Top banner image

تحفۂ قادیانیت

(جلد اوّل)

شہید اسلام حضرت مولانا محمد یوسف لدھیانوی نور اللہ مرقدہ کو قدرت نے تردید قادیانیت کے لئے منتخب کیا تھا اورقدرت کی طرف سے تردیدقادیانیت کے لئے آپ کو زندگی وقف کرنے کا حکم نامہ محدث العصر علامہ سیدمحمد یوسف بنوری رحمۃ اللہ علیہ کی طرف سے ملا اور آپؒ نے اپنی قلمی جولانیوں کا رُخ تردیدقادیانیت کی طرف ایسا پھیرا کہ آج اس موضوع پر سب سے زیادہ لٹریچر آپؒ کا تحریر کردہ ہے جو ’’تحفۂ قادیانیت‘‘ کی شکل میں ہزاروں صفحات پر مشتمل ہے(مفتی) محمد جمیل خان،خاکپائے حضرت شہیدِ اسلامؒ

بسم اللہ الرحمن الرحیم

نام کتاب: تحفۂ قادیانیت (جلد اوّل)
مؤلفہ: حضرت مولانا یوسف لدھیانووی شہیدؒ
اشاعت: دسمبر2010
ناشر: عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کراچی
5

 

 

 

صَلُّوا عَلَی الْحَبِیْب

 

 

 

6

 

پیش لفظ

(جلد اوّل، طبع اوّل)

 

بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ

اَلْحَمْدُ للہِ وَسَلَامٌ عَلٰی عِبَادِہِ الَّذِیْنَ اصْطَفٰی، اَمَّا بَعْدُقَالَ اللہُ تَعَالٰی:

’’مَا کَانَ مُحَمَّدٌ اَبَآ اَحَدٍ مِّنْ رِّجَالِکُمْ وَلٰـکِنْ رَّسُوْلَ اللہِ وَخَاتَمَ النَّبِیّٖنَ، وَکَانَ اللہُ بِکُلِّ شَیْئٍ عَلِیْمًا۔‘‘

(الاحزاب:40)

وَقَالَ النَّبِیُّ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ:
’’اِنَّہُ سَیَکُوْنُ فِیْ اُمَّتِیْ کَذَّابُوْنَ ثَلَاثُوْنَ کُلُّھُمْ یَزْعمُ اَنَّہٗ نَبِیٌّ، وَاَنَا خَاتَمُ النَّبِیِّیْنَ لَا نَبِیَّ بَعْدِیْ۔‘‘

(رواہ ابوداؤد ج:۲ ص:۸۲۲، واللفظ لہٗ، والترمذی ج:۲ ص:۵۴)

قرآنِ کریم اور اَحادیثِ متواترہ کی بنا پر اُمتِ مسلمہ کا قطعی اور متواتر عقیدہ چلا آتا ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم خاتم النبیین (آخری نبی) ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد کسی شخص کو منصبِ نبوّت پر فائز نہیں کیا جائے گا، اور یہ کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد جو شخص نبوّت کا دعویٰ کرے گا، وہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے اِرشاد کے مطابق دجال و کذّاب ہے۔

اسلامی تاریخ میں بہت سے طالع آزماؤں نے نبوّت و رِسالت اور مسیحیت و مہدویت کے دعوے کرکے خلقِ خدا کو اَپنے دامِ تزویر کا شکار کیا، جن کی تفصیل حضرت مولانا

7

ابوالقاسم رفیق دلاوری رحمۃ اللہ علیہ کی کتاب ’’اَئمہ تلبیس‘‘ اور اس کی تلخیص ’’ایمان کے ڈاکو‘‘ میں ملاحظہ کی جاسکتی ہے۔

گزشتہ صدی میں مرزا غلام احمد قادیانی نے بھی مسیحیت، مہدویت اور نبوّت کے بلند بانگ دعوے کئے اور ابلہ فریبی کے لئے اس نے قرآن و حدیث کے بے شمار نصوص کی تحریف کی۔ انبیائے کرام علیہم السلام اور سلف صالحین کی توہین و تذلیل کی، علمائے اُمت کو مغلظات سے نوازا، بالآخر ۶۲؍مئی ۸۰۹۱ء کو خائب و خاسر دُنیا سے رُخصت ہوا، اور اس کی موت نے ہر عام و خاص کے سامنے واضح کردیا کہ وہ باقرارِ خود دَجال و کذّاب اور جھوٹا تھا، اس کا ایک واضح اور دو ٹوک ثبوت درج ذیل ہے:

مرزا غلام احمد قادیانی نے جولائی ۶۰۹۱ء میں جناب قاضی نذر حسین ایڈیٹر اخبار ’’قلقل بجنور‘‘ کے نام ایک خط میں لکھا:

’’جو لوگ خدا تعالیٰ کی طرف سے آتے ہیں ۔۔۔۔۔۔ وہ اپنے مبعوث ہونے کی علتِ غائی کو پالیتے ہیں، اور نہیں مرتے جب تک ان کی بعثت کی غرض ظہور میں نہ آجائے۔ میرا کام جس کے لئے میں اس میدان میں کھڑا ہوں، یہی ہے کہ عیسیٰ پرستی کے ستون کو توڑ دُوں اور بجائے تثلیث کے توحید پھیلا دُوں اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی جلالت اور شان دُنیا پر ظاہر کردُوں۔ پس اگر مجھ سے کروڑ نشان بھی ظاہر ہوں اور یہ علتِ غائی ظہور میں نہ آئے تو میں جھوٹا ہوں۔ پس دُنیا مجھ سے کیوں دُشمنی کرتی ہے؟ اور وہ میرے انجام کو کیوں نہیں دیکھتی؟ اگر میں نے اسلام کی حمایت میں وہ کام کر دِکھایا جو مسیحِ موعود مہدیٔ موعود کو کرنا چاہئے تو پھر میں سچا ہوں، اور اگر کچھ نہ ہوا اور میں مرگیا تو پھر سب گواہ رہیں کہ میں جھوٹا ہوں۔‘‘

(اخبار ’’بدر‘‘ قادیان، نمبر۹۲، جلد۲، ۹۱؍جولائی ۶۰۹۱ء، ص:۴)

اس خط میں مرزا قادیانی نے اپنی نام نہاد ’’بعثت‘‘ کی جو غرض بیان کی تھی، ہر

8

شخص سر کی آنکھوں سے دیکھ سکتا ہے کہ اس مقصد کے حصول میں وہ ناکام رہا۔ اس لئے خود اسی کے بقول سب دُنیا کو گواہ رہنا چاہئے کہ مرزا قادیانی جھوٹا تھا، کذّاب و دجال تھا۔

مرزا قادیانی کے دجل و تلبیس کو نمایاں کرنے کے لئے بہت سے اکابرِ اُمت نے کتب و رسائل اور مقالات تحریر فرمائے ہیں- جَزَاھُمُ اللہُ اَحْسَنَ الْجَزَاء- ان کتب و رسائل کا ایک خاکہ رفیقِ محترم جناب مولانا اللہ وسایا زِید مجدہٗ کی کتاب ’’قادیانیت کے خلاف قلمی جہاد کی سرگزشت‘‘ میں ملاحظہ فرمایا جاسکتا ہے۔ ان کتب و رسائل کا ایک خاکہ رفیقِ محترم جناب مولانا اللہ وسایا زِید مجدہٗ کی کتاب ’’قادیانیت کے خلاف قلمی جہاد کی سرگزشت‘‘ میں ملاحظہ فرمایا جاسکتا ہے۔

اس ناکارہ کے قلم سے بھی قادیانی مسئلے پر متعدّد رَسائل و مقالات نکلے، جو خاص خاص ضرورتوں کی بنا پر لکھے گئے تھے، چونکہ متفرق رسائل کو محفوظ رکھنا دُشوار ہوتا ہے، اس لئے بعض اَحباب کا اِصرار ہوا کہ ان رسائل کو کتابی شکل میں خاص ترتیب سے یکجا کردیا جائے۔ چنانچہ اس فرمائش کی تعمیل ’’تحفۂ قادیانیت‘‘ کی شکل میں پیشِ خدمت ہے۔ جس میں دو دَرجن سے زیادہ رسائل جمع کردئیے گئے ہیں، باقی رسائل و مقالات کو بھی اِن شاء اللہ مجموعوں کی شکل میں شائع کیا جائے گا۔ حق تعالیٰ شانہ‘ اس کو شرفِ قبول عطا فرمائیں، اپنے بندوں کی ہدایت کا ذریعہ بنائیں اور اس ناکارہ کے لئے آنحضرت سروَرِ کونین صلی اللہ علیہ وسلم کی شفاعت اور اپنی بے پایاں رحمت و رِضوان کا وسیلہ بنائیں، وَھُوَ الْمُسْتَعَانُ، وَعَلَیْہِ التُّکْلَانُ وَھُوَ حَسْبِیْ وَنِعْمَ الْوَکِیْلُ، وَاٰخِرُ دَعْوَانَا اَنِ الْحَمْدُ ِﷲِ رَبِّ الْعَالَمِیْنَ۔

محمد یوسف عفا اللہ عنہ

۶؍۱۱؍۳۱۴۱ھ

9

پیش لفظ

(جلد دوم، طبع اوّل)

 

بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ

اَلْحَمْدُ للہِ وَسَلَامٌ عَلٰی عِبَادِہِ الَّذِیْنَ اصْطَفٰی!

میرے شیخ شہیدِ اسلام حضرت مولانا محمد یوسف لدھیانویؒ کو اللہ تعالیٰ نے دورِ حاضر میں تردیدِ باطل اور اِحقاقِ حق میں درجۂ اِمامت پر فائز فرمایا تھا۔ خصوصاً تردیدِ قادیانیت میں ان کی خدمات رہتی دُنیا تک اُمت کی راہ نمائی کرتی رہیں گی۔

آپؒ نے جس اچھوتے انداز میں اس فتنے کا تعاقب کیا ہے، شاید اب تک کسی نے ایسا انداز اِختیار نہ فرمایا ہوگا۔ آپؒ نے مسئلۂ قادیانیت کو اس خوبصورتی سے سمجھایا کہ ہر عامی سے عامی آدمی بھی اب قادیانیت کی غلاظت وبدبو کو محسوس کرتے ہوئے قادیانیت کے بدبودار لاشے سے ناک پر ہاتھ رکھ کر گزرتا اور کنارہ کشی کرتا ہے۔

اس سلسلے کے آپؒ کے مضامین کو علماء اور عوام کی شدید خواہش پر یکجا کرکے ’’تحفۂ قادیانیت‘‘ کے نام پر شائع کیا گیا۔ تحفہ کی تین جلدیں آپؒ کی زندگی میں شائع ہوچکی تھیں کہ اب چوتھی جلد بھی پریس کے حوالے کی جاچکی ہے۔ مگر ’’تحفۂ قادیانیت‘‘ جلد دوم میں کچھ فنی اور تکنیکی اغلاط رہ گئی تھیں، اس لئے اس کا دُوسرا ایڈیشن شائع کرنے کے بجائے ’’مجلس تحفظ ختمِ نبوّت‘‘ کے اکابرین کے حکم پر اس کی دوبارہ نئے سرے سے کمپوزنگ کراکے اب نئی ترتیب سے اسے شائع کیا جارہا ہے، جس میں درج ذیل باتوں کا بطورِ خاص اِہتمام کیا گیا ہے:

۱: … اِقتباسات اور پیراگراف بنائے گئے۔

10

۲: … حوالہ جات کا پوائنٹ باریک کرکے اسے اصل سے ممتاز کیا گیا۔

۳: … تمام مرزائی حوالوں کو جدید ’’رُوحانی خزائن‘‘ سے ملانے کا اِہتمام کیا گیا۔

۴: … پہلی اِشاعت چونکہ بہت عجلت میں ہوئی تھی، اس لئے اس میں بعض لفظی اغلاط رہ گئی تھیں، اب بطورِ خاص اس کی تصحیح کا خیال کرکے اِمکانی حد تک اس کے پروف پڑھ کر اس کی تصحیح کی ہے۔ بایں ہمہ پھر بھی ناقص کا ہر کام ناقص ہے۔ اگر اس میں کہیں کوئی غلطی نظر آئے تو قارئین سے درخواست ہے کہ ہمیں اس کی اِطلاع فرمادیں، تاکہ آئندہ ایڈیشن میں اس کی اِصلاح کی جاسکے۔

اللہ تعالیٰ ہمارے حضرت شہیدؒ کی اس محنت وکوشش کو قبول فرمائے، اور اس کو اُمتِ مرزائیہ کی اِصلاح وہدایت کا ذریعہ بنائے، اور ہم خدام کی اس معمولی سی کوشش کو شرفِ قبول عطا فرماتے ہوئے ہماری نجات ومغفرت کا ذریعہ بنائے، آمین!

والسلام

سعید احمد جلال پوری

۸۲؍۲؍۲۲۴۱ھ

11

مقدمہ

(جلد دوم، طبع اوّل)

 

بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ

نَحْمَدُہٗ وَنُصَلِّیْ عَلٰی رَسُوْلِہِ الْکَرِیْمِ، اَمَّا بَعْدُ!

عالمی مجلس تحفظ ختمِ نبوّت کے بزرگ رہنما حضرت مولانا محمد یوسف لدھیانوی دامت برکاتہم کی رَدِّ قادیانیت پر گراںمایہ تصنیف ’’تحفۂ قادیانیت‘‘ کی دُوسری جلد پیشِ خدمت ہے۔ جو حضرت مدظلہٗ کے ’’۹‘‘ مختلف رسائل ومقالہ جات پر مشتمل ہے۔ اس کتاب کا مطالعہ اس تناظر میں کیا جائے کہ اس میں شامل تحریریں بیس سے پچّیس سال پہلے کی ہیں۔ ایک کتابچے میں معمولی نوعیت کی تبدیلی کے علاوہ باقی تمام کو من وعن شائع کر رہے ہیں۔ اس مجموعے میں ایک رسالہ ’’مرزا قادیانی کے وجوہِ اِرتداد‘‘ نامی بھی شامل ہے۔ آج سے سالہاسال قبل جنوبی افریقہ کی عدالت میں فتنۂ قادیانیت سے متعلق ایک مقدمہ دائر تھا۔ اس میں مسلمانوں کی خدمت کرنے اور عالمی مجلس تحفظ ختمِ نبوّت کے وفد کی قیادت حضرت مصنف مدظلہٗ نے فرمائی تھی۔ عدالت میں مرزا قادیانی کے وجوہِ کفر واِرتداد پر دلائل دینے کی غرض سے آپ نے یہ بیان مرتب فرمایا تھا۔ رَبِّ کریم کا اِحسان دیکھیں کہ آج پہلی بار یہ تحریر اس وقت شائع ہو رہی ہے جس وقت کہ وہ کیس مختلف مراحل طے کرکے جنوبی افریقہ کی سپریم کورٹ سے اس کا فیصلہ مسلمانوں کے حق میں ہوچکا ہے۔ اور آج سپریم کورٹ آف جنوبی افریقہ نے بھی قادیانیت کے کفر پر مہر لگاکر اُمتِ مسلمہ کے فتنۂ قادیانیت سے متعلق موقف کو صحیح تسلیم کرلیا ہے۔

ہمیں خوشی ہے کہ اس مجموعے میں فتنۂ قادیانیت سے متعلق (مذہبی وسیاسی نوعیت کا) ہمہ جہتی مواد شامل ہے۔ حق تعالیٰ شانہ‘ اس وقیع علمی دستاویز کو اپنی بارگاہ میں شرفِ قبولیت سے نوازیں، قادیانیوں کے لئے ہدایت کا سامان، اور مسلمانوں کے زیادتیٔ اِیمان کا باعث فرمائیں، آمین!

شعبۂ نشر واِشاعت

عالمی مجلس تحفظ ختمِ نبوّت

صدر دفتر ملتان، پاکستان

12

پیش لفظ

(جلد سوم، طبع اوّل)

بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ

اَلْحَمْدُ للہِ وَسَلَامٌ عَلٰی عِبَادِہِ الَّذِیْنَ اصْطَفٰی، اَمَّا بَعْدُ!

حضرتِ اقدس مرشد العلماء حکیم العصر مولانا محمد یوسف لدھیانوی زِید مجدہم نے جس موضوع پر قلم اُٹھایا، رَبِّ کائنات نے شرفِ قبولیت عطا فرماکر اس کو مقبولیتِ عامہ نصیب فرمائی، خصوصاً عقیدۂ ختمِ نبوّت اور رَدِّ قادیانیت پر حضرتِ اقدس کے قلم کی جولانیاں اپنے عروج پر ہوتی ہیں، اسی بنا پر آپ کی ان تحریروں کو اکابر علمائے کرام نے بہت زیادہ پسندیدگی کی نگاہ سے دیکھا ہے۔ یہ تحریریں مختلف رسائل کی شکل میں پھیلی ہوئی تھیں، امیرِ محترم شیخ المشائخ حضرت خواجۂ خواجگان مولانا خان محمد زِید مجدہم اور اِمامِ اہلِ سنت حضرت مولانا مفتی احمدالرحمن صاحب رحمۃ اللہ علیہ کی خواہش پر ان رسائل کو یکجا کرکے ’’تحفۂ قادیانیت‘‘ کے نام سے ۳۹۹۱ء میں شائع کیا گیا، جس کے ۰۲۷ صفحات پر چوبیس اہم موضوع بمشکل سماسکے۔ ۶۹۹۱ء میں ’’تحفۂ قادیانیت‘‘ کی دُوسری جلد کے ۵۶۴صفحات میں صرف ۹ موضوعات کا اِحاطہ کیا جاسکا۔ الحمدللہ! اب ’’تحفۂ قادیانیت‘‘ کی تیسری جلد آپ کے ہاتھوں میں ہے، جس میں حیات و نزولِ عیسیٰ اور ظہورِ مہدیؓ کے عنوان پر حضرتِ اقدس کے پانچ اہم ترین رسائل کو جمع کیا گیا ہے۔ یوں تو تمام رسائل اپنی جگہ اہم ہیں، مگر ’’مرزا غلام احمد قادیانی کا مقدمہ عقل و انصاف کی عدالت میں‘‘ اپنی مثال آپ ہے، اگر کوئی صاحبِ عقل وفہم اس کتاب کو تعصب کی عینک اُتارکر پڑھے تو قادیانیت کا سارا کچا چٹھا اس کے سامنے آجائے اور وہ بے ساختہ پکار اُٹھے کہ قادیانی مذہب باطل اور اِسلام دُشمنی پر مبنی ہے۔ اللہ تعالیٰ حضرتِ اقدس کا سایہ ہم پر سلامت رکھے اور آپ کے فیض کو اُمت کے لئے نافع بنائے۔

وَصَلَّی اللہُ عَلٰی نَبِیِّنَا مُحَمَّدٍ وَّآلِہٖ وَأَصْحَابِہٖ أَجْمَعِیْنَ

محمد جمیل خان

خاکپائے حضرتِ اقدس

13

مقدمہ

(جلد چہارم، طبع اوّل)

 

بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ

اَلْحَمْدُ للہِ وَسَلَامٌ عَلٰی عِبَادِہِ الَّذِیْنَ اصْطَفٰی!

شہیدِ اسلام حضرت مولانا محمد یوسف لدھیانوی نوّر اللہ مرقدہٗ کو قدرت نے تردیدِ قادیانیت کے لئے منتخب کیا تھا، آپؒ کی طالب علمی کے دور سے ہی تربیت اس ماحول میں ہوئی تھی، چنانچہ جامعہ خیرالمدارس میں تعلیم کے دوران آپؒ جمعہ کی تقریر سننے کے لئے حضرت مولانا محمد علی جالندھری رحمۃ اللہ علیہ کی مسجد تشریف لے جاتے تھے۔ اسی کا فطری اثر تھا کہ ’’قادیانیت‘‘ کی نفرت دِل میں بیٹھی ہوئی تھی، ابتدائی تدریسی دور میں جب آپؒ کی نظر ’’صدقِ جدید‘‘ کے اس شذرہ پر پڑی جس میں مولانا عبدالماجد دریاآبادی نے لاعلمی یا غلط فہمی کی بنا پر قادیانیوں کی حمایت کی تھی، تو آپؒ تڑپ اُٹھے، اور فوری طور پر اس کا جواب لکھ کر ماہنامہ ’’دارالعلوم‘‘ دیوبند کو اِرسال کردیا، جو نہایت آب وتاب کے ساتھ ’’دارالعلوم‘‘ میں شائع ہوا۔ اس کے بعد آپؒ اپنی تدریسی مصروفیات میں منہمک ہوگئے تاآنکہ قدرت کی طرف سے تردیدِ قادیانیت کے لئے آپ کو زندگی وقف کرنے کا حکم نامہ محدث العصر علامہ سیّد محمد یوسف بنوری رحمۃ اللہ علیہ کی طرف سے ملا، اور آپؒ نے اپنی قلمی جولانیوں کا رُخ تردیدِ قادیانیت کی طرف ایسا پھیرا کہ آج اس موضوع پر سب سے زیادہ لٹریچر آپؒ کا تحریر کردہ ہے جو ’’تحفۂ قادیانیت‘‘ کی شکل میں ہزاروں صفحات پر مشتمل ہے، جو تین جلدوں میں شائع ہوچکا ہے۔ آپؒ کے سانحۂ شہادت کے بعد ظاہری طور پر یہ سلسلہ منقطع ہوگیا مگر آپؒ کے بعض مضامین جن میں آپؒ کی وہ پہلی تحریر بھی شامل ہے، اب چوتھی

14

جلد کی شکل میں پیشِ خدمت ہے۔ جس میں حسبِ سابق حضرت شہیدؒ کے معاونِ خصوصی رفیقِ مکرم مولانا سعید احمد جلال پوری کی تدوین وترتیب کی محنت وکاوش قابلِ تحسین ہے، اسی طرح مولانا نعیم امجد سلیمی، برادرم عبداللطیف طاہر، جناب سیّد اطہر عظیم، برادرم حافظ عتیق الرحمن لدھیانوی کی معاونت بھی شامل رہی ہے۔ اللہ تعالیٰ ان تمام حضرات کو جزائے خیر عطا فرمائے اور اس مجموعے کو حضرتِ شہیدؒ کے لئے صدقۂ جاریہ بنائے۔ آمین!

وَصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی خَیْرِ خَلْقِہٖ مُحَمَّدٍ وَّآلِہٖ وَصَحْبِہٖ اَجْمَعِیْنَ

(مفتی) محمد جمیل خان

خاکپائے حضرت شہیدِ اسلامؒ

15

پیش لفظ

(جلد پنجم، طبع اوّل)

 

بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ

اَلْحَمْدُ للہِ وَسَلَامٌ عَلٰی عِبَادِہِ الَّذِیْنَ اصْطَفٰی!

مرورِ زمانہ کے ساتھ جہاں اور بہت سی تبدیلیاں رونما ہوجاتی ہیں، وہاں لوگوں کا ذوق و مزاج، ان کا طرزِ زندگی، بود و باش کے طریقے، وعظ و نصیحت کا انداز اور سمجھنے سمجھانے کے اسلوب میں بھی تغیر آجاتا ہے۔ جس طرح معاشرے میں بہت سے دنیاوی انقلابات برپا ہوجاتے ہیں، اسی طرح دینی، مذہبی اور مسلکی اعتبار سے بھی ترقی و تنزلی کے معیار بھی بدل جاتے ہیں۔ مثلاً: آج سے سو سال پہلے جو دینی تصلُّب اور پختگی تھی، یقینا وہ آج نظر نہیں آتی، جن امور کو اب سے پچاس سال پیشتر شرافت و دیانت کے خلاف سمجھا جاتا تھا، افسوس کہ اب وہی چیزیں ترقی کا معیار سمجھی جانے لگی ہیں، اور جن کو کسی زمانہ میں معائب جانا جاتا تھا، چشمِ بد دُور! اب وہی محاسن شمار ہونے لگے ہیں۔

ایک دور تھا کہ ننگے سر پھرنے، سگریٹ پینے، کھڑے ہوکر کھانے، مردوں اور عورتوں کی مخلوط محافل اور غیرمحارم سے اختلاط کو شرافت و دیانت کے خلاف تصور کیا جاتا تھا، مگر صدافسوس! کہ اب ان تمام اُمور کو ’’فیشن‘‘ کا نام دیا جاتا ہے۔ چنانچہ جوں جوں خیر مٹتی گئی اس کی جگہ شر آتا گیا، تو لوگوں کی دینی اور ملّی غیرت بھی کمزور ہوتی گئی، اور جیسے جیسے لوگوں کی دین و ملت سے وابستگی کمزور ہوتی گئی، اسی تیزی سے باطل اپنے پرپُرزے نکالنے لگا، اور اس نے نت نئے انداز سے مسلمانوں کو اپنے دام میں پھانسنے کے ہتھکنڈے اور سیدھے سادے مسلمانوں کو گمراہ کرنے کے حربے ایجاد کئے۔ مگر چونکہ اسلام ایک آفاقی دین ہے، اور وہ قیامت تک باقی رہے گا، اس لئے اس کے خلاف کی جانے والی ہر سازش نے ناکامی کا منہ دیکھا۔

16

’’فتنۂ قادیانیت‘‘ نے اپنی پیدائش سے لے کر آج تک کتنے انداز بدلے؟ کیا کیا حربے اختیار کئے؟ اور مسلمانوں کو کس کس طرح دین و ایمان سے برگشتہ کرنے کی کوشش کی؟ اس کا اندازہ وہی لگاسکتا ہے جس کو ’’فتنۂ قادیانیت‘‘ کے ساتھ کسی قدر واسطہ اور سابقہ رہا ہوگا۔

اللہ تعالیٰ ہر دور اور ہر زمانہ میں باطل کی سرکوبی کے لئے اپنے کچھ خاص بندوں کو منتخب فرماتے ہیں، جن کی رات دن اور صبح و شام اسی فکر میں گزرتی ہے کہ کس طرح باطل کا راستہ روکا جائے؟ چنانچہ اِنہیں رجالِ کار میں سے ایک ہمارے حضرت مولانا محمد یوسف لدھیانوی شہیدؒ بھی تھے، جنہوں نے ’’قادیانیت‘‘ کا تار و پود بکھیرنے کے لئے نہایت خوبصورت اور اچھوتا انداز اختیار کیا، اور دورِ حاضر کے تقاضوں کے عین مطابق قادیانی شبہات کا جواب دیا۔ بلامبالغہ حضرت شہیدؒ کے سہل، عام فہم، سلیس و شستہ انداز اور مدلل تحریر و تقریر کی وجہ سے ’’قادیانیت‘‘ کے ایوان میں بھونچال آگیا۔

حضرت شہیدؒ نے اس موضوع پر متعدد رسائل و مقالات سپرد قلم کئے، جو پاکستان و بیرون پاکستان اخبارات و مجلات میں شائع ہوئے، عدالتی کاروائیوں کا حصہ بنے، اور مستقل کتابچوں کی شکل میں بھی اشاعت پذیر ہوئے۔ چنانچہ آپؒ کے رسائل و مقالات کو یکجا کتابی شکل میں شائع کرنے کا سلسلہ شروع ہوا تو بحمداللہ ’’تحفۂ قادیانیت‘‘ کے نام سے اس کی چار ضخیم جلدیں شائع ہوکر خاص و عام کے ہاں شرفِ قبولیت حاصل کرچکی ہیں، پیش نظر پانچویں جلد بھی اسی سلسلہ کی ایک کڑی ہے، جس میں ۹۴ مقالات و مضامین اور شذرات کو شامل کیا گیا ہے۔ اللہ تعالیٰ حضرتؒ کے خدام کی اس محنت کو شرفِ قبول عطا فرماکر ذریعۂ نجات، حضرت شہیدؒ کی بلندیٔ درجات، تمام کارکنان کے لئے باعث شفاعت اور قادیانی عوام کے لئے ہدایت کا وسیلہ بنائے، آمین!

خاکپائے حضرت لدھیانوی شہید

سعید احمد جلال پوری

۰۳؍۱؍۴۲۴۱ھ

17

پیشِ لفظ

(جلد ششم، طبع اوّل)

 

بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ

اَلْحَمْدُ للہِ وَسَلَامٌ عَلٰی عِبَادِہِ الَّذِیْنَ اصْطَفٰی!

اللہ تعالیٰ کو دین کی حفاظت و صیانت کا کام لینا آتا ہے، وہ جب اور جس سے چاہیں اپنے دین کی خدمت لے سکتے ہیں، اسی طرح وہ جب کسی کو دین کے کسی شعبہ کے لئے منتخب فرماتے ہیں، تو استعداد و صلاحیت، اسباب و وسائل اور اس کے مناسب محنت کا میدان بھی مہیا فرمادیتے ہیں۔

ایسے ہی جب کوئی باطل پرست، دین و مذہب کے خلاف سر اُٹھاتا ہے، اس کی سرکوبی کے لئے نہ صرف کسی کو کھڑا کرنا جانتے ہیں، بلکہ باطل اور باطل پرستوں کی ذہنی، فکری سوچ کا تعاقب، ان کی نام نہاد تحقیقات کا حدودِ اربعہ اور ان کی نئی نئی موشگافیوں کے تار و پود بکھیرنے کی صلاحیت بھی ودیعت فرمادیتے ہیں۔

اُسے لسان و بیان اور قلم و قرطاس، سیف و سنان کا اسلوب اور جرأت و ہمت سے بولنے اور لکھنے کے ڈھنگ سے معمور فرمادیتے ہیں۔

ان سب سے بڑھ کر اس کے دل و دماغ میں حق و صداقت کی اہمیت، ایمان و اسلام اور دین و مذہب کی ترقی، اس کی راہ میں پیش آنے والی رُکاوٹیں دور کرنے کا جذبہ اور ولولہ بھی عطا فرمادیتے ہیں۔

ایسے ہی کفر و شرک، ظلم و تعدی، جور و عدوان اور عصیان و طغیان سے نفرت کا جذبہ بھی ان کے اندر کوٹ کوٹ کر بھر دیتے ہیں۔

18

یہاں تک کہ اس کو کھانا پینا، سونا جاگنا، بیوی بچوں، مال و دولت، راحت و آرام، چین و سکون وغیرہ سب ہی کو اس مقصد کے لئے قربان کرنا، آسان لگتا ہے۔

دین، دینی اقدار کی سربلندی اور کفر و ضلال کی تردید اور مدعیٔ کاذب مرزا غلام احمد قادیانی کی تغلیط کے سلسلہ میں ہمارے مخدوم و محبوب حضرت مولانا محمد یوسف لدھیانوی شہیدؒ کو یہی مقام حاصل تھا، چنانچہ بارہا مشاہدہ ہوا کہ آپ کسی دُور دَراز کے سفر سے تھکے ہارے پہنچے، ادھر کوئی مرزائی یا قادیانیت زدہ آگیا، جیسے ہی اس نے قادیانیت پر کوئی سوال کیا، آپ کو اپنی ساری تھکن بھول گئی اور گھنٹوں اس سے بیٹھ کر ایمان و کفر اور کذبِ مرزا پر بات کرتے اور دلائل و براہین سے اُسے قادیانی دجل و فریب سے آشنا کرتے، مرزا کی دسیسہ کاریاں سمجھاتے، نہایت سوز و درد سے اس کا ایمان بچانے کی فکر کرتے، اور دُودھ کا دُودھ اور پانی کا پانی کرکے بتلاتے۔

یہ اسی جذبۂ خیرخواہی و نصح کی برکت ہے کہ آپ نے اُمت کو قادیانی مسئلہ سمجھانے، مسیلمۂ پنجاب کے مکر و فریب کے خد و خال واضح کرنے اور قادیانی اُمت کو حقائق سے آگاہ کرنے کے لئے زندگی وقف کردی، آپ نے مناظرے اور مباہلے کئے، خطابات و تقاریر کیں، رسائل و کتب اور مقالات و مضامین لکھ کر قادیانیت کو ننگا کیا۔ جب آپ کے لکھے گئے مقالات و مضامین اور رسائل و کتب کو یکجا کیا گیا تو ’’تحفۂ قادیانیت‘‘ کے نام سے اس کی کئی جلدیں وجود میں آگئیں۔ پیشِ نظر مجموعہ اس سلسلہ کی چھٹی جلد ہے، جو اَب تک غیرمطبوعہ مضامین، مقالات و خطابات اور محاضرات کا مجموعہ ہے، اللہ تعالیٰ اس کو اُمت کے لئے مفید بنائے، قادیانیت زدہ افراد کے لئے ہدایت، ہمارے اور حضرت شہیدؒ کے لئے مغفرت و نجاتِ آخرت کا ذریعہ بنائے، آمین!

خاکپائے حضرت لدھیانوی شہید

سعید احمد جلال پوری

۶؍۱۱؍۵۲۴۱ھ

19

فہرست

  1. عقیدۂ ختمِ نبوّت 21
  2. عقیدۂ ختمِ نبوّت 22
  3. ’’خاتم النبیین‘‘ کے معنی 65
  4. عقیدۂ ختمِ نبوّت کا منکر ملعون و مردُود ہے 71
  5. منکرینِ ختمِ نبوّت سے بغض اِیمان کا حصہ ہے 88
  6. منکرینِ ختمِ نبوّت کے لئے اصلی شرعی فیصلہ 103
  7. توہینِ انبیاء کفر ہے! 108
  8. عقیدۂ ختمِ نبوّت: ایک سوال کا جواب 110
  9. دار العلوم دیوبند اور عقیدۂ تحفظ ختمِ نبوّت 116
  10. مسئلۂ ختمِ نبوّت اور حضرت نانوتویؒ 213
  11. حریمِ نبوّت کی پاسبانی کا اِعزاز! 237
  12. تحریکِ ختمِ نبوّت اور حضرت بنوری 241
  13. اِرتداد کا مقابلہ اور اس دور میں اس کا مصداق 272
  14. عقیدۂ ختمِ نبوّت کے لئے کام کرنے والوں کے لئے خصوصی اِنعام 296
  15. ختمِ نبوّت اور برطانوی مسلمانوں کی ذمہ داری 298
  16. حیات ونزولِ سیّدنا عیسیٰ علیہ السلام 307
  17. حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی حیات و نزول کا عقیدہ چودہ صدیوں کے مجدّدین واکابرِ اُمت کی نظر میں 308
  18. نزولِ مسیح کا عقیدہ ایمانیات میں سے ہے 581
  19. رفع الی السماء کا مفہوم! 584
  20. رفع و نزولِ عیسیٰ ؑ کا منکر کافر ہے! ایک سوال اور اس کا جواب 587
20

عقیدۂ ختم نبوّت

21

عقیدۂ ختمِ نبوّت

 

بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ

اَلْحَمْدُ للہِ وَسَلَامٌ عَلٰی عِبَادِہِ الَّذِیْنَ اصْطَفٰی!

 

قرآن و سنت کے قطعی نصوص سے ثابت ہے کہ نبوّت و رِسالت کا سلسلہ حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر ختم کردیا گیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نبوّت کی آخری کڑی ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد کسی شخص کو منصبِ نبوّت پر فائز نہیں کیا جائے گا۔ چنانچہ قرآن مجید میں ہے:

’’مَا کَانَ مُحَمَّدٌ اَبَآ اَحَدٍ مِّنْ رِجَالِکُمْ وَلٰـکِنْ رَّسُوْلَ اللہِ وَخَاتَمَ النَّبِیّٖنَ، وَکَانَ اللہُ بِکُلِّ شَیْئٍ عَلِیْمًا۔‘‘

(الاحزاب:40)

ترجمہ: … ’’محمد (ﷺ) تمہارے مردوں میں سے کسی کے باپ نہیں ہیں، لیکن اللہ کے رسول ہیں اور سب نبیوں کے ختم پر ہیں، اور اللہ تعالیٰ ہر چیز کو خوب جانتا ہے۔‘‘

(ترجمہ حضرت تھانویؒ)

تمام مفسرین کا اس پر اِتفاق ہے کہ ’’خاتم النبیین‘‘ کے معنی یہ ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم آخری نبی ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد کسی کو منصبِ نبوّت پر فائز نہیں کیا جائے گا۔ چنانچہ اِمام حافظ ابنِ کثیر رحمہ اللہ اس آیت کے ذیل میں اپنی تفسیر میں لکھتے ہیں:

’’فھٰذہ الآیۃ نص فی أنہ لَا نبی بعدہ واذا کان

لا نبی بعدہ فلا رسول بالطریق الأولیٰ، والأخریٰ: لأن مقام

22

الرسالۃ أخص من مقام النبوۃ فان کلّ رسول نبی ولَا ینعکس وبذٰلک وردت الأحادیث المتواترۃ عن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم من حدیث جماعۃ من الصحابۃ رضی اللہ عنھم۔‘‘

(تفسیر ابن کثیر ج:۳ ص:۳۹۴)

ترجمہ: … ’’یہ آیت اس مسئلے میں نص ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد کوئی نبی نہیں، اور جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد کوئی نبی نہیں تو رسول بدرجۂ اَوْلیٰ نہیں ہوسکتا، کیونکہ مقامِ نبوّت مقامِ رِسالت سے عام ہے، کیونکہ ہر رسول نبی ہوتا ہے اور ہر نبی رسول نہیں ہوتا، اور اس مسئلے پر کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد کوئی نبی و رسول نہیں، آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی متواتر اَحادیث وارِد ہیں جو صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی ایک بڑی جماعت سے مروی ہیں۔‘‘

اِمام قرطبی رحمہ اللہ اس آیت کے تحت لکھتے ہیں:

’’قال ابن عطیۃ: ھٰذہ الألفاظ عند جماعۃ علماء الاُمّۃ خلفًا وسلفًا متلقاۃ علی العموم التام مقتضیۃ نصًّا أنہ لَا نبی بعدہ صلی اللہ علیہ وسلم۔‘‘

(تفسیر قرطبی ج:۴۱ ص:۶۹۱)

ترجمہ: … ’’ابن عطیہؒ فرماتے ہیں کہ خاتم النبیین کے یہ الفاظ تمام قدیم و جدید علمائے اُمت کے نزدیک کامل عموم پر ہیں، جو نصِ قطعی کے ساتھ تقاضا کرتے ہیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد کوئی نبی نہیں۔‘‘

حجۃالاسلام اِمام غزالی رحمہ اللہ ’’الاقتصاد‘‘ میں فرماتے ہیں:

’’ان الاُمَّۃ فھمت بالْاجماع من ھٰذا اللفظ ومن
23

قرائن أحوالہ أنہ أفھم عدم نبی بعدہ أبدا ۔۔۔۔۔ وأنہ لیس فیہ تأویل ولَا تخصیص، فمنکر ھٰذا، لَا یکون الا منکر الْاجماع۔‘‘

(الْاقتصاد فی الْاعتقاد ص:۳۲۱)

ترجمہ: … ’’بے شک اُمت نے بالاجماع اس لفظ (خاتم النبیین) سے یہ سمجھا ہے کہ اس کا مفہوم یہ ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد نہ کوئی نبی ہوگا اور نہ رسول، اور اس پر اِجماع ہے کہ اس لفظ میں کوئی تأویل و تخصیص نہیں، پس اس کا منکر یقینا اِجماعِ اُمت کا منکر ہے۔‘‘

ختمِ نبوّت اور اَحادیثِ نبویہ

آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے متواتر اَحادیث میں اپنے خاتم النبیین ہونے کا اِعلان فرمایا اور ختمِ نبوّت کی ایسی تشریح بھی فرمادی کہ اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے آخری نبی ہونے میں کسی شک و شبہ اور تأویل کی گنجائش باقی نہیں رہی۔ متعدّد اَکابرؒ نے ان احادیثِ ختمِ نبوّت کے متواتر ہونے کی تصریح کی ہے، چنانچہ حافظ ابنِ حزم ظاہریؒ کتاب ’’الفصل فی الملل والأھواء والنحل‘‘ میں لکھتے ہیں:

’’وقد صح عن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بنقل الکواف التی نقلت نبوتہ وأعلامہ وکتابہ أنہ أخبر أنہ لَا نبی بعدہ۔‘‘

(کتاب الفصل ج:۱ ص:۷۷)

ترجمہ: … ’’وہ تمام حضرات جنہوں نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوّت، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے معجزات اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی کتاب (قرآنِ کریم) کو نقل کیا ہے، انہوں نے یہ بھی نقل کیا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ خبر دی تھی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد کوئی نبی نہیں۔‘‘

24

حافظ ابن کثیر رحمہ اللہ آیت ’’خاتم النبیین‘‘ کے تحت لکھتے ہیں:

’’وبذالک وردت الأحادیث المتواترۃ عن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم من حدیث جماعۃ من الصحابۃ رضی اللہ عنھم۔‘‘

(تفسیر ابن کثیر ج:۳ ص:۳۹۴)

ترجمہ: … ’’اور ختمِ نبوّت پر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے احادیثِ متواترہ وارِد ہوئی ہیں، جن کو صحابہ رضی اللہ عنہم کی ایک بڑی جماعت نے بیان فرمایا۔‘‘

اور علامہ سیّد محمد آلوسی رحمہ اللہ تفسیر ’’رُوح المعانی‘‘ میں زیرِ آیت خاتم النبیین لکھتے ہیں:

’’وکونہ صلی اللہ علیہ وسلم خاتم النبیین مما نطق بہ الکتاب وصدعت بہ السُّنَّۃ وأجمعت علیہ الاُمَّۃ فیکفر مدعی خلافہ ویقتل ان أصرّ۔‘‘

(رُوح المعانی ج:۲۲ ص:۱۴)

ترجمہ: … ’’اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا خاتم النبیین ہونا ایسی حقیقت ہے جس پر قرآن ناطق ہے، احادیثِ نبویہ نے جس کو واشگاف طور پر بیان فرمایا ہے اور اُمت نے جس پر اِجماع کیا ہے، پس جو شخص اس کے خلاف کا مدعی ہو، اس کو کافر قرار دِیا جائے گا، اور اگر وہ اس پر اِصرار کرے تو اس کو قتل کیا جائے گا۔‘‘

حدیث۱: …

’’عَنْ أَبِیْ ھُرَیْرَۃَ رَضِیَ اللہُ عَنْہُ أَنَّ رَسُوْلَ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَالَ: مَثَلِیْ وَمَثَلُ الْأَنْبِیَائِ مِنْ قَبْلِیْ کَمَثَلِ رَجُلٍ بَنٰی بُنْیَانًا فَأَحْسَنَہٗ وَأَجْمَلَہٗ الا مَوْضِعَ لَبِنَۃٍ مِّنْ زَاوَیَۃٍ مِّنْ زَوَایَاہُ فَجَعَلَ النَّاسُ یَطُوْفُوْنَ بِہٖ وَیَعْجَبُوْنَ لَہٗ وَیَقُوْلُوْنَ: ھَلّا وُضِعَتْ
25

ھٰذِہِ اللَّبِنَۃُ؟ قَالَ: فَأَنَا اللَّبِنَۃُ! وَأَنَا خَاتَمُ النَّبِیِّیْنَ!‘‘

(صحیح البخاری، کتاب المناقب ج:۱ ص:۱۰۵، صحیح مسلم ج:۲ ص:۸۴۲ واللفظ لہٗ)

ترجمہ: … ’’حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ: میری اور مجھ سے پہلے انبیاء کی مثال ایسی ہے کہ ایک شخص نے بہت ہی حسین و جمیل محل بنایا، مگر اس کے کسی کونے میں ایک اِینٹ کی جگہ چھوڑ دی، لوگ اس کے گرد گھومنے اور اس پر عش عش کرنے لگے اور یہ کہنے لگے کہ یہ ایک اِینٹ بھی کیوں نہ لگادی گئی؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں وہی (کونے کی آخری) اِینٹ ہوں اور میں نبیوں کو ختم کرنے والا ہوں۔‘‘

یہ حدیث حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کے علاوہ مندرجہ ذیل صحابہؓ سے بھی مروی ہے:

۱: … حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما، ان کی حدیث کے الفاظ صحیح مسلم میں درج ذیل ہیں:

’’قَالَ رَسُوْلُ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ: فَأَنَا مَوْضِعُ اللَّبِنَۃِ جِئْتُ فَخَتَمْتُ الْأَنْبِیَاءَ۔‘‘

(مسند احمد ج:۳ ص:۱۶۳، صحیح بخاری ج:۱ ص:۱۰۵، مسلم ج:۲ ص:۸۴۱، ترمذی ج:۱ ص:۹۰۱)

ترجمہ: … ’’رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: پس میں اس اِینٹ کی جگہ ہوں، میں آیا، پس میں نے نبیوں کا سلسلہ ختم کردیا۔‘‘

۲: … حضرت اُبیّ بن کعب رضی اللہ عنہ، ان کی حدیث کے الفاظ یہ ہیں:

’’مَثَلِیْ فِی النَّبِیِّیْنَ کَمَثَلِ رَجُلٍ بَنٰی دَارًا فَأَحْسَنَھَا
26

وَأَکْمَلَھَا وَأَجْمَلَھَا وَتَرَکَ مِنْھَا مَوْضِعَ لَبِنَۃٍ فَجَعَلَ النَّاسَ یَطُوْفُوْنَ بِالْبِنَائِ، وَیَعْجَبُوْنَ مِنْہُ وَیَقُوْلُوْنَ: لَوْ تُمَّ مَوْضِعَ تِلْکَ اللَّبِنَۃِ! وَأَنَا فِی النَّبِیِّیْنَ مَوْضِعَ تِلْکَ اللَّبِنَۃِ۔‘‘ قَالَ التِّرْمِذِیْ: ھٰذَا حَدِیْثٌ حَسَنٌ صَحِیْحٌ۔

(مسند احمد ج:۵ ص:۷۳۱، ترمذی ج:۲ ص:۱۰۲)

ترجمہ: … ’’انبیائے کرام میں میری مثال ایسی ہے کہ ایک شخص نے بڑا حسین و جمیل اور کامل و مکمل محل بنایا، مگر اس میں ایک اِینٹ کی جگہ چھوڑ دی، پس لوگ اس محل کے گرد گھومتے اور اس کی عمدگی پر تعجب کرتے اور یہ کہتے کہ: کاش! اس اِینٹ کی جگہ بھی پُر کردی جاتی۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ: میں نبیوں میں اس اِینٹ کی جگہ ہوں۔‘‘ اِمام ترمذیؒ فرماتے ہیں کہ: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔

۳: … حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ، مسندِ احمد میں ان کی حدیث کے الفاظ یہ ہیں:

’’مِثْلِیْ وَمِثْلَ النَّبِیِّیْنَ مِنْ قَبْلِیْ کَمَثَلِ رَجُلٍ بَنٰی دَارًا فَأَتَمَّھَا الا لَبِنَۃٍ وَّاحِدَۃٍ فَجِئْتُ أَنَا فَأَتْمَمْتُ تِلْکَ اللَّبِنَۃِ۔‘‘

(مسند احمد ج:۳ ص:۹، واللفظ لہٗ، صحیح مسلم ج:۲ ص:۸۴۲، جامع الاصول ج:۸ ص:۹۳۵)

ترجمہ: … ’’میری اور دُوسرے نبیوں کی مثال ایسی ہے کہ ایک شخص نے محل بنایا، پس اس کو پورا کردیا، مگر صرف ایک اِینٹ کی جگہ چھوڑ دی، پس میں آیا اور میں نے اس اِینٹ کو پورا کردیا۔‘‘

ان احادیث میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ختمِ نبوّت کی ایک محسوس مثال بیان فرمائی ہے اور اہلِ عقل جانتے ہیں کہ محسوسات میں کسی تأویل کی گنجائش نہیں ہوتی۔

27

حدیث ۲:.....

’’عَنْ أَبِیْ ھُرَیْرَۃَ رَضِیَ اللہُ عَنْہُ أَنَّ رَسُوْلَ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَالَ: فُضِّلْتُ عَلَی الْأَنْبِیَائِ بِسِتٍّ، أُعْطِیْتُ جَوَامِعَ الْکَلِمِ وَنُصِرْتُ بِالرُّعْبِ وَأُحِلَّتْ لِیَ الْغَنَائِمُ وَجُعِّلَتْ لِیَ الْأَرْضُ طُھُوْرًا وَّمَسْجِدًا وَأُرْسِلْتُ الَی الْخَلْقِ کَافَّۃً وَخُتِمَ بِیَ النَّبِیُّوْنَ۔‘‘

(صحیح مسلم ج:۱ ص:۹۹۱، مشکوٰۃ ص:۲۱۵)

ترجمہ: … ’’حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ: مجھے چھ چیزوں میں انبیائے کرامؑ پر فضیلت دی گئی ہے: ۱مجھے جامع کلمات عطا کئے گئے ہیں، ۲رُعب کے ساتھ میری مدد کی گئی ہے، ۳مالِ غنیمت میرے لئے حلال کردیا گیا ہے، ۴رُوئے زمین کو میرے لئے مسجد اور پاک کرنے والی چیز بنادیا گیا ہے، ۵مجھے تمام مخلوق کی طرف مبعوث کیا گیا ہے، ۶اور مجھ پر نبیوں کا سلسلہ ختم کردیا گیا ہے۔‘‘

اس مضمون کی ایک حدیث صحیحین میں حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے بھی مروی ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ مجھے پانچ چیزیں ایسی دی گئی ہیں جو مجھ سے پہلے کسی کو نہیں دی گئیں، اس کے آخر میں ہے:

’’وَکَانَ النَّبِیُّ یُبْعَثُ إِلیٰ قَوْمِہٖ خَاصَّۃً وَّبُعِثْتُ إِلَی النَّاسِ عَامَّۃً۔‘‘

(مشکوٰۃ ص:۲۱۵)

ترجمہ: … ’’پہلے انبیاء کو خاص ان کی قوم کی طرف مبعوث کیا جاتا تھا، اور مجھے تمام انسانوں کی طرف مبعوث کیا گیا۔‘‘

حدیث ۳: …

’’عَنْ سَعَدِ بْنِ أَبِیْ وَقَّاصٍ رَضِیَ اللہُ عَنْہُ قَالَ: قَالَ
28

رَسُوْلُ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ لِعَلِیٍّ: أَنْتَ مِنِّیْ بِمَنْزَلَۃِ ھَارُوْنَ مِنْ مُّوْسٰی، إِلّا أَنَّہٗ لَا نَبِیَّ بَعْدِیْ۔‘‘

(صحیح بخاری ج:۲ ص:۳۳۶)

وَفِیْ رِوَایَۃِ الْمُسْلِمِ: ’’أَنَّہٗ لَا نُبُوَّۃَ بَعْدِیْ‘‘

(صحیح مسلم ج:۲ ص:۸۷۲)

ترجمہ: … ’’سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت علی رضی اللہ عنہ سے فرمایا: تم مجھ سے وہی نسبت رکھتے ہو جو ہارون کو موسیٰ (علیہما السلام) سے تھی، مگر میرے بعد کوئی نبی نہیں۔‘‘ اور مسلم کی ایک روایت میں ہے کہ: ’’میرے بعد نبوّت نہیں۔‘‘

یہ حدیث متواتر ہے اور حضرت سعدؓ کے علاوہ مندرجہ ذیل صحابہ کرامؓ کی جماعت سے بھی مروی ہے:

۱: … حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ۔

(مسند احمد ج:۳ ص:۸۳۳، ترمذی ج:۲ ص:۴۱۲، ابن ماجہ ص:۲۱)

۲: … حضرت عمر رضی اللہ عنہ۔

(کنز العمال ج:۱۱ ص:۷۰۶ حدیث نمبر:۴۳۹۲۳)

۳: … حضرت علی رضی اللہ عنہ۔

(کنز ج:۳۱ ص:۸۵۱ حدیث نمبر:۸۸۴۶۳، مجمع الزوائد ج:۹ ص:۰۱۱)

۴: … اسماء بنت عمیس رضی اللہ عنہا۔

(مسند احمد ج:۶ ص:۸۳۴، مجمع ج:۹ ص:۹۰۱، کنز ج:۱۱ ص:۷۰۶ حدیث نمبر:۷۳۹۲۳)

۵: … ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ۔

(کنز العمال ج:۱۱ ص:۳۰۶ حدیث نمبر:۵۱۹۱۲۳، مجمع الزوائد ج:۹ ص:۹۰۱)

۶: … ابو اَیوب انصاری رضی اللہ عنہ۔

(مجمع الزوائد ج:۹ ص:۱۱۱)

۷: … جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ۔

(ایضاً ج:۹ ص:۰۱۱)

29

۸: … اُمِّ سلمہ رضی اللہ عنہا۔

(ایضاً ج:۹ ص:۹۰۱)

۹: … براء بن عازب رضی اللہ عنہ۔

(ایضاً ج:۹ ص:۱۱۱)

۰۱: … زید بن ارقم رضی اللہ عنہ۔

(ایضاً ج:۹ ص:۱۱۱)

۱۱: … عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما۔

(مجمع ج:۹ ص:۰۱۱، خصائص کبریٰ سیوطی ج:۲ ص:۹۴۲)

۱۲: … حبشی بن جنادہ رضی اللہ عنہ۔

(کنز ج:۳۱ ص:۲۹۱ حدیث نمبر:۲۷۵۶۳، مجمع ج:۹ ص:۹۰۱)

۱۳: … مالک بن حسن بن حویرث رضی اللہ عنہ۔

(کنز ج:۱۱ ص:۶۰۶ حدیث نمبر:۲۳۹۲۳)

۱۴: … زید بن ابی اوفیٰ رضی اللہ عنہ۔

(کنز ج:۳۱ ص:۵۰۱ حدیث نمبر:۵۴۳۶۳)

واضح رہے کہ جو حدیث دس سے زیادہ صحابہ کرامؓ سے مروی ہو، حضراتِ محدثین اسے احادیثِ متواترہ میں شمار کرتے ہیں، چونکہ یہ حدیث دس سے زیادہ صحابہ کرامؓ سے مروی ہے اس لئے مسند الہند شاہ ولی اللہ محدث دہلوی رحمہ اللہ نے اس کو متواترات میں شمار کیا ہے۔

حضرت شاہ صاحب رحمہ اللہ ’’ازالۃ الخفا‘‘ میں ’’مآثرِ علیؓ‘‘ کے تحت لکھتے ہیں:

’’فمن المتواتر: أنت مِنِّی بمنزلۃ ھارون من موسٰی۔‘‘

(إزالۃ الخفاء مترجم ج:۴ ص:۴۴۴، مطبوعہ قدیمی کتب خانہ کراچی)

ترجمہ: … ’’متواتر اَحادیث میں سے ایک حدیث یہ ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت علی رضی اللہ عنہ سے فرمایا: تم مجھ سے وہی نسبت رکھتے ہو جو ہارون کو موسیٰ (علیہما السلام) سے تھی۔‘‘

حدیث ۴: …

’’عَنْ أَبِیْ ھُرَیْرَۃَ رَضِیَ اللہُ عَنْہُ یُحَدِّثُ عَنِ النَّبِیِّ
30

صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَالَ: کَانَتْ بَنُوْ إِسْرَائِیْلَ تَسُوْسُھُمُ الْأَنْبِیَاءَ، کُلَّمَا ھَلَکَ نَبِیٌّ خَلَفَہٗ نَبِیٌّ، وَإِنَّہٗ لَا نَبِیَّ بَعْدِیْ وَسَیَکُوْنُ خُلَفَاءَ فَیَکْثُرُوْنَ۔‘‘

(صحیح بخاری ج:۱ ص:۱۹۴، واللفظ لہٗ، صحیح مسلم ج:۲ ص:۶۲۱، مسند احمد ج:۲ ص:۷۹۲)

ترجمہ: … ’’حضرت ابوہریرہ ر ضی اللہ عنہ رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کرتے ہیں کہ حضور علیہ السلام نے فرمایا کہ: بنی اسرائیل کی قیادت خود ان کے انبیاء کیا کرتے تھے، جب کسی نبی کی وفات ہوتی تھی تو اس کی جگہ دُوسرا نبی آتا تھا، لیکن میرے بعد کوئی نبی نہیں، البتہ خلفاء ہوں گے اور بہت ہوں گے۔‘‘

بنی اسرائیل میں غیرتشریعی انبیاء آتے تھے جو موسیٰ علیہ السلام کی شریعت کی تجدید کرتے تھے، مگر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد ایسے انبیاء کی آمد بھی بند ہے، البتہ مجدّدینِ اُمت ضرور آئیں گے جیسا کہ ابوداؤد وغیرہ کی حدیث میں آیا ہے:

’’إِنَّ اللہَ یَبْعَثُ لِھٰذِہِ الْاُمَّۃِ عَلٰی رَأْسِ کُلِّ مِاءَۃِ سَنَۃٍ مَّنْ یُّجَدِّدُ لَھَا دِیْنَھَا۔‘‘

(ابوداؤد ج:۲ ص:۳۳۲)

ترجمہ: … ’’بے شک اللہ تعالیٰ اس اُمت کے لئے ہر صدی پر ایسے لوگوں کو کھڑا کرے گا جو اس کے لئے دِین کی تجدید کریں گے۔‘‘

حدیث ۵: …

’’عَنْ ثَوْبَانَ رَضِیَ اللہُ عَنْہُ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ: إِنَّہٗ سَیَکُوْنُ فِیْ اُمّتِیْ کَذَّابُوْنَ ثَلَاثُوْنَ، کُلُّھُمْ یَزْعَمُ أَنَّہٗ نَبِیٌّ، وَأَنَا خَاتَمُ النَّبِیِّیْنَ لَا نَبِیَّ بَعْدِیْ۔‘‘

(ابوداؤد ج:۲ ص:۸۲۲، واللفظ لہٗ، ترمذی ج:۲ ص:۵۴)

ترجمہ: … ’’حضرت ثوبان رضی اللہ عنہ سے روایت

31

ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ: میری اُمت میں تیس جھوٹے پیدا ہوں گے، ہر ایک یہی کہے گا کہ میں نبی ہوں، حالانکہ میں خاتم النبیین ہوں، میرے بعد کوئی کسی قسم کا نبی نہیں۔‘‘

یہ مضمون بھی متواتر ہے، اور حضرت ثوبانؓ کے علاوہ مندرجہ ذیل صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین سے مروی ہے:

۱: … حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ۔

(صحیح بخاری ج:۱ ص:۹۰۵، صحیح مسلم ج:۲ ص:۷۹۳)

۲: … حضرت نعیم بن مسعود رضی اللہ عنہ۔

(کنز العمال ج:۴۱ ص:۸۹۱ حدیث نمبر:۲۷۳۸۳)

۳: … ابوبکرہ رضی اللہ عنہ۔

(مشکل الآثار ج:۴ ص:۴۰۱)

۴: … عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما۔

(فتح الباری ج:۶ ص:۷۱۶ حدیث نمبر:۹۰۶۳)

۵: … عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما۔

(فتح الباری ج:۳۱ ص:۷۸ حدیث نمبر:۱۲۱۷)

۶: … عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ۔

(ایضاً)

۷: … علی رضی اللہ عنہ۔

(ایضاً)

۸: … سمرہ رضی اللہ عنہ۔

(ایضاً)

۹: … حذیفہ رضی اللہ عنہ۔

(ایضاً)

۱۰: … انس رضی اللہ عنہ۔

(ایضاً)

۱۱: … نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ۔

(مجمع الزوائد ج:۷ ص:۴۳۳)

تنبیہ:۔۔۔ان تمام احادیث کا متن مجمع الزوائد (ج:۷ ص:۲۳۳-۴۳۳) میں ذکر کیا گیا ہے۔

حدیث ۶: …

’’عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ رَضِیَ اللہُ عَنْہُ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ: إِنَّ الرِّسَالَۃَ وَالنُّبُوَّۃَ قَدِ
32

انْقَطَعَتْ فَلَا رَسُوْلَ بَعْدِیْ وَلَا نَبِیَّ۔‘‘

(ترمذی ج:۲ ص:۱۵، مسند احمد ج:۳ ص:۷۶۲)

ترجمہ: … ’’حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ: رسالت و نبوّت ختم ہوچکی ہے، پس میرے بعد نہ کوئی رسول ہے اور نہ نبی۔‘‘

اِمام ترمذی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ یہ حدیث صحیح ہے، اور حافظ ابنِ کثیر رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اس کو اِمام احمدؒ نے مسند میں بھی روایت کیا ہے۔ حافظ ابنِ حجر رحمہ اللہ نے ’’فتح الباری‘‘ میں اس حدیث میں بروایت ابو یعلیٰ اتنا اِضافہ نقل کیا ہے:

’’وَلٰـکِنْ بَقِیَتِ الْمُبَشِّرَاتِ، قَالُوْا: وَمَا الْمُبَشِّرَاتِ؟ قَالَ: رُؤْیَا الْمُسْلِمِیْنَ جُزْئٌ مِّنْ أَجْزَائِ النُّبُوَّۃِ۔‘‘

(فتح الباری ج:۲۱ ص:۵۷۳)

ترجمہ: … ’’لیکن مبشرات باقی رہ گئے ہیں، صحابہؓ نے عرض کیا کہ: مبشرات کیا ہیں؟ فرمایا: مؤمن کا خواب جو نبوّت کے اجزاء میں سے ایک جز ہے۔‘‘

اس مضمون کی حدیث مندرجہ ذیل صحابہ کرامؓ سے بھی مروی ہے:

۱: … حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ۔

(صحیح بخاری ج:۲ ص:۵۳۰۱)

۲: … حضرت اُمّ المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا۔

(کنز العمال ج:۵۱ ص:۰۷۳ حدیث نمبر:۹۱۴۱۴، مجمع الزوائد ج:۷ ص:۲۷۱)

۳: … حضرت حذیفہ بن اُسید رضی اللہ عنہ۔

(حوالہ بالا)

۴: … حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما۔

(صحیح مسلم ج:۱ ص:۱۹۱، سنن نسائی ج:۱ ص:۸۶۱، ابوداؤد ج:۱ ص:۷۲۱، ابن ماجہ ص:۸۷۲)

۵: … حضرت اُمِّ کرز الکعبیہ رضی اللہ عنہا۔

33

(ابن ماجہ ص:۸۷۲، احمد ج:۶ ص:۱۸۳، فتح الباری ج:۲۱ ص:۵۷۳)

۶: … حضرت ابو الطفیل رضی اللہ عنہ۔

(مسند احمد ج:۵ ص:۴۵۴، مجمع الزوائد ج:۷ ص:۳۷۱)

حدیث ۷: …

’’عَنْ أَبِیْ ھُرَیْرَۃَ رَضِیَ اللہُ عَنْہُ أَنَّہٗ سَمِعَ رَسُوْلُ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یَقُوْلُ: نَحْنُ الْآخِرُوْنَ السَّابِقُوْنَ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ، بَیْدَ أَنَّھُمْ أُوْتُوا الْکِتَابَ مِنْ قَبْلِنَا۔‘‘

(صحیح بخاری ج:۱ ص:۰۲۱، واللفظ لہٗ، صحیح مسلم ج:۱ ص:۲۸۲)

ترجمہ: … ’’حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہم سب کے بعد آئے اور قیامت کے دن سب سے آگے ہوں گے، صرف اتنا ہوا کہ ان کو کتاب ہم سے پہلے دی گئی۔‘‘

اس حدیث میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا آخری نبی ہونا اور اپنی اُمت کا آخری اُمت ہونا بیان فرمایا ہے، یہ مضمون بھی متعدّد اَحادیث میں آیا ہے:

۱: … ’’عَنْ حُذَیْفَۃَ رَضِیَ اللہُ عَنْہُ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ: (فَذَکَرَ الْحَدِیْثَ، وَفِیْہِ:) وَنَحْنُ الْآخِرُوْنَ مِنْ أَھْلِ الدُّنْیَا وَالْأَوَّلُوْنَ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ اَلْمَقْضِیّ لَھُمْ قَبْلَ الْخَلَائِقِ۔‘‘

(صحیح مسلم ج:۱ ص:۲۸۲، نسائی ج:۱ ص:۲۰۲)

ترجمہ: … ’’حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اِرشاد فرمایا کہ ہم اہلِ دُنیا میں سب سے آخر میں آئے، اور قیامت کے دن سب سے پہلے ہوں گے، جن کا فیصلہ ساری مخلوق سے پہلے کیا جائے گا۔‘‘

34
۲: … ’’عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِیَ اللہُ عَنْھُمَا قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ: (فَذَکَرَ حَدِیْثَ الشَّفَاعَۃِ، وَفِیْہِ:) نَحْنُ الْآخِرُوْنَ الْأَوَّلُوْنَ نَحْنُ آخِرُ الْاُمَمِ وَأَوَّلُ مَنْ یُّحَاسِبُ۔‘‘

(مسند احمد ج:۱ ص:۲۸۲)

ترجمہ: … ’’حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے (حدیثِ شفاعت میں) فرمایا کہ: ہم سب سے پچھلے اور سب سے پہلے ہیں، ہم تمام اُمتوں کے بعد آئے، اور (قیامت کے دن) ہمارا حساب و کتاب سب سے پہلے ہوگا۔‘‘

۳: … ’’عَنْ عَائِشَۃَ رَضِیَ اللہُ عَنْھَا عَنِ النَّبِیِّ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَالَ: أَنَا خَاتِمُ الْأَنْبِیَائِ وَمَسْجِدِیْ خَاتِمُ مَسَاجِدَ الْأَنْبِیَائِ۔‘‘

(کنز العمال ج:۲۱ ص:۰۷۲ حدیث نمبر:۹۹۹۴۳)

ترجمہ: … ’’حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد نقل کرتی ہیں کہ میں آخری نبی ہوں اور میری مسجد انبیاء کی مساجد میں آخری مسجد ہے۔‘‘

۴: … ’’عَنْ أَبِیْ ھُرَیْرَۃَ رَضِیَ اللہُ عَنْہُ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ: کُنْتُ أَوَّلَ النَّبِیِّیْنَ فِی الْخَلْقِ وَآخِرُھُمْ فِی الْبَعْثِ۔‘‘

(کنز العمال ج:۱۱ ص:۹۰۴ و ۲۵۴ حدیث نمبر:۶۱۹۱۳، ۶۲۱۲۳)

ترجمہ: … ’’حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ: میری تخلیق سب نبیوں سے پہلے ہوئی، اور بعثت (دُنیا میں تشریف آوری) سب

35

کے بعد ہوئی۔‘‘

۵: … ’’عَنِ الْعِرْبَاضِ بْنِ سَارِیَۃَ رَضِیَ اللہُ عَنْہُ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ: إِنِّیْ عِنْدَ اللہِ فِیْ أَوَّلِ الْکِتَابِ خَاتَمُ النَّبِیِّیْنَ وَإِنَّ آدَمَ لَمُنْجَدِلٌ فِیْ طِیْنَتِہٖ۔‘‘

(مجمع الزوائد ج:۸ ص:۳۲۲، مسند احمد ج:۴ ص:۷۲۱، مستدرک حاکم ج:۲ ص:۰۰۶، واللفظ لہٗ، کنز العمال ج:۱۱ حدیث:۰۶۹۱۳ - ۴۱۱۲۳)

ترجمہ: … ’’حضرت عرباض بن ساریہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ: میں اللہ تعالیٰ کے نزدیک لوحِ محفوظ میں خاتم النبیین (آخری نبی) لکھا ہوا تھا، جبکہ ابھی آدم علیہ السلام کا خمیر گوندھا جارہا تھا۔‘‘

۶: … ’’عَنْ أَبِیْ ھُرَیْرَۃَ رَضِیَ اللہُ عَنْہُ فِیْ حَدِیْثِ الشَّفَاعَۃِ: فَیَأْتُوْنَ مُحَمَّدًا صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فَیَقُوْلُوْنَ: یَا مُحَمَّدُ! أَنْتَ رَسُوْلُ اللہِ وَخَاتِمُ الْأَنْبِیَائِ۔‘‘

(صحیح بخاری ج:۲ ص:۵۸۶)

ترجمہ: … ’’حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے حدیثِ شفاعت میں مروی ہے کہ: آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ: لوگ (دیگر انبیائے کرام علیہم السلام کے بعد حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے مشورے سے) محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس جائیں گے اور عرض کریں گے: اے محمد! آپ اللہ کے رسول اور خاتم الانبیاء ہیں۔‘‘

۷: … ’’عَنْ جَابِرٍ رَضِیَ اللہُ عَنْہُ أَنَّ النَّبِیَّ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَالَ: أَنَا قَائِدُ الْمُرْسَلِیْنَ وَلَا فَخْرَ، وَأَنَا خَاتَمُ النَّبِیِّیْنَ وَلَا فَخْرَ، وَأَنَا أَوَّلُ شَافِعٍ وَّأَوَّلُ مُشَفَّعٍ وَّلَا فَخْرَ۔‘‘
36

(سنن دارمی ج:۱ ص:۱۳، کنز العمال ج:۱۱ ص:۴۰۴ حدیث نمبر:۳۸۸۱۳)

ترجمہ: … ’’حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں نبیوں کا قائد ہوں اور فخر سے نہیں کہتا، اور میں نبیوں کا خاتم ہوں اور فخر سے نہیں کہتا، اور میں سب سے پہلے شفاعت کرنے والا ہوں اور سب سے پہلا شخص ہوں جس کی شفاعت قبول کی جائے گی اور فخر سے نہیں کہتا۔‘‘

۸: … ’’عَنْ عَبْدِاللہِ بْنِ عَمْرٍو رَضِیَ اللہُ عَنْہُ قَالَ: خَرَجَ عَلَیْنَا رَسُوْلُ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یَوْمًا کَالْمُوَدِّعِ فَقَالَ: أَنَا مُحَمَّدٌ النَّبِیُّ الْاُمِّیُّ -ثَلَاثَ مَرَّاتٍ- وَلَا نَبِیَّ بَعْدِیْ۔‘‘

(مسند احمد ج:۲ ص:۲۷۱، ۲۱۲)

ترجمہ: … ’’حضرت عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ: آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے پاس باہر تشریف لائے، گویا ہمیں رُخصت فرما رہے ہوں، پس فرمایا: میں محمد نبیٔ اُمی ہوں -تین بار فرمایا- اور میرے بعد کوئی نبی نہیں۔‘‘

۹: … ’’عَنْ أَبِیْ ھُرَیْرَۃَ رَضِیَ اللہُ عَنْہُ مَرْفُوْعًا: لَمَّا خَلَقَ اللہُ عَزَّ وَجَلَّ آدَمَ خَبَّرَہٗ بِبَنِیْہِ فَجَعَلَ یَرٰی فَضَائِلَ بَعْضِھِمْ عَلٰی بَعْضٍ فَرَأَی نُوْرًا سَاطِعًا فِیْ أَسْفَلِھِمْ فَقَالَ: یَا رَبِّ! مَنْ ھٰذَا؟ قَالَ: ھٰذَا اِبْنُکَ أَحْمَدُ، ھُوَ الْأَوَّلُ وَھُوَ الْآخِرُ وَھُوَ أَوَّلُ شَافِعٍ وَّأَوَّلُ مُشَفَّعٍ۔‘‘

(کنز العمال ج:۱۱ ص:۷۳۴ حدیث:۶۵۰۲۳)

ترجمہ: … ’’حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد نقل کرتے ہیں کہ: جب اللہ تعالیٰ نے

37

رت آدم علیہ السلام کی تخلیق فرمائی تو ان کی اولاد کی آزمائش فرمائی، پس ایک دُوسرے کے فضائل کا ان پر اِظہار کیا، پس حضرت آدم علیہ السلام نے ان کے (یعنی اولاد کے) نیچے ایک نور بلند ہوتا ہوا دیکھا تو عرض کیا: یا رَبّ! یہ کون ہیں؟ فرمایا: یہ آپ کے صاحب زادے احمد (صلی اللہ علیہ وسلم) ہیں، یہی اوّل ہیں، یہی آخر ہیں، یہی سب سے پہلے سفارش کرنے والے ہیں اور سب سے پہلے انہی کی سفارش قبول کی جائے گی۔‘‘

۱۰: … ’’عَنْ أَبِیْ ھُرَیْرَۃَ رَضِیَ اللہُ عَنْہُ فِیْ حَدِیْثِ الْإسْرَائِ: وَأَنَّ مُحَمَّدًا صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ أَثْنٰی عَلیٰ رَبِّہٖ فَقَالَ: کُلُّکُمْ أَثْنٰی عَلٰی رَبِّہٖ وَأَنَا مُثْنٍ عَلٰی رَبِّیْ اَلْحَمْدِ ِﷲِ الَّذِیْ أَرْسَلَنِیْ رَحْمَۃً لِّلْعَالَمِیْنَ وَکَافَۃً لِّلنَّاسِ بَشِیْرًا وَّنَذِیْرًا وَّأَنْزَلَ عَلَیَّ الْقُرْاٰنَ فِیْہِ تِبْیَانُ کُلِّ شَیْئٍ وَّجَعَلَ اُمَّتِیْ خَیْرَ اُمَّۃٍ اُخْرِجَتْ لِلنَّاسِ وَجَعَلَ اُمَّتِیْ وَسَطًا وَّجَعَلَ اُمَّتِیْ ھُمُ الْأَوَّلُوْنَ وَھُمُ الْآخِرُوْنَ وَشَرَحَ لِیْ صَدْرِیْ وَوَضَعَ عَنِّیْ وِزْرِیْ وَرَفَعَ لِیْ ذِکْرِیْ وَجَعَلَنِیْ فَاتِحًا وَّخَاتِمًا۔ فَقَالَ إِبْرَاھِیْمُ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ: بِھٰذَا فُضِّلَکُمْ مُحَمَّدٌ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ۔‘‘

(مجمع الزوائد ج:۱ ص:۹۶)

’’فَقَالَ لَہٗ رَبُّہٗ تَبَارَکَ وَتَعَالٰی: قَدِ اتَّخَذْتُ خَلِیْلًا وَّھُوَ مَکْتُوْبٌ فِی التَّوْرَاۃِ مُحَمَّدٌ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ حَبِیْبُ الرَّحْمٰنِ وَأَرْسَلْتُکَ إِلَی النَّاسِ کَافَّۃً وَّجَعَلْتُ اُمَّتَکَ ھُمُ الْأَوَّلُوْنَ وَھُمُ الْآخِرُوْنَ ۔۔۔۔ وَجَعَلْتُکَ فَاتِحًا وَّخَاتِمًا۔‘‘

(ایضاً ج:۱ ص:۱۷)

ترجمہ: … ’’حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے حدیثِ

38

معراج میں مروی ہے کہ (انبیائے کرام علیہم السلام کے مجمع میں حضراتِ انبیائے کرام علیہم السلام نے تحدیثِ نعمت کے انداز میں حق تعالیٰ شانہ‘ کی حمد و ثنا بیان فرمائی) اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی اپنے رَبّ کی حمد و ثنا کی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ: آپ حضرات نے اپنے رَبّ تعالیٰ کی حمد و ثنا بیان فرمائی ہے، اب میں بھی اپنے رَبّ کی حمد و ثنا بیان کرتا ہوں۔

(اور وہ یہ ہے:)

تمام تعریفیں اللہ تعالیٰ کے لئے جس نے مجھے رحمۃ للعالمین بنایا، تمام لوگوں کے لئے بشیر و نذیر بنایا، مجھ پر قرآن نازل کیا جس میں (مہماتِ دِین میں سے) ہر چیز کا بیان ہے، اور میری اُمت کو خیرِ اُمت بنایا جو لوگوں کے نفع کے لئے نکالی گئی، اور میری اُمت کو معتدل اُمت بنایا، اور میری اُمت کو ایسا بنایا کہ وہی پہلے ہیں اور وہی پچھلے ہیں، اور اس نے میرا سینہ کھول دیا، میرا بوجھ اُتار دیا، اور میری خاطر میرا ذِکر بلند کردیا، اور مجھ کو فاتح اور خاتم (کھولنے والا اور بند کرنے والا) بنایا۔‘‘ یہ سن کر حضرت ابراہیم علیہ السلام نے حضراتِ انبیائے کرام علیہم السلام کو مخاطب کرکے فرمایا: ان ہی اُمور کی وجہ سے محمد صلی اللہ علیہ وسلم تم سب سے سبقت لے گئے ہیں۔‘‘

نیز اسی حدیثِ معراج میں ہے کہ:

’’حق تعالیٰ شانہ‘ نے (آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے) فرمایا کہ: میں نے آپ کو اپنا خلیل بنالیا اور یہ توراۃ میں لکھا ہے کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم رحمن کے محبوب ہیں، اور میں نے آپ کو تمام اِنسانوں کی طرف مبعوث فرمایا، اور آپ کی اُمت کو ایسا بنایا کہ وہی

39

اوّل ہیں اور وہی آخر ہیں ۔۔۔۔۔ اور میں نے آپ کو تخلیق میں سب نبیوں سے اوّل رکھا اور بعثت میں سب سے آخر۔‘‘

۱۱: … ’’عَنْ أَبِیْ سَعِیْدٍ رَضِیَ اللہُ عَنْہُ فِیْ حَدِیْثِ الْإسْرِائِ: ثُمَّ سَارَ حَتّٰی أَتٰی بَیْتَ الْمَقْدَسِ فَنَزَلَ فَرَبَطَ فَرَسَہٗ إِلٰی صَخْرَۃٍ ثُمَّ دَخَلَ فَصَلّٰی مَعَ الْمَلَائِکَۃِ فَلَمَّا قُضِیَتِ الصَّلَاۃُ قَالُوْا: یَا جِبْرِیْلُ! مَنْ ھٰذَا مَعَکَ؟ قَالَ: ھٰذَا مُحَمَّدٌ خَاتَمُ النَّبِیِّیْنَ۔‘‘ (المواھب اللدنیۃ ج:۲ ص:۷۱)

ترجمہ: … ’’حضرت ابو سعید رضی اللہ عنہ سے حدیثِ معراج میں مروی ہے کہ: پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم چلے، یہاں تک کہ بیت المقدس پہنچے، پس اُترکر سواری کو چٹان سے باندھ دیا، پھر اندر داخل ہوئے اور فرشتوں کے ساتھ نماز پڑھی، انہوں نے پوچھا کہ: اے جبریل! یہ آپ کے ساتھ کون ہیں؟ جواب دیا کہ: یہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم خاتم النبیین ہیں۔‘‘

۱۲: … ’’عَنْ عَلِیٍّ رَضِیَ اللہُ عَنْہُ فِیْ شَمَائِلِہٖ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ: وَبَیْنَ کَتِفَیْہِ خَاتَمُ النُّبُوَّۃِ وَخَاتَمُ النَّبِیِّیْنَ۔‘‘

(شمائل ترمذی ص:۳)

ترجمہ: … ’’حضرت علی رضی اللہ عنہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے شمائل بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ: آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے شانوں کے درمیان مہرِ نبوّت تھی اور آپ خاتم النبیین ہیں۔‘‘

۱۳: … ’’عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ فِیْ حَدِیْثِ الشَّفَاعَۃِ: فَیَأْتُوْنَ عِیْسٰی فَیَقُوْلُوْنَ: اِشْفَعْ لَنَا إِلٰی رَبِّنَا حَتّٰی یُقْضٰی بَیْنَنَا۔ فَیَقُوْلُ: إِنِّیْ لَسْتُ ھُنَاکُمْ، إِنِّیْ اُتُّخِذْتُ وَاُمِّیَ إِلٰھَیْنِ مِنْ دُوْنِ
40

اللہِ، وَلٰـکِنْ أَرَأَیْتُمْ لَوْ أَنَّ مَتَاعًا فِیْ وِعَائٍ قَدْ خُتِمَ عَلَیْہِ أَکَانَ یُوْصَلُ أَیْ مَا فِی الْوِعَائِ حَتّٰی یُفْضَی الْخَاتَمُ؟ فَیَقُوْلُوْنَ: لَا! فَیَقُوْلُ: فَإِنَّ مُحَمَّدًا صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَدْ حَضَرَ الْیَوْمَ۔‘‘

(مسند ابوداؤد طیالسی ص:۴۵۳)

ترجمہ: … ’’حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے حدیثِ شفاعت میں مروی ہے کہ (حضرت آدم، حضرت نوح، حضرت ابراہیم، حضرت موسیٰ علیٰ نبینا وعلیہم السلام کے بعد) لوگ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے پاس آئیں گے تو آپ یہ عذر کریں گے کہ: مجھے اور میری والدہ کو اللہ تعالیٰ کے سوا معبود بنایا گیا، اس لئے میں اس کا اہل نہیں۔ پھر فرمائیں گے کہ اچھا یہ بتاؤ کہ اگر کچھ سامان کسی ایسے برتن میں ہو جسے سربمہر کردیا گیا ہو، جب تک مہر کو نہ توڑا جائے کیا اس برتن کے اندر کی چیز تک رسائی ممکن ہے؟ حاضرین اس کا جواب نفی میں دیں گے، تو آپ فرمائیں گے کہ: پھر محمد صلی اللہ علیہ وسلم آج یہاں موجود ہیں، ان کی خدمت میں جاؤ!‘‘

حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا اس تشبیہ سے مقصد یہ ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم خاتم النبیین ہیں، لہٰذا جب تک نبیوں کی مہر کو نہ کھولا جائے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم شفاعت کا آغاز نہ فرمائیں تب تک انبیاء علیہم السلام کی شفاعت کا دروازہ نہیں کھل سکتا، اور نہ کسی نبی کی شفاعت کا حصول ممکن ہے، لہٰذا تم لوگ سب سے پہلے حضرت خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوں، پہلے ’’نبیوں کی مہر‘‘ کو کھولو، آپ سے شفاعت کا آغاز کراؤ، تب کسی اور نبی کی شفاعت ممکن ہے، واللہ اعلم!

۱۴: … ’’عَنْ أَبِیْ أُمَامَۃَ الْبَاھِلِیِّ رَضِیَ اللہُ عَنْہُ عَنِ النَّبِیِّ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ۔۔۔۔ قَالَ: أَنَا آخِرُ الْأَنْبِیَائِ وَأَنْتُمْ آخِرُ الْأُمَمِ۔‘‘

(ابن ماجہ ص:۷۹۲)

41

ترجمہ: … ’’حضرت ابو اُمامہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ: میں آخری نبی ہوں اور تم آخری اُمت ہو۔‘‘

۱۵: … حضرت ابو قتیلہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے خطبہ حجۃ الوداع میں فرمایا:

’’لَا نَبِیَّ بَعْدِیْ وَلَا اُمَّۃَ بَعْدِکُمْ۔‘‘

(مجمع الزوائد ج:۳ ص:۳۷۲، کنز العمال ج:۵۱ ص:۷۴۹ حدیث نمبر:۸۳۶۳۴)

ترجمہ: … ’’میرے بعد کوئی نبی نہیں اور تمہارے بعد کوئی اُمت نہیں۔‘‘

۱۶: … اِمام بیہقی رحمہ اللہ نے کتاب الرؤیا میں حضرت ضحاک بن نوفل رضی اللہ عنہ کی حدیث روایت کی ہے کہ:

’’قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ: لَا نَبِیَّ بَعْدِیْ وَلَا اُمَّۃَ بَعْدَ اُمَّتِیْ۔‘‘

(ختمِ نبوّت کامل ص:۲۷۲)

ترجمہ: … ’’رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میرے بعد کوئی نبی نہیں اور میری اُمت کے بعد کوئی اُمت نہیں۔‘‘

۱۷: … طبرانی و بیہقی نے ابن زمیل رضی اللہ عنہ کی حدیث نقل کی ہے، جس میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک خواب کی تعبیر اِرشاد فرمائی، اس کا آخری حصہ یہ ہے:

’’وَأَمَّا النَّاقَۃُ فَھِیَ السَّاعَۃُ عَلَیْنَا تَقُوْمُ، لَا نَبِیَّ بَعْدِیْ وَلَا اُمَّۃَ بَعْدَ اُمَّتِیْ۔‘‘

(خصائص کبریٰ سیوطیؒ ج:۲ ص:۸۷۱)

ترجمہ: … ’’لیکن اُونٹنی (جس کو تم نے مجھے اُٹھاتے ہوئے دیکھا) پس وہ قیامت ہے، وہ ہم پر قائم ہوگی، میرے بعد

42

کوئی نبی نہیں اور میری اُمت کے بعد کوئی اُمت نہیں۔‘‘

۱۸: … ’’عَنْ أَبِیْ ذَرٍّ رَضِیَ اللہُ عَنْہُ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ: یَا أَبَا ذَرٍّ! أَوَّلُ الرُّسُلِ آدَمُ وَآخِرُھُمْ مُحَمَّدٌ۔‘‘

(کنز العمال ج:۱۱ ص:۰۸۴ حدیث نمبر:۹۶۲۲۳)

ترجمہ: … ’’حضرت ابو ذر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ابوذر! نبیوں میں سب سے پہلے نبی آدم ہیں اور سب سے آخری نبی محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) ہیں۔‘‘

حدیث ۸: …

’’عَنْ عُقْبَۃَ بْنِ عَامِرٍ رَضِیَ اللہُ عَنْہُ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ: لَوْ کَانَ بَعْدِیْ نَبِیٌّ لَکَانَ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ۔‘‘

(ترمذی ج:۲ ص:۹۰۲)

ترجمہ: … ’’حضرت عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے اِرشاد فرمایا: اگر میرے بعد کوئی نبی ہوتا تو عمر بن الخطاب ہوتے۔‘‘

یہ حدیث حضرت عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ کے علاوہ مندرجہ ذیل حضرات سے بھی مروی ہے:

۱: … حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ۔

(فتح الباری ج:۷ ص:۱۵، مجمع الزوائد ج:۹ ص:۸۶)

۲: … عصمہ بن مالک رضی اللہ عنہ۔

(مجمع الزوائد ج:۹ ص:۸۶)

’’لَوْ‘‘ کا لفظ فرضِ محال کے لئے آتا ہے۔ حدیث کا مطلب یہ ہے کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ میں نبوّت کی صلاحیت کامل طور پر پائی جاتی ہے، مگر چونکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم

43

کے بعد کسی کا نبی ہونا محال ہے اس لئے باوجود صلاحیت کے حضرت عمرؓ نبی نہیں بن سکتے۔ اِمامِ ربانی مجدّد الف ثانی قدس سرہٗ فرماتے ہیں:

’’درشان حضرت فاروق رضی اللہ عنہ فرمودہ است علیہ وعلیٰ آلہ الصلوٰۃ والسلام ’’لَوْ کَانَ بَعْدِی نَبِیٌّ لَکَانَ عُمَرَ‘‘ یعنی لوازم و کمالاتیکہ در نبوّت درکار است ہمہ را عمرؓ دارد اما چوں منصبِ نبوّت بخاتم الرسل ختم شدہ است علیہ وعلیٰ آلہ الصلوٰۃ والسلام بدولت منصبِ نبوّت مشرف نگشت۔‘‘

(مکتوب:۴۲ ص:۳۲، دفتر سوم)

ترجمہ: … ’’حضرت فاروقِ اعظم رضی اللہ عنہ کی شان میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ: ’’اگر میرے بعد کوئی نبی ہوتا تو عمر ہوتے۔‘‘ یعنی وہ تمام لوازمات و کمالات جو نبوّت کے لئے درکار ہیں سب حضرت عمرؓ میں موجود ہیں، لیکن چونکہ منصبِ نبوّت خاتم الرسل صلی اللہ علیہ وسلم پر ختم ہوچکا ہے اس لئے وہ منصبِ نبوّت کی دولت سے مشرف نہیں ہوئے۔‘‘

حدیث ۹: …

’’عَنْ جُبَیْرِ بْنِ مُطْعَمٍ رَضِیَ اللہُ عَنْہُ قَالَ: سَمِعْتُ النَّبِیَّ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یَقُوْلُ: إِنَّ لِیْ أَسْمَائً، أَنَا مُحَمَّدٌ، وَأَنَا أَحْمَدُ، وَأَنَا الْمَاحِیَ الَّذِیْ یَمْحُو اللہُ بِیَ الْکُفْرَ، وَأَنَا الْحَاشِرُ الَّذِیْ یُحْشَرُ النَّاسُ عَلٰی قَدَمَیَّ، وَأَنَا الْعَاقِبُ، وَالْعَاقِبُ الَّذِیْ لَیْسَ بَعْدَہٗ نَبِیٌّ۔ (متفق علیہ)۔‘‘

(مشکوٰۃ ص:۵۱۵)

ترجمہ: … ’’حضرت جبیر بن مطعم رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے خود سنا ہے کہ: میرے چند نام ہیں، میں محمد ہوں، میں احمد ہوں، میں

44

ماحی (مٹانے والا) ہوں کہ میرے ذریعے اللہ تعالیٰ کفر کو مٹائیں گے، اور میں حاشر (جمع کرنے والا) ہوں کہ لوگ میرے قدموں پر اُٹھائے جائیں گے، اور میں عاقب (سب کے بعد آنے والا) ہوں کہ میرے بعد کوئی نبی نہیں۔‘‘

اس حدیث میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے دو اسمائے گرامی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے خاتم النبیین ہونے کی دلالت کرتے ہیں، اوّل ’’الحاشر‘‘، حافظ ابنِ حجر رحمہ اللہ ’’فتح الباری‘‘ میں اس کی شرح کرتے ہوئے لکھتے ہیں:

’’إشارۃ إلٰی أنہ لیس بعدہ نبی ولَا شریعۃ ۔۔۔۔۔ فلما کان لَا اُمّۃ بعد اُمّتہ لأنہ لَا نبی بعدہ، نسب الحشر إلیہ، لأنہ یقع عقبہ۔‘‘

(فتح الباری ج:۶ ص:۷۵۵)

ترجمہ: … ’’یہ اس طرف اشارہ ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد کوئی نبی اور کوئی شریعت نہیں ۔۔۔۔۔۔ سو چونکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی اُمت کے بعد کوئی اُمت نہیں، اور چونکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد کوئی نبی نہیں، اس لئے حشر کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف منسوب کردیا گیا، کیونکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی تشریف آوری کے بعد حشر ہوگا۔‘‘

دُوسرا اِسمِ گرامی ’’العاقب‘‘، جس کی تفسیر خود حدیث میں موجود ہے کہ:

’’اَلَّذِیْ لَیْسَ بَعْدَہٗ نَبِیٌّ‘‘

ترجمہ: … آپ کے بعد کوئی نبی نہیں۔‘‘

اس مضمون کی احادیث مندرجہ ذیل حضرات سے بھی مروی ہیں:

۱: … حضرت ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ، ان کی حدیث کے الفاظ حسبِ ذیل ہیں:

’’کَانَ رَسُوْلُ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یُسَمِّیْ لَنَا
45

نَفْسَہٗ أَسْمَائً، فَقَالَ: أَنَا مُحَمَّدٌ، وَأَحْمَدُ، وَالْمُقْفِیْ وَالْحَاشِرُ وَنَبِیُّ التَّوْبَۃِ وَنَبِیُّ الرَّحْمَۃِ۔‘‘

(صحیح مسلم ج:۲ ص:۱۶۲)

ترجمہ: … ’’آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے سامنے اپنے چند اَسمائے گرامی ذکر فرماتے تھے، چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں محمد ہوں، میں احمد ہوں، مقفی (سب نبیوں کے بعد آنے والا) ہوں، حاشر ہوں، نبیٔ توبہ ہوں، نبیٔ رحمت ہوں۔‘‘

۲: … حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ، ان کی روایت کے الفاظ حسبِ ذیل ہیں:

’’قَالَ: أَنَا مُحَمَّدٌ، وَأَنَا أَحْمَدُ، وَأَنَا نَبِیُّ الرَّحْمَۃِ وَنَبِیُّ التَّوْبَۃِ، وَأَنَا الْمُقْفِیْ، وَأَنَا الْحَاشِرُ وَنَبِیُّ الْمَلَاحِمِ۔‘‘

(شمائل ترمذی ص:۶۲، مجمع الزوائد ج:۸ ص:۴۸۲)

ترجمہ: … ’’فرمایا: میں محمد ہوں، میں احمد ہوں، میں نبیٔ رحمت ہوں، میں نبیٔ توبہ ہوں، میں مقفی (سب نبیوں کے بعد آنے والا) ہوں، میں حاشر ہوں، اور نبیٔ ملاحم (مجاہد نبی) ہوں۔‘‘

۳: … حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ، ان کی روایت کے الفاظ حسبِ ذیل ہیں:

’’أَنَا أَحْمَدُ، وَأَنَا مُحَمَّدٌ، وَأَنَا الْحَاشِرُ الَّذِیْ اُحْشَرُ النَّاسُ عَلٰی قَدَمَیَّ۔‘‘

(مجمع الزوائد ج:۸ ص:۴۸۲)

ترجمہ: … ’’میں احمد ہوں، میں محمد ہوں، میں حاشر ہوں کہ لوگوں کو میرے قدموں میں جمع کیا جائے گا۔‘‘

۴: … حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما، ان کی روایت کے الفاظ یہ ہیں:

’’أَنَا أَحْمَدُ وَمُحَمَّدٌ وَالْحَاشِرُ وَالْمُقْفِیْ وَالْخَاتَمُ۔‘‘

(مجمع الزوائد ج:۸ ص:۴۸۲)

46

ترجمہ: … ’’میں احمد ہوں، محمد ہوں، حاشر ہوں، مقفی ہوں اور خاتم ہوں۔‘‘

۵: … مرسل مجاہدؒ، ان کی روایت کے الفاظ یہ ہیں:

’’أَنَا مُحَمَّدٌ وَّأَحْمَدُ، أَنَا رَسُوْلُ الرَّحْمَۃِ، أَنَا رَسُوْلُ الْمَلْحَمَۃِ، أَنَا الْمُقْفِیْ وَالْحَاشِرُ، بُعِثْتُ بِالْجِھَادِ وَلَمْ أُبْعَثْ بِالزُّرَّاعِ۔‘‘

(طبقات ابن سعد ج:۱ ص:۵۰۱)

ترجمہ: … ’’میں محمد ہوں اور احمد ہوں، میں رسولِ رحمت ہوں، میں ایسا رسول ہوں جسے جنگ کا حکم ہوا ہے، میں مقفی اور حاشر ہوں، میں جہاد کے ساتھ بھیجا گیا ہوں، کسان بناکر نہیں بھیجا گیا۔‘‘

۶: … حضرت ابو الطفیل رضی اللہ عنہ۔

(فتح الباری ج:۶ ص:۵۵۵)

حدیث ۱۰: …

متعدّد اَحادیث میں یہ مضمون آیا ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے انگشتِ شہادت اور درمیانی اُنگلی کی طرف اِشارہ کرکے فرمایا:

’’بُعِثْتُ أَنَا وَالسَّاعَۃُ کَھَاتَیْنِ‘‘

ترجمہ: … ’’مجھے اور قیامت کو ان دو اُنگلیوں کی طرح بھیجا گیا ہے۔‘‘

اس مضمون کی احادیث مندرجہ ذیل حضرات سے مروی ہیں:

۱: … سہل بن سعد رضی اللہ عنہ۔

(بخاری ج:۲ ص:۳۶۹، مسلم ج:۲ ص:۶۰۴)

۲: … ابوہریرہ رضی اللہ عنہ۔

(بخاری ج:۲ ص:۳۶۹)

۳: … انس بن مالک رضی اللہ عنہ۔

(بخاری ج:۲ ص:۳۶۹)

۴: … مستورد بن شداد رضی اللہ عنہ۔

(ترمذی ج:۲ ص:۴۴)

47

۵: … جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ۔

(مسلم ج:۱ ص:۴۸۲، نسائی ج:۱ ص:۴۳۲)

۶: … سہل بن حنیف رضی اللہ عنہ۔

(جامع الاصول ج:۰۱ ص:۵۸۳)

۷: … بریدہ رضی اللہ عنہ۔

(مسند احمد ج:۵ ص:۸۴۳)

۸: … ابی جبیرہ رضی اللہ عنہ۔

(مجمع الزوائد ج:۰۱ ص:۲۱۳)

۹: … جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ۔

(مسند احمد ج:۵ ص:۳۰۱)

۱۰: … وہب السوائی رضی اللہ عنہ۔

(مجمع الزوائد ج:۰۱ ص:۱۱۳)

۱۱: … ابو جحیفہ رضی اللہ عنہ۔

(کنز ج:۴۱ ص:۵۹۱، مسند احمد ج:۴ ص:۹۰۳)

ان احادیث میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت اورقیامت کے درمیان اِتصال ذِکر کیا گیا ہے، جس کے معنی یہ ہیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی تشریف آوری قربِ قیامت کی علامت ہے، اور اَب قیامت تک آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد کوئی نبی نہیں۔ چنانچہ اِمام قرطبی رحمہ اللہ ’’تذکرہ‘‘ میں لکھتے ہیں:

’’وأما قولہ بعثت أنا والساعۃ کھاتین، فمعناہ أنا النبی الأخیر فلا یلینی نبی آخر، وإنما تلینی القیامۃ کما تلی السبابۃ الوسطیٰ ولیس بینھما إصبع اُخریٰ ۔۔۔۔۔۔ ولیس بینی وبین القیامۃ نبی۔‘‘

(التذکرۃ فی أحوال الموتی واُمور الآخرۃ ص:۱۱۷)

ترجمہ: … ’’اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشادِ گرامی کہ: ’’مجھے اور قیامت کو ان دو اُنگلیوں کی طرح بھیجا گیا ہے‘‘ اس کے معنی یہ ہیں کہ میں آخری نبی ہوں، میرے بعد اور کوئی نبی

48

نہیں، میرے بعد بس قیامت ہے، جیسا کہ اُنگشتِ شہادت درمیانی اُنگلی کے متصل واقع ہے، دونوں کے درمیان اور کوئی اُنگلی نہیں ۔۔۔۔۔۔ اسی طرح میرے اور قیامت کے درمیان کوئی نبی نہیں۔‘‘

علامہ سندھی رحمہ اللہ حاشیہ نسائی میں لکھتے ہیں:

’’التشبیہ فی المقارنۃ بینھما، أی لیس بینھما إصبع اُخریٰ کما أنہ لَا نبی بینہ صلی اللہ علیہ وسلم وبین الساعۃ۔‘‘

(حاشیہ سندھی رحمۃ اللہ علیہ بر نسائی ج:۱ ص:۴۳۲)

ترجمہ: … ’’تشبیہ دونوں کے درمیان اِتصال میں ہے (یعنی دونوں کے باہم ملے ہوئے ہونے میں ہے) یعنی جس طرح ان دونوں کے درمیان کوئی اور اُنگلی نہیں، اسی طرح آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے درمیان اور قیامت کے درمیان اور کوئی نبی نہیں۔‘‘

اکابرِ اُمتؒ کی تصریحات

چونکہ مسئلہ ختمِ نبوّت پر قرآنِ کریم کی آیات اور اَحادیثِ متواترہ وارِد ہیں، اس لئے یہ عقیدہ اُمت میں متواتر چلا آرہا ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم آخری نبی ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد کوئی شخص منصبِ نبوّت پر فائز نہیں ہوسکتا، اور جو شخص آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد نبوّت کا دعویٰ کرے وہ مرتد اور دائرۂ اِسلام سے خارج ہے۔ یہاں چند اکابرؒ کی تصریحات نقل کی جاتی ہیں:

۱: … علامہ علی قاری رحمہ اللہ شرح فقہِ اکبر میں لکھتے ہیں:

’’دعوی النبوۃ بعد نبینا صلی اللہ علیہ وسلم کفر بالْإجماع۔‘‘

(شرح فقہ الأکبر ص:۲۰۲)

ترجمہ: … ’’ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد نبوّت

49

کا دعویٰ کرنا بالاجماع کفر ہے۔‘‘

۲: … حافظ ابنِ حزم اندلسی رحمہ اللہ کتاب ’’الفصل فی الملل والأھواء والنحل‘‘ میں لکھتے ہیں:

’’قد صح عن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بنقل الکواف التی نقلت نبوتہ وأعلامہ وکتابہ أنہ أخبر أنہ لَا نبی بعدہ إلّا ما جائت الأخبار الصحاح من ’’نزول عیسٰی علیہ السلام‘‘ الذی بعث إلٰی بنی إسرائیل وادعی الیھود قتلہ وصلبہ فوجب الْإقرار بھٰذہ الجملۃ وصح أن وجود النبوّۃ بعدہ علیہ السلام باطل لَا یکون البتۃ۔‘‘

(کتاب الفصل ج:۱ ص:۷۷)

ترجمہ: … ’’جس کثیر التعداد جماعت اور جمِ غفیر نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوّت اور نشانات اور قرآن مجید کو نقل کیا ہے، اسی کثیر التعداد جماعت اور جمِ غفیر کی نقل سے حضور علیہ السلام کا یہ فرمان بھی ثابت ہوچکا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد کوئی نبی مبعوث نہ ہوگا۔ البتہ صحیح احادیث میں یہ ضرور آیا ہے کہ عیسیٰ علیہ السلام نازل ہوں گے۔ یہ وہی عیسیٰ علیہ السلام ہیں جو بنی اسرائیل میں مبعوث ہوئے تھے اور یہود نے جن کو قتل کرنے اور صلیب دینے کا دعویٰ کیا تھا۔ پس اس اَمر کا اِقرار واجب ہے کہ حضور علیہ السلام کے بعد نبوّت کا وجود باطل ہے، ہرگز نہیں ہوسکتا۔‘‘

حافظ ابنِ حزم رحمہ اللہ ایک اور جگہ لکھتے ہیں:

’’ھٰذا مع سماعھم قول اللہ تعالٰی: ’’وَلٰـکِنْ رَّسُوْلَ اللہِ وَخَاتَمَ النَّبِیّٖنَ‘‘ وقول رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم: ’’لَا نبی بعدی‘‘ فکیف یستجیز مسلم أن یثبت بعدہ علیہ
50

السلام نبیًّا فی الأرض حاشا ما استثناہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فی الآثار المسندۃ الثابتۃ فی نزول عیسَی ابن مریم علیہ السلام فی آخر الزمان۔‘‘

(کتاب الفصل ج:۴ ص:۸۱، مکتبہ دار المعرفہ، شارع بلس، بیروت، لبنان)

ترجمہ: … ’’اللہ تعالیٰ کا فرمان: ’’وَلٰـکِنْ رَّسُوْلَ اللہِ وَخَاتَمَ النَّبِیّٖنَ‘‘ اور حضور علیہ السلام کا اِرشاد: ’’لَا نبی بعدی‘‘ سن کر کوئی مسلمان کیسے جائز سمجھ سکتا ہے کہ حضور علیہ السلام کے بعد زمین میں کسی نبی کی بعثت ثابت کی جائے سوائے نزولِ عیسیٰ علیہ السلام کے آخر زمانے میں جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی صحیح احادیث مسندہ سے ثابت ہے۔‘‘

ایک اور جگہ لکھتے ہیں:

’’وأما من قال: إن اللہ عزّ وجلّ فلان، لِانسان بعینہ، أو أن اللہ یحل فی جسم من أجسام خلقہ، أو أن بعد محمد صلی اللہ علیہ وسلم نبیًّا غیر عیسَی ابن مریم فإنہ لَا یختلف اثنان فی تکفیرہ۔‘‘

(کتاب الفصل ج:۳ ص:۹۴۲-۰۵۲)

ترجمہ: … ’’جس شخص نے کسی انسان کو کہا کہ یہ اللہ ہے، یا یہ کہا کہ اللہ اپنی خلقت کے اجسام میں سے کسی جسم میں حلول کرتا ہے، یا یہ کہا ہے کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد کوئی نبی ہے، سوائے عیسیٰ علیہ السلام کے، پس ایسے شخص کے کافر ہونے میں دو آدمیوں کا بھی اختلاف نہیں۔‘‘

۳: … حافظ فضل اللہ تورپشتی (متوفیٰ ۰۳۶ھ) کا اسلامی عقائد پر ایک رسالہ ’’معتمد فی المعتقد‘‘ کے نام سے فارسی میں ہے، جس میں عقیدۂ ختمِ نبوّت بہت تفصیل

51

سے لکھا ہے، اور آخر میں منکرینِ ختمِ نبوّت کے خارج اَز اِسلام ہونے کی تصریح فرمائی ہے۔ اس کے چند ضروری اقتباسات درج ذیل ہیں:

’’وازاں جملہ آنست کہ تصدیق وی کند کہ بعد از وی ہیچ نبی نباشد مرسل و نہ غیرمرسل، ومراد از خاتم النبیین آنست کہ نبوّت را مہر کرد ونبوّت بآمدن او تمام شد یا بمعنی آنکہ خدا تعالیٰ پیغمبری را بوی ختم کردہ وختم خدای حکم است بد آنجہ ازاں نخواہد گردانیدن۔‘‘

(معتمد فی المعتقد ص:۴۹)

ترجمہ: … ’’من جملہ عقائد کے یہ ہے کہ اس بات کی تصدیق کرے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد کوئی نبی نہیں، نہ رسول اور نہ غیررسول، اور ’’خاتم النبیین‘‘ سے مراد یہ ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نبوّت پر مہر لگادی، اور نبوّت آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی تشریف آوری سے حدِ تمام کو پہنچ گئی۔ یا یہ معنی ہیں کہ خدا تعالیٰ نے پیغمبری پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ذریعے مہر لگادی اور خدا تعالیٰ کا مہر کرنا اس بات کا حکم ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد نبی نہیں بھیجے گا۔‘‘

’’واحادیث بسیار از رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم درست شدہ است کہ نبوّت بآمدن او تمام شد و بعد از وی دیگری نباشد وازاں احادیث یکی را معنی آنست کہ: در اُمتِ من نزدیک سی دجال کذاب باشند کہ ہر یک از ایشاں دعویٰ کند کہ من نبی ام وبعد از من ہیچ نبی باشد۔‘‘

(ص:۵۹)

ترجمہ: … ’’اور بہت سی احادیث رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ثابت ہیں کہ نبوّت آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی تشریف آوری پر پوری ہوگئی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد کوئی اور نبی نہیں

52

ہوگا۔ ان احادیث میں سے ایک حدیث کا مضمون یہ ہے کہ: میری اُمت میں تقریباً تیس جھوٹے دجال ہوں گے، ان میں سے ہر ایک یہ دعویٰ کرے گا کہ میں نبی ہوں، حالانکہ میرے بعد کوئی نبی نہیں ہوگا۔‘‘

’’وروایات و احادیث دریں باب افزوں ازانست کہ بر تواں شمردن۔ وچوں ازیں طریق ثابت شد کہ بعد از وی ہیچ نبی نباشد ضرورت رسول ہم نباشد زیرا کہ ہیچ رسول نباشد کہ نبی نباشد چوں نبوّت نفی کردہ رسالت بطریق اَوْلیٰ منفی باشد۔‘‘

(ص:۶۹)

ترجمہ: … ’’اور اس باب میں روایات و احادیث حدِ شمار سے زیادہ ہیں۔ جب اس طریقے سے ثابت ہوا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد کوئی نبی نہ ہوگا تو بدیہی بات ہے کہ رسول بھی نہ ہوگا، کیونکہ کوئی رسول ایسا نہیں ہوتا جو نبی نہ ہو، جب نبوّت کی نفی کردی تو رِسالت کی نفی بدرجہ اَوْلیٰ ہوگئی۔‘‘

’’بحمد اللہ ایں مسئلہ درمیان اسلامیان روشن تر ازاں است کہ آںرا بکشف و بیان حاجت افتد اما ایں مقدار از قرآن از ترس آں باد کردیم کہ مبادا زندیقی جاہلی را در شبہتی اندازد۔

ومنکر ایں مسئلہ کسی تواند بود کہ اصلا در نبوّت او معتقد نہ باشد کہ اگر برسالتِ او معترف بودی و یرا در ہرچہ ازاں خبر داد صادق دانستی۔

وبہماں حجتہا کہ از طریق تواتر رسالت او بیش از ما بداں درست شدہ است ایں نیز درست شد کہ وی باز بسین پیغمبراں است در زمانِ او و تاقیامت بعد از وی ہیچ نبی نباشد، و ہر کہ دریں بشک است دراں نیز بشک است وآنکس کہ گوید بعد ازیں نبی دیگر بود یا ہست یا خواہد بود وآنکس کہ گوید کہ امکان دارد کہ باشد کافر است۔‘‘

(ص:۷۹)

53

ترجمہ: … ’’بحمداللہ! یہ مسئلہ اہلِ اسلام کے درمیان اس سے زیادہ روشن ہے کہ اس کی تشریح و وضاحت کی ضرورت ہو۔ اتنی وضاحت بھی ہم نے قرآنِ کریم سے اس اندیشے کی بنا پر کردی کہ مبادا کوئی زِندیق کسی جاہل کو شبہ میں ڈالے۔

اور عقیدۂ ختمِ نبوّت کا منکر وہی شخص ہوسکتا ہے جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوّت پر بھی اِیمان نہ رکھتا ہو، کیونکہ اگر یہ شخص آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی رسالت کا قائل ہوتا تو جن چیزوں کی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے خبر دی ہے ان میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو سچا سمجھتا۔

اور جن دلائل اور جس طریقِ تواتر سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی رِسالت و نبوّت ہمارے لئے ثابت ہوئی ہے، ٹھیک اسی درجے کے تواتر سے یہ بات بھی ثابت ہوئی ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم آخری نبی ہیں اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں اور قیامت تک کوئی نبی نہ ہوگا، اور جس شخص کو اس ختمِ نبوّت میں شک ہو، اسے خود رِسالتِ محمدی میں بھی شک ہوگا، اور جو شخص یہ کہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد کوئی نبی ہوا تھا، یا اَب موجود ہے، یا آئندہ کوئی نبی ہوگا، اسی طرح جو شخص یہ کہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد نبی ہوسکتا ہے، وہ کافر ہے۔‘‘

۴: … حافظ ابنِ کثیر رحمہ اللہ آیت ’’خاتم النبیین‘‘ کے تحت لکھتے ہیں:

’’فمن رحمۃ اللہ تعالٰی بالعباد إرسال محمد صلی اللہ علیہ وسلم إلیھم، ثم من تشریفہ لھم ختم الأنبیاء والمرسلین بہ وإکمال الدین الحنیف لہ، وقد أخبر اللہ تبارک وتعالٰی فی کتابہ ورسولہ صلی اللہ علیہ وسلم فی السُّنَّۃ
54

المتواترۃ عنہ: أنہ لَا نبی بعدہ، لیعلموا أن کل من ادعی ھٰذا المقام بعدہ فھو کذّاب، أفّاک، دجّال، ضالّ، مضلّ، ولو تخرق وشعبذ وأتیٰ بأنواع السحر والطلاسم والنیرنجیات فکلھا محال وضلال عند اُولی الألباب، کما أجری اللہ سبحانہ علٰی ید الأسود العنسی بالیمن ومسیلمۃ الکذّاب بالیمامۃ من الأحوال الفاسدۃ والأقوال الباردۃ ما علم کل ذی لب وفھم وحجی أنھما کاذبان ضالّان لعنھما اللہ تعالٰی، وکذٰلک کل مدع لذٰلک إلٰی یوم القیامۃ حتّٰی یختموا بالمسیح الدّجال، فکل واحد من ھٰؤلآء الکذّابین یخلق اللہ معہ من الاُمور ما یشھد العلماء والمؤمنون بکذب من جاء بھا۔‘‘

(ابن کثیر: تفسیر القرآن العظیم ج:۳ ص:۴۹۴، مطبوعہ قاہرہ ۵۷۳۱ھ)

ترجمہ: … ’’پس بندوں پر اللہ کی رحمت ہے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا ان کی طرف بھیجنا، پھر اللہ تعالیٰ کی جانب سے ان کی تعظیم و تکریم میں سے یہ بات بھی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر تمام انبیاء اور رُسل علیہم السلام کو ختم کیا، اور دِینِ حنیف کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے کامل کردیا۔ اللہ تعالیٰ نے اپنی کتاب میں اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی احادیثِ متواترہ میں خبر دی ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد کوئی نبی پیدا ہونے والا نہیں، تاکہ اُمت جان لے کہ ہر وہ شخص جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد اس مقامِ نبوّت کا دعویٰ کرے وہ بڑا جھوٹا، اِفترا پرداز، دجال، گمراہ اور گمراہ کرنے والا ہے، اگرچہ شعبدہ بازی کرے، اور قسم قسم کے جادو، طلسم اور نیرنگیاں دِکھلائے، اس لئے کہ یہ سب کا سب عقلاء کے نزدیک باطل اور گمراہی

55

ہے، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے اسود عنسی (مدعیٔ نبوّت) کے ہاتھ پر یمن میں، اور مسیلمہ کذّاب (مدعیٔ نبوّت) کے ہاتھ پر یمامہ میں اَحوالِ فاسدہ اور اَقوالِ باردہ ظاہر کئے، جن کو دیکھ کر ہر عقل و فہم اور تمیز والا یہ سمجھ گیا کہ یہ دونوں جھوٹے اور گمراہ کرنے والے ہیں۔ اللہ تعالیٰ ان پر لعنت کرے -اور ایسے ہی قیامت تک ہر مدعیٔ نبوّت پر- یہاں تک کہ وہ مسیحِ دجال پر ختم کردئیے جائیں گے، جس کے ساتھ اللہ تعالیٰ ایسے اُمور پیدا فرمادے گا کہ علماء اور مسلمان اس کے جھوٹے ہونے کی شہادت دیں گے۔‘‘

۵: … علامہ سفارینی حنبلی رحمہ اللہ ’’شرح عقیدہ سفارینی‘‘ میں لکھتے ہیں:

’’ومن زعم أنھا مکتسبۃ فھو زندیق یجب قتلہ، لأنہ یقتضی کلامہ واعتقادہ أن لَا تنقطع وھو مخالف للنص القرآنی والأحادیث المتواتر بأن نبیّنا صلی اللہ علیہ وسلم خاتم النبیین علیھم السلام۔‘‘

(محمد بن احمد سفارینی ج:۲ ص:۷۵۲ مطبعۃ المنار، مصر ۳۲۳۱ھ)

ترجمہ: … ’’جو شخص یہ عقیدہ رکھے کہ نبوّت حاصل ہوسکتی ہے، وہ زِندیق اور واجب القتل ہے، کیونکہ اس کا کلام و عقیدہ اس بات کو مقتضی ہے کہ نبوّت کا دروازہ بند نہیں، اور یہ بات نصِ قرآن اور اَحادیثِ متواترہ کے خلاف ہے، جن سے قطعاً ثابت ہے کہ ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم خاتم النبیین ہیں (علیہم السلام)۔‘‘

۶: … علامہ زرقانی رحمہ اللہ شرح مواہب میں اِمام احمد بن حبان رحمہ اللہ سے نقل کرتے ہیں:

’’من ذھب إلٰی أن النبوّۃ مکتسبۃ لَا تنقطع أو إلٰی أن
56

الولی أفضل من النّبی فھو زندیق یجب قتلہ لتکذیب القرآن وخاتم النبیین۔‘‘

(شرح المواہب اللدنیۃ ج:۶ ص:۸۸۱، مطبوعہ ازہریہ، مصر ۷۲۳۱ھ)

ترجمہ: … ’’جس شخص کا یہ مذہب ہو کہ نبوّت کا دروازہ بند نہیں بلکہ حاصل ہوسکتی ہے، یا یہ کہ ولی، نبی سے افضل ہوتا ہے، ایسا شخص زِندیق اور واجب القتل ہے، کیونکہ وہ قرآنِ کریم کی آیت ’’خاتم النبیین‘‘ کی تکذیب کرتا ہے۔‘‘

۷: … اور سیّد محمد آلوسی بغدادی رحمہ اللہ تفسیر ’’رُوح المعانی‘‘ میں آیت ’’خاتم النبیین‘‘ کے ذیل میں لکھتے ہیں:

’’وکونہ صلی اللہ علیہ وسلم خاتم النبیین مما نطق بہ الکتاب وصدعت بہ السُّنَّۃ وأجمعت علیہ الاُمّۃ فیکفر مدعی خلافہ ویقتل إن أصرّ۔‘‘

(رُوح المعانی ج:۲۲ ص:۱۴)

ترجمہ: … ’’اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا آخری نبی ہونا ان مسائل میں سے ہے جن پر قرآن ناطق ہے، جن کو سنت نے واشگاف کیا ہے اور جن پر اُمت کا اِجماع ہے، پس اس کے خلاف دعویٰ کرنے والا کافر قرار دِیا جائے گا اور اگر وہ اِصرار کرے تو اسے قتل کیا جائے گا۔‘‘

۸: … قاضی عیاض رحمہ اللہ ’’الشفاء‘‘ میں لکھتے ہیں:

’’وکذٰلک من ادعی نبوّۃ أحد مع نبیّنا صلی اللہ علیہ وسلم أو بعدہ ۔۔۔۔۔ أو من ادعی النبوّۃ لنفسہ أو جوّز اکتسابہا ۔۔۔۔۔ وکذٰلک من ادعی منھم أنہ یوحی إلیہ وإن لم یدع النبوّۃ
57

۔۔۔۔۔۔ فھٰؤلآء کلھم کفّار مکذّبون للنبی صلی اللہ علیہ وسلم لأنہ أخبر صلی اللہ علیہ وسلم أنہ خاتم النبیین لَا نبی بعدہ، وأخبر عن اللہ تعالٰی أنہ خاتم النبیین وأنہ اُرسل کافۃ للناس وأجمعت الاُمّۃ علٰی حمل ھٰذا الکلام علٰی ظاھرہ وإن مفھومہ المراد بہ دون تأویل ولَا تخصیص فلا شک فی کفر ھٰؤلآء الطوائف کلھا قطعًا إجماعًا وسمعًا۔‘‘

(الشفاء ج:۲ ص:۶۴۲-۷۴۲)

ترجمہ: … ’’اسی طرح جو شخص ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ یا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد کسی شخص کے نبی ہونے کا مدعی ہو ۔۔۔۔۔۔۔ یا خود اپنے لئے نبوّت کا دعویٰ کرے، یا نبوّت کے حصول کو، اور صفائے قلب کے ذریعے مرتبۂ نبوّت تک پہنچنے کو جائز رکھے ۔۔۔۔۔ ۔ اسی طرح جو شخص یہ دعویٰ کرے کہ اس پر وحی نازل ہوتی ہے خواہ صراحۃً نبوّت کا دعویٰ نہ کرے، تو یہ سب لوگ کافر ہیں، کیونکہ یہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی تکذیب کرتے ہیں، کیونکہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے خبر دی ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم خاتم النبیین ہیں، اور یہ کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد کوئی نبی نہیں، اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ تعالیٰ کی طرف سے بھی خبر دی ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم خاتم النبیین ہیں اور یہ کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم تمام انسانوں کے لئے مبعوث کئے گئے ہیں۔ اور پوری اُمت کا اس پر اِجماع ہے کہ یہ کلام ظاہر پر محمول ہے اور یہ کہ بغیر کسی تاویل و تخصیص کے اس سے ظاہری مفہوم ہی مراد ہے۔ اس لئے ان تمام لوگوں کے کافر ہونے میں کوئی شک نہیں، اور ان کا کفر کتاب و سنت اور اِجماع کی رُو سے قطعی ہے۔‘‘

58

ایک اور جگہ لکھتے ہیں:

’’وقد قتل عبدالملک بن مروان الحارث المتنبّی وصلّبہ وفعل ذٰلک غیر واحد من الخلفاء والملوک بأشباھھم وأجمع علماء وقتھم علٰی صواب فعلھم والمخالف فی ذٰلک من کفرھم کافر۔‘‘

(الشفاء ج:۲ ص:۷۵۲)

ترجمہ: … ’’اور خلیفہ عبدالملک بن مروان نے مدعیٔ نبوّت حارث کو قتل کرکے سولی پر لٹکایا تھا، اور بے شمار خلفاء و سلاطین نے اس قماش کے لوگوں کے ساتھ یہی سلوک کیا۔ اور اس دور کے تمام علماء نے بالاجماع ان کے اس فعل کو صحیح اور دُرست قرار دِیا۔ اور جو شخص مدعیٔ نبوّت کے کفر میں اس اِجماع کا مخالف ہو، وہ خود کافر ہے۔‘‘

فقہائے اُمت کے فتاویٰ

۱: … فتاویٰ عالمگیری

’’إذا لم یعرف الرجل أن محمدًا صلی اللہ علیہ وسلم آخر الأنبیاء فلیس بمسلم، ولو قال: ’’أنا رسول اللہ‘‘ أو قال بالفارسیۃ: ’’من بیغمبرم‘‘ یرید بہ من بیغام می برم یکفر۔‘‘

(فتاویٰ ہندیہ ج:۳ ص:۶۳۲ مطبوعہ بولاق، مصر)

ترجمہ: … ’’جب کوئی شخص یہ عقیدہ نہ رکھے کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم آخری نبی ہیں تو وہ مسلمان نہیں، اور اگر کہے کہ: ’’میں رسول ہوں‘‘ یا فارسی میں کہے کہ: ’’میں پیغمبر ہوں‘‘ اور مراد یہ ہو کہ میں پیغام پہنچاتا ہوں، تب بھی کافر ہوجاتا ہے۔‘‘

۲: … فتاویٰ بزازیہ

59
’’ادعی رجل النبوّۃ، فقال رجل: ’’ھات بالمعجزۃ!‘‘ قیل یکفر، وقیل لَا۔‘‘

(الفتاویٰ البزازیہ بر حاشیہ فتاویٰ عالمگیری ج:۶ ص:۸۲۳ مطبوعہ بولاق، مصر)

ترجمہ: … ’’ایک شخص نے نبوّت کا دعویٰ کیا، دُوسرے نے اس سے کہا کہ: ’’اپنا معجزہ لاؤ!‘‘ تو یہ معجزہ طلب کرنے والا بقول بعض کے کافر ہوگیا، اور بعض نے کہا نہیں۔‘‘

۳: … البحر الرائق شرح کنز الدقائق

’’ویکفر بقولہ: ’’إن کان ما قال الأنبیاء حقًّا أو صدقًا‘‘ وبقولہ: ’’أنا رسول اللہ‘‘، ویطلبہ المعجزۃ حین ادعی رجل الرسالۃ وقیل إذا أراد إظھار عجزہ لَا یکفر۔‘‘

(البحر الرائق شرح کنز الدقائق ج:۵ ص:۰۳۱، مطبوعہ بیروت)

ترجمہ: … ’’اگر کوئی کلمۂ شک کے ساتھ کہے کہ: ’’اگر انبیاء کا قول صحیح اور سچ ہو‘‘ تو کافر ہوجاتا ہے۔ اسی طرح اگر یہ کہے کہ: ’’میں اللہ کا رسول ہوں‘‘ تو کافر ہوجاتا ہے۔ اور جو شخص مدعیٔ نبوّت سے معجزہ طلب کرے وہ بھی کافر ہوجاتا ہے، اور بعض نے کہا ہے کہ اگر اس کا عجز ظاہر کرنے کے لئے معجزہ طلب کرے تو کافر نہیں ہوتا۔‘‘

۴: … جامع الفصولین

’’قال: ’’أنا رسول اللہ‘‘ أو قال بالفارسیۃ: ’’من بیغامبرم‘‘ یرید بہ بیغام می برم کفر۔ ولو أنہ حین قال ھٰذہ الکلمۃ طلب منہ غیرہ معجزۃ قیل کفر الطالب، قال المتأخرون: لو کان غرض الطالب تعجیزہ لَا یکفر۔‘‘

(جامع الفصولین ج:۲ ص:۳۰۳، مطبعۃ ازہر ۰۰۳۱ھ)

ترجمہ: … ’’کسی شخص نے کہا کہ: ’’میں اللہ کا رسول

60

ہوں‘‘ یا فارسی زبان میں کہا کہ: ’’میں پیغمبر ہوں‘‘ مراد اس کی یہ تھی کہ میں پیغام لے جاتا ہوں، کافر ہوجائے گا۔ اور جب اس نے یہ بات کہی تو دُوسرے آدمی نے اس سے معجزہ طلب کیا تو کہا گیا ہے کہ معجزہ طلب کرنے والا بھی کافر ہوجائے گا۔ اور متأخرین نے کہا کہ: اگر اس کا مقصد اس کو عاجز کرنا تھا تو کافر نہیں ہوگا۔‘‘

۵: … فقہِ شافعی کی مستند کتاب مغنی المحتاج شرح منہاج میں ہے:

’’(أو) نفی (الرسل) بأن قال: ’’لم یرسلھم اللہ‘‘ أو نفی نبوّۃ نبی أو ادعی نبوّۃ بعد نبیّنا صلی اللہ علیہ وسلم أو صدق مدعیھا أو قال: ’’النبی صلی اللہ علیہ وسلم أسود، أو أمرد، أو غیر قرشی‘‘ أو قال: ’’النبوّۃ مکتسبۃ أو تنال رتبتھا بصفاء القلوب‘‘ أو ’’أوحی إلیّ‘‘ ولم یدع النبوّۃ (أو کذب رسولًا) أو نبیًّا أو سبہ أو استخف بہ أو باسمہ أو باسم اللہ ۔۔۔۔۔ (کفر)۔‘‘

(مغنی المحتاج ج:۴ ص:۵۳۱)

ترجمہ: … ’’یا کوئی شخص رسولوں کی نفی کرے اور یوں کہے کہ: ’’اللہ تعالیٰ نے ان کو نہیں بھیجا‘‘ یا کسی خاص نبی کی نبوّت کا انکار کرے، یا ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد نبوّت کا دعویٰ کرے، یا مدعیٔ نبوّت کی تصدیق کرے، یا یہ کہے کہ: ’’نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ۔۔۔نعوذ باللہ۔۔۔ کالے تھے، یا بے ریش تھے، یا قریشی نہیں تھے‘‘ یا یہ کہے کہ: ’’نبوّت حاصل ہوسکتی ہے، یا قلب کی صفائی کے ذریعے نبوّت کے رُتبے کو پہنچ سکتے ہیں‘‘ یا نبوّت کا دعویٰ تو نہ کرے مگر یہ کہے کہ: ’’مجھ پر وحی نازل ہوتی ہے‘‘ یا کسی رسول و نبی کو جھوٹا کہے، یا نبی کو بُرا بھلا کہے، یا کسی نبی کی تحقیر کرے، یا اللہ تعالیٰ کے نام کی تحقیر کرے تو ان سب صورتوں میں کافر ہوجائے گا۔‘‘

61

۶: … مغنی ابن قدامہؒ (جو فقہِ حنبلی کا مستند فتاویٰ ہے)

’’ومن ادعی النبوّۃ أو صدق من ادعاھا فقد ارتد لأن مسیلمۃ لمّا ادعی النبوّۃ فصدّقہ قومہ صاروا بذٰلک مرتدین وکذٰلک طلیحۃ الأسدی ومصدّقوہ ۔۔۔۔۔ وقال النبی صلی اللہ علیہ وسلم: ’’لَا تقوم الساعۃ حتّٰی یخرج ثلاثون کذّابون کلّھم یزعم أنہ رسول اللہ‘‘
ومن سبّ اللہ تعالٰی کفر سوائٌ کان مازحًا أو حادًا، وکذٰلک من استھزأ باللہ تعالٰی أو بآیاتہٖ أو برُسلہٖ أو کتبہٖ۔ قال اللہ تعالٰی: ’’وَلَئِنْ سَأَلْتَھُمْ لَیَقُوْلُنَّ إِنَّمَا کُنَّا نَخُوْضُ وَنَلْعَبُ، قُلْ أَبِاللہِ وَاٰیٰـتِہٖ وَرَسُوْلِہٖ کُنْتُمْ تَسْتَھْزِؤُنَ۔ لَا تَعْتَذِرُوْا قَدْ کَفَرْتُمْ بَعْدَ إِیْمَانِکُمْ‘‘۔ وینبغی أن لَا یکتفی من الھازیٔ بذٰلک مجرد الْإسلام حتّٰی یؤدب أدبًا یزجرہ عن ذٰلک فإنہ إذا لم یکتف ممن سبّ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بالتوبۃ فممن سَبّ اللہ تعالٰی أولٰی۔‘‘

(مغنی ابن قدامۃ ج:۰۱ ص:۲۱۱)

ترجمہ: … ’’جو شخص نبوّت کا دعویٰ کرے، یا مدعیٔ نبوّت کی تصدیق کرے، وہ مرتد ہے، کیونکہ مسیلمہ نے جب نبوّت کا دعویٰ کیا اور اس کی قوم نے اس کی تصدیق کی تو وہ بھی اس کی وجہ سے مرتد قرار پائی۔ اسی طرح طلیحہ اسدی اور اس کے تصدیق کنندگان بھی۔ اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے کہ: ’’قیامت قائم نہیں ہوگی یہاں تک کہ تیس جھوٹے نکلیں گے، ان میں سے ہر ایک یہ دعویٰ کرے گا کہ وہ رسول اللہ ہے۔‘‘

جو شخص اللہ تعالیٰ کو ۔۔۔نعوذ باللہ۔۔۔ گالی دے، وہ کافر ہے، خواہ بھول کردے، یا بطورِ مزاح، یا واقعی سچ مچ۔ اسی طرح جو شخص

62

اللہ تعالیٰ کا، یا اس کی آیات کا، یا اس کے رسولوں کا، یا اس کی کتابوں کا مذاق اُڑائے وہ بھی کافر ہے۔ حق تعالیٰ کا ارشاد ہے کہ: ’’اور اگر آپ ان سے پوچھیں تو کہیں گے کہ ہم تو بس یونہی دِل لگی اور ہنسی کھیل کر رہے تھے، آپ کہہ دیجئے کہ کیا تم اللہ سے، اس کی آیات سے اور اس کے رسول سے ہنسی کر رہے تھے؟ بہانے نہ بناؤ، تم ایمان لانے کے بعد کافر ہوگئے ہو۔‘‘ اور چاہئے کہ ایسے ہنسی کرنے والے کے صرف اسلام لانے پر اِکتفا نہ کیا جائے، بلکہ اس کو عقل سکھانے کے لئے کچھ سزا بھی دی جائے تاکہ آئندہ ایسی حرکت نہ کرے، کیونکہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے حق میں ناشائستہ الفاظ کہنے والے کی توبہ پر اِکتفا نہیں کیا جاتا تو جو شخص اللہ تعالیٰ کے حق میں گستاخانہ الفاظ کہے وہ بدرجۂ اَوْلیٰ تعزیر کا مستحق ہے۔‘‘

۷: … الشرح الکبیر شرح المقنع بھی فقہِ حنبلی کا مستند فتاویٰ ہے اور اس میں بھی لفظ بلفظ وہی عبارت ہے جو مغنی ابن قدامہؒ سے اُوپر نقل کی گئی ہے۔

(شرح کبیر بر حاشیہ مغنی ج:۰۱ ص:۱۱۱)

خلاصۂ بحث

گزشتہ بالا سطور سے واضح ہوچکا ہے کہ قرآنِ کریم، احادیثِ متواترہ، فقہائے اُمت کے فتاویٰ اور اِجماعِ اُمت کی رُو سے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم بلااِستثنا تمام انبیائے کرام علیہم السلام کے علی الاطلاق خاتم ہیں، اس لئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد کوئی شخص کسی معنی و مفہوم میں بھی نبی نہیں کہلاسکتا، نہ منصبِ نبوّت پر فائز ہوسکتا ہے، اور جو شخص اس کا مدعی ہو، وہ کافر اور دائرۂ اِسلام سے خارج ہے۔

اور یہ خاتمیت آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے اعلیٰ ترین شرف و منزلت اور عظیم الشان اِعزاز و اِکرام ہے، اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد کسی شخص کا نبی بن کر

63

آنا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی سخت توہین ہے، کیونکہ اگر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد کسی نبی کی آمد فرض کی جائے تو سوال ہوگا کہ اس نئے نبی کو کچھ نئے علوم بھی دئیے گئے یا نہیں؟ اگر کہا جائے کہ اس نئے نبی کو نئے علوم نہیں دئیے گئے بلکہ وہی علوم اس پر دوبارہ نازل کئے گئے جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر نازل کئے گئے تھے، تو قرآن مجید اور علومِ نبوی کے موجود ہوتے ہوئے دوبارہ انہی علوم کو نازل کرنا کارِ عبث ہوگا، اور حق تعالیٰ شانہ‘ عبث سے منزّہ ہیں۔ اور اگر یہ کہا جائے کہ بعد کے نبی کو ایسے علوم دئیے گئے جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو نہیں دئیے گئے تھے تو اس سے ۔۔۔نعوذباللہ۔۔۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے علوم کا ناقص ہونا، قرآنِ کریم کا تمام دِینی اُمور کے لئے واضح بیان (تِبْیَانًا لِّکُلِّ شَیْئٍ) نہ ہونا اور دِینِ اسلام کا کامل نہ ہونا لازم آئے گا، اور یہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی، قرآنِ کریم کی اور دِینِ اسلام کی سخت توہین ہے۔

علاوہ ازیں اگر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد کسی نبی کی آمد فرض کی جائے تو ظاہر ہے کہ اس پر اِیمان لانا لازم ہوگا، اور اس کا اِنکار کفر ہوگا، ورنہ نبوّت کے کیا معنی؟ اور یہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی ایک دُوسرے انداز میں توہین و تنقیص ہے کہ ایک شخص آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پورے دِین پر اِیمان رکھنے کے باوجود کافر رہے، اور ہمیشہ کے لئے دوزخ کا مستحق ہو، جس کے معنی یہ ہوں گے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر اِیمان لانا بھی ۔۔۔نعوذباللہ۔۔۔ کفر سے بچانے اور دوزخ سے نجات دِلانے کے لئے کافی نہیں۔

حق تعالیٰ شانہ‘ تمام مسلمانوں کو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے دامن سے وابستہ رہنے کی توفیق عطا فرمائیں۔

وَآخِرُ دَعْوَانَا اَنِ الْحَمْدُ ِﷲِ رَبِّ الْعَالَمِیْنَ

محمد یوسف لدھیانوی

64

’’خاتم النبیین‘‘ کے معنی

محترم ایڈیٹر صاحب رسالہ ’’ختمِ نبوّت‘‘ کراچی

آپ کے رسالہ میں ’’ختمِ نبوّت‘‘ پر کافی بحث ہوئی ہے اور حیات مسیح علیہ السلام پر بھی۔ ایک احمدی دوست پڑھتے ہیں اور باتیں بھی ہوتی رہتی ہیں، انہوں نے حسبِ ذیل اعتراضات کئے ہیں، مہربانی فرماکر رسالہ ’’ختمِ نبوّت‘‘ میں وضاحت فرمائی جاوے۔

۱:۔۔۔خاتم النبیین کے معنی کئے گئے ہیں: ’’آخری نبی‘‘ وہ کہتے ہیں ہم بھی آپؐ کو آخری نبی ان معنوں میں مانتے ہیں کہ آپؐ آخری شارع نبی ہیں، جن کی شریعت کامل اکمل ہونے کی وجہ سے تاقیامت کے لئے کافی ہے۔ پھر وہ منکر ختمِ نبوّت کیسے ہوئے؟ ان معنوں میں رسولِ کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی فضیلت ظاہر ہے، مگر جو معنی ہم کرتے ہیں کہ آپؐ بلحاظ زمانہ آخری نبی ہیں اور محض آخری ہونے میں کوئی فضیلت نظر آئی، کیا آپ کوئی مثال پیش کرسکتے ہیں کہ جس سے محض آخری ہونے سے فضیلت ظاہر ہو؟

۲:۔۔۔نیز عقیدۃً تو ہمارے علماء بھی آپؐ کو آخری نبی نہیں مانتے، کیونکہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام جو خدا کے رسول اور نبی ہیں، کی انتظار ہے، جن کے متعلق آتا ہے: ’’اٰتنی الکتاب وجعلنی نبیا‘‘ (مریم) ’’ورسولًا الی بنی اسرائیل‘‘۔

اس لئے ہمارے بزرگوں نے بھی لکھا ہے مثلاً امام جلال الدین سیوطیؒ: ’’من قال بسلب نبوتہ کفر حقا‘‘ (حجج اکرام ص:۱۳۱) بلکہ:’’فہو رسول ونبی کریم علی حالہ‘‘ (ص:۶۲۴) ایسا ہی حضرت محی الدین ابن عربی نے لکھا ہے (فتوحات مکیہ ج:۱ ص:۰۷۵)۔

آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی جہاں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے نزول کا ذکر فرمایا ہے، چار دفعہ انہیں ’’نبی اللہ عیسٰی واصحابہ‘‘ فرمایا ہے (صحیح مسلم ج:۲

65

کتاب الفتن باب ذکر صفت الدجال ص:۷۷۲ مصری)۔

جب ایک نبی اللہ کے ہم بھی منتظر ہیں تو آخر پر وہ نبی اللہ عیسیٰ آنے والے ہیں، پس قادیانی ایک نبی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد مان لینے کی وجہ سے کافر کیسے ہوئے؟ اب یہاں ایک سوال پیدا ہوتا ہے کہ اگر حضرت عیسیٰ نبی اللہ جو مستقل نبی ہیں، بعد میں آسکتے ہیں، تو اُمتِ محمدیہ میں سے کوئی کیوں نہیں ہوسکتا، جبکہ حضرت رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اُمتِ محمدیہ کے علماء کی یہ شان بیان فرمائی ہے: ’’علماء امتی کأنبیاء بنی اسرائیل‘‘ امید ہے کہ احسن طریق پر اس کا جواب مرحمت فرمائیں گے۔

خاکسار بشیر احمد نبی سرروڈ۔

بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ

اَلْحَمْدُ للہِ وَسَلَامٌ عَلٰی عِبَادِہِ الَّذِیْنَ اصْطَفٰی!

ج:۔۔۔قرآن کریم اور احادیث متواترہ میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے دوبارہ آنے کی خبر دی گئی ہے، اور یہ اُمتِ مسلمہ کا اجماعی عقیدہ ہے، یہاں صرف دو آیتوں کا حوالہ دیتا ہوں:

۱:۔۔۔سورۂ الزخرف میں ہے: ’’وانہ لعلم للساعۃ‘‘ (اور وہ (یعنی عیسیٰ علیہ السلام) نشان ہے قیامت کا) اس آیت کریمہ کی تفسیر صحیح ابن حبان میں خود آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے اس طرح منقول ہے:

’’عن ابن عباس عن النبی صلی اللہ علیہ وسلم فی قولہ تعالیٰ: وانہ لعلم للساعۃ۔ قال: نزول عیسٰی بن مریم من قبل یوم القیامۃ۔‘‘

(صحیح ابن حبان ج:۹ ص:۸۸۲ مطبوعہ مؤسسۃ الرسالۃ، موارد الظمآن ص:۶۳۴)

ترجمہ:۔۔۔’’حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں کہ آپؐ نے اس آیت کریمہ کی تفسیر میں فرمایا کہ: حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا قیامت

66

سے پہلے نازل ہونا قیامت کا نشان ہے۔‘‘

۲:۔۔۔آیت کریمہ: ’’ھو الذی ارسل رسولہ بالھدی ودین الحق لیظھرہ علی الدین کلہ‘‘ کی تفسیر کرتے ہوئے مرزا غلام احمد صاحب قادیانی لکھتے ہیں:

’’یہ آیت جسمانی اور سیاست ملکی کے طور پر حضرت مسیح کے حق میں پیش گوئی ہے اور جس غلبۂ کاملہ دین اسلام کا (اس آیت کریمہ میں) وعدہ دیا گیا ہے وہ غلبہ مسیح کے ذریعہ سے ظہور میں آئے گا اور جب حضرت مسیح علیہ السلام دوبارہ اس دنیا میں تشریف لائیں گے تو ان کے ہاتھ سے دین اسلام جمیع آفاق اور اقطار میں پھیل جائے گا۔

لیکن اس عاجز پر ظاہر کیا گیا ہے کہ یہ خاکسار اپنی غربت اور انکسار اور توکل اور ایثار اور آیات اور انوار کے رو سے مسیح کی پہلی زندگی کا نمونہ ہے اور اس عاجز کی فطرت اور مسیح کی فطرت باہم نہایت ہی متشابہ واقع ہوئی ہے ۔۔۔۔۔ سو چونکہ اس عاجز کو حضرت مسیح سے مشابہت تامہ ہے، اس لئے خداوند کریم نے مسیح کی پیش گوئی میں اِبتدا سے اس عاجز کو بھی شریک کر رکھا ہے، یعنی حضرت مسیح پیش گوئی متذکرہ بالا کا ظاہری اور جسمانی طور پر مصداق ہے اور یہ عاجز روحانی اور معقولی طور پر اس کا محل اور مورد ہے۔‘‘

(براہین احمدیہ حصہ چہارم ص:۳۱۳، ۴۱۳ ح ح طبع پنجم، لاہور)

اسی آیت کی تفسیر مرزا صاحب اپنی آخری کتاب ’’چشمۂ معرفت‘‘ میں جو ان کے انتقال سے پہلے شائع ہوئی، اس طرح فرماتے ہیں:

’’یعنی خدا وہ خدا ہے جس نے اپنے رسول کو ایک کامل ہدایت اور سچے دین کے ساتھ بھیجا تا اس کو ہر ایک قسم کے دین پر غالب کردے، یعنی ایک عالمگیر غلبہ اس کو عطا کرے، اور چونکہ وہ

67

عالمگیر غلبہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں ظہور میں نہیں آیا اور ممکن نہیں کہ خدا کی پیش گوئی میں کچھ تخلّف ہو، اس لئے اس آیت کی نسبت ان سب متقدمین کا اتفاق ہے جو ہم سے پہلے گزر چکے ہیں کہ یہ عالمگیر غلبہ مسیح موعود کے وقت میں ظہور میں آئے گا۔‘‘

(چشمۂ معرفت ص:۳۸، روحانی خزائن ج:۳۲ ص:۱۹)

ان دو آیتوں میں پہلی آیت کی تفسیر مسلمانوں کے نبی مقدس حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ارشاد فرمودہ ہے، اور دوسری آیت کی تفسیر قادیانیوں کے نبی مرزا غلام احمد صاحب قادیانی کی ذکر کردہ ہے، جس پر ان کے الہام کی بھی مہر ہے اور اس کے لئے انہوں نے گزشتہ صدیوں کے تمام اکابر اُمت کے اتفاق و اجماع کا بھی حوالہ دیا ہے، پس یہ آپ کے قادیانی دوست کی بد دینی و شقاوت ہے کہ وہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی تفسیر، مرزا صاحب کی ’’الہامی تفسیر‘‘ اور تمام مجددین اُمت کی اجماعی و اتفاقی تفسیر کو ’’قرآن پر تہمت‘‘ کا نام دیتے ہیں۔ دراصل ایسے محروم القسمت لوگ خدا و رسول پر ایمان نہیں رکھتے، جب کہ مرزا صاحب ازالۂ اوہام میں فرماتے ہیں:

’’حال کے نیچری، جن کے دلوں میں کچھ بھی عظمت قال اللہ اور قال الرسول کی باقی نہیں رہی، یہ بے اصل خیال پیش کرتے ہیں کہ جو مسیح ابن مریم کے آنے کی خبریں صحاح میں موجود ہیں یہ تمام خبریں ہی غلط ہیں۔‘‘

(ازالہ اوہام ص:۶۵۵، روحانی خزائن ج:۳ ص:۹۹۳)

’’یہ بات پوشیدہ نہیں کہ مسیح ابن مریم کے آنے کی پیش گوئی ایک اول درجہ کی پیش گوئی ہے، جس کو سب نے بالاتفاق قبول کرلیا ہے، اور جس قدر صحاح میں پیش گوئیاں لکھی گئی ہیں، کوئی پیش گوئی اس کے ہم پہلو اور ہم وزن ثابت نہیں ہوتی، تواتر کا اول درجہ اس کو حاصل ہے، انجیل بھی اس کی مصدق ہے، اب اس قدر ثبوت پر

68

پانی پھیرنا اور یہ کہنا کہ یہ تمام حدیثیں موضوع ہیں، درحقیقت ان لوگوں کا کام جن کو خدا تعالیٰ نے بصیرت دینی اور حق شناسی سے کچھ بھی بخرہ اور حصہ نہیں دیا اور بباعث اس کے کہ ان لوگوں کے دلوں میں قال اللہ اور قال الرسول کی عظمت باقی نہیں رہی، اس لئے جو بات ان کی اپنی سمجھ سے بالاتر ہو اس کو محالات اور ممتنعات میں داخل کرلیتے ہیں۔‘‘

(ازالہ اوہام ص:۷۵۵، روحانی خزائن ج:۳ ص:۰۰۴)

’’مسلمانوں کی بدقسمتی سے یہ فرقہ بھی اسلام میں پیدا ہوگیا ہے جس کا قدم دن بدن الحاد کے میدانوں میں آگے ہی آگے چل رہا ہے۔‘‘

(ازالہ اوہام ص:۹۵۵، روحانی خزائن ج:۳ ص:۱۰۴)

مرزا صاحب کے ان اقتباسات سے معلوم ہوا کہ:

۱:۔۔۔حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے آنے کی پیش گوئی متواتر احادیث میں موجود ہے، اور اس کو تواتر کا اول درجہ حاصل ہے۔

۲:۔۔۔تمام اُمتِ اسلامیہ نے اس پیش گوئی کی قطعی حیثیت کو بالاتفاق قبول کیا ہے اور پوری اُمت کا اس پر اجماع ہے۔

۳:۔۔۔یہ عقیدہ نہ صرف قرآن کریم اور احادیث متواترہ میں موجود ہے بلکہ انجیل بھی اس کی تصدیق کرتی ہے۔

۴:۔۔۔جو لوگ اس عقیدے کا انکار کرتے ہیں وہ بے دین نیچری ہیں، اور ان کے انکار کا منشا اس کے سوا کچھ نہیں کہ ان کے دلوں میں کفر و الحاد بھرا ہوا ہے، اور خدا و رسول پر ایمان اور ان کے ارشادات کی عظمت سے ان لوگوں کے سینے خالی ہیں، اللہ تعالیٰ عقل و ایمان نصیب فرمائے۔

(ہفت روزہ ختمِ نبوّت کراچی ج:۲ ش:۷۱)

69

عقیدۂ ختمِ نبوّت کا منکر

ملعون و مردُود ہے

بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ

اَلْحَمْدُ للہِ رَبِّ الْعَالَمِیْنَ

وَالصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامُ عَلٰی خَاتَمِ النَّبِیِّیْنَ، اَمَّا بَعْدُ!

سب سے پہلے عالمی مجلس تحفظ ختمِ نبوّت کی طرف سے اور ہمارے حضرت امیر دامت برکاتہم کی طرف سے میں آپ تمام حضرات کا شکریہ ادا کرتا ہوں، شکریہ تو ایک رسمی چیز ہے اور عموماً لوگ کیا ہی کرتے ہیں، مگر میرے شکریہ کا مدعا یہ ہے کہ جس طرح آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی ذاتِ گرامی کی نسبت سے حق تعالیٰ شانہ نے ہمیں یہاں جمع ہونے کا موقع بخشا اور توفیق عطا فرمائی ہے، حق تعالیٰ شانہ اس پاک ذات کی برکت سے ہمیں اپنے فضل و کرم سے جنت میں بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سائے میں جمع فرمائے۔ آپ سب حضرات کہئے: آمین! اور اِن شاء اللہ قبول ہوجائے تو میری اور آپ کی نجات کے لئے اتنا کافی ہوجائے گا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی نسبت سے مسلمانوں کے جلسے کا اجتماع ہوا تھا اور فلاں اور فلاں اسی نسبت سے اس میں شریک ہوئے تھے۔

صحیح بخاری کی حدیث میں ہے کہ کچھ لوگ اللہ تعالیٰ کے ذکر کے لئے جمع ہوئے، حدیث تو لمبی ہے، مگر یہاں میں صرف اس کا ایک جملہ نقل کرنا چاہتا ہوں کہ: حق تعالیٰ شانہ نے فرشتوں سے فرمایا کہ: میں نے ان سب کی بخشش کردی! فرشتوں نے عرض کیا: یا اللہ! ایک بندہ چلتے چلتے سرِ راہ ان میں بیٹھ گیا، وہ تو ان میں سے نہیں تھا، اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ان سب کے ساتھ اس کی بھی بخشش کردی، اس لئے کہ: ’’اُوْلٰئِکَ قَوْمٌ لّا یَشْقٰی جَلِیْسُھُمْ‘‘

70

یہ وہ لوگ ہیں کہ ان کے پاس بیٹھنے والوں کو بھی محروم نہیں رکھا جاسکتا۔

یہ میرے ان اکابر کا قافلہ ہے جنہوں نے مشکل وقت میں ختمِ نبوّت کا جھنڈا بلند کیا ہے، یہ میرے ان بزرگوں کا قافلہ ہے جن کے ہاتھ میں امام العصر حضرت مولانا محمد انور شاہ کشمیری رحمۃ اللہ علیہ نے ختمِ نبوّت کا جھنڈا دے کر ان کو ’’امیرِ شریعت‘‘ کا خطاب دیا، امیرِ شریعت سیّد عطاء اللہ شاہ بخاری نور اللہ مرقدہٗ کو صرف یہ خطاب ہی نہیں دیا بلکہ انہوں نے خود ان کے ہاتھ پر بیعت بھی کی۔

میرے شیخ حضرت مولانا محمد یوسف بنوری رحمہ اللہ فرماتے تھے: ’’بیعت کرنے والوں میں سے پانچواں آدمی میں تھا۔‘‘

اس بیعت کی محفل میں پانچ سو علمائے کرام موجود تھے، پانچ سو کے پانچ سو علمائے کرام نے حضرت امیرِ شریعت کے ہاتھ پر بیعت کی، تو یہ حضرت امیرِ شریعت سیّد عطاء اللہ شاہ بخاری کا قافلہ ہے۔ اگر چلتے چلتے ہمیں بھی ان کے ساتھ بیٹھنے کی توفیق ہوجائے اور اللہ تعالیٰ محض اپنے فضل و کرم سے ہماری بھی بخشش فرمادیں، تو کیا مضائقہ ہے؟

حق تعالیٰ شانہ کا لاکھ لاکھ شکر ہے کہ اس نے ہمیں اپنے نبی اُمّی حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی ختمِ نبوّت کی نسبت سے یہاں جمع ہونے کی توفیق عطا فرمائی ہے، اس طرح کیا ہی اچھا ہو کہ حق تعالیٰ شانہ کل قیامت کے دن ہمیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے دامنِ رحمت میں بھی پناہ عطا فرمادے! اور اِن شاء اللہ ملے گی! اِن شاء اللہ ملے گی! میرے آقا بہت لاج رکھنے والے ہیں، ہم بہت کمزور ہیں، بہت گناہ گار ہیں، بہت ہی زیادہ پست ہمت ہیں، نہ عقل، نہ خرد، نہ زبان، نہ بیان، کچھ بھی تو پاس نہیں، صرف اتنا ہے کہ آقا کی امانت ختمِ نبوّت کا جھنڈا اُٹھائے پھر رہے ہیں، اِن شاء اللہ محروم نہیں رہوگے، اِن شاء اللہ محروم نہیں رہوگے۔ میرے ایک بزرگ نے یہاں مسلمانوں کے اتحاد کا ذکر کیا تھا، اور اس کی طرف اشارہ کیا تھا، یہ کسی اور جلسے کا موضوع ہے اور اس اجلاس میں افسوس ہے کہ اس موضوع پر تفصیل سے بات نہیں ہوسکتی۔

71

علماء، انبیاء کے وارث:

لیکن اتنی بات جانتا ہوں اور آپ حضرات کو بھی بتادینا چاہتا ہوں کہ آپ حضرات علمائے کرام کے اختلاف سے زیادہ پریشان نہ ہوا کریں، تم لوگ اس معاملہ میں زیادہ حساس ہوجاتے ہو، اور آپس کی مجلسوں میں بیٹھ کر ان علمائے کرام پر تنقید کرتے ہو کہ مولوی ایسا کر رہے ہیں، مولوی ایسا کر رہے ہیں، نہ بھائی! نہ! ایسا نہ کرو! تمہیں معلوم ہے کہ یہ علمائے کرام میرے نبی کے وارث ہیں، کیونکہ خود آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے: ’’العلماء ورثۃ الأنبیاء!‘‘ (علماء، انبیاء کے وارث ہیں)۔

اس اُمت کا ظرف:

تمہیں معلوم نہیں ہے کہ جنگِ جمل میں ایک طرف امیرالمؤمنین حضرت علی کرم اللہ وجہہ ہیں اور دوسری طرف ام المؤمنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا ہیں، دونوں کو ’’رضی اللہ عنہم‘‘ کہتے ہیں یا نہیں؟ ان کی تلواریں آپس میں چل رہی ہیں، اور ہم ’’رضی اللہ عنہم‘‘ کہہ رہے ہیں۔ اس اُمت کو تو اللہ تعالیٰ نے اتنا بڑا ظرف عطا فرمایا ہے، تم مولویوں کے معمولی سے اختلافات سے گھبراتے ہو؟ نہ بھائی! نہ!

علماء مقصد پر متحد ہیں:

الحمدﷲ ثم الحمدﷲ! میں پوری ذمہ داری کے ساتھ کہتا ہوں کہ علمائے کرام کے درمیان کتنے ہی اختلافات کیوں نہ ہوں، مگر الحمدﷲ! مقصد پر وہ متحد و متفق ہیں، باقی جس طرح میرے جیسے کمزور آدمی کو بیماریاں لگتی رہتی ہیں، اسی طرح علمائے کرام کے طبقے میں بھی کمزوریاں آگئی ہیں، ہمارے ان دوستوں کو، جن کو ’’علمائے کرام‘‘ کہتے ہیں، کچھ کچھ امراض لاحق ہوجاتے ہیں، کوئی حرج نہیں، سب کا احترام کرو۔

علماء کے خلاف زبان نہ کھولو:

خبردار! علمائے اُمت کے خلاف کوئی لفظ تمہاری زبان سے نہیں نکلنا چاہئے، تم ان کو نہ دیکھو! ان کی نسبت کو دیکھو! ان کا احترام دین کا احترام ہے، ان کا احترام دراصل نبی

72

کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی غلامی کی نسبت کا احترام ہے، اور جس شخص کو یہ احترام نصیب ہوگیا وہ بڑا خوش قسمت ہے، اگر کبھی تمہارے دل کا چور تمہیں ستائے اور علمائے کرام کی غیبت پر آمادہ کرے تو اُسے کہو:

دامن کو ذرا دیکھ! ذرا بندِ قبا دیکھ!

اپنے دامن پر ذرا نگاہ ڈال لیا کرو، اور سوچا کرو کہ میرے اندر کتنے عیوب ہیں؟ یعنی ذرا اپنا محاسبہ کرلیا کرو۔

اکابرؒ فرماتے ہیں: مبارک ہے وہ آدمی جسے اپنے عیوب پر نظر کرنے، نے دوسرے کے عیوب سے اندھا کردیا ہو، اس لئے کہ میرے پاس اپنے عیوب اتنے ہیں کہ میں کسی کی کیا برائی کروں؟

قادیانی کلمۂ طیبہ سے کیا مراد لیتے ہیں؟

میرے بھائی، میرے عزیز، میرے محبوب لیڈر مولانا تاج محمود رحمۃ اللہ علیہ کے صاحبزادے طارق محمود صاحب نے ہمارے امیر حضرت مولانا قاضی احسان احمد شجاع آبادیؒ ۔۔۔سب کہو: رحمۃ اللہ علیہ، اللہ ان تمام بزرگوں کی قبروں کو نور سے بھردے۔۔۔ کے جسٹس منیر کی عدالت کے ایک قصے کا ذکر کیا تھا، میں بھی ان کا ایک واقعہ آپ کی خدمت میں پیش کرتا ہوں:

قادیانی کہتے ہیں اور کچھ ہمارے پڑھے لکھے بھائی اور کچھ اَن پڑھ بھائی بھی کہتے ہیں، کچھ زیادہ عقل والے اور کچھ کم عقل والے بھی کہتے ہیں کہ قادیانی ’’لا الٰہ الا اللہ محمد رسول اللہ‘‘ ہی تو پڑھتے ہیں، یہ کون سی بری بات ہے؟ کیا نعوذباللہ کلمہ پڑھنا برا ہے؟ آخر تم لوگ ان کے پیچھے کیوں پڑے ہوئے ہو؟

پہلا جواب:

اس کا ایک جواب تو سورۂ منافقون کی ابتدائی آیات میں قرآن کریم نے دیا تھا، جیسا کہ ارشادِ الٰہی ہے:

73

’’اِذَا جَآئَکَ الْمُنٰفِقُوْنَ قَالُوْا نَشْھَدُ اِنَّکَ لَرَسُوْلُ اللہِ، وَاللہُ یَعْلَمُ اِنَّکَ لَرَسُوْلُہٗ وَاللہُ یَشْھَدُ اِنَّ الْمُنٰـفِقِیْنَ لَکَاذِبُوْنَ۔‘‘

(المنافقون:۱)

ترجمہ: … ’’(اے نبی صلی اللہ علیہ وسلم) جب آتے ہیں آپؐ کے پاس منافق لوگ تو پکی قسم کھاکر کہتے ہیں کہ ہم لوگ گواہی دیتے ہیں کہ واقعی اور قطعی طور پر آپؐ اللہ تعالیٰ کے رسول ہیں، (اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں) اللہ تعالیٰ کو معلوم ہے کہ واقعی آپؐ اللہ کے رسول ہیں (بات صحیح کہتے ہیں)، لیکن اللہ تعالیٰ گواہی دیتا ہے کہ منافق جھوٹے ہیں۔‘‘

یعنی بات سچی کہتے ہیں، لیکن کمال کی بات یہ ہے کہ دنیا کی سب سے زیادہ سچی بات کہہ کر دنیا کے سب سے بڑے جھوٹے ہیں، اللہ تعالیٰ گواہی دیتا ہے کہ جھوٹے ہیں، بھائی! جھوٹ میں نے بھی کبھی اپنی زندگی میں بولا ہوگا، لیکن اللہ تعالیٰ نے کبھی گواہی نہیں دی کہ محمد یوسف جھوٹا ہے، اور جھوٹ تو کبھی آپ کے منہ سے بھی نکل ہی گیا ہوگا، اور نکل بھی جاتا ہے، کیونکہ کبھی منہ سے آخر غلط بات نکل جاتی ہے، لیکن اللہ تعالیٰ نے کہیں نہیں فرمایا کہ: فلاں آدمی جھوٹا ہے، لیکن جب دنیا کا سب سے سچا قول اور سچی حقیقت جس سے زیادہ سچی دنیا میں کوئی حقیقت نہیں ہے، یعنی کلمہ ’’لا الٰہ الا اللہ محمد رسول اللہ‘‘ منافقوں کے منہ سے نکلتا ہے تو اللہ تعالیٰ جوش کے ساتھ فرماتے ہیں: بے شک اللہ تعالیٰ گواہی دیتا ہے کہ منافق لوگ قطعی طور پر جھوٹے ہیں! بات سچ کہتے ہیں لیکن صدقِ دل سے نہیں کہتے، اس لئے جھوٹے ہیں۔ سوال یہ ہے کہ وہ یہ بات کیوں کہتے ہیں؟ اللہ تعالیٰ اس کا جواب دیتے ہوئے فرماتے ہیں کہ: یہ اپنا کفر چھپانے کے لئے اپنی قسموں کو ڈھال بنا رہے ہیں، ایک جواب تو اللہ تعالیٰ نے دے دیا کہ جیسے منافقین کا قسمیں کھاکھاکر حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی رسالت کا اقرار غلط ہے، ایسے ہی قادیانیوں کا کلمہ پڑھنا بھی غلط ہے، جیسے اللہ تعالیٰ نے ان کے فریب و فراڈ کو آشکارا کرنے کے لئے سورۂ منافقین نازل فرمائی، مسلمانوں کو بھی چاہئے کہ قادیانیوں کا فریب و فراڈ آشکارا

74

کرنے کے لئے ان کا تعاقب کریں اور ان کو کلمہ کا جھوٹا سہارا نہ لینے دیں، کیونکہ قادیانی قطعی طور پر کافر ہونے اور غلام احمد قادیانی کو محمد رسول اللہ ماننے کے باوجود جب تمہارے سامنے آتے ہیں تو کبھی کلمہ ’’لا الٰہ الا اللہ محمد رسول اللہ‘‘ دیواروں پر لگاتے ہیں، کبھی سینوں پر لگاتے ہیں، کبھی کاروں پر لگاتے ہیں، کبھی گاڑیوں پر لگاتے ہیں، تو جھوٹا پروپیگنڈا کرتے ہیں کہ ہم مسلمان ہیں، اور مسلمان ہمیں کلمے سے روکتے ہیں، ہم یہ واضح کردینا چاہتے ہیں کہ ہم کسی کو کلمے سے نہیں روکتے، بلکہ قادیانیوں کے سب سے بڑے فراڈ اور سب سے بڑے جھوٹ کو واضح کرنے کے لئے ان کو اس سے روکتے ہیں۔

کلمۂ طیبہ کے بارے میں قاضی صاحبؒ کا جواب:

ایک اور جواب جو ہمارے قاضی احسان احمد شجاع آبادیؒ نے دیا تھا، وہ بھی سماعت فرماویں، ہوا یہ کہ سیالکوٹ کی ایک تحصیل میں کلمہ طیبہ کا مقدمہ تھا، جج قادیانیوں کی حمایت میں قاضی صاحبؒ سے بحث کرنے لگا۔

دیکھو! کھلے عام عدالتوں میں ان مسائل پر بحث ہوئی، خود ججوں نے اپنے اشکالات پیش کئے، گویا قادیانیوں کی وکالت کا سا انداز اپنایا، اور سوچ سمجھ کر فیصلہ کیا، لیکن اس کے باوجود بھی قادیانی کہتے ہیں کہ ہمیں انصاف نہیں ملتا۔ یعنی ان کا خیال ہے کہ لوگ جھوٹ کو سچ کیوں نہیں کہتے؟ ہاں! اگر جھوٹ کو سچ کہہ دیں تو پھر قادیانیوں کو انصاف مل جائے، لیکن بہرحال ہماری عدالتوں کو یہ کہنا پڑا کہ جھوٹ، جھوٹ ہے، اور سچ، سچ ہے۔

تو قاضی صاحبؒ نے سمجھایا کہ جج صاحب یہ اسلام کا شعار ہے، کسی قوم کا شعار اپنانے کی اجازت نہیں دی جاسکتی، بہت سارے دلائل دئیے، لیکن جج صاحب کی سمجھ میں نہیں آیا، جج کہنے لگا: قاضی صاحب! یہ متبرک کلمہ ہے، کوئی اگر اس کلمہ کو پڑھتا ہے تو آپ کیوں چڑتے ہیں؟ حضرت قاضی صاحبؒ نے اپنے ترکش کا آخری تیر پھینکتے ہوئے کہا: جج صاحب! گستاخی کی معافی چاہتے ہوئے گزارش کروں گا کہ اگر میں آپ کی عدالت کے سامنے ایک کمرہ بناکر اور اس پر آپ کے عہدے ’’سیشن جج‘‘ کی تختی لگاکر بیٹھ کے عدالت

75

کرنے لگوں تو آپ کو کوئی اعتراض تو نہیں ہوگا؟ جج نے جواب دیا: کیوں نہیں ہوگا! قاضی صاحب نے کہا: کیوں؟ جج کہنے لگا: اس لئے کہ یہ عہدے اور القاب یعنی سیشن کورٹ، ہائی کورٹ، سپریم کورٹ، سیشن جج، جسٹس وغیرہ یہ خاص عدالتوں اور ایک معیار کے حامل افراد کے لئے مخصوص ہیں، دوسرا کوئی استعمال نہیں کرسکتا! قاضی صاحبؒ کہنے لگے: جج صاحب! بحمداللہ مسئلہ آپ نے خود ہی حل کردیا ہے، اس لئے کہ اگر سیشن جج آپ کا لقب ہے اور اس کو کوئی دوسرا استعمال نہیں کرسکتا تو ’’لا الٰہ الا اللہ محمد رسول اللہ‘‘ میرے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا لقب ہے، اگر آپ کے لقب اور عہدہ کا استعمال توہینِ عدالت ہے اور عدالت کے تقدس کے خلاف ہے، تو کسی کافر کے سینہ پر ’’لا الٰہ الا اللہ محمد رسول اللہ‘‘ لگنا اسلام کی توہین ہے اور اسلام کے تقدس کے خلاف ہے۔ جج صاحب کی سمجھ میں بات آگئی اور کہنے لگے: آپ نے گھنٹہ بھر تقریر کی لیکن بات سمجھ میں نہیں آئی، لیکن اس مثال سے بات بالکل واضح ہوکر سامنے آگئی۔

دُوسرا جواب:

دنیا کا نظام درہم برہم ہوجائے اگر کسی ایک کا شعار دوسرے کو استعمال کرنے کی اجازت دے دی جائے اور تو اور اس معمولی ڈاکیہ کا بھی ایک مخصوص شعار، وردی اور لباس ہے، اس کو بھی دوسرا کوئی نہیں پہن سکتا، اگر پہنے گا تو فراڈیہ کہلائے گا۔

ایک اور بات کہوں وہ یہ کہ ڈاکیہ سرکاری ملازم ہے، سرکاری ملازم جب وردی میں ہو تو اس کی توہین سرکار کی توہین سمجھی جاتی ہے، اگر کسی نے ڈاکیہ کی توہین کی تو یہ اس کی توہین نہیں ہے بلکہ اس کی وردی کی توہین ہے، پرانے زمانہ میں تو اس بیچارے کی تنخواہ بھی ساٹھ روپے ہوا کرتی تھی، تو اگر ایک ساٹھ روپے تنخواہ کے ملازم کی توہین، حکومت اور سرکار کی توہین کہلاتی ہے تو کسی کافر کے کلمۂ اسلام لگانے سے اسلام کی توہین نہیں ہوگی؟ اسی طرح ایک سپاہی کی بھی ۔۔۔ خواہ سپاہی پولیس کا ہو یا مسلح افواج کا۔۔۔ ایک خاص وردی ہوتی ہے، اور ان کے مختلف رینک ہوتے ہیں، پھر ہر رینک کے الگ الگ نشانات ہوتے ہیں، اگر فوج کے کسی معمولی افسر کی یا بڑے افسر کی وردی دوسرا کوئی پہن لے تو فراڈ کے جرم میں پکڑا جائے

76

گا کہ نہیں؟ اور وردی کی حالت میں سرکاری افسر کی توہین، سرکار کی توہین اور بغاوت کہلائے گی کہ نہیں؟

کلمۂ طیبہ اسلام کا شعار!

میرے بھائیو! سمجھ لو، لکھے پڑھے بھی سمجھ لیں، اَن پڑھ بھی سمجھ لیں، کہ ’’لا الٰہ الا اللہ محمد رسول اللہ‘‘ اسلام کا شعار اور اسلام کا بورڈ ہے، اسلام کا لباس ہے، جو شخص غیرمسلم ہوتے ہوئے اس نام کو استعمال کرے گا، یہ سرکار کی توہین ہے اور اس کو قطعاً اس بات کی اجازت نہیں دی جاسکتی، بلکہ اس پر چار سو بیس کا مقدمہ بنے گا۔

پھر یہ کلمہ تو میرے نبی حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے نام کا پڑھا جاتا ہے، کیونکہ ’’لا الٰہ الا اللہ محمد رسول اللہ‘‘ میں ’’محمد رسول اللہ‘‘ سے مراد وہ ذاتِ پاک ہے جن کے جوتے کی نوک سے انسانیت کو ہدایت نصیب ہوئی، (اللہ تعالیٰ کی کروڑوں، کروڑوں رحمتیں اور صلوٰۃ و سلام ان پر ہوں)، لیکن چودہویں صدی کے سب سے بڑے فراڈی، سب سے بڑے جھوٹے اور مسیلمہ کذاب کے بھائی غلام احمد قادیانی نے کہا:

’’محمد رسول اللہ والذین معہ ۔۔۔۔۔ الخ۔ اس وحی میں مجھے محمد رسول اللہ کہا گیا ہے۔‘‘

(ایک غلطی کا ازالہ ص:۳)

قادیانیوں کا موجودہ سربراہ مرزا طاہر ہم سے بہت ناراض ہے اور کہتا ہے کہ مجلس تحفظ ختمِ نبوّت والے اور ان کے ہم نوا مولوی ہمیں کہیں بھی ٹکنے نہیں دیتے، میں نے سنا ہے کہ اس کی تقریر کا ایک تہائی حصہ مولویوں کو گالیاں دینے پر صرف ہوتا ہے، مثلاً: اگر ایک گھنٹہ کی تقریر ہو تو اس میں بیس منٹ تک صرف مولویوں کو گالیاں سناتا ہے۔

مرزائیوں کی صحیح خدمت یہ تھی ۔۔۔!

مرزا طاہر! تم ہم سے ناراض ہوتے ہو، حالانکہ ہم پر ناراض تو نبی آخرالزمان حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ہونا چاہئے تھا کہ ہم ان کے نالائق اُمتیوں کے ہوتے

77

ہوئے بھی غلام احمد جیسا دجال اپنے آپ کو ’’محمد رسول اللہ‘‘ کہلواتا ہے اور ہم اس کی زبان گدی سے پکڑ کر نہیں کھینچ لیتے! مرزا طاہر! تیری، تیرے باپ کی اور تیرے دادا کی صحیح خدمت یہ تھی کہ وہ زبان کاٹ دی جاتی، جس سے ’’محمد رسول اللہ‘‘ کا لفظ غلام احمد کے لئے نکلا تھا، تم ہمیں کہتے ہو کہ ہم تم پر زیادتی کرتے ہیں، اس موضوع پر میرے دو مستقل رسالے ہیں، ایک ’’کلمہ طیبہ کی توہین‘‘ کے نام سے اور دوسرا ’’قادیانیوں کو دعوتِ اسلام‘‘ کے نام سے ہے۔

تیسرا جواب:

ہر تاجر کا ایک صنعتی ’’مارکہ‘‘ ہوتا ہے، اس کو استعمال نہیں کیا جاسکتا، اگر کوئی دوسرا اس کو استعمال کرے گا تو عدالت میں اس کو چیلنج کیا جائے گا، جب فوجی وردی کو، پولیس کی وردی کو اور ہر صنعتی ’’مارکہ‘‘ و مونوگرام کو تحفظ حاصل ہے، تو آخر کیا بات ہے کہ ُامتِ مسلمہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے نام کی حفاظت نہیں کرسکتی؟ سنو! مسلمان ہر بات برداشت کرسکتا ہے، لیکن اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی توہین برداشت نہیں کرسکتا۔

جب توہین کی بات آگئی تو سرِراہ ایک اور بات بھی سن لو، وہ یہ کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم معراج پر تشریف لے گئے تھے، سبحان اللہ! ساتوں آسمان نیچے رہ گئے اور آپؐ اُوپر تشریف لے گئے، چلتے چلتے وہاں تک پہنچے کہ فرشتوں، قدوسیوں اور آسمان والوں کے امام حضرت جبریل علیہ السلام نے کہہ دیا کہ: یا رسول اللہ! اب آگے آپ خود ہی تشریف لے جائیے! میری طرف سے معذرت! چنانچہ شیخ سعدی رحمۃ اللہ علیہ اس کو نظم کرتے ہوئے فرماتے ہیں:

  1. گفت سالار بیت الحرام

    کہ اے حامل وحی بر تر خرام

  2. کہ در دوستی مخلصم یافتی

    عنان رفاقت چرا تافتی

78
  1. گر یک سر موئے برتر پرم

    فروغ تجلی بسوزد پرم

ترجمہ: … ’’آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا کہ: اے وحی کے لانے والے فرشتے! ذرا اُوپر چلو، جب تم نے دوستی میں مجھ کو مخلص پایا ہے تو اب رفاقت کو کیوں چھوڑ رہے ہو؟ چلو نا آگے چلو، انہوں نے کہا: آقا! اگر ایک بال برابر اُوپر جاؤں گا تو اللہ تعالیٰ کی تجلی میرے پَروں کو جلادے گی۔‘‘

یعنی پھر جبریل، جبریل نہیں رہے گا، بھسم ہوجائے گا۔ یہ تو آپؐ ہی کا حوصلہ ہے کہ آگے چل سکتے ہیں، جبریل کا کام یہاں ختم ہوگیا، نورانیوں کی پرواز ختم، اور میرے آقا سیّدالبشر صلی اللہ علیہ وسلم آگے تشریف لے جارہے ہیں۔

معراج کے متعلق قادیانی گستاخی:

مجھے گستاخی کا لفظ نہیں بولنا چاہئے تھا، لیکن میں ’’نقلِ کفر، کفر نباشد!‘‘ کے طور پر نقل کرتا ہوں کہ دجال و لعینِ قادیان غلام احمد کہتا ہے: ’’معراج پر جانے والا ہگنے موتنے والا وجود نہیں تھا۔‘‘ ۔۔۔استغفر اللہ ثم استغفر اللہ۔۔۔ کتا بھونکتا ہے، بھلا اس سے کوئی پوچھے کہ کیا تیری ماں نے کبھی نہیں ہگا موتا تھا؟ کیا تو نے کبھی اپنے ماں کے بارہ میں بھی ایسی بدترین زبان استعمال کی تھی؟ کیا کبھی کسی شریف انسان نے اپنے باپ کے لئے ہگنے موتنے کا لفظ کہا ہے؟ تجھے شرم نہ آئی! اگر تجھے کفر کا اظہار ہی کرنا تھا تو اس گستاخانہ لہجے میں کرنا تھا؟ معراج پر جانے والا ۔۔۔نعوذ باللہ ثم نعوذ باللہ۔۔۔ ہگنے موتنے والا وجود نہیں تھا، استغفر اللہ، نقلِ کفر، کفر نباشد!

