Top banner image

توضیح الکلام

فی اثبات حیات عیسیٰ علیہ السلام

جناب ابوعبیدہ نظام الدینؒ بی اے

عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت

حضرت علامہ ابوعبیدہ نظام الدینؒ بی۔اے سائنس ماسٹر گورنمنٹ ہائی سکول کوہاٹ، فاضل اجل، عالم دین اور دنیاوی تعلیم کے ماہر تھے، فن مناظرہ پر آپ کو یدطولیٰ حاصل تھا، حضرت امیر شریعت حضرت سید عطاء اﷲ شاہ بخاریؒ بانی عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت پر دل وجان سے فدا تھے، حضرت مولانا ثناء اﷲ امرتسریؒ، حضرت مولانا لال حسین اخترؒ، فاتح قادیان حضرت مولانا محمد حیاتؒ، حضرت مولانا حبیب اﷲ امرتسریؒ ایسے مناظرین کے گروہ کے سرخیل تھے، آپ کا امتیازی وصف اور خوبی یہ ہے کہ آپ قادیانیوں کو قادیانیوں کی کتابوں سے جواب دیتے ہیں

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ

نام کتاب توضیح الکلام فی اثبات حیات عیسیٰ علیہ السلام
مصنف مبلغ اسلام جناب ابوعبیدہ نظام الدینؒ بی اے
ناشر عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت حضوری باغ روڈ ملتان
طبع اوّل دسمبر ۲۰۰۴ء
مطبع ناصر زین پریس لاہور
ناشر عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت حضوری باغ روڈ ملتان
3

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ

عرض مرتب

نحمدہ ونصلی علیٰ رسولہ الکریم۰ اما بعد!

حضرت علامہ ابوعبیدہ نظام الدینؒ بی۔اے سائنس ماسٹر گورنمنٹ ہائی سکول کوہاٹ، فاضل اجل، عالم دین اور دنیاوی تعلیم کے ماہر تھے۔ فن مناظرہ پر آپ کو یدطولیٰ حاصل تھا۔ ردقادیانیت میں عظیم ماہر فن کے طور پر اپنے زمانہ میں جانے پہچانے جاتے تھے۔ قدرت نے آپ سے خدمت ختم نبوت کا عظیم کام لیا۔ ان کے یہ رسائل ۱۹۳۴ء کے بھگ کے ہیں۔ اس زمانہ میں وہ تمام مناظرین اسلام جو ردقادیانیت کے لئے گرانقدر خدمات انجام دے رہے تھے۔ ان سے آپ کے مثالی برادرانہ تعلقات تھے۔ حضرت امیر شریعت حضرت سید عطاء اللہ شاہ بخاریؒ بانی عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت پر دل وجان سے فدا تھے۔ حضرت مولانا ثناء اللہ امرتسریؒ، حضرت مولانا لال حسین اخترؒ، فاتح قادیان حضرت مولانا محمد حیاتؒ، حضرت مولانا حبیب اللہ امرتسریؒ ایسے مناظرین کے گروہ کے سرخیل تھے۔ آپ کا امتیازی وصف اور خوبی یہ ہے کہ آپ قادیانیوں کو قادیانیوں کی کتابوں سے جواب دیتے ہیں۔ قادیانیوں کے ہر اعتراض کے سامنے قادیانی کتابوں کے حوالہ جات کی سد سکندری کھڑی کر دیتے ہیں۔ یاجوج ماجوج کی طرح قادیانی ان حوالہ جات کی دیوار کو چاٹ چاٹ کر نیم جان ہوکر اول فول بکنے لگ جاتے ہیں۔ موصوف کی یہ امتیازی شان ان کی کتابوں میں واضح طور پر پائی جاتی ہے۔ تقریباً سوسال گزرنے کے باوجود ان کی کتابوں کی ضرورت اور آب وتاب جوں کی توں باقی ہے۔ کوئی مناظر، ان کی کتب سے بے نیازی نہیں برت سکتا۔ آج بھی قادیانیوں کے خلاف مناظرہ کا ہر صاحب ذوق مناظر ان کی کتب کا زیردست وممنون نظر آتا ہے۔ ان کی عظیم خدمات کو جتنا خراج تحسین پیش کیا جائے کم ہے۔

ان کی چار کتب ہمیں میسر آئی ہیں۔

۱… توضیح الکلام فی حیات عیسیٰ علیہ السلام۔ ۲… کذبات مرزا۔ ۳… برق آسمانی برفرق قادیانی۔ ۴… منکوحہ آسمانی۔

4

مزید ان کے رشحات قلم شائع نہ ہوسکے۔ ان کی کتب ومسودہ جات بیس سال کا عرصہ ہوا ان کے ایک عزیز جو فوجی آفیسر تھے اور لاہور میں مقیم تھے۔ انہوں نے عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کی لائبریری کو وقف کئے تھے۔ ان کی نوٹ بکوں کو آج کوئی اللہ کا بندہ ترتیب دے۔ حوالہ جات پر محنت کرے تو ردقادیانیت کا خوبصورت انڈکس تیار ہوسکتا ہے۔ لیکن اس کام کے لئے صلاحیت وتوفیق اور فرصت درکار ہے۔ کسے اللہتعالیٰ توفیق دیتے ہیں یہ ایک سوالیہ ہے؟ فقیر حقیر راقم الحروف سے جو ہوسکا وہ عنایت الٰہی ہے اور آپ کے سامنے پیش خدمت ہے۔ اپنی ڈائریوں میں وہ اپنے صاحبزادہ جناب عبدالقیوم کا ذکر کرتے ہیں۔ وہ عزیز کہاں ہیں؟ نہیں معلوم ہوسکا۔ خدا کرے وہ زندہ ہوں۔ ان تک اپنے والد مرحوم کی کتب کا یہ مجموعہ پہنچ پائے۔ وہ رابطہ کریں تو مرحوم کے مزید حالات جمع ہو سکتے ہیں۔ قارئین! قدرت کے کرم کو دیکھیں کس طرح ہر دور میں اللہتعالیٰ نے ایسے افراد کار امت کو نصیب کئے۔ جنہوں نے قادیانیت کے خلاف اپنی صلاحیتوں کو وقف کئے رکھا۔ آج ان حضرات کی محنت کو حق تعالیٰ کس طرح اجاگر فرمارہے ہیں۔ یہ ان کے مخلصانہ کام اور جدوجہد کی عند اللہ مقبولیت کی دلیل ہے۔ ہم ان کے صحیح وارث ہیں؟ یہ ہمارے پر منحصر ہے کہ ہم اپنے آپ کو اس کا اہل ثابت کر سکتے ہیں یا نہیں؟ یہی قارئین، مبلغین اور رفقاء سے میری درخواست ہے۔ حق تعالیٰ ان کو کروٹ کروٹ جنت نصیب فرمائیں۔ عالم آخرت میں ان مرحوم مصنفین سے ملاقات یقینا تمام تھکاوٹوں کو دور کر دے گی۔ اے مولائے کریم! تو ایسے ہی فرما، ان کے علوم کا صحیح وارث بنادے اور قیامت کے دن تمام رسوائیوں سے محفوظ فرما کر ان حضرات کی صحبتوں کے مزے لوٹنے کی توفیق عنایت کر دے۔ ہماری مشکلات کو آسان اور پریشانیوں کو دور فرما اور زیادہ سے زیادہ جگر سوزی کے ساتھ کام کرنے کی توفیق عنایت فرما۔ آمین۰ ثم آمین۰ بحرمۃ النبی الکریم وخاتم النبیین!

والسلام!

محتاج دعاء: فقیر اللہ وسایا!

یکے از خدام عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت ملتان، پاکستان

۱۷؍شوال المکرم ۱۴۲۵ھ، بمطابق۳۰؍نومبر ۲۰۰۴ء

5

 

 

 

صَلُّوا عَلَی الْحَبِیْب

 

 

 

6
  1. ۱۴… قرآنی دلیل نمبر:۲… توفی کی پرلطف بحث، سوال وجواب کی صورت میں

    ۴۴

  2. ۱۵… قرآنی دلیل نمبر:۲… توفی کا استعمال کلام اللہ میں

    ۴۴

  3. ۱۶… قرآنی دلیل نمبر:۲… توفی کے حقیقی معنی از آئمہ لغت

    ۴۷

  4. ۱۷… قرآنی دلیل نمبر:۲… عیسیٰ علیہ السلام کی توفی کی بحث

    ۵۰

  5. ۱۸… قرآنی دلیل نمبر:۲… توفی عیسیٰ کے معنی مارنا نہیں ہوسکتے۔ (۱۴دلائل)

    ۵۱

  6. ۱۹… قرآنی دلیل نمبر:۳… وما قتلوہ وما صلبوہ

    ۶۲

  7. ۲۰… قرآنی دلیل نمبر:۳… قتل وصلب کی بحث

    ۶۳

  8. ۲۱… قرآنی دلیل نمبر:۳… مصلوب، مقتول کا مترادف نہیں

    ۶۵

  9. ۲۲… قرآنی دلیل نمبر:۳… بل کی بحث

    ۶۹

  10. ۲۳… قرآنی دلیل نمبر:۳… کلام اللہ میں الیٰ یا الیٰ اللہ سے کیا مراد ہوتی ہے

    ۷۲

  11. ۲۴… قرآنی دلیل نمبر:۳… آیت کی تفسیر کے متعلق ایک چیلنج

    ۷۴

  12. ۲۵… قرآنی دلیل نمبر:۴… وان من اہل الکتاب الا لیؤمنن بہ قبل موتہ

    ۷۴

  13. ۲۶… قرآنی دلیل نمبر:۴… اس آیت کی اسلامی تفسیر پر قادیانی اعتراضات کا تجزیہ

    ۸۲

  14. ۲۷… قرآنی دلیل نمبر:۴…قبل موتہ میں ضمیر ’ہ‘ کا مرجع حضرت عیسیٰ علیہ السلام ہیں

    ۸۸

  15. ۲۸… قرآنی دلیل نمبر:۴… لیؤمنن کی بحث

    ۸۹

  16. ۲۹… قرآنی دلیل نمبر:۴… اس آیت کے متعلق ایک چیلنج

    ۹۱

  17. ۳۰… قرآنی دلیل نمبر:۵… وانہ لعلم للساعۃ فلا تمترن بہا

    ۹۱

  18. ۳۱… قرآنی دلیل نمبر:۵… اسلامی تفسیر پر قادیانی اعتراضات کا تجزیہ

    ۹۶

  19. ۳۲… قرآنی دلیل نمبر:۵… آیت کریمہ کی قادیانی تفسیر کی حقیقت

    ۱۰۰

  20. ۳۳… قرآنی دلیل نمبر:۶… اذ قال اللہ یا عیسیٰ ابن مریم اذکر نعمتی علیک … تکلم الناس فی المہد وکھلا

    ۱۰۴

  21. ۳۴… قرآنی دلیل نمبر:۷… واذ کففت بنی اسرائیل عنک

    ۱۱۱

8
  1. ۳۵… قرآنی دلیل نمبر:۷… قادیانی اعتراضات کا تجزیہ

    ۱۱۷

  2. ۳۶… قرآنی دلیل نمبر:۸… اذ قالت الملائکۃ یا مریم ان اللہ یبشرک بکلمۃ منہ اسمہ المسیح عیسیٰ ابن مریم وجیہا فی الدنیا والآخرۃ

    ۱۲۰

  3. ۳۷… قرآنی دلیل نمبر:۸… اسلامی تفسیر کی تائید از مرزاقادیانی

    ۱۲۴

  4. ۳۸… قرآنی دلیل نمبر:۹… واذ قال اللہ یا عیسیٰ ابن مریم أنت قلت للناس اتخذونی وامی الہین … فلما توفیتنی کنت انت الرقیب علیہم

    ۱۲۵

  5. ۳۹… قرآنی دلیل نمبر:۹… اذ قال اللہ میں قال کی ماضویت اور استقبال پر بحث

    ۱۲۵

  6. ۴۰… قرآنی دلیل نمبر:۹… اسلامی تفسیر پر قادیانی کا پہلا اعتراض مع جواب

    ۱۳۳

  7. ۴۱… دوسرا اعتراض مع جواب

    ۱۳۳

  8. ۴۲… قادیانی اپنے دلائل کے چکر میں

    ۱۳۶

  9. ۴۳… قرآنی دلیل نمبر:۹… قادیانی اعتراض نمبر۳ اور اس کا جواب

    ۱۳۹

  10. ۴۴… قرآنی دلیل نمبر:۹… قادیانی اعتراض نمبر۴ اور اس کا جواب

    ۱۴۱

  11. ۴۵… قرآنی دلیل نمبر:۱۰… ما المسیح ابن مریم الا رسول قد خلت من قبلہ الرسل

    ۱۴۶

  12. باب سوم

  13. ۴۶… حیات عیسیٰ علیہ السلام کا ثبوت از احادیث نبوی علیٰ صاحبہا الصلوٰۃ والسلام

    ۱۴۹

  14. ۴۷… احادیث نبوی کی عظمت شان اور اہمیت از کلام اللہ واقوال مرزا

    ۱۴۹

  15. ۴۸… حدیث نمبر:۱… والذی نفسی بیدہ لیوشکن ان ینزل فیکم ابن مریم حکما عدلا۰ الحدیث رواہ البخاری

    ۱۵۰

  16. ۴۹… حدیث نمبر:۱… حدیث نمبر:۱ کی صحت وعظمت

    ۱۵۰

9
  1. ۵۰… حدیث نمبر:۲… قال رسول اللہﷺ الانبیاء اخوۃ لعلات ولانی اولی الناس بعیسیٰ ابن مریم لانہ لم یکن بینی وبینہ نبی وانہ نازل الحدیث۰ رواہ ابوداؤد واحمد

    ۱۵۱

  2. ۵۱… حدیث نمبر:۲… عظمت شان وصحت حدیث بالا

    ۱۵۱

  3. ۵۲… حدیث نمبر:۳… قال علیہ السلام ینزل عیسیٰ ابن مریم الیٰ الارض فیتزوج ویولد لہ ویمکث خمساً واربعین سنۃ ثم یموت فیدفن معی فی قبری الحدیث۰ رواہ ابن جوزی

    ۱۵۴

  4. ۵۳… حدیث نمبر:۳… عظمت وصحت حدیث از مرزاقادیانی

    ۱۵۵

  5. ۵۴… حدیث نمبر:۴… قال علیہ السلام ان روح اللہ عیسیٰ نازل فیکم الیٰ آخرہ الحدیث۰ رواہ الحاکم

    ۱۵۷

  6. ۵۵… حدیث نمبر:۴… عظمت وصحت حدیث

    ۱۵۸

  7. ۵۶… حدیث نمبر:۵…کیف انتم اذا نزل ابن مریم من السماء فیکم وامامکم منکم۰ رواہ البیہقی

    ۱۵۸

  8. ۵۷… حدیث نمبر:۶… ینزل اخی عیسیٰ ابن مریم من السماء علی جبل افیق… الیٰ آخر الحدیث

    ۱۵۹

  9. ۵۸… حدیث نمبر:۷… قال علیہ السلام عرض علی الانبیاء۰ الحدیث

    ۱۶۰

  10. ۵۹… حدیث نمبر:۸… قال علیہ السلام فیبعث اللہ عیسیٰ ابن مریم

    ۱۶۰

  11. ۶۰… حدیث نمبر:۹… عن عائشۃ قالت قلت یا رسول اللہ انی اریٰ انی اعیش بعدک فتأذنی ان ادفن الی جنبک

    ۱۶۰

  12. ۶۱… حدیث نمبر:۱۰… عن جابرؓ قال ان عمرؓ قال أذن لی یا رسول اللہ

10
  1. ۶۱… فاقتلہ قال رسول اللہ ان یکن ہو فلست صاحبہ انما صاحبہ عیسیٰ ابن مریم۰ رواہ احمد

    ۱۶۲

  2. ۶۲…حدیث نمبر:۱۱… قال (عیسیٰ) قد عہد الیٰ فیما دون وجبتہا… فانزل فاقتلہ۰ رواہ ابن ماجہ

    ۱۶۳

  3. ۶۳… حدیث نمبر:۱۲… کیف انتم اذا نزل ابن مریم فیکم وامامکم منکم

    ۱۶۴

  4. ۶۴… حدیث نمبر:۱۳… فینزل عیسیٰ ابن مریم فیقول امیرہم تعال صل لنا۰ الحدیث

    ۱۶۶

  5. ۶۵… حدیث نمبر:۱۴… عن نواس بن سمعانؓ… فبینما ھو ذالک اذابعث اللہ المسیح ابن مریم فینزل عند المنارۃ البیضاء شرقی دمشق۰ الحدیث

    ۱۷۰

  6. ۶۶… حدیث نمبر:۱۵… قال علیہ السلام للیہود ان عیسیٰ لم یمت وانہ راجع الیکم قبل یوم القیامۃ۰ درمنثور

    ۱۷۵

  7. ۶۷… حدیث نمبر:۱۶… قال علیہ السلام الستم تعلمون ان ربنا حی لایموت وان عیسیٰ یأتی علیہ الفناء قالوا بلیٰ

    ۱۷۹

  8. ۶۸… حدیث نمبر:۱۷… والذی نفسی بیدہ لیہلن ابن مریم بفج الروحاء حاجاً اومعتمراً او لیثنینہما۰ رواہ مسلم

    ۱۸۱

  9. ۶۹… حدیث نمبر:۱۸… ینزل عیسیٰ ابن مریم عند صلوٰۃ الفجر فیقول انہ امیرہم یا روح اللہ تقدم صل فیقول ہذہ الامۃ امراء بعضہم علی بعض۰ الحدیث

    ۱۸۲

  10. ۷۰… حدیث نمبر:۱۹… امامہم رجل صالح قد تقدم بہم الصبح اذا نزل عیسیٰ ابن مریم… الحدیث

    ۱۸۳

  11. ۷۱… حدیث نمبر:۲۰… حدیث علیؓ بصورت خطبہ

    ۱۸۳

11
  1. ۷۲… حدیث نمبر:۲۱… (ترجمہ) فرمایا رسول اللہؐ نے اوّل دجال ہوگا پھر عیسیٰ ابن مریم

    ۱۸۴

  2. ۷۳… حدیث نمبر:۲۲… کیف یہلک امۃ انا اولہا واثنا عشر خلیفۃ من بعدی والمسیح ابن مریم آخرہا

    ۱۸۵

  3. ۷۴… حدیث نمبر:۲۳… لن تہلک امۃ انا اولہا وعیسیٰ ابن مریم آخرہاوالمہدی اوسطہا۰ رواہ احمد

    ۱۸۵

  4. ۷۵… حدیث نمبر:۲۴… لیہبطن ابن مریم حکما عدلا واماماً مقسطاًولیأتین قبری حتی یسلم علیّٰ ولا ردن علیہ

    ۱۸۶

  5. ۷۶… حدیث نمبر:۲۵… ینزل عیسیٰ علیہ السلام فیقتلہ (الدجال) ثم یمکث عیسیٰ فی الارض اربعین سنۃ اماماً عدلاً وحکماً ومقسطا

    ۱۸۶

  6. ۷۷… حدیث نمبر:۲۶… لا تقوم الساعۃ حتیٰ تروا عشر آیات طلوع الشمس من مغربہا… یاجوج وماجوج ونزول عیسیٰ ابن مریم۰ الحدیث

    ۱۸۷

  7. ۷۸… حدیث نمبر:۲۷… دربارہ برتملا وصی حضرت عیسیٰ علیہ السلام جن کو حضرت سعد بن وقاصؓ کی ماتحت اسلامی فوج کے ہزارہا صحابہ کرامؓ نے عراق کے پہاڑوں میں دیکھا

    ۱۸۸

  8. باب چہارم

  9. ۷۹… حیات عیسیٰ علیہ السلام از اقوال صحابہ کرامؓ

    ۱۹۱

  10. ۸۰… صحابہ کرامؓ کے اقوال کی عظمت از اقوال مرزاقادیانی

    ۱۹۱

  11. ۸۱… اجماع صحابہ کرامؓ شرعی حجت ہے

    ۱۹۱

  12. ۸۲… سکوتی اجماع

    ۱۹۲

12
  1. ۸۳… اجماع کے ثبوت کے عجیب وغریب قادیانی معیار

    ۱۹۳

  2. ۸۴… حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی حیات جسمانی اور رفع جسمانی پر اجماع صحابہ کرامؓ کے ثبوت میں اسلامی دلائل

    ۱۹۳

  3. ۸۵… چیلنج از مؤلف

    ۱۹۷

  4. اقوال صحابہ کرامؓ

  5. ۸۶… حضرت عمرؓ کا عقیدہ دربارہ حیات عیسیٰ علیہ السلام

    ۱۹۸

  6. ۸۷… حضرت عبد اللہ بن عمرؓ کا عقیدہ

    ۱۹۸

  7. ۸۸… حضرت ابوعبیدہ بن الجراحؓ امین الامت

    ۱۹۸

  8. ۸۹… حضرت ابن عباسؓ حبر الامۃ استاذ المفسرین

    ۱۹۹

  9. ۹۰… آپ کی عظمت شان از اقوال مرزاقادیانی

    ۱۹۹

  10. ۹۱… حضرت ابوہریرہؓ کا عقیدہ حیات مسیح علیہ السلام

    ۲۰۱

  11. ۹۲… حضرت عبد اللہ بن مسعودؓ کا عقیدہ

    ۲۰۱

  12. ۹۳…حضرت علی اسد اللہ الغالبؓ کا عقیدہ

    ۲۰۲

  13. ۹۴… حضرت ابوالعالیہؓ کا عقیدہ

    ۲۰۲

  14. ۹۵… حضرت ابومالکؓ کا عقیدہ

    ۲۰۲

  15. ۹۶… حضرت عکرمہؓ سپہ سالار اسلامی کا عقیدہ

    ۲۰۲

  16. ۹۷… حضرت عبد اللہ بن عمر وبن العاصؓ کا عقیدہ

    ۲۰۲

  17. ۹۸… حضرت عمرو بن العاصؓ فاتح مصر کا عقیدہ

    ۲۰۳

  18. ۹۹… حضرت عثمان بن العاصؓ کا عقیدہ

    ۲۰۳

  19. ۱۰۰… حضرت ابوالامامتہ الباہلیؓ کا عقیدہ دربارہ حیات مسیح علیہ السلام

    ۲۰۳

  20. ۱۰۱… ام المؤمنین حضرت عائشہ صدیقہؓ کا عقیدہ

    ۲۰۴

  21. ۱۰۲… ام المؤمنین حضرت صفیہؓ کا عقیدہ

    ۲۰۴

13
  1. ۱۰۳… حضرت حذیفہ بن اسیدؓ کا عقیدہ

    ۲۰۴

  2. ۱۰۴… حضرت ام شریک صحابیہؓ کا عقیدہ

    ۲۰۵

  3. ۱۰۵… حضرت انسؓ کا عقیدہ

    ۲۰۵

  4. ۱۰۶… حضرت عبد اللہ بن سلامؓ کا عقیدہ

    ۲۰۵

  5. ۱۰۷… حضرت مغیرہ ابن شعبہؓ کا عقیدہ

    ۲۰۵

  6. ۱۰۸… حضرت سعد بن وقاصؓ سپہ سالاراسلامی

    ۲۰۵

  7. ۱۰۹… حضرت نضلہ انصاریؓ کا عقیدہ

    ۲۰۶

  8. ۱۱۰… اجماع صحابہؓ کی آخری ضرب

    ۲۰۶

  9. باب پنجم

  10. ۱۱۱… حیات عیسیٰ علیہ السلام از اقوال مجددین امت ومفسرین اسلام مسلمہ قادیانی

    ۲۰۷

  11. ۱۱۲… مجددین کی عظمت اور ان کی بعثت کا راز ازاقوال مرزا مجددین کی فہرست

    ۲۰۷

  12. ۱۱۳…امام احمد بن حنبلؒ مجدد وامام الزمان صدی دوم کا عقیدہ

    ۲۰۹

  13. ۱۱۴… امام اعظم ابوحنیفہؒ کوفی کا عقیدہ دربارہ حیات مسیح علیہ السلام

    ۲۱۰

  14. ۱۱۵… امام اعظمؒ کی عظمت شان بالفاظ قادیانی

    ۲۱۰

  15. ۱۱۶… امام مالکؒ کا عقیدہ

    ۲۱۱

  16. ۱۱۷… آپ کی عظمت شان

    ۲۱۲

  17. ۱۱۸… مات اور اماتت کی بحث

    ۲۱۳

  18. ۱۱۹… امام محمد بن ادریس شافعیؒ کا عقیدہ دربارہ حیات مسیح علیہ السلام

    ۲۱۴

  19. ۱۲۰… رئیس المجددین وسرتاج الاولیاء حضرت امام حسن بصریؒ کا عقیدہ

    ۲۱۵

  20. ۱۲۱… امام نسائیؒ مجدد صدی سوم مسلم قادیانی کا عقیدہ حیات مسیح علیہ السلام

    ۲۱۶

  21. ۱۲۲… امام محمد بن اسماعیل بخاریؒ کا عقیدہ دربارہ حیات عیسیٰ علیہ السلام

    ۲۱۶

  22. ۱۲۳… آپ کی عظمت شان از اقوال مرزاقادیانی

    ۲۱۶

14
  1. ۱۲۴… چیلنج از مؤلف

    ۲۱۷

  2. ۱۲۵… امام مسلمؒ کا عقیدہ حیات مسیح علیہ السلام

    ۲۱۸

  3. ۱۲۶… آپ کی عظمت

    ۲۱۸

  4. ۱۲۷… حافظ ابونعیمؒ مجدد صدی چہارم کا عقیدہ حیات مسیح علیہ السلام

    ۲۱۹

  5. ۱۲۸… امام بیہقیؒ مجدد صدی چہارم کا عقیدہ

    ۲۱۹

  6. ۱۲۹… امام حاکم نیشاپوری مجدد صدی چہارم کا عقیدہ

    ۲۲۰

  7. ۱۳۰… امام غزالیؒ مجدد صدی پنجم کا عقیدہ

    ۲۲۱

  8. ۱۳۱… امام فخرالدین رازیؒ مجدد صدی ششم کا عقیدہ

    ۲۲۱

  9. ۱۳۲… امام ابن کثیرؒ کا عقیدہ

    ۲۲۲

  10. ۱۳۳… امام ابن جوزی ؒ کا عقیدہ

    ۲۲۴

  11. ۱۳۴… پیراں پیر حضرت شیخ عبدالقادر جیلانیؒ کا عقیدہ حیات مسیح علیہ السلام

    ۲۲۵

  12. ۱۳۵… عظمت شان بالفاظ قادیانی

    ۲۲۵

  13. ۱۳۶… امام ابن جریرؒ کا عقیدہ عظمت شان بالفاظ قادیانی

    ۲۲۶

  14. ۱۳۷… امام ابن تیمیہ حنبلیؒ مجدد صدی ہفتم کا عقیدہ دربارہ حیات عیسیٰ علیہ السلام

    ۲۲۸

  15. ۱۳۸… آپ کی عظمت شان بالفاظ قادیانی

    ۲۲۸

  16. ۱۳۹… جھوٹ بولنے والے پر مرزاقادیانی کا فتویٰ

    ۲۳۴

  17. ۱۴۰… امام ابن قیمؒ مجدد صدی ہفتم کا عقیدہ

    ۲۳۵

  18. ۱۴۱… آپ کی عظمت شان بالفاظ قادیانی

    ۲۳۵

  19. ۱۴۲… مدارج السالکین کی عبارت لوکان موسیٰ وعیسیٰ حیین۰ الیٰ آخرہ سے قادیانیوں کا استدلال وفات مسیح اور اس کا عجیب وغریب رد

    ۲۳۷

  20. ۱۴۳… امام ابن حزمؓ (فنافی الرسول) کا عقیدہ

    ۲۳۹

  21. ۱۴۴… امام ابن حزمؓ کی عظمت شان بحوالہ قادیانی

    ۲۳۹

15
  1. ۱۴۵… امام عبدالوہاب شعرانیؒ کا عقیدہ

    ۲۴۱

  2. ۱۴۶… امام موصوف کی عظمت شان بالفاظ قادیانی

    ۲۴۱

  3. ۱۴۷… رئیس المتصوفین حضرت شیخ محی الدین ابن عربیؒ کا عقیدہ حیات مسیح

    ۲۴۳

  4. ۱۴۸… آپ کی عظمت شان بحوالہ قادیانی

    ۲۴۳

  5. ۱۴۹… حافظ ابن حجر عسقلانیؒ مجدد صدی ہشتم کا عقیدہ

    ۲۴۵

  6. ۱۵۰… امام جلال الدین سیوطیؒ مجدد صدی نہم کا عقیدہ

    ۲۴۶

  7. ۱۵۱… آپ کی عظمت شان

    ۲۴۶

  8. ۱۵۲… امام الزمان مجدد صدی دہم المقلب بہ ملا علی قاریؒ کا عقیدہ

    ۲۴۸

  9. ۱۵۳… حضرت مجدد صدی دہم شیخ محمد طاہر محی السنۃ گجراتیؒ کا عقیدہ حیات مسیح

    ۲۴۸

  10. ۱۵۴… مجدد اعظم مجدد الف ثانیؒ کا عقیدہ

    ۲۴۹

  11. ۱۵۵… آپ کی عظمت شان بالفاظ مرزاقادیانی

    ۲۴۹

  12. ۱۵۶… مجدد وقت امام الزمان حضرت شاہ ولی اللہ صاحب محدث دہلویؒ کا عقیدہ

    ۲۵۰

  13. ۱۵۷… آپ کی عظمت شان بالفاظ قادیانی

    ۲۵۰

  14. ۱۵۸… امام شوکانیؒ مجدد صدی دوازدہم کا عقیدہ

    ۲۵۲

  15. ۱۵۹… مجدد وقت حضرت شاہ عبدالعزیز صاحب محدث دہلویؒ کا عقیدہ

    ۲۵۲

  16. ۱۶۰… مجدد وقت حضرت شاہ رفیع الدین صاحبؒ محدث دہلوی کا عقیدہ

    ۲۵۲

  17. ۱۶۱… مجدد وقت حضرت شاہ عبدالقادر صاحبؒ محدث دہلوی کا عقیدہ

    ۲۵۳

  18. ۱۶۲… حضرت شیخ محمد اکرم صاحب صابریؒ کا عقیدہ

    ۲۵۴

  19. ۱۶۳… آپ کی عظمت شان

    ۲۵۴

  20. ۱۶۴… قادیانیوں کے اکابر صوفیاء کی فہرست

    ۲۵۵

  21. ۱۶۵… تمام بزرگان دین کے اقوال نقل نہ کر سکنے پر مؤلف کی عذر خواہی

    ۲۵۶

16

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ

توضیح الکلام

فی اثبات

حیات عیسیٰ علیہ السلام

عقیدہ حیات عیسیٰ علیہ السلام کی اہمیت

قادیانیوں کے ساتھ مناظرہ کرتے وقت علماء اسلام کے لئے صدق وکذب مرزا کی بحث سے زیادہ عام فہم اور فیصلہ کن اور کوئی مبحث نہیں۔ باوجود اس کے میں نے حیات عیسیٰ علیہ السلام کے ثبوت میں کیوں قلم اٹھایا؟ اس کی وجہ یہ ہے کہ یہ عقیدہ کلام اللہ میں مفصل بیان کیاگیا ہے۔ رسول کریمﷺ کی سینکڑوں احادیث صحیحہ سے ثابت ہے۔ ہزارہا صحابہ کرامؓ اسی عقیدہ پر فوت ہوئے۔ بے شمار اولیاءؒ، وصلحاؒ بالخصوص مجددین امتؒ اسی عقیدہ پر قائم رہے۔ پس اگر اب اس کی صداقت سے انکار کیا جائے تو اس سے ایک فساد عظیم برپا ہوتا ہے۔ جس کی تفصیل درج ذیل ہے۔

۱… حیات عیسیٰ علیہ السلام کے انکار کے بعد ماننا پڑے گا کہ قرآن شریف کا مطلب ساڑھے تیرہ سو سال تک نہ تو رسول کریمﷺ کو سمجھ میں آیا نہ صحابہ کرامؓ نے ہی سمجھا اور نہ کسی مجدد امت یا مفسر قرآن کو اس کی حقیقت معلوم ہوئی اور یہ امر محال عقلی ہے۔

۲… قادیانیوں نے جس قدر تاویلات رکیکہ کر کے حیات مسیح علیہ السلام کے عقیدہ کو غلط ٹھہرایا ہے۔ اس کے تسلیم کر لینے سے ہر ایک ملحد اور محرف کو کلام اللہ کا مطلب بگاڑنے کا موقعہ مل جاتا ہے۔ مثلاً گندم بمعنی گڑ، پانی، بمعنی دودھ وبالعکس کرنے والا ایسا ہی سچا ہو سکتا ہے۔ جیسا کہ مرزاقادیانی۔

۳… جب قرآن شریف کی تفسیر رسولﷺ، تفسیر صحابہؓ، تفسیر مجددین قابل اعتبار نہ سمجھی جائے تو اسلام کی تکذیب لازم آتی ہے۔ جس مذہب میں بقول مرزاقادیانی ایک مشرکانہ عقیدہ

19

سینکڑوں سال تک اجماعی صورت میں قائم چلا آیا ہے۔ اس سے اور کون سی امید صداقت کی ہوسکتی ہے؟

۴… اگر کوئی شخص کسی نبی مثلاً یونس علیہ السلام کی نبوت سے انکار کرے یا جنگ بدر یا جنگ احد کی واقعیت سے انکار کرے۔ یا حضرت نوح علیہ السلام کی طوالت عمری کا انکار کرے یا مثلاً یوں کہے کہ ہارون علیہ السلام حضرت موسیٰ علیہ السلام کے بھائی نہ تھے۔ یا حضرت اسماعیل علیہ السلام، حضرت ابراہیم علیہ السلام کے بیٹے نہ تھے۔ یا مثلاً حضرت یوسف علیہ السلام کے ساتھ ان کے بھائیوں نے کوئی بدسلوکی نہیں کی تھی تو بظاہر یہ سارے اقوال ایسے ہیں کہ ایک ظاہر بین انسان ان کی تردید کرنے کو ایک لایعنی فعل اور فضول کام قرار دے گا۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ ان اقوال کی رو سے تکذیب کلام اللہ لازم آتی ہے۔ مثلاً کلام اللہ میں حضرت یونس علیہ السلام کی نبوت کا اقرار ہے اور قائل اس سے انکار کرتا ہے۔ پس اس سے تکذیب باری تعالیٰ لازم آتی ہے۔ اسی طرح حیات مسیح علیہ السلام کے انکار سے تکذیب باری تعالیٰ، تکذیب رسولﷺ، تکذیب صحابہؓ، تکذیب مجددین امت بلکہ تکذیب جمیع اولیاء امت کا اقرار کرنا پڑتا ہے۔ اس کے قبول کر لینے کے بعد اسلام میں پھر کوئی عقیدہ کوئی بات بھی قابل اعتبار نہیں رہتی۔ اس واسطے میں نے عوام الناس بالخصوص سائنس زدہ انگریزی تعلیم یافتہ حضرات کے سامنے مسئلہ کی حقیقت الم نشرح کرنی ضروری سمجھی۔

العارض بندہ ابوعبیدہ۔ بی اے

20

پہلے مجھے پڑھیئے

محترم ناظرین! قادیانی جماعت کی ہر دو صنف اہل السنت والجماعت کے علماء کرام سے مناظرہ کی شرائط طے کرتے ہوئے ہمیشہ حیات وممات مسیح علیہ السلام کو مبحث قرار دینے پر سب سے زیادہ زور دیاکرتے ہیں اور دلیل یہ دیا کرتے ہیں کہ مرزائی جماعت اور مسلمانوں کے درمیان صرف یہی ایک فیصلہ کن مبحث ہوسکتا ہے۔ کیونکہ اگر ثابت ہو جائے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام زندہ بجسد عنصری آسمان پر موجود ہیں تو مرزائیت کی عمارت خودبخود دھڑام سے گر پڑے گی۔ ہمارے علماء قصداً اس مورچہ (مبحث) پر لڑنا پسند نہیں کرتے۔ اس کی یہ وجہ نہیں کہ علماء اسلام کے پاس حیات عیسیٰ علیہ السلام کے اثبات میں نصوص اور دلائل نہیں بلکہ اس کی وجہ یہ ہے کہ

۱… حیات ووفات عیسیٰ علیہ السلام کی بحث میں مرزاغلام احمد قادیانی کی شخصیت کے پرکھنے کا موقعہ نہیں ملتا۔

۲… عام طور پر مناظروں میں عوام الناس کا مجمع ہوتا ہے۔ وہ علوم عربیہ سے ناواقف ہوتے ہیں۔ اس مبحث میں قادیانی مناظر آیات قرآنی اور احادیث نبوی پڑھ کر ان کے غلط سلط معنی کرتے ہیں۔ علماء اسلام ان کو دقیق علمی گرفت میں گھیر لیتے ہیں۔ عوام الناس ایسی علمی الجھنوں کو سمجھتے نہیں۔ نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ مجلس سے اٹھتے ہوئے یہ کہتے ہوئے سنے جاتے ہیں کہ: ’’بھائی قرآن اور حدیث تو قادیانی بھی خوب پڑھتے ہیں۔‘‘ حالانکہ وہ بالکل بے محل پڑھتے ہیں اور محض افتراء اور تلبیس سے حق کو چھپاتے ہیں۔ غرضیکہ علماء اسلام اس مسئلہ کو صرف انہیں دو وجہوں سے مبحث بنانا نہیں چاہتے۔ ورنہ حیات مسیح علیہ السلام کا مسئلہ اس قدر صاف ہے کہ اس سے زیادہ صاف شاید ہی کوئی اور مسئلہ ہو۔ میں اس مختصر رسالے میں اسلامی دلائل کو مختصر طور پر بیان کروں گا۔ لیکن انشاء اللہ ایسے عام فہم طریقے سے کہ اردو دان طبقہ بھی سمجھنے میں دقت محسوس نہیں کرے گا۔ وما توفیقی الا ب اللہ!

اعلان انعام

اگر کوئی قادیانی میرے دلائل حیات عیسیٰ علیہ السلام کو غلط ثابت کر دے تو بشرائط ذیل ایک ہزارروپیہ نقد لینے کا مستحق ہوگا اور قانونی طور پر مجھ سے اس رقم کا مطالبہ کر سکتا

21

ہے۔ اگر میں انکار کروں تو میری یہ تحریر بطور دلیل کے عدالت میں پیش کر کے ایک ہزار روپیہ مجھ سے وصول کر سکتا ہے۔

شرائط

۱… قادیانی میرے اس رسالہ کا جواب لکھ کر ایک کاپی مجھے دے دیں۔

۲… پھر میں جواب الجواب لکھوں گا۔

۳… تینوں مضامین تین مسلمہ غیر جانب دار ثالثوں کو دے دئیے جائیں گے۔

۴… تینوں ثالثوں کا متفقہ فیصلہ فیریقین کو قبول ہوگا۔

۵… اگر ثالثوں کا فیصلہ میرے خلاف ہوتو میں فوراً ایک ہزار روپیہ بطور انعام قادیانی مناظر کو ادا کر دوں گا۔ بشرطیکہ:

۶… اگر ثالثوں کا فیصلہ میرے دلائل کی حقانیت پر مہر تصدیق ثبت کر دے تو اوّل تو ساری جماعت قادیانی۔ ورنہ کم ازکم ایک ہزار قادیانی یا صرف مرزابشیرالدین محمود احمد آف قادیان یا صرف محمد علی امیر جماعت احمدیہ لاہور مرزائیت سے توبہ کر کے جمہور اہل اسلام کے ہم عقیدہ ہونے کا اعلان کرنے کو تیار ہوں۔

ناظرین! خوب جانتے ہیں کہ ان میں کوئی شرط غیرمناسب نہیں۔ اب کوئی وجہ نظر نہیں آتی جس کی بناء پر قادیانیت کے علمبردار اپنے مایہ ناز مبحث پر میرے گرانقدر انعام کو لینے کی سعی نہ کریں۔ صرف ایک ہی ممکن وجہ ہے اور وہ یہ کہ وہ اپنے دلائل کی بودہ پنی اور بوسیدگی کو خوب سمجھتے ہیں۔

پیش گوئی میں توکلاً علی اللہ اپنے فولادی دلائل قرآنی وحدیثی کے بل بوتے پر اعلان کرتا ہوں کہ قادیانی اور لاہوری دونوں صنفوں میں سے کوئی بھی میرے اس چیلنج کو قبول نہیں کرے گا۔ کیونکہ ان کا جواب ان کے پاس سوائے دجل وفریب کے اور تو کچھ ہے ہی نہیں اور ثالثوں کے سامنے دجل وفریب کی حقیقت الم نشرح کر دی جائے گی۔

ہمارے دلائل کی فولادی طاقت کا راز

میں اس رسالے میں بحمد اللہ دلائل وہی دوں گا جو علماء اسلام کا معمول بہا ہیں۔ کیونکہ میں فخریہ عرض کرتا ہوں کہ میں انہیں علمبرداران اسلام کا ریزہ چین ہوں۔ مگر میرے دلائل کا لباس اور مزہ رنگ اور کشش بالکل مختلف ہوگا۔ یعنی تمام کے تمام دلائل قادیانیوں کے مسلمہ عقائد واصولوں پر مبنی ہوں گے۔

22

قادیانی اصول وعقائد

۱… ’’قرآن شریف کے وہ معانی وہ مطالب سب سے زیادہ قابل قبول ہوں گے۔ جن کی تائید قرآن شریف ہی میں دوسری آیات سے ہوتی ہو۔ یعنی شواہد قرآنی۔‘‘

(برکات الدعا ص۱۸، خزائن ج۶ ص۱۸)

۲… جہاں کلام اللہ کے معانی ومطالب میں اختلاف ہوجائے۔ وہاں رسول کریمﷺ کی تفسیر قابل قبول ہوگی۔ چنانچہ اللہتعالیٰ فرماتے ہیں۔ ’’فلا وربک لا یؤمنون حتیٰ یحکموک فیما شجر بینہم ثم لا یجدوا فی انفسہم حرجاً مما قضیت ویسلموا تسلیما (نساء:۶۵)‘‘ {یعنی اے محمدﷺ مجھے اپنی ذات کی قسم ہے کہ (یہ لوگ) مؤمن نہیں ہوسکتے۔ جب تک کہ وہ اپنے اختلافات اور جھگڑوں میں آپﷺ کو اپنا ثالث نہ بنائیں۔ پھر آپﷺ کے فیصلے کے بعد وہ اپنے دلوں میں کوئی بوجھ یا کدورت محسوس نہ کریں اور آپﷺ کے سامنے سرتسلیم خوشی کے ساتھ خم کر دیں۔}

چنانچہ مرزاقادیانی لکھتے ہیں: ’’دوسرا معیار تفسیر رسول کریمﷺ ہے۔ اس میں شک نہیں کہ سب سے زیادہ قرآن کریم کے سمجھنے والے ہمارے پیارے اور بزرگ حضرت رسول اللہﷺ تھے۔ پس اگر آنحضرتﷺ سے تفسیر ثابت ہو جائے تو مسلمان کا فرض ہے کہ بلاتوقف اور بلادغدغہ قبول کر لے۔ نہیں تو اس میں الحاد اور فلسفیت کی رگ ہے۔‘‘

(برکات الدعا ص۱۸، خزائن ج۶ ص ایضاً)

۳… اگر قرآن اور حدیث کے سمجھنے میں اختلاف ہو جائے تو پھر صحابہ کرامؓ کی طرف رجوع ہونا چاہئے۔

چنانچہ مرزاقادیانی کا ارشاد ملاحظہ ہو۔ ’’تیسرا معیار صحابہ کی تفسیر ہے۔ اس میں کچھ شک نہیں کہ صحابہؓ آنحضرتﷺ کے نوروں کے حاصل کرنے والے اور علم نبوت کے پہلے وارث تھے اور خداتعالیٰ کا ان پر بڑا فضل تھا اور نصرت الٰہی ان کی قوت مدرکہ کے ساتھ تھی۔ کیونکہ ان کا نہ صرف قال بلکہ حال تھا۔‘‘

(برکات الدعا ص۱۸، خزائن ج۶ ص ایضاً)

۴… پھر اگر کسی وقت کلام اللہ، حدیث رسول اللہﷺ اور صحابہ کرامؓ کے کلام سمجھنے میں اختلاف رونما ہو جائے اور خلقت گمراہ ہونے لگے تو اللہتعالیٰ ہر صدی میں ایسے علمائے ربانیین پیدا کرتا رہتا ہے۔ جو اختلافی مسائل کو خدا اور اس کے رسولﷺ کے حکم اور منشاء کے مطابق حل کر دیتے ہیں۔ چنانچہ رسول کریمﷺ کا ارشاد ہے۔’’ان اللہ یبعث

23

لہذہ الامۃ علیٰ رأس کل مائۃ سنۃ من یجدد لہا دینہا‘‘

(ابوداؤد ج۲ ص۱۳۲، باب مایذکر فی قدر المائۃ)

’’یعنی اللہتعالیٰ ہر صدی کے سر پر اس امت کے لئے ایسے علماء مفسرین پیدا کرتا رہے گا۔ جو اس کے دین کی تجدید کرتے رہیں گے۔‘‘ اس کی تائید مرزاقادیانی اس طرح کرتے ہیں: ’’جو لوگ خداتعالیٰ کی طرف سے مجددیت کی قوت پاتے ہیں وہ نرے استخواں فروش نہیں ہوتے۔ بلکہ وہ واقعی طور پر نائب رسول اللہﷺ اور روحانی طور پر آنجناب کے خلیفہ ہوتے ہیں۔ خداتعالیٰ انہیں تمام نعمتوں کا وارث بناتا ہے۔ جو نبیوں اور رسولوں کو دی جاتی ہیں۔‘‘ (فتح اسلام ص۹، خزائن ج۳ ص۷) پھر دوسری جگہ لکھتے ہیں: ’’مجدد کا علوم لدنیہ وآیات سماویہ کے ساتھ آنا ضروری ہے۔‘‘

(ازالہ اوہام ص۱۵۴، خزائن ج۳ ص۱۷۹) تیسری جگہ لکھتے ہیں: ’’یہ یاد رہے کہ مجدد لوگ دین میں کوئی کمی بیشی نہیں کرتے۔ گم شدہ دین کو پھر دلوں میں قائم کرتے ہیں اور یہ کہنا کہ مجددوں پر ایمان لانا کچھ فرض نہیں۔ خدا تعالیٰ کے حکم سے انحراف ہے۔‘‘ وہ فرماتا ہے: ’’من کفر بعد ذالک فاؤلئک ہم الفاسقون‘‘ (شہادۃ القرآن ص۴۸، خزائن ج۶ ص۳۴۴) چوتھی جگہ مرزاقادیانی لکھتے ہیں: ’’مجددوں کو فہم قرآن عطا ہوتا ہے۔‘‘ (ایام الصلح ص۵۵، خزائن ج۱۴ ص۲۸۸) پانچویں جگہ ارشاد ملاحظہ کریں: ’’مجدد مجملات کی تفصیل کرتا اور کتاب اللہ کے معارف بیان کرتا ہے۔‘‘ (حمامتہ البشریٰ ص۷۵، خزائن ج۷ ص۲۹۰) چھٹی جگہ لکھا ہے: ’’مجدد خدا کی تجلیات کا مظہر ہوتے ہیں۔‘‘ (سراج الدین عیسائی ص۱۵، خزائن ج۱۲ ص۳۴۱) اس سارے مضمون کا نتیجہ یہ ہے کہ کلام اللہ اور حدیث رسول اللہﷺ کا جو مفہوم مجددین امت بیان کریں وہی قابل قبول ہے۔ اس کی مخالفت کرنے والا فاسق ہوتا ہے۔

۵…الف۔’’نصوص کو ظاہر پر حمل کرنے پر اجماع ہے۔‘‘

(ازالہ خورد ص۴۰۹، خزائن ج۳ ص۳۱۲،۵۴۹، خزائن ج۳ ص۳۹۰)

ب… حدیث بالقسم میں تاویل اور استثناء ناجائز ہے۔ چنانچہ مرزاقادیانی لکھتے ہیں: ’’والقسم یدل علی ان الخبر محمول علیٰ الظاہر لاتاویل فیہ ولا استثناء والا ای فائدۃ فی القسم‘‘

(حمامتہ البشریٰ ص۱۴، خزائن ج۷ ص۱۹۲ حاشیہ)

’’کسی حدیث میں قسم کا ہونا اس بات پر دلالت کرتا ہے کہ اس حدیث کے ظاہری معنی ہی قابل قبول ہوں۔ اس میں تاویل کرنا یا استثناء جائز نہیں۔ ورنہ قسم میں فائدہ کیا رہا۔‘‘

۶… ’’جو شخص کسی اجماعی عقیدہ کا انکار کرے تو اس پر خدا۔ اس کے فرشتوں اور تمام

24

لوگوں کی لعنت ہے۔ یہی میرا اعتقاد ہے اور یہی میرا مقصود ہے اور یہی میرا مدعا ہے۔ مجھے اپنی قوم سے اصول اجماعی میں کوئی اختلاف نہیں۔‘‘

(انجام آتھم ص۱۴۴، خزائن ج۱۱ ص ایضاً)

۷… حدیث نبوی دربارہ تفسیر بالرائے:

(۱)… ’’من تکلم فی القرآن برأیہ فاصاب فقد اخطاء‘‘

(رواہ النسائی اتقان ج۲ ص۳۰۵ فی شروط المفسر وآدابہ)

(۲)… ’’من قال فی القرآن بغیر علم فلیتبوا مقعدہ من النار‘‘

(ترمذی ج۲ ص۱۲۳، باب ماجاء فی الذی بتفسیر القرآن برأیہ، اتقان ج۲ ص۳۰۵ فی شروط المفسر وآدابہ)

اس کی تائید میں مرزاقادیانی کا قول پیش کرتا ہوں۔ ’’مؤمن کا کام نہیں کہ تفسیر بالرائے کرے۔‘‘

(ازالہ اوہام ص۳۲۸، خزائن ج۳ ص۲۶۷)

۸… عسل مصفی مصنفہ مرزا خدا بخش قادیانی، قادیانی مذہب کی مسلمہ کتاب ہے۔ مرزاقادیانی نے اپنی زندگی میں اس کا ایک ایک لفظ سنا تھا اور مصنف کی داد دی تھی۔ قادیانی اور لاہوریوں کے سرکردہ ممبروں نے اس پر زبردست تقریظات لکھی ہوئی ہیں۔ بالخصوص محمد علی لاہوری اور مرزابشیرالدین محمود احمد خلیفہ قادیانی نے۔ اس کے (جلد اوّل ص۱۶۲تا۱۶۵) پر گذشتہ تیرہ صدیوں کے مجددین کی فہرست درج ہے۔ ہم یہاں مشہور مجددین مفسرین ومحدثین کے اسمائے گرامی ذیل میں آئندہ حوالوں کے لئے درج کرتے ہیں۔

۱… امام شافعی مجدد صدی دوم۔

۲… امام احمد بن محمد بن حنبل مجدد صدی دوم۔

۳… ابوجعفر طحاوی مجدد صدی سوم۔

۴… ابوعبدالرحمان نسائی مجدد صدی سوم۔

۵… حافظ ابونعیم مجدد صدی چہارم۔

۶… امام حاکم نیشاپوری مجدد صدی چہارم۔

۷… امام بیہقی مجدد صدی چہارم۔

۸… امام غزالی مجدد صدی پنجم۔

۹… امام فخرالدین رازی صاحب مجدد صدی ششم۔

۱۰… امام مفسر ابن کثیر مجدد صدی ششم۔

۱۱… حضرت شہاب الدین سہروردی مجدد صدی ششم۔

25

۱۲… امام ابن جوزی مجدد صدی ششم۔

۱۳… حضرت شیخ عبدالقادر جیلانی مجدد صدی ششم۔

۱۴… امام ابن تیمیہ حنبلی مجدد صدی ہفتم۔

۱۵… حضرت خواجہ معین الدین چشتی مجدد صدی ہفتم۔

۱۶… حافظ ابن قیم جوزی مجدد صدی ہفتم۔

۱۷… حافظ ابن حجر عسقلانی مجدد صدی ہشتم۔

۱۸… امام جلال الدین سیوطی مجدد صدی نہم۔

۱۹… ملا علی قاری مجدد صدی دہم۔

۲۰… محمد طاہر گجراتی مجدد صدی دہم۔

۲۱… عالمگیر اورنگزیب مجدد صدی یازدہم۔

۲۲… شیخ احمد فاروقی مجدد الف ثانی مجدد صدی یازدہم۔

۲۳… مرزا مظہر جان جاناں دہلوی مجدد صدی یازدہم۔

۲۴… حضرت شاہ ولی اللہ صاحب محدث دہلوی مجدد صدی دوازدہم۔

۲۵… امام شوکانی مجدد صدی دوازدہم۔

۲۶… سید احمد بریلوی مجدد صدی سیزدہم۔

۲۷… شاہ عبدالعزیز صاحب دہلوی مجدد صدی سیزدہم۔

۲۸… مولانا محمد اسماعیل صاحب شہید مجدد صدی سیزدہم۔

۲۹… شاہ رفیع الدین صاحب محدث دہلوی مجدد صدی سیزدہم۔

۳۰… شاہ عبدالقادر صاحب مجدد صدی سیزدہم۔

یہاں تک ہم نے تیرہ صدیوں کے مشہور مشہور مجددین کے اسمائے گرامی درج کر دئیے ہیں۔ مرزاقادیانی کا دعویٰ ہے کہ وہ چودھویں صدی کے مجدد بھی ہیں۔ اس کے بالمقابل جمہور علماء اسلام کے نزدیک چودھویں صدی کے مجددین میں سے بزرگان ذیل خاص طور پر مشہور ہیں:

۱… شیخ العرب والعجم حضرت حاجی امداد اللہ صاحب مہاجر مکیؒ۔

۲… حضرت مولانا رحمتہ اللہ صاحب مہاجرمکیؒ۔

۳… شیخ العرب والعجم المحدث الفقیہ حضرت مولانا رشید احمد صاحب گنگوہیؒ۔

۴… قاسم العلوم حضرت مولانا مولوی محمد قاسم صاحبؒ بانی دارالعلوم دیوبند۔

26

۵… حضرت مولانا مولوی محمد علی صاحب مونگیریؒ۔

۶… حضرت حکیم الامت مولانا شاہ اشرف علی صاحب تھانوی مدظلہمؒ۔

جنہوں نے کم وبیش ۱۵۰۰ کتابیں تصنیف فرمائی ہیں۔ جن میں موجودہ صدی کے پیدا کردہ الحاد کی تردید کر کے دین محمدی کو دوبارہ اصلی شکل میں دکھایا ہے۔ آپ کی تفسیر اور ترجمہ قرآن روئے زمین کے مسلمانوں میں مقبول ہوچکے ہیں۔ اپنی کتابوں سے مرزاقادیانی کی طرح کوئی دنیوی نفع نہیں اٹھایا۔ ۱۵۰۰ کتابوں میں کسی جگہ بھی اپنی تعریف میں کچھ نہیں لکھا۔

۹… انجیل کو بطور دلیل کے پیش کرنا قادیانیوں کے لئے حجت ہے۔ چنانچہ مرزاقادیانی لکھتے ہیں: ’’فاسئلوا اہل الذکر ان کنتم لا تعلمون‘‘ یعنی اگر تمہیں ان بعض امور کا علم نہ ہو جو تم میں پیدا ہوں تو اہل کتاب کی طرف رجوع کرو اور ان کی کتابوں کے واقعات پر نظر ڈالو تااصل حقیقت تم پر منکشف ہو جائے۔

(ازالہ اوہام ص۶۱۶، خزائن ج۳ ص۴۳۳)

دوسری جگہ فرماتے ہیں: ’’زبردستی سے یہ نہیں کہنا چاہئے کہ یہ ساری کتابیں (انجیل اور توریت) محرف ومبدل ہیں۔ بلاشبہ ان مقامات (رفع جسمانی اور پیش گوئیوں) سے تحریف کا کچھ علاقہ نہیں… پھر ہمارے امام المحدثین حضرت اسماعیل صاحب اپنی صحیح بخاری میں یہ بھی لکھتے ہیں کہ ان کتابوں میں کوئی لفظی تحریف نہیں۔‘‘

(ازالہ خورد ص۲۷۳، خزائن ج۳ ص۲۳۸،۲۳۹)

’’انجیل برنباس نہایت معتبر انجیل ہے۔‘‘

(سرمہ چشم آریہ ص۲۸۷تا۲۹۲ حاشیہ ملخص، خزائن ج۲ ص۲۳۹تا۲۴۱ ملخص)

۱۰… مرزاقادیانی نے ۱۸۸۰ء یا ۱۳۰۰ھ میں مجدد اور مامور من اللہ اور ملہم من اللہ ہونے کا دعویٰ کیا تھا۔ چنانچہ لکھتے ہیں: ’’کتاب براہین احمدیہ جس کو خداتعالیٰ کی طرف سے مؤلف نے ملہم ومامور ہوکر بغرض اصلاح وتجدید دین تالیف کیا ہے … اور مصنف کو اس بات کا بھی علم دیا گیا ہے کہ وہ مجدد وقت ہے۔‘‘ (تبلیغ رسالت ج۱ ص۱۴،۱۵، مجموعہ اشتہارات ج۱ ص۲۳،۲۴)

(ازالہ اوہام خورد ص۱۸۵،۱۸۶، خزائن ج۳ ص۱۸۹،۱۹۰)

اب ذرا ملہم کی شان بھی ملاحظ کر لیں۔ فرماتے ہیں: ’’جو لوگ خداتعالیٰ سے الہام پاتے ہیں وہ بغیر بلائے نہیں بولتے اور بغیر سمجھائے نہیں سمجھتے اور بغیر فرمائے کوئی دعویٰ نہیں کرتے اور اپنی طرف سے کسی قسم کی دلیری نہیں کر سکتے۔‘‘

(ازالہ اوہام ص۱۹۸، خزائن ج۳ ص۱۹۷)

27

باب اوّل

حیات عیسیٰ علیہ السلام

میں اپنے دلائل مندرجہ ذیل ۶ابواب میں بیان کروں گا۔

باب:۱… دلائل از انجیل باب نمبر:۲… دلائل از قرآن شریف

باب:۳… دلائل از حدیث با ب نمبر:۴… دلائل از اقوال صحابہؓ

باب:۵… دلائل از ائمہ اسلام بالخصوص مجددین امت جن کو قادیانی بھی مجدد اور ائمہ اسلام تسلیم کر چکے ہیں۔ باب نمبر:۶… دلائل از اقوال مرزا غلام احمد قادیانی

حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی حیات جسمانی ورفع جسمانی کا ثبوت از انجیل

۱… انجیل متی باب:۲۴ ۔ ’’اور جب وہ زیتون کے پہاڑ پر بیٹھا تھا تو اس کے شاگرد الگ اس کے پاس آکر بولے ہمیں بتا کہ یہ سب باتیں کب ہوں گی اور تیرے آنے اور دنیا کے آخر ہونے کا نشان کیا ہوگا۔ یسوع نے جواب میں ان سے کہا کہ خبردار! کوئی تمہیں گمراہ نہ کر دے۔ کیونکہ بہتیرے میرے نام سے آئیں گے اور کہیں گے کہ میں مسیح ہوں اور بہت سے لوگوں کو گمراہ کریں گے… اس وقت اگر کوئی تم سے کہے کہ دیکھومسیح یہاں ہے یا وہاں ہے تو یقین نہ کرنا۔ کیونکہ جھوٹے مسیح اور جھوٹے نبی اٹھ کھڑیں گے اور ایسے بڑے نشان اور عجیب کام دکھائیں گے کہ اگر ممکن ہو تو برگزیدوں کو بھی گمراہ کر لیں۔ دیکھو میں نے پہلے ہی تم سے کہہ دیا ہے… کیونکہ جیسے بجلی پورب سے کوند کر پچھم تک دکھائی دیتی ہے۔ ویسے ہی ابن آدم کا آنا ہوگا… ابن آدم کو بڑی قدرت اور جلال کے ساتھ آسمان کے بادلوں پر آتے دیکھیں گے۔‘‘

(آیت۳تا۳۰، ص۲۵)

۲… (انجیل مرقس باب:۱۳، آیت:۳تا۲۷، ص۴۸) میں مضمون دیکھیں۔

۳… (انجیل لوقا باب:۲۴، آیت:۳۶تا۵۲، ص۸۷) وہ یہ باتیں کر ہی رہے تھے کہ یسوع آپ ان کے بیچ میں آکھڑا ہوا اور ان سے کہا تمہاری سلامتی ہو۔ مگر انہوں نے گھبرا کر اور خوف کھا کر یہ سمجھا کہ کسی روح کو دیکھتے ہیں۔ اس نے (یسوع نے) ان سے کہا کہ

28

تم کیوں گھبراتے ہو اور کس واسطے تمہارے دل میں شک پیدا ہوتے ہیں۔ میرے ہاتھ اور میرے پاؤں دیکھو کہ میں ہی ہوں۔ مجھے چھو کر دیکھو۔ کیونکہ روح کے گوشت اور ہڈی نہیں ہوتی۔ جیسا کہ مجھ میں دیکھتے ہو اور یہ کہہ کر اس نے انہیں اپنے ہاتھ اور پاؤں دکھائے۔ جب مارے خوشی کے ان کو یقین نہ آیا اور تعجب کرتے تھے تو اس نے ان سے کہا کہ تمہارے پاس کچھ کھانے کو ہے۔ انہوں نے اسے بھنی ہوئی مچھلی کا قتلہ دیا۔ اس نے لے کر ان کے روبرو کھایا… پھر وہ انہیں بیت علیاہ کے سامنے تک باہر لے گیا اور اپنے ہاتھ اٹھا کر انہیں برکت دی۔ جب وہ انہیں برکت دے رہا تھا تو ایسا ہوا کہ ان سے جدا ہوگیا اور آسمان پر اٹھایا گیا۔

۴… (مرقس باب:۱۶، آیت:۱۹، ص۵۳) غرض خداوند یسوع ان سے کلام کرنے کے بعد آسمان پر اٹھایا گیا۔

۵… (رسولوں کے اعمال باب اوّل، آیت:۹تا۱۱، ص۱۱۷) ’’یہ کہہ کر وہ ان کے دیکھتے دیکھتے اوپر اٹھا لیا گیا اور بدلی نے اسے ان کی نظروں سے چھپا لیا اور اس کے جاتے وقت جب وہ آسمان کی طرف غور سے دیکھ رہے تھے تو دیکھو دو مرد سفید پوشاک پہنے ان کے پاس آکھڑے ہوئے اور کہنے لگے۔ اے گلیلی مردو! تم کیوں کھڑے آسمان کی طرف دیکھتے ہو۔ یہی یسوع جو تمہارے پاس سے آسمان پر اٹھایا گیا ہے۔ اسی طرح پھر آئے گا۔ جس طرح تم نے اسے آسمان پر جاتے دیکھا ہے۔‘‘

۶… (انجیل برنباس فصل:۲۱۴، آیت:۱تا۴، ص۳۵۷) ’’اور یسوع گھر سے نکل کر باغ کی طرف مڑا۔ تاکہ نماز ادا کرے… اور چونکہ یہودا اس جگہ کو جانتا تھا۔ جس میں یسوع اپنے شاگردوں کے ساتھ تھا۔ لہٰذا وہ کاہنوں کے سردار کے پاس گیا اور کہا اگر تو مجھے وہ دے جس کا تونے مجھ سے وعدہ کیا ہے تو میں آج کی رات یسوع کو تیرے سپرد کر دوں گا۔ جس کو تم لوگ ڈھونڈھ رہے ہو۔ اس لئے کہ وہ گیاراں رفیقوں کے ساتھ اکیلا ہے۔‘‘ (فصل:۲۱۱۵، آیت:۱تا۶، ص ایضاً) ’’اور جب کہ سپاہی یہودا کے ساتھ اس جگہ کے نزدیک پہنچے۔ جس میں یسوع تھا۔ یسوع نے ایک بھاری جماعت کا نزدیک آنا سنا۔ تب اسی لئے وہ ڈر کر گھر میں چلا گیا اور گیارہوں شاگرد سورہے تھے۔ پس جب کہ اللہ نے اپنے بندے کو خطرے میں دیکھا۔ اپنے سفیروں جبرائیل، میکائیل، رفائیل اور ادریل کو حکم دیا کہ یسوع کو دنیا سے لے لیں۔ تب پاک فرشتے آئے اور یسوع کو دکھن کی طرف دکھائی دینے والی کھڑکی سے لے لیا۔ پس وہ اس کو اٹھا لے گئے اور اسے تیسرے آسمان

29

میں ان فرشتوں کی صحبت میں رکھ دیا جو کہ ابد تک اللہ کی تسبیح کرتے رہیں گے۔‘‘

(فصل:۲۱۶، آیت:۱تا۱۰، ص۳۵۸) ’’اور یہودا زور کے ساتھ اس کمرہ میں داخل ہوا۔ جس میں سے یسوع اٹھا لیا گیا تھا اور شاگرد سب کے سب سورہے تھے۔ تب عجیب اللہ نے ایک عجیب کام کیا۔ پس یہودا بولی اور چہرے میں بدل کر یسوع کے مشابہ ہوگیا۔ یہاں تک کہ ہم لوگوں نے اعتقاد کیا۔ وہی یسوع ہے۔ لیکن اس نے ہم کو جگانے کے بعد تلاش کرنا شروع کیا تھا کہ دیکھے کہ معلم (یسوع) کہاں ہے۔ اس لئے ہم نے تعجب کیا اور جواب میں کہا۔ اے سید تو ہی تو ہمارا معلم ہے۔ پس تو اب ہم کو بھول گیا۔ مگر اس نے مسکراتے ہوئے کہا کیا تم احمق ہو کہ یہودا اسخریوطی کو نہیں پہچانتے اور اسی اثناء میں کہ وہ یہ بات کہہ رہا تھا۔ سپاہی داخل ہوئے اور انہوں نے اپنے ہاتھ یہودا پر ڈال دئیے۔ اس لئے کہ وہ ہر ایک وجہ سے یسوع کے مشابہ تھا۔ لیکن ہم لوگوں نے جب یہودا کی بات سنی اور سپاہیوں کا گروہ دیکھا۔ تب ہم دیوانوں کی طرح بھاگ نکلے۔‘‘ (شاگردوں کا یسوع کو اکیلا چھوڑ کر بھاگ جانادیکھو مرقس باب:۱۴، آیت:۵۰)

(فصل:۲۱۷، آیت:۱تا۸۰، ص۳۶۳تا۳۸۵) ’’پس سپاہیوں نے یہودا کو پکڑا اور اس کو اسے مذاق کرتے ہوئے باندھ لیا۔ اس لئے کہ یہودا نے ان سے اپنے یسوع ہونے کا انکار کیا۔ بحالیکہ وہ سچا تھا۔ یہودا نے جواب میں کہا۔ شاید تم دیوانے ہوگئے ہو۔ تم تو ہتھیاروں اور چراغوں کو لے کر یسوع ناصری کو پکڑنے آئے ہو۔ گویا کہ وہ چور ہے تو کیا تم مجھی کو باندھ لو گے۔ جس نے کہ تمہیں راہ دکھائی ہے تاکہ مجھے بادشاہ بناؤ۔‘‘

’’یہودا نے بہت سی دیوانگی کی باتیں کیں۔ یہاں تک کہ ہر ایک آدمی نے تمسخر میں انوکھا پن پیدا کیا۔ یہ خیال کرتے ہوئے کہ وہ (یہودا) درحقیقت یسوع ہی ہے اور یہ کہ وہ موت کے ڈر سے بناوٹی جنون کا اظہار کر رہا ہے… اور میں یہ کیوں کہوں کہ کاہنوں کے سرداروں ہی نے یہ جانا کہ یہودا یسوع ہے۔ بلکہ اس سے بھی بڑھ کر یہ کہ یسوع کی بیچاری ماں کنواری نے معہ اس کے قریبی رشتہ داروں اور دوستوں کے یہی اعتقاد کیا۔ یہاں تک کہ ہر ایک کارنج تصدیق سے بالا تر تھا۔ قسم ہے اللہ کی جان کی کہ یہ لکھنے والا (میں برنباس حواری) اس سب کو بھول گیا جو کہ یسوع نے اس سے (مجھ سے) کہا تھا۔ ازیں قبیل کہ وہ دنیا سے اٹھا لیا جائے گا اور یہ کہ ایک دوسرا شخص اس کے نام سے عذاب دیا جائے گا اور یہ کہ وہ دنیا کا خاتمہ ہونے کے قریب تک نہ مرے گا۔ اسی لئے یہ لکھنے والا یسوع کی ماں اور یوحنا

30

کے ساتھ صلیب کے پاس گیا۔ تب کاہنوں کے سردار نے حکم دیا کہ یسوع کو مشکیں بندھا ہوا اس کے روبرو لایا جائے اور اس سے اس کے شاگردوں اور اس کی تعلیم کی نسبت سوال کیا۔ پس یہودا نے اس بارہ میں کچھ جواب بھی نہ دیا۔ گویا کہ وہ دیوانہ ہوگیا۔ اس وقت کاہنوں کے سردار نے اس کو اسرائیل کے جیتے جاگتے خدا کے نام کا حلف دیا کہ وہ اسے سچ کہے۔ یہودا نے جواب دیا۔ میں تم سے کہہ چکا کہ میں وہی یہودا اسخریوطی ہوں۔ جس نے یہ وعدہ کیا تھا کہ یسوع ناصری کو تمہارے ہاتھوں میں سپرد کر دے گا۔ مگر میں نہیں جانتا کہ تم کس تدبیر سے پاگل ہوگئے ہو۔ اس لئے کہ تم ہر ایک وسیلہ سے یہی چاہتے ہو کہ میں ہی یسوع ہو جاؤں۔… کاہنوں کے سردار نے جواب میں کہا (یہودا کو یسوع سمجھتے ہوئے)… کیا اب تم کو یہ خیال سوجھتا ہے کہ اس سزا سے جس کا تو مستحق ہے اور تو اسی لائق ہے۔ پاگل بن کر نجات پاجائے گا۔ قسم ہے اللہ کی جان کی کہ تو ہرگز اس سے نجات نہ پائے گا… یہودا نے (حاکم سے) جواب میں کہا اے آقا! تو مجھے سچا مان کہ اگر تو میرے قتل کا حکم دے گا تو بہت بڑے ظلم کا مرتکب ہوگا۔ اس لئے کہ تو ایک بے گناہ کو قتل کرے گا۔ کیونکہ میں خود یہودا اسخریوطی ہوں۔ نہ کہ وہ یسوع جو کہ جادوگر ہے۔ پس اس نے اس طرح اپنے جادو سے مجھ کو بدل دیا ہے… مگر اللہ نے جس نے انجاموں کی تقدیر کی ہے۔ یہودا کو صلیب کے واسطے باقی رکھا تاکہ وہ اس ڈراؤنی موت کی تکلیف کو بھگتے جس کے لئے اس نے دوسرے کو سپرد کیا تھا۔ انہوں نے اس کے ساتھ ہی دو چوروں پر صلیب دیے جانے کا حکم لگایا… یہودا کو ننگا کر کے صلیب پر لٹکایا… اور یہودا نے کچھ نہیں کیا۔ سوا اس چیخ کے کہ اے اللہ! تو نے مجھ کو کیوں چھوڑ دیا۔ اس لئے کہ مجرم تو بچ گیا اور میں ظلم سے مر رہا ہوں۔ میں سچ کہتا ہوں کہ یہودا کی آواز اور اس کا چہرہ اور اس کی صورت یسوع سے مشابہ ہونے میں اس حد تک پہنچ گئی تھی کہ یسوع کے سب ہی شاگردوں اور اس پر ایمان لانے والوں نے اس کو یسوع ہی سمجھا۔‘‘ (فصل:۲۳۲، آیت:۱تا۴، ص۳۶۹) ’’یسوع کے چلے جانے کے بعد شاگرد اسرائیل اور دنیا کے مختلف گوشوں میں پراگندہ ہوگئے۔ رہ گیا حق جو شیطان کو پسند نہ آیا۔ اس کو باطل نے دبا لیا۔ جیسا کہ یہ ہمیشہ کا حال ہے۔ پس تحقیق شریروں کے ایک فرقہ نے جو دعویٰ کرتے ہیں کہ وہ یسوع کے شاگرد ہیں۔ یہ بشارت دی کہ یسوع مرگیا اور وہ جی نہیں اٹھا اور دوسروں نے یہ تعلیم پھیلائی کہ وہ درحقیقت مرگیا۔ پھر جی اٹھا اور اوروں نے منادی کی اور برابر منادی کر رہے ہیں کہ یسوع ہی اللہ کا بیٹا ہے اور انہیں لوگوں کے

31

شمار میں لوبھن نے بھی دھوکا کھایا۔ اب رہے ہم، تو ہم محض اس کی منادی کرتے ہیں جو کہ میں نے ان لوگوں کے لئے لکھا ہے کہ وہ اللہ سے ڈرتے ہیں تاکہ اخیر دن میں جو اللہ کی عدالت کا دن ہوگا چھٹکارا پائیں۔ آمین!‘‘

حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی دعا

(انجیل برنباس فصل:۲۱۲، آیت۱۴، ص۳۵۴) ’’اے رب بخشش والے اور رحمت میں غنی تو اپنے خادم کو قیامت کے دن اپنے رسول کی امت میں ہونا نصیب فرما۔‘‘

التماس مؤلف

ناظرین! میں نے طوالت کے خوف سے انجیل برنباس کی ساری کی ساری عبارت نقل نہیں کی۔ تاہم جتنی عبارت آپ کے سامنے ہے اس سے مندرجہ ذیل نتائج نکلتے ہیں۔

۱… یہودیوں اور یہودا حواری نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے گرفتار اور قتل کرنے کا منصوبہ کیا۔

۲… خدا نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو آسمان پر اٹھالیا۔

۳… یہودا حواری کو اپنی خباثت اور منافقت کی سزا کے طور پر وہی سزا خدا نے دلوائی جو وہ حضرت مسیح کے لئے چاہتا تھا۔

۴… یہودا شکل وصورت اور آواز سب چیزوں میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام سے مشابہ ہوگیا۔

۵… یہودا منافق حواری نے بہتیرا کہا کہ وہ یہودا اسخریوطی ہے۔ مگر یہودیوں نے اس کو بالکل حضرت عیسیٰ علیہ السلام ہی سمجھ کر اس کی ایک نہ سنی اور اسے پھانسی پر لٹکا دیا۔

۶… یہودا اسخریوطی جس پر حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی شبیہ مبارک ڈال دی گئی تھی کو بہت ذلت، تضحیک اور بے عزتی کے ساتھ پھانسی دی گئی۔

۷… حواری اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی والدہ حضرت مریم سب کے سب یہودا کی لاش کو حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی لاش سمجھتے رہے۔ تاآنکہ خود حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے دوبارہ نازل ہو کر برنباس حواری کو اطلاع دی۔ (دیکھو انجیل برنباس فصل:۲۱۹،۲۲۰،۲۲۱)

۸… یہودی سب کے سب یہودا کے قتل کو قتل مسیح علیہ السلام سمجھتے رہے۔ ایسا ہی عیسائی بھی صرف تھوڑے سے آدمی حقیقت حال سے واقف ہوئے۔ مگر باطل نے حق کو دبالیا اور عیسائیوں میں سے بعض نے کہا کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام قتل ہوگئے اور باقی کہنے لگے کہ

32

قتل کے تیسرے دن بعد زندہ ہوکر آسمان پر اٹھالیا گیا۔ وغیرہ وغیرہ!

۹… یہودا کی گرفتاری اور حضرت مسیح علیہ السلام کے رفع جسمانی کے وقت سب حواری بھاگ گئے تھے۔ اس واسطے وہ اصل حقیقت سے بے خبر تھے۔ لہٰذا وہ بھی یہودیوں سے متفق ہوگئے۔

۱۰… حضرت مسیح علیہ السلام نے امت محمدی میں شامل ہونے کی دعا کی تھی۔ تلک عشرۃ کاملۃ!

نوٹ: اگر اس بیان کو کوئی قادیانی غلط کہنے کی جرأت کرے تو رسالہ ہذا میں قادیانی اصول، عقائد نمبر:۷ پڑھ کر سنادیں۔ اگر شرافت اور انصاف کا نام بھی ہوگا تو تسلیم کر لے گا۔ ورنہ’’ختم اللہ علی قلوبہم‘‘ کا مظاہرہ تو ضرور ہی ہوگا۔

33

باب دوم

قرآن شریف سے حضرت عیسیٰ علیہ السلام

کے حیات ورفع جسمانی کا ثبوت

آیت نمبر:۱… ’’فلما احس عیسیٰ منہم الکفر… ومکروا ومکر اللہ و اللہ خیر الماکرین (آل عمران:۵۲تا۵۴)‘‘

اس کی تفسیر میں ہم خود کچھ بیان کرنا نہیں چاہتے۔ بلکہ ہم قادیانیوں کے مسلمہ مجددین امت کی تفسیر بیان کرتے ہیں۔ تاکہ ان کو ہماری دلیل کے رد کرنے کی جرأت نہ ہوسکے۔ کیونکہ اپنے تسلیم کئے ہوئے مجددین کی تفسیر کے انکار سے حسب قول مرزاقادیانی انہیں ’’فاسق بننا پڑے گا۔‘‘

(دیکھو اصول مرزا نمبر:۴)

تفسیر نمبر:۱… امام فخر الدین رازی قادیانیوں کے مجدد صدی ششم اپنی تفسیر کبیر میں فرماتے ہیں: ’’واما مکرہم بعیسیٰ علیہ السلام فہو انہم ہموا القتلہم وامامکر اللہ بہم ففیہ وجوہ مکر اللہ تعالیٰ بہم انہ رفع عیسیٰ علیہ السلام الی السماء وذالک ان یہودا ملک الیہود اراد قتل عیسیٰ وکان جبرائیل علیہ السلام لا یفارقہ ساعۃ وھو معنی قولہ تعالیٰ وایدناہ بروح القدس فلما ارادوا ذالک امرہ جبرائیل ان یدخل بیتافیہ روزنۃ فلما دخلوا البیت اخرجہ جبرائیل من تلک الروزنۃ وکان قد القیٰ شبہ علی غیرہ فاخذ وصلب۰ وفی الجملۃ فالمراد من مکر اللہ تعالیٰ بہم ان رفعہ الیٰ السماء وما مکنہم من ایصال الشر الیہ (تفسیر کبیر جز۸ ص۶۹،۷۰)‘‘ اور یہود کا مکر حضرت عیسیٰ علیہ السلام سے یہ تھا کہ انہوں نے ان کے قتل کا ارادہ کیا اور اللہ تعالیٰ کا مکر یہود سے۔ سو اس کی کئی صورتیں ہوئیں… ایک صورت یہ کہ اللہتعالیٰ نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو آسمان پر اٹھالیا اور یہ اس طرح ہوا کہ یہود کے ایک بادشاہ نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے قتل کا ارادہ کیا اور جبرائیل علیہ السلام ایک گھڑی بھی حضرت عیسیٰ علیہ السلام سے جدا نہ ہوتا تھا اور یہی مطلب ہے۔ اللہتعالیٰ کے اس قول کا ’’وایدناہ بروح القدس (بقرہ:۸۷)‘‘ یعنی ہم نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو جبرائیل سے

34

مدد دی۔ پس جب یہود نے قتل کا ارادہ کیا تو جبرائیل نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو ایک مکان میں داخل ہو جانے کے لئے فرمایا۔ اس مکان میں کھڑکی تھی۔ پس جب یہود اس مکان میں داخل ہوئے تو جبرائیل علیہ السلام نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو اس کھڑکی سے نکال لیا اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی شباہت ایک اور آدمی کے اوپر ڈال دی۔ پس وہی پکڑا گیا اور پھانسی پر لٹکایا گیا۔ غرضیکہ یہود کے ساتھ اللہ کے مکر کے معنی یہ ہیں کہ اللہتعالیٰ نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو آسمان پر اٹھا لیا اور یہود کو حضرت مسیح علیہ السلام کے ساتھ شرارت کرنے سے روک لیا۔

تفسیر نمبر:۲… اب ہم امام جلال الدین یسوطیؒ کی تفسیر نقل کرتے ہیں۔ امام موصوف قادیانی عقیدہ کے مطابق نویں صدی ہجری میں مجدد مبعوث ہوکر آئے تھے اور ’’ان کا مرتبہ ایسا بلند تھا کہ جب انہیں ضرورت پڑتی تھی۔ حضرت رسول کریمﷺ کی بالمشافہ زیارت کر کے دریافت کرلیا کرتے تھے۔‘‘

(ازالہ اوہام ص۱۵۱،۱۵۲، خزائن ج۳ ص۱۷۷)

’’فلما احس (علم) عیسیٰ منہم الکفرو (ارادوا قتلہ)… ومکروا (ای کفار بنی اسرائیل بعیسیٰ اذا وکلو بہ من یقتلہ غیلۃ) ومکر اللہ (بہم بان القیٰ شبہ عیسیٰ علیٰ من قصد قتلہ فقتلوہ ورفع عیسیٰ) و اللہ خیر الماکرین (اعلمہم بہ)‘‘

(تفسیر جلالین ص۵۲)

’’پس جب عیسیٰ علیہ السلام نے یہود کا کفر معلوم کر لیا اور یہود نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے قتل کا ارادہ کرلیا اور یہود نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے ساتھ مکر کیا۔ جب انہوں نے مقرر کیا ایک آدمی کو، کہ وہ قتل کرے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو دھوکا سے، اور اللہتعالیٰ نے یہود کے ساتھ مکر کیااس طرح کہ ڈال دی شبیہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی اس شخص پر جس نے ارادہ کیا تھا ان کے قتل کا۔ پس یہود نے قتل کیا اس شبیہ کو، اور اٹھا لئے گئے حضرت عیسیٰ علیہ السلام اور اللہتعالیٰ تمام تدبیریں کرنے والوں میں سے بہترین تدبیر کرنے والا ہے۔‘‘

تفسیر نمبر:۳… اب ہم اس بزرگ کی تفسیر بیان کرتے ہیں جن کو قادیانی ولاہوری مجدد صدی دوازدہم مانتے ہیں اور مرزاقادیانی لکھتے ہیں کہ ’’شاہ ولی اللہ صاحب کامل ولی اور صاحب خوارق وکرامات بزرگ تھے۔ وہ اپنے زمانہ کے مجدد تھے اور عالم ربانی تھے۔‘‘

(حمامتہ البشریٰ ص۷۶، خزائن ج۷ ص۲۹۱)

شاہ ولی اللہ صاحب محدث دہلوی اپنی کتاب تاویل الاحادیث میں فرماتے ہیں:’’کان عیسیٰ علیہ السلام کانہ ملک یمشی علی وجہ الارض فاتہمہ

35

الیہود بالزندقۃ واجمعوا علیٰ قتلہ فمکروا ومکر اللہ و اللہ خیر الماکرین۰ فجعل لہ ہیئۃ مثالیۃ ورفعہ الیٰ السماء والقیٰ شبہ علیٰ رجل من شیعتہ او عدوہ فقتل علیٰ انہ عیسیٰ علیہ السلام ثم نصر اللہ شیعتہ علیٰ عدوہم فاصبحوا ظاہرین‘‘ ’’اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام تو گویا ایک فرشتے تھے کہ زمین پر چلتے تھے۔ پھر یہودیوں نے ان پر زندیق ہونے کی تہمت لگائی اور قتل پر جمع ہوگئے۔ پس انہوں نے تدبیر کی اور خدا نے بھی تدبیر کی اور اللہبہترین تدبیر کرنے والا ہے۔ اللہ نے ان کے واسطے ایک صورت مثالیہ بنادی اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو آسمان پر اٹھا لیا اور ان کے گروہ میں سے یا ان کے دشمن کے ایک آدمی کو ان کی صورت کا بنادیا۔ پس وہ قتل کیاگیا اور یہودی اسی کو عیسیٰ علیہ السلام سمجھتے تھے۔‘‘

(تاویل الاحادیث ص۶۰)

تفسیر نمبر:۴… امام وقت شیخ الاسلام حافظ ابن کثیر کی تفسیر (قادیانی اور لاہوری بہ یک زبان) چھٹی صدی کے سر پر تجدید دین کے لئے ان کا مبعوث ہونا مانتے ہیں۔

(عسل مصفیٰ حصہ اوّل ص۱۶۳،۱۶۵)

’’فلما احاطوا بمنزلۃ وظنوا انہم ظفروا بہ نجاہ اللہ تعالیٰ من بینہم ورفعہ من روزنۃ ذالک البیت الیٰ السماء والقیٰ شبہ علی رجل ممن کان عندہ فی المنزل فلما دخلوا اولئک اعتقدوہ فی ظلمۃ اللیل عیسیٰ فاخذوہ وصلبوہ ووضعوا علیٰ راسہ الشوک وکان ہذا من مکر اللہ بہم فانہ نجی نبیہ ورفعہ من بین اظہرہم وترکہم فی ضلالہم یعمہون‘‘ (ابن کثیر ج۱ ص۳۶۵) ’’جب یہود نے آپ کے مکان کو گھیر لیا اور گمان کیا کہ آپ پر غالب ہو گئے ہیں تو خداتعالیٰ نے ان کے درمیان سے آپ کو نکال لیا اور اس مکان کی کھڑکی سے آسمان پر اٹھا لیا اور آپ کی شباہت اس پر ڈال دی جو اس مکان میں آپ کے پاس تھا۔ سو جب وہ اندر گئے تو اس کو رات کے اندھیرے میں عیسیٰ علیہ السلام خیال کیا۔ پس اسے پکڑا اور سولی دیا اور سر پر کانٹے رکھے اور ان کے ساتھ خدا کا یہی مکر تھا کہ اپنے نبی کو بچا لیا اور اسے ان کے درمیان سے اوپر اٹھا لیا اور ان کو ان کی گمراہی میں حیران چھوڑ دیا۔‘‘

ناظرین! جس قدر مجددین امت محمدیہ میں گزرے ہیں۔ اس آیت کی اسی تفسیر پر فوت ہوئے ہیں۔ انجیل برنباس کا بیان بھی اسی تفسیر کا مؤید ہے۔ پس مجددین کی تفسیر ہی قابل قبول ہے اور ان کا منکر فاسق ہے۔ (عقیدہ نمبر۴) اب ناظرین کی تفریح طبع کے لئے ہم مرزاقادیانی کی پر لطف اور پر مذاق تفسیر درج کرتے ہیں۔

36

یہود کا مکر حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے ساتھ

الف… ’’یہود یوں کے علماء نے ان کے (عیسیٰ علیہ السلام کے) لئے ایک کفر کا فتویٰ تیار کیا اور ملک کے تمام علماء کرام وصوفیائے عظام نے اس فتویٰ پر اتفاق کر لیا اور مہریں لگا دیں۔ مگر پھر بھی بعض عوام الناس میں سے جو تھوڑے ہی آدمی تھے حضرت مسیح علیہ السلام کے ساتھ رہ گئے۔ ان میں سے بھی یہودیوں نے ایک کو کچھ رشوت دے کر اپنی طرف پھیر لیا اور دن رات یہ مشورے ہونے لگے کہ توریت کی نصوص صریحہ سے اس شخص کو کافر ٹھہرانا چاہئے۔ تاعوام بھی یک دفعہ بیزار ہو جائیں اور اس کے بعض نشانوں کو دیکھ کر دھوکہ نہ کھائیں۔ چنانچہ یہ بات قرار پائی کہ کسی طرح اس کو صلیب دی جائے۔ پھر کام بن جائے گا۔ کیونکہ توریت میں لکھا ہے جو لکڑی پر لٹکایا جائے وہ لعنتی ہوتا ہے… سو یہودی لوگ اس تدبیر میں لگے رہے۔‘‘

(تحفہ گولڑویہ ص۱۲، خزائن ج۱۷ ص۱۰۵،۱۰۶)

ب… ’’یہودیوں نے نعوذ ب اللہ حضرت مسیح کو رفع سے بے نصیب ٹھہرانے کے لئے صلیب کا حیلہ سوچا تھا۔ تا اس سے دلیل پکڑیں کہ عیسیٰ ابن مریم ان صادقوں میں سے نہیں ہے۔ جن کا رفع الیٰ اللہ ہوتا رہا ہے۔ مگر خدا نے مسیح کو وعدہ دیا کہ میں تجھے صلیب سے بچاؤں گا۔‘‘

(ضمیمہ تحفہ گولڑویہ ص۵، خزائن ج۱۷ ص۴۴)

حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا یہود کے مکر سے گھبرانا اور دعا مانگنا

الف… ’’چونکہ مسیح ایک انسان تھا۔ اس نے دیکھا کہ تمام سامان میرے مرنے کے موجود ہوگئے ہیں۔ لہٰذا اس نے برعایت اسباب گمان کیا کہ شاید آج میں مر جاؤں گا۔ سو بباعث ہیبت تجلی جلالی حالت موجودہ کو دیکھ کر ضعف بشریت اس پر غالب ہوگیا تھا۔ تب ہی اس نے دل برداشتہ ہوکر کہا: ’’ایلی ایلی لما سبقتنی‘‘ یعنی اے میرے خدا، اے میرے خدا تو نے مجھے کیوں چھوڑ دیا اور کیوں اس وعدہ کا ایفا نہ کیا جو تو نے پہلے سے کر رکھا تھا کہ تو مرے گا نہیں۔‘‘

(ازالہ اوہام ص۳۹۴، خزائن ج۳ ص۳۰۳،۳۰۴)

ب… ’’حضرت مسیح نے جو اپنے بچنے کے لئے تمام رات رو کر دعا مانگی تھی اور یہ بالکل بعید از قیاس ہے کہ ایسا مقبول درگاہ الٰہی میں تمام رات رو رو کر دعا مانگے اور وہ دعا قبول نہ ہو۔‘‘

(ایام الصلح ص۱۱۴، خزائن ج۱۴ ص۳۵۱)

ج… ’’یہ قاعدہ مسلم الثبوت ہے کہ سچے نبیوں کی سخت اضطرار کی ضرور دعا قبول ہو جاتی ہے۔‘‘

(تبلیغ رسالت ج۳ ص۸۳، مجموعہ اشتہارات ج۲ ص۱۰ حاشیہ)

37

حضرت مسیح علیہ السلام کی دعا کی قبولیت کا مظاہرہ

یعنی یہود کے مکر بہ عیسیٰ علیہ السلام اور خدا کے مکر بہ یہود کا عجیب وغریب نقشہ

الف… ’’پھر بعد اس کے مسیح ان کے (یہود کے) حوالہ کیاگیا اور اس کو تازیانے لگائے گئے اور جس قدر گالیاں سننا اور فقیہوں اور مولویوں کے اشارہ سے طمانچے کھانا اور ہنسی اور ٹھٹھے سے اڑائے جانا اس کے حق میں مقدر تھا سب نے دیکھا۔ آخر صلیب دینے کے لئے تیار ہوئے۔ یہ جمعہ کا دن تھا اور عصر کا وقت… تب یہودیوں نے جلدی سے مسیح کو دو چوروں کے ساتھ صلیب پر چڑھادیا۔ تاشام سے پہلے ہی لاشیں اتاری جائیں۔ مگر اتفاق سے اسی وقت ایک سخت آندھی آگئی۔ جس سے سخت اندھیرا ہوگیا۔ یہودیوں کو یہ فکر پڑ گئی کہ اب اگر اندھیری میں ہی شام ہوگئی تو ہم اس جرم کے مرتکب ہو جائیں گے۔ جس کا ابھی ذکر کیاگیا ہے۔ سو انہوں نے اسی فکر کی وجہ سے تینوں مصلوبوں کو صلیب پر سے اتار لیا… جب (سپاہی) چوروں کی ہڈیاں توڑ چکے اور مسیح کی نوبت آئی تو ایک سپاہی نے یوں ہی ہاتھ رکھ کر کہہ دیا کہ یہ تو مرچکا ہے۔ کچھ ضرور نہیں کہ اس کی ہڈیاں توڑی جائیں… پس اس طور سے مسیح زندہ بچ گیا۔‘‘

(ازالہ اوہام ص۳۸۰تا۳۸۲، خزائن ج۳ ص۲۹۵،۲۹۷)

ب… ’’مسیح پر جو یہ مصیبت آئی کہ وہ صلیب پر چڑھایا گیا اور کیلیں اس کے اعضاء میں ٹھوکی گئیں۔ جن سے وہ غشی کی حالت میں ہوگیا۔ یہ مصیبت درحقیقت موت سے کچھ کم نہیں تھی۔‘‘

(ازالہ اوہام ص۳۹۲، خزائن ج۳ ص۳۰۲)

ج… ’’مسیح نے تو سولی پر چڑھ کر بھی یہی کہا: ’’ایلی ایلی لما سبقتنی‘‘ یعنی اے میرے خدا اے میرے خدا تو نے مجھے کیوں چھوڑ دیا۔‘‘

(تبلیغ رسالت ج۳ ص۸۴، مجموعہ اشتہارات ج۲ ص۱۱ حاشیہ)

د… ’’حضرت مسیح صلیب سے نجات پاکر نصیبین کی طرف آئے اور پھر افغانستان کے ملک میں ہوتے ہوئے کوہ نعمان میں پہنچے… وہ ایک مدت کوہ نعمان میں رہے۔ پھر اس کے بعد پنجاب کی طرف آئے۔ آخر کشمیر میں گئے… آخر سری نگر میں ۱۲۵برس کی عمر میں وفات پائی اور خانیار کے محلہ کے قریب آپ کا مقدس مزار ہے۔‘‘

(تبلیغ رسالت ج۸ ص۶۰، مجموعہ اشتہارات ج۳ ص۱۴۹)

ہ… ’’توریت میں لکھا ہے کہ جو شخص صلیب دیا جائے۔ اس کا رفع روحانی نہیں ہوتا…

38

اللہتعالیٰ کو یہ منظور تھا کہ یہودیوں کے اس اعتراض کو دور کرے اور حضرت مسیح کے رفع روحانی پر گواہی دے۔ سو اسی گواہی کی غرض سے اللہتعالیٰ نے فرمایا: ’’یا عیسیٰ انی متوفیک ورافعک الیّ ومطہرک من الذین کفروا‘‘ یعنی اے عیسیٰ! میں تجھے وفات دوں گا اور وفات کے بعد تجھے اپنی طرف اٹھاؤں گا اور تجھے ان الزاموں سے پاک کروں گا۔ جو تیرے پر ان لوگوں نے لگائے۔‘‘

(ایام الصلح ص۱۱۶، خزائن ج۱۴ ص۳۵۳)

نتیجہ نمبر:۱… ’’یہود نے خوب سمجھا تھا۔ مگر بوجہ صلیب حضرت مسیح کے ملعون ہونے کے قائل ہوگئے اور نصاریٰ نے بھی لعنت کو مان لیا۔‘‘

(تحفہ گولڑویہ ص۱۴، خزائن ج۱۷ ص۱۰۹)

سوال از روح مرزا

۱… مرزا! آپ کی ساری تحریر کا مطلب تو یہ ہے کہ یہود حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو پھانسی دے کر لعنتی ثابت کرنا چاہتے تھے اور یہی ان کا مکر تھا۔ اس کے مقابلہ پر خدا نے پھانسی پر جان نہ نکلنے دی اور کسی کو حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے زندہ بچ جانے کا سوائے آپ کے پتہ بھی نہ لگ سکا۔ اس بناء پر تو یہودی اپنی تدبیر میں خوب کامیاب ہوگئے۔ یعنی نہ صرف حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو ملعون ہی ثابت کر دیا بلکہ کروڑہا نصاریٰ سے عیسیٰ علیہ السلام کے ملعون ہونے کے عقیدہ کا اقرار بھی لے لیا۔ پس بتلائیے! کون اپنی تدبیر میں غالب رہا۔ یہودیا خدا احکم الحاکمین؟ آپ کے بیان کے مطابق تو یہود کا مکر ہی غالب رہا۔

سبحان اللہ! یہ بھی کوئی کمال ہے کہ یہودیوں نے جو کچھ چاہا حضرت مسیح علیہ السلام سے کہہ لیا خدا منع نہ کر سکا۔ اگر کیا تو یہ کہ عزرائیل کو حکم دے دیا کہ دیکھنا اس کی روح مت نکالنا۔ پھر ساتھ ہی دعویٰ کرتا ہے کہ میں تمام تدبیریں کرنے والوں سے بہتر تدبیر کرنے والا ہوں۔

۲… مرزاقادیانی! آپ نے لکھا کہ توریت میں لکھا ہے ’’جو کاٹھ پر لٹکایا جائے وہ لعنتی ہوتا ہے۔‘‘ ایمان سے کہئے! کیا وہاں یہ لکھا ہے کہ ہر مصلوب لعنتی ہوتا ہے۔ کیوں توریت پر افتراء باندھتے ہو؟ بلکہ واجب القتل مصلوب لعنتی ہوتا ہے۔

(دیکھو توریت استثناء باب:۲۱، آیت:۲۳)

۳… پھر آپ کے خیال میں خدا کے ہاں بھی یہی قانون مروج ہے کہ ہر مصلوب اگرچہ وہ بے گناہ ہی کیوں نہ ہو لعنتی ہوتا ہے۔ کیونکہ آپ کے عقیدہ کے مطابق خدا نے اسی وجہ سے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی روح صلیب پر نہ نکلنے دی۔ یہ آپ کا محض افتراء ہے۔ کیا بے گناہ مقتول شہید نہیںہوتا۔ کیا جس قدر انبیاء علیہم السلام قتل کئے گئے۔ وہ سب کے

39

سب نعوذ ب اللہ ملعون تھے۔ اللہتعالیٰ یہود کا حال بیان فرماتے ہیں: ’’ویقتلون الانبیاء بغیر حق (آل عمران:۱۱۲) ویقتلون النبیین (بقرہ:۶۱، آل عمران:۲۱)‘‘

مؤمن کے قتل کرنے والے کے متعلق اللہتعالیٰ فرماتے ہیں: ’’من قتل مؤمنا متعمدا فجزاہ جہنم خالداً فیہا (النساء:۹۳)‘‘ یعنی جو مؤمن کو جان بوجھ کر قتل کرے اس کے لئے دائمی جہنم ہے۔ یعنی خود قاتل ملعون ہوجاتا ہے۔ مؤمن مقتول کے متعلق ارشاد ہے: ’’لا تحسبن الذین قتلوا فی سبیل اللہ امواتا۰ بل احیاء عند ربہم یرزقون (آل عمران:۱۶۹)‘‘ {اے مخاطب تو نہ سمجھ مردہ ان لوگوں کو جو خدا کے راستہ میں قتل کئے گئے۔ بلکہ وہ اپنے خدا کے ہاں زندہ ہیں۔ رزق دئیے جاتے ہیں۔} پس بتلائیے کہ اگر حضرت عیسیٰ علیہ السلام صلیب دئیے جاتے اور قتل ہو جاتے تو وہ خدا کے ہاں ملعون کس طرح ہو جاتے؟ بلکہ وہ بھی دیگر مقتول انبیاء کی طرح شہید ہوگئے ہوتے۔

نوٹ: ’’صلیب پر مرا ہوا بھی مقتول ہی ہوتا ہے۔‘‘

(ایام الصلح ص۱۱۳،۱۱۴، خزائن ج۱۴ ص۳۵۰،۳۵۱)

