے آپ نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی دُعا کا اِقتباس نقل کیا ہے، اس میں ٹھیک اسلامی عقیدے کے مطابق حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا یہودیوں کے ہاتھ میں گرفتار ہونے سے بچایا جانا، زِندہ سلامت آسمان پر اُٹھایا جانا، اور پھر آخری زمانے میں نزول فرمانا درج ہے، کیا آپ بتاسکیں گے کہ یہ اِنجیل کس زمانے میں
488
لکھی گئی؟ کس نے لکھی؟ اور اس کے مندرجات کی حیثیت کیا ہے۔۔۔؟
تیرہواں شبہ: … جناب برکت خان کا ایک ژولیدہ فقرہ نقل کرکے آنجناب نے لکھا ہے:
’’آپ کا بھی یہی عقیدہ ہے کہ وہ بجسدِ عنصری آسمان پر اُٹھائے گئے، اور واپس آئیں گے، اور اُمتِ محمدیہ کی اِصلاح کریں گے، تو کیا جواب ہے آپ کے پاس عیسائیوں کے ان الفاظ کا کہ ابن اللہ ہے، کلمۃ اللہ ہے، خدائے کامل اور اِنسانِ کامل ہے؟‘‘
میں آپ کو یاد دِلاؤں گا کہ عیسائیوں کے ’’یہ الفاظ‘‘ آج نئے آپ کے سامنے نہیں آئے، بلکہ انہوں نے یہی عجیب وغریب الفاظ بارگاہِ رسالت میں بھی پیش کئے تھے، مگر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی دلیل کا سامنا کرنے کے لئے نہ تو مسیح علیہ السلام کے رفعِ جسمانی کا اِنکار فرمایا، نہ ان کو یہ کہا کہ عیسیٰ مرچکا ہے، نہ ان کے کلمۃ اللہ اور رُوح اللہ ہونے سے اِنکار فرمایا، بلکہ ان کی غلطی کی اِصلاح کے لئے صرف تین فقرے ایسے فرمائے کہ ان کا جواب نہ ان سے اس وقت بن سکا، نہ آج تک، ایک فقرہ یہ تھا:
’’أَلَسْتُمْ تَعْلَمُوْنَ أَنَّ عِیْسٰی یَأْتِیْ عَلَیْہِ الْفَنَائُ وَإِنَّ رَبُّنَا حَیٌّ لَا یَمُوْتُ۔‘‘
(درمنثور)
ترجمہ: … ’’کیا تم نہیں جانتے کہ عیسیٰ پر فنا طاری ہوگی، اور ہمارا رَبّ حی لا یموت ہے، کبھی نہیں مرے گا۔‘‘
آپ دیکھ رہے ہیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ نہیں فرمایا کہ عیسیٰ تو مرچکا ہے، بلکہ انہیں اس حقیقت پر متنبہ فرمایا کہ جس طرح ساری مخلوق فانی ہے، اسی طرح عیسیٰ علیہ السلام پر بھی آئندہ کسی زمانے میں قانونِ فنا طاری ہونے والا ہے، وہ قانونِ فنا سے مستثنیٰ نہیں، ان کی حیاتِ مستعار، خواہ وہ کتنی ہی طویل ہو، انہیں خدا بنانے کے لئے کافی نہیں، وہ فانی ہیں، اور فانی خدا نہیں ہوسکتا۔
محترما! آپ نے برکت خان کے ایک فقرے کے سامنے سپر ڈال دی، اور اسے
489
لاجواب سمجھ لیا جب تک کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے رفعِ جسمانی کا اِنکار نہ کردیا جائے، آپ نے برکت صاحب سے یہ تو پوچھ لیا ہوتا کہ انہوں نے اپنے ژولیدہ فقرے کا مطلب خود بھی سمجھا ہے؟ یا ’’تین ایک، اور ایک تین‘‘ کی طرح یہ بھی ایک ایسی چیستان ہے جسے کوئی عیسائی نہ خود سمجھ سکتا ہے، نہ کسی اور کو سمجھا سکتا ہے۔۔۔؟ ان صاحب سے پوچھئے کہ:
۱- کیا خدا بھی قتل کیا جاتا اور سولی دِیا جاتا ہے؟
۲- انسان خدا، خدا اِنسان، یہ کیا معما ہے؟
۳- خدا کا قاتل طاقتور تھا یا مقتول خدا؟
۴- کیا خدا خود ہی باپ اور خود ہی بیٹا ہے؟
۵- عیسیٰ علیہ السلام مقتول ومصلوب ہونے کے سبب ابن اللہ ہیں؟ یا برعکس اس کے ابن اللہ ہونے کے سبب مقتول ومصلوب ہوئے؟ عیسائی عقیدہ اس بارے میں کیا ہے؟ اور برکت صاحب کیا فرما رہے ہیں؟
تعجب ہے! جو مسکین یہ نہیں جانتا کہ اس کا عقیدہ کیا ہے؟ اور جو کچھ وہ لکھ رہا ہے اس کا مفہوم ومدعا کیا ہے؟ جسے یہ خبر نہیں کہ سبب کسے کہتے ہیں؟ اور مسبّب کیا ہوتا ہے؟ آپ اس کی بے سروپا ُتک بندی کو لاجواب بتاکر مجھے اسلامی عقیدے میں ترمیم واِصلاح کا مشورہ دے رہے ہیں، اور اپنی خفگی کا سارا زور اِسلامی عقیدے پر اُتار رہے ہیں، کیا عقیدۂ رفع کے اِنکار سے عیسائی مسلمان ہوجائیں گے؟ یا آپ نے عقیدۂ رفع کا اِنکار کرکے عیسائیوں کو مسلمان بنالیا۔۔۔؟
میرے محترم! غیروں کے واہی تباہی شبہات کا سامنا کرنے کے لئے اِسلامی عقائد میں کتربیونت شروع کردینا کوئی صحت مندانہ طرزِ فکر نہیں، بلکہ یہ گریزپائی، شکست خوردگی، اور سپراندازی کی علامت ہے، یہ اسلام سے نادان دوستی ہے۔ میں بحمداللہ! مسیح علیہ السلام کے رفعِ جسمانی کا قائل ہوں، کیونکہ میرا خدا قائل ہے، میرا رسول قائل ہے، میرے پیشرو سلف صالحین قائل ہیں، لیکن کسی عیسائی کو میرے سامنے لائیے، میں دیکھوں گا کہ وہ کس دلیل، اور کس منطق سے آسمان پر جانے سے اُلوہیت یا اِبنیت کشید کرکے دِکھاتا
490
ہے؟ یا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی افضلیت کیسے ثابت کرکے دِکھاتا ہے؟ مگر میں آنجناب کی خفگی کا کیا علاج کروں؟ آپ جوش میں یہ تک کہہ گئے:
’’کہاں ہے آپ کی نگاہ میں آنحضرت خاتم النبیین کی رفعت وعظمت؟ جب آپ کا اور عیسائیوں کا ایک ہی عقیدہ ہے، تو کیا آپ خدا کے ساتھ شرک کے مرتکب نہیں ہو رہے؟‘‘
محترم! آپ کا یہ فقرہ نرا جذباتی ہے، غصّے میں آدمی حق وباطل اور صحیح وغلط کی تمیز نہیں کرپاتا، حدود کی رِعایت نہیں رہتی، بس غصہ تھوک دیجئے، اِطمینان وسکون سے بتائیے! کیا عیسیٰ علیہ السلام کے بارے میں مسلمانوں اور عیسائیوں کا عقیدہ واقعتا ایک ہی ہے؟ کیا کسی باوقار اور سنجیدہ اتھارٹی کے سامنے آپ اپنے اس دعوے کو ثابت کرسکتے ہیں۔۔۔؟
اچھا یہ بتائیے کہ عیسیٰ علیہ السلام کے رفعِ جسمانی سے واقعی ان کا خدا ہونا ثابت ہوجاتا ہے؟ رفع وحیاتِ مسیح کا عقیدہ واقعی شرک ہے؟ اگر آنجناب کے یہ دعوے جھنجھلاہٹ اور جذباتیت کا نتیجہ نہیں، بلکہ سنجیدگی سے آپ یہی سمجھتے ہیں تو آپ کے شبہ کا اِزالہ میرا فرض ہے، اور میں اِن شاء اللہ اس فرض کو ضرور بجالاؤں گا، لیکن چند تنقیحات ضروری ہیں، آپ ان کی وضاحت کردیں:
۱- شرک کسے کہتے ہیں؟
۲- جو شخص شرک کا مرتکب ہو، اس کا کیا نام رکھتے ہیں؟
۳- شرک کی سزا وہی ہے جو قرآنِ کریم نے بتائی ہے: ’’اِنَّ اللہَ لَا یَغْفِرُ اَنْ یُّشْرَکَ بِہٖ‘‘ یا کچھ اور؟
۴- شرک کو شرک سمجھ کر کیا جائے تبھی آدمی گناہگار ہوتا ہے، یا نادانستہ شرک بھی شرک ہی ہے؟ مثلاً: عیسائی صاحبان تثلیث کو شرک نہیں سمجھتے، بلکہ توحید سمجھتے ہیں، وہ مشرک ہیں یا نہیں؟
۵- حیاتِ مسیح کا عقیدہ آپ کے خیال میں شرکِ خفی ہے یا جلی؟
۶- یہ کس تاریخ سے شرک شمار ہونے لگا ہے؟
491
۷- کیا مأمور من اللہ شرک کا مرتکب ہوتا ہے؟
۸- کیا شرک کا مرتکب مجدّد بھی ہوتا ہے؟
۹- خدا تعالیٰ نے لوگوں کو شرک سے بچانے کے لئے اِتمامِ حجت بھی کی ہے یا نہیں؟
۱۰- اگر کی ہے تو کس تاریخ سے؟
آنجناب ان اُمور کی تنقیح فرمائیں گے، تب عرض کروں گا کہ ہم بحمداللہ حیاتِ مسیح کو مان کر شرک کے مرتکب نہیں، بلکہ قضیہ برعکس ہے۔
میں نے آنجناب کے خط سے کرید کرید کر شبہات نکالے ہیں، اور انہیں حل کرنے کی ناتواں کوشش کی ہے، خدا شاہد ہے کہ میرا مقصود واقعتا آپ کی اِصلاح وبہبود اور خیرخواہی ہے۔ آنجناب ان معروضات پر غور وتدبر فرمائیں، اگر کوئی شبہ پھر باقی رہ جائے تو اس کی تشفی کے لئے حاضر ہوں، کوئی اور شبہ ہو تو وہ بھی پیش فرمائیے۔
وَآخِرُ دَعْوَانَا اَنِ الْحَمْدُ ِﷲِ رَبِّ الْعَالَمِیْنَ
وَصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی خَیْرِ خَلْقِہٖ سَیِّدِنَا مُحَمَّدٍ النَّبِیِّ الْاُمِّیِّ وَآلِہٖ
وَصَحْبِہٖ وَبَارَکَ وَسَلَّمَ
۲۹؍شعبان ۱۳۹۷ھ
۱۶؍اگست ۱۹۷۷ء
492
نصابی کتابوں کی اِصلاح کی جائے
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ
اَلْحَمْدُ لِلہِ وَسَلَامٌ عَلٰی عِبَادِہِ الَّذِیْنَ اصْطَفٰی!
بی اے کلاسز کے طلبہ و طالبات کے لئے ’’تسہیل اسلامیات‘‘ کے نام سے ایک کتاب نذر سنز لاہور سے شائع ہوئی ہے، جسے جناب پروفیسر سمیع ہاشمی نے مرتب کیا ہے، ایک دوست نے اس کے چند مقامات کی طرف توجہ دلائی ہے، جو محتاج اصلاح ہیں۔
۱:۔۔۔خلع کے بیان میں لکھا ہے:
’’عورت خلع خود نہیں کرسکتی، اس کے لئے عدالت سے رجوع کرنا پڑے گا۔‘‘
(ص:۳۴)
خلع کے لئے شرعاً عدالت کی کوئی شرط نہیں، میاں بیوی دونوں رضامندی سے یا کسی ثالث کے ذریعہ بھی خلع کرسکتے ہیں، البتہ اگر شوہر کسی طرح بھی عورت کی گلوخلاصی کے لئے تیار نہ ہو تب عدالت سے رجوع کی ضرورت پیش آتی ہے۔
۲:۔۔۔خلع ہی کے بیان میں لکھا ہے:
’’خلع کی عدت صرف ایک حیض ہے، تاکہ علم ہو کہ دوسرے نکاح سے پہلے عورت حاملہ تو نہیں۔‘‘
(ص:۳۴)
خلع، طلاق کے قائم مقام ہے، اور اس کی عدت وہی ہے جو طلاق کی ہوتی ہے، اس لئے یہ مسئلہ واضح طور پر غلط ہے۔
۳:۔۔۔حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی حیات کے عنوان کے تحت لکھا ہے:
’’موسوی شریعت کے مطابق حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی
493
پرورش اور تربیت کی گئی، کچھ عرصہ بعد مریم نے اپنی قوم کے ایک فرد یوسف نجار سے شادی کرلی، اور اناجیل سے پتہ چلتا ہے کہ پھر مریم اور یوسف کے ہاں اور بھی بچے پیدا ہوئے۔‘‘
(ص:۶۰)
حضرت مریم رضی اللہ تعالیٰ عنہا کا یوسف نجار سے شادی کرنا اسلامی نظریہ نہیں ہے، اور اناجیل کے حوالہ سے اسے ’’اسلامیات‘‘ میں شامل کرنا غلط ہے۔
۴:۔۔۔حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے معجزات جو قرآن کریم میں ذکر کئے گئے ہیں، ان کا تذکرہ کرنے کے بعد لکھا ہے:
’’مسلمان علماء میں اشاعرہ ان معجزات کو بعینہٖ تسلیم کرتے ہیں، مگر معتزلہ انہیں برنگ مجاز خیال کرتے ہیں۔‘‘
(ص:۶۲)
یہ فقرہ مبتدی طلبہ و طالبات کے لئے گمراہ کن ہے، مؤلف نے اس بات کو ایسے انداز سے بیان کیا ہے گویا معجزات کو حقیقت پر محمول کرنا، اور ان میں ایسی تاویل کرنا کہ معجزہ معجزہ رہے، دونوں باتیں یکساں ہیں، حالانکہ اہل حق کے نزدیک ان معجزات میں تاویل کی کوئی گنجائش نہیں ہے۔
۵:۔۔۔حضرت مسیح علیہ السلام اور واقعہ صلیب کے تحت لکھا ہے:
’’حضرت مسیح کی ذات کے گرد واقعات کچھ اس طرح الجھ گئے ہیں کہ یہودی، عیسائی اور مسلمان تینوں نے جداگانہ نتائج مرتب کئے ہیں۔‘‘
مصنف کا یہ اندازِ بیان بھی غلط ہے، کیونکہ اس کا واضح مطلب یہ ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی زندگی کے واقعات مشتبہ ہیں، اس لئے یہود و نصاریٰ اور مسلمان تینوں فریق اپنے اپنے نقطہ نظر سے ان کی تعبیر کرتے ہیں، اس کے بجائے مصنف کو یہ لکھنا چاہئے تھا کہ قرآن کریم نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے بارے میں یہود و نصاریٰ کے اشتباہات کو رفع کیا ہے، اور واقعات کی صحیح نوعیت کو واشگاف کیا ہے، قرآنی بیان کے مطابق حضرت مسیح علیہ السلام کے گرد واقعات کو الجھے ہوئے کہنا بڑی غلط بات ہے۔
494
۶:۔۔۔آگے ’’اسلامی نقطہ نظر‘‘ کے عنوان کے تحت لکھا ہے:
’’وہ (حضرت عیسیٰ علیہ السلام) سرے سے صلیب پر چڑھائے ہی نہیں گئے بلکہ خدا نے انہیں یہودیوں سے پراسرار طریق پر بچاکر زندہ اوپر اٹھالیا۔ ’’وما قتلوہ وما صلبوہ ولکن شبہ لھم‘‘ اب وہ قیامت سے قبل تشریف لاکر اسلام کا غلبہ دنیا میں قائم کریں گے، اور اپنی طبعی عمر سے وفات پائیں گے، جب حضرت مسیح علیہ السلام کی پیدائش عام انسانی قاعدے سے الگ یعنی بن باپ کے ہوئی تو یہ بھی قرین قیاس ہے کہ آپ کا انجام بھی معمول سے ہٹ کر ہوا ہو۔‘‘
(ص:۶۳، ۶۴)
یہاں تک تو اسلامی نقطہ نظر کی صحیح ترجمانی کی گئی ہے، لیکن آگے لکھا ہے:
’’مولانا مودودی کے الفاظ میں: قرآن نہ اس کی تصریح کرتا ہے کہ اللہ ان کو جسم و روح کے ساتھ کرہ زمین سے اٹھاکر آسمانوں میں کہیں لے گیا، اور نہ ہی صاف کہتا ہے کہ انہوں نے زمین پر طبعی موت پائی، اور صرف ان کی روح اٹھالی گئی، اس لئے قرآن کی بنیاد پر نہ تو ان میں سے کسی ایک پہلو کی قطعی نفی کی جاسکتی ہے، اور نہ اثبات، لیکن قرآن کے انداز بیان پر غور کرنے سے یہ بات بالکل نمایاں طور پر محسوس ہوتی ہے کہ اٹھائے جانے کی نوعیت و کیفیت خواہ کچھ بھی ہو، بہرحال مسیح علیہ السلام کے ساتھ خدا نے کوئی ایسا معاملہ ضرور کیا ہے جو غیرمعمولی نوعیت کا ہے۔‘‘
حالانکہ قرآن کریم نے جس رفع کا ذکر کیا ہے، پوری اُمت اس پر متفق ہے کہ اس سے رفع جسمانی مراد ہے، اس اجماع قطعی کے بعد یہ کہنا کہ رفع مسیح کی کوئی نوعیت متعین نہیں کی، اس کی مثال ایسی ہوگی کہ کوئی شخص یہ دعویٰ کرے کہ: قرآن کریم نے ’’اقامت صلوٰۃ‘‘ کا حکم تو دیا ہے، مگر اس کی کوئی کیفیت متعین نہیں کی۔ ’’ایتاء زکوٰۃ‘‘ کا حکم
495
تو دیا ہے مگر اس کی متعین نوعیت نہیں بتائی۔ ظاہر ہے کہ یہ فلسفہ خالصتاً گمراہ کن ہے، تواتر کے ساتھ اُمت میں الصلوٰۃ اور الزکوٰۃ کی جو شکل چلی آتی ہے، وہ قرآن کریم ہی کی متعین کردہ ہے، اس طرح حضرت مسیح علیہ السلام کے رفع کی جو صورت قرآن کریم نے بیان کی ہے، وہی اُمت کا متواتر عقیدہ ہے، لیکن جناب مصنف لکھتے ہیں:
’’تاہم عقیدہ حیات و رفع مسیح اسلام کے اجزائے ایمان میں سے ہرگز نہیں، اور تاویل کے احتمال سے یکسر خالی نہیں۔‘‘
حالانکہ جو امور قطعی تواتر سے ثابت ہوں وہ ’’ضروریاتِ دین‘‘ کہلاتے ہیں، اور ان میں سے کسی ایک کے انکار کو کفر قرار دیا گیا ہے، پس جب حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے رفع و حیات اور آخری زمانے میں ان کے نازل ہونے کا عقیدہ کتاب اللہ، سنت متواتر اور اُمت کے قطعی اور متواتر اجماع سے ثابت ہے تو اس پر ایمان لانا کیوں واجب نہ ہوگا؟ اور اس کے منکر کی کیوں تکفیر نہ کی جائے گی؟
یہاں اس مسئلہ پر تفصیلی بحث کی گنجائش نہیں، نہ ضرورت، یہاں ہمارے ’’اسلامیات‘‘ کے معیار کو ذکر کرنا مقصود ہے کہ کیسی کیسی غلط باتیں ’’اسلامیات‘‘ کے نام سے ناپختہ ذہنوں میں انڈیلی جارہی ہیں، ہم جناب مصنف اور کتاب کے ناشرین سے مخلصانہ اپیل کرتے ہیں کہ خدارا! ان غلطیوں کی اصلاح کی جائے، اور نئی نسل کو جہل مرکب کے مرض سے بچایا جائے، اور حکومت کے محکمۂ تعلیم سے بھی درخواست کرتے ہیں کہ اگر ’’اسلامیات‘‘ کو نصاب میں رکھنا ہے تو اس کے مندرجات مستند ہونے چاہئیں، کچی پکی باتیں طلبہ کے ہاتھ میں تھمادینا بڑا ہی ظلم ہے۔
(ہفت روزہ ختمِ نبوّت کراچی ج:۱۰ ش:۱۷)
496
المہدی والمسیح
کے بارے میں پانچ سوالوں کا جواب
سوال نامہ
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ!
آپ کے ساتھ ایک دو دفعہ جمعہ نماز پڑھنے کی سعادت نصیب ہوئی، آپ کی تقاریر بھی سنیں، آپ کو دُوسرے علمائے کرام سے بہت مختلف پایا۔ اور آپ کی باتوں اور آپ کے علم سے بہت متأثر ہوا ہوں۔ آپ سے نہایت ادب کے ساتھ اپنے دِل کی تسلی کے لئے چند ایک سوال پوچھنا چاہتا ہوں، اُمید ہے جواب سے ضرور نوازیں گے۔
۱: … اِمام مہدی علیہ السلام کے بارے میں کیا کیا نشانیاں ہیں؟ اور وہ کب آئیں گے؟ اور کہاں آئیں گے؟
۲: … اِمام مہدی علیہ السلام کو کیا ہم پاکستانی یا پاکستان کے رہنے والے مانیں گے یا نہیں؟ کیونکہ پاکستانی آئین کے مطابق ایسا کرنے والا غیرمسلم ہے؟
۳: … حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی وفات کے متعلق ذرا وضاحت سے تحریر فرمائیں۔
۴: … حضرت رسولِ اکرمؐ کی حدیث کے مطابق ایک آدمی کلمہ پڑھنے کے بعد دائرۂ اسلام میں داخل ہوجاتا ہے، یعنی کلمہ صرف وہی آدمی پڑھتا ہے جس کو خدا تعالیٰ کی وحدانیت اور خاتم النبیین پر مکمل یقین ہوتا ہے، اس کے باوجود ایک گروہ کو جو صدقِ دِل سے کلمہ پڑھتا ہے، ان کو کافر کیوں کہا جاتا ہے؟
497
۵: … اگر آپ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو زندہ آسمان پر مانتے ہیں تو ان کی واپسی کیسے ہوگی؟ اور ان کے واپس آنے پر ’’خاتم النبیین‘‘ لفظ پر کیا اثر پڑے گا؟
اُمید ہے کہ آپ جواب سے ضرور نوازیں گے، اللہ تعالیٰ آپ کو مزید علم سے سرفراز فرمائے (آمین ثم آمین)۔
آپ کا مخلص
پرویز احمد عابد، اسٹیٹ لائف
اسٹیٹ لائف بلڈنگ، نواںشہر، ملتان
جواب
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ
اَلْحَمْدُ لِلہِ وَسَلَامٌ عَلٰی عِبَادِہِ الَّذِیْنَ اصْطَفٰی
۱: … اِمام مہدیؓ کی نشانیاں:
اِمام مہدی رضی اللہ عنہ کی نشانیاں تو بہت ہیں، مگر میں صرف ایک نشانی بیان کرتا ہوں، اور وہ یہ کہ بیت اللہ شریف میں حجرِ اَسوَد اور مقامِ اِبراہیم کے درمیان ان کے ہاتھ پر بیعتِ خلافت ہوگی۔ اِمام الہند شاہ ولی اللہ محد ث دہلویؒ ’’إزالۃ الخفاء‘‘ میں لکھتے ہیں:
ما بیقین مے دانیم کہ شارع علیہ الصلوٰۃ والسلام نص فرمودہ است باآنکہ اِمام مہدی در دامان قیامت موجود خواہد شد، ووے عنداللہ وعند رسولہٖ اِمامِ برحق است و پُرخواہد کرد زمین را بعدل وانصاف، چنانکہ پیش ازوے پُر شدہ باشد بجور و ظلم ۔۔۔۔۔۔۔ پس بایں کلمہ افادہ فرمودہ اند استخلاف اِمام مہدی را واجب شد اِتباع وے در آنچہ تعلق بخلیفہ دارد، چوں وقت خلافت او آید، لیکن ایں معنی بالفعل نیست مگر نزدیک ظہور اِمام مہدیؓ و بیعت بااو میان رُکن و مقام۔‘‘
(ازالۃ الخفاء فارسی ج:۱ ص:۶)
ترجمہ: … ’’ہم یقین کے ساتھ جانتے ہیں کہ آنحضرت
498
صلی اللہ علیہ وسلم نے نص فرمائی ہے کہ اِمام مہدیؓ قربِ قیامت میں ظاہر ہوں گے، اور وہ اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے نزدیک اِمامِ برحق ہیں، اور وہ زمین کو عدل و انصاف کے ساتھ بھردیں گے، جیسا کہ ان سے پہلے ظلم اور بے انصافی کے ساتھ بھری ہوئی ہوگی ۔۔۔۔۔۔ پس آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اس اِرشاد سے اِمام مہدیؓ کے خلیفہ ہونے کی پیش گوئی فرمائی۔ اور اِمام مہدیؓ کی پیروی کرنا ان اُمور میں واجب ہوا جو خلیفہ سے تعلق رکھتے ہیں جبکہ ان کی خلافت کا وقت آئے گا، لیکن یہ پیروی فی الحال نہیں، بلکہ اس وقت ہوگی جبکہ اِمام مہدیؓ کا ظہور ہوگا، اور حجرِ اَسوَد اور مقامِ اِبراہیم کے درمیان ان کے ہاتھ پر بیعتِ خلافت ہوگی۔‘‘
حضرت شاہ صاحبؒ کی اس عبارت سے معلوم ہوا کہ حدیثِ نبوی کی رُو سے:
۱: … سچے مہدیؓ کا ظہور قربِ قیامت میں ہوگا۔
۲: … اِمام مہدیؓ مسلمانوں کے خلیفہ اور حاکم ہوں گے۔
۳: … اور رُکن و مقام کے درمیان حرم شریف میں ان کے ہاتھ پر بیعتِ خلافت ہوگی۔ اس سے واضح ہوجاتا ہے کہ مرزا غلام احمد قادیانی وغیرہ جن لوگوں نے ہندوستان میں مہدی ہونے کا دعویٰ کیا، ان کا دعویٰ خالص جھوٹ تھا۔
۲:۔۔۔اِمام مہدیؓ اور آئینِ پاکستان:
اِمام مہدی علیہ الرضوان جب ظاہر ہوں گے تو ان کو پاکستانی بھی ضرور مانیں گے، کیونکہ اِمام مہدی نبی نہیں ہوں گے، نہ وہ نبوّت کا دعویٰ کریں گے، نہ لوگ ان کی نبوّت پر اِیمان لائیں گے۔ پاکستان کے آئین میں نبوّت کا دعویٰ کرنے والوں اور جھوٹے مدعیانِ نبوّت پر اِیمان لانے والوں کو غیرمسلم قرار دِیا گیا ہے، نہ کہ سچے مہدی کے ماننے والوں کو۔ اِمام مہدیؓ کا نبی نہ ہونا ایک اور دلیل ہے اس بات کی کہ مرزا غلام احمد قادیانی
499
وغیرہ جن لوگوں نے مہدی ہونے کا دعویٰ کیا اور اسی کے ساتھ اپنے آپ کو ’’نبی اللہ‘‘ کی حیثیت سے پیش کیا، وہ نبی تو کیا ہوتے! ان کا مہدی ہونے کا دعویٰ بھی جھوٹ اور فریب تھا، کیونکہ سچا مہدی جب ظاہر ہوگا تو نبوّت کا دعویٰ نہیں کرے گا، نہ وہ نبی ہوگا۔ پس مہدی ہونے کے دعوے کے ساتھ نبوّت کا دعویٰ کرنا ہی اس بات کی دلیل ہے کہ یہ مدعی جھوٹا ہے۔ مُلَّا علی قاریؒ شرح فقہِ اکبر میں لکھتے ہیں:
’’دعوی النبوّۃ بعد نبیّنا صلی اللہ علیہ وسلم کفر بالْإجماع۔‘‘
(شرح فقہِ اکبر ص:۲۰۲)
ترجمہ: … ’’اور ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد کسی کا دعویٔ نبوّت کرنا بالاجماع کفر ہے۔‘‘
ظاہر ہے کہ جو شخص حضرت خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد نبوّت کا دعویٰ کرنے کی وجہ سے بالاجماع کافر ہو، وہ مہدی کیسے ہوسکتا ہے؟ وہ تو مسیلمہ کذّاب کا چھوٹا بھائی ہوگا، اس کو اور اس کے ماننے والوں کو اگر آئینِ پاکستان میں ملتِ اسلامیہ سے خارج قرار دِیا گیا ہے، تو بالکل بجا ہے۔
۲: … حیاتِ عیسیٰ علیہ السلام:
آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے لے کر آج تک تمام اُمتِ محمدیہ ۔۔۔علیٰ صاحبہا الصلوٰۃ والسلام۔۔۔ کا اتفاق ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام زندہ ہیں، قربِ قیامت میں حضرت مہدی علیہ الرضوان کے زمانے میں جب کانا دجال نکلے گا تو اس کو قتل کرنے کے لئے آسمان سے اُتریں گے۔
یہاں تین مسئلے ہیں:
۱: … حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا زندہ آسمان پر اُٹھایا جانا۔
۲: … آسمان پر ان کا زندہ رہنا۔
۳: … اور آخری زمانے میں ان کا آسمان سے نازل ہونا۔
500
یہ تینوں باتیں آپس میں لازم وملزوم ہیں، اور اہلِ حق میں سے ایک بھی فرد ایسا نہیں جو حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے آسمان سے نازل ہونے کا قائل نہ ہو۔ پس جس طرح قرآنِ کریم کے بارے میں ہر زمانے کے مسلمان یہ مانتے آئے ہیں کہ یہ وہی کتابِ مقدس ہے جو حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر نازل ہوئی تھی، اور مسلمانوں کے اس تواتر کے بعد کسی شخص کے لئے یہ گنجائش نہیں رہ جاتی کہ وہ اس قرآنِ کریم کے بارے میں کسی شک وشبہ کا اِظہار کرے۔ اسی طرح گزشتہ صدیوں کے تمام بزرگانِ دِین اور اہلِ اسلام یہ بھی مانتے آئے ہیں کہ عیسیٰ علیہ السلام کو زندہ آسمان پر اُٹھالیا گیا اور یہ کہ وہ آخری زمانے میں دوبارہ زمین پر اُتریں گے۔ اس لئے نسلاً بعد نسلٍ ہر دور، ہر زمانے، ہر طبقے اور ہر علاقے کے مسلمانوں کا عقیدہ جو متواتر چلا آتا ہے، کسی مسلمان کے لئے اس میں شک وشبہ اور تردّد کی گنجائش نہیں، اور جو شخص ایسے قطعی، اِجماعی اور متواتر عقیدوں کا اِنکار کرے وہ مسلمانوں کی فہرست سے خارج ہے۔
۱۸۸۴ء تک مرزا غلام احمد قادیانی کے نزدیک بھی حضرت عیسیٰ علیہ السلام آسمان پر زندہ تھے اور قربِ قیامت میں آسمان سے نازل ہونے والے تھے، چنانچہ وہ ’’براہین احمدیہ‘‘ حصہ چہارم میں (جو ۱۸۸۴ء میں شائع ہوئی) ایک جگہ لکھتے ہیں:
’’حضرت مسیح تو اِنجیل کو ناقص چھوڑ کر آسمانوں پر جابیٹھے۔‘‘
(ص:۳۶۱)
ایک اور جگہ لکھتے ہیں:
’’ھو الذی ارسل رسولہ بالھدیٰ ودین الحق لیظھرہ علی الدین کلہ۔‘‘
یہ آیت جسمانی اور سیاستِ ملکی کے طور حضرت مسیح کے حق میں پیش گوئی ہے، اور جس غلبہ کامل دِینِ اسلام کا وعدہ دِیا گیا ہے وہ غلبہ مسیح کے ذریعے سے ظہور میں آئے گا، اور جب حضرت مسیح علیہ السلام دوبارہ اس دُنیا میں تشریف لائیں گے تو ان کے ہاتھ سے دِینِ
501
اسلام جمیع آفاق اور اَقطار میں پھیل جائے گا۔‘‘
(ص:۴۹۸، ۴۹۹)
ایک اور جگہ اپنا اِلہام درج کرکے اس کی تشریح اس طرح کرتے ہیں:
’’عسیٰ ربکم ان یرحم علیکم وان عدتم عدنا وجعلنا جھنم للکٰفرین حصیرًا۔
خدائے تعالیٰ کا ارادہ اس بات کی طرف متوجہ ہے جو تم پر رحم کرے، اور اگر تم نے گناہ اور سرکشی کی طرف رُجوع کیا تو ہم بھی سزا اور عقوبت کی طرف رُجوع کریں گے، اور ہم نے جہنم کو کافروں کے لئے قیدخانہ بنا رکھا ہے۔ ۔۔۔۔۔۔۔ یہ آیت اس مقام میں حضرت مسیح کے جلالی طور پر ظاہر ہونے کا اشارہ ہے۔ یعنی اگر طریق رفق اور نرمی اور لطف اور اِحسان کو قبول نہیں کریں گے، اور حق محض جو دلائلِ واضحہ اور آیاتِ بینہ سے کھل گیا ہے اس سے سرکش رہیں گے تو وہ زمانہ بھی آنے والا ہے کہ جب خدا تعالیٰ مجرمین سے شدت اور عنف اور قہر اور سختی کو اِستعمال میں لائے گا اور حضرت مسیح علیہ السلام نہایت جلالیت کے ساتھ دُنیا پر اُتریں گے اور تمام راہوں اور سڑکوں کو خس و خاشاک سے صاف کردیں گے اور کج اور ناراست کا نام و نشان نہ رہے گا اور جلالِ اِلٰہی گمراہی کے تخم کو اپنی تجلی قہری سے نیست و نابود کردے گا اور یہ زمانہ اس زمانے کے لئے بطور ارہاص کے واقع ہوا ہے۔‘‘
(ص:۵۰۵)
مندرجہ بالا عبارتوں سے واضح ہے کہ ۱۸۸۴ء تک حضرت عیسیٰ علیہ السلام زندہ تھے اور قرآن نے ان کے دوبارہ دُنیا میں آنے کی پیش گوئی کی تھی۔ قرآنِ کریم کے علاوہ خود مرزا صاحب کو بھی ان کے نازل ہونے کا اِلہام ہوا تھا۔ ۱۸۸۴ء سے لے کر اب تک نہ عیسیٰ علیہ السلام دُنیا میں دوبارہ آئے ہیں، اور نہ ان کی وفات کی خبر آئی ہے۔ اس لئے قرآنِ کریم کی پیش گوئی، آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشادات اور اُمتِ اِسلامیہ کے
502
چودہ سو سالہ متواتر عقیدے کی روشنی میں ہر مسلمان کو یقین رکھنا چاہئے کہ عیسیٰ علیہ السلام زندہ ہیں اور وہ آسمان سے نازل ہوکر دوبارہ دُنیا میں آئیں گے، کیونکہ بقول مرزا غلام احمد قادیانی، آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے متواتر اَحادیث میں ان کے دوبارہ آنے کی پیش گوئی فرمائی ہے، مرزا صاحب ’’اِزالہ اوہام‘‘ میں لکھتے ہیں:
’’مسیح ابنِ مریم کے آنے کی پیش گوئی ایک اوّل درجے کی پیش گوئی ہے جس کو سب نے باتفاق قبول کرلیا ہے۔ اور جس قدر صحاح میں پیش گوئیاں لکھی گئی ہیں کوئی پیش گوئی اس کے ہم پہلو اور ہم وزن ثابت نہیں ہوتی۔ تواتر کا اوّل درجہ اس کو حاصل ہے۔ اِنجیل بھی اس کی مصدق ہے، اب اس قدر ثبوت پر پانی پھیرنا اور یہ کہنا کہ یہ تمام حدیثیں موضوع ہیں، درحقیقت ان لوگوں کا کام ہے جن کو خدا تعالیٰ نے بصیرتِ دِینی اور حق شناسی سے کچھ بھی بخرہ اور حصہ نہیں دیا، اور بباعث اس کے کہ ان لوگوں کے دِلوں میں قال اللہ اور قال الرسول کی عظمت باقی نہیں رہی، اس لئے جو بات ان کی سمجھ سے بالاتر ہو اس کو محالات اور ممتنعات میں داخل کرلیتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔ مسلمانوں کی بدقسمتی سے یہ فرقہ بھی اسلام میں پیدا ہوگیا جس کا قدم دن بدن اِلحاد کے میدانوں میں آگے ہی آگے چل رہا ہے۔‘‘
(ازالہ اوہام ص:۵۵۷)
مرزا صاحب کے ان حوالوں سے مندرجہ ذیل باتیں واضح ہوئیں:
اوّل: … حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے دوبارہ دُنیا میں تشریف لانے کی قرآنِ کریم نے پیش گوئی کی ہے۔
دوم: … آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی متواتر اَحادیث میں بھی یہی پیش گوئی کی گئی ہے۔
سوم: … تمام مسلمانوں نے باتفاق اس کو قبول کیا ہے، اور پوری اُمت کا اس
503
عقیدے پر اِجماع ہے۔
چہارم: … اِنجیل میں خود حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا قول بھی اس پیش گوئی کی تصدیق وتائید کرتا ہے۔
پنجم: … خود مرزا صاحب کو بھی اللہ تعالیٰ نے عیسیٰ علیہ السلام کے دوبارہ آنے کی اِطلاع اِلہام کے ذریعے دی تھی۔
ششم: … جو شخص ان قطعی ثبوتوں کے بعد بھی حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے دوبارہ آنے کو نہ مانے، وہ دِینی بصیرت سے یکسر محروم اور ملحد و بے دِین ہے۔
۴: … مسلمان کون ہے؟ اور کافر کون؟