ہماری نئی نسل اور ختمِ نبوّت کا معنی:

ہمارے ڈاکٹر سلمان صاحب نے ختمِ نبوّت کے معنی بیان کئے ہیں، اچھا کیا۔

ہمارے باوا صاحب ایک دن مجھے کہنے لگے کہ: ختمِ نبوّت پر ایک رسالہ لکھو! میں

79

نے کہا: اس کا کیا کروگے؟ کہنے لگے کہ: نئی نسل نہیں جانتی کہ ختمِ نبوّت کیا چیز ہے؟ اللہ اکبر! میرے بھائیو! کیا واقعی ہمارے بچے اب یہ بھی نہیں جانتے کہ ختمِ نبوّت کیا چیز ہے؟ میرے بھائیو! ختمِ نبوّت کے معنی یہ ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم آخری نبی ہیں اور آپؐ کے آنے سے نبوّت پر مہر لگ گئی ہے، اب کوئی نیا نبی نہیں آئے گا، خَاتَمُ النَّبِیِّیْن زبر کے ساتھ ہو یا خَاتِمُ النَّبِیِّیْن زیر کے ساتھ ہو، دونوں کے ایک ہی معنی ہیں، آخری نبی یعنی اللہ تعالیٰ کے یہاں اور علمِ الٰہی میں نبیوں کی ایک فہرست بنائی گئی تھی، ان میں اوّل نمبر پر تھے حضرت آدم علیہ السلام اور سب سے آخری نمبر پر حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تھے۔

امام العصر مولانا محمد انور شاہ کشمیری قدس سرہٗ و نور اللہ مرقدہٗ کی کتاب ہے ’’خاتم النبیین‘‘، جس کا میں نے حضرت اقدس مولانا سیّد محمد یوسف بنوری رحمۃ اللہ علیہ کے حکم سے ترجمہ کیا تھا۔

اللہ تعالیٰ کی عجیب شان اور عجیب اتفاق ہے کہ جس دن وہ اصل فارسی رسالہ زیورِ طبع سے آراستہ ہوکر آیا تو اس دن حضرت شاہ صاحب سفرِ آخرت پر روانہ ہوئے، اور جس دن اس کا اُردو ترجمہ طبع ہوکر منصہ شہود پر آیا تو میرے شیخ حضرت بنوری نور اللہ مرقدہٗ دارِ بقا کے لئے ہم سے رُخصت ہوئے۔

تو امام العصر حضرت مولانا محمد انور شاہ صاحب قدس سرہٗ اپنے اس رسالہ میں ’’خاتم النبیین‘‘ کا معنی سمجھاتے ہوئے تحریر کرتے ہیں:

ایک عجیب مثال:

’’آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو ۔۔۔۔۔۔ صدرِ جلسہ کی حیثیت سے لایا گیا ہے کہ ساری تمہید پہلے ہوا کرتی ہے، اور صدرِ جلسہ کی آمد کے بعد جلسہ کا اختتام ہوجاتا ہے، اور مقصد ختم ہوجانے کے بعد سوائے کوچ کا نقارہ بجانے کے اور کوئی کام باقی نہیں رہ جاتا، ورنہ لازم آئے گا کہ مقصد ابھی تک پورا نہیں ہوا۔‘‘

(ترجمہ خاتم النبیین ص:۰۷۱)

80

گویا یہ دنیا ایک جلسہ تھا، اللہ تعالیٰ نے ایک جلسہ بلایا تھا، اور باری باری مقرر آتے رہے، اپنی تقریریں کرتے رہے، آخر میں صدرِ جلسہ تشریف لائے اور انہوں نے خطبۂ صدارت پڑھا اور جلسہ ختم ہوگیا۔ میرے آقا حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس کائنات کی پوری بارات کے دولہا تھے، اس کائنات کے جلسے کے صدر تھے، آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے، خطبۂ صدارت ارشاد فرماکر تشریف لے گئے، اس کے بعد کسی اور مقرر نے نہیں آنا بلکہ اب قیامت ہی نے آنا ہے، اب صرف اکھاڑ پچھاڑ کی دیر ہے۔

ایک شبہ:

تم اعتراض کروگے کہ ہم تو ابھی تک زندہ ہیں اور کائنات کے جلسہ میں لوگ مزید آرہے ہیں، یعنی انسان پیدا ہو رہے ہیں تو جلسہ کیونکر ختم ہوا؟

جواب:

نہیں بھائی! آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی تشریف بری سے ہی لوگ چلنا شروع ہوگئے، آخر اتنا بڑا جلسہ ہے، اس کو اُکھاڑنے پچھاڑنے میں بھی تو کچھ دیر لگے گی؟

حضرت نانوتویؒ کے متعلق حضرت گولڑویؒ کا ارشاد:

محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم، اللہ کے آخری نبی ہیں، آپؐ کے بعد کسی فردِ بشر کے سر پر تاجِ نبوّت نہیں رکھا جائے گا، اور یہ ممکن ہی نہیں ہے۔ ہمارے شیخ المشائخ حجۃ الاسلام حضرت مولانا محمد قاسم نانوتوی بانیٔ دار العلوم دیوبند ۔۔۔سب کہو رحمۃ اللہ علیہ، اللہ تعالیٰ ان کی قبر کو نور سے بھردے۔۔۔۔

مجھے حضرت نانوتوی قدس سرہٗ کے نام پر ایک بات یاد آگئی، ہمارے مولانا محمد علی جالندھری رحمۃ اللہ علیہ، مجلس تحفظ ختمِ نبوّت کے بانی ارکان میں سے تھے اور جماعت کے رُوحِ رواں اور آخر میں امیر تھے، ایک عرصہ تک جماعت کے ناظم رہے، انہوں نے سنایا تھا کہ حضرت پیر مہر علی شاہ گولڑہ شریف والے ۔۔۔سب کہو: رحمۃ اللہ علیہ۔۔۔ کی خدمت میں

81

کسی نے عرض کیا: مولوی قاسم کے بارے میں کیا رائے ہے؟ حضرتؒ نے ارشاد فرمایا: شاید تم حضرت مولانا محمد قاسم نانوتویؒ کے بارے میں پوچھتے ہو؟ کہنے والے نے کہا تھاـ: ’’مولوی قاسم کے بارے میں کیا رائے ہے؟‘‘ جس پر حضرتؒ نے مندرجہ بالااَلقاب کے ساتھ اِستفسار فرمایا، اس نے کہا: جی ہاں! فرمایا: ’’وہ حضرتِ حق کی صفتِ علم کا مظہرِ اَتمّ تھے!‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ کی صفتِ علم کا اس دُنیا میں کامل نمونہ تھے۔ آج کون ہے مولانا محمد قاسم نانوتویؒ حجۃ الاسلام رحمۃ اللہ علیہ پر تنقید کرنے والا؟ میں حلفاً کہتا ہوں کہ آج کے دور کے علمائے کرام میں سے کوئی بھی حضرت رحمۃ اللہ علیہ کی اُردو کتاب کی دو سطروں کا ترجمہ نہیں کرسکتا۔

’’آبِ حیات‘‘ کے مطالعہ کا شوق اور ۔۔۔:

مجھے بھی ایک دفعہ شوق چرایا تھا، جوانی کا عالم تھا، دماغ خوب کام کرتا تھا، طبیعت تیز تھی، میں نے سوچا کہ یہ کتاب ’’آبِ حیات‘‘ کیوں سمجھ میں نہیں آتی؟ ہم نے ’’قاضی مبارک‘‘ حل کیا، ہم نے ’’حمداللہ‘‘ حل کیا، ’’اقلیدس‘‘ حل کیا، ’’شرح چغمینی‘‘ حل کی، کون سی کتاب ہے جو ہمارے سامنے اٹک جائے اور جس میں ہم نے اوّل نمبر نہ لیا ہو؟ الحمدللہ! یہ میرے تعلیمی زمانہ کا ریکارڈ رہا ہے۔ آپؒ کی اُردو کی کتاب ہے ’’آبِ حیات‘‘، جس کا موضوع ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اس ناسوتی دنیا سے تشریف لے جانے کے بعد بھی زندہ ہیں، سب کہو: زندہ ہیں! کہو: زندہ ہیں! علمائے دیوبند کا عقیدہ ہے کہ آپؐ زندہ ہیں! میں نے سوچا کہ ’’آبِ حیات‘‘ ایک اُردو کی کتاب ہے، کیوں نہیں سمجھوں گا؟ میں نے کتاب خریدی اور پڑھنا شروع کیا۔

شروع میں حضرت قدس سرہٗ فرماتے ہیں: میں حج کو گیا دو قبلوں کی زیارت ہوئی، ایک قبلے کو تو آپ بھی جانتے ہیں یعنی بیت اللہ شریف، دوسرے قبلہ سے مراد ہیں پیر و مرشد حضرت حاجی امداد اللہ صاحب مہاجر مکی نوّر اللہ مرقدہٗ، جو ہمارے شیخ الطائفہ، ہمارے پیرانِ پیر اور جن کے ہم سب غلام ہیں، اس لئے کہ ہمارا سلسلۂ طریقت ان ہی تک پہنچتا ہے۔

82

حضرت حاجی صاحبؒ کا کمال:

حضرت حاجی صاحبؒ نے کمال کیا، کوئی قادری تھا، کوئی چشتی تھا، کوئی سہروردی تھا اور کوئی نقشبندی تھا، مگر حضرتؒ نے ان چاروں سلسلوں کو جمع کردیا تاکہ جھگڑا ہی ختم ہوجائے۔ الحمدللہ! ہمارے سلسلے میں چاروں سلسلے جمع ہوگئے، چاروں قطب ہماری آنکھوں کا نور ہیں، اور تمام سلسلوں کے اقطاب کا ہم احترام کرتے ہیں۔

پھر حضرت نانوتویؒ نے نصف صفحے پر اپنے شیخ ومرشد کے القاب تحریر فرمائے ہیں، اور پھر فرمایا کہ: جب میرے پیر و مرشد نے میری اس تحریر کو دیکھ کر تصدیق کردی تو مجھے اطمینان ہوگیا۔

بڑوں کی تصدیق کے بغیر اپنی بات قابلِ اعتماد نہیں:

ایک بات خوب ذہن نشین کرلو اور اس کو ہمیشہ یاد رکھو کہ جو بات تمہارے منہ سے نکلے، جب تک بڑوں کی طرف سے اس کی تصدیق نہ ہوجائے، تمہاری بات لائقِ اعتماد نہیں، اس لئے خاص طور پر نوجوان علمائے کرام میری بات سن لیں کہ جو بات تمہارے منہ سے نکلے، جب تک اس کے لئے اپنے بڑوں سے سند نہ لاؤ، اس وقت تک تمہاری وہ بات قابلِ اعتماد نہیں، بلکہ مسترد کردینے کے قابل ہے۔ علم وہی باعثِ برکت ہے جو اکابرؒ سے چلا آتا ہے، رنگ بھر دینا دوسری بات ہے، شیشہ وہی ہے، نقش و نگار سے مزین کردینا دوسری بات ہے، لیکن نئی نئی بدعتیں ایجاد کرنا اور نئی نئی باتیں اختراع کرنا، یہ قابلِ قبول نہیں۔ حدیثِ نبویؐ’’من أحدث فی أمرنا ھٰذا ما لیس منہ فھو رد‘‘ کے مصداق وہ مردود ہے۔

ایک فقرہ نہیں سمجھ سکا:

اس کے بعد حضرت قدس سرہٗ فرماتے ہیں: اب ان باتوں کو چھوڑئیے، کام کی بات کیجئے! پھر اس کے بعد کتاب کے موضوع پر بات شروع فرمائی، واللہ العظیم! مسجد میں بیٹھا ہوں، باوضو ہوں، اس کے بعد حضرتؒ نے جو فقرہ تحریر فرمایا، میری عقل میں نہیں آیا،

83

چکراگیا، اس سے آگے پڑھ ہی نہیں سکا، ہر چند سوچا کہ اس کا مطلب کیا ہے؟ آگے دیکھا، پیچھے دیکھا، سوچتا رہا، جب عقل اور کھوپڑی شریف میں نہیں آیا تو کتاب بند کردی اور سمجھ لیا کہ ہم جاہل ہیں، عالم کہلانے کے یہ لوگ مستحق ہیں جن کی اُردو کا ایک فقرہ ہماری سمجھ میں نہیں آتا۔

شیخ الہندؒ نے ’’آبِ حیات‘‘ اپنے شیخ سے حرفاً حرفاً پڑھی:

حضرت شیخ الہند مولانا محمود حسن رحمۃ اللہ علیہ جو ہمارے مشائخ کے شیخ ہیں اور حضرت نانوتوی نور اللہ مرقدہٗ کے بلاواسطہ شاگرد ہیں، فرماتے تھے کہ: دو تین بار یہ کتاب حضرت الاستاذ سے حرفاً حرفاً پڑھی، اب اس کے بعد کچھ کچھ سمجھ آنے لگی۔ آج تم مولانا محمد قاسم نانوتوی رحمۃ اللہ علیہ کی عبارتوں پر اعتراض کرتے ہو؟ تمہیں معلوم نہیں وہ کون تھے؟ اس وقت میرا یہ موضوع نہیں ہے، ورنہ میں بتاتا کہ وہ کون تھے؟ عرض یہ کرنا چاہتا ہوں کہ حضرت نانوتوی قدس سرہٗ نے اپنی کتاب ’’تحذیر الناس‘‘ ص:۷ پر ختمِ نبوّت کی وہ عقلی دلیل بیان کی ہے جس کو میں نے اپنی کتاب میں نقل کرنے کی کوشش کی ہے، لیکن سچ پوچھو تو نقل مطابق اصل نہ ہوسکی، ایسی قطعی دلیل بیان کی ہے کہ کوئی صاحبِ عقل اس کو توڑ نہیں سکتا۔

مسئلۂ ختمِ نبوّت کا ثبوت:

خلاصہ یہ ہے کہ مسئلہ ختمِ نبوّت قرآن مجید کی ایک سو سے زیادہ آیاتِ کریمہ اور دو سو سے زیادہ احادیثِ طیبہ سے ثابت ہے، اور حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ خلیفۂ اوّل سے لے کر آج تک تمام اُمتِ مسلمہ اس پر متفق ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم خاتم النبیین ہیں، آپؐ کے بعد کوئی نبی نہیں، اور یاد رکھو! جو شخص کہتا ہے کہ حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد کوئی نبی بن سکتا ہے یا بنا ہے یا بنے گا، یا کوئی ہے یا کوئی ہوگا یا ہوا تھا، اس کے جھوٹے اور بے ایمان ہونے میں کوئی شبہ نہیں۔

ہمارے حضرت مفتی محمد شفیع صاحبؒ نے اپنی کتاب ’’ختمِ نبوّت کامل‘‘ میں کتبِ

84

سابقہ کے حوالے بھی جمع فرمادئیے ہیں کہ ان سابقہ کتب میں بھی لکھا ہے کہ حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم آخری نبی ہیں، اور میں نے بتایا کہ عقلِ سلیم کا فتویٰ بھی یہی ہے کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم آخری نبی ہیں، ایک طرف اللہ تعالیٰ، اللہ تعالیٰ کا نبیؐ، اُمتِ مسلمہ، کتبِ سابقہ اور عقلِ سلیم کا فیصلہ ہے کہ حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے آخری نبی ہیں، آپؐ کے بعد کسی کے سر پر تاجِ نبوّت نہیں رکھا جائے گا، مگر دوسری طرف قادیانی کہتے ہیں کہ نبوّت جاری ہے ۔۔۔نعوذ باللہ! ثم نعوذ باللہ!۔۔۔ کیوں بھائی! ختمِ نبوّت کا مسئلہ سمجھ میں آگیا کہ نہیں؟

تحفظِ ختمِ نبوّت کے لئے صدیقِ اکبرؓ کی پیروی کی ضرورت:

میرے استاذِ محترم تھے حضرت مولانا مفتی محمد عبداللہ صاحب رحمۃ اللہ علیہ جن سے میں نے ترمذی شریف پڑھی تھی، ان کا ماہنامہ ’’الصدیق‘‘ کے نام سے ملتان سے ایک پرچہ نکلتا تھا، اس کی لوح پر ایک شعر لکھا ہوتا تھا:

  1. تیز بُرّاں بہر زندیق باش

    اے مسلمان پیرؤ صدیق باش

ہر زندیق کے لئے کاٹنے والی تلوار بن جاؤ، اے مسلمانو! صدیق اکبر رضی اللہ عنہ کے پیرو بن جاؤ۔

حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے مسیلمہ کذاب کے ساتھ مناظرے نہیں کئے تھے، مسیلمہ کذاب، حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا تھا اور اس قسم کی کوئی بات اس نے کی تھی، تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میرے پاس سے اُٹھ جا! میں تجھ سے بات نہیں کروں گا، میرا نمائندہ تجھ سے بات کرے گا۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں اس نے نبوّت کا دعویٰ کیا تھا، لیکن چونکہ اس وقت نبوّت کا سورج چڑھا ہوا تھا، اس لئے تاریکی پھیلنے کا کوئی امکان نہیں تھا، اِدھر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا وصال ہوا، اُدھر یہ برساتی کیڑے مکوڑے نکلنے شروع ہوئے، یعنی مسیلمہ کذاب، طلیحہ اسدی اور ایک سجاح نامی عورت تھی وہ بھی نبوّت کی مدعیہ تھی، اسی سجاح نے بعد میں مسیلمہ کذاب کے ساتھ عقد

85

کرلیا تھا، کسی نے پوچھا کہ: مسیلمہ نے تجھے کیا مہر دیا؟ کہنے لگی: دو نمازیں معاف کردیں! گویا یہ اس کا مہر تھا۔ تو مسیلمہ کذاب کے ساتھ حضرت صدیق اکبر رضی اللہ عنہ نے مناظرہ نہیں کیا، بلکہ سیف من سیوف اللہ حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ کی سرکردگی میں لشکر بھیجا، شدت کی جنگ ہوئی، بارہ سو صحابہؓ جن میں سات سو صحابہ کرام (رضوان اللہ علیہم اجمعین) جو حافظِ قرآن تھے، جن میں سالم مولیٰ ابی حذیفہؓ بھی تھے، سب شہید ہوگئے، حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے بڑے بھائی زید بن خطابؓ بھی شہید ہوئے، دوسری طرف مسیلمہ کذاب کے بیس ہزار ساتھی بھی مسیلمہ کذاب کے ساتھ حدیقۃ الموت میں واصلِ جہنم ہوئے، حدیقۃ الموت کا معنی ہے ’’موت کا باغ‘‘، جس جگہ مسیلمہ کذاب اپنے ساتھیوں سمیت ہلاک ہوا تھا بعد میں اس کا نام ’’حدیقۃ الموت‘‘ رکھا گیا۔

ہر مسلمان کا فرض!

میرے بھائیو! ختمِ نبوّت کا سب سے پہلا منکر مسیلمہ کذاب تھا، اور مسیلمہ کذاب کا مقابلہ کرنے والے سب سے پہلے اُمتی خلیفۂ اوّل حضرت سیّدنا صدیق اکبر رضی اللہ عنہ تھے، اور ختمِ نبوّت کے تحفظ کے لئے انہوں نے بارہ سو صحابہ کرامؓ شہید کرائے، جن میں سے سات سو قرآن مجید کے حافظ تھے اور ان میں کے ایک ایک کا وجود پوری دنیا پر بھاری تھا، گویا حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے ختمِ نبوّت کی حفاظت نوکِ تلوار سے کی۔ اس لئے آج محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا اُمتی کہلوانے والے ہر مسلمان کا فرض ہے کہ کم سے کم جھوٹے نبی کا مقابلہ زبان سے تو کرے، میں تمہیں ایک فارمولا دینا چاہتا ہوں، لیکن تم پہلے یہ بتاؤ کہ اس پر عمل کروگے؟ (جی ہاں! اِن شاء اللہ ضرور کریں گے!)۔

عالمی مجلس تحفظ ختمِ نبوّت والے سال میں ایک مرتبہ برمنگھم میں کانفرنس کرلیتے ہیں، تم نے بھی ختمِ نبوّت زندہ باد کے نعرے لگادئیے، اور سمجھ لیا کہ ختمِ نبوّت کا کام ہوگیا، بھائی! ہمارے اس طرزِ عمل پر شاید قادیانی بھی ہنستے ہوں گے کہ ختمِ نبوّت کا ایک نعرہ لگاکر

86

چلے جاتے ہیں اور پھر سال بھر خاموشی رہتی ہے، اور حقیقت بھی یہی ہے کہ ایک سال کے بعد پھر یہ اکابر علمائے اُمت تشریف لائیں گے اور آپ کو متوجہ کریں گے اور آپ پھر ایک نعرہ لگادیں گے، کیا ایسا نہیں ہے؟ میں کہتا ہوں اب ایسا نہیں ہونا چاہئے، بلکہ پورے برطانیہ میں عالمی مجلس تحفظ ختمِ نبوّت کے دفاتر کھولے جائیں، اور ان پر ختمِ نبوّت کے بورڈ لگنے چاہئیں تاکہ قادیانیوں کو بخار چڑھے، اس سال کا ہدف پورے برطانیہ میں پچاس دفاتر کا قیام ہے، کیا اس کے لئے کوشش کروگے؟ کیا یہ دفاتر قائم کروگے؟ آئندہ سال ۔۔۔اللہ تعالیٰ زندگی عطا فرمائے۔۔۔ جب میں کانفرنس میں آؤں تو عالمی مجلس تحفظ ختمِ نبوّت کے پچاس دفتر ہونے چاہئیں، جن پر دفتر عالمی مجلس تحفظ ختمِ نبوّت حلقہ فلاں کا بورڈ ہونا چاہئے۔

وآخر دعوانا ان الحمدﷲ رب العالمین

(ہفت روزہ ختمِ نبوّت کراچی جلد:۳۱، شمارہ:۱۵ ۴ تا ۰۱؍فروری ۵۹۹۱ء)

87

منکرینِ ختمِ نبوّت سے بغض

اِیمان کا حصہ ہے

بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ

اَلْحَمْدُ للہِ وَسَلَامٌ عَلٰی عِبَادِہِ الَّذِیْنَ اصْطَفٰی!

انسان میں پسند و ناپسند کا جذبہ:

انسان میں اللہ تعالیٰ نے دو جذبے رکھے ہیں، ایک پسند کا، اور ایک نفرت و ناپسندیدگی کا۔ پسند کے جذبہ کے ذریعہ اُسے جو چیز پسند آئے وہ اس کی چاہت کرتا ہے، آپ میں سے بھی ہر ایک آدمی اپنی پسندیدہ چیز کی چاہت رکھتا ہوگا۔ اور اس کے بالمقابل اللہ تعالیٰ نے انسان میں ایک جذبہ ایسا پیدا فرمایا ہے کہ جس چیز سے اسے نفرت ہو، وہ اس سے بھاگتا ہے، اور اس سے ایک درجہ کی عداوت رکھتا ہے، یہ انسان کی فطرت ہے، جس انسان میں یہ دو جذبے نہ ہوں، آپ اس کے بارے میں بے تکلف کہہ سکتے ہیں کہ وہ حقیقت میں انسان ہی نہیں ہے۔

پسندیدہ سے محبت اور ناپسندیدہ سے نفرت:

اسی کے ساتھ یہ بھی کہ جس درجے کی جو چیز ناپسندیدہ ہو، آدمی کو اس سے اتنی ہی نفرت ہوتی ہے، ہماری شریعت کی زبان میں اسی جذبہ کا نام ہے:

’’الحب فی اللہ والبغض فی اللہ‘‘

ترجمہ: … ’’اللہ کی خاطر کسی سے محبت رکھنا، اور اللہ کی خاطر کسی سے بغض رکھنا۔‘‘

88

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشادِ گرامی:

’’أحب الأعمال الی اللہ، الحب فی اللہ والبغض فی اللہ۔‘‘

یعنی اللہ تعالیٰ کو سب سے زیادہ محبوب عمل، اللہ کی خاطر کسی سے محبت رکھنا اور اللہ کی خاطر کسی سے بغض رکھنا ہے۔

اللہ کے لئے محبت کرنے والوں کا اعزاز:

حدیث شریف میں آتا ہے کہ ایک منادی اللہ تعالیٰ کی طرف سے ندا دے گا اور اعلان کرے گا: ’’أین المتحآبُّون فیّ؟‘‘ یعنی وہ لوگ کہاں ہیں؟ کھڑے ہوجائیں وہ لوگ جو صرف میری خاطر ایک دوسرے سے محبت کرتے تھے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ: اعلان سن کر کچھ لوگ کھڑے ہوجائیں گے ان کے بارے میں حکم ہوگا کہ جنت میں چلے جاؤ، اس کے بعد باقیوں کا حساب و کتاب ہوگا۔

کسی سے اللہ کی خاطر محبت رکھنے کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ’’أحب الأعمال‘‘ فرماتے ہیں، یعنی سب سے محبوب ترین عمل، اس سے بڑھ کر کوئی دوسرا عمل نہیں۔

دُشمنانِ خدا سے بغض کی تلقین:

اور اسی کا دوسرا پہلو ہوگا اللہ کی خاطر کسی سے بغض رکھنا، چنانچہ فرمایا:

’’قَدْ کَانَتْ لَکُمْ أُسْوَۃٌ حَسَنَۃٌ فِیٓ اِبْرَاھِـیْـمَ وَالَّذِیْنَ مَعَہٗ، اِذْ قَالُوْا لِقَوْمِھِمْ اِنَّا بُرَئَٰٓ ؤُا مُنْکُمْ وَمِمِّا تَعْبُدُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللہِ کَفَرْنَا بِکُمْ وَبَدَا بَیْنَنَا وَبَیْنَکُمُ الْعَدَاوَۃُ وَالْبَغَضَآئُ أَبَدًا حَتّٰی تُؤْمِنُوْا بِاللہِ وَحْدَہٗ ۔۔۔۔۔‘‘

(الممتحنہ:۴)

ترجمہ: … ’’تم کو چال چلنی چاہئے اچھی ابراہیم کی، اور جو اس کے ساتھ تھے، جب انہوں نے کہا اپنی قوم کو: ہم الگ ہیں تم

89

سے اور ان سے کہ جن کو تم پوجتے ہو اللہ کے سوا، ہم منکر ہوئے تم سے اور کھل پڑی ہم میں تم میں دُشمنی اور بیر ہمیشہ کو، یہاں تک کہ تم یقین (ایمان) لاؤ اللہ اکیلے پر۔‘‘

(ترجمہ حضرت شیخ الہندؒ)

یعنی اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ تمہارے لئے بہت اچھا نمونہ ہے حضرت ابراہیم علیہ السلام کی ذات میں اور ان کے ساتھ ایمان والوں میں کہ انہوں نے اپنی قوم سے کہا کہ بے شک ہم بری ہیں تم سے اور ان چیزوں سے جن کی تم پوجا کرتے ہو اللہ کے سوا، ہم تمہارے ساتھ کفر کرتے ہیں، یعنی انکار کرتے ہیں، اور ہمارے درمیان اور تمہارے درمیان دُشمنی اور بغض کا مظاہرہ ہوگا، اور یہ دُشمنی جب تک رہے گی؟ جب تک کہ تم ایک اللہ پر ایمان نہیں لاؤگے۔۔۔!

کسی کو بُرا نہ کہنے کا نظریہ غلط ہے!

تو یہ نظریہ کہ کسی کو بُرا نہ کہو، نہایت غلط ہے، اور یہ حقیقت میں سچ اور جھوٹ، حق اور باطل، اسلام اور کفر اِن کی لکیروں کو مٹادینے کا نام ہے کہ کفر و اسلام میں امتیاز تک نہ رہے، گویا نہ اسلام، اسلام رہے، نہ کفر، کفر رہے، نہ حق، حق رہے، اور نہ باطل، باطل رہے۔

ذاتِ نبوی سے محبت و عداوت ہمارے تعلق کی بنیاد:

جس شخص کو جتنا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے تعلق ہوگا، ہماری اس کے ساتھ اتنی ہی محبت ہوگی، اور جس شخص کو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ جتنا دُشمنی ہوگی یا اس کے دِل میں آپ کی جتنا مخالفت ہوگی، ہمیں بھی اس کے ساتھ اتنی ہی دُشمنی ہوگی، یہ ہے صحیح بات۔

صحابہ کرامؓ سے محبت و تعلق بھی ذاتِ نبوی کی وجہ سے:

حضرت ابوبکر صدیق، حضرت عمر، حضرت عثمان اور حضرت علی اور دیگر اکابر صحابہ رضوان اللہ علیہم اجمعین سے ہمارا تعلق رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نسبت سے ہے، اگر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ذاتِ گرامی نہ ہوتی تو نہ ہم ابوبکرؓ کو جانتے، نہ عمرؓ

90

کو جانتے، نہ عثمانؓ کو جانتے، نہ علیؓ کو جانتے، نہ طلحہؓ، زبیرؓ کو اور نہ کسی دوسرے صحابی کو۔

کفار سے عداوت کی وجہ بھی ذاتِ نبوی:

دوسری طرف ہمیں ابوجہل، ابولہب، عتبہ، شیبہ اور بڑے اور موٹے موٹے کافروں کے ساتھ بغض و عداوت اور دُشمنی ہے صرف اس لئے کہ ان کو حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے دُشمنی تھی۔

ذاتِ نبوی سے ادنیٰ بغض بھی زندقہ ہے:

یہاں اس سلسلہ کے دو واقعات ذکر کردیتا ہوں، ایک یہ کہ ایک صاحب اکثر نماز میں سورۃ ’’تَبَّتْ یَدَا أَبِیْ لَھَبٍ وَّتَبَّ‘‘ پڑھا کرتے تھے، ایک بزرگ نے فتویٰ دیا کہ یہ زندیق ہے، اور فرمایا کہ: دراصل اس کے اس سورۃ پڑھنے کا منشا یہ ہے کہ وہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے چچا ابولہب کی برائی بیان کرنا چاہتا ہے، اور ابولہب کی برائی اس لئے نہیں کرنا چاہتا کہ وہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا دُشمن تھا، بلکہ اس لئے کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا چچا تھا۔ اس واقعہ سے یہ واضح ہوگیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے کسی عزیز کی محض اس لئے برائی کرنا کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا عزیز ہے، یہ درحقیقت آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے دُشمنی ہے، اس لئے اس نظریہ سے ’’تَبَّتْ یَدَا أَبِیْ لَھَبٍ وَّتَبَّ‘‘ پڑھنے والا زندیق ہے، کیونکہ اس کا مقصد اور اس کا منشا ۔۔۔نعوذ باللہ۔۔۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ذاتِ عالی پر عیب لگانا ہے۔

ذاتِ نبوی سے عداوت کی وجہ سے ابولہب سے عداوت عین اِیمان ہے:

اسی طرح ایک اور ایوبؔ صاحب ہیں، ان کے نعتیہ کلام کا مجموعہ میرے پاس آیا، اس کے دیباچے میں لکھتے لکھتے، لکھتے ہیں کہ یوں تو مجھے اللہ تعالیٰ کا سارا کلام ہی محبوب ہے، مگر سب سے زیادہ مجھے ’’تَبَّتْ یَدَا أَبِیْ لَھَبٍ وَّتَبَّ‘‘ محبوب ہے، اس لئے کہ اس میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے دُشمن کی برائی ہے۔ دیکھئے! یہاں بھی وہی بات ہے، مگر یہ بات خالص

91

ایمان کی ہے، کیونکہ ’’تَبَّتْ یَدَا أَبِیْ لَھَبٍ وَّتَبَّ‘‘ میں کسی کافر کا تذکرہ نہیں کیا گیا، صرف ابولہب کا تذکرہ کیا گیا ہے، اس لئے کہ یہ اور اس کی بیوی اُمِّ جمیل، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو حد سے زیادہ ایذا پہنچاتے تھے، باوجود اس کے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا قریب ترین عزیز اور سگا چچا تھا، مگر جہاں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم دعوت کے لئے پہنچتے، یہ بدبخت بھی وہاں پیچھے چلا جاتا اور کہتا: یہ میرا بھتیجا ہے، اور پاگل ہوگیا ہے۔ ۔۔۔نعوذ باللہ۔۔۔ اور اس کی بیوی اُمِّ جمیل، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے راستے میں کانٹے بچھایا کرتی تھی۔ تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی ذاتِ عالی سے عداوت کی وجہ سے اللہ تعالیٰ نے ابولہب کی اور اس کی بیوی کی مذمت بیان فرمائی اور پوری سورۃ، سورۂ لہب کو نازل کیا۔

اِیمان کی علامت!

تو ایمان کی علامت یہ ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے دوستوں سے دوستی رکھنا، اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے دُشمنوں سے دُشمنی رکھنا۔

اچھے کو اچھا اور برے کو برا کہو!

بس میں نے ساری بات کا اتنا خلاصہ نکالا ہے کہ یہ نظریہ غلط ہے کہ کسی کو بُرا نہ کہو، یہ نظریہ صحیح نہیں۔ صحیح نظریہ یہ ہے کہ اچھے کو اچھا کہو، اور برے کو بُرا کہو، اور جس درجے کا بُرا ہو اس کو اس درجے کا بُرا سمجھو۔

اب کسی کو نبوّت نہیں دی جائے گی:

دوسری بات یہ کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آخری نبی ہیں، یعنی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد کسی کو نبوّت عطا نہیں کی جائے گی، اگر کسی نبی کی ضرورت پڑے گی تو پہلے نبیوں میں سے کسی کو لایا جائے گا، حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد اب عالمِ انسانیت میں ایسی کوئی شخصیت باقی نہیں رہی، جس کے سر پر تاجِ نبوّت رکھا جائے۔

قتلِ دجال کے لئے حضرت عیسیٰ ؑنازل ہوں گے:

چنانچہ جب دجال کے مقابلے کے لئے ایک نبی کی ضرورت پیش آئے گی تو اللہ

92

تعالیٰ حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے پہلے کے ایک نبی یعنی حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو دجال کے قتل کرنے کے واسطے آسمان سے نازل فرمائیں گے، کیوں بھائی! ٹھیک ہے ناں! یہ تو آپ سب لوگوں کو معلوم ہی ہے کہ قربِ قیامت میں دجال نکلے گا، اور اس کو قتل کرنے اور تہ تیغ کرنے کے لئے حضرت عیسیٰ علیہ السلام آسمان سے نازل ہوں گے، یہ مسلمانوں کا عقیدہ ہے، اور اس عقیدے کو پکا کرو۔

دجال کے خروج سے پہلے۔۔۔:

ایک حدیث میں آتا ہے کہ دجال کا خروج اس وقت ہوگا جب منبر پر علماء دجال کا تذکرہ کرنا چھوڑ دیں گے، اور میں دیکھ رہا ہوں کہ ابھی علماء نے تو خروجِ دجال کا انکار نہیں کیا، لیکن عوام میں بہت بڑی تعداد ایسے پڑھے لکھے جاہلوں کی پیدا ہوچکی ہے، جو دجال کے آنے اور عیسیٰ علیہ السلام کے نازل ہونے کا انکار کرتی ہے، بلکہ یوں کہتے ہیں کہ کانا دجال تو افسانہ ہے۔

نزولِ عیسیٰ ختمِ نبوّت کے منافی نہیں:

حضرت عیسیٰ علیہ السلام آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے پہلے کے نبی ہیں، حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے دوبارہ آنے سے ختمِ نبوّت کی خلاف ورزی نہیں ہوتی، بلکہ ختمِ نبوّت اور پکی ہوجاتی ہے کہ اگر حضور صلی اللہ علیہ وسلم ’’خاتم النبیین‘‘ اور آخری نبی نہ ہوتے تو اللہ تعالیٰ آپ کے بعد کسی کو نبی بنادیتا، آسمان سے پہلے والے نبی کے اُتارنے کی ضرورت پیش نہ آتی۔

آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد دعویٔ نبوّت کرنے والا دجال ہے:

آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم آخری نبی ہیں، اب جیسا کہ مولانا سلیم دھرات صاحب نے آپ کو حدیث سنائی تھی کہ: ’’ثلاثون کذّابون‘‘ اور ایک روایت میں ’’دجّالون‘‘ کا لفظ بھی آتا ہے، یعنی تیس جھوٹے ہوں گے، ان میں سے ہر ایک یہ دعویٰ کرے گا کہ: ’’انہ نبی اللہ‘‘ کہ وہ اللہ کا نبی ہے، ’’وأنا خاتم النبیین لَا نبی بعدی!‘‘ حالانکہ میں خاتم النبیین ہوں اور میرے بعد کوئی نبی نہیں ہوگا۔

93

ختمِ نبوّت کا اعلان میدانِ عرفات میں!

آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے حجۃ الوداع میں عرفات کے میدان میں فرمایا تھا:

’’أنا اٰخر الأنبیاء وأنتم اٰخر الأمم۔‘‘

(ابنِ ماجہ ص:۷۹۲)

ترجمہ: … ’’میں آخری نبی ہوں، اور تم آخری اُمت ہو۔‘‘

اور ’’مجمع الزوائد‘‘ میں ہے:

’’یا أیھا الناس! انہ لَا نبی بعدی ولَا اُمۃ بعدکم۔۔۔۔۔‘‘

(ج:۸ ص:۳۶۲)

ترجمہ: … ’’اے لوگو! بے شک میرے بعد کوئی نبی نہیں ہے اور تمہارے بعد کوئی اُمت نہیں ہے۔‘‘

مدعیٔ نبوّت سے بڑا جھوٹا کوئی نہیں:

میرے بعد کوئی نبی نہیں اور تمہارے بعد کوئی اُمت نہیں، لہٰذا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد جو شخص منصبِ نبوّت کا دعویٰ کرتا ہے اور کہتا ہے کہ مجھے اللہ نے نبی بنایا ہے، وہ دُنیا کا سب سے بڑا جھوٹا، سب سے بڑا دجال و کذّاب ہے۔

منصبِ نبوّت سے بڑا کوئی منصب نہیں:

اس لئے کہ عالمِ اِمکان میں نبوّت سے بڑھ کر کوئی منصب نہیں ہے، سب سے بڑا منصب نبوّت ہے، نبوّت سے بڑھ کر کوئی مقام نہیں، اور جو شخص جھوٹے طور پر نبوّت کا دعویٰ کرتا ہے، وہ سب سے بڑا جھوٹا ہے، دُنیا میں اس سے بڑا کوئی جھوٹا نہیں ہوسکا۔ اسی بنا پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو ’’کذّابون‘‘ فرمایا۔

مدعیٔ نبوّت منصب چھیننا چاہتا ہے:

94

جو شخص نبوّت کا دعویٰ کرتا ہے، وہ حقیقت میں یہ کہنا چاہتا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوّت تمہارے لئے کافی نہیں، میرے پاس آؤ! گویا وہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے منصب کو چھیننا چاہتا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا تاجِ رسالت اپنے سر پر رکھنا چاہتا ہے، اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی مسندِ نبوّت پر وہ خود بیٹھنا چاہتا ہے۔

آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے زیادہ کوئی محبوب نہیں:

آپ حضرات جانتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے زیادہ کوئی محبوب شخص نہیں ہے، حتیٰ کہ ماں باپ، بہن بھائی، اعزہ و اقربا اور دُنیا کا کوئی رشتہ بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے زیادہ محبوب نہیں، جیسا کہ حدیث شریف میں ہے:

’’لَا یؤمن أحدکم حتی أکون أحب الیہ من والدہ وولدہ والناس أجمعین۔‘‘

(صحیح بخاری ج:۱ ص:۷)

ترجمہ:۔۔۔’’کوئی شخص مؤمن نہیں ہوسکتا جب تک کہ میں اس کے نزدیک محبوب نہ بن جاؤں، اس کے والد سے، اس کی اولاد سے اور تمام انسانوں سے۔‘‘

حضرت تھانویؒ مجدّد تھے:

حکیم الاُمت حضرت مولانا اشرف علی تھانوی قدس سرہٗ ۔۔۔سب کہو نوّر اللہ مرقدہٗ۔۔۔ اللہ تعالیٰ ان کو غریقِ رحمت کرے۔۔۔ آپؒ چودہویں صدی کے مجدّد تھے۔۔۔ میں نے ایک مقام پر کہا تھا کہ مجدّد اس کو کہتے ہیں جو دین کی تجدید کرے، چنانچہ اس پوری صدی میں اور حضرتؒ کی حیات میں کوئی ایسا مسئلہ نہیں آیا جس پر حضرتؒ نے قلم نہ اُٹھایا ہو، مجھے کوئی ایک مسئلہ بتاؤ جس پر آپؒ نے نہ لکھا ہو، اسلامی فنون و علوم میں سے ایک فن اور ایک علم ایسا نہیں جس پر حضرتؒ نے تألیفات نہ فرمائی ہوں، اور کتابیں نہ لکھی ہوں، اس کو مجدّد کہتے ہیں، ایک ہزار سے زیادہ آپ کی تألیفات ہیں، بلاشبہ اتنا بڑا کام کہ آج کل ایک پوری اکیڈمی اور پورا ادارہ مل کر کرنے لگے تو شاید وہ بھی نہ کرسکے، مگر تنِ تنہا اس ایک آدمی نے یہ سارا کام کیا، جبکہ اس کے ساتھ اسفار بھی ہوتے، وعظ و ارشاد کی محفلیں بھی

95

ہوتیں، تعلیم و تلقین بھی ہوتی تھی، اکیلی خشک تصنیف و تألیف ہی نہیں تھی، پھر اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم سے جو بات بھی قلم سے نکل گئی، پتھر کی لکیر ثابت ہوگئی۔

حضرت تھانویؒ کی بے نفسی:

اس کے علاوہ بے نفسی، للہیت و اخلاص کا یہ عالم تھا کہ ایک مستقل رسالہ جاری کیا تھا کہ اگر میری کتابوں میں کوئی غلطی ملے تو مجھے مطلع کرو، میں اس سے رجوع کرلوں گا۔ دوسری طرف نفس پرستی کا یہ عالم ہے کہ لوگوں کی غلطیوں کو اُچھالتے رہتے ہیں، مگر کوئی مان کر نہیں دیتا۔

یہ ہمارے اکابر کا طرۂ امتیاز ہے اور اللہ کے فضل سے مستقل ایک ’’ترجیح الراجح‘‘ کا سلسلہ جاری کر رکھا ہے، اور اس میں اعلان کر رکھا ہے کہ کوئی صاحبِ علم اگر میرے کسی فقرے پر کسی تحریر پر معترض ہوں تو مجھے نشاندہی کریں، میں اس پر غور کروں گا اور غور کرنے کے بعد اگر ان کی بات راجح معلوم ہوئی تو فوراً اپنی بات سے رجوع کرلوں گا، اور اگر مجھے ان کی بات پر شرحِ صدر نہ ہوا تو میں علماء سے یہ کہوں گا کہ وہ خود اس مسئلہ پر غور کریں، میری رائے تو یہ ہے، مگر فلاں صاحب اس کے مقابلے میں یہ رائے دیتے ہیں، علماء اس پر غور کریں گے کہ کیا ہونا چاہئے؟ مسئلہ کیا ہے؟

اپنے نفس سے بدگمانی:

ہمارے شیخ حضرت ڈاکٹر عبدالحی عارفی رحمۃ اللہ علیہ، حضرت تھانویؒ کے خلیفۂ اجل تھے، حضرتؒ نے کئی دفعہ ارشاد فرمایا کہ اگر حضرت حکیم الاُمتؒ کی اپنی ذات کا مسئلہ آتا تھا تو آپؒ خود اپنے علم پر عمل نہیں کرتے تھے، بلکہ علماء کو جمع کرکے مسئلہ پوچھتے تھے، تاکہ اپنا نفس کوئی تأویل نہ کرے، خیر یہ دوسرا موضوع ہے۔

محبتِ نبوی کے مقابلے میں سب محبتیں ہیچ ہیں، ایک قصہ:

میں کیا بات کر رہا تھا؟ ہاں! میں عرض کر رہا تھا کہ ہمارے حضرت حکیم الاُمتؒ کی

96

خدمت میں ایک آدمی آیا، کہنے لگا کہ: حدیث میں تو یہ آتا ہے کہ تم میں سے کوئی مؤمن نہیں ہوگا جب تک کہ میری محبت سب سے بڑھ کر نہ ہو، لیکن مجھے جتنی اپنے والد سے محبت ہے اتنی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے نہیں ہے۔ حضرتؒ نے فرمایا: خان صاحب! تمہیں غلط فہمی ہے، اپنے باپ سے تمہیں محبت ہوگی! اور ہوتی ہے، اپنے والد سے کس کو محبت نہیں ہوتی؟ لیکن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت کے سامنے یہ سب ہیچ ہے اور کچھ نہیں۔ خان صاحب اصرار کرنے لگے کہ نہیں مجھے جتنی اپنے باپ سے محبت ہے، اتنی کسی سے نہیں۔ حضرتؒ خاموش ہوگئے، اب اس سے کیا مناظرہ کریں، اب آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم کا ذکرِ خیر ہونے لگا، یعنی حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی باتیں سن کر خان صاحب جھوم رہے ہیں اور عش عش کر رہے ہیں، حضرتؒ نے اچانک ٹھہر کر فرمایا: خان صاحب! اس بات کو چھوڑئیے، تمہارے والد صاحب بہت اچھے آدمی تھے، یہ کہنا چاہئے کہ جب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت کا جمال پوری طرح جلوہ آرا تھا، اور خان صاحب کا دِل اس جمال کے تذکرہ سے اُڑا جارہا تھا، حضرتؒ نے اچانک رُک کر فرمایا کہ: خیر! اس بات کو تو چھوڑئیے، آپ کے والد بہت اچھے تھے۔ خان صاحب کہنے لگے: حضرت! یہ آپ نے کیا غضب ڈھایا؟ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا ذکر ہو رہا تھا، آپ میرے باپ کا تذکرہ لے بیٹھے! حضرتؒ نے فرمایا: کیوں خان صاحب؟ آپ تو کہتے تھے کہ باپ کی محبت حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے زیادہ ہے، جس سے زیادہ محبت ہوتی ہے، اس کا تذکرہ بھی دِل کو محبوب ہوتا ہے، اور جی چاہتا ہے کہ ذکر چلتا رہے۔

گناہ گار سے گناہ گار مسلمان کا دِل محبتِ نبوی سے لبریز!

تو مجھے آپ کو یہ لطیفہ سنانا تھا کہ ادنیٰ سے ادنیٰ مسلمان، بلکہ میرا یہ عقیدہ ہے کہ کتنا ہی گناہگار سے گناہگار مسلمان کیوں نہ ہو، لیکن اگر اس کے قلب کو اور اس کے دِل کے دریچہ کو کھول کر دیکھو، تو وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت سے بھرا ہوا ہوگا۔

محبتِ نبوی کا ایک عجیب قصہ!

97

اب اس پر بھی ایک اور لطیفہ سنادوں! شاہ ولی اللہ محدث دہلوی رحمۃ اللہ علیہ کے اُستاذ شیخ ابوطاہر مکی رحمہ اللہ کی اپنے ایک ہم عصر یعنی ہم زمانہ بزرگ سے مخالفت چل رہی تھی، اس دوران شیخ ابوطاہرؒ کو ایک دفعہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زیارت ہوئی، تو ایسا لگا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم رنجیدہ ہیں اور اِلتفات نہیں فرمایا، انہوں نے ہاتھ جوڑ کر عرض کیا کہ: حضور! میری غلطی معلوم ہو جائے تو میں اس کی اصلاح کرلوں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس بزرگ کا نام لے کر ارشاد فرمایا: تم اس سے دُشمنی کیوں رکھتے ہو؟ انہوں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! وہ فلاں بزرگ کو ۔۔۔جو کہ فوت ہوچکے ہیں۔۔۔ بُرا بھلا کہتے ہیں۔

حضرت مدنی ؒ سے دِلی محبت کا قصہ!

جیسے کوئی آدمی ہمارے حضرت شیخ الاسلام مولانا سیّد حسین احمد مدنی قدس سرہٗ کو بُرا بھلا کہے ۔۔۔ اور ہمیں بُرا لگتا ہے، اسی طرح شیخ ابوطاہر مکیؒ کو بھی یہ بات بُری لگتی تھی، اس لئے وہ ان سے دُشمنی رکھتے تھے۔

میرے سامنے میرے والد کا انتقال ہوا، اور میرے مشائخ کا بھی انتقال ہوا، لیکن میں جتنا دو بزرگوں کی وفات پر رویا ہوں، مجھے زندگی میں یاد نہیں ہے کہ کسی کی وفات پر اتنا رویا ہوں، ایک شیخ الاسلام حضرت مولانا سیّد حسین احمد مدنی قدس سرہٗ ۔۔۔ جس وقت حضرتؒ کے وصال کی خبر مجھے ملی ہے، آپ یقین جانیں مجھے بالکل ایسا معلوم ہوتا تھا، جیسے جہان تاریک ہوگیا، اور میں بے اختیار روتا تھا، حالانکہ صرف ایک دفعہ زیارت کی تھی، کوئی ان کا شاگرد بھی نہیں تھا، ان کا مرید بھی نہیں تھا، کوئی خاص تعلق بھی نہیں تھا، لیکن بس وہ قلبی تعلق جو شروع سے تھا، اس کی وجہ سے بے اختیار روتا تھا، اور دوسرے حضرت جی مولانا محمد یوسف دہلوی رحمۃ اللہ علیہ، تبلیغی جماعت والے، ان کے وصال پر بھی میں جتنا رویا ہوں، اتنا کبھی نہیں رویا۔

خیر! تو شیخ ابوطاہرؒ نے کہا کہ: حضور! میں اس شخص سے دُشمنی اس لئے رکھتا ہوں

98

کہ فلاں بزرگ جو فوت ہوچکے ہیں، یہ آدمی اس سے عداوت رکھتا ہے، اس کو بُرا بھلا کہتا ہے۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اچھا! وہ مجھ سے محبت رکھتا ہے یا نہیں؟ یعنی جس کو تم بُرا سمجھتے ہو، وہ مجھ سے محبت رکھتا ہے یا نہیں؟ انہوں نے ہاتھ جوڑ کر کہا کہ: حضور! آپ کے کسی اُمتی کے بارے میں میں کیسے کہہ سکتا ہوں کہ اُسے حضور سے محبت نہ ہو؟ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اچھا! تو اس کے معنی ہوئے کہ میری محبت کی وجہ سے تم نے محبت نہیں رکھی، بلکہ فلاں بزرگ کی دُشمنی کی وجہ سے تم نے اس سے دُشمنی رکھی؟ شیخ ابوطاہرؒ نے کہا کہ: حضور! میں توبہ کرتا ہوں، آج سے دُشمنی ختم، آپ کی محبت کی وجہ سے محبت کرتا ہوں۔ صبح ہوئی تو ایک طباق میں دراہم ۔۔۔سمجھ لو روپے۔۔۔ رکھے اور اس کے اُوپر ایک نفیس جوڑا رکھا، اور خود لے کر اس بزرگ کے پاس پہنچے، جس کو بُرا بھلا کہا کرتے تھے، وہ طنزیہ انداز میں کہنے لگے کہ: آج کیسے آنا ہوگیا؟ انہوں نے خواب میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی زیارت کا ذکر کیا، اور کہا کہ: میں نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی بارگاہِ عالی میں توبہ کرلی ہے، آئندہ آپ سے میری دُشمنی ختم۔ وہ بزرگ فرمانے لگے: آپ مجھ سے دُشمنی رکھتے کیوں تھے؟ فرمایا: بس اس کو چھوڑدیں! فرمایا: پھر بھی! کہا: اس کی وجہ یہ ہے کہ فلاں بزرگ تھے ناں میں جانتا ہوں کہ وہ اللہ کے مقبول بندے تھے، اور تم اس کو بُرا بھلا کہتے تھے، اور مجھ سے یہ برداشت نہیں ہوتا تھا۔ وہ بزرگ کہنے لگے: اچھا! اگر وہ اللہ کے مقبول بندے تھے تو میں بھی آئندہ ان کو بُرا بھلا کہنے سے توبہ کرتا ہوں، مجھے غلط فہمی ہوئی تھی۔

تو غرضیکہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت کی وجہ سے محبت رکھنا، اور بغض کی وجہ سے بغض رکھنا، یہ ایمان کا حصہ ہے۔

پھر سب سے بدتر شخص وہ ہے جو دعویٔ نبوّت کرے، اس لئے مدعیٔ نبوّت سے عداوت رکھنا بھی اللہ اور رسول سے محبت کی وجہ سے ہونی چاہئے، اور یہ بھی ایمان کا حصہ ہے۔

آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا مسیلمہ کو ’’کذّاب‘‘ لکھوانا:

99

ابھی ہمارے ساتھی، مسیلمہ کذّاب کا ذکر کر رہے تھے، تو مسیلمہ کذّاب نے جب حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں خط بھیجا تو اس خبیث نے لکھا:

’’من مسیلمۃ رسول اللہ الٰی محمد رسول اللہ‘‘

یعنی مسیلمہ رسول اللہ کی طرف سے یہ خط محمد رسول اللہ کے نام ہے۔ گویا وہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو ’’محمد رسول اللہ‘‘ مانتا تھا، اور وہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوّت کا منکر بھی نہیں تھا، لیکن رسالت کو اپنے لئے بھی ثابت کرتا تھا، اس لئے جواب میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے لکھوایا:

’’من محمد رسول اللہ الٰی مسیلمۃ الکذّاب‘‘

(محمد رسول اللہ کی جانب سے مسیلمہ کذّاب کے نام)

سب سے بڑا جھوٹا، چنانچہ وہ دن اور آج کا دن ہے کہ مسلمان جب بھی مسیلمہ کا نام لیتے ہیں ’’مسیلمہ کذّاب‘‘ کہتے ہیں۔

غلام احمد قادیانی، مسیلمہ کذّاب سے ایک قدم آگے:

مسیلمہ کذّاب نے یہ دعویٰ کیا تھا کہ: ’’آپ بھی رسول اللہ ہیں اور میں بھی اللہ کا رسول ہوں‘‘ لیکن غلام احمد قادیانی نے ایک قدم آگے بڑھ کر یہ دعویٰ کیا کہ میں ہی ’’محمد رسول اللہ‘‘ ہوں۔

اب میں اس مسئلہ کی زیادہ تفصیل نہیں کرتا، وقت زیادہ ہوگیا۔

ہماری دُشمنی کا سب سے بڑا مظہر مرزا قادیانی:

تو دنیا میں ہماری دُشمنی کا سب سے بڑا مظہر اگر ہوسکتا ہے تو وہ غلام احمد قادیانی ملعون دجال ہے، تو جس کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے جتنی محبت ہوگی، اس کو غلام احمد سے اتنا ہی بغض ہوگا۔

مرزا قادیانی کے مقابلہ میں کام کرنے والے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے محبوب ہیں:

آخر میں اب ایک اور بات کہہ کر اپنی گزارشات ختم کرتا ہوں، وہ یہ کہ: جو لوگ اس ملعون و دجال کے مقابلے میں کام کر رہے ہیں، خواہ کسی درجے میں بھی کام کرنے والے ہوں، وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے محبوب ہیں، تمہیں معلوم ہوگا کہ امیرِ شریعت حضرت مولانا سیّد عطاء اللہ شاہ بخاری نوّر اللہ مرقدہٗ جن کے ہاتھ پر امام العصر حضرت مولانا محمد انور شاہ کشمیری قدس سرہٗ نے

100

قادیانی مسئلہ پر کام کرنے کی بنا پر بیعت کی تھی، حمایت الاسلام کے جلسے میں پانچ ہزار کا مجمع تھا، اور حضرت شاہ صاحبؒ کی وجہ سے ہندوستان کے چیدہ چیدہ علماء جمع تھے، شاہ صاحبؒ نے اُٹھ کر اعلان فرمایا کہ قادیانی فتنہ کا مقابلہ کرنے کے لئے ایک امیر منتخب کرنا چاہئے، اور عطاء اللہ شاہ بخاری نوجوان ہیں، صالح ہیں، کیونکہ حضرت شاہ صاحبؒ اس وقت نوجوان تھے۔ لہٰذا میں اس مسئلے کے لئے ان کو امیرِ شریعت مقرر کرتا ہوں اور ان کے ہاتھ پر بیعت کرتا ہوں، پھر بھرے جلسے میں آپؒ نے امیرِ شریعتؒ کے ہاتھ پر بیعت کی تھی، اور حضرت کشمیریؒ کتنے اُونچے درجے کے آدمی تھے؟ دیکھنے والے ہی اس کا اندازہ لگاسکتے ہیں۔ میرے اُستاذ شیخ الحدیث حضرت مولانا محمد عبداللہ صاحبؒ بیان فرماتے تھے کہ اس وقت امیرِ شریعت حضرت مولانا سیّد عطاء اللہ شاہ صاحب رحمۃ اللہ علیہ پر کپکپی طاری تھی، اتنا بڑا خطیب اور ہندوستان کا خطیبِ اعظم، صرف اتنے الفاظ بول سکا کہ: بھائیو! یہ نہ سمجھو کہ حضرت شاہ صاحبؒ میرے ہاتھ پر بیعت فرما رہے ہیں، بلکہ میری بیعت کو قبول فرما رہے ہیں۔

امیرِشریعتؒ کو بارگاہِ نبوی سے سلام:

مولانا عبداللہ درخواستی صاحب دامت برکاتہم اب بھی زندہ ہیں، ان سے پوچھ لو، حج پر گئے، وہاں ان کو مکاشفہ ہوا، حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی زیارت ہوئی، یہ وہاں ٹھہرنے کی نیت سے گئے تھے، فرمایا: ٹھہرو نہیں، واپس جاؤ! اور میرے بیٹے سیّد عطاء اللہ شاہ بخاری کو میرا سلام کہہ دو۔

حاجی مانکؒ کو روزانہ زیارتِ نبوی کا اعزاز:

سندھ میں ہوتے تھے حاجی مانکؒ، انہوں نے ایک خنزیر قادیانی کو قتل کیا، اس لئے کہ اس ملعون نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی شان میں ایسی کوئی بات کی جو حاجی مانکؒ سے برداشت نہ ہوئی، تو کلہاڑی لے کر مار دی، اور قتل کرکے بمع کلہاڑی کے تھانے پہنچ گئے، اور کہا کہ: میں اس خنزیر کو مار کے آیا ہوں، مجھے گرفتار کرو۔

ہمارے حضرت مولانا محمد علی جالندھریؒ اس کے مقدمہ کی پیروی کے لئے عالمی مجلس تحفظ ختمِ نبوّت کی طرف سے ہمیشہ تشریف لاتے تھے، کیونکہ عالمی مجلس تحفظ ختمِ نبوّت نے ہی

101

حاجی مانکؒ کا مقدمہ لڑا تھا، اور اللہ کے فضل سے اللہ نے ان کو رہائی عطا فرمائی تھی، چند سال کی سزا ہوئی تھی، حالانکہ وہ خود اقرار کر رہے تھے کہ میں نے مارا ہے، وکلاء نے کہا بھی کہ: حاجی صاحب! آپ کے اس کیس کا کوئی گواہ نہیں ہے کہ آپ نے مارا ہے ۔۔۔حالانکہ تھانہ میں خود کلہاڑی پہنچائی تھی۔۔۔ آپ یہ کہہ دیں کہ یہ تھانے والے غلط کہتے ہیں، میں نے نہیں مارا، بس عدالت میں مکر جائیں۔ اس پر حاجی صاحبؒ فرمانے لگے: تمہارا دماغ تو خراب نہیں ہے کہ مجھے یہ مشورہ دیتے ہو؟ فرمانے لگے: جس دن سے مجھے جیل میں بند کیا گیا ہے، اس دن سے روزانہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زیارت ہوتی ہے، جبکہ زندگی میں کبھی بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی باوجود تمنا کے خواب میں زیارت نہیں ہوئی تھی، کیا میں مکر کر اس نعمت سے محروم ہوجاؤں؟

جج کا محبتِ نبوی سے مجبور ہونا:

اسی کا ایک جز اور بھی رہ گیا ہے، وہ یہ کہ قاتل خود اقرار کرتا ہے اور قانون اس کو پھانسی کی سزا دیتا ہے، لیکن جج نے فیصلہ لکھا کہ: مجھے معلوم نہیں کہ کون سی طاقت ہے جو مجھے حاجی صاحب کو سزائے موت دینے سے منع کرتی ہے، بہرحال قانون کا احترام ضروری ہے، اس لئے میں اتنے سال کی سزا ان کو دیتا ہوں۔ اس لئے کہ حاجی مانک نے جس غیرت میں آکر اس مردار اور خنزیر کو قتل کیا ہے، کوئی مسلمان ایسا نہیں جو اس کی بنیاد پر کسی کو قتل نہیں کرتا، میں چونکہ جج ہوں عدالت کی کرسی پر ہوں، قانون کا احترام میرا فرض ہے، اس لئے میں اتنے عرصہ کی علامتی سزا حاجی مانک کو دیتا ہوں، اگر میرے بس میں ہوتا تو میں ان کو بری کردیتا۔

اسی طرح کے اور بھی بے شمار واقعات میرے سینے میں محفوظ ہیں، اس وقت صرف یہ دو باتیں میں نے آپ کی خدمت میں عرض کردیں۔ ختمِ نبوّت کے لئے کام کروگے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے محبوب بن جاؤگے، اس لئے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ختمِ نبوّت کے لئے کام کرنا حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے محبت کی اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے دُشمنوں اور بدترین دُشمن غلام احمد قادیانی سے بغض کی علامت ہے۔

وآخر دعوانا ان الحمد ﷲ رب العالمین

102

منکرینِ ختمِ نبوّت کے لئے

اصلی شرعی فیصلہ

بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ

اَلْحَمْدُ للہِ وَسَلَامٌ عَلٰی عِبَادِہِ الَّذِیْنَ اصْطَفٰی!

س:۔۔۔خلیفہ اول بلا فصل سیّدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے دور خلافت میں مسیلمہ کذاب نے نبوّت کا جھوٹا دعویٰ کیا تو حضرت صدیق اکبرؓ نے منکرین ختمِ نبوّت کے خلاف اعلانِ جنگ کیا اور تمام منکرین ختمِ نبوّت کو کیفر کردار تک پہنچایا۔ اس سے ثابت ہوا کہ منکرین ختمِ نبوّت واجب القتل ہیں، لیکن ہم نے پاکستان میں قادیانیوں کو ’’غیرمسلم‘‘ قرار دینے پر ہی اکتفا کیا، اس کے علاوہ اخبارات میں آئے دن اس قسم کے بیانات بھی شائع ہوتے رہتے ہیں کہ: ’’اسلام نے اقلیتوں کو جو حقوق دئیے ہیں وہ انہیں پورے پورے دئیے جائیں گے۔‘‘ ہم نے قادیانیوں کو نہ صرف تحفظ اور حقوق فراہم کئے ہوئے ہیں بلکہ کئی اہم سرکاری عہدوں پر بھی قادیانی فائز ہیں، سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ منکرین ختمِ نبوّت اسلام کی رو سے واجب القتل ہیں یا اسلام کی طرف سے اقلیتوں کو دئیے گئے حقوق اور تحفظ کے حقدار ہیں؟

ج:۔۔۔منکرین ختمِ نبوّت کے لئے اسلام کا اصل قانون تو وہی ہے جس پر حضرت صدیق اکبر رضی اللہ عنہ نے عمل کیا، پاکستان میں قادیانیوں کو غیرمسلم اقلیت قرار دے کر ان کی جان و مال کی حفاظت کرنا، ان کے ساتھ رعایتی سلوک ہے، لیکن اگر قادیانی اپنے آپ کو غیرمسلم اقلیت تسلیم کرنے پر آمادہ نہ ہوں بلکہ مسلمان کہلانے پر مصر ہوں تو مسلمان، حکومت سے یہ مطالبہ کرسکتے ہیں کہ ان کے ساتھ مسیلمہ کذاب کی جماعت کا سا سلوک کیا جائے۔ کسی اسلامی حکومت میں مرتدین اور زنادقہ کو سرکاری عہدوں پر فائز کرنے

103

کی کوئی گنجائش نہیں، یہ مسئلہ نہ صرف پاکستان بلکہ دیگر اسلامی ممالک کے ارباب حل و عقد کی توجہ کا متقاضی ہے۔

ایک قادیانی نوجوان کے جواب میں:

ج:۔۔۔آپ کا جوابی لفافہ موصول ہوا، آپ کی فرمائش پر براہ راست جواب لکھ رہا ہوں اور اس کی نقل ’’جنگ‘‘ کو بھی بھیج رہا ہوں۔

اہل اسلام قرآن کریم، حدیث نبویؐ اور اجماع اُمت کی بنا پر سیّدنا عیسیٰ علیہ السلام کی حیات اور دوبارہ تشریف آوری کا عقیدہ رکھتے ہیں۔ کیونکہ خود جناب مرزا صاحب کو اعتراف ہے کہ:

’’مسیح ابن مریم کے آنے کی پیش گوئی ایک اول درجہ کی پیشین گوئی ہے جس کو سب نے باتفاق قبول کرلیا ہے اور صحاح میں جس قدر پیش گوئیاں لکھی گئی ہیں، کوئی پیشین گوئی اس کے ہم پہلو اور ہم وزن ثابت نہیں ہوتی۔ تواتر کا اوّل درجہ اس کو حاصل ہے۔‘‘

(ازالہ اوہام ص:۷۵۵، روحانی خزائن ج:۳ ص:۴)

لیکن میرا خیال ہے کہ جناب مرزا صاحب کے ماننے والوں کو اہل اسلام سے بڑھ کر حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی حیات اور دوبارہ تشریف آوری کا عقیدہ رکھنا چاہئے کیونکہ جناب مرزا صاحب نے سورۃ الصف کی آیت:۹ کے حوالے سے ان کی دوبارہ تشریف آوری کا اعلان کیا ہے، چنانچہ وہ لکھتے ہیں:

’’یہ آیت جسمانی اور سیاست ملکی کے طور پر حضرت مسیح کے حق میں پیشین گوئی ہے اور جس غلبہ کاملہ دین اسلام کا (اس آیت میں) وعدہ دیا گیا ہے وہ غلبہ مسیح کے ذریعہ سے ظہور میں آئے گا اور جب حضرت مسیح علیہ السلام دوبارہ اس دنیا میں تشریف لائیں گے تو ان کے ہاتھ سے دین اسلام جمیع آفاق و اقطار میں پھیل جائے گا۔‘‘

104

(براہین احمدیہ حصہ چہارم ص:۸۹۴،۹۹۴)

جناب مرزا صاحب قرآن کریم سے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے دوبارہ آنے کا ثبوت محض اپنی قرآن فہمی کی بنا پر نہیں دیتے بلکہ وہ اپنے ’’الہام‘‘ سے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو اس آیت کا مصداق ثابت کرتے ہیں، جیسا کہ وہ لکھتے ہیں:

’’اس عاجز پر ظاہر کیا گیا ہے کہ یہ خاکسار اپنی غربت اور انکسار اور توکل اور ایثار اور آیات اور انوار کی رو سے مسیح کی ’’پہلی زندگی‘‘ کا نمونہ ہے، اور اس عاجز کی فطرت اور مسیح کی فطرت باہم نہایت ہی متشابہ واقع ہوئی ہے ،اس لئے خداوند کریم نے مسیح کی پیشین گوئی میں اِبتدا سے اس عاجز کو بھی شریک کر رکھا ہے یعنی حضرت مسیح پیشین گوئی متذکرہ بالا کا ظاہری اور جسمانی طور پر مصداق ہے اور یہ عاجز روحانی اور معقولی طور پر۔‘‘

(ایضاً ص:۹۹۴)

صرف اسی پر اکتفا نہیں، بلکہ مرزا صاحب اپنے الہام سے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے دوبارہ تشریف لانے کی الہامی پیشین گوئی بھی کرتے ہیں، چنانچہ اسی کتاب کے ص:۵۰۵ پر اپنا ایک الہام: ’’عسی ربکم ان یرحمکم علیکم‘‘ درج کرکے اس کا مطلب یہ بیان فرماتے ہیں:

’’یہ آیت اس مقام میں حضرت مسیح کے ’’جلالی طور پر‘‘ ظاہر ہونے کا اشارہ ہے، یعنی اگر طریق و حق اور نرمی اور لطف اور احسان قبول نہیں کریں گے اور حق محض جو دلائل واضحہ اور آیات بینہ سے کھل گیا ہے اس سے سرکش رہیں گے تو وہ زمانہ بھی آنے والا ہے کہ جب خدائے تعالیٰ مجرمین کے لئے شدت اور غضب اور قہر اور سختی کو استعمال میں لائے گا اور حضرت مسیح علیہ السلام نہایت جلالیت کے ساتھ دنیا پر اتریں گے اور یہ زمانہ اس زمانے کے لئے بطور ارہاص کے واقع ہوا ہے۔ یعنی اس وقت جلالی طور پر خدائے تعالیٰ

105

اتمام حجت کرے گا۔ اب بجائے اس کے جمالی طور پر یعنی رفق اور احسان سے اتمام حجت کر رہا ہے۔‘‘

ظاہر ہے کہ اگر حضرت مسیح علیہ السلام کی حیات اور دوبارہ آنے پر ایمان نہ رکھا جائے تو نہ صرف یہ قرآن کریم کی قطعی پیشین گوئی کی تکذیب ہے، بلکہ جناب مرزا صاحب کی قرآن فہمی، ان کی الہامی تفسیر اور ان کی الہامی پیشین گوئی کی بھی تکذیب ہوگی۔ پس ضروری ہے کہ اہل اسلام کی طرح مرزا صاحب کے ماننے والے بھی حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے دوبارہ آنے پر ایمان رکھیں، ورنہ اس عقیدے کے ترک کرنے سے قرآن و حدیث کے علاوہ مرزا صاحب کی قرآن دانی بھی حرف غلط ثابت ہوگی اور ان کی الہامی تفسیریں اور الہامی انکشافات سب غلط ہوجائیں گے، کیونکہ:

’’جب ایک بات میں کوئی جھوٹا ثابت ہوجائے تو پھر دوسری باتوں میں بھی اس پر اعتبار نہیں رہتا۔‘‘

(چشمہ معرفت ص:۲۲۲)

اب آپ کو اختیار ہے کہ ان دو باتوں میں کس کو اختیار کرتے ہیں، حیات عیسیٰ علیہ السلام پر ایمان لانے کو؟ یا مرزا صاحب کی تکذیب؟

جناب مرزا صاحب کے ازالہ اوہام (ص:۱۲۹) والے چیلنج کا ذکر کرکے آپ نے شکایت کی ہے کہ نوے سال سے کسی نے اس کا جواب نہیں دیا۔

آں عزیز کو شاید یہ علم نہیں کہ حضرات علمائے کرام ایک بار نہیں، متعدد بار اس کا جواب دے چکے ہیں، تاہم اگر آپ کا یہی خیال ہے کہ اب تک اس کا جواب نہیں ملا تو یہ فقیر (باوجودیکہ حضرات علماء احسن اللہ جزاہم کی خاکِ پا بھی نہیں) اس چیلنج کا جواب دینے کے لئے حاضر ہے۔ اسی کے ساتھ مرزا صاحب کی کتاب البریۃ (ص:۷۰۲) والے اعلان کو بھی ملالیجئے، جس میں موصوف نے بیس ہزار روپیہ تاوان دینے کے علاوہ اپنے عقائد سے توبہ کرنے اور اپنی کتابیں جلادینے کا وعدہ بھی کیا ہے۔

تصفیہ کی صورت یہ ہے کہ جناب مرزا صاحب کے موجودہ جانشین سے لکھوادیا

106

جائے کہ یہ چیلنج اب بھی قائم ہے اور یہ کہ وہ مرزا صاحب کی شرط پوری کرنے کی ذمہ داری لیتے ہیں۔ اور اسی کے ساتھ کوئی ثالثی عدالت، جس کے فیصلہ پر فریقین اعتماد کرسکیں، خود ہی تجویز فرمادیں۔ میں اس مسلّمہ عدالت کے سامنے اپنی معروضات پیش کروں گا۔ عدالت اس پر جو جرح کرے گی اس کا جواب دوں گا، میرے دلائل سننے کے بعد اگر عدالت میرے حق میں فیصلہ کردے کہ میں نے مرزا صاحب کے کہنے کو توڑ دیا اور ان کے چیلنج کا ٹھیک ٹھیک جواب دے دیا تو ۰۲ ہزار روپے آںعزیز کی اعلیٰ تعلیم کے لئے آپ کو چھوڑتا ہوں، دوسری دونوں باتوں کو پورا کرنے کا معاہدہ پورا کرادیجئے گا۔ اور اگر عدالت میرے خلاف فیصلہ صادر کرے تو آپ شوق سے اخبارات میں اعلان کرادیجئے گا کہ مرزا صاحب کا چیلنج بدستور قائم ہے اور آج تک کسی سے اس کا جواب نہ بن پڑا۔ اگر آپ اس تصفیہ کے لئے آگے بڑھیں تو اپنی جماعت پر بہت احسان کریں گے۔

(ہفت روزہ ختمِ نبوّت کراچی ج:۵۱ ش:۷۴)

107

توہینِ انبیاء کفر ہے!

بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ

اَلْحَمْدُ للہِ وَسَلَامٌ عَلٰی عِبَادِہِ الَّذِیْنَ اصْطَفٰی!

حضرات انبیائے کرام علیہم السلام کی جماعت اس کائنات میں سب سے افضل و اکمل اور مقدس ترین جماعت ہے، جسے اللہ تعالیٰ نے منصب رسالت و نبوّت کے لئے منتخب کیا ہے۔ ان میں سے کسی ایک کی تحقیر و تنقیص چونکہ اس منصب رفیع کی توہین ہے اس لئے باجماع اُمت یہ بدترین کفر و ارتداد ہے۔ جیسا کہ قاضی عیاض مالکیؒ نے اپنی بے نظیر کتاب ’’الشفاء بتعریف حقوق المصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم‘‘ میں، حافظ ابن تیمیہ حنبلیؒ نے ’’الصارم المسلول علیٰ من سب الرسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم‘‘ میں، شیخ ابن عابدین حنفی ؒنے ’’تنبیہ الولَاۃ والحکَّام‘‘ میں اور ان سب سے پہلے الامام المجتہد قاضی ابویوسفؒ نے ’’کتاب الخراج‘‘ میں اس کی تصریح کی ہے کہ ایسا شخص مرتد اور واجب القتل ہے۔

مرزا غلام احمد قادیانی کے کفر و ارتداد کے وجوہ بے شمار ہیں، ان میں سے ایک خبیث ترین سبب یہ ہے کہ مرزا قادیانی نے قریب قریب تمام انبیائے کرام علیہم السلام کی مختلف عنوانات سے تنقیص کی ہے، خصوصاً حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی شان میں تو مرزا نے ایسی گستاخیاں کی ہیں جن سے پہاڑوں کے جگر شق ہوجائیں، قادیانی اُمت، مرزا صاحب کی ان مغلظات پر تاویلات کا پردہ ڈالنا چاہتی ہے لیکن تاویلات کے ذریعہ سیاہ کو سفید کر دکھانا، رات کو دن ثابت کرنا اور کفر و ارتداد کو عین اسلام جتانا ناممکن ہے۔

مناظر اسلام حضرت مولانا لال حسین صاحب رحمۃ اللہ علیہ کو حق تعالیٰ شانہ

108

جزائے خیر عطا فرمائیں کہ انہوں نے ایک رسالہ بنام ’’حضرت مسیح علیہ السلام، مرزا قادیانی کی نظر میں‘‘ (جسے حال ہی میں مجلس تحفظ ختمِ نبوّت نے شائع کیا ہے) میں ایک طرف عیسیٰ علیہ السلام کے اس مقام و مرتبہ کی نشاندہی فرمائی ہے جو قرآن کریم کی آیات بینات سے ثابت ہے اور دوسری طرف مرزا غلام احمد قادیانی کی ان دل خراش اور ایمان سوز عبارتوں کو جمع کرکے ان تمام تاویلات اور معذرتوں کا جائزہ لیا ہے جو اس سلسلہ میں خود مرزا صاحب یا ان کے مریدوں کی طرف سے پیش کی جاتی ہیں۔ جن لوگوں کی قسمت میں ایمان نہیں یا جنہوں نے ’’خَتَمَ اللہُ عَلٰی قُلُوْبِھِمْ وَعَلٰی سَمْعِھِمْ وَعَلٰٓی اَبْصَارِھِمْ غِشَاوَۃٌ‘‘ کے مصداق مرزا صاحب کی محبت میں عقل و شعور کے سارے دریچے بند کرلئے ہیں، ان کے حق میں کوئی تدبیر کارگر نہیں ہوسکتی، لیکن جن کے دل میں اس حق و انصاف کی کوئی رمق یا عقل و شعور کی ادنیٰ حس بھی موجود ہے، اگر وہ اس رسالہ کا ٹھنڈے دل سے مطالعہ کریں گے تو ان پر اِن شاء اللہ یہ بات عیاں ہوجائے گی کہ مرزا صاحب نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی تحقیر و تنقیص کرکے اپنے لئے کون سا مقام منتخب کیا ہے؟

یہاں یہ امر بھی قابل ذکر ہے کہ مذکورہ رسالہ اس سے پہلے دو بار شائع ہوچکا ہے، لیکن قادیانی صاحبان اس کا آج تک کوئی جواب نہیں دے سکے، بہرحال یہ رسالہ جہاں قادیانیوں کے لئے دعوت غور و فکر ہے وہاں ہمارے مسلمان بھائیوں کے لئے بھی تازیانۂ عبرت ہے کہ اگر کوئی شخص ہمارے باپ دادا یا ماں بہن کے حق میں وہ الفاظ استعمال کرے جو مرزا صاحب نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے حق میں استعمال کئے ہیں تو ہمارا ردعمل کیا ہوگا؟

اسی سے وہ فیصلہ کرسکیں گے کہ مرزا صاحب کے بارے میں ہماری ایمانی غیرت کا تقاضا کیا ہے؟

(ہفت روزہ ختمِ نبوّت کراچی ج:۱ ش:۲۲)

109

عقیدۂ ختمِ نبوّت:

ایک سوال کا جواب

بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ

اَلْحَمْدُ للہِ وَسَلَامٌ عَلٰی عِبَادِہِ الَّذِیْنَ اصْطَفٰی!

یوکے ختمِ نبوّت کانفرنس کے موقع پر جنگ لندن نے حضرت شہیدؒ کے پینل انٹرویو کا پروگرام بنایا۔ اس موقع پر آپؒ سے قادیانیوں سے متعلق اور کئی ایک دوسرے سوالات کئے گئے، وہ سوال و جواب درج ذیل ہیں: سعید احمد

افتخار قیصر:۔۔۔مولانا محمد یوسف لدھیانوی صاحب ہمارا سوال آپ سے یہ ہے کہ قادیانی جب اپنے آپ کو مسلمان کہلانے یا کہنے پر مصر ہیں تو آپ ان کو کافر قرار دینے پر کیوں تلے ہوئے ہیں؟

مولانا محمد یوسف لدھیانوی:۔۔۔ایمان اور اسلام دراصل کچھ عقائد اور کچھ احکام کا نام ہے۔ یہ کوئی انسان کا بنایا ہوا مذہب نہیں کہ جیسا عقل میں آیا، کرلیا، یا جس چیز کی ضرورت محسوس کی اس کے مطابق مذہب کو موڑ لیا۔ اسلام نام ہے اس دین کا جو اللہ تعالیٰ نے حضور آخر الزماں صلی اللہ علیہ وسلم کے ذریعہ مسلمانوں کی ہدایت کے لئے قیامت تک کے لئے بھیجا ہے۔ اس کے کچھ احکام اصولی ہیں اور کچھ فروعی۔ اصولی احکام اور عقائد میں کسی طور پر بھی تبدیلی نہیں کی جاسکتی، مثال کے طور پر اللہ تعالیٰ کی وحدانیت، حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی رسالت، نماز، روزہ، زکوٰۃ، حج وغیرہ ایسے احکام ہیں جن میں سے کسی ایک حکم میں تبدیلی کرنے سے ایمان اور اسلام سلامت نہیں رہتا۔ کوئی شخص اللہ تعالیٰ کی توحید

110

میں ایک شخص کو شریک کرے یا ہزاروں کو، وہ مشرک کہلائے گا۔ کوئی شخص نماز کا انکار کرے یا نمازوں کی تعداد اور نمازوں کی رکعات کا، وہ شخص مسلمان نہیں رہ سکتا اگرچہ مذہب کی تمام باتوں کو تسلیم کرتا ہو، یہی صورتحال حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی رسالت کے بارے میں ہے۔ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی رسالت کا انکار، حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو آخری نبی کی حیثیت سے نہ ماننا یہ سب کفریہ عقائد ہیں۔ اس تناظر میں ہم مرزا غلام احمد قادیانی کے دعووں کو پرکھتے ہیں تو خودبخود ان کے بارے میں فیصلہ ہوجاتا ہے۔ مرزا غلام احمد قادیانی مبلغ اسلام، مناظر اسلام کی حیثیت سے دنیا کے سامنے پیش ہوئے، علمائے کرام نے کچھ تعارض نہیں کیا بلکہ بعض علمائے کرام ان کے طریقۂ کار سے اختلاف کے باوجود ان کے ساتھ شریک رہے، مناظر اسلام سے مجدد کی طرف انہوں نے پرواز کی، علمائے کرام نے ان کے اس دعویٰ کی تردید کی لیکن کفر کا فتویٰ جاری نہیں کیا۔ مرزا غلام احمد قادیانی نے ایک چھلانگ اور لگائی اور مجدد سے مہدی بنے۔ علمائے کرام کے پاس اب اس کے علاوہ اور کوئی چارہ نہیں تھا کہ وہ ان کے اس باطل عقیدے کے سامنے بند باندھتے۔ علمائے لدھیانہ سے لے کر علمائے دیوبند تک نے ان کے اس عقیدہ کو کفریہ قرار دیا۔ مرزا غلام احمد قادیانی مہدی سے مسیح موعود بنے اور آخرکار بلندی کی طرف پرواز کرتے ہوئے نبوّت کے منصب پر فائز ہوگئے، قرآن مجید کی وہ تمام آیات جن میں حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا تذکرہ ہے ان آیات کو اپنے بارے میں قرار دیا، حضرت آدم علیہ السلام سے لے کر حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تک ایک ایک نبی کی توہین کی، ازواجِ مطہرات، اہل بیت رضوان اللہ علیہم اجمعین کے لئے توہین آمیز جملے تحریر کئے اور واضح طور پر کہا کہ مجھ پر وحی آتی ہے، اپنی اطاعت کو لوگوں پر لازمی قرار دیا، اپنے اوپر ایمان نہ لانے والوں کو کافر، خنزیر کی اولاد اور بدکاروں کی اولاد کہا، انگریز کی وفاداری کو حکم الٰہی قرار دیا، انگریز حکومت کو اللہ کا سایہ قرار دیا، جہاد کو حرام قرار دیتے ہوئے کہا: ’’چھوڑ دو اے دوستو اب جہاد کا خیال۔‘‘ قادیان کو مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ سے افضل قرار دیا، قادیان میں ایک مینارہ تعمیر کراکر کہا کہ اس مینارہ کے ذریعہ میرا (مسیح موعود کا) نزول ہوا۔ ان تمام عقائد کی بنیاد پر پاکستان کی قومی اسمبلی نے آئینی ترمیم

111

کے ذریعہ قادیانیوں کو غیرمسلم قرار دیا، آج سے ساٹھ سال قبل ۸۲۹۱ء میں ماریشس کی ایک عدالت نے سب سے پہلے فیصلہ دیا کہ قادیانیوں کا اسلام سے کوئی تعلق نہیں یہ کوئی الگ مذہب ہے۔ قیام پاکستان سے قبل بہاول پور کی عدالت نے قادیانیوں کو غیرمسلم قرار دے کر قادیانی لڑکے اور مسلمان لڑکی کے نکاح کو منسوخ کیا۔ آئینی ترمیم کے بعد ہائی کورٹ، سپریم کورٹ نے قادیانیوں کے عقائد کی بنیاد پر فیصلہ دیا کہ قادیانیوں اور مسلمانوں کے عقائد مختلف ہیں اس لئے قادیانی مذہب الگ مذہب ہے اس کا اسلام سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ مکہ مکرمہ میں رابطہ عالم اسلامی کے تحت پینتالیس اسلامی ممالک کے علمائے کرام نے متفقہ طور پر فتویٰ دیا کہ قادیانیوں کا اسلام سے کوئی تعلق نہیں۔ تمام ائمہ حرمین شریفین قادیانی جماعت کے کفر کا اعلان کرتے ہیں، عالم دنیا کے ایک ارب بیس کروڑ سے زائد مسلمان، قادیانیوں کو مسلمانوں سے الگ قرار دیتے ہیں۔ خود قادیانی جماعت کا سربراہ جھوٹا مدعی نبوّت اعلان کرتا ہے کہ مجھے تسلیم نہ کرنے والا ہم میں سے نہیں۔ اس کے باوجود کیسے یہ تسلیم کرلیا جائے کہ قادیانی جماعت مسلمان ہے اور علمائے کرام زبردستی ان کو کافر بنانے پر تلے ہوئے ہیں۔

دراصل قادیانیوں کے موجودہ سربراہ نے اپنی حکمت عملی تبدیل کرلی ہے اور وہ سادہ لوح مسلمانوں کو اسلام کے نام پر دھوکا دے کر قادیانی بنانے کی مہم چلائے ہوئے ہیں، اگر ان کو اپنے دین پر یقین ہے، وہ اس کو سچا سمجھتے ہیں تو پھر اپنے اوپر اسلام کا لبادہ کیوں اوڑھتے ہیں؟ دنیا کو دھوکا کیوں دیتے ہیں؟ واضح اعلان کریں کہ ہم قادیانی ہیں، ہمارا اپنے پیغمبر پر ایمان ہے، اس کی عبارتوں کو کیوں چھپاتے ہیں؟ الحمدللہ! ہم مسلمان ہیں، حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے ایک ایک لفظ کو دنیا کے سامنے واضح پیش کرتے ہیں، اپنے اسلام کا دعویٰ کرتے ہیں، کوئی لبادہ اوڑھ کر دنیا کو دھوکا نہیں دیتے، مرزا طاہر اس طرح میدان میں آئیں خودبخود ان کو اپنی حقیقت معلوم ہوجائے گی۔

افتخار قیصر:۔۔۔گزشتہ دنوں مرزا طاہر کا ایک بیان اخبارات میں شائع ہوا تھا کہ

112

ضیاء الحق مرحوم اس کے مباہلے کے نتیجے میں ہلاک ہوئے، اس سلسلے میں آپ کیا کہیں گے؟

مولانا محمد یوسف لدھیانوی:۔۔۔دراصل یہ قادیانی جماعت کا بہت پرانا حربہ ہے، ان کے پیشوا مرزا غلام احمد قادیانی کا بھی یہی طریقہ تھا، کبھی کسی ملک میں سورج گرہن ہوا، چاند کو گہن لگا، مرزا غلام احمد قادیانی نے اس کو اپنی نشانی ظاہر کردیا۔ کسی ملک کو شکست ہوئی یا فتح ہوئی اس کو اپنا معجزہ قرار دے دیا۔ مرزا طاہر نے علمائے پاکستان کو مباہلہ کا چیلنج دیا، میرے سمیت پاکستان کے بہت سے علمائے کرام نے اس چیلنج کو قبول کیا، برطانیہ کے علمائے کرام نے بھی قبول کیا، مباہلے کے معروف طریقے کے مطابق وقت دیا کہ فلاں جگہ آجاؤ یا ہمیں بلالو، دونوں فریق اللہ تعالیٰ سے حق طلب کریں گے، کسی ایک کے لئے حق ظاہر ہوجائے گا۔ مرزا طاہر نے راہ فرار اختیار کرکے اپنے خود ساختہ مباہلے کا اعلان کردیا کہ دونوں اپنے اپنے گھروں میں بیٹھے رہیں، ایک دوسرے کے لئے بددعا کریں، لعنت کرتے رہیں، خودبخود حق ظاہر ہوجائے گا۔ مجھ سمیت سینکڑوں علمائے کرام نے چیلنج قبول کیا، ان کو تو کچھ نہیں ہوا، وہ علمائے کرام بہت اطمینان سے اپنے ملک میں رہ کر دین کی خدمت میں مصروف ہیں، کسی ایک عالم دین کو خراش تک نہیں آئی، لیکن جنرل ضیاء الحق مرحوم جن کا مباہلے سے کوئی تعلق نہیں تھا، کبھی انہوں نے اعلان نہیں کیا کہ میں نے مباہلہ قبول کیا ہے، وہ ایک حادثہ کا شکار ہوگئے اور اکیلے نہیں کئی جنرلوں کے ساتھ، ساتھ امریکی سفیر بھی تھا، کیا تمام لوگوں نے مباہلے کا چیلنج قبول کیا تھا؟ یہ تمام باتیں لوگوں کو بے وقوف بنانے کے لئے ہیں۔ قومی اسمبلی میں یحییٰ بختیار نے مرزا ناصر پر جرح کی، مفتی محمودؒ، شاہ احمد نورانی اور دیگر علمائے کرام نے محنت کی، راجہ ظفرالحق نے امتناع قادیانیت آرڈی نینس تیار کیا، ان تمام لوگوں کو تو کچھ نہیں ہوا، ضیاء الحق شہید ہوگئے تو مرزا طاہر مباہلے میں جیت گئے۔۔۔! عجیب منطق ہے۔ قادیانیت کا مقابلہ عالمی مجلس تحفظ ختمِ نبوّت سے ہے، گزشتہ سو سال میں کسی مجلس تحفظ ختمِ نبوّت کے رکن کو کچھ نہیں ہوا، بلکہ مرزا غلام احمد قادیانی اپنے دعویٰ کے مطابق مولانا عبدالحق رحمۃ اللہ علیہ کی زندگی میں اس دنیا سے رخصت ہوا، اپنی پیش گوئی کے مطابق وہ خود جھوٹا ہوگیا، اسی طرح مرزا طاہر بھی اپنے دعویٰ کے مطابق جھوٹا ہوا کیونکہ

113

مباہلے کے چیلنج کو پندرہ سال ہونے کو آئے ہیں، کسی عالم دین پر تباہی نہیں آئی بلکہ مرزا طاہر اپنے ملک سے فرار ہے، اپنے مرکز ربوہ نہیں جاسکتا، باطل پر تو وہ ہوا نہ کہ علمائے کرام، اس لئے مرزا طاہر اپنے دعوؤں کے مطابق خود جھوٹا ہوگیا۔

افتخار قیصر:۔۔۔یہ گفتگو تو آپ کے خاص موضوع کے حوالے سے تھی، آپ گزشتہ کئی سال سے انگلینڈ تشریف لا رہے ہیں یہاں عید کا مسئلہ سب سے اہم ہے، مسلمان اس سلسلے میں ہمیشہ اختلافات کا شکار رہتے ہیں، ہر شہر میں کئی کئی عیدیں ہوتی ہیں، اس سلسلے میں آپ کچھ فرمائیں گے کہ مسلمان کس طرح ایک دن عید منائیں؟

مولانا محمد یوسف لدھیانوی:۔۔۔دراصل رمضان المبارک اور عید کا تعلق رؤیت ہلال سے ہے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ’’چاند دیکھ کر روزہ رکھو اور چاند دیکھ کر عید کرو۔‘‘ عیسوی سن متعین سن ہے، اس کی تاریخیں مقرر ہیں، لیکن قمری تاریخوں کا تعین ہر ماہ ہوتا ہے، کبھی ۹۲ تاریخ کو، کبھی ۰۳ تاریخ کو، چاند کی اطلاع پر روزے یا عید کا فیصلہ کیا جاتا ہے۔ یورپ کے موسمی حالات کی وجہ سے عام طور پر یہاں چاند کا دیکھا جانا ایک ناممکن سی بات ہے، اس لئے عام طور پر اس سلسلے میں اختلاف پایا جاتا ہے جبکہ فقہی مسائل کی رو سے ان جیسے ممالک کے لئے مسائل موجود ہیں، اگر ان مسائل کے مطابق احکام بتائے جائیں تو اختلاف کی کوئی وجہ نہیں، فقہ کی رو سے جن ممالک میں چاند نہیں دیکھا جاتا تو وہاں سے جو قریب ترین اسلامی ملک ہوتا ہے اس کی ’’رؤیت‘‘ (چاند دیکھنے) کا اعتبار ہوتا ہے، اور اس کی چاند کی اطلاع پر عید یا رمضان المبارک کا اعلان کیا جاتا ہے، اس اعتبار سے انگلینڈ سے قریب ترین ملک مراکش ہے، اس لئے مراکش کے چاند پر انگلینڈ کے لوگ روزے رکھیں گے اور عید کریں گے۔ ہماری رائے میں انگلینڈ میں مختلف ملکوں کے فقہی احکامات کو مدنظر رکھنے ہی کی وجہ سے اختلاف ہوتا ہے۔ علمائے کرام کو ایک متفقہ ضابطہ طے کرکے پورے انگلینڈ میں ایک ہی دن عید کرنی چاہئے تاکہ مسلمانوں کی اجتماعیت نظر آئے اور لوگ دین کے خلاف پروپیگنڈہ نہ کریں۔

افتخار قیصر:۔۔۔یہاں رہنے والے بچوں کی تعلیم کے سلسلے میں آپ کیا کہیں گے؟

114

مولانا محمد یوسف لدھیانوی:۔۔۔یورپی ممالک میں تعلیم لازمی اور مفت ہونے کی وجہ سے بہت مسائل جنم لے رہے ہیں، مسلمان بچوں کو ان اسکولوں میں لازمی تعلیم حاصل کرنا پڑتی ہے اسی وجہ سے نئی نسل ایک طرف اسلام سے دور ہو رہی ہے، دوسری طرف ان میں ایسی اخلاقی برائیاں پیدا ہو رہی ہیں جس کی وجہ سے وہ مسلمانوں کے معاشرہ میں رہنے کے قابل نہیں رہتے، اس لئے مسلمانوں کو اس طرف توجہ دینے کی ضرورت ہے، سب سے بہتر تو یہ ہے کہ مسلمان ان ممالک میں اپنے اسکول قائم کریں اور ان اسکولوں میں بہترین عصری علوم کا انتظام کریں، اور اس کے ساتھ ساتھ ان اسکولوں میں دینی تعلیم بھی ضرورت کے مطابق دی جائے، امریکہ اور ساؤتھ افریقہ میں اس قسم کے بہترین اسکول قائم کئے گئے ہیں۔ لیکن انگلینڈ میں اس کی کمی شدت سے محسوس کی جارہی ہے۔ دراصل انگلینڈ میں تعلیم فری ہے اور لوگ اس فری تعلیم سے فائدہ اٹھانا چاہتے ہیں، مسلمانوں کے اپنے اسکولوں میں لازمی طور پر فیس ادا کرنی ہوگی۔

بہرحال اگر اپنے اسکول قائم نہ کئے جاسکیں تو دوسری صورت یہ ہے کہ مسلمان لازمی طور پر اپنے بچوں کو اسکول کے بعد مساجد میں بھیجیں اور ان مساجد میں قرآن کی تعلیم کے ساتھ ضروریاتِ دین کی تعلیم دی جائے، اس طرح مسلمان بچے اسکول کی تعلیم سے لادینی اثرات قبول نہیں کریں گے۔ اسی طرح والدین کو چاہئے کہ وہ خود جب نماز کے لئے آئیں تو بچوں کو بھی ساتھ لے کر آئیں، اسی طرح گھر میں اسلامی تعلیمات کے بارے میں وقتاً فوقتاً بچوں کو آگاہ کیا جائے، انگریزی میں اسلام سے متعلق کافی لٹریچر شائع ہوگیا ہے، وہ ان کو مطالعہ کے لئے دیں، بچوں کے ذہنوں میں اسلام سے محبت اور وابستگی پیدا کریں اس طرح نئی نسل میں اسلامی شعور پیدا ہوگا اور قوم اور نئی نسل گمراہ نہیں ہوگی۔

(ہفت روزہ ختمِ نبوّت کراچی ج:۶۱ ش:۳۱)

115

دار العلوم دیوبند

اور

عقیدۂ تحفظ ختمِ نبوّت

بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ

حَامِدًا وَّمُصَلِّیًا وَّمُسَلِّمًا

اسلام حق تعالیٰ شانہ کا نازل کردہ آخری دین، آخری قانون سماوی اور آخری پیغام ہدایت ہے، جو اس کے آخری نبی حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کے ذریعہ آخری امت، اُمتِ محمدیہ کو عطا کیا گیا، اسلام کو یہ شرف و فضیلت حاصل ہے کہ حق تعالیٰ نے اس کی حفاظت اپنے ذمہ لی ہے، چنانچہ فرمایا:’’اِنَّا نَحْنُ نَزَّلْـنَا الذِّکْرَ وَاِنِّا لَہٗ لَحٰفِظُوْنَ۔‘‘ اور اُمتِ مرحومہ کو یہ اعزاز بخشا کہ وہ جارحہ خداوندی کی حیثیت سے دین متین کی پاسبانی کا فریضہ انجام دے، اور جب کوئی فتنہ سر اٹھائے تو فوراً اس کی گوش مالی و سرکوبی کرے، جیسا کہ حدیث میں ارشاد ہے:

’’یحمل ھذا العلم من کل خلف عدولہ ینفون عـنہ تحـریـف الـغـالـین وانـتحال المبطـلـین وتـأویـل الجاھلین۔‘‘

(مشکوٰۃ ص:۶۳)

ترجمہ:۔۔۔’’ہر آئندہ نسل میں اس علم دین کے حامل ایسے عادل اور ثقہ لوگ ہوں گے جو اسے غالیوں کی تحریف، باطل پرستوں کے غلط دعوؤں اور جاہلوں کی تاویل سے پاک صاف کریں گے۔‘‘

116

گویا حق تعالیٰ نے صرف دین کی حفاظت کا وعدہ نہیں فرمایا بلکہ اس کے متضمن حافظان دین و ملت کی حفاظت کا بھی قطعی اور یقینی وعدہ کیا ہے۔ چنانچہ تاریخ اسلام پر نظر ڈالیں تو ہمیں ہر صدی میں اس جنود ربانی (خدائی فوج) کا کوئی نہ کوئی دستہ حفاظت دین کے محاذ پر اَعداء اللہ سے مصروفِ پیکار اور دشمنان دین کی تحریف و تاویل کے راستہ میں آ ہنی دیوار نظر آتا ہے۔ اس لئے یہ کہنا بے جا نہ ہوگا کہ ان مجاہدین اسلام کی پوری تاریخ وعدۂ الٰہی:’’اِنَّا نَحْنُ نَزَّلْنَا الذِّکْرَ وَاِنَّا لَہٗ لَحٰفِظُوْنَ۔‘‘ کی عملی تفسیر ہے۔

گیارہویں سے چودھویں صدی تک کا ہندوستان کا زمانہ ہے، اس موقع پر ایک بات اہل نظر کو صاف نظر آئے گی کہ دینی قطبیت کا مرکز دوسرے اسلامی ملکوں سے ہندوستان کو منتقل ہوگیا، چنانچہ دینی و مذہبی علوم و فنون، حدیث و تفسیر کی خدمت اور ہدایت خلق اور احیائے سنن و رد بدعات کے لحاظ سے ہندوستان تمام دوسرے اسلامی ملکوں پر سبقت لے گیا۔ کیونکہ ان صدیوں میں ہندوستان میں جو ہستیاں نمودار ہوئیں، ان کی نظیر دوسرے ملکوں میں نہیں ملتی۔ مثلاً گیارہویں صدی کے آغاز میں حضرت شیخ احمد سرہندیؒ (متوفی: ۴۳۰۱ھ)، اور بارہویں صدی کے وسط میں حضرت مولانا شاہ ولی اللہ محدث دہلویؒ (متوفی: ۶۷۱۱ھ) اور تیرھویں صدی کے وسط میں مولانا شاہ اسمٰعیل شہید دہلویؒ اور مولانا سیّد احمد بریلوی شہیدؒ(شہادت: ۶۴۲۱ھ)۔

(مقدمہ تجدید دین کامل مولانا سیّد سلیمان ندویؒ ص:۰۳)

حضرت سیّد شہیدؒ کے بعد انہی کے متوسلین میں ایک ایسی شخصیت نمایاں ہوئی جو عشق و معرفت، زہد و تقویٰ، اخلاص و ایمان، فہم و فراست، علم و عمل اور حال و قال میں اپنے اسلاف کی صحیح جانشین تھی اور جسے قدرت نے اس دور میں اُمتِ اسلامیہ کی اصلاح و تربیت کا مرکز و محور بنایا تھا۔ یہ قطب العالم شیخ العرب و العجم مولانا شاہ امداد اللہ مہاجر مکی (متوفیٰ۷۱۳۱ھ) کی ذات گرامی تھی، جو اکابر دیوبند کی مرشد و مربی اور ہندوستان میں تحریک دعوت و عزیمت اور تحفظ دین کی مؤسس و بانی تھی۔ ’’دار العلوم دیوبند‘‘ حضرت حاجی صاحب قدس سرہٗ کے سوز دروں کا مظہر اور ان کی سحرگاہی دعاؤں کا ثمرہ تھا۔ دارالعلوم

117

دیوبند کی بنیاد رکھی جاچکی تھی، کسی شخص نے مکہ مکرمہ میں حضرت حاجی صاحبؒ سے عرض کیا کہ حضرت! ہم نے دیوبند میں ایک مدرسہ قائم کیا ہے، اس کے لئے دعا فرمائی جائے تو حضرت حاجی صاحبؒ نے فرمایا:

’’سبحان اللہ! آپ فرماتے ہیں ہم نے مدرسہ قائم کیا ہے، یہ خبر نہیں کہ کتنی پیشانیاں اوقات سحر میں سر بسجود ہوکر گڑگڑائی ہیں کہ خداوندا ہندوستان میں بقائے اسلام اور تحفظ علم کا کوئی ذریعہ پیدا کر! یہ مدرسہ انہی سحر گاہی دعاؤں کا ثمرہ ہے۔‘‘

(بیس بڑے مسلمان ص:۴۲۱ طبع سوم)

۷۵۸۱ء کی جنگ آزادی میں شکست و ناکامی کے بعد اسلام اور مسلمانوں کا مستقبل نظر بظاہر تاریک تھا، انگریز کے منحوس قدم ہندوستان سے اسلام اور مسلمانوں کا نام و نشان مٹانے پر تلے ہوئے تھے اور انگریز بڑے طمطراق سے یہ اعلان کررہا تھا:

۱:۔۔۔’’جس طرح کل ہمارے بزرگ کُل کے کُل ایک ساتھ عیسائی ہوگئے تھے اسی طرح یہاں (ہندوستان میں) بھی (تمام لوگ) ایک ساتھ عیسائی ہوجائیں گے۔‘‘

(مسلمانوں کا روشن مستقبل ص:۲۴۱)

۲:۔۔۔’’خداوند تعالیٰ نے ہمیں یہ دن دکھایا ہے کہ ہندوستان کی سلطنت انگلستان کے زیر نگیں ہے تاکہ عیسیٰ مسیح کا جھنڈا ہندوستان کے ایک سرے سے دوسرے سرے تک لہرائے۔ ہر شخص کو اپنی تمام تر قوت، تمام ہندوستان کو عیسائی بنانے کے عظیم الشان کام کی تکمیل میں صرف کرنا چاہئے۔‘‘

(علمائے حق کے مجاہدانہ کارنامے ج:۱ ص:۶۲)

۳:۔۔۔’’ان بدمعاش مسلمانوں کو بتادیا جائے کہ خدا

118

کے حکم سے صرف انگریز ہی ہندوستان پر حکومت کریں گے۔‘‘

(علمائے ہند کا شاندار ماضی آخری حصہ ص:۴۳)

۴:۔۔۔’’میں اس عقیدے سے چشم پوشی نہیں کرسکتا کہ مسلمانوں کی قوم اصولاً ہماری دشمن ہے، اس لئے ہماری حقیقی پالیسی یہ ہے کہ ہم ہندوؤں کی رضا جوئی کرتے ہیں۔‘‘

(ان ہیپی انڈیا ص:۹۹۳)

مسلمانوں کی بے کسی و بے بسی اور سفید طاغوت کی ان ’’تعلیوں‘‘ کے پیش نظر سطحی نظر کے لوگوں نے اگر یہ رائے قائم کی کہ: ’’اب اسلام صرف چند سالوں کا مہمان ہے۔‘‘

(موج کوثر، شیخ محمد اکرم ص:۸۰۱)

تو بلا شبہ وہ معذور تھے، لیکن وہ نہیں جانتے تھے کہ یہی رائے انہوں نے اس وقت بھی قائم کی تھی جب وصال نبوی کے بعد پورا خطہ عرب آتش ارتداد کی لپیٹ میں آگیا تھا، اور پھر گیارہویں صدی میں یہی رائے اس وقت بھی (کم از کم ہندوستان کی حد تک) قائم کی گئی جب ہندوستان کا مطلق العنان طاغوت اکبر جل جلالہ کا نعرہ لگاتے ہوئے دین الٰہی تصنیف کر رہا تھا۔ ان تمام موقعوں پر حق تعالیٰ شانہ کا وعدۂ ’’حفاظت دین‘‘ کبھی ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کی شکل میں ظہور پذیر ہوا اور کبھی اس نے امام ربانی مجدد الف ثانی ؒکو کھڑا کیا، آج وہی وعدہ ’’دار العلوم دیوبند‘‘ کی شکل میں پورا کیا جارہا ہے۔

سیّدنا حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ فرمایا کرتے تھے کہ ابوبکر صدیق ؓ نہ ہوتے تو اسلام فتنہ ارتداد کی نذر ہوگیا ہوتا، اہل نظر آج یہ کہتے ہیں کہ انگریز کے دور تسلط میں دارالعلوم دیوبند کا لطیفہ غیبی ظہور پذیر نہ ہوتا، جو حضرت حاجی صاحبؒ کے بقول اوقات سحر گاہی میں پیشانیاں رگڑ رگڑ کر گڑگڑانے سے ظہور پذیر ہوا تو شاید انگریز کی مراد بر آتی، اور اسلام ہندوستان سے رخصت ہوگیا ہوتا۔

دارالعلوم دیوبند نے مسلمانوں کو کیا دیا؟ ا س پر بہت سے حضرات بہت کچھ لکھیں گے، مجھے صرف اس قدر کہنا ہے کہ تجدید و اِحیائے دین کی جو تحریک گیارہویں صدی

119

سے ہندوستان کو منتقل ہوئی تھی، اور اپنے اپنے دور میں مجدد الف ثانی،ؒ محدثِ دہلویؒ اور شہیدِ بالاکوٹ جس امانت کے حامل تھے، دارالعلوم اس وراثت و امانت کا حامل تھا، لوگ ’’مدرسہ عربی دیوبند‘‘ کو مختلف زاویوں سے دیکھتے ہیں، کوئی اسے علوم اسلامیہ کی یونیورسٹی سمجھتا ہے، کوئی جہاد حریت کے مجاہدین کی تربیت گاہ اسے قرار دیتا ہے، کوئی اسے دعوت و عزیمت اور سلوک و تصوف کا مرکز سمجھتا ہے، لیکن میں حضرت حاجی صاحبؒ کے لفظوں میں اسے ’’بقائے اسلام اور تحفظ دین کا ذریعہ‘‘ سمجھتا ہوں۔

دوسرے لفظوں میں آپ چاہیں تو کہہ سکتے ہیں، مجددینِ اُمت کا جو سلسلہ چلا آرہا تھا دار العلوم دیوبند ـــــ اپنے دور کے لئے ـــــ مجددین اُمت کی تربیت گاہ تھی، یہیں سے مجددِ اسلام حکیم الامت تھانویؒ نکلے، اسی سے دعوت و تبلیغ کی تجدیدی تحریک ابھری، جس کی شاخیں چار دانگ عالم میں پھیلی ہوئی ہیں، یہیں سے تحریک حریت کے داعی تیار ہوئے، یہیں سے فرق باطلہ کا توڑ کیا گیا، یہیں سے محدثین، مفسرین، فقہاء اور متکلمین کی کھیپ تیار ہوئی۔ مختصر یہ کہ دارالعلوم دیوبند نے نہ صرف یہ کہ نابغہ شخصیتیں تیار کیں، بلکہ اسلام کی ہمہ پہلو تجدید و اِحیاء کے لئے عظیم الشان اداروں کو جنم دیا ـــــ اس لئے دارالعلوم کو اگر تجدید واِحیائے دین کی یونیورسٹی کا نام دیا جائے تو شاید یہ اس کی خدمات کا صحیح عنوان ہوگا۔ ان صفحات میں صرف ایک پہلو یعنی عقیدۂ ختمِ نبوّت کے متعلق دارالعلوم کی خدمات کا تذکرہ ہوگا۔

مرزا غلام احمد قادیانی نے دعویٰ نبوّت کے لئے آنحضرت صلی اللہ علیہ و سلم کی دو بعثتوں کا نظریہ ایجاد کیا، جس کا خلاصہ یہ کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ و سلم ایک بار تو چھٹی صدی عیسوی میں مکہ میں مبعوث ہوئے تھے اور دوسری مرتبہ (نعوذ باللہ) مرزا غلام احمد قادیانی کی شکل میں قادیاں کی ملعون بستی میں۔ مکی بعثت کا دور تیرھویں صدی ہجری پر ختم ہوگیا اور اب چودھویں صدی سے قیامت تک قادیانی بعثت و نبوّت کا دور ہوگا۔ اس طرح مرزا غلام احمد قادیانی نے آنحضرت صلی اللہ علیہ و سلم کی بعثت کو تیرھویں صدی کے بعد کالعدم قرار دے کر خاتم النبیین کا منصب خود سنبھال لیا۔ اور آنحضرت صلی اللہ علیہ و سلم کے تمام کمالات مخصوصہ

120

کو اپنی جانب منسوب کرنے کے لئے قرآن کریم اور احادیث نبویہ میں بے دریغ تحریف کر ڈالی۔ اسلامی عقائد کا مذاق اڑایا، انبیاء علیہم السلام کو فحش گالیاں دیں، تمام اُمتِ مسلمہ کو گمراہ اور کافر و مشرک قرار دیا۔ قصر اسلام کو منہدم کرکے ’’جدید عیسائیت‘‘ کی بنیاد رکھی۔ انگریز کی ابدی غلامی کو مسلمانوں کے لئے فرض و واجب قرار دیا، مسئلہ جہاد کو حرام اور منسوخ ٹھہرایا اور مجاہدین اسلام کو منکر خدا قرار دیا۔ جن لوگوں کو قادیانیت کی گہرائی کا علم نہیں، اور وہ اس کی حقیقت سے ناواقف ہیں، انہیں اس فتنہ کی شدت کا احساس نہیں ہوسکتا، واقعہ یہ ہے کہ صدر اول سے لے کر آج تک جتنے فتنے پیدا ہوئے ان سب کی مجموعی فتنہ پردازی بھی فتنہ قادیانیت کے سامنے شرمندہ ہے۔ اگر ملاحدہ و زنادقہ اور مدعیان نبوّت و مہدویت کی تحریفات کو ایک پلڑے میں رکھا جائے اور دوسرے پلڑے میں قادیانی تحریفات کو جگہ دی جائے تو یقین ہے کہ قادیانی کی تحریفات کا پلڑہ بھاری رہے گا۔

طاغوت برطانیہ نے اپنے خودکاشتہ پودے مرزا غلام احمد قادیانی سے نبوّت کا دعویٰ ایسے دور میں کرایا جب کہ مسلمانوں کی تلوار ٹوٹ چکی تھی، جب ان کا تاج لٹ چکا تھا، جب ان کے لئے آزادی کا نام جرم تھا۔ جب جہاد اور وہابیت ہم معنی ہوگئے تھے، جب غلامان ہند بلکہ اسلامیان عالم کا فیصلہ سفید آقاؤں کے رحم و کرم پر تھا، اگر مرزا صاحب نے حریم نبوّت میں قدم رکھنے کی جرأت، دور صدیقی نہیں، بلکہ عثمانی دور خلافت ترکیہ، میں بھی کی ہوتی تو ان کا انجام اسود کذاب اور مسیلمہ کذاب سے مختلف نہ ہوتا، خود مرزا صاحب کو بھی اس اسلامی غیرت کا جو مدعیان کذاب کے معاملہ میں مسلمانوں میں یکایک ابھر آتی ہے، پورا پورا احساس تھا، چنانچہ اپنی جماعت کو گورنمنٹ برطانیہ کی اطاعت کرنے کا (جو ان کی زندگی کا مشن اور ان کے دعویٔ نبوّت کی اصل غرض تھی، اور جس کے لئے انہیں بطور خاص مامور کیا گیا تھا) حکم دیتے ہوئے انہیں گورنمنٹ برطانیہ کی اصل قدر و قیمت کا احساس دلاتے ہیں:

’’خدا تعالیٰ کی حکمت و مصلحت ہے کہ اس نے گورنمنٹ کو اس بات کے لئے چن لیا تاکہ یہ فرقہ احمدیہ اس کے زیر سایہ ہوکر

121

ظالموں کے خونخوار حملوں سے اپنے تئیں بچاوے، اور ترقی کرے، کیا تم یہ خیال کرسکتے ہو کہ تم سلطان روم (خلافت ترکیہ) کی عمل داری میں رہ کر یا مکہ اور مدینہ ہی میں اپنا گھر بناکر شریر لوگوں (مسلمانوں) کے حملوں سے بچ سکتے ہو؟ نہیں! ہرگزنہیں! بلکہ ایک ہفتہ میں ہی تم تلوار سے ٹکڑے ٹکڑے کئے جاؤ گے۔ تم سن چکے ہو کہ کس طرح صاحبزادہ مولوی عبداللطیف۔۔۔۔ جب میری جماعت میں داخل ہوئے تو محض اس قصور سے کہ میری تعلیم کے موافق جہاد کے مخالف ہوگئے تھے، امیر حبیب اللہ خان نے نہایت بے رحمی سے ان کو سنگسار کرادیا، پس کیا تمہیں کچھ توقع ہے کہ تمہیں اسلامی سلاطین کے ما تحت کوئی خوشحالی میسر آئے گی؟ بلکہ تم تمام اسلامی مخالف علماء کے فتوؤں کی رو سے واجب القتل ٹھہر چکے ہو۔‘‘

(تبلیغ رسالت ج:۰۱ ص:۳۲۱، مجموعہ اشتہارات ج:۳ ص:۳۸۵)

سیاسی نبوّت:

ختمِ نبوّت کے صریح اعلان اور اُمتِ اسلامیہ کے متواتر اقدامات کے بعد یہ ممکن نہیں کہ کوئی شخص (جو دماغی طور پر معذور نہ ہو) سنجیدگی کے ساتھ دعویٰ نبوّت بھی کرسکتا ہے، اس لئے اسود کذاب سے لے کر مرزا غلام احمد قادیانی تک مدعیان نبوّت کی تاریخ کا بغور مطالعہ کرو تو ہر مدعی نبوّت کے دعویٰ کا کوئی نہ کوئی سیاسی یا معاشی سراغ ضرور ملے گا۔ (اِلاَّ یہ کہ کوئی شخص مراقی بخارات اور خشکی دماغ سے مجبور ہو کر یہ دعویٰ کرے تو بے چارہ معذور ہے) مرزا صاحب کی نبوّت کے محرکات شاید پس منظر میں رہ جاتے لیکن بعض وجوہ و اسباب ایسے پیش آئے کہ مرزا صاحب کو (اشاروں کنایوں میں) ان محرکات کی نشاندہی کرنا پڑی، ان محرکات میں سب سے قوی محرک آسمان مغرب کی وحی تھی، جس نے مرزا صاحب کو دعویٰ نبوّت کے لئے آمادہ کیا تھا، اور یہی وحی ’’خفی‘‘ ان کے بہت سے ابتدائی

122

معجزات کی تشکیل کرتی تھی۔ عیار انگریز نے قادیانی نبوّت کا تخم سرزمین ہند (پنجاب) میں کیوں کاشت کیا؟ یہ سوال بڑی اہمیت رکھتا ہے، مختصراً اس کے مقاصد حسب ذیل تھے:

الف: … ۷۵۸۱ء کے بعد اگرچہ انگریز کا پنجہ استبداد ہندوستان پر پوری طرح گڑ چکا تھا، اور اسیران قفس ہند کے لئے پھڑپھڑانے کی گنجائش بھی باقی نہیں رہنے دی گئی تھی، لیکن انگریز اس خطرے سے بے نیاز نہیں تھا کہ یہ بے بال و پر اسیران قفس کسی موقع پر اپنی اسیری کے خلاف پھر بغاوت کر ڈالیں۔ ان کے ’’ذہنی مشغلہ‘‘ اور ’’روحانی توجہ‘‘ کے لئے ضروری تھا کہ نہ صرف مذاہب عالم کو (جن کا مرکز بدقسمتی سے اس وقت ہندوستان تھا) آپس میں ٹکرا دیا جائے بلکہ یہ بھی قرین آئین جہانداری تھا کہ ہر مذہب میں نئے نئے فرقے پیدا کئے جائیں اور پھر ہر فرقے میں نئی نئی قلمیں لگا لگا کر ہندوستان کو مذاہب و افکار کا نگار خانہ بنا دیا جائے۔ تاکہ آوازۂ حریت بلند کرنے کی اول تو کسی کو فرصت ہی نہ ملے، اور اگر کسی گوشے سے ایسی آواز اٹھے بھی تو اس افتراقی غلغلہ کے شور میں دب کر رہ جائے، اور پرستاران مذاہب کی نظر میں وہ آواز صدائے بے ہنگام قرار دی جائے۔ ’’سفید آقا‘‘ کے عیارانہ فلسفہ نے اسے ’’آزادی مذاہب‘‘ کا تمغہ کہہ کر غلامان ہند کو عطا کیا تھا ـــــ اس دور میں جو مذہبی کشتیاں لڑی گئیں ـــــ یا صحیح لفظوں میں یوں کہئے کہ غلامان ہند کو اس پر مجبور کیا گیا ـــــ اس کی مثال کسی قوم کے دور زوال میں ہی مل سکتی ہے، عروج اقبال کا دور ان سے مبرا ہوتا ہے۔ اس دور میں کون کون سے فرقے وجود میں آئے؟ اور انہوں نے کیا کردار ادا کیا؟ اور ان سے اسلام اور ملت اسلامیہ کو کیا کیا نقصان پہنچا؟ ان سوالات سے پردہ اٹھانا اگرچہ ایک تلخ فریضہ ہے لیکن ہم آنے والے مؤرخ کے قلم کو اس سے نہیں روک سکتے۔ یہاں صرف قادیانی نبوّت کو لیجئے جو انگریز کے سایہ عاطفت میں پھل پھول رہی تھی، علمائے حق کی جتنی قوت اس ایک فتنہ کے استیصال میں خرچ ہوئی، اگر یہ انگریز کا خود کاشتہ پودا ہندوستان میں نہ ہوتا تو غور کیجئے کہ ہندوستان کی تاریخ کا رخ کیا ہوتا؟ اور ۷۵۸۱ء میں جو کچھ ہم سے مکمل غصب کرلیا گیا تھا اس کی بازیابی میں کتنی آسانی ہوجاتی؟

123

ب:۔۔۔ایشیا، افریقہ بالخصوص برصغیر پر انگریزی تسلط کا مقصد صرف جسموں پر حکمرانی اور یہاں کے مادی و اقتصادی فوائد کا استحصال نہیں تھا، بلکہ وہ اس سے بڑھ کر عالم اسلام کو ذہنی ارتداد کے عمیق گڑھے میں دھکیلنا چاہتا تھا، اگرچہ لارڈ میکالے کی تعلیمی اسکیم (کہ ہندوستانیوں کو اس نہج پر تعلیم دی جائے کہ اگر وہ عیسائی نہ بنیں تو کم از کم مسلمان بھی نہ رہیں۔) اپنی جگہ کافی کامیاب تھی، بہت سے مسلم مفکرین، اسلامی عقائد و اعمال میں تشکیک پیدا کرنے کے لئے نئے نئے فلسفے اور نظرئیے پیش کر رہے تھے۔ اور ان کو غذا مہیا کرنے کے لئے مستشرقین مغرب کی ایک پوری فوج شب و روز محنت کر رہی تھی، لیکن یہ تمام تر کوششیں ایک محدود حلقے پر اثر انداز تھیں، عوام پر ان کا اثر واسطہ در واسطہ تھا، اور پھر جو لوگ ان نظریات کو پیش کر رہے تھے وہ کوئی زیادہ مؤثر نہ تھے۔

اسلام کی بنیاد کلمہ طیبہ لا اِلٰہ اِلَّا اللہ محمد رسول اللہ کے دو حرفی عہد پر رکھی گئی ہے۔ اللہ تعالیٰ کے سوا کسی مدعی الوہیت کا وجود ناقابل برداشت ہے۔ اسی طرح محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کے بعد کسی مدعی نبوّت کی بساط نبوّت پر قدم رکھنے کی گستاخی بھی لائق تحمل نہیں۔ یہی عقیدہ، ختمِ نبوّت کا عقیدہ کہلاتا ہے جس پر صدر اول سے آج تک اُمتِ مسلمہ قائم رہی ہے۔

جو لوگ لا اِلٰہ اِلَّا اللہ محمد رسول اللہ کے ایمان و اقرار سے سرشار ہوکر اسلامی برادری میں شامل ہوں، ان پر یہ فریضہ عائد کیا گیا کہ وہ باغیان رسول اللہ کے خلاف بھی سینہ سپر ہوجائیں اور جھوٹے مدعیان نبوّت کے طلسم سامری کو بھی پاش پاش کر ڈالیں، اسی فریضہ کا نام ’’تحفظ ختمِ نبوّت‘‘ ہے اور تاریخ شہادت دے گی کہ اُمتِ مسلمہ نے کسی دور میں بھی اس فریضہ سے تغافل نہیں کیا۔

ختمِ نبوّت کا سب سے پہلا باغی یمن میں عبہلہ نامی ایک شخص ہوا۔ جس کے سر میں دعوائے نبوّت کا سودا سمایا اور اس نے چند دنوں میں یمن کے بیشتر علاقہ پر حکومت قائم کرلی۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ و سلم نے اہل یمن کو اس سے قتال و جہاد کا تحریری حکم صادر فرمایا۔ بالآخر حضرت فیروزؓ کے خنجر نے اس کی جھوٹی نبوّت کا آخری فیصلہ سنادیا، تاریخ کے ریکارڈ میں اس کا افسانہ ’’اسود کذّاب‘‘ کے نام سے محفوظ ہے۔

124

ختمِ نبوّت کا دوسرا غدار مسیلمہ کذّاب کے نام سے یاد کیا جاتا ہے، جس نے نبوّت محمدیہ میں شرکت کا دعویٰ کیا تھا، حضرت صدیق اکبرؓ نے ’’اللہ کی تلوار‘‘ (خالد بن ولیدؓ) کو اس کی سرزنش کے لئے روانہ فرمایا، یہ کذاب اپنے بیس ہزار امتیوں کو لے کر حدیقۃ الموت کے راستے سفر جہنم پر روانہ ہوا (حدیقۃ الموت اس باغ کا نام ہے جہاں مسیلمہ کذاب قتل ہوا)۔ صرف اس ایک معرکے میں مسلمانوں کو ’’تحفظ ختمِ نبوّت‘‘ کے لئے اتنی بڑی قربانی دینا پڑی کہ گیارہ سو سے چودہ سو تک اشراف صحابہ شہید ہوئے۔(عمدۃ القاری ج:۸۱ ص:۱۸۲) ان میں سات سو سے زیادہ وہ اصحاب تھے جو قراء کہلاتے تھے، یعنی قرآن کریم کے حافظ، قاری اور متخصص عالم ـــــ حضرت ابوبکرؓ کے صاحبزادے عبداللہ، حضرت عمر کے برادر اکبر زید بن خطاب، خطیب الانصار ثابت بن قیس شماس، مدرسہ نبوّت کے سب سے بڑے قاری سالم مولیٰ ابی حذیفہ، ان کے مولیٰ و مربی حضرت ابوحذیفہ وغیرہم رضوان اللہ علیہم اجمعین۔ آفتاب نبوّت کے ان درخشندہ ستاروں کے نام سے حدیث و تاریخ کا کون سا طالب علم ناواقف ہے؟ ان میں سے ایک ایک کا وجود پوری اُمت پر بھاری تھا، یا صحیح لفظوں میں بجائے خود اُمت تھا، لیکن دیکھنے والوں نے دیکھا کہ مقتل یمامہ میں شمع نبوّت کے ان پروانوں نے ختمِ نبوّت پر کٹ مرنے کا کیا حسین مگر دلگداز منظر پیش کیا؟ گویا حافظ شیراز نے انہی کی زبان سے کہا تھا:

ہرگز نمیرد آنکہ دلش زندہ شد بعشق

ثبت است بر جریدۂ عالم دوام ما

ختمِ نبوّت کا تیسرا باغی طلیحہ اسدی تھا، جس کے مقابلہ کے لئے وہی اللہ کی تلوار چمکی، لیکن بہت سے حامیوں کو مروا کے اسے جلد ہی راہ فرار اختیار کرنے میں عافیت محسوس ہوئی، ملک شام پہنچ کر سانس لی اور ہمیشہ کے لئے دعویٰ نبوّت سے توبہ کی۔ کم از کم ان تین مدعیان نبوّت کا انجام ہمارے سامنے ہے جنہوں نے دور نبوی میں نبوّت کا دعویٰ کیا، اور صحابہ کرامؓ نے سیف و سنان سے ان کی تواضع کی۔ گویا صدر اول ہی سے اُمتِ مسلمہ کے لئے یہ اصول طے کر دیا گیا تھا کہ مدعیان نبوّت کا فیصلہ مباحثہ مناظرہ کی بزم آرائیوں سے

125

نہیں ہوتا بلکہ تلوار کی نوک اور نیزے کی انی اس کا فیصلہ چکاتی ہے۔

چودھویں صدی ہجری میں اسلام کو جن فتنوں کا سامنا کرنا پڑا، ان میں سب سے بدتر اور منحوس فتنہ وہ تھا جسے دنیا ’’فتنہ قادیانیت‘‘ کے نام سے جانتی ہے۔ اس فتنہ کے بانی مرزا غلام احمد قادیانی (متوفی: ۶۲۳۱ھ) اور ان کے متعلقین کسی پر نیچریت کی اور کسی پر دہریت کی چھاپ تھی، مرزا غلام احمد قادیانی کی نبوّت سے انگریز کو اس ذہنی ارتداد کے لئے دو اہم ترین فائدے نظر آئے، اول یہ کہ یہ تحریک صرف خواص اور پڑھے لکھے روشن خیال افراد تک محدود نہیں رہے گی، بلکہ اس کا دائرہ کار عوام کی سطح تک پھیل جائے گا، دوم یہ کہ جو نظریات ملحدان یورپ اور ان کے شاگردان عزیز نیچریت یا دہریت کی تہمت کی بنا پر مسلمانوں سے قبول کرانے میں کامیاب نہیں ہوسکے وہی نظریات ’’وحی و الہام‘‘ کی سند سے قادیانی نبوّت پیش کرے گی، اور مسلمان اس کے سامنے سرِتسلیم خم کردیں گے۔

مشرق و مغرب کے تمام ملاحدہ کے سارے افکار اور ان کی تمام جدو جہد کا خلاصہ اگر نکالا جائے تو یہ ہے کہ اسلام اپنی موجودہ شکل میںجو اس وقت مسلمانوں کے سامنے ہے(نعوذ باللہ) لائق اعتبار اور قابل اعتماد نہیں اور جن لوگوں نے قادیانی اور اس کے لٹریچر کا مطالعہ کیا ہے وہ جانتے ہیں کہ ٹھیک یہی خلاصہ قادیانی تحریک کے عقائد و افکار کا ہے، کسی قادیانی کے سامنے مرزا صاحب کے الہام کے خلاف کوئی آیت پڑھیئے، کوئی حدیث پیش کیجئے، کسی صحابی کی سند لائیے، کسی امام و مجدد، کسی ولی و قطب کی تحریر پیش کیجئے، آپ کو اندازہ ہوجائے گا کہ اس کا ذہن ان میں سے کسی چیز پر بھی ایمان لانے یا اعتماد کرنے کی صلاحیت نہیں رکھتا ظاہر ہے کہ ذہنی ارتداد اور مزاجی تشکیک کی یہ کیفیت انگریز اگر صرف مستشرقین کے حملوں اور لارڈ میکالے کے نظریہ تعلیم کی یورش کے ذریعہ پیدا کرنا چاہتا تو اسے کامیابی نہ ہوتی یہی فلسفہ ہے کہ بہت سے تعلیم یافتہ افراد جو دہریت اور نیچریت کا شکار تھے، انہیں اپنے افکار و نظریات کے لئے جب الہامی سند مہیا ہوئی تو فوراً اس کی پناہ میں آگئے، حکیم نور الدین، مولوی عبدالکریم سیالکوٹی، محمد احسن امروہوی اور مسٹر محمد علی لاہوری، یہ قادیانیت کا ہر اول دستہ ہے، جو پہلے نیچری تھا پھر مرزائی ہوا۔

126

ج:۔۔۔ہندوستان کے سیاسی حالات کے پس منظر میں انگریز کو جس چیز نے سب سے زیادہ بے چین کر رکھا تھا وہ اسلام کا مسئلہ جہاد تھا، جہاد کی تلوار انگریزی جارحیت کے سر پر ہر وقت لٹک رہی تھی، اور انگریز اس تلوار کو ہمیشہ کے لئے توڑ دینا چاہتا تھا، یورپ کے مستشرقین نے اسلامی جہاد کے مسئلہ کو نہایت گھناؤنی شکل میں پیش کرنے کے لئے اگرچہ بہت سے صفحات سیاہ کئے، جناب سر سیّد صاحب اور مولوی چراغ علی وغیرہ نے بھی اس کی تعبیرات اس انداز سے کیں کہ جہاد کا دبدبہ اور اس کی سنگینی انگریز کے ذہن سے ختم ہوجائے۔ لیکن انگریز بدستور خائف رہا، اور جہاد کے عملی تجربوں نے جو وقتاً فوقتاً مسلمانوں کی طرف سے دہرائے جاتے تھے، اسے بے چین کئے رکھا تاآنکہ مرزا غلام احمد قادیانی نے وحی آسمانی کے ذریعہ اس کے آئندہ منسوخ ہونے کا اعلان کردیا، ظاہر ہے مستشرقین کے طومار اور سرسیّد کے افکار کا وہ وزن نہیں تھا جو مرزا قادیانی کے ’’الہام‘‘ کا ہوسکتا تھا۔ مرزا قادیانی کی کتابوں کے مطالعہ سے معلوم ہوتا ہے کہ ان کی زندگی کا سب سے بڑا مشن، ان کے وجود کا سب سے بڑا مقصد، ان کی نبوّت و مسیحیت کا سب سے بڑا کارنامہ اور ان کے الہامی تیر کا سب سے اہم نشانہ یہی مسئلہ جہاد ہے۔ باقی سب تمہید ہے اور یہی انگریز کی اس دور میں سب سے بڑی ضرورت تھی۔

د:۔۔۔انگریز کے پاس اپنے اقتدار کے تحفظ کے لئے سی۔آئی۔ڈی کا بہت مضبوط جال موجود تھا، اور پھر مخبری کے لئے ’’کالے قوانین‘‘ کی ایک فوج کی فوج بھی خفیہ خدمات پر مامور تھی۔ جن میں ہر طبقہ اور ہر سطح کے لوگ تھے، ان میں ’’امیر‘‘ بھی اور ’’میر‘‘ بھی، ’’شریف‘‘ بھی اور ’’شاہ‘‘ بھی، نواب بھی تھے اور خان بہادر بھی، مے نوش بھی تھے اور زاہد دین فروش بھی، علماء بھی تھے اور مشائخ بھی، طالب علم بھی تھے اور مریدان صفا کیش بھی، الغرض غلامان ہند میں ہر سطح کے لوگ موجود تھے، جو ’’خدمات خاص‘‘ بجا لاتے اور سفید آقا کے دربار میں خلعت و خطابات سے نوازے جاتے۔

اس نازک دور میں سرکار کو بروقت اطلاع دے دینا کہ فلاں فرد یا فلاں جماعت حضور گورنمنٹ کے خلاف باغیانہ ’’خیالات‘‘ رکھتی ہے، معمولی خدمت نہ تھی، داد و دہش

127

کے دہانے کھل جاتے، انعام و اکرام کی بارش ہوتی، عزت و وجاہت کو چار چاند لگ جاتے، جائدادیں تقسیم کی جاتیں، ریشمی رومال پکڑ کر انگریز افسر کے حوالے کردینے پر ’’خان بہادر‘‘ کا لقب اور کئی مربے جائداد مل جاتی تاہم اب تک ایک ’’نبی‘‘ کی نشست خالی تھی، اس کے لئے جناب مرزا غلام احمد قادیانی (جو آقایان فرنگ کے پشتینی وفادار اور یار غار تھے) سے بہتر اور کس شخصیت کا انتخاب موزوں ہوسکتا تھا؟ مرزا صاحب ایک نبی کی حیثیت سے اپنی اُمت سمیت ’’مردان احرار‘‘ کی خفیہ رپورٹ کی خدمات انجام دینے کے لئے مامور ہوئے یا مرزا صاحب کی اصطلاح میں یوں کہئے کہ انہیں اس کار خیر کی ’’وحی‘‘ و الہام ہوا۔ یہ کہانی خود مرزا صاحب کی زبان سے بھی معلوم ہوگی، وہ لکھتے ہیں:

’’چونکہ قرین مصلحت ہے کہ سرکار انگریزی کی خیرخواہی کے لئے ایسے نافہم مسلمانوں کے نام بھی نقشہ جات میں درج کئے جائیں جو درپردہ اپنے دلوں (ظاہر ہے کہ دلوں کی بات تو مرزا صاحب کو وحی کے ذریعہ ہی معلوم ہوسکتی تھی۔ ناقل) میں برٹش انڈیا کو دارالحرب قرار دیتے ہیں لہٰذا یہ نقشہ اسی غرض کے لئے تجویز کیا گیا ہے، تاکہ اس میں ان ناحق شناس لوگوں کے نام محفوظ رہیں، جو ایسی باغیانہ سرشت کے آدمی ہیں، اگرچہ گورنمنٹ کی خوش قسمتی سے برٹش انڈیا میں مسلمانوں میں ایسے لوگ معلوم ہوسکتے ہیں جن کے نہایت مخفی ارادے گورنمنٹ (گورنمنٹ کی اس سے زیادہ خوش قسمتی اور کیا ہو سکتی ہے کہ ایک نبی جو جبرائیل سے پوچھ پوچھ کر لوگوں کے نہایت مخفی ارادوں کی گورنمنٹ کو اطلاع دینے کے لئے میسر ہو۔ ناقل) کے خلاف ہیں، اس لئے ہم نے اپنی محسن گورنمنٹ کی پولیٹکل خیرخواہی کی نیت سے اس مبارک تقریب پر یہ چاہا کہ جہاں تک ممکن ہو ان شریر لوگوں کے نام ضبط کئے جائیں جو اپنے عقیدے سے اپنی مفسدانہ حالتیں ثابت کرتے ہیں لیکن ہم

128

گورنمنٹ میں بادب اطلاع کرتے ہیں کہ ایسے نقشے ایک پولیٹکل راز کی طرح اس وقت تک ہمارے پاس محفوظ رہیں گے جب تک گورنمنٹ ہم سے طلب کرے اور ہم امید رکھتے ہیں کہ ہماری گورنمنٹ بھی ان نقشوں کو ایک ملکی راز کی طرح (کیوں نہیں ایک نبی کی اطلاع اور وہ بھی لوگوں کے عقیدوں کے بارے میں گورنمنٹ کو اس سے بہتر خفیہ مواد اور کہاں سے مل سکتا تھا۔ ناقل) اپنے کسی دفتر میں محفوظ رکھے گی ایسے لوگوں کے نام مع پتہ نشان کے یہ ہیں۔‘‘

(تبلیغ رسالت ج:۵ ص:۱۱)

چونکہ مرزا صاحب یہ کارخیر بقول ان کے نافہم، ناحق شناس، شریر اور منکر مسلمانوں کے خلاف، اپنی محسن گورنمنٹ کی پولیٹکل خیرخواہی کی نیت سے انجام دیتے تھے، اس لئے یہ ان کی ’’سیاسی نبوّت‘‘ کا سب سے اونچا فریضہ سمجھنا چاہئے۔ اور یہ مسلمان، جن کو مرزا صاحب نافہم وغیرہ خطابات سے نواز رہے ہیں، اور جن کی مخبری کو قرین مصلحت کہہ کر آقایان نعمت کا حق ادا کر رہے ہیں، یہ چور اور ڈاکو نہیں ہیں۔ ان کا بس ایک جرم ہے کہ ان کا دماغ فرنگی کافروں سے گلوخلاصی کی تدبیر کیوں سوچنے لگتا ہے؟ اور ان کے دل آزادیٔ وطن کے لئے کیوں بے تاب ہیں؟ اور مسلمانوں کی مخبری صرف برٹش انڈیا ہی میں انجام نہیں دی جاتی تھی، بلکہ ’’ملأ اعلیٰ‘‘ کا حکم تھا کہ قادیانی، تبلیغ اسلام کا لبادہ اوڑھ کر تمام بلاد اسلامیہ میں پھیل جائیں، اور انگریزوں کی خدمات بجا لائیں، مرزا صاحب لکھتے ہیں:

’’میں نے عربی اور فارسی میں بعض رسائل تصنیف کرکے بلاد شام و روم اور مصر اور بخارا وغیرہ کی طرف روانہ کئے، اور ان میں اس گورنمنٹ کے تمام اوصاف حمیدہ درج کئے، اور بخوبی ظاہر کردیا کہ اس محسن گورنمنٹ کے ساتھ جہاد قطعاً حرام ہے۔ اور ہزارہا روپیہ خرچ کرکے وہ کتابیں مفت تقسیم کیں، اور بعض شریف عربوں کو

129

وہ کتابوں دے کر بلاد شام و روم کی طرف روانہ کیا، اور بعض کو مکہ اور مدینہ کی طرف بھیجا اور بعض بلاد فارس کی طرف بھیجے گئے، اور اس طرح مصر میں بھی کتابیں بھیجیں اور یہ ہزارہا روپیہ کا خرچ تھا جو محض نیک نیتی سے کیا گیا(اس سے بڑھ کر نیک نیتی کا ثبوت کیا ہوگا کہ جس کارخیر پر آدمی مامور ہو اسے بصد شوق و رغبت بجا لائے۔ ناقل)۔‘‘

(تبلیغ رسالت ج:۳ ص:۶۹۱)

قادیان کی سیاسی نبوّت نے ’’تبلیغ اسلام‘‘ کے پردے میں عالم اسلام میں سازشوں کے کیا کیا جال پھیلائے؟ مسلمانوں میں منافرت پھیلانے کے لئے کیا کچھ کیا؟ اور کیا کیا خفی و جلی خدمات انجام دی گئیں؟ یہ تفصیل اس مقالہ کے احاطہ سے باہر ہے۔

۱:سب سے پہلا انکشاف:

یوں تو رد قادیانیت اور تحفظ ناموس رسالت کا کام کم و بیش قریباً تمام اسلامی فرقوں نے کیا، اور سبھی کو کرنا بھی چاہئے تھا، مگر دارالعلوم دیوبند جو حضرت حاجی صاحبؒ کے بقول ہندوستان میں بقائے اسلام اور تحفظ دین کی خاطر وجود میں لایا گیا تھا، اسے اس سلسلہ میں چند ایسے امتیازات کا شرف حق تعالیٰ نے عطا فرمایا جو کسی دوسرے کو نصیب نہیں ہوسکا۔ سب سے پہلی بات تو یہی کہ قادیانی فتنہ کا جرثومہ ابھی رونما نہیں ہوا تھا کہ دارالعلوم دیوبند کے مرشد و مربی حضرت قطب العالم حاجی امداد اللہ مہاجر مکی قدس سرہ نے بطور کشف اس کے ظہور کی پیش گوئی فرمائی اور علمائے اُمت کو اس کی جانب متوجہ فرمایا۔ ’’تاریخ مشائخ چشت‘‘ میں حضرت پیر مہر علی شاہ صاحب گولڑوی قدس سرہ کے ’’ملفوظات طیبہ‘‘ سے نقل کیا ہے کہ حضرت پیر صاحبؒ حج پر تشریف لے گئے اور حجاز میں قیام کا ارادہ فرمایا، مگر حضرت قطب عالم حاجی صاحبؒ نے انہیں باصرار و تاکید ہندوستان کی واپسی کا مشورہ دیتے ہوئے فرمایا:

’’در ہندوستان عنقریب یک فتنہ ظہور کند، شما ضرور در ملک

130

خود واپس بروید، و اگر بالفرض شما در ہند خاموش نشستہ باشید تاہم آن فتنہ ترقی نہ کند، و در ملک آرام ظاہر شود۔‘‘

ترجمہ:۔۔۔’’ہندوستان میں عنقریب ایک فتنہ رونما ہوگا، آپ وطن واپس جائیے، اگر بالفرض آپ خاموش بھی بیٹھے رہیں تب بھی وہ فتنہ ترقی نہیں کرسکے گا، اور ملک میں سکون ہوجائے گا۔‘‘

(بحوالہ ’’بیس بڑے مسلمان‘‘ ص:۸۹ طبع سوم)

اسی نوعیت کا واقعہ اس ناکارہ نے اپنے اکابر اساتذہ سے حضرت اقدس مولانا عبدالرحیم سہارنپوریؒ کے بارے میں بھی سنا تھا کہ قادیانیت کے نفس ناطقہ حکیم نور الدین صاحب (مرزا غلام احمد قادیانی کے دام میں پھنسنے سے پہلے) کسی ضرورت کے لئے ان کی خدمت میں حاضر ہوئے تو حکیم جی کو بطور نصیحت فرمایا کہ قادیاں سے ایک مدعی نبوّت اٹھے گا، اس سے بحث و مناظرہ کی غرض سے بھی اس کے پاس نہ جائیو۔ (الخ)

۲:حضرت نانوتویؒ کا فتویٰ:

حضرت امام الہند شاہ ولی اللہ محدث دہلوی قدس سرہ نے کسی جگہ ایک عجیب مضمون تحریر فرمایا ہے۔ جس کا خلاصہ ذہن میں اس قدر محفوظ ہے کہ زمانۂ نبوّت میں تو حق تعالیٰ شانہ، اپنی منشا کا اظہار بذریعہ وحی فرماتے تھے مگر وحی کا سلسلہ آنحضرت خاتم النبیین صلی اللہ علیہ و سلم کے بعد چونکہ بند ہوچکا ہے، اس لئے زمانہ وحی کے بعد اگر کوئی معاملہ کسی پر مشتبہ ہوجائے اور اسے یہ معلوم کرنا ہو کہ اس معاملہ میں منشا خداوندی کیا ہے تو اسے یہ دیکھنا چاہئے کہ اولیاء اللہ اور عارفین کے قلوب کس جانب مائل ہیں؟ جس جانب ان اکابر کا رجحان ہو اسی کو منشا الٰہی کے مطابق سمجھنا چاہئے۔

یہ حق تعالیٰ شانہ کی حکمت بالغہ تھی کہ قادیانی فتنہ کے ظہور سے قبل ہی اکابر اولیاء اللہ کے قلوب کو اس کے رد و تعاقب کی طرف متوجہ فرمایا۔ قادیانی نبوّت کا فتنہ، حضرت مولانا محمد قاسم نانوتویؒ (۷۹۲۱ھ) بانی دارالعلوم دیوبند کے وصال کے بعد رونما ہوا، مگر حق

131

تعالیٰ نے ایک تقریب ایسی پیدا کردی کہ حضرت نانوتویؒ نے آنحضرت صلی اللہ علیہ و سلم کی خاتمیت کبریٰ پر ایک رسالہ ’’تحذیر الناس‘‘ تحریر فرمایا جس میں مسئلہ ختمِ نبوّت کو اس قدر مدلل فرمایا کہ قادیانی تاویلات کے تمام راستے مسدود ہوگئے۔ ختمِ نبوّت پر اچھوتا استدلال کرتے ہوئے آپؒ فرماتے ہیں:

’’بالجملہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم وصف نبوّت میں موصوف بالذات ہیں اور سوا آپؐ کے اور انبیاء موصوف بالعرض، اس صورت میں اگر رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کو (تمام انبیائے کرام کے آخر میں نہیں بلکہ ان کے) اول یا اوسط میں رکھتے تو انبیائے متأخرین کا دین اگر مخالف دین محمدی ہوتا تو اعلیٰ کا ادنیٰ سے منسوخ ہونا لازم آتا، حالانکہ خود فرماتے ہیں: ’’ما ننسخ من آیۃ او ننسھا نأت بخیر منھا او مثلھا۔‘‘ ۔۔۔ اور انبیائے متأخرین کا دین اگر مخالف نہ ہوتا تو یہ بات ضرور ہے کہ انبیائے متأخرین پر وحی آتی اور افاضہ علوم کیا جاتا، ورنہ نبوّت کے پھر کیا معنی؟ سو اس صورت میں اگر وہی علوم محمدی ہوتے تو بعد وعدہ محکم:’’انا نحن نزلنا الذکر و انا لہ لحٰفظون۔‘‘ کے جو بنسبت اس کتاب کے جس کو قرآن کہیے اور بہ شہادت آیت: ’’و نزلنا علیک الکتٰب تبیانًا لکل شیء‘‘ جامع العلوم ہے، کیا ضرورت تھی؟ اور اگر علوم انبیائے متأخرین علوم محمدی کے علاوہ ہوتے تو اس کتاب کا ’’تبیانًا لکل شیء‘‘ ہونا غلط ہوجاتا۔‘‘

(تحذیر الناس ص:۸ مکتبہ رحیمیہ دیوبند)

حضرت نانوتوی قدس سرہ، آنحضرت صلی اللہ علیہ و سلم کی خاتمیت کبریٰ کی تین قسمیں قرار دیتے ہیں، زمانی، مکانی، مرتبی۔ ان کے نزدیک آیت کریمہ: ’’خاتم النبیین‘‘ خاتمیت کی تینوں اقسام پر حاوی ہے، یعنی آنحضرت صلی اللہ علیہ و سلم باعتبار شرف و منزلت کے بھی خاتم النبیین ہیں، باعتبار زمانہ کے بھی، باعتبار مکان کے بھی:

132

’’سو اگر (آیت میں خاتمیت کے تینوں اقسام کا) اطلاق اور عموم (مراد) ہے تب تو ثبوت خاتمیت زمانی ظاہر ہے ورنہ (اگر ان تینوں اقسام میں سے صرف ایک قسم مراد ہے تو وہ خاتمیت مرتبی ہوسکتی ہے، اندریں صورت) تسلیم لزوم خاتمیت زمانی بدلالت التزامی ضرور ثابت ہے۔ اور تصریحات نبوی مثل:’’انت منی بمنزلۃ ھارون من موسیٰ الّا انہ لَا نبی بعدی۔‘‘ او کما قال، جو بظاہر بطرز مذکور اسی لفظ خاتم النبیین سے ماخوذ ہے، اس باب میں کافی ہے، کیونکہ یہ مضمون درجہ تواتر کو پہنچ گیا ہے، پھر اس پر اجماع بھی منعقد ہوگیا، گویا الفاظ مذکور بسند متواتر منقول نہ ہوں، سو یہ عدم تواتر الفاظ باوجود تواتر معنوی یہاں ایسا ہی ہوگا جیسا تواتر اعداد رکعات فرائض و وتر وغیرہ، باوجودیکہ الفاظ حدیث مشعر تعداد رکعات، متواتر نہیں، جیسا اس کا منکر کافر ہے، ایسا ہی اس کا (یعنی ختمِ نبوّت زمانی کا) منکر بھی کافر ہوگا۔‘‘

(تحذیر الناس ص:۹،۰۱ مکتبہ رحیمیہ دیوبند)

اور ’’جوابات محذورات عشرہ‘‘ میں فرماتے ہیں کہ تحذیر الناس کے صفحہ نہم کی سطر دہم سے لے کر صفحہ یازدہم کی سطر ہفتم تک (آیت خاتم النبیین کی) وہ تقریر لکھی ہے جس سے خاتمیت زمانی اور خاتمیت مکانی اور خاتمیت مرتبی تینوں بدلالت مطابقی ثابت ہوجائیں۔ اور اسی تقریر کو اپنا مختار قرار دیا ہے، چنانچہ شروع تقریر سے واضح ہے، سو پہلی صورت میں تو (جب کہ آیت کا مدلول مطابقی خاتمیت مرتبی کو قرار دیا جائے) تاخر زمانی بدلالت التزامی ثابت ہوتا ہے اور دلالت التزامی اگر دربارہ توجہ الی المطلوب مطابقی سے کم تر ہو، مگر دلالت ثبوت اور دلنشینی میں مدلول التزامی، مدلول مطابقی سے زیادہ ہوتا ہے، اس لئے کہ کسی چیز کی خبر تحقق اس کے برابر نہیں ہوسکتی، کہ اس کی وجہ اور علت بھی بیان کی جائے، اگر کسی

133

شخص کو کسی عہدہ پر ممتاز فرمائیں، تو اور امیدوار قبل ظہور وجہ ترجیح بے شک غل مچائیں گے، اور بعد وضوح وجہ و علت پر مجال دم زدن نہیں رہتی۔‘‘

(مناظرۂ عجیبہ ص:۰۷،۱۷ مکتبہ قاسم العلوم کورنگی)

’’الغرض معنی مختار احقر سے کوئی عقیدہ باطل نہ ہوگیا، بلکہ وہ رخنہ جو در صورت اختیار تاخر زمانی و انکار و منع خاتمیت مرتبی پر پڑتا نظر آتا تھا، بند ہوگیا، پھر تو اس پر خاتمیت زمانی بھی مدلول ’’خاتم النبیین‘‘ رہی، البتہ دو شقوں میں سے ایک شق پر تو مدلول التزامی، اور دوسری شق پر ۔۔۔۔۔۔مدلول مطابقی۔‘‘

(مناظرۂ عجیبہ ص:۲۷،۳۷ مکتبہ قاسم العلوم لانڈھی)

حضرت نانوتوی قدس سرہ کی اس تحقیق سے معلوم ہوا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ و سلم کا خاتم النبیین بمعنی ’’آخری نبی‘‘ ہونا قرآن کریم، احادیث متواترہ اور اجماع اُمت سے ثابت ہے اور اس کا منکر اسی طرح کافر ہے، جس طرح تعداد رکعات کا منکر کافر ہے، اور یہ کہ آپؐ کی خاتمیت مرتبی، خاتمیت زمانی کو مستلزم ہے، اگر آپؐ مراتب نبوّت کے خاتم ہیں تو بلاشبہ زمانی نبوّت کے بھی خاتم ہیں۔۔۔۔۔۔ اس تقریر سے قادیانی فتنہ پردازوں کی ساری منطق غلط ہوجاتی ہے اور ’’خاتم النبیین‘‘ میں ان کی ساری تحریفات پادر ہوا ثابت ہوتی ہیں۔ اس لئے یہ کہنا بے جا نہ ہوگا کہ حضرت مولانا محمد قاسم نانوتویؒ پہلے شخص تھے جنہوں نے قادیانی تحریفات کا رد کیا اور قادیانی ملاحدہ جو آنحضرت صلی اللہ علیہ و سلم کے بعد اجرائے نبوّت کے قائل ہیں، ان کو متواترات دین کا منکر قرار دے کر ان پر کفر کا فتویٰ صادر فرمایا۔

۳:فتویٰ تکفیرِ قادیانی:

اکابر دیوبندؒ کو یہ شرف بھی حاصل ہے کہ انہوں نے مرزا غلام احمد قادیانی کا تعاقب سب سے پہلے شروع کیا اور ۱۰۳۱ھ میں جب مرزا قادیانی نے مجددیت کے پردے میں اپنے الہامات کو ’’وحی الٰہی‘‘ کی حیثیت سے براہین احمدیہ میں شائع کیا تو

134

لدھیانہ کے علماء (مولانا محمد، مولانا عبداللہ، مولانا اسمٰعیل رحمہم اللہ) نے جو حضرات دیوبند کے منتسبین میں سے تھے، فتویٰ صادر فرمایا کہ یہ شخص مسلمان نہیں بلکہ اپنے عقائد و نظریات کے اعتبار سے زندیق اور خارج از اسلام ہے۔ حضرت مولانا رشید احمد گنگوہی قدس سرہ، دجال قادیان کے حالات سے پوری طرح واقف نہ تھے، اس لئے بعض لوگوں نے جو مرزا قادیانی سے حسن ظن رکھتے تھے علمائے لدھیانہ کی مخالفت میں حضرت گنگوہیؒ سے فتویٰ منگوالیا۔ ۲۱؍جمادی الاول ۱۰۳۱ھ کو علمائے لدھیانہ، دارالعلوم دیوبند کے جلسہ سالانہ پر تشریف لے گئے اور قادیانی مسئلہ میں حضرت گنگوہیؒ اور دیگر اکابر سے بالمشافہ گفتگو فرمائی، رفع نزاع کے لئے دارالعلوم دیوبند کے پہلے صدر مدرس حضرت مولانا محمد یعقوب نانوتویؒ کو جو صاحب کشف تھے، حکم تسلیم کیا گیا اور انہوں نے مندرجہ ذیل تحریری فیصلہ دیا:

’’یہ شخص (مرزا غلام احمد قادیانی) لامذہب (دہریہ) معلوم ہوتا ہے، اس شخص نے اہل اللہ کی صحبت میں رہ کر فیض باطنی حاصل نہیں کیا، معلوم نہیں اس کو کس کی رُوح سے اُنسیت ہے۔ (عزازیل کی رُوح سے ہوسکتی ہے۔ ناقل) مگر اس کے اِلہامات اولیاء اللہ کے اِلہامات سے کچھ مناسبت اور علاقہ نہیں رکھتے۔‘‘

اس تنقیح و تشریح کے بعد حضرت گنگوہیؒ نے بھی مرزا قادیانی اور اس کے پیروؤں کو زندیق اور خارج اَز اِسلام قرار دیا۔ حضرت گنگوہیؒ تمام اکابر دیوبند کے مقتدا تھے، ان کا فتویٰ گویا پوری جماعت کا متفقہ فتویٰ تھا، یہی وجہ ہے مرزا غلام احمد قادیانی اس ضرب کی ٹیس کو آخر زندگی تک محسوس کرتا رہا۔

مکتوب عربی میں مرزا قادیانی نے ان اکابر اُمت کو مندرجہ ذیل الفاظ سے نوازا ہے:

’’اخرھم الشیطان الأعمیٰ والغول الأغویٰ یقال لہ رشید احمد الجنجوھی و ھو شقی کالأمروہی ومن الملعونین۔‘‘

(انجام آتھم ص:۲۵۲، روحانی خزائن ج:۱۱ ص:۲۵۲)

135

ترجمہ:۔۔۔’’ان میں سے آخری شخص وہ اندھا شیطان اور بہت گمراہ دیو ہے، جس کو رشید احمد گنگوہی کہتے ہیں اور وہ (مولانا احمد حسن) امروہی کی طرح شقی اور ملعونوں میں سے ہے۔‘‘

یہ تمام تفصیلات ’’رئیس قادیان‘‘ جلد دوم مولفہ مولانا ابوالقاسم رفیق دلاوری، ص:۸۱۴ میں ملاحظہ کی جائیں۔

دوسرا فتویٰ:

صفر ۱۳۳۱ھ میں دارالعلوم دیوبند سے قادیانی کے خلاف ایک اور فتویٰ جاری ہوا، جس پر حضرت شیخ الہند مولانا محمود حسنؒ رئیس المدرسین دیوبند، مولانا محمد انور شاہ کشمیریؒ اور دیگر تمام اکابر دیوبند کے علاوہ دوسرے مشاہیر علمائے ہند کے دستخط ہیں۔ یہ فتویٰ مولانا محمد سہول صاحبؒ کے قلم سے ہے جس میں مرزا غلام احمد قادیانی کے افکار و نظریات اس کی کتابوں سے نقل کرنے کے بعد تحریر فرمایا:

’’جس شخص کے ایسے عقائد و اقوال ہوں، اس کے خارج از احاطہ، اہلسنّت و الجماعت اور احاطہ اسلام سے (خارج) ہونے میں کسی مسلمان کو خواہ جاہل ہو یا عالم، تردد نہیں ہوسکتا، لہٰذا مرزا غلام احمد اور اس کے جملہ متبعین درجہ درجہ مرتد، زندیق، ملحد، کافر اور فِرَق ضالہ میں یقینا داخل ہیں۔۔۔ الخ۔‘‘

یہ طویل فتویٰ ’’القول الصحیح فی مکائد المسیح‘‘ کے نام سے شائع ہوا۔

تیسرا فتویٰ:

۲۱؍رجب ۶۳۳۱ھ کو ایک اور مبسوط فتویٰ دارالعلوم دیوبند کے مفتیٔ اعظم عارف باللہ حضرت مولانا عزیزالرحمن کے قلم سے صادر ہوا۔ اس پر بھی تمام مشاہیر علمائے ہند کے دستخط ہیں اور یہ ’’فتویٰ تکفیرِ قادیاں‘‘ کے نام سے طبع ہوا۔

136

علمائے حرمین کا فتویٰ:

مکہ و مدینہ (زادہما اللہ شرفاً و عظمۃً) اسلام کا مرکز و منبع ہیں۔ اور وہاں کے علمائے کرام کے فتاویٰ کو ہر دور میں عزت و عظمت کی نگاہ سے دیکھا جاتا رہا ہے۔ اکابر دیوبند میں مولانا رحمت اللہ کیرانوی مہاجر مکی قدس سرہ نے قادیانی کے خلاف کفر و ارتداد کا فتویٰ صادر فرمایا جس پر دیگر علمائے حرمین کے دستخط ہیں۔ (ملخصاً)

(رئیس قادیان ج:۲ ص:۱۱)

۴:مسئلۂ تکفیر اور علمائے دیوبند کا امتیاز

مرزا غلام احمد قادیانی کے خلاف جو فتوے صادر کئے گئے ان میں علمائے دیوبند کا ایک اور خصوصی امتیاز بھی نمایاں ہوا، اور وہ تھا ان کا مسلک اعتدال۔ مسئلہ تکفیر بہت ہی نازک مسئلہ تھا۔ ایک مسلمان کو کافر کہنا بہت ہی سنگین جرم ہے، اور دوسری طرف کسی کھلے کافر کو مسلمان کہنے پر اصرار کرنا بھی معمولی بات نہیں۔ بدقسمتی سے جس دور میں مرزا غلام احمد قادیانی نے کافرانہ دعوے کئے، عام طور سے لوگ اس مسئلہ میں افراط و تفریط کا شکار تھے، ایک گروہ مرزا غلام احمد قادیانی کے صریح کفریات پر اسے کافر کہنے کو خلاف مصلحت سمجھتا تھا اور دوسرا گروہ وہ تھا جس نے گیہوں کے ساتھ گھن پیسنے کا مشغلہ شروع کر رکھا تھا۔

پہلے گروہ کی تفریط قادیانی تحریک کو انگیز کر رہی تھی، اور قادیانی ملاحدہ بڑے طمطراق سے ایسے لوگوں کو پیش کردیتے تھے جو انہیں کافر نہیں سمجھتے اور دوسرے گروہ کے افراط نے خود مسئلہ تکفیر کی مٹی پلید کردی تھی، اور قادیانی ملاحدہ ان کے تکفیری فتووں کے طومار کو لوگوں کے سامنے پیش کرکے یہ کہہ دیتے تھے کہ مولویوں کے پاس کفر بڑا سستا ہے، یہ ہر شخص کو جو ان کے خیالات کے خلاف کوئی بات کہہ دے فوراً کفر کا تحفہ پیش کردیا کرتے ہیں۔

ان دونوں گروہوں کا طرز عمل نہ صرف افسوسناک تھا بلکہ اس سے خطرہ پیدا ہوچلا تھا کہ خدانخواستہ ان لوگوں کی بے احتیاطی اور افراط و تفریط سے کفر و اسلام کی حدود ہی مٹ کر نہ رہ جائیں۔ حق تعالیٰ شانہ، علمائے دیوبند کو بہت ہی جزائے خیر عطا فرمائے کہ انہوں نے آگے بڑھ کر اسلام اور کفر کے حدود کو ممیز کیا اور لوگوں کو بتایا کہ اسلام اور کفر کے

137

درمیان خط فاصل کیا ہے اور وہ کون سی حد ہے جس کو عبور کرلینے کے بعد آدمی صریح اسلام سے خارج ہو کر کفر کے خارزار میں جا نکلتا ہے۔ اس موضوع پر حضرت مولانا محمد انور شاہ کشمیریؒ نے ’’اکفار الملحدین فی شیء من ضروریات الدین‘‘ میں تحقیق و تفتیش کا حق ادا فرمایا۔ حضرت مولانا مفتی محمد شفیعؒ نے اردو میں ’’وصول الافکار الی اصول الانکار‘‘ نامی رسالہ تحریر فرمایا، اور دیگر اکابر دیوبند نے بھی اس موضوع پر رسائل تحریر فرمائے۔ اس مسئلہ کو خوب منقح کردیا۔ اصول تکفیر پر مفصل لکھنے کی ان سطور میں گنجائش نہیں، خلاصہ یہ ہے کہ وہ امور جن کا دین محمدیؐ میں داخل ہونا تواتر یا شہرت سے ثابت ہے، وہ ’’ضروریات دین‘‘ کہلاتے ہیں۔ ان سب کو ایک ایک کرکے تسلیم کرنا اسلام ہے اور ان میں سے کسی ایک کا انکار کردینا یا تاویل کے ذریعہ ان میں سے کسی ایک کے مفہوم کو بدل ڈالنے کا نام کفر ہے۔ علمائے دیوبند نے مرزا غلام احمد قادیانی اور اس کے پیروؤں کی تحریفات پیش کرکے واضح کیا کہ یہ لوگ ’’ضروریات دین‘‘ کے منکر ہیں، اس لئے دائرہ اسلام سے خارج ہیں۔

بعض لوگوں نے اسلام اور کفر کے فیصلہ کے لئے ایک آسان سا اصول تلاش کرلیا ہے، جو شخص کلمہ پڑھتا ہو اور اپنے آپ کو مسلمان کہتا ہو، بس وہ مسلمان ہے ورنہ کافر۔ ظاہر ہے کہ یہ اصول صریحاً غلط ہے، فرض کیجئے ایک شخص کلمہ پڑھتا ہے، نماز روزے کا قائل اور بہت سی عبادت و ریاضت بھی کرتا ہے لیکن وہ کہتا ہے کہ نعوذ باللہ قرآن کی فلاں آیت ثابت نہیں، کیا ایسے شخص کو مسلمان تسلیم کیا جاسکتا ہے؟ ہرگز نہیں۔ اب ذرا غور کیجئے کہ قرآن کریم کا کلام الٰہی ہونا ہمیں کس ذریعہ سے معلوم ہوا؟ ہر شخص اس کا جواب یہی دے گا کہ قرآن کا قرآن ہونا اُمت کے تواتر سے ثابت ہے۔ چودہ سو سال سے یہی قرآن مسلمانوں کے پاس تواتر سے چلا آتا ہے۔ یہی قرآن، آنحضرت صلی اللہ علیہ و سلم پر حق تعالیٰ شانہ کی طرف سے نازل ہوا تھا۔ اس لئے اس کے کسی ایک حرف میں بھی شک و شبہ کی گنجائش نہیں۔ بس جس طرح قرآن کریم کے ہم تک پہنچنے کا ذریعہ اُمتِ اسلامیہ کا تواتر ہے اور اس تواتر کا منکر کافر ہے، اسی طرح دینِ محمدی (علی صاحبہ الصلوٰۃ و السلام) میں سے جو چیزیں ہمیشہ سے مسلم چلی آتی رہی ہیں، ان میں سے کسی ایک کا انکار بھی کفر ہے۔ اور پھر صرف الفاظ

138

کے تواتر کو تسلیم کرلینا کافی نہیں بلکہ قرآن کریم کی کسی آیت یا کسی متواتر عقیدہ کا جو مفہوم و معنی اُمت میں ہمیشہ سے مسلم رہا ہے، اس کا تسلیم کرنا بھی ضروری ہے، ورنہ اس کا انکار کرکے قرآن کریم یا احادیث متواترہ کو نئے معنی پہنانا کفر ہی کی ایک قسم ہے۔ مثلاً آنحضرت صلی اللہ علیہ و سلم سے لے کر آج تک تمام مسلمان یہ تسلیم کرتے آئے ہیں کہ عیسیٰ بن مریم۔۔۔۔۔۔ جن کے آخری زمانہ میں نازل ہونے کی خبر دی گئی ہے، ان سے مراد وہی بنی اسرائیلی پیغمبر ہے جو آنحضرت صلی اللہ علی و سلم سے قبل مبعوث ہوئے تھے، اس کے برعکس مرزا غلام احمد قادیانی اور مرزائی اُمت کا یہ دعویٰ ہے کہ عیسیٰ بن مریم سے مراد غلام احمد ہے، دمشق سے مراد قادیان ہے، مسجد اقصیٰ سے مراد قادیان کی مسجد ہے، وغیرہ وغیرہ۔ ظاہر ہے کہ ان تمام مضحکہ خیز تاویلوں کا مطلب اس کے سوا اور کیا ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ و سلم سے لے کر آج تک کسی نے عیسیٰ بن مریم کا مطلب نہیں سمجھا اور نعوذ باللہ پوری کی پوری ملت اسلامیہ گمراہ اور کافر و مشرک رہی۔۔۔۔۔۔ کیا یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کی صریح تکذیب اور اُمت کے کروڑوں اکابر کی تحمیق و تجہیل نہیں؟ اگر اس کے بعد بھی ایک شخص کو دائرہ اسلام میں پناہ مل سکتی ہے تو کہنا چاہئے کہ اسلام کا کوئی متعین مفہوم ہی سرے سے موجود نہیں، حاصل یہ ہے کہ اسلام کے کسی ایک قطعی مسئلہ کا لفظی، معنوی انکار دراصل پورے دین کا انکار ہے۔

۵:علمائے دیوبند تحقیق کے میدان میں:

مرزا غلام احمد قادیانی نے جن نظریات و افکار کا اظہار کیا اور جس طرح اسلام کے مسلّمہ اصولوں میں قطع و برید کی، واقعہ یہ ہے کہ کوئی شخص دیانت و امانت کے ساتھ ان کی جرأت نہیں کرسکتا۔ اس کی توقع صرف اس شخص سے کی جاسکتی ہے جو خشکی دماغ کے عارضہ میں مبتلا ہو، یا دین و ایمان کو غارت کرکے اس نے اپنے اغراض مشؤمہ کی تکمیل کی ٹھان لی ہو۔ اس لئے غلام احمد قادیانی اور اس کے مخصوص حواریوں کے بارے میں علمائے دیوبند کی قطعی رائے یہ تھی کہ یہ لوگ اس حد کو عبور کرچکے ہیں، جس سے واپسی ناممکن ہے، یہ ظلی،

139

بروزی نبوّت کا ڈرامہ اور مسیحیت و مہدویت کے دعوے ایک سوچی سمجھی سکیم کا نتیجہ ہیں اور اس کے پردہ میں مخصوص اغراض و مقاصد کار فرما ہیں۔ البتہ عام لوگ جو کسی غلط فہمی سے قادیانیت کے دام فریب کا شکار ہیں، ان کی اصلاح ضروری ہے۔ اسی طرح مرزا غلام احمد قادیانی اور دیگر مرزائی لیڈروں نے جو غلط فہمیاں اُمت میں پھیلادی ہیں، ان کا ازالہ بھی لازم ہے۔ اس مقصد کے لئے علمائے دیوبند نے رد قادیانیت پر قلم اٹھایا اور قادیانی فتنہ پردازوں کے تمام شبہات کا جواب لکھا۔ اس موضوع پر جس قدر کتابیں لکھی گئی ہیں، غالباً کسی ملحدانہ تحریک پر اتنا لٹریچر تیار نہیں ہوا ہوگا۔

اس سلسلہ میں امام العصر مولانا محمد انور شاہ کشمیریؒ (المتوفی ۱۳۵۳ھ) اور حضرت مولانا محمد علی مونگیریؒ کا کارنامہ ناقابل فراموش ہے۔ ان حضرات نے اور ان کے احباب و تلامذہ نے قادیانیت سے متعلق ہر مسئلہ پر گرانقدر کتابیں تالیف فرمائیں۔ اور اُمتِ اسلامیہ کو قادیانی دجل و فریب سے آگاہ کرنے کے لئے اپنی تمام صلاحیتیں صرف کردیں۔ یہاں اکابر دیوبند اور ان کے متوسلین کی تالیف کردہ کتابوں کی ایک مختصر سی فہرست پیش کی جاتی ہے:

۱: الشہاب مولانا شبیر احمد عثمانی ؒ
۲: القادیانی و القادیانیہ مولانا ابوالحسن علی ندویؒ
۳: ایمان و کفر مفتی محمد شفیع دیوبندیؒ
۴: آئینہ قادیانی محمد عبدالرحمن مونگیریؒ
۵: آئینہ کمالات مرزا سیّد محمد علی مونگیری
۶: المتنبئی القادیانی مولانا مفتی محمودؒ
۷: التصریح بما تواتر فی نزول المسیح مولانا انور شاہ کشمیریؒ
۸: اکفار الملحدین مولانا انور شاہ کشمیریؒ
۹: الاسس القادیانیۃ للحرکۃ القادیانیۃ سیّد عباس
140
۱۰: الانکلیز و القادیانیۃ محمد عمر
۱۱: الہامات مرزا مولانا ثناء اللہ امرتسریؒ
۱۲: القول المحکم مولانا محمد ادریس کاندہلویؒ
۱۳: اسلام اور مرزائیت کا اصولی اختلاف ایضاً
۱۴: اطلاع رحمانی مولانا محمد اسحق رحمانی
۱۵: اغلاط ماجدیہ مولانا عبداللطیف رحمانی
۱۶: اکھنڈ بھارت مولانا محمد شریف جالندھریؒ
۱۷: اسلامی تبلیغی انسا ئیکلوپیڈیا مولانا مفتی محمد شفیع ؒ
۱۸: الکاویہ علی الغاویہ مولانا محمد عالم آسیؒ
۱۹: اَئمہ تلبیس مولانا ابوالقاسم رفیق دلاوری
۲۰: ایمان کے ڈاکو ایضاً
۲۱: اردو ترجمہ اکفار الملحدین مولانا محمد ادریس میرٹھیؒ
۲۲: اسلام اور مرزائیت مولانا عتیق الرحمن
۲۳: تحفہ قادیانیت (اردو۔ انگلش) مولانا محمد یوسف لدھیانویؒ
۲۴: مرگ مرزائیت طاہر رزاق
۲۵: قادیانی افسانے ایضاً
۲۶: الہامی گرگٹ عالمی مجلس
۲۷: غدار کی تلاش ایضاً
۲۸: اسلام اور معاشی اصلاحات مرتضیٰ خان میکشؒ
۲۹: اشد العذاب مولانا مرتضیٰ حسن چاندپوریؒ
۳۰: اول السبعین ایضاً
۳۱: صحیفۃ الحق ایضاً
۳۲: ثانی السبعین ایضاً
141
۳۳: قادیان میں زلزلہ ایضاً
۳۴: پاکستان میں مرزائیت مرتضیٰ خان میکشؒ
۳۵: پاکستان کا غدار مولانا عبداللطیف
۳۶: ترک مرزائیت مولانا لال حسین اخترؒ
۳۷: تفسیر رحمانی ابواحمد رحمانی
۳۸: تنبیہ رحمانی ایضاً
۳۹: تحیۃ الاسلام مولانا محمد انور شاہ کشمیریؒ
۴۰: تازیانہ عبرت مولانا کرم الدین جہلمی
۴۱: تحقیق لاثانی محمد یعقوب سنوری
۴۲: تکمیل دین اور ختمِ نبوّت چوہدری افضل حق ؒ
۴۳: چودھویں صدی کے مدعیان نبوّت مولانا محمد عالم آسی
۴۴: حقیقت مرزائیت مولانا علم الدینؒ
۴۵: حقیقت مرزائیت مولانا عبدالکریم
۴۶: مسیح علیہ السلام مرزا قادیانی کی نظر میں مولانا لال حسین اختر ؒ
۴۷: پانچ سوالوں کا جواب فرزند توحیدؒ
۴۸: حقیقت مرزا مولانا محمد ادریس کاندہلویؒ
۴۹: تحقیق ناقد عبدالکریم ناقد
۵۰: حیات و نزول مسیح ڈاکٹر عبداللہ جتوئی ؒ
۵۱: حمل مرزا مولانا لال حسین اختر ؒ
۵۲: حیات عیسیٰ علیہ السلام مولانا محمد ادریس کاندہلوی
۵۳: خاتم النبیین علامہ انور شاہ کشمیریؒ
۵۴: ختمِ نبوّت فی القرآن مولانا مفتی محمد شفیع دیوبندی
۵۵: ختمِ نبوّت فی الحدیث مولانا مفتی محمد شفیع دیوبندی
142
۵۶: ختمِ نبوّت فی الآثار مولانا مفتی محمد شفیع دیوبندی
۵۷: ختمِ نبوّت اور بزرگان دین مولانا لال حسین اختر
۵۸: ختمِ نبوّت اور نزول عیسیٰ علیہ السلام مولانا عبدالرشید
۵۹: ختمِ نبوّت مولانا حفظ الرحمن سیوہارویؒ
۶۰: خواجہ غلام فرید عارف ربانی اور مرزا غلام احمد قادیانی مولانا لال حسین اخترؒ
۶۱: الخطاب الملیح فی تحقیق المہدی و المسیح مولانا اشرف علی تھانویؒ
۶۲: دعاوی مرزا مولانا مفتی محمد شفیع
۶۳: دعاوی مرزا مولانا اللہ وسایا مبلغ فیصل آباد
۶۴: دین مرزا کفر خالص مولانا مرتضیٰ حسن چاند پوریؒ
۶۵: احتساب قادیانیت مولانا لال حسین اختر
۶۶: دوسری شہادت آسمانی ابو احمد رحمانی
۶۷: دعاوی مرزا مولانا محمد ادریس کاندہلویؒ
۶۸: رئیس قادیاں مولانا ابوالقاسم دلاوریؒ
۶۹: شرائط نبوّت مولانا محمد ادریس کاندہلویؒ
۷۰: صاعقہ آسمانی بر فتنہ قادیانی حکیم محمد یعقوب
۷۱: صحیفہ رحمانی ابو احمد رحمانی
۷۲: صحیفہ رحمانی نمبر ۱۳ ایضاً
۷۳: صحیفہ رحمانی نمبر ۱۵ ایضاً
۷۴: صحیفہ رحمانی نمبر ۱۶ ایضاً
۷۵: چیلنج محمدیہ نمبر ۱۸صحیفہ احمدیہ ابو محمود محمد اسحق
۷۶: صحیفہ رحمانی نمبر ۱۹ ایضاً
۷۷: صحیفہ رحمانی نمبر۲۰ ایضاً
۷۸: نامہ حقانی کذب مسیح قادیانی نمبر ۲۳ ایضاً
143
۷۹: صحیفہ نمبر ۲۴ ایضاً
۸۰: صولت محمدیہ بر فرقہ غلمدیہ حافظ محمد عبدالسلام
۸۱: صحیفہ رحمانیہ نمبر۲۱ محمد اسحق
۸۲: عقیدۃ الاسلام مولانا محمد انور شاہ کشمیریؒ
۸۳: عشرہ کاملہ جناب محمد یعقوب پٹیالویؒ
۸۴: عقیدۃ الامت فی معنی ختم نبوّت علامہ خالد محمود
۸۵: عبرت ناک موت مولانا لال حسین اختر
۸۶: علامات قیامت اور نزول مسیح علیہ السلام مولانا محمد رفیع عثمانی
۸۷: فتویٰ تکفیر قادیان مختلف بیانات علمائے اسلام
۸۸: فیصلہ آسمانی حصہ اول مولانا ابو احمد رحمانی
۸۹: تتمہ فیصلہ آسمانی حصہ دوم ایضاً
۹۰: فیصلہ آسمانی حصہ دوم ایضاً
۹۱: فیصلہ آسمانی حصہ سوم ایضاً
۹۲: فتنہ مرزائیت محمد امیر الزمان کشمیری
۹۳: فتنہ قادیانیت مولانا بنوری
۹۴: فتنہ مرزائیت اور مسئلہ ختمِ نبوّت محمد اکرم زاہد
۹۵: قادیانی نبوّت ابو سیف عتیق الرحمن فاروقی
۹۶: قادیانی فتنہ مولانا عتیق الرحمن
۹۷: قادیانیت پر غور کرنے کا سیدھا راستہ مولانا محمد منظور نعمانی
۹۸: قادیانی نبوّت کا خاتمہ مفتی محمد نعیم لدھیانوی
۹۹: قادیانی مفتی کا جھوٹ اسہال میں وصال مولانا لال حسین اختر ؒ
۱۰۰: قادیانیت مولانا ابوالحسن علی ندویؒ
۱۰۱: قادیانی دجل کا جواب قاضی مظہر حسین چکوال
144
۱۰۲: قادیانی ریشہ دوانیاں مولانا لال حسین اختر
۱۰۳: کشف الستار عن القادیانیہ۔۔۔۔ مولوی محمد عمر ملتانی
۱۰۴: کشف تلبیس حافظ محمد اسحق قریشی
۱۰۵: مرزائیوں کا سیاسی کردار مولانا محمد علی جالندھریؒ
(مولانا محمد علی جالندھری کی تقریر) مرتب محمد سعید الرحمن علوی
۱۰۶: کفر و اسلام کی حدود اور قادیانیت مولانا محمد منظور نعمانی ؒ
۱۰۷: کذبات مرزا ابوعبیدہ نظام الدین کوہاٹی
۱۰۸: لطائف الحکم فی اسرار نزول عیسیٰ ابن مریم مولانا محمد ادریس صاحبؒ
۱۰۹: مرزا غلام احمد کی تصویر کے دو رخ جانباز مرزا
۱۱۰: مرزائیت کا سیاسی محاسبہ ایضاً
۱۱۱: مرزائیت سے اسلام تک اللہ وسایا ڈیروی
۱۱۲: مسلمان کون ہے اور کافر کون مولانا محمد ادریس کاندہلوی
۱۱۳: معیار صداقت سیّد ابو احمد رحمانی
۱۱۴: مسلک الختام فی ختم نبوّت خیر الانام مولانا محمد ادریس کاندہلویؒ
۱۱۵: مسئلہ ختمِ نبوّت علم و عقل کی روشنی میں مولانا محمد اسحق سندیلوی
۱۱۶: منکوحہ آسمانی ابوعبیدہ
۱۱۷: مولانا نانوتویؒ پر مرزائیوں کا بہتان مولانا محمد ادریس کاندہلوی
۱۱۸: مرزائیوں کے خطرناک ارادے مولانا عبدالرحیم صاحب
۱۱۹: مرزائیت عدالت کے کٹہرے میں جانباز مرزاؒ
۱۲۰: مسلمانوں کو مرزائیت سے نفرت کے اسباب اور مرزا کے متضاد اقوال حضرت مولانا احمد علی لاہوریؒ
۱۲۱: میں نے مرزائیت کیوں چھوڑی مرتبہ قاضی خلیل احمد
۱۲۲: مرزا غلام احمد کی آسان پہچان مولانا عبدالرحیم اشعر
145
۱۲۳: مرزا قادیانی اور غیرمحرم عورتیں مجلس تحفظ ختمِ نبوّت کوئٹہ
۱۲۴: مسلمانوں کی نسبت مرزائیوں کاعقیدہ بلا تبصرہ مولانا لال حسین
۱۲۵: مرزا بشیر الدین (خلیفہ قادیانی جواب دیں) مولانا محمد علی جالندھری
۱۲۶: نزول عیسیٰ مولانا بدر عالم صاحب
۱۲۷: نبوّت قادیانی انجمن تائید اسلام
۱۲۸: نصرت اسلام (مناظرہ مابین خالد محمود اور قاضی نذیر)
۱۲۹: وزیر خارجہ جانباز مرزاؒ
۱۳۰: ہدایت الممتری عن غوایۃ المفتری مولانا محمد عبدالغنی خان
۱۳۱: مرزائی نامہ مولانا مرتضیٰ احمد میکش
۱۳۲: چودہ میزائیل مولانا منظور احمد

یہ معلوم کتابوں کی فہرست ہے ورنہ تلاش و جستجو کی جائے تو بہت سی کتابیں اور بھی ہوں گی، جو اب نایاب ہوچکی ہیں، مزید تفصیل کے لئے دیکھئے کتاب ’’قادیانیت کے خلاف قلمی جہاد کی سرگزشت‘‘ مطبوعہ عالمی مجلس ملتان۔

میدانِ مباحثہ:

مرزا غلام احمد قادیانی کی ساری تگ و دو کاغذی پتنگ بازی تک محدود تھی۔ انہوں نے علمائے اُمت کو للکارنے اور پھر قادیان کے ’’بیت الفکر‘‘ کے گوشہ عافیت میں پناہ گزیں ہوجانے کا فن بطور خاص ایجاد کیا تھا۔ مرزا صاحب کی اس حکمت عملی سے مباحثہ کی اول تو نوبت ہی نہ آتی، اگر مرزا صاحب کی بدقسمتی سے اس کا موقع آہی جاتا تو ان کی شکست و ناکامی ہی ’’فتح مبین‘‘ کا بروز اختیار کرلیتی تھی۔ یہاں بطور مثال چند واقعات کا مختصر تذکرہ کافی ہوگا:

۱:۔۔۔۳؍مئی ۱۹۸۱ء کو مرزا صاحب نے علمائے لدھیانہ کو مناظرہ کا چیلنج کیا کہ حیات مسیح پر مجھ سے مناظرہ کرلیں۔ علمائے لدھیانہ نے جواب دیا کہ ہم آج سے آٹھ سال

146

پہلے آنجناب کے کفر اور خروج از اسلام کا فتویٰ دے چکے ہیں، اس لئے کوئی جگہ تجویز کرکے ہمیں مطلع کیجئے۔ ہم بلا تاخیر وہاں پہنچ جائیں گے۔ آنجناب پہلے اپنا اسلام ثابت کرکے دکھائیں، اس کے بعد حیات مسیح اور دیگر مسائل پر بھی گفتگو ہوجائے گی۔ لیکن مرزا صاحب نے اس کے جواب میں ’’خموشی معنی دارد کہ در گفتن نمی آید‘‘ پر عمل کیا۔ اور علمائے لدھیانہ کا چیلنج آج تک قائم ہے۔ کوئی قادیانی اس کا جواب نہیں دے سکا، نہ اِن شاء اللہ قیامت تک دے سکتا ہے (اس مباحثہ طلبی کی روئداد رئیس قادیاں جلد دوم مؤلفہ مولانا ابوالقاسم رفیق دلاوری میں ملاحظہ فرمائیے)۔

۲:۔۔۔مرزا صاحب کے منجھلے صاحبزادے مرزا بشیر احمد ایم، اے نے سیرۃ المہدی صفحہ ۸۳۲ جلد اوّل میں مرزا صاحب کے پانچ مباحثوں کا ذکر کیا ہے۔ ایک آریہ سے ہوا، ایک عیسائی اور تین مسلمانوں سے، بدقسمتی یہ کہ ان میں سے چار کی روئداد پڑھ کر دیکھو تو معلوم ہوگا کہ مرزا صاحب میدان چھوڑ کر بھاگے۔ اور بعد میں ان کی یہ شکست ’’فتح مبین‘‘ قرار پائی۔۔۔۔۔۔ اور پانچویں مباحثہ میں تو مولانا عبدالحکیم کلانوری نے مرزا صاحب سے دعویٰ نبوّت سے توبہ کرائی، اور ان سے یہ تحریر لی کہ وہ آئندہ نبوّت کا لفظ استعمال نہیں کیا کریں گے۔ یہ ان کی پہلی فتح مبین تھی۔ لیکن بعد میں مرزا صاحب نے توبہ توڑ ڈالی، اور اس تحریری توبہ نامہ سے انحراف کیا، یہ ان کی دوسری فتح مبین تھی(اس کی تفصیل مرزا صاحب کے اشتہارات میں موجود ہے)۔

۳:۔۔۔مرزا صاحب نے جب دیکھا کہ مباحثات کی وادیٔ پُرخار میں ان کے پاؤں شل ہوچکے ہیںاور مباحثوں میں ان کی ذلت نما ’’فتح‘‘ دن بدن نمایاں ہو رہی ہے تو انہوں نے الہامی اعلان کردیا کہ وہ آئندہ علماء سے مباحثہ نہیں کیا کریں گے۔ (انجام آتھم ص:۲۸۲) یہ مرزا صاحب کی فتح کا آخری اعلان تھا۔

۴:۔۔۔مرزا صاحب کے اس بہادرانہ اعلان کے بعد لازم تھا کہ قادیانی صاحبان کبھی مناظرہ و مباحثہ کا نام نہ لیتے، لیکن انہیں شاید یہ احساس تھا کہ وہ علم و فضل اور فہم و دانائی میں مرزا صاحب سے فائق ہیں، اس لئے اگر مرزا صاحب نے مناظروں اور