قرآنی دلیل نمبر:۲

۱… ’’اذ قال اللہ یاعیسیٰ انی متوفیک ورافعک الیّٰ ومطہرک من الذین کفروا وجاعل الذین اتبعوک فوق الذین کفروا الیٰ یوم القیامۃ (آل عمران:۵۵)‘‘ ہم اس آیت کریمہ کا ترجمہ اس مفسر اعظم کی زبان سے بیان کرتے ہیں جن کو قادیانی اور لاہوری، صدی ششم کا مجدد اعظم قرار دے چکے ہیں اور دنیائے اسلام میں وہ امام فخرالدین رازی کے نام سے مشہور ہیں۔ آپ تفسیر کبیر میں بذیل آیت کریمہ فرماتے ہیں اور قریباً سات سو (۷۰۰) سال پیشتر قادیانیوں کے الحاد اور تحریف کا جواب دیتے ہیں۔ فرماتے ہیں: ’’ووجد ہذا المکر اذ قال اللہ ہذا القول (انی متوفیک) ومعنیٰ قولہ تعالیٰ انی متوفی ای متمم عمرک فحینئذ اتو فاک فلا اترکہم حتیٰ یقتلوک بل انا رافعک الیٰ سمائی ومقر ملائکتی واصونک ان یتمکنوا من قتلک وہذا تاویل حسن… ان التوفی اخذ الشیٔ وافیا ولما علم اللہ ان من الناس من یخطر ببالہ ان الذین رفعہ ہو روحہ لا جسدہ ذکر ہذا الکلام لیدل علیٰ انہ علیہ الصلوت والسلام رفع بتمامہ الیٰ السماء بروحہ وبجسدہ… وکان اخرجہ من الارض واصعادہ الیٰ السماء توفیا لہ فان قیل فعلیٰ ہذا الوجہ کان

40
التؤفی عین الرفع الیہ فیصیر قولہ ورافعک الیّٰ تکرارا قلنا قولہ انی متوفیک یدل علیٰ حصول التوفی وھو جنس تحتہ انواع بعضہا بالموت وبعضہا بالاصعاد الیٰ السماء فلما قال بعد ورافعک الیّٰ کان ہذا تعیینا للنوع ولم یکن تکرارا… ومطہرک من الذین کفروا والمعنی مخرجک من بینہم ومفرق بینک وبینہم‘‘

(تفسیر کبیر جز۸ ص۷۱،۷۲)

امام رازی مجدد صدی ششم فرماتے ہیں: ’’اور یہ مکر الٰہی اس وقت پایا گیا جب کہ کہا خدا نے انی متوفیک اور انی متوفیک کے معنی ہیں (اے عیسیٰ) میں تیری عمر پوری کروں گا اور پھر تجھے وفات دوں گا۔ پس میں ان یہود کو تیرے قتل کے لئے نہیں چھوڑوں گا۔ بلکہ میں تجھے اپنے آسمان اور ملائکہ کے مقر کی طرف اٹھا لوں گا اور تجھ کو ان کے قابو میں آنے سے بچالوں گا اور یہ تفسیر نہایت ہی اچھی ہے… تحقیق توفی کے معنی ہیں کسی چیز کو ہر لحاظ سے اپنے قابو میں کر لینا اور کیونکہ اللہتعالیٰ کو معلوم تھا کہ بعض آدمی (سرسید علی گڑھی اور مرزاغلام احمد قادیانی وغیرہم) خیال کریں گے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا جسم نہیں بلکہ روح اٹھائی گئی تھی۔ اس واسطے انی متوفیک کا فقرہ استعمال کیا تاکہ یہ کلام دلالت کرے۔ا س بات پر کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام جسم بمعہ روح آسمان کی طرف اٹھا لئے گئے۔ ان کی توفی کے معنی زمین سے نکل کر آسمان کی طرف اٹھایا جانا ہے اور اگر کہا جائے کہ اس صورت میں تو توفی اور رفع میں کوئی فرق نہ ہوا بلکہ دونوں ہم معنی ہوئے اور اگر ہم معنی ہوئے تو پھر رافعک الیّٰ کا فقرہ بلا ضرورت تکرار کلام میں ثابت ہوا۔ (جس سے کلام اللہ پاک ہے) جواب اس کا ہم یہ دیتے ہیں کہ اللہتعالیٰ کے قول انی متوفیک سے صرف حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی توفی کا اعلان کرنا ہے اور توفی ایک عام لفظ ہے جس کے ماتحت بہت قسمیں ہیں۔ ان میں سے ایک توفی موت کے ساتھ ہوتی ہے اور ایک توفی آسمان کی طرف بمعہ جسم اٹھالینا ہے۔ پس جب ’’انی متوفیک‘‘ کے بعد اللہتعالیٰ نے فرمایا ’’ورافعک الیّٰ‘‘ تو اس فقرہ سے توفی کی ایک قسم مقرر ومعین ہوگئی (یعنی رفع جسمانی) پس کلام میں تکرار نہ رہا اور ’’مطہرک من الذین کفروا‘‘ کے معنی یہ ہیں کہ میں تجھے ان یہود کی صحبت سے جدا کرنے والا ہوں اور تیرے اور ان کے درمیان علیحدگی کرنے والا ہوں۔‘‘ ختم ہوا ترجمہ تفسیر کبیر کا۔

۲… تفسیر از امام جلال الدین سیوطیؒ جن کو قادیانی اور لاہوری دونوں مجدد صدی نہم ماننے کے علاوہ اس مرتبہ کا آدمی سمجھتے ہیں کہ: ’’وہ آنحضرتﷺ سے بالمشافہ مسائل متنازع فیہ

41

پوچھ لیا کرتے تھے۔‘‘

(ازالہ اوہام ص۱۵۱، خزائن ج۳ ص۱۷۷)

’’اذ قال اللہ یا عیسیٰ انی متوفیک (قابضک) ورافعک الیّٰ (من الدنیا من غیر موت) ومطہرک (مبعدک) من الذین کفروا وجاعل الذین اتبعوک (صدقوا نبوتک من المسلمین والنصاریٰ) فوق الذین کفروا بک وہم الیہود یعلونہم بالحجۃ والسیف‘‘ (تفسیر جلالین ص۵۲)

’’جب کہا اللہتعالیٰ نے اے عیسیٰ علیہ السلام! میں تجھ کو اپنے قبضہ میں کرنے والا ہوں اور دنیا سے بغیر موت کے آسمان کی طرف اٹھانے والا ہوں اور تجھے الگ کرنے والا ہوں کافروں کی صحبت سے اور تیرے تابعداروں کو تیرے مخالفوں پر قیامت تک دلائل اور تلوار سے غالب رکھنے والا ہوں۔‘‘

دیگر مجددین امت نے بھی اس آیت سے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے رفع جسمانی ہی کو ثابت کیا ہے۔ ایک مجدد یا محدث بھی ایسا پیش نہیں کیاجاسکتا جس نے اس آیت میں رفع کے معنی رفع روحانی کئے ہوں۔ ہاں بعض بزرگوں نے اس آیت میں توفی کے مجازی معنی یعنی موت دینا اختیار کرنے کی اجازت دی ہے۔ مگر ساتھ ہی تقدیم وتاخیر کی شرط لگا کر پھر بھی رفع جسمانی کے قائل رہنے پر مجبور کر رہے ہیں۔ لیجئے! اس کے متعلق بھی ہم صرف تین مجددین کے اقوال پیش کرتے ہیں۔ جن کا رد کرنے والا مرزاقادیانی کے فتویٰ کی رو سے فاسق ہو جائے گا۔

۱… امام فخرالدین رازی مجدد صدی ششم کا ارشاد ملاحظ ہو:

’’وقولہ رافعک الیّٰ یقتضی انہ رفعہ حیا والوا ولا تقتضی الترتیب فلم یبق الا ان یقول فیہا تقدیم وتاخیر والمعنیٰ انی رافعک الیّٰ ومطہرک من الذین کفروا ومتوفیک بعد انزالی ایاک فی الدنیا ومثلہ من التقدیم والتاخیر کثیر فی القرآن‘‘ (تفسیر کبیر ج۸ ص۷۲)

’’قول الٰہی رافعک الیّٰ تقاضا کرتا ہے کہ اللہتعالیٰ نے آپ کو زندہ اٹھا لیا اور واؤ ترتیب کا تقاضا نہیں کرتی۔ پس سوائے اس کے کچھ نہ رہا کہ کہا جائے کہ اس میں تقدیم وتاخیر ہے اور معنی یہ ہیں کہ میں تجھے اپنی طرف اٹھانے والا ہوں اور کفار سے بالکل پاک وصاف رکھنے والا ہوں اور تجھے دنیا میں نازل کرنے کے بعد فوت کرنے والا ہوں اور اس قسم کی تقدیم وتاخیر قرآن شریف میں بکثرت ہے۔‘‘

اس سے ذرا پہلے فرماتے ہیں: ’’ان الواو فی قولہ متوفیک ورافعک الیّٰ

42
لا تفید الترتیب فالایۃ تدل علیٰ انہ تعالیٰ یفعل بہ ہذہ الافعال فاما کیف یفعل ومتی یفعل فالامر فیہ موقوف علیٰ الدلیل وقد ثبت الدلیل انہ حی وورد الخبر عن النبیﷺ انہ سینزل ویقتل الدجال ثم انہ تعالیٰ یتوفاہ بعد ذالک‘‘ (تفسیر کبیر ج۸ ص۷۱،۷۲)

’’واؤ عاطفہ جو اس آیت میں ہے وہ مفید ترتیب نہیں۔ یعنی وہ ترتیب کے لئے نہیں۔ پس یہ آیت صرف اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ اللہتعالیٰ حضرت عیسیٰ علیہ السلام سے یہ سب معاملات کرے گا۔ لیکن کس طرح کرے گا اور کب کرے گا۔ پس یہ سب کچھ کسی اور دلیل پر موقوف ہے اور اس کی دلیل ثابت ہوچکی ہے کہ آپ زندہ ہیں اور نبیﷺ سے حدیث وارد ہے کہ آپ ضرور اتریں گے اور دجال کو قتل کریں گے۔ پھر اللہتعالیٰ آپ کو اس کے بعد فوت کرے گا۔‘‘

۲… امام سیوطیؒ مجدد صدی نہم فرماتے ہیں: ’’عن الضحاکؒ عن ابن عباسؓ فی قولہ انی متوفیک ورافعک الیّٰ یعنی رافعک ثم متوفیک فی آخر الزمان‘‘ (درمنثور ج۲ ص۳۶) ’’حضرت ضحاکؒ تابعی حضرت ابن عباسؓ سے قول الٰہی انی متوفیک ورافعک الیّٰ کے متعلق روایت کرتے ہیں کہ آپ نے فرمایا۔ مراد اس جگہ یہ ہے کہ تجھے اٹھا لوں گا۔ پھر آخری زمانہ میں فوت کروں گا۔‘‘

۳… تفسیر از علامہ محمد طاہر گجراتی مصنف مجمع البحار جن کو قادیانی مجدد صدی دہم تسلیم کرتے ہیں۔ ’’انی متوفیک ورافعک الیّٰ علی التقدیم والتاخیر… ویجییٔ اخر الزمان لتواتر خبر النزول‘‘ ’’انی متوفیک ورافعک الیّٰ‘‘ میں تقدیم وتاخیر ہے۔ یعنی معنی یہ ہیں کہ میں تجھے اوپر اٹھانے والا ہوں اور پھر فوت کرنے والا ہوں… حضرت عیسیٰ علیہ السلام آخر زمانہ میں دوبارہ آئیں گے۔ کیونکہ احادیث نبوی نزول کے بارہ میں تواتر تک پہنچی ہوئی ہیں۔

غرضیکہ تمام علماء اسلام سلف وخلف کا یہی مذہب ہے کہ یہ آیت حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے رفع جسمانی کا اعلان کر رہی ہے۔ اگر قادیانی امت ۱۳صدیوں کے علماء مجددین میں سے ایک مجدد بھی ایسا پیش کر سکے۔ جس نے اس آیت میں رفع سے مراد رفع روحانی لیا ہو۔ تو ہم انعام مقررہ کے علاوہ اعلان کرتے ہیں کہ ایک سال تک تردید مرزائیت کا کام چھوڑ دیں گے۔ جب یہ طے ہوگیا کہ تیرہ صدیوں کے مجددین امت (جن کی فہرست قادیانیوں کی مایہ ناز کتاب (عسل مصفیٰ ج۱ ص۱۶۲،۱۶۵) پر لکھی ہے) میں سے ایک بھی اس رفع کے معنی رفع روحانی نہیں کرتا۔ بلکہ تمام

43

کے تمام اس کے معنی رفع جسمانی پر ایمان رکھتے ہیں تو جو آدمی ان کے فیصلہ کے سامنے سرتسلیم خم نہیں کرے گا وہ قادیانی فتویٰ کی رو سے فاسق ہو جائے گا۔

(قادیانی اصول نمبر۴)

توفی کی پرلطف بحث

میرے معزز ناظرین! توفی کی تفسیر میں نے ایسے مفسرین کی زبان سے بیان کر دی ہے کہ جس آدمی میں ذرا بھی انصاف اور حق پرستی کا مادہ ہو۔ وہ قبول کئے بغیر نہیں رہ سکتا۔ کیونکہ یہ سارے حضرات قادیانی اور لاہوری مرزائیوں کے مسلمہ مجددین گزرے ہیں اور مجدد علوم لدنیہ اور آیات سماویہ کے ساتھ علوم قرآنیہ کی صحیح تعلیم کے لئے مبعوث ہوتے ہیں۔ وہ دین میں نہ کمی کرتے ہیں نہ زیادتی۔

(قادیانی اصول نمبر۴)

مگر تاہم چونکہ قادیانی مناظر ہر جگہ توفی کے متعلق بڑی تحدی اور زور سے چیلنج دیا کرتے ہیں۔ لہٰذا مناسب سمجھتا ہوں کہ بقدر ضرورت میں بھی اس پر روشنی ڈال کر اپنے ناظرین کو حقیقت حال سے مطلع کر دوں۔ پہلے میں مرزاقادیانی کے خیالات کو ان کی کتابوں کے حوالہ سے ’’توفی کی بحث‘‘ آپ کے سامنے رکھتا ہوں۔ اس کے بعد خود اپنا ’’مافی الضمیر‘‘ عرض کروں گا۔

سوال نمبر:۱… توفی کے حقیقی معنی کیا ہیں؟

جواب نمبر:۱… از مرزا ’’توفی کے حقیقی معنی وفات دینے اور روح قبض کرنے کے ہیں۔‘‘

جواب نمبر:۲… ’’توفی کے معنی حقیقت میں وفات دینے کے ہیں۔‘‘

(ازالہ اوہام ص۶۰۱، خزائن ج۳ ص۴۲۵)

سوال نمبر:۲… توفی کے مجازی معنی کیا ہیں؟

جواب… ’’(قرآن شریف میں) دونوں مقامات میں نیند پر توفی کے لفظ کا اطلاق کرنا ایک استعارہ ہے جو بہ نصب قرینہ نوم استعمال کیاگیا ہے۔ یعنی صاف لفظوں میں نیند کا ذکر کیاگیا ہے۔ تاہر ایک شخص سمجھ لے کہ اس جگہ توفی سے مراد حقیقی موت نہیںہے۔ بلکہ مجازی موت مراد ہے جو نیند ہے۔‘‘

(ازالہ اوہام ص۳۳۲، خزائن ج۳ ص۲۶۹)

سوال نمبر:۳… قرآن کریم میں یہ لفظ کن معنوں میں استعمال ہوا ہے؟

جواب نمبر:۱… از مرزاقادیانی: ’’قرآن شریف میں اوّل سے آخر تک جس جس جگہ

44

توفی کا لفظ آیا ہے۔ ان تمام مقامات میں توفی کے معنی موت ہی لئے گئے ہیں۔‘‘

(ازالہ اوہام ص۲۴۶، خزائن ج۳ ص۲۲۴ حاشیہ)

جواب نمبر:۲… ’’توفی کے سیدھے اور صاف معنی جو موت ہیں وہی اس جگہ (قرآن کریم میں) چسپاں ہیں۔‘‘

(ازالہ اوہام ص۲۴۶، خزائن ج۳ ص۲۲۴)

جواب نمبر:۳… ’’ابھی ہم ظاہر کر چکے ہیں کہ قرآن کریم اوّل سے آخر تک صرف یہی معنی ہر ایک جگہ مراد لیتا ہے کہ روح کو قبض کر لینا اور جسم سے کچھ تعلق نہ رکھنا بلکہ اس کو بیکار چھوڑ دینا۔‘‘

(ازالہ اوہام ص۵۴۲، خزائن ج۳ ص۳۹۱)

سوال نمبر:۴… از ابوعبیدہ: ’’مرزاقادیانی! یہ کیسے معلوم ہو کہ کوئی لفظ کس جگہ اپنے حقیقی معنوں میں مستعمل ہوا اور کس جگہ مجازی معنوں میں؟‘‘

جواب… از مرزاقادیانی: ’’اس بات کے دریافت کے لئے کہ متکلم نے ایک لفظ بطور حقیقت مسلمہ استعمال کیا ہے یا بطور مجاز اور استعارہ نادرہ کے بھی کھلی کھلی علامت ہوتی ہے کہ وہ حقیقت مسلمہ کو ایک متبادر اور شائع ومتعارف لفظ سمجھ کر بغیر احتیاج قرائن کے یونہی مختصر بیان کر دیتا ہے۔ مگر مجاز یا استعارہ نادرہ کے وقت ایسا اختصار پسند نہیں کرتا۔ بلکہ اس کا فرض ہوتا ہے کہ کسی ایسی علامت سے جس کو ایک دانشمند سمجھ سکے۔ اپنے اس مدعا کو ظاہر کر جائے کہ یہ لفظ اپنے اصلی معنوں پر مستعمل نہیں ہوا۔‘‘

(ازالہ اوہام ص۳۳۳، خزائن ج۳ ص۲۶۹)

سوال نمبر:۵… از ابوعبیدہ: ’’مرزاقادیانی! سچ سچ فرمائیے کہ موت یا حیات دینے کا اختیار خدا کے سوا کسی اور ہستی کو بھی ہوسکتا ہے؟‘‘

جواب… از مرزاقادیانی: ’’خداتعالیٰ اپنے اذن اور ارادہ سے کسی شخص کو موت اور حیات ضرر اور نفع کا مالک نہیں بناتا۔‘‘

(ازالہ اوہام ص۳۱۴، خزائن ج۳ ص۲۶۰ حاشیہ)

سوال نمبر:۶… از ابوعبیدہ: ’’قرآن شریف میں توفی کا لفظ کتنی جگہ آیا ہے۔ ذرا مکمل فقرات کی صورت میں پیش کیجئے؟‘‘

جواب… از مرزاقادیانی:

۱… ’’والذین یتوفون منکم (بقرہ)‘‘

۲… ’’والذین یتوفون منکم (بقرہ)‘‘

45

۳… ’’حتیٰ یتوفہن الموت (نساء)‘‘

۴… ’’توفہم الملئکۃ ظالمی انفسہم (نساء)‘‘

۵… ’’توفتہ رسلنا (انعام)‘‘

۶… ’’رسلنا یتوفونہم (اعراف)‘‘

۷… ’’اذیتوفی الذین کفروا الملئکۃ (انفال)‘‘

۸… ’’فکیف اذا توفتہم الملئکۃ یضربون وجوہہم (محمد)‘‘

۹… ’’الذین تتوفہم الملئکۃ ظالمی انفسہم (نحل)‘‘

۱۰… ’’الذین تتوفہم الملئکۃ طیبین (نحل)‘‘

۱۱… ’’قل یتوفکم ملک الموت الذی وکل بکم (الم سجدہ)‘‘

۱۲… ’’واما نرینک بعض الذی نعدہم (ونتوفینک) (یونس)‘‘

۱۳… ’’واما نرینک بعض الذی نعدہم (ونتوفینک) (رعد)‘‘

۱۴… ’’واما نرینک بعض الذی نعدہم (ونتوفینک) (مؤمن)‘‘

۱۵… ’’ثم یتوفکم (نحل)‘‘

۱۶… ’’ومنکم من یتوفیٰ (حج)‘‘

۱۷… ’’ومنکم من یتوفیٰ (مؤمن)‘‘

۱۸… ’’وتوفنا مع الابرار (آل عمران)‘‘

۱۹… ’’توفنا مسلمین (اعراف)‘‘

۲۰… ’’توفنی مسلما والحقنی بالصالحین (یوسف)‘‘

۲۱… ’’ھو الذی یتوفکم بالیل ویعلم ماجرحتم بالنہار ثم یبعثکم فیہ لیقضی اجل مسمیٰ (انعام)‘‘

۲۲… ’’ اللہ یتوفی الانفس حین موتہا والتی لم تمت فی منامہا فیمسک التی قضی علیہا الموت ویرسل الاخریٰ الی اجل مسمیٰ (زمر)‘‘

(ازالہ اوہام ص۳۳۰،۳۳۳، خزائن ج۳ ص۲۶۸)

سوال نمبر:۷… ازابوعبیدہ: ’’مرزاقادیانی! آپ نے آیات نقل کرنے میں دیانت سے کام نہیں لیا۔ صرف آخری دو آیتیں کما حقہ نقل کی ہیں۔ میں ہر ایک آیت کے متعلق ابھی مفصل عرض کروں گا۔ مگر اتنا تو آپ کے اصول سے سمجھ میں آگیا کہ اگر میں ثابت کر

46

دوں کہ توفی کے حقیقی معنی موت دینا نہیں بلکہ جس طرح آپ توفی کے مجازی معنی نیند دینا مانتے ہیں۔ بعینہ اسی طرح ہم توفی کے مجازی معنی موت دینا بھی مانتے ہیں۔ دلائل ذیل میں ملاحظہ کیجئے اور پھر ایمان سے فرمائیے کہ آپ کے جھوٹا ہونے میں کوئی شک ہے؟‘‘

۱… توفی کا لفظ وفا سے نکلا ہوا ہے اور باب تفعل کا صیغہ ہے۔ اسی طرح ایفاء توفیہ اور استیفاء بھی اسی مادہ وفاء سے بالترتیب باب افعال، تفصیل اور استفعال کے صیغے ہیں۔ اب یہ بات تو ادنیٰ طالب علم بھی جانتا ہے کہ کسی صیغہ کے حقیقی معنوں میں مادے (اصلی روٹ) کے معنی ضرور موجود رہتے ہیں۔ پس ان سب صیغوں میں وفا کے معنی پائے جانے ضروری ہیں۔ وفاء کے معنی ہیں پورا کرنا۔ معمولی طالب علم بھی جانتے ہیں کہ باب تفعل اور استفعال میں اخذ یعنی لینے کے معنی زائد ہو جاتے ہیں۔ پس توفی اور استیفا کے معنی ہوئے۔ ’’اخذ الشیی وافیاً‘‘ یعنی کسی چیز کو پورا پورا لے لینا۔ یعنی تمام جزئیات سمیت قابو کر لینا۔ چنانچہ ہم اپنی تصدیق وتائید میں ماہرین زبان عرب کے اقوال پیش کرتے ہیں۔

الف… ’’اساس البلاغہ‘‘ میں لکھا ہے: ’’استوفاہ وتوفاہ استکملہ‘‘ یعنی استیفاء اور توفی دونوں کے معنی پورا پورا لے لینا ہے۔

ب… (لسان العرب ج۱۵ ص۳۵۹) میں بھی یہی لکھا ہے۔

ج… تفسیر کبیر میں علامہ فخرالدین رازی مجدد صدی ششم نے بھی دونوں کو ہم معنی قرار دیا ہے۔

۲… مرزاقادیانی! آیت نمبر۴،۵،۷تا۱۱ میں توفی کرنے والے فرشتے قرار دئیے گئے ہیں اور آپ کے جواب نمبر:۵ میں آپ نے فرمایا ہے کہ موت وحیات بغیر خدا کے کوئی دے نہیں سکتا۔ پس ماننا پڑے گا کہ اگر توفی کے حقیقی معنی موت دینے کے ہیں تو پھر فرشتے آپ کے نزدیک خدا ٹھہریں گے اور اگر فرشتے خدا نہیں اور یقینا نہیں تو پھر توفی کے حقیقی معنی موت دینا نہیں ہوسکتے اور یقینا نہیں ہوسکتے؟

۳… آیات نمبر:۱،۲ میں ’’یتوفون ویتوفون‘‘ دونوں طرح پڑھنا جائز ہے۔

پہلی صورت میں فعل مجہول ہے اور دوسری صورت میں معروف ہے۔ دوسری صورت میں توفی بمعنی موت کرنے، ناممکن ہیں۔ کیونکہ والذین اس کا فاعل ضمیر ہے۔ مرزا

47

قادیانی! آپ کے معنی قبول کر لیں تو یوں معنی کرنے پڑیں گے۔ ’’وہ لوگ جو اپنے آپ کو موت دیتے ہیں۔‘‘ یہ بالکل بے معنی ہوا۔ اس سے بھی ثابت ہوا کہ توفی کے حقیقی موت دینا نہیں۔

۴… آیت نمبر:۳ میں یتوفی کا فاعل الموت ہے۔ اگر توفی بمعنی موت دینا ہو تو آیت کے معنی یوں کریں گے۔ یہاں تک کہ موت ان کو موت دے دے۔

مرزاقادیانی! کچھ تو انصاف کیجئے! کیا موت ہم کو موت دیا کرتی ہے یا خدا؟ موت تو خدا دیتا ہے۔ پس اس سے بھی ثابت ہوا کہ توفی کے حقیقی معنی موت دینا نہیں۔

۵… قرآن شریف میں توفی کے معنی بطور مجاز جہاں موت دینا کئے گئے ہیں۔ وہاں اسی فعل کا فاعل یا تو خدا ہے یا فرشتے۔ یا موت یا خود آدمی۔ حالانکہ اس کے برعکس اماتت جس کے حقیقی معنی موت دینا ہے۔ اس کا فاعل قرآن کریم یا حدیث نبوی یا اقوال صحابہؓ یا اقوال اہل لسان میں کسی جگہ بھی سوائے خدا کے اور کسی کو قرار نہیں دیا۔ اگر توفی کے حقیقی معنی موت ہیں تو قرآن کریم میں اس کا فاعل بھی سوائے خدا کے اور کوئی نہ ہوتا۔ پس اللہتعالیٰ کا دونوں فعلوں کے فاعل مقرر کرنے میں اس قدر اہتمام کرنا ثابت کرتا ہے کہ اگر اماتت کے حقیقی معنی موت دینا ہے تو یقینا توفی کے حقیقی معنی موت دینا نہیں ہو سکتے۔ ورنہ وجہ بتائی جائے کہ کیوں سارے قرآن کریم میں احیاء اور اماتت کے استعمال میں نسبت فاعلی خدا نے اپنی طرف کی ہے اور توفی میں سب طرح جائز رکھا ہے؟

۶… آپ نے جس قدر آیات نقل کی ہیں۔ اگر مکمل پڑھی جائیں تو ہر ایک میں قرینہ موت موجود ہے۔ مثلاً:

آیت نمبر:۱… میں آپ نے صرف اتنا نقل کیا ہے۔ ’’والذین یتوفون منکم‘‘ اور اس کے آگے ’’ویذرون ازواجاً وصیۃ لا زواجہم متاعاً الیٰ الحول غیر اخراج‘‘ ’’تم میں سے جو لوگ اپنی عمر پوری کر لیتے ہیں۔ (یعنی فوت ہو جاتے ہیں) اور چھوڑ جاتے ہیں اپنی عورتیں۔ وہ وصیت کر جایا کریں اپنی بیبیوں کے واسطے۔‘‘

آیت نمبر:۲… میں بھی ’’ویذرون ازواجاً یتربصن بانفسہن اربعۃ اشہر وعشراً‘‘ یہاں بھی بیبیوں کا پیچھے چھوڑ جانا اور ان کی عدت کا حکم صاف صاف قرینہ صارفہ موجود ہے۔ یعنی یتوفون کے معنی ہوں گے اپنی عمر پوری کر لینا۔

اسی طرح آیات نمبر۴ سے۱۱ تک موت کے فرشتوں کا فاعل ہونا قرینہ ہے۔ بعض میں حیات کا ذکر کرنے کے بعد توفی کا استعمال ہوا ہے۔ جو قرینہ کا کام دیتا ہے۔

48

بعض آیات میں خاتمہ بالخیر کی دعا قرینہ موت موجود ہے۔ آیت نمبر:۲۱ میں باللیل وغیرہ قرینہ نیند کا موجود ہے۔ اس واسطے یہاں توفی کے معنی نیند دینا ہے۔ ورنہ اگر توفی کے حقیقی معنی موت کے ہوں تو مرزاقادیانی کو ماننا پڑے گا کہ تمام دنیا رات کو حقیقی موت مرجاتی ہے۔ صبح پھر دوبارہ زندہ ہوجاتی ہے (اور یہ بات مرزائیوں کے نزدیک بھی صحیح نہیں)

آیت نمبر۲۲ تو توفی کے معنوں کا فیصلہ ہی کر دیتی ہے۔ توفی کا مفعول انفس ہے یعنی روح۔ اگر آپ کے معنی قبول کر لئے جائیں تو ماننا پڑے گا کہ اللہ روح کو موت دے دیتا ہے۔ حالانکہ یہ امر بالکل غلط ہے۔ ہاں پھر ’’والتی لم تمت فی منامہا‘‘ (اور اللہ ان روحوں کی بھی توفی کرتا ہے جن پر موت وارد نہیں ہوئی) کا اعلان کرکے مرزاقادیانی! آپ کے سارے تانے بانے کو توڑ پھوڑ دیا ہے۔ کیونکہ یہاں توفی کا حکم بھی جاری ہے اور لم تمت (نہیں مریں یعنی زندہ ہیں)کا اعلان بھی ہورہا ہے۔ یعنی توفی کا عمل ہو جانے کے بعد بھی آدمی کا زندہ رہنا ممکن ہی نہیں بلکہ ہر روز کروڑہا انسانوں پر اس کا عمل ہورہا ہے۔ غرضیکہ اس آیت میں ایک ہی لفظ توفی مستعمل ہوا ہے۔ اس کے معنی مجازی طور پر مارنے کے بھی ہیں اور مجازی طور سلانے کے بھی۔

نتیجہ… آپ نے سوال جواب نمبر۴ میں فرمایا تھا کہ اگر کوئی لفظ اپنے حقیقی معنوں میں استعمال ہوتو اس کے ساتھ قرائن نہیں ہوتے اور جن کے ساتھ قرینہ موجود ہو۔ وہ ضرور مجازی معنوں میں استعمال ہوتا ہے۔ چونکہ ان تمام آیات میں موت اور نیند کے معنی کرنے کے لئے زبردست قرائن موجود ہیں۔ اس واسطے ثابت ہوا کہ توفی کے حقیقی معنی صرف اخذ الشیٔ وافیاً یعنی کسی چیز کو پوری طرح اپنے قبضہ میں کر لینا ہے اور اس کے معنی کرتے وقت قرینہ کا ضرور خیال رکھنا ہوگا۔ بغیر قرینہ کے اس کو اپنے حقیقی معنوں سے پھیرنا جائز نہ ہوگا۔

۷… قرآن شریف میں حیوٰۃ اور اس کے مشتقات کے مقابلہ پر صرف موت اور اس کے مشتقات ہی مستعمل ہیں۔ تمام کلام اللہ میں کہیں بھی حیات کے مقابلہ پر توفی کا استعمال نہیں ہوا۔ میں چیلنج کرتا ہوں کہ آپ بمعہ اپنی جماعت کے قرآن کریم ہزارہا احادیث رسول کریمﷺ اقوال صحابہؓ، اقوال بزرگان دین اور سینکڑوں کتب لسان عرب سے کہیں ایک ہی ایسا مقام دکھا دو۔ جہاں احیاء (زندہ کرنا) اور توفی (پوری پوری گرفت کرنا) بالمقابل استعمال ہوئے ہیں۔ انشاء اللہ تاقیامت نہ دکھاسکو گے۔

49

۸… امام ابن تیمیہ کو مرزاقادیانی آپ ساتویں صدی کا مجدد تسلیم کر چکے ہیں اور مجدد کے فیصلہ سے انحراف کرنے والا فاسق ہوتا ہے۔ دیکھئے وہ فرماتے ہیں: ’’لفظ التوفی فی لغۃ العرب معناہ الاستیفاء والقبض وذالک ثلثۃ انواع احدہا توفی النوم والثانی توفی الموت والثالث توفیٰ الروح والبدن جمیعاً فانہ بذالک خرج عن حال اہل الارض‘‘

(الجواب الصحیح لمن بدل دین المسیح ج۲ ص۲۸۰)

’’لفظ توفی کے معنی ہیں کسی چیز کو پوراپورا لے لینا اور اس کو اپنے قابو میں کر لینا اور اس کی پھر تین قسمیں ہوتی ہیں۔ ان میں سے ایک نیند کی توفی ہے۔ دوسری موت کی توفی اور تیسری روح اور جسم دونوں کی توفی ہے اور عیسیٰ علیہ السلام اس تیسری توفی کے ساتھ اہل زمین سے جدا ہوگئے۔‘‘

۹… توفی کے یہی معنی امام فخرالدین رازیؒ آپ کے مجدد صدی ششم اور ۱۰… امام جلال الدین سیوطیؒ آپ کے مجدد صدی نہم بھی تسلیم کر رہے ہیں۔

دیکھئے تفسیر کبیر اور تفسیر جلالین وغیرہ۔ تلک عشرۃ کاملۃ!

توفی عیسیٰ علیہ السلام کی بحث

ناظرین باتمکین! جب یہ امر ثابت ہوچکا کہ توفی کے حقیقی معنی اخذ الشیٔ وافیاً کے ہیں اور یہ کہ مارنا اور سلانا اس کے مجازی معنی ہیں۔ یہ بھی دلائل سے ثابت ہو چکا ہے کہ کلام اللہ میں جہاں کہیں توفی بمعنی مارنا استعمال ہوا ہے۔ وہاں موت کا قرینہ موجود ہے اور جہاں بمعنی سلانا مستعمل ہوا ہے۔ وہاں نیند کا کوئی نہ کوئی قرینہ موجود ہے۔ پس جب یہ لفظ بغیر قرینہ موت اور نیند پایا جائے گا تو کوئی شخص اس کے معنی موت دینا یا سلانا کرنے کا مجاز نہیں ہوسکتا۔ کلام اللہ میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے لئے توفی دو جگہ آیا ہے۔ ایک تو آیت ’’انی متوفیک ورافعک الیّٰ‘‘ میں دوسرا ’’فلما توفیتنی‘‘ میں۔

اب میں دلائل سے ثابت کرتا ہوں کہ ’’انی متوفیک ورافعک الیّٰ‘‘ کی توفی کے معنی کیا ہیں۔

حضرات! یہ کلام اللہ کا معجزہ ہے اور علام الغیوب کے علم غیب پر زبردست دلیل ہے کہ اس آیت کے الفاظ کی بندش اور لفظ توفی کا استعمال ہی اس طریقہ سے کیا گیا ہے کہ توفی کے سارے معنی حقیقی یا مجازی چسپاں کر کے دیکھیں سب ٹھیک بیٹھتے ہیں۔ اسی واسطے جس کسی مفسر نے جو معنی اس کو مرغوب لگے وہی لگادئیے۔ مگر یہ تفسیر

50

اجماع امت کا حکم رکھتی ہے کہ اس آیت کی رو سے تمام امت حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے رفع جسمانی کے قائل ہے۔

۱… بعض نے فرمایا اس کے معنی سلانا یہاں خوب چسپاں ہوتے ہیں۔ یعنی ’’اے عیسیٰ علیہ السلام میں تجھ کو نیند دینے والا ہوں اور اپنی طرف اٹھانے والا ہوں۔‘‘ چونکہ جاگتے ہوئے ہزارہا بلکہ لاکھوں میل کا پرواز اوپر کی طرف کرنا طبعاً توحش کا باعث ہوتا ہے۔ اس واسطے خدا نے نیند کی حالت میں رفع کا وعدہ کیا۔

۲… بعض علماء نے فرمایا کہ اس کے معنی عمر پوری کرنے کے ہیں۔ پس مطلب یہ ہے کہ: ’’اے عیسیٰ علیہ السلام! میں تیری عمر پوری کرنے والا ہوں۔ (یہ یہود تم پر قبضہ کر کے تمہیں قتل نہیں کر سکتے) اور میں تجھے اپنی طرف اٹھانے والا ہوں۔‘‘

اور اس کا مطلب انہیں علماء اسلام نے جن میں سے حبر الامت وترجمان القرآن حضرت ابن عباسؓ بھی ہیں۔ یہی بیان کیا ہے کہ رفع جسمانی کا زمانہ عمر پوری کرنے کے وعدہ کا جز ہے۔ یعنی رفع جسمانی پر نزول جسمانی کے بعد آپ کی عمر پوری کی جائے گی اور پھر موت آئے گی۔

۳… مرزاغلام احمد قادیانی نے مجدد ومحدث وملہم من اللہ ہونے کے بعد اپنی الہامی کتاب ’’براہین احمدیہ‘‘ میں اس کے معنی پورا پورا اجر دینے اور پوری نعمت دینے کے معنی کئے ہیں وہ بھی یہاں خوب چسپاں ہوتے ہیں۔ ’’یعنی اے عیسیٰ علیہ السلام! میں تم پر اپنی نعمت پوری کرنے والا ہوں اور تجھے اپنی طرف اٹھانے والا ہوں۔‘‘

(براہین احمدیہ ص۵۲۰ حاشیہ، خزائن ج۱ ص۶۲۰)

۴… جمہور علماء اسلام نے توفی کے حقیقی معنی ہی یہاں مراد لئے ہیں۔ یعنی اے عیسیٰ علیہ السلام! میں تیرے جسم وروح دونوں پر قبضہ کرنے والا ہوں اور اپنی طرف اٹھانے والا ہوں۔‘‘ اور یہی معنی موزوں ہیں۔ جس کے دلائل ہم ابھی عرض کرتے ہیں۔ مگر یقینا یہ معجزہ کلام اللہ کا ہے کہ اس آیت کی بندش الفاظ توفی کو اپنے تمام معنوں میں چسپاں کرنے کے بعد بھی حیات عیسیٰ علیہ السلام کا ببانگ دہل اعلان کرتے ہیں۔ خدائے علام الغیوب نے مرزاقادیانی کی پیدائش سے تیرہ سو سال پہلے ہی ان کے دھوکا کا انتظام کر دیا تھا۔ فالحمد ﷲ رب العالمین!

توفی عیسیٰ کے معنی ’’مارنا‘‘ کرنے کے خلاف

جسم وروح پر قبضہ کرنے کی تائید میں دلائل اسلامی

ناظرین! انجیل کے بیان اور ومکروا ومکر اللہ کی بحث سے میں قادیانی

51

مسلمات کی رو سے ثابت کر آیا ہوں کہ یہود نے مکروفریب کے ذریعہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام پر قبضہ کر کے انہیں قتل کرنے کا اہتمام کر لیا تھا اور مرزاقادیانی کے اپنے الفاظ سے ثابت کر آیا ہوں کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو موت سامنے نظر آنے لگ گئی اور یہ بھی ثابت کر آیا ہوں اور وہ بھی مرزاقادیانی کی زبانی کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے اس مصیبت سے بچنے کی دعا تمام رات کی۔ وہ قبول بھی ہوگئی۔ قبولیت کی آواز بذریعہ وحی ان الفاظ قرآنی میں آئی۔ ’’یا عیسیٰ انی متوفیک ورافعک الیّٰ ومطہرک من الذین کفروا وجاعل الذین اتبعوک فوق الذین کفروا الیٰ یوم القیامۃ (آل عمران:۵۵)‘‘

حسب اصول مرزاقادیانی ’’انی متوفیک ورافعک الیّٰ‘‘ میں توفی بمعنی مجازی لینے کے لئے کوئی قرینہ یا علامت ضروری چاہئے تھی۔ مگر کوئی قرینہ موت کا اس کے ساتھ موجود نہیں۔ بلکہ باوجود توفی اپنے حقیقی معنوں میں یعنی روح بمعہ جسم کو قبضہ میں لے لینا یہاں مستعمل ہے۔ پھر یہی مرزاقادیانی جیسے محرفین کلام اللہ اور مدعیان مجددیت ومسیحیت کا ناطقہ بند کرنے کے اللہتعالیٰ نے یہاں بہت سے ایسے قرائن بیان فرمادئیے ہیں جو قبض روح معہ الجسم پر ڈنکے کی چوٹ اعلان کر رہے ہیں اور وہ قرائن یہ ہیں۔

قرینہ نمبر:۱… توفی کے بعد جب رفع کا لفظ استعمال ہوگا اور رفع کا صدور بھی توفی کے بعد ہوتو اس وقت توفی کے معنی یقینا غیرموت ہوں گے۔ اگر کوئی قادیانی لغت عرب سے اس کے خلاف کوئی مثال دکھا سکے تو ہم یک صدروپیہ خاص انعام دینے کا اعلان کرتے ہیں۔

قرینہ نمبر:۲… آیت ’’ومکروا ومکر اللہ و اللہ خیر الماکرین‘‘ کے بعد ’’انی متوفیک‘‘ وارد ہوئی ہے اور یہ اللہ کے مکر کی گویا تفسیر ہے۔ یہود کے مکر اور اللہتعالیٰ کے مکر میں تضاد اور مخالفت ضروری ہے۔ کیونکہ اللہتعالیٰ فرماتے ہیں۔ یہودیوں نے مکر کیا اور اللہ نے بھی مکر کیا اور اللہ سب مکر کرنے والوں سے اچھے ہیں۔ اللہ کا مکر (تدبیر لطیف) سمجھنے کے لئے ضروری ہے کہ ہم یہودیوں کی تدبیر معلوم کریں۔ سنئے! اور بالفاظ مرزا سنئے!

’’چنانچہ یہ بات قرار پائی کہ کسی طرح اس کو صلیب دی جائے پھر کام بن جائے گا۔‘‘

(تحفہ گولڑویہ ص۱۲، خزائن ج۱۷ ص۱۰۶)

جب حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے یہ حالت دیکھی تو ان کے ظلم وجور سے بچنے کے لئے دعا مانگی۔ چنانچہ مرزاقادیانی اس کے متعلق لکھتا ہے: ’’حضرت مسیح نے خود اپنے

52

بچنے کے لئے تمام رات دعا مانگی تھی اور یہ بالکل بعید ازقیاس ہے کہ ایسا مقبول درگاہ الٰہی تمام رات رو رو کر دعا مانگے اور وہ دعا قبول نہ ہو۔‘‘

(ایام الصلح ص۱۱۴، خزائن ج۱۴ ص۳۵۱)

اس دعا عیسوی کے جواب میں اللہتعالیٰ نے بذریعہ وحی حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو فرمایا: ’’انی متوفیک ورافعک الیّٰ ومطہرک من الذین کفروا‘‘ اگر توفی کے معنی موت دینا یہاں تسلیم کئے جائیں تو مطلب یوں ہوگا۔ اے عیسیٰ علیہ السلام یہودیوں نے جو تمہارے قتل اور صلیب کی سازش کی ہے۔ ان کے مقابلہ پر میں نے یہ تدبیر لطیف کی ہے کہ میں ضرور تمہیں موت دوں گا۔ یہودی بھی حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو مارنا چاہتے تھے اور خداتعالیٰ ان کے جواب میں فرماتے ہیں کہ ہاں تم مرو گے اور ضرور مرو گے۔

سبحان اللہ! یہ یہودیوں کی تجویز اور تدبیر کی تائید ہے یا اس کا رد ہے۔ اگر کہو کہ اس سے مراد طبعی موت دینا ہے تو اس کا جواب یہ ہے کہ طبعی موت کی پچر کس طرح قبول کی جاسکتی ہے۔ اگر یہودی قتل کرنے اور صلیب دینے میں کامیاب ہو جاتے تو اس صورت میں موت دینے والے کیا یہودی ہوتے۔ کیا اس حالت کی توفی خدا کی طرف منسوب نہ ہوتی؟ پس اگر ’’انی متوفیک‘‘ کے معنی یہ کئے جائیں کہ میں تمہیں موت دینے والا ہوں۔ تو یہ یہودیوں کی تائید اور ان کے مکر کو کامیاب کرنے کا اعلان تھا۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے لئے اس میں کون سی تسلی تھی۔ اس واسطے تو فی عیسیٰ کے معنی روح وجسم پر قبضہ کرنا ہی صحیح ہے۔

قرینہ نمبر:۳… مرزاقادیانی کو بھی خدائے مرزا نے الہام کیا تھا۔ ’’انی متوفیک ورافعک الیّٰ‘‘

(براہین احمدیہ ص۵۵۶،۵۱۹، خزائن ج۱ ص۶۲۰،۶۶۴)

وہاں مرزاقادیانی اپنے لئے توفی بمعنی موت سے گھبراتے ہیں۔ وہاں یہ معنی کرتے ہیں۔ ’’انی متوفیک‘‘ یعنی میں تجھے پوری نعمت دوں گا یا پورا اجر دوں گا۔ پھر یہی مرزاقادیانی کس قدر دیدہ دلیری سے لکھتا ہے۔

’’وثبت ان التوفی ھو الاماتۃ والافناء لا الرفع والاستیفاء‘‘ یعنی ثابت ہویا کہ توفی کے معنی موت دینا اور فنا کرنا ہے نہ کہ رفع اور پورا پورا لینا یادینا۔

(انجام آتھم ص۱۳۱، خزائن ج۱۱ ص ایضاً)

پس جیسا اپنے لئے موت کا وعدہ مرزاقادیانی کو مرغوب نہیں ہے۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے لئے موت دینے کا وعدہ خداوندی کیونکر قبول کر سکتا ہے۔ بالخصوص جبکہ موت حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو حسب قول مرزا نظر آہی رہی تھی۔ جیسا کہ مرزاقادیانی لکھتے ہیں۔

53

’’مسیح ایک انسان تھا اور اس نے دیکھا کہ تمام سامان میرے مرنے کے موجود ہوگئے ہیں۔‘‘

(ازالہ اوہام ص۳۹۴، خزائن ج۳ ص۳۰۳)

معزز ناظرین! اس حالت میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے جو دعا کی تھی اس کا ذکر بھی مرزاقادیانی کے الفاظ میں ملاحظہ کیجئے۔ ’’حضرت مسیح علیہ السلام نے تمام رات اپنے بچنے کے لئے دعا مانگی تھی۔‘‘

(ایام الصلح ص۱۱۴، خزائن ج۱۴ ص۳۵۱)

’’یہ بالکل بعید ازقیاس ہے کہ ایسا مقبول درگاہ الٰہی تمام رات رورو کر دعا مانگے اور وہ دعا قبول نہ ہو۔‘‘ (حوالہ بالا)

’’یہ قاعدہ مسلم الثبوت ہے کہ سچے نبیوں کی سخت اضطرار کی ضرور دعا قبول ہو جاتی ہے۔‘‘

(تبلیغ رسالت ج۳ ص۸۳، مجموعہ اشتاہرات ج۲ ص۱۰)

ان حالات میں بقول مرزاقادیانی، اللہتعالیٰ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو بشارت دیتے ہیں کہ اے عیسیٰ میں واقعی تجھے موت دینے والا ہوں۔ خوب مرزاقادیانی کو تو اللہ تعالیٰ بغیر کسی خطرہ کی حالت کے وعدہ ’’انی متوفیک‘‘ کا دیں اور مرزاقادیانی بقول خود بمطابق لغت عرب اس کے معنی اپنے لئے موت تجویز نہیں کرتے۔ بلکہ لغت کے خلاف اس کے معنی کرتے ہیں۔ ’’میں تمہیں پورا پورا اجر دوں گا۔‘‘ لیکن حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو ان ناگفتہ بہ حالات کے درمیان اللہتعالیٰ بشارت دیتے ہیں۔ ’’انی متوفیک‘‘ اور مرزاقادیانی اس کے معنی کرتے ہیں۔ ’’میں تمہیں موت دینے والا ہوں۔‘‘

’’تلک اذا قسمۃ ضیزی (النجم)‘‘ {یہ تو بہت ہی بے ڈھنگی تقسیم ہے۔}

قرینہ نمبر:۴… ’’انی متوفیک‘‘ کے معنی رسول پاکﷺ سے لے کر آج تک جس قدر علماء مفسرین ومجددین مسلمہ قادیانی گزرے ہیں۔ انہوں نے تو یہ کئے ہیں۔ ’’اے عیسیٰ علیہ السلام میں تجھ کو بمعہ جسم آسمان کی طرف اٹھانے والا ہوں۔‘‘ قادیانی اس کے معنی یوں کرتے ہیں۔ ’’اے عیسیٰ علیہ السلام میں تمہارا رفع روحانی کروں گا۔‘‘ تجھے صلیب پر مرنے نہیں دوں گا۔ بیشک یہودی تمہیں ذلیل کریں گے۔ تمہارے منہ پر تھوکیں گے۔ تمہارے جسم میں کیل ٹھوکیں گے۔ تمہیں مردہ سمجھ کر چھوڑ جائیں گے۔ مگر تمہاری میں روح نہیں نکلنے دوں گا۔ روح تمہاری کسی اور موقع پر طبعی موت سے نکالوں گا۔ کیونکہ اگر اس وقت نکال لوں تو تم لعنتی موت مرو گے۔ (مفصل دیکھیں بحث ’’ومکروا ومکر اللہ‘‘) سبحان اللہ! یہ ہیں قادیانی کے نکات قرآنی۔ بھلے مانس کو یہ سمجھ نہیں کہ رفع روحانی کا تو ہر ایک

54

مؤمن کو خدا وعدہ دے چکا ہے۔ بالخصوص حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو تو پہلے سے پتہ تھا۔

اللہتعالیٰ فرماتے ہیں:

۱… ’’یرفع اللہ الذین اٰمنوا منکم والذین اوتوا العلم درجات (مجادلہ:۱۱)‘‘ { اللہتعالیٰ مؤمنوں اور علم والوں کے درجات کو بلند کرتا ہے۔} یعنی رفع روحانی ہے۔ (دیکھئے رفع کے ساتھ درجات کا لفظ مذکور ہے۔ اس واسطے یہاں اس کے معی درجات کا بلند کرنا ہے)

۲… حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے خود بچپن میں کہہ دیا تھا۔ (الف)’’والسلام علیّٰ یوم ولدت ویوم اموت ویوم ابعث حیاً (مریم:۳۳)‘‘ {اور سلام ہے اللہ کا مجھ پر جس دن میں پیدا ہوا اور جس دن مروں گا اور جس دن دوبارہ زندہ کیا جاؤں گا۔} (ب)’’وجعلنی مبارکاً اینما کنت (مریم:۳۱)‘‘ {اور اللہ نے بنایا مجھ کو برکت والا جہاں کہیں رہوں۔} (ج) اللہتعالیٰ نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے حق میں فرمایا تھا۔ ’’وجیہا فی الدنیا والآخرۃ ومن المقربین (آل عمران:۴۵)‘‘ {حضرت عیسیٰ علیہ السلام دنیا اور آخرت دونوں میں صاحب عزت وجاہت ہیں اور خدا کے مقرب بندوں میں سے ہیں۔} (د)’’کلمۃ اللہ القاہا الیٰ مریم (نساء:۱۷۱)‘‘ {وہ اللہ کے کلمہ تھے جو القاء کیاگیا تھا۔ طرف مریم کے۔} (ہ)خود مرزاقادیانی لکھتے ہیں۔ ’’ہر مؤمن کا رفع روحانی خود بخود ہوتا ہے۔ تمام انبیاء کا رفع روحانی ہوا ہے۔‘‘

(ازالہ اوہام ص۲۶۵، خزائن ج۳ ص۲۳۳ ملخصاً)

پس ہمارا سوال یہاں یہ ہے کہ یہ آیت چونکہ بطور بشارت ہے جو حضرت عیسیٰ علیہ السلام پر نازل ہوئی تھی۔ رفع روحانی کا وعدہ آپ کے لئے کیا بشارت ہوسکتی تھی؟ کیا اس وعدہ سے پہلے ان کو علم نہ تھا۔ کیا انہیں وجیہہ، کلمتہ اللہ، روح اللہ، نبی اولوالعزم ہونے کا یقین نہ تھا۔ کیا انہیں اپنی نجات کے متعلق کوئی شک پیدا ہوگیا تھا؟ جس کا دفعیہ یہاں کیاگیا تھا۔ ہرگز نہیں۔ انہیں اپنی نجات، معصومیت، روح اللہ، کلمتہ اللہ اور نبی ہونے کا یقین تھا۔ ہاں سارے سامان قتل اور صلیب اور ذلت کے دیکھ کر بتقاضائے بشریت فکر پیدا ہوا تھا۔ جس پر اللہتعالیٰ نے بطور بشارت ارشاد فرمایا: ’’انی متوفیک‘‘ اے عیسیٰ علیہ السلام میں خود تم پر قبضہ کرنے والا ہوں۔ (پس گھبراؤ نہیں یہودی تم پر قبضہ نہیں کر سکتے) پھر بتقاضائے بشریت خیال آیا کہ خداوند کریم کس طرح قبضہ کریں گے۔ اس کی صورت کیا ہوگی۔ پھر اللہتعالیٰ نے فرمایا: ’’ورافعک الیّٰ‘‘ اور قبضہ کر کے (تم کو اپنی طرف یعنی آسمان کی طرف) اٹھانے والا ہوں۔ پس ثابت ہوا۔ یہاں توفی اور رفع دونوں کے معنی موت دینا

55

دونوں کے معنی موت دینا اور رفع روحانی نہیں ہوسکتے۔ بلکہ قبض جسمانی اور رفع جسمانی کے بغیر اور معنی سیاق وسباق اور قوانین لغت عرب کے مخالف ہیں۔

قرینہ نمبر:۵… اگر توفی بمعنی طبعی موت اور رفع الیٰ اللہ سے مراد رفع روحانی ہوتا تو اللہ ان افعال کو حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے لئے مخصوص نہ کرتے اور نہ ہی یہود کے مکروفریب کے مقابلہ پر اس فعل کو تدبیر لطیف بیان کر کے سب مکر کرنے والوں پر اپنا غلبہ ظاہر کرتے۔ کیونکہ یہ سلوک تو اللہتعالیٰ ہر مؤمن مسلمان سے کرتے ہیں۔

قرینہ نمبر:۶… اگر توفی بمعنی موت طبعی دینا ہوتا اور رفع الیٰ اللہ سے مراد رفع روحانی ہوتا تو دونوں کے بیان کرنے کی ضرورت نہ تھی۔ حسب قول مرزا، طبعی موت دینے کا وعدہ صلیبی موت سے بچانا تھا۔ یعنی لعنتی موت سے بچا کر رفع روحانی کی غرض سے انی متوفیک کہاگیا۔ پھر رفع الیٰ اللہ کی کیا ضرورت تھی؟ اللہتعالیٰ اپنے فصیح وبلیغ کلام میں مرزاقادیانی کی طرح اندھا دھند الفاظ کو موقعہ بے موقعہ استعمال نہیں فرمایا کرتے۔

قرینہ نمبر:۷… یہ آیت وفد نجران کی آمد پر نازل ہوئی تھی۔ یعنی عیسائیوں کا ایک گروہ رسول پاکﷺ کے پاس آیا تھا۔ ان کے سوالات کے جوابات میں اللہتعالیٰ نے یہ آیات آل عمران اتاری تھیں۔ اب ہر ایک آدمی پڑھا لکھا جانتا ہے کہ عیسائی حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے رفع جسمانی کے قائل ہیں۔ اگر فی الواقع حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا رفع جسمانی نہ ہوا ہوتا تو ضرور اللہتعالیٰ اس کی بھی تردید فرماتے۔ جیسا کہ آپ کی الوہیت کی تردید فرمائی تھی۔ مگر اللہتعالیٰ نے ’’رافعک الیّٰ‘‘ کا فقرہ بول کر ان کی تصدیق فرمائی۔ جس میں وفد نصاریٰ نے اپنی تصدیق سمجھی اور اس پر بحث ہی نہ کی۔ پھر اگر مان لیا جائے کہ کبھی کبھی رفع کے معنی روحانی بھی ہوتے ہیں تو خدا نے کیوں نصاریٰ کے مقابلہ پر ایسے الفاظ استعمال کئے۔ جس سے ان کو بھی دھوکا لگا۔ وہ اپنی تصدیق سمجھ کر خاموش ہوگئے اور صحابہ کرامؓ اور علمائے اسلام مفسرین قرآن اور مجددین امت محمدیہ مسلمہ قادیانی بھی اسی دھوکا میں پڑے رہے۔ کسی نے رفع عیسوی کے معنی بغیر رفع جسمانی نہ لیئے۔ لیجئے! ایسے مواقع کے لئے ہم مرزاقادیانی کا قول نقل کرتے ہیں۔

’’یہ بالکل غیر ممکن اور بعید از قیاس ہے کہ خداتعالیٰ اپنے بلیغ اور فصیح کلام میں ایسے تنازع کی جگہ میں جو اس کے علم میں ایک معرکہ کی جگہ ہے۔ ایسے شاذ اور مجہول الفاظ استعمال کرے۔ جو اس کے تمام کلام میں ہرگز استعمال نہیں ہوئے۔ (تمام کلام اللہ

56

میں کہیں بھی صرف رفع الیٰ اللہ کے معنی رفع روحانی نہیں آئے۔ مؤلف!) اگر وہ ایسا کرے تو گویا وہ خلق اللہ کو آپ ورطہ شبہات میں ڈالنے کا ارادہ رکھتا ہے اور ظاہر ہے کہ اس نے ہرگز ایسا نہیں کیا ہوگا۔‘‘

(ازالہ اوہام ص۳۲۹، خزائن ج۳ ص۲۶۷)

اس سے بھی معلوم ہوا کہ چونکہ صرف ’’رفع الیٰ اللہ‘‘ سے مراد تمام قرآن میں کہیں بھی رفع روحانی نہیں لیاگیا۔ اس واسطے عیسیٰ علیہ السلام کی ’’رفع الیٰ اللہ‘‘ سے رفع جسمانی مراد ہوگا۔

قرینہ نمبر:۸… آیت کریمہ ’’وان من اہل الکتاب الا لیؤمنن بہ قبل موتہ‘‘ یعنی حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے وفات پانے سے پہلے اس وقت کے تمام اہل کتاب ان پر ایمان لے آئیں گے۔ چونکہ دنیا میں ابھی تک اہل کتاب کفار موجود ہیں۔ پس معلوم ہوا کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام بھی ابھی تک فوت نہیں ہوئے۔ اس لئے ’’رافعک الیّٰ‘‘ سے پہلے ’’انی متوفیک‘‘ کے معنی سوائے قبض جسمانی وروحانی اور نہیں ہوسکتے۔

نوٹ: اس آیت کی مفصل بحث تو آگے آئے گی۔ مگر مناظرین کے کام کی چند باتیں یہاں بھی نقل کرتا ہوں۔

۱… اگر ’’قبل موتہ‘‘ میں ’’ہ‘‘ کی ضمیر کتابی کی طرف راجع ہوتی تو ’’لیؤمنن‘‘ بصیغہ مستقبل مؤکد بہ نون ثقلیہ وارد نہ ہوتا۔ اس کے معنی ’’ایمان لاتے ہیں‘‘ کرنا لغت عرب کے قوانین پر چھری پھیرنے کے مترادف ہے۔ اگر ضمیر کتابی کی طرف پھرتی تو ہر ایک کتابی ایمان لاتا ہوگا۔ اس صورت میں ’’لیؤمن‘‘ چاہئے تھا نہ کہ ’’لیؤمنن‘‘

۲… اگر ضمیر ’’موتہ‘‘ کی کتابی کی طرف پھیری جائے تو اس کے معنی یہ ہوں گے۔ ’’کہ اپنی موت سے پہلے تمام اہل کتاب حضرت عیسیٰ علیہ السلام پر ایمان لے آئیں گے۔ جس قدر یہ معنی بے معنی ہیں اور محالات عقلی ونقلی سے بھرے ہوئے ہیں ان کی تشریح محتاج بیان نہیں واقعات ان معنوں کی تصدیق نہیں کرتے۔ یعنی ہم مشاہدے میں کسی اہل کتاب کو اس حالت میں مرتے ہوئے نہیں دیکھتے۔ اگر حالت نزع میں ایمان لانے کا جواب دیا جائے تو یہ بھی صحیح نہیں اس وقت کے اقرار کو ایمان نہیں کہتے۔ اگر وہ ایمان کہلا سکتا ہے تو ایسا ایمان تو ہر ایک کافر کو میسر ہوتا ہوگا۔ پھر یہود کے ایمان کی تخصیص کیوں کی گئی؟‘‘

۳… موت سے پہلے تو ہر کتابی کا ایمان مشاہدے کے خلاف ہے۔ اگر اس سے مراد عین موت کے وقت کا ایمان لیا جائے تو وہ ’’قبل‘‘ کے خلاف ہوگا۔ اس صورت میں

57

’’عند موتہ‘‘ موزوں تھا۔ معلوم ہوتا ہے قادیانیوں کے نزدیک جس طرح کہ خود مرزاغلام احمد قادیانی لغت عرب اور اس کے محاورات بلکہ واحد اور جمع، مذکر اور مؤنث کے فرق سے نابلد محض تھا۔ شاید خدا بھی (نعوذ ب اللہ) قبل اور عند کے درمیان فرق نہیں جانتا تھا۔

قرینہ نمبر:۹… آیت کریمہ: ’’وما قتلوہ یقینا بل رفعہ اللہ الیہ‘‘ میں ’’رفعہ اللہ الیہ‘‘ کے معنی تمام امت نے متفقہ طور پر رفع جسمانی کے کئے ہیں۔ چونکہ ’’رفعہ اللہ‘‘ کے معنوں میں تمام امت کا اجماع ہے۔ اس واسطے امت قادیانی کو اجماع امت ماننا پڑے گا۔ یہ میں نہیں کہتا بلکہ بالفاظ مرزاآنجہانی پیش کرتا ہوں۔

’’جو شخص کسی اجماعی عقیدہ کا انکار کرے تو اس پر خدا اور اس کے فرشتوں اور تمام لوگوں کی لعنت ہے۔ یہی میرا اعتقاد ہے اور یہی میرا مقصود ہے اور یہی میری مراد مجھے اپنی قوم سے اصول اجماعی میں کوئی اختلاف نہیں۔‘‘

(انجام آتھم ص۱۴۴، خزائن ج۱۱ ص ایضاً)

کیا کوئی قادیانی ایسا ہے جو قرآن ،حدیث یا لغت عرب میں سے کسی میں یہ دکھائے کہ ’’وما قتلوہ یقیناً بل رفعہ اللہ الیہ‘‘ میں قتل اور رفع جس ترکیب کے ماتحت استعمال ہوئے ہیں۔ یعنی قتل کی نفی کرکے اس کے بعد رفع کا اعلان کیاگیا ہو تو وہاں رفع کے معنی قبض روح بھی ممکن ہے۔ ہم اعلان کرتے ہیں کہ کوئی قادیانی قیامت تک ایسے موقع پر رفع کا معنی قبض روح نہیں دکھا سکے گا۔

قرینہ نمبر:۱۰… یہ تمام امتوں کا مسلمہ اور متفقہ مسئلہ ہے کہ انبیاء کے لئے ہجرت کرنا مسنون ہے۔ چنانچہ مرزاقادیانی نے لکھا ہے۔ ’’ہر ایک نبی کے لئے ہجرت مسنون ہے اور مسیح نے بھی اپنی ہجرت کی طرف انجیل میں اشارہ فرمایا ہے اور کہا کہ نبی بے عزت نہیں مگر اپنے وطن میں۔‘‘

(تحفہ گولڑویہ ص۱۳، خزائن ج۱۷ ص۱۰۶ حاشیہ)

’’ہجرت انبیاء علیہم السلام میں سنت الٰہی یہی ہے کہ وہ جب تک نکالے نہ جائیں ہرگز نہیں نکلتے اور بالاتفاق مانا گیا ہے کہ نکالنے یا قتل کرنے کا وقت صرف فتنہ صلیب کا وقت تھا۔‘‘

(تحفہ گولڑویہ ص۱۳، خزائن ج۱۷ ص۱۰۸)

اس اصول سے ثابت ہوا کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام پر دوسرے نبیوں کے طریقے پر ہجرت کرنا ضروری تھا یہ بھی معلوم ہوا کہ فتنہ صلیب سے پہلے انہوں نے ہجرت نہیں کی تھی۔ یہ بھی معلوم ہوا کہ ہجرت سے مراد بے عزتی سے نکل کر عزت حاصل کرنا ہے۔

58

مرزاقادیانی کہتے ہیں کہ یہ ہجرت صلیب پر چڑھنے، بے عزت ہونے اور وجود میں میخیں ٹھوکے جانے، منہ پر تھوکے جانے اور یہودیوں کی طرف سے طمانچے کھانے اور قبر میں تین دن تک مردوں کی طرح پڑا رہنے کے بعد اس طرح ہوئی کہ ان کے زخموں کا علاج کیاگیا۔ وہ اچھے ہوئے حواریوں کو چھوڑ کر چپکے چپکے بھاگے بھاگے افغانستان کی راہ لی۔ درۂ خیبر میں سے ہوتے ہوئے پنجاب، یوپی، نیپال، جموں کے راستہ کشمیر میں جاکر سانس لیا۔ وہاں ۸۷ سال زندہ رہ کر خاموشی میں مرگئے۔

سبحان اللہ! قادیانی نے اپنے اس بیان کے ثبوت میں کوئی ثبوت کلام اللہ سے، حدیث سے، انجیل سے یا تاریخ سے پیش نہیں کیا۔ لہٰذا یہ سارا واقعہ ایجاد مرزا سمجھ کر مردود قرار دیا جائے گا۔ ہم سے سنئے حضرت مسیح علیہ السلام کی ہجرت کا حال۔

وقت ہجرت تو وہی تھا جو قادیانی نے بیان کیا۔ یعنی فتنہ صلیب کا وقت۔ ہجرت مسیح میں اللہتعالیٰ نے کئی باتوں کا خیال رکھا ہے۔ حضرت مسیح علیہ السلام میں ملکوتیت کا غلبہ تھا۔ کلمتہ اللہ تھے۔ بغیر باپ کے پیدا ہوئے تھے۔ یہود ان کی پیدائش کو ناجائز قرار دیتے تھے۔ اس واسطے اللہتعالیٰ نے ان کی ہجرت کو بھی آسمان کی طرف رفع کو قرار دیا۔ وہاں وہ قرب الٰہی صحبت ملائکہ اور آرام کی زندگی بسر کر رہے ہیں اور قرب قیامت میں آکر پھر اپنی گمراہ امت اور اپنے منکر یہودیوں کو دائرہ اسلام میں داخل کریں گے۔ یہ ہے ہجرت عیسوی کی حقیقت۔

کوئی قادیانی کبھی یہ نہیں دکھا سکتا کہ نبی بعد ہجرت کے مصائب وآلام برداشت کر کے گمنامی کی زندگی بسر کرنے کے بعد مرگیا ہو۔ بلکہ نبی بعد ہجرت کے ضرور کامیاب اور عزت حاصل کر کے رہتا ہے۔ قادیانی کی مزعومہ بے سروپا ہجرت مسیحی میں کون سی بات لائق ہجرت انبیاء ہے؟ چونکہ حسب قول مرزاقادیانی حضرت مسیح علیہ السلام نے صلیب سے پہلے تو ہجرت نہیں کی تھی اور واقعہ صلیب کے بعد قرآن اور حدیث اور تاریخ سے ان کی ارضی زندگی کا کوئی ثبوت نہیں ملتا۔ لہٰذا معلوم ہوا کہ واقعہ صلیب کے زمانہ ہی میں وہ کہیں ہجرت کر گئے تھے اور وہ جگہ قرآن وحدیث اور اجماع امت کی رو سے آسمان ہے۔ پس ثابت ہوا کہ ’’انی متوفیک‘‘ کے معنی ’’میں تجھ کو مارنے والا ہوں‘‘ غلط ہیں۔

قرینہ نمبر:۱۱… یہود نے بہت سے سچے رسولوںکو جھوٹا سمجھ کر قتل کرادیا تھا۔ چنانچہ اللہتعالیٰ فرماتے ہیں۔ سورۂ بقرہ:۶۱ وسورۂ آل عمران:۲۱ میں ’’ویقتلون النبیین‘‘ پھر سورۂ آل

59

عمران :۱۱۲ میں دوسری جگہ ارشاد ہے۔ ’’ویقتلون الانبیاء بغیر حق‘‘ یعنی یہود ناحق اللہتعالیٰ کے نبیوں کو قتل کر دیتے تھے اور یادرہے کہ صلیب دینا بھی قتل ہے۔ جیسا کہ خود مرزاقادیانی (تحفہ گولڑویہ ص۲۰،۲۲، خزائن ج۱۷ ص۱۰۶،۱۰۸) پر تسلیم کرتے ہیں۔ نیز (ایام الصلح ص۱۱۳،۱۱۴، خزائن ج۱۴ ص۳۵۰،۳۵۱) پر صلیبی موت کو قتل ہی تسلیم کیا ہے اور اپنے زعم باطل میں یہودی ان تمام نبیوں کو جھوٹے نبی سمجھ کر قتل کرتے تھے۔ لہٰذا ان سب کو وہ ملعون ہی قرار دیتے تھے۔ ایسا ہی انہوں نے حضرت مسیح علیہ السلام کو سمجھا۔ (معاذ اللہ)

اب سوال یہ ہے کیا وجہ ہے کہ صرف حضرت مسیح علیہ السلام کے حق میں رفع کا لفظ استعمال کیا ہے اور کسی نبی کے حق میں استعمال نہیں فرمایا؟ اگر اس کے معنی قبض روح یا رفع روحانی لئے جائیں تو کیوں دوسرے نبیوں کی خاطر یہ لفظ استعمال نہیں کیاگیا،۔ کیا ان کی طہارت بیان کرنے کی ضرورت نہ تھی؟ معلوم ہوا کہ ’’رافعک‘‘ کے معنی رفع جسمانی کے بغیر اس آیت میں ممکن ہی نہیں۔ پس جب یہ ثابت ہوا تو ساتھ ہی یہ بھی ثابت ہوگیا کہ ’’انی متوفیک‘‘ کے معنی سوائے قبض جسمانی اور پورا لینے کے ممکن ہی نہیں۔ کیونکہ رفع جسمانی سے پہلے مارنے کی کیا ضرورت تھی؟ بلکہ موت سے بچانے کے لئے رفع جسمانی عمل میں آیا۔

قرینہ نمبر:۱۲… توفی کے معنی قادیانی کے زعم باطل میں سوائے موت دینے کے اور ہوتے ہی نہیں اور مراد اس سے وہ طبعی موت لیتا ہے۔ حالانکہ قرآن کریم میں جہاں توفی سے مراد موت لی گئی ہے۔ وہاں ہر قسم کی موت ہے نہ کہ طبعی موت، کوئی ایک جگہ بھی تمام کلام اللہ سے پیش نہیں کی جاسکتی۔ جہاں توفی کے معنی صرف طبعی موت ہی لئے گئے ہوں۔ پھر یہاں کیوں طبعی موت سے مارنا معنی لئے جائیں؟ اگر صرف موت کے معنی لئے جائیں تو اس میں یہود کے دعویٰ کی تائید ہے نہ کہ تردید اور اس میں بجائے حضرت مسیح علیہ السلام کو یہودیوں کی سازشوں کے خلاف تسلی دینے کے یہودیوں کی کامیابی کا یقین دلایا گیا ہے۔ صلیب بھی قتل کی ایک صورت ہے۔ جیسا کہ میں قادیانی کے اپنے الفاظ سے ثابت کر چکا ہوں اور قتل موت کا ایک ذریعہ ہے۔ یعنی مقتول کے لئے بھی ہم کہہ سکتے ہیں۔ ’’توفاہ اللہ یا اماتہ اللہ‘‘ جیسا کہ کلام اللہ میں توفی کا لفظ سب قسم کی موتوں کے لئے خود قادیانی تسلیم کرتا ہے۔ حضرت یحییٰ علیہ السلام کا قتل کیا جانا ہر ایک کو معلوم ہے۔ یعنی وہ قتل کی موت مرے تھے۔ مگر پھر بھی اللہتعالیٰ فرماتے ہیں۔ ۔ ’’سلام علیہ یوم ولد ویوم

60

یموت (مریم:۱۵)‘‘ {یعنی سلام ہے ان پر جس دن وہ پیدا ہوئے اور جس دن وہ فوت ہوئے۔} ثابت ہوا کہ اس آیت میں توفی کے معنی طبعی موت کرنا تمام کلام اللہ کے خلاف ہے اور صرف مارنا کے معنی لینا اس میں یہود کی کامیابی کا اعلان ہے۔ حضرت مسیح علیہ السلام کی کوئی تسلی نہیں۔ اس واسطے ثابت ہوا کہ ’’انی متوفیک‘‘ میں توفی کے معنی یقینا جسم وروح دونوں پر قبضہ کر کے یہود نامسعود کے ہاتھوں سے حضرت مسیح علیہ السلام کو محفوظ کر لینے کا اعلان ہے۔

قرینہ نمبر:۱۳… ’’وما قتلوہ یقیناً بل رفعہ اللہ الیہ‘‘ اس آیت میں قتل اور رفع کے درمیان تضاد ظاہر کیاگیا ہے۔ قادیانی ’’رفعہ اللہ‘‘ کے معنی کرتے ہیں کہ خدا نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو طبعی موت سے مارلیا۔ صلیبی موت سے بچا کر طبعی موت دینا لعنت کے خلاف ہے۔ ادھر یہ بھی کہتے ہیں کہ: ’’انی متوفیک‘‘ میں بھی یہی اعلان ہے کہ اے عیسیٰ علیہ السلام تو لعنتی موت یعنی صلیبی موت پر نہیں مرے گا۔

ہمارا سوال یہ ہے کہ پھر یہاں توفی کا لفظ کیوں استعمال نہیں کیاگیا۔ قتل اور رفع روحانی میں تو کوئی ضد اور مخالفت نہیں۔ کیا حضرت یحییٰ علیہ السلام کو یہود نے قتل نہیں کیا تھا؟ اللہتعالیٰ نے ان کے حق میں ایسا اعلان کہیں نہیں کیا۔ حالانکہ یہود انہیں بھی نعوذ ب اللہ ایسا ہی ملعون سمجھتے تھے۔ جیسا کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو۔ علاوہ ازیں بل کا لفظ بتارہا ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے مزعومہ قتل اور رفع کا وقت ایک ہی ہے۔ مثلاً جب یوں کہا جائے کہ زید نے روٹی نہیں کھائی بلکہ دودھ پیا ہے۔ اس فقرہ میں روٹی کھانے کا انکار اوردودھ پینے کا اقرار ایک ہی وقت سے متعلق ہیں۔ یہ نہیں کہ روٹی تو نہیں کھائی تھی ایک سال پہلے اور دودھ پیا تھا کل، بلکہ روٹی نہ کھانے اور دودھ پینے کے فعل ایک ہی وقت سے تعلق رکھتے ہیں۔ بعینہ اسی طرح نفی قتل یعنی قتل نہ کیاجانا۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا اور ان کا رفع عمل میں آنا ایک ہی وقت میں وقوع پذیر ہوئے تھے۔ مگر قادیانیوں کے نزدیک آپ کا رفع روحانی واقعہ صلیب کے ۸۷سال بعد کشمیر میں ہوا۔ اس سے بھی ثابت ہوا کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام زندہ ہیں۔ پس توفی عیسیٰ علیہ السلام کے معنی موت کرنے ناممکن ہیں۔

قرینہ نمبر:۱۴… یہود کے مکر کا نتیجہ تھا۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو موت کا سامنے نظر آنا۔ اس کے بالمقابل خدا کے مکر کا ظہور حیات جسمانی کی صورت میں ہونا چاہئے۔ اس ظہور مکر کا وعدہ ’’انی متوفیک ورافعک‘‘ کے الفاظ سے پورا کیاگیا۔ پس ثابت ہوا کہ یہاں توفی

61

موت کے مقابل پر استعمال کیاگیا ہے۔ لہٰذا اس کے معنی موت دینا مضحکہ خیز ٹھہرتا ہے۔

ان تمام دلائل سے ثابت ہوا کہ اگر ’’انی متوفیک ورافعک الیّٰ‘‘ میں ہم مرزاقادیانی کی ضد مان کر، واو کو خلاف علوم عربیہ ترتیب وقوعی کے لئے قبول بھی کر لیں تو پھر بھی حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی موت ثابت نہیں ہوسکتی۔ بلکہ اس صورت میں بھی یقینا ان کی حیات ہی ثابت ہوتی ہے۔

حیات عیسیٰ علیہ السلام پر قرآنی دلیل نمبر:۳

’’وقولہم انا قتلنا المسیح عیسیٰ ابن مریم رسول اللہ وما قتلوہ وما صلبوہ ولکن شبہ لہم وان الذین اختلفوا فیہ لفی شک منہ ما لہم بہ من علم الا اتباع الظن وما قتلوہ یقیناً بل رفعہ اللہ الیہ وکان اللہ عزیزاً حکیما (نساء:۱۵۷،۱۵۸)‘‘

اس آیت مبارکہ میں اللہتعالیٰ ببانگ دہل اعلان فرمارہے ہیں کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام اس جسم عنصری کے ساتھ آسمان پر اٹھالئے گئے تھے۔ ترجمہ ہم اس آیت مبارکہ کا اس ہستی کے الفاظ میں پیش کرتے ہیں کہ جس کے انکار پر قادیانی عقیدہ کے مطابق آدمی کافر وفاسق ہو جاتا ہے۔ یعنی مجدد صدی نہم جو امام جلال الدین سیوطی کے اسم گرامی سے دنیائے اسلام میں مشہور ہیں۔

’’اور لعنت کی ہم نے یہود پر اس وجہ سے بھی کہ وہ فخر کے ساتھ کہتے تھے کہ یقینا ہم نے عیسیٰ بن مریم کو قتل کر دیا ہے۔ اللہتعالیٰ ان کے دعویٰ قتل کی تردید کرتے ہوئے فرماتے ہیں اور نہ قتل کر سکے یہود حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو اور نہ پھانسی پر ہی لٹکا سکے ان کو۔ بلکہ بات یوں ہوئی کہ یہود کے لئے حضرت مسیح علیہ السلام کی شبیہ بنادی گئی اور وہی قتل کیاگیا اور سولی دیا گیا اور وہ یہود کا آدمی تھا۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے ہمراہ۔ یعنی تفصیل اس کی یہ ہے کہ اللہتعالیٰ نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی صورت وشبیہ یہود کے آدمی پر ڈال دی اور یہود نے اس شبیہ عیسیٰ علیہ السلام کو عین عیسیٰ علیہ السلام سمجھ لیا اور تحقیق جن لوگوں نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے بارہ میں اختلاف کیا،۔ وہ ان کے قتل کے متعلق شک میں مبتلا تھے۔ کیونکہ ان میں سے بعض نے جب مقتول کو دیکھا تو کہنے لگے کہ اس کا منہ تو بالکل عیسیٰ علیہ السلام کاہے اور باقی جسم اس کا معلوم نہیں ہوتااور باقی کہنے لگے کہ نہیں بالکل وہی ہے۔ اللہتعالیٰ فرماتے ہیں کہ ان کو حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے قتل کے بارہ کوئی یقینی علم نہیں ہے۔ بلکہ صرف اس ظن کی پیروی کرنے لگے۔ جو خود انہوں نے گھڑ لیا اور یقینی بات ہے

62

کہ انہوں نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو قتل نہیں کیا۔ بلکہ اٹھا لیا اللہتعالیٰ نے ان کو اپنی طرف اور اللہتعالیٰ اپنی بادشاہی میں بڑا زبردست اور اپنے کاموں میں بڑا ہی حکمت والا ہے۔‘‘

(تفسیر جلالین ص۹۱، زیر آیت کریمہ)

ناظرین! اس تفسیر کے بعد حقیقت تو یہ ہے کہ کوئی قادیانی دم نہیں مار سکتا۔ کیونکہ ہم نے ان کے اپنے مسلم امام اور مجدد کے الفاظ کا اردو میں ترجمہ کر دیا ہے۔ اگر انکار کریں تو رسالہ ہذا کے ابتداء میں درج شدہ قادیانی عقائد واصول سامنے رکھ دیں۔ اب ہم کچھ نکات اس آیت کریمہ کی فصاحت وبلاغت اور اس کے الفاظ کی بندش کے متعلق عرض کرتے ہیں۔

۱… اس آیت میں لعنت یہود کا سبب صرف ان کا دعویٰ قتل قراردیاگیا ہے۔ یعنی یہود نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے ساتھ کوئی ایسا فعل نہیں کیا۔ جس کی وجہ سے وہ قابل لعنت ٹھہرائے جاتے۔ یعنی اللہتعالیٰ کے علم کے مطابق یہود نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو نہ صلیب پر چڑھایا اور نہ ان کے ہاتھوں میں میخیں لگائیں۔ نہ ان کے منہ پر تھوکا گیا۔ اگر فی الواقع ایسا ہوا ہوتا تو اللہتعالیٰ ضرور لعنت کا سبب ان کے فعل کو ٹھہراتے۔ اس سے معلوم ہوا کہ اللہتعالیٰ نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی ذات گرامی تک یہود کو پہنچنے تک نہیں دیا۔

۲… ’’انا قتلنا‘‘ یعنی ہم نے یقینا قتل کر دیا۔ ان الفاظ میں اللہتعالیٰ یہود کا دعویٰ بیان فرماتے ہیں۔ یعنی یہود کا یقین تھا کہ انہوں نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو ضرور قتل کر دیا تھا۔

۳… ’’قتلنا‘‘ یعنی ’’قتل کر دیا ہم نے‘‘ ان الفاظ میں قتل کا اعلان ہے اور قتل صلیب موت کے لئے بھی بولا جاتا ہے۔ چنانچہ یہ مسلمہ حقیقت ہے کہ یہودی حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی صلیبی موت ہی کے قائل تھے۔ خود مرزاقادیانی لکھتے ہیں۔ ’’یہود نے خوب سمجھا تھا۔ مگر بوجہ صلیب حضرت مسیح کے ملعون ہونے کے قائل ہوگئے۔‘‘

(تحفہ گولڑویہ ص۱۴، خزائن ج۱۷ ص۱۰۹)

پھر تحریر کرتے ہیں۔ ’’نالائق یہودیوں نے حضرت مسیح علیہ السلام کو قتل کرنے کے لئے صلیب پر چڑھادیا تھا… یہودی اسے صرف صلیب دینا چاہتے ہیں کسی اور طریق سے قتل کرنا نہیں چاہتے کیونکہ یہودیوں کے مذہب کی رو سے جس شخص کو صلیب کے ذریعہ سے قتل کیا جائے خدا کی لعنت اس پر پڑ جاتی ہے۔‘‘

(ایام الصلح ص۱۱۱، خزائن ج۱۴ ص۳۴۸،۳۴۹)

پس ثابت ہوا کہ قتل عیسیٰ علیہ السلام کے دعویٰ میں یہود کا مقصد قتل بالصلیب ہی تھا۔ یعنی صلیبی موت کے لئے قتل کا لفظ خود یہود نے استعمال کیا۔

63

۴… ’’وما قتلوہ‘‘ میں اللہتعالیٰ یہود کے دعویٰ قتل عیسیٰ بالصلیب کی تردید کر رہے ہیں۔ یہود کا دعویٰ تھا۔ جیسا کہ ہم اقوال مرزا سے ثابت کر آئے ہیں کہ ہم (یہود) نے عیسیٰ علیہ السلام کو صلیب کے ذریعہ قتل کر دیا ہے۔ اللہتعالیٰ نے اسی فعل کی نفی کا اعلان کردیا۔ یعنی یہود حضرت مسیح علیہ السلام کو صلیب کے ذریعہ بھی قتل کرنے پر قادر نہ ہوسکے۔

۵… ’’وما صلبوہ‘‘ اس فقرہ میں اللہتعالیٰ یہود کے دعویٰ قتل المسیح بالصلیب کی تردید کے بعد سولی پر چڑھا سکنے کی بھی نفی فرماتے ہیں۔ یعنی یہود تو حضرت مسیح علیہ السلام کو سولی پر بھی نہیں چڑھا سکے۔ قربان جاؤں کلام اللہ کی فصاحت وبلاغت پر اگر ’’وما قتلوہ‘‘ کے بعد ’’وما صلبوہ‘‘ نہ ہوتا تو مرزاقادیانی بڑی آسانی سے تحریف قرآنی کر سکتا تھا۔ کیونکہ وہ کہہ سکتا تھا۔ جیسا کہ وہ اب کہتا ہے کہ قتل نہ کر سکے۔ مگر سولی پر ضرور لٹکایا گیا تھا اور واقعی اس وقت مرزاقادیانی کو تحریف کے لئے کچھ گنجائش مل سکتی تھی۔ مگر اب تو باری تعالیٰ نے ’’وما صلبوہ‘‘ کا فقرہ بڑھا کر مرزاقادیانی کی تحریف کا مکمل سدباب کر دیا ہے۔ لیکن مرزاقادیانی نے پھر ایک اور چال چلی۔ صلب کے معنی قرآن، حدیث اور لسان عرب کے خلاف سولی پر مرنا یا مارنا مشتہر کر دئیے۔ مگر قیامت تک علماء اسلام کا لاجواب چیلنج قائم رہے گا کہ صلب کے معنی صرف سولی پرکھینچنا ہیں۔ موت صلب کے ساتھ ضروری نہیں۔ یعنی صلب کے معنی سولی پر مارنا نہیں۔ دلائل اسلامی ملاحظہ کیجئے۔

الف… اگر صلب کے معنی پھانسی پر مارنا ہوتے تو یہود بجائے ’’قتلنا‘‘ کے ’’صلبنا‘‘ کہتے۔ کیونکہ یہود حضرت مسیح علیہ السلام کے سولی پر چڑھانے کا عقیدہ رکھتے ہیں۔

ب… اگر ’’وما صلبوہ‘‘ کے معنی ’’یہود حضرت مسیح علیہ السلام کو سولی پر نہ مار سکے‘‘ صحیح ہوتے تو صرف ’’وما قتلوہ‘‘ یا ’’ماصلبوہ‘‘ ہی کافی تھا۔ دوبارہ ’’صلبوہ‘‘ لانے کی کیا ضرورت تھی۔

ج… کسی مجدد مسلمہ قادیانی نے تیرہ سو ترپن سال تک ’’ماصلبوہ‘‘ کے معنی ’’صلیب پر مارنے‘‘ کے نہیں کئے۔

د… حضرت شاہ ولی اللہ صاحب محدث دہلوی قادیانی جماعت کے مسلم مجدد صدی دوازدہم ’’وما صلبوہ‘‘ کے معنی کرتے ہیں۔ ’’وبردار نکردند اورا‘‘ اور شاہ عبدالقادر صاحب مجدد صدی سیزدہم فرماتے ہیں ’’اور نہ سولی پر چڑھایا اس کو۔‘‘

ھ… غیاث اللغات وصراح میں ہے۔ صلب، بردار کردن (سولی پر چڑھانا)

و… اگر صلب کے معنی ’’پھانسی پر مارنے‘‘ کے قبول کر لئے جائیں تو قادیانی ہمیں بتلائیں کہ صرف سولی پر چڑھانے کے لئے عربی زبان میں کون سا لفظ ہے۔ سوائے صلب

64

کے اور کوئی لفظ ہے ہی نہیں۔

ز… خود مرزاقادیانی کی زبان اور قلم سے باری تعالیٰ نے ہماری تائید کرادی ہے۔ اقوال مرزا ’’خدا نے مسیح کو وعدہ دیا کہ میں تجھے صلیب سے بچاؤں گا۔‘‘

(ضمیمہ تحفہ گولڑویہ ص۵، خزائن ج۷ ص۴۴)

دیکھئے! یہاں بقول مرزاقادیانی خدا ’’صلیب‘‘ سے بچانے کا وعدہ کر رہے ہیں۔ صرف ’’صلیبی موت‘‘ سے بچانے کا وعدہ نہیں۔

پھر لکھتے ہیں: ’’انہوں نے اس فکر کی وجہ سے تینوں مصلوبوں کو صلیب پر سے اتارلیا۔‘‘

(ازالہ اوہام ص۳۸۱، خزائن ج۳ ص۲۹۶)

دیکھئے یہ تینوں مصلوب اتار لئے جانے کے وقت زندہ تھے۔ جیسا کہ مرزاقادیانی اسی صفحہ پر اقرار کرتے ہیں۔ جائے عبرت ہے کہ مرزاقادیانی کے قلم سے اللہتعالیٰ نے صلب کا اسم مفعول ’’مصلوب‘‘ صرف ’’سولی پر چڑھائے گئے‘‘ کے معنوں میں استعمال کر کے ابوعبیدہ کی آہنی گرفت کا سامان مہیا کر دیا۔ کیونکہ اگر صلب کے معنی سولی پر مارنا صحیح ہوتے تو مصلوب کے معنی سولی پر مارا ہوا ہونا چاہئے۔ لیکن مرزاقادیانی خود مصلوب کو ’’سولی دیا گیا‘‘ مانتے ہوئے اس کا زندہ ہونا بھی تسلیم کرتے ہیں۔

ح… صلیب کی حقیقت بھی ہم بالفاظ مرزاقادیانی عرض کرتے ہیں۔ جس سے معزز ناظرین کو یقین ہو جائے گا کہ صلب یعنی صلیب پر چڑھانے کا نتیجہ لازمی طور پر موت نہیں ہوتا تھا۔ لکھتے ہیں: ’’بالاتفاق مان لیاگیا ہے کہ وہ صلیب اس قسم کی نہیں تھی۔ جیسا کہ آج کل پھانسی ہوتی ہے اور گلے میں رسہ ڈال کر ایک گھنٹہ میں کام تمام کیا جاتا ہے۔ بلکہ اس قسم کا کوئی رسہ گلے میں نہیں ڈالا جاتا تھا۔ صرف بعض اعضاء میں کیلیں ٹھونکتے تھے اور پھر احتیاط کی غرض سے تین تین دن مصلوب بھوکے پیاسے صلیب پر چڑھائے رہتے تھے اور بعد اس کے ہڈیاں توڑی جاتی تھیں اور پھر یقین کیا جاتا تھا کہ اب مصلوب مرگیا۔‘‘

(ازالہ اوہام ص۳۸۱، خزائن ج۳ ص۲۹۶)

محترم ناظرین! غور کیجئے کہ اگر مصلوب جو صلب کا اسم مفعول ہے کہ معنی ’’سولی پر مرا ہوا یا مارا ہوا‘‘ ٹھیک ہوں تو وہ مرا ہوا آدمی بھی کبھی بھوکا پیاسا ہوسکتا ہے؟ جیسا کہ مرزاقادیانی مصلوب کا بھوکا پیاسا ہونا تسلیم کر رہے ہیں۔ نیز اگر مصلوب کے معنی پھانسی پر مارا ہوا صحیح ہوں تو پھر مرزاقادیانی کے فقرہ ’’مصلوب مرگیا‘‘ کے معنی کیا ہوں گے۔ یہی نہ کہ پھانسی پر مارا ہوا مرگیا۔ جو بالکل واہیات ہے۔ ’’مصلوب مرگیا‘‘ کا

65

فقرہ جبھی بامعنی فقرہ قرار دیاجاسکتا ہے۔ جب کہ مصلوب کے معنی صرف سولی پر لٹکایا گیا۔ یعنی صلب کے معنی صرف سولی پر لٹکانا بغیر موت کے لئے جائیں۔

ط… اگر ’’وما صلبوہ‘‘ کے معنی حسب قول مرزاقادیانی ہم قبول کر لیں۔ یعنی یہ کہ ’’یہود حضرت مسیح علیہ السلام کو سولی پر چڑھانے میں کامیاب ہوگئے۔ انہیں تازیانے لگاتے رہے۔ ان کے منہ پر تھوکتے رہے اور ان کے اعضاء میں کیلیں ٹھونکنے میں بدرجہ اتم کامیاب رہے۔ لیکن خدا نے صلیب پر حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی جان نہ نکلنے دی تو یہ سارا مضمون ’’ومکروا ومکر اللہ و اللہ خیر الماکرین‘‘ کے خلاف جاتا ہے۔ کیونکہ قادیانی معنوں کی صورت میں یہود کا مکر خدا کے مکر پر غالب رہتا ہے۔ حالانکہ خدا ’’خیر الماکرین‘‘ ہے۔ یعنی بہترین تدبیر کنندہ ہے۔ پس ان نو دلائل سے نتیجہ یہ نکلا کہ صلب کے معنی صرف سولی پر چڑھانا ہی ہیں۔ موت اس کے ساتھ لازم نہیں اور اس آیت میں خداتعالیٰ حضرت مسیح علیہ السلام کے صلب پر چڑھائے جانے ہی کی نفی کر رہے ہیں۔‘‘

’’انا قتلنا المسیح‘‘ کے جملہ سے صاف ثابت ہوتا ہے کہ یہود قتل مسیح کا دعویٰ بڑے جزم کے ساتھ کرتے تھے۔ محض اس کہنے سے کہ ہم (یہود) نے مسیح علیہ السلام کو قتل کر دیا۔ کوئی وجہ لعنت کی نظر نہیں آتی۔ اگر قتل وصلب فی الواقع کسی شخص پر بھی واقع نہ ہوئے ہوتے تو اللہتعالیٰ اپنی کلام بلاغت نظام میں ’’بقولہم‘‘ کی بجائے ’’بکذبہم‘‘ یعنی ان کے جھوٹ بولنے کے سبب ان کے ملعون ہونے کا اعلان کرتے۔ مگر چونکہ قتل وصلب کے افعال ضرور کسی نہ کسی شخص پر واقع ہوئے تھے۔ اس واسطے اللہتعالیٰ نے یہ جواب نہیں دیا کہ ’’وما قتلوہ احدا ولا صلبوا‘‘ یا ’’وما قتل احد ولا صلب‘‘ یعنی یہود نے تو نہ کسی کو قتل کیا اور نہ پھانسی دیا یا نہ کوئی قتل کیاگیا نہ پھانسی دیا گیا۔ ’’وماقتلوہ وما صلبوہ‘‘ میں ضمیر ’’ہ‘‘ کو استعمال کر کے بتادیا کہ قتل کا فعل اور پھانسی چڑھانے کا عمل حضرت عیسیٰ علیہ السلام پر وارد نہیں ہوا۔ کسی اور پر وارد ہوا تھا۔ ملحض مضمون بالا۔

۱… یہود پر خداتعالیٰ نے لعنت کی اور اس لعنت کا سبب حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے قتل وصلب کے دعویٰ کو بطور فخر کے بیان کرنا قرار دیا۔

۲… اللہتعالیٰ نے یہود کو قتل اور صلب محض کے دعویٰ میں جھوٹا قرار نہیں دیا۔ بلکہ قتل وصلب مسیح علیہ السلام کے دعویٰ کو جھوٹ قرار دیا۔ مطلب جس کا یہ ہے کہ اللہتعالیٰ بھی اس بات کو سچا فرمارہے ہیں کہ کوئی نہ کوئی شخص حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے نام پر ضرور قتل کیاگیا اور صلیب دیا گیا اور یہ بات تواتر قومی سے ثابت ہے کہ ایک شخص ضرور پھانسی پر لٹکایا

66

گیا اور قتل کیاگیا تھا۔ چنانچہ دنیا کے کروڑہا یہودی اور عیسائی کسی ایک شخص کے قتل وصلیب دیے جانے کا عقیدہ رکھنا۔ اپنے ایمان کا جزو قرار دیتے ہیں۔ اس شخص کو یہودی وعیسائی دونوں نے مسیح علیہ السلام سمجھا۔ اللہتعالیٰ اس مقتول ومصلوب کے متعلق اعلان فرماتے ہیں کہ وہ مقتول ومصلوب حضرت عیسیٰ ابن مریم نہ تھا۔ اب سوال پیدا ہوتا ہے کہ پھر وہ شخص کون تھا۔ جس کو یہودیوں نے عیسیٰ علیہ السلام سمجھتے ہوئے پھانسی پر لٹکا دیا اور قتل کر دیا اور ان کے اتباع میں کروڑہا عیسائی بھی حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے قتل بالصلیب کے قائل ہوگئے۔ اللہتعالیٰ اس وہم کا ازالہ اپنی عجیب کلام میں عجیب فصیح وبلیغ طریقہ سے بیان فرماتے ہیں۔ ارشاد ہوتا ہے۔ ’’ولکن شبہ لہم‘‘ جس کی پوری ترکیب (علم نحو کے جاننے والے پر مخفی نہیں) اس طرح ہوگی۔ ’’ولکن قتلوا وصلبوا من شبہ لہم‘‘ لیکن انہوں نے اس شخص کو قتل کیا اور صلیب پر چڑھایا جو ان کے لئے مسیح علیہ السلام کے مشابہ بنایا گیا تھا۔ مرزاقادیانی بیچارے علوم عربیہ سے محض کورے تھے۔ ہاں جس طرح بعض آدمی گورہ شاہی انگریزی بول لکھ سکتے ہیں۔ اسی طرح مرزاقادیانی بھی عربی کی ٹانگ توڑ سکتے تھے۔ ہم ان کی عربی کا نام ’’پنجابی عربی‘‘ تجویز کرتے ہیں۔

’’ولا کن شبہ‘‘ جیسی ترکیبیں قرآن، حدیث اور عربی علم ادب کے ماہرین پر مخفی نہیں۔ ہم یہاں علم نحو کے مسلم امام ابن ہشام کا قول کتاب مغنی سے نقل کرتے ہیں۔ وہ فرماتے ہیں: ’’انہ لکن غیر عاطفۃ والواو عاطفۃ بجملۃ حذف بعضہا علیٰ جملۃ صرح بجمیعہا قال فالتقدیر فی نحو ما قام زید ولکن عمر ولاکن قام عمر‘‘ ’’ولاکن میں لاکن عطف کے لئے نہیں ہے اور واؤ عطف کرنے والی ہے۔ اس جملہ کو جو پوری طرح بیان کردیا گیا ہو۔ مثلاً ’’ماقام زید ولاکن عمر‘‘ والی مثال کو پورا پورا اس طرح لکھیں گے۔ ’’ماقام زید ولاکن قام عمر‘‘ نہیں کھڑا ہوا زید بلکہ کھڑا ہوا عمر۔‘‘ پر معلوم ہوا کہ ولاکن سے پہلے جس فعل کی نفی مذکور ہے۔ اسی کا اثبات ولاکن کے بعد والے فقرہ میں مطلوب ہے۔ صرف فعل کی نسبت فاعلی یا مفعولی میں تبدیلی ہو جاتی ہے۔ یعنی جس فعل کے واقع کی نفی کی جارہی ہے۔ صرف ایک خاص فاعل یا مفعول کے لحاظ سے کی جارہی ہے۔ ورنہ فی الواقع فعل واقع ضرور ہوا ہے۔ مثلاً مثال ’’ماقام زید ولاکن عمر‘‘ میں کھڑے ہونے کا عمل یا فعل واقع تو ضرور ہوا ہے۔ اس کی نفی اگر کی گئی ہے تو صرف زید کے لئے یعنی زید کھڑا نہیں ہوا۔ ’’ولاکن‘‘ کے بعد عمر مذکور ہے۔ پس اسی فعل کا وقوع عمر کے لئے ضروری ہو جاتا ہے۔ یعنی کوئی نہ کوئی کھڑا ضرور ہوا