مسلمان وہ شخص کہلاتا ہے جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے لائے ہوئے پورے دِین کو دِل و جان سے تسلیم کرتا ہو۔ کلمۂ طیبہ ’’لا اِلٰہ اِلَّا اللہ محمد رسول اللہ‘‘ اس پورے دِین کو ماننے کا مختصر عنوان ہے، کیونکہ جو شخص حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو اللہ کا رسول مانتا ہے وہ لازماً آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی ایک ایک بات کو بھی مانے گا۔ اس کے برعکس جو شخص آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے دِین کی کسی قطعی، یقینی اور متواتر چیز (جس کی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے خبر دی ہے) کو نہیں مانتا، وہ گویا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی تکذیب کرتا ہے۔ اس کا کلمہ پڑھنا محض جھوٹ، فریب اور منافقت ہے، چنانچہ منافق بھی یہ کلمہ پڑھتے تھے، لیکن اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ’’وَاللہُ یَشْھَدُ اِنَّ الْمُنٰفِقِیْنَ لَکٰذِبُوْنَ‘‘ یعنی ’’اللہ گواہی دیتا ہے کہ منافق قطعاً جھوٹے ہیں۔‘‘
منافق لوگ اِیمان کا دعویٰ بھی کرتے تھے، لیکن اللہ تعالیٰ نے ان کے اس دعوے کو بھی غلط قرار دِیا اور فرمایا:’’وَمَا ھُمْ بِمُؤْمِنِیْنَ یُخَادِعُوْنَ اللہَ وَالَّذِیْنَ اٰمَنُوْا‘‘ یعنی ’’یہ لوگ ہرگز مؤمن نہیں، محض خدا کو اور اہلِ اِیمان کو دھوکا دینے کے لئے اِیمان کا دعویٰ کرتے ہیں۔‘‘ پس ان کے کلمۂ طیبہ پڑھنے اور اِیمان کا دعویٰ کرنے کے باوجود اللہ تعالیٰ نے ان کو جھوٹے اور بے اِیمان کہا، تو اس کی وجہ کیا تھی؟ یہی کہ وہ کلمہ صرف زبانی پڑھتے
504
تھے، اور اِیمان کا دعویٰ محض مسلمانوں کو دھوکا دینے کے لئے کرتے تھے، ورنہ دِل سے وہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی رِسالت و نبوّت پر اِیمان نہیں رکھتے تھے، اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم دِین کو جو باتیں ارشاد فرماتے تھے، ان کو صحیح نہیں سمجھتے تھے۔ پس اس سے یہ اُصول نکل آیا کہ مسلمان ہونے کے لئے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے لائے ہوئے دِین کی ایک ایک بات کو دِل و جان سے ماننا شرط ہے، اور جو شخص آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے لائے ہوئے دِین کی کسی ایک بات کو بھی جھٹلاتا ہے، یا اس میں شک وشبہ کا اظہار کرتا ہے، وہ مسلمان نہیں، بلکہ پکا کافر ہے۔ اور اگر وہ کلمہ پڑھتا ہے تو محض منافقت کے طور پر مسلمانوں کو دھوکا دینے کے لئے پڑھتا ہے۔
یہاں ایک اور بات کا بھی پیشِ نظر رکھنا ضروری ہے، وہ یہ کہ ایک ہے الفاظ کو ماننا، اور دُوسرا ہے معنی و مفہوم کو ماننا۔ مسلمان ہونے کے لئے صرف دِین کے الفاظ کو ماننا کافی نہیں، بلکہ ان الفاظ کے جو معنی ومفہوم آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے لے کر آج تک تواتر کے ساتھ تسلیم کئے گئے ہیں، ان کو بھی ماننا شرطِ اِسلام ہے۔ پس اگر کوئی شخص کسی دِینی لفظ کو تو مانتا ہے، مگر اس کے متواتر معنی و مفہوم کو نہیں مانتا، بلکہ اس لفظ کے معنی وہ اپنی طرف سے ایجاد کرتا ہے، تو ایسا شخص بھی مسلمان نہیں کہلائے گا، بلکہ کافر و ملحد اور زِندیق کہلائے گا۔
مثلاً ایک شخص کہتا ہے کہ: ’’میں ایمان رکھتا ہوں کہ قرآنِ کریم آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر نازل ہوا تھا، مگر میں یہ نہیں مانتا کہ قرآن سے مراد یہی کتاب ہے جس کو مسلمان قرآن کہتے ہیں‘‘ تو یہ شخص کافر ہوگا۔
یا مثلاً ایک شخص کہتا ہے کہ میں ’’محمد رسول اللہ‘‘ پر اِیمان رکھتا ہوں، مگر ’’محمد رسول اللہ‘‘ سے مراد مرزا غلام احمد قادیانی ہے کیونکہ مرزا صاحب نے وحیٔ اِلٰہی سے اِطلاع پاکر یہ دعویٰ کیا ہے کہ وہ ’’محمد رسول اللہ‘‘ ہیں، چنانچہ وہ اپنے اشتہار ’’ایک غلطی کا اِزالہ‘‘ میں لکھتے ہیں:
’’پھر اسی کتاب (براہین احمدیہ) میں یہ وحی اللہ ہے:
505
’’محمد رسول اللہ والذین معہ اشداء علی الکفار رحماء بینھم۔‘‘ اس وحیٔ اِلٰہی میں میرا نام محمد رکھا گیا اور رسول بھی۔‘‘
یا مثلاً ایک شخص کہتا ہے کہ: ’’میں مانتا ہوں کہ مسلمانوں پر نماز فرض ہے، مگر اس سے یہ عبادت مراد نہیں جو پنج وقتہ ادا کی جاتی ہے۔‘‘ تو ایسا شخص مسلمان نہیں۔
یا مثلاً ایک شخص کہتا ہے کہ: ’’میں مانتا ہوں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے عیسیٰ علیہ السلام کے قربِ قیامت میں آنے کی پیش گوئی کی ہے، مگر ’’عیسیٰ بن مریم‘‘ سے مراد وہ شخصیت نہیں جس کو مسلمان عیسیٰ بن مریم کہتے ہیں، بلکہ اس سے مراد مرزا غلام احمد قادیانی یا کوئی دُوسرا شخص ہے۔‘‘ تو ایسا شخص بھی کافر کہلائے گا۔
یا مثلاً ایک شخص کہتا ہے کہ: ’’میں مانتا ہوں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم خاتم النبیین ہیں، مگر اس کے معنی وہ نہیں جو مسلمان سمجھتے ہیں کہ آپ آخری نبی ہیں، آپ کے بعد کسی کو نبوّت نہیں عطا کی جائے گی، بلکہ اس کے معنی یہ ہیں کہ اب نبوّت آپ کی مہر سے ملا کرے گی۔‘‘ تو ایسا شخص بھی مسلمان نہیں، بلکہ پکا کافر ہے۔
الغرض آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے لائے ہوئے دِین کے تمام حقائق کو ماننا اور صرف لفظاً نہیں بلکہ اسی معنی و مفہوم کے ساتھ ماننا، جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے لے کر آج تک متواتر چلے آتے ہیں، شرطِ اِسلام ہے، جو شخص دِینِ محمدی کی کسی قطعی اور متواتر حقیقت کا اِنکار کرتا ہے، خواہ لفظاً و معناً دونوں طرح انکار کرے، یا الفاظ کو تسلیم کرکے اس کے متواتر معنی و مفہوم کا انکار کرے، وہ قطعی کافر ہے، خواہ وہ اِیمان کے کتنے ہی دعوے کرے، کلمہ پڑھے، اور نماز روزے کی پابندی کرے۔ اس لئے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے دِین کی کسی ایک بات کو جھٹلانا خود آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو جھٹلانا ہے، اور جو شخص آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی ایک بات کو بھی جھٹلاتا ہے یا اسے غلط کہتا ہے، یا اس میں شک و شبہ کا اظہار کرتا ہے، وہ دعویٔ اِیمان میں قطعاً جھوٹا ہے۔
کفر کی ایک اور صورت:
اسی طرح جو شخص آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے دِین کی کسی بات کا مذاق اُڑاتا
506
ہے، وہ بھی کافر اور بے اِیمان ہے۔ مثلاً آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے دوبارہ آنے کی قطعی پیش گوئی فرمائی ہے، جیسا کہ اُوپر گزرچکا ہے، ایک شخص آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی اس پیش گوئی کا مذاق اُڑاتا ہے، وہ بھی کافر ہوگا، کیونکہ یہ شخص آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا مذاق اُڑاتا ہے، اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا مذاق اُڑانا ۔۔۔نعوذباللہ ثم نعوذباللہ۔۔۔ خالص کفر ہے۔
اسی طرح اگر کوئی شخص کسی نبی کی طرف جھوٹ کی نسبت کرتے ہوئے کہتا ہے:
’’ہائے کس کے آگے یہ ماتم لے جائیں کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی تین پیش گوئیاں صاف طور پر جھوٹی نکلیں، اور کون زمین پر ہے جو اس عقدے کو حل کرے۔‘‘
(اعجازِ احمدی ص:۱۴، مصنفہ: مرزا غلام احمد قادیانی)
تو ایسا شخص بھی کافر ہوگا، کیونکہ ایک نبی کی طرف جھوٹ کی نسبت کرنا، تمام نبیوں کو، بلکہ ۔۔۔نعوذباللہ۔۔۔ خدا تعالیٰ کو جھوٹا کہنے کے ہم معنی ہے۔
اسی طرح اگر کوئی شخص خدا کے نبی کی توہین کرتا ہے، مثلاً یوں کہتا ہے:
’’لیکن مسیح کی راست بازی اپنے زمانے میں دُوسرے راست بازوں سے بڑھ کر ثابت نہیں ہوتی، بلکہ یحییٰ نبی کو اس پر ایک فضیلت ہے، کیونکہ وہ شراب نہیں پیتا تھا اور کبھی نہیں سنا گیا کہ کسی فاحشہ عورت نے آکر اپنی کمائی کے مال سے اس کے سر پر عطر ملا تھا۔ یا ہاتھوں یا اپنے سر کے بالوں سے اس کے بدن کو چھوا تھا، یا کوئی بے تعلق جوان عورت اس کی خدمت کرتی تھی، اسی وجہ سے قرآن میں یحییٰ کا نام ’’حصور‘‘ رکھا، مگر مسیح کا نام نہ رکھا، کیونکہ ایسے قصے اس نام رکھنے سے مانع تھے۔‘‘
(دافع البلاء آخری صفحہ، مصنفہ: مرزا غلام احمد قادیانی)
ایسا شخص بھی دعویٔ اسلام کے باوجود اِسلام سے خارج اور پکا کافر ہے۔
اسی طرح اگر کوئی شخص حضرت خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد نبوّت
507
ورِسالت کا دعویٰ کرے یا یہ کہے کہ مجھ پر وحی نازل ہوتی ہے، یا معجزہ دِکھانے کا دعویٰ کرے، یا کسی نبی سے اپنے آپ کو افضل کہے، مثلاً یوں کہے:
ابنِ مریم کے ذکر کو چھوڑو
اس سے بہتر غلام احمد ہے
(دافع البلاء، مصنفہ: مرزا غلام احمد قادیانی)
اس شعر کا کہنے والا اور اس کو صحیح سمجھنے والا پکا بے اِیمان اور کافر ہے، کیونکہ وہ اپنے آپ کو عیسیٰ ابنِ مریم علیہ السلام سے بہتر اور افضل کہتا ہے۔
یا یوں کہے:
-
محمد پھر اُتر آئے ہیں ہم میں
اور آگے سے ہیں بڑھ کر اپنی شاں میں
-
محمد دیکھنے ہوں جس نے اکمل
غلام احمد کو دیکھے قادیاں میں
(اخبار ’’بدر‘‘ قادیان، جلد۲ ش:۴۳مؤرخہ ۲۵؍اکتوبر ۱۹۰۶ء)
ایسا شخص بھی پکا بے ایمان اور کافر ہے، اور اس کا کلمہ پڑھنا ابلہ فریبی اور خودفریبی ہے۔
خلاصہ یہ کہ کلمۂ طیبہ وہی معتبر ہے جس کے ساتھ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے دِین کی کسی حقیقت کی قولاً یا فعلاً تکذیب نہ کی گئی ہو۔ جو شخص ایک طرف کلمہ پڑھتا ہے اور دُوسری طرف اپنے قول یا فعل سے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے لائے ہوئے دِین کی کسی بات کی تکذیب کرتا ہے، اس کے کلمے کا کوئی اعتبار نہیں، جب تک کہ وہ اپنے کفریات سے توبہ نہ کرے، اور ان تمام حقائق کو، جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے تواتر کے ساتھ منقول ہیں، اسی طرح تسلیم نہ کرے جس طرح کہ ہمیشہ سے مسلمان مانتے چلے آئے ہیں، اس وقت تک وہ مسلمان نہیں، خواہ لاکھ کلمہ پڑھے۔
جن لوگوں کو کافر کہا جاتا ہے وہ اسی قسم کے ہیں کہ بظاہر کلمہ پڑھتے ہیں، لیکن
508
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے دِین کا مذاق اُڑاتے ہیں، آپ خود اِنصاف فرمائیں کہ ان کو کافر نہ کہا جائے تو کیا کہا جائے۔۔۔؟
جس گروہ کی وکالت کرتے ہوئے آپ نے تحریر فرمایا ہے کہ: ’’وہ صدقِ دِل سے کلمہ پڑھتا ہے‘‘ اس کے بارے میں آپ کو معلوم ہونا چاہئے کہ وہ لعینِ قادیان، مسیلمۂ پنجاب مرزا غلام احمد قادیانی کو ’’محمد رسول اللہ‘‘ مان کر کلمہ ’’لا اِلٰہ اِلَّا اللہ محمد رسول اللہ‘‘ پڑھتا ہے، اس کی پوری تفصیل آپ کو میرے رسالے ’’قادیانیوں کی طرف سے کلمۂ طیبہ کی توہین‘‘ میں ملے گی، یہاں صرف مرزا بشیر احمد قادیانی کا ایک حوالہ ذِکر کرتا ہوں، مرزا بشیر احمد لکھتا ہے:
’’مسیحِ موعود (مرزا قادیانی) کی بعثت کے بعد ’’محمد رسول اللہ‘‘ کے مفہوم میں ایک اور رسول (یعنی مرزا قادیانی) کی زیادتی ہوگئی، لہٰذا مسیحِ موعود (مرزا قادیانی) کے آنے سے نعوذباللہ ’’لا اِلٰہ اِلّا اللہ محمد رسول اللہ‘‘ کا کلمہ باطل نہیں ہوتا، بلکہ اور بھی زیادہ شان سے چمکنے لگ جاتا ہے۔‘‘
آگے لکھتا ہے:
’’ہم کو نئے کلمے کی ضرورت پیش نہیں آتی، کیونکہ مسیحِ موعود (مرزا قادیانی) نبی کریمؐ سے کوئی الگ چیز نہیں ۔۔۔۔۔ پس مسیحِ موعود (مرزا قادیانی) خود ’’محمد رسول اللہ‘‘ ہے جو اِشاعتِ اسلام کے لئے دوبارہ دُنیا میں تشریف لائے۔ اس لئے ہم کو کسی نئے کلمے کی ضرورت نہیں، ہاں! اگر ’’محمد رسول اللہ‘‘ کی جگہ کوئی اور آتا تو ضرورت پیش آتی، فتدبروا۔‘‘
(کلمۃ الفصل ص:۱۵۸، از مرزا بشیر احمد قادیانی)
پس جو گروہ ایک ملعون، کذّاب، دجالِ قادیان کو ’’محمد رسول اللہ‘‘ مانتا ہو، اور جو گروہ اس دجالِ قادیان کو کلمۂ طیبہ ’’لا اِلٰہ اِلَّا اللہ محمد رسول اللہ‘‘ کے مفہوم میں شامل کرکے اس کا کلمہ پڑھتا ہو، اس گروہ کے بارے میں آپ کا یہ کہنا کہ: ’’وہ صدقِ دِل سے کلمہ پڑھتا ہے‘‘ نہایت افسوس ناک ناواقفی ہے، ایک ایسا گروہ، جس کا پیشوا خود کو ’’محمد رسول اللہ‘‘ کہتا
509
ہو، جس کے اَفراد:
-
محمد پھر اُتر آئے ہیں ہم میں
اور آگے سے ہیں بڑھ کر اپنی شاں میں
کے ترانے گاتے ہوں، اور اس نام نہاد ’’محمد رسول اللہ‘‘ کو کلمے کے مفہوم میں شامل کرکے اس کے نام کا کلمہ پڑھتے ہوں، کیا ایسے گروہ کے بارے میں یہ کہا جاسکتا ہے کہ: ’’وہ صدقِ دِل سے کلمہ پڑھتا ہے‘‘؟ اور کیا ان کے کافر بلکہ اَکفر ہونے میں کسی مسلمان کو شک و شبہ ہوسکتا ہے۔۔۔؟
۵: … نزولِ عیسیٰ علیہ السلام اور ختمِ نبوّت:
حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا دوبارہ آنا لفظ ’’خاتم النبیین‘‘ کے منافی نہیں، کیونکہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے آخری نبی ہونے کا مطلب یہ ہے کہ انبیائے کرام علیہم السلام کی جو فہرست حضرت آدم علیہ السلام سے شروع ہوئی تھی، وہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے نامِ نامی پر مکمل ہوگئی ہے، جتنے لوگوں کو نبوّت ملنی تھی وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے پہلے پہلے مل چکی، اب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد کسی کو نبوّت نہیں دی جائے گی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم آخری نبی ہیں، اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد کوئی شخص منصبِ نبوّت پر فائز نہیں ہوگا۔ شرح عقائد نسفی میں ہے:
’’أوّل الأنبیاء آدم وآخرھم محمد صلی اللہ علیہ وسلم۔‘‘
یعنی ’’سب سے پہلے نبی حضرت آدم علیہ السلام اور سب سے آخری نبی حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم ہیں۔‘‘
حضرت عیسیٰ علیہ السلام بھی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے پہلے کے نبی ہیں، اور مسلمان آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے پہلے کے جن انبیائے کرام علیہم السلام پر اِیمان رکھتے ہیں، ان میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام بھی شامل ہیں، پس جب وہ تشریف لائیں گے تو
510
آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے پہلے کے نبی ہونے کی حیثیت سے تشریف لائیں گے، ان کو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد نبوّت نہیں دی جائے گی، اور نہ مسلمان کسی نئی نبوّت پر اِیمان لائیں گے، لہٰذا ان کی تشریف آوری لفظ ’’خاتم النبیین‘‘ کے منافی نہیں۔ ان کی تشریف آوری ’’خاتم النبیین‘‘ کے خلاف تو جب سمجھی جاتی کہ ان کو نبوّت آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد ملی ہوتی، لیکن جس صورت میں کہ وہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے پہلے کے نبی ہیں، تو حصولِ نبوّت کے اِعتبار سے آخری نبی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ہی رہے۔
اس تشریح کے بعد میں آپ کی خدمت میں دو باتیں اور عرض کرتا ہوں۔
ایک یہ کہ تمام صحابہ کرامؓ، تابعین عظامؒ، اَئمۂ دِینؒ، مجدّدین اور علمائے اُمتؒ ہمیشہ سے ایک طرف آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے خاتم النبیین ہونے پر بھی اِیمان رکھتے آئے ہیں، اور دُوسری طرف حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے دوبارہ آنے پر بھی ان کا اِیمان رہا ہے، اور کسی صحابی، کسی تابعی، کسی اِمام، کسی مجدّد، کسی عالم کے ذہن میں یہ بات کبھی نہیں آئی کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا دوبارہ آنا خاتم النبیین کے خلاف ہے، بلکہ وہ ہمیشہ یہ مانتے آئے ہیں کہ خاتم النبیین کا مطلب یہ ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد کسی شخص کو نبوّت نہیں دی جائے گی، اور یہی مطلب ہے آخری نبی کا۔ شیخ الاسلام حافظ ابنِ حجر عسقلانی ’’الاصابہ‘‘ میں لکھتے ہیں:
’’فوجب حمل النفی علیٰ إنشاء النبوّۃ لکل أحد من الناس لَا علیٰ وجود نبی قد نبیٔ قبل ذٰلک۔‘‘
(ج:۱ ص:۴۲۵)
ترجمہ: … ’’آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد کوئی نبی نہیں، اس نفی کو اس معنی پر محمول کرنا واجب ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد کسی شخص کو نبوّت عطا نہیں کی جائے گی، اس سے کسی ایسے نبی کے موجود ہونے کی نفی نہیں ہوتی جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے پہلے نبی بنایا جاچکا ہو۔‘‘
511
دُوسری بات یہ ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا اِرشاد ہے:
’’أَنَا خَاتَمُ النَّبِیِّیْنَ لَا نَبِیَّ بَعْدِیْ۔‘‘
(مشکوٰۃ ص:۴۶۵)
ترجمہ: … ’’میں خاتم النبیین ہوں، میرے بعد کوئی نبی نہیں ہوگا۔‘‘
اسی کے ساتھ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے متواتر اَحادیث میں یہ پیش گوئی بھی فرمائی ہے کہ قربِ قیامت میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام نازل ہوں گے، جیسا کہ پہلے باحوالہ نقل کرچکا ہوں، مناسب ہے کہ یہاں دو حدیثیں ذِکر کردُوں۔
اوّل: …’’عَنْ أَبِیْ ھُرَیْرَۃَ رَضِیَ اللہُ عَنْہُ عَنِ النَّبِیِّ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَالَ: لَیْسَ بَیْنِیْ وَبَیْنَہٗ نَبِیٌّ، یَعْنِیْ عِیْسٰی عَلَیْہِ السَّلَامُ، وَإِنَّہٗ نَازِلٌ فَإِذَا رَأَیْتُمُوْہُ فَاَعْرِفُوْہُ، رَجُلٌ مَرْبُوْعٌ، إِلَی الْحُمْرَۃِ وَالْبَیَاضِ، بَیْنَ مُمَصَّرَتَیْنِ، کَأَنَّہٗ رَأْسُہٗ یَقْطُرُ وَإِنْ لَّمْ یُصِبْہُ بَلَلٌ، فَیُقَاتِلُ النَّاسَ عَلَی الْإسْلَامِ، فَیَدُقُّ الصَّلِیْبَ، وَیَقْتُلُ الْخِنْزِیْرَ، وَیَضَعُ الْجِزْیَۃَ، وَیَھْلِکَ اللہُ فِیْ زَمَانِہِ الْمِلَلَ کُلَّھَا إِلّا الْإسْلَامُ، وَیَھْلِکُ الْمَسِیْحُ الدَّجَّالَ، فَیَمْکُثُ فِی الْأَرْضِ أَرْبَعِیْنَ سَنَۃً، ثُمَّ یُتَوَفّٰی فَیُصَلِّیْ عَلَیْہِ الْمُسْلِمُوْنَ۔‘‘
(ابوداؤد ج:۲ ص:۵۹۴، مسندِ احمد ج:۲ ص:۴۳۷، تفسیر ابنِ جریر ج:۶ ص:۱۶، درمنثور ج:۲ ص:۲۴۲، فتح الباری ج:۶ ص:۳۵۷)
ترجمہ: … ’’حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میرے اور عیسیٰ علیہ السلام کے درمیان کوئی نبی نہیں ہوا۔ اور بے شک وہ نازل ہوں گے۔ پس جب تم ان کو دیکھو تو پہچان لینا۔ وہ میانہ قد کے آدمی ہیں، سرخی
512
سفیدی مائل، دو زَرد چادریں زیبِ تن ہوں گی، گویا ان کے سر سے قطرے ٹپک رہے ہیں، اگرچہ اس کو تری نہ پہنچی ہو۔ پس لوگوں سے اسلام پر قتال کریں گے، پس صلیب کو توڑ ڈالیں گے، اور خنزیر کو قتل کریں گے، اور جزیہ کو موقوف کردیں گے، اور اللہ تعالیٰ ان کے زمانے میں اسلام کے علاوہ باقی تمام ملتوں کو مٹادیں گے، اور وہ مسیحِ دجال کو ہلاک کردیں گے، پس چالیس برس زمین پر رہیں گے۔ پھر ان کی وفات ہوگی تو مسلمان ان کی نمازِ جنازہ پڑھیں گے۔‘‘
دوم: …’’عَنْ عَبْدِاللہِ بْنِ مَسْعُوْدٍ رَضِیَ اللہُ عَنْہُ عَنِ النَّبِیِّ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَالَ: لَقِیْتُ لَیْلَۃً اُسْرِیَ بِیْ إِبْرَاھِیْمَ وَمُوْسٰی وَعِیْسٰی، قَالَ: فَتَذَاکَرُوْا أَمْرَ السَّاعَۃِ، فَرَدُّوْا أَمْرَھُمْ إِلیٰ إِبْرَاھِیْمَ، فَقَالَ: لَا عِلْمَ لِیْ بِھَا، فَرَدُّوا الْأَمْرَ إِلیٰ مُوْسٰی، فَقَالَ: لَا عِلْمَ لِیْ بِھَا، فَرَدُّوا الْأَمْرَ إِلیٰ عِیْسٰی فَقَالَ: اَمَّا وَجَبَتْھَا فَلَا یَعْلَمُھَا إِلّا اللہُ تَعَالٰی ذٰلِکَ، وَفِیْمَا عَھِدَ إِلَیَّ رَبِّیْ عَزَّ وَجَلَّ إِنَّ الدَّجَّالَ خَارِجٌ، قَالَ: وَمَعِیَ قَضِیْبَانِ، فَإِذَا رَآنِیْ ذَابَ کَمَا یَذُوْبُ الرَّصَاصُ، قَالَ: فَیَھْلِکُہُ اللہُ (وَفِیْ رِوَایَۃِ ابْنِ مَاجَۃَ: قَالَ: فَأَنْزِلُ فَأَقْتُلْہُ) ۔۔۔ إِلیٰ قَوْلِہٖ ۔۔۔ فَفِیْمَا عَھِدَ إِلَیَّ رَبِّیْ عَزَّ وَجَلَّ إِنَّ ذٰلِکَ إِذَا کَانَ کَذٰلِکَ فَإِنَّ السَّاعَۃَ کَالْحَامِلِ الْمُتِمِّ الَّتِیْ لَا یَدْرِیْ مَتٰی تَفْجَؤُھُمْ بِوِلَادِھَا لَیْلًا أَوْ نَھَارًا۔‘‘
(ابنِ ماجہ ص:۳۰۹، مسندِ احمد ج:۱ ص:۳۷۵، ابنِ جریر ج:۱۷ ص:۷۲، مستدرک حاکم ج:۴ ص:۴۸۸، ۵۴۵، فتح الباری ج:۱۳ ص:۷۹، درمنثور ج:۴ ص:۳۲۶)
ترجمہ: … ’’حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے
513
روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: معراج کی رات میری ملاقات حضرت ابراہیم، حضرت موسیٰ اور حضرت عیسیٰ (اور دیگر انبیائے کرام) علیہم السلام سے ہوئی، مجلس میں قیامت کا تذکرہ آیا (کہ قیامت کب آئے گی؟) سب سے پہلے ابراہیم علیہ السلام سے دریافت کیا گیا، انہوں نے فرمایا: مجھے علم نہیں! پھر موسیٰ علیہ السلام سے پوچھا، انہوں نے بھی فرمایا: مجھے علم نہیں! پھر حضرت عیسیٰ علیہ السلام سے پوچھا گیا تو فرمایا کہ: قیامت کا ٹھیک وقت تو اللہ تعالیٰ کے سوا کسی کو بھی معلوم نہیں۔ اور میرے رَبّ عزوجل کا مجھ سے ایک عہد ہے کہ قیامت سے پہلے دجال نکلے گا تو میں نازل ہوکر اس کو قتل کروں گا۔ میرے ہاتھ میں دو شاخیں ہوں گی، پس جب وہ مجھے دیکھے گا تو سیسے کی طرح پگھلنے لگے گا، پس اللہ تعالیٰ اس کو ہلاک کردیں گے، اور ابنِ ماجہ کی ایک روایت میں ہے کہ: میں آسمان سے نازل ہوں گا پھر اسے قتل کروں گا۔ (آگے یأجوج مأجوج کے خروج اور ان کی ہلاکت کا ذکر کرنے کے بعد فرمایا) پس میرے رَبّ کا جو مجھ سے عہد ہے وہ یہ ہے کہ جب یہ ساری باتیں ہوچکیں گی تو قیامت کی مثال پورے دنوں کی حاملہ کی ہوگی، جس کے بارے میں کوئی پتا نہیں ہوتا کہ کس وقت اچانک اس کے وضعِ حمل کا وقت آجائے، رات میں یا دِن میں۔‘‘
یہ دونوں احادیث شریفہ مستند اور صحیح ہیں۔ اب غور فرمائیے کہ اللہ تعالیٰ، حضرت عیسیٰ علیہ السلام سے ان کو دوبارہ زمین پر نازل کرنے کا عہد کرتے ہیں، حضرت عیسیٰ علیہ السلام حضراتِ انبیاء علیہم السلام کی قدسی محفل میں اس عہدِ خداوندی کا اِعلان فرماتے ہیں، اور ہمارے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی اس گفتگو کا اِظہار و اِعلان اُمت کے سامنے فرماتے ہیں، اس کے بعد کون مسلمان ہوگا جو اس عہدِ خداوندی کا اِنکار
514
کرنے کی جرأت کرے؟ اگر عیسیٰ علیہ السلام کا دوبارہ آنا آیت خاتم النبیین کے خلاف ہوتا تو اللہ تعالیٰ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو نازل کرنے کا کیوں عہد کرتے؟ حضرت عیسیٰ علیہ السلام اس کو حضراتِ انبیائے کرام علیہم السلام کے سامنے کیوں بیان فرماتے؟ اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اُمت کے سامنے کیوں اِعلان فرماتے؟ اس سے واضح ہوتا ہے کہ جو لوگ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے دوبارہ آنے کے منکر ہیں، وہ اللہ تعالیٰ کی، تمام انبیائے کرام کی، آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی اور پوری اُمتِ اسلامیہ کی تکذیب کرتے ہیں۔ غور فرمائیے ایسے لوگوں کا اِسلام میں کیا حصہ ہے۔۔۔؟ وَاللہُ یَھْدِیْ مَنْ یَشَآئُ اِلٰی صِرَاطٍ مُّسْتَقِیْمٍ!
محمد یوسف لدھیانوی
۲۶؍۷؍۱۴۰۱ھ
515
ضمیمہ
سلامِ مسنون!
کے بعد عرض ہے کہ میں کافی دِنوں سے پریشان ہوں، اور اپنی پریشانی کا تذکرہ یہاں کے تمام علماء سے کیا، لیکن مجھے کسی سے بھی تشفی نہیں ہوئی۔ اب آپ سے اس لئے رُجوع کر رہا ہوں کہ آپ کے علم اور تحقیق کا ملک بھر میں چرچا ہے، اس لئے اس خط میں ذکر ہونے والی میری گزارشات کا برائے اِحسان و کرم مختصر سا جواب اِرشاد نقل فرمادیں، اور ساتھ ہی اگر کسی کتاب کا کوئی حوالہ ہو، وہ بھی درج فرمادیں، وہ گزارشات یہ ہیں:
۱- حضرت محمد بن عبداللہ المعروف بہ اِمام مہدی کو لوگ کس وقت خلیفہ تسلیم کریں گے؟
۲- اِمام مہدی صرف مکہ اور مدینہ یا عرب کے لئے ہوں گے یا پوری دُنیا کے لئے؟
۳- وقتِ خلافت عوام میں اِمام مہدی کی کتنی عمر گزرچکی ہوگی؟ اور پھر خلیفہ بننے کے بعد اِمام مہدی کی قیادت میں اِسرائیل سے جو جنگ ہوگی وہ خلیفہ بننے کے کتنا عرصہ بعد تک جاری ہوگی؟
۴- اِمام مہدی کیا کسی جنگ میں شہید ہوں گے یا ان کا انتقال ہوگا؟
۵- اِمام مہدی کن خصائل کی بنا پر عوام کے خلیفہ بنیں گے؟
۶- اِمام مہدی کے پیروکاروں کی تعداد اندازاً ان کے اپنے وقت میں کتنی ہوگی؟
۷- بعض حضرات اِمام کے متعلق جو غار والا خاص عقیدہ رکھتے ہیں، اس میں کتنی صداقت ہے؟ اور اہلِ سنت حضرات کو اس بارے میں کیا خیال رکھنا چاہئے؟
۸- حضرت مسیح علیہ السلام کا نزول اگر مسجدِ اقصیٰ سے ہوگا تو وہ اس وقت تک
516
آزاد ہوچکی ہوگی یا نہیں؟ اور پھر کیا اُترتے ہی حضرت مسیح علیہ السلام نمازِ عصر کے وقت جنگی صفوں میں شامل ہوجائیں گے اور قیادت اِمام مہدی کی ہوگی؟
۹- حضرت اِمام مہدی کے بعد حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی خلافت کا چناؤ کس طرح ہوگا؟ یعنی مسیح علیہ السلام اپنے خلیفہ ہونے کا دعویٰ خود کریں گے یا عوام بنائیں گے؟
۱۰- دجال کا سامنا اِمام مہدی سے ہوگا یا حضرت مسیح علیہ السلام سے ہوگا؟
۱۱- حضرت مسیح علیہ السلام کی خلافت کتنا عرصہ ہوگی؟ اور خلافت کے خاتمے کا کیا سبب ہوگا؟
۱۲- قیامت کا ظہور حضرت مسیح علیہ السلام کی خلافت کے خاتمے کے ساتھ ہوگا یا بعد میں؟
۱۳- حضرت مسیح علیہ السلام کی خلافت مکہ و مدینہ میں ہوگی یا پورے عرب میں یا پورے جہان میں؟
۱۴- فتنۂ دجال کب واقع ہوگا؟ اور دجال سے مقابلہ اِمام مہدی کا ہوگا یا حضرت مسیح علیہ السلام کا؟
۱۵- فتنۂ دجال سے مقابلہ پورے عرب میں ہوگا یا تمام جہان میں؟
۱۶- کیا دجال کا خاتمہ خلیفہ حق کی زندگی میں ہوگا یا بعد میں کوئی اور حالت ہوگی؟ اور کس کے ہاتھ سے دجال قتل ہوگا؟
۱۷- حضرت خضر علیہ السلام کی وفات سمندر یا پانی میں ہوئی جیسا کہ مشہور ہے؟
۱۸- حضرت اویسؒ قرنی ولی تھے یا صحابی یا فقط ولی تھے، گویا کیا تھے؟
۱۹- خرگوش کو حیض آتا ہے، پھر اس کی وجۂ حلت کیا ہے جیسا کہ مشہور ہے؟
۲۰- پنجے سے پکڑ کر چیز کھانے والا جانور حرام ہے تو پھر کیا وجہ ہے کہ یہ حلال ہے؟ جیسا کہ یہ مسئلہ مشہور ہے۔ تو پھر طوطا اور یہ عام دیواری کوّا کیوں حلال ہے؟ تو پھر کیا گوہ، گدھ اور پہاڑی کوّا بھی حلال ہے؟
۲۱- اور کیا یہ صحیح ہے کہ اِمام ابوحنیفہؒ، اِمام جعفرؒ کے شاگرد ہیں؟ تو پھر ان دونوں
517
میں سے علم و عمل اور درجے کے اعتبار سے کس اِمام کو اَوّلیت واولویت دینی چاہئے؟
۲۲- کیا بعض حضرات کے بارہ اِمام قرآن و حدیث کی روشنی میں برحق تھے اور واقعی اِمام تھے؟
۲۳- اہلِ سنت حضرات کو بارہ اِماموں کے متعلق کیا اور کیسا عقیدہ رکھنا چاہئے؟
۲۴- مسیح علیہ السلام اور اِمام مہدی کا مرکزِ تبلیغ کون سی جگہ ہوگی؟
۲۵- جیسا کہ مشہور ہے حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی زندگی میں ایک نجدی کو دیکھ کر کہا تھا کہ یہ شخص حرمِ پاک کی بے حرمتی اور پورے عرب اور جہان میں فتنہ وفساد کا سبب ہوگا؟ جبکہ خانہ کعبہ کی پہلی اِینٹ گرانے والے کے متعلق آتا ہے کہ وہ حبشی اور چھوٹے قد کا یہودی ہوگا۔
طالبِ دُعا
رانا محمد اشفاق خان
مکان ۱۲۶۱، محلہ جنڈی والا
کمالیہ شہر، ضلع فیصل آباد
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ
مکرم ومحترم، زید مجدکم، سلامِ مسنون!