147

مباحثوں سے ’’توبہ‘‘ کرلی ہے تو یہ حکم صرف انہی کی ذاتی لیاقت سے متعلق ہے، ان کی اُمت پر اس کی تعمیل واجب نہیں، چنانچہ قادیانی صاحبان، مرزا صاحب کے اس اعلان کے بعد بھی مناظرہ کے چیلنج کرتے رہے(خود مرزا صاحب کی زندگی میں بھی، اور ان کے انتقال بمرض ہیضہ کے بعد بھی)۔ مناظروں کی نوبت اکثر پیش آئی۔ نتیجہ وہی ’’فتح‘‘ بصورت شکست۔ مولانا مرتضیٰ حسن چاندپوریؒ جو دارالعلوم دیوبند کے رئیس المناظرین تھے، اور جنہیں قادیانی خانوادہ سے گفتگو اور مباحثہ کے بہت سے مواقع پیش آئے تھے، قادیانی مباحثوں پر بلیغ تبصرہ فرماتے ہوئے لکھتے ہیں:

’’علمائے اسلام نے مرزا صاحب کی لغویات باطلہ کا پورا رد اور خود ان کا کذاب و مفتری ہونا ایسا ثابت کردیا کہ منصف کے لئے تو کافی ہی ہے، مرزائی ہٹ دھرموں کے بھی منہ بند کر دئیے اور قلم توڑ دئیے، اور ان کو جواب کی تاب نہ رہی، لہٰذا اب نہ مناظرہ کی ضرورت، نہ مباہلہ کی، فقط جاہل مریدوں کو جہنم تک پہچانے کے لئے یہ راہ اختیار کی جاتی ہے کہ کہیں مناظرہ کا اشتہار، کہیں مباہلہ کا چیلنج، ورنہ وہ نہ مناظرہ کرسکیں نہ مباہلہ:

نہ خنجر اُٹھے گا نہ تلوار ان سے

یہ بازو میرے آزمائے ہوئے ہیں

ہمیں عام مسلمانوں پر یہ ظاہر کرنا ہے کہ علمائے اسلام اپنا فرض ادا فرماچکے، اور نہ ماننا اور نہ تسلیم کرنا یہ محض ہٹ دھرمی اور عناد کی وجہ سے ہے، ورنہ مناظرے بھی ہوچکے، اور جس کو فتح دینی تھی اور جس کو ذلیل کرنا تھا وہ بھی ہوچکا۔۔۔۔۔۔

سرور شاہ (قادیانی) امیر وفد مونگیر سے دریافت کرلو حافظ روشن علی صاحب، مختار احمد صاحب شاہ جہانپوری، غلام رسول پنجابی(قادیانی مناظر) ان میں سے جو زندہ ہوں ان سے دریافت

148

کرلو۔۔۔۔۔۔ موضع مونگیر و بھاگلپور کے رہنے والوں سے دریافت کرلو۔۔۔۔۔۔ (مونگیر کے مناظرہ میں) جب ذلت کی کوئی حد باقی نہ رہی تو امیر وفد نے فرمایا کہ ’’یہ بھی حضرت کی پیش گوئی پوری ہوئی کہ ایک جگہ تمہیں ذلت ہوگی۔‘‘ جی ہاں! کیوں نہیں؟ اگر اسی بدعقیدہ پر مر گئے جب بھی خدا چاہے، پیش گوئی ہی پوری ہوگی۔‘‘

(صحیفۃ الحق ص:۲،۳)

۵:۔۔۔علمائے دیوبند کے جواب میں ۶۱؍جولائی ۵۲۹۱ء کے ’’الفضل‘‘ میں خاص مرزا محمود صاحب کے قلم سے قرآن دانی کے دو چیلنج شائع ہوئے، مولانا سیّد مرتضیٰ حسن دیوبندیؒ نے ’’قادیاں میں قیامت خیز بھونچال‘‘ میں اس کا جواب تحریر فرمایا۔ اس کی تمہید میں لکھتے ہیں:

’’دونوں پرچوں کے مضامین کے جواب کا نام ’’واقعۃ الواقعہ‘‘ اور لقب ’’عذاب اللہ الشدید علی المنکر العنید‘‘ ہے، جس میں ڈیڑھ درجن سے زائد قادیانیوں کی وہ شکستیں اور علمائے دیوبند کی وہ صاف اور ظاہر فتحیں اور قیامت خیز نصرتیں بیان کی گئی ہیں کہ مرزا محمود صاحب تو کیا اگر خود بالفرض مرزا صاحب بھی بروز فرمائیں تو ان کو، خدا چاہے۔ بجز اقرار یا سکوت اور دم بخود رہنے کے کوئی چارہ ہی نہ ہوگا، چونکہ وہ رسالہ طویل ہوگیا ہے، طبع میں کچھ دیر ہوگی، بدیں وجہ صرف خلیفہ صاحب کے چیلنج کے متعلق یہ ’’زلزلۃ الساعۃ‘‘ نمونہ کے طور پر شائع کیا جاتا ہے۔‘‘

اس کے بعد حضرت نے مرزا محمود صاحب کے چیلنج کا ذکر کرتے ہوئے انہیں تین ہفتہ میں اس کا جواب لکھنے کی فرمائش کی، مگر مرزا محمود نے حسب سابق خاموشی میں ہی سلامتی سمجھی، اس کے بعد حضرت نے بھی سکوت ہی اختیار فرمایا، اسی رسالہ میں خلیفہ صاحب

149

کو خطاب کرتے ہوئے فرماتے ہیں:

’’صاحب زادہ صاحب! آپ! اور معارف قرآنیہ بیان فرمائیں؟ اور وہ بھی علمائے دیوبند کے سامنے؟

دعویٰ زبان کا لکھنؤ والوں کے سامنےہے جیسے بوئے مشک غزالوں کے سامنے

سن لو! ایک گھنٹہ میں فیصلہ ہوتا ہے، ہمارا خیال ہے کہ معارف قرآنیہ تو درکنار؟ آپ تو علمائے محققین کے دو چار ورق بھی صحیح تلفظ کے ساتھ پڑھ کر ان کی عبارت کا صحیح مطلب بیان نہیں کرسکتے، بٹالہ، لاہور، امرتسر، لدھیانہ، پشاور، اور تمہارا جی چاہے تو کابل چلے چلو۔ محققین اسلام نے جو کتابیں لکھی ہیں اور جن معارف الٰہیہ کو بیان کیا ہے، جو جگہ ہم تجویز کریں اس جگہ سے کتاب کے دو ورق کی صحیح عبارت مجمع عام میں پڑھ کر بامحاورہ ترجمہ کرنے کے بعد مطلب صحیح بیان کردو، اگر مطلب غلط بیان کیا تو اسی مجمع میں آپ پر اعتراض کیا جائے گا، آپ جواب دیں، اگر آپ نے صحیح عبارت پڑھ کر صحیح مطلب بیان کردیا، تو ہم مجمع عام میں یہ اقرار کریں گے کہ مرزا محمود صاحب کو عبارت پڑھنے کا سلیقہ ہے۔‘‘

(ص:۸)

مرزا محمود نے اس کے جواب میں ایسی چپ سادھی کہ ’’خبرے نیست کہ ہست‘‘ کا مضمون صادق آیا۔

۶:۔۔۔مولانا سیّد مرتضیٰ حسن صاحبؒ نے ایک رسالہ ’’اول السبعین‘‘ کے نام سے تحریر فرمایا، جس میں لاہوری جماعت کے امام مسٹر محمد علی صاحب اور قادیانی جماعت کے خلیفہ مرزا محمود صاحب سے مسئلہ نبوّت کے بارے میں ان کے مذہب کی وضاحت طلب کرنے کے لئے ستر سوالات کئے، اور یہ بھی تحریر فرمایا کہ جواب خواہ دونوں امیر

150

صاحبان خود لکھیں، یا اپنے کسی ماتحت سے لکھوائیں، مگر دستخط ان دونوں صاحبوں کے ہونے لازم ہیں۔ قادیانی اُمت کے ذمہ دار اس رسالہ کے جواب میں جب سے اب تک خاموش ہیں۔

مباحثہ مونگیر کا تذکرہ مولانا مرتضیٰ حسنؒ کی عبارت میں ابھی اوپر گزر چکا ہے جس میں قادیانیوں کو ذلت آمیز شکست ہوئی اور مرزائیوں کے امیر وفد سرور شاہ کو بھی ذلت کا اعتراف کئے بغیر چارہ نہ رہا۔ اسی نوعیت کا ایک مباحثہ فیروز پور میں ہوا، جس میں قادیانیوں نے من مانی شرائط پر مناظرہ کیا، لیکن علمائے دیوبند کے ہاتھوں ایسی شکست اٹھائی کہ انہیں مدت تک نہ بھولی۔ اس مباحثہ کا مختصر سا تذکرہ ’’بیس بڑے مسلمان‘‘ میں بالفاظ ذیل کیا گیا ہے:

’’فیروز پور میں مرزائیوں کے ساتھ ایک مناظرہ طے پایا، اور عام مسلمانوں نے جو فن مناظرہ سے ناواقف تھے، مرزائیوں کے ساتھ بعض ایسی شرائط پر مناظرہ طے کرلیا، جو مسلمان مناظرین کے لئے خاصی پریشان کن ہوسکتی تھیں، دارالعلوم دیوبند کے اس وقت کے صدر مہتمم حضرت مولانا حبیب الرحمن رحمۃ اللہ علیہ اور حضرت (مولانا محمد انورؒ) شاہ صاحب کشمیری ( کے مشورے سے مناظرے کے لئے) حضرت مولانا مرتضیٰ حسن چاندپوریؒ، حضرت مولانا سیّد محمد بدر عالم میرٹھیؒ، حضرت مولانا مفتی محمد شفیع صاحبؒ اور حضرت مولانا محمد ادریس کاندہلویؒ تجویز ہوئے۔ یہ حضرات جب فیروزپور پہنچے تو مرزائیوں کی شرائط کا علم ہوا کہ انہوں نے کس طرح دجل سے من مانی شرائط سے مسلمانوں کو جکڑ لیا ہے، اب دو ہی صورتیں تھیں کہ یا تو ان شرائط پر مناظرہ کیا جائے یا پھر انکار کردیا جائے، پہلی صورت مضر تھی، دوسری صورت مسلمانان فیروزپور کے لئے سبکی کا باعث ہوسکتی تھی کہ دیکھو تمہارے مناظر بھاگ گئے۔ انجام کار انہی شرائط پر مناظرہ کرنا منظور کرلیا گیا، اور حضرت شاہ صاحبؒ کو تار دے دیا گیا۔ اگلے روز مقررہ وقت پر مناظرہ شروع ہوگیا اور عین اسی وقت دیکھا گیا کہ حضرت شاہ صاحبؒ بہ نفس نفیس

151

حضرت علامہ شبیر احمد عثمانی رحمۃ اللہ علیہ کے ساتھ تشریف لارہے ہیں، انہوں نے آتے ہی اعلان فرمایا کہ جائیے ان لوگوں سے کہہ دیجئے کہ تم نے جتنی شرائط مسلمانوں سے منوالی ہیں، اتنی شرائط اور من مانی لگوالو۔ ہماری طرف سے کوئی شرط نہیں، مناظرہ کرو اور خدا کی قدرت کا تماشہ دیکھو، چنانچہ اسی بات کا اعلان کردیا گیا، اور مفتی صاحبؒ، مولانا محمد ادریس کاندہلویؒ اور مولانا سیّد بدر عالم صاحبؒ نے مناظرہ کیا، اس میں مرزائیوں کی جو درگت بنی، اس کی گواہی آج بھی فیروزپور کے در و دیوار دے سکتے ہیں، مناظرے کے بعد شہر میں جلسہ عام ہوا، جس میں حضرت شاہ صاحبؒ اور شیخ الاسلام مولانا شبیر احمد عثمانی ؒ نے تقریریں کیں، یہ تقریریں فیروزپور کی تاریخ میں یادگارِ خاص کی نوعیت رکھتی ہیں۔ بہت سے لوگ جو قادیانی دجل کا شکار ہوچکے تھے، اس مناظرہ اور جلسہ کے بعد اسلام میں واپس لوٹ آئے۔‘‘

(بیس بڑے مسلمان ص:۴۹۳ طبع سوم)

خلاصہ یہ کہ مرزائیوں کے ساتھ علمائے دیوبند کے سینکڑوں تقریری و تحریری مباحثے ہوئے اور بحمد للہ ہر موقع پر قادیانیوں کو میدان ہارنا پڑا۔ اسی سلسلہ میں علمائے دیوبند کی جانب سے متواتر ایک سال تک اشتہارات بھی نکلتے رہے مگر قادیانیوں نے جواب دہی سے توبہ کرلی۔

۷:عدالت کے کٹہرے میں:

مرزا غلام احمد قادیانی ایک زمانہ میں سیالکوٹ کچہری میں محرر کے فرائض انجام دیتے تھے، نیز اسی زمانہ میں منصبی کے امتحان کی بھی تیاری کی تھی جس میں ناکامی ہوئی، اس لئے مرزا غلام احمد اور اس کی ذریت کو ’’مقدمہ بازی‘‘ کا خوب شوق تھا، لیکن قسمت کا پھیر کچھ ایسا تھا کہ انہیں ہمیشہ ناکامی ہی ہوئی۔ مرزا غلام احمد قادیانی کے زمانہ میںجو مقدمہ

152

بازی ہوئی اس کا تذکرہ قادیانی لٹریچر میں بھی موجود ہے، کچھ مقدموں کی روئداد محترم مرزا جانباز مرزاؒ کی کتاب ’’مرزائیت عدالت کے کٹہرے میں‘‘ نیز مولانا ابوالقاسم رفیق دلاوریؒ کی کتاب ’’رئیس قادیاں‘‘ میں ملاحظہ کی جاسکتی ہے۔ یہاں صرف دو مقدموں کی جانب اشارہ کیا جاتا ہے۔

مرزا غلام احمد قادیانی نے اپنی طبعی جبلت کے مطابق حضرت مولانا کرم الدین صاحب سکنہ موضع بھیں جہلم (حضرت مولانا قاضی مظہر حسین چکوال کے والد ماجد) کے حق میں ناشائستہ الفاظ استعمال کئے تھے، مولانا نوجوان تھے انہوں نے مرزا قادیانی کو عدالت کے کٹہرے میں لاکھڑا کیا، اور جہلم میں ازالہ حیثیت عرفی کا دعویٰ کردیا۔ قادیانی گروہ نے یہ مقدمہ جہلم سے گورداسپور منتقل کرالیا، بہرحال یہ مقدمہ ایک طویل مدت تک مرزا قادیانی اور ان کی ذریت کے لئے تماشا عبرت بنا رہا۔ بالآخر عدالت بالا نے مرزا قادیانی کو مجرم قرار دیتے ہوئے اس پر جرمانہ عائد کیا، جو عدالت بالا میں قادیانی اپیل پر معاف کیا گیا۔ اس مقدمہ کی دلچسپ روئداد اس زمانہ میں سراج الاخبار جہلم اور دیگر اخبارات میں شائع ہوتی رہی۔ بعد ازاں ’’تازیانہ عبرت‘‘ کے نام سے دو بار کتابی شکل میں بھی شائع ہوئی۔ جو غالباً مولانا قاضی مظہر حسین صاحب سے دستیاب ہوسکتی ہے۔

۲:۔۔۔دوسرا ’’مقدمہ بہاولپور‘‘ کے نام سے مشہور ہے۔ اس مقدمہ کی تقریب یہ ہوئی کہ ایک مسلمان لڑکی مسماۃ غلام عائشہ بنت مولوی الٰہی بخش کا شوہر مسمی عبدالرزاق ولد جان محمد اسلام سے مرتد ہوکر مرزائی بن گیا تھا، زوجہ کی طرف سے ۴۲؍جولائی ۶۲۹۱ء کو احمد پور شرقیہ کی عدالت میں دعویٰ کیا گیا کہ:

’’مدعیہ اب تک نابالغ رہی ہے، اب عرصہ دو سال سے بالغ ہوئی ہے، مدعا علیہ ناکح مدعیہ نے مذہب اہلسنّت و الجماعت ترک کرکے قادیانی مرزائی مذہب اختیار کرلیا ہے اور اس وجہ سے وہ مرتد ہوگیا ہے، اس کے مرتد ہوجانے کے باعث مدعیہ اب اس کی

153

منکوحہ نہیں رہی، کیونکہ وہ شرعاً کافر ہوگیا ہے، اور بموجب احکام شرع شریف بوجہ ارتداد مدعا علیہ، مدعیہ مستحق انفراق زوجیت ہے اس لئے ڈگری تنسیخ نکاح بحق مدعیہ صادر کی جاوے، اور یہ قرار دیا جاوے کہ مدعیہ بوجہ مرزائی ہو جانے مدعا علیہ کے اس کی منکوحہ جائز نہیں رہی، اور نکاح بوجہ ارتداد مدعا علیہ قائم نہیں رہا۔‘‘

(فیصلہ مقدمہ بہالپور ص:۵ طبع اوّل)

یہ مقدمہ ابتدائی عدالت سے دربار معلی تک پہنچا اور وہاں سے بایں حکم ڈسٹرکٹ جج کی عدالت میں واپس کردیا گیا کہ ’’مستند مشاہیر علمائے ہند کی شہادت لے کر بروئے احکام شرع شریف فیصلہ کیا جاوے۔‘‘

اگرچہ یہ مقدمہ سات سال سے چل رہا تھا اور مدعا علیہ قادیانی بڑے فخر سے اعلانیہ کہتا تھا کہ قادیان کا خزانہ اور منظم جماعت اس کی پشت پر ہے، مگر مسلمانوں نے اسے ایک شخص کا مقدمہ سمجھا، اور مدعیہ کی مالی امداد کی طرف بھی توجہ نہ کی، لیکن ڈسٹرکٹ عدالت نے ـــ جو اس مقدمہ کی سماعت کے لئے ریاست کے سربراہ نے بطور کمیشن مقرر کی تھی ـــ فریقین کو اپنے اپنے مسلک کے مستند اور مشاہیر علماء کو بغرض شہادت پیش کرنے کا حکم دیا تو مسلمانان بہاولپور کا احساس بیدار ہوا کہ کہیں مدعیہ کی کسمپرسی و ناداری اسے شہادت شرعی پیش کرنے سے قاصر نہ رکھے۔ چنانچہ انجمن مؤید الاسلام بہاولپور نے مدعیہ کی جانب سے اس مقدمہ کی پیروی شروع کردی۔ بالآخر دو سال کی کامل تحقیق و تنقیح کے بعد ۷؍فروری ۵۳۹۱ء کو عالی جناب محمد اکبر ڈسٹرکٹ جج بہاولپور نے اس مقدمہ کا تاریخی فیصلہ مدعیہ کے حق میں صادر کرتے ہوئے قرار دیا کہ:

’’مدعیہ کی طرف سے یہ ثابت کیا گیا ہے کہ مرزا صاحب کاذب مدعی نبوّت ہیں، اس لئے مدعا علیہ (عبدالرزاق قادیانی) بھی مرزا صاحب کو نبی تسلیم کرنے سے مرتد قرار دیا جائے گا، لہٰذا ڈگری بدیں مضمون بحق مدعیہ جاری کی جاتی ہے کہ وہ تاریخ ارتداد

154

مدعا علیہ سے اس کی زوجہ نہیں رہی، مدعیہ خرچہ مقدمہ بھی ازاں مدعا علیہ لینے کی حقدار ہوگی۔‘‘

(فیصلہ مقدمہ بہاولپور ص:۹۴۱)

یہ ایک مسلمان ریاست کے مسلمان جج کا تاریخی فیصلہ تھا جو اسلام اور مرزائیت کی پوری تحقیق کے بعد صادر کیا گیا، اور پھر ایک ایسی عدالت کی جانب سے تھا جس کی حیثیت عدالت خاص کی تھی اس لئے یہ فیصلہ آئندہ کے لئے نشان راہ ثابت ہوا، اور بحمد للہ آئندہ اس قسم کے تمام فیصلے اسی کے مطابق ہوئے۔ حضرات اکابر دیوبند نے اس مقدمہ میں جو کارنامہ انجام دیا اس کا تعارف کراتے ہوئے مولانا ابوالعباس محمد صادق نعمانی، جن کی وساطت سے یہ فیصلہ شائع ہوا، تحریر فرماتے ہیں:

’’مدعیہ کی طرف سے شہادت کے لئے شیخ الاسلام حضرت مولانا محمد انور شاہ صاحب(رحمۃ اللہ علیہ) حضرت مولانا سیّد محمد مرتضیٰ حسن چاندپوریؒ، حضرت مولانا محمد نجم الدینؒ صاحب پروفیسر اورینٹل کالج لاہور اور مولانا محمد شفیع صاحبؒ مفتی دارالعلوم دیوبند پیش ہوئے۔ حضرت شاہ صاحب رحمۃ اللہ علیہ کی تشریف آوری نے تمام ہندوستان کی توجہ کے لئے جذب مقناطیسی کا کام کیا، اسلامی ہند میں اس مقدمہ کو غیرفانی شہرت حاصل ہوگئی، حضرات علمائے کرام نے اپنی اپنی شہادتوں میں علم و عرفان کے دریا بہادئیے اور فرقہ ضالہ مرزائیہ کا کفر و ارتداد روز روشن کی طرح ظاہر کردیا، اور فریق مخالف کی جرح کے نہایت مسکت جواب دئیے۔

خصوصاً حضرت شاہ صاحب رحمۃ اللہ علیہ نے اپنی شہادت میں ایمان، کفر، نفاق، زندقہ، ارتداد، ختمِ نبوّت، اجماع، تواتر، متواترات کے اقسام، وحی، کشف، الہام کی تعریفات اور ایسے اصول و قواعد بیان فرمائے جن کے مطالعہ سے ہر ایک انسان علی وجہ البصیرت بطلان مرزائیت کا یقین کامل حاصل کرسکتا ہے۔

155

پھر فریق ثانی کی شہادت شروع ہوئی، مقدمہ کی پیروکاری اور شہادت پر جرح کرنے اور قادیانی دجل و تزویر کو آشکارا کرنے کے لئے شہرۂ آفاق مناظر حضرت مولانا ابوالوفاء صاحب نعمانی شاہجہان پوریؒ تشریف لائے، مولانا موصوف مختار مدعیہ ہوکر تقریباً ڈیڑھ سال مقدمہ کی پیروکاری فرماتے رہے، فریق ثانی کی شہادت پر ایسی باطل شکن جرح فرمائی جس نے مرزائیت کی بنیادوں کو کھوکھلا اور مرزائی دجل و فریب کے تمام پردوں کو پارہ پارہ کرکے فرقہ مرزائیہ ضالہ کا ارتداد آشکارا عالم کردیا۔ فریقین کی شہادت کے ختم ہونے کے بعد مولانا موصوف نے مقدمہ پر بحث پیش کی، اور فریق ثانی کی تحریری بحث کا تحریری جواب الجواب نہایت مفصل اور جامع پیش کیا۔‘‘

(تقریب مقدمہ فیصلہ بہاولپور)

جہاد مسلسل:

تحفظ ختمِ نبوّت کے سلسلہ میں اکابر دیوبند کا ایک خصوصی امتیاز یہ ہے کہ انہوں نے قادیانی فتنہ کے آغاز سے لے کر آج تک ان کا تعاقب جاری رکھا۔ مسند احمد (ج:۲ ص:۷۴۲) میں بروایت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ آنحضرت صلی اللہ علیہ و سلم کا ارشاد مروی ہے:

’’ما سالمناھن منذ حاربناھن یعنی الحیّات‘‘

ترجمہ:۔۔۔’’ہم نے ان سانپوں سے جب سے جنگ شروع کی ہے تب سے کبھی ان کے ساتھ صلح نہیں کی۔‘‘

قادیانی ٹولہ اسلام کے لئے مار آستین کی حیثیت رکھتا تھا، اس لئے ارشاد نبوی کے مطابق اکابر دیوبند جب سے مرزائی ٹولے کے خلاف نبرد آزما ہوئے، آج تک نہ صلح کی جانب مائل ہوئے اور نہ ہتھیار اتارے، بلکہ وہ پہلے دن سے لے کر آج تک بدستور محاذ پر ڈٹے ہوئے ہیں، اور جب تک یہ قزاقان ناموس رسالت اپنے کیفر کردار کو نہیں پہنچ

156

جاتے اِن شاء اللہ محاذ آرائی جاری رہے گی۔

خوش قسمتی سے اکابر دیوبند میں کوئی نہ کوئی ایسی شخصیت موجود رہی جو اپنے دور میں مرجع خلائق تھی، جس کے دل کی دھڑکنیں اُمتِ مسلمہ کے جذبہ جہاد کو بیدار رکھتی تھیں، جسے علماء و مشائخ میں قطبیت کبریٰ کا مقام حاصل تھا، جس کا سینہ عشق رسالت کے نور سے منور تھا، اور جس کے انفاس قدسیہ زندیقان قادیاں کے کفر و ارتداد کے لئے آتش سوزاں کا حکم رکھتے تھے۔

گزشتہ سطور میں قطب عالم حضرت حاجی امداد اللہ قدس سرہ اور ان کے خلیفۂ ارشد حضرت قطب الارشاد مولانا رشید احمد گنگوہیؒ کی مساعی جمیلہ کا تذکرہ گزر چکا ہے۔ حضرت گنگوہیؒ کے بعد یہ قیادت و سیادت شیخ العالم حضرت مولانا محمود حسن دیوبندیؒ کے حصہ میں آئی جن کا وجود ہی انگریز اور انگریزی نبوّت سے بغاوت کا نام تھا، یوپی کے انگریز گورنر سر جیمس ایسٹن کے بقول:

’’اگر اس شخص کو جلاکر خاک بھی کردیا جائے تو وہ بھی اس کوچہ سے نہیں اڑے گی جس میں کوئی انگریز ہوگا۔‘‘

’’اگر اس شخص کی بوٹی بوٹی بھی کردی جائے تو ہر بوٹی سے انگریزوں کے خلاف عداوت ٹپکے گی۔‘‘

(بحوالہ ’’بیس بڑے مسلمان‘‘ ص:۲۲۱ طبع سوم)

’’اور ’’ریشمی خطوط‘‘ سازش کیس کے مرتبین کے الفاظ میں (حضرت شیخ الہندؒ کو) ’’حضرت مولانا‘‘ بھی کہا جاتا ہے۔ ریشمی خطوط کے مکتوب الیہ، مدرسہ اسلامیہ دیوبند کے صدر مدرس، پارسائی اور تقدس کے لئے مشہور ان کے مرید، جن میں سرکردہ مسلمان بھی ہیں، ہندوستان بھر میں ہیں۔۔۔۔۔۔

ہندوستان میں ’’اتحاد اسلامی کی سازش‘‘ میں مولانا کی یہ

157

رہنمایانہ قائدانہ شخصیت بڑی سرکردہ ہے۔‘‘

(تحریک شیخ الہندؒ انگریزی سرکار کی زبان میں ص:۲۴۴ شائع کردہ مکتبہ رشیدیہ ۲۳ اے شاہ عالم مارکیٹ لاہور)

حضرت شیخ الہند قدس سرہ اگرچہ انگریز کی ذُرّیت (قادیانی ٹولہ) سے نہیں بلکہ براہِ راست قادیانی نبوّت کے خالق (انگریز بہادر) سے ٹکرا رہے تھے، لیکن انہوں نے ذُرّیتِ برطانیہ کو بھی نظر انداز نہیں کیا، ’’القول الصحیح فی مکائد المسیح‘‘ نامی فتویٰ کا تذکرہ اوپر کرچکا ہوں، جس میں کذاب قادیان کی عبارتیں درج کرکے اس کے کفر و ارتداد کا فتویٰ علمائے دیوبند کی جانب سے مرتب کیا گیا ہے، حضرت شیخ الہندؒ اس پر تحریر فرماتے ہیں:

(کل جوابات صحیح ہیں)

’’مرزا ـــــ علیہ ما یستحقہ ـــــ کے عقائد و اقوال کا کفریہ ہونا ایسا بدیہی مضمون ہے کہ جس کا انکار کوئی منصف فہیم نہیں کرسکتا۔ جن کی تفصیل جواب میں موجود ہے۔‘‘ (مہر) (بندہ محمود عفی عنہ دیوبندی، صدر المدرّسین دارالعلوم دیوبند)

حضرت شیخ الہندؒ کے بعد آپ کے تلامذہ نے، جو آسمان علم و فضل اور تقدس و تقویٰ کے مہر و ماہ تھے، قادیانی نبوّت کا تعاقب کیا، مولانا محمد انور شاہ کشمیریؒ، مولانا شبیر احمد عثمانی ؒ، مولانا مفتی کفایت اللہ دہلویؒ، مولانا مرتضیٰ حسن چاندپوریؒ اور دیگر اکابرؒ نے اس تحریک کا علم بلند کیا۔

اس دور کے امام و مقتدا حضرت العلامہ مولانا محمد انور شاہ کشمیری نور اللہ مرقدہ تھے، فتنہ قادیانیت کی شدت نے حضرت کشمیریؒ کو ماہی بے آب کی طرح بے چین اور مضطرب کردیا تھا، حضرت العلامہ مولانا سیّد محمد یوسف بنوری ’’نفحۃ العنبرفی ہدی الشیخ الأنور‘‘ میں حضرت کشمیریؒ کا یہ ارشاد نقل کرتے ہیں:

’’جب یہ تاریک فتنہ پھیلا تو مصیبت عظمیٰ سے غم اور اضطراب کی ایک ایسی کیفیت طاری ہوئی کہ کسی کروٹ چین نہ آتا

158

تھا، رات کی نیند حرام ہوگئی، مجھے قلق تھا کہ قادیانی نبوّت سے دین میں ایسا رخنہ واقع ہوجائے گا جس کو بند کرنا دشوار ہوگا، اسی قلق و اضطراب اور بے چینی میں چھ مہینے گزر گئے، تاآنکہ اللہ تعالیٰ نے میرے دل میں اِلقا کیا کہ عنقریب اس فتنہ کا شور و شغب اِن شاء اللہ جاتا رہے گا، اور اس کی قوت و شوکت ٹوٹ جائے گی، چنانچہ ایک طویل مدت کے بعد میرا اضطراب رفع ہوا اور سکون قلب نصیب ہوا۔‘‘

(ص:۴۰۳ طبع جدید)

حضرت کشمیریؒ نے اس اضطراب و بے چینی کا اظہار اپنے بعض قصائد میں بھی کیا ہے، ایک طویل عربی قصیدہ میں جو ’’اکفار الملحدین‘‘ میں طبع ہوا ہے، آپ نے قادیانی فتنہ کی شدت و گہرائی کی طرف اُمتِ اسلامیہ کو متوجہ فرمایا ہے، اس قصیدہ کا زور بیان، قلق و اضطراب آج بھی اُمتِ اسلامیہ کا خون گرما دینے کی صلاحیت رکھتا ہے:

’’الَا یـا عـبـاد اللہ قـومـوا وقـومـوا

خـطـوبـا الـمـت مـا لـھـن یـدانِ‘‘

ترجمہ:۔۔۔اے اللہ کے بندو! اٹھو اور ان فتنوں کے کس بل نکال دو، جو ہر جگہ چھا رہے ہیں، اور جن کے برداشت کرنے کی تب و تاب نہیں رہی۔

’’وقـد کـاد یـنـقـض الـھدی ومـنـارہ

وزحـزح خـیـر مـا لـذاک تـدان‘‘

ترجمہ:۔۔۔ان فتنوں کی شدت سے ہدایت کے نشانات مٹاچاہتے ہیں، خیر و صلاح سمٹ رہی ہے اور پھر اس کے تدارک کی کوئی صورت نہیں بن پڑے گی۔

’’یسب رسول مـن اولی الـعزم فـیکم

تـکـاد السمـاء والأرض تنفـطران‘‘

159

ترجمہ:۔۔۔ایک اولو العزم رسول (سیّدنا عیسیٰ علیہ السلام) کو تمہارے سامنے گالیاں دی جا رہی ہیں قریب ہے کہ قہر الٰہی سے زمین و آسمان پھٹ پڑیں۔

’’وحــارب قـوم ربـھـم ونـبـیـہ

فـقـومـوا لـنـصـر اللہ اذ ھـو دان‘‘

ترجمہ:۔۔۔ایک ناہنجار قوم (مرزائیوں) نے اپنے رب اور اس کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم سے لڑائی چھیڑ رکھی ہے، پس اللہ کی مدد کے بھروسے اٹھو، کہ وہ بہت ہی قریب ہے۔

’’وقد عیل صبری فی انتـھاک حدودہ

فـھـل ثـم داع او مـجـیـب اذانی‘‘

ترجمہ:۔۔۔حدود اللہ کو توڑتے دیکھ کر صبر کا دامن میرے ہاتھ سے چھوٹ چکا ہے، پس کیا اس بھری دنیا میں کوئی حدود الٰہی کے تحفظ کے لئے پکارنے والا یا میری دعوت پر لبیک کہنے والا ہے؟

’’واذ عز خطب حبت مستـنصرا بکم

فـھـل ثـم غـوث یـالـقـوم یـدانی‘‘

ترجمہ:۔۔۔اور جب مصیبت حد برداشت سے نکل گئی تب میں نے مدد کے لئے تمہارے دروازے پر دستک دی، پس اے قوم! کیا کوئی فریاد رس ہے جو آگے بڑھ کر میرے دکھ درد میں شریک ہو جائے؟

’’لـعمری لـقد نبـھت من کـان نـائما

واسمـعت مـن کـانـت لـہ اذنـان‘‘

160

ترجمہ:۔۔۔بخدا! میں ان لوگوں کو جو خواب غفلت میں مست تھے، بیدار کرچکا ہوں اور ہر ایسے شخص کو جسے قدرت نے سننے کی صلاحیت عطا فرمائی ہے، سنا چکا ہوں۔

’’ونـادیت قـوما فی فـریـضۃ ربـھم

فـھل من نـصـیر لی مـن اھـل زمـان‘‘

ترجمہ:۔۔۔اور میں قوم مسلم کو ان کے رَبّ کی جانب سے عائد شدہ فریضے کے سلسلہ میں پکار چکا ہوں، پس کیا اہل خانہ میں کوئی شخص میری مدد کو اُٹھے گا؟

’’دعوا کل امر واستـقـیموا لـما دھی

وقد عـاد فرض الـعـین عـند عـیان‘‘

ترجمہ:۔۔۔سب کچھ چھوڑ کر اس فتنہ عظمیٰ کے مقابلہ میں کمربستہ ہوجاؤ، اس لئے کہ اس فتنہ کا مشاہدہ ہوجانے کے بعد اس کا استیصال ہر شخص پر فرض عین ہوگیا ہے۔

’’الَا فـاستـقیموا واستـھیموا لدینکم

فـمـوت عـلـیـہ اکـبـر الـحـیـوان‘‘

ترجمہ:۔۔۔ہاں اٹھو! اور اپنے دین کی حفاظت کے لئے دیوانہ وار جان کی بازی لگادو، بخدا! دین کی خاطر جان دے دینا ہی سب سے اعلیٰ و اشرف زندگی ہے۔

’’وعـند دعـاء الرب قـومـوا وشمروا

حـنـانـا عـلـیکم فـیـہ اثـر حـنـان‘‘

ترجمہ:۔۔۔اور جب تحفظ دین کے لئے رَبّ تعالیٰ کی طرف سے پکارا جارہا ہے تو دیر کیوں کرتے ہو؟ اُٹھو اور کمر ہمت چست باندھ لو، اس راستے میں تم پر رحمتوں پر رحمتیں نازل ہوں گی۔

161

(اکفار الملحدین ص:۰۱۱تا ۲۱۱)

حضرت کشمیریؒ کے قلب صافی پر اس فتنہ کی شدت کا جو اثر تھا وہ ان اشعار سے نمایاں ہے۔ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ وہ اس فتنہ کے استیصال کے لئے مامور من اللہ تھے، اور ان کی تمام صلاحیتیں اس پر لگی ہوئی تھیں کہ وہ قادیانیت کے قصر الحاد کو پھونک ڈالیں۔ حضرت امام العصرؒ نے قادیانی الحاد پر تابڑ توڑ حملے کئے اور ان کے کفر و ارتداد کو عالم آشکار کرنے کے لئے قلم اٹھایا، حضرت عیسیٰ علیہ السلام، قادیانی قزاقوں کے سب سے بڑے حریف تھے، مرزا اور مرزائی اُمت نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے بارے میں جس دریدہ د ہنی کا مظاہرہ کیا ہے اس سے ایک باغیرت و حمیت مسلمان کا خون کھول جاتا ہے اور جو شخص اس کے بعد بھی قادیانیوں کے بارے میں کسی نرمی یا مصالحت کا رویہ رکھتا ہے اس کے بارے میں یہی کہا جاسکتا ہے کہ وہ یا تو دین و ایمان سے محروم ہے، یا پھر اس کی غیرت و حمیت کو مصلحت کی دیمک چاٹ گئی ہے، امام العصرؒ فرماتے ہیں:

’’فـشـانی شـان الأنـبـیـاء مـکـفر

ومـن شـک قـل ھـذا لأول ثـان‘‘

ترجمہ:۔۔۔انبیاء علیہم السلام کی شان میں گستاخی کرنے والا قطعاً کافر ہے اور جو شخص اس کے کفر میں شک کرے تو صاف کہہ دو کہ یہ بھی پہلے کا دوسرا ہے۔

حضرت امام العصرؒ نے قادیانیت کے تعاقب میں جو کارنامے انجام دئیے اس کی تفصیل کے لئے یہ مقالہ کافی نہیں، مختصر یہ کہ:

الف: … حضرت نے خود بھی ان تمام مسائل پر قلم اٹھایا جو اسلام اور قادیانیت کے درمیان زیر بحث تھے، مثلاً حیات عیسیٰ علیہ السلام پر تین کتابیں تالیف فرمائیں:

’’التصریح بما تواتر فی نزول المسیح۔‘‘
’’عقیدۃ الْإسلام فی حیاۃ عیسیٰ علیہ السلام۔‘‘
162
’’تحیۃ الْإسلام فی حیاۃ عیسیٰ علیہ السلام۔‘‘

یہ تینوں کتابیں اپنے رنگ میں بے نظیر ہیں۔ ختمِ نبوّت کے موضوع پر فارسی میں رسالہ ’’خاتم النبیین‘‘ تالیف فرمایا۔ (جس کا اردو ترجمہ عالمی مجلس تحفظ ختمِ نبوّت ملتان نے شائع کیا ہے) جو آیت ختمِ نبوّت کی تفسیر میں دقیق معارف کا ذخیرہ ہے۔ ان تمام رسائل میں قادیانی دجل و فریب سے نقاب کشائی فرمائی اور قادیانیوں کے کفر و ارتداد کو ثابت کرنے کے لئے ’’اکفار الملحدین‘‘ تالیف فرمائی۔

ب: … حضرت شاہ صاحبؒ کے تلامذہ میں مولانا سیّد بدر عالم میرٹھیؒ، مولانا مرتضیٰ حسن چاندپوریؒ، مولانا مناظر احسن گیلانی ؒ، مولانا مفتی محمد شفیع صاحب دیوبندیؒ، مولانا محمد ادریس کاندہلویؒ، مولانا محمد علی جالندھریؒ، مولانا غلام غوث ہزارویؒ، مولانا ثناء اللہ امرتسریؒ، مولانا محمد منظور نعمانی ؒ، اور مولانا محمد یوسف بنوریؒ، مولانا محمد چراغ گوجرانوالہؒ اور دیگر بہت سی ایسی نابغہ شخصیتیں موجود تھیں، جن کو حضرت شاہ صاحبؒ نے رد قادیانیت پر مامور فرمایا۔ حضرت شاہ صاحبؒ اپنے تلامذہ سے عقیدۂ ختمِ نبوّت کے تحفظ اور رد قادیانیت کے لئے کام کرنے کا عہد لیتے تھے، اور ارشاد فرماتے تھے کہ جو شخص قیامت کے دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کے دامن شفاعت سے وابستہ ہونا چاہتا ہے وہ قادیانی درندوں سے ناموس رسالت کو بچائے۔ ان حضرات نے حضرت شاہ صاحبؒ کی وصیت کے مطابق فتنہ قادیانیت کے تعاقب کو اپنی زندگی کا مشن بنالیا۔

ج: … قادیانی اُمت کا مذہبی و دینی سطح پر محاسبہ تو علمائے اُمت شروع سے کرتے آرہے تھے، لیکن جدید طبقہ میں قادیانیوں سے روا داری کا مرض سرایت کئے ہوئے تھا، وہ سمجھتے تھے کہ قادیانیوں کے خلاف جو کچھ مذہبی اسٹیج سے کہا جارہا ہے وہ صرف ملاؤں کی افتاد طبع کا نتیجہ ہے، حضرت امام العصرؒ نے قادیانیت کے خلاف جدید طبقہ تک اپنی آواز پہنچانے کے لئے مولانا ظفر علی خانؒ ایڈیٹر ’’زمیندار‘‘ اور شاعر مشرق علامہ محمد اقبال مرحوم کو آمادہ کیا۔ مولانا سعید احمد اکبر آبادیؒ لکھتے ہیں:

’’باخبر حضرات جانتے ہیں کہ پنجاب کے خصوصاً اور

163

ہندوستان کے عموماً انگریزی تعلیم یافتہ حضرات میں قادیانی فتنہ کی شر انگیزی اور اسلام کشی کا جو احساس پایا جاتا ہے اس میں بڑا دخل ڈاکٹر اقبال مرحومؒ کے اس لیکچر کا ہے جو ختمِ نبوّت پر ہے اور ساتھ ہی اس مقالے کا ہے جو انگریزی میں قادیانی تحریک کے خلاف شائع ہوا تھا۔ لیکن یہ شاید بہت کم لوگوں کو معلوم ہے کہ دونوں تحریروں کا اصل باعث حضرتنا الاستاذ مولانا سیّد محمد انور شاہؒ ہی تھے۔‘‘

(بیس بڑے مسلمان ص:۷۷۳)

علامہ اقبال مرحوم نے اپنے خطبات و مقالات اور گفتگوئے مجالس میں قادیانیت کا فلسفی اور فلسفیاتی رنگ میں تجزیہ کیا، جس سے جدید طبقہ کو یہ سمجھنے میں مدد ملی کہ قادیانیت کا پس منظر کیا ہے، اور اُمتِ مسلمہ کے حق میں اس کے نتائج کس قدر مہلک ہوں گے؟ ڈاکٹر صاحب کے ان مقالات کا اردو ترجمہ حرفِ اقبال، اقبال اور قادیانی، ارمغان اقبال، انوار اقبال اور دیگر کتب و رسائل میں شائع ہو چکا ہے۔

مولانا ظفر علی خان مرحوم علی گڑھ کے گریجویٹ تھے، مگر اکابر دیوبند سے تعلق و وابستگی نے انہیں واقعی ’’مولانا‘‘ بنادیا تھا۔ موصوف نے ۰۱۹۱ء سے ’’زمیندار‘‘ کی ادارت سنبھالی اور نازک ترین دور میں قادیانیت کے خلاف نبرد آزما ہوئے اور جب تک جسم میں توانائی رہی وہ اس محاذ پر لڑتے رہے، آغا شورش کاشمیری مرحوم نے ’’تحریک ختمِ نبوّت‘‘ کے صفحہ ۱۶ سے صفحہ۴۷ تک مولانا ظفر علی خانؒ کی اس داستان وفا کی تفصیلات قلم بند کی ہیں، ۳۳۹۱ء کے ایک مقدمہ کے سلسلہ میں ذکر کیا ہے کہ:

’’عدالت نے وہ نوٹس پڑھ کر سنایا، جو اس مقدمہ کی بنیاد تھا کہ تمہارے اور احمدی جماعت کے درمیان اختلاف ہے تم نے اس کے عقائد اور اس کے مذہبی پیشوا پر حملے کئے ہیں، جس سے نقص امن کا اندیشہ ہوگیا ہے، وجہ بیان کرو کہ تم سے کیوں نہ نیک چلنی کی ضمانت طلب کی جائے۔‘‘

164

مولانا نے عدالت کو جواب دیتے ہوئے کہا:

’’میں آپ کو یقین دلاتا ہوں کہ مسلمانوں کے ہاتھوں مرزائیوں کو کسی قسم کا گزند نہ پہنچے گا، لیکن جہاں تک مرزا غلام احمد کا تعلق ہے ہم اس کو ایک بار نہیں ہزار بار دجال کہیں گے، اس نے حضور صلی اللہ علیہ و سلم کی ختم المرسلینی میں اپنی نبوّت کا ناپاک پیوند جوڑ کر ناموسِ رسالت پر کھلم کھلا حملہ کیا ہے، اپنے اس عقیدے سے میں ایک منٹ کے کروڑویں حصے کے لئے بھی دستکش ہونے کو تیار نہیں، اور مجھے یہ کہنے میں کوئی باک نہیں کہ مرزا غلام احمد دجال تھا، دجال تھا، دجال تھا۔ میں اس سلسلہ میں قانونِ انگریزی کا پابند نہیں، میں قانونِ محمدی کا پابند ہوں۔‘‘

(تحریک ختمِ نبوّت، مولفہ آغا شورش مرحوم ص:۸۶)

د: … حضرت امام العصر مولانا محمد انور شاہ کشمیریؒ نے تحریک ختمِ نبوّت کو باقاعدہ منظم کرنے کے لئے خطیب الامت حضرت مولانا سیّد عطاء اللہ شاہ بخاریؒ کو ’’امیر شریعت‘‘ مقرر کیا، اور انجمن خدام الدین کے ایک عظیم الشان اجلاس منعقدہ مارچ ۰۳۹۱ء میں ان کے ہاتھ میں ہاتھ دے کر ہندوستان کے ممتاز ترین پانچ سو علماء کی بیعت ان کے ہاتھ پر کرائی، ظاہر بین نظریں یہ دیکھ رہی تھیں دارالعلوم دیوبند کا صدر المدرسین حجۃ الاسلام علامہ محمد انور شاہ کشمیریؒ ’’امیر شریعت‘‘ کے ہاتھ پر بیعت کر رہا تھا، لیکن خود ’’امیر شریعت‘‘ کا تاثر یہ تھا کہ:

’’آپ یہ نہ سمجھیں کہ حضرت (مولانا سیّد محمد انور شاہؒ) نے میرے ہاتھ پر بیعت کی ہے، بلکہ حضرت نے مجھے اپنی غلامی میں قبول فرمایا ہے۔ یہ کہہ کر شاہ جیؒ زار و قطار رونے لگے اور ان کا سارا جسم کانپنے لگا۔‘‘

(حیاتِ امیرِ شریعت مؤلفہ محترم مرزا جانباز ص:۵۵۱)

بہرحال یہ بحث تو اپنی جگہ ہے کہ حضرت امام العصر کشمیریؒ، حضرت امیر شریعتؒ

165

کے ہاتھ پر بیعت کر رہے تھے؟ ان سے فتنہ قادیانیت کے استیصال کا عہد لے رہے تھے؟ مگر اس میں کیا شک ہے کہ حضرت امیر شریعتؒ اور ان کی جماعت نے قادیانیت کے محاذ پر جو کام کیا وہ حضرت امام العصرؒ کی باطنی توجہ اور دعا ہائے سحری کا ثمر تھا۔

حضرت امام العصرؒ کے وصال کے بعد امیر شریعت سیّد عطاء اللہ شاہ بخاریؒ، حضرت حکیم الامت مولانا اشرف علی تھانویؒ کی خدمت میں حاضر ہوئے، حضرت تھانویؒ نے نہایت شفقت سے حالات سنے اور تشریف آوری کی غرض دریافت فرمائی، شاہ جیؒ نے بے تکلفی سے عرض کیا کہ حضرت العلامہ مولانا سیّد محمد انور شاہ کشمیریؒ ہمارے روحانی پیشوا تھے، انہوں نے ہمیں رد قادیانیت کے کام پر لگادیا، چنانچہ مجلس احرار اسلام کا شعبہ تبلیغ اس کے لئے وقف ہے، حضرت کشمیریؒ کے سانحہ ارتحال کے بعد آپ سے دعائیں لینے کے لئے حاضر ہوا ہوں، حضرت حکیم الامت نے دریافت کیا کہ آپ کی جماعت کا رکن بننے کے لئے کیا کوئی شرط بھی ہے؟ عرض کیا کہ ایک روپیہ سالانہ رکنیت کی فیس ادا کرکے ہر مسلمان، جماعت کا رکن بن سکتا ہے، حضرتؒ نے ارشاد فرمایا کہ یہ تو معلوم نہیں کہ زندگی کے کتنے دن باقی ہیں، تاہم مجھے پچّیس سال کے لئے اپنی جماعت کا رکن بنالیجئے اور اگر اس سے زیادہ جیتا رہا تو پھر رکنیت کی تجدید کرلوں گا، یہ کہہ کر پچّیس روپے عطا فرمائے اور پچّیس سال کے لئے رکنیت قبول فرمالی۔

(روایت مولانا محمد علی جالندھریؒ)

بظاہر یہ ایک معمولی نوعیت کا واقعہ ہے، لیکن اس سے مسئلہ ختمِ نبوّت کے ساتھ علمائے دیوبند کے غیر معمولی شغف کا اندازہ ہوتا ہے، حضرت امام العصرؒ مولانا سیّد انور شاہ کشمیریؒ، مجلس احرار اسلام کا رخ فتنہ قادیانیت کی طرف موڑنے کے لئے سیّد عطاء اللہ شاہ بخاریؒ کو ’’امیر شریعت‘‘ کے منصب پر کھڑا کرتے ہیں، اور خود بنفس نفیس ان کے ہاتھ پر بیعت کرکے ان پر کامل اعتماد کا اظہار فرماتے ہیں، ادھر حضرت حکیم الامت تھانویؒ، مجلس احرار اسلام کے شعبہ تبلیغ کی رکنیت قبول فرماکر گویا امیر شریعتؒ کی اس جہاد میں قیادت کو قبول فرماتے ہیں۔

حضرت تھانویؒ جب تک حیات رہے ان کی توجہ اور دُعا اور ہر قسم کی اعانت

166

مجاہدین ختمِ نبوّت کے شامل حال رہی، ان کے وصال کے بعد قطب العالم حضرت مولانا عبدالقادر رائے پوریؒ اس قافلہ کے سالار بن گئے، ’’احرار اسلام‘‘ کے اکابر حضرت رائے پوریؒ کے حلقہ ارادت میں منسلک اور حضرتؒ کی عنایات و توجہات سے مستفید تھے، جن لوگوں کو حضرت رائے پوریؒ کی صحبت میں بیٹھنے کا اتفاق ہوا انہیں علم ہے کہ حضرتؒ، قادیانی فتنہ کے بارے میں کس قدر گہرا احساس رکھتے تھے، ایسا معلوم ہوتا تھا کہ حضرت مولانا محمد انور شاہ کشمیریؒ کی نسبت حضرت رائے پوریؒ کی طرف منتقل ہوگئی ہے۔ حضرتؒ، مجاہدین ختمِ نبوّت کی سرپرستی فرماتے، ان کی مالی خدمت کرتے، انہیں مفید مشورے دیتے، ان سے کار گزاری کی باقاعدہ رپورٹ سنتے، اور ان حضرات کی بے حد قدردانی اور حوصلہ افزائی فرماتے۔

حضرت رائے پوریؒ کے حکم سے مولانا ابوالحسن علی ندویؒ نے اپنی شہرہ آفاق کتاب ’’القادیانی و القادیانیۃ‘‘ عربی میں تالیف فرمائی، اور پھر حضرت کے مکرر حکم سے اس کا اردو ایڈیشن ’’قادیانیت‘‘ کے نام سے مرتب فرمایا۔ دونوں کتابوں کا ایک ایک حرف حضرتؒ نے سنا، مولانا محمد ابراہیم میر سیالکوٹی کی کتاب ’’شہادۃ القرآن‘‘ کو بھی حرفاً حرفاً سن کر اس کی اشاعت کا (عالمی مجلس تحفظ ختمِ نبوّت ملتان کو) حکم فرمایا، اس سلسلہ میں حضرت رائے پوریؒ کے عجیب و غریب واقعات ایسے ہیں جن کو یہاں ذکر کرنا افشائے راز کے زمرہ میں آئے گا۔

۹:تنظیمِ ملت اور علمائے دیوبند:

علمائے اُمت قادیانی فتنہ کا مقابلہ انفرادی طور پر اپنے اپنے رنگ میں شروع ہی سے کر رہے تھے، مگر علمائے دیوبند نے محسوس کیا کہ ’’تحفظ ختمِ نبوّت‘‘ کے لئے مسلمانوں کو منظم کرنے کی ضرورت ہے، اس کے لئے ایک ایسی مضبوط جماعت ہونی چاہئے جو ناموس رسالت کی خاطر کسی قربانی سے دریغ نہ کرے، اور وہ فتنہ قادیانیت کے استیصال کو اپنا مشن بنالے، اس کے لئے حضرت مولانا محمد انور شاہ کشمیریؒ کی نظر انتخاب ’’مجلس احرار اسلام‘‘ پر

167

پڑی، اور فتنہ قادیانیت کا منظم مقابلہ کرنے کے لئے ’’احرار اسلام‘‘ کے قائد حضرت مولانا سیّد عطاء اللہ شاہ بخاریؒ کو ’’امیر شریعت‘‘ مقرر فرمایا۔

’’احرار اسلام‘‘ کے سرفروش، فرنگی اقتدار سے نبرد آزما تھے، ادھر قادیانی نبوّت فرنگی اقتدار کی سیاسی شطرنج کا مذہبی مہرہ تھی، اس لئے ’’احرار اسلام‘‘ کو جس قدر نفرت انگریز اور انگریزی اقتدار سے تھی اور اس سے کئی سو گنا زیادہ قادیانی کی سیاسی نبوّت سے تھی، جس نے اسلام کی تحریف و تکذیب اور برطانیہ کی خوشامد و چاپلوسی کو اپنا شعار بنارکھا تھا، ’’احرار اسلام‘‘ نے قادیانی نبوّت کے مقابلہ میں جو کچھ کیا اس کا تذکرہ، ’’تاریخ احرار‘‘، ’’حیات امیر شریعت‘‘ اور ’’تحریک ختمِ نبوّت‘‘ میں ملاحظہ کیا جاسکتا ہے، مختصراً چند امور کی جانب یہاں اشارہ کردینا مناسب ہوگا۔

تحریکِ کشمیر:

۱۳۹۱ء میں کشمیر کی ڈوگرہ حکومت کے خلاف مسلمانان کشمیر نے علم حریت بلند کیا، قادیانی خلیفہ مرزا محمود نے موقع کو غنیمت سمجھ کر ’’آل انڈیا کشمیر کمیٹی‘‘ کی تشکیل کی، جس کا صدر خود مرزا محمود قادیانی تھا، اور سیکرٹری شپ بھی قادیانیوں کے ہاتھ میں تھی، ہندوستان کے بڑے نام آور لوگ اس کمیٹی کے رکن تھے، اس کمیٹی کا مقصد مسلمانان کشمیر کی داد رسی ظاہر کیا گیا، لیکن اندرونی مقاصد کچھ اور تھے، ان میں سب سے بڑا مقصد یہ ظاہر کرنا تھا کہ ہندوستان کے چوٹی کے لیڈر مرزا محمود کی قیادت میں متحد ہیں، اور وہ انہیں اپنا قائد اور پیشوا تسلیم کرتے ہیں، یہ گویا ان مذہبی فتوؤں کا جواب تھا جو علمائے اُمت کی جانب سے قادیانیوں کے خلاف صادر ہو رہے تھے، ’’احرار اسلام‘‘ نے اس قادیانی سازش کا بروقت نوٹس لیا اور قادیانی عزائم کو طشت ازبام کیا، نتیجہ ’’آل انڈیا کشمیر کمیٹی‘‘ اپنی موت آپ مرگئی اور علامہ محمد اقبال مرحوم نے اپنے بیانات میں قادیانی ذہنیت کو جو اس کمیٹی کے قیام میں کارفرما تھی، عالم آشکارا کردیا۔

قادیان میں داخلہ:

168

قادیانی خلیفہ (میرزا محمود) قادیاں کی آبائی ریاست میں قوس ’’لمن الملک الیوم‘‘ بجا رہا تھا، قادیان میں مرزائی جماعت کے علاوہ نہ کسی کی جان محفوظ تھی، نہ عزت و آبرو کا لحاظ تھا، دن دہاڑے قتل ہوجاتے اور کوئی باز پرس نہ کرسکتا، غریب مظلوموں کا بائیکاٹ کردیا جاتا، دکانداروں سے عہد لیا جاتا کہ وہ خلیفہ صاحب کے خلاف منشا کسی کے پاس خورد و نوش کی کوئی چیز فروخت نہیں کریں گے۔ ’’احرار اسلام‘‘ نے قادیاں کے حسن بن صباحی طلسم کو توڑنے کے لئے ۴۳۹۱ء میں قادیان میں اپنا دفتر قائم کردیا، اور مظلومان قادیاں کی داد رسی کے لئے ایک ڈیفنس کمیٹی بنادی گئی۔ ’’احرار اسلام‘‘ کی اس جرأت نے خلیفہ قادیاں کو چراغ پا کردیا، اور ظلم و ستم میں اضافہ ہونے لگا، لیکن تابکے؟ بالآخر وہ وقت آیا کہ خلیفہ قادیان کے ’’خفیہ اسرار‘‘ کی شہادت دینے کے لئے پردہ نشینان قادیاں عدالت میں پہنچ گئیں، قادیان میںکیا کچھ ہوتا تھا؟ اور ’’احرار اسلام‘‘ کے جانفروشوں نے قادیانی مظالم کا کس جرأت و مردانگی سے مقابلہ کیا؟ یہ ایک طویل داستان ہے جو درد ناک بھی ہے اور عبرت آموز بھی مگر افسوس ہے کہ یہ فرصت اس کے لئے موزوں نہیں۔

احرار تبلیغ کانفرنس:

قادیان کی سنگینی توڑنے کے لئے ’’احرار اسلام‘‘ نے ۱۲، ۲۲،۳۲ اکتوبر ۴۳۹۱ء کی تاریخوں میں ’’قادیان تبلیغ کانفرنس‘‘ منعقد کرنے کا فیصلہ کرلیا، اس فیصلے کا اعلان ہونا تھا کہ قادیان میں صف ماتم بچھ گئی۔ آقایان فرنگ کے در دولت پر دستک دی گئی کہ ’’احرار‘‘ ہمارے مقدس شہر پر چڑھائی کر رہے ہیں، خلیفہ محمود نے ہر وقت صورت حال کا جائزہ لینے کے لئے ایک محکمہ قائم کردیا، ادھر میرزا محمود نے اپنے طویل طویل خطبوں میں اپنی مظلومیت و بے بسی اور خوف و ہراس کا صور پھونکنا شروع کیا، حکومت برطانیہ کب برداشت کرسکتی تھی کہ اس کے چہیتے خاندان اور ان کی سیاسی نبوّت کو کوئی آنچ آئے، نتیجتاً قادیان کے حدود میں دفعہ ۴۴۱ نافذ کردی گئی۔

مجبوراً احرار کو ’’تبلیغ کانفرنس‘‘ قادیان کے حدود کے متصل موضع رجادہ میں منعقد

169

کرنا پڑی، کانفرنس کی صدارت امیر شریعت سیّد عطاء اللہ شاہ بخاریؒ نے فرمائی، اور ہندوستان کے اطراف و اکناف سے مسلمانان ہند ’’تبلیغ کانفرنس‘‘ میں شرکت کے لئے پہنچ گئے۔ شاہ جیؒ نے اس موقع پر صدارتی تقریر فرمائی جو عشاء کے بعد سے شروع ہوکر اذان فجر تک جاری رہی۔ اس میں قادیانیت کا اپنے مخصوص انداز میں ایسا تجزیہ کیا کہ قادیان میں کھلبلی مچ گئی۔ مرزائی، گورنمنٹ کے دروازے پر فریاد لے کر پہنچے اور گورنمنٹ نے شاہ جیؒ پر ۳۵۱-الف کے تحت مقدمہ بنادیا۔ مقدمہ کی سماعت دیوان سکھا آنند اسپیشل مجسٹریٹ گورداسپور نے کی۔ شاہ جیؒ نے شہادت کے لئے مرزائیوں کے بڑے بڑے لوگوں کے علاوہ مرزا محمود کو بھی عدالت میں طلب کرنے کی درخواست کی، چنانچہ میرزا محمود کی شہادت تین دن تک جاری رہی، بالآخرعدالت نے شاہ جیؒ کو چھ ماہ قید بامشقت کی سزا دی، اس فیصلہ کے خلاف مسٹر جے، ڈی کھوسلہ سیشن جج گورداسپور میں اپیل کی گئی، مسٹر کھوسلہ نے ملزم کے جرم کو محض اصطلاحی قرار دیتے ہوئے تابرخاست عدالت سزا دی، اور ایک تاریخ ساز فیصلہ لکھا۔

مسٹر کھوسلہ کا فیصلہ:

مرزائیوں نے ’’احرار‘‘ کی گوشمالی کے لئے شاہ جیؒ پر مقدمہ بنوایا تھا۔ لیکن خدا کی قدرت انہیں لینے کے دینے پڑگئے۔ شاہ جیؒ کی تبلیغ کانفرنس کی تقریر سے مرزائیت کی ہوا کیا اکھڑی تھی جو اس مقدمے سے اکھڑی، مسٹر کھوسلہ کا یہ تاریخی فیصلہ جو قادیانیت کے لئے پیغام موت کی حیثیت رکھتا ہے طبع ہوچکا ہے، اس کے چند اقتباسات ملاحظہ فرمائیں:

الف:۔۔۔’’مرافعہ گزار کے خلاف جو الزام عائد کیا گیا ہے، اس پر غور و خوض کرنے سے قبل چند ایسے حقائق و واقعات بیان کردینا ضروری معلوم ہوتا ہے جن کا تعلق امور زیر بحث سے ہے، آج سے تقریباً پچاس سال قبل قادیان کے ایک باشندے مسمی غلام احمد نے دنیا کے سامنے یہ دعویٰ پیش کیا کہ میں مسیح موعود ہوں۔ اس

170

کے اعلان کے ساتھ ہی اس نے ’’لاٹ پادری‘‘ کی حیثیت بھی اختیار کرلی اور ایک نئے فرقے کی بنا ڈالی، جس کے ارکان اگرچہ مسلمان ہونے کے مدعی تھے، لیکن ان کے بعض عقائد و اصول عام عقائد اسلامی سے بالکل متبائن تھے۔ اس فرقہ میں شامل ہونے والے لوگ قادیانی یا مرزائی یا احمدی کہلاتے ہیں، اور ان کا مابہ الامتیاز یہ ہے کہ یہ لوگ فرقہ مرزائیہ کے بانی (میرزا غلام احمد) کی نبوّت پر ایمان رکھتے ہیں۔‘‘

ب:۔۔۔’’مسلمانوں کی اکثریت نے مرزائیوں کے بلند بانگ دعاوی خصوصاً ان کے دینی تفوق کے دعوؤں پر بہت ناک منہ چڑھایا اور مرزا نے ان پر کفر کا الزام لگایا، اس کے جواب میں ان لوگوں نے بھی سخت لہجہ اختیار کیا، مگر قادیانی حصار میں رہنے والے اس سے کچھ بھی متاثر نہ ہوئے۔‘‘

ج:۔۔۔’’قادیانی مقابلتاً محفوظ تھے، اس حالت نے ان میں متمردانہ غرور پیدا کردیا۔ انہوں نے اپنے دلائل دوسرے سے منوانے اور اپنی جماعت کو ترقی دینے کے لئے ایسے حربوں کا استعمال شروع کردیا جنہیں ناپسندیدہ کہا جائے گا، جن لوگوں نے قادیانیوں کی جماعت میں شامل ہونے سے انکار کیا انہیں بائیکاٹ، قادیاں سے اخراج اور بعض اوقات اس سے بھی مکروہ تر مصائب کی دھمکیاں دے کر دہشت انگیزی کی فضا پیدا کی، بلکہ بسا اوقات انہوں نے ان دھمکیوں کو عملی جامہ پہناکر اپنی جماعت کے استحکام کی کوشش کی، قادیاں میں رضاکاروں کا ایک دستہ مرتب ہوا اور اس کی ترتیب کا مقصد غالباًیہ تھا کہ قادیاں میں ’’لمن الملک الیوم‘‘ کا نعرہ بلند کرنے کے لئے طاقت پیدا کی جائے۔‘‘

171

د:۔۔۔’’انہوں نے عدالتی اختیارات بھی اپنے ہاتھ میں لے لئے، دیوانی اور فوجداری مقدمات کی سماعت کی، دیوانی مقدمات میں ڈگریاں صادر کیں اور ان کی تعمیل کرائی گئی، کئی اشخاص کو قادیان سے نکالا گیا، یہ قصہ یہیں نہیں ختم ہوتا، بلکہ قادیانیوں کے خلاف کھلے طور پر الزام لگایا گیا کہ انہوں نے مکانوں کو تباہ کیا، جلایا اور قتل کے مرتکب ہوئے۔‘‘

ھ:۔۔۔’’کم از کم دو اشخاص کو قادیان سے اخراج کی سزا دی گئی، اس لئے کہ ان کے عقائد مرزا کے عقائد سے متفاوت تھے۔ یہ اشخاص حبیب الرحمن گواہ صفائی نمبر۸۲ اور مسمی اسماعیل ہیں۔‘‘ ’’کئی اور گواہوں نے قادیانیوں کے تشدد و ظلم کی عجیب و غریب داستانیں بیان کی ہیں۔‘‘ بھگت سنگھ گواہ صفائی نے بیان کیا کہ قادیانیوں نے اس پر حملہ کیا، ایک شخص مسمی غریب شاہ کو قادیانیوں نے زدوکوب کیا، لیکن جب اس نے عدالت میں استغاثہ کرنا چاہا تو کوئی اس کی شہادت دینے کے لئے سامنے نہ آیا۔‘‘

و:۔۔۔’’سب سے سنگین معاملہ عبدالکریم ایڈیٹر ’’مباہلہ‘‘ کا ہے، جس کی داستان، داستان درد ہے، یہ شخص مرزا کے مقلدین میں شامل ہوا اور قادیان میں جاکر مقیم ہوگیا وہاں اس کے دل میں شکوک پیدا ہوئے اور وہ مرزائیت سے تائب ہوگیا۔ اس کے بعد اس پر ظلم و ستم ہوا۔ اس نے قادیانی معتقدات پر تبصرہ کرنے کے لئے ’’مباہلہ‘‘ نامی اخبار جاری کیا۔ مرزا بشیر الدین نے ایک تقریر میں ’’مباہلہ‘‘ والوں کی موت کی پیش گوئی کی، اس تقریر میں ان لوگوں کا بھی ذکر کیا گیا ہے، جو مذہب کے لئے ارتکاب قتل پر بھی تیار ہوجاتے ہیں، اس تقریر کے بعد جلد ہی عبدالکریم پر قاتلانہ حملہ کیا

172

گیا، مگر وہ بچ گیا، لیکن اس کا ساتھی قتل کردیا گیا۔‘‘

مولانا عبدالکریم کو مرزا محمود کے کیرکٹر پر اعتراض تھا، وہ مرزا محمود سے مطالبہ کرتے تھے کہ اگر آپ پر عائد الزامات غلط ہیں تو آئیے ’’مباہلہ‘‘ کرلیجئے۔ اخبار ’’مباہلہ‘‘ میں انہوں نے مرزا محمود کو بار بار مباہلہ کا چیلنج دیا، اس کے جواب میں مرزائی جماعت کی جانب سے انہیں وہ سزا دی گئی جس کا تذکرہ فاضل جج نے کیا ہے۔ناقل۔

ز:۔۔۔’’محمد امین ایک مرزائی تھا اور جماعت مرزائیہ کا مبلغ تھا۔ اس کو تبلیغ کے لئے بخارا بھیجا گیا، لیکن کسی وجہ سے بعد میں اسے اس خدمت سے علیحدہ کردیا گیا، اس کی موت کلہاڑی کی ایک ضرب سے ہوئی جو چوہدری فتح محمد گواہ صفائی نمبر۱۲ نے لگائی۔ محمد امین پر مرزا کا عتاب نازل ہوچکا تھا، محمد امین تشدد کا شکار ہوا اور کلہاڑی کی ضرب سے قتل کیا گیا۔ پولیس میں وقوعہ کی اطلاع پہنچی لیکن کوئی کاروائی عمل میں نہ آئی۔ چوہدری فتح محمد کا عدالت ہٰذا میں باقرار صالح یہ بیان کرنا تعجب انگیز ہے کہ اس نے محمد امین کو قتل کیا مگر پولیس اس معاملہ میں کچھ نہ کرسکی، جس کی وجہ یہ بیان کی گئی کہ مرزائیوں کی طاقت اس حد تک بڑھ چکی تھی کہ گواہ سامنے آکر سچ بولنے کی جرأت نہیں کرسکتا تھا۔‘‘

ح:۔۔۔’’ہمارے سامنے عبدالکریم کے مکان کا واقعہ بھی ہے کہ عبدالکریم کو قادیان سے خارج کرنے کے بعد اس کا مکان نذر آتش کردیا گیا اور قادیان کی سمال ٹاؤن کمیٹی سے حکم حاصل کرکے نیم قانونی طریقے پر اسے گرانے کی کوشش کی گئی۔‘‘

ط:۔۔۔’’یہ افسوسناک واقعات اس بات کی منہ بولتی شہادت ہیں کہ قادیان میں قانون کا احترام بالکل اٹھ گیا تھا، آتش زنی اور قتل کے واقعات ہوتے تھے، مرزا نے کروڑوں مسلمانوں کو

173

جو اس کے ہم عقیدہ نہ تھے شدید دشنام طرازی کا نشانہ بنایا، اس کی تصانیف ایک لاٹ پادری کے اخلاق کا انوکھا مظاہرہ ہیں، جو صرف نبوّت کا مدعی نہ تھا بلکہ خدا کا برگزیدہ انسان اور مسیح ثانی ہونے کا مدعی بھی تھا۔‘‘

ی:۔۔۔’’معلوم ہوتا ہے کہ حکام غیر معمولی حد تک مفلوج ہوچکے تھے، دینی و دنیاوی معاملات میں مرزا کے حکم کے خلاف کبھی آواز بلند نہیں ہوئی، مقامی افسروں کے پاس کئی مرتبہ شکایت پیش ہوئی لیکن وہ اس کے انسداد سے قاصر رہے۔ مسل پر کچھ اور شکایات بھی ہیں لیکن یہاں ان کے مضمون کا حوالہ دینا غیرضروری ہے۔ اس مقدمہ کے سلسلہ میں صرف یہ بیان کردینا کافی ہے کہ قادیان میں جور و ستم رانی کا دور دورہ ہونے کے متعلق نہایت واضح الزامات عائد کئے گئے ہیں، لیکن معلوم ہوتا ہے کہ (حکومت کی طرف سے اس صورت حال کے انسداد کے لئے) کوئی توجہ نہ ہوئی۔ ان کاروائیوں کے سدباب کے لئے اور مسلمانوں میںزندگی کی روح پیدا کرنے کے لئے تبلیغ کانفرنس منعقد کی گئی۔‘‘

اس کے بعد فاضل جج نے تفصیل سے مقدمہ پر بحث کی ہے، ان اقتباسات سے اندازہ ہوجاتا ہے کہ قادیان کے غیر مرزائی افراد کس قسم کی حالت سے دوچار تھے اور ’’احرار اسلام‘‘ نے کتنی سنگلاخ زمین میں اپنا کام شروع کیا تھا۔

مباہلہ کا چیلنج:

مرزا غلام احمد قادیانی کے زمانہ سے مرزائی اُمت کی یہ عادت چلی آتی ہے کہ بلند بانگ دعوؤں کے ذریعہ لوگوں پر رعب جمایا جائے اور جب امتحان کا وقت آئے تو کوئی نہ کوئی حیلہ کرکے بلائے ناگہانی کو ٹالنے کی کوشش کی جائے۔ ۵۳۹۱ء میں ’’احرار‘‘ کی یورش

174

سے تنگ آکر میرزا محمود نے ’’احرار‘‘ کو مباہلہ کی دعوت دی، اپنی طرف سے شرائط مقرر کرکے اعلان کردیا کہ ’’احرار‘‘ ہمارے ساتھ مباہلہ کی شرائط طے کرلیں ’’احرار‘‘ تو میرزا محمود کے رخ زیبا کے عاشق تھے، انہوں نے فی الفور اعلان کردیا کہ ہماری طرف سے کوئی شرط نہیں ہم فلاں تاریخ کو قادیان حاضر ہوجائیں گے۔ یہ خبر اخبار ’’مجاہد‘‘ میں چھپی تو مرزا محمود کے ہاتھ کے طوطے اڑ گئے، فوراً واویلا کیا کہ ’’احرار‘‘ شرائط مباہلہ طے کئے بغیر قادیان پر چڑھائی کرنا چاہتے ہیں ان کو روکا جائے ـــــ احرار کا موقف یہ تھا کہ مباہلہ کی دعوت آپ نے دی ہے، شرائط آپ نے پیش کی ہیں، ہماری طرف سے کوئی شرط نہیں عائد کی گئی، بس ذرا آنے کی اجازت ہوجائے، مگر میرزا محمود صاحب تو صرف اعلان کی حد تک مباہلہ کا رعب ڈالنا چاہتے تھے، انہیں کیا خبر تھی کہ ’’احرار‘‘ سچ مچ قادیان میں آدھمکیں گے۔ چنانچہ پھر حکومت عالیہ کے دربار میں درخواست کی گئی کہ ’’احرار‘‘ قادیان میں فلاں تاریخ کو آنے کا اعلان کرچکے ہیں، انہیں حکماً روکا جائے، حکومت نے دفعہ ۴۴۱ نافذ کردی اور مرزا صاحب کی جان میں جان آئی۔

مباہلہ کا نتیجہ:

یہاں اس امر کا ذکر دلچسپی سے خالی نہ ہوگا کہ ایک طرف تو حکومت کو ’’احرار‘‘ کے قادیان آنے سے روکنے پر مجبور کیا جارہا تھا اور دوسری طرف شیخ عبدالرحمن مصری کو (جو اس زمانہ میں مرزا محمود کے بہت بڑے معتمد تھے) احرار کو شرائط کے جال میں الجھانے کے لئے لاہور روانہ کردیا گیا، ہدایت یہ تھی کہ جب تک حکومت کا حکم ’’احرار‘‘ کو روکنے کے لئے جاری نہیں ہوجاتا، اس وقت تک شرائط کا عقدہ حل نہ ہونے دیا جائے، چنانچہ جوں ہی حکومت نے ’’احرار‘‘ کے داخلہ قادیان پر پابندی عائد کی، فوراً شیخ عبدالرحمن مصری کو تار اور خط کے ذریعہ اطلاع دی گئی کہ اب ’’احرار‘‘ سے شرائط طے کرنے کی ضرورت نہیں، فوراً واپس چلے آؤ، اس خط اور تار کی مصدقہ نقل ہمارے پاس موجود ہے۔

175

لیکن اس مباہلہ کا اثر یہ ہوا کہ یہی شیخ عبدالرحمن مصری جن کو نومبر ۵۳۹۱ء میں احرار سے شرائط طے کرنے کے لئے بھیجا گیا، ۷۳۹۱ء میں خود ہی مباہلہ کے میدان میں مرزا محمود کو چیلنج کرنے لگا اور جب مرزا صاحب اپنی صفائی پیش کرنے سے کنی کترا گئے تو اس نے عدالت کا دروازہ کھٹکھٹایا، عدالت میں شیخ مصری نے جو حلفیہ بیان، مرزا محمود کے بارے میں دیا، وہ یہ تھا:

’’موجودہ خلیفہ (مرزا محمود) سخت بدچلن ہے، یہ تقدس کے پردے میں عورتوں کا شکار کھیلتا ہے، اس کام کے لئے اس نے بعض مردوں اور بعض عورتوں کو بطور ایجنٹ رکھا ہوا ہے، ان کے ذریعہ یہ معصوم لڑکیوں اور لڑکوں کو قابو کرتا ہے، اس نے ایک سوسائٹی بنائی ہوئی ہے جس میں مرد اور عورتیں شامل ہیں اور اس سوسائٹی میں زنا ہوتا ہے۔‘‘

(فتح حق ص:۱۴ شائع کردہ: احمدیہ انجمن اشاعت اسلام لاہور)

شیخ مصری کا یہ بیان مذہبی تاریخ میں انوکھی مثال ہے کہ ایک مرید اپنے واجب الاطاعت خلیفہ کے بارے میں حلفیہ طور پر اپنی رائے کا اظہار عدالت میں اتنے سنگین الفاظ میں کرے ــــ اگر شیخ مصری کے اس بیان کو احرار سے مباہلہ کا نتیجہ کہا جائے تو کیا یہ بے جا ہوگا؟

احرار کی تنفیری مہم:

’’احرار‘‘ کے نزدیک قادیانی، ناموس رسالت کے قزاق اور انگریز کے وفادار پالتو تھے، قادیانی نبوّت، سراسر مکاری و عیاری اور دجل و تلبیس کا دام فریب تھا۔ قادیانیوں کی حکومت کے لئے جاسوسی اور خوشامد، اسلام اور مسلمانوں سے غداری کے مترادف تھی، اس لئے احرار کے کسی گوشۂ دل میں مرزائیت اور مرزائیوں کی عزت و احترام کے لئے کوئی جگہ نہیں تھی، وہ قادیانیت کو کسی سنجیدہ بحث و تجزیہ کا مستحق نہیں سمجھتے تھے، ان کے خیال میں

176

مرزائیت، اسلام اور پیغمبر اسلام (صلی اللہ علیہ و سلم) سے ایک مذاق کی حیثیت رکھتی تھی اور مرزائی جماعت ایک مسخروں کا ٹولہ تھا۔ اس لئے احرار نے علمی بحثوں سے ہٹ کر مسلمانوں کو قادیانیوں سے نفرت دلانے پر توجہ کی اور اسے اپنے مذہبی فرائض میں شامل کرلیا۔

احرار کی تنفیری مہم کے کئی پہلو تھے، ان میں سب سے اہم پہلو یہ تھا کہ مرزا غلام احمد اور ان کے حورایوں کے اخلاق و کردار کو ان کی کتابوں سے پیش کیا جاتا اور مسلمانوں کو توجہ دلائی جاتی کہ جن لوگوں کی یہ حالت ہو، کیا وہ نبی، مسیح موعود یا مذہبی پیشوا ہوسکتے ہیں؟ احرار جگہ جگہ جلسے کرتے اور مرزائی لٹریچر سے وہ مواد پیش کرتے جس سے مرزائیت ایک اضحوکہ بن کر رہ جائے، مرزائیوں کو شکایت ہوتی کہ ’’احرار‘‘ ان کے ’’مسیح موعود‘‘ کو گالیاں نکالتے ہیں، ان کے خلیفہ صاحب کی بے ادبی کرتے ہیں، لیکن یہ شکایت بے جا تھی، احرار کا جرم اگر تھا تو یہ تھا کہ وہ مرزائی لٹریچر کے آئینے میں مرزائیت کا بھیانک چہرہ لوگوں کے سامنے پیش کردیتے تھے، مثلاً سیرۃ المہدی میں صاحبزادہ مرزا بشیر احمد قادیانی نے بہت سے واقعات درج کئے کہ مرزا غلام احمد نامحرم عورتوں سے ربط رکھتے تھے، نامحرم جوان لڑکیاں شب تنہائی میں ان کی ’’خدمت‘‘ کیا کرتی تھیں، ان کے کمرہ خاص میں ان کے سامنے غیرعورتیں بلا تکلف برہنہ غسل فرمایا کرتی تھیں اور اس قسم کے بے شمار واقعات احرار بیان کرتے تو لوگ سن کر کانوں پر ہاتھ رکھ لیتے اور مرزائیوں کی طرف سے واویلا کیا جاتا کہ احرار ہمیں گالیاں دیتے ہیں۔ یہاں بطور مثال ایک ’’مرزائی فتویٰ‘‘ درج کیا جاتا ہے جس سے انسانی ذہنیت کا اندازہ ہوسکے گا۔ مرزا صاحب کے خاص اخبار ’’الحکم قادیاں‘‘ شمارہ ۳۱ جلد۱۱ مؤرخہ ۷۱؍اپریل ۷۰۹۱ء میں ’’استفسار اور ان کے جواب‘‘ کے زیر عنوان کسی محمد حسین نامی مرزائی کے چند سوالات کا جواب شائع ہوا، ان کا چھٹا سوال یہ تھا: ’’سوال ششم حضرت اقدس (مرزا غلام احمد) غیرعورتوں سے ہاتھ پاؤں کیوں دبواتے ہیں؟‘‘ اس کے جواب میں مرزائیوں کے مفتی صاحبان نے علم و فقاہت کے پر نوچتے ہوئے جو دلچسپ جواب دیا وہ یہ تھا:

177

’’جواب: وہ نبی معصوم ہیں، ان سے مس کرنا اور اختلاط منع نہیں، بلکہ موجب رحمت و برکات ہے اور یہ لوگ احکام حجاب سے مستثنیٰ ہیں، دیکھو سوالات دوم تا پنجم کے جوابات۔ (۲)اُمت اپنے نبی کی روحانی اولاد ہوتی ہے اس لئے وہاں زنا اور تہمت زنا کا احتمال نہیں۔‘‘

ساتواں سوال مرزا صاحب کے صاحبزادوں سے متعلق تھا کہ وہ بھی نامحرم عورتوں سے اختلاط رکھتے ہیں، ایسا کیوں ہے؟ اس کا جواب اس سے بھی زیادہ دلچسپ ہے:

’’سوال ہفتم: حضرت کے صاحبزادے غیر عورتوں میں بلاتکلف اندر کیوں جاتے ہیں؟ کیا ان سے پردہ درست نہیں؟‘‘

جواب:آپ نے اس سوال کے وقت جلدی سے کام لیا اور غور نہیں کیا کہ پردہ کرنے کی پابند عورتیں ہیں، یا عورتوں کے پردہ کرانے کے بھی پابند مرد ہی ہیں؟ غرض مردوں کو حکم ہے: ’’یغضوا من ابصارھم‘‘ ۸۱/۴ یعنی مرد اپنی آنکھیں نیچے رکھیں، اگر آپ یہ اعتراض کرتے کہ صاحبزادے غیرعورتوں کی طرف دیکھتے ہیں اور غض بصر نہیں کرتے اور اس کا کوئی ثبوت بھی آپ پیش کرتے تو اس کے جواب کی ضرورت بھی ہوتی۔ اللہ تعالیٰ تو فرماتا ہے:’’لست علیھم بمصیطر‘‘ یعنی تو ان پر داروغہ نہیں کہ ان سے عمل درآمد کراوے اور منواوے، جب مامور کسی کا داروغہ نہیں تو کیا صاحبزادے عورتوں سے پردہ کرانے کے ذمہ دار ہیں؟ مستثنیات کے ذکر میں اور قانون کے وجوہ اور منشا بیان کرتے ہوئے میں نے لکھ دیا ہے کہ ضرورت حجاب صرف احتمال زنا کے لئے ہے، جہاں ان کے وقوع کا احتمال کم ہو ان کو اللہ تعالیٰ نے مستثنیٰ کردیا ہے، اس واسطے انبیاء اور اَتقیاء لوگ مستثنیٰ بلکہ بطریق اولیٰ مستثنیٰ ہیں، پس

178

حضرت کے صاحبزادے اللہ تعالیٰ کے فضل سے متقی ہیں، ان سے اگر حجاب نہ کریں تو اعتراض کی بات نہیں۔‘‘

(الحکم ۷۱؍اپریل ۷۰۹۱ء ص:۳۱)

اس سوال اور جواب کو بار بار پڑھئے، قادیانی مفتی یہ تسلیم کرتا ہے کہ حضرت صاحب نامحرم عورتوں سے ہاتھ پاؤں دبوانے کی خدمت لیا کرتے تھے اور ان کے صاحبزادگان گرامی قدر بھی ’’بلاتکلف‘‘ نامحرم عورتوں کے مجمع میں تشریف لے جانے کے خوگر تھے، مگر مرزائی مفتی کی منطق یہ ہے کہ وہ چونکہ نبی اور نبی زادے ہیں اس لئے پردہ کا حکم الٰہی ان پر لاگو نہیں ہوتا، حکم احکام یہ تو امتیوں کے لئے ہیں، قادیان کا خانوادہ نبوّت تو اتنا مقدس ہے کہ غیرمحرم عورتیں اس سے جس قدر مس و اختلاط زیادہ کریں گی اتنی ہی رحمتیں اور برکتیں ان پر نازل ہوں گی۔ لَا حول و لَا قوۃ الّا باللہ۔

اب غور فرمائیے کیا یہ فتویٰ اور یہ منطق سنجیدہ بحث و نظر کی مستحق ہے؟ یہ صرف ایک مثال عرض کی گئی ہے، ورنہ قادیانی لٹریچر اس قسم کے ہزلیات و ہفوات کے تعفن سے بھرا ہوا ہے۔ جس کی خصوصیت یہ ہے کہ وہ جب تک مرزائی حلقوں تک محدود رہے تب تک وہ ’’اسرار و معارف‘‘ کے نام سے یاد کیا جاتا ہے، اور جب اسے پبلک اسٹیج پر پیش کیا جائے تو یکایک وہ گالی بن جاتا ہے، چنانچہ احرار جب اپنی تقریر میں ان قادیانی ’’اسرار و معارف‘‘ کو پیش کرتے تو مرزائی چلّا اٹھتے کہ ہمیں گندی گالیاں دی جارہی ہیں۔ کاش! ان بھلے لوگوں سے کوئی کہتا کہ اگر تمہارے لٹریچر کا مواد پیش کردینا ہی ’’گندی گالی‘‘ ہے تو اس میں مجرم ’’احرار‘‘ ہیں یا تمہارے حضرت صاحب؟ حاصل یہ کہ احرار نے مرزائیوں کے خلاف اس قدر نفرت پھیلائی کہ مرزا غلام احمد قادیانی کے یہ البیلے قصے گلی گلی پہنچ گئے، اور مرزائی کا لفظ خود مرزائیوں کے نزدیک بھی واقعۃً گالی بن کر رہ گیا قادیانیوں سے یہ عمومی نفرت نہ سنجیدہ مقالات سے پیدا ہوسکتی تھی، نہ عالمانہ بحثوں سے، نہ دارالافتاء کے فتوؤں سے۔

احرار کے تنفیری کارنامہ کا ایک پہلو یہ تھا کہ وہ مرزائیوں کی انگریز پرستی اور

179

اسلام دشمنی کو اس انداز سے بیان کرتے کہ انگریز اور قادیانی بیک وقت دونوں تلملا اٹھتے، مرزائیوں کی تاریخ کا سب سے بدترین باب یہ ہے کہ اس نے ایک طرف تمام عالم اسلام کو کافر گردانا، اور دوسری طرف ہر ایسے موقع پر جہاں اسلام اور انگریز کے مفاد کے درمیان ٹکراؤ ہوا، وہاں اسلام کے بجائے کافر افرنگ سے وفاداری کا مظاہرہ کیا۔

ترکی خلافت کو تاخت و تاراج کیا جا رہا تھا، پورا عالم اسلام خون کے آنسو رو رہا تھا، لیکن مرزائی ٹولہ بڑی ڈھٹائی سے انگریز کی مدح و ستائش اور مسلمانوں کی مذمت میں مشغول تھا۔ جسٹس منیر نے اپنی مرزائیت نوازی کے باوجود یہ تسلیم کیا ہے کہ:

’’غیراحمدیوں کو تحریک احمدیہ کے بانی اور اس کے لیڈروں کے خلاف جو بڑی بڑی شکایات تھیں ان میں ایک یہ بھی تھی کہ وہ انگریزوں کے ’’ذلیل خوشامدی‘‘ ہیں۔‘‘

’’جب انہوں نے (مرزا غلام احمد) عقیدہ جہاد کی تاویل میں ’’مہربان انگریزی گورنمنٹ‘‘ اور اس کی مذہبی روا داری کی تعریف نہایت خوشامدانہ لہجے میں کرنی شروع کی تو اس تاویل پر چند در چند شبہات پیدا ہونے لگے، پھر جب مرزا صاحب نے ممالک اسلامی کی عدم رواداری اور انگریزوں کی فراخ دلانہ مذہبی پالیسی کا موازنہ و مقابلہ توہین آمیز انداز میں کیا تو مسلمانوں کا غیض و غضب اور بھی زیادہ مشتعل ہوگیا۔ احمدی جانتے تھے کہ ان کے عقائد، دوسرے مسلم ممالک میں اشاعت ارتداد پر محمول کئے جائیں گے اور ان کا یہ خیال اس وقت اور بھی پختہ ہوگیا جب افغانستان میں عبداللطیف(احمدی) کو سنگسار کیا گیا، جب پہلی جنگ عظیم میں (جس میں ترکوں کو شکست ہوگئی تھی) بغداد پر ۸۱۹۱ء میں انگریزوں کا قبضہ ہوگیا اور قادیان میں اس ’’فتح‘‘ پر جشن مسرت منایا گیا تو مسلمانوں میں برہمی پیدا ہوئی اور احمدی انگریزوں کے پٹھو سمجھے

180

جانے لگے۔‘‘

(رپورٹ تحقیقاتی عدالت ۸۰۲)

احرار جنگ آزادی کے مجاہد تھے وہ اپنے دین و مذہب اور قوم و وطن کی آزادی کے لئے انگریزی حکومت کی آ ہنی دیوار سے ٹکرا رہے تھے۔ اس لئے مرزائیت سے نفرت کرنا اور نفرت دلانا احرار کے رگ و ریشہ میں سرایت کئے ہوئے تھا، احرار کا کوئی جلسہ اور ان کی کوئی تقریر اس سے خالی نہیں رہ سکتی تھی۔ احرار نے انگریز کی خوشامد پر اس شدت سے نفرت و بیزاری کا اظہار کیا کہ خود قادیانیوں کو اپنی روش سے نفرت ہونے لگی۔ کسی زمانہ میں وہ بڑے فخر سے انگریز پرستی کو اپنا زریں کارنامہ قرار دیتے تھے۔ مرزا غلام احمد قادیانی انگریز کی خوشامد اور وفاداری کو اپنا خاندانی پیشہ ظاہر کیا کرتا تھا، لیکن احرار کی یلغار کے بعد انہیں انگریز پرست کا لفظ گالی نظر آنے لگا۔ مرزائیوں کے بس میں ہوتا تو مرزا غلام احمد کی وہ تمام کتابیں دفن کردیتے جن میں انگریز کی گھٹیا خوشامد درج ہے اور جن میں ملکہ برطانیہ کو ’’خدا کا نور‘‘ قرار دیا گیا ہے۔

اقلیت قرار دینے کا مطالبہ:

قادیانی اپنے عقائد و نظریات کے لحاظ سے کسی وقت بھی مسلمانوں کی صف میں شمار نہیں کئے گئے۔ لیکن انگریزی سیاست انہیں مسلمانوں میں شامل رکھنے پر بضد تھی۔ مسلمانوں کی جانب سے قادیانیوں کو غیرمسلم اقلیت قرار دینے کا مطالبہ سب سے پہلے علامہ اقبال مرحوم نے اٹھایا۔ اس کے بعد احرار نے اس کو مستقل مشن بنالیا۔ مرزا غلام احمد اور مرزائی جماعت کی کفریات کو پیش کرکے انہیں مسلمانوں سے جداگانہ اقلیت قرار دینے کا مطالبہ تقریباً ہر بڑے جلسے میں کیا جاتا۔ اگرچہ تقسیم سے پہلے اور قیام پاکستان کے بعد بھی (۱۹۴۷ء تک) ارباب اقتدار نے احرار کے اس مطالبہ کو درخور اِعتنا نہ سمجھا۔ لیکن اس مطالبہ کو بار بار دہرانے کا یہ فائدہ ضرور ہوا کہ مسلمانوں کے ذہن میں یہ مطالبہ راسخ ہوتا چلا گیا اور عملی طور پر عام مسلمانوں نے قادیانیوں کو کبھی اپنی صف میں جگہ نہیں دی۔

مرزائیوں کے خلاف احرار کی مہم کا ایک پہلو یہ تھا کہ الیکشن میں کسی مرزائی کو

181

کامیاب نہ ہونے دیا جائے۔ مرزائی مسلمانوں کی سیٹ پر مسلمانوں کے نمائندوں کی حیثیت سے کھڑے ہوتے اور ارباب اقتدار کے ساتھ اپنے غیرمعمولی اثر و رسوخ اور زر و دولت کے بل بوتے پر کامیاب ہونے کی کوشش کرتے۔ لیکن احرار کو جہاں پتہ چل جاتا کہ فلاں سیٹ پر مرزائی امیدوار مسلمانوں کے ووٹ سے آگے جانے کی تیاری کر رہا ہے، یہ فوراً وہاں پہنچ جاتے اور پوری قوت سے مرزائیوں کی مزاحمت کرتے۔ اکثر و بیشتر مرزائیوں کو ناکامی کا منہ دیکھنا پڑتا۔ واقعہ یہ ہے کہ اس محاذ پر صرف ’’احرار‘‘ نے کام کیا میں اس عنوان کو مسٹر جسٹس منیر کے ایک اقتباس پر ختم کرتا ہوں، موصوف لکھتے ہیں:

’’احرار کی بڑی بڑی سرگرمیوں میں ایک یہ تھی کہ وہ کسی نہ کسی شکل میں احمدیوں کی مخالفت کرتے رہتے تھے۔ یہ کہنا بالکل صحیح ہے کہ احرار کی پیدائش ہی احمدیوں کی نفرت سے ہوئی ہے۔ ابھی مجلس احرار کی تاسیس پر دو ہی سال گزرے تھے کہ انہوں نے ایک قرار دار منظور کی جس کا منشا یہ تھا کہ کوئی قادیانی کسی مجلس عاملہ کا ممبر منتخب نہ کیا جائے۔ قادیان تقسیم سے پہلے تقریباً خالص احمدی قصبہ تھا۔ ۴۳۹۱ء میں احرار نے قادیان میں ایک کانفرنس کے انعقاد کا فیصلہ کیا، لیکن جب اس جلسے کو ممنوع قرار دیا گیا تو انہوں نے اسی سال ۱۲؍اکتوبر کو قادیان سے صرف ایک میل کے فاصلہ پر ایک گاؤں رجادہ کے دیانند اینگوویدک ہائی اسکول کے گراؤنڈ میں کانفرنس منعقد کرلی جس میں حاضرین کی تعداد ہزاروں تک تھی۔ اس کانفرنس میں احرار کے مقبول عام خطیب سیّد عطاء اللہ شاہ بخاریؒ نے احمدیوں کے خلاف پانچ گھنٹے کی ایک نفرت آمیز تقریر کی جس میں انہوں نے ایسی باتیں کہیں جن سے صرف یہ مقصود تھا کہ سننے والوں کے دلوں میں احمدیوں کے خلاف نفرت کی آگ بھڑک

182

اٹھے۔ انہوں نے اپنی تقریر میں امن و امان کے دعاوی کے ساتھ نہایت پست قسم کی دشنام طرازی اور مسخرگی سے کام لیا۔ (جسٹس صاحب کو غلط فہمی ہوئی ہے، قادیانی کتابوں کے حوالوں کو وہ ’’پست قسم کی دشنام طرازی اور مسخرگی‘‘ سے تعبیر فرما رہے ہیں جو شخص ناموس رسالت کے ساتھ مسخرہ پن کا مظاہرہ کرے وہ مسلمانوں کے نزدیک تو اسی کا مستحق ہے۔ ناقل)اس تقریر کی بنا پر بخاریؒ کے خلاف مقدمہ چلایا گیا جس کی سماعت کے دوران اتنی سنسنی پیدا ہوئی اور احمدیوں کے خلاف جذبات اتنے برانگیختہ ہوئے کہ خود تقریر سے بھی نہ ہوئے ہوں گے۔ (گویا شاعر کی زبان میں:

نہ تم صدمے ہمیں دیتے، نہ ہم فریاد یوں کرتے

نہ کھلتے راز سربستہ، نہ یوں رسوائیاں ہوتیں

اس میں غریب بخاریؒ کا یا احرار کا کیا قصور تھا؟ ۔۔۔ناقل) اس مقدمے میں بخاریؒ کو سزا دی گئی، وہ دن اور یہ رات، ہر قابل ذکر احراری مقرر، احمدیوں، ان کے راہ نماؤں اور ان کے عقیدوں کے خلاف ہر قسم کی باتیں کہتا رہا ہے۔‘‘

(تحقیقاتی رپورٹ ص:۱۱)

جسٹس منیر صاحب نے اور بھی بیسیوں جگہ قادیانیت کی مخالفت پر ’’احرار اسلام‘‘ کو ’’خراج تحسین‘‘ پیش کیا ہے، اور احرار رہنماؤں میں سے ایک ایک کا نام لے کر بھی ریمارکس دئیے ہیں، قاضی احسان احمد شجاع آبادیؒ کے بارے میں لکھتے ہیں:

’’پہلا شخص جس نے خواجہ ناظم الدین وزیراعظم کی توجہ قادیانی تحریک کی سنگینی کی طرف مبذول کرائی وہ قاضی احسان احمد شجاع آبادی تھا۔ قادیانیت کی مخالفت اس شخص کی زندگی کا واحد مقصد معلوم ہوتا ہے اور وہ جہاں کہیں جاتا اپنے ساتھ ایک بڑا چوبی

183

صندوق لے جاتا، جس میں احمدیوں کا اور احمدیوں کے خلاف لٹریچر بھرا ہوتا، زیادہ اہم سیاسی واقعات کا ذکر تو درکنار؟ پاکستان یا کسی اور شخص کو کوئی آفت پیش آجائے، کوئی افسوسناک واقعہ رونما ہوجائے، قائد ملت قتل کر دئیے جائیں یا ہوائی جہاز گر پڑیں، قاضی احسان احمد شجاع آبادی کے نزدیک وہ ہمیشہ احمدیوں کی سازش ہی کا نتیجہ ہوتا ہے۔‘‘

(تحقیقاتی رپورٹ ص:۷۲۱)

ہم اس پر صرف اتنا اضافہ کرنا چاہتے ہیں کہ یہ نظریہ صرف قاضی صاحب مرحوم کا نہیں تھا، بلکہ تمام احرار کا تھا اور اب پاکستان اور عالم اسلام کے تمام مسلمانوں کا ہے۔

قادیاں سے ربوہ تک:

مختصر یہ کہ ان اکابر کی قیادت میں امیر شریعت مولانا سیّد عطاء اللہ شاہ بخاریؒ اور ’’مجلس احرار اسلام‘‘ کے سرفروشوں نے اپنی شعلہ بار خطابت کے ذریعہ انگریز اور انگریز کی ساختہ پرداختہ قادیانی نبوّت کے خرمن امن کو پھونک ڈالا، تاآنکہ ۱۹۴۷ء میں انگریزی اقتدار رخت سفر باندھ کر رخصت ہوا تو برصغیر کی تقسیم ہوئی اور پاکستان منصہ وجود پر جلوہ گر ہوا۔ اس تقسیم کے نتیجہ میں قادیانی نبوّت کا منبع خشک ہوگیا اور قادیان کی منحوس بستی دار الکفر اور دار الحرب ہندوستان کے حصہ میں آئی۔

قادیانی خلیفہ اپنی ’’ارض حرم‘‘ اور ’’مکۃ المسیح‘‘ (قادیان) سے برقعہ پہن کر فرار ہوا۔ اور پاکستان میں ربوہ کے نام سے نیا دارالکفر تعمیر کرنے کے بعد شاہوار نبوّت کی ترکتازیاں دکھانے اور پورے ملک کو مرتد کرنے کا اعلان کرنے لگا۔

قیام پاکستان کے بعد:

قادیانیوں کو یہ غلط فہمی تھی کہ پاکستان کے ارباب اقتدار پر ان کا تسلط ہے۔ ملک کے کلیدی مناصب ان کے قبضے میں ہیں، پاکستان کا وزیر خارجہ ظفر اللہ خاں خلیفہ

184

قادیاں (حال ربوہ) کا ادنیٰ مرید ہے، اس لئے پاکستان میں مرزا غلام احمد قادیانی کی نبوّت کا جعلی سکہ رائج کرنے میں انہیں کوئی دقت پیش نہیں آئے گی۔ ان کی امید افزائی کا خاص پہلو یہ بھی تھا کہ ’’احرار اسلام‘‘ کا قافلہ تقسیم ملک کی وجہ سے لٹ چکا تھا۔ تنظیم اور تنظیمی وسائل کا فقدان تھا اور پھر ’’احرار اسلام‘‘ ناخدایان پاکستان کے دربار میں معتوب تھے، اس لئے قادیانیوں کو غرہ تھا کہ اب حریم نبوّت کی پاسبانی کے فرائض انجام دینے کی کسی کو ہمت نہیں ہوگی، لیکن وہ یہ بھول گئے تھے کہ حفاظت دین اور ’’تحفظ ختمِ نبوّت‘‘ کا کام انسان نہیں کرتے، خدا کرتا ہے اور وہ اس کام کے لئے خود ہی رجال کار بھی پیدا فرمادیتا ہے۔

مجلس تحفظ ختمِ نبوّت:

امیرِ شریعت سیّد عطاء اللہ شاہ بخاریؒ اور ان کے رُفقاء قادیانیوں کے عزائم سے بے خبر نہیں تھے، چنانچہ جدید حالات میں قادیانیت کے خلاف کام کرنے کا لائحہ عمل مرتب کرنے کے لئے ملتان کی ایک چھوٹی سی مسجد ’’مسجد سراجاں میں‘‘۹۴۹۱ء میں ایک مجلس مشاورت ہوئی، جس میں امیر شریعتؒ کے علاوہ مجاہد ملت حضرت مولانا محمد علی جالندھریؒ، خطیب پاکستان مولانا قاضی احسان احمد شجاع آبادیؒ، مولانا عبدالرحمن میانویؒ، مولانا تاج محمود لائل پوریؒ، اور مولانا محمد شریف جالندھریؒ شریک ہوئے۔ غور و فکر کے بعد ایک غیرسیاسی تبلیغی تنظیم ’’مجلس تحفظ ختمِ نبوّت‘‘ کی بنیاد رکھی گئی، اور اس کا ابتدائی میزانیہ ایک روپیہ یومیہ تجویز کیا گیا۔ چنانچہ صدر المبلغین کی حیثیت سے فاتح قادیاں حضرت مولانا محمد حیات صاحب رحمۃ اللہ علیہ کو، جو قادیاں میں شعبہ تبلیغ احرار اسلام کے صدر تھے، ملتان طلب کیا گیا، ان دنوں مسجد سراجاں ملتان کا چھوٹا سا حجرہ مجلس تحفظ ختمِ نبوّت کا مرکزی دفتر تھا۔ وہی دارالمبلغین تھا، وہی دارالاقامہ تھا، وہی مشاورت گاہ تھی اور یہی چھوٹی سی مسجد اس عالمی تحریک ’’مجلس تحفظ ختمِ نبوّت‘‘ کا ابتدائی کنٹرول آفس تھا۔ شہید اسلام حضرت زید رضی اللہ عنہ کے بقول:

185
’’و ذالک فی ذات الْإلٰہ وان یشاء یبارک علی اوصال شلو ممزع۔‘‘

حق تعالیٰ شانہ نے اپنی قدرت کاملہ سے اس نحیف و ضعیف تحریک میں ایسی برکت ڈالی کہ آج اس کی شاخیں اقطار عالم میں پھیل چکی ہیں اور اس کا مجموعی میزانیہ لاکھوں سے متجاوز ہے۔

قیادت باسعادت:

’’مجلس تحفظ ختمِ نبوّت‘‘ کو یہ سعادت ہمیشہ حاصل رہی ہے کہ اکابر اولیاء اللہ کی قیادت و سرپرستی اور دُعائیں اسے حاصل رہی ہیں حضرت اقدس رائے پوریؒ آخری دم تک اس تحریک کے قائد و سرپرست رہے، ان کے وصال کے بعد حضرت مولانا خیر محمد جالندھریؒ، حضرت مولانا سیّد محمد یوسف بنوریؒ، حضرت مولانا عبداللہ درخواستیؒ، اور حضرت مولانا خان محمد صاحب مدظلہٗ خانقاہ سراجیہ کندیاں، اس کے سرپرست ہیں۔ ’’مجلس تحفظ ختمِ نبوّت‘‘ کے بانی اور امیرِ اوّل امیرِ شریعت سیّد عطاء اللہ شاہ بخاریؒ تھے، امیرِ شریعتؒ کی وفات ۱۶۹۱ء میں ہوئی اور خطیب پاکستان مولانا قاضی احسان احمد شجاع آبادیؒ ان کے جانشین مقرر ہوئے، ان کے وصال کے بعد حضرت مجاہد ملت مولانا محمد علی صاحبؒ جالندھری کو امارت سپرد کی گئی، ان کے وصال کے بعد مناظرِ اسلام مولانالال حسین اخترؒ امیرِ مجلس ہوئے، مولانا لال حسین اخترؒ کے بعد عارضی طور پر فاتح قادیاں حضرت مولانا محمد حیات صاحبؒ کو مسندِ امارت تفویض ہوئی مگر اپنے ضعف و عوارض کی بنا پر انہوں نے اس بارِ گراں باری سے معذرت کا اظہار فرمایا، یہ ایک ایسا بحران تھا کہ جس سے اس عظیم الشان تحریک کی پیش قدمی رُک جانے کا اندیشہ لاحق ہوگیا تھا۔ لیکن حق تعالیٰ شانہ کا وعدۂ حفاظتِ دین یکایک ایک ایسی ہستی کو اس منصبِ عالی کے لئے کھینچ لایا جو اپنے اسلاف کے علوم وروایات کی امین تھی اور جس پر ملتِ اسلامیہ کو بجا طور پر فخر حاصل تھا، میری مراد شیخ الاسلام حضرت العلامہ مولانا سیّد محمد یوسف بنوریؒ سے ہے۔

تحفظ ختمِ نبوّت اور رد قادیانیت، امام العصر حضرت مولانا محمد انور شاہ کشمیریؒ کی

186

وراثت و امانت تھی اور اس کا اہل علوم انوری کے وارث حضرت شیخ بنوریؒ سے بہتر اور کون ہوسکتا تھا؟ چنانچہ حضرت امیر شریعت قدس سرہ کی امارت، خطیب پاکستان مولانا قاضی احسان احمد رحمۃ اللہ علیہ کی خطابت، مجاہد ملت مولانا محمد علی جالندھری نوراللہ مرقدہ کی ذہانت، مناظر اسلام مولانا لال حسین اختر رحمۃ اللہ علیہ کی رفاقت، حضرت شیخ الاسلام مولانا سیّد محمد یوسف بنوریؒ کی بلندی عزم نے نہ صرف مجلس تحفظ ختمِ نبوّت کی عزت و شہرت کو چار چاند لگائے بلکہ ان حضرات کی قیادت نے قصر قادیانی پر اتنی ضرب کاری لگائی کہ قادیانی تحریک کے بانی مرزا غلام احمد قادیانی کی نبوّت پر کذب و اِفترا کی آئینی مہر لگ گئی۔

غیر سیاسی جماعت:

’’مجلس تحفظ ختمِ نبوّت‘‘ کا مقصد تاسیس، عقیدہ ختمِ نبوّت کی حفاظت اور اُمتِ مسلمہ کو قادیانی الحاد سے بچانا تھا۔ اس کے لئے ضرورت تھی کہ جماعت خارزار سیاست میں الجھ کر نہ رہ جائے، چنانچہ جماعت کے دستور میں تصریح کردی گئی کہ جماعت کے ذمہ دار ارکان سیاسی معرکوں میں حصہ نہیں لیں گے، کیوں کہ سیاسی میدان میں کام کرنے کے لئے دوسرے حضرات موجود ہیں، اس لئے ’’مجلس تحفظ ختمِ نبوّت‘‘ کا دائرہ عمل دعوت و ارشاد، اصلاح و تبلیغ اور رد قادیانیت تک محدود رہے گا۔ اس فیصلے سے دو فائدے متصور تھے، ایک یہ کہ ’’جماعت تحفظ ختمِ نبوّت‘‘ کا پلیٹ فارم تمام مسلمانوں کا اجتماعی پلیٹ فارم رہے گا اور عقیدہ ختمِ نبوّت کا جذبہ اہل اسلام کے اتحاد و اتفاق اور ان کے باہمی ربط تعلق کا بہترین ذریعہ ثابت ہوگا۔ دوم یہ کہ ’’مجلس تحفظ ختمِ نبوّت‘‘ کا ارباب اقتدار سے یا کسی اور سیاسی جماعت سے تصادم نہیں ہوگا، اور اُمتِ مسلمہ کا اجتماعی عقیدہ ختمِ نبوّت اطفال سیاست کا کھلونا بننے سے محفوظ رہے گا۔

مشکلات و موانع:

حق تعالیٰ شانہ نے اس کمزور ترین جماعت کو جن دینی خدمات سے سرفراز فرمایا ان کی تفصیل معلوم کرنے سے پہلے ضروری ہے کہ ان مشکلات کا بھی ایک نظر مطالعہ کیا

187

جائے جو اس کے راستہ میں کوہ گراں کی طرح حائل رہیں۔

قیام پاکستان کے بعد اس نوزائیدہ مملکت میں قادیانی مرتدین کا اثر و رسوخ خوفناک حد تک بڑھ گیا تھا، مسٹر ظفر اللہ خاں قادیانی، پاکستان کے پہلے وزیر خارجہ اور ملکی پالیسی کے خالق تھے۔ مسٹر ایم ایم احمد سیالکوٹ کے ڈپٹی کمشنر تھے، فوج، پولیس، عدلیہ، انتظامیہ اور قانون سروس کے اہم اور متبرک ترین کلیدی مناصب پر چن چن کر قادیانی افراد کو مقرر کیا گیا۔ یہ تمام لوگ جن کے ہاتھوں میں ملک کے نظم و نسق کی کلید تھی خلیفہ ربوہ کے مرید و مطیع تھے ان کا ہر اقدام خلیفہ کے اشارہ چشم و ابرو کا رہین منت تھا۔ گویا قادیانی خلیفہ صرف اپنی ’’مرتد جماعت‘‘ کا ہی امیر المؤمنین نہیں تھا، بلکہ اپنے مریدوں کی وساطت سے نظم مملکت میں براہ راست دخیل تھا، اور مسلمانوں پر خلافت و حکمرانی کر رہا تھا، اور ملک کی قسمت کے فیصلے ’’ربوہ‘‘ کے ’’دارالندوہ‘‘ میں کئے جاتے تھے۔

ان حالات میں خلیفہ قادیانی کے باپ مرزا غلام احمد قادیانی کی جھوٹی نبوّت کے خلاف لب کشائی کی اجازت کیوں کر ہوسکتی تھی؟ یہی وجہ ہے کہ ’’مجلس تحفظ ختمِ نبوّت‘‘ کے کارکنوں کی زبان بندی، نظر بندی اور پابندی روز کا معمول بن چکی تھی۔ ان جرم ناآشناؤں کا ’’جرم بے گناہی‘‘ یہ تھا کہ کذاب قادیاں مرزا غلام احمد کی نبوّت کو غلط اور اس جھوٹی نبوّت کے پرستاروں کو ’’کافر‘‘ کہنے کی ’’غلطی‘‘ کیوں کی جاتی ہے۔ ختمِ نبوّت کے مجاہدین جہاں کہیں قادیان کی ہزلیاتی نبوّت پر لب کشائی کرتے قانون فوراً وہاں ہتھکڑی لے کر پہنچ جاتا۔ گرفتاری، مقدمہ، پیشی، سزا اور بالآخر جیل مجاہدین ختمِ نبوّت کا تحفہ تھا جو انہیں قادیانی گماشتوں کی جانب سے عطا کیا جاتا۔ بلامبالغہ ایک ایک کارکن پر بیس بیس مقدموں کا تانتا بندھا رہتا اور پھر یہ غیرمختتم سلسلہ کہیں تھمنے کا نام نہ لیتا۔ اس جبر و تشدد اور ان ستم رانیوں کے باوجود مجاہدین ختمِ نبوّت نے ہمت نہ ہاری بلکہ ان کے کیف و سرمستی میں اضافہ ہی ہوتا چلا گیا اور جور و ستم کے طوفان، قید و سلاسل کا خوف اور دار و رسن کے اندیشے ان کا راستہ نہ روک سکے بلکہ اس سنگلاخ زمین میں بھی ’’مجلس تحفظ ختمِ نبوّت‘‘ کے آ ہنی عزم جوانمردوں نے سفر جاری رکھا۔ اس کسمپرسی و بے بضاعتی کے عالم میں ’’مجلس تحفظ ختمِ نبوّت‘‘ نے جن

188

شعبوں میں کام کیا ان کا مختصر جائزہ پیش خدمت ہے۔

شعبۂ تبلیغ:

’’مجلس تحفظ ختمِ نبوّت‘‘ نے ملک میں ایسا مخصوص تبلیغی نظام رائج کیا جو اپنی نوعیت کا منفرد ’’تبلیغی نظام‘‘ ہے۔ مجلس نے تدریجا ً ایسے مبلغین کی مضبوط جماعت تیار کی جو ہر علاقہ میں بلامعاوضہ دعوت و تبلیغ کا کام انجام دیں اور ’’مجلس تحفظ ختمِ نبوّت‘‘ ان کے مصارف کی کفیل ہو۔

ملک کے کسی حصے میں دعوت و تبلیغ اور رد قادیانیت کی ضرورت ہو، مجلس کے مرکزی دفتر کو ایک کارڈ لکھ کر وقت طے کرلیجئے۔ مجلس کا مبلغ ٹھیک وقت پر وہاں پہنچ جائے گا۔ داعی اگر کچھ خدمت کرے تووہ مجلس کے بیت المال میں جمع کردیا جائے گا۔

اس نظام تبلیغ کا یہ فائدہ ہوا کہ لاہور سے کوئٹہ اور کراچی سے پشاور تک ہر طرف سے ’’مجلس تحفظ ختمِ نبوّت‘‘ کو جلسوں کی دعوتیں آنے لگیں، مبلغین کو ختمِ نبوّت اور رد قادیانیت پر اظہار خیال کرنے کے لئے وسیع میدان ہاتھ آیا اور انہوں نے ملک کے چپے چپے اور قریہ قریہ میں ختمِ نبوّت کی تبلیغ کی۔

مجلس کے تبلیغی اثرات کا اندازہ صرف ایک معمولی سے واقعہ سے کیا جاسکتا ہے کہ ربوہ کی گرمی سے گھبرا کر قادیانی خلیفہ نے اپنے گرمائی ہیڈکواٹر کے لئے ضلع سرگودھا کے ایک سرد مقام وادی سون کو منتخب کیا اور ’’النخلہ‘‘ کے نام سے وہاں ایک قادیانی مرکز تعمیر کیا گیا۔ پانی کے لئے ٹیوب ویل اور بجلی پیدا کرنے کے لئے ایک اعلیٰ درجے کا جنریٹر لگایا گیا۔ قادیانی خلیفہ اور اس کے حواریوں کے لئے نفیس ترین بنگلے تعمیر کئے گئے۔ ختمِ نبوّت کے کارکنوں نے مجلس تحفظ ختمِ نبوّت کے مرکز کو اطلاع کی، مرکز نے ’’النخلہ‘‘ کے متصل موضع ’’جابہ‘‘ میں ایک ’’ختمِ نبوّت کانفرنس‘‘ منعقد کرانے کا اعلان کرایا۔ کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے، امیر شریعتؒ نے اس علاقہ کے مسلمانوں کو فتنہ قادیانیت کے خد و خال سے آگاہ کیا۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ آئندہ قادیانی مرتدین کو ’’النخلہ‘‘ جانے کی ہمت نہ ہوئی، آج ’’النخلہ‘‘ کی ویرانی ’’کانھم اعجاز نخل خاویۃ‘‘ کی شکل میں اپنے بانیوں کا

189

ماتم کر رہی ہے۔

ختمِ نبوّت چنیوٹ کانفرنس اور جابہ کانفرنس:

’’مجلس تحفظ ختمِ نبوّت‘‘ نے اپنے تبلیغی نظام کو مزید وسعت دینے کے لئے ایک خاص انتظام یہ کیا کہ جن علاقوں میں قادیانیوں کا زور تھا وہاں خود اپنے مصارف سے جلسے اور کانفرنسیں منعقد کرنے کا اہتمام کیا اور قادیانیوں کو خود ان کے علاقوں میں للکارا، اس قسم کی بے شمار کانفرنسیں منعقد کی گئیں ان میں ’’چنیوٹ ختمِ نبوّت کانفرنس‘‘ اور ’’جابہ ختمِ نبوّت کانفرنس‘‘ کا ذکر خاص اہمیت رکھتا ہے۔ مرزا غلام احمد قادیانی چونکہ مسیحیت کا مدعی اور جدید عیسائیت کا بانی تھا، اس لئے ان کا جلسہ عیسائیوں کے تہوار کے دنوں میں ۵۲؍، ۶۲؍،۷۲؍ دسمبر کو ان کی جماعت کے ذیلی مرکز ارتداد میں، حج کے نام سے تقسیم سے قبل مرکز کفر قادیاں میں ہوتا تھا اور تقسیم کے بعد نئے مرکز ارتداد ربوہ میں ہونے لگا۔ اس لئے قادیانیوں کے مقابلہ میں مسلمانوں کی جانب سے ختمِ نبوّت کانفرنس ان ہی تاریخوں میں پہلے قادیان میں ہوتی تھی، اور اب ربوہ کے متصل چنیوٹ (اور اب مسلم کالونی ربوہ) میں ہوتی ہے۔ اس عظیم الشان کانفرنس کا انتظام ’’مجلس تحفظ ختمِ نبوّت‘‘ کی طرف سے کیا جاتا ہے جس میں تمام اسلامی مکتب فکر کے نمائندے شریک ہوکر قادیانی کفر کی تردید کرتے ہیں۔ اسی طرح ’’النخلہ‘‘ کے قریب موضع ’’جابہ‘‘ میں بھی ہر سال باقاعدگی سے ختمِ نبوّت کانفرنس منعقد ہوتی ہے، اور وہاں جماعت کا دفتر اور مدرسہ بھی کام کر رہا ہے۔

مجلس تحفظ ختمِ نبوّت کے ذیلی مراکز:

تحریک ختمِ نبوّت کی دعوت کو مزید وسعت دینے کے لئے ’’مجلس تحفظ ختمِ نبوّت‘‘ کی جانب سے ایک خاص اہتمام کیا گیا کہ ہر بڑے شہر میں جماعت کا دفتر قائم کرکے وہاں دیگر عملہ کے علاوہ ایک ایسے عالم کو مبلغ کی حیثیت سے مقرر کیا گیا جو قادیانیت کے اسرار و رموز پر ماہرانہ دسترس رکھتا ہو تاکہ مسلمانوں کا رابطہ ’’مجلس تحفظ ختمِ نبوّت‘‘ کے ساتھ قوی اور مضبوط بنیادوں پر استوار ہو اور قادیانیوں کی مرتدانہ سرگرمیوں پر ہر لمحہ کڑی نگاہ رکھی جاسکے۔ یہ کام خاصا مشکل تھا لیکن بحمداللہ جماعت کو اس میں بڑی کامیابی ہوئی، اب خدا

190

تعالیٰ کے فضل و کرم سے ’’مجلس تحفظ ختمِ نبوّت‘‘ کی ذیلی شاخیں چھوٹے چھوٹے قصبات میں بھی موجود ہیں اور جماعت کے ضلعی دفاتر ان کا نظم و نسق چلا رہے ہیں۔ یہی انتظام بیرونی ممالک میں بھی کیا ہے۔ اور ان تمام ممالک میں جہاں قادیانی ارتداد کا فتنہ موجود ہے۔ ’’مجلس تحفظ ختمِ نبوّت‘‘ کے مراکز قائم کردئیے گئے ہیں، اور اب تک تقریباً ایک درجن ممالک میں جماعت کی شاخیں قائم ہوچکی ہیں۔

مرکزی دار المبلغین:

’’جماعت مجلس تحفظ ختمِ نبوّت‘‘ کے پیش نظر ایک اہم ترین فریضہ دینی و دنیاوی علوم کے ماہر نوجوانوں کو قادیانیت کی تعلیم دی جائے تاکہ انہیں قادیانیوں سے گفتگو کرنے کا موقع ملے تو وہ پوری طرح بصیرت اور شرح صدر کے ساتھ قادیانیوں سے بحث و گفتگو کرسکیں۔ اس مقصد کے لئے مجلس تحفظ ختمِ نبوّت کے مرکزی دفتر میں ایک دارالمبلغین قائم ہوا اور نوجوانوں کی تعلیم و تربیت کے لئے دو صورتیں تجویز کی گئیں، اول وہ نوجوان جو اس کے لئے کافی وقت نہیں دے سکتے انہیں تعطیلات کے زمانے میں دارالمبلغین میں رکھا جائے اور ان کی رہائش و دیگر اخراجات کا انتظام جماعت کی جانب سے کیا جائے، دوم یہ کہ جو حضرات اس کے لئے معتد بہ وقت دے سکیں انہیں مجلس تحفظ ختمِ نبوّت کے رفیق کی حیثیت سے باقاعدہ وظیفہ دیا جائے اور قادیانیت کے مقابلہ میں دلائل کے اسلحہ سے پوری طرح مسلح کیا جائے۔

اس کے علاوہ ایک خصوصی انتظام یہ کیا گیا کہ ملک کے بڑے بڑے دینی مدارس میں دارالمبلغین کے نمائندے کچھ مدت قیام کریں اور فارغ التحصیل یا منتہی طلبہ کو رد قادیانیت کی تربیت دی جائے۔ بحمد اللہ مبلغین کے اس تربیتی نظام کے تحت ہر سال مبلغین کی ایک ایسی جماعت تیار ہوجاتی ہے جو اپنی اپنی جگہ تبلیغ ختمِ نبوّت اور رد قادیانیت کے فرائض انجام دیتی ہے، اب تک ہزاروں کی تعداد میں ایسے مبلغین تیار ہوچکے ہیں جن میں سے بعض حضرات بیرونی ممالک میں بھی کام کر رہے ہیں۔ حال ہی(۱۹۵۷ء) میں مرکزی جماعت کے رہنما مولانا عبدالرحیم اشعر اور مولانا اللہ وسایا ’’المجلس الاعلیٰ لشؤون الاسلامیہ‘‘

191

کے صدر حسین الجشی کی دعوت پر انڈونیشیا تشریف لے گئے اور معہد الاسلامی اور دیگر اداروں کے طلباء کو قادیانیت پر تیاری مکمل کرائی۔

مناظرے اور مباحثے:

قادیانی مرتدین مناظروں اور مباحثوں کے مریض ہیں، ایک زمانے میں وہ ہند وپاک میں ہر جگہ بھولے بھالے مسلمانوں کو پکڑ پکڑ کر ان سے ’’حیات و وفات مسیح‘‘ اور ’’اجرائے نبوّت‘‘ کے موضوع پر بحث چھیڑ لیا کرتے تھے۔ ’’مجلس تحفظ ختمِ نبوّت‘‘ کو قادیانی مرتدین کی اس جارحیت کا نوٹس لینا ضروری تھا، چنانچہ ختمِ نبوّت کے مبلغین کو سینکڑوں مرتبہ قادیانیوں سے گفتگو اور مناظرہ و مباحثہ کی نوبت آئی، خدا تعالیٰ کے فضل و کرم سے ہر جگہ مرتدین کو ذلت آمیز شکست کا منہ دیکھنا پڑا، اور قادیانی ٹولہ، مجلس کے مبلغین سے اس قدر زچ ہوا کہ قادیانی خلیفہ کو باقاعدہ اعلان کرنا پڑا کہ مجلس تحفظ ختمِ نبوّت کے کسی مبلغ سے مناظرہ نہ کیا جائے۔ بسا اوقات ایسا بھی ہوا کہ مجلس تحفظ ختمِ نبوّت کے مرکزی دفتر کو اطلاع ہوئی کہ فلاں جگہ مرتدین، مسلمانوں کو گمراہ کر رہے ہیں، جماعت کا فاضل مبلغ کتابوں کا صندوق لے کر سینکڑوں میل کی مسافت طے کرکے وہاں پہنچا تو قادیانی مرتدین نے وہاں سے راہ فرار اختیار کرنے کو سب سے بڑی فتح سمجھا۔ پورے ملک کے لئے ’’مجلس تحفظ ختمِ نبوّت‘‘ کا اعلان تھا (اور اب یہ اعلان پوری دنیا کے لئے ہے) کہ کسی جگہ بھی قادیانی مرتدین، مسلمانوں کو پریشان کر رہے ہوں تو مجلس کے مرکزی دفتر کو ’’مجلس تحفظ ختمِ نبوّت‘‘ حضوری باغ ملتان پاکستان کے پتہ پر ایک اطلاع نامہ لکھ دیجئے، ختمِ نبوّت کے مجاہدین اِن شاء اللہ فوراً اس محاذ پر بھیج دئیے جائیں گے، اور قادیانی مرتدین سے نمٹ لیں گے، اِن شاء اللہ۔

مجاہد ملّت حضرت مولانا محمد علی جالندھری صاحبؒ یہ واقعہ سنایا کرتے تھے کہ کسی سفر میں وہ اسٹیشن پر ایسے وقت پر پہنچے کہ ریل کے آنے میں کچھ وقت تھا، غور کیا کہ اس مختصر سے فارغ وقت کو کیسے کام میں لایا جائے، چائے کے اسٹال پر گئے، چائے نوش کی، پیسے ادا کئے اور چائے والے سے کہا: میرا نام محمد علی جالندھری ہے میں ’’مجلس تحفظ ختمِ

192

نبوّت‘‘ کا نمائندہ ہوں، میرا پتہ یہ ہے، اگر خدا نہ کرے کسی وقت کوئی مرزائی تمہارے علاقے میں شرارت کرے تو مجھے خط لکھ دینا، مولانا مرحوم فرماتے تھے کہ سات برس بعد اس شخص کا خط آیا کہ ہمارے قصبے میں مرزائی مبلغین قادیانیت کی تبلیغ کر رہے ہیں، اور انہوں نے ایک خاندان کو مرتد کرلیا ہے، یہ خط ملتے ہی مبلغین وہاں پہنچے، قادیانیوں کو چیلنج کیا تو قادیانی بھاگ گئے، اور نو مرتد گھرانے کو قادیانیت کی حقیقت سمجھائی تو وہ دوبارہ مشرف باسلام ہوا۔ اس کے بعد قادیانیوں کو اس قصبے کا رخ کرنے کی جرأت نہ ہوئی۔ سینکڑوں واقعات میں سے یہ ایک معمولی سا واقعہ ہے جو مجاہدین ختمِ نبوّت کے ذوق و شغف، محنت و خلوص اور فہم و تدبر کی ٹھیک ٹھیک عکاسی کرتا ہے۔

مسلم، قادیانی مقدمات:

مجلس تحفظ ختمِ نبوّت کو قادیانیت کے خلاف ہمہ گیر مسائل سے واسطہ تھا، اور اس کے رہنماؤں کو ’’قادیانی مسئلہ‘‘ کے ہر پہلو پر مسلمانوں کی اعانت اور رہنمائی کی ضرورت لاحق رہتی تھی۔ چنانچہ مجلس نے ایک اہم خدمت اپنے ذمہ یہ لے رکھی تھی (اور ابھی تک اس کے ذمہ ہے) کہ اسلام اور قادیانیت کے تقابل کے سلسلہ میں جس قدر مقدمات عدالتوں میں جائیں، ان میںنہ صرف مسلمانوں کی اخلاقی و قانونی مدد کی جائے بلکہ حسب ضرورت مقدمہ کے مصارف کا تکفل بھی کیا جائے، اس قسم کے مقدمات کو ہم تین قسموں میں تقسیم کرسکتے ہیں:

پہلی قسم ان مقدمات کی ہے جو انتظامیہ کی جانب سے مجاہدین ختمِ نبوّت اور دیگر علمائے اُمت پر محض اس ’’جرم‘‘ میں دائر کئے گئے کہ انہوں نے مرزا غلام احمد قادیانی اور اس کی جماعت کے خلاف لب کشائی کی گستاخی کیوں کی؟ اس قسم کے مقدمات روز مرہ کا معمول تھے اور ان کے مصارف کا بہت سا بار گراں ’’مجلس تحفظ ختمِ نبوّت‘‘ کو برداشت کرنا ہوتا تھا، تحریک ختمِ نبوّت ۱۹۵۳ء سے ۱۹۴۷ء تک کے دوران میں بہت سے ایسے حضرات بھی تھے جن کے نان و نفقہ کی جانب بھی مجلس تحفظ ختمِ نبوّت کو توجہ کرنا پڑی۔

دوسری قسم ان فوجداری مقدمات کی تھی جو مسلم، قادیانی نزاع کی صورت میں رونما

193

ہوتے رہے۔ قادیانیوں کی ہمیشہ یہ عادت رہی ہے کہ جس جگہ انہیں اپنی قوت کا مظاہرہ کرنے کے مواقع میسر آئیں اور حکام بالا سے اثر و رسوخ ہو، وہاں وہ مسلمانوں کی اذیت اور دنگا فساد کی کوئی نہ کوئی شکل پیدا کرلیتے ہیں۔ اور بعض اوقات کمزور مسلمانوں کو مار پیٹ کر تھانے میں اپنی مظلومیت کی داستان سرائی بھی کیا کرتے ہیں کہ آج فلان جگہ ہم پر مسلمانوں نے ’’مسلح حملہ‘‘ کر ڈالا۔ ’’مجلس تحفظ ختمِ نبوّت‘‘ کے رہنماؤں کو جہاں کہیں ایسے فساد کی اطلاع ہوئی، فوراً وہاں پہنچے اور اگر معلوم ہوا کہ قادیانیوں کی زیادتی ہے تو مسلمانوں کی طرف سے مقدمہ کی سرپرستی کی، اور مسلمانوں کو ہر طرح قانونی، اخلاقی اور مالی مدد بہم پہنچائی۔

تیسری قسم ان دیوانی مقدمات کی تھی جو مسلم، قادیانی قضیہ کے سلسلہ میں عدالت میں دائر ہوتے تھے، اور جن میں بنیادی طور پر تصفیہ طلب یہ نکتہ ہوتا تھا کہ آیا قادیانی، مسلمان ہیں، یا خارج از اسلام؟ مثلاً کسی قادیانی نے دھوکہ دے کر کسی مسلمان خاتون سے شادی کرلی، یا شادی کے بعد معاذ اللہ اسلام سے مرتد ہوکر قادیانی بن گیا۔ اس صورت میں کبھی قادیانیوں کی جانب سے خانہ آبادی کا دعویٰ ہوجاتا اور کبھی مسلمانوں کی جانب سے اس نکاح کو کالعدم قرار دینے کا، اس نوعیت کے مقدمات کا سلسلہ وقتاً فوقتاً جاری رہتا تھا۔ مجلس تحفظ ختمِ نبوّت کو ملک کے کسی حصہ میں اس قسم کے مقدمہ کی اطلاع ہوئی تو مجلس نے نہایت فراخ دلی سے ان مقدمات کی سرپرستی کی اور مجلس کے مبلغین نے قادیانیوں کی کتابوں سے ان کا کفر و ارتداد ثابت کر کے عدالت کو صحیح نتیجہ پر پہنچنے میں مدد دی۔ چنانچہ اس نوعیت کے تمام مقدمات میں مختلف عدالتوں نے قادیانیوں کے کفر و ارتداد کا فیصلہ کرتے ہوئے مسلم، قادیانی نکاح کو کالعدم قرار دیا، اسی طرح کبھی کسی مسجد کی تولیت کے معاملہ میں قادیانیوں کے کفر اور اسلام کا نکتہ عدالتوں میں زیر بحث آیا، اور کبھی کسی وراثت کے مقدمہ میں، ایسے مقدمات میں بھی ’’مجلس تحفظ ختمِ نبوّت‘‘ نے مسلمانوں کی وکالت کے فرائض انجام دئیے اور عدالتوں نے قادیانیوں کو غیرمسلم قرار دیا۔

’’مجلس تحفظ ختمِ نبوّت‘‘ اور مدارس عربیہ:

’’مجلس تحفظ ختمِ نبوّت‘‘ کا اصل موضوع قادیانی ارتداد کا استیصال تھا، لیکن اس تنظیم کے اکابر نے دینی تعلیم کی اہمیت کو واضح کرنے میں بھی نمایاں کردار ادا کیا، کیونکہ دینی مدارس ہی

194

دین کے قلعے اور علم دین کے سرچشمے ہیں، اور یہیں سے اسلام کے سپاہی تیار ہوکر کفر و ارتداد کو للکارتے ہیں، چنانچہ اکثر و بیشتر دینی مدارس کے جلسوں میں ’’مجلس تحفظ ختمِ نبوّت‘‘ کے خطیب اور مبلغ قوم سے خطاب کرتے اور مسلمانوں کو دینی مدارس کے قیام و استحکام کی ترغیب دیتے، بالخصوص امیرِشریعت سیّد عطاء اللہ شاہ بخاریؒ، مجاہد ملت مولانا محمد علی جالندھریؒ اور خطیب پاکستان قاضی احسان احمد شجاع آبادیؒ تو دینی مدارس کے نقیب تھے۔ شاہ جیؒ فرمایا کرتے تھے کہ ’’اپنے گاؤں میں دینی مدرسہ قائم کرلو، اور پھر مجھے کارڈ لکھ دو، میں اس کے جلسے میں تقریر کرنے چلا آؤں گا۔‘‘ چنانچہ ان حضرات کی دعوت و ترغیب سے سینکڑوں مکاتب وجود میں آئے اور بعض جگہ خود ’’مجلس تحفظ ختمِ نبوّت‘‘ کے زیر اہتمام بھی دینی مدارس جاری کئے گئے، خصوصاً ایسے علاقے جہاں قادیانیوں کا اثر تھا، وہاں مجلس نے خود دینی مدارس جاری کئے، چنانچہ ملتان، بہاولپور، سکھر، جابہ، سرگودھا، پرمٹ (ضلع مظفرگڑھ)، کنری (ضلع تھرپارکر)، ربوہ، کراچی میں مجلس کے زیر اہتمام دینی مدارس چل رہے ہیں، جن کے جملہ مصارف مرکزی مجلس تحفظ ختمِ نبوّت ادا کرتی ہے۔

شعبۂ نشر و اشاعت:

مجلس نے تبلیغ اسلام اور رد قادیانیت کے لئے نشر و اشاعت کے شعبہ پر بھی خصوصی توجہ دی اور مجلس کے شعبۂ نشر و اشاعت نے عربی، اردو، انگریزی، سندھی، پشتو اور بنگلہ میں بھی بہت سی کتابیں، پمفلٹ اور اشتہارات لاکھوں کی تعداد میں شائع کئے ہیں، مجلس کے اشاعتی کارنامہ سے تعارف کے لئے مندرجہ ذیل مختصر سی فہرست پر ایک نظر ڈال لینا ضروری ہوگا:

✨ : … حیات مسیح

✨ : … فیصلہ کمشنر بہاولپور

✨ : … نزول مسیح

✨ : … التصریح بما تواتر فی نزول المسیح

✨ : … القادیانی و القادیانیہ

✨ : … قادیانیت، مرزائیت کے عقیدے و ارادے

✨ : … فیصلہ مقدمہ بہاولپور

195

✨ : … فیصلہ مقدمہ راولپنڈی

✨ : … فیصلہ مقدمہ جیمس آباد

✨ : … فیصلہ مقدمہ کھوسلہ

✨ : … فیصلہ مقدمہ رحیم یار خاں

✨ : … ترک مرزائیت

✨ : … لندنی نبی

✨ : … ابوظہبی میں مجلس تحفظ ختمِ نبوّت کی عظیم کامیابی

✨ : … قادیانی مذہب و سیاست

✨ : … عالم اسلام کے مسلمان مرزا کی نظر میں

✨ : … محمد قادیانی

✨ : … دعاوی مرزا

✨ : … موجودہ بحران کا ذمہ دار کون؟

✨ : … غداروں کی نشان دہی

✨ : … اربعین ختمِ نبوّت

✨ : … شرائط نبوّت

✨ : … ربوہ ثانی جو نہ بن سکا

✨ : … خواجہ غلام فریدؒ اور مرزا قادیانی

✨ : … ملت اسلامیہ کا موقف (اردو، عربی، انگلش)

✨ : … مرزائیت کا اصلی چہرہ

✨ : … حکومت کے پانچ سوالوں کا جواب

✨ : … مرزا کی عبرت ناک موت

✨ : … حضرت مسیحؑ مرزا قادیانی کی نظر میں

✨ : … قادیانیوں کی پچاس الماریوں سے دو خط

196

✨ : … قادیانیت علامہ اقبال کی نظر میں

✨ : … فتنہ قادیانیت اور پیام اقبال

✨ : … ربوہ سے تل ابیب تک

✨ : … بیٹا جس نے باپ کا جنازہ نہ پڑھا

✨ : … قادیانیوں سے ستر سوالات

✨ : … محضر نامہ بخدمت خواجہ ناظم الدین

✨ : … محضر نامہ بخدمت ایوب خاں

✨ : … محضر نامہ بخدمت یحییٰ خاں

✨ : … محضر نامہ بخدمت مسٹر ذوالفقار علی بھٹو

✨ : … محضر نامہ بخدمت برائے وفاقی مجلس شوریٰ

✨ : … محضر نامہ بخدمت ارکان اسمبلی

✨ : … محضر نامہ بخدمت ارکان صوبائی اسمبلی

✨ : … عرضداشت برائے وزیر قانون پاکستان

✨ : … عرضداشت برائے جنرل محمد ضیاء الحق

✨ : … مرزائیوں کی خوفناک چالیں

✨ : … قادیانی ملک اور ملت کے غدار ہیں

✨ : … نوادرات امیر شریعتؒ

✨ : … فتویٰ تکفیر قادیاں

✨ : … انگلستان میں مجلس تحفظ ختمِ نبوّت کی کامیابی

✨ : … دعاوی مرزا قادیانی

✨ : … قادیانیت نے عالم اسلام کو کیا دیا؟

✨ : … شہادت القرآن

✨ : … انگریزی نبی

197

✨ : … ترک مرزائیت

✨ : … سوچنے کی بات

✨ : … حیات عیسیٰ علیہ السلام

✨ : … نفحات ختمِ نبوّت

✨ : … قادیانیت کے خلاف اعلیٰ عدالتوں کے تاریخی فیصلے

✨ : … قادیانیت ہماری نظر میں

✨ : … تحفہ قادیانیت (اردو اور انگلش)

✨ : … رئیس قادیاں

✨ : … قادیانی مذہب

✨ : … قادیانیت کا سیاسی تجزیہ

✨ : … مرگ مرزائیت

✨ : … قادیانیت شکن

✨ : … قادیانی افسانے

✨ : … احتساب قادیانیت

✨ : … قادیانیت کا عملی ریمانڈ

✨ : … قادیانی دین، کفر خالص

✨ : … المتنبی القادیانی

✨ : … اعداء المسلمین فی العالم

✨ : … مرزائی یہودی فوج میں

✨ : …القادیانیۃ ماہی؟

✨ : … الہامی گرگٹ

✨ : … ایک مذہبی غدار

✨ : … آئینہ مرزائیت

198

✨ : … حجت شرعیہ

✨ : … غیرممالک میں قادیانیوں کی تبلیغ کی حقیقت

✨ : … قادیانیوں کی سیاسی چالیں

✨ : … مرزا جی کی ایک پیش گوئی

✨ : … تقاریر مجاہد ملت

✨ : … فتنہ قادیانیت

✨ : … قادیانی ازم

✨ : … الکفر و الایمان

✨ : … تحریک کشمیر اور قادیانی

✨ : … مسئلہ ختمِ نبوّت اور ہمارے اکابر

✨ : … مرزا غلام احمد کی آسان پہچان

✨ : … قادیانیت ــــ ایک خطرناک تحریک

✨ : … مرزائیوں کے خطرناک عزائم

✨ : … خدارا پاکستان کو بچائیے

✨ : … قادیانی کافر کیوں؟

✨ : … تحریک ختمِ نبوّت ۱۹۵۳ء

✨ : … تحریک ختمِ نبوّت ۱۹۴۷ء (تین جلدیں)

✨ : … قادیانیت کے خلاف قلمی جہاد کی سرگزشت

✨ : … تذکرہ مجاہدین ختمِ نبوّت

✨ : … ایمان پرور یادیں

✨ : … تحفظ ناموس رسالت اور گستاخ رسول کی سزا

✨ : … تحفظ ختمِ نبوّت

✨ : … کلمہ فضل رحمانی

199

اور ان کے علاوہ سینکڑوں مختلف اشتہارات جو مختلف مقامات میں لاکھوں کی تعداد میں شائع کئے گئے۔

مختصر یہ کہ ’’مجلس تحفظ ختمِ نبوّت‘‘ دنیا کی مختلف زبانوں میں مسلمانوں کو فتنہ قادیانیت سے آگاہ کرنے کے لئے لاکھوں روپے کا لٹریچر چھاپ کر تقسیم کرچکی ہے اور ان کے علاوہ ’’مجلس تحفظ ختمِ نبوّت‘‘ کا ترجمان ہفت روزہ ’’لولاک‘‘ فیصل آباد اور ہفت روزہ ’’ختمِ نبوّت‘‘ کراچی، قادیانیت کے مد و جزر سے قوم کو آگاہ رکھتے ہیں، ان کے مصارف ’’مجلس تحفظ ختمِ نبوّت‘‘ کا صدر دفتر ادا کرتا ہے۔

’’مجلس تحفظ ختمِ نبوّت‘‘ اور تنظیم ملت:

اہل اسلام، قادیانی فتنہ سے کبھی غافل نہیں ہوئے، لیکن قادیانیت کے خلاف بیشتر کام غیرمنظم شکل میں ہوا۔ ’’مجلس تحفظ ختمِ نبوّت‘‘ کی تاسیس کا ایک اہم مقصد یہ تھا کہ قادیانیت کے خلاف اُمتِ مسلمہ کو رشتہ تنظیم عطا کیا جائے۔ اور پوری اُمت کو قادیانیوں کے خلاف ’’بنیان مرصوص‘‘ بنادیا جائے، اس مقصد کے حصول کے لئے مجلس نے دو عظیم تر کارنامے انجام دئیے:

اول: … یہ کہ ملک کے ہر شہر، ہر محلہ، ہر قصبہ اور ہر قریہ میں مسلمانوں کو دعوت دی گئی کہ وہ ’’مجلس تحفظ ختمِ نبوّت‘‘ کی تنظیم میں شامل ہوکر ہر جگہ اس کی شاخیں قائم کریں اور قادیانیوں کی دست برد سے ناموس رسالت کو بچانے کے لئے رشتہ وحدت میں منسلک ہوجائیں، بحمد اللہ ’’مجلس تحفظ ختمِ نبوّت‘‘ کی یہ پرخلوص دعوت رائیگاں نہیں گئی، بلکہ مسلمانوں نے فراخ قلبی سے اس پر لبیک کہی اور ملک میں مجلس کی ہزاروں شاخیں قائم ہوئیں۔

علاوہ ازیں جو حضرات اپنے مخصوص اعذار کی بنا پر ’’مجلس تحفظ ختمِ نبوّت‘‘ کے باقاعدہ کارکن نہیں بن سکتے تھے، انہوں نے مجلس کی دعوت سے ہمدردی و خیرخواہی اور بڑی حد تک سرپرستی کا التزام فرمایا، اور مسئلہ ختمِ نبوّت کے بیان میں کسی خوف و ملامت کی پروا نہیں کی، بالخصوص ائمہ مساجد اور خطیب حضرات نے اس سلسلہ میں بہت ہی اہم خدمت

200

انجام دی، حق تعالیٰ شانہ ان سب کو جزائے خیر دے۔

آج ہم کہہ سکتے ہیں کہ مسلمانوں کی ہر مسجد، خواہ اس کا تعلق کسی بھی مکتب فکر سے ہو، قادیانیت کے خلاف ایک ’’اسلامک سینٹر‘‘ ہے، اس طرح ’’مجلس تحفظ ختمِ نبوّت‘‘ کی تنظیم ہر مسلمان کو جس کے دل میں قادیانیت کے خلاف ذرا بھی نفرت ہے، تحفظ ختمِ نبوّت کا سپاہی سمجھتی ہے اور اس کا نعرہ ہے ’’ھم اولیائی من کانوا، واینما کانوا‘‘۔

تمام اُمتِ مسلمہ ایک اسٹیج پر:

’’مجلس تحفظ ختمِ نبوّت‘‘ نے دوسرا کارنامہ یہ انجام دیا کہ اُمتِ مسلمہ کے مختلف فرقوں کو ختمِ نبوّت کے اسٹیج پر جمع کیا، انگریز نے اپنے دور اقتدار میں لڑاؤ اور حکومت کرو، کی حکمت عملی کے تحت مختلف اسلامی فرقوں کے درمیان شدید تلخیوں کا زہر کچھ ایسا گھول دیا تھا کہ ان کا آپس میں کسی مسئلہ پر مل بیٹھنا، قادیانیوں کے نزدیک ناممکن تھا۔ مرتدین اور زنادقہ نے اس افتراق و تصادم سے خوب فائدہ اٹھایا۔ قیام پاکستان کے بعد یہ صورت حال نہ صرف قائم رہی بلکہ قادیانی سازشوں نے اس میں مزید اضافہ کردیا اور مسلمانوں کی اس کمزوری سے فائدہ اٹھاتے ہوئے پورے پاکستان پر یا کم از کم بلوچستان کے صوبے پر غلبہ و تسلط جمانے کے منصوبے کا اعلان کردیا اور قادیانیوں کے سرکاری آرگن ’’الفضل‘‘ نے مسلمانوں کو یہاں تک دھمکی دے ڈالی کہ:

’’ہم فتح یاب ہوں گے۔ ضرور تم مجرموں کی طرح ہمارے سامنے پیش ہوگے، اس وقت تمہارا بھی وہی حشر ہوگا جو فتح مکہ کے دن ابوجہل اور اس کی پارٹی کا ہوا۔‘‘

(الفضل ۳؍جنوری ۱۹۵۲ء)

’’مجلس تحفظ ختمِ نبوّت‘‘ کے رہنماؤں نے، جو ہمیشہ قادیانیت کی نبض پر ہاتھ رکھنے کے خوگر تھے، بجا طور پر یہ محسوس کیا کہ اگر اس نازک موقع پر اُمتِ اسلامیہ کو قادیانیوں کے مکروہ عزائم اور اس کی لن ترانیوں سے آگاہ کرکے تمام فرقوں اور جماعتوں کو ایک متحدہ پلیٹ فارم پر جمع نہ کیا گیا، تو چند دن بعد زمین مسلمانوں کے پاؤں تلے سے نکل

201

چکی ہوگی اور مسلمانوں کو انگریز کے بعد قادیانی مرتدین کی غلامی کا روز بد دیکھنا نصیب ہوگا۔ اس احساس نے رہنمایان ’’مجلس تحفظ ختمِ نبوّت‘‘ کو بے چین اور مضطرب کرڈالا، اور وہ ماہی بے آب کا منظر پیش کرنے لگے، انہوں نے ایک طرف تو ملک کا طوفانی دورہ کرکے جگہ جگہ جلسے منعقد کئے، قادیانی سازشوں کو بے نقاب کیا، ان کے عزائم سے متنبہ کیا اور پورے ملک کو قادیانیوں کے خلاف آتش بناکر رکھ دیا۔

دوسری طرف انہوں نے اسلامی فرقوں کے ممتاز رہنماؤں کو وقت کی نزاکت کا احساس دلایا اور اتحاد ملت کا صور پھونکا۔ اس سلسلہ میں ’’مجلس تحفظ ختمِ نبوّت‘‘ کے عظیم رہنما مجاہد ملت مولانا محمد علی صاحب جالندھریؒ کا کارنامہ ناقابل فراموش ہے، موصوف نے اپنی ذہانت و خطابت کا سارا زور اُمتِ مسلمہ کے فرقوں کو متحد کرنے پر صرف کردیا، انہوں نے ایک ایک دروازے پر دستک دی، اپنے دل کی بے چینی کا اظہار فرمایا، ناموس رسالت کا واسطہ دیا اور مسلمانوں کو اس آفت کبریٰ سے بچانے کا لائحہ عمل ان کے سامنے رکھا، بات دل سے نکلی تھی، دلوں تک پہنچی، تمام اسلامی فرقے ’’تحفظ ختمِ نبوّت‘‘ کے اسٹیج پر متحد ہوگئے اور مسلمانوں کی متفقہ ’’مجلس عمل تحفظ ختمِ نبوّت‘‘ وجود میں آئی۔

۱۹۵۳ء کی تحریک ختمِ نبوّت:

مجلس عمل کی قیادت، جس کے صدر حضرت مولانا سیّد ابوالحسنات قادری اور سیکٹری جنرل جناب سیّد مظفر علی شمسی، حضرت امیر شریعت کی تجویز اور مولانا جالندھریؒ کی تائید سے مقرر کئے گئے تھے۔ ۱۹۵۳ء کی تحریک ختمِ نبوّت چلی، قادیانیوں کے بارے میں مسلمانوں کے متفقہ مطالبات، ارباب اقتدار کی خدمت میں پیش کئے گئے، لیکن اس وقت اقتدار قادیانیوں کے شکنجہ میں تھا۔ اس اپاہج اقتدار نے اسلامی مطالبات کا جواب گولی سے دیا، مجلس عمل کے معزز رہنما جیلوں کی زینت بنے، ہزاروں مسلمانوں کو بھون ڈالا گیا اور لاکھوں پس دیوار زنداں بھیج دئیے گئے، جو مہینوں نہیں سالوں تک ’’جرم بے گناہی‘‘ کی سزائیں کاٹتے رہے۔

202

۱۹۵۳ء کی تحریک ختمِ نبوّت بظاہر ناکامی سے ہمکنار اور تشدد کا شکار ہوئی، مگر واقعہ یہ ہے کہ یہ تحریک اپنے مقدس مقاصد میں پورے طور پر کامیاب رہی، تفصیل کی گنجائش نہیں، البتہ چند اہم امور کی جانب اشارہ ضروری ہے:

اوّل:۔۔۔تحریک کا سب سے اہم مطالبہ یہ تھا کہ قادیانی وزیر خارجہ مسٹر ظفراللہ خاں کو برطرف کیا جائے، ہم دیکھتے ہیں کہ تحریک کا سیلاب نہ صرف مسٹر ظفراللہ خاں کی وزارت کو بہاکر لے گیا بلکہ اس کے تمام محافظ بھی ’’خدا کی بے آواز لاٹھی‘‘ کا نشانہ بن گئے۔ خواجہ ناظم الدین سے جنرل اعظم تک کا جو حشر ہوا وہ کس کو معلوم نہیں؟

دوم:۔۔۔تحریک ختمِ نبوّت کا دوسرا اہم مطالبہ یہ تھا کہ قادیانیوں کو غیرمسلم تسلیم کیا جائے، بلاشبہ یہ مطالبہ اقتدار کی عدالت میں قابل سماعت نہ ہوا، لیکن تحریک کے بعد عوام کی عدالت نے قادیانیوں سے وہی سلوک کیا، جو ایک سازشی کافر ٹولے سے کیا جانا چاہئے۔

سوم:۔۔۔تحریک کا اہم مقصد پاکستان کو قادیانی سازش سے محفوظ کرنا تھا، بحمد اللہ یہ مقصد بھی پوری طرح حاصل ہوا، ۱۹۵۳ء کی تحریک نے قادیانیوں کی تمام سازشوں کو ناکام بنا دیا، وہ سازشی خلیفہ جو بڑے طنطنہ سے بلوچستان کو مرتد کرنے کا اعلان کر رہا تھا ـــــ سب نے دیکھا کہ وہ تحریک کے بعد تحقیقاتی عدالت کے کٹہرے میں اپنے بیانات کا حساب چکا رہا ہے۔

چہارم:۔۔۔قادیانیوں کے نزدیک مسلمانوں کا اتحاد ناممکن تھا، لیکن ۱۹۵۳ء کی تحریک ختمِ نبوّت نے اس کو نہ صرف ’’ممکن‘‘ بلکہ ایک امر واقعی بنا کر دکھایا اور قادیانیوں کو اپنی لغت سے ’’ناممکن‘‘ کا یہ لفظ حذف کردینا پڑا، بحمداللہ جب سے اب تک مسلمان قادیانیوں کے خلاف متحد ہیں اور اس ’’اسلامی اتحاد‘‘ کا مظاہرہ ہر سال ’’ختمِ نبوّت ربوہ (حال چناب نگر) کانفرنس‘‘ میں ہوتا ہے۔

پنجم:۔۔۔۱۹۵۳ء کی تحریک نے مسلمانوں کو دائمی بیداری، تنظیم اور مقصد کے لئے ایک مسلسل تب و تاب عطا کردی، تاآنکہ ۷؍ستمبر ۱۹۴۷ء کو وہ مقصد عظیم حاصل ہوا، اور قادیانیت کا کانٹا اسلام کے جسم سے نکال پھینکا گیا۔

203

۲۹؍مئی ۱۹۴۷ء سے سات ستمبر تک:

۱۹۵۳ء کی تحریک ختمِ نبوّت کے بعد ایک سرکاری افسر نے مجلس تحفظ ختمِ نبوّت کے امیر، امیر شریعت سیّد عطاء اللہ شاہ بخاریؒ سے طنزاً کہا: ’’شاہ جی! وہ آپ کی تحریک کا کیا ہوا؟‘‘ فرمایا: ’’میں نے اس تحریک کے ذریعہ ایک ’’ٹائم بم‘‘ مسلمانوں کے دلوں کی زمین میں چھپا دیا ہے، جب وہ اپنے وقت پر پھٹے گا تو قادیانیوں کو اقتدار کی کوئی طاقت تباہی و بربادی سے نہیں بچا سکے گی۔‘‘

ہم دیکھتے ہیں کہ ۲۹؍مئی ۱۹۴۷ء کو یہ ’’ٹائم بم‘‘ خود قادیانیوں کے ہاتھوں ربوہ ریلوے اسٹیشن پر پھٹا، جس سے قادیانیت کو زلزلہ آیا، قادیانیوں کے قصر خلافت ربوہ پر مایوسیوں کے بادل منڈلاتے رہے اور سات ستمبر۱۹۴۷ء کو جب مطلع صاف ہوا تو پوری دنیا نے دیکھا کہ قادیانیت کا مصنوعی سورج اسلامی افق سے غروب ہوچکا ہے اور آئین پاکستان میں قادیانیوں کا نام غیرمسلم اقلیتوں کی فہرست میں سکھوں، ہندوؤں اور اچھوتوں کے ساتھ درج ہے اور دنیا نے یہ بھی دیکھا کہ نہ تو امریکہ سے برطانیہ تک اقتدار کی کوئی طاقت قادیانیوں کو اس انجام بد سے بچاسکی، نہ یہودیوں کا سرمایہ ان کی ذلت و رسوائی کے داغ مٹا سکا۔ سچ ہے: ’’قلندر ہرچہ گوید دیدہ گوید۔‘‘

۱۹۵۳ء کی طرح ۱۹۴۷ء کی تحریک میں بھی مسلمانوں نے ’’مجلس عمل تحفظ ختمِ نبوّت‘‘ کے پلیٹ فارم پر جمع ہوکر بے مثال اتحاد و تنظیم کا مظاہرہ کیا اور ناموس رسالت کے تحفظ کے لئے قربانیاں پیش کیں۔ مجلس عمل تحفظ ختمِ نبوّت کے صدر حضرت مولانا سیّد محمد یوسف بنوریؒ نے اپنے امراض و اشغال اور ضعف و کبر سنی کے باوجود جوانمردی و اولوالعزمی سے مسلمانوں کی قیادت کی۔ معزز ارکان اسمبلی نے قومی اسمبلی میں اہل اسلام کی ترجمانی کے فرائض انجام دئیے اور ملت اسلامیہ کے تمام اکابر و اصاغر نے اپنی ہمت و بساط سے بڑھ چڑھ کر ناموس رسالت پر جاں نثاری کا نمونہ پیش کیا، اس گئے گزرے زمانے میں یہ اتحاد، یہ تنظیم، یہ اولوالعزمی اور یہ پرخلوص قربانیاں، حضرت خاتم النبیین صلی اللہ علیہ و سلم کی

204

ختمِ نبوّت ہی کا معجزہ تھا، اس موقع پر مجلس تحفظ ختمِ نبوّت نے دیگر خدمات کے علاوہ مجلس عمل کے مصارف کا بار برداشت کیا اور قومی اسمبلی پر قادیانیت کی حقیقت واضح کرنے کے لئے ’’ملتِ اسلامیہ کا موقف‘‘ نامی کتاب شائع کی، خلاصہ یہ کہ ۱۹۴۷ء کی تحریک کی کامیابی دراصل ۱۹۵۳ء کی تحریک کا نتیجہ تھی، جب سے اب تک ’’مجلس تحفظ ختمِ نبوّت‘‘ نے مسلمانوں کو ختمِ نبوّت کے پلیٹ فارم پر متحد رکھنے کے لئے نہایت جانفشانی اور خلوص سے کام کیا۔

تحریک ختمِ نبوّت ۱۹۴۸ء عالمی مجلس تحفظ ختمِ نبوّت کی قیادت میں چلی جس کے نتیجہ میں قادیانی گروہ کے خلاف امتناع قادیانیت آرڈیننس جاری ہوا اور قادیانی سربراہ کو ملک چھوڑنا پڑا، عالمی مجلس نے بیرون ملک کے کام کو وسیع سے وسیع تر کر دیا، جس کی تفصیلات مستقل کتاب کی متقاضی ہیں۔

ختمِ نبوّت کا پیام! ایک عالمی پیام:

’’مجلس تحفظ ختمِ نبوّت‘‘ کے وسائل نہایت محدود تھے، اس کا ضعف و ناتوانی اندرون ملک بھی کام پر قابو پانے کی استطاعت نہیں رکھتی تھی، لیکن مجلس کے رہنماؤں کی اولوالعزمی، اسباب و وسائل سے زیادہ مسبب الاسباب پر نظر رکھ کر چلنے کی خوگر تھی، وہ ختمِ نبوّت کی دعوت دنیا کے ہر اس خطے میں پھیلانا چاہتے تھے، جس میں کوئی انسانی آبادی موجود ہو۔ ’’مجلس تحفظ ختمِ نبوّت‘‘ کے میر محفل مولانا محمد علی جالندھریؒ کی تقریروں کا یہ فقرہ بہت سے لوگوں کے حافظہ میں محفوظ ہوگا کہ:

’’آج کل امریکہ چاند پر پہنچنے کی کوشش کر رہا ہے، اگر کسی وقت چاند پر انسان آباد ہوں، اور اگر زمین سے کوئی انسانی قافلہ چاند پر منتقل ہوا تو جو سیارہ انسانی آبادی کے سب سے پہلے قافلے کو لے کر جائے گا، اس میں اِن شاء اللہ ہماری کوشش ہوگی کہ ’’مجلس تحفظ ختمِ نبوّت‘‘ کا نمائندہ بھی ہو۔‘‘

205

اس لئے مجلس نے قلت وسائل کے باوجود فتنہ قادیانیت کے تعاقب کو اندرون ملک تک محدود نہیں رکھا، بلکہ عالم اسلام کو بھی مسلسل اس فتنہ سے آگاہ رکھا، مثلاً:

الف:۔۔۔باہر سے آنے والے اسلامی ممالک کے وفود سے ملاقاتیں کی گئیں اور فتنہ قادیانیت کی طرف توجہ دلائی گئی، چنانچہ جشن قرآن کریم راولپنڈی، اسلامی سربراہ کانفرنس لاہور اور اسلامی وزراء خارجہ کانفرنس کراچی کے موقع پر ’’مجلس تحفظ ختمِ نبوّت‘‘ نے عالم اسلام کے ان معزز مہمانوں سے رابطہ قائم کیا، انہیں قادیانیوں کی سازشوں سے باخبر کیا، اور اس سلسلہ میں ضروری لٹریچر فراہم کیا گیا۔

ب:۔۔۔’’مجلس تحفظ ختمِ نبوّت‘‘ کے امیر شیخ الاسلام مولانا محمد یوسف بنوریؒ نے جن کو عالم اسلامی کی ممتاز علمی شخصیتوں سے دیرینہ تعارف اور دوستانہ تعلقات تھے، عالم اسلام کے چیدہ چیدہ افراد کو اس فتنہ کے استیصال کی طرف متوجہ کیا۔

ج:۔۔۔جامعہ اسلامیہ مدینہ منورہ، رابطہ عالم اسلامی (سعودی عرب)، المجلس الاعلیٰ للشئون الاسلامیہ (مصر) اور دیگر اسلامی اداروں کو توجہ دلائی اور ان سے قراردادیں منظور کروائیں۔

متعدد موقعوں پر عالم اسلام کے قائد شاہ فیصل شہیدؒ اور دیگر سربراہوں سے ملاقات کی اور انہیں اس فتنہ کی سرگرمیوں سے آگاہ کیا۔

ہر سال جماعت کے نمائندے حج پر تشریف لے جاتے ہیں، اور دنیا بھر کے حجاج کرام سے رابطہ قائم کرکے ان کو قادیانیوں کی تحریک ارتداد سے متنبہ کرتے ہیں۔

یورپ کے مسلمانوں کی دعوت پر مناظر اسلام مولانا لال حسین اختر مرحوم نے انگلینڈ، جرمنی، آسٹریلیا، امریکہ اور جزائر فجی، آئر لینڈ کا دورہ کیا، جس سے لاکھوں مسلمان، قادیانیوں کے ارتداد سے محفوظ ہوگئے، مولانا مرحوم کا قیام ان ممالک میں قریباً تین سال رہا، قادیانیوں کے خلاف وہاں خوب کام ہوا، انگلینڈ میں ’’مجلس تحفظ ختمِ نبوّت‘‘ کے لئے ایک عمدہ بلڈنگ خریدی گئی اور اس میں مجلس کا مرکز قائم ہوا۔ ’’ووکنگ مسجد‘‘ جو قادیانیوں کا مشہور اڈا تھا، ان سے واگزار کراکر مسلمانوں کی تحویل میں دی گئی، جزائر فجی میں تعلیم قرآن

206

کا مدرسہ جاری ہوا، جو ’’فجی مسلم لیگ‘‘ کے زیر اہتمام بحسن و خوبی چل رہا ہے۔

’’مجلس تحفظ ختمِ نبوّت‘‘ کے ممتاز رہنما مولانا سیّد منظور احمد شاہ حجازی نے دو مرتبہ متحدہ عرب امارات کا دورہ کیا، وہاں کی عدالت عالیہ اور دیگر ممتاز شخصیتوں کو قادیانی لٹریچر سے ان کی کفریہ عبارتیں پڑھ کر سنائیں، اور ان کے عقائد و نظریات کی تفصیل پیش کی، جس کے نتیجہ میں وہاں کی عدالت عالیہ نے ان کو خارج از اسلام اور سازشی گروہ قرار دیا۔

مولانا سیّد منظور احمد حجازی نے بحرین کا دورہ کیا اور وہاں ’’مجلس تحفظ ختمِ نبوّت‘‘ کی شاخ قائم کی گئی، بحمد اللہ تمام عرب امارتوں میں قادیانی دجل و فریب کھل چکا ہے اور قادیانیوں کے خلاف مؤثر کاروائی شروع ہوچکی ہے۔

۷؍ستمبر ۱۹۴۷ء کے فوراً بعد حضرت مولانا سیّد محمد یوسف بنوریؒ نے انگلینڈ کا دورہ کیا اور وہاں قادیانیت کے خلاف کام کو مزید مؤثر و منظم کیا گیا۔

’’مجلس تحفظ ختمِ نبوّت‘‘ کے امیر حضرت مولانا سیّد محمد یوسف بنوریؒ نے مولانا ڈاکٹر عبدالرزاق اسکندر کی معیت میں مشرقی افریقہ کے متعدد ممالک کا دورہ کیا، ان تمام ممالک میں ’’مجلس تحفظ ختمِ نبوّت‘‘ کی شاخیں قائم کی گئیں اور مسلمانوں کو قادیانیوں کے خلاف منظم کیا گیا۔

’’مجلس تحفظ ختمِ نبوّت‘‘ کے عظیم رہنما مولانا عبدالرحیم اشعر، مولانا اللہ وسایا کی معیت میں ’’المجلس الاعلیٰ‘‘ کے صدر جناب الشیخ حسین الجشی کی دعوت پر انڈونیشیا تشریف لے گئے، وہاں ’’مجلس تحفظ ختمِ نبوّت‘‘ کا مرکز قائم ہوچکا ہے۔ وہاں بھی اِن شاء اللہ عنقریب قادیانیوں کو غیرمسلم اقلیت قرار دے دیا جائے گا۔

نائیجیریا اور دیگر مغربی افریقی ممالک میں بھی ’’مجلس تحفظ ختمِ نبوّت‘‘ کے نمائندے پہنچ چکے ہیں، اور الحمدللہ وہ قادیانیت کے خلاف خوب کام کر رہے ہیں، لندن میں عالمی مجلس کا اپنا دفتر قائم ہے، اور ہر سال قادیانیت کے خلاف عظیم الشان کانفرنس منعقد ہوتی ہے۔

207

آثار و نتائج:

اکابر دیوبند کی مساعی اور ’’مجلس تحفظ ختمِ نبوّت‘‘ کے مقاصد و خدمات کا مختصرسا خاکہ آپ کے سامنے آچکا ہے، اب ایک نظر ان آثار و نتائج پر بھی ڈال لینا چاہئے جو جماعت کی جہد مسلسل اور اُمتِ اسلامیہ کے اتفاق و تعاون کے نتیجہ میں وقوع پذیر ہوئے:

اوّل:۔۔۔پاکستان کی قومی اسمبلی نے قادیانیوں کو غیرمسلم قرار دیا، علاوہ ازیں قریباً تیس اسلامی ممالک قادیانیوں کو کافر، مرتد، دائرۂ اسلام سے خارج اور خلاف قانون قرار دے چکے ہیں۔

دوم:۔۔۔ختمِ نبوّت کی تحریک پاکستان میں کامیاب ہوئی، تو پوری دنیا پر قادیانیوں کا کفر و نفاق واضح ہوگیا، اور دنیا کے بعید ترین ممالک کے مسلمان بھی قادیانیوں کے بدترین کفر سے واقف ہوگئے۔

سوم:۔۔۔بہاولپور سے ماریشش جوہانسبرگ تک کی بہت سی عدالتوں نے قادیانیوں کی غیرمسلم حیثیت کی بنا پر فیصلے دئیے۔

چہارم:۔۔۔’’مجلس تحفظ ختمِ نبوّت‘‘ کی تحریک نے نہ صرف پاکستان کو بلکہ دیگر اسلامی ممالک کو قادیانیوں کے غلبہ تسلط سے محفوظ کردیا اور تمام دنیا کے مسلمان قادیانیوں کو ایک سازشی اور مرتد ٹولہ سمجھ کر ان سے محتاط اور چوکنا رہنے لگے۔

پنجم:۔۔۔بے شمار لوگ جو قادیانیوں کے دام ہمرنگ زمین کا شکار ہوکر مرتد ہوگئے تھے، جب ان پر قادیانیت کا کفر کھل گیا تو وہ قادیانیت کو چھوڑ کر دوبارہ دامن اسلام سے وابستہ ہوگئے۔

ششم:۔۔۔ایک وقت تھا کہ مسلمانوں کا ملازم پیشہ نوجوان طبقہ قادیانیوں سے بے حد مرعوب تھا، چونکہ قادیانی پاکستان میں اعلیٰ مناصب پر قابض تھے، اس لئے وہ ایک طرف اپنے ماتحت عملے میں قادیانیت کی تبلیغ کرتے اور دوسری طرف اچھے مناصب کے لئے صرف قادیانیوں کا انتخاب کرتے، اس سے مسلمانوں کے نوجوان طبقہ کی صریح حق تلفی

208

ہوتی تھی اور بہت سے نوجوان اچھی ملازمت کے لالچ میں قادیانی مذہب کے ہمنوا ہوجاتے تھے، اب بھی اگرچہ کلیدی آسامیوں پر بہت سے قادیانی فائز ہیں، اور ملازمتوں میں ان کا حصہ مسلمانوں کی نسبت اب بھی زیادہ ہے، مگر اب قادیانیوں کے سامنے مسلمان نوجوانوں کا احساس کہتری ختم ہو رہا ہے، اور نوجوانوں کی طرف سے مطالبے ہو رہے ہیں کہ قادیانیوں کو ان کی حصہ رسدی سے زیادہ کسی ادارے میں نشستیں نہ دی جائیں۔

ہفتم:۔۔۔قیام پاکستان سے ۱۹۴۷ء تک ’’ربوہ‘‘ مسلمانوں کے لئے ایک ممنوعہ قصبہ تھا، وہاں مسلمانوں کے داخلہ کی اجازت نہیں تھی، حتیٰ کہ ریلوے اور ڈاک خانہ کے سرکاری ملازموں کے لئے قادیانی ہونے کی شرط تھی، لیکن اب ’’ربوہ‘‘ کی سنگینی ٹوٹ چکی ہے، وہاں اکثر سرکاری ملازم مسلمان ہیں۔ اور اب تو الحمدللہ ’’ربوہ‘‘ کا نام چناب نگر سے بدل کر قادیانیت کے تابوت میں آخری کیل ٹھونک دی گئی ہے۔ ۱۹۵۷ء سے مسلمانوں کی نماز باجماعت بھی ہوتی ہے اور ’’مجلس تحفظ ختمِ نبوّت‘‘ کے مدارس و مساجد، دفتر و لائبریری قائم ہیں۔

ہشتم:۔۔۔قادیانی اپنے مردوں کو مسلمانوں کے قبرستان میں دفن کرنے پر اصرار کیا کرتے تھے، لیکن اب مسلمانوں کے قبرستان میں ان کا دفن کیا جانا ممنوع ہے۔

نہم:۔۔۔پاسپورٹ، شناختی کارڈ اور فوجی ملازمتوں کے فارموں میں قادیانیوں کو اپنے مذہب کی تصریح کرنا پڑتی ہے۔

دہم:۔۔۔پاکستان میں ختمِ نبوّت کے خلاف کہنا یا لکھنا قابل تعزیر جرم قرار دیا جاچکا ہے۔

یازدہم:۔۔۔سعودی عرب، لیبیا اور دیگر اسلامی ممالک میں قادیانیوں کا داخلہ ممنوع ہے، اور انہیں ’’اسلام کے جاسوس‘‘ قرار دیا جاچکا ہے۔

دوازدہم:۔۔۔مرزا غلام احمد قادیانی کی نبوّت کے خلاف لب کشائی کی پاکستان میں اجازت نہیں تھی، مگر اب صورت حال یہ ہے کہ قادیانی اپنے آپ کو مسلمان نہیں کہہ سکتے۔

209

سیزدہم:۔۔۔قادیانی جو بیرونی ممالک میں یہ پروپیگنڈہ کیا کرتے تھے، کہ پاکستان میں قادیانیوں کی حکومت ہے اور دار الخلافہ ’’ربوہ‘‘ ہے، وہ اس جھوٹ پر نہ صرف پوری دنیا میں ذلیل ہوچکے ہیں، بلکہ خدا کی زمین اپنی فراخی کے باوجود ان پر تنگ ہو رہی ہے، حتیٰ کہ قادیانی سربراہ کو لندن میں بھی چین نصیب نہیں۔

’’مجلس تحفظ ختمِ نبوّت‘‘ اور بیت المال:

’’مجلس تحفظ ختمِ نبوّت‘‘ کے وسیع ترین تبلیغی نظام کا ایک مختصر خاکہ آپ کے سامنے آچکا ہے، البتہ اس امر کی وضاحت ضروری ہے کہ جماعت کے لاکھوں روپے کے مصارف کا انتظام کیسے ہوتا ہے، جماعت کے بیت المال کے لئے کوئی مستقل ذریعہ محاصل نہیں، اس نے محض حق تعالیٰ شانہ کے خزانہ عامرہ پر توکل کرتے ہوئے ایک روپیہ یومیہ کے میزانیہ سے اپنا کام شروع کیا اور جوں جوں جماعت کا ٹھوس کام سامنے آتا گیا، حق تعالیٰ شانہ نے عام مسلمانوں کو خدمت و تعاون کی طرف متوجہ فرمایا اور وہ تمام حضرات جن کو مسئلہ ختمِ نبوّت اور تحفظ ناموس رسالت سے دلچسپی تھی، انہوں نے اپنے صدقات جماعت کے بیت المال میں جمع کرانے شروع کئے، گویا جماعت کا کل سرمایہ توکل علی اللہ اور مسلمانوں کا دست تعاون ہے۔

جماعت نے بیت المال کے نظام میں جن امور کو ملحوظ رکھا ان کا خلاصہ یہ ہے:

’’مجلس تحفظ ختمِ نبوّت‘‘ میں جس قدر کارکن کام کرتے ہیں ان کے قوت لایموت کا انتظام جماعت کرتی ہے اور ان پر پابندی عائد ہے کہ کسی مسلمان کی جانب سے ایک پیسہ بھی انہیں دیا جائے تو وہ جماعت کے بیت المال کی رسید دیں اور وہ پیسہ بیت المال میں جمع کرائیں، جماعت کے مبلغین اور کارکنوں نے اس سلسلہ میں جس بے مثال قربانی اور نظم و ضبط کا مظاہرہ کیا، اس کی نظیر موجودہ دور میں مشکل سے ملے گی۔

اہل اسلام کی جانب سے زکوٰۃ، صدقات، صدقۂ فطر، چرم قربانی اور دیگر عطیات کی شکل میں جو امداد جس مد میں دی جاتی ہے، بیت المال کی جانب سے اس کا اہتمام کیا جاتا

210

ہے کہ وہ احتیاط کے ساتھ اس مد میں خرچ کی جائے۔

چنانچہ اسی بیت المال سے مبلغین کے مشاہرات، دفاتر کے اخراجات، مدارس اور طلبہ کی ضروریات، اندرون و بیرون ملک کا تبلیغی نظام، دنیا کی مختلف زبانوں میں تحریر کردہ اور شائع کردہ لٹریچر کی اشاعت اور بیرون ملک جانے والے وفود کے لوازمات پورے کئے جاتے ہیں، گویا جس نے جماعت کو ایک روپیہ بھی دیا، وہ ان تمام شعبوں میں حصہ دار ہے۔

جماعت کی جانب سے ہر سال ایک روئداد شائع ہوتی ہے، جس میں گزشتہ سال کی کارکردگی اور آئندہ کے لائحہ عمل کے ساتھ ساتھ تمام عطیہ دہندگان کے نام اور ان کی رقوم کی تصریح کی جاتی ہے، نیز مصارف کی تفصیل بھی پیش کی جاتی ہے، تاکہ ہر مسلمان یہ اطمینان کرسکے کہ آیا اس کی بھیجی ہوئی رقوم بیت المال میں جمع ہوئی ہیں یا نہیں؟

آمد و صرف کے حسابات باقاعدہ رجسٹرڈ کئے جاتے ہیں اور ہر سال سرکاری آڈیٹر سے حسابات کی پڑتال کرائی جاتی ہے۔

ہر مسلمان کو اس امر کی اجازت ہے کہ جب چاہے جماعت کے حسابات کا معائنہ کرسکتا ہے۔

گورنمنٹ پاکستان نے ’’مجلس تحفظ ختمِ نبوّت‘‘ کو ایک تبلیغی اور فلاحی ادارہ تسلیم کرتے ہوئے اس کے بیت المال میں داخل کئے جانے والے جملہ عطیات کو انکم ٹیکس سے مستثنیٰ قرار دیا ہے۔

لاکھوں روپے کا میزانیہ ہونے کے باوجود جماعت کے کارکنوں کو اپنے فقر و افلاس پر ناز ہے، ہم اپنے اسلاف کی اس دولت فقر کی نمائش کو گناہ سمجھتے ہیں۔

آئندہ عزائم اور جماعت کا لائحہ عمل:

بہت سے لوگوں کا خیال ہوتا ہے کہ پاکستان میں قادیانیوں کو غیرمسلم قرار دے دیا گیا، لہٰذا ختمِ نبوّت کا مشن اب ختم ہوچکا، لیکن یہ غلط فہمی ہے، جماعت ختمِ نبوّت کا مشن ختم

211

نہیں ہوا، بلکہ اس کے دائرہ کار اور اس کی ذمہ داریوں میں کئی سو گنا اضافہ ہوگیا ہے، اب تک جماعت کی بیشتر توجہ اندرون ملک قادیانیوں کے رد و تعاقب کی طرف تھی، مگر ستمبر ۱۹۴۷ء کے بعد پوری دنیا جماعت ختمِ نبوّت کی دعوت و تبلیغ کا میدان بن چکا ہے، جہاں جہاں قادیانی پہنچے ہیں، وہاں وہاں سے جماعت کے امیر حضرت مولانا خواجہ خان محمد صاحب مدظلہ کو تقاضوں پر تقاضے آرہے ہیں کہ یہاں ختمِ نبوّت کے کام کی ضرورت ہے، اس لئے ۱۹۴۷ء سے پہلے اگر جماعت کو بیسیوں کارکنوں کی ضرورت تھی تو اب سینکڑوں کی نہیں ہزاروں کی ضرورت ہے، پہلے اگر اس کا کام ہزاروں میں چل سکتا تھا، تو اب اس کے لئے لاکھوں کا نہیں کروڑوں کا نقشہ سامنے آتا ہے، بہرحال پہلے بھی خدا کے بھروسے یہ جماعت چل رہی تھی اور آئندہ بھی اس کا یہی سہارا ہے، تاہم مسلمانوں کے سامنے جماعت کے نئے مسائل اور نئے تقاضوں کا پیش کرنا بھی ضروری ہے۔

۱:۔۔۔جیسا کہ اوپر عرض کیا جاچکا ہے، ختمِ نبوّت کی تحریک پوری دنیا میں پھیل چکی ہے، اور کم و بیش ہر جگہ قادیانیوں سے وہی معرکہ گرم ہے، جو یہاں ہمارے ملک میں رہا، اس لئے فوری ضرورت اس امر کی ہے کہ ساری دنیا کے ممالک میں اور بالخصوص ان ممالک میں جہاں قادیانیوں کا زیادہ تسلط ہے، ختمِ نبوّت کے مضبوط مرکز قائم کئے جائیں اور چونکہ باہر کی دنیا قادیانیوں کی کتابوں سے واقف نہیں، اس لئے ضرورت ہے کہ یہاں سے کثیر تعداد میں مبلغ بھیجے جائیں اور ان کے ساتھ ضروری لٹریچر بھی دیا جائے۔

۲:۔۔۔اس طرح یہ امر بھی فوری طور پر توجہ طلب ہے کہ اردو، عربی، انگریزی، فارسی، فرانسیسی اور افریقی و ایشیائی ممالک کی معروف زبانوں میں خصوصاً ان ممالک کی زبانوں میں جہاں قادیانی ہیں، رد قادیانیت پر لٹریچر تیار کرکے شائع کیا جائے، یہ لاکھوں روپے کا منصوبہ ہے۔

۳:۔۔۔ایک اہم ترین ضروری بات یہ ہے کہ بیرونی ممالک سے ذہین و فطین نوجوانوں کو پاکستان لایا جائے اور انہیں قادیانیت کی تعلیم دے کر ان کے ممالک میں تبلیغ ختمِ نبوّت کا کام ان کے سپرد کیا جائے، اس مقصد کے لئے ملتان میں ایک عالمی تبلیغی مرکز قائم ہے، جن میں بحمدہ تعالیٰ ان تمام ضروریات کو ملحوظ رکھا جاتا ہے۔

212

 

مسئلۂ ختمِ نبوّت اور حضرت نانوتویؒ

 

بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ

اَلْحَمْدُ للہِ وَحْدَہٗ وَالصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامُ عَلٰی مَنْ لّا نَبِیَّ بَعْدَہٗ، اَمَّا

بَعْدُ!