67

تھا۔ بعینہ اسی طرح ’’وما قتلوہ وما صلبوہ ولاکن شبہ لہم‘‘ میں ہے۔ یہاں باری تعالیٰ ’’ولاکن‘‘ سے پہلے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے قتل بالصلیب اور صلیب پر چڑھائے جانے کی نفی کا اعلان فرماتے ہیں۔ پھر اس کے بعد ’’ولاکن‘‘ کا استعمال فرما کر صاف صاف اعلان فرما رہے ہیں کہ قتل وصلب کے افعال ضرور وقوع پذیر ہوئے تھے۔ لیکن کس پر ہوئے تھے۔ (جواب) اس پر جس پر ڈالی گئی شبیہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی۔ یہی تفسیر آئمہ مجددین مسلمہ قادیانی سے مروی ہے۔ اگر قادیانی اس کی تصدیق سے انکار کریں تو مرزاقادیانی کے فتویٰ کی رو سے کافر اور فاسق بننے کے لئے تیار ہو جائیں۔

(دیکھو قادیانی اصول نمبر:۴)

آگے ارشاد باری ہے: ’’وان الذین اختلفوا فیہ لفی شک منہ ما لہم بہ من علم الا اتباع الظن‘‘ اور تحقیق وہ لوگ (عیسائی) جنہوں نے اس بارہ میں اختلاف کیا وہ تو بالکل شک میں ہیں۔ ان کو کوئی یقینی علم حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے بارہ میں ہے ہی نہیں۔ صرف ظنی ڈھکوسلوں کا اتباع کرتے ہیں۔

نوٹ: ’’ان الذین اختلفوا فیہ‘‘ کے ’’الذین‘‘ میں یہود شامل نہیں ہوسکتے۔ کیونکہ ان کے متعلق تو پہلے ہی اعلان ہوچکا ہے۔ ’’وقولہم انا قتلنا المسیح‘‘ یعنی ہم نے یقینا مسیح علیہ السلام کو قتل کردیا ہے۔ قتل مسیح علیہ السلام کے بارہ میں یہود میں نہ کبھی اختلاف ہوا اور نہ اب ہے۔ ہاں عیسائیوں نے اس بارہ میں بہت اختلاف کیا ہے۔ جیسا کہ ہم پہلے باب میں ذکر کر آئے ہیں۔ عیسائیوں میں بہت سے فرقے ہیں۔ کوئی کچھ کہتا ہے اور کوئی کچھ۔ چنانچہ انجیلوں کے پڑھنے والے پر مخفی نہیں۔ ان کے اختلاف کے متعلق باری تعالیٰ کا یہ فیصلہ ہے۔ ’’مالہم بہ من علم الا اتباع اظن‘‘ یعنی ان کو تو واقعات کا علم ہی نہیں وہ تو صرف ظن کی پیروی کر رہے ہیں۔ وجہ اس کی یہ ہے کہ عیسائی امت کے افراد موقعہ صلب وقتل کے وقت تو حاضر ہی نہ تھے۔ ان کو یقینی علم کہاں سے ملتا۔ چنانچہ حواریوں کا موقعہ سے بھاگ جانا خود مرزاقادیانی نے بھی تسلیم کیا ہے۔ جیسا کہ ہم پہلے باب میں ذکر کر آئے ہیں۔

یہاں تک اللہتعالیٰ نے یہود کے فخریہ دعویٰ قتل وصلب مسیح علیہ السلام کا رد کیا۔ آگے ان کے قتل مسیح علیہ السلام کے پختہ عقیدہ کا رد کرتے ہیں۔ یہود نے کہا۔ ہم نے یقینا قتل کیا مسیح علیہ السلام کو۔ اللہتعالیٰ فرماتے ہیں۔ ’’وما قتلوہ یقیناً‘‘ یقینا یہود نے قتل نہیں کیا عیسیٰ علیہ السلام کو۔ ایک وہم تو پہلے پیدا ہوا تھا۔ یعنی یہ کہ اگر یہود نے مسیح علیہ السلام کو قتل نہیں کیا اور صلیب پر نہیں چڑھایا تو پھر کس کو چڑھایا۔ اس کا جواب ’’ولکن شبہ لہم‘‘ سے دیا۔ ’’یعنی حضرت مسیح علیہ السلام کی شبیہ جس پر ڈالی گئی تھی اس کو قتل کیا اور سولی چڑھایا۔‘‘ یہاں ایک

68

نیا وہم پیدا ہوتا ہے جو پہلے یہودیوں کو بھی لاحق ہوا اور قادیانی جماعت کو بھی آرام نہیں کرنے دیتا۔ وہ یہ کہ پھر حضرت مسیح علیہ السلام کہاں گئے وہ کیا ہوئے۔ اس کا ازالہ اس طرح بیان فرماتے ہیں۔ ’’بل رفعہ اللہ الیہ‘‘ {بلکہ اٹھا لیا اللہتعالیٰ نے ان کو اپنی طرف یعنی آسمان کی طرف۔} آگے اس رفع جسمانی کی حکمت بیان فرماتے ہیں۔ ’’وکان اللہ عزیزاً حکیما‘‘ {اور اللہتعالیٰ بہت ہی زبردست اور بے حد حکمتوں والا ہے۔}

یہاں مناسب معلوم ہوتا ہے کہ ہم چند علمی نکات سے ناظرین رسالہ کی تواضع کریں۔

۱… ’’بل‘‘ ایک عربی لفظ ہے۔ جس کے استعمال سے باری تعالیٰ نے قیامت تک کے لئے قادیانی ایسے محرفین کلام اللہ کا ناطقہ بند کر دیا ہے۔ کتب نحو کے جاننے والوں سے پوشیدہ نہیں کہ ’’بل‘‘ کے بعد والے مضمون اور مضمون ’’ماقبل‘‘ کے درمیان تضاد کا ہونا ضروری ہے۔ مثلاً اگر کوئی یوں کہے کہ ’’زید آدمی نہیں بلکہ قادیانی ہے۔‘‘ تو یہ فقرہ ہر ذی عقل کے نزدیک غلط ہے۔ کیونکہ ’’بل‘‘ کے پہلے زید کے آدمی ہونے سے انکار ہے اور اس کے بعد اس کے قادیانی ہونے کا اقرار ہے۔ مگر ان دونوں باتوں میں کوئی مخالفت نہیں۔ کیونکہ آخر قادیانی بھی آدمی تو ضرور ہیں۔ پس صحیح فقرہ تو یوں چاہئے۔ ’’زید مسلمان نہیں بلکہ قادیانی ہے۔‘‘ کیونکہ کہنے والے کا مطلب اور عقیدہ یہ ہے کہ قادیانی کافر ہیں جو مسلمان کی ضد ہیں یا یہ فقرہ صحیح ہے۔ ’’زید آدمی نہیں بلکہ جن ہے۔‘‘ کیونکہ زید کے آدمی ہونے کی نفی کر کے اس کے جن ہونے کا اقرار ہے۔ پس معلوم ہوا کہ ’’بل‘‘ کے پہلے اور مابعد والے مضمون میں ضد اور مخالفت ضروری ہے۔ قتل اور سولی پر چڑھانے اور زندہ اٹھائے جانے میں تو مخالفت ہے۔ مگر قتل اور روح کے اٹھانے میں کوئی مخالفت نہیں۔ بلکہ بے گناہ مقتول کا رفع روحانی تو تمام مذاہب کا ایک مسلمہ اصول ہے۔

۲… ’’بل ابطالیہ‘‘ میں جو یہاں باری تعالیٰ نے استعمال فرمایا ہے۔ ضروری ہے کہ: ’’بل‘‘ کے مابعد والے مضمون کا فعل، فعل ماقبل سے پہلے وقوع میں آچکا ہو۔ اس کی مثال یوں سمجھئے۔ مشرک کہتے ہیں کہ اللہتعالیٰ نے فرشتوں کو اپنی اولاد بنالیا ہے۔ نہیں یہ غلط ہے۔ بلکہ فرشتے تو اس کے نیک بندے ہیں۔ دیکھئے! یہاں بلکہ (جس کو عربی میں ’’بل‘‘کہتے ہیں) سے پہلے مشرکین کا قول فرشتوں کا اللہتعالیٰ کی اولاد بتلانا مذکور ہے اور ’’بل‘‘ کے بعد فرشتوں کے اللہتعالیٰ کے نیک بندے ہونے کا اعلان ہے۔ فرشتے خدا کے نیک بندے پہلے سے ہیں۔ مشرکین نے ان کے نیک ہونے کے بعد کہا کہ وہ اللہ کی اولاد ہیں۔

دوسری مثال: ’’وہ کہتے ہیں زید لاہور گیا تھا۔ نہیں بلکہ وہ تو سیالکوٹ گیا تھا۔‘‘

69

دیکھئے! زید کا سیالکوٹ جانا پہلے وقوع میں آیا تھا۔ اس کے بعد لوگوں نے کہا تھا کہ وہ لاہور گیا تھا۔ اسی طرح حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے رفع کو ’’بل‘‘ کے بعد استعمال کیاگیا ہے۔ اس لئے ضروری ہوا کہ آپ کا رفع پہلے کیاگیا تھا اور اس کے بعد یہود نے کہا کہ ہم نے عیسیٰ علیہ السلام کو قتل کردیا ہے۔ اگر ’’رفعہ اللہ‘‘ میں رفع سے رفع روحانی مراد لیا جائے جو حسب قول وعقیدہ قادیانی جماعت واقعہ صلیب کے ۸۷برس بعد طبعی موت سے کشمیر میں وقوع پذیر ہوا تھا تو پھر یہ کلام مرزاقادیانی کی کلام کی طرح ’’پنجابی عربی‘‘ بن کر رہ جائے گا۔ کیونکہ ’’بل‘‘ کا استعمال ہمیں اس بات کے ماننے پر مجبور کر رہا ہے کہ جب حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا رفع ہو چکا تھا۔ اس کے بعد یہود نے اعلان قتل کیا۔ قادیانی مذہب قیامت تک اس ’’بل‘‘ کے بل (لپیٹ) سے نہیں نکل سکتا۔ ہاں رفع جسمانی کی صورت میں قانون ٹھیک بیٹھتا ہے۔

۳… ’’بل‘‘ سے پہلے جس چیز کے قتل اور سولی کا انکار کیا جارہا ہے۔ اسی کے رفع یعنی اٹھا لینے کا اقرار اور اعلان ہورہا ہے۔ ’’بل‘‘ سے پہلے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے زندہ جسم (مجموعہ جسم وروح) کے قتل وسولی سے انکار کیاگیا ہے۔ پس ’’بل‘‘ کے بعد رفع بھی جسم وروح کے متعلق ہوا اور اٹھانا صرف روح کا مذکور ہوتو یہ بالکل فضول کلام ہے۔ کیونکہ قتل کیا جانا اور سولی دیا جانا روح کے اٹھائے جانے کے مخالف نہیں۔ بلکہ ان دونوں سے بے گناہ مظلوم کا رفع روحانی یقینی ہو جاتا ہے۔

۴… ’’بل‘‘ سے پہلے اور ’’بل‘‘ کے بعد والے افعال میں جو مفعولی ضمیریں ہیں وہ ساری ایک ہی شخص کے لئے ہونی چاہئیں۔ پہلی ضمیریں ’’وما قتلوہ وما صلبوہ‘‘ میں سارے کی ساری حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے جسم وروح دونوں کی طرف پھرتی ہیں۔ اس کے بعد ’’رفعہ اللہ‘‘ میں ’’ہ‘‘ کی ضمیر بھی حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے جسم وروح دونوں کے لئے ہے نہ کہ صرف حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی روح کے لئے۔

۵… یہود کا عقیدہ تھا کہ انہوں نے عیسیٰ ابن مریم علیہ السلام کو قتل کر دیا تھا۔ اکثر عیسائی ان کے اس عقیدہ سے متفق ہوکر کہنے لگ گئے کہ قتل تو کئے گئے۔ مگر پھر وہ بمعہ جسم آسمان پر اٹھا لئے گئے۔ دونوں قوموں کا یہ عقیدہ حضرت رسول کریمﷺ کے وقت میں اسی طرح موجود تھا۔ اگر رفع جسمانی کا عقیدہ غلط ہوتا اور جیسا کہ قادیانی کہتے ہیں۔ شرک ہوتا تو ضروری تھا کہ خدا اس موقعہ پر رفع کے ساتھ روح کا بھی ذکر کر دیتے۔ کیونکہ صرف رفع

70

کے معنی بغیر قرینہ صارفہ کے جسم کا اوپر اٹھانا ہی ہے۔ اگر مان لیا جائے کہ رفع کے معنی رفع جسمانی اور رفع روحانی دونوں طرح مستعمل ہیں تو بھی ایسے موقعہ پر خصوصیت کے ساتھ رفع روحانی کا اعلان کرنا چاہئے تھا تاکہ عیسائی عقیدہ رفع جسمانی کا انکار اور رد ہو جاتا ۔ بلکہ یہاں ایسا لفظ استعمال کیا کہ جس کے معنی تیرہ سو سال کے مجددین امت محمدیہﷺ اور صحابہ کرامؓ نے بھی وہی سمجھے جو عیسائی سمجھتے ہیں۔

۶… رفع جسمانی سے دونوں مذاہب باطلہ یہودیت اور عیسائیت کی تردید ہوتی ہے۔ وہ اس طرح کہ جب یہود نے کہا ہم نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو قتل کر دیا تھا اور پھانسی بھی دید یا تھا اور اس وجہ سے انہوں نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے (نعوذ ب اللہ) لعنتی ہونے کا اعلان کر دیا تو عیسائیوں نے ان سے ہمنوأ ہو کر آپ کا ملعون ہونا تسلیم کر لیا۔ اس کے بعد کفارہ اور تثلیث کا باطل عقیدہ گھڑ لیا۔ اللہتعالیٰ نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو یہود کے ہاتھوں قتل اور سولی سے بچانے اور زندہ آسمان پر اٹھا لینے کا اعلان کر کے دونوں مذاہب کا باطل ہونا اظہر من الشمس کر دیا۔

حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی موت کے وقوع پذیر ہونے کا تو عیسائیوں کا پہلے سے عقیدہ ہے۔ مرزاقادیانی یا ان کی جماعت نے اس کو ثابت کر کے عیسائیت کے عقائد کی ایک گونہ تائید کی ہے۔ نہ کہ تردید۔

۷… رفع کے متعلق ہم ببانگ دہل یہ اعلان کرتے ہیں کہ جب رفع یا اس کے مشتقات میں سے کوئی سالفظ بولا جائے اور اللہتعالیٰ فاعل ہو اور مفعول جوہر ہو (عرض نہ ہو) اور اس کا صلہ الیٰ مذکور ہو۔ مجرور اس کا ضمیر ہو۔ اسم ظاہر نہ ہو اور وہ ضمیر فاعل کی طرف راجع ہو۔ وہاں سوائے آسمان پر اٹھا لینے کے دوسرے معنی ہوتے ہی نہیں۔ اس کے خلاف اگر کوئی قادیانی قرآن، حدیث یا کلام عربی سے کوئی مثال پیش کر سکے تو منہ مانگا انعام لے۔ لیکن یاد رکھیں قیامت تک ایسا کرنے سے قاصر رہیں گے اور آخر ذلیل ہوں گے۔

۸… قادیانی عقیدہ یہ ہے کہ یہودی حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے قتل کرنے میں ناکام رہے اور صورت اس کی یہ ہوئی کہ عیسیٰ علیہ السلام کو انہوں نے پکڑ لیا۔ ان کو طمانچے مارے، ذلیل وخوار کیا۔ منہ پر تھوکا، سولی پر چڑھایا۔ ان کے جسم میں کیلیں ٹھونکی گئیں۔ اس درد وکرب سے وہ بیہوش ہوگئے۔ یہود انہیں مردہ سمجھ کر چھوڑ گئے۔ مگر فی الواقع اللہتعالیٰ نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی روح کو ’’کمال قدرت اور حکمت‘‘ سے ان کے جسم سے جدا نہ ہونے دیا۔ یہی اللہتعالیٰ کا مکریعنی تدبیر لطیف تھی۔ ہمارا یہاں یہ سوال ہے کہ اس سے

71

ذرا پہلے یہود نامسعود کا فعل مذکور ہے۔ ’’وقتلہم الانبیاء بغیر حق‘‘ یعنی یہود انبیاء علیہم السلام کو ناحق قتل کرنے کے سبب ملعون قرار دئیے گئے۔ اب ظاہر ہے کہ یہود کے نزدیک وہ تمام انبیاء جھوٹے تھے اور یہود انہیں قتل کر کے ملعون ہی خیال کرتے تھے۔ کیونکہ وہ ہر مجرم واجب القتل کو لعنتی قرار دیتے تھے اور ذریعہ قتل ان کے پہلے صلیب پر لٹکانا اور بعد اس کے اس کی ہڈیاں توڑ توڑ کر مارڈالنا ہوتا تھا۔ جیسا کہ ہم اسی باب میں پہلے بیان کر آئے ہیں۔ اللہتعالیٰ نے یہود کے دعویٰ قتل انبیاء کا رد نہیں کیا۔ بلکہ اس قتل کو یہود کی لعنت کا باعث قرار دیا۔ اسی طرح اگر یہود حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو ذلیل وخوار کرنے اور صلیب پر چڑھانے میں کامیاب ہو جاتے تو اللہتعالیٰ ’’وقولہم‘‘ کی بجائے ’’وصلبہم‘‘ فرماتے۔ اگر یہود قتل مسیح علیہ السلام میں کامیاب ہو جاتے تو ’’وقولہم‘‘ کی بجائے ’’وقتلہم‘‘ ارشاد ہوتا۔ لیکن ہر صورت میں ملعون یہود ہی ہیں۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے رفع روحانی کا تو سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ کیونکہ رفع روحانی کے لئے آدمی کے اپنے اعمال ذمہ دار ہیں۔ دنیامیں کوئی مذہب اس بات کا قائل نہیں کہ بے گناہ مصلوب ومقتول لعنتی ہو جاتا ہے۔ ہاں قادیانی مذہب کا اصول ہو تو ممکن ہے۔ کیونکہ اس کی ہر بات اچنبی اور اچھوتی ہے۔

مطلب اس ساری بحث کا یہ ہے کہ جس طرح دیگر انبیاء علیہم السلام کا باوجود مقتول ومصلوب ہو جانے کے خدا کے نزدیک رفع روحانی ہو چکا تھا اور ان کی صفائی کی ضرورت ہی درپیش نہیں ہوئی۔ اس طرح اگر حضرت عیسیٰ علیہ السلام بھی مقتول یا مصلوب ہو جاتے تو اس کی صفائی کی ضرورت ہی نہیں تھی۔ کیونکہ وہ تو مظلوم تھے۔ پس ثابت ہوا کہ یہاں رفع سے مراد رفع روحانی نہیں بلکہ رفع جسمانی ہی ہے۔

۹… قادیانی نبی اور اس کی جماعت نے ’’بل رفعہ اللہ الیہ‘‘ میں رفع سے مراد عزت کی موت قرار دیا ہے۔ ہم چیلنج کرتے ہیں کہ تمام جہاں کے قادیانی قرآن یا حدیث یا کلام عرب سے رفع بمعنی عزت کی موت نہیں دکھا سکتے۔ اگر ایک ہی مثال ایسی دکھادیں تو علاوہ مقررہ انعام کے ہم دس روپے اور انعام دینے کا اعلان کرتے ہیں۔

اور اگر ایسی ایک بھی مثال پیش نہ کر سکیں اور یقینا قیامت تک بھی پیش نہ کر سکیں گے۔ پس کیوں وہ قیامت سے بے خوف ہوکر محض نفسانی اغراض کے لئے مخلوق خدا کو فریب اور دھوکا کا شکار کر رہے ہیں۔

۱۰… ’’الی‘‘ کے متعلق قادیانی اعتراض کیا کرتے ہیں کہ خدا کی طرف رفع سے مراد جسمانی رفع اس واسطے صحیح نہیں کہ خدا کچھ آسمان پر تھوڑا ہی بیٹھا ہوا ہے۔ وہ تو ہر جگہ موجود

72

ہے۔ کیا خدا زمین پر موجود نہیں ہے۔ اس کا جواب ملاحظہ ہو۔

آسمان پر اٹھانا

’’خدا بے شک ہر جگہ موجود ہے۔ لیکن چونکہ اوپر کی طرف میں ایک خاص عظمت ورعب پایا جاتا ہے۔ اس لئے کتب سماوی میں ’’الیٰ اللہ‘‘ (خدا کی طرف) سے ہمیشہ آسمان کی طرف ہی مراد لی گئی ہے۔‘‘ دلائل ذیل ملاحظہ ہوں:

الف… قرآن کریم میں ارشاد باری ہے۔ ’’أامنتم من فی السماء‘‘ کیا تم بے خوف ہوگئے۔ اس سے جو آسمانوں میں ہے۔ دیکھئے یہاں خدا کی طرف سے آسمان مراد لیاگیا ہے۔

ب… ’’الیٰ ربک‘‘ قرآن شریف میں وارد ہوا ہے۔ جس کے معنی ’’خدا کی طرف‘‘ ہیں۔ خود مرزاقادیانی نے اس کی تفسیر میں ’’الیٰ السماء‘‘ یعنی آسمان کی طرف لکھا ہے۔

(تحفہ گولڑویہ ص۱۳، خزائن ج۱۷ ص۱۰۸)

ج… قول مرزا’’خدا کی طرف وہ اونچی ہے جس کا مقام انتہائی عرش ہے۔‘‘

(تحفہ گولڑویہ ص۱۳، خزائن ج۱۷ ص۱۰۸)

د… مسیح کی روح آسمان کی طرف اٹھائی گئی۔

(ازالہ اوہام ص۲۶۴، خزائن ج۳ ص۲۳۳)

ھ… الہام مرزا: ’’ینصرک رجال نوحی الیہم من السماء‘‘ یعنی ایسے لوگ تیری مدد کریں گے جن پر ہم آسمان سے وحی نازل کریں گے۔

(تبلیغ رسالت ج۲ ص۱۰۸، مجموعہ اشتہارات ج۱ ص۳۲۸)

پس ثابت ہوا کہ رفع الیٰ اللہ سے مراد رفع الیٰ السماء ہی ہوتی ہے۔

۱۱… ’’وکان اللہ عزیزاً حکیما‘‘ کے الفاظ نے تو اسلامی تفسیر کی صحت پر مہر تصدیق ایسی ثبت کر دی ہے کہ قادیانی قیامت تک اس مہر کو توڑ نہیں سکتے۔ اس کی تفسیر ہم قادیانیوں کے مسلمہ امام اور مجدد صدی ششم امام فخرالدین رازیؒ کے الفاظ میں بیان کرتے ہیں۔

’’والمراد من العزۃ کمال القدرۃ ومن الحکمۃ کمال العلم فنبہ بہذا علیٰ ان رفع عیسیٰ من الدنیا الیٰ السمٰوات وان کان کالمتعذر علی البشر لکنہ لا تعذر فیہ بالنسبۃ الیٰ قدرتی والیٰ حکمتی‘‘

(تفسیر کبیر جز۱۱ ص۱۰۳)

’’اور مطلب عزیز کا قدرت میں کامل، مطلب حکیم کا علم میں کامل ہے۔ پس ان الفاظ میں خداتعالیٰ نے بتلادیا کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا دنیا سے آسمان کی طرف اٹھانا۔ اگرچہ انسان کے لئے مشکل سا ہے۔ مگر میری قدرت اور حکمت کے لحاظ سے اس میں کوئی وجہ باعث اشکال نہیں اور کسی قسم کا اس میں تعذر نہیں ہوسکتا۔‘‘

73

نوٹ: ہماری اس تفسیر سے جو قادیانی انکار کرے اس کو مرزاقادیانی کا اصول نمبر۴ پڑھ کر سنا دیں۔ پھر بھی اصرار کرے تو اسے کہیں کہ جواب لکھ کر ہم سے انعام طلب کرے۔

چیلنج

اس آیت کی تفسیر کا ملخص یہ ہے کہ یہ آیت ببانگ دہل اعلان کر رہی ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو خدا نے زندہ اسی جسم عنصری کے ساتھ آسمان پر اٹھا لیا تھا اور یہی تفسیر رسول کریمﷺ، آپﷺ کے صحابہ کرامؓ نے سمجھی اور آئمہ مجددین مسلمہ قادیانی بھی انہیں معنوں پر جمے رہے۔ (کوئی قادیانی اس کے خلاف ثابت نہیں کر سکتا) پھر قادیانی علوم عربیہ سے نابلد محض ہونے کے باوجود کیوں اپنی تفسیر مخترعہ پر ضد کر کے اپنی آخرت خراب کر رہے ہیں۔ انہیں خدا کے قہر سے بے خوف نہیں ہونا چاہئے۔ ’’ان بطش ربک لشدید‘‘ کا ورد ہر وقت ان کے لئے ضروری ہے۔

حیات عیسیٰ علیہ السلام پر قرآنی دلیل نمبر:۴

’’وان من اہل الکتاب الا لیؤمنن بہ قبل موتہ ویوم القیامۃ یکون علیہم شہیدا (نساء:۱۵۹)‘‘ یہ آیت بھی ڈنکے کی چوٹ اعلان کر رہی ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام ابھی تک زندہ ہیں فوت نہیں ہوئے۔ اس آیت کا ترجمہ ہم ایسے بزرگوں کی کتابوں سے نقل کرتے ہیں کہ اگر کسی قادیانی نے اپنی حماقت کے سبب اس کی صحت پر اعتراض کیا تو بحکم مرزاغلام احمد قادیانی کافر وفاسق ہو جائے گا۔

(دیکھو قادیانی اصول وعقائد نمبر:۴)

ترجمہ از شاہ ولی اللہ صاحب محدث دہلوی مجدد (مسلمہ قادیانی) صدی دوازدہم

(عسل مصفیٰ جلد اوّل ص۱۶۳،۱۶۵)

’’ونباشد ہیچ کس از اہل کتاب الاّ البتہ ایمان آورد بہ عیسیٰ علیہ السلام پیش از مردن عیسیٰ علیہ السلام وروز قیامت باشد عیسیٰ علیہ السلام گواہ برایشان۔‘‘

ترجمہ: ’’اور اہل کتاب میں سے کوئی نہ ہوگا مگر یہ کہ وہ یقینا ایمان لائے گا حضرت عیسیٰ علیہ السلام پر، حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی موت سے پہلے اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام قیامت کے دن ان اہل کتاب پر اس کی گواہی دیں گے۔‘‘

ناظرین باتمکین! یہ وہ ترجمہ ہے جس پر جمہور علماء مفسرین اور مجددین امت مسلمہ قادیانی تیرہ صدی سال سے متفق چلے آرہے ہیں اور سب اس آیت سے حیات عیسیٰ علیہ السلام پر دلیل پکڑتے چلے آئے ہیں۔ اس سے پہلے جو آیت قرآن کریم میں مذکور ہے وہ وہی ہے جو ہم نے دلیل نمبر:۳ میں بیان کی ہے۔ اس کے پڑھنے یا سننے والے

74

پر یہ خیال پیدا ہو جاتا ہے کہ اس قدر اولوالعزم رسول کا دنیا میں آنا اور ’’رسولا الیٰ بنی اسرائیل‘‘ کا لقب لینا کیا بے معنی ہی تھا؟ یعنی جس قوم کی طرف وہ مبعوث ہوکر آئے تھے۔ ان میں سے ایک بھی ان پر ایمان نہ لایا اور خدا نے ان کو آسمان پر اٹھا لیا۔ اب آسمان پر وہ کیا کریں گے؟ کیا یہود کے ساتھ ان کا تعلق ختم ہوچکا ہے؟ عملی طور پر اس بات کا کیا ثبوت ہے؟ کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام زندہ بجسد عنصری موجود ہیں اور مکر اللہ کا پورا پورا مظاہرہ تو اس طرح مکمل نہیں ہوسکتا کہ یہود دنیا میں موجود رہیں۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو سولی پر چڑھانے اور قتل کرنے کا عملی ثبوت دیتے رہیں۔ یہاں تک کہ دھوکا میں آکر عیسائی بھی ان کے ہمنوأ ہو جائیں۔ اللہتعالیٰ صرف بذریعہ وحی ہی ان کے دعویٰ قتل کی تردید کرتے ہیں۔ غیر جانبدار شخص ضرور اس تردید کے لئے کوئی عملی ثبوت طلب کرے گا۔ وہ کہہ سکتا ہے کہ یہ وحی من جانب اللہ نہیں ہے۔ چنانچہ مرزاقادیانی بھی اس تفسیر میں میرے ساتھ کلی اتفاق ظاہر کر رہے ہیں۔

’’جس حالت میں شیطانی الہام بھی ہوتے ہیں اور حدیث النفس بھی تو پھر کسی قول کو کیونکر خدا کی طرف منسوب کر سکتے ہیں۔ جب تک کہ اس کے ساتھ خدا کی فعلی شہادت زبردست نہ ہو۔ ایک خدا کا قول ہے اور ایک خدا کا فعل ہے اور جب تک خدا کے قول پر خدا کا فعل شہادت نہ دے ایسا الہام شیطانی کہلائے گا اور شہادت سے مراد ایسے آسمانی نشان ہیں کہ جو انسانوں کی معمولی حالتوں سے بہت بڑھ کر ہیں۔‘‘

(تتمہ حقیقت الوحی ص۱۳۹،۱۴۰، خزائن ج۲۲ ص۵۷۷،۵۷۸)

اب غور کیجئے کہ یہاں خداوند کریم نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی حیات جسمانی کا اعلان بذریعہ وحی کر دیا۔ مگر مرزاقادیانی اس پر فعلی شہادت کا تقاضا کرتے ہیں۔ ہم اس کے جواب میں فعلی شہادت پیش کرتے ہیں اور شہادت بھی کیسی؟ ایسی کہ خود وہ ساری مخالف قوم (بنی اسرائیل) بجائے انکار کے خود بخود اقرار اور اقبال کرنے لگ جائے۔ چنانچہ اللہتعالیٰ فرماتے ہیں کہ جب تک سارے کے سارے اہل کتاب حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو نبی برحق اور زندہ بجسدہ العنصری تسلیم نہ کر لیں گے۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام پر موت نہیں آئے گی اور ان کے اس طرح ایمان لانے پر حضرت عیسیٰ علیہ السلام قیامت کے دن گواہی بھی دیں گے۔

علاوہ ازیں دنیاسے کسی نبی کا جو صاحب کتاب اور صاحب امت ہو، ناکام جانا سنت اللہ کے مخالف ہے۔ چنانچہ مرزا قادیانی بھی ہماری تائید میں لکھتے ہیں۔

75

’’ان الانبیاء لا ینقلبون من ہذہ الدنیا الیٰ دار الاٰخرۃ الا بعد تکمیل رسالات‘‘ یعنی انبیاء اس دنیا سے آخرت کی طرف انتقال نہیں فرماتے۔ مگر اپنے کام کی تکمیل کے بعد۔

(حمامتہ البشریٰ ص۴۹، خزائن ج۷ ص۲۴۳)

چنانچہ لکھتے ہیں: ’’سچے نبیوں اور مامورین کے لئے سب سے پہلی یہی دلیل ہے کہ وہ اپنے کام کی تکمیل کر کے مرتے ہیں۔‘‘

(اربعین نمبر۴ ص۵، خزائن ج۱۷ ص۴۳۴)

اب قدرتی طور پر سوال پیدا ہوتا ہے کہ اگر حضرت عیسیٰ علیہ السلام اپنے مشن کو پایہ تکمیل تک پہنچا گئے ہیں تو خواہ وہ آسمان پر زندہ بجسد عنصری ہیں۔ اب ان کے آنے کی ضرورت نہیں اور اگر وہ اپنا مشن اشاعت توحید ورسالت پورا کرنے سے پہلے ہی تشریف لے گئے ہیں تو یہ دوحال سے خالی نہیں۔ اگر مرگئے ہیں اور دوبارہ نہیں آئیں گے تو سنت اللہ کے مطابق حسب قول مرزا وہ سچے نبی نہ تھے۔ لیکن مرزاقادیانی نے بھی انہیں سچا نبی اور مامور من اللہ ضرور مانتے ہیں۔ ان کی تبلیغی کامیابی کے متعلق میں صرف مرزاقادیانی کے اقوال ہی نقل کر دینا کافی سمجھتا ہوں۔

۱… ’’یہ کہنا کہ جس طرح موسیٰ نے بنی اسرائیل کو فرعون کے ہاتھ سے نجات دی تھی۔ اسی طرح حضرت عیسیٰ نے اپنے تابعین کو شیطان کے ہاتھ سے نجات دی۔ یہ ایسا بیہودہ خیال ہے کہ کوئی شخص گو کیسا ہی اغماض کرنے والا ہو اس خیال پر اطلاع پا کر اپنے تئیں ہنسنے سے روک نہیں سکے گا۔‘‘

(تحفہ گولڑویہ ص۱۲۱، خزائن ج۱۷ ص۳۰۰)

۲… ’’ہدایت اور توحید اور دینی استقامتوں کے کامل طور پر دلوں میں قائم کرنے کے بارہ میں ان کی کارروائیوں کا نمبر ایسا کم درجہ کا رہا کہ قریب قریب ناکام کے رہے۔‘‘

(ازالہ اوہام ص۳۱۱ حاشیہ، خزائن ج۳ ص۲۵۸)

۳… ’’حضرت مسیح تو انجیل کو ناقص کی ناقص ہی چھوڑ کر آسمانوں پر جا بیٹھے۔‘‘

(براہین احمدیہ ص۳۶۱، خزائن ج۱ ص۴۳۱)

پس سنت اللہ کے مطابق حضرت عیسیٰ علیہ السلام بھی فوت نہیں ہوسکتے۔ جب تک کہ وہ اپنے کام میں کامیاب نہ ہولیں۔ سیاق وسباق کلام بھی یہی تقاضا کرتا ہے۔ یہودی حضرت عیسیٰ علیہ السلام اور ان کی مختصر سی امت کو فنا کرنا چاہتے تھے۔ اللہتعالیٰ نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو بھی ان کے ضرر سے بچا لیا۔ ان کی امت کو بھی یہودیوں پر غالب کر دیا۔ مگر مکمل غلبہ اس طرح ہوگا کہ ظاہری غلامی کے بعد جو آج کل یہودیوں پر لعنت دائمی ثابت ہو رہی ہے۔ اللہتعالیٰ فرماتے ہیں کہ آخری زمانہ میں ہم عیسیٰ علیہ السلام کو نازل کر کے

76

ان کے منکر یہودیوں کو حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا روحانی غلام بھی بنادیں گے۔ ذیل میں ہم چند مجددین واولیاء ملہمین مسلمہ قادیانی کی تفسیر کرتے ہیں۔ اس کے بعد قادیانی اعتراضات کی حقیقت الم نشرح کریں گے۔ امام شعرانی، جو مرزاغلام احمد قادیانی کے نزدیک ’’ایسے محدث اور صوفی تھے جو معرفت کامل اور تفقہ تام کے رنگ سے رنگین تھے۔‘‘

(ازالہ اوہام ص۱۴۹، خزائن ج۳ ص۱۷۶)

فرماتے ہیں:’’الدلیل علیٰ نزولہ قولہ تعالیٰ وان من اہل الکتاب الا لیؤمنن بہ قبل موتہ ای حین ینزل ویجتمعون علیہ وانکرت المعتزلۃ والفلا سفۃ والیہود والنصاریٰ عروجہ بجسدہ الیٰ السماء وقال تعالیٰ فی عیسیٰ علیہ السلام وانہ لعلم للساعۃ… والضمیر فی انہ راجع الیٰ عیسیٰ… والحق انہ رفع بجسدہ الیٰ السماء والایمان بذالک واجب قال اللہ تعالیٰ بل رفعہ اللہ الیہ‘‘

(الیواقیت والجواہر ج۲ ص۱۴۶)

’’حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے نازل ہونے پر دلیل یہ آیت ہے۔ ’’وان من اہل الکتاب‘‘ جس کے معنی یہ ہیں کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے نزول کے وقت کے یہودی حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی موت سے پہلے ضرور ان پر ایمان لے آئیں گے۔ معتزلہ، فلسفیوں، یہودیوں اور عیسائیوں نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے آسمان پر بمعہ جسم اٹھائے جانے سے انکار کیا ہے۔ حالانکہ فرمایا اللہتعالیٰ نے دوبارہ رفع جسمانی حضرت مسیح کے ’’وانہ لعلم للساعۃ‘‘ اور ضمیر ’’انہ‘‘ کی حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی طرف پھرتی ہے… اور سچ یہ ہے کہ وہ بمعہ جسم کے آسمان پر اٹھائے گئے ہیں اور ان کے رفع جسمی پر ایمان لانا واجب ہے۔ کیونکہ فرمایا ان کے متعلق اللہتعالیٰ نے ’’بل رفعہ اللہ الیہ‘‘ (بلکہ اٹھا لیا اللہ نے ان کو اپنی طرف)‘‘

حضرات! یہ وہی امام عبدالوہاب شعرانی ہیں۔ جن کی کلام سے مرزائی مناظرین تحریف لفظی اور معنوی کر کے وفات عیسیٰ علیہ السلام پر استدلال کیا کرتے ہیں۔

معزز ناظرین! اب ہم اس شخص کی تفسیر درج کرتے ہیں جو قادیانی جماعت کے مسلمہ مجدد صدی ہفتم تھے اور آپ ساتویں صدی میں کلام اللہ کے حقیقی مطالب بیان کرنے کے لئے مبعوث ہوئے تھے۔ اس بزرگ ہستی کا اسم گرامی احمد بن عبدالحلیم تقی الدین ابن تیمیہؒ تھا۔ خود مرزاقادیانی اس امام ہمام کا ذکر خیر ان الفاظ میں فرماتے ہیں۔

’’فاضل ومحدث ومفسر ابن تیمیہ وابن قیم جو اپنے اپنے وقت کے امام ہیں۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی وفات کے قائل ہیں۔‘‘

(کتاب البریہ ص۲۰۳حاشیہ، خزائن ج۱۳ ص۲۲۱ حاشیہ)

77

امام موصوف اپنی بے مثل کتاب ’’الجواب الصحیح لمن بدل دین المسیح‘‘ میں فرماتے ہیں۔

ترجمہ اردو: ’’وان من اہل الکتاب الا لیؤمنن بہ قبل موتہ‘‘ اس آیت کی تفسیر اکثر علماء نے یہی کی ہے کہ مراد ’’قبل موتہ‘‘ سے ’’حضرت مسیح علیہ السلام کی وفات سے پہلے‘‘ ہے اور یہودی کی موت کے معنی بھی کسی نے کئے ہیں اور یہ ضعیف ہے۔ کیونکہ اگر موت سے پہلے ایمان لایا جائے تو نفع دے سکتا ہے۔ اس لئے کہ اللہتعالیٰ توبہ قبول کرتا ہے۔ جب غرغرہ تک نہ پہنچے اور اگر یہ کہا جائے کہ ایمان سے مراد غرغرہ کے بعد کا ایمان ہے تو اس میں کوئی فائدہ نہیں۔ اس لئے کہ غرغرہ کے بعد ہر ایک امر جس کا وہ منکر ہے۔ اس پر ایمان لاتا ہے۔ پس مسیح علیہ السلام کی کوئی خصوصیت نہیں اور یہاں ایمان سے مراد ایمان نافع ہے۔ اس لئے کہ خداتعالیٰ نے اپنی پاک کلام میں اس ایمان کے متعلق ’’قبل موتہ‘‘ فرمایا ہے۔

اس آیت میں ’’لیؤمنن بہ‘‘ مقسم علیہ ہے۔ یعنی قسمیہ خبر دی گئی ہے اور یہ مستقبل میں ہی ہوسکتا ہے۔ پس ثابت ہوا کہ یہ ایمان لانا اس خبر (نزول آیت) کے بعد ہوگا اور اگر موت سے مراد یہودی کی موت ہوتی تو پاک اللہ اپنی پاک کتاب میں یوں فرماتے۔ ’’وان من اہل الکتاب الا من یؤمن بہ‘‘ اور ’’لیؤمنن بہ‘‘ ہرگز نہ فرماتے اور نیز ’’وان من اہل الکتاب‘‘ یہ لفظ عام ہے۔ ہر ایک یہودی ونصرانی کو شامل ہے۔ پس ثابت ہوا کہ تمام اہل کتاب یہود ونصاریٰ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے نزول کے وقت ان کی موت سے پہلے پہلے حضرت عیسیٰ علیہ السلام پر ایمان لے ائیں گے۔ تمام یہودی ونصاریٰ ایمان لائیں گے کہ مسیح ابن مریم اللہ کا رسول کذاب نہیں۔ جیسے یہودی کہتے ہیں اور نہ وہ خدا ہیں۔ جیسے کہ نصاریٰ کہتے ہیں۔ اس عموم کا لحاظ زیادہ مناسب ہے۔ اس دعویٰ سے کہ موت سے مراد کتابی کی موت ہے۔ کیونکہ اس سے ہر ایک یہودی ونصرانی کا ایمان لانا ثابت ہوتا ہے اور یہ واقع کے خلاف ہے۔ اس لئے کہ جب خداتعالیٰ نے یہ خبر دی کہ تمام اہل کتاب ایمان لائیں گے تو ثابت ہوا کہ اس عموم سے مراد عموم اور لوگوں کا ہے۔ جو نزول المسیح کے وقت موجود ہوں گے۔ کوئی بھی ایمان لانے سے اختلاف نہیں کرے گا۔ جو اہل کتاب فوت ہوچکے ہوں گے وہ اس عموم میں شامل نہیں ہوسکتے۔ یہ عموم ایسا ہے۔ جیسے یہ کہا جاتا ہے۔ ’’لا یبقی بلد الا دخلہ الدجال الا مکۃ والمدینۃ‘‘ پس یہاں مدائن (شہروں) سے مراد وہی مدائن ہوسکتے ہیں جو اس وقت موجود ہوں گے اور اس سے ہر ایک یہودی ونصرانی کے ایمان کا سبب ظاہر ہے وہ یہ کہ ہر ایک کو معلوم ہو جائے گا کہ

78

مسیح علیہ السلام رسول اللہ ہے۔ جس کو اللہتعالیٰ کی تائید حاصل ہے۔ نہ وہ کذاب ہیں نہ وہ خدا ہیں۔ پس اللہ تعالیٰ نے اس ایمان کا ذکر فرمایا ہے جو حضرت مسیح علیہ السلام کے تشریف لانے کے وقت ہوگا۔ کیونکہ اللہتعالیٰ نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا رفع اس آیت میں ذکر فرمایا ’’انی متوفیک ورافعک الیّٰ‘‘ اور مسیح علیہ السلام قیامت سے پیشتر زمین پر اتریں گے اور فوت ہوں گے اور اس وقت کی خبر دی کہ سب اہل کتاب مسیح کی موت سے پیشتر ایمان لائیں گے۔‘‘

(الجواب الصحیح لمن بدل دین المسیح ج۲ ص۲۸۱،۲۸۳)

رسول کریمﷺ کی تفسیر

ناظرین! مناسب معلوم ہوتا ہے کہ ہم یہاں چند احادیث اپنی پیش کردہ تفسیر کی تصدیق میں بیان کر دیں۔ ان احادیث کی صحت اور تفسیر پر جوقادیانی اعتراض کرے وہ کافر اور مرتد ہو جائے گا۔

(قادیانی اصول وعقائد نمبر:۴)

حدیث نمبر:۱… ’’عن ابی ہریرۃؓ قال قال رسول اللہﷺ والذی نفسی بیدہ لیوشکن ان ینزل فیکم ابن مریم حکماً عدلاً فیکسر الصلیب ویقتل الخنزیر ویضع الجزیۃ ویفیض المال حتیٰ لا یقبلۃ احد حتیٰ تکون السجدۃ الواحدہ خیراً من الدنیا وما فیہا ثم یقول ابوہریرۃؓ فقرؤا ان شئتم وان من اہل الکتاب الا لیؤمنن بہ قبل موتہ‘‘

(رواہ البخاری ج۱ ص۴۹۰، باب نزول عیسیٰ بن مریم علیہ السلام، مسلم ج۱ ص۸۷، باب نزول عیسیٰ علیہ السلام)

’’حضرت ابوہریرہؓ آنحضرتﷺ سے روایت کرتے ہیں کہ آپﷺ نے فرمایا۔ مجھے اس ذات واحد کی قسم ہے جس کے قبضہ قدرت میں میری جان ہے۔ تحقیق ضرور اتریں گے۔ تم میں ابن مریم حاکم وعادل ہوکر۔ پس صلیب کو توڑیں گے اور خنزیر کو قتل کرائیں گے اور جزیہ اٹھادیں گے۔ ان کے زمانہ میں مال اس قدر ہوگا کہ کوئی قبول نہ کرے گا۔ یہاں تک کہ ایک سجدہ عبادت الٰہی دنیا ومافیہا سے بہتر ہوگا۔ اگر تم چاہو تو (اس حدیث کی تائید میں) پڑھو۔ قرآن شریف کی یہ آیت: وان من اہل الکتاب الا لیؤمنن بہ قبل موتہ‘‘

سوال… کیا یہ حدیث صحیح ہے؟

جواب… ہاں صاحب! یہ حدیث بالکل صحیح ہے۔ دلائل ملاحظہ کریں۔

۱… یہ حدیث بخاری ومسلم دونوں میں موجود ہے۔ جن کی صحت پر مرزاقادیانی نے مہر

79

تصدیق ثبت کرادی ہے۔

(ازالہ اوہام ص۸۸۴، خزائن ج۳ ص۵۸۲، تبلیغ رسالت حصہ دوم ص۲۵، مجموعہ اشتہارات ج۱ ص۲۳۵)

۲… اس حدیث کی صحت کو مرزاقادیانی نے اپنی مندرجہ ذیل کتب میں صحیح تسلیم کر لیا ہے۔

(ایام الصلح ص۵۲،۵۳،۷۵،۹۱،۱۶۰،۱۷۶، خزائن ج۱۴ ص۲۸۵،۳۲۸،۴۰۸،۴۲۴، تحفہ گولڑویہ ص۲۵، خزائن ج۱۷ ص۱۲۸، شہادت القرآن ص۱۱، خزائن ج۶ ص۳۰۷)

سوال… اس حدیث کا ترجمہ لفظی تو واقعی حضرت مسیح علیہ السلام کی حیات ثابت کرتا ہے۔ لیکن آپ کے پاس کیا دلیل ہے کہ اس حدیث سے مراد بھی وہی ہے جو لفظی ترجمہ سے ظاہر ہے اور یہ کہ ابن مریم سے مراد عیسیٰ ابن مریم علیہ السلام ہی ہے؟ وغیرہ وغیرہ!

جواب… جناب عالیٰ! اس حدیث کا مطلب اور معنی وہی ہے جو اس کے الفاظ سے ظاہر ہیں۔ کیونکہ حقیقی معنوں سے پھیر کر مجازی معنی لینے کے لئے کوئی قرینہ ہونا ضروری ہے۔ ورنہ زبان کا مطلب سمجھنے میں بڑی گڑبڑ ہو جائے گی۔ میز سے مراد میز ہی لی جائے گی نہ کہ بینچ۔ مرزاغلام احمد قادیانی سے مراد ہمیشہ غلام احمد بن چراغ بی بی قادیانی ہی لی جائے گی۔ نہ اس کا بیٹا مرزابشیرالدین محمود۔ اسی طرح حدیث میں ابن مریم سے مراد ابن مریم (مریم کا بیٹا) حضرت عیسیٰ علیہ السلام ہی ہوں گے نہ کہ مرزاغلام احمد قادیانی ابن چراغ بی بی۔

۲… صحابہ کرامؓ! مجددین امت محمدیہ نے اس حدیث کے معنی وہی سمجھے جو اس کے الفاظ بتاتے ہیں۔ یعنی حضرت ابن مریم سے مراد حضرت عیسیٰ علیہ السلام ہی سمجھتے رہے۔

۳… خود مرزاقادیانی نے کسی عبارت کے مفہوم کو سمجھنے کے متعلق ایک عجیب اصول باندھا ہے۔ فرماتے ہیں:’’والقسم یدل علیٰ ان الخبر محمول علی الظاہر لا تاویل فیہ ولا استثناء والّا ای فائدۃ کانت فی ذکر القسم‘‘

(حمامتہ البشریٰ ص۱۴، خزائن ج۷ ص۱۹۲ حاشیہ)

’’اورقسم (حدیث میں) دلالت کرتی ہے کہ حدیث کے وہی معنی مراد ہوں گے جو اس کے ظاہری الفاظ سے نکلتے ہوں۔ ایسی حدیث میں نہ کوئی تاویل جائز ہے اور نہ کوئی استثناء ورنہ قسم میں فائدہ کیا رہا۔‘‘

سوال… کیا حدیث ہمارے لئے حجت ہے اور کیا حدیثی تفسیر کا قبول کرنا ہمارے واسطے ضروری ہے۔

80

جواب… حدیث کے فیصلہ کا حجت اور ضروری ہونا تو اسی سے ظاہر ہے کہ اللہتعالیٰ قرآن پاک میں فرماتے ہیں۔ ’’فلا وربک لا یؤمنون حتیٰ یحکموک فیما شجر بینہم ثم لا یجدوا فی انفسہم حرجاً مما قضیت ویسلموا تسلیما (نساء:۶۵)‘‘ {( اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں اے محمدﷺ) قسم ہے مجھے آپ کے رب کی (یعنی اپنی ذات کی) کہ کوئی انسان مؤمن نہیں ہوسکتا۔ جب تک وہ اپنے اختلاف اور جھگڑوں میں آپ کو ثالث نہ مانا کریں اور پھر آپ کے فیصلہ کے خلاف ان کے دلوں میں کوئی انقباض بھی پیدا نہ ہو اور آپ کے فیصلہ کے سامنے سرتسلیم خم کر دیں۔}

خود مرزاقادیانی اصول تفسیر کے ذیل میں لکھتے ہیں: ’’دوسرا معیار رسول اللہﷺ کی تفسیر ہے۔ اس میں کچھ شک نہیں کہ سب سے زیادہ قرآن کے معنی سمجھنے والے ہمارے پیارے اور بزرگ نبی حضرت رسول کریمﷺ تھے۔ پس اگر آنحضرتﷺ سے کوئی تفسیر ثابت ہو جائے تو مسلمان کا فرض ہے کہ بلاتوقف اور بلا دغدغہ قبول کرے۔ نہیں تو اس میں الحاد اور فلسفیت کی رگ ہوگی۔‘‘

(برکات الدعا ص۱۸، خزائن ج۶ ص ایضاً)

پس معلوم ہوا کہ اس تفسیر نبوی پر اعتراض کرنے والا بحکم مرزاقادیانی ملحد اور فلسفی محض ہے۔ اسلام سے اس کا دور کا بھی واسطہ نہیں۔

پھر یہ تفسیر نبوی مروی ہے۔ ایک جلیل القدر صحابی رسول اللہﷺ سے جنہوں نے اس حدیث کو ’’وان من اہل الکتاب الا لیؤمنن‘‘ کی تفسیر کے طور پر بیان فرمایا ہے۔ گویا حضرت ابوہریرہؓ نے تمام صحابہ کے سامنے اس آیت کی تفسیر بیان کی اور کسی دوسرے بزرگ نے اس کی تردید نہ فرمائی۔ پس اس تفسیر کے صحیح ہونے پر صحابہ کا اجماع بھی ہو گیا۔ صحابی کی تفسیر کے متعلق مرزاقادیانی کا قول ملاحظہ ہو۔

’’تیسرا معیار صحابہؓ کی تفسیر ہے۔ اس میں کچھ شک نہیں کہ صحابہؓ آنحضرتﷺ کے نوروں کو حاصل کرنے والے اور علم نبوت کے پہلے وارث تھے اور خداتعالیٰ کا ان پر بڑا فضل تھا اور نصرت الٰہی ان کی قوت مدرکہ کے ساتھ تھی۔ کیونکہ ان کا نہ صرف قال بلکہ حال تھا۔‘‘

(برکات الدعا ص۱۸، خزائن ج۶ ص ایضاً)

ناظرین! میں نے قرآن، حدیث، اقوال صحابہ اور مجددین امت کے بیانات اس آیت کی تفسیر میں بیان کر دیے ہیں۔ بیانات بھی وہ کہ قادیانی ان کی صحت پر اعتراض کریں تو اپنے ہی فتویٰ کی رو سے ملحد، کافر اور فاسق ہو جائیں۔ اگر تمام اقوال

81

مجددین اور احادیث نبوی وروایات صحابہ کرامؓ درج کروں تو ایک مستقل کتاب اسی آیت کی تفسیر کے لئے چاہئے۔

اب ہم اسلامی تفسیر پر قادیانی اعتراضات درج کرتے ہیں اور پھر ان کے جوابات عرض کریں گے۔

قادیانی اعتراض نمبر:۱

…’’اگر ہم فرض کے طور پر تسلیم کر لیں کہ آیت موصوفہ بالا کے یہی معنی ہیں۔ جیسا کہ سائل (اہل اسلام) سمجھا ہے تو اس سے لازم آتا ہے کہ زمانہ صعود مسیح سے اس زمانہ تک کہ مسیح نازل ہو۔ جس قدر اہل کتاب دنیا میں گزرے ہیں یا اب موجود ہیں یا آئندہ ہوں گے وہ سب مسیح پر ایمان لانے والے ہوں۔ حالانکہ یہ خیال ببداہت باطل ہے۔ ہر یک شخص خوب جانتا ہے کہ بے شمار اہل کتاب مسیح کی نبوت سے کافر رہ کر اب تک واصل جہنم ہوچکے ہیں۔‘‘

(ازالہ اوہام ص۳۶۷، خزائن ج۳ ص۲۸۸)

قادیانی اعتراض نمبر:۲

…’’بعض لوگ کچھ شرمندے سے ہوکر دبی زبان سے یہ تاویل پیش کرتے ہیں کہ اہل کتاب سے مراد وہ لوگ ہیں جو مسیح کے دوبارہ آنے کے وقت دنیا میں موجود ہوں گے اور وہ سب مسیح کو دیکھتے ہی ایمان لے آویں گے اور قبل اس کے جو مسیح فوت ہو وہ سب مؤمنوں کی فوج میں داخل ہوجائیں گے۔ لیکن یہ خیال بھی ایسا باطل ہے کہ زیادہ لکھنے کی حاجت نہیں۔ اوّل تو آیت موصوفہ بالا صاف طور پر فائدہ تعمیم کا دے رہی ہے۔ جس سے معلوم ہوتا ہے کہ اہل کتاب کے لفظ سے تمام وہ اہل کتاب مراد ہیں جو مسیح کے وقت میں یا مسیح کے بعد برابر ہوتے رہیں گے اور آیت میں ایک بھی ایسا لفظ نہیں جو آیت کو کسی خاص محدود زمانہ سے متعلق اور وابستہ کرتا ہو۔‘‘

(ازالہ اوہام ص۳۶۸، خزائن ج۳ ص۲۸۹)

قادیانی اعتراض نمبر:۳

… ’’علاوہ اس کے یہ معنی بھی جو پیش کئے گئے ہیں۔ ببداہت فاسد ہیں۔ کیونکہ احادیث صحیحہ بآواز بلند بتلا رہی ہیں کہ مسیح کے دم سے اس کے منکر خواہ وہ اہل کتاب ہیں یا غیراہل کتاب۔ کفر کی حالت میں مریں گے۔‘‘

(ازالہ اوہام ص۳۶۹، خزائن ج۳ ص ایضاً)

قادیانی اعتراض نمبر:۴

… ’’مگر افسوس کہ وہ (اہل اسلام) اپنے خود تراشیدہ معنوں سے قرآن میں اختلاف ڈالنا چاہتے ہیں۔ جس حالت میں اللہتعالیٰ فرماتا ہے۔ ’’والقینا بینہم العداوۃ والبغضاء الیٰ یوم القیامۃ‘‘ جس کے یہ معنی ہیں کہ یہود اور نصاریٰ میں

82

قیامت تک بغض اور دشمنی رہے گی تو اب بتلاؤ کہ جب تمام یہودی قیامت سے پہلے ہی حضرت مسیح علیہ السلام پر ایمان لے آئیں گے تو پھر بغض اور دشمنی قیامت تک کون لوگ کریں گے۔‘‘

(تحفہ گولڑویہ ص۱۲۶، خزائن ج۱۷ ص۳۰۹)

نوٹ: ایسا ہی مرزاقادیانی نے دو تین اور آیات سے استدلال کیا ہے۔ جس کا مطلب وہی ہے جو نمبر:۴ میں ہے۔

قادیانی اعتراض نمبر:۵

… (۱)’’دوسری قرأت اس آیت میں بجائے ’’قبل موتہ قبل موتہم‘‘ موجود ہے۔‘‘

(حقیقت الوحی ص۳۴، خزائن ج۲۲ ص۳۶)

۲… ’’ابی بن کعب کی قرأت سے ثابت ہوا کہ ’’موتہ‘‘ کی ضمیر حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی طرف نہیں پھرتی۔ بلکہ اہل الکتاب کی طرف راجع ہے۔‘‘

(حمامتہ البشریٰ ص۴۷، خزائن ج۷ ص۲۴۱)

قادیانی اعتراض نمبر:۶

بعض روایتوں میں آیا ہے کہ ’’موتہ‘‘ کی ضمیر حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی طرف راجع ہے اور یہ قول بالکل ضعیف ہے۔ محققین میں سے ایک نے بھی اس کو تسلیم نہیں کیا۔

(حمامتہ البشریٰ ص۴۸، خزائن ج۷ ص۲۴۱)

قادیانی اعتراض:۷

’’چونکہ علماء اسلام اس آیت کی تفسیر میں ایک دوسرے کے ساتھ بہت اختلاف کرتے ہیں۔ اس واسطے ثابت ہوا کہ سب اصل حقیقت سے بے خبر ہیں۔‘‘

(ملخص از عسل مصفیٰ ج۱ ص۴۱۹، ۴۲۰)

ناظرین! اسی قدر اعتراضات قادیانی میری نظر سے گزرے ہیں۔ ذیل میں بالترتیب جوابات عرض کرتا ہوں۔

جواب نمبر:۱… معترض کا پہلا اعتراض جہالت محضہ پر مبنی ہے۔ تمام اہل کتاب مراد نہیں ہوسکتے۔ اس آیت کا مضمون بالکل ایسا ہی ہے جیسا کہ اس فقرہ کا کہ ۱۹۵۰ء سے پہلے تمام مرزائی حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی حیات اور رفع جسمانی پر ایمان لے آئیں گے۔ مطلب بالکل صاف ہے کہ ۱۹۵۰ء کے بعد کوئی مرزائی حیات عیسیٰ علیہ السلام کا منکر نہیں پایا جائے گا۔ اس سے پہلے کے مرزائی بعض کفر کی حالت پر مریں گے اور بعض اسلام لے آئیں گے۔ لیکن ۱۹۵۰ء کے بعد مرزائی کا نام ونشان نہیں رہے گا۔

دوسری مثال… ’’لارڈ ولنگڈن مورخہ ۱۵؍جون ۱۹۳۶ء کو لاہور تشریف لائیں گے۔ آپ کی تشریف آوری سے پیشتر تمام اہل لاہور اسٹیشن پر ان کے استقبال کے لئے حاضر

83

ہو جائیں گے۔‘‘ کون بے وقوف ہے۔ جو اس کا مطلب یہ لے گا کہ تمام اہل لاہور سے مراد آج (۲۹؍جون ۱۹۳۵ء ہے) کے اہل لاہور ہیں۔ ممکن ہے بعض مرجائیں۔ بعض باہر سفر کو چلے جائیں۔ بعض باہر سے لاہور میں آجائیں۔ بعض ابھی پیدا ہوں گے۔

پس ثابت ہوا کہ کلام ہمیں خود مجبور کر رہی ہے کہ اہل الکتاب سے وہ لوگ مراد ہیں۔ جو حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے نزول کے وقت موجود ہوں گے اور وہ بھی تمام کے تمام نہیں بلکہ جو موت اور قتل سے بچ جائیں گے۔ وہ ضرور حضرت عیسیٰ علیہ السلام پر ایمان لے آئیں گے۔ ہاں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی موت کے بعد کوئی اہل الکتاب نہیں رہے گا۔ سوائے اہل اسلام کے۔

جواب نمبر:۲… دوسرے اعتراض میں مرزاقادیانی نے (گستاخی معاف) بہت دجل وفریب سے کام لیا ہے۔ لکھتے ہیں: ’’بعض لوگ دبی زبان سے کہتے ہیں کہ اہل کتاب سے وہ لوگ مراد ہیں جو مسیح کے دوبارہ آنے کے وقت دنیا میں موجود ہوں گے۔‘‘

(ازالہ اوہام ص۳۶۸، خزائن ج۳ ص۲۸۹)

اجی کیوں جھوٹ بولتے ہو۔ جن کے پاس قرآن کی گواہی، حدیث رسول اللہﷺ کی شہادت، صحابہؓ کی تائید اور مجددین امت کا متفقہ فیصلہ ہو۔ وہ بھلا دبی زبان سے کہے گا؟ یہ محض آپ کی چالاکی ہے۔ جس کے متعلق رسول پاکﷺ نے پہلے سے پیش گوئی فرمائی ہوئی ہے۔ دجالون، کذابون یعنی بہت سے فریب بنانے والے اور بہت جھوٹ بولنے والے ہوں گے۔ پھر مرزاقادیانی لکھتے ہیں کہ: ’’آیت تعمیم کا فائدہ دے رہی ہے۔ یعنی اہل کتاب کے لفظ سے مراد تمام وہ لوگ مراد ہیں جو حضرت مسیح علیہ السلام کے وقت میں یا ان کے بعد برابر ہوتے رہے ہیں۔‘‘

کیوں مرزاقادیانی! جناب نے تعمیم کا لفظ استعمال کر کے پھر اہل کتاب کو ’’حضرت مسیح علیہ السلام کے وقت میں اور بعد میں‘‘ کے ساتھ کیوں مقید ومحدود کر دیا۔ اگر آپ کے قول کے مطابق آیت تعمیم کا فائدہ دے رہی ہے۔ یعنی سارے اہل کتاب اس سے مراد ہیں تو پھر حضرت مسیح علیہ السلام سے پہلے کے اہل کتاب کیوں شمار نہیں ہوں گے؟ جس دلیل سے آپ حضرت مسیح علیہ السلام کی پیدائش سے پہلے کے اہل کتاب کو اس سے الگ کریں گے۔ اسی دلیل سے ہم حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے نزول کے پہلے کے یہودی ونصرانی کو الگ کر دیں گے۔

84

علاوہ ازیں بمطابق ’’دروغ گورا حافظہ نباشد‘‘ خود مرزاقادیانی اگلے ہی فقرہ میں لکھتے ہیں۔ ’’آیت میں ایک بھی ایسا لفظ نہیں جو آیت کو کسی خاص زمانہ سے متعلق اور وابستہ کرتا ہو۔‘‘ باوجود اس کے خود آیت کو ’’حضرت مسیح علیہ السلام کے وقت اور ان کے بعد‘‘ سے وابستہ کر رہے ہیں۔ شاید مرزاقادیانی کے نزدیک زمانے صرف دو ہی ہوتے ہوں۔ زمانہ ماضی، مضی مامضی کا شکار ہوکر رہ گیا ہو۔ جب آیت کی زد میں تمام اہل کتاب آتے ہیں تو حضرت مسیح علیہ السلام سے پہلے کے یہودی کیوں اس میں شامل نہ کئے جائیں۔ مرزاقادیانی ان اہل کتاب کو اس کا مخاطب نہیں سمجھتے۔ جو جواب قادیانی اس سوال کا دیں گے۔ وہی جواب اہل اسلام ان کے اس اعتراض کا دیں گے۔ ناظرین حقیقت یہ ہے کہ قادیانی اعتراضات کلہم جہالت پر مبنی ہیں۔ اگر ان کو علم عربی اور اس کے اصولوں سے ذرا بھی واقفیت ہوتی تو و اللہ ان اعتراضات کا نام بھی نہ لیتے۔

جواب نمبر:۳… جواب نمبر اوّل کی ذیل میں ملاحظہ کریں۔

جواب نمبر:۴… مرزاقادیانی کونہ علم ظاہری نصیب ہوا اور نہ باطنی آنکھیں ہی نصیب ہوئیں۔ موافقت کا نام وہ اختلاف رکھتے ہیں۔ کہتے ہیں اہل اسلام کی تفسیر ماننے سے قرآن میں اختلاف ہوجاتا ہے۔ سبحان اللہ! مرزاقادیانی جیسے بے استاد اور بے پیر سمجھنے والے ہوں تو اختلاف اور تضاد ہی نظر آنا چاہئے۔ باقی رہا ان کا یہ اعتراض کہ یہود اور نصاریٰ کے درمیان بغض اور عناد کا قیامت تک رہنا اس بات کی دلیل ہے کہ یہود اور نصاریٰ دونوں مذاہب قیامت تک زندہ رہیں گے تو اس کا جواب بھی آنکھیں کھول کر پڑھئے۔

اوّل تو یہ سمجھنا چاہئے کہ یہود ونصاریٰ سے مراد دو قومیں ہیں۔ اگر وہ مسلمان بھی ہو جائیں تو بھی ان کے درمیان بغض وعناد کا رہنا کون سا محال ہے؟ کیا اس وقت روئے زمین کے مسلمانوں میں بغض وعناد معدوم ہے؟ کیا تمام مرزائی بالخصوص لاہوری وقادیانی جماعتوں میں بغض وعناد نہیں ہے؟ ہے اور ضرور ہے۔ کیا اس صورت میں وہ اپنے آپ کو مسلمان نہیں سمجھتے۔ دوسرے ’’الیٰ یوم القیامۃ‘‘ سے مراد یقینا طوالت زمانہ ہے اور یہ محاورہ تمام اہل زبان استعمال کرتے ہیں۔ دیکھئے! جب ہم یوں کہیں کہ قادیانی میرے دلائل کا جواب قیامت تک نہیں دے سکیں گے تو مراد اس سے ہمیشہ ہمیشہ ہے۔ یعنی جب تک مرزائی دنیا میں رہیں گے۔ اگرچہ وہ قیامت تک ہی کیوں نہ رہیں۔ میرے دلائل کا جواب نہیں دے سکیں گے۔ اس کا یہ مطلب نہیں کہ مرزائی لوگوں کے قیامت

85

تک رہنے کی میں پیش گوئی کر رہا ہوں۔ یاجب یوں کہا جاتا ہے کہ زید تو قیامت تک اس سوال کا جواب نہیں دے سکتا۔ کون بیوقوف ہے جو اس کا مطلب یہ سمجھے گا کہ کہنے والے کا مطلب یہ ہے کہ زید قیامت تک زندہ رہے گا؟ مطلب صاف ہے کہ جب تک زید زندہ رہے گا وہ اس کا جواب نہیں دے سکتا۔ اسی طرح آیات پیش کردہ کا مطلب ہے۔ آیت اوّل ہے: ’’واغوینا بینہم العداوۃ والبغضاء الیٰ یوم القیامۃ‘‘ اور مطلب اس کا بمطابق محاورہ یہی ہے کہ جب تک بھی یہود ونصاریٰ رہیں گے ان کے درمیان باہمی عداوت اور دشمنی رہے گی۔

آیت ثانی یہ ہے۔ ’’وجاعل الذین اتبعوک فوق الذین کفروا الیٰ یوم القیامۃ‘‘ کا مطلب بھی یہی ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے تابعدار قیامت تک ہمیشہ یہود پر غالب رہیں گے۔

اب غلبہ کئی قسم کا ہے۔ اس کی دو صورتیں بہت ہی اہم ہیں۔

اوّل… یہود کا نصاریٰ ومسلمانوں کا غلام ہوکر رہنا۔ مگر اپنے مذہب پر برابر قائم رہنا۔ یہ صورت اب موجود ہے۔

دوم… یہود کا نہ صرف مسلمانوں اور نصاریٰ کے ماتحت ہی رہنا بلکہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی مخالفت چھوڑ کر ان کا روحانی غلام بھی ہو جانا اور یہی حقیقی ماتحتی اور غلامی ہے۔ اس کا ظہور نزول المسیح کے وقت ہوگا۔ یہی مطلب ہے۔ تمام آیات کلام اللہ کا جس کو مرزاقادیانی اور ان کی قلیل الانفاس جماعت بڑے طمطراق سے سادہ لوح مسلمانوں کو گمراہ کرنے کے لئے پیش کیا کرتے ہیں۔ ہم اپنے اس دعویٰ کے ثبوت میں احادیث نبوی اور خود اقوال مرزا قادیانی سے شہادت پیش کرتے ہیں۔

حدیث نبوی

’’یہلک اللہ فی زمانہ (اے عیسیٰ) الملل کلہا الا الاسلام‘‘ {ہلاک کر دے گا اللہتعالیٰ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے زمانہ میں تمام مذاہب کو سوائے اسلام کے۔}

(رواہ ابوداؤد ج۲ ص۱۳۵، باب خروج الدجال، مسند احمد ج۲ ص۴۰۶، درمنثور ج۲ ص۲۴۲)

روایت کیا اس حدیث کو ابوداؤد، احمد ابن جریر اور صاحب درمنثور نے۔ جن کا منکر مرزاقادیانی کے نزدیک کافر وفاسق ہوجاتا ہے۔

(قادیانی اصول وعقائد نمبر:۴)

اقوال مرزا نمبر:۱

…’’اس پر اتفاق ہوگیا ہے کہ مسیح کے نزول کے وقت اسلام دنیا پر

86

کثرت سے پھیل جائے گا اور ملل باطلہ ہلاک ہو جائیں گے اور راست بازی ترقی کرے گی۔‘‘

(ایام الصلح ص۱۳۶، خزائن ج۱۴ ص۳۸۱)

۲… ’’میرے آنے کے دو مقصد ہیں۔ مسلمانوں کے لئے یہ کہ اصل تقویٰ اور طہارت پر قائم ہو جائیں… جیسا کہ آج کل قادیان میں اس کا ظہور ہورہا ہے۔‘‘

(فیصلہ سیشن جج گورداسپور دربارہ امیر شریعت مولانا سید عطاء اللہ شاہ صاحب ابوعبیدہ)

اور عیسائیوں کے لئے کسر صلیب ہو اور ان کا مصنوعی خدا نظر نہ آئے دنیا اس کو بالکل بھول جائے خدائے واحد کی عبادت ہو۔

(ملفوظات ج۸ ص۱۴۸)

۳… ’’اور پھر اسی ضمن میں (رسول اللہﷺ نے) مسیح موعود کے آنے کی خبر دی اور فرمایا کہ اس کے ہاتھ سے عیسائی دین کا خاتمہ ہوگا۔‘‘

(شہادت القرآن ص۱۱، خزائن ج۶ ص۳۰۷)

۴… ’’ونفخ فی الصور فجمعناہم جمعاً‘‘ خداتعالیٰ کی طرف سے صور پھونکا جائے گا۔ تب ہم تمام فرقوں کو ایک ہی مذہب پر جمع کر دیں گے۔

(شہادۃ القرآن ص۱۵، خزائن ج ص۳۱۱)

۵… ’’ونفخ فی الصور فجمعناہم جمعاً‘‘ یعنی یاجوج ماجوج کے زمانہ میں بڑا تفرقہ اور پھوٹ لوگوں میں پڑ جائے گی اور ایک مذہب دوسرے مذہب پر اور ایک قوم دوسری قوم پر حملہ کرے گی۔ تب ان دنوں خداتعالیٰ اس پھوٹ کو دور کرنے کے لئے آسمان سے بغیر انسانی ہاتھوں کے اور محض آسمانی نشانوں سے اپنے کسی مرسل کے ذریعہ جو صور یعنی قرنا کا حکم رکھتا ہوگا۔ اپنی پرہیبت آواز لوگوں تک پہنچائے گا۔ جس میں ایک بڑی کشش ہوگی اور اس طرح پر خداتعالیٰ تمام متفرق لوگوں کو ایک مذہب پر جمع کر دے گا۔‘‘

(چشمہ معرفت ص۸۰، خزائن ج۲۳ ص۸۸)

۶… ’’خدا نے تکمیل اس فعل کی جو تمام قومیں ایک قوم کی طرح بن جائیں اور ایک ہی مذہب پر ہو جائیں۔ زمانہ محمدی کے آخری حصہ میں ڈال دی جو قرب قیامت کا زمانہ ہے۔‘‘

(چشمہ معرفت ص۸۲،۸۳، خزائن ج۲۳ ص۹۰،۹۱)

۷… ’’خداتعالیٰ نے ہمارے نبی سیدنا حضرت محمد مصطفیﷺ کو دنیا میں بھیجا۔ تابذریعہ اس تعلیم قرآنی کے جو تمام عالم کی طبائع کے لئے مشترک ہے۔ دنیا کی تمام متفرق قوموں کو ایک قوم کی طرح بنا دے اور جیسا کہ وہ وحدہ لا شریک ہے۔ ان میں بھی ایک وحدت پیدا کرے اور تا وہ سب مل کر ایک وجود کی طرح اپنے خدا کو یاد کریں اور اس کی وحدانیت کی گواہی دیں اور تاپہلی وحدت قومی جو ابتدائے آفرینش میں ہوئی اور آخری وحدت اقوامی… یہ دونوں قسم کی وحدتیں خدائے وحدہ لا شریک کے وجود اور اس کی حدانیت پر دوہری شہادت ہو

87

کیونکہ وہ واحد ہے۔‘‘

(چشمہ معرفت ص۸۲، خزائن ج۲۳ ص۹۰)

۸… ’’وحدت اقوامی کی خدمت اسی نائب النبوۃ (مسیح موعود) کے عہد سے وابستہ کی گئی ہے اور اسی کی طرف یہ آیت اشارہ کرتی ہے اور وہ یہ ہے۔ ھو الذی ارسل رسولہ بالہدیٰ ودین الحق لیظہرہ علیٰ الدین کلہ‘‘

(چشمہ معرفت ص۸۳، خزائن ج ص۹۱)

ناظرین! ہم نے احادیث نبوی’’علی صاحبہا الصلوات والسلام‘‘ اور اقوال مرزا سے ثابت کر دیا ہے کہ مسیح علیہ السلام کے وقت میں تمام مذاہب سوائے اسلام کے مٹ جائیں گے۔ اب اگر مرزائی وہی مرغی کی ایک ٹانگ کی رٹ ہی لگائے جائیں تو پھر مذکورہ بالا اقوال مرزاکو تو کم ازکم فضول اور لایعنی کہنا پڑے گا۔ ایسا وہ کہہ نہیں سکتا۔ کیونکہ مرزاقادیانی ان کے نزدیک حکم ہے اور جری اللہ فی حلل الانبیاء ہے۔ پس ثابت ہوا کہ ان کا یہ اعتراض بالکل جہالت پر مبنی ہے۔

جواب نمبر:۵… مرزاقادیانی کا پانچواں اعتراض یہ ہے کہ قرأۃ ابی بن کعب میں ’’قبل موتہ‘‘ کی بجائے ’’قبل موتہم‘‘ آیا ہے۔ جس سے مراد ’’اہل کتاب کی موت سے پہلے‘‘ ہے نہ کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی موت سے پہلے۔ مرزاقادیانی کے دجل وفریب کی قلعی ذیل میں یوں کھولی جاتی ہے۔

۱… یہ روایت ضعیف ہے اور اس کے ضعیف ٹھہرانے والا وہ بزرگ ہے۔ جو مرزاقادیانی کے نزدیک نہایت معتبر اور آئمہ حدیث میں سے ہے۔ (یعنی مفسر ومحدث ابن جریر)

(چشمہ معرفت ص۲۵۰ حاشیہ، خزائن ج۲۳ ص۲۶۱)

نیز اسی مفسر ابن جریر کے متعلق مرزاقادیانی کے مسلمہ مجدد صدی نہم امام جلال الدین سیوطیؒ کا فتویٰ ہے۔اجمع العلماء المعتبرون علیٰ انہ لم یؤلف فی التفسیر مثلہ‘‘

(اتقان ج۲ ص۳۲۵)

’’معتبر علماء امت کا اجماع ہے۔ اس بات پر کہ امام ابن جریر کی تفسیر کی مثل کوئی تفسیر نہیں لکھی گئی۔‘‘

اس روایت کو ضعیف ٹھہرا کر مفسر ابن جریر نے صحیح سند سے روایت کیا ہے کہ ابن عباسؓ کا مذہب بھی یہی ہے کہ ’’قبل موتہ‘‘ سے مراد ’’حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی موت سے پہلے‘‘ہے۔ نہ کہ کتابی کی موت۔

(تفسیر ابن جریر)

۲… خود مرزاقادیانی نے ’’موتہ‘‘ کی ضمیر کا حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی طرف راجع ہونا تسلیم کیا ہے۔ (ازالہ اوہام ص۳۷۲،۳۸۶، خزائن ج۳ ص۲۹۱،۲۹۹) ہاں کلام اللہ کے الفاظ کو نعوذ ب اللہ

88

ناکافی بتلا کر ایسے ایسے مخدوفات نکالے ہیں کہ تحریف میں یہودیوں سے بھی گوئے سبقت لے گیا ہے۔ بہرحال ہمارا دعویٰ سچا رہا کہ ’’ہ‘‘ کی ضمیر کا مرجع حضرت عیسیٰ علیہ السلام ہے۔

۳… نورالدین خلیفۂ اوّل مرزاقادیانی اپنی کتاب فصل الخطاب حصہ دوم ص۷۲ میں اسی آیت کا ترجمہ یوں کرتے ہیں۔ ’’اور نہیں کوئی اہل کتاب سے مگر البتہ ایمان لائے گا۔ ساتھ اس کے (حضرت مسیح علیہ السلام کے) پہلے موت اس کی (حضرت عیسیٰ علیہ السلام) کے اور دن قیامت کے ہوگا اوپر ان کے گواہ۔‘‘ اس سے بھی ظاہر ہے کہ مرزاقادیانی کا دعویٰ بے ثبوت ہے۔ کیونکہ ہم نے اس کے خلاف اس کے اپنے مسلمات اور معتبر آئمہ تفسیر کے اقوال پیش کئے ہیں۔

۴… جمہور علماء اسلام ہمیشہ ’’قبل موتہ‘‘ سے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی حیات پر استدلال کرتے رہے ہیں۔ جیسا کہ سابق میں ہم بیان کر آئے ہیں۔

۵… بخاری شریف کی صحیح حدیث اس روایت کی تردید کر رہی ہے۔ جیسا کہ پہلے ہم بیان کر آئے ہیں۔

۶… اگر ’’قبل موتہ‘‘ کی ضمیر کتابی کی طرف پھیری جائے تو پھر معنی آیت کے یہ ہوں گے۔ ’’تمام اہل کتاب اپنی موت سے پہلے ایمان لے آئیں گے۔‘‘ حالانکہ ہم دیکھتے ہیں کروڑہا اہل کتاب کفر پر مر رہے ہیں۔

چنانچہ خود مرزاقادیانی لکھتے ہیں: ’’ہر ایک شخص خوب جانتا ہے کہ بے شمار اہل کتاب مسیح کی نبوت سے کافر رہ کر واصل جہنم ہو چکے ہیں۔‘‘

(ازالہ اوہام ص۳۶۷، خزائن ج۳ ص۲۸۸)

پس مجبوراً ماننا پڑتا ہے کہ قبل موتہ سے مراد ’’حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی موت سے پہلے‘‘ ہے۔

۷… ’’لیؤمنن‘‘ میں لام قسم اور نون ثقلیہ موجود ہے۔ جو ہمیشہ فعل کو آئندہ زمانہ سے خاص کر دیتے ہیں۔ پس معنی اس کے یہ ہوں گے۔ ’’البتہ ضرور ایمان لے آئے گا۔‘‘ اگر ہر کتابی کا اپنی موت سے پہلے ایمان مقصود ہوتا تو پھر عبارت یوں چاہئے تھی۔

’’من یؤمن بہ قبل موتہ‘‘ جس کے معنی قادیانیوں کے حسب منشاء ٹھیک بیٹھتے ہیں۔ یعنی ہر ایک اہل کتاب ایمان لے آتا ہے۔ اپنی موت سے پہلے۔ اگر قادیانی ہمیں اس قانون کا غلط ہونا ثابت کردیں تو ہم علاوہ مقررہ انعام کے مبلغ دس روپے اور انعام دیں گے۔ انشاء اللہ قیامت تک کسی معتبر کتاب سے اس کے خلاف نہ دکھا سکیں گے۔

۸… آیت کا آخری حصہ ’’ویوم القیامۃ یکون علیہم شہیدا‘‘ {اور قیامت کے دن حضرت عیسیٰ علیہ السلام ان پر شہادت دیں گے۔} قادیانی بھی اس حصہ آیت کے معنی کرنے

89

میں ہم سے متفق ہیں۔ اب سوال پیدا ہوتا ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام یہود ونصاریٰ کے کس حال کی گواہی دیں گے۔ اگر آیت کے معنی قادیانی تفسیر کے مطابق کریں۔ یعنی یہ کہ ’’تمام اہل کتاب اپنی موت سے پہلے ایمان لے آتے ہیں۔‘‘ تو وہ ہمیں بتلائیں کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کیسے شہادت دیں گے اور کیا دیں گے؟ ہاں اگر اسلامی تفسیر کے مطابق مطلب بیان کیا جائے یعنی حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے نزول کے زمانہ میں تمام یہود ایمان لے آئیں گے اور کوئی منکر ان کی موت کے بعد باقی نہ رہے گا تو پھر واقعی قیامت کے دن حضرت عیسیٰ علیہ السلام ان کے ایمان لانے کی شہادت دے سکیں گے۔ اسی طرح حضرت عیسیٰ علیہ السلام قیامت کے دن عرض کریں گے۔ ’’کنت علیہم شہیداً مادمت فیہم‘‘ جب تک میں ان میں موجود رہا میں ان پر نگہبان تھا۔

۹… ’’قبل موتہ‘‘ میں ’’قبل‘‘ کا لفظ بڑا ہی قابل غور ہے۔ یہ تو ظاہر ہے کہ اہل کتاب اپنی موت سے پہلے حضرت عیسیٰ علیہ السلام پر ایمان نہیں لاتے۔ بعض علماء کا خیال ہے اور انہیں میں مرزاغلام احمد قادیانی بھی ہے کہ اس ایمان سے مراد ایمان اضطراری ہے جو غرغرہ (نزع) کے وقت ہر ایک کتابی کو حاصل ہوتا ہے۔ یہ دو وجہوں سے باطل ہے۔ اگر ایمان اضطراری مراد ہوتا تو اللہتعالیٰ اپنی فصیح وبلیغ کلام میں ’’قبل‘‘ کی بجائے ’’عند موتہ‘‘ فرماتے۔ یعنی موت کے وقت ایمان لاتے ہیں اور وہ ایمان واقعی قابل قبول نہیں ہوتا۔ لیکن جس ایمان کا اللہتعالیٰ بیان فرمارہے ہیں۔ وہ ایمان اہل کتاب کو اپنی موت سے پہلے حاصل ہونا ضروری ہے۔ مگر وہ واقعات کے خلاف ہے۔ لہٰذا یہی معنی صحیح ہوں گے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے نزول کے وقت تمام اہل کتاب ان پر ایمان لے آئیں گے۔

۱۰… مرزاغلام احمد قادیانی کی مضحکہ خیز تفسیر سے بھی ہم اپنے ناظرین کو محظوظ کرنا چاہتے ہیں۔ مرزاقادیانی لکھتے ہیں کہ: ’’کوئی اہل کتاب میں سے ایسا نہیں جو ہمارے اس بیان مذکورہ بالا پر جو ہم نے (خدا نے) اہل کتاب کے خیالات کی نسبت ظاہر کئے ہیں۔ ایمان نہ رکھتا ہو۔

قبل اس کے جو وہ اس حقیقت پر ایمان لائے جو مسیح اپنی طبعی موت سے مر گیا۔‘‘ یعنی تمام یہودی اور عیسائی اس بات پر ایمان رکھتے ہیں کہ فی الحقیقت انہوں نے مسیح کو صلیب نہیں دیا یہ ہمارا ایک اعجازی بیان ہے۔

(ازالہ اوہام طبع اوّل ص۳۷۲،۳۷۶، خزائن ج۳ ص۲۹۱،۲۹۳)

مجھے یقین ہے کہ ناظرین اوّل تو مرزاقادیانی کی پیچیدہ عبارت کا مطلب ہی نا سمجھ سکیں اور اگر سمجھ جائیں تو سوچیں کہ یہ عبارت کلام اللہ کے کون سے الفاظ کا ترجمہ ہے۔

90

چیلنج

مرزاقادیانی اپنی کتاب (شہادۃ القرآن ص۵۴،۵۵،خزائن ج۶ ص۳۵۰،۳۵۱) پر صاف اقرار کرتے ہیں کہ ’’کلام اللہ کا صحیح مفہوم ہمیشہ دنیا میں موجود رہا اور رہے گا۔‘‘

نیز مرزاقادیانی لکھتے ہیں:’’انا نحن نزلنا الذکر وانا لہ لحافظون‘‘ خداتعالیٰ نے اپنے کلام کی حفاظت ایسے آئمہ واکابر کے ذریعہ سے کی ہے جن کو ہر ایک صدی میں فہم القرآن عطاء ہوتا ہے۔

(ایام الصلح ص۵۵، خزائن ج۱۴ ص۲۸۸)

ہمارا چیلنج یہ ہے کہ اگر مرزاقادیانی میں کچھ بھی صداقت کا شائبہ ہے تو وہ یا ان کی جماعت اس آیت کی یہ تفسیر حدیث سے یا ۱۳۵۳ھ سال کے مجددین امت وعلماء مفسرین کے اقوال سے پیش کریں۔ ورنہ بمطابق’’من قال فی القرآن بغیر علم فلیتبؤا مقعدہ من النار‘‘ (ترمذی ج۲ ص۱۲۳، باب ماجاء فی الذی یفسر القرآن) یعنی فرمایا رسول کریمﷺ نے کہ جس کسی نے اپنی رائے سے تفسیر کی۔ اس نے اپنا ٹھکانہ جہنم میں بنالیا۔

خود مرزاقادیانی تفسیر بالرائے کے متعلق لکھتے ہیں: ’’مؤمن کا یہ کام نہیں کہ تفسیر بالرائے کرے۔‘‘

(ازالہ اوہام ص۳۲۸، خزائن ج۳ ص۲۶۷)

پھر فرماتے ہیں: ’’ایک نئے معنی اپنی طرف سے گھڑنا یہی تو الحاد اور تحریف ہے۔ خدا مسلمانوں کو اس سے بچائے۔‘‘

(ازالہ اوہام ص۷۴۵، خزائن ج۳ ص۵۰۱)

پس یا تو مرزائی جماعت مرزاقادیانی کے بیان کردہ معنی کسی سابق مجدد یا مفسر امت کی کتاب سے ثابت کرے یا مرزاقادیانی کا اور اپنا ملحد اور محرف ہونا تسلیم کرے۔

قرآنی دلیل نمبر:۵

…’’وانہ لعلم للساعۃ فلا تمترن بہا (الزخرف:۶۱)‘‘ معزز ناظرین! مذکورہ بالا آیت بھی دیگر آیات کی طرح حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے رفع جسمانی پر ببانگ دہل اعلان کر رہی ہے۔ ہم اپنی طرف سے کچھ کہنا نہیں چاہتے۔ بلکہ جیسا کہ ہمارا اصول ہے۔ اس آیت کی تفسیر بھی ہم مرزاغلام احمد قادیانی اور اس کی جماعت کے مسلمات ہی سے پیش کریں گے۔تا کہ ان کے لئے کوئی جگہ بھاگنے کی نہ رہے۔

۱…تفسیر بالقرآن

۱… ہم پہلی آیات سے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا رفع جسمانی اور نزول جسمانی قرب قیامت میں ثابت کر آئے ہیں۔ پس ان آیات کی روشنی میں ہم کہہ سکتے ہیں اور بالیقین کہہ سکتے ہیں کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام (قرب) قیامت کے لئے ایک نشانی ہے۔ ’’انہ‘‘ میں ’’ہ‘‘ کی ضمیرکو بعض نے قرآن کریم کی طرف پھیرا ہے۔ مگر یہ بہت ہی بڑی بے انصافی ہے۔ (اس کی

91

تائید میں ملاحظہ ہو قول ابن کثیر مجدد صدی ششم فہویأتی) آخر ضمیر کا مرجع معلوم کرنے کا بھی کوئی قانون ہے یا نہیں۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا ذکر ہورہا ہے اور ان کی خوبیاں بیان ہورہی ہیں۔ انہیں میں سے ایک یہ خوبی ہے کہ ان کی ذات شریف ہر لحاظ سے قیامت کے پہچاننے کی نشانی ہے۔ تفصیل اس کی یوں ہے۔

ان کی پیدائش بے باپ محض کلمہ ’’کن‘‘ سے اور ان کے معجزات ’’احیاء موتی او خلق طیرو غیرہا‘‘ خدا کی قدرت احیاء موتیٰ کا عملی ثبوت ہو کر وقوع قیامت پر دلالت قطعیہ پیش کرتا ہے اور ان کا اس وقت تک زندہ رہ کر دوبارہ آنا خدا کی طرف سے لوگوں کی راہنمائی کے لئے قرب قیامت کی علامت ہے۔

۲…تفسیر آیت از حدیث

’’حضرت عبد اللہ بن مسعودؓ سے سنن ابن ماجہ میں موقوفاً اور مسند امام احمد میں مرفوعاً مروی ہے کہ جس رات رسول کریمﷺ کو معراج ہوئی اس رات آپ حضرت ابراہیم علیہ السلام وموسیٰ علیہ السلام وعیسیٰ علیہ السلام سے ملے تو قیامت کے متعلق تذکرہ ہوا اور حضرت ابراہیم علیہ السلام سے سوال شروع ہوا تو ان کو قیامت کا کوئی علم نہ تھا۔ (کہ کب ہوگی) پھر موسیٰ علیہ السلام سے سوال ہوا تو ان کو بھی اس کا کوئی علم نہ تھا۔ پس حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی نوبت آئی۔ تو آپ نے کہا کہ قیامت کے وقوع کا علم تو سوائے خدا کے کسی کو نہیں۔ لیکن خداتعالیٰ نے مجھے قیامت کے نزدیک کا عہد کیا ہوا ہے۔ پس آپ نے دجال کا بھی ذکر کیا اور کہا کہ میں نازل ہوں گا تو اس کو قتل کروں گا۔‘‘

دیکھو مسند احمد ج۱ ص۳۷۵، ابن ماجہ ص۲۹۹، باب فتنۃ الدجال وخروج عیسیٰ بن مریم، ابن جریر، حاکم وبیہقی، بحوالہ درمنثور اور بھی بہت سی احادیث اس کی تائید میں وارد ہیں۔ جن میں سے کچھ پہلے بیان ہوچکی ہیں اور بقیہ ’’حیات عیسیٰ از احادیث‘‘ کے ذیل میں بیان کی جائیں گی۔

۳…تفسیر از صحابہ کرام وتابعین عظام

حضرت ابن عباسؓ کی تفسیر ’’عن ابن عباسؓ فی قولہ وانہ لعلم للساعۃ قال خروج عیسیٰ علیہ السلام قبل یوم القیامۃ (درمنثور ج۶ ص۲۰)‘‘ حضرت ابن عباسؓ ’’وانہ لعلم للساعۃ‘‘ کی تفسیر میں فرماتے ہیں کہ اس سے مراد حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا ’’قیامۃ‘‘ سے پہلے تشریف لانا ہے۔

92

ب… حضرت ابوہریرہؓ کی تفسیر ’’عن ابی ہریرہؓ وانہ لعلم للساعۃ قال خروج عیسیٰ علیہ السلام یمکث فی الارض اربعین سنۃ… یحج ویعتمر (درمنثور ج۶ ص۲۰)‘‘ حضرت ابوہریرہؓ سے روایت ہے کہ: ’’وانہ لعلم للساعۃ‘‘ سے مراد حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا نزول ہے۔ وہ زمین میں ۴۰ سال رہیں گے… حج کریں گے اور عمرہ بھی کریں گے۔

ج… ’’عن مجاہدؓ وانہ لعلم للساعۃ قال آیۃ للساعۃ خروج عیسیٰ علیہ السلام ابن مریم قبل یوم القیامۃ (درمنثور ج۶ ص۲۰)‘‘ حضرت مجاہدؓ جو شاگرد ہیں حضرت ابن عباسؓ کے۔ وہ بھی اس آیت میں فرماتے ہیں کہ اس کا مطلب یہ ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا آنا قیامت سے پہلے قیامت کے لئے ایک نشان ہے۔

د… ’’عن الحسنؓ وانہ لعلم للساعۃ قال نزول عیسیٰ علیہ السلام (درمنثور ج۶ ص۲۰)‘‘ حضرت امام حسنؓ مجددین امت واولیاء امت کے سرتاج فرماتے ہیں کہ مراد اس آیت سے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا نزول ہے۔

۴…تفسیر از مجددین امت محمدیہ

۱… امام حافظ ابن کثیرؒ اپنی تفسیر میں بذیل آیت کریمہ فرماتے ہیں: ’’وقولہ سبحانہ وتعالیٰ وانہ لعلم للساعۃ تقدم تفسیر ابن اسحاق ان المراد من ذالک ما یبعث بہ عیسیٰ علیہ السلام من احیاء الموتیٰ وابراء الاکمہ والابرص وغیر ذالک من الاسقام وفی ہذا نظر وابعد منہ ماحکاہ قتادہ عن الحسن البصری وسعید ابن جبیر ان الضمیر فی انہ عائد الی القرآن بل الصحیح انہ عائد الیٰ عیسیٰ علیہ السلام فان السیاق فی ذکرہ ثم المراد بذالک نزولہ قبل یوم القیامہ کما قال تبارک وتعالیٰ وان من اہل الکتاب الا لیؤمنن بہ قبل موتہ ای قبل موت عیسیٰ علیہ السلام ثم یوم القیامۃ یکون علیہم شہیدا ویؤید ہذا المعنی القرأۃ الاخریٰ وانہ لعلم للساعۃ ای امارۃ ودلیل علی وقوع الساعۃ قال مجاہد وانہ لعلم للساعۃ ای آیۃ للساعۃ خروج عیسیٰ ابن مریم علیہ السلام قبل یوم القیامۃ وہکذا روی عن ابی ہریرہ وابن عباس وابی العالیہ وابی مالک وعکرمہ والحسن وقتادہ والضحاک وغیرہم وقد تواترت الاحادیث عن رسول اللہﷺ انہ اخبر بنزول عیسیٰ علیہ السلام قبل یوم القیامۃ اماماً عادلاً وحکماً مقسطاً‘‘ اللہتعالیٰ کے قول ’’وانہ لعلم للساعۃ‘‘ کے متعلق ابن اسحاق

93

کی تفسیر گذر چکی ہے کہ مراد اس سے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے معجزات مثل مردوں کا زندہ کرنا، کوڑھوں اور برص والوں کو تندرست کرنا اور علاوہ اس کے دیگر امراض سے شفا دینا ہے۔ اس میں اعتراض اور اس سے زیادہ ناقابل قبول وہ ہے جو قتادہ نے حسن بصری ، سعید ابن جبیر سے بیان کیا ہے کہ انہ کی ضمیر قرآن کریم کی طرف راجع ہے۔ بلکہ صحیح یہ ہے کہ ’’انہ‘‘ کی ضمیر حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی طرف راجع ہے۔ کیونکہ سیاق وسباق انہیں کے ذکر میں ہے۔ پس مراد اس سے ان کا قیامت سے پہلے نازل ہونا ہے۔ جیسا کہ اللہتعالیٰ نے ’’وان من اہل الکتاب الا لیؤمنن بہ قبل موتہ‘‘ فرمایا ہے۔ یعنی عیسیٰ علیہ السلام کی موت سے پہلے… اور ان معنوں کی دوسری قرأت تائید کرتی ہے جو یہ ہے۔ ’’وانہ لعلم للساعۃ‘‘ یعنی عیسیٰ علیہ السلام نشانی ہے اور دلیل ہے۔ قیامت کے واقع ہونے پر۔ مجاہد کہتے ہیں کہ اس کے معنی ہیں۔ ’’قیامت سے پہلے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا آنا قیامت کی نشانی ہیں۔‘‘ اسی طرح ابوہریرہؓ، ابن عباسؓ، ابوعالیہؓ، ابومالکؓ، عکرمہؓ، حسنؓ، قتادہؓ، ضحاکؓ وغیرہم بزرگان دین سے روایت ہے۔ حدیثیں رسول کریمﷺ سے حد تواتر تک پہنچ چکی ہیں کہ رسول کریمﷺ نے قیامت سے پہلے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے امام عادل، حاکم اور منصف کی حالت میں نازل ہونے کی خبر دی ہے۔

۵…تفسیر آیت از امام فخرالدین رازیؒ مجدد صدی ششم

۱… ’’وان عیسیٰ علیہ السلام (لعلم للساعۃ) شرط من اشراطہا تعلم بہ فسمی الشرط الدال علی الشیٔ علما لحصول العلم بہ وقرأ ابن عباس لعلم وھو العلامۃ… وفی الحدیث ان عیسیٰ علیہ السلام ینزل علیٰ ثنیۃ فی الارض المقدسۃ یقال لہا افیق وبیدہ حربۃ وبہا یقتل الدجال فیأتی بیت المقدس فی الصلوٰہ الصبح والامام یؤم بہم فیتأخر الامام فیقدمہ عیسیٰ علیہ السلام ویصلی خلفہ علیٰ شریعۃ محمدﷺ‘‘

(تفسیر کبیر ج۲۷ ص۲۲۲، بذیل آیت کریمہ)

’’عیسیٰ علیہ السلام قیامت معلوم کرنے کی شرطوں میں سے ایک شرط ہے… ابن عباسؓ نے اس کو ’’لعلم للساعۃ‘‘ پڑھا ہے۔ جس کے معنی نشانی کے ہیں… اور حدیث میں ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام ارض مقدس میں افیق کے مقام پر نازل ہوں گے۔ ان کے ہاتھ میں ایک حربہ ہوگا اور اس سے دجال کو قتل کریں گے۔ پس وہ بیت المقدس میں آئیں گے۔ درآنحالیکہ لوگ صبح کی نماز میں ہوں گے اور امام ان کو نماز پڑھا رہا ہوگا۔

94

پس وہ پیچھے ہٹیں گے۔ پس عیسیٰ علیہ السلام ان کو آگے کر دیں گے اور ان کے پیچھے نماز ادا کریں گے۔ اسلامی طریقہ سے۔‘‘

تفسیر از امام لغت صاحب لسان العرب

’’وفی التنزیل فی صفۃ عیسیٰ صلوات اللہ علیٰ نبینا وعلیہ (وانہ لعلم للساعۃ) وھی قرأۃ اکثر القراء وقراء بعضہم (انہ لعلم للساعۃ) والمعنی ان ظہور عیسیٰ علیہ السلام ونزولہ الیٰ الارض علامۃ تدل علیٰ اقتراب الساعۃ (لسان العرب ج۹ ص۳۷۲، بحرف علم)‘‘ قرآن شریف میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی صفت میں آیا ہے۔ ’’انہ لعلم للساعۃ‘‘ اور یہ اکثر قاریوں کی قرأت ہے اور ان میں سے بعض نے اس کو ’’لعلم للساعۃ‘‘ بھی پڑھا ہے۔ جس کے معنی ہیں۔ عیسیٰ علیہ السلام کا ظہور اور ان کا نازل ہونا زمین کی طرف ایسا نشان ہے جو قیامت کے نزدیک ہونے پر دلالت کرے گا۔

لسان العرب کی عظمت واہمیت معلوم کرنا ہوتو مرزامحمود احمد قادیانی کا بیان ذیل ملاحظہ کریں۔ ’’پس ان لغات (لغت کی چھوٹی چھوٹی کتب) کا اس معاملہ میں کوئی اعتبار نہیں۔ بلکہ اعتبار انہیں لغات کا ہوگا۔ جو بڑی ہیں اور جن میں تفصیل سے معنی بتائے جاتے ہیں اور عربی کی سب سے بڑی لغت تاج العروس ہے اور دوسرے نمبر پر لسان العرب ہے۔‘‘

(حقیقت النبوۃ ص۱۱۵، ۱۱۶ حاشیہ)

معزز ناظرین! ہم نے اپنی تائید میں مندرجہ زیل بزرگ ہستیوں کے بیانات پیش کئے ہیں۔

۱… اللہ تبارک وتعالیٰ۔

۲… حضرت سید المرسلین محمد مصطفیﷺ۔

۳… حضرات صحابہ کرام بالخصوص حضرت ابن عباسؓ۔

۴… امام احمد، مجدد صدی دوم۔

۵… امام ابن جریرؒ۔

۶… امام حاکم نیشاپوری، مجدد صدی چہارم۔

۷… امام بیہقی مجدد صدی چہارم۔

۸… صاحب درمنثور امام جلال الدین سیوطی مجدد صدی نہم۔

۹… امام ابن کثیر مجدد صدی ششم۔

95

۱۰… امام فخر الدین رازی مجدد صدی ششم۔ ’’تلک عشرۃ کاملۃ‘‘

یہ وہ اصحاب ہیں کہ حسب فتویٰ مرزاقادیانی ان افراد کے فیصلہ سے انحراف کرنے پر فوراً دائرہ اسلام سے خارج ہوکر مرتد، ملحد اور فاسق ہو جائیں گے۔ دیکھو قادیانی اصول وعقائد مندرجہ تمہید۔

قادیانی جماعت ذرا ہوش سے ہمارے دلائل پر غور کرے۔ اگر خلوص سے کام لیں گے تو انشاء اللہ حق کا قبول کرنا آسان ہو جائے گا۔

اب ہم قادیانی اعتراضات پیش کرتے ہیں۔ جو فی الواقع ہم پر نہیں بلکہ مذکورۃ الصدر بزرگ ہستیوں پر وارد کر کے اس بات کا اعلان کرنا ہے کہ قادیانی خدا کو مانتے ہیں نہ رسول کو۔ صحابہ کرامؓ کو مانتے ہیں نہ مجددین امت کو۔ یوں ہی ٹٹی کی آڑ میں شکار کھیلنے کے لئے کہہ دیتے ہیں کہ ہم ان سب کا ماننا اور مطیع رہنا اپنے ایمان کا جزو قرار دیتے ہیں۔

اعتراض نمبر:۱… از مرزاغلام احمد قادیانی ’’حق بات یہ ہے کہ ’’انہ‘‘ کا ضمیر قرآن شریف کی طرف پھرتا ہے اور آیت کے یہ معنی ہیں کہ قرآن شریف مردوں کے جی اٹھنے کے لئے نشان ہے۔ کیونکہ اس سے مردہ دل زندہ ہوتے ہیں۔‘‘

(ازالہ اوہام ص۴۲۴، خزائن ج۳ ص۳۲۲)

مرزاقادیانی نے کوئی دلیل ’’انہ‘‘ کی ضمیر کو قرآن شریف کے لئے متعین کرنے کے حق میں بیان نہیں کی۔ سوائے اس کے کہ ’’ہ‘‘ کی ضمیر عیسیٰ علیہ السلام کے لئے ماننے سے مرزاقادیانی کی مسیحیت معرض ہلاکت میں آجاتی ہے۔ اگر ہم ثابت کر دیں کہ ’’انہ‘‘ کی ضمیر قرآن کریم کی طرف راجع نہیں بلکہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی طرف پھرتی ہے تو مرزاقادیانی کی یہ ’’حق بات ہے‘‘ کی حقیقت الم نشرح ہوکر رہ جائے گی۔ سنئے!