آپ کے مرسلہ سوالات کا مختصر سا جواب پیشِ خدمت ہے۔
۱: … حضرت مہدی علیہ الرضوان سے بیعت کس سنہ اور کس مہینے کی کس تاریخ کو ہوگی؟ یہ معلوم نہیں، حدیث میں یہ بتایا گیا ہے کہ ایک خلیفہ کی وفات پر اس کے جانشین کے مسئلے پر اِختلاف ہوگا، حضرت مہدی علیہ الرضوان اس خیال سے کہ یہ بار کہیں ان کے کندھے پر نہ ڈال دیا جائے، مدینہ طیبہ سے مکہ مکرمہ آجائیں گے۔ وہاں ان کی شناخت کرلی جائے گی، اور ان کے انکار و گریز کے باوجود انہیں اس ذمہ داری کو قبول کرنے پر مجبور کیا جائے گا، اور حرم شریف میں حجرِ اَسوَد اور مقامِ اِبراہیم کے درمیان ان سے بیعت ہوگی۔
۲: … ان کی خلافت عرب وعجم سب کے لئے ہوگی۔
518
۳: … بوقتِ خلافت ان کا سن چالیس برس کا ہوگا، سات برس خلیفہ رہیں گے، دو برس حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی رفاقت میں گزریں گے، کل عمر ۴۹ برس ہوگی۔ اسرائیل کے ساتھ ان کی جنگ کے بارے میں کوئی روایت مجھے معلوم نہیں، البتہ رُومیوں کے ساتھ ان کا جہاد کرنا روایات میں آتا ہے، یہ جہاد سات سال تک جاری رہے گا، اس کے بعد دجال کا ظہور ہوگا اور حضرت مہدیؓ دجال کی فوج کے مقابلے میں صف آرا ہوں گے، اس اثنا میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام آسمان سے نازل ہوں گے اور حضرت مہدیؓ ان کی رفاقت میں دجال کی فوج کے خلاف جہاد کریں گے۔
۴: … جنگ میں شہید نہیں ہوں گے۔ یہ نہیں بتایا گیا کہ کہاں وفات ہوگی؟ صرف اتنا آتا ہے کہ: : ’’ثُمَّ یَمُوْتُ وَیُصَلِّیْ عَلَیْہِ الْمُسْلِمُوْنَ‘‘ (مشکوٰۃ ص:۴۷۱) یعنی ’’پھر ان کا اِنتقال ہوجائے گا اور مسلمان ان کی نمازِ جنازہ پڑھیں گے۔‘‘
۵: … احادیث میں حضرت مہدیؓ کا حلیہ ذکر کیا گیا ہے، جس سے ان کی پہچان ہوگی، اور کچھ اسباب من جانب اللہ ایسے رُونما ہوں گے کہ وہ قبولِ خلافت پر، اور لوگ ان کی بیعت پر مجبور ہوجائیں گے۔
۶: … حضرت مہدیؓ کے رُفقاء کی تعداد کا علم اللہ تعالیٰ کے سوا کسی کو نہیں، وہ تمام مسلمانوں کے اِمام ہوں گے، اور بے شمار لوگ ان کے رفیق ہوں گے، ایک روایت کے مطابق پہلی بیعت (جو رُکن و مقام کے درمیان ہوگی) کرنے والوں کی تعداد ۳۱۳ ہوگی، مگر یہ روایت کمزور ہے، اور بعض اکابر نے اس کو صحیح قرار دِیا ہے۔
۷: … حضرت مہدیؓ کے بارے میں ان حضرات کا یہ عقیدہ ہے کہ وہ کسی نامعلوم غار میں رُوپوش ہیں، اہلِ سنت کے نزدیک صحیح نہیں۔
۸: … حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے نزول کے وقت مسجدِ اقصیٰ مسلمانوں کی تحویل میں ہوگی، حضرت عیسیٰ علیہ السلام جامع دمشق کے شرقی منارہ کے پاس اُتریں گے، اور پہلی نماز میں حضرت مہدیؓ کی اِقتدا کریں گے، بعد میں اِمامت کے فرائض حضرت عیسیٰ علیہ السلام بنفسِ نفیس انجام دیا کریں گے، اور جہاد کی قیادت بھی آپ کے ہاتھ ہوگی۔ حضرت
519
مہدیؓ ان کے رفیق اور معاون کی حیثیت اِختیار کریں گے۔
نوٹ: … آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے آسمان سے اُترنے کی متواتر اَحادیث میں خبر دی ہے۔ ’’مسیحِ موعود‘‘ کی اِصطلاح اسلامی لٹریچر میں نہیں آئی، یہ اِصطلاح مرزا غلام احمد قادیانی، دجالِ قادیان نے اپنے مطلب کے لئے گھڑی ہے۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے الفاظ کو چھوڑ کر ہمیں مرزا غلام احمد قادیانی کی گھڑی ہوئی اِصطلاح نہیں اپنانی چاہئے۔
۹: … حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا آسمان سے نازل ہونا خلیفہ کی حیثیت سے ہوگا، اور یہ حیثیت ان کی اہلِ اسلام کے معتقدات میں شامل ہے۔ اس لئے ان کا آسمان سے نازل ہونا ہی ان کا چناؤ ہے۔ چنانچہ جب وہ نازل ہوں گے تو حضرت مہدی علیہ الرضوان اُمورِ خلافت ان کے سپرد کرکے خود ان کے مشیروں میں شامل ہوجائیں گے، اور تمام اہلِ اسلام ان کے مطیع ہوں گے، اس لئے نہ کسی دعوے کی ضرورت ہوگی، نہ رسمی چناؤ یا اِنتخاب کی۔
۱۰: … دجال، حضرت مہدی علیہ الرضوان اور ان کے لشکر کا محاصرہ کئے ہوئے ہوگا، حضرت عیسیٰ علیہ السلام نازل ہوکر اس کے مقابلے کے لئے نکلیں گے، اور مقامِ لُد پر اس کو قتل کردیں گے، اور مسلمان، دجال کے لشکر کا صفایا کردیں گے۔
۱۱: … حدیث میں فرمایا گیا ہے کہ: ’’حضرت عیسیٰ علیہ السلام چالیس سال زمین پر رہیں گے، پھر آپ کا اِنتقال ہوگا اور مسلمان آپ کے جنازے کی نماز پڑھیں گے۔‘‘ زمین میں آپ کا چالیس سالہ قیام خلیفہ کی حیثیت سے ہوگا۔ گویا نزول کے بعد مدۃ العمر خلیفہ رہیں گے، اس سے آپ کی مدّتِ خلافت اور اِنتہائے خلافت کا سبب معلوم ہوا۔
۱۲: … قیامت کا قیام حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے بعد ہوگا، آپ کی وفات کے کچھ ہی عرصے بعد آفتاب مغرب سے نکلے گا، توبہ کا دروازہ بند ہوجائے گا، دابۃ الارض نکلے گا اور دیگر علاماتِ قیامت جلد جلد رُونما ہوں گی، یہاں تک کہ کچھ عرصے بعد صور پھونک دیا جائے گا۔
520
۱۳: … پورے جہان میں، دُنیا کا کوئی خطہ ایسا نہ ہوگا جہاں آپ کی خلافت نہ ہو۔
۱۴: … فتنۂ دجال، حضرت مہدی علیہ الرضوان کے ظہور کے سات سال بعد ہوگا، حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے نازل ہونے کے وقت حضرت مہدی علیہ الرضوان، دجال کے مقابلے میں ہوں گے، اور مسلمانوں کا لشکر بیت المقدس میں محصور ہوگا، حضرت عیسیٰ علیہ السلام نازل ہوکر حصار توڑ دیں گے، خود دجال کا تعاقب کرتے ہوئے مقامِ لُد پر اس کو قتل کردیں گے، مسلمانوں اور دجال کے لشکر کا کھلے میدان میں مقابلہ ہوگا، جس میں لشکرِ دجال کا صفایا کردیا جائے گا۔
۱۵: … دجال سارے جہان میں فتنہ پھیلائے گا، مگر اس کا مقابلہ ملکِ شام میں ہوگا۔
۱۶: … دجال کا خاتمہ خود حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے ہاتھوں ہوگا، دجال اور فتنۂ دجال کے خاتمے کے بعد صرف اسلام باقی رہ جائے گا، اور دیگر تمام مذاہب مٹ جائیں گے۔
۱۷: … اس کی کچھ اصل نہیں۔
۱۸: … جلیل القدر تابعیؒ۔
۱۹: … اس میں حرمت کی کوئی وجہ نہیں پائی جاتی، حیض آنا وجہ حرمت نہیں، اس لئے خرگوش حلال ہے۔ اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں خرگوش کا ہدیہ پیش کیا جانا حدیث سے ثابت ہے۔
۲۰: … پنجے سے پکڑنے والے جانور حرام نہیں، بلکہ پنجے سے شکار کرنے والے حرام ہیں، دونوں میں فرق ہے۔
۲۱: … یہ غلط ہے کہ اِمام ابوحنیفہؒ، اِمام جعفرؒ کے شاگرد تھے، یہ دونوں بزرگ ہم سن ہیں، اِمام جعفرؒ کی ولادت ۸۰ھ میں ہوئی اور وفات۱۴۸ھ میں، جبکہ اِمام ابوحنیفہؒ کے سنِ ولادت میں تین قول ہیں: ۶۰ھ، ۷۰ھ اور ۸۰ھ، اور یہ آخری قول زیادہ مشہور ہے، ان کی وفات ۱۵۰ھ میں ہوئی۔ اِمام ابوحنیفہؒ نے اِمام جعفرؒ کے اساتذہ و اکابر سے علم حاصل کیا تھا، اور ان کے والد اِمام باقر ؒ کی زندگی میں مسندِ فتویٰ پر فائز تھے، اس لئے ان کی
521
شاگردی کا افسانہ محض غلط ہے۔
۲۲: … جن اکابر کو بعض لوگ ’’بارہ اِمام‘‘ کہتے ہیں وہ اہلِ سنت کے مقتدا و پیشوا ہیں، ان کے عقائد ٹھیک وہی تھے جو اہلِ سنت کے عقائد ہیں۔ بعض لوگ ان کے بارے میں جو کہتے ہیں کہ وہ ساری عمر تقیہ کرتے رہے، یعنی ان کے عقائد کچھ اور تھے، مگر اَزراہِ تقیہ وہ اہلِ سنت کے عقائد ظاہر کرتے رہے، یہ ان اکابر ؒ پر بہتان ہے۔ جو مسائل ان اکابرؒ کی طرف اہلِ سنت کے خلاف منسوب کئے جاتے ہیں، وہ بھی ان پر اِفترا ہے۔ یہ حضرات خود بھی ان مسائل سے براء ت کا اعلان فرماتے تھے، اور ان مسائل کے نقل کرنے والے راویوں پر لعنت کرتے تھے۔
۲۳: … وہ اللہ تعالیٰ کے مقبول بندے تھے، قرب و ولایت کے بلند مراتب پر فائز تھے، صحابہ کرامؓ اور خلفائے راشدینؓ کی عظمت کے قائل تھے، نہ وہ معصوم تھے، نہ مفترض الطاعت، نہ مأمور من اللہ۔
۲۴: … مکہ، مدینہ، بیت المقدس۔
۲۵: … جس شخص کے بارے میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ فرمایا تھا، وہ خارجیوں کے ساتھ جنگِ نہروان میں قتل ہوا۔ جس حبشی کے کعبہ شریف کو ڈھانے کا فرمایا ہے، وہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے بعد آخری زمانے میں ہوگا، واللہ اعلم!
محمد یوسف لدھیانوی
۲۲؍۳؍۱۴۰۰ھ
522
ابوظفر چوہان کے جواب میں
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ
اَلْحَمْدُ لِلہِ وَسَلَامٌ عَلٰی عِبَادِہِ الَّذِیْنَ اصْطَفٰی!
خان شہزادہ صاحب نے ایک سوال نامہ حضرت عیسیٰ علیہ الصلوٰۃ والسلام کے بارے میں بھیجا تھا، اس کا جواب ’’تحفہ قادیانیت‘‘ جلد سوم کے ۲۱۰ صفحات میں شائع ہوا، اس کے آخر میں مضامین کی تلخیص تھی، اور دو ایک باتیں بطور خاتمہ کے ذِکر کی گئی تھیں۔ یہ آخری حصہ روزنامہ ’’جنگ‘‘ کراچی میں اور وہاں سے روزنامہ ’’جنگ‘‘ لندن میں شائع ہوا، جسے پڑھ کر جناب ابوظفر چوہان صاحب نے چند سوالات بھیجے، جن کا جواب لکھا جاتا ہے۔
’’جناب مولانا محمد یوسف لدھیانوی صاحب نے خان شہزادہ کے چند سوالات کا بڑا علمی، تحقیقاتی، لطیف اور مفصل جواب، جو روزنامہ ’’جنگ‘‘ مؤرخہ ۱۱؍۱۰؍۱۹۹۶ء میں شائع ہوا ہے، نظر سے گزرا۔ ماشاء اللہ کافی مدلل ہے۔ مولانا صاحب کے جواب کو غور سے پڑھنے کے بعد چند سوالات میرے ذہن میں بھی اُبھرے ہیں۔ اُمید ہے کہ مولانا صاحب تشفی کے لئے مزید اس مسئلے پر روشنی ڈالیں گے۔۔۔۔۔۔۔۔‘‘
جواب: … آنجناب نے جو شبہات پیش فرمائے ہیں، اس ناکارہ نے ان کا بغور مطالعہ کیا ہے، اور ان کے حل کرنے کی اپنی اِستطاعت کے موافق کوشش کروں گا، بطور تمہید چند مخلصانہ گزارشات پیش کرنا چاہتا ہوں۔
اوّل: … اسلام کے جو عقائد آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے لے کر آج تک
523
اُمتِ اِسلامیہ میں متواتر چلے آتے ہیں، اور جن کو اَئمہ دِین ومجدّدین ہر صدی میں تواتر کے ساتھ نقل کرتے آئے ہیں، وہ اسلام کے قطعی عقائد ہیں۔ جو شخص یہ چاہتا ہو کہ وہ صحیح عقیدہ لے کر اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں حاضر ہو، اس کو لازم ہے کہ اہلِ سنت کے متواتر عقائد پر اِیمان رکھے، محض اِشکالات یا شبہات کی وجہ سے ان عقائد کا اِنکار نہیں کرنا چاہئے، بلکہ اسلامی عقیدے پر اِیمان رکھتے ہوئے اِن اِشکالات کو رفع کرنا چاہئے۔
دوم: … حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا قربِ قیامت میں نازل ہونا، ان عقائد میں سے ہے جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے ہر دور اور ہر صدی میں متواتر چلے آئے ہیں، صحابہؓ وتابعینؒ، اکابر اَئمۂ دِینؒ ومجدّدینؒ میں سے ایک بھی ایسا نہیں جو اس عقیدۂ حقہ کا منکر ہو۔ لہٰذا دورِ جدید کے لوگوں کے پھیلائے ہوئے شبہات کی وجہ سے اس عقیدے سے اِیمان متزلزل نہیں ہونا چاہئے، اور دُعا بھی کرتے رہنا چاہئے:
’’اَللّٰھُمَّ اِنِّیْ اَعُوْذُ بِکَ مِنَ الْفِتَنِ مَا ظَھَرَ مِنْھَا وَمَا بَطَنَ‘‘
(مسند احمد ج:۱ ص:۳۰۵)
ترجمہ: … ’’یا اللہ! میں تمام فتنوں سے آپ کی پناہ چاہتا ہوں، ان میں سے جو ظاہر ہیں ان سے بھی، اور جو پوشیدہ ہیں ان سے بھی۔‘‘
سوم: … ’’جنگ‘‘ لندن میں جو مضمون شائع ہوا ہے اور جس پر آنجناب نے سوال رقم فرمائے ہیں، یہ مضمون ایک طویل مقالے کا آخری حصہ ہے، جس میں مضامین کا خلاصہ ذِکر کیا گیا ہے۔ اصل مضمون ۲۱۰ صفحات پر مشتمل ہے، جو ’’تحفۂ قادیانیت‘‘ کی تیسری جلد میں شائع ہوچکا ہے، مناسب ہوگا کہ اس کتاب کا مطالعہ فرمائیں۔
ان مخلصانہ گزارشات کے بعد جناب کے ایک ایک سوال پر اپنے ناقص علم کے مطابق معروضات پیش کرتا ہوں۔
’’۱- مولانا صاحب نے فرمایا کہ ’’شبِ معراج میں آنحضرت صلعم کی اِقتدا میں بیت المقدس میں سب انبیائے کرام
524
نے بمع حضرت عیسیٰ کے شرکت فرمائی۔ حضرت عیسیٰ کو اپنا اصلی جسم چھوڑ کر بدنِ مثالی بنانے کی ضرورت نہ تھی۔ کیونکہ ’’وہ تو سراپا رُوح اللہ ہیں۔‘‘ تو کیا باقی انبیاء بمع حضرت نبی کریم صلعم کے نعوذباللہ رُوح اللہ نہیں ہیں؟ اس کی وجہ؟ کیا اس سے ہمارے پیارے آقا صلعم کی توہین کا پہلو تو نہیں نکلتا؟‘‘
جواب: … آنجناب کو معلوم ہوگا کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے لئے اللہ تعالیٰ نے ’’رُوح منہ‘‘ کا لفظ اِستعمال فرمایا ہے:
’’اِنَّمَا الْمَسِیْحُ عِیْسَی ابْنُ مَرْیَمَ رَسُوْلُ اللہِ وَکَلِمَتَہٗٓ اَلْقَاھَآ اِلٰی مَرْیَمَ وَرُوْحٌ مِّنْہُ‘‘
(النساء:۱۷۱)
ترجمہ: … ’’مسیح عیسیٰ بن مریم تو اور کچھ بھی نہیں، البتہ اللہ کے رسول ہیں، اور اللہ تعالیٰ کے ایک کلمہ، جس کو اللہ تعالیٰ نے مریم تک پہنچایا تھا، اور اللہ کی طرف سے ایک جان ہیں۔‘‘
(ترجمہ: مولانا اشرف علی تھانویؒ)
اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی احادیث شریفہ میں بھی حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے لئے ’’رُوح اللہ‘‘ کا لفظ اِستعمال ہوا ہے۔ مسندِ احمد ج:۴ ص:۲۱۶، مستدرک حاکم ج:۴ ص:۴۷۸، درمنثور ج:۲ ص:۲۴۳، مجمع الزوائد ج:۷ ص:۳۴۲، میں ہے:
’’وَیَنْزِلُ عِیْسَی بْنُ مَرْیَمَ عَلَیْہِ السَّلَامُ عِنْدَ صَلٰوۃِ الْفَجْرِ، فَیَقُوْلُ لَہٗ أَمِیْرُھُمْ: یَا رُوْحُ اللہ! تَقَدَّمْ صَلِّ‘
ترجمہ: … ’’اور عیسیٰ بن مریم علیہ السلام نمازِ فجر کے وقت نازل ہوں گے، پس مسلمانوں کا اَمیر ان سے عرض کرے گا: اے رُوح اللہ! تشریف لائیے، ہمیں نماز پڑھائیے۔‘‘
اور اکابرِ اُمت نے بھی یہ لفظ اِستعمال فرمایا ہے، اِمامِ ربانی مجدّد الف ثانی رحمہ اللہ
525
ایک جگہ لکھتے ہیں:
’’علاماتِ قیامت کہ مخبرِ صادق علیہ وعلیٰ آلہ الصلوٰۃ والتسلیمات ازاں خبر دادہ است حق است اِحتمال تخلف ندارد، مثل طلوعِ آفتاب از جانبِ مغرب برخلافِ عادت، وظہور حضرت مہدی علیہ الرضوان ونزول حضرت رُوح اللہ علیٰ نبینا وعلیہ الصلوٰۃ والسلام وخروجِ دجال وظہورِ یاجوج وماجوج وخروج دابۃ الارض ودُخانے کہ از آسماں پیدا شود تمام مردم را فرو گیرد عذاب دردناک کند مردم از اِضطراب گویند اے پروردگار ما! ایں عذاب را از ما دُور کن کہ ما اِیمان مے آریم، وآخر علامات آتش است کہ از عدن خیزد۔‘‘
(مکتوباتِ اِمامِ ربانی، مکتوب:۶۷ دفترِ دوم)
ترجمہ: … ’’علاماتِ قیامت کہ مخبرِ صادق صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی خبر دی ہے برحق ہیں، اِحتمال تخلف کا نہیں رکھتیں، مثلاً: آفتاب کا طلوع ہونا مغرب کی جانب سے عام عادت کے خلاف، اور حضرت مہدی علیہ الرضوان کا ظاہر ہونا، اور حضرت رُوح اللہ ۔۔۔علیٰ نبینا وعلیہ الصلوٰۃ والسلام۔۔۔ کا نازل ہونا، اور دَجال کا نکلنا، یاجوج وماجوج کا ظاہر ہونا، دابۃ الارض کا نکلنا، اور ایک دُھواں جو آسمان سے ظاہر ہوگا، تمام لوگوں کو گھیر لے گا اور دردناک عذاب کرے گا، لوگ بے چینی کی وجہ سے کہیں گے کہ: اے ہمارے پرودردگار! اس عذاب کو ہم سے دُور کر کہ ہم اِیمان لاتے ہیں، اور آخری علامت آگ ہے جو عدن سے ظاہر ہوگی۔‘‘
الغرض حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا ’’رُوح اللہ‘‘ کے لقب سے ملقب ہونا ایسی حقیقت ہے جس کو ہر پڑھا لکھا جانتا ہے۔ رہا یہ کہ صرف ان کو رُوح اللہ کیوں کہا گیا؟ اس کی جو وجہ جس کے ذہن میں آئی، اس نے بیان کردی۔
526
بعض نے کہا کہ چونکہ یہودی حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے بارے میں ناروا باتیں کہتے تھے اور ان کی رُوح کو ناپاک رُوح سے تعبیر کرتے تھے، اس لئے ان کو رُوح اللہ کے لقب سے یاد کیا گیا۔
اِمام راغب اصفہانی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
’’وسمی عیسٰی علیہ السلام رُوحًا فی قولہ: وَرُوْحٌ مِّنْہُ، وذٰلک لما کان لہ من إحیاء الأموات۔‘‘
(مفردات القرآن ص:۲۰۵، طبع نور محمد کراچی)
ترجمہ: … ’’عیسیٰ علیہ الصلوٰۃ والسلام کا نام آیت شریفہ ’’وَرُوْحٌ مِّنْہُ‘‘ میں رُوح اس لئے رکھا گیا کہ ان سے مُردوں کو زِندہ کرنے کا ظہور ہوتا تھا۔‘‘
بعض نے کہا کہ چونکہ ان کی رُوح بذریعہ جبریل علیہ السلام نفخ کی گئی، اس لئے ان کو رُوح اللہ کہا جاتا ہے:
’’وسمی علیہ السلام رُوحًا لأنہ حدث عن نفخۃ جبریل علیہ السلام فی درع مریم علیہا السلام بأمرہ سبحانہ۔‘‘
(رُوح المعانی ج:۶ ص:۲۵)
الغرض اکابرؒ کے کلام میں اس قسم کی اور توجیہات بھی موجود ہیں، مگر عیسیٰ علیہ الصلوٰۃ والسلام کے رُوح اللہ کے ساتھ ملقب ہونے سے یہ لازم نہیں آتا کہ صرف انہی کی رُوح، اللہ تعالیٰ کی طرف سے آئی ہے، باقی ارواح اللہ تعالیٰ کی طرف سے نہیں ۔۔۔نعوذباللہ۔۔۔ اس لئے کہ حضراتِ انبیائے کرام علیہم السلام کو مختلف القاب کے ساتھ ملقب کیا گیا ہے۔ حضرت آدم علیہ السلام کو ’’صفی اللہ‘‘ کہا گیا، حضرت نوح علیہ السلام کو ’’نجی اللہ‘‘ کے ساتھ ملقب کیا گیا، حضرت اِبراہیم علیہ السلام کو ’’خلیل اللہ‘‘ کے لقب سے مشرف کیا گیا، حضرت اِسماعیل علیہ السلام کو ’’ذبیح اللہ‘‘ کا لقب عطا کیا گیا، حضرت موسیٰ علیہ السلام کو ’’کلیم اللہ‘‘ کے لقب سے مشرف کیا گیا، اسی طرح حضرت عیسیٰ علیہ الصلوٰۃ والسلام کو
527
’’رُوح اللہ‘‘ کا لقب دیا گیا، مگر اس سے یہ لازم نہیں آتا کہ دیگر انبیائے کرام علیہم السلام کی اَرواحِ طیبہ اللہ تعالیٰ کی جانب سے نہیں ہیں۔
حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو رُوح اللہ کے لفظ سے یاد کیا جانا ایسا ہی ہے جیسا کہ کعبہ شریف کو ’’بیت اللہ‘‘ کہا گیا ہے، اور حضرت صالح علیہ السلام کی اُونٹنی کو ’’ناقۃ اللہ‘‘ کہا گیا ہے، پس اللہ کی طرف ان چیزوں کی نسبت تعظیم وتشریف کے لئے ہے، واللہ اعلم!
’’۲- خان شہزادہ صاحب نے سوال کیا کہ جب مسلمانوں پر مصائب کے پہاڑ ٹوٹ پڑ رہے تھے، تو اس وقت حضرت عیسیٰ بجائے مسلمانوں کی مدد کرنے کے واپس آسمان پر کیوں تشریف لے گئے؟ مولانا صاحب نے فرمایا کہ: ’’صحابہ کرامؓ کے لئے: ’’کُنْتُمْ خَیْرَ اُمَّۃٍ اُخْرِجَتْ لِلنَّاسِ‘‘ کا تاجِ کرامت تیار کیا جارہا تھا۔ اور حکمتِ بالغہ کے تحت ان کو آزمائش کی بھٹی میں ڈال رکھا تھا، نیز یہ کہ فتنۂ دجال جس سے تمام انبیاء نے پناہ مانگی تھی، اور ایک ایسا زمانہ بھی آنے والا تھا کہ لوگ چند ٹکوں کے عوض اپنا اِیمان بیچ ڈالیں گے وغیرہ، تو اس وقت حضرت عیسیٰ کی زیادہ ضرورت ہوگی۔‘‘ مولانا صاحب! اگر سرسری نظر سے بھی حضرت عیسیٰ کے حالات کا مطالعہ کیا جائے تو یہی نقشہ سامنے آتا ہے کہ آپ ساری زندگی ماریں کھاتے رہے، جب کوئی بائیں گال پر تھپڑ مارتا تو آپ دایاں گال آگے کردیتے، اور آسمان پر تشریف لے جانے سے پہلے صرف بارہ حواری اپنے پیچھے چھوڑ گئے تھے، اور بقول بائبل ان میں بھی اکثریت بے ایمان اور نمک حرام نکلے۔ مولانا صاحب! پہلے تو یہ بتائیں کہ آپؑ کے آسمان پر جانے سے پہلے کیا واقعی ان کے ماننے والوں کی اتنی قلیل تعداد تھی؟ اگر جواب اِثبات میں ہے تو بظاہر ایسا ناکام نبی اور کمزور نبی اس قدر عظیم فتنۂ دجالیت کا کیونکر مقابلہ
528
کرسکے گا؟ جس سے سب نبیوں نے ڈرایا ہے اور جو اپنی مخصوص چھوٹی سی قوم اسرائیل کی اِصلاح نہ کرسکا، وہ ساری دُنیا کی اور بگڑی ہوئی اُمتِ محمدیہ کی اِصلاح کیسے کریں گے؟ ‘‘
جواب: … یہاں چند اُمور قابلِ ذِکر ہیں:
اوّل: … آنجناب نے بائبل کے حوالے سے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے بارے میں جو لکھا ہے اہلِ اِسلام اس کو صحیح نہیں سمجھتے، علماء فرماتے ہیں کہ اہلِ کتاب کی جو باتیں کتاب وسنت کے موافق ہیں، ہم ان پر اِیمان رکھتے ہیں، نہ اس وجہ سے کہ وہ اہلِ کتاب نے ذِکر کی ہیں، بلکہ اس وجہ سے کہ ان کو اللہ تعالیٰ اور رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے بیان فرمایا ہے۔ اور اہلِ کتاب کی جو باتیں کتاب وسنت کے خلاف ہیں، ہم ان سے براء ت کا اِظہار کرتے ہیں، اور ان کی جو باتیں ایسی ہیں کہ کتاب و سنت ان کے بارے میں خاموش ہیں، ہم نہ ان کی تصدیق کرتے ہیں، نہ تکذیب۔ چنانچہ مشکوٰۃ شریف میں صحیح بخاری کے حوالے سے منقول ہے کہ اہلِ کتاب عبرانی میں توراۃ پڑھتے تھے اور اہلِ اسلام کے لئے عربی میں اس کا ترجمہ کرتے تھے، اس پر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اِرشاد فرمایا:
’’لَا تُصَدِّقُوْا أَھْلَ الْکِتَابِ وَلَا تُکَذِّبُوْھُمْ، وَقُوْلُوْا: آمَنَّا بِاللہِ وَمَا اُنْزِلَ إِلَیْنَا۔۔۔ الآیۃ۔‘‘
(رواہ البخاری، مشکوٰۃ ص:۲۸)
ترجمہ: … ’’اہلِ کتاب کی نہ تصدیق کرو، نہ تکذیب کرو، اور یہ کہو کہ ہم اِیمان رکھتے ہیں اللہ پر اور اس چیز پر جو ہماری طرف نازل کی گئی۔‘‘
دوم: … حضرت عیسیٰ علیہ الصلوٰۃ والسلام کی یہ تعلیم کہ اگر کوئی دائیں گال پر تھپڑ مارے تو بایاں بھی پیش کردو، قرآن وحدیث میں منقول نہیں۔ لیکن اگر یہ نقل صحیح ہو، تو اس کی وجہ یہ ہوسکتی ہے کہ ان کو اس وقت جہاد کا حکم نہیں تھا، جیسا کہ مکہ مکرمہ میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ کرامؓ کو جہاد کا حکم نہیں تھا، بلکہ حکم یہ تھا کہ ماریں کھاتے رہو، لیکن ہاتھ نہ
529
اُٹھاؤ۔ ہجرت کے دُوسرے سال آیت شریفہ: ’’اُذِنَ لِلَّذِیْنُ یُقٰـتَلُوْنَ بِاَنَّھُمْ ظُلِمُوْا وَاِنَّ اللہَ عَلٰی نَصْرِھِمْ لَقَدِیْرٌ‘‘ (الحج:۳۹) نازل ہوئی تو جہاد کا حکم ہوا۔ اسی طرح حضرت عیسیٰ علیہ الصلوٰۃ والسلام کو اگر اس وقت جہاد کا حکم نہ ہو تو اس کو ان کی کمزوری پر محمول نہیں کیا جاسکتا۔
سوم: … ان کے آسمان پر تشریف لے جانے سے پہلے صرف بارہ حواری تو نہیں تھے، بلکہ ایک اچھی خاص تعداد ان کے ماننے والوں کی تھی:’’فَاٰمَنَتْ طَّآئِفَۃٌ مِنْم بَنِیْٓ اِسْرٰٓئِیْلَ وَکَفَرَتْ طَّآئِفَۃٌ‘‘ (الصف:۱۴) میں اسی کا بیان ہے۔ البتہ ان کے رفعِ آسمانی سے پہلے یہود کا غلبہ رہا اور ان کے پیرو مغلوب رہے، جیسا کہ ہجرت سے پہلے حضراتِ صحابہ کرام ۔۔۔رضوان اللہ علیہم اجمعین۔۔۔ مغلوب تھے اور قریشِ مکہ غالب تھے۔
چہارم: … آپ نے جو تحریر فرمایا ہے کہ: ’’بقول بائبل حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے حواریوں میں اکثریت بے ایمان اور نمک حرام لوگوں کی تھی‘‘ غالباً جناب کا اِشارہ بائبل کے اس فقرے کی طرف ہے کہ یہودا اسخریوطی نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو چالیس درہم کے بدلے گرفتار کروادِیا تھا، لیکن یہ قصہ صراحۃً غلط ہے، اس لئے کہ ان بارہ حواریوں کو جنت کی بشارت دی گئی تھی، پس کیسے ممکن ہے کہ مبشر بالجنہّ ہونے کے باوجود وہ مرتد ہوجائیں، قرآنِ کریم میں ہے:
’’یٰٓـاَیُّھَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا کُوْنُوْٓا اَنْصَارَ اللہِ کَمَا قَالَ عِیْسَی ابْنُ مَرْیَمَ لِلْحَوَارِیّٖنَ مَنْ اَنْصَارِیْٓ اِلَی اللہِ، قَالَ الْحَوَارِیُّوْنَ نَحْنُ اَنْصَارُ اللہِ ۔۔۔الخ‘‘
(الصف:۱۴)
ترجمہ: … ’’اے ایمان والو! تم اللہ کے مددگار ہوجاؤ، جیسا کہ عیسیٰ ابن مریم نے حواریوں سے فرمایا کہ: اللہ کے واسطے میرا کون مددگار ہوتا ہے؟ وہ حواری بولے: ہم اللہ کے مددگار ہیں۔‘‘
قرآنِ کریم کی کسی آیت اور کسی حدیث شریف میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے حواریوں کی مذمت نہیں کی گئی، اور نہ کسی صحابی سے اس قسم کا مضمون منقول ہے۔ لہٰذا
530
آنجناب کا حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے حواریوں کی اکثریت کو بے اِیمان اور نمک حرام لکھنا صریح زیادتی ہے۔ کیا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے دس مبشر صحابہؓ کو جو ’’عشرہ مبشرہ‘‘ کے لقب سے معروف ہیں، شیعوں کا یہ طعن دینا صحیح ہوگا کہ ۔۔۔نعوذباللہ۔۔۔ ان کی اکثریت بے اِیمان اور نمک حرام تھی۔۔۔؟
اصل قصہ وہ ہے جس کو اِمام ابنِ کثیرؒ نے حضرت ابنِ عباس رضی اللہ عنہ سے بہ سندِ صحیح نقل کیا ہے:
’’قال: لما أراد اللہ أن یرفع عیسٰی إلی السماء، خرج إلٰی أصحابہ، وفی البیت اثنا عشر رجلًا من الحواریین، فخرج علیھم من عین فی البیت، ورأسہ یقطر ماء ثم قال: أیکم یلقی علیہ شبھی فیقتل مکانی ویکون معی فی درجتی؟ فقام شاب من احدثھم سنًّا، فقال لہ: اجلس! ثم أعاد علیھم فقام ذٰلک الشاب فقال: اجلس، ثم أعاد علیھم فقام الشاب فقال: أنا! فقال: ھو ذاک، فألقی علیہ شبہ عیسٰی ورفع عیسٰی من روزنۃ فی البیت إلی السماء۔‘‘
(تفسیر ابن کثیر ج:۱ ص:۷۶۴)
اِمام ابنِ کثیرؒ اس کو نقل کرکے لکھتے ہیں:
’’وھٰذا اسناد صحیح إلی ابن عباس ورواہ النسائی عن أبی کریب عن أبی معاویۃ بنحوہ، وکذا ذکرہ غیر واحد من السلف أنہ قال لھم: أیکم یلقی علیہ شبہی فیُقتلَ مکانی وھو رفیقی فی الجنّۃ؟‘‘
(حوالۂ بالا)
ترجمہ: … ’’جب اِرادہ کیا اللہ تعالیٰ نے عیسیٰ علیہ السلام کو آسمان کی طرف اُٹھانے کا، تو وہ نکلے اپنے اَصحاب کے پاس، اور مکان میں بارہ حواری تھے، یعنی آپ کے مکان میں ایک چشمہ تھا،
531