دین اسلام کا سنگ بنیاد ختمِ نبوّت کا عقیدہ ہے، انبیائے کرام علیہم السلام کا مقدس سلسلہ حق تعالیٰ شانہ نے سیّدنا آدم علیہ السلام سے شروع فرمایا اور سیّدالعالمین خاتم النبیین محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم پر اس مبارک سلسلہ کو ختم کردیا۔ پس آنحضرت صلی اللہ علیہ و سلم قصر نبوّت کی آخری اینٹ ہیں جن کے وجود پاک سے قصر نبوّت تکمیل پذیر ہوا۔ انبیاء علیہم السلام کی جو فہرست حق تعالیٰ شانہ کے علم ازلی سے طے شدہ تھی اس میں آخری نام حضرت خاتم النبیین صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کا تھا۔ آپ کی تشریف آوری سے وہ فہرست مکمل ہوگئی جس میں کسی اضافہ کا امکان نہ رہا۔

ختمِ نبوّت کا یہ عقیدہ تمام اُمت کا اجماعی اور مسلّمہ عقیدہ ہے اور آنحضرت صلی اللہ علیہ و سلم کے بعد سیّدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے دور میں سب سے پہلا جہاد اسی عقیدہ کے تحفظ کے لئے ہوا جس میں ہزاروں صحابہؓ و تابعینؒ نے اپنی قیمتی جانیں قربان کرکے اس عقیدہ کو زندہ جاوید بنادیا۔

حجۃ الاسلام مولانا محمد قاسم نانوتوی بانی دارالعلوم دیوبند قدس سرہ اپنے دور میں علوم و حقائق کے بحر ناپید کنار اور بقول حضرت مولانا پیر مہر علی شاہ صاحب گولڑوی رحمۃ اللہ علیہ: ’’حق تعالیٰ شانہ کی صفتِ علم کا مظہرِ اَتم تھے۔‘‘

(ماہنامہ ’’الرشید‘‘ ساہیوال دارالعلوم دیوبند نمبر ص:۸۷۷)

213

حضرت نانوتویؒ اور ان کے رفیق حضرت مولانا رشید احمد گنگوہی رحمۃ اللہ علیہ کے تعارف میں شیخ الاسلام حضرت مولانا سیّد محمد یوسف بنوری رحمۃ اللہ علیہ کا ایک اقتباس نقل کرنا بے محل نہ ہوگا:

’’میں علیٰ وجہ البصیرت کہتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ نے دو شخصیتوں کی جامع ایک شخصیت پیدا کی، ایک وہ شخصیت جو مختلف قسم کے ظاہری علوم روایت و درایت اور منقول و معقول کی جامع تھی، یہ تھے حافظ ابن تیمیہؒ، علم کا دریائے ناپیدکنار، اور ٹھاٹھیں مارتا ہوا سمندر، دوسری شخصیت جو علوم ظاہر کے حصہ وافر اور دیگر علوم غریبہ و دقیقہ کے ساتھ ساتھ حقائق الٰہیہ اور عارفین کے علوم ربانیہ کی جامع تھی، یہ تھے شیخ اکبر محی الدین ابن عربی الاندلسیؒ۔

حق تعالیٰ شانہ نے ان دونوں شخصیتوں کو جمع کرکے ایک بہت ہی بڑی اور ممتاز شخصیت پیدا کی اور یہ تھے حجۃ الاسلام شاہ عبدالعزیز محدث دہلویؒ۔۔۔ شاہ عبدالعزیز محدث دہلویؒ کے علوم کے دو جلیل القدر عالم وارث ہوئے، ایک الامام الحجۃ مولانا محمد قاسم نانوتویؒ اور دوسرے المحدث الفقیہ الحجہ مولانا رشید احمد گنگوہیؒ۔

یہ دونوں اکابر دونوں قسم کے علوم میں حظ وافر رکھتے تھے، مگر حضرت نانوتویؒ میں علوم متکلمین اور علوم حقائق کا پہلو غالب تھا۔‘‘

(مقدمہ لامع الدراری ص:۶)

حضرت نانوتویؒ کا شمار اُمتِ محمدیہ علی صاحبہا الصلوٰۃ و السلام کے ان ارباب قوت قدسیہ میں ہوتا ہے جن کی نظر صرف احکام و مسائل پر ہی نہیں بلکہ ان کے اسباب و علل تک پہنچتی ہے وہ صرف جزئیات کا احاطہ نہیں کرتے بلکہ جزئیات کو کلیات کے سلسلہ میں مربوط دیکھتے ہیں، صرف فروع کا علم نہیں رکھتے بلکہ ان کے اصول سے اصل الاصول تک پہنچتے ہیں، ان کا علم کسب و اکتساب کے دائرے سے ماوریٰ ہوتا ہے، وہ استدلال سے کام ضرور

214

لیتے ہیں مگر معلومات کے ذریعے مجہولات کو حاصل کرنے کے لئے نہیں بلکہ افہام عامہ کی رہنمائی کے لئے، الغرض ان کی نظر اطراف و جوانب اور مبادی و وسائل میں الجھ کر نہیں رہ جاتی بلکہ نتائج و مقاصد کی بلندیوں میں پرواز کرتی ہے۔

حضرت نانوتویؒ کے نزدیک یہی لوگ راسخین فی العلم ہیں اور ان کے علاوہ سب لوگ عوام کی صف میں آتے ہیں، قاسم العلوم میں فرماتے ہیں:

’’جز انبیاء علیہم السلام و راسخین فی العلم ہمہ عوام اند۔‘‘

(مکتوب دوم ص:۶)

’’یعنی انبیاء علیہم السلام اور راسخین فی العلم کے سوا باقی سب عوام ہیں۔‘‘

آنحضرت صلی اللہ علیہ و سلم خاتم النبیین بمعنی آخری نبی ہیں، یہ مسئلہ ہر خاص و عام کو معلوم ہے اور ملت اسلامیہ کا ایک فرد بھی ایسا نہیں جو اس سے ناواقف ہو، لیکن اگر یہ سوال کیا جائے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ و سلم آخری نبی (یا بلفظ دیگر خاتم النبیین کیوں ہیں؟) تو عوام بس یہی کہہ سکیں گے کہ خدا تعالیٰ نے آپ کو آخری نبی بنایا ہے، اس لئے آپؐ خاتم النبیین ہیں، لیکن جب آگے بڑھ کر یہ دریافت کیا جائے کہ جماعت انبیاء علیہم السلام میں سے آنحضرت صلی اللہ علیہ و سلم کو ہی کیوں اس منصب جلیلہ کے لئے منتخب کیا گیا؟ تو اس کا جواب صرف علمائے راسخین ہی دے سکتے ہیں، یہ سوال عوام کے دائرے سے باہر کی چیز ہے۔

حضرت مولانا محمد قاسم نانوتویؒ نے اپنی تصانیف ’’آب حیات‘‘، ’’قبلہ نما‘‘، ’’حجۃ الاسلام‘‘ اور ’’تقریر دلپذیر‘‘ میں کہیں مختصر اور کہیں مطول اس راز سے عقدہ کشائی فرمائی ہے اور خصوصیت کے ساتھ ’’تحذیر الناس‘‘ تو آپ نے صرف اسی موضوع پر تالیف فرمائی ہے، سب سے پہلے عوام کے مبلغ پرواز کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرماتے ہیں:

’’قبل عرض جواب یہ گزارش ہے کہ اول معنی خاتم النبیین معلوم کرنے چاہئیں تاکہ فہم جواب میں کچھ دقت نہ ہو، سو ’’عوام‘‘ کے خیال میں تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کا ’’خاتم‘‘ ہونا بایں معنی ہے کہ آپ کا زمانہ انبیائے سابق کے زمانہ کے بعد اور آپ سب

215

میں آخری نبی ہیں۔‘‘

(تحذیر الناس ص:۳ مکتبہ رحیمیہ دیوبند)

ظاہر ہے کہ ’’عوام‘‘ بے چارے خاتم النبیین کا مطلب اس سے زیادہ کیا جانتے ہیں کہ آپؐ کی بعثت تمام انبیاء علیہم السلام کے بعد ہوئی ہے، آپؐ کا زمانہ سب کے بعد رکھا گیا ہے اور آپؐ سب سے آخری نبی ہیں۔

خاتم النبیین کے یہ معنی بالکل صحیح ہیں اور اس میں کوئی شک و شبہ نہیں کہ قرآن مجید کا مدعا آپؐ کی آخریت کو بیان کرنا ہے، لیکن قرآن کریم نے آپ کی آخریت و خاتمیت کو کس غرض سے بیان فرمایا ہے؟ اس کے جواب میں ہم ایسے عوام بس یہ کہہ سکتے ہیں کہ اس سے جھوٹے مدعیان نبوّت کا انسداد مقصود تھا۔

حضرت نانوتویؒ کے نزدیک:

’’باقی یہ احتمال کہ یہ دین آخری دین تھا اس لئے سدباب اتباع مدعیان نبوّت کیا ہے، جو کل کو جھوٹے دعوے کرکے خلائق کو گمراہ کریں گے، البتہ فی حد ذاتہ قابل لحاظ ہے۔‘‘

(تحذیر الناس ص:۳ مکتبہ رحیمیہ دیوبند)

لیکن کیا خاتم النبیین کا مفہوم صرف اسی حد تک محدود ہے؟ قرآن کریم کا منشا صرف آپؐ کی آخریت زمانی کو ذکر کرنا ہے؟ اور معنائے خاتمیت بس یہی ہے کہ آپؐ آخری نبی ہیں؟ یہ ہے وہ سوال جس کے حل کے لئے ’’عوام‘‘ کافی نہیں، بلکہ اس راز سے پردہ اٹھانے کے لئے ارباب قوت قدسیہ کا علم وہبی درکار ہے۔

گویا آنحضرت صلی اللہ علیہ و سلم کی خاتمیت زمانی کا علم و یقین تو عوام کے دائرے کی چیز ہے، لیکن اس خاتمیت زمانی کی علت کیا ہے؟ یہ عوام کے دائرے کے اوپر کی چیز تھی، حضرت نانوتویؒ کو حق تعالیٰ شانہ جزائے خیر عطا فرمائے کہ انہوں نے اس علت العلل کی طرف رہنمائی فرمائی، فرماتے ہیں:

’’اگر سدباب مذکور منظور ہی تھا تو اس کے لئے اور بیسیوں مواقع تھے، بلکہ بنائے خاتمیت اور بات پر ہے جس سے تأخرِ زمانی

216

اور سدباب مذکور خود بخود لازم آجاتا ہے اور فضیلت نبوی صلی اللہ علیہ و سلم دوبالا ہوجاتی ہے، تفصیل اس اجمال کی یہ ہے کہ۔۔۔۔۔۔‘‘

(تحذیر الناس ص:۴ مکتبہ رحیمیہ دیوبند)

اس کے بعد پورا رسالہ اسی اجمال کی تفصیل اور خاتمیت زمانی کی علت کی تشریح میں ہے، جس کا خلاصہ یہ ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ و سلم باعتبار شرف و مرتبہ کے بھی خاتم ہیں، باعتبار مکان کے بھی، باعتبار زمان کے بھی۔

آپؐ وصف نبوّت کے ساتھ بالذات موصوف ہیں، اور باقی تمام انبیائے کرام علیہم السلام آپ کے واسطہ اور ذریعہ سے ہیں۔ اس لئے باقی انبیاء علیہم السلام کی نسبت آپؐ کے ساتھ وہی ہے جو قمر کو آفتاب سے ہے، آپؐ کی نبوّت صرف آپؐ کے زمانہ تک محدود نہیں بلکہ بواسطہ دیگر انبیاء علیہم السلام کے، تمام کون و مکان اور زمین و زمان پر حاوی ہے، یہی وجہ ہے کہ آپؐ صرف نبی اُمت نہیں بلکہ نبی الانبیاء ہیں اور تمام انبیائے کرام علیہم السلام اپنی امتوں سمیت آپؐ کی سیادت و قیادت کے ماتحت ہیں۔

ان مقدمات کو مبرہن فرمانے کے بعد حضرت نانوتویؒ، آنحضرت صلی اللہ علیہ و سلم کی خاتمیت زمانی کی وہ دلیل بیان فرماتے ہیں جس سے جھوٹے مدعیان نبوّت کا سارا طلسم ٹوٹ جاتا ہے:

’’بالجملہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم وصف نبوّت میں موصوف بالذات ہیں اور سوا آپ کے اور انبیاء علیہم السلام موصوف بالعرض۔

اس صورت میں اگر رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کو (تمام انبیائے کرام علیہم السلام کے بعد ہی لایا جاسکتا تھا۔ ناممکن تھا کہ آپؐ کے بعد بھی سلسلہ نبوّت جاری رہتا، اس لئے کہ) اگر رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کو (تمام انبیائے کرام علیہم السلام کے بعد نہیں بلکہ) اول یا اوسط میں رکھتے تو (دو حال سے خالی نہیں تھا آپؐ کے بعد جو نبی آتے ان کا دین آپؐ کے دین کے خلاف ہوتا یا موافق اور یہ دونوں صورتیں

217

باطل ہیں کیونکہ) انبیائے متأخرین کا دین اگر مخالف دین محمدی صلی اللہ علیہ و سلم ہوتا تو اعلیٰ کا ادنیٰ سے منسوخ ہونا لازم آتا۔ حالانکہ (یہ بات شرعاً و عقلاً باطل ہے چنانچہ اللہ تعالیٰ) خود فرماتے ہیں:

’’ما ننسخ من آیۃ او ننسھا نأت بخیر منھا او مثلھا‘‘

اور کیوں نہ ہو، یوں نہ ہو تو اعطائے دین منجملہ رحمت نہ رہے آثار غضب میں سے ہوجاوے۔

ہاں اگر یہ بات متصور ہوتی کہ اعلیٰ درجے کے علماء کے علوم، ادنیٰ درجے کے علماء کے علوم سے کمتر اور ادون ہوتے ہیں تو مضائقہ بھی نہ تھا۔

پر سب جانتے ہیں کہ کسی عالم کا عالی مراتب ہونا علو مراتبِ علوم پر موقوف ہے، یہ نہیں تو وہ بھی نہیں۔ اور انبیائے متأخرین کا دین اگر مخالف نہ ہوتا تو یہ بات ضرور ہے کہ انبیائے متأخرین پر وحی آتی اور افاضہ علوم کیا جاتا، ورنہ نبوّت کے پھر کیا معنی؟

سو اس صورت میں اگر وہی علوم محمدی صلی اللہ علیہ و سلم ہوتے تو بعد وعدہ محکم ’’انـا نـحـن نـزلـنـا الـذکـر وانـا لـہ لحٰفـظـون‘‘ کے جو بہ نسبت اس کتاب کے جس کو قرآن کہئے، اور بہ شہادت آیت: ’’و نزلنا علیک الکتٰب تبیانا لکل شیء‘‘ جامع العلوم ہے( نبوّت جدید کی) کیا ضرورت تھی؟

اور اگر علوم انبیائے متأخرین علوم محمدی صلی اللہ علیہ و سلم کے علاوہ ہوتے تو اس کتاب کا’’تبیانا لکل شیء‘‘ ہونا غلط ہوجاتا۔

بالجملہ ایسے نبی جامع العلوم کے لئے ایسی ہی کتاب جامع چاہئے تھی، تاکہ علو مراتب نبوّت، جو لا جرم علو مراتب علمی ہے۔

218

چنانچہ معروض ہوچکا میسر آئی، ورنہ یہ علو مراتب نبوّت، بے شک ایک قول دروغ اور حکایت غلط ہوتی ایسے ہی ختمِ نبوّت بمعنی معروض کو تأخر زمانی لازم ہے۔‘‘

(تحذیر الناس ص:۸ مکتبہ رحیمیہ دیوبند)

یہ عبارت کسی تشریح و توضیح کی محتاج نہیں اور اس میں دلیل عقلی سے ثابت کردیا گیا ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ و سلم کے بعد کسی نبی کا آنا محال ہے، خواہ وہ شرع جدید کا مدعی ہو یا آنحضرت صلی اللہ علیہ و سلم کی اقتدا اور پیروی کا دم بھرتا ہو، کیونکہ آنحضرت صلی اللہ علیہ و سلم خاتمیت ذاتی کے مرتبہ پر فائز ہیں اور اس خاتمیت کو تأخر زمانی لازم ہے ورنہ آپؐ کی نبوّت کی بلندیٔ مرتبت محض ایک قول دروغ اور حرف غلط ہوگی۔

اسی دلیل کو حضرتؒ نے اپنی دیگر تصنیفات میں مختلف عنوانات سے واضح فرمایا ہے، یہاں صرف ایک حوالہ نقل کردینا کافی ہے، ’’حجۃ الاسلام‘‘ میں تحریر فرماتے ہیں:

’’علی ہذا القیاس جب یہ دیکھا جاتا ہے کہ علم سے اوپر کوئی ایسی صفت نہیں جس کو عالم سے تعلق ہو تو خواہ مخواہ اس بات کا یقین پیدا ہوجاتا ہے کہ آنحضرت رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم پر تمام مراتب کمال ایسی طرح ختم ہوگئے جیسے بادشاہ پر مراتب حکومت ختم ہوجاتے ہیں، اس لئے جیسے بادشاہ کو خاتم الحکام کہہ سکتے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو خاتم الکاملین اور خاتم النبیین کہہ سکتے ہیں۔

مگر جس شخص پر مراتب کمال ختم ہوجائیں گے تو بایں وجہ کہ نبوّت سب کمالات بشری میں اعلیٰ ہے چنانچہ مسلّم بھی ہے اور تقریر متعلق بحث تقرب بھی، جو اوپر گزری ہے اس پر شاہد ہے۔ اس لئے آپ کے دین کے ظہور کے بعد سب اہل کتاب کو بھی ان کا اتباع ضروری ہوگا، کیونکہ حاکم اعلیٰ کا اتباع تو حکام ماتحت کے ذمہ بھی ہوتا ہے، رعایا تو کس شمار میں ہیں؟

علاوہ بریں جیسے لارڈ لٹن کے زمانہ میں لارڈ لٹن کا اتباع

219

ضروری ہے، اس وقت احکام لارڈ نارتھ بروک (سابق وائسرائے ہند) کا اتباع کافی نہیں ہوسکتا اور نہ اس کا اتباع باعث نجات سمجھا جاتا ہے، ایسے ہی رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کے زمانہ بابرکات میں اور ان کے بعد، انبیائے سابق کا اتباع کافی اور موجب نجات نہیں ہوسکتا اور یہی وجہ ہوئی کہ سوائے آپؐ کے اور کسی نبی نے دعوائے خاتمیت نہ کیا، بلکہ انجیل میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا یہ ارشاد کہ جہاں کا سردار آتا ہے۔ خود اس بات پر شاہد ہے کہ حضرت عیسیٰ خاتم نہیں، کیونکہ حسب اشارہ مثال خاتمیت، بادشادہ خاتم وہی ہوگا جو سارے جہاں کا سردار ہو، اس وجہ سے ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کو سب میں افضل سمجھتے ہیں، پھر یہ آپ کا خاتم ہونا آپ کے سردار ہونے پر دلالت کرتا ہے اور بقرینہ دعویٰ خاتمیت جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم سے منقول ہے، یہ بات یقینی سمجھتے ہیں کہ وہ جہاں کے سردار جن کی خبر حضرت عیسیٰ علیہ السلام دیتے ہیں حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم ہی ہیں۔‘‘

(حجۃ الاسلام ص:۴۳،۵۳، کتب خانہ اعزازیہ دیوبند)

الغرض آنحضرت صلی اللہ علیہ و سلم کی خاتمیت ذاتی، آپ کی خاتمیت زمانی کی علت ہے اور خاتمیت زمانی آپ کی سیادت و قیادت اور افضلیت و برتری کی دلیل ہے۔

حضرت نانوتویؒ کا موقف یہ ہے کہ قرآن کریم کی آیت ’’خاتم النبیین‘‘ میں بیک وقت تینوں قسم کی خاتمیت کا ارادہ کیا گیا ہے اور یہ تینوں بدلالت مطابقی قرآن کریم سے ثابت ہیں جس کی مفصل تقریر ’’تحذیر الناس‘‘ میں کی گئی ہے، یہ ہے وہ نکتہ جو ’’عوام‘‘ کے فہم سے بالاتر تھا۔

اور اگر قرآن کریم کی آیت خاتم النبیین خاتمیت کی ان تینوں دلیلوں پر بدلالت مطابقی مشتمل ہے تو حضرت کو اصرار ہے کہ خاتمیت ذاتی کو آیت کا مدلول مطابقی ٹھہرایا

220

جائے اور خاتمیت زمانی بدلالت التزامی اس سے خود بخود ثابت ہوجائے گی۔ اس لئے خاتمیت کی علت یہی خاتمیت ذاتی ہے اور جب علت ثابت ہوگئی تو معلول اس سے مختلف نہیں ہوسکتا۔

اوپر ختمِ نبوّت زمانی کی دلیل عقلی ارشاد ہوئی تھی اب ذرا دلیل نقلی بھی ملاحظہ ہو، فرماتے ہیں:

’’سو اگر اطلاق اور عموم ہے (یعنی آیت خاتم النبیین کے تحت خاتمیت ذاتی، خاتمیت زمانی اور خاتمیت مکانی تینوں بدلالت مطابقی داخل ہیں اور آیت تینوں کو عام ہے) تب تو ثبوت خاتمیت زمانی ظاہر ہے ورنہ (یعنی لفظ خاتم النبیین تینوں اقسام خاتمیت کو شامل نہیں بلکہ اس میں صرف خاتمیت ذاتی مراد لی ہے تو اندریں صورت) تسلیم لزوم خاتمیت زمانی بدلالت التزامی ضرور ثابت ہے۔

ادھر تصریحات نبویؐ مثل:’’انت منی بمنزلۃ ھارون من موسٰی الّا انہ لَا نبی بعدی۔‘‘ او کما قال جو بظاہر بہ طرز مذکور اسی لفظ خاتم النبیین سے ماخوذ ہے اس باب میں کافی ہے، کیونکہ یہ مضمون درجہ تواتر کو پہنچ گیا ہے، پھر اس پر اجماع بھی منعقد ہوگیا گو الفاظ مذکور بسند متواتر منقول نہ ہوں، سو یہ عدم تواتر الفاظ باوجود تواتر معنوی یہاں ایسا ہی ہوگا جیسا تواتر اعداد رکعات فرائض و وتر وغیرہ۔ باوجودیکہ الفاظ احادیث مشعر تعداد رکعات، متواتر نہیں، جیسا اس کا منکر کافر ہے ایسا ہی اس کا منکر بھی کافر ہوگا۔‘‘

(تحذیر الناس ص:۹،۰۱ کتب خانہ رحیمیہ دیوبند)

اس استدلال کا خلاصہ یہ ہے کہ ختمِ نبوّت زمانی قرآن کریم سے بطور دلالت مطابقی یا التزامی کے ثابت ہے، احادیث متواترہ سے ثابت ہے، اجماع اُمت سے ثابت ہے اور اس کا منکر اسی طرح کا کافر ہے جیسا کہ تعداد رکعات کا منکر کافر ہے۔

221

یہاں یہ عرض کردینا بھی ضروری ہوگا کہ کسی عقیدے کے ثبوت میں قرآن کریم، حدیث متواتر اور اجماع اُمت پیش کردینے کے بعد اور کسی دلیل کی ضرورت نہیں رہ جاتی کیونکہ جو عقیدہ ان تین دلائل سے ثابت ہوا، اس کی قطعیت شک و شبہ سے بالاتر ہے اور اس کا منکر کافر ہے، اسی بنا پر مولانا نانوتویؒ نے فرمایا جیسا اس کا (یعنی تعدادِ رکعات کا) منکر کافر ہے ایسا ہی اس کا (یعنی ختمِ نبوّت زمانی) منکر بھی کافر ہے۔

ایک شبہ اور اس کا جواب:

گزشتہ بالا سطور سے معلوم ہوا ہوگا کہ حضرت نانوتوی قدس سرہ، آنحضرت صلی اللہ علیہ و سلم کی خاتمیت زمانی کے منکر نہیں بلکہ مثبت ہیں اور مثبت بھی ایسے کہ اسے عقلی و نقلی دلائل قطعیہ سے ثابت کرکے اس کے منکر پر کفر کا فتویٰ صادر فرماتے ہیں۔ یہاں مزید تاکید کے لئے مناظرہ عجیبہ کے چند جملے نقل کردینا بھی نامناسب نہ ہوگا:

الف:۔۔۔’’خاتمیت زمانی اپنا دین و ایمان ہے، ناحق کی تہمت کا البتہ کچھ علاج نہیں۔‘‘

(ص:۹۳)

ب:۔۔۔’’حضرت خاتم المرسلین صلی اللہ علیہ و سلم کی خاتمیت زمانی تو سب کے نزدیک مسلّم ہے، اور یہ بات بھی سب کے نزدیک مسلّم ہے کہ آپ اول المخلوقات ہیں، علیٰ الاطلاق کہئے یا بالاضافہ۔‘‘

(ص:۳)

ج:۔۔۔’’حاصل یہ ہے کہ خاتمیت زمانی سے مجھ کو انکار نہیں بلکہ یوں کہئے کہ منکروں کے لئے گنجائش انکار نہ چھوڑی۔‘‘

(ص:۵)

د:۔۔۔’’مولانا! خاتمیت زمانی کی میں نے تو توجیہہ و تائید کی ہے، تغلیظ نہیں کی ۔۔۔۔۔۔اخبار بالعلہ مکذب اخبار بالمعلول نہیں ہوتا بلکہ اس کا مصدق اور مؤید ہے اوروں نے محض

222

خاتمیت زمانی اگر بیان کی ہے تو میں نے اس کی علت یعنی خاتمیت مرتبی ذکر کردی اور شروع تحذیر ہی میں اقتضا خاتمیت ذاتی کا بہ نسبت خاتمیت زمانی ذکر کردیا۔‘‘

(ص:۳۵)

ھ:۔۔۔’’اپنا دین و ایمان ہے (کہ) بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کسی اور نبی کے ہونے کا احتمال نہیں، جو اس میں تامل کرے اس کو کافر جانتا ہوں۔‘‘

(ص:۳۰۱)

حضرت کی اس قسم کی بہت سی تصریحات کی موجودگی میں قدرتی طور پر یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ حضرت کی طرف انکار نبوّت زمانی کا عقیدہ کیوں منسوب کیا گیا؟ اس کا منشا غلط فہمی تھی یا دیدہ دانستہ جسارت؟

میں اس موضوع سے تعرض نہیں کرنا چاہتا تھا، لیکن یہ بحث تشنہ رہے گی اگر اس پر گفتگو نہ کی جائے، لطیفہ یہ ہے کہ حضرتؒ کی طرف اس عقیدہ کا انتساب وہ بھی کرتے ہیں جو اس اُمت میں اجرائے نبوّت کے قائل ہیں، یعنی مرزا غلام احمد قادیانی کی ذریت۔

اور وہ حضرات بھی کرتے ہیں جو ختمِ نبوّت کے قائل اور اس کے منکر کو کافر گردانتے ہیں، یعنی مولانا احمد رضا خان صاحب مرحوم بریلوی اور ان کے عقیدت مند حضرات۔

جہاں تک قادیانی صاحبان کا تعلق ہے ان کی خدمت میں تو یہی گزارش کافی ہے کہ اگر عقائد کے باب میں حضرت نانوتویؒ کی تحریر کوئی وزن رکھتی ہے تو جس کتاب کے فقرے سے وہ اجرائے نبوّت کے عقیدے پر استدلال کرتے ہیں اسی کتاب میں جیسا کہ پہلے گزر چکا ہے ختمِ نبوّت زمانی کے منکر کو قرآن کریم، حدیث متواتر اور اجماع اُمت کا منکر کافر کہا گیا ہے۔

اس لئے حضرتؒ کی تحریر سے استدلال کرتے ہوئے وہ بے شک اجرائے نبوّت کا عقیدہ رکھیں لیکن از راہ انصاف اس عقیدہ رکھنے والے کو کافر بھی قرار دیں۔

223

اگر یہ دونوں باتیں جمع ہوسکتی ہیں تو ضرور کرنی چاہئیں اور اگر جمع نہیں ہوسکتیں تو اس سے ثابت ہوگا کہ انہوں نے حضرتؒ کی جس عبارت سے اجرائے نبوّت کا عقیدہ کشید کرنے کی کوشش فرمائی ہے وہ اس کا مطلب نہیں سمجھے، جیسا کہ مرزا غلام احمد صاحب اپنی مرضی اور اپنی عبارتوں کا مطلب نہیں سمجھا کرتے تھے۔

جہاں تک جناب مولانا احمد رضا خان صاحب مرحوم کا اور ان کی جماعت کا تعلق ہے ان کے بارے میں اگر یہ کہا جائے کہ انہوں نے غلط فہمی کی بنا پر حضرتؒ سے یہ عقیدہ منسوب کیا ہے تو گستاخی ہوگی، کہ اتنا بڑا علامہ بلکہ اتنے بڑے علامے ان عبارتوں کو سمجھنے سے قاصر رہے اور اگر یہ عرض کیا جائے کہ ان حضرات نے قصداً ایک بات غلط طور پر حضرتؒ سے منسوب کردی ہے تو اس سے بڑھ کر ستم کی بات ہے اور چونکہ حضرتؒ اسی رسالے میں دلائل قطعیہ عقلیہ سے ختمِ نبوّت زمانی کو ثابت کرکے اس کے منکروں پر کفر کا فتویٰ بھی صادر فرماچکے ہیں، اس لئے ایسی کتاب کے کسی فقرے سے آپ کا منکر ختمِ نبوّت ہونا ثابت کرنا گویا: ’’دزدے بکف چراغ دارد‘‘ کی مثل یاد دلاتا ہے۔

راقم الحروف غور و فکر کے بعد اس نتیجہ پر پہنچا ہے کہ جناب مولانا احمد رضا خان صاحب کا قلم اور حجاج بن یوسف کی تلوار توَام پیدا ہوئے تھے، ان کے قلم کو تکفیر کا وہی چسکا تھا جو حجاج کی تلوار کو خون آشامی کا۔ وہ فطرتاً مجبور تھے کہ دنیا بھر کے مسلمانوں کو تیغ تکفیر سے نیم بسمل کریں، اگر کسی کی کوئی عبارت یا عبارت کا ناتمام جملہ انہیں ایسا مل جاتا جو ان کے ذوق کافر گری کی تسکین کا سامان بن جاتا تو وہ اسے کافی سمجھتے تھے اور اس کی دوسری تحریروں سے آنکھیں بند کرلینا فرض سمجھتے تھے اور اگر خدانخواستہ انہیں ایک آدھ جملہ بھی میسر نہیں آتا تو وہ اپنے ذوق کی تسکین کے لئے خود ہی ایک عبارت بناکر کسی صاحب سے منسوب کردیتے اور اس کی بنیاد پر انہیں ’’کافر گری‘‘ کا جواز مل جاتا، وہ شخص ہزار چیخے چلائے شور مچائے کہ یہ عبارت میری نہیں ہے، میں ایسی عبارت لکھنے پر لعنت بھیجتا ہوں مگر خان صاحب فرماتے کہ چونکہ یہ عبارت ہم نے تمہارے نام سے چھاپی ہے اور اتنی مدت سے چھاپ رہے ہیں لہٰذا تمہیں تسلیم کرنا ہوگا کہ یہ عبارت تمہاری ہے اور اس لئے تم کافر

224

ہو۔

میں نے جو کچھ لکھا ہے یہ ظرافت نہیں بلکہ واقعہ ہے، خان صاحب کو دو بزرگ ایسے ملے جن کی تحریر میں ان کو کوئی کلمہ کفر نہیں مل سکا جس کی بنیاد پر انہیں کافر بناتے، اس لئے خان صاحب نے ایک صاحب کی طرف تو خود ایک عبارت بناکر منسوب کردی اور ان پر کفر کا فتویٰ صادر کرکے اکابر حرمین سے اس کو رجسٹری کروایا۔ یہ شخصیت قطب العالم حضرت مولانا رشید احمد گنگوہی نور اللہ مرقدہ کی تھی، ان کے بارے میں خان صاحب حسام الحرمین میں تحریر فرماتے ہیں کہ:

’’تیسرا فرقہ وہابیہ کذابیہ رشید احمد گنگوہی کے پیرو۔۔۔۔۔۔ پہلے تو اس نے اپنے پیر طائفہ اسماعیل دہلوی کے اتباع میں اللہ تعالیٰ پر یہ افترا باندھا کہ اس کا جھوٹا ہونا بھی ممکن ہے، اور میں نے اس کا یہ بیہودہ بکنا ایک مستقل کتاب میں رد کیا جس کا نام ’’سبحان السبوح عن کذب مقبوح‘‘ رکھا، اور میں نے یہ بصیغہ رجسٹری اس کی طرف بھیجی اور بذریعہ ڈاک اس کے پاس سے رسید آگئی۔۔۔۔۔۔

پھر تو ظلم و گمراہی میں اس کا حال یہاں تک پہنچا کہ اپنے ایک فتویٰ میں جو اس کا مہری دستخطی میں نے اپنی آنکھوں سے دیکھا ہے جو بمبئی وغیرہ میں بارہا مع رد چھپا، صاف لکھ دیا کہ جو اللہ سبحانہ تعالیٰ کو بالفعل جھوٹا مانے اور تصریح کرے کہ معاذاللہ، اللہ تعالیٰ نے جھوٹ بولا۔ اور یہ بڑا عیب اس سے صادر ہوچکا تو اسے کفر بالائے طاق، گمراہی درکنار، فاسق بھی نہ کہو، اس لئے کہ بہت سے امام ایسا کہہ چکے ہیں، جیسا اس نے کہا۔‘‘

(الخ ص:۱)

بمبئی کے اس فتوے کی جس پر خان صاحب نے تکفیر کی بنیاد رکھی ہے حضرت

225

گنگوہیؒ کے فرشتوں کو بھی خبر نہیں تھی اور جب اس کا علم ہوا تو اس سے برأت کا اظہار فرمایا اور ایسا لکھنے والے کو ملعون قرار دیا۔

(فتاویٰ رشیدیہ الجنۃ لاہل السنہ ص:۳۹)

مگر جناب خان صاحب کا اصرار مدت العمر یہی رہا کہ چونکہ ہم آپ کی طرف اس عبارت کو منسوب کرکے کفر کا فتویٰ رجسٹری کروا چکے ہیں لہٰذا یہ عبارت یقینا آپ ہی کی ہے اور ہونی چاہئے اور لطف یہ کہ آج تک حضرت گنگوہیؒ کے انکار کے باوجود خان صاحب اور ان کی جماعت کا اصرار باقی ہے۔

کچھ اسی قسم کا حادثہ خان صاحب کو حضرت حجۃ الاسلام مولانا محمد قاسم نانوتوی قدس سرہ کے بارے میں بھی پیش آیا۔ خان صاحب کا قلم حضرت مرحوم کو کافر بنانے کے لئے بے تاب تھا، مگر مشکل یہ تھی کہ حضرتؒ کے دفتر تحریر میں خان صاحب کو ایک فقرہ بھی ایسا نہ مل پاتا تھا جس کی بنیاد پر ان کی تیغ تکفیر نیام سے باہر نکل آتی۔ اس مشکل کا حل خان صاحب نے یہ تلاش کیا کہ حضرت نانوتویؒ کی اس کتاب سے جو صرف مسئلہ ختمِ نبوّت پر لکھی گئی ہے اور جن میں منکرین ختمِ نبوّت کو صاف الفاظ میں کافر کہا گیا ہے، تین جملے تلاش کئے اور ان کو آگے پیچھے جوڑ کر مربوط اور مسلسل عبارت بنا ڈالی، پس خان صاحب کی تکفیر کے لئے جواز پیدا ہوگیا۔ خان صاحب نے جس چابکدستی سے تین الگ الگ جگہ سے تحذیر الناس کے ناتمام جملوں کو ملاکر ایک مکمل عبارت تیار کرلی وہ ان کی مہارت فن کا شاہکار ہے۔

پہلا فقرہ ص:۴۱ سے لیا گیا:

’’بلکہ بالفرض آپؐ کے زمانہ میں کہیں اور کوئی نبی ہو جب بھی آپؐ کا خاتم ہونا بدستور باقی رہتا ہے۔‘‘

دوسرا فقرہ ص:۸۲ سے لیا گیا:

’’بلکہ اگر بالفرض بعد زمانہ نبویؐ بھی کوئی نبی پیدا ہو، تو بھی خاتمیت محمدیؐ میں کچھ فرق نہ آئے گا۔‘‘

اور تیسرا فقرہ ص:۳ سے لیا گیا، جہاں تحذیر الناس شروع ہوتی ہے:

226

’’عوام کے خیال میں تو رسول اللہ کا خاتم ہونا بایں معنی ہے کہ آپؐ سب میں آخری ہیں مگر اہل فہم پر روشن ہوگا کہ تقدم و تأخر زمانہ میں بالذات کچھ فضیلت نہیں۔‘‘

ان تین فقروں کو ایک مسلسل عبارت میں ڈھالنے اور پھر انہیں عربی میں منتقل کرنے میں خان صاحب نے خدا ناترسی کا جو نمونہ پیش کیا ہے ان کو دیکھ کر آج پون صدی بعد بھی یقین نہیں آتا کہ کوئی شخص جس کے دل میں ذرا بھی حس ہو ایسی حرکتوں کا ارتکاب کرسکتا ہے؟

اس آخری فقرے کے بارے میں تو عرض کرچکا ہوں کہ حضرتؒ ’’عوام کے خیال‘‘ کی اس کوتاہی کی شکایت کر رہے ہیں کہ ’’خاتم النبیین‘‘ کے مفہوم کو صرف ’’آخری نبی‘‘ کے معنی میں محدود سمجھ لیا گیا ہے جب کہ قرآن کریم کا مقصد اس سے صرف آپؐ کی خاتمیت زمانی کو بیان کرنا نہیں بلکہ خاتمیت ذاتی اور رتبی کو اجاگر کرنا ہے، الغرض خاتمیت زمانی سے انکار نہیں اور نہ اسے خاتم النبیین کے مفہوم سے خارج کرنا مقصود ہے بلکہ یہ بتانا منظور ہے کہ خاتمیت صرف خاتمیت زمانی میں منحصر نہیں جیسا کہ عوام کا خیال ہے بلکہ خاتم النبیین کا مفہوم اس سے کہیں بلند تر ہے۔ رہی صفحہ۴۱ اور ۸۲ کی عبارت! تو خان صاحب نے جو فقرے نقل کئے ہیں ان کے شروع میں ’’بلکہ بالفرض‘‘ کا لفظ موجود ہے جس سے دو باتوں کا صاف پتہ چلتا ہے، ایک یہ کہ ’’بلکہ‘‘ سے پہلے جو عبارت چلی آرہی ہے خان صاحب کی نقل کردہ عبارت اس کا ایک ناتمام ٹکڑا ہے اور جب تک اس کا ماقبل اس کے ساتھ نہ ملایا جائے اس سے کوئی مفہوم اخذ نہیں کیا جاسکتا۔

دوسرے یہ کہ جو کچھ کہا جارہا ہے وہ بطور واقعہ کے نہیں بلکہ بطور فرض محال کے کہا جارہا ہے اور دنیا کا کوئی شخص ایسا نہیں ہوگا جو کسی فرض محال پر کفر کا فتویٰ صادر کردے۔

الغرض خان صاحب کے منقولہ ٹکڑے ہی اس بات کو بتانے کے لئے کافی تھے کہ ان ٹکڑوں کو چابکدستی کے ساتھ جوڑنے کے بعد بھی خان صاحب کا مدعائے تکفیر عنقا رہتا ہے۔

حضرت رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کی ص۴۱ اور ص۸۲ کی تشریحات متعدد اکابر کرچکے

227

ہیں اور ان کے بعد ضرورت نہیں رہ جاتی کہ میں ان پوری عبارتوں کو نقل کرکے ان کی تشریحات کروں، اہل علم کو حضرت مولانا مرتضیٰ حسن چاندپوریؒ کے رسالہ ’’الختم علی لسان الخصم‘‘ وغیرہ، مولانا محمد منظور نعمانی رحمہ اللہ کے رسالہ ’’معرکۃ القلم‘‘، مولانا عبدالغنی پٹیالوی کی کتاب ’’الجنۃ لاہل السنۃ‘‘ اور مولانا محمد سرفراز خان صفدرؔ مدظلہٗ کے رسائل ’’بانی دارالعلوم اور عبارات اکابر‘‘ ملاحظہ کرنی چاہئیں۔

ان حضرات سے پہلے حضرت مولانا خلیل احمد سہارنپوریؒ ’’التصدیقات لدفع البلیات‘‘ میں اور حضرت شیخ الاسلام مولانا حسین احمد مدنی ؒ ’’الشہاب الثاقب‘‘ میں بھی خان صاحب کے اس افترا کی کافی و شافی تردید فرما چکے ہیں، تاہم مناسب ہوگا کہ یہاں بھی ان عبارتوں کو نقل کرکے اس پر مختصر سی تنبیہ کردی جائے۔

ص۴۱ کی پوری عبارت یہ ہے:

’’غرض اختتام اگر بایں معنی تجویز کیا جائے جو میں نے عرض کیا تو آپؐ کا خاتم ہونا انبیائے گزشتہ ہی کی نسبت خاص نہ ہوگا بلکہ اگر بالفرض آپؐ کے زمانہ میں بھی کہیں اور کوئی نبی ہو جب بھی آپؐ کا خاتم ہونا بدستور باقی رہتا ہے مگر جیسے اطلاق ’’خاتم النبیین‘‘ اس بات کو مقتضی ہے کہ اس لفظ میں کچھ تاویل نہ کیجئے اور علی العموم تمام انبیاء کا خاتم کہئے، اسی طرح ۔۔۔الخ‘‘

اس پوری عبارت پر نظر ڈالیئے تو معلوم ہوگا کہ جو فقرہ خان صاحب نے نقل کیا ہے (اور جسے میں نے اوپر خط کردیا) یہ پورا جملہ نہیں بلکہ جملہ شرطیہ کی جزا کا ایک حصہ ہے۔

شرط:۔۔۔غرض اختتام اگر بایں معنی تجویز کیا جائے جو میں نے عرض کیا۔

جزا:۔۔۔تو آپؐ کا خاتم ہونا انبیائے گزشتہ ہی کی نسبت خاص نہ ہوگا۔

منقولہ ٹکڑا: ـــــبلکہ اگر بالفرض ـــــ الخ جزا ہے کسی جملہ شرطیہ کی، اب انصاف فرمائیے کہ شرط اور جزا کے ایک حصہ کو حذف کرکے جزا کے دوسرے حصہ کو نقل کردینا اور

228

اس پر کفر کا فتویٰ صادر کرنا، علم و دیانت کی روشنی میں اس کو کیا نام دیا جائے؟ بہرحال خان صاحب کا منقولہ ٹکڑا خود بھی قضیہ فرضیہ ہے اور پھر یہ قضیہ فرضیہ اوپر کے جملہ شرطیہ کی جزا کا ایک جز ہے اور دنیا کا کوئی عاقل ایسا نہیں ہوگا جو مقدم اور تالی کے درمیان جو اتصال ہوتا ہے اسے نظر انداز کرکے صرف تالی (اور وہ بھی اس کے ایک جز) پر حکم لگانے بیٹھ جائے، مگر خان صاحب کے مذہب کافر گری میں یہ بھی ہے۔

اب ص۸۲ کی عبارت ملاحظہ کرلیجئے:

’’ہاں اگر خاتمیت بمعنی اتصاف ذاتی بوصف نبوّت لیجئے جیسا اس ہیچمدان نے عرض کیا ہے تو پھر سوائے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم اور کسی کو افراد مقصود بالخلق میں سے مماثل نبویؐ نہیں کہہ سکتے بلکہ اس صورت میں فقط انبیاء علیہم السلام کے افراد خارجی ہی پر آپ کی افضلیت ثابت نہ ہوگی، افراد مقدرہ پر بھی آپ کی فضیلت ثابت ہوجائے گی بلکہ اگر بالفرض بعد زمانہ نبوی صلی اللہ علیہ و سلم کوئی نبی پیدا ہو تو پھر بھی خاتمیت محمدی میں کچھ فرق نہ آئے گا۔۔۔۔۔۔۔الخ‘‘

پوری عبارت پر نظر ڈال کر دیکھئے، یہاں بھی خان صاحب کی وہی مہارت فن نظر آتی ہے جس کا تذکرہ ابھی کرچکا ہوں۔

یہ قضیہ شرطیہ ’’ہاں اگر خاتمیت‘‘ سے شروع ہوتا ہے، تو پھر سوائے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم، اس کی جزا کا پہلا حصہ ہے بلکہ اس صورت میں اس کا دوسرا حصہ ہے اور بلکہ اگر بالفرض اسی کا تیسرا حصہ ہے۔ خان صاحب نے قضیہ شرطیہ کے مقدم اور تالی کے دو حصوں کو حذف کرکے تالی کے تیسرے حصے کو جو خود قضیہ مفروضہ ہے نقل کردیا اور اسی ناتمام جملہ پر جس کے مفروض محض ہونے کی تصریح بھی اسی کے اندر موجود ہے، کفر کا فتویٰ جڑ دیا۔

ان دونوں عبارتوں کا خلاصہ یہ ہے کہ انبیائے کرام علیہم السلام کے افراد دو قسم کے ہیں ایک افراد حقیقی اور خارجی، دوسرے افراد مقدرہ جن کا خارج میں وجود ہوا، اور نہ ہوگا۔

229

اور خاتم النبیین کے دو مفہوم ہیں: ایک آپ کا تمام انبیائے کرام علیہم السلام کے بعد تشریف لانا اور دوسرے آپ کا وصف نبوّت کے ساتھ بالذات موصوف ہونا اور دوسرے انبیائے علیہم السلام کا آپ کی وساطت سے موصوف ہونا۔

افراد خارجیہ کے لحاظ سے تو یہ دونوں مفہوم لازم و ملزوم ہیں، چنانچہ آپ تمام انبیائے کرام علیہم السلام کے لئے واسطہ نبوّت بھی ہیں اور سب کے بعد تشریف لائے، سب سے پہلے یا ان حضرات کے درمیان میں آپ کا تشریف لانا عقلاً و شرعاً صحیح نہیں تھا۔

لیکن افراد مقدرہ کے لحاظ سے دیکھا جائے تو خاتم النبیین کے مفہوم اول (یعنی آخری نبی) سے وہ خارج نہیں کیونکہ یہ مفہوم افراد حقیقیہ واقعیہ کے اعتبار سے ہی صادق آسکتا ہے نہ کہ افراد مقدرہ فرضیہ کے اعتبار سے، مگر ’’خاتم النبیین‘‘ بمعنی اتصاف ذاتی مقدرہ کو بھی محیط ہے اس لئے بفرض محال آپ کے بعد بھی کسی نبی کی آمد ہوتی تو وہ بھی انبیائے گزشتہ کی طرح وصف نبوّت میں آپ کا محتاج ہوتا۔

حاصل یہ کہ خاتمیت ذاتی جیسے انبیائے کرام علیہم السلام کے افراد خارجیہ کے اعتبار سے ہے ویسے افراد فرضیہ کے اعتبار سے بھی ہے، پس اس دنیا میں جتنے بھی انبیائے کرام علیہم السلام تشریف لائے ان کے لئے آنحضرت صلی اللہ علیہ و سلم دونوں اعتبار سے خاتم ہیں، خاتمیت ذاتی کے اعتبار سے بھی اور خاتمیت زمانی کے لحاظ سے بھی اور اگر ان کے علاوہ کوئی انبیاء فرض کئے جائیں تو سوال یہ ہے کہ ان کے لئے بھی آپ خاتم ہوں گے یا نہیں؟

حضرت رحمۃ اللہ علیہ اس سوال کا جواب دیتے ہیں کہ خاتمیت زمانی کے اعتبار سے یہ سوال ہے، تو ظاہر ہے کہ آپ ان کے خاتم نہیں ہوں گے لیکن خاتمیت ذاتی کے اعتبار سے آپ کو ان کا خاتم بھی ماننا پڑے گا۔

یہاں ایک گزارش مزید کردینا چاہتا ہوں کہ حضرت نانوتویؒ کا یہ رسالہ ’’تحذیر الناس‘‘ ایک سوال کے جواب میں لکھا گیا تھا جس میں حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی حدیث جس میں سات زمینوں اور ان کے انبیائے کرام علیہم السلام کا ذکر ہے اور جسے بیہقی وغیرہ نے ’’صحیح‘‘ کہا ہے، درج کرکے خاتم النبیین کے ساتھ اس کی تطبیق

230

دریافت کی گئی تھی کہ آیا بیک وقت آیت اور حدیث دونوں پر عقیدہ رکھنا ممکن ہے؟

اس سوال کا جواب تین طرح دیا جاسکتا ہے:

اوّل:۔۔۔یہ کہ آیت اور حدیث میں تعارض ہے لہٰذا اس حدیث کو غلط سمجھا جائے۔

دوم:۔۔۔یہ کہ آیت اور حدیث دونوں صحیح ہیں مگر آیت میں آپؐ کی خاتمیت ہی اس زمین کے اعتبار سے بیان کی گئی ہے لہٰذا آپ صرف اس زمین کے خاتم ہیں۔

سوم:۔۔۔تیسری صورت یہ ہوسکتی تھی کہ آیت و حدیث دونوں کو تسلیم کرکے دونوں میں ایسی تطبیق دی جاتی کہ آپ کی خاتمیت صرف اسی زمین تک محدود نہ رہتی بلکہ دیگر زمینوں کو بھی محیط ہوجاتی۔

خان صاحب اور ان کے ہم مشرب لوگوں نے پہلا راستہ اختیار کیا کہ یہ حدیث غلط ہے، لیکن حضرت نانوتویؒ نے آیت اور حدیث دونوں کو صحیح قرار دے کر تطبیق کی وہ شکل اختیار کی جو میں نے تیسری صورت میں ذکر کی ہے۔

حضرتؒ کی ساری کتاب کا خلاصہ یہ ہے کہ ہماری زمین کے اعتبار سے تو آپؐ خاتم النبیین ہیں، باعتبار اتصاف ذاتی کے بھی اور باعتبار آخریت زمانہ کے بھی، لیکن آپؐ کی خاتمیت صرف اسی زمین تک محدود نہیں بلکہ پوری کائنات کو بھی محیط ہے، اور حدیث میں تو ہماری زمین کے علاوہ چھ زمینوں کا ذکر ہے، اگر بالفرض ہزاروں زمینیں بھی اور ہوتیں اور ان زمینوں میںسلسلہ نبوّت جاری ہوتا تو آنحضرت صلی اللہ علیہ و سلم سب کے خاتم ہوتے، باقی انبیائے کرام علیہم السلام کے بارے میں یہ تصریح نہیں آئی کہ وہ آنحضرت صلی اللہ علیہ و سلم سے پہلے ہوئے ہیں یا بعد میں؟ اس لئے دونوں احتمال ممکن ہیں، پس اگر وہ حضرات بھی اس زمین کے انبیائے کرام علیہم السلام کی طرح سب آپ سے پہلے ہوئے ہیں تو یوں کہا جائے کہ آپ سب کے لئے خاتم ہیں باعتبار ذات کے بھی، باعتبار زمانہ کے بھی، لیکن اگر یہ فرض کیا جائے کہ ان دیگر زمینوں کے کچھ انبیاء آپؐ کے معاصر یا بالفرض

231

آپ کے بعد ہوئے تو ان کے اعتبار سے آپؐ کو خاتم زمانی نہیں بلکہ خاتم ذاتی کہا جائے گا۔

اس تقریر سے معلوم ہوا کہ حضرت نانوتویؒ پر فرد جرم یہ نہیں کہ وہ آنحضرت صلی اللہ علیہ و سلم کو اس زمین کے انبیائے کرام علیہم السلام کا خاتم (ختمیت ذاتی اور ختمیت زمانی دونوں کے اعتبار سے) نہیں مانتے بلکہ اصل جرم یہ ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ و سلم کو پوری کائنات کا خاتم کیوں مانتے ہیں؟

تتمہ بحث:

ختمِ نبوّت کے ساتھ ایک مسئلہ ضمنی طور پر خود بخود زیر بحث آجاتا ہے اور وہ ہے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی حیات اور ان کی دوبارہ تشریف آوری کا مسئلہ۔

جیسا کہ الشیخ ابو حیان اندلسی صاحب ’’البحر المحیط‘‘ نے لکھا: (ابوحیان، البحر المحیط ج:۲ ص:۳۷۴) پوری اُمت حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے آسمان پر زندہ ہونے اور ان کے دوبارہ تشریف لانے کے عقیدے پر متفق ہے اور ان کا دوبارہ تشریف لانا عقیدۂ ختمِ نبوّت کے منافی نہیں، کیونکہ خاتم النبیین کا مفہوم یہ ہے کہ آپؐ تمام انبیائے کرام علیہم السلام کے بعد مبعوث ہوئے اور آپؐ کے بعد کسی شخص کو منصب نبوّت سے سرفراز نہیں کیا جائے گا جب کہ سیّدنا عیسیٰ علیہ السلام، آپؐ سے پہلے کے نبی ہیں اور انبیائے کرام علیہم السلام کی فہرست میں ان کا نام آنحضرت صلی اللہ علیہ و سلم سے قبل درج ہے۔ حافظ ابن حجر ؒ ’’لَا نبی بعدی‘‘ کی تشریح کرتے ہوئے لکھتے ہیں:

’’لَا نبی بعدی‘‘ کی نفی کو اس معنی پر محمول کرنا واجب ہے کہ آئندہ کسی شخص کے حق میں نبوّت جدید کا اِنشا نہیں ہوگا۔ اس سے کسی ایسے نبی کے موجود ہونے کی نفی نہیں ہوتی جو آپؐ سے قبل منصب نبوّت سے سرفراز کیا جاچکا ہو۔‘‘

(ابن حجر، الاصابہ فی تمییز الصحابہ ج:۱ ص:۵۲۴)

232

بہرحال اُمت میں جس طرح ختمِ نبوّت کا عقیدہ قطعی ہے اسی طرح حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی حیات اور آپ کی دوبارہ تشریف آوری کا عقیدہ بھی قطعی اور متواتر ہے دور قدیم میں فلاسفہ و زنادقہ نے اس کا انکار کیا ہے۔

(’’السفارینی‘‘ شرح عقیدہ منظومہ ج:۲ ص:۴۹)

اور دور جدید میں ملاحدہ اور نیچریوں نے۔ مگر اُمت نے اس قطعی عقیدہ کے منکرین کو خارج از ملت قرار دیا۔

(’’السیوطی‘‘ الحاوی للفتاویٰ ج:۲ ص:۶۶۱، روح المعانی ص:۰۶)

قادیانی اُمت ملاحدہ و زنادقہ کی تقلید میں اس عقیدے کی منکر ہے چونکہ یہ لوگ حضرت نانوتویؒ کی ایک عبارت سے عقیدہ اجرائے نبوّت پر استدلال کرتے ہیں، لہٰذا عقیدہ حیات و نزول عیسیٰ علیہ السلام کے سلسلہ میں حضرت نانوتویؒ کی دو عبارتوں کا حوالہ دینا نامناسب نہ ہوگا تاکہ قادیانیوں کی دیانت اس مسئلہ میں بھی واضح ہوسکے، حضرت نانوتویؒ ’’تحذیر الناس‘‘ میں فرماتے ہیں:

’’غرض جیسے آپؐ نبی الامۃ ہیں ویسے ہی نبی الانبیاء بھی ہیں اور یہی وجہ ہوئی کہ بشہادتواذ اخذ اللہ میثاق النبیین۔۔۔۔الخ اور انبیائے کرام علیہ وعلیہم السلام سے آپؐ پر ایمان لانے اور آپؐ کے اتباع اور اقتدا کا عہد لیا گیا۔

ادھر آپؐ نے یہ ارشاد فرمایا کہ اگر حضرت موسیٰ (علیہ السلام) بھی زندہ ہوتے تو میرا ہی اتباع کرتے۔ علاوہ بریں بعد نزول حضرت عیسیٰ کا آپؐ کی شریعت پر عمل کرنا اسی بات پر مبنی ہے۔‘‘

(تحذیر الناس ص:۴)

اور آب حیات میں اس پر طویل تحقیق فرمائی ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ و سلم کی ذات شریفہ مصدر ایمان ہے اس لئے آپ ابوالمؤمنین ہیں اس کے برعکس دجال اکبر کی ذات خبیثہ مصدر کفر ہے اس لئے اسے ابوالکفار کہنا بجا ہے۔ آپؐ نبی الانبیاء ہیں (صلی اللہ

233

علیہ و سلم) اور دجال موعود دجال الدجالین ہے، اس کے بعد فرماتے ہیں:

’’باقی رہا شبہ کہ اس صورت میں مناسب یہ تھا کہ خود حضرت سرور عالم صلی اللہ علیہ و سلم کے ہاتھ سے (دجال) مقتول ہوتا کیونکہ اضداد رافع اضداد ہوا کرتے ہیں، سو اس صورت میں ضد مقابل دجال آپؐ تھے نہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام۔

گویا یہ سوال دو حصوں پر مشتمل ہے، ایک یہ کہ دجال لعین کے مقابلے میں آپؐ کو نہیں لایا گیا اور دوسرے یہ کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو اس مقابلے کے لئے کیوں منتخب کیا گیا؟

پہلے سوال کا جواب یہ ہے کہ ’’تضاد ایمان و کفر مسلّم ہے‘‘ پر اضداد کثیر المراتب میں ہر مرتبہ کیف مااتفق دوسرے ضد کے ہر ہر مرتبہ کے مضاد نہیں ہوا کرتا۔ سو دجال ہرچند مراتب موجودہ کفر میں سب میں بالا ہے، پر مقابل مرتبہ محمدی صلی اللہ علیہ و سلم نہیں ہوسکتا۔ اور اس حساب سے یوں کہہ سکتے ہیں کہ جیسے باری عز اسمہ مراتب تحقق میں ایسا یکتا ہے کہ نہ کوئی اس کے لئے مماثل ہے نہ کوئی مقابل ہے اور اسی لئے وہ ’’لا ضد لہ و لا ند لہ‘‘ کا مصداق ہے، ایسے ہی حضرت رسول اکرم صلی اللہ علیہ و سلم مراتب فضل و کمال ایمانی و امکانی میں ایسے یکتا ہیں کہ نہ کوئی ان کے لئے مماثل ہے نہ کوئی ان کا مقابل ہے اور اس وجہ سے اس عالم میں جیسے مصداق ’’لا ند لہ‘‘ ہیں ایسے ہی مصداق ’’لا ضد لہ‘‘ ہیں۔

غرض جیسے جناب باری کے لئے دربارۂ تحقق کوئی ضد موجود نہیں، ایسے ہی حبیب خداوندی (صلی اللہ علیہ و سلم) کے لئے مراتب ایمانی میں کوئی ضد موجود نہیں، ہاں حضرت عیسیٰ علیہ السلام البتہ دجال کے لئے (شاید) مدمقابل ہوں۔‘‘

234

(آب حیات ص:۲۵۱ مطبع قدیمی دہلی)

اس کی طویل تحقیق فرمانے کے بعد آگے چل کر فرماتے ہیں:

’’بالجملہ دجال لعین، رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کی نسبت اگرچہ باعتبار کمال ایمان و کفر ضد مقابل ہے مگر باعتبار درجہ نبوی صلی اللہ علیہ و سلم و درجہ دجالی (میں) باہم تضاد نہیں بلکہ دجال باعتبار تقابل مرتبہ سافل میں ہے ادھر اور انبیاء علیہم السلام بھی درجہ نبوی صلی اللہ علیہ و سلم سے فروتر ہیں اس لئے بالضرور انبیاء باقیہ میں سے کوئی اور نبی اس کے لئے ضد مقابل ہوگا۔‘‘

یہ تو پہلے سوال کا خلاصۂ جواب ہے اب دوسرے سوال کا جواب سنیئے! فرماتے ہیں:

’’سوبایں نظر کہ اصل ایمان انقیاد و تذلل ہے جس کا خلاصہ عبدیت ہے اور اصل کفر، اِبا و امتناع ہے جس کا حاصل تکبر ہے۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام اور مسیح دجال لعین میں تقابل نظر آتا ہے اس لئے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام اپنے حق میں فرماتے ہیں ’’انی عبداللہ‘‘ اور دجال لعین دعوائے الوہیت کرے گا، ادھر جس قسم کے خوارق مثل اِحیا ئے موتیٰ حضرت عیسیٰ علیہ السلام سے صادر ہوئے تھے اسی طرح کے خوارق اس مردود سے ہوں گے، پھر بایں ہمہ دعویٰ عبودیت، نصاریٰ کا حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو معبود بنالینا جمع کرنا ضدین، یعنی داعیہ ازالہ منکر و التزام منکر مذکور ہے پھر اس پر ان کا کیا گویا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم ہی کا کیا ہے۔ اس لئے کہ اقتدا انبیائے سابقین بسیدالمرسلین تو معلوم ہی ہوچکا، پھر دعویٰ عبودیت حضرت عیسیٰ علیہ السلام اس بات پر شاہد ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام بہ نسبت حضرت اقدس سیّد عالم صلی اللہ علیہ و سلم نائب خاص

235

ہیں۔۔۔۔۔۔ اور شاید یہی وجہ ہے کہ حسب ارشاد آیت ہدایت بنیاد’’واذ قال عیسی ابن مریم یٰبنی اسرٰٓئیل انی رسول اللہ الیکم مصدقًا لما بین یدی من التورٰۃ و مبشرا برسول یأتی من بعدی اسمہ احمد۔‘‘ منصب بشارت آمد آمد سرور انبیاء علیہم السلام پر مأمور ہوئے۔

گویا حضرت عیسیٰ علیہ السلام اور ان کے اتباع کو آپ کے حق میں مقدمۃ الجیش سمجھئے، چنانچہ انجام کار شامل حال امتِ محمدی صلی اللہ علیہ و سلم ہوکر غنیم اکبر دجال موعود کو قتل کرنا زیادہ تر اس کا شاہد ہے۔

اس لئے کہ وقت اختتام سفر و مقابلہ غنیم و بغاوت سپاہیان مقدمۃ الجیش بھی شریک لشکر ظفر پیکر ہوجاتے ہیں۔‘‘

(آب حیات ص:۶۵۱،۷۵۱ مطبع قدیمی دہلی)

حضرت قدس سرہ نے سیّدنا عیسیٰ علیہ السلام کے بمقابلہ دجال لعین لانے کے جتنے وجوہ پیش فرمائے ہیں ان میں سے ہر ایک شرح و تفصیل کا خواستگار ہے اور اس موضوع پر ایک تفصیلی رسالہ تیار ہوسکتا ہے مگر میں یہاں حضرت کے اقتباس پر ہی اکتفا کرنا چاہتا ہوں کیونکہ یہ ایک مستقل موضوع ہے میں اس تحریر کو حضرت قدس سرہ کے ایک جملہ پر ختم کرتا ہوں:

’’حاصل مطلب یہ ہے کہ خاتمیت زمانی سے مجھ کو انکار نہیں بلکہ یوں کہئے منکروں کے لئے گنجائش انکار نہ چھوڑی، افضلیت کا اقرار ہے بلکہ اقرار کرنے والوں کے پاؤں جمادیئے۔

اور نبیوں کی نبوّت پر ایمان ہے پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کے برابر کسی کو نہیں سمجھتا۔‘‘

(مناظرہ عجیبہ ص:۱۷ مکتبہ قاسم العلوم لانڈھی کراچی)

236

حریمِ نبوّت کی پاسبانی کا اِعزاز!

بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ

اَلْحَمْدُ للہِ وَسَلَامٌ عَلٰی عِبَادِہِ الَّذِیْنَ اصْطَفٰی!

قرآن کریم میں ارشاد الٰہی ہے:

’’یٰٓـاَیُّھَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا مَنْ یَّرْتَدَّ مِنْکُمْ عَنْ دِیْنِہٖ فَسَوْفَ یَأْتِی اللہُ بِقَوْمٍ یُّحِبُّھُمْ وَیُحِبُّوْنَہٗٓ اَذِلَّۃٍ عَلَی الْمُؤْمِنِیْنَ اَعِزَۃٍ عَلَی الْکٰفِرِیْنَ یُجٰھِدُوْنَ فِیْ سَبِیْلِ اللہِ وَلَا یَخَافُوْنَ لَوْمَۃَ لَآئِمٍ، ذٰلِکَ فَضْلُ اللہِ یُؤْتِیْہِ مَنْ یَّشَآئُ وَاللہُ وٰسِعٌ عَلِیْمٌ۔‘‘

(المائدہ:۴۵)

ترجمہ:۔۔۔’’اے ایمان والو! جو شخص تم میں اپنے دین سے پھر جائے تو اللہ تعالیٰ بہت جلد ایسی قوم کو پیدا کردے گا، جن سے اللہ تعالیٰ کو محبت ہوگی اور ان کو اللہ تعالیٰ سے محبت ہوگی، مہربان ہوں گے وہ مسلمانوں پر، تیز ہوں گے کافروں پر، جہاد کرتے ہوں گے اللہ تعالیٰ کی راہ میں اور وہ لوگ کسی ملامت کرنے والے کی ملامت کا اندیشہ نہ کریں گے، یہ اللہ تعالیٰ کا فضل ہے جس کو چاہے عطا فرمائے، اور اللہ تعالیٰ بڑی وسعت والے ہیں، بڑے علم والے ہیں۔‘‘

(ترجمہ حضرت تھانویؒ)

حریم نبوّت کی پاسبانی اور عقیدۂ ختمِ نبوّت کی نگہبانی ہر مسلمان کا دینی و ملی فریضہ ہے، آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی حیات طیبہ میں حضرت فیروز دیلمی رضی اللہ عنہ نے ختمِ نبوّت کے قزاق اسود عنسی کو خنجر سے موت کے گھاٹ اُتارا، اور بارگاہِ نبوّت سے: ’’فاز

237

فیروز!‘‘ کا تمغہ حاصل کیا، اور وصالِ نبوی کے بعد حضرت صدیق اکبر رضی اللہ عنہ نے سب سے پہلے فتنۂ ارتداد ہی کا قلع قمع کیا اور یمامہ کے جھوٹے مدعیٔ نبوّت مسیلمہ کذاب کو اس کی ذریت سمیت ’’حدیقۃ الموت‘‘ میں واصل جہنم کیا۔

’’مجلس تحفظ ختمِ نبوّت‘‘ (اپنی بے مائیگی اور بے سروسامانی کے باوصف) صدیق اکبر رضی اللہ عنہ کے اسی مقدس مشن کی علمبردار ہے:

  1. تیغ برّاں بہر ہر زندیق باش

    اے مسلمان پیرو صدیق باش

خدام مجلس کی دعوت و داعیہ یہ ہے کہ ہر وہ مسلمان جس کے دل میں ایمان کا نور ہے اور جسے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے تعلق و عقیدت ہے اسے لازم ہے کہ اپنی استطاعت کے مطابق ختمِ نبوّت کی پاسبانی کا فریضہ انجام دے۔ امام العصر مولانا محمد انور شاہ کشمیریؒ جب بہاولپور کے مشہور مقدمہ کے سلسلہ میں بہاول پور تشریف لائے تو جامع مسجد میں نماز جمعہ کے بعد حاضرین سے فرمایا:

’’میں بواسیر خونی کے مرض کے غلبہ سے نیم جان تھا، نیز ڈابھیل جانے کے لئے پا بہ رکاب تھا کہ اچانک شیخ الجامعہؒ کا مکتوب مجھے ملا، جس میں بہاول پور آکر مقدمہ میں شہادت دینے کے لئے کہا گیا تھا، میں نے سوچا کہ میرے پاس زادِ آخرت تو ہے نہیں، شاید یہی چیز ذریعۂ نجات بن جائے کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے دین کا جانبدار بن کر یہاں آیا ہوں۔‘‘

یہ سن کر مجمع بے قرار ہوگیا، حضرتؒ کے ایک شاگرد حضرت مولانا عبدالحنان ہزارویؒ بے اختیار کھڑے ہوگئے اور کہا کہ اگر حضرتؒ کو بھی اپنی نجات کا یقین نہیں، تو پھر اس دنیا میں کس کی مغفرت کی توقع ہوگی؟ اور حضرتؒ کی تعریف و توصیف میں انہوں نے کچھ بلند کلمات اور بھی فرمائے، جب وہ بیٹھ گئے تو حضرت شاہ صاحبؒ نے پھر مجمع سے مخاطب ہوکر فرمایا:

’’ان صاحب نے ہماری تعریف میں مبالغہ کیا، حالانکہ ہم

238

پر یہ بات کھل گئی ہے کہ گلی کا کتا بھی ہم سے بہتر ہے، اگر ہم ختمِ نبوّت کا تحفظ نہ کرسکیں۔‘‘

(نقش دوام ص:۰۹۱)

نیز اپنے آخری لمحات حیات میں حضرت شاہ صاحبؒ نے فرمایا: ’’میری چارپائی دارالعلوم دیوبند لے چلو۔‘‘ وہاں اساتذہ و طلبہ اور باہر سے آئے ہوئے مہمانوں کا ایک بڑا مجمع تھا، حضرتؒ نے اپنے تمام تلامذہ اور دیگر علماء و طلبہ کو ختمِ نبوّت کے تحفظ کی تاکیدیں فرمائیں، اور فرمایا:

’’جو شخص چاہتا ہے کہ کل فردائے قیامت میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس کی شفاعت کریں، اسے چاہئے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی ختمِ نبوّت کی پاسبانی کا حق ادا کرے۔‘‘

  1. مصلحت دید من آنست کہ یاراں ہمہ کار

    بگذارند و خم طرۂ یارے گیرند!

امام العصر حضرت شاہ صاحب نور اللہ مرقدہ کے اسی سوز دروں کا نتیجہ تھا کہ حضرت امیر شریعت مولانا سیّد عطاء اللہ شاہ بخاریؒ اور ان کے رفقا نے اپنی زندگی کا موضوع ہی اس مقدس مشن کو بنالیا، اور اس کے لئے ’’مجلس تحفظ ختمِ نبوّت‘‘ کا ادارہ قائم فرمایا، حضرت امیر شریعت کے بعد مولانا قاضی احسان احمد شجاع آبادی، مولانا محمد علی جالندھری، مولانا لال حسین اختر، مولانا محمد حیات اور محدث العصر مولانا سیّد محمد یوسف بنوری (رحمہم اللہ) علی الترتیب اس قافلے کے میر کارواں ہوئے اور آج بھی بحمداللہ شیخ طریقت حضرت اقدس مولانا خان محمد مدظلہ العالی (سجادہ نشین خانقاہ سراجیہ کندیاں شریف) کی قیادت میں یہ کارواں ایمان و عزیمت، اپنی منزل کی طرف رواں دواں ہے۔

ایک عرصہ سے تمنا تھی کہ ختمِ نبوّت کے پیغام کو عام کرنے کے لئے ’’ختمِ نبوّت‘‘ ہی کے نام سے ایک ہفت روزہ جاری کیا جائے، لیکن یہاں کی کسی ’’اسلامی حکومت‘‘ نے اس نام سے پرچہ جاری کرنے کی اجازت نہیں دی، بلکہ حکومتی وسائل عقیدۂ ’’ختمِ نبوّت‘‘ کے تحفظ کے بجائے سارقین ختمِ نبوّت کی حفاظت و مدافعت میں صرف ہوتے رہے، جب

239

باڑھ ہی کھیت کو کھانے لگے تو اس سے فصل کی کیا توقع کی جاسکتی ہے؟ تاہم یہاں کے ناخداؤں کی حضرت ختمی مآب صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم سے سرد مہری ہمارے ولولوں کو سرد نہیں کرسکی، بقول غالبؔ:

گر کیا ناصح نے ہم کو قید، اچھا! یوں سہی

یہ جنون عشق کے انداز چھٹ جائیں گے کیا؟

ہماری کوششیں جاری رہیں، بالآخر موجودہ حکومت نے اپنے دینی و ملی فریضہ کا احساس کرتے ہوئے ’’ہفت روزہ ختمِ نبوّت‘‘ کی اشاعت کی منظوری دے دی ہے، ہم بارگاہِ رَبّ العزّت میں سجدۂ شکر بجا لاتے ہیں کہ اس نے ہمارے موجودہ حکمرانوں کو اس کی توفیق و سعادت نصیب فرمائی ہے۔

’’مجلس تحفظ ختمِ نبوّت‘‘ کا موضوع یہ ہے کہ: آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی سنت و سیرت کی طرف اپنے مسلمان بھائیوں کو دعوت دینا، اسلامی اتحاد کی صفوں کو درست کرنا، وہ تمام لوگ جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی رسالت و نبوّت سے وابستہ ہیں، انہیں ایک پلیٹ فارم پر جمع کرنا، مسلمانوں میں دینی و ملی احساس بیدار کرنا اور محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے دشمنوں کا ہر موقع اور ہر محاذ پر تعاقب کرنا۔ یہی اغراض و مقاصد اِن شاء اللہ ’’ہفت روزہ ختمِ نبوّت‘‘ کے ہوں گے، اور ہم حق تعالیٰ شانہ کی توفیق و عنایت سے یہ کوشش کریں گے کہ دین و ہدایت کے اس خوانِ یغما پر قارئین کے ذہن و قلب کی بہتر سے بہتر غذا مہیا کریں، اس کے لئے ہم اپنے باتوفیق قارئین سے بھرپور تعاون اور مخلصانہ و عاقلانہ مشوروں کی درخواست کرتے ہیں۔

۲۹؍مئی ۱۹۴۷ء کو ریلوے اسٹیشن ربوہ پر جو حادثہ پیش آیا، وہ تحریک ختمِ نبوّت کا پیش خیمہ ثابت ہوا، جس سے حق و باطل کے درمیان امتیاز ہوا، مناسب سمجھا کہ ہم اسی تاریخ سے اپنے اشاعتی سفر کا آغاز کریں، ہم بارگاہ الٰہی میں دست بدعا ہیں کہ ان حقیر مساعی میں خلوص کامل نصیب فرمائے، اور اس بضاعت مزجاۃ کو شرف قبول عطا فرماکر دارین میں اپنی رضا و رحمت کا ذریعہ بنائے۔

(ہفت روزہ ختمِ نبوّت کراچی ج:۱ ش:۱)

240

تحریکِ ختمِ نبوّت

اور حضرت بنوری

بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ

اَلْحَمْدُ للہِ وَسَلَامٌ عَلٰی عِبَادِہِ الَّذِیْنَ اصْطَفٰی!

متحدہ ہندوستان میں امیر شریعت سیّد عطا اللہ شاہ بخاریؒ اور مجلس احرار اسلام کے سرفروشوں نے اپنی شعلہ بار خطابت کے ذریعہ انگریز کی ساختہ پرداختہ قادیانی نبوّت کے خرمن امن کو پھونک ڈالا تھا، چنانچہ ۱۹۴۷ء میں انگریزی اقتدار رخت سفر باندھ کر رخصت ہوا۔ برصغیر کی تقسیم ہوئی اور پاکستان منصہ شہود پر جلوہ گر ہوا، اس تقسیم کے نتیجے میں قادیانی نبوّت کا منبع خشک ہوکر رہ گیا، اور قادیان کی منحوس سرزمین نہ صرف خود دارالکفر ہندوستان کے حصہ میں آئی بلکہ اپنے ساتھ مشرقی پنجاب کے مسلم اکثریت کے صوبے کو بھی لے ڈوبی۔

مرزا محمود قادیانی اپنے ’’مکۃ المسیح‘‘ ارض حرم اور ’’مسجد اقصیٰ‘‘ سے برقعہ پہن کر فرار ہوا اور سیدھا لاہور آکر دم لیا، پاکستان میں دجل و تلبیس کا دار الکفر ’’ربوہ‘‘ کے نام سے آباد کیا۔ قبر فروشی کی آبائی اسکیم کے لئے ’’بہشتی مقبرہ‘‘ کا یہاں ڈھونگ رچایا، اور قادیانی خلافت کے شہسوار کی ترکتازیاں دکھانے اور پورے ملک کو مرتد بنانے کے منصوبے تیار کرنے لگا۔

قادیانیوں کو غلط فہمی تھی کہ چونکہ پاکستان کے ارباب اقتدار پر ان کا تسلط ہے، فوج میں ان کا گہرا اثر و رسوخ ہے، ملک کے کلیدی مناصب پر ان کا قبضہ ہے، پاکستان کا وزیر خارجہ ظفر اللہ خان قادیانی ہے، اس لئے پاکستان میں مرزا غلام احمد کی جھوٹی نبوّت کا جعلی سکہ رائج کرنے میں انہیں کوئی خاص مشکل پیش نہیں آئے گی۔ ان کی امید افزائی کا

241

ایک خاص پہلو یہ بھی تھا کہ ’’احرار اسلام‘‘ کا قافلہ تقسیم ہند کی بدولت لٹ چکا تھا۔ ان کے پاس تنظیم اور تنظیمی وسائل کا فقدان تھا، اور سب سے بڑھ کر یہ کہ ’’احرار اسلام‘‘ ناخدایانِ پاکستان کے دربار میں معتوب تھے۔ قادیانیوں کو یہ غرہ تھا کہ اب حریم نبوّت کی پاسبانی اور قادیان کی جعلی قبائے نبوّت کے بخیے ادھیڑنے کی ہمت کسی کو نہیں ہوگی، جو شخص بھی اس کی جرأت کرے گا اسے ’’شرپسند‘‘ اور ’’باغی‘‘ کہہ کر آسانی سے تختۂ دار پر لٹکوا دیا جائے گا، یا کم از کم پس دیوار زنداں بھجوادیا جائے گا۔ لیکن وہ نہیں جانتے تھے کہ حفاظت دین اور ’’تحفظ ختمِ نبوّت‘‘ کا کام انسان نہیں کرتے خدا خود کرتا ہے، اور جب وہ کسی کام کو کرنا چاہتا ہے تو اس کے ارادے کو نہ حکومتیں روک سکتی ہیں نہ کوئی بڑی سے بڑی طاقت بدل سکتی ہے۔

امیر شریعت سیّد عطا اللہ شاہ بخاریؒ، قادیانیوں کے عزائم سے بے خبر نہیں تھے، مگر حالات کا تیز و تند دھارا ان کے خلاف بہہ رہا تھا۔ تاہم وہ شدید ترین ناموافق حالت میں بھی قادیانیت سے نمٹنے کا فیصلہ کرچکے تھے، گویا:

موجِ خوں سر سے گزر ہی کیوں نہ جائے

آستانِ یار سے اُٹھ جائیں کیا؟

چنانچہ جدید حالات میں قادیانیت کے خلاف کام کرنے کے لئے امیر شریعتؒ نے ملکی سیاسیات سے دست کش ہونے کا اعلان کردیا اور آئندہ کا لائحہ عمل مرتب کرنے کے لئے ملتان کی ایک چھوٹی سی مسجد ’’مسجد سراجاں‘‘ میں ۱۴؍ربیع الثانی ۱۳۴۷ھ (مطابق ۱۳؍دسمبر ۱۹۴۵ء) کو اپنے مخلص رفقا کی ایک مجلس مشاورت طلب فرمائی، جس میں حضرت امیر شریعتؒ کے علاوہ مجاہد ملت مولانا محمد علی جالندھریؒ، خطیبِ پاکستان مولانا قاضی احسان احمد شجاع آبادیؒ، مولانا محمد شریف بہاول پوریؒ، مولانا شیخ احمدؒ (بورے والا)، مولانا محمد عبداللہ رائے پوریؒ، مولانا عبدالرحمن میانویؒ، مولانا تاج محمود لائل پوریؒ (فیصل آبادی)، مولانا محمد شریف جالندھریؒ، مولانا عبدالرحیم اشعرؒ، مولانا غلام محمد بہاول پوریؒ وغیرہ شریک ہوئے۔ غور و فکر کے بعد ’’مجلس تحفظ ختمِ نبوّت‘‘ کے نام سے ایک غیرسیاسی تبلیغی تنظیم کی بنیاد رکھی گئی، یہ تھا مجلس تحفظ ختمِ نبوّت کی تاسیس کا مختصر تعارف اور پس منظر۔ حضرت امیر

242

شریعت مولانا سیّد عطا اللہ شاہ بخاریؒ کو اس قافلہ کا پہلا امیر و قائد منتخب کیا گیا۔

۹؍ربیع الاول۱۳۱۸ھ مطابق ۱۲؍اگست۱۹۶۱ء کو حضرت امیر شریعتؒ کا وصال ہوا اور جماعت کو طفولیت کے عالم میں یتیم کرگئے۔ شاہ جیؒ کے بعد حضرت مولانا قاضی احسان احمد شجاع آبادیؒ (المتوفی: ۹؍شعبان ۱۳۶۸ھ مطابق ۲۳؍نومبر ۱۹۶۶ء) امیر دوم، حضرت مولانا محمد علی جالندھریؒ (المتوفی: ۲۴؍صفر ۱۳۹۱ھ مطابق ۲۱؍اپریل ۱۹۷۱ء) امیر سوم، اور مناظر اسلام مولانا لال حسین اختر ؒ(المتوفی: ۱۱؍جولائی ۳۷۹۱ء) امیر چہارم منتخب ہوئے۔ مولانا لال حسین اختر ؒکے بعد فاتح قادیان حضرت مولانا محمد حیات مدظلہ العالی کو نئے انتخاب تک مسند امارت عارضی طور پر تفویض ہوئی، خیال تھا کہ آئندہ جماعت کی زمام قیادت مستقل طور پر انہیں کے سپرد کردی جائے مگر اپنے ضعف و عوارض کی بنا پر انہوں نے اس گراںباری سے معذرت کا اظہار فرما دیا اور جماعت خلا میں گھومنے لگی۔ یہ ایک ایسا بحران تھا کہ جس سے اس عظیم الشان پیش قدمی رک جانے کا خطرہ لاحق ہوگیا تھا، لیکن حق تعالیٰ شانہ کا وعدہ حفاظتِ دین یکایک ایک لطیفہ غیبی کی شکل میں رونما ہوا، اور وہ اس منصب عالی کے لئے اسلاف کے علوم و روایات کی حامل ایک ہستی کو کھینچ لایا جو اس منصب کی پوری طرح اہل تھی، جس سے ملت اسلامیہ کا سر بلند ہوا، جس کے ذریعہ قدرت نے ختمِ نبوّت کی پاسبانی کا وہ کام لیا جو اس دور کی تاریخ کا جلی عنوان بن گیا، اور وہ تھے شیخ الاسلام حضرت العلامہ مولانا السیّد محمد یوسف البنوری الحسینی نور اللہ مرقدہ، ۱۵؍ربیع الاول ۱۳۴۹ھ، مطابق ۹؍اپریل ۱۹۴۷ء کو یہ عبقری شخصیت ’’مجلس تحفظ ختمِ نبوّت‘‘ کی مسند امارت پر رونق افروز ہوئی۔

کسی جماعت کی صدارت قبول کرنا حضرتؒ کے مزاج و مشاغل کے قطعاً منافی تھا، لیکن مخلصین کے اصرار پر آپؒ کو یہ منصب قبول کرنا پڑا، یہ تو ظاہری سبب تھا، لیکن اس کے باطنی اسباب و دواعی متعدد تھے جن میں سے تین اسباب اہمیت رکھتے ہیں۔

اول:۔۔۔حضرت امام العصر مولانا محمد انور شاہ کشمیری قدس سرہ اپنے دور میں رَدِّ قادیانیت کے امام تھے۔ انہوں نے ہی مولانا سیّد عطا اللہ شاہ بخاریؒ کو ’’امیر شریعت‘‘

243

مقرر کرکے ایک جماعت کو مستقل اسی مہم پر لگادیا تھا اور علمائے اُمت سے ان سے تعاون کرنے کی بیعت لی تھی۔ ادھر حضرت بنوریؒ اپنے شیخ کے علوم و انفاس کے وارث تھے، تحفظ ختمِ نبوّت اور ردّ قادیانیت ان کے شیخ انورؒ کی وراثت و امانت تھی، ظاہر ہے کہ اس کا اہل علوم انوری کے وارث اور ان کے روحانی جانشین سے بہتر کون ہوسکتا تھا؟ اس لئے جب ایک فعال جماعت کی قیادت ان کے سپرد ہوئی تو آپ نے اسے عطیہ خداوندی سمجھ کر قبول کرلیا۔

دوم:۔۔۔حضرت مولانا محمد انور شاہ کشمیری قدس سرہ نے انجمن حیات اسلام کے جس اجلاس میں مولانا سیّد عطا اللہ شاہ بخاریؒ کو ’’امیر شریعت‘‘ مقرر کرکے خود ان کے ہاتھ پر بیعت کی تھی اور دیگر علماء سے بھی بیعت کرائی، اس میں حضرت سیّد بنوریؒ بھی شریک تھے، جب انہوں نے دیکھا کہ ان کے شیخ انورؒ اور ان کے ’’امیر شریعت‘‘ کی جماعت بے کسی و بے بسی کے جنگل میں بھٹک رہی ہے اور اس بے سہارا جماعت کے سارے اکابرؒ اسے یتیم چھوڑ کر جاچکے ہیں تو آپؒ نے اپنی تمامتر معذوریوں کے باوجود اس یتیم جماعت کو اپنی آغوش شفقت میں اٹھالیا۔ گویا وہ بیعت جو آپؒ نے انجمن حیات اسلام کے اجلاس میں امیر شریعتؒ کے ہاتھ پر کی تھی وہی آپؒ کو امیر شریعتؒ کی خلافت و جانشینی تک کھینچ لائی۔ ۱۵؍ربیع الاول ۱۳۴۹ھ سے پہلے آپؒ امیرشریعتؒ کی ’’پاسبان ختمِ نبوّت فوج‘‘ کے سپاہی تھے، اور اس تاریخ سے آپؒ کو اس فوج کا سپہ سالار بنادیا گیا۔

سوم:۔۔۔حضرت قدس سرہ پر حق تعالیٰ شانہ کے بے شمار انعامات تھے، آپؒ کے صحیفۂ زندگی میں قدرت ایک نئے باب اور بالکل آخری باب کا اضافہ کرنا چاہتی تھی، اور وہ تھا آپؒ کے مقام صدیقیت کا اظہار، مسیلمہ کذاب کی خبیث اُمت کا صفایا سب سے پہلے صدیق اکبر رضی اللہ عنہ کی فوج نے کیا تھا اور مسیلمہ پنجاب کی اُمت کی سرکوبی ’’یوسف صدیق‘‘ کی فوج نے ’’اول باآخر سلے دوارد‘‘ راقم الحروف کا خیال ہے کہ اسی صدیقی نسبت کی تکمیل کے لئے قدرت آپؒ کو آخری عمر میں ’’مجلس تحفظ ختمِ نبوّت‘‘ کی قیادت کے لئے کشاں کشاں کھینچ لائی۔

244

یہاں یہ عرض کردینا ضروری ہے کہ حضرت مولانا قاضی احسان احمدؒ کے وصال کے بعد حضرت مولانا محمد علی جالندھری قدس سرہ نے حضرتؒ کی خدمت میں جماعت کی قیادت کے لئے درخواست کی تھی مگر حضرتؒ نے فرمایا کہ آپ کی موجودگی میں صرف آپ ہی اس کے لئے موزوں ہیں۔ چنانچہ آپ نے اس وقت جماعت کی امارت قبول نہیں فرمائی، البتہ جماعت کی سرپرستی اور مجلس شوریٰ کی رکنیت قبول فرمالی۔ ربیع الثانی ۱۳۷۸ھ سے مجلس شوریٰ کے اجلاس میں بڑے اہتمام سے شرکت فرماتے تھے اور مجلس کی کوئی کاروائی حضرتؒ کی قیادت و ارشاد کے بغیر نہیں ہوتی تھی، بظاہر حضرت جالندھریؒ مجلس کے امیر خود تھے مگر اس کی حقیقی قیادت اس وقت بھی حضرت بنوری قدس سرہ کے ہاتھ میں تھی۔

حضرت بنوری قدس سرہ کا دورِ امارت اگرچہ بہت ہی مختصر رہا اور اس میں بھی حضرتؒ اپنے بے شمار مشاغل اور ضعف و پیرانہ سالی کی بنا پر جماعت کے امور پر خاطر خواہ توجہ نہیں فرماسکتے تھے اس کے باوجود حق تعالیٰ شانہ نے آپؒ کی پُرخلوص قیادت کی برکت سے جماعت کے کام کو ثریٰ سے ثریا تک پہنچادیا، اور ’’بنوری دور‘‘ میں جماعت نے وہ خدمات انجام دیں جن کی اس سے پہلے صرف تمنا کی جاسکتی تھی، ان کا بہت ہی مختصر خاکہ درج ذیل ہے:

تاریخ ساز فیصلہ:

آپ کو جماعت کی زمام قیادت سنبھالے ابھی دو مہینے ہی گزرے تھے کہ ۲۹؍مئی ۱۹۴۷ء کو ربوہ اسٹیشن کا شہرۂ آفاق سانحہ رونما ہوا۔ حضرتؒ ان دنوں سوات کے دور دراز علاقے میں سفر پر تھے، وہیں آپؒ کو اس واقعہ کی کسی نے اطلاع دی، خبر سن کر چند لمحے توقف کے بعد فرمایا:

’’عدو شرے بر انگیزد خیر مادر آں باشد‘‘

آپؒ سوات سے بعجلت واپس ہوئے اور تحریک ختمِ نبوّت کی کامیابی کے لئے حضرتؒ نے ایک طرف بارگاہِ خداوندی میں تضرع اور ابتہال کا سلسلہ تیز کردیا اور دوسری

245

طرف اُمتِ مسلمہ کو متحد کرنے اور قوم کے منتشر ٹکڑوں کو جمع کرنے کے لئے رات دن ایک کردیا۔ ۲۹؍مئی سے ۷؍ستمبر تک کے سو دن برصغیر کی مذہبی تاریخ میں سو سال کے برابر ہیں، ان سو دنوں کی مفصل تاریخ ایک مستقل تالیف کا موضوع ہے، مگر یہاں حضرت اقدسؒ کی ذات سے متعلق چند اشارات پر اکتفا کروں گا۔

۲۹؍مئی کو ربوہ کا حادثہ پیش آیا، حالات نے نازک صورت اختیار کرلی اور مسلمانوں کے جذبات مشتعل ہوگئے، مگر حکومت نے بروقت صحیح قدم نہیں اٹھایا بلکہ ۱۹۵۳ء کی تحریک ختمِ نبوّت کی طرح اس تحریک کو بھی کچلنا چاہا۔

۳؍جون ۱۹۴۷ء کو راولپنڈی میں علمائے کرام اور مختلف فرقوں کا ایک نمائندہ اجتماع ہوا، حکومت نے اسے ناکام بنانے کے لئے تین مندوبین، مولانا مفتی زین العابدین، مولانا حکیم عبدالرحیم اشرف اور مولانا تاج محمود کو لالہ موسیٰ اسٹیشن پر ریل سے اتار لیا۔

۹؍جون کو حضرتؒ کی جانب سے ایک نمائندہ اجتماع لاہور میں رکھا گیا، جس میں مسلمانوں کے تمام فرقوں اور جماعتوں کے مندوب شریک ہوئے، یہ ان جماعتوں کا نمائندہ اجتماع تھا۔ سب سے پہلے حضرتؒ نے مختصر سی افتتاحی تقریر میں اجتماع کے اغراض و مقاصد اور تحریک کے لائحہ عمل پر روشنی ڈالی، جس کا خلاصہ حضرتؒ ہی کے الفاظ میں یہ تھا:

’’ہمارا یہ اجتماع اس وقت صرف ایک دینی عقیدہ کی حفاظت کے لئے ہے۔ یہ اجتماع ’’ختمِ نبوّت‘‘ کے مسئلہ پر ہے۔ اس کا دائرہ آخر تک محض دین رہے گا۔ سیاسی آمیزشوں سے اس کا دامن پاک رہنا چاہئے جو سیاسی حضرات اس میں شامل ہیں ان کا مطمح نظر دین ہی ہوگا۔ اور حزب اقتدار و حزب اختلاف کی کشمکش سے بالاتر ہوگا۔ ختمِ نبوّت کی تحریک کا طریق کار نہایت پُرامن ہوگا، اور اسے تشدد سے کوئی سروکار نہ ہوگا۔ اگر کوئی مزاحمت ہوئی یا تکلیف پیش آئی تو دین کے لئے اس کو برداشت کرنا ہوگا اور صبر کرنا ہوگا۔ مظلوم بن کر رہنا ہوگا۔ اور ہمارے مدمقابل صرف مرزائی

246

اُمت ہوگی۔ ہم حکومت کو ہدف بنانا نہیں چاہتے۔ اگر حکومت نے ان کی حفاظت یا ان کی حمایت میں کوئی غلط قدم اٹھایا تو اس وقت مجلس عمل کوئی مناسب فیصلہ کرے گی۔ ابھی قبل از وقت کچھ کہنا درست نہیں۔‘‘

(ماہنامہ ’’بینات‘‘ کراچی رمضان و شوال ۱۳۴۹ھ)

اس کے بعد مفتی محمود، نواب زادہ نصر اللہ خان اور دیگر نمائندوں کی تقریریں ہوئیں، تحریک کو نظم و ضبط کے تحت رکھنے کے لئے ایک ’’مجلس عمل‘‘ کی تشکیل ہوئی اور حضرت مولانا عبدالحق شیخ الحدیث اکوڑہ خٹک نے اس کی صدارت کے لئے حضرتؒ کا نام پیش کیا، حضرتؒ اس کے لئے آمادہ نہ تھے، اس لئے حضرت کو مجبور کیا گیا کہ فی الحال آپ عارضی حیثیت سے ’’مجلس عمل‘‘ کی قیادت قبول فرمالیں، مستقل صدر کے انتخاب پر آئندہ اجلاس میں غور کرلیا جائے گا۔

اسی اجلاس میں ’’مجلس عمل‘‘ کی جانب سے ۱۴؍جون ۱۹۴۷ء کو ملک میں مکمل ہڑتال کے اعلان نیز مرزائی اُمت کے مکمل مقاطعہ (بائیکاٹ) کا فیصلہ کیا گیا۔

اس دوران وزیراعظم نے ’’مجلس عمل‘‘ کے ارکان سے فرداً فرداً ملاقات کی، حضرتؒ نے نہایت صفائی اور سادگی سے صاف اور غیرمبہم الفاظ میں وزیراعظم کے سامنے مسلمانوں کے موقف کی وضاحت کی، آپ نے جو کچھ فرمایا اس کا خلاصہ آپ ہی کے الفاظ میں یہ تھا:

’’قادیانی مسئلہ بلاشبہ پاکستان کے روزِ اول سے موجود ہے، پہلی غلطی اس وقت ہوئی جب ظفراللہ قادیانی کو وزیر خارجہ مقرر کیا گیا۔ شہید ملت (خان لیاقت علی خان مرحوم) کو اس خطرناک غلطی کا احساس ہوا، اور انہوں نے قادیانیوں کو اقلیت قرار دینے کا عزم کرلیا تھا، لیکن افسوس کہ وہ شہید کردئیے گئے۔ اور ہوسکتا ہے کہ ان کا یہ عزم ہی ان کی شہادت کا سبب ہوا ہو۔ اس وقت جو جرأت مرزائیوں کو ہوئی ہے اگر اس وقت اس کا تدارک نہ کیا گیا اور وہ

247

غیرمسلم اقلیت قرار نہیں دئیے گئے تو مسلمانوں کے جذبات بھڑکیں گے اور ان کی (قادیانیوں کی) جان و مال کی حفاظت حکومت کے لئے مشکل ہوگی۔ اقلیت قرار دئیے جانے کے بعد اس ملک میں ان کی حیثیت ’’ذمی‘‘ کی ہوگی اور ان کی جان و مال کی حفاظت شرعی قانون کی رو سے مسلمانوں پر ضروری ہوگی، اس طرح ملک میں امن قائم ہوجائے گا۔

میں مانتا ہوں کہ آپ پر خارجی غیراسلامی حکومتوں کا دباؤ ہوگا، لیکن اس کے بالمقابل ان اسلامی ممالک کا تقاضا بھی ہے کہ ان کو جلد غیرمسلم اقلیت قرار دیا جائے۔ جن ممالک سے ہمارے اسلامی تعلقات بھی ہیں اور ہر قسم کے مفادات بھی وابستہ ہیں، خارجی دنیا میں غیراسلامی حکومتوں کے بجائے اسلامی مملکتوں کو مطمئن اور خوش کرنا زیادہ ضروری ہے۔ نیز ایک معمولی سی اقلیت کو خوش کرنے کے لئے اتنی بڑی اکثریت کو غیرمطمئن کرنا دانش مندی نہیں۔ اگر آپ حق تعالیٰ پر توکل و اعتماد کرکے اللہ کی خوشنودی کے لئے مسلمانوں کے حق میں فیصلہ فرمائیں تو دنیا کی کوئی طاقت آپ کا بال بیکا نہیں کرسکتی، اور اس راستہ میں موت بھی سعادت ہے۔‘‘

(حوالہ مذکور)

۱۳؍جون کو وزیراعظم نے ایک طویل تقریر ریڈیو پر نشر کی، جس میں حادثہ ربوہ پر ایک حرف بھی نہیں کہا، البتہ ختمِ نبوّت پر اپنا ایمان جتاتے ہوئے کہا کہ یہ مسئلہ نوے سال کا پرانا ہے، اتنی جلدی کیسے حل ہوسکتا ہے؟

۱۴؍جون کو ملک میں درہ خیبر سے کراچی اور لاہور سے کوئٹہ تک ایسی مکمل ہڑتال ہوئی جو پاکستان میں اپنی نظیر آپ تھی۔

۲۱؍جون کو ’’مجلس عمل‘‘ کا لائل پور میں اجلاس ہوا جس میں وزیراعظم کی

248

۲۱؍جون کو ’’مجلس عمل‘‘ کا لائل پور میں اجلاس ہوا جس میں وزیراعظم کی ۱۳؍جون کی تقریر پر غور کیا گیا، ’’مجلس عمل‘‘ کی مستقل صدارت کے لئے حضرتؒ کو مجبور کیا گیا، جسے آپ کو منظور کرنا پڑا۔ اسی اجلاس میں یہ بھی طے کیا گیا کہ تحریک کو پُرامن رکھنے کی ہر ممکن کوشش کی جائے، قادیانیوں کا بائیکاٹ جاری رکھا جائے اور تحریک کو سول نافرمانی سے بہرقیمت بچایا جائے۔

تحریک کو زندہ مگر پُرامن رکھنے کے لئے حضرتؒ نے کراچی سے پشاور تک کے دورے کئے، چھوٹے چھوٹے قصبوں تک میں تشریف لے گئے، ہر جگہ مسلمانوں کو صبر و سکون سے تحریک چلانے کا حکم فرماتے لیکن اس کے برعکس حکومت نے جارحانہ رویہ اختیار کیا، حضرتؒ فرماتے ہیں:

’’ادھر مجلس عمل کی پالیسی تو یہ تھی کہ حکومت سے تصادم سے بہرصورت گریز کیا جائے، ادھر حکومت نے ملک کے چپے چپے میں دفعہ ۱۴۴ نافذ کردی، پریس پر پابندی عائد کردی، انتظامیہ نے اشتعال انگیز کاروائیوں سے کام لیا اور مسلمانوں کو گرفتار کرنا شروع کیا۔ چنانچہ سینکڑوں اہل علم اور طلباء کو گرفتار کیا گیا، انہیں ناروا ایذائیں دی گئیں، کبیروالا، اوکاڑہ، سرگودھا، لائل پور، کھاریاں وغیرہ میں دردناک واقعات رونما ہوئے، جن کو مظلومانہ صبر کے ساتھ برداشت کیا گیا، صرف ایک شہر اوکاڑہ میں مظالم کے خلاف احتجاج کے طور پر بارہ دن مکمل اور مسلسل ہڑتال ہوئی۔ اسی سے اندازہ کیجئے کہ ملک بھر میں مجموعی طور پر کتنا ظلم اور اس کے خلاف کتنا احتجاج ہوا؟ جگہ جگہ لاٹھی چارج کیا گیا، اشک ریز گیس کا استعمال بڑی فراخدلی سے کیا گیا، مجلس عمل کی تلقین تمام مسلمانوں کو یہی تھی کہ صبر کریں اور مظلوم بن کر حق تعالیٰ کی رحمت اور غیبی تائید الٰہی کے منتظر رہیں۔ قریباً پورے سو دن تک ان حالات کا مقابلہ کیا گیا اور تمام سختیوں کو خندہ پیشانی سے برداشت کرتے رہے، جون کے اواخر

249

میں بنگلہ دیش کے دورے پر جاتے ہوئے وزیراعظم (بھٹو صاحب) نے اعلان کیا کہ قادیانی مسئلہ کا فیصلہ کرنے کے لئے قومی اسمبلی کو ایک تحقیقاتی کمیٹی کی حیثیت دے دی جائے گی۔ بنگلہ دیش کے دورے سے واپس آئے تو یکم جولائی کو قومی اسمبلی کا اجلاس طلب کیا گیا، اور اس میں قومی اسمبلی کو ’’خصوصی کمیٹی‘‘ قرار دینے کا فیصلہ ہوا، اور یہ بھی طے ہوا کہ کمیٹی کے لئے چالیس ارکان کا کورم ہوگا، جن میں تیس ارکان حزب اقتدار کے اور دس حزب اختلاف کے ہوں گے۔ اس خصوصی کمیٹی کے سامنے دو قراردادیں بحث و تمحیص کے لئے پیش کی گئیں، ایک حزب اقتدار کی جانب سے وزیر قانون (مسٹر حفیظ پیرزادہ) نے پیش کی اور دوسری حزب اختلاف کی جانب سے پیش کی گئی۔‘‘

۲۰؍جولائی کو حضرت قدس سرہ کے خلاف ملک بھر کے اخبارات (نوائے وقت لاہور کے سوا) میں ایک فرضی انجمن کے نام سے ایک لچر پوچ اشتہار چھپنا شروع ہوا۔ ہمیں معلوم تھا کہ اس شرانگریزی کا منبع کہاں ہے؟ اور اس کے لاکھوں کا سرمایہ کہاں سے آتا ہے؟ لیکن حضرت قدس سرہ نے اس کا کوئی نوٹس نہیں لیا نہ اس کے خلاف کوئی احتجاج کیا۔ تاہم ’’چاند کا تھوکا منہ پر آتا ہے‘‘ کے مصداق یہ اشتہار حضرتؒ کے بجائے حکومت اور مرزائیوں کے لئے مضر ثابت ہوا، ہر طرف سے ان کے خلاف صدائے نفرین بلند ہونا شروع ہوئی اور مسلمانوں کے مشتعل جذبات آتش فشاں بن گئے، نتیجتاً چند دن بعد یہ اشتہار بند ہوگیا۔

۳۱؍جولائی کو وزیراعظم نے مستونگ (بلوچستان) میں اعلان کیا کہ قادیانی مسئلہ کے فیصلے کی تاریخ کا اعلان کل کردیا جائے گا، چنانچہ فیصلہ کے لئے ۷؍ستمبر کی تاریخ کا اعلان ہوا۔

قومی اسمبلی کی خصوصی کمیٹی نے قادیانی مسئلہ پر غور و فکر کرنے کے لئے دو مہینے

250

میں اٹھائیس اجلاس کئے اور چھیانوے گھنٹے نشستیں کیں، مسلمانوں کی طرف سے ’’ملت اسلامیہ کا موقف‘‘ نامی کتاب اسمبلی میں پیش کی گئی، قادیانیوں کی ربوائی اور لاہوری پارٹیوں کے سربراہوں نے اپنے اپنے موقف کی وضاحت کے لئے کتابچے پیش کئے، ربوہ جماعت کے سربراہ مرزا ناصر احمد پر گیارہ دن تک بیالیس گھنٹے اور لاہوری پارٹی کے امیر مسٹر صدرالدین پر سات گھنٹے جرح ہوئی۔

وزیراعظم (بھٹو) قادیانیوں کے حلیف رہ چکے تھے، وہ انہیں غیرمسلم اقلیت قرار دینے پر رضامند نہیں تھے، وہ قادیانیوں کو کسی نہ کسی طرح آئینی تلوار کی زد سے بچانا چاہتے تھے اور اس کے لئے اپنی طاقت اور ذہانت کا سارا سرمایہ صرف کردینا چاہتے تھے۔ چنانچہ حزب اختلاف کے ارکان سے جو ’’مجلس عمل‘‘ کے نمائندے تھے وزیراعظم کی بار بار ملاقاتیں ہوئیں، کئی بار صورت حال نازک ہوگئی، آخری دن تو گویا ہنگامہ محشر تھا، امید و بیم کی کیفیت آخری حدوں کو چھو رہی تھی، وزیراعظم کی ’’انا‘‘ نے تصادم کا خطرہ پیدا کردیا تھا، حکومت کی جانب سے پولیس اور انٹیلی جنس کو چوکنا کردیا گیا تھا، بڑے شہروں میں فوج لگادی گئی تھی، جو لوگ گرفتار تھے وہ تو تھے ہی ان کے علاوہ ہزاروں علماء اور سربرآوردہ افراد کی گرفتاری کی فہرستیں تیار ہوچکی تھیں، ادھر ’’مجلس عمل‘‘ کے نمائندے بھی سربکف کفن بدوش تھے، گویا:

  1. ہمہ آہوانِ صحرا سر خود نہادہ برکف

    بامید آنکہ روزے بشکار خواہی آمد

کا منظر تھا، مگر اللہ تعالیٰ کا لاکھ لاکھ شکر ہے کہ اس نے اس مہیب خطرہ سے ملک کو بچالیا، جب وزیراعظم کی ’’انا‘‘ میں لچک پیدا ہوتی نظر نہ آئی تو حضرت مفتی محمود صاحبؒ نے (جو اپنے دیگر رُفقا کے ساتھ ’’مجلسِ عمل‘‘ کے نمائندہ کی حیثیت سے وزیراعظم سے مذاکرات کر رہے تھے) ان سے فرمایا:

’’ہمیں بتائیے کہ آخر ہم کیا کریں؟ آپ کے پاس آتے ہیں تو آپ نہیں مانتے، اور مجلسِ عمل والوں کے پاس جاتے ہیں تو وہ

251

نہیں مانتے۔‘‘

وزیراعظم نے نشہ اقتدار کے جوش میں جواب دیا:

’’میں نہیں جانتا مجلسِ عمل کون ہوتی ہے؟ میں تو آپ لوگوں کو جانتا ہوں، آپ اسمبلی کے معزز رکن ہیں۔‘‘

حضرت مفتی صاحبؒ نے فرمایا:

’’بھٹو صاحب! آپ کو قوم کے ایک حلقے نے منتخب کرکے بھیجا ہے، اس لئے آپ اسمبلی کے ’’معزز رکن‘‘ ہیں۔ میں بھی ایک حلقۂ اِنتخاب کا نمائندہ ہوں، اس لئے میں بھی اسمبلی کا رکن کہلاتا ہوں، مگر آنجناب کو بتانا چاہتا ہوں کہ ’’مجلسِ عمل‘‘ کسی ایک حلقۂ اِنتخاب کی نمائندہ نہیں بلکہ وہ اس وقت پاکستان کے سات کروڑ مسلمانوں کی نمائندگی کر رہی ہے۔ کیسی عجیب منطق ہے کہ آپ ایک حلقے کے نمائندے کو عزت و احترام کا مقام دینے کے لئے تیار ہیں مگر قوم کے سات کروڑ افراد کی نمائندہ ’’مجلسِ عمل‘‘ کو آپ پائے حقارت سے ٹھکرا رہے ہیں، بہتر ہے، میں ان سے جاکر کہہ دیتا ہوں کہ وزیراعظم، پاکستان کے سات کروڑ مسلمانوں کی بات سننے کو تیار نہیں۔‘‘

یہ سن وزیراعظم کی ’’انا‘‘ سرنگوں ہوگئی، اور انہوں نے ’’مجلسِ عمل‘‘ کے نمائندوں کے مسوّدے پر دستخط کردئیے اور اس طرح ۷؍ستمبر کو چار بج کر پینتیس منٹ پر قادیانیوں کی دونوں شاخوں کو غیرمسلم اقلیت قرار دے کر دائرۂ اسلام سے خارج کردیا گیا۔ پھر اس مسودہ کو آئینی شکل دینے کے لئے پارلیمنٹ کا اجلاس طلب کیا گیا، اور آئینی طور پر قادیانی ناسور کو ملتِ اسلامیہ کے جسد سے الگ کردیا گیا۔ اس خبر کا نشر ہونا تھا کہ نہ صرف پورے ملک میں بلکہ پوری دنیا کے مسلمانوں میں فرحت و مسرت کی لہر دوڑ گئی۔ ایسی اجتماعی خوشی کسی نے نہ کبھی پہلے دیکھی، نہ شاید آئندہ دیکھنی نصیب ہوگی، یہ محض حق تعالیٰ شانہ کی رحمت و عنایت

252

اور اُمتِ مسلمہ کے اتحاد اور صبر و عزیمت کا کرشمہ تھا، جسے چودھویں صدی میں اسلام کا معجزہ ہی قرار دیا جاسکتا ہے، چونکہ حضرت اقدسؒ ہی اس تحریک کے روح رواں، ’’مجلس عمل‘‘ کے صدر اور ’’مجلس تحفظ ختمِ نبوّت‘‘ کے قائد و امیر تھے، اس لئے آپ کو جتنی خوشی ہوگی اس کا اندازہ کون کرسکتا ہے؟ آپ نے ’’بصائر و عبر‘‘ میں پوری قوم کو مبارکباد دی اور حق تعالیٰ شانہ کے شکر و سپاس کے ساتھ ساتھ اس تحریک میں حصہ لینے والے تمام افراد اور جماعتوں کا شکریہ ادا کیا، (دیکھئے ماہنامہ بینات کراچی رمضان و شوال ۱۳۴۹ھ)۔

اس تحریک کی کامیابی پر بہت سے اکابر اُمت نے آپ کو تہنیت اور مبارکباد کے گرامی نامہ لکھے، یہاں تبرک کے طور پر صرف دو خطوط کا اقتباس پیش کرتا ہوں، برکۃ العصر حضرت الشیخ مولانا محمد زکریا کاندھلوی ثم مدنی تحریر فرماتے ہیں:

’’سب سے اول تو جناب کی انتہائی کامیابی پر انتہائی مبارکباد پیش کرتا ہوں، مژدہ سننے کے بعد سے آپ کے لئے دِل سے دُعائیں نکلیں کہ اس کا اصل سہرا تو آپ ہی کے سر ہے اگرچہ:

مصلحت را تمنے برآ ہوئے چین بستہ اند

لوگ جو چاہیں لکھیں، یا جو چاہیں کہیں، میرے نزدیک تو آپ ہی کی رُوحانی قوت اور بدنی جانفشانی کا ثمرہ ہے، اللہ تعالیٰ مبارک کرے، آپ نے جو دُعائیہ کلمات اس نابکار کے حق میں لکھے ہیں اللہ تعالیٰ قبول فرمائے اور آپ کی دُعا کی برکت سے اس نابکار کو بھی کارآمد بنائے۔‘‘

مفکرِ اسلام حضرت مولانا سیّد ابوالحسن علی ندوی تحریر فرماتے ہیں:

’’سب سے پہلے تو آپ کو اس عظیم کامیابی پر آپ کے اسلاف کے ایک ادنیٰ نیازمند کی حیثیت سے مخلصانہ مبارک باد پیش کرتا ہوں جس کے متعلق بدیع الزمان الہمدانی کے یہ الفاظ بالکل صادق ہیں: ’’فتح فاق الفتوح وامنت علیہ الملائکۃ والروح۔‘‘ اس

253

میں کوئی شبہ نہیں کہ آپ کے اس کارنامہ سے آپ کے جد امجد حضرت سیّد آدم بنوری اور ان کے شیخ حضرت امام ربانی اور آپ کے استاذ و مربی حضرت علامہ سیّد انور شاہ رحمۃ اللہ علیہ کی روح ضرور مسرور مبتہج ہوئی اور اس کی بھی امید ہے کہ روح مبارک نبوی علیہا الف الف سلام کو بھی مسرت حاصل ہوئی ہوگی، ’’فھنیئًا لکم وطوبیٰ‘‘ اگر میری ملاقات ہوئی تو میں آپ کے دست مبارک کو بوسہ دے کر اپنے جذبات کا اظہار ضرور کروں گا۔‘‘

ایسا معلوم ہوتا ہے کہ اس فتنہ ضالہ کی بیخ کنی پر صرف زمین کے باشندوں ہی کو خوشی نہیں ہوئی بلکہ ملأ اعلیٰ میں جشن مسرت منایا گیا، اور عالم ارواح میں بھی۔ حضرت اقدسؒ کو اس فیصلے کے بعد عجیب و غریب مبشرات سے نوازا گیا، ان میں دو مبشرات حضرتؒ ہی کے قلم سے ملاحظہ فرمائیے:

’’قادیانیوں کو غیرمسلم اقلیت قرار دیا جانا بہت ہی عظیم برکات کا کارنامہ ہے، آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی ختمِ نبوّت کے منکروں کا مسلمانوں سے خلا ملا نہ صرف مسلمانوں کے حق میں ایک ناسور تھا بلکہ اس سے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی روح مبارک بھی بے تاب تھی، قادیانی مسئلہ کے حل پر جہاں تمام ممالک کی جانب سے تہنیت و مبارکباد کے پیغامات آئے، وہاں منامات و مبشرات کے ذریعہ عالم ارواح میں اکابر اُمتؒ اور خود آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی مسرت بھی محسوس ہوئی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے مبشرات ذکر کرنے کی ہمت نہیں ہوتی تاہم اہل ایمان کی خوشخبری کے لئے اپنے دو بزرگوں سے متعلق بشارت منامیہ بعض مخلصین کے اصرار پر ذکر کرتا ہوں۔

جمعہ ۳؍رمضان المبارک ۱۳۴۹ھ صبح کی نماز کے بعد

254

خواب دیکھتا ہوں کہ حضرت امام العصر مولانا محمد انور شاہ صاحب کشمیری رحمہ اللہ گویا سفر سے تشریف لائے ہیں اور خیرمقدم کے طور پر لوگوں کا بہت ہجوم ہے، لوگ مصافحہ کر رہے ہیں۔ جب ہجوم ختم ہوگیا اور تنہا حضرت شیخ رہ گئے تو دیکھتا ہوں کہ بہت وسیع چبوترہ ہے جیسے اسٹیج بنا ہوا ہو، اس پر فرش ہے اور اوپر جیسے شامیانہ ہو، بالکل درمیان میں حضرت شیخ تنہا تشریف فرما ہیں، دو تین سیڑھیوں پر چڑھ کر ملاقات کے لئے پہنچا، حضرت شیخ اٹھے اور گلے لگالیا، میں ان کی ریش مبارک اور چہرہ مبارک کو بوسے دے رہا ہوں، حضرت میری داڑھی اور چہرے کو بوسے دے رہے ہیں۔ دیر تک یہ ہوتا رہا چہرہ وبدن کی تندرستی زندگی کے آخری ایام سے بہت زیادہ ہے، بے حد خوش اور مسرور ہیں، بعد ازاں میں دو زانو ہوکر فاصلہ سے باادب بیٹھ گیا اور آپ سے باتیں کر رہا ہوں۔ اسی سلسلہ میں یہ بھی عرض کیا کہ بھول گیا کہ ’’معارف السنن‘‘ حاضر کرتا، فرمایا میں نے نہایت خوشی اور مسرت کے ساتھ اس کا مطالعہ کیا ہے، اب چھٹی جلد کا مطالعہ کر رہا ہوں، میں نے عرض کیا کہ میرے پاس تو علم نہیں جو کچھ آپ نے فرمایا تھا بس اس کی تشریح و توضیح و خدمت کی ہے، بہت مسرت کے لہجے میں فرمایا: ’’بہت عمدہ ہے۔‘‘

شوال ۱۳۴۹ھ میں لندن کے قیام کے دوران خواب دیکھا کہ ایک بہت بڑا وسیع مکان ہے، گویا ختمِ نبوّت کا دفتر ہے، بہت سے لوگوں کا مجمع ہے، میں ایک طرف جاکر سفید چادر جس طرح کہ احرام کی چادر ہو، باندھ رہا ہوں، بدن کا اوپر کا حصہ برہنہ ہے کوئی چادر یا کپڑا نہیں۔ اتنے میں حضرت سیّد عطا اللہ شاہ بخاریؒ اسی ہیئت میں کہ احرام والی سفید چادر کی لنگی باندھی ہوئی ہے اور اُوپر

255

کا بدن مبارک بغیر کپڑے کے ہے میرے داہنے کندھے کی جانب تشریف لائے اور آتے ہی مجھ سے چمٹ گئے۔ پہلا جملہ یہ ارشاد فرمایا: ’’واہ میرے پھول!‘‘ پھر دیر تک معانقہ فرمایا میں خواب ہی کی حالت میں خیال کرتا ہوں کہ مبارکباد کے لئے تشریف لائے ہیں۔ انتھی۔ منامات کی حیثیت مبشرات کی ہے اس سے زیادہ ان کی کوئی شرعی حیثیت نہیں۔ بہرحال قادیانی ناسور کے علاج سے نہ صرف زندہ بزرگوں کو مسرت ہوئی بلکہ جو حضرات دنیا سے تشریف لے گئے ہیں معلوم ہوتا ہے کہ انہیں بھی اس سے بے حد و پایاں خوشی ہوئی، فالحمدﷲ!‘‘

(’’بینات‘‘ ذیقعدہ ۱۳۴۹ھ مطابق دسمبر ۱۹۴۷ء)

انہی مبشرات کے ضمن میں جی چاہتا ہے کہ اس خط کا اقتباس بھی درج کردیا جائے جو حضرتؒ کے ایک گہرے دوست الشیخ محمود الحافظ مکی نے آپ کو ملک شام سے لکھا تھا، اصل خط عربی میں ہے، یہاں اس کا متعلقہ حصہ اردو میں نقل کرتا ہوں:

’’میں آپ کو مبارکباد دیتا ہوں کہ میں نے ۳؍شعبان ۱۳۴۹ھ رات کو آپ کے بارے میں بہت عمدہ اور مبارک خواب دیکھا ہے جس کی آپ کو مبارکباد دینا چاہتا ہوں اور اس کو یہاں اختصار کے ساتھ نقل کرتا ہوں۔

میں نے آپ کو ایسے شیوخ کی جماعت کے ساتھ دیکھا ہے جو سن رسیدہ تھے، اور جن پر صلاح و تقویٰ کی علامات نمایاں تھیں، یہ سب حضرات اس قرآنِ کریم کے صفحات جمع کرنے میں مصروف تھے جو آنجناب نے اپنے قلم سے زعفرانی رنگ کی روشنائی سے بدستِ خود تحریر فرمایا ہے اور آنجناب کا قصد ہے کہ اسے لوگوں کے فائدۂ عام کے لئے شائع کیا جائے، آپ نے اپنے اس ارادے

256

کا اظہار نہایت مسرت و شادمانی کے ساتھ میری جانب اشارہ کرتے ہوئے فرمایا۔

صبح جب فجر کے لئے اُٹھا تو قلب فرحت سے لبریز تھا، اور میں یقین رکھتا ہوں کہ آپ کے اعمال کو اللہ تعالیٰ نے کامیابی وکامرانی کا تاج پہنایا ہے، والحمدﷲ الذی بنعمتہ تتم الصالحات!‘‘

یہ مبارک خواب تحریک ختمِ نبوّت کے زمانے کا ہے، سنہرے حروف سے قرآن کریم لکھنے کی تعبیر اہل فن ہی کرسکتے ہیں، راقم الحروف کا قیاس ہے کہ اس فیصلہ کے ذریعہ آیت خاتم النبیین کو صفحاتِ عالم پر سنہرے حروف سے رقم کرنے کی طرف اشارہ ہوا۔ نیز قادیانی اُمت نے چونکہ قرآن کریم پر تحریف کی سیاہی ڈال دی ہے اور ان کے نزدیک مرزا قادیانی سے قبل قرآن کریم آسمان پر اٹھ گیا تھا، بقول ان کے مرزا قادیانی کی وحی قرآن کو دوبارہ لائی ہے اور یہ عقیدہ قرآن کریم کی عظمت کو مٹانے کے مترادف ہے، نیز قادیانیوں کا عقیدہ ہے کہ اب صرف محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی رسالت و نبوّت اور قرآن کریم کی تعلیمات مدارِ نجات نہیں بلکہ نعوذباللہ! مرزا قادیانی کی تعلیمات اور اس کی مہمل اور شیطانی وحی ہے۔ یہ عقیدہ گویا ان کا قرآن کے انکار کے مترادف ہے اس لئے سنہرے حروف سے قرآن کریم لکھنے اور اسے چار دانگ عالم میں پھیلانے کی تعبیر یہ بھی ہوسکتی ہے کہ جو لوگ قرآن کریم کی ابدیت، اس کی عظمت اور اس کے مدارِ نجات ہونے کے منکر ہیں ان کا کافر و مرتد ہونا ساری دنیا پر واضح کردیا جائے تاکہ جو غبار انہوں نے قرآن کریم کی تعلیمات پر ڈالا ہے وہ صاف ہوجائے اور قرآن کریم کی روشن و تابندہ ہدایت واضح ہوجائے۔ الحمدللہ! اللہ تعالیٰ نے یہ کام حضرتؒ کے ہاتھوں سے لیا اور بہت سے ذی صلاح و تقویٰ شعار بزرگوں نے اس مقدس کام میں آپ کا ہاتھ بٹایا، اس تحریک کی کامیابی کے لئے دعائیں کیں، ختمات کا اہتمام کیا۔

تحریک ختمِ نبوّت کی کامیابی پر آپ کو ایک اور انعام ملا، حضرتؒ فرماتے تھے کہ

257

تحریک کے بعد غالباً رمضان المبارک میں میں نے خواب دیکھا کہ ایک چاندی کی تختی مجھے عطا کی گئی ہے اور اس پر سنہرے حروف سے یہ آیت لکھی ہے: ’’انہ من سلیمان وانہ بسم اللہ الرحمن الرحیم۔‘‘ میں نے محسوس کیا کہ یہ تحریک ختمِ نبوّت پر مجھے انعام دیا جارہا ہے، اور اس کی یہ تعبیر ہے کہ مجھے حق تعالیٰ بیٹا عطا فرمائیں گے اور میں اس کا نام سلیمان رکھوں گا۔ چنانچہ اس خواب کے دو سال بعد حق تعالیٰ نے ستر برس کی عمر میں آپ کو صاحبزادہ عطا فرمایا اور آپ نے اس کا نام سلیمان تجویز فرمایا۔

عالمی تحریک:

۷؍ستمبر کے فیصلہ کے بعد بھی حضرتؒ چین سے نہیں بیٹھے، بلکہ اس فیصلہ کے تقاضوں کو پورا کرنے کی کوششیں شروع کردیں، اس سلسلہ میں آپ کے پیش نظر تین چیزیں تھیں:

۱:۔۔۔اندرون ملک صرف قادیانیوں کے ’’غیرمسلم‘‘ ہونے پر اکتفا نہ کیا جائے بلکہ حکومتی سطح پر ان کے ساتھ معاملہ بھی وہی کیا جائے جس کے غیرمسلم مستحق ہیں۔ مثلاً شناختی کارڈ اور پاسپورٹ میں ایک خانہ مذہب کا تجویز کیا جائے اور اس میں قادیانیوں کے ’’غیرمسلم‘‘ ہونے کی تصریح کی جائے۔ قادیانیوں کو اسلام کے شعائر اپنانے کی اجازت نہ دی جائے اور ان امور کے لئے مناسب قانون سازی کی جائے وغیرہ وغیرہ۔

۲:۔۔۔بیرون ملک جہاں جہاں قادیانی اثرات ہیں وہاں تحریک ختمِ نبوّت کو ایک عالمی تحریک کی شکل دی جائے۔ پاکستان کی قومی اسمبلی کے فیصلہ کی دنیا بھر کی زبانوں میں اشاعت کی جائے اور قادیانیوں نے اسلام اور مسلمانوں سے جو غداریاں کی ہیں ان سے ساری دنیا کے مسلمانوں کو باخبر کیا جائے، آئندہ قادیانیوں کے جو منصوبے ہیں ان پر کڑی نظر رکھی جائے۔

۳:۔۔۔سب سے اہم یہ کہ جو لوگ غفلت یا جہالت کی بنا پر قادیانی چنگل میں گرفتار ہوئے ہیں اور انہوں نے قادیانیت کو واقعی اسلام سمجھ کر قبول کیا ہے، جہاں تک ممکن

258

ہو موعظت و حکمت کے ساتھ انہیں اسلام کی دعوت دی جائے اور اسلام اور قادیانیت کے درمیان جو مشرق و مغرب کا بعد ہے وہ ان پر واضح کیا جائے۔

حضرت اقدسؒ نے مولانا سمیع الحق مدیر ماہنامہ ’’الحق‘‘ اکوڑہ خٹک کے نام اپنے ایک گرامی نامہ میں ان نکات کی وضاحت فرمائی ہے جو درج ذیل ہے:

’’برادر محترم مولانا سمیع الحق صاحب زادکم اللہ توفیقاً الی الخیر، السلام علیکم ورحمۃ اللہ!

نہ معلوم نامہ کرم کب آیا اور کہاں ہے؟ لیکن عزیز محمد بنوری سلمہ سے یہ معلوم ہوا کہ جواب کا انتظار کر رہے ہیں اور اشاعت رکی ہوئی ہے۔اس لئے چند حروف لکھ رہا ہوں، تفصیل کی نہ حاجت، نہ فرصت، نہ ہمت، اختصار بلکہ ایجاز سے عرض ہے کہ آئینی فیصلہ نہایت صحیح اور باصواب ہے۔ اگرچہ بعد از وقت ہے اور بعد از خرابی بسیار۔ وزیراعظم صاحب نے جو اخبارات میں یہ اعتراف فرمایا ہے کہ ’’قادیانی مسئلہ کے حل ہونے سے پاکستان کو سیاسی استحکام حاصل ہوگیا۔‘‘ اور تہامی صاحب نے یہ اعلان فرمایا کہ: ’’پاکستان آج صحیح معنوں میں پاکستان بنا۔‘‘ دونوں سیاست دانوں کے اعلان سے یہ حقیقت واضح ہوجاتی ہے، اور یہ بھی کہ یہ کام کتنے عرصے پہلے ہونا چاہئے تھا۔

ہماری ذمہ داری ختم نہیں ہوئی بلکہ آئینی نقوش کو جب تک عملی جامہ نہ پہنایا جائے اس وقت تک مقصد ناتمام ہے۔ ’’اسلام در کتاب و مسلمانان درگور۔‘‘ والا معاملہ ہوگا، اندرون ملک قادیانیوں کا جو کچھ ردعمل ہے وہ تذبذب ہے، مایوسی ہے اور زیادہ سے زیادہ گیدڑ بھبکی ہے اور کچھ نہیں۔ باہر ممالک میں حتیٰ کہ انگلستان

259

میں بھی اس کے اچھے اثرات مرتب ہو رہے ہیں، لیکن افریقہ کے ممالک میں اس آئینی فیصلہ کی اشاعت اور عام کرنے کی بڑی ضرورت باقی ہے، حکومت کو اپنا بین الاقوامی دامن بچانے کے لئے عربی، انگریزی اور فرانسیسی زبان میں اس مقصد کی اشاعت اپنے سفیروں کے ذریعہ تمام ممالک میں کرانی چاہئے، اس وقت جو کچھ حکومت کی پالیسی ہے اس میں تغافل، تذبذب بلکہ ایک گونہ نفاق ہے، اس لئے (حکومت نے) عملی صورت میں کوئی اقدام نہیں کیا، نہ ان قیدیوں کو رہا کیا (جو تحریک ختمِ نبوّت کے دوران گرفتار کئے گئے) نہ ربوہ کو باقاعدہ تحصیل کی شکل دی ہے، نہ فارغ علاقہ ان سے واپس لیا ہے، ہوسکتا ہے کہ مرکز سے زیادہ پنجاب گورنمنٹ کی دوغلی پالیسی یا طرف دارانہ پالیسی کا نتیجہ ہو۔ بہرحال حالات اگر مایوس کن نہیں تو زیادہ امید افزا بھی نہیں، بس اس وقت زیادہ لکھنے کی فرصت نہیں، تفصیلات بہت کچھ ہیں۔ والسلام!‘‘

یہ گرامی نامہ ۱۹۵۷ء کے آغاز میں (۴؍جنوری کو) تحریر فرمایا، ان دنوں حضرتؒ پر پوری دنیا میں اس تحریک کو عام کرنے کا جذبہ بڑی شدت سے غالب تھا۔ فرماتے تھے: ’’کاش! میں جوان ہوتا، قویٰ میں طاقت ہوتی تو دنیا بھر میں آگ لگادیتا۔‘‘ چنانچہ ضعف وناتوانی اور پیرانہ سالی کے باوجود آپ نے فتنۂ قادیان کے استحصال کے لئے بیرونی ممالک میں بھی کوششیں شروع کردیں، اور یورپ، افریقہ اور مشرق وسطیٰ میں مسلمانوں کو قادیانیت کے مقابلہ میں منظم اور بیدار کرنے کے لئے خود دو مرتبہ سفر فرمایا۔ پہلا سفر ۱۹۴۷ء کے اواخر میں انگلستان کا کیا، جس کی اِبتدا حرمین کی حاضری اور اِعتکاف سے ہوئی، اس کا مختصر سا تذکرہ حضرتؒ نے ذیقعدہ ۱۳۴۹ھ (دسمبر ۱۹۴۷ء) کے ’’بصائر و عبر‘‘ میں کیا ہے، جس کا ابتدائی حصہ درج ذیل ہے:

’’الحمدللہ! ماہ رمضان المبارک میں کچھ لمحات حرمین

260

شریفین میں نصیب ہوئے۔ انگلستان کی دینی دعوت آئی تھی، اگرچہ صحت اچھی نہیں تھی اور ڈاکٹروں کی حتمی رائے سفر نہ کرنے کی تھی، اور خود مجھے بھی تردد ضرور تھا، لیکن استخارہ کرکے اللہ کا نام لے کر جدہ سے ۲۲؍نومبر ۱۹۴۷ء کو روانہ ہوگیا، ہڈر سفیلڈ میں جاتے ہی ایک جدید حادثے سے دوچار ہوا، ڈاکٹروں نے تین روز سکوت اور ایک ہفتہ آرام کا مشورہ دیا، لیکن بیانات کا نظم بن چکا تھا اور اس کا اعلان ہوگیا تھا اس لئے بادل نخواستہ ڈاکٹروں کے مشورے کے خلاف کرنا پڑا، الحمدللہ! کہ تقریباً تمام پروگرام حق تعالیٰ شانہ نے پورا کرادیا۔ متعدد مقامات پر جانا ہوا، اور جن اہم دینی مسائل کی ضرورت سمجھی ان پر بیانات ہوئے۔ ہڈرسفیلڈ، بولٹن، ڈیوزبری، بلیک برن، پرسٹن، بریڈفورڈ، گلسٹر، والسال، برمنگھم، ولور ہملٹن، کونٹری، لسٹر، نینی ٹن اور خود لندن کے مختلف مقامات پر پروگرام بن چکے تھے، اللہ تعالیٰ نے باوجود صحت کی خرابی و طبیعت کی ناسازی کے توفیق محض اپنے فضل و کرم سے نصیب فرمائی۔

متعدد دینی موضوعات پر بیان ہوا، مثلاً:

۱:۔۔۔دین اسلام بڑی نعمت ہے۔

۲:۔۔۔اسلام اور بقیہ مذاہب کا موازنہ۔

۳:۔۔۔دنیا و آخرت کی نعمتوں کا موازنہ۔

۴:۔۔۔دنیا کی زندگی کی حقیقت۔

۵:۔۔۔طمانیت قلب دنیا کی سب سے بڑی نعمت ہے اور اس کا ذریعہ حقیقی اسلام ہے۔

۶:۔۔۔ذکر اللہ جس طرح حیات قلوب کا ذریعہ ہے ٹھیک اسی طرح بقائے عالم کا ذریعہ بھی ہے۔

261

۷:۔۔۔لندن انگلستان میں مسلمانوں کی زندگی کا نقشہ۔

۸:۔۔۔دنیا کی زندگی میں انہماک اور آخرت سے دردناک غفلت۔

۹:۔۔۔انگلستان میں مسلمانوں نے اگر دینی انقلاب اختیار نہ کیا تو ان کا مستقبل نہایت تاریک ہے۔

۱۰:۔۔۔انگلستان کے پُراز شہوت ماحول میں اصلاح نفوس کی تدبیر۔

۱۱:۔۔۔مخلوط تعلیم کے دردناک نتائج اور اس سے بچنے کا لائحہ عمل۔

۱۲:۔۔۔محبت رسول کی روشنی میں سنت و بدعت کا مقام۔

۱۳:۔۔۔حضرات انبیائے کرام کی عصمت اور صحابہ کرام کا مقام۔

۱۴:۔۔۔انگلستان میں عالم دین کی زندگی کیسی ہو؟

۱۵:۔۔۔رؤیت ہلال وغیرہ بعض مسائل میں علماء کا اختلاف اور اتحاد کے لئے لائحہ عمل۔

۱۶:۔۔۔قادیانی مسئلہ اور اس کا متفقہ حل۔‘‘

لوگ انگلستان جاتے ہیں تو بڑی ’’سوغاتیں‘‘ ساتھ لاتے ہیں، مگر حضرتؒ کے اس سفر کی ایک خصوصیت یہ تھی کہ حضرتؒ نے اس میں کوئی ہدیہ قبول نہیں کیا، فرماتے تھے کہ:

’’مجلس تحفظ ختمِ نبوّت کے لئے ایک شخص نے باصرار پانچ پونڈ کا عطیہ دیا تھا، صرف وہی لایا ہوں، اس کے سوا کچھ نہیں لایا۔‘‘

حضرتؒ نے اس سلسلہ میں دوسرا سفر قریباً ایک درجن افریقی ممالک کا کیا، جو

262

حسب معمول حرمین شریفین سے شروع ہوا اور حرمین پہنچ کر ختم ہوا۔ اس سفر کی مفصل روداد حضرتؒ کے رفیق سفر جناب مولانا ڈاکٹر عبدالرزاق سکندر کے مقالہ میں ملاحظہ فرمائی جاسکتی ہے۔ البتہ حضرتؒ نے اس سفر کے بارے میں ایک گرامی نامہ نیروبی سے تحریر فرمایا تھا، اس کا اقتباس یہاں دیا جاتا ہے جس سے کام کے طریق کار پر روشنی پڑتی ہے:

’’جدہ سے روانگی کے وقت کچھ معلوم نہ تھا کہ کہاں کہاں جانا ہوگا؟ اور کس طرح کام کرنا ہوگا؟ اس لئے روانگی ایسے وقت ہوئی کہ نہ پورے ویزے لے سکے، نہ باقاعدہ کسی کو مطلع کیا جاسکا۔ نیروبی پہنچ کر کچھ نقشہ کام کا سمجھ میں آگیا کہ مؤثر اور صحیح صورت یہ ہے کہ ہر مرکزی مقام پر مقامی باشندوں کی جماعت ’’مجلس تحفظ ختمِ نبوّت‘‘ کے نام سے تشکیل دی جائے جو بسلسلہ قادیانیت مؤثر کام کرسکے، اور تقریروں میں اسلام اور ختمِ نبوّت کی اہمیت و حقیقت واضح کی جائے، چنانچہ اس انداز سے کام شروع کیا اور نشان منزل نظر آنے لگا ۔۔۔۔۔۔۔

زمبیا سے واپسی پر یوگنڈا کا ویزا نہ ہونے کی وجہ سے تین چار دن یہاں تاخیر ہوگئی، شاید کل روانگی ہوسکے گی ۔۔۔۔۔۔ سفر کے اختصار کا سوچ رہا تھا لیکن معلوم ہوا کہ نائیجیریا میں قادیانیوں کے اسکول، ہسپتال اور ادارے ہیں اور حکومت میں بھی ان کے عہدے ہیں، وہاں جانے کی شدید ضرورت ہے، اس لئے مغربی افریقہ کا ارادہ کرنا پڑا اور پھر ساتھ ہی مغربی افریقہ کے بقیہ ممالک کا جوڑ بھی لگانا ہوگا، اس لئے سفر طویل ہوگیا، اللہ تعالیٰ آسان فرمائیں، آمین!‘‘

حضرتؒ کا یہ سفر جدہ سے ۷؍شوال ۱۳۵۹ھ مطابق ۱۲؍اکتوبر ۱۹۵۷ء کو شروع ہوا، اور ۱۹؍ذیقعدہ ۱۳۵۹ھ مطابق ۲۲؍نومبر ۱۹۵۷ء کو جدہ واپسی ہوئی۔

263

۱۹۵۷ء میں انڈونیشیا کے ایک بہت بڑے عالم الشیخ الحسین الشافعی مشرق وسطیٰ کے دورہ سے واپسی پر حضرتؒ کی خدمت میں کراچی تشریف لائے، کئی دن ان کا قیام رہا اور انہوں نے حضرتؒ کے سامنے انڈونیشیا میں قادیانی سرگرمیوں اور نصرانی سازشوں کی تفصیلات پیش کیں، اور یہ بھی بتایا کہ:

’’قادیانیوں سے ہمارا معرکہ رہتا ہے، جب ہم مرزا غلام احمد کا کوئی حوالہ پیش کرتے ہیں تو قادیانیوں کی طرف سے اصل کتاب پیش کرنے کا مطالبہ ہوتا ہے، میں نے مولانا ابوالحسن علی ندوی مدظلہ کو لکھا تھا کہ اس سلسلے میں ہماری راہنمائی کریں۔ انہوں نے جواب دیا کہ اس فن کے امام مولانا شیخ محمد یوسف بنوری ہیں، کراچی میں ان سے رجوع کرو، اس لئے میں آپ کی خدمت میں حاضر ہوا ہوں۔‘‘

حضرتؒ نے ان کی بہت ہی قدر اور ہمت افزائی کی اور ان سے فرمایا کہ ہم نہ صرف قادیانیوں کا سارا لٹریچر آپ کے لئے مہیا کریں گے بلکہ ایک ایسا عالم بھی بھیجیں گے جو قادیانیت کا پورا ماہر ہو۔ کیونکہ قادیانیوں کی بیشتر کتابیں اُردو میں ہیں، ہمارے آدمی آپ کے یہاں کے علماء کو قادیانی کتابوں کے حوالوں کا ترجمہ عربی میں نوٹ کرادیں گے اور قادیانیت پر ایسی تیاری کرادیں گے کہ اس کے بعد آپ حضرات کو کسی اور سے مراجعت کی حاجت نہیں ہوگی۔ وہ نقشہ آج بھی راقم الحروف کی آنکھوں کے سامنے ہے جب شیخ حسین رخصت ہوتے ہوئے حضرتؒ کی پیشانی اور ریش مبارک کو بوسہ دے رہے تھے، ان کی آنکھوں سے سیل اشک رواں تھا، اور وہ بڑے رقت انگیز لہجے میں حضرتؒ سے درخواست کر رہے تھے:

’’یا سیّدی زودنی بما زود سیّدنا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم معاذ بن جبل حین بعثہ الی الیمن۔‘‘

اور جواب میں حضرتؒ نے اسی رقت آمیز مگر بزرگانہ لہجہ میں فرمایا:

’’زودک اللہ التقوی، واستودع اللہ دینکم
264

وامانتکم وخواتیم اعمالکم۔‘‘

بہرحال ان کی درخواست پر حضرتؒ نے جناب مولانا عبدالرحیم اشعر اور رفیق محترم مولانا اللہ وسایا کو قادیانیوں کا ضروری لٹریچر دے کر انڈونیشیا بھیجا، ان حضرات نے وہاں قادیانیوں کو مناظرہ و مباحثہ کی دعوت دی، مگر کوئی مقابلے پر نہیں آیا، وہاں مختلف مقامات پر ان کے بیانات ہوئے جن کا ترجمہ ساتھ کے ساتھ انڈونیشی زبان میں ہوتا رہا۔ وہاں کے ریڈیو پر بھی ان کی تقریریں نشر ہوئیں اور سب سے اہم کام یہ کیا کہ قریباً دو صد حضرات علماء، وکلاء اور طلبہ کی ایک بڑی جماعت کو عربی میں قادیانیت سے متعلق مختلف موضوعات پر تیاری کرائی۔ قادیانیوں کی کتابوں کے اصل ماخذ کی نشاندہی پیش کرکے ان کا عربی میں ترجمہ کرایا۔ اس طرح ایک بڑی جماعت کی ردّ قادیانیت پر تیاری مکمل کرائی، فالحمدﷲ علی ذالک!

ان دونوں احباب کی میزبانی کے فرائض شیخ حسین الحبشی نے ادا کئے، مگر سفر کے جملہ مصارف حضرتؒ نے جماعت کی طرف سے برداشت کئے اور قادیانی لٹریچر کا یہ ذخیرہ بھی انڈونیشیا چھوڑ دیا گیا، یہ دو رکنی وفد ۲۶؍ذوالحجہ ۱۳۵۹ھ مطابق ۲۲؍دسمبر ۱۹۵۷ء کو کراچی سے روانہ ہوا اور ۱۸؍محرم ۱۳۶۹ھ مطابق ۲۴؍جنوری ۱۹۶۷ء کو واپس ہوا، ان کی واپسی پر شیخ حسین نے حضرتؒ کی خدمت میں شکریہ کا خط لکھا جس میں ان حضرات کی مساعی کی تفصیل کا ذکر کرتے ہوئے لکھا: ’’ان حضرات کا قیام اگرچہ ایک مہینہ رہا، لیکن ہم نے ان سے ایک سال کا استفادہ کیا۔‘‘

رمضان المبارک ۱۳۵۹ھ میں ’’مجلس تحفظ ختمِ نبوّت‘‘ کے فاضل مبلغ جناب مولانا سیّد منظور احمد شاہ صاحب کو متحدہ عرب امارات میں کام کرنے کے لئے بھیجا، وہاں روابط قائم کرنے کے لئے حضرتؒ نے ابوظبی میں شؤون دینیہ کے سربراہ جناب ڈاکٹر عبدالمنعم النمر اور ابوظبی کے قاضی القضاۃ شیخ احمد بن عبدالعزیز المبارک کے نام عربی میں الگ الگ گرامی نامے تحریر فرمائے، نیز ابوظبی کے پاکستانی حضرات کے نام اردو میں حسب ذیل گرامی نامہ تحریر فرمایا:

265

’’اس وقت اسلام جن فتنوں سے گھرا ہوا ہے، محتاج بیان نہیں، مسلمان دنیا کے جس خطے میں ہو اسلام کا داعی اور مبلغ ہے، اور ہر شخص اپنی بساط کے مطابق اس کا مکلف ہے کہ دینی خدمات انجام دے اور آخرت کی سرخروئی اور قیامت کی جوابدہی حاصل کرے۔

مجلس مرکزی ’’تحفظ ختمِ نبوّت‘‘ نے اپنی شاخ کے افتتاح کا ارادہ کیا ہے، تاکہ اس کے ذریعہ ابوظبی اور امارات خلیج میں دینی خدمت ہوسکے، اس خدمت کے لئے اپنے ایک داعی و مبلغ مولانا منظور احمد شاہ کا تقرر کیا ہے۔

آپ حضرات کے دینی مزاج اور مکارم اخلاق سے مجھے پوری توقع ہے کہ موصوف کی مقدور بھر امداد میں جس طرح بھی ہوسکے دریغ نہیں فرمائیں گے، اللہ تعالیٰ ہمیں اور آپ کو ان دینی خدمات کی توفیق عطا فرمائے۔‘‘

چنانچہ موصوف نے وہاں کے احباب کے توسط سے اکابر علماء اور شیوخ سے رابطہ قائم کیا، انہیں قادیانیت کے مالہ وما علیہ سے آگاہ کیا، قادیانی لٹریچر سے جو ساتھ لے کر گئے تھے، قادیانیوں کے مرتدانہ نظریات و عقائد نکال کر دکھائے اور ان کی اسلام کش سرگرمیوں کی تفصیلات بتائیں جس کے نتیجہ میں وہاں کے رئیس القضاۃ شیخ احمد بن عبدالعزیز المبارک نے قادیانیت کے خلاف وہ فیصلہ لکھا جو جماعت کی طرف سے ’’قادیانیوں کا ایک اور عبرت ناک انجام‘‘ کے عنوان سے شائع ہوچکا ہے۔ مولانا منظور احمد شاہ صاحب نے ۱۹۶۷ء میں متحدہ عرب امارات کے علاوہ کویت اور بحرین کا دورہ بھی کیا اور وہاں مجلس تحفظ ختمِ نبوّت کی شاخیں قائم کیں۔

۱۹۵۷ء میں مولانا مقبول احمد کو ختمِ نبوّت کے داعی کی حیثیت سے انگلینڈ بھیجا، موصوف نے وہاں کے نہ صرف پاکستانی حضرات سے رابطہ قائم کیا بلکہ ممالک عربیہ کے طلبہ میں بھی کام کیا۔

266

۱۹۶۷ء کو ’’مدرسہ عربیہ اسلامیہ‘‘ کے متخصص جناب مولانا اسد اللہ طارق کو فیجی آئرلینڈ کے لئے داعی و مبلغ بناکر بھیجا، موصوف نے وہاں ایک سال سے زیادہ عرصہ کام کیا، اس کے بعد جرمنی تشریف لے گئے اور وہاں قادیانیت کا ناطقہ بند کیا۔

۱۹۶۷ء میں مولانا منظور احمد چنیوٹی اور علامہ ڈاکٹر خالد محمود (مقیم برمنگھم) نے افریقی ممالک کا دورہ کیا، اس کی روئیداد اخبارات و رسائل کے علاوہ الگ بھی شائع ہوچکی ہے۔

مساجد و مراکز کی تعمیر:

سیّد بنوری قدس سرہ کے سہ سالہ دور امارت میں ’’مجلس تحفظ ختمِ نبوّت‘‘ کے تعمیراتی منصوبوں میں بھی حیرت افزا ترقی ہوئی، متعدد مسجدیں تعمیر ہوئیں، جماعتی مراکز کا افتتاح ہوا اور کئی مدارس کھلے، ان کی مختصر سی فہرست حسب ذیل ہے:

۱:۔۔۔محلہ غریب آباد بیرون چوک شہیداں ملتان میں ’’مسجد الفاروق‘‘ تعمیر ہوئی۔

۲:۔۔۔کنہری ضلع تھرپارکر (سندھ) میں ایک مسجد تعمیر ہوئی۔

۳:۔۔۔جماعت کے زیر اہتمام ربوہ اسٹیشن پر مسجد تعمیر کی گئی، وہاں خطابت کے فرائض جماعت کے مبلغ جناب مولانا خدا بخش صاحب اور تدریس کی خدمات جناب حافظ شبیر احمد صاحب انجام دے رہے ہیں۔

۴:۔۔۔جماعت کے موجودہ مرکزی دفتر (واقع تغلق روڈ ملتان) کو حضرتؒ نے جماعت کے وسیع کام اور مستقبل کے منصوبوں کے لئے ناکافی سمجھ کر دفتر کے لئے ایک نیا قطعہ اراضی خریدنے کا حکم فرمایا، جس میں مسجد، لائبریری، اشاعتی مکتبہ، پریس اور دیگر ضروریات کے علاوہ بیرونی ممالک کے مندوبین کے قیام کے انتظامات ہوں۔ چنانچہ ملتان میں حضوری باغ روڈ پر ایک قطعہ اراضی خرید لیا گیا، حضرتؒ کے بعض مخلصین احباب کی وساطت سے حق تعالیٰ نے اس کی تعمیرات کا انتظام بھی فرمادیا، اب یہ جدید مرکز تکمیل کے آخری مراحل میں ہے، جو اِن شاء اللہ حضرتؒ کے لئے صدقہ جاریہ رہے گا۔

۵:۔۔۔ہڈرسفیلڈ (انگلینڈ) میں جماعت کے لئے ایک عمارت حضرت مولانا

267

لال حسین نے اپنے قیام یورپ کے زمانہ میں خرید لی تھی، جماعت کا دفتر اسی عمارت میں تھا، مگر اس کی مکانیت دفتر کی ضروریات کے لئے موزوں نہیں تھی، جناب مولانا مقبول احمد صاحب وہاں تشریف لے گئے تو ان کی توجہ سے وہاں کے ایک صاحب خیر دوست نے مسجد و مدرسہ اور دفتر کی تعمیر کے لئے ایک قطعہ اراضی وقف کردیا، بحمداللہ اس کی تعمیرات بھی شروع ہیں۔

۶:۔۔۔’’جابہ‘‘ کے احباب کی درخواست پر حضرتؒ نے وہاں ختمِ نبوّت کی طرف سے مسجد تعمیر کرنے کا حکم فرمایا، مگر افسوس کہ اس کی تعمیر ابھی باقاعدہ شروع نہیں ہوئی تھی کہ حضرتؒ کا وصال ہوگیا۔

۷:۔۔۔’’مسلم کالونی‘‘ ربوہ میں جماعت کے لئے ایک وسیع قطعہ اراضی حاصل کیا گیا، وہاں بھی ایک عظیم الشان مسجد، مدرسہ، لائبریری، دفتر، مہمان خانہ وغیرہ کی تعمیر کا منصوبہ ہے، کام کا آغاز ہوچکا ہے۔ رئیس المبلغین حضرت مولانا محمد حیات فاتح قادیان وہاں فروکش ہیں۔

۸:۔۔۔اسلام آباد میں جماعت کا دفتر کرائے کی عمارت میں تھا، حضرتؒ کی خواہش تھی کہ وہاں کسی موزوں جگہ پر قطعہ اراضی لے کر مسجد اور دفتر تعمیر کیا جائے، تاہم سردست دفتر کے لئے ایک مناسب عمارت خرید لی گئی۔

۹:۔۔۔حضرتؒ کے دورِ امارت میں ربوہ، ملتان اور جتوئی میں نئے مدارس کا افتتاح ہوا۔

۱۰:۔۔۔پاکستان کے بڑے شہروں میں جماعت کے دفاتر کرائے کی عمارت میں ہیں، کراچی، لاہور اور حیدرآباد وغیرہ مرکزی شہروں میں دفاتر کی تعمیر کے لئے بھی حضرتؒ فکرمند تھے، مگر حضرتؒ کی یہ خواہش تشنہ تکمیل رہی۔

شعبۂ نشر و اشاعت:

حضرتؒ کے دور میں جماعت کے شعبہ نشر و اشاعت کو بھی خاصی ترقی ہوئی، اگرچہ یہ دور ۱۹۴۷ء اور ۱۹۶۷ء کی تحریکات کے ہنگامہ رستاخیز کی بنا پر اشاعتی کاموں کے لئے بڑا حوصلہ شکن تھا، تاہم جماعت نے قریباً دو لاکھ روپیہ اشتہارات اور کتابچوں کے

268

علاوہ نہایت وقیع اور علمی کتابوں کی اشاعت پر خرچ کیا، اس کا مختصر سا جائزہ پیش خدمت ہے۔

۱:۔۔۔ملتِ اسلامیہ کا موقف:

دو سو صفحے کی یہ کتاب ’’مجلس عمل‘‘ کے نمائندگان اسمبلی کی جانب سے قومی اسمبلی کی خصوصی کمیٹی کے سامنے مسلمانوں کا موقف پیش کرنے کی غرض سے جدید انداز میں مرتب کی گئی، جس میں قادیانیت کی مذہبی، سماجی اور سیاسی حیثیت کی وضاحت کرتے ہوئے بتایا گیا کہ قادیانی کیوں دائرۂ اسلام سے خارج ہیں۔ یہ پہلی کتاب تھی جو حضرتؒ کے دور میں شائع ہوئی، اس کی تالیف و طباعت بھی حضرتؒ کی کرامت تھی، دو صد صفحے کی کتاب مگر سننے والوں کو یقین نہیں آئے گا کہ مواد کی فراہمی سے لے کر اس کی تجلید تک تالیف، کتابت اور طباعت وغیرہ کے تمام مراحل چھ دن میں طے ہوئے، راولپنڈی میں حضرت نے علماء کا ایک بورڈ مقرر کردیا تھا، مولانا محمد حیات اور مولانا عبدالرحیم اشعر مواد فراہم کر رہے تھے، مولانا محمد تقی عثمانی اور مولانا سمیع الحق اس کی تالیف میں مصروف تھے، اور حضرت المخدوم سیّد انور حسین نفیس رقم الحسینی اپنے رفقا سمیت اس کی کتابت میں مصروف تھے، روزانہ جتنا حصہ لکھا جاتا وہ علماء کی مجلس میں سنایا جاتا اور کتابت ہوجاتا۔

کتاب کی تالیف و کتابت مکمل ہوئی تو طباعت کا مرحلہ درپیش تھا، مشکل یہ تھی کہ پریس پر پابندی عائد تھی اور قادیانیوں کے خلاف کسی چیز کا چھپنا ممنوع تھا، مگر اللہ تعالیٰ نے اس مشکل کو بھی آسان فرمادیا، اس طرح یہ کتاب مواد کی فراہمی سے لے کر طباعت و تجلید تک چھ دن میں تیار ہوگئی۔

تمام اراکین اسمبلی میں تقسیم کی گئی، اور حضرت مولانا مفتی محمود مدظلہ نے اسمبلی میں حرفاً حرفاً پڑھ کر سنائی، حضرتؒ نے اب اس کی دوبارہ طباعت کا حکم فرمایا تھا۔

۲:۔۔۔ملتِ اسلامیہ کا موقف (عربی ایڈیشن):

بیرون ممالک کی ضروریات کا تقاضا تھا کہ اس کتاب کے عربی اور انگریزی ایڈیشن بھی شائع کئے جائیں، چنانچہ حضرتؒ نے اپنے رفیق و خادم جناب مولانا ڈاکٹر عبدالرزاق اسکندر کو اس کے عربی ترجمہ کا حکم فرمایا، موصوف نے ’’موقف الْأُمّۃ

269

الْإسلامیۃ من القادیانیۃ‘‘ کے نام سے اس کا عربی ترجمہ کیا، حضرتؒ نے خود اس پر ایک نفیس مقدمہ لکھا اور افریقی ممالک کے دورہ پر جانے سے پہلے اسے اعلیٰ کاغذ اور عمدہ ٹائپ سے طبع کرایا اور عالم اسلام خصوصاً افریقی ممالک میں اسے تقسیم فرمایا۔

۳:۔۔۔ملتِ اسلامیہ کا موقف (انگریزی ایڈیشن):

اس کتاب کے انگریزی ترجمہ کے لئے حضرتؒ نے کتاب کے مصنف جناب مولانا محمد تقی عثمانی کو فرمایا، بحمداللہ موصوف نے اس کا انگریزی ترجمہ بھی کیا جو دارالعلوم لانڈھی سے شائع ہوا۔

۴:۔۔۔خاتم النبیین:

یہ حضرتؒ کے شیخ امام العصر مولانا محمد انور شاہ کشمیری رحمۃ اللہ علیہ کی آخری تالیف ہے جو مسئلہ ختمِ نبوّت پر انوری علوم و معارف کا گنجینہ ہے۔ اس کی زبان فارسی تھی اور ایک مدت سے اس کے اردو ترجمہ کی شدید ضرورت محسوس کی جارہی تھی، اس لئے حضرتؒ نے راقم الحروف کو اس کے ترجمہ و تشریح کا حکم فرمایا۔ بحمداللہ حضرتؒ کی عنایت و توجہ سے بہت مختصر عرصہ میں اس کے ترجمہ و تشریح اور تبویب و تخریج کا کام ہوا۔ پہلے ماہنامہ بینات میں بالاقساط شائع ہوچکی تو اسے مستقل شائع کرنے کا حکم فرمایا اور اس پر ایک گرانقدر مقدمہ بھی تحریر فرمایا، افسوس ہے کہ یہ کتاب حضرتؒ کے وصال کے تین دن بعد پریس سے آئی۔

حضرتؒ کے حکم سے رَدِّ قادیانیت پر ایسی کئی قدیم اور نایاب کتابیں بھی شائع کی گئیں جن کے لوگ بہت ہی متلاشی تھے، مثلاً:

۱:۔۔۔رئیس قادیاں: مؤلفہ مولانا ابوالقاسم دلاوری، مرزا غلام احمد قادیانی کے پوست کندہ حالات اور اس دور کی تاریخ پر اس سے بہتر کوئی کتاب نہیں۔

۲:۔۔۔مغلظات مرزا: مؤلفہ مولانا نور محمد خان سابق مبلغ مظاہر علوم سہارنپور، جس میں مرزا قادیانی کی دشنام طرازی اور فحش گوئی کو باحوالہ ردیف وار جمع کیا گیا ہے۔ حضرتؒ فرماتے تھے کہ ایک سنجیدہ آدمی کے لئے بس یہی ایک رسالہ کافی ہے۔

۳:۔۔۔ہدیۃ المہدیین: مؤلفہ مولانا مفتی محمد شفیع صاحب رحمہ اللہ مفتی اعظم

270

پاکستان، یہ رسالہ جو حضرت مفتی صاحبؒ نے اپنے شیخ انورؒ کے ایما و اعانت سے مرتب فرمایا تھا، حضرت مفتی صاحبؒ کے ایصال ثواب کے لئے شائع کیا گیا اور حضرتؒ نے ایک تحریک کی شکل میں اس کی اشاعت کا حکم فرمایا۔ (تفصیلات مجلس تحفظ ختمِ نبوّت تغلق روڈ ملتان سے معلوم کی جاسکتی ہیں)۔

۴:۔۔۔قادیانیوں سے ستر سوالات: مولانا سیّد مرتضیٰ حسن چاندپوری۔

۵:۔۔۔اشد العذاب علی مسیلمۃ الفنجاب: مولانا سیّد مرتضیٰ حسن چاندپوری۔

۶:۔۔۔مجموعہ رسائل: مولانا سیّد مرتضیٰ حسن چاندپوری۔

حضرت چاندپوریؒ دورِ ثانی کے اکابر دیوبند میں سے تھے، میدانِ مناظرہ میں قادیانیوں نے ان کے ہاتھوں بارہا عبرت ناک شکست کھائی، تحریر کے میدان میں قدم رکھا تو ایسے کلہ شکن رسائل لکھے کہ قادیانی آج تک ان کے جواب نہیں دے سکے۔ جماعت نے ان کے تمام رسائل کو دوبارہ شائع کیا۔

ان کے علاوہ چند نئے رسالے بھی مرتب کرکے شائع کئے گئے۔ مثلاً قادیانیوں کو دعوت اسلام، ربوہ سے تل ابیب تک، مراقی نبی، مرزائی اور تعمیر مسجد؟ مرزا کا اقرار، قادیانیت علامہ اقبال کی نظر میں، وغیرہ وغیرہ۔

یہ حضرت بنوریؒ کے دورِ امارت کا مختصر سا خاکہ ہے، اس سے اندازہ کیا جاسکتا ہے کہ حضرتؒ کی برکت سے ردّ قادیانیت پر کتنا کام ہوا، واقعہ یہ ہے کہ حضرتؒ کی قیادت میں جماعت کا ہر شعبہ قلت وسائل کے باوجود بہت ہی فعال ہوگیا تھا اور کام کی نئی نئی صورتیں سامنے آنے لگیں تھیں، لیکن صد حیف!

’’روئے گل سیر ندیدیم وبہار آخر شد‘‘

حضرتؒ کے بعد آپ کے نائب عارف باللہ حضرت مولانا خان محمد سجادہ نشین خانقاہ سراجیہ مجددیہ (کندیاں) کو ’’مجلس تحفظ ختمِ نبوّت‘‘ کا قائد و امیر منتخب کیا گیا۔ حق تعالیٰ موصوف کے انفاس طیبات میں برکت فرمائے، والحمدﷲ اولًا وآخرًا!

(ہفت روزہ ختمِ نبوّت کراچی ج:۵۱ ش:۵۱، ۶۱)

271

اِرتداد کا مقابلہ اور اس دور میں

اس کا مصداق

۷؍مئی ۱۹۹۲ء کو حضرت شہیدؒ نے ایبٹ آباد ختمِ نبوّت کانفرنس سے درج ذیل خطاب کیا، جسے کیسٹ سے نقل کرکے پیش کیا جارہا ہے، سعید احمد جلال پوری

بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ

اَلْحَمْدُ للہِ وَسَلَامٌ عَلٰی عِبَادِہِ الَّذِیْنَ اصْطَفٰی!

’’یَآ اَیُّھَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا مَنْ یَّرْتَدَّ مِنْکُمْ عَنْ دِیْنِہٖ فَسَوْفَ یَأْتِی اللہُ بِقَوْمٍ یُّحُبُّھُمْ وَیُحِبُّوْنَہٗ اَذِلَّۃٍ عَلَی الْمُؤْمِنِیْنَ اَعِزَّۃٍ عَلَی الْکَافِرِیْنَ یُجَاھِدُوْنَ فِیْ سَبِیْلِ اللہِ وَلَا یَخَافُوْنَ لَوْمَۃَ لَآئِمٍ، ذَالِکَ فَضْلُ اللہِ یُؤْتِیْہِ مَنْ یَّشَآئُ وَاللہُ وَاسِعٌ عَلِیْمٌ۔‘‘

(المائدہ:۴۵)

ترجمہ: … ’’اے ایمان والو! جو کوئی تم میں سے پھرے گا اپنے دین سے، تو اللہ تعالیٰ عنقریب لاوے گا ایسی قوم کو کہ اللہ تعالیٰ ان کو چاہتا ہے اور وہ اس کو چاہتے ہیں، نرم دل ہیں مسلمانوں پر، زبردست ہیں کافروں پر، لڑتے ہیں اللہ کی راہ میں اور ڈرتے نہیں کسی کے الزام سے، یہ فضل ہے اللہ کا دے گا جس کو چاہے اور اللہ کشائش والا ہے خبردار۔‘‘

(ترجمہ حضرت شیخ الہندؒ)

272

پیش گوئی اور وعدہ:

یہ آیت شریفہ سورۃ المائدہ کی ہے، جس میں اللہ تعالیٰ نے ایک پیش گوئی فرمائی ہے اس اُمت میں فتنۂ ارتداد کے ظاہر ہونے کی۔ صرف پیش گوئی ہی نہیں فرمائی بلکہ حق تعالیٰ شانہ نے ان مرتدین کے مقابلہ میں ایک جماعت کو لانے کا وعدہ بھی کیا ہے۔

گویا ایک پیش گوئی ہے کہ اس اُمت میں مرتدین ظاہر ہوں گے، اور دوسری پیش گوئی اور وعدہ ہے کہ ان مرتدین کی سرکوبی اور ان کے مقابلے کے لئے اللہ تعالیٰ ایک جماعت کو کھڑا کرے گا۔ پھر مرتدین کا مقابلہ کرنے والی اس جماعت کے اوصاف بیان فرمائے، چنانچہ حق تعالیٰ شانہ نے اس جماعت کی چھ صفتیں ذکر فرمائی ہیں:

مرتدین کا مقابلہ کرنے والی جماعت کے اوصاف:

اول: … ان کی پہلی صفت یہ ہے کہ:’’یُحِبُّھُمْ‘‘ اللہ تعالیٰ ان سے محبت فرماتے ہوں گے۔ یعنی وہ اللہ تعالیٰ کے محبوب بندے ہوں گے۔

دوم: … ان کی دوسری صفت یہ ذکر فرمائی کہ: ’’وَیُحِبُّوْنَہٗ‘‘ کہ وہ لوگ اللہ تعالیٰ سے محبت کرتے ہوں گے۔ یعنی اللہ تعالیٰ کے محب اور عاشق ہوں گے۔

سوم: … ان کی تیسری صفت یہ ہوگی کہ:’’اَذِلَّۃٍ عَلَی الْمُؤْمِنِیْنَ‘‘ ، مؤمنوں کے مقابلے میں اپنا سر نیچا کرکے رہیں گے۔ یعنی مؤمنوں کے مقابلے میں ذلیل بن کر رہیں گے۔

چہارم: … ان کی چوتھی صفت یہ ہوگی کہ:’’اَعِزَّۃٍ عَلَی الْکَافِـرِیْنَ‘‘ ، کافروں کے مقابلے میں معزز اور سربلند ہوکر رہیں گے۔ یعنی ان کا سر نیچے کریں گے۔

پنجم: … ان کی پانچویں صفت یہ ہوگی کہ:’’یُجَاھِدُوْنَ فِیْ سَبِیْلِ اللہِ‘‘ ، وہ اللہ کے راستے میں جہاد کریں گے۔

ششم: … ان کی چھٹی صفت یہ ہے کہ:’’وَلَا یَخَافُوْنَ لَوْمَۃَ لَآئِمٍ‘‘ ، وہ کسی ملامت کرنے والے کی ملامت کی پرواہ نہیں کریں گے۔

273

سب سے آخر میں فرمایا: ’’ذَالِکَ فَضْلُ اللہِ یُؤْتِیْہِ مَنْ یَّشَآئُ وَاللہُ وَاسِعٌ عَلِیْمٌ‘‘ ، یہ اللہ کا فضل ہے، وہ یہ فضل عطا فرمادیتا ہے جس کو چاہتا ہے، اللہ تعالیٰ بڑی وسعت والا ہے کہ اس کے لئے عطا کرنا مشکل نہیں، اور ساتھ ہی ساتھ علیم ہے، وہ جانتا ہے کہ کس کو کون سی چیز دی جائے؟ یہ خلاصہ ہے اس آیت کا۔

حضرت علیؓ کی فضیلت:

یہاں پہلے ایک بات اور بھی سمجھ لیجئے! وہ یہ کہ جنگِ خیبر کے موقع پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا تھا:

’’لَاُعْطِیَنَّ ھٰذِہِ الرَّایَۃَ غَدًا رَجُـلًا یَّفْتَح اللہُ عَلٰی یَدَیْہِ، یُحِبُّ اللہَ وَرَسُوْلَہٗ، وَیُحِبُّہُ اللہُ وَرَسُوْلُہٗ، فَلَمَّا اَصْبَحَ النَّاسُ غَدَوْا عَلٰی رَسُوْلِ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ کُلُّھُمْ یَرْجُوْنَ ۔۔۔۔ الخ۔‘‘

(مشکوٰۃ ص:۳۶۵، باب مناقب علی بن ابی طالب)

یعنی میں کل جھنڈا ایک ایسے آدمی کے ہاتھ میں دوں گا جو اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے محبت رکھتا ہوگا، اور اللہ تعالیٰ اور اس کا رسول اس سے محبت رکھتے ہوں گے، اللہ تعالیٰ اس کے ہاتھ پر قلعہ کو فتح کرے گا۔

صحابیؓ فرماتے ہیں کہ: جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات ارشاد فرمائی اور کل آئی تو اس توقع پر ہر شخص گردن اُونچی کرکے اپنے آپ کو نمایاں کر رہا تھا کہ یہ فضیلت مجھے ملے۔ گویا صحابہ کرامؓ میں سے ہر ایک اس فضیلت کو حاصل کرنے کے لئے آگے بڑھ رہا تھا، اور امیرالمؤمنین سیّدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ ارشاد فرماتے ہیں: ’’اللہ کی قسم! میں نے امیر بننے کو کبھی پسند نہیں کیا، سوائے اس دن کے۔‘‘

امیر بننا مقصود نہیں تھا، بلکہ بارگاہِ نبوّت سے جو خطاب ملا تھا، کہ وہ اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے محبت کرتا ہوگا، اور اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم اس سے محبت کرتے ہوں گے، اس خطاب کو حاصل کرنا مقصود تھا۔

اب صحابہ کرامؓ میں سے کوئی شخص بھی یہ نہیں جانتا تھا کہ آج یہ تاج کس کے سر پر

274

سجایا جائے گا؟ اور یہ تمغۂ فضیلت کس کو عطا کیا جائے گا؟ کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے یکایک فرمایا: ’’علیؓ کہاں ہیں؟‘‘ عرض کیا گیا: یا رسول اللہ! وہ اپنے ڈیرے یعنی اپنے خیمے میں ہیں، ان کی آنکھوں میں آشوب ہے، ان کی آنکھیں دکھتی ہیں، پھولی ہوئی ہیں۔ گویا ان کی آنکھیں بند ہیں اور انہیں کچھ نظر نہیں آرہا۔ فرمایا کہ: ان کو بلاؤ! جس طرح نابینا کا ہاتھ پکڑ کر لایا جاتا ہے، اس طرح حضرت علیؓ کا ہاتھ پکڑ کر لایا گیا اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں بٹھادیا گیا۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا لعابِ مبارک ان کی آنکھوں پر لگایا، تو اسی وقت ان کی ساری تکلیف دور ہوگئی۔ چنانچہ بعد میں حضرت علی رضی اللہ عنہ فرماتے تھے کہ: اللہ کی قسم! اس کے بعد مجھے کبھی بھی آنکھوں کی تکلیف نہیں ہوئی۔ جب ان کی آنکھوں کو لعاب لگادیا گیا اور وہ ٹھیک ہوگئیں، تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے جھنڈا ان کے ہاتھ میں دیا اور فرمایا: جاؤ اللہ کے نام سے جہاد کرو! اور اللہ تعالیٰ کے دشمنوں سے مقابلہ کرو! حضرت علیؓ تعمیلِ حکم میں چل پڑے، مگر جب انہیں ایک بات پوچھنے کی ضرورت پیش آئی تو اُلٹے پاؤں لوٹ آئے، یعنی اپنا رُخ نہیں بدلا، بلکہ منہ اسی طرف کو ہے جس طرف حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے متوجہ کردیا تھا، بہرحال اُلٹے پاؤں پیچھے لوٹے اور کہنے لگے: یا رسول اللہ! ایک بات پوچھنا بھول گیا تھا کہ لڑائی سے پہلے دشمن سے کیا کہوں؟ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ان کو پہلے اسلام کی دعوت دو۔ دیکھو! دشمن سے مقابلے کے لئے جارہے ہیں، لڑائی کے لئے روانگی ہے، مگر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ان کو ہدایت فرماتے ہیں کہ پہلے ان کو اسلام کی دعوت دو اور ان کو یہ بتاؤ کہ اگر وہ اسلام لے آئیں گے تو ان کے وہی حقوق ہوں گے جو ہمارے ہیں، اور ان کی وہی ذمہ داریاں ہوں گی جو ہماری ہیں۔ پھر فرمایا: اللہ کی قسم! اگر اللہ تعالیٰ تمہارے ذریعہ ایک آدمی کو بھی ہدایت عطا فرمادیں تو وہ تمہارے لئے دنیا و مافیہا سے بہتر ہے۔

دنیا و ما فیہا کی حیثیت:

یعنی اگر دنیا و ما فیہا کے خزانے تمہیں دے دئیے جائیں اور پوری دولت

275

تمہارے تصرف میں دے دی جائے، اس سے یہ بہتر ہے کہ ایک آدمی کو تمہارے ذریعہ سے ہدایت نصیب ہوجائے۔

یہاں علماء نے ایک عجیب نکتہ لکھا ہے کہ جہاں جہاں احادیث میں آیا ہے کہ یہ چیز دنیا و ما فیہا سے بہتر ہے، سوال یہ ہے کہ دنیا کی قیمت تو مچھر کے برابر بھی نہیں ہے، پھر اس کا بہتر ہونے کا کیا مطلب ہے؟

ہاں سنو! یہ حقیقت ہے کہ اگر دنیا کی قیمت اللہ کے نزدیک مچھر کے برابر بھی ہوتی تو اللہ کی قسم! اللہ تعالیٰ اس دنیا میں کسی کافر کو پانی کا گھونٹ بھی نہ دیتے، لہٰذا بلاشبہ دنیا اللہ اور اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے نزدیک بے قیمت چیز ہے۔

ہاں تو میں عرض کر رہا تھا کہ دنیا و ما فیہا سے بہتر ہونے کا کیا مطلب ہے؟ تو بعض اکابرؒ نے اس کا جواب یوں دیا ہے کہ دنیادار کو پوری دنیا کی دولت ملنے سے جو راحت اور مسرت ہوسکتی ہے، یہ اس سے زیادہ خوشی اور مسرت کا مقام ہے، گویا اگر ساری کی ساری دنیا بمع ساز و سامان کے ایک آدمی کے حوالے کردی جائے کہ تم جو چاہو کرو، جس کو چاہو دو، جس کو چاہو نہ دو، پوری کی پوری دنیا تمہارے قبضے میں کردی گئی ہے، اگر فرض کرو کسی کے لئے ایسا ہوجائے تو وہ دنیا کا کتنا بڑا خوش قسمت انسان کہلائے گا؟ تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ: اگر تمہارے ذریعہ ایک آدمی کو ہدایت ہوجائے تو یہ اس سے زیادہ بہتر ہے۔

بعض اکابرؒ نے اس کے جواب میں یہ فرمایا کہ: حدیث کا مطلب یہ ہے کہ اگر ساری دنیا اور دنیا کے خزانے تمہیں دے دئیے جائیں اور تم اس پوری دنیا اور اس کے خزانوں کو اللہ کی راہ میں صدقہ کردو، تو کتنا فضیلت کی چیز ہوگی؟ تو فرمایا کہ اس فضیلت سے بہتر یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ تمہارے ذریعہ ایک آدمی کو ہدایت عطا کردے۔

یہ بات اور یہ حدیث جو میں نے درمیان میں نقل کی ہے، اس سے میں یہ سمجھانا چاہتا ہوں کہ جب تک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کو جھنڈا نہیں دیا تھا، اس وقت تک کسی کو کچھ معلوم نہیں تھا کہ یہ خطاب کس کو ملنے والا ہے؟ اور یہ سعادت کس

276

کے حصے میں آنے والی ہے؟ لیکن جب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت حیدر کرارؓ کے ہاتھ میں جھنڈا دیا تو معلوم ہوا کہ آیتِ مذکورہ کا مصداق یہ ہیں۔

حضرت علیؓ ہمارے ہیں:

یہاں ایک اور بات بھی بتانا چاہتا ہوں کہ تمہیں معلوم ہونا چاہئے کہ حضرت علیؓ، شیعوں کے نہیں وہ ہمارے ہیں، وہ ہمارے خلیفۂ راشد ہیں، ہمارا اعتقاد ہے کہ:’’حُبُّ عَلِیٍّ مِنَ الْاِیْمَانِ‘‘ علیؓ کی محبت ایمان ہے۔ اور: ’’اَلنَّظْرُ اِلٰی وَجْہِ عَلِیٍّ عِبَادَۃٌ‘‘ علیؓ کے چہرے کو دیکھنا عبادت ہے، جس طرح بیت اللہ کو دیکھنا عبادت ہے، اسی طرح علیؓ کے چہرے کو دیکھنا بھی عبادت ہے۔

حضرت علیؓ مقتدی اور اصحابِ ثلاثہؓ اِمام:

حضرت علیؓ کی بہت اُونچی شان ہے، بہت اُونچی شان ہے، ان کی شان کو کون پہنچ سکتا ہے؟ مگر وہ ابوبکرؓ، عمرؓ اور عثمانؓ کے مقتدی ہیں، یہ حضرات ان کے مقتدا ہیں، پھر حضرت ابوبکرؓ، حضرت عمرؓ، عثمانؓ و علیؓ کے مقتدا ہیں، اور حضرت عمرؓ، حضرت عثمانؓ و علیؓ کے، اور حضرت عثمانؓ، حضرت علیؓ کے مقتدا ہیں، یہ سب حضرات امام ہیں، اور حضرت علیؓ ان کے پیچھے ہیں، جبکہ خلفائے ثلاثہ ان کے امام ہیں اور یہ ان کے ہاتھ پر بیعت کرنے والے ہیں۔

حضرت علیؓ فرمایا کرتے تھے: میں جب میدانِ جنگ میں مبارزت کے لئے جاتا اور نکلتا تھا، یعنی اُدھر سے کافروں کا سوار نکلتا تھا، اِدھر سے اسلام کا مجاہد میدان میں آتا اور مقابلہ ہوتا تھا، تو حضرت علیؓ اکثر یہ شعر پڑھا کرتے تھے:

انا الذی سمتنی امی حیدرۃ!