جواب نمبر:۱… سیاق وسباق میں بحث صرف حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی ہستی سے ہے نہ قرآن کریم سے۔ پس جس کا ذکر ہی نہیں۔ اس کی طرف خواہ مخواہ ضمیر کو پھیرنا اگر سکھا شاہی نہیں تو اور کیا ہے۔

۲… ہم نے قادیانی مسلمات کی رو سے ثابت کر دیا ہے کہ ’’انہ‘‘ سے مراد حضرت مسیح علیہ السلام کا نزول ہے۔ اگر مرزاقادیانی اس کا انکار کریں گے تو حسب فتویٰ خود کافر وفاسق ہو جائیںگے۔

۳… حضرت ابن عباسؓ ’’انہ‘‘ کی ضمیر کو حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی طرف پھیرتے ہیں۔ جن کے متعلق مرزاقادیانی کا ارشاد ہے۔ ’’ناظرین پر واضح ہوگا کہ حضرت ابن عباسؓ قرآن

96

کریم کے سمجھنے میں اوّل نمبر والوں میں سے ہیں اور اس بارہ میں ان کے حق میں آنحضرتﷺ کی ایک دعا بھی ہے۔‘‘

(ازالہ اوہام ص۲۴۷، خزائن ج۳ ص۲۲۵)

اب کس کا منہ ہے جو حضرت ابن عباسؓ جیسی عظیم الشان ہستی کا فیصلہ رد کرے۔

۴… مرزاقادیانی یا ان کی جماعت اپنی تائید میں اور ہماری مخالفت میں ۸۶گذشتہ مجددین مسلمہ قادیانی میں سے کسی ایک کو بھی پیش نہیں کر سکتے۔

۵… خود مرزاقادیانی نے ’’انہ‘‘ کی ضمیرکو حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی طرف راجع ہونا قبول کیا ہے۔

(حمامتہ البشریٰ ص۹۰، خزائن ج۷ ص۳۱۶)

۶… خود مرزاقادیانی کے مرید ’’انہ‘‘ کی ضمیر کے قرآن کی طرف پھیرنے سے منکر ہیں۔ چنانچہ سرور شاہ قادیانی ضمیمہ اخبار بدر قادیان مورخہ ۶؍اپریل ۱۹۱۱ء میں لکھتے ہیں۔ ’’ہمارے نزدیک تو اس کے آسان معنی یہ ہیں کہ وہ (مثیل مسیح) ساعت کا علم ہے۔‘‘

نوٹ: قادیانی سرور شاہ کا مبلغ علم اسی بات سے اظہر من الشمس ہوا جاتا ہے کہ مسیح کے ساتھ مثیل کی دم اپنی طرف سے بڑھا دی ہے۔ اگر ایسا کرنا جائز قرار دیا جائے تو قرآن شریف کی تفسیر ہر ایک آدمی اپنے حسب منشاء کر سکتا ہے۔ مثلاً جہاں رسول کریمﷺ کا اسم مبارک ہے۔ وہاں بھی کہہ دیا جائے کہ اس سے مثیل محمد مراد ہیں جو قادیانیوں کے نزدیک (نعوذ ب اللہ) مرزاقادیانی ہیں۔

۷…مرزاقادیانی کے بڑے فرشتہ احسن امروہی مرزاقادیانی کی تردید میں یوں فرماتے ہیں:

الف… ’’دوستو! یہ آیت ’’وانہ لعلم للساعۃ‘‘ سورۃٔ زخرف میں ہے اور بالاتفاق تمام مفسرین کے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے دوبارہ آنے کے واسطے ہے۔ اس میں کسی کو اختلاف نہیں۔‘‘

(اخبار الحکم مورخہ ۲۸؍فروری ۱۹۰۹ء)

ب… ’’آیت دوم میں تسلیم کیا کہ ضمیر ’’انہ‘‘ کی طرف قرآن شریف یا آنحضرتﷺ کے راجع نہیں۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام ہی کی طرف راجع ہے۔‘‘

(اعلام الناس حصہ دوم ص۵)

اعتراض نمبر:۲… ازمرزاقادیانی ’’ظاہر ہے کہ خداتعالیٰ اس آیت کو پیش کر کے قیامت کے منکرین کوملزم کرنا چاہتا ہے کہ تم اس نشان کو دیکھ کر پھر مردوں کے جی اٹھنے سے کیوں شک میں پڑے ہو… اگر خداتعالیٰ کا اس آیت میں یہ مطلب ہے کہ جب حضرت مسیح آسمان سے نازل ہوں گے تب ان کا آسمان سے نازل ہونا مردوں کے جی اٹھنے کے لئے بطور دلیل یا علامت کے ہوگا۔ تو پھر اس دلیل کے ظہور سے پہلے خداتعالیٰ لوگوں کو کیوںکر ملزم سکتا ہے۔ کیااس طرح اتمام حجت ہوسکتا ہے؟ کہ دلیل تو

97

ابھی ظاہر نہیں ہوئی اور کوئی نام ونشان اس کا پیدا نہیں ہوا اور پہلے سے ہی منکرین کو کہا جاتا ہے کہ اب بھی تم کیوں یقین نہیں کرتے۔ کیا ان کی طرف سے یہ عذر صحیح طور پر نہیں ہوسکتا کہ یا الٰہی ابھی دلیل یا نشان قیامت کا کہاں ظہور میں آیا۔ جس کی وجہ سے ’’فلا تمترن بہا‘‘ کی دھمکی ہمیں دی جاتی ہے۔‘‘

(ازالہ اوہام ص۴۲۳، خزائن ج۳ ص۳۲۱،۳۲۲)

جواب… مرزاقادیانی کا یہ اعتراض ناشی ازجہالت ہے۔ اپنی کم علمی سے ’’وانہ لعلم للساعۃ‘‘ کو ’’فلا تمترن بہا‘‘ کے لئے دلیل ٹھہرا لیا اور پھر اس دلیل کے غلط ہونے پر منطقی بحث شروع کر دی۔

کاش! مرزاقادیانی نے تفسیر اتقان اپنے مسلمہ مجدد صدی نہم امام جلال الدین سیوطیؒ کی کتاب ہی میں کلمہ ’’ف‘‘ کی بحث پڑھ لی ہوتی۔ پھر یقینا ایسا مجہول اعتراض نہ کرتے۔ اس کا جواب ہم کئی طرز سے دیں گے۔

اس آیت کا شان نزول جو مرزاقادیانی نے خط کشیدہ الفاظ میں ظاہر کیا ہے۔ وہ محض ایجاد مرزاہے۔ ورنہ اصلی شان نزول ملاحظہ ہو اور کلام اللہ کے اپنے الفاظ میں ملاحظہ ہو۔

’’ولما ضرب ابن مریم مثلاً اذا قومک منہ یصدون وقالوا الہتنا خیرام ہو ماضربوہ لک الا جدلا بل ہم قوم خصمون ان ہوالا عبد انعمنا علیہ وجعلناہ مثلاً لبنی اسرائیل۰ ولو نشاء لجعلنا منکم ملئکۃ فی الارض یخلفون۰ وانہ لعلم للساعۃ فلا تمترن بہا واتبعون ہذا صراط مستقیم (الزخرف:۵۷تا۶۱)‘‘ {اور جب عیسیٰ علیہ السلام ابن مریم کے متعلق (معترض کی طرف سے) ایک عجیب مضمون بیان کیاگیا۔ تو یکایک آپ کی قوم کے لوگ (مارے خوشی کے) چلانے لگے اور کہنے لگے کہ ہمارے معبود زیادہ بہتر ہیں۔ یا عیسیٰ علیہ السلام۔ ان لوگوں نے جو یہ مضمون بیان کیا ہے تو محض جھگڑنے کی غرض سے بلکہ یہ لوگ (اپنی عادت سے) ہیں ہی جھگڑالو۔ عیسیٰ علیہ السلام تو محض ایک ایسے بندے ہیں جن پر ہم نے (کمالات نبوت سے اپنا) فضل کیا تھا اور ان کو بنی اسرائیل کے لئے ہم نے (اپنی قدرت کا) ایک نمونہ بنایا تھا اور اگر ہم چاہتے تو ہم تم میں سے فرشتوں کو پیدا کر دیتے کہ وہ زمین پر یکے بعد دیگرے رہا کرتے اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام تو قیامت (کے قرب) کا نشان ہیں۔ پس تم لوگ اس میں شک مت کرو اور تم لوگ میرا اتباع کرو۔ یہی سیدھا راستہ ہے۔}

98

معزز ناظرین! مرزاقادیانی کی چالاکی ملاحظہ ہو کہ بمطابق مثل ’’چہ دلاور است دزدے کہ بکف چراغ دارد‘‘ خود شان نزول اس آیت کی کلام اللہ کی انہیں آیات میں موجود ہے اور وہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام اور مشرکین کے بتوں کے متعلق ایک مثال ہے۔ باوجود اس کے مرزاقادیانی فرماتے ہیں کہ یہاں بحث قیامت سے ہے۔ قیامت کی بحث تو یہاں ہے ہی نہیں۔ وہ تو یونہی جملہ معترضہ کے طور پر مذکور ہے۔ چنانچہ ہم مرزاقادیانی کے اپنے مانے ہوئے مجدد صدی نہم امام جلال الدین سیوطیؒ کی روایت سے مرزاقادیانی کے تسلیم کردہ حبرالامت امام المفسرین ابن عباسؓ کا بیان کردہ شان نزول پیش کرتے ہیں۔

’’آنحضرتﷺ نے ایک روز سورۂ انبیاء کی آیت ’’انکم وما تعبدون من دون اللہ حصب جہنم (انبیاء:۹۸)‘‘ کے موافق یہ فرمایا کہ مشرک جن چیزوں کو پوجتے ہیںَ وہ اور مشرک دونوں قیامت کے دن دوزخ میں جھونکے جائیں گے۔ اس پر عبد اللہ بن زبعری نامی ایک شخص نے کہا کہ نصاریٰ لوگ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو پوجتے ہیں اور تم عیسیٰ علیہ السلام کو نبی اور ہمارے بتوں سے اچھا سمجھتے ہو۔ اس لئے جو حال ہمارے بتوں کا ہوگا وہی حال حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا ہوگا۔ عبد اللہ بن زبعری کے اس جواب کو مشرک لوگوں نے بڑا شافی جواب جانا اور سب خوش ہوئے۔ اس پر اللہتعالیٰ نے یہ آیتیں نازل فرمائیں۔ باوجود اس قدر تصریح کے اگر پھر بھی قادیانی اپنی اس نامعقول دلیل پر جمے رہیں تو ہمارا جواب بھی الزامی رنگ میں سن لیں اور کان کھول کر سنیں۔‘‘

۱… مرزاقادیانی لکھتے ہیں: ’’قرآن شریف میں ہے: ’’انہ لعلم للساعۃ‘‘ یعنی اے یہودیو! عیسیٰ علیہ السلام کے ساتھ تمہیں قیامت کا پتہ لگ جائے گا۔‘‘

(اعجاز احمدی ص۲۱، خزائن ج۱۹ ص۱۳۰)

۲… اللہتعالیٰ حضرت موسیٰ علیہ السلام جیسے مصدق رسول کو بھی بطور ہدایت فرماتا ہے۔ ’’ان الساعۃ آتیۃ فلا یصدنک عنہا من لا یؤمن بہا (طہ:۱۶)‘‘ اے موسیٰ علیہ السلام! قیامت بے شک وشبہ آنے والی ہے۔ خبردار کوئی بے ایمان تجھے اس کے ماننے سے روک نہ دے۔ یہاں اگر قادیانی طرز کلام کا اتباع کیا جائے تو سوال پیدا ہوگا۔ موسیٰ علیہ السلام کے سامنے قیامت کے آنے کی دلیل یا نشانی تو بیان نہیں کی گئی۔ صرف اس کے آنے کا اعلان کیاگیا ہے۔ پھر یہ اعلان اگلے حصہ آیت کے لئے دلیل ہوسکتا ہے۔ قادیانی جو جواب اس سوال کا دیں گے وہی جواب ہمارا بھی سمجھ لیں۔

۳… ’’مرزاقادیانی نے ۱۸۸۶ء میں پیش گوئی کی کہ محمدی بیگم دختر احمد بیگ ہوشیارپوری

99

ضرور بضرور میرے نکاح میں آئے گی۔ پھر اس کے متعلق الہامات بھی شائع کئے۔ جن میں سے ایک یہ بھی تھا۔ ’’انا زوجناکہا‘‘ یعنی اے مرزا ہم نے تیرا نکاح محمدی بیگم سے کر دیا ہے۔‘‘

(انجام آتھم ص۶۰، خزائن ج۱۱ ص ایضاً)

انتظار کرتے کرتے مرزاقادیانی تھک گئے۔ آخر ۱۸۹۱ء میں مرزاقادیانی سخت بیمار ہوئے۔ موت کے خیال پر جب محمدی بیگم والی پیش گوئی میں جھوٹا ہونے کا خیال گزرا تو الہام ہوا۔ ’’الحق من ربک فلا تکونن من الممترین‘‘ یعنی یہ بات تیرے رب کی طرف سے سچ ہے تو کیوں شک کرتا ہے۔

دیکھئے! یہاں مرزاقادیانی کے خدا نے مرزاقادیانی کو یقین دلانے کو صرف اتنا ہی کہا۔ ’’الحق من ربک‘‘ حالانکہ ابھی نکاح نہیں ہوا۔ پہلے ہی سے اس کے ہونے کا اعلان کر کے محض اعلان ہی کو دلیل قرار دیا جارہا ہے۔ جس دلیل سے مرزاقادیانی کے لئے ایک پیش گوئی کا اعلان دلیل ہوگیا آئندہ حکم کے حق ہونے کا۔ اسی دلیل سے یہاں بھی ’’انہ لعلم للساعۃ‘‘ دلیل سمجھ لیں۔ ’’فلاتمترن بہا‘‘ کی (ذرا غور سے سمجھئے) مگر یہ سب بیان ہمارا الزامی رنگ میں ہے۔ ورنہ مرزاقادیانی کا یہ اعتراض مبنی ہے علوم عربیہ سے جہالت مطلقہ پر۔

مضحکہ خیز تفسیر قادیانی: تفسیر از مرزاغلام احمد قادیانی

۱… ’’یہ کیسی بدبودار نادانی ہے جو اس جگہ لفظ ’’ساعۃ‘‘ سے قیامت سمجھتے ہیں۔ اب مجھ سے سمجھو کہ ’’ساعۃ‘‘ سے مراد اس جگہ وہ عذاب ہے جو حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے بعد طیطوس رومی کے ہاتھ سے یہودیوں پر نازل ہوا تھا۔‘‘

(اعجاز احمدی ص۲۱، خزائن ج۱۹ ص۱۲۹)

۲… ’’حق بات یہ ہے کہ ’’انہ‘‘ کی ضمیر قرآن شریف کی طرف پھرتا ہے اور آیت کے یہ معنی ہیںکہ قرآن شریف مردوں کے جی اٹھنے کے لئے نشان ہے۔ کیونکہ اس سے مردہ دل زندہ ہوتے ہیں۔‘‘

(ازالہ اوہام ص۴۲۴، خزائن ج۳ ص۳۲۲)

۳… ’’ان فرقۃ من الیہود اعنی الصدوقین کانوا کافرین بوجود القیامۃ فاخبرہم اللہ علیٰ لسان بعض انبیاء ان ابنا من قومہم یولد من غیر اب وہذا یکون آیۃ لہم علی وجود القیامۃ فالی ہذا اشار فی آیۃ وانہ لعلم للساعۃ‘‘ یہود کا ایک فرقہ صدوقین نامی قیامت کے وجود سے منکر تھا۔ پس اللہتعالیٰ نے بعض نبیوں کے واسطے سے انہیں خبر دی کہ ان کی قوم میں سے ایک لڑکا بغیر باپ کے پیدا ہوگا اور وہ قیامت کے وجود پر دلیل ہوگا۔ پس اسی طرف اشارہ کیا ہے۔ اللہتعالیٰ نے اس آیت ’’وانہ لعلم

100

للساعۃ‘‘ میں۔

(حمامتہ البشریٰ ص۹۰، خزائن ج۷ ص۳۱۶)

نوٹ: مرزاقادیانی نے اسلامی تفسیر کی تردید میں جو دلیل بیان کی ہے۔ (دیکھو اعتراض نمبر۲ از مرزاقادیانی) اگر وہ صحیح قرار دی جائے تو ناظرین وہی عبارت تھوڑے سے تغیر کے ساتھ مرزاقادیانی کی اس تفسیر کے رد میں پڑھ لیں۔ اجمالاً ہم لکھ دیتے ہیں۔ صدوقین منکر قیامت تھے۔ قیامت کی دلیل یہ دی جاتی ہے کہ آئندہ زمانہ میں ایک لڑکا بغیر باپ کے پیدا ہوگا۔ جب تک دلیل موجود نہ ہو۔ دعویٰ کے تسلیم کر لینے کا مطالبہ کرنا کس طرح جائز ہوسکتا ہے؟

۴… ’’ان المراد من العلم تولدہ من غیر اب علی طریق المعجزۃ کما تقدم ذکرہ فی الصحف السابقۃ‘‘ (تتمہ حقیقت الوحی ص۴۹، خزائن ج۲۲ ص۶۷۲) العلم سے مراد حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا بغیر باپ کے پیدا ہونا ہے۔ بطور معجزہ کے جیسا کہ پہلے کتابوں میں اس کا ذکر ہوچکا ہے۔

نوٹ: مرزاقادیانی معلوم ہوتا ہے۔ فن مناظرہ اور اس کے اصولوں سے جاہل مطلق تھے۔ دلیل تو وہ قابل قبول ہوتی ہے۔ جو مخالفت کے ہاں قابل قبول ہو بلکہ جس کا رد کرنا مخالف سے آسان نہ ہو۔ ایسی دلیل کو پیش کرنا جس کو مخالف صحیح تسلیم نہیں کرتا۔ یہ مرزاقادیانی جیسے پنجابی نبی ہی کی شان ہوسکتی ہے۔ ورنہ دلیل تو ایسی ہو کہ مخالف کے نزدیک بھی وہ قابل قبول اور حجت ہوسکے۔ جیسا کہ ہم حیات عیسیٰ علیہ السلام کے ثبوت میں قادیانی مسلمات پیش کر کے قادیانی افراد سے قبول حق کی اپیل کر رہے ہیں۔

تفصیل اس اجمال کی یہ ہے کہ بقول مرزاقادیانی یہودی (صدوقین) قیامت کے وجود سے منکر تھے۔ ان کے سامنے بقول مرزاقادیانی قیامت کے وجود پر دلیل یہ پیش کی جاتی ہے۔ دیکھو ہم نے ایک لڑکا (حضرت عیسیٰ علیہ السلام) بغیر باپ کے پیدا کیا ہے۔ یہودی تو اس دلیل ہی کے ٹھیک اور حجت ہونے سے منکر تھے۔ وہ تو کہتے تھے اور عقیدہ رکھتے تھے اور اب بھی رکھتے ہیں کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام (نعوذ ب اللہ نقل کفر کفر نباشد) ولد الزنا تھے۔ جو دلیل خودمحتاج دلیل ہو۔ وہ دلیل کیا ہوئی۔ پس مرزاقادیانی کی تفسیر بھی قرآن کریم کے ساتھ تلعب ثابت ہوئی۔

۵…تفسیر سرور شاہ قادیانی (نام نہاد) صحابی مرزا

مرزاقادیانی کا ایک بہت بڑا نام نہاد صحابی سرور شاہ قادیانی اپنے نبی مرزاقادیانی کی تردید عجیب طرز سے کرتا ہے۔ لکھتا ہے:

101

’’مسیح کے بے باپ ولادت دلیل کس طرح بن سکتی ہے۔ ہمارے نزدیک تو اس کے آسان معنی یہ ہیں کہ وہ مثیل مسیح ساعۃ (قیامت) کا علم ہے۔‘‘

(ضمیمہ اخبار بدر قادیانی ۱۹۱۱ء، ۴،۶)

۶… تفسیر از احسن امروہی جو مرزاقادیانی کا (نام نہاد) صحابی تھا اور مرزاقادیانی کا فرشتہ کہلاتا تھا۔

(دیکھو نمبر۷ جواب اعتراض نمبر۱ کی ذیل میں)

محترم ناظرین! میں نے قادیانی جماعت کی چھ تفسیریں جن میں سے چار مرزاقادیانی کی اپنی ہیں۔ آپ کے سامنے پیش کی ہیں۔ ان کا باہمی تضاد اور مخالفت اظہر من الشمس ہے۔ میں اپنی طرف سے کچھ نہیں کہتا۔ کلام اللہ سے دو آیتیں اور مرزاقادیانی اور ان کے حواری کے اقوال اور انجیل کی تصدیق پیش کر کے اس بحث کو ختم کرتا ہوں۔

۱… پہلی آیت (سورۂ حجر:۷۲) کی ہے: ’’انہم لفی سکرتہم یعمہون‘‘ وہ اپنی بیہوشی میں گمراہ پھر رہے ہیں۔

۲… دوسری آیت (نساء:۸۲) میں ہے: ’’ولو کان من عند غیر اللہ لوجدوا فیہ اختلافاً کثیراً‘‘ اگر یہ کلام اللہ کے سوا کسی اور کی طرف سے ہوتا تو ہمیں بہت اختلاف پاتے۔

مرزاقادیانی اور ان کی جماعت اپنی خود غرضی کے لئے اسلامی تفسیر کو چھوڑ کر گمراہی میں سرگرداں ہیں۔ کبھی کچھ کہتے ہیں اور کبھی کچھ۔ مرزاقادیانی کہتے ہیں:

۱… ’’ظاہر ہے کہ ایک دل سے دو متناقض باتیں نہیں نکل سکتیں۔ کیونکہ ایسے طریق سے یا انسان پاگل کہلاتا ہے یا منافق۔‘‘

(ست بچن ص۳۱، خزائن ج۱۰ ص۱۴۳)

۲… ’’جھوٹے کے کلام میں تناقض ضرور ہوتا ہے۔‘‘

(ضمیمہ براہین احمدیہ حصہ پنجم ص۱۱۱، خزائن ج۲۱ ص۲۷۵)

۳… ’’اس شخص کی حالت ایک مخبوط الحواس انسان کی حالت ہے کہ ایک کھلا کھلا تناقض اپنے کلام میں رکھتا ہے۔‘‘

(حقیقت الوحی ص۱۸۴، خزائن ج۲۲ ص۱۹۱)

نوٹ: مرزاقادیانی نے اس آیت کی جس قدر تفسیریں کی ہیں۔ ان میں سے ہم نے صرف چار پیش کی ہیں اور دو ان کے حواریوں کی درج کی ہیں۔ سب کی سب کا آپس میں تضاد وتناقض ظاہر ہے۔ پس مرزاقادیانی معہ اپنے جانشینوں کے اپنے ہی فتویٰ کی رو سے پاگل، منافق، جھوٹے اور مخبوط الحواس ثابت ہوئے۔ مرزاقادیانی کے حواری مرزاخدا بخش مصنف ’’عسل مصفیٰ‘‘ میں لکھتے ہیں اور علماء اسلام کی تفسیر میں اختلاف مذعومہ کے

102

بارہ میں لکھتے ہیں۔

’’یہ چھ قسم کے معنی علماء متقدمین ومتاخرین نے کئے ہیں اور یہی معانی میری نظر سے گزرے ہیں۔ اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اگر علماء ومفسرین کو یقینی معنی معلوم ہوتے تو وہ کیوں اس قدر چکر کھاتے اور کیوں دور از قیاس آرائیں ظاہر کرتے۔ جب ہم غور سے ان معانی پر نظر کرتے ہیں تو سیاق کلام اور نیز مشاہدہ کے خلاف پاتے ہیں۔‘‘

(عسل مصفیٰ حصہ اوّل ص۴۱۹)

ناظرین! قادیانی تفسیر کے متعلق یہی عبارت پڑھ دیں۔ صرف ’’علماء متقدمین ومتاخرین‘‘ کی بجائے ’’مرزاقادیانی اور ان کے حواری‘‘ سمجھ لیں۔

تصدیق از انجیل

حضرات! یہ تو آپ بخوبی سمجھتے ہیں کہ کلام اللہ، انجیل یا توریت کی نقل نہیں ہے۔ بلکہ ایک بالکل الگ اور براہ راست سلسلہ وحی ہے۔ پس جہاں کہیں قرآن کریم اور انجیل کے مضمون میں مطابقت لفظی یا معنوی عرصہ ظہور میں آجائے وہاں وہی معنی قابل قبول ہوں گے جو متفق علیہ ہیں۔ خود مرزاقادیانی ہماری تصدیق میں لکھ گئے ہیں۔

’’فاسئلو اہل الذکر ان کنتم لا تعلمون‘‘ یعنی اگر تمہیں ان بعض امور کا علم نہ ہو جو تم میں پیدا ہوں تو اہل کتاب کی طرف رجوع کرو اور ان کی کتابوں کے واقعات پر نظر ڈالو۔ تااصل حقیقت تم پر منکشف ہو جائے۔

(ازالہ اوہام ص۶۱۶، خزائن ج۳ ص۴۳۳)

سو ہم نے جب موافق اس حکم کے نصاریٰ کی کتابوں کی طرف رجوع کیا تو مندرجہ ذیل عبارت پر نظر پڑی۔

’’جب وہ زیتون کے پہاڑ پر بیٹھا تھا تو اس کے شاگرد الگ اس کے پاس آکر بولے۔ ہمیں بتا کہ یہ باتیں کب ہوں گی اور تیرے آنے اور دنیا کے آخر ہونے کا نشان۔ ’’انہ لعلم للساعۃ (قرآن کریم)‘‘ یسوع نے جواب میں ان سے کہا خبردار کوئی تمہیں گمراہ نہ کر دے۔ کیونکہ بہتیرے میرے نام سے آئیں گے اور کہیں گے کہ میں مسیح ہوں اور بہت سے لوگوں کو گمراہ کریں گے… اس وقت اگر تم میں سے کہے کہ دیکھو مسیح یہاں ہے یا وہاں ہے تو یقین نہ کرنا۔ کیونکہ جھوٹے مسیح اور جھوٹے نبی اٹھ کھڑے ہوں گے… میں نے پہلے ہی تم سے کہہ دیا ہے… پس اگر وہ تم سے کہیں کہ دیکھو وہ بیابان میں ہے تو باہر نہ جانا۔ دیکھو وہ کوٹھڑیوں میں ہے۔ تو یقین نہ کرنا۔ کیونکہ جیسے بجلی پورب

103

سے کوندھ کر پچھم تک دکھائی دیتی ہے۔ ویسے ہی ابن مریم کا آنا ہوگا… ابن مریم کو بڑی قدرت اور جلال کے ساتھ آسمان کے بادلوں پر آتے دیکھیں گے۔‘‘

(انجیل متی باب:۲۴، آیت:۳۱تا۳۳)

یہی مضمون (انجیل مرقس باب:۱۳) اور (انجیل لوقا باب:۲۱) میں مرقوم ہے۔ انجیل کے اس مضمون سے مندرجہ ذیل نتائج نکلتے ہیں۔

۱… حضرت عیسیٰ ابن مریم علیہ السلام خود دوبارہ نازل ہوں گے۔ کیونکہ اپنے تمام مثیلوں سے بچنے کی ہدایت کر رہے ہیں۔

۲… حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا دوبارہ آنا قیامت کی نشانی ہے۔

۳… جھوٹے مسیح اور جھوٹے نبی اٹھ کھڑے ہوں گے۔

۴… حضرت مسیح علیہ السلام آسمان سے اچانک نازل ہوں گے۔

۵… حضرت عیسیٰ علیہ السلام نازل ہونے کے بعد بڑی قدرت اور جلال کے ساتھ آئیں گے۔ یہی مضمون کلام اللہ میں موجود ہے۔ جیسا کہ ہم تصریح کر چکے ہیں۔ پس قادیانی جماعت پر لازم ہے کہ مرزاقادیانی کے بیان کردہ معیار کے مطابق حق کو قبول کر کے مرزائیت سے اپنی بیزاری کا اعلان کر دیں۔

نتیجہ

مرزاقادیانی اپنی کتاب ازالہ اوہام میں لکھتے ہیں: ’’اس جگہ یہ بھی یاد رکھنا چاہئے کہ مسیح کا جسم کے ساتھ آسمان سے اترنا اس کے جسم کے ساتھ چڑھنے کی فرع ہے۔ لہٰذا یہ بحث بھی (کہ مسیح اسی جسم کے ساتھ آسمان سے اترے گا۔ جو دنیا میں اسے حاصل تھا) اس دوسری بحث کی فرع ہوگی جو مسیح جسم کے ساتھ آسمان پر اٹھایا گیا تھا۔‘‘

(ازالہ اوہام ص۲۶۹، خزائن ج۳ ص۲۳۶)

ہم نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا جسم کے ساتھ آسمان سے اترنا ثابت کر دیا ہے۔ پس حسب قول مرزاقادیانی ثابت ہوگیا کہ حضرت مسیح علیہ السلام اسی جسم کے ساتھ آسمان پر اٹھائے گئے۔ کیونکہ حضرت مسیح علیہ السلام کا دوبارہ نازل ہونا جبھی مانا جاسکتا ہے۔ جب کہ ان کا آسمان پر اسی جسم کے ساتھ جانا تسلیم کر لیا جائے۔ ’’فالحمد ﷲ علیٰ ذالک‘‘

قرآنی دلیل نمبر:۶

…’’اذ قال اللہ یا عیسیٰ ابن مریم اذکر نعمتی علیک وعلیٰ والدتک اذ ایدتک بروح القدس تکلم الناس فی المہد وکہلا (المائدۃ:۱۱۰)‘‘ {جب کہے گا اللہتعالیٰ اے عیسیٰ علیہ السلام بیٹے مریم کے یاد کر ان نعمتوں کو جو کیں میں نے تجھ پر اور تیری ماں پر۔ جب کہ میں نے مدد دی تجھ کو جبرائیل علیہ السلام کے ساتھ باتیں کرتا تھا تو لوگوں سے پنگھوڑے میں اور بڑی عمر میں۔}

104

محترم بزرگو! میں نے لفظی ترجمہ کر دیا ہے۔ اب میں قادیانیوں کے مسلمہ مجددین امت امام فخرالدین رازیؒ مجدد صدی ششم اور امام جلال الدین سیوطیؒ مجدد صدی نہم کی تفسیر سے اس آیت کی تفسیر پیش کرتا ہوں۔ اگر قادیانی کوئی اعتراض کریں تو رسالہ ہذا کی تمہید میں قادیانی اصول وعقائد نمبر۴ سامنے رکھ دیں۔ تاکہ شاید اپنے ہی منہ سے کافر وفاسق بننے سے شرما کر اسلامی تفسیر کی تائید میں رطب اللسان ہو جائیں۔

اس آیت کی تفسیرمیں امام جلال الدین مجدد صدی نہم فرماتے ہیں۔ ’’اذا ایدتک (قویتک) بروح القدس (جبرائیل) تکلم الناس حال من الکاف فی ایدتک فی المہدای طفلا وکہلا یفید نزولہ قبل الساعۃ لانہ رفع قبل الکھولۃ کما سبق فی آل عمران‘‘

(جلالین ص۱۱۰، زیر آیت کریمہ)

’’یاد کر اے عیسیٰ علیہ السلام وہ وقت جب کہ ہم نے قوت دی تم کو ساتھ جبرائیل علیہ السلام کے درآنحالیکہ تو باتیں کرتا تھا۔ بچپن میں اور کہولت کی حالت میں۔ اس سے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا قیامت سے پہلے آسمان سے نازل ہونا ثابت ہوتا ہے۔ کیونکہ وہ کہولت (ادھیڑ عمر) سے پہلے اٹھائے گئے تھے۔ جیسا کہ آل عمران میں گزر چکا ہے۔‘‘

حضرات! حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے متعلق اللہتعالیٰ (سورۂ بقرہ:۸۷،۲۵۳) میں دو جگہ فرماتے ہیں: ’’وایدناہ بروح القدس‘‘ امام موصوف اس کی تفسیر میں فرماتے ہیں:’’وایدناہ قویناہ بروح القدس من اضافۃ الموصوف الی الصفۃ الی الروح المقدسۃ جبرائیل لطہارتہ یسیر معہ حیث سار‘‘ ہم نے قوت دی حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو جبرائیل علیہ السلام کے ساتھ جو جاتا تھا۔ جہاں وہ جاتے تھے۔

(جلالین ص۱۴، زیر آیت کریمہ)

اس آیت کی تفسیر امام فخرالدین رازیؒ مجدد صدی ششم فرماتے ہیں:’’نقل ان عمر عیسیٰ علیہ السلام الی ان رفع کان ثلاثا وثلاثین سنۃ وستۃ اشہر وعلیٰ ہذا التقدیر فہو ما بلغ الکھولۃ والجواب من وجہین… والثانی ھو قول الحسین بن الفضل الجلیؒ ان المراد بقولہ وکہلا ان یکون کہلا بعد ان ینزل من السماء فی آخرالزمان ویکلم الناس ویقتل الدجال قال الحسین بن الفضل وفی ہذہ الایۃ نص فی انہ علیہ السلام سینزل الیٰ الارض‘‘

(تفسیر کبیر جز۸ ص۵۵)

’’نقل کیا گیا ہے کہ عیسیٰ علیہ السلام کی عمر جب وہ آسمان پر اٹھائے گئے۔ ساڑھے تینتیس برس تھی اور اس صورت میں نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ وہ دنیا میں کہولت (ادھیڑ عمر) تک نہیں پہنچے تھے۔

105

(پس کہولت میں کلام کرنے کا مطلب کیا ہوا) اس کا جواب دو طریقوں سے ہے… دوسرا جواب امام حسین بن الفضل الجبلی کا قول ہے کہ مراد ’’کھلا‘‘ سے یہ ہے کہ وہ کہل (ادھیڑ عمر کا) ہوگا۔ جب کہ وہ نازل ہوگا۔ آسمان سے آخری زمانہ میں اور باتیں کرے گا۔ لوگوں سے اور قتل کرے گا دجال کو۔ امام حسین بن الفضل کہتے ہیں کہ یہ آیت نص ہے۔ اس بات پر کہ عیسیٰ علیہ السلام دوبارہ زمین پر نازل ہوں گے۔‘‘

تشریحی نوٹ از خاکسار ابوعبیدہ مؤلف رسالہ ہذا

اللہتعالیٰ اس آیت میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو اپنے غیرمعمولی انعامات یاد کرا رہے ہیں۔ غیرمعمولی انعامات سے مراد میری وہ انعامات ہیں جو عام انسانوں کو حاصل نہیں۔ ورنہ ہیں وہ بھی انعام ہی۔ مثلاً آنکھیں، ناک، منہ، دانت، دماغ، لباس، والدین، اولاد، خوراک، پھل وغیرہ۔

ناظرین! قرآن کریم کی سورۂ مائدہ کا آخری رکوع کھول کر ان انعامات کا تذکرہ پڑھیں۔ اس کی سب غیرمعمولی نعمتیں ہیں۔ میں ساری نعمتوں کو یہاں گن دیتا ہوں۔

۱… روح القدس یعنی جبرائیل علیہ السلام کی تائید کا ہر وقت ساتھ رہنا۔

۲… بچپن (پنگھوڑے) میں کلام بلاغت نظام کرنا۔

۳… ادھیڑ عمر میں کلام بلاغت نظام کرنا۔

۴… کتاب، حکمت اور توریت وانجیل کا پڑھنا۔

۵… معجزہ خلق طیر (پرندوں کا بنانا)

۶… معجزہ احیاء موتیٰ (مردوں کو زندہ کرنا) ’’وابراء اکمہ وابرص‘‘

۷… بنی اسرائیل کے شر سے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو محفوظ رکھنا۔

ناظرین! ان نعمتوں میں سے نمبر۳، ۷ تو ابھی زیر بحث ہیں۔ ان کے علاوہ بقیہ نعمتوں کا خیال کیجئے۔ سب کی سب ایسی نعمتیں ہیں جن سے عام انسان محروم ہوتے ہیں۔ نبوت وکتاب کا ملنا، معجزات کا غیرمعمولی ہونا تو سبھی کو مسلم ہے۔ بچپن میں باتیں کرنے سے مراد بعض لوگوں کے نزدیک قابل قبول نہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ مراد اس سے ناتجربہ کار نوجوان آدمی کا کلام ہے۔ یہ معنی کئی وجوہات سے مردود ہیں۔

۱… سورۂ مریم میں اللہتعالیٰ نے جب مریم کو حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی پیدائش بے پدر کی بشارت دی اور پھر حمل ہوکر آخری وضع حمل کی نوبت آئی تو حضرت مریم ایک الگ جگہ

106

میں جاکر دردزہ اور خوف طعن وتشنیع کے مارے عرض کرنے لگیں کہ اے کاش میں اس موقعہ سے پہلے مر کر بھولی جاچکی ہوتی تو اللہتعالیٰ کی طرف سے جبرائیل علیہ السلام نے جواب دیا کہ اے مریم غم نہ کر… اگر تو کسی آدمی کو دیکھے (جو تجھ پر طعن کرے اور اس کے بارہ میں سوال کرے) تو کہہ دینا کہ آج میں نے اللہ کی خاطر (چپ رہنے کا) روزہ رکھا ہوا ہے۔ آج تو ہرگز بات نہ کروں گی۔ پس وہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو اٹھا کر قوم کے پاس لے آئی۔ قوم نے جب دیکھا تو کہنے لگی کہ اے مریم تو یہ طوفان (بے باپ کا لڑکا) کہاں سے لے آئی ہے۔ اے ہارون کی بہن، تیرا باپ زانی نہیں تھا اور تیری ماں بھی زانیہ نہ تھی۔ پس تو یہ لڑکا کہاں سے لے آئی ہے۔ پس حضرت مریم علیہا السلام نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی طرف اشارہ کیا کہ اس سے بات کرو۔ انہوں نے کہا۔ ہم اس بچے سے کیسے کلام کریں جو ابھی پنگھوڑے میں پڑا ہے۔ اس کے بعد حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے کلام کر کے اپنی اور اپنی ماں کی زنا کے الزام سے بریت کا اعلان کیا۔

(ملحض از تفسیر جلالین ص۲۵۵، زیر آیت کریمہ)

۲… ذیل کی حدیث نبوی ہماری تائید کا ڈنکے کی چوٹ اعلان کر رہی ہے۔ ’’عن ابی ہریرہ عن النبیﷺ قال لم یتکلم فی المہد الا ثلاثۃ عیسیٰ و… الیٰ آخر الحدیث‘‘

(بخاری ج۱ ص۴۸۹، باب واذکر فی الکتاب مریم)

’’حضرت ابوہریرہؓ سے روایت ہے کہ حضرت نبی کریمﷺ نے فرمایا کہ تین بچوں کے سوا کسی نے ماں کی گود میں شیرخوارگی کی حالت میں کلام نہیں کیا۔ ایک تو حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے اور … آخری حدیث تک۔‘‘ بخاری شریف مرزاقادیانی کے نزدیک اصح الکتب بعد کتاب اللہ ہے۔ اس میں یہ حدیث موجود ہے۔

۳… حضرت ابن عباسؓ جو مرزاقادیانی کے نزدیک قرآن شریف کے جاننے والوں میں سے اوّل نمبر پر تھے۔ وہ فرماتے ہیں۔ ’’عن ابن جریحؒ قال قال ابن عباسؓ (ویکلم الناس فی المہد) قال مضجع الصبی فی رضاعۃ‘‘

(تفسیر ابن جریر ج۳ ص۲۷۱، درمنثور ج۲ ص۲۵)

’’یعنی حضرت ابن عباسؓ نے فرمایا کہ مراد اس آیت میں دودھ پینے کی حالت میں بچے کا پنگھوڑے میں کلام کرنا ہے۔‘‘

دیکھئے! یہ قول وتفسیر حضرت ابن عباسؓ کی ہے اور روایت کیا ہے اس کو اوّل ابن جریر نے جو مرزاقادیانی کے نزدیک ایک زبردست محدث اور مفسر تھے اور دوسرے

107

امام جلال الدین سیوطیؒ نے جو مجدد صدی نہم تھے۔ پس جو آدمی اس روایت کے قبول کرنے سے انکار کرے وہ حسب فتویٰ مرزاقادیانی کا فروفاسق ہو جائے گا۔

۴… خود مرزاقادیانی نے اس تفسیر کو قبول کر لیا ہے۔ ’’اور یہ عجیب بات ہے کہ حضرت مسیح علیہ السلام نے تو صرف مہد (پنگھوڑے) میں ہی باتیں کیں۔ مگر اس لڑکے (پسر مرزا) نے پیٹ میں دو مرتبہ باتیں کیں۔‘‘

(تریاق القلوب ص۴۱، خزائن ج۱۵ ص۲۱۷)

۵… پنگھوڑے میں باتیں کرنا تین وجہوں سے عقلاً بھی صحیح معلوم ہوتا ہے۔

الف… حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی پیدائش بطور معجزہ بغیر باپ کے ہوئی تھی اور حضرت جبرائیل علیہ السلام کے نفخہ سے واقع ہوئی تھی۔ چنانچہ اللہتعالیٰ سورۂ مریم میں حضرت جبرائیل علیہ السلام کا قول نقل فرماتے ہیں۔ ’’لاہب لک غلاماً زکیا‘‘ یعنی اے مریم میں تجھے ایک پاکیزہ لڑکا دینے آیا ہوں۔ خود مرزاقادیانی نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی معجزانہ پیدائش کو بہت جگہ قبول کر لیا ہے۔

(ضمیمہ حقیقت الوحی ص۴۹، خزائن ج۲۲ ص۶۷۲)

اب ایک منٹ کے لئے ہم ناظرین کو سورۂ طٰہٰ کی سیر کراتے ہیں۔ اس کے رکوع۵ کا مطالعہ کریں۔ وہاں سامری اور اس کے گؤسالہ کے متعلق حضرت موسیٰ علیہ السلام سامری سے گفتگو فرماتے ہیں۔

’’قال فما خطبک یسامری۰ قال بصرت بما لم یبصروا بہ فقبضت قبضۃ من اثر الرسول فنبذتہا وکذالک سولت لی نفسی‘‘ موسیٰ علیہ السلام نے کہا اے سامری تیرا کیا معاملہ ہے۔ اس نے کہا کہ مجھ کو ایسی چیز نظر آئی جو اوروں کو نظر نہ آئی۔ پھر میں نے اس فرستادہ خداوندی (حضرت جبرائیل علیہ السلام) کے نقش قدم سے ایک مٹھی بھرخاک اٹھالی تھی۔ سو میں نے وہ مٹھی خاک اس قالب کے اندر ڈال دی اور میرے جی کو یہی بات پسند آئی۔ (اس مٹی کے ڈالنے سے اس میں ایک آواز پیدا ہوگئی)

(تفسیر ابن عباس مندرجہ درمنثور ج۴ ص۳۰۷)

نکتہ عجیبہ

حضرات! حضرت جبرائیل علیہ السلام کے نقش قدم سے مٹی میں خدا نے یہ تاثیر رکھی ہوئی ہے کہ وہ ایک بے جان دھات کے ڈھانچے میں آواز پیدا کر سکتی ہے۔ پس قابل غور یہ امر ہے۔ وہی جبرائیل اپنی پھونک سے حضرت مریم کو باذن الٰہی حمل ٹھہراتا ہے۔ اس نفخہ جبرائیلی سے حضرت عیسیٰ علیہ السلام پیدا ہوتے ہیں۔ کیا حضرت عیسیٰ علیہ السلام سے گود میں باتیں کرنا اس گؤسالہ بے جان کے بولنے سے زیادہ مشکل ہے؟ نہیں ہرگز نہیں۔

108

بلکہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا پنگھوڑے میں باتیں کرنا زیادہ قرین قیاس ہے۔ کیونکہ گؤسالہ ایک تو بے جان تھا۔ اس میں جان پڑ گئی۔ پھر گؤسالہ بولنے بھی لگا۔ یہاں تو حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے انسان ہونے کی حیثیت سے آخر بولنا ہی تھا۔ نفخ جبرائیلی سے پنگھوڑے میں باتیں کرنے کی اہلیت پیدا ہوگئی اور یہی نفخ جبرائیلی حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے رفع علی السماء میں مناسبت پیدا کرنے کا باعث ہوگیا۔

ب… اللہتعالیٰ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی پیدائش بے پدر کو لوگوں کے لئے ایک نشان (آیۃ) بنانا چاہتے تھے۔ چنانچہ سورۂ مریم میں مذکور ہے۔ ’’ولنجعلہ‘‘ ہم نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو بغیر باپ کے اس واسطے پیدا کیا ہے تاکہ ہم ان لوگوں کے لئے اپنا ایک نشان بنائیں۔ چنانچہ مرزاقادیانی نے بھی ہماری اس تفسیر کو صحیح تسلیم کیا ہے۔

(ضمیمہ حقیقت الوحی ص۴۹، خزائن ج۲۲ ص۶۷۲)

پس اللہتعالیٰ نے گود میں باتیں کراکر پہلے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی زبان فیض ترجمان سے ان کی پیدائش کا معجزانہ ہونا ثابت کیا۔ اگر گود میں ان کا کلام کرنا تسلیم نہ کیا جائے تو ان کی پیدائش بے پدر کو الٰہی نشان ثابت کرنا مشکل ہو جائے گا۔ کیونکہ اس کے بغیر خود پیدائش بے باپ بغیر ثبوت کے رہ کر ناقابل قبول ہو جائے گی۔ جو دلیل خود دلیل کی محتاج ہو وہ دلیل ہونے کی اہلیت نہیں رکھتی۔ چنانچہ خود مرزاقادیانی دلیل کی تعریف میں اپنی کتابوں میں لکھتے ہیں۔

ج… مرزاقادیانی نے تریاق القلوب میں لکھا ہے: ’’کہ میرے اس لڑکے (پسر مرزا) نے ماں کے پیٹ میں دو مرتبہ باتیں کیں ہیں۔‘‘

(تریاق القلوب ص۴۱، خزائن ج۱۵ ص۲۱۷)

غور کیجئے! ماں کے پیٹ میں باتیں کرنا زیادہ مشکل ہے یا گود میں دودھ پیتے بچے کا باتیں کرنا۔ یقینا اوّل الذکر صورت تو ناممکن محض ہے۔ کیونکہ کلام کرنے کے لئے ضروری ہے کہ ہوا موجود ہو۔ منہ، ہونٹ، زبان وغیرہم حرکت کر سکتے ہوں۔ پھیپھڑے کام کر رہے ہوں۔ باوجود اس کے جب مرزامبارک، پسر مرزا نے اپنی ماں کے پیٹ کے اندر دو مرتبہ باتیں کیں تھیں اور لاہوری وقادیانی مرزائیوں نے مرزاقادیانی کے قول کو تسلیم کر لیا ہے تو انہیں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے گود میں باتیں کرنا کیوں ناممکن اور مستبعد نظر آتا ہے۔ اب ’’کھل‘‘ (یعنی ادھیڑ عمر میں باتیں کرنا) کے متعلق چند نکات بیان کر کے نتیجہ ناظرین کی فہم رسا پر چھوڑتے ہیں۔

109

ادھیڑ عمر میں باتیں کرنا کروڑہا انسانوں سے ہم روزمرہ مشاہدہ کر رہے ہیں۔ پس فرشتے کا حضرت مریم علیہ السلام کو یوں کہنا کہ ’’ہم تمہیں بشارت دیتے ہیں کہ تیرا لڑکا ادھیڑ عمر میں باتیں کرے گا۔‘‘ ایک ایسی بات کی بشارت دینا ہے جو بے شمار لوگوں کو حاصل ہے۔ بشارت کسی غیرمعمولی امر میں ہوا کرتی ہے یا اس وقت جب کہ کوئی آدمی معمولی نعمت سے محروم ہوا جارہا ہو۔ مثلاً کوئی آدمی نابینا ہو جائے تو ایسے وقت میں آنکھ کا،مل جانا بے شک بشارت ہوسکتا ہے۔ مگر حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی ماں کو کیا عیسیٰ علیہ السلام کی کہولت کے زمانہ میں کوئی ’’لکنت‘‘ کا اندیشہ تھا کہ خدا نے ’’لکنت‘‘ کے دور ہونے کی بشارت دی؟ ہرگز نہیں بلکہ اس کہولت میں ایک خصوصیت تھی۔ جس کی وجہ سے اللہتعالیٰ نے کہولت کے زمانہ میں باتیں کرنا بھی خاص نعمتوں میں شمار کیا۔ وہ یہ کہ باوجود ہزارہا سال تک آسمان پر رہنے کے جب وہ دوبارہ دنیا میں نازل ہوں گے تو اس وقت بھی کہولت کا زمانہ ہوگا۔ چونکہ ان کی عمر اور جسم پر زمانہ کا اثر نہیں ہوا ہوگا۔ اس لحاظ سے اس نعمت کا تذکرہ کر کے شکریہ کا حکم دے رہے ہیں۔ ورنہ اگر دوسرے انسانوں کی طرح ہی انہوں نے بھی کہولت میں باتیں کرنی ہوتیں تو پھر دوسری عام انسانی نعمتوں کو بھی پیش کیا ہوتا۔ مثلاً یوں کہا ہوتا۔ ’’اے عیسیٰ علیہ السلام ہماری نعمتوں کو یاد کر۔ ہم نے تمہیں دو آنکھیں دی تھیں۔ دوکان عطا کئے تھے۔ کھانے کو رنگارنگ پھل دئیے تھے۔ تم جوانی میں بولتے تھے۔ ہم نے تمہیں لباس دیا تھا۔ سوچنے کو دماغ مرحمت فرمایا۔ وغیرہ ذالک!‘‘ مگر نہیں ایسا نہیں فرمایا۔ کیونکہ عام نعمت کو ذکر کرنا بھی عام رنگ ہی میں موزوں ہوتا ہے۔

تصدیق از مرزاقادیانی

’’اس پیش گوئی (نکاح آسمانی) کی تصدیق کے لئے جناب رسول اللہﷺ نے بھی پہلے سے ایک پیش گوئی فرمائی ہے کہ: ’’یتزوج ویولد لہ‘‘ یعنی وہ مسیح موعود بیوی کرے گا اور نیز وہ صاحب اولاد بھی ہوگا۔ اب ظاہر ہے کہ تزوج اور اولاد کا ذکر کرنا عام طور پر مقصود نہیں۔ کیونکہ عام طور پر ہر ایک شادی کرتا ہے اور اولاد بھی ہوتی ہے۔ بلکہ تزوج سے مراد وہ خاص تزوج ہے جو بطور نشان ہوگا۔‘‘

(ضمیمہ انجام آتھم ص۵۳، خزائن ج۱۱ ص۳۳۷ حاشیہ)

حضرات! غور فرمائیے کہ محض تزوج واولاد کا عام طور پر ذکر ہے۔ مرزاقادیانی نے کھینچ تان کر تزوج اور اولاد کے لئے ایک خصوصیت ثابت کر دی۔ کیونکہ یہ دونوں باتیں مسیح موعود کے متعلق ہیں۔ ’’ویکلم الناس فی المہد وکہلا‘‘ میں تو خداتعالیٰ خصوصیت

110

کے ساتھ حضرت عیسیٰ علیہ السلام پر اپنی خاص خاص نعمتوں کو پیش کر رہے ہیں۔ پس کہل کے معنی عام کہل یعنی سے وہ اعتراض بدرجہ اولیٰ عود کر آئے گا۔ جو مرزاقادیانی کی مذکورہ بالا عبارت میں مذکور ہے۔ یعنی کہولت (ادھیڑ عمر) میں باتیں کرنا عام طور پر مقصود نہیں۔ کیونکہ عام طور پر ہر ایک کہولت میں باتیں کرتا ہے۔ کہولت میں باتیں کرنے سے مراد وہ خاص کہولت ہے جو باوجود ہزارہا سال گزر جانے کے قائم رہی ہو اور مرزاقادیانی کی پادر ہوا دلائل وفات مسیح علیہ السلام کو خس وخاشاک میں ملانے والی ہو۔

نوٹ: ہماری پیش کردہ اسلامی تفسیر پر قادیانیوں کے دجل وفریب کا کوئی وار نہیں چلتا۔ کیونکہ ہم نے کہولت کی تعریف کو مبحث بننے ہی نہیں دیا۔ کہولت کے جو کچھ بھی معنی ہوں وہ ہمیں منظور ہیں۔ ہماری پیش کردہ تفسیر ماشاء اللہ ہر حال میں لاجواب ہے۔فالحمد ﷲ علی ذالک!

قرآنی دلیل نمبر:۷

’’واذ کففت بنی اسرائیل عنک اذ جئتہم بالبینات فقال الذین کفروا منہم ان ہذا الا سحر مبین (مائدۃ:۱۱۰)‘‘ {(اے عیسیٰ علیہ السلام) یاد کر اس وقت کو جب کہ میں نے بنی اسرائیل کو تم سے (یعنی تمہارے قتل وہلاک کرنے سے) باز رکھا۔ جب تم ان کے پاس نبوت کی دلیلیں لے کر آئے تھے۔ پھر ان میں سے جو کافر تھے۔ انہوں نے کہا کہ یہ معجزات بجز کھلے جادو کے اور کچھ بھی نہیں۔}

ہم پہلے اپنی پیش کردہ اسلامی تفسیر کی تائید میں قادیانیوں کے مسلمہ مجدد صدی ششم امام ابن کثیر وامام فخر الدین رازی اور مجدد صدی نہم امام جلال الدین سیوطی رحمہم اللہ تعالیٰ کی تفسیریں پیش کرتے ہیں تاکہ قادیانی زبان میں حسب قول مرزا مہر سکوت لگ جائے۔

۱… تفسیر امام فخرالدین رازیؒ: ’’روی انہ علیہ الصلوٰۃ والسلام لما اظہر ہذہ المعجزات العجیبۃ قصد الیہود قتلہ فخلصہ اللہ تعالیٰ منہم حیث رفعہ الیٰ السماء‘‘

(تفسیر کبیر جز۱۲ ص۱۲۷، زیر آیت کریمہ)

’’روایت ہے کہ جب حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے یہ عجیب وغریب معجزات دکھائے تو یہود نے ان کے قتل کا ارادہ کیا۔ پس اللہتعالیٰ نے ان کو یہود سے خلاصی دی۔ اس طرح کہ ان کو آسمان پر اٹھا لیا۔‘‘

۲… تفسیر امام جلال الدین سیوطیؒ: ’’واذ کففت بنی اسرائیل عنک۰ حین ہموا بقتلک‘‘

(تفسیر جلالین ص۱۱۰، زیر آیت واذ کففت بنی اسرائیل)

’’(یاد کر ہماری اس نعمت کو جب کہ) ہم نے روک لیا بنی اسرائیل کو تجھ سے جس

111

وقت ارادہ کیا یہودیوں نے تیرے قتل کا۔‘‘

مطلب اس کا صاف ہے۔ کف کا فعل اسی وقت واقع ہوگیا۔ جب کہ یہود نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے قتل کا ابھی صرف ارادہ ہی کیا تھا۔ کوئی عمل کارروائی نہیں کرنے پائے تھے۔

۳… تفسیر ابن کثیرؒ: ’’ای واذکر نعمتی علیک فی کفی ایاہم عنک حین جئتہم بالبراہین والحجج القاطعۃ علیٰ نبوتک ورسالتک من اللہ الیہم فکذبوک واتہموک بانک ساحر وسعوا فی قتلک وصلبک فنجیتک منہم ورفعتک الیّٰ وطہرتک من دنسہم وکفیتک شرہم‘‘

(ابن کثیر ج۲ ص۱۱۵، زیر آیت کریمہ)

’’یعنی اے مسیح علیہ السلام تو وہ نعمت یاد کر جو ہم نے یہود کو تم سے دور ہٹائے رکھنے سے کی۔ جب تو ان کے پاس اپنی نبوت ورسالت کے ثبوت میں۔ یقینی دلائل اور قطعی ثبوت لے کر آیا تو انہوں نے تیری تکذیب کی اور تجھ پر تہمت لگائی کہ تو جادوگر ہے اور تیرے قتل وسولی دینے میں سعی کرنے لگے تو ہم نے تجھ کو ان میں سے نکال لیا اور اپنی طرف اٹھا لیا اور تجھے ان کی میل سے پاک رکھا اور ان کی شرارت سے بچا لیا۔‘‘

محترم ناظرین! ان تین اکابر مفسرین مسلمہ مجددین قادیانی کی تفسیر کے بعد مزید بیان کی ضرورت نہیں۔ مگر مناظرین کے کام کی چند باتیں یہاں درج کرنا مناسب سمجھتا ہوں۔

۱… کف کے لفظی معنی ہیں باز گردانیدن یعنی روکے رکھنا۔

۲… قرآن شریف میں یہ لفظ مندرجہ ذیل جگہوں میں استعمال ہوا ہے۔

الف… ’’ویکفوا ایدیہم (نساء:۹۱)‘‘

ب…’’فکف ایدیہم عنکم (مائدہ:۱۱)‘‘

ج…’’کفوا ایدیہم (نساء:۷۷)‘‘

د… ’’وکف ایدی الناس عنکم (فتح:۲۰)‘‘

و… ’’ھو الذی کف ایدیہم عنکم وایدیکم عنہم (فتح:۲۴)‘‘

ان تمام آیات کو مکمل طور پر پڑھ کر دیکھ لیا جائے۔ سیاق وسباق پر غور کر لیا جائے۔ کف کے مفعول کو عن کے مجرور سے بکلی روکا گیا ہے۔ مثال کے طور پر سورۂ فتح کی آیۃ ’’وھو الذی کف ایدیہم عنکم وایدیکم عنہم ببطن مکۃ من بعد ان

112

اظفرکم علیہم‘‘ ہی کو لے لیجئے۔ ’’اور وہ ( اللہ) وہی ہے جس نے روک رکھے ان کے ہاتھ تم سے اور تمہارے ہاتھ ان سے مکہ کے قریب میں، بعد اس کے کہ اللہتعالیٰ نے قابو دیا تم کو ان پر۔‘‘ اس آیت میں صلح حدیبیہ کی طرف اشارہ ہے اور قادیانی بھی بلانکیر اس امر کو صحیح مانتے ہیں کہ صلح حدیبیہ میں مطلق کوئی لڑائی بھڑائی مسلمانوں اور کفار کے درمیان نہیں ہوئی۔ تفصیل کے لئے دیکھئے جلالین، ابن کثیر اور تفسیر کبیر یہاں قادیانیوں کے مسلمہ مجددین ہماری تائید میں رطب اللسان ہیں۔ دوسری آیت سورۂ مائدہ کی ملاحظہ ہو۔

’’یایہا الذین آمنوا اذکروا نعمۃ اللہ علیکم اذہم قوم ان یبسطوا الیکم ایدیہم فکف ایدیہم عنکم‘‘ اے مسلمانو! تم اللہتعالیٰ کی وہ نعمت یاد کرو جو اس نے تم پر کی۔ جب کفار نے تم پر دست درازی کرنی چاہی تو ہم نے ان کے ہاتھ تم سے روکے رکھے۔

ناظرین! جس طرح حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے حق میں کفار یہود نے ہلاک کرنے کی تدبیر کی اور قتل کے ارادے سے سارا انتظام کر لیا تھا۔ ٹھیک اسی طرح یہود بنی نضیر نے رسول کریمﷺ کو ہلاک کرنے کا ارادہ کیا۔ یہود بنی نضیر کو اللہتعالیٰ نے اپنے ناپاک ارادہ میں بکلی ناکام رکھا۔

(دیکھو قادیانیوں کے مسلمہ امام ومجدد ابن کثیر کی تفسیر ابن کثیر بذیل آیت ہذا)

اللہتعالیٰ نے حضرت رسول کریمﷺ کی حفاظت کے فعل کو کف کے لفظ سے ظاہر فرمایا۔ وہی لفظ اللہ نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو یہود کے شر سے بچانے کے لئے استعمال فرمایا۔’’واذ کففت بنی اسرائیل عنک‘‘

رسول کریمﷺ کو یہود کے شر سے بکلی محفوظ رکھنے پر اللہتعالیٰ مسلمانوں کو شکریہ کا حکم دے رہے ہیں۔ ٹھیک اسی طرح حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو حکم ہورہا ہے کہ ہم نے بنی اسرائیل کو تم تک پہنچنے سے روک لیا۔ پس اس پر ہمارا شکریہ ادا کرو۔ اندریں حالت کوئی وجہ نہیں کہ ’’کف‘‘ کے معنی ہر قسم کے شر اور تکلیف سے بچانے کے نہ کریں۔

ایک عجیب نکتہ

ان تمام مقامات میں جہاں فعل کف استعمال ہوا ہے۔ اس کا مفعول ایدی (ہاتھ) اور عن کا مجرور ضمیریں ہیں۔ مطلب جس کا یہ ہے کہ آپس میں دونوں فریقوں کا اجتماع ہوجانا تو اس صورت میں صحیح ہے۔ صرف باہمی جنگ وجدل اور قتل ولڑائی نہیں ہوتی۔ یعنی ایک فریق کے ہاتھ دوسرے تک نہیں پہنچتے۔ مگر اس مقام زیر بحث میں اس علاّم الغیوب نے قادیانیوں کا ناطقہ اپنی فصیح وبلیغ کلام میں اس طریقہ سے بند کیا ہے کہ اب ان کے لئے ’’نہ پائے رفتن ونہ جائے ماندن‘‘ کا معاملہ ہے۔ یہاں

113

اللہتعالیٰ فرماتے ہیں۔ ’’اذ کففت بنی اسرائیل عنک‘‘ (یعنی جب میں نے روک لیا بنی اسرائیل کو تجھ سے) اور یوں نہیں فرمایا: ’’اذ کففت ایدی بنی اسرائیل عنک‘‘ (یعنی جب میں نے روک لئے ہاتھ بنی اسرائیل کے تجھ سے)

ناظرین باتمکین! آپ اپنی ذہانت وفطانت کو ذرا کام میں لائیے اور کلام اللہ کی فصاحت کی داد دیجئے۔ بقیہ تمام صورتوں میں دونوں مخالف پارٹیوں کا آپس میں ملنا اور اکٹھا ہونا مسلم ہے۔ وہاں ایک پارٹی سے اپنی مخالف پارٹی کے صرف ہاتھوں کو روکا گیا۔ اس واسطے تمام جگہوں میں ’’ایدی‘‘ کو ضرور استعمال کیاگیا ہے۔ مگر یہاں چونکہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے آسمان پر اٹھا لینے کے سبب خدا تعالیٰ نے یہود کو اپنی تمام تدبیروں کے باوجود حضرت عیسیٰ علیہ السلام تک پہنچنے سے روک لیا۔ اس واسطے ’’کف‘‘ کا مفعول بنی اسرائیل کو قرار دیا۔ ان کے ہاتھوں کا روکنا مذکور نہیں ہوا۔

دوسرا نکتہ

آیت: ’’انی متوفیک ورافعک الیّٰ‘‘ میں ہم دلائل عقلی ونقلی سے ثابت کر چکے ہیں کہ اللہتعالیٰ نے یہود کے مکر کے بالمقابل حضرت عیسیٰ علیہ السلام سے چار وعدے فرمائے تھے اور یہ آیت بطور بشارت تھی۔ اللہتعالیٰ اسی وعدے کے پورا کرنے کا بیان فرمارہے ہیں۔ جس کو دوسری جگہ ان الفاظ میں ارشاد فرمایا۔ ’’واذ ایدتک بروح القدس‘‘ (یعنی جب ہم نے تمہیں مدد دی روح القدس کے ساتھ) ابن عباسؓ فرماتے ہیں کہ حضرت جبرائیل علیہ السلام حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو اٹھا کر آسمان پر لے گئے۔

مرزاغلام احمد قادیانی کی مضحکہ خیز اور توہین آمیز تفسیر اور اس کا ردناظرین کی تفریح طبعی اور نکتہ فہمی کے لئے پیش کرتا ہوں۔

’’اسی طرح اللہتعالیٰ نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو فرمایا تھا۔ ’’اذ کففت بنی اسرائیل عنک‘‘ یعنی یاد کر وہ زمانہ جب کہ بنی اسرائیل کو جو قتل کا ارادہ رکھتے تھے۔ میں نے تجھ سے روک دیا۔ حالانکہ تواتر قومی سے ثابت ہے کہ حضرت مسیح علیہ السلام کو یہودیوں نے گرفتار کر لیا تھا اور صلیب پر کھینچ دیا تھا۔ لیکن خدا نے آخر جان بچادی۔ پس یہی معنی ’’اذ کففت‘‘ کے ہیں۔‘‘

(نزول المسیح ص۱۵۱، خزائن ج۱۸ ص۵۲۹)

اسی مضمون کو مرزاقادیانی دوسری جگہ اس طرح لکھتے ہیں:

’’پھر بعداس کے مسیح علیہ السلام ان کے حوالہ کیاگیا اور اس کو تازیانے لگائے گئے اور جس قدر گالیاں سننا اور فقیہوں اور مولویوں کے اشارہ سے طمانچے کھانا اور ہنسی اور

114

ٹھٹھے اڑائے جانا اس کے حق میں مقدر تھا سب نے دیکھا۔ آخر صلیب دینے کے لئے تیار ہوئے… تب یہودیوں نے جلدی سے مسیح علیہ السلام کو دو چوروں کے ساتھ صلیب پر چڑھا دیا۔ تاشام سے پہلے ہی لاشیں اتاری جائیں۔ مگر اتفاق سے اسی وقت ایک سخت آندھی آگئی… انہوں نے تینوں مصلوبوں کو صلیب پر سے اتار لیا… سو پہلے انہوں نے چوروں کی ہڈیاں توڑیں… جب چوروں کی ہڈیاں توڑ چکے اور مسیح علیہ السلام کی نوبت آئی تو ایک سپاہی نے یوں ہی ہاتھ رکھ کر کہہ دیا کہ یہ تو مرچکا ہے۔ کچھ ضرور نہیں کہ اس کی ہڈیاں توڑی جائیں اور ایک نے کہا میں ہی اس لاش کو دفن کروں گا۔ پس اس طور سے مسیح زندہ بچ گیا۔‘‘

(ازالہ اوہام ص۳۸۰تا۳۸۲، خزائن ج۳ ص۲۹۵تا۲۹۷)

اسی کتاب میں مزید تشریح یوں کی ہے: ’’مسیح پر جو یہ مصیبت آئی کہ وہ صلیب پر چڑھایا گیا اور کیلیں اس کے اعضاء میں ٹھوکی گئیں۔ جن سے وہ غشی کی حالت میں ہوگیا۔ یہ مصیبت درحقیقت موت سے کچھ کم نہ تھی۔‘‘

(ازالہ اوہام ص۳۹۲، خزائن ج۳ ص۳۰۲)

تحفہ گولڑویہ میں لکھتے ہیں: ’’اب تک خداتعالیٰ کا وہ غصہ نہیں اترا جو اس وقت بھڑکا تھا۔ جب کہ اس ’’وجیہہ‘‘ نبی کو گرفتار کراکر مصلوب کرنے کے لئے کھوپری کے مقام پر لے گئے تھے اور جہاں تک بس چلا تھا ہر ایک قسم کی ذلت پہنچائی تھی۔‘‘

(تحفہ گولڑویہ ص۶۷، خزائن ج۱۷ ص۱۹۹،۲۰۰)

میں اس قادیانی تفسیر پر مزید حاشیہ آرائی کی ضرورت نہیں سمجھتا۔ صرف اتنا کہہ دینا چاہتا ہوں کہ جب ہر ممکن ذلت وخواری میں مسیح علیہ السلام کو خدا نے مبتلا کرایا۔ یہاں تک کہ وہ ایسے بے ہوش ہوگئے کہ دیکھنے والے انہیں مردہ تصور کر کے چھوڑ گئے۔ کیا اس کے بعد بھی خدا کو یہ حق پہنچتا ہے کہ یوں کہے اور بالفاظ مرزا کہے۔ ’’یاد کر وہ زمانہ جب بنی اسرائیل کو جو قتل کا ارادہ رکھتے تھے۔ میں نے تجھ سے روک لیا۔‘‘

(نزول المسیح ص۱۵۱، خزائن ج۱۸ ص۵۲۹)

اس آیت کی ابتداء میں باری تعالیٰ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو فرماتے ہیں۔ ’’اذکر نعمتی‘‘ یعنی یاد کرمیری نعمتیں۔ انہیں نعمتوں میں سے ایک نعمت بنی اسرائیل سے حضرت مسیح علیہ السلام کو بچانا بھی ہے۔

میں پھر عرض کرتا ہوں کہ دنیا جہاں میں ایسے موقعوں پر سینکڑوں دفعہ ایک انسان دوسروں کے نرغہ سے بال بال بچ جاتا ہے۔ پس اگر حضرت عیسیٰ علیہ السلام بال بال

115

بھی بچ گئے ہوتے۔ جب بھی اس بچانے کو مخصوص طور سے بیان کرنا باری تعالیٰ کی شان عالی کے لائق نہ تھا۔ ایسا بچ جانا عام بات ہے۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا معجزانہ رنگ اور عجیب طریقہ سے یہود کے درمیان سے بچ کر آسمان پر چلا جانا ایک خاص نعمت ہے۔ جس کو باری تعالیٰ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے سامنے بیان کر کے شکریہ کا مطالبہ کر سکتے ہیں۔ ورنہ اگر مرزاقادیانی کا بیان اور تفسیر صحیح تسلیم کر لی جائے تو کیا اس نعمت کے شکریہ کے مطالبہ پر حضرت عیسیٰ علیہ السلام یوں کہنے میں حق بجانب نہ ہوں گے۔ یا اللہ یہ بھی آپ کا کوئی مجھ پر احسان تھا کہ تمام جہان کی ذلتیں اور مصائب مجھے پہنچائی گئیں۔ میرے جسم میں میخیں ٹھونکی گئیں۔ میں نے ’’ایلی ایلی لما سبقتنی‘‘ کے نعرے لگائے۔ یعنی اے میرے خدا۔ اے میرے خدا تو نے مجھے کیوں چھوڑ دیا ہے۔ پھر بھی تیری غیرت جوش میں نہ آئی۔ اندھیری رات میں وہ مجھے مردہ سمجھ کر پھینک گئے۔ میرے حواریوں نے چوری چوری میری مرہم پٹی کی۔ میں یہود کے ڈر سے بھاگا بھاگا ایران اور افغانستان کے دشوار گزار پہاڑوں میں ہزار مشکلات کے بعد درۂ خیبر کے راستہ پنجاب، یوپی، نیپال پہنچا اور وہاں کی گرمی کی شدت برداشت نہ کر سکنے کے سبب کوہ ہمالیہ کے دشوار گزار دروںمیں سے گرتا پڑتا سرینگر پہنچا۔ وہاں ۸۷برس گمنامی کی زندگی بسر کر کے مرگیا اور وہیں دفن کر دیا گیا۔ اس میں آپ نے کون سا کمال کیا کہ مجھے نعمت کے شکریہ کا حکم دیتے ہیں۔ کیا یہ کہ میری جان جسم سے نہ نکلنے دی اور اس حالت کا شکریہ مطلوب ہے۔ سبحان اللہ! واہ رے آپ کی خدائی!! ہاں ایسی ذلت سے پہلے اگر میری جان نکال لیتا تو بھی میں آپ کا احسان سمجھتا۔ اب کوئی سا احسان ہے۔ اگر تو کہے کہ میں نے تیری جان بچا کر صلیب پر مرنے اور اس طرح ملعون ہونے سے بچا لیا تو اس کا جواب بھی سن لیں۔

۱… کیا تیرا معصوم نبی اگر صلیب پر مر جائے تو واقعی تیرا یہی قانون ہے کہ وہ لعنتی ہوجاتا ہے۔ اگر نہیں اور یقینا نہیں تو پھر جان بچانے کے کیا معنی۔

۲… باوجود اپنی اس تدبیر کے جس پر آپ مجھ سے شکریہ کا مطالبہ چاہتے ہیں۔ یہودی اور عیسائی مجھے ملعون ہی سمجھتے ہیں۔ آپ کی کس بات کا شکریہ ادا کروں۔

۳… اگر آپ کے ہاں نعوذ ب اللہ ایسا ہی عجیب قانون ہے کہ ہر معصوم مظلوم پھانسی پر چڑھائے جانے اور پھر مرجانے پر ملعون ہوجاتا ہے اور آپ نے مجھے لعنتی موت سے بچانا چاہا تو معاف کریں۔ اگر میں یوں کہوں کہ آپ کا اختیار کردہ طریق کار صحیح نہ تھا۔ جیسا کہ نتائج نے ثابت کر دیا۔ جس کی تفصیل نمبر:۲ میں میں عرض کر چکا ہوں۔ اگر مجھے اپنی

116

مزعومہ لعنتی موت سے بچانا تھا تو کم ازکم یوں کرتے کہ ان کی گرفتاری سے پہلے مجھے موت دے دیتے۔ تاکہ میری اپنی امت تو ایک طرف، یقینا یہودی بھی میری لعنتی موت کے قائل نہ ہو سکتے۔ پس مجھے بتایا جائے کہ میں کس بات کا شکریہ ادا کروں۔

یہ ہے وہ قدرتی جواب جو قیامت کے دن حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے ذہن میں آنا چاہئے۔ بشرطیکہ قادیانی اقوال واہیہ کو ٹھیک تسلیم کر لیا جائے۔ ہاں اسلامی تفسیر کو صحیح تسلیم کر لیں تو وہ حالت یقینا قابل ہزارشکر ہے۔ ہزارہا یہود قتل کے لئے تیار ہو کر آتے ہیں۔ مکان کو گھیر لیتے ہیں۔ مکروفریب کے ذریعہ گرفتاری کا مکمل سامان کر چکے ہیں۔ موت حضرت مسیح علیہ السلام کو سامنے نظر آتی ہے۔ اللہتعالیٰ فرماتے ہیں۔ ’’انی متوفیک ورافعک الیّٰ‘‘ یعنی ’’(اے عیسیٰ علیہ السلام) میں تجھ پر قبضہ کرنے والا ہوں اور آسمان پر اٹھانے والا ہوں۔‘‘ پھر اس وعدہ کو اللہتعالیٰ پورا کرتے ہیں اور یوں اعلان کرتے ہیں۔ ’’وایدناہ بروح القدس‘‘ یعنی ہم نے مسیح علیہ السلام کو جبرائیل فرشتہ کے ساتھ مدد دی۔ (جو انہیں اٹھا کر دشمنوں کے نرغہ سے بچا کر آسمان پر لے گئے) دوسری جگہ اس وعدہ کا ایفاء یوں مذکور ہے۔ ’’ماقتلوہ یقیناً بل رفعہ اللہ الیہ‘‘ (یہود نے یقینی بات ہے کہ حضرت مسیح علیہ السلام کو قتل نہیں کیا۔ بلکہ اٹھا لیا اللہتعالیٰ نے ان کو آسمان پر) اسی ایفاء وعدہ اور معجزانہ حفاظت کو بیان کر کے شکریہ کا مطالبہ کرتے ہیں۔ اس آیت میں ’’واذ کففت بنی اسرائیل عنک‘‘ یعنی اے عیسیٰ علیہ السلام یاد کر ہماری نعمت کو جب ہم نے تم سے بنی اسرائیل کو روک لیا اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام پر واجب ہے کہ گردن مارے احسان کے جھکا دیں اور یوں عرض کریں۔ ’’رب اوزعنی ان اشکر نعمتک التی انعمت علیّ‘‘ یا اللہ مجھے توفیق دے کہ میں واقعی تیری معجزانہ نعمتوں کا شکریہ ادا کروں۔

قادیانی اعتراض اور اس کا جواب

اعتراض از مرزاقادیانی: ’’دیکھو آنحضرتﷺ سے بھی عصمت کا وعدہ کیاگیا تھا۔ حالانکہ احد کی لڑائی میں آنحضرتﷺ کو سخت زخم پہنچے تھے اور یہ حادثہ وعدہ عصمت کے بعد ظہور میں آیا تھا۔ اسی طرح اللہتعالیٰ نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو فرمایا تھا۔ ’’واذ کففت بنی اسرائیل عنک‘‘ یعنی یاد کر وہ زمانہ کہ جب بنی اسرائیل کو جو قتل کا ارادہ رکھتے تھے۔ میں نے تجھ سے روک دیا۔ حالانکہ تواتر قومی سے ثابت ہے کہ حضرت مسیح کو یہودیوں نے گرفتار کر لیا تھا اور صلیب پر کھینچ دیا تھا۔ لیکن خدانے آخر جان بچادی۔ پس یہی معنی ’’اذ کففت‘‘ کے ہیں۔

117

جیسا کہ ’’و اللہ یعصمک من الناس‘‘ کے ہیں۔‘‘

(نزول المسیح ص۱۵۱، خزائن ج۱۸ ص۵۲۹)

جواب از ابوعبیدہ نمبر:۱

مضمون ما سبق میں اس کا حقیقی اور الزامی رنگ میں جواب موجود ہے۔

جواب نمبر:۲… ’’عصم‘‘ کے معنی ہیں ’’بچا لینا‘‘ یعنی دشمن کا طرح طرح کے حملے کرنا اور ان حملوں کے باوجود جان کا محفوظ رکھنا۔ لیکن ’’کف‘‘ کے معنی ہیں روک لینا۔ یعنی ایک چیز کو دوسری تک پہنچنے کا موقعہ ہی نہ دینا۔ یہ دونوں آپس میں ایک جیسے کس طرح ہوسکتے ہیں؟ ہم اس پر بھی مفصل بحث کر کے ثابت کر آئے ہیں کہ کف کے استعمال کے موقعہ پر ضروری ہے کہ ایک فریق کو دوسرے فریق سے مطلق کسی قسم کا گزند نہ پہنچے۔ جب ہم شواہد قرآنی سے ثابت کر چکے ہیں کہ تمام قرآن کریم میں جہاں جہاں کف کا لفظ استعمال ہوا ہے۔ مکمل حفاظت کے معنوںمیں استعمال ہوا ہے تو ان معنوں کے خلاف اس آیت کے معنی کرنا کس طرح جائز ہوسکتا ہے؟

لیجئے! ہم خود مرزاقادیانی کا اپنا اصول ایسے موقعہ پر صحیح معنوں کی شناخت کا پیش کر کے قادیانی جماعت سے درخواست کرتے ہیں کہ اگر ایمان کی ضرورت ہے تو اسلامی تفسیر کے خلاف اپنی تفسیر بالرائے کو ترک کر دو۔

’’اگر قرآن شریف اوّل سے آخر تک اپنے کل مقامات میں ایک ہی معنوں کو استعمال کرتا تو محل مبحوث فیہ میں بھی یہی قطعی فیصلہ ہوگا جو معنی … سارے قرآن شریف میں لئے گئے ہیں وہی معنی اس جگہ بھی مراد ہیں۔‘‘

(ازالہ اوہام ص۳۲۹، خزائن ج۳ ص۲۶۷)

ہم چیلنج کرتے ہیں کہ تمام قرآن شریف میں جہاں جہاں کف کا لفظ استعمال ہوا ہے۔ انہیں مذکورہ بالا معنوں میں استعمال ہوا ہے۔ پس محل نزاع میں اس کے خلاف معنی کرنا حسب قول مرزا الحاد اور فسق ہوگا۔

جواب نمبر:۳… ایک لمحہ کے لئے ہم مان لیتے ہیں۔ نہیں بلکہ قادیانی تحریف کی حقیقت الم نشرح کرنے کے لئے ہم فرض کر لیتے ہیں کہ ’’عصم‘‘ اور ’’کف‘‘ ہم معنی ہیں۔ پھر بھی قادیانی ہی جھوٹے ثابت ہوں گے۔ کیونکہ رسول کریمﷺ کے ساتھ وعدۂ ’’عصمت‘‘ جو خدا نے کیا۔ وہ مکمل حفاظت کے رنگ میں ظاہر کیا۔ یقینا قادیانی دجل وفریب کا ناطقہ بند کرنے کو ایسا کیاگیا۔ ہمارا دعویٰ ہے کہ ’’و اللہ یعصمک من الناس‘‘ کی بشارت کے بعد رسول کریمﷺ کو کفار کوئی جسمانی گزند بھی نہیں پہنچا سکے۔

118

قادیانی کا یہ کہنا کہ جنگ احد میں رسول کریمﷺ کا زخمی ہونا اور دانت مبارک کا ٹوٹ جانا اس بشارت کے بعد ہوا ہے۔ یہ ’’دو دو نے چارروٹیاں‘‘ والی مثال ہے اور قادیانی کے تاریخ اسلام اور علوم قرآنی سے کامل اور مرکب جہالت کا ثبوت ہے۔

جنگ احد ہوا تھا شوال ۳ھ میں اور رسول کریمﷺ کو زخم اور دیگر جسمانی تکلیف بھی اسی ماہ میں لاحق ہوئی تھی۔ جیسا کہ قادیانی خود تسلیم کر رہا ہے۔ مگر یہ آیت سورۂ مائدہ کی ہے۔ جو نازل ہوئی تھی۔ ۵ھ اور ۷ھ کے درمیان زمانہ میں۔ دیکھو خود مولوی محمد علی امیر جماعت لاہوری اپنی تفسیر میں یوں رقمطراز ہے۔ ’’ان مضامین پر جن کا ذکر اس سورۂ مائدہ میں ہے۔ غور کرنے سے معلوم ہوتا ہے اور یہ رائے اکثر محققین کی بھی ہے کہ اس سورت کے اکثر حصہ کا نزول پانچویں اور ساتویں سال ہجری کے درمیان ہے۔‘‘

(بیان القرآن ص۴۰۳، مطبوعہ ۱۴۰۱ھ)

اب رہا سوال خاص اس آیت ’’و اللہ یعصمک من الناس‘‘ کے نزول کا سواس بارہ میں ہم قادیانی نبی اور اس کی امت کے مسلم مجدد صدی نہم علامہ جلال الدین سیوطی کا قول پیش کرتے ہیں۔ ’’و اللہ یعصمک من الناس فی صحیح ابن حبان عن ابی ہریرۃؓ انہا نزلت فی السفر واخرج ابن ابی حاتم وابن مردویہ عن جابر انہا نزلت فی ذات الرقاع باعلیٰ نخل فی غزوۃ بنی انمار‘‘

(تفسیر اتقان جزو اوّل ص۳۲)

مطلب جس کایہ ہے کہ غزوہ بنی انمار کے زمانہ میں یہ آیت سفر میں نازل ہوئی تھی۔ جب اس آیت کا وقت نزول غزوہ بنی انمار کا زمانہ ثابت ہوگیا تو اس کی تاریخ نزول کا قطعی فیصلہ ہوگیا۔ کیونکہ یہ بات تاریخ اسلامی کے ادنیٰ طالب علم سے بھی معلوم ہوسکتی ہے کہ غزوہ بنی انمار ۵ھ میں واقع ہوا تھا۔ مفصل دیکھو کتب تاریخ اسلام ابن ہشام وغیرہ۔

لیجئے! ہم اپنی تصدیق میں مرزاقادیانی کا اپنا قول ہی پیش کرتے ہیں۔ تاکہ مخالفین کے لئے کوئی جگہ بھاگنے کی نہ رہے۔ مرزاقادیانی لکھتے ہیں: ’’لکھا ہے کہ اوّل مرتبہ میں جناب پیغمبر خداﷺ چند صحابی کو برعایت ظاہر اپنی جان کی حفاظت کے لئے رکھا کرتے تھے۔ پھر جب یہ آیت ’’و اللہ یعصمک من الناس‘‘ نازل ہوئی تو آنحضرتﷺ نے ان سب کو رخصت کر دیا اور فرمایا کہ اب مجھ کو تمہاری حفاظت کی ضرورت نہیں۔‘‘

(الحکم ص۲، مورخہ ۲۴؍اگست ۱۸۹۹ء، بحوالہ تفسیر القرآن موسومہ بہ خزینۃ العرفان قادیانی ص۵۹۲)

119

مرزاغلام احمد قادیانی کا سیاہ جھوٹ

پس مرزاقادیانی کا یہ لکھنا کہ: ’’جنگ احد کا حادثہ وعدہ عصمت کے بعد ظہور میں آیا تھا۔‘‘ بہت ہی گندہ اور سیاہ جھوٹ ہے۔ اللہتعالیٰ جھوٹوں کے متعلق فرماتے ہیں: ’’لعنۃ اللہ علی الکذبین‘‘ اور خود مرزاقادیانی جھوٹ بولنے والے کے بارہ میں لکھتے ہیں:

۱… ’’جھوٹ بولنا اور گوہ کھانا ایک برابر ہے۔‘‘

(حقیقت الوحی ص۲۰۶، خزائن ج۲۲ ص۲۱۵)

۲… ’’جھوٹ بولنا مرتد ہونے سے کم نہیں۔‘‘

(ضمیمہ تحفہ گولڑویہ ص۳، خزائن ج۱۷ ص۵۶ حاشیہ)

۳… ’’جھوٹ بولنے سے بدتر دنیا میں اور کوئی برا کام نہیں۔‘‘

(تتمہ حقیقت الوحی ص۲۶، خزائن ج۲۲ ص۴۵۹)

۴… ’’جھوٹے پر خدا کی لعنت۔‘‘

(ضمیمہ براہین احمدیہ حصہ پنجم ص۱۱۱، خزائن ج۲۱ ص۲۷۵)

۵… ’’جھوٹ بولنے سے خدا بھی ہاتھ سے جاتا ہے۔‘‘

(ریویو جلد اوّل نمبر۴ بابت ماہ اپریل ۱۹۰۲ء ص۱۴۸)

۶… ’’جھوٹ بولنے سے مرنا بہتر ہے۔‘‘

(تبلیغ رسالت ج۷ ص۳۰، مجموعہ اشتہارات ج۳ ص۳۴)

۷… ’’جھوٹ ام الخبائث ہے۔‘‘

(تبلیغ رسالت ج۷ ص۲۸، اشتہارات ج۳ ص۳۱)

حضرات! فرمائیے اور اپنی مطہر اور پاکیزہ ضمیروں سے مشورہ کر کے جواب دیجئے کہ مرزاقادیانی کی حیثیت اپنے ہی فتویٰ کی رو سے کیا رہ جاتی ہے؟ نبی، محدث، مسیح، موعود اور مجدد تو درکنار کیا وہ شریف انسان بھی ثابت ہوسکتے ہیں؟

قرآنی دلیل نمبر:۸

…’’اذ قالت الملئکۃ یمریم ان اللہ یبشرک بکلمۃ منہ اسمہ المسیح عیسیٰ ابن مریم وجیہا فی الدنیا والاٰخرۃ (آل عمران:۴۵)‘‘ {جب کہا فرشتوں نے اے مریم اللہ تعالیٰ تمہیں بشارت دیتے ہیں اپنی طرف سے ایک کلمہ کی۔ جس کا نام ہوگا مسیح عیسیٰ ابن مریم علیہ السلام وہ دنیا میں بھی اور آخرت میں بھی باعزت ہوگا۔}

اس آیت سے حیات عیسیٰ علیہ السلام پر استدلال کا سارا راز اللہتبارک وتعالیٰ نے ’’وجیہا فی الدنیا‘‘ میں پنہاں رکھا ہوا ہے۔ ہمارا مسلک چونکہ قادیانی مسلمات سے حیات عیسیٰ علیہ السلام پر دلائل قائم کرنا ہے۔ اس واسطے ہم سب سے پہلے ’’وجیہا فی الدنیا‘‘ کی قادیانی تشریح پیش کرتے ہیں۔ اس کے بعد قادیانی اقوال سے ثابت کریں گے کہ حضرت مسیح علیہ السلام صلیب پر نہیں چڑھائے گئے۔ بلکہ آسمان پر اٹھائے گئے ہیں۔

۱… مرزاقادیانی نے ’’وجیہا فی الدنیا‘‘ کے معنی لکھے ہیں۔ ’’دنیا میں راست بازوں کے

120

نزدیک باوجاہت یا باعزت ہونا۔‘‘

(ایام الصلح ص۱۶۴، خزائن ج۱۴ ص۴۱۲)

۲… مرزاقادیانی کے نزدیک ’’تمام نبی دنیا میں وجیہہ ہی تھے۔‘‘

(ایام الصلح ص۱۶۶، خزائن ج۱۴ ص۴۱۴)

۳… (الف) مرزاقادیانی کے لاہوری خلیفہ اپنی تفسیر بیان القرآن میں لکھتے ہیں۔ ’’وجیہ‘‘ کے معنی ہیں ذوجاہ یا ذووجاہۃ یعنی مرتبہ والا یا وجاہت والا۔

(ب)’’ اللہتعالیٰ کے انبیاء سب ہی وجاہت والے ہوتے ہیں۔‘‘

(تفسیر بیان القرآن ص۲۱۱، مطبوعہ ۱۴۰۱ھ)

ناظرین باتمکین! اس آیت مبارکہ میں حضرت مریم علیہا السلام کو بطور بشارت کہاگیا ہے کہ وہ لڑکا (عیسیٰ علیہ السلام) دنیامیں بھی اور آخرت میں بھی باعزت، بآبرو اور باوجاہت ہوگا۔ قابل توجہ الفاظ یہاں ’’وجیہا فی الدنیا‘‘ کے ہیں۔ ان الفاظ سے صاف عیاں ہے کہ اس سے مراد صرف دنیوی وجاہت ہی ہے۔ جیسا کہ خود الفاظ ڈنکے کی چوٹ اعلان کر رہے ہیں۔ پھر دنیوی وجاہت سے بھی وہ معمولی وجاہت مراد نہیں ہوسکتی۔ جو دنیا میں کروڑہا انسانوں کو حاصل ہے۔ اس سے کوئی خاص وجاہت (عزت) مراد ہے۔ ورنہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو دنیوی وجاہت سے خاص کرنا اور اس کی بشارت کو خصوصیت کے ساتھ بطور پیش گوئی بیان کرنا شان باری تعالیٰ کے لائق نہیں۔ حضرت مریم علیہ السلام کو معمولی دنیوی وجاہت سے قبل از وقت اطلاع دینا قرین قیاس نہیں۔ روحانی وجاہت کا یقین تو حضرت مریم علیہ السلام کو کلمتہ منہ اور ’’وجیہا فی الاٰخرۃ‘‘ اور ’’غلاماً ذکیا‘‘ وغیرہ خطابات ہی سے حاصل ہوگیا تھا۔ ہاں ’’وجیہا فی الدنیا‘‘ کے الفاظ کے اضافہ سے یقینا باری تعالیٰ کا یہ مقصود تھا کہ اے مریم علیہ السلام اس دنیا میں اپنی قوم سے چند روز بدسلوکی کے بعد ہم انہیں تمام جہاں کی نظروں میں باعزت بھی کر کے چھوڑیں گے۔ اب سوال پیدا ہوتا ہے کہ عیسیٰ علیہ السلام کو واقعہ صلیب تک دنیوی وجاہت حاصل تھی یا نہ۔ اس کا جواب قادیانی کے اپنے الفاظ میں پیش کرتا ہوں۔

’’وجیہا فی الدنیا والاٰخرۃ‘‘ دنیا میں بھی مسیح کو اس کی زندگی میں وجاہت یعنی عزت، مرتبہ اور عام لوگوں کی نظر میں عظمت اور بزرگی ملے گی اور آخرت میں بھی۔ اب ظاہر ہے کہ حضرت مسیح نے ہیرو دوس کے علاقہ میں کوئی عزت نہیں پائی۔ بلکہ غایت درجہ کی تحقیر کی گئی۔‘‘ (رسالہ مسیح ہندوستان میں ص۵۳، خزائن ج۱۵ ص ایضاً) واقعی مرزاقادیانی سچ کہہ رہے ہیں۔ اس کی تصدیق دیکھنی ہو تو مرزاقادیانی کے بیانات بذیل آیت کریمہ

121

’’واذ کففت بنی اسرائیل عنک‘‘ گزر چکے۔ وہاں ملاحظہ فرمالیں۔

تصدیق از محمد علی خلیفہ لاہوری قادیانی

’’یہاں اشارہ یہ معلوم ہوتا ہے کہ لوگ سمجھیں گے کہ یہ شخص ذلیل ہوگیا۔ مگر ایسا نہ ہوگا۔ بلکہ اسے دنیا میں بھی ضرور وجاہت ہوگی اور آخرت میں بھی۔ جس قدر تاریخ حضرت مسیح علیہ السلام کی عیسائیوں کے ہاتھ میں ہے۔ وہ بظاہر انہیں ایک ذلت کی حالت میں چھوڑتی ہے۔ کیونکہ ان کا خاتمہ چوروں کے ساتھ صلیب پر ہوتا ہے۔ مگر اللہتعالیٰ کا یہ قانون ہے کہ وہ انبیاء کو کچھ نہ کچھ کامیابی دے کر اٹھاتا ہے۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے متعلق ’’وجیہاً فی الدنیا‘‘ فرمانا بھی یہی معنی رکھتا ہے کہ لوگ انہیں ناکام سمجھیں گے۔ مگر فی الحقیقت وہ کامیابی کے بعد اٹھائے جائیں گے۔ یہ کامیابی حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو یہود کے بیت المقدس میں حاصل نہیں ہوئی۔‘‘

(تفسیر بیان القرآن ص۲۱۱، مطبوعہ ۱۴۰۱ھ)

معزز حضرات! جب یہ طے ہوگیا کہ واقعہ صلیب تک حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو دنیوی وجاہت وعزت حاصل نہ تھی۔ اب سوال پیدا ہوتا ہے کہ واقعہ صلیب اور اس کے بعد کے زمانہ میں کیا انہیں یہ وجاہت دنیوی اس وقت تک نصیب ہوئی ہے یا نہ۔ اس کا جواب بھی قادیانی کے اپنے اقوال اور مسلمات سے پیش کرتا ہوں۔ یعنی ابھی تک دنیوی وجاہت اور عزت حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو حاصل نہیں ہوئی۔

۱… واقعہ صلیبی کو آیت ’’واذ کففت بنی اسرائیل عنک‘‘ کے ذیل میں مذکور مرزاقادیانی کے الفاظ میں پڑھ لیا جائے۔ اگر مرزاقادیانی کا بیان صحیح تسلیم کر لیا جائے تو اس سے بڑھ کر دنیوی بے وجاہتی اور بے عزتی کا تصور انسانی دماغ کے تخیل سے محال ہے۔ یہی حال انجیل کے بیانات کو صحیح ماننے کا ہے۔ ہاں اسلامی حقائق کو قبول کر لینے سے واقعہ صلیبی حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی دنیوی وجاہت کی ابتداء معلوم ہوتی ہے۔ وہ اس طرح کہ یہود کے مکروفریب کے خلاف حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا معجزانہ رنگ میں آسمان پر اٹھایا جانا اور یہودنا مسعود کا اپنی تمام فریب کاریوں میں بدرجہ اتم فیل ہو جانا گویا وجاہت کی ابتداء ہے۔

اب ہم واقعہ صلیب کے زمانہ مابعد کو لیتے ہیں۔ اس زمانہ میں یہود اور عیسائی بالعموم یہی عقیدہ رکھتے چلے آئے ہیں کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام صلیب پر چڑھائے گئے اور بالآخر قتل کئے گئے اور اس وجہ سے دونوں مذاہب کے ماننے والے یعنی یہودی اور عیسائی حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو (نعوذ ب اللہ) لعنتی قرار دیتے ہیں۔ اگر قادیانی تصدیقات کی ضرورت

122

ہو تو دیکھو ’’ومکروا ومکر اللہ و اللہ خیر الماکرین‘‘ کی ذیل میں مذکور ہیں۔ پس کیا کروڑہا انسانوں کا آپ کو لعنتی قرار دینا موجب وجاہت ہے یا بے عزتی؟ پہلے تو صرف مخالف یہودیوں کی نظر ہی میں بے عزت تھے۔ مگر واقعہ صلیب سے لے کر اس وقت تک عیسائی بھی لعنت میں یہود کے ہمنوا ہوگئے۔

قادیانی نظریہ وجاہت عیسیٰ علیہ السلام اور اس کی حقیقت

’’سچی بات یہ ہے جب مسیح علیہ السلام نے ملک پنجاب کو اپنی تشریف آوری سے شرف بخشاتو اس ملک میں خدا نے ان کو بہت عزت دی۔ حال ہی میں ایک سکہ ملا ہے۔ اس پر حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا نام درج ہے۔ اس سے یقین ہوتا ہے کہ حضرت مسیح علیہ السلام نے اس ملک میں آکر شاہانہ عزت پائی۔‘‘

(مسیح ہندوستان میں ص۵۳، خزائن ج۱۵ ص ایضاً)

ناظرین! مرزاقادیانی کے اس بیان کو ایجاد مرزا کہنا ہی زیادہ زیبا ہے۔ کیونکہ یہ سب کچھ مرزاقادیانی کا اپنا تخیل اور اپنے عجیب وغریب دماغ کی پیداوار ہے۔ قرآن، حدیث، تفاسیر، مجددین، انجیل اور کتب تواریخ یکسر اس بیان کی تصدیق اور تائید سے خالی ہیں۔ ہاں اتنا معلوم ہوتا ہے کہ مرزاقادیانی بھی ’’وجیہاً فی الدنیا‘‘ کی تفسیر دنیوی جاہ وجلال اور بادشاہت سے کرتے ہیں۔ کوئی قادیانی حضرات سے دریافت کرے کہ علاقہ ہیرودیس میں مسیح علیہ السلام ساڑھے تینتیس برس تک رہے اور بغیر وجاہت ودنیوی عزت کے رہے۔ دنیوی جاہ وجلال سے بھی عاری رہے۔ باوجود اس کے اس زمانہ میں جو انجیل نازل ہوئی۔ اس کے نام پر انجیل موجود ہے اور ساڑھے تینتیس سال کے حالات سے ساری انجیلیں بھری پڑی ہیں۔ اگر آپ کے بیان میں ذرہ بھر بھی صداقت کا نام ہو تو پنجاب میں جو حضرت مسیح علیہ السلام نے شاہانہ عزت پائی۔ اس زمانہ کے حالات کہاں درج ہیں؟ آپ کے خیال میں واقعہ صلیبی کے ۸۷برس بعد تک حضرت عیسیٰ علیہ السلام زندہ رہے۔ اس علاقہ میں آپ نے جس انجیل کی تعلیم دی وہ کہاں ہے اور اس کا کیا ثبوت ہے؟ بلکہ آپ کا بیان اگر صحیح مان لیا جائے۔ یعنی صلیب کے واقعہ کے ۸۷برس بعد تک حضرت مسیح گمنامی کی زندگی بسر کر کے کشمیر میں فوت ہوگئے تو کیا یہ بھی کوئی دنیوی وجاہت اور عزت ہے کہ جلاوطنی اور مسافری کے مصائب وآلام برداشت کر کے آخر ۸۷برس کے بعد بے نام ونشان فوت ہوگئے؟ سبحان اللہ! کہ اتنی بڑی وجاہت کے باوجود اوراق تاریخ ان کے تذکرہ سے خالی ہیں۔ طرفہ تریہ کہ تواریخ کشمیر پر یہ الہامی ضمیمہ کسی طرح چسپاں

123

نہیں ہوسکتا۔ بیّنوا وتوجروا!