اس سے غسل کرکے ان کے پاس آئے، اور آپ کے سر سے پانی ٹپک رہا تھا۔ پھر فرمایا: تم میں سے کون ہے جس پر میری شباہت ڈال دی جائے، پس وہ میری جگہ قتل کردیا جائے، اور میرے ساتھ میرے درجے میں ہو؟ پس ایک نوجوان جو سب سے کم عمر تھا کھڑا ہوا، آپ نے فرمایا: بیٹھ جا! پھر وہی بات دُہرائی، پھر وہی نوجوان کھڑا ہوا، آپ نے فرمایا: بیٹھ جا! پھر اپنی بات دُہرائی پس نوجوان کھڑا ہوا، پس کہا کہ: میں اس کے لئے حاضر ہوں! فرمایا: تو ہی وہ ہے۔ پس اس پر حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی شباہت ڈال دی گئی اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو مکان کے روشن دان سے آسمان کی طرف اُٹھالیا گیا۔‘‘
’’یہ اسناد صحیح ہے ابنِ عباسؓ تک، اور اِمام نسائی نے اس کو ابوکریب سے اور انہوں نے ابومعاویہؓ سے اس کی مثل روایت کیا ہے۔ اور اسی طرح یہ بات بہت سے سلف نے ذِکر فرمائی ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے حواریوں سے فرمایا کہ: تم میں سے کون ہے کہ اس پر میری شباہت ڈال دی جائے، پس وہ میری جگہ قتل کردیا جائے اور وہ میرا رفیق ہو جنت میں؟‘‘
یہ نوجوان یہودا اسخریوطی تھا، اس لئے یہ کہنا صحیح نہیں کہ اس نے غداری کی، کیونکہ اس نے جو کچھ کیا حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے اِشارہ، بلکہ بشارت کے مطابق کیا۔
پنجم: … حضرت عیسیٰ علیہ الصلوٰۃ والسلام کو ناکام اور کمزور نبی کہنا صحیح نہیں، کیونکہ ان کی رُوحانی قوّت قرآنِ کریم میں مذکور ہے:
’’وَاِذْ تَخْلُقُ مِنَ الطِّیْنِ کَھَیْئَۃِ الطَّیْرِ بِاِذْنِیْ فَتَنْفُخُ فِیْھَا فَتَکُوْنُ طَیْرًام بِاِذْنِیْ وَتُبْرِیُٔ الْاَکْمَہَ وَالْاَبْرَصَ بِاِذْنِیْ وَاِذْ تُخْرِجُ الْمَوْتٰی بِاِذْنِیْ۔‘‘
(المائدۃ:۱۱۰)
ترجمہ: … ’’اور جبکہ تم گارے سے ایک شکل بناتے تھے،
532
جیسے پرندے کی شکل ہوتی ہے، میرے حکم سے، پھر تم اس کے اندر پھونک ماردیتے تھے، جس سے وہ پرندہ بن جاتا تھا، میرے حکم سے، اور تم اچھا کردیتے تھے مادرزاد اندھے کو، اور برص کے بیمار کو، میرے حکم سے، اور جبکہ تم مُردوں کو نکال کر کھڑا کردیتے تھے، میرے حکم سے۔‘‘
اور دوبارہ تشریف آوری کے موقع پر دجال کے مقابلے میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی رُوحانی قوّت کا یہ عالم ہوگا کہ دجال ان کو دیکھتے ہی اس طرح پگھلنے لگے گا، جیسا کہ نمک پانی میں پگھل جاتا ہے۔ صحیح مسلم (ج:۲ ص:۳۹۲) میں ہے:
’’فَإِذَا رَاٰہٗ عَدُوُّ اللہِ ذَابَ کَمَا یَذُوْبُ الْمِلْحُ فِی الْمَائِ، فَلَوْ تَرَکَہُ لَانْذَابَ حَتّٰی یَھْلِکَ، وَلٰـکِنْ یَّقْتُلُہُ اللہُ بِیَدِہِ فَیُرِیْھِمْ دَمَہُ۔‘‘
مسندِ احمد (ج:۲ ص:۳۶۸) میں ہے:
’’فَإِذَا صَلّٰی صَلٰوۃَ الصُّبْحِ خَرَجُوْا إِلَیْہِ فَقَالَ: فَحِیْنُ یَرَی الْکَذَّابُ یَنْمَاثُ کَمَا یَنْمَاثُ الْمِلْحُ فِی الْمَائِ۔‘‘
ان احادیث کا خلاصہ، ترجمہ وہی ہے جو اُوپر گزرچکا ہے۔
’’۳- مولانا صاحب! آپ نے یہ بھی فرمایا کہ حضرت عیسیٰ کا دوبارہ آنا اس لئے بھی ضروری ہے کیونکہ آپ نے آکر اپنے دُشمن یہودیوں سے اِنتقام بھی لینا ہے، تو کیا اِنتقام لینا اسلامی شریعت کی نفی نہیں ہے؟ علاوہ ازیں حضرت عیسیٰ تو زِندہ ہیں مگر ان کے دُشمن تو مرکر خاک ہوکر جہنم رسید ہوگئے، اب وہ اِنتقام کن سے لیں گے؟ کیا ایک اٹھارویں نسل کے کسی فرد کو اس وجہ سے پھانسی پر چڑھایا جاسکتا ہے کہ آج سے دو ہزار سال پہلے اس فرد کے کسی جدِاَمجد نے قتل کیا تھا؟
533
میری کانشنس (ضمیر، ایمان) بار بار اس نااِنصافی پر اِحتجاج کرنے پر مجبور ہے۔ براہِ کرم اس کا تسلی بخش جواب دے کر مشکور فرمادیں۔‘‘
جواب: … قرآنِ کریم میں ہے:
’’قـٰـتِلُوْھُمْ یُعَذِّبْـھُـمُ اللہُ بِـاَیـْدِیـْکُـمْ وَیـُخْـزِھِـمْ وَیَـنْصُـرْکُمْ عَلَـیْـھِـمْ وَیَشْفِ صُـدُوْرَ قَـوْمٍ مُّـؤْمِـنِیْنَ۔‘‘
(التوبۃ:۱۴)
ترجمہ: … ’’ان سے لڑو، اللہ تعالیٰ ۔۔۔کا وعدہ ہے کہ۔۔۔ ان کو تمہارے ہاتھوں سزا دے گا، اور ان کو ذلیل ۔۔۔وخوار۔۔۔ کرے گا، اور تم کو ان پر غالب کرے گا، اور بہت سے مسلمانوں کے قلوب کو شفا دے گا۔‘‘
اس سے معلوم ہوا کہ جہاد میں کفار سے اِنتقام لینا دِین کی نفی نہیں، بلکہ عین دِین ہے، اس لئے کہ حق تعالیٰ شانہ‘ کی صفت ’’عزیز ذُوانتقام‘‘ ہے، اور جہاد اسی صفت کا مظہر ہے۔ مجاہدین جارحہ اِلٰہیہ کی حیثیت سے خدا کے دُشمنوں سے اِنتقام لیتے ہیں۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی مشہور حدیث ہے:
’’مَا اِنْتَقَمَ رَسُوْلُ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ لِنَفْسِہٖ فِیْ شَیْئٍ قَطُّ إِلّا اَنْ یَّنْتَھِکَ حُرْمَۃَ اللہِ فَیَنْتَقِمُ ِﷲِ بِھَا۔ متفق علیہ۔‘‘
(مشکوٰۃ ص:۵۱۹)
حضرت عیسیٰ علیہ الصلوٰۃ والسلام کا یہود سے اِنتقام لینا بھی اِنتقامِ اِلٰہی کا مظہر ہوگا۔
رہا آپ کا یہ فرمانا کہ: ’’حضرت عیسیٰ علیہ الصلوٰۃ والسلام سے زیادتی تو دو ہزار سال پہلے کے لوگوں نے کی، اور وہ اِنتقام دو ہزار سال بعد کے لوگوں سے لیں گے‘‘ اور یہ بات ایسی ہے کہ آپ کی کانشنس (ضمیر، ایمان) اس کو ماننے کے لئے تیار نہیں۔
میرے محترم! ذرا غور فرمائیے کہ آخری زمانے میں جب دجال کا خروج ہوگا اور یہود اس کے ساتھ ہوکر غلبہ اور تسلط حاصل کریں گے، تو حق تعالیٰ شانہ‘ کی صفتِ اِنتقام
534
جوش میں آئے گی، اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو دَجالی فتنے کا قلع قمع کرنے کے لئے نازل کیا جائے گا، اس وقت وہ دجال کے پیروکار یہود کا اِستیصال فرمائیں گے۔
پوری قومِ یہود ایک فوج ہے، اور حضرت عیسیٰ علیہ الصلوٰۃ والسلام کی مخالفت پوری قوم نے کی، اس لئے آخری زمانے میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام قومِ یہود سے بحیثیت جارحہ اِلٰہی کے اِنتقام لیں گے۔
’’۴- مولانا صاحب نے فرمایا ہے کہ ’’انی متوفیک‘‘ کے اگر معنی یہ کئے جائیں کہ میں تجھے وفات دُوں گا، تب بھی اس سے آئندہ کسی اور وقت میں وفات دینے کا وعدہ ثابت ہے، نہ یہ کہ ان کی (حضرت عیسیٰ کی) وفات ہوچکی ہے۔ مولانا صاحب! یہاں دو وعدے ہیں ۱-’’انی متوفیک‘‘ ۲-’’ورافعک إلیّ‘‘ کہ میں تجھے وفات دُوں گا اور تجھے اپنی طرف اُٹھالوں گا۔ وضاحت طلب اَمر یہ ہے کہ اگر وفات کا وعدہ ابھی پورا نہیں ہوا تو اپنی طرف اُٹھالینے والا وعدہ کیسے پورا ہوگیا؟ حالانکہ یہاں وفات کا وعدہ پہلے ہے۔‘‘
جواب: … عربی زبان میں ’’و‘‘ ترتیب کے لئے نہیں آتی، مثلاً: آپ کسی شخص کو بازار بھیجیں اور اسے یہ کہیں کہ: ’’فلاں اور فلاں چیز لے کر آؤ‘‘ تو ضروری نہیں کہ جس ترتیب سے آپ نے چیزیں خریدنے کا حکم فرمایا ہے، اسی ترتیب سے وہ خریدے، بلکہ یہ صحیح ہوگا کہ آپ کی ذِکر کردہ چیزوں میں سے دُوسرے نمبر کی چیز کو وہ پہلے خرید لے، اور پہلے نمبر کی چیز کو بعد میں خریدے۔ حضرت عیسیٰ علیہ الصلوٰۃ والسلام سے اللہ تعالیٰ نے دو وعدے فرمائے تھے، ایک یہ کہ: ’’اے عیسیٰ! تم کچھ غم نہ کرو، بے شک میں تم کو اپنے وقتِ موعود پر طبعی موت سے وفات دینے والا ہوں، پس جب تمہارے لئے موت طبعی مقدّر ہے تو اِطمینان رکھو کہ ان دُشمنوں کے ہاتھوں دار پر جان دینے سے محفوظ رہوگے۔‘‘
اور دُوسرا وعدہ یہ کہ: ’’اور فی الحال میں تم کو اپنے عالمِ بالا کی طرف اُٹھائے لیتا ہوں۔‘‘ گویا اپنے وقت پر طبعی وفات دینے سے مقصود دُشمنوں سے حفاظت کی بشارت تھی،
535
یہ اپنے وقتِ موعود پر آئے گا جب قربِ قیامت میں حضرت عیسیٰ علیہ الصلوٰۃ والسلام آسمان سے زمین پر نازل ہوں گے، جیسا کہ احادیثِ صحیحہ میں آیا ہے۔
اور دُوسرا وعدہ عالمِ بالا کی طرف فی الحال اُٹھالینے کا ساتھ کے ساتھ پورا کیا گیا، جس کے پورا ہونے کی خبر سورۂ نساء میں دی گئی ہے: ’’بَلْ رَّفَعَہُ اللہُ اِلَیْہِ‘‘ اب وہ زِندہ آسمان پر موجود ہیں، اگرچہ پہلا وعدہ بعد میں پورا ہوگا، لیکن اس کو ذِکر پہلے کیا گیا ہے، کیونکہ یہ مثل دلیل کے ہے دُوسرے وعدے کے لئے، چونکہ دلیل رُتبے کے اِعتبار سے مقدم ہوتی ہے، اور چونکہ ’’واؤ‘‘ ترتیب کے لئے موضوع نہیں، اس لئے تقدیم وتأخیر میں کوئی اِشکال نہیں۔
(بیان القرآن ج:۲ ص:۲۳اَز مولانا اشرف علی تھانویؒ)
’’۵- مولانا صاحب فرماتے ہیں کہ: ’’قَدْ خَلَتْ مِنْ قَبْلِہِ الرُّسُلُ‘‘ دو جگہ آیا ہے، ایک جگہ آنحضرت صلعم کے لئے اور دُوسری جگہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے لئے۔ اور یہ دونوں حضرات بوقتِ نزولِ آیات زندہ تھے۔ مولانا صاحب! قابلِ حل اَمر یہ ہے کہ جہاں آنحضرت صلعم کے بارے میں بیان ہوا ہے، وہاں ساتھ ہی خلت کی دو اَشکال بیان ہوئی ہیں۔ (أَفَائِنْ مَاتَ أَوْ قُتِلَ) موت اور قتل، تیسری کوئی شکل ’’خلت‘‘ کی بیان نہیں ہوئی، اس معمے کو بھی حل فرمادیں۔‘‘
جواب: … آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں یہ آیت شریفہ جنگِ اُحد میں نازل ہوئی تھی، جبکہ شیطان نے یہ اُڑادیا تھا: ’’اَلَا إِنَّ مُحَمَّدًا قَدْ قُتِلَ‘‘ اور اس خبر کے سننے سے صحابہ کرامؓ کی رہی سہی کمر بھی ٹوٹ گئی تھی، ورنہ لڑائی کا پانسہ پلٹ جانے کی وجہ سے بدحواس اور منتشر تو ہو ہی رہے تھے، ان کی تسلی کے لئے فرمایا گیا:
’’اور محمد ۔۔۔صلی اللہ علیہ وسلم۔۔۔ نرے رسول ہی تو ہیں ۔۔۔خدا تو نہیں جن پر موت یا قتل ممتنع ہو۔۔۔ آپ سے پہلے بہت سے رسول گزرچکے ہیں، ۔۔۔اسی طرح ایک دن آپ بھی گزر جائیں گے۔۔۔ سو اگر آپ کا اِنتقال ہوجائے یا ۔۔۔بالفرض۔۔۔ آپ شہید ہی ہوجائیں تو کیا تم لوگ ۔۔۔جہاد یا اِسلام سے۔۔۔ اُلٹے پھرجاؤگے؟‘‘’’اور محمد ۔۔۔صلی اللہ علیہ وسلم۔۔۔ نرے رسول ہی تو ہیں ۔۔۔خدا تو نہیں جن پر موت یا قتل ممتنع ہو۔۔۔ آپ سے پہلے بہت سے رسول گزرچکے ہیں، ۔۔۔اسی طرح ایک دن آپ بھی گزر جائیں گے۔۔۔ سو
536
اگر آپ کا اِنتقال ہوجائے یا ۔۔۔بالفرض۔۔۔ آپ شہید ہی ہوجائیں تو کیا تم لوگ ۔۔۔جہاد یا اِسلام سے۔۔۔ اُلٹے پھرجاؤگے؟‘‘
یہاں قتل کا ذِکر حضراتِ صحابہؓ کی تسلی آمیز تہدید کے لئے ہے، ورنہ دُنیا سے آپ کا تشریف لے جانا طبعی موت کی شکل میں متعین تھا، اور حضرت عیسیٰ علیہ الصلوٰۃ والسلام کا طبعی موت سے وفات پانا بھی متعین اور منصوص ہے۔ حدیث میں ہے:
’’ثُمَّ یَتَوَفّٰی وَیُصَلِّیْ عَلَیْہِ الْمُسْلِمُوْنَ وَیَدْفِنُوْنَہُ۔‘‘
(مسندِ احمد ج:۲ ص:۴۳۷، فتح الباری ج:۶ ص:۳۵۷)
’’۶- ’’بَلْ رَّفَعَہُ اللہُ إِلَیْہِ‘‘ کی تشریح میں مولانا صاحب رقم طراز ہیں کہ رفع بمقابلہ قتل آیا ہے، اور قتل جسم کا ہوتا ہے، رُوح کا نہیں، لہٰذا رفع سے مراد رفعِ جسمانی ہے۔ اور رفع الی اللہ قرآنِ کریم کے محاورے میں رفع الی السماء کے لئے اِستعمال ہوتا ہے۔ سورۂ مریم آیت:۵۸ میں آیا ہے: ’’اور تو حضرت اِدریس کا بھی ذِکر سنادے، وہ ہمارا صدیق نبی تھا‘‘ ’’وَرَفَعْنٰہُ مَکَانًا عَلِیًّا‘‘ تو کیا یہاں بھی ’’رفعنا‘‘ کے معنی رفع الی السماء کے ہیں؟ تو کیا اس طرح پھر حضرت اِدریس کا بھی آسمان پر جانا ثابت نہیں ہوتا؟ مہربانی کرکے اس پر بھی روشنی ڈالیں۔‘‘
جواب: … حضرت اِدریس علیہ الصلوٰۃ والسلام کے بارے میں جو ’’وَرَفَعْنٰہُ مَکَانًا عَلِیًّا‘‘ وارِد ہوا ہے، اس کی بنا پر اگرچہ بعض اکابرؒ ان کے زِندہ ہونے کے قائل ہوئے ہیں، جیسا کہ علامہ خیالیؒ نے حاشیہ شرح عقائد نسفی میں ذِکر کیا ہے (ص:۱۴۲)، لیکن جمہور علماء ان کے رفعِ آسمانی کے قائل نہیں، لیکن حضرت عیسیٰ علیہ الصلوٰۃ والسلام کے رفعِ آسمانی کے قائل ہیں۔
وارِد ہوا ہے، اس کی بنا پر اگرچہ بعض اکابرؒ ان کے زِندہ ہونے کے قائل ہوئے ہیں، جیسا کہ علامہ خیالیؒ نے حاشیہ شرح عقائد نسفی میں ذِکر کیا ہے (ص:۱۴۲)، لیکن جمہور علماء ان کے رفعِ آسمانی کے قائل نہیں، لیکن حضرت عیسیٰ علیہ الصلوٰۃ والسلام کے رفعِ آسمانی کے قائل ہیں۔
اس کی ایک وجہ تو یہ ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ الصلوٰۃ والسلام کے حق میں تو رفع الی اللہ مذکور ہے، جو کہ رفعِ آسمانی میں نص ہے، بخلاف حضرت اِدریس علیہ السلام کے کہ ان
537
کے لئے رفع الی اللہ مذکور نہیں۔
دُوسری وجہ یہ ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ الصلوٰۃ والسلام کے لئے رفع بمقابلہ قتل ذِکر کیا گیا ہے، بخلاف اِدریس علیہ السلام کے۔
تیسری وجہ، جیسا کہ مولانا عبدالحکیم سیالکوٹی نے لکھا ہے:
’’عیسیٰ علیہ السلام کی حیات، ان کا زَمین پر نازل ہونا، اور یہاں رہنا احادیثِ صحیحہ سے ایسے طور پر ثابت ہے کہ اس میں کوئی شبہ باقی نہیں رہا، اور اس میں کسی ایک آدمی کا بھی اِختلاف نہیں، بخلاف دیگر حضرات کے۔‘‘
(مجموعہ حواشی البہیہ ج:۳ ص:۳۴۰)
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
’’۷- اب ایک ضروری سوال جو اس سلسلے میں شدّت سے میرے ذہن میں آتا ہے، یہ ہے کہ سورۃ المائدہ کے آخری رُکوع میں ساری گفتگو بروزِ قیامت اللہ تعالیٰ اور حضرت عیسیٰ کے مابین ہونے والی کا پورا نقشہ کھینچا گیا ہے، وہاں حضرت عیسیٰ عرض کریں گے کہ جب تک میں ان میں رہا، میں ان کا پورا پورا نگران رہا (یعنی توحید کا سبق دیتا رہا) ’’فلما توفیتنی کنت أنت الرقیب علیھم‘‘ مگر جب تو نے مجھے وفات دے دی، تو تو ہی ان پر نگران تھا۔ مولانا صاحب! کیا اس سے یہ ثابت نہیں ہوتا کہ عیسائی فرقے والے حضرت عیسیٰ کی وفات کے بعد بگڑے ہیں؟ اور کیا عیسائی قوم کا عقیدۂ اُلوہیت کا بگاڑ حضرت عیسیٰ کی وفات کو ثابت نہیں کرتا؟‘‘
جواب: … سورۂ مائدہ میں: ’’فَلَمَّا تَوَفَّیْتَنِیْ کُنْتَ اَنْتَ الرَّقِیْبَ عَلَیْھِمْ‘‘ میں ان کے رفعِ آسمانی کا ذِکر ہے، کیونکہ تمام مفسرین اس پر متفق ہیں۔ اس آیت میں ’’توفی‘‘ سے موت مراد لینا کسی طرح صحیح نہیں، اس لئے کہ حضرت عیسیٰ علیہ الصلوٰۃ والسلام کے دِین کو پولوس نے بگاڑا ہے، اور تاریخ کے مطابق اس کی وفات ۶۰ء میں ہوئی۔ گویا
538
۶۰ء تک دِینِ مسیحی بگڑ چکا تھا۔ معلوم ہوا کہ حضرت عیسیٰ علیہ الصلوٰۃ والسلام کی قوم کا بگڑنا ان کی موت کے بعد نہیں، بلکہ ان کے رفعِ آسمانی کے بعد ہوا ہے۔ اس آیت شریفہ کا مطلب یہ ہے کہ میں ان کے حالات کو اپنی موجودگی میں تو دیکھ رہا تھا، لیکن جب آپ نے مجھے آسمان پر زِندہ اُٹھالیا، اس وقت وہ میری نگرانی سے خارج تھے، اور آپ ہی ان پر نگہبان تھے۔
’’۸- مولانا صاحب، جناب خان شہزادہ کو مخاطب کرتے ہوئے فرماتے ہیں: ’’حضرت عیسیٰ کی ہجرت کو تو ہم دونوں مانتے ہیں، میں ہجرت الی السماء کا قائل ہوں، اور آپ ہجرت الی الربوہ کے۔ اگرچہ آپ تعین نہیں کرتے کہ: ’’اِلٰی رَبْوَۃٍ ذَاتِ قَرَارٍ وَّمَعِیْنٍ‘‘ کہاں ہے؟ نیز ان کے مدفن کا بھی کسی کو پتا نشان نہ ہے، مولانا صاحب! آپ نے خان شہزادہ کے ذمہ لگادیا کہ ربوہ والی جگہ کا تعین کریں، اور پتا بتائیں، مگر کیا یہ ہم سب مسلمانوں کا فرض نہیں ہے کہ خدا تعالیٰ نے جس زمین ربوہ کی نشاندہی فرمائی ہے، اور جہاں جاکر دونوں ماں بیٹے نے ہجرت کے بعد پناہ لی ہے، اس کی تلاش کریں؟ جبکہ خدا تعالیٰ نے اس زمین ربوہ کے بارے میں یہ بھی اِشارہ فرمادیا کہ وہ ایک تسکین بخش اور چشموں والی زمین ہے۔ صرف ایک پاؤں کا نشان پاکر اِنسان اپنا گمشدہ اُونٹ تلاش کرسکتا ہے، کیا ہم خدا تعالیٰ کے بتائے ہوئے پتے پر خدا تعالیٰ کے ایک پیارے نبی کو اور ان کی پیاری والدہ ماجدہ مریم کو نہیں ڈھونڈ سکتے؟ میرے خیال میں صرف ہمت اور صاف نیت کی ضرورت ہے، آخر ربوہ آسمان پر تو نہیں ہے، وہ اُونچی جگہ اسی زمین پر ہے، پھر ایک فرد تو نہیں، دو ماں بیٹا ہیں، جہاں ماں ہوگی وہاں بیٹا بھی ہوگا۔ اس ضمن میں دُوسرا سوال یہ ہے کہ کیا ہر فوت شدہ نبی کی قبر کا پتا لگانا ضروری
539
ہے، تب ہم کسی نبی کو وفات یافتہ تسلیم کریں گے؟ ورنہ نہیں۔ تیسرا سوال یہ ہے کہ حضرت مریم بھی تو ہجرت کے وقت اپنے بیٹے عیسیٰ علیہ السلام کے ساتھ ہی تھیں، ان کے مقبرے کا کیا آپ کو علم ہے؟ چوتھا سوال یہ ہے کہ حضرت عیسیٰ کی ہجرت بمقام ربوہ آسمان پر جانے کی نفی نہیں ہے؟‘‘
جواب: … یہاں چند اُمور قابلِ ذکر ہیں:
اوّل: … جو مضمون میں نے جناب خان شہزادہ صاحب کے نام لکھا تھا، وہ پورا جناب کی نظر سے نہیں گزرا، میں نے اس آیتِ شریفہ: ’’وَاٰوَیْنٰـھُمَآ اِلٰی رَبْوَۃٍ ذَاتِ قَرَارٍ وَّمَعِیْنٍ‘‘ کے بارے میں لکھا تھا کہ اس کا تعلق واقعۂ صلیب سے نہیں بلکہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی اِبتدائی نشوونما سے ہے۔
دوم: … حضرت عیسیٰ علیہ الصلوٰۃ والسلام کی ہجرت آسمان کی طرف ہوئی ہے، اور اس میں نہ ان کی والدہ ماجدہ شریک تھیں، اور نہ ان کے حواری۔ اس ناکارہ نے ایک مستقل کتاب حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے رفعِ آسمانی پر لکھی ہے، جس میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے لے کر پندرھویں صدی تک تمام اکابرِ اُمت کی تصریحات جمع کردی ہیں۔ یہ رسالہ ’’تحفۂ قادیانیت‘‘ جلد سوم میں شامل ہے۔
سوم: … بہرحال حضرت عیسیٰ علیہ الصلوٰۃ والسلام بیت اللحم میں پیدا ہوئے، پھر ان کی والدہ ماجدہ ان کو مصر لے گئیں، اور کوئی آٹھ نو سال کے تھے جب ان کا قیام ناصرہ بستی میں ہوا۔ یہی ان کا مستقر تھا، اس کے علاوہ انہوں نے کوئی وطن نہیں بنایا۔
’’۹- مولانا صاحب نے اپنے مضمون میں حضرت عیسیٰ کی ایک دُعا کا ذِکر برنباس اِنجیل کے حوالے سے کیا ہے کہ آپ نے دُعا کی تھی کہ مجھے اے خدایا! تو اُمتِ محمدیہ کا فرد بنادے۔ اس دُعا کی قبولیت کے نتیجے میں اللہ تعالیٰ نے حضرت عیسیٰ کو آسمان پر اُٹھالیا۔ یقینا آپ جیسے جید عالم سے یہ توقع نہیں کی جاسکتی کہ آپ نے محض
540
سنی سنائی بات کو مضمون کی زینت بنادیا ہو۔ تاہم اتنی گزارش کردُوں کہ میری تحقیقات کے مطابق اس قسم کی دُعا کا کہیں ذِکر اِنجیل برنباس میں نہیں ہے۔ کیا ہی اچھا ہو کہ آپ براہِ کرم اس کا حوالہ یا اس کی فوٹوکاپی خاکسار کے پتے پر اِرسال فرمادیں۔ یہاں تک کہ کسی حدیث میں حضرت عیسیٰ کی اس دُعا کا تعلق ہے تو میری تحقیق کے مطابق یہ بھی کسی حدیث میں ان کی ایسی دُعا کا کہیں ذِکر نہ ہے، کیا آپ اس سلسلے میں میری رہنمائی فرمائیں گے؟ البتہ حضرت موسیٰ علیہ السلام کی دُعا کا ذِکر ہے، جس کے جواب میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ اے موسیٰ! تو اُمتِ محمدیہ کا نبی نہیں ہوسکتا، کیونکہ اس اُمت کا نبی اسی اُمت سے ہوگا، پھر عرض کیا گیا کہ نبی نہیں تو اُمتی ہی بنادیجئے تو اِرشادِ باری تعالیٰ ہوا کہ: تم ان سے پہلے ہوگئے ہو، وہ پیچھے، البتہ تم کو اور ان کو میں دارالجلال میں اِکٹھا کردُوں گا۔ (اس کا ذِکر حضرت مولانا اشرف علی صاحب تھانویؒ نے اپنی کتاب نشرالطیب فی ذکر الحبیبؐ کے صفحہ:۲۶۲ پر فرمایا ہے)۔ مولانا صاحب! اس سلسلے میں دو اہم سوال مزید ذہن میں آئے ہیں۔ پہلا یہ کہ جب حضرت موسیٰ علیہ السلام کی دُعا اُمتِ محمدیہ کے فرد ہونے کی قبول نہیں ہوئی تو حضرت عیسیٰ علیہ السلام میں وہ کونسی افضلیت ہے کہ ان کے لئے یہ دروازہ کھلا رکھ دیا گیا ہے؟ دُوسرا سوال یہ ہے کہ بفرضِ محال مان بھی لیا جائے کہ حضرت عیسیٰ نے برنباس اِنجیل کی رُو سے ایسی دُعا کی تھی تو دُعا تو صرف اُمتی بننے کی تھی نہ اِصلاحِ اُمت کی؟ ان اُلجھنوں کا حل آپ کے نزدیک کیا ہے؟ فقط والسلام
ابوظفر چوہان۔‘‘
جواب: … اِنجیل برنباس کی جس دُعا کا میں نے ذِکر کیا تھا، اس کے لئے
541
باب:۴۴ کا آخر ملاحظہ فرمائیے (فقرہ۳۰ سے ۳۲ تک):
’’اور جبکہ میں نے اس کو دیکھا، میں تسلی سے بھرکر کہنے لگا: ’’اے محمد! اللہ تعالیٰ تیرے ساتھ ہو، اور مجھ کو اس قابل بنائے کہ میں تیری جوتی کا تسمہ کھولوں، کیونکہ اگر میں یہ (شرف) حاصل کروں تو بڑا نبی اور اللہ کا قدوس ہوجاؤں گا۔‘‘ اور جبکہ یسوع نے اس بات کو کہا، اس نے اللہ کا شکر اَدا کیا۔‘‘
اس ناکارہ کے پاس اِنجیل برنباس کے دو نسخے ہیں:
۱- مطبوعہ اسلامی مشن، ۷-ابدالی روڈ، سنت نگر، لاہور۔ جنوری ۱۹۸۰ء بمطابق صفر ۱۴۰۰ھ۔
۲- ترجمہ، آسی ضیائی، مطبوعہ اسلامک پبلیکیشنز ۳۱-ای، شاہ عالم مارکیٹ، لاہور۔ طبع پنجم جولائی ۱۹۸۷ء
آخرالذکر کے ترجمے میں معمولی سا فرق ہے، اس کے الفاظ یہ ہیں:
’’اور جب میں نے اسے دیکھا تو میری رُوح تسکین سے بھرگئی یہ کہہ کر کہ: ’’اے محمد! خدا تیرے ساتھ ہو، اور وہ مجھے اس لائق بنائے کہ میں تیری جوتی کا تسمہ کھول سکوں۔ کیونکہ یہ پاکر میں ایک بڑا نبی اور خدا کا قدوس ہوجاؤں گا۔‘‘ یہ کہہ کر یسوع نے خدا کا شکر اَدا کیا۔‘‘
رہا آپ کا یہ سوال کہ حضرت موسیٰ علیہ الصلوٰۃ والسلام کی دُعا تو قبول نہیں ہوئی، حضرت عیسیٰ علیہ الصلوٰۃ والسلام میں وہ کونسی خصوصیت تھی کہ ان کے حق میں دُعا قبول ہوئی؟‘‘ اس کا جواب خود آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم دے چکے ہیں:
’’اَلْأَنْبِیَائُ إِخْوَۃٌ لِعَلّاتٍ، أُمَّھَاتُھُمْ شَتّٰی وَدِیْنُھُمْ وَاحِدٌ، وَأَنَا أَوْلَی النَّاسِ بِعِیْسَی ابنَ مَرْیَمَ لِأَنَّہٗ لَمْ یَکُنْ بَیْنِیْ وَبَیْنَہٗ نَبِیٌّ، وَإِنَّہٗ نَازِلٌ، فَإِذَا رَأَیْتُمُوْہُ فَأَعْرِفُوْہُ، رَجُلٌ
542
مَرْبُوْعٌ، إِلَی الْحُمْرَۃِ وَالْبَیَاضِ، عَلَیْہِ ثَوْبَانِ مُمَصِّرَانِ، رَأْسُہُ یَقْطُرُ وَإِنْ لَّمْ یُصِبْہُ بَلَلٌ، فَیَدُقُّ الصَّلِیْبَ، وَیَقْتُلُ الْخِنْزِیْرَ، وَیَضَعُ الْجِزْیَۃَ، وَیَدْعُو النَّاسِ إِلَی الْإسْلَامِ، فَتَھْلِکُ فِیْ زَمَانِہِ الْمِلَلُ کُلُّھَا إِلّا الْإسْلَامَ، وَتَرْتَعُ الْأَسْوَدُ مَعَ الْإبِلِ، وَالنِّمَارُ مَعَ الْبَقَرِ، وَالذِّیَابُ مَعَ الْغَنَمِ، وَتَلْعَبُ الصِّبْیَانُ بِالْحَیَّاتِ فَلَا تَضُرُّھُمْ، فَیَمْکُثُ أَرْبَعِیْنَ سَنَۃً ثُمَّ یَتَوَفّٰی وَیُصَلِّیْ عَلَیْہِ الْمُسْلِمُوْنَ۔‘‘
(ابوداؤد ج:۲ ص:۲۳۸، مسندِ احمد ج:۲ ص:۴۳۷، فتح الباری ج:۶ ص:۴۹۳) (حقیقۃ النبوۃ ص:۱۹۲، از مرزا محمود احمد قادیانی)
ترجمہ: … ’’انبیاء علاتی بھائیوں کی طرح ہوتے ہیں، ان کی مائیں تو مختلف ہوتی ہیں، اور دِین ایک ہوتا ہے، اور میں عیسیٰ بن مریم سے سب سے زیادہ تعلق رکھنے والا ہوں، کیونکہ اس کے اور میرے درمیان کوئی نبی نہیں، اور وہ نازل ہونے والا ہے، پس جب اسے دیکھو تو اسے پہچان لو کہ وہ درمیانہ قامت، سرخی سفیدی ملا ہوا رنگ، زرد رنگ کے کپڑے پہنے ہوئے، اس کے سر سے پانی ٹپک رہا ہوگا گو سر پر پانی نہ ہی ڈالا ہو، اور وہ صلیب کو توڑے گا، اور خنزیر کو قتل کرے گا، اور جزیہ ترک کردے گا اور لوگوں کو اِسلام کی طرف دعوت دے گا، اس کے زمانے میں سب مذاہب ہلاک ہوجائیں گے اور صرف اسلام رہ جائے گا، اور شیر اُونٹوں کے ساتھ، چیتے گائے بیلوں کے ساتھ اور بھیڑیے بکریوں کے ساتھ چرتے پھریں گے، اور بچے سانپوں سے کھیلیں گے، اور وہ ان کو نقصان نہ دیں گے، عیسیٰ بن مریم چالیس سال تک رہیں گے اور پھر فوت ہوجائیں گے اور مسلمان ان کے جنازے کی نماز پڑھیں گے۔‘‘
(ترجمہ از مرزا محمود احمد قادیانی)
543
اس حدیث کو مرزا محمود صاحب قادیانی نے ’’حقیقۃ النبوۃ‘‘ میں صفحہ:۱۹۲ پر نقل کیا ہے، اور محمد علی لاہوری نے ’’النبوۃ فی الاسلام‘‘ میں صفحہ:۹۲ پر نقل کیا ہے۔ اس حدیث میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے نازل ہونے کی خبر دی ہے، اور ان کی خصوصیت یہ ذِکر فرمائی ہے کہ ان کا تعلق آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ سب سے زیادہ ہے، جس کی وجہ یہ ہے کہ:
۱- ان کا زمانہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے سے ملا ہوا ہے، اور
۲- انہوں نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی بشارت دی تھی۔
جیسا کہ قرآن مجید میں ہے:
’’یٰـبَنِیْٓ اِسْرٰٓئِیْلَ اِنِّیْ رَسُوْلُ اللہِ اِلَیْکُمْ مُّصَدِّقًا لِّمَا بَیْنَ یَدَیَّ مِنَ التَّوْرٰۃِ وَمُبَشِّرًام بِرَسُوْلٍ یَّاْتِیْ مِنْم بَعْدِی اسْمُہٗٓ اَحْمَدُ۔‘‘
(الصف:۶)
۳- اور جب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے نازل ہونے کی خبر دی ہے: ’’وإنّہ نازل فیکم‘‘ تو یہ نازل ہونا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے دِین کی خدمت کے لئے ہوگا، کیونکہ ’’جوتی کا تسمہ کھولنا‘‘ خادمیت ومخدومیت کے تعلق کی طرف اِشارہ ہے۔
۴- علاوہ ازیں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ان کا تعلق متعدّد وجوہ سے ہے، شاید کہ آنجناب نے سنا ہوگا ۔۔۔جیسا کہ احادیثِ صحیحہ میں وارِد ہوا ہے۔۔۔ کہ ان کی والدہ محترمہ حضرت مریم علیہا الرضوان، اُمہاتُ المؤمنین میں شامل ہوں گی، گویا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے سوتیلے والد صاحب ہیں، اب اس سے بڑا تعلق کیا درکار ہے؟
وَآخِرُ دَعْوَانَا اَنِ الْحَمْدُ ِﷲِ رَبِّ الْعَالَمِیْنَ
وَصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی خَیْرِ خَلْقِہٖ سَیِّدِنَا مُحَمَّدٍ وَّآلِہٖ وَصَحْبِہٖ
اَجْمَعِیْنَ وَبَارَکَ وَسَلَّمَ
۱۳؍۱۰؍۱۴۱۷ھ
544
رفع ونزولِ عیسیٰ علیہ السلام
(چند مغالطوں کا جواب)
’’مکرم جناب مولانا محمد یوسف صاحب لدھیانوی
جنابِ عالی!