یعنی میں وہ ہوں جس کا نام ماں نے شیر رکھا ہے، کیونکہ حیدر شیر کو کہتے ہیں، جیسے شیر کو دیکھ کر جانوروں کا پتہ پانی ہوجاتا ہے، اس طرح مجھے دیکھ کر کافروں کا پتہ پانی ہوجاتا ہے۔

277

حضرت صدیق اکبرؓ کا اعزاز:

تو جس طرح حضرت علیؓ کے ہاتھوں میں جب تک جھنڈا نہیں دے دیا گیا، اس وقت تک کسی کو معلوم نہیں تھا کہ اس ارشادِ نبویؐ:’’یُحِبُّ اللہَ وَرَسُوْلَہٗ، وَیُحِبُّہُ اللہُ وَرَسُوْلُہٗ‘‘ (وہ اللہ سے اور اس کے رسول سے محبت رکھتا ہے، اور اللہ اور اس کا رسول اس سے محبت رکھتے ہیں) کے مصداق کا اعزاز و فضیلت کس کے حصے میں آتی ہے؟ بلکہ ہر ایک منتظر تھا کہ شاید مجھے مل جائے، لیکن جب آپؐ نے حضرت علیؓ کے ہاتھ میں جھنڈا دے دیا تو معلوم ہوا کہ آیتِ مذکورہ کا مصداق حضرت علیؓ ہیں۔ ٹھیک اسی طرح جس وقت آیتِ شریفہ: ’’یَآ اَیُّھَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا مَنْ یَّرْتَدَّ مِنْکُمْ عَنْ دِیْنِہٖ فَسَوْفَ یَأْتِی اللہُ بِقَوْمٍ یُّحُبُّھُمْ وَیُحِبُّوْنَہٗ‘‘ نازل ہوئی، تو اس وقت بھی کسی کو معلوم نہیں تھا کہ یہ فضیلت اور یہ سعادت کس کے حصے میں آنے والی ہے؟ یہ تاج کس کے سر پر سجایا جائے گا؟ اور محبت اور محبوبیت کا تمغہ کس کو عطا کیا جائے گا؟ لیکن جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بعد فتنۂ ارتداد پھیلا، لوگ مرتد ہوئے اور انہی مرتدوں میں جھوٹے مدعیانِ نبوّت بھی تھے، جن میں سرِ فہرست مسیلمہ کذاب تھا، جس نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے نام خط لکھا تھا کہ

’’من مسیلمۃ رسول اللہ الی محمد رسول اللہ، سلام علیک، اما بعد! فانی قد اشرکت فی الأمر وان لنا نصف الأمر ولقریش نصف الأمر، لٰـکن قریش قوم یعتدون۔‘‘

(دلائل النبوۃ ج:۵ ص:۱۳۳)

ترجمہ: … ’’یہ خط ہے مسیلمہ رسول اللہ کی طرف سے محمد رسول اللہ کے نام، بعد اس کے اللہ تعالیٰ نے تمہاری نبوّت میں مجھے بھی شریک کردیا، اس لئے آدھی زمین تمہاری آدھی میری (مل کر کھائیں گے)، لیکن قریش زیادتی کرتے ہیں (کہ مجھے اس میں شریک نہیں کرتے)۔‘‘

278

مسیلمہ کے خط کے جواب میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے لکھا:

’’من محمد رسول اللہ الٰی مسیلمۃ الکذاب، سلام علیٰ من اتبع الھدیٰ، اما بعد! فان الأرض ﷲ یورثھا من یشاء من عبادہ والعاقبۃ للمتقین۔‘‘

(دلَائل النـبوۃ ج:۵ ص:۱۳۳، کنز العمال ج:۴۱ ص:۱۰۲ حدیث:۶۸۳۸۳)

ترجمہ: … ’’محمد رسول اللہ کی جانب سے مسیلمہ کذاب کے نام، اما بعد! زمین اللہ کی ہے، اللہ جس کو چاہتا ہے، اس کا وارث بنادیتا ہے، اور اچھا انجام متقیوں کے لئے ہے۔‘‘

دراصل مسیلمہ کذاب نے دعویٔ نبوّت تو کیا تھا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی میں، مگر اتنے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا وصال ہوگیا، نجد اور یمامہ پورا علاقہ مسیلمہ کذاب کے قبضے میں تھا، اسی طرح سجاح نام کی ایک خاتون تھی، اس نے بھی دعویٔ نبوّت کیا تھا، جس نے بعد میں مسیلمہ کے ساتھ شادی کرلی تھی، مسیلمہ نے اس سے پوچھا کہ: تمہیں مہر کیا دیں؟ تو کہنے لگی: دو نمازیں معاف کردو! چنانچہ مسیلمہ کذاب نے دو نمازیں معاف کردیں۔ بات لمبی نہیں مختصر کروں گا، کیونکہ ابھی اصل مضمون بیان کرنا ہے۔

مسیلمہ کے مقابلہ میں لشکرِ اِسلام:

مختصر یہ کہ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کی خلافت میں سب سے پہلے جو لشکر بھیجا گیا، وہ مسیلمہ کذاب کے مقابلے میں تھا، حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ (اللہ کی تلواروں میں سے ایک) اس لشکر کے سپہ سالار تھے، جب مسیلمہ سے مقابلہ ہوا تو بڑے بڑے قراء صحابہ کرامؓ اس جہاد میں شہید ہوئے، حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کے بھائی حضرت زید بن خطابؓ بھی شہید ہوئے۔

مسیلمہ کذاب اور اس کی قوم نے مسلمانوں کا اس طرح ڈٹ کر مقابلہ کیا کہ ایک دفعہ تو مسلمانوں کے پاؤں اُکھڑ گئے، حضرت خالد بن ولیدؓ نے صحابہ کرامؓ کو پھر سے جمع

279

اور مرتب کیا اور ان پر دوبارہ حملہ کیا، حضرت سالمؓ، حضرت علیؓ، حضرت حذیفہؓ اور ایک دوسرے صحابی نے لوگوں سے کہا کہ: لوگو! ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں اس طرح نہیں لڑا کرتے تھے۔ پھر انہوں نے اپنے آپ کو سنگلوں سے باندھ لیا تاکہ پیچھے نہ ہٹ پائیں، مختصر یہ کہ مسلمانوں کی فوج نے بے جگری سے ان کا مقابلہ کیا، چنانچہ مسلمان، مسیلمہ کذاب اور ان کے ایک لاکھ کے لشکر کو پیچھے دھکیلتے ہوئے ایک باغ میں لے گئے، تو مسیلمہ کذاب اور اس کی جماعت نے اپنے آپ کو ایک بہت بڑے باغ میں، جس کی چاردیواری اور دروازہ تھا، قلعہ بند کرلیا اور محفوظ ہوگئے۔

قلعہ حدیقۃ الموت کا دروازہ کھولنے کی انوکھی ترکیب!

ایک صحابیؓ نے کہا: اندر سے تو دروازہ اور کنڈا بند ہے، میں تمہیں اس کی تدبیر بتادیتا ہوں، اگر تم اس پر عمل کرو تو یہ مشکل حل ہوسکتی ہے، وہ یہ ہے کہ مجھے نیزوں پر اُٹھاکر دیوار کے اُوپر سے اندر پھینک دو تو میں کنڈا کھول دوں گا، اگر انہوں نے مجھے شہید بھی کردیا تو کوئی بات نہیں، اور اگر میں شہید ہونے سے پہلے دروازہ کھولنے میں کامیاب ہوگیا تو تم اندر داخل ہوجانا، اور اگر میں شہید ہوجاؤں تو میری جگہ ایک اور آدمی کو اندر پھینک دو، ایک اور کو پھینک دو، ایک اور کو پھینک دو، یہاں تک کہ مسلمان اس قلعہ کا دروازہ کھولنے میں کامیاب ہوجائیں۔

صحابہ کرامؓ نے ان کی رائے سے اتفاق کیا اور ان کو اندر قلعہ میں پھینک دیا، چونکہ ان کا نیزہ اور تلوار ان کے ساتھ تھی اس لئے وہ ان سے لڑتے بھڑتے دروازہ تک پہنچ گئے اور دروازہ کھول دیا، تو مسلمان یلغار کرکے اس کے اندر داخل ہوگئے اور مسیلمہ کے لشکر کو ٹھکانے لگانے میں کامیاب ہوگئے، مسیلمہ کذاب کو حضرت وحشی بن حربؓ ۔۔۔جو حضرت حمزہؓ کے قاتل تھے۔۔۔ نے قتل کیا تھا، جس کی صورت یہ ہوئی کہ ان کے پاس ایک حربہ چھوٹا سا نیزہ تھا، اس کو انہوں نے اس طرح پھینک کر مارا کہ مسیلمہ کذاب کے جاکر لگا اور وہ وہیں مردار ہوگیا، اس جنگ میں مسیلمہ کذاب کے بیس ہزار آدمی قتل ہوئے، تو بارہ سو کے قریب حضراتِ

280

صحابہ کرامؓ نے بھی جامِ شہادت نوش کیا۔

ایک صحابیؓ کا ایمان افروز واقعہ:

اس غزوہ کے واقعات تو بہت ہیں، لیکن میں تمہیں ان میں سے ایک واقعہ سنائے دیتا ہوں، اگرچہ یہ میرے موضوع میں داخل تو نہیں، تاہم چونکہ اچھی بات ہے، اور بھائی! حضراتِ صحابہ کرامؓ کی تو ساری باتیں ہی ایمان افروز ہوا کرتی ہیں، اور ان سے ایمان تازہ ہوتا ہے، اس لئے ان کا سننا اور سنانا ایمان کی تازگی کا باعث ہے، اس لئے سنانا چاہتا ہوں:

ایک صحابی جن کا نام غالباً سہیلؓ ہے، وہ شہید ہوگئے، تو ان کی زرہ (یہ دراصل لوہے کا کڑیوں والا کُرتا ہوتا ہے جسے لڑائی کے وقت پہنا کرتے تھے) کسی نے اُٹھالی اور اسے اُٹھاکر اُونٹ کے کجاوے کے نیچے رکھ دیا، تو وہ شہید صحابیؓ ایک دوسرے صحابی کے خواب میں آئے اور کہا کہ: امیرِ لشکر حضرت خالد بن ولیدؓ کو میرا یہ پیغام دے دو کہ میری زرہ فلاں آدمی نے چرالی ہے اور فلاں جگہ ہنڈیا کے نیچے رکھی ہوئی ہے، اس کے اُوپر کجاوہ رکھا ہوا ہے، اور کسی کو اس کا پتہ نہیں، اس لئے وہ اس سے وصول کرکے میرے وارثوں کو پہنچائیں، اور جب تم لوگ مدینہ طیبہ واپس جاؤ تو حضرت ابوبکرؓ کو میرا سلام کہو اور کہو کہ میرے غلاموں میں سے دو غلاموں کو آزاد کردیا جائے، جب حضرت خالد بن ولیدؓ کو اس صحابی کے خواب اور پیغام کا بتایا گیا اور حضرت خالد بن ولیدؓ تحقیق و تفتیش کے لئے اس مطلوبہ جگہ پہنچے تو واقعی ٹھیک جہاں زرہ رکھی تھی اس کی نشاندہی کی گئی تھی، کجاوہ اُٹھایا تو نیچے زرہ پڑی ہوئی تھی، انہوں نے کہا کہ: یہ ان کی کرامت ہے کہ یہ خواب بالکل سچا ثابت ہوا۔

مرنے کے بعد وصیت اور اس پر عمل:

یہ لشکر جب واپس ہوا اور خلیفۃ الرسولؐ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کی خدمت میں ان صحابی کا قصہ اور ان کی وصیت ذکر کی گئی تو حضرت ابوبکرؓ نے ان کے دو غلاموں کو آزاد کرنے کا حکم فرمایا۔ راوی کہتا ہے کہ یہ اسلام میں ایک واحد مثال ہے کہ

281

مرنے کے بعد وصیت کی گئی اور اُسے نافذ کیا گیا، ورنہ ایسا ہوتا نہیں ہے، کیونکہ وصیت تو زندگی میں ہوتی ہے، مرنے کے بعد تھوڑی وصیت ہوتی ہے؟

خیر تو میں عرض کر رہا تھا کہ جب حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ اور ان کے بھیجے ہوئے لشکر نے ان مرتدین سے مقابلہ کیا تب پتہ چلا کہ یہ جھنڈا حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے ہاتھ میں دیا جانا تھا، اور ارشادِ الٰہی: ’’یُّحُبُّھُمْ وَیُحِبُّوْنَہٗ اَذِلَّۃٍ عَلَی الْمُؤْمِنِیْنَ اَعِزَّۃٍ عَلَی الْکَافِرِیْنَ یُجَاھِدُوْنَ فِیْ سَبِیْلِ اللہِ وَلَا یَخَافُوْنَ لَوْمَۃَ لَآئِمٍ‘‘ میں جو چھ صفات ذکر کی گئی تھیں، اس کا مصداق حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ اور ان کے ساتھی ہیں۔ اسی طرح یہ تمغہ جو اللہ تعالیٰ نے عطا فرمایا، یہ بھی انہیں کے حصہ میں آیا۔

ایک نکتہ:

یہاں ایک نکتہ ذکر کرتا ہوں، وہ یہ کہ میں نے حضرت علیؓ کے بارے میں غزوۂ خیبر کی حدیث ذکر کی تھی، اس میں یہ فرمایا گیا تھا کہ:’’یُحِبُّ اللہَ وَرَسُوْلَہٗ، وَیُحِبُّہُ اللہُ وَرَسُوْلُہٗ‘‘ یعنی جس شخص کو میں جھنڈا دوں گا، وہ اللہ تعالیٰ سے اور اس کے رسولؐ سے محبت رکھتا ہوگا، اور اللہ تعالیٰ اور اس کا رسولؐ، اس سے محبت رکھتے ہوں گے۔ مگر یہاں مرتدین سے مقابلہ کرنے والے حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ اور ان کی جماعت کے بارہ میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ’’یُحِبُّھُمْ وَیُحِبُّوْنَہٗ‘‘ اللہ ان سے محبت رکھے گا اور وہ اللہ سے محبت رکھیں گے۔ کیا آپ حضرات کو ان دونوں کا فرق سمجھ میں آیا؟ اگر نہیں آیا تو میں سمجھاتا ہوں، وہ یہ کہ:

حضرت علیؓ کے بارے میں فرمایا تھا کہ:’’یُحِبُّ اللہَ وَرَسُوْلَہٗ‘‘ کہ وہ آدمی اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے محبت رکھتا ہوگا، اور اللہ تعالیٰ اور اس کا رسولؐ، اس سے محبت رکھتے ہوں گے۔

حضرت ابوبکر صدیق ؓ کی فضیلت:

دوسری طرف مرتدوں کے مقابلے میں اللہ تعالیٰ نے جس قوم کو لانے کا وعدہ فرمایا، اس کے بارے میں فرمایا:’’یُحِبُّھُمْ وَیُحِبُّوْنَہٗ‘‘ یعنی اللہ کو ان سے محبت ہے، اور ان کو

282

اللہ سے محبت ہے۔ یہاں رسول اللہؐ کا ذکر نہیں کیا، بلکہ صرف اللہ تعالیٰ کا ذکر کیا، اس لئے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت بھی اللہ ہی کی محبت ہے، اور جس کو اللہ سے محبت ہوگی اس کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بھی محبت ہوگی، یہ لازم و ملزوم ہیں، اور کبھی ایسا بھی کردیا جاتا ہے کہ دونوں میں سے کسی ایک کو ذکر کردیا جاتا ہے۔

دوسرا فرق یہ ہے کہ حدیث میں حضرت علیؓ کی اللہ تعالیٰ سے اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے محبت کو پہلے ذکر فرمایا اور فرمایا کہ: وہ اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے محبت رکھتا ہوگا، اس کے بعد فرمایا گیا کہ: ’’وَیُحِبُّہُ اللہُ وَرَسُوْلُہٗ‘‘ لیکن یہاں ترتیب الٹی ہے، یہاں اللہ کا ان سے محبت رکھنا پہلے ذکر کیا گیا کہ اللہ تعالیٰ ان سے محبت رکھتا ہے، گویا یہ اللہ تعالیٰ کے محبوب ہیں: ’’وَیُحِبُّوْنَہٗ‘‘ اور وہ لوگ بھی اللہ تعالیٰ سے محبت رکھتے ہیں۔ یعنی اللہ تعالیٰ کے عاشق اور محبِ صادق بھی ہیں۔

حضرت علیؓ اور حضرت صدیق ؓ کے مقام کا فرق:

مطلب یہ ہے کہ ایک ہے اللہ تعالیٰ کی نظر میں محبوب ہونا اور ایک ہے اللہ کا محب ہونا، حضرت علیؓ کے بارہ میں فرمایا کہ وہ محب پہلے ہیں اور محبوب بعد میں ہیں، اور صدیق اکبر رضی اللہ عنہ کے بارہ میں فرمایا کہ: وہ محبوب پہلے ہیں، اور محب بعد میں ہیں، کیا خیال ہے؟ دونوں کے درمیان میں فرق سمجھ میں آیا؟

یہ تو ظاہر ہے جو اللہ کا محب ہوگا وہ حق تعالیٰ کا محبوب بھی ہوگا، اور جو اللہ تعالیٰ کا محبوب ہوگا وہ محب بھی ہوگا، یہ دونوں باتیں لازم و ملزوم ہیں لیکن زہے سعادت حضرت صدیق اکبر رضی اللہ عنہ اور ان کے رُفقا کی کہ اللہ تعالیٰ نے اپنی محبوبیت کا تمغہ پہلے دیا اور محب ہونے کا تمغہ بعد میںد یا، محبوب پہلے نمبر پر اور محب بعد میں۔

عمرؓ، مرادِ رسول:

یہ وہی بات ہے جو صحابہ کرامؓ حضرت عمر فاروقؓ کے بارے میں فرمایا کرتے

283

تھے، فرماتے تھے کہ ہم لوگ آئے تھے اور عمرؓ لائے گئے ہیں، ہم مریدین بن کر آئے تھے اور وہ مراد بن کر لائے گئے ہیں۔ تو ایک تو یہ کہ وہ اللہ تعالیٰ کے محبوب ہیں اور دوسرے یہ کہ اللہ تعالیٰ کے محب بھی ہیں۔

ایک اور نکتہ:

مرتدین کے مقابلہ میں آنے والی جماعت کی تیسری اور چوتھی صفت یہ ذکر فرمائی گئی تھی کہ: ’’اَذِلَّۃٍ عَلَی الْمُؤْمِنِیْنَ، اَعِزَّۃٍ عَلَی الْکَافِرِیْنَ‘‘ اہل علم اور اربابِ مدارس علماء جانتے ہیں کہ ’’عزیز‘‘ کا لفظ اُوپر کے لئے آتا ہے اور ’’ذلیل‘‘ کا لفظ نیچے کے لئے آتا ہے، چنانچہ ان کی صفت یہ ہوگی کہ ’’وہ مؤمنوں کے لئے ذلیل ہوں گے‘‘ ظاہر ہے کہ ذلیل اُوپر تو نہیں ہوتا نیچے ہی ہوتا ہے، مطلب یہ ہے کہ وہ اُوپر ہونے کے باوجود مؤمنوں کے سامنے سر جھکا کر رہیں گے، یعنی ان کی تواضع کا یہ عالم ہوگا کہ سب کچھ ہونے کے باوجود، علم و فضل کے باوجود، اپنی محبوبیت اور محبت کے باوجود وہ ادنیٰ سے ادنیٰ مسلمان کے ساتھ بھی نیچا ہوکر یعنی تواضع کرکے رہیں گے اور اپنے آپ کو اُونچا نہیں کہیں گے۔

حضرت ابوبکر صدیق ؓ کا پہلا خطبہ:

سیّدنا ابوبکر صدیقؓ نے خلیفۂ رسولؐ بننے کے بعد جو پہلا خطبہ دیا تھا، اس میں انہوں نے فرمایا تھا: لوگو! مجھے تمہارے معاملات کا والی بنادیا گیا ہے، میں تم سے اچھا نہیں ہوں، میں تم سے اچھا نہیں ہوں، اگر میں سیدھا چلوں تو میری مدد کرو اور اگر میں ٹیڑھا چلوں تو مجھے سیدھا کرو۔

حضرت ابوبکر صدیق ؓ کی تواضع:ـ

حضرت صدیق اکبرؓ کی تواضع کا یہ عالم تھا کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ کی بعض بڑی بوڑھیوں کا پانی بھرکے دیا کرتے تھے، جب حضرت سیّدنا ابوبکر صدیقؓ خلیفہ بنادئیے گئے تو انہوں نے کہا کہ اب ہمارا پانی کون بھرا کرے گا؟ حضرت ابوبکر صدیقؓ نے کہا: میں بھر دیا کروں گا، اب بھی بھر دوں گا! یہ تھی آپؓ کی تواضع، انکساری، عاجزی،

284

نیازمندی اور مسلمانوں کے سامنے اپنے آپ کو نیچا کرنا۔ ٹھیک اسی طرح سیّدنا عمر فاروقؓ کا حال تھا، ۔۔۔ لوگوں کو دبدبۂ فاروقی تو یاد ہے لیکن انہیں حضرت فاروق اعظمؓ کی تواضع یاد نہیں ہے۔۔۔ ان کو فاروقیؓ دُرّہ تو یاد ہے کہ ہر وقت کندھے پر رہتا تھا، چنانچہ ان کے دبدبہ سے بڑے بڑے بھی تھرتھر کانپتے تھے، مگر ان کا خوف و خشیت یاد نہیں۔۔۔۔

انہوں نے بھی پہلے خطبے میں فرمایا تھا: سنو! تم میں سے جو زیادہ طاقت ور ہے وہ میرے نزدیک کمزور ہے، جب تک کہ میں اس سے کمزور کا حق وصول نہ کرلوں، اور جو تم میں سے کمزور ہے وہ میرے نزدیک طاقتور ہے جب تک کہ اس کا حق ادا نہ کردوں۔

بلاشبہ یہ حضرات مؤمنوں کے سامنے اپنے آپ کو اتنا نیچا کرنے والے اور اتنا پست کرنے والے تھے، ایسا لگتا تھا کہ ان کا اپنا کوئی وجود ہی نہیں ہے، ان کی پوری زندگیوں میں ایسا کوئی ایک واقعہ بھی پیش نہیں آیا کہ کبھی حضرت ابوبکر صدیقؓ، حضرت عمر فاروقؓ، حضرت عثمانؓ یا سیّدنا امیرالمؤمنین حضرت علیؓ نے کسی مسلمان کے سامنے اپنی بڑائی کا اظہار کیا ہو، اور اپنے آپ کو بڑا ظاہر کیا ہو، مؤمنوں کے لئے تو اتنا متواضع تھے، لیکن:’’اَعِزَّۃٍ عَلَی الْکَـافِـرِیْـنَ‘‘ کافروں کے مقابلہ میں عزیز و سربلند ہوکر کے رہے، کبھی سر نیچا نہیں کیا۔

حضرت عمرؓ کا دبدبہ اور رُومی قاصد:

حضرت رومیؒ نے ایک واقعہ لکھا ہے کہ امیرالمؤمنین حضرت عمر ابن الخطابؓ کی خدمت میں شاہِ روم کا قاصد اور سفیر آیا، مدینے میں آکر پوچھنے لگا کہ مسلمانوں کے خلیفہ کا محل کونسا ہے؟ یعنی ’’قصرِ خلافت‘‘ کون سا ہے؟

ایک بات درمیان میں کہہ دوں، مجھے معاف کرنا صرف ایک ہی فقرہ کہتا ہوں وہ یہ کہ ہم لوگ یہ بھول گئے کہ ہماری شان و شوکت ان مادّی ترقیات میں نہیں ہے، مگر افسوس کہ ہم نے کافروں کی طرح محلات میں، بلڈنگوں میں اور نمائشی چیزوں میں شان وشوکت ڈھونڈنا شروع کردی، بھائی! ہماری شان و شوکت ان چیزوں میں نہیں ہے۔

285

خیر تو جب رومی قاصد نے پوچھا کہ قصرِ خلافت کون سا ہے؟ تو لوگوں نے کہا کہ: امیرالمؤمنین کا کوئی محل نہیں، آپ مسجد میں رہتے ہیں، وہیں جاکر دیکھ لو، وہ مسجد میں گیا وہاں نہیں ملے، وہاں کوئی آدمی موجود تھا اس سے پوچھا کہ: امیرالمؤمنین کہاں ہیں؟ کہنے لگا کہ: صدقے کا اونٹ گم ہوگیا ہے، اس کو تلاش کرنے کے لئے جنگل کی طرف گئے ہیں۔

ہیبتِ فاروقی:

حضرت عمرؓ صدقہ کا اُونٹ ڈھونڈتے ڈھونڈتے تھک گئے، مگر اُونٹ نہیں ملا، دوپہر کا وقت ہوگیا، تو ایک درخت کے سائے میں پتھر سر کے نیچے رکھ کر سوگئے، رومی سفیر بھی انہیں ڈھونڈتا ڈھونڈتا وہاں پہنچا، دیکھا تو امیرالمؤمنین اس وقت سو رہے ہیں، نہ کوئی ہتھیار پاس ہے اور نہ کوئی پہرے دار! مگر جیسے ہی سفیر وہاں پہنچا اور آپؓ پر نظر پڑی تو تھرتھر کانپنے لگا، مولانا رومیؒ اس مقام پر فرماتے ہیں:

ہیبتِ حق است ایں از خلق نیست

یہ اللہ تعالیٰ کی جانب سے ہے، بندۂ مخلوق کی طرف سے نہیں، گودڑی پہنا فقیر جو ایک درخت کے نیچے بغیر کسی چادر کے لیٹا ہوا ہے، یہ اس کی ہیبت نہیں بلکہ یہ ہیبتِ ربانی ہے!

کافروں کے مقابلے میں ایسے سخت اور ایسے سربلند کہ کبھی کسی کافر کے مقابلے میں سر نیچا کرنا سیکھا ہی نہیں، سَر کٹ سکتا ہے مگر جھک نہیں سکتا۔

کفر کے وار کا انداز!

یہاں مجھے ایک لطیفہ یاد آیا وہ یہ کہ حضرت علیؓ اور حضرت معاویہؓ کی آپس میں لڑائیاں ہوئیں، اس وقت کے شاہِ روم کو پتہ چلا تو اس نے سوچا کہ مسلمانوں کے درمیان اختلاف ہے اور مسلمانوں سے انتقام لینے کا یہ بہترین موقع ہے۔

یاد رکھو! کفر ہم پر سیدھا وار کرکے کبھی بھی غالب نہیں آیا، جب بھی کفر نے ہم پر حملہ کیا ہے، ہمارے درمیان پھوٹ ڈال کر ہی کیا ہے، یعنی مسلمانوں کے درمیان

286

اختلافات پیدا کرکے، ان کو آپس میں لڑا کر وہ ہمارے مقابلے میں آیا ہے، اللہ کی قسم اُٹھاکر کہتا ہوں کہ آج بھی اگر مسلمان متحد ہوجائیں، چاہے ان کے پاس کچھ بھی نہ ہو، ان کا کوئی کچھ نہیں بگاڑ سکتا، حتیٰ کہ اگر امریکہ بہادر بھی ان پر حملہ کرے گا تو کامیاب نہیںہوسکے گا۔ کفر نے جب بھی ہم پر حملہ کیا ہے، یا جب بھی وہ ہمارے خلاف میدان میں آیا ہے، ہمیں لڑاکر آیا ہے، جیسا کہ اب افغانستان میں مجاہدین کو (آپس میں) لڑا رہا ہے۔

حضرت معاویہؓ کا شاہِ روم کو جواب:

حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کو جب پتہ چلا کہ شاہِ روم کے ارادے بد ہیں، اور ہمارے اختلافات سے فائدہ اُٹھا کر حضرت علیؓ کے کیمپ پر حملہ کرنا چاہتا ہے، تو حضرت معاویہؓ نے اس کو خط لکھا جس کو لسان العرب میں نقل کیا گیا ہے، اسی طرح ہمارے مفتی شفیع صاحبؒ نے ’’مقامِ صحابہ کرامؓ‘‘ میں بھی اس کو نقل کیا ہے،۔اس خط کا یہ مضمون تھا کہ: ’’او نصرانی (کتے)! مجھے یہ پتہ چلا ہے کہ تم میرے اور میرے بھائی علیؓ کے درمیان اختلاف سے فائدہ اٹھا کر ان پر حملہ کرنا چاہتے ہو، تمہیں یہ یاد رہنا چاہئے کہ اگر تم نے ایسا کرنے کا سوچا تو میں اپنے ابنِ عم (چچازاد بھائی) سے صلح کرلوں گا اور ان کی فوج میں شامل ہوکر تمہارے مقابلے میں آئوں گا، اور علیؓ کی فوج کے پہلے سپاہی کا نام معاویہ ہوگا جو تم پر حملہ کرے گا۔ تو یہ معنی ہے: ’’اَعِزَّۃٍ عَلَی الْکَافِرِیْنَ‘‘ کا کہ کافروں کے مقابلے میں سربلند رہیں گے، کبھی سر نیچا نہیں کریں گے۔

سازشی مسلمان نہیں کافر ہوتے ہیں:

یہ نکتہ بھی یاد رکھنے کے قابل ہے کہ مسلمان سازشیں نہیں کیا کرتے، اور ہمارے اندرونی طور پر خفیہ منصوبے نہیں ہوتے، ہم سازش کے ذریعہ کبھی کامیابی حاصل نہیں کرتے، ہاں! باطل ہمیشہ سازش کے ذریعہ کامیاب ہوتا ہے، مسلمان کبھی سازشیں نہیں کرتے بلکہ کھلے عام ڈٹ کر مقابلہ کیا کرتے ہیں اور:’’یُجَاہِدُوْنَ فِی سَبِیْلِ اللہِ۔‘‘ (جہاد کریں گے اللہ کے راستے میں) کے مصداق مسلمان مجاہد ہوں گے۔ اور مجاہد بھی

287

’’المجاہد فی سبیل اللہ!‘‘ یعنی اللہ کی راہ کے مجاہد۔

’’کارِ مُلَّا فی سبیل اللہ فساد‘‘ کہنے والے:

مجھے ذرا سی گستاخی کی اجازت دیجئے تو عرض کروں کہ آج کل تم لوگوں نے ایک نعرہ بلند کیا ہے کہ :’’کارِ مُلَّا فی سبیل اللہ فساد!‘‘ لیکن قرآن کہتا ہے: ’’فی سبیل اللہ جہاد‘‘ اگر یہ چیز، جس کو اللہ تعالیٰ:’’یُجَاھِدُوْنَ فِیْ سَبِیْلِ اللہِ‘‘ فرمارہے ہیں، اگر ۔۔۔نعوذ باللہ ثم نعوذ باللہ۔۔۔ فساد ہے، تو مجھے یہ بتائو پھر اصلاح کس چیز کا نام ہے؟ ایسا نعرہ لگانے والوں سے کہوں گا کہ تم نے مُلَّا کا نہیں اللہ کے قرآن کا مذاق اُڑایا ہے، تم اپنے ایمان کی فکر کرو۔۔۔!

ہر آدمی اپنی ذہنی سطح پر:

ابھی پرسوں کی بات ہے، میں صبح کے وقت خطوں کے جواب لکھ رہا تھا، ان میں سے ایک خط ایسا بھی تھا جس میں اس نے کچھ اُلٹی سیدھی باتیں لکھیں، اور اسی میں ایک یہ بات بھی لکھی کہ:

’’مجھے میرے دوستوں نے بتایا ہے کہ جب تک بڑے بڑے سرمایہ داروں سے سفارش نہیں کرائوگے اس وقت تک تمہیں تمہارے خط کا جواب نہیں ملے گا۔‘‘

افسوس! کہ دنیا میں ایسے ایسے سمجھ دار لوگ بھی موجود ہیں؟ میں نے اس کے جواب میں لکھا کہ:

’’آپ کے دوستوں نے صحیح کہا ہے، اس لئے کہ ہر آدمی اپنی ذہنی سطح پر سوچنے پر مجبور ہوتا ہے، وہ کیڑا جو غلاظت کے اندر رہتا ہے، اس کا زمین و آسمان وہی ہے، وہ اس سے زیادہ سوچ ہی نہیں سکتا، وہ کیڑاجو پتھر کے اندر رہتا ہے وہ نہیں سوچ سکتا کہ دنیا اس سے زیادہ بھی وسیع ہوسکتی ہے، اس لئے کہ تم لوگ اپنی ذاتی

288

منفعت، ذاتی ضروریات، وجاہت، مال و جاہ یا اسی طرح کسی دوسرے دنیاوی مفاد سے ہٹ کر سوچ ہی نہیں سکتے، تمہاری سمجھ میں یہ آہی نہیں سکتا کہ کوئی آدمی خالص اللہ کی رضا کے لئے بھی اس زمانے میں کام کرسکتا ہے؟ یہ تمہاری عقل میں نہیں آسکتا؟ میں تمہیں معذور سمجھتا ہوں، اللہ کا شکر ہے جو کچھ کرتا ہوں محض رضا الٰہی کے لئے کرتا ہوں، واللہ! کوئی مقصد نہیں، نہ کوئی سیاسی مقصد ہے، نہ کوئی عزت کا مقصد ہے، نہ کوئی وجاہت کا مقصد ہے، نہ کوئی روٹی کا مقصد ہے، بلکہ اللہ کا شکر ہے تم سے زیادہ اچھی مل رہی ہے اور اتنی آرام سے مل رہی ہے کہ تم سوچ بھی نہیں سکتے۔‘‘

دُنیا میں جنت کا مزہ:

میں تمہیں ایک لطیفہ سناتا ہوں کہ ایک بار میں بیٹھا تھا کہ ایک ساتھی کہنے لگا: کیا حال ہے؟میں نے کہا: ہمارا حال کیا پوچھتے ہو؟ چونکہ وہ میری بات کا مطلب نہ سمجھ پایا تھا، اس لئے اس نے سمجھا کہ شاید اس کو کوئی تکلیف ہے یا یہ دکھی ہے؟ اگرچہ بظاہر اس کو کوئی تکلیف نظر نہ آئی تاہم مجھے کہنے لگا: کیا بات ہے؟ کیا بڑھاپا آگیا ہے؟ میں نے کہا: میرا بھائی! تم نے میرا مطلب ہی نہیں سمجھا، اس لئے کہ اگر جنت کے اندر رہتے ہوئے آپ کسی جنتی سے پوچھیں: کیا حال ہے؟ تو اس کا جو جواب ہوگا وہی میرا جواب ہے، یعنی جنتی سے جنت کے اندر رہتے ہوئے پوچھیں گے کہ: کیا حال ہے؟ تووہ بھی یہی کہے گا کہ ہمارا کیا حال پوچھتے ہو؟ میں نے کہا: اللہ کی قسم! مجھے اللہ تعالیٰ نے زندگی میں جنت کا مزہ عطا کردیا ہے، مجھے کوئی تکلیف نہیں اور دنیا کی کوئی فکر نہیں، کوئی فاقہ نہیں ہے، اب میں تمہیں کیا بتائوں کہ کیا حال ہے؟ میں تو تمہیں جنتی والا ہی جواب دے سکتا ہوں۔

تم لوگ تو جانتے ہی نہیں کہ زندگی کیا ہے؟ اور زندگی کا مزہ کیا ہے؟ زندگی کی حقیقت کیا ہے؟ تم تو اپنی ذہنی سطح سے اُوپر سوچنے سے ہی معذور ہو، اس لئے تم کہتے ہو:

289

’’کارِ مُلَّا فی سبیل اللہ فساد!‘‘ نعوذ باللہ! ثم نعوذ باللہ!

یہی وجہ ہے کہ جو کام بھی دین کے نام پر کیا جائے تم کہتے ہو، یہ اغراض و مقاصد کے لئے ہے۔

تحریک ۱۹۵۳ء کے اغراض و مقاصد:

ابھی آپ لوگوں نے پڑھا ہوگا، جسٹس جاوید اقبال، جو ہماری عدالت کا معزز رکن بھی رہا ہے، اور اس میں سب سے بڑی خوبی یہ ہے کہ وہ علامہ اقبال کا نطفہ ہے، مجھے معاف کیجئے میں یہی لفظ استعمال کرتا ہوں اور جان بوجھ کر استعمال کرتا ہوں، اس نے کہا کہ: ’’۱۹۵۳ء کی تحریک سیاسی اغراض کے لئے چلائی گئی تھی!‘‘

حیف! صد حیف ہے! اُن لوگوں پر جو یہ کہتے ہیں کہ ۱۹۵۳ء کی تحریک سیاسی اغراض کے لئے چلائی گئی تھی، اللہ تعالیٰ کی قسم! یہ تحریک ان لوگوں نے چلائی تھی جن کی شکل دیکھنا جنت میں داخل ہونے کی ضمانت تھی، یعنی جن کی شکل دیکھنے سے جنت ملتی تھی، ایسے اللہ کے مخلص بندوں نے یہ تحریک چلائی تھی۔ یہ اللہ کے وہ مخلص بندے تھے جنہوں نے اپنے نام، نمود، نمائش اور تمام چیزوں کا پتہ کاٹ دیا تھا، ان کے ہاں یہ چیزیں تھیں ہی نہیں، تم جانتے ہو! امیرِ شریعت سیّد عطاء اللہ شاہ بخاریؒ، مجاہدِ ملت مولانا محمد علی جالندھریؒ اور اس سطح کے دوسرے ان اکابرؒ نے یہ تحریک چلائی تھی کہ خدا کی قسم! اگر ان کی جوتیاں سر پر رکھ لیں تو ہمیں جنت نصیب ہوجائے۔ تم کہتے ہو کہ یہ سیاسی اغراض کے لئے تھی، میں واشگاف الفاظ میں کہنا چاہتا ہوں کہ مرزائیوں نے تمہیں لقمہ دیا ہے، اور تم نے ان کی بولی بولنا شروع کردی ہے، عقل و دماغ اللہ نے تمہیں بھی دیا ہے، ذرا بتلاؤ کون سا سیاسی مقصد تھا؟ جس کے لئے یہ تحریک چلائی گئی تھی؟ مجھے ذرا بتائو تو سہی؟ میرے سوال کا جواب دو! سیاسی تجزیہ کرکے بتلاؤ کہ کیا اغراض تھیں؟ جانتے بھی ہو کہ سیاست کیا ہوتی ہے؟ ہاں! میں جانتا ہوں، اگرچہ میں سیاسی آدمی نہیں ہوں، میں تو شروع سے مُلَّاں ہوں،مسجد میں بیٹھتا ہوں، باہر پنڈالوں، میدانوں اور باغوں باغیچوں میں جو جلسے کرتے ہیں، میری طبیعت وہاں نہیں

290

چلتی، مسجد میں چلتی ہے، مُلَّاں ہوں، خاص خداکے گھر میں بیٹھ کر مجھے بات کرنا آتی ہے، لیکن الحمدللہ! تم سے سیاست زیادہ جانتا ہوں، تمہیں یہی معلوم نہیں کہ سیاست کس چیز کا نام ہے؟ تم نے ذاتی مفادات اور اغراض و مقاصد کے حصول کا نام سیاست رکھ لیا ہے، یہ سیاست نہیں ہے، یہ قوم کو دھوکا دینا ہے، تم قوم کو کھلونا بناتے ہو، اس سے کھیلتے ہو، تم نے قوم کو بازیچۂ اطفال اور فٹ بال بنایا ہوا ہے، کیا اس کا نام سیاست ہے۔۔۔؟

میںیہ کہنا چاہ رہا تھا کہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:’’یجاہدون فی سبیل اللہ‘‘ وہ جہاد کریںگے اللہ کے راستے میں:’’ولا یخافون لومۃ لائم‘‘ اور کسی ملامت کرنے والے کی ملامت کی پرواہ نہیں کریں گے، چاہے جاوید اقبال ہو یا کوئی اور، شوکت حیات ہو یا دولتانہ، ناظم الدین ہو یا آج کا صدر محمد اسحق خان، وزیراعظم نواز شریف ہو یا بے نظیر، امریکہ بہادر ہو یا ملکہ برطانیہ، الحمدللہ! ہمیں کسی ملامت کرنے والے کی ملامت کی پروا نہیں ہے، صرف ایک ذات پر نگاہ ہے، اور وہ ہے اللہ تعالیٰ کی ذات! صرف اور صرف یہی غرض ہے کہ وہ راضی ہوجائے اور بس! مسجد اور خانۂ خدا میں بیٹھا ہوں اور حلفاً کہتا ہوں کہ ایک پیسے کا لالچ نہیں، اور ایک آدمی کو اپنے ساتھ ملانے کالالچ نہیں، تم نے سمجھا ہی نہیں، تم نے جانا ہی نہیں کہ اللہ تعالیٰ کے بندے کیسے ہوتے ہیں؟ ارے تم نے اللہ کے بندے دیکھے ہی نہیں:

گل کو ناز ہے اپنی نزاکت پر چمن میں اے ذوق

اس نے دیکھے ہی نہیں ناز و نزاکت والے!

تم نے آدمی دیکھے ہی نہیں، تمہیں معلوم ہی نہیں کہ آدمی کون ہوتے ہیں؟ تم نے تو اس بھیڑ کو جو بازاروں میں پھر رہی ہے اور یہ جو اسمبلیوں میں بیٹھتی ہے، جو امریکہ اور برطانیہ کے طواف کرتی ہے، اس بھیڑ کو انسان سمجھ لیا ہے۔ میرے بھائی! یہ آدمی نہیں ہیں، یہ آدمیوں کی شکلیں ہیں بلکہ گستاخی معاف! یہ بھیڑئیے ہیں جو انسانوں کے لباس میں ہیں۔

تم نے آدمی نہیں دیکھے، کبھی آؤ اور آکر آدمیوں کے پاس بیٹھو، لیکن تمہیں اپنی انا چھوڑ کر مسجد کی چٹائی پہ آنا ہوگا، چٹائی پر بیٹھنا ہوگا، پھر تمہیں پتہ چلے گا کہ آدمی کون ہیں؟ اور

291

سکونِ قلب کی دولت کس کے پاس سے ملتی ہے؟:

تمنا دردِ دل کی ہے تو کر خدمت فقیروں کی

نہیں ملتا یہ گوہر بادشاہوں کے خزینوں میں

جلا سکتی ہے شمع کشتہ کو موج نفس ان کی

الٰہی کیا چھپا ہوتا ہے اہلِ دل کے سینوں میں

خیر بات دوسری طرف چلی گئی، میں یہ کہنا چاہ رہا تھا کہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں وہ اللہ کے راستے میں جہاد کریں گے، مگر تم کہتے ہو: ’’کارِ مُلَّا فی سبیل اللہ فساد!‘‘

جہاد کی قسمیں:

یاد رکھو! جہاد تین قسم کا ہوتا ہے:

اوّل: مال کے ساتھ جہاد ہوتا ہے، جیسا کہ ارشاد ہے: ’’وَجَاھِدُوْا بِأَمْوَالِکُمْ وَاَنْفُسِکُمْ فِیْ سَبِیْلِ اللہِ۔‘‘ قرآن کریم میں بار بار آتا ہے کہ مال کے ساتھ جہاد ہوتا ہے اور صحابہ کرامؓ نے مالی قربانیوں کے ایسے ریکارڈ قائم کئے اور ایسی مثالیں پیش کیں کہ کوئی ان کو نہیں دُہرا سکتا، میں یہاں ان تفصیلات کو ذکر نہیں کرنا چاہتا۔

’’یوزن یوم القیامۃ مداد العلماء بدم الشہداء!‘‘

(اِحیاء العلوم ج:۱ ص:۶، طبع بیروت)

ترجمہ: … ’’قیامت کے دن علماء کے قلم کی سیاہی شہداء کے خون سے تولی جائے گی۔‘‘

یعنی علماء کے قلم کی روشنائی شہیدوں کے خون سے تولی جائے گی، باطل کے مقابلے میں قلم اور زبان کے ساتھ جہاد کرنا اور کبھی باطل کے ساتھ مصالحت نہ کرنا۔

سوم: … تیسرا درجہ یہ ہے کہ اگر ضرورت ہو تو بارگاہِ الٰہی میں نذرانۂ سر پیش کردینا اور جان کی قربانی پیش کردینا۔

292

اللہ کا شکر ہے کہ اللہ کے بندے تینوں قسم کے جہاد کے لئے تیارہیں، اور ملامت کرنے والوں کی ملامت کی پرواہ نہیں کرتے۔ اگرچہ انہیں کوئی: سر پھرا کہے، کوئی: مذہبی جنونی کہے، اور کوئی: سیاسی اغراض و مقاصد کا طعنہ دے، کوئی کچھ کہے، کوئی کچھ کہے، بلکہ جس کے منہ میں جو آئے کہے، مگر وہ:’’وَلَا یَخَافُوْنَ لَوْمَۃَ لَآئِمٍ‘‘ کے مصداق کسی ملامت کرنے والے کی ملامت کی پرواہ نہیں کرتے، اور یہ ان کا کمال نہیں بلکہ: ’’ذَالِکَ فَضْلُ اللہِ یُؤْتِیْہِ مَنْ یَّشَآئُ‘‘ یہ اللہ کا فضل ہے دیتے ہیں جس کو چاہتے ہیں۔ ہاں! یہ ہر ایک کو نہیں ملتا، یہ دولتِ عظمیٰ ہر ایک کو تھوڑی دیتے ہیں؟ ’’وَاللہُ وَاسِعٌ عَلِیْمٌ‘‘ اللہ بڑی وسعت والا اور بڑے علم والا ہے۔

اس آیت کریمہ کے سب سے پہلے مصداق حضرت ابوبکرصدیقؓ اور ان کی جماعت کے حضرات تھے، اس لئے کہ جب پورے عرب میں ارتداد کی آگ پھیل گئی تھی اور گیارہ قسم کے قبائل مرتد ہوگئے تھے تو اس وقت حضرت ابوبکر صدیقؓ کی فراست اور حضرت خالدؓ کی تلوار کے ذریعہ اس ارتداد کا قلع قمع کیا گیا، دوسال بعد جب حضرت ابوبکر صدیقؓ، آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے جاکر ملتے ہیں اور ان کی بارگاہ میں سلام کرتے ہیں، تو گویا دوسال کے بعد غلام اپنے آقا کی خدمت میں اس طرح سرخرو ہوکر حاضر ہوتا ہے کہ پورا عرب دوبارہ اسلام کے زیر نگیں تھا اور صدیقی فوجیں فارس اور روم کا مقابلہ کررہی تھیں۔

خلاصہ یہ کہ آپؓ ہی پہلے مصداق تھے اور وہ چھ کی چھ صفات اللہ تعالیٰ نے آپؓ کی ذات میں جمع کردی تھیں۔

اس کے بعد بھی مختلف زمانوں میں ارتداد کے فتنے ظاہر ہوتے رہے، اللہ تعالیٰ اپنے اس وعدے اور پیش گوئی کے مطابق ان مرتدین کے مقابلے میں بھی ایک ایک قوم کو لاتا رہا، مگر ان سب کے پہلے قائد، پیشوا اور امام حضرت ابوبکر صدیقؓ تھے، بعد میں آنے والے سب کے سب ان کے پیچھے نیت باندھ کرکے کھڑے نظر آتے ہیں۔

اس دور میں اس آیت کا مصداق:

حضرت امیرِ شریعت مولانا سیّد عطاء اللہ شاہ بخاریؒ کا جلسہ تھا اور شیخ الاسلام مولانا شبیر احمد عثمانیؒ کی تقریر تھی، مولانا شبیر احمد عثمانیؒ نے یہی آیتِ کریمہ پڑھی اور بھرے جلسے میں اعلان کیا کہ: ’’میں گواہی دیتا ہوں کہ آج اس آیت کا مصداق عطاء اللہ شاہ بخاریؒ

293

کی جماعت ہے۔۔۔!‘‘

اس سلسلے میں مجھے مزید کچھ باتیں کہنا تھیں لیکن چونکہ وقت بہت زیادہ ہوگیا ہے، اس لئے صرف ایک بات کہہ کر اپنی معروضات ختم کرتا ہوں، تفصیلات ہمارے حضرت مولانا اللہ وسایا صاحب، مولانا محمد اکرم طوفانی صاحب اور دوسرے احباب آپ کی خدمت میں پیش کریں گے۔

زندگی کے دومیدان:

ایک بات کہنا چاہتا ہوں توجہ سے سنو! وہ یہ کہ زندگی کے دو میدان ہیں، یا یوں کہو کہ آدمی اپنی زندگی میں جو محنت کرتا ہے، اس کے دومیدان ہیں۔

اوّل: … دنیا میں دنیا کے لئے محنت کرنا، مثلاً: کسی کی پچاس، ساٹھ سال کی عمر تھی یا جتنی بھی مقدر تھی، وہ اس پوری کی پوری عمر میں دنیا کے لئے محنت کرتا رہا، لیکن جب وہ اس دنیا سے گیا تو سب کچھ یہاں چھوڑ گیا، اور خود خالی ہاتھ چلاگیا، ملازمتیں حاصل کیں، بڑے بڑے عہدے حاصل کئے، اُونچے اُونچے منصب حاصل کئے، اور اُونچی اُونچی پروازیں کیں، لیکن جاتے ہوئے کوئی چیز بھی ساتھ نہیں گئی، یہ ہے دنیا کی محنت دنیا کے لئے، جس کو قرآن کریم نے خسارہ کی محنت اور گھاٹے کا عمل قرار دیتے ہوئے فرمایا: ’’قُلْ ہَلْ اُنَبِّئُکُمْ بِالْاَخْسَرِیْنَ اَعْمَالًا‘‘ (میں تمہیں بتائوں کہ سب سے زیادہ خسارے کے عمل والے کون سے ہیں؟ ’’اَلَّذِیْنَ ضَلَّ سَعْیُہُمْ فِی الْحَیٰوۃِ الدُّنْیَا‘‘ وہ لوگ جن کی ساری محنت دنیا میں برباد ہوگئی اور وہ شریف آدمی یہ سمجھتے ہیں کہ ہم بڑا اچھا کام کررہے ہیں۔ تو زندگی کا ایک رُخ تو یہ ہے کہ دنیا کی زندگی میں دنیا کے لئے محنت کی جائے، چونکہ یہ نقد ہے اور ادھار نہیں ہے، اور چونکہ یہ آنکھوں سے نظر آنے والی ہے کوئی غیب کی چیز نہیں، اس لئے میں اور آپ بلکہ ساری دنیا کا رُخ اس طرف ہے، اس لئے اس کو بیان کرنے کی ضرورت نہیں۔

دوم: … دوسری محنت اور محنت کا میدان یہ ہے کہ دنیا میں آخرت کے لئے محنت کی جائے، پھر آخرت میں بہت سی چیزیں ہیں، لیکن سب سے بڑی چیز یہی ہے کہ: ’’یُحَبُّہُمْ وَیُحِبُّوْنَہٗ‘‘ کا اعزازا حاصل ہوجائے، یعنی اللہ راضی ہوجائے اور ہم اللہ سے راضی ہوجائیں، جیسا کہ صحابہ کرامؓ کے بارہ میں فرمایا:’’رَضِیَ اللہُ عَنْہُمْ وَرَضُوْا عَنْہُ‘‘

294

اللہ ان سے راضی، اور وہ اللہ سے راضی، محنت کے لئے اللہ نے بہت سے راستے رکھے ہیں، یعنی دنیا کی محنت کے لئے بہت سے راستے ہیں، مثلاً: محنت کا راستہ تجارت بھی ہے، تعلیم بھی ہے، اور فلاں اور فلاں بھی ہے، حد تو یہ ہے کہ ہیروئن کی خرید و فروخت بھی ایک راستہ ہے، چاہے پکڑے ہی کیوں نہ جائیں۔

اسی طرح آخرت کی محنت کے لئے بھی اللہ تعالیٰ نے بہت سے شعبے رکھے ہیں اور میں یہ سمجھتا ہوں اور میری بات کو یاد رکھو، دین کے جس شعبے میں جو آدمی کام کررہا ہے، وہ اللہ تعالیٰ کے لشکر کا سپاہی ہے اور قابلِ احترام ہے۔ یہ معمولی سپاہی اور کانسٹیبل جو سرکاری وردی میں ہوتا ہے، اگر کوئی اس کی یا اس کی وردی کی توہین کرے، اس وردی کی توہین کرنے والا سرکاری مجرم کہلائے گا۔ اس لئے جتنے بھی اہل ایمان ہیں اور دین کے کسی بھی شعبے میں کام کررہے ہوں ان کو لائق احترام سمجھو۔یہ بات دوسری ہے کہ جس طرح تجارت کے بعض شعبے زیادہ نفع بخش ہوتے ہیں اور بعض کم، اسی طرح ان کے بعض شعبے بعض سے اہم ہوتے ہیں اور بعض میں دوسرے کی نسبت منفعت زیادہ ہوتی ہے۔

قادیانیوں سے مقابلے کا اجرو ثواب:

قادیانیوں سے مقابلہ کرنا، قرآن کریم کی اس آیت کی رو سے ان چھ انعامات کے ملنے کی سند اور ضمانت ہے، جو شخص چاہے وہ سرکاری افسر ہو یا عام آدمی، تاجر ہو یا مزدور، وکیل ہو یا جج، مُلَّا مولوی ہو یا مسٹر، غرض جو شخص بھی یہ چاہے کہ وہ اس آیت کا مصداق بن جائے یا حضرت ابوبکر صدیقؓ کی معیت اور ان کی اِقتدا میں اس آیتِ شریفہ کی بشارت کا مستحق بن جائے، اس کے لئے ضروری ہے کہ وہ اس زمانے میں غلام احمد قادیانی کی جھوٹی نبوّت اور اس کی ذریتِ خبیثہ کا مقابلہ کرے، مقابلے کی کیا کیا شکلیں ہیں؟ اب میں ان شکلوں کو بھی پیش کرتا، مگر افسوس کہ وقت ختم ہوگیا ہے، اس لئے میں انہی الفاظ پر ختم کرتا ہوں اور ان چیزوں کو اپنے دوستوں پر چھوڑتا ہوں!

وما علینا الّا البلاغ!

(بشکریہ ماہنامہ ’’لولاک‘‘ ملتان)

295

عقیدۂ ختمِ نبوّت کے لئے

کام کرنے والوں کے لئے خصوصی اِنعام

بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ

اَلْحَمْدُ للہِ وَسَلَامٌ عَلٰی عِبَادِہِ الَّذِیْنَ اصْطَفٰی!

نبی آخر الزماں صلی اللہ علیہ وسلم سے وابستگی اور آپؐ سے محبت و تعلق ہر مسلمان کے لئے ایک بنیادی اعزاز و اکرام کا باعث ہے اور جتنا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے تعلق اور شرف میں اضافہ ہوگا اتنا ہی انسان کا رتبہ اور شرف اللہ تعالیٰ کے یہاں بھی اور دنیا میں بھی زیادہ ہوگا، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کو اتنے بڑے انعامات عطا ہوئے، اس کی کئی ایک وجوہات تھیں، ایک نبی آخر الزماں صلی اللہ علیہ وسلم کی زیارت اور صحبت و رفاقت اور دوسری حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے خاص انس و تعلق، اسی بنا پر ان کو ’’حزب اللہ‘‘ (اللہ تعالیٰ کی جماعت) کا کہیں خطاب ملا، کہیں اولیاء اللہ کا خطاب عطا ہوا اور کہیں ’’رضی اللہ عنہم ورضوا عنہ‘‘ (اللہ تعالیٰ ان سے راضی ہوا اور وہ اللہ تعالیٰ سے راضی ہوئے)۔ اس تعلق اور انس کی برکت ہے کہ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے معمولی درجے کے عمل کو بھی اتنی مقبولیت حاصل ہوئی کہ آج کے ولی کامل اس سے ہزار گنا زیادہ بھی عمل کرلیں تو اتنی مقبولیت حاصل نہیں ہوگی، اس لئے فقہائے کرام نے تصریح کی ہے کہ ہزاروں اولیاء اللہ، مجدد اور قطب مل جائیں تو ایک ادنیٰ صحابی کے برابر نہیں ہوسکتے، ان صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے ساتھ اگر کوئی شخص مماثلت کرنا چاہتا ہے اور اس کی خواہش ہے کہ اللہ تعالیٰ اس کے اعمال کے بدلے وہ انعامات اور اعزازات عطا کریں جو صحابہ رضی اللہ عنہم اجمعین کو حاصل تھے تو اس کو صحابہ کرام رضی اللہ عنہم

296

اجمعین والا تعلق اپنے اندر پیدا کرنا ہوگا۔ محدث العصر حضرت مولانا سیّد محمد انور شاہ کشمیری رحمۃ اللہ علیہ، امیر شریعت سیّد عطا اللہ شاہ بخاری رحمۃ اللہ علیہ، مولانا محمد علی جالندھری رحمۃ اللہ علیہ، قاضی احسان احمد شجاع آبادی رحمۃ اللہ علیہ سے عاشق رسول، حضرت مولانا سیّد محمد یوسف بنوری رحمۃ اللہ علیہ، مفتی احمدالرحمن رحمۃ اللہ علیہ، حضرت پیر مہر علی شاہ گولڑہ شریف وغیرہ کی تصریحات اور تجربات کے نچوڑ سے میں یہ کہتا ہوں کہ اس دور میں اگر حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اجمعین والا تعلق کوئی قائم کرنا چاہتا ہے تو وہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے عقیدۂ ختمِ نبوّت کے تحفظ کے لئے اپنے آپ کو وقف کردے کیونکہ موجودہ دور میں اسلام کو عیسائیت، یہودیت، ہندومت، بدھ مت، کمیونزم وغیرہ سے اتنا خطرہ نہیں کیونکہ یہ کھلے دشمن ہیں، اس وقت عیسائی پوری دنیا میں ہزاروں مشنریوں کے ذریعے مسلمانوں کو مرتد بنانے کے درپے ہیں، لیکن اللہ تعالیٰ کا فضل و کرم ہے کہ وہ مسلمانوں کے ایمان کو متزلزل نہیں کرسکے، لیکن قادیانیت اسلام کے لئے خطرہ ہے جو اسلام کی آڑ میں، اسلام کے لبادے میں، اسلامی طور و طریقہ اختیار کرکے مسلمانوں کے دلوں، دماغوں میں شکوک و شبہات پیدا کرنے کی کوشش کر رہے ہیں وہ مسیلمہ کذاب اور دیگر جھوٹے مدعیانِ نبوّت کے نقش قدم پر چل کر مسلمانوں کو اسلام کے نام پر دھوکہ دے رہے ہیں، وہ مسلمانوں جیسی عبادت گاہیں قائم کرتے ہیں، وہ مسلمانوں کا کلمہ پڑھ کر اس سے مرزا غلام احمد قادیانی مراد لیتے ہیں، وہ اسلام کی آڑ میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم اور انبیائے کرام علیہم السلام کی توہین کے مرتکب ہوتے ہیں، وہ مسلمانوں کو کافر قرار دیتے ہیں، وہ ختمِ نبوّت کا عقیدہ رکھنے والوں کے دشمن ہیں، اس لئے ان کا بائیکاٹ کرکے ان کی تبلیغی سرگرمیوں کو روک کر مسلمان نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے وابستگی قائم رکھ سکتے ہیں، اللہ تعالیٰ مسلمانوں کے ایمان کی حفاظت فرمائیں۔

(ہفت روزہ ختمِ نبوّت کراچی ج:۵۱ ش:۴۱)

297

ختمِ نبوّت

اور برطانوی مسلمانوں کی ذمہ داری

 

بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ

اَلْحَمْدُ للہِ وَسَلَامٌ عَلٰی عِبَادِہِ الَّذِیْنَ اصْطَفٰی!

’’ہر سال ماہ اگست میں عالمی مجلس تحفظ ختمِ نبوّت کی جانب سے انگلینڈ میں ختمِ نبوّت کانفرنس کا اہتمام کیا جاتا ہے۔ حضرت مولانا محمد یوسف لدھیانوی شہیدؒ جب اس سلسلہ میں یورپ تشریف لے جاتے تو روزنامہ ’’جنگ‘‘ ان سے پینل انٹرویو کیا کرتا تھا، اس سلسلہ کا آپؒ کا ایک انٹرویو پیش خدمت ہے۔‘‘

(سعید احمد جلال پوری)

جنگ:۔۔۔مولانا محمد یوسف لدھیانوی صاحب آپ برطانیہ میں ختمِ نبوّت کانفرنس کے سلسلے میں آئے، کیا ایسی کانفرنسوں کے انعقاد کے مثبت نتائج برآمد ہوتے ہیں؟

جواب:۔۔۔ہم یہاں ہر سال صرف اس لئے آتے ہیں کہ یہاں آباد مسلمانوں کو فتنۂ قادیانیت کے بارے میں بتایا جائے اور ایسی کانفرنسوں کا مقصد یہ ہے کہ خود قادیانیوں کو اسلام کی طرف راغب کیا جائے جو گمراہی کے راستے پر چل رہے ہیں۔ پوری اُمتِ مسلمہ یہ تسلیم کرتی ہے کہ حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم نبی آخرالزماں ہیں اور ان کے بعد کوئی نبی نہیں آئے گا، اور اس بارے میں کبھی بھی دو رائیں نہیں ہوئیں کہ جو شخص خود کو نبی کہے گا وہ مرتد اور واجب القتل ہے، لیکن مرزا غلام احمد قادیانی نے نبوّت کا دعویٰ کیا، اس نے

298

نہ صرف خود کو حضرت مسیح قرار دیا بلکہ یہ بھی کہا کہ وہ نعوذباللہ! امام مہدی بھی ہیں۔ اس طرح انہوں نے دو شخصیتوں کو ایک کردیا۔ مرزا غلام احمد قادیانی نے کہا کہ اللہ تعالیٰ نے انہیں شروع سے ہی حضرت مسیح کی پیش گوئی میں شامل کر رکھا تھا اور اسے الہام ہوا کہ حضرت مسیح کی وفات ہوگئی ہے۔ مرزا غلام احمد نے یہ بات ۴۸۸۱ء میں اپنی کتاب ’’براہین احمدیہ‘‘ میں لکھی کہ جب حضرت مسیح دنیا میں تشریف لائیں گے تو اسلام ہر سو پھیل جائے گا، لیکن ۴۹۸۱ء میں یہ دعویٰ کردیا کہ ان کی وفات ہوگئی ہے۔ میں پوچھتا ہوں کہ اتنے تھوڑے عرصے میں ان کی وفات کیسے واقع ہوگئی؟ اور نبوّت کے حوالے سے پہلے مرزا غلام احمد قادیانی کا یقین کامل تھا کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم آخری نبی ہیں، لیکن ۱۰۹۱ء میں انہوں نے دعویٰ کیا کہ میں ہی نعوذباللہ! حضرت محمد ہوں۔ اس کی دلیل اس نے یہ دی کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد کوئی نبی نہیں آسکتا لیکن حضور خود تو واپس آسکتے ہیں اور نعوذباللہ! حضورؐ، مرزا قادیانی کے روپ میں آئے ہیں۔ گویا کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا دو دفعہ دنیا میں آنا مقدر تھا۔ ایک بار چھٹی صدی عیسوی میں اور دوسری مرتبہ چودھویں ہجری کے آغاز پر یعنی ۱۰۹۱ء میں ان کی دوسری بعثت شروع ہوگئی۔ اس لحاظ سے بقول مرزا غلام احمد، حضورؐ کی پہلی بعثت ختم ہوگئی ہے۔

مرزا غلام احمد کے بیٹے مرزا بشیر احمد نے ’’کلمۃ الفصل‘‘ میں لکھا ہے کہ مسلمان تو اپنے کلمے میں دوسرے نبیوں کو شامل کرتے ہیں لیکن قادیانی اس میں ایک اور نبی یعنی مرزا غلام احمد قادیانی کو بھی شامل کرتے ہیں۔ مرزا بشیر احمد کہتے ہیں کہ قادیانیوں کے نزدیک مرزا غلام احمد کی صورت میں حضورؐ ہی واپس آئے ہیں کوئی دوسرا نہیں آیا، اس طرح رسول اللہ کے بھی دو مفہوم ہوجاتے ہیں، ایک رسول اللہ مکہ اور مدینہ والے اور نعوذباللہ! دوسرا رسول اللہ قادیان والا ہے۔

اب آپ غور کریں کہ مسلمان جب کلمہ پڑھتے ہیں تو ان کے ذہن میں مکہ اور مدینہ والے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہوتے ہیں، جبکہ قادیانی جب کلمہ پڑھتے ہیں تو ان کے ذہن میں رسول اللہ سے مراد بعثتِ ثانیہ اور نعوذباللہ! مرزا غلام احمد قادیانی ہوتا ہے۔

299

ایک بنیادی بات یہ ہے کہ دین کی جڑ توحید اور رسالت ہے، باقی چیزیں نماز، روزہ، حج اور زکوٰۃ کی حیثیت ثانوی ہے، لیکن قادیانیوں نے آری لے کر اس پودے کو جڑ سے ہی کاٹ دیا ہے اور محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے مقابلہ میں ایک نیا محمد لاکھڑا کیا ہے۔

ہم برطانیہ میں اور دنیا بھر کے مختلف ممالک میں یہی پیغام پہنچانا چاہتے ہیں کہ چونکہ دین اور ایمان کا مسئلہ نجات کا مسئلہ ہے اور آخرت کی بربادی یا اس کا بن جانا اس عقیدے پر موقوف ہے، اس لئے مسلمان بھائیوں کو قادیانیوں کے گمراہ کن پروپیگنڈے سے ہر لمحہ ہوشیار رہنے کی ضرورت ہے۔

ہم تو قادیانیوں کو بھی یہ پیغام دیتے ہیں کہ قیامت کے روز ہر شخص جب اللہ کی بارگاہ میں کھڑا ہوگا تو اسے اپنے عقائد و اعمال کا خود حساب دینا ہوگا۔

آپ مجھے قرآن سے کوئی آیت دکھادیں جس میں یہ ذکر ہو کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام فوت ہوگئے ہیں۔ ہاں اللہ تعالیٰ نے ان کی زندگی میں ہی یہ فرمادیا تھا کہ میں قیامت کے روز انہیں وفات دوں گا۔ آپ تمام احادیث کا مطالعہ کرلیں، ڈیڑھ لاکھ سے زائد صحابہؓ کے اقوال دیکھ لیں، چودہ صدیوں کے اکابرین اُمت اور تمام ائمہ دین نے اس بات سے اتفاق کیا ہے کہ حضرت مسیح علیہ السلام زندہ ہیں، خود حضور صلی اللہ علیہ وسلم شب معراج میں ان سے ملاقات کرکے آئے ہیں، اب میں کس طرح کہہ دوں کہ مرزا غلام احمد سچا ہے اور تمام اکابرین اُمت جھوٹے ہیں؟ اور میری نظر میں یہی مسئلہ ختمِ نبوّت ہے۔

ربوہ والی جماعت مرزا غلام احمد قادیانی کو نبی تسلیم کرتی ہے جبکہ قادیانیوں کی لاہوری جماعت مرزا غلام احمد کو نبی نہیں مانتی بلکہ وہ اسے مجدد تسلیم کرتی ہے، اور وہ جماعت بھی ختمِ نبوّت کے عقیدہ پر یقین رکھتی ہے۔

حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے قرب قیامت کی جو نشانیاں بیان کی ہیں ان میں چھوٹی علامتیں یہ ہیں کہ ہر طرف جہل پھیل جائے گا، امانت اور دیانت اٹھ جائے گی اور لہو و لعب ہوگا۔ دوسری بڑی نشانی دجال کی آمد ہے، وہ جب نبوّت اور خدائی کا دعویٰ کرے گا تو یہودی

300

اسے امام مانیں گے اور اس کے جھنڈے کے نیچے جمع ہوجائیں گے، وہ ایسے ایسے شعبدے دکھائے گا کہ عقل حیران رہ جائے گی، وہ چالیس دنوں کے اندر پوری دنیا کا دورہ کرے گا، اس کا فتنہ اتنا شدید ہوگا کہ علماء اور صلحاء مل کر اس کا مقابلہ نہیں کر پائیں گے۔ دجال کے فتنہ کے بارے میں تمام انبیاء نے، حضرت نوح علیہ السلام نے بھی ذکر کیا ہے اور اس کی بددینی سے ڈرایا ہے، اس وقت حضرت مسیح علیہ السلام بیت المقدس میں اتریں گے جہاں مسلمانوں کے امام جو حضرت امام مہدی ہوں گے، حضرت مسیح علیہ السلام ان کے پیچھے نماز ادا کریں گے۔ وہاں حضرت مسیح علیہ السلام دجال کے قتل کا حکم دیں گے، دجال حضرت مسیح علیہ السلام کو دیکھ کر پگھلنے لگے گا اور وہ بھاگے گا، حضرت عیسیٰ علیہ السلام اس کا تعاقب کریں گے، یہاں تک کہ مقام ’’لُدّ‘‘ میں اسے جالیں گے اور قتل کردیں گے، یوں اس کی موت واقع ہوجائے گی۔

اب آپ دیکھیں کہ۱۹۴۷ء میں پاکستان کی قومی اسمبلی نے قادیانیوں کو غیرمسلم قرار دیا تھا، ان کو اس فیصلے سے اختلاف بھی ہے کیونکہ کوئی شخص اپنے خلاف عدالتی فیصلے کو کبھی تسلیم نہیں کرتا۔ یہ بات تاریخ کا حصہ ہے کہ قومی اسمبلی میں قادیانیوں کو اپنا کیس پیش کرنے کے لئے پورے گیارہ دن دئیے گئے، اس میں لاہوری پارٹی کو دو روز ملے تھے، اور اب تو قومی اسمبلی کا فیصلہ بھی چھپ کر آگیا ہے۔

میں پوچھتا ہوں کہ جب مرزا طاہر احمد نے اپنا موقف قومی اسمبلی کے سامنے پیش کردیا تھا پھر انہیں کیا شکایت ہے؟ جب قومی اسمبلی نے فیصلہ دیا تھا تو اس وقت تمام اراکین اسمبلی جیوری تھے اور اسمبلی ایک عدالت تھی، اس وقت کے وزیر قانون حفیظ پیرزادہ نے حکومت کی وکالت کی تھی، اس ساری کاروائی کے بعد قومی اسمبلی نے متفقہ فیصلہ دیا تھا کہ قادیانی کافر ہیں، ان کے عقائد کے پیش نظر انہیں مسلمان نہیں کہا جاسکتا۔

حال ہی میں جرمنی میں کیتھولک فرقے نے عدالت سے رجوع کیا تھا کہ پروٹسٹنٹ فرقے کو ان کے شعائر استعمال کرنے سے روکا جائے، جس پر عدالت نے کیتھولک فرقے کے حق میں فیصلہ دیا ہے، اس کی وجہ یہ ہے کہ کیتھولک فرقہ صدیوں سے

301

اپنی روایات اور شعائر پر عمل کرتا چلا آرہا ہے، اس لئے عدالت نے انہیں حق بجانب قرار دیا، اسی طرح مسلمانوں کے شعائر کو قادیانی استعمال نہیں کرسکتے۔

قادیانی اپنے اوپر ہونے والے جھوٹے اور بے بنیاد مظالم کی داستانیں گھڑ کر پاکستان کو بدنام کر رہے ہیں، حالانکہ یہ لوگ دوسری اقلیتوں کے مقابلے میں اونچی اونچی پوسٹوں پر بیٹھے ہیں، حکومت اور انتظامیہ نے ان کو ان کی حیثیت سے زیادہ عہدے اور ملازمتیں دے رکھی ہیں، جہاں پر انہوں نے اپنے آدمی بھرتی کردئیے ہیں۔

۱۹۴۷ء کے فیصلے کے بعد سے یہ لوگ اپنے آپ کو پوشیدہ رکھتے ہیں، ان کی جماعت پاکستان کے خلاف کام کر رہی ہے۔ میں کہتا ہوں کہ پاکستان میں ہونے والی دہشت گردی میں بھی ان کا ہاتھ ہے اور یہ لوگ ملک کے اندر فرقہ پرستی کو بھی ہوا دے رہے ہیں، اگر انصاف کیا جائے تو پتہ چلے گا کہ مظلوم پاکستانی مسلمان ہیں، قادیانی نہیں۔

میں تو کہتا ہوں کہ غیرممالک کو پاکستان میں سروے کروانا چاہئے، انہیں حقیقت کا علم ہوجائے گا۔

اب بہائی فرقے کے لوگوں کو دیکھیں، وہ کھل کر کہتے ہیں کہ ان کا اسلام کے ساتھ کوئی تعلق نہیں، لیکن وہ قرآن اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو برحق مانتے ہیں، ان لوگوں نے سچائی اور صفائی سے کام لیا ہے، اس لئے ان کے خلاف کہیں بھی کوئی اختلاف دیکھنے میں نہیں آیا۔

میں کہتا ہوں کہ کوئی بھی شخص اپنا علیحدہ عقیدہ رکھنے کا حق رکھتا ہے لیکن مسلمانوں کو دھوکا تو نہ دے۔ آپ دیکھیں کہ برطانیہ میں گرجا گھر فروخت کئے جارہے ہیں، وہاں اتوار کو بھی کوئی نہیں آتا، وہاں فلمیں بھی دکھائی جارہی ہیں، لیکن عیسائیت بنگلہ دیش، بھارت اور افریقہ کے کئی ممالک میں صرف اس لئے پھیل رہی ہے کہ یہ لوگ غریب عوام کو روٹی فراہم کرتے ہیں۔ یہی طرز عمل قادیانیوں کا بھی ہے، یہ لوگ بیروزگار نوجوانوں کو ورغلا کر ربوہ لے جاتے ہیں، اور انہیں بیعت کرنے کے لئے کہتے ہیں اور انہیں امریکہ کا ویزا دلوانے کی بات کرتے ہیں، جہاں وہ جاکر سیاسی پناہ حاصل کرتے ہیں۔

302

جنگ:۔۔۔وہ لوگ جو درحقیقت قادیانی نہیں لیکن مغربی ممالک میں سیاسی پناہ حاصل کرنے کے لئے کاغذی طور پر قادیانی بن جاتے ہیں، کیا وہ دائرۂ اسلام میں رہتے ہیں؟

جواب:۔۔۔جو لوگ سیاسی پناہ کے حصول کے لئے قادیانی بنتے ہیں انہیں اللہ تعالیٰ سے سچے دل سے توبہ کرنی چاہئے اور کہنا چاہئے کہ ہم نے کفر کا کام کیا ہے، خدا ہمیں معاف کردے، کیونکہ خدا انسانیت پر مہربان ہے، وہ ان کی حالت پر رحم کرے گا۔ درحقیقت سیاسی پناہ کے لئے قادیانی بننے والے نہ تو قادیانی ہیں اور نہ ہی مسلمان رہتے ہیں، اللہ کے رسول محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ: ایک وقت ایسا بھی آئے گا کہ جب مسلمان صبح کو مؤمن ہوگا تو شام کو کافر ہوجائے گا اور شام کو مسلمان ہوگا تو صبح کو کافر ہوگا۔ آج کل لوگ چند ٹکوں کی خاطر اپنا ایمان بیچ رہے ہیں اور جو شخص یہ کہے کہ میں کل مسلمان نہیں رہوں گا وہ فوراً اسی وقت اسلام کے دائرہ سے خارج ہوجاتا ہے۔

جنگ:۔۔۔گزشتہ دنوں پاکستان میں کسی قادیانی خاتون کی نماز جنازہ پڑھنے والوں کے بارے میں خبر شائع ہوئی تھی کہ ان کے نکاح ٹوٹ گئے، کیا قادیانی کی نماز جنازہ پڑھنے والا دائرۂ اسلام سے خارج ہوجاتا ہے؟

جواب:۔۔۔ہمیں کسی کو بھی کافر کہنے کا شوق نہیں ہے، دراصل قادیانیوں کے عقائد کفریہ ہیں، اگر کوئی شخص کافر کا جنازہ مسلمان سمجھ کر پڑھتا ہے تو وہ کافر ہوجاتا ہے، جن لوگوں کو علم نہیں تھا کہ وہ خاتون قادیانی ہے، وہ بے گناہ ہیں۔ کچھ لوگ سکھوں کے جنازے میں دوستی کا حق ادا کرنے کے لئے بھی جاتے ہیں، وہ گناہگار ہیں، لیکن کافر نہیں ہیں۔ گزشتہ دنوں یہاں پر قادیانی نوجوان میرے پاس آئے اور کہنے لگے کہ ہم لوگ بھی آپ کی طرح کلمہ پڑھتے ہیں اور نماز، روزہ اور زکوٰۃ کے پابند ہیں، آپ لوگ ہمیں کافر کیوں کہتے ہیں؟ تو میں نے انہیں بتایا کہ قادیانی، حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو لفظاً مانتے ہیں معنی کے اعتبار سے نہیں مانتے، اور ان کی نظر میں قرآن سے مراد وہ نہیں جو مسلمان مانتے ہیں،

303

بلکہ وہ مرزا غلام احمد کی کتاب کو مانتے ہیں، کیونکہ وہ تو کہتا ہے کہ وحی الٰہی میں اس کا نام نعوذباللہ! ’’محمد‘‘ رکھا گیا ہے، دوسری بات یہ ہے کہ مرزا غلام احمد کے بیٹے بشیر احمد نے ہمیں کافر قرار دیا ہے، کیا ہم نے اسلام میں کسی قسم کی تبدیلی کی ہے؟ تبدیلی تو قادیانیوں نے کی ہے۔

جنگ:۔۔۔آپ نے مطالبہ کیا ہے کہ حکومت برطانیہ قادیانیوں کو مسلمانوں کے شعائر استعمال کرنے سے روکے، کیا اس ملک میں یہ ممکن ہے؟

جواب:۔۔۔ہم نے حکومت برطانیہ سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ ایسی اقلیت جو خود کو مسلمان کہلاکر مسلمانوں کے حقوق پر ڈاکہ ڈال رہی ہے، اس کو مسلمانوں کا استحصال کرنے سے روکے۔ میں سمجھتا ہوں کہ برطانیہ میں آباد پاکستانیوں کو بھی کونسلوں کی سطح پر قادیانیوں کی حرکات پر نظر رکھنی چاہئے کیونکہ ہمیں پتہ چلا ہے کہ قادیانی مسلمانوں کا نام استعمال کرکے سوشل ویلفیئر سوسائیٹیاں بناتے ہیں اور کونسلوں سے وہ گرانٹ حاصل کرتے ہیں جو مسلمانوں کے کوٹے میں آتی ہے۔ میرے نزدیک برطانیہ میں پاکستانی ہائی کمیشن بھی اس سلسلے میں مدد کرسکتا ہے اور قادیانیوں کی عبادت گاہوں کو مسجدیں قرار دینے سے روکنے کے لئے کردار ادا کرسکتا ہے، کیونکہ قادیانی، مسلمانوں سے الگ قوم ہیں، انہیں زبردستی مسلمانوں کی صفوں میںشامل کرنے کی سازشوں کو بے نقاب کرنا چاہئے۔

دوسری بات یہ ہے کہ جب قادیانی یہاں پروپیگنڈہ کرتے ہیں کہ پاکستان میں ان پر مظالم ہو رہے ہیں، پاکستانی سفارت خانے کو اس کا توڑ کرنا چاہئے اور اعداد و شمار پیش کرکے برطانوی پریس کو حقائق سے آگاہ کرنا چاہئے۔ اب آپ دیکھیں کہ ’’سرے‘‘ کے علاقے میں ٹیل فورڈ میں قادیانیوں نے ایک چھوٹی سی جگہ کو اسلام آباد کا نام دے رکھا ہے، یہ آئین کی خلاف ورزی کے مترادف ہے، پاکستان ایک مسلم ملک ہے، ہمارا مقصد اسلامی اقدار کا تحفظ ہونا چاہئے اور بین الاقوامی سطح پر مسلمانوں کے خلاف ہونے والی ہر سازش کو بے نقاب کردینا چاہئے۔

304

جنگ:۔۔۔کیا ختمِ نبوّت کے رہنما ٹیلی ویژن اور سیٹلائٹ کے ذریعے اشاعت اسلام پر یقین رکھتے ہیں؟ کیا آپ تصویر چھپوانے کے حق میں ہیں؟

جواب:۔۔۔مرزا طاہر احمد نے حال ہی میں اپنی تصویر اخبار میں چھپوائی ہے، جس چیز کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے منع فرمایا ہے اور حرام قرار دیا ہے، ہم اس قانون شرعی کی کیسے خلاف ورزی کرسکتے ہیں؟ کچھ لوگوں نے کہا ہے کہ تصویر وقت کی ضرورت ہے، اس کے لئے اجتہاد بھی تو ہوسکتا ہے، لیکن اجتہاد تو اس چیز کے بارے میں ہوتا ہے جس کے بارے میں شریعت نے کوئی حکم نہ دیا ہو، کچھ لوگوں نے یہ بھی کہا ہے کہ قادیانیوں نے تو سیٹ لائٹ کے ذریعے پروپیگنڈہ شروع کردیا ہے، آپ اس کا کیا توڑ کریں گے؟ میں سمجھتا ہوں کہ اشاعت اسلام کے لئے ٹی وی اور سیٹ لائٹ سے پروگرام پیش کرنے کے بارے میں غور کرنا چاہئے۔ قادیانیوں کے پروپیگنڈے سے اتنا بھی خوفزدہ ہونے کی ضرورت نہیں۔ پاکستانی مسلمانوں میں ایمان کی دولت کی فراوانی ہے، وہ لوگوں سے اچھی طرح واقف ہیں۔

جنگ:۔۔۔مرزا طاہر احمد کے مباہلہ کے چیلنج اور قادیانیوں کی سیاسی پناہ پر روشنی ڈالنا پسند کریں گے؟

جواب:۔۔۔برطانیہ میں چونکہ قادیانیوں کا سربراہ مرزا طاہر احمد موجود ہے اس لئے یہاں پر آباد مسلمانوں پر بہت بھاری ذمہ داری عائد ہوتی ہے، وہ خیال رکھیں کہ کہیں وہ مسلمانوں کی نوجوان نسل کو نہ ورغلائیں، یہ لوگ پاکستان میں پولیس والوں سے اپنے خلاف جعلی ایف آئی آر تیار کروالیتے ہیں اور یہاں آکر سیاسی پناہ کا ڈرامہ رچاتے ہیں، میں آپ کو بتادوں کہ میں نے مرزا طاہر احمد کو مباہلے کا چیلنج کیا لیکن وہ میدان میں نہیں آیا، میں نے ان کو پیغام بھیجا کہ اگر وہ نہیں آسکتے تو اپنے کسی نمائندے کو بھیج سکتے ہیں، اور وہ جس جگہ اور مقام کو منتخب کریں گے میں وہاں پہنچ جاؤں گا، لیکن جھوٹے شخص میں یہ ہمت ہی نہیں کہ وہ مسلمانوں کے ایمان کی قوت کا مقابلہ کرسکے۔ آپ کو یاد ہوگا کہ جو ۱۹۸۸ء میں مرزا

305

طاہر احمد نے اچانک مباہلے کا چیلنج جاری کیا تھا، کیونکہ اس وقت ان کی جماعت میں شدید اختلافات پیدا ہوچکے تھے، ہمیں پتہ چلا تھا کہ مرزا طاہر احمد کا بھائی مرزا رفیع اپنی الگ جماعت قائم کرنے کے چکر میں تھا، اس لئے اس نے توجہ ہٹانے کے لئے یکایک چیلنج جاری کیا، جس پر پورے پاکستان کے علماء نے اس کا چیلنج قبول کیا۔ خود میں نے انہیں ۲۳؍مارچ ۱۹۸۹ء میں مباہلے کا پیغام بھیجا تو اس نے مجھے لکھا کہ: ’’تم کون ہو اور تمہاری حیثیت کیا ہے جو تم مرزا طاہر احمد کو چیلنج کر رہے ہو؟‘‘ میں نے جواباً لکھا کہ: ’’تم اپنے ساتھیوں کو ساتھ لے آؤ اور میں بھی لے آؤں گا، اور یہ بھی بتادو کہ میں کتنے آدمی اپنے ساتھ لاؤں، ایک سو لاؤں، ایک لاکھ لاؤں، یا دس لاکھ لاؤں؟‘‘ لیکن اس کے سیکریٹری نے پیغام بھیجا کہ: ’’ایک کاغذ پر ’’لعنت اللہ علی الکاذبین‘‘ لکھ کر بھجوادو، تو مباہلہ مکمل ہوجائے گا۔‘‘ میں نے کہا کہ یہ مباہلہ نہ ہوا مذاق ہوگیا۔ پھر میں نے اسے قرآن، حدیث اور خود مرزا غلام احمد کی کتابوں سے حوالہ جات دئیے کہ مباہلے کے لئے ضروری ہے کہ دونوں فریق ایک میدان میں آئیں، پھر میں نے اسے لکھا کہ اب اگر تم وقت اور تاریخ مقرر کرکے مباہلے کے میدان میں نہ آئے اور تکفیر سے باز نہ آئے تو خدا کی لعنت کے نیچے مروگے۔ اس دن کے بعد اس نے مجھے کبھی مباہلے کا چیلنج نہیں بھیجا۔

(ہفت روزہ ختمِ نبوّت کراچی ج:۱۵ ش:۴۷)

 

306

حیات ونزول سیّدنا عیسیٰ علیہ السلام

307

حضرت عیسیٰ علیہ السلام

کی حیات و نزول کا عقیدہ

چودہ صدیوں کے مجدّدین و اکابرِ اُمت کی نظر میں

مقدمہ

بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ

اَلْحَمْدُ للہِ وَسَلَامٌ عَلٰی عِبَادِہِ الَّذِیْنَ اصْطَفٰی!

اس زمانے میں جہاں اور بہت سے دِینی حقائق کا اِنکار کیا گیا ہے، ان میں قربِ قیامت میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے نزول کا عقیدہ بھی ہے۔ چنانچہ ایک صاحب نے اس عقیدے کے بارے میں چند شبہات لکھ کر بھیجے ہیں، ان شبہات کو پڑھ کر دِل میں داعیہ پیدا ہوا کہ اس مسئلے پر اگر گزشتہ صدیوں کے اکابر کی چند تصریحات جمع کردی جائیں تو یہ اَمر اہلِ انصاف کے لئے مزید اِطمینان و یقین کا موجب ہوگا۔ اس لئے حق تعالیٰ شانہ‘ سے نصرت و توفیق اور قبولیت و رضا کی درخواست کے ساتھ اس رسالے کو شروع کرتا ہوں، اور بطورِ تمہید چند اُمور اُصولِ موضوعہ کی حیثیت سے عرض کرتا ہوں:

۱: … دِینِ اسلام ان عقائد و عبادات اور اعمال کا نام ہے جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے مبارک زمانے سے نقل ہوتے ہوئے ہم تک پہنچے ہیں۔ ان میں سے جو اُمور تواتر کے ساتھ ہم تک پہنچے ہیں ان کا ثبوت قطعی و یقینی ہے، اور ایسے اُمور ’’ضروریاتِ دِین‘‘ کہلاتے ہیں۔

۲: … دِین کے ان ’’متواترات‘‘ میں سے کسی ایک کا اِنکار پورے دِین کے

308

اِنکار کے مترادف ہے۔ اس لئے کہ پورے دِین کے ثبوت کا مدار تواتر پر ہے، پس اگر ایک متواتر چیز کو غلط کہا جائے تو اس سے پورے دِین کی بنیاد منہدم ہوجاتی ہے، اور تواتر کے اِنکار سے پورے دِین کی نفی لازم آتی ہے۔ اس کی مثال ایسی ہے کہ ایک شخص قرآن مجید کو ماننے کا دعویٰ کرتا ہے، لیکن چند قرائن اور شبہات کی آڑ میں اس کی کسی ایک آیت کا اِنکار کردیتا ہے، تو اس شخص کو پورے قرآن کا منکر تصوّر کیا جائے گا، اس لئے کہ جس تواتر کے ساتھ باقی قرآنِ کریم ہم تک پہنچا ہے، اسی تواتر کے ساتھ یہ آیت بھی پہنچی ہے، اس لئے ایک آیت کا اِنکار، قرآن مجید کے تواتر کا اِنکار ہے۔ اسی طرح دِینِ اسلام کے وہ تمام حقائق جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے لے کر آج تک مسلسل اور متواتر نقل ہوتے چلے آئے ہیں، ان میں سے کسی ایک کا اِنکار کردینے سے پورے دِین کا اِنکار لازم آتا ہے۔

۳: … کسی دِینی حقیقت کو صرف لفظی طور پر مان لینا کافی نہیں، بلکہ اس کا جو مفہوم آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے مبارک زمانے سے آج تک تواتر کے ساتھ مراد لیا جاتا رہا ہے اس مفہوم کو تسلیم کرنا بھی شرطِ اسلام ہے۔ مثلاً ایک شخص یہ کہے کہ: ’’میں قرآنِ کریم کو مانتا ہوں مگر قرآن سے مراد وہ کتاب نہیں، جو مسلمانوں کے ہاتھ میں ہے، بلکہ اس سے اور کچھ مراد ہے جس کو عام لوگ نہیں سمجھتے۔‘‘ تو یہ شخص باوجودیکہ قرآنِ کریم کو ماننے کا دعویٰ کرتا ہے، لیکن ایک بچہ بھی سمجھتا ہے کہ یہ شخص قرآنِ کریم کا منکر ہے۔ یا مثلاً کوئی شخص یہ کہے کہ: ’’میں محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو مانتا ہوں، مگر ’’محمد رسول اللہ‘‘ سے مراد وہ شخصیت نہیں جو مسلمان سمجھتے ہیں، بلکہ ’’محمد رسول اللہ‘‘ سے مراد فلاں شخص ہے، جو فلاں بستی میں پیدا ہوا۔‘‘ تو یہ شخص اگرچہ لفظی طور پر ’’محمد رسول اللہ‘‘ کو ماننے کا دعویٰ کرتا ہے، مگر ہر شخص یہ سمجھتا ہے کہ قرآنِ کریم جس شخصیت کو محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی حیثیت سے پیش کرتا ہے، اور اہلِ اسلام جس محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر اِیمان رکھتے ہیں، یہ اس کا منکر ہے۔

الغرض کسی دِینی حقیقت کو ماننے کا دعویٰ اس وقت صحیح ہوگا جب اسے اسی مفہوم ومعنی میں مانا جائے جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے لے کر آج تک معروف و مُسلَّم چلا آتا

309

ہے، اور اگر صرف الفاظ کی حد تک مان لیا جائے، مگر معنی ومفہوم بدل دیا جائے تو یہ بھی اِنکار ہی کی ایک صورت ہے اور اسے اسلام کی اِصطلاح میں ’’زَندقہ‘‘ کہا جاتا ہے۔ شاہ ولی اللہ محدث دہلوی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں:

’’إن المخالف للدین الحق إن لم یعترف بہ ولم یذعن لہ، لَا ظاھرًا ولَا باطنًا فھو کافر، وإن اعترف بلسانہ وقلبہ علی الکفر فھو المنافق، وإن اعترف بہ ظاھرًا لٰـکنہ یفسّر بعض ما ثبت من الدِّین ضرورۃً بخلاف ما فسّرہ الصحابۃ والتابعون واجمتعت علیہ الاُمّۃ فھو الزِندیق۔‘‘

(مسوی شرح موطأ ج:۲ ص:۱۳، مطبوعہ مجتبائی)

ترجمہ: … ’’جو شخص دِین کا مخالف ہے، اگر وہ دِین کا قائل ہی نہ ہو، نہ اسے ظاہراً و باطناً قبول کرے، تو یہ کھلا ’’کافر‘‘ کہلاتا ہے، اور اگر زبان سے تو اِقرار کرے لیکن اس کا دِل کفر پر جما ہوا ہو تو یہ ’’منافق‘‘ کہلاتا ہے، اور اگر بظاہر دِین کا اِقرارکرے مگر دِین کی کوئی ایسی بات جو تواتر سے ثابت ہو، اس کی تفسیر صحابہؓ و تابعینؒ اور فقہائے اُمتؒ کی اِجماعی تفسیر کے خلاف کرے تو یہ شخص ’’زِندیق‘‘ ہے۔‘‘

۴: … آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے لے کر آج تک کی ساری اُمت اس بات کی قائل رہی ہے کہ قیامت کے بالکل قریب جب کانا دَجال نکلے گا تو اس کو قتل کرنے کے لئے حضرت عیسیٰ علیہ السلام آسمان سے نازل ہوں گے، جس طرح قیامت کا آنا قطعی ویقینی ہے، اسی طرح قیامت کی علاماتِ کبریٰ میں دَجالِ اکبر کا نکلنا اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا نازل ہونا بھی قطعی ویقینی ہے، اور صدرِ اوّل سے لے کر آج تک اکابرِ اُمت اس کو تواتر اور تسلسل کے ساتھ نقل کرتے آئے ہیں۔ اس رسالے میں اکابرِ اُمت کی تصریحات صدی وار نقل کی جارہی ہیں، ان کے مطالعے کے بعد اس تواتر کے اِنکار کی کوئی گنجائش باقی نہیں رہ جاتی۔

310

۵: … خبرِ متواتر سے جو علم حاصل ہوتا ہے وہ اِضطراری وبدیہی ہوتا ہے۔ یعنی جو خبر تواتر کی حد تک پہنچ جائے، آدمی اس کے ماننے پر مجبور ہوجاتا ہے، اور کسی ذی ہوش اور صاحبِ عقل کے لئے اس کا اِنکار ممکن نہیں رہتا۔ اگر کوئی شخص اس کو ذاتی غرض کی وجہ سے تسلیم کرنے پر آمادہ نہ ہو تب بھی اس کی یہ کیفیت ہوتی ہے کہ وہ زبان سے ہزار بار اس کو جھٹلاتا رہے، مگر اس کا ضمیر اندر سے گواہی دے گا کہ میں ایک قطعی ویقینی حقیقت کا اِنکار کر رہا ہوں۔ روزمرّہ مشاہدات میں اس کی مثال ایسی ہے کہ ایک آدمی کو یہ تو اِختیار ہے کہ کسی چیز کی طرف آنکھ اُٹھاکر ہی نہ دیکھے، لیکن کسی چیز پر نظر ڈالنے کے بعد یہ ممکن نہیں کہ بقائمی بصارت آنکھوں کو اس کے دیکھنے سے باز رکھ سکے، یا دیکھنے کے بعد اس کا اِنکار کرڈالے۔ ٹھیک اسی طرح یہ ممکن ہے کہ کوئی شخص کسی خبر کے تواتر کی طرف سر اُٹھاکر ہی نہ دیکھے اور وہ اپنی چشمِ بصیرت پر جہالت اور لاعلمی کا پردہ ڈال لے، لیکن یہ ممکن نہیں کہ تواتر کا علم ہوجانے کے باوجود بقائمی عقل وخرد ساری دُنیا کو جھوٹا اور ان کی اس متواتر خبر کو غلط فرض کرلے۔

ہمارے زمانے میں جن لوگوں نے نزولِ عیسیٰ علیہ السلام کی خبر کا اِنکار کیا ہے، ان میں اکثریت ان حضرات کی ہے جنہوں نے اپنی لاعلمی کی بنا پر اس کے تواتر کی طرف نظر اُٹھاکر ہی نہیں دیکھا، ورنہ اس خبرِ متواتر کا اِنکار ممکن نہیں تھا۔ یہی وجہ ہے کہ نزولِ عیسیٰ علیہ السلام کے عقیدے کو وہ لوگ بھی نہیں جھٹلاسکتے جو نزولِ عیسیٰ علیہ السلام کے منکر ہیں، چنانچہ مرزا غلام احمد صاحب قادیانی لکھتے ہیں:

’’مسیح ابنِ مریم کے آنے کی پیش گوئی ایک اوّل درجے کی پیش گوئی ہے جس کو سب نے بااتفاق قبول کرلیا ہے، اور جس قدر صحاح میں پیش گوئیاں لکھی گئی ہیں کوئی پیش گوئی اس کے ہم پہلو اور ہم وزن نہیں ہوئی، تواتر کا اوّل درجہ اس کو حاصل ہے۔‘‘

(اِزالہ اوہام ص:۵۵۷، رُوحانی خزائن ج:۳ ص:۴۰)

ظاہر ہے کہ جس خبر کو تواتر کا اوّل درجہ حاصل ہو اور دِینی حقائق میں کوئی خبر اس کے ہم پہلو اور ہم وزن نہ ہو، اس کے اِنکار کی جرأت بحالتِ اِیمان اور بقائمی ہوش

311

وحواس کون کرسکتا ہے۔۔۔؟

۶- حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے بارے میں اُمتِ اِسلامیہ کا متواتر اور اِجماعی عقیدہ تین حصوں پر مشتمل ہے۔ ایک یہ کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام آسمان پر اُٹھالئے گئے۔ دوم یہ کہ وہ آسمان پر زندہ ہیں۔ تیسرے یہ کہ وہ قربِ قیامت میں قتلِ دجال کے لئے نازل ہوں گے، پھر ان کی وفات ہوگی۔

یہ تینوں باتیں لازم و ملزوم ہیں، اگر وہ آسمان پر اُٹھالئے گئے تو یقینا نازل بھی ہوں گے۔ یہی وجہ ہے کہ قرآنِ کریم، حدیثِ نبوی اور اکابرِ اُمت کی تصریحات میں کبھی بمقتضائے مقام ان کے آسمان پر اُٹھائے جانے کو ذِکر کیا گیا ہے، اور کبھی ان کے آخری زمانے میں واپس آنے کی خبر دی گئی۔

۷: … اسلامی لٹریچر ’’المسیح‘‘ کے نام سے صرف دو شخصوں کو جانتا ہے، ایک ’’دجال‘‘ اور دُوسرے ’’المسیح عیسیٰ بن مریم رسول اللہ‘‘، جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے قبل بنی اسرائیل کی طرف مبعوث ہوئے تھے، اور جن کے بارے میں یہود کو قتل و صلیب کا دعویٰ تھا، دَجال کو ’’مسیحِ ضلالت‘‘ اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو ’’مسیحِ ہدایت‘‘ کہا جاتا ہے۔ ان دو مسیحوں کے سوا اِسلامی لٹریچر کسی تیسرے ’’مسیح‘‘ کو نہیں جانتا۔ اِمام محمد طاہر گجراتی ’’مجمع البحار‘‘ میں (حرف ’’دَجل‘‘ کے تحت) لکھتے ہیں:

’’سمّی الدَّجَّال مسیحًا، لأنَّ إحدی عینیہ ممسوحۃ، وعیسٰی سمّی بہ؛ لأنہ کان یمسح ذا العاھۃ، فیبرأ۔‘‘

(مجمع البحار ج:۲ ص:۱۵۰، طبع جدید، حیدرآباد دکن)

ترجمہ: … ’’دجال کا نام ’’مسیح‘‘ رکھا گیا کیونکہ اس کی ایک آنکھ بالکل ہموار ہوگی، اور عیسیٰ علیہ السلام کا نام ’’مسیح‘‘ رکھا گیا، کیونکہ وہ بیمار پر ہاتھ پھیرتے تھے تو وہ شفایاب ہوجاتا تھا۔‘‘

بعض اکابر فرماتے ہیں ’’المسیح‘‘ حضرت عیسیٰ علیہ السلام ہی کا لقب ہے، اور دَجال اس کا غلط اِدعا کرکے اپنے اُوپر چسپاں کرلے گا۔ گویا کانے دجال کا ایک دجل یہ

312

ہوگا کہ وہ مسیحیت کا جھوٹا دعویٰ کرے گا۔ بہرحال اسلامی لٹریچر میں ’’المسیح‘‘ یا تو حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو کہا گیا ہے یا دَجالِ اَعوَر کو، ان دو کے علاوہ کوئی تیسرا شخص نہیں جس کو ’’المسیح‘‘ کے لقب سے یاد کیا گیا ہو۔ اس لئے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے نام یا ان کے لقب ’’المسیح‘‘ کو کسی دُوسرے شخص پر چسپاں کرنے کی اسلامی لٹریچر میں کوئی گنجائش نہیں ہے، اور جو شخص ایسا کرتا ہے وہ ایک متواتر لفظ کے متواتر مصداق اور مفہوم کو بدلنا چاہتا ہے، اور اِسلام کی اِصطلاح میں ایسا شخص دِینِ حق کا منکر اور زِندیق کہلاتا ہے۔ جیسا کہ نکتہ سوم میں حضرت شاہ ولی اللہ محدث دہلوی رحمۃ اللہ علیہ کا اِرشاد گزرچکا ہے۔

۸: … احادیثِ نبوی میں مسیحِ دجال کے نکلنے اور اس کو قتل کرنے کے لئے المسیح بن مریم علیہ السلام کے نازل ہونے کی خبر الگ الگ بھی دی گئی ہے، اور دونوں کو یکجا بھی ۔۔۔اور یہ دونوں خبریں متواتر ہیں اور لازم وملزوم بھی۔۔۔ کیونکہ جب ایک بار یہ اُصول طے کردیا گیا کہ دجال کا قتل حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے ہاتھ سے ہوگا تو نزولِ عیسیٰ علیہ السلام سے پہلے دجال کا خروج لازم ہوا۔۔۔ یہی وجہ ہے کہ بعض احادیث میں صرف عیسیٰ علیہ السلام کے نزول کو ذِکر کیا گیا ہے، بعض میں صرف دجال کے خروج کو، اور بعض میں ان دونوں کو۔

۹: … اس رسالے میں اکابر کی جو نقول پیش کی گئی ہیں، وہ صرف نمونے کے طور پر ہیں، ورنہ وہ تمام کتابیں جن میں اِبتدائے اسلام سے لے کر ہمارے زمانے تک خروجِ دجال اور نزولِ عیسیٰ علیہ السلام کا عقیدہ ذِکر کیا گیا ہے وہ حدِ شمار سے خارج ہیں۔ مرزا غلام احمد صاحب قادیانی نے لکھا ہے:

’’قریباً تمام مسلمانوں کا اس بات پر اِتفاق ہے کہ احادیث کی رُو سے ضرور ایک شخص آنے والا ہے جس کا نام عیسیٰ بن مریم ہوگا، اور یہ پیش گوئی بخاری ومسلم اور ترمذی وغیرہ کتبِ حدیث میں اس کثرت سے پائی جاتی ہے جو ایک منصف مزاج کی تسکین کے لئے کافی ہے ۔۔۔۔۔۔ یہ خبر مسیحِ موعود کے آنے کی اس قدر زور کے ساتھ ہر زمانے میں پھیلی ہوئی معلوم ہوتی ہے کہ اس سے بڑھ کر کوئی

313

جہالت نہیں ہوگی کہ اس کے تواتر سے اِنکار کیا جائے۔ میں سچ کہتا ہوں کہ اگر اِسلام کی وہ کتابیں جن کی رُو سے یہ خبر سلسلہ وار شائع ہوتی چلی آئی ہے، صدی وار مرتب کرکے اِکٹھی کی جائیں تو ایسی کتابیں ہزارہا سے کچھ کم نہ ہوں گی۔‘‘

(شہادۃ القرآن ص:۲، رُوحانی خزائن ج:۶ ص:۲۹۸)

مرزا صاحب کی اس تحریر پر اِتنا اِضافہ کرلیجئے کہ ان ہزارہا سلسلہ وار کتابوں میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے نازل ہونے کی جو خبر تواتر کے ساتھ درج کی گئی ہے، وہ کسی گمنام ’’عیسیٰ بن مریم‘‘ یا ’’مسیح ِ موعود‘‘ کے بارے میں نہیں، جیسا کہ نمبر۷ میں عرض کرچکا ہوں، بلکہ اسی شخصیت کے بارے میں ہے جن کو ساری دُنیا المسیح عیسیٰ بن مریم رسول اللہ علیہ السلام کے نام سے جانتی ہے۔

اِسلامی دُنیا کا ایک فرد بھی نہ ان کے علاوہ کسی عیسیٰ بن مریم کو جانتا ہے اور نہ کسی بے نام ونشان ’’مسیحِ موعود‘‘ کو ۔۔۔! اس لئے یہ صدی وار ہزارہا کتابیں مسیح بن مریم علیہ السلام کے آنے کی متواتر خبر دے رہی ہیں، ان کا آنا قطعی ویقینی ہے، اور اس سے بڑھ کر کوئی جہالت نہیں ہوگی کہ اس کے تواتر سے اِنکار کیا جائے۔

ان اُصولِ موضوعہ کی روشنی میں اب نزولِ عیسیٰ علیہ السلام کے عقیدے کے بارے میں اکابر کی تصریحات ملاحظہ فرمائیے، اور پھر خود اِنصاف کیجئے کہ کیا اس تواتر کے بعد کسی مسلمان کے لئے اس عقیدے سے اِنکار و اِنحراف کی کوئی گنجائش باقی رہ جاتی ہے۔۔۔؟

اللہ تعالیٰ اُمتِ محمدیہ کو صراطِ مستقیم پر قائم رکھے، اور تمام شرور وفتن سے اس کی حفاظت فرمائے، آمین!

محمد یوسف لدھیانوی

۴؍۴؍۱۴۰۱ھ

314

بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ

اَلْحَمْدُ للہِ حَمْدَ الشَّاکِرِیْنَ، وَالصَّلَاۃُ وَالسَّلَامُ عَلٰی سَیِّدِ الْمُرْسَلِیْنَ وَإِمَامِ الْمُتَّقِیْنَ وَخَاتِمِ النَّبِیِّیْنَ سَیِّدَنَا وَمَوْلَانَا مُحَمَّدٍ وَّعَلٰٓی آلِہٖ وَاَصْحَابِہٖ وَاَتْبَاعِہٖ إِلٰی یَوْمِ الدِّیْنِ۔

قیامت کا عقیدہ اسلام کے بنیادی عقائد میں سے ہے، اور قیامت سے پہلے جو بڑے بڑے خلافِ عادت اُمور ظاہر ہوں گے، ان کو قیامت کی ’’علاماتِ کبریٰ‘‘ کہا جاتا ہے۔ اللہ و رسول نے قیامت کی جتنی نشانیاں بتائی ہیں، وہ سب برحق ہیں، ضرور ہوکر رہیں گی۔ حضرت مہدی علیہ الرضوان ظاہر ہوں گے اور خوب انصاف سے بادشاہی کریں گے، ان کے زمانے میں کانا دَجال نکلے گا اور دُنیا میں بہت فساد مچائے گا، اس کو قتل کرنے کے لئے حضرت عیسیٰ علیہ السلام آسمان سے نازل ہوں گے او راسے قتل کریں گے۔

آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے قربِ قیامت میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے دوبارہ تشریف لانے کی متواتر اَحادیث میں خبر دی ہے، اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے سے آج تک تمام اکابرِ اُمت بھی متواتر اس کی خبر دیتے رہے ہیں۔ اس لئے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا دَجال کو قتل کرنے کے لئے آسمان سے نازل ہونا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے سے آج تک اُمت کے درمیان معروف و مُسلَّم چلا آرہا ہے، اور اس کو ان قطعی ویقینی عقائد میں شمار کیا گیا ہے، جن پر اِیمان لانا واجب اور جن کا اِنکار کرنا کفر ہے۔

چونکہ غفلت وجہالت کی وجہ سے اس زمانے کے بہت سے لوگ اس عقیدے میں شک و شبہ کا اِظہار کرتے ہیں، اس لئے مناسب معلوم ہوا کہ اس مسئلے میں اِبتدائے اسلام سے لے کر ہمارے زمانے تک کے اکابر کی تصریحات صدی وار جمع کردی جائیں، تاکہ مسلمان بھائیوں کے لئے اطمینان و شفا کا موجب ہو، اور جو لوگ شک و شبہ میں مبتلا

315

ہیں ان کو بھی حق تعالیٰ انصاف وحق پرستی کی توفیق عطا فرمائے۔

چونکہ تمام عقائدِ اِسلامیہ کا سرچشمہ قرآنِ کریم اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے مقدس اِرشادات ہیں، اس لئے مناسب ہوگا کہ نزولِ عیسیٰ علیہ السلام کے عقیدے کا سلسلۂ تواتر خدا تعالیٰ تک پہنچانے کے لئے ہم اس کا آغاز عہدِ خداوندی سے کریں۔

عہدِ خداوندی

الف: … قرآنِ کریم میں اللہ تعالیٰ نے دو جگہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے اپنی طرف اُٹھالینے کی صراحۃً خبر دی ہے، ایک سورۂ آل عمران کی آیت:۵۵ میں:

’’یٰعِیْسٰٓی اِنِّیْ مُتَوَفِّیْکَ وَرَافِعُکَ اِلَیَّ‘‘

اور دُوسرے سورۂ نساء کی آیت:۱۵۷-۱۵۸ میں:

’’وَمَا قَتَلُوْہُ یَقِیْنًام بَلْ رَّفَعَہُ اللہُ اِلَیْہِ‘‘

ان دونوں آیتوں میں باجماعِ اُمت حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا آسمان پر بہ جسدِ عنصری اُٹھایا جانا مراد ہے، اور جیسا کہ تمہید میں عرض کیا جاچکا ہے، اُمت کی اِجماعی تفسیر کے خلاف تفسیر کرنا ’’زَندقہ‘‘ ہے۔

ب: … قرآنِ کریم میں دو جگہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے قربِ قیامت میں دوبارہ آنے کی خبر دی گئی ہے، اوّل سورۂ نساء کی آیت:۱۵۹ میں:

’’وَاِنْ مِّنْ اَھْلِ الْکِتٰبِ اِلّا لَیُؤْمِنَنَّ بِہٖ قَبْلَ مَوْتِہٖ وَیَوْمَ الْقِیٰمَۃِ یَکُوْنُ عَلَیْھِمْ شَھِیْدًا‘‘

جس کی تفسیر صحیح بخاری ج:۱ ص:۴۹۰ ’’باب نزول عیسیٰ بن مریم‘‘ میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے نزول سے کی گئی ہے۔

دوم: سورۂ زُخرف کی آیت:۶۱ میں:

’’وَاِنَّہٗ لَعِلْمٌ لِّلسَّاعَۃِ‘‘

جس کی تفسیر صحیح ابنِ حبان میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے یوں فرمائی ہے:

316
’’قال: نزول عیسیٰ ابن مریم قبل یوم القیامۃ۔‘‘

(موارد الظمآن ص:۴۱۵)

ترجمہ: … ’’فرمایا: اس سے مراد عیسیٰ بن مریم علیہ السلام کا نازل ہونا قیامت سے پہلے۔‘‘

انبیائے کرام علیہم السلام کا اِجماع

قیامت سے قبل حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے نازل ہونے پر اکابر انبیاء علیہم السلام کا بھی اِجماع ہے، جس کی اِطلاع ہمیں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے دی ہے، چنانچہ:

الف: … مسندِ احمد ج:۱ ص:۳۷۵، ابنِ ماجہ ص:۳۰۹، مستدرک حاکم ج:۴ ص:۵۴۵، تفسیر ابنِ جریر ج:۱۷ ص:۷۲، فتح الباری ج:۱۳ ص:۷۹ اور دُرّمنثور ج:۴ ص:۱۵۲، ۳۳۶ میں (بحوالہ ابنِ ابی شیبہ، ابن المنذر، ابنِ مردویہ، کتاب البعث للبیہقی) حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

ترجمہ: … ’’شبِ معراج میں میری ملاقات حضرت ابراہیم، حضرت موسیٰ اور حضرت عیسیٰ علیہم السلام سے ہوئی۔ اس محفل میں یہ گفتگو چلی کہ قیامت کب آئے گی؟ پہلے حضرت ابراہیم علیہ السلام سے دریافت کیا گیا، انہوں نے فرمایا کہ: مجھے اس کا علم نہیں! پھر موسیٰ علیہ السلام کی باری آئی تو انہوں نے بھی لاعلمی کا اِظہار کیا۔ پھر عیسیٰ علیہ السلام سے دریافت کیا گیا، تو انہوں نے فرمایا کہ: قیامت کب برپا ہوگی؟ اس کا ٹھیک وقت تو اللہ تعالیٰ کے سوا کسی کو بھی معلوم نہیں۔ البتہ مجھ سے میرے رَبّ کا ایک عہد ہے کہ قیامت سے پہلے دَجال نکلے گا تو میں اس کو قتل کرنے کے لئے نازل ہوں گا۔‘‘

317

اس حدیث کو اِمام حاکمؒ نے مستدرک میں’’صحیح علٰی شرط الشیخین‘‘ ‘ کہا ہے، اِمام ذہبیؒ نے تلخیص مستدرک میں اور حافظ ابنِ حجرؒ نے فتح الباری میں اِمام حاکمؒ کی تصحیح سے اِتفاق کیا ہے۔ اور میرے علم میں کوئی ایسا محدث نہیں جس نے اس حدیث پر کوئی جرح وتنقید کی ہو۔ اس حدیث سے چند باتیں معلوم ہوئیں:

۱ : … قیامت سے کچھ پہلے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا نازل ہونا قتلِ دجال کے لئے ہوگا۔

۲: … اللہ تعالیٰ نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو نازل کرنے کا ان سے عہد کر رکھا ہے۔

۳: … اکابر انبیاء علیہم السلام کا، جن میں حضرت ابراہیم، حضرت موسیٰ، حضرت عیسیٰ علیہم السلام اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم جو بطورِ خاص قابلِ ذکر ہیں، قربِ قیامت میں عیسیٰ علیہ السلام کے نازل ہونے پر اِجماع ہے۔

۴: … جس عیسیٰ بن مریم علیہ السلام کے نزول کا خدا تعالیٰ کی طرف سے عہد ہے وہ کوئی مجہول شخصیت نہیں، بلکہ وہی حضرت عیسیٰ بن مریم رُوح اللہ علیہ السلام مراد ہیں، جن کو ساری دُنیا اس نام سے جانتی ہے۔

ب: … متعدّد صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سے یہ حدیث مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

’’ما من نبی إلّا وقد أنذر قومہ من الدّجّال وقد أنذر نوح قومہ۔‘‘

(صحیح بخاری ومسلم، مشکوٰۃ ص:۴۷۲)

ترجمہ: … ’’کوئی نبی ایسا نہیں ہوا جس نے اپنی قوم کو دجال سے نہ ڈرایا ہو، نوح علیہ السلام نے بھی اپنی قوم کو اس سے ڈرایا تھا۔‘‘

گویا جس طرح قیامت کا قائم ہونا تمام انبیائے کرام علیہم السلام کا متفق علیہ عقیدہ ہے، اسی طرح قیامت سے پہلے دجال کا نکلنا بھی تمام انبیائے کرام علیہم السلام کا اِجماعی عقیدہ ہے، اور یہ طے شدہ فیصلہ ہے کہ دجال کے قاتل حضرت عیسیٰ علیہ السلام ہوں گے۔ اس سے ثابت ہوتا ہے کہ تمام انبیائے کرام علیہم السلام قیامت سے پہلے عیسیٰ علیہ

318

السلام کے نازل ہونے پر اِیمان رکھتے تھے۔

ج: … آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم بطورِ خاص نزولِ عیسیٰ علیہ السلام کا عقیدہ رکھتے تھے، جو قرآنِ کریم کی آیات، انبیائے کرام کے اِجماع اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی متواتر احادیث سے واضح ہے، جن کی تعداد ستر سے متجاوز ہے۔ (تفصیل کے لئے رسالہ ’’التصریح بما تواتر فی نزول المسیح‘‘ اور اس کا ترجمہ ’’نزولِ مسیح اور علاماتِ قیامت‘‘ ملاحظہ فرمائیے)۔

یہاں عقیدۂ نبوی کی وضاحت کے لئے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا ایک ارشادِ گرامی نقل کیا جاتا ہے، صحیح مسلم شریف میں حضرت حذیفہ بن اُسید الغفاری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ہم لوگ (صحابہ کرام رضی اللہ عنہم) کچھ مذاکرہ کر رہے تھے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے، دریافت فرمایا کہ: کیا تذکرہ ہو رہا تھا؟ عرض کیا کہ: قیامت کا ذِکر کر رہے تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

’’إنھا لن تقوم حتّٰی تروا قبلھا عشر آیات، فذکر الدخان والدّجّال والدّابّۃ وطلوع الشمس من مغربھا ونزول عیسَی ابن مریم علیہ السلام ۔۔۔الخ۔‘‘

(مشکوٰۃ ص:۴۷۲)

ترجمہ: … ’’قیامت قائم نہیں ہوگی یہاں تک کہ تم اس سے پہلے دس نشانیاں دیکھ لو، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان اُمور کو ذِکر فرمایا: دُخان، دجال اور دابۃ الارض کا نکلنا، آفتاب کا مغرب سے طلوع ہونا، اور عیسیٰ بن مریم علیہ السلام کا نازل ہونا ۔۔۔الخ۔‘‘

صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کا اِجماع

جس عقیدے پر خدا تعالیٰ کا عہد ہو، جس عقیدے کے تمام انبیائے کرام علیہم السلام قائل ہوں، اور جس عقیدے کو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے متواتر اَحادیث میں

319

ارشاد فرمایا ہو، ظاہر ہے کہ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم کا عقیدہ اس کے خلاف نہیں ہوسکتا۔ چنانچہ میرے رسالے ’’نزولِ عیسیٰ ۔۔۔چند شبہات کا جواب‘‘ کے نکتہ ہفتم میں تیس صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے اسمائے گرامی درج ہیں، جن سے نزولِ عیسیٰ علیہ السلام کی شہادت منقول ہے۔ یہاں حضراتِ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کا مذہب نقل کرتا ہوں۔

حضراتِ ابوبکر و عمر رضی اللہ عنہما:

الف: … مسندِ احمد ج:۳ ص:۳۸۶ میں حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے بہ سندِ صحیح روایت ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ابنِ صیاد نامی ایک یہودی لڑکے کے حالات کی تحقیق کے لئے کئی مرتبہ تشریف لے گئے، حضراتِ ابوبکر و عمر اور مہاجرین و انصار رضی اللہ عنہم کی ایک جماعت آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ تھی، ابنِ صیاد کی گفتگو سن کر حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے عرض کیا:

’’ائذن لی فأقتلہ یا رسول اللہ!‘‘

ترجمہ: … ’’یا رسول اللہ! اجازت دیجئے کہ میں اسے قتل کردوں۔‘‘

آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:

’’إن یکن ھو فلست صاحبہ، إنّما صاحبہ عیسَی ابن مریم علیہ الصلاۃ والسلام۔‘‘

(مسندِ احمد ج:۳ ص:۳۶۸، شرح السنہ ج:۱۵ ص:۸۰، مشکوٰۃ ص:۴۷۹، قال الھیثمی (ج:۳ ص:۸): أخرجہ أحمد، ورجالہ رجال الصّحیح)

ترجمہ: … ’’اگر یہ وہی کانا دَجال ہے تو اس کے قاتل تم نہیں، اس کے قاتل تو حضرت عیسیٰ بن مریم علیہ الصلوٰۃ والسلام ہیں۔‘‘

حافظ نورالدین ہیثمی ’’مجمع الزوائد‘‘ ج:۸ ص:۳-۴ میں اس حدیث کو نقل کرنے کے بعد فرماتے ہیں:

320

’’اس حدیث کو اِمام احمدؒ نے (مسند میں) روایت کیا ہے، اور اس کے تمام راوی صحیح بخاری کے راوی ہیں۔‘‘

اس حدیثِ صحیح سے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم، حضرت ابوبکر و عمر اور مہاجرین و انصار رضی اللہ عنہم کا عقیدہ واضح ہوجاتا ہے کہ دجال جب نکلے گا تو حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے ہاتھ سے قتل ہوگا۔

ب: … آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی رحلت کا سانحہ صحابہ کرام علیہم الرضوان کے لئے جس قدر صبر آزما تھا، اس کا اندازہ ہم لوگ نہیں کرسکتے، صحابہؓ فرماتے ہیں کہ ہم میں بعض کھڑے کے کھڑے رہ گئے، وہ بیٹھ نہیں سکے، بعض ازخود رفتہ ہوگئے۔ ادھر منافقوں نے یہ پروپیگنڈا شروع کردیا کہ اگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے سچے رسول ہوتے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کیوں ہوتی؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کی خبر سن کر اسی ربودگی وبے قراری کی حالت میں حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے اعلان فرمایا:

’’من قال إن محمدًا مات قتلتُہ بیسفی ھٰذا وإنما رفع إلی السماء کما رفع عیسَی ابن مریم علیہ السلام۔‘‘

(ملل ونحل: عبدالکریم شہرستانی برحاشیہ کتاب الفصل فی الملل والأھواء والنحل لِابن حزم ج:۱ ص:۲۱)

ترجمہ: … ’’جو شخص یہ کہے گا کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم فوت ہوگئے ہیں، میں اسے اپنی تلوار سے قتل کردُوں گا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم تو اسی طرح آسمان پر اُٹھائے گئے ہیں جس طرح کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام اُٹھالئے گئے تھے۔‘‘

اور اِبنِ اِسحاق کی روایت کے مطابق حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے یہ بھی فرمایا:

’’إن رجالًا من المنافقین یزعمون أن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم قد توفی، وإن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم واللہ! ما مات، ولٰـکنہ ذھب إلیٰ ربّہ کما
321

ذھب موسَی ابن عمران، فقد غاب عن قومہ أربعین لیلۃً ثم رجع إلیٰ قومہ بعد أن قیل: قد مات۔ واللہ! لیرجعنّ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کما رجع موسٰی، فلیقطعنّ أیدی رجال وأرجلھم زعموا أن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم قد مات۔‘‘

(سیرت ابنِ ہشام برحاشیہ الروض الانف ج:۲ ص:۳۷۲)

ترجمہ: … ’’کچھ منافق یہ اُڑا رہے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم وفات پاگئے، حالانکہ بخدا! آنحضرت صلی للہ علیہ وسلم کی وفات نہیں ہوئی، بلکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اسی طرح اپنے رَبّ کی طرف گئے ہیں جس طرح موسیٰ علیہ السلام گئے تھے، وہ اپنی قوم سے چالیس دن تک غائب رہے، پھر اپنی قوم کی طرف لوٹ آئے، جبکہ ان کی وفات کی خبر اُڑادی گئی تھی، بخدا! رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بھی موسیٰ علیہ السلام کی طرح واپس لوٹ آئیں گے اور ان لوگوں کے ہاتھ پاؤں کاٹ ڈالیں گے جو یہ اُڑا رہے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فوت ہوچکے۔‘‘

اس موقع پر حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے وصالِ نبوی کو دو واقعات کے ساتھ تشبیہ دی، ایک حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا آسمان پر اُٹھایا جانا، دُوسرے حضرت موسیٰ علیہ السلام کا چالیس دن کے لئے کوہِ طور پر تشریف لے جانا، اور تشبیہ اسی چیز کے ساتھ دی جایا کرتی ہے جو معروف و مُسلَّم ہو، چونکہ یہ دونوں واقعات قرآنِ کریم میں مذکور ہیں اور صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم کے نزدیک بالاتفاق معروف و مُسلَّم تھے، اس لئے حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے ان کو مشبہ بہ کے طور پر پیش کیا۔

حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی بات سن کر خطبہ دیا، جس میں یہ اعلان فرمایا:

322
’’أیھا الناس! من کان یعبد محمدًّا فإنّ محمدًا قد مات، ومن کان یعبد اللہ فإن اللہ حیٌّ لَا یموت۔‘‘

(حوالۂ بالا)

ترجمہ: … ’’لوگو! جو شخص محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی عبادت کرتا تھا، تو بے شک محمد صلی اللہ علیہ وسلم وصال فرماچکے ہیں، اور جو شخص اللہ تعالیٰ کی عبادت کرتا تھا تو بلاشبہ اللہ تعالیٰ زندہ ہیں، کبھی نہیں مریں گے۔‘‘

اور اس خطبے میں حضرت صدیقِ اکبر رضی اللہ عنہ نے متعدّد آیات پڑھیں جن میں فرمایا گیا ہے کہ موت نبوّت کے منافی نہیں، اس میں ایک طرف ان منافقین کا رَدّ تھا جو وصالِ نبوی کو نفیٔ نبوّت کی دلیل ٹھہرارہے تھے، اور دُوسری طرف حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے اس خیال کی اِصلاح مقصود تھی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات نہیں ہوئی، حضرت صدیقِ اکبر رضی اللہ عنہ نے اعلان فرمایا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم وفات پاچکے ہیں، اس لئے اس موقع پر حضرت موسیٰ علیہ السلام کے کوہِ طور پر جانے کی مثال دینا صحیح نہیں، اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے آسمان پر اُٹھائے جانے کی مثال پیش کرنا بھی بے محل ہے۔ مگر چونکہ یہ دونوں واقعے جن کو حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے مشبہ بہ کے طور پر پیش کیا تھا بالکل صحیح اور برحق تھے، اس لئے حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے ان دونوں واقعات کی نفی نہیں کی۔ اور نہ مدّۃالعمر کسی صحابی نے ان کو غلط قرار دیا۔ چنانچہ حدیث و تفسیر اور تاریخ و سیر کے پورے ذخیرے میں کسی ایک صحابی سے ایک روایت بھی اس مضمون کی منقول نہیں کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام آسمان کی طرف اُٹھائے نہیں گئے، یا یہ کہ ان کی وفات ہوچکی ہے۔ یہ اس اَمر کی واضح ترین دلیل ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا آسمان پر اُٹھایا جانا تمام صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو مُسلَّم تھا، اور یہ نہ صرف حضرت ابوبکر وعمر رضی اللہ عنہما کا، بلکہ تمام صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کا اِجماعی عقیدہ تھا۔

ج: … اُوپر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا اِرشادِ گرامی گزرچکا ہے کہ دجال کے

323

قاتل حضرت عیسیٰ علیہ السلام ہیں، ادھر خروجِ دجال کی حدیث خود حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں:

’’عَنْ أَبِیْ بَکْرٍ الصِّدِّیْقِ رَضِیَ اللہُ عَنْہُ قَالَ: حَدَّثَنَا رَسُوْلُ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَالَ: اَلدَّجَّالُ یَخْرُجُ مِنْ أَرْضٍ بِالْمَشْرِقِ یُقَالُ لَہٗ خُرَاسَانَ یَتَّبِعُہٗ أَقْوَامٌ کَأَنَّ وُجُوْھَھُمُ الْمَجَانُّ الْمُطْرَقَۃُ۔‘‘

(ترمذی، باب ما جاء من أین یخرج الدّجّال ج:۲ ص:۴۶)

ترجمہ: … ’’حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ: آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں بتایا کہ: دجال مشرق کی سرزمین سے نکلے گا جس کو خراسان کہا جاتا ہے، اس کی پیرو وہ قومیں ہوں گی جن کے چہرے چپٹے ہوں گے، گویا وہ تہ بہ تہ ڈھالیں ہیں۔‘‘

اس حدیث سے واضح ہوجاتا ہے کہ دجال کے نکلنے اور عیسیٰ علیہ السلام کے نازل ہوکر اس کو قتل کرنے پر حضرت صدیقِ اکبر رضی اللہ عنہ اور تمام صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کا اِتفاق تھا۔

د: … حضرت شاہ ولی اللہ محدث دہلوی رحمہ اللہ نے ’’اِزالۃ الخفاء‘‘ (فارسی ج:۲ ص:۱۶۷، مطبوعہ سہیل اکیڈمی لاہور) حضرت فاروقِ اعظم رضی اللہ عنہ کے مکاشفات میں حضرت نضلہ بن معاویہ رضی اللہ عنہ کے تین سو صحابہ رضی اللہ عنہم کی معیت میں غزوۂ حلوان کے لئے جانے اور وہاں زریت بن بثملا حواری عیسیٰ علیہ السلام سے ملاقات ہونے کا واقعہ لکھا ہے۔

اس حدیث زریت بن برثملا کا یہ قول نقل کیا ہے:

’’انا زریت بن برثملا وصی العبد الصالح عیسَی ابن مریم أسکننی ھٰذا الجبل ودعا لی بطول البقاء إلی حین نزولہ من السماء۔‘‘
324

ترجمہ: … ’’میں زریت بن برثملا عبدِ صالح حضرت عیسیٰ بن مریم علیہ السلام کا وصی ہوں، آپ نے مجھے اس پہاڑ میں ٹھہرنے کا حکم دیا ہے، او ران کے آسمان سے نازل ہونے کے وقت تک میرے لئے طولِ عمری کی دُعا فرمائی۔‘‘

حضرت عمر اور دیگر صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم نے اس قول کی تکذیب نہیں فرمائی، بلکہ جب حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو اس واقعے کی اِطلاع دی گئی تو آپ نے حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ کو چار ہزار مہاجرین و انصار کی معیت میں وہاں جانے کا حکم فرمایا اور زریت بن برثملا کے نام اپنا سلام بھجوایا۔ اس واقعے سے ثابت ہوتا ہے کہ حضرت عمر، حضرت سعد بن ابی وقاص اور چار ہزار مہاجرین و انصار صحابہ رضوان اللہ علیہم اجمعین کا مذہب یہی تھا کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام آخری زمانے میں آسمان سے نازل ہوں گے۔

ہ: … حافظ ابنِ کثیرؒ نے’’نھایۃ البدایۃ والنہایۃ‘‘ ج:۱ ص:۱۵۷ میں دجال کے بارے میں (بروایت ابوبکر بن ابی شیبہ عن سفیان بن عیینہ عن الزہری، عن سالم عن ابیہ) حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی یہ حدیث نقل کی ہے:

’’وُلِدَ یَہُوْدِیًّا لِیَقْتُلَہُ ابْنُ مَرْیَمَ بِبَابِ لُدٍّ۔‘‘

ترجمہ: … ’’دجال یہودی پیدا کیا گیا تاکہ عیسیٰ علیہ السلام اسے بابِ لُدّ پر قتل کریں۔‘‘

حضرت علی رضی اللہ عنہ:

امیرالمؤمنین حضرت علی کرّم اللہ وجہہ سے روایت ہے کہ:

’’یَقْتُلُہُ اللہُ تَعَالٰی بِالشَّامِ عَلٰی عَقَبَۃٍ یُّقَالُ لَھَا: عَقَبَۃَ أَفِیْقٍ لِثَلَاثِ سَـاعَـاتٍ یَمْـضِیْنَ مِـنَ النَّھَـارِ عَلٰی یَدَیْ عِیْسَی ابْنَ مَرْیَمَ۔‘‘

(کنز العمال ج:۱۴ ص:۶۱۴ حدیث:۳۹۷۰۹)

325

ترجمہ: … ’’اللہ تعالیٰ، عیسیٰ بن مریم علیہ السلام کے ہاتھ سے دجال کو قتل کرے گا، ملکِ شام میں، تین گھڑی دن چڑھے، ایک گھاٹی پر، جس کو ’’افیق کی گھاٹی‘‘ کہا جاتا ہے۔‘‘

سولہ صحابہ رضی اللہ عنہم:

اِمام ترمذیؒ نے’’باب ما جاء فی قتل عیسیٰ بن مریم الدّجّال‘‘ میں حضرت مجمع بن جاریہ رضی اللہ عنہ کی یہ حدیث نقل کی ہے:

’’سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یَقُوْلُ: یَقْتُلُ ابْنُ مَرْیَمَ الدَّجَّالَ بِبَابِ لُدٍّ۔‘‘

ترجمہ: … ’’میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے کہ حضرت عیسیٰ بن مریم علیہ السلام، دجال کو بابِ لُدّ پر قتل کریں گے۔‘‘

اس حدیث کو نقل کرنے کے بعد اِمام ترمذیؒ فرماتے ہیں:

’’وفی الباب عن عمران بن حصین ونافع بن عتبۃ وأبی برزۃ وحذیفۃ بن أُسید وأبی ھریرۃ وکیسان وعثمان بن أبی العاص وجابر وأبی أُمامۃ وابن مسعود وعبداللہ بن عمرو وسمرۃ بن جندب والنواس بن سمعان وعمرو بن عوف وحذیفۃ بن الیمان، ھٰذا حدیث صحیح۔‘‘

(ترمذی ج:۲ ص:۴۸)

یعنی مجمع بن جاریہ رضی اللہ عنہ کی حدیث صحیح ہے اور اس کے علاوہ اس موضوع پر کہ ’’حضرت عیسیٰ علیہ السلام، دجال کو بابِ لُدّ پر قتل کریں گے‘‘ مزید پندرہ صحابہ کرام علیہم الرضوان سے احادیث مروی ہیں۔

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ:

صحیح بخاری ج:۱ ص:۴۹۰، ’’باب نزول عیسیٰ بن مریم علیہ السلام‘‘، صحیح مسلم

326

ج:۱ ص:۸۷، ’’باب نزول عیسیٰ بن مریم علیہ السلام‘‘ میں حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

’’وَالَّذِیْ نَفْسِیْ بَیَدِہٖ! لَیُوْشِکَنَّ أَنْ یَّنْزِلَ فِیْکُمُ ابْنُ مَرْیَمَ حَکَمًا عَدْلًا، فَیُکْسِرُ الصَّلِیْبَ وَیَقْتُلُ الْخِنْزِیْرَ وَیَضَعُ الْجِزْیَۃَ وَیُفِیْضُ الْمَالَ حَتّٰی لَا یَقْبَلُہٗ أَحَدٌ، حَتّٰی تَکُوْنَ السَّجْدَۃُ الْوَاحِدَۃُ خَیْرٌ مِّنَ الدُّنْیَا وَمَا فِیْھَا۔ ثُمَّ یَقُوْلُ اَبُوْھُرَیْرَۃَ: وَاقْرَئُوْا إِنْ شِئْتُمْ۔‘‘

ترجمہ: … ’’قسم ہے اس ذات کی جس کے قبضے میں میری جان ہے! کہ عنقریب تم میں حضرت عیسیٰ بن مریم علیہ السلام حاکمِ عادل کی حیثیت سے نازل ہوں گے، پس صلیب کو توڑ ڈالیں گے، خنزیر کو قتل کردیں گے، جزیہ موقوف کردیں گے اور مال و دولت کی ایسی فراوانی ہوگی کہ کوئی اسے قبول نہیں کرے گا، حتیٰ کہ ایک سجدہ (اس وقت کے لوگوں کے نزدیک) دُنیا ومافیہا سے بہتر ہوگا۔‘‘

اس حدیث کو روایت کرنے کے بعد حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ یہ بھی فرمایا کرتے تھے کہ اگر تم اس کی تصدیق قرآنِ کریم سے چاہتے ہو تو یہ آیت پڑھ لو:

’’وَاِنْ مِّنْ اَھْلِ الْکِتٰبِ اِلّا لَیُؤْمِنَنَّ بِہٖ قَبْلَ مَوْتِہٖ وَیَوْمَ الْقِیٰمَۃِ یَکُوْنُ عَلَیْھِمْ شَھِیْدًا‘‘

(النساء:۱۵۹)

ترجمہ: … ’’اور نہیں رہے گا کوئی اہلِ کتاب میں مگر اِیمان لائے گا عیسیٰ (علیہ السلام) پر، عیسیٰ (علیہ السلام) کے مرنے سے پہلے، اور قیامت کے دن عیسیٰ (علیہ السلام) ان پر گواہ ہوں گے۔‘‘

حضراتِ محدثین نے یہاں دو اِحتمال لکھے ہیں، ایک یہ کہ اس حدیث میں آیت کی تلاوت بھی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے مرفوعاً ہو، دُوسرے یہ کہ یہ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کا اپنا قول ہو، اور طحاوی شریف باب سور الھرّ میں حضرت ابوہریرہ رضی

327

اللہ عنہ کے شاگرد رَشید اِمام محمد بن سیرینؒ کا اِرشاد نقل کیا گیا ہے کہ جب ان سے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کی حدیث کے بارے میں سوال کیا گیا کہ آیا یہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے مروی ہے؟ تو فرمایا:

’’کل حدیث أبی ھریرۃ عن النبی صلی اللہ علیہ وسلم۔‘‘

ترجمہ: … ’’حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کی ہر حدیث آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ہی سے ہوتی ہے۔‘‘

بہرحال حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کی اس حدیث سے چند باتیں معلوم ہوئیں:

اوّل: … حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے آخری زمانے میں نزول کا مسئلہ قرآنِ کریم میں ذِکر کیا گیا ہے۔

دوم: … آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے وہ تمام اِرشادات جو نزولِ عیسیٰ علیہ السلام کے بارے میں ہیں، وہ قرآنِ کریم کی ہی شرح و تفسیر ہیں۔

سوم: … جس ’’عیسیٰ‘‘ کے نزول کا قرآنِ کریم اور اِرشاداتِ نبویہ میں ذِکر ہے، اس سے وہی حضرت عیسیٰ علیہ السلام بنفسِ نفیس مراد ہیں، نہ کہ کوئی مبہم و مجہول عیسیٰ یا کوئی مفروض ابنِ مریم۔

چہارم: … حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کا حلقۂ درس مسجدِ نبوی میں ہوتا تھا اور وہ ہزاروں کے مجمع میں علیٰ رُؤس الاَشہاد حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے نزول پر قرآنِ کریم اور حدیثِ نبوی کے حوالے باصرار و تکرار پیش کرتے تھے، مگر کسی صحابی اور کسی تابعی نے ان کو اس پر نہیں ٹوکا، اور یہ ممکن نہیں تھا کہ صدرِ اوّل میں کوئی غلط بات ۔۔۔نعوذباللہ۔۔۔ مسجدِ نبوی میں بیٹھ کر علیٰ رُؤس الاَشہاد قرآن و حدیث کے حوالے سے کہی جائے اور صحابہؓ و تابعینؒ کی پوری جماعت میں ایک آدمی بھی اسے ٹوکنے والا نہ اُٹھے۔ اس سے ثابت ہوا کہ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کے تمام ہم عصر صحابہؓ و تابعینؒ کا یہی مذہب تھا کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام آخری زمانے میں آسمان سے نازل ہوں گے اور انہوں نے قرآنِ کریم اور آنحضرت صلی اللہ علیہ

328

وسلم سے یہی عقیدہ اخذ کیا تھا۔

حضرت مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ:

’’دُرّمنثور‘‘ ج:۵ ص:۲۰۴ میں ابوبکر بن ابی شیبہ کی تخریج سے اور ’’مجمع الزوائد‘‘ ج:۸ ص:۲۰۶ میں طبرانی کے حوالے سے حضرت مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک شخص نے ان کی مجلس میں کہا:’’صلَّی اللہ علٰی محمد خاتم الأنبیاء لَا نبی بعدہ‘‘ تو آپ نے فرمایا:

’’حسبک أن تقول خاتم الأنبیاء، فإنا کنّا نحدّث أن عیسٰی خارج فإن کان خارجًا فقد کان قبلہ وبعدہ۔‘‘

ترجمہ: … ’’خاتم الانبیاء کہہ دیتے تب بھی کافی تھا، کیونکہ ہم سے (صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سے) بیان کیا گیا تھا کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام تشریف لانے والے ہیں، پس جب وہ تشریف لائیں گے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے پہلے بھی ہوئے اور بعد بھی۔‘‘’’لَا نبی بعدہ‘‘ کا اِرشادِ نبوی حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی تشریف آوری کے منافی نہیں، کیونکہ’’لَا نبی بعدہ‘‘ ‘ کا مطلب یہ ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد کسی کو منصبِ نبوّت عطا نہیں کیا جائے گا، اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام اگرچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ے بعد تشریف لانے والے ہیں مگر ان کو نبوّت آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے پہلے مل چکی ہے۔

اُمّ المؤمنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا:

الف: … ’’دُرّمنثور‘‘ ج:۵ ص:۲۰۴ میں حضرت اُمّ المؤمنین عائشہ صدیقہ

329

رضی اللہ عنہا کا یہ اِرشاد نقل کیا ہے:

’’قُوْلُوْا: خَاتَمُ النَّبِیِّیْنَ، وَلَا تَقُوْلُوْا: لَا نَبِیَّ بَعْدَہٗ۔‘‘

ترجمہ: … ’’آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو ’’خاتم النبیین‘‘ کہو، مگر یہ نہ کہو کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد کوئی نبی نہیں۔‘‘

اِمام محمد طاہر گجراتی ’’تکملہ مجمع البحار‘‘ میں (مادّہ ’’زید‘‘ کے تحت) اس کی شرح کرتے ہوئے فرماتے ہیں:

’’وھٰذا ناظر إلٰی نزول عیسٰی۔‘‘

(تکملہ مجمع البحار ج:۵ ص:۴۶۴)

ترجمہ: … ’’(حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کا) یہ اِرشاد نزولِ عیسیٰ علیہ السلام کے لحاظ سے ہے۔‘‘

گویا اُمّ المؤمنین رضی اللہ عنہا اس اندیشے کی روک تھام فرما رہی ہیں کہ’’لَا نبی بعدہ‘‘ کو غلط معنی پہناکر کل کو کوئی ملحد، حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی تشریف آوری کے قطعی عقیدے کی نفی نہ کرنے لگے۔

ب: … مسندِ احمد ج:۶ ص:۷۵ اور دُرّمنثور ج:۲ ص:۲۴۲ میں حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی حدیث خروجِ دجال کے بارے میں مروی ہے، اس میں یہ الفاظ ہیں:

’’حَتّٰی یَأْتِیَ فِلَسْطِیْنَ بِبَابِ لُدٍّ فَیَنْزِلُ عِیْسٰی عَلَیْہِ السَّلَامُ فَیَقْتُلُہٗ، ثُمَّ یَمْکُثُ عِیْسٰی عَلَیْہِ السَّلَامُ فِی الْأَرْضِ أَرْبَعِیْنَ سَنَۃً إِمَامًا عَدْلًا وَحَکَمًا مُّقْسِطًا۔‘‘

(دُرّمنثور ج:۲ ص:۲۴۲، مسندِ احمد ج:۶ ص:۷۵)

ترجمہ: … ’’یہاں تک کہ دجال فلسطین میں بابِ لُدّ کے پاس پہنچے گا، پس عیسیٰ علیہ السلام نازل ہوکر اس کو قتل کریں گے، پھر عیسیٰ علیہ السلام زمین میں چالیس برس اِمامِ عادل اور حاکمِ منصف کی حیثیت سے ٹھہریں گے۔‘‘

330

حافظ نورالدین ہیثمی ’’مجمع الزوائد‘‘ ج:۷ ص:۳۳۸ میں اس حدیث کو نقل کرکے لکھتے ہیں:

’’رجالہ رجال الصحیح غیر الحضرمی ابن لَاحق وھو ثقۃ۔‘‘

(مجمع الزوائد ج:۷ ص:۳۳۸)

ترجمہ: … ’’اس حدیث کے تمام راوی صحیح بخاری کے راوی ہیں، سوائے حضرمی بن لاحق کے، اور وہ ثقہ ہیں۔‘‘

حضرت جابر رضی اللہ عنہ:

صحیح مسلم ج:۱ ص:۸۷، مسندِ احمد ج:۳ ص:۳۴۵، ۳۸۴، میں حضرت جابر رضی اللہ عنہ کی حدیث مروی ہے:

’’سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یَقُوْلُ: لَا تَزَالُ طَائِفَۃٌ مِّنْ اُمَّتِیْ یُقَاتِلُوْنَ عَلَی الْحَقِّ ظَاھِرِیْنَ إِلٰی یَوْمِ الْقِیَامَۃِ، قَالَ: فَیَنْزِلُ عِیْسَی ابْنَ مَرْیَمَ عَلَیْہِ السَّلَامُ فَیَقُوْلُ أَمِیْرُھُمْ: تَعَالْ فَصَلِّ لَنَا! فَیَقُوْلُ: لَا! إِنَّ بَعْضُکُمْ عَلٰی بَعْضٍ أُمَرَائُ، تَکْرِمَۃَ اللہِ ھٰذِہِ الْأُمَّۃِ۔‘‘

(مسندِ احمد ج:۳ ص:۳۴۵، صحیح مسلم ج:۱ ص:۸۷)

ترجمہ: … ’’میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے سنا ہے کہ میری اُمت کی ایک جماعت ہمیشہ حق کی خاطر لڑتی اور قیامت تک غالب رہے گی، پس عیسیٰ بن مریم علیہ السلام نازل ہوں گے، تو مسلمانوں کا اَمیر (اِمام مہدیؓ) عرض کرے گا کہ: تشریف لائیے ہمیں نماز پڑھائیے! آپ علیہ السلام فرمائیں گے: نہیں! تم میں سے بعض، بعض پر اَمیر ہیں، یہ حق تعالیٰ کی جانب سے اس اُمت کا اِعزاز ہے۔‘‘

331

حضرت ابنِ عباس رضی اللہ عنہ:

الف: … مستدرک حاکم ج:۲ ص:۳۰۹، اور دُرّمنثور ج:۲ ص:۲۴۱ میں ہے کہ حضرت ابنِ عباس رضی اللہ عنہ نے اِرشادِ خداوندی:’’وَاِنْ مِّنْ اَھْلِ الْکِتٰبِ اِلّا لَیُؤْمِنَنَّ بِہٖ قَبْلَ مَوْتِہٖ‘‘ کی تفسیر کرتے ہوئے فرمایا کہ: ’’قَبْلَ مَوْتِہٖ‘‘ سے حضرت عیسیٰ بن مریم علیہ السلام کا تشریف لانا مراد ہے۔

ب: … تفسیر ابن جریر ج:۶ ص:۱۴، اور دُرّمنثور ج:۲ ص:۲۴۱ میں ہے کہ حضرت ابنِ عباس رضی اللہ عنہ نے اس آیت کی تفسیر کرتے ہوئے فرمایا:

’’قبل موت عیسٰی یعنی أنّہ سیدرک أناس من أھل الکتاب حین یبعث عیسٰی فیؤمنون بہ۔‘‘

(ابنِ جریر ج:۶ ص:۱۴، دُرّمنثور ج:۲ ص:۲۴۱)

ترجمہ: … ’’’’قَبْلَ مَوْتِہٖ‘‘ سے مراد ہے عیسیٰ علیہ السلام کی موت سے پہلے، حق تعالیٰ شانہ‘ کی مراد یہ ہے کہ جب عیسیٰ علیہ السلام تشریف لائیں گے اس وقت اہلِ کتاب کے کچھ لوگ عیسیٰ علیہ السلام کو پائیں گے اور وہ آپ پر اِیمان لائیں گے۔‘‘

ج: … دُرّمنثور ج:۲ ص:۳۶ میں ہے کہ حضرت ابنِ عباس رضی اللہ عنہما نے آیتِ کریمہ: ’’یٰعِیْسٰٓی اِنِّیْ مُتَوَفِّیْکَ وَرَافِعُکَ اِلَیَّ‘‘ کی تفسیر کرتے ہوئے فرمایا:

’’قال: إنّی رافِعُکَ ثم متوفیک فی آخر الزمان۔‘‘

(دُرّمنثور ج:۲ ص:۳۶)

ترجمہ: … ’’حق تعالیٰ نے فرمایا کہ: اے عیسیٰ! میں تجھے سرِدست اُٹھانے والا ہوں، پھر آخری زمانے میں تجھے وفات دینے والا ہوں۔‘‘

د: … تفسیر ابن کثیر ج:۱ ص:۵۷۴ میں ہے کہ حضرت ابنِ عباس رضی اللہ عنہما

332

نے آیتِ کریمہ: ’’وَمَا قَتَلُوْہُ یَقِیْنًام بَلْ رَّفَعَہُ اللہُ اِلَیْہِ‘‘ کی تفسیر کرتے ہوئے فرمایا کہ عیسیٰ علیہ السلام کی شبیہ ایک دُوسرے شخص پر ڈال دی گئی:

’’ورفع عیسٰی من روزنۃ فی البیت إلی السماء، وَاِنَّہٗ لَعِلْمٌ لِّلسَّاعَۃِ۔‘‘

ترجمہ: … ’’اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو مکان کے روشن دان سے آسمان کی طرف اُٹھالیا گیا۔‘‘

اِمام ابنِ کثیرؒ اس حدیث کو نقل کرکے فرماتے ہیں: ’’ھٰذا اسناد صحیح إلی ابن عباس‘‘۔

ہ: … ’’مجمع الزوائد‘‘ ج:۷ ص:۱۰۴ میں بروایت طبرانی، اور ’’دُرّمنثور‘‘ ج:۶ ص:۲۰ میں فریابی، سعید بن منصور، مسدد، عبد بن حمید، ابنِ جریر، ابنِ ابی حاتم اور طبرانی کے حوالے سے حضرت ابنِ عباس رضی اللہ عنہما کا اِرشاد نقل کیا ہے کہ انہوں نے آیتِ کریمہ:’’وَاِنَّہٗ لَعِلْمٌ لِّلسَّاعَۃِ‘‘ کی تفسیر کرتے ہوئے فرمایا:

’’خروج عیسَی ابن مریم قبل یوم القیامۃ۔‘‘

ترجمہ: … ’’آیت کا مطلب یہ ہے کہ قیامت سے پہلے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا نازل ہونا قیامت کی نشانی ہے۔‘‘

و: … ’’دُرّمنثور‘‘ ج:۲ ص:۳۵۰ میں بروایت ابوالشیخ حضرت ابنِ عباس رضی اللہ عنہما کا اِرشاد مروی ہے کہ انہوں نے آیتِ کریمہ:

’’اِنْ تُعَذِّبْھُمْ فَاِنَّھُمْ عِبَادُکَ وَاِنْ تَغْفِرْ لَھُمْ فَاِنَّکَ اَنْتَ الْعَزِیْزُ الْحَکِیْمُ۔‘‘

کی تفسیر میں فرمایا:

’’ومدّ فی عمرہ حتّٰی أھبط من السماء إلی الأرض یقتل الدّجّال۔‘‘

ترجمہ: … ’’اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی عمر طویل کردی

333

گئی، حتیٰ کہ وہ آخری زمانے میں آسمان سے زمین پر اُتارے جائیں گے تاکہ دجال کو قتل کریں۔‘‘

اس لئے’’اِنْ تُعَذِّبْھُمْ‘‘ کا تعلق اُن لوگوں سے ہے جو تثلیث پر مرے، اور ’’اِنْ تَغْفِرْ لَھُمْ‘‘ کا تعلق اُن حضرات سے ہے جو آخری زمانے میں نزولِ عیسیٰ علیہ السلام کے وقت تثلیث سے تائب ہوکر توحید کے قائل ہوجائیں گے۔

حضرت ابنِ عباس رضی اللہ عنہما کے ان تفسیری اِرشادات سے ان کا عقیدہ واضح ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو بجسدِ عنصری آسمان پر اُٹھالیا گیا، انہیں طویل عمر عطا کی گئی، آخری زمانے میں وہ دجال کو قتل کرنے کے لئے نازل ہوں گے، اس وقت تمام اہلِ کتاب اِیمان لائیں گے، تب حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی وفات ہوگی۔

حضراتِ تابعین

صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے بعد ہم حضراتِ تابعینؒ کے دور کو لیتے ہیں، جو حضراتِ صحابہ کرامؓ اور بعد کی اُمت کے درمیان واسطہ ہیں، اور جنہوں نے علومِ نبوّت اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے اِرشادات بعد کی اُمت تک منتقل کئے ہیں۔ حضراتِ تابعینؒ میں ایک شخص کا بھی نام نہیں ملتا جو حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے رفع و نزول کا منکر ہو، اس کے برعکس ان حضراتِ تابعینؒ کی تعداد سینکڑوں سے متجاوز ہے جن سے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے رفعِ آسمانی، ان کی حیات اور قربِ قیامت میں ان کے دوبارہ تشریف لانے کا عقیدہ منقول ہے۔ یہاں چند اَکابر تابعین کا حوالہ دینا کافی ہوگا۔

حضرت سعید بن مسیبؒ:

حضرت سعید بن مسیب رحمہ اللہ (متوفیٰ ۹۳ھ) اجلہ تابعین میں سے ہیں، پوری اُمت ان کی جلالتِ قدر پر متفق ہے، علم وفضل کے لحاظ سے ان کو سیّدالتابعین شمار کیا جاتا ہے، یہ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کے عزیز داماد تھے، اور ان سے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے آخری زمانے میں نزول کی تصریح نقل کرتے ہیں۔

(صحیح بخاری ج:۱ ص:۴۹۰، صحیح مسلم ج:۱ ص:۸۷)

334

حضرت طاؤسؒ:

حضرت طاؤس بن کیسان رحمہ اللہ (متوفیٰ ۱۰۶ھ) مشہور تابعی ہیں، یہ حضرت ابوہریرہ، اُمّ المؤمنین عائشہ صدیقہ، ابنِ عباس، زید بن ثابت، زید بن ارقم اور جابر بن عبداللہ، اکابر صحابہ ۔۔۔رضی اللہ عنہم۔۔۔ کے شاگرد تھے۔ مصنف عبدالرزّاق (ج:۱۱ ص:۳۸۷) میں بہ سندِ صحیح ان کا اِرشاد نقل کیا ہے:

’’عَشَرُ آیَاتٍ بَیْنَ یَدَیِ السَّاعَۃِ: طُلُوْعِ الشَّمْسِ مِنْ مَّغْرِبِھَا وَالدُّخَانُ وَالدَّجَّالُ وَالدَّابَّۃُ وَنُزُوْلُ عِیْسٰی ۔۔۔الخ۔‘‘

ترجمہ: … ’’قیامت کی علاماتِ (کبریٰ) دس ہیں: آفتاب کا مغرب سے طلوع ہونا، دُخان، دجال، دابۃ الارض، اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا نازل ہونا۔‘‘

نیز اسی میں ان کا یہ ارشاد بھی بہ سندِ صحیح نقل کیا ہے:

’’یَنْزِلُ عِیْسَی ابْنَ مَرْیَمَ إِمَامًا ھَادِیًا وَّمُقْسِطًا عَادِلًا، فَإِذَا نَزَلَ کَسَرَ الصَّلِیْبَ وَقَتَلَ الْخِنْزِیْرَ وَوَضَعَ الْجِزْیَۃَ وَتَکُوْنَ الْمِلَّۃُ وَاحِدَۃً وَّیُوْضِعُ الْأَمْنَ فِی الْأَرْضِ۔‘‘

(مصنف عبدالرزّاق ج:۱۱ ص:۴۰۰)

ترجمہ: … ’’حضرت عیسیٰ علیہ السلام اِمامِ ہادی اور حاکمِ منصف کی حیثیت سے نازل ہوں گے، پس جب وہ نازل ہوں گے تو صلیب کو توڑ دیں گے، خنزیر کو قتل کردیں گے، جزیہ موقوف کردیں گے، اور دِین صرف ایک ہوجائے گا، اور زمین میں امن کا دور دورہ ہوگا۔‘‘

حضرت حسن بصریؒ:

اِمام حسن بصری رحمہ اللہ (متوفیٰ۱۱۰ھ) جن کی شہرۂ آفاق شخصیت کسی تعارف کی

335

محتاج نہیں۔ تفسیر ابنِ جریر ج:۶ ص:۱۴ میں ان کا اِرشاد نقل کیا گیا ہے کہ انہوں نے آیتِ کریمہ: ’’وَاِنْ مِّنْ اَھْلِ الْکِتٰبِ اِلّا لَیُؤْمِنَنَّ بِہٖ قَبْلَ مَوْتِہٖ‘‘ کی تفسیر کرتے ہوئے فرمایا کہ آیت سے مراد ہے اہلِ کتاب کا حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی موت سے پہلے ان پر اِیمان لانا۔

’’واللہ! إنّہ الآن لحیٌّ عند اللہ، ولٰـکن إذا نزل آمنوا بہ أجمعون۔‘‘

(تفسیر ابن کثیر ج:۱ ص:۵۷۶)

ترجمہ: … ’’اللہ تعالیٰ کی قسم وہ اب اللہ تعالیٰ کے پاس زندہ ہیں لیکن جب وہ نازل ہوں گے تب سب اہلِ کتاب ان پر اِیمان لائیں گے۔‘‘

تفسیر ’’دُرّمنثور‘‘ ج:۲ ص:۲۴۱ میں ان کا یہ ارشاد نقل کیا ہے:

’’إنّ اللہ رفع إلیہ عیسٰی وھو باعثہ قبل یوم القیامۃ مقامًا یؤمن بہ البر والفاجر۔‘‘

(ابن کثیر ج:۱ ص:۳۶۶، دُرّمنثور ج:۲ ص:۳۶، ایضاً ابن کثیر ج:۱ ص:۵۷۶)

ترجمہ: … ’’بے شک اللہ تعالیٰ نے عیسیٰ علیہ السلام کو اپنی طرف آسمان پر اُٹھالیا ہے، اور اللہ تعالیٰ ان کو دوبارہ بھیجیں گے، تب ان پر تمام نیک وبد اِیمان لائیں گے۔‘‘

تفسیر ابنِ کثیر ج:۱ ص:۳۶۶ اور تفسیر دُرّمنثور ج:۲ ص:۳۶ میں حضرت حسن بصریؒ کی روایت سے یہ حدیث نقل کی گئی ہے:

’’قَالَ رَسُوْلُ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ لِلْیَھُوْدِ: إِنَّ عِیْسٰی لَمْ یَمُتْ وَإِنَّہٗ رَاجِعٌ إِلَیْکُمْ قَبْلَ یَوْمِ الْقِیَامَۃِ۔‘‘

ترجمہ: … ’’آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے یہود سے فرمایا کہ: عیسیٰ علیہ السلام فوت نہیں ہوئے اور وہ قیامت سے پہلے تمہاری طرف دوبارہ لوٹ کر آئیں گے۔‘‘

336

اِمام محمد بن سیرینؒ:

اِمام محمد بن سیرین رحمہ اللہ (متوفیٰ ۱۱۰ھ) فرماتے ہیں:

’’ینزل ابن مریم علیہ السلام لَامتہ وممصرتان، بین الأذان والْإقامۃ، فیقول: بل یصلّی بکم إمامکم، أنتم أمراء بعضکم علٰی بعض۔‘‘

(مصنف عبدالرزّاق ج:۱۱ ص:۳۹۹)

ترجمہ: … ’’حضرت عیسیٰ بن مریم علیہ السلام اَذان و اِقامت کے درمیان نازل ہوں گے، آلاتِ جنگ اور دو زَرد چادریں ان کے زیبِ تن ہوں گی، لوگ کہیں گے کہ: آگے ہوکر نماز پڑھائیے، آپ فرمائیں گے: نہیں! بلکہ تمہارا اِمام ہی تمہیں نماز پڑھائے گا، تم ایک دُوسرے پر اَمیر ہو۔‘‘

نیز ان کا اِرشاد ہے:

’’أنہ المھدی الذی یصلّی ورائہ عیسٰی۔‘‘

(حوالۂ بالا)

ترجمہ: … ’’سچے مہدی وہ ہوں گے جن کی اِقتدا میں عیسیٰ علیہ السلام نماز پڑھیں گے۔‘‘

اِمام سیوطی رحمہ اللہ نے اپنے رسالے ’’العرف الوردی‘‘ میں مصنف ابنِ ابی شیبہ کے حوالے سے اِمام محمد بن سیرینؒ کا یہ اِرشاد ان الفاظ میں نقل کیا ہے:

’’المھدی من ھٰذہ الاُمّۃ وھو الذی یؤم عیسَی بن مریم علیھما السلام۔‘‘

(الحاوی للفتاویٰ ج:۲ ص:۳۵۵، مطبع قدسی، قاہرہ)

ترجمہ: … ’’مہدی اسی اُمت میں ہوں گے، اور مہدی وہ ہوں گے جن کی اِقتدا میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام نماز پڑھیں گے۔‘‘

337

اِمام محمد بن الحنفیہؒ:

حضرت امیرالمؤمنین علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کے فرزند حضرت محمد بن الحنفیہ رحمہ اللہ (متوفیٰ ۸۰ھ) آیتِ کریمہ: ’’وَاِنْ مِّنْ اَھْلِ الْکِتٰبِ اِلّا لَیُؤْمِنَنَّ بِہٖ قَبْلَ مَوْتِہٖ‘‘ کی تفسیر میں فرماتے ہیں:

’’لیس من أھل الکتاب أحدٌ إلّا أتتہُ الملائکۃ یضربون وجھہ ودبرہ ثم یقال: یا عدو اللہ! إنّ عیسٰی رُوح اللہ وکلمتہ، کذبت علی اللہ وزعمت أنّہ اللہ، وإن عیسٰی لم یمت وأنّہ رفع إلی السماء وھو نازل قبل أن تقوم الساعۃ فلا یبقی یھودی ولَا نصرانی إلّا آمن بہ۔‘‘

(دُرّمنثور ج:۲ ص:۲۴۱)

ترجمہ: … ’’اہلِ کتاب میں سے جو شخص مرتا ہے، فرشتے اس کے منہ اور پشت پر مارتے ہیں، پھر کہا جاتا ہے کہ: او اللہ کے دُشمن! بے شک عیسیٰ (علیہ السلام) رُوح اللہ اور کلمۃ اللہ ہیں، تو نے خدا پر جھوٹ باندھا اور تو نے یہ عقیدہ جمایا کہ وہ خدا ہیں، اور عیسیٰ (علیہ السلام) مرے نہیں بلکہ وہ آسمان پر اُٹھائے گئے ہیں اور قیامت سے پہلے نازل ہوں گے، پس اس وقت کوئی یہودی اور نصرانی ایسا نہیں رہے گا جو اُن پر اِیمان نہ لائے۔‘‘

ابوالعالیہ تابعیؒ:

حضرت ابوالعالیہ رفیع بن مہران الریاحی البصری رحمہ اللہ (متوفیٰ ۹۳ھ) جلیل القدر تابعی ہیں، وہ فرماتے ہیں:

’’ما ترک عیسَی ابن مریم حین رفع إلّا مدرعۃ صوف وحفی راع وحذافۃ یحذف بہ الطیر۔‘‘

(دُرّمنثور ج:۲ ص:۲۳۹)

338

ترجمہ: … ’’حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو جب اُٹھایا گیا تو ان کے پاس صرف یہ چیزیں تھیں: پشم کی ایک گودڑی، چرواہے کے سے جوتے اور ایک غلیل جس سے پرندوں کا شکار کرتے تھے۔‘‘

ابورافع تابعیؒ:

حضرت ابو رافع نفیع بن رافع المدنی رحمہ اللہ اکابر تابعین میں سے ہیں، ان سے بھی یہی مضمون منقول ہے۔

(حوالۂ بالا)

اِمام زین العابدینؒ، اِمام باقرؒ اور اِمام جعفر صادق:

ِِٓاِمام جعفر صادق (متوفیٰ ۱۴۸ھ) اپنے والد اِمام محمد باقر (متوفیٰ ۱۱۴ھ) سے، اور وہ اپنے والد ماجد اِمام علی بن حسین زین العابدین (متوفیٰ ۹۴ھ) ۔۔۔رضی اللہ عنہم۔۔۔ سے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ اِرشاد نقل کرتے ہیں:

’’کَیْفَ تَھْلِکُ أُمَّۃٌ أَنَا أَوَّلَھَا وَالْمَھْدِیُّ وَسْطَھَا وَالْمَسِیْحُ آخِرَھَا۔‘‘

(مشکوٰۃ ص:۵۸۳)

ترجمہ: … ’’وہ اُمت کیسے ہلاک ہوسکتی ہے جس کے شروع میں، میں ہوں، درمیان میں مہدی ہیں اور آخر میں حضرت مسیح علیہ السلام ہوں گے۔‘‘

اِمام مجاہدؒ:

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کے مایۂ ناز شاگرد حضرت اِمام مجاہد بن جبیر رحمہ اللہ (متوفیٰ ۱۰۳ھ) حق تعالیٰ کے اِرشاد: ’’وَلٰـکِنْ شُبِّہَ لَھُمْ‘‘ کی تفسیر میں فرماتے ہیں:

’’صلبوا رجلًا غیر عیسٰی شبھوہ بعیسٰی یحسبون إیاہ، ورفع اللہ إلیہ عیسٰی حیًّا۔‘‘

(دُرّمنثور ج:۲ ص:۲۳۸، وتفسیر ابنِ جریر ج:۶ ص:۱۲)

339

ترجمہ: … ’’یہود نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے بجائے ایک اور آدمی کو سولی پر لٹکایا، جسے لوگ عیسیٰ سمجھ رہے تھے، اور اللہ تعالیٰ نے عیسیٰ علیہ السلام کو اپنی طرف زندہ اُٹھالیا۔‘‘

نیز دُرّمنثور میں بحوالہ ابنِ ابی شیبہ، عبد بن حمید، ابن المنذر وابنِ ابی حاتم، حضرت مجاہدؒ کا یہ قول نقل کیا ہے:

’’رفع إدریس کما رفع عیسٰی ولم یمت۔‘‘

ترجمہ: … ’’اِدریس علیہ السلام کو بھی عیسیٰ علیہ السلام کی طرح آسمان پر اُٹھالیا گیا اور وہ مرے نہیں۔‘‘

اِمام قتادہؒ:

حضرت قتادہ بن دعامہ رحمہ اللہ (متوفیٰ ۱۱۷ھ) حق تعالیٰ کے اِرشاد:’’وَاِنْ مِّنْ اَھْلِ الْکِتٰبِ اِلّا لَیُؤْمِنَنَّ بِہٖ قَبْلَ مَوْتِہٖ‘‘ کی تفسیر میں فرماتے ہیں:

’’إذا نزل آمنت بہ الأدیان کلھا {وَیَوْمَ الْقِیٰمَۃِ یَکُوْنُ عَلَیْھِمْ شَھِیْدًا} أنّہ قد بلّغ رسالۃ ربّہ وأقرّ علٰی نفسہ بالعبودیۃ۔‘‘

(دُرّمنثور ج:۲ ص:۲۴۱، وتفسیر ابنِ جریر ج:۶ ص:۱۴)

ترجمہ: … ’’جب عیسیٰ علیہ السلام نازل ہوں گے تو تمام اہلِ مذاہب ان پر اِیمان لے آئیں گے، اور آپ قیامت کے دن ان پر گواہ ہوں گے کہ آپ نے اپنے رَبّ کا پیغام پہنچادیا تھا، اور اپنی بندگی کا اِقرار کیا تھا۔‘‘

نیز آیتِ کریمہ:’’یٰعِیْسٰٓی اِنِّیْ مُتَوَفِّیْکَ وَرَافِعُکَ اِلَیَّ‘‘ کی تفسیر میں فرماتے ہیں:

’’ھٰذا من المقدم والمؤخر، وتقدیرہ إنّی
340

رافعک إلیَّ ومتوفّیک یعنی بعد ذٰلک۔‘‘

(تفسیر ابن کثیر ص:۳۶۶)

ترجمہ: … ’’آیت میں تقدیم و تأخیر ہے، اور مطلب یہ ہے کہ اے عیسیٰ! سرِدست میں تجھے اُٹھانے والا ہوں، پھر اس کے بعد آخری زمانے میں تجھے وفات دُوں گا۔‘‘

نیز آیتِ کریمہ: ’’وَاِنَّہٗ لَعِلْمٌ لِّلسَّاعَۃِ‘‘ کی تفسیر میں فرماتے ہیں:

’’نزول عیسٰی علیہ السلام عَلَم للساعۃ۔‘‘

(دُرّمنثور ج:۶ ص:۲۰)

ترجمہ: … ’’(قربِ قیامت میں) عیسیٰ علیہ السلام کا نازل ہونا قیامت کی نشانی ہے۔‘‘

اِمام ابو مالک غفاری تابعیؒ:

جلیل القادر تابعی حضرت غزوان ابومالک الغفاری الکوفی رحمہ اللہ آیتِ کریمہ: ’’وَاِنْ مِّنْ اَھْلِ الْکِتٰبِ اِلّا لَیُؤْمِنَنَّ بِہٖ قَبْلَ مَوْتِہٖ‘‘ کی تفسیر میں فرماتے ہیں:

’’ذٰلک عند نزول عیسَی ابن مریم، لَا یبقی أحدٌ من أھل الکتاب إلّا آمن بہ۔‘‘

(تفسیر ابنِ جریر ج:۶ ص:۱۴)

ترجمہ: … ’’یہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے نازل ہونے کے بعد ہوگا، اس وقت اہلِ کتاب میں سے کوئی ایسا نہیں رہے گا جو آپ پر اِیمان نہ لائے۔‘‘

اِمام محمد بن زید تابعیؒ:

اِمام مالکؒ کے اُستاذ حضرت محمد بن زید تابعی رحمہ اللہ آیتِ کریمہ: ’’وَاِنْ مِّنْ اَھْلِ الْکِتٰبِ اِلّا لَیُؤْمِنَنَّ بِہٖ قَبْلَ مَوْتِہٖ‘‘ کی تفسیر میں فرماتے ہیں:

341
’’إذا نزل عیسٰی علیہ السلام فقتل الدّجّال لم یبق یھودی فی الأرض إلّا آمن بہ۔‘‘

(تفسیر ابنِ جریر ج:۶ ص:۱۴)

ترجمہ: … ’’جب عیسیٰ علیہ السلام (آخری زمانے میں) نازل ہوکر دجال کو قتل کردیں گے تو کوئی یہودی زمین پر باقی نہیں رہے گا مگر آپ پر اِیمان لے آئے گا۔‘‘

اِمام ابنِ جریج:ؒ

اِمام عبدالملک بن عبدالعزیز بن جریج المکی رحمہ اللہ (متوفیٰ ۱۵۰ھ) حق تعالیٰ کے اِرشاد: ’’اِنِّیْ مُتَوَفِّیْکَ وَرَافِعُکَ اِلَیَّ‘‘ کی تفسیر میں فرماتے ہیں:

’’معنی متوفیک قابضک ورافعک إلی السماء من غیر موت۔‘‘

(تفسیر قرطبی ج:۴ ص:۱۰۰)

ترجمہ: … ’’متوفیک کے معنی ہیں کہ تجھے اپنی تحویل میں لے کر آسمان کی طرف اُٹھانے والا ہوں بغیر موت کے۔‘‘

اِمام ربیع بن انسؒ:

اِمام ربیع بن انس البکری البصری الخراسانی رحمہ اللہ (متوفیٰ ۱۴۰ھ) آیتِ کریمہ:’’اِنِّیْ مُتَوَفِّیْکَ وَرَافِعُکَ اِلَیَّ‘‘ کی تفسیر میں فرماتے ہیں:

’’المراد من التوفی النوم، وکان عیسٰی قد نام فرفعہ اللہ تعالٰی نائمًا إلی السماء۔‘‘

(تفسیر بغوی ج:۲ ص:۱۵۰)

ترجمہ: … ’’توفی سے مراد نیند ہے، اور عیسیٰ علیہ السلام سو رہے تھے کہ اللہ تعالیٰ نے ان کو نیند کی حالت میں آسمان پر اُٹھالیا۔‘‘

اِمام ضحاکؒ:

اِمام ابوالقاسم ضحاک بن مزاحم الہلالی الخراسانی رحمہ اللہ (متوفیٰ مابعد ۱۰۰ھ)

342

آیتِ کریمہ: ’’اِنِّیْ مُتَوَفِّیْکَ وَرَافِعُکَ اِلَیَّ‘‘ کی تفسیر میں فرماتے ہیں کہ اس میں تقدیم وتأخیر ہے، اِمام قرطبیؒ لکھتے ہیں:

’’قال جماعۃ من أھل المعانی منھم الضحاک والفراء فی قولہ تعالٰی: {اِنِّیْ مُتَوَفِّیْکَ وَرَافِعُکَ اِلَیَّ} علی التقدیم والتأخیر، لأن الواو لَا توجب الرتبۃ، والمعنٰی إنّی رافعک إلیّ ومطھّرک من الذین کفروا، ومتوفیک بعد أن تنزل من السماء۔‘‘

(تفسیر بغوی ج:۲ ص:۱۵۰، وتفسیر قرطبی ج:۴ ص:۹۹)

ترجمہ: … ’’اہلِ معانی کی ایک جماعت بشمول اِمام ضحاکؒ واِمام فراء حق تعالیٰ کے اِرشاد: ’’اِنِّیْ مُتَوَفِّیْکَ وَرَافِعُکَ اِلَیَّ‘‘ کے بارے میں فرماتے ہیں کہ یہ تقدیم وتأخیر پر محمول ہے، کیونکہ واؤ ترتیب کو ثابت نہیں کرتی، مطلب یہ ہے کہ میں سرِدست تجھ کو اپنی طرف آسمان پر اُٹھانے والا ہوں، اور ان کافروں کی صحبت سے پاک کرنے والا ہوں، اور جب تم آسمان سے نازل ہوگے اس کے بعد تجھے وفات دُوں گا۔‘‘

اور قرطبیؒ نے اِمام ضحاکؒ سے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے رفع الی السماء کا مفصل واقعہ بھی نقل کیا ہے۔

(تفسیر قرطبی ج:۴ ص:۱۰۰)

اَئمۂ اَربعہ

حضراتِ تابعینؒ کے بعد اُمتِ اسلامیہ کے سب سے بڑے مقتدا اَئمہ اَربعہ: اِمام ابوحنیفہ، اِمام مالک، اِمام شافعی اور اِمام احمد بن حنبل ۔۔۔رحمہم اللہ۔۔۔ ہیں۔ چنانچہ بعد کی پوری اُمت ان کی جلالتِ قدر پر متفق ہے۔ شاہ ولی اللہ محدث دہلوی رحمہ اللہ کے نزدیک کسی مسئلے پر ان چار اَکابر کا اِتفاق، اِجماعِ اُمت کی دلیل ہے۔

(عقد الجید مترجم، باب تاکید الأخذ بھٰذہ المذاھب الأربعۃ والتشدید فی ترکھا والخروج عنھا ص:۳۵)

343

حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے آخری زمانے میں نازل ہونے کا عقیدہ اَئمہ اَربعہؒ کی تصریحات سے بھی ثابت ہے۔

اِمامِ اعظم ابوحنیفہؒ:

الامام الاعظم ابوحنیفہ نعمان بن ثابت الکوفی رحمہ اللہ (متوفیٰ ۱۵۰ھ) ’’فقہِ اکبر‘‘ میں فرماتے ہیں:

’’وخروج الدَّجّال ویأجوج ومأجوج وطلوع الشمس من مغربھا ونزول عیسٰی علیہ السلام من السماء وسائر علامات یوم القیامۃ علٰی ما وردت بہ الأخبار الصحیحۃ حق کائن۔ واللہ یھدی من یشاء إلٰی صراط مستقیم۔‘‘

(شرح فقہِ اکبر، مُلَّا علی قاریؒ ص:۱۳۶، مطبوعہ مجتبائی ۱۳۴۸ھ)

ترجمہ: … ’’دجال اور یأجوج مأجوج کا نکلنا اور آفتاب کا مغرب کی طرف سے طلوع ہونا اور عیسیٰ علیہ السلام کا آسمان سے نازل ہونا اور دیگر علاماتِ قیامت، جیسا کہ احادیثِ صحیحہ ان میں وارِد ہوئی ہیں، سب حق ہیں، ضرور ہوں گی۔‘‘

اِمام مالکؒ:

اِمام دارالہجرۃ مالک بن انس الاصبحی رحمہ اللہ (متوفیٰ ۱۷۹ھ) ’’العتیبہ‘‘ میں فرماتے ہیں:

’’قال مالک: بین الناس قیام یستمعون لاِقامۃ الصلاۃ فتغشاھم غمامۃ فإذا عیسٰی قد نزل۔‘‘

(شرح مسلم للابی ج:۱ ص:۲۶۶)

ترجمہ: … ’’دریں اثنا کہ لوگ کھڑے نماز کی اِقامت سن رہے ہوں گے، اتنے میں ان کو ایک بدلی ڈھانک لے گی، کیا دیکھتے

344

ہیں کہ عیسیٰ علیہ السلام نازل ہوچکے ہیں۔‘‘

’’العتیبہ‘‘ میں اِمام مالکؒ کا یہ اِرشاد بھی منقول ہے:

’’کان أبو ھریرۃ رضی اللہ عنہ یلقی الفتی الشاب، فیقول: یا ابن أخی! إنَّک عسٰی أن تلقی عیسَی ابن مریم فاقرأہ مِنّی السَّلام۔‘‘

(حوالہ مذکورہ بالا ج:۱ ص:۲۶۵)

ترجمہ: … ’’حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کسی نوجوان سے ملتے تو اس سے فرمایا کرتے تھے کہ: بھتیجے! شاید تم عیسیٰ بن مریم علیہ السلام سے ملو، تو آپ کی خدمت میں میرا سلام کہہ دینا۔‘‘

نیز مؤطا ص:۳۶۸ میں اِمام مالکؒ نے ایک باب کا عنوان قائم کیا ہے: ’’صفۃ عیسَی بن مریم والدّجّال‘‘ اور اس میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام اور دجال دونوں کے حلیے کی حدیث نقل کی ہے، اور یہ ٹھیک وہی حلیہ ہے جو بوقتِ خروج دجال کا، اور بوقتِ نزول حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا احادیثِ طیبہ میں بیان کیا گیا ہے۔ اس سے واضح ہے کہ اِمام مالکؒ کا عقیدہ بھی وہی ہے جو پوری اُمت کا ہے کہ آخری زمانے میں دجال نکلے گا تو اس کو قتل کرنے کے لئے عیسیٰ علیہ السلام نازل ہوں گے۔

اِمام احمد بن حنبلؒ:

اِمام احمد بن حنبل الشیبانی رحمہ اللہ (متوفیٰ ۱۲۴ھ) کی کتاب ’’مسند‘‘ چھ ضخیم جلدوں میں اُمت کے سامنے موجود ہے، جس میں بہت سی جگہ نزولِ عیسیٰ علیہ السلام کا عقیدہ درج ہے، حوالے کے لئے مندرجہ ذیل صفحات کی مراجعت کی جائے:

جلد اوّل: … ۳۷۵۔

جلد دوم: … ۲۲، ۳۹، ۵۸، ۸۳، ۱۲۲، ۱۲۶، ۱۴۴، ۱۵۴، ۲۴۰، ۲۷۲، ۲۹۰، ۲۹۸، ۲۹۹، ۳۳۶، ۳۹۴، ۴۰۶، ۴۱۱، ۴۳۷، ۴۸۲، ۴۹۴، ۵۱۳، ۵۳۸، ۵۴۰۔

345

جلد سوم: … ۳۴۵، ۳۶۸، ۳۸۴، ۴۲۰۔

جلد چہارم: … ۱۸۱، ۱۸۲، ۲۱۶، ۲۱۷، ۳۹۰، ۴۲۹۔

جلد پنجم: … ۱۳، ۱۶، ۲۷۸۔

جلد ششم: … ۷۵۔

اِمام ابویوسفؒ اور اِمام محمدؒ:

اِمام ابوجعفر الطحاوی رحمہ اللہ (متوفیٰ ۳۶۱ھ) ’’العقیدۃ الطحاویہ‘‘ کی تمہید میں لکھتے ہیں:

’’ھٰذا ذکر بیان عقیدۃ أھل السُّنّۃ والجماعۃ علٰی مذھب فقھاء الملّۃ أبی حنیفۃ نعمان بن الثابت الکوفی وأبی یوسف یعقوب بن إبراھیم الأنصاری ومحمد بن الحسن الشیبانی رضوان اللہ علیھم أجمعین وما یعتقدون من أُصول الدِّین، ویدینون بہ لربّ العالمین۔‘‘

(عقیدۃ الطحاوی ص:۵)

ترجمہ: … ’’اس رسالے میں عقیدۂ اہلِ سنت والجماعت درج کیا جاتا ہے جو فقہائے ملت، اِمام ابوحنیفہ نعمان بن ثابت الکوفی، اِمام ابویوسف یعقوب بن ابراہیم الانصاری (متوفیٰ ۲۰۸ھ) اور اِمام محمد بن حسن شیبانی، رضوان اللہ علیہم اجمعین، کے مذہب کے مطابق ہے، اور ان اُصولِ دِین کا بیان ہے جن پر یہ حضرات عقیدہ رکھتے تھے اور جن کے مطابق رَبّ العالمین کی اطاعت و بندگی کرتے تھے۔‘‘

اس تمہید کے بعد انہوں نے جو عقائد درج کئے ہیں، ان میں خروجِ دجال، اور عیسیٰ علیہ السلام کے آسمان سے نازل ہونے کا عقیدہ بھی ہے۔ (ان کی یہ عبارت چوتھی صدی کے ذیل میں آئے گی)۔

346

اِمام طحاویؒ کے اس اِرشاد سے معلوم ہوتا ہے کہ نہ صرف فقہائے ملت، اَئمہ ثلاثہؒ کا، بلکہ تمام سلف صالحین اہلِ سنت والجماعت کا بلااِختلاف یہی عقیدہ تھا۔

تیسری صدی

اِمام ابوداؤد طیالسیؒ:

الامام الحافظ سلیمان بن داؤد بن الجارود ابوداؤد الطیالسی البصری رحمہ اللہ (۱۳۳ھ-۲۰۴ھ) نے اپنی مسند میں خروجِ دجال اور نزولِ عیسیٰ علیہ السلام کی احادیث متعدّد جگہ درج کی ہیں، تفصیل کے لئے مندرجہ ذیل صفحات کی طرف مراجعت فرمائیے:

مسند حذیفہ بن یمان حدیث نمبر:۴۳۴ ص:۵۸
مسند ابی برزہ اسلمیؓ حدیث نمبر:۹۲۳ ص:۱۲۴
مسند حذیفہ بن اُسیدؓ حدیث نمبر:۱۰۶۷ ص:۱۴۳
مسند سفینہؓ مولیٰ رسول اللہ ﷺ حدیث نمبر:۱۱۰۶ ص:۱۵۰
مسند مجمع بن جاریہؓ حدیث نمبر:۱۲۲۷ ص:۱۷۰
مسند محجن بن اورعؓ حدیث نمبر:۱۲۹۵ ص:۱۸۳
مسند اسماء بنت یزیدؓ حدیث نمبر:۱۶۳۳ ص:۲۲۷
مسند عبداللہ بن عمرؓ حدیث نمبر:ـ۱۸۱۱ ص:۲۴۹
مسند ابی ہریرہؓ حدیث نمبر:۲۳۲۶ ص:۳۰۶
ایضاً حدیث نمبر:۲۳۴۹ ص:۳۰۸
ایضاً حدیث نمبر:۲۵۳۲ ص:۳۳۰
ایضاً حدیث نمبر:۲۵۴۱ ص:۳۳۱
ایضاً حدیث نمبر:۲۵۴۹ ص:۳۳۲
ایضاً حدیث نمبر:۲۵۷۵ ص:۳۳۵
ایضاً حدیث نمبر:۲۵۷۸ ص:۳۳۶
347
مسند ابنِ عباس حدیث نمبر:۲۷۱۰ ص:۳۵۳