لیجئے! ہم آپ کو بتاتے ہیں کہ:’’وجیہا فی الدنیا‘‘ کا مطلب کیا ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں۔ ’’وان من اہل الکتاب الا لیؤمنن بہ قبل موتہ‘‘ یعنی تمام اہل کتاب حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی موت سے پہلے ان پر ایمان لے آئیں گے۔ مفصل دیکھو اسی آیت کی ذیل میں۔

رسول کریمﷺ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی آمد ثانی کا حال ان الفاظ میں بیان فرماتے ہیں۔’’عن ابی ہریرۃؓ قال قال رسول اللہﷺ والذی نفسی بیدہ لیوشکن ان ینزل فیکم ابن مریم حکماً عدلاً فیکسر الصلیب ویقتل الخنزیر ویضع الحرب ویفیض المال حتیٰ لا یقبلہ احدو تکون السجدۃ الواحدۃ خیر من الدنیا وما فیہا ثم یقول ابوہریرۃؓ فاقرؤا ان شئتم وان من اہل الکتاب الا لیؤمنن بہ قبل موتہ‘‘

(بخاری ج۱ ص۴۹۰، باب نزول عیسیٰ علیہ السلام)

ابوہریرہؓ سے روایت ہے کہ آنحضرتﷺ نے فرمایا خدا کی قسم عنقریب ابن مریم ’’تم میں اتریں گے‘‘ حاکم عادل ہوکر۔ پھر وہ صلیب (عیسائیوں کے نشان مذہب) کو توڑیں گے اور خنزیر کو قتل کرا دیں گے اور بوجہ غلبہ اسلام جہاد کو موقوف کر دیں گے۔ (یعنی جب کفار ہی نہ رہیں گے تو جہاد کس سے کریں گے۔ البتہ شروع میں جہاد ضرور کریں گے) اور مال اتنا فراوان ہو جائے گا کہ کوئی شخص اسے قبول نہ کرے گا۔ یہاں تک کہ ایک سجدہ ساری دنیا کی نعمتوں سے اچھا ہوگا۔ پھر ابوہریرہؓ نے کہا کہ اگر تم (اس کی تصدیق کلام اللہ سے) چاہو۔ تو پرھو آیت ’’وان من اہل الکتاب الا لیؤمنن بہ قبل موتہ‘‘

دیکھئے ناظرین! یہ ہے وہ وجاہت جس کی بشارت حضرت مریم علیہا السلام کو دی جارہی ہے اور جو اہل اسلام کا عقیدہ ہے۔ بہرحال قادیانی مسلمات کی رو سے تو حضرت عیسیٰ علیہ السلام دنیوی وجاہت سے بکلی محروم رہے۔ حالانکہ قادر مطلق خدا کا سچا وعدہ ہے وہ پورا ہوکر رہے گا۔

تصدیق از مرزاقادیانی

حضرات! مرزاقادیانی کو جس زمانہ میں ابھی مسیح علیہ السلام ابن مریم بننے کا شوق نہیں چرایا تھا تو اس زمانہ میں ان کا بھی وہی عقیدہ تھا جو ستر کروڑ مسلمانان عالم کا ساڑھے تیرہ سو سال سے چلا آرہا ہے۔ براہین احمدیہ اپنی الہامی کتاب میں مجدد ومحدث

124

کا دعویٰ کرنے کے بعد یوں لکھتے ہیں:’’ھو الذی ارسل رسولہ بالہدیٰ ودین الحق لیظہر علی الدین کلہ‘‘ یہ آیت جسمانی اور سیاست ملکی کے طور پر حضرت مسیح علیہ السلام کے حق میں پیش گوئی ہے اور جس غلبہ کاملہ دین اسلام کا وعدہ دیاگیا ہے۔ وہ غلبہ مسیح کے ذریعہ سے ظہور میں آئے گا اور جب حضرت مسیح علیہ السلام دوبارہ اس دنیا میں تشریف لائیں گے تو ان کے ہاتھ سے دین اسلام جمیع آفاق اور اقطار میں پھیل جائے گا۔‘‘

(براہین احمدیہ ص۴۹۸،خزائن ج۱ ص۵۹۳ حاشیہ)

’’حضرت مسیح علیہ السلام نہایت جلالیت کے ساتھ دنیا پر اتریں گے اور تمام راہوں اور سڑکوں کو خس وخاشاک سے صاف کر دیں گے اور کج اور ناراست کا نام ونشان نہ رہے گا اور جلال الٰہی گمراہی کے تخم کو اپنی تجلی قہری سے نیست ونابود کر دے گا۔‘‘

(براہین احمدیہ ص۵۰۵، خزائن ج۱ ص۶۰۱ حاشیہ)

ناظرین! یہ ہے وہ وجاہت جس کی طرف اللہتعالیٰ حضرت مریم علیہ السلام کو توجہ دلارہے ہیں۔ چونکہ ابھی تک یہ وجاہت حضرت مسیح علیہ السلام کو حاصل نہیں ہوئی۔ پس معلوم ہوا کہ وہ ابھی تک دنیا پر نازل بھی نہیں ہوئے اور بقول مرزاقادیانی ’’نزول جسمانی رفع جسمانی کی فرع ہے۔‘‘

(ازالہ اوہام ص۲۹۹، خزائن ج۳ ص۲۳۶)

اس واسطے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا رفع جسمانی بھی ثابت ہوگیا۔ ’’فالحمد ﷲ علی ذالک‘‘

قرآنی دلیل نمبر:۹

’’واذ قال اللہ یا عیسیٰ ابن مریم أانت قلت للناس اتخذونی وامیّ الہین من دون اللہ۰ قال سبحانک مایکون لی ان اقول مالیس لی بحق۰ ان کنت قلتہ فقد علمتہ۰ تعلم ما فی نفسی ولا اعلم ما فی نفسک۰ انک انت علاّم الغیوب۰ ماقلت لہم الا ما امرتنی بہ ان اعبدوا اللہ ربی وربکم وکنت علیہم شہیداً ما دمت فیہم فلما توفیتنی کنت انت الرقیب علیہم ۰ وانت علی کل شیٔ شہیدا (المائدہ:۱۱۶،۱۱۷)‘‘ {اور وہ وقت بھی قابل ذکر ہے۔ جب کہے گا اللہتعالیٰ (نصاریٰ کو جھٹلانے کے لئے) کہ اے عیسیٰ علیہ السلام ابن مریم (ان نصاریٰ میں جو تثلیث کا عقیدہ تھا۔ اس کا کیا سبب ہوا) کیا تو نے ہی کہا تھا کہ مجھ کو اور میری ماں کو بھی علاوہ خدا کے معبود قرار دے لو۔ عیسیٰ علیہ السلام عرض کریں گے (توبہ توبہ) میں تو آپ کو (شریک سے) منزہ سمجھتا ہوں۔ (جیسا کہ آپ واقع میں بھی اس سے پاک اور منزہ ہیں تو ایسی حالت میں ) مجھ کو کسی طرح زیبا نہ تھا کہ میں ایسی بات

125

کہتا کہ جس کے کہنے کا مجھے کوئی حق نہ تھا۔ اگر میں نے کہا ہوگا تو آپ کو اس کا علم ہوگا۔ (مگر جب آپ کے علم میں بھی یہی ہے کہ میں نے ایسا نہیں کہا تو پھر میں اس بات سے بری ہوں) آپ تو میرے دل کے اندر کی بات کو بھی جانتے ہیں اور میں آپ کے علم میں جو کچھ ہے اس کو نہیں جانتا۔ تمام غیبوں کے جاننے والے آپ ہی ہیں۔ (سو جب اپنا اس قدر عاجز ہونا اور آپ کا اس قدر کامل ہونا مجھ کو معلوم ہے تو شرکت خدائی کا میں کیونکر دعویٰ کر سکتا ہوں) میں نے تو ان سے اور کچھ نہیں کہا۔ مگر صرف وہی جو آپ نے مجھے ان سے کہنے کو فرمایا تھا۔ (یعنی) یہ کہ تم اللہ کی بندگی اختیار کرو جو میرا بھی رب ہے اور تمہارا بھی رب ہے۔ (یا اللہ) میں ان پر گواہ تھا جب تک ان میں موجود رہا۔ پھر جب آپ نے مجھے اٹھا لیا۔ تو صرف آپ ہی ان کے احوال پر نگہبان رہے اور آپ ہر چیز کی خبر رکھتے ہیں۔}

معزز ناظرین! یہ وہ ترجمہ ہے جو کلام اللہ، احادیث نبویہ، اقوال صحابہ، تفسیر مجددین امت محمدیہ سے مؤید ہے۔

اب ہم ان آیات کی تفصیل یوں عرض کرتے ہیں اور سوال وجواب کے رنگ میں بیان کرتے ہیں۔ تاکہ ناظرین بلاتکلیف سمجھ سکیں۔

سوال نمبر:۱… اللہتعالیٰ یہ سوال حضرت عیسیٰ علیہ السلام سے ان آیات کے نزول سے پہلے کر چکے تھے یا بعد میں کرنے کا اعلان ہے۔ اگر بعد میں کریں گے تو کب کریں گے؟

جواب نمبر:۱… یہ سوال وجواب آیت کے نزول کے بعد قیامت کے دن ہوں گے۔ جیسا کہ اس کے بعد ساتھ ہی اللہتعالیٰ فرماتے ہیں: ’’ہذا یوم ینفع الصادقین صدقہم (مائدۃ:۱۱۹)‘‘ یعنی یہی ہے وہ دن جب کہ سچ بولنے والوں کو ان کا سچ بولنا نفع پہنچائے گا۔

۲… اس آیت سے پہلے یہ آیت ہے: ’’یوم یجمع اللہ الرسل فیقول ماذا أجبتم (مائدۃ:۱۰۹)‘‘ {جس دن جمع کرے گا اللہ تعالیٰ تمام رسولوں کو۔ پھر کہے گا تمہیں کیا جواب دیا گیا۔} یہاں یوم سے مراد یقینا قیامت کا دن ہے۔

۳… صحیح بخاری باب التفسیر میں بھی اس سوال وجواب کا آئندہ ہی ہونا لکھا ہے۔

۴… تفسیر کبیر میں امام فخرالدین رازیؒ نے بھی یہی لکھا ہے۔ (مجدد صدی ششم کا فیصلہ)

۵… تفسیر جلالین میں امام جلال الدین سیوطیؒ مجدد صدی نہم بھی اس سوال وجواب کو

126

قیامت کے دن سے وابستہ کر رہے ہیں۔

۶… امام ابن کثیرؒ مفسر ومجدد صدی ششم بھی یہی ارشاد فرماتے ہیں۔

۷… غرضیکہ قریباً تمام مفسرین متفق الرائے ہیں کہ اللہتعالیٰ اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے درمیان یہ سوال وجواب قیامت کے دن ہوں گے۔

تصدیق از مرزاقادیانی

۸… مرزاقادیانی نے اپنی کتاب (ضمیمہ براہین احمدیہ حصہ پنجم ص۶، خزائن ج۲۱ ص۱۵۹) پر خود تسلیم کیا ہے کہ ’’یہ سوال وجواب آئندہ قیامت کو ہوں گے۔‘‘

سوال نمبر:۲… اللہ تعالیٰ کا سوال کیا ہے؟ اور اسے باوجود علاّم الغیوب ہونے کے اس سوال کی ضرورت کیا تھی؟

جواب نمبر:۲… سوال ’’أنت قلت للناس اتخذونی وامیّ الٰہین من دون اللہ‘‘ سے ظاہر ہے۔ یعنی یہ کہ اے عیسیٰ علیہ السلام عیسائیوں نے تمہیں اور تمہاری ماں کو میرے سوا کیوں خدا بنالیا۔ کیا انہیں ایسا کرنے کا حکم تم نے دیا تھا۔ بے شک اللہتعالیٰ علاّم الغیوب ہے۔ اسے سب کچھ معلوم ہے۔ مگر یہ سوال صرف نصاریٰ کو الوہیت مسیح کے عقیدہ میں مسیح علیہ السلام (نصاریٰ کے مزعومہ خدا) کی اپنی زبانی مجرم ثابت کرنے کے لئے ہوگا۔ چنانچہ تفسیر کبیر میں ایسا ہی درج ہے۔ تفسیر جلالین میں قادیانیوں کے مسلم امام ومجدد صدی نہم اس آیت کی تفسیر اس طرح ارشاد فرماتے ہیں۔

’’واذ کر اذقال ای یقول اللہ بعیسیٰ فی القیمۃ توبیخاً لقومہ‘‘ یعنی یاد کرو وہ وقت جب فرمائے گا اللہتعالیٰ حضرت عیسیٰ علیہ السلام سے قیامت کے دن ان کی قوم کو توبیخ (مجرم کو ڈاٹنے) کے لئے۔

ایسا ہی تمام مفسرین مسلمہ قادیانی لکھتے چلے آئے ہیں۔

سوال نمبر:۳… کیا حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو اللہتعالیٰ کے اس سوال سے پہلے عیسائیوں کے عقائد کی خرابی کا علم ہوگا؟

جواب نمبر:۳… ہاں جب تک آپ کو عیسائی عقیدہ کی خرابی کا علم نہ ہو۔ ان سے یہ سوال کرنا باری تعالیٰ کے علم پر نعوذ ب اللہ حرف آتا ہے۔ ہمارے دلائل ذیل ملاحظہ ہوں۔

۱… خود سوال کی عبارت ایسا بتارہی ہے۔ یعنی استفہام توبیخی، بالخصوص جب کہ مجرم عیسائی سامنے کھڑے ہوں گے اور اللہتعالیٰ ان کا حساب لے رہے ہوں گے۔ اس سوال سے

127

پہلے یقینا عیسائیوں سے اللہتعالیٰ نے ان کے باطل عقائد کی وجہ دریافت کی ہوگی اور انہوں نے یقینا یہی جواب دیا ہوگا کہ ہمارے عقائد ہمیں یسوع مسیح نے خود تعلیم کئے تھے اور واقعی موجودہ اناجیل میں ایسا ہی لکھا ہے۔ پس ضرور ہے کہ دعویٰ اور جواب دعویٰ کے بعد اللہتعالیٰ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو ان کی امت کے خلاف شہادت دینے کے لئے سوال کریں گے۔ اندریں حالات کون بیوقوف یہ کہہ سکتا ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو اپنی قوم کے باطل عقائد کا علم نہ ہوگا؟

۲… اللہتعالیٰ قرآن کریم میں فرماتے ہیں: ’’یوم ندعوا کل اناس بامامہم (بنی اسرائیل:۷۱)‘‘ یعنی قیامت کے دن ہم تمام لوگوں کو اپنے اپنے نبیوں اور رہنماؤں سمیت بلائیں گے۔

’’یوم یحشرہم وما یعبدون من دون اللہ فیقول أانتم اضللتم عبادی ہؤلاء ام ہم ضلوا السبیل (فرقان:۱۷)‘‘ {قیامت کے دن اللہتعالیٰ ان مشرکین کو اور جن کی وہ اللہتعالیٰ کے سوا عبادت کرتے ہیں۔ ان سب کو جمع کرے گا تو ان سے کہے گا کہ کیا تم نے میرے ان بندوں کو گمراہ کیا تھا۔ یا وہ خود گمراہ ہوگئے تھے۔}

ان آیات سے صاف ظاہر ہے کہ تمام نبی اپنی اپنی امتوں کو ساتھ لے کر باری تعالیٰ کے حضور میں پیش ہوںگے۔ کیا پیشی سے پہلے امتوں کے حالات سے ان کے نبی واقف نہ ہوں گے؟ ضرور ہوں گے ورنہ ان کے ساتھ ہونے کا فائدہ کیا ہے۔ خود مرزاقادیانی بھی تسلیم کرتے ہیں کہ: ’’حضرت موسیٰ علیہ السلام اپنی امت کی نیکی وبدی پر شاہد تھے۔‘‘

(شہادۃ القرآن ص۶۷، خزائن ج۶ ص۳۶۳)

۳… احادیث صحیحہ میں آیا ہے کہ امت محمدی کے افراد کے اعمال باقاعدہ بارگاہ محمدیﷺ میں پیش ہوتے ہیں۔ اسی طرح ظاہر ہے کہ ہر ایک صاحب امت رسول کو اللہتعالیٰ ان کی امت کے حالات سے مطلع رکھتا ہو۔ ورنہ بتایا جائے کہ رسول کریمﷺ نے کس جگہ اپنی امت کے حالات سے اطلاع یابی کو اپنے ساتھ خصوصیت دی ہے اور دوسرے رسولوں کے محروم ہونے کی خبر دی ہے؟ جیسا کہ آپؐ نے اپنی فضیلتیں دوسرے انبیاء پر صاف صاف الفاظ میں بیان فرماتے وقت یہی مسلک اختیار فرمایا ہے۔

۴… اللہتعالیٰ نے قادیانی معترضین کو لاجواب کرنے کے لئے پہلے ہی سے اعلان کر دیا ہے۔ ’’ویوم القیامۃ یکون علیہم شہیدا (نساء:۱۵۹)‘‘ {یعنی حضرت عیسیٰ علیہ السلام اہل کتاب پر دن قیامت کے بطور شاہد پیش ہوں گے۔} اسی پیش گوئی کی تصدیق میں حضرت

128

عیسیٰ علیہ السلام فرمائیں گے۔ وکنت علیہم شہیداً ما دمت فیہم (مائدہ:۱۱۷)‘‘ {یعنی میں ان پر شاہد رہا۔ جب تک میں ان میں موجود رہا۔} چونکہ حضرت مسیح علیہ السلام دوبارہ اس دنیا میں حسب وعدہ باری تعالیٰ تشریف لائیں گے اور اپنی امت کا حال دیکھ چکے ہوں گے۔ اس واسطے اپنی شہادت کے وقت ان کے باطل عقائد سے ضرور مطلع ہوں گے۔

۵… اسی آیت کے آگے اللہتعالیٰ حضرت مسیح علیہ السلام کا قول نقل فرماتے ہیں۔ ’’ان تعذبہم فانہم عبادک‘‘ یعنی اے باری تعالیٰ اگر آپ ان مشرکین نصاریٰ کو عذاب دیں تو وہ آپ کے بندے ہیں۔

کیا یہ اقرار اس بات پر دلالت نہیں کرتا کہ وہ وقت سوال قوم کے باطل عقائد سے اچھی طرح واقف ہوں گے۔ ورنہ اس سوال سے انہیں کیسے پتہ لگ سکتا ہے کہ نصاریٰ نے شرک کیا تھا؟

۶… اگر حضرت مسیح علیہ السلام کو اپنی امت کے باطل عقائد کا پتہ نہ ہوتا تو باری تعالیٰ کے سوال کے جواب میں موجود جواب نہ دیتے۔ بلکہ یوں عرض کرتے۔ ’’یا اللہ اپنی الوہیت کی طرف ان کو دعوت دینا تو درکنار مجھے تو یہ بھی معلوم نہیں کہ ان لوگوں نے مجھے اور میری ماں کو خدا بنایا ہے یا نہ۔ مجھے تو آج ہی آپ کے ارشاد سے پتہ چلا ہے کہ ایسا ہوا ہے۔‘‘ مگر حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا سوال کے جواب میں اپنی بریت ثابت کرنا اس بات کی بیّن دلیل ہے کہ آپ کو اپنی امت کا حال خوب معلوم تھا۔

۷… حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو اپنی امت کے بگڑ جانے کا پتہ ہے اور اب یہ پتہ انہیں نزول کے بعد نہیں بلکہ قبل رفع لگ چکا تھا۔ ثبوت میں ہم قادیانیوں کی کتاب عسل مصفیٰ سے رسول کریمﷺ کی حدیث کا ترجمہ نقل کرتے ہیں۔ ’’دیلمی اور ابن النجار نے حضرت جابرؓ سے روایت کی ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام سفر کرتے کرتے ایک وادی میں پہنچے۔ جہاں ایک اندھا آدمی دیکھا جو ہل جل نہیں سکتا تھا اور وہ ایک مجذومی تھا اور جذام نے اس کے جسم کو پھاڑ دیا ہوا تھا۔ اس کے لئے کوئی سایہ کی جگہ نہیں تھی… وہ اپنے رب العالمین کا شکریہ ادا کرتا تھا۔ عیسیٰ علیہ السلام نے اس سے پوچھا کہ اے خدا کے بندے تو کس چیز پر خدا کا شکر ادا کرتا ہے… اس شخص نے جواب دیا کہ اے عیسیٰ علیہ السلام میں اللہتعالیٰ کی حمد اس لئے کرتا ہوں کہ میں اس زمانہ اور وقت میں نہیں ہوا جب کہ لوگ تیری نسبت کہیں گے کہ تو خدا کا بیٹا اور اقنوم ثالث ہے۔‘‘

(کنزالعمال ج۳ ص۳۴۲، حدیث نمبر۶۸۵۲، وعسل مصفیٰ جلد اوّل ص۱۹۱،۱۹۲)

129

ناظرین! کیسا صاف فیصلہ ہے اور قادیانیوں کی مسلمہ حدیث ببانگ دہل اعلان کر رہی ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو اپنے رفع سے پہلے عیسائیوں کے فساد عقائد کا پتہ تھا۔ اب جو الزام قادیانی ہم پر لگاتے تھے کہ اسلامی عقیدہ کے مطابق حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو جھوٹ کا مرتکب ماننا پڑتا ہے۔ وہی الٹا ان پر عائد ہوتا ہے۔ کیونکہ بفرض محال وہ فوت ہوچکے ہیں۔ جب بھی وہ عیسائیوں کے فساد عقائد سے لاعلمی نہیں ظاہر کر سکتے۔ کیونکہ اس حدیث کی رو سے انہیں (قادیانیوں کے قول کے مطابق) وفات سے پہلے پتہ لگ چکا تھا کہ دنیا میں ان کی پرستش ہوگی۔

تصدیق از مرزاغلام احمد قادیانی

۸… ’’میرے پر یہ کشفاً ظاہر کیاگیا ہے کہ یہ زہرناک ہوا جو عیسائی قوم میں پھیل گئی ہے۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو اس کی خبر دی گئی۔‘‘

(آئینہ کمالات اسلام ص۲۵۴، خزائن ج۵ ص ایضاً)

’’خداتعالیٰ نے اس عیسائی فتنہ کے وقت میں یہ فتنہ حضرت مسیح علیہ السلام کو دکھایا گیا۔ یعنی اس کو آسمان پر اس فتنہ کی خبر دی گئی۔‘‘

(آئینہ کمالات ص۲۶۸، خزائن ج۵ ص ایضاً)

۹… مرزاقادیانی نے اس بھی زیادہ صفائی کے ساتھ عیسیٰ علیہ السلام کا اپنی امت کے بگاڑ سے مطلع ہونا تسلیم کیا ہے۔

(آئینہ کمالات اسلام ص۴۳۹،۴۴۰، خزائن ج۵ ص ایضاً)

۱۰… ’’خداتعالیٰ نے اس عیسائی فتنہ کے وقت میں یہ فتنہ حضرت مسیح علیہ السلام کو دکھایا۔ یعنی ان کو آسمان پر اس فتنہ کی اطلاع دے دی کہ تیری امت اور تیری قوم نے اس طوفان کو برپا کیا ہے… تب وہ نزول کے لئے بے قرار ہوا۔‘‘

(آئینہ کمالات ص۲۶۸، خزائن ج۵ ص ایضاً)

الحمدﷲ! یہ امر پایہ ثبوت کو پہنچ گیا ہے کہ قیامت کے دن سوال کرنے سے پہلے ہی حضرت مسیح علیہ السلام کو اپنی امت کی خرابی عقائد کا علم ہوچکا ہوگا۔

سوال نمبر:۵… کیا حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو معلوم ہوگا کہ کس طرح اور کیوں کر ان کی امت کے لوگوں نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام اور ان کی ماں کو خدا ٹھہرالیا؟

جواب… نہیں اس بات کا انہیں علم نہ ہوگا۔ ہاں اتنا پتہ ضرور ہوگا کہ ان عقائد باطلہ کی ایجاد ان کی موجودگی میں نہیں ہوئی۔ بلکہ اس زمانہ میں ہوئی جب وہ آسمان پر تشریف فرما تھے۔ دلائل ذیل ملاحظہ کریں۔

۱… حضرت عیسیٰ علیہ السلام عرض کریں گے۔ ’’وکنت علیہم شہیداً ما دمت فیہم فلما توفیتنی کنت انت الرقیب علیہم‘‘ یعنی اے اللہتعالیٰ میں تیرے حکم (ما امرتنی

130

بہ) کی شہادت دیتا رہا۔ جب تک میں ان کے درمیان مقیم رہا۔ جب تو نے مجھے اٹھا لیا۔ پس پھر تو ہی ان کا نگہبان تھا۔ چونکہ اپنی نگہبانی کے زمانہ میں ان کے عقائد باطلہ کے جاری ہونے سے وہ اپنی بریت ظاہر کر رہے ہیں۔ لہٰذا ثابت ہوا کہ وہ ان کے عقائد کے بگڑنے کا زمانہ اپنے آسمان پر رہنے کے زمانہ کو قرار دے رہے ہیں۔ پس ہم اس نتیجہ پر پہنچتے ہیں کہ حضرت مسیح علیہ السلام کو عیسائیوں کے عقائد باطلہ اختیار کر لینے کا علم تو ضرور تھا۔ یعنی یہ تو معلوم تھا کہ انہوں نے یہ عقائد ان کی عدم موجودگی یعنی رفع علی السماء کے زمانہ میں اختیار کئے تھے۔ مگر یہ معلوم نہ تھا کہ کیونکر اور کس طرح یہ عقائد ان میں مروج ہوگئے۔

کلام اللہ کی عجیب فصاحت

۱… اس عبارت میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے ’’توفیتنی‘‘ کا لفظ استعمال کیا ہے اور اس سے باری تعالیٰ کے اس وعدہ کے ایفاء کا زمانہ بتایا ہے جو باری تعالیٰ نے ’’انی متوفیک ورافعک الیّٰ‘‘ میں کیا تھا اور ’’بل رفعہ اللہ الیہ‘‘ میں پورا کر دیا تھا۔ یعنی اس ’’توفی‘‘ کے وہی معنی ہیں جو ’’انی متوفیک‘‘ والی توفی کے ہیں۔ جس کے معنی ہم دلائل سے ثابت کر چکے ہیں کہ موت کے نہیں بلکہ زندہ اٹھا لینے کے ہیں۔ (دیکھو بحث توفی)

۲… باری تعالیٰ نے یہاں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی زبان سے توفی کے مقابلہ پر ’’دمت فیہم‘‘ استعمال کرایا ہے۔

ناظرین! ذرا غور کریں کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے دو زمانوں کا ذکر کیا ہے۔

۱… ’’مادمت فیہم‘‘ کا، دوسرا ’’توفی‘‘ کا، الفاظ کی اس بندش نے قادیانی مسیحیت کا ہمیشہ کے لئے خاتمہ کر دیا ہے۔ تفصیل اس اجمال کی یوں ہے کہ:

الف… اگر حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے اپنی جسمانی زندگی دو جگہوں میں نہ گزاری ہوتی تو ’’مادمت فیہم‘‘ (جب تک میں ان میں مقیم رہا) کا استعمال بالکل غلط ہے۔ بلکہ فرمانا چاہئے تھا۔ ’’جب میں زندہ رہا۔‘‘ جیسا کہ دوسری جگہ ایسے موقعہ پر فرمایا۔ ’’واوصانی بالصلوٰۃ والزکوٰۃ مادمت حیا‘‘ یعنی اللہتعالیٰ نے مجھے نماز اور زکوٰۃ کا حکم دیا ہے۔ جب تک کہ میں زندہ رہوں۔ اگر صرف ایک ہی دفعہ دنیا میں رہنا تھا تو آپ ’’مادمت فیہم‘‘ کیوں فرماویں گے؟ ’’فیہم‘‘ (ان کے درمیان) کے لفظ کا اضافہ بتا رہا ہے کہ کوئی ایسا زمانہ بھی ان کی زندگی میں آیا ہوگا۔ جب کہ وہ ’’ماکان فیہم‘‘ (ان میں موجود نہ تھے) کے مصداق بھی ہوں گے اور وہ زمانہ ان کے آسمان پر رہنے کا زمانہ ہوگا۔ جس عرصہ میں

131

عیسائیوں نے اپنے عقائد باطلہ گھڑ لئے ہیں۔

۲… چونکہ جب تک ’’دام‘‘ کے بعد ’’حیا‘‘ کا لفظ نہ آئے۔ اس کے معنی زندہ رہنے کے نہیں ہوسکتے۔ بلکہ اس کے معنی صرف موجود رہنے کے ہوتے ہیں۔ اس واسطے اس کے بالعکس کے معنی صرف موت سے کرنا تحکم محض ہے۔ کیونکہ موجود رہنے کے خلاف، موجود نہ رہنا ہے۔ جو بغیر موت کے زندگی میں بھی ہوسکتا ہے۔ و اللہ اعلم قادیانی لوگوں کی عقل کو کیا ہو گیا ہے کہ موجود رہنے کے خلاف وہ مرنا کے سوا اور کچھ تسلیم کرنے کو تیار ہی نہیں ہوتے۔

مثال نمبر:۱… وہ لاہور میں موجود نہیں ہے۔ قادیانی اس کے معنی کرتے ہیں وہ مرگیا ہے۔ حالانکہ اس کے معنی ہیں وہ کہیں باہر گیا ہوا ہے۔

مثال نمبر:۲… جب رسول کریمﷺ معراج شریف پر تشریف لے گئے تھے تو آپﷺ اس زمانہ میں زمین پر موجود نہ تھے۔ پس کیا آپؐ اس وقت فوت ہوچکے تھے؟ ہر گز نہیں۔

مثال نمبر:۳… جب جبرائیل علیہ السلام رسول کریمﷺ کے پاس تشریف لاتے تھے۔ تو اس وقت آپ (جبرائیل علیہ السلام) آسمان پر موجود نہ ہوتے تھے کیا اس وقت جبرائیل وفات یافتہ ہوتے تھے؟

مثال نمبر:۴… ایک ہوا باز سات دن تک محو پرواز رہا۔ زمین میں موجود نہ رہا تو کیا وہ مرا ہوا تصور ہوگا؟ ہرگز نہیں۔

مثال نمبر:۵… سائنس دان کوشش کر رہے ہیں کہ زمین کے باہر چاند وغیرہ دیگر سیاروں اور ستاروں میں جا کروہاں کے حالات کی تفتیش کریں۔ اگر وہ وہاں چلے جائیں تو یقینا زمین میں موجود نہ رہیں گے۔ پس کیا وہ مرے ہوئے متصور ہوں گے؟ ہرگز نہیں۔ (اب خلائی تسخیر ہوگئی ہے۔ خلا باز ہفتوں وہاں رہتے ہیں اس وقت وہ زمین پر نہیں ہوتے کیا وہ فوت ہوجاتے ہیں؟ مرتب)

بعینہ اسی طرح حضرت عیسیٰ علیہ السلام کچھ زمانہ اس دنیا میں مقیم رہے۔ باقی زمانہ اس سے باہر آسمان پر۔ اس سے یہ کہاں لازم آیا کہ اس دنیا سے باہر ضرور وہ موت ہی کا شکار رہے ہوں گے؟ ہاں اگر قادیانی مطلب صحیح ہوتا تو ضرور حضرت عیسیٰ علیہ السلام یوں عرض کرتے۔ ’’مادمت حیا‘‘ اس وقت بقرینہ لفظ ’’حیا‘‘ توفی کے معنی ہم موت لینے پر مجبور ہو جاتے۔ چونکہ انہوں نے لفظ ’’فیہم‘‘ استعمال فرمایا ہے۔ اس واسطے توفی کے معنی موت دینا کرنے سے فصاحت کلام مانع ہے۔ لاہوری مرزائی محمد علی قادیانی اپنی تفسیر ج۱ ص۴۵۳ پر ’’مادام فیہم‘‘ کے ہی معنی کرتے ہیں۔ ’’فالحمد ﷲ رب العلمین ‘‘

132

قادیانی اعتراضات اور ان کا تجزیہ

اعتراض نمبر:۱… از مرزاقادیانی: ’’پھر یہ دوسری تاویل پیش کرتے ہیں کہ آیت ’’فلما توفیتنی‘‘ میں جس توفی کا ذکر ہے وہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے نزول کے بعد واقع ہوگی۔ لیکن تعجب کہ وہ اس قدر تاویلات رکیکہ کرنے سے ذرا بھی شرم نہیں کرتے۔ وہ نہیں سوچتے کہ آیت ’’فلما توفیتنی‘‘ سے پہلے یہ آیت ہے۔ ’’واذ قال اللہ یا عیسیٰ أانت قلت للناس‘‘ اور ظاہر ہے کہ قال ماضی کا صیغہ ہے اور اس کے اوّل اذ موجود ہے جو خاص واسطے ماضی کے آتا ہے۔ جس سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ یہ قصہ وقت نزول آیت زمانہ ماضی کا ایک قصہ تھا۔ نہ زمانہ استقبال کا۔‘‘

(ازالہ اوہام ص۶۰۲، خزائن ج۳ ص۴۲۵)

جواب نمبر:۱… مرزاقادیانی! یہ اعتراض آپ کا نیم ملاں خطرہ ایمان نیم حکیم خطرہ جان کا مصداق ہے۔ آپ تو فرمایا کرتے تھے کہ میں نے نحو ایک نہایت کامل استاد سے پڑھی تھی۔ سبحان اللہ! ’’اذ‘‘ اور ’’اذا‘‘ کے استعمال کا تو پتہ نہیں اور دعویٰ ہے مجددیت، محدثیت، مسیحیت اور نبوت کا۔ ’’انا ﷲ وانا الیہ راجعون‘‘ حضرت ’’اذ‘‘ بعض اوقات ماضی پر داخل ہوکر اس کو مستقبل کے معنوں میں تبدیل کر دیا کرتا ہے۔ تفصیل کے لئے دیکھئے شرح ملا جامیؓ شرح کا فیہ وغیرہ۔ کتب نحو۔

جادوہ وہ جو سرپر چڑھ کر بولے۔ مرزاقادیانی! ہم آپ کی توجہ آپ کی شہرہ آفاق کتاب (ضمیمہ براہین احمدیہ حصہ ۵ ص۶، خزائن ج۲۱ ص۱۵۹) کی طرف منعطف کراتے ہیں۔ جہاں آپ نے ’’اذ قال اللہ یا عیسیٰ ابن مریم أانت قلت للناس‘‘ میں قال بمعنی یقول کا اقرار کر لیا ہے۔ پس آپ کی کون سی بات سچ سمجھیں۔ ہم دلائل سے ثابت کر آئے ہیں کہ یہ سوال وجواب قیامت کے دن ہوں گے۔ لیکن اگر ان کا وقوع عالم برزخ میں تسلیم کر بھی لیں تو اس سے آپ کو کیا فائدہ۔ ہمیں تو کوئی نقصان نہیں۔ نقصان آپ ہی کا ہوگا۔ مثلاً اگر یہ سوال وجواب حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی وفات کے بعد فوراً ہی تسلیم کر لیا جائے تو اس وقت تو ابھی عیسائی آپ کے قول کے مطابق بگڑے ہی نہ تھے۔ پھر یہ سوال وجواب کیسے؟ مرزاقادیانی ذرا تو غور کیجئے۔ اس قدر خود غرضی بھی تو اچھی نہیں ہے۔ ’’من حفر البیٔر لا خیہ وقع فیہ‘‘ جو اپنے بھائی کے لئے کنواں کھودتا ہے۔ وہ خود اس میں گرتا ہے۔ آپ ہی پر صادق آتا ہے۔ عالم برزخ میں سوال کرنے کا مطلب سوائے اس کے اور کیا ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے بطور مجرم دربار خداوندی میں

133

کھڑے ہوکر جواب دیاہوگا۔ جو کئی وجوہ سے باطل ہے۔

۱… حضرت عیسیٰ علیہ السلام جب مجرم ہی نہیں تو ان سے سوال کیوں ہوا ہوگا؟ مثلاً اگر زید کو بکر نے قتل کیا ہے تو عمرو سے کون سوال کرسکتا ہے کہ تو نے زید کو کیوں قتل کیا ہے؟

۲… جب ثابت ہوگیا کہ حضرت مسیح علیہ السلام مجرم نہیں تو ان کی پیشی بحیثیت مجرم خیال فاسد ہے۔ مجرم تو عیسائی ہیں ان کا ابھی حساب وکتاب شروع ہی نہیں ہوا۔ کروڑہا عیسائی ابھی زندہ موجود ہیں۔ کروڑہا ابھی پیدا ہونے والے ہیں۔ ان کے پیدا ہونے اور مرنے سے پہلے ہی ان کا حساب کتاب کیسے شروع ہوگیا تھا؟ کیونکہ یقینا مجرموں کا جرم ثابت کرنے یا ان کے راہنما سے سوال کر کے انہیں لاجواب کرنے کو یہ سوال ہونا چاہئے۔ مجرم ابھی موجود ہی نہیں۔ پھر گواہ کی کیا ضرورت ہے؟

۳… حساب وکتاب کا دن (یوم الدین) (یوم الحساب) تو یوم القیامۃ ہی ہے۔ تمام قرآن کریم اس کے ذکر سے بھرا ہوا ہے۔ قیامت سے پہلے حضرت عیسیٰ علیہ السلام سے سوال وجواب کے کیا معنی؟ ہائے خود غرضی تیرا ستیاناس تو حق کے دیکھنے سے انسان کو کس طرح معذور کر دیتی ہے۔

۴… پھر اگر تسلیم کر لیا جائے کہ حسب قول مرزاقادیانی یہ سوال وجواب عالم برزخ میں ہوچکا ہے تو ہم مرزاقادیانی اور اس کی پارٹی سے یہ سوال پوچھنے کا حق رکھتے ہیں کہ عالم برزخ میں سوال وجواب موت کے بعد فوراً ہی شروع ہوجاتے ہیں یا کچھ زمانہ بعد۔ یقینا موت کے ساتھ ہی شروع ہو جانا چاہئے۔ کیونکہ وقفہ دینے میں کوئی حکمت اور راز منقول نہیں۔ پس اگر حضرت عیسیٰ علیہ السلام سے یہ سوال ان کی موت کے بعد فوراً ہی شروع ہوگیا تھا تو یہ سوال ہی سرے سے فضول ٹھہرتا ہے۔ کیونکہ اس وقت تک تو ابھی عقیدہ الوہیت مسیح جاری ہی نہیں ہوا تھا۔ جیسا کہ آپ نے جابجا اس عقیدہ کا اظہار کیا ہے۔ پس جرم ہی ابھی عرصہ ظہور میں نہیں آیا۔ بازپرس پہلے ہی سے کیسے شروع ہوگئی؟ مرزاقادیانی دیکھئے۔ اپنی مسیحیت کے لئے راستہ صاف کرنے کی غرض سے آپ کو کس قدر بھول بھلیوں میں پھنسنا پڑا ہے اور یہ سوال وجواب مرنے کے کچھ زمانہ بعد ہوئے تھے تو وہ کون سا زمانہ تھا؟ اس وقت خدا کو کون سی ضرورت پیش آگئی تھی۔ ’’انا ﷲ وانا الیہ راجعون‘‘ بریں عقل ودانش بباید گریست!

۵… دندان شک جواب۔ چہ دلاور است دزدے کہ بکف چراغ دارد۔ دروغ گورا حافظہ نباشد، دیکھئے خود مرزاقادیانی مندرجہ ذیل مقامات پر اقرار کرتے ہیں کہ یہ سوال وجواب

134

خدا اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے درمیان قیامت کے دن ہوں گے۔

الف… ’’اور یاد رکھو کہ اب عیسیٰ علیہ السلام تو ہرگز نازل نہیں ہوگا۔ کیونکہ جو اقرار اس نے آیت ’’فلما توفیتنی‘‘ کی ر و سے قیامت کے دن کرنا ہے۔‘‘

(کشتی نوح ص۶۹، خزائن ج۱۹ ص۷۶)

ب… ’’فلما توفیتنی کنت انت الرقیب علیہم‘‘ اس جگہ اگر توفی کے معنی معہ جسم عنصری آسمان پر اٹھانا تجویز کیا جائے تو یہ معنی تو بدیہی البطلان ہیں۔ کیونکہ قرآن شریف کی انہیں آیات سے ظاہر ہے کہ یہ سوال حضرت عیسیٰ علیہ السلام سے قیامت کے دن ہوگا۔ علاوہ ازیں قیامت کے دن یہ جواب ان کا۔‘‘

(حقیقت الوحی ص۳۱، خزائن ج۲۲ ص۳۳)

ج… ’’فان عیسیٰ یجیب بہذا الجواب یوم الحساب یعنی یقول فلما توفیتنی فی یوم یبعث الخلق ویحضرون کما تقرون فی القرآن ایہا العاقلون‘‘

(الاستفتاء ضمیمہ حقیقت الوحی ص۴۳، خزائن ج۲۲ ص۶۶۵)

پس تحقیق عیسیٰ علیہ السلام یہ جواب دے گا۔ قیامت کے دن یعنی کہے گا۔ ’’فلما توفیتنی‘‘ کا جملہ دن قیامت کے جس طرح کہ اے عقل مندو تم قرآن کریم میں پڑھتے ہو۔

ناظرین! اس سے بڑھ کر ثبوت میں کیا پیش کر سکتا ہوں کہ خود مرزاقادیانی کے اپنے اقوال ان کی تردید میں پیش کر رہا ہوں۔ اس سے آپ مرزاقادیانی کی مجددانہ، دیانت کا اندازہ لگا سکتے ہیں۔ علماء اسلام کو جھوٹا ثابت کرنے کے لئے تو بڑے زور سے ازالہ اوہام میں لکھ مارا کہ یہ سوال وجواب قیامت کو نہیں بلکہ رسول پاکﷺ سے پہلے عالم برزخ میں ہوچکے تھے اور دلائل قرآنی اور نحوی سے ثابت کر مارا۔ پھر وہی مرزاقادیانی حقیقت الوحی اور کشتی نوح اور براہین احمدیہ حصہ۵ میں قرآنی دلائل اور نحوی اصولوں سے اس سوال وجواب کا ہونا قیامت کے دن سے وابستہ کر رہے ہیں۔ سبحان اللہ وبحمدہ!

قادیانی اعتراض نمبر:۲

’’فلما توفیتنی‘‘ نے صاف اس بات کا فیصلہ کر دیا ہے کہ عیسائی عقیدہ میں جس قدر بگاڑ اور فساد ہوا ہے۔ وہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی وفات کے بعد ہوا ہے۔ اب اگر حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو زندہ مان لیں اور کہیں کہ اب تک وہ فوت نہیں ہوئے تو ساتھ ہی یہ بھی ماننا پڑتا ہے کہ نصاریٰ نے بھی اب تک اپنے عقائد کو نہیں بگاڑا۔‘‘

(ایام الصلح ص۳۸،۳۹، خزائن ج۱۴ ص۲۶۹)

’’اور اور آیت ’’فلما توفیتنی‘‘ سے ثابت ہوچکا ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی توفی عیسائیوں کے بگڑنے سے پہلے ہو چکی ہے۔ یعنی وہ خدا بنائے جانے سے پہلے فوت ہو چکے ہیں۔ تو پھر اب تک ان کی وفات کو قبول نہ کرنا یہ طریق بحث نہیں بلکہ بے حیائی کی

135

قسم ہے۔‘‘

(ایام الصلح ص۱۳۹، خزائن ج۱۴ ص۳۸۴)

جواب از ابوعبیدہ

مرزاقادیانی! کیا اخلاق اسلامی کو ہاتھ سے دے دینا بھی آپ کی مجددیت، مسیحیت اور نبوت کے لئے ضروری ہے؟ آپ نے ’’فلمّا توفیتنی‘‘ کی رو سے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی وفات کو نہ ماننے والوں کو بے حیا کا خطاب دیا ہے۔ اب اس کا نتیجہ دیکھئے۔

۱… صحابہ کرامؓ حیات مسیح علیہ السلام کے قائل تھے۔

۲… تمام مجددین امت، مسلمہ قادیانی اس آیت کی موجودگی میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو زندہ مانتے رہے۔

۳… خود آنجناب ۵۲برس کی عمر تک اور اپنی مجددیت ومحدثیت کے ۱۲برس بعد تک حضرت مسیح علیہ السلام کو باوجود اس آیت کی موجودگی کے زندہ بجسدہ العنصری مانتے رہے۔

۴… رسول کریمﷺ نے صاف صاف الفاظ میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی حیات جسمانی کا اقرار کیا ہے۔ جیسا کہ پہلے ذکر ہوچکا ہے اور ابھی آتا ہے۔

پس آپ کی بدزبانی سے تو تمام مجدد، تمام صحابہؓ اور رسول کریمﷺ اور آپ خود بھی نہ بچ سکے۔ اگر ہمیں آپ بے حیا کہہ لیں تو مضائقہ نہیں۔ آپ کو یہ اخلاق مبارک ہوں۔ باقی اصلی جواب سنئے۔

۱… ساری مشکل آپ کو لفظ توفی کی ہے۔ آپ غالباً اپنی علمی ’’وسعت‘‘ کی بناء پر توفی کو فوت سے مشتق سمجھتے ہیں۔ حالانکہ عربی پڑھنے والے بچے بھی جانتے ہیں کہ اس کا مادہ وفاء ہے اور اس کے حقیقی معنی ہیں۔ کسی چیز کو پورا پورا اپنے قبضہ میں کر لینا، توفی کی مفصل بحث دلیل قرآنی نمبر:۱ کی ذیل میں ملاحظہ کی جائے۔ وہاں ہم نے نقلی اور خود اقوال مرزاقادیانی سے ثابت کر دیا ہے کہ توفی کے معنی روح پر قبضہ کرنا مجازی ہیں۔ حقیقی معنی اس کے جسم وروح دونوں پر قبضہ کرنا ہے۔ پس بغیر قرینہ اس کے معنی متعین کرنے علم جہالت کا ثبوت ہے۔ ’’فلما توفیتنی‘‘ کی آیت ’’انی متوفیک ورافعک‘‘ کے وعدہ کا ایفاء ہونا ظاہر کر رہی ہے۔ جس میں رفع جسمانی مذکور ہے اور اس موجودہ آیت میں ’’مادمت فیہم‘‘ کے مقابلہ میں مستعمل ہے۔ لہٰذا تمام مفسرین رحمہم اللہ نے ’’توفیتنی‘‘ کے معنی ’’رفعتنی‘‘ (یعنی اٹھا لیا آپ نے مجھے) ہی کئے ہیں اور یہ صحیح ہے کہ رفع جسمانی کے بعد ہی عیسائی بگڑے تھے۔ پس اشکال نہ رہا۔ ہاں اگر کوئی حماقت سے اس جگہ توفی کے معنی صرف ’’موت دینا‘‘ کرے تو اس پر البتہ یہ سوال وارد ہوتا ہے نہ کہ اسلامی تفسیر پر۔

136

چیلنج

اگر کوئی قادیانی ۱۳۰۰سال کے مجددین امت کے اقوال سے ثابت کر دے کہ انہوں نے ’’توفیتنی‘‘ کے معنی صرف ’’امتنی‘‘ (یعنی مارلیا تو نے مجھے) کئے ہوں تو ہم علاوہ مقررہ انعام کے ۱۵۰روپے اور انعام دیں گے۔

۲… قادیانی نبی اپنے دلائل کے چکر میں۔

مرزاقادیانی آپ ’’فلما توفیتنی‘‘ کی رو سے یہ عقیدہ رکھتے ہیں کہ توفی بمعنی مارنا ٹھیک تسلیم کرتے ہوئے ماننا پڑتا ہے کہ عیسائیوں کے عقائد باطلہ کا رواج حضرت مسیح علیہ السلام کی وفات کے بعد ہوا ہے۔ آپ کی زندگی میں عیسائیوں نے اپنے عقائد نہیں بگاڑے تھے۔ کیونکہ ایسا سمجھنا اس آیت کی خلاف ورزی ہے۔ مرزاقادیانی آپ کے دماغ کو کیا ہوگیا ہے؟ آپ تو نبی اور مجدد ومسیح موعود ہونے کے مدعی ہیں۔ کیا نبی اور مسیح موعود بننے کے لئے یہ بھی ضروری ہے کہ اس کا عقل اور حافظہ مطلق اس کا ساتھ چھوڑ دیں؟

دیکھیں آپ نے حضرت مسیح علیہ السلام کی کل عمر ازروئے حدیث ۱۲۵ سال لکھی ہے۔ (مسیح ہندوستان میں ص۵۵، خزائن ج۱۵ ص ایضاً) اور واقعہ صلیب حضرت مسیح علیہ السلام کو پیش آیا تھا۔ ساڑھے تینتیس برس کی عمر میں آپ نے خود تسلیم کیا ہے۔ (تحفہ گولڑویہ ص۱۲۷، خزائن ج۱۷ ص۳۱۱) واقعہ صلیب کے بعد بھاگ کر بقیہ زندگی افغانستان پنجاب، یوپی، نیپال میں سے ہوتے ہوئے کشمیر کے شہر سرینگر میں گزارنا آپ کے معتقدات میں سے ہے۔ جیسا کہ ہم ’’واذ کففت بنی اسرائیل عنک‘‘ کی بحث میں آپ کے اقوال سے ثابت کر آئے ہیں۔

پس ثابت ہوا کہ واقعہ صلیب کے بعد مسیح علیہ السلام ساڑھے تینتیس+ ساڑھے اکانوے سال زندہ رہے۔ عیسائیوں کے عقائد میں فساد اور بگاڑ کے متعلق آپ لکھتے ہیں: ’’انجیل پر ابھی تیس برس بھی نہیں گزرے تھے کہ بجائے خدا کی پرستش کے ایک عاجز انسان کی پرستش نے جگہ لے لی۔ یعنی حضرت عیسیٰ علیہ السلام خدا بنائے گئے اور تمام نیک اعمال چھوڑ کر ذریعہ معافی گناہ یہ ٹھہرا دیا کہ ان کے مصلوب ہونے اور خدا کا بیٹا ہونے پر ایمان لایا جائے۔‘‘

(چشمہ معرفت ص۲۵۴، خزائن ج۲۳ ص۲۶۶)

یہ تو یقینی امر ہے کہ انجیل واقعہ صلیب سے پہلے نازل ہوچکی تھی۔ پس معلوم ہوا کہ عیسائیوں کے عقائد بگڑنے کی تاریخ کم ازکم ۲/۱۔۱۲۱۔۳۰=۲/۱۔۹۱ سال حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی وفات سے پہلے خود آپ اپنی زبان سے قرار دے رہے ہو۔ پس جو اعتراض مرزاقادیانی آپ نے ہم پر کیا ہے۔ ہم تو اس سے بال بال بچ گئے۔ البتہ آپ

137

خود اسی کا شکار ہوگئے۔ اسی موقعہ پر کسی نے کہا تھا ؎

  1. الجھا ہے پاؤں یار کا زلف دراز میں

    لو آپ اپنے جال میں صیاد آگیا

مرزاقادیانی نے بڑے زور سے لکھا ہے۔ ’’اس آیت (فلما توفیتنی) کا مطلب یہ ہے کہ عیسائی حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی وفات کے بعد بگڑیں گے نہ کہ ان کی زندگی میں۔ پس اگر فرض کر لیں کہ اب تک حضرت عیسیٰ علیہ السلام فوت نہیں ہوئے تو ماننا پڑے گا کہ عیسائی بھی اب تک نہیں بگڑے اور یہ صریح باطل ہے۔ بلکہ آیت تو بتلاتی ہے کہ عیسائی صرف مسیح علیہ السلام کی زندگی تک حق پر رہے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ حواریوں کے عہد میں ہی خرابی شروع ہوگئی تھی۔ اگر حواریوں کا زمانہ بھی ایسا ہوتا کہ اس زمانہ میں بھی عیسائی حق پر ہوتے تو خدائے تعالیٰ اس آیت میں صرف مسیح علیہ السلام کی زندگی کی قید نہ لگاتا۔ بلکہ حواریوں کی زندگی کی بھی قید لگادیتا۔ پس اس جگہ ایک نہایت عمدہ نکتہ عیسائیت کے زمانہ کے فساد کا معلوم ہوتا ہے اور وہ یہ کہ درحقیقت حواریوں کے زمانہ میں ہی عیسائی مذہب میں شرک کی تخم ریزی ہوگئی تھی۔ ایک شریر یہودی پولوس نام… اس شخص نے عیسائی مذہب میں بہت فساد ڈالا۔‘‘

(ضمیمہ انجام آتھم ص۳۷، خزائن ج۱۱ ص۳۲۱)

یہ سارے کی ساری عبارت دجل وفریب کا مجموعہ ہے۔ مگر ہمیں الزامی جواب دینا ہے۔ لہٰذا ہمیں اس وقت اس سے سروکار نہیں۔ ہمارا مطلب قادیانی مسلمات سے ثابت کرنا ہے کہ ’’فلما توفیتنی‘‘ کے غلط معنی کرنے سے خود قادیانی اسی اعتراض کا شکار ہوتا ہے۔ جو وہ اہل اسلام پر کرتا ہے۔ مذکورۃ الصدر عبارت سے ظاہر ہوا کہ پولوس کے زمانہ میں عیسائی بگڑ چکے تھے۔

پولوس کی تاریخ وفات: ۶۷ء

(دیکھو انڈکس ٹودی ہولی بائبل شائع کردہ جارج ای آئر اینڈ ولیم سپائس وڈلندن)

حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی تاریخ وفات قادیانی عقیدہ کی رو سے ۱۲۵سال جیسا کہ قادیانی کے اپنے اقوال سے ثابت کر چکے ہیں۔ پس معلوم ہوا کہ قادیانی کے اپنے ہی اقوال کی رو سے حضرت مسیح علیہ السلام اپنی امت کے مشرک ہونے کے ۶۳سال بعد فوت ہوئے۔ پس جو اعتراض قادیانی ہم پر کرتا ہے وہ بدرجہ اولیٰ خود اس کا شکار ہورہا ہے۔

مرزاقادیانی! اب آپ کے بچاؤ کی صرف دو ہی صورتیں ہیں۔ یا تو اعلان کر

138

دو کہ اسلامی نکتہ نگاہ بالکل صحیح ہے یا یوں کہہ دو کہ انجیل کشمیر میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے وفات سے ذرا پہلے نازل ہوئی تھی۔ مرزاقادیانی! اس بھنور سے نکلنا بڑی بہادری ہے۔ اگر اس کا جواب دے دو تو ہم بھی آپ کی چالاکی کے قائل ہو جائیں گے۔ ’’فان لم تفعلوا ولن تفعلوا فاتقو النار التی وقودھا الناس والحجارۃ اعدت للکافرین‘‘

قادیانی اعتراض نمبر:۳

از مرزاقادیانی: ’’اگر وہ (عیسیٰ علیہ السلام) قیامت سے پہلے دنیا میں آنے والا تھا اور برابر ۴۰برس رہنے والا۔ تب تو اس نے خداتعالیٰ کے سامنے جھوٹ بولا کہ مجھے عیسائیوں کے حالات کی خبر نہیں۔‘‘

(کشتی نوح ص۶۹، خزائن ج۱۹ ص۷۶)

’’اس کو تو کہنا چاہئے تھا کہ آمد ثانی کے وقت میں نے چالیس کروڑ کے قریب دنیا میں عیسائیوں کو پایا اور ان سب کو دیکھا اور مجھے ان کے بگڑنے کی خوب خبر ہے اور میں تو انعام کے لائق ہوں۔‘‘

(کشتی نوح ص۶۹، خزائن ج۱۹ ص۷۶)

جواب از ابوعبیدہ

مرزاقادیانی! آپ سمجھ رہے ہوں گے کہ دنیا میں سب لوگ آپ کے مریدوں کی طرح ذہانت اور فطانت سے خالی ہیں۔ آپ کی چالاکی کوئی نہیں سمجھے گا۔ علماء اسلام تو آپ کے ان واہیات دلائل کو پڑھنے کے بعد آپ جیسے آدمی سے تخاطب کرنا اپنی شان ہی کے خلاف سمجھتے رہے۔ لیجئے! میں آپ کی چالاکی کا پردہ چاک کرتا ہوں۔ انشاء اللہ! پھر کبھی آپ یہ اعتراض علماء اسلام کے سامنے پیش کرنے کی ہمت نہ کریں گے۔

۱… حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے جھوٹ بولنے کی بھی ایک ہی کہی۔ مرزاقادیانی کا سوال عیسائیوں کو مجرم گرداننے کا ہے اور وہ اس طرح کہ خود انہیں کے مزعومہ خدا حضرت مسیح علیہ السلام سے سوال کر کے کہ: ’’اے عیسیٰ علیہ السلام کیا تو نے کہا تھا کہ مجھے اور میری ماں کو خدا ٹھہرالو۔‘‘ اس کا جواب انہوں نے اپنی عبودیت اور مخلوقیت کا اعلیٰ درجہ کا مظاہرہ کرتے ہوئے ایسے الفاظ میں دیا کہ اس سے بہتر ممکن ہی نہیں۔ یعنی اے خدایا اگر میں نے ایسا کہا ہوتا تو آپ کو علم ہوتا۔ کیونکہ آپ علاّم الغیوب ہیں۔ آپ میرے دل کے بھیدوں کو جاننے والے ہیں۔ میں نے تو صرف آپ کے احکام توحید بوجہ احسن پہنچا دیے تھے۔ جب تک میں ان میں موجود رہا۔ ان کی اصلاح کا میں ذمہ دار تھا۔ اپنی عدم موجودگی کا میں کیسے ذمہ دار ہوسکتا ہوں۔ وغیرہ وغیرہ! مرزاقادیانی کہتے ہیں حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے جھوٹ بولا۔ اجی! اس میں کون سا جھوٹ ہے؟ جو کچھ انہوں نے فرمایا وہ

139

حق محض ہے۔

۲… باقی رہا آپ کا یہ سوال کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام انعام کا دعویٰ کیوں نہیں کریں گے۔ تو اس کا جواب یہ ہے کہ ان کے تعلقات خدا کے ساتھ آپ کی طرح نہ تھے۔ آپ کو تو خداتعالیٰ سے نعوذ ب اللہ بہت بے تکلفی ہے۔ آپ کے باپ کی ماتم پرسی بھی خدا نے باقاعدہ کی تھی۔ (نزول المسیح ص۲۰۷، خزائن ج۱۸ ص۵۸۵) بیٹا ہونے کا خطاب بھی دے دیا۔ (البشریٰ ج۱ ص۴۹) آپ کو ابن مریم بنا کر حیض کا مرض بھی لگا دیا تھا۔ (حقیقت الوحی وکشتی نوح) آپ کو عورت بنا کر خود مرد کی صورت اختیار کر کے آپ کے ساتھ نعوذ ب اللہ مجامعت بھی کی۔ (اسلامی قربانی ص۱۲) پھر آپ کو مریم سے ابن مریم بنا کر مسیح موعود بھی بنادیا۔ (حقیقت الوحی) وغیرہ وغیرہ!

ہمارے انبیاء علیہم السلام بارگاہ رب العزت میں باوجود وعدہ مکمل امان ونجات کے طبعی طور پر مارے ڈر کے کانپ رہے ہوں گے۔ انعام کا مطالبہ کرنا گستاخی میں شمار کرتے ہیں۔ ہاں وہ علام الغیوب خود انعام دے دے گا۔ چنانچہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے متعلق ہی ذکر کرتے ہوئے اللہتعالیٰ فرماتے ہیں۔ ’’ہذا یوم ینفع الصادقین صدقہم‘‘ یہی ہے وہ دن جب کہ سچ بولنے والوں کو (مثلاً حضرت مسیح علیہ السلام) کو ان کا سچ بولنا نفع دے گا۔ یعنی باری تعالیٰ کی طرف سے انعام واکرام کا باعث ہوگا۔

۳… میں شروع مضمون میں ثابت کر آیا ہوں کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو اپنی امت کی خرابی کا علم ضرور ہوگا۔

۴… خدا کے سامنے اگر اس کا بندہ اپنی علمی قلت کو محسوس کر کے لااعلم کہہ بھی دے۔ تو مرزاقادیانی کیا یہ جھوٹ ہے؟ صحابہ کرامؓ سے کئی دفعہ رسول کریمﷺ معمولی سی باتوں کے متعلق سوال کرتے تھے۔ صحابہ کرامؓ عرض کر دیا کرتے تھے۔ ’’ اللہ ورسولہ اعلم‘‘ یعنی اللہ اور اس کا رسول بہتر جانتے ہیں۔ کیا اس کے یہ معنی ہیں۔ صحابہ کرامؓ کو اس خبر کا مطلق علم نہ تھا؟ ہم روزانہ دیکھتے ہیں۔ تھوڑے علم والا، بڑے علم والے کے سامنے اپنی بے علمی کا اقرار کرتا ہے۔ اس کا نام جھوٹ نہیں۔ مرزاقادیانی! اسے کہتے ہیں ادب اور عبودیت، اگر حضرت عیسیٰ علیہ السلام سے خدا نے پوچھا ہوتا کہ اے عیسیٰ علیہ السلام تم کو اپنی امت کے بگڑنے کا علم ہے اور بالفرض انہوں نے کہہ دیا ہو۔ ’’انت اعلم‘‘ تو یہ جھوٹ نہ ہوتا۔ بلکہ ادب اور عبودیت کا کامل مظاہرہ ہوتا۔ دیکھئے اس عبودیت اور ادب کا مظاہرہ تمام انبیاء علیہم السلام جن میں عیسیٰ علیہ السلام بھی شامل ہیں۔ قیامت کے دن اس طرح کریں

140

گے۔ اللہتعالیٰ فرماتے ہیں۔ ’’یوم یجمع اللہ الرسل فیقول ماذا أجبتم قالوا لا علم لنا (مائدہ:۱۰۹)‘‘ قیامت کے دن اللہتعالیٰ تمام رسولوں کو اکٹھا کر کے پوچھیں گے تمہاری امتوں کی طرف سے کیا جواب دیا گیا۔ تو وہ کہیں گے ہمیں تو کچھ معلوم نہیں آپ کے قول کے مطابق تو تمام انبیاء نے جھوٹ کہہ دیا۔

غور کیجئے! کیا رسولوں کو بالکل پتہ نہیں ہوگا؟ ضرور ہوگا۔ مگر مقام عبودیت میں یہی کہہ دینا مناسب اور زیبا ہوگا۔ فالحمدﷲ علیٰ ذالک!

مرزاقادیانی اپنے ہی دلائل کی بھول بھلیوں میں

۵… مرزاقادیانی! ہم آپ کے اعتراض نمبر۲ کے جواب میں مفصل ثابت کر آئے ہیں کہ آپ کے عقیدہ کے مطابق حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی موت سے قریباً ۹۱برس پہلے عیسائی انہیں خدا بنا چکے تھے۔ پس آپ کے قول کے مطابق تو حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا جھوٹ بولنا ضرور لازم آتا ہے۔ آپ ہماری فکر نہ کیجئے۔ اپنے غیر معقول دلائل کی دلدل سے نکلنے کا فکر کیجئے۔ آپ کے قول کے مطابق حضرت عیسیٰ علیہ السلام عیسائیوں کے بگڑنے کے ۹۱سال بعد تک زندہ رہے۔ حالانکہ عیسیٰ علیہ السلام فرماتے ہیں۔ ’’وکنت علیہم شہیدا مادمت فیہم‘‘ میں جب تک ان میں رہا میں ان پر شاہد رہا۔ حالانکہ آپ کے قول کے مطابق حضرت مسیح علیہ السلام ۹۱برس تک اپنی خدائی کا مظاہرہ بھی دیکھتے رہے۔ بتلائیے! حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا جھوٹ بولنا آپ کے عقیدہ کے مطابق ثابت ہوا یا اسلامی عقیدہ کی رو سے؟ ذرا سمجھ کر اعتراض کیا کیجئے۔

  1. ہر بیشہ گمان مبر کہ خالیست

    شاید کہ پلنگ خفتہ باشد

قادیانی اعتراض نمبر:۴

…’’فلما توفیتنی‘‘ میں توفی کے معنی سوائے مارنے یا موت دینے کے اور صحیح نہیں ہوسکتے۔ وجہ یہ ہے کہ بخاری شریف میں ایک حدیث ہے۔ جس میں رسول پاکﷺ نے اپنی نسبت بھی ’’فلما توفیتنی‘‘ کے الفاظ استعمال کئے ہیں اور آنحضرتﷺ کی توفی یقینا موت سے واقع ہوئی تھی۔ پس حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی توفی بھی موت کے ذریعہ سے ہونی چاہئے۔‘‘

(ازالہ اوہام ص۸۹۰،۸۹۱، خزائن ج۳ ص۵۸۵،۵۸۶)

جواب از ابوعبیدہ

مرزاقادیانی! بے علمی بالخصوص نیم ملائی آپ کی گمراہی کی بہت حد تک ضامن ہے۔ اس حدیث سے آپ کو کس قدر دھوکہ لگا ہے۔ مگر منشاء اس سے

141

آپ کو علوم عربیہ سے ناواقفی ہے۔ اس رحمتہ اللعالمینﷺ نے کمال فصاحت سے کام لیتے ہوئے فرمایا ہے۔ ’’فاقول کما قال العبد الصالح وکنت علیہم شہیداً ما دمت فیہم فلما توفیتنی کنت انت الرقیب علیہم‘‘

(بخاری ص۶۹۳، بحوالہ ازالہ اوہام ص۸۹۰، خزائن ج۳ ص۵۸۵)

’’پس میں کہوں گا اسی کی مثل جو کہا تھا بندہ صالح نے ان الفاظ میں ’’وکنت علیہم شہیدا‘‘ مرزاقادیانی! یہاں رسول کریمﷺ نے یہ نہیں فرمایا کہ میں وہی کہوں گا جو کہا تھا عیسیٰ علیہ السلام نے بلکہ فرمایا۔ میں کہوں گا اس کی مثل۔ کیا دونوں میں فرق نہیں ہے۔ آپ کی تحریف کا راستہ بند کرنے کو آنحضرتﷺ نے کما فرمایا اور اگر آنحضرتﷺ فرما جاتے ’’فاقول ما قال العبد الصالح‘‘ یعنی میں کہوں گا وہی جو کہا تھا عیسیٰ علیہ السلام نے۔ اس وقت البتہ آپ کو تحریف کے لئے گنجائش تھی۔ وہ بھی بے علموں کے سامنے۔ ورنہ علماء اسلام اس وقت بھی آپ کی کج فہمی کا علاج کر سکتے تھے۔ تفصیل اس کی ذیل میں عرض کرتا ہوں۔‘‘

۱… اگر آنحضرتﷺ فرماتے ’’فاقول ما قال العبد الصالح‘‘ تو اس کا مطلب یہ تھا کہ میں بھی وہی لفظ جواب میں عرض کروں گا جو عرض کر چکے ہوں گے عیسیٰ علیہ السلام یعنی اس حالت میں رسول پاکﷺ بھی فرماتے۔ ’’فلما توفیتنی‘‘ اس سے یہ کہاں لازم آیا کہ توفی کے معنی جو یہاں ہیں وہی وہاں بھی مراد ہیں۔ اس کا مطلب تو صرف اس قدر ہے کہ میں بھی توفی کا لفظ استعمال کروں گا اس کے معنی دلائل سے معلوم ہوں گے۔ رسول کریمﷺ کی صورت میں واقعات کی شہادت کی رو سے توفی کا وقوع بذریعہ موت ہوا اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی صورت میں واقعات وشواہد قرآنی کی رو سے رفع جسمانی سے ہوا۔ اس کی تشریح مثالوں سے زیادہ واضح ہوگی۔

سراقبال بھی ڈاکٹر ہیں اور مرزایعقوب بیگ قادیانی بھی ڈاکٹر ہیں۔ پس اگر زید یوں کہے کہ میں مرزایعقوب بیگ کے متعلق بھی وہی لفظ استعمال کروں گا جو میں نے سراقبال کے متعلق کیا ہے۔ یعنی ڈاکٹر۔ اس صورت میں صرف ایک عام جاہل ہی مرزایعقوب بیگ کو P.H.D سمجھنے لگ جائے گا۔ ورنہ سمجھدار آدمی فوراً ڈاکٹر کے مختلف مفہوم کا خیال کرے گا۔ اسی طرح ماسٹر کا لفظ اگر زید اور بکر دونوں کے لئے استعمال کیا جائے تو کون بیوقوف ہے جو دنوں کو ایک ہی فن کا ماسٹر سمجھنے لگ جائے گا؟ (نوجوان شریف لڑکے کو بھی انگریزی میں ماسٹر کہتے ہیں۔ دیکھو کوئی انگریزی لغات) یا ممکن ہے زید اگر کسی غلام کا مالک ہے تو بکر درزی ہو۔ اسی طرح بے شمار الفاظ (افعال اور اسماء)

142

موجود ہیں اور ہر زبان میں موجود ہیں جو مختلف موقعوں پر مختلف معنی دیتے ہیں۔ پس اگر ’’ما‘‘ کا لفظ بھی آنحضرتﷺ استعمال فرماتے۔ جب بھی ہم مرزاقادیانی کا ناطقہ بند کر سکتے تھے۔ وہ اس طرح کہ رسول پاکﷺ کے الفاظ وہی کہنے کا اعلان کر رہے ہیں جو حضرت عیسیٰ علیہ السلام کہیں گے۔ مگر مفہوم یقینا محل استعمال کے مختلف ہونے سے مختلف ہوگا۔ بہرحال اس صورت میں مرزاقادیانی جہالت میں کچھ چالاکی کر سکتے تھے۔

۲… لیکن مرزاقادیانی! حدیث میں تو آنحضرتﷺ نے آپ کی چالاکی کا سدباب کرنے کے لئے ’’کما‘‘ کا لفظ استعمال فرمایا ہے۔ یہ نہیں فرمایا کہ میں کیا کہوں گا۔ حدیث میں ’’فلما توفیتنی‘‘ کے الفاظ تو بطور مقولہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام منقول ہیں۔ اگر آپ کہیں رسول پاکﷺ بھی یہی الفاظ قیامت کے دن بارگاہ خداوندی میں عرض کریں گے تو پھر ’’کما‘‘ کی فلاسفی اور فصاحت کلام کی اہمیت کیا رہی؟ ’’کما‘‘ تشبیہ کے لئے ہے۔ تشبیہ بیان کی جارہی ہے۔ دونوں حضرات کے اقوال میں۔ اگر دونوں کے اقوال ایک ہی ہوں گے تو مشابہت کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ پھر تو عینیت آجاتی ہے۔ جو کما کے منشاء کے بالکل مخالف ہے۔ اردو میں اس مضمون کو یوں بیان کیا جاسکتا ہے۔ (۱)وہ میرا بھائی ہے۔ (۲)وہ میرے بھائی کی طرح ہے۔

پہلے فقرہ میں کوئی مشابہت مذکور نہیں۔ اس واسطے وہ اور میرا بھائی ایک ہی شخص کے لئے استعمال ہوئے ہیں۔ لیکن دوسرے فقرہ میں دونوں کے درمیان مشابہت کا تعلق ہے۔ اس واسطے وہ اور میرا بھائی ایک نہیں ہوسکتے۔ بلکہ کسی امر مشترک کا بیان کرنا مقصود ہے۔ مثلاً علم میں، اخلاق میں، چال میں، طرز گفتگو میں یا کسی اور امر میں، پس وہ بے وقوف ہے۔ جو مشابہت کے وقت دونوں چیزوں کو ایک کہے۔ کیونکہ مشابہت دو مختلف چیزوں کے کسی امر خاص وصف میں اتحاد کی بناء پر ہوتی ہے۔ یعنی مشابہت کا ہونا۔ اس بات کا ثبوت ہے کہ وہ دو چیزیں ایک نہیں بلکہ مختلف ہیں۔ حدیث زیر بحث میں مشابہت بیان کی جارہی ہے۔ حضرت مسیح علیہ السلام اور رسول کریمﷺ کے اقوال کے درمیان، پس معلوم ہوا کہ دونوں کے اقوال ایک ہی الفاظ کا مجموعہ نہیں ہوسکتے اور نہ ہی دونوں اقوال آپس میں ہم معنی ہوسکتے ہیں۔ ہاں کسی خاص وصف میں مشابہت ہونی لازمی ہے۔ دیکھئے۔ مرزاقادیانی نے خود تشبیہات کی حقیقت یوں درج کی ہے۔

’’تشبیہات میں پوری پوری تطبیق کی ضرورت نہیں ہوتی۔ بلکہ بسا اوقات ایک ادنیٰ مماثلت کی وجہ سے بلکہ ایک جزو میں مشارکت کے باعث سے ایک چیز کا نام

143

دوسری چیز پر اطلاق کر دیتے ہیں۔‘‘

(ازالہ اوہام ص۷۲، خزائن ج۳ ص۱۳۸)

مرزاقادیانی! ہم آپ کی اس تحریر سے زیادہ کچھ نہیں کہتے۔ اسی اصول کے ماتحت اگر آپ ہم سے فیصلہ کرنا چاہیں تو ساری مشکل آپ کی حل ہو جاتی ہے۔ دونوں حضرات کے اقوال میں مشارکت ومماثلت ہم بیان کرتے ہیں۔ آپ انصاف سے غور کریں۔

دونوں حضرات اپنی اپنی امت کی گمراہی کی ذمہ داری سے بریت کا اعلان کر رہے ہیںَ یعنی لوگوں کی گمراہی میں ان کا کوئی ہاتھ نہیں اور نہ ان کی گمراہی ان کے زمانہ میں واقع ہوئی ہے۔ لوگوں کے گمراہ ہونے کے زمانہ میں دونوں حضرات موجود نہ تھے۔ یہ الگ بات ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام بسبب رفع جسمانی اور حضرت رسول کریمﷺ بسبب ظاہری موت اپنے اپنے لوگوں سے جدا ہوئے تھے۔ مقصود اپنی عدم موجودگی کا بیان کرنا ہے اور یہ وجہ مشابہت ہے۔ جس کی بناء پر رسول کریمﷺ نے فرمایا۔ ’’فاقول کما قال العبد الصالح… الخ!‘‘

ایک اور طرز سے

مرزاقادیانی! اگر دونوں اولوالعزم حضرات کے اقوال کے درمیان ’’کما‘‘ تشبہی کے باوجود آپ دونوں کے کلام اور اس کے مفہوم کو ایک ہی لینے پر اصرار کرتے ہیں تو کیا فرماتے ہیں۔ جناب مندرجہ ذیل صورتوں میں۔

۱… اللہتعالیٰ فرماتے ہیں۔ ’’کما بدأنا اوّل خلق نعیدہ (انبیاء:۱۰۴)‘‘ جس طرح پہلی بار مخلوق کو پیدا کیا پھر اسی طرح پیدا کریں گے؟

کیا قیامت کے دن تمام مخلوق ماں باپ کے توسل سے ہی پیدا ہوگی۔ کیونکہ پہلی بار تو اسی طرح پیدا ہورہی ہے۔ دیکھا دونوں دفعہ پیدا کرنے میں کس قدر فرق ہے؟ مگر دونوں کو ایک طرح کا قرار دیا ہے۔ اگر آپ کا اصول ’’فلما توفیتنی‘‘ والا یہاں بھی چلایا جائے تو آپ کو ماننا پڑے گا کہ آپ دوبارہ ماں کے پیٹ سے قیامت کے دن نکلیں گے۔ جیسے آپ پہلے نکلے تھے۔

(تریاق القلوب ص۱۵۷، خزائن ج۱۵ ص۴۷۹)

۲… مرزاقادیانی خود آپ کا اپنا الہام ہے۔ ’’الارض والسماء معک کما ہو معی‘‘ اے مرزا زمین اور آسمان تیرے ساتھ اسی طرح ہیں۔ جس طرح میرے (خدا کے) ساتھ۔‘‘

(انجام آتھم ص۵۲، خزائن ج۱۱ ص ایضاً)

کیا آپ کا مطلب اس سے یہ ہے کہ جیسے خدا ان کا خالق ہے۔ آپ بھی ان

144

کے خالق ہیں۔ جیسے ان میں خدا کی بادشاہی ہے۔ ویسے ہی آپ کی بھی ہے؟

۳… اللہتعالیٰ کا ارشاد ہے۔ ’’فاذکروا اللہ کذکرکم اباء کم (بقر:۲۰۰)‘‘ یعنی تم اللہتعالیٰ کو اسی طرح یاد کرو۔ جس طرح تم اپنے باپ داداؤں کو یاد کرتے ہو۔ اب باپ دادؤں کو یاد کرنے کا طریقہ سب دنیا جانتی ہے۔ مرزاقادیانی آپ نے اپنے باپ دادؤں کو یاد کرتے ہوئے ان کی سرکاری خدمات کا ذکر ضروری سمجھا ہے۔ یعنی کہ میرے والد نے سرکار انگریزی کی فلاں فلاں موقعہ پر یہ یہ خدمات سرانجام دیں۔ ’’میرے باپ نے غدر کے موقعہ پر سرکار کو اتنے جوان اور اتنے گھوڑے دئیے۔‘‘ وغیرہ وغیرہ! مرزاقادیانی کیا آپ خدا کو بھی اس طرح یاد کرتے تھے۔ یعنی خدا نے فلاں فلاں جگہ سرکار انگریزی کی فلاں فلاں طریقہ سے مدد کی۔ اگر اس جگہ ’’ک‘‘ تشبیہی ہے اور اس سے عینیت لازم نہیں آتی۔ تو یقینا ’’فاقول کما قال العبد الصالح‘‘ (میںکہوں گا اسی طرح جس طرح کہا ہوگا بندہ صالح نے) میں بھی دونوں حضرات کی کلام کا حرف بحرف ایک ہونا لازم نہیں آتا۔

۴… دوسری جگہ اللہتعالیٰ فرماتے ہیں: ’’انا ارسلنا الیکم رسولاً کما ارسلنا الیٰ فرعون رسولہ (مزمل:۱۵)‘‘ یعنی ہم نے اے لوگو تمہاری طرف ایسا ہی رسول بھیجا ہے۔ جیسا رسول کہ (موسیٰ) فرعون کی طرف بھیجا تھا۔

اب یہاں سوچنے کا مقام ہے کیا اس کا مطلب یہ ہے کہ موسیٰ علیہ السلام ہی دوبارہ آگئے تھے؟ اگر ایسا نہیں اور یقینا نہیں تو آیت زیر بحث میں بھی دونوں حضرات کی کلام لففاً ایک نہیں ہوسکتی۔

۵… ایک اور جگہ اللہتعالیٰ فرماتے ہیں: ’’کما بدأکم تعودون (اعراف:۲۹)‘‘ یعنی جس طرح تمہیں بنایا۔ اسی طرح واپس لوٹو گے۔ کیا یہاں بھی آپ کے اصول کے مطابق یہی مراد ہے کہ جیسے پہلے انسان کا ظہور ہوا تھا۔ بعینہ اسی طرح پھر ہوگا۔ اگر یہ نہیں تو دونوں حضرات کی کلام بھی ایک نہیں ہوسکتی۔

۶… ایک اور جگہ ارشاد باری تعالیٰ ملاحظہ ہو۔ ’’کتب علیکم الصیام کما کتب علیٰ الذین من قبلکم (البقرہ:۱۸۳)‘‘ یعنی اے مسلمانو! تم پر بھی روزے اسی طرح فرض کئے گئے ہیں جس طرح تم سے پہلوںپر۔ کیا مرزاقادیانی آپ کے نزدیک پہلی امتوں پر بھی ماہ رمضان کے روزے فرض کئے گئے تھے اور اپنی تمام جزئیات میں اسی طرح فرض تھے۔ جس طرح مسلمانوں پر؟ یقینا نہیں۔ پس دونوں حضرات کی کلام میں بھی لفظی اور معنوی وحدت کا قائل ہونا تحکم محض ہے۔

145

۷… اس قسم کی مثالوں سے کلام اللہ بھرا پڑا ہے کہ دو اشیاء کے درمیان تشبیہ بیان کی گئی ہے اور خود تشبیہ کا بیان ہی اس بات کا ضامن ہوتا ہے کہ وہ دونوں چیزیں مختلف ہیں۔

۸… خود اسی آیت زیر بحث میں اللہتعالیٰ نے فیصلہ کر دیا ہے۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے منہ سے یہ الفاظ نکلوا دیے ہیں۔ ’’تعلم ما فی نفسی ولا اعلم ما فی نفسک‘‘ یعنی اے اللہ تو میرے دل کی باتوں کو جانتا ہے اور میں تیرے دل کی باتوں کو نہیں جانتا۔ اب کون عقل کا اندھا اور علم سے کورا یہ خیال کر سکتا ہے کہ دونوں جگہ نفس سے بالکل ایک جیسے ہیں؟ مرزاقادیانی کاش آپ اس وقت (۱۹۳۵ء) میں زندہ ہوتے تو ہم آپ سے بالمشافہ گفتگو کرتے اور دیکھتے کہ آپ ہمارے دلائل کا کیا معقول جواب دے سکتے ہیں۔ اچھا اب آپ کے بیٹے ’’فخر رسل‘‘ اور ’’قمر الانبیاء‘‘ اور ’’کانّ اللہ نزل من السماء‘‘ کی شان رکھنے والے مرزابشیرالدین محمود کے دلائل کا انتظار کریں گے۔ کیونکہ ’’الولد سر لا بیہ‘‘ بھی تو آخر ٹھیک ہی ہے۔ (اور اب ہم مرزا مسرور سے یہی توقع رکھتے ہیں۔ مرتب) وہ ضرور جواب میں آپ کی نقل کریں گے۔

قرآنی دلیل نمبر:۱۰

’’ما المسیح ابن مریم الا رسول قد خلت من قبلہ الرسل (مائدہ:۷۵)‘‘ حضرات! اس آیت کو مرزاقادیانی نے وفات مسیح علیہ السلام کی دلیل کے طور پر بیان کیا ہے۔ نہ صرف اسی آیت کو بلکہ جس قدر آیات سے حیات عیسیٰ علیہ السلام ثابت ہے ان سب میں تحریف کر کے مرزاقادیانی نے وفات مسیح علیہ السلام ثابت کرنے کی سعی لاحاصل کی ہے۔ اسی کو کہتے ہیں: ’’چہ دلاور است دزدے کہ بکف چراغ دارد‘‘

اس آیت کی تفسیر میں ہم بہت طوالت اختیار نہیں کریں گے۔ صرف اجمالی بحث پر اکتفا کریں گے۔

۱… قادیانیوں کے مسلم مجدد صدی نہم امام جلال الدین سیوطیؒ اپنی تفسیر جلالین ص۱۰۴ میں زیر آیت فرماتے ہیں: ’’ما المسیح ابن مریم الا رسول قد خلت مضت من قبلہ الرسل فہو یمضی مثلہم ولیس بالہ کما زعموا ولوکان الہ ما مضی‘‘ نہیں ہے مسیح علیہ السلام ابن مریم مگر ایک رسول اس سے پہلے بھی بہت سے رسول گزر چکے ہیں۔ پس وہ بھی ان کی طرح گزر جائے گا اور وہ اللہ نہیں ہے۔ جیسا کہ نصاریٰ خیال کرتے ہیں اور اگر وہ خدا ہوتا تو نہ گزر جاتا (چونکہ وہ بھی دور سے نبیوں کی طرح گزر جائے گا۔ اس لئے خدا نہ ہوا)

۲… قادیانیوں کے مسلم مجدد صدی ششم امام فخرالدین رازیؒ اپنی شہرہ آفاق تفسیر میں

146

ارقام فرماتے ہیں۔

’’ای ماھو الا رسول من جنس الرسل الذین خلوا من قبلہ جاء بایات من اللہ کما أتوا بامثالہا فان کان اللہ ابرأ الا کمہ والابرص واحیا الموتیٰ علی یدہ فقد احیاء العصا وجعلہا حیۃ تسعی وفلق البحر علی ید موسیٰ وان کان خلق من غیر ذکر فقد خلق اٰدم من غیر ذکر ولا انثی‘‘

(تفسیر کبیر ج۶، جز۱۱ ص۶۱)

’’یعنی نہیں عیسیٰ علیہ السلام مگر ایک رسول ایسے ہی جیسے کہ ان سے پہلے گزر چکے ہیں۔ عیسیٰ علیہ السلام اللہ کی طرف سے ایسے ہی معجزات لے کر آئے تھے کہ جن کی مثل وہ پہلے رسول بھی لائے تھے۔ پس اگر اللہتعالیٰ نے مادر زاد اندھوں اور برص والوں کو حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے ہاتھ پر اچھا کیا اور مردوں کو ان کے ہاتھ پر زندہ کر دیا تو موسیٰ علیہ السلام کے ہاتھ پر عصا کو زندہ کر کے اژدھا بنادیا اور سمندر کو پھاڑ دیا تھا اور اگر وہ بغیر باپ کے پیدا کئے گئے تو آدم علیہ السلام ماں باپ دونوں کے بغیر پیدا کئے گئے تھے۔‘‘

اس عبارت سے صاف عیاں ہے کہ اللہتعالیٰ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی الوہیت (خدائی) کے خلاف ان کے صرف رسول ہونے کا اعلان کر رہے ہیں۔ اگر قادیانی عقیدہ درست تسلیم کر لیا جائے تو پھر اللہتعالیٰ ضرور عیسیٰ علیہ السلام کی وفات کو پیش کر کے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی الوہیت کے خلاف دلیل پکڑتے۔ کسی شخص کے مر جانے کا ثبوت اس کے مخلوق ہونے کا بہترین ثبوت ہے۔ مگر ظاہر ہے کہ یہاں اللہتعالیٰ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو زندہ مانتے ہوئے ان کی رسالت اور معجزات کو گذشتہ نبیوں اور ان کے معجزات کا نمونہ قرار دے رہے ہیں اگر حضرت عیسیٰ علیہ السلام فوت ہوچکے ہوتے تو اللہتعالیٰ ضرور یوں استدلال کرتے کہ: ’’تم جانتے ہو کہ عیسیٰ علیہ السلام فوت ہوچکے ہیں اور ظاہر ہے کہ خدا فوت نہیں ہوسکتا۔ پس حضرت عیسیٰ علیہ السلام بھی خدا نہیں بن سکتے۔‘‘

مگر اللہ تعالیٰ یوں دلیل بیان کرتے ہیں کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام سے پہلے بھی ان کی طرح رسول گزر چکے ہیں۔ یہ کوئی انوکھے رسول نہیں ہیں۔ ذیل میں ہم اپنے بیان کی تصدیق مرزاقادیانی کی زبان سے کراتے ہیں۔ مرزاقادیانی کا ترجمہ ملاحظہ فرمائیں۔ ’’یعنی مسیح صرف ایک رسول ہے۔ اس سے پہلے نبی فوت ہوچکے ہیں۔‘‘

(ازالہ اوہام ص۶۰۳، خزائن ج۳ ص۴۲۵)

اس ترجمہ میں مرزاقادیانی کی زبان سے خود اللہتعالیٰ نے معجزانہ طور پر ایسے

147

الفاظ نکلوا دیے ہیں کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی حیات جسمانی کا ببانگ دہل اعلان کر رہے ہیں۔ ایک رسول ہے کہ بندش الفاظ کا خیال فرمائیے۔ پھر مرزاقادیانی دوسرے رسولوں اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام میں فرق یہ بیان کر رہے ہیں کہ دوسرے رسول تو فوت ہوچکے ہیں۔ جس سے لازمی نتیجہ یہی نکلتا ہے کہ مسیح فوت نہیں ہوئے۔ ہاں دوسرے نبیوں کی طرح فوت ہو جانا ان کے لئے بھی مقدر ہے جو اپنے وقت پر پورا ہوکر رہے گا۔

اب قرآنی تفسیر ملاحظہ ہو۔ سورۂ آل عمران ۱۴۴میں اللہتعالیٰ مسلمانوں کو مخاطب کر کے فرماتے ہیں۔ ’’ما محمد الا رسول۰ قد خلت من قبلہ الرسل‘‘ اس کے معنی مرزاقادیانی یوں کرتے ہیں۔ محمدﷺ صرف ایک نبی ہیں۔ ان سے پہلے سب نبی فوت ہوگئے ہیں۔

(ازالہ اوہام ص۶۰۶، خزائن ج۳ ص۴۲۷)

اب غور طلب بات یہ ہے کہ دونوں آیتیں حضرت رسول کریمﷺ پر نازل ہوئی تھیں۔ دونوں کا طرز بیان ایک ہے۔ دونوں کا مقصد ایک ہے۔ دونوں کے الفاظ ایک ہیں۔ فرق اگر ہے تو یہ کہ ایک آیت میں ’’المسیح ابن مریم‘‘ مذکور ہے۔ تو دوسری میں محمدﷺ مرقوم ہیں۔ اندریں حالات جو معنی اور تفسیر دوسری آیت میں رسول کریمﷺ کے متعلق کریں گے۔ وہی پہلی آیت میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے متعلق سمجھیں گے۔ چنانچہ مرزاقادیانی بھی (ازالہ اوہام ص۳۲۹، خزائن ج۳ ص۲۶۷) پر ہمارے اصول کو صحیح تسلیم کر چکے ہیں۔ ناظرین! مفصل وہاں دیکھ سکتے ہیں۔ پس اگر کلام اللہ کی آیت ’’ما محمد الا رسول‘‘ کے نازل ہونے کے وقت رسول کریمﷺ فوت ہوچکے تھے تو ’’ما المسیح ابن مریم الا رسول‘‘ کے نزول کے وقت ہمیں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی وفات تسلیم کرنے سے ہرگز ہرگز انکار نہیں۔ لیکن اگر ’’ما محمد الا رسول‘‘ کے نزول کے وقت رسول کریم علیہ الصلوٰۃ والسلام زندہ بجسدہ العنصری موجود تھے تو بعینہ اسی دلیل سے ’’ما المسیح ابن مریم الا رسول‘‘ کی آیت سے حضرت مسیح علیہ السلام کی حیات جسمانی ثابت ہو جائے گی۔ کون نہیں جانتا کہ رسول کریمﷺ نزول آیت کے وقت زندہ تھے۔ پس جس دلیل سے رسول کریمﷺ کی زندگی کا ثبوت ملتا ہے۔ اسی دلیل سے حضرت مسیح علیہ السلام کا زندہ ہونا بھی تسلیم کرنا پڑے گا۔ ناظرین! میں نے دس آیات قرآنیہ سے روز روشن کی طرح حیات عیسیٰ علیہ السلام کا ثبوت بہم پہنچا دیا ہے۔ کوئی دلیل نقلی قادیانی مسلمات کے خلاف بیان نہیں کی۔ اگر پھر بھی قبول نہ کریں تو سوائے ختم اللہ علیٰ قلوبہم کی تلاوت کے اور کیا کیا جائے۔ ’’تلک عشرۃ کاملۃ‘‘

148

باب سوم

حیات عیسیٰ علیہ السلام کا ثبوت احادیث سے

احادیث کی عظمت ازکلام اللہ شریف

۱… ’’فلا وربک لا یؤمنون حتیٰ یحکموک (نساء:۶۵)‘‘ مطلب جس کا یہ ہے کہ مسلمانوں کے ایمان کی کسوٹی یہ ہے کہ باہمی اختلاف کے وقت وہ رسول کریمﷺ کو اپنا ثالث بنایا کریں۔ اگر وہ آنحضرتﷺ کے فیصلہ کو بسر وچشم خوشی سے قبول نہ کریں گے تو وہ کبھی مؤمن نہیں ہوسکتے۔ اسی طرح اختلاف کے وقت حدیث کی طرف رجوع کرنے کے احکام سے تمام قرآن کریم بھرا پڑا ہے۔ جس کا جی چاہے دیکھ لے۔ مرزاقادیانی نے بھی مجبوراً اس حکم کے سامنے سرتسلیم خم کر دیا ہے۔ مگر امتحان کے وقت تاویلات رکیکہ سے جان بچا لیتے ہیں۔ چنانچہ ذیل میں حدیث کی عظمت ہم اقوال مرزا سے ثابت کرتے ہیں۔

(قادیانی اصول نمبر۲، مندرجہ کتاب ہذا)

ب… قول مرزا: ’’جو حدیث قرآن شریف کے مخالف نہیں بلکہ اس کے بیان کو اور بھی بسط سے بیان کرتی ہے۔ وہ بشرطیکہ جرح سے خالی ہو قبول کرنے کے لائق ہے۔‘‘

(ازالہ اوہام ص۵۵۷، خزائن ج۳ ص۴۰۰)

ج… قول مرزا: ’’ہمیں اپنے دین کی تفصیلات احادیث نبویہ کے ذریعہ سے ملی ہیں۔‘‘

(شہادۃ القرآن ص۳، خزائن ج۶ ص۲۹۹)

۲… ہم اپنی تائید میں صرف وہی حدیثیں بیان کریں گے جن کو قادیانی نبی اور اس کی جماعت نے صحیح تسلیم کر لیا ہے۔ یا قادیانیوں کے تسلیم کئے ہوئے اصحاب کشف والہام اور مجددین کے اقوال سے ان کی صحت پایۂ ثبوت تک پہنچ چکی ہے۔ حدیثوں کی صحت پر ہم ساتھ ساتھ قادیانیوں اور ان کے مسلمہ مجددین کی تصدیقات بھی ثبت کراتے جائیں گے۔ تاکہ کوئی قادیانی اگر حدیث کے صحیح ہونے سے انکار کرے تو اس طریقہ سے بھی مرزاقادیانی ہی جھوٹے ثابت ہوں۔ غرضیکہ ہماری پانچوں ہر حالت میں گھی میں ہوں گی۔ اگر قبول کر لیں تو ’’چشم ماروشن دل ماشاد‘‘ اور اگر قبول نہ کریںتو اس صورت میں مرزاقادیانی کو پہلے جھوٹا تسلیم کرنا پڑے گا۔

149
حدیث نمبر:۱… ’’عن ابی ہریرۃؓ قال قال رسول اللہﷺ والذی نفسی بیدہ لیوشکن ان ینزل فیکم ابن مریم حکما عدلاً‘‘

(مشکوٰۃ ص۴۷۹، باب نزول عیسیٰ علیہ السلام)

یہاں ہم اس حدیث کی تشریح قادیانیوں کے مسلم امام ومجدد صدی ہشتم حضرت حافظ ابن حجر عسقلانیؒ کے الفاظ میں پیش کرتے ہیں۔

۱… ’’وہذا مصیر من ابی ہریرۃؓ الی ان الضمیر فی قولہ لیؤمنن بہ وکذالک فی قولہ قبل موتہ یعود علی عیسیٰ اے لیؤمنن بعیسیٰ قبل موت عیسیٰ وبہذا جزم ابن عباسؓ فیما رواہ ابن جریر من طریق سعید بن جبیر عنہ باسناد صحیح ومن طریق ابی رجاء عن الحسن قال قبل موت عیسیٰ و اللہ انہ الان لحی ولکن اذا نزل آمنوا بہ اجمعون‘‘

(فتح الباری ج۶ ص۳۵۷، مطبوعہ بیروت)