بعد تسلیمات عرضِ خدمت ہے کہ روزنامہ ’’نوائے وقت‘‘ لاہور ۵؍اکتوبر ۱۹۹۶ء صفحہ:۱ پر ۳،۴ اکتوبر کو آپ نے ربوہ کے جلسے میں فرمایا کہ:
’’حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کی آمد سے ختمِ نبوّت کے عقیدے پر فرق نہیں پڑتا۔ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کو رسولِ اکرم (صلی اللہ علیہ وسلم) کا اُمتی بنادیا گیا۔‘‘
گزارش خدمتِ عالیہ میں یہ ہے کہ مجھے احمدی اصحاب سے واسطہ پڑنے پر معلوم ہوا کہ آپ کا اور ان کا عقیدہ اُمتی نبی ہونے کا ایک جیسا ہے، اصل وجہ اِختلاف دونوں میں اُمتی نبی کا نہ رہا، بلکہ یہ ہوا کہ جناب مسیح اَز رُوئے قرآن وحدیث زندہ آسمان پر گئے، اور آسمان سے زمین پر واپس دوبارہ آئیں گے کہ نہیں؟ یعنی پُرانا بنی اسرائیل کا نبی اُمتی بن کر آئے گا، یا نیا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے فیض سے فیض یاب ہوکر اُمت میں سے جنابِ مسیح کا مثیل اِمام مہدی ہی بن کر بموجب حدیث ’’ابن ماجہ‘‘ ’’لا مھدی إلّا عیسٰی‘‘ اُمت میں سے آئے گا؟ اور جنابِ موصوف کس آیت کے
545
مطابق ’’اُمتی نبی‘‘ اور آنحضرت صلعم سے فیض یاب ہوکر آئیں گے؟ بینوا توجروا۔
دُوسرا سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ قرآن نے اُمتی نبی کی تعریف کیا فرمائی ہے؟ اور وہ تعریف حضرت مسیح پر کیونکر چسپاں ہوگی؟ جبکہ انہوں نے آنحضور (صلی اللہ علیہ وسلم) سے بحالتِ اِیمان فیض حاصل نہیں کیا؟
تیسرا سوال: قرآن مجید کی چار آیات میں حضرت مسیح کو صرف ’’بنی اسرائیل‘‘ کا رسول فرمایا ہے، اگر مسلمان ان کا یہ کہہ کر اِنکار کردیں کہ آپ ’’بنی اسرائیل‘‘ کے رسول ہیں، قرآن میں ہم کو آپ کی آمد پر اِیمان لانے کا حکم نہیں، نہ آپ تمام دُنیا کے رسول ہیں، بلکہ آیت: ’’ومن یبتغ غیر الْإسلام دینًا فلن یُقبل منہ‘‘ کے مطابق اِسلام کے سوا موسوی یا عیسوی دِین خدا کو قبول نہیں، اور نہ ذریعہ نجات، تو مسیح اس وجہ اِنکار کا جواب کیا دیں گے؟
چوتھا مشکل اور اہم مسئلہ یہ درپیش ہوگا کہ آئینِ پاکستان مؤرخہ ۷؍ستمبر ۱۹۷۴ء یہ ہے کہ جو ’’حضرت محمد صلعم کے بعد کسی بھی مفہوم میں، یا کسی بھی قسم کا نبی ہونے کا دعویٰ کرتا ہے، یا کسی ایسے مدعی کو نبی یا دِینی مصلح تسلیم کرتا ہے، وہ آئین یا قانون کے اَغراض کے لئے مسلمان نہیں ہے۔‘‘
اس آئین کے مطابق حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے پُرانے نبی کے اُمتی ہوکر آنے کی وجہ سے وہ خود غیرمسلم قرار تو نہ پائیں گے؟ اور جو مسلمان ان کو اُمتی نبی یقین کرتے ہیں، یا پُرانا نبی آنے والے کا اِعتقاد رکھتے ہیں، وہ سب کے سب آئینِ پاکستان کے مطابق غیرمسلم ٹھہریں گے کہ نہیں؟
546
براہِ کرم ان اُمور کا تسلی بخش جواب قرآن سے فرماکر ممنون فرمادیں، خدا آپ کو جزائے خیر دے، آمین۔
خاکسار سیّد احمد علی
گھٹیالیاں خاص ضلع سیالکوٹ۔‘‘
بخدمت گرامی جناب سیّد احمد علی صاحب
آنجناب کا گرامی نامہ آج مؤرخہ ۲۳؍۷؍۱۹۹۷ء کو بذریعہ روزنامہ ’’جنگ‘‘ موصول ہوا۔ آنجناب کا ممنون ہوں کہ آپ نے یاد فرمایا۔ آپ نے میری ایک تقریر کے حوالے سے فرمایا ہے:
’’حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کی آمد سے ختمِ نبوّت کے عقیدے میں فرق نہیں پڑتا۔ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کو رسولِ اکرم (صلی اللہ علیہ وسلم) کا اُمتی بنادیا گیا۔‘‘
آنجناب کے یہ الفاظ میری صحیح ترجمانی نہیں کرتے، بہرحال یہاں چند باتوں کو سمجھ لینا چاہئے:
۱: … حضرت عیسیٰ علیہ الصلوٰۃ والسلام کا زِندہ آسمان پر اُٹھایا جانا اور آخری زمانے میں ان کا نازل ہونا، قرآنِ کریم کی آیاتِ شریفہ قطعیہ اور اَحادیثِ متواترہ میں وارِد ہوا ہے، اور پوری اُمت کا اس عقیدے پر اِجماع ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ الصلوٰۃ والسلام آسمان پر زِندہ ہیں، اور قربِ قیامت میں نزولِ اِجلال فرمائیں گے، میرا رسالہ: ’’حضرت عیسیٰ علیہ الصلوٰۃ والسلام کی حیات ونزول کا عقیدہ چودہ صدیوں کے مجدّدین واکابرِ اُمت کی نظر میں‘‘ جو میری کتاب ’’تحفۂ قادیانیت‘‘ جلد سوم میں شامل ہے، اس کو ملاحظہ فرمالیا جائے۔
تمام انبیاء علیہم الصلوٰۃ والسلام، آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے اُمتی ہیں، چنانچہ غلام احمد قادیانی لکھتا ہے:
’’یوں تو قرآن شریف سے ثابت ہے کہ ہر ایک نبی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی اُمت میں داخل ہے، جیسا کہ اللہ تعالیٰ
547
فرماتا ہے: ’’لتؤمنن بہ ولتنصرنہ‘‘ پس اس طرح تمام انبیاء علیہم السلام آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی اُمت ہوئے۔‘‘
(ضمیمہ براہین احمدیہ حصہ پنجم ص:۱۳۳، رُوحانی خزائن ج:۲۱ ص:۳۰۰)
تو چونکہ عیسیٰ علیہ الصلوٰۃ والسلام آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے اُمتی بھی ہیں، اور حیات بھی ہیں، اس لئے آخری زمانے میں جبکہ کانا دَجال نکلے گا تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے خادم کی حیثیت سے تشریف لائیں گے، اور دَجال کا صفایا کریں گے، اور پوری دُنیا میں اسلام پھیل جائے گا۔
۲: … کیونکہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر نبوّت ختم ہوچکی تھی، اس لئے بجائے نیا نبی بھیجنے کے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے پہلے کے نبی کو دوبارہ لانے کی نوبت آئی، ورنہ ایسے اہم ترین مواقع پر کسی نئے نبی کو مبعوث کیا جاتا تھا، اب اس کے بجائے سیّدنا عیسیٰ علیہ الصلوٰۃ والسلام کو محفوظ رکھا گیا۔
۳: … چونکہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم آخری نبی ہیں، اس لئے آپ کے بعد کسی نبی کی آمد ممکن نہیں، یعنی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد کوئی شخص نبی اور رسول نہیں بنایا جاسکتا، اس لئے یہ خیال کرنا کہ قادیانیوں کے نزدیک عیسیٰ علیہ السلام آگئے ہیں، اور مسلمانوں کے نزدیک عیسیٰ علیہ السلام ابھی نہیں آئے، یہ محض اپنے آپ کو دھوکا دینا ہے، جبکہ حقیقت میں عرض کرچکا ہوں کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام تو زِندہ ہیں، اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد کسی رسول اور نبی کا آنا ممکن ہی نہیں۔
۴: … ’’لَا مھدی إلّا عیسٰی‘‘ ابنِ ماجہ کی یہ حدیث بے حد کمزور ہے، اور حاشیہ ابنِ ماجہ میں حضرت مولانا عبدالغنی مجدّدی دہلوی رحمۃ اللہ علیہ نے اس پر طویل بحث کی ہے، اس میں اِمام محمد بن حسین الابزی الحافظ کا قول ’’مناقب شافعی‘‘ سے نقل کیا ہے:
’’وقد تواترت الأخبار واستفاضت بکثرۃ رواتھا عن المصطفی (صلی اللہ علیہ وسلم) فی المھدی، وانہ من أھل بیتہ، وانہ یملک سبع سنین،
548
ویملاء الأرض عدلًا، وانہ یخرج مع عیسَی ابن مریم علیہ السلام فیساعدہ علٰی قتل الدَّجَّال بباب لُدّ بأرض فلسطین، وانہ یؤم ھٰذہ الاُمّۃ وعیسٰی علیہ السلام یصلی خلفہ۔‘‘
(حاشیہ ابنِ ماجہ ص:۲۹۲ مطبوعہ نور محمد)
ترجمہ: … ’’مہدی کے بارے میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی احادیثِ متواترہ ہیں، اور راویوں کی کثرت کی وجہ سے مشرق ومغرب میں پھیلی ہوئی ہیں، اور یہ کہ وہ اہلِ بیت میں سے ہوں گے، سات سال حکومت کریں گے، زمین کو عدل سے بھردیں گے، اور یہ کہ وہ عیسیٰ علیہ السلام کی معیت میں قتلِ دجال کے لئے نکلیں گے، اور عیسیٰ علیہ السلام دجال کو سرزمین فلسطین میں ’’بابِ لد‘‘ پر قتل کریں گے، اور یہ کہ اس وقت مہدی لوگوں کے اِمام ہوں گے، اور عیسیٰ علیہ السلام ان کی اِقتدا میں نماز پڑھیں گے، وغیرہ وغیرہ۔‘‘
۵: … مرزا غلام احمد کو قادیانی حضرات ’’اُمتی نبی‘‘ بناتے ہیں، جس کا مطلب یہ ہے کہ وہ تھے تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے اُمتی، لیکن نبی تھے۔ یہ بات قطعاً غلط ہے، جیسا کہ اُوپر عرض کرچکا ہوں، آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم خاتم النبیین ہیں، آپ کے بعد کسی کے نبی بننے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا، چنانچہ احادیثِ متواترہ میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے خاتم النبیین کی تفسیر ’’لَا نبی بعدی‘‘ کے ساتھ فرمائی ہے، اور حافظ ابنِ حزمؒ کے بقول:
’’وہ پوری کی پوری اُمت جس نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوّت اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے معجزات، اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی کتاب کو نقل کیا ہے، اسی نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ بات بھی نقل کی ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے خبر دی ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد کوئی نبی نہیں، مگر اس سے وہ عقیدہ مستثنیٰ ہے، جس کے بارے میں صحیح احادیث وارِد ہوئی ہیں، یعنی عیسیٰ علیہ الصلوٰۃ
549
والسلام کا نازل ہونا، وہی عیسیٰ علیہ السلام جو بنی اِسرائیل کی طرف مبعوث ہوئے تھے، اور جن کے بارے میں یہود کا قتل کرنے اور سولی پر چڑھانے کا دعویٰ ہے، پس اس عقیدہ (نزولِ عیسیٰ علیہ السلام) پر اِیمان لانا واجب ہے، اور یہ بات صحیح ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد نبوّت ملنا قطعاً باطل ہے، ہرگز نہیں ہوسکتا۔‘‘
(کتاب الفصل ج:۱ ص:۷۷)
تو مرزا قادیانی کا نبی بننا تو محال، قطعی محال، اور ناممکن ہے۔ حضرت عیسیٰ علیہ الصلوٰۃ والسلام چونکہ حیات ہیں، اس لئے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی اُمت میں ان کا تشریف لانا کسی طرح بھی محلِ اِشکال نہیں۔
۶: … مرزا غلام احمد قادیانی خود اپنی تحریر کے مطابق ’’المسیح الکذاب‘‘ تھا، چنانچہ میرے متعدّد رَسائل میں یہ مضمون ذِکر کیا گیا ہے کہ غلام احمد قادیانی نے مولانا عبدالحق غزنویؒ سے مباہلہ کیا، اور مباہلہ کے بعد مولاناؒ کی زندگی میں مرگیا، جبکہ خود اس کی اپنی تحریر کے مطابق یہ جھوٹا ہونے کی علامت ہے (ملفوظات ج:۹ ص:۴۴۰، ۴۴۱)، تو جس شخص کو اللہ تعالیٰ نے جھوٹا قرار دے دیا ہو، اس کے بارے میں سچائی کا اِحتمال کیسے ہوسکتا ہے؟
۷: … یہ خیال کہ حضرت مسیح علیہ الصلوٰۃ والسلام نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے فیض نہیں اُٹھایا، بالکل غلط ہے، جیسا کہ میں اُوپر عرض کرچکا ہوں، تمام کے تمام انبیائے کرام علیہم السلام حضورِ اقدس صلی اللہ علیہ وسلم کے اُمتی ہیں، اور حضرت عیسیٰ علیہ الصلوٰۃ والسلام کی ملاقات بقیدِ حیات آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے ہوئی، اور اللہ تعالیٰ ہی بہتر جانتا ہے کہ انہوں نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے کتنا فیض حاصل کیا ہوگا، اور حق تعالیٰ شانہ‘ کی جانب سے ایک لمحے میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی شریعت کے ضروری علوم حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو اِلقا کردئیے گئے، جیسا کہ حضرت آدم علیہ الصلوٰۃ والسلام کو تمام اشیاء کے نام ایک لمحے میں اِلقا کردئیے گئے تھے۔
۸: … حضرت عیسیٰ علیہ الصلوٰۃ والسلام بنی اِسرائیل کی طرف مبعوث ہوئے تھے،
550
اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی تشریف آوری کے بعد وہ خود بھی، اور ان کی پوری قوم بھی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ماتحت ہوگئی، اس لئے ان کا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں آنا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت اور نیابت کے لئے ہوگا، جس طرح کہ علمائے کرام آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے نائب ہیں، حضرت مسیح علیہ السلام اُولوالعزم رسول ہونے کے باوجود آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے نائب ہوں گے، مگر چونکہ ان کا دورِ نبوّت ختم ہوچکا، اس لئے وہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی شریعت کے تابع ہوں گے، اور دِینِ اسلام کی پیروی کریں گے۔
۹: … آئینِ پاکستان کی ۷؍ستمبر ۱۹۷۴ء کی ترمیم میں یہ کہا گیا ہے کہ جو شخص حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد کسی بھی مفہوم میں، یا کسی بھی قسم کا نبی ہونے کا دعویٰ کرتا ہے، یا کسی ایسے مدعی کو نبی یا دِینی مصلح تسلیم کرتا ہے، وہ آئین اور قانون کے اَغراض کے لئے مسلمان نہیں ہے۔ حضرت عیسیٰ علیہ الصلوٰۃ والسلام جب تشریف لائیں گے تو وہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد نبوّت کا دعویٰ کریں گے، نہ غلام احمد کی طرح اپنی نبوّت کو منوائیں گے، کیونکہ مسلمان ان کی نبوّت پر پہلے ہی اِیمان رکھتے ہیں، اس لئے ان کی تشریف آوری آئین کی اس ترمیم کے خلاف نہیں ہوگی۔
حاصل یہ کہ حضرت عیسیٰ علیہ الصلوٰۃ والسلام کی تشریف آوری پر اِیمان رکھنا ہر مسلمان پر فرض ہے، اور کوئی جعلی مسیح یا جعلی عیسیٰ نہیں آئیں گے، بلکہ سیّدنا المسیح عیسیٰ بن مریم علیہہ الصلوٰۃ والسلام خود تشریف لائیں گے، اللہ تعالیٰ تمام مسلمانوں کو صحیح اِیمان کی توفیق عطا فرمائے۔
وَآخِرُ دَعْوَانَا اَنِ الْحَمْدُ ِﷲِ رَبِّ الْعَالَمِیْنَ
وَصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی خَیْرِ خَلْقِہٖ مُحَمَّدٍ وَّآلِہٖ وَاَصْحَابِہٖ اَجْمَعِیْنَ
551
رفع ونزولِ عیسیٰ علیہ السلام کے بارے میں
مرزا طاہر کی اُلٹی منطق
’’محترم ومکرم مدیر روزنامہ ’’جنگ‘‘ لندن السلام علیکم
عنایت ہوگی اگر آپ یہ اِستفسار علمائے کرام تک اپنے مؤقر جریدے کے ذریعے سے پہنچادیں تاکہ وہ میری تشفی کرسکیں، میں کل سے بہت پریشان ہوں کہ ایک عرصے سے ان علمائے کرام کے کئے گئے قرآنِ کریم کے مطالب سے اندھیرے میں رہتے ہوئے ایک عجیب عقیدے پر ڈَٹے ہوئے ہیں اور غوروفکر کی تکلیف نہیں کرتے۔
آج اِتفاقاً میں نے اپنے ٹی وی پر M.T.A ایم ٹی اے (مسلم ٹیلیویژن احمدیہ) کا پروگرام دیکھا جس میں الجیریا سے کسی صاحبہ نے ایک سوال کیا تھا، جس کا جواب مرزا طاہر احمد نے نہایت تسلی بخش اور تفصیل سے دیا تھا۔ سوال یہ تھا کہ سورۃ مریم میں یہ جو آیت ہے: ’’واذکر فی الکتٰب ادریس انہ کان صدیقًا نبیًّا، ورفعنٰہ مکانًا علیًّا(۵۷)‘‘۔
یعنی قرآن کی رُو سے اِدریس کا بھی ذِکر کر، یقینا وہ صدیق نبی تھا اور ہم نے اسے نہایت اعلیٰ مقام پر پہنچایا۔
میرا سوال علمائے کرام سے یہ ہے کہ وہ اس ضمن میں
552
میری رہنمائی فرمائیں اور وضاحت کریں کہ یہی لفظ رفع والا حضرت عیسیٰ کے لئے اِستعمال ہوا ہے، یا تو حضرت اِدریس بھی آسمان پر زِندہ موجود ہیں یا پھر حضرت عیسیٰ بھی بقول قادیانی حضرات کے وفات پاچکے ہیں۔ میں قرآنِ کریم کا لفظی ترجمہ جانتی ہوں اور اس وقت سے بڑی اُلجھن میں ہوں کہ آج تک میں حضرت عیسیٰ کو زِندہ آسمان پر کیسے سمجھتی رہی۔ برائے کرم اس سلسلے میں میری رہنمائی فرمائیں، میں بہت پریشان ہوں۔ خاکسارہ ا-ن-خان۔‘‘
ـــــــــــــــ
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ
اَلْحَمْدُ لِلہِ وَسَلَامٌ عَلٰی عِبَادِہِ الَّذِیْنَ اصْطَفٰی، اَمَّا بَعْدُ:
محترمہ ہمشیرہ صاحبہ! بعد اَز سلامِ مسنون گزارش ہے کہ آپ کا خط روزنامہ ’’جنگ‘‘ لندن کی وساطت سے موصول ہوا۔ بہت مسرّت ہوئی کہ ہماری خواتین بھی دِین کا ذوق رکھتی ہیں اور اگر کسی مسئلے میں اُلجھن پیدا ہو تو علمائے کرام سے اس کی تشفی چاہتی ہیں۔ اس ضمن میں چند گزارشات آپ کی خدمت میں پیش کرتا ہوں، غور سے سنیں۔
۱: … ہر شخص اکیلا پیدا ہوا ہے، اور اس کو تنہا جانا ہے، اور ہر شخص کو اپنے عقائد اور اعمال کا خود حساب دینا پڑے گا، اگر عقیدہ صحیح ہو تو نجات کی اُمید ہے، اور اگر عقیدہ صحیح نہ ہو تو ہمیشہ ہمیشہ کے لئے راندہ درگاہِ اِلٰہی ہوگا۔
۲: … صحیح عقائد وہ ہیں جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے، صحابہؓ وتابعینؒ سے، اور اَئمہ دِینؒ ومجدّدینؒ سے نقل ہوتے ہوئے ہم تک پہنچے ہوں۔
۳: … اس ناکارہ نے ایک رسالے میں حیاتِ عیسیٰ علیہ الصلوٰۃ والسلام کے عقیدے پر اکابرِ اُمتؒ کی تصریحات جمع کی ہیں، اور یہ رسالہ میری کتاب ’’تحفۂ قادیانیت‘‘ جلد سوم میں شامل ہے، اس میں تفصیل سے ذِکر کیا ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم، صحابہؓ وتابعینؒ اور تمام اکابرِ اُمتؒ کا یہی عقیدہ تھا کہ حضرت عیسیٰ علیہ الصلوٰۃ
553
والسلام زِندہ اُٹھائے گئے ہیں، اور آخری زمانے میں نازل ہوں گے، اور دَجال لعین کو قتل کریں گے۔ یہی عقیدہ پہلے انبیائے کرام علیہم السلام کا تھا، کیونکہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا اِرشاد ہے:
’’اَلْأَنْبِیَائُ إِخْوَۃٌ لِعَلّاتٍ، أُمَّھَاتُھُمْ شَتّٰی وَدِیْنُھُمْ وَاحِدٌ، وَأَنَا أَوْلَی النَّاسِ بِعِیْسَی ابنَ مَرْیَمَ لِأَنَّہٗ لَمْ یَکُنْ بَیْنِیْ وَبَیْنَہٗ نَبِیٌّ، وَإِنَّہٗ نَازِلٌ، فَإِذَا رَأَیْتُمُوْہُ فَأَعْرِفُوْہُ، رَجُلٌ مَرْبُوْعٌ، إِلَی الْحُمْرَۃِ وَالْبَیَاضِ، عَلَیْہِ ثَوْبَانِ مُمَصِّرَانِ، رَأْسُہُ یَقْطُرُ وَإِنْ لَّمْ یُصِبْہُ بَلَلٌ، فَیَدُقُّ الصَّلِیْبَ، وَیَقْتُلُ الْخِنْزِیْرَ، وَیَضَعُ الْجِزْیَۃَ، وَیَدْعُو النَّاسِ إِلَی الْإسْلَامِ، فَتَھْلِکُ فِیْ زَمَانِہِ الْمِلَلُ کُلُّھَا إِلّا الْإسْلَامَ، وَتَرْتَعُ الْأَسْوَدُ مَعَ الْإبِلِ، وَالنِّمَارُ مَعَ الْبَقَرِ، وَالذِّیَابُ مَعَ الْغَنَمِ، وَتَلْعَبُ الصِّبْیَانُ بِالْحَیَّاتِ فَلَا تَضُرُّھُمْ، فَیَمْکُثُ أَرْبَعِیْنَ سَنَۃً ثُمَّ یَتَوَفّٰی وَیُصَلِّیْ عَلَیْہِ الْمُسْلِمُوْنَ۔‘‘
(ابوداؤد ج:۲ ص:۲۳۸، مسندِ احمد ج:۲ ص:۴۳۷، فتح الباری ج:۶ ص:۴۹۳، حقیقۃ النبوۃ ص:۱۹۲ از مرزا محمود)
ترجمہ: … ’’یعنی انبیاء علاتی بھائیوں کی طرح ہوتے ہیں، ان کی مائیں تو مختلف ہوتی ہیں اور دِین ایک ہوتا ہے، اور میں عیسیٰ بن مریم سے سب سے زیادہ تعلق رکھنے والا ہوں، کیونکہ اس کے اور میرے درمیان کوئی نبی نہیں، اور وہ نازل ہونے والا ہے، پس جب اسے دیکھو تو اسے پہچان لو، کہ وہ درمیانہ قامت، سرخی سفیدی ملا ہوا رنگ، زَرد رنگ کے کپڑے پہنے ہوئے، اس کے سر سے پانی ٹپک رہا ہوگا، گو سر پر پانی نہ ہی ڈالا ہو، اور وہ صلیب کو توڑے گا، اور خنزیر کو قتل کرے گا، اور جزیہ ترک کردے گا، اور لوگوں کو اِسلام کی طرف
554
دعوت دے گا، اس کے زمانے میں سب مذاہب ہلاک ہوجائیں گے اور صرف اِسلام رہ جائے گا، اور شیر اُونٹوں کے ساتھ، اور چیتے گائے بیلوں کے ساتھ، اور بھیڑیے بکریوں کے ساتھ چرتے پھریں گے، اور بچے سانپوں سے کھیلیں گے اور وہ ان کو نقصان نہ دیں گے، عیسیٰ بن مریم چالیس سال رہیں گے اور پھر فوت ہوجائیں گے اور مسلمان ان کے جنازے کی نماز پڑھیں گے۔‘‘
(ترجمہ از مرزا محمود صاحب)
یہ حدیث صحیح ہے، اور تمام محدثین کی مُسلَّمہ ہے، اس سے معلوم ہوا کہ تمام انبیائے کرام علیہم السلام کا عقیدہ ایک تھا، عقائد میں کوئی اِختلاف نہیں تھا۔
۴: … آپ نے صحیح لکھا ہے کہ حضرت اِدریس علیہ الصلوٰۃ والسلام کے بارے میں بھی ’’وَرَفَعْنٰہُ مَکَانًا عَلِیًّا‘‘ فرمایا ہے، اور اسی بنا پر بہت سے علمائے اُمت ان کی حیات کے قائل ہیں، جیسا کہ شیخ اکبر محی الدین ابنِ عربیؒ نے ’’فتوحاتِ مکیہ‘‘ میں اس کی تصریح فرمائی ہے، لیکن عامّہ علماء ان کی حیات کے قائل نہیں، جبکہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے لے کر تمام اکابر ۔۔۔جیسا کہ پہلے میں لکھ چکا ہوں۔۔۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی حیات کے قائل تھے۔
۵: … شیخ الاسلام حضرت مولانا شبیر احمد عثمانی ؒ اس آیت کے تحت میں لکھتے ہیں:
’’یعنی قرب وعرفان کے بہت بلند مقام اور اُونچی جگہ پر پہنچایا، بعض کہتے ہیں کہ حضرت مسیح کی طرح وہ بھی زندہ آسمان پر اُٹھائے گئے اور اَب تک زندہ ہیں، بعض کا خیال ہے کہ آسمان پر لے جاکر رُوح قبض کی گئی، ان کے متعلق بہت سی اِسرائیلیات مفسرین نے نقل کی ہیں، ابنِ کثیرؒ نے ان پر تنقید کی ہے۔ واللہ اعلم!‘‘
(فوائدِ عثمانی بر حاشیہ ترجمہ شیخ الہندؒ)
اس فائدے سے تین باتیں معلوم ہوئیں:
555
اوّل: … یہ کہ حضرت عیسیٰ علیہ الصلوٰۃ والسلام کے آسمان پر زِندہ اُٹھائے جانے، اور زِندہ ہونے، اور قربِ قیامت میں ان کے نازل ہونے، اور زَمین پر وفات پانے پر تمام اکابرِ اُمت کا اِجماع ہے، بخلاف حضرت اِدریس علیہ الصلوٰۃ والسلام کے کہ ان کے زندہ اُٹھائے جانے پر اِجماع نہیں۔
دوم: … حضرت عیسیٰ علیہ الصلوٰۃ والسلام کا زِندہ اُٹھایا جانا قرآن میں منصوص ہے، اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کو ذِکر فرمایا ہے، اور ان کا دوبارہ واپس آنا بھی قرآن میں منصوص ہے، اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے قسم کھاکر ان کے دوبارہ آنے کی پیش گوئی فرمائی ہے۔ اور اُوپر بتاچکا ہوں کہ اس پر پوری اُمت کا اِجماع ہے، بخلاف حضرت اِدریس علیہ السلام کے کہ ان کے بلند مقام پر فائز ہونے کا قرآنِ کریم نے ذِکر کیا ہے، جس سے بعض اکابر نے رفعِ آسمانی سمجھا ہے، اور بعض نے رفعِ مکانی نہیں، بلکہ رفعِ مرتبت سمجھا ہے، اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اور جمہور صحابہؓ نے ان کے رفعِ آسمانی کو ذِکر نہیں فرمایا۔
سوم: … یہ کہ حضرت عیسیٰ علیہ الصلوٰۃ والسلام کے رفع ونزول کے منکر کو کافر قرار دِیا گیا ہے، کیونکہ ان کا رفع ونزول اِجماعی وقطعی عقیدہ ہے، لیکن حضرت اِدریس علیہ الصلوٰۃ والسلام کے اُٹھائے جانے کا صرف اِحتمال ہے، اور ان کے نزول کا کوئی تذکرہ نہیں۔
علامہ عبدالحکیم سیالکوٹی ؒ جو اِمامِ ربانی مجدّد الف ثانی ؒکے ہم عصر ہیں، ’’حاشیہ خیالی علیٰ شرح عقائد‘‘ میں لکھتے ہیں:
’’إنما اکتفی الشارح بذکر عیسٰی علیہ السلام لأن حیاتہ ونزولہ إلی الأرض واستقرارہ علیہ قد ثبت بأحادیث صحیحۃ بحیث لم یبق فیہ شبھۃ ولم یختلف فیہ أحد بخلاف ثلاثۃ۔‘‘
(مجموعہ حواشی البہیہ ج:۳ ص:۳۴۰)
ترجمہ: … ’’اور شارح نے صرف حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے ذِکر کرنے پر اس لئے اِکتفا فرمایا کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا زِندہ ہونا (آسمان پر)، اور ان کا زَمین پر نازل ہونا، اور ان کا زَمین
556
پر قیام کرنا اَحادیثِ صحیحہ سے اس قطعیت کے ساتھ ثابت ہے کہ اس پر کوئی ذرا سا شبہ بھی باقی نہیں رہا، اور اس میں کسی ایک نے بھی اِختلاف نہیں کیا، بخلاف باقی تین حضرات کے (یعنی حضرت اِلیاس، اِدریس اور خضر علیہم السلام کے، کہ ان کی حیات قطعیت سے ثابت نہیں، اور اس پر اِختلاف بھی ہے)۔‘‘
۶: … گزشتہ بحث سے یہ بات ثابت ہوئی کہ حضرت عیسیٰ علیہ الصلوٰۃ والسلام کا آسمان پر اُٹھایا جانا اور قربِ قیامت میں نازل ہونا ایسا قطعی اور یقینی عقیدہ ہے کہ گزشتہ صدیوں میں کسی مسلمان کا اس میں اِختلاف نہیں ہوا، لیکن حضرت اِدریس علیہ الصلوٰۃ والسلام کے بارے میں یقین نہیں، تاہم اگر ان کے بارے میں کوئی عقیدہ رکھتا ہے کہ وہ آسمان پر اُٹھائے گئے، تو ہم اس کو گمراہ نہیں کہیں گے۔
لیکن مرزا طاہر نے اُمتِ اِسلامیہ کے بالکل اُلٹ یہ نتیجہ اخذ کیا کہ حضرت اِدریس علیہ الصلوٰۃ والسلام چونکہ آسمان پر نہیں گئے، لہٰذا حضرت عیسیٰ علیہ الصلوٰۃ والسلام بھی نہیں گئے۔ مرزا طاہر احمد صاحب آخر مرزا غلام احمد کے پوتے ہیں، وہ خود ایک زمانے تک حیاتِ عیسیٰ علیہ السلام کا عقیدہ رکھتے تھے، اس عقیدے کو قرآن مجید کی آیات، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی احادیث، اُمتِ اسلامیہ کے اِجماع وتواتر اور خود اپنے اِلہامات سے ثابت کرتے رہے، لیکن بعد اَزاں اس عقیدے کو کفر اور شرک قرار دِیا، اور اس کو تحریف اور گپ کہنے لگے۔ جو حال دادے کا تھا وہی پوتے کا ہے۔ جس شخص کو اپنے لکھے ہوئے کا، قرآن واحادیث کے حوالوں اور اپنے اِلہامات کا لحاظ نہ ہو، اور وہ ان کو جھوٹ اور کفر کہے، اس کو کسی دُوسرے کا لحاظ کیا ہوسکتا ہے۔۔۔؟
بہرحال مجھے بھی مرنا ہے، مرزا طاہر احمد صاحب کو بھی، اور آپ کو بھی، وہاں پہنچ کر ہر شخص کے سامنے حقیقت کھل جائے گی۔ دُعا ہے کہ اللہ تعالیٰ ہم کو اور تمام مسلمانوں کو صراطِ مستقیم پر قائم رکھے۔
وَصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی خَیْرِ خَلْقِہٖ سَیِّدِنَا مُحَمَّدٍ وَّآلِہٖ وَاَصْحَابِہٖ اَجْمَعِیْنَ
557
اِمام مہدیؓ اور نزولِ عیسیٰ علیہ السلام
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ
اَلْحَمْدُ لِلہِ وَسَلَامٌ عَلٰی عِبَادِہِ الَّذِیْنَ اصْطَفٰی!
میرے بھائیو اور دوستو! رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات عالی کے بعد فتنوں کا دور شروع ہوگیا، آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک حدیث میں ارشاد فرمایا کہ: ’’میں تمہارے گھروں میں فتنوں کو اس طرح نازل ہوتے دیکھتا ہوں کہ جیسے بارش برستی ہے۔‘‘ اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد چودہ صدیاں گزر چکی ہیں، پندرھویں صدی شروع ہوچکی ہے، اب تو یہ عالم ہے کہ ایک فتنہ نہیں بلکہ ایک فتنہ سے کئی فتنے پیدا ہو رہے ہیں، نعوذباللہ! اللہ تعالیٰ اپنی پناہ میں رکھے، آئیے ہم دعا کریں کہ حق تعالیٰ شانہ ان تمام فتنوں سے حفاظت فرماکر ہمیں ایمان کی سلامتی کے ساتھ اس دنیا سے رخصت فرمائے۔ آمین!