اِمام عبدالرزّاق:ؒ

اِمام ہمام عبدالرزّاق بن ہمام الصنعانی رحمہ اللہ (۱۲۶ھ-۲۱۱ھ) نے اپنی مشہور کتاب ’’مصنف‘‘ میں علاماتِ قیامت کے ضمن میں نزولِ عیسیٰ علیہ السلام کی احادیث کی تخریج کی ہے، دیکھئے جلد:۱۱ صفحات: ۳۷۷، ۳۷۸، ۳۹۸، ۳۹۹، اور جلد:۱۱ صفحہ:۳۹۹ پر ایک مستقل باب ’’باب نزول عیسیٰ بن مریم علیہما السلام‘‘ کے عنوان سے قائم کیا ہے اور اس کے تحت سات حدیثیں درج کی ہیں۔

اِمام حمیدیؒ:

اِمام بخاریؒ کے اُستاذ الامام الحافظ ابوبکر عبداللہ بن الزبیر بن عیسیٰ الحمیدی (متوفیٰ۲۱۹ھ) نے اپنی مسند میں نزولِ عیسیٰ علیہ السلام کی مندرجہ ذیل احادیث تخریج کی ہیں:

۱: … حضرت ابوسریحہ الغفاری رضی اللہ عنہ کی حدیث جس میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے قیامت کی دس علامتوں میں دجال کا نکلنا اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا نازل ہونا بھی ذِکر فرمایا ہے، دیکھئے ج:۲ ص:۳۶۴۔

۲: … حضرت مجمع بن جاریہ رضی اللہ عنہ کی حدیث جس میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے دجال کا تذکرہ کرتے ہوئے فرمایا:

’’وَالَّذِیْ نَفْسِیْ بِیَدِہٖ! لَیَقْتُلُہُ ابْنُ مَرْیَمَ بِبَابِ لُدٍّ۔‘‘

(ج:۲ ص:۳۶۰ حدیث نمبر:۸۲۸)

ترجمہ: … ’’قسم اس ذات کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! حضرت عیسیٰ بن مریم علیہ السلام اس کو بابِ لُدّ میں قتل کریں گے۔‘‘

۳: … حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کی حدیث، جس میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ: حضرت عیسیٰ علیہ السلام فج الروحا سے حج اور عمرے کا اِحرام باندھیں گے۔

(ج:۲ ص:۴۴ حدیث:۱۰۰۵)

348

۴: … حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کی حدیث جس میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ: حضرت عیسیٰ علیہ السلام تم میں اِمامِ ہدیٰ اور حاکمِ منصف کی حیثیت سے نازل ہوں گے ۔۔۔الخ۔

(ج:۲ ص:۴۶۸ حدیث:۱۰۹۸)

اِمام ابوعبید قاسم بن سلامؒ:

الامام الحافظ الفقیہ اللغوی ابوعبید القاسم بن سلام الہروی رحمہ اللہ (متوفیٰ۲۲۴ھ) نے اپنی کتاب غریب الحدیث میں دجال کے بارے میں یہ حدیث نقل کی ہے:

’’وقال أبو عبید فی حدیثہ: إنہ سمع رجلًا حین فتحت جزیرۃ العرب أو قال: فتحت مکۃ، یقول: أبھوا الخیل فقد وضعت الحرب أوزارھا، فقال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم: لَا تزالون یقاتلون الکفار حتّٰی یقاتل بقیتکم الدَّجّال۔‘‘

(غریب الحدیث ج:۳ ص:۱۱۴)

ترجمہ: … ’’جب جزیرۂ عرب یا مکہ فتح ہوا، تو ایک شخص نے کہا کہ: اپنے گھوڑوں کو راحت دو، کیونکہ لڑائی ہتھیار ڈال چکی ہے، اس پر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ: تم ہمیشہ کفار سے جہاد کرتے رہوگے، یہاں تک کہ تمہارے بقیہ لوگ (عیسیٰ علیہ السلام کی معیت میں) دجال سے قتال کریں گے۔‘‘

نیز اِمام ابوعبید رحمہ اللہ نے یأجوج مأجوج کے بارے میں مندرجہ ذیل روایت نقل کی ہے:

’’وقال أبو عبید فی حدیث أبی ھریرۃ فی یأجوج ومأجوج: إنہ یسلط علیھم العنف، فیأخذ فی رقابھم۔‘‘

(ج:۴ ص:۲،۳ طبع ۱۳۸۵ھ دائرۃ المعارف العثمانیہ، حیدرآباد دکن)

349

ترجمہ: … ’’یأجوج ومأجوج کے بارے میں حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کی حدیث میں آتا ہے کہ حق تعالیٰ شانہ‘ ایک جرثومہ ان پر مسلط کردیں گے جو ان کی گردن میں پھوڑے کی شکل میں نمودار ہوگا۔‘‘

اور یہ بھی معلوم ہے کہ دجال سے قتال حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے زمانے میں ہوگا، اور یہ کہ یأجوج ومأجوج کا خروج بھی آپ ہی کے زمانے میں ہوگا۔

اِمام ابوبکر بن ابی شیبہؒ:

شیخ المحدثین الامام الحافظ ابوبکر عبداللہ بن ابی شیبہ ابراہیم بن عثمان الواسطی الکوفی (متوفیٰ۲۳۵ھ) نے ’’مصنف‘‘ (کتاب الفتن) میں بہت سی احادیث ذِکر کی ہیں اور ان کے حوالے سے متعدّد اَحادیث دُرّمنثور میں نقل کی گئی ہیں، اِمام قرطبیؒ لکھتے ہیں:

’’وذکر ابن أبی شیبۃ بسند صحیح عن ابن عباس رضی اللہ عنھما، لما أراد اللہ تبارک وتعالٰی أن یرفع عیسٰی إلی السماء ۔۔۔۔۔ إلیٰ قولہ: ورفع اللہ تعالٰی عیسٰی إلی السماء عن روزنۃ کانت فی البیت۔‘‘

(تفسیر قرطبی ج:۴ ص:۱۰۰)

ترجمہ: … ’’اور اِمام ابنِ ابی شیبہ نے بہ سندِ صحیح حضرت ابنِ عباس رضی اللہ عنہما کا اِرشاد نقل کیا ہے کہ: جب اللہ تبارک وتعالیٰ نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو آسمان کی طرف اُٹھانے کا اِرادہ فرمایا ۔۔۔ پوری حدیث کے آخر میں ہے کہ ۔۔۔ اور اللہ تعالیٰ نے عیسیٰ علیہ السلام کو مکان کے روشن دان سے آسمان کی طرف اُٹھالیا۔‘‘

اِمام ابنِ قتیبہؒ:

ابو محمد بن عبداللہ بن مسلم بن قتیبہ رحمہ اللہ (۲۱۳ھ-۲۷۶ھ) اپنی کتاب

350

’’تاویل مختلف الحدیث‘‘ میں لکھتے ہیں:

’’(قالوا: حدیثان متدافعان متناقضان) قالوا: رویتم أن النبی صلی اللہ علیہ وسلم قال: ’’لَا نبی بعدی، ولَا اُمّۃ بعد اُمّتی، فالحلال ما أحلہ اللہ تبارک وتعالٰی علٰی لسانی إلیٰ یوم القیامۃ، والحرام ما حرم اللہ تعالٰی علٰی لسانی إلیٰ یوم القیامۃ۔‘‘
ثم رویتم أن المسیح علیہ السلام ینزل فیقتل الخنزیر، ویکسر الصلیب ویزید فی الحلال۔
وعن عائشۃ رضی اللہ تعالٰی عنھا أنھا کانت تقول: ’’قولوا لرسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم: خاتم الأنبیاء، ولَا تقولوا: لَا نبی بعدہ‘‘ وھٰذا متناقض۔
وقال أبو محمد: ونحن نقول: إنہ لیس فی ھٰذا تناقض ولَا اختلاف، لأن المسیح صلی اللہ علیہ وسلم نبی مقدم، رفعہ اللہ تعالٰی، ثم ینزلہ فی آخر الزمان علمًا للساعۃ، قال اللہ تعالٰی: {وَاِنَّہٗ لَعِلْمٌ لِّلسَّاعَۃِ فَلَا تَمْتَرُنَّ بِھَا} وقرأ بعض القراء: {وَاِنَّہٗ لَعَلَمٌ لِّلسَّاعَۃِ}۔
وإذا نزل المسیح علیہ السلام لم ینسخ شیئًا مما أتی بہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ولم یتقدم الْإمام من اُمتہ، بل یقدمہ، ویصلی خلفہ، وأما قولہ: ویزید فی الحلال، فإن رجلًا قال لأبی ھریرۃ: ما یزید فی الحلال إلّا النساء، فقال: وذاک، ثم ضحک أبوھریرۃ۔
قال أبو محمد: ولیس قولہ: یزید فی الحلال
351

أنہ یحل لرجل أن یتزوج خمسًا، ولَا ستًّا، وإنما أراد أن المسیح علیہ السلام لم ینکح النساء، حتّٰی رفعہ اللہ تعالٰی إلیہ، فإذا أھبطہ تزوج امرأۃ فزاد فیما أحل اللہ لہ، أی ازداد منہ، فحینئذٍ لَا یبقی أحد من أھل الکتاب إلّا علم أنہ عبداللہ عزّ وجلّ وأیقن أنہ بشر۔

وأما قول عائشۃ رضی اللہ عنھا: ’’قولوا لرسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم: خاتم الأنبیاء، ولَا تقولوا: لَا نبی بعدہ۔‘‘ فإنھا تذھب إلیٰ نزول عیسٰی علیہ السلام ولیس ھٰذا من قولھا ناقضًا لقول رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم: ’’لَا نبی بعدی‘‘ لأنہ أراد لَا نبی بعدہ ینسخ ما جئت بہ، کما کانت الأنبیاء علیہم الصلوٰۃ والسلام تبعث بالنسخ، وأرادت ھی ’’ولَا تقولوا: إن المسیح لَا ینزل بعدہ۔‘‘

ترجمہ: … ’’معترضین نے کہا کہ دو حدیثیں آپس میں متعارض ہیں، ایک طرف تو تم یہ روایت کرتے ہو کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میرے بعد کوئی نبی نہیں اور میری اُمت کے بعد کوئی اُمت نہیں، پس جس چیز کو اللہ تعالیٰ نے میری زبان سے حلال کردیا وہ قیامت تک حلال رہے گی۔ دُوسری طرف یہ حدیث بھی روایت کرتے ہو کہ: عیسیٰ علیہ السلام نازل ہوں گے، خنزیر کو قتل کریں گے، صلیب کو توڑیں گے اور حلال میں اِضافہ کریں گے۔ اور حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، وہ فرمایا کرتی تھیں کہ حضورِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو خاتم الانبیاء کہو، مگر یہ نہ کہو کہ آپ کے بعد کوئی نبی نہیں۔ پس یہ تناقض ہے۔

352

ابو محمد فرماتے ہیں: اس کا جواب یہ ہے کہ ان دونوں باتوں میں کوئی تعارض نہیں اور نہ ہی کوئی اِختلاف ہے، کیونکہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے پہلے کے زمانے کے نبی ہیں، ان کو اللہ تعالیٰ نے اُٹھالیا تھا، پھر آخری زمانے میں ان کو قیامت کی نشانی کے طور پر نازل فرمائیں گے۔ چنانچہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: ’’اور وہ (یعنی عیسیٰ علیہ السلام) نشانی ہے قیامت کی، پس اس میں ہرگز شک نہ کرو‘‘ اور جب مسیح علیہ السلام نازل ہوں گے تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے دِین کی کسی بات کو منسوخ نہیں کریں گے، اور (اُترکر پہلی نماز میں) آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی اُمت کے اِمام سے آگے نہیں ہوں گے، بلکہ اس کے پیچھے نماز پڑھیں گے۔

رہا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ اِرشاد کہ وہ حلال میں اِضافہ کریں گے، تو اس کی تفسیر خود حدیث میں موجود ہے، چنانچہ جب حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے یہ حدیث روایت کی تو ایک شخص نے کہا کہ: حلال میں اِضافہ عورتوں کے سوا اور کیا کریں گے؟ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے ہنس کر فرمایا: یہی مطلب ہے۔

اِمام ابومحمد بن قتیبہ فرماتے ہیں کہ: ارشادِ نبوی ’’حلال میں اِضافہ کریں گے‘‘ کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ کسی شخص کے لئے اس وقت پانچ یا چھ شادیاں جائز ہوں گی، بلکہ مطلب یہ ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے رفعِ آسمانی سے قبل شادی نہیں کی تھی، پس جب اللہ تعالیٰ ان کو قربِ قیامت میں نازل فرمائیں گے تو ایک عورت سے شادی کریں گے، اس طرح اللہ تعالیٰ نے جو چیزیں ان کے لئے حلال کی ہیں ان میں اس ایک چیز کا اِضافہ کرلیں گے۔ (نیز اس کے لئے شیخ محمد طاہر پٹنی صاحبِ مجمع البحار کا حوالہ دیکھئے) اس وقت

353

تمام اہلِ کتاب کو معلوم ہوجائے گا کہ وہ اللہ تعالیٰ کے مقرب بندے ہیں اور انہیں یقین آجائے گا کہ وہ واقعی بشر ہیں۔

رہا حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کا یہ ارشاد کہ: ’’رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو خاتم الانبیاء کہو، مگر یہ نہ کہو آپ کے بعد کوئی نبی نہیں۔‘‘ تو ان کا اشارہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے نزول کی طرف ہے، اور ان کا یہ قول آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشاد’’لَا نبی بعدی‘‘ کے خلاف نہیں، کیونکہ اس اِرشاد کا یہ مطلب ہے کہ میرے بعد کوئی ایسا نبی نہیں آئے گا جو میرے لائے ہوئے دِین کی کسی بات کو منسوخ کردے، جبکہ انبیائے کرام علیہم السلام آکربعض اَحکام کو منسوخ کردیا کرتے تھے، حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے اِرشاد کا خلاصہ مطلب یہ ہے کہ یہ نہ کہو کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد حضرت عیسیٰ علیہ السلام نازل نہیں ہوں گے۔‘‘

اَئمہ محدثین

اَئمہ اَربعہؒ کی طرح صحاحِ ستہ کے مؤلفین ۔۔۔اِمام بخاری، اِمام مسلم، اِمام ابوداؤد، اِمام نسائی، اِمام ترمذی اور اِمام ابنِ ماجہ رحمہم اللہ۔۔۔ جن کی کتابیں علمِ حدیث کا مدارِ اعظم ہیں۔۔۔ بھی اس عقیدے پر اِجماع رکھتے ہیں۔ ذیل میں ان حضرات کی تصریحات ملاحظہ ہوں:

اِمام بخاریؒ:

الامام الحافظ الحجہ امیرالمؤمنین فی الحدیث محمد بن اسماعیل بن ابراہیم بن المغیرہ بن بردزبہ الجعفی البخاری رحمہ اللہ (المتوفیٰ۲۵۶ھ) کا عقیدہ ان کی کتاب’’الجامع الصحیح‘‘ سے واضح ہے، صحیح بخاری، کتاب الانبیاء میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے حالات کے ضمن میں انہوں نے ایک مستقل باب ’’باب نزول عیسیٰ علیہ السلام‘‘ کے عنوان سے قائم کیا ہے۔

(ج:۱ ص:۴۹۰)

354

علامہ کرمانی ؒشارحِ بخاری فرماتے ہیں:

’’أی نزولہ من السماء إلی الأرض۔‘‘

ترجمہ: … ’’یعنی عیسیٰ علیہ السلام کے آسمان سے زمین پر اُترنے کا بیان۔‘‘

اِمام مسلمؒ:

الامام الحافظ مسلم بن الحجاج بن مسلم القشیری النیسابوری رحمہ اللہ (۲۰۴ھ-۲۶۱ھ) نے صحیح مسلم میں نزولِ عیسیٰ علیہ السلام کا عقیدہ ’’کتاب الایمان‘‘ میں درج کیا ہے، شارحِ مسلم اِمام محی الدین نووی رحمہ اللہ (متوفیٰ ۷۶۷ھ) نے اس کا عنوان یہ قائم کیا ہے:

’’باب نزول عیسَی ابن مریم علیہ السلام حاکمًا بشریعۃ نبیّنا صلی اللہ علیہ وسلم وإکرام اللہ ھٰذہ الاُمّۃ زادھا اللہ شرفًا۔‘‘

(ج:۱ ص:۸۷)

ترجمہ: … ’’حضرت عیسیٰ بن مریم علیہ السلام کا نازل ہوکر ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی شریعت پر عمل کرنا، اور اللہ تعالیٰ کا اس اُمتِ مرحومہ کو شرف بخشنا۔‘‘

اس سے معلوم ہوا کہ نزولِ عیسیٰ علیہ السلام کا عقیدہ اِیمانیات کا جزو ہے اور یہ کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا بعد اَز نزول آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی پیروی کرنا اور اُمتِ محمدیہ ۔۔۔علیٰ صاحبہا الصلوٰۃ والسلام۔۔۔ میں شامل ہونا، اس اُمت کے لئے شرف و منزلت کا موجب ہے۔

نیز علاماتِ قیامت کے ضمن میں بھی اِمام مسلمؒ نے دجال کے خروج اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے اس کو قتل کرنے کی احادیث ذِکر کی ہیں، جس سے معلوم ہوتا ہے کہ دجال کا خروج اور عیسیٰ علیہ السلام کا آسمان سے نازل ہونا علاماتِ قیامت میں سے ہے۔

اِمام ابوداؤدؒ:

اِمام ابوداؤد سلیمان بن الاشعث السجستانی رحمہ اللہ (متوفیٰ۲۷۵ھ) نے اپنی

355

مشہور کتاب ’’سن ابی داؤد‘‘ (ص:۵۹۳، ۵۹۴) میں علاماتِ قیامت کے ضمن میں ’’خروج الدجال‘‘ کا باب قائم کیا ہے، اور اس کے تحت حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے نازل ہونے اور دجال کو قتل کرنے کی احادیث ذِکر کی ہیں۔

اِمام نسائی:

الامام الحافظ احمد بن شعیب بن علی سنان بن بحر بن دینار ابوعبدالرحمن النسائی (۲۱۵ھ-۳۰۳ھ) نے سنن مجتبیٰ میں ’’باب غزوۃ الہند‘‘ کے زیرِ عنوان یہ حدیث روایت کی ہے:

’’عَنْ ثَوْبَانَ مَوْلٰی رَسُوْلُ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ: عِصَابَتَانِ مِنْ اُمَّتِیْ أَحْرَزَھُمَا اللہُ مِنَ النَّارِ، عِصَابَۃٌ تَغْزُو الْھِنْدَ وَعِصَابَۃٌ تَکُوْنُ مَعَ عِیْسَی ابْنِ مَرْیَمَ عَلَیْھِمَا السَّلَامُ۔‘‘

(سنن نسائی ج:۲ ص:۶۳)

ترجمہ: … ’’حضرت ثوبان رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میری اُمت کی دو جماعتیں ہیں جن کو اللہ تعالیٰ نے دوزخ سے بچالیا، ایک وہ جماعت جو ہندوستان کا جہاد کرے گی، اور دُوسری وہ جماعت جو عیسیٰ بن مریم علیہ السلام کے ساتھ ہوگی۔‘‘

حافظ عمادالدین ابنِ کثیر رحمہ اللہ، حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے آسمان پر اُٹھائے جانے کی حدیث نقل کرکے لکھتے ہیں:

’’ھٰذا إسناد صحیح إلی ابن عباس، ورواہ النسائی عن أبی کریب عن أبی معاویۃ بنحوہ۔‘‘

(تفسیر ابنِ کثیر ج:۱ ص:۵۷۵)

356

ترجمہ: … ’’اس حدیث کی سند اِبنِ عباس ؓ تک صحیح ہے، اور اس کو اِمام نسائی نے بروایت ابوکریب، ابو معاویہ سے بھی ہم معنی الفاظ میں نقل کیا ہے۔‘‘

(البدایہ والنہایہ ج:۲ ص:۹۲)

اِمام ترمذیؒ:

اِمام ترمذی رحمہ اللہ (ابوعیسیٰ محمد بن عیسیٰ بن سورۃ بن موسیٰ) (متوفیٰ۲۷۹ھ) نے ’’جامع ترمذی‘‘ ابواب الفتن میں ’’باب ما جاء فی نزول عیسیٰ علیہ السلام‘‘ کا عنوان قائم کیا ہے۔

(ج:۲ ص:۴۲)

نیز دجال کے بارے میں متعدّد اَبواب قائم کئے ہیں، ان میں ایک باب کا عنوان ہے: ’’باب ما جاء فی قتل عیسَی بن مریم الدجال‘‘ اور اس کے تحت حضرت مجمع بن جاریہ رضی اللہ عنہ کی یہ حدیث نقل کرکے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام دجال کو بابِ لُدّ پر قتل کریں گے، پندرہ صحابہ کرامؓ کا حوالہ دیا ہے جن سے اس مضمون کی احادیث مروی ہیں۔

اِمام ابنِ ماجہؒ:

اِمام محمد بن یزید ابنِ ماجہ رحمہ اللہ (متوفیٰ ۳۷۳ھ) صاحب السنن نے ابواب الفتن میں ایک باب ’’فتنۃ الدجال وخروج عیسَی بن مریم علیھما السلام‘‘ کے عنوان سے قائم کیا ہے (ص:۲۰۵) اس کے تحت حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے نزول عن السماء پر متعدّد اَحادیث درج کی ہیں۔

چوتھی صدی

اِمام اِبنِ دریدؒ:

اِمامِ لغت و ادب ابوبکر محمد بن حسن بن درید الازدی البصری رحمہ اللہ (متوفیٰ۳۲۱ھ) ’’جمہرۃ اللغۃ‘‘ (ج:۱ ص:۷۶) میں لکھتے ہیں:

357
’’ولُدّ موضع بفلسطین وجاء فی الحدیث الدجّال یقتلہ المسیح بباب لُدّ۔‘‘

ترجمہ: … ’’اور ’’لُدّ‘‘ فلسطین میں ایک جگہ کا نام ہے، حدیث میں آتا ہے کہ دجال کو حضرت مسیح علیہ السلام بابِ لُدّ پر قتل کریں گے۔‘‘

اِمام ابوالحسن اشعریؒ:

چوتھی صدی کے مجدّد اِمامِ اہلِ سنت ابوالحسن علی بن اسماعیل الاشعری رحمہ اللہ (۲۷۰ھ-۳۲۴ھ) ’’کتاب الْإبانۃ‘‘ میں اہلِ حق کے عقائد ذِکر کرتے ہوئے لکھتے ہیں:

’’ونقرّ بخروج الدجّال کما جائت بہ الروایۃ عن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم۔‘‘

(کتاب الْإبانۃ ص:۹)

ترجمہ: … ’’اور ہم اِقرار کرتے ہیں دجال کے خروج کا، جیسا کہ اس سلسلے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے احادیث منقول ہیں۔‘‘

نیز ص:۳۸ پر لکھتے ہیں:

’’وقال اللہ عزّ وجلّ لعیسَی ابن مریم علیہ السلام: {اِنِّیْ مُتَوَفِّیْکَ وَرَافِعُکَ اِلَیَّ} وقال: {وَمَا قَتَلُوْہُ یَقِیْنًام بَلْ رَّفَعَہُ اللہُ اِلَیْہِ} وأجمعت الاُمّۃ علٰی أن اللہ عزّ وجلّ رفع عیسٰی إلی السماء۔‘‘

(کتاب الْإبانۃ ص:۳۸)

ترجمہ: … ’’اور اللہ تعالیٰ نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام سے فرمایا کہ: ’’میں تجھے اپنے قبضے میں لینے والا ہوں اور اپنی طرف اُٹھانے والا ہوں‘‘ اور فرمایا: ’’اور انہوں نے عیسیٰ علیہ السلام کو ہرگز قتل نہیں کیا بلکہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو اپنی طرف اُٹھالیا‘‘ اور اُمت کا

358

اس پر اِجماع ہے کہ اللہ تعالیٰ نے عیسیٰ علیہ السلام کو آسمان پر اُٹھالیا۔‘‘

اِمامِ اہلِ سنت کی اس تصریح سے دو باتیں معلوم ہوئیں: ایک یہ کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا آسمان پر زندہ اُٹھایا جانا اُمت کا اِجماعی عقیدہ ہے۔ دوم یہ کہ قرآنِ کریم کی مذکورہ بالا دونوں آیتوں میں جس رفع الی اللہ کا ذِکر ہے، اس سے باجماعِ اُمت رفع الی السماء مراد ہے۔

اِمام اشعریؒ اہلِ ثغر کے نام خط میں تحریر فرماتے ہیں:

’’الْإجماع الثانی والأربعون: وأجمعوا علی أن شفاعۃ النبی صلی اللہ علیہ وسلم لأھل الکبائر ۔۔۔ وعلی أن الْإیمان بما جاء من خبر الْإسراء بالنبی صلی اللہ علیہ وسلم إلی السماوات واجبٌ، وکذٰلک ما روی من خبر الدّجّال ونزول عیسَی ابن مریم وقتلہ الدّجّال وغیر ذٰلک من سائر الآیات التی تواترت الروایات بین یدی الساعۃ من طلوع الشمس من مغربھا وخروج الدَّابّۃ وغیر ذٰلک مما نقلہ الثقات۔‘‘

(رسالۃ أھل الثغر ص:۲۸۸، مطبوعہ العلوم والحکم بالمدینۃ المنوَّرۃ)

ترجمہ: … ’’بیالیسواں اِجماع: اور اہلِ سنت کا اس پر اِجماع ہے کہ اہلِ کبائر کے لئے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی شفاعت برحق ہے، نیز اس پر بھی ان کا اِجماع ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے واقعۂ معراج پر اِیمان لانا واجب ہے، اسی طرح ان احادیث پر اِیمان لانا بھی واجب ہے جو خروجِ دجال، نزولِ عیسیٰ بن مریم علیہما السلام اور ان کے دجال کو قتل کرنے کے بارے میں آئی ہیں۔ ان کے علاوہ دیگر علاماتِ قیامت جن میں احادیثِ متواترہ وارِد ہوئی ہیں، یعنی آفتاب کا مغرب سے طلوع ہونا، دابۃ الارض کا

359

نکلنا اور دیگر علامات جو ثقہ راویوں سے ہم تک نقل کی گئی ہیں، ان سب پر اِیمان لانا واجب ہے۔‘‘

اِمام ابنِ ابی حاتم رازیؒ:

اِمام حافظ ابو محمد عبدالرحمن بن ابی حاتم الرازی رحمہ اللہ (متوفیٰ ۳۲۷ھ) نے اپنی مشہور کتاب ’’علل الحدیث‘‘ میں حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کی یہ مرفوع حدیث نقل کی ہے:

’’لَیَھْبِطَنَّ عِیْسَی ابْنُ مَرْیَمَ حَکَمًا عَدْلًا وَإِمَامًا مُّقْسِطًا وَّلَیَسْلُکُنَّ فَجَّ الرَّوْحَائِ حَاجًّا أَوْ مُعْتَمِرًا وَلَیُسَلِّمُنَّ عَلَیَّ فَلَأَرُدُّنَّ عَلَیْہِ۔‘‘

(ج:۲ ص:۴۱۳)

ترجمہ: … ’’حضرت عیسیٰ علیہ السلام حاکمِ عادل اور اِمامِ منصف کی حیثیت سے نازل ہوں گے، فج روحا سے حج یا عمرے کا اِحرام باندھ کر گزریں گے اور (روضۂ اطہر پر) مجھے سلام کریں گے، اور میں ان کے سلام کا جواب دُوں گا۔‘‘

اور اس کی سند نقل کرکے اِمام ابوزرعہ رازی رحمہ اللہ (متوفیٰ ۲۶۴ھ) کے حوالے سے کہتے ہیں:’’وھذا أصح‘‘ ۔۔۔ ’’اور یہ زیادہ صحیح ہے‘‘۔

اِمام ابوبکر آجریؒ:

اِمام ابوبکر محمد بن الحسین الآجری رحمہ اللہ (متوفیٰ ۳۶۰ھ) اپنی بے نظیر کتاب ’’الشریعہ‘‘ میں اُصول و عقائدِ اِسلامیہ ذِکر فرماتے ہیں، اس میں ایک مستقل عنوان یہ ہے:’’کتاب التصدیق بالدّجّال وانہ خارج فی ھٰذہ الاُمّۃ‘‘ (ص:۳۷۲) اور اسی میں ایک باب کا عنوان ہے:

’’الْإیمان بنزول عیسَی ابن مریم علیہ السلام حکمًا عدلًا فیقیم الحق ویقتل الدّجّال۔‘‘

(ص:۳۸۰)

ترجمہ: … ’’اس عقیدے پر اِیمان لانا کہ حضرت عیسیٰ علیہ

360

السلام حاکمِ عادل کی حیثیت سے نازل ہوکر دِینِ حق کو قائم کریں گے اور دَجال کو قتل کریں گے۔‘‘

اس باب میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی احادیثِ صحیحہ اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے آثار نقل کرتے ہوئے تحریر فرماتے ہیں:

’’قال محمد بن الحسین (رحمہ اللہ): والّذین یقاتلون مع عیسٰی علیہ السلام ھم اُمّۃ محمد صلی اللہ علیہ وسلم والذین یقاتلون عیسٰی ھم الیھود مع الدّجّال فیقتل عیسَی الدّجّال، ویقتل المسلمون الیھود، ثم یموت عیسٰی علیہ السلام ویصلی علیہ المسلمون، ویدفن مع النبی صلی اللہ علیہ وسلم ومع أبی بکر وعمر رضی اللہ عنھما۔‘‘

(ص:۳۸۱)

ترجمہ: … ’’(مصنف) محمد بن حسین (رحمہ اللہ) فرماتے ہیں کہ: جو لوگ عیسیٰ علیہ السلام کی معیت میں قتال کریں گے، یہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی اُمت ہوگی، اور جو لوگ عیسیٰ علیہ السلام کے مقابلے میں لڑیں گے، وہ دجال کی معیت میں یہود ہوں گے، پس حضرت عیسیٰ علیہ السلام دجال کو، اور مسلمان یہود کو قتل کریں گے، پھر عیسیٰ علیہ السلام کا اِنتقال ہوگا تو مسلمان ان کی نمازِ جنازہ پڑھیں گے اور وہ (روضۂ اطہر میں) آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اور حضرت ابوبکر و عمر رضی اللہ عنہما کے ساتھ دفن ہوں گے۔‘‘

اِمام طحاویؒ:

اِمام ابوجعفر احمد بن محمد بن سلامہ الطحاوی المصری رحمہ اللہ (متوفیٰ ۳۶۱ھ) ’’عقیدۂ طحاوی‘‘ میں فرماتے ہیں:

361
’’ونؤمن بخروج الدّجّال ونزول عیسَی ابن مریم علیھما السلام من السماء، وبخروج یأجوج ومأجوج، ونؤمن بطلوع الشمس من مغربھا وخروج دابۃ الأرض من موضعھا۔‘‘

(عقیدہ طحاوی ص:۱۳)

ترجمہ: … ’’اور ہم اِیمان رکھتے ہیں کہ دجال نکلے گا اور حضرت عیسیٰ بن مریم علیہما السلام آسمان سے نازل ہوں گے، اور یأجوج ومأجوج نکلیں گے، اور ہم اِیمان رکھتے ہیں کہ آفتاب مغرب سے نکلے گا اور دابۃ الارض اپنی جگہ سے نکلے گا۔‘‘

اِمام ابوالحسین الملطی الشافعیؒ:

اِمام ابوالحسین محمد بن احمد عبدالرحمن الملطی العسقلانی الشافعی رحمہ اللہ (متوفیٰ۳۷۷ھ) اپنی کتاب ’’التنبیہ والرَّدّ علٰی أھل الأھواء والبدع‘‘ میں فرماتے ہیں:

’’قال أبو عاصم: فأنکر جھم أن یکون اللہ فی السماء دون الأرض، وقد دلّ فی کتابہ أنہ فی السماء دون الأرض حین قال لعیسٰی علیہ السلام: {اِنّیْ مُتَوَفِّیْکَ وَرَافِعُکَ اِلَیَّ وَمُطَھِّرُکَ مِنَ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا} وقولہ: {وَمَا قَتَلُوْہُ یَقِیْنًام بَلْ رَّفَعَہُ اللہُ اِلَیْہِ}۔‘‘

ترجمہ: … ’’ابو عاصم کہتے ہیں کہ جہم بن صفوان نے اللہ تعالیٰ کے آسمان میں ہونے کا اِنکار کیا ہے، مگر اللہ نے اپنی کتاب میں بتایا ہے کہ وہ آسمان میں ہے، زمین میں نہیں، جبکہ اللہ تعالیٰ نے عیسیٰ علیہ السلام سے فرمایا کہ: ’’میں تجھے اپنے قبضے میں لینے والا ہوں اور تجھے اپنی طرف اُٹھانے والا ہوں، اور تجھے ان کافروں سے پاک کرنے والا ہوں۔‘‘ نیز فرمایا: ’’اور یہود نے عیسیٰ علیہ السلام کو

362

ہرگز قتل نہیں کیا، بلکہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو اپنی طرف اُٹھالیا۔‘‘

اِمام ابواللیث سمرقندیؒ:

اِمام ابواللیث نصر بن محمد بن احمد بن ابراہیم السمرقندی رحمہ اللہ (متوفیٰ۳۹۳ھ) نے اپنی مشہور کتاب ’’تنبیہ الغافلین‘‘ میں’’باب علامۃ الساعۃ‘‘ کا عنوان قائم کرکے اس کے ذیل میں خروجِ دجال اور نزولِ عیسیٰ علیہ السلام کا عقیدہ درج کیا ہے۔

(دیکھئے ص:۱۹۳، ۱۹۴)

اِمام ابن ابی زید القیروانی المالکیؒ:

اِمام مغرب عبداللہ بن ابی زید عبدالرحمن النفری القیروانی المالکیؒ (متوفیٰ ۳۸۶ھ یا ۳۸۹ھ) اپنی کتاب ’’الجامع فی السنن والآداب والمغازی والتاریخ‘‘ میں اِجماعی عقائد کا تذکرہ کرتے ہوئے لکھتے ہیں:

’’فما أجمعت علیہ الاُمّۃ من اُمور الدیانۃ ومن السنن التی خلافھا بدعۃ وضلالۃ ۔۔۔۔۔ إلٰی قولہ۔۔۔۔۔ والْإیمان بما جاء من خبر الْإسراء بالنبی صلی اللہ علیہ وسلم إلی السماوات علٰی ما صححت الروایات وأنّہ من آیات ربہ الکبریٰ، وبما ثبت من خروج الدّجّال ونزول عیسَی ابن مریم علیہ السلام وقتلہ إیّاہ۔ وبالآیات التی تکون بین یدی الساعۃ من طلوع الشمس من مغربھا وخروج الدّابّۃ وغیر ذٰلک مما صححت الروایات۔‘‘

(کتاب الجامع للقیروانی ص:۱۱۴، مطبوعہ المؤسسۃ الرسالۃ، تونس ۱۴۱۱ھ)

ترجمہ: … ’’پس وہ اِعتقادی اُمور جن پر اُمت نے اِجماع کیا ہے اور وہ سنن جن کے خلاف عقیدہ رکھنا بدعت اور ضلالت ہے،

363

یہ ہیں ۔۔۔۔۔۔ اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے معراجِ آسمانی پر اِیمان رکھنا، جیسا کہ صحیح روایات میں آیا ہے، اور یہ کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے رَبّ کی بڑی بڑی نشانیاں دیکھیں، اور اس عقیدے پر اِیمان رکھنا جو (احادیثِ صحیحہ سے) ثابت ہے، یعنی دجال کا خروج، حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا نازل ہونا اور دَجال کو قتل کرنا، اور ان علاماتِ قیامت پر اِیمان رکھنا جو قیامت سے پہلے ظاہر ہوں گی، جیسے آفتاب کا مغرب سے طلوع ہونا اور دابۃ الارض کا نکلنا، اور دیگر علاماتِ قیامت جو اَحادیثِ صحیحہ میں وارِد ہیں۔‘‘

اِمام ابنِ خزیمہؒ:

الامام الحافظ ابوبکر محمد بن اسحاق ابن خزیمہ السلمی رحمہ اللہ (۲۲۳ھ-۳۱۱ھ) کتاب التوحید میں فرقہ جہمیہ کا رَدّ کرتے ہوئے لکھتے ہیں:

’’إن الرّبّ جلّ وعلا فی السماء لَا کما قالت الجھمیۃ المعطلۃ: إنہ فی أسفل السافلین ۔۔۔۔۔ ألم تسمعوا یا طلاب العلم! قولہ تبارک وتعالٰی لعیسَی ابن مریم: {یٰعِیْسٰٓی اِنِّیْ مُتَوَفِّیْکَ وَرَافِعُکَ اِلَیَّ} ألیس إنما یرفع الشیء من أسفل إلٰی أعلٰی، لَا من أعلٰی إلٰی أسفل، وقال اللہ عزّ وجلّ: {بَلْ رَّفَعَہُ اللہُ اِلَیْہِ} ومحال أن یھبط الْإنسان من ظھر الأرض إلٰی بطنھا أو إلٰی موضع أخفض منہ وأسفل، فیقال: رفعہ اللہ إلیہ؛ لأن الرفعۃ فی لغۃ العرب الذین بلغتھم خوطبنا لَا تکون إلّا من أسفل إلٰی أعلٰی وفوق۔‘‘

(کتاب التوحید ص:۱۱۰،۱۱۱)

ترجمہ: … ’’بے شک رَبِّ جل وعلا آسمان میں ہے، ایسا

364

نہیں جیسا کہ جہمیہ معطلہ کہتے ہیں وہ اسفل سافلین میں ہے ۔۔۔۔۔۔ اے طالبینِ علم! کیا تم نے اللہ تعالیٰ کا اِرشاد نہیں سنا جو عیسیٰ علیہ السلام سے فرمایا تھا کہ: ’’اے عیسیٰ! میں تجھے اپنے قبضے میں لینے والا ہوں، اپنی طرف اُٹھانے والا ہوں۔‘‘ کوئی چیز نیچے سے اُوپر کو اُٹھائی جاتی ہے نہ کہ اُوپر سے نیچے کو، اور اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ’’بلکہ اُٹھالیا اس (عیسیٰ علیہ السلام) کو اپنی طرف‘‘ اور محال ہے کہ کوئی شخص زمین کی سطح سے زمین کے پیٹ میں یا بلند جگہ سے نیچے جگہ پر گرے اور یوں کہا جائے کہ اللہ تعالیٰ نے اس کو اپنی طرف اُٹھالیا ہے، کیونکہ رفع لغتِ عرب میں نیچے سے اُوپر لے جانے کو کہا جاتا ہے۔‘‘

اِمام ابوعوانہؒ:

الامام الحافظ ابو عوانہ یعقوب بن اسحاق اسفرائنی رحمہ اللہ (متوفیٰ ۳۱۶ھ) نے اپنی مسند میں ایک باب کا عنوان یہ قائم کیا ہے:

’’باب ثواب من آمن بمحمد صلی اللہ علیہ وسلم من أھل الکتاب وأن من أدرک منھم محمدًا صلی اللہ علیہ وسلم أو سمع بہ فلم یؤمن وبما أرسل بہ کان من أھل النار وأن عیسٰی علیہ السلام إذا نزل یحکم بکتاب اللہ وسُنّۃ محمد صلی اللہ علیہ وسلم ویکون إمامھم من اُمّۃ محمد صلی اللہ علیہ وسلم۔‘‘

(ج:۱ ص:۱۰۲)

ترجمہ: … ’’ان اہلِ کتاب کے ثواب میں جو محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر اِیمان لائے اور اس کا بیان کہ جس نے بھی آنحضرت صلی

365

اللہ علیہ وسلم کا زمانہ پایا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا نام سنا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کی شریعت پر اِیمان نہ لایا وہ اہلِ نار میں سے ہے، اور یہ کہ عیسیٰ علیہ السلام جب نازل ہوں گے تو کتابُ اللہ (قرآن مجید) اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت پر عمل کریں گے اور اُمتِ محمدیہ میں شامل ہوکر ان کے اِمام ہوں گے۔‘‘

اور اس کے تحت نزولِ عیسیٰ علیہ السلام کی احادیث کی تخریج فرمائی ہے۔

(دیکھئے ص:۱۰۴ تا ۱۰۶)

اِمام ابنِ حبانؒ:

امیر علاء الدین علی بن بلبان الفارسی رحمہ اللہ (متوفیٰ ۷۳۹ھ) نے’’الْإحسان فی ترتیب صحیح ابن حبان‘‘ (جلد۹) کے نام سے صحیح ابنِ حبان کو مرتب فرمایا تھا، جو مطبوع ومتداول ہے، اس میں ’’فتن و حوادث‘‘ کے ذیل میں دَجالِ اَعوَر کے خروج اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے نزول کی احادیث درج کی ہیں، ۳۲ عنوانات احادیث خروجِ دجال کے لئے ہیں، اور ۱۲ عنوانات کے تحت حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے بارے میں احادیث شریفہ ذِکر کی ہیں، یہاں حضرت عیسیٰ علیہ السلام سے متعلق عنوانات ذِکر کرتا ہوں:

۱: … ’’ذکر الْإخبار عن قاتل المسیح ووصف الموضع الذی یقتلہ۔‘‘

(الاحسان فی ترتیب صحیح ابنِ حبان ج:۹ ص:۲۸۶)

ترجمہ: … ’’مسیحِ دجال کا قاتل کون ہوگا؟ اور اسے کس جگہ قتل کریں گے؟‘‘

اس کے ذیل میں حضرت مجمع بن جاریہ رضی اللہ عنہ کی حدیث ذِکر کی ہے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے خود سنا ہے کہ حضرت عیسیٰ بن مریم علیہما السلام، دجال کو ’’بابِ لُدّ‘‘ پر قتل کریں گے۔

(ج:۹ ص:۲۸۶)

۲: … ’’ذکر قدر مکث الدجال فی الأرض عند
366

خروجہ من وثاقہ۔‘‘

(ایضاً)

ترجمہ: … ’’دجال اپنے خروج کے بعد زمین میں کتنی مدّت ٹھہرے گا۔‘‘

اس کے ذیل میں حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کی حدیث نقل کی ہے کہ دجال مشرق کی جانب سے نکلے گا، چالیس دن زمین پر پھرے گا، اللہ تعالیٰ عیسیٰ علیہ السلام کو نازل فرمائیں گے، وہ مسلمانوں کی اِمامت فرمائیں گے، جب رُکوع سے سر اُٹھائیں گے تو ’’سَمِعَ اللہُ لِمَنْ حَمِدَہٗ‘‘ کے بعد ان الفاظ میں قنوتِ نازلہ پڑھیں گے:’’قتل اللہ الدَّجّال واظھر المؤمنین‘‘ (اللہ تعالیٰ دجال کو قتل کریں گے اور اہلِ اِیمان کو غلبہ عطا فرمائیں گے)۔

(ج:۹ ص:۲۸۶)

۳: … ’’ذکر ذوبان الدّجّال عند رؤیتہ عیسَی ابن مریم قبل قتلہ إیاہ۔‘‘

(ایضاً)

ترجمہ: … ’’دجال، حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو دیکھتے ہی پگھلنے لگے گا، قبل اس کے آپ اس کو قتل کریں۔‘‘

اس کے ذیل میں حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کی حدیث نقل کی ہے، جس میں ذِکر ہے کہ مسلمانوں اور رُومیوں کے درمیان مقابلہ ہوگا، ادھر خبر پہنچے گی کہ دجال نکل آیا، مسلمان دجال کے مقابلے کے لئے صفیں دُرست کر رہے ہوں گے کہ نماز کی اِقامت ہوگی، اتنے میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام نازل ہوجائیں گے، نماز سے فارغ ہوکر دجال کے مقابلے میں نکلیں گے تو وہ آپ کو دیکھتے ہی نمک کی طرح پگھلنے لگے گا، اگر عیسیٰ علیہ السلام اس کو یونہی رہنے دیتے تو خود گھل کر مرجاتا، لیکن اللہ تعالیٰ اس کو حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے ہاتھ سے قتل کریں گے اور آپ اس کو قتل کرنے کے بعد اپنے نیزے پر لگا ہوا اس کا خون مسلمانوں کو دِکھائیں گے۔

(ج:۹ ص:۲۸۶)

۴: … ’’ذکر الْإخبار عن وصف الأمر الذی
367

یکون فی الناس بعد قتل ابن مریم الدّجّال۔‘‘

(ج:۹ ص:۲۸۷)

ترجمہ: … ’’جب حضرت عیسیٰ علیہ السلام دجال کو قتل کریں گے تو اس کے بعد لوگوں کے حالات کیا ہوں گے؟‘‘

اس کے ذیل میں وہ حدیث ذِکر کی ہے جس میں فرمایا گیا ہے کہ تمام ملّتیں اس کے سوا ہلاک ہوجائیں گی، اور رُوئے زمین پر مکمل امن و امان ہوگا، یہاں تک کہ شیر اور اُونٹ، چیتے اور گائیں، بھیڑیے اور بکریاں ایک ساتھ چریں گے، بچے سانپوں سے کھیلیں گے، ایک دُوسرے کو نقصان نہیں پہنچائیں گے۔

(ص:۲۸۷)

۵: … ’’ذکر الْإخبار عما یفعل عیسَی ابن مریم بمن نجاہ اللہ من فتنۃ المسیح۔‘‘

(ایضاً)

ترجمہ: … ’’جن لوگوں کو اللہ تعالیٰ نے فتنۂ دجال سے نجات عطا فرمائی ہوگی، حضرت عیسیٰ علیہ السلام ان کے ساتھ کیسی شفقت فرمائیں گے؟‘‘

اس کے ذیل میں یہ حدیث نقل کی ہے کہ قتلِ دجال کے بعد حضرت عیسیٰ علیہ السلام ان لوگوں کے پاس تشریف لے جائیں گے جن کو اللہ تعالیٰ نے دجال کے فتنے سے محفوظ رکھا اور جنت میں ان کے بلند درجات کی ان کو خوشخبری دیں گے۔

۶: … ’’ذکر الْإخبار عن رفع التباغض والتحاسد والشحناء عند نزول عیسَی ابن مریم صلوات اللہ علیہ۔‘‘

(ج:۹ ص:۲۸۸)

ترجمہ: … ’’حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے نزول کے وقت لوگوں کے دِلوں سے باہمی بغض و حسد اور کینہ جاتا رہے گا۔‘‘

اس کے ذیل میں حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کی حدیث نقل کی ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ: بخدا! ابنِ مریم حاکمِ عادل کی حیثیت سے نازل ہوں گے،

368

صلیب کو توڑ ڈالیں گے، خنزیر کو قتل کریں گے، جزیہ موقوف کردیں گے، اُونٹوں کی زکوٰۃ کے لئے ساعی نہیں بھیجے جائیں گے، لوگوں کے دِلوں سے کینہ، حسد اور بغض نکل جائے گا، لوگوں کو مال لینے کے لئے بلایا جائے گا مگر کوئی قبول کرنے کو تیار نہ ہوگا۔‘‘

۷: … ’’ذکر البیان بأن نزول عیسَی ابن مریم من أعلام الساعۃ۔‘‘

(ایضاً)

ترجمہ: … ’’اس عقیدے کا بیان کہ حضرت عیسیٰ بن مریم علیہما السلام کا نزول علاماتِ قیامت میں سے ہے۔‘‘

اس میں حضرت ابنِ عباس رضی اللہ عنہما کی حدیث نقل کی ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اِرشادِ خداوندی ’’وَاِنَّہٗ لَعِلْمٌ لِّلسَّاعَۃِ‘‘ کی تفسیر میں فرمایا کہ قیامت سے پہلے عیسیٰ بن مریم علیہما السلام کا نازل ہونا قیامت کی نشانی ہے۔

۸: … ’’ذکر البیان بأن إمام ھٰذہ الاُمّۃ عند نزول عیسَی ابن مریم یکون منھم دون أن یکون عیسٰی إمامھم فی ذٰلک الزمان۔‘‘

(ج:۹ ص:۲۸۹)

ترجمہ: … ’’جب عیسیٰ علیہ السلام نازل ہوں گے تو اس اُمت کا اِمام اس اُمت میں سے ہوگا، اس وقت حضرت عیسیٰ علیہ السلام اِمامت نہیں فرمائیں گے۔‘‘

اس میں حضرت جابر رضی اللہ عنہ کی حدیث نقل کی ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ: میری اُمت میں ایک جماعت ہمیشہ حق پر رہے گی اور وہ قیامت تک اہلِ باطل سے ہمیشہ برسرِپیکار اور غالب و منصور رہیں گے، پھر عیسیٰ بن مریم علیہما السلام نازل ہوں گے تو مسلمانوں کا اَمیر عرض کرے گا کہ: تشریف لائیے، ہمیں نماز پڑھائیے! تو آپ فرمائیں گے: نہیں! (یہ نماز تم ہی پڑھاؤ) تم میں سے بعض بعض پر اَمیر ہیں، (میں یہ نماز آپ کے پیچھے پڑھوں گا) یہ اللہ تعالیٰ کی جانب سے اس اُمت کا اِعزاز ہے (کہ ایک جلیل القدر رسول نے نازل ہوکر اُمتِ محمدیہ کے ایک فرد کی اِقتدا میں نماز پڑھی)۔

369
۹: … ’’ذکر الْإخبار بأن عیسَی ابن مریم یحج البیت العتیق بعد قتلہ الدّجّال۔‘‘

(ج:۹ ص:۲۸۹)

ترجمہ: … ’’حضرت عیسیٰ علیہ السلام دجال کو قتل کرنے کے بعد بیت اللہ کا حج کریں گے۔‘‘

اس میں بروایت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا اِرشاد نقل کیا ہے کہ حضرت عیسیٰ بن مریم علیہما السلام فج الروحاء سے حج یا عمرے یا دونوں کا اِحرام باندھیں گے۔

۱۰: … ’’ذکر البیان بأن عیسَی ابن مریم إذا نزل یقاتل الناس علی الْإسلام۔‘‘

(ج:۹ ص:۲۸۹)

ترجمہ: … ’’حضرت عیسیٰ بن مریم علیہ السلام جب نازل ہوں گے تو لوگوں سے اسلام پر قتال کریں گے۔‘‘

۱۱: … ’’ذکر الْإخبار عن قدر مکث عیسَی ابن مریم فی الناس بعد قتلہ الدّجّال۔‘‘

(ج:۹ ص:۲۹۰)

ترجمہ: … ’’حضرت عیسیٰ علیہ السلام دجال کو قتل کرنے کے بعد لوگوں میں کتنی مدّت ٹھہریں گے؟‘‘

اس میں حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی حدیث نقل کی ہے کہ بابِ لُدّ پر دجال کو قتل کرنے کے بعد حضرت عیسیٰ علیہ السلام زمین میں چالیس سال یا چالیس کے قریب ٹھہریں گے۔

۱۲: … ’’ذکر الْإخبار وصف اسم المھدی واسم أبیہ ضد قول من زعم أن المھدی عیسَی ابن مریم۔‘‘

(ج:۹ ص:۲۹۱)

ترجمہ: … ’’اِمام مہدی اور ان کے والد ماجد کے اسمائے گرامی کا ذِکر، اس شخص کے قول کے برعکس جو کہتا ہے کہ مہدی، عیسیٰ

370

بن مریم علیہ السلام ہیں۔‘‘

اس کے ذیل میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا اِرشاد نقل کیا ہے کہ قیامت قائم نہیں ہوگی یہاں تک کہ لوگوں پر حکومت کرے میرے اہلِ بیت کا ایک شخص، جس کا نام میرے نام کے موافق ہوگا، اور اس کے والد کا نام میرے والد کے نام کے موافق ہوگا، وہ زمین کو عدل و اِنصاف سے بھردے گا۔

ف: … یہ اِمام مہدی رضی اللہ عنہ ہوں گے، جن کے زمانے میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام نازل ہوں گے، جیسا کہ اُوپر نمبر۸ میں گزرچکا ہے۔

اِمام ابوالحسن آبریؒ:

الامام الحافظ ابوالحسن محمد بن حسین بن ابراہیم السجستانی الابری رحمہ اللہ (متوفیٰ۳۲۳ھ) ’’مناقب الامام الشافعی‘‘ میں حدیث ’’لَا مھدی إلّا عیسَی ابن مریم‘‘ پر بحث کرتے ہوئے لکھتے ہیں:

’’قد تواترت الأخبار واستفاضت بکثرۃ رواتھا عن المصطفٰی صلی اللہ علیہ وسلم فی المھدی وإنہ من أھل بیتہ وإنہ یملک سبع سنین ویملأ الأرض عدلًا، وإنہ یخرج مع عیسَی ابن مریم فیساعدہ علٰی قتل الدَّجّال بباب لُدّ بأرض فلسطین وإنہ یؤم ھٰذہ الاُمّۃ وعیسٰی علیہ السلام یصلّی خلفہ فی طول قصۃ۔‘‘

(حاشیہ ابنِ ماجہ ص:۲۹۲، فتح الباری ج:۶ ص:۴۹۳)

ترجمہ: … ’’مہدی کے بارے میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی احادیث متواتر ہیں، اور راویوں کی کثرت کی وجہ سے مشرق ومغرب میں پھیلی ہوئی ہیں، اور یہ کہ وہ اہلِ بیت میں سے ہوں گے، سات سال حکومت کریں گے، زمین کو عدل سے بھردیں گے، اور یہ

371

کہ وہ عیسیٰ علیہ السلام کی معیت میں قتلِ دجال کے لئے نکلیں گے، اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام دجال کو سرزمینِ فلسطین میں بابِ لُدّ پر قتل کریں گے، اور یہ کہ اس وقت مہدیؓ اس اُمت کے اِمام ہوں گے اور عیسیٰ علیہ السلام ان کی اِقتدا میں نماز پڑھیں گے، وغیرہ وغیرہ۔‘‘

اِمام ابوبکر جصاص رازیؒ:

الامام الفقیہ المحدث ابوبکر احمد بن علی الجصاص الرازی الحنفیؒ(۳۰۵ھ-۳۷۰ھ) اپنی کتاب ’’الفصول فی الاُصول‘‘ میں تواتر کی بحث میں نصاریٰ کی قتلِ مسیح کی خبر پر بحث کرتے ہوئے فرماتے ہیں:

’’وأیضًا فلو ثبت أن الناقلین لقتلہ وصلبہ قوم لَا یجوز علٰی مثلھم التواطیء ولَا اختراع الکذب فی خبر عن شیء بعینہ لما أوجب خبرھم العلم بأنہ ھو المسیح، لأن أکثر أحوالھم فی ذٰلک أن یکونوا نقلوا أنھم رأوا شخصًا مقتولًا مصلوبًا فھم صادقون فی رؤیتھم لشخص ھٰذہ صفتہ ولوقع لنا العلم بأنھم قد رأوا شخصًا قد قتل وصلب، فأما إنہ المسیح أو غیر المسیح فلم یکن یقینًا، لأن اللہ تعالٰی قادر علٰی إحداث شخص مثل المسیح فی صورتہ وھیئتہ فی أسرع من لمح البصر وظنہ القائلون والذین رأوہ مصلوبًا بأنہ المسیح وتسکن نفوسھم إلیہ لوجود الشبہ، وقد روی أن الیھود لما جائوا یطلبونہ قال لأصحابہ: من یختار أن یلقی علیہ شبھی فیقتل ولہ الجنّۃ؟ فاختار بعضھم ذٰلک، وإذا کان أصل خبرھم عن ظن لَا یقین وعلم
372

اضطرار لم یجز أن یقع لنا العلم بخبرھم وإن کانوا ممن لَا یجوز علیھم فعل خبر لَا حقیقۃ لہ۔‘‘

(ج:۱ ص:۴۳۱)

ترجمہ: … ’’نیز اگر فرض کرلیا جائے کہ جن لوگوں نے آپ کے قتل و صلب کی خبر نقل کی ہے، وہ اتنی بڑی تعداد میں ہیں کہ ان کا جھوٹ گھڑلینا یا جھوٹی بات پر متفق ہوجانا صحیح نہیں، تب بھی ان کی خبر سے یہ علم حاصل نہیں ہوتا کہ جو شخص قتل ہوا اور صلیب دِیا گیا وہ واقعی مسیح تھا، انہوں نے زیادہ سے زیادہ جو بات نقل کی ہے وہ یہ کہ انہوں نے ایک شخص کو مقتول اور مصلوب دیکھا، ایک شخص کو اس حالت میں دیکھنے میں وہ سچے ہیں، اور ہمیں یقین ہے کہ انہوں نے ایک شخص کو مقتول و مصلوب ہوتے دیکھا ہوگا۔ لیکن وہ شخص مسیح تھا یا کوئی اور؟ یہ بات یقینی نہیں، کیونکہ اللہ تعالیٰ قادر ہے کہ ایک لمحے میں حضرت مسیح علیہ السلام کی شکل و صورت کسی اور شخص میں پیدا فرمادیں۔ دیکھنے والوں نے یہ سمجھا کہ جس کو قتل کیا گیا اور صلب کیا گیا ہے وہ مسیح ہے، اسی کو انہوں نے نقل کردیا اور مسیح کی شباہت کی وجہ سے اسی پر دِل مطمئن ہوگئے۔

روایت میں آتا ہے کہ یہود جب آپ علیہ السلام کو پکڑنے کے لئے آئے تو آپ علیہ السلام نے اپنے رُفقاء سے فرمایا کہ: تم میں سے کون اس بات کو پسند کرتا ہے کہ اس پر میری شباہت ڈال دی جائے، پس وہ میری جگہ قتل کیا جائے اور اس کو جنت ملے، پس ایک رفیق نے اس کو قبول کرلیا (اور اس پر آپ کی شباہت ڈال دی گئی اور وہ قتل ہوگیا اور مسیح علیہ السلام کو آسمان پر اُٹھالیا گیا)، اور جب ان کی اصل خبر ہی یقین پر مبنی نہیں، بلکہ ظن پر مبنی ہے، تو ہمیں

374

ان کی خبر پر کبھی یقین نہیں ہوسکتا، اگرچہ وہ اتنی بڑی تعداد میں ہوں کہ ان کا جھوٹی خبر بنالینا ممکن نہ ہو۔‘‘

آگے لکھتے ہیں:

’’فلما وجدنا القرآن الذی ثبت أنہ من عند اللہ بالشواھد الصادقۃ قد نطق بأنھم ما قتلوہ وما صلبوہ ولٰـکن شُبّہ لھم، علمنا أن الأمر جری فی أصل الخبر عن قتلہ وصلبہ علٰی إحدی الوجود التی ذکرناھا۔‘‘

(اُصول جصاص رازیؒ ج:۱ ص:۴۳۲، مخطوطہ جامعۃ العلوم الاسلامیہ، بنوری ٹاؤن کراچی)

ترجمہ: … ’’پس جب ہم نے قرآن کو پایا جس کا من جانب اللہ ہونا دلائلِ صادقہ سے ثابت ہوچکا ہے کہ اس نے صاف صاف اِعلان کردیا ہے کہ ’’یہود نے عیسیٰ علیہ السلام کو قتل نہیں کیا، نہ ان کو صلیب (سولی) پر لٹکایا، بلکہ ان کو اِشتباہ ہوا‘‘ تو ہمیں یقین ہے کہ مسیح کے قتل و صلب کے واقعے میں ان صورتوں میں سے کوئی صورت پیش آئی ہو جو ہم نے بیان کی ہیں۔‘‘

اِمام خطابی:ؒ

الامام الحافظ ابو سلیمان حمد بن محمد بن ابراہیم بن خطاب الخطابی البستی الشافعی رحمہ اللہ (متوفیٰ۳۸۸ھ) معالم السنن ’’باب خروج الدجال‘‘ میں نزولِ عیسیٰ علیہ السلام کی حدیث ذِکر کرنے کے بعد لکھتے ہیں:

’’وذٰلک أن عیسٰی صلوات اللہ علیہ إنما یقتل الخنزیر فی حکم شریعۃ نبیّنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم، لأن نزولہ إنما یکون فی آخر الزمان وشریعۃ
375

الْإسلام باقیۃ۔‘‘

(ج:۴ ص:۳۴۷)

ترجمہ: … ’’اور یہ اس لئے کہ عیسیٰ علیہ السلام جو خنزیر کو قتل کریں گے تو یہ ہمارے نبی حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی شریعت کے ماتحت قتل کرنا ہوگا، کیونکہ عیسیٰ علیہ السلام کا نزول آخری زمانے میں ہوگا جبکہ شریعتِ اسلام باقی ہوگی۔‘‘

پانچویں صدی

اِمام ثعلبیؒ:

اِمام ابواِسحاق احمد بن محمد بن ابراہیم الثعلبی رحمہ اللہ (متوفیٰ۴۲۷ھ) اپنی معروف کتاب ’’قصص الانبیاء‘‘ میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے خصائص ذِکر کرتے ہوئے لکھتے ہیں:

’’ومنھا رفعہ إلی السماء إذ قال اللہ: {یٰعِیْسٰٓی اِنِّیْ مُتَوَفِّیْکَ وَرَافِعُکَ اِلَیَّ وَمُطَھِّرُکَ مِنَ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا} الآیۃ، وقولہ تعالٰی: {بَلْ رَّفَعَہُ اللہُ اِلَیْہِ وَکَانَ اللہُ عَزِیْزًا حَکِیْمًا}۔‘‘

(ص:۲۵۱)

ترجمہ: … ’’اور من جملہ ان کے آپ کا آسمان پر اُٹھایا جانا ہے، حق تعالیٰ کا ارشاد ہے: ’’یاد کرو جب کہا اللہ تعالیٰ نے: اے عیسیٰ! بے شک میں تجھے اپنے قبضے میں لینے والا اور اپنی طرف اُٹھانے والا اور کافروں سے تجھے پاک کرنے والا ہوں۔‘‘ اور فرمایا: ’’بلکہ ان کو اُٹھالیا اللہ تعالیٰ نے اپنی طرف اور اللہ تعالیٰ بہت ہی زبردست حکمت والے ہیں۔‘‘

اور صفحہ:۲۵۳ پر فرماتے ہیں:

’’ذکر نزول عیسٰی علیہ السلام من السماء فی
376

المرۃ الثانیۃ فی آخر الزمان، قال اللہ تعالٰی: {وَاِنَّہٗ لَعِلْمٌ لِّلسَّاعَۃِ فَلَا تَمْتَرُنَّ بِھَا}۔‘‘

(ص:۲۵۳)

ترجمہ: … ’’آخری زمانے میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے آسمان سے دوبارہ نازل ہونے کا بیان، اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: ’’اور بے شک وہ (عیسیٰ علیہ السلام) نشانی ہے قیامت کی، پس تم اس میں ہرگز شک نہ کرو۔‘‘

اس کے بعد اَحادیث و آثار سے ذِکر کیا ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام آخری زمانے میں نازل ہوں گے، دجال کو قتل کریں گے اور پھر وفات کے بعد روضۂ اَطہر میں حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے پہلو میں دفن ہوں گے۔

اِمام عبدالقاہر بغدادیؒ:

اِمام ابو منصور عبدالقاہر بن طاہر التمیمی البغدادی رحمہ اللہ (متوفیٰ۴۲۹ھ) اپنی کتاب ’’اُصول الدین‘‘ میں لکھتے ہیں:

’’کل من أقرّ بنبوّۃ محمد صلی اللہ علیہ وسلم أقرّ بأنّہ خاتم الأنبیاء والرسل وأقرّ بتأبید شریعتہ ومنع من نسخھا، وقال: إن عیسٰی علیہ السلام إذا نزل من السماء ینزل بنصرۃ شریعۃ الْإسلام ویحیی ما أحیاہ القرآن، ویمیت ما أماتہ القرآن خلاف فرقۃ من الخوارج تعرف بالیزیدیۃ المنتسبۃ إلٰی یزید بن أنیسۃ فإنھم زعموا أن اللہ عزّ وجلّ یبعث فی آخر الزمان نبیًّا من العجم، وینزل علیہ کتابًا من السماء، ویکون دینہ دین الصائبۃ المذکورۃ فی القرآن، لَا دین الصائبۃ الذین ھم بواسط أو حرّان، وینسخ ذٰلک الشرع شرع
377

القرآن، وھٰؤلآء یسألون عن حجۃ القرآن فإن أنکروھا أنکروا نبوۃ محمد صلی اللہ علیہ وسلم ونوظروا فیھا لَا فی تأبید شریعتہ، وإن أقرّوا بالقرآن ففیہ أنّ محمدًا صلی اللہ علیہ وسلم خاتم النبیین وقد تواترت الأخبار عنہ بقولہ: ’’لَا نبی بعدی‘‘ ومن ردّ حجۃ القرآن والسُّنّۃ فھو الکافر۔‘‘

(ص:۱۶۲، ۱۶۳)

ترجمہ: … ’’ہر وہ شخص جو ہمارے نبی حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوّت کا اِقرار کرتا ہو، وہ یہ بھی اِقرار کرے گا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم خاتم الانبیاء والرسل ہیں، اور یہ بھی اِقرار کرے گا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی شریعت ہمیشہ رہے گی، اور اس کے نسخ کو محال سمجھے گا، اور اس بات کا قائل ہوگا کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام جب آسمان سے نازل ہوں گے تو شریعتِ اسلام کی نصرت کریں گے، قرآن نے جن چیزوں کو زِندہ کیا ہے، ان کو زِندہ کریں گے، اور قرآن نے جن چیزوں کو مٹایا ہے، وہ ان کو مٹادیں گے۔ لیکن خوارج کا ایک فرقہ جو ’’یزیدیہ‘‘ کے نام سے معروف ہے اور یزید بن انیسہ کی طرف منسوب ہے، وہ کہتا ہے کہ آخری زمانے میں اللہ تعالیٰ عجم سے ایک نبی کھڑا کرے گا اور اس پر آسمان سے کتاب نازل کرے گا، اور اس کا دِین ان صابیوں کا دِین ہوگا جن کا قرآن میں ذِکر ہے، نہ کہ وہ صابی جو واسط یا حران میں پائے جاتے ہیں، یہ شخص قرآن کی شریعت کو منسوخ کردے گا۔ ان لوگوں سے دریافت کیا جائے کہ آیا قرآن حجت ہے یا نہیں؟ اگر وہ اس کے منکر ہوں تو نبوّتِ محمدیہ ۔۔۔علیٰ صاحبہا الصلوٰۃ والسلام۔۔۔ کے منکر ہوں گے، اور ان سے اسی مسئلے میں گفتگو کی جائے گی، نہ کہ شریعت کے ہمیشہ رہنے کے مسئلے میں۔ اور

378

اگر وہ قرآن کا اِقرار کریں تو اس میں تو یہ لکھا ہے کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم آخری نبی ہیں، اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ ارشاد نقلِ متواتر سے منقول ہے کہ: ’’میرے بعد کوئی نبی نہیں‘‘ اور جو شخص قرآن وسنت کی حجت کو رَدّ کردے وہ کافر ہے۔‘‘

اِمام ابونعیم اصفہانی:

اِمام حافظ ابو نعیم احمد بن عبداللہ الاصفہانی رحمہ اللہ (۳۳۰ھ-۴۳۰ھ) نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے معجزات کا دیگر انبیائے کرام علیہم السلام سے موازنہ کرتے ہوئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے معجزات کی وسعت و برتری ثابت کی ہے۔ اسی ضمن میں، حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے معجزات سے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے معجزات کی فوقیت کا تذکرہ کرتے ہوئے لکھتے ہیں:

’’فإن قیل: فإن عیسٰی علیہ السلام رفع إلی السماء۔ قلنا: قد عرض علٰی محمد صلی اللہ علیہ وسلم البقاء عند وفاتہ، فاختار ما عند اللہ وقربہ علی البقاء فی الدنیا، فقبضہ اللہ ورفع روحہ إلیہ، ولو اختار البقاء فی الدنیا لکان کالخضر وإلیاس وعیسٰی علیھم السلام عند اللہ فی سماواتہ وفی عالمہ فی أرضہ، لأن عیسٰی مقیم فی السماء، وإلیاس والخضر یجولَان فی السماوات والأرضین مع أنّ قومًا من اُمّۃ نبیّنا صلی اللہ علیہ وسلم رفعوا کما رفع عیسٰی علیہ السلام۔‘‘

(دلائل النبوۃ ص:۲۶۶، ۲۶۷)

ترجمہ: … ’’اگر کہا جائے کہ عیسیٰ علیہ السلام کو تو آسمان پر (زِندہ) اُٹھالیا گیا، ہم کہیں گے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو

379

وفات کے وقت دُنیا میں زندہ رہنے کی پیشکش کی گئی، مگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دُنیا میں رہنے کے بجائے حق تعالیٰ کے پاس جانے اور اس کے قرب کو ترجیح دی، پس اللہ تعالیٰ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو قبض کرلیا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی رُوح کو اُٹھالیا، ورنہ اگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم دُنیا میں رہنا پسند کرتے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم بھی حضرت خضر، حضرت اِلیاس اور حضرت عیسیٰ علیہم السلام کی طرح اللہ تعالیٰ کے پاس آسمانوں میں اور اس کے جہان میں اور اس کی زمین میں ہوتے، کیونکہ عیسیٰ علیہ السلام آسمانوں میں مقیم ہیں، اور اِلیاس وخضر آسمانوں اور زمینوں میں دورہ کرتے رہتے ہیں۔ دُوسرا جواب یہ ہے کہ اگر عیسیٰ علیہ السلام آسمان پر اُٹھائے گئے تو (اس سے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر برتری ثابت نہیں ہوتی) کیونکہ ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی اُمت کے بہت سے لوگوں کو بھی عیسیٰ علیہ السلام کی طرح اُٹھایا گیا (جو اُن کی کرامت اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا معجزہ تھا)۔‘‘

اِمام ابنِ حزم ظاہریؒ:

اِمام ابو محمد علی بن حزم الظاہری رحمہ اللہ (متوفیٰ۴۵۶ھ) ’’کتاب الفصل فی الملل والأھواء والنحل‘‘ میں فرماتے ہیں:

’’وقد صح عن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بنقل الکوافّ التی نقلت نبوّتہ وأعلامہ وکتابہ أنّہ أخبر أنہ لَا نبی بعدہ إلّا ما جائت الأخبار الصحاح من نزول عیسٰی علیہ السلام الذی بعث إلٰی بنی إسرائیل وادّعی الیھود قتلہ وصلبہ فوجب الْإقرار بھٰذہ الجملۃ وصح
380

أن وجود النبوّۃ بعدہ علیہ السلام باطل لَا یکون البتۃ۔‘‘

(ج:۱ ص:۷۷)

ترجمہ: … ’’وہ پوری کی پوری اُمت جس نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوّت، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے معجزات اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی کتاب کو نقل کیا ہے، اسی نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ بات بھی نقل کی ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے خبر دی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد کوئی نبی نہیں، مگر اس سے وہ عقیدہ مستثنیٰ ہے جس کے بارے میں صحیح احادیث وارِد ہوئی ہیں، یعنی عیسیٰ علیہ السلام کا نازل ہونا، وہی عیسیٰ علیہ السلام جو بنی اسرائیل کی طرف مبعوث ہوئے تھے، اور جن کے بارے میں یہود کا قتل کرنے اور سولی پر چڑھانے کا دعویٰ ہے۔ پس اس عقیدے پر اِیمان لانا واجب ہے، اور یہ بات صحیح ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد نبوّت ملنا قطعاً باطل ہے، ہرگز نہیں ہوسکتا۔‘‘

دُوسری جگہ فرماتے ہیں:

’’وإنما عندھم أناجیل أربعۃ متغایرۃ من تألیف أربعۃ رجال معروفین لیس منھا إنجیل إلّا ألَّف بعد رفع المسیح علیہ السلام بأعوام کثیرۃ ودھر طویل۔‘‘

(ج:۲ ص:۵۵)

ترجمہ: … ’’عیسائیوں کے پاس چار اِنجیلیں ہیں، جو باہم مختلف ہیں، اور چار معروف شخصوں کی تالیف ہیں، ان میں سے ہر اِنجیل عیسیٰ علیہ السلام کے اُٹھائے جانے کے کئی سال اور زمانۂ طویل کے بعد لکھی گئی ہے۔‘‘

ایک اور جگہ مدعیانِ نبوّت پر رَدّ کرتے ہوئے لکھتے ہیں:

381
’’ھٰذا مع سماعھم قول اللہ تعالٰی: {وَلٰـکِنْ رَّسُوْلَ اللہِ وَخَاتَمَ النَّبِیّٖنَ} وقول رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم: ’’لَا نبی بعدی‘‘ فکیف یستجیزُ مسلم أن یثبت بعدہ علیہ السلام نبیًّا فی الأرض حاشا ما استثناہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فی الآثار المستندۃ الثابتۃ فی نزول عیسَی ابن مریم علیہ السلام فی آخر الزمان۔‘‘

(ج:۴ ص:۱۸۰)

ترجمہ: … ’’حق تعالیٰ کا اِرشاد:’’وَلٰـکِنْ رَّسُوْلَ اللہَ وَخَاتَمَ النَّبِیّٖنَ‘‘ اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا اِرشاد: ’’لَا نَبِیَّ بَعْدِیْ‘‘ سننے کے باوجود یہ لوگ ایسی باتیں کرتے ہیں، پس کوئی مسلمان اس بات کو کیسے برداشت کرسکتا ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد زمین میں کسی نبی کا وجود ثابت کرے، سوائے اس کے جس کو خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے صحیح اور مستند اَحادیث میں مستثنیٰ کردیا ہے، اور وہ ہے عیسیٰ بن مریم علیہ السلام کا آخری زمانے میں نازل ہونا۔‘‘

’’١١- مسألۃ: نسخ عزّ وجلّ بملتہ کل ملّۃ والزم أھل الأرض جنّھم وإنسھم اتباع شریعتہ التی بعثہ بھا، ولَا یقبل من أحد سواھا، وإنہ خاتم النبیّین لَا نبی بعدہ، برھان ذٰلک: قول اللہ تعالٰی: {مَا کَانَ مُحَمَّدٌ اَبَآ اَحَدٍ مِّنْ رِّجَالِکُمْ وَلٰـکِنْ رَّسُوْلَ اللہِ وَخَاتَمَ النَّبِیّٖنَ}۔
۔۔۔۔۔ عن أنس بن مالک قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم: ’’إن النبوّۃ والرسالۃ قد انقطعت، فجزع الناس فقال: قد بقیت مبشرات وھن جزء من النبوّۃ۔‘‘
382
١٢- مسألۃ: إلّا أن عیسَی ابن مریم علیہ السلام سینزل ۔۔۔۔۔ برھان ذٰلک: ما حدثنا - إلٰی قولہ- أبو الزبیر أنہ سمع جابر بن عبداللہ یقول: سمعت النبی صلی اللہ علیہ وسلم یقول: لَا تزال طائفۃ من اُمّتی یقاتلون علی الحق ظاھرین إلٰی یوم القیامۃ، قال: فینزل عیسَی ابن مریم فیقول أمیرھم: تعال صلّ لنا! فیقول: لَا! إن بعضکم علٰی بعض أمراء تکرمۃ اللہ ھٰذہ الاُمّۃ۔‘‘

(المحلّٰی ج:۱ ص:۹)

ترجمہ: … ’’۱۱- مسئلہ: اللہ تعالیٰ نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی شریعت کے ذریعے تمام شریعتوں کو منسوخ کردیا اور رُوئے زمین کے تمام اِنسانوں اور جنوں کو اس شریعت کی پیروی کا پابند کردیا جس کے ساتھ اللہ تعالیٰ نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو مبعوث فرمایا، اور اللہ تعالیٰ کسی سے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی شریعت کے سوا قبول نہیں فرمائیں گے۔

نیز یہ کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم خاتم النبیین ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد کوئی نبی نہیں، اس کی دلیل حق تعالیٰ شانہ‘ کا اِرشاد ہے:

’’محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) تمہارے مردوں میں سے کسی کے باپ نہیں ہیں، لیکن اللہ کے رسول ہیں، سب نبیوں کے ختم پر ہیں۔‘‘

(الاحزاب:۴۰)

اور حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’بے شک نبوّت و رِسالت ختم ہوچکی ہے۔‘‘ پس لوگ یہ سن کر گھبرائے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم

383

نے اِرشاد فرمایا: ’’تحقیق اچھے خواب باقی رہ گئے ہیں اور یہ نبوّت کا ایک جز ہیں۔‘‘

۱۲-مسئلہ: مگر حضرت عیسیٰ بن مریم علیہ السلام نازل ہوں گے، اس کی دلیل یہ ہے کہ بروایت صحیح مسلم حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ میں نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے خود سنا ہے کہ: میری اُمت کی ایک جماعت ہمیشہ حق پر لڑتی رہے گی، اور یہ لوگ غالب رہیں گے قیامت تک، پس عیسیٰ بن مریم علیہ السلام نازل ہوں گے تو مسلمانوں کا امیر ان سے کہے گا کہ: تشریف لائیے، ہمیں نماز پڑھائیے! وہ فرمائیں گے: نہیں! بے شک تم میں سے بعض بعض پر اَمیر ہیں، یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے اس اُمت کا اِعزاز ہے۔‘‘

’’وروینا من طریق مسلم نا قتیبۃ بن سعید نا لیث - وھو ابن سعد- عن ابن شھاب عن سعید بن المسیّب أنہ سمع أبا ھریرۃ یقول: قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم: لیوشکن أن ینزل فیکم ابن مریم صلی اللہ علیہ وسلم حکمًا مقسطًا فیکسر الصلیب ویقتل الخنزیر ویضع الجزیۃ ویفیض المال حتّٰی لَا یقبلہ أحد۔‘‘
ومن طریق مسلم نا ھارون بن عبداللہ نا حجاج - ھو ابن محمد- [عن ابن جریج] نا أبو الزبیر أنہ سمع جابر بن عبداللہ یقول: سمعت النبی صلی اللہ علیہ وسلم یقول: ’’لَا تزال طائفۃ من اُمّتی یقاتلون علی الحق ظاھرین إلٰی یوم القیامۃ، فینزل عیسَی ابن مریم
384

صلی اللہ علیہ وسلم فیقول أمیرھم: تعال صل بنا! فیقول: لَا! إن بعضکم علٰی بعض أُمراء تکرمۃ اللہ ھٰذ الاُمّۃ۔‘‘ فصح أن النبی صلی اللہ علیہ وسلم صوب قتل عیسٰی علیہ السلام للخنازیر وأخبر أنہ بحکم الْإسلام ینزل وبہ یحکم۔‘‘

(المحلّٰی لِابن حزم ج:۷ ص:۳۹۱)

ترجمہ: … ’’صحیح مسلم میں حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’قسم ہے اس ذات کی جس کے قبضے میں میری جان ہے! قریب ہے کہ نازل ہوں تم میں ابن مریم صلی اللہ علیہ وسلم حاکمِ عادل کی حیثیت سے، پس صلیب کو توڑ ڈالیں گے اور خنزیر کو قتل کردیں گے، اور جزیہ کو موقوف کردیں گے اور مال سیلاب کی طرح بہہ پڑے گا یہاں تک کہ کوئی اس کو قبول نہیں کرے گا۔‘‘

اور صحیح مسلم میں حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے خود سنا ہے کہ: ’’میری اُمت کی ایک جماعت ہمیشہ حق پر لڑتی رہے گی، اور یہ لوگ غالب رہیں گے قیامت تک، پس عیسیٰ بن مریم صلی اللہ علیہ وسلم نازل ہوں گے تو مسلمانوں کا اَمیر ان سے عرض کرے گا کہ: تشریف لائیے، ہمیں نماز پڑھائیے! پس وہ فرمائیں گے: نہیں! تمہارے بعض بعض پر اَمیر ہیں، یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے اس اُمت کا اِعزاز ہے۔‘‘

پس یہ صحیح ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے خنزیر کو قتل کرنے کی تصویب فرمائی اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے خبر دی کہ عیسیٰ علیہ السلام بحکمِ اسلام نازل ہوں

385

گے اور اسی کے مطابق فیصلہ کریں گے۔‘‘

اِمام بیہقی:ؒ

اِمام ابوبکر احمد بن حسین البیہقی رحمہ اللہ (متوفیٰ۴۵۸ھ) نے اپنے رسالے ’’الْإعتقاد علٰی مذھب السلف أھل السُّنّۃ والجماعۃ‘‘ میں ایک باب اس عنوان سے قائم کیا ہے:

’’باب الْإیمان بما أخبر عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فی ملائکۃ اللہ وکتبہ ورسلہ والبعث بعد الموت والحساب والمیزان والجنّۃ والنّار وإنھما مخلوقتان معدتان لأھلھما وبما أخبر عنہ فی حوضہ وفی أشراط الساعۃ قبل قیامھا۔‘‘

(ص:۹۸)

ترجمہ: … ’’ان باتوں پر اِیمان لانے کا بیان جن کی خبر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دی ہے، اللہ کے فرشتوں، اس کی کتابوں، اس کے رسولوں، مرنے کے بعد جی اُٹھنے، حساب، میزان، جنت اور دوزخ کے بارے میں، اور یہ کہ جنت و دوزخ دونوں پیدا ہوچکی ہیں اور جنتیوں اور دوزخیوں کے لئے تیار ہیں، نیز ان باتوں پر اِیمان لانا جن کی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے خبر دی ہے اپنے حوض کے بارے میں اور قیامت قائم ہونے سے پہلے قیامت کی علامات کے بارے میں۔‘‘

اس باب میں دیگر علاماتِ قیامت کے ساتھ دجال کے نکلنے اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے نازل ہوکر دَجال کو قتل کرنے کا عقیدہ بھی ذِکر کیا ہے (ص:۱۰۴)۔ اور صفحہ:۱۰۵ پر فرماتے ہیں:

’’وقد روینا فی کتاب البعث قصۃ الدّجّال
386

ونزول عیسَی ابن مریم علیہ السلام وخروج یأجوج ومأجوج وھلاکھم وقیام الساعۃ من حدیث النواس بن سمعان وغیرہ۔‘‘

(ص:۱۰۵)

ترجمہ: … ’’اور ہم ’’کتاب البعث‘‘ میں خروجِ دجال، نزولِ عیسیٰ علیہ السلام، یأجوج ومأجوج کے نکلنے اور ان کے ہلاک ہونے اور قیامت کے قائم ہونے کا قصہ نواس بن سمعان رضی اللہ عنہ کی حدیث اور دیگر اَحادیث سے نقل کرچکے ہیں۔‘‘

نیز ’’کتاب الاسماء والصفات‘‘ میں اِمام بیہقی رحمہ اللہ لکھتے ہیں:

’’باب قول اللہ لعیسٰی علیہ السلام: {اِنِّیْ مُتَوَفِّیْکَ وَرَافِعُکَ اِلَیَّ}، قولہ تعالٰی: {بَلْ رَّفَعَہُ اللہُ اِلَیْہِ} ۔۔۔۔۔ قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم: ’’کیف أنتم إذا نزل ابن مریم من السماء فیکم وإمامکم منکم۔‘‘ رواہ البخاری فی الصحیح عن یحیی بن بکیر، وأخرجہ مسلم عن وجہ آخر عن یونس، وإنما أراد نزولہ من السماء بعد الرفع إلیہ۔‘‘

(ص:۴۲۴)

ترجمہ: … ’’باب حق تعالیٰ کے ارشاد کا عیسیٰ علیہ السلام سے کہ: ’’میں تجھے قبضے میں لینے والا اور اپنی طرف اُٹھانے والا ہوں‘‘ اور حق تعالیٰ کے ارشاد کا: ’’بلکہ اُٹھالیا اللہ تعالیٰ نے عیسیٰ علیہ السلام کو اپنی طرف‘‘ ۔۔۔۔۔۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ: ’’(خوشی اور مسرّت سے) تمہاری کیا کیفیت ہوگی، جب عیسیٰ علیہ السلام آسمان سے تم میں اُتریں گے اور تمہارا اِمام اس وقت تم میں سے ہوگا۔‘‘ اس حدیث کو اِمام بخاری رحمہ اللہ نے ’’الجامع الصحیح‘‘ میں یحییٰ بن بکیر سے روایت کیا ہے، اور اِمام مسلمؒ نے ایک دُوسرے

387

طریق سے یونس سے روایت کیا ہے، آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اس اِرشاد میں اِرادہ کیا ہے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے آسمان سے اُترنے کا، بعد ان کے اُٹھائے جانے کے آسمان کی طرف۔‘‘

اِمام بیہقی رحمہ اللہ کے اِن اِرشادات سے واضح ہوا کہ باجماعِ سلف صالحین اہلِ سنت والجماعت، ان دونوں آیتوں میں عیسیٰ علیہ السلام کا آسمان پر اُٹھایا جانا مراد ہے، اور یہ کہ بارشادِ نبوی ان کا آخری زمانے میں آسمان سے نازل ہونا علاماتِ قیامت میں سے ہے اور یہ کہ ان کے رفع و نزول کی تصدیق اِیمانیات میں داخل ہے۔

اِمام ہجویری المعروف بہ داتاگنج بخشؒ:

اِمام الاصفیاء الشیخ ابوالحسن علی بن عثمان الجلابی الہجویری الغزنوی لاہوری مشہور بہ داتاگنج بخش رحمہ اللہ تعالیٰ (متوفیٰ۴۶۵ھ) اپنی مشہور تصنیف’’کشف المحجوب‘‘ میں فرماتے ہیں:

’’اندر آثار صحیح وارد است کہ عیسیٰ بن مریم علیہ السلام مرقعہ داشت کہ وے را بر آسمان بردند۔‘‘

(ص:۴۲، شائع کردہ اسلامک بک فاؤنڈیشن، لاہور)

ترجمہ: … ’’آثارِ صحیحہ میں وارِد ہے کہ عیسیٰ بن مریم علیہ السلام ایک گدڑی پہنے ہوئے تھے کہ ان کو آسمان پر اُٹھالیا گیا۔‘‘

اِمام سرخسیؒ:

اِمام شمس الدین ابوبکر محمد بن احمد السرخسی الحنفی رحمہ اللہ (متوفیٰ۴۹۰ھ) (جنہیں پانچویں صدی کے مجدّدین میں شمار کیا گیا ہے (۱) اپنی کتاب ’’تمہید الفصول فی الاصول‘‘ میں جو ’’اُصول السرخسی‘‘ کے نام سے مشہور ہے، لکھتے ہیں:

’’والثانی: أن النقل المتواتر منھم فی قتل رجل

(۱) عسل مصفی ج:۱ ص:۱۶۴، مؤلفہ مرزا خدا بخش قادیانی۔

388

علموہ عیسٰی وصلبہ وھٰذا النقل موجب علم الیقین فیما نقلوہ ولٰـکن لم یکن الرجل عیسٰی وإنما کان مشتبھًا لہ، کما قال: {وَلٰـکِنْ شُبِّہَ لَھُمْ}، وقد جاء فی الخبر أن عیسٰی علیہ السلام قال لمن کان معہ: من یرید منکم أن یلقی اللہ شبھی علیہ فیقتل فلہ الجنّۃ؟ فقال رجل: أنا! فألقی اللہ تعالٰی شبھہ علیہ فقتل ورفع عیسٰی إلی السماء (ملخصًا)۔‘‘

(اصول السرخسی ج:۱ ص:۲۸۶)

ترجمہ: … ’’دوم یہ کہ ان (یہود) کی نقلِ متواتر اس بارے میں ہوئی کہ ایک آدمی جس کو انہوں نے عیسیٰ سمجھا، قتل ہوا اور سولی دیا گیا، اور بلاشبہ یہ نقل اتنی بات میں علمِ یقینی کا موجب ہے، لیکن وہ شخص واقع میں عیسیٰ نہیں تھا، بلکہ اس پر عیسیٰ علیہ السلام کی شباہت ڈال دی گئی تھی، جیسا کہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں: ’’لیکن وہی شکل بن گئی ان کے سامنے‘‘ چنانچہ روایت میں آیا ہے کہ آپ نے اپنے رُفقاء سے فرمایا کہ: تم میں سے کون چاہتا ہے کہ اللہ تعالیٰ اس پر میری شباہت ڈال دے اور میری جگہ قتل کیا جائے؟ ایک شخص نے کہا کہ: اس خدمت کے لئے میں حاضر ہوں! پس اللہ تعالیٰ نے اس پر آپ کی شباہت ڈال دی، پس وہ قتل ہوا، اور عیسیٰ علیہ السلام آسمان پر اُٹھالئے گئے۔‘‘

اِمام قاضی ابوالولید الباجیؒ:

مؤطا اِمام مالک کے شارح، مشہور مالکی اِمام قاضی ابوالولید سلیمان بن خلف بن سعد الباجی الاندلسی المالکی رحمہ اللہ (۴۰۳ھ-۴۹۴ھ) کتاب ’’المنتقٰی شرح

389

المؤطا‘‘ میں باب ’’ما جاء فی صفۃ عیسٰی بن مریم علیہ السلام والدّجّال‘‘ کے ذیل میں لکھتے ہیں:

’’وفی العتیبۃ عن مالک: بینما الناس تلک إذ یستمعون الْإقامۃ یریدون الصلاۃ فتغشاھم غمامۃ فإذا عیسٰی ابن مریم قد نزل۔‘‘

(ج:۷ ص:۲۳۱)

ترجمہ: … ’’العتیبہ میں اِمام مالکؒ سے نقل کیا ہے کہ: دریں اثنا کہ لوگ نماز کی اِقامت سن رہے ہوں گے اچانک ان کو ایک بدلی ڈھانک لے گی، کیا دیکھتے ہیں کہ عیسیٰ علیہ السلام نازل ہوچکے ہیں۔‘‘

اِمام ابومحمد عراقی:

الشیخ الامام العلامہ ابو محمد عثمان بن عبداللہ بن الحسن الحنفی العراقی رحمہ اللہ (متوفیٰ۵۰۰ھ تقریباً) ’’الفرق المفترقۃ بین أھل الزیغ والزندقۃ‘‘ میں فرقہ اسحاقیہ کا تذکرہ کرتے ہوئے لکھتے ہیں:

’’وأما الْإسحاقیۃ فھم طائفۃ یزعمون أن النبوۃ لَا تنقطع إلٰی قیام الساعۃ ۔۔۔۔۔ نقول: إعتقاد ھٰذہ الطائفۃ لَا یخفی فسادہ علٰی أحدٍ، لأن اللہ تعالٰی أخبر أن محمدًا صلی اللہ علیہ وسلم خاتم النبیین، ولَا نبی بعدہ، وھٰکذا أخبر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم أنّہ ’’لَا نبی بعدی‘‘، فمن ادّعی النبوّۃ بعد نبیّنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم لنفسہ أو لغیرہ یکون کافرًا بالقرآن العظیم، وھو أحد الدّجّالین الذین أخبر عنھم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بقولہ: لَا تقوم الساعۃ حتّٰی یبعث
390

دجّالون کذّابون قریبًا من ثلاثین کلھم یزعم أنّہ رسول اللہ‘‘ فی البخاری ومسلم رواہ أبوھریرۃ رضی اللہ عنہ عن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم۔

ولَا یلزم علٰی کلامنا نزول عیسٰی علیہ السلام من السماء وکونہ نبیًّان، لأنّا نقول: إن عیسٰی علیہ السلام یکون متابعًا لشریعۃ نبیّنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم ویأخذ بأحکام شریعتہ ویقتدی فی الصلاۃ بواحد من ھٰذہ الاُمّۃ۔‘‘

(ص:۳۴)

ترجمہ: … ’’اور فرقہ اِسحاقیہ وہ گروہ ہے جن کا دعویٰ ہے کہ نبوّت قیامت تک منقطع نہیں ہوگی ۔۔۔۔۔۔ ہم کہتے ہیں کہ: اس طائفہ کے عقیدے کا فساد کسی شخص پر مخفی نہیں، کیونکہ اللہ تعالیٰ نے خبر دی ہے کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم آخری نبی ہیں، اور آپ کے بعد کوئی نبی نہیں۔ اسی طرح رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی خبر دی ہے کہ: ’’میرے بعد کوئی نبی نہیں۔‘‘ پس جو شخص ہمارے نبی حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد اپنے لئے یا کسی دُوسرے کے لئے نبوّت کا دعویٰ کرے وہ قرآنِ کریم کا مکذّب اور کافر ہے، اور وہ ان دجالوں میں سے ایک ہے جن کے بارے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے اِرشاد میں خبر دی ہے کہ: ’’قیامت قائم نہیں ہوگی یہاں تک کہ تیس کے قریب جھوٹے مکار و دَجال کھڑے ہوں گے، ان میں کا ہر ایک دعویٰ کرے گا کہ وہ اللہ کا نبی ہے۔‘‘ (حالانکہ میں خاتم النبیین ہوں، میرے بعد کوئی نبی نہیں)۔

(صحیح بخاری ومسلم بروایت ابی ہریرہؓ)

اور ہمارے اس کلام پر حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے آخری زمانے میں آسمان سے نازل ہونے پر اِعتراض لازم نہیں

391

آتا، حالانکہ وہ نبی ہیں، اس لئے کہ ہم کہتے ہیں کہ (اوّل تو عیسیٰ علیہ السلام آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے پہلے کے نبی ہیں، بعد کے نہیں، علاوہ ازیں وہ) آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی شریعت کے تابع ہوں گے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہی کی شریعت کے اَحکام اپنائیں گے، نماز میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اُمتی کی اِقتدا کریں گے۔‘‘

اِمام حاکم:ؒ

الامام الحافظ ابوعبداللہ محمد بن عبداللہ المعروف بالحاکم النیشابوری الشافعی رحمہ اللہ (متوفیٰ۴۰۵ھ) نے ’’مستدرک‘‘ میں خروجِ دجال اور نزولِ عیسیٰ علیہ السلام کی احادیث بڑی تفصیل سے نقل کی ہیں۔ ’’کتاب تواریخ المتقدمین من الأنبیاء والمرسلین‘‘ میں نزولِ عیسیٰ کا عنوان ان الفاظ سے ہے:

’’ھبوط عیسٰی علیہ السلام وقتل الدّجّال وإشاعۃ الْإسلام۔‘‘

(ج:۲ ص:۵۹۵)

ترجمہ: … ’’عیسیٰ علیہ السلام کا زمین پر اُترنا، دجال کو قتل کرنا اور اِسلام کی اشاعت کرنا۔‘‘

اور اسی کے تحت یہ حدیث نقل کی ہے:

’’إنّ رُوح اللہ عیسَی ابن مریم نازل فیکم فإذا رأیتموہ فاعرفوہ ۔۔۔۔۔ إلٰی قولہ: فیمکث أربعین سنۃ ثم یتوفّی ویصلّی علیہ المسلمون۔‘‘

(ج:۲ ص:۵۹۵)

ترجمہ: … ’’حضرت رُوح اللہ عیسیٰ بن مریم علیہ السلام تم میں نازل ہوں گے، جب ان کو دیکھو تو ان کو پہچان لینا (ان کا حلیہ اور کارنامے ذِکر کرنے کے بعد حدیث کے آخر میں فرمایا) پس وہ

392

زمین میں چالیس سال ٹھہریں گے، پھر ان کا اِنتقال ہوگا اور مسلمان ان کا جنازہ پڑھیں گے۔‘‘

اور کتاب الفتن والملاحم میں ’’نزول عیسیٰ علیہ السلام من السماء‘‘ کے تحت حضرت عثمان بن ابی العاصؓ کی حدیث نقل کی ہے:

’’فینزل عیسَی ابن مریم علیہ الصلاۃ والسلام عند صلاۃ الفجر ۔۔۔۔الخ۔‘‘

(ج:۴ ص:۴۷۸)

ترجمہ: … ’’پس نازل ہوں گے حضرت عیسیٰ علیہ السلام نمازِ فجر کے وقت ۔۔۔۔الخ۔‘‘

نیز خروجِ دجال کی جن احادیث میں عیسیٰ علیہ السلام کے نازل ہونے اور دَجال کو قتل کرنے کی صراحت ہے، ان کے لئے مستدرک کے مندرجہ ذیل صفحات ملاحظہ کئے جائیں: ج:۲ ص:۳۹۰، ج:۴ ص:۴۸۲، ص:۴۹۳، ص:۴۹۶، ص:۵۴۳، ص:۵۴۴، ص:۴۵۴، ص:۵۴۶، ص:۵۵۰، ص:۵۹۸۔

اِمام اِبنِ بطالؒ:

صحیح بخاری کے شارح ابوالحسن علی بن خلف بن بطال المغربی المالکی رحمہ اللہ (متوفیٰ۴۴۴ھ) کے حوالے سے حافظ ابنِ حجر رحمہ اللہ ’’فتح الباری‘‘ میں لکھتے ہیں:

’’قال ابن بطال: وإنما قبلناھا قبل نزول عیسٰی للحاجۃ إلی المال بخلاف زمن عیسٰی فإنہ لَا یحتاج فیہ إلی المال، فإن المال فی زمنہ یکثر حتّٰی لَا یقبلہ أحد۔‘‘

(ج:۲ ص:۳۵۶)

ترجمہ: … ’’اِمام اِبنِ بطال فرماتے ہیں کہ: نزولِ عیسیٰ علیہ السلام سے پہلے جو ہم نے جزیہ قبول کیا تو یہ مال کی ضرورت کی وجہ سے قبول کیا، بخلاف عیسیٰ علیہ السلام کے زمانے کے کہ اس میں

393

مال کی احتیاج نہ رہے گی، کیونکہ ان کے زمانے میں مال بہت ہوگا حتیٰ کہ کوئی اسے قبول نہیں کرے گا۔‘‘

قاضی عبدالجبار معتزلی:

فرقۂ معتزلہ کے اِمام قاضی عبدالجبار بن احمد الہمدانی (۳۵۹ھ-۴۱۵ھ) نے اپنی کتاب ’’تثبیت دلائل النبوۃ‘‘ میں یہود و نصاریٰ کے متفق علیہ عقیدے کے مقابلے میں ۔۔۔کہ حضرت مسیح علیہ السلام مقتول و مصلوب ہوئے۔۔۔ اسلام کے اس عقیدے کو کہ ان کو آسمان پر اُٹھالیا گیا، آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوّت کی عظیم الشان دلیل قرار دیا ہے، اور بہت ہی تفصیل کے ساتھ اس عقیدے کو رَدّ کیا ہے کہ مسیح علیہ السلام یہود کے ہاتھوں گرفتار ہوکر مصلوب و مقتول ہوئے، یہود و نصاریٰ کے مقابلے میں اسلامی عقیدے کی تشریح کرتے ہوئے وہ لکھتے ہیں:

’’وتأمل إلٰی إقدامہ علٰی أمتین عظیمتین من أھل التحصیل والعقل قد أجمعوا علٰی أمر وسبقوہ فی الزمان، وھو أشد الناس حرصًا علٰی تألفھم وإجابتھم واستمالتھم فأکذبھم وردھم، ولو کان مقتولًا لتھیّب ولم یقدم علٰی ذٰلک خوفًا من أن یکون الأمر کما قالوا، أو کما ادعوا، فیبین کذبہ ویرجع عنہ من قد قَبِلہ، لأن الأنبیاء یجوز أن یقتلوا ویصلبوا، بل قد قتل قوم منھم، وأیضًا فلیس فی قتل المسیح طعن علیہ ولَا قدح فی أمرہ، وما بہ حاجۃ إلٰی مخالفتھم فی ذٰلک، بل قد کان ینبغی أن یکون إلٰی تصدیقھم فی ذٰلک أحوج، لیکون تشنیعہ علی النصاری أقویٰ؛ لأنھم قد اعتقدوا فیہ أنہ إلٰـہ ورَبّ، وقد رأوہ أسیرًا مقھورًا فی ید
394

عدوہ ومصلوبًا ومقتولًا، ویزید شناعتہ علی الیھود لأنھم قد قتلوا نبیًّا آخر مضافًا إلٰی غیرہ من الأنبیاء الذین قد قتلوھم قبل المسیح صلی اللہ علیہ وسلم ھذا کلہ مع الحاجۃ إلیہ، وقال: قد ادعوا أنھم قد علموا ذٰلک ولیسوا بہ عالمین ولَا متیقین، وما معھم فیہ إلّا الظن، فقال:

{وَقَوْلُھُمْ اِنَّا قَتَلْنَا الْمَسِیْحَ عِیْسَی ابْنَ مَرْیَمَ رَسُوْلَ اللہِ وَمَا قَتَلُوْہُ وَمَا صَلَبُوْہُ وَلٰـکِنْ شُبِّہَ لَھُمْ وَاِنَّ الَّذِیْنَ اخْتَلَفُوْا فِیْہِ لَفِیْ شَکٍّ مِّنْہُ مَا لَھُمْ بِہٖ مِنْ عِلْمٍ اِلّا اتِّبَاعَ الظَّنِّ وَمَا قَتَلُوْہُ یَقِیْنًام بَلْ رَّفَعَہُ اللہُ اِلَیْہِ} أی لیس ثم یقین ولَا سکون نفس، تقول العرب فی خبر المتیقن: فقتلہ علمًا وقتلتہ یقینًا، ثم قال: {بَلْ رَّفَعَہُ اللہُ اِلَیْہِ} أی صانہ وعظمہ أن تنالہ ید عدوہ بالقتل والصلب۔‘‘

(تثبیت دلائل النبوۃ ص:۱۲۳، دار العروبہ، بیروت لبنان)

ترجمہ: … ’’غور کرو کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے دو بڑی اُمتوں کے خلاف کس طرح اِقدام فرمایا، حالانکہ وہ دونوں علم وعقل کی دعوے دار تھیں، دونوں ایک مراد پر جمع تھیں، دونوں آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے سبقت رکھتی تھیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان کی دِلجوئی، ان کے قبول کرنے اور انہیں اپنی طرف مائل کرنے کے خواہاں بھی تھے، اگر (حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے زندہ آسمان پر اُٹھائے جانے کے مسئلے میں) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک بات بھی اپنی طرف سے تراش لی ہوتی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان لوگوں سے خوف کھاتے اور اس اندیشے کے پیشِ نظر کہ شاید واقعی وہی ہو جو

395

یہ بیان کرتے ہیں کہ کہیں خدانخواستہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی غلط بیانی نہ کھل جائے اور حقیقتِ حال واضح ہونے کے بعد لوگ برگشتہ نہ ہوجائیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس عقیدے پر کبھی اِقدام نہ کرتے، کیونکہ نبیوں کا مقتول یا مصلوب ہوجانا ممتنع نہیں، بلکہ بہت سے نبی بھی قتل ہوئے ہیں، پس اگر مسیح بھی قتل ہوگئے ہوں تو یہ ان کے حق میں کوئی طعن یا قدح کی بات نہیں تھی، اور پھر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو ان لوگوں کی مخالفت کی ضرورت بھی نہیں تھی، بلکہ شاید یہ کہنا صحیح ہوگا کہ ان کی تصدیق کی زیادہ ضرورت تھی، تاکہ نصاریٰ پر اِلزام زیادہ قوی ہوجاتا کہ نصاریٰ ایک ایسی شخصیت کو خدا اور رَبّ مانتے ہیں جسے انہوں نے اپنی آنکھوں سے دُشمن کے ہاتھ میں گرفتار، مغلوب اور مقتول و مصلوب دیکھا۔ اور اس سے یہود کی بُرائی اور جنایت میں اِضافہ ہوسکتا تھا کہ انہوں نے دیگر نبیوں کے علاوہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو قتل کیا ہے۔

لیکن آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے شدّتِ ضرورت کے باوجود یہود و نصاریٰ کے اس عقیدے میں کہ مسیح علیہ السلام مقتول ومصلوب ہوگئے، موافقت کرنے سے اِجتناب فرمایا، اور فرمایا کہ: یہ لوگ دعویٰ کرتے ہیں کہ ان کو مسیح کے قتل و صلب کا علم ہے، حالانکہ ان کو نہ اس کا صحیح علم ہے، نہ یقین، ان کے ہاتھ اگر کچھ ہے تو محض اٹکل کے تیر ہیں۔ چنانچہ اِرشادِ خداوندی ہے: ’’اور (یہود ملعون ہوئے) ان کے اس کہنے کی وجہ سے کہ ہم نے قتل کردیا مسیح عیسیٰ بن مریم کو جو رسول اللہ تھا، حالانکہ نہ انہوں نے اس کو قتل کیا اور نہ سولی پر لٹکایا بلکہ ان کو اِشتباہ ہوا، اور جو لوگ اس کے معاملے میں اِختلاف کر رہے ہیں وہ محض شک میں پڑے ہوئے ہیں، اور ان کو کچھ علم نہیں، سوائے

396

اٹکل پچو کی پیروی کے، اور انہوں نے اس کو ہرگز قتل نہیں کیا۔‘‘یعنی اس قصۂ قتل پر ان کو خود بھی یقین نہیں اور نہ ان کا ضمیر اس پر مطمئن ہے۔ پھر فرمایا: ’’بلکہ (اصل واقعہ جو ہوا وہ یہ ہے کہ) اللہ تعالیٰ نے اس کو اپنی طرف (آسمان پر) اُٹھالیا۔‘‘ یعنی ان کو دُشمنوں سے بچالیا، اور ان کو ایسی عظمت بخشی کہ دُشمنوں کے ہاتھ قتل و صلب کے لئے وہاں نہ پہنچ سکے۔‘‘

علامہ ابوذر الہرویؒ:

ابوعبداللہ بن احمد الہروی الانصاری رحمہ اللہ (۳۵۵ھ-۴۳۵ھ): حافظ ابنِ حجر رحمہ اللہ ’’فتح الباری‘‘ سے نقل کرتے ہیں:

’’وقال أبو ذر الھروی: حدثنا الجوزقی عن بعض المتقدمین: قال معنی قولہ: وإمامکم منکم یعنی أنہ یحکم بالقرآن لَا بالْإنجیل۔‘‘

(فتح الباری ج:۶ ص:۳۵۸)

ترجمہ: … ’’ہم سے جوزقی نے بیان کیا بعض متقدمین سے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے اِرشاد ’’وإمامکم منکم‘‘ کے معنی یہ ہیں کہ عیسیٰ علیہ السلام نازل ہونے کے بعد قرآنِ کریم کے مطابق فیصلہ کریں گے، اِنجیل کے مطابق نہیں۔‘‘

چھٹی صدی

اِمام غزالی:ؒ

اِمام حجۃالاسلام ابو حامد محمد بن محمد بن محمد الغزالی الشافعی رحمہ اللہ (۴۵۰ھ-۵۰۵ھ) ’’المستصفی من الاُصول‘‘ میں تواتر کی بحث میں لکھتے ہیں:

’’فأما قتل عیسٰی علیہ السلام فقد صدقوا فی أنھم شاھدوا شخصًا یشبہ عیسٰی علیہ السلام مقتولًا
397

{وَلٰـکِنْ شُبِّہَ لَھُمْ}۔‘‘

(ص:۹۰)

ترجمہ: … ’’رہا نصاریٰ کا عیسیٰ علیہ السلام کے مقتول ہونے کا دعویٰ، تو اتنی بات میں تو وہ سچے ہیں کہ انہوں نے ایک شخص کو، جو عیسیٰ علیہ السلام کے مشابہ تھا، مقتول دیکھا، ’’لیکن (وہ عیسیٰ علیہ السلام نہیں تھے، بلکہ ایک اور شخص تھا جس پر عیسیٰ علیہ السلام کی شباہت ڈال دی گئی تھی، اس لئے) ان کو اِشتباہ ہوگیا تھا۔‘‘

قاضی ابویعلیٰ:ؒ

قاضی ابویعلیٰ رحمہ اللہ (متوفیٰ ۶۲۵ھ) ’’طبقاتِ حنابلہ‘‘ میں لکھتے ہیں:

’’والْإیمان أن المسیح الدّجّال خارج مکتوب بین عینیہ کافر، والأحادیث التی جائت فیہ، والْإیمان بأن ذٰلک کائن، وأن عیسَی ابن مریم علیہ السلام ینزل فیقتلہ بباب لُدّ۔‘‘

(مناقب إمام أحمد بن حنبل ص:۱۷۳، طبقات حنابلۃ للقاضی أبی یعلٰی ص:۲۴۳)

ترجمہ: … ’’اور اِیمان لانا اس پر کہ دجال نکلے گا، اس کی پیشانی پر کافر لکھا ہوگا، اور ان احادیث پر اِیمان لانا جو دَجال کے بارے میں آئی ہیں، اور اس پر اِیمان لانا کہ یہ برحق ہے، ہوکر رہے گا، اور یہ کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام نازل ہوں گے، پس اس کو بابِ لُدّ پر قتل کریں گے۔‘‘

قاضی ابویعلیٰ حنبلیؒ نے طبقاتِ حنابلہ میں اِمام احمدؒ کے عقائد اپنی اسانید کے ساتھ متفرق طور پر ذِکر کئے ہیں، نیز حافظ ابوالفرج بن جوزیؒ نے ’’مناقب اِمام احمد بن حنبل‘‘ میں اِمام احمدؒ کے عقائد پر ایک مستقل باب لکھا ہے، اسی میں اِمام احمدؒ کا یہ عقیدہ بھی درج کیا ہے:

398
’’والدّجّال خارج فی ھٰذہ الاُمّۃ لَا محالۃ وینزل عیسَی ابن مریم إلی الأرض فیقتلہ بباب لُدّ۔‘‘

(مناقب إمام أحمد بن حنبل ص:۱۶۹، طبقات حنابلۃ ج:۱ ص:۲۴۴)

ترجمہ: … ’’اور دَجال لامحالہ اس اُمت میں نکلے گا، اور عیسیٰ بن مریم علیہ السلام (آسمان سے) زمین پر نازل ہوں گے، پس مسیحِ دجال کو بابِ لُدّ پر قتل کریں گے۔‘‘

علامہ زمخشری:

معتزلہ کے اِمام علامہ جارُاللہ محمود بن عمر زمخشری (متوفیٰ۵۲۸ھ) ’’تفسیر کشاف‘‘ میں آیتِ کریمہ ’’وَمَکَرُوْا وَمَکَرَ اللہُ‘‘ کے تحت لکھتے ہیں:

’’{وَمَکَرَ اللہُ} أن رفع عیسٰی إلی السماء وألقی شبہہ علٰی من أراد اغتیالہ حتّٰی قتل۔‘‘

(ج:۱ ص:۳۰۶)

ترجمہ: … ’’اللہ کی تدبیر یہ تھی کہ اس نے عیسیٰ علیہ السلام کو آسمان پر اُٹھالیا اور ان کی شباہت اس شخص پر ڈال دی جو آپ کو پکڑنا چاہتا تھا، یہاں تک کہ وہی قتل ہوگیا۔‘‘

اور’’رَافِعُکَ اِلَیَّ‘‘ کی تفسیر میں لکھتے ہیں:

’’{وَرَافِعُکَ اِلَیَّ} إلٰی سمائی ومقر ملائکتی۔‘‘

(ایضاً)

ترجمہ: … ’’اور میں تجھے اپنی طرف اُٹھانے والا ہوں، یعنی اپنے آسمان کی طرف اور اپنے فرشتوں کی قرارگاہ کی طرف۔‘‘

اسی طرح سورۂ نساء کی آیات:۱۵۷، ۱۵۸، ۱۵۹ کے تحت بھی انہوں نے رفع ونزول کے عقیدے کی تصریح کی ہے (دیکھئے: ’’تفسیر کشاف‘‘ ص:۳۹۶، ۳۹۷)۔

399

اور آیتِ کریمہ:

’’مَا کَانَ مُحَمَّدٌ اَبَآ اَحَدٍ مِّنْ رِّجَالِکُمْ وَلٰـکِنْ رَّسُوْلَ اللہِ وَخَاتَمَ النَّبِیّٖنَ‘‘

کے تحت لکھتے ہیں:

’’فإن قلت: کیف کان آخر الأنبیاء وعیسٰی نازل فی آخر الزمان؟ قلت: معنی کونہ آخر الأنبیاء أنّہ لَا ینبأ أحدٌ بعدہ وعیسٰی ممن نبّی قبلہ وحین ینزل ینزل عاملًا علٰی شریعۃ محمد صلی اللہ علیہ وسلم مصلّیًا إلٰی قبلتہ کأنّہ بعض اُمّتہ۔‘‘

ترجمہ: … ’’اگر کہو کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم آخری نبی کیسے ہوئے حالانکہ عیسیٰ علیہ السلام آخری زمانے میں نازل ہوں گے؟ اس کا جواب یہ ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے آخری نبی ہونے کا مطلب یہ ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد کسی کو نبوّت نہیں ملے گی، اور عیسیٰ علیہ السلام کو نبوّت آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے پہلے مل چکی ہے، اور جب وہ نازل ہوں گے تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی شریعت پر عمل پیرا ہوں گے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے قبلے کی طرف نماز پڑھیں گے، گویا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اُمتی کی حیثیت سے آئیں گے۔‘‘

اور آیتِ کریمہ: ’’وَاِنَّہٗ لَعِلْمٌ لِّلسَّاعَۃِ‘‘ کے تحت لکھتے ہیں:

’’{وَاِنَّہٗ} وإنّ عیسٰی علیہ السلام {لَعِلْمٌ لِّلسَّاعَۃِ} أی شرط من أشراطھا تعلم بہ۔‘‘

ترجمہ: … ’’اور بے شک وہ یعنی عیسیٰ علیہ السلام البتہ علم ہے قیامت کا، یعنی اس کی علامتوں میں سے ایک علامت ہیں، جس

400

سے قیامت کا قریب آلگنا معلوم ہوگا۔‘‘

اِمام نجم الدین نسفیؒ:

اِمام نجم الدین ابوحفص عمر بن محمد النسفی الحنفی رحمۃ اللہ علیہ (۴۶۱ھ-۵۳۷ھ) اپنے رسالہ عقائد میں لکھتے ہیں:

’’وما أخبر بہ النبی صلی اللہ علیہ وسلم من أشراط الساعۃ من خروج الدّجّال ودابّۃ الأرض ویأجوج ومأجوج ونزول عیسٰی علیہ السلام من السماء، وطلوع الشمس من مغربھا فھو حق۔‘‘

(شرح عقائد نسفی ص:۱۲۴)

ترجمہ: … ’’اور جن علاماتِ قیامت کی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے خبر دی ہے، جیسے: دجال، دابۃ الارض اور یأجوج ومأجوج کا نکلنا، عیسیٰ علیہ السلام کا آسمان سے نازل ہونا اور سورج کا مغرب کی جانب سے طلوع ہونا، یہ سب حق ہیں۔‘‘

اِمام ابن الانباریؒ:

اِمام کمال الدین ابوالبرکات عبدالرحمن بن محمد الانصاری المعروف بہ ابن الانباری الشافعی رحمہ اللہ (۵۱۳ھ-۵۵۵ھ) اپنی کتاب’’البیان فی غریب اِعراب القرآن‘‘ میں آیتِ کریمہ:’’اِنِّیْ مُتَوَفِّیْکَ وَرَافِعُکَ اِلَیَّ‘‘ کے تحت لکھتے ہیں:

’’{اِنِّیْ مُتَوَفِّیْکَ وَرَافِعُکَ اِلَیَّ} تقدیرہ إنّی رافعک إلیّ ومتوفیک، إلّا أنّہ لما کانت الواو لَا تدل علی الترتیب قدّم وأخّر، وقل: معنی إنّی متوفیک قاضبک ورافعک إلیّ، أی إلٰی کرامتی۔‘‘

(ج:۱ ص:۲۰۶)

ترجمہ: … ’’حق تعالیٰ کا اِرشاد:’’اِنِّیْ مُتَوَفِّیْکَ

401

وَرَافِعُکَ اِلَیَّ‘‘ اس کی تقدیر یہ ہے کہ: ’’(سرِدست) میں تجھے اپنی طرف اُٹھانے والا ہوں اور (پھر اپنے وقتِ مقرّر پر) تجھے وفات دینے والا ہوں۔‘‘ مگر چونکہ واؤ ترتیب پر دلالت نہیں کرتی اس لئے (ایک خاص نکتہ بلاغت کی وجہ سے) مقدم و مؤخر کردیا۔ اور کہا گیا ہے ’’اِنِّیْ مُتَوَفِّیْکَ‘‘ کے معنی ہیں کہ ’’میں تجھے اپنی تحویل میں لینے والا ہوں اپنی طرف، یعنی اپنی کرامت کی جگہ کی طرف اُٹھانے والا ہوں۔‘‘

اور سورۂ نساء کی آیت:’’وَاِنْ مِّنْ اَھْلِ الْکِتٰبِ‘‘ کے تحت لکھتے ہیں:

’’ینزل فی آخر الزمان إلی الأرض، فیکسر الصلیب ویقتل الخنزیر، ویصلّی خلف المھدی، ویموت ویقبر۔‘‘

(ج:۱ ص:۲۷۵)

ترجمہ: … ’’حضرت عیسیٰ علیہ السلام آخری زمانے میں نازل ہوں گے، پس صلیب کو توڑ دیں گے اور خنزیر کو قتل کردیں گے اور مہدی کے پیچھے نماز پڑھیں گے، پھر ان کا اِنتقال ہوگا اور دفن ہوں گے۔‘‘

اِمام بغویؒ:

اِمام محی السنہ ابو محمد حسین بن مسعود الفراء البغوی الشافعی رحمہ اللہ (متوفیٰ۵۱۶ھ) تفسیر ’’معالم التنزیل‘‘ میں سورۂ آل عمران کی آیت: ’’وَمَکَرُوْا وَمَکَرَ اللہُ‘‘ کے تحت لکھتے ہیں:

’’ومکر اللہ تعالٰی خاصۃ بھم فی ھٰذہ الآیۃ ھو إلقاء الشبہ علٰی صاحبھم الذی أراد قتل عیسٰی علیہ السلام حتّٰی قتل۔‘‘

(ج:۲ ص:۱۴۸)

402

ترجمہ: … ’’یہود کے مقابلے میں اللہ تعالیٰ کی وہ خاص تدبیر جو آیت میں ذِکر کی گئی ہے یہ تھی کہ عیسیٰ علیہ السلام کی شباہت ان کے آدمی پر ڈال دی گئی، جو آپ کو قتل کرنا چاہتا تھا، یہاں تک کہ وہ ہی قتل کردیا گیا۔‘‘

اس کے بعد حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے آسمان پر اُٹھائے جانے کا واقعہ تفصیل سے ذِکر کیا ہے۔

اور اس سے اگلی آیت: ’’اِذْ قَالَ اللہُ یٰعِیْسٰٓی اِنِّیْ مُتَوَفِّیْکَ وَرَافِعُکَ اِلَیَّ‘‘ کی توجیہات جو رَفعِ آسمانی سے متفق ہیں نقل کرنے کے بعد اپنی سند سے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے آخری زمانے میں نازل ہونے کی احادیث ذِکر فرمائی ہیں، اسی ضمن میں لکھتے ہیں:

’’وقیل للحسین بن الفضل: ھل تجد نزول عیسٰی فی القرآن؟ قال: نعم، قولہ: {کَھْلًا} وھو لم یکتھل فی الدُّنیا، وإنما معناہ وَکَھْلًا بعد نزولہ من السماء۔‘‘

(ج:۲ ص:۱۴۹)

ترجمہ: … ’’حسین بن فضل سے دریافت کیا گیا: کیا آپ نزولِ عیسیٰ علیہ السلام کا عقیدہ قرآن میں بھی پاتے ہیں؟ فرمایا: ہاں! (دیگر آیات کے علاوہ) حق تعالیٰ کا قول ’’وَکَھْلًا‘‘ بھی اس کی دلیل ہے کیونکہ وہ دُنیا میں اس عمر کو نہیں پہنچے، اس آیت کا مطلب یہ ہے کہ وہ آسمان سے نازل ہونے کے بعد کہولت کو پہنچیں گے۔‘‘

اِمام بغویؒ نے سورۂ نساء کی آیات:۱۵۶ تا ۱۸۵، سورۂ مائدہ کی آیت:۱۱۷ اور سورۂ زُخرف کی آیت:۶۱ کے تحت بھی عیسیٰ علیہ السلام کے آسمان پر اُٹھائے جانے اور آخری زمانے میں آسمان سے نازل ہونے کی تصریحات کی ہیں۔

(دیکھئے: ج:۳ ص:۹ تا ۲۳، ۲۸۲، ج:۷ ص:۴۰۷)

403

اِمام محی السنہ نے ’’مصابیح السُّنَّۃ‘‘ میں’’باب العلامات بین یدی الساعۃ وذکر الدّجّال‘‘، ’’باب قصّۃ ابن الصیاد‘‘، ’’باب نزول عیسٰی علیہ السلام‘‘، ’’باب لَا تقوم الساعۃ إلّا علی الأشرار‘‘ کے تحت نزولِ عیسیٰ علیہ السلام کی احادیث درج کی ہیں۔

(دیکھئے ج:۲ ص:۱۳۵ تا ۱۴۱)

نیز اِمام بغویؒ نے ’’شرح السُّنَّۃ‘‘ کتاب الفتن میں ’’باب نزول عیسَی بن مریم صلوات اللہ علیہ‘‘ کے ذیل میں احادیث نقل کرکے ان کی تصحیح کی ہے۔

(دیکھئے: ج:۱۵ ص:۸۰)

ابن العربی:

اِمام محمد بن عبداللہ ابوبکر ابن العربی المالکی رحمہ اللہ (متوفیٰ ۵۴۳ھ) شرح ترمذی (ج:۹ ص:۷۶) میں لکھتے ہیں:

’’وسرد الأمر أنّ عیسَی ابن مریم ینزل من السماء وھو فیھا حَیٌّ بیّناہ فی التفسیر وفی کتاب سراج المریدین۔‘‘

ترجمہ: … ’’مختصر بات یہ ہے کہ عیسیٰ بن مریم علیہ السلام آسمان سے نازل ہوں گے اور وہ آسمان میں زندہ ہیں، ہم اس مسئلے کو تفسیر میں اور کتاب سراج المریدین میں بیان کرچکے ہیں۔‘‘

اِمام ابنِ عطیہؒ:

اِمام عبدالحق بن غالب بن عبدالرحمن المعروف بہ ابنِ عطیہ المغربی الغرناطی المالکی رحمہ اللہ (۴۸۱ھ-۵۴۱ھ) کے حوالے سے شیخ ابوحیان، تفسیر ’’البحر المحیط‘‘ میں لکھتے ہیں:

’’قال ابن عطیۃ: وأجمعت الاُمّۃ علٰی ما تضمنّہ الحدیث المتواتر من أنّ عیسٰی علیہ السلام فی السماء
405

حیٌّ وأنّہ ینزل فی آخر الزمان۔‘‘

(ج:۲ ص:۴۷۳)

ترجمہ: … ’’اِمام ابنِ عطیہؒ فرماتے ہیں کہ اُمت کا اس عقیدے پر اِجماع ہے جو حدیثِ متواتر میں وارِد ہے کہ عیسیٰ علیہ السلام آسمان میں زندہ ہیں اور یہ کہ وہ آخری زمانے میں نازل ہوں گے۔‘‘

قاضی عیاض مالکیؒ:

الامام الحافظ القاضی ابوالفضل عیاض بن موسیٰ الیحصبی المالکی رحمہ اللہ (متوفیٰ۵۴۴ھ) کے حوالے سے اِمام نوویؒ شرح مسلم میں ’’باب ذکر الدجال‘‘ کے تحت فرماتے ہیں:

’’قال القاضی: ھٰذہ الأحادیث التی ذکرھا مسلم وغیرہ فی قصّۃ الدّجّال حجّۃ لمذھب أھل الحق فی صحۃ وجودہ وأنہ شخص بعینہ، ابتلی اللہ بہ عبادہ، ۔۔۔۔۔ ویقتلہ عیسٰی صلی اللہ علیہ وسلم ویثبت اللہ الذین آمنوا، ھٰذا مذھب أھل السُّنّۃ وجمیع المحدثین والفقھاء والنظار۔‘‘

(ج:۲ ص:۳۹۹)

ترجمہ: … ’’قاضی عیاضؒ فرماتے ہیں کہ یہ احادیث جو اِمام مسلمؒ اور دیگر حضرات نے دجال کے بارے میں ذِکر فرمائی ہیں یہ اہلِ حق کے مذہب کی دلیل ہے کہ دجال کا وجود قطعی ویقینی ہے، اور یہ کہ وہ ایک معین شخص ہے، اللہ تعالیٰ اس کے ذریعے بندوں کو آزمائیں گے ۔۔۔۔۔اور دَجال کو عیسیٰ علیہ السلام قتل کریں گے اور اللہ تعالیٰ اہلِ ایمان کو ثابت قدم رکھیں گے۔ یہی اہلِ سنت، تمام محدثین، فقہاء اور متکلمین کا مسلک ہے۔‘‘

نیز اِمام نوویؒ اسی باب میں قاضی عیاضؒ سے نقل کرتے ہیں:

’’قال القاضی رحمہ اللہ تعالٰی: نزول عیسَی
406

ابن مریم علیہ السلام وقتلہ الدَّجَّال حق صحیح عند أھل السُّنَّۃ للأحادیث الصحیحۃ فی ذٰلک، ولیس فی العقل ولَا فی الشرع ما یبطلہ فوجب إثباتہ، وأنکر بعض المعتزلۃ والجھمیۃ ومن وافقھم وزعموا أن ھٰذہ الأحادیث مردودۃ بقولہ تعالٰی: {خَاتَمَ النَّبِیّٖنَ}، وبقولہ صلی اللہ علیہ وسلم: ’’لَا نبی بعدی‘‘، وبإجماع المسلمین أنّہ لَا نبی بعد نبیّنا صلی اللہ علیہ وسلم وإن شریعتہ مؤبدۃ إلٰی یوم القیامۃ لَا تنسخ۔

وھٰذا إستدلَال فاسد لأنّہ لیس المراد بنزول عیسٰی علیہ السلام أنّہ ینزل نبیًّا بشرع ینسخ شرعنا ولَا فی ھٰذا الأحادیث ولَا فی غیرھا شیء من ھٰذا، بل صحت الأحادیث ھٰھنا وما سبق فی کتاب الْإیمان وغیرھا، إنّہ ینزل حکمًا مقسطًا یحکم بشرعنا ویحیی من اُمور شرعنا ما ھجرہ الناس۔‘‘

(ج:۲ ص:۴۰۳)

ترجمہ: … ’’قاضی عیاض رحمہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ: عیسیٰ علیہ السلام کا نازل ہونا اور ان کا دَجال کو قتل کرنا، اہلِ سنت کے نزدیک حق اور صحیح ہے، کیونکہ اس میں احادیثِ صحیحہ وارِد ہیں۔ اور کوئی عقلی یا نقلی دلیل ایسی نہیں جو اس عقیدے کو باطل کرے۔ پس اس عقیدے کا اِقرار واجب ہے، اور بعض معتزلہ اور جہمیہ اور ان کے موافقین نے اس کا اِنکار کیا ہے، ان کے زعم میں یہ احادیث مردُود ہیں حق تعالیٰ کے ارشاد ’’خَاتَمَ النَبِیّٖنَ‘‘ اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشاد: ’’لَا نبی بعدی‘‘ کی وجہ سے۔ نیز مسلمانوں کے اس اِجماع کے سبب کہ ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد کوئی

407

نبی نہیں ہوگا، اور یہ کہ آپ کی شریعت قیامت تک رہے گی منسوخ نہ ہوگی۔

اور ان کا یہ اِستدلال فاسد ہے، کیونکہ عیسیٰ علیہ السلام کے نازل ہونے کا یہ مطلب نہیں کہ وہ نبی کی حیثیت سے نازل ہوں گے، اور اپنی شریعت کے ذریعے ہماری شریعت کو منسوخ کرڈالیں گے، نہ ان احادیث میں اور نہ کسی اور حدیث میں ایسا کوئی مضمون پایا جاتا ہے، بلکہ احادیثِ صحیحہ میں جو یہاں ذِکر کی گئی ہیں اور کتابُ الایمان وغیرہ میں گزرچکی ہیں یہ آتا ہے کہ وہ حاکمِ منصف کی حیثیت سے نازل ہوں گے، ہماری شریعت کا حکم چلائیں گے، ہماری شریعت کے ان اُمور کو زِندہ کریں گے جن کو لوگ چھوڑ چکے ہوں گے۔‘‘

حضرت پیرانِ پیرؒ:

حضرت محبوبِ سبحانی پیرانِ پیر شاہ عبدالقادر جیلانی الحنبلی رحمہ اللہ (۴۷۰ھ-۵۶۱ھ) ’’غنیۃ الطالبین‘‘ میں یومِ عاشورا کی فضیلت میں فرماتے ہیں:

’’ورفع عیسٰی علیہ السلام فی یوم عاشوراء۔‘‘

(ص:۶۷۶)

ترجمہ: … ’’اور اُٹھالیا اللہ تعالیٰ نے عیسیٰ علیہ السلام کو عاشورا کے دن۔‘‘

آگے لکھتے ہیں کہ عاشورا کے دن کو دس فضیلتیں ہیں:

’’والتاسعۃ: رفع اللہ عزّ وجلّ عیسٰی علیہ السلام إلی السماء فیہ۔‘‘

(ص:۶۸۲)

ترجمہ: … ’’نویں فضیلت یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اُٹھالیا

408

عیسیٰ علیہ السلام کو آسمان کی طرف اس دن میں۔‘‘

اِمام سہیلی:ؒ

الامام الفقیہ المحدث ابوالقاسم عبدالرحمن بن عبداللہ بن احمد بن ابی الحسن الخثعمی السہیلی رحمہ اللہ (۵۰۸ھ-۵۸۱ھ) سیرت ابنِ ہشام کی شرح ’’الروض الانف‘‘ میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے بارے میں یہود و نصاریٰ دونوں کے موقف کی تردید کرتے ہوئے لکھتے ہیں:

’’وقد أعطاہ اللہ من الدلَائل علی الفریقین ما یبطل المقالتین، ودلَائل الحدوث تثبت لہ العبودیۃ وتنفی عنہ الربوبیۃ، وخصائص معجزاتہ تنفی عن اُمّہ الریبۃ وتثبت لہ ولھا النبوّۃ والصدیقیۃ، فکان فی مسیح الھدی من الآیات ما یشاکل حالہ ومعناہ حکمۃ من اللہ، کما جعل فی الصورۃ الظاھرۃ من مسیح الضلالۃ وھو الأعوَر الدّجّال ما یشاکل حالہ ویُناسب صورتہ الباطنۃ علٰی نحو ما شرحنا وبیّنا فی إملاء أملیناہ علٰی ھٰذہ النکتۃ فی غیر ھٰذا الکتاب، والحمد ﷲ۔‘‘

(الروض الانف ج:۲ ص:۴۸)

ترجمہ: … ’’اور اللہ تعالیٰ نے آپ کو فریقین کے مقابلے میں وہ دلائل عطا فرمائے جو دونوں فریقوں کے قول کی تردید کرتے ہیں، حضرت عیسیٰ علیہ السلام میں دلائلِ حدوث کا پایا جانا ان کے بندہ ہونے کو ثابت کرتا ہے، اور ان سے اُلوہیت کی نفی کرتا ہے، اور ان کے خصوصی معجزات ان کی والدہ سے یہود کی بدگمانی کو رَفع کرتے ہیں، اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے لئے نبوّت اور ان کی والدہ کے لئے صدیقیت کا اِثبات کرتے ہیں۔ پس مسیحِ ہدایت (عیسیٰ علیہ

409

السلام) میں وہ علامات تھیں جو بنابر حکمتِ اِلٰہی ان کے حال و معنی کے مناسب تھیں، جیسا کہ مسیحِ ضلالت دجالِ اَعوَر کی ظاہری صورت وہ رکھی گئی جو اس کے حال اور اس کی صورتِ باطنی کے ہم شکل تھی، جیسا کہ ہم بحمداللہ اس نکتے کی تشریح دُوسری کتاب میں کرچکے ہیں۔‘‘

دُوسری جگہ لکھتے ہیں:

’’وکان إرسال المسیح للحواریین بعد ما رفع وصلب الذی شبہ بہ، وجائت مریم الصدیقۃ والمرأۃ التی کانت مجنونۃ فأبرأھا المسیح وقعدتا عند الجذع تبکیان، وقد أصاب اُمّہ من الحزن علیہ ما لم یعلم علمہ إلّا اللہ، فأھبط إلیھما، وقال: علام تبکیان؟ فقالتا: علیک! فقال: إنّی لم اُقتل ولم اُصلب، لٰـکن اللہ رفعنی وکرمنی وشبّہ علیھم فی أمری، أبلغا عنی الحواریین أمری ان یلقونی فی موضع کذا لیلًا، فجاء الحواریون ذٰلک الموضع، فإذا الجبل قد اشتعل نورًا لنزولہ بہ، ثم أمرھم أن یدعوا الناس إلٰی دینہ وعبادۃ ربھم، فوجھھم إلی الاُمم التی ذکر ابن إسحاق وغیرھم وکسی کسوۃ الملائکۃ فعرج معھم فصار ملکیًّا إنسیًّا سمائیًّا أرضیًّا۔

(ج:۲ ص:۳۵۳)

ترجمہ: … ’’اور عیسیٰ علیہ السلام کا حواریوں کو تبلیغ کے لئے بھیجنا اس کے بعد ہوا تھا جبکہ آپ کو آسمان پر اُٹھالیا گیا، اور جس شخص پر آپ کی شباہت ڈال دی گئی وہ سولی دیا گیا، (اس کا قصہ یہ ہے کہ جب حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو اُٹھالیا گیا اور ان کی شباہت کے دُوسرے شخص کو سولی دی گئی تو) حضرت مریم صدیقہ اور وہ عورت جو

410

حضرت مسیح علیہ السلام کی دُعا سے دیوانگی سے شفایاب ہوئی تھی، یہ دونوں آئیں اور صلیب کی لکڑی کے پاس بیٹھ کر رونے لگیں، اور ان کی والدہ ماجدہ کو ایسا غم لاحق ہوا جس کی کیفیت اللہ تعالیٰ ہی جانتا ہے، آپ ان دونوں کے پاس آسمان سے اُترے اور فرمایا: تم کس چیز پر رو رہی ہو؟ انہوں نے کہا: آپ پر! آپ نے فرمایا: میں نہ قتل ہوا، نہ سولی دیا گیا، بلکہ اللہ تعالیٰ نے مجھ کو اُٹھالیا، اور مجھے عزّت وکرامت عطا فرمائی، اور اللہ تعالیٰ نے میرے معاملے میں ان پر اِشتباہ ڈال دیا۔ تم دونوں حواریوں کو میرا پیغام پہنچادو کہ فلاں جگہ مجھے رات کے وقت ملیں، چنانچہ حواری اس جگہ پہنچے تو دیکھا کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے نزول کی وجہ سے پہاڑ نور سے جگمگا رہا ہے، پھر آپ نے ان کو حکم فرمایا کہ وہ لوگوں کو آپ کے دِین کی اور اللہ کی عبادت کی دعوت دیں، پس آپ نے ان کو ان اَقوام کی طرف بھیجا جن کا تذکرہ ابنِ اسحاق وغیرہ نے کیا ہے، پھر آپ کو فرشتوں کا لباس پہنایا گیا اور آپ فرشتوں کے ساتھ آسمان پر چڑھ گئے، پس آپ فرشتہ انسان اور زمین وآسمان کے رہنے والے بن گئے۔‘‘

اِمام ابن الجوزیؒ:

اِمام جمال الدین ابوالفرج عبدالرحمن بن علی بن محمد بن علی بن عبیداللہ القرشی، التیمی، البکری، البغدادی الحنبلی رحمہ اللہ (۵۱۰ھ-۵۹۷ھ) کے حوالے سے صاحبِ مشکوٰۃ نے یہ حدیث نقل کی ہے:

’’عَنْ عَبْدِاللہِ بْنِ عَمْرٍو أَنَّ رَسُوْلَ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَالَ: یَنْزِلُ عِیْسَی ابْنَ مَرْیَمَ إِلَی الْأَرْضِ فَیَتَزَوَّجُ وَیُوْلَدُ لَہٗ فَیَمْکُثُ خَمْسًا وَّأَرْبَعِیْنَ سَنَۃً ثُمَّ یَمُوْتُ
411

فَیُدْفَنُ فِیْ قَبْرِیْ، فَأَقُوْمُ أَنَا وَعِیْسَی ابْنُ مَرْیَمَ مِنْ قَبْرٍ وَّاحِدٍ بَیْنَ أَبِیْ بَکْرٍ وَّعُمَرَ۔‘‘

(مشکوٰۃ المصابیح ص:۴۸۰، وفاء الوفاء ج:۲ ص:۵۵۸)

ترجمہ: … ’’حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: عیسیٰ علیہ السلام (آسمان سے زمین کی طرف) اُتریں گے، پس نکاح کریں گے اور ان کی اولاد ہوگی، پس ۴۵ برس زمین میں رہیں گے، پھر ان کا انتقال ہوگا، پھر میرے ساتھ میرے روضے میں دفن ہوں گے، پس میں اور عیسیٰ بن مریم، ابوبکر وعمر کے درمیان ایک ہی مقبرے سے اُٹھیں گے۔‘‘

ساتویں صدی

اِمام فخرالدین رازیؒ:

امام فخرالدین محمد بن عمر الرازی الشافعی رحمہ اللہ (متوفیٰ۶۰۶ھ) نے ’’تفسیر کبیر‘‘ میں کئی جگہ یہ عقیدہ درج فرمایا ہے۔

سورۂ آل عمران کی آیت:’’اِنِّیْ مُتَوَفِّیْکَ وَرَافِعُکَ اِلَیَّ‘‘ کے تحت لکھتے ہیں:

’’قد ثبت الدلیل أنّہ حیٌّ، وورد الخبر عن النبی صلی اللہ علیہ وسلم أنّہ سینزل ویقتل الدّجّال، ثم إنّہ تعالٰی یتوفاہ بعد ذٰلک۔‘‘

(ج:۲ ص:۶۸۹)

ترجمہ: … ’’اور بے شک دلیل سے یہ ثابت ہے کہ عیسیٰ علیہ السلام ابھی زندہ ہیں، اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی جانب سے یہ خبر دی گئی ہے کہ وہ (قربِ قیامت میں) نازل ہوں گے اور دجال کو قتل کریں گے، اس کے بعد اللہ تعالیٰ ان کو قبض کریں گے۔‘‘

412

اسی کے ذیل میں مزید لکھتے ہیں:

’’والوجہ السادس: أنّ التوفی أخذ الشیء وافیًا، ولما علم اللہ أنّ من الناس من یخطر ببالہ أن الذی رفعہ اللہ ھو روحہ لَا جسدہ، ذکر ھٰذا الکلام لیدل أنّہ علیہ السلام رفع بتمامہ إلی السماء بروحہ وجسدہ۔‘‘

ترجمہ: … ’’چھٹی وجہ یہ کہ ’’توفی‘‘ کے معنی ہیں پورا پورا لینا، چونکہ اللہ تعالیٰ کو یہ علم ہے کہ بعض لوگوں کے دِل میں وسوسہ پیدا ہوسکتا تھا کہ عیسیٰ علیہ السلام کی صرف رُوح کو اللہ تعالیٰ نے اُٹھایا ہوگا، جسم کو نہیں، اس لئے یہ کلام ذِکر فرمایا تاکہ معلوم ہوسکے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام رُوح وجسم سمیت آسمان پر صحیح وسالم اُٹھالئے گئے ہیں۔‘‘

سورۂ نساء کی آیت: ’’وَمَا قَتَلُوْہُ یَقِیْنًام بَلْ رَّفَعَہُ اللہُ اِلَیْہِ‘‘ کے ذیل میں لکھتے ہیں:

’’المسألۃ الثانیۃ: رفع عیسٰی علیہ السلام إلی السماء ثابت بھٰذہ الآیۃ ونظیر ھٰذہ الآیۃ قولہ فی آل عمران:{اِنِّیْ مُتَوَفِّیْکَ وَرَافِعُکَ اِلَیَّ} ۔‘‘

(ج:۳ ص:۵۰۴)

ترجمہ: … ’’دُوسرا مسئلہ: حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا آسمان کی طرف اُٹھایا جانا اس آیت سے ثابت ہوتا ہے، اور اس آیت کی نظیر سورۂ آل عمران میں حق تعالیٰ کا ارشاد ہے: اِنِّیْ مُتَوَفِّیْکَ وَرَافِعُکَ اِلَیّ ‘‘۔

اور اس سے اگلی آیت:’’وَاِنْ مِّنْ اَھْلِ الْکِتٰبِ۔۔۔الخ‘‘ کے ذیل میں لکھتے ہیں:

’’قولہ: {قَبْلَ مَوْتِہٖ} أی قبل موت عیسٰی،
413

والمراد أن أھل الکتاب الذین یکونون موجودین فی زمان نزولہ لَا بد وأن یؤمنوا بہ۔‘‘

(تفسیر کبیر ج:۳ ص:۵۰۵)

ترجمہ: … ’’قَبْلَ مَوْتِہٖ ے مراد عیسیٰ علیہ السلام کی موت سے پہلے، آپ کا مطلب یہ ہے کہ اہلِ کتاب میں سے جو لوگ آپ کے زمانۂ نزول کے وقت موجود ہوں گے وہ لامحالہ آپ پر اِیمان لائیں گے۔‘‘

سورۂ مائدہ کی آیت:۱۲۰ کے ذیل میں ’’فَلَمّا تَوَفَّیْتَنِیْ‘‘ کی تفسیر میں فرماتے ہیں:

’’والمراد منہ وفاۃ الرفع إلی السماء۔‘‘

(تفسیر کبیر ج:۳ ص:۷۰۰)

ترجمہ: … ’’یہاں ’’توفی‘‘ سے مراد ہے آسمان پر اُٹھالیا جانا۔‘‘

سورۂ زخرف کی آیت:۶۱ ’’وَاِنَّہٗ لَعِلْمٌ لِّلسَّاعَۃِ‘‘ کی تفسیر میں فرماتے ہیں:

’’وإن عیسٰی لعلم للساعۃ أی شرط من أشراطھا تعلم بہ ۔۔۔الخ۔‘‘

(تفسیر کبیر ج:۷ ص:۴۵۲)

ترجمہ: … ’’اور عیسیٰ علیہ السلام قیامت کی نشانی ہیں، یعنی (ان کا نزول) علاماتِ قیامت میں سے ایک علامت ہے، جس سے (قرب) قیامت کا علم ہوگا۔‘‘

اِمام ابوالبقاءؒ:

الشیخ الامام ابوالبقاء عبداللہ بن حسین بن عبداللہ العکبری رحمہ اللہ (متوفیٰ۶۱۶ھ)’’املاء ما منَّ بہ الرحمٰن‘‘ (جو ’’اِعراب القرآن‘‘ کے نام سے معروف ہے) میں آیت: ’’اِنِّیْ مُتَوَفِّیْکَ وَرَافِعُکَ اِلَیَّ‘‘ کے ذیل میں لکھتے ہیں:

’’والتقدیر رافعک إلیّ ومتوفیک لأنّہ رفع إلی السماء ثم یتوفی بعد ذٰلک۔‘‘

(ص:۱۳۷)

414

ترجمہ: … ’’اصل یہ ہے کہ میں تجھے اپنی طرف اُٹھانے والا اور بعد میں وفات دینے والا ہوں، کیونکہ عیسیٰ علیہ السلام آسمان پر اُٹھالئے گئے پھر اس کے بعد ان کی وفات ہوگی۔‘‘

شیخ یاقوت حمویؒ:

لغت و عربیت کے اِمام شیخ شہاب الدین ابوعبداللہ یاقوت بن عبداللہ الرومی الحموی رحمہ اللہ (۵۷۴ھ-۶۲۶ھ) ’’معجم البلدان‘‘ میں لکھتے ہیں:

’’لُدّ: قریۃ قرب بیت المقدس من نواحی فلسطین ببابھا یدرک عیسَی ابن مریم الدّجّال فیقتلہ۔‘‘

(ج:۵ ص:۱۵)

ترجمہ: … ’’لُدّ: نواحی فلسطین میں بیت المقدس کے قریب ایک بستی ہے، حضرت عیسیٰ علیہ السلام دجال کا تعاقب کرتے ہوئے اسے لُدّ کے دروازے پر لے جائیں گے اور وہاں اسے قتل کریں گے۔‘‘

شیخ ابنِ عربی:ؒ

رئیس المکاشفین شیخ اکبر محی الدین محمد بن علی الطائی المغربی المالکی رحمہ اللہ (متوفیٰ۶۳۸ھ) نے اپنی کتابوں میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے رفع ونزول کی جابجا تصریحات فرمائی ہیں۔

’’فتوحاتِ مکیہ‘‘ باب ۳۶۷ میں حدیثِ معراج کے ذیل میں لکھتے ہیں:

’’فلمّا دخل إذًا بعیسٰی علیہ السلام بجسدہ وعینہ، فإنہ لم یمت إلی الآن، بل رفعہ اللہ إلیٰ ھٰذہ السماء وأسکنہ بھا۔‘‘

(الیواقیت والجواہر ج:۲ ص:۳۴)

ترجمہ: … ’’پس جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس آسمان

415

میں داخل ہوئے تو عیسیٰ علیہ السلام کو بعینہٖ اسی جسم کے ساتھ دیکھا کیونکہ وہ اب تک مرے نہیں، بلکہ اللہ تعالیٰ نے ان کو اس آسمان پر اُٹھالیا، اور اس آسمان میں ان کو ٹھہرایا۔‘‘

اور ’’فتوحاتِ مکیہ‘‘ کے باب۷۳ میں لکھتے ہیں:

’’فإنہ لَا خلاف أن عیسٰی علیہ السلام نبی ورسول وأنّہ لَا خلاف أنّہ ینزل فی آخر الزمان حکمًا مقسطًا عدلًا بشرعنا۔‘‘

(فتوحاتِ مکیہ ج:۲ ص:۳)

ترجمہ: … ’’بے شک عیسیٰ بن مریم علیہ السلام نبی ورسول ہیں، اور یقینا اس میں کوئی اختلاف نہیں کہ وہ آخری زمانے میں حاکمِ منصف بن کر نازل ہوں گے، اور ہماری شریعت کے مطابق عدل کی حکومت کریں گے۔‘‘

نیز باب ۳۵۳ میں لکھتے ہیں:

’’وقد جاء الخبر الصحیح فی عیسٰی علیہ السلام وکان ممن أوحی إلیہ قبل رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم أنہ إذا نزل فی آخر الزمان لَا یؤمّنا إلّا بنا أی بشریعتنا وسنّتنا مع أنہ لہ الکشف التام إذا نزل زیادۃً علی الْإلہام الذی یکون لہ کما لخواص ھٰذہ الاُمّۃ۔‘‘

(یواقیت ج:۳ ص:۸۴)

ترجمہ: … ’’اور صحیح حدیث میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے بارے میں جن کی طرف ہمارے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے قبل وحی نازل ہوئی تھی، آتا ہے کہ جب وہ آخری زمانے میں نازل ہوں گے تو وہ صرف ہماری شریعت و سنت کی پیروی کریں گے، باوجودیکہ جب وہ نازل ہوں گے تو ان کو اِلہام سے بڑھ کر کشفِ تام ہوگا۔‘‘

416

اور شیخ اکبرؒ کی طرف منسوب ’’تفسیر ابنِ عربی‘‘ میں سورۂ آل عمران کی آیت: ’’اِنِّیْ مُتَوَفِّیْکَ وَرَافِعُکَ اِلَیَّ‘‘ کی تفسیر میں ہے:

’’{اِنِّیْ مُتََوَفِّیْکَ} أی قابضک إلیّ من بینھم {وَرَافِعُکَ اِلَیَّ} أی إلٰی سماء الروح فی جواری۔‘‘

(ج:۱ ص:۱۱۴)

ترجمہ: … ’’اللہ تعالیٰ نے عیسیٰ علیہ السلام سے فرمایا کہ میں تجھے یہود کے درمیان سے اپنے قبضے میں لے کر رُوح کے آسمان کی طرف اپنے جوار میں اُٹھانے والا ہوں۔‘‘

آگے لکھتے ہیں کہ یہود نے عیسیٰ علیہ السلام کو پکڑنے کے لئے ایک شخص کو بھیجا، اللہ تعالیٰ نے آپ کی شبیہ اس پر ڈال دی، انہوں نے اسے عیسیٰ سمجھ کر قتل کردیا اور صلیب دی۔

’’واللہ رفع عیسٰی إلی السماء الرابعۃ۔‘‘

(ج:۱ ص:۱۱۵)

ترجمہ: … ’’اور اللہ تعالیٰ نے عیسیٰ علیہ السلام کو چوتھے آسمان پر اُٹھالیا۔‘‘

اسی تفسیر میں سورۂ نساء کی آیت:’’وَاِنْ مِّنْ اَھْلِ الْکِتٰبِ ۔۔۔الخ‘‘ کے ذیل میں ہے:

’’رفع عیسٰی علیہ السلام اتصال روحہ عند المفارقۃ عن العالم السفلی بالعالم العلوی ۔۔۔۔۔ ولما کان مرجعہ إلٰی مقرہ الأصلی ولم یصل إلی الکمال الحقیقی وجب نزولہ فی آخر الزمان بتعلقہ ببدن آخر، وحینئذٍ یعرفہ کل أحدٍ فیؤمن بہ أھل الکتاب أی أھل العلم العارفین بالمبدأ والمعاد کلھم عن آخرھم قبل موت عیسٰی بالفناء فی اللہ۔‘‘

(ج:۱ ص:۱۶۵)

417

ترجمہ: … ’’عیسیٰ علیہ السلام کے اُٹھائے جانے کی وجہ سے ان کی رُوح عالمِ سفلی سے جدا ہوکر عالمِ علوی سے متصل ہوگئی ۔۔۔۔۔۔ اور چونکہ ان کو اپنے اصلی مستقر پر واپس آنا تھا اور اس کمالِ حقیقی تک (جو اللہ تعالیٰ نے ان کے لئے تجویز فرمایا) ابھی نہیں پہنچے، اس لئے آخری زمانے میں ان کا نزول دُوسرے بدن سے متعلق ہوکر واجب ہوا، اس وقت ان کو ہر شخص پہچان لے گا، پس اہلِ کتاب جو مبدا ومعاد کے عارف ہوں گے، سب کے سب ان پر اِیمان لائیں گے ان کی موت سے پہلے۔‘‘

فائدہ: … یہاں دُوسرے بدن سے متعلق ہوکر کا یہ مطلب نہیں کہ عیسیٰ علیہ السلام کی رُوح بطورِ تناسخ کسی اور بدن میں حلول کرے گی، بلکہ مطلب یہ ہے کہ اس وقت ان کے بدن پر آثارِ ملکوتی کا غلبہ ہے، اور جب ان کا نزول ہوگا تو آثارِ بشری نمایاں ہوں گے۔

اسی تفسیر میں سورۂ زُخرف کی آیت:۶۱ ’’وَاِنَّہٗ لَعِلْمٌ لِّلسَّاعَۃِ‘‘ کے ذیل میں ہے:

’’أی أن عیسٰی مما یعلم بہ القیامۃ الکبریٰ وذٰلک أن نزولہ من أشراط الساعۃ۔‘‘

(ج:۲ ص:۲۱۹)

ترجمہ: … ’’یعنی عیسیٰ علیہ السلام کے ذریعے قیامتِ کبریٰ (کے قرب) کا علم ہوگا کیونکہ آپ کا نزول قیامت کی علامات میں سے ہے۔‘‘

اِمام عزّالدین بن عبدالسلامؒ:

سلطان العلماء شیخ الاسلام عزّالدین عبدالعزیز بن عبدالسلام المصری الشافعی رحمہ اللہ (متوفیٰ۶۶۰ھ) اپنی کتاب ’’الاشارۃ الی الایجاز فی بعض انواع المجاز‘‘ میں ۔۔۔جو عام طور سے ’’مجازات القرآن‘‘ کے نام سے معروف ہے۔۔۔ سورۂ آل عمران کی آیت:’’اِنِّیْ مُتَوَفِّیْکَ وَرَافِعُکَ اِلَیَّ‘‘ کی تفسیر میں لکھتے ہیں:

418
’’أی إنّی متوفی نفسک إذا نزلت إلی الأرض فی آخر الزمان، ورافعک إلیٰ سمائی ۔۔۔۔إلخ۔‘‘

(ص:۱۲۸)

ترجمہ: … ’’یعنی میں تیری جان قبض کروں گا جب تو آخری زمانے میں زمین پر نازل ہوگا، اور اَب تجھ کو اپنے آسمان کی طرف اُٹھالوں گا۔‘‘

اور سورۂ نساء کی آیت: ’’بَلْ رَّفَعَہُ اللہُ اِلَیْہِ‘‘ کی تفسیر میں لکھتے ہیں:

’’أی بل رفعہ اللہ إلی سماء۔‘‘

(ص:۱۳۶)

ترجمہ: … ’’یعنی بلکہ اللہ تعالیٰ نے ان کو آسمان پر اُٹھالیا۔‘‘

اس سے اگلی آیت:’’وَاِنْ مِّنْ اَھْلِ الْکِتٰبِ ۔۔۔الخ‘‘ کی تفسیر میں فرماتے ہیں:

’’أی وما أحدٌ من أھل الکتاب إلّا لیؤمنن بعبودیتہ قبل موت المسیح أو قبل موت الکتابی۔‘‘

(ص:۱۳۶)

ترجمہ: … ’’یعنی اہلِ کتاب میں کوئی فرد نہیں مگر وہ اِیمان لائے گا اس کے بندہ ہونے پر مسیح کی موت یا کتابی کی موت سے پہلے۔‘‘

اور سورۂ زُخرف کی آیت:’’وَاِنَّہٗ لَعِلْمٌ لِّلسَّاعَۃِ‘‘ کے ذیل میں لکھتے ہیں:

’’أی وإن نزولہ فی آخر الزمان لموجب علم لدنو الساعۃ أو لِاقتراب الساعۃ۔‘‘

(ص:۱۹۳)

ترجمہ: … ’’یعنی آخری زمانے میں عیسیٰ علیہ السلام کا نازل ہونا قربِ قیامت کا پتا دے گا۔‘‘

حافظ زین الدین رازی حنفی:ؒ

الامام الحافظ زین الدین محمد بن ابی بکر الرازی الحنفی رحمہ اللہ (متوفیٰ۶۶۶ھ) اپنی

419

کتاب ’’مسائل الرازی وأجْوبتھا‘‘ میں ۔۔۔جو قرآنِ کریم کی آیات سے متعلق قریباً بارہ سوال وجواب پر مشتمل ہے۔۔۔ لکھتے ہیں:

’’فإن قیل: کیف قال: {اِنِّیْ مُتَوَفِّیْکَ وَرَافِعُکَ اِلَیَّ} واللہ تعالٰی رفعہ ولم یتوفِّہ، قلنا: لما ھددہ الیھود بالقتل بشّرہ اللہ تعالٰی بأنّہ إنّما یقبض روحہ بالوفاۃ لَا بالقتل، والواو لَا تفید الترتیب، فلا یلزم من الآیۃ موتہ قبل رفعہ۔
الثانی: أنہ فیہ تقدیمًا وتأخیرًا، أی إنّی رافعک ومتوفیک، والثالث: أن معناہ قابضک من الأرض تامًا وافیًا فی أعضائک وجسدک لم ینالوا منک شیئًا۔‘‘

(ص:۳۳)

ترجمہ: … ’’اگر کہا جائے کہ اللہ تعالیٰ نے کیسے فرمایا:’’اِنِّیْ مُتَوَفِّیْکَ وَرَافِعُکَ اِلَیَّ‘‘ حالانکہ اللہ تعالیٰ نے ان کو اُٹھا تو لیا ہے، مگر وفات نہیں دی۔ اس کا پہلا جواب یہ ہے کہ جب یہود نے آپ کو قتل کی دھمکی دی تو اللہ تعالیٰ نے بشارت دی کہ وہ آپ کی رُوح بذریعہ طبّی موت کے قبض کرے گا، قتل کے ساتھ نہیں۔ اور واؤ ترتیب کا فائدہ نہیں دیتی اس لئے آیت سے ان کا رَفع سے پہلے مرنا لازم نہیں آتا۔ دوم یہ کہ آیت میں تقدیم و تأخیر ہے، یعنی فی الحال تجھے اُٹھانے والا ہوں اور پھر (آخری زمانے میں) وفات دینے والا ہوں۔ سوم یہ کہ آیت کے معنی یہ ہیں کہ میں تجھے زمین سے اعضا وجسم سمیت پورا پورا قبض کرنے والا ہوں، یہودی آپ کا کچھ نہیں بگاڑ سکیں گے۔‘‘

اور سورۂ اَحزاب کی آیت:’’مَا کَانَ مُحَمَّدٌ اَبَآ اَحَدٍ مِّنْ رِّجَالِکُمْ

420

۔۔۔الخ‘‘ کے ذیل میں لکھتے ہیں:

’’فإن قیل: کیف قال تعالٰی: {وَخَاتَمَ النَّبِیّٖنَ}وعیسٰی علیہ السلام بعدہ وھو نبیٌّ۔
قلنا: معنی کونہ خاتم النبیّین أنہ لَا یتنبّأ أحد بعدہ، وعیسٰی ممن نبّیٔ قبلہ، وحین ینزل ینزل عاملًا بشریعۃ محمد صلی اللہ علیہ وسلم مصلّیًا إلٰی قبلتہ کأنّہ بعض اُمّتہ۔‘‘

(ص:۲۸۲)

ترجمہ: … ’’اگر کہا جائے کہ حق تعالیٰ نے ’’وَخَاتَمَ النَّبِیّٖنَ‘‘ کیسے فرمایا، حالانکہ عیسیٰ علیہ السلام آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد ہیں اور وہ نبی ہیں۔ جواب یہ ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے خاتم النبیین ہونے کا مطلب یہ ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد کسی شخص کو نبوّت نہیں ملے گی اور عیسیٰ علیہ السلام کو آپ سے پہلے مل چکی ہے، اور وہ جب نازل ہوں گے تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی شریعت پر عمل کریں گے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہی کے قبلے کی طرف نماز پڑھیں گے، گویا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی اُمت کے ایک فرد ہوں گے۔‘‘

اِمام قرطبیؒ:

اِمام ابوعبداللہ محمد بن احمد الانصاری القرطبی المالکی رحمہ اللہ (متوفیٰ۶۷۱ھ) اپنی مشہور تفسیر ’’الجامع لأحکام القرآن‘‘ میں لکھتے ہیں:

’’والصحیح أن اللہ تعالٰی رفعہ إلی السماء من غیر وفاۃ ولَا نوم، کما قال الحسن وزید، وھو اختیار الطبری، وھو الصحیح عن ابن عباس وقالہ الضحاک۔‘‘

(ج:۴ ص:۱۰۰)

421

ترجمہ: … ’’اور صحیح یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو بغیر وفات اور بغیر نیند کے آسمان کی طرف اُٹھالیا، جیسا کہ اِمام حسنؒ اور زیدؒ نے فرمایا ہے، اور طبریؒ نے اس کو لیا ہے، اور یہی حضرت ابنِ عباس رضی اللہ عنہما سے صحیح ثابت ہوا ہے، اور یہی اِمام ضحاکؒ نے کہا ہے۔‘‘

نیز آیتِ کریمہ: ’’وَاِنَّہٗ لَعِلْمٌ لِّلسَّاعَۃِ‘‘ کے ذیل میں اِرشاداتِ نبویہ نقل کرنے کے بعد لکھتے ہیں:

’’قال علمائنا رحمۃ اللہ علیھم، فھٰذا نصّ علٰی أنّہ ینزل مجدّدًا لدین النبی صلی اللہ علیہ وسلم للذی درس منہ لَا بشرع مبتدأ، والتکلیف باقٍ علٰی ما بیّناہ ھنا وفی کتاب التذکرۃ۔‘‘

(ج:۱۶ ص:۱۰۷)

ترجمہ: … ’’ہمارے علماء (اہلِ سنت) رحمہم اللہ نے فرمایا کہ یہ اِرشادات اس بارے میں نص ہیں کہ عیسیٰ علیہ السلام، آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے دِین کے مجدّد کی حیثیت سے نازل ہوں گے، دِین کی جو باتیں مٹ گئی ہوں گی ان کو زِندہ فرمائیں گے، اپنی الگ شریعت نہیں لائیں گے، لوگ اس وقت بھی دِینِ محمدی کے مکلف ہوں گے، جیسا کہ ہم نے یہاں، اور کتاب التذکرۃ میں بیان کیا ہے۔‘‘

اِمام نوویؒ شارح مسلم:

الامام الحافظ محی الدین ابو زکریا یحییٰ بن شرف النووی الشافعی رحمہ اللہ (۶۳۱ھ-۶۷۶ھ) نے متعدّد جگہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے نزول کی تصریحات فرمائی ہیں۔

شرح مسلم ’’کتاب الایمان‘‘’’باب نزول عیسَی ابن مریم علیہ السلام ۔۔۔الخ‘‘ میں ’’ویضع الجزیۃ‘‘ کے تحت لکھتے ہیں:

422
’’قد یقال: ھٰذا خلاف ما ھو حکم الشرع الیوم فإن الکتابی إذا بذل الجزیۃ وجب قبولھا ولم یجز قتلہ ولَا إکراھہ علی الْإسلام۔
وجوابہ: أن ھٰذا الحکم لیس مُستمرًّا إلٰی یوم القیامۃ بل ھو مقید بما قبل نزول عیسٰی علیہ السلام وقد أخبرنا النبی صلی اللہ علیہ وسلم فی ھٰذہ الأحادیث الصحیحۃ بنسخہ ولیس عیسٰی صلی اللہ علیہ وسلم ھو الناسخ بل نبیّنا صلی اللہ علیہ وسلم ھو المبین للنسخ فإنّ عیسٰی علیہ السلام یحکم بشرعنا فدلّ علٰی أن الْإمتناع من قبول الجزیۃ فی ذٰلک الوقت ھو شرع نبیّنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم۔‘‘

(ج:۱ ص:۸۷)

ترجمہ: … ’’کہا جاسکتا ہے کہ یہ (حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے زمانے میں جزیہ کا موقوف ہوجانا) اس کے خلاف ہے جو آج شریعت کا حکم ہے، کیونکہ کتابی جب جزیہ دینے پر رضامند ہو تو اس کا قبول کرنا واجب ہے اور اس کا قتل کرنا یا اِسلام پر مجبور کرنا جائز نہیں۔

اس کا جواب یہ ہے کہ یہ حکم قیامت تک جاری نہیں، بلکہ نزولِ عیسیٰ علیہ السلام سے پہلے پہلے تک ہے، اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں ان احادیثِ صحیحہ میں خبر دی ہے کہ یہ حکم عیسیٰ علیہ السلام کے زمانے میں نہیں ہوگا، اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام اس حکم کو منسوخ نہیں فرمائیں گے، بلکہ خود آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمادیا ہے کہ یہ حکم اس وقت نہیں ہوگا، اس لئے اس نسخ کو بیان کرنے والے خود آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ہوئے، عیسیٰ علیہ السلام تو ہماری شریعت پر عامل ہوں گے، پس معلوم ہوا کہ عیسیٰ علیہ السلام کا

423

اس وقت جزیہ قبول نہ فرمانا یہ ہمارے نبی حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی شریعت ہے۔‘‘

آگے لکھتے ہیں:

’’وأما قولہ صلی اللہ علیہ وسلم: ’’ویفیض المال‘‘ فھو بفتح الیاء، ومعناہ یکثر۔ وتنزل البرکات وتکثر الخیرات بسبب العدل وعدم التظالم، وتقیء الأرض أفلاذ کبدھا، کما جاء فی الحدیث الآخر وتقل أیضًا الرغبات لقصر الآمال وعلمھم بقرب القیامۃ، فإن عیسٰی صلی اللہ علیہ وسلم عَلمٌ من أعلام الساعۃ، واللہ أعلم۔‘‘

(ج:۱ ص:۸۷)

ترجمہ: … ’’اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ ارشاد کہ اس وقت (عیسیٰ علیہ السلام کے زمانے میں) مال بہ پڑے گا، اس کے معنی یہ ہیں کہ عدل و انصاف اور رَفعِ مظالم کی وجہ سے مال کی بہتات ہوگی، برکتیں نازل ہوں گی، خیرات کی کثرت ہوگی، زمین اپنے جگر کے ٹکڑے اُگل دے گی، جیسا کہ دُوسری حدیث میں آیا ہے۔ نیز لمبی لمبی اُمیدوں کے ختم ہوجانے اور قربِ قیامت کا علم ہوجانے کے سبب مال سے لوگوں کی رغبتیں کم ہوجائیں گی، کیونکہ عیسیٰ علیہ السلام کا آنا قیامت کی علامتوں میں سے ہے۔‘‘

اور ’’باب ذکر الدجال‘‘ میں لکھتے ہیں:

’’قولہ صلی اللہ علیہ وسلم: ’’فیبعث اللہ عیسَی ابن مریم‘‘ أی ینزل من السماء، حاکمًا بشرعنا، وقد سبق بیان ھٰذا فی کتاب الْإیمان۔
قال القاضی رحمہ اللہ تعالٰی: نزول عیسٰی
424

علیہ السلام وقتلہ الدّجّال حقٌّ وصحیحٌ عند أھل السُّنّۃ للأحادیث الصحیحۃ فی ذٰلک، ولیس فی العقل ولَا فی الشرع ما یبطلہ فوجب إثباتہ۔‘‘

(ج:۲ ص:۴۰۳)

ترجمہ: … ’’آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد کہ: ’’اللہ تعالیٰ (قتلِ دجال کے لئے) عیسیٰ بن مریم کو بھیجیں گے‘‘ یعنی وہ آسمان سے نازل ہوں گے، ہماری شرع کے ساتھ حاکم بن کر۔ اور اس کا بیان کتاب الایمان میں گزرچکا ہے۔ قاضی عیاض رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ: اہلِ سنت کے نزدیک عیسیٰ علیہ السلام کا نازل ہونا اور دَجال کو قتل کرنا حق اور صحیح ہے، بوجہ ان احادیثِ صحیحہ کے جو اس بارے میں وارِد ہوئی ہیں، اور اس کے خلاف کوئی عقلی یا شرعی دلیل نہیں جو اس کا توڑ کرے، اس لئے اس کا اِقرار واجب ہے۔‘‘

اور اِمام نوویؒ ’’تہذیب الاسماء والصفات‘‘ میںفرماتے ہیں:

’’وثبت فی الصحیحین: أن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم قال: ینزل عیسَی ابن مریم من السَّماء ویقتل الدّجّال بباب لُدّ، وأحادیثہ فی قصّۃ الدّجّال مشہورۃ فی الصحیح۔ وینزل عیسٰی حکمًا عدلًا کما سبق فی الحدیث الصحیح لَا رسولًا، وإنّہ یصلّی وراء الْإمام منّا تکرمۃ من اللہ تعالٰی لھٰذہ الاُمّۃ وجاء أنّہ یتزوج بعد نزولہ ویولد لہ ویدفن عند النبی صلی اللہ علیہ وسلم۔‘‘

ترجمہ: … ’’اور صحیحین میں ثابت ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ: عیسیٰ علیہ السلام آسمان سے نازل ہوں گے اور بابِ لُدّ پر دَجال کو قتل کریں گے۔ اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی

425

احادیثِ صحاح قصۂ دَجال میں مشہور ہیں۔ اور عیسیٰ علیہ السلام حاکمِ عادل کی حیثیت سے نازل ہوں گے، جیسا کہ حدیثِ صحیح میں پہلے گزرچکا ہے، اس اُمت کے رسول کی حیثیت سے نہیں آئیں گے، اور وہ ہمارے اِمام کے پیچھے نماز پڑھیں گے، یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے اس اُمت کا اِعزاز ہے۔ اور یوں آتا ہے کہ وہ نزول کے بعد شادی کریں گے اور ان کے اولاد بھی ہوگی اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس دفن ہوں گے۔‘‘

قاضی بیضاویؒ:

شیخ الاسلام ناصرالدین ابو سعید عبداللہ بن عمر القاضی البیضاوی الشافعی رحمہ اللہ (متوفیٰ۶۸۵ھ) اپنی تفسیر ’’انوار التنزیل واسرار التأویل‘‘ یں ۔۔۔جو تفسیر بیضاوی کے نام سے متداول ہے۔۔۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی حیات اور آخری زمانے میں نزول کی تصریحات متعدّد جگہ فرماتے ہیں۔

سورۂ آل عمران کی آیتِ کریمہ:’’وَمَکَرُوْا وَمَکَرَ اللہُ‘‘ کے تحت لکھتے ہیں:

’’{وَمَکَرَ اللہُ} حین رفع عیسٰی علیہ الصلاۃ والسلام وألقی شبھہ علٰی من قصد اغتیالہ حتّٰی قتل۔‘‘

(ج:۱ ص:۵۰۵)

ترجمہ: … ’’اور اللہ تعالیٰ نے (یہود کے مقابلے میں) تدبیر کی جبکہ عیسیٰ علیہ السلام کو اُٹھالیا اور ان کی شباہت اس شخص پر ڈال دی جو آپ کو پکڑنا چاہتا تھا یہاں تک کہ وہ قتل ہوگیا۔‘‘

اور سورۂ نساء کی آیت:’’وَاِنْ مِّنْ اَھْلِ الْکِتٰبِ ۔۔۔الخ‘‘ کے تحت لکھتے ہیں:

’’وقیل: الضمیران لعیسٰی علیہ أفضل الصلاۃ والسلام، والمعنی أنّہ إذا نزل من السماء آمن بہ أھل
426

الملل جمیعًا۔

روی: ’’أنّہ علیہ الصلاۃ والسلام ینزل من السماء حین یخرج الدّجّال فیھلکہ ولَا یبقی أحدٌ من أھل الکتاب إلّا لیؤمنن بہ حتّٰی تکون الملّۃ واحدۃ وھی ملّۃ الْإسلام وتقع الأمنۃ حتّٰی ترتع الأسود مع الْإبل والنمور مع البقر والذئاب مع الغنم وتلعب الصبیان بالحیّات ویلبث فی الأرض أربعین سنۃ ثم یتوفّی ویصلّی علیہ المسلمون۔‘‘

(مجموعۃ أنوار التنزیل وأسرار التأویل لباب التأویل فی معانی التنزیل ج:۲ ص:۲۰۳)

ترجمہ: … ’’اور کہا گیا ہے کہ دونوں ضمیریں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی طرف راجع ہیں، اور مطلب یہ ہے کہ جب وہ آسمان سے نازل ہوں گے تو سب اہلِ ملل ان پر اِیمان لے آئیں گے۔ روایت ہے کہ آپ آسمان سے اس وقت نازل ہوں گے جب دجال نکلے گا، پس اس کو ہلاک کردیں گے، اور اہلِ کتاب میں کوئی ایسا نہ رہے گا جو اِیمان نہ لائے۔ اس وقت صرف ایک ہی دِین رہ جائے گا، یعنی دِینِ اسلام۔ اور زمین پر اَمن و امان کا دور دورہ ہوگا، یہاں تک کہ شیر اُونٹوں کے ساتھ، چیتے گائے بیلوں کے ساتھ، اور بھیڑیے بکریوں کے ساتھ چریں گے، بچے سانپوں سے کھیلیں گے، آپ زمین میں چالیس برس رہیں گے تب آپ کی وفات ہوگی اور مسلمان آپ کی نمازِ جنازہ پڑھیں گے۔‘‘

اور سورۂ اَحزاب کی آیتِ کریمہ:’’وَلٰـکِنْ رَّسُوْلَ اللہِ وَخَاتَمَ النَّبِیّٖنَ‘‘ کے تحت لکھتے ہیں:

’’ولَا یقدح فیہ نزول عیسٰی علیہ السلام بعدہ
427

لأنّہ إذا نزل کان علٰی دینہ مع أن المراد أنہ آخر من نبیٔ۔‘‘

(ج:۵ ص:۱۲۳)

ترجمہ: … ’’اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا نازل ہونا ختمِ نبوّت میں قادح نہیں، کیونکہ جب وہ نازل ہوں گے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے دِین پر ہوں گے، علاوہ ازیں آیت کا مدعا یہ ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم آخری شخص ہیں جن کو نبوّت عطا کی گئی ہے (اور عیسیٰ علیہ السلام کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے پہلے نبوّت مل چکی تھی)۔‘‘

اور سورۂ زُخرف کی آیت: ’’وَاِنَّہٗ لَعِلْمٌ لِّلسَّاعَۃِ‘‘ کے تحت لکھتے ہیں:

{وَاِنَّہٗ} وإن عیسٰی {لَعِلْمٌ لِّلسَّاعَۃِ} لأن حدوثہ أو نزولہ من أشراط الساعۃ یعلم بہ دنوھا۔ وفی الحدیث: ’’ینزل عیسٰی علیٰ ثنیۃ من الأرض المقدسۃ -یقال لھا أفیق- وبیدہ حربۃ بھا یقتل الدّجّال فیأتی بیت المقدس والناس فی صلاۃ الصبح‘‘۔۔۔ إلخ۔‘‘

(ج:۵ ص:۴۳۹)

ترجمہ: … ’’اور بے شک وہ یعنی عیسیٰ علیہ السلام نشانی ہیں قیامت کی، کیونکہ ان کا وجود یا ان کا نزول علامتِ قیامت میں سے ہے، جس سے قیامت کا قریب ہونا معلوم ہوگا، اور حدیث میں ہے کہ عیسیٰ علیہ السلام ارضِ مقدسہ کی ایک گھاٹی پر ۔۔۔جس کو افیق کہا جاتا ہے۔۔۔ نزول فرمائیں گے، ان کے ہاتھ میں ایک نیزہ ہوگا جس سے دجال کو قتل کریں گے، پس وہ بیت المقدس میں اس وقت تشریف لائیں گے جبکہ لوگ صبح کی نماز میں کھڑے ہوں گے۔‘‘

428

حافظ ابنِ ابی جمرہؒ:

اِمام حافظ عارف ومحدث ابو محمد عبداللہ بن ابی جمرہ الاندلسی رحمہ اللہ (متوفیٰ۶۹۹ھ) اپنی کتاب ’’بہجۃ النفوس‘‘ میں حدیثِ معراج کے ذیل میں انبیائے کرام علیہم السلام کے درجات و مراتب پر گفتگو کرتے ہوئے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے دُوسرے آسمان میں ہونے کی وجہ اس طرح بیان فرماتے ہیں:

’’وأما عیسٰی علیہ السلام فإنما کان فی السماء الثانیۃ لأنّہ أقرب الأنبیاء إلی النبی صلی اللہ علیہ وسلم ولَا انمحت شریعۃ عیسٰی علیہ السلام إلّا بشریعۃ محمد علیہ السلام ولأنّہ ینزل فی آخر الزمان لاُمّۃ النبی صلی اللہ علیہ وسلم بشریعتہ ویحکم بھا ولھٰذا قال علیہ السلام: ’’أنا أولی الناس بعیسٰی‘‘ فکان فی السماء الثانیۃ لأجل ھٰذا المعنٰی۔‘‘

(بھجۃ النفوس ج:۳ ص:۱۹۵)

ترجمہ: … ’’اور عیسیٰ علیہ السلام دُوسرے آسمان پر اس لئے ہیں کہ وہ دیگر انبیائے کرام علیہم السلام کی نسبت آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے اقرب ہیں، اور عیسیٰ علیہ السلام کی شریعت آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی شریعت سے منسوخ ہوگئی، اور اس لئے کہ وہ آخر زمانے میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی اُمت میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی شریعت پر نازل ہوں گے، اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہی کی شریعت کے مطابق حکم کریں گے، اسی بنا پر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ: ’’میں سب لوگوں سے عیسیٰ سے قریب تر ہوں‘‘ اس لئے وہ دُوسرے آسمان میں ہیں۔‘‘

429

’’حدیث سؤال القبر وفتنتہ‘‘ کے تحت دجال کی عدمِ اُلوہیت کے دلائل دیتے ہوئے لکھتے ہیں:

’’ثم بعد ذٰلک ینزل عیسٰی علیہ السلام فیقتلہ بحربتہ حتّٰی یری دمہ فی الحربۃ فلو کان إلٰـھًا لدفع النقص والھلاک عن نفسہ۔‘‘

(بھجۃ النفوس ج:۱ ص:۱۲۳)

ترجمہ: … ’’پھر اس کے بعد عیسیٰ علیہ السلام نازل ہوں گے، پس دجال کو اپنے نیزے سے قتل کریں گے، یہاں تک کہ دجال کا خون آپ کے نیزے کو لگا ہوا نظر آئے گا، پس اگر وہ معبود ہوتا تو نقص اور ہلاکت کو اپنی ذات سے دفع کرتا۔

’’حدیث النھی عن اتباع الفِرَق الضالَّۃ والمحافظۃ علی الدِّین‘‘ کے تحت لکھتے ہیں:

’’وقولہ علیہ السلام فی نزول عیسَی ابن مریم علیہ السلام: ’’وإمامکم منکم‘‘ أی أنہ یکون علٰی طریق ھدیی متبع للکتاب والسُّنّۃ۔‘‘

(بھجۃ النفوس ج:۴ ص:۲۶۵ مطبعۃ الصدیق الخیریۃ بجوار الأزھر بمصر ۱۳۵۳ھ)

ترجمہ: … ’’اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے نزول کے بارے میں ارشاد ہے کہ: ’’وہ تمہارے اِمام ہوں گے تم میں شامل ہوکر‘‘ یعنی وہ میرے طریقے پر ہوں گے اور کتاب وسنت کی پیروی کریں گے۔‘‘

اِمام ابن النجارؒ:

الامام الحافظ محب الدین ابوعبداللہ محمد بن محمود المعروف بابن النجار البغدادی الشافعی رحمہ اللہ (متوفیٰ ۶۴۳ھ) کے حوالے سے علامہ سمہودی ’’وفاء الوفاء‘‘ میں لکھتے ہیں:

430
’’وقال ابن النجار: قال أھل السیر: وفی البیت موضع قبر فی السّھوۃ الشرقیۃ، قال سعید المُسیّب: فیہ یدفن عیسَی ابن مریم۔‘‘

(ج:۱-۲ ص:۵۵۸)

ترجمہ: … ’’اِمام ابنِ نجار فرماتے ہیں کہ: اہلِ سیر نے کہا ہے کہ: روضۂ اقدس میں ایک قبر کی جگہ مشرقی حصے میں موجود ہے، حضرت سعید بن مسیبؒ فرماتے ہیں کہ: اس میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام دفن ہوں گے۔‘‘

اِمام اِبن الاثیر الجزریؒ:

علامہ عزّالدین علی بن محمد بن محمد بن عبدالکریم المعروف بابن الاثیر الجزری رحمہ اللہ (۵۵۵-۶۳۰ھ) ’’تاریخ الکامل‘‘ میں ’’ذکر رفع المسیح إلی السماء‘‘ کے عنوان کے تحت حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے آسمان پر اُٹھائے جانے کا واقعہ نقل کرکے لکھتے ہیں:

’’واخلتف العلماء فی موتہ قبل رفعہ إلی السماء، فقیل: رفع ولم یمت، وقیل: توفاہ اللہ ثلاث ساعات، ثم أحیاہ ورفعہ۔‘‘

(ج:۱ ص:۱۱۰، ۱۱۱)

ترجمہ: … ’’اور آسمان پر اُٹھائے جانے سے پہلے ان کی موت میں اِختلاف ہے، پس ایک قول یہ ہے کہ بغیر موت کے اُٹھائے گئے، اور ایک قول یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے تین گھڑی ان کو وفات دی پھر زندہ کرکے اُٹھالیا۔‘‘

اِمام تورپشتی:ؒ

الامام الحافظ العارف الزاہد المحدث الفقیہ شہاب الدین ابوعبداللہ فضل اللہ ابن الامام تاج الدین ابی سعید الحسن بن حسین بن یوسف التورپشتی الحنفی رحمہ اللہ (متوفیٰ۶۳۰ھ) نے اپنے رسالے’’المعتمد فی المعتقد‘‘ کے دُوسرے باب کی

431

دسویں فصل میں علاماتِ قیامت کا ذِکر فرمایا ہے، جس میں ظہورِ مہدی، خروجِ دجال، نزولِ عیسیٰ بن مریم اور خروجِ یأجوج ومأجوج وغیرہ قیامت کی علاماتِ کبریٰ پر مفصل بحث فرمائی ہے، اس ضمن میں تحریر فرماتے ہیں:

’’وازیں آیات بعضے آنست کہ بنص قرآن ثابت شدہ است، وبعضے دیگر باحادیثے کہ بحد تواتر رسید، ازاں وجہ کہ تواتر درجنس آںثابت است۔‘‘

(ص:۱۵۴)

ترجمہ: … ’’ان علاماتِ قیامت میں سے بعض نصِ قرآن سے ثابت ہیں، اور بعض ایسی احادیث سے، جو تواتر کی حد کو پہنچی ہوئی ہیں، بایں طور کہ تواتر کی جنس میں ثابت ہے۔‘‘

اور خروجِ دجال کے بعد عیسیٰ علیہ السلام کے نزول کا تذکرہ کرتے ہوئے لکھتے ہیں:

’’وبعد از ظہورِ دَجال واِفساد وے در زمین نزولِ عیسیٰ بن مریم علیہ السلام از آسمان۔ وباحادیث درست از رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ثابت شدہ است کہ عیسیٰ علیہ السلام در وقت اِقترابِ ساعت از آسمان فرود آید زندہ، ودَجال رابکشد وزمین از خبث وفساد واتباع وے از اہل شرک، خاصہ جہوداں کہ دعویٰ کردہ اند کہ ماعیسیٰ را علیہ السلام بکشتیم وصلب کردیم، پاک کند۔‘‘

(ص:۱۶۱)

ترجمہ: … ’’اور دَجال کے ظاہر ہونے اور زمین میں اس کے فساد مچانے کے بعد آسمان سے عیسیٰ بن مریم علیہ السلام نازل ہوں گے، اور صحیح احادیث میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ثابت ہے کہ عیسیٰ علیہ السلام قربِ قیامت میں آسمان سے زندہ نازل ہوں گے، اور دَجال کو قتل کریں گے اور زمین کو اس کے خبث وفساد سے اور اس کے متبعین اہلِ شرک خصوصاً یہودیوں کے وجود سے، جو یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ انہوں نے عیسیٰ علیہ السلام کو قتل کردیا اور سولی پر

432

چڑھادیا ہے، پاک کریں گے۔‘‘

اس کے بعد نزولِ عیسیٰ علیہ السلام کی حکمتیں ذِکر کرنے کے بعد لکھتے ہیں:

’’وحال وصف وے ہم براں نمط کہ رسول علیہ السلام خبرداد عیاناً بااہل قرن نماید۔ وتاکید حجت براہلِ شرک وطغیان، وزیادہ کردن یقین در دِلہائے اہلِ ایمان۔

وباید اِعتقاد دارند کہ عیسیٰ علیہ السلام چوں بمیاں ایں امت آید سبیل وے در اَحکام شرع سبیل اتباع پیغمبر ما باشد علیہ السلام۔ زیرا کہ چوں حق تعالیٰ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم را بخلف فرستادہ برہمہ خلائق واجب شد کہ شریعت عیسیٰ علیہ السلام بگذارند۔ وبشریعت حضرت محمد علیہ الصلوٰۃ والسلام انتقال کنند۔ وہر آنچہ پیش ازاں بود از شرائع فروگذارند، پس معلوم شد کہ رِسالت عیسیٰ علیہ السلام بآمدن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بحد منتہی رسید۔ وبعد از وے پیغمبر دیگر نتواند بود، زیرا کہ حق تعالیٰ وے را خاتم انبیا گفت، وباحادیث درست کہ بحدِ تواتر رسیدہ از رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم درست شد کہ بعد از من ہیچ پیغمبر دیگر نباشد۔‘‘

(ص:۱۶۲، ۱۶۳)

ترجمہ: … ’’اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے جو حالات بیان فرمائے ہیں وہ اس دور کے لوگوں کو ان کا کھلی آنکھوں مشاہدہ کرائیں گے، جس سے اہلِ شرک وطغیان پر حجت قائم ہوگی اور اہلِ ایمان کے اِیمان ویقین میں اِضافہ ہوگا، اور مسلمانوں کو یہ عقیدہ رکھنا چاہئے کہ جب عیسیٰ علیہ السلام اس اُمت میں تشریف لائیں گے تو ہمارے پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم کے پیروکاروں کی طرح اَحکامِ شرعیہ کی پیروی کریں گے، کیونکہ جب اللہ تعالیٰ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو مخلوق کی

433

طرف رسول بناکر بھیج دیا تو تمام مخلوق پر واجب ہوگیا کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی شریعت کو چھوڑ کر حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی شریعت کی طرف منتقل ہوجائیں اور گزشتہ شریعتوں کو ترک کردیں۔ پس معلوم ہوا کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا دورِ رِسالت آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی تشریف آوری سے اپنی آخری حد کو پہنچ گیا، اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد کوئی دُوسرا نبی نہیں ہوسکتا، کیونکہ حق تعالیٰ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو خاتم الانبیاء فرمایا ہے، اور متواتر اَحادیث میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا اِرشاد ہے کہ: ’’میرے بعد کوئی نبی نہیں ہوگا۔‘‘

حضرت خواجہ معین الدین چشتیؒ اور ان کے شیخ:ؒ

حضرت خواجہ معین الدین چشتی اجمیری رحمہ اللہ (متوفیٰ۶۳۳ھ) نے اپنے شیخ خواجہ عثمان ہارونی قدس سرہٗ (متوفیٰ۶۱۷ھ) کے ملفوظات کا مجموعہ ’’انیس الارواح‘‘ کے نام سے مرتب فرمایا تھا، اس کی مجلس سوم میں شیخ کا اِرشاد نقل کیا ہے:

’’بعد ازاں فرمودہ کہ چوں شر باہمہ ازیں سراسر خراب شود محمد بن عبداللہ بیرون آید، از شرق تا غرب عدلِ وے بگیرد، وعیسیٰ علیہ السلام اَز آسمان فرود آید۔‘‘

(انیس الارواح ص:۸، مطبوعہ مجتبائی دہلی ۱۳۱۲ھ)

ترجمہ: … ’’اس کے بعد فرمایا کہ: جب سارے شہر اس (فتنہ وفساد اور کثرتِ معاصی) سے یکسر ویران ہوجائیں گے تو حضرت اِمام مہدی محمد بن عبداللہ رضی اللہ عنہ کا ظہور ہوگا اور ان کا عدل مشرق سے مغرب تک پھیل جائے گا اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام آسمان سے نازل ہوں گے۔‘‘

434

زین ابنِ منیرؒ:

زین الدین علی بن محمد بن منصور الاسکندری رحمہ اللہ (متوفیٰ۶۹۵ھ) شارح البخاری، حدیثِ معراج پر گفتگو کرتے ہوئے حضرت عیسیٰ اور حضرت یحییٰ علیہما السلام کے دُوسرے آسمان پر ہونے کی وجہ بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں (جیسا کہ شرح مواہب میں ان سے نقل کیا ہے):

’’وأدقّ من ھٰذا قول ابن المنیر: السر فی ذٰلک أن عیسٰی لم یلقہ بعد موتہ لرفعہ حیًّا صیانۃ لہ وذخیرۃ إلٰی وقت عودہ إلی الأرض قائمًا بشرع المصطفی، غیر مجدد شرعًا، فھو فی حکم الأحیاء، ومقامہ فی السماء لیس علٰی معنی السکنی الدائمۃ، بخلاف غیرہ من الأنبیاء، ویحیٰی ھو مقیم فی السماء أسوۃ غیرہ من الأنبیاء، واختص مقامہ عند عیسٰی لأنھما ابنا الخالۃ، وکانا لدتین، وکانت أمّ یحیٰی تقول لأمّ عیسٰی وھما حاملتان: إنّی أجد ما فی بطنی یسجد لما فی بطنک أی سجود تحیۃ، فکان بینھما اتحاد منذ کانا، فلما عرض لعیسَی الصعود إلی السماء جعل عند یحیٰی۔‘‘

(زرقانی: شرح المواہب ج:۶ ص:۷۱)

ترجمہ: … ’’اس سے زیادہ دقیق قول ابن المنیرؒ کا ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے حضرت یحییٰ علیہ السلام کے پاس دُوسرے آسمان میں رہنے کی حکمت یہ ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی ملاقات ان کی موت کے بعد نہیں ہوئی، کیونکہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو آسمان پر زِندہ اُٹھالیا گیا، جس سے مقصود ایک تو ان کو دُشمنوں کے شر سے بچانا تھا، دُوسرے زمین پر

435

ان کی دوبارہ واپسی تک ان کو بچاکر رکھنا تھا، جب وہ دوبارہ زمین پر نازل ہوں گے تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی شریعت کو قائم کریں گے، کوئی نئی شریعت نہیں لائیں گے، لہٰذا وہ زندوں کے حکم میں ہیں، اور آسمان پر اُن کا ٹھہرنا دیگر انبیائے کرام علیہم السلام کی طرح بطور دائمی رہائش کے نہیں۔ دُوسرے آسمان پر دیگر انبیائے کرام علیہم السلام کی طرح دراصل حضرت یحییٰ علیہ السلام کی رہائش ہے اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے پاس ان کا ٹھہرنا اس واسطے تجویز کیا گیا کہ یہ دونوں خالہ زاد ہیں، اور دونوں ہم عمر ہیں، ان دونوں کی مائیں جب ان کے ساتھ حاملہ تھیں تو حضرت یحییٰ علیہ السلام کی والدہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی والدۂ مطہرہ سے کہا کرتی تھیں کہ میرے پیٹ کا بچہ آپ کے پیٹ کے بچے کو بطورِ سلام سجدہ کرتا ہے، پس ان دنوں نبیوں کے درمیان جبھی سے اتحاد چلا آتا ہے، پس جب حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے آسمان پر تشریف لے جانے کا واقعہ پیش آیا تو ان کو حضرت یحییٰ علیہ السلام کے پاس ٹھہرایا گیا۔‘‘

آٹھویں صدی

اِمام ابوالبرکات نسفیؒ:

اِمام حافظ الدین ابوالبرکات عبداللہ بن احمد بن محمود نسفی حنفی رحمہ اللہ (متوفیٰ۷۰۱ھ) نے تفسیر ’’مدارک التنزیل‘‘ میں متعدّد جگہ اس عقیدے کی صراحت فرمائی ہے، آیتِ کریمہ: ’’وَمَکَرُوْا وَمَکَرَ اللہُ‘‘ کے ذیل میں لکھتے ہیں:

’’{وَمَکَرَ اللہُ} أی جازاھم علٰی مکرھم، بأن رفع عیسٰی إلی السماء وألقی شبہہ علٰی من أراد اغتیالہ۔‘‘
436

ترجمہ: … ’’حق تعالیٰ نے تدبیر کی، یعنی ان کی تدبیر کا توڑ کیا، بایں طور کہ عیسیٰ علیہ السلام کو آسمان پر اُٹھالیا اور ان کی شباہت اس شخص پر ڈال دی جو آپ کو اچانک قتل کرنا چاہتا تھا۔‘‘

اور آیتِ کریمہ: ’’وَمَا قَتَلُوْہُ وَمَا صَلَبُوْہُ وَلٰـکِنْ شُبِّہَ لَھُمْ‘‘ کے تحت لکھتے ہیں:

’’فاجتمعت الیھود علٰی قتلہ، فأخبرہ اللہ بأنّہ یرفعہ إلی السماء ویطھرّہ من صحبۃ الیھود۔‘‘

ترجمہ: … ’’پس یہودی آپ کے قتل پر متفق ہوئے، پس اللہ تعالیٰ نے عیسیٰ علیہ السلام کو اِطلاع دی کہ اللہ تعالیٰ آپ کو آسمان کی طرف اُٹھاکر یہود کی صحبت سے پاک کردیں گے۔‘‘

اور آیتِ کریمہ: ’’وَاِنْ مِّنْ اَھْلِ الْکِتٰبِ اِلّا لَیُؤْمِنَنَّ بِہٖ قَبْلَ مَوْتِہٖ‘‘ کے تحت لکھتے ہیں:

’’أو الضمیران لعیسٰی یعنی وإن منھم أحد إلّا لیؤمننّ بعیسٰی قبل موت عیسٰی، وھم أھل الکتاب یکونون فی زمان نزولہ، روی: أنّہ ینزل من السماء فی آخر الزمان، فلا یبقی أحدٌ من أھل الکتاب إلّا یؤمن بہ حتّٰی تکون الملّۃ واحدۃ وھی ملّۃ الْإسلام۔‘‘

ترجمہ: … ’’یا ’’بِہٖ‘‘ اور ’’مَوْتِہٖ‘‘ کی دونوں ضمیریں عیسیٰ علیہ السلام کی طرف لوٹتی ہیں، یعنی اہلِ کتاب میں سے ایک شخص بھی ایسا نہیں رہے گا جو عیسیٰ علیہ السلام کی موت سے پہلے ان پر اِیمان نہ لے آئے، اور یہ وہ اہلِ کتاب ہیں جو آپ کے نزول کے وقت موجود ہوں گے۔ مروی ہے کہ آپ علیہ السلام آخری زمانے میں نازل ہوں گے، پس اہلِ کتاب میں ایک شخص بھی نہیں رہے گا جو آپ پر اِیمان نہ لے آئے، یہاں تک کہ بس ایک ہی دِین رہ جائے

437

گا اور وہ ہے دِینِ اسلام۔‘‘

اور آیتِ کریمہ: ’’وَلٰـکِنْ رَّسُوْلَ اللہِ وَخَاتَمَ النَّبِیّٖنَ‘‘ کے تحت لکھتے ہیں:

’’أی آخرھم یعنی لَا ینبأ أحدٌ بعدہ، وعیسٰی علیہ السلام ممن نبیٔ قبلہ، وحین ینزل ینزل عاملًا علٰی شریعۃ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کأنّہ بعض أُمّتہ۔‘‘

ترجمہ: … ’’خاتم النبیین سے مراد ہے آخری نبی، یعنی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد کسی کو نبوّت نہیں ملے گی، اور عیسیٰ علیہ السلام کو نبوّت آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے پہلے مل چکی ہے، اور جب وہ نازل ہوں گے تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی شریعت پر عمل پیرا ہوں گے، گویا وہ آپ کی اُمت کے ایک فرد ہوتے ہیں۔‘‘

اور آیتِ کریمہ: ’’وَاِنَّہٗ لَعِلْمٌ لِّلسَّاعَۃِ‘‘ کے تحت لکھتے ہیں:

وإن عیسٰی یعلم بہ مجیء الساعۃ، وقرأ ابن عباس {لَعَلَمٌ لِّلسَّاعَۃِ} وھو العلامۃ أی وإن نزولہ لعَلَم للساعۃ۔‘‘

ترجمہ: … ’’(آیت کا مطلب یہ ہے کہ) عیسیٰ علیہ السلام (کی تشریف آوری) سے قیامت کے آنے کا علم ہوگا، اور اِبنِ عباس رضی اللہ عنہما کی قراء ت میں علَم (بفتح لام) ہے اور علَم علامت کو کہتے ہیں یعنی بلاشبہ آپ کا نزول قیامت کی نشانی ہے۔‘‘

اور ’’کشف الاسرار شرح المنار‘‘ میں تواتر کی بحث میں لکھتے ہیں:

’’فعلم أنّہ کما لَا یتحقق النقل المتواتر فی قتلہ لَا یتحقق فی صلبہ، ولأن النقل المتواتر بینھم فی قتل رجل علموہ عیسٰی وصلبہ، وھٰذا النقل یوجب علم الیقین فیما نقلوہ، ولٰـکن لم یکن ذٰلک الرجل عیسٰی وإنّما کان
438

مشتبھًا بہ کما قال اللہ تعالٰی: {وَلٰـکِنْ شُبَّہَ لَھُمْ}۔

وروی أن الیھود لما دخلوا علیہ قال عیسٰی علیہ السلام لأصحابہ: من یرید أن یلقی اللہ علیہ شبھی فیقتل ولہ الجنّۃ، فألقی اللہ تعالٰی شبہ عیسٰی علیہ السلام علیہ فقتل، ورفع عیسٰی علیہ السلام إلی السماء ولم یُرَ۔‘‘

(کشف الاسرار ج:۲ ص:۶)

ترجمہ: … ’’پس معلوم ہوا کہ نقلِ متواتر جس طرح حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے قتل میں متحقق نہیں، اسی طرح آپ کے سولی دئیے جانے کے بارے میں بھی متحقق نہیں۔ نیز یہ کہ ان کے درمیان جو نقل متواتر تھی، وہ یہ تھی کہ ایک شخص جس کو وہ عیسیٰ سمجھتے تھے قتل ہوا اور سولی دیا گیا، یہ نقلِ متواتر اتنی بات کا یقینی فائدہ دیتی ہے، لیکن واقع میں یہ شخص عیسیٰ نہیں تھا، بلکہ ان کے مشابہ تھا، جیسا کہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں: ’’لیکن وہی شکل بن گئی ان کے سامنے۔‘‘

مروی ہے کہ جب یہود نے ہجوم کیا تو حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے اپنے رُفقاء سے فرمایا کہ تم میں سے کون اس کے لئے تیار ہے کہ اللہ تعالیٰ اس پر میری شباہت ڈال دیں، پس وہ میری جگہ قتل ہوجائے اور اس کے لئے جنت ہو۔ ایک شخص اس پر راضی ہوگیا، اللہ تعالیٰ نے آپ کی شباہت اس پر ڈال دی، وہ قتل کیا گیا اور عیسیٰ علیہ السلام کو اللہ تعالیٰ نے آسمان کی طرف اُٹھالیا اور وہ نظر نہیں آئے۔‘‘

اِمام ابنِ قدامہ المقدسیؒ:

الامام العلامہ شرف الدین ابوالعباس احمد بن الحسن بن عبداللہ بن محمد قدامہ

439

المقدسی الحنبلی رحمہ اللہ (۶۹۳ھ-۷۷۱ھ) اپنی کتاب ’’تحقیق البرہان فی رسالۃ محمد صلی اللہ علیہ وسلم الی الجانّ‘‘ میں لکھتے ہیں:

’’ھٰذا مع إخبار النبی صلی اللہ علیہ وسلم بنزول عیسٰی علی المنارۃ البیضاء شرقی دمشق، وإنہ یکسر الصلیب ویقتل الخنزیر ویقتل الدّجّال بباب لُدّ، فشرع محمد صلی اللہ علیہ وسلم لَا ینسخ بل ھو باقٍ ومستمر، وعیسٰی علیہ السلام یکون حاکمًا بالشریعۃ المحمدیۃ عند نزولہ۔‘‘

(بحوالہ جواہر البحار للنبہانی ج:۳ ص:۸۶)

ترجمہ: … ’’اور یہ اس کے باوجود ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے خبر دی ہے کہ عیسیٰ علیہ السلام دمشق کے سفید شرقی منارہ پر اُتریں گے، صلیب کو توڑ دیں گے، خنزیر کو قتل کریں گے، پس محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی شریعت منسوخ نہیں ہوگی، بلکہ قیامت تک باقی رہے گی، اور عیسیٰ علیہ السلام بوقتِ نزول شریعتِ محمدیہ ۔۔۔علیٰ صاحبہا الصلوٰۃ والسلام۔۔۔ کے ساتھ حکم کریں گے۔‘‘

شیخ عبدالعزیز بخاریؒ:

شیخ علاء الدین عبدالعزیز بن احمد بن محمد البخاری الحنفی رحمہ اللہ (متوفیٰ۷۳۰ھ) ’’کشف الاسرار شرح اصول بزدوی‘‘ میں لکھتے ہیں:

’’إن التواتر فی قتل رجل ظنوہ عیسٰی وصلبہ قد وجد ولٰـکن ذٰلک الرجل لم یکن عیسٰی، وإنّما کان مشبّھًا بہ کما بیّن اللہ تعالٰی بقولہ: {وَلٰـکِنْ شُبِّہَ لَھُمْ}، وقد جاء فی الخبر أن عیسٰی علیہ السلام قال لمن کان معہ: من یرید منکم أن یلقی اللہ شبھی علیہ فیقتل ولہ الجنّۃ، فقال رجل: أنا! فألقی اللہ تعالٰی شبہ
440

عیسٰی علیہ السلام، فقتل الرجل ورفع عیسٰی علیہ السلام إلی السماء۔‘‘

(کشف الاسرار علی البزدوی ج:۲ ص:۳۶۶)

ترجمہ: … ’’یہود کا تواتر اس شخص کے قتل و صلب میں، جس کو انہوں نے عیسیٰ سمجھا، بلاشبہ موجود ہے، لیکن یہ شخص عیسیٰ نہیں تھا، بلکہ آپ کا ہم شکل بنادیا گیا تھا، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے ارشاد میں فرمایا ہے: ’’ولیکن وہی شکل بن گئی ان کے سامنے‘‘ روایت میں آتا ہے کہ عیسیٰ علیہ السلام نے اپنے رُفقاء سے فرمایا کہ: تم میں سے کون اس بات کے لئے تیار ہے کہ اس پر میری شباہت ڈال دی جائے اور وہ میری جگہ قتل ہوجائے اور اس کے لئے جنت ہو؟ ایک شخص نے کہا: میں حاضر ہوں! پس اللہ تعالیٰ نے عیسیٰ علیہ السلام کی شباہت اس پر ڈال دی، وہ شخص قتل ہوا، اور عیسیٰ علیہ السلام آسمان پر اُٹھالئے گئے۔‘‘

علامہ خازنؒ:

شیخ علاء الدین علی بن محمد بن ابراہیم البغدادی الصوفی الشافعی رحمہ اللہ معروف بہ ’’خازن‘‘ (متوفیٰ۷۲۵ھ) اپنی تفسیر ’’لباب معانی التنزیل‘‘ میں ۔۔۔جو تفسیر خازن کے نام سے مشہور ہے۔۔۔ آیتِ کریمہ: ’’اِنِّیْ مُتَوَفِّیْکَ ۔۔۔إلخ‘‘ کے ذیل میں لکھتے ہیں:

’’وقد ثبت فی الحدیث أنّ عیسیٰ سینزل ویقتل الدّجّال۔‘‘

(ج:۱ ص:۵۰۶)

ترجمہ: … ’’اور حدیث سے ثابت ہے کہ عیسیٰ علیہ السلام آخری زمانے میں نازل ہوں گے اور دَجال کو قتل کریں گے۔‘‘

اور سورۂ نساء کی آیت: ’’وَمَا قَتَلُوْہُ وَمَا صَلَبُوْہُ وَلٰـکِنْ شُبِّہَ لَھُمْ‘‘ کے ذیل میں لکھتے ہیں:

441
’’فأخذ ذٰلک الرجل وقتل وصلب، ورفع اللہ عزّ وجلّ إلی السماء۔‘‘

(ج:۲ ص:۲۰۱)

ترجمہ: … ’’وہ شخص جس پر عیسیٰ علیہ السلام کی شباہت ڈال دی گئی تھی پکڑا گیا اور قتل کیا گیا اور سولی دیا گیا، اور عیسیٰ علیہ السلام کو اللہ تعالیٰ نے آسمان پر اُٹھالیا۔‘‘

اور آیتِ کریمہ:’’وَاِنْ مِّنْ اَھْلِ الْکِتٰبِ اِلّا لَیُؤْمِنَنَّ بِہٖ قَبْلَ مَوْتِہٖ‘‘ کی تفسیر میں فرماتے ہیں:

’’وذھب جماعۃ من أھل التفسیر إلیٰ أن الضمیر یرجع إلیٰ عیسٰی علیہ السلام وھو روایۃ عن ابن عباس رضی اللہ عنہما أیضًا، والمعنی وما من أحد من أھل الکتاب إلّا لیؤمننّ بعیسٰی قبل موت عیسٰی وذٰلک عند نزولہ من السماء فی آخر الزمان، فلا یبقی أحد من أھل الکتابین إلّا آمن بعیسٰی حتّٰی تکون الملّۃ واحدۃ، وھی ملّۃ الْإسلام۔
قال عطاء: إذ نزل عیسٰی إلی الأرض لَا یبقی یھودی ولَا نصرانی ولَا أحد یعبد غیر اللہ إلّا آمن بعیسٰی، وإنہ عبداللہ وکلمتہ، ویدل علٰی صحۃ القول ما روی عن أبی ھریرۃ رضی اللہ عنہ قال: قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ۔۔۔۔۔‘‘

ترجمہ: … ’’اور اہلِ تفسیر کی ایک جماعت اس طرف گئی ہے کہ ’’قَبْلَ مَوْتِہٖ‘‘ ’’قَبْلَ مَوْتِہٖ‘‘ کی ضمیر عیسیٰ علیہ السلام کی طرف لوٹتی ہے اور یہ حضرت ابنِ عباس رضی اللہ عنہما سے بھی مروی ہے۔ آیت کا مطلب یہ ہے کہ اہلِ کتاب میں سے ایک فرد بھی ایسا نہ ہوگا جو عیسیٰ علیہ السلام کی موت سے پہلے ان پر اِیمان نہ لائے، اور یہ واقعہ آخری زمانے

442

میں عیسیٰ علیہ السلام کے آسمان سے نازل ہونے کے وقت ہوگا۔ اس وقت جس قدر اہلِ کتاب ہوں گے وہ سب عیسیٰ علیہ السلام پر اِیمان لے آئیں گے۔ یہاں تک کہ ایک ہی ملت رہ جائے گی اور وہ ملتِ اسلام ہوگی۔ اِمام عطاء فرماتے ہیں کہ: جب عیسیٰ علیہ السلام زمین پر نازل ہوں گے، تب کوئی یہودی، کوئی نصرانی اور کوئی غیراللہ کا پجاری ایسا نہیں رہے گا جو عیسیٰ علیہ السلام پر اِیمان نہ لے آئے، اور یہ کہ وہ اللہ کے بندے اور اس کے کلمۂ کُن سے پیدا ہوئے ہیں۔ اور اس قول کے صحیح ہونے کی دلیل وہ حدیث ہے جو حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔۔۔۔۔‘‘

یہاں صحیحین کی دو حدیثیں نقل کرنے کے بعد لکھتے ہیں:

’’ففی ھٰذا الحدیث دلیل علٰی أن عیسٰی ینزل فی آخر الزمان فی ھٰذہ الاُمّۃ یحکم بشریعۃ محمد صلی اللہ علیہ وسلم۔‘‘

(ج:۲ ص:۲۰۳، ۲۰۴)

ترجمہ: … ’’پس اس حدیث میں اس بات کی دلیل ہے کہ عیسیٰ علیہ السلام آخری زمانے میں اس اُمت میں نازل ہوں گے اور شریعتِ محمدیہ ۔۔۔علیٰ صاحبہا الصلوٰۃ والسلام۔۔۔ کے مطابق حکومت کریں گے۔‘‘

اور سورۂ مائدہ کی آیت: ’’فَلَمَّا تَوَفَّیْتَنِیْ ۔۔۔إلخ‘‘ کی تفسیر میں فرماتے ہیں:

’’یعنی فَلَمَّا رفعتنی إلی السماء، فالمراد بہ وفاۃ الرفع لَا الموت۔‘‘

(ج:۲ ص:۳۷۷)

ترجمہ: … ’’یعنی جب آپ نے مجھے آسمان کی طرف اُٹھالیا، پس ’’توفی‘‘ سے مراد آسمان پر اُٹھاکر پورا پورا وصول کرنا ہے، موت مراد نہیں۔‘‘

443

اور سورۂ اَحزاب کی آیت:’’وَخَاتَمَ النَّبِیّٖن‘‘ کے تحت لکھتے ہیں:

’’فإن قلت: قد صح أن عیسٰی علیہ السلام ینزل فی آخر الزمان بعدہ، وھو نبی، قلت: إن عیسٰی ممن نبیٔ قبلہ وحین ینزل فی آخر الزمان ینزل عاملًا بشریعۃ محمد صلی اللہ علیہ وسلم ومصلّیًا إلٰی قبلتہ کأنہ بعض اُمّتہ۔‘‘

(ج:۵ ص:۱۲۳)

ترجمہ: … ’’اگر کہو کہ عیسیٰ علیہ السلام آخری زمانے میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد نازل ہوں گے اور وہ نبی ہیں۔ جواب یہ ہے کہ عیسیٰ علیہ السلام کو نبوّت آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے پہلے مل چکی ہے (اس لئے حصولِ نبوّت میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہی آخری نبی ہوئے) اور جب وہ آخری زمانے میں نازل ہوں گے تو محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی شریعت پر عمل کریں گے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے قبلے کی طرف منہ کریں گے، گویا آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہی کی اُمت کے ایک فرد ہوں گے۔‘‘

اور سورۂ زُخرف کی آیتِ کریمہ: ’’وَاِنَّہٗ لَعِلْمٌ لِّلسَّاعَۃِ‘‘ کے تحت لکھتے ہیں:

’’یعنی نزولہ من أشراط الساعۃ یعلم بہ قربھا۔‘‘

(ج:۵ ص:۴۳۹)

ترجمہ: … ’’یعنی عیسیٰ علیہ السلام کا آخری زمانے میں نازل ہونا قیامت کی علامات میں سے ہے، جس سے قیامت کا قریب ہونا معلوم ہوگا۔‘‘

حافظ ابنِ تیمیہؒ:

عیسائیت کے رَدّ میں’’الجواب الصحیح لمن بدّل دین المسیح‘‘ شیخ الاسلام حافظ ابنِ تیمیہ رحمہ اللہ کی مشہور کتاب ہے، جس میں انہوں نے حضرت عیسیٰ علیہ

444

السلام کے نزول کا عقیدہ بڑی صراحت و وضاحت کے ساتھ ذِکر فرمایا ہے، یہاں اس کی چند عبارتیں نقل کی جاتی ہیں:

’’والمسلمون وأھل الکتاب متفقون علٰی إثبات مسیحَین، مسیح ھدی من ولد داوٗد، ومسیح ضلال، یقول أھل الکتاب: انہ من ولد یوسف، ومتفقون علٰی أن مسیح الھدی سوف یأتی کما یأتی مسیح الضلالۃ، لٰـکن المسلمون والنصاریٰ یقولون: انہ ینزل قبل یوم القیامۃ فیقتل مسیح الضلالۃ، ویکسر الصلیب ویقتل الخنزیر، ولَا یبقی دینًا إلّا دین الْإسلام، ویؤمن بہ أھل الکتاب، الیھود، والنصاریٰ، کما قال تعالٰی: ’’وَاِنْ مِّنْ اَھْلِ الْکِتٰبِ اِلّا لَیُؤْمِنَنَّ بِہٖ قَبْلَ مَوْتِہٖ۔‘‘

(النساء:۱۵۱)

والقول الصحیح الذی علیہ الجمھور قبل موت المسیح وقال تعالٰی:’’وَاِنَّہٗ لَعِلْمٌ لِّلسَّاعَۃِ فَلَا تَمْتَرُنَّ بِھَا۔‘‘

(الزخرف:۶۱)

(الجواب الصحیح ج:۱ ص:۳۲۹)

ترجمہ: … ’’مسلمان اور اہلِ کتاب دو مسیحوں کے ماننے پر متفق ہیں، ایک ’’مسیحِ ہدایت‘‘ جو نسلِ داؤد سے ہوں گے، اور دُوسرا ’’مسیحِ ضلالت‘‘ جس کے بارے میں اہلِ کتاب کا قول ہے کہ وہ یوسف کی اولاد سے ہوگا۔

مسلمان اور اہلِ کتاب اس پر بھی متفق ہیں کہ مسیحِ ہدایت آئندہ آئے گا، جیسا کہ مسیحِ ضلالت بھی آنے والا ہے، لیکن مسلمان اور نصاریٰ اس کے قائل ہیں کہ مسیحِ ہدایت حضرت عیسیٰ بن مریم علیہ السلام ہیں، اور یہ کہ اللہ تعالیٰ نے ان کو رسول بناکر بھیجا، پھر وہ

445

دوبارہ آئیں گے، لیکن مسلمانوں کا قول یہ ہے کہ وہ قیامت سے پہلے نازل ہوں گے، نازل ہوکر مسیحِ ضلالت کو قتل کریں گے، صلیب کو توڑ ڈالیں گے، خنزیر کو قتل کریں گے، دِینِ اسلام کے سوا کسی مذہب کو باقی نہیں چھوڑیں گے، اور اہلِ کتاب یہود ونصاریٰ ان پر اِیمان لائیں گے، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ’’اور نہیں کوئی اہلِ کتاب میں مگر اِیمان لائے گا ان پر ان کی موت سے پہلے۔‘‘

اور حق تعالیٰ کا اِرشاد ہے: ’’اور وہ (یعنی حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا نازل ہونا) البتہ نشانی ہے قیامت کی، پس تم لوگ اس میں شک نہ کرو۔‘‘

نصاریٰ کہتے ہیں کہ حضرت مسیح علیہ السلام ظاہری شکل میں بشر تھے، مگر باطن میں ۔۔۔معاذاللہ۔۔۔ خدا تھے، ان کے ناسوت میں لاہوت جلوہ آرا تھا، اور ان کے جسمانی وجود میں خدا حلول کئے ہوئے تھا۔ حافظ ابنِ تیمیہؒ ان کے اس عقیدۂ حلول پر رَدّ کرتے ہوئے لکھتے ہیں:

’’والوجہ الثامن: ان ھٰذا أمر لم یدل علیہ عقل ولَا نقل، ولَا نطق نبی من الأنبیاء بأن اللہ یحل فی بشر، ولَا ادعی صادق قط حلول الربّ فیہ، وإنما یدعی الکذّابون کالمسیح الدَّجَّال الذی یظھر فی آخر الزمان، ویدعی الْإلٰھیۃ فینزل اللہ تبارک وتعالٰی عیسَی ابن مریم مسیح الھدیٰ فیقتل مسیح الھدی، الذی ادعیت فیہ الْإلٰھیۃ بالباطل، المسیح الدَّجَّال الذی ادعی الْإلٰھیۃ بالباطل، ویبین ان البشر لَا یحل فیہ رَبّ العالمین۔‘‘

(الجواب الصحیح ج:۲ ص:۱۶۹)

ترجمہ: … ’’آٹھویں وجہ یہ کہ (ناسوت میں لاہوت کا

446

حلول کرنا) یہ ایک ایسا امر ہے جس پر نہ عقل دلالت کرتی ہے اور نہ نقل، اور انبیائے کرام علیہم السلام میں سے کسی نبی نے یہ بات نہیں کہی کہ اللہ تعالیٰ کسی بشر میں حلول کرتا ہے، اور نہ کبھی کسی راست باز آدمی نے اپنے اندر رَبّ کے حلول کا دعویٰ کیا، حلول کا دعویٰ صرف جھوٹے کذّاب کرتے ہیں، جیسا کہ مسیحِ دجال جو آخری زمانے میں ظاہر ہوگا، اور خدائی کا دعویٰ کرے گا، پس اللہ تبارک وتعالیٰ مسیحِ ہدایت حضرت عیسیٰ بن مریم علیہ السلام کو نازل فرمائیں گے، پس مسیحِ ہدایت ۔۔۔جن پر اُلوہیت کی جھوٹی تہمت دھری گئی۔۔۔ مسیحِ دجال کو قتل کریں گے ۔۔۔جس نے جھوٹ موٹ خدائی کا دعویٰ کیا ہوگا۔۔۔ اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام بیان فرمائیں گے کہ کسی بشر میں رَبّ العالمین کا حلول نہیں ہوسکتا۔‘‘

’’قالوا: وقد جاء فی ھٰذا الکتاب الذی جاء بہ ھٰذا الْإنسان یقول: ’’إنما المسیح عیسَی ابن مریم رسول اللہ وکلمتہ ألقاھا إلٰی مریم وروح منہ۔‘‘
وھٰذا یوافق قولنا: إذ قد شھد انہ إنسان مثلنا بالناسوت الذی أخذ من مریم وکلمۃ اللہ وروحہ المتحدۃ فیہ، وحاشا أن تکون کلمۃ اللہ وروحہ الخالقۃ مثلنا نحن المخلوقین، وأیضًا قال فی سورۃ النساء: ’’وما قتلوہ وما صلبوہ ولٰـکن شبّہ لھم۔‘‘
فأشار بھٰذا القول إلی اللاھوت الذی ھو کلمۃ اللہ التی لم یدخل علیھا ألم ولَا عرض۔ وقال أیضًا: ’’یٰعیسٰی إنّی متوفیک ورافعک إلیّ ومطھّرک من الذین کفروا إلیٰ یوم القیٰمۃ۔‘‘ وقال فی سورۃ المائدۃ
447

عن عیسٰی أنہ قال: ’’وکنت علیھم شھیدًا ما دمت فیھم فلما توفیتنی کنت أنت الرقیب علیھم وأنت علٰی کل شیء شھید‘‘ فعنیٰ موتہ عن موت الناسوت الذی أخذ من مریم العذراء۔

قال أیضًا فی سورۃ النساء: ’’وما قتلوہ یقینًا بل رفعہ اللہ إلیہ‘‘۔

(النساء:۱۵۷، ۱۵۸)

فأشار بھٰذا إلی اللاھوت الذی ھو کلمۃ اللہ الخالقۃ، وعلٰی ھٰذا القیاس نقول: ان المسیح صلب وتالم بناسوتہ، ولم یصلب ولَا تالم بلاھوتہ۔
والجواب من وجوہ: (فذکر وجہ الأوّل، ثم قال:) الوجہ الثانی: ان یقال ان اللہ لم یذکر أن المسیح مات ولَا قتل، وإنما قال: ’’یٰعیسٰی إنّی متوفیک ورافعک إلیّ ومطھّرک من الذین کفروا‘‘ وقال المسیح: ’’فلما توفیتنی کنت أنت الرقیب علیھم وأنت علٰی کل شیء شھید۔‘‘
وقال تعالٰی: ’’فبما نقضھم میثاقھم وکفرھم باٰیٰت اللہ وقتلھم الأنبیاء بغیر حق وقولھم قلوبنا غلف بل طبع اللہ علیھا بکفرھم فلا یؤمنون إلّا قلیلا۔ وبکفرھم وقولھم علٰی مریم بھتانًا عظیمًا۔ وقولھم إنا قتلنا المسیح عیسَی ابن مریم رسول اللہ، وما قتلوہ وما صلبوہ ولٰـکن شبّہ لھم وإن الذین اختلفوا فیہ لفی شک منہ ما لھم بہ من علم إلّا اتباع الظّنّ وما قتلوہ یقینا، بل رفعہ اللہ إلیہ وکان اللہ عزیزًا حکیمًا۔ وإن من
448

أھل الکتٰب إلّا لیؤمننّ بہ قبل موتہ ویوم القیٰمۃ یکون علیھم شھیدًا۔ فبظلم من الذین ھادوا حرّمنا علیھم طیّبٰت احلت لھم وبصدھم عن سبیل اللہ کثیرا۔ وأخذھم الربٰوا وقد نھوا عنہ وأکلھم أموال الناس بالباطل۔‘‘

(النساء:۱۵۵ تا ۱۶۱)

فذم اللہ الیھود بأشیاء منھا: ’’قولھم علٰی مریم بھتانًا عظیمًا‘‘ حیث زعموا انھا بغی، ومنھا قولھم: ’’إنّا قتلنا المسیح عیسَی ابن مریم رسول اللہ‘‘۔
قال تعالٰی: ’’وما قتلوہ وما صلبوہ ولٰـکن شبّہ لھم‘‘ وأضاف ھٰذا القول إلیھم، وذمھم علیہ، ولم یذکر النصاریٰ لأن الذین تولوا صلب المصلوب المشبہ بہ ھم الیھود، ولم یکن أحد من النصاریٰ شاھدًا معھم، بل کان الحواریون خائفین غائبین فلم یشھد أحد منھم الصلب، وإنما شھدہ الیھود وھم الذین أخبروا الناس أنھم صلبوا المسیح، والذین نقلوا أن المسیح صلب من النصاریٰ وغیرھم انما نقلوہ عن أولٰئک الیھود وھم شرط من أعوان الظلمۃ، لم یکونوا خلقًا کثیرًا یمتنع تواطؤھم علی الکذب۔
قال تعالٰی: ’’وما قتلوہ وما صلبوہ ولٰـکن شبّہ لھم‘‘ فنفی عنہ القتل، ثم قال: ’’وإن من أھل الکتٰب إلّا لیؤمننّ بہ قبل موتہ‘‘۔
وھٰذا عند أکثر العلماء معناہ قبل موت المسیح، وقد قیل قبل موت الیھودی وھو ضعیف،
449

کما قیل انہ قبل موت محمد صلی اللہ علیہ وسلم وھو أضعف، فإنہ لو آمن بہ قبل الموت لنفعہ إیمانہ بہ، فإنہ یقبل توبۃ العبد ما لم یغرغر۔

وإن قیل: المراد بہ الْإیمان الذی یکون بعد الغرغرۃ لم یکن فی ھٰذا فائدۃ، فإن کان أحد بعد موتہ یؤمن بالغیب الذی کان یجحدہٗ فلا اختصاص للمسیح بہ، ولأنہ قال: قبل موتہ، ولم یقل بعد موتہ، ولأنہ لَا فرق بین إیمانہ بالمسیح وبمحمد صلوات اللہ علیھما وسلامہ، والیھودی الذی یموت علی الیھودیۃ فیموت کافرًا محمد والمسیح علیھما الصلاۃ والسلام، ولأنہ قال: ’’وإن من أھل الکتٰب إلّا لیؤمننّ بہ قبل موتہ‘‘ وقولہ: ’’لیؤمنن بہ‘‘ فعل مقسم علیہ، وھٰذا إنما یکون فی المستقبل، فدل ذٰلک علیٰ أن ھٰذا الْإیمان بعد اخبار اللہ بہٰذا، ولو ارید قبل موت الکتابی لقال: وإن من أھل الکتاب إلّا من یؤمن بہ، لم یقل ’’لیؤمننّ بہ‘‘۔
وأیضًا فإنہ قال: إن من أھل الکتٰب، وھٰذا یعم الیھود والنصاریٰ، فدل ذٰلک علٰی أن جمیع أھل الکتاب الیھود والنصاریٰ یؤمنون بالمسیح قبل موت المسیح، وذٰلک إذا نزل آمنت الیھود والنصاریٰ بأنہ رسول اللہ لیس کاذبًا کما یقول الیھودی، ولَا ھو اللہ کما تقولہ النصاریٰ۔
والمحافظۃ علٰی ھٰذا العموم أولٰی من أن یدعی ان کل کتابی لیؤمنن بہ قبل أن یموت الکتابی، فإن ھٰذا
450

یستلزم إیمان کل یھودی ونصرانی، وھٰذا خلاف الواقع، وھو لما قال: ’’وإن منھم إلّا لیؤمنن بہ قبل موتہ‘‘ ودل علٰی ان المراد بإیمانھم قبل أن یموت ھو علم أنہ ارید بالعموم عموم من کان موجودًا حین نزولہ أی لَا یختلف منھم أحد عن الْإیمان بہ، لَا إیمان من کان منھم میتًا۔

وھٰذا کما یقال: انہ لَا یبقی بلد إلّا دخلہ الدَّجَّال إلّا مکۃ والمدینۃ أی فی المدائن الموجودۃ حینئذ، وسبب إیمان أھل الکتاب بہ حیئنذ ظاھر، فإنہ یظھر لکل أحد أنہ رسول مؤید لیس بکذّاب ولَا ھو رَبّ العالمین۔
فاللہ تعالٰی ذکر إیمانھم بہ إذا نزل إلی الأرض فإنہ تعالٰی لما ذکر رفعہ إلی اللہ بقولہ: ’’إنی متوفیک ورافعک إلیّ‘‘ وھو ینزل إلی الأرض قبل یوم القیامۃ، ویموت حینئذ اخبر بإیمانھم بہ قبل موتہ، کما قال تعالٰی فی الآیۃ الاُخریٰ: ’’إن ھو إلّا عبد أنعمنا علیہ وجعلنٰہ مثلًا لبنی اسرائیل۔ ولو نشاء لجعلنا منکم ملٰٓئکۃ فی الأرض یخلفون، وانہ لعلم للساعۃ فلا تمترن بھا واتبعون ھٰذا صراط مستقمیم، ولَا یصدنکم الشیطـٰن انہ لکم عدو مبین، ولما جاء عیسٰی بالبیّنٰت قال قد جئتکم بالحکمۃ ولاُبیّن لکم بعض الذی تختلفون فیہ فاتقوا اللہ وأطیعون، إن اللہ ھو ربّی وربّکم فاعبدوہ ھٰذا صراط مستقیم، فاختلف الأحزاب من
451

بینھم فویل للذین ظلموا من عذاب یوم الیم۔‘‘

(الزخرف:۵۹ تا ۶۵)

فی الصحیحین عن النبی صلی اللہ علیہ وسلم قال: ’’یوشک أن ینزل فیکم ابن مریم حَکَمًا عدلًا، وإمامًا مقسطًا، فیکسر الصلیب، ویقتل الخنزیر، ویضع الجزیۃ۔‘‘
وقولہ تعالٰی: ’’وما قتلوہ وما صلبوہ ولٰـکن شبّہ لھم وإن الذین اختلفوا فیہ لفی شک منہ ما لھم بہ من علم إلّا اتباع الظّنّ وما قتلوہ یقینًا بل رفعہ اللہ إلیہ وکان اللہ عزیزًا حکیمًا۔‘‘ بیان ان اللہ رفعہ حیًّا وسلمہ من القتل، وبیّن أنھم یؤمنون بہ قبل أن یموت۔
وکذٰلک قولہ: ’’ومطھّرک من الذین کفروا‘‘ ولو مات لم یکن فرق بینہ وبین غیرہ۔
ولفظ التوفی فی لغۃ العرب معناہ: الْإستیفاء والقبض، وذٰلک ثلاثۃ أنواع: أحدھا: توفی النوم، والثانی: توفی الموت، والثالث: توفی الروح والبدن جمیعًا، فإنہ بذٰلک خرج عن حال أھل الأرض الذین یحتاجون إلی الأکل والشرب واللباس، ویخرج منھم الغائط والبول، والمسیح علیہ السلام توفاہ اللہ وھو فی السماء الثانیۃ إلٰی أن ینزل إلی الأرض، لیست حالہ کحالۃ أھل الأرض فی الأکل والشرب واللباس والنوم، والغائط والبول ونحو ذٰلک۔‘‘

(الجواب الصحیح ج:۲ ص:۲۸۲، ۲۸۵)

452

ترجمہ: … ’’نصاریٰ نے کہا کہ:

حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم جو کتاب لائے ہیں اس میں یہ آیت ہے:

ترجمہ:۔۔۔’’اس کے سوا کچھ نہیں مسیح عیسیٰ بن مریم اللہ کے رسول ہیں، اور اللہ تعالیٰ کے ایک کلمہ ہیں جس کو اللہ تعالیٰ نے مریم تک پہنچایا۔‘‘

اور یہ ہمارے قول کے موافق ہے، کیونکہ قرآن نے گواہی دی کہ وہ ناسوت کے لحاظ سے ہم جیسے انسان تھے، جو مریم سے پیدا ہوئے، اور اللہ کا کلمہ تھے، اور اللہ کی رُوح تھے جو اس میں متحد تھی، توبہ توبہ یہ کب ہوسکتا ہے کہ اللہ کا کلمہ اور اس کی رُوح، جو خالق ہے، ہم لوگوں کی مثل ہو جو مخلوق ہیں؟

نیز سورۂ نساء میں فرمایا:

’’حالانکہ انہوں نے نہ ان کو قتل کیا، اور نہ ان کو سولی پر چڑھایا، لیکن ان کو اِشتباہ ہوگیا۔‘‘

پس اس سے لاہوت کی طرف اشارہ فرمایا جو کلمۃ اللہ ہے، خالق ہے، علیٰ ھٰذا القیاس ہم کہتے ہیں کہ مسیح مصلوب ومتألم ہوئے اپنے ناسوت کے ساتھ، اور مصلوب ومتألم نہیں ہوئے اپنے لاہوت کے ساتھ۔

اور اس کا جواب چند وجوہ سے ہے (پہلی وجہ ذِکر کرنے کے بعد فرماتے ہیں:)

دُوسری وجہ: … یہ ہے کہ یہ کہا جائے کہ اللہ تعالیٰ نے تو یہ ذِکر نہیں کیا کہ مسیح علیہ السلام مرگئے ہیں، اور نہ قتل ہوئے ہیں، اللہ تعالیٰ نے تو یہ فرمایا ہے کہ:

453

’’اے عیسیٰ! (کچھ غم نہ کرو) بے شک میں تم کو (اپنے وقتِ موعود پر طبعی موت سے) وفات دینے والا ہوں (پس جب تمہارے لئے طبعی موت مقدّر ہے تو ظاہر ہے کہ ان دُشمنوں کے ہاتھوں دارپر جان دینے سے محفوظ رہوگے) اور (فی الحال) میں تم کو اپنے (عالمِ بالا کی) طرف اُٹھائے لیتا ہوں، اور تم کو ان لوگوں سے پاک کرنے والا ہوں جو (تمہارے) منکر ہیں۔‘‘

اور اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا:

’’سو ہم نے یہود کو سزا میں مبتلا کیا، ان کی عہدشکنی کی وجہ سے، اور ان کے کفر کی وجہ سے اَحکامِ اِلٰہیہ کے ساتھ، اور ان کے قتل کرنے کی وجہ سے انبیاء کو ناحق، اور ان کے اس مقولے کی وجہ سے ہمارے قلوب محفوظ ہیں، نہیں! بلکہ ان کے کفر کے سبب اللہ تعالیٰ نے ان کے قلوب پر بند لگادیا ہے، سو ان میں اِیمان نہیں مگر قدرے قلیل، اور ان کے کفر کی وجہ سے اور حضرت مریم پر ان کے بڑا بھاری بہتان دھرنے کی وجہ سے، اور ان کے اس کہنے کی وجہ سے کہ ہم نے مسیح عیسیٰ بن مریم کو، جو کہ رسول ہیں اللہ تعالیٰ کے، قتل کردیا، حالانکہ انہوں نے نہ ان کو قتل کیا، اور نہ ان کو سولی پر چڑھایا، لیکن ان کو اِشتباہ ہوگیا، اور جو لوگ ان کے بارے میں اِختلاف کرتے ہیں وہ غلط خیال میں ہیں، ان کے پاس اس پر کوئی دلیل نہیں، بجز تخمینی باتوں پر عمل کرنے کے، اور انہوں نے ان کو یقینی بات ہے کہ قتل نہیں کیا، بلکہ ان کو خدا تعالیٰ نے اپنی طرف اُٹھایا، اور اللہ تعالیٰ بڑے زبردست، حکمت والے ہیں۔ اور کوئی شخص اہلِ کتاب میں نہ رہے گا مگر وہ عیسیٰ علیہ السلام کی ان کے مرنے سے پہلے ضرور تصدیق کرے گا، اور قیامت کے روز وہ ان پر گواہی دیں گے۔ سو یہود کے

454

ان بڑے بڑے جرائم کے سبب ہم نے بہت سی پاکیزہ چیزیں، جو ان کے لئے حلال تھیں، ان پر حرام کردیں، اور بہ سبب اس کے کہ وہ بہت آدمیوں کو اللہ تعالیٰ کی راہ سے مانع بن جاتے تھے، اور بہ سبب اس کے کہ وہ سود لیا کرتے تھے، حالانکہ ان کو اس سے ممانعت کی گئی تھی، اور بہ سبب اس کے کہ وہ لوگوں کے مال ناحق طریقے سے کھاجاتے تھے۔‘‘

(النساء:۱۵۵، ۱۶۱)

ان آیاتِ شریفہ میں اللہ تعالیٰ نے چند جرائم پر یہود کی مذمت فرمائی:

ازاں جملہ: … ان کا حضرت مریم رضی اللہ عنہا پر بھاری بہتان باندھنا۔

ازاں جملہ: … ان کا یہ دعویٰ کہ ہم نے مسیح عیسیٰ بن مریم کو، جو اللہ تعالیٰ کے رسول تھے، قتل کردیا۔ جس کی تردید میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ’’حالانکہ نہ انہوں نے ان کو قتل کیا اور نہ ان کو سولی پر چڑھایا، لیکن ان کو اِشتباہ ہوا۔‘‘ اللہ تعالیٰ نے اس دعوے کو یہود کی طرف منسوب فرمایا، اور اس پر ان کی مذمت فرمائی، یہاں نصاریٰ کا ذِکر نہیں فرمایا، کیونکہ جس شخص کو حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے اشتباہ میں سولی دی گئی اس کو سولی دینے کا کام یہود نے کیا، نصاریٰ میں سے کوئی شخص ان کے پاس موجود نہیں تھا۔ بلکہ حواری ڈر کے مارے چھپے ہوئے تھے۔ ان میں سے ایک بھی واقعۂ صلیب کے موقع پر موجود نہیں تھا۔ صلیب دینے کا کام یہود کر رہے تھے، انہوں نے یہ جھوٹی گپ اُڑائی کہ انہوں نے مسیح کو سولی دے دی۔ نصاریٰ میں سے جن لوگوں نے یہ نقل کیا کہ مسیح کو صلیب دی گئی، انہوں نے انہی یہودیوں سے نقل کیا، اور صلیب دینے والے ظالموں کے چند

455

کارندے تھے، کوئی زیادہ مخلوق نہیں تھی، ان کے لئے ایک جھوٹ گھڑکر پھیلادینا کچھ مشکل نہیں تھا۔

حق تعالیٰ شانہ‘ نے (ان کی تکذیب کرتے ہوئے) فرمایا: ’’حالانکہ انہوں نے نہ ان کو قتل کیا، اور نہ ان کو سولی پر چڑھایا، لیکن ان کو اِشتباہ ہوگیا۔‘‘

چنانچہ اس ارشاد میں ان سے (مسیح علیہ السلام سے) قتل کی نفی فرمائی، پھر (آخری زمانے میں) ان کے دوبارہ آنے کی خبر دی، اور فرمایا:

’’اور کوئی شخص اہلِ کتاب میں نہ رہے گا مگر عیسیٰ علیہ السلام کی ان کے مرنے سے پہلے تصدیق کرے گا۔‘‘

اکثر علماء کے نزدیک ’’قبل موتہ‘‘ سے مراد ’’قبل موت المسیح‘‘ ہے، یعنی مسیح علیہ السلام پر ان کے مرنے سے پہلے اہلِ کتاب میں سے ہر شخص اِیمان لائے گا۔

اور کہا گیا ہے کہ اس سے مراد ’’یہودی کی موت سے پہلے‘‘ ہے، اور یہ قول ضعیف ہے۔ جیسا کہ ایک قول یہ ہے کہ اس سے مراد ’’حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی موت سے پہلے‘‘ ہے، یہ قول دُوسرے قول سے بھی ضعیف تر ہے، کیونکہ اگر وہ اپنی موت سے پہلے اِیمان لاتا تو اس کا اِیمان نافع ہوتا، کیونکہ غرغرے سے پہلے بندے کی توبہ قبول کی جاتی ہے۔

اور اگر یہ کہا جائے کہ مراد اس سے وہ اِیمان ہے جو غرغرے کے بعد ہوتا ہے تو ایسے اِیمان میں کوئی فائدہ نہیں، کیونکہ مرنے کے بعد تو ہر شخص اس غیب پر اِیمان لے آتا ہے جس کا وہ اِنکار کیا کرتا تھا، پس اس میں مسیح علیہ السلام کی کوئی خصوصیت نہ

456

ہوئی۔ اور یہ بات اس لئے بھی غلط ہے کہ حق تعالیٰ شانہ‘ نے ’’قبل موتہ‘‘ فرمایا ہے، ’’بعد موتہ‘‘ نہیں فرمایا، اور اس وجہ سے بھی یہ غلط ہے کہ اس صورت میں مسیح علیہ السلام پر اِیمان لانے اور حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر اِیمان لانے کے درمیان کوئی فرق نہیں، اور جو یہودی کہ اپنی یہودیت پر مرتا ہے وہ حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا اور حضرت مسیح علیہ السلام دونوں کا منکر ہوکر مرتا ہے۔

نیز حق تعالیٰ شانہ‘ نے فرمایا:

’’وَاِنْ مِّنْ اَھْلِ الْکِتٰبِ اِلّا لَیُؤْمِنَنَّ بِہٖ قَبْلَ مَوْتِہٖ‘‘

’’لیؤمنن‘‘ وہ فعل ہے جس پر قسم کھائی گئی ہے، اور یہ مستقبل میں ہوسکتا ہے، پس یہ لفظ دلالت کرتا ہے کہ اِیمان کا یہ واقعہ آپ کے نزول کے بعد ہوگا، اگر یہ مراد ہوتی کہ ہر کتابی اپنی موت سے پہلے اِیمان لاتا ہے تو اللہ تعالیٰ یوں فرماتے:’’وان من أھل الکتاب إلّا من یؤمن بہ‘‘ یعنی ’’ہر کتابی ان پر اپنی موت سے پہلے اِیمان لاتا ہے‘‘ یہ نہ فرماتے کہ:’’لیؤمننّ بہ‘‘ یعنی ’’ایمان لائے گا‘‘۔

نیز حق تعالیٰ شانہ‘ نے فرمایا:’’وَاِنْ مِّنْ اَھْلِ الْکِتٰب‘‘ یہ لفظ یہود و نصاریٰ سب کو شامل ہے، پس یہ ارشاد دَلالت کرتا ہے کہ تمام اہلِ کتاب یہودی بھی اور نصرانی بھی حضرت مسیح علیہ السلام پر اِیمان لائیں گے حضرت مسیح علیہ السلام کی موت سے پہلے، اور یہ اس وقت ہوگا جبکہ مسیح علیہ السلام دوبارہ نزول فرمائیں گے، اس وقت تمام اہلِ کتاب یہود و نصاریٰ اِیمان لائیں گے کہ آپ اللہ تعالیٰ کے سچے رسول ہیں، جھوٹے نہیں، جیسا کہ یہود نے کہا، اور خدا بھی نہیں، جیسا کہ نصاریٰ نے کہا۔

457

اور اس عموم کی محافظت بہتر ہے بہ نسبت اس کے کہ دعویٰ کیا جائے کہ ہر کتابی اپنی موت سے پہلے ان پر اِیمان لاتا ہے، کیونکہ یہ ہر یہودی ونصرانی کے اِیمان لانے کو مستلزم ہے، اور یہ واقعے کے خلاف ہے۔

اور جب اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ ان میں سے کوئی شخص بھی باقی نہیں رہے گا جو حضرت مسیح علیہ السلام پر ان کی موت سے پہلے اِیمان نہ لائے، اور اس اِرشاد سے یہ معلوم ہوا کہ ہر کتابی کا حضرت مسیح علیہ السلام کی موت سے پہلے اِیمان لانا مراد ہے، تو اس سے معلوم ہوا کہ اس عموم سے ان لوگوں کا عموم مراد ہے جو ان کے نزول کے وقت موجود ہوں گے، یعنی جس وقت حضرت عیسیٰ علیہ السلام نازل ہوں گے اس وقت اہلِ کتاب میں سے کوئی بھی اِیمان لانے سے پیچھے نہیں رہے گا، ان لوگوں کا اِیمان لانا مراد نہیں جو ان میں سے مرچکے ہیں۔

اور یہ اسی طرح ہے جیسا کہ کہا جاتا ہے کہ مکہ اور مدینہ کے سوا کوئی شہر باقی نہیں رہے گا جس میں دجال داخل نہ ہو۔ مراد یہ ہے کہ اس وقت جتنے شہر دُنیا میں موجود ہوں گے ان میں دجال داخل ہوگا۔

اور اس وقت اہلِ کتاب کے اِیمان لانے کی وجہ ظاہر ہے، کیونکہ ہر شخص پر یہ بات کھل جائے گی کہ حضرت مسیح علیہ السلام رسول مؤید ہیں، نہ جھوٹے نبی ہیں، اور نہ رَبّ العالمین ہیں۔

پس اللہ تعالیٰ نے ان لوگوں کے اس وقت اِیمان لانے کو ذِکر فرمایا ہے جب حضرت مسیح علیہ السلام زمین پر نزول فرمائیں گے، کیونکہ جب اللہ تعالیٰ نے اپنے اِرشاد’’اِنِّیْ مُتَوَفِّیْکَ وَرَافِعُکَ

458

اِلَیَّ‘‘ میں حضرت مسیح علیہ السلام کے اُٹھائے جانے کا ذِکر فرمایا، اور انہیں قیامت سے پہلے زمین پر نازل ہونا ہے، اور اس وقت ان کی موت واقع ہوگی، اس بنا پر اللہ تعالیٰ نے حضرت مسیح علیہ السلام کی موت سے پہلے اہلِ کتاب کے ان پر اِیمان لانے کی خبر دی۔

جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے دُوسری آیت (سورۂ زُخرف) میں فرمایا:

’’اور بے شک وہ یعنی مسیح علیہ السلام نشانی ہے قیامت کی، سو تم لوگ اس میں شک نہ کرو۔‘‘

اور صحیحین میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ ارشاد مروی ہے:

’’قریب ہے کہ ابنِ مریم تم میں حاکمِ عادل اور اِمامِ منصف کی حیثیت سے نازل ہوں گے، پس صلیب کو توڑ ڈالیں گے اور خنزیر کو قتل کریں گے، اور جزیہ موقوف کردیں گے۔‘‘

اور حق تعالیٰ کا اِرشاد:

’’حالانکہ انہوں نے نہ ان کو قتل کیا اور نہ ان کو سولی پر چڑھایا، لیکن ان کو اِشتباہ ہوگیا، اور جو لوگ ان کے بارے میں اختلاف کرتے ہیں وہ غلط خیال میں ہیں، ان کے پاس اس پر کوئی دلیل نہیں بجز تخمینی باتوں پر عمل کے، اور انہوں نے ان کو یقینی بات ہے کہ قتل نہیں کیا، بلکہ ان کو خدا نے اپنی طرف اُٹھالیا، اور اللہ تعالیٰ زبردست، حکمت والے ہیں۔‘‘

اس اَمر کا بیان ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ان کو زندہ آسمان پر اُٹھالیا، اور ان کو قتل سے صحیح سالم اور محفوظ رکھا، اور اللہ تعالیٰ نے یہ بھی بیان فرمایا کہ اہلِ کتاب ان پر ان کی موت سے پہلے اِیمان لائیں گے۔

اسی طرح حق تعالیٰ کا ارشاد:

’’اور تجھے پاک کرنے والا ہوں ان کافروں (کی

459

صحبت) سے۔‘‘

بھی اس اَمر کی دلیل ہے کہ (وہ مرے نہیں، اللہ تعالیٰ نے ان کو زِندہ اُٹھالیا) اور اگر وہ مرگئے تو ان کے درمیان اور دُوسروں کے درمیان کوئی فرق نہ ہوتا۔

لغتِ عرب میں لفظ ’’توفی‘‘ کے معنی ہیں پورا وصول کرنا، اور قبض کرنا، اور اس کی تین قسمیں ہیں۔

ایک صورت نیند میں قبض کرنے کی ہے، دُوسری موت میں قبض کرنے کی، اور تیسری رُوح اور بدن دونوں کو قبضے میں لینے کی ۔۔۔۔۔۔ حضرت مسیح علیہ السلام کے حق میں ’’توفی‘‘ کی یہی صورت پیش آئی، کیونکہ اس قبض رُوح مع البدن کے ذریعے وہ اہلِ زمین کے حال سے نکل گئے، جو کھانے پینے اور لباس کے محتاج ہیں، اور بول وبراز جن سے خارج ہوتا ہے، اور اللہ تعالیٰ نے ان کی رُوح مع البدن کو قبضے میں لے لیا، اور وہ دُوسرے آسمان پر ہیں، یہاں تک کہ دوبارہ زمین پر نازل ہوں گے۔ اب ان کی حالت کھانے پینے میں، لباس و پوشاک میں، نیند میں، بول و براز وغیرہ میں اہلِ زمین کی سی حالت نہیں (بلکہ ان کی حالت آسمان کے فرشتوں کے مشابہ ہے، کہ نہ وہ کھانے پینے کے محتاج ہیں، اور نہ بول و براز کے)۔‘‘

’’ومما ینبغی أن یعرف: ان الکتب المتقدمۃ بشرت بالمسیح، کما بشرت بمحمد صلی اللہ علیہ وسلم، وکذٰلک أنذرت بالمسیح الدَّجَّال۔
والاُمم الثلاثۃ: المسلمون، والیھود، والنصاریٰ، متفقون علٰی أن الأنبیاء أنذرت بالمسیح الدَّجَّال، وحذرت منہ کما قال النبی صلی اللہ علیہ
460

وسلم فی الحدیث الصحیح: ’’ما من نبی إلّا وقد أنذر اُمّتہ المسیح الدَّجَّال، حتّٰی نوح أنذر اُمّتہ، وسأقول لکم فیہ قولًا لم یقلہ نبی لاُمّتہ، انّہ أعوَر، وإن ربّکم لیس بأعوَر، مکتوب بین عینیہ ک ف ر، یقرأہ کل مؤمن قاری وغیر قاری۔‘‘

والاُمم الثلاثۃ متفقون علٰی أن الأنبیاء بشروا بمسیح من ولد داوٗد۔
فالاُمم الثلاثۃ متفقون علی الأخبار بمسیح ھدی من نسل داوٗد، ومسیح ضلالۃ، وھم متفقون علٰی أن مسیح الضلالۃ لم یأت بعد وسیأتی، ومتفقون علٰی أن مسیح الھدیٰ سیأتی۔
ثم المسلمون والنصاریٰ متفقون علٰی أن مسیح الھدیٰ عیسَی ابن مریم، والیھود ینکرون أن یکون ھو عیسَی بن مریم مع إقرارھم بأنہ من ولد داوٗد۔
قالوا: لأن المسیح مبشر بہ تؤمن بہ الاُمم کلھا‘‘ وزعموا أن المسیح ابن مریم إنما بعث بدین النصاریٰ، وھو دین ظاھر البطلان، ولھٰذا إذا خرج المسیح الدَّجَّال اتبعوہ، فیخرج معہ سبعون ألف مطیلس من یھود اصبھان۔
ویسلط المسلمون علی الیھود، فیقتلونھم حتّٰی یقول الحجر والشجر: ’’یا مسلم! ھٰذا یہودی ورائی، تعال فاقتلہ‘‘ کما ثبت ذٰلک فی الحدیث الصحیح۔
والنصاریٰ یقرون بأن المسیح مسیح الھدی
461

بعث، ویقرون بأنہ سیأتی مرۃ ثانیۃ، لٰـکن یزعمون ان ھٰذا الْإتیان الثانی ھو یوم القیامۃ لیجزی الناس أعمالھم، وھو ۔۔۔فی زعمھم۔۔۔ ھو اللہ، واللہ الذی ھو اللاھوت، یأتی فی ناسوتہ، کما زعموا انہ جاء بل ذٰلک۔

وأما المسلمون فآمنوا بما اخبرت بہ الأنبیاء علٰی وجھہ، وھو موافق لما اخبر بہ خاتم الرسل حیث قال فی الحدیث الصحیح: ’’یوشک أن ینزل فیکم ابن مریم حَکَمًا عدلًا، وإمامًا مقسطًا، فیکسر الصلیب، ویقتل الخنزیر، ویضع الجزیۃ۔‘‘

وأخبر فی الحدیث الصحیح انہ إذا خرج مسیح الضلالۃ الأعوَر الکذّاب نزل عیسَی بن مریم علی المنارۃ البیضاء شرقی دمشق، بین مھروذتین، واضعًا یدیہ علٰی منکبی ملکین، فإذا رآہ الدَّجَّال انماع کما ینماع الملح فی الماء فیدرکہ فیقتلہ بالحربۃ عند باب لُدّ الشرقی، علٰی بضع عشرۃ خطوۃ منہ، وھٰذا تفسیر قولہ تعالٰی: ’’وإن من أھل الکتٰب إلّا لیؤمننّ بہ قبل موتہ‘‘ أی یؤمن بالمسیح قبل أن یموت، حین نزولہ إلی الأرض، وحینئذ لَا یبقی یھودی ولَا نصرانی، ولَا یبقی دین إلّا دین الْإسلام، وھٰذا موجود فی نعتہ عند أھل الکتاب۔
ولٰـکن النصاریٰ ظنوا أن ذٰلک مجیئہ بعد قیام القیامۃ، وانہ ھو اللہ فغلطوا فی ذٰلک کما غلطوا فی مجیئہ الأوّل، حیث ظنوا أنہ ھو اللہ۔
462
والیھود أنکروا مجیئہ الأوّل، وظنوا أن الذی بشر بہ لیس ھو إیاہ، ولیس ھو الذی یأتی آخرًا، وصاروا ینتظرون غیرہ، وإنما ھو بعث إلیھم أوّلًا فکذبوہ، وسیأتیھم ثانیًا، فیؤمن بہ کل من علٰی وجہ الأرض من یھودی ونصرانی، من قتل أو مات، ویظھر کذب ھٰؤلآء الذین کذبوہ، ورموا اُمّہ بالفریۃ، وقالوا: انہ ولد زنا، وھٰؤلآء الذین غلوا فیہ وقالوا: إنہ اللہ۔
ولما کان المسیح علیہ السلام نازلًا فی اُمّۃ محمد صلی اللہ علیہ وسلم، صار بینہ وبین محمد من الْإتصال ما لیس بینہ وبین غیر محمد، ولھٰذا قال النبی صلی اللہ علیہ وسلم فی الحدیث الصحیح: ’’ان أولی الناس بابن مریم لأنا، انہ لیس بینی وبینہ نبی۔‘‘
وروی: ’’کیف تھلک اُمّۃ أنا فی أوّلھا، وعیسٰی فی آخرھا۔‘‘
وھٰذا مما یظھر بہ مناسبۃ اقترانھا فیما رواہ اشعیاء حیث قال: ’’راکب الحمار وراکب الجمل۔‘‘

(الجواب الصحیح ج:۳ ص:۳۲۴ ومابعد)

ترجمہ: … ’’اور یہ بات معلوم ہونی چاہئے کہ پہلی کتابوں نے حضرت مسیح علیہ السلام کے آنے کی بھی خوشخبری دی، جیسا کہ حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے آنے کی خوشخبری دی، اور اسی طرح مسیحِ دجال سے بھی ڈرایا۔

پس تینوں اُمتیں ۔۔۔مسلمان، یہود اور نصاریٰ۔۔۔ متفق ہیں کہ انبیائے کرام علیہم السلام نے مسیحِ دجال سے ڈرایا، اور اس سے

463

بچنے کی تلقین فرمائی، جیسا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے حدیثِ صحیح میں ارشاد فرمایا:

’’ہر نبی نے اپنی اُمت کو مسیحِ دجال سے ڈرایا، یہاں تک کہ حضرت نوح علیہ السلام نے بھی اپنی اُمت کو ڈَرایا، اور میں تم سے ایک ایسی بات کہتا ہوں جو کسی نبی نے اپنی اُمت سے نہیں فرمائی، وہ یہ کہ دجال کانا ہے اور تمہارا رَبّ کانا نہیں، دجال کی آنکھوں کے درمیان ’’ک ف ر‘‘ لکھا ہوگا، جس کو ہر مؤمن پڑھا لکھا اور اَن پڑھ پڑھے گا۔‘‘

اور تینوں اُمتیں اس پر بھی متفق ہیں کہ انبیائے گزشتہ نے ایک ’’مسیحِ ہدایت‘‘ کے آنے کی بشارت دی تھی جو نسلِ داؤد سے ہوں گے، اور دُوسرے مسیحِ ضلالت کے آنے کی بھی خبر دی، اور یہ تینوں قومیں متفق ہیں کہ مسیحِ ضلالت ابھی تک نہیں آیا، بلکہ آئندہ آئے گا، اور یہ تینوں قومیں اس پر بھی متفق ہیں کہ مسیحِ ہدایت بھی آئیں گے۔

پھر مسلمان اور نصاریٰ اس پر متفق ہیں کہ مسیحِ ہدایت حضرت عیسیٰ بن مریم علیہ السلام ہیں، جو پہلے تشریف لاچکے ہیں، وہی دوبارہ آئیں گے، اور یہود اس سے انکار کرتے ہیں کہ مسیحِ ہدایت حضرت عیسیٰ ابن مریم ہوں، باوجودیکہ وہ اقرار کرتے ہیں کہ آپ نسلِ داؤد سے ہیں۔

یہود اس کی دلیل یہ پیش کرتے ہیں کہ جس مسیح کی بشارت دی گئی تھی، اس پر تمام اُمتیں اِیمان لائیں گی (چونکہ حضرت عیسیٰ بن مریم پر سب اِیمان نہیں لائے، لہٰذا وہ مسیح نہ ہوئے) ان کا کہنا ہے کہ مسیح بن مریم صرف نصاریٰ کے لئے مبعوث ہوئے، اور یہ دِین

464

ظاہر البطلان ہے، اور یہی وجہ ہے کہ جب مسیحِ دجال نکلے گا تو یہودی (سچے مسیح کے دھوکے میں) اس کو مسیح مان لیں گے اور اس کی پیروی کرلیں گے۔ چنانچہ دجال کے ساتھ اصبہان کے یہودیوں میں سے ستر ہزار آدمی نکلیں گے، جنہوں نے لمبے چوغے پہن رکھے ہوں گے، اور مسلمانوں کو یہود پر مسلط کردیا جائے گا، پس وہ ان کو قتل کریں گے، یہاں تک کہ حجر و شجر پکار اُٹھیں گے کہ: ’’اے مسلمان! یہ یہودی میرے پیچھے چھپا ہوا ہے، آ! اس کو قتل کر‘‘ جیسا کہ یہ حدیثِ صحیح میں ثابت ہے۔

اور نصاریٰ اِقرار کرتے ہیں کہ حضرت مسیح علیہ السلام مسیحِ ہدایت تھے، جو اللہ تعالیٰ کی طرف سے مبعوث ہوئے، اور یہ بھی اِقرار کرتے ہیں کہ وہ دوبارہ آئیں گے، لیکن وہ کہتے ہیں کہ یہ دوبارہ آنا قیامت کے دن ہوگا تاکہ وہ لوگوں کو ان کے اعمال کی جزا وسزا دیں، اور وہ ان کے زعم میں اللہ ہیں، اللہ وہی ہے جو لاہوت ہے، وہ ناسوت میں آئے گا۔

باقی رہے مسلمان! پس وہ ٹھیک اسی طرح اِیمان لائے ہیں جیسا کہ انبیائے کرام علیہم السلام نے مسیح علیہ السلام کی خبر دی تھی، اور وہ موافق ہے اس خبر کے، جو خاتم الرسل صلی اللہ علیہ وسلم نے مسیح علیہ السلام کے بارے میں دی، چنانچہ حدیثِ صحیح میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا اِرشاد ہے:

’’قریب ہے کہ نازل ہوں گے تم میں ابنِ مریم حاکمِ عادل اور اِمامِ منصف کی حیثیت سے، پس صلیب کو توڑ ڈالیں گے، خنزیر کو قتل کریں گے، اور جزیہ موقوف کردیں گے۔‘‘

اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حدیثِ صحیح میں خبر دی کہ:

465

’’جب مسیحِ ضلالت کانا دَجال نکلے گا تو حضرت عیسیٰ بن مریم علیہ السلام سفید مینار پر دمشق کی مشرقی جانب نازل ہوں گے، دو زَرد چادریں زیبِ تن ہوں گی، اپنے دونوں ہاتھ دو فرشتوں کے کاندھوں پر رکھے ہوئے ہوں گے، پس جب دجال آپ کو دیکھے گا تو پگھلنے لگے گا جیسے نمک پانی میں گھل جاتا ہے، پس حضرت عیسیٰ علیہ السلام اس کو جاپکڑیں گے، پس اس کو نیزے کے ساتھ قتل کردیں گے لُدّ کے شرقی دروازے پر، اس سے دس سے چند قدم کے فاصلے پر۔‘‘

اور یہ تفسیر ہے حق تعالیٰ کے اس اِرشاد کی:

’’اور نہیں رہے گا اہلِ کتاب میں سے کوئی شخص مگر اِیمان لائے گا اس پر اس کی موت سے پہلے۔‘‘

یعنی مسیح علیہ السلام پر اِیمان لائیں گے ان کے زمین پر نازل ہونے کے وقت، مسیح علیہ السلام کی موت سے پہلے، اور اس وقت کوئی یہودی اور نصرانی باقی نہیں رہے گا، اور دِینِ اسلام کے سوا کوئی دِین باقی نہیں رہے گا۔

اور یہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی صفتیں اہلِ کتاب کے پاس بھی موجود ہیں، لیکن نصاریٰ نے گمان کیا کہ مسیح علیہ السلام کا یہ آنا قیامت قائم ہونے کے بعد ہوگا اور یہ کہ وہ ۔۔۔نعوذباللہ۔۔۔ خود اللہ ہیں، پس انہوں نے اس میں بھی غلطی کھائی جیسا کہ انہوں نے ان کی پہلی آمد میں غلطی کھائی کہ ان کو خدا سمجھ لیا۔

اور یہود نے ان کی پہلی آمد کا اِنکار کردیا، اور گمان کیا کہ جس مسیح کی بشارت دی گئی تھی، وہ یہ نہیں، اور وہ آخری زمانے میں آئیں گے، اور یہ لوگ کسی اور مسیح کا اِنتظار کرنے لگے، حالانکہ یہ وہی مسیح تھے جو ان کی طرف پہلے مبعوث کئے گئے، پس انہوں نے مسیح

466

کی تکذیب کی، اور یہی مسیح ان کے پاس دوبارہ آئیں گے، پس رُوئے زمین کے تمام یہودی ونصرانی ان پر اِیمان لائیں گے، وہ بھی جو قتل ہوئے یا مرگئے، اس وقت ان تمام لوگوں کا جھوٹ ظاہر ہوجائے گا جنہوں نے حضرت مسیح علیہ السلام کی تکذیب کی تھی، اور ان کی والدہ ماجدہ پر بہتان تراشی کی تھی، اور حضرت مسیح علیہ السلام کو ناجائز اولاد کہا تھا۔ اور ان لوگوں کا جھوٹ بھی ظاہر ہوجائے گا جنہوں نے حضرت مسیح علیہ السلام کے بارے میں غلوّ کیا اور ان کو خدا کہا۔

اور چونکہ حضرت مسیح علیہ السلام حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی اُمت میں نازل ہونے والے تھے، اس لئے ان کے درمیان اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے درمیان وہ تعلق ہے جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے سوا کسی اور کے درمیان نہیں، اسی بنا پر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے حدیثِ صحیح میں فرمایا:

’’بے شک ابنِ مریم علیہ السلام کے ساتھ جس شخص کو تمام اِنسانوں سے زیادہ تعلق ہے، وہ میں ہوں، کیونکہ میرے درمیان اور ان کے درمیان کوئی نبی نہیں ہوا۔‘‘

اور ایک روایت میں ہے:

’’وہ اُمت کیسے ہلاک ہوسکتی ہے جس کے اوّل میں، میں ہوں اور عیسیٰ علیہ السلام اس کے آخر میں ہیں۔‘‘

اور اسی سے اشعیاء نبی کی پیش گوئی میں ان دونوں کے ملانے کی مناسبت ظاہر ہوجاتی ہے، چنانچہ انہوں نے فرمایا:

’’راکب الحمار وراکب الجمل‘‘

ترجمہ: … ’’درازگوش کا سوار اور اُونٹ کا سوار۔‘‘

’’قلت: وصعود الأدمی ببدنہ إلی السماء قد
467

ثبت فی امر المسیح عیسَی بن مریم علیہ السلام، فإنہ صعد إلی السماء، وسوف ینزل إلی الأرض۔

وھٰذا مما یوافق النصاریٰ علیہ المسلمین فإنھم یقولون: إن المسیح صعد إلی السماء ببدنہ وروحہ، کما یقولہ المسلمون، ویقولون: انہ سوف ینزل إلی الأرض أیضًا، کما یقولہ المسلمون، وکما أخبر بہ النبی صلی اللہ علیہ وسلم فی الأحادیث الصحیحۃ۔
لٰـکن کثیرًا من النصاریٰ یقولون: إنّہ صعد بعد أن صلب، وأنہ قام من القبر۔
وکثیرًا من الیھود یقولون: إنّہ صلب، ولم یقم من قبرہ۔
وأما المسلمون وکثیر من النصاریٰ فیقولون: إنّہ لم یصلب، ولٰـکن صعد إلی السماء بلا صلب۔
والمسلمون ومن وافقھم من النصاریٰ، یقولون: إنّہ ینزل إلی الأرض قبل القیامۃ، وان نزول من أشراط الساعۃ کما دَلّ علٰی ذٰلک الکتاب والسُّنّۃ۔
وکثیرًا من النصاریٰ یقولون: ان نزول ھو یوم القیامۃ، وانہ ھو اللہ الذی یحاسب الخلق۔‘‘

(الجواب الصحیح ج:۴ ص:۱۶۹، ۱۷۰)

ترجمہ: … ’’میں کہتا ہوں کہ آدمی کا جسدِ عنصری کے ساتھ آسمان پر جانا حضرت مسیح عیسیٰ بن مریم علیہ السلام کے بارے میں ثابت ہے، چنانچہ وہ آسمان پر تشریف لے گئے، اور پھر زمین پر نازل ہوں گے۔

468

اور یہ ایسی بات ہے کہ جس میں نصاریٰ بھی مسلمانوں کے ساتھ متفق ہیں، کیونکہ وہ قائل ہیں کہ مسیح علیہ السلام اپنے بدن اور رُوح کے ساتھ آسمان پر چلے گئے، جیسا کہ مسلمان اس کے قائل ہیں، اور وہ اس کے بھی قائل ہیں کہ وہ دوبارہ زمین پر نازل ہوں گے، جیسا کہ مسلمان اس کے قائل ہیں، اور جیسا کہ احادیثِ صحیحہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی خبر دی ہے، لیکن بہت سے نصاریٰ اس کے قائل ہیں کہ وہ مصلوب ہونے کے بعد آسمان پر چلے گئے، اور یہ کہ وہ قبر سے جی اُٹھے۔

اور بہت سے یہود اس کے قائل ہیں کہ وہ مصلوب ہوئے اور اپنی قبر سے نہیں اُٹھے۔

لیکن اہلِ اسلام اور بہت سے نصاریٰ اس کے قائل ہیں کہ وہ قیامت سے پہلے زمین پر نازل ہوں گے، اور یہ کہ ان کا نزول علاماتِ قیامت کے زُمرے میں شمار ہوتا ہے۔ جیسا کہ کتاب و سنت اس پر دلالت کرتے ہیں۔

اور بہت سے نصاریٰ اس کے قائل ہیں کہ ان کا نزول ہی قیامت ہے، اور مسیح ہی اللہ ہے جو مخلوق سے حساب لے گا۔‘‘

شیخ ولی الدینؒ صاحبِ مشکوٰۃ:

شیخ ولی الدین محمد بن عبیداللہ بن محمد الخطیب التبریزی الشافعی رحمہ اللہ اپنی شہرۂ آفاق کتاب ’’مشکوٰۃ المصابیح‘‘ میں (جس کی تالیف سے وہ ۷۳۷ھ میں فارغ ہوئے تھے) علاماتِ قیامت کے ضمن میں ’’ذکر دجال‘‘ اور ’’نزول عیسیٰ علیہ السلام‘‘ کا الگ الگ باب باندھا ہے اور ان کے تحت خروجِ دجال اور نزولِ عیسیٰ علیہ السلام کی احادیث درج کی ہیں۔

(صفحات:۴۷۲ تا ۴۸۱)

469

علامہ طیبیؒ:

مشکوٰۃ شریف میں ’’باب نزول عیسیٰ علیہ السلام‘‘ کے تحت سب سے پہلے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کی حدیث صحیح بخاری و صحیح مسلم کے حوالے سے درج کی گئی ہے، جس میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے حلفاً نزولِ عیسیٰ علیہ السلام کی خبر دی ہے، اور اس کی تائید کے لئے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے سورۂ نساء کی آیت:۱۵۹ ’’وَاِنْ مِّنْ اَھْلِ الْکِتٰبِ اِلّا لَیُؤْمِنَنَّ بِہٖ ۔۔۔إلخ‘‘ تلاوت فرمائی ہے۔

صاحبِ مشکوٰۃ کے اُستاذ اور مشکوٰۃ شریف کے اوّلین شارح الشیخ العلامہ شرف الدین حسین بن عبداللہ بن محمد الطیبی الشافعی رحمہ اللہ (متوفیٰ۷۴۳ھ) سے علامہ علی القاری رحمہ اللہ ’’مرقاۃ المفاتیح‘‘ میں نقل کرتے ہیں:

’’قال الطیبی رحمہ اللہ: استدل بالآیۃ علٰی نزول عیسٰی علیہ الصلاۃ والسلام فی آخر الزمان مصداقًا للحدیث۔
وتحریرہ أن الضمیرین فی (بہ وقبل موتہ) لعیسٰی علیہ السلام والمعنی أن من أھل الکتاب أحدٌ إلّا لیؤمننّ بعیسٰی قبل موت عیسٰی، وھم أھل الکتاب الذین یکونون فی زمان نزولہ فتکون الملّۃ واحدۃً وھی ملّۃ الْإسلام۔‘‘

(مرقاۃ ج:۵ ص:۲۲۱)

ترجمہ: … ’’علامہ طیبی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے حدیث کی تصدیق کے لئے آیتِ کریمہ سے آخری زمانے میں عیسیٰ علیہ السلام کے نزول پر اِستدلال کیا، تقریر اس کی یہ ہے کہ ’’بِہٖ‘‘ اور ’’مَوْتِہٖ‘‘ کی دونوں ضمیریں عیسیٰ علیہ السلام کی طرف راجع ہیں، اور آیت کے معنی یہ ہیں کہ اہلِ کتاب میں سے

470

ایک فرد بھی ایسا نہ رہے گا جو عیسیٰ علیہ السلام کی موت سے پہلے ان پر اِیمان نہ لے آئے، اور مراد وہ اہلِ کتاب ہیں جو ان کے نازل ہونے کے وقت موجود ہوں گے، اس وقت ایک ہی ملت باقی رہ جائے گی، یعنی دِینِ اسلام۔‘‘

اِمام حافظ ابنِ قیمؒ:

الامام الحافظ ابوبکر محمد بن ابی بکر الشہیر بابن القیم الجوزیہ رحمہ اللہ (۶۹۱ھ-۷۵۱ھ) نے اپنی متعدّد کتابوں میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے رفع و نزول کی تصریح کی ہے،’’اغاثۃ اللھفان من مکائد الشیطان‘‘ میں تحریر فرماتے ہیں:

’’وراموا قتلہ وصلبہ فصانہ اللہ تعالٰی من ذٰلک، ورفعہ إلیہ وطھّرہ منھم، فأوقعوا القتل والصلب علیٰ شبہہ، وھم یظنّون أنّہ رسول اللہ عیسٰی صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم ۔۔۔۔۔ فلم یقم لھم بعد ذٰلک مُلک إلٰی أن بعث اللہ تعالٰی محمدًا صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم فکفروا بہ وکذبوہ، فأتمّ علیھم غضبہ، ودمّرھم غایۃ التدمیر وألزمھم ذُلّا وصغارًا لَا یرفع عنھم إلٰی أن ینزل أخوہ المسیح من السماء، فیستأصل شأفتھم ویطھر الأرض منھم وعُبّاد الصلیب۔‘‘

(ص:۳۱۴)

ترجمہ: … ’’اور یہود نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے قتل وصلب کا اِرادہ کیا، پس اللہ تعالیٰ نے آپ کو اس سے بچالیا اور اپنی طرف اُٹھالیا اور یہود کی صحبت سے ان کو پاک کردیا، پس یہودیوں نے ایک ایسے شخص کو جو آپ کا ہم شکل تھا قتل کیا اور سولی دی اور وہ یہی سمجھتے تھے کہ یہ اللہ کا رسول عیسیٰ ہے۔

471

چنانچہ اس کے بعد یہودیوں کی سلطنت قائم نہ ہوسکی، یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو مبعوث فرمایا، یہودیوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ بھی کفر و تکذیب کا معاملہ کیا، پس اللہ تعالیٰ نے ان پر اپنا غضب پورا کردیا اور ان کو پوری طرح تباہ وبرباد کردیا اور ان پر ذِلت و حقارت لازم کردی، جو ان سے کبھی رفع نہیں ہوگی، یہاں تک کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بھائی حضرت مسیح علیہ السلام آسمان سے نازل ہوں گے تو ان کی بیخ وبنیاد اُکھاڑ دیں گے، اور زمین کو ان سے اور صلیب پرستوں کے وجود سے پاک کردیں گے۔‘‘

اور ’’ہدایۃ الحیازی‘‘ میں حضرت مسیح علیہ السلام کے قول ’’اور میں باپ سے درخواست کروں گا تو وہ تمہیں دُوسرا مددگار بخشے گا کہ ابد تک تمہارے ساتھ رہے گا۔‘‘ (یوحنا۱۴:۱۶) کی شرح کرتے ہوئے حافظ ابنِ قیمؒ لکھتے ہیں:

’’وأما المسیح فإنما سألہ بعد رفعہ وصعودہ إلی السماء۔‘‘

(ص:۵۴۱)

ترجمہ: … ’’لیکن مسیح علیہ السلام نے یہ درخواست آسمان پر اُٹھائے جانے کے بعد ہی کی ہوگی۔‘‘

اس کے بعد مسیح علیہ السلام کے ایک اور قول کی شرح کرتے ہوئے لکھتے ہیں:

’’وتأمل قول المسیح: إنی لست أدعکم أیتامًا لأنی سآتیکم عن قریب، کیف ھو مطابق لقول أخیہ محمد بن عبداللہ صلوات اللہ وسلامہ علیھما: ’’ینزل فیکم ابن مریم حَکَمًا عدلًا وإمامًا مقسطًا، فیقتل الخنزیر ویکسر الصلیب ویضع الجزیۃ۔‘‘
وأوصی اُمّتہ بأن ’’یقرأہ السلام منہ من لقیہ منھم۔‘‘
472
وفی حدیث آخر: ’’کیف تھلک اُمّۃٌ أنا فی أوّلھا وعیسٰی فی آخرھا۔‘‘

(ص:۵۴۵)

ترجمہ: … ’’اور حضرت مسیح علیہ السلام کے اس قول پر کہ میں تم کو یتیم نہیں چھوڑوں گا، کیونکہ میں عنقریب تمہارے پاس آؤں گا۔ غور کرو کہ یہ قول ان کے بھائی محمد بن عبداللہ صلوات اللہ وسلامہ‘ علیہما کے ارشاد کے کس طرح مطابق ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم میں مسیح ابنِ مریم اِمامِ عادل اور حاکمِ منصف بن کر نازل ہوں گے، پس خنزیر کو قتل کریں گے، صلیب کو توڑ ڈالیں گے اور جزیہ موقوف کردیں گے۔ نیز آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی اُمت کو وصیت فرمائی کہ ’’ان میں سے جو شخص عیسیٰ علیہ السلام سے ملے وہ ان کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا سلام کہے۔‘‘ ایک اور حدیث میں ہے کہ: ’’وہ اُمت کیسے ہلاک ہوسکتی ہے جس کے شروع میں میں ہوں، اور آخر میں عیسیٰ علیہ السلام ہیں۔‘‘

اسی کتاب میں حافظ ابنِ قیمؒ نے ایک عنوان یہ قائم کیا ہے:

’’الیھود کذبوا مسیح الھدی وینتظرون مسیح الضلال المسیح وأصحابہ یقتلونھم شر قتلۃٍ۔‘‘

ترجمہ: … ’’یہود نے مسیحِ ہدایت کی تکذیب کی اور وہ مسیحِ ضلالت (دجال) کے منتظر ہیں، حضرت مسیح اور ان کے رُفقاء، یہود کو بُری طرح قتل کریں گے۔‘‘

اس کے تحت حافظ ابنِ قیمؒ لکھتے ہیں کہ یہود نے مسیحِ ہدایت حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی تکذیب کی، اس کا عوض ان کو یہ ملا کہ یہ لوگ مسیحِ ضلالت دجال کا اِنتظار کررہے ہیں، یہی لوگ دجال کا لشکر ہوں گے اور سب سے زیادہ اس کی پیروی کریں گے، دجال کے زمانے میں یہود کو حکومت و شوکت نصیب ہوگی:

473
’’إلٰی أن ینزل مسیح الھدیٰ ابن مریم فیقتل منتظرھم ویضع ھو وأصحابہ فیھم السیوف حتّٰی یختبیء الیھودی وراء الحجر والشجر فیقولَان: یا مسلم! ھٰذا یہودی ورائی، تعال فاقتلہ۔ فإذا نظف الأرض منھم ومن عبادۃ الصلیب ۔۔۔۔ إلٰی قولہ: ھٰکذا أخبر بہ شعیًا فی نبوتہ، وطابق خبرہ ما أخبر بہ النبی صلی اللہ علیہ وسلم فی الحدیث الصحیح فی خروج الدَّجَّال وقتل المسیح ابن مریم لہ۔‘‘

(ص:۵۸۵)

ترجمہ: … ’’یہاں تک کہ مسیحِ ہدایت حضرت عیسیٰ ابن مریم علیہ السلام نازل ہوں گے، ان کے منتظر کو قتل کریں گے، اور آپ اور آپ کے رُفقاء، یہود کو تلوار کی دھار پر رکھیں گے، یہاں تک کہ یہودی حجر و شجر کے پیچھے چھپیں گے، تو وہ بھی پکار اُٹھیں گے کہ: اے مسلم! یہ یہودی میرے پیچھے چھپا ہوا ہے، آ اس کو قتل کر۔ پس جب زمین یہود اور پرستارانِ صلیب سے پاک ہوجائے گی تو زمین میں امن ہوجائے گا ۔۔۔۔۔ حضرت شعیا علیہ السلام نے اپنی پیش گوئی میں اسی کی خبر دی ہے، اور ان کی خبر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی اس خبر کے مطابق ہے جو دجال کے خروج اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے اس کو قتل کرنے کے سلسلے میں حدیثِ صحیح میں وارِد ہے۔‘‘

اسی کتاب میں ایک جگہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت مسیح علیہ السلام کی جو براء ت ظاہر فرمائی، اس کا تذکرہ کرتے ہوئے اِمام ابنِ قیمؒ لکھتے ہیں:

’’وإنّ رَبّہ تعالٰی أکرم عبدہ ورسولہ، ونزھہ وصانہ أن ینال إخوان القردۃ منہ ما زعمتہ النصاریٰ أنھم نالوہ منہ، بل رفعہ اللہ إلیہ مؤیدًا منصورًا لم یشکہ
474

أعدائہ بشوکۃ، ولَا نالتہ أیدیھم بأذی، فرفعہ اللہ إلیہ وأسکنہ سمائہ وسیعیدہ إلی الأرض، ینتقم بہ من مسیح الضلال وأتباعہ، ثم یکسر بہ الصلیب، ویقتل بہ الخنزیر، ویعلی بہ الْإسلام وینصر بہ ملّۃ أخیہ، وأولی الناس بہ محمد علیھما أفضل الصلاۃ والسلام۔‘‘

(ص:۵۴۵)

ترجمہ: … ’’اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بھی بتایا کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے بندے اور رسول حضرت مسیح علیہ السلام کی عزّت افزائی فرمائی اور ان کو یہود کی اس دست بُرد اور اِیذارسانی سے محفوظ رکھا، جس کو نصاریٰ (اپنی حماقت سے) تسلیم کر رہے ہیں، بلکہ اللہ تعالیٰ نے اپنی تائید ونصرت سے ان کو اپنی طرف اُٹھالیا، ان کے دُشمن ان کے کانٹا چبھونے اور اپنے ہاتھوں کسی قسم کی اِیذا پہنچانے میں کامیاب نہ ہوسکے، پس اللہ تعالیٰ نے ان کو اپنی طرف اُٹھالیا اور ان کو اپنے آسمان میں ٹھہرایا اور اللہ تعالیٰ عنقریب ان کو دوبارہ دُنیا میں بھیجیں گے، اس آمد سے آپ مسیحِ ضلالت دجال اور اس کے پیروؤں سے انتقام لیں گے، پھر صلیب کو توڑ دیں گے، خنزیر کو قتل کریں گے، اور اِسلام کو سربلند فرمائیں گے، اور اپنے بھائی اور سب سے زیادہ تعلق رکھنے والی شخصیت حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی ملت کی تائید کریں گے۔‘‘

کتاب الروح (ص:۱۷) میں لکھتے ہیں:

’’وفی قصۃ الْإسراء من حدیث عبداللہ بن مسعود ۔۔۔۔ فقال عیسٰی: عھد اللہ إلیّ فیما دون وجبتھا فذکر خروج الدَّجَّال قال: فأھبط وأقتلہ۔‘‘
475

ترجمہ: … ’’واقعۂ معراج میں حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کی حدیث میں ہے کہ ۔۔۔۔۔۔ عیسیٰ علیہ السلام نے فرمایا کہ: اللہ تعالیٰ نے مجھ سے قربِ قیامت کے بارے میں ایک عہد کر رکھا ہے، پھر آپ نے ذِکر کیا کہ دجال نکلے گا، تو میں اُترکر اسے قتل کروں گا۔‘‘

قصیدہ نونیہ (ص:۱۹۰) میں لکھتے ہیں:

’’وکذٰلک رفع الروح عیسَی المرتضٰی

حقًّا إلیہ جاء فی القرآن

وکذٰلک أخبر اللہ عن عیسٰی روح اللہ وکلمتہ أنہ رفعہ إلیہ لما أراد الیھود قتلہ قال تعالٰی فی سورۃ آل عمران: {وَاِذْ قَالَ اللہُ یٰعِیْسٰٓی اِنِّیْ مُتَوَفِّیْکَ وَرَافِعُکَ اِلَیَّ وَمُطَھِّرُکَ مِنَ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا} وقال فی سورۃ النساء: {بَلْ رَّفَعَہُ اللہُ اِلَیْہِ وَکَانَ اللہُ عَزِیْزًا حَکِیْمًا} وقد روی البخاری ومسلم فی ’’صحیحھما‘‘ عن أبی ھریرۃ رضی اللہ عنہ قال: قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم: ’’کیف أنتم إذا نزل ابن مریم من السماء فیکم وإمامکم منکم‘‘ والمراد بھٰذا نزولہ من السماء بعد رفعہ إلی اللہ عزّ وجلّ۔‘‘

(شرح القصیدۃ النونیۃ ص:۱۹۰)

ترجمہ: … ’’اسی طرح قرآن میں وارِد ہے کہ اللہ تعالیٰ نے عیسیٰ رُوح اللہ علیہ السلام کو حقیقتاً اپنی طرف اُٹھالیا۔

شرح: … اسی طرح اللہ تعالیٰ نے حضرت عیسیٰ رُوح اللہ وکلمۃ اللہ علیہ السلام کے بارے میں خبر دی ہے کہ جب یہود نے ان

476

کو قتل کرنے کا اِرادہ کیا تو اللہ تعالیٰ نے ان کو اپنی طرف اُٹھالیا، چنانچہ سورۂ آل عمران میں اللہ تعالیٰ نے اِرشاد فرمایا: ’’اور جب فرمایا اللہ تعالیٰ نے کہ اے عیسیٰ! بے شک میں تجھے اپنے قبضے میں لینے والا ہوں اور تجھے اپنی طرف اُٹھانے والا ہوں، اور ان کافروں سے تجھے پاک کرنے والا ہوں۔‘‘

اور سورۂ نساء میں فرمایا: ’’بلکہ اللہ تعالیٰ نے ان کو اپنی طرف اُٹھالیا اور اللہ تعالیٰ بڑے زبردست ہیں، بڑی حکمت والے ہیں۔‘‘

اور صحیح بخاری وصحیح مسلم کی حدیث میں حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

’’تم لوگ کیسے ہوگے جبکہ حضرت عیسیٰ بن مریم علیہ السلام تم میں آسمان سے نازل ہوں گے، اور وہ تم میں شامل ہوکر تمہارے اِمام ہوں گے۔‘‘

اور مراد اس سے آسمان سے نازل ہونا ہے بعد اس کے کہ ان کو اللہ تعالیٰ کی طرف اُٹھالیا گیا۔‘‘

’’وإلیہ قد عرج الرسول حقیقۃ

وکذا ابن مریم مصعد الأبدان

وأن الرسول صلی اللہ علیہ وسلم قد عرج إلیہ لیلۃ الْإسراء عروجًا حقیقۃً حتّٰی کان منہ قاب قوسین أو أدنٰی وأن عیسٰی علیہ السلام قد رفعہ اللہ إلیہ ببدنہ کما نطقت بذٰلک الآیات من سورتی النساء وآل عمران۔‘‘

(شرح القصیدۃ النونیۃ ص:۳۰۳)

ترجمہ: … ’’اور اللہ تعالیٰ ہی کی طرف آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو حقیقتاً معراج ہوئی، اسی طرح حضرت عیسیٰ علیہ السلام

477

جسمانی طور پر اُٹھالئے گئے۔

شرح: … اور بلاشبہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو شبِ معراج میں اللہ تعالیٰ کی طرف عروجِ حقیقی نصیب ہوا، یہاں تک کہ دو کمانوں کے فاصلے تک پہنچے بلکہ اس سے بھی قریب تر۔ بلاشبہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو اللہ تعالیٰ نے ان کے بدن سمیت اپنی طرف اُٹھالیا جیسا کہ سورۂ آل عمران اور سورۂ نساء کی آیتیں اس پر ناطق ہیں۔‘‘

’’وإلیہ قد صعد الرسول وقبلہ

عیسَی ابن مریم کاسر الصلبان

وإن الرسول صلی اللہ علیہ وسلم قد صعد إلیہ لیلۃ المعراج حتّٰی کان قاب قوسین أو أدنٰی، فکلمہ وناجاہ وفرض علیہ وعلٰی اُمّتہ الصلاۃ، وأنہ سبحانہ قبل ذٰلک قد رفع إلیہ عیسَی ابن مریم بجسدہ حیًّا کما قال تعالٰی: {یٰعِیْسٰٓی اِنِّیْ مُتَوَفِّیْکَ وَرَافِعُکَ اِلَیَّ} وسینزل قرب قیام الساعۃ فیکسر الصلیب ویقتل الخنزیر ویضع الجزیۃ کما ورد الحدیث الصحیح بذٰلک۔‘‘

(شرح القصیدۃ النونیۃ ص:۳۷۸)

ترجمہ: … ’’اور اسی کی طرف رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو صعود ہوا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے پہلے حضرت عیسیٰ ابن مریم کو، جو صلیبوں کے توڑنے والے ہیں۔

شرح: … اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے شبِ معراج میں اللہ تعالیٰ کی طرف صعود کیا، یہاں تک کہ دو کمانوں کا یا اس سے بھی کم فاصلہ رہ گیا۔ پس اللہ تعالیٰ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو

478

ہم کلامی اور مناجات کا شرف بخشا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی اُمت پر نماز فرض فرمائی۔

اور اس سے قبل اللہ تعالیٰ نے حضرت عیسیٰ بن مریم علیہ السلام کو جسدِ عنصری کے ساتھ زندہ اُٹھالیا، جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا اِرشاد ہے: ’’اے عیسیٰ! بے شک تجھے میں قبضے میں لینے والا ہوں اور اپنی طرف اُٹھانے والا ہوں۔‘‘ اور عنقریب قربِ قیامت میں نازل ہوں گے، پس صلیب کو توڑ ڈالیں گے اور خنزیر کو قتل کردیں گے اور جزیہ کو موقوف کردیں گے، جیسا کہ صحیح حدیث میں وارِد ہوا ہے۔‘‘

خواجہ سلطان المشائخ نظام الدینؒ اولیاء:

میرخورد سیّد مبارک علوی کرمانی رحمۃ اللہ علیہ نے حضرت سلطان المشائخ خواجہ نظام الدین اولیاء رحمۃ اللہ علیہ (متوفیٰ۷۲۵ھ) کی زبان مبارک سے خواجہ حکیم سنائیؒ کی مثنوی کے کچھ اَشعار نقل کئے ہیں:

  1. دشت و کہسار گیر ہمچو وحوش

    خانماں را بماں بہ گربہ وموش

  2. خانہ کاں از برائے قوت کنند

    مور و زنبور و عنکبوت کنند

  3. قوت عیسیٰ چو زآسماں سازند

    ہم بداں جاش خانہ پر دازند

ترجمہ: … ’’وحشی جانوروں کی طرح جنگل اور کہسار کو اِختیار کر، گھر کو بلی اور چوہے کے لئے چھوڑ دے۔ روزی جمع کرنے کے لئے گھر بنانا چیونٹی، بھڑ اور مکڑی کا کام ہے، حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی روزی کا سامان چونکہ آسمان سے مہیا کیا گیا، ان کا گھر بھی اسی جگہ (آسمان پر) بنادیا گیا۔‘‘

479

فائدہ: … اس شعر سے ان تین بزرگوں کا عقیدہ معلوم ہوا کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی رہائش آسمان پر ہے:

حکیم سنائی رحمہ اللہ۔

سلطان المشائخ خواجہ نظام الدین اولیاء بدایونی رحمہ اللہ (متوفیٰ۷۲۵ھ)۔

میرخورد خواجہ سیّد محمد مبارک علوی کرمانی رحمہ اللہ (متوفیٰ۷۷۰ھ)۔

اِمام ابو حیانؒ:

اِمام ابوحیان اثیرالدین محمد بن یوسف بن علی بن یوسف بن حیان الاندلسی الغرناطی المالکی رحمہ اللہ (۶۵۴ھ-۷۵۴ھ) اپنی تفسیر ’’البحر المحیط‘‘ میں آیتِ کریمہ: ’’یٰعِیْسٰٓی اِنِّیْ مُتَوَفِّیْکَ وَرَافِعُکَ اِلَیَّ‘‘ کے تحت لکھتے ہیں:

’’وأجمعت الاُمّۃ علٰی ما تضمنہ الحدیث المتواتر من أن عیسٰی فی السماء حیٌّ وأنہ ینزل فی آخر الزمان۔‘‘

(البحر المحیط ص:۵۴۵)

ترجمہ: … ’’اور اُمت کا حدیثِ متواتر کے اس مضمون پر اِجماع ہے کہ عیسیٰ علیہ السلام آسمان میں زندہ ہیں، اور یہ کہ وہ آخری زمانے میں نازل ہوں گے۔‘‘

اور اپنی تفسیر’’النھر الماد من البحر‘‘ میں (جو ’’البحر المحیط‘‘ کے حاشیہ پر طبع ہوئی ہے) لکھتے ہیں:

’’وأجمعت الاُمّۃ علٰی أن عیسٰی حیٌّ فی السماء ینزل إلی الأرض۔‘‘

(البحر المحیط ج:۲ ص:۴۷۳)

ترجمہ: … ’’اور اُمت کا اس عقیدے پر اِجماع ہے کہ عیسیٰ آسمان میں زندہ ہیں اور زمین پر نزول فرمائیں گے۔‘‘

اور آیتِ کریمہ:’’بَلْ رَّفَعَہُ اللہُ اِلَیْہِ‘‘ کے تحت لکھتے ہیں:

480
’’قولہ: {بَلْ رَّفَعَہُ اللہُ اِلَیْہِ} ھٰذا إبطال لما ادعوہ من قتلہ وصلبہ وھو حیٌّ فی السماء الثانیۃ علٰی ما صَحّ عن الرسول صلی اللہ علیہ وسلم فی حدیث المعراج وھو ھناک مقیم حتّٰی ینزل اللہ إلی الأرض لقتل الدَّجَّال ولملأھا عدلًا کما ملئت جورًا ویحیی فیھا أربعین سنۃ ثم یموت کما تموت البشر۔‘‘

(البحر المحیط ج:۳ ص:۳۹۱)

ترجمہ: … ’’حق تعالیٰ کا اِرشاد ہے: ’’بلکہ اُٹھالیا اللہ نے اس کو اپنی طرف۔‘‘ یہ یہود کے دعویٔ قتل و صلب کی تردید ہے، اور عیسیٰ علیہ السلام دُوسرے آسمان میں زندہ ہیں، جیسا کہ حدیثِ معراج میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے صحیح طور پر ثابت ہے۔ وہ وہیں قیام پذیر رہیں گے یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ ان کو قتلِ دجال کے لئے زمین پر نازل کرے گا، اور وہ زمین کو عدل و اِنصاف سے بھردیں گے، جیسا کہ وہ ظلم سے بھری ہوئی ہوگی، اور وہ زمین میں چالیس سال زندہ رہیں گے پھر وفات پائیں گے، جیسا کہ انسانوں کو موت آتی ہے۔‘‘

اور سورۂ اَحزاب کی آیتِ ختمِ نبوّت کے تحت لکھتے ہیں:

’’وروی عنہ علیہ السلام ألفاظٌ تقتضی نصًّا أنّہ لَا نبی بعدہ صلی اللہ علیہ وسلم والمعنی أنہ لَا یتنبأ أحد بعدہ، ولَا یرد نزول عیسٰی آخر الزمان لأنہ ممن نبّیء قبلہ وینزل عاملًا علٰی شریعۃ محمد صلی اللہ علیہ وسلم مُصلّیًا إلٰی قبلتہ کأنّہ بعض اُمّتہ۔‘‘

(البحر المحیط ج:۷ ص:۲۳۶)

481

ترجمہ: … ’’اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے ایسے الفاظ مروی ہیں جو اس عقیدے پر نصِ قطعی ہیں کہ: ’’آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد کوئی نبی نہیں۔‘‘ اور اس کا مطلب یہ ہے کہ آپ کے بعد کسی کو نبوّت عطا نہیں کی جائے گی، اور عیسیٰ علیہ السلام کا آخری زمانے میں نازل ہونا اس لئے محلِ اِشکال نہیں کیونکہ ان کو نبوّت آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے پہلے مل چکی ہے اور وہ نازل ہوکر محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی شریعت پر عمل کریں گے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہی کے قبلے کی طرف رُخ کریں گے، گویا آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہی کی اُمت کے ایک فرد ہوں گے۔‘‘

اور سورۂ زُخرف کی آیتِ کریمہ:’’وَاِنَّہٗ لَعِلْمٌ لِّلسَّاعَۃِ‘‘ کے تحت لکھتے ہیں:

’’والظاھر أنّ الضمیر فی {وَاِنَّہٗ لَعِلْمٌ لِّلسَّاعَۃِ} یعود علٰی عیسٰی إذا الظاھر فی الضمائر السابقۃ أنھا عائدۃ علیہ، وقال ابن عباس ومجاھد وقتادۃ والحسن والسدی والضحاک وابن زید: أی وإن خروجہ لعلم للساعۃ یدل علٰی قرب قیامھا إذ خروجہ شرط من أشراطھا وھو نزولہ من السماء فی آخر الزمان۔‘‘

(البحر المحیط ج:۸ ص:۳۵)

ترجمہ: … ’’ظاہر ہے کہ ’’اِنَّہٗ‘‘ کی ضمیر عیسیٰ علیہ السلام کی طرف لوٹتی ہے، کیونکہ ظاہری طور پر سابقہ تمام ضمیریں بھی ان ہی کی طرف لوٹتی ہیں۔ اور ابنِ عباسؓ، مجاہدؒ، قتادہؒ، حسن بصریؒ، سدیؒ، ضحاکؒ اور ابنِ زیدؒ فرماتے ہیں کہ آیت کا مطلب یہ ہے کہ عیسیٰ علیہ السلام کا آخری زمانے میں ظاہر ہونا قیامت کی علامت ہے جو قربِ قیامت پر دَلالت کرتی ہے کیونکہ آخری زمانے میں ان کا آسمان

482

سے نازل ہونا علاماتِ قیامت میں سے ہے۔‘‘

حافظ ابنِ کثیرؒ:

اِمام حافظ عمادالدین ابوالفداء اِسماعیل بن الخطیب ابی حفص عمر بن کثیر القرشی الدمشقی الشافعی رحمہ اللہ (متوفیٰ۷۷۴ھ) نے اپنی تفسیر میں متعدّد جگہ عیسیٰ علیہ السلام کے آسمان پر اُٹھائے جانے اور آخری زمانے میں نازل ہونے کی تصریحات بڑی تفصیل سے نقل کی ہیں (دیکھئے: جلد اوّل ص:۳۶۵ تا ۳۶۷، اور ص:۵۷۴ تا ۵۸۳)۔

آیتِ کریمہ’’وَمَکَرُوْا وَمَکَرَ اللہُ‘‘ کے تحت لکھتے ہیں:

’’فلما أحاطوا بمنزلہ وظنوا أنھم قد ظفروا بہ نجاہ اللہ تعالٰی من بینھم ورفعہ من روزنۃ ذٰلک البیت إلی السماء، وألقی اللہ شبھہ علٰی رجل ممن کان عندہ فی المنزل، فلمّا دخل أولٰٓئک اعتقدوہ فی ظلمۃ اللیل عیسٰی، فأخذوہ وأھانوہ ووضعوا علٰی رأسہ الشوک وکان ھٰذا من مکر اللہ لھم، فإنّہ نجّی نبیّہ ورفعہ من بین أظھرھم۔‘‘

(تفسیر ابن کثیر ج:۱ ص:۳۶۵)

ترجمہ: … ’’پس جب انہوں نے آپ کے مکان کا گھیرا ڈال لیا اور گمان کیا کہ آپ کو پکڑنے میں کامیاب ہوگئے ہیں، تو اللہ تعالیٰ نے آپ کو ان کے درمیان سے نکال لیا اور اس مکان کے روشن دان سے آسمان کی طرف اُٹھالیا، اور اللہ تعالیٰ نے آپ کی شباہت مکان میں موجود لوگوں میں سے ایک شخص پر ڈال دی، پس جب یہودی مکان میں داخل ہوئے تو رات کی تاریکی میں اسی کو عیسیٰ سمجھا، اسے پکڑ لیا، اس کی اہانت کی اور اس کے سر پر کانٹوں کا تاج رکھا اور یہ اللہ تعالیٰ کی یہودیوں کے مقابلے میں خفیہ تدبیر تھی کہ اپنے نبی کو ان سے بچالیا اور اس کو ان کے درمیان سے اُٹھالیا۔‘‘

483

آیتِ کریمہ:’’وَاِنَّہٗ لَعِلْمٌ لِّلسَّاعَۃِ‘‘ کے تحت لکھتے ہیں:

’’بل الصحیح أنہ عائد علٰی عیسٰی علیہ الصلاۃ والسلام فإن السّیاق فی ذکرہ ثم المراد بذٰلک نزولہ قبل یوم القیامۃ کما قال تبارک وتعالٰی: {وَاِنْ مِّنْ اَھْلِ الْکِتٰبِ اِلّا لَیُؤْمِنَنَّ بِہٖ قَبْلَ مَوْتِہٖ} أی قبل موت عیسٰی علیہ الصلاۃ والسلام، {ثُمَّ یَوْمَ الْقِیٰمَۃِ یَکُوْنُ عَلَیْھِمْ شَھِیْدًا}۔
ویؤید ھٰذا المعنی القرائۃ الاُخریٰ: ’’وَاِنَّہٗ لَعَلَمٌ لِّلسَّاعَۃِ‘‘ أی أمارۃ ودلیل علٰی وقوع الساعۃ قال مجاھد: {وإنہ لعلم للساعۃ} أی آیۃ للساعۃ خروج عیسَی ابن مریم علیہ السلام قبل یوم القیامۃ، وھٰکذا روی عن أبی ھریرۃ وابن عباس وأبی العالیۃ وأبی مالک وعکرمۃ والحسن وقتادۃ والضحاک وغیرھم، وقد تواترت الأحادیث عن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم أنہ أخبر بنزول عیسٰی علیہ السلام قبل یوم القیامۃ إمامًا عادلًا وحَکَمًا مقسطًا۔‘‘

(ج:۴ ص:۱۳۲، ۱۳۳)

ترجمہ: … ’’بلکہ صحیح یہ ہے کہ ’’اِنَّہٗ‘‘ کی ضمیر عیسیٰ علیہ السلام کی طرف راجع ہے کیونکہ سلسلۂ کلام انہی کے تذکرے میں ہے، اور مراد اس سے ان کا قیامت سے پہلے نازل ہونا ہے جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے (سورۂ نساء کی آیت:۱۵۹ میں) فرمایا: ’’اور نہیں کوئی اہلِ کتاب میں سے مگر ضرور اِیمان لائے گا ان پر ان کی موت سے پہلے‘‘ یعنی عیسیٰ علیہ السلام کی موت سے پہلے، ’’پھر وہ ہوں گے قیامت کے دن ان پر گواہ۔‘‘

484

اور اس مضمون کی تائید آیت کی دُوسری قراء ت ’’وَاِنَّہٗ لَعَلَمٌ لِّلسَّاعَۃِ‘‘ سے بھی ہوتی ہے، یعنی عیسیٰ علیہ السلام کا نزول قیامت کی نشانی ہے۔ اِمام مجاہد رحمہ اللہ ’’وَاِنَّہٗ لَعَلَمٌ لِّلسَّاعَۃِ‘‘ کی تفسیر میں فرماتے ہیں کہ قیامت کی نشان ہے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا ظاہر ہونا قیامت سے پہلے۔ اور حضرت ابوہریرہ، ابنِ عباس رضی اللہ عنہم، ابوالعالیہؒ، ابومالکؒ، عکرمہؒ، حسن بصریؒ، قتادہؒ، ضحاکؒ اور دیگر حضرات سے بھی اسی طرح کی تفسیر مروی ہے۔ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے متواتر اَحادیث مروی ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے قیامت سے پہلے عیسیٰ علیہ السلام کے اِمامِ عادل اور حاکمِ منصف کی حیثیت سے نازل ہونے کی خبر دی ہے۔‘‘

اور اِمام ابنِ کثیرؒ اپنی تاریخ ’’البدایۃ والنہایۃ‘‘ میں ’’رفع عیسیٰ علیہ السلام إلی السماء فی حفظ الربّ وبیان کذب الیھود والنصاریٰ فی دعوی الصلب‘‘ کے عنوان کے تحت سورۂ آل عمران اور سورۂ نساء کی آیات نقل کرکے لکھتے ہیں:

’’فأخبر تعالٰی أنہ رفعہ إلی السماء بعد ما توفاہ بالنوم علی الصحیح المقطوع بہ، وخلصہ ممکن کان أراد أذیتہ من الیھود۔‘‘

(ج:۲ ص:۹۱)

ترجمہ: … ’’پس اللہ تعالیٰ نے خبر دی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے نیند کی حالت میں عیسیٰ علیہ السلام کو آسمان پر اُٹھالیا، اور جو یہود کہ آپ کے درپے ایذا تھے ان سے آپ کو چھڑالیا۔‘‘

’’وأخبر تعالٰی بقولہ:{وَاِنْ مِّنْ اَھْلِ الْکِتٰبِ اِلّا لَیُؤْمِنَنَّ بِہٖ قَبْلَ مَوْتِہٖ} أی بعد نزولہ إلی الأرض فی آخر الزمان قبل قیام الساعۃ، فإنہ ینزل ویقتل الخنزیر
485

ویکسر الصلیب ویضع الجزیۃ ولَا یقبل إلّا الْإسلام کما بیّنا ذٰلک بما ورد فیہ من الأحادیث عند تفسیر ھٰذہ الآیۃ الکریمۃ من سورۃ النساء وکما سنورد ذٰلک مستقصی فی کتاب الفتن والملاحم عند أخبار المسیح الدّجّال فنذکر ما ورد فی نزول المسیح الھدیٰ علیہ السلام من ذی الجلال لقتل المسیح الدّجّال الکذّاب الدّاعی إلی الضّلال وھذا ذکر ما ورد فی الآثار فی رفعہ إلی السماء۔‘‘

(ج:۲ ص:۹۲)

ترجمہ: … ’’اور اللہ تعالیٰ نے خبر دی ہے کہ ’’نہیں ہوگا کوئی اہلِ کتاب میں سے مگر اِیمان لائے گا عیسیٰ علیہ السلام پر ان کی موت سے پہلے۔‘‘ یعنی قیامت سے پہلے جب وہ زمین پر نازل ہوں گے خنزیر کو قتل کریں گے، صلیب کو توڑڈالیں گے، جزیہ موقوف کردیں گے اور صرف اِسلام قبول کریں گے، جیسا کہ ہم نے (اپنی تفسیر میں) اس آیت کی تفسیر کے تحت وہ احادیث ذِکر کی ہیں جو اس سلسلے میں وارِد ہوئی ہیں اور جیسا کہ عنقریب ہم کتاب الفتن والملاحم میں اس کو مکمل طور پر ذِکر کریں گے، جہاں مسیحِ دجال سے متعلق حالات آئیں گے، پس ہم وہ احادیث ذِکر کریں گے جو مسیحِ دجال کذّاب، جو گمراہی کا داعی ہوگا، کے قتل کرنے کے لئے حق تعالیٰ شانہ‘ کی جانب سے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے نازل ہونے کے بارے میں وارِد ہوئی ہیں۔ یہاں وہ آثار نقل کئے جاتے ہیں، جو ان کے آسمان کی طرف اُٹھائے جانے کے بارے میں منقول ہیں (یہاں تفصیل سے رفعِ آسمانی کی روایات درج کی ہیں)۔‘‘

حسبِ وعدہ اِمام ابنِ کثیرؒ نے ’’نھایۃ البدایۃ‘‘ میں ۔۔۔جو ان کی تاریخ کا تکملہ

486

ہے۔۔۔ تفصیل سے خروجِ دجال اور نزولِ عیسیٰ علیہ السلام کی احادیث ذِکر کی ہیں۔

(ملاحظہ فرمائیے: ج:۱ ص:۱۶۰ تا ۱۷۶)

علامہ کرمانی:

الامام العلامہ شمس الدین محمد بن یوسف بن علی بن سعید الکرمانی الشافعی رحمہ اللہ (۷۱۷ھ-۷۸۶ھ) ’’الکوکب الدراری فی شرح البخاری‘‘ باب نزول عیسٰی کے تحت لکھتے ہیں:

’’أی من السماء إلی الأرض۔‘‘

(ج:۱۴ ص:۸۷)

ترجمہ: … ’’یعنی عیسیٰ علیہ السلام کے آسمان سے زمین پر نازل ہونے کا بیان۔‘‘

اسی باب کی حدیث’’وإمامکم منکم‘‘ کے تحت لکھتے ہیں:

’’یعنی یحکم بینکم بالقرآن لَا بالْإنجیل، أو أنہ یصیر معکم بالجماعۃ والْإمام من ھٰذہ الاُمّۃ۔‘‘

(ج:۱۴ ص:۸۸)

ترجمہ: … ’’یعنی وہ تمہارے درمیان قرآن کے مطابق فیصلہ کریں گے نہ کہ اِنجیل کے مطابق، یا یہ مطلب ہے کہ وہ تمہاری جماعت میں شامل ہوں گے، جبکہ اِمام اس اُمت میں سے ہوگا۔‘‘

علامہ تفتازانی:ؒ

علامہ سعدالدین مسعود بن عمر التفتازانی رحمہ اللہ (متوفیٰ۷۹۱ھ) شرح مقاصد میں ختمِ نبوّت کی بحث میں لکھتے ہیں:

’’فإن قیل: ألیس عیسٰی علیہ السلام حیًّا بعد نبیّنا صلی اللہ علیہ وسلم رفع إلی السماء، وسینزل إلی الدُّنیا، قلنا: بلٰی، ولٰـکنہ علٰی شریعۃ نبیّنا صلی اللہ علیہ وسلم لَا یسعہ إلّا اتّباعہ علٰی ما قال علیہ السلام فی حق
487

موسٰی علیہ السلام: إنّہ لو کان حیًّا لما وسعہ إلّا اتباعی، فیصح أنّہ خاتم الأنبیاء بمعنی أنہ لَا یبعث نبی بعدہ۔‘‘

(ج:۲ ص:۱۹۲)

ترجمہ: … ’’اگر کہا جائے کہ: ’’کیا یہ صحیح نہیں کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام ہمارے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد بھی زندہ ہیں، وہ آسمان پر اُٹھالئے گئے ہیں اور آخری زمانے میں دُنیا میں دوبارہ آئیں گے (تو پھر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم خاتم النبیین کیسے رہے؟)‘‘ ہم کہتے ہیں کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا زندہ ہونا اور دوبارہ تشریف لانا صحیح ہے، لیکن وہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی شریعت پر ہوں گے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی پیروی کے سوا انہیں کوئی گنجائش نہ ہوگی، جیسا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے موسیٰ علیہ السلام کے حق میں فرمایا کہ اگر وہ زندہ ہوتے تو ان کو میری پیروی کے سوا چارہ نہ ہوتا، پس آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا خاتم الانبیاء ہونا صحیح ہے، بایں معنی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد کوئی نبی نہیں بنایا جائے گا۔‘‘

نیز علاماتِ قیامت کی بحث میں لکھتے ہیں:

’’ومما یلحق بباب الْإمامۃ بحث خروج المھدی ونزول عیسٰی صلی اللہ علیہ وسلم وھما من أشراط الساعۃ۔‘‘

(ج:۲ ص:۳۰۷)

ترجمہ: … ’’بابِ اِمامت کے ملحقات میں خروجِ مہدی اور نزولِ عیسیٰ علیہ السلام کی بحث بھی ہے، اور یہ دونوں علاماتِ قیامت میں سے ہیں۔‘‘

نیز اسی ضمن میں لکھتے ہیں:

488
’’ھو وإن کان حینئذٍ من اتباع النبی صلی اللہ علیہ وسلم فلیس منعزلًا عن النبوّۃ فلا محالۃ أن یکون أفضل من الْإمام۔‘‘

(ج:۲ ص:۳۰۸)

ترجمہ: … ’’حضرت عیسیٰ علیہ السلام اس وقت اگرچہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے پیروکار ہوں گے، لیکن نبوّت سے معزول نہیں ہوں گے، اس لئے یقینا وہ اِمام مہدی سے افضل ہوں گے۔‘‘

شرح عقائد نسفی میں فرماتے ہیں:

’’ونزول عیسٰی علیہ السلام من السماء عند المنارۃ البیضاء فی شرقی دمشق ۔۔۔۔ حق ۔۔۔إلخ۔‘‘

(ص:۱۲۴)

ترجمہ: … ’’اور عیسیٰ علیہ السلام کا آسمان سے نازل ہونا دمشق کے مشرق میں سفید منارہ کے پاس حق ہے۔‘‘

نیز اسی کتاب میں مصنفؒ کے قول: ’’أوّل الأنبیاء آدم وآخرھم محمد صلی اللہ علیہ وسلم‘‘ کے تحت لکھتے ہیں:

’’فإن قیل: قد ورد فی الحدیث نزول عیسٰی علیہ السلام بعدہ، قلنا: نعم، لٰـکنہ یتابع محمدًا صلی اللہ علیہ وسلم، لأن شریعتہ قد نسخت ۔۔۔إلخ۔‘‘

(ص:۱۰۰)

ترجمہ: … ’’اگر کہا جائے کہ: حدیث میں وارِد ہوا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد عیسیٰ علیہ السلام نازل ہوں گے۔ ہم کہتے ہیں کہ: ہاں! ضرور نازل ہوں گے، مگر وہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی پیروی کریں گے، کیونکہ ان کی شریعت منسوخ ہوچکی ہے۔‘‘

اسی کتاب میں مصنفؒ کے قول: ’’وأفضل البشر بعد نبیّنا صلی اللہ علیہ

489

وسلم أبوبکر الصدیق رضی اللہ عنہ‘‘ کے تحت لکھتے ہیں:

’’والأحسن أن یقال: بعد الأنبیاء، لٰـکنہ أراد البعدیۃ الزمانیۃ، ولیس بعد نبیّنا صلی اللہ علیہ وسلم نبی ومع ذٰلک لَا بد من تخصیص عیسٰی علیہ السلام ۔۔۔إلخ۔‘‘

(ص:۱۰۷)

ترجمہ: … ’’بہتر یہ تھا کہ ’’بعد الانبیاء‘‘ کا لفظ کہا جاتا، لیکن مصنفؒ نے بعدیتِ زمانیہ مراد لی ہے، اور ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد کوئی نبی نہیں، مگر اس کے باوجود عیسیٰ علیہ السلام کی تخصیص لازم ہے (کہ وہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد نازل ہوں گے اور حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ سے افضل ہیں)۔‘‘

اِمام ابنِ زملکانی الشافعیؒ:

الامام العلامہ کمال الدین محمد بن علی بن عبدالواحد المعروف بابن الزملکانی رحمہ اللہ قاضی حلب (متوفیٰ۷۲۷ھ) اپنی کتاب ’’عجالۃ الراکب فی ذکر أشرف المناقب‘‘ میں لکھتے ہیں:

’’وذٰلک لأن النبی صلی اللہ علیہ وسلم دعوتہ عامۃ بعث إلی الأحمر والأسود والجنّ والْإنس ممن أدرکہ وجب علیہ اتباعہ، ألَا تریٰ إلٰی نزول عیسٰی علیہ الصلاۃ والسلام علٰی شریعتہ ناشرًا لدعوتہ مؤیدًا لملّتہ مصلّیًا خلف إمام اُمّتہ مقاتلًا لمظھر مخالفتہ۔‘‘

(بحوالہ جواہر البحار للنبھانی ص:۱۳۹۶)

ترجمہ: … ’’اور یہ اس لئے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی دعوت عام ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کالے گورے اور جن و اِنس سب کی طرف مبعوث ہیں، جو شخص بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا زمانہ

490

پائے اس پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی پیروی واجب ہے، کیا تم دیکھتے نہیں کہ عیسیٰ علیہ السلام آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی دعوت کو پھیلائیں گے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ملت کی تائید کریں گے، نماز میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی اُمت کے اِمام کی اِقتدا کریں گے، جو لوگ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی مخالفت کا اِظہار کرتے ہوں گے، ان سے قتال کریں گے۔‘‘

شیخ قطب الدین سہروردیؒ:

الشیخ الامام قطب الدین عبداللہ بن محمد بن ایمن الاصفہیدی الدمشقی السہروردی رحمہ اللہ (متوفیٰ ۷۸۰ھ) ’’رسالہ مکیہ‘‘ میں اُمتِ محمدیہ (علیٰ صاحبہا الف الف صلوٰۃ وسلام) کے فضائل کے ضمن میں لکھتے ہیں:

’’وہم چنیں دید عیسیٰ علیہ السلام فضائل وبزرگی ایں اُمت را در اِنجیل، پس گفت عیسیٰ علیہ السلام اے بارِ خدایا! بگر داں ایشاں را از اُمت من۔ پس گفت خداوند تعالیٰ نہ کنم من کہ ایشاں را از اُمت تو، بگر دانم، ایشاں را از اُمت احمد ومحمد مصطفی علیہ السلام۔ پس گفت عیسیٰ علیہ السلام اگر نگر دانی تو ایشاں را از اُمت من بگر داں مرا از ایشاں، پس برداشت عیسیٰ علیہ السلام را خداوند تعالیٰ سوئے آسماں تا دوکند عیسیٰ علیہ السلام را سوئے زمین در آخر الزماں، تا باشد ازیں اُمت مصطفی علیہ السلام یعنی عامل شریعت مصطفی بود ویکے از اُمتیانِ مصطفی شود۔‘‘

(شرح رسالہ مکیہ تصوّف قلمی ص:۴۰۰ و۴۰۱، ریز نمبر:۳۵۶)

ترجمہ: … ’’اسی طرح عیسیٰ علیہ السلام نے اس اُمت کے فضائل اِنجیل میں دیکھے تو عرض کیا کہ: اِلٰہی! اس اُمت کو میری اُمت بنادے۔ حکم ہوا کہ ان کو تمہاری اُمت نہ بناؤں گا، اس لئے

491

کہ میرے نبی محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی اُمت ہے۔ پس انہوں نے دُعا کی کہ مجھ کو اس اُمت میں داخل کردے، چنانچہ ان کی یہ دُعا قبول ہوگئی کہ حق تعالیٰ نے ان کو زِندہ آسمان پر اُٹھالیا، یہاں تک کہ آخر زمانے میں ان کو زمین پر اُتار کر اس اُمت میں شامل فرمائے گا۔‘‘

(ارشاد الملوک ص:۱۱۰، ۱۱۱)

اِمام تقی الدین سبکیؒ:

الامام العلامہ تقی الدین علی بن عبدالکافی السبکی الشافعی رحمہ اللہ (متوفیٰ۷۸۶ھ) اپنی کتاب ’’التعظیم والمنۃ فی تفسیر قولہ تعالٰی لَتُؤْمِنُنَّ بِہٖ وَلَتَنْصُرُنَّہٗ‘‘ میں طویل کلام کے بعد لکھتے ہیں:

’’فإذا عرف ذٰلک فالنبی صلی اللہ علیہ وسلم ھو نبی الأنبیاء ولھٰذا أظھر ذٰلک فی الآخر جمیع الأنبیاء تحت لوائہ، وفی الدنیا کذٰلک لیلۃ الْإسراء صلّٰی بھم، ولو اتفق مجیئہ فی زمن آدم ونوح وإبراھیم وموسٰی وعیسٰی وجب علیھم وعلٰی أُممھم الْإیمان بہ ونصرتہ، وبذٰلک أخذ اللہ المیثاق علیھم فنبوتہ علیھم ورسالتہ إلیھم معنی حاصل لہ ۔۔۔۔ فلو وجد فی عصرھم لزمھم اتباعھم بلا شک ولھٰذا یأتی عیسٰی فی آخر الزمان علٰی شریعتہ وھو نبی کریم علٰی حالتہ لَا کما یظن بعض الناس أنہ یأتی واحدًا من ھٰذہ الاُمّۃ نعم ھو واحد من ھٰذہ الأمّۃ لما قلناہ من اتباعہ للنبی صلی اللہ علیہ وسلم وإنما یحکم بشریعتہ نبیّنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم بالقرآن والسُّنّۃ وکل ما فیھا من أمر ونھی فھو متعلق بہ کما یتعلق سائر الاُمّۃ وھو نبی کریم
492

علٰی حالہ ولم ینقص منہ شیء۔‘‘

(بحوالہ شرح مواہب ج:۶ ص:۱۶۴، جواھر البحار للنبھانی ص:۳۶۴)

ترجمہ: … ’’پس جب یہ معلوم ہوا، تو ثابت ہوا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ’’نبی الانبیاء‘‘ ہیں، اسی بنا پر اس عظمت کو آخرت میں یوں ظاہر کیا گیا کہ تمام انبیائے کرام علیہم السلام آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے جھنڈے تلے جمع ہوئے، اسی طرح شبِ معراج میں بھی اس کا ظہور ہوا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سب کے اِمام ہوئے، اور اگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی تشریف آوری حضرت آدم، حضرت نوح، حضرت اِبراہیم، حضرت موسیٰ، حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے زمانے میں ہوتی تو ان پر اور ان کی اُمتوں پر واجب ہوتا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر اِیمان لائیں اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی نصرت کریں، اسی کا اللہ تعالیٰ نے ان سے عہد لیا، اس لئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا ان کے لئے نبی و رسول ہونا تو ایک ایسا وصف ہے جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو حاصل ہے ۔۔۔۔۔۔ پس اگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان کے زمانے میں موجود ہوتے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا اِتباع ان پر واجب ہوتا، یہی وجہ ہے کہ عیسیٰ علیہ السلام آخری زمانے میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی شریعت پر اُتریں گے، حالانکہ وہ بدستور نبیٔ مکرّم ہوں گے، ایسا نہیں جیسا کہ بعض لوگ سمجھتے ہیں کہ وہ محض اس اُمت کے ایک فرد بن کر آئیں گے، بلاشبہ وہ اس اُمت کے ایک فرد بھی ہوں گے، کیونکہ جیسا کہ ہم نے کہا، وہ ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی شریعت کے مطابق قرآن و سنت کے ساتھ حکم کریں گے اور شریعت کے تمام اَوامر ونواہی جیسا کہ دیگر اَفرادِ اُمت سے متعلق ہیں، ان کے متعلق بھی ہوں گے، اس کے باوجود وہ بدستور نبیٔ مکرّم ہوں گے،

493

ان کی نبوّت میں ذرا بھی کمی نہیں آئے گی۔‘‘

اِمام حافظ شمس الدین ذہبیؒ:

الامام الحافظ شمس الدین محمد بن احمد بن عثمان بن قایماز الذہبی رحمہ اللہ (۶۷۳ھ-۷۴۸ھ) ’’تجرید اسماء الصحابہ‘‘ میں لکھتے ہیں:

’’عیسَی ابن مریم علیہ السلام صحابی ونبی فإنہ رأی النبی صلی اللہ علیہ وسلم لیلۃ الْإسراء وسلّم علیہ فھو آخر الصحابۃ موتًا۔‘‘

(تجرید اسماء الصحابہ ج:۱ ص:۶۴۲، مطبوعہ دار المعارف النظامیہ، حیدرآباد دکن ۱۳۱۵ھ)

ترجمہ: … ’’عیسیٰ بن مریم علیہ السلام صحابی بھی ہیں اور نبی بھی، انہوں نے شبِ معراج میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی زیارت کی اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو سلام کیا، پس صحابہؓ میں سب سے آخر میں ان کی وفات ہوگی۔‘‘

حافظ ابنِ حجر عسقلانی رحمہ اللہ’’الْاصابۃ فی تمییز الصحابۃ‘‘ میں حضرت عیسیٰ علیٰ نبینا وعلیہ الصلوٰۃ والسلام کو صحابہ میں شمار کرتے ہوئے ان کے حالات لکھتے ہیں:

’’ذکرہ الذھبی فی ’’التجرید‘‘ مستدرکًا علٰی من قبلہ، فقال: عیسَی ابن مریم رسول اللہ (صلی اللہ علیٰ نبیّنا وعلیہ وسلم) رأی النبی صلی اللہ علیہ وسلم لیلۃ الْإسراء وسلَّم علیہ، فھو نبی وصحابی، وآخر من یموت من الصحابۃ۔‘‘

(الاصابہ ج:۳ ص:۵۱)

ترجمہ: … ’’اِمام ذہبیؒ نے ’’تجرید اسمائے صحابہ‘‘ میں حضرت عیسیٰ (علیٰ نبینا وعلیہ الصلوٰۃ والسلام) کو بھی ذِکر کیا ہے، چنانچہ وہ لکھتے ہیں: عیسیٰ بن مریم رسول اللہ (صلی اللہ علیٰ نبینا وعلیہ وسلم) نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی شبِ معراج میں زیارت کی

495

اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو سلام کیا، پس وہ نبی بھی ہیں اور صحابی بھی۔ اور وہ صحابہ میں آخری شخص ہیں جن کا اِنتقال ہوگا۔‘‘

حافظ تاج الدین ابن السبکیؒ ’’طبقات الشافعیۃ الکبریٰ‘‘ میں حافظ شمس الدین الذہبیؒ کے تذکرے میں لکھتے ہیں:

’’قال لی شیخنا الذھبی مرۃ: من فی الاُمّۃ أفضل من أبی بکر الصدیق رضی اللہ عنہ بالْإجماع؟ فقلت: یفیدنا الشیخ۔
فقال: عیسَی ابن مریم علیہ السلام، فإنہ من اُمّۃ المصطفی صلی اللہ علیہ وسلم، ینزل علٰی باب دمشق، ویأتَمّ فی صلاۃ الصّبح بإمامھا، ویحکم بھٰذہ الشریعۃ۔‘‘

(طبقات الشافعیۃ الکبریٰ ج:۹ ص:۱۱۵)

ترجمہ: … ’’ایک مرتبہ ہمارے شیخ اِمام ذہبیؒ نے فرمایا: بتاؤ! اُمت میں وہ کون شخص ہے جو حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ سے بالاجماع افضل ہے؟ میں نے عرض کیا کہ: حضرت ارشاد فرمائیں! فرمایا: یہ حضرت عیسیٰ بن مریم علیٰ نبینا وعلیہ الصلوٰۃ والسلام ہیں، کیونکہ اُمتِ مصطفی میں شامل ہیں، بابِ دمشق پر نازل ہوں گے، نمازِ فجر میں اِمام مہدیؓ کی اِقتدا کریں گے اور ہماری شریعت کے مطابق حکم کریں گے۔‘‘

اِمام تاج الدین سبکیؒ طبقات الشافعیۃ الوسطیٰ میں اِمام شمس الدین الذہبیؒ کی تصنیفات کا ذِکر کرتے ہوئے لکھتے ہیں:

’’ولہ کتاب الروع والأوجال فی نبأ المسیح الدّجّال، وھو حسن قرائتہ علیہ وانتقی وخرّج، ودخل فی کل باب من أبواب الحدیث وخرج۔‘‘

(طبقات الشافعیۃ الکبریٰ ج:۹ ص:۱۰۵، من الہامش)

496

ترجمہ: … ’’اِمام ذہبیؒ کی ایک کتاب ’’الروع والاوجال فی نبأ الدجال‘‘ ہے، عمدہ کتاب ہے، میں نے ان کی خدمت میں یہ کتاب پڑھی تھی، اس میں انہوں نے اس موضوع کی احادیث کا اِنتخاب اور تخریج کی ہے اور اَبوابِ حدیث کے ہر باب میں داخل ہوئے اور نکلے ہیں۔‘‘

علامہ اتقانی ؒشارحِ ہدایہ:

الشیخ الامام قوام الدین امیر کاتب بن امیر عمر العمید الفارابی الاتقانی الحنفی رحمہ اللہ (۶۸۵ھ-۷۵۸ھ) کتاب الشامل شرح اصول البزدوی میں تواتر کی بحث میں یہود ونصاریٰ کے عقیدۂ قتل وصلبِ مسیح پر گفتگو کرتے ہوئے لکھتے ہیں:

’’والثانی: أنّ النقل المتواتر منھم فی قتل رجل علموہ عیسٰی وصلبوہ، وھٰذا النقل موجب علم الیقین فیما نقلوہ ولٰـکن لم یکن ذٰلک الرجل عیسٰی وإنما کان مشبھًّا بہ، کما قال تعالٰی: {وَلٰـکِنْ شُبِّہَ لَھُمْ} وقد جاء فی الخبر أن عیسٰی صلاۃ اللہ علیہ قال لمن کان معہ: من یرید منکم أن یلقی اللہ شبھی علیہ فیقتل ولہ الجنّۃ؟ فقال رجل: أنا! فألقی اللہ شبہ عیسٰی علیہ فقتل ورفع عیسٰی علیہ السلام إلی السماء۔‘‘

(کتاب الشامل شرح اُصول الفقہ للبزدوی ج:۵ ص:۱۴، ۱۵، قلمی)

ترجمہ: … ’’دوم یہ کہ ان کی نقلِ متواتر صرف اتنی بات میں ہے کہ ایک شخص جس کو انہوں نے عیسیٰ سمجھا وہ مقتول ومصلوب ہوا۔ بلاشبہ یہ نقل نفسِ قتل وصلب میں موجب یقین ہے، لیکن یہ شخص عیسیٰ نہیں تھا، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ’’بلکہ ان کو دھوکا ہوا‘‘ اور حدیث میں آتا ہے کہ عیسیٰ علیہ السلام نے اپنے رُفقاء سے فرمایا کہ:

497

تم میں سے کون یہ چاہتا ہے کہ اللہ تعالیٰ اس پر میری شباہت ڈال دے، وہ میری جگہ قتل ہوجائے اور اس کو جنت ملے۔ ایک حواری نے کہا کہ: میں تیار ہوں! چنانچہ اللہ تعالیٰ نے عیسیٰ علیہ السلام کی شباہت اس پر ڈال دی اور عیسیٰ علیہ السلام کو آسمان پر اُٹھالیا۔‘‘

نویں صدی

شیخ الاسلام البیجوریؒ:

شیخ الاسلام برہان الدین ابو اِسحاق اِبراہیم بن عیسیٰ البیجوری رحمہ اللہ (متوفیٰ۸۲۵ھ) ’’جوہرۃ التوحید‘‘ کی شرح ’’تحفۃ المرید علیٰ جوہرۃ التوحید‘‘ میں لکھتے ہیں:

’’قال تعالٰی: {وَخَاتَمَ النَّبِیّٖنَ}، ویلزم ختم المرسلین لأنہ یلزم من ختم الأعم ختم الأخص من غیر عکس، ولَا یشکل ذٰلک بنزول سیّدنا عیسٰی فی آخر الزمان لأنہ إنما ینزل حاکمًا بشریعۃ نبیّنا ومتّبعًا لہ، ولَا ینافی ذٰلک أنہ حین نزولہ یحکم برفع الجزیۃ من أھل الکتاب ولَا یقبل منھم إلّا الْإسلام أو السیف، لأن نبیّنا أخبرنا بأنھا مغیّاۃ إلیٰ نزول عیسٰی فحکمہ بذٰلک إنما ھو بشریعۃ نبیّنا۔‘‘

(ص:۷۰)

ترجمہ: … ’’اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں: ’’وَخَاتَمَ النَّبِیّٖنَ‘‘ اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے خاتم النبیین ہونے سے رسولوں کا ختم ہونا بھی لازم آتا ہے، کیونکہ نبی عام ہے اور رسول خاص، اور عام کے ختم ہونے سے خاص کا ختم ہونا خودبخود لازم آتا ہے، اس کے برعکس خاص کے ختم ہونے سے عام کا ختم ہونا لازم نہیں آتا۔ اور ختمِ نبوّت پر سیّدنا عیسیٰ علیہ السلام کا آخری زمانے میں نازل ہونا محلِ

498

اِشکال نہیں، کیونکہ وہ ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی شریعت کے تابع ہوں گے اور اسی کے مطابق حکومت کریں گے، اور یہ جو حضرت عیسیٰ علیہ السلام نازل ہونے کے بعد اہلِ کتاب سے جزیہ اُٹھادیں گے، اور ان سے اسلام یا تلوار کے سوا کوئی چیز قبول نہیں کریں گے، یہ بھی ختمِ نبوّت کے منافی نہیں، کیونکہ خود آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ہی نے فرمادیا ہے کہ جزیہ کا حکم حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے نازل ہونے تک ہے، پس عیسیٰ علیہ السلام کا رَفعِ جزیہ کا حکم کرنا بھی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی شریعت کے موافق ہوگا۔‘‘

شیخ مہائمی:ؒ

الشیخ الامام العلامہ علی بن احمد بن اِبراہیم بن اِسماعیل المہائمی الدکنی الہندی الحنفی رحمہ اللہ (متوفیٰ۸۳۵ھ) اپنی تفسیر ’’تبصیر الرحمٰن وتیسیر المنان‘‘ میں آیتِ کریمہ: ’’اِذْ قَالَ اللہُ یٰعِیْسٰی‘‘ کے تحت لکھتے ہیں:

’’{اِذْ قَالَ اللہُ یٰعِیْسٰی} إعلامًا لہ بمکرہ بالأعداء وتخلیصہ عن مکرھم {اِنِّیْ مُتَوَفِّیْکَ} أی آخذ بکلیتک {وَ} لَا أدع لک شھوۃ طعام ولَا شراب فتحتاج إلٰی مساکنۃ الأرض لأنی {رَافِعُکَ اِلَیَّ} أی إلٰی سمائی {وَ} إنما أرفعک لأنّی {مُطَھِّرُکَ مِنَ} جوار {الَّذِیْنَ کَفَرُوْا} لئلا یصل إلیک من آثارھم شیء۔‘‘

(ج:۱ ص:۱۱۳)

ترجمہ: … ’’جب اللہ تعالیٰ نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو ان کے اعداء کے بارے میں اپنی خفیہ تدبیر اور ان کی سازش سے بچانے کی اطلاع دیتے ہوئے کہا: اے عیسیٰ میں تجھ کو پورے کا پورا وصول کرنے والا ہوں، اور تیرے لئے کھانے پینے کی خواہش نہیں

499

چھوڑوں گا کہ تو زمین کی رہائش کا محتاج رہے، کیونکہ میں تجھ کو اپنی طرف یعنی آسمان کی طرف اُٹھانے والا ہوں، اور تجھ کو اس لئے اُٹھانا چاہتا ہوں کیونکہ میں تجھ کو ان کافروں کی ہمسائیگی سے پاک کرنے والا ہوں تاکہ ان کے آثار میں سے کوئی چیز تجھ تک نہ پہنچ سکے۔‘‘

اور سورۂ نساء کی آیت:۱۵۷، ۱۵۸ کے تحت لکھتے ہیں:

’’{وَمَا قَتَلُوْہُ یَقِیْنًام بَلْ} الیقین إنما ھو فی أنہ {رَفَعَہُ اللہُ اِلَیْہِ} لمّا سمع منہ {وَ} لَا یبعد علی اللہ إذ {کَانَ اللہُ عَزِیْزًا} لَا یغلب علٰی ما یرید وقد اقتضت الحکمۃ رفعہ فلا بد أن یرفعہ لکونہ {حَکِیْمًا} وھی حفظہ لتقویۃ دین محمد صلی اللہ علیہ وسلم حین انتھائہ إلی غایۃ الضعف لظھور الدّجّال فیقتلہ۔‘‘

(تبصیر الرحمٰن وتیسیر المنان ج:۱ ص:۱۷۳)

ترجمہ: … ’’اور انہوں نے اس کو یقینا قتل نہیں کیا بلکہ جو بات یقینی ہے، وہ یہ ہے کہ جب اللہ تعالیٰ نے عیسیٰ علیہ السلام کی دُعا سنی تو اس کو اپنی طرف اُٹھالیا، اور اللہ تعالیٰ کے حق میں عیسیٰ علیہ السلام کا اُٹھالینا کچھ بھی بعید نہیں، کیونکہ اللہ تعالیٰ بہت زبردست ہے، کہ کوئی اس کے اِرادے پر غالب نہیں آسکتا، اور اس کی حکمت کا بھی تقاضا ہوا کہ عیسیٰ علیہ السلام کو اُٹھالیا جائے، پس ضروری تھا کہ اللہ تعالیٰ ان کو اُٹھالیتے کیونکہ وہ بڑی حکمت والا بھی ہے، اور وہ حکمت تھی عیسیٰ علیہ السلام کو دِینِ محمدی ۔۔۔علیٰ صاحبہا الصلوٰۃ والسلام۔۔۔ کی تائید وتقویت کے لئے محفوظ رکھنا، جبکہ ظہورِ دجال کے سبب دِینِ اسلام اِنتہائی ضعف کی حالت میں ہوگا، اس وقت عیسیٰ علیہ السلام نازل ہوکر دَجال کو قتل کریں گے۔‘‘

500

اور سورۂ زُخرف کی آیت:’’وَاِنَّہٗ لَعِلْمٌ لِّلسَّاعَۃِ‘‘ کے تحت لکھتے ہیں:

’’{وَاِنَّہٗ لَعِلْمٌ لِّلسَّاعَۃِ} أی من أشراطھا ینزل بقربھا۔‘‘

(ج:۲ ص:۲۵۷)

ترجمہ: … ’’اور وہ (یعنی عیسیٰ علیہ السلام) نشانی ہے قیامت کی، یعنی علاماتِ قیامت میں سے ہے کہ قربِ قیامت میں وہ نازل ہوں گے۔‘‘

شیخ ابنِ تمجیدؒ:

تفسیر بیضاوی کے محشی شیخ مصطفی بن ابراہیم الشہیر بابنِ تمجید رحمہ اللہ (متوفیٰ۸۴۲ھ) سورۂ آل عمران کی آیت: ’’اِنِّیْ مُتَوَفِّیْکَ وَرَافِعُکَ‘‘ کے تحت لکھتے ہیں:

’’قولہ: أو قابضک، أو متوفّیک نائمًا وإنما احتیج فی معنی متوفیک إلی ارتکاب ھٰذہ الوجوہ لما أن توفی عیسٰی علیہ السلام إنما یکون بعد رفعہ إلی السماء لقولہ: {وَمَا قَتَلُوْہُ وَمَا صَلَبُوْہُ وَلٰـکِنْ شُبِّہَ لَھُمْ} إلٰی قولہ: {بَلْ رَّفَعَہُ اللہُ اِلَیْہِ}۔‘‘

(حاشیہ ابنِ تمجید علی البیضاوی ج:۱ ص:۶۲)

ترجمہ: … ’’اور’’مُتَوَفِّیْکَ‘‘ میں ان توجیہات کی ضرورت اس لئے پیش آئی کہ عیسیٰ علیہ السلام کی وفات آسمان پر اُٹھائے جانے کے بعد ہوگی، کیونکہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں: ’’اور انہوں نے نہ آپ کو قتل کیا، نہ سولی پر چڑھایا، بلکہ ان کو اِشتباہ ہوگیا ۔۔۔۔۔ اور انہوں نے آپ کو یقینا قتل نہیں کیا بلکہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو اپنی طرف (آسمان پر) اُٹھالیا۔‘‘

اور سورۂ نساء کی آیت: ’’وَاِنْ مِّنْ اَھْلِ الْکِتٰبِ‘‘ کے ذیل میں لکھتے ہیں:

501
’’وقیل: الضمیران لعیسٰی أی الضمیر فی ’’بِہٖ‘‘ و’’موتہٖ‘‘ لعیسٰی فیکون المراد بالْإیمان المدلول علیہ بقولہ: {لَیُؤْمِنَنَّ بِہٖ} الْإیمان بعیسٰی بعد نزولہ فی آخر الزمان۔‘‘

(ج:۱ ص:۴۹۳)

ترجمہ: … ’’اور کہا گیا ہے کہ ’’بِہٖ‘‘ اور ’’موتہٖ‘‘ کی دونوں ضمیریں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی طرف راجع ہیں، جو اِیمان کہ اِرشادِ خداوندی کا مدلول ہے، اس سے مراد یہ ہے کہ اہلِ کتاب عیسیٰ علیہ السلام پر ان کے آخری زمانے میں نازل ہونے کے بعد اِیمان لائیں گے۔‘‘

حافظ ابنِ حجرؒ:

حافظ الدنیا الامام الحافظ شہاب الدین احمد بن علی بن محمد بن حجر العسقلانی الشافعی رحمہ اللہ (متوفیٰ۸۵۲ھ) ’’تلخیص الحبیر فی تخریج احادیث الرافعی الکبیر‘‘ میں لکھتے ہیں:

’’وأما رفع عیسٰی فاتفق أصحاب الأخبار والتفسیر علٰی أنّہ رفع ببدنہٖ حیًّا وإنما اختلفوا ھل مات قبل أن یرفع أو نام فرفع۔‘‘

(ج:۳ ص:۲۱۴)

ترجمہ: … ’’رہا عیسیٰ علیہ السلام کا آسمان پر اُٹھایا جانا، تو تمام اَصحابِ اخبار و تفسیر اس پر متفق ہیں کہ وہ جسدِ عنصری کے ساتھ زندہ اُٹھائے گئے، البتہ اس میں اختلاف ہے کہ اُٹھائے جانے سے پہلے مرے تھے (اور پھر زندہ کرکے اُٹھائے گئے) یا نیند کی حالت میں اُٹھائے گئے۔‘‘

اور حافظؒ نے ’’الْاصابۃ فی تمییز الصحابۃ‘‘ میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو

502

صحابہ کرام رضی اللہ عنہم میں شمار کیا ہے، کیونکہ وہ قبل از وفات آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی زیارت سے مشرف ہوئے ہیں۔

(ج:۲ ص:۵۲ تا ۵۴)

نیز اسی کتاب میں حضرت خضر علیہ السلام کے ترجمے میں فرماتے ہیں کہ بعض حضرات نے حدیث:’’لَا نبی بعدی‘‘ سے ان کی وفات پر اِستدلال کیا ہے:

’’ھو معترض بعیسَی ابن مریم فإنہ نبی قطعًا وثبت أنہ ینزل إلی الأرض فی آخر الزمان ویحکم بشریعۃ النبی صلی اللہ علیہ وسلم فوجب حمل النفی علٰی إنشاء النبوّۃ لأحد من الناس، لَا علٰی وجود نبی کان قد نُبیء قبل ذٰلک۔‘‘

(ج:۱ ص:۴۳۵)

ترجمہ: … ’’یہ اِستدلال حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی وجہ سے محلِ اِعتراض ہے، کہ وہ قطعاً نبی ہیں، اور یہ ثابت ہے کہ وہ آخری زمانے میں زمین پر نزول فرمائیں گے اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی شریعت کے مطابق حکم کریں گے۔ لہٰذا ’’لَا نبی بعدی‘‘ کی نفی کو اس معنی پر محمول کرنا واجب ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد کسی کو نبوّت حاصل نہیں ہوسکتی، جس نبی کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے پہلے نبوّت مل چکی، اس کا وجود اس حدیث کے منافی نہیں۔‘‘

اور حافظؒ نے ’’فتح الباری‘‘ میں بھی متعدّد جگہ نزولِ عیسیٰ علیہ السلام کی تصریحات فرمائی ہیں،کتاب الانبیاء، باب نزول عیسیٰ علیہ السلام اور کتاب الفتن ی مراجعت کی جائے۔

ارشادِ نبوی: ’’ینزل فیکم ابن مریم حکمًا‘‘ کی شرح میں فرماتے ہیں:

’’أی حاکمًا، والمعنی أنّہ ینزل حاکمًا بھٰذہ الشریعۃ، فإن ھٰذہ الشریعۃ باقیۃ لَا تنسخ بل یکون عیسٰی حاکمًا من حکام ھٰذہ الاُمّۃ۔‘‘

(ج:۶ ص:۳۵۶)

503

ترجمہ: … ’’حکم سے مراد حاکم ہے، اور حدیث کا مطلب یہ ہے کہ عیسیٰ علیہ السلام نازل ہوکر اس شریعت کے مطابق حکومت کریں گے، کیونکہ یہ شریعت قیامت تک باقی رہے گی، منسوخ نہیں ہوگی، بلکہ عیسیٰ علیہ السلام اس اُمت کے حکام میں سے ایک حاکم ہوں گے۔‘‘

اسی حدیث کے تحت لکھتے ہیں:

’’قال العلماء: الحکمۃ فی نزول عیسٰی دون غیرہ من الأنبیاء الردّ علی الیھود فی زعمھم أنھم قتلوہ فبیّن اللہ تعالٰی کذبھم وأنّہ الذی یقتلھم۔
أو نزولہ لدنو أجلہ لیدفن فی الأرض إذ لیس لمخلوق من التراب أن یموت فی غیرھا۔
وقیل: إنّہ دعا اللہ لمّا رأی صفۃ محمد صلی اللہ علیہ وسلم اُمّتہ أن یجعلہ منھم فاستجاب اللہ دعائہ، وأبقاہ حتّٰی ینزل فی آخر الزمان مجدّدًا لأمر الْإسلام فیوافق خروج الدّجّال فیقتلہ۔‘‘

(ج:۶ ص:۳۵۷)

ترجمہ: … ’’آخری زمانے میں صرف حضرت عیسیٰ علیہ السلام ہی کا نزول جو مقدر ہوا علماء نے اس کی متعدّد حکمتیں بیان فرمائی ہیں، ایک یہ کہ ان یہود پر رَدّ کرنا مقصود ہے جو ان کے قتل کے مدعی تھے، پس اللہ تعالیٰ نے ان کا جھوٹ کھول دیا کہ یہود نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو قتل نہیں کیا، بلکہ خود حضرت عیسیٰ علیہ السلام یہود کو قتل کریں گے۔

دوم یہ کہ (عیسیٰ علیہ السلام زندہ آسمان پر اُٹھائے گئے تھے اس لئے) ان کا نزول ان کے اجل کے قریب ہونے کی وجہ

504

سے ہوگا، تاکہ زمین میں دفن کئے جائیں، کیونکہ جو مٹی سے پیدا ہوا ہے وہ دُوسری جگہ نہیں مرسکتا۔

اور بعض نے کہا ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے جب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کی اُمت کی صفت دیکھی تو اللہ تعالیٰ سے دُعا کی کہ ان کو بھی اُمتِ محمدیہ میں شامل کردے، پس اللہ تعالیٰ نے ان کی دُعا قبول فرمالی اور ان کو باقی رکھا، یہاں تک کہ وہ آخری زمانے میں نازل ہوکر دِینِ اسلام کے مجدّد بنیں گے، اس وقت دجال نکلا ہوا ہوگا، اس کو قتل کریں گے۔‘‘

علامہ عینیؒ:

الامام الحافظ العلامہ بدرالدین ابو محمد محمود بن احمد العینی الحنفی رحمہ اللہ (متوفیٰ۸۵۵ھ) عمدۃ القاری شرح صحیح البخاری ’’باب نزول عیسیٰ علیہ السلام‘‘ کے ذیل میں لکھتے ہیں:

’’أی ھٰذا باب بیان نزول عیسٰی علیہ الصلاۃ والسلام یعنی فی آخر الزمان۔‘‘

(ج:۱۶ ص:۳۸)

ترجمہ: … ’’یعنی یہ باب ہے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے آخری زمانے میں نازل ہونے کے بیان میں۔‘‘

اس باب میں موصوف نے بڑی تفصیل سے نزولِ عیسیٰ علیہ السلام کی احادیث ذِکر کی ہیں، اور نزولِ عیسیٰ علیہ السلام کی حکمتوں کا تذکرہ کرتے ہوئے لکھتے ہیں:

’’فإن قلت: ما الحکمۃ فی نزول عیسٰی علیہ الصلاۃ والسلام والخصوصیۃ بہ، قلت: فیہ وجوہ: الأوّل: للردّ علی الیھود فی زعمھم الباطل أنھم قتلوہ وصلبوہ فبیّن اللہ تعالٰی کذبھم وأنہ ھو الذی یقتلھم۔
الثانی: لأجل دنو أجلہ لیدفن فی الأرض إذ لیس لمخلوق من التراب أن یموت فی غیر التراب۔
505

الثالث: لأنہ دعا اللہ تعالٰی لما رأی صفۃ محمد صلی اللہ علیہ وسلم واُمّتہ أن یجعل منھم فاستجاب اللہ دعائہ وأبقاہ حیًّا حتّٰی ینزل فی آخر الزمان ویجدّد أمر الْإسلام فیوافق خروج الدّجّال فیقلتہ۔

الرابع: لتکذیب النصاریٰ وإظھار زیغھم فی دعواھم الأباطیل وقتلہ إیاھم۔
الخامس: أن خصوصیتہ بالأمور المذکورۃ لقولہ صلی اللہ علیہ وسلم: ’’أنا أولی الناس بابن مریم، لیس بینی وبینہ نبی‘‘، وھو أقرب إلیہ من غیرہ فی الزمان، وھو أولٰی بذٰلک۔‘‘

(عمدۃ القاری ج:۱۶ ص:۳۹)

ترجمہ: … ’’اگر کہو کہ حضرت عیسیٰ علیہ الصلوٰۃ والسلام کے نازل ہونے میں کیا حکمت ہے اور ان کی خصوصیت کی کیا وجہ ہے؟ تو جواب یہ ہے کہ اس کی کئی وجوہ ہیں۔

اوّل: … یہ کہ اس سے یہود کے زعمِ باطل کا رَدّ کرنا مقصود ہے کہ انہوں نے عیسیٰ علیہ السلام کو قتل کردیا ہے، پس اللہ تعالیٰ نے ان کا جھوٹ کھول دیا اور یہ بتادیا کہ خود حضرت عیسیٰ علیہ السلام ہی یہود کو قتل کریں گے۔

دوم: … یہ کہ (حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو آسمان پر زندہ اُٹھالیا گیا تھا اور) ان کا وقتِ موعود قریب آنے کی وجہ سے ان کو نازل کیا گیا، تاکہ زمین میں دفن ہوں، کیونکہ جو مٹی میں سے پیدا ہوا اس کی موت بھی زمین کے سوا دُوسری جگہ نہیں ہوسکتی۔

سوم: … انہوں نے جب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اور

506

آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی اُمت کی صفت دیکھی تو اللہ تعالیٰ سے دُعا کی کہ ان کو بھی اس اُمت میں شامل کردے، پس اللہ تعالیٰ نے ان کی دُعا قبول فرمائی اور ان کو آسمان پر زِندہ رکھا، یہاں تک کہ آخری زمانے میں نازل ہوں گے، دِینِ اسلام کی تجدید کریں گے، اس وقت دجال نکلا ہوا ہوگا، اس کو قتل کریں گے۔

چہارم: … ان کا نزول نصاریٰ کی تکذیب، ان کے باطل دعوؤں کی کجی کے اِظہار اور ان کے قتل کے لئے ہوگا۔

پنجم: … اُمورِ مذکورہ میں ان کی خصوصیت کی وجہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا اِرشادِ گرامی ہے کہ: ’’مجھے سب سے زیادہ تعلق عیسیٰ بن مریم علیہ السلام سے ہے، کیونکہ میرے اور ان کے درمیان کوئی نبی نہیں ہوا۔‘‘ پس دُوسرے انبیائے کرام علیہم السلام کی بہ نسبت ان کو قربِ زمانی حاصل ہے، اس لئے وہ نزول کے زیادہ مستحق تھے۔‘‘

شیخ ابنِ ہمام حنفی:ؒ

الشیخ الامام کمال الدین محمد بن عبدالواحد بن عبدالحمید المعروف بابن الہمام السیواسی الحنفی رحمہ اللہ (۷۹۰ھ-۸۶۱ھ) ’’المسایرۃ فی شرح عقائد الآخرۃ‘‘ میں لکھتے ہیں:

’’وأشراط الساعۃ ونزول عیسیٰ علیہ السلام وخروج یأجوج ومأجوج والدَّابَّۃ وطلوع الشمس من مغربھا حق ۔۔۔۔۔ واللہ سبحانہٗ نسألہ من عظیم جودہ وکبیر منّہ أن یتوفانا علٰی یقین ذٰلک مسلمین۔‘‘

ترجمہ: … ’’اور قیامت کی علامتیں جیسے دجال کا نکلنا، عیسیٰ علیہ السلام کا نازل ہونا، یأجوج ومأجوج اور دابۃ الارض کا نکلنا اور سورج کا مغرب سے طلوع ہونا حق ہیں ۔۔۔۔۔۔ اور ہم اللہ سبحانہ‘

507

‘ وتعالیٰ کی بارگاہ میں درخواست کرتے ہیں کہ وہ محض اپنے فضل و اِحسان سے ہمیں ان عقائد کے یقین پر اِسلام کی حالت میں دُنیا سے لے جائے۔‘‘

شیخ جلال الدین محلیؒ:

شیخ جلال الدین بن احمد المحلی الشافعی رحمہ اللہ (۷۹۱ھ-۸۶۴ھ) اپنی تفسیر میں سورۂ اَحزاب کی آیتِ کریمہ:’’وَلٰـکِنْ رَّسُوْلَ اللہِ وَخَاتَمَ النَّبِیّٖنَ‘‘ کے تحت لکھتے ہیں:

’’وإذا نزل السیّد عیسٰی یحکم بشریعتہ۔‘‘

(تفسیر جلالین مع الصاوی ج:۳ ص:۲۸۱)

ترجمہ: … ’’اور جب حضرت عیسیٰ علیہ السلام نازل ہوں گے تو آپ کی شریعت کے مطابق حکم کریں گے۔‘‘

اور سورۂ زُخرف کی آیت: ’’وَاِنَّہٗ لَعِلْمٌ لِّلسَّاعَۃِ‘‘ کی تفسیر میں لکھتے ہیں:

’’{وَاِنَّہٗ} أی عیسٰی {لَعِلْمٌ لِّلسَّاعَۃِ} تعلم بنزولہ۔‘‘

(ج:۴ ص:۵۶)

ترجمہ: … ’’اور وہ یعنی عیسیٰ علیہ السلام البتہ نشانی ہیں قیامت کی، کہ ان کے نزول سے قیامت کا قرب معلوم ہوگا۔‘‘

علامہ خیالی:

علامہ شمس الدین احمد بن موسیٰ الرومی الخیالی الحنفی رحمہ اللہ (متوفیٰ۸۸۶ھ) حاشیہ شرح عقائد میں شارح کے قول: ’’ومع ذٰلک لَا بد من تخصیص عیسٰی علیہ السلام‘‘ کے تحت لکھتے ہیں:

’’فکذا إدریس والخضر والْإلیاس علیھم السلام، إذ قد ذھب العظماء من العلماء إلٰی أن أربعۃ من الأنبیاء فی زمرۃ الأحیاء، الخضر والْإلیاس فی
508

الأرض، وعیسٰی وإدریس علیھما السلام فی السماء۔‘‘

(ص:۱۴۲)

ترجمہ: … ’’عیسیٰ علیہ السلام کی طرح حضرات اِدریس، خضر اور اِلیاس علیہم السلام کی تخصیص بھی ہونی چاہئے، کیونکہ بڑے بڑے علماء اس طرف گئے ہیں کہ چار اَنبیاء زُمرۂ اَحیاء میں شامل ہیں، خضر اور اِلیاس علیہما السلام زمین میں، اور عیسیٰ و اِدریس علیہما السلام آسمان میں۔‘‘

اور شارح کے قول:’’ولٰـکنہ یتابع لمحمد صلی اللہ علیہ وسلم‘‘ کے ذیل میں لکھتے ہیں:

’’وما روی من أنّ عیسٰی علیہ الصلاۃ والسلام یضع الجزیۃ ۔۔۔۔ فوجھہ أنہ علیہ الصلاۃ والسلام بیّن انتھاء شریعۃ ھٰذا الحکم وقت نزول عیسٰی علیہ الصلاۃ والسلام فالْإنتھاء حینئذٍ من شریعتنا۔‘‘

(ص:۱۳۸)

ترجمہ: … ’’اور یہ جو حدیث میں آتا ہے کہ عیسیٰ علیہ السلام جزیہ موقوف کردیں گے، اس کی وجہ یہ ہے کہ خود آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمادیا ہے کہ جزیہ کی مشروعیت نزولِ عیسیٰ علیہ السلام کے وقت ختم ہوجائے گی، پس جزیہ کا اس وقت میں ختم ہوجانا بھی ہماری شریعت کا حکم ہوا۔‘‘

اِمام مجدالدین فیروزآبادیؒ:

الامام مجدالدین ابو الطاہر محمد بن یعقوب بن محمد بن اِبراہیم فیروزآبادی الشیرازی الشافعی رحمہ اللہ (۷۲۹ھ-۸۱۷ھ) ’’القاموس المحیط‘‘ میں لکھتے ہیں:

ولُدّ بالضم قریۃ بفلسطین یقتل عیسٰی علیہ السلام الدَّجَّال عند بابھا۔‘‘

(ج:۱ ص:۲۳۵)

509

ترجمہ: … ’’لُدّ: (لام کے پیش کے ساتھ) فلسطین کی ایک بستی کا نام ہے، جس کے دروازے پر عیسیٰ علیہ السلام دَجال کو قتل کریں گے۔‘‘

شیخ عبدالکریم صوفی:ؒ

الشیخ العارف قطب الدین عبدالکریم بن اِبراہیم الجیلانی الشافعی الیمنی رحمہ اللہ (۷۶۷ھ-۸۳۲ھ) اپنی کتاب ’’الانسان الکامل‘‘ کے باب:۶۱ میں علاماتِ قیامت کبریٰ کا ذِکر کرتے ہوئے لکھتے ہیں:

’’ومن أمارات الساعۃ الکبریٰ خروج الدَّجَّال وأن تکون لہ جنۃ عن یسارہ ونار عن یمینہ، وأنہ مکتوب بین عینیہ کافر باللہ ۔۔۔۔۔ وأن اللعین لَا یزال یدور فی أقطار الأرض إلّا مکۃ والمدینۃ فإنہ لَا یدخلھما، وإنہ یتوجہ إلٰی بیت المقدس فإذا بلغ رملۃ لُدّ وھی قریۃ قریبۃ من بیت المقدس بینھما مسیرۃ یوم ولیلۃ، أنزل اللہ عیسٰی علیہ السلام علٰی منارۃ ھناک، وفی یدہ الحربۃ فإذا رآہ اللعین ذاب کما یذوب الملح فی الماء، فیضربہ بالحربۃ فیقتلہ۔‘‘

(ص:۱۳۷ و۱۳۸)

ترجمہ: … ’’قیامت کی علاماتِ کبریٰ میں سے ایک علامت دجال کا نکلنا ہے، اس کے بائیں جانب جنت ہوگی اور دائیں جانب آگ، اور اس کے ماتھے پر ’’کافر‘‘ لکھا ہوگا، وہ ملعون ساری زمین میں گھومتا پھرے گا، مگر مکہ و مدینہ میں داخل نہ ہوسکے گا، اور بیت المقدس کا رُخ کرے گا۔ جب لُدّ کے ٹیلے پر پہنچے گا، یہ بیت المقدس کے پاس ایک بستی ہے، اس کے اور بیت المقدس کے درمیان ایک دن رات کی مسافت ہے، تو اللہ تعالیٰ عیسیٰ علیہ السلام کو

510

نازل کریں گے، ان کے ہاتھ میں نیزہ ہوگا، آپ کو دیکھ کر دَجال پگھلنے لگے گا جیسے نمک پانی میں پگھل جاتا ہے، آپ اس کے نیزہ ماریں گے، پس اس کو قتل کردیں گے۔‘‘

اِمام اُبیّؒ شارحِ مسلم:

الامام ابو عبداللہ محمد بن خلیفہ الوشتالی الاُبیّ المالکی رحمہ اللہ (متوفیٰ۸۲۷ھ) صحیح مسلم کی شرح ’’إکمال إکمال المعلم‘‘ میں حدیثِ جبریل کے تحت علاماتِ قیامت کے بارے میں لکھتے ہیں:

’’(ط) وھی تنقسم إلٰی معتاد کالمذکورات وکرفع العلم وظھور الجھل وکثرۃ الزنا وشرب الخمر، وغیر معتاد کالدَّجَّال ونزول عیسٰی علیہ السلام وخروج یأجوج ومأجوج والدّابۃ وطلوع الشمس من مغربھا۔
وقلت: قال ابن رشد: واتفقوا علٰی أنہ لَا بد من ظھور ھٰذہ الخمسۃ، واختلفوا فی خمسۃ أخر، خسف بالمشرق وخسف بالمغرب وخسف بجزیرۃ العرب والدخان ونار تخرج من قعر عدن، تروح معھم حیث راحوا وتقیل معھم حیث قالوا، زاد بعضھم وفتح قسطنطینیۃ وظھور المھدی ویأتی الکلام علی المھدی، إن شاء اللہ تعالٰی۔‘‘

(ج:۱ ص:۷۰)

ترجمہ: … ’’اِمام قرطبیؒ فرماتے ہیں کہ علاماتِ قیامت کی دو قسمیں ہیں، ایک معمول وعادت کے مطابق، جیسے مذکورہ علامتیں اور جیسے: علم کا اُٹھ جانا، جہل کا عام ہونا، زِنا اور شراب نوشی کی کثرت۔ اور دُوسری غیرمعمولی اور خلافِ عادت، جیسے: دجال کا

511

نکلنا، عیسیٰ علیہ السلام کا نازل ہونا، یأجوج ومأجوج کا نکلنا، دابۃ الارض کا ظاہر ہونا اور مغرب سے آفتاب کا نکلنا۔

اِبنِ رُشد فرماتے ہیں کہ: ان پانچ علاماتِ کبریٰ کا ظہور متفق علیہ ہے، اور پانچ اور ہیں جن میں اِختلاف ہے، ایک خسف مشرق میں، ایک مغرب میں، ایک جزیرۃ العرب میں، دُخان اور وہ آگ جو عدن سے نکلے گی، لوگ جب چلیں گے تو وہ بھی چلے گی اور جہاں ٹھہریں گے تو وہ بھی ٹھہر جائے گی، اور بعض نے فتحِ قسطنطنیہ اور ظہورِ مہدی کا بھی اِضافہ کیا ہے، مہدی کے بارے میں کلام اِن شاء اللہ آگے آئے گا۔‘‘

اور ’’کتاب الفتن، باب ذکر الدجال‘‘ کے تحت لکھتے ہیں:

’’قلت: أحادیث الباب حجۃ لأھل السُّنّۃ فی وجودہ وأنّہ شخص مُعین ابتلی اللہ سُبحانہ بہ عبادہ وأقدرہ علٰی تلک الأشیاء التی ذکرھا لیمیز اللہ الخبیث من الطیّب ثم یبطل اللہ سبحانہ أمرہ ویقتلہ عیسٰی علیہ السلام ویثبت اللہ الذین آمنوا۔‘‘

(ج:۷ ص:۲۶۴)

ترجمہ: … ’’میں کہتا ہوں کہ احادیث الباب اہلِ سنت کی دلیل ہیں کہ دجال کا وجود یقینی ہے، اور یہ کہ وہ ایک شخصِ معین ہے، جس کے ذریعے اللہ سبحانہ‘ اپنے بندوں کو آزمائیں گے، اور اسے ان چیزوں پر قدرت دیں گے جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ذِکر فرمائی ہیں، تاکہ ناپاک اور گندے لوگ، پاک لوگوں سے ممیز ہوجائیں، پھر اللہ تعالیٰ اس کے قصے کو نمٹادیں گے اور دَجال کو عیسیٰ علیہ السلام قتل کریں گے اور اللہ تعالیٰ اہلِ ایمان کو ثابت قدم رکھیں گے۔‘‘

اسی باب میں ارشادِ نبوی:’’فیبعث اللہ عیسَی ابن مریم‘‘ کے تحت لکھتے ہیں:

512
’’(ع) نزولہ وقتلہ الدّجّال حقٌّ عند أھل الحق لکثرۃ الآثار الصحیحۃ الواردۃ بذٰلک ولم یُروَ ما یعارضھا۔‘‘

(ج:۷ ص:۲۷۶)