’’(اس سے ظاہر ہے کہ) حضرت ابوہریرہؓ کا مذہب یہ ہے کہ قول الٰہی قبل موتہ میں ضمیر ’’ہ‘‘ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی طرف پھرتی ہے۔ پس معنی اس آیت کے یہ ہوئے کہ (اہل کتاب) حضرت عیسیٰ علیہ السلام پر حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی موت سے پہلے ایمان لے آئیں گے اور اسی بات پر حضرت عبد اللہ بن عباسؓ نے جزم کیا ہے۔ مطابق اس کے جو امام ابن جریر نے آپ سے بطریق سعید بن جبیر باسناد صحیح روایت کیا ہے اور نیز بطریق ابی رجاء حضرت امام حسن بصریؒ سے روایت کیا کہ انہوں نے (اس آیت کے متعلق) کہا کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی موت سے پہلے (ایمان لے آئیں گے) خدا کی قسم آپ یقینا اس وقت زندہ ہیں۔ جب آپ نازل ہوں گے تو سب (اہل کتاب) آپ پر ایمان لے آئیں گے۔‘‘

۱… حضرات غور کیجئے! ہم نے اسلامی عقیدہ کی تصدیق میں رسول کریمﷺ کی حدیث صحیح پیش کی ہے۔ حدیث بھی بخاری شریف کی جس کی صحت پر مرزاقادیانی کا ایمان ہے اور اس کی روایت کو سب پر ترجیح دیتے ہیں۔

(ازالہ اوہام ص۸۸۴، خزائن ج۳ ص۵۸۲، تبلیغ رسالت ج۲ ص۲۵، مجموعہ اشتہارات ج۱ ص۲۳۵)

۲… پھر حدیثوں میں سے ہم نے وہ حدیث لی ہے۔ جس کی صحت پر خود رسول کریمﷺ نے قسم اٹھائی ہے۔ قسم والی حدیث میں تاویل حرام ہے۔ (قول مرزا)

۳… پھر یہ حدیث مروی ہے۔ حضرت ابوہریرہؓ سے جو حافظ حدیث رسولﷺ تھے اور وہی صاحب اس حدیث کی تشریح کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ حسب قرآنی وعدہ وپیش گوئی ’’وان من اہل الکتاب الا لیؤمنن بہ قبل موتہ‘‘ حضرت عیسیٰ علیہ السلام آسمانوں سے

150

نازل ہوں گے اور ان کے فوت ہونے سے پہلے سب اہل کتاب کا ایمان لانا ضروری ہے۔

۴… صحابی کی مذکورہ بالا تفسیر پر حضرت حافظ ابن حجر عسقلانیؒ مجدد وامام صدی ہشتم نے مہر توثیق ثبوت کر دی ہے اور دلیل میں امام ابن جریرؒ قادیانیوں کے مسلم محدث ومفسر کی روایت سے قادیانیوں کے مسلم مفسر اعظم حضرت ابن عباسؓ سے تصدیق کرادی ہے۔ علاوہ ازیں سرتاج اولیاء ومجددین امت محمدیہ حضرت امام حسن بصریؒ کا قول پیش کر دیا ہے اور قول بھی حلفیہ کہ حضرت مسیح علیہ السلام زندہ ہیں۔ چونکہ قول حلفیہ ہے۔ لہٰذا مطابق اصول قادیانی اس میں کوئی تاویل نہیں چل سکتی۔

۵… سب سے بڑھ کر یہ کہ حضرت ابوہریرہؓ ’’ان شئتم‘‘ کا چیلنج تمام صحابہؓ کو دیتے ہوئے حیات عیسیٰ علیہ السلام کے ثبوت میں ’’وان من اہل الکتاب‘‘ پڑھنے کی تلقین کرتے ہیں اور ایک لاکھ سے زیادہ صحابہؓ جو قادیانیوں کے نزدیک حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی موت پر اجماع کر چکے ہیں۔

(تحفہ گولڑویہ ص۴، خزائن ج۱۷ ص۹۱)

حضرت ابوہریرہؓ کا چیلنج سن کر چپ ہو جاتے ہیں۔ کیونکہ تمام کتب حدیث کو پڑھ جائیے۔ کہیں کوئی ایسی روایت نہ ملے گی۔ جہاں صحابہ کرامؓ میں سے کسی ایک نے بھی حضرت ابوہریرہؓ کے اس قول کی تردید کی ہو۔ حضرات! اس کا نام ہے استدلال صحیح اور برہان اسلامی۔ ذرا قادیانی سے بھی وفات عیسیٰ علیہ السلام کے ثبوت میں ہماری طرح بیسیوں نہیں صرف ایک ہی ایسی دلیل طلب کر کے اسلامی دلائل کے ساتھ مقابلہ کیجئے اور حق اور باطل کے درمیان ایک فیصلہ کن فرق ملاحظہ کیجئے

حدیث نمبر:۲… ’’عن ابی ہریرۃؓ عن النبیﷺ قال الانبیاء اخوۃ لعلّات امہاتہم شتی ودینہم واحد ولانی اولیٰ الناس بعیسیٰ ابن مریم لانہ لم یکن بینی وبینہ نبی وانہ نازل رایتموہ فاعرفوہ رجل مربوع الی الحمرۃ والبیاض علیہ ثوبان ممصران رأسہ یقطر وان لم یصبہ بلل فیدق الصلیب ویقتل الخنزیر ویضع الجزیۃ ویدعوا الناس الیٰ الاسلام فتہلک فی زمانہا الملل کلہا الا الاسلام وترتع الاسود مع الابل والنمار مع البقر والذیاب مع الغنم وتلعب الصبیان بالحیات فلا تضرہم فیمکث اربعین سنۃ ثم یتوفیٰ ویصلی علیہ المسلمون‘‘ (رواہ ابوداؤد ج۲ ص۱۳۵، باب خروج الدجال ومسند احمد ج۲ ص۴۰۶)

حدیث بالا کی عظمت وصداقت کا ثبوت، تصدیق از مرزاغلام احمد قادیانی

۱… مرزاقادیانی نے اس حدیث سے اپنی صداقت میں مندرجہ ذیل کتابوں میں استدلال

151

کیا ہے۔

(حقیقت الوحی ص۳۰۷، خزائن ج۲۲ ص۳۲۰، ازالہ اوہام ص۶۹۹، خزائن ج۳ ص۴۷۷)

۲… مرزاقادیانی کے قول کے مطابق یہ حدیث بخاری شریف میں بھی موجود ہے۔ چنانچہ مرزاقادیانی کی ساری عبارت ناظرین کے مطالعہ کے لئے لکھ دیتا ہوں۔

’’پھر امام بخاری نے… ظاہر کیا ہے کہ اس قصہ کی وجہ سے آنحضرتﷺ کو مسیح ابن مریم سے ایک مشابہت ہے۔ چنانچہ ص۴۸۹ میں یہ حدیث بھی بروایت ابوہریرہؓ لکھ دی ہے۔ انا اولیٰ الناس بابن مریم والانبیاء اخوۃ علات‘‘

(ازالہ اوہام ص۸۹۳، خزائن ج۳ ص۵۸۷،۵۸۸)

اس سے معلوم ہوا کہ مرزاقادیانی اس حدیث کی صحت کے نہ صرف قائل تھے بلکہ مدعی تھے۔

تصدیق از مرزامحمود احمد قادیانی خلیفہ قادیان

چھوٹے مرزامحمود قادیانی نے یہ حدیث سارے کی ساری اپنی کتاب میں درج کر کے اس کے بل بوتے پر مرزاقادیانی کی نبوت ثابت کی ہے اور بہت لمبی چوڑی بحث کی ہے۔ بہرحال حدیث مذکورہ بالا کو بالکل صحیح تسلیم کر لیا۔ ہم نے یہ حدیث ’’حقیقت النبوۃ‘‘ ہی سے نقل کی ہے۔ اب ترجمہ حدیث کا بھی ہم خلیفہ قادیانی مرزامحمود کے الفاظ میں آپ کے سامنے پیش کرتے ہیں۔

’’یعنی انبیاء علاتی بھائیوں کی طرح ہوتے ہیں۔ ان کی مائیں تو مختلف ہوتی ہیں اور دین ایک ہوتا ہے اور میں عیسیٰ ابن مریم سے سب سے زیادہ تعلق رکھنے والا ہوں۔ کیونکہ اس کے اور میرے درمیان کوئی نبی نہیں (ہوا کا لفظ کھا گئے ہیں۔ ابوعبیدہ) اور وہ نازل ہونے والا ہے۔ پس جب اسے دیکھو تو اسے پہچان لو کہ وہ درمیان قامت، سرخی سفیدی، ملا رنگ، زرد کپرے پہنے ہوئے اس کے سر سے پانی ٹپک رہا ہوگا۔ گو سر پر پانی نہ ہی ڈالا ہو اور صلیب کو توڑے گا اور خنزیر کو قتل کرے گا اور جزیہ کو ترک کر دے گا اور لوگوں کو اسلام کی دعوت دے گا۔ اس کے زمانہ میں سب مذاہب ہلاک ہو جائیں گے اور صرف اسلام ہی رہ جائے گا۔‘‘

(حقیقت النبوۃ ص۱۹۲)

قادیانی خیانت کی عجیب مثال

مرزابشیرالدین محمود نے ساری حدیث کو نقل کردیا ہے۔ مگر درمیان سے وہ تمام الفاظ اور فقرے جن میں قادیانی تادیل کی دال نہیں گل سکتی ہضم کر گئے ہیں۔ مثلاً’’فیقاتل

152

الناس علی الاسلام… ویہلک المسیح الدجال‘‘ مطلب جن کا یہ ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام نازل ہونے کے بعد کفار سے جہاد کریں گے اور دجال کو ہلاک کر دیں گے۔

۱… تصدیق از امام احمد مجدد وقت (عسل مصفی جلد اوّل ص۱۶۳،۱۶۴) یہ حدیث مسند امام احمد میں بھی موجود ہے۔

۲… تصدیق از حافظ ابن حجر مجدد وقت ( عسل مصفی ج اوّل ص۱۶۳،۱۶۴) انہوں نے اس حدیث کی اسناد کو صحیح لکھا ہے۔

(دیکھو فتح الباری ج۶ ص۳۵۷)

ابوعبیدہ

اس حدیث میں رسول اللہﷺ نے حضرت مسیح علیہ السلام کا نام عیسیٰ ابن مریم لے کر فرمایا ہے کہ وہ مجھ سے پہلے ہوئے ہیں۔ (جیسا کہ ’’لم یکن‘‘ کے الفاظ اعلان کر رہے ہیں) پھر ارشاد فرمایا کہ تحقیق وہی ابن مریم نازل ہونے والا ہے۔ نزول کا لفظ رفع یا صعود کا مقابل ہے۔ چنانچہ خود مرزاقادیانی نے بھی اس بات کو تسلیم کر لیا ہے۔ لکھتے ہیں: ’’وتعلمون ان النزول فرع للصعود‘‘ میدانید کہ نزول برائے صعود فرع است۔

(انجام آتھم ص۱۶۸، خزائن ج۱۱ ص ایضاً)

یعنی اترنا چڑھنے کا نتیجہ ہے۔ پس معلوم ہوا کہ دونوں میں سے ایک کا یقینی علم حاصل ہو جائے تو دوسرا خود بخود ثابت ہو جائے گا۔ مثال اس کی یوں سمجھیں۔ ’’جاگنا سونے کی فرع ہے۔ اگر کوئی آدمی جاگ اٹھا ہو تو وہ ضرور سویا ہوگا۔‘‘ اسی طرح اگر عیسیٰ علیہ السلام کا آسمان سے اترنا ثابت ہوجائے تو لازمی طور پر ان کا آسمان پر جانا بھی ثابت شدہ متصور ہوگا۔ اگر یوں کہا جائے کہ مرزاقادیانی لاہور سے آئے ہیں تو مرزاقادیانی کا لاہور جانا بھی ثابت ہو جائے گا۔ اگر یوں کہا جائے کہ مرزامحمود ہوائی جہاز سے اترے ہیں تو ان کا ہوائی جہاز میں اڑنا بھی ثابت ہو جائے گا۔

پس جب ہم نے اس حدیث سے ثابت کر دیا ہے کہ وہی حضرت عیسیٰ علیہ السلام جو حضرت مریم صدیقہ کے بیٹے تھے نازل ہوں گے تو معلوم ہوا کہ وہ آسمان پر زندہ موجود ہیں۔ خود غرضی کا ستیاناس ہو کہ عیسیٰ علیہ السلام کے معنی غلام احمد اور مریم سے مراد چراغ بی بی لیا جارہا ہے اور آسمان سے مراد ماں کا پیٹ باپ سے مراد بیٹا اور بیٹے سے مراد بھائی اور باپ سے مراد بھائی یا بیٹا غرضیکہ جو کچھ دل چاہے معنی کر لیتے ہیں۔ اگرکسی زبان میں یہ طریقہ عام مروج ہو جائے تو امن عالم خطرہ میں پڑ جائے۔ میں کہتا ہوں مجھے کھانڈ دو۔ آپ مجھے مٹی دے دیں۔ اس پر میں قبول کرنے سے انکار کر دوں۔

153

آپ کہیں کھانڈ سے مراد آپ کی مٹی ہی تھی۔ لطف یہ کہ اس کجروی پر بھی آپ کو کچھ دوست ایسے مل جائیں جو آپ کا استدلال مان لیں۔ تو بتائیے کہ سکھا شاہی کے سرپر کیا سینگ ہوتے ہیں؟

بعض مرزائی کہتے ہیں کہ: ’’آسمان سے‘‘ کے لفظ حدیث میں نہیں ہیں۔ اس کا جواب یہ ہے کہ رسول کریمﷺ یا اللہ تعالیٰ مرزاقادیانی کی طرح کلام کرنے والے نہیں ہیں کہ کلام میں غیرضروری الفاظ بھی خواہ مخواہ داخل کرتے جائیں۔ قادیانیوں کی جانے بلا کہ فصاحت وبلاغت اور علم کلام کس جانور کا نام ہے؟ دیکھئے پچھلے دنوں مسٹر خالد لطیف گابا ولایت تشریف لے گئے تھے۔ اس میں ولایت کے لفظ سے پہلے ’’ہندوستان سے‘‘ کے الفاظ بڑھانے کا مطالبہ کرنا کس قدر حماقت ہے؟ اسی طرح ان کے ولایت جانے کے بعد یونہی کہا جائے گا کہ مسٹر خالد لطیف گابا فلاں تاریخ ہندوستان آجائیں گے۔ اس پر کہنے والے کا منشاء یقینا ولایت سے آنے کا ہے۔

اس صورت میں ’’ولایت سے‘‘ کے لفظ بڑھانا کوئی ضروری نہیں ہے۔ اسی طرح جب کہ تمام صحابہ کرامؓ جن سے خطاب تھا۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو آسمان پر زندہ بجسدہ العنصری مانتے تھے۔ اندریں صورت ’’نازل من السماء‘ ‘ کی بجائے صرف ’’نازل‘‘ کا لفظ کہنا ہی رسول کریمﷺ کو زیب دیتا تھا۔ مگر باوجود اس کے کہ ’’من السماء‘‘ کے الفاظ کا اضافہ غیرضروری تھا۔ رحمتہ اللعالمینؐ نے قادیانیوں کا ناطقہ بند کرنے کے لئے اپنی مبارک زبان سے ’’من السماء‘‘ کے الفاظ بھی بڑھادئیے۔ جیسا کہ آگے آتا ہے۔

حدیث نمبر:۳… ’’عن عبد اللہ بن عمرو بن العاصؓ قال قال رسول اللہﷺ ینزل عیسیٰ ابن مریم الی الارض فیتزوج ویولد لہ ویمکث خمسا واربعین سنۃ ثم یموت فیدفن معی فی قبری فاقوم انا وعیسیٰ ابن مریم فی قبروا حدبین ابی بکر وعمر رواہ ابن جوزی فی کتاب الوفاء‘‘

(مشکوٰۃ ص۴۸۰، باب نزول عیسیٰ ابن مریم علیہ السلام)

’’عمرو بن العاصؓ فاتح مصر کے بیٹے حضرت عبد اللہؓ صحابی رسول کریمﷺ سے روایت کرتے ہیں۔ فرمایا رسول کریمﷺ نے کہ عیسیٰ علیہ السلام بیٹے مریم کے زمین کی طرف نازل ہوں گے۔ پس نکاح کریں گے اور ان کی اولاد ہوگی اور پینتالیس برس تک رہیں گے۔ پھر فوت ہوں گے اور میرے پاس میرے مقبرہ میں دفن ہوں گے۔ پھر میں اور

154

عیسیٰ بیٹا مریم کا ایک ہی مقبرہ سے اٹھیں گے۔ ابوبکرؓ وعمرؓ کے درمیان۔‘‘

تصدیق صحت حدیث

۱… یہ حدیث بیان کی ہے امام ابن جوزی نے جو قادیانیوں کے نزدیک چھٹی صدی میں تجدید دین کے لئے مبعوث ہوئے تھے اور ان کے منکر کا کافر اور فاسق ہونا قادیانیوں کے نزدیک مسلم ہے۔

(شہادۃ القرآن ص۴۰۸، خزائن ج۶ ص۳۴۴)

۲… پھر اس حدیث کی صحت کو خود مرزاقادیانی اور اس کی جماعت نے اپنی مندرجہ ذیل کتابوں میں بڑے زور سے صحیح تسلیم کر لیا ہے۔

(ضمیمہ انجام آتھم ص۵۳، خزائن ج۱۱ ص۳۳۷، کشتی نوح ص۱۵، خزائن ج۱۹ ص۱۶، نزول المسیح ص۳، خزائن ج۱۸ ص۳۸۱، حقیقت الوحی ص۳۰۷، خزائن ج۲۲ ص۳۲۰، ضمیمہ حقیقت الوحی ص۵۱ حاشیہ، خزائن ج۲۲ ص۶۷۴، عسل مصفی ج۲ ص۴۴۰،۴۴۱)

۳… مرزاقادیانی کے علاوہ خود مرزامحمود احمد نے بھی اس کی صحت کو اپنی کتاب انوار خلافت کے ص۵۰ پر قبول کر لیا ہے۔

ناظرین! قادیانی مسلمات سے جب ثابت ہوچکا کہ یہ حدیث رسول کریمﷺ کے مبارک الفاظ ہیں تو اب جو شخص حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی حیات جسمانی کا انکار کرے کیا وہ مسلمان ہوسکتا ہے؟ ذرا نتائج پر غور کیجئے۔

۱… آپ نے صرف حضرت مسیح علیہ السلام کا نام عیسیٰ نہیں فرمایا بلکہ ساتھ ہی فرمایا مریم کا بیٹا۔

۲… پھر یہ نہیں فرمایا کہ وہ پیدا ہوگا۔ بلکہ فرمایا کہ وہ زمین کی طرف نازل ہوگا۔ معلوم ہوا کہ وہ اس ارشاد کے وقت زمین سے باہر تھے۔

۳… اس کے بعد فرمایا کہ نزول کے بعد آپ نکاح کریں گے اور آپ کے ہاں اولاد بھی ہوگی۔ سب جانتے ہیں حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے رفع سے پہلے نکاح نہیں کیا تھا۔ پھر یہ نکاح نزول کے بعد ہی ہوگا۔

نوٹ: مرزاقادیانی یہاں نزول سے مراد ماں کے پیٹ سے باہر نکلنا لیتے ہیں۔ اگر خلاف قرآن وحدیث یہ بات صحیح بھی تسلیم کر لی جائے تو مرزاقادیانی کو ثابت کرنا پڑے گا کہ وہ پیدا ہوتے ہی عیسیٰ علیہ السلام ابن مریم تھے۔ مگر مرزاقادیانی نے اپنے آپ کو عیسیٰ علیہ السلام ابن مریم کا خطاب خود دیا اور وہ بھی ۱۸۹۰ء کے بعد اگر نزول کی تاریخ یہی سال مانی جائے تو پھر قادیانیوں کو ثابت کرنا پڑے گا کہ مرزاقادیانی کی شادی ۱۸۹۰ء کے بعد ہوئی تھی۔ کیونکہ رسول کریمﷺ کے الفاظ مبارک سے یہی ظاہر ہوتا ہے۔ چنانچہ مرزاقادیانی نے ہمارے استدلال کو (ضمیمہ انجام آتھم ص۵۳، خزائن ج۱۱ ص۳۳۷) پر

155

صحیح تسلیم کیا ہے اور اس پیش گوئی کو محمدی بیگم پر چسپاں کیا ہے۔ مگر وہ بھی ہاتھ نہ آئی۔ پس قادیانیوں کے لئے مقام عبرت ہے۔

۴… پھر آپ نے فرمایا: ’’ثم یموت‘‘ یعنی پھر ان تمام واقعات کے بعد فوت ہوگا۔ اس سے روز روشن کی طرح عیاں ہے کہ رسول کریمﷺ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو اس حدیث کے ارشاد فرمانے کے وقت زندہ تسلیم کر رہے تھے۔

۵… ’’ویدفن معی فی قبری‘‘ یعنی میرے روضہ میں دفن ہوگا۔ اس حصہ حدیث سے بھی ثابت ہوتا ہے کہ ابھی تک آپ فوت ہوئے۔ کیونکہ حضرت عیسیٰ ابن مریم علیہ السلام اگر فوت ہوچکے ہوتے تو وہ ضرور حسب تصریح نبوی رسول پاکﷺ کے روضہ پاک میں دفن ہوگئے ہوتے۔ چونکہ روضہ اقدس میں ابھی تک حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی قبر کی جگہ باقی ہے۔ معلوم ہوا کہ ابھی تک حضرت عیسیٰ علیہ السلام زندہ ہیں۔ یوں بھی کیوں نہ، روضہ مبارکہ میں ابھی چوتھی قبر کی جگہ خالی پڑی ہے۔ لیجئے! ہم آپ کو قادیانیوں کے مسلم امام ومجدد صدی ہشتم حافظ ابن حجر عسقلانی کی زبانی بتاتے ہیں۔ آپ فرماتے ہیں:

۱… ’’قولہا عند وفاتہا لا تدفنی عندہم یشعر بانہ بقی من البیت موضع المدفن (فتح الباری)‘‘ حضرت عائشہؓ کا وفات کے وقت یہ کہنا کہ مجھے ان کے پاس یعنی روضہ مبارکہ میں دفن نہ کرنا صاف صاف بتارہا ہے کہ روضہ مبارک میں ایک قبر کی جگہ باقی ہے۔

۲… ’’ان الحسنؓ ابن علیؓ اوصی اخاہ ان یدفنہ عندہم… فدفن بالبقیع (فتح الباری)‘‘ امام حسنؓ ابن علیؓ نے اپنے بھائی کو وصیت کی کہ مجھے روضہ مبارکہ میں دفن کرنا… وہ دفن کئے گئے جنت البقیع میں۔

اس سے بھی ثابت ہوا کہ روضہ مبارکہ میں چوتھی قبر کی جگہ ہے۔ ہر ایک نے وہاں دفن ہونے کی سعی کی۔ مگر وہ امت نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے لئے محفوظ رکھی ہوئی ہے۔

قادیانی اعتراض

رسول کریمﷺ کی قبر کو نعوذ ب اللہ کھود کر اس میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا دفن کرنا کس قدر گستاخی اور بے ادبی ہے رسول کریمﷺ کی۔

(ازالہ اوہام خورد ص۷۰۱، خزائن ج۳ ص۴۷۸)

جواب… اجی! آپ کو بھی رسول کریمﷺ کے ادب کے خواب آنے لگے؟ مرزاقادیانی نے قرآن، حدیث اور عربی علم ادب نہ تو خود کسی سے پڑھا اور نہ کسی کی تقلید کی۔ ان کی

156

جانے بلا کہ قبر کے مفہوم میں کون کون سی صورتیں شامل ہیں۔ وہ سمجھتے ہیں کہ قبر سے مراد صرف وہ تھوڑی سی جگہ ہی ہوتی ہے۔ جہاں جسم انسانی رکھا جاتا ہے۔ سنئے! ہم آپ کو فی قبری کے مفہوم دکھاتے ہیں۔ اور وہ بھی دسویں صدی کے مجدد اعظم ملا علی قاریؒ کی زبانی بتاتے ہیں۔ تاکہ قادیانیوں کو جائے فرار نہ رہے۔ جناب مجدد صدی دہم اپنی کتاب مرقاۃ شرح مشکوٰۃ میں فرماتے ہیں۔

’’فیدفن معی فی قبری (ای فی مقبرتی) وعبرعنہا بالقبر لقرب قبرہ بقبرہ فکانما فی قبر واحد‘‘

(مرقات شرح مشکوٰۃ ج۱۰ ص۲۳۳، باب نزول عیسیٰ علیہ السلام)

’’میری قبر میں دفن ہوگا۔ یعنی میرے روضہ مبارک میں اور مقبرہ کی بجائے قبر کا لفظ دونوں قبروں کے ساتھ ساتھ ہونے کی وجہ سے استعمال فرمایا۔ گویا قرب کی وجہ سے دونوں ایک ہی قبر میں ہیں۔‘‘ امید ہے کہ اب قادیانی اپنے ہی مسلمہ مجدد کی تفسیر کو قبول کر کے خلوص کا ثبوت دیں گے۔ اگر پھر بھی ہٹ پر قائم رہیں تو ہم مجبوراً مرزاقادیانی سے اس مضمون کی عبارت درج کرتے ہیں۔

۱… ’’ابوبکر وعمر، ان کو یہ مرتبہ ملا کہ آنحضرتﷺ سے ایسے ملحق ہوکر دفن کئے گئے کہ گویا ایک ہی قبر ہے۔‘‘

(نزول المسیح ص۴۷، خزائن ج۱۸ ص۴۲۵)

۲… ’’اور واضح رہے کہ آنحضرتﷺ کی قبر میں ان کا آخری زمانہ میں دفن ہونا… ممکن ہے کوئی مثیل ایسا بھی ہو جو آنحضرتﷺ کے روضہ کے پاس مدفون ہو۔‘‘

(ازالہ اوہام ص۴۷۰، خزائن ج۳ ص۳۵۲)

مصنف احمدیہ پاکٹ بک لکھتا ہے۔ ’’مسیح حجرہ نبویہ میں دفن ہوگا۔‘‘

(مکمل تبلیغی پاکٹ بک مؤلفہ عبدالرحمن قادیانی ص۶۹۸)

پس خود قادیانی کے اپنے الفاظ سے ثابت ہوگیا کہ ’’فی قبری‘‘ سے مراد قرب قبر ہے نہ کہ عین قبر۔ لہٰذا قادیانی اعتراض محض ’’ڈوبتے کو تنکے کا سہارا‘‘ والی بات ہے۔ ورنہ یہ بھی کوئی اعتراض ہے۔ جس سے الٹا لینے کے دینے پڑ جائیں۔

حدیث نمبر:۴… ’’ان روح اللہ عیسیٰ نازل فیکم فاذا رأیتموہ فاعرفوہ فانہ رجل مربوع الی الحمرۃ والبیاض… ثم یتوفی ویصلی علیہ المسلمون‘‘

(رواہ الحاکم ج۳ ص۴۹۰، عن ابی ہریرہؓ، بحوالہ قادیانی کتاب عسل مصفی ج۲ ص۱۵۱)

تصدیق نمبر:۱… یہ حدیث اپنے مضمون میں حدیث نمبر۳ سے ملتی جلتی ہے۔ اس واسطے اس کی تصدیق اسی کی تصدیق ہے۔

157

تصدیق نمبر:۲… اس حدیث کو صحیح قرار دے کر مرزاخدا بخش مرزائی مصنف عسل مصفی نے استدلال کیا ہے۔

(عسل مصفی ج۲ ص۱۵۱)

تصدیق نمبر:۳… اس کی تخریج حضرت مجدد وقت، قادیانیوں کے مسلمہ امام، امام حاکم نے کی ہے۔ ترجمہ: اس کا بھی وہی سمجھ لیں جو حدیث نمبر۳ کے ذیل میں ہے۔ بہت تھوڑا اختلاف ہے۔ یہاں یہ بات قابل غور ہے کہ مرزاغلام احمد قادیانی کا ناطقہ بند کرنے کو حضرت مسیح علیہ السلام کا نہ صرف نام ہی لیاگیا ہے۔ بلکہ رسول کریمﷺ نے عیسیٰ علیہ السلام ابن مریم کے ساتھ قرآنی خطاب روح اللہ بھی بیان کر دیا۔ تاکہ کسی مصنوعی عیسیٰ (مرزاقادیانی) کی دال نہ گل سکے۔

حدیث نمبر:۵… ’’عن ابی ہریرہؓ قال قال رسول اللہﷺ کیف انتم اذا نزل ابن مریم من السماء فیکم وامامکم منکم (کتاب الاسماء والصفات ص۴۲۴، باب قول اللہ عزوجل انی متوفیک ورافعک الیّ رواہ البیہقی)‘‘

(عسل مصفی ج۲ ص۱۵۶)

تصدیق نمبر:۱… اس حدیث کے راوی قادیانیوں کے مسلم امام ومجدد صدی چہارم امام بیہقیؒ ہیں۔ پس یہ حدیث یقینا صحیح ہے۔

تصدیق نمبر:۲… اس حدیث کو مرزاخدا بخش قادیانی نے اپنی کتاب (عسل مصفی ج۲ ص۱۵۶) پر صحیح تسلیم کیا ہے۔ مگر ’’من السماء‘‘ کے الفاظ ہضم کر گیا ہے۔ یہ قادیانی دیانت کا ثبوت ہے۔

’’(امام ) بیہقی نے ابوہریرہؓ سے روایت کی ہے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا۔ (مارے خوشی کے) تمہاری کیسی حالت ہوگی۔ اس وقت جب کہ ابن مریم آسمان سے تم میں نازل ہوگا۔ درآنحالیکہ تمہارا امام تمہیں میں سے ایک شخص ہوگا۔‘‘

ناظرین! امام بیہقیؒ نے خود اپنی اسناد سے اس حدیث کو روایت کیا ہے اور ’’من السماء‘‘ کے الفاظ کا اضافہ کر کے قادیانی نبی کے سینکڑوں برس بعد آنے والے اعتراضات کا جواب شارع علیہ السلام کی اپنی زبان مبارک سے اپنی صحیح میں درج کردیا۔ مرزاقادیانی اپنے منصب کا ثبوت یوں دیتے ہیں۔

۱… ’’صحیح حدیثوں میں تو آسمان کا لفظ بھی نہیں۔‘‘

(ازالہ خورد ص۶۰، خزائن ج۳ ص۱۳۲)

۲… ’’اور یہ بھی سوچ لو کہ صحیح حدیثوں میں آسمان سے اترنے کا بھی کہیں ذکر نہیں۔‘‘

(ازالہ خورد ص۲۸۳، خزائن ج۳ ص۲۴۴)

158

۳… ’’تمام حدیثیں پڑھ کر دیکھ لو کسی صحیح حدیث میں آسمان کا لفظ نہیں پاؤ گے۔‘‘

(چشمہ معرفت ص۲۲۰، خزائن ج۲۳ ص۲۲۹)

ناظرین! مرزاقادیانی دین سے ناواقف مسلمانوں کو اپنے دجل وفریب میں اسی طرح کے چیلنج دے کر لے آتے تھے۔ اس حدیث کی صحت میں حسب قانون مرزا کوئی عذر نہیں۔ کیونکہ اس کو امام وقت ومجدد امام بیہقیؒ نے قبول کر کے اپنی صحیح میں درج فرمایا ہے۔ دوسرے اسی ازالہ میں مرزاقادیانی لکھتے ہیں۔ ’’صحیح مسلم کی حدیث میں جو یہ لفظ موجود ہے کہ حضرت مسیح علیہ السلام جب آسمان سے اتریں گے تو ان کا لباس زردرنگ کا ہوگا۔‘‘

(ازالہ اوہام ص۸۱، خزائن ج۳ ص۱۴۲)

تعجب ہے کہ مرزاقادیانی اس کتاب میں صحیح حدیث میں ’’آسمان سے‘‘ کے الفاظ کے ہونے سے انکار بھی کرتے ہیں۔ حالانکہ خود ہی اسی کتاب میں اس چیلنج سے پہلے ان الفاظ کا صحیح حدیث میں ہونا قبول بھی کر رہے ہیں۔ فیا للعجب! غالباً مراق کا نتیجہ ہے۔

نوٹ: آسمان سے نازل ہونے کی بحث مزید آگے لائیں گے۔

حدیث نمبر:۶… ’’عن ابن عباسؓ فی حدیث طویل قال رسول اللہﷺ فعند ذالک ینزل اخی عیسیٰ ابن مریم من السماء علی جبل افیق اماماً ہادیاً وحکما عادلا‘‘ (کنزالاعمال ج۱۴ ص۶۱۹، حدیث نمبر۳۹۷۲۶، رواہ ابن عساکر)

تصدیق… مرزاقادیانی نے اس حدیث کو صحیح تسلیم کر لیا ہے۔ چنانچہ اس حدیث کو (حمامتہ البشریٰ ص۱۴، خزائن ج۷ ص۱۹۲ حاشیہ) میں درج کر کے اس سے استدلال کیا ہے۔ مگر ’’مجددانہ‘‘ دیانت سے کام لیتے ہوئے۔ ’’من السماء‘‘ کے الفاظ کو ہضم کر گئے ہیں۔

’’حضرت ابن عباسؓ مفسر اعظم مسلمہ قادیانی نبی۔‘‘

(ازالہ اوہام ص۲۴۷، خزائن ج۳ ص۲۲۵، عسل مصفی ج۱ ص۲۲۴)

فرماتے ہیں کہ رسول کریمﷺ نے فرمایا کہ جب یہ باتیں ہوں گی۔ اس وقت مسیح ابن مریم آسمان سے جبل افیق پر نازل ہوگا۔

ناظرین! اس حدیث میں بھی رسول کریمﷺ نے ’’من السماء‘‘ کے الفاظ ارشاد فرماکر قادیانی اعتراض کا جواب دے دیا ہے۔

۲… اس حدیث میں عیسیٰ ابن مریم علیہ السلام کی مزید تخصیص کرنے کے لئے آپ نے ’’اخی‘‘ میرا بھائی کے لفظ بڑھا کر بتلا دیا کہ عیسیٰ ابن مریم علیہ السلام وہی انجیل والا نبی ہوگا۔

159

کیونکہ وہی عیسیٰ علیہ السلام رسول کریمﷺ کے بھائی ہوسکتے ہیں۔ اگر کوئی مصنوعی عیسیٰ بننے کی سعی کرے اور چراغ بی بی کا بیٹا ہو کر مریم کا بیٹا کہلائے اور اپنے آپ کو رسول پاکﷺ کا بیٹا بھی ظاہر کرے وہ کسی طرح اس حدیث کا مصداق نہیں ہوسکتا۔

’’اور ہم نے اولاد کی طرح اس کی (رسول کریمﷺ) وراثت پائی۔‘‘

(ضمیمہ نزول المسیح اعجاز احمدی ص۷۰،خزائن ج۱۹ ص۱۸۳)

حدیث نمبر:۷… ’’عن جابرؓ ان رسول اللہﷺ قال عرض علی الانبیاء فاذا موسیٰ ضرب من الرجال کانہ من رجال شنؤۃ ورأیت عیسیٰ ابن مریم فاذا اقرب من رأیت بہ شبہا عروۃ ابن مسعود‘‘

(رواہ مسلم بحوالہ مشکوٰۃ ص۵۰۸، باب بدء الخلق)

حضرت جابرؓ رسول کریمﷺ سے روایت کرتے ہیں کہ فرمایا آنحضرتﷺ نے کہ معراج کی رات انبیاء علیہم السلام میرے سامنے پیش کئے گئے۔ موسیٰ علیہ السلام تو دبلے پتلے تھے۔ گویا قبیلہ شنؤۃ کے مردوں سے ملتے ہیں اور عیسیٰ علیہ السلام مشابہ تھے۔ ساتھ عروہ بن مسعودؓ کے۔

حدیث نمبر:۸… ’’عن عبد اللہ بن عمرؓ فی حدیث طویل قال قال رسول اللہﷺ فیبعث اللہ عیسیٰ ابن مریم کانہ عروۃ بن مسعودؓ فیطلبہ فیہلکہ‘‘

(مشکوٰۃ ص۴۸۱، باب لا تقوم الساعۃ الاعلی شرار الناس)

’’پس (دجال کے نکلنے کے بعد) بھیجے گا۔ اللہتعالیٰ، عیسیٰ علیہ السلام ابن مریم کو، گویا وہ عروۃ بن مسعودؓ ہے۔ پس وہ ڈھونڈیں گے۔ دجال کو پس ہلاک کر دیں گے اس کو۔‘‘ معزز ناظرین غور کیجئے کہ رسول کریمﷺ نے جس عیسیٰ ابن مریم (ہم شکل عروۃ بن مسعودؓ ) کو معراج کی رات آسمانی پر دیکھا تھا۔ اسی عیسیٰ ابن مریم علیہ السلام (ہم شکل عروۃ بن مسعودؓ) کے آنے کی پیش گوئی فرمارہے ہیں۔ خیال فرمائیے۔ آنحضرتﷺ نے پہلے نام بیان فرمایا۔ پھر نسب بھی بتادیا تاکہ امت دھوکہ نہ کھائے۔ اس کے بعد مصنوعی عیسیٰ ابن مریم بننے والوں کو دو الگ الگ حدیثوں میں آسمان والے عیسیٰ اور نازل ہونے والے عیسیٰ کے ساتھ ابن مریم اور عروۃ بن مسعود کا ہم شکل ہونا لگا کر خردماغ انسانوں کو بھی سمجھانے کی کوشش کر گئے کہ عیسیٰ علیہ السلام ہی دوبارہ آئیں گے۔ اب بھی اگر کوئی قادیانی ’’لا نسلم‘‘ کی رٹ لگائے، تو اس کا علاج ہمارے پاس نہیں۔

حدیث نمبر:۹… ’’عن عائشۃؓ قالت قلت یا رسول اللہﷺ انی اری انی اعیش
160

بعدک فتاذن لی ان ادفن الی جنبک فقال انیّٰ بذالک الموضع مافیہ الا موضع قبری وقبر ابی بکر وعمر وعیسیٰ ابن مریم‘‘ (مسند احمد ج۶ ص۵۷ حاشیہ)

’’حضرت عائشہؓ سے روایت ہے کہ میں نے عرض کیا۔ یا رسول اللہﷺ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ میں آپ کے بعد زندہ رہوں گی۔ پس مجھے اجازت دیں کہ میں بھی آپ کے پہلو میں دفن کی جاؤں۔ پس آپ نے فرمایا۔ کس طرح ممکن ہے اس میں تو صرف چار قبروں کی جگہ ہے۔ میری قبر اور ابوبکر وعمر وعیسیٰ بن مریم کی قبر کی۔‘‘

تصدیق نمبر:۱… یہ حدیث امام احمد قادیانیوں کے مسلمہ امام ومجدد صدی دوم نے اپنی مسند میں بروایات صحیحہ درج کی ہے۔ اب کس قادیانی کی جرأت ہے کہ اپنے ہی امام اور مجدد کی روایت کردہ حدیث سے انکار کرے اور حسب الحکم مرزاقادیانی فاسق اور کافر ہو جائے۔

تصدیق نمبر:۲… حدیث کو حدیث نمبر۳ کی روشنی میں دیکھنے سے اس کی توثیق کا یقین ہو جاتا ہے۔

تصدیق نمبر:۳… تصدیق از حضرت عبد اللہ بن سلامؒ وامام بخاری ’’قال عبد اللہ بن سلام یدفن عیسیٰ ابن مریم مع رسول اللہﷺ وصاحبیہ فیکون قبرہ رابعاً‘‘ امام بخاری نے حضرت عبد اللہ بن سلام صحابی کا قول نقل کیا ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام دفن ہوں گے۔ رسول کریمﷺ اور آپ کے دونوں ساتھیوں کے ساتھ پس ان کی قبر چوتھی ہوگی۔‘‘

(درمنثور بحوالہ اخرج البخاری فی تاریخہ)

تصدیق نمبر:۴… ترمذی میں ہے: ’’وقد بقی فی البیت موضع قبر‘‘ یعنی حجرہ نبوی میں ایک قبر کی جگہ باقی ہے۔

محترم ناظرین! جس طرح ابھی تک حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی بیوی اور اولاد کا نہ ہونا ثابت ہوچکا ہے۔ اسی طرح کرۂ ارضی پر ان کی قبر بھی نہیں ہے۔ بلکہ حسب الحکم رسول کریمﷺ آپ کے حجرہ مبارکہ میں حضرت مسیح کے لئے قبر کی جگہ خالی پڑی ہے۔ اگر وہ فوت ہوگئے ہوتے تو رسول کریمﷺ اپنے پہلو میں ان کے دفن کے لئے جگہ نہ چھڑوا جاتے۔ پس ثابت ہوا کہ ابھی تک حضرت عیسیٰ علیہ السلام زندہ ہیں۔

نوٹ: مرزاقادیانی اور ان کی امت نے مل ملا کر سرینگر کشمیر میں ایک قبر کا نام قبر عیسیٰ علیہ السلام رکھ لیا ہے۔ مگر ابھی تک اس کا تاریخی ثبوت نہیں پہنچا سکے۔ اگر ان کے اس مضحکہ خیز دعویٰ میں ذرا بھر بھی صداقت ہوتی تو کروڑہا عیسائی سرینگر میں اپنے نبی بلکہ اپنے ابن اللہ کی قبر کی زیارت کے لئے ہر سال ضرور جایا کرتے۔ قادیانیوں کا یہ

161

دعویٰ محض بلادلیل ہے۔ اس کی صحت کا اندازہ آپ اسی امر سے لگا لیں کہ رسول پاکﷺ اور صحابہ کرامؓ تو فرماتے ہیں کہ ان کے دفن کرنے کے لئے جگہ حجرہ مبارکہ نبویہ میں موجود ہے اور قیامت کے دن دونوں اولوالعزم رسول ایک ہی مقبرہ سے اٹھیں گے۔ مگر مرزاقادیانی اس کی تردید کر کے ان کو دفن شدہ ثابت کرتے ہیں

حدیث نمبر:۱۰… آنحضرت رسول کریمﷺ بمعہ صحابہؓ ابن صیاد کو دیکھنے گئے۔ کیونکہ ابن صیاد کے بارہ میں صحابہؓ کو شبہ تھا کہ یہی دجال نہ ہو۔ ’’عن جابرؓ قال ان عمرؓ قال ائذن لی یا رسول اللہ فاقتلہ فقال رسول اللہﷺ ان یکن ہو، فلست صاحبہ انما صاحبہ عیسیٰ ابن مریم وان لم یکن ہو فلیس لک ان تقتل رجلاً من اہل العہد‘‘

(رواہ احمد ج۳ ص۳۶۸، بحوالہ عسل مصفی ج۲ ص۲۹۲)

حضرت جابرؓ سے روایت ہے کہ حضرت عمرؓ نے کہا یا رسول اللہﷺ اجازت دیں۔ مجھے کہ میں ابھی ابن صیاد کو قتل کر دوں۔ آنحضرتﷺ نے فرمایا کہ اگر ابن صیاد دجال معہود ہے تو پھر تو اسے قتل نہ کر سکے گا۔ کیونکہ اس کے قاتل عیسیٰ ابن مریم ہیں۔

تصدیق نمبر:۱… مرزاقادیانی نے بھی اس حدیث کی تصدیق کی ہے۔ چنانچہ لکھتے ہیں۔ ’’آنحضرتﷺ نے حضرت عمرؓ کو ابن صیاد کے قتل کرنے سے منع فرمایا اور نیز فرمایا کہ ہمیں اس کے حال میں ابھی تک اشتباہ ہے۔ اگر یہی دجال معہود ہے تو اس کا صاحب عیسیٰ ابن مریم ہے جو اسے قتل کرے گا۔ ہم اس کو قتل نہیں کر سکتے۔‘‘

(ازالہ اوہام ص۲۲۵، خزائن ج۳ ص۲۱۲)

تصدیق نمبر:۲… (عسل مصفی ج۲ ص۲۹۲) پر بھی اسی حدیث کو صحیح مانا گیا ہے۔ حضرات! غور کیجئے۔ یہاں سے مندرجہ ذیل باتیں اظہر من الشمس ہیں۔

۱… دجال معہود کوئی قوم نہیں بلکہ صحابہؓ اور رسول کریمﷺ کے نزدیک دجال معہود ایک شخص واحد ہے۔

۲… واقعی ابن صیاد کو دجال معہود بعض صحابہؓ نے سمجھ لیا تھا۔ کیونکہ جس قدر علامات اس وقت تک صحابہؓ کو رسول اللہﷺ نے بتلائی تھیں۔ وہ اس میں پائی جاتی تھیں۔ مگر جب رسول کریمﷺ نے صحابہؓ کی غلط فہمی کو معلوم کیا۔ تو مفصل علامات دجال معہود بیان فرما دیں۔ پھر کسی صحابیؓ کو بھی ترددنہ ہوا۔

۳… دجال معہود ایک شخص ہوگا اور اس کو قتل کرنے والے حضرت عیسیٰ علیہ السلام ہوں گے

162

جو بیٹے ہیں۔ حضرت مریم علیہا السلام کے۔

۴… تمام صحابہ حضرت رسول کریمﷺ سے دجال کا حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے ہاتھوں قتل ہونا سن کر خاموش ہوگئے۔ پس رسول کریمﷺ اور تمام صحابہؓ کا حیات عیسیٰ ابن مریم پر اجماع ثابت ہوگیا۔ کیونکہ مردہ قتل نہیںکر سکتا۔ یقینا وہ زندہ ہیں۔ دجال کے ظہور کے وقت آسمان سے نزول فرما کر دجال کا مقابلہ کر کے اسے قتل کر دیں گے۔

نوٹ: مرزاقادیانی نے یہ جو لکھا ہے کہ رسول کریمﷺ نے فرمایا کہ ابھی تک ہمیں اس کے حال میں اشتباہ ہے۔ یہ محض افتراء علی الرسول ہے۔ رسول پاکﷺ نے کہیں ایسا نہیں فرمایا۔

حدیث نمبر:۱۱… حضرت عبد اللہ بن مسعودؓ سے ابن ماجہ میں موقوفاً اور مسند احمد میں مرفوعاً مروی ہے۔ ’’عن عبد اللہ بن مسعودؓ قال لما کان لیلۃ اسری برسول اللہﷺ لقی ابراہیم وموسیٰ وعیسیٰ فتذاکروا الساعۃ فبدؤا بابراہیم فسالوہ عنہا فلم یکن عندہ منہا علم ثم سالوا موسیٰ فلم یکن عندہ علم فرو الحدیث الیٰ عیسیٰ ابن مریم فقال قد عہد لیٰ فیما دون وجبتہا فاما وجبتہا فلا یعلمہا الا اللہ فذکر خروج الدجال قال فانزل فاقتلہ‘‘

(مسند احمد ج۱ ص۳۷۵، ابن ماجہ ص۲۹۹، باب فتنہ الدجال وخروج عیسی ابن مریم)

یعنی حضرت عبد اللہ بن مسعودؓ صحابی فرماتے ہیں کہ معراج کی رات رسول کریمﷺ نے ملاقات کی حضرت ابراہیم علیہ السلام، حضرت موسیٰ علیہ السلام اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام سے۔ پس انہوں نے قیامت کا ذکر چھیڑدیا اور حضرت ابراہیم علیہ السلام سے اس کے متعلق سوال کیا۔ انہوں نے لاعلمی ظاہر کی۔ اسی طرح حضرت موسیٰ علیہ السلام نے بھی یہی جواب دیا۔ آخر الامر حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے جواب دیا کہ میرے ساتھ قرب قیامت کا ایک وعدہ کیاگیا تھا۔ اس کا ٹھیک وقت سوائے خدا عزوجل کے کسی کو معلوم نہیں۔ پس انہوں نے دجال کا ذکر کیا اور فرمایا کہ پھر میں اتروں گا اور دجال کو قتل کروں گا۔

یہ حدیث مسند احمد میں مرفوعاً مذکور ہے۔ اس میں یہ الفاظ رسول کریمﷺ کی اپنی زبان مبارک سے نکلے ہوئے درج ہیں۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے قرب قیامت کا ذکر کر کے فرمایا:’’ان الدجال خارج ومعی قضیبان فاذا رانی ذاب کما یذوب الرصاص قال فیہلک اللہ اذا رانی‘‘ یعنی دجال نکلے گا اور میرے ساتھ تیز تلوار ہوگی۔ پس جب وہ مجھے دیکھے گا تو اسی

163

طرح پگھلے گا جس طرح سکہ (آگ سے پگھلتا ہے) حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے فرمایا کہ پس اللہتعالیٰ اسے ہلاک کر دیں گے جب وہ مجھے دیکھے گا۔

تصدیق نمبر:۱… اس حدیث کو مرفوعاً بیان کرنے والے حضرت امام احمد قادیانیوں کے مسلمہ مجدد صدی دوم ہیں۔ پس یہ حدیث بالکل صحیح ہے۔

تصدیق نمبر:۲… اس حدیث کو قادیانیوں کے دو اور مجددین نے صحیح سمجھ کر اپنی اپنی کتابوں میں درج کیا ہے۔

(درمنثور اور بیہقی)

تصدیق نمبر:۳… مولوی محمد احسن امروہی قادیانی نے اپنی کتاب شمس بازغہ ص۹۸ پر اس حدیث کو صحیح تسلیم کیا ہے۔

نتائج نمبر:۱… حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے قرب قیامت کے لئے اپنے نزول کو ایک علامت ٹھہرایا ہے۔ گویا کلام اللہ کی آیت ’’انہ لعلم للساعۃ‘‘ کی تفسیر بیان فرمارہے ہیں۔

نتائج نمبر:۲… حضرت عیسیٰ علیہ السلام آسمان پر ہیں اور وہی آسمان والے عیسیٰ ابن مریم نازل ہونے کا وعدہ فرمارہے ہیں۔

نتائج نمبر:۳… حضرت عیسیٰ علیہ السلام نازل ہونے کے بعد دجال کے ساتھ جنگ کرنے کا اعلان کر رہے ہیں۔

نتائج نمبر:۴… قتل کا لفظ استعمال کر کے قادیانیوں کے تمام تانے بانے کو درہم برہم کر رہے ہیں۔ دجال کا قتل تحریروں اور چندوں سے نہیں ہوگا۔ بلکہ تلوار کے ذریعہ ہوگا۔

یہ ساری باتیں مرزاقادیانی میں کہاں ہیں۔ کیا معراج کی رات مرزاقادیانی نے ہی رسول کریمﷺ سے اپنے نزول کا ذکر کیا تھا اور کیا مرزاقادیانی نے دجال کو قتل کردیا ہے؟ ان کی حالت عجیب ہے۔ کبھی انگریزوں کو دجال بناتے ہیں اور کبھی اولیٰ الامر! پھر عیسائیوں کے ساتھ مباحثوں میں جو مرزاقادیانی کی گت بنا کرتی تھی۔ اس کا کچھ اندازہ لگانا ہو تو مرزاقادیانی کی اپنی مرتب کردہ روئیداد جلسہ مباحثہ باعیسائیاں بنام ’’جنگ مقدس‘‘ سے لگ سکتا ہے۔

حدیث نمبر:۱۲… ’’عن ابی ہریرہؓ قال قال رسول اللہﷺ کیف انتم اذا نزل ابن مریم فیکم وامامکم منکم‘‘ (رواہ البخاری ج۱ ص۴۹۰، باب نزول عیسیٰ علیہ السلام)

حضرت ابوہریرہؓ راوی ہیں کہ فرمایا رسول کریمﷺ (اے مسلمانو!) اس وقت (مارے خوشی کے) تمہارا کیا حال ہوگا۔ جب کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام ابن مریم تمہارے درمیان نازل ہوں گے اور

164

حال یہ ہوگا کہ تمہارا امام (نماز میں) تمہیں میں سے ہوگا۔

تصدیق نمبر:۱… اس حدیث کو روایت کیاہے۔ امام بخاریؒ نے جن کی صحیح کو مرزاقادیانی اصح الکتب بعد کتاب اللہ سمجھتے ہیں۔ یعنی کلام اللہ کے بعد دوسرا درجہ صحیح بخاری کا ہے۔

(ازالہ اوہام ص۸۸۴، خزائن ج۳ ص۵۸۲، تبلیغ رسالت ج۲ ص۲۵، مجموعہ اشتہارات ج۱ ص۲۳۵، ایام الصلح ص۴۷، خزائن ج۱۴ ص۲۷۹)

تصدیق نمبر:۲… اس حدیث کو خود مرزاقادیانی نے اپنی اکثر کتابوں میں صحیح تسلیم کیا ہے۔ گو معنی غلط سلط کر کے اپنے آپ پر چسپاں کر لئے ہیں۔ مگر معنوں کو چسپاں کرنا ہم ناظرین کی سخن فہمی پر چھوڑتے ہیں۔

(ضمیمہ تحفہ گولڑویہ ص۱۸ حاشیہ، خزائن ج۱۷ ص۶۴، چشمہ معرفت تمہید، خزائن ج۲۳ ص۲، ایام الصلح ص۴۸، خزائن ج۱۴ ص۲۷۹،۱۵۲،۱۵۳، ۳۹۹،۱۴۶،۳۹۳) پر اس حدیث کا صحیح ہونا مان رہے ہیں۔

تشریح نمبر:۱… اس حدیث میں رسول کریمﷺ مسلمانوں کو ان کی وجدانی مسرت وکیفیت کی خوشخبری سنارہے ہیں۔ ایک طرف دجال بمعہ اپنی تمام افواج جنگ کے لئے تیار ہوگا۔ بالمقابل حضرت امام مہدی اسلامی صفوں کو مرتب کر رہے ہوں گے۔ ایک دم حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا نزول ہوگا اور مسلمان قرآن کریم اور احادیث نبوی کے مطابق پیش گوئی کو پورا ہوتے دیکھیں گے اور ان کی مسرت وبہجت کی کوئی حد نہ رہے گی۔

تشریح نمبر:۲… میں تمام قادیانی امت کو چیلنج کرتا ہوں کہ اگر مذکورہ بالا معنی اور تشریح صحیح نہیں ہے تو وہ محاورہ عرب سے ’’کیف انتم یا کیف بکم‘‘ کا مطلب اور اس کی فلاسفی اس حدیث میں سمجھا کر ممنون فرمائیں۔ مرزاقادیانی کا نزول کب مانیں۔

آیا ۱۸۴۰ء = ماں کے پیش سے باہر نکلنے کو (تریاق القلوب)

یا ۱۸۸۰ء = تاریخ دعویٰ مجددیت کو

یا ۱۸۹۲ء = تاریخ دعویٰ مسیحیت کو

یا ۱۹۰۱ء = تاریخ دعویٰ نبوت حقیقی کو

مسلمانوں کو کیا خوشی ہوئی تھی۔ مرزاقادیانی تو کفر کی مشین گن لے کر آئے تھے اور اس کو مسلمانوں کے خلاف ہی چلانا شروع کر دیا۔ کیا نعوذ ب اللہ مسلمانوں کو اس ناگفتہ بہ حالت کی بشارت رسول کریمﷺ دے رہے ہیں؟ ہرگز نہیں۔

مجددین امت محمدیہ مسلمہ قادیانی میں سے اگر قادیانی جماعت کسی ایک مجدد کا قول

165

بھی اس حدیث کی تفسیر کے متعلق اپنی تائید میں پیش کر دیں تو علاوہ مقررہ انعام کے مبلغ دس روپے اور انعام دوں گا۔

تشریح نمبر:۴… اس حدیث کے مرزا قادیانی یوں معنی کرتا ہے۔ ’’تمہارا کیا حال ہوگا۔ جب کہ ابن مریم تم میں نازل ہوگا اور وہی تمہارا امام ہوگا۔‘‘

اس کے باطل ہونے کی دو وجوہات تو نمبر۲،۳ میں بیان کر چکا ہوں۔ بقیہ ملاحظہ ہوں:

الف… مرزائی تفسیر علوم عربیہ کے مخالف ہے۔ کیونکہ مرزائی معنی صحیح ہونے کی صرف ایک ہی صورت ہے۔ یعنی فقرہ ’’امامکم منکم‘‘ کو ابن مریم کی تفسیر کہا جائے۔ یعنی ’’عطف تفسیری‘‘ کہا جائے۔ مگر عطف بیان کے لئے عربی میں واؤ استعمال نہیں کرتے۔ لہٰذا اس کو عطف بیان قرار دے کر ابن مریم کی تفسیر قرار دینا علوم عربیہ اور لسان عربی کے محاورات کو کند چھری سے ذبح کرنے کے مترادف ہے۔

ب… خود مرزاقادیانی کی قلم سے اللہتعالیٰ نے ہماری تائید میں کئی جگہ شہادت دلادی ہے۔ مرزاقادیانی اپنی امت کو مسلمانوں کے پیچھے نماز میں اقتدا کرنے سے روکنے کی دلیل بیان کرتے ہوئے لکھتے ہیں۔ ’’چاہئے کہ تمہارا امام وہی ہو جو تم میں سے ہو۔ اسی کی طرف حدیث بخاری کے ایک پہلو میں اشارہ ہے کہ ’’امامکم منکم‘‘ یعنی جب مسیح نازل ہوگا… اور تمہارا امام تم میں سے ہوگا۔‘‘

(ضمیمہ تحفہ گولڑویہ ص۱۸ حاشیہ، خزائن ج۱۷ ص۶۴)

نوٹ: اس عبارت سے صاف عیاں ہے کہ مسیح نازل ہونے والا کوئی اور ہے اور مسلمانوں کی نماز کا امام کوئی اور، اور یہی حدیث میں مقصود ہے۔ یعنی حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے نزول کے وقت مسلمانوں کے اپنے امام حضرت امام مہدی ہوں گے اور وہی نماز پڑھائیں گے۔

دوسری جگہ اسی حدیث سے استنباط کرتے ہوئے مرزاقادیانی لکھتے ہیں: ’’حدیث میں آیا ہے کہ مسیح جو آنے والا ہے وہ دوسروں کے پیچھے نماز پڑھے گا۔‘‘

(فتاویٰ احمدیہ ج اوّل ص۸۲)

ج… ہم اسلامی تفسیر کی تائید میں رسول کریمﷺ کی اور احادیث پیش کرتے ہیں۔ امید ہے کہ اس کے بعد قادیانی بحکم ’’تصنیف را مصنف نکوکند بیان‘‘ رسول کریمﷺ کی تفسیر کو مرزاقادیانی کے بیان پر ترجیح دینے میں کوئی عار نہ سمجھیں گے۔ وہ حدیث درج ذیل ہے۔

حدیث نمبر:۱۳… مسلم کی طویل حدیث میں ہے۔ ’’عن جابرؓ قال قال رسول

166

اللہﷺ… فینزل عیسیٰ ابن مریم فیقول امیرہم تعال صلّ لنا۰ فیقول لا ان بعضکم علیٰ بعض امراء تکرمۃ اللہ ہذا الامۃ‘‘ (مشکوٰۃ ص۴۸۰، باب نزول عیسیٰ)

تصدیق… روایت کیا اس حدیث کو امام مسلم نے اپنی صحیح میں جس کی عظمت وصحت کو مرزاقادیانی نے قبول کر لیاہے۔ (ازالہ اوہام ص۸۸۴، خزائن ج۳ ص۵۸۲) کہ: ’’حضرت جابرؓ روایت کرتے ہیں… پس نازل ہوں گے عیسیٰ ابن مریم علیہ السلام۔ مسلمانوں کا امیر انہیں کہے گا۔ آئیے ہمیں نماز پڑھائیے۔ وہ فرمائیں گے نہیںَ یہ شرف صرف امت محمدی ہی کو ہے کہ وہ ایک دوسرے کے امیر وامام ہوں۔‘‘

۱… اس حدیث نے فیصلہ کر دیا ہے کہ حدیث نمبر۱۲ میں ’’وامامکم منکم‘‘ کے قادیانی معنی سراسر افتراء اور دجل وفریب ہے۔

۲… حضرت عیسیٰ علیہ السلام نماز میں مسلمانوں کی امامت سے انکار کر کے اور امامت نماز کا حق صرف امت محمدی میں سے بعض کے حوالہ کر کے اپنا انجیلی نبی اور عیسیٰ بنی اسرائیلی ہونے کا اعلان کر رہے ہیں۔ صاف فرما رہے ہیں کہ میں تمہاری امامت نہیں کروں گا۔

کیا مرزاقادیانی بھی مسلمانوں کی امامت سے انکار کرتے تھے؟ سبحان اللہ! اس دماغ کے آدمی کھڑے ہوکر ’’انا المسیح الموعود‘‘ کا نعرہ لگاتے ہیں اور لطف یہ کہ بعض علوم عربیہ سے بے بہرہ۔ عوام الناس بالخصوص انگریزی تعلیم یافتہ اس آواز پر لبیک کہنے لگ جاتے ہیں۔ کاش وہ علوم عربیہ اور قرآن واحادیث سے واقف ہوتے تو یقینا مرزائی دجل وفریب کا شکار نہ بنتے۔

۳… یہی مضمون سنن ابن ماجہ میں موجود ہے۔ یہ وہی سنن ابن ماجہ حدیث کی کتاب ہے۔ جس کا مرزاقادیانی نے اپنی کتابوں میں بہت عظمت کے ساتھ ذکر کیا ہے۔ اس کے الفاظ یہ ہیں۔

’’عن ابی الامامۃ الباہلیؓ قال قال رسول اللہﷺ امامہم رجل صالح تقدم یصلی لہم الصبح اذ نزل عیسیٰ ابن مریم علیہ السلام فرجع ذالک الامام یمشی القہقری لیتقدم عیسیٰ علیہ السلام فیضع یدہ عیسیٰ بین کتفیہ ثم یقول تقدم فصل فانہا لک اقیمت فیصلی بہم امامہم فاذا انصرف قال عیسیٰ افتحوا الباب فیفتح و ورأہ الدجال معہ سبعون الف یہودی… فیدرکہ عند باب لد الشرقی فیقتلہ‘‘ (سنن ابن ماجہ ص۲۹۸، باب فتنۃ الدجال وخروج عیسیٰ بن مریم علیہ السلام) ابو الامامۃ

167

الباہلیؓ صحابی رسول اللہﷺ آنحضرتﷺ سے روایت کرتے ہیں کہ دجال کے خروج کے زمانہ میں بیت المقدس کے لوگوں کا امام ایک نیک شخص ہوگا۔ ایک روز ان کا امام آگے بڑھ کر صبح کی نماز پڑھانا چاہے گا کہ اچانک حضرت عیسیٰ علیہ السلام صبح کے وقت آن اتریں گے۔ یہ امام ان کو دیکھ کر الٹے پاؤں پیچھے ہٹے گا تاکہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام آگے ہوکر نماز پڑھائیں۔ لیکن حضرت عیسیٰ علیہ السلام اپنا داہنا ہاتھ اس کے دونوں کاندھوں کے درمیان رکھ دیں گے اور امام المسلمین سے فرمائیں گے آپ ہی آگے بڑھئیے کہ یہ نماز آپ ہی کے لئے قائم ہوئی تھی۔ پھر وہ امام لوگوں کو نماز پڑھائے گا۔ جب نماز سے فارغ ہوگا تو حضرت عیسیٰ علیہ السلام فرمائیں گے کہ دروازہ کھول دو۔ دروازہ کھول دیا جائے گا۔ وہاں پر دجال ہوگا۔ ستر ہزار یہودیوں کے ساتھ جن میں سے ہر ایک کے پاس تلوار ہوگی… پس حضرت عیسیٰ علیہ السلام دجال کو باب لد شرقی کے پاس جاکر قتل کردیں گے۔

اس حدیث نے اسلامی تفسیر کی صحت پر مہر تصدیق ثبت کر دی ہے۔ اب بھی اگر مرزائی یہی رٹ لگائے جائیں کہ ’’امامکم منکم‘‘ کے معنی یہ ہیں کہ عیسیٰ علیہ السلام امت محمدی کے ایک بشر ہوں گے۔ تو گواس بیان کا لغو ہونا اظہر من الشمس ہوچکا ہے۔ تاہم ان معنوں کو قبول کر لیتے ہیں اور ان معنوں کو درست تسلیم کر کے مرزائی دجل کی حقیقت طشت ازبام کرتے ہیں۔ اس صورت میں پھر مطلب یہ ہوگا کہ عیسیٰ علیہ السلام جو پہلے مستقل نبی ورسول تھے اور خود ایک امت کے رسول تھے۔ اب اسی امت کے ایک فرد کی حیثیت رکھتے ہوں گے۔ گویا وہ بجائے لوگوں کو اپنی نبوت کی طرف دعوت دینے کے خود رسول کریمﷺ کی امت میں شامل ہو جائیں گے اور ایسا کرنا ان پر واجب ہوگا۔ کیونکہ اللہتعالیٰ نے عالم ارواح میں تمام انبیاء علیہم السلام سے عہد لیا ہوا ہے کہ اگر ان کی موجودگی میں حضرت محمد مصطفیﷺ تشریف لے آئیں تو ان کی نبوت پر ایمان لے آئیں اور انہیں کی تائید میں لگ جائیں۔ چنانچہ وہ آیت حسب ذیل ہے۔

’’واذ اخذ اللہ میثاق النبیین لما اٰتیتکم من کتاب وحکمۃ ثم جاء کم رسول مصدق لما معکم لتٔومنن بہ ولتنصرنہ قال اأقررتم واخذتم علیٰ ذالکم اصری۰ قالوا اقررنا قال فاشہدوا وانا معکم من الشاہدین (آل عمران:۸۱)‘‘

مطلب اس آیت کا اگر ہم بیان کریں گے تو قادیانی صاحبان فوراً انکار کر دیں گے۔ ہم اس کا مطلب مرزاقادیانی کے اپنے الفاظ میں بیان کرتے ہیں تاکہ قادیانیوں کے لئے کوئی جائے فرار نہ رہے اور سوائے قبول کر لینے کے چارہ نہ رہے۔ مرزاقادیانی اس

168

آیت کو (ریویو آف ریلیجنز ج اوّل نمبر۵ ص۱۹۶) پر درج کر کے لکھتے ہیں۔

’’اس آیت میں بنص صریح ثابت ہوا کہ تمام انبیاء جن میں حضرت مسیح علیہ السلام بھی شامل ہیں۔ مامور تھے کہ آنحضرتﷺ پر ایمان لائیں اور انہوں نے اقرار کیا کہ ہم ایمان لائے… حضرت عیسیٰ علیہ السلام بھی اس آیت کی رو سے ان مؤمنین میں داخل ہیں جو آنحضرتﷺ پر ایمان لائے۔‘‘

پھر اسی آیت کو درج کر کے یوں ترجمہ کیا ہے۔

’’اور یاد کر جب خدا نے تمام رسولوں سے عہد لیا کہ جب تمہیں کتاب اور حکمت دوں گا اور پھر تمہارے پاس آخری زمانہ میں میرا رسول آئے گا جو تمہاری کتابوں کی تصدیق کرے گا۔ تمہیں اس پر ایمان لانا ہوگا اور اس کی مدد کرنی ہوگی اور کہا کیا تم نے اقرار کر لیا اور اس عہد پر استوار ہوگئے۔ انہوں نے کہا ہم نے اقرار کر لیا۔ تب خدا نے فرمایا کہ اب اپنے اقرار کے گواہ رہو اور میں بھی تمہارے ساتھ اس بات کا گواہ ہوں۔‘‘

(حقیقت الوحی ص۱۳۰، خزائن ج۲۲ ص۱۳۳)

علاوہ ازیں اسی آیت کے متعلق مرزاقادیانی نے لکھا ہے قرآن شریف سے ثابت ہے کہ ہر ایک نبی آنحضرتﷺ کی امت میں دخل ہے۔ جیسے کہ اللہتعالیٰ فرماتا ہے۔’’لتؤمنن بہ ولتنصرنہ‘‘

(ضمیمہ براہین احمدیہ حصہ پنجم ص۱۳۳، خزائن ج۲۱ ص۳۰۰)

حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی دعا امت محمدی میں شامل ہونے کے لئے

انجیل برنباس میں جس کے معتبر ہونے پر مرزاقادیانی نے (سرمہ چشمہ آریہ ۲۳۹تا۲۴۳، خزائن ج۲ ص۲۸۷تا۲۹۳) پر مہر تصدیق ثبت کر دی ہے۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی یہ دعا درج ہے۔

’’یا رب بخشش والے اے رحمت میں غنی تو اپنے خادم کو قیامت کے دن اپنے رسول کی امت میں ہونا نصیب فرما۔‘‘

(انجیل برنباس فصل ۲۱۲، آیت۱۴)

پس اگر بفرض محال ہم قادیانی معنی اور تفسیر درست تسلیم کر لیں تو بھی مرزاقادیانی کے مسیح موعود بننے کی گنجائش کا امکان نہیں۔ پھر اس کا مطلب صاف ہے کہ اے لوگو! گھبراؤ نہیں تمہارے لئے خوشی اور مسرت کا مقام ہوگا کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام جیسا اولوالعزم رسول بھی تمہاری طرح میرا امتی بن کر رہے گا۔ اس سے امت محمدی کو اس کے عالی مرتبہ ہونے کی بشارت کا اعلان ہے اور واقعی ہمارا ایمان ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام

169

ہمیں میں سے ایک ہوں گے۔ یعنی امت محمدی میں شامل ہوکر رسول کریمﷺ کے دین کی خدمت کریں گے۔

پس حدیث کے خواہ اسلامی معنی قبول کریں۔ خواہ مرزائی بہرحال مرزاقادیانی مسیحیت سے ہاتھ دھو لیں۔

حدیث نمبر:۱۴… ’’عن نواس بن سمعانؓ قال قال رسول اللہﷺ… فبینہما ھو کذالک اذبعث اللہ المسیح ابن مریم فینزل عند المنارۃ البیضاء شرقی دمشق بین مہزوذتین واضعا کفیہ علیٰ اجنحۃ ملکین اذطأطا رأسہ قطر واذا رفعہ تحدر منہ مثل جمان کا للؤلؤ فلا یحل لکافر یجد من ریح نفسہ الامات ونفسہ ینتہی حیث ینتہی طرفہ فیطلبہ حتی یدرکہ بباب لد فیقتلہ‘‘

(صحیح مسلم ج۲ ص۴۰۱، باب ذکر الدجال)

قادیانیوں کی عادت ہے کہ وہ ’’لا نسلم‘‘ کا بہانہ ڈھونڈھتے ہیں۔ ہم بھی ان کا ناطقہ بند کرنے میں ماشاء اللہ ماہر واقع ہوئے ہیں۔ ہم ترجمہ حدیث کا مرزاقادیانی کے اپنے الفاظ میں بیان کرتے ہیں۔

’’دجال اسی قسم کی گمراہ کرنے کی کوششوں میں لگا ہوا ہوگا کہ ناگہاں مسیح ابن مریم ظاہر ہو جائے گا اور وہ ایک منارہ سفید کے پاس دمشق کے شرقی طرف اترے گا… اور جس وقت وہ اترے گا اس وقت اس کی زرد پوشاک ہوگی۔ یعنی زرد رنگ کے دو کپڑے اس نے پہنے ہوئے ہوں گے اور دونوں ہتھیلی اس کی دو فرشتوں کے بازوؤں پر ہوں گی… جس وقت مسیح اپنا سر جھکائے گا تو اس کے پسینہ کے قطرات مترشح ہوں گے اور جب اوپر کو اٹھائے گا تو بالوں سے قطرے پسینہ کے چاندی کے دانوں کی طرح گریں گے۔ جیسے موتی ہوتے ہیں اور کسی کافر کے لئے ممکن نہیں ہوگا کہ ان کے دم کی ہوا پاکر جیتا رہے۔ بلکہ فی الفور مر جائے گا اور دم ان کا ان کی حد نظر تک نہ ہوگا پھر حضرت ابن مریم دجال کی تلاش میں لگیں گے اور لد کے دروازے پر جو بیت المقدس کے دیہات میں سے ایک گاؤں ہے۔ اس کو جاپکڑیں گے اور اس کو قتل کر ڈالیں گے۔‘‘

(ازالہ اوہام ص۲۱۹،۲۲۰، خزائن ج۳ ص۲۰۹)

تصدیق صحت حدیث

از مرزاقادیانی: ۱… اس حدیث کو مرزاقادیانی نے (ازالہ اوہام ص۲۰۲تا ۲۰۶، خزائن ج۳ ص۱۹۹تا۲۰۱) پر درج کیا ہے اور اس سے اپنی

170

صداقت میں استدلال بھی کیا ہے۔ لیکن حدیث کے الفاظ کی طاقت مرزاقادیانی کو آرام نہیں کرنے دیتی۔ کبھی کہتے ہیں یہ کشف تھا۔ کبھی کہتے ہیں امام بخاریؒ نے اس حدیث کو ضعیف سمجھ کر چھوڑ دیا ہے۔ ’’لعنۃ اللہ علی الکاذبین‘‘

خیال فرمائیے! حدیث کو ضعیف بھی سمجھتے ہیں۔ ساتھ ہی اس کو اپنی صداقت میں بطور دلیل بھی پیش کرتے ہیں۔ (ازالہ اوہام ص۲۰۲تا۲۲۰، خزائن ج۳ ص۱۹۹تا۲۰۹) تک مرزاقادیانی کی دماغی پریشانی کا عجیب مظاہرہ ہورہا ہے۔ جو شخص ساری حدیث کو پڑھے گا وہ تو اس حدیث کو کشف نبوی کہنا پرلے درجہ کا کذب وافتراء تصور کرے گا۔ باقی رہا حدیث کا ضعیف ہونا اور اس کی دلیل یہ بیان کرنا کہ ’’یہ وہ حدیث ہے جو صحیح مسلم میں امام مسلم صاحب نے لکھی ہے۔ جس کو ضعیف سمجھ کر رئیس المحدثین امام محمد اسماعیل بخاری نے چھوڑ دیا ہے۔‘‘ (ازالہ اوہام ص۲۲۰، خزائن ج۳ ص۲۰۹) اگر کوئی قادیانی امام بخاریؒ کا قول ان کی کتاب سے دکھادے کہ انہوں نے اس حدیث کو ضعیف سمجھ کر چھوڑ دیا ہے تو ہم مبلغ یک صدروپیہ مزید انعام کا اعلان کرتے ہیں۔

پس اگر قادیانیوں کو حق کے ساتھ ذرا بھی انس ہے تو مرزاقادیانی کا دعویٰ سچا ثابت کریں۔ ورنہ ایسے مفتری سے برأت کا اعلان کر دیں۔ اگر قادیانی یوں کہیں کہ امام بخاریؒ کا اس حدیث کو نقل نہ کرنا خود اس دعویٰ کی صداقت کا ثبوت ہے تو پھر قادیانی مجیب کیا فرمائیں گے۔ ان احادیث کے بارہ میں جن کے سہارے مرزاقادیانی کی مسیحیت ومجددیت کا ڈھانچہ کھڑا کیاگیا ہے۔ حالانکہ ان احادیث کا بخاری شریف میں نام ونشان بھی نہیں۔ مثال کے طور پر ہم صرف چند مثالیں عرض کرتے ہیں۔

۱… ’’حدیث مجدد ’’ان اللہ یبعث لہٰذا الامۃ‘‘ الحدیث‘‘
۲… ’’حدیث کسوف وخسوف‘‘ ’’ان لمہدینا اٰیتین لم تکونا منذ‘‘ الحدی

۳… ’’حدیث ابن ماجہ لا مہدی الا عیسیٰ‘‘ کہ عیسیٰ کے سوائے کوئی مہدی نہیں۔

تصدیق صحت حدیث

از مرزاقادیانی: ۲… مرزاقادیانی نے اس حدیث کو صحیح تسلیم کر کے اپنی صداقت میں مندرجہ ذیل کتابوں میں پیش کیا ہے۔

(حقیقت الوحی ص۳۰۷، خزائن ج۲۲ ص۳۲۰، ازالہ خورد ص۶۹۷تا۶۹۹، خزائن ج۳ ص۴۷۶،۴۷۷، شہادۃ القرآن ص۲، خزائن ج۶ ص۲۹۸، انجام آتھم ص۱۲۹، خزائن ج۱۱ ص ایضاً)

تصدیق صحت حدیث

از مرزاقادیانی: ۳… مرزاقادیانی نے اس حدیث کی

171

صحت کو اس حد تک تسلیم کر لیا ہے کہ آخر تنگ آکر خود بدولت کو اس حدیث کا مصداق ثابت کرنے کے لئے قادیان کو دمشق ثابت کرنا پڑا اور قادیان میں ایک منارہ بنام منارۃ المسیح تعمیر کر کے اس پر چڑھ کر اترنے کا فیصلہ کر لیا۔ چنانچہ آپ نے منارۃ المسیح کی تعمیر کے اخراجات کے لئے اپنی امت سے چندہ کی اپیل کی۔ اشتہار کا نام ہی اشتہار چندہ منارۃ المسیح ہے اور پورا اشتہار (تبلیغ رسالت ج۹ ص۳۳تا۴۹، مجموعہ اشتہارات ج۳ ص۲۸۲) پر درج ہے۔ مرزاقادیانی نے حدیث کو صحیح تسلیم کر لیا ہے۔ صرف تاویلات رکیکہ کو کام میں لارہے ہیں اور پریشانی کا یہ عالم ہے کہ مغرب اور مشرق میں فرق کرنا بھول گئے۔ جنوب کو شمال سے تمیز نہیں کر سکتے۔

مرزاقادیانی کی حواس باختگی

اپنے گھر کی سمت اور پتہ تک یاد نہیں رہا اور قوت متخیلہ مدرکہ نے مل ملا کر عجیب کھچڑ پکایا ہے۔ لکھتے ہیں: ’’یہ بات صحیح بھی ہے کیونکہ قادیان جو ضلع گورداسپور پنجاب میں ہے۔ جو لاہور سے گوشہ مغرب جنوب میں واقع ہے۔ وہ دمشق سے ٹھیک شرقی جانب پڑی ہے۔‘‘

(تبلیغ رسالت ج۹ ص۴۰، مجموعہ اشتہارات ج۳ ص۲۸۸)

حضرات غور کیجئے! جناب مرزاقادیانی کو عیسیٰ ابن مریم کی مسند چھیننے کا کس قدر شوق ہے؟ مگر عقل اور تمیز کا یہ حال ہے کہ شمال کی بجائے جنوب اور مشرق کی بجائے مغرب کہہ رہے ہیں۔ قادیانی لوگوں سے تعجب درتعجب ہے کہ وہ ایسے حواس باختہ انسان کو کس نفع اور غرض سے نبی، مسیح موعود اور مجدد مان رہے ہیں۔ کیا مرزاقادیانی سے زیادہ عقل وخرد سے عاری اور کوئی نہیں مل سکتا تھا؟

تصدیق صحت حدیث

از مرزاقادیانی: ۴… ’’شاید ہمارے بعض مخلصوں کو معلوم نہیں ہوگا کہ یہ منارۃ المسیح کیا چیز ہے اور اس کی کیا ضرورت ہے۔ سو واضح ہو کہ ہمارے سید ومولیٰ خیرالاصفیاء خاتم الانبیاء سیدنا محمد مصطفیﷺ کی یہ پیش گوئی ہے کہ مسیح موعود جو خدا کی طرف سے اسلام کے ضعف اور عیسائیت کے غلبہ کے وقت میں نازل ہوگا۔ اس کا نزول ایک سفید منارہ کے قریب ہوگا۔ جو دمشق سے شرقی طرف واقع ہے۔‘‘

(تبلیغ رسالت ج۹ ص۵۴، مجموعہ اشتہارات ج۳ ص۳۱۵)

تصدیق صحت حدیث

از مرزاقادیانی: ۵… مفصل دیکھیں(تحفہ گولڑویہ ص۴۴،۴۵، خزائن ج۱۷ ص۱۶۱تا۱۶۳)

172

تصدیق صحت حدیث

از مرزاقادیانی:۶… (تبلیغ رسالت ج۶ ص۹۸، مجموعہ اشتہارات ج۲ ص۴۰۱)

تصدیق صحت حدیث

از مرزاقادیانی:۷… (ازالہ اوہام ص۸۱، خزائن ج۳ ص۱۴۲،۷۷،۶۶)

تصدیق صحت حدیث

از مرزاقادیانی:۸… (فتح اسلام ص۱۵ حاشیہ، خزائن ج۳ ص۱۰)

تصدیق حدیث از مرزامحمود احمد خلیفہ مرزاقادیانی

چھوٹے مرزا نے بڑے مرزا کی نبوت ثابت کرنے کو یہ حدیث بڑے زور شور سے پیش کی ہے۔

(حقیقت النبوۃ ص۱۹۲)

تصدیق از شیخ محی الدین ابن عربیؒ

یہ وہ شخص ہیں جن کے متعلق مرزاقادیانی کا عقیدہ ہے کہ شیخ قدس سرہ صحیح اور ضعیف حدیث کے متعلق خود رسول کریمﷺ سے بالمشافہ ملاقات کر کے پوچھ لیا کرتے تھے۔ (ازالہ اوہام ص۱۵۲، خزائن ج۳ ص۱۷۷) یہ بزرگ ہستی اس حدیث کو فتوحات مکیہ باب ۳۶۰ میں ذکر کر کے اس کو صحیح قرار دے کر حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا نزول جسمانی تسلیم کرتے ہیں۔ چنانچہ مفصل ہم آگے بیان کریں گے۔

ناظرین! اس قدر بحث ہم نے اس حدیث کے صحیح ثابت کرنے میں اس واسطے کی ہے کہ مرزاقادیانی نے سب سے زیادہ اسی حدیث کو ضعیف کہا ہے اور لطف یہ کہ اسی حدیث کو سب سے زیادہ اپنی تصدیق میں پیش بھی کرتا ہے۔ اب ہم اس کی تشریح کرتے ہیں۔

۱… اس کا ترجمہ تو وہی ہے جو مرزاقادیانی نے کیا ہے۔

۲… اس ترجمہ کا تمام مجددین امت محمدیہ نے جن کو مرزائی جماعت سچے مجدد تسلیم کر چکی ہے۔ بلاتاویل حقیقی معنوں میں تسلیم کرتے ہیں۔ پس گویا اس حدیث کے حقیقی معنوں پر تمام امت کا اجماع ہوچکا ہے۔ اگر قادیانی اپنی تاویلات رکیکہ کا ثبوت تیرہ سو سال کے قریباً ۸۶مجددین میں سے کسی ایک سے بھی تصدیق کرادیں تو ہم ان کو منہ مانگا انعام دیں گے۔

۳… مرزاقادیانی اس کو صحیح تسلیم کر کے کہتے ہیں کہ یہ رسول کریمﷺ کا کشف تھا۔ اس کی تردید خود نواس بن سمعان صحابیؓ ان الفاظ سے کرتے ہیں۔ ’’ذکر رسول اللہﷺ الدجال فقال ان یخرج وانا فیکم‘‘ یعنی ذکر کیا (صحابہ سے) رسول کریمﷺ نے دجال کا اور فرمایا اگر وہ نکلے درآنحالیکہ میں تم میں موجود ہوں۔ اس کو کون عقل کا اندھا کشفی بیان کہہ سکتا ہے؟ ہاں صاحب الغرض مجنون کا مصداق کہہ سکتا

173

ہے۔ کیونکہ ایسے ہی لوگ کہا کرتے ہیں۔ دو دونے چار روٹیاں۔

۴… خود مرزاقادیانی نے حدیث کو حقیقی معنوں کے لحاظ سے بھی صحیح تسلیم کر لیا ہے۔

’’میرے نزدیک ممکن ہے کہ کسی آئندہ زمانہ میں خاص کر دمشق میں بھی کوئی مثیل مسیح پیدا ہو جائے۔‘‘

(ازالہ اوہام ص۷۲، خزائن ج۳ ص۱۳۸ حاشیہ)

۵… مرزاقادیانی نے حدیث نواس بن سمعانؓ میں نزول کے معنی آسمان سے اترنا بھی خود ہی مان لئے ہیں۔ چنانچہ لکھتے ہیں: ’’صحیح مسلم کی حدیث میں جو یہ لفظ موجود ہے کہ حضرت مسیح علیہ السلام جب آسمان سے اتریں گے تو ان کا لباس زرد رنگ کا ہوگا۔‘‘

(ازالہ اوہام ص۸۱، خزائن ج۳ ص۱۴۲)

اور ایسا ماننے سے وہ انکار بھی کیوں کر سکتے ہیں۔ کیونکہ حدیث معراج سے ثابت ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے فرمایا کہ میں قرب قیامت میں نازل ہوں گا اور دجال کو قتل کروں گا اور اس حدیث میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے ہاتھ سے دجال کا قتل کیا جانا ثابت ہے اور نزول کا لفظ بھی وہی مستعمل ہے۔ جو حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے رسول مقبولﷺ کے سامنے ارشاد فرمایا تھا۔ وہی الفاظ رسول پاکﷺ نے اس حدیث میں اپنی امت کو فرماکر اعلان کر دیا کہ نازل ہونے والا وہی ابن مریم ہے۔

۶… ایک اور جگہ مرزاقادیانی حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے اس نزول کو ’’نزول من السماء‘‘ قرار دیتے ہیں۔ لکھتے ہیں: ’’والنزول ایضاً حق نظراً علیٰ تواتر الاثار وقد ثبت من طرق فی الاخبار‘‘ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا نزول تواتر احادیث سے مختلف طریقوں سے ثابت ہے۔ (انجام آتھم ص۱۵۸، خزائن ج۱۱ ص ایضاً) اب جب کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا نزول ثابت ہوگیا تو آپ کا صعود یعنی رفع جسمانی خود بخود ثابت ہوگیا۔ کیونکہ مرزاقادیانی لکھتے ہیں: ’’تعلمون ان النزول فرع للصعود‘‘ تم جانتے ہو کہ نزول رفع کا نتیجہ ہے۔

(انجام آتھم ص۱۶۸، خزائن ج۱۱ ص ایضاً)

پھر لکھتے ہیں: ’’اس جگہ یہ بھی یاد رکھنا چاہئے کہ مسیح کا جسم کے ساتھ آسمان سے اترنا اس کے جسم کے ساتھ چڑھنے کی فرع ہے۔‘‘

(ازالہ اوہام ص۲۶۹، خزائن ج۳ ص۲۳۶)

پھر لکھتے ہیں: ’’نزول عیسیٰ کو ’’نزول من السماء‘‘ یعنی آسمان سے اترنا تسلیم کرتے ہیں۔‘‘ چنانچہ لکھتے ہیں: ’’وانی انا المسیح النازل من السماء‘‘

(ضمیمہ تحفہ گولڑویہ ص۳۱، خزائن ج۱۷ ص۸۳)

’’اور تحقیق میں ہی وہ مسیح ہوں جو آسمان سے نازل ہونے والا ہے۔‘‘

174

حضرات غور کیجئے! آخر شرم وحیا بھی کوئی چیز ہے۔ خود ہی تسلیم کرتے ہیں کہ نزول سے مراد جسمانی نزول ہے۔ خود ہی مانتے ہیں کہ مسیح نے آسمان سے نازل ہونا ہے۔ پھر کس قدر دیدہ دلیری سے مرزاقادیانی کہتے ہیں کہ آسمان سے میں ہی نازل ہوا ہوں۔ مرزاقادیانی! آپ نے اس دنیا میں اپنا آنا ان الفاظ میں لکھ چکے ہیں۔

’’میرے ساتھ ایک لڑکی پیدا ہوئی تھی۔ جس کا نام جنت تھا۔ پہلے وہ لڑکی پیٹ میں سے نکلی تھی۔ بعد میں میں نکلا تھا۔‘‘

(تریاق القلوب ص۱۵۷، خزائن ج۱۵ ص۴۷۹)

فرمائیے! جناب آپ کے خیال میں آسمان کے معنی ماں کا پیٹ بھی ہے۔ نزول کے معنی پیٹ میں سے نکلنا بھی ہے۔ اگر آپ یا آپ کی جماعت آسمان کے معنی ماں کا پیٹ یا نزول کے معنی ماں کے پیٹ سے باہر نکلنا دکھائیں تو یکصد روپیہ نقد قادیانی خزانہ عامرہ میں جمع کرانے کے لئے تیار ہوں۔

حدیث نمبر:۱۵… ’’عن الحسنؒ قال قال رسول اللہﷺ لیہود ان عیسیٰ لم یمت وانہ راجع الیکم قبل یوم القیامۃ‘‘ (درمنثور ج۲ ص۳۶، زیر آیت یا عیسیٰ انی متوفیک)

’’امام حسن بصریؓ روایت کرتے ہیں کہ فرمایا رسول کریمﷺ نے یہود کو مخاطب کر کے کہ تحقیق عیسیٰ علیہ السلام فوت نہیں ہوئے اور بیشک وہ تمہاری طرف واپس آئیں گے قیامت سے پہلے۔‘‘

تصدیق حدیث

۱… یہ حدیث بیان کی ہے امام حسن بصریؒ نے جو ہزارہا اولیاء کرام اور بیسیوں مجددین امت کے روحانی پیشوا ہیں۔

۲… اس حدیث کو روایت کیا امام جلال الدین سیوطیؒ نے اپنی تفسیر درمنثور میں اور امام جلال الدینؒ تھے نویں صدی کے مجدد اعظم۔ نیز قادیانی نے ان کی شان میں لکھا ہے کہ: ’’وہ صحیح اور ضعیف حدیث میں فرق رسول کریمﷺ سے براہ راست ملاقات کر کے معلوم کر لیا کرتے تھے۔‘‘

(ازالہ خورد ص۱۵۱، خزائن ج۳ ص۱۷۷)

۳… پھر یہی حدیث قادیانیوں کے مسلم مجدد وامام صدی ششم امام ابن کثیرؒ نے بھی باسناد صحیح اپنی تفسیر میں درج کی ہے۔ اس کا انکار قادیانیوں کے نزدیک فسق اور کفر ہے۔

۴… پھر اس حدیث کو ابن جریرؒ نے بھی صحیح قبول کر لیا ہے۔ جو صحیح معنوں میں مفسر اور محدث تھے۔

(دیکھو چشمہ معرفت ص۲۵۰ حاشیہ، خزائن ج۲۳ ص۲۶۱)

ہاں ہاں یہ وہی ابن جریرؒ مفسر قرآن ہے جس کی تفسیر کے بے مثل ہونے پر

175

اجماع امت ہے۔ دیکھئے قادیانیوں کے مسلم مجدد صدی نہم امام جلال الدین سیوطیؒ تفسیر اتقان میں امام ابن جریر کے متعلق یوں فرماتے ہیں: ’’اجمع العلماء المعتبرون علیٰ انہ لم یؤلف فی التفسیر مثلہ‘‘

(اتقان ج۲ ص۳۲۵)

’’معتبر علماء امت کا اجماع ہے کہ ایسی تفسیر کسی نے نہیں لکھی۔‘‘ اس مرتبہ کے بزرگ نے اس حدیث کو اپنی تفسیر میں صحیح سمجھ کر درج کیا ہے۔

۵… قادیانیوں کے بہت بڑے عالم مولوی محمد احسن امروہی نے بھی اپنی کتاب (شمش بازغۃ ص۷۰) پر اس حدیث کو صحیح تسلیم کیا ہے۔

قادیانی اعتراض

یہ حدیث مرسل ہے۔ اس واسطے قابل قبول نہیں یعنی حدیث مرفوع نہیں۔

جواب… اس کی صحت اور عظمت کے دلائل جو اوپر بیان کئے گئے ہیں۔ اوّل تو وہی کافی ہیں۔ مگر مناظرین کے کام کی چند باتیں اور عرض کرتا ہوں۔

۱… اجی! حضرات آپ یہ میٹھا میٹھا ہڑپ اور کڑوا کڑوا تھو، ہمارے سامنے نہیں کر سکتے۔ آپ ہر مجلس میں کسوف وخسوف والی حدیث کو پیش کیا کرتے ہو۔ حالانکہ وہ حدیث رسول نہیں ہے۔ یعنی یہ قول ’’ان لمہدینا آیتین‘‘ راوی اس عبارت کو حدیث رسول نہیں کہتا۔ مگر باوجود اس کے اپنی خودغرضی کے لئے اسے حدیث رسول مانتے ہو یا نہ؟ بالعکس اس کے ہماری پیش کردہ حدیث تو حدیث رسول ہے۔ جیسا کہ راوی زبدۃ العارفین رئیس المکاشفین حضرت امام حسن بصریؒ فرماتے ہیں۔

’’قال رسول اللہﷺ‘‘ جب حسن بصریؒ جیسا راوی اس حدیث کو حدیث رسول کہتا ہے تو اس مذکورہ بالا قول کے ساتھ ذرا مقابلہ تو کرو۔

پھر لطف یہ ہے کہ قادیانیوں کا یہ اعتراض ناشی از جہالت ہے۔ خود مرزاقادیانی ناشی اپنی تعلیمی حالت ان الفاظ میں پیش کرتے ہیں۔

’’بخدا یہ سچ اور بالکل سچ ہے اور قسم ہے مجھے اس ذات کی۔ جس کے ہاتھ میری جان ہے کہ درحقیقت مجھ میں کوئی علمی اور عملی خوبی یا ذہانت اور دانشمندی کی لیاقت نہیں اور میں کچھ بھی نہیں۔‘‘

(ازالہ اوہام ایک خط کا جواب ص۱۶، خزائن ج۳ ص۶۳۵)

پھر دوسری جگہ لکھتے ہیں: ’’میں حلفاً کہہ سکتا ہوں کہ میرا حال یہی (اصل اسی

176

طرح ہے۔ ابوعبیدہ) حال ہے کوئی ثابت نہیں کر سکتا کہ میں نے کسی انسان سے قرآن یا حدیث یا تفسیر کا ایک سبق بھی پڑھا ہے۔ یا کسی مفسر یا محدث کی شاگردی اختیار کی ہے۔‘‘

(ایام الصلح ص۱۴۷، خزائن ج۱۴ ص۳۹۴)

باقی رہا مرزائی علماء کا حال سو وہ فنا فی القادیان ہیں اور ہزماسٹرس وائس کا مصداق ہیں۔ ہر کہ درکان نمک رفت نمک شد۔

حدیث دراصل مرسل نہیں بلکہ مرفوع ہی ہے۔ بات اصل میں یہ ہے کہ امام حسن بصریؒ نے جو احادیث حضرت علیؓ سے روایت کی ہیں۔ ان میں وہ حضرت علیؓ کا نام قصداً حذف کر دیتے ہیں۔ تہذیب الکمال للمزی میں ان کا قول یوں درج ہے۔

’’کل شیٔ سمعتنی اقول فیہ قال رسول اللہﷺ فہو عن علیؓ ابن ابی طالب غیر انی فی زمان لا استطیع ان اذکر علیا‘‘ میں جتنی احادیث میں قال رسول اللہﷺ کہوں اور صحابی کا نام نہ لوں سمجھ لو کہ وہ علیؓ ابن طالب کی روایت ہے۔ میں ایسے (سفاک دشمن آل رسول حجاج کے) زمانے میں ہوں کہ حضرت علیؓ کا نام نہیں لے سکتا۔

لیجئے! دوسری شہادت ملاحظہ کیجئے اور شہادت بھی اس شخص کی جس کو قادیانی جماعت مجدد وامام صدی دہم تسلیم کر چکی ہے۔ یعنی ملا علی قاریؒ شرح نخبہ میں فرماتے ہیں:’’وکان قد یحذف اسم علیؓ ایضا بالخصوص لخوف الفتنۃ‘‘ یعنی امام حسن بصریؒ فتنہ کے خوف سے حضرت علیؓ کا نام مبارک روایت میں خاص طور سے حذف کر جاتے تھے۔

حضرات! اب کس قادیانی کا منہ ہے کہ اپنے ہی ایک مجدد کی شہادت کے برخلاف اس حدیث کو مرسل کہہ کر جان چھڑا سکے؟ پھر لطف یہ ہے کہ اگر اس حدیث کو مرسل بھی مان لیں تو بھی اس کی عظمت حجیت میں فرق نہیں پڑتا۔ وہ بھی اہل اسلام کے لئے حجت اور دلیل ہے۔ چنانچہ وہی ملا علی قاریؒ قادیانیوں کے مسلم مجدد فرماتے ہیں۔

’’قال جمہور العلماء المرسل حجۃ مطلقاً‘‘ شرح نخبہ ’’یعنی جمہور علماء اسلام کے نزدیک مرسل حدیث بھی قطعی حجت ہے۔‘‘

نتائج

حضرات! جب اس حدیث کی عظمت ایسے پیرایہ سے ثابت ہو چکی کہ قادیانیوں کو سوائے سرتسلیم خم کرنے کے اور کوئی جائے فرار باقی نہیں رہی تو ہم اس حدیث سے

177

ایسے نتائج بیان کرتے ہیں جو ہر ذکی اور فہیم آدمی کو خود بخود نظر آتے ہیں۔

۱… چونکہ یہ قول رسول کریمﷺ کا یہود کے خطاب میں ہے۔ اس واسطے یہودیوں کے عقیدہ باطلہ قتل مسیح کا رد فرمارہے ہیں اور ایسے الفاظ سے فرماتے ہیں کہ وہ سب قسم کی موت پر حاوی ہیں۔ فرماتے ہیں: ’’ان عیسیٰ لم یمت‘‘ تحقیق عیسیٰ نہیں مرے۔

اس میں موت بالصلیب اور موت طبعی سب قسم کی موت سے انکار کر رہے ہیں۔

۲… قادیانی جماعت کی پیش کردہ تاویل یا تفسیر کہ عیسیٰ علیہ السلام واقعہ صلیبی سے ۸۷برس بعد طبعی موت سے کشمیر میں فوت ہوگئے تھے۔ اس کا رد بھی فرمارہے ہیں۔

۳… ’’وانہ راجع الیکم‘‘ اور بالتحقیق عیسیٰ علیہ السلام تمہاری طرف واپس آئیں گے۔ اس سے معلوم ہوا کہ اس دنیا میں وہ موجود نہیں کہیں باہر گئے ہوئے ہیں۔

وہ کہاں ہیں؟ ہم قرآنی دلائل وحدیثی شواہد سے ثابت کر چکے ہیں کہ وہ آسمان پر ہیں۔

نکتۂ عظیمہ

اللہ علاّم الغیوب نے رحمتہ اللعالمینﷺ کی زبان مبارک سے ایسے الفاظ حضرت مسیح علیہ السلام کے متعلق جاری فرمادئیے کہ قادیانی جدھر بھاگتا ہے۔ آگے سے پھانس لیتے ہیں۔ اس حدیث میں آنحضرتﷺ نے ’’نازل‘‘ کے لفظ کو ترک کر کے اور ’’راجع‘‘ کا لفظ استعمال کر کے تیرہ سو سال بعد آنے والے ایک مدعی نبوت ومسیحیت کا ناطقہ بند کر کے امت مرحومہ پر وہ احسان فرمایا ہے کہ و اللہ میں تو صرف اسی ایک احسان کے بوجھ سے پسا جارہا ہوں۔ قادیانی ’’نبی‘‘ مرزاغلام احمد قادیانی لکھتا ہے۔

’’اگر اس جگہ (حدیث میں) نزول کے لفظ سے یہ مقصود تھا کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام دوبارہ آسمان سے آئیں گے تو بجائے نزول کے رجوع کہنا چاہئے تھا۔ کیونکہ جو شخص واپس آتا ہے اس کو عرب زبان میں راجع کہا جاتا ہے۔ نہ نازل۔‘‘

(ایام الصلح ص۱۴۶، خزائن ج۱۴ ص۳۹۲)

دوسری جگہ لکھتا ہے: ’’اگر کوئی شخص آسمان سے واپس آنے والا ہوتا تو اس موقعہ پر رجوع کا لفظ ہونا چاہئے تھا۔ نہ کہ نزول کا لفظ۔‘‘