حضرت مہدی علیہ الرضوان، رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی تشریف آوری کی خبر دی تھی، ابوداؤد میں حدیث ہے کہ حضرت علی کرم اللہ وجہہ نے حضرت حسن رضی اللہ عنہ کی طرف نظر فرمائی اور فرمایا: ’’میرا یہ بیٹا سیّد ہے۔‘‘ جیسا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ’’اور حق تعالیٰ شانہ ان کی نسل سے ایک آدمی کو کھڑا کرے گا جو دنیا کو عدل و انصاف سے اس طرح بھر دے گا جس طرح سے وہ ظلم و ستم سے بھری ہوگی۔‘‘ یہ حضرت مہدی ہیں۔ رضی اللہ عنہ۔ اس سے دو باتیں معلوم ہوگئیں:
ایک یہ کہ حضرت مہدی علیہ الرضوان اس وقت کے حاکم بن کر آئیں گے اور یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی پیش گوئی ہے، میں آپ حضرات سے درخواست کرتا ہوں اور پوچھتا ہوں کہ کیا آپ نے اپنے زمانہ میں کوئی ایسا آدمی سنا ہے جو کسی خطہ کا حاکم ہوا ہو اور
558
اس نے مہدی ہونے کا دعویٰ کیا ہو؟ معلوم ہوا کہ جو حاکم ہونے کے بغیر مہدی ہونے کا دعویٰ کرتے ہیں وہ جھوٹے ہیں۔
۲:۔۔۔یہ کہ حضرت مہدیؓ، حضرت حسنؓ کی اولاد سے ہوں گے۔ باپ کی جانب سے حسنی ہوں گے اور ماں کی جانب سے حسینی، وہ حسنی اور حسینی نجیب الطرفین ہوں گے۔ آج تک کوئی آدمی تم نے دیکھا کہ جو حضرت حسنؓ اور حضرت حسینؓ کی اولاد میں سے ہو اور حکمران ہونے کا دعویٰ کرے اور یہ کہے کہ میں حضرت حسنؓ کی اولاد سے ہوں؟
۳:۔۔۔ایک حدیث شریف میں آیا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’مہدی میری عترت میں سے ہوگا اور فاطمہ کی اولاد میں سے ہوگا۔ میرے باپ کے مشابہ اس کے باپ کا نام ہوگا اور میرے مشابہ اس کا نام ہوگا۔ یعنی میرے نام پر اس کا نام ہوگا اور میرے باپ کے نام پر اس کا نام ہوگا۔‘‘ یعنی محمد بن عبداللہ ہوگا۔
مہدی کا نام محمد ہوگا، اور ان کو کہیں گے رضی اللہ عنہ، ان کے والد ماجد کا نام ہوگا عبداللہ، جیسا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے والد ماجد کا نام عبداللہ تھا۔
اس کے بعد ایک بات اور ارشاد فرمائی، چنانچہ حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا کی روایت ہے کہ: ’’ایک خلیفہ کا انتقال ہوجائے گا تو حضرت مہدی رضی اللہ عنہ لوگوں سے روپوش ہونے کے لئے مدینہ طیبہ چھوڑ کر مکہ مکرمہ میں آجائیں گے، کیونکہ مکہ مکرمہ حرم ہے، اور یہاں کوئی کسی پر دباؤ نہیں ڈال سکتا، مگر جیسے ہی وہ مکہ مکرمہ پہنچیں گے تو طواف کے دوران لوگ انہیں پہچان لیں گے اور زبردستی ان کو پکڑ کر حجر اسود اور مقام ابراہیم کے درمیان ان کے ہاتھ پر بیعت خلافت کریں گے، جب لوگوں کو اس کی اطلاع ملے گی تو شام سے ایک جماعت ان کے مقابلہ کے لئے بھیجی جائے گی اور مکہ اور مدینہ کے درمیان مقام ’’بیضاء‘‘ پر اس جماعت کو غرق کردیا جائے گا، جب ان کے غرق ہونے کا چرچا ہوگا تو شام کے ابدال اور عراق کی جماعتیں آکر حضرت مہدی رضی اللہ عنہ کے ہاتھ پر بیعت کریں گے۔ اور بنوکلب کے لوگ حضرت مہدیؓ کا مقابلہ کرنے کے لئے آئیں گے تو اللہ تعالیٰ ان کو شکست سے دوچار کریں گے۔‘‘
559
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ارشاد فرماتے ہیں: ’’ہلاکت ہے ان لوگوں کے لئے جو بنوکلب کے غُنیم میں شریک ہوں۔‘‘ پورا عرب حضرت مہدیؓ کے زیر نگیں ہوجائے گا، اس کے بعد حضرت مہدیؓ عیسائیوں سے جنگ کرنے کے لئے ملک شام چلے جائیں گے اور ان سے جنگ کرتے کرتے قسطنطنیہ پہنچ جائیں گے، وہاں پر جہاد جاری ہوگا کہ اتنے میں اطلاع ملے گی کہ دجال کا ظہور ہوگیا، حضرت مہدیؓ چند آدمیوں کو اس کی تحقیق کے لئے روانہ کریں گے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’میں ان کو جانتا ہوں، ان کے نانا دادا کو جانتا ہوں اور ان کی سواریوں کے رنگوں کو بھی جانتا ہوں۔‘‘ جب یہ وہاں پہنچیں گے تو معلوم ہوگا کہ دجال کے نکلنے کی خبر صحیح نہیں تھی۔ اتنے میں دوسری خبر آئے گی کہ دجال نکل آیا اور یہ خبر سچی ہوگی۔ حضرت مہدیؓ بمع اپنے لشکر کے قسطنطنیہ سے واپس آکر دمشق میں ٹھہریں گے، دجال کی فوج حضرت مہدی رضی اللہ عنہ کی فوج کا محاصرہ کرے گی۔ رسول اقدس صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ: ’’مسلمانوں کے لئے وہ اتنا مشکل وقت ہوگا کہ اس سے پہلے مسلمانوں پر اتنا مشکل وقت نہیں ہوگا۔ اللہ تعالیٰ پناہ عطا فرمائے۔ عین اس وقت جبکہ فجر کی اقامت ہوچکی ہوگی، حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا منارہ شرقی پر آسمانوں سے نزول ہوگا اور وہ آواز دے کر کہیں گے کہ سیڑھی لاؤ، آسمان سے منارہ تک نیچے فرشتوں کے کندھوں پر ہاتھ رکھ کر بغیر کسی سیڑھی کے پہنچے اور جب زمین پر قدم رکھا تو قرآن کے احکام جاری ہوگئے، فرمائیں گے کہ سیڑھی لاؤ، چنانچہ سیڑھی لائی جائے گی، اس سے قبل ابھی حضرت عیسیٰ علیہ السلام نازل نہیں ہوں گے کہ لوگ پریشانیوں میں اللہ تعالیٰ سے دعا کرتے ہوں گے کہ اے اللہ! مدد بھیج، جب حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا نزول ہوگا تو آواز آئے گی: ’’تمہاری فریاد پر پہنچنے والا تم تک پہنچ گیا۔‘‘ لوگ کہیں گے کہ یہ کسی پیٹ بھرے کی آواز معلوم ہوتی ہے۔ بہرکیف حضرت مہدی اقامت کے بعد مصلیٰ پر جاچکے ہوں گے اور قریب ہوگا کہ اللہ اکبر کہہ کر، تکبیر تحریمہ شروع کرکے نماز کا آغاز کریں کہ اتنے میں حضرت روح اللہ علیہ السلام زمین پر پہنچ جائیں گے، پیچھے سے لوگ کہیں گے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام تشریف لے آئے، حضرت مہدیؓ اپنے مصلیٰ کو چھوڑ کر پیچھے ہٹ جائیں گے اور کہیں گے:
560
’’روح اللہ! آگے بڑھئے اور نماز پڑھائیے! حضرت عیسیٰ علیہ السلام حضرت مہدی رضی اللہ عنہ کے کندھے پر ہاتھ رکھ کر تھپکی دیتے ہوئے ارشاد فرمائیں گے: ’’یہ نماز تم ہی پڑھاؤ کیونکہ اقامت تمہاری امامت کے لئے ہوئی ہے۔‘‘ یہ اللہ تعالیٰ کی جانب سے اس اُمت کے لئے ایک اعزاز ہے کہ ایک جلیل القدر پیغمبر اور روح اللہ اتر کر ایک اُمتی کی اِقتدا میں نماز ادا کریں گے۔ سبحان اللہ! جب رکوع سے اٹھیں گے تو جس طرح دعائے قنوت پڑھی جاتی ہے اسی طرح حضرت روح اللہ عیسیٰ بن مریم علیہ السلام کہیں گے: ’’اللہ تعالیٰ دجال کو قتل کردے۔‘‘ نماز سے فارغ ہونے کے بعد حضرت عیسیٰ علیہ السلام فرمائیں گے: ’’راستہ کھول دو۔‘‘ لوگ جب جگہ چھوڑ کر حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے لئے راستہ بنائیں گے تو دجال کو پتہ چل جائے گا کہ مجھے کیفر کردار تک پہنچانے والے آگئے، وہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو دیکھتے ہی اس طرح پگھلنا شروع ہوجائے گا جس طرح نمک پانی میں پگھلتا ہے اور بھاگ نکلے گا اور ’’باب لدّ‘‘ جہاں آج کل اسرائیل کا ایئرپورٹ ہے، رسول اقدس صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ: ’’باب لد سے پانچ گز کے فاصلے پر حضرت عیسیٰ علیہ السلام دجال کو جالیں گے۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے ہاتھ میں نیزہ ہوگا اس نیزہ سے دجال کو قتل کریں گے اور لوگوں کو دجال کا خون اپنے نیزہ پر لگا ہوا دکھائیں گے۔‘‘
یہ میں نے بہت مختصر امام مہدی علیہ الرضوان اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی تشریف آوری کا واقعہ ذکر کیا ہے جو ہمارے عقیدہ کے مطابق پیش آنے والا ہے۔ اب لوگوں نے یہ سمجھ لیا ہے کہ یہ تو بہت سستی کھیر ہے۔
ہمارے شیخ حضرت اقدس مولانا محمد یوسف بنوری رحمۃ اللہ علیہ ایک دن مہدی کا تذکرہ کر رہے تھے اور زار و قطار رو رہے تھے، فرما رہے تھے کہ اگر ہمارے زمانہ میں تشریف لائے تو پتہ نہیں ہمیں اپنی فوج میں قبول کریں گے یا نہیں؟
دجال کون ہوگا؟ وہ کیا کارنامے انجام دے گا؟ اس سے پہلے کیا حالات پیش آئیں گے، اللہ تعالیٰ ہمیں اپنی پناہ میں رکھے۔
صحیح مسلم میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دجال کا تذکرہ فرمایا تو اس کی
561
روشنی کا رنگ سبز ذکر کیا، صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اجمعین فرماتے ہیں کہ اس انداز سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دجال کا تذکرہ فرمایا کہ ہم دروازے کی طرف دیکھنے لگے کہ کہیں دجال تو نہیں آگیا؟ دجال سے پہلے تین سال ہوں گے، پہلے سال تو دو تہائی بارش ہوگی ایک تہائی رک جائے گی، دو تہائی غلہ پیدا ہوگا اور ایک تہائی غلہ رک جائے گا۔ دوسرے سال دو تہائی بارش نہیں ہوگی ایک تہائی بارش ہوگی اور دو تہائی غلہپیدا نہیں ہوگا صرف ایک تہائی غلہ پیدا ہوگا۔ اور تیسرے سال نہ ایک قطرہ آسمان سے بارش کا برسے گا اورنہ ایک دانہ غلہ زمین سے اگے گا، یہ ارشاد فرماکر حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کسی ضرورت کے لئے گھر تشریف لے گئے، تھوڑی دیر بعد تشریف لائے تو صحابہ کرام رضی اللہ عنہم تمام کے تمام مسجد میں بیٹھے رو رہے تھے، آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ’’پریشان ہونے کی زیادہ ضرورت نہیں، اگر میری زندگی میں آگیا تو میں خود نمٹ لوں گا، تمہیں فکر کرنے کی ضرورت نہیں ہے اور اگر میرے بعد آیا تو ہر مسلمان اپنی ذات کا ذمہ دار ہے اور میں سب کو اللہ تعالیٰ کے سپرد کرتا ہوں۔‘‘
فرمایا: … ’’چالیس دن دجال زمین پر رہے گا، پہلا دن ایک سال کا، دوسرا دن ایک ماہ کا، تیسرا دن ایک ہفتہ کا اور باقی تمام دن (سینتیس دن) تمہارے دنوں جیسے ہوں گے۔‘‘ ان تمام دنوںمیں وہ زمین کے چپے چپے پر پھر جائے گا۔ سوائے تین شہروں کے ایک مکہ مکرمہ، دوسرا مدینہ طیبہ، تیسرا بیت المقدس۔ ارشاد فرمایا کہ: ’’مکہ اور مدینہ کے ہر گلی کوچے پر اللہ تعالیٰ کے فرشتے پہرہ دے رہے ہوں گے اور اس کو روک رہے ہوں گے، اور وہ احد پہاڑ کے پیچھے اپنا ڈیرہ لگائے گا۔‘‘ مدینہ طیبہ میں تین زلزلے آئیں گے، وہ زلزلے اتنے شدید ہوں گے کہ لوگوں کا اطمینان ختم ہوجائے گا اور کچے اور کمزور ایمان کے لوگ مدینہ منورہ سے نکل کر دجال کے ساتھ ہوجائیں گے۔
اب میں دو چار باتیں عرض کرکے اپنی بات ختم کرتا ہوں، دسویں صدی میںجونپوری کا انتقال ہوا، اس نے مہدویت کا دعویٰ کیا، جب اس سے پوچھا گیا کہ آپ تو مہدی ہیں، عیسیٰ کب آئیں گے؟ تو اس نے کہا کہ عیسیٰ پیچھے آئیں گے۔ کتاب ہدیہ مہدویہ
562
ہمارے دفتر میں موجود ہے، اس کتاب کے لکھنے پر مؤلف ہدیہ مہدویہ کے پیروکار کو قتل کیا گیا۔ یہ مہدی آج سے نہیں نکلنے شروع ہوئے، حضرت علی کرم اللہ وجہہ کی خلافت کے بعد مہدویوں کا زور شروع ہوگیا تھا۔ یہ مہدی ہے، وہ مہدی ہے، سب کھوٹے سکے تھے۔ اور ایک ہمارے زمانہ میں ہوا غلام احمد قادیانی،لا حول ولا قوۃ الا باللہ! نعوذباللہ! کبھی عیسیٰ، کبھی موسیٰ بنا ہے، کبھی کچھ بنا ہے، کبھی کچھ بنا اور حقیقت میں کچھ بھی نہیں ہے۔ روٹی کمانے اور کھانے کا ایک ڈھنگ ہے، میں نے پہلے بھی اس کانفرنس میں کہا تھا آپ کو یاد ہوگا کہ اللہ وحدہ لا شریک لہ کی قسم کھاکر کہتا ہوں کہ مرزا طاہر کو (جو غلام احمد کا پوتا ہے) اپنے جھوٹے ہونے کا پکا یقین ہے، لیکن وہ لقمہ حرام جو منہ میں لگا ہوا ہے وہ نہیں اترتا، ورنہ یہ توبہ کرلیتا اور میں آج بھی اس کو کہتا ہوں کہ ہم اللہ تعالیٰ کے فضل سے اندھیرے میں نہیں ہیں، ہمارے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں ایک ایک بات بتادی ہے، ایک ایک نقطہ واضح کرکے بتادیا ہے اس لئے ہمیں تو کانے دجال کی ابھی فکر پڑی ہوئی ہے، وہ بھی آنے والا ہے، تم تو بھول جاؤ گے، تیرا دادا بھی کانا دجال تھا۔
آج کے زمانہ میں ایک اور فتنہ کھڑا ہوا گوہر شاہی کا، اللہ تعالیٰ کی شان ہے! گوہر شاہی کا عقیدہ کیا ہے؟ اگر تفصیل سے بیان کروں تو وقت نہیں، ایک بات بتادیتا ہوں، وہ کہتا ہے کہ میں مہدی ہوں، بس مجھ کو مان لو چاہے سکھ رہو، یہودی رہو، کچھ رہو مگر مجھے مان لو۔ معلوم ہوتا ہے کہ صرف روٹی کا چکر ہے، کہتا ہے کہ چاند پر میری تصویر نظر آتی ہے، حالانکہ کسی حدیث شریف میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے نہیں فرمایا کہ چاند پر تصویر نظر آئے گی۔ اس کا نام ہے ریاض احمد گوہر شاہی اور امام مہدی رضی اللہ عنہ کا نام ہوگا محمد بن عبداللہ۔ اور یہ جو نویں صدی میں محمد جونپوری ہوا، اس کو لوگوں نے اس لئے جھوٹا قرار دیا کہ بقول ان کے اس کا سلسلہ نسب حضرت حسین رضی اللہ عنہ سے ملتا ہے، جبکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ حضرت مہدی حسنی ہوں گے۔
(ہفت روزہ ختمِ نبوّت کراچی ج:۷ ۱ ش:۱۰)
563
مہدیٔ آخرالزماں اور فرقۂ مہدویہ
SYED WALI MOIN HASHMI
P.O. Box: 2283
Saudi Arabian Oil Company
Dahran 31311
Saudi Arabia
Phone: 876-7565 (Work)
899-8109 (Home)
Date:
’’جناب مولانا محمد یوسف لدھیانوی صاحب
السلام علیکم!
اُمید ہے کہ مزاجِ گرامی بخیریت ہوں گے، ایک عرصے سے خیال تھا آپ کو خط لکھنے کا لیکن عمل کی توفیق آج ہوئی ہے۔ میں بڑے شوق وذوق سے روزنامہ ’’جنگ‘‘ میں آپ کا دِینی کالم پڑھتا ہوں، اور آپ کی اسی سلسلے کی کتاب کی چھ جلدیں بھی میرے پاس ہیں۔
میرے نام اور ملازمت کا تو آپ کو اس لیٹرہیڈ سے علم ہوگیا۔ مزید اپنا تعارف کرانے کے لئے عرض ہے کہ میں آپ کے ایک شاگرد (خود بقول ان کے) مولانا حافظ محمد اشرف عاطف صاحب سے میری بہت اچھی سلام دُعا ہے، اور ان سے یہاں ہفتہ وار ایک درس میں ان سے برابر ملاقات ہوتی ہے۔ یہ درس مفتی اشرف صاحب خود دیتے ہیں، جی ہاں! حضرت مفتی بھی ہیں۔ اُمید ہے آپ کو یاد آگئے ہوں گے، میں آپ دونوں کا مداح ہوں اور آپ حضرات کے علم سے بہت متأثر بھی۔
564
میرے دِماغ میں ایک مسئلہ بڑے عرصے سے کھلبلی مچائے ہوئے ہے۔ وہ یہ ہے کہ حضرت اِمام مہدی سے متعلق کیا حقیقت ہے، میں نے آپ کی کتاب میں اس سلسلے کے سوال جواب پڑھے ہیں، جو میں اس خط کے ساتھ منسلک کر رہا ہوں، تاکہ آپ کو زحمت نہ ہو تلاش کرنے کی۔ اسی کے ساتھ میں ایک کتاب ’’چراغ دین نبوی‘‘ کے ان صفحات کی کاپی بھی روانہ کر رہا ہوں، جن میں یہ ثابت کیا گیا ہے کہ اِمام مہدی آئے اور چلے گئے، دونوں کو موازنہ کریں تو مجھ جیسے کم علم انسان کے لئے یہ فیصلہ کرنا مشکل ہے کہ کس کو دُرست مانیں؟
آپ نے یقینا فرقۂ مہدویہ کے بارے میں سنا اور پڑھا ہوگا، ان کے عقیدے کے مطابق اہلِ سنت والجماعت کے پیچھے نماز پڑھنا جائز نہیں ہے، اور بھی بہت سارے مسائل میں اِختلافات ہیں، اور سب سے بڑا تو یہی کہ سنی فرقے کے مطابق اِمام مہدی کا ظہور ابھی تک ہوا ہی نہیں ہے۔ میں آباؤ اجداد کے توسط سے اسی فرقے سے تعلق رکھتا ہوں، تاہم میں یہاں باجماعت نماز پڑھتا ہوں کیونکہ نماز میں دونوں فرقوں کی کوئی فرق نہیں ہے، لہٰذا میں نہیں سمجھتا کہ مجھے ہر نماز میں ۶۲ نمازوں کا مفت ثواب گنوانا چاہئے۔
آپ تو جانتے ہی ہیں کہ ان دنوں کسی کو قائل کرنے کے لئے ٹھوس دلائل درکار ہیں، لہٰذا ایسا کچھ مواد میرے پاس ہو تو میں اپنے خاندان اور پھر آگے یہ سلسلہ جاری رکھتے ہوئے مزید اپنے فرقہ والوں کو بتاسکوں کہ حقیقت کیا ہے؟ آپ ملاحظہ کریں گے مذکورہ بالا ’’چراغ دین نبوی‘‘ کے صفحات میں اِمام مہدی کی ولادت کے ثبوت میں قرآنی آیات کا حوالہ ہے۔ مجھے یہ معلوم ہے کہ آپ
565
ایک اِنتہائی مصروف اِنسان ہیں، تاہم جب بھی آپ چند لمحات نکال سکیں تو ضرور میری مدد فرمائیے۔ آپ کی طرف سے کوئی جواب آئے تو میں اسے کتابِ مذکورہ کے مؤلف سے رابطہ کروں گا تاکہ ان کو قائل کیا جاسکے‘‘
آپ کا مخلص
معین ہاشمی
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ
اَلْحَمْدُ لِلہِ وَسَلَامٌ عَلٰی عِبَادِہِ الَّذِیْنَ اصْطَفٰی!
جناب محترم سیّد ولی معین ہاشمی صاحب زیدت عنایاتہم۔ بعد اَزسلامِ مسنون گزارش ہے کہ آنجناب کا گرامی نامہ موصول ہوا، جس میں آپ نے حضرت مہدیٔ آخرالزماں کے بارے میں اِستفسار فرمایا ہے، اور اس کے ساتھ میری کتاب ’’آپ کے مسائل اور ان کا حل‘‘ جلد اوّل کے فوٹو بھیجے ہیں، جن میں اِمام مہدی کے بارے میں گفتگو کی گئی ہے۔ نیز فرقۂ مہدویہ کی کتاب ’’چراغ دین نبوی‘‘ کے فوٹو بھی اِرسال فرمائے ہیں، جن میں کہا گیا ہے کہ مہدیٔ آخرالزماں سیّد محمد جونپوری تھے، جو ربیع الاوّل ۸۷۴ھ میں جونپور میں پیدا ہوئے، اور ۶۳ سال کی عمر پاکر ۹۱۰ھ میں اِنتقال کرگئے۔
آنجناب دریافت فرماتے ہیں کہ ان دونوں باتوں میں سے کونسی بات صحیح ہے؟ فرقۂ مہدویہ کے مطابق مہدیٔ آخر الزمان آئے اور چلے گئے؟ یا ان کو کسی آئندہ زمانے میں آنا ہے؟
جواباً گزارش ہے کہ فرقۂ مہدویہ کو مہدیٔ آخرالزمان کی تعیین میں غلط فہمی ہوئی ہے، سیّد محمد جونپوری مہدیٔ آخرالزمان نہیں تھے۔ یہ موضوع بہت تفصیل چاہتا ہے، لیکن میں چند واضح باتیں عرض کردیتا ہوں، اگر کوئی عاقل وفہیم حق طلبی کے جذبے سے ان پر غور کرے گا تو اس پر حقیقتِ حال عیاں ہوجائے گی، اور اس سے پہلے دو باتیں بطورِ تمہید عرض
566
کرنا چاہتا ہوں۔
اوّل: … آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے آخری زمانے میں ایک خلیفۃ المسلمین کے ظہور کی پیش گوئی فرمائی، جس کو ’’الامام المہدی‘‘ کے لقب سے یاد کیا جاتا ہے، ان کے بارے میں فرمایا گیا ہے کہ وہ زمین کو عدل وانصاف سے بھردیں گے، جیسا کہ ان سے پہلے ظلم وجور سے بھری ہوئی ہوگی۔
گزشتہ صدیوں میں بہت سے طالع آزماؤں نے اس پیش گوئی کا مصداق بننے کے لئے مسندِ مہدویت بچھائی، لیکن چونکہ وہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی پیش گوئی کا مصداق نہیں تھے، اس لئے بالآخر بصد ناکامی پر دۂ عدم میں رُوپوش ہوگئے، ان مدعیانِ مہدویت کی ایک مختصر سی فہرست مولانا ابوالقاسم رفیق دلاوریؒ کی کتاب ’’اَئمۂ تلبیس‘‘ میں دیکھی جاسکتی ہے۔
اس قسم کے لوگوں میں کچھ تو عیار تھے، جن کا مقصد دامِ ہمرنگ زمین بچھاکر خلقِ خدا کو گمراہ کرنا تھا، اور کچھ لوگ پہلے بہت نیک تھے، ان کی نیکی وپارسائی کے حوالے سے شیطان نے ان کو دھوکا دِیا، اور انہوں نے اِلقائے شیطانی کو اِلہامِ رحمانی سمجھ لیا، اور غلط فہمی میں مہدیٔ آخرالزماں ہونے کا دعویٰ کردیا، ان کو مرتے وقت اپنی غلطی معلوم ہوگئی ہوگی، مگر افسوس کہ اِصلاح کا وقت گزر چکا تھا۔ بہرحال ایسے لوگ بھی اپنے زُہد وتقدس کے فریب میں مبتلا ہوکر بہت سے لوگوں کا اِیمان برباد کرکے چلتے بنے۔
ان برخود غلط مدعیانِ مہدویت ومسیحیت کے دعووں کا نتیجہ یہ ہوا کہ اُمت اِفتراق واِنتشار کا شکار ہوکر رہ گئی۔ کچھ تو ان مدعیوں کی ملمع کاری سے مسحور ہوگئے، اور ان کے دعوے کو زَرِخالص سمجھ کر نقدِ اِیمان ان کے ہاتھ فروخت کربیٹھے۔ کچھ جدید طبقے کے لوگوں کو ان جھوٹے مہدیوں کا طرزِ عمل دیکھ کر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی اس پیش گوئی پر اِیمان نہ رہا، وہ ’’ظہورِ مہدی‘‘ کے عقیدے سے دستبردار ہوگئے، اور انہوں نے اس سلسلے کی تمام احادیث کو من گھڑت افسانہ قرار دے دیا۔ لیکن اُمتِ اِسلامیہ کا سوادِ اَعظم ۔۔۔اہلِ سنت
567
والجماعت۔۔۔ جن کے سامنے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی پیش گوئی اپنی تمام تفصیلات کے ساتھ موجود تھی، وہ نہ تو جھوٹے مدعیوں کی ملمع کاریوں پر فریفتہ ہوا، اور نہ چند جھوٹوں کے دعووں کی وجہ سے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی سچی پیش گوئی سے منکر ہوا۔
دوم: … کسی مدعیٔ مہدویت کے سچ اور جھوٹ کو پرکھنے کا طریقہ یہ ہے کہ اس کو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی احادیثِ صحیحہ کی کسوٹی پر پیش کرکے دیکھا جائے کہ مہدیٔ آخرالزماں کی علامات اس شخص میں پائی جاتی ہیں یا نہیں؟ اس معیار کو سامنے رکھا جائے تو حق وباطل کا فیصلہ بڑی آسانی سے ہوسکتا ہے۔
مقامِ شکر ہے کہ فرقۂ مہدویہ کے حضرات بھی اسی معیارِ نبوی کو تسلیم کرتے ہیں، چنانچہ جناب کی مرسلہ کتاب ’’چراغ دین نبوی‘‘ کے صفحہ:۱۸۷ پر لکھتے ہیں:
’’آیاتِ قرآنی کے علاوہ اَحادیث کے معتبر کتب میں تواترِ معنوی کو پہنچی ہوئی حضرت مہدی موعود علیہ السلام کے وجود اور آپ کے پیدا ہونے سے متعلق صدہا صحیح احادیث موجود ہیں۔
چنانچہ حضرت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ: ’’مہدیٔ موعود کا پیدا ہونا ضروریاتِ دِین سے ہے‘‘ اور ’’تاوقتیکہ مہدی پیدا نہ ہو، قیامت نہیں آئے گی۔‘‘ اور ’’ساری دُنیا ختم ہوکے اگر ایک بھی دن باقی رہے گا تو اس دن کو اللہ جل شانہ‘ دراز کرے گا تاآنکہ اس میں ایسے شخص کا ظہور ہوجائے جو میرے اہلِ بیت سے ہو اور میرا ہم نام ہو اور اس کے ماں باپ کے نام میرے ہی ماںباپ کے نام ہوں۔‘‘
(سنن ابوداؤد)
اور ’’کیونکر ہلاک ہوگی میری اُمت کہ میں اس کے اوّل ہوں، اور عیسیٰ اس کے آخر اور مہدی میرے اہلِ بیت سے اس کے وسط میں۔‘‘
(مشکوٰۃ شریف)
568
اور ’’مہدی خلیفۃ اللہ ہوں گے‘‘ اور ’’مہدیٔ موعود کا حکم خدا اور رسول کے حکم کے موافق ہوگا۔‘‘ اور ’’مہدی خطا نہیں کریں گے۔‘‘ ’’مہدی مجھ سے ہے میرے قدم بقدم چلے گا اور خطا نہ کرے گا۔‘‘ اور ’’مہدی کی ذات معصوم عن الخطا ہوگی وہ کبھی خطا نہیں کریں گے۔‘‘ (مصنف نے اس پیراگراف کی احادیث کے لئے کسی کتاب کا حوالہ نہیں دیا۔ ناقل)
اور ’’مہدی دافع ہلاکت ہوں گے‘‘ اور ’’تم مہدی سے بیعت کرو گو تم کو ان کے پاس برف پر سے ہوکر گزرنا پڑے۔‘‘
(ابنِ ماجہ)
حضرت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے آپ کے مجیٔ کی خبر معجزے کے طور پر فرمائی ہے، جو مغیبات میں سے ہے، اور ان اُمور کا وقوع میں آنا اَشد ضروری ہے جن کو حضرت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مغیبات کے طور پر فرمایا ہے۔‘‘
(چراغ دین نبوی ص:۱۸۷)
اس عبارت سے چند اُمور واضح ہوجاتے ہیں:
۱- حضرت مہدیؓ کے بارے میں جو اَحادیث وارِد ہوئی ہیں، وہ متواترِ معنوی ہیں۔
۲- آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ظہورِ مہدی کی جو پیش گوئی فرمائی وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا معجزہ ہے، کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مستقبل میں پیش آنے والے واقعات کی خبر دی۔
۳- اور وہ تمام اُمور جن کے ظہور کی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے پیش گوئی فرمائی، ان کا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی پیش گوئی کے مطابق وقوع پذیر ہونا ضروری ہے۔
۴- اگر کوئی واقعہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی دی ہوئی خبر کے مطابق وقوع میں نہ آئے تو ۔۔۔نعوذباللہ۔۔۔ معجزۂ نبوی باطل ہوجائے گا، اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی پیش گوئی ۔۔۔نعوذباللہ ثم نعوذباللہ۔۔۔ غلط ٹھہرے گی، جو قطعاً محال ہے۔
569
اس سے واضح ہوا کہ جس طرح اہلِ سنت کے نزدیک مہدیٔ آخرالزماں کی خبر متواتر ہے، اسی طرح حضراتِ مہدویہ بھی اس کو متواتر مانتے ہیں، اور جس طرح اہلِ سنت کے نزدیک مہدیٔ آخرالزماں کا ظہور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی پیش گوئی کے مطابق ہونا ضروری ہے، اسی طرح یہ بات فرقۂ مہدویہ کے نزدیک بھی ضروری ہے۔ اس تمہید کے بعد آئیے غور کریں کہ سیّد محمد جونپوری پر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی پیش گوئی صادق آتی ہے یا نہیں؟ اور یہ کہ کیا موصوف کا ظہور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی پیش گوئی کے مطابق تھا یا نہیں؟
چونکہ آپ کی مرسلہ کتاب ’’چراغ دین نبوی‘‘ میں فرقۂ مہدویہ کے نظریے کی ترجمانی کی گئی ہے۔ اور اس کی منقولہ بالا عبارت میں حدیث کی تین کتابوں ۔۔۔ابوداؤد، مشکوٰۃ شریف اور ابنِ ماجہ۔۔۔ کا حوالہ دِیا گیا ہے، اس لئے مناسب ہوگا کہ ہم بحث کا دائرہ سمیٹنے کے لئے انہی کتابوں کے حوالے پر اِکتفا کریں۔
مہدی کا نام ونسب:
ابوداؤد شریف میں حضرت علی کرّم اللہ وجہہ کی روایت سے یہ حدیث ہے:
’’حضرت علی رضی اللہ عنہ نے ایک بار اپنے صاحبزادے حضرت حسن رضی اللہ عنہ کی طرف دیکھ کر فرمایا کہ: میرا یہ بیٹا سیّد ہے، جیسا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کا یہ نام رکھا تھا، اور اس کی پشت سے ایک شخص ظاہر ہوگا، جس کا نام تمہارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے نام پر ہوگا، وہ اَخلاق میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے مشابہ ہوگا، مگر بدنی ساخت میں نہیں، وہ زمین کو عدل وانصاف سے بھردے گا۔‘‘
اس حدیث سے معلوم ہوا کہ اِمام مہدی کا نام آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے نام پر ہوگا اور وہ حضرت حسن بن علی رضی اللہ عنہ کی نسل سے ہوں گے۔ اب یہ دیکھنا ہے کہ آیا سیّد محمد جونپوری کا نسب حضرت حسن رضی اللہ عنہ سے ملتا ہے یا نہیں؟ ’’چراغ دین نبوی‘‘
570
میں سیّد محمد جونپوری کا نسب نامہ درج ذیل دیا ہے:
’’حضرت علیہ السلام کا نسب‘‘
’’حضرت سیّد محمد مہدی موعود علیہ السلام بن سیّد عبداللہ المخاطب سیّد خان بن سیّد عثمان بن سیّد خضر بن سیّد موسیٰ بن سیّد قاسم بن سیّد نجم الدین بن سیّد عبداللہ بن سیّد یوسف بن سیّد یحییٰ بن سیّد جلال الدین بن سیّد نعمت اللہ بن سیّد اِسماعیل بن اِمام موسیٰ کاظم بن اِمام جعفر صادق بن اِمام محمد باقر بن اِمام زین العابدین بن ابی عبداللہ الحسین شہیدِ کربلا بن امیر المؤمنین حضرت علی مرتضیٰ کرّم اللہ وجہہ۔‘‘
(چراغ دین نبوی ص:۱۸۸، ۱۸۹)
اس نسب نامے سے معلوم ہوا کہ سیّد محمد جونپوری کا نسب حضرت حسن رضی اللہ عنہ تک نہیں پہنچتا، بلکہ نسب نامے کے مطابق وہ حضرت حسنؓ کے چھوٹے بھائی شہیدِ کربلا حضرت حسین رضی اللہ عنہ کی اولاد سے تھے، اس سے ثابت ہوا کہ چونکہ ان کا نسب پیش گوئی کے مطابق نہیں تھا، لہٰذا وہ مہدی نہیں۔
فائدہ: … یہاں سے یہ بھی معلوم ہوا کہ حضراتِ شیعہ جس اِمامِ غائب کو اِمام مہدی کہتے ہیں وہ بھی صحیح نہیں، کیونکہ اوّل تو یہ ایک فرضی شخصیت ہے، جس کا نام لینا بھی شیعہ عقیدہ کے مطابق گناہ تصوّر کیا گیا ہے۔ علاوہ ازیں ان کے والد گرامی کا نام حسن عسکری ذِکر کیا جاتا ہے، جبکہ اِمام مہدی کے والد ماجد کا نام عبداللہ ہوگا، اور اس کا نسب بھی حضرت حسنؓ تک نہیں پہنچتا، میں اس بحث کو اپنی کتاب ’’شیعہ سنی اِختلافات اور صراطِ مستقیم‘‘ میں تفصیل سے لکھ چکا ہوں۔ اسی طرح قادیانی صاحبان جو مرزا غلام احمد قادیانی بن غلام مرتضیٰ کو مہدی مانتے ہیں، یہ بھی غلط ہے۔ کیونکہ اوّل تو مرزا قادیانی کا نام آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے نام پر نہیں تھا۔ دوم: اس کے والد کا نام آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے والد ماجد کے نام پر نہیں تھا۔ سوم: وہ حضرت حسنؓ کی اولاد سے نہیں، بلکہ مغل
571
تھا، یعنی چنگیزخان کے خاندان سے۔
اِمام مہدیؓ خلیفہ وحکمران ہوں گے:
۱- ’’حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ: دُنیا ختم نہیں ہوگی یہاں تک کہ عرب کا مالک (حکمران) ہو میرے اہلِ بیت میں سے ایسا شخص، جس کا نام میرے نام کے موافق ہوگا۔‘‘
(ترمذی ج:۲ ص:۴۶، ابوداؤد ج:۲ ص:۲۳۲، مشکوٰۃ شریف ص:۴۷۷، اِمام ترمذیؒ نے اس کو ’’حسن صحیح‘‘ کہا ہے)
۲- ’’حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کی دُوسری روایت میں ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ: حکمران ہوگا ایک شخص میرے اہلِ بیت میں سے جس کا نام میرے نام کے موافق ہوگا۔‘‘
(حوالۂ بالا)
۳- ’’حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کی ایک روایت میں ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ: اگر دُنیا کا صرف ایک دن باقی رہ جائے تو اللہ تعالیٰ اس کو طویل کردیں گے یہاں تک کھڑا کریں گے ایسے شخص کو جو میرے اہلِ بیت میں سے ہوگا، اس کا نام میرے نام کے اور اس کے والد کا نام میرے والد کے موافق ہوگا۔ وہ زمین کو عدل واِنصاف سے بھردے گا جیسا کہ وہ ظلم سے بھری ہوئی ہوگی۔‘‘
(ابوداؤد ج:۲ ص:۲۳۲، مشکوٰۃ ص:۴۷۱)
فائدہ: … یہ حدیث ’’چراغ دین نبوی‘‘ میں بھی نقل کی گئی ہے، مگر اس میں دو غلطیاں ہیں، ایک یہ کہ روایت پوری نقل نہیں کی، جس سے حدیث کی مراد واضح ہوجاتی۔ اور دُوسرے یہ ’’اس کے ماں باپ کے نام میرے ہی ماںباپ کے نام ہوں‘‘ کے الفاظ اپنی
572
طرف سے نقل کردئیے ہیں، ابوداؤد میں یہ الفاظ نہیں ہیں۔
۴- ’’حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے بھی اسی مضمون کی حدیث مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ: قیامت سے پہلے اِمام مہدی حاکم ہوں گے۔‘‘
(ترمذی ج:۲ ص:۴۶، اِمام ترمذیؒ نے اس حدیث کو روایت کرکے کہا ہے کہ یہ حدیث حسن صحیح ہے)
۵- فرقۂ مہدویہ کی کتاب ’’چراغ دین نبوی‘‘ کے حوالے سے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ اِرشاد اُوپر گزرچکا ہے کہ: ’’مہدی خلیفۃ اللہ ہوں گے۔‘‘
۶- نیز اسی کتاب میں یہ حدیث بھی گزرچکی ہے کہ: ’’مہدیٔ موعود کا حکم خدا اور رسول کے حکم کے موافق ہوگا۔‘‘
۷- نیز اسی کتاب میں ابنِ ماجہ کے حوالے سے یہ حدیث گزرچکی ہے کہ: ’’تم مہدی سے بیعت کرو، گو تم کو ان کے پاس برف پر سے ہوکر گزرنا پڑے۔‘‘ لیکن مصنف نے اس حدیث کا یہ آخری فقرہ چھوڑ دیا: ’’کیونکہ وہ اللہ کے خلیفہ مہدی ہیں۔‘‘
(ابنِ ماجہ)
ان اَحادیث میں صاف صاف بتایا گیا ہے کہ حضرت مہدیٔ آخرالزماں مسلمانوں کے خلیفہ ہوں گے، رُوئے زمین پر ان کی حکومت ہوگی، وہ لوگوں کے درمیان عدل وانصاف کے فیصلے کریں گے، اور ان کے فیصلے خدا اور رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم کے موافق ہوں گے۔ الغرض ان احادیث سے معلوم ہوا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی پیش گوئی ایسے اِمام مہدی کے بارے میں ہے جو مسلمانوں کے خلیفۂ برحق ہوں گے، ان کے ہاتھ پر بیعتِ خلافت ہوگی، اور وہ اپنی خلافت کے زمانے میں اپنے عدل وانصاف سے زمین کو بھردیں گے، جس طرح کہ ان سے پہلے اللہ کی زمین ظلم وبے انصافی سے بھری ہوئی ہوگی۔
سب جانتے ہیں کہ سیّد محمد جونپوری کو کبھی کسی ایک بستی کی بھی حکومت نصیب نہیں
573
ہوئی، چہ جائیکہ تمام عرب ممالک کے یا پوری دُنیا کے خلیفہ ہوتے؟ ثابت ہوا کہ سیّد محمد جونپوری کا دعویٔ مہدویت آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی پیش گوئی کے مطابق نہیں تھا، لہٰذا ان کو اِمام مہدیٔ آخرالزماں ماننا غلط ہے۔
نیز آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ اِرشاد کہ: ’’دُنیا ختم نہیں ہوگی یہاں تک کہ ان صفات کا خلیفہ ظاہر نہ ہو‘‘ یا یہ کہ: ’’اگر دُنیا کا صرف ایک دن باقی رہ جائے تو اللہ تعالیٰ اس کو دراز کردیں گے یہاں تک کہ ان صفات کا خلیفہ پیدا ہو۔‘‘ اس میں دو باتوں کی طرف اِشارہ ہے، ایک یہ کہ ایسی صفات کے خلیفہ (اِمام مہدی) کا ظہور قیامت سے پہلے ضروری ہے، جب تک ایسا خلیفہ ظاہر نہ ہو قیامت نہیں آسکتی۔ دوم یہ کہ اس خلیفہ (اِمام مہدی) کا ظہور قربِ قیامت میں ہوگا، جبکہ لوگ یہ سمجھیں گے کہ قیامت کے ظہور میں بس ایک آدھ دن باقی رہ گیا ہے۔
اس سے ایک مرتبہ اور ظاہر ہوا کہ نویں صدی میں مہدی کا دعویٰ کرنے والی شخصیت (سیّد محمد جونپوری) کا دعویٰ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی پیش گوئی کے مطابق نہیں تھا، کیونکہ اس کے دعوے کے بعد پوری پانچ صدیاں گزرچکی ہیں، اور چھٹی صدی شروع ہے، اتنے طویل عرصے کو کوئی عاقل ان الفاظ سے تعبیر نہیں کرسکتا ہے کہ: ’’قیامت میں اگر ایک دن بھی باقی ہو‘‘ چہ جائیکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یہ بات اِرشاد فرمائیں؟
فائدہ: … ان احادیث سے یہ بھی معلوم ہوا کہ مرزا غلام احمد قادیانی کا اِمام مہدی ہونے کا دعویٰ بھی غلط تھا، کیونکہ اس کو بھی حکومت نصیب نہیں ہوئی، نہ کسی نے اس کے ہاتھ پر بیعتِ خلافت کی، اور اس کو گزرے ہوئے بھی ایک صدی گزرچکی ہے، لہٰذا اس کا دعویٰ بھی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی پیش گوئی کے مطابق نہ نکلا۔