ترجمہ: … ’’حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا نازل ہونا اور دَجال کو قتل کرنا اہلِ حق کے نزدیک حق ہے، کیونکہ اس پر بکثرت احادیثِ صحیحہ وارِد ہیں، اور ان کے مقابلے میں کوئی ایک روایت بھی نہیں۔‘‘

علامہ سنوسیؒ شارحِ مسلم:

الامام ابوعبداللہ محمد بن محمد بن یوسف السنوسی الحسنی رحمہ اللہ (متوفیٰ۸۹۵ھ) ’’مکمل إکمال الْإکمال‘‘ شرح مسلم میں حدیثِ جبریل کے تحت لکھتے ہیں:

’’(ط) وھی تنقسم إلٰی معتاد کالمذکورات وکرفع العلم وظھور الجھل وکثرۃ الزنا وشرب الخمر، وغیر معتاد کالدَّجَّال ونزول عیسٰی علیہ السلام وخروج یأجوج ومأجوج والدّابّۃ وطلوع الشمس من مغربھا، قال ابن رشد: واتفقوا أنّہ لَا بد من ظھور ھٰذہ الخمسۃ۔‘‘

(ج:۱ ص:۷۰)

ترجمہ: … ’’اِمام قرطبیؒ فرماتے ہیں کہ علاماتِ قیامت کی دو قسمیں ہیں، ایک عادت کے مطابق، جیسے مذکورہ چیزیں اور جیسے: علم کا اُٹھ جانا، جہل کا عام ہونا، زِنا اور شراب خوری کی کثرت۔ اور دُوسری خلافِ عادت، جیسے: دجال کا خروج، عیسیٰ علیہ السلام کا نزول، یأجوج ومأجوج کا نکلنا، دابۃ الارض کا ظاہر ہونا، آفتاب کا مغرب کی سمت سے نکلنا۔ اِبنِ رُشدؒ فرماتے ہیں کہ یہ ان پانچ علامتوں کا ظہور قطعی وضروری ہے۔‘‘

513

اور باب نزولِ عیسیٰ بن مریم علیہ السلام کے تحت لکھتے ہیں:

’’فإن قلت: بم یعرف الناس أنہ عیسٰی؟
قلت: بصفاتہ التی تضمنت الأحادیث، وفی ’’العتیبۃ‘‘: قال مالک: بینما الناس قیام یستمعون لِاقامۃ الصلاۃ فتغشاھم غمامۃ فإذا عیسٰی قد نزل۔‘‘

(ج:۱ ص:۲۶۶)

ترجمہ: … ’’اگر کہو کہ: لوگ کیسے پہچانیں گے کہ یہ عیسیٰ علیہ السلام ہیں؟ میں کہتا ہوں: ان کی ان صفات سے پہچانیں گے جو اَحادیث میں ذِکر کی گئی ہیں۔ اور ’’العتیبۃ‘‘ میں ہے کہ اِمام مالکؒ نے فرمایا: دریں اثنا کہ لوگ نماز کی اِقامت سن رہے ہوں گے، ان کو ایک بدلی ڈھانک لے گی، اتنے میں یکایک عیسیٰ علیہ السلام نازل ہوچکے ہوں گے۔‘‘

نیز باب ذکر الدجال میں بھی علامہ سنوسیؒ نے وہی عبارتیں لکھی ہیں جو اِمام اُبیّؒ کے حوالے میں نقل ہوچکی ہیں۔

(دیکھئے: ج:۷ ص:۲۶۳، ۲۷۶)

حافظ نورالدین ہیثمیؒ:

الامام الحافظ نورالدین علی بن ابی بکر الہیثمی الشافعی رحمہ اللہ (متوفیٰ۸۰۷ھ) نے ’’مجمع الزوائد ومنبع الفوائد‘‘ میں نزولِ عیسیٰ علیہ السلام کی بہت سی احادیث ذِکر کی ہیں، دیکھئے:جلد نمبر:۷ صفحات نمبر: ۱۰۴، ۲۸۸، ۳۲۸، ۳۳۸، ۳۴۲، ۳۴۴، ۳۴۹۔ جلد نمبر:۸ صفحات نمبر: ۳، ۵، ۲۰۵، ۲۰۶۔

حافظ ہیثمیؒ نے علاماتِ قیامت کے ضمن میں’’باب نزول عیسَی بن مریم صلی اللہ علٰی نبیّنا وعلیہ وسلم‘‘ کے عنوان سے ایک مستقل باب بھی باندھا ہے (دیکھئے: ج:۸ ص:۵)۔ اور کتاب ذکر الانبیاء علیہم السلام کے ضمن میں ’’باب ذکر

514

المسیح عیسَی ابن مریم صلی اللہ علیہ وسلم‘‘ کے عنوان کے تحت بھی نزولِ عیسیٰ علیہ السلام کی احادیث ذِکر کی ہیں (دیکھئے: ج:۸ ص:۲۰۵)۔

اِبن امیر الحاجؒ:

الامام المفسر شمس الدین محمد بن محمد بن محمد بن حسن الحلبی الحنفی المعروف بابن امیرالحاج رحمہ اللہ (متوفیٰ۸۲۹ھ) اپنی کتاب میں لکھتے ہیں:

’’وأما شرط العدالۃ والْإسلام کی لَا یلزم تواترًا خبر النصاریٰ بقتل المسیح وھو باطل؛ لقولہ تعالٰی: {وَمَا قَتَلُوْہُ وَمَا صَلَبُوْہُ} وإجماع المسلمین ۔۔۔۔۔ وخبرھم آحاد الأصل فإنھم کانوا فی ابتداء أمرھم قلیلین جدًّا بحیث لَا یمتنع تواطؤھم علی الکذب أو لأن المسیح شبہ لھم فقتلوہ بناء علٰی إعتقادھم أنہ ھو کما قال تعالٰی: {وَلٰـکِنْ شُبِّہَ لَھُمْ}۔‘‘

(التقریر والتحبیر ج:۲ ص:۲۳)

ترجمہ: … ’’اور خبرِ متواتر کے ناقلین میں عادل اور مسلمان ہونے کی شرط اس لئے ہے تاکہ نصاریٰ کی اس خبر کا کہ مسیح علیہ السلام قتل کردئیے گئے تواتر لازم نہ آئے، حالانکہ ان کی یہ خبر باطل ہے، چنانچہ اللہ تعالیٰ کا اِرشاد ہے: ’’اور انہوں نے آپ کو قتل نہیں کیا اور نہ سولی دیا‘‘ نیز مسلمانوں کا بھی اس پر اِجماع ہے، اور نصاریٰ کی خبر باعتبار اصل کے خبرِ واحد ہے، کیونکہ وہ اِبتدا میں معدودے چند آدمی تھے جن کا جھوٹ پر اِتفاق کرلینا بعید اَزاِمکان نہیں تھا، یا اس لئے کہ مسیح علیہ السلام کی شخصیت ان کے لئے مشتبہ ہوگئی، انہوں نے اس شخص کو عیسیٰ سمجھ کر ہی قتل کیا مگر وہ درحقیقت عیسیٰ علیہ السلام نہیں تھے، بلکہ جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ان کو اِشتباہ ہوگیا تھا۔‘‘

515

علامہ برہان الدین البقاعیؒ:

الامام المفسر برہان الدین ابوالحسن اِبراہیم بن عمر البقاعی (متوفیٰ۸۸۵ھ) اپنی تفسیر ’’نظم الدُّرر فی تناسب الآیات والسُّوَر‘‘ (ج:۵ ص:۴۹۷) میں آیتِ کریمہ: ’’وَاِنْ مِّنْ اَھْلِ الْکِتٰبِ‘‘ کے ذیل میں لکھتے ہیں:

’’ینزل فی آخر الزمان یؤید اللہ بہ دین الْإسلام حتّٰی یدخل فیہ جمیع أھل الملل إشارۃ إلٰی أن موسٰی علیہ الصلاۃ والسلام إن کان قد أیدہ تعالٰی بأنبیاء کانوا یجددون دینہ زمانًا طویلًا، فالنبی الذی نسخ شریعۃ موسٰی وھو عیسٰی علیھما الصلاۃ والسلام، ھو الذی یؤید اللہ بہ ھٰذا النبی العربی فی تجدید شریعتہ وتمھید أمرہ والذب عن دینہ، ویکون من اُمّتہ بعد أن کان صاحب شریعۃ مستقلۃ واتباع مستکثرۃ أمر قضاہ اللہ فی الأزل فأمضاہ فأطیلوا أیھا الیھود وأقصروا۔‘‘

(نظم الدُّرر فی تناسب الآیات والسُّوَر ج:۵ ص:۴۹۷، طبع مجلس دائرۃ المعارف العثمانیہ، حیدرآباد دکن ۱۳۹۲ھ)

ترجمہ: … ’’یعنی عیسیٰ علیہ السلام نہیں مریں گے، یہاں تک کہ وہ آخری زمانے میں نازل ہوں گے، ان کے ذریعے اللہ تعالیٰ اسلام کی تائید فرمائیں گے، یہاں تک کہ تمام اہلِ ملل اِسلام میں داخل ہوجائیں گے۔ اس میں اِشارہ اس طرف ہے کہ حضرت موسیٰ علیہ الصلوٰۃ والسلام کی تائید اگرچہ بہت سے انبیائے کرام علیہم السلام سے کی گئی ہے، جو ایک طویل زمانے تک ان کے دِین کی تجدید کرتے رہے، لیکن جس نبی نے موسیٰ علیہ السلام کی شریعت کو

516

منسوخ کیا، وہ عیسیٰ علیہ السلام ہیں، اسی کے ذریعے اللہ تعالیٰ اس نبیٔ عربی صلی اللہ علیہ وسلم کی تائید فرمائیں گے کہ وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی شریعت کی تجدید، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے امر کی تمہید اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے دِین کا دِفاع فرمائیں گے، باوجودیکہ وہ مستقل صاحبِ شریعت تھے اور ان کے بے شمار پیروکار تھے، لیکن ان ساری باتوں کے باوجود وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی اُمت میں شامل ہوں گے، یہ وہ اَمرِ اِلٰہی ہے جس کا فیصلہ اللہ تعالیٰ نے اَزَل میں کیا تھا، چنانچہ اسے پورا کر دِکھایا، اب تم اے یہودیو! خواہ زیادہ باتیں بناؤ یا کم، جو ہونا تھا، ہوچکا۔‘‘

علامہ جامیؒ:

علامہ جامی رحمہ اللہ (متوفیٰ۸۹۸ھ) عقیدۂ جامی میں لکھتے ہیں:

۱: … خاتم الانبیاء والرسل است دیگراں ہمچو جز و او چو کل است
۲: … از پی او رسول دیگر نیست بعد ازو ہیچ کس پیمبر نیست
۳: … چوں در آخر زماں بقول سول کند از آسماں مسیح نزول
۴: … پیرو دین و شرع او باشد تابع اصل و فرع او باشد
۵: … دیں ہمیں شرع و دیں او داند ہمہ کس را بدین او خواند

(عقائد جامی فارسی ص:۸)

517

ترجمہ: … ’’۱:۔۔۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نبیوں اور رسولوں کے خاتم ہیں، دُوسرے بمنزلہ جز کے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم بمنزلہ ُکل ہیں۔

۲: … آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد کوئی دُوسرا رسول نہیں، اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد کوئی شخص پیغمبر نہیں۔

۳: … جب آخری زمانے میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشاد کے مطابق حضرت مسیح علیہ السلام آسمان سے نزول فرمائیں گے۔

۴: … تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے دِین و شریعت کی پیرو ہوں گے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اُصول و فروع کے تابع ہوں گے۔

۵: … آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہی کے دِین و شریعت کو دِین جانیں گے، سب لوگوں کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہی کے دِین کی دعوت دیں گے۔‘‘

دسویں صدی

شیخ الاسلام کمال الدینؒ صاحبِ مسامرہ:

شیخ الاسلام کمال الدین محمد بن محمد بن ابی بکر بن علی بن ابی شریف المقدسی الشافعی رحمہ اللہ (۸۲۲ھ-۹۰۶ھ) اپنی کتاب ’’المسامرۃ بشرح المسایرۃ‘‘ میں لکھتے ہیں:

’’وأشراط الساعۃ من خروج الدَّجَّال ونزول عیسَی ابن مریم علیہ الصلاۃ والسلام من السماء ۔۔۔۔۔ حق وردت بہ النُّصوص الصَّریحۃ الصَّحیحۃ۔‘‘

(ص:۳۹۴)

ترجمہ: … ’’اور قیامت کی علامتیں جیسے: دجال کا نکلنا اور حضرت عیسیٰ بن مریم علیہ الصلوٰۃ والسلام کا آسمان سے نازل ہونا برحق ہیں، ان میں صریح، صحیح نصوص وارِد ہوئے ہیں۔‘‘

518

علامہ جلال الدین دوانی:

علامہ جلال الدین محمد بن اسعد الصدیقی الدوانی رحمہ اللہ (متوفیٰ۹۰۸ھ) شرح عقائد عضدیہ میں مصنف کے قول: ’’لَا نبی بعدہ‘‘ کے تحت لکھتے ہیں:

’’فلم یبق بعدہ حاجۃ للخلق إلٰی بعثۃ نبی بعدہ فلذٰلک ختم بہ النبوّۃ وأما نزول عیسٰی علیہ السلام ومتابعتہ لشریعتہ فھو مما یؤکد کونہ خاتم النّبیّین۔‘‘

(حاشیہ کلنبوی بر شرح عقائد جلالی ج:۲ ص:۲۷۹)

ترجمہ: … ’’پس مخلوق کو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد کسی نبی کی ضرورت نہ رہی، اس لئے نبوّت آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر ختم کردی گئی، رہا عیسیٰ علیہ السلام کا نازل ہوکر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی شریعت کی پیروی کرنا تو یہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے خاتم النبیین ہونے کی تاکید کرتا ہے۔‘‘

علامہ سمہودیؒ:

الامام العلامہ نورالدین ابوالحسن علی بن عبداللہ بن احمد الحسنی السمہودی المدنی الشافعی رحمہ اللہ (۸۴۴ھ-۹۱۱ھ) ’’وفاء الوفاء باخبار دار المصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم‘‘ کے چوتھے باب کی اِکیسویں فصل میں لکھتے ہیں:

’’الفصل الحادی والعشرون: فیما روی من الْإختلاف فی صفۃ القبور الشریفۃ بالحجرۃ المنیفۃ وما جاء أنّہ بقی بھا موضع قبر، وأن عیسَی ابن مریم علیہ السلام یدفن بھا۔‘‘

(ج:۱-۲ ص:۵۵۰)

ترجمہ: … ’’اِکیسویں فصل ان روایات میں جو حجرۂ مطہرہ میں واقع قبور شریف کے بارے میں مروی ہیں، نیز اس بات کے

519

بیان میں کہ وہاں ایک قبر کی جگہ باقی ہے، اور یہ کہ عیسیٰ علیہ السلام وہاں دفن ہوں گے۔‘‘

اس کے ذیل میں انہوں نے اس سلسلے کی احادیث ذِکر فرمائی ہیں، نیز ’’خلاصۃ الوفاء باخبار دار المصطفیٰ‘‘ (ص:۲۹۳) میں بھی انہوں نے یہ احادیث درج کی ہیں۔

علامہ قسطلانی:ؒ

الشیخ العلامہ احمد بن محمد بن ابی بکر بن عبدالملک القسطلانی الشافعی رحمہ اللہ (۸۵۱ھ-۹۲۳ھ) ’’ارشاد الساری الیٰ شرح صحیح البخاری‘‘ میں ’’باب نزول عیسیٰ علیہ السلام‘‘ کے تحت لکھتے ہیں:

’’باب نزول عیسٰی علیہ السلام من السماء إلی الأرض آخر الزمان۔‘‘

(ج:۵ ص:۴۱۸)

ترجمہ: … ’’یعنی آخری زمانے میں عیسیٰ علیہ السلام کے آسمان سے زمین پر نازل ہونے کا بیان۔‘‘

اسی باب میں ’’ویضع الجزیۃ‘‘ کے تحت لکھتے ہیں:

’’ولیس عیسٰی بناسخ لحکم الجزیۃ بل نبیّنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم ھو المبیّن للنسخ بھٰذا فعدم قبولھا ھو من ھٰذہ الشریعۃ لٰـکنّہ مقید بنزول عیسٰی۔‘‘

(ج:۵ ص:۴۱۹)

ترجمہ: … ’’اور جزیہ کے حکم کو حضرت عیسیٰ علیہ السلام منسوخ نہیں کریں گے، بلکہ خود آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اس اِرشاد میں اس کے منسوخ ہونے کو بیان فرمایا ہے، پس جزیہ کا قبول نہ کرنا بھی اسی شریعت کا مسئلہ ہے، لیکن یہ مسئلہ نزولِ عیسیٰ علیہ السلام کے زمانے کے ساتھ مقید ہے۔‘‘

520

اور’’کتاب الفتن، باب ذکر الدجال‘‘ کے تحت لکھتے ہیں:

’’وھو الذی یظھر فی آخر الزمان یدّعی الْإلٰھیۃ ۔۔۔۔۔ ثم یقتلہ عیسٰی علیہ السلام وفتنتہ عظیمۃ جدًّا تدھش العقول، وتحیر الألباب۔‘‘

(ج:۱۰ ص:۲۰۸)

ترجمہ: … ’’دجال وہ شخص ہے جو آخری زمانے میں ظاہر ہوگا، اُلوہیت کا دعویٰ کرے گا ۔۔۔۔۔ پھر عیسیٰ علیہ السلام اس کو قتل کریں گے، اور اس کا فتنہ بہت ہی عظیم ہوگا، جس سے عقلیں مدہوش اور حیرت زدہ ہوجائیں گی۔‘‘

علامہ قسطلانی ’’المواہب اللدنیہ‘‘ میں معجزاتِ نبوی کی بحث میں یہ ذِکر کرتے ہوئے کہ انبیائے سابقین علیہم السلام کے معجزات بھی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو دئیے گئے ہیں، لکھتے ہیں:

’’وأما ما أعطیہ عیسٰی أیضًا علیہ الصلاۃ والسلام من رفعہ إلی السماء فقد أعطی نبیّنا صلی اللہ علیہ وسلم ذٰلک لیلۃ المعراج وزاد فی الترقی لمزید الدرجات وسماع المناجاۃ۔‘‘

(ج:۱ ص:۳۸۴)

ترجمہ: … ’’اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو آسمان پر اُٹھائے جانے کا جو معجزہ دِیا گیا تو یہ معجزہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو شبِ معراج میں دِیا گیا، اور مزید دَرجات اور سماعِ مناجات کے لئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو مزید اُوپر لے جایا گیا۔‘‘

نیز اسی کتاب میں خصائصِ نبوی کی بحث میں اُمتِ محمدیہ (علیٰ صاحبہا الصلوٰۃ والسلام) کے خصائص بیان کرتے ہوئے لکھتے ہیں:

’’وکل من دخل فی زمان ھٰذہ الاُمّۃ من الأنبیاء بعد نبیّنا کعیسٰی صلی اللہ علیہ وسلم أو قدر دخولہ
521

کالخضر فإنہ لَا یحکم فی العالم إلّا بما شرعہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم فی ھٰذہ الاُمّۃ فإذا نزل سیّدنا عیسٰی علیہ الصلاۃ والسلام فإنما یحکم بشریعۃ نبیّنا صلی اللہ علیہ وسلم بإلھام أو اطلاع علی الروح المحمدی أو بما شاء اللہ تعالٰی فیأخذ عنہ ما شرع اللہ لہ أن یحکم فی اُمّتہ فلا یحکم فی شیء من تحریم وتحلیل إلّا بما کان یحکم بہ نبیّنا صلی اللہ علیہ وسلم ولَا یحکم بشریعۃ التی اُنزلت علیہ فی أوان رسالتہ ودولتہ فھو علیہ الصلاۃ والسلام تابع لنبیّنا صلی اللہ علیہ وسلم۔‘‘

(مواہب لدنیہ ج:۱ ص:۴۲۲، ۴۲۳)

ترجمہ: … ’’اور وہ تمام انبیائے گزشتہ جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد اس اُمت کے زمانے میں داخل ہوں ۔۔۔جیسے عیسیٰ علیہ السلام۔۔۔ یا ان کا داخل ہونا فرض کیا جائے ۔۔۔جیسے خضر علیہ السلام۔۔۔ تو وہ دُنیا میں صرف وہی حکم کریں گے جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اس اُمت میں مشروع فرمایا، چنانچہ جب سیّدنا عیسیٰ علیہ الصلوٰۃ والسلام نازل ہوں گے تو ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی شریعت کے مطابق حکم کریں گے، خواہ اِلہام کے ساتھ یا رُوحِ محمدی پر اِطلاع پاکر، یا کسی اور طریقے سے جو اللہ تعالیٰ کو منظور ہو، پس آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے وہ اَحکام حاصل کریں گے جو اللہ تعالیٰ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے مقرّر فرمائے ہیں، پس کسی چیز کے حلال وحرام قرار دینے میں وہی حکم دیں گے جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے دیا، اور اپنی شریعت کے مطابق حکم نہیں کریں گے، جو اُن کے دورِ رِسالت میں اُن پر نازل ہوئی تھی، پس حضرت عیسیٰ

522

علیہ السلام ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے تابع ہوں گے۔‘‘

نیز فرماتے ہیں:

’’وإن کان خلیفۃ فی الاُمّۃ المحمدیۃ فھو رسول ونبی کریم علٰی حالہ لَا کما یظنّ بعض الناس أنّہ یأتی واحدًا من ھٰذہ الاُمّۃ نعم ھو واحد من ھٰذہ الاُمّۃ لما ذکر من وجوب اتباعہ لنبیّنا صلی اللہ علیہ وسلم والحکم بشریعتہ۔‘‘

(مواہب لدنیہ ج:۱ ص:۴۲۳)

ترجمہ: … ’’اور اگرچہ آپ اُمتِ محمدیہ (علیٰ صاحبہا الصلوٰۃ والسلام) میں خلیفہ ہوکر آئیں گے، لیکن آپ بدستور رسول اور نبیٔ مکرم ہوں گے، ایسا نہیں جیسا کہ بعض لوگ سمجھتے ہیں کہ وہ محض اس اُمت کے ایک فرد کی حیثیت سے (گویا مسلوب النبوّت ہوکر) آئیں گے۔ ہاں! اس میں شک نہیں کہ (رسول اور نبی ہونے کے باوصف) وہ اس اُمت کے فرد بھی ہوں گے، کیونکہ جیسا کہ ذِکر کیا گیا ہے، ان پر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی پیروی اور شریعتِ محمدیہ (علیٰ صاحبہا الصلوٰۃ والسلام) پر عمل کرنا واجب ہوگا۔‘‘

اس بحث کے آخر میں لکھتے ہیں:

’’ولیس فی الرسل من یتبعہ رسول لہ کتاب إلّا نبیّنا صلی اللہ علیہ وسلم وکفٰی بھٰذا شرفًا لھٰذہ الاُمّۃ المحمّدیّۃ زادھا اللہ شرفًا۔‘‘

(مواہب لدنیہ ج:۱ ص:۴۲۳)

ترجمہ: … ’’اور رسولوں میں کوئی ایسا رسول نہیں جس کی پیروی صاحبِ کتاب رسول نے کی ہو، سوائے ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے، اور یہ اس اُمتِ محمدیہ کے لئے ۔۔۔ اللہ تعالیٰ اس کے شرف میں اِضافہ کرے ۔۔۔ کافی شرف ہے۔‘‘

523

اور حدیثِ معراج کے فوائد پر کلام کرتے ہوئے لکھتے ہیں:

’’وأما عیسٰی فإنما کان فی السماء الثانیۃ لأنہ أقرب الأنبیاء إلی النبی صلی اللہ علیہ وسلم ولَا انمحت شریعۃ عیسٰی علیہ الصلاۃ والسلام إلّا بشریعۃ محمد صلی اللہ علیہ وسلم، ولأنّہ ینزل فی آخر الزمان لاُمّۃ محمد صلی اللہ علیہ وسلم علٰی شریعتہ ویحکم بھا، ولھٰذا قال علیہ الصلاۃ والسلام: ’’أنا أولی الناس بعیسٰی‘‘ فکان فی الثانیۃ لأجل ھٰذا المعنی۔‘‘

(ج:۲ ص:۲۳)

ترجمہ: … ’’اور عیسیٰ علیہ السلام جو دُوسرے آسمان پر تھے تو اس کی ایک وجہ تو یہ ہے کہ وہ تمام انبیاء علیہم السلام کی بہ نسبت آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے اقرب ہیں، اور عیسیٰ علیہ السلام کی شریعت آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی شریعت ہی سے منسوخ ہوئی، اور دُوسری وجہ یہ کہ وہ آخری زمانے میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی اُمت میں نازل ہوکر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی شریعت پر ہوں گے، اور اسی کے مطابق حکم کریں گے، اسی بنا پر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ مجھے سب سے زیادہ قرب عیسیٰ علیہ السلام سے ہے، تو ان کا دُوسرے آسمان میں ہونا اس وجہ سے ہے۔‘‘

شیخ زادہؒ شارح بیضاوی:

الشیخ العلامہ محمد بن مصطفی القوجی الحنفی المعروف بہ شیخ زادہ رحمہ اللہ (متوفیٰ۹۵۰ھ) حاشیہ بیضاوی میں سورۂ نساء کی آیت:۱۵۸ کے تحت لکھتے ہیں:

’’وقولہ تعالٰی: {بَلْ رَّفَعَہُ اللہُ اِلَیْہِ} قال الحسن البصری: إلی السماء التی ھی محل کرامۃ اللہ
524

تعالٰی ومقرّ ملائکتہ ولَا یجری فیھا حکم أحد سواہ، فکان رفعہ إلٰی ذٰلک الموضع رفعًا إلیہ تعالٰی، لأنّہ رفع عن أن یجری علیہ حکم العباد۔‘‘

(تکملہ ج:۱ ص:۸۲)

ترجمہ: … ’’اور اللہ تعالیٰ کا اِرشاد: ’’بلکہ اُٹھالیا ان کو اللہ تعالیٰ نے اپنی طرف‘‘ اِمام حسن بصریؒ فرماتے ہیں: یعنی آسمان پر اُٹھالیا جو حق تعالیٰ شانہ‘ کی کرامت کا محل اور اس کے فرشتوں کا مستقر ہے، اور جس میں اللہ تعالیٰ کے سوا کسی کا حکم نہیں چلتا، پس عیسیٰ علیہ السلام کو اس جگہ کی طرف اُٹھالینا اللہ تعالیٰ کی طرف اُٹھالینا ہے، کیونکہ ان کو ایسی جگہ (یعنی زمین) سے اُٹھالیا کہ جہاں ان پر بندوں کا حکم چلے۔‘‘

اور ’’وَکَان اللہُ عَزِیْزًا حَکِیْمًا‘‘ کی تفسیر میں لکھتے ہیں:

’’فعزۃ اللہ تعالٰی عبارۃ عن کمال قدرتہ فإن رفع عیسٰی علیہ الصلاۃ والسلام إلی السّماوات وإن کان متعذرًا بالنسبۃ إلی قدرۃ البشر لٰـکنّہ سھل بالنسبۃ إلی قدرۃ اللہ تعالٰی لَا یغلبہ أحد۔‘‘

(حوالۂ بالا)

ترجمہ: … ’’پس اللہ تعالیٰ کا عزیز ہونا عبارت ہے اس کے کمالِ قدرت سے، چنانچہ عیسیٰ علیہ الصلوٰۃ والسلام کا آسمانوں کی طرف اُٹھالینا اگرچہ بشری قدرت کے اعتبار سے دُشوار ہے، لیکن اللہ تعالیٰ کی قدرتِ کاملہ کے اعتبار سے بالکل آسان ہے، اس پر کوئی غالب نہیں آسکتا۔‘‘

اور ’’وَاِنْ مِّنْ اَھْلِ الْکِتٰبِ اِلّا لَیُؤْمِنَنَّ بِہٖ قَبْلَ مَوْتِہٖ‘‘ کی تفسیر میں لکھتے ہیں:

’’وإن کان کل واحد من ضمیر بہ وموتہ لعیسٰی فلا إشکال لأن أھل الکتاب الذین یکونون
525

موجودین فی زمان نزولہ علیہ الصلاۃ والسلام لَا بدّ وإن یؤمنوا بہ۔‘‘

(حوالۂ بالا)

ترجمہ: … ’’اور ’’بِہٖ‘‘ اور ’’موتہٖ‘‘ کی دونوں ضمیریں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی طرف راجع ہوں تو کوئی اِشکال ہی نہیں رہتا، کیونکہ جو اہلِ کتاب آپ کے زمانۂ نزول کے وقت موجود ہوں وہ آپ پر ضرور اِیمان لائیں گے۔‘‘

شیخ ابوالسعودؒ:

الشیخ الامام قاضی القضاۃ ابو السعود محمد بن محمد العمادی الحنفی رحمہ اللہ (۸۹۶ھ-۹۵۱ھ) نے اپنی تفسیر ’’ارشاد العقل السلیم إلٰی مزایا القرآن الکریم‘‘ میں متعدّد جگہ اس کی تصریح فرمائی ہے۔

آیتِ کریمہ:’’وَمَکَرُوْا وَمَکَرَ اللہُ‘‘ کے تحت لکھتے ہیں:

’’{وَمَکَرَ اللہُ} بأن رفع عیسٰی علیہ الصلاۃ والسلام وألقی شبھہ علٰی من قصد اغتیالہ حتّٰی قتل۔‘‘

(ج:۱ ص:۲۴۱)

ترجمہ: … ’’اور (یہودیوں کے مقابلے میں) اللہ تعالیٰ نے بھی ایک خفیہ تدبیر کی، وہ یہ کہ عیسیٰ علیہ الصلوٰۃ والسلام کو اُٹھالیا، اور ان کی شباہت اس شخص پر ڈال دی جو آپ کو پکڑنا چاہتا تھا، یہاں تک کہ وہ قتل کیا گیا۔‘‘

آگے اس واقعے کی تفصیل کے ضمن میں لکھتے ہیں:

’’فألقی اللہ عزّ وجلّ شبہ عیسٰی علیہ الصلاۃ والسلام ورفعہ إلی السماء فأخذوا المنافق وھو یقول: أنا دلیلکم فلم یلتفتوا إلٰی قولہ وصلبوہ۔‘‘

(ج:۱ ص:۲۴۱)

526

ترجمہ: … ’’پس اللہ تعالیٰ نے عیسیٰ علیہ السلام کی شباہت اس شخص پر ڈال دی اور آپ کو آسمان پر اُٹھالیا، یہود نے اس منافق کو پکڑلیا، وہ ہرچند کہتا رہا کہ میں تو تمہاری رہنمائی کرنے والا ہوں، مگر یہود نے اس کی بات کی طرف اِلتفات ہی نہیں کیا اور اسی کو سولی پر لٹکادیا۔‘‘

نیز لکھتے ہیں:

’’قال القرطبی: والصّحیح أن اللہ تعالٰی رفعہ من غیر وفاۃ ولَا نوم کما قال الحسن وابن زید، وھو اختیار الطبری وھو الصحیح عن ابن عباس رضی اللہ عنھما۔‘‘

(ج:۲ ص:۲۴۲)

ترجمہ: … ’’اِمام قرطبی فرماتے ہیں: صحیح یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ان کو بغیر وفات اور بغیر نیند کے اُٹھالیا جیسا کہ حسن بصری اور ابنِ زید تابعی نے فرمایا ہے، اسی کو طبری نے اِختیار کیا ہے اور یہی حضرت ابنِ عباس رضی اللہ عنہما سے صحیح روایت ہے۔‘‘

سورۂ اَحزاب کی آیت:’’وَخَاتَمَ النَّبِیّٖنَ‘‘ کے تحت لکھتے ہیں:

’’ولَا یقدح فیہ نزول عیسٰی بعدہ علیھما السلام لأن معنی کونہ خاتم النّبیّین أنّہ لَا ینبأ أحد بعدہ وعیسٰی ممن نُبّیء قبلہ وحین ینزل إنما ینزل عاملًا علٰی شریعۃ محمد صلی اللہ علیہ وسلم مصلّیًا إلٰی قبلتہ کأنہ بعض اُمّتہ۔‘‘

(ج:۳ ص:۲۱۳)

ترجمہ: … ’’اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی خاتمیت میں عیسیٰ علیہ السلام کا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد نازل ہونا قادح نہیں کیونکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے خاتم النبیین ہونے کا مطلب یہ

527

ہے کہ کوئی شخص آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد نبی نہیں بنایا جائے گا، اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو نبوّت پہلے مل چکی تھی، اور جب وہ نازل ہوں گے تو محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی شریعت پر عمل کریں گے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے قبلے کی طرف نماز پڑھیں گے، گویا آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہی کی اُمت کے ایک فرد ہوں گے۔‘‘

اور سورۂ زُخرف کی آیتِ کریمہ: ’’وَاِنَّہٗ لَعِلْمٌ لِّلسَّاعَۃِ‘‘ کے تحت لکھتے ہیں:

’’{وَاِنَّہٗ} وأن عیسٰی {لَعِلْمٌ لِّلسَّاعَۃِ} أی أنّہ بنزولہ شرط أشراط الساعۃ ۔۔۔الخ۔‘‘

(ج:۴ ص:۴۸)

ترجمہ: … ’’اور بے شک وہ یعنی عیسیٰ علیہ السلام البتہ نشانی ہے قیامت کی، یعنی وہ اپنے نازل ہونے کے سبب قیامت کی علامتوں میں سے ایک علامت ہیں۔‘‘

شیخ ابنِ حجر ہیثمیؒ:

شیخ احمد بن محمد بن محمد بن علی بن محمد بن علی بن حجر شہاب الدین ابوالعباس الہیتمیؒ السعدی الانصاری الشافعی رحمہ اللہ (۹۰۹ھ-۹۷۳ھ) اِمام بصیریؒ کے قصیدۂ ہمزیہ کی شرح میں لکھتے ہیں:

’’وحکمۃ أخذ ھٰذا المیثاق علی الأنبیاء إعلامھم وأممھم بأنّہ المتقدّم علیھم وأنّہ نبیّھم ورسولھم وقد ظھر ذٰلک فی الدُّنیا بکونہ أمّھم لیلۃ الْإسراء ویظھر فی الآخرۃ بأنھم کلھم تحت لوائہ بل وفی آخر الزمان بکون عیسٰی ینزل حاکمًا بشریعۃ محمد صلی اللہ علیہ وسلم دون شریعۃ نفسہ۔‘‘

(ص:۲۸)

ترجمہ: … ’’آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے حق میں

528

انبیائے کرام علیہم السلام سے جو عہد لیا گیا اس میں حکمت یہ تھی کہ ان کو اور ان کی اُمتوں کو آگاہ کردیا جائے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سب سے مقدم ہیں، اور سب کے نبی و رسول ہیں اور دُنیا میں اس کا ظہور یوں ہوا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے شبِ معراج میں تمام نبیوں کی اِمامت کی، اور آخرت میں یوں ظہور ہوگا کہ تمام نبی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے جھنڈے تلے ہوں گے، بلکہ اس کا ظہور آخری زمانے میں یوں ہوگا کہ عیسیٰ علیہ السلام نازل ہوکر اپنی شریعت پر عمل نہیں کریں گے، بلکہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی شریعت پر عمل پیرا ہوں گے۔‘‘

سیّد عبدالوہاب شعرانی:

اِمام العارف الربانی سیّد عبدالوہاب شعرانی رحمہ اللہ (متوفیٰ۹۷۳ھ) ’’کتاب الیواقیت والجواہر‘‘ میں لکھتے ہیں:

’’المبحث الخامس والستون فی بیان أن جمیع أشراط الساعۃ التی أخبرنا بھا الشارع حق لَا بدّ أن تقع کلھا قبل قیام الساعۃ۔
وذٰلک کخروج المھدی ثم الدّجّال ثم نزول عیسٰی وخروج الدابۃ وطلوع الشمس من مغربھا ورفع القرآن وفتح سد یأجوج ومأجوج۔‘‘

(الیواقیت والجواہر ج:۲ ص:۱۴۲)

ترجمہ: … ’’بحث۶۵: … اس بیان میں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے جس قدر علاماتِ قیامت بیان فرمائی ہیں وہ سب برحق ہیں، قیامت سے قبل ضرور واقع ہوں گی، جیسے: حضرت مہدیؓ کا ظاہر ہونا، پھر دَجال کا نکلنا، پھر عیسیٰ علیہ السلام کا نازل ہونا، دابۃ

529

الارض کا نکلنا، آفتاب کا مغرب کی جانب سے نکلنا، قرآنِ کریم کا اُٹھایا جانا، اور یأجوج ومأجوج کی دیوار کا کھل جانا۔‘‘

’’(فإن قیل) فما الدلیل علٰی نزول عیسٰی علیہ السلام من القرآن (فالجواب) الدلیل علٰی نزولہ قولہ تعالٰی: {وَاِنْ مِّنْ اَھْلِ الْکِتٰبِ اِلّا لَیُؤْمِنَنَّ بِہٖ قَبْلَ مَوْتِہٖ} أی حین ینزل ویجتمعون علیہ، وأنکرت المعتزلۃ والفلاسفۃ والیھود والنصاریٰ عروجہ بجسدہ إلی السماء، وقال تعالٰی فی عیسٰی علیہ السلام: {وَاِنَّہٗ لَعِلْمٌ لِّلسَّاعَۃِ} قریٔ لَعَلَمٌ بفتح اللّام والعین، والضمیر فی {اِنَّہٗ} راجع إلٰی عیسٰی علیہ السلام لقولہ تعالٰی: {وَلَمَّا ضُرِبَ ابْنُ مَرْیَمَ مَثَلًا}، ومعناہ أن نزولہ علامۃ القیامۃ، وفی الحدیث فی صفۃ الدَّجَّال فبینما ھم فی الصلاۃ إذ بعث اللہ المسیح ابن مریم فنزل عند المنارۃ البیضاء شرقی دمشق بین یدیہ مھروذتان واضعًا کفہ علٰی أجنحۃ مَلَکَین، والمھروذتان بالذال المعجمۃ والمھملۃ معًا حلتان مصبوغتان بالورس فقد ثبت نزولہ علیہ السلام بالکتاب والسُّنّۃ وزعمت النصاریٰ أن ناسوتہ صلب ولَاھوتہ رفع والحق أنہ رفع بجسدہ إلی السماء۔
والْإیمان بذٰلک واجب قال تعالٰی: {بَلْ رَّفَعَہُ اللہُ اِلَیْہِ} قال أبو طاھر القزوینی: واعلم أن کیفیۃ مکثہ فی السماء إلٰی أن ینزل من غیر طعام ولَا شراب مما یتقاصر عن درکہ العقل، ولَا سبیل لنا إلّا أن نؤمن بذٰلک تسلیمًا لسعۃ قدرۃ اللہ تعالٰی، وأطال فی ذکر
530

شبہ الفلاسفۃ وغیرھم فی إنکار الرفع (فإن قیل) فما الجواب عن استغنائہ عن الطعام والشراب مدۃ رفعہ فإن اللہ تعالٰی قال: {وَمَا جَعَلْنٰـھُمْ جَسَدًا لّا یَأْکُلُوْنَ الطَّعَامَ} (فالجواب) أن الطعام إنما جعل قوتًا لمن یعیش فی الأرض لأنہ مسلط علیہ الھواء الحار والبارد فینحل بدنہ فإذا انحل عوضہ اللہ تعالٰی بالغداء إجراء لعادتہ فی ھٰذہ الخطۃ الغبراء، وأما من رفعہ اللہ إلی السماء فإنہ یلطفہ بقدرتہ ویغنیہ عن الطعام والشراب کما أغنی الملائکۃ عنھما فیکون حینئذٍ طعامہ التسبیح وشرابہ التھلیل کما قال صلی اللہ علیہ وسلم: إنی أبیت عند ربی یطعمنی ویسقینی۔‘‘

(الیواقیت والجواہر ج:۲ ص:۱۴۶)

ترجمہ: … ’’اگر کہا جائے کہ قرآنِ کریم سے نزولِ عیسیٰ علیہ السلام کی دلیل کیا ہے؟ جواب: ان کے نزول کی دلیل حق تعالیٰ شانہ‘ کا یہ اِرشاد ہے: ’’اور کوئی نہیں اہلِ کتاب میں سے مگر اِیمان لائے گا عیسیٰ (علیہ السلام) پر ان کی موت سے پہلے۔‘‘

یعنی جب عیسیٰ علیہ السلام نازل ہوں گے اور لوگ ان پر جمع ہوں گے تو تمام اہلِ کتاب ان پر اِیمان لے آئیں گے، اور معتزلہ اور فلاسفہ اور یہود و نصاریٰ ان کے جسم سمیت آسمان پر جانے کے منکر ہیں۔

نیز حق تعالیٰ شانہ‘ عیسیٰ علیہ السلام کے بارے میں فرماتے ہیں: ’’اور بے شک وہ نشانی ہے قیامت کی‘‘ اس میں ایک قراء ت ہے ’’عَلَم‘‘ فتح لام کے ساتھ، اور ’’اِنَّہٗ‘‘ کی ضمیر حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی طرف لوٹتی ہے، کیونکہ اس سے پہلے حق تعالیٰ شانہ‘

531

کا اِرشاد ہے: ’’اور جب بیان کی گئی ابنِ مریم کی مثال‘‘ (معلوم ہوا کہ اُوپر سے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا ذِکر چلا آرہا ہے، پس یہ ضمیر بھی انہی کی طرف لوٹتی ہے) جس کا مطلب یہ ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا نازل ہونا قیامت کی علامت ہے۔

اور حدیث شریف میں دجال کا تذکرہ کرتے ہوئے فرمایا: ’’دریں اثنا کہ لوگ نماز (کی تیاری) میں ہوں گے اتنے میں اللہ تعالیٰ مسیح بن مریم کو نازل فرمائیں گے، پس وہ دمشق کے شرقی جانب سفیدہ منارہ کے پاس نازل ہوں گے، درآںحالیکہ دو زَرد چادریں پہنے ہوئے ہوں گے، دو فرشتوں کے کاندھوں پر ہاتھ رکھے ہوئے نازل ہوں گے۔‘‘ پس ان کا نزول کتاب و سنت دونوں سے ثابت ہے۔

اور نصاریٰ کا زعم ہے کہ ان کا ناسوت سولی دیا گیا، اور لاہوت اُٹھالیا گیا، اور حق یہ ہے کہ ان کو جسدِ عنصری کے ساتھ آسمان پر اُٹھالیا گیا، اور اس پر اِیمان لانا واجب ہے، حق تعالیٰ شانہ‘ کا اِرشاد ہے: ’’بلکہ اُٹھالیا اللہ تعالیٰ نے ان کو اپنی طرف۔‘‘

اِمام ابوطاہر قزوینیؒ فرماتے ہیں:

’’اور جاننا چاہئے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا نازل ہونے تک آسمان میں بغیر کھائے پیئے ٹھہرنا ایسی چیز ہے کہ عقل اس کے اِدراک سے قاصر ہے، اور ہمارے لئے اس کے سوا کوئی راستہ نہیں کہ ہم اس پر اِیمان لائیں اور اللہ تعالیٰ کی وسعتِ قدرت کو تسلیم کریں۔‘‘

اور انہوں نے فلاسفہ وغیرہ کے شبہ کو جو وہ اِنکارِ رَفع کے لئے کرتے ہیں رَدّ کرنے میں طویل کلام کیا ہے۔

سوال: … اگر کہا جائے وہ جب تک آسمان پر ٹھہرے

532

ہوئے ہیں ان کے کھانے پینے سے بے نیاز ہونے کا کیا جواب ہوگا، کیونکہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے کہ: ’’ہم نے ان کا (انبیاء علیہم السلام کا) ایسا جسم نہیں بنایا کہ وہ کھانا نہ کھاتے ہوں۔‘‘

جواب یہ ہے کہ کھانا اس شخص کی روزی بنایا گیا ہے جو زمین پر رہتا ہو، کیونکہ اس پر سرد و گرم ہوا مسلط ہے، جس سے آدمی کا بدن تحلیل ہوتا رہتا ہے، اور اس زمین میں رہنے والوں کے لئے عادت اللہ یوں جاری ہے کہ غذا کے ذریعے اس کا بدل ما یتحلل مہیا کرتے رہتے ہیں، لیکن جس شخص کو اللہ تعالیٰ نے آسمان پر اُٹھالیا ہو، اس کو اپنی قدرت سے لطیف بنادیتے ہیں اور اسے کھانے پینے سے بے نیاز کردیتے ہیں، جیسا کہ فرشتوں کو ان چیزوں سے بے نیاز کر رکھا ہے، دریں صورت اس کا کھانا تسبیح اور اس کا پینا تہلیل ہوجاتا ہے، جیسا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے: بے شک میں اپنے رَبّ کے پاس اس حالت میں رات گزارتا ہوں کہ وہ مجھے کھلاتا پلاتا ہے۔‘‘

شہاب الدین رملی شافعیؒ:

الامام العلامہ شہاب الدین ابوالعباس احمد بن احمد بن حمزہ الرملی الشافعی رحمہ اللہ (متوفیٰ۹۷۱ھ) اپنے فتاویٰ میں لکھتے ہیں:

’’ولھٰذا یأتی عیسٰی فی آخر الزمان علٰی شریعتہ ویتعلق بہ منھا من أمر ونھی ما یتعلق بسائر الاُمّۃ۔‘‘

(بحوالہ جواہر البحار للنبھانی ص:۱۴۱۷)

ترجمہ: … ’’اور اسی بنا پر عیسیٰ علیہ السلام آخری زمانے میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی شریعت پر نازل ہوں گے، اور جو اَمر و نہی ساری اُمت سے متعلق ہیں، وہ ان سے بھی متعلق ہوں گے۔‘‘

533

علامہ شمس الدین شامیؒ:

حافظ سیوطیؒ کے شاگرد اور ’’سیرت شامیہ‘‘ کے مؤلف الشیخ العلامہ شمس الدین محمد بن یوسف الدمشقی رحمہ اللہ (متوفیٰ۹۴۲ھ) اپنی کتاب ’’الآیات العظیمۃ الباھرۃ فی معراج سیّد الدُّنیا والآخرۃ‘‘ میں لکھتے ہیں:

’’ثم تذاکروا أمر السّاعۃ فردّوا أمرھم إلٰی إبراھیم فقال: لَا علم لی بھا، فردّوا أمرھم إلٰی موسٰی فقال: لَا علم لی بھا، فردّوا أمرھم إلٰی عیسٰی فقال: أمّا وجبتھا فلا یعلمھا إلّا اللہ وفیما عھد إلیّ أن الدَّجَّال خارج ومعی قضیبان فإذا رآنی ذاب کما یذوب الرصاص فیھلکہ اللہ تعالٰی۔‘‘

(بحوالہ جواہر البحار للنبھانی ص:۱۱۸۷)

ترجمہ: … ’’پھر انبیائے کرام علیہم السلام نے قیامت کے بارے میں مذاکرہ فرمایا (کہ کب آئے گی؟)، پہلے ابراہیم علیہ السلام سے دریافت کیا گیا، انہوں نے فرمایا: مجھے علم نہیں! پھر حضرت موسیٰ علیہ السلام سے دریافت کیا گیا، فرمایا: مجھے اس کا علم نہیں! پھر حضرت عیسیٰ علیہ السلام سے رُجوع کیا گیا تو انہوں نے فرمایا کہ: قیامت کے آنے کا ٹھیک وقت تو اللہ تعالیٰ کے سوا کسی کو معلوم نہیں، البتہ اللہ تعالیٰ کا مجھ سے ایک عہد ہے کہ دجال نکلے گا (اور میں اس کو قتل کرنے کے لئے نازل ہوں گا) اور میرے ہاتھ میں دوشاخی نیزہ ہوگا، وہ مجھے دیکھتے ہی ایسے پگھلنے لگے گا جیسے سیسہ پگھلتا ہے، پس اللہ تعالیٰ اس کو ہلاک کردے گا۔‘‘

حافظ جلال الدین سیوطیؒ:

الامام الحافظ عبدالرحمن بن کمال الدین بن ابی بکر بن محمد بن سابق الدین جلال

534

الدین السیوطی رحمہ اللہ (۸۴۹ھ-۹۱۱ھ) تفسیر جلالین میں سورۂ آل عمران کی آیت: ’’وَمَکَرُوْا وَمَکَرَ اللہُ‘‘ کے تحت لکھتے ہیں:

’’{وَمَکَرَ اللہُ} بھم بأن ألقی شبہ عیسٰی علٰی من قصد قتلہ فقتلوہ ورفع عیسٰی إلی السماء۔‘‘

(صاوی ج:۱ ص:۱۵۷)

ترجمہ: … ’’اور اللہ تعالیٰ نے ان کے ساتھ خفیہ تدبیر کی، وہ یہ کہ عیسیٰ علیہ السلام کی شباہت اس شخص پر ڈال دی جو ان کو قتل کرنا چاہتا تھا، یہود نے پکڑ کر اسی کو قتل کردیا اور اللہ تعالیٰ نے عیسیٰ علیہ السلام کو آسمان پر اُٹھالیا۔‘‘

اس سے اگلی آیت کی تفسیر میں فرماتے ہیں:

’’{اِذْ قَالَ اللہُ یٰعِیْسٰٓی اِنِّیْ مُتَوَفِّیْکَ} قابضک {وَرَافِعُکَ اِلَیَّ} من الدُّنیا من غیر موت۔‘‘

(ایضاً)

ترجمہ: … ’’جب اللہ تعالیٰ نے فرمایا: اے عیسیٰ! میں تجھے اپنی تحویل میں لینے والا ہوں اور تجھے بغیر موت کے دُنیا سے اپنی طرف اُٹھانے والا ہوں۔‘‘

اور سورۂ نساء کی آیت: ’’وَمَا قَتَلُوْہُ وَمَا صَلَبُوْہُ وَلٰـکِنْ شُبِّہَ لَھُمْ‘‘ کے تحت لکھتے ہیں:

’’{وَمَا قَتَلُوْہُ وَمَا صَلَبُوْہُ وَلٰـکِنْ شُبِّہَ لَھُمْ} المقتول والمصلوب وصاحبھم بعیسٰی أی ألقی اللہ علیہ شبھہ فظنوہ إیّاہ۔‘‘

(ج:۱ ص:۲۵۷)

ترجمہ: … ’’اور انہوں نے عیسیٰ علیہ السلام کو نہ قتل کیا، نہ سولی دی، بلکہ جس کو انہوں نے قتل و صلب کیا وہ انہی کا رفیق تھا، جو

535

ان کے سامنے عیسیٰ علیہ السلام کے مشابہ بنادیا گیا، یعنی اللہ تعالیٰ نے عیسیٰ علیہ السلام کی شباہت اس پر ڈال دی، پس انہوں نے اسی کو عیسیٰ سمجھا۔‘‘

اور سورۂ مائدہ کی آیت: ’’فَلَمَّا تَوَفَّیْتَنِیْ‘‘ کی تفسیر میں لکھتے ہیں:

’’{فَلَمَّا تَوَفَّیْتَنِیْ} قَبَضْتَنِی بالرفع إلی السماء۔‘

(ج:۱ ص:۳۱۷)

ترجمہ: … ’’پھر جب آپ نے مجھے آسمان کی طرف اُٹھاکر اپنی تحویل میں لے لیا۔‘‘

اور تفسیر دُرّمنثور میں بھی انہوں نے متعدّد مقامات میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے رفع و نزول کی احادیث بہت ہی تفصیل سے لکھی ہیں۔

دُرّمنثور کے مندرجہ ذیل صفحات ملاحظہ فرمائیے:

جلد دوم: … صفحات: ۲۴، ۲۵، ۲۷، ۳۶، ۲۳۹ تا ۲۴۵، ۳۴۹، ۳۵۰۔

جلد چہارم: … صفحات: ۲۷۴، ۳۳۶۔

جلد ششم: … صفحات: ۲۰، ۲۱۔

اِمام سیوطی رحمہ اللہ کی کتاب ’’الحاوی للفتاویٰ جلد دوم‘‘ میں تین مستقل رسالے ہیں جن میں نزولِ عیسیٰ علیہ السلام کا عقیدہ درج ہے:

۱: … ’’العرف الوردی فی اخبار المہدی‘‘ (ص:۵۷ سے ص:۸۶ تک)۔

۲: … ’’الکشف عن مجاوزۃ ھذہ الامۃ الالف‘‘ (ص:۸۶ سے ص:۹۲ تک)۔

۳: … ’’کتاب الاعلام بحکم عیسیٰ علیہ السلام‘‘ (ص:۱۵۵ سے ۱۶۷ تک)۔

رسالہ ’’الاعلام‘‘ میں لکھتے ہیں:

’’إنہ یحکم بشرع نبیّنا صلی اللہ علیہ وسلم لَا بشرعہ نصّ علٰی ذٰلک العلماء، ووردت بہ الأحادیث وانعقد علیہ الْإجماع۔‘‘

(الحاوی ج:۲ ص:۱۵۵)

536

ترجمہ: … ’’حضرت عیسیٰ علیہ السلام نازل ہوں گے تو اپنی شریعت پر عمل نہیں کریں گے، بلکہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی شریعت پر عمل کریں گے، علماء نے اس کی تصریح کی ہے، احادیث اس میں وارِد ہوئی ہیں اور اس پر اِجماع منعقد ہوچکا ہے۔‘‘

اسی رسالہ ’’الاعلام‘‘ میں اِمام سیوطیؒ نے ان لوگوں پر جو نزولِ عیسیٰ علیہ السلام کا اِنکار کریں، کفر کا فتویٰ دیا ہے۔ ان کے زمانے میں کسی شخص نے یہ نظریہ پیش کیا تھا کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام جب آخری زمانے میں نازل ہوں گے تو ان پر وحی نازل نہیں ہوگی، اور دلیل میں حدیث: ’’لَا نبی بعدی‘‘ پیش کی، اِمام سیوطیؒ اس حدیث کی شرح کرنے کے بعد فرماتے ہیں:

’’ثم یقال لھٰذا الزاعم: ھل أنت آخذ بظاھر الحدیث من غیر حمل علی المعنی المذکور؟ فیلزمک أحد أمرین، أما نفی نزول عیسٰی أو نفی النبوّۃ عنہ، وکلاھما کفر۔‘‘

(الحاوی ج:۲ ص:۱۶۶)

ترجمہ: … ’’پھر اس مدعی سے کہا جائے گا کہ: کیا تم اس حدیث کے ظاہر کو لیتے ہو اور جو معنی ہم نے ذِکر کیا ہے اس پر محمول نہیں کرتے؟ تو اس صورت میں تم کو دو میں سے ایک بات لازم آئے گی، یا نزولِ عیسیٰ علیہ السلام کا اِنکار کرنا، یا بوقتِ نزول ان کے نبی ہونے کا اِنکار کرنا، اور یہ دونوں باتیں کفر ہیں۔‘‘

نیز اسی رسالے میں ایک اور شخص کا ذِکر ہے، جس نے اس بات کا اِنکار کیا تھا کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام جب نازل ہوں گے تو حضرت مہدیؓ کی اِقتدا کریں گے، اس منکر نے اس کی وجہ یہ ذِکر کی تھی کہ نبی کا مرتبہ اس سے عالی ہے کہ وہ کسی غیرنبی کے پیچھے نماز پڑھے، اِمام سیوطیؒ اس کا رَدّ کرتے ہوئے لکھتے ہیں:

’’وھٰذا من أعجب العجب، فإن صلاۃ عیسٰی
537

علیہ السلام خلف المھدی ثابتۃ فی عدۃ أحادیث صحیحۃ بأخبار رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم وھو الصادق المصدوق الذی لَا یخلف خبرہ۔‘‘

(الحاوی ج:۲ ص:۱۶۷)

ترجمہ: … ’’اور یہ نظریہ بھی عجائبات میں سے ہے، کیونکہ عیسیٰ علیہ السلام کا حضرت مہدی رضی اللہ عنہ کی اِقتدا میں نماز پڑھنا متعدّد اَحادیثِ صحیحہ میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے خبر دینے سے ثابت ہے، اور آپ وہ صادق و مصدوق ہیں جن کی دی ہوئی خبر میں کبھی تخلف نہیں ہوسکتا ۔۔۔صلی اللہ علیہ وسلم۔۔۔۔‘‘

شیخ الاسلام زکریا انصاریؒ:

شیخ الاسلام زین الدین ابو یحییٰ زکریا بن محمد بن زکریا الانصاری الشافعی رحمہ اللہ (۸۲۳ھ-۹۲۶ھ) شرح کتاب الروض میں لکھتے ہیں:

’’(وھو) صلی اللہ علیہ وسلم (خاتم النبیّین) قال تعالٰی: {وَلٰـکِنْ رَّسُوْلَ اللہِ وَخَاتَمَ النَّبِیّٖنَ} ولَا یعارضہ ما ثبت من نزول عیسٰی علیہ الصلاۃ والسلام آخر الزمان لأنّہ لَا یأتی بشریعۃ ناسخہ بل مقررۃ بشریعۃ نبیّنا صلی اللہ علیہ وسلم عاملًا بھا۔‘‘

(بحوالہ جواہر البحار للنبھانی ج:۱ ص:۲۷۳)

ترجمہ: … اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم خاتم النبیین ہیں، حق تعالیٰ کا اِرشاد ہے: ’’ولیکن آپ رسول ہیں اللہ کے اور خاتم کرنے والے نبیوں کے۔‘‘ اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا آخری زمانے میں نازل ہونا جو ثابت ہے، وہ اس کے معارض نہیں، کیونکہ وہ شریعتِ

538

ناسخہ کے ساتھ نہیں آئیں گے، بلکہ ہمارے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی شریعت کو برقرار رکھتے ہوئے اسی پر عمل کریں گے۔‘‘

علامہ کستلیؒ:

الشیخ مولیٰ مصلح الدین مصطفی الکستلی رحمہ اللہ (متوفیٰ۹۰۱ھ) حاشیہ خیالی میں لکھتے ہیں:

’’قولہ: مع ذٰلک لَا بد من تخصیص عیسٰی علیہ السلام، کأنّہ خُصّ عیسٰی علیہ السلام مع وجود غیرہ من الأنبیاء بعد نبینا علیہ السلام کما ذکر رحمہ اللہ من العظماء من العلماء علٰی أن أربعۃ من الأنبیاء فی زمرۃ الأحیاء: الخضر وإلیاس فی الأرض، وعیسٰی وإدریس فی السماء، أما لأن حیاۃ عیسٰی علیہ السلام ونزولہ إلی الأرض واستقرارہ فوقتھا مُدّۃً قد ثبت بالأحادیث الصحاح بحیث لم یبق شبھۃ ولم یسمع فیہ خلافٌ بخلافِ غیرہ۔‘‘

(حاشیہ متن العقائد ص:۱۷۷، مطبوعہ سعادت عثمانیہ)

ترجمہ: … ’’شارح کا قول: ’’اس کے باوجود حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی تخصیص ضروری ہے۔‘‘ باوجود اس کے کہ عیسیٰ علیہ السلام کے علاوہ دُوسرے انبیائے کرام علیہم السلام بھی ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد موجود ہیں، جیسا کہ علامہ خیالیؒ نے ذِکر کیا ہے کہ:

’’بعض علماء اس کے قائل ہیں کہ چار نبی زُمرۂ اَحیاء میں شامل ہیں: حضرت خضر اور حضرت اِلیاس علیہما السلام زمین میں، اور حضرت عیسیٰ اور حضرت اِدریس علیہما السلام آسمان پر ہیں۔‘‘

لیکن شارح نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی تخصیص غالباً

539

اس لئے فرمائی ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا آسمان پر زِندہ ہونا اور ان کا زمین پر نازل ہونا اور زمین پر ایک مدّت تک ٹھہرنا صحیح احادیث سے قطعیت کے ساتھ ثابت ہے کہ اس میں کوئی سا شبہ باقی نہیں رہا، اور اس میں کسی کا اِختلاف نہیں سنا گیا، بخلاف دیگر حضرات کے (کہ ان کا زِندہ ہونا، نہ تو قطعیت سے ثابت ہے اور نہ وہ نزاع و اِختلاف سے بالاتر ہے)۔‘‘

اِمام محمد طاہر پٹنی:ؒ

اِمام محمد طاہر پٹنی گجراتی رحمہ اللہ (متوفیٰ۹۸۶ھ) مجمع البحار میں لکھتے ہیں:

’’فی حدیث عیسٰی أنہ یقتل الخنزیر ویکسر الصلیب و’’یزید‘‘ فی الحلال، أی یزید فی حلال نفسہ بأن یتزوج ویولد لہٗ، وکان لم یتزوج قبل رفعہ إلی السماء فزاد بعد الھبوط فی الحلال فحینئذٍ یؤمن کل أحد من أھل الکتاب للیقین بأنہ بشر۔‘‘

(تکملۃ مجمع بحار الأنوار ج:۵ ص:۴۶۴)

ترجمہ: … ’’حدیث میں ہے کہ: ’’حضرت عیسیٰ علیہ السلام خنزیر کو قتل کریں گے، صلیب کو توڑ ڈالیں گے اور حلال میں زیادہ کریں گے۔‘‘ یعنی اپنی ذات سے متعلق حلال میں اِضافہ کریں گے، بایں طور کہ شادی کریں گے اور ان کی اولاد ہوگی۔ انہوں نے رفعِ آسمانی سے پہلے شادی نہیں کی تھی، پس نازل ہونے کے بعد حلال میں اِضافہ کریں گے، پس اس وقت اہلِ کتاب کا ہر فرد اِیمان لے آئے گا، کیونکہ یقین ہوجائے گا کہ یہ بشر ہیں۔‘‘

540

گیارہویں صدی

شیخ علی ددہ صوفی:ؒ

شیخ مصلح الدین خلوتی کے خلیفہ الامام العارف الشیخ علی ددہ البوسنوی رحمہ اللہ (متوفیٰ۱۰۰۷ھ) اپنی کتاب ’’خواتم الحِکَم‘‘ میں سوال نمبر۷۹ کے تحت لکھتے ہیں:

’’وقولہ تعالٰی: {خَاتَمَ النَّبِیّٖنَ} أی لَا نبی بعدہ أی لَا ینبّأ أحد بعدہ وعیسٰی نُبّیء قبلہ۔‘‘

(بحوالہ جواہر البحار للنبھانی ص:۱۴۶۴)

ترجمہ: … ’’اور حق تعالیٰ کا اِرشاد ہے کہ آپ خاتم النبیین ہیں، کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد کوئی نبی نہیں، یعنی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد کسی کو نبوّت عطا نہیں کی جائے گی، اور عیسیٰ علیہ السلام کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے پہلے نبوّت مل چکی ہے۔‘‘

شیخ ابوالمنتہی حنفی:ؒ

الشیخ العلامہ ابوالمنتہی احمد بن محمد المغنیاوی الحنفی رحمہ اللہ (متوفیٰ۱۰۹۰ھ) ’’شرح فقہ اکبر‘‘ میں حضرت اِمامِ اعظمؒ کے قول:

’’خروج الدّجّال ویأجوج ومأجوج وطلوع الشمس من مغربھا ونزول عیسٰی علیہ السلام من السماء وسائر علامات یوم القیامۃ علٰی ما وردت بہ الأخبار الصحیحۃ حق کائن۔‘‘

ترجمہ: … ’’اور دَجال کا نکلنا، یأجوج ومأجوج کا نکلنا، آفتاب کا مغرب کی جانب سے طلوع ہونا اور عیسیٰ علیہ السلام کا آسمان سے نازل ہونا، اور دیگر علاماتِ قیامت، جیسا کہ احادیثِ صحیحہ میں وارِد ہوئی ہیں، حق ہیں، ضرور ہوکر رہیں گی۔‘‘

541

کی تائید میں ’’مصابیح السنہ‘‘ کے حوالے سے صحیح مسلم کی حدیث ذِکر کی ہے جن میں دس علاماتِ قیامت کا ذِکر ہے۔

شاہ عبدالحق محدث دہلویؒ:

الامام العارف المحدث الفقیہ شاہ عبدالحق محدث دہلوی رحمہ اللہ (۹۵۸ھ-۱۰۵۲ھ) اشعۃ اللمعات شرح مشکوٰۃ میں ’’باب نزول عیسیٰ علیہ السلام‘‘ کے تحت لکھتے ہیں:

’’بہ تحقیق ثابت شدہ است باحادیثِ صحیحہ کہ عیسیٰ علیہ السلام فرود می آید از آسمان برزمین، وی باشد تابع دِینِ محمد را صلی اللہ علیہ وسلم وحکم نامی کنند شریعت آنحضرت ۔۔۔۔ الخ۔‘‘

(ج:۴ ص:۵۱)

ترجمہ: … ’’احادیثِ صحیحہ سے تحقیق کے ساتھ ثابت ہے کہ عیسیٰ علیہ السلام (آخری زمانے میں) آسمان سے زمین پر نازل ہوں گے اور وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے دِین کے تابع ہوں گے اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی شریعت پر عمل کریں گے۔‘‘

علامہ خفاجیؒ:

الشیخ العلامہ احمد بن محمد بن عمر الحنفی المصری شہاب الدین ابوالعباس خفاجی رحمہ اللہ (۹۷۹ھ-۱۰۶۹ھ) نے تفسیر بیضاوی کے حاشیہ ’’عنایۃ القاضی وکفایۃ الراضی‘‘ میں متعدّد مواضع میں اس عقیدے کی تصریح فرمائی ہے۔

دیکھئے سورۂ آل عمران کی آیت:۵۵ (ج:۲ ص:۳۰)، اور سورۂ نساء کی آیات:۱۵۷، ۱۵۸ (ص:۱۹۸ تا ۲۰۰)، اور سورۂ مائدہ کی آیت (ج:۳ ص:۳۰۶)، سورۂ اَحزاب کی آیتِ ختمِ نبوّت (ج:۷ ص:۱۷۶)، سورۂ زُخرف کی آیت:’’وَاِنَّہٗ لَعِلْمٌ لِّلسَّاعَۃِ‘‘ (ج:۷ ص:۴۴۹)۔

مجدّد الف ثانی:ؒ

اِمامِ ربانی مجدّد الف ثانی شیخ احمد بن عبدالواحد سرہندی رحمہ اللہ (۹۷۱ھ-۱۰۳۴ھ)

542

نے مکتوباتِ شریفہ میں متعدّد جگہ نزولِ عیسیٰ علیہ السلام کی تصریح کی ہے۔

دفتر اوّل کے مکتوب نمبر۳۰۱ میں لکھتے ہیں:

’’وخاتم ایں منصب سیّد البشر است، حضرت عیسیٰ بعد از نزول متابع شریعت خاتم الرسل خواہد بود۔‘‘

ترجمہ: … ’’منصبِ نبوّت کے خاتم سیّدالبشر صلی اللہ علیہ وسلم ہیں، اور حضرت عیسیٰ علیٰ نبینا وعلیہ الصلوٰۃ والسلام نازل ہوکر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی شریعت کی پیروی کریں گے۔‘‘

دفتر سوم کے مکتوب نمبر۱۷ میں لکھتے ہیں:

’’حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کہ از آسمان نزول خواہد فرمود متابعت شریعت خاتم الرسل خواہد نمود۔‘‘

ترجمہ: … ’’اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام جب آسمان سے نازل ہوں گے تو خاتم الرسل صلی اللہ علیہ وسلم کی پیروی کریں گے۔‘‘

’’وحضرت عیسیٰ علیٰ نبینا وعلیہ الصلوٰۃ والسلام کہ بعد از نزول متابعت ایں شریعت خواہد نمود اتباع سنت آںسرور علیہ وعلیٰ آلہ الصلوٰۃ والسلام نیز خواہد کرد کہ نسخ ایں شریعت مجوز نیست۔‘‘

(مکتوبات مجدّد الف ثانی،ؒ دفتر دوم، مکتوب:۵۵)

ترجمہ: … ’’اور حضرت عیسیٰ علیٰ نبینا وعلیہ الصلوٰۃ والسلام نازل ہونے کے بعد اس شریعت کی پیروی کریں گے، اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت پر چلیں گے کیونکہ اس شریعت کا منسوخ ہونا جائز نہیں۔‘‘

’’وخاتم انبیاء محمد رسول اللہ است (صلی اللہ تعالیٰ وسلم علیہ وعلیٰ آلہٖ وعلیہم اجمعین) ودِینِ او ناسخ ادیانِ سابق است و کتابِ او بہترین کتب ماتقدم است، وشریعتِ او ناسخے نخواہد بود بلکہ تاقیامِ

543

قیامت خواہد ماند، وعیسیٰ علیٰ نبینا وعلیہ الصلوٰۃ والسلام کہ نزول خواہد نمود عمل بشریعتِ او خواہد کرد وبعنوان اُمتِ او خواہد بود۔‘‘

(مکتوبات مجدّد الف ثانی،ؒ دفتر دوم، مکتوب۶۷)

ترجمہ: … ’’اور تمام انبیائے کرام علیہم السلام کے خاتم حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہیں، اور آپ کا دِین تمام اَدیانِ سابقہ کا ناسخ ہے، اور آپ کی کتاب تمام پہلی کتابوں سے افضل وبہتر ہے، اور آپ کی شریعت کبھی منسوخ نہیں ہوگی، بلکہ قیامت تک باقی رہے گی، اور حضرت عیسیٰ علیٰ نبینا وعلیہ الصلوٰۃ والسلام جب نزول فرمائیں گے تو آپ کی شریعت پر عمل کریں گے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی اُمت کے عنوان سے تشریف لائیں گے۔‘‘

’’علاماتِ قیامت کہ مخبرِ صادق علیہ وعلیٰ آلہ الصلوات والتسلیمات ازاں خبر دادہ است حق است، احتمالِ تخلف ندارد کہ طلوعِ آفتاب را جانبِ مغرب برخلافِ عادت وظہورِ حضرت مہدی علیہ الرضوان ونزولِ حضرت رُوح اللہ علیٰ نبینا وعلیہ الصلوٰۃ والسلام، وخروجِ دجال وظہورِ یأجوج ومأجوج و خروج دابۃ الارض ودُخانے کہ از آسماں پیدا شود تمام مردم را فروگیرد وعذاب درد ناک کند مردم از اِضطراب گویند اے پروردگار من ایں عذاب را از ما دو رُکن کہ ماایمان مے آریم وآخر علامات آتش ست کہ از عدن برخیزد۔‘‘

(مکتوباتِ اِمامِ ربانی مجدّد الف ثانی،ؒ دفتر دوم، مکتوب:۶۷)

ترجمہ: … ’’علاماتِ قیامت، جن کی مخبرِ صادق علیہ وعلیٰ آلہ الصلوات والتسلیمات نے خبر دی ہے، برحق ہیں، تخلف کا اِحتمال نہیں رکھتیں، جیسے خلافِ عادت آفتاب کا مغرب کی جانب سے طلوع ہونا، حضرت مہدی علیہ الرضوان کا ظاہر ہونا، حضرت

544

رُوح اللہ علیٰ نبینا وعلیہ الصلوٰۃ والسلام کا نازل ہونا، دجال کا نکلنا، یأجوج ومأجوج کا ظہور ہونا، دابۃ الارض کا نکلنا اور وہ دُھواں جو آسمان سے ظاہر ہوگا اور تمام لوگوں کو گھیر لے گا اور دردناک عذاب کرے گا اور لوگ پریشانی کے مارے کہیں گے کہ اے پروردگار! یہ عذاب ہم سے دُور فرما، کہ ہم اِیمان لاتے ہیں۔ اور آخری علامت آگ ہے جو عدن سے اُٹھے گی۔‘‘

شاہ نورالحق بخاری محدث دہلویؒ:الشیخ الامام مفتی شاہ نورالحق بن شاہ عبدالحق بخاری محدث دہلوی رحمہ اللہ (۹۸۳ھ-۱۰۷۳ھ) تیسیر القاری شرح بخاری میں ’’باب نزول عیسیٰ بن مریم علیہ السلام‘‘ کے تحت لکھتے ہیں:

’’در ذکر نزولِ عیسیٰ در آخر زماں وترویج نمودن دِینِ محمد صلی اللہ علیہ وسلم گفتہ اند، درتخصیص نزولِ عیسیٰ رفع عقیدۂ باطلہ نصاریٰ است کہ میدانستند عیسیٰ را یہود کشتہ اند وبردار کشیدہ ونیز عیسیٰ اقرب انبیاء ومصدق آنحضرت بود وحیات وی بنصِ قطعی ثبوت پیوستہ۔‘‘

(ج:۳ ص:۳۴۵)

ترجمہ: … ’’یعنی اس کا بیان کہ عیسیٰ علیہ السلام آخری زمانے میں نازل ہوں گے اور دِینِ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی ترویج کریں گے۔ علماء نے کہا ہے کہ عیسیٰ علیہ السلام کے نزول کی تخصیص اس بنا پر ہوئی کہ اس سے نصاریٰ کے عقیدۂ باطلہ کا رَدّ منظور تھا، کیونکہ وہ سمجھتے تھے کہ عیسیٰ علیہ السلام کو یہود نے قتل کردیا اور سولی دے دی، نیز اس لئے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام تمام انبیائے کرام علیہم السلام میں سے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے قریب تر ہیں،

545

اور وہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے مصدق ہیں اور ان کا زندہ ہونا نصِ قطعی سے ثابت ہے۔‘‘

مُلَّا علی قاریؒ:

الشیخ العلامہ سلطان العلماء نورالدین علی بن سلطان محمد القاری الہروی الحنفی (متوفیٰ۱۰۱۴ھ) نے اپنی کتابوں میں نزولِ عیسیٰ علیہ السلام کے عقیدے کی تصریح کثرت سے فرمائی ہے۔

شرح فقہ اکبر میں اِمامِ اعظمؒ کے قول’’ونزول عیسَی بن مریم علیہ السلام من السماء‘‘ ’’اور نازل ہونا عیسیٰ بن مریم علیہ السلام کا آسمان سے‘‘ کے تحت لکھتے ہیں:

’’کما قال اللہ تعالٰی: {وَاِنَّہٗ} أی عیسٰی {لَعِلْمٌ لِّلسَّاعَۃِ} علامۃ القیامۃ، وقال اللہ تعالٰی: {وَاِنْ مِّنْ اَھْلِ الْکِتٰبِ اِلّا لَیُؤْمِنَنَّ بِہٖ قَبْلَ مَوْتِہٖ} أی قبل موت عیسٰی بعد نزولہ عند قیام الساعۃ فیصیر الملل واحدۃ وھی ملۃ الْإسلام الحنفیۃ ۔۔۔۔ ویقتدی بہ لیظھر متابعۃ نبیّنا صلی اللہ علیہ وسلم کما أشار إلٰی ھٰذا المعنی صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم بقولہ: ’’لو کان موسٰی حیًّا لما وسعہ إلّا اتباعی‘‘ وقد بینت وجہ ذٰلک عند قولہ تعالٰی: {وَاِذْ اَخَذَ اللہُ مِیْثَاقَ النَّبِیّٖنَ لَمَآ اٰتَیْتُکُمْ مِنْ کِتٰبٍ وَّحِکْمَۃٍ ثُمَّ جَآئَکُمْ رَسُوْلٌ} الآیۃ فی شرح الشفاء وغیرہ۔
وقد ورد أنہ یبقی فی الأرض أربعین سنۃ ثم یموت ویصلّی علیہ المسلمون ویدفنونہ علٰی ما رواہ الطیالسی فی ’’مُسندہ‘‘، وروی غیر أنہ یدفن بین النبی
546

صلی اللہ علیہ وسلم والصدیق، وروی أنہ یدفن بعد الشیخین فھنیئًا للشیخین حیث اکتنفا بالنبیَّیْن ۔۔۔۔إلخ۔‘‘

(ص:۱۳۶)

ترجمہ: … ’’جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ: ’’بے شک وہ یعنی عیسیٰ البتہ نشانی ہے قیامت کی‘‘ یعنی قیامت کی علامت ہے، اور فرمایا اللہ تعالیٰ نے: ’’اور نہیں ہوگا کوئی شخص اہلِ کتاب میں سے مگر ضرور اِیمان لائے گا اس پر، اس کی موت سے پہلے‘‘ یعنی عیسیٰ علیہ السلام کی موت سے پہلے قربِ قیامت میں ان کے نازل ہونے کے بعد، اس وقت تمام اُمتیں مٹ جائیں گی اور دِینِ اسلام باقی رہ جائے گا۔

اور عیسیٰ علیہ السلام حضرت مہدیؓ کی اِقتدا کریں گے تاکہ ظاہر ہوجائے کہ وہ ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے تابع ہوکر آئے ہیں، جیسا کہ اس مضمون کی طرف آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ارشاد میں اِشارہ فرمایا کہ: ’’اگر موسیٰ علیہ السلام زندہ ہوتے تو ان کو بھی میری پیروی کے سوا چارہ نہ ہوتا۔‘‘ اور میں نے اس کی وجہ حق تعالیٰ کے ارشاد:’’وَاِذْ اَخَذَ اللہُ مِیْثَاقَ النَّبِیّٖنَ لَمَآ اٰتَیْتُکُمْ مِّنْ کِتٰبٍ وَّحِکْمَۃٍ ثُمَّ جَآئَکُمْ رَسُوْلٌ‘‘ کے تحت شرح الشفا میں اور دُوسری کتابوں میں ذِکر کی ہے، اور حدیث میں آتا ہے کہ عیسیٰ علیہ السلام زمین میں چالیس سال رہیں گے، پھر ان کا اِنتقال ہوگا، اور مسلمان ان کی نمازِ جنازہ پڑھیں گے اور ان کو دفن کریں گے جیسا کہ اِمام ابوداؤد طیالسیؒ نے مسند میں روایت کیا ہے، ان کے علاوہ اور دُوسرے حضرات کی روایت میں ہے کہ وہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اور حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے درمیان دفن

547

ہوں گے، اور ایک روایت میں یہ ہے کہ وہ شیخین کے بعد دفن ہوں گے، پس شیخین کو مبارک کہ وہ دو نبیوں کے درمیان ہیں۔‘‘

اور شرح فقہ اکبر میں دُوسری جگہ لکھتے ہیں:

’’وأما عیسٰی فقد وجد قبلہ وإن کان یقع نزولہ بعدہ۔‘‘

(ص:۷۴)

ترجمہ: … ’’لیکن عیسیٰ علیہ السلام! پس ان کا وجود آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے پہلے کا ہے، اگرچہ ان کا نزول آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد ہوگا۔‘‘

اور قصیدہ بدء الامالی کی شرح ’’ضوء المعالی‘‘ میں مصنف کے قول:

عیسٰی سوف یأتی ثم یتوی

لدجال شقی ذی خبال

ترجمہ: … ’’اور عیسیٰ علیہ السلام تشریف لائیں گے پھر بدبخت دجال کو جو فساد برپا کرنے والا ہے ہلاک کریں گے۔‘‘

کے تحت لکھتے ہیں:

’’وإنما ینزل عیسٰی حین حاصر الدَّجَّال فی قلعۃ القدس المھدی وأتباعہ فینزل عیسٰی علیہ السلام من السماء علی المنارۃ الشرقیۃ فمسجد الشام ویأتی القدس فیقتلہ بحربۃ فی یدہ أو ھو بمجرد رؤیۃ عیسٰی یذوب کما یذوب الملح فی الماء، وقد ثبت ھٰذہ الأخبار والآثار عن سیّد الأخیار، فیجب الْإیمان بھا۔‘‘

(ص:۲۲)

ترجمہ: … ’’اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام اس وقت نازل ہوں گے جبکہ دجال نے حضرت مہدی رضی اللہ عنہ اور ان کے لشکر کا

548

قلعہ قدس میں محاصرہ کیا ہوا ہوگا، پس عیسیٰ علیہ السلام مسجدِ شام کے شرقی منارہ پر آسمان سے نازل ہوکر قدس جائیں گے، ان کے ہاتھ میں جو نیزہ ہوگا اس سے دجال کو قتل کریں گے اور وہ آپ کو دیکھتے ہی ایسا پگھلنے لگے گا جیسے نمک پانی میں پگھل جاتا ہے، اور یہ احادیث سیّد الاخیار صلی اللہ علیہ وسلم سے ثابت ہیں۔‘‘ اور ابوبکر اسکاف کی کتاب ’’فوائد الاخبار‘‘ میں سند کے ساتھ اِمام مالکؒ سے، انہوں نے محمد بن منکدرؒ سے، انہوں نے جابر رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس نے دجال کا اِنکار کیا وہ کافر ہے اور جس نے مہدی کا اِنکار کیا وہ کافر ہے۔‘‘ یہ حدیث شارحِ قدسی نے نقل کی ہے۔‘‘

نیز اسی رسالے میں مصنف کے قول:

وباق شرعہ فی کل وقت

إلٰی یوم القیامۃ وارتحال

ترجمہ: … ’’اور آپ کی شریعت باقی رہے گی ہر زمانے میں، قیامت تک۔‘‘

کے تحت لکھتے ہیں:

’’وقولہ: فی کل وقت رد لما ینسب إلی الجھمیۃ من انتھاء شریعتہ صلی اللہ علیہ وسلم أو شیء منھا بنزول عیسٰی علٰی نبیّنا وعلیہ السلام لما فی ’’الصحیحین‘‘ وغیرھما أن عیسٰی یضع الجزیۃ ومعناہ کما قال المحقّقون: إنہ یبطل تقریر الکفار بالجزیۃ فلا یقبل منھم لرفع السیف عنھم إلّا الْإسلام لَا غیر۔
والجواب أن نبینا صلی اللہ علیہ وسلم قد بین
549

أن التقریر بالجزیۃ ینتھی وقت شرعیتہ بنزول عیسٰی علیہ السلام وأن الحکم فی شرعنا بعد نزولہ عدم التقریر بھا فعملہ فی ذٰلک وغیرہ بشریعتنا لَا بغیرھا کما نص علٰی ذٰلک العلماء کالخطابی فی ’’معالم السنن‘‘ والنووی فی ’’شرح مسلم‘‘، ووردت فیہ أحادیث ثابتۃ من غیر نزاع، وانعقد علیہ الْإجماع۔‘‘

(ص:۱۹)

ترجمہ: … ’’اور مصنف کے قول’’وفی کل وقت‘‘ میں اس نظریے کا رَدّ ہے جو جہمیہ کی طرف منسوب کیا جاتا ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی شریعت یا اس کا کچھ حصہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے نازل ہونے سے ختم ہوجائے گا، کیونکہ صحیحین میں آتا ہے کہ عیسیٰ علیہ السلام جزیہ موقوف کردیں گے، اور اس حدیث کا مطلب جیسا کہ محققین نے فرمایا ہے یہ ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کفار سے جزیہ قبول نہیں کریں گے، پس ان سے اسلام کے سوا کچھ قبول نہیں کریں گے۔ جواب یہ ہے کہ یہ بات خود ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمادی ہے کفار پر جزیہ لگانے کی مشروعیت عیسیٰ علیہ السلام کے نزول کے وقت ختم ہوجائے گی، اور یہ کہ ان کے نازل ہونے کے بعد جزیہ قبول نہ کرنا خود ہماری شریعت ہی کا حکم ہے، ان کا عمل اس مسئلے میں اور دیگر مسائل میں ہماری شریعت ہی پر ہوگا نہ کہ کسی دُوسری شریعت پر، علماء نے اس کی تصریح کی ہے جیسا کہ خطابیؒ نے معالم السنن میں اور نوویؒ نے شرح مسلم میں، اور اس میں احادیث بغیر نزاع کے ثابت ہیں اور اس پر اِجماع منعقد ہے۔‘‘

550

علامہ خلخالی:ؒ

علامہ حسین بن حسن حنفی خلخالی رحمہ اللہ (متوفیٰ۱۰۱۴ھ) حاشیہ شرح عقائد جلد اوّل میں لکھتے ہیں:

’’وأما نزول عیسٰی علیہ السلام ومتابعتہ بشریعتہ فھو مما یؤکد کونہ خاتم النبیّین لأنہ إذا نزل کان علٰی دینہ علٰی أن المراد أنہ کان آخر کل نبی ولَا نبی بعدہ۔‘‘

(شرح عقائد جلالی، حاشیہ ص:۹)

ترجمہ: … ’’شارح (علامہ جلال الدین دوانی)ؒ کا یہ قول کہ: ’’رہا (آخری زمانے میں) حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا نازل ہونا اور ان کا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی شریعت کی پیروی کرنا، سو یہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے خاتم النبیین (بمعنی آخری نبی) ہونے کی تاکید کرتا ہے‘‘ (اس کی نفی نہیں کرتا) کیونکہ جب حضرت عیسیٰ علیہ السلام نازل ہوں گے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے دِین پر ہوں گے، علاوہ ازیں خاتم النبیین سے مراد یہ ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم تمام انبیائے کرام علیہم السلام کے بعد آئے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد کوئی نبی نہیں پیدا ہوا۔‘‘

الشیخ العلامہ مولانا عبدالحکیم سیالکوٹی:ؒ

الشیخ علامہ عبدالحکیم سیالکوٹی رحمہ اللہ (۹۸۸ھ-۱۰۶۸ھ) حاشیہ خیالی علیٰ شرح عقائد میں لکھتے ہیں:

’’إنما اکتفی الشارح بذکر عیسٰی علیہ السلام لأن حیاتہ ونزولہ إلی الأرض واستقرارہ علیہ قد ثبت بأحادیث صحیحۃ بحیث لم یبق فیہ شبھتہ ولم یختلف
551

فیہ أحد بخلاف الثلاثۃ۔‘‘

(مجموعہ حواشی البہیہ ج:۳ ص:۳۴۰)

ترجمہ: … ’’اور شارح نے صرف حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے ذکر کرنے پر اس لئے اِکتفا فرمایا کیونکہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا زندہ ہونا (آسمان پر) اور ان کا زمین پر نازل ہونا اور ان کا زمین پر قیام کرنا احادیثِ صحیحہ سے اس قطعیت کے ساتھ ثابت ہے کہ اس میں کوئی ذرا سا شبہ بھی باقی نہیں رہا، اور اس میں کسی ایک نے بھی اِختلاف نہیں کیا، بخلاف باقی تین حضرات کے (یعنی حضرات اِلیاس، اِدریس اور خضر علیہم السلام کے، کہ ان کی حیات قطعیت سے ثابت نہیں اور اس میں اختلاف بھی ہے)۔‘‘

علامہ ابوالبقا:ؒ

العلامہ القاضی ابوالبقا ایوب بن السید الشریف موسیٰ الحنفی الکفوی رحمہ اللہ (توفی قاضیاً بالقدس سنہ ۱۰۹۴ھ) ’’کلیات‘‘ میں لکھتے ہیں:

’’التوفی الْإماتۃ وقبض الروح وعلیہ استعمال العامۃ أو الْإستیفاء وأخذ الحق وعلیہ استعمال البلغاء، والفعل من الوفاۃ، توفی ما لم یسم فاعلہ لأن الْإنسان لَا یتوفی نفسہ فالمتوفی ھو اللہ تعالٰی أو أحد من الملائکۃ۔‘‘

(کلیات ابی البقا ص:۱۲۹)

ترجمہ: … ’’توفی کے معنی ہیں، موت دینا اور رُوح قبض کرلینا، اور یہ عوام کا اِستعمال ہے، یا اس کے معنی ہیں پورا لے لینا اور حق وصول کرنا اور بلغاء کے یہاں یہ لفظ اس معنی میں استعمال ہوتا ہے، یہ فعل لفظ ’’وفاۃ‘‘ سے ہے ’’توفی‘‘ بعینہٖ مجہول استعمال ہوتا ہے کیونکہ انسان اپنے آپ کو خود قبض نہیں کرتا، پس قبض کرنے والے

552

اللہ تعالیٰ ہیں یا کوئی فرشتہ۔‘‘

’’عیسٰی ھو ابن مریم بنت عمران خلقہ اللہ بلا أب وھو إسم عبرانی أو سریانی رفع بجسدہ وکذا إدریس علٰی قول ولہ ثلاث وثلاثون سنۃ وسینزل ویقتل الدجال ویتزوج ویولد لہ ویحج ویمکث فی الأرض سبع سنین ویدفن عند النبی صلی اللہ علیہ وسلم۔‘‘

(کلیات ابی البقا ص:۲۶۵)

ترجمہ: … ’’حضرت عیسیٰ بن مریم بنت عمران، اللہ تعالیٰ نے ان کو بغیر باپ کے پیدا کیا، یہ نام عبرانی یا سریانی ہے، حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو جسدِ عنصری کے ساتھ آسمان پر اُٹھایا گیا، اسی طرح ایک قول کے مطابق حضرت اِدریس علیہ السلام کو بھی، اس وقت ان کی عمر ۳۳ سال کی تھی (یہ عیسائیوں کا قول ہے ۔۔۔ناقل) وہ دوبارہ زمین پر نازل ہوں گے، دجال کو قتل کریں گے، شادی کریں گے، ان کی اولاد ہوگی، زمین میں سات سال رہیں گے اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے روضۂ مطہرہ میں دفن کئے جائیں گے۔‘‘

بارہویں صدی

شیخ اسماعیل رُومیؒ:

بارہویں صدی کے مشہور مفسر شیخ اسماعیل حقی برسوی رُومی رحمہ اللہ (متوفیٰ۱۱۳۷ھ) نے اپنی تفسیر رُوح البیان میں متعدّد جگہ اس عقیدے کی تصریحات فرمائی ہیں، تفصیل کے لئے ان کی تفسیر کے مندرجہ ذیل صفحات دیکھ لئے جائیں:

جلد دوم: … صفحات: ۴۰، ۴۱، ۳۱۷ تا ۳۳۰، ۴۶۰، ۴۶۶۔

جلد ہشتم: … ۳۸۴، ۳۸۵۔

553

یہاں چند حوالے ملاحظہ ہوں:

آیتِ کریمہ: ’’وَمَکَرُوْا وَمَکَرَ اللہُ‘‘ کے تحت لکھتے ہیں:

’’{وَمَکَرَ اللہُ} بأن رفع عیسٰی علیہ الصلاۃ والسلام وألقی شبھہ علٰی من قصد اغتیالہ حتّٰی قتل۔‘‘

(ج:۳ ص:۴۰)

ترجمہ: … ’’اور اللہ تعالیٰ نے ایک تدبیر کی وہ یہ کہ عیسیٰ علیہ السلام کو اُٹھالیا اور جو شخص آپ کو اچانک قتل کرنا چاہتا تھا اس پر آپ کی شباہت ڈال دی یہاں تک کہ وہ قتل ہوا۔‘‘

اور آیتِ کریمہ: ’’بَلْ رَّفَعَہُ اللہُ‘‘ کے تحت لکھتے ہیں:

’’رَدّ وإنکار لقتلہ وإثباتًا لرفعہ، قال الحسن البصری: أی إلی السماء التی ھی محل کرامۃ اللہ تعالٰی ومقر ملائکتہ ولَا یجری فیھا حکم أحد سواہ فکان رفعہ إلٰی ذٰلک الموضع رفعًا إلیہ تعالٰی لأنہ رفع أن یجری علیہ حکم العباد۔‘‘

(رُوح البیان ج:۲ ص:۳۱۸)

ترجمہ: … ’’اس فقرے میں آپ کے قتل کئے جانے کی تردید ہے اور آپ کے اُٹھائے جانے کا اِثبات ہے۔ حسن بصریؒ فرماتے ہیں: ’’اپنی طرف اُٹھانے‘‘ سے مراد ہے آسمان کی طرف اُٹھانا جو اللہ تعالیٰ کی کرامت کا محل اور اس کے فرشتوں کا مستقر ہے، وہاں اللہ تعالیٰ کے سوا کسی کا حکم (ظاہری طور پر بھی) نہیں چلتا، پس اس جگہ کی طرف اُٹھالینا اپنی طرف اُٹھالینا ہے، کیونکہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو اس بالاتر مقام پر پہنچادیا کہ وہاں آپ پر بندوں کا حکم نہ چل سکے۔‘‘

اور آیتِ کریمہ:’’وَکَانَ اللہُ عَزِیْزًا حَکِیْمًا‘‘ کے تحت لکھتے ہیں:

554
’’لَا یغالب فیما یریدہ فعزۃ اللہ تعالٰی عبارۃ عن کمال قدرتہ فإن رفع عیسٰی علیہ السلام إلی السماوات وإن کان متعذرًا بالنسبۃ إلٰی قدرۃ البشر لٰـکنہ سھل بالنسبۃ إلٰی قدرۃ اللہ تعالٰی لَا یغلبہ أحد۔‘‘

(ج:۳ ص:۳۱۹)

ترجمہ: … ’’اور اللہ تعالیٰ بہت ہی زبردست ہے، جس بات کا وہ اِرادہ کرے کوئی اس کا مقابلہ نہیں کرسکتا، پس اللہ تعالیٰ کا عزیز ہونا اس کی کمالِ قدرت سے عبارت ہے، چنانچہ عیسیٰ علیہ السلام کو آسمان پر اُٹھالینا اگرچہ انسانی قدرت کے اعتبار سے مشکل ہے، لیکن اللہ تعالیٰ کی قدرت کے لحاظ سے بالکل آسان ہے، اس پر کوئی غالب نہیں آسکتا۔‘‘

علامہ محمد مہدی الفاسیؒ:

الامام العلامہ شیخ محمد مہدی الفاسی رحمہ اللہ (متوفیٰ۱۱۰۹ھ) شارح ’’دلائل الخیرات‘‘ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے اسمِ گرامی ’’خاتم الانبیاء‘‘ کی شرح میں لکھتے ہیں:

’’ولَا ینافی ذٰلک نزول عیسٰی علیہ السلام بعدہ لأنہ إذا نزل کان علٰی دینہ مع أن المراد أنہ آخر من نُبّیء۔
وأما الْإجماع فقد أجمعت الاُمّۃ علٰی أنہ ینزل ویحکم بھٰذہ الشریعۃ المحمدیۃ ولیس ینزل بشریعۃ مستقلۃ عند نزولہ من السماء وإن کانت النبوّۃ قائمۃ بہ وھو متصف لھا۔‘‘

(ص:۱۱۸)

ترجمہ: … ’’اور عیسیٰ علیہ السلام کا آپ صلی اللہ علیہ وسلم

555

کے بعد نازل ہونا اس کے منافی نہیں، کیونکہ جب وہ نازل ہوں گے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے دِین پر ہوں گے، علاوہ ازیں خاتم الانبیاء کا مطلب یہ ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم آخری شخص ہیں جن کو نبوّت عطا کی گئی ہے۔

رہا اِجماع! تو پوری اُمت کا اِجماع ہے کہ وہ نازل ہوں گے اور اس شریعتِ محمدیہ (علیٰ صاحبہا الصلوٰۃ والسلام) کے مطابق عمل کریں گے، اگرچہ نبوّت ان کے ساتھ قائم ہوگی اور وہ اس کے ساتھ متصف ہوں گے۔‘‘

مُلَّا جیونؒ:

شیخ احمد بن ابی سعید المعروف بہ مُلَّا جیون امیٹھوی رحمہ اللہ (متوفیٰ۱۱۳۰ھ) ’’تفسیراتِ احمدیہ‘‘ میں سورۂ زُخرف کی آیت: ’’وَاِنَّہٗ لَعِلْمٌ لِّلسَّاعَۃِ‘‘ کے ذیل میں لکھتے ہیں:

’’معناہ أنہ علم للساعۃ أن یعلم من نزولہ دنو الساعۃ وقرب القیامۃ۔‘‘

(ص:۶۵۲)

ترجمہ: … ’’اس کا مطلب یہ ہے کہ عیسیٰ علیہ السلام قیامت کے علم کا ذریعہ ہیں، یعنی ان کے نزول سے قیامت کا قریب ہونا معلوم ہوگا۔‘‘

اس کے بعد خروجِ دجال اور نزولِ عیسیٰ علیہ السلام کے واقعے کی تفصیل درج کرتے ہوئے آخر میں لکھتے ہیں:

’’ثم إذا نزل عیسَی ابن مریم یتزوج ویولد لہ علیہ السلام ویمکث أربعین سنۃ، ثم یموت ویدفن فی قبر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فیقوم ھو وعیسَی
556

ابن مریم وأبوبکر وعمر وبھٰذا ورد لفظ الحدیث۔‘‘

(ص:۶۵۳)

ترجمہ: … ’’پھر جب عیسیٰ علیہ السلام نازل ہوں گے تو شادی کریں گے، ان کے اولاد ہوگی، زمین میں چالیس برس رہیں گے، پھر ان کی وفات ہوگی، اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے روضۂ مطہرہ میں دفن ہوں گے، پس آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اور عیسیٰ بن مریم علیہ السلام اور حضرت ابوبکر صدیق اور حضرت عمر رضی اللہ عنہما اِکٹھے اُٹھیں گے، اسی کے ساتھ حدیث کا لفظ وارِد ہوا ہے۔‘‘

حجۃالاسلام شاہ ولی اللہ محدث دہلویؒ:

حجۃالاسلام شاہ ولی اللہ محدث دہلوی رحمہ اللہ (۱۱۱۴ھ-۱۱۷۶ھ) ’’تفہیماتِ اِلٰہیہ‘‘میں لکھتے ہیں:

’’۸- وصیت دیگر: … در حدیث آمدہ است:من ادرک منکم عیسَی ابن مریم فلیقرأہ مِنّی السلام، ایں فقیر آرزوئے تمام دارد کہ اگر ایام حضرت رُوح اللہ را دریا بداول کسے کہ تبلیغ اسلام کند من باشم واگر من آنرانہ دریافتم ہر کسے کہ از اولاد یا اَتباع ایں فقیر زمان بہجت نشان آنحضرت دریا بد حرص تمام کند در تبلیغ سلام تاکتیبہ آخرہ از کتائب محمدیہ ما باشیم والسلام علیٰ من اتبع الہدیٰ۔‘‘

(تفہیماتِ اِلٰہیہ ج:۲ ص:۲۹۸)

ترجمہ: … ’’ایک اور وصیت: حدیث میں آیا ہے کہ:ـ ’’تم میں سے جو شخص حضرت عیسیٰ بن مریم کو پائے وہ ان کو میرا سلام کہے۔‘‘ یہ فقیر آرزوئے تمام رکھتا ہے کہ اگر حضرت رُوح اللہ علیہ السلام کا زمانہ پاوے تو سب سے پہلے ان کو سلام پہنچانے والا میں

557

ہوں گا۔ اور اگر میں ان کو نہ پاؤں تو جو شخص اس فقیر کی اولاد و اَتباع میں سے آنحضرت علیہ السلام کے زمان بہجت نشان کو پاوے تو سلام پہنچانے کی پوری حرص کرے تاکہ لشکرانِ محمدی میں آخری دستہ ہم ہوں، والسلام علیٰ من اتبع الہدیٰ۔‘‘

’’وقد وعدنا أن یخرج فی آخر الزمان رجل یکون مفتاحًا للشر وھو الدَّجَّال الأکبر فیمحقہ عیسٰی علیہ السلام۔‘‘

(تفہیماتِ اِلٰہیہ ج:۱ ص:۸۳)

ترجمہ: … ’’اور ہم سے وعدہ کیا گیا ہے کہ آخری زمانے میں ایک شخص ہوگا جو ’’شر کی کنجی‘‘ ہوگا اور وہ دَجالِ اکبر ہے، پس حضرت عیسیٰ علیہ السلام اس کو ہلاک کریں گے۔‘‘

علامہ سفارینی:

الشیخ العلامہ محمد بن احمد السفارینی الاثری الحنبلی رحمہ اللہ (۱۱۱۴ھ-۱۱۸۸ھ) اپنے عقیدۂ منظومہ ’’الدرۃ المضیۃ فی عقد الفرقۃ المرضیۃ‘‘ میں فرماتے ہیں:

  1. ’’وما اتٰی فی النص من أشراط

    فکلہ حق بلا شطاط

  2. منھا الْإمام الخاتم الفصیح

    محمدٍ المہدی والمسیح‘‘

(یعنی قرآن و حدیث کے نصوص میں قیامت کی جو علاماتِ کبریٰ وارِد ہوئی ہیں وہ سب برحق ہیں، ان میں کوئی بعد نہیں، چنانچہ علاماتِ کبریٰ جن میں احادیثِ متواترہ وارِد ہیں، ان میں ایک تو اِمام مہدی رضی اللہ عنہ کا ظہور ہے اور دُوسری علامت حضرت مسیح علیہ السلام کا نازل ہونا ہے)۔

پھر اس دُوسری علامت کی شرح کرتے ہوئے ’’الدرۃ المضیۃ لوائح

558

الأنوار البھیۃ وسواطع الأسرار الأثریۃ‘‘ میں لکھتے ہیں:

’’(و) منھا أی مِن علامات الساعۃ العظمٰی العلامۃ الثالثۃ أن ینزل من السماء السیّد (المسیح) عیسٰی علیہ السلام ونزولہ ثابتٌ بالکتاب والسُّنّۃ، وإجماع الاُمّۃ ۔۔۔۔۔
أما الکتاب فقولہ: {وَاِنْ مِّنْ اَھْلِ الْکِتٰبِ اِلّا لَیُؤْمِنَنَّ بِہٖ قَبْلَ مَوْتِہٖ} أی لیؤمنن بعیسٰی قبل موت عیسٰی وذٰلک عند نزولہ من السماء فی آخر الزمان۔
وأما السُّنّۃ ففی ’’الصحیحین‘‘ وغیرھما عن أبی ھریرۃ رضی اللہ عنہ قال: قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم: ’’والذی نفسی بیدہ! لیوشکن أن ینزل فیکم ابن مریم حَکَمًا عدلًا فیکسر الصّلیب ویقتل الخنزیر ویضع الجزیۃ‘‘ الحدیث۔
وفی مسلم عنہ: ’’واللہ! لینزلن ابن مریم حَکَمًا عدلًا، فیکسر الصّلیب‘‘ بنحوہ، وأخرج مسلم أیضًا عن جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ قال: قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم: ’’لَا تزال طائفۃٌ من اُمّتی یقاتلون علی الحق ظاھرین إلٰی یوم القیامۃ، فینزل عیسَی ابن مریم فیقول أمیرھم: تعال صلّ بنا۔ فیقول: لَا! إنّ بعضکم علٰی بعضٍ اُمراء تکرمۃ اللہ ھٰذہ الاُمّۃ‘‘۔
أما الْإجماع فقد اجتمعت الاُمّۃ علٰی نزولہ ولم یخالف فیہ أحدٌ من أھل الشریعۃ، وإنما أنکروا ذٰلک الفلاسفۃ والملاحدۃ مما لَا یعتد خلافہ، وقد
559

انعقد إجماع الاُمّۃ علٰی أنہ ینزل ویحکم بھٰذہ الشریعۃ المحمدیۃ ولیس ینزل مستقلۃ عند نزولہ من السماء وإن کانت النبوۃ قائمۃ بہ، وھو متّصف بھا۔‘‘

(کتاب لوائح الأنوار البھیۃ وسواطع الأسرار الأثریۃ ص:۹۰، مطبوعہ مجلہ انصار الاسلامیۃ مصر ۱۳۳۲ھ)

ترجمہ: … ’’اور قیامت کی علاماتِ کبریٰ میں سے تیسری علامت یہ ہے کہ حضرت مسیح عیسیٰ بن مریم علیہ السلام آسمان سے نازل ہوں گے، اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا نازل ہونا کتاب وسنت اور اِجماعِ اُمت سے ثابت ہے۔

کتابُ اللہ سے نزولِ عیسیٰ علیہ السلام کا ثبوت یہ ہے کہ حق تعالیٰ شانہ‘ فرماتے ہیں: ’’وَاِنْ مِّنْ اَھْلِ الْکِتٰبِ اِلّا لَیُؤْمِنَنَّ بِہٖ قَبْلَ مَوْتِہٖ‘‘ (النساء:۱۵۹) ’’اور نہیں ہے اہلِ کتاب میں سے کوئی، مگر وہ اِیمان لائے گا ان پر ان کی موت سے پہلے‘‘ یعنی تمام اہلِ کتاب حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی موت سے پہلے ان پر اِیمان لائیں گے۔ اور یہ آخری زمانے میں اس وقت ہوگا جب حضرت عیسیٰ علیہ السلام آسمان سے نازل ہوں گے۔

اور سنت سے نزولِ عیسیٰ علیہ السلام کا ثبوت یہ ہے کہ صحیحین اور دیگر کتبِ حدیث میں حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کی حدیث ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’قسم اس ذات کی کہ میری جان اس کے قبضے میں ہے! قریب ہے کہ ابنِ مریم علیہ السلام تم میں حاکمِ عادل کی حیثیت سے نازل ہوں گے، پس صلیب کو توڑ ڈالیں گے اور خنزیر کو قتل کریں گے اور جزیہ کو موقوف کردیں گے‘‘ الحدیث۔

560

اور صحیح مسلم میں حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ: ’’میری اُمت میں ایک جماعت ہمیشہ حق پر لڑتی رہے گی اور وہ قیامت تک غالب رہیں گے، پھر عیسیٰ بن مریم علیہ السلام نازل ہوں گے تو مسلمانوں کا اَمیر ان سے عرض کرے گا کہ: ہمیں نماز پڑھائیے! حضرت عیسیٰ علیہ السلام فرمائیں گے: نہیں! (بلکہ اس نماز کی اِمامت آپ ہی کرائیں) بے شک تم میں سے بعض، بعض پر اَمیر ہیں، یہ اللہ تعالیٰ کی جانب سے اُمت کا اِعزاز ہے (کہ ایک جلیل القدر نبی ان میں سے ایک شخص کی اِقتدا میں نماز پڑھتے ہیں)۔

اور اِجماعِ اُمت سے نزولِ عیسیٰ علیہ السلام کا ثبوت یہ ہے کہ پوری اُمت کا اس پر اِجماع ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام آخری زمانے میں نازل ہوں گے اور اس عقیدے میں اہلِ شریعت میں سے کسی کا اِختلاف نہیں، اس میں صرف فلاسفہ اور ملاحدہ نے اِختلاف کیا ہے، جن کے اِختلاف کا کوئی اِعتبار نہیں۔

اور اُمت کا اس پر اِجماع منعقد ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام نازل ہوں گے اور اس شریعتِ محمدیہ ۔۔۔علیٰ صاحبہا الصلوٰۃ والسلام۔۔۔ کے مطابق فیصلہ کریں گے اور آسمان سے نازل ہونے کے وقت اپنی الگ شریعت لے کر نازل نہیں ہوں گے، اگرچہ نبوّت ان کے ساتھ قائم ہوگی اور وہ بدستور وصفِ نبوّت کے ساتھ موصوف ہوں گے۔‘‘

شیخ محمد اکرم صابریؒ:

بارہویں صدی کے بزرگ شیخ المشائخ مولانا محمد اکرم صابری رحمہ اللہ ۱۱۳۲ھ

561

میں تصنیف شدہ اپنی کتاب ’’اقتباس الانوار‘‘ میں لکھتے ہیں:

’’ویک فرقہ بر آں رفتہ اند کہ مہدی آخر الزماں عیسیٰ بن مریم است علیہ السلام، وایں روایت بہ غایت ضعیف است، زیرا کہ اکثر اَحادیث صحیح ومتواتر از حضرت رسالت پناہ صلی اللہ علیہ وسلم ورود یافتہ کہ مہدی از بنی فاطمہ خواہد بود، وعیسیٰ بن مریم باو اقتدا کردہ نماز خواہد گزارد، وجمیع عارفان صاحبِ تمکین بر ایں متفق اند۔‘‘

(اقتباس الانوار ص:۷۲)

ترجمہ: … ’’اور کچھ لوگ اس طرف گئے ہیں کہ مہدیٔ آخرالزماں حضرت عیسیٰ بن مریم علیہ السلام ہیں۔ اور یہ روایت نہایت کمزور ہے، کیونکہ بہت سی صحیح ومتواتر اَحادیث حضرت رسالت پناہ صلی اللہ علیہ وسلم سے وارِد ہوئی ہیں کہ اِمام مہدی اولادِ فاطمہؓ سے ہوں گے، اور حضرت عیسیٰ بن مریم علیہ السلام ان کی اِقتدا میں نماز ادا کریں گے، اور تمام عارفین باتمکین اس پر متفق ہیں۔‘‘

شیخ احمد الدردیرؒ:

الامام العارف الشیخ احمد بن محمد بن احمد الدردیر المالکی رحمہ اللہ (۱۱۲۰ھ-۱۲۰۱ھ) اپنے عقیدۂ منظومہ مسمّیٰ بہ ’’الخریدۃ البہیۃ‘‘ میں فرماتے ہیں:

وبکل ما جاء عن البشیر

من کل حکم صار کالضروری

ترجمہ: … ’’اور ان تمام اُمور پر اِیمان لانا واجب ہے جو عام وخاص میں مشہور ہونے کی وجہ سے دِین کے بدیہی مسائل بن گئے ہیں۔‘‘

اور اس کی شرح میں ضروریاتِ دِین کی مثالیں دیتے ہوئے لکھتے ہیں:

562
’’وکشرائط الساعۃ الخمسۃ المتفق علیھا ۔۔۔۔۔ أولھا خروج المسیح الدَّجَّال ۔۔۔۔۔ وثانیھا نزول المسیح عیسَی ابن مریم علیہ الصلاۃ والسلام من السماء وقتلہ الدَّجَّال۔‘‘

(ص:۷۰)

ترجمہ: … ’’اور مثلاً قیامت کی پانچ متفق علیہ علامتیں، اوّل مسیحِ دجال کا نکلنا، دوم حضرت مسیح بن مریم علیہ الصلوٰۃ والسلام کا آسمان سے نازل ہونا اور دَجال کو قتل کرنا۔‘‘

سیّد محمد مرتضیٰ زبیدیؒ:

الامام العلامہ محب الدین ابوالفیض السیّد محمد مرتضیٰ الحسینی الزبیدی رحمہ اللہ (۱۱۴۵ھ-۱۲۰۵ھ) ’’تاج العروس‘‘ میں لکھتے ہیں:

’’(ولُدّ بالضم بفلسطین یقتل عیسٰی علیہ السلام الدجال عند بابہ) وھو الذی جزم بہ أقوام کثیرون ممن ألف فی أحوال الآخرۃ وشروط الساعۃ، وادعی قوم أن الوارد فی بعض الأحادیث أنہ یقتلہ عند محاصرتہ المھدی فی القدس واعتمدہ القاری فی الناموس، کما قالہ شیخنا۔‘‘

(تاج العروس، فصل اللام من باب الدَّال، ج:۲ ص:۴۹۳)

ترجمہ: … ’’(اور لُدّ (بالضم) فلسطین کے ایک قریہ کا نام، جس کے دروازے کے پاس حضرت عیسیٰ علیہ السلام دجال کو قتل کریں گے) اور اسی پر جزم کیا ہے، ان بہت سے حضرات نے جنہوں نے اَحوالِ آخرت اور علاماتِ قیامت پر کتابیں تالیف فرمائی ہیں، اور بعض حضرات نے دعویٰ کیا ہے کہ بعض احادیث میں وارِد

563

ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام دجال کو اس وقت قتل کریں گے جبکہ اس ملعون نے بیت المقدس میں حضرت مہدی علیہ الرضوان اور ان کے لشکر کا محاصرہ کر رکھا ہوگا۔ حضرت شیخ علی قاری رحمۃ اللہ علیہ نے ’’الناموس‘‘ میں اسی پر اِعتماد کیا ہے، یہ بات ہمارے شیخ نوّر اللہ مرقدہٗ نے فرمائی ہے۔‘‘

فائدہ: … حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا نزول اس وقت ہوگا جبکہ دجال لعین کے لشکر نے حضرت مہدی علیہ الرضوان اور ان کے لشکر کا محاصرہ کر رکھا ہوگا، حضرت رُوح اللہ علیہ السلام نازل ہوکر نمازِ فجر میں شریک ہوں گے اور نماز کے بعد اس کے مقابلے میں نکلیں گے۔ دجال آپ کو دیکھتے ہی بھاگ کھڑا ہوگا، آپ اس کا تعاقب کریں گے، اور بابِ لُدّ پر اس کو جالیں گے۔

تیرہویں صدی

شیخ الاسلام بخاری دہلویؒ:

شیخ الاسلام فخرالدین بن محب اللہ بن نورُاللہ بن نورُالحق بن شاہ عبدالحق محدث دہلوی رحمہ اللہ، شرح بخاری میں ’’باب نزولِ عیسیٰ علیہ السلام‘‘ کے تحت لکھتے ہیں:

’’وگفتہ اند حکمت در نزولِ عیسیٰ علیہ السلام نہ غیر وی از انبیاء رو بر یہودیت کہ می گفتند کہ زعم می کردند کہ کشتند وبردار کشیدہ اند او را، یا برای نزدیک بودن اجل او تا دفن کردہ شود در زمین زیرا چہ نمی سزد، ہیچ آفریدہ از خاک را اینکہ بمیرد در غیر خاک، یا بجہت آنکہ دُعا کردہ بود خدا را وقتیکہ دید صفت محمد مصطفی واُمت او را اینکہ بگرداند عیسیٰ را از ایشاں، پس قبول کرد خدائے تعالیٰ دُعا او را، وباقی داشت او را تا نزول کند در آخر زماں وتجدید کند امر اسلام را، پس اتفاق شود خروج دجال پس بکشد دجال را، یا بجہت تکذیب نصاریٰ واظہار بغی ایشاں

564

در دعویٰ ایشاں اباطیل را یا بجہت اقرب بودن اوست از دیگراں بآنحضرت در زمان۔‘‘

(شرح شیخ الاسلام بر حاشیہ تیسیر القاری ج:۶ ص:۱۵۷)

ترجمہ: … ’’اور علماء نے کہا ہے کہ صرف عیسیٰ علیہ السلام کا نزول مقدر ہوا کسی اور نبی کا نہیں، اس کی حکمت یہ ہے کہ اس سے ایک تو یہود پر رَدّ کرنا مقصود تھا کہ وہ سمجھتے تھے کہ انہوں نے آپ کو قتل کرڈالا اور سولی دے دی۔ یا اس لئے کہ ان کی موت کا وقت قریب آچکا ہوگا، اس لئے ان کو نازل کیا جائے گا تاکہ زمین میں دفن کئے جائیں۔ اس لئے کہ جو شخص مٹی سے پیدا ہوا، اس کی موت بھی زمین پر ہی ہونی چاہئے۔ یا اس کی وجہ یہ ہے کہ انہوں نے جب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کی اُمت کی صفت ملاحظہ کی تو حق تعالیٰ شانہ‘ سے دُعا کی تھی کہ ان کو بھی اُمتِ محمدیہ میں شامل کردے۔ حق تعالیٰ شانہ‘ نے ان کی دُعا قبول فرمالی اور ان کو زِندہ رکھا یہاں تک کہ وہ آخری زمانے میں نزول فرمائیں گے اور دِینِ اسلام کی تجدید کریں گے، اس وقت دجال نکلا ہوا ہوگا، پس اس کو قتل کریں گے۔ یا ان کا نزول نصاریٰ کی تکذیب اور ان کے ظلم وتعدی اور ان کے غلط اور باطل دعوؤں کی تردید کے لئے ہوگا۔ یا اس کی وجہ سے کہ وہ دیگر انبیائے کرام علیہم السلام کی بہ نسبت آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے باعتبارِ زمانہ کے اَقرب ہیں۔‘‘

شیخ احمد سلاویؒ:

الشیخ المحقق العلامہ احمد بن محمد بن ناصر السلاوی رحمہ اللہ اپنے رسالے ’’تعظیم الْاتفاق فی آیۃ اخذ المیثاق‘‘ میں لکھتے ہیں:

565
’’ولھٰذا یأتی عیسٰی علیہ السلام فی آخر الزمان حاکمًا بشریعتہ وھو نبی کریم علٰی حالہ وھو واحد من ھٰذہ الاُمّۃ أیضًا بل صحابی لِاتباعہ لشرع المصطفٰی ولِاجتماعہ بہ فی لیلۃ الْإسراء وھو حیٌّ۔‘‘

(بحوالہ جواہر البحار للنبہانی ص:۱۴۸۶)

ترجمہ: … ’’اور اسی بنا پر عیسیٰ علیہ السلام آخری زمانے میں آکر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی شریعت کے مطابق حکم کریں گے، اور وہ بدستور نبی مکرم ہوں گے، اور وہ اس اُمت کے اَفراد میں سے ایک فرد بھی ہوں گے، بلکہ وہ صحابی ہوں گے، کیونکہ وہ شریعتِ مصطفویہ ۔۔۔علیٰ صاحبہا الصلوٰۃ والسلام۔۔۔ کی پیروی کریں گے، اور اس لئے کہ انہوں نے بحالتِ حیات شبِ معراج میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے ملاقات کی ہے۔‘‘

نیز اسی میں آگے چل کر لکھتے ہیں:

’’لَا شک أن عیسٰی حین نزولہ لَا تسلب عنہ نبوّتہ ولَا رسالتہ بل ینزل متصفًا بھما کما کان فی الدُّنیا قبل رفعہ، ولٰـکنہ یحکم إذًا بشریعۃ المصطفٰی صلی اللہ علیہ وسلم وذٰلک عن الْإتباع قطعًا إذ لو لم یکن متبعًا لہ ما حکم بشرعہ فقد جمع بین تمام نبوّتہ ورسالتہ فی نفسہ وبین إتباعہ فی الحکم والشرع لنبینا صلی اللہ علیہ وسلم کیف وقد عدوہ من ھٰذہ الاُمّۃ بل من الصحابۃ لملاقاتہ المصطفٰی صلی اللہ علیہ وسلم لیلۃ الْإسراء وھو حیٌّ فثبت لہ الصحبۃ وھو نبی علٰی حالہ فھو نبی صحابی تابع لشرع نبینا مجتہد ولَا محذور۔‘‘

(حوالۂ بالا ص:۱۴۹۰)

566

ترجمہ: … ’’اس میں شک نہیں کہ عیسیٰ علیہ السلام جب نازل ہوں گے تو ان سے نبوّت و رِسالت سلب نہیں کی جائے گی، بلکہ وہ نازل ہوں گے اور ان دونوں کے ساتھ متصف ہوں گے، جیسا کہ اُٹھائے جانے سے پہلے دُنیا میں ان کے ساتھ متصف تھے، لیکن وہ نازل ہوکر شریعتِ مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کے مطابق حکم کریں گے، اور یہ قطعاً عین اِتباع ہے، اس لئے کہ اگر وہ متبع نہ ہوتے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی شریعت کے مطابق حکم نہ فرماتے۔ پس وہ اپنی ذاتی نبوّت و رِسالت، اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم وشریعت کی پیروی، ان دونوں باتوں کے جامع ہوں گے۔ اور علماء نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو اِس اُمت میں بلکہ صحابہ میں سے شمار کیا ہے، کیونکہ انہوں نے بحالتِ حیات آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے شبِ معراج میں ملاقات کی، پس ان کو صحابیت کا شرف بھی حاصل ہے اور وہ بدستور نبی بھی ہیں، پس وہ نبی ہیں، صحابی ہیں، آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی شریعت کے تابع ہیں اور اس میں مجتہد ہیں۔‘‘

شاہ رفیع الدینؒ:

حضرت مسند الہند شاہ رفیع الدین محدث دہلوی رحمہ اللہ (متوفیٰ۱۲۴۹ھ) نے اپنے فارسی رسالے ’’قیامت نامہ‘‘ میں ظہورِ مہدیؓ و حیات و نزولِ عیسیٰ علیہ السلام کو آٹھ صفحات میں نہایت بسط و تفصیل سے بیان کیا ہے۔

(دیکھئے: ’’قیامت نامہ‘‘ فارسی ص:۳ تا ۱۱)

نواب قطب الدین دہلویؒ:

الشیخ الفقیہ المحدث نواب قطب الدین ابن محی الدین الحنفی الدہلوی رحمہ اللہ (۱۲۲۴ھ-۱۲۸۹) ’’مظاہرِ حق شرح مشکوٰۃ‘‘ میں ’’باب نزولِ عیسیٰ علیہ السلام‘‘ کے ذیل میں لکھتے ہیں:

567

’’بالتحقیق ثابت ہوا ہے صحیح حدیثوں سے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام اُتریں گے آسمان سے زمین پر، اور ہوں گے تابع دِینِ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے اور حکم کریں گے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی شریعت پر۔‘‘

ایک دُوسری جگہ لکھتے ہیں:

’’اور ذِکر کیا حضرات نے ان دس نشانیوں میں سے نکلنا آفتاب کا جانبِ غروب ہونے سے چنانچہ بیان اس کا حدیث میں آوے گا، اور ذِکر کیا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اُترنا عیسیٰ بیٹے مریم کا آسمان سے زمین پر۔‘‘

(ج:۴ ص:۳۸۷)

شیخ حسن شطیؒ:

الشیخ الامام حسن بن عمر بن معروف الشطی الدمشقی الحنبلی رحمہ اللہ (۱۲۰۵ھ-۱۲۷۴ھ)’’مختصر لوامع الأنوار البھیۃ‘‘ میں لکھتے ہیں:

’’العلامۃ الثالثۃ: أنہ ینزل من السماء السیّد المسیح ابن مریم علیہ السلام فنزولہ ثابت فی الکتاب والسُّنّۃ وإجماع الاُمّۃ۔‘‘

ترجمہ: … ’’قیامت کی علاماتِ کبریٰ میں سے تیسری علامت یہ ہے کہ حضرت مسیح عیسیٰ بن مریم علیہ السلام آسمان سے نازل ہوں گے، پس ان کا نازل ہونا کتاب و سنت اور اِجماعِ اُمت سے ثابت ہے۔‘‘

علامہ محمد بن محمد الامیرؒ:

الشیخ العلامہ محمد الامیر رحمہ اللہ (متوفیٰ۱۲۴۶ھ) شرح ’’جوہرۃ التوحید‘‘ کے حاشیہ میں لکھتے ہیں:

568
’’(قولہ: فلا تبتدأ) احتراز عن عیسٰی فلیس کأنبیاء بنی إسرائیل بعد موسٰی فإنھم ابتدئت نبوّتھم بعدہ وإرسال موسٰی لقید بحیاتہ فھم مستقلون وأما عیسٰی بعد محمد فکأحد المجتھدین بالقرآن لأنذرکم بہ ومن بلغ۔‘‘

(حاشیۃ الأمیر علٰی شرح جوھرۃ التوحید ص:۱۱۶، ازہریہ مصر ۱۳۰۹ھ)

ترجمہ: … ’’مصنف کا قول ’’پس نئی نبوّت نہیں آئے گی‘‘ یہ اِحتراز ہے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی تشریف آوری سے، پس حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی حیثیت موسیٰ علیہ السلام کے بعد آنے والے انبیائے بنی اسرائیل جیسی نہیں ہوگی، کیونکہ ان کی نبوتوں کی اِبتدا موسیٰ علیہ السلام کے بعد ہوئی اور موسیٰ علیہ السلام کی نبوّت ان کی حیات تک محدود تھی، پس وہ اپنی نبوّت میں مستقل تھے۔ لیکن رہا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا نازل ہونا، تو ان کی حیثیت اس اُمت کے ایک مجتہد کی ہوگی اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوّت قیامت تک کے لئے ہے۔‘‘

حضرت مولانا محمد قاسم نانوتویؒ:

حجۃالاسلام مولانا محمد قاسم نانوتوی قدس سرہٗ (متوفیٰ۱۲۹۷ھ) ’’آبِ حیات‘‘ میں لکھتے ہیں:

’’باقی رہا یہ شبہ کہ اس صورت میں مناسب یہ تھا کہ (دجال) خود حضرت سروَرِ عالم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھ سے مقتول ہوتا، کیونکہ اَضداد رَافع اَضداد ہوا کرتے ہیں، سو اس صورت میں ضد مقابل دجال آپ تھے، نہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام۔

569

سو اس کا جواب یہ ہے کہ تضاد اِیمان و کفر مُسلَّم ہے، پر اَضداد کثیر المراتب میں ہر مرتبہ کیف مااتفق دُوسرے ضد کے ہر ہر مرتبے کا مضاد نہیں ہوا کرتا، سو دَجال ہرچند مراتب موجودہ کفر میں سب میں بالا ہے، پر مقابل مرتبہ محمدی نہیں ہوسکتا ۔۔۔۔۔۔ ہاں! حضرت عیسیٰ علیہ السلام البتہ دجال کے لئے مدِ مقابل ہوں گے۔

بالجملہ دجال لعین، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نسبت اگرچہ باعتبار کمالِ ایمان وکفر ضدِ مقابل ہے، مگر باعتبار درجہ نبوی ودرجہ دجالی باہم تضاد نہیں، بلکہ دجال باعتبار تقابل مرتبہ سافل میں ہے، کہ ادھر اور انبیاء علیہم السلام بھی درجہ نبوی سے فروتر ہیں، اس لئے بالضرور انبیاء باقیہ میں سے کوئی اور نبی اس کے لئے ضدِ مقابل ہوگا، سو بایں نظر کہ اصل ایمان اِنقیاد و تذلل ہے، جس کا خلاصہ عبدیت ہے، اور اصلِ کفر اِبا واِمتناع ہے، جس کا حاصل تکبر ہے، حضرت عیسیٰ علیہ السلام اور مسیحِ دجال لعین میں تقابل نظر آتا ہے، اس لئے کہ:

۱: … حضرت عیسیٰ علیہ السلام اپنے حق میں فرماتے ہیں: ’’اِنِّیْ عَبْدُ اللہِ‘‘ اور دَجال لعین دعویٔ اُلوہیت کرے گا۔‘‘

۲: … ادھر جس قسم کے خوارق مثل اِحیاء موتیٰ حضرت عیسیٰ علیہ السلام سے صادر ہوئے تھے، اسی طرح کے خوارق اس مردود سے ہوں گے۔

۳: … پھر بایں ہمہ دعویٰ عبودیت نصاریٰ کا حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو معبود بنالینا جمع کرنا ضدین یعنی داعیہ اِزالہ منکر واِلتزام منکر مذکور ہے۔

۴: … پھر اس پر ان کا کیا، گویا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم

570

ہی کا کیا ہے، اس لئے کہ اِقتدا انبیائے سابقین، سیّد المرسلین تو معلوم ہی ہوچکا۔

۵: … پھر دعویٔ عبودیت حضرت عیسیٰ علیہ السلام اس بات پر شاہد ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام بہ نسبت حضرتِ اقدس سیّدِ عالم علیہ الصلوٰۃ والسلام نائبِ خاص ہیں۔

منصبِ بشارت آمد آمد سروَرِ انبیاء علیہ الصلوٰۃ والسلام پر مامور ہوئے گویا حضرت عیسیٰ علیہ السلام اور ان کے اَتباع کو آپ کے حق میں مقدمۃ الجیش سمجھئے، چنانچہ انجامِ کار شامل حال اُمتِ محمدی ہو غنیم اکبر دجال موعود کو قتل کرنا زیادہ تر اس کا شاہد ہے کہ اس لئے کہ وقت اِختتام سفر و مقابلہ غنیم وبغاوت سپاہیان مقدمۃ الجیش بھی شریک لشکر ظفر پیکر ہوجاتے ہیں۔‘‘

(آبِ حیات ملخصاً ص:۱۷۵-۱۸۱ طبع جدید ملتان)

چودھویں صدی

حسنین محمد مخلوفؒ:

دیارِ مصر کے مفتی شیخ حسنین محمد مخلوف (المتوفیٰ۱۳۵۵ھ) اپنی تفسیر ’’صفوۃ البیان لمعانی القرآن‘‘ میں حیات و نزولِ عیسیٰ علیہ السلام کے بارے میں لکھتے ہیں:

’’واعلم أن عیسٰی علیہ السلام لم یُقتل ولم یُصلب، کما قال تعالٰی: {وَمَا قَتَلُوْہُ وَمَا صَلَبُوْہُ وَلٰـکِنْ شُبِّہَ لَھُمْ} وقال: {وَمَا قَتَلُوْہُ یَقِیْنًا} فاعتقادُ النصاریٰ القتل والصَّلب کفرٌ لَا ریب فیہ، وقد أخبر اللہ تعالٰی أنہ رَفع إلیہ عیسٰی، کما قال: {وَرَافِعُکَ اِلَیَّ} وقال: {بَلْ رَّفَعَہُ اللہُ اِلَیْہِ} فیجب الْإیمان بہ۔
571
والجمھور علٰی أنہ رفع حیًّا من غیر موت ولَا غفوۃ بجسدہ ورُوحہ إلی السماء، والخصوصیۃ لہ علیہ السلام ھی فی رفعہ بجسدہ وبقائہ فیھا إلی الأمد المقدَّر لہ۔‘‘

(صفوۃ البیان لمعانی القرآن للشیخ حسنین محمد مخلوف ص:۸۲)

’’{وَمَا قَتَلُوْہُ یَقِیْنًا} متیقّنین أنہ ھو، بل رفعہ اللہ إلی السماء التی لَا حکم فیھا إلّا ﷲ تعالٰی، وطھّرہ من الذین کفروا۔
١٥٩- {وَاِنْ مِّنْ اَھْلِ الْکِتٰبِ اِلّا لَیُؤْمِنَنَّ بِہٖ قَبْلَ مَوْتِہٖ} أی ما أحدٌ من أھل الکتاب الموجودین عند نزول عیسٰی علیہ السلام آخر الزمان إلّا لیؤمننَّ بأنہ عبدُاللہ ورسولُہ وکلمتہ، قبل أن یموت عیسٰی وتکونَ الأدیان کلُّھا دینًا واحدًا، وھو دین الْإسلام الحنیف، دینُ إبراھیم علیہ السلام، ونزولُ عیسٰی علیہ السلام ثابتٌ فی الصحیحین، وھو من أشراط الساعۃ۔‘‘

(صفوۃ البیان لمعانی القرآن للشیخ حسنین محمد مخلوف ص:۸۲)

’’١١٧- {فَلَمَّا تَوَفَّیْتَنِیْ} فلما أخذتنی وافیًا بالرفع إلی السماء حیًّا، إنجائً لی مما دبّرُوہ من قتلی، من التوفّی وھو أخذ الشیء وافیًا أی کاملًا، وقد جاء التوفّی بھٰذا المعنی فی قولہ تعالٰی: {یٰعِیْسٰی اِنِّیْ مُتَوَفِّیْکَ وَرَافِعُکَ اِلیَّ وَمُطَھِّرُکَ مِنَ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا}، ولَا یصحّ أن یُحمل علی الْإماتۃ، لأن إماتۃ عیسٰی فی وقت حصار أعدائہ لہ لیس فیھا ما یسوِّغ الْإمتنان بھا، ورَفْعُہ إلی السماء بعد الموت جُثّۃً ھامدۃً سُخفٌ من
572

القول، قد نزّہ اللہ السماء أن تکون قبورًا لجُثَث الموتٰی، وإن کان الرفع بالرُّوح فقط، فأیّ مزیّۃ لعیسٰی فی ذٰلک علٰی سائر الأنبیاء، والسماء مستقرّ أرواحھم الطاھرۃ، فالحق أنہ علیہ السلام رفع إلی السماء حیًّا بجسدہ وقد جعلہ اللہ واُمّہ آیۃ، واللہ علٰی کل شیء قدیر۔‘‘

(صفوۃ البیان لمعانی القرآن للشیخ حسنین محمد مخلوف ص:۱۶۷)

ترجمہ: … ’’واضح ہو کہ عیسیٰ علیہ السلام کو نہ تو قتل کیا گیا اور نہ سولی دی گئی، جیسا کہ اِرشادِ باری ہے: ’’حالانکہ انہوں نے نہ ان کو قتل کیا اور نہ ان کو سولی چڑھایا، لیکن ان کو اِشتباہ ہوگیا‘‘ اور فرمایا: ’’اور انہوں نے ان کو یقینی بات ہے کہ قتل نہیں کیا۔‘‘ پس نصاریٰ کا حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے قتل کئے جانے اور سولی چڑھائے جانے کا اِعتقاد بلاشبہ کفر ہے۔ اور اللہ تعالیٰ نے اس کی خبر دی ہے کہ عیسیٰ علیہ السلام آسمان پر اُٹھالئے گئے، جیسا کہ فرمایا: ’’میں تم کو اپنی طرف اُٹھائے لیتا ہوں‘‘ اور فرمایا: ’’بلکہ اللہ نے اپنی طرف اُٹھالیا‘‘ پس اس پر اِیمان لانا واجب ہے۔ اور جمہور علمائے اُمت کا اس پر اِجماع ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو نیند اور بے ہوشی کے بغیر جسم اور رُوح سمیت زندہ آسمان پر اُٹھایا گیا ہے، اور ان کی خصوصیت بھی تب ہی ثابت ہوتی ہے کہ انہیں رُوح مع الجسد آسمان پر اُٹھالیا گیا ہو، اور وہ ایک وقتِ مقرّرہ تک آسمان پر رہیں۔‘‘

اس سے آگے لکھتے ہیں:

’’اور انہوں نے ان کو یقینی بات ہے کہ قتل نہیں کیا‘‘ یعنی ان کو یہ یقین نہیں تھا کہ یہ شخص جس کو ہم سولی دے رہے ہیں وہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام ہیں، بلکہ اللہ تعالیٰ نے عیسیٰ علیہ السلام کو تو

573

آسمان پر اُٹھالیا، جہاں اللہ تعالیٰ کے علاوہ کسی کا حکم نہیں چلتا، اور اللہ تعالیٰ نے ان کو پاک کردیا ان لوگوں کی صحبت سے جنہوں نے کفر کیا۔ ’’اور نہیں رہے گا اہلِ کتاب میں سے ایک شخص بھی مگر اِیمان لائے گا ان پر ان کی موت سے پہلے‘‘ جو شخص موجود ہوگا وہ ان پر ضرور اِیمان لائے گا اہلِ کتاب میں سے کہ وہ اللہ تعالیٰ کے بندے، رسول اور اس کے کلمہ ہیں، اس وقت تمام اَدیان ختم ہوجائیں گے صرف دِینِ اسلام یعنی ملتِ ابراہیم باقی رہ جائے گی۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا نازل ہونا صحیحین کی احادیث سے ثابت ہے اور وہ من جملہ علاماتِ قیامت میں سے ہے۔‘‘

ایک اور جگہ لکھتے ہیں:

’’پھر جبکہ آپ نے مجھ کو اُٹھالیا‘‘ یعنی جب مجھ کو پورا پورا لے لیا آسمان کی طرف زِندہ اُٹھاکر، مجھے قتل کرنے کے جو منصوبے بنا رہے تھے ان سے نجات دینے کے لئے۔

’’توفی‘‘ کے معنی ہیں کسی شے کو پورا پورا لے لینا، اور ’’توفی‘‘ اسی معنی میں استعمال ہوا ہے اللہ تعالیٰ کے اس ارشاد میں: ’’اے عیسیٰ! (کچھ غم نہ کرو) بے شک میں تم کو قبضے میں لینے والا ہوں اور (فی الحال) میں تم کو اپنی طرف اُٹھائے لیتا ہوں اور تم کو ان لوگوں سے پاک کرنے والا ہوں جو منکر ہیں۔‘‘

(یہاں) توفی کو موت دینے کے معنی پر محمول کرنا صحیح نہیں، کیونکہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو ان کے دُشمنوں کے محاصرے میں موت دینا، کوئی قابلِ اِمتنان اَمر نہیں۔ اسی طرح اس سے ان کے مُردہ جسم کا آسمان پر اُٹھایا جانا مراد لینا بھی کم عقلی کی بات ہے، اس لئے کہ اللہ تعالیٰ نے آسمان کو اس سے منزہ رکھا ہے کہ وہاں

574

مُردوں کی قبریں بنائی جائیں۔ اگر رَفع سے محض رفعِ رُوح مراد لی جائے تو اس میں دُوسرے انبیاء کی نسبت حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی کیا خصوصیت رہ جاتی ہے، جبکہ آسمان تو تمام اَرواحِ مقدسہ کا مستقر ہے۔ پس حق یہ ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام بجسدِ عنصری آسمان کی طرف اُٹھائے گئے ہیں اور اللہ تعالیٰ نے انہیں اور ان کی ماں کو ایک نشان بنایا ہے، اور اللہ تعالیٰ ہر شے پر قادر ہیں۔‘‘

علامہ انور شاہ کشمیریؒ:

محدث العصر علامہ محمد انور شاہ کشمیری رحمہ اللہ (متوفیٰ۱۳۵۳ھ) اپنی تالیف ’’تحیۃ الاسلام‘‘ میں لکھتے ہیں:

’’جاننا چاہئے کہ اس عالم میں بھی آخرت کے کچھ نمونے موجود ہیں ۔۔۔۔۔۔ اور قربِ قیامت کا زمانہ تو خرقِ عادت کا وقت ہے، اور نبوّت، دجل وفریب کے مقابلہ اور مقاومت کے لئے ہے، جیسا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے اِرشاد میں اس کی طرف اِشارہ ہے کہ: ’’اگر وہ (دجال) میری موجودگی میں آیا تو اس کے مقابلے کے لئے میں خود موجود ہوں۔‘‘ اور عیسیٰ علیہ السلام تو درحقیقت اس باب میں دجال کی بالکل ضد ہیں، پس جب دُنیا ہی میں آخرت کے نمونے موجود ہیں تو قیامت کے آنے کو کیوں مستبعد سمجھا جائے؟ اور علاماتِ قیامت کا کیوں اِنکار کیا جائے؟ اور جب ویسے بھی دُنیا میں دجل، سحر، شعبدہ بازی جیسے اعمال بہرحال پائے جاتے ہیں تو ان کے مقابلے میں معجزاتِ حسیّہ کا وجود بھی ضروری ہے، کیونکہ سنت اللہ یونہی جاری ہے، اور چونکہ دجال، حضرت مسیح علیہ السلام کا نام چرالے گا (اور خود مسیح بن بیٹھے گا) تو اس کے مقابلے میں اس کی

575

تردید وتکذیب کی غرض سے مسیح علیہ السلام کا نزول ضروری ہوا، اور چونکہ مسیح علیہ السلام خود من جملہ ارواح کے ہیں اور نمونۂ آخرت ہیں، اس لئے ان کی حیات کا طویل ہونا بھی (کوئی مستبعد چیز نہیں بلکہ) سنت اللہ ہے۔‘‘

(تحیۃ الاسلام ص:۸)

شیخ زاہد الکوثریؒ:

شیخ الاسلام علامہ شیخ محمد زاہد الکوثری رحمہ اللہ (متوفیٰ۱۳۶۲ھ) اپنے رسالے ’’نظرۃ عابرۃ فی مزاعم من ینکر نزول عیسٰی علیہ السلام‘‘ میں لکھتے ہیں:

’’کتابُ اللہ، سنتِ متواترہ اور اِجماعِ اُمت، عقیدۂ نزولِ مسیح علیہ السلام پر متفق ہیں۔‘‘

صفحہ:۳۶ پر کتابُ اللہ کی روشنی میں حیات و نزولِ عیسیٰ علیہ السلام پر طویل بحث کے بعد فرماتے ہیں:

’’اور یہ بھی واضح ہوا کہ تنہا قرآنی نصوص ہی حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے زندہ اُٹھائے جانے اور آخری زمانے میں ان کے نازل ہونے کو قطعی طور پر ثابت کرتے ہیں، کیونکہ ایسے خیالی اِحتمالات کا کوئی اِعتبار نہیں جو کسی دلیل پر مبنی نہ ہوں، پھر جبکہ قرآنی تصریحات کے ساتھ احادیثِ متواترہ بھی موجود ہوں اور خلفاً عن سلف تمام اُمت اس عقیدے کی قائل چلی آتی ہو، اور دورِ قدیم سے لے کر آج تک اس عقیدے کو کتبِ عقائد میں درج کیا جاتا رہا ہو، تو اس کی قطعیت میں کیا شبہ باقی رہ سکتا ہے؟فَمَاذَا بَعْدَ الْحَقِّ اِلّا الضَّلَالُ! (اب حق کے بعد گمراہی کے سوا اور کیا رکھا ہے)۔‘‘

صفحہ:۳۷ پر فرماتے ہیں:

’’اور ہم نے ثابت کردیا ہے کہ قرآنِ حکیم کے نصوصِ

576

قطعیہ رَفع و نزول پر دَلالت کرتے ہیں، اور ہر زمانے میں اَئمہ دِین، علمائے اُمت، بالخصوص مفسرین قرآنی آیات کی یہی مراد سمجھتے چلے آتے ہیں۔‘‘

صفحہ:۳۸ پر فرماتے ہیں:

’’پس جو شخص رَفع و نزول کا اِنکار کرتا ہے، وہ ملتِ اِسلامیہ سے خارج ہے، کیونکہ وہ ہوائے نفس کی رُو میں بہ کر کتاب وسنت کو پشت انداز کرتا ہے، اور ملتِ اسلامیہ کے اس قطعی عقیدے سے رُوگردانی کرتا ہے جو کتاب وسنت سے ثابت ہے۔‘‘

صفحہ:۴۰ پر فرماتے ہیں:

’’اَطرافِ حدیث پر نظر کرنے کے بعد نزولِ مسیح کا اِنکار بے حد خطرناک ہے، اللہ تعالیٰ محفوظ رکھے، رَفع و نزول کے مسئلے میں احادیثِ متواترہ کا وجود قطعی ہے اور بزدویؒ نے ’’بحث متواتر‘‘ کے آخر میں تصریح کی ہے کہ ’’متواتر کا منکر اور مخالف کافر ہے‘‘ شیخ بزدویؒ نے متواتر کی مثال میں ’’قرآنِ حکیم، نمازِ پنج گانہ، تعدادِ رکعات اور مقادیرِ زکوٰۃ‘‘ جیسی چیزوں کا ذِکر کیا ہے، اور کتبِ حدیث میں نزولِ عیسیٰ علیہ السلام کا ذِکر، مقادیرِ زکوٰۃ سے کسی طرح کم نہیں (پھر جب مقادیرِ زکوٰۃ کا منکر کافر ہے تو نزولِ عیسیٰ علیہ السلام کا منکر کیوں کافر نہ ہوگا؟)۔‘‘

صفحہ:۴۷ پر فرماتے ہیں:

’’نزولِ عیسیٰ علیہ السلام کا عقیدہ صرف کسی ایک مذہب کا عقیدہ نہیں، بلکہ یہ ’’اِجماعی عقیدہ‘‘ ہے، کوئی مذہب ایسا نہیں ملے گا جو اس کا قائل نہ ہو، چنانچہ فقہِ اکبر بروایت حماد، فقہِ اوسط بروایت ابومطیع، الوصیۃ بروایت ابی یوسف اور عقیدہ طحاوی سے واضح ہے، کہ

577

اِمام ابوحنیفہؒ اور آپ کے تمام متبعین عیسیٰ علیہ السلام کی تشریف آوری کا عقیدہ رکھتے ہیں ۔۔۔نصف اُمت تو یہی ہوئی۔۔۔ اسی طرح اِمام مالکؒ اور تمام مالکیہ، اور تمام شافعیہ سب کے سب اس عقیدے پر متفق ہیں، اِمام احمد بن حنبلؒ نے عقائدِ اہلِ سنت کے بیان میں جو چند خطوط اپنے شاگردوں کے نام لکھے تھے، ان سب میں یہ عقیدہ مذکور ہے، یہ رسائل اہلِ علم کے یہاں صحیح سندوں سے ثابت اور مناقبِ احمد لابن جوزیؒ اور طبقاتِ حنابلہ لابی یعلیٰؒ میں مدوّن ہیں۔ اسی طرح ظاہریہ بھی نزولِ عیسیٰ علیہ السلام کے قائل ہیں، چنانچہ ابنِ حزمؒ کی تصریح، کتاب الفصل ج:۳ ص:۲۴۹ میں اور المحلّٰی ج:۱ ص:۹، ج:۷ ص:۳۹۱ میں موجود ہے، بلکہ معتزلہ بھی اس کے قائل ہیں جیسا کہ علامہ زمخشری کے کلام سے واضح ہے، اسی طرح شیعہ بھی اس کے قائل ہیں۔ اب ایسا مسئلہ جس کی دلیل تمام صحاح، تمام سنن اور تمام مسانید میں موجود ہو، اور تمام اِسلامی فرقے جس کے قائل ہوں، اس میں مذہبی تعصب کا گمان کیسے ہوسکتا ہے؟‘‘

حکیم الامت اشرف علی تھانویؒ:

حکیم الامت مجدّد الملت حضرت مولانا محمد اشرف علی تھانوی رحمہ اللہ (متوفیٰ۱۳۶۲ھ) تفسیر ’’بیان القرآن‘‘ میں آیتِ کریمہ: ’’وَمَکَرُوْا وَمَکَرَ اللہُ‘‘ کے ذیل میں لکھتے ہیں:

’’ف: … اس آیت میں چند وعدے مذکور ہیں، جو اس وقت عیسیٰ علیہ السلام سے فرمائے گئے۔ ایک وقتِ موعود پر طبعی وفات دینا، جس سے مقصود بشارت دینا تھا حفاظت من الاعداء کا، یہ وقتِ موعود اس وقت آوے گا جب قربِ قیامت کے زمانے میں عیسیٰ علیہ السلام آسمان سے زمین پر تشریف لاویں گے جیسا کہ

578

احادیثِ صحیحہ میں آیا ہے۔

دُوسرا وعدہ عالمِ بالا کی طرف فی الحال اُٹھالینے کا، چنانچہ یہ وعدہ ساتھ کے ساتھ پورا کیا گیا، جس کے ایفاء کی خبر سورۂ نساء میں دی گئی ہے (رَفَعَہُ اللہُ اِلَیْہِ) اب زندہ آسمان پر موجود ہیں اور اگرچہ پہلا وعدہ پیچھے پورا ہوگا لیکن مذکور پہلے ہے، کیونکہ یہ مثل دلیل کے ہے وعدہ دوم کے لئے اور دلیل ربتاً مقدم ہوتی ہے اور واو چونکہ ترتیب کے لئے موضوع نہیں لہٰذا اس تقدیم وتأخیر میں کوئی اِشکال نہیں ۔۔۔۔۔۔۔‘‘

شیخ الاسلام شبیر احمد عثمانی:ؒ

شیخ الاسلام حضرت مولانا شبیر احمد عثمانی رحمہ اللہ (متوفیٰ۱۳۶۹ھ) تفسیر عثمانی میں ’’بَلْ رَّفَعَہُ اللہُ اِلَیْہِ‘‘ کے تحت لکھتے ہیں:

’’اللہ تعالیٰ ان کے قول کی تکذیب فرماتا ہے کہ یہودیوں نے نہ عیسیٰ علیہ السلام کو قتل کیا، نہ سولی پر چڑھایا، یہود جو مختلف باتیں اس بارے میں کہتے ہیں، اپنی اپنی اٹکل سے کہتے ہیں، اللہ نے ان کو شبہ میں ڈال دیا، خبر کسی کو بھی نہیں، واقعی بات یہ ہے اللہ تعالیٰ نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو آسمان پر اُٹھالیا، اور اللہ تعالیٰ سب چیزوں پر قادر ہے اور اس کے ہر کام میں حکمت ہے۔ قصہ یہ ہوا کہ جب یہودیوں نے حضرت مسیح علیہ السلام کے قتل کا عزم کیا تو پہلے ایک آدمی ان کے گھر میں داخل ہوا، حق تعالیٰ نے ان کو تو آسمان پر اُٹھالیا اور اس شخص کی صورت حضرت مسیح علیہ السلام کی صورت کے مشابہ کردی، جب باقی لوگ گھر میں گھسے تو اس کو مسیح سمجھ کر قتل کردیا، پھر خیال آیا تو کہنے لگے کہ اس کا چہرہ تو مسیح کے چہرے کے مشابہ ہے

579

اور باقی بدن ہمارے ساتھی کا معلوم ہوتا ہے، کسی نے کہا کہ: یہ مقتول مسیح ہے تو ہمارا آدمی کہاں گیا؟ اور ہمارا آدمی ہے تو مسیح کہا ہے؟ اب صرف اٹکل سے کسی نے کچھ کہا، کسی نے کچھ کہا، علم کسی کو بھی نہیں، حق یہی ہے کہ حضرت عیسیٰ ہرگز مقتول نہیں ہوئے بلکہ آسمان پر اللہ تعالیٰ نے اُٹھالیا اور یہود کو شبہ میں ڈال دیا۔

ف: … حضرت عیسیٰ علیہ السلام زندہ موجود ہیں آسمان پر، جب دجال پیدا ہوگا تب اس جہان میں تشریف لاکر اسے قتل کریں گے اور یہود اور نصاریٰ ان پر اِیمان لائیں گے کہ بے شک عیسیٰ زندہ ہیں، مرے نہ تھے، اور قیامت کے دن حضرت عیسیٰ علیہ السلام ان کے حالات اور اعمال کو ظاہر کریں گے کہ یہود نے میری تکذیب اور مخالفت کی اور نصاریٰ نے مجھ کو خدا کا بیٹا کہا۔‘‘

چودھویں صدی میں مرزا غلام احمد قادیانی نے مسیحِ موعود ہونے کا دعویٰ کیا، علماء محققین نے نہ صرف حیات و نزولِ عیسیٰ علیہ السلام کی تصریحات فرمائیں بلکہ مرزا غلام احمد قادیانی کی بھرپور تردید بھی کی، اس موضوع پر لکھی گئی تمام کتب اور ان کے اِقتباسات کا اِحاطہ مشکل ہے، تاہم مناسب ہوگا کہ جن اکابرین نے اس موضوع پر قلم اُٹھایا ہے ان کی ایک منتخب فہرست پیش کردی جائے:

نام متوفی تالیف
حضرت مولانا محمد لدھیانویؒ فتاویٰ قادریہ
حضرت مولانا محمد عبداللہ لدھیانویؒ فتاویٰ قادریہ
حضرت مولانا عبدالعزیز لدھیانوی فتاویٰ قادریہ
حضرت مولانا رشید احمد گنگوہیؒ ۱۳۲۳ھ الحل المفہم لصحیح مسلم،
الکوکب الدری ج:۲، لامع الدراری
مولانا محمد علی مونگیریؒ ۱۳۴۶ھ حقیقت المسیح، شہادتِ آسمانی، معیار المسیح
580
شیخ الہند مولانا محمودالحسنؒ ۱۳۳۹ھ ترجمہ شیخ الہند
مولانا احمد رضاخان ۱۳۴۰ھ الجزر الدیانی علی المرتد القادیانی
السوء العقاب علی المسیح الکذاب
مولانا سیّد عطاء اللہ شاہ بخاریؒ ۱۳۸۱ھ ختمِ نبوّت
حضرت مولانا بدرعالم میرٹھیؒ ۱۳۸۵ھ فیض الباری، صدائے ایمان
پیر مہر علی شاہ گولڑویؒ ۱۳۵۶ھ سیف چشتیائی، شمس الہدایہ فی حیات المسیح
حضرت مولانا مفتی کفایت اللہؒ ۱۳۷۲ھ کفایت المفتی جلد اوّل
مولانا سیّد حسین احمد مدنی ؒ ۱۳۷۷ھ ظہورِ مہدی
مولانا عبدالشکور لکھنویؒ صحیفہ رنگون بر دجالِ زبوں
مولانا احمد علی لاہوریؒ ۱۳۸۱ھ تفسیر وترجمہ قرآن، مسلمانوں کے
مرزائیت سے نفرت کے اسباب اور
مرزا کے متضاد اقوال
مولانا حفظ الرحمن سیوہارویؒ ۱۳۸۲ھ فلسفۂ ختمِ نبوّت
مولانا محمد اِدریس کاندھلویؒ ۱۳۹۴ھ القول المحکم فی نزول ابن مریم، حیاتِ
عیسیٰ علیہ السلام، لطائف الحکم فی اسرار
نزول عیسیٰ بن مریم، تفسیر معارف القرآن
مولانا ثناء اللہ امرتسریؒ ۱۳۶۸ھ شہادت مرزا، تفسیر ثنائی
مولانا مفتی محمد شفیعؒ ۱۳۹۵ھ ختمِ نبوّت کامل، مسیحِ موعود کی پہچان
مولانا محمد یوسف بنوریؒ ۱۳۹۷ھ مقدمہ عقیدۃ الاسلام
مولانا لعل حسین اخترؒ ۱۳۹۳ھ احتسابِ قادیانیت (مجموعہ رسائل)
میر اِبراہیم سیالکوٹی ؒ ۱۳۷۵ھ الخبر الصحیح عن قبر المسیح، شہادۃ القرآن
حضرت مولانا خلیل احمد سہارنپوری ۱۳۳۷ھ بذل المجہود
مولانا محمد حسین بٹالویؒ خیالی مسیح اور اس کے فرضی حواری سے گفتگو
581

مولانا مرتضیٰ خان میکش ۱۳۷۹ھ البرز شکن گرز المعروف مرزائی نامہ،
اِلہامی افسانے
مولانا فقیر محمد جہلمی ۱۳۶۵ھ ترجمہ تصدیق المسیح
حضرت مولانا مفتی محمودؒ ۱۴۰۰ھ المتنبّی القادیانی

پندرھویں صدی

اسی طرح پندرھویں صدی کے اکابر کے بھی صرف نام، سنِ وفات اور تالیف کا ذِکر کیا گیا ہے، البتہ وہ اکابر جو بقیدِ حیات ہیں، ان کے صرف نام اور تصانیف کے ذِکر پر اِکتفا کیا گیا ہے:

نام تالیف
حضرت مولانا غلام غوث ہزارویؒ ۱۴۰۱ھ محضرنامہ
حضرت مولانا محمد زکریا مہاجر مدنی ۱۴۰۲ھ الابواب والتراجم لصحیح البخاری
حضرت مولانا قاری محمد طیبؒ ۱۴۰۳ھ خاتم النبیّین
حضرت مولانا مفتی ولی حسن خان ٹونکیؒ ۱۴۱۵ھ لاہوری اور قادیانی دونوں کافر ہیں،
قادیانی کا مکمل بائیکاٹ
حضرت مولانا عبدالحق اکوڑہ خٹکؒ ۱۴۰۹ھ ملتِ اسلامیہ کا موقف
مولانا محمد اِسحاق سندیلوی ۱۴۱۶ھ مسئلۂ ختمِ نبوّت علم و عقل کی روشنی میں،
آخری نبی

پندرھویں صدی کے وہ اکابر جو بقیدِ حیات ہیں

شیخ الاسلام عبدالفتاح ابو غدہ مدظلہٗ مقدمہ التصریح بما تواتر فی نزول المسیح،
اور اس کی تحقیق و تخریج
حضرت مولانا ابوالحسن علی ندوی مدظلہٗ قادیانیت
582
مولانا محمد منظور نعمانی مدظلہٗ قادیانی کیوں مسلمان نہیں؟
قادیانیت پر غور کرنے کا سیدھا راستہ
حضرت مولانا محمد سرفراز خان صفدر مدظلہٗ ختمِ نبوّت قرآن و سنت کی روشنی میں
حضرت مولانا شیخ محمد علی صابونی مدظلہٗ صفوۃ التفاسیر، مختصر ابن کثیر
حضرت مولانا قاضی زاہدالحسینی مدظلہٗ درہ زاہدیہ بر فرقہ احمدیہ، مسلمان قادیانیوں
کو کافر کیوں سمجھتے ہیں؟
حضرت مولانا قاضی مظہر حسین مدظلہٗ قادیانی کا جواب
حضرت مولانا محمد تقی عثمانی مدظلہٗ ملتِ اسلامیہ کا موقف

وَصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی خَیْرِ خَلْقِہٖ مُحَمَّدٍ وَّآلِہٖ وَاَصْحَابِہٖ اَجْمَعِیْنَ

محمد یوسف لدھیانوی

۴؍۴؍۱۴۰۱ھ

583

نزولِ مسیح کا عقیدہ

ایمانیات میں سے ہے

 

جناب نور محمد قریشی صاحب نے ’’نزولِ مسیح آخر کیوں؟‘‘ نامی رسالہ تصنیف کیا اور نظرِ ثانی کے لئے مولانا محمد یوسف لدھیانویؒ کی خدمت میں بھیجا، آپ نے اس میں چند ترمیمات فرماکر درج ذیل خط لکھا۔

(سعید احمد جلال پوری)

بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ

اَلْحَمْدُ للہِ وَسَلَامٌ عَلٰی عِبَادِہِ الَّذِیْنَ اصْطَفٰی!

مکرم و محترم جناب قریشی صاحب، زیدت الطافہم!

السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ

اُمید ہے مزاجِ سامی بعافیت ہوں گے، جناب کی تصنیفِ لطیف ’’نزولِ مسیحؑ آخر کیوں؟‘‘ کئی دن سے آئی رکھی تھی، رات اپنے مشاغل سے فارغ ہوکر اس کا مطالعہ کیا، بہت ہی انبساط ہوا، بعض نکات اتنی خوبصورتی سے لکھے ہیں کہ اگر یہ ناکارہ لکھتا تو شاید نہ لکھ پاتا، فجزاکم اللہ تعالیٰ خیر الجزاء!

چند اُمور اصلاح طلب نظر آئے، جناب کی نظرِ ثانی کے لئے عرض کرتا ہوں:

۱: … محمد رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وسلم) جہاں جہاں آیا، اس کو ’’الرسول اللہ‘‘ لکھا گیا ہے، یہ املائی غلطی ہے، ’’الرسول‘‘ مضاف ہے، اس پر ’’ال‘‘ نہیں آتا۔

۲: … ص:۶۲ ’’اگرچہ جمہور علماء کا اس پر اجماع ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی

584

دوبارہ آمد کا مسئلہ عقیدہ اور ایمان کا مسئلہ نہیں۔‘‘

یہ تحقیق صحیح نہیں، اُمت کا اجماع ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا نزول قیامت کی اُن علاماتِ کبریٰ میں سے ہے، جو قطعی متواتر ہیں، اور دینِ اسلام کے متواترات پر ایمان لانا فرض ہے، چنانچہ عقائد کی کتابوں میں نزولِ عیسیٰ علیہ السلام کا عقیدہ درج کیا گیا ہے، امام طحاویؒ ’’عقیدۂ طحاویہ‘‘ میں لکھتے ہیں:

’’ونؤمن بخروج الدجّال ونزول عیسَی بن مریم علیہما السلام من السماء۔‘‘

اور سوائے ملاحدہ و فلاسفہ کے کوئی اس عقیدہ کا منکر نہیں، اس کی تفصیل اس ناکارہ کے رسائل میں آچکی ہے، بہرحال تمنا عمادی وغیرہ کا قول لائقِ التفات نہیں۔

۳: … آنجناب نے اسی صفحہ پر غلام احمد قادیانی کا قول نقل کیا ہے کہ: ’’یہ عقیدہ ہماری ایمانیات کا جز نہیں۔‘‘ اپنی مسیحیت کی پٹری جمانا مقصود تھا، اس لئے وہاں یہ لکھ دیا کہ یہ مسئلہ ایمانیات کا جزو نہیں، اور یہ کہ ہزار مسیح بھی آسکتے ہیں، اور یہ کہ:

’’ممکن ہے اور بالکل ممکن ہے کہ کسی زمانہ میں کوئی ایسا مسیح بھی آجائے جس پر حدیثوں کے بعض ظاہری الفاظ صادق آسکیں۔‘‘

لیکن جب بزعمِ خود مسیحیت کی پٹری جم گئی تو ’’حقیقۃ الوحی‘‘ میں منکرینِ مسیح پر کفر کا فتویٰ داغ دیا اور لکھا:

الف: … ’’جو شخص مجھے نہیں مانتا وہ مجھے مفتری قرار دے کر مجھے کافر ٹھہراتا ہے، اس لئے میری تکفیر کی وجہ سے آپ کافر بنتا ہے۔‘‘

(حقیقۃ الوحی ص:۱۶۷، روحانی خزائن ج:۲۲ ص:۱۶۷)

ب: … ’’علاوہ اس کے جو مجھے نہیں مانتا وہ خدا و رسول کو بھی نہیں مانتا، کیونکہ میری نسبت خدا اور رسول کی پیش گوئی موجود ہے۔‘‘

(حوالہ بالا ص:۱۶۸)

اور یہ بھی لکھا کہ:

585

ج: … ’’مسیح جس کے آنے کی خبر دی گئی ہے، وہ صرف ایک ہی شخص ہے۔‘‘

(حوالہ بالا ص:۴۰۶)

الغرض غلام احمد قادیانی لفظ لفظ میں جھوٹ بولنے اور متضاد باتیں کہنے کا عادی تھا، اور اس کا کلمہ طیبہ ’’لا الٰہ الا اللہ محمد رسول اللہ‘‘ پڑھنا بھی محمدی بیگم کے الہام کی طرح خالص جھوٹ تھا۔

(کلمہ فضل رحمانی ص:۱۲۴)

دُعا کرتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ آپ کی کتاب کو اپنی بارگاہ میں شرفِ قبولیت بخشیں، اور اُمت کے لئے اس کو نافع بنائیں، اور جناب کے لئے ذریعۂ نجات بنائیں۔

قمر احمد عثمانی کے جواب میں آپ کا تحریر کردہ رسالہ مسودہ کی شکل میں موصول ہوا، اِن شاء اللہ دو ایک روز میں کوشش کروں گا کہ دیکھ لوں۔

اپنا تازہ رسالہ ’’مرزا کا مقدمہ اہلِ عقل و انصاف کی عدالت میں‘‘ بھیج رہا ہوں، اور اس کا چھٹا باب مستقل رسالہ بن گیا ہے وہ بھی ساتھ ملحق ہے۔

والسلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ!

محمد یوسف عفا اللہ عنہ

۱۶؍۵؍۱۴۱۷ھ

 

586

رفع الی السماء کا مفہوم!

جناب نور محمد قریشی صاحب نے قمر احمد عثمانی کے جواب میں ایک رسالہ لکھا، اس پر حضرت مولانا محمد یوسف لدھیانوی شہیدؒ سے رائے اور تصدیق لینے کے لئے مسودہ بھیجا، تو آپؒ نے درج ذیل تصحیح فرماکر اپنی رائے لکھی۔

(سعید احمد جلال پوری)

 

بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ

اَلْحَمْدُ للہِ وَسَلَامٌ عَلٰی عِبَادِہِ الَّذِیْنَ اصْطَفٰی!

جناب محترم نور محمد قریشی صاحب، زید لطفہ

السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ!

معروض آنکہ قمر احمد عثمانی کے رسالہ کے جواب کا جو مسوّدہ جناب نے بھجوایا تھا، وہ میں نے دیکھ لیا ہے، ماشاء اللہ اپنے انداز میں خوب لکھا ہے، بہت جی خوش ہوا، دِل سے دُعائیں نکلیں۔

ص: ۶، ۷ پر ’’رفع الی اللہ‘‘ کی بحث ہے، ص:۷ کے پہلے پیراگراف کو آپ نے اس لفظ پر ختم کیا ہے: ’’ذاتِ باری تعالیٰ کی ایک کرسی بھی ہے۔‘‘ اس کو حذف کرکے اس کے بجائے یہ لکھا جائے:

’’ذاتِ باری تعالیٰ کی نسبت بلندی کی طرف کی جاتی ہے، اور آسمان بلندی پر ہے، اس لئے عرفِ عام میں کہا جاتا ہے کہ اللہ تعالیٰ آسمان میں ہیں، خود قرآنِ کریم میں سورۂ تبارک الذی کی آیت:۱۶، ۱۷ میں دو مرتبہ فرمایا:’’ئَأَمِنْـتُمْ مَّنْ فِی السَّمَآئِ‘‘، ’’أَمْ

587

أَمِنْـتُمْ مَّنْ فِی السَّمَآئِ‘‘ (کیا تم بے خوف ہوگئے اس سے جو آسمان میں ہے)، (یا کیا تم بے خوف ہوگئے اس سے جو آسمان میں ہے)، ان دونوں آیتوں میں اللہ تعالیٰ کا آسمان میں ہونا بیان فرمایا ہے۔ اور مشکوٰۃ شریف ص:۲۸۵ میں مؤطا امام مالک اور صحیح مسلم کے حوالے سے معاویہ بن حکمؓ کی لونڈی کا قصہ نقل کیا ہے کہ: آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کو بلواکر پوچھا:’’أین اللہ؟‘‘ (اللہ کہاں ہے؟) ’’قالت: فی السماء!‘‘ اس نے جواب دیا ’’آسمان میں!‘‘ پھر پوچھا: میں کون ہوں؟ جواب دیا: آپؐ اللہ کے رسول ہیں۔ فرمایا:’’اعتقھا فانھا مؤمنۃ!‘‘ (اس کو آزاد کردے، کیونکہ یہ مؤمنہ ہے)۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے لونڈی کے یہ کہنے پر کہ ’’اللہ آسمان میں ہے‘‘ اس کے صاحبِ ایمان ہونے کا حکم فرمایا۔

قادیانی صاحبان بھی یہی شبہ کیا کرتے ہیں کہ کیا اللہ آسمان میں بیٹھا ہے؟ ان کی خدمت میں ان دو آیتوں اور صحیح حدیث کے علاوہ ان کے نام نہاد ’’نبی‘‘ کا الہام بھی پیش کرتا ہوں:

مرزا صاحب کے اشتہار ۲۰؍فروری ۱۸۸۶ء میں تین الہامی پیش گوئیاں ذکر کی گئی ہیں، پہلی پیش گوئی الہامی فرزند کی بشارت ہے، جس میں اس لڑکے کی صفات ذکر کرتے ہوئے کہا گیا ہے:

’’فرزند دلبند، گرامی ارجمند، مظہر الاوّل والآخر، مظہر الحق والعلا،کأنّ اللہ نزل من السماء‘‘ (گویا اللہ آسمان سے اُتر آیا)۔

(مجموعہ اشتہارات ج:۱ ص:۹، یہ اشتہار تذکرہ ص:۱۳۶، طبع چہارم، الہام نمبر:۱۷۲، ازالہ اوہام ص:۱۵۶، رُوحانی خزائن ج:۳ ص:۱۸۰، آئینہ کمالات ص:۵۷۵، ۶۴۷ میں بھی موجود ہے)

پس جس آسمان سے اللہ تعالیٰ مرزا کا بیٹا بن کر اُتر آیا تھا ۔۔۔ نعوذ باللہ۔۔۔ اسی آسمان پر حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو اُٹھایا گیا، جس کی خبر دو آیتوں میں اللہ تعالیٰ نے دی ہے، ۔۔۔ اَوّل: … ’’وَرَافِعُکَ اِلَیَّ‘‘ (آل عمران:۵۵) اور ۔۔۔دوم: …’’بَلْ رَّفَعَہُ اللہُ اِلَیْہِ‘‘ (النساء:۱۵۸)۔

588

چونکہ رفع الی اللہ کے معنی رفع الی السماء قطعی و یقینی ہیں، اس لئے تمام مفسرین ان دو آیتوں کے معنی رفع الی السماء سمجھے ہیں۔‘‘

۲: … آپ نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو ۳۰ سال میں نبوّت ملنا، اور ۳۳سال میں ان کا اُٹھایا جانا متفق علیہ لکھا ہے، یہ صحیح نہیں، بلکہ یہ نصاریٰ کا قول ہے، اور بعض مسلمان بھی ان کے قول سے غلط فہمی میں مبتلا ہوئے، صحیح یہ ہے کہ ان کو چالیس سال بعد نبوّت ملی، جو کہ اعطائے نبوّت میں سنتِ الٰہی ہے، چالیس برس وہ دعوت دیتے رہے، اسّی برس کی عمر میں اُٹھائے گئے، چالیس برس واپس آکر زمین پر رہیں گے، ان کی کل عمر ۱۲۰سال ہوگی، حضرت علامہ محمد انور شاہ کشمیریؒ نے ’’عقیدۃ الاسلام‘‘ میں اس کی تحقیق فرمائی ہے۔

۳: … ص:۷۴ پر آپ نے جو ’’اجماعی عقیدہ‘‘ کے بارے میں ذکر کیا ہے وہ لائقِ اصلاح ہے، بہت جلدی میں چند حروف گھسیٹ رہا ہوں، میں اپنے دو رسالے جناب کی خدمت میں بھیج رہا ہوں، حافظ سیوطیؒ نے منکرِ نزولِ مسیح پر کفر کا فتویٰ دیا ہے، اور دوسرے اکابرؒ نے بھی اس کے قطعی اور متواتر ہونے کی تصریح کی ہے، متواتراتِ دین کا منکر کافر ہوتا ہے، یہ عقیدہ کا مسئلہ یوں ہے کہ جو اُمور قطعی و متواتر ہوں ان کا جاننا عقیدہ میں داخل ہے، آپ کو اس رسالہ کی تألیف پر ایک بار پھر مبارک باد دیتا ہوں، والسلام!

محمد یوسف عفا اللہ عنہ

۱۸؍۵؍۱۴۱۷ھ

 

589

رفع و نزولِ عیسیٰ ؑ کا منکر کافر ہے!

ایک سوال اور اس کا جواب

 

بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ

اَلْحَمْدُ للہِ وَسَلَامٌ عَلٰی عِبَادِہِ الَّذِیْنَ اصْطَفٰی!

’’محترمی و مکرمی!

ایک مضمون جو ملک کے مشہور پندرہ روزہ رسالے: ’’تقاضے‘‘ میں چھپا ہے، جس کے ایڈیٹر ہیں پیام شاہ جہاں پوری، اس میں ثابت کیا گیا ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام آسمان پر نہیں اٹھائے گئے، مضمون ایڈیٹر صاحب نے خود تحریر فرمایا ہے، اور یہ مضمون روزنامہ مشرق کراچی کے اسسٹنٹ ایڈیٹر اختر رضوی کے ۸؍جولائی ۱۹۸۲ء کے اخبار ’’امن‘‘ میں مضمون ’’بات صاف ہونی چاہئے‘‘ کے جواب میں لکھا گیا ہے، ہم سوال و جواب نقل کئے دیتے ہیں، علمائے کرام سے جواب کا منتظر رہوں گا۔

جواب ضرور عنایت فرمائیں، نہایت مشکور ہوں گا، جوابی لفافہ ارسال کیا جارہا ہے۔

’’سوال:۔۔۔کیا یہ عقیدہ اسلام کے مطابق ہے کہ کعبۃ اللہ، اللہ کا گھر (جائے رہائش ہے) اور وہ عرش اعظم پر رکھی ہوئی جلیل القدر کرسی پر رونق افروز ہوا کرتا ہے، عرش اعظم ساتویں آسمان کے اوپر ہے۔

590

جواب:۔۔۔کعبہ، اللہ کا گھر ضرور ہے مگر اس کی جائے رہائش ہرگز نہیں، اللہ کے گھر سے مراد یہ ہے کہ اس گھر میں صرف اور صرف اللہ کی عبادت ہوگی، غیراللہ کی عبادت یہاں حرام ہے، جہاں تک جائے رہائش کا تعلق ہے، یہ خیال قدوری خواں مولویوں کو ہو سکتا ہے، کوئی روشن خیال عالم دین اس قسم کے لغو عقیدے کا تصور بھی نہیں کرسکتا، نہ اللہ تعالیٰ عرش اعظم پر رکھی ہوئی کسی کرسی پر رونق افروز ہوا کرتا ہے، اللہ تعالیٰ زمان و مکان کی قیود سے بالا ہے، اگر وہ عرش اعظم یا اس پر رکھی ہوئی کرسی پر رونق افروز ہوگیا تو اس کے معنی یہ ہوئے کہ وہ محدود و مقید ہوگیا، ایسا سوچنا بھی اللہ تعالیٰ کی ارفع و اعلیٰ شان کے بارے میں انتہا درجے کی بے ادبی ہے، یہ مغالطہ عرش کے لفظ سے پیدا ہوا ہے، عربی زبان میں عرش کے معنی حکومت کے ہیں، مقصد یہ کہ جب اللہ تعالیٰ نے اس کائنات کی تخلیق کا عمل مکمل کردیا تو اس کے ساتھ ہی اس کی حکومت شروع ہوگئی، اور اس کائنات کی ہر چیز اس کی تابع فرماں ہوگئی، ’’اپنے عرش پر مضبوطی سے قائم ہوگیا‘‘ کی تفسیر اتنی ہے اور باقی قصے کہانیاں ہیں جو بائبل سے اسلام میں داخل ہوگئے، اور عیسائیوں نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو زمین سے اٹھاکر عرش تک پہنچادیا، پھر انہیں خداوند تعالیٰ کے دائیں جانب بٹھادیا، اس سے عیسائی حضرات کا مقصد یہ ثابت کرنا تھا کہ نعوذباللہ! حضرت عیسیٰ علیہ السلام ہمارے آقا و مولا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے افضل تھے کہ وہ تو دو ہزار سال سے اللہ تعالیٰ کے دائیں جانب رونق افروز ہیں، اور حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ کی زمین میں مدفون ہیں، افسوس کہ ہمارے مفسرین اور علمائے کرام نے قرآن پر تدبر نہیں کیا، اللہ تعالیٰ نے ان کے اور ان

591

کی والدہ کے بارے میں فرمادیا:

ترجمہ:۔۔۔’’یعنی وہ دونوں کھانا کھایا کرتے تھے۔‘‘

غور کرنا چاہئے کہ کون سا نبی ایسا گزرا ہے جو کھانا نہیں کھاتا تھا، حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے بارے میں اللہ کو یہ وضاحت کرنے کی کیا ضرورت تھی؟ اس کا جواب یہ ہے کہ عیسائیوں نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو خدا کا بیٹا بناکر انہیں آسمان پر بٹھادیا، مندرجہ بالا آیات میں اللہ تعالیٰ نے ان دونوں باطل نظریات کی تردید کی اور فرمایا کہ جو شخص کھانا کھاتا ہو وہ خدا کا بیٹا نہیں ہوسکتا، کیونکہ خدا کھانے پینے کا محتاج نہیں، اس آیت کے ذریعہ اللہ تعالیٰ نے اس غلط نظریہ کی تردید فرمادی کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام آسمان پر تشریف فرما ہیں۔

ارشاد ہوا کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کھانا کھایا کرتے تھے، جس شخص کا مادی جسم دنیاوی اور مادی غذا کا محتاج ہو وہ سینکڑوں بلکہ ہزاروں سال تک کھانے کھائے بغیر زندہ نہیں رہ سکتا، کیونکہ آسمان پر گندم یا مکئی کے کھیت یا آٹا پیسنے کی چکی اور باورچی خانہ کی موجودگی کا کوئی ثبوت قرآن سے نہیں ملتا، نہ وہاں کپاس کے کھیت اور کپڑا بننے کی مشینیں ہیں، اور ظاہر ہے کہ ان چیزوں کے بغیر انسان کی مادی زندگی کا قائم رہنا ناممکن ہے، ہاں اگر یہ تسلیم کرلیا جائے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام اپنا مادی جسم دنیا میں چھوڑ گئے جو کھانے پینے اور کپڑے کا محتاج تھا، اور صرف ان کی روح اللہ تعالیٰ کے پاس چلی گئی تو کوئی اعتراض پیدا نہیں ہوتا، کیونکہ سارے انبیاء و شہداء کی ارواح اللہ تعالیٰ کے پاس چلی گئیں جن کے بارے میں وہ فرماتا ہے کہ ہم انہیں غذا دیتے ہیں (جس کے ذریعہ وہ زندہ ہیں)، ظاہر ہے

592

وہ مادی غذا نہیں روحانی غذا ہوگی، کیونکہ ان انبیاء اور شہداء کے جسم تو اس دنیا میں رہ گئے۔

ہمارے بعض علمائے سلف بھی غلط فہمی کا شکار ہوگئے اور یہ عقیدہ اختیار کرلیا کہ اللہ واقعی کسی تخت پر جلوہ افروز ہیں، اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام اس کے پاس تشریف فرما ہیں، جبکہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام زمین سے آسمان پر گئے ہی نہیں تو اس کے دائیں طرف کیسے بیٹھ گئے، جب اللہ تعالیٰ لامحدود اور زمان و مکان کی قیود سے آزاد ہے تو حضرت عیسیٰ علیہ السلام اس کے پاس کیسے جاسکتے ہیں، یا بیٹھ سکتے ہیں، اگر اللہ تعالیٰ نے انہیں اپنے پاس بلالیا تو تسلیم کرنا پڑے گا کہ خدا کسی محدود جگہ جلوہ افروز ہے اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام اس کے پاس ہیں۔

اللہ تعالیٰ نے آسمانوں کو سات حصوں میں ضرور تقسیم کیا ہے، مگر یہ کہنا کہ ساتویں آسمان پر اس کا عرش ہے جس پر وہ کرسی بچھائے رونق افروز ہے، خداوند کریم کی شان سے ناواقفیت کی دلیل ہے۔‘‘

ہم نے مضمون نقل کردیا ہے، علمائے کرام سے وضاحت کے طلبگار ہیں، دعا ہے کہ ہادی برحق ہم تمام مسلمانوں کو راہ مستقیم پر قائم رکھے۔ آمین

جواب کا منتظر

ظفر اقبال اعوان۔‘‘

جواب:۔۔۔یہ مضمون سارے کا سارا غلط اور لغو ہے، اللہ تعالیٰ تو عرش پر بیٹھا ہے کوئی نہیں مانتا، اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے آسمان پر اٹھائے جانے کا واقعہ خود قرآن کریم میں موجود ہے، مگر اہل اسلام میں سے کوئی شخص اس کا قائل نہیں کہ وہ عرش پر خدا کے پاس تشریف فرما ہیں، بلکہ صحیح بخاری اور صحیح مسلم کی متفق علیہ حدیث معراج کے مطابق عیسیٰ

593

علیہ السلام دوسرے آسمان پر ہیں۔

حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا آسمان پر اٹھایا جانا اور قرب قیامت میں دوبارہ زمین پر نازل ہونا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے لے کر تمام صحابہ کرامؓ، تابعین عظامؒ، مجددین اُمتؒ اور پوری اُمتِ اسلامیہ کا متفق علیہ اور قطعی متواتر عقیدہ ہے، اس کا منکر کافر ہے۔

رہا یہ شبہ کہ آسمان پر ان کی غذا کیا ہے؟ یہ شبہ نہایت احمقانہ ہے، کیا خدا تعالیٰ کے لئے ان کے مناسب حال غذا مہیا کردینا مشکل ہے؟ یہ کھیت، چکیاں، کارخانے بھی اللہ تعالیٰ کے پیدا کئے ہوئے ہیں، وہ خود ان چیزوں کا محتاج نہیں، بغیر ان اسباب کے بھی غذا مہیا کرسکتا ہے، قرآن کریم میں حضرت مریم والدۂ عیسیٰ علیہ السلام کا واقعہ مذکور ہے کہ ان کے پاس غیب سے رزق آتا تھا اور بے موسم کے پھل انہیں ملتے تھے، وہ کس کھیت اور کارخانے سے تیار ہوکر آتے تھے؟ شبہ اس سے پیدا ہوتا ہے کہ جب احمق لوگ خدا تعالیٰ کی قدرت کو بھی اپنے پیمانے سے ناپتے ہیں۔

الغرض حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا آسمان پر اٹھایا جانا اور آخری زمانے میں ان کا نازل ہونا، اسلام کا قطعی عقیدہ ہے، اور جو شخص اپنی جہالت کی وجہ سے اس کا انکار کرے وہ مسلمان نہیں۔ واللہ اعلم!

(ہفت روزہ ختمِ نبوّت کراچی ج:۱ ش:۴۴)

 

594