(چشمہ معرفت ص۲۲۰، خزائن ج۲۳ ص۲۲۹)

178

قادیانی ناظرین سے ایک مودبانہ درخواست

مرزاقادیانی کا چیلنج دوبار رجوع وراجع آپ نے ملاحظہ فرما لیا اور حدیث بھی آپ نے پڑھ لی۔ حدیث کی عظمت پر بھی آپ ہی کے مسلمہ مجددین اور آئمہ کرام کی شہادت ثبت کرادی گئی ہے۔ مرزاقادیانی بیچارے تو علم حدیث سے محض کورے اور خالی تھے۔ انہیں یہ صحیح درصحیح مرسل نہ بلکہ مرفوع حدیث (جیسا کہ ہم ثابت کر چکے ہیں) معلوم نہ تھی۔ مگر آپ کے سمجھانے کے لئے ایک اصول ضرور لکھ گئے۔ یعنی اگر حدیث میں رجوع کا لفظ موجود ہوتو پھر بالیقین عیسیٰ علیہ السلام کا حیات ورفع جسمانی خود بخود ثابت ہوجائے گا۔

پس اگر اسلام کی خاطر نہیں تو کم ازکم مرزاقادیانی کی خوشنودی کی خاطر ہی آپ رجوع کے لفظ کی اہمیت کو تسلیم کرتے ہوئے اپنے عقیدہ باطلہ سے رجوع کر لیں۔

۴… ’’قبل یوم القیامۃ‘‘ کے الفاظ اسلامی تفسیر کی صداقت پر مہر تصدیق ثبت کر رہے ہیں۔ ’’انہ لعلم للساعۃ‘‘ کی مکمل شرح ہے۔ ’’وان من اہل الکتاب الا لیؤمنن‘‘ پر پوری روشنی ڈال رہے ہیں۔

۵… آنحضرتﷺ فرمارہے ہیں کہ آنے والا عیسیٰ علیہ السلام (غلام احمد ابن چراغ بی بی نہ ہوگا) بلکہ وہی ابن مریم ہوگا جو نہیں مرا۔

حدیث نمبر:۱۶… ’’اخرج ابن جریر وابن ابی حاتم عن الربیعؓ قال ان النصاریٰ اتوا رسول اللہﷺ فخا صموہ فی عیسیٰ ابن مریم وقالوا لہ من ابوہ وقالوا علی اللہ الکذب والبہتان فقال لہم النبیﷺ الستم تعلمون انہ الا یکون ولد الا وھو یشبہ اباہ قالوا بلیٰ قال الستم تعلمون ان ربنا حی لا یموت وان عیسیٰ یأتی علیہ الفنا فقالوا بلیٰ‘‘ (درمنثور ج۲ ص۳، زیر آیت ھو الحی القیوم)

عظمت وصحت حدیث

اس حدیث کی عظمت کا اندازہ آپ اسی امر سے لگا سکتے ہیں کہ امام ابن جریرؒ جیسے مفسر اعظم ومحدث معتبر مسلم قادیانی (دیکھو حدیث نمبر۱۵ کی ذیل میں) نے اپنی تفسیر میں اس کو درج کیا ہے اور امام جلال الدین سیوطیؒ نویں صدی کے مجدد وامام مسلم قادیانی نے بھی اپنی شہرہ آفاق تفسیر درمنثور میں اس کو صحیح لکھا ہے۔

’’ربیع کہتے ہیں کہ نجران کے عیسائی رسول کریمﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور آپﷺ سے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے بارہ میں (یعنی توحید وتثلیث پر بحث شروع کر

179

دی) اور کہنے لگے کہ (اگر عیسیٰ علیہ السلام خدا کا بیٹا نہیں ہے تو بتاؤ) اس کا باپ پھر کون ہے۔ لگے اللہ پر جھوٹ اور بہتان جڑنے (حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو ولد اللہ کہنے سے) رسول کریمﷺ نے فرمایا کہ کیا تم نہیں جانتے کہ بیٹا باپ سے مشابہ ہوتا ہے۔ انہوں نے کہا۔ کیوں نہیں؟ پھر رسول کریمﷺ نے فرمایا کیا تم نہیں جانتے ہو کہ اللہتعالیٰ زندہ ہے اور کبھی نہیں مرے گا۔ حالانکہ یقینا عیسیٰ علیہ السلام پر موت طاری ہوگی۔ تو انہوں نے کہا۔ کیوں نہیں۔‘‘

ناظرین! اس حدیث سے روز روشن کی طرح چند نتائج مندرجہ ذیل ہویدا ہیں۔

۱… اگرحضرت عیسیٰ علیہ السلام فی الواقعہ فوت ہو چکے ہوتے تو رسول پاکﷺ ’’وان عیسیٰ یأتی علیہ الفنا‘‘ یعنی عیسیٰ علیہ السلام پر موت طاری ہوگی۔ نہ فرماتے بلکہ آپ فرماتے کہ ’’وان عیسیٰ قد اتٰی علیہ الفناء‘‘ کہ عیسیٰ علیہ السلام پر موت طاری ہوچکی ہے۔ مگر آپﷺ نے ایسا نہیں فرمایا بلکہ فرمایا کہ عیسیٰ علیہ السلام پر موت آئے گی۔ جس کے صاف معنی یہ ہیں کہ رسول کریمﷺ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو زندہ بجسدہ العنصری مانتے تھے۔

۲… الزامی جواب دینا مناظرہ ومباحثہ میں مسلم ہے اور ایسا جواب ہوتا بھی بالکل فیصلہ کن ہے۔ جیسا کہ ہم نے اس کتاب میں اپنے طرز استدلال کو بہت حد تک قادیانی مسلمات تک ہی محدود رکھا ہے۔ اسی طرح رسول کریمﷺ کو پتہ تھا کہ اگر عیسائی اور یہودی عیسیٰ علیہ السلام کے صلیب پر مر جانے کے قائل ہیں۔ گویا عیسیٰ علیہ السلام کا فوت شدہ ہونا یہودی مسلمات اور عیسائی مظنونات میں سے ہے اور موت الوہیت کی (خدائی کی) شان کے منافی (خلاف) ہے۔ اس واسطے رسول کریمﷺ ان کے مسلمات کی رو سے کہہ سکتے تھے کہ عیسیٰ علیہ السلام تو تمہارے عقیدہ کے مطابق فوت ہوچکے ہیں۔ وہ خدا کیسے ہوسکتے ہیں؟ اور یہ الزامی جواب آپ کا بالکل درست تھا۔

مگر قربان جائیں اس رحمتہ اللعالمین کی دوراندیشی اور ہمدردی کے جو آپﷺ نے اپنے ہر ہر فعل اور ہر ایک قول میں مدنظر رکھی ہے۔ آنحضرتﷺ نے مناظرانہ رنگ میں مسکت اور لاجواب الزامی کی بجائے تحقیقی جواب سے کام لیا جو ببرکت نبوت واقعی ہی لاجواب ثابت ہوا۔ امت مرحومہ کے ساتھ ہمدردی اور شفقت اس بات میں مضمر تھی کہ اگر آپﷺ کی زبان مبارک سے یہ لفظ نکل جاتے (یعنی عیسیٰ علیہ السلام تو تمہارے خیال میں مر چکے ہیں) تو قادیانی ضرور اسے قول نبوی ثابت کر کے وفات عیسیٰ علیہ السلام پر دلیل کے طور پیش کرتے۔ پس اس طرز استدلال سے رسول کریمﷺ نے قادیانیوں کا ناطقہ بند کردیا اور امت مرحومہ کے ہاتھ میں زبردست دلیل حیات

180

عیسیٰ علیہ السلام پر چھوڑ گئے۔

حدیث نمبر:۱۷… ’’یحدث ابوہریرہؓ قال رسول اللہﷺ والذی نفسی بیدہ لیہلن ابن مریم بفج الروحاء حاجا او معتمرا او لیثنینہما‘‘

(رواہ مسلم ج۱ ص۴۰۸، باب جواز التمتع فی الحج والقرآن)

عظمت واہمیت حدیث

۱… یہ حدیث امام مسلم نے صحیح مسلم میں روایت کی ہے۔ صحیح مسلم کا صحیح ہونا قادیانی مسلمات سے ہے۔ مرزاقادیانی لکھتے ہیں:

الف… ’’اگر میں بخاری اور مسلم کی صحت کا قائل نہ ہوتا تو میں کیوں باربار ان کو اپنی تائید میں پیش کرتا۔‘‘

(ازالہ اوہام خورد ص۸۸۴، خزائن ج۳ ص۵۸۲)

ب… ’’صحیحین کو تمام کتب حدیث پر مقدم رکھا جائے۔‘‘

(تبلیغ رسالت ج۲ ص۲۵، مجموعہ اشتہارات ج۱ ص۲۳۵)

۲… کسی مجدد ومحدث نے اس حدیث پر نکتہ چینی نہیں کی۔ گویا تمام امت کا اس کی صحت پر اجماع ہے۔

۳… اسی حدیث کو امام احمد نے اپنی (مسند ج۲ ص۲۴۰،۲۷۲،۵۱۳،۵۴۰) میں غالباً چار جگہ روایت کیا ہے۔ امام احمد، قادیانیوں کے نزدیک مجدد صدی دوم تھے۔

۴… (تفسیر درمنثور ج۲ ص۲۴۳) میں امام جلال الدین سیوطی مجدد صدی نہم نے بھی اس حدیث کو درج فرمایا ہے۔ امام موصوف کی عظمت دیکھنی ہوتو ملاحظہ کریں۔

(ازالہ اوہام ص۱۵۱، خزائن ج۳ ص۱۷۷)

۵… پھر اس حدیث کو قادیانیوں کے مسلم امام ومجدد صدی ششم امام ابن کثیر نے بھی اپنی تفسیر میں درج کیا ہے۔ دیکھو تفسیر ابن کثیر ج۳ جب عظمت واہمیت حدیث بالا کی آپ پر ظاہر ہوچکی تو اب ہم اس کا ترجمہ بیان کرتے ہیں۔

حضرت ابوہریرہؓ روایت کرتے ہیں کہ فرمایا رسول کریمﷺ نے کہ مجھے اس پاک ذات کی قسم ہے۔ جس کے ہاتھ میں میری جان ہے کہ ضرور ابن مریم روحاء کی گھاٹی میں لبیک پکاریں گے۔ حج کی یا عمرہ کی یا قران کریں گے اور دونوں کی لبیک پکاریں گے ایک ہی ساتھ۔

نتائج:

۱… یہ مضمون رسول کریمﷺ نے چونکہ قسم اٹھا کر بیان فرمایا ہے۔ اس واسطے اس کا تمام مضمون اپنے ظاہری معنوں کے لحاظ سے پورا ہونا ضروری ہے۔ مرزاقادیانی ہماری

181

تائید میں پہلے ہی فرماگئے ہیں۔ ترجمہ قول مرزا ’’نبی کا کسی مضمون کو قسم کھا کر بیان کرنا اس بات پرگواہ ہے کہ اس میں کوئی تاویل نہ کی جائے اور نہ استثناء بلکہ اس کو ظاہر ہی پر محمول کیا جائے ورنہ قسم اٹھانے کا فائدہ کیا ہوا۔‘‘

(حمامتہ البشریٰ ص۱۴، خزائن ج۷ ص۱۹۲ حاشیہ)

۲… حضرت عیسیٰ علیہ السلام دنیا میں آکر حج بیت اللہ کریں گے اور خود حج کریںگے۔ دوسرا آدمی ان کی بجائے حج نہیں کرے گا۔

۳… پس ضروری ہوا کہ حضرت مسیح علیہ السلام نزول کے بعد اس قدر امن قائم کر لیں گے کہ کوئی امر حج کرنے سے روک نہ سکے گا۔

۴… حضرت عیسیٰ علیہ السلام تمام ایسی بیماریوں سے محفوظ ہوں گے جو حج کرنے سے مانع ہو سکتی ہیں۔

۵… حضرت ابن مریم سے مراد حضرت عیسیٰ علیہ السلام ابن مریم ہی ہوں گے۔ کیونکہ ابن مریم سے مراد ابن چراغ بی بی (غلام احمد قادیانی) لینا ظاہر کے خلاف ہے اور بدترین تاویل کی مثال ہے۔

۶… ’’فج الروحا‘‘ سے مراد وہی روحا کی گھاٹی لینا پڑے گی نہ کہ قادیان۔

۷… ’’حج‘‘ سے مراد وہی حج اہل اسلام مراد ہوگا۔ اس سے مراد مرزاقادیانی کا لاہور یا دہلی جانا یا محمدی بیگم کے ساتھ نکاح کرنا یا مقدمات کی وجہ سے جہلم جانا نہیں لے سکتے۔

۸… نزول سے مراد اوپر سے نیچے اترنا ہی لیا جائے گا۔ کیونکہ یہی اس کے ظاہری معنی ہیں۔ اس کے خلاف معنی کرنا مرزاقادیانی کے مذکورہ بالا اصول کے خلاف ہوگا۔

ناظرین! غور کیجئے کبھی آپ نے کسی قادیانی کو وفات مسیح پر بھی اسی طرح کے بولتے ہوئے دلائل بیان کرتے سنا ہے۔ ان کے دلائل کا تجزیہ انشاء اللہ ہم دوسرے حصہ میں کریں گے۔

حدیث نمبر:۱۸… ’’رواہ احمد عن عثمان بن ابی العاصؓ وھو فی المسجد مع جماعۃ قال سمعت رسول اللہﷺ یقول فیخرج الدجال… ومع الدجال سبعون الفاً… وینزل عیسیٰ ابن مریم عند الصلوٰۃ الفجر فیقول لہم امیرہم یا روح اللہ تقدم صل لنا فیقول ہذہ الامۃ امراء بعضہم علیٰ بعض فیتقدم امیرہم فیصل حتیٰ اذا قضے صلوٰتہ اخذ عیسیٰ حربتہ فیذہب نحو الدجال… فیقتلہ‘‘

(رواہ احمد فی المسند احمد ج۴ ص۲۱۶،۲۱۷، والحاکم فی المستدرک ج۵ ص۶۷۴، حدیث نمبر۸۵۲۰)

182

تصدیق:

۱… امام احمد قادیانیوں کے مسلم امام ومجدد صدی دوم تھے۔ وہ بھلا کوئی غلط حدیث روایت کرسکتے ہیں؟

۲… اس حدیث کو قادیانیوں کے مسلم امام ومجدد صدی چہارم امام حاکم نے بھی روایت کیا ہے۔

’’حضرت عثمان بن ابی العاصؓ نے ایک جماعت کثیر کے سامنے مسجد میں بیان کیا کہ سنا میں نے رسول کریمﷺ کو یہ فرماتے ہوئے… دجال نکلے گا… اور اس کے ساتھ ستر ہزار یہودی ہوں گے… اس وقت نازل ہوگا عیسیٰ علیہ السلام بیٹا مریم کا صبح کی نماز کے وقت۔ پس مسلمانوں کا امیر حضرت عیسیٰ علیہ السلام سے کہے گا آگے آئیے۔ نماز پڑھائیے۔ پس حضرت کہیں گے کہ یہ شرف امت محمدی ہی کو حاصل ہے کہ اس میں سے بعض اس کے بعض پر امیر ہوتے ہیں۔ پس آگے بڑھے گا امیر مسلمانوں کا اور نماز پڑھائے گا۔ یہاں تک کہ جب نماز پڑھا چکے گا تو حضرت عیسیٰ علیہ السلام اپنا خنجر پکڑیں گے۔ پھر دجال کی طرف جائیں گے… پس اسے قتل کریں گے۔‘‘

(رواہ احمد)

نتائج

وہی ہیں جو حدیث نمبر دو کے ذیل میں دکھائے گئے ہیں۔

حدیث نمبر:۱۹… ’’عن ابی امامۃ الباہلیؓ قال خطبنا رسول اللہﷺ فقالت ام شریک بنت ابی الفکر یا رسول اللہ فاین العرب یومئذ قال ہم قلیل… وامامہم رجل صالح قد تقدم بہم الصبح اذ نزل عیسیٰ ابن مریم‘‘

(ابن ماجہ ص۲۹۸، باب فتنۃ الدجال وخروج عیسیٰ علیہ السلام ابن مریم)

حضرت ابوامامۃ الباہلیؓ نے بیان کیا کہ رسول کریمﷺ نے ہم صحابہ کو مخاطب کر کے (دجال اور قیامت کا حال بیان فرمایا)… ام شریک بنت ابی الفکر صحابیہ نے عرض کیا یا رسول اللہﷺ اس دن عرب کہاں ہوں گے۔ آپﷺ نے فرمایا وہ تھوڑے ہوں گے اور امام ان کا ایک صالح مرد ہوگا۔ وہ آگے ہوکر انہیں صبح کی نماز پڑھائے گا کہ اچانک عیسیٰ علیہ السلام نازل ہو جائیں گے۔

حدیث نمبر:۲۰… ’’عن علیؓ انہ خطب الناس‘‘ الحدیث!

(کنزالعمال ج۱۴ ص۶۱۲، حدیث نمبر۳۹۷۰۹، بحوالہ عسل مصفی جلد۲ ص۲۷۶،۲۷۸)

تصدیق

مرزاخدا بخش قادیانی نے اس حدیث کو مرزاغلام احمد قادیانی کی تصدیق میں پیش کیا ہے۔ لہٰذا اس کے صحیح ہونے پر قادیانی کوئی اعتراض نہیں کر سکتے۔ ترجمہ بھی ہم عسل مصفی

183

سے ہی نقل کرتے ہیں۔

’’حضرت علیؓ نے لوگوں کے ساتھ خطبہ پڑھا… پھر تین دفعہ کہا اے لوگو! پیشتر اس کے کہ میں تم سے رخصت ہو جاؤں۔ مجھ سے کچھ پوچھ لو۔ (دجال کے متعلق سوال شروع ہوئے) دجال کے بہت سے گروہ ہوں گے۔ اس کے تابعدار یہودی اور بدکار ہوں گے۔ اللہتعالیٰ اس کو شام میں ایک ٹیلے پر جس کو افیق کہتے ہیں۔ دن کے تین ساعت میں عیسیٰ ابن مریم کے ہاتھ سے قتل کرائے گا۔‘‘

نوٹ: آخری حصہ کا ترجمہ مرزاخدابخش قادیانی نے نہیں کیا۔ جس سے اس حدیث کا مرفوع ہونا اظہر من الشمس ہے۔

آخری الفاظ حضرت علیؓ کے یہ ہیں: ’’لا تسئلونی عما بعد ذالک فان رسول اللہﷺ عہد الی ان اکتمہ‘‘ یعنی اے لوگو! اس سے زائد مجھ سے نہ پوچھو۔ کیونکہ رسول اللہﷺ نے مجھ سے عہد لیا ہوا ہے کہ اسے چھپاؤں گا۔ (رواہ ابن المناوی) اس سے صاف معلوم ہوا کہ حضرت علیؓ کا بیان کردہ تمام مضمون ارشاد نبوی تھا۔ پس یہ سارا مضمون مرفوع حدیث کا حکم رکھتا ہے۔

حدیث نمبر:۲۱… نوٹ: ہم اس حدیث کا ترجمہ (عسل مصفی قادیانی ج۲ ص۲۸۳) سے نقل کرتے ہیں۔ ’’نعیم بن حماد نے حذیفہ بن الیمانؓ سے روایت کی ہے کہ میں نے رسول خداﷺ سے پوچھا۔ دجال پہلے ہوگا یا عیسیٰ ابن مریم۔ فرمایا اوّل دجال ہوگا پھر عیسیٰ ابن مریم۔‘‘

(کنزالعمال ج۱۴ ص۵۹۹، حدیث نمبر۳۹۶۸۶، بحوالہ عسل مصفیٰ ج۲ ص۲۸۳)

تصدیق صحت حدیث

قادیانی مولوی خدابخش نے اس حدیث کی صحت کو ببانگ دہل صحیح تسلیم کیا ہے۔

(دیکھو حوالہ بالا)

نتائج:

۱… حذیفہ بن الیمانؓ صحابی حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا نہ صرف نام ہی لے رہا ہے۔ بلکہ ساتھ ہی ابن مریم (مریم کا بیٹا) کہہ کر اس کی تخصیص کر رہا ہے اور رسول خداﷺ بھی اسی طرح مسیح موعود عیسیٰ ابن مریم میں ہی محصور کر رہے ہیں۔

۲…صحابی اور رسول اللہﷺ کے مکالمہ سے معلوم ہوتا ہے کہ دجال اور عیسیٰ ابن مریم دو اشخاص ہوں گے۔ دجال اگر شخص واحد نہ قرار دیا جائے تو رسول اللہﷺ کی تکذیب لازم آتی ہے۔ کیونکہ آپﷺ نے فرمایا کہ دجال پہلے ہوگا عیسیٰ علیہ السلام سے۔ اگر مرزائیوں کا

184

عقیدہ مان کر انگریزوں کو یا صرف پادریوں کو دجال کہا جائے تو وہ تو اب بھی ہیں۔ قادیانیوں کے نزدیک عیسیٰ علیہ السلام (مرزاقادیانی) آئے اور مر بھی گئے۔ مگر دجال اسی طرح دندناتا پھرتا ہے۔ پس معلوم ہوا کہ نازل ہونے والا موعود نبی حضرت عیسیٰ علیہ السلام بیٹے مریم کے ہیں۔ نہ کہ غلام احمد بیٹے چراغ بی بی کے۔

حدیث نمبر:۲۲… ’’عن علیؓ قال قال رسول اللہﷺ ابشروا ثم ابشروا… کیف تہلک امۃ انا اولہا واثنا عشر خلیفۃ من بعدی والمسیح عیسیٰ ابن مریم آخرہا‘‘

تصدیق

یہ حدیث قادیانی مذہب کی شہرہ آفاق کتاب (عسل مصفی ج۲ ص۵۱۲) پر درج ہوکر مرزاقادیانی سے سند صحت حاصل کر چکی ہے۔

ترجمہ منقول از (عسل مصفی ج۲ ص۵۱۲)

رسول کریمﷺ نے ’’والمسیح‘‘ کے بعد اس کی شخصیت کو واضح کرنے کے لئے عیسیٰ کا لفظ بڑھایا۔ پھر قادیانیوں کا ناطقہ بند کرنے کو ابن مریم یعنی مریم کا بیٹا عیسیٰ علیہ السلام فرمایا۔ مگر پھر بھی قادیانی ہیں۔ اس کے بمطابق ’’مان نہ مان میں تیرا مہمان‘‘ کی ایک ہی ہانکے جاتے ہیں۔

حدیث نمبر:۲۳… ’’عن ابن عباسؓ (مرفوعاً) قال رسول اللہﷺ لن تہلک امۃ انا فی اولہا وعیسیٰ ابن مریم فی آخرہا والمہدی فی اوسطہا‘‘

(کنزالعمال ج۱۴ ص۲۶۶، حدیث نمبر۳۸۶۷۱)

حضرت ابن عباسؓ راوی ہیں کہ فرمایا رسول کریمﷺ نے کہ وہ امت کیسے ہلاک ہوسکتی ہے۔ جس کے شروع میں تو میں ہوں۔ آخر میں عیسیٰ بیٹا مریم کا اور درمیان میں امام مہدی۔

تصدیق

اس حدیث کے صحیح ہونے پر تو ڈبل مہر ثبت ہے۔ قادیانیوں کے دو مسلم مجددوں نے اس کو روایت کیا ہے۔ یعنی امام احمد اور حافظ ابونعیم نے دیکھو فہرست مجددین۔

185

نتیجہ ظاہر ہے کہ عیسیٰ ابن مریم اس امت کے خادم کی حیثیت سے آئیں گے اور امت کی فلاح وبہبود کا کام کریں گے نہ کہ کفر کی مشین گن سے بڑے بڑے علماء اسلام اور صوفیائے عظام کو کافر بنادیں گے۔ رسول کریمﷺ تو فرمارہے ہیں۔ ان کی وجہ سے امت ہلاکت سے بچی رہے گی۔ یہاں بھی المسیح کا لفظ نہیں فرمایا۔ بلکہ عیسیٰ اور وہ بھی بیٹا مریم کا بتایا جو عیسیٰ علیہ السلام ہی کا نام ہے اور وہی عیسیٰ رسول الی بنی اسرائیل ہے۔

حدیث نمبر:۲۴… ’’عن ابی ہریرہؓ قال قال رسول اللہﷺ لیہبطن بن مریم حکماً عدلاً واماماً مقسطاً ویسلکن فجا حاجاً ومعتمرا ولیأتین قبری حتی یسلم علی ولاردن علیہ‘‘ (اخرج الحاکم وصححہ ج۳ ص۴۹۰، حدیث نمبر۴۲۱۸)

حضرت ابوہریرہؓ نے فرمایا کہ فرمایا رسول اللہﷺ نے کہ البتہ ضرور اترے گا عیسیٰ بیٹا مریم کا۔ حاکم عادل ہوگا اور امام انصاف کرنے والا۔ البتہ ضرور گزرے گا۔ ایک راہ سے حج یا عمرہ کرتا ہوا اور البتہ ضرور میری قبر پر تشریف لائے گا اور مجھے سلام کرے گا اور میں اسے جواب دوں گا۔

تصدیق حدیث

۱… قادیانیوں کے مسلم امام ومجدد صدی نہم امام جلال الدین سیوطیؒ نے بھی اپنی کتاب انتباہ الاذکیا فی حیات انبیاء میں اس حدیث کو درج کیا ہے۔ نیز درمنثور ج۲ میں بھی ذکر کیا ہے۔

۲… پھر راوی اس حدیث کے امام حاکم قادیانیوں کے مسلم مجدد وامام صدی چہارم ہیں۔

نتیجہ

اس حدیث میں رسول کریمﷺ نے قادیانی کا ناطقہ کئی طریقوں سے بند کیا ہے۔

۱… ’’لیہبطن‘‘ کا لفظ استعمال فرمایا ہے۔ جس کے معنی ہیں نیچے اترے گا قادیانی اس کے معنی ماں کے پیٹ سے پیدا ہونا دکھائیں تو منہ مانگا انعام لیں۔

۲… پھر صرف ابن مریم کا نزول فرمایا۔ ابن چراغ بی بی نہیں۔

۳… منصف حاکم۔

۴… عیسیٰ علیہ السلام کا حاجی ہونا۔

۵… عیسیٰ علیہ السلام کا رسول اللہ کی قبر پر حاضر ہوکر سلام کہنا اور جواب لینا۔

نوٹ: یہ باتیں مرزاقادیانی میں کہاں ہیں؟ اگر کوئی بھی ہے تو پیش کرو۔

حدیث نمبر:۲۵… ’’عن عائشۃؓ قالت قال رسول اللہﷺ فینزل عیسیٰ علیہ السلام
186

فیقتلہ ثم یمکث عیسیٰ علیہ السلام فی الارض اربعین سنۃ اماماً عدلاً وحکماً مقسطاً‘‘ (مسند احمد ج۶ ص۷۵)

’’حضرت عائشہؓ صدیقہ رسول کریمﷺ سے روایت کرتی ہیں کہ آنحضرتﷺ نے فرمایا (کہ دجال کے خروج کے بعد) حضرت عیسیٰ علیہ السلام نازل ہوں گے۔ پس قتل کریں گے دجال کو۔ پھر بعد اس کے زمین میں رہیں گے چالیس برس امام عادل اور منصف مزاج حاکم کی حیثیت سے۔‘‘

تصدیق الحدیث

اس حدیث کی صحت کے لئے یہی دلیل کافی ہے کہ اس کے راوی امام احمد بن حنبل قادیانیوں کے مسلمہ امام ومجدد صدی دوم ہیں۔ وہ غلط حدیث کو روایت نہیں کر سکتے۔

نتیجہ

۱… ظاہر کہ عیسیٰ علیہ السلام نازل ہوکر دجال کو قتل کریں گے اور قتل کے بعد زمین میں چالیس سال رہیں گے۔ زمین میں رہنے کی تخصیص بتلارہی ہے کہ اس سے پہلے وہ زمین سے کہیں باہر رہتے ہوں گے۔ ورنہ اگر مرزاقادیانی کی طرح ہی کسی آدمی نے عیسیٰ بن جانا تھا تو زمین میں رہنے کا ذکر فضول ہے۔ (زمین کا مقابل آسمان ہے۔ اس تقابل سے بھی اور لفظ نزول سے بھی ان کا آسمانوں پر رہنا ثابت ہوا)

۲… پھر عیسیٰ علیہ السلام نازل ہونے کے بعد بادشاہ ہوں گے۔ ورنہ جس آدمی کے پاس طاقت نہیں وہ عادل ومقسط کا عہدہ کیا مرزاقادیانی کی طرح زبانی جمع خرچ سے حاصل کر لے گا۔؟

حدیث نمبر:۲۶… ’’عن حذیفۃ بن اسیدؓ اشرف علینا۰ رسول اللہﷺ ونحن نتذاکر الساعۃ قال لا تقوم الساعۃ حتیٰ ترو عشر آیات طلوع الشمس من مغربہا۰ الدخان الدجال یاجوج وماجوج۰ نزول عیسیٰ ابن مریم۰ دجال‘‘

(رواہ مسلم ج۲ ص۳۹۳، باب اشراط الساعۃ)

’’حذیفہ بن اسیدؓ صحابی روایت کرتے ہیں کہ رسول کریمﷺ ہمارے پاس تشریف لے آئے۔ درآنحالیکہ ہم صحابہ قیامت کا ذکر کر رہے تھے۔ آنحضرتﷺ نے فرمایا کہ دس علامتوں سے پہلے قیامت نہیں آسکتی۔ سورج کا مغرب سے نکلنا۔ الدخان، دابۃ الارض، یاجوج ماجوج، عیسیٰ علیہ السلام کا نازل ہونا اور دجال کا خروج کرنا۔‘‘ الیٰ اخر الحدیث!

تصدیق

یہ حدیث امام مسلم نے روایت کی ہے۔ اس سے بڑھ کر اور کون مصدق

187

چاہئے۔ امام مسلم کی احادیث کی صحت کا خود مرزاقادیانی اقرار کر چکے ہیں۔

(ازالہ خورد ص۸۸۴، خزائن ج۳ ص۵۸۲)

نزول عیسیٰ ابن مریم کی تشریح مطلوب ہو تو ہم ایسے شخص کے الفاظ میں بیان کرتے ہیں کہ جس کے متعلق مرزاقادیانی فرماتے ہیں کہ چاروں اماموں میں سے ہر لحاظ سے افضل تر تھے اور قرآن اور حدیث کے سمجھنے میں ان کا مرتبہ سب سے بلند تھا۔ یہ بزرگ ہستی امام ابوحنیفہؒ ہیں۔ آپ اپنی کتاب میں فرماتے ہیں۔

’’نزول عیسیٰ علیہ السلام من السماء… حق کائن‘‘

(الفقہ الاکبر ص۸،۹)

’’یعنی عیسیٰ علیہ السلام کا آسمان سے نازل ہونا یقینا حق ہے۔‘‘

حدیث نمبر:۲۷… ناظرین! سینکڑوں حدیثیں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی حیات کے ثبوت میں پیش کی جاسکتی ہیں۔ مگر ساری احادیث کو لکھ کر ہر ایک کے متعلق بحث درج کرنے سے ایک بہت ہی ضخیم کتاب بن جائے گی۔ لہٰذا صرف اسی قدر پر اکتفا کرتا ہوں۔ ہاں سب احادیث مذکورۃ الصدر کی صحت اور اسلامی تفسیر کے معتبر ہونے پر ایسے شخص کی مہر توثیق ثبت کراتا ہوں کہ قادیانیوں کے لئے ’’نہ پائے رفتن نہ جائے ماندن‘‘ کا نقشہ کھچ جائے۔ یہ بزرگ ہستی رئیس المکاشفین حضرت شیخ محی الدین ابن عربی ہیں۔ جن کے متعلق مرزاقادیانی کا ارشاد ہے۔ ’’کہ وہ احادیث کے غلط اور صحیح ہونے کا فیصلہ رسول پاکﷺ سے بالمشافہ گفتگو کر کے پوچھ لیا کرتے تھے۔‘‘

(ازالہ اوہام ص۱۵۲، خزائن ج۳ ص۱۷۷)

شیخ ابن عربی قدس سرہ نے اپنی شہرہ آفاق کتاب (فتوحات مکیہ ج۱ ص۲۲۳،۲۲۴) کے باب میں ایک حدیث درج کی ہے۔ چونکہ حدیث بہت طویل ہے۔ لہٰذا عربی عبارت کا ترجمہ شمس الہدایہ مصنفہ حضرت مولانا پیر سید مہر علی شاہ صاحبؒ مسند آرائے گولڑہ شریف سے نقل کرتے ہیں۔

’’فرمایا حضرت ابن عمرؓ نے کہ میرے والد عمرؓ بن الخطاب نے سعد بن وقاصؓ کی طرف لکھا کہ نضلہ انصاری کو حلوان عراق کی طرف روانہ کرو۔ تاکہ مال غنیمت حاصل کریں۔ پس روانہ کیا سعد نے نضلہ انصاری کو جماعت مجاہدین کے ساتھ۔ ان لوگوں نے وہاں پہنچ کر بہت سا مال غنیمت کا حاصل کیا اور ان سب کو لے کر واپس ہوئے تو آفتاب غروب ہونے کے قریب تھا۔ پس نضلہ انصاری نے گھبرا کر ان سب کو پہاڑ کے کنارے ٹھہرایا اور خود کھڑے ہوکر اذان دینی شروع کی۔ جب اللہ اکبر، اللہ اکبر کہا تو پہاڑ

188

کے اندر سے ایک مجیب نے جواب دیا کہ اے نضلہ تو نے خدا کی بہت بڑائی کی۔ اسی طرح تمام اذان کا جواب پہاڑ سے اسی مجیب نے دیا۔ جب نضلہ اذان سے فارغ ہوئے تو صحابہ کرامؓ نے کھڑے ہو کر دریافت کرنا شروع کیا کہ اے صاحب آپ کون ہیں؟ فرشتہ یا جن یا انسان جیسے آپ نے اپنی آواز ہم کو سنائی ہے۔ اسی طرح اپنا آپ ہمیں دکھائیے۔ اس واسطے کہ ہم خدا اور اس کے رسول اللہﷺ اور نائب رسول عمر بن الخطابؓ کی جماعت ہیں۔ پس پہاڑ پھٹا اور ایک شخص باہر نکل آیا… اور السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ کہا۔ ہم نے جواب دیا اور دریافت کیا کہ آپ کون ہیں۔ فرمایا زریب بن برتملا وصی عیسیٰ ابن مریم ہوں۔ مجھ کو عیسیٰ علیہ السلام نے اس پہاڑ میں ٹھہرایا ہے اور اپنے نزول من السماء تک میری درازی عمر کے لئے دعا فرمائی۔ جب وہ اتریں گے تو خنزیر کو قتل کریں گے اور صلیب کو توڑیں گے اور بیزار ہوں گے۔ نصاریٰ کے اختراع سے پھر دریافت فرمایا کہ وہ نبی صادق بالفعل کس حال میں ہیں… پھر ہم سے غائب ہوگئے۔ پس نضلہ نے یہ مضمون سعدؓ کی طرف لکھا اور سعد نے حضرت عمرؓ کی طرف۔ پھر حضرت عمرؓ نے سعدؓ کی طرف لکھا کہ تم اپنے ہمرائیوں کو لے کر اس پہاڑ کے پاس اترو۔ جس وقت ان سے ملو تو میرا سلام ان کو پہنچائیو۔ اس واسطے کہ رسول کریمﷺ نے فرمایا کہ عیسیٰ علیہ السلام کے بعض وصی عراق کے پہاڑوں میں اترے ہوئے ہیں۔ پس سعدؓ چار ہزار مہاجرین اور انصار کے ہمراہ اس پہاڑوں کے قریب اترے… مگر ملاقات نہ ہوئی۔‘‘

(شمس الہدایہ ص۶۰تا۶۲)

تصدیق حدیث

۱… یہ حدیث بیان کر کے حضرت شیخ قدس سرہ نے فرمایا کہ اگرچہ ابن ازہر کی وجہ سے اسناد حدیث میں محدثین کے نزدیک کلام ہے۔ مگر اہل کشف کے نزدیک یہ صحیح حدیث ہے۔

۲… مجدد اعظم صدی یازدہم حضرت شاہ ولی اللہ صاحب محدث دہلوی نے بھی اس حدیث کو اپنی کتاب (ازالۃ الخفا مترجم ج۴ ص۹۱تا۹۳، مقصد دوم ص۱۶۷،۱۶۸، الفصل الرابع) میں درج فرمایا ہے۔

نتائج

۱… حدیث کی صحت کے متعلق حضرت شیخ قدس سرہ کا فیصلہ ہوچکا ہے۔ اس کے خلاف زبان کھولنا مرزاقادیانی کے قول کے رو سے فسق اور کفر ہے۔

۲… زریب بن برتملا وصی حضرت مسیح علیہ السلام کو اللہتعالیٰ نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی دعا

189

سے اس قدر طویل عمر عطا کی کہ وہ اب تک زندہ ہیں۔ گویا زریب بن برتملا بھی دوہزار سال سے زندہ ہیں۔

۳… زریب بن برتملا وصی عیسیٰ علیہ السلام نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے متعلق یہ الفاظ فرمائے۔ ’’ودعالی بطول البقاء الیٰ نزولہ من السماء‘‘ یعنی حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے اپنے نازل ہونے تک میرے زندہ رہنے کی دعا کی۔

۴… قریباً چار ہزار صحابہ کرامؓ نے زریب بن برتملا وصی عیسیٰ علیہ السلام کا جواب سنا اور گویا اس کی تصدیق کی۔

۵… چار ہزار صحابہؓ کی طرف سے حضرت سعد بن وقاص نے حضرت عمرؓ کو سارا حال لکھ بھیجا اور حضرت عمرؓ نے اس واقعہ کی حدیث نبوی سے تصدیق کر دی اور مزید انکشاف کے لئے حضرت سعدؓ کو خط لکھا۔

۶… کسی صحابیؓ سے انکار کسی کتاب میں مروی نہیں۔

190

باب چہارم

حیات عیسیٰ علیہ السلام از اقوال صحابہ

ناظرین! صحابہ کرامؓ کے اقوال کی عظمت کا پتہ لگانا ہوتو مندرجہ ذیل اقوال سے ملاحظہ کیجئے۔

۱… قول مرزا اصول نمبر:۳۔

۲… قول خلیفہ نور الدین قادیانی: ’’صحابہ کے روزانہ برتاؤ اور زندگی ظاہر وباطن میں انوار نبوت ایسے رچ گئے تھے کہ گویا وہ سب آنحضرتﷺ کی عکسی تصویریں تھیں۔ پس اس سے بڑھ کر کوئی معجزہ کیا ہوگا۔‘‘

(اخبار بدر قادیان ص۴، مورخہ ۱۷؍جنوری ۱۹۰۴ء)

۳… قول مرزا: ’’صحابہ کا اجماع وہ چیز ہے جس سے انکار نہیں ہوسکتا۔‘‘

(ضمیمہ براہین احمدیہ حصہ۵ ص۲۰۳ حاشیہ، خزائن ج۲۱ ص۳۷۶، بحوالہ خزینہ العرفان ص۴۱۹)

۴… قول مرزا: ’’شرعی حجت صرف صحابہ کا اجماع ہے۔‘‘

(ضمیمہ براہین احمدیہ حصہ۵ ص۲۳۴، خزائن ج۲۱ ص۴۱۰)

۵… ’’اجماع کے خلاف عقیدہ رکھنے والے پر خدا کی لعنت اور اس کے فرشتوں کی لعنت۔‘‘

(انجام آتھم ص۱۴۴، خزائن ج۱۱ ص ایضاً)

۶… قول مرزا: ’’اور صحابہ کا اجماع حجت ہے جو کبھی ضلالت پر نہیں ہوتا۔‘‘

(تریاق القلوب ص۱۴۷، خزائن ج۱۵ ص۴۶۱ حاشیہ)

اجماع کی حقیقت

اجماع کی حقیقت تو یہ ہے کہ علماء محققین کا کسی مسئلہ پر اتفاق ہو۔ لیکن اگر ایک بزرگ نے کوئی مسئلہ بیان کیا ہے۔ اس کے خلاف امت کے کسی محقق کا خلاف منقول نہ ہو تو یہ بھی اجماع ہی کہلاتا ہے۔ اس کو اجماع سکوتی کہتے ہیں۔ جیسا کہ مرزاقادیانی بھی ہماری تائید میں فرماتے ہیں۔ ’’اصول فقہ کی رو سے اجماع کی قسموں میں سے ایک سکوتی اجماع بھی ہے۔‘‘

(ازالہ اوہام ص۸۷۴، خزائن ج۳ ص۵۷۶)

ناظرین! صبر کر کے دیکھتے جائیں کہ ہم کس طرح مرزاقادیانی کا ناطقہ بند کرتے ہیں۔ اب اجماع کس طرح ثابت کیا جائے۔ اس کی دو صورتیں ہیں۔ چنانچہ مرزا

191

قادیانی کا ارشاد ملاحظہ ہو۔

۱… ’’یہ بات کہ مسیح جسم خاکی کے ساتھ آسمان پر چڑھ گیا اور اسی جسم کے ساتھ اترے گا۔ نہایت لغو اور بے اصل بات ہے۔ صحابہ کا ہرگز اس پر اجماع نہیں۔ بھلا اگر ہے تو کم از کم تین سو چار سو صحابہ کا نام لیجئے جو اس بارہ میں اپنی شہادت دے گئے ہوں۔ ورنہ ایک یا دو آدمی کے بیان کا نام اجماع رکھنا سخت بددیانتی ہے۔‘‘

(ازالہ اوہام ص۳۰۳، خزائن ج۳ ص۲۵۴)

۲… ’’ابن صیاد کے دجال ہونے پر صحابہ کا اجماع تھا۔ خداتعالیٰ آپ کے حال پر رحم کرے۔ کیا جو ابن صیاد کے بیان سے… ثابت نہیں ہوتا کہ صحابہ اس کو دجال معہود کہتے تھے۔ کیا اس حدیث میں کوئی صحابی باہر بھی رہا ہے۔ جو اس کو دجال معہود نہیں سمجھتا تھا۔ اس کا ذرا نام تو لو۔ کیا آپ کو خبر نہیں کہ اصول فقہ کی رو سے اجماع کی قسموں میں سے ایک سکوتی اجماع بھی ہے۔ کیا آپ کو معلوم نہیں کہ ابن صیاد کے دجال معہود ہونے پر حضرت عمرؓ نے آنحضرتﷺ کے حضور میں قسم کھائی جس پر نہ خود آنجناب نے انکار کیا اور نہ صحابہ حاضرین میں سے کوئی منکر ہوا۔‘‘

(ازالہ اوہام ص۸۷۴، خزائن ج۳ ص۵۷۶)

۳… تمام امت کا اجماع کس طرح ثابت ہوسکتا ہے۔ بالفاظ مرزا سنئے: ’’امام ابن حزم اور امام مالکؒ بھی موت عیسیٰ علیہ السلام کے قائل ہیں اور ان کا قائل ہونا گویا تمام اکابر کا قائل ہونا ہے۔ کیونکہ اس زمانہ کے اکابر علماء سے مخالفت منقول نہیں اور اگر مخالفت کرتے تو البتہ کسی کتاب میں اس کا ذکر ہوتا۔‘‘

(ایام الصلح ص۳۹، خزائن ج۱۴ ص۲۶۹)

ناظرین! مندرجہ بالا تینوں نمبروں کی عبارت کے لفظ لفظ میں جھوٹ اور دجل وفریب کا مظاہرہ کیاگیا ہے۔ میرا کام اس وقت اس کی تردید نہیں بلکہ اس کو اپنی تصدیق میں پیش کرنا مقصود ہے۔ مگر تاہم چند ایک فقروں میں کچھ دلچسپ ریمارکس دینا ضروری سمجھتا ہوں۔

۱… مرزاقادیانی جب ہم سے اجماع کا مطالبہ کرتے ہیں تو تین چار صد صحابہؓ کے نام پوچھتے ہیں۔ ایک آدھ کا نام لے کر اجماع کہنا سخت بددیانتی سمجھتے ہیں۔ مگر دوسرے اور تیسرے دونوں نمبروں میں اسی ’’سخت بددیانتی‘‘ کا خود ارتکاب کر رہے ہیں۔

۲… نمبر:۲ میں اپنی ضرورت کے وقت ’’سکوتی اجماع‘‘ کی قسم بھی بنالی ہے۔ لیکن ہمیں اس کا فائدہ اٹھانا ممنوع قرار دیتے ہیں۔

192

۳… حضرت عمرؓ کے قسم اٹھانے کا واقعہ لکھ کر رسول اللہﷺ کی خاموشی ظاہر کرنا مرزاقادیانی کی بددیانتی کا ایک معمولی نمونہ ہے۔ دیکھئے اپنی تردید خود ہی کس عجیب پیرائے میں کرتے ہیں۔ لکھتے ہیں: ’’آنحضرتﷺ نے حضرت عمرؓ کو ابن صیاد کے قتل کرنے سے منع فرمایا اور نیز فرمایا کہ ہمیں اس کے حال میں ابھی اشتباہ ہے۔ اگر یہی دجال معہود ہے تو اس کا صاحب عیسیٰ ابن مریم ہے جو اسے قتل کرے گا۔ ہم اس کو قتل نہیں کر سکتے۔‘‘

(ازالہ اوہام ص۲۲۵، خزائن ج۳ ص۲۱۲)

باوجود اس کے مرزاقادیانی کا یہ کہنا کہ کسی نے انکار نہیں کیا۔ کس قدر دلاوری اور دیدہ دلیری ہے۔ مزید تحقیق ملاحظہ کریں۔ جو پہلے گزر چکی ہے۔

۴… مرزاقادیانی نے امام مالک اور امام ابن حزم رحمہما اللہ کو موت عیسیٰ علیہ السلام کا قائل بتا کر دیدہ دلیری اور افتراء پردازی میں کمال کر دیا ہے۔ ہم ان دونوں حضرات کے اقوال آئندہ ذکر کریں گے۔

اب ہم مرزاقادیانی کے مقرر کردہ اصول وشرائط کے مطابق حیات عیسیٰ علیہ السلام پر اجماع صحابہؓ وامت محمدیہﷺ ثابت کرتے ہیں۔

دلیل اجماع

۱… ہم حدیث نمبر:۲۷ کی ذیل میں تین چار ہزار صحابہ مہاجرین وانصار کا اجماع ثابت کر چکے ہیں۔ اس کا دوبارہ مطالعہ کرنا دلچسپی سے خالی نہ ہوگا۔

۲… ابن حجر عسقلانی قادیانیوں کے مسلم امام ومجدد صدی ہشتم فرماتے ہیں۔ ’’فاتفق اصحاب الاخبار والتفسیر علی انہ رفع ببدنہ حیا وانما اختلفوا فی ہل مات قبل ان الرفع اونام فرفع‘‘

(تلخیص الحبیر ج۳ ص۴۶۲، کتاب الطلاق مصنفہ حافظ ابن حجرؒ)

’’تمام محدثین ومفسرین کا عیسیٰ علیہ السلام کے جسم سمیت زندہ اٹھائے جانے پر اجماع ہے۔ اختلاف صرف اس بات میں ہے کہ آیا رفع جسمانی سے پہلے آپ نے وفات پائی (اور پھر زندہ کئے گئے) یا صرف سو گئے۔‘‘

۳… امام شوکانیؒ قادیانیوں کے مسلم مجدد صدی دوازدہم فرماتے ہیں۔ ’’الاحادیث الواردۃ فی نزولہ متواترۃ‘‘

(کتاب الاذاعۃ للشوکانی ونیز کتاب التوضیح بحوالہ کاویہ ج۱ ص۲۸۵)

193

’’حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے نزول کے متعلق احادیث نبوی متواتر ہیں۔‘‘

۴… ’’قادیانیوں کے مسلم امام ومجدد صدی ششم ابن کثیرؒ اپنی مشہور تفسیر ابن کثیر میں فرماتے ہیں۔‘‘

’’قال مجاہد وانہ لعلم للساعۃ ای ایۃ للساعۃ خروج عیسیٰ ابن مریم قبل یوم القیامۃ وہکذا روی عن ابی ہریرۃ وابن عباس وابی العالیہ ابی مالک وعکرمہ والحسن وقتادہ والضحاک وغیرہم وقد تواترت الاحادیث عن رسول اللہﷺ انہ اخبر بنزول عیسیٰ قبل یوم القیامۃ اماماً عادلاً وحکما مقسطاً‘‘ (ابن کثیر مع البغوی ج۷ ص۴۰۹، بحوالہ عقیدۃ الاسلام ص۴)

’’امام مجاہد شاگرد حضرت ابن عباسؓ فرماتے ہیں کہ: ’’انہ لعلم للساعۃ‘‘ کے معنی ہیں کہ عیسیٰ ابن مریم علیہ السلام کا نزول قیامت کی نشانی ہے اور اسی طرح حضرت ابوہریرہؓ، ابن عباسؓ، ابی العالیہ، ابی مالک، عکرمہ اور امام حسن، وقتادہ والضحاک وغیرہم سے بھی مروی ہے اور رسول کریمﷺ کی حدیثیں اس بارہ میں حدتواتر تک پہنچی ہوئی ہیں کہ عیسیٰ علیہ السلام قیامت سے پہلے امام عادل اور منصف حاکم کی حیثیت سے نازل ہوں گے۔‘‘

۵… حضرت شیخ محی الدین ابن عربی قادیانیوں کے مسلم رئیس المکاشفین فرماتے ہیں۔ ’’وانہ لا خلاف انہ ینزل فی آخر الزمان حکما مقسطاً‘‘

(فتوحات مکیہ ج۲ ص۳، بحث ۷۳)

’’یعنی اس بارہ میں کوئی اختلاف نہیں ہے کہ عیسیٰ ابن مریم علیہ السلام قرب قیامت میں نازل ہوں گے۔ منصف حاکم کی حیثیت سے۔‘‘

۶… شیخ محمد طاہرؒ قادیانیوں کے مسلم امام ومجدد صدی دہم مجمع البحار میں فرماتے ہیں۔ ’’ویجی آخر الزمان لتواتر خبر النزول‘‘

(مجمع البحار ج۱ ص۵۳۴، بلفظ حکم)

’’یعنی نزول کی حدیثوں کے تواتر سے آپ کا آخر زمانہ میں آنا ثابت ہوچکا ہے۔‘‘

۷… قادیانیوں کے مسلم امام ومجدد صدی نہم امام جلال الدین سیوطیؒ نزول عیسیٰ علیہ السلام کا ذکر کرتے ہوئے فرماتے ہیں۔ ’’انہ یحکم بشرع نبینا ووردت بہ الاحادیث وانعقد علیہ الاجماع‘‘

(الحاوی للفتاویٰ ج۲ ص۱۵۵)

’’عیسیٰ علیہ السلام نازل ہو کر ہمارے ہی نبی کی شریعت کے مطابق حکم دیں گے۔ اس بارہ میں بے شمار حدیثیں وارد ہوئی ہیں اور اسی پر سب امت کا اجماع ہے۔‘‘

194

۸… اب ہم مرزاغلام احمد قادیانی کے اپنے الفاظ میں دکھاتے ہیں کہ عیسیٰ علیہ السلام کے زندہ ہونے اور نازل ہونے کا عقیدہ اجماع پر مبنی تھا۔

قول مرزا

۱… ’’تیرھویں صدی کے اختتام پر مسیح موعود کا آنا ایک اجماعی عقیدہ معلوم ہوتا ہے۔‘‘

(ازالہ اوہام ص۱۸۵، خزائن ج۳ ص۱۸۹)

۲… ’’یہ بات پوشیدہ نہیں کہ مسیح ابن مریم کی پیش گوئی ایک اوّل درجہ کی پیش گوئی ہے۔ جس کو سب نے بالاتفاق قبول کر لیا ہے اور جس قدر صحاح میں پیش گوئیاں ہیں۔ کوئی پیش گوئی اس کے ہم پہلو اور ہم وزن ثابت نہیں۔ تواتر کا اوّل درجہ اس کو حاصل ہے۔ انجیل بھی اس کی مصدق ہے۔ اب اس قدر ثبوت پر پانی پھیرنا اور یہ کہنا کہ یہ تمام حدیثیں موضوع ہیں۔ درحقیقت ان لوگوں کا کام ہے۔ جن کو خداتعالیٰ نے بصیرت دینی اور حق شناسی سے کچھ بھی بخرہ اور حصہ نہیں دیا۔‘‘

(ازالہ اوہام ص۵۵۷، خزائن ج۳ ص۴۰۰)

۳… ’’اب اس تحقیق سے ثابت ہے کہ مسیح ابن مریم کی آخری زمانہ میں آنے کی قرآن شریف میں پیش گوئی موجود ہے۔‘‘

(ازالہ ص۶۷۵، خزائن ج۳ ص۴۶۴)

۴… ’’اور یہ آیت کہ:’’ھو الذی ارسل رسولہ بالہدیٰ‘‘ درحقیقت اسی مسیح ابن مریم کے زمانہ سے متعلق ہے۔‘‘

(ازالہ اوہام ص۶۷۵، خزائن ج۳ ص۴۶۴)

۵… ’’ولنزول ایضاً حق نظراً علی تواتر الاثار وقد ثبت من طرق فی الاخبار‘‘ونزول از روئے تواتر آثار ہم راست است چرا کہ از طرق متعدہ ثابت است۔

(انجام آتھم ص۱۵۸، خزائن ج۱۱ ص ایضاً)

’’اور عیسیٰ علیہ السلام کا نازل ہونا بھی حق ہے۔ کیونکہ احادیث اس بارہ میں متواتر ہیں اور یہ امر مختلف طریقوں سے ثابت ہے۔‘‘

۶… ’’واضح ہو کہ اس امر سے دنیا میں کسی کو بھی انکار نہیں کہ احادیث میں مسیح موعود کی کھلی کھلی پیش گوئی موجود ہے۔ بلکہ قریباً تمام مسلمانوں کا اس بات پر اتفاق ہے کہ احادیث کی رو سے ضرور ایک شخص آنے والا ہے۔ جس کا نام عیسیٰ علیہ السلام ابن مریم ہوگا اور یہ پیش گوئی بخاری اور مسلم اور ترمذی وغیرہ کتب حدیث میں اس کثرت سے پائی جاتی ہے جو ایک منصف مزاج کی تسلی کے لئے کافی ہے۔‘‘

(شہادۃ القرآن ص۲، خزائن ج۶ ص۲۹۸)

195

۷… ’’مسیح موعود کے بارہ میں جو احادیث میں پیش گوئی ہے وہ ایسی نہیں ہے کہ جس کو صرف آئمہ حدیث نے چند روایتوں کی بنا پر لکھا ہو۔ بلکہ یہ ثابت ہوگیا ہے کہ یہ پیش گوئی عقیدہ کے طور پر ابتداء سے مسلمانوں کے رگ وریشہ میں داخل چلی آئی ہے۔ گویا جس قدر اس وقت روئے زمین پر مسلمان تھے۔ اسی قدر اس پیش گوئی کی صحت پر شہادتیں موجود تھیں۔ کیونکہ عقیدہ کے طور پر وہ اس کو ابتداء سے یاد کرتے چلے آتے تھے۔ اگر نعوذ ب اللہ یہ افتراء ہے تو اس افتراء کی مسلمانوں کو کیا ضرورت تھی اور کیوں انہوں نے اس پر اتفاق کر لیا ہے اور کس مجبوری نے ان کو اس افتراء پر آمادہ کیا تھا۔‘‘

(شہادۃ القرآن ص۸، خزائن ج۶ ص۳۰۴)

۸… ’’اس پر اتفاق ہوگیا ہے کہ مسیح کے نزول کے وقت اسلام دنیا پر کثرت سے پھیل جائے گا اور ملل باطلہ ہلاک ہو جائیں گی اور راست بازی ترقی کرے گی۔‘‘

(ایام الصلح ص۱۳۶، خزائن ج۱۴ ص۳۸۱)

ناظرین! ہم نے مرزاقادیانی کے آٹھ اقوال سے ثابت کر دیا ہے کہ مسیح ابن مریم یا عیسیٰ ابن مریم کے نزول کا عقیدہ قرآن میں موجود ہے۔ احادیث نبویہ اس سے بھری پڑی ہیں۔ صحابہ کرام کلہم اسی عقیدہ پر فوت ہوئے۔ دنیا کے کروڑہا مسلمانوں میں یہ عقیدہ نزول مسیح کا ابتداء اسلام سے چلا آیا ہے اور یہ کہ نزول مسیح ابن مریم کا مسئلہ حق ہے۔ گویا عیسیٰ ابن مریم کے نزول کے عقیدہ پر نہ صرف صحابہ کا اجماع ہے بلکہ خدا۔ اس کے رسول اللہﷺ اور دنیا کے کروڑہا مسلمانوں کا اجماع ہے۔

اس بات کے ثابت کرنے کے لئے کہ عیسیٰ ابن مریم علیہ السلام کے نزول سے مراد اسی عیسیٰ رسول بنی اسرائیل ہی کا نزول ہے۔ جس کا ذکر قرآن کریم میں ہے دلائل کی ضرورت نہیں ہے۔ مندرجہ ذیل مثالوں سے اصل حقیقت واضح ہو جائے گی۔

۱… جب کوئی آدمی کہے کہ مرزاغلام احمد قادیانی مورخہ ۲۶؍مئی ۱۹۰۸ء کو مرض ہیضہ میں مبتلا ہو کر مرگیا تو اس سے مراد یقینا وہی مرزاغلام احمد قادیانی مدعی نبوت سمجھا جائے گا نہ کہ کوئی مثیل مرزا۔

۲… اور جب یوں کہا جائے۔ مرزاغلام احمد قادیانی ولد حکیم غلام مرتضیٰ مدعی نبوت ومسیحیت مورخہ ۲۶؍مئی ۱۹۰۸ء کو مرگیا تھا۔ اس پر کوئی منچلہ قادیانی یوں کہہ دے کہ نہیں۔ اس سے مراد مثیل مرزاقادیانی ہے نہ کہ خود مرزاقادیانی تو اس کا علاج کیا ہے؟

196

۳… اگر کوئی کہے مرزامحمود قادیانی سیسل ہوٹل لاہور سے مس روفو اطالوی دوشیزہ کو اپنے ہمراہ بٹھا کر قادیان لے گئے۔ اس کے جواب میں کوئی قادیانی مرید یوں کہہ دے کہ مرزامحمود سے مراد مرزامحمود نہیں بلکہ ان کا کوئی مثیل مراد ہے تو اس کا علاج کیا؟

۴… اس کے جواب میں اگر یوں کہا جائے کہ مس روفو کو بھگا لے جانے والا مرزامحمود قادیانی وہ شخص ہے جو مرزاغلام احمد قادیانی مدعی نبوت کا بیٹا اور خلیفہ ہے تو اس کے جواب میں کوئی لاہوری یوں کہہ دے کہ بھیا تم علم سے بے بہرہ ہو۔ اس جگہ بھی مراد مثیل بشیر ہے اور وہ محمد علی امیر جماعت احمدیہ لاہور ہے اور دلیل یہ ہے کہ وہ مرزاقادیانی کا روحانی بیٹا ہے اور قادیان سے مراد اس کا مثیل ہے جو لاہور ہے۔ فرمائیے! اس کا جواب آپ کے پاس سوائے اس کے کیا ہوگا کہ’’جواب جاہلاں باشد خموشی‘‘

حضرات! اگر ہر ایک آدمی الفاظ کا اسی طرح مطلب نکالنا شروع کر دے تو فرمائیے دنیا میں امن قائم رہ سکتا ہے اور ایک دوسرے کے کلام کا مفہوم صحیح معلوم ہوسکتا ہے؟ قرآن کریم میں عیسیٰ ابن مریم مذکور ہے۔ احادیث میں بلا استثناء مسیح ابن مریم، عیسیٰ ابن مریم، ابن مریم کے الفاظ موجود ہیں۔ اگر مراد ان سے مثیل ہوتی تو یوں کہنے میں کون سی چیز مانع تھی۔ مثیل مسیح ابن مریم، مثیل ابن مریم، مثیل عیسیٰ۔

چیلنج

میں قادیانیوں کو مبلغ یکصد روپیہ اور انعام دوںگا۔ اگر قرآن یا حدیث یا اقوال صحابہ یا اقوال مجددین امت سے ثابت کر دیں کہ آنے والے مسیح ابن مریم کے متعلق قرآن، حدیث، اقوال، صحابہ یا اقوال مجددین امت میں کسی ایک جگہ بھی مثیل ابن مریم یا مثیل عیسیٰ لکھا ہوا ہے۔

۹… مرزابشیرالدین محمود قادیانی کی شہادۃ: ’’پچھلی صدیوں میں قریباً تمام مسلمانوں میں مسیح کے زندہ ہونے پر ایمان رکھا جاتا تھا اور بڑے بڑے بزرگ اسی عقیدہ پر فوت ہوئے ہیں۔‘‘

(حقیقت النبوۃ ص۱۴۲)

مرزاقادیانی کی شہادۃ کہ نازل ہونے والا عیسیٰ ابن مریم علیہ السلام آسمان پر ہے۔

۱… ’’صحیح مسلم کی حدیث میں جو یہ لفظ موجود ہے کہ حضرت مسیح علیہ السلام جب آسمان سے اتریں گے تو ان کا لباس زردرنگ کا ہوگا۔‘‘

(ازالہ اوہام ص۸۱، خزائن ج۳ ص۱۴۲)

۲… ’’آنحضرتﷺ نے فرمایا تھا کہ مسیح آسمان پر سے جب اترے گا تو زرد چادریں اس نے پہنی ہوئی ہوں گی۔‘‘

197

(قادیانی رسالہ ’’تشحیذ الاذہان‘‘ جون ۱۹۰۶ء ص۵، قادیانی اخبار بدر قادیان مورخہ ۷؍جون ۱۹۰۶ء ص۵)

فرمائیے حضرات! اجماع کے ثبوت میں اب کوئی کسر باقی ہے۔ مرزاقادیانی کے اپنے الفاظ سے نزول سے مراد نزول من السماء ہی ہے۔

ناظرین! اجماع صحابہ کی اہمیت آپ پڑھ چکے ہیں۔ اب ہم مرزاقادیانی کے بیان کردہ طریق ثبوت اجماع میں سے نمبر:۲ کی طرز سے اجماع امت ثابت کرتے ہیں۔ یعنی فرداً فرداً صحابہ کرامﷺ کی روایات بیان کرتے ہیں۔ چونکہ صحابہ کرامؓ کی روایات ہزارہا لوگوں نے سنیں اور کوئی مخالفت منقول نہیں۔ لہٰذا ہر روایت سے اجماع صحابہ ثابت ہوتا جائے گا۔

۱…حضرت عمرؓ خلیفہ رسول کریمﷺ کا عقیدہ

۱… ہم پہلے ثابت کر آئے ہیں کہ حضرت عمرؓ نے حضرت سعد بن وقاصؓ اور ان کے ساتھ تین چار ہزار صحابہ مہاجرین وانصار کے بیان کردہ مضمون حیات عیسیٰ علیہ السلام وحیات برتملا وصی عیسیٰ علیہ السلام کی تصدیق کی تھی۔

۲… پہلے ہم ایک حدیث بیان کر آئے ہیں کہ رسول کریمﷺ نے حضرت عمرؓ کو ابن صیاد کے قتل سے اس بناء پر منع فرمایا تھا کہ دجال کا قاتل حضرت عیسیٰ ابن مریم علیہ السلام ہے اور حضرت عمرؓ نے اس کے جواب میں سکوت کیا۔ گویا رسول کریمﷺ کا عقیدہ حیات مسیح علیہ السلام قبول کر لیا۔

۳… ہم ایک حدیث بیان کر آئے ہیں۔ وہ ساری حدیث درمنثور اور ابن جریر میں ملاحظہ کیجئے۔ اس ارشاد نبوی کے وقت حضرت عمرؓ موجود تھے۔ آنحضرتﷺ نے فرمایا: ’’ان عیسیٰ یأتی علیہ الفنا‘‘ یعنی عیسیٰ علیہ السلام فوت ہوں گے۔

اگر حضرت عمرؓ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو زندہ نہیں مانتے تھے تو کیوں نہ عرض کیا یا رسول اللہﷺ ’’انہ قداتیٰ علیہ الفناء‘‘ کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام پر تو موت واردہوچکی ہے۔ ایسا عرض نہ کرنا اس بات کا بین ثبوت ہے کہ حضرت عمرؓ بھی حیات عیسیٰ علیہ السلام کا عقیدہ رکھتے تھے۔

۲…حضرت عبد اللہ بن عمرؓ کا عقیدہ

پہلے بیان کردہ حدیث جس کے راوی حضرت عبد اللہ بن عمرؓ ہی ہیں۔ آپ کا یہ حدیث بیان کرنا اور ہزارہا صحابہ کا سن کر اس کو قبول کر لینا اجماع سکوتی کا ثبوت ہے۔

۳…حضرت ابوعبیدہ بن الجراحؓ کا عقیدہ

دلیل ملاحظہ ہو۔ بذیل عقیدہ حضرت عمر نمبر:۳۔ اس حدیث کے بیان کے وقت

198

حضرت ابوعبیدہ بن الجراح بھی موجود تھے اور انہیں کو وفد نجران کے ساتھ آنحضرتﷺ نے حکم بنا کر بھیجا تھا۔

۴…حضرت ابن عباسؓ کا عقیدہ

ناظرین! مناسب معلوم ہوتا ہے کہ میں آپ کے سامنے حضرت عبد اللہ بن عباسؓ صحابی کی عظمت شان بیان کروں اور وہ بھی مرزاقادیانی کے اپنے الفاظ میں۔

۱… ’’حضرت ابن عباسؓ قرآن کریم کے سمجھنے میں اوّل نمبر والوں میں سے ہیں اور اس بارہ میں ان کے حق میں آنحضرتﷺ کی ایک دعا بھی ہے۔‘‘

(ازالہ ص۲۴۷، خزائن ج۳ ص۲۲۵)

۲… ’’خود ابن عباسؓ سے مروی ہے کہ آنحضرتﷺ نے ان کو اپنے سینے سے لگایا اور دعا کی کہ یا الٰہی اس کو حکمت بخش۔ اس کو علم قرآن بخش چونکہ دعا نبی کریمﷺ کی مستجاب ہے… ابن عباسؓ کے حق میں علم قرآن کی دعا مستجاب ہوچکی ہے۔‘‘

(ازالہ طبع اوّل ص۸۹۳، خزائن ج۳ ص۵۸۷)

احادیث واقوال حضرت ابن عباسؓ

۱… پہلے ہم قادیانی مسلمات کی رو سے ثابت کر آئے ہیں کہ: ’’انہ لعلم للساعۃ‘‘ کے معنی ابن عباسؓ کے نزدیک حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا آسمان سے قرب قیامت میں نازل ہونا ہے۔

۲… ہم قادیانی مسلمات کی رو سے ثابت کر چکے ہیں۔ حضرت ابن عباسؓ ’’قبل موتہ‘‘ سے حیات عیسیٰ علیہ السلام پر استدلال فرمایا کرتے تھے۔

۳… قادیانی مسلمات کی رو سے ایک صحیح حدیث مرفوع حضرت ابن عباسؓ کی روایت کردہ درج کر کے حیات عیسیٰ علیہ السلام ثابت کر چکے ہیں۔

۴… قادیانی مسلمات کی رو سے حضرت عبد اللہ بن عباسؓ کی مرفوع حدیث سے حیات عیسیٰ علیہ السلام ثابت کر آئے ہیں۔

۵… درمنثور میں امام جلال الدین سیوطی مجدد صدی نہم نے قول حضرت ابن عباسؓ کا روایت کیا ہے جو درج ذیل ہے۔

’’انی متوفیک ورافعک الیّٰ ای رافعک الیّٰ ثم متوفیک فی آخر الزمان‘‘

(درمنثور ج۲ ص۳۶)

’’آیت کا یہ ہے کہ اے عیسیٰ میں پہلے تجھے اپنی طرف اٹھا لوں گا اور پھر آخری زمانہ میں موت دوں گا۔‘‘

199

۶… اس میں حضرت ابن عباسؓ نے توفی کو اماتت کے معنوں میں بھی لے کر حیات عیسیٰ علیہ السلام ہی ثابت کی ہے۔ پس قادیانی جماعت کے لئے یہ ضرب موت سے کم نہیں ہے اب وہ تقدیم وتاخیر کا نام تحریف اگر رکھیں گے تو کس منہ سے، ابن عباسؓ کی قرآن دانی پر بڑے مرزاقادیانی نے مہر توثیق ثبت کر دی ہے۔

۷… ’’عن ابن عباسؓ ان رہطاً من الیہود سبوہ… فدعا علیہم فمسخہم قردۃ وخنازیر فاجتمعت الیہود علی قتلہ فاخبرہ اللہ بانہ یرفعہ الی السماء ویطہرہ من صحبۃ الیہود‘‘ (رواہ النسائی)

’’حضرت ابن عباسؓ فرماتے ہیں کہ یہودیوں کے ایک گروہ نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو گالیاں دیں… پس آپ نے ان پر بددعا کی۔ پس وہ بندر اور سور بن گئے۔ پس یہود حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے قتل کے لئے جمع ہوگئے۔ اللہتعالیٰ نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو خبر دی کہ میں تمہیں آسمان پر اٹھاتا ہوں اور یہودیوں کی صحبت سے پاک کرتا ہوں۔‘‘ اس اثر کے روایت کرنے والے امام نسائی قادیانیوں کے مسلم امام ومجدد صدی سوئم ہیں۔ اس کی صداقت پر اعتراض کرنا صدی کے مجدد وامام کے فیصلہ سے انحراف کرنا ہے جو قادیانیوں کے نزدیک کفر ہے۔

۸… حضرت ابن عباسؓ فرماتے ہیں کہ: ’’حضرت عیسیٰ علیہ السلام نازل ہوکر شادی کریں گے اور صاحب اولاد ہوں گے۔ آپ کی شادی قوم شعیب میں ہوگی۔ جو حضرت موسیٰ علیہ السلام کے سسرال ہیں۔ ان کو بنی خرام کہتے ہیں۔‘‘

(رواہ ابونعیم فی کتاب الفتن)

عظمت روایت

…اس روایت کو قادیانیوں کے مسلم امام ومجدد صدی چہارم محدث ابونعیم نے درج کیا ہے۔ جس کا انکار قادیانیوں کو کفر تک لے جاتا ہے۔ لہٰذا وہ اس کی صحت سے انکار کرنے کی جرأت نہیں کر سکتے۔

۹… ’’عن ابن عباسؓ… ومد فی عمرہ (ای عمر عیسیٰ) حتی اہبط من السماء الی الارض ویقتل الدجال‘‘ (درمنثور ج۲ ص۳۵۰، تحت آیت ان تعذبہم فانہم عبادک)

’’حضرت ابن عباسؓ فرماتے ہیں… اور لمبی کی گئی حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی عمر یہاں تک کہ وہ اتارے جائیں گے آسمان سے زمین کی طرف اور قتل کریں گے دجال کو۔‘‘

عظمت روایت

…اس اثر کو امام جلال الدین سیوطیؒ نے اپنی تفسیر درمنثور میں بیان کیا ہے۔ امام جلال الدین کی عظمت شان کا انکار قادیانیوں کے نزدیک کفر کا اقرار ہے۔ کیونکہ وہ امام مجدد صدی نہم ہیں۔

200

۱۰… حضرت ابن عباسؓ فرماتے ہیں کہ: ’’جب وہ شخص جو مسیح علیہ السلام کو پکڑنے کے لئے گیا تھا۔ مکان کے اندر پہنچا تو خدا نے جبرائیل علیہ السلام کو بھیج کر مسیح علیہ السلام کو آسمان پر اٹھا لیا اور اس یہودی بدبخت کو مسیح کی شکل پر بنادیا۔ پس یہود نے اسی کو قتل کیا اور صلیب پر چڑھایا۔‘‘

یہ روایت (تفسیر معالم ج۱ ص۱۶۲) زیر آیت ’’مکروا ومکر اللہ‘‘ میں بھی ہے۔ جو قادیانیوں کے نزدیک معتبر ہے اور اس کو امام جلال الدین سیوطیؒ مجدد صدی نہم اور امام نسائی مجدد صدی سوئم اور ابن جریر قادیانیوں کے مسلم محدث ومفسر نے بھی روایت کیا ہے۔ پس اس کی صحت سے کسی قادیانی کو مجال انکار نہیں ہوسکتی۔ ’’تلک عشرۃ کاملۃ‘‘

نوٹ: مزید تفصیل آگے آئے گی۔

۵…حضرت ابوہریرہؓ کا عقیدہ

ناظرین! حضرت ابوہریرہؓ کی روایت کردہ احادیث نبوی اور تفسیر اس قدر مؤثر اور فیصلہ کن ہیں کہ قادیانی اصحاب، حضرت ابوہریرہؓ کا نام سنتے ہی حواس باختہ ہو جاتے ہیں۔ میں ان احادیث کو صفحات سابقہ پر ذکر کر آیا ہوں۔ مکرر ملاحظہ فرمایا جائے۔ حضرت ابوہریرہؓ سے چودہ روایات سیدنا مسیح کے نزول کی موجود ہیں۔

اس قدر احادیث کے بعد بھی اب اگر کوئی آدمی خود غرضی سے انکار کرتا ہے تو اس کا علاج ہمارے پاس نہیں ہے۔ حضرت ابوہریرہؓ للکار کر کہتے ہیں کہ رسول پاکﷺ نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو زندہ بجسدہ العنصری مانا ہے اور قرآن کی فلاں فلاں آیت ان کی زندگی کا اعلان کر رہی ہے۔ ہزارہا صحابہ کے سامنے احادیث اور آیات کلام اللہ سے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی حیات کا اعلان کرتے ہیں اور کسی صحابی سے ان کی روایات اور تفسیر کی مخالفت مروی نہیں۔ پس مرزاقادیانی کے مقرر کردہ طریق ثبوت اجماع کے مطابق صحابہ کا اجماع حیات عیسیٰ علیہ السلام پر ثابت ہوگیا۔

۶…حضرت عبد اللہ بن مسعودؓ کا عقیدہ

حضرت عبد اللہ بن مسعودؓ صحابی نے توحیات عیسیٰ علیہ السلام کے ثبوت میں کمال ہی کر دیا ہے۔ خود حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی اپنی زبانی انہیں کا دوبارہ آنا ثابت کیا ہے اور وہ بھی حدیث صحیح مرفوع سے۔ جیسا کہ روایت پہلے بیان ہوچکی ہے۔

حضرت عیسیٰ علیہ السلام اپنے نزول جسمانی کا رسول کریمﷺ کے سامنے اقرار کر رہے ہیں۔ پھر لطف یہ کہ سب ثبوت ہم قادیانی مسلمات سے دے رہے ہیں۔

201

۷…حضرت علیؓ کا عقیدہ

۱… حضرت علیؓ کی روایت کردہ سابقہ صفحات پر حدیث سے ان کا عقیدہ اظہر من الشمس ہے۔ ہزارہا لوگوں کے سامنے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی حیات جسمانی کا اعلان کر رہے ہیں۔ گویا ہزارہا صحابہ وتابعین ان کے ہم زبان ہوکر حیات عیسیٰ علیہ السلام کے عقیدہ پر جزم کے ساتھ قائم ہوچکے تھے۔

۲… حضرت امام حسن بصری کی تمام حدیثیں جو ’’قال رسول اللہﷺ‘‘ سے شروع ہوتی ہیں۔ وہ حضرت علیؓ سے مروی ہوتی ہیں۔ دیکھو چھ روایات پہلے درج ہوچکی ہیں۔ حضرت امام حسن بصری کی روایت کردہ حدیثوں سے حضرت علیؓ کا عقیدہ ظاہر ہے۔

۳… قادیانی مذہب کی شہرہ آفاق کتاب عسل مصفی میں حضرت علیؓ کا خطبہ درج ہے۔

’’حضرت علیؓ نے لوگوں کے سامنے خطبہ پڑھا… لوگوں سے آپ نے کہا کہ پیشتر اس کے کہ میں تم سے وداع ہوں۔ مجھ سے کچھ پوچھ لو… (دجال کے متعلق سوالات کے جواب میں فرمایا)… اللہتعالیٰ نے شام میں اس کو ایک ٹیلے پر جس کو افیق کہتے ہیں دن کی تین ساعت میں عیسیٰ ابن مریم کے ہاتھ سے قتل کرائے گا۔‘‘

(کنزالعمال ج۱۴ ص۶۱۴، حدیث نمبر۳۹۷۰۹، بحوالہ عسل مصفی ج۲ ص۲۷۳،۲۷۴)

یہ حدیث مرفوع کا حکم رکھتی ہے۔

۸…حضرت ابوالعالیہؓ کا عقیدہ

حضرت ابوالعالیہؓ کا عقیدہ بھی یہی تھا کہ قرب قیامت میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام نازل ہوں گے۔ حوالہ بیان ہوچکا ہے۔

۹…حضرت ابومالکؓ کا عقیدہ

ان کا عقیدہ بھی حیات عیسیٰ علیہ السلام میں مثل دیگر صحابہ کے تھا۔ حوالہ بیان ہوچکا ہے۔

۱۰…حضرت عکرمہؓ کا عقیدہ

یہ بزرگ صحابی بھی یہی عقیدہ رکھتے تھے کہ حضرت عیسیٰ ابن مریم کا دوبارہ نازل ہونا قیامت کے علامات میں سے ایک بڑی علامت ہے۔ روایت پہلے بیان کر دی۔

۱۱…حضرت عبد اللہ بن عمرو بن العاصؓ کا عقیدہ

حدیث نمبر۳، انہی سے مروی ہے۔ یہ صحابی پرزور اعلان فرمارہے ہیں کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام آسمان سے زمین کی طرف نزول فرمائیں گے اور پھر شادی کریں گے۔

202

پھر ان کے ہاں اولاد بھی ہوگی اور آخر فوت ہوکر مدینہ شریف میں حجرہ نبوی علی صاحبہا الصلوٰۃ میں دفن ہوں گے۔ مفصل دیکھئے سابقہ صفحات۔ صحابہ کرامؓ میں سے ہزارہا نے یہ حدیث سنی مگر سوائے تسلیم کے کسی کا انکار مروی نہیں۔ بلکہ خود مرزاقادیانی اس حدیث کو صحیح تسلیم کرتے ہیں۔ مفصل دیکھئے صفحات بالا میں۔

۱۲…حضرت عمرو بن العاصؓ کا عقیدہ

صحابہ کرامؓ میں سے بہت سے ایسے تھے کہ باپ بیٹا دونوں صحابی تھے۔ ایسے ہی لوگوں میں سے حضرت عمرو بن العاصؓ اور ان کے صاحبزادے حضرت عبد اللہ بن عمروؓ تھے۔ حضرت عبد اللہ بن عمروؓ کا عقیدہ اوپر مذکور ہوا۔ باپ کے عقیدہ کے خلاف وہ کس طرح ’’شرکیہ‘‘ عقیدہ کی جرأت کر سکتے ہیں۔ پس معلوم ہوا کہ حضرت عمرو بن العاصؓ کا عقیدہ بھی یہی تھا کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام زندہ ہیں۔ وہی اتریں گے۔ شادی کریں گے اولاد ہوگی اور رسول کریمﷺ کے حجرہ مبارکہ میں دفن ہوں گے۔

۱۳…حضرت عثمان بن ابی العاصؓ کا عقیدہ

قادیانی مسلمات کی رو سے صحیح حدیث ان کی روایت سے ہم بیان کر آئے ہیں۔ دوبارہ پڑھ کر لطف اٹھائیے اور سوچئے کہ کن کن طریقوں سے صحابہ کرامؓ نے حیات عیسیٰ علیہ السلام کے اسلامی عقیدہ کی حفاظت کا انتظام کیا۔ مگر پھر بھی مسیحیت کے شیدائی تاویلات رکیکہ سے ان کا رد کرنے بیٹھ جاتے ہیں۔ یہ صحابی مسجد کا واقعہ سنا رہے ہیں۔ گویا سینکڑوں صحابہ اور بھی شاہد تھے۔

۱۴…حضرت ابوالامامتہ الباہلیؓ کا عقیدہ

آپ رسول کریمﷺ کا خطبہ بیان فرماتے ہیں۔ یقینا ہزارہا صحابہ حاضر خدمت ہوں گے۔ ان سب کو آنحضرتﷺ نے فرمایا کہ صبح کی نماز کی امامت ہورہی ہوگی کہ اچانک عیسیٰ علیہ السلام نازل ہوں گے۔ تفصیل… ابن مریم سے مراد (مرزاقادیانی) لینے کی سعی کریں اور نزول سے مراد پیدائش لیں تو کیا اندریں صورت قادیانی ثابت کر سکیں گے کہ مرزاقادیانی عین تکبیر اقامت کے وقت ماں کے پیٹ سے باہر نکلے تھے؟ اور نکلتے ہی مسلمانوں کے امام نے انہیں اپنا امام بنانا چاہا؟ مگر مرزاقادیانی نے امامت سے انکار کر دیا؟ حدیث کی صحت اور عظمت ملاحظہ کریں۔ صفحات سابقہ پر بیان ہوچکی ہے۔

203

۱۵…حضرت ام المؤمنین عائشہ صدیقہؓ کا عقیدہ

۱… ہم قادیانی مسلمات کی رو سے ایک مرفوع حدیث حضرت عائشہ صدیقہؓ کی زبانی ذکر کر آئے ہیں۔ اس میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا نازل ہوکر ۴۰سال تک زمین میں زندہ رہنے کا اعلان ہے اور دجال کے قتل کا بھی ذکر ہے۔ پھر ان کی بادشاہت کا بھی ذکر ہے۔ مفصل!

۲… نیز ہم حضرت عائشہ صدیقہؓ سے ایک مرفوع حدیث مسلمہ قادیانی درج کر چکے ہیں۔ جس میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی زندگی پر ڈنکے کی چوٹ اعلان کیا جارہا ہے۔ حضرت عائشہ صدیقہؓ کا کسی حدیث کو بیان کرنا گویا تمام صحابہ کا عقیدہ بیان کرنا ہے۔ حضرت عائشہؓ کا باوجود حجرہ مبارکہ میں چوتھی قبر کی جگہ موجود ہونے کے اس میں اپنے دفن کئے جانے کے احکام نہ دینا اس بات کا بیّن ثبوت ہے کہ حسب الحکم رسول کریمﷺ وہ جگہ حضرت عائشہ صدیقہؓ نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے لئے چھوڑ دی تھی۔ جو نازل ہوکر فوت ہوں گے۔ اس خالی جگہ میں دفن ہوکر رسول کریمﷺ کی پیش گوئی پوری کریں گے۔

۱۶…ام المؤمنین حضرت صفیہؓ کا عقیدہ

حضرت شاہ عبدالعزیز صاحب محدث دہلویؒ قادیانیوں کے مسلم امام ومجدد صدی سیزدہم تفسیر عزیزی زیر تفسیر زیتون مندرجہ ذیل روایت لکھتے ہیں۔

’’ام المؤمنین حضرت صفیہؓ بیت المقدس کو تشریف لے گئیں اور مسجد اقصیٰ میں نماز پڑھ کر فارغ ہوئیں تو مسجد سے نکل کر طور زیتا پر تشریف لے گئیں اور وہاں بھی نماز پڑھی۔ پھر اس پہاڑ کے کنارے کھڑے ہوکر ارشاد فرمایا کہ یہ وہی پہاڑ ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام یہاں سے آسمان پر تشریف لے گئے تھے۔‘‘

(تفسیر عزیزی پارہ۳۰)

اس روایت میں حضرت صفیہؓ صاف صاف اعلان فرمارہی ہیں کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام بجسدہ العنصری آسمان پر اٹھائے گئے تھے۔ اب خیال کیجئے آپ ام المؤمنین تھیں۔ و اللہ اعلم کتنے سو صحابہ کرام ساتھ ہوں گے۔ جن کے سامنے آپ نے یہ اعلان فرمایا تھا گویا جو صحابہ وہاں موجود تھے۔ یہ عقیدہ ان سب کا جزو ایمان تھا۔

۱۷…حضرت حذیفہ بن اسیدؓ کا عقیدہ

حضرت حذیفہؓ نے رسول کریمﷺ کی زبانی کئی علامات قیامت بیان فرمائی ہیں۔ ہم اس حدیث کو بیان کر آئے ہیں۔ وہاں ملاحظہ کر لیا جائے۔

204

۱۸…حضرت ام شریک بنت ابی الفکر صحابیہؓ کا عقیدہ

ہم نے ایک حدیث مرفوع ابوامامتہ الباہلیؓ سے نقل کی ہے۔ اس ساری حدیث کو پڑھیں تو اس میں حضرت ام شریکؓ صحابیہ کا موجود ہونا مذکور ہے۔ بلکہ حدیث رسول اللہﷺ انہیں صحابیہ کے سوال کے جواب میں بیان کی گئی تھی۔ پس اس سے حضرت ام شریکؓ صحابیہ کا عقیدہ بھی معلوم ہوگیا۔

۱۹…حضرت انسؓ کا عقیدہ

ملاحظہ ہو جہاں انہوں نے ایک حدیث رسول کریمﷺ سے روایت کی ہے۔ جس میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا آسمان سے نازل ہونا صاف صاف مذکور ہے۔ بیان ہوچکی۔

۲۰…حضرت عبد اللہ بن سلامؓ کا عقیدہ

ان کا عقیدہ ایسے الفاظ میں بیان کیا ہے کہ اس سے بڑھ کر حیات عیسیٰ علیہ السلام کا ثبوت اور مشکل ہے۔ آپ فرماتے ہیں۔ عیسیٰ ابن مریم حضرت رسول کریمﷺ اور شیخین کے درمیان مدفون ہوں گے اور ان کی قبر چوتھی ہوگی۔

۲۱…حضرت مغیرہ ابن شعبہؓ کا عقیدہ

’’قال مغیرۃ ابن شعبہؓ انا کنا نحدث ان عیسیٰ علیہ السلام خارج فان ھو خرج فقد کان قبلہ وبعدہ‘‘

(درمنثور ج۵ ص۲۰۴، بحوالہ اخبار الفضل ج۱۰ نمبر۴۰ ص۹، مورخہ۲۰؍نومبر ۱۹۲۲ء)

یعنی ہم صحابہ آپس میں باتیں کیا کرتے تھے کہ عیسیٰ علیہ السلام تشریف لانے والے ہیں۔

ثبوت اجماع

حضرت مغیرہؓ تمام صحابہ کا عقیدہ بیان کر رہے ہیں اور اس وقت کے موجودہ صحابہ میں سے کسی نے مخالفت بھی نہیں کی۔ پس اجماع ثابت ہے۔

۲۲…حضرت سعد بن وقاص سپہ سالار اسلامیؓ کا عقیدہ

ہم رئیس المکاشفین ابن عربیؒ کے حوالہ سے ایک طویل واقعہ نقل کر آئے ہیں۔ جس میں حضرت نضلہ انصاری اور ان کے ساتھ ایک بڑی جماعت صحابہ نے زریب بن برتملا وصی عیسیٰ کی زیارت اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے نزول من السماء کا حال حضرت سعدؓ کا لکھا۔ انہوں نے اسے صحیح سمجھا۔ اگر ان کا عقیدہ حیات عیسیٰ علیہ السلام کا نہ ہوتا تو ضرور کہتے۔ ’’ارے نضلہ حیات عیسیٰ کا عقیدہ رکھنا تو شرک ہے۔ کیونکہ وہ مر چکے ہیں۔‘‘

205

مگر انہوں نے اسے قبول کر کے اور صحیح تسلیم کر کے سارا واقعہ حضرت عمرؓ کو لکھ بھیجا۔ ایسے عجیب واقعات کا چرچا بھی بہت ہوتا ہے۔ مدینہ شریف میں ہزارہا صحابہ نے اس کو سن کر اس کی تصدیق کی۔ کیا قادیانیوں کے لئے حضرت عمرؓ کی تصدیق کافی نہیں۔ حضرت عمرؓ نے یہ واقعہ پڑھا تو انکار نہیں کیا۔ بلکہ تصدیق کی۔ اب ہم حضرت عمرؓ کی عظمت بیان کر کے فیصلہ ناظرین کی طبع رسا پر چھوڑتے ہیں۔

قول مرزا… ’’حضرت عمرؓ خلیفہ رسول اللہﷺ اور رئیس الثقات ہیں۔‘‘

(ازالہ اوہام ص۵۳۰، خزائن ج۳ ص۳۸۵)

قول مرزا… ’’حضرت عمرؓ آنحضرتﷺ کے بروز اور ظل ہیں۔ گویا کہ حضرت عمر بعینہ حضرت محمدﷺ ہیں۔‘‘

(ایام الصلح ص۳۵، خزائن ج۱۴ ص۲۶۵)

ایسی بزرگ ہستی کی تصدیق کے بعد جو شخص صحابہ کے عقیدہ حیات عیسیٰ علیہ السلام کو قبول نہ کرے۔ اس سے پھر خدا سمجھے۔

۲۳…حضرت نضلہ انصاریؓ کا عقیدہ

مذکورہ بالا واقعہ جوتفصیل کے ساتھ پہلے درج ہے۔ حضرت نضلہ انصاری اور ایک کثیر جماعت صحابہ کا چشم دید واقعہ ہے اور مشاہدہ ہے۔ انہوں نے حضرت سعد بن وقاصؓ اسلامی سپہ سالار کو لکھا۔ انہوں نے حضرت عمرؓ کو۔ انہوں نے تصدیق کی۔

اجماع صحابہ کی آخری ضرب

ہم ۲۲صحابہ کرامؓ اور ان کی وساطت سے دیگر ہزارہا صحابہؓ کرامؓ کا عقیدہ بیان کر چکے ہیں۔ اس موقعہ پر ہم ناظرین کی توجہ قادیانی کے طرز استدلال کی طرف منعطف کراتے ہیں اور اسلامی استدلال سے اس کا مقابلہ کرنا چاہتے ہیں۔

پہلے ہم مرزاقادیانی کا ایک قول نقل کر آئے ہیں۔ محض ایک روایت سے جو صحابی نے اپنے اجتہاد سے بیان کی۔ مرزاقادیانی نے صحابہ کا اجماع ثابت کر لیا۔ ہم ہزارہا صحابہ نہ سہی۔ تو کم از کم ۲۳صحابہ کی شہادت پیش کر کے اجماع کا دعویٰ کریں تو قادیانی قبول نہ کریں۔ اسی کو کہتے ہیں۔ ’’میٹھا میٹھا ہڑپ اورکڑوا کڑوا تھو۔‘‘

پھر جو شخص امام ابن حزم پر افتراء کر کے محض ان کے نام سے اکابر امت کا اجماع ثابت کر سکتا ہے۔ اس کو کس طرح جرأت ہوسکتی ہے کہ ہزارہا صحابہ کے عقیدۂ حیات عیسیٰ علیہ السلام رکھنے کے بعد بھی دو اور دو پانچ ہی کی رٹ لگاتا جائے اور محض افتراء کے طور پر وفات عیسیٰ علیہ السلام پر اجماع صحابہ کا دعویٰ کر کے کم علم عوام الناس کو دھوکا دیتا رہے۔

206

باب پنجم

حیات عیسیٰ علیہ السلام کا ثبوت

از اقوال

مجددین امت ومفسرین اسلام مسلمہ قادیانی جماعت

قارئین کرام! ضروری معلوم ہوتا ہے۔ مجددین امت محمدیہ اور مفسرین اسلام کی اہمیت وعظمت مرزاقادیانی کے اپنے الفاظ میں پیش کر کے ان بزرگان دین کے ا قوال کا حجت ہونا الزامی طور پر ثابت کر دوں۔

۱… تیرہ صد سال کے مجددین امت کی مکمل فہرست تو (عسل مصفی ج۱ ص۱۶۳،۱۶۵) پر درج ہے۔ یہ کتاب قادیانی جماعت کی مایہ ناز کتاب ہے۔ مرزاقادیانی، مرزامحمود احمد قادیانی اور مولوی محمد علی قادیانی لاہوری اور دیگر اکابر مرزائی اصحاب کی مصدقہ ہے۔ مختصر سی فہرست مجددین ہم نے کتاب ہذا کے ابتدائی صفحات پر درج کر دی ہے۔

۲… ان مجددین امت محمدیہ کی عظمت اور علومرتبت کا حال مرزاقادیانی کے اپنے الفاظ میں کتاب ہذا کے ابتداء میں ضرور ملاحظہ فرمائیں۔

۳… ’’خداتعالیٰ نے وعدہ فرمایا ہے کہ ہر ایک صدی کے سر پر وہ ایسے شخص کو مبعوث کرے گا جو دین کو تازہ کرے گا اور اس کی کمزوریوں کو دور کر کے پھر اپنی اصلی طاقت پر اسے لے آئے گا۔‘‘

(آئینہ کمالات اسلام ص۳۴۰، خزائن ج۵ ص ایضاً)

۴… ’’ہر صدی کے سر پر جب کبھی کوئی بندہ خدا اصلاح کے لئے کھڑا ہوا۔ جاہل لوگ اس کا مقابلہ کرتے رہے۔‘‘

(لیکچر سیالکوٹ ص۱، خزائن ج۲۰ ص۲۰۳)

۵… ’’بعض جاہل کہا کرتے ہیں کہ کیا ہم پر اولیاء کا ماننا فرض ہے۔ سو اللہتعالیٰ فرماتا ہے بے شک فرض ہے اور ان سے مخالفت کرنے والے فاسق ہیں۔ اگر مخالفت پر ہی مریں۔‘‘

(شہادۃ القرآن ص۴۳، خزائن ج۶ ص۳۳۹)

۶… ’’ہم کب کہتے ہیں کہ مجدد اور محدث دنیا میں آکر دین میں سے کچھ کم کرتے ہیں۔ یا زیادہ کرتے ہیں۔ بلکہ ہمارا تو یہ قول ہے کہ ایک زمانہ گزرنے کے بعد جب پاک

207

تعلیم پر خیالات فاسدہ کا ایک غبار پڑ جاتا ہے اور حق خالص کا چہرہ چھپ جاتا ہے۔ تب اس خوبصورت چہرہ کو دکھلانے کے لئے مجدد اور محدث اور روحانی خلیفے آتے ہیں۔ مجدد لوگ دین کی چمک اور روشنی دکھانے کو آتے ہیں۔ مجددوں اور روحانی خلیفوں کی اس امت میں ایسے ہی طور سے ضرورت ہے۔ جیسا کہ قدیم سے انبیاء کی ضرورت پیش آتی رہی ہے۔‘‘

(شہادۃ القرآن ص۴۴، خزائن ج۶ ص۳۴۰)

۷… ’’امام الزمان بذریعہ الہامات کے خداتعالیٰ سے علوم وحقائق ومعارف پاتا ہے اور اس کے الہامات دوسروں پر قیاس نہیں ہوسکتے… خداتعالیٰ ان سے نہایت صفائی کے ساتھ مکالمہ کرتا ہے اور ان کی دعا کا جواب دیتا ہے اور بسا اوقات سوال وجواب کا ایک سلسلہ منعقد ہوکر ایک ہی وقت میں سوال کے بعد جواب اور پھر سوال کے بعد جواب ایسے صفا اور لذیذ اور فصیح الہام کے پیرایہ میں شروع ہوتا ہے کہ صاحب الہام خیال کرتا ہے کہ گویا وہ خداتعالیٰ کو دیکھ رہا ہے… امام الزمان غیب کو ہر ایک پہلو سے اپنے قبضہ میں کر لیتے ہیں۔ جیسا کہ چابک سوار گھوڑے کو قبضہ میں کر لیتا ہے۔ یہ قوت وانکشاف اس لئے ان کے الہام کو دیا جاتا ہے تاکہ ان کے پاک الہام شیطانی الہامات سے مشتبہ نہ ہوں اور تاکہ دوسروں پر حجت ہوسکیں۔‘‘

(ضرورت الامام ص۱۲،۱۳، خزائن ج۱۳ ص۴۸۳)

۸… ’’امام الزمان حامی اسلام کہلاتا ہے اور اس باغ کا خداتعالیٰ کی طرف سے باغبان ٹھہرایا جاتا ہے اوراس پر فرض ہوتا ہے کہ ہر ایک اعتراض کو دور کرے اور ہر ایک معترض کا منہ بند کرائے اور صرف یہ ہی نہیں بلکہ یہ بھی اس کا فرض ہے کہ نہ صرف اعتراضات دور کرے بلکہ اسلام کی خوبی اور خوبصورتی بھی دنیا پر ظاہر کرے۔ ایسے شخص نہایت قابل تعظیم اور کبریت احمر کا حکم رکھتا ہے۔ کیونکہ اس کے وجود سے اسلام کی زندگی ظاہر ہوتی ہے اور وہ اسلام کا فخر اور تمام بندوں پر خداتعالیٰ کی حجت ہوتا ہے اور کسی کے لئے جائز نہیں ہوتا کہ اس سے جدائی اختیار کرے۔ کیونکہ وہ خداتعالیٰ کے ارادہ اور اذن سے اسلام کی عزت کا مربی اور تمام مسلمانوں کا ہمدرد اور کمالات دینیہ پر دائرہ کی طرح محیط ہوتا ہے۔ ہر ایک اسلام اور کفر کی کشتی گاہ میں وہی کام آتا ہے اور اسی کے انفاس طیبہ کفر کش ہوتے ہیں۔ وہ بطور کل کے اور باقی سب اس کے جزو ہوتے ہیں۔‘‘

  1. اور چوکل و تو چو جزئی نے کلی

    تو ہلاک استی اگر ازوے بگسلی

(ضرورت الامام ص۱۰، خزائن ج۱۳ ص۴۸۱)

208

نوٹ: مرزاقادیانی فرماتے ہیں۔ ’’یاد رہے کہ امام الزمان کے لفظ میں نبی، رسول، مجدد، محدث، سب داخل ہیں۔‘‘

(ضرورت الامام ص۲۴، خزائن ج۱۳ ص۴۹۵)

۹… ’’جو بزرگ خداتعالیٰ سے الہام پاتے ہیں۔ وہ بغیر بلائے نہیں بولتے اور بغیر فرمائے کوئی دعویٰ نہیں کرتے اور اپنی طرف سے کسی قسم کی دلیری نہیں کر سکتے۔‘‘

(ازالہ اوہام ص۱۹۸، خزائن ج۳ ص۱۹۷)

۱۰… ’’ہمارے نبیﷺ نے امام الزمان کی ضرورت ہر ایک صدی کے لئے قائم کی ہے اور صاف فرمادیا ہے کہ جو شخص اس حالت میں خداتعالیٰ کی طرف آئے گا کہ اس نے اپنے زمانہ کے امام کو شناخت نہ کیا۔ وہ اندھا آئے گا اور جاہلیت کی موت مرے گا۔‘‘ تلک عشرۃ کاملۃ!