اِمام مہدیؓ کے ہاتھ پر بیعتِ خلافت ہونا:
مشکوٰۃ شریف میں ابوداؤد کے حوالے سے یہ حدیث نقل کی ہے:
’’حضرت اُمِّ سلمہ رضی اللہ عنہا آنحضرت صلی اللہ علیہ
574
وسلم کا اِرشاد نقل کرتی ہیں کہ: ایک خلیفہ (بادشاہ) کی موت پر (ان کی جانشینی کے مسئلے پر) لوگوں میں اِختلاف و نزاع واقع ہوگا، پس اہلِ مدینہ میں سے ایک شخص وہاں سے نکل کر مکہ مکرّمہ کی طرف بھاگ آئے گا (یہ شخص حضرت مہدی ہوں گے، اور اس اِختلاف ونزاع سے بچنے کے لئے مکہ مکرّمہ آکر رُوپوش ہوجائیں گے، کیونکہ مکہ مکرّمہ دارالامن ہے) پس اہلِ مکہ میں سے کچھ لوگ (ان کو پہچان لیں گے کہ یہی مہدی ہیں اور) ان کے پاس آئیں گے، اور ان کو (گھر سے) نکالیں گے، حالانکہ وہ صاحب قبولِ خلافت پر آمادہ نہیں ہوں گے، پس لوگ ان کو مجبور کرکے حجرِ اَسوَد اور مقامِ اِبراہیم کے درمیان ان کے ہاتھ پر بیعت کریں گے، (اس طرح حضرت مہدیؓ مسلمانوں کے اِمام اور خلیفہ بن جائیں گے)۔
ان کے مقابلے میں ایک لشکر شام سے بھیجا جائے گا (یہ سفیانی کا بھیجا ہوا لشکر ہوگا، جو کہ اس وقت ملکِ شام کا بادشاہ ہوگا) پس اس لشکر کو مقامِ بیدا میں (جو مکہ ومدینہ کے درمیان ایک جگہ کا نام ہے) دھنسادیا جائے گا، (سفیانی کے لشکر کا زمین میں دھنسا دِیا جانا خروجِ مہدی کی علامتوں میں سے ایک اہم ترین علامت ہے، جس کے بارے میں بہت سی احادیث وارِد ہیں جو قریب تواتر کے ہیں)
(کذا فی مظاہر حق ج:۴ ص:۳۴۴)۔
پس جب لوگ اس لشکرِ سفیانی کا دھنس کر ہلاک ہونا دیکھیں اور سنیں گے تو (سب کو یقین ہوجائے گا کہ یہی حضرت اِمام مہدیؓ ہیں، چنانچہ یہ سن کر) شام کے اَبدال اور عراق کے نیک لوگوں کی جماعتیں آپ کی خدمت میں حاضر ہوکر آپ کے ہاتھ پر
575
بیعت کریں گی۔
پھر قریش کا ایک شخص، جس کے ماموں قبیلۂ بنوکلب کے لوگ ہوں گے، حضرت مہدیؓ کے مقابلے میں کھڑا ہوگا، پس یہ شخص بھی (اپنے ماموؤں کے قبیلے کی مدد سے) حضرت مہدیؓ اور ان کے لشکر کے مقابلے میں ایک لشکر بھیجے گا، پس حضرت مہدیؓ اور ان کا لشکر ان پر غالب آئیں گے، اور یہ بنوکلب کا فتنہ ہوگا (اور یہ ظہورِ مہدی کی دُوسری علامت ہوگی)۔
اور حضرت مہدی ؓ لوگوں میں ان کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت کے موافق عمل کریں گے، اور اِسلام اپنی گردن زمین میں ڈال دے گا (یعنی ثبات وقرار پکڑے گا، جس طرح کہ اُونٹ جب بیٹھتا اور آرام وقرار پکڑتا ہے تو اپنی گردن پھیلادیتا ہے) پس حضرت مہدیؓ سات سال زمین میں (بحیثیت خلیفہ کے) رہیں گے، پھر ان کی وفات ہوگی، اور مسلمان ان کی نمازِ جنازہ پڑھیں گے۔‘‘
(مشکوٰۃ شریف ص:۴۷۱، ابوداؤد ج:۲ ص:۲۳۳، جامع الاصول ج:۱۰ ص:۲۷)
اس صحیح حدیث میں حضرت اِمام مہدیؓ کے ظہور کا پورا نقشہ کھینچا گیا ہے، خود اِنصاف کیجئے کہ کیا سیّد محمد جونپوری کے حق میں یہ علامات ظاہر ہوئی ہیں؟ یہاں ایک خاص نکتہ لائقِ توجہ یہ ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت مہدیؓ کے ظہور کی علامات اور ان کے زمانے کے واقعات متواتر اَحادیث میں بیان فرمائے ہیں، لیکن کسی حدیث میں یہ نہیں فرمایا گیا کہ وہ ’’انا المہدی!‘‘ کا نعرہ لگائیں گے، اور لوگوں کو اپنے ہاتھ پر بیعت کرنے کی دعوت دیں گے، بلکہ اس کے برعکس یہ فرمایا گیا ہے کہ لوگ ان کو بیعتِ خلافت کے لئے مجبور کریں گے، جبکہ وہ اس سے انکار کریں گے، لیکن اہلِ بصیرت حضرات ان کی
576
ناگواری واِنکار کے باوجود ان کو بیعتِ خلافت پر مجبور کردیں گے، اس طرح ان کو خلیفہ منتخب کرلیا جائے گا۔ یہی ایک علامت ہے جو سچے مہدی اور جھوٹے دعوے داروں کے درمیان فرق کردیتی ہے۔ حضرت مہدیٔ برحق کو ایک دن بھی مہدی ہونے کا دعویٰ کرنے کی ضرورت پیش نہیں آئے گی، جبکہ سیّد محمد جونپوری سے لے کر غلام احمد قادیانی تک مہدویت کا دعویٰ کرنے والوں کے ہاتھ میں خالی دعوؤں کے سوا کچھ بھی نہیں۔
حضرت مہدیؓ، نصاریٰ سے جہاد کریں گے:
حضرت اِمام مہدیؓ کا نصاریٰ کے ساتھ مقابلہ ہوگا، اور حضرت مہدیؓ اور ان کے لشکر کو نصاریٰ پر غلبہ حاصل ہوگا، احادیث میں ان لڑائیوں کی تفصیلات ذِکر کی گئی ہیں، جو مشکوٰۃ شریف کے باب الملاحم میں مذکور ہیں (دیکھئے: ص:۴۶۵تا ۴۶۸) ان احادیث کا خلاصہ یہ ہے کہ:
۱- ’’نصاریٰ کے اَسّی جھنڈے ہوں گے، اور ہر جھنڈے کے نیچے بارہ ہزار کا لشکر، گویا نولاکھ ساٹھ ہزار۔‘‘
۲- ’’حضرت مہدیؓ کے لشکر کا ایک تہائی حصہ شکست کھاکر بھاگ جائے گا، جن کی توبہ کبھی قبول نہیں ہوگی۔ ایک تہائی شہید ہوجائیں گے، اور یہ اللہ تعالیٰ کے نزدیک افضل الشہداء شمار ہوں گے، اور ایک تہائی فتح پائیں گے، جو آئندہ کبھی کسی فتنے میں مبتلا نہیں ہوں گے۔‘‘
۳- ’’پہلے دن مسلمان یہ شرط لگاکر جائیں گے کہ یا تو مرجائیں گے، یا غالب ہوکر آئیں گے، سارا دن رات تک یہ لڑائی جاری رہے گی، لیکن فریقین میں سے کوئی غالب نہیں ہوگا، اس لئے دونوں فریق اپنی اپنی جگہ واپس آجائیں گے، لیکن فریقین کے عَلم بردار میدان میں کام آجائیں گے۔ اگلے دن پھر موت کی شرط
577
لگاکر جائیں گے، سارا دن شام تک لڑائی ہوتی رہے گی، لیکن کوئی غالب نہیں آئے گا، پس دونوں فریق اپنی اپنی قیام گاہ میں لوٹ آئیں گے،اور دونوں کے عَلم بردار میدان میں کھیت رہیں گے۔ تیسرے دن پھر موت کی شرط لگاکر جائیں گے، لیکن نتیجہ پھر وہی رہے گا، ان تین دنوں میں بے شمار لوگ قتل ہوگئے ہوں گے، چوتھے دن بقیۃ السیف مسلمان حملہ آور ہوں گے، اور اللہ تعالیٰ نصرانیوں پر شکست ڈال دیں گے، پس ایسی ہولناک جنگ ہوگی جس کی مثال نہ دیکھی، نہ سنی، اور اتنے آدمی قتل ہوجائیں گے کہ سو میں سے ایک آدمی زندہ بچے گا۔‘‘
(مشکوٰۃ ص:۴۶۷)
احادیث شریفہ میں حضرت مہدیؓ کے زمانے میں ہونے والی ’’ملحمۂ کبریٰ‘‘ (جنگِ عظیم) کا جو نقشہ ذِکر کیا گیا ہے، جس کا خلاصہ میں نے اُوپر درج کیا ہے، سوال یہ ہے کہ کیا کسی مدعیٔ مہدویت کی قیادت میں مسلمانوں کی نصاریٰ کے مقابلے میں ایسی ہولناک جنگ ہوئی ہے؟ کیا سیّد محمد جونپوری نے ملکِ شام جاکر نصاریٰ کے خلاف لڑائی لڑی؟ اگر جواب نفی میں ہے تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی پیش گوئی کے مطابق ان کو مہدیٔ آخرالزماں کہنا کیسے صحیح ہوگا؟ اور نصاریٰ کے خلاف حضرت مہدیؓ کی لڑائیوں کا نام سن کر مرزا غلام احمد قادیانی کے بدن پر تو لرزہ طاری ہوجاتا تھا، اور وہ حضرت مہدیٔ آخرالزماں کو ’’خونی مہدی‘‘ کہہ کر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے اِرشادات کا مذاق اُڑاتا تھا۔
خروجِ دجال:
حضرت مہدیؓ، نصاریٰ کے خلاف مذکورہ جہاد میں مشغول ہوں گے اور ان کو شکست دیتے ہوئے قسطنطنیہ تک پہنچ جائیں گے، اتنے میں خبر آئے گی کہ دجال نکل آیا، حضرت مہدیؓ دس شہسواروں کو اس کی تحقیق کے لئے بھیجیں گے، آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ:
578
’’میں ان کے نام بھی جانتا ہوں، اورا ن کے باپوں کے نام بھی، اور ان کے گھوڑوں کے رنگ بھی، اور وہ اس وقت رُوئے زمین کے سب سے بہتر شہسوار ہوں گے۔‘‘
(مشکوٰۃ ص:۴۶۷)
کیا سیّد محمد جونپوری کے زمانے میں دجال کے نکلنے کی خبر آئی تھی؟ اور کیا سیّد موصوف نے قسطنطنیہ کے محاذ سے دس شہسواروں کو دَجال کی تحقیق کے لئے بھیجا تھا؟ اگر اس کا جواب نفی میں ہے تو اِنصاف فرمائیے کہ وہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی پیش گوئی کے مطابق مہدیٔ آخرالزماں کیسے ہوئے؟
حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا نزول اور ان کا حضرت مہدیؓ کی اِقتدا میں نماز پڑھنا:
حضرت مہدیؓ خروجِ دجال کا سن کر اس کے مقابلے کے لئے ملکِ شام واپس آجائیں گے، دریں اثنا کہ وہ لڑائی کی تیاری کر رہے ہوں گے، نماز کا وقت ہوجائے گا، نماز کے لئے صفیں دُرست کی جارہی ہوں گی، اتنے میں حضرت عیسیٰ بن مریم علیہ السلام نازل ہوں گے، اور اس نماز کی اِمامت حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے حکم سے حضرت مہدیؓ کرائیں گے، اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام اس نماز میں حضرت مہدیؓ کی اِقتدا کریں گے۔
(مشکوٰۃ ص:۴۶۶ تا ۴۸۰)
کیا سیّد محمد جونپوری کے زمانے میں عین نماز کے وقت حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا نزول ہوا؟ اور کیا حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے ان کی اِقتدا میں نماز پڑھی؟ اگر اس کا جواب نفی میں ہے تو وہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی پیش گوئی کے مطابق مہدیٔ آخرالزماں کیسے ہوئے؟
حضرت مہدیؓ کی عمر اور زمانۂ خلافت:
حضرت مہدیؓ سے جب بیعتِ خلافت ہوگی تو ان کی عمر چالیس برس ہوگی، چنانچہ حافظ جلال الدین سیوطیؒ نے اپنے رسالے ’’العرف الوردی فی اخبار المہدی‘‘ میں
579
حافظ ابونعیمؒ کے حوالے سے یہ حدیث نقل کی ہے:
’’حضرت ابو اُمامہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ: تمہارے درمیان اور رُومیوں کے درمیان چار مرتبہ مصالحت ہوگی، چوتھی مرتبہ یہ مصالحت رُومیوں کے بادشاہ کے اہل میں سے ایک شخص کے ہاتھ پر ہوگی، جو سات سال رہے گی، (بالآخر وہ بھی ختم ہوجائے گی، اور ان کے درمیان اور تمہارے درمیان حالتِ جنگ پیدا ہوجائے گی)۔ ایک شخص نے کہا: یا رسول اللہ! اس وقت لوگوں کا اِمام کون ہوگا؟ فرمایا: مہدی ہوں گے، میری اولاد میں سے، چالیس سال کے، گویا ان کا چہرہ چمکدار ستارہ ہے، اور ان کے دائیں رُخسار پر سیاہ تل ہے۔‘‘
سات سال ان کی خلافت کا زمانہ ہے، جیسا کہ اُوپر حضرت اُمِّ سلمہ رضی اللہ عنہا کی حدیث سے گزرچکا ہے، ان کی خلافت کے ساتویں سال میں دجال نکلے گا، اور اس کو قتل کرنے کے لئے حضرت عیسیٰ علیہ السلام نازل ہوں گے۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے نزول کے بعد خلافت ان کے سپرد ہوجائے گی، اور حضرت مہدیؓ ان کے وزیر کی حیثیت سے دو سال رہیں گے، گویا ان کی کل عمر ۴۹ سال ہوگی۔
اس کے برعکس سیّد محمد جونپوری کے بارے میں ’’چراغ دین نبوی‘‘ وغیرہ کتابوں میں لکھا ہے کہ ان کی عمر ۶۳ برس ہوئی، کیونکہ وہ ۸۴۷ھ میں پیدا ہوئے اور ۹۱۰ھ میں ان کی وفات ہوئی، جس سے ثابت ہوتا ہے کہ ان کی عمر بھی اس سے مطابقت نہیں رکھتی جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے مہدیٔ آخرالزماں کے بارے میں ارشاد فرمائی ہے۔
میں نے یہ چند موٹی موٹی باتیں عرض کردی ہیں، جن کو تھوڑا پڑھا لکھا آدمی بھی باآسانی سمجھ سکتا ہے، ان کی روشنی میں ہر اِنصاف پسند آدمی فیصلہ کرسکتا ہے کہ مہدوی فرقے کے حضرات کو مہدیٔ آخرالزماں کے پہچاننے میں غلطی لگی ہے، جس طرح کہ
580
قادیانیوں نے مرزا غلام احمد آنجہانی کو مہدیٔ معہود اور مہدیٔ آخرالزماں قرار دینے میں غلطی کھائی ہے۔ اللہ تعالیٰ سے دُعا ہے کہ بطفیل آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے ان تمام بھائیوں کو بھی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی پیش گوئی پر اِیمان لانے کی توفیق عطا فرمائیں۔
تکمیل:
آخر میں اِمامِ ربانی مجدّد الف ثانی شیخ احمد سرہندیؒ کی شہادت پیش کرتا ہوں، وہ مکتوباتِ شریفہ دفتر دوم کے مکتوب ۶۷ میں لکھتے ہیں:
’’علاماتِ قیامت کہ مخبرِ صادق علیہ وعلیٰ آلہ الصلوات والتسلیمات ازاں خبر دادہ است حق ست، احتمالِ تخلف ندارد، مثل طلوعِ آفتاب از جانبِ مغرب برخلافِ عادت، وظہور حضرت مہدی علیہ الرضوان، ونزول حضرت رُوح اللہ علیٰ نبینا وعلیہ الصلوٰۃ والسلام، وخروجِ دجال، وظہورِ یاجوج وماجوج، وخروج دابۃ الارض، ودُخانے کہ از آسمان پیدا شود وتمام مردم را فرو گیرد وعذاب دردناک کند، مردم از اِضطراب گویند ’’اے پروردگار! ما ایں عذاب را از ما دُور کن کہ ما اِیمان مے آریم‘‘ وآخر علامات آتش ست کہ ازعدن خیزد۔
وجماعہ از نادانی گمان کنند شخصے را کہ دعویٔ مہدویت نمودہ بود از اہلِ ہند، مہدیٔ موعود بودہ است، پس بزعمِ ایناں مہدی گزشتہ است وفوت شدہ، ونشان میدہند کہ قبرش در فرہ است، در احادیث صحاح کہ بحد شہرت بلکہ بحد تواتر معنے رسیدہ اند تکذیب ایں طائفہ است، چہ آںسرور علیہ وعلیٰ آلہ الصلوٰۃ والسلام مہدی را علامات فرمودہ است در اَحادیث کہ درحق آں شخص کہ معتقد ایشانست آن علامات مفقود اند۔
581
در احادیثِ نبوی آمدہ است علیہ وعلیٰ آلہ الصلوٰۃ والسلام کہ مہدیٔ موعود بیرون آید وبر سروے پارہ ابر بود کہ دراں ابر فرشتہ باشد کہ ندا کند کہ ایں شخص مہدی است اور امتابعت کید۔
وفرمودہ علیہ وعلیٰ آلہ الصلوٰۃ والسلام کہ تمام زمین را مالک شدند چار کس باد وکس ازمؤمناں ودو کس از کافراں، ذُوالقرنین وسلیمان از مؤمناں و نمرود وبخت نصر اَز کافراں، ومالک خواہد شد آں زمین را شخص پنجم از اہلِ بیت من یعنی مہدی۔
وفرمودہ علیہ وعلیٰ آلہ الصلوٰۃ والسلام دُنیا نرود تاآنکہ بعث کند خدائے تعالیٰ مردے را اَز اہلِ بیت من کہ نام او موافق نام من بود ونام پدر او موافق نام پدر من باشد، پس پرسازد زمین را بداد وعدل چنانچہ پر شدہ بود بجور وظلم۔
ودر حدیث آمدہ است کہ اصحابِ کہف اعوان حضرت مہدیؓ خواہند بود۔ وحضرت عیسیٰ علیٰ نبینا وعلیہ الصلوٰۃ والسلام در زمان وے نزول خواہد کرد، واو موافقت خواہد کرد باحضرت عیسیٰ علیٰ نبینا وعلیہ الصلوٰۃ والسلام در قتالِ دجال، ودر زمان ظہور سلطنت او در چہار دہم شہر رمضان کسوفِ شمس خواہد شد ودر اوّل آں ماہ خسوفِ قمر برخلافِ عادتِ زمان وبرخلاف حسابِ منجمان۔
بنظرِ انصاف باید دید کہ ایں علامات دراں شخص میت بودہ است یا نہ؟ وعلامات دیگر بسیار ست کہ مخبر صادق فرمودہ است علیہ وعلیٰ آلہ الصلوٰۃ والسلام، شیخ ابنِ حجرؒ رسالہ نوشتہ است درعلاماتِ مہدی منتظر کہ بہ دویست علامت میکشد، نہایت جہل
582
ست کہ باوجود وضوح امر مہدی موعود جمعے درضلالت مانند، ہداہم اللہ سبحانہ سواء الصراط۔‘‘
ترجمہ: … ’’(عقیدہ۱۹) اور علاماتِ قیامت جن کی مخبرِ صادق علیہ وعلیٰ آلہ الصلوات والتسلیمات نے خبر دی ہے سب حق ہیں، ان میں تخلف کا کوئی اِحتمال نہیں، مثلاً خلافِ عادت مغرب کی جانب سے آفتاب کا طلوع ہونا، ظہورِ حضرت مہدی علیہ الرضوان، نزول حضرت رُوح اللہ (عیسیٰ) علیٰ نبینا وعلیہ الصلوٰۃ والسلام، خروجِ دجال، ظہورِ یأجوج ومأجوج، خروج دابۃ الارض، اور ایک دُھواں جو آسمان سے اُٹھ کر تمام اِنسانوں کو گھیر لے گا اور لوگوں کو دردناک عذاب میں مبتلا کردے گا، اس وقت لوگ مضطرب ہوکر (حق تعالیٰ شانہ‘ سے) عرض کریں گے: ’’اے ہمارے رَبّ! اس عذاب کو ہم سے دُور فرمادے کہ ہم اِیمان لاتے ہیں) اور آخری علامت آگ ہے جو عدن سے اُٹھے گی۔
ایک گروہ (مہدویہ) اپنی نادانی کی وجہ سے ایک شخص کے متعلق، جس نے اہلِ ہند میں سے ہوتے ہوئے ’’مہدیٔ موعود‘‘ ہونے کا دعویٰ کیا تھا، یہ گمان کرتا ہے کہ وہ مہدی ہوا ہے۔ لہٰذا ان کے زعم میں وہ مہدی گزرچکا ہے اور فوت ہوچکا، اور اس کی قبر کا نشان بتاتے ہیں کہ وہ فرو میں ہے۔ (لیکن) وہ صحیح احادیث جو بحدِ شہرت بلکہ معنی کے لحاظ سے حدِ تواتر کو پہنچ چکی ہیں، وہ اس گروہ (مہدویہ) کی تکذیب کرتی ہیں، کیونکہ آںسرور علیہ وعلیٰ آلہ الصلوٰۃ والسلام نے جو علامتیں ’’مہدی‘‘ کی بیان فرمائی ہیں، وہ علامات ان
583
لوگوں کے معتقد فیہ شخص کے حق میں مفقود ہیں، احادیثِ نبوی میں آیا ہے کہ ’’مہدیٔ موعود‘‘ جب ظاہر ہوں گے تو ان کے سر پر بادل کا ایک ٹکڑا ہوگا اور اس اَبر میں ایک فرشتہ ہوگا جو پکار کر کہے گا کہ یہ شخص مہدی ہے، اس کی متابعت کرو۔ اور آپ علیہ وعلیٰ آلہ الصلوٰۃ والسلام نے فرمایا کہ: چار آدمی پوری رُوئے زمین کے مالک (بادشاہ) ہوئے ہیں، ان میں دو مؤمن اور دو کافر ہیں، ذُوالقرنین اور سلیمان، مؤمنوں میں سے تھے، اور نمرود اور بخت نصر کافروں میں سے، اور اس زمین کا پانچواں مالک میرے اہلِ بیت میں سے ہوگا، یعنی مہدی۔ اور آپ علیہ وعلیٰ آلہ الصلوٰۃ والسلام نے فرمایا کہ: دُنیا اس وقت تک ختم نہ ہوگی، جب تک کہ خدائے تعالیٰ میرے اہلِ بیت میں سے ایک شخص کو پیدا نہ فرمالے کہ اس کا نام میرے نام پر اور اس کے والد کا نام بھی میرے والد کے نام کے موافق ہوگا، اور وہ زمین کو عدل وانصاف سے اسی طرح بھردے گا جس طرح کہ وہ ظلم وجور سے بھری ہوئی تھی، اور حدیث میں وارِد ہے کہ اَصحابِ کہف حضرت مہدی کے معاونین میں سے ہوں گے، اور حضرت عیسیٰ علیٰ نبینا وعلیہ الصلوٰۃ والسلام ان (مہدی) کے زمانے میں نزول فرمائیں گے، اور وہ (مہدی) دجال کے قتل کرنے میں حضرت عیسیٰ علیٰ نبینا وعلیہ الصلوٰۃ والسلام کی موافقت کریں گے، اور ان (مہدی) کی سلطنت کے ظہور کے زمانے میں زمانے کی عادت کے برخلاف اور نجومیوں کے حساب کے بھی برخلاف چودہ ماہ رمضان کو سورج گہن ہوگا اور اسی ماہ کے شروع میں چاند گہن ہوگا۔
اب انصاف سے دیکھنا چاہئے کہ یہ علامات جو بیان کی گئی
584
ہیں اس فوت شدہ شخص (سیّد محمد جونپوری یا مرزا غلام احمد قادیانی) میں موجود ہیں یا نہیں؟ (ان کے علاوہ) اور بھی بہت سی علامات ہیں جو مخبرِ صادق علیہ وعلیٰ آلہ الصلوٰۃ والسلام نے بیان فرمائی ہیں، شیخ ابنِ حجرؒ نے ’’علاماتِ مہدی منتظر‘‘ کے بارے میں ایک رسالہ لکھا ہے جس میں دو سو کے قریب علامات بیان کی گئی ہیں۔ بڑی نادانی اور جہالت کی بات ہے کہ مہدیٔ موعود کا معاملہ اتنا واضح ہونے کے باوجود ایک گروہ گمراہی میں مبتلا ہے۔ اللہ سبحانہ‘ ان کو سیدھے راستے کی ہدایت دے۔‘‘
(مکتوبات حضرت مجدد الف ثانی، ؒ دفتر دوم، مکتوب:۶۷ ص:۲۴۶)
وَصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی خَیْرِ خَلْقِہٖ مُحَمَّدٍ وَّآلِہٖ وَاَصْحَابِہٖ اَجْمَعِیْنَ
محمد یوسف لدھیانوی
۸؍۸؍۱۴۱۷ھ
585
حضرت عیسیٰ ؑ شریعتِ محمدی کے پیروکار
بن کر آئیں گے
ایک سوال کا جواب!
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیانِ شرع متین اس مسئلہ میں کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام قربِ قیامت میں جب دنیا میں تشریف لائیں گے تو آپ متصف بالنبّوّۃ تو ہوں گے ہی، کیونکہ انبیاء کی نبوّت کبھی ختم نہیں ہوتی، مگر چونکہ ادیانِ سابقہ کے منسوخ ہونے کی وجہ سے اس وقت آپ شریعتِ محمدیہ کا اتباع کریں گے، تو کیا آپ کا یہ اتباع اُمتی کی حیثیت سے ہوگا یا نہیں؟ یعنی آپ نبی ہونے کے ساتھ ساتھ اُمتی بھی ہوں گے یا نہیں؟
زید کہتا ہے کہ: حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا نزول بحیثیتِ اُمتی ہونا قرآن و حدیث کسی سے حکماً ثابت نہیں ہے، حدیث میں صرف ’’امامًا عادلًا‘‘ یا ’’حَکَمًا عادلًا‘‘ کی حیثیت وارِد ہوئی ہے، اور شریعتِ محمدیہ کا اتباع کرنا آیا ہے، اور اتباع سے اُمتی ہونا ثابت نہیں ہوتا۔
زید اپنی تائید میں مندرجہ ذیل دلائل پیش کرتا ہے:
الف: … حضرت یوشع بن نونؑ اور دوسرے انبیائے بنی اسرائیل شریعتِ موسوی کے تابع ہوکر مبعوث ہوئے، ان کی اپنی شریعت نہیں تھی، ان سب انبیاء کا شمار اُمتی میں نہیں ہوتا، بلکہ وہ سب حضرت موسیٰ علیہ السلام کے خلفاء اور نائبین کی حیثیت رکھتے ہیں، تو اسی
586
طرح جب حضرت عیسیٰ ؑنازل ہوں گے تو ان کی حیثیت امام، خلیفہ و نائبِ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی ہوگی، اور آپ اُمتی نہیں ہوں گے، حضرت یوشع بن نونؑ نبی بھی تھے اور تابع بھی تھے، مگر اُمتی نہیں تھے، اسی طرح حضرت عیسیٰ علیہ السلام نبی بھی ہوں گے، تابع بھی ہوں گے، مگر اُمتی نہیں ہوں گے۔
ب: … حضرت مولانا مفتی محمد شفیع صاحبؒ اپنی تفسیر ’’معارف القرآن‘‘ میں تحریر فرماتے ہیں:
’’دوسرے یہ کہ حضرت عیسیٰ ؑاگرچہ اس وقت فرائضِ نبوّت و رسالت پر مأمور ہوکر دنیا میں نہ آئیں گے، بلکہ اُمتِ محمدیہ کی قیادت و امامت کے لئے بحیثیتِ خلیفۂ رسول تشریف لائیں گے، مگر ذاتی طور پر ان کو جو منصبِ نبوّت و رسالت حاصل ہے، اس سے معزول بھی نہ ہوں گے، بلکہ اس وقت ان کی مثال اس گورنر کی سی ہوگی جو اپنے صوبہ کا گورنر ہے، مگر کسی ضرورت سے دوسرے صوبہ میں چلا گیا ہے، تو وہ اگرچہ صوبہ میں گورنر کی حیثیت پر نہیں، مگر اپنے عہدۂ گورنری سے معزول بھی نہیں۔‘‘
(معارف القرآن ج:۲ ص:۸۱)
ج: … نبی معصوم ہوتا ہے، اور اُمتی معصوم نہیں ہوتا۔
د: … اُمتی وہ ہوتا ہے جس کی ہدایت کے لئے کسی نبی یا رسول کو بھیجا جائے، حضرت عیسیٰ علیہ السلام خود نبی ہیں، پھر وہ کیسے اُمتی ہوسکتے ہیں؟
اس کے مقابلہ میں عمرو کہتا ہے کہ: حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا نزول بحیثیتِ اُمتی ہوگا، متبع ہونے کے یہی معنی ہے، عمرو اپنی تائید میں مندرجہ ذیل دلائل پیش کرتا ہے:
۱: … مُلَّا علی قاریؒ اپنی کتاب ’’موضوعاتِ کبیر‘‘ میں فرماتے ہیں:
’’فیأتی فیقتل الدّجّال ویدخل المسجد وقد
587
اقیم الصلٰوۃ فیقول المھدی: تقدم یا روح اللہ! فیقول: انما ھٰذہ الصلٰوۃ اقیمت لک، فیتقدم المھدی ویقتدی بہٖ عیسٰی علیہ السلام اشعارًا بأنہ من جملۃ الاُمۃ، ثم یصلی عیسٰی فی سائر الأیام۔‘‘
(ص:۱۶۴ طبع نور محمد کراچی)
ترجمہ: … ’’پس (عیسیٰ ؑ) آئیں گے دجال کو قتل کریں گے، (حضرت عیسیٰ ؑ) مسجد میں داخل ہوں گے، نماز کی اقامت کہی جاچکی ہوگی، مہدی کہیں گے: رُوح اللہ! آگے بڑھ کر نماز پڑھائیے۔ (حضرت عیسیٰ) کہیں گے: اس نماز کی اقامت آپ کے لئے کہی جاچکی ہے، (آپ ہی نماز پڑھائیے)، پس مہدی آگے بڑھ کر نماز پڑھائیں گے اور حضرت عیسیٰ ؑیہ بتلانے کے لئے ان کی اقتدا کریں گے کہ وہ بھی اس اُمت میں سے ہیں، اس کے علاوہ باقی دنوں میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام نماز پڑھائیں گے۔‘‘
۲: … مُلَّا علی قاریؒ کے قول کو حضرت امام العصر مولانا انور شاہ کشمیریؒ اپنی کتاب ’’خاتم النبیین‘‘ میں نقل فرماتے ہیں:
’’ونیز قول مُـلّا علی القاری فلا یناقض قولہ ’’خاتم النبیین‘‘ اذا المعنی انہ لَا یأتی بعدہ نبی ینسخ ملتہ ولم یکن من اُمتہ۔‘‘
ترجمہ: … ’’نیز مُلَّا علی قاری کا یہ قول، ارشادِ خداوندی ’’خاتم النبیین‘‘ کے خلاف نہیں، کیونکہ اس کے معنی یہ ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد کوئی نبی نہیں آسکتا کہ آپ کے دین کو منسوخ کردے اور آپ کی اُمت سے نہ ہو۔‘‘
588
۳: … امامِ ربانی حضرت مجدد الف ثانی نوّر اللہ مرقدہٗ اپنے مکتوبات دفترِ دوم مکتوب نمبر:۶۷میں تحریر فرماتے ہیں:
’’وعیسیٰ علیٰ نبینا وعلیہ الصلوٰۃ والسلام کہ نزول خواہد فرمود وعمل شریعت او خواہد کرد، وبعنوان اُمت او خواہد بود۔‘‘
ترجمہ: … ’’اور عیسیٰ ؑجب نازل ہوں گے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی شریعت ہی پر عمل کریں گے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی اُمت میں شامل ہوں گے۔‘‘
۴: … علامہ حکیم ولی کامل علی درہؒ اپنی کتاب ’’خواتم الحکم المسمّٰی بحل الرموز وکشف الکنوز‘‘ کے ص:۱۴۲ میں فرماتے ہیں:
’’ویکون من اُمۃ محمد صلی اللہ علیہ وسلم وخاتم اولیائہ ووارثیہ من جھۃ الولَایۃ۔‘‘
ترجمہ: … ’’اور (حضرت عیسیٰ ؑ) اُمتِ محمدیہؐ میں سے ہوں گے اور آپ کی اُمت کے اولیاء میں سے آخری ہوں گے، اور ولایت کی نسبت سے آپؐ کے وارث ہوں گے۔‘‘
۵: … امام جلال الدین سیوطیؒ اپنے رسالہ ’’الْاعلام بحکم عیسیٰ علیہ السلام‘‘ میں نقل کرتے ہیں:
’’قال السبکی فی تفسیر لہ ما من نبی الّا اخذ اللہ علیہ المیثاق انہ ان بعث محمدًا فی زمانہ لیؤمنن بہٖ ولینصرنہ ویوصی منہ بذالک وفیہ من النبوۃ وتعظیم قدرہ مما لا یخفٰی وفیہ مع ذالک انہ علٰی تقدیر مجیئہٖ فی زمانہ یکون مرسلا الیھم، ویکون نبوتہ ورسالتہ
589
عامّۃ لجمیع الخلق من زمن اٰدم الٰی یوم القیامۃ ویکون الأنبیاء واُممھم من اُمتہ فالنبی صلی اللہ علیہ وسلم نبی الأنبیاء ولو اتفق بعثہ فی زمن اٰدم ونوحا وابراہیم وموسٰی وعیسٰی وجب علیھم وعلٰی اُممھم الْإیمان بہٖ ونصرتہٖ ولھٰذا یأتی عیسٰی فی اٰخر الزمان علٰی شریعتہٖ ولو بعث النبی صلی اللہ علیہ وسلم فی زمانہ وفی زمان موسٰی وابراھیم ونوح واٰدم کانوا مُستمرین علٰی نبوتھم ورسالتھم الٰی اُممھم والنبی صلی اللہ علیہ وسلم نبی علیھم ورسول الٰی جمعیتھم۔‘‘
(تحذیر الناس ص:۶۸)
ترجمہ: … ’’علامہ سبکیؒ اپنی تفسیر میں فرماتے ہیں کہ: اللہ تعالیٰ نے ہر نبی سے یہ وعدہ لیا تھا کہ اگر ان کے زمانہ میں حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم مبعوث ہوں، تو آپ ان پر ایمان لائیں گے، ان کی مدد کریں گے۔ اسی وجہ سے ہر نبی نے اپنے ماننے والوں کو اسی کی وصیت فرمائی، اس میں ان کی نبوّت اور جلالتِ قدر کی طرف اشارہ ہے، جو کسی پر مخفی نہیں، اسی وجہ سے اگر ان میں سے کوئی نبی بالفرض ان کے زمانہ میں مبعوث ہوجائے تو وہ رسول ہوگا، مگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوّت و رسالت آدم علیہ السلام سے لے کر قیامت تک ساری مخلوق کے لئے عام ہوگی، اور تمام انبیاء اور ان کی اُمتیں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی اُمت میں سے ہوں گے، پس آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نبی الانبیاء ہیں، اور بالفرض آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت حضرت آدم، نوح، ابراہیم، موسیٰ اور عیسیٰ (علیہم
590
السلام) کے زمانہ میں ہوتی تو ان سب پر اور ان کی اُمتوں پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوّت پر ایمان لانا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی مدد کرنا واجب ہوتا، لہٰذا عیسیٰ علیہ السلام آخری زمانہ میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی شریعت پر نازل ہوں گے، اگر بالفرض آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ان کے زمانہ میں مبعوث ہوتے یا حضرت موسیٰ، ابراہیم، نوح اور آدم (علیہم السلام) کے زمانہ میں مبعوث ہوتے تو وہ اپنی اپنی نبوّت و رسالت پر قائم رہتے اور ان کی نبوّت ان کی اُمت کے لئے ہوتی اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ان سب کے نبی و رسول ہوتے۔‘‘
اور اسی چیز کو حضرت مولانا مفتی محمد شفیع صاحبؒ نے اپنی تفسیر ’’معارف القرآن‘‘ ص:۱۰۰، ۱۰۱ جلددوم میں بحوالہ تفسیر ابنِ کثیر سے ذکر فرمایا ہے۔
۶: … شیخ الاسلام حضرت مولانا شبیر احمد عثمانی ؒامام المتکلّمین والمفسرین اپنی کتاب ’’تفسیرِ عثمانی‘‘ میں سورۂ احزاب کی آیت: ’’مَا کَانَ مُحَمَّدٌ اَبَا اَحَدٍ ۔۔۔۔۔ الخ‘‘ کے تحت تحریر فرماتے ہیں:
’’آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی تشریف آوری سے نبیوں کے سلسلہ میں مہر لگ گئی، اب کسی کو نبوّت نہیں دی جائے گی، پس جن کو ملنی تھی مل چکی، اس لئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوّت کا دور سب نبیوں کے بعد رکھا، جو قیامت تک چلتا رہے گا۔ حضرت مسیح علیہ السلام بھی آخری زمانے میں بحیثیت آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ایک اُمتی کے آئیں گے، جیسے تمام انبیاء (علیہم السلام) اپنے اپنے مقام پر موجود ہیں، مگر شش جہت میں عمل صرف نبوّتِ محمدیہ کا جاری و ساری ہے۔‘‘
591
۷: … شیخ المحدثین والمفسرین حضرت مولانا محمد ادریس کاندھلویؒ اپنی کتاب ’’عقائد الاسلام‘‘ حصہ دوم صفحہ:۷۵میں تحریر فرماتے ہیں:
’’از روئے قرآن و حدیث اور باتفاقِ صحابہؓ و تابعینؒ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم خاتم النبیین ہیں، آپؐ پر نبوّت ختم ہوگئی اور آپؐ کے بعد نبوّت کا دروازہ بند کردیا گیا، اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام آپ سے چھ سو سال پہلے نبی بنائے گئے اور آسمان پر اُٹھالئے گئے، غرض یہ کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام، محمد صلی اللہ علیہ وسلم سے پہلے نبی بنائے گئے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت کے بعد ان کو نبوّت نہیں ملی، قیامت کے قریب حضرت عیسیٰ علیہ السلام نازل ہوں گے اور نزول کے بعد شریعتِ محمدیہ کا اتباع کریں گے، اور آپ اُمتی اور تابع ہوکر رہیں گے۔‘‘
۸: … حکیم الاُمت حضرتِ اقدس مولانا اشرف علی تھانوی نوّر اللہ مرقدہٗ وعظ مسمّیٰ بہ ’’الرفع والوضع‘‘ میں فرماتے ہیں:
’’اور انبیاء علیہم السلام پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے تعلق کا وجوب بالقوہ تو اس حدیث سے ظاہر ہیـ: ’’لو کان موسٰی حیًّا لما وسعہ الّا اتباعی‘‘ (اگر بالفرض موسیٰ علیہ السلام زندہ ہوتے تو ان کو بھی میری اتباع کے بغیر چارہ نہ ہوتا) اور بالفعل اس سے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام بعد نزول الی الارض کے وجوباً آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا اتباع فرمائیں گے۔‘‘
جب ایک تشریعی نبی وجوباً اتباع فرماتا ہے تو کیا اس سے اُمتی ہونا ثابت نہیں ہوتا ہے؟
592
۹: … حضرت مولانا عاشق الٰہی میرٹھیؒ اپنی کتاب ’’مقدمۃ القرآن‘‘ مطبوعہ ۱۳۲۰ھ میں بعنوان ’’کلام اللہ شریف میں ۲۵ انبیاء کا صراحتاً ذکر ہے‘‘ کے تحت ص:۳۱، ۳۲ میں تحریر فرماتے ہیں:
’’حضرت عیسیٰ مسیحؑ قیامت کے قریب حضرت مہدی کے زمانہ سراپا سعادت میں پھر دوبارہ دنیا میں تشریف لاکر اُمتِ محمدیہ میں داخل ہونے کی عزت حاصل کریں گے، اور حاکمِ عادل بن کر قرآن و حدیثِ نبوی، غرض شریعتِ محمدی کے مطابق مقدمات کے فیصلے کریں گے۔‘‘
۱۰: … ارشادِ باری تعالیٰ: ’’وما ارسلنٰک الّا کافۃ للناس ۔۔۔۔۔ الخ۔‘‘ اور جب حضرت عیسیٰ زندہ ہیں تو ’’کافۃ للناس‘‘ میں داخل ہیں، پس ان سے مستثنیٰ ہونے کی کوئی دلیل نہیں۔
اب دریافت طلب امر یہ ہے کہ مذکورہ بالا دونوں میں سے کس کا قول صحیح ہے؟ واضح اور صاف الفاظ میں مدلل و مفصل تحریر فرماویں کہ حضرت عیسیٰ اُمتی ہوں گے یا نہیں؟
۲: … حضرت عیسیٰ اگر اُمتی کی حیثیت سے تشریف لائیں گے تو ان کے اُمتی ہونے کو تسلیم کرنا، اور اگر اُمتی کی حیثیت سے تشریف نہ لائیں گے تو ان کے اُمتی نہ ہونے کو تسلیم کرنا، اسلامی عقائد میں داخل ہے یا نہیں؟
ماہنامہ ’’بینات‘‘ کراچی ربیع الاوّل ۱۳۹۵ھ، اپریل ۱۹۷۵ء میں بعنوان ’’شذور‘‘، ’’قادیانی نظریات مجدد الف ثانی ؒ کی نظر میں‘‘ کے تحت مدیر رسالہ مزید تحریر فرماتے ہیں:
’’ہتک یا عزت؟ اُمتِ اسلامیہ کا عقیدہ ہے کہ خاتم الانبیاء بنی اسرائیل حضرت عیسیٰ کا آنحضرتؐ کی تصدیق و تائید کے
593
لئے نازل ہوکر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی اُمت میں شمار ہونا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی عظیم ترین منقبت ہے۔‘‘
( ص:۱۱، ۱۲)
پھر فرماتے ہیں:
’’مرزا صاحب نے اپنی اُمت کو یہ تصوُّر دیا ہے کہ حضرت عیسیٰ کے متبعِ شریعتِ محمدیہ ہونے سے اس اُمت کی ذلت و رسوائی اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی ہتک اور کسرِ شان لازم آتی ہے، اور اسلام کا تختہ اُلٹ جاتا ہے(ازالہ ص:۵۸۶، روحانی خزائن ج:۳ ص:۴۱۶) ۔‘‘
پھر مجدد الف ثانی ؒکا ایک مکتوب نقل کرکے فرماتے ہیں:
’’قادیانی صاحبان انصاف فرمائیں کہ حضرت مجدد الف ثانی ؒکا حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا اُمتی ماننا، آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی عزت ہے یا ہتک؟‘‘
(’’بینات‘‘ ربیع الاوّل ۱۳۹۵ھ ص:۱۲)
کیا حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو اُمتی نہ ماننا قادیانی عقیدہ ہے؟ کیا حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو اُمتی ماننا اہلِ سنت والجماعت کا عقیدہ ہے اور یہ مسئلہ اسلامی عقائد میں داخل ہے؟ مدلل تحریر فرماویں۔ بینوا وتؤجروا۔۔۔۔ المستفتی:
انور - رنگون، برما
جواب:
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ
اَلْحَمْدُ لِلہِ وَسَلَامٌ عَلٰی عِبَادِہِ الَّذِیْنَ اصْطَفٰی!