(ضرورت الامام ص۴، خزائن ج۱۳ ص۴۷۴)

قارئین عظام! آپ امام الزمان یعنی مجدد وقت کی عظمت واہمیت مرزاقادیانی کے اپنے اقوال سے ملاحظہ کر چکے ہیں۔ اب ہم آپ کی خدمت میں ہر صدی کے آئمہ (اماموں) کے اقوال درج کرتے ہیں تاکہ قادیانی کے دعویٰ کی حقیقت الم نشرح ہو جائے۔

نوٹ: میں صرف انہیں امامان زمان کے اقوال درج کروں گا۔ جن کو قادیانی سچے امام تسلیم کر چکے ہیں۔ ثبوت ساتھ ساتھ ملاحظہ کرتے جائیں۔

امام احمد بن حنبلؒ مجدد وامام الزمان صدی دوم کا عقیدہ

۱… ہم نے امام احمدؒ کی روایت سے ایک حدیث بیان کی ہے۔ جس میں انبیاء علیہم السلام کے سامنے حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے آسمان پر معراج کی رات صاف صاف اعلان کیا کہ وہ قرب قیامت میں نازل ہوکر دجال کو قتل کریں گے۔

۲… ہم امام احمد بن حنبل کی روایت سے ایک مرفوع حدیث نقل کر آئے ہیں۔ جس میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے نزول کی کیفیت مفصل درج ہے۔

۳… امام احمد مجدد صدی دوم کی روایت سے حضرت عائشہؓ صدیقہ کی مرفوع حدیث بیان کر آئے ہیں۔ جس میں حضرت عائشہؓ صدیقہ رسول کریمﷺ کے پہلو میں دفن کئے جانے کی اجازت طلب کرتی ہیں۔ مگر آنحضرتﷺ نے فرمایا کہ حجرہ مبارک میں صرف حضرت صدیق اکبرؓ، حضرت عمرؓ اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام ابن مریم کے لئے ہی جگہ ہے۔ اگر حضرت عیسیٰ علیہ السلام ابن مریم زندہ نہیں تو قبر کے لئے جگہ رکھنے کے کیا معنی ہوسکتے ہیں؟

۴… ایک حدیث کو امام موصوف نے روایت کیا ہے۔ جس میں حضرت عمرؓ نے ابن صیاد

209

کو دجال معہود سمجھ کر آنحضرتﷺ سے اس کے قتل کی اجازت چاہی۔ مگر آپؐ نے اجازت نہیں دی اور عدم اجازت کی وجہ یہ بیان فرمائی کہ دجال معہود کا قاتل حضرت عیسیٰ ابن مریم ہے۔ تم اسے قتل نہیں کر سکتے اور اگر تم ابن صیاد کو قتل کردو تو وہ دجال معہود نہیں ہوگا۔

۵… امام احمدؒ کی ایک روایت کردہ حدیث درج ہے جو انہوں نے اپنی مسند میں کئی بار درج کی ہے۔ اس میں حضرت عیسیٰ ابن مریم کا نزول جسمانی صاف صاف مذکور ہے۔

۶… امام ممدوح نے ایک حدیث روایت کی ہے۔ جس میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے نزول من السماء کا اقرار خود حضرت رسول کریمﷺ کی زبانی مذکور ہے۔

۷… اسی طرح اس میں حضرت عیسیٰ ابن مریم علیہ السلام کی جسمانی زندگی کا اقرار موجود ہے۔

۸… ان کی روایت سے ایک حدیث میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا نزول جسمانی مروی ہے۔

۹… امام احمدؒ اپنی مسند میں حضرت ابن عباسؓ سے روایت فرماتے ہیں۔ ’’قال ابن عباسؓ لقد علمت آیۃ من القرآن… وانہ لعلم للساعۃ قال ہو خروج عیسیٰ ابن مریم علیہ السلام قبل یوم القیامۃ‘‘ (مسند احمد ج۱ ص۳۱۸)

’’یعنی فرمایا حضرت ابن عباسؓ نے ’’انہ لعلم للساعۃ‘‘ کے معنی ہیں کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا نزول قیامت کے قرب کا نشان ہوگا۔‘‘

۱۰… امام احمدؒ نے اور بھی بیسیوں حدیثوں سے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی حیات ثابت کی ہے۔ جسے دیکھنا ہو۔ مسند احمد اٹھا کر ملاحظہ کر لیں۔ ’’تلک عشرۃ کاملۃ‘‘

ناظرین! قادیانی کی بیان کردہ عظمت واہمیت مجدد زمان کو سامنے رکھ کر دوسری صدی کے مجدد اعظم کا فیصلہ کس قدر اہم ہے؟ ظاہر ہے کہ جج کی عظمت شان کے ساتھ اس کے فیصلہ کی عظمت شان بڑھ جاتی ہے۔

۲…امام اعظم ابوحنیفہ نعمان بن ثابتؒ کا عقیدہ

عظمت شان

۱… مسلمانان عالم حضرت امام کے مرتبہ کے قائل ہیں۔ کیوں نہ ہوں جب کہ آپ کے شاگردوں کے شاگرد یعنی امام محمد ادریس الشافیؓ اور آپ کے مقلدین میں سے بیسیوں حضرات مجدد اور امام الزمان کے درجہ پر پہنچ گئے تو ان کے امام اور استاد کا درجہ کس قدر بلند ہوگا۔

۲… لیجئے! ہم مرزاقادیانی کے اپنے الفاظ میں حضرت امام الائمہؓ کی عظمت شان کا پتہ دیتے ہیں۔ مرزاقادیانی کہتا ہے۔

210

’’اصل حقیقت یہ ہے کہ امام صاحب موصوف اپنی قوت اجتہادی اور اپنے علم اور درایت اور فہم وفراست میں آئمہ ثلاثہ باقیہ سے افضل واعلیٰ تھے اور ان کی قوت فیصلہ ایسی بڑھی ہوئی تھی کہ وہ ثبوت وعدم ثبوت میں بخوبی فرق کرنا جانتے تھے اور ان کی قوت مدرکہ کو قرآن شریف سمجھنے میں ایک خاص دست گاہ تھی اور ان کی فطرت کو کلام الٰہی سے ایک نسبت تھی اور عرفان کے اعلیٰ درجہ پہنچ چکے تھے۔ اسی وجہ سے اجتہاد اور استنباط میں ان کے لئے وہ درجہ علیا مسلم تھا۔ جس تک پہنچنے سے سب لوگ قاصر تھے۔ امام موصوف بہت زیرک اور ربانی امام تھے۔‘‘

(ازالہ اوہام ص۵۳۰،۵۳۱، خزائن ج۳ ص۳۸۵)

دیکھا حضرات! مرزاقادیانی ہمارے دعویٰ کی تصدیق کن پر زور الفاظ میں کر رہے ہیں۔ صاف صاف لکھ رہے ہیں کہ امام موصوف ربانی امام تھے اور باقی سب آئمہ سے افضل تھے۔ باقی آئمہ میں سے امام شافعی اور امام احمد رحمہما اللہ کو تو قادیانیوں نے امام الزمان اور مجدد تسلیم کر لیا ہے۔ امام اعظمؓ کی عظمت شان کو دل میں جگہ دے کر اب ان کا فیصلہ بھی سنئے۔ اپنی شہرہ آفاق تصنیف فقہ اکبر میں فرماتے ہیں۔

’’خروج الدجال ویاجوج وماجوج وطلوع الشمس من مغربہا ونزول عیسیٰ علیہ السلام من السماء وسائر علامات یوم القیامۃ علی ماوردت بہ الاخبار الصحیحۃ حق کائن‘‘ (الفقہ الاکبر ص۸،۹)

’’دجال اور یاجوج ماجوج کا نکلنا، سورج کا اپنے مغرب سے نکلنا اور عیسیٰ علیہ السلام کا آسمان سے اترنا اور دیگر علامات قیامت جیسا کہ احادیث صحیحہ وآثار صحابہ میں آچکی ہیں۔ وہ سب کی سب حق ہیں اور واقع ہونے والی ہیں۔‘‘

خیال کیجئے کن الفاظ میں حضرت امام الائمہؒ نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے آسمان سے اترنے کا فیصلہ کر دیا ہے۔

۳…امام مالکؒ کا عقیدہ دربارہ حیات عیسیٰ علیہ السلام

۱… ’’وفی العتبیۃ قال مالک بینما الناس قیام یستصفون لاقامۃ الصلوٰۃ فتغشاہم غمامۃ فاذا عیسیٰ قد نزل‘‘ (مکمل اکمال الاکمال شرح مسلم ج۱ ص۴۴۶، باب نزول عیسیٰ ابن مریم علیہ السلام) ’’امام مالکؓ فرماتے ہیں کہ لوگ نماز کی اقامت کو سن رہے ہوںگے۔ بس ان پر ایک بادل سایہ کر لے گا اور اچانک عیسیٰ علیہ السلام نازل ہو جائیں گے۔‘‘ اس عبارت میں کس صفائی کے ساتھ حضرت امام مالکؓ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا نزول جسمانی ثابت کر رہے ہیں۔ اگر مراد اس نزول سے بروزی نزول لی جائے تو معنی اس کے یہ ہوں گے کہ کوئی

211

شخص مثیل حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا (موافق دعویٰ قادیانی) ماںکے پیٹ سے اس وقت نازل ہوں گے جب کہ لوگ نماز کے لئے تیاری کر رہے ہوں گے اور بادل نے سایہ کیا ہوگا۔ حضرات کیا مضحکہ خیز تاویل ہے۔ ایسی واہیات تاویلات سے خدا کی پناہ۔

۲… مشہور ہے کہ: ’’الولد سرلابیہ‘‘ یعنی اولاد باپ کے لئے بھید ہوتا ہے۔ نیز یہ ایک مسلم اصول ہے۔ ’’درخت اپنے پھل سے پہچانا جاتا ہے۔‘‘

امام مالکؓ کا عقیدہ یقینا وہی ہوگا جو علماء مالکیہ رحمہما اللہ نے اپنی کتابوں میں درج کیا ہے۔ ٹھیک اسی طرح جس طرح مرزابشیرالدین محمود اپنے باپ کا قائم مقام ہے۔ اسی طرح شاگرد اپنے استاد ہی سے نقل کرتا ہے۔ ہم یہاں علماء مالکیہ کے اقوال نقل کر کے امام مالکؓ کے عقیدہ حیات مسیح علیہ السلام پر مہر تصدیق ثبت کرتے ہیں۔

قول علامہ زرقانی مالکی

شرح مواہب قسطلانی میں بڑی بسط سے لکھتے ہیں: ’’فاذا نزل عیسیٰ علیہ السلام فانہ یحکم بشریعۃ نبیناﷺ بالہام اواطلاع علی الروح المحمدی اوبمشاء اللہ من استنباط لہ من الکتاب والسنۃ… فہو علیہ السلام وان کان خلیفۃ فی الامۃ المحمدیۃ فہو رسول ونبی کریم علی حالہ لا کما یظن بعض الناس انہ یأتی واحد من ہذہ الامۃ بدون نبوۃ ورسالۃ انہما لا یزولان بالموت کما تقدم فکیف بمن ھو حی نعم ہو واحد من ہذہ الامۃ مع بقائہ علیٰ نبوۃ ورسالۃ‘‘

(شرح مواہب اللدنیہ ج۵ ص۳۴۷)

’’جب عیسیٰ علیہ السلام نازل ہوں گے تو وہ رسول کریمﷺ کی شریعت کے مطابق حکم دیں گے۔ الہام کی مدد سے یا روح محمدی کی وساطت سے یا اور جس طرح اللہ چاہے گا مثلاً کتاب اور سنت سے اجتہاد کر کے… پس اگرچہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام امت محمدی کے خلیفہ ہوں گے۔ مگر وہ اپنی نبوت ورسالت پر بھی قائم رہیں گے اور اس طرح نہیں ہوگا۔ جیسا کہ بعضے کہتے ہیں کہ وہ نبوت اور رسالت سے الگ ہوکر محض ایک امتی کی حیثیت سے ہوں گے۔ کیونکہ نبوت ورسالت تو موت کے بعد نبی ورسول سے الگ نہیں ہوتیں۔ پس اس شخص (حضرت عیسیٰ علیہ السلام) سے کیسے الگ ہوسکتی ہیں۔ جو ابھی تک زندہ ہے۔ ہاں وہ امتی ہوگا۔ مگر اس کی نبوت ورسالت بھی اس کے ساتھ ہی رہے گی۔‘‘ یہ عبارت امام مالک کے مذہب کو کس بلند اور صریح آواز سے بیان کر رہی ہے۔ بروز وروز کے پرخچے اڑا رہی ہے۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے لئے حیی کا لفظ

212

استعمال کر کے قادیانیوں کی زبان بندی کا اعلان کر رہی ہے۔ مزید حاشیہ کی ضرورت نہیں ہے اور عاقل کے لئے تو اشارہ بھی کافی ہوتا ہے۔ یہاں تو صریح اعلان ہے۔ حیات ونزول عیسیٰ علیہ السلام کا۔

قادیانی دھوکہ اور اس کا علاج

مرزاقادیانی لکھتے ہیں:

۱… ’’امام مالکؓ نے کھلے کھلے طور پر بیان کر دیا کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام فوت ہوگئے۔‘‘

(ایام الصلح ص۱۳۶،۱۳۷، خزائن ج۱۴ ص۳۸۱)

۲… ’’امام ابن حزم اور امام مالکؓ بھی موت عیسیٰ علیہ السلام کے قائل ہیں اور ان کا قائل ہونا گویا امت کے تمام اکابر کا قائل ہونا ہے۔ کیونکہ اس زمانہ کے اکابر علماء سے مخالفت منقول نہیں اور اگر مخالفت کرتے تو البتہ کسی کتاب میں اس کا ذکر ہوتا۔‘‘

(ایام الصلح ص۳۹، خزائن ج۱۴ ص۲۶۹)

۳… یہی مضمون مرزاقادیانی نے اپنی کتاب (عربی مکتوب ص۱۳۲، کتاب البریہ ص۲۰۳، خزائن ج۱۳ ص۲۲۱) میں لکھتا ہے۔ اس کا جواب اور اس دھوکہ دہی کا تجزیہ درج ذیل ہے۔

۱… امام مالکؓ کا عقیدہ اوپر مذکور ہوا اور باقاعدہ ان کے مذہب کی کتابوں کے حوالوں سے ہوا۔ مرزاقادیانی کا یہ بیان بغیر حوالہ کے کس طرح منظور کر لیا جائے۔

۲… ہم مرزاقادیانی کی خاطر خود وہ حوالہ نقل کرتے ہیں۔ مرزاقادیانی نے حوالہ یقینا اس واسطے نقل نہیں کیا کہ شاید کوئی خدا کا بندہ کتاب کو حوالہ کے مطابق کھول کر پڑھے تو راز طشت ازبام ہوکر الٹا ذلت کا باعث نہ بنے۔ مگر ہم تو اسی راز کے طشت ازبام کرنے کے لئے میدان میں نکلے ہیں۔ یہ حوالہ مرزاقادیانی نے مجمع البحار سے نقل کیا ہے۔ وہاں امام محمد طاہر مجدد صدی دہم نے یہ قول نقل کیا ہے۔مگر مرزاقادیانی نے اپنی خود غرضی اور دجل وفریب سے اگلی عبارت نقل نہیں کی۔ امام موصوف فرماتے ہیں۔ ’’قالت مالک مات لعلہ اراد رفعہ علی السماء… ویجییٔ آخر الزمان لتواتر خبر النزول‘‘

(مجمع البحار ج۱ ص۵۳۴، بلفظ حکم مصنفہ امام محمدطاہر گجراتی مجدد صدی دہم)

’’یعنی مالکؓ کا قول ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام سو گئے۔ کیونکہ اللہتعالیٰ نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو آسمان پراٹھانے کا ارادہ کر لیا۔ (جاگتے ہوئے اوپر کی طرف پرواز کرنا اور کروڑہا میل کا پرواز کرنا طبعاً وحشت کا باعث ہوتا ہے)… اور حضرت

213

عیسیٰ علیہ السلام آخری زمانہ میں نازل ہوں گے۔ کیونکہ ان کے نزول کی خبر احادیث متواترہ سے ثابت ہے۔‘‘

نوٹ: ’’مات‘‘ کے معنی ’’مرگئے‘‘ کرنا اور انہی معنوں میں حصر کرنا قادیانی کی کمال چالاکی ہے۔ اس کے معنی ’’نام‘‘ یعنی سوگیا بھی ہیں۔ چنانچہ خود مرزاقادیانی لکھتے ہیں۔

۱… ’’مات‘‘ کے معنی لغت میں نام کے بھی ہیں۔ دیکھو قاموس۔

(ازالہ اوہام ص۶۴۰، خزائن ج۳ ص۴۴۵)

۲… ’’ہواء ہوس سے مرنا بھی ایک قسم کی موت ہے۔‘‘

(ازالہ اوہام ص۶۴۰، خزائن ج۳ ص۴۴۵)

۳… ’’اماتت کے حقیقی معنی صرف مارنا اور موت دینا نہیں بلکہ سلانا اور بیہوش کرنا بھی اس میں داخل ہے۔‘‘

(ازالہ اوہام ص۹۴۳، خزائن ج۳ ص۶۲۱)

۴… ’’لغت کی رو سے موت کے معنی نیند اور ہر قسم کی بے ہوشی بھی ہے۔‘‘

(ازالہ اوہام ص۹۴۲، خزائن ج۳ ص۶۲۰)

۵… ’’لغت میں موت بمعنی نوم اور غشی بھی آتا ہے۔ دیکھو قاموس‘‘

(ازالہ اوہام ص۶۶۵، خزائن ج۳ ص۴۵۹)

اندریں صورت مرزاقادیانی کا کیا حق ہے کہ جہاں کہیں موت یا مات یا امات کا لفظ آجائے تو اس کے معنوں کو صرف مارنا یا مرنا ہی میں حصر کر دے۔ پھر ممکن ہے کہ بعض نے اس نیند ہی کو موت کی حالت سمجھ کر عارضی موت کا اقرار کر لیا ہو۔ ہماری بحث تو صرف یہ ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام زندہ بجسدہ النعصری آسمان پر موجود ہیں اور وہی عیسیٰ علیہ السلام دوبارہ آسمان سے نزول فرما کر امت محمدی میں رسول کریمﷺ کے خلیفہ کی حیثیت سے کام کریں گے اور اسی پر امت کا اجماع ہے۔

۴…امام محمد بن ادریس شافعیؒ

۱… امام شافعیؒ، امام مالکؒ اور امام محمدؒ کے شاگرد تھے اور امام محمد، امام ابوحنیفہ کے شاگرد تھے۔ اگر امام شافعی کو حیات مسیح علیہ السلام میں آئمہ ثلاثہ سے اختلاف ہوتا تو ضرور اس کا اظہار کرتے۔ پس انہوں نے اس بارہ میں اپنی خموشی سے۔ ’’سکوتی اجماع‘‘ پر مہر تصدیق ثبت کر دی۔

نوٹ: ’’سکوتی اجماع‘‘ کی حقیقت بیان ہوچکی۔ دیکھئے!

۲… نیز امام شافعی کے مذہب کے تمام مجددین مثل امام جلال الدین سیوطیؒ وغیرہ حیات

214

عیسیٰ علیہ السلام کی تصریح کر رہے ہیں۔ جیسا کہ آگے آتا ہے۔

۵…امام حسن بصری رئیس المجددین وسرتاج الاولیاءؓ

امام حسن بصریؒ کا رتبہ:

۱… دنیائے اسلام میں صوفیائے کرام کے سلسلہ کے سرتاج مسلم ہیں۔

۲… بیسیوں مجددین امت کو ان کی غلامی کا فخر حاصل ہے۔

۳… امام موصوف ابن عباسؓ کے ارشد تلامذہ میں سے تھے۔

(عسل مصفی ج۱ ص۹۱،۹۲)

اب امام موصوف کا عقیدہ ملاحظہ کیجئے

۱… ’’قال ابن جریر… عن الحسن وان من اہل الکتاب الا لیؤمنن بہ قبل موت عیسیٰ و اللہ انہ لحی الان عند اللہ ولکن اذا نزل اٰمنوا بہ اجمعون‘‘

(تفسیر ابن کثیر ج۱ ص۵۷۶)

’’امام ابن جریر (قادیانیوں کے مسلم امام ومحدث ومفسر فرماتے ہیں کہ) امام حسن بصری نے فرمایا کہ سب اہل کتاب حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی موت سے پہلے پہلے ایمان لے آئیں گے۔ خدا کی قسم وہ آسمان پر اب تک زندہ موجود ہیں اور جب وہ نازل ہوں گے تو سب اہل کتاب ان پر ایمان لے آئیں گے۔‘‘

غور کیجئے! چھٹی صدی کے مجدد وامام مسلمہ قادیانی قادیانیوں کے مسلمہ مفسر وامام کی روایت سے امام المکاشفین کا قول قسمیہ پیش کرتے ہیں۔ جس میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی حیات کا صاف صاف اعلان ہے۔ قسمیہ اعلان میں تاویل جائز نہیں۔

لطف پر لطف یہ کہ امام موصوف کی اس قسمیہ تصریح کو حافظ ابن حجر عسقلانیؒ امام ومجدد صدی ہشتم مسلمہ قادیانی نے بھی فتح الباری میں بڑے زور کے ساتھ بیان کیا ہے۔

۲… امام موصوف نے ایک صحیح حدیث رسول پاکﷺ کی روایت کی ہے۔ جس میں رسول پاکﷺ کا ارشاد ہے۔’’ان عیسیٰ لم یمت‘‘ یعنی عیسیٰ علیہ السلام فوت نہیں ہوئے۔ ’’وانہ راجع الیکم قبل یوم القیامۃ‘‘

(تفسیر ابن کثیر ج۱ ص۳۶۶)

اور وہی تمہاری طرف دوبارہ واپس آئیں گے قیامت سے پہلے۔ مفصل بحث اس حدیث کی پہلے مذکور ہے۔ وہاں ملاحظہ کر لی جائے۔

۳… ’’اخرج ابن جریر عن الحسنؓ وانہ لعلم للساعۃ قال نزول عیسیٰ‘‘ امام ابن جریر نے امام حسن بصری سے روایت کی ہے کہ ’’وانہ لعلم للساعۃ‘‘ سے مراد حضرت

215

عیسیٰ علیہ السلام کا نازل ہونا ہے۔

(درمنثور ج۶ ص۲۰)

ناظرین! یہاں بھی خیال فرمائیے۔ امام جلال الدین سیوطیؒ جیسے مجدد مسلم قادیانی انہیں کے مسلم محدث ومفسر کی روایت سے امام حسن بصری کا عقیدہ نزول عیسیٰ ابن مریم بیان فرمارہے ہیں۔ اگر اب بھی قادیانی اپنی ضد پر ڈٹے رہیں تو سوائے ’’ان اللہ‘‘ کے اور کیا کہا جائے۔

۶…قادیانیوں کے مسلم امام ومجدد صدی سوئم امام نسائیؒ کا عقیدہ

۱… پہلے ہم نے امام نسائی کی روایت درج ہے۔ ملاحظہ کی جائے۔

۲… پہلے ہم نے امام نسائی کی دوسری روایت جو ابن عباسؓ سے مروی ہے نقل کی ہے۔ جو حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے رفع جسمانی علی السماء پر بڑے زور سے اعلان کر رہی ہے۔

۷…امام محمد بن اسماعیل بخاریؒ کا عقیدہ

امام بخاریؒ کی عظمت شان از اقوال مرزا:

۱… ’’امام بخاری کی کتاب ’’بخاری شریف‘‘ اصح الکتاب بعد کتاب اللہ ہے۔ یعنی قرآن شریف کے بعد اس کا درجہ ہے۔‘‘

(ازالہ اوہام ص۷۶۲، خزائن ج۳ ص۵۱۱)

۲… ’’اگر میں بخاری اور مسلم کی صحت کا قائل نہ ہوتا تو میں کیوں باربار ان کو اپنی تائید میں پیش کرتا۔‘‘

(ازالہ اوہام ص۸۸۴، خزائن ج۳ ص۵۸۲)

۳… ’’صحیحین (بخاری اور مسلم) کو تمام کتب پر مقدم رکھا جائے اور بخاری اصح الکتاب بعد کتاب اللہ ہے۔ لہٰذا اس کو مسلم پر مقدم رکھاجائے۔‘‘

(تبلیغ رسالت ج۲ ص۲۵، مجموعہ اشتہارات ج۱ ص۲۳۵)

۴… ’’امام بخاری حدیث کے فن میں ایک ناقد بصیر ہے… بخاری امام فن نے اس حدیث کو نہیں لیا۔‘‘

(ازالہ اوہام ص۱۴۴، خزائن ج۳ ص۱۷۳)

مرزاقادیانی کے ان اقوال سے قارئین پر واضح ہوگیا ہے کہ امام محمد بن اسماعیل بخاریؒ کا مرتبہ کس قدر بلند ہے۔

اب ہم امام بخاریؒ کی تصریحات دربارہ حیات عیسیٰ پیش کرتے ہیں۔

۱… ’’عن عبد اللہ بن سلام قال یدفن عیسیٰ بن مریم مع رسول اللہﷺ وصاحبیہ فیکون قبرہ رابعاً‘‘

(اخرجہ البخاری فی تاریخہ درمنثور ج۲ ص۲۴۵ الاشاعۃ لاشراط الساعۃ البر زنجی ص۳۰۵)

’’امام بخاریؒ نے اپنی کتاب تاریخ میں حضرت عبد اللہ بن سلام صحابی سے ایک

216

روایت درج کی ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام بیٹے مریم کے رسول کریمﷺ اور آپﷺ کے دونوں صحابی (حضرت ابوبکرؓ اور حضرت عمرؓ) کے ہمراہ دفن کئے جائیں گے اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی قبر (حجرہ مبارکہ میں) چوتھی قبر ہوگی۔‘‘

کس قدر صاف فیصلہ ہے۔ اگر امام بخاری حیات عیسیٰ علیہ السلام کے قائل نہ ہوتے تو وہ نعوذ ب اللہ ایسی ’’مشرکانہ‘‘ روایت کو اپنی تاریخ میں درج کر سکتے تھے؟ مفصل بحث اس روایت کی آئندہ ملاحظہ کریں۔

۲… امام بخاریؒ نے حضرت ابوہریرہؓ سے یہ مرفوع حدیث روایت کی ہے۔ ’’قال رسول اللہﷺ والذی نفسی بیدہ لیوشکن ان ینزل فیکم ابن مریم‘‘

(الحدیث بخاری ج۱ ص۴۹۰، باب نزول عیسیٰ علیہ السلام)

مفصل بحث حدیث نمبر:۱ پر بیان ہوچکی۔ اس حدیث میں صاف صاف الفاظ میں حضرت ابن مریم علیہ السلام کے نازل ہونے کا اعلان ہے۔

۳… امام بخاریؒ نے ایک مرفوع حدیث روایت کی ہے جو یہ ہے۔ ’’کیف انتم اذا نزل ابن مریم فیکم وامامکم منکم‘‘

اس میں حضرت مسیح ابن مریم کے نازل ہونے کا اعلان کیا جارہا ہے۔ یہ دونوں حدیثیں امام بخاریؒ نے اس طریقہ سے ذکر کی ہیں کہ قادیانی جیسے محرفین کا ناطقہ بندکرنے میں کمال کر دیا ہے۔ امام موصوف نے بخاری شریف میں کتاب الانبیاء کی ذیل میں بہت سے انبیاء علیہم السلام کا ذکر کیا ہے۔ اسی ذیل میں انہوں نے حضرت عیسیٰ ابن مریم کے حالات بھی لکھے ہیں۔ انہیں کے حالات لکھتے لکھتے امام بخاریؒ نے یہ دونوں مرفوع حدیثیں روایت کی ہیں۔ جن میں حضرت عیسیٰ ابن مریم کے نازل ہونے کا ذکر ہے۔ اگر حضرت عیسیٰ علیہ السلام امام بخاری کے نزدیک فوت شدہ ہوتے تو وہ ان کے نزول کی حدیثوں کو کس طرح اپنی صحیح میں درج کرتے اور پھر لطف یہ کہ تمام حالات اسی ابن مریم کے لکھے ہیں۔ جو قرآن کریم میں مذکور ہے۔ پھر کس طرح ان دونوں حدیثوں میں بیان کردہ ابن مریم سے مراد غلام احمد ابن چراغ بی بی قادیانی لیا جاسکتا ہے؟

چیلنج

مرزاقادیانی نے امام بخاری پر کئی جگہ افتراء اور اتہامات لگائے ہیں کہ وہ بھی وفات مسیح کے قائل ہیں۔ ہم ببانگ دہل اعلان کرتے ہیں کہ یہ محض دجل وفریب اور افتراء ہے۔ اس میں ذرہ بھر بھی صداقت نہیں ہے۔ اگر قادیانیوں کو اس کے خلاف شرح صدر

217

حاصل ہوتو کسی غیر جانب دار جج کے سامنے اپنے دعویٰ کو ثابت کر کے انعام حاصل کریں۔

۸…امام مسلمؒ کا عقیدہ

مرزاغلام احمد قادیانی، قرآن کریم اور بخاری شریف کے بعد مسلم شریف کو تیسرے درجے پر تسلیم کرتے ہیں۔ چنانچہ وہ لکھتے ہیں:

۱… ’’بحث میں صحیحین (بخاری ومسلم) کو تمام کتب حدیث پر مقدم رکھا جائے اور بخاری کو مسلم پر۔ کیونکہ وہ اصح الکتب بعد کتاب اللہ ہے۔‘‘

(تبلیغ رسالت ج۲ ص۲۵، مجموعہ اشتہارات ج۱ ص۲۳۵)

۲… ’’میرے پر یہ بہتان ہے کہ گویا میں صحیحین کا منکر ہوں… اگر میں بخاری اور مسلم کی صحت کا قائل نہ ہوتا تو میں اپنے تائید دعویٰ میں کیوں باربار ان کو پیش کرتا۔‘‘

(ازالہ اوہام ج۱ ص۸۸۴، خزائن ج۳ ص۵۸۲)

امام مسلم اس مرتبے کا امام ہے کہ ان کی کتاب صحیح مسلم کو مرزاقادیانی اپنے ہی تسلیم کردہ مجددین امت کی کتابوں مثلاً مسند احمد، سنن بیہقی، سنن نسائی، مستدرک حاکم، طبقات ابن سعد اور مسند شافعی پر فضیلت اور ترجیح دے رہے ہیں۔ اب ہم امام مسلم جیسی بزرگ ہستی سے حیات عیسیٰ علیہ السلام کا ثبوت پیش کرتے ہیں۔ چار روایات صحیح مسلم سے حیات ونزول مسیح کی پہلے درج ہوچکی ہیں۔

نوٹ: ہم امام مسلم کی پیش کردہ احادیث کا مطلب خود مرزاقادیانی کے اپنے الفاظ میں پیش کرنے کا فخر حاصل کرتے ہیں۔

۱… ’’صحیح مسلم کی حدیث میں جو یہ لفظ موجود ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام جب آسمان سے اتریں گے تو ان کا لباس زردرنگ کا ہوگا۔‘‘

(ازالہ اوہام ص۸۱، خزائن ج۳ ص۱۴۲)

۲… ’’آنحضرتﷺ نے فرمایا تھا کہ مسیح آسمان پر سے جب اترے گا تو زرد چادریں اس نے پہنی ہوں گی۔‘‘

(قادیانی رسالہ تشحیذ الاذہان ج۱۹۰۶ء ص۵، قادیانی اخبار بدر قادیان مورخہ ۷؍جون ۱۹۰۶ء ص۵)

قارئین! لطف پر لطف یہ ہے کہ لوگوں کو دھوکہ دینے کے لئے مسلم شریف کی عظمت کا گیت بھی گائے جاتے ہیں اور ان کی پیش کردہ احادیث کو ضعیف اور مشرکانہ بھی بتلائے جاتے ہیں۔ ’’فاعتبروا یا ولی الابصار‘‘

218

۹…حافظ ابونعیمؒ کا عقیدہ

عظمت شان

حافظ ابو نعیم صاحبؒ چوتھی صدی کے مجدد وامام الزمان تھے۔

(عسل مصفی ج۱ ص۱۶۳)

مجدد وامام الزمان کی شان آپ قادیانی کے الفاظ میں پڑھ چکے ہیں۔ اب ہم حافظ ابونعیمؒ کی تحریر سے حیات عیسیٰ علیہ السلام کا ثبوت پیش کرتے ہیں۔

۱… ’’قال رسول اللہﷺ ینزل عیسیٰ ابن مریم فیقول امیرہم المہدی تعال صلی بنا فیقول الاوان بعضکم علی بعض امراء تکرمۃ اللہ لہذہ الامۃ‘‘

(ابونعیم الحاوی للفتاویٰ ج۲ ص۶۴، الفتاوی الحادیثیہ ص۳۲، باب فی ظہور المہدی)

’’فرمایا رسول اللہﷺ نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام ابن مریم اتریں گے۔ پس مسلمانوں کے امیر یعنی امام مہدی کہیں گے آئیے نماز پڑھائیے پس حضرت عیسیٰ کہیں گے نہ۔ تحقیق تم میں سے بعض بعض پر امیر ہیں اور یہ اس امت کی بزرگی ہے۔‘‘

۲… ’’قال رسول اللہﷺ ولن تہلک امۃ انافی اولہا وعیسیٰ فی آخرہا والمہدی فی اوسطہا‘‘

(کنزالعمال ج۱۴ ص۴۶۶، حدیث نمبر۳۸۶۷۱، رواہ ابونعیم فی اخبار المہدی ، بحوالہ عسل مصفی ج۲ ص۹۴)

’’اور فرمایا رسول اللہﷺ نے وہ امت ہرگز ہلاکت نہیں ہوگی۔ جس کے شروع میں میں ہوں اور اس کے آخر میں عیسیٰ ابن مریم ہے اور ہم دونوں کے درمیان امام مہدی ہے۔‘‘

۳… حضرت ابن عباسؓ فرماتے ہیں کہ: ’’حضرت عیسیٰ علیہ السلام نازل ہوکر شادی کریں گے اور صاحب اولاد ہوں گے۔ آپ کی شادی قوم شعیب میں ہوگی جو حضرت موسیٰ علیہ السلام کے سسرال ہیں۔ ان کو بنی جزام کہتے ہیں۔‘‘

(رواہ ابونعیم فی کتاب الفتن)

ناظرین غور کیجئے! کہ چوتھی صدی کے مجدد وامام کیسے صاف صاف الفاظ میں حیات عیسیٰ علیہ السلام کا ثبوت دے رہے ہیں۔

۱۰…امام بیہقیؒ کا عقیدہ

عظمت شان

قادیانیوں کے نزدیک امام بیہقی بھی چوتھی صدی کے مجدد زمان تھے۔

(عسل مصفی ج۱ ص۱۶۳،۱۶۵)

امام موصوف فرماتے ہیں۔

219

۱… ’’قال رسول اللہﷺ یلبث فیکم ماشاء اللہ ثم ینزل عیسیٰ ابن مریم مصدقاً بمحمد علیٰ ملتہ فیقتل الدجال، رواہ البیہقی فی شعب الایمان‘‘ (کنزالعمال ج۱۴ ص۳۲۱، حدیث نمبر۳۸۸۰۸) ’’فرمایا رسول اللہﷺ نے کہ رہے گا دجال تمہارے درمیان جس قدر چاہے گا اللہتعالیٰ پھر اترے گا عیسیٰ ابن مریم تصدیق کرتا ہوا محمد ﷺ کی اور اس کے دین کی۔‘‘

۲… امام موصوف نے رسول کریمﷺ کی ایک حدیث روایت کی ہے۔ جس میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا حیات جسمانی صاف صاف الفاظ میں مذکور ہے۔ پہلے بیان ہوچکی ہیں۔ دیکھئے!

۳… ایک اور حدیث میں امام موصوف نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے آسمان سے نازل ہونے کا اعلان کر کے قادیانیوں کی تمام تاویلات کو بیکار کر دیا ہے۔ مفصل بیان ہوچکی ہے۔

۱۱…امام حاکم نیشاپوریؒ کا عقیدہ

عظمت شان

قادیانیوں نے امام حاکمؒ کو بھی چوتھی صدی کا مجدد زمان تسلیم کر لیا ہے۔

(عسل مصفی ج۱ ص۱۶۳،۱۶۵)

امام حاکم کی روایات دربارۂ حیات عیسیٰ علیہ السلام

۱… دیکھو حاکم کی تین روایات جو پہلے بیان ہوچکی ہیں۔

۲… حافظ نعیم کی دوسری روایت، یہ روایت حاکم میں بھی موجود ہے۔

۳… دیکھو امام موصوف کی بیان کردہ ایک حدیث پہلے درج ہے۔ اس میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی حیات جسمانی روز روشن کی طرح بیان کی جارہی ہے۔

۴… امام موصوف کی روایت کردہ ایک حدیث درج ہے۔ جو حیات عیسیٰ علیہ السلام کا اعلان کر رہی ہے۔

۵… ’’عن ابن عباسؓ قال قال رسول اللہﷺ وان من اہل الکتاب الا لیؤمنن بہ قبل موتہ قال خروج عیسیٰ علیہ السلام‘‘

(رواہ الحاکم فی المستدرک ج۳ ص۳۳، حدیث نمبر۳۲۶۰)

’’ابن عباسؓ سے روایت ہے کہ فرمایا رسول کریمﷺ نے اور نہیں ہوگا کوئی اہل کتاب میں سے مگر ضرور ایمان لائے گا۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام پر ان کی موت سے پہلے فرمایا ابن عباسؓ نے کہ مراد اس سے عیسیٰ علیہ السلام کا آنا ہے۔‘‘

۶… ’’عن انس قال قال رسول اللہﷺ من ادرک منکم عیسیٰ ابن مریم فلیقراء منی السلام‘‘ (رواہ الحاکم ج۵ ص۷۵۵، حدیث نمبر۸۶۷۹، صححہ) ’’ حضرت انسؓ

220

روایت کرتے ہیں کہ فرمایا رسول اللہﷺ نے جو شخص تم میں سے پائے حضرت ابن مریم علیہ السلام کو پس ضرور انہیں میرا سلام پہنچائے۔‘‘ پس ان روایات سے ثابت ہوا کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام فوت نہیں ہوئے۔

۱۲…امام غزالیؒ کاعقیدہ

عظمت شان

قادیانیوں کے نزدیک یہ بزرگ امام، صدی پنجم کے مجدد امام الزمان تھے۔

(عسل مصفی ج۱ ص۱۶۴)

ناظرین! میں کوہاٹ جیسے دور افتادہ شہر میں پڑا ہوا ہوں۔ جس قدر کتابیں ان کی میرے پاس ہیں۔ ان میں امام موصوف نے وفات مسیح علیہ السلام کا کہیں ذکر نہیں کیا۔ علماء اسلام کے دعویٰ حیات عیسیٰ علیہ السلام کے سامنے ان کا اس طرح خاموش ہوجانا اس بات کا ثبوت ہے کہ وہ بھی حیات عیسیٰ علیہ السلام کے قائل تھے۔ اگر قادیانی موصوف کی کسی کتاب سے حیات عیسیٰ علیہ السلام کے خلاف ایک فقرہ بھی دکھائیں تو منہ مانگا انعام لیں۔

۱۳…امام فخرالدین رازیؒ کا عقیدہ

عظمت شان

امام موصوف قادیانیوں کے نزدیک چھٹی صدی کے مجدد تھے۔

(عسل مصفی ج۱ ص۱۶۴)

امام موصوف کے اقوال دربارہ ثبوت حیات عیسیٰ علیہ السلام

ناظرین! مجددین امت مسلمہ قادیانی جماعت میں سے امام موصوف وہ بزرگ ہیں۔ جنہوں نے حیات عیسیٰ علیہ السلام پر غالباً سب سے زیادہ زور دیا ہے۔ مفصل دیکھنا ہو تو وہ ملاحظہ کریں جو تفسیری حوالہ تفسیر کبیر سے پہلے نقل ہوچکے ہیں۔

۲… امام موصوف نے ’’انی متوفیک‘‘ کی تفسیر کرتے ہوئے توفی کے معنی اور تفسیر کر کے آٹھ سو سال بعد آنے والے قادیانی فتنہ کا ناطقہ بند کر دیا ہے۔ ’’فجزاہ اللہ احسن الجزاء‘‘ وہ مضمون قابل دید ہے۔

۳… امام موصوف کی ایک عبارت پہلے درج ہے۔ جس میں انہوں نے توفی کے معنی ’’موت دینے‘‘ کے سمجھ کر بھی عجیب پیرایہ سے حیات عیسیٰ علیہ السلام پر استدلال کیا ہے۔

۴… امام موصوف اپنی (تفسیر کبیر ج۱۱ ص۱۰۳) میں زیر آیت ’’بل رفعہ اللہ الیہ‘‘ فرماتے ہیں۔ ’’رفع عیسیٰ الی السماء ثابت بہذہ الآیۃ‘‘ یعنی عیسیٰ علیہ السلام کا آسمان پر اٹھایا جانا

221

اس آیت سے بھی ثابت ہے۔

۵… امام موصوف کا پہلے قول درج ہے۔ جس میں آپ ’’وکان اللہ عزیزاً حکیما‘‘ کی فصاحت وبلاغت بیان کرتے ہوئے حیات عیسیٰ علیہ السلام علی السماء کا ثبوت دے رہے ہیں۔ (ایضاً)

۶… پہلے ہم نے امام موصوف کی تفسیر سے ایک قول نقل کیا ہے۔ جہاں وہ عجیب پیرایہ سے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی حیات ثابت کرنے میں فرماتے ہیں کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام قیامت سے پہلے نازل ہوں گے۔ گویا ان کا نازل ہونا قیامت کے قرب کی نشانی ہوگی۔

۷… ایک دوسری عبارت اسی مضمون کی ملاحظہ فرمائیں۔

۸… حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے رفع جسمانی کا ثبوت پیش کر رہے ہیں۔

۹… پر بھی ان کا ایک مضمون قابل دید ہے۔

۱۰… ’’روی انہ علیہ الصلوٰۃ والسلام لما اظہر ہذہ المعجزات العجیبۃ قصد الیہود قتلہ فخلصہ اللہ منہم حیث رفعہ الیٰ السماء‘‘ (تفسیر کبیر)

روایت ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے جب عجیب وغریب معجزات دکھائے تو یہود نے ان کے قتل کا ارادہ کیا۔ پس اللہتعالیٰ نے ان کو یہود سے خلاصی دی اس طرح کہ انہیں آسمان پر اٹھا لیا۔

۱۱… امام صاحب ’’ولٰکن شبہ‘‘ کی بحث کرتے ہوئے فرماتے ہیں۔ ’’ان یسند الیٰ ضمیر المقتول لانہ قولہ وما قتلوہ وما صلبوہ یدل علیٰ انہ وقع القتل علیٰ غیرہ فصار ذالک الغیر مذکورا بہذا الطریق فحسن اسناد شبہ الیہ‘‘

(تفسیر کبیر ج۱۱ ص۹۹)

یعنی یہ فعل شبہ مسند ہے طرف ضمیر کی جو مقتول کی طرف پھرتی ہے۔ کیونکہ قول ’’وما قتلوہ وما صلبوہ‘‘ اس بات پر دلالت کرتا ہے کہ کسی اور شخص پر قتل واقع ہوا۔ پس اس طریق سے وہ مقتول مذکور ہوا اور شبہ کی اسناد اس کی طرف صحیح ہوگئی۔

۲… ’’کان (جبرائیل) یسیر معہ حیث سار وکان معہ حین صعد الی السماء‘‘

(تفسیر کبر زیر آیت وایدناہ)

اور جبرائیل علیہ السلام جاتا تھا۔ جہاں کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام جاتے تھے اور جبرائیل ان کے ہمراہ تھا۔ جب کہ وہ آسمان پر چڑھ گئے۔

۱۴…امام حافظ ابن کثیرؒ کا عقیدہ

عظمت شان:

۱…قادیانی جماعت کے نزدیک حافظ موصوف بھی چھٹی صدی میں

222

اصلاح خلق کے لئے مجدد وامام الزمان کی حیثیت سے مبعوث ہوئے تھے۔

(عسل مصفی ج۱ ص۱۶۴)

۲… حافظ ابن کثیر ان اکابر ومحققین میں سے ہیں۔ جن کی آنکھوں کو خداتعالیٰ نے نور معرفت عطا کیا تھا۔

(آئینہ کمالات اسلام طبع لاہور ص۱۵۸)

۱… ہم نے تفسیر ابن کثیر ج۳ کی عبارت نقل کی ہے۔ جو حیات عیسیٰ علیہ السلام کے ثبوت میں فیصلہ کن ہے۔

۲… ہم نے ایک عبارت امام موصوف کی تفسیر سے نقل کی ہے۔ جس میں دلائل سے حیات عیسیٰ علیہ السلام ثابت کرنے کے بعد آپ نے حیات عیسیٰ علیہ السلام پر صحابہ کرامؓ اور باقی امت کا اجماع ثابت کیا ہے۔ ذرا اس مضمون کو دوبارہ مطالعہ کر کے مجدد صدی ششم کے دلائل حیات عیسیٰ علیہ السلام کا لطف اٹھائیے۔

۳… ہم نے ایک اور عبارت حافظ ابن کثیر کی نقل کی ہے۔ جس میں آپ آیت کریمہ ’’واذ کففت بنی اسرائیل عنک‘‘ کی تفسیر کرتے ہوئے حیات عیسیٰ علیہ السلام ورفع جسمانی کا بڑے زور دار الفاظ میں اعلان کر رہے ہیں۔

۴… ’’انہ لعلم للساعۃ‘‘ کا امام موصوف کا اعلان قابل دید ہے۔

۵… امام ابن کثیرؒ نے اپنی تفسیر میں ایک صحیح حدیث روایت کی ہے۔ جس سے بڑھ کر کوئی دلیل زیادہ وزنی متصور نہیں۔ حدیث یہ ہے۔

’’عن الحسن البصری قال قال رسول اللہﷺ للیہود ان عیسیٰ لم یمت وانہ راجع الیکم قبل یوم القیامۃ‘‘ (ابن کثیر ج۱ ص۳۶۶)

امام حسن بصریؒ فرماتے ہیں کہ رسول کریمﷺ نے فرمایا یہود کو کہ تحقیق عیسیٰ علیہ السلام ہرگز نہیں مرے اور یقینا وہ قیامت سے پہلے تمہاری طرف واپس آئیں گے۔

نوٹ: اس حدیث کی مفصل بحث پہلے گزر چکی ملاحظہ کریں۔

۶… اس قسم کی ایک اور حدیث جو حیات عیسیٰ علیہ السلام کا اعلان کر رہی ہے اور جس کو امام ابن کثیرؒ نے روایت کیا ہے احادیث کی بحث میں ملاحظہ کریں۔

۷… امام ابن کثیر مجدد صدی ششم قادیانیوں کے محدث ومفسر اعظم ابن جریر (آئینہ کمالات اسلام طبع لاہور ص۱۵۸، چشمہ معرفت ص۲۵۰، خزائن ج۲۳ ص۲۶۱ حاشیہ) کا قول نقل کرتے ہوئے لکھتے ہیں: ’’ثم قال ابن جریر واولیٰ ہذہ الاقوال بالصحۃ القول الاول وھو انہ لا

223
یبقیٰ احد من اہل الکتاب بعد نزول عیسیٰ علیہ السلام الا اٰمن بہ قبل موتہ ای قبل موت عیسیٰ علیہ السلام ولاشک ان ہذا الذی قالہ ابن جریر ہو الصحیح لانہ المقصود من سیاق الایۃ فی تقریر بطلان ماادعت الیہود من قتل عیسیٰ اوصلبہ وتسلیم من سلم الیہم من النصاری الجہلۃ ذالک فاخبر اللہ انہ لم یکن الامر کذالک وانما شبہ لہم فقتلوا الشبہ وہم لا یتبینون ذالک ثم انہ رفعہ الیہ وانہ باق حی وانہ سینزل قبل یوم القیامۃ کمادلت علیہ الاحادیث المتواترہ التی سنوردھا ان شاء اللہ قریباً فیقتل مسیح الضلالۃ… ولہذا قال وان من اہل الکتاب الا لیؤمنن بہ قبل موتہ ای قبل موت عیسیٰ الذی زعم الیہود ومن وافقہم من النصاریٰ انہ قتل وصلب ویوم القیامۃ یکون علیہم شہیدا ای باعمالہم التی شاہدہا منہم قبل رفعہ الی السماء وبعد نزولہ الیٰ الارض‘‘ (تفسیر ابن کثیر ج۱ ص۵۷۷)

’’ابن جریر کہتا ہے کہ صحت کے لحاظ سے ان سب اقوال سے اوّل درجہ یہ قول ہے کہ اہل کتاب میں سے عیسیٰ علیہ السلام کے نزول کے بعد کوئی ایسا نہیں ہوگا۔ جو کہ عیسیٰ علیہ السلام کی موت سے پہلے عیسیٰ علیہ السلام پر ایمان نہ لے آئے اور اس میں کوئی شک نہیں کہ ابن جریر کا یہ قول بالکل صحیح ہے… تحقیق ان کے لئے عیسیٰ علیہ السلام کی شبیہ بنادی گئی اور انہوں نے اس شبیہ کو قتل کیا… پھر اللہتعالیٰ نے عیسیٰ علیہ السلام کو آسمان پر اٹھالیا اور بیشک وہ ابھی تک زندہ ہے اور قیامت سے پہلے نازل ہوگا۔ جیسا کہ احادیث متواترہ اس پر دلالت کرتی ہیں… اور قیامت کے دن وہ شہادت دیں گے۔ ان کے ان اعمال کی جن کو عیسیٰ علیہ السلام نے آسمان پر چڑھ جانے سے پہلے اور زمین پر اترنے کے بعد دیکھا۔‘‘

۱۵…امام عبدالرحمن ابن جوزیؒ کا عقیدہ

عظمت شان

قادیانیوں کے نزدیک امام ابن جوزی بھی چھٹی صدی ہجری میں اصلاح عقائد وتجدید دین کے لئے مبعوث ہوئے تھے۔

(عسل مصفی ج۱ ص۱۶۴)

امام ابن جوزی نے قادیانیوں کے عقیدہ کا ستیاناس کردیا ہے۔ آپ نے ایک حدیث نبوی بیان کی ہے جو درج ذیل ہے۔’’عن عبد اللہ بن عمرؓ قال قال رسول اللہﷺ ینزل عیسیٰ ابن مریم الیٰ الارض فیتزوج ویولد لہ ویملک خمساً واربعین سنۃ ثم یموت فیدفن

224

معی فی قبری فاقوم انا وعیسیٰ ابن مریم فی قبر واحد بین ابوبکرؓ وعمرؓ‘‘

(رواہ ابن جوزی فی کتاب الوفاء مشکوٰۃ ص۴۸۰، باب نزول عیسیٰ علیہ السلام)

عظمت حدیث:

۱…مرزاغلام احمد قادیانی نے اپنی مندرجہ ذیل کتب میں اس حدیث کو صحیح تسلیم کیا ہے۔

(ضمیمہ آتھم ص۵۳، خزائن ج۱۱ ص۳۳۷، کشتی نوح ص۱۵، خزائن ج۱۹ ص۱۶، نزول المسیح ص۴۷، خزائن ج۱۸ ص۴۲۵، حقیقت الوحی ص۳۰۷، خزائن ج۲۲ ص۳۲۰، ضمیمہ حقیقت الوحی حاشیہ ص۵۱، خزائن ج۲۲ ص۶۷۴، نزول المسیح ص۳، خزائن ج۱۸ ص۳۸۱)

۲… مرزامحمود خلیفہ قادیانی نے بھی اس کی صحت کو تسلیم کر لیا ہے۔

(انوار خلافت ص۵۰)

۳… مرزاخدابخش مرزائی نے قادیانیوں کی شہرہ آفاق کتاب عسل مصفی میں نہ صرف اس کی صحت کو ہی تسلیم کیا ہے۔ بلکہ اس حدیث کو مرزاقادیانی پر چسپاں کرنے کی سعی کی ہے۔ یعنی محمدی بیگم کے نکاح پر لگایا ہے۔ لیکن خدا نے انہیں اس میں بھی ناکام رکھا۔ محمدی بیگم نکاح میں نہ آئی۔ ہم اس حدیث کا ترجمہ قادیانی کے اپنے الفاظ میں بیان کرتے ہیں۔

ترجمہ حدیث

’’یعنی ابن جوزی نے عبد اللہ بن عمرؓ سے روایت کی ہے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا کہ عیسیٰ ابن مریم ایک خاص زمین میں نازل ہوں گے۔ پھر وہ نکاح بھی کریں گے اور ان کے لڑکے بالے بھی ہوں گے اور ۴۵برس تک ٹھہریں گے۔ (یملک کا یہ ترجمہ قادیانی ایجاد ہے۔ یملک کے معنی ہیں بادشاہی کریں گے) پھر فوت ہوں گے اور پھر میری قبر میں دفن ہوں گے۔ پھر میں اور عیسیٰ ابن مریم ایک ہی قبر سے ؓ اور عمرؓ کے درمیان ہے کھڑے ہوں گے۔‘‘

(عسل مصفی ج۲ ص۴۴۰،۴۴۱)

میں نے چھٹی صدی ہجری کے مجدد وامام کی روایت سے قادیانیوں کے اپنے الفاظ میں حدیث نبوی پیش کر دی ہے۔ اگر نجات مطلوب ہو تو ضرور تسلیم کر لیں گے۔

نوٹ: تفصیل اس حدیث کی گزر چکی ملاحظ فرمائیں۔

۱۶…حضرت شیخ عبدالقادر جیلانیؒ کا عقیدہ

عظمت شان

قادیانیوں نے آپ کو بھی چھٹی صدی ہجری کا مجدد تسلیم کر لیا ہے۔

۱… دیکھو (عسل مصفیٰ ج۱ ص۱۶۴)

۲… دیکھو (براہین احمدیہ حاشیہ نمبر۴ ص۵۴۶، خزائن ج۱ ص۶۵۲)

۳… دیکھو(کتاب البریہ ص۷۳، خزائن ج۱۳ ص۹۱)

225

۴… دیکھو (حقیقت النبوۃ ص۲۰۱)

حضرت شیخ قدس سرہ العزیز اپنی مشہور کتاب (غنیۃ الطالبین ج۲ ص۵۵) میں فرماتے ہیں۔ ’’والتاسع رفعہ اللہ عزوجل عیسیٰ ابن مریم الیٰ السماء‘‘

(بحوالہ استدلال الصحیح فی حیات المسیح ص۷۲)

’’اور نویں بات، یہ کہ اٹھالیا اللہتعالیٰ نے عیسیٰ ابن مریم کو آسمان کی طرف۔‘‘

ناظرین! کروڑہا مسلمانان عالم کے پیرو مرشد اور قادیانیوں کے تسلیم کردہ امام الزمان حیات عیسیٰ علیہ السلام کا عقیدہ کیسے صاف صاف الفاظ میں بیان فرمارہے ہیں۔ اب بھی کوئی نہ سمجھے تو ان سے خدا سمجھے۔

۱۷…امام ابن جریرؒ کا عقیدہ

عظمت شان

۱… ’’ابن جریر رئیس المفسرین ہیں۔‘‘

(آئینہ کمالات اسلام ص۱۶۸، خزائن ج۵ ص ایضاً)

۲… ’’ابن جریر نہایت معتبر اور آئمہ حدیث میں سے ہے۔‘‘

(چشمہ معرفت ص۲۵۰، خزائن ج۲۳ ص۲۶۱ حاشیہ)

۳… امام جلال الدین سیوطیؒ قادیانی جماعت کے مسلم امام ومجدد امام جریرؒ کی شان میں فرماتے ہیں: ’’اجمع العلماء المعتبرون علیٰ انہ لم یؤلف فی التفسیر مثلہ‘‘

(اتقان ج۲ ص۳۲۵، مؤلفہ سیوطیؒ)

قارئین! ہم آپ کے سامنے اس شان کے امام ومحدث ومفسر کی کلام پیش کرتے ہیں۔

۱… ہم امام ابن جریر کی روایت سے حدیث معراج درج کر آئے ہیں۔ جس میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام آسمان سے زمین پر اتر کر دجال کو قتل کرنے کا اعلان کر رہے ہیں۔

۲… ہم قادیانیوں کے امام ومجدد صدی ہشتم حافظ ابن حجر عسقلانی کے حوالہ سے ابن جریر کی روایت درج کر آئے ہیں۔ جس میں انہوں نے حضرت عبد اللہ بن عباسؓ کا عقیدہ حیات عیسیٰ علیہ السلام بیان کیا ہے۔

۳… ہم امام جریر کی ایک روایت سے ایک حدیث درج کر آئے ہیں۔ جس میں رسول کریمﷺ یہود کو فرماتے ہیں: ’’ان عیسیٰ لم یمت‘‘ یعنی عیسیٰ علیہ السلام بے شک فوت نہیں ہوئے۔ ’’وانہ راجع الیکم قبل یوم القیامۃ‘‘ اور تحقیق وہ ضرور تمہاری طرف قیامت سے پہلے پہلے واپس آئیں گے۔ مفصل بحث اس حدیث کی حدیث کی بحث میں دیکھیں۔

226

۴… ہم بحوالہ درمنثور مصنفہ امام جلال الدین سیوطیؒ امام ابن جریر کی روایت سے ایک حدیث درج کر آئے ہیں۔ جس میں رسول کریمﷺ نصاریٰ کو فرماتے ہیں۔ ’’الستم تعلمون ان ربنا حی لا یموت‘‘ یعنی کیا تم نہیں جانتے کہ ہمارا رب زندہ ہے وہ نہیں مرے گا۔ ’’وان عیسیٰ یأتی علیہ الفناء‘‘ اور تحقیق عیسیٰ علیہ السلام ضرور فوت ہوں گے۔ نصاریٰ نے تصدیق کی اور کہا ’’بلیٰ‘‘ یعنی کیوں نہیں۔

۵… ’’وان من اہل الکتاب الا لیؤمنن‘‘ کی بحث میں امام موصوف فرماتے ہیں۔ ’’اما الذی قال لیؤمنن بمحمد قبل موت الکتابی ممالا وجہ لہ لانہ اشد فسادا مماقیل لیؤمنن قبل موت الکتابی لانہ خلاف السیاق والحدیث فلا یقوم حجۃ بمحض الخیال فالمعنی لیؤمنن بعیسیٰ قبل موت عیسیٰ‘‘

(ابن جریر ج۶ ص۲۳ ملخص)

’’اور جو کہتا کہ ’’لیؤمنن بہ قبل موتہ‘‘کے معنی ’’اہل الکتاب‘‘ اپنی موت سے پہلے محمدﷺ پر ایمان لے آتا ہے ۔ یہ بالکل بلادلیل ہے۔ کیونکہ ’’کتابی کی موت سے پہلے‘‘ معنی کرنے سے سخت فساد لازم آتا ہے۔ کیونکہ یہ معنی کلام اللہ اور حدیث نبوی کے خلاف ہیں۔ پس محض خیالی باتوں سے دلیل قائم نہیں ہوا کرتی۔ معنی ’’لیؤمنن بہ قبل موتہ‘‘ کے یہ ہیں کہ اہل کتاب حضرت عیسیٰ علیہ السلام پر حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی موت سے پہلے پہلے ضرور ان کی رسالت کو قبول کر لیں گے۔‘‘

ناظرین فرمائیے! اس سے بڑھ کر دلیل آپ کے سامنے اور کیا بیان کروں کہ قادیانیوں کی تصدیق درتصدیق ثم درتصدیق سے حیات عیسیٰ علیہ السلام کا ثبوت دیتا جارہا ہوں۔ ’’فالحمد ﷲ رب العالمین‘‘

۶… امام ابن کثیرؒ مجدد صدی ششم کی تفسیر سے امام ابن جریر کا ایک قول نقل کر آئے ہیں۔ جس میں دونوں امام پر زور الفاظ اور دلائل سے حیات عیسیٰ علیہ السلام کا ثبوت دے رہے ہیں۔ قابل دید ہے۔

۷… امام ابن جریر اپنی تفسیر میں فرماتے ہیں: ’’واولی ہذا الا قوال بالصحۃ عندنا قول من قال معنی ذالک انی قابضک من الارض ورافعک الیّ لتواتر الاخبار عن رسول اللہﷺ‘‘ (تفسیر طبری ج۳ ص۲۹۱)

’’(انی متوفیک الخ کے متعلق) اقوال مفسرین میں سے ہمارے نزدیک یہ سب سے اچھا ہے کہ اس (متوفیک) کے معنی یہ ہیں۔‘‘ میں (اے

227

عیسیٰ علیہ السلام) تجھے زمین سے اپنے قبضہ میں لینے والا ہوں اور تجھے اپنی طرف اٹھانے والاہوں۔ کیونکہ اس بارہ میں رسول کریمﷺ کی احادیث تواتر تک پہنچی ہوئی ہیں کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام آسمان سے نازل ہوکر دجال کو قتل کریں گے۔ ۴۰،۴۵سال تک دنیا میں رہ کر فوت ہوں گے۔

۸… امام ابن جریر اپنی تفسیر میں ’’انی متوفیک‘‘ کی بحث میں حضرت ابن جریج رومیؒ کا قول اپنی تصدیق میں اس طرح پیش کرتے ہیں۔ ’’عن ابن جریج قولہ انی متوفیک ورافعک الیّٰ ومطہرک من الذین کفروا قال فرفعہ ایاہ الیہ توفیہ ایاہ وتطہیرہ من الذین کفروا‘‘ (تفسیر طبری ج۳ ص۲۹۰) ’’حضرت ابن جریج فرماتے ہیں کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی توفی سے مراد ان کا رفع جسمانی اور کفار سے علیحدگی ہے۔‘‘

۹… پھر امام موصوف اپنی تفسیر میں فرماتے ہیں اور حضرت ابن عباسؓ کا عقیدہ حیات مسیح دلائل سے ثابت کرتے ہوئے ایک روایت درج کرتے ہیں۔ وہ روایت ذیل میں درج ہے۔ ’’عن سعید ابن جبیر عن ابن عباسؓ وان من اہل الکتاب الا لیؤمنن بہ قبل موتہ قال قبل موت عیسیٰ‘‘ (تفسیر طبری ج۶ ص۱۸) ’’حضرت سعید ابن جبیر تابعی حضرت ابن عباسؓ سے روایت کرتے ہیں کہ فرمایا آپ نے ’’وان من اہل الکتاب‘‘ کے معنی ہیں کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی موت سے پہلے اہل کتاب ان پر ایمان لے آئیں گے۔‘‘

۱۰… حضرت امام ابن جریرؒ نے حضرت کعبؓ سے یہ روایت نقل کی ہے۔ ’’عن کعب قال لما رای عیسیٰ قلۃ من اتبعہ وکثرۃ من کذبہ شکیٰ الیٰ اللہ فاوحی اللہ الیہ انی متوفیک رافعک الیّ وانی سابعثک علی الاعور الدجال فتقتلہ‘‘ (رواہ ابن جریر تفسیر طبری ج۳ ص۲۹۰) ’’حضرت کعبؓ فرماتے ہیں کہ جب حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے اپنی امت کی قلت اور منکرین کی کثرت کو دیکھا تو اللہتعالیٰ کے دربار میں شکایت کی۔ اللہتعالیٰ نے ان کی طرف یہ وحی کی کہ اے عیسیٰ علیہ السلام میں تجھے اپنے قبضہ میں لینے والا ہوں اور اپنی طرف اٹھانے والا ہوں اور یقینا تجھے دجال کانے کے خلاف بھیجوں گا اور تو اسے قتل کرے گا۔‘‘ تلک عشرۃ کاملۃ!

حضرات! ہم بخوف طوالت امام موصوف کی صرف دس روایات پر ہی اکتفار کرتے ہیں۔ ورنہ آپ کی تفسیر میں بے شمار اقوال حیات عیسیٰ علیہ السلام کے ثبوت میں درج ہیں۔

۱۸…حضرت امام ابن تیمیہ حنبلیؒ کا عقیدہ

عظمت شان :

۱…حضرت امام ابن تیمیہؒ کو قادیانی جماعت نے ساتویں صدی

228

ہجری کا مجدد وامام تسلیم کر لیا ہے۔

(عسل مصفی ج۱ ص۱۶۴)

۲… مرزاغلام احمد قادیانی خود حضرت امام ابن تیمیہؒ کے علو مرتبت کے قائل تھے۔ چنانچہ مرزاقادیانی لکھتے ہیں: ’’فاضل ومحدث ومفسر ابن تیمیہ… جو اپنے وقت کے امام ہیں۔‘‘

(کتاب البریہ حاشیہ ص۲۰۳، خزائن ج۱۳ ص۲۲۱)

حضرات! مرزاقادیانی کی تحریرات سب کی سب کذب وافتراء سے بھری پڑی ہیں۔ چنانچہ میں نے ’’کذبات مرزا‘‘ کے نام سے ایک الگ رسالہ انعامی تین ہزار روپیہ تالیف کیا ہے۔ جس کا پہلا حصہ شائع ہوچکا ہے۔ اس میں مرزاقادیانی کی دو سوصریح کذب بیانیاں جمع کی گئی ہیں۔ آج حیات عیسیٰ علیہ السلام کے سلسلہ میں مرزاقادیانی کا ایک ایسا جھوٹ درج کرتا ہوں کہ صرف یہی جھوٹ مرزاقادیانی کا غیرمتعصب قادیانی کی توبہ کے لئے کافی محرک ثابت ہوگا۔ مرزاقادیانی اپنی کتاب میں لکھتے ہیں کہ امام ابن تیمیہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی وفات کے قائل ہیں۔

(کتاب البریہ ص۲۰۳ حاشیہ، خزائن ج۱۳ ص۲۲۱)

اب میں ناظرین کے سامنے امام موصوف کی کلام پیش کرتا ہوں تاکہ مرزاقادیانی کے کذب ودجل کی قلعی خود بخود کھل جائے۔

۱… ’’وکان الروم والیونان وغیرہم مشرکین یعبدون اہیاکل العلویۃ والاصنام الارضیۃ فبعث المسیح رسلہ یدعونہم الی دین اللہ تعالیٰ فذہب بعضہم فی حیاتہ فی الارض وبعضہم بعد رفعہ الی السماء فدعو ہم الی دین اللہ‘‘ (الجواب الصحیح ج۱ ص۱۱۵،۱۱۶)

’’روم اور یونان وغیرہ میں اشکال علویہ وبتان ارضیہ کو پوجتے تھے۔ پس مسیح علیہ السلام نے اپنے نائب بھیجے جو ان کو دین الٰہی کی طرف دعوت دیتے تھے۔ پس بعض تو حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی زمینی زندگی میں گئے اور بعض حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے آسمان پر اٹھائے جانے کے بعد گئے۔ پس انہوں نے لوگوں کو خدا کے دین کی طرف دعوت دی۔‘‘

۲… ’’وثبت ایضاً فی الصحیح عن النبیﷺ انہ قال ینزل عیسیٰ ابن مریم من السماء علی المنارۃ البیضاہ شرقی دمشق‘‘ (الجواب الصحیح ج۱ ص۱۷۷)

’’اور صحیح میں یہ بھی ثابت ہے کہ رسول کریمﷺ نے فرمایا کہ حضرت عیسیٰ ابن مریم علیہ السلام آسمان سے دمشق کی جامع مسجد کے شرقی سفید منارہ پر اتریں گے۔‘‘

۳… ’’والمسلمون واہل الکتاب متفقون علی اثبات مسیحین مسیح ہدی من
229

ولد داؤد ومسیح ضلال یقول اہل الکتاب انہ من ولد یوسف ومتفقون علی ان مسیح الہدیٰ سوف یأتی کما یأتی مسیح الضلالۃ لکن المسلمون والنصاری یقولون مسیح الہدیٰ ہو عیسیٰ ابن مریم وان اللہ ارسلہ ثم یأتی مرۃ ثانیۃ لکن المسلمون یقولون انہ ینزل قبل یوم القیامۃ فیقتل مسیح الضلالۃ ویکسر الصلیب ویقتل الخنزیر ولا یبقی دینا الا دین الاسلام ویؤمن بہ اہل الکتاب الیہود والنصاریٰ کما قال تعالیٰ (وان من اہل الکتاب الا لیؤمنن بہ قبل موتہ والقول الصحیح الذی علیہ الجمہور قبل موت المسیح وقال تعالیٰ انہ لعلم للساعۃ)‘‘ (جواب الصحیح ج۱ ص۳۲۹) ’’مسلمان اور اہل کتاب یہود ونصاریٰ دو مسیحوں کے وجود پر متفق ہیں۔ مسیح ہدایت داؤد کی اولاد میں سے ہے اور اہل کتاب کے نزدیک مسیح الضلالت یوسف کی اولاد میں سے ہے اور اس بات پر بھی متفق ہیں کہ مسیح ہدایت عنقریب آئے گا۔ جبکہ آئے گا مسیح الدجال، لیکن مسلمان اور نصاریٰ کہتے ہیں کہ مسیح ہدایت حضرت عیسیٰ ابن مریم علیہ السلام ہیں کہ خدا نے ان کو رسول بنایا اور پھر دوبارہ وہی آئیں گے لیکن مسلمان یہ بھی کہتے ہیں کہ وہ قیامت سے پہلے اتریں گے اور مسیح الدجال کو قتل کریں گے اور صلیب کو توڑیں گے اور خزیر کو قتل کریں گے اور کوئی دین باقی نہ رہے گا۔ مگر دین اسلام، یہود اور نصاریٰ ان کی رسالت پر ایمان لائیں گے۔ جیسا کہ اللہتعالیٰ فرماتا ہے: ’’وان من اہل الکتاب الا لیؤمنن بہ قبل موتہ‘‘ یعنی تمام اہل کتاب حصرت عیسیٰ علیہ السلام کی موت سے پہلے ان پر ایمان لے آئیں گے اور قول صحیح جس پر جمہور امت کا اتفاق ہے وہ یہ ہے کہ ’’موتہ‘‘ کی ضمیر عیسیٰ علیہ السلام کی طرف پھرتی ہے۔ اس کی تائید اس آیت سے بھی ہوتی ہے۔ ’’وانہ لعلم للساعۃ‘‘ یعنی عیسیٰ علیہ السلام قیامت کی نشانی ہے۔‘‘

۴… ’’اذا نزل المسیح ابن مریم فی امتہ لم یحکم فیہم الا بشرع محمدﷺ‘‘ (الجواب والصحیح ج۱ ص۳۴۹) ’’جب مسیح ابن مریم علیہ السلام آنحضرتﷺ کی امت میں نازل ہوں گے تو شرح محمدی کے مطابق حکم کریں گے۔‘‘

۵… ’’وان اللہ اظہر علی یدیہ الایات وانہ صعد الی السماء کما اخبر اللہ بذالک فی کتابہ کما تقدم ذکرہ‘‘ (کتاب بالا ج۲ ص۱۸۶) ’’اور اللہتعالیٰ نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے ہاتھ پر معجزات ظاہر کئے اور تحقیق وہ آسمان کی طرف چڑھ گئے۔ جیسے کہ اللہتعالیٰ نے اپنی کتاب مقدس میں خبر دی ہے۔ جیسا کہ پہلے گزر چکا ہے۔‘‘

۶… ’’وان من اہل الکتاب الا لیؤمنن بہ قبل موتہ وہذا عند اکثر العلماء معناہ
230
قبل موت عیسیٰ وقد قیل قبل موت الیہودی وہو ضعیف کما قیل انہ قبل موت محمدﷺ وہو اضعف فانہ لواٰمن بہ قبل الموت لنفع ایمانہ بہ فان اللہ یقبل التوبۃ العبد مالم یغرغر لم یکن فی ہذا فائدۃ فان کل احد بعد موتہ یؤمن بالغیب الذی کان یجحدہ فلا اختصاص للمسیح بہ ولانہ قال قبل موتہ ولم یقل بعد موتہ ولا نہ لا فرق بین ایمانہ بالمسیح وبمحمد صلوات اللہ علیہما وسلامہ والیہود الذی یموت علی الیہودیۃ فیموت کافرا بمحمد والمیسح علیہما الصلوٰۃ والسلام ولا نہ قال وان من اہل الکتاب الا لیؤمنن بہ قبل موتہ وقولہ لیؤمنن بہ فعل مقسم علیہ وہذا انما یکون فی المستقبل فدل ذالک علی ان ہذا الایمان بعد اخبار اللہ بہذا ولو ارید قبل موت الکتابی لقال وان من اہل الکتاب الا من یؤمن بہ لم یقل لیؤمنن بہ وایضاً فانہ قال وان من اہل الکتاب وہذا یعم الیہود والنصاریٰ فدل ذالک علی ان جمیع اہل الکتاب الیہود والنصاریٰ یؤمنون بالمسیح قبل موت المسیح وذالک اذا نزل اٰمنت الیہود والنصاریٰ بانہ رسول اللہ لیس کاذباً کما یقول الیہودی ولا ہو اللہ کما تقولہ النصاریٰ‘‘ (الجواب الصحیح ج۲ ص۲۸۳،۲۸۴)

’’وان من اہل الکتاب الا لیؤمنن بہ قبل موتہ! اس کی تفسیر اکثر علماء نے یہ کی ہے کہ مراد ’’قبل موتہ‘‘ سے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی موت سے پہلے اور یہودی کی موت سے پہلے بھی کسی نے معنی کئے ہیں اور یہ ضعیف ہے جیسا کہ کسی نے محمدﷺ کی موت سے پہلے بھی معنی کئے ہیں اور یہ اس سے بھی زیادہ ضعیف ہے۔ کیونکہ اگر ایمان موت سے پہلے لایا جائے تو نفع دے سکتا ہے۔ اس لئے کہ اللہتعالیٰ توبہ قبول کرتا ہے۔ جب تک کہ بندہ غرغرہ تک نہ پہنچا ہو اور اگر یہ کہا جائے کہ ایمان سے مراد ایمان بعد الغرغرہ ہے تو اس میں کوئی فائدہ نہیں۔ اس لئے کہ غرغرہ کے وقت وہ ہر ایک امر پر جس کا کہ وہ منکر ہے۔ ایمان لاتا ہے۔ پس مسیح علیہ السلام کی کوئی خصوصیت نہ رہی اور ایمان سے مراد ایمان نافع ہے (کیونکہ تمام قرآن شریف میں ایمان انہیں معنوں میں استعمال ہوا ہے کہیں ایمان سے مراد ایمان غیر نافع نہیں لیاگیا۔ پس مطابق اصول قادیانی کے امر متنازعہ فیہ میں کسی لفظ کے معنی وہی صحیح ہوں گے جو معنی تمام قران میں لئے گئے ہوں گے۔ ایمان سے مراد ایمان نافع ماننا ضروری ہے اور ہم دیکھتے ہیں کہ بے شمار یہودی وعیسائی کفر پر مر رہے ہیں۔ ابوعبیدہ) اس لئے کہ اللہتعالیٰ نے ’’قبل موتہ‘‘ فرمایا ہے۔ نہ بعد موتہ اگر ایمان بعد غرغرہ مراد ہوتا تو بعد موتہ فرماتا۔

231

کیونکہ بعد موت کے ایمان بالمسیح یا بمحمد ﷺ میں کوئی فرق نہیں ہے اور یہودی یہودیت پر مرتا ہے۔ اس لئے وہ کافر مرتا ہے۔ مسیح علیہ السلام اور محمدﷺ سے منکر ہوتا ہے اور اس آیت میں ’’لیؤمنن بہ‘‘ مقسم علیہ ہے۔ یعنی قسمیہ خبر دی گئی ہے اور یہ مستقبل ہی میں ہوسکتا ہے۔ (نیز جس خبر پر قسم کھائی جائے وہ مضمون بلاتاویل قابل قبول ہوتا ہے۔ اس میں تاویل کرنا حرام ہوتا ہے۔ جیسا کہ خود قادیانی اپنی کتاب (حمامتہ البشریٰ ص۱۴، خزائن ج۷ ص۱۹۲ حاشیہ) پر لکھتا ہے۔ ابوعبیدہ) پس ثابت ہوا۔ یہ ایمان اس خبر کے بعد ہوگا اور اگر موت کتابی کی مراد ہوتی تو اللہتعالیٰ یوں فرماتے۔ ’’وان من اہل الکتاب الا من یؤمن بہ‘‘ اور ’’لیؤمنن بہ‘‘ نہ فرماتے اور نیز ’’وان من اہل الکتاب‘‘ یہ لفظ عام ہے۔ ہر ایک یہودی ونصرانی کو شامل ہے۔ پس ثابت ہوا کہ تمام اہل کتاب یہود ونصاریٰ مسیح علیہ السلام کی موت سے پہلے مسیح علیہ السلام پر ایمان لائیں گے اور یہ اس وقت ہوگا جب مسیح علیہ السلام اتریں گے تمام یہود ونصاریٰ ایمان لائیں گے کہ مسیح ابن مریم اللہ کا رسول کذاب نہیں۔ جیسے یہودی کہتے ہیں اور وہ خدا نہیں جیسا کہ نصاریٰ کہتے ہیں۔‘‘

عبارت بالا کے آگے یہ عبارت ہے۔

’’والمحافظۃ علی ہذا العموم اولی من ان یدعی ان کل کتابی لیؤمنن بہ قبل ان یموت الکتاب فان ہذا یستلزم ایمان کل یہودی ونصرانی وہذا خلاف الواقع وھو لما قال وان من ہم الا لیؤمنن بہ قبل موتہ ودل علیٰ ان المراد بایمانہم قبل ان یموت ہو علم انہ ارید بالعموم عمومہ من کان موجوداً حین نزولہ ای لا یختلف منہم احد عن الایمان بہ لا ایمان من کان منہم میتا وہذا کما یقال انہ لا یبقی بلد الا دخلہ الدجال الامکۃ والمدینۃ ای فی المدائن الموجودۃ حینئذاٍ وسبب ایمان اہل الکتاب بہ حینئذاٍ ظاہر فانہ یظہر لکل احد انہ رسول یؤید لیس بکذاب ولا ہو رب العالمین ف اللہ تعالیٰ ذکر ایمانہم بہ اذا نزل الیٰ الارض فانہ تعالیٰ لما ذکر رفعہ الی اللہ بقولہ تعالیٰ ان متوفیک ورافعک الیّٰ وھو ینزل الی الارض قبل یوم القیامۃ ویموت حینئذا خبر بایمانہم بہ قبل موتہ‘‘

(الجوب الصحیح ج۲ ص۲۸۴)

’’اس عموم کا لحاظ زیادہ مناسب ہے۔ اس دعویٰ سے کہ موتہ سے مراد موت کتابی ہے۔ کیونکہ یہ دعویٰ ہر ایک کتابی، یہودی ونصرانی کے ایمان کو مستلزم ہے اور یہ خلاف واقع ہے۔ اس لئے کہ جب اللہ تعالیٰ نے یہ خبر دی کہ تمام اہل کتاب ایمان لائیں گے تو ثابت ہوا کہ اس عموم سے مراد عموم ان لوگوں کا ہے۔

232

جو حضرت مسیح علیہ السلام کے نزول کے وقت موجود ہوں گے۔ کوئی بھی ایمان لانے سے اختلاف نہ کرے گا۔ اس عموم سے مراد وہ اہل کتاب جو فوت ہوچکے ہیں نہیں ہوسکتے۔ یہ عموم ایسا ہے جیسا یہ کہا جاتا ہے کہ کوئی شہر ایسا نہیں ہوگا مگر یہ کہ دجال اس میں ضرور داخل ہوگا۔ سوائے مکہ اور مدینہ شریف کے۔ پس شہروں سے مراد یہاں صرف وہی شہر ہیں جو دجال کے وقت موجود ہوں گے۔ (جو اس سے پہلے صفحہ ہستی سے مٹ چکے ہوں گے وہ مراد نہیں ہوسکتے) اور اس وقت ہر ایک یہودی ونصرانی کے ایمان کا سبب ظاہر ہے۔ وہ یہ کہ ہر ایک کو معلوم ہو جائے گا کہ مسیح علیہ السلام رسول اللہ مؤید بتائید اللہ ہے۔ نہ وہ کذاب ہے نہ وہ خدا ہے۔ پس اللہتعالیٰ نے اس ایمان کا ذکر فرمایا ہے۔ جو حضرت مسیح علیہ السلام کے نازل ہونے کے وقت ہوگا۔ سب اہل کتاب مسیح علیہ السلام کی موت سے پہلے ان پر ایمان لائیں گے۔‘‘

۸… ناظرین! عربی عبارتیں کہاں تک نقل کرتا جاؤں۔ اب میں صرف اردو ترجمہ پر ہی اکتفا کرتا ہوں۔ جس کو عربی عبارتوں کا شوق ہو۔ وہ

عبارت بالا کے بعد یہ عبارت ہے۔

’’صحیحین میں وارد ہے کہ آنحضرتﷺ نے فرمایا کہ قریب ہے کہ ابن مریم اترین گے۔ حاکم، عادل، پیشوا، انصاف کرنے والا۔ صلیب کو توڑیں گے۔ خنزیر کو قتل کریں گے۔ جزیہ موقوف کریں گے (اور آیت قرآنی ’’وما قتلوہ وما صلبوہ ولکن شبہ لہم وان الذین اختلفوا فیہ لفی شک منہ مالہم بہ من علم الا اتباع الظن وما قتلوہ یقینا بل رفعہ اللہ الیہ وکان اللہ عزیزاً حکیما‘‘) اس آیت میںبیان ہے کہ اللہتعالیٰ نے مسیح علیہ السلام کو زندہ آسمان پر اٹھالیا اور قتل سے بچا لیا اور بیان فرمایا کہ مسیح علیہ السلام کی موت سے پہلے پہلے اہل کتاب ان پر ایمان لائیں گے… اور لفظ ’’توفی‘‘ لغت عرب میں اس کے معنی ’’پورا لینا‘‘ اور ’’قبضہ میں لینا‘‘ ہے اور یہ تین طرح ہوسکتا ہے۔ (۱)قبض فی النوم (سلانا)۔ (۲)قبض فی الموت (مارنا) اور (۳)قبض الروح معہ البدن (بمعہ جسم اوپر اٹھا لینا) پس مسیح علیہ السلام کی توفی تیسری قسم کی ہے۔ یعنی روح اور جسم دونوں کے ساتھ اٹھائے گئے۔ ان کا حال اہل زمین کی طرح نہیں۔ زمین کے بسنے والے کھانے، پینے، پیشاب پاخانہ کی طرف محتاج ہیں اور مسیح علیہ السلام کو اللہتعالیٰ نے قبضہ میں لے لیا اور وہ دوسرے آسمان پر رہیں گے۔ اس وقت تک کہ نازل ہوں گے زمین کی طرف۔ ان کا حال

233

کھانے، پینے، پہننے اور سونے اور بول وبراز میں زمین پر بسنے والوں کی طرح نہیں ہے۔‘‘

۹… ’’قلت وصعود الآدمی ببدنہ الیٰ السماء قد ثبت فی امر المسیح عیسیٰ ابن مریم علیہ السلام فانہ صعد الی السماء وسوف ینزل الی الارض ہذا مما یوافق النصاریٰ علیہ المسلمین فانہم یقولون ان المسیح صعد الی السماء ببدنہ وروحہ کما یقول المسلمون ویقولون انہ سوف ینزل الی الارض ایضاً کما یقول المسلمون وکما اخبر بہ النبیﷺ فی الاحادیث الصحیحۃ… وان نزولہ من اشراط الساعۃ کما دل علی ذالک الکتاب والسنۃ‘‘

(الجواب الصحیح ج۴ ص۱۶۹،۱۷۰)

’’میں (امام ابن تیمیہؒ) کہتا ہوں کہ آدمی کا جسم عنصری کے ساتھ آسمان پر چڑھ جانا یقینا مسیح کے بارہ میں پایۂ ثبوت کو پہنچ چکا ہے۔ پس وہ آسمان پر چڑھ گئے اور عنقریب زمین پر اتریں گے اور نصاریٰ بھی اس بیان میں مسلمانوں سے موافق ہیں۔ وہ بھی مسلمانوں کی طرح یہی کہتے ہیں کہ مسیح علیہ السلام جسم کے ساتھ آسمان پر چڑھ گئے اور عنقریب زمین پر اتریں گے۔‘‘

۱۰… ’’وعیسیٰ ابن مریم علیہ السلام اذا نزل من السماء انما یحکم فیہم بکتاب ربہم وسنۃ نبیہم‘‘ (زیارت القبور ص۷۵) ’’اور عیسیٰ ابن مریم علیہ السلام جب آسمان پر سے نازل ہوں گے تو وہ قرآن کریم اور سنت نبویﷺ کے مطابق حکم دیں گے۔‘‘

۱۱… ’’والنبیﷺ قد اخبرہم ینزل عیسیٰ من السماء‘‘ (زیارت القبور ص۷۵)

’’اور نبیﷺ نے مسلمانوں کو خبر دی ہے کہ عیسیٰ علیہ السلام آسمان سے اتریں گے۔‘‘ (نہ کہ ماں کے پیٹ سے نکلیں گے) یہ مرزاقادیانی کے اپنے الفاظ ہیں۔ ابوعبیدہ!

حضرات! میرے اقتباسات کے مطالعہ سے شاید آپ تھک گئے ہوں گے۔ مرزاقادیانی کے دجل وفریب کی وسعت اور گہرائیوں کا بھی اندازہ لگائیں کہ باوجود ابن تیمیہ کی ان تصریحات کے بھی ہانکے جاتا ہے کہ ’’ایسا ہی فاضل ومحدث ومفسر امام ابن تیمیہؒ وابن قیم جو اپنے اپنے وقت کے امام ہیں۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی وفات کے قائل ہیں۔‘‘

(کتاب البریہ حاشیہ ص۲۰۳، خزائن ج۱۳ ص۲۲۱)

کیا اب مجھے اجازت ہے کہ مرزاقادیانی کا صریح جھوٹ وافتراء ثابت ہو جانے کے بعد مرزاقادیانی کا اپنا فتویٰ ان کی شان میں لکھ دوں۔

۱… ’’دروغ گوئی کی زندگی جیسی کوئی لعنتی زندگی نہیں۔‘‘

(نزول المسیح ص۲، خزائن ج۱۸ ص۳۸۰)

234

۲… ’’ظاہر ہے کہ جو ایک بات میں جھوٹا ثابت ہو جائے تو پھر دوسری باتوں میں بھی اس پر اعتبار نہیں رہتا۔‘‘

(چشمہ معرفت ص۲۲۲، خزائن ج۲۳ ص۲۳۱)

۳… ’’جھوٹ ام الخبائث ہے۔‘‘

(تبلیغ رسالت ج۷ ص۲۸، مجموعہ اشتہارات ج۳ ص۳۱)

۴… ’’جھوٹ بولنے سے مرنا بہتر ہے۔‘‘

(تبلیغ رسالت ج۷ ص۳۰، مجموعہ اشتہارات ج۳ ص۳۴)

۵… ’’جھوٹے پر خدا کی لعنت۔‘‘

(ضمیمہ براہین احمدیہ حصہ پنجم ص۱۱۱، خزائن ج۲۱ ص۲۷۵)

۶… ’’جھوٹ بولنا مرتد ہونے سے کم نہیں۔‘‘

(ضمیمہ تحفہ گولڑویہ ص۱۳ حاشیہ، خزائن ج۱۷ ص۵۶)

۷… ’’اے بیباک لوگو جھوٹ بولنا اور گوہ کھانا ایک برابر ہے۔‘‘

(حقیقت الوحی ص۲۰۶، خزائن ج۲۲ ص۲۱۵)

۸… ’’جھوٹ بولنے سے بدتر دنیا میں اور کوئی کام نہیں۔‘‘

(تتمہ حقیقت الوحی ص۲۶، خزائن ج۲۲ ص۴۵۹)

۱۹…امام ابن قیمؒ کا عقیدہ

عظمت شان

۱… امام ابن قیم ساتویں صدی کے مجدد تھے۔

(قادیانی کتاب عسل مصفی ج۱ ص۱۲۴)

۲… قول مرزا: ’’فاضل ومحدث ومفسر ابن قیم جو اپنے وقت کے امام تھے۔‘‘

(کتاب البریہ حاشیہ ص۲۰۳، خزائن ج۱۳ ص۲۲۱)

ناظرین! امام ابن قیمؒ امام ابن تیمیہؓ کے شاگرد تھے۔ استاد کا عقیدہ آپ نے ملاحظہ فرمالیا۔ قدرتی بات ہے کہ امام ابن قیم اس قدر ضروری عقیدہ میں یقینا اپنے استاد کے مخالف نہیں ہوسکتے۔ مگر ہم ذیل میں ان کی اپنی تصنیفات سے چند حوالے درج کرتے ہیں تاکہ قادیانی جماعت کی صداقت کی حقیقت معلوم ہوسکے۔

۱… ’’وہذا المسیح ابن مریم حی لم یمت وغذأہ من جنس غذاء الملئکۃ‘‘ مسیح ابن مریم علیہ السلام زندہ ہیں فوت نہیں ہوئے اور ان کی غذا وہی ہے جو فرشتوں کی ہے۔

(کتاب التبیان مصنفہ ابن قیمؒ)

۲… ’’ومسیح المسلمین الذی ینتظرو نہ ہو عبد اللہ ورسولہ وروحہ وکلمتہ القاہا الی مریم العذراء البتول عیسیٰ ابن مریم اخو عبد اللہ ورسولہ محمد بن عبد اللہ فیظہر دین اللہ وتوحیدہ ویقتل اعداء الدین اتخذوہ وامہ الٰہین من دون اللہ واعداء لا الیہود الذین رموہ وامہ بالعظائم فہذا ہو الذی ینتظرہ المسلمون وہو نازل علی المنارۃ الشرقیہ بدمشق واضعاً یدیہ علی منکبی
235

ملکین یراہ الناس عیاناً بابصارہم نازلاً من السماء فیحکم بکتاب اللہ وسنۃ رسولہ‘‘

(ہدایہ الجباری مصنفہ امام ابن قیمؒ)

’’وہ مسیح جس کی انتظار مسلمان کر رہے ہیں۔ وہ عبد اللہ ہے۔ اللہ کا رسول ہے۔ روح الٰہی ہے اور اس کا وہ کلمہ ہے جو اس نے حضرت مریم علیہ السلام بتول کی طرف نازل کیا۔ یعنی عیسیٰ ابن مریم اللہ کے بندے اور اس کے رسول محمدﷺ ابن عبد اللہ کا بھائی ہے۔ وہ اللہتعالیٰ کے دین اور اس کی توحید کو غالب بنائے گا اور اپنے ان دشمنوں کو قتل کرے گا۔ جنہوں نے اللہ کو چھوڑ کر خود اس کو اور اس کی ماں کو معبود بنالیا اور اپنے ان یہودی دشمنوں کو قتل کرے گا۔ جنہوں نے اس پر اور اس کی ماں پر اتہام باندھے بس یہی وہ مسیح ہے۔ جس کی انتظار مسلمان کر رہے ہیں اور دمشق میں شرقی منارہ پر اس حالت میں نازل ہونے والے ہیں کہ اپنے دونوں ہاتھ دو فرشتوں کے کندھوں پر رکھے ہوں گے۔ لوگ آپ کو اپنی آنکھوں سے آسمان سے اترتے ہوئے دیکھیں گے۔ آپ اللہ کی کتاب (قرآن شریف) اور اس کے رسول کی سنت کے مطابق حکم چلائیں گے۔‘‘

۳… ’’ومحمدﷺ مبعوث الی جمیع الثقلین فرسالتہ عامۃ لجمیع الجن والانس فی کل زمان ولو کان موسیٰ وعیسیٰ حیین لکانا من اتباعہ واذا نزل عیسیٰ ابن مریم فانما یحکم بشریعۃ محمدﷺ‘‘

(مدارج السالکین ج۲ ص۲۴۳،۳۱۳)

’’آنحضرتﷺ کی نبوت تمام جنوں اور انسانوں کے لئے اور ہر زمانے کے لئے ہے۔ بالفرض اگر موسیٰ وعیسیٰ علیہم السلام (آج زمین پر) زندہ ہوں تو ضرور آنحضرتﷺ کا اتباع کریں اور جب عیسیٰ ابن مریم علیہ السلام نازل ہوں گے تو وہ شریعت محمدیﷺ پر ہی عمل کریں گے۔ اس کے آگے فرماتے ہیں۔‘‘

’’فمن ادعی انہ مع محمد کالخضر مع موسیٰ اوجوز ذالک لاحد من الامۃ فلیجد اسلامہ ویشہد انہ مفارق لدین الاسلام بالکلیۃ فضلاً ان یکون من خاصۃ اولیاء اللہ وانما ہو من اولیاء الشیطان‘‘ تو جو کوئی اس بات کا دعویٰ کرے کہ عیسیٰ ابن مریم علیہ السلام حضرت محمدﷺ کے ساتھ اس طرح ہوں گے جس طرح کہ موسیٰ علیہ السلام کے ساتھ خضر یا اگر کوئی شخص امت محمدی میں سے کسی شخص کے لئے ایسا تعلق جائز قرار دے (نوٹ: مرزائی مرزاقادیانی کو ایسا ہی سمجھتے ہیں۔ ابوعبیدہ) تو ضرور ہے کہ ایسا شخص اپنے اسلام کی تجدید کرے اور اسے اپنے ہی خلاف اس امر کی شہادت دینی پڑے گی۔ (مرزائی جماعت مجدد وقت امام ابن قیم کی تنبیہ کا خیال کرے) کہ وہ دین

236

اسلام سے باالکلیہ علیحدہ ہونے والا ہے۔ چہ جائیکہ وہ خاص اولیاء اللہ میں سے ہو سکے۔ نہیں بلکہ ایسا شخص شیطانی ولی ہے۔

ناظرین! غور کریں کہ کس طرح امام ابن قیم آج سے چھ سات سو سال پہلے مرزاغلام احمد قادیانی کا ناطقہ بندکر رہے ہیں۔ کیسے صاف الفاظ میں اعلان فرمارہے ہیں۔ اگر کوئی شخص یہ خیال کرے کہ امت محمد میں سے کوئی شخص ترقی کر کے مسیح ابن مریم والی پیش گوئی کا مصداق ہوسکتا ہے تو ایسا خیال کرنے والا بھی اسلام سے خارج ہو جاتا ہے۔ چہ جائیکہ خود مدعی کا اسلام قبول کیا جاسکے۔

قادیانی اعتراض اور اس کی حقیقت

مدارج السالکین میں ابن قیم نے لکھا ہے: ’’لوکان موسیٰ وعیسیٰ حیین لکانا من اتباعہ‘‘ یعنی اگر موسیٰ وعیسیٰ زندہ ہوتے تو ضرور آنحضرتﷺ کے متبعین میں سے ہوتے۔

الجواب

۱… ہم نے ترجمہ کرتے وقت ’’آج زمین پر‘‘ کے الفاظ کا اضافہ کر دیا ہے اور یہ ہم نے اپنے پاس سے نہیں کیا بلکہ صحیح مراد ہے امام کی۔ صرف کند ذہن آدمی کے لئے اس کی ضرورت ہے۔ ورنہ خود کلام امام سے یہ بات ظاہر وباہر ہے۔ اگر اس کے معنی مطلق زندہ کے لئے جائیں تو پھر آسمان پر حضرت موسیٰ علیہ السلام کی موت بھی قادیانیوں کو ماننی پڑے گی۔ حالانکہ مرزاقادیانی حضرت موسیٰ علیہ السلام کی زندگی کے قائل ہیں۔ پس یقینا مراد اس حی سے ارضی حیات ہے۔

۲… اتباع شریعت محمدی کے مکلف صرف اہل زمین ہیں۔ ’’اہل سمٰوات‘‘ اس کے مکلف نہیں۔ ورنہ اتباع شریعت محمدی کی شرط ’’نزول من السماء‘‘ کے ساتھ وابستہ نہ ہوتی۔ پس چونکہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام آسمان پر ہونے کے سبب اتباع شریعت محمدیﷺ سے دیگر اہل سموات کی طرح مستثنیٰ ہیں۔ اس واسطے یقینا یہاں حی سے مراد ارضی حیات ہی ہوسکتے ہیں۔ کیا فرماتے ہیں۔ قادیانی حضرات اس بارہ میں اگر عیسیٰ علیہ السلام ان کے عقیدہ میں بھی زندہ بجسدہ العنصری موجود ہوتے تو کیا پھر وہ ضرور آنحضرتﷺ کی شریعت کا اتباع کرتے۔ کیا اب وہ رسول کریمﷺ کی اطاعت سے اس لئے مستثنیٰ ہیں کہ ان کا جسم عنصری نہیں بلکہ نورانی ہے۔ کیا اطاعت کے لئے صرف جسم عنصری ہی کو حکم ہے۔ نورانی جسم والے انسان آنحضرتﷺ کا حکم ماننے پر مجبور و

237

مکلف نہیں ہیں۔ نہیں ایسا نہیں بلکہ صرف اہل زمین ہی پر اتباع نبویﷺ واجب ہے۔ حج، زکوٰۃ، نماز، روزہ صرف اہل زمین ہی کے لئے فرض ہوتے ہیں۔ پس اتباع محمدی کے لئے زمینی زندگی کی ضرورت ہے۔ اس سے حضرت موسیٰ علیہ السلام وعیسیٰ علیہ السلام دونوں محروم ہیں۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام تو بوجہ وفات اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام بوجہ رفع جسمانی الیٰ السماء لہٰذا حیین کے معنی یقینا زمینی زندگی لینے پڑیں گے۔ ورنہ امام کی کلام بالکل بے معنی ٹھہرے گی۔ جیسا کہ ناظرین پر ظاہر کیاجاچکا ہے۔ کیونکہ امام ابن قیم نے حضرت عیسیٰ ابن مریم کو اتباع محمدی کا مکلف نزول کے بعد ٹھہرایا ہے۔

۳… چونکہ امام نے اتباع کو حیی کے ساتھ مشروط ٹھہرایا ہے اور پھر خود ہی فرماتے ہیں کہ نازل ہوکر اتباع محمدی کریں گے تو ماننا پڑے گا کہ نزول سے پہلے وہ مردہ تھے۔ نزول کے وقت وہ زندہ ہو جائیں گے۔ ہم تو اس کو بھی قدرت باری کا ایک ادنیٰ کرشمہ سمجھتے ہیں۔ لیکن یہ بات قادیانی خود قبول نہیں کریں گے۔ دوسرے خود امام کی اپنی مراد کے خلاف ہے۔ کیونکہ خود اسی عبارت میں اور دیگر جگہوں میں وہ حیات عیسیٰ علیہ السلام کا عقیدہ فرض قرار دے رہے ہیں۔ جیسا کہ ہم نقل کر چکے ہیں۔ پس کوئی وجہ نظر نہیں آتی کہ ہم امام کی کلام کا مفہوم خود ان کے اپنے بیان کردہ عقیدہ کے خلاف لے لیں۔

۴… اگر مرزائی حضرات حیی کے معنی زندہ لینے میں اس بات پر اصرار کریں گے کہ اس سے مراد ہر جگہ کی زندگی ہے تو اس سے حضرت موسیٰ علیہ السلام اور تمام انبیاء علیہم السلام کا آسمان پر مردہ ہونا ماننا پڑے گا۔ کیونکہ جس دلیل سے مرزائی حضرات عیسیٰ علیہ السلام کی زندگی کا انکار کریں گے۔ اسی سے دیگر حضرات کی آسمانی زندگی کا انکار لازم آئے گا۔

۵… مرزاقادیانی اپنی کتاب میں لکھتے ہیں: ’’معراج کی رات میں آنحضرتﷺ نے تمام نبیوں کو برابر زندہ پایا اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو حضرت یحییٰ علیہ السلام کے ساتھ بیٹھا ہوا دیکھا۔‘‘

(آئینہ کمالات اسلام (