سوال نامہ میں جو نکات درج کئے گئے ہیں، ان پر غور کرنے سے پہلے چند اُمور کا
594
سمجھ لینا ضروری ہے:
اَوّل: … حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا قربِ قیامت میں دوبارہ تشریف لانا اسلام کا قطعی، یقینی اور متواتر عقیدہ ہے، آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانۂ مبارک سے لے کر آج تک ہر صدی میں یہ عقیدہ ایمانیات میں شمار ہوتا چلا آیا ہے، اور اہلِ حق میں سے ایک شخص بھی ایسا نہیں جس نے اس عقیدہ سے انکار کیا ہو، یا اس میں کوئی تأویل کی ہو۔
دوم: … یہ بات بھی ہر شک و شبہ سے بالاتر ہے کہ جب حضرت عیسیٰ علیہ السلام آخری زمانے میں تشریف لائیں گے تو اپنی شریعت پر عمل نہیں کریں گے، بلکہ شریعتِ محمدیہؐ کے مطابق عمل کریں گے، کیونکہ آنحضرت خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم کے تشریف لانے کے بعد پہلی تمام کتابیں اور شریعتیں منسوخ ہوچکی ہیں، اور اب صبحِ قیامت تک صرف آپؐ ہی کی شریعت کا دور ہے۔’’وَاِذْ اَخَذَ اللہُ مِیْثَاقَ النَّبِیِّیْنَ ۔۔۔۔۔ لَتُؤْمِنُنَّ بِہٖ وَلَتَنْصُرُنَّہٗ‘‘ اس آیت کے تحت محققین نے تصریح فرمائی ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ’’نبی الانبیاء‘‘ ہیں، اور تمام انبیائے گزشتہ آپؐ کے اُمتی کی حیثیت رکھتے ہیں، چنانچہ حجۃ الاسلام مولانا محمد قاسم نانوتویؒ بانیٔ دارالعلوم دیوبند تحریر فرماتے ہیں:
’’غرض جیسے آپ نبی الامہ ہیں، ویسے نبی الانبیاء بھی ہیں، یہی وجہ ہوئی کہ بہ شہادت ’’وَاِذْ اَخَذَ اللہُ مِیْثَاقَ النَّبِیِّیْنَ
595
۔۔۔۔۔ لَتُؤْمِنُنَّ بِہٖ وَلَتَنْصُرُنَّہٗ ۔۔۔۔ الخ‘‘ اور انبیائے کرام علیہ وعلیہم السلام سے آپؐ پر ایمان لانے اور آپؐ کے اتباع و اقتدا کا عہد لیا گیا۔ اِدھر آپؐ نے یہ ارشاد فرمایا کہ: اگر حضرت موسیٰ بھی زندہ ہوتے تو میرا ہی اتباع کرتے۔ علاوہ بریں بعدِ نزول، حضرت عیسیٰ کا آپؐ کی شریعت پر عمل کرنا اسی بات پر مبنی ہے۔‘‘
(تحذیر الناس ص:۸، ۹ مطبوعہ ۱۹۷۶ء)
خود مرزا غلام احمد قادیانی کو بھی اعتراف ہے کہ:
’’قرآن شریف سے ثابت ہے کہ ہر ایک نبی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی اُمت میں داخل ہے، جیسا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: لَتُؤْمِنُنَّ بِہٖ وَلَتَنْصُرُنَّہٗ۔ پس اس طرح تمام انبیاء علیہم السلام آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی اُمت ہوئے۔‘‘
(براہینِ احمدیہ حصہ پنجم ضمیمہ ص:۱۳۳، روحانی خزائن ج:۲۱ص:۳۰۰)
اس تحقیق سے معلوم ہوا کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام اپنی اُمت کے لئے نبی ہونے کے باوجود آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے اُمتی بھی ہیں، اور یہ بھی معلوم ہوا کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے، باوجود نبی ہونے کے اُمتِ محمدیہ میں شامل ہونے میں کوئی اِشکال نہیں۔
چہارم: … حضرت عیسیٰ علیہ السلام اگرچہ شریعتِ محمدیہ کے خادم اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے خلیفہ اور اُمتی ہونے کی حیثیت سے تشریف لائیں گے، مگر ان کو عام افرادِ اُمت پر قیاس کرنا دُرست نہیں، مناسب ہوگا کہ یہاں امام الہند شاہ ولی اللہ محدث دہلوی قدس سرہٗ کی ایک عبارت نقل کردی جائے، ’’الخیر الکثیر‘‘ میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے کمالات پر گفتگو کرتے ہوئے لکھتے ہیں:
’’وعیسٰی علیہ السلام ھو من اتم الأنبیاء شانًا
596
وأجلّھم برہانًا، ومزاجہ ’’السبوغ‘‘، ولذالک کانت معجزاتہٗ سبوغیۃ کلّھا، وکان وجودہ من طریق السبوغ، ولذالک حق لہٗ ان ینعکس فیہ انوار سیّد المرسلین صلی اللہ علیہ وسلم، ویزعم العامۃ انّہٗ اذا نزل فی الأرض کان واحدًا من الاُمۃ، کـلّا بل ھو شرح للاسم الجامع المحمدی ونسخۃ منتسخۃ منہ، فشتان بینہٗ وبین احدٍ من الاُمۃ، الّا أنّہٗ یتبع القراٰن، ویأتم بخاتم الأنبیاء صلی اللہ علیہ وسلم، وذالک لَا یقدح فی کمالہٖ بل یؤیدہٗ، فتعرف، وھو بذاتہٖ محاق لشرور الیھود، ولذالک نزل بین یدی الساعۃ۔‘‘
(ص:۷۲)
ترجمہ: … ’’اور عیسیٰ علیہ السلام من جملہ ان انبیائے کرامؑ کے ہیں جن کی شان سب سے کامل اور جن کی برہان سب سے جلیل القدر ہے، اور ان کا مزاج ’’السبوغ‘‘ ہے، اسی بنا پر ان کے سارے معجزات سبوغیت کے رنگ میں ہیں، اور ان کا وجود بھی بطریقِ سبوغ ہوا، اسی بنا پر وہ مستحق ہوئے کہ ان میں سیّدالمرسلین صلی اللہ علیہ وسلم کے انوار منعکس ہوں۔ اور عام لوگوں کا خیال ہے کہ جب وہ زمین میں نازل ہوں گے تو محض ایک اُمتی ہوں گے، ایسا ہرگز نہیں، بلکہ وہ تو اسمِ جامع محمدی کی شرح اور اسی کا ایک مُثنّٰی ہیں، پس ان کے درمیان اور عام افرادِ اُمت کے درمیان زمین وآسمان کا فرق ہے، ہاں! یہ ضرور ہے کہ وہ قرآنِ کریم کی پیروی اور خاتم الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کی اقتدا کریں گے، اور یہ بات ان کے
597
کمال میں رخنہ انداز نہیں، بلکہ ان کے کمالات کو دوبالا کردیتی ہے، خوب سمجھ لو! اور وہ بنفسِ نفیس یہود کے شرور کو مٹانے والے ہیں، اسی مقصد کے لئے وہ قیامت سے پہلے نازل ہوں گے۔‘‘
اس تمہید کے بعد عرض ہے کہ زید کا یہ موقف صحیح نہیں کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا اُمتی ہونا کہیں ثابت نہیں، کیونکہ قرآنِ کریم کی آیت سے ابھی معلوم ہوچکا کہ نہ صرف عیسیٰ علیہ السلام بلکہ دیگر انبیائے کرام علیہم السلام بھی اُمتِ محمدیہؐ کے ذیل میں آجاتے ہیں، احادیثِ نبویہ بھی بشرطِ فہم اسی طرف اشارہ کرتی ہیں، ایک حدیث میں ہے:
’’أنا سیّد وُلد اٰدم یوم القیامۃ۔‘‘
(مجمع الزوائد ج:۸ ص:۲۵۴)
یعنی ’’میں قیامت کے دن اولادِ آدم کا سردار ہوں گا‘‘ اور کون نہیں جانتا کہ سیادت اپنے ماتحتوں پر ہوتی ہے، اب ان دونوں باتوں کی روشنی میں ارشادِ نبویؐ پر غور کیجئے تو وہی نتیجہ نکلے گا جو قرآن کریم کی مذکورہ بالا آیتِ میثاق میں ارشاد فرمایا گیا ہے، یعنی تمام انبیائے کرام علیہم السلام کا آپؐ کے ماتحت ہونا۔
ایک اور حدیث میں مزید صراحت ہے کہ: ’’ما من نبی، اٰدم فمن دونـہٗ تحت لوائی‘‘ یعنی ’’آدم علیہ السلام اور ان کے بعد جتنے نبی ہوئے ہیں وہ سب میرے جھنڈے کے نیچے ہوں گے۔‘‘ پس تمام انبیائے کرام علیہم السلام کا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے جھنڈے تلے ہونا آپؐ کی سیادت و قیادت اور ان کی ماتحتی کی دلیل ہے، گویا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ہفت اقلیمِ نبوّت کے تاجدار ہیں، اور دیگر انبیائے کرام علیہم السلام آپؐ کی ماتحتی میں علاقائی گورنر ہیں، ہر گورنر اپنے صوبے کا حاکمِ مطلق ہوتا ہے، مگر وہ بھی دیگر رعیت کی طرح شہنشاہ کی رعایا میں شمار ہوتا ہے، اسی طرح تمام انبیائے کرام علیہم السلام اپنی اپنی اُمت کے مطاعِ مطلق تھے، مگر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوّت و رسالت چونکہ تمام اَزمان و
598
اَکوان کو محیط ہے، اس لئے تمام انبیائے کرام علیہم السلام آپؐ کے زیر سیادت ہوئے۔
علاوہ ازیں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے بارے میں متعدد احادیث میں فرمایا گیا ہے کہ ان کی اُمتِ محمدیہ میں تشریف آوری اس اُمت کے ایک فرد کی حیثیت سے ہوگی، ایک جگہ فرمایا گیا: ’’ینزل فیکم ابن مریم‘‘، ایک جگہ ارشاد ہے: ’’وامامکم منکم‘‘ ، ایک اور روایت میں ہے: ’’فأمّکم منکم‘‘ ایک اور حدیث میں ہے:’’فیکون عیسٰی فی اُمّتی حَکَمًا عَدَلًا‘‘ ، ایک اور حدیث میں ہے: ’’الّا انّہ خلیفتی فی اُمّتی من بعدی‘‘ یہ اور اس قسم کی اور احادیث بتاتی ہیں کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام اُمتِ مرحومہ کے ایک فرد کی حیثیت سے حاکم ہوں گے۔
اس سے قطع نظر اگر بالفرض آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سلسلہ میں کوئی اِشارہ نہ فرمایا ہوتا تو بھی بداہتِ عقل اسی طرف رہنمائی کرتی تھی، کیونکہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوّت و رسالت اور آپؐ کی تعلیم و شریعت تاقیامت ہے، اگر سارے انبیائے سابقین علیہم السلام بھی تشریف لے آئیں تو لامحالہ شریعتِ محمدیہؐ ہی کے ماتحت ہوں گے، کیونکہ ان کی اپنی شریعتیں منسوخ ہوچکی ہیں، پس جب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے آنے کی خبر دی ہے تو اس لئے ہر صاحبِ فہم یہی سمجھے گا کہ ان کا آنا شریعتِ محمدیہؐ کے ماتحت ہوگا، اور یہی معنی اُمتی ہونے کے ہیں، اسی بنا پر تمام اکابرِ اُمت اس امر کو تسلیم کرتے آئے ہیں کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام اُمتِ محمدیہؐ میں شامل ہوکر ہماری شریعت کی پیروی کریں گے، اور خود زید بھی حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے متبعِ شریعت ہوکر آنے کو تسلیم کرتا ہے، متبعِ شریعتِ محمدیہؐ ہونا خود اس امر کی دلیل ہے کہ ان پر اس وقت اُمتی کے اَحکام جاری ہوں گے، ورنہ اتباع کے کیا معنی ہوئے؟
زید کے جو دلائل سوالنامہ میں نقل کئے گئے ہیں، ان سے زید کا مدعا ثابت نہیں ہوتا، جس کی تفصیل درج ذیل ہے:
599
الف: … حضرت یوشع اور دیگر انبیائے بنی اسرائیل (علیہم السلام) کے بارے میں زید تسلیم کرتا ہے کہ وہ ’’شریعتِ موسوی کے تابع ہوکر مبعوث ہوئے، ان کی اپنی شریعت نہیں تھی‘‘ لیکن اسی کے ساتھ زید کا کہنا ہے کہ: ’’ان سب انبیاء کا شمار اُمتی میں نہیں ہوتا۔‘‘ سوال یہ ہے کہ جب کتاب موسیٰ علیہ السلام کی ہے، شریعت موسیٰ علیہ السلام کی ہے، اُمت موسیٰ علیہ السلام کی ہے اور اسی اُمت میں وہ نبی مبعوث ہوتے ہیں تو خود ان کے اُمتِ موسویہ میں شامل نہ ہونے کی کیا وجہ ہے؟ حضرت عیسیٰ علیہ السلام بلاشبہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے خلیفہ اور نائب بن کر آئیں گے، ان کی اپنی شریعت نہیں ہوگی، آپ شریعتِ محمدیہ پر عمل کریں گے، مگر ان کا اُمتِ محمدیہ میں آنا اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی خلافت ونیابت کے فرائض انجام دینا ہی اس بات کی دلیل ہے کہ ان کی حیثیت اس وقت (اُولوالعزم صاحبِ شریعت رسول ہونے کے باوجود) آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے اُمتی کی ہوگی۔
ب: … زید نے ’’معارف القرآن‘‘ ج:۲ ص:۸۱ کا حوالہ دیا ہے، جس میں کہا گیا ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام جب تشریف لائیں گے تو وصفِ نبوّت ورسالت کے ساتھ موصوف ہونے کے باوجود ان کی حیثیت اُمتِ محمدیہؐ کے گورنر کی ہوگی، اس عبارت سے تو زید کے مدعا کے خلاف یہ ثابت ہوتا ہے کہ وہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ماتحت ہوکر آپؐ کے اَحکامات کی تعمیل کریں گے، تو جیسا کہ اُوپر گزر چکا ہے، یہ تو ان کے اُمتی ہونے کی دلیل ہے، نہ کہ اُمتی نہ ہونے کی۔۔۔!
ج: … زید کا یہ استدلال کہ ’’نبی معصوم ہوتا ہے اور اُمتی معصوم نہیں ہوتا‘‘ اس دوسرے جملہ (اُمتی معصوم نہیں ہوتا) کو کلیہ سمجھنا غلط ہے، اس لئے کہ اُوپر معلوم ہوچکا ہے کہ نبی بھی اُمتی ہوسکتا ہے، اس لئے یہ کہنا کہ: ’’ہر اُمتی غیرمعصوم ہوتا ہے‘‘ غلط ہوا۔
د: … زید کا یہ کہنا کہ: ’’اُمتی وہ ہوتا ہے جس کی ہدایت کے لئے کسی نبی یا رسول کو بھیجا جائے‘‘ صحیح نہیں، زید سے دریافت کیا جائے کہ اُمتی کی یہ تعریف کہاں لکھی ہے؟ اس کے بجائے اُمتی کی یہ تعریف کیوں نہ کی جائے کہ: ’’اُمتی وہ ہوتا ہے جو کسی صاحبِ
600
شریعت نبی کی شریعت کی پیروی کا مکلف ہو‘‘۔۔۔؟
غور کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ زید کا اصل شبہ یہی ہے کہ اس نے ’’اُمتی‘‘ کا ایک خاص مفہوم ایسا سمجھ لیا ہے جو ’’رسول‘‘ کے مفہوم کی ضد ہے، اس سے وہ اس نتیجہ پر پہنچا ہے کہ رسول اور اُمتی کا مفہوم متباین (ایک دوسرے کی ضد) ہے، پس نہ اُمتی، رسول ہوسکتا ہے، نہ رسول، اُمتی ہوسکتا ہے، اس شبہ کا حل یہ ہے کہ رسول اپنی اُمت کا مطاع ہوتا ہے، اور اُمت اپنے رسول کی مطیع ہوتی ہے، مگر یہی رسول جو اپنی اُمت کا مطاع تھا، کسی دوسرے رسول کا مطیع ہوسکتا ہے، جیسا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ: ’’اگر موسیٰ علیہ السلام زندہ ہوتے تو میری پیروی کرتے۔‘‘ اور جیسا کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام بعد از نزول آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی پیروی کریں گے، اس سے معلوم ہوا کہ ایک رسول کا اپنے سے بڑے رسول کے ماتحت ہونا، اس کی پیروی کرنا اور اس کی اُمت کی طرف منسوب ہوکر اس کا اُمتی کہلانا رسالت و نبوّت کے منافی نہیں، اور رسول اور اُمتی کے مفہوم میں تباین سمجھنا غلط ہے۔
خلاصہ یہ کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا تشریف لانا اگرچہ بہ وصفِ نبوّت و رسالت ہوگا، جو انہیں پہلے سے حاصل ہے، مگر ان کی دوبارہ تشریف آوری کا وقت چونکہ نبوّت و شریعتِ محمدیہؐ کا وقت ہوگا، اس لئے وہ خود بھی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی پیروی کریں گے اور دوسروں کو بھی شریعتِ محمدیہؐ پر چلائیں گے، اور یہی مطلب ہے ان کے اُمتی کی حیثیت میں آنے کا۔ اور یہ بات قرآن و حدیث سے ثابت اور اکابرِ اُمت کے درمیان متفق علیہ ہے، اس لئے زید کو اپنے نظریہ پر اصرار نہیں کرنا چاہئے،واللہ یقول الحق وھو یھدی السبیل!
محمد یوسف عفا اللہ عنہ
۲۲؍۱۱؍۱۳۹۹ھ
601
جدید تحقیقات اور علاماتِ قیامت
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ
اَلْحَمْدُ لِلہِ وَسَلَامٌ عَلٰی عِبَادِہِ الَّذِیْنَ اصْطَفٰی!
مستقبل میں پیش آنے والے واقعات کے بارے میں جناب ڈاکٹر عرفان محمود صاحب کے نظریات ہمارے ایک کرم فرما نے حضرت اقدس مولانا محمد یوسف لدھیانوی مدظلہ العالی کی خدمت میں بغرض تحقیق بھیجے، جن کا جواب افادۂ عام کے لئے نذرِ قارئین کیا جاتا ہے۔
(ادارہ)
۱:۔۔۔اہرامِ مصر:
اہرام مصر پر ثبت تحریروں کا ترجمہ مصر کے ایک ڈاکٹر نے کیا ہے، جس کے مطابق یہ تصویر نما تحریریں دراصل گزشتہ پانچ ہزار سال کی پیش گوئیاں ہیں، جو درست ثابت ہو رہی ہیں، انہی تحریروں سے یہ بھی پتہ چلتا ہے کہ بیسویں صدی عیسوی کے آخر تک یہ کائنات تباہ ہوجائے گی، جیسا کہ حضرت نوح علیہ السلام کے زمانہ میں ہوا، اور نئے سرے سے انسانیت وجود میں آئے گی۔
۲:۔۔۔زمین کی گردش:
ناسا (NASA) کے حوالے سے گزشتہ دنوں روزنامہ جنگ میں یہ خبر چھپی کہ
602
زمین کی گردش کی رفتار کم ہو رہی ہے، تو یہ پیشنگوئی کی گئی ہے کہ اگر اسی حساب سے رفتار کم ہوتی رہی تو ٹھیک تین سال کے بعد گردش تھم جائے گی۔
۳:۔۔۔ستارہ:
اسی امریکی خلائی تحقیقاتی ادارے (ناسا) کے حوالے سے ایک اور خبر روزنامہ جنگ میں شائع ہوئی کہ کوئی (Commet) زمین کی سمت سفر کر رہا ہے، اور جس رفتار سے یہ سفر کر رہا ہے ٹھیک تین سال کے بعد یہ زمین سے ٹکرا جائے گا۔
نمبر ۲ اور ۳ کو مد نظر رکھتے ہوئے یہ کہا جاسکتا ہے کہ گردش کے رکنے اور ستارے کے ٹکرانے کا وقت ایک ہے، گویا زمین کی گردش رکنے کا مطلب یہ ہے کہ کشش ثقل ختم ہوجائے گی، اور اگر کشش ثقل ختم ہوجائے تو اس کا مطلب یہ ہوا کہ ہر چیز فضا میں بکھر جائے گی، پہاڑ روئی کے گالوں کی طرح بکھر جائیں گے، جو کہ قیامت کی گھڑی ہوگی، لیکن ایسا ہے کہ قیامت نہیں بلکہ ’’ایک بڑا عذاب‘‘ آنے والا ہے، زمین کی یہ گردش جب رکنے کو ہوگی تو وہ سیارچہ (Commet) زمین سے ٹکرا جائے گا اور یہ گردش دوبارہ بحال ہوجائے گی، یعنی جاری ہوجائے گی، لیکن اس وقت تک زلزلوں کی وجہ سے بہت تباہی آچکی ہوگی، اور نئے سرے سے انسانیت کا آغاز ہوگا۔
۱:۔۔۔اس نئی انسانیت (New Civilization) یعنی پتھر اور تلوار کے زمانے کا تصور بھی اسلام سے ہمیں ملتا ہے کہ جب حضرت عیسیٰ علیہ السلام دمشق کی جامع مسجد پر آسمان سے اتریں گے تو ان کے ہاتھ میں ’’تلوار‘‘ ہوگی، جس سے وہ مسیح دجال کا سر قلم کریں گے، آج تو کلاشنکوف کا دور ہے، کلاشنکوف سے اس معیار کے دشمن کا خاتمہ ناممکن ہے۔
۲:۔۔۔جہاں تک سیارے کے زمین سے ٹکرانے کی بات ہے، تو مجھے قرآن نے یہ رہنمائی دی، جب میں نے قرآن سے اپنے خاص انداز سے رہنمائی چاہی، ارشاد باری تعالیٰ ہے:
603
’’وَاِنْ یَّرَوْا کِسْفًا مِّنَ السَّمَآئِ سَاقِطًا یَّقُوْلُوْا سَحَابٌ مَّرْکُوْمٌ۔ فَذَرْھُمْ حَتّٰی یُلٰـقُوْا یَوْمَھُمُ الَّذِیْ فِیْہِ یُصْعَقُوْنَ۔‘‘
(الطور:۴۴)
ترجمہ:۔۔۔’’اور جب وہ اپنے اوپر آسمان کے ایک بڑے ٹکڑے کو گرتا ہوا (ساقط) دیکھیں گے تو وہ یہ کہیں گے کہ یہ تو کوئی بادل ہے، تہہ بہ تہہ، پس انہیں اس دن تک چھوڑدے جس میں ان پر (ایسا عذاب ہوگا کہ) غنودگی طاری ہوگی۔‘‘
میرے اس آیت کے پڑھنے کے دوسرے ہی روز کرم ایجنسی میں زلزلہ آگیا، روزنامہ پاکستان کی شہ سرخی تھی: ’’زمین پھٹی، چھ گاؤں زمین بوس ہوگئے۔‘‘ اور اس جگہ پر کوئی بدبو وغیرہ نہیں ہے، لیکن جب اس جگہ کے قریب کوئی جائے تو اس پر غنودگی طاری ہوتی ہے، تو میرے لئے یقینا یہ اس آیت مبارکہ کا مصداق تھا، جس میں کہا گیا کہ ان پر ایسا عذاب ہوگا کہ ان پر غنودگی طاری ہوگی۔
نتیجہ:۔۔۔نتیجہ یہ نکلا کہ قریب ہی اس اُمت پر ایک بڑا عذاب آنے والا ہے، لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ جو تصور (Concept) عام ہے کہ اُمتِ مسلمہ پر اس قسم کا بڑا عذاب، جیسا کہ دوسری قوموں یعنی حضرت نوح علیہ السلام کی قوم وغیرہ پر آیا، نہیں آئے گا، چونکہ ہم حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی اُمت ہیں، تو عرض ہے کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:
ترجمہ:۔۔۔’’اور اللہ کا عذاب ظالموں سے دور نہیں ہے۔‘‘
اور سب سے بڑا ظالم کون ہے؟ اور عذاب کے لئے جو شرط رکھی گئی ہے وہ شرک ہے، تو ہمارے آج کے معاشرے کو دیکھا جائے تو شرک عام ہے، اور تینوں اقسام کا شرک یعنی اللہ کی ذات میں شرک، اس کی صفات میں شرک اور اللہ کے احکامات میں شرک۔ اللہ نے کہا کہ جھوٹ نہیں بولنا، رشوت نہیں لینا، زنا نہیں کرنا، ہم جھوٹ بھی بول جاتے ہیں، زنا
604
بھی کرتے ہیں، لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ یہ گناہ یعنی شرک فی احکام اللہ تو ہر دور میں رہا ہے، لیکن آج سے کچھ عرصہ پہلے بندہ زنا کر بیٹھتا تھا، یا جھوٹ بولتا تھا، یا سود کھاتا تھا تو اسے یہ احساس ضرور ہوتا تھا کہ میں نے گناہ کیا ہے، یعنی اسے گناہ سمجھا ہی نہیں جاتا۔
علاوہ ازیں ہم روزانہ عذاب کے لئے، جو کافروں پر ہوگا، بددعا بھی کرتے ہیں، یعنی وتر میں:’’ان عذابک بالکفار ملحق‘‘ یقینا تیرا عذاب کافروں سے ملنے والا ہے، یعنی آنے والا ہے، یعنی قریب ہے۔
جواب:۔۔۔جناب ڈاکٹر عرفان محمود صاحب کے نظریات پر مشتمل گرامی نامہ موصول ہوا، انہوں نے اہرام مصر، گردش زمین اور سیارہ کے بارے میں اپنی تحقیقات ذکر فرمائی ہیں، اور یہ بتایا ہے کہ ٹھیک تین سال کے بعد یہ حوادث رونما ہوں گے اور اس کے بعد نئے سرے سے انسانیت کا آغاز ہوگا۔
جیسا کہ آنجناب کو معلوم ہے، سائنسی تحقیقات سے مجھے زیادہ دلچسپی بھی نہیں، اور ان کو چنداں لائق اعتماد بھی نہیں سمجھتا، لیکن مجھے پروفیسر صاحب کے بیانات سے دو باتوں میں اتفاق ہے:
اوّل: … یہ کہ اس دنیا کے خاتمے کا وقت قریب آن لگا ہے، یہ تو کہنا مشکل ہے کہ یہ دنیا کب تک اور کتنے سال قائم رہے گی؟ لیکن آثار و قرائن بتاتے ہیں کہ وقت زیادہ دور نہیں، اس لئے کہ دنیا میں شر و فساد (جس کی طرف آپ نے بھی اشارہ کیا ہے) کی اصلاح کی کوئی صورت نظر نہیں آتی، لوگ اکیسویں صدی کی زبردست تیاریاں کر رہے ہیں، لیکن مجھے اندیشہ ہے کہ ان کی اکیسویں صدی ان کے لئے موت کا پیغام لائے گی۔
دوم:۔۔۔مجھے پروفیسر صاحب کی اس بات سے بھی اتفاق ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا زمانہ موجودہ ترقیات کا زمانہ نہیں ہوگا، بلکہ دنیا تیغ و تفنگ کی طرف لوٹ جائے گی۔
لیکن پروفیسر صاحب کے اس نظریہ سے مجھے اتفاق نہیں کہ جس طرح طوفانِ
605
نوح کے بعد دنیا نئے سرے سے آباد ہوئی، اسی طرح نزولِ عیسیٰ علیہ الصلوٰۃ والسلام کے بعد بھی دنیا کی یہی حالت رہے گی۔
عیسیٰ علیہ الصلوٰۃ والسلام کا زمانہ، جیسا کہ احادیث صحیحہ میں وارد ہے، بالکل آخری زمانہ ہوگا۔ حضرت عیسیٰ علیہ الصلوٰۃ والسلام کے زمانہ میں خیر و برکت اپنے عروج پر ہوگی، گویا زمین اپنے تمام خزانے اگل دے گی، اور عیسیٰ علیہ الصلوٰۃ والسلام کے بعد ان کا جانشین سات سال رہے گا، اس کا زمانہ بھی قریب قریب عیسیٰ علیہ الصلوٰۃ والسلام کے زمانہ کے مشابہ ہوگا، اس کی وفات کے بعد دنیا میں شر کا طوفان آجائے گا اور اہل ایمان یکبارگی اٹھالئے جائیں گے، اور تمام کے تمام فسادی لوگ باقی رہ جائیں گے، ان پر قیامت واقع ہوگی، اور یہ زمانہ قریباً ایک صدی کا ہوگا، واللہ اعلم بالصواب!
(ہفت روزہ ختمِ نبوّت کراچی ج:۱۶ ش:۱۱)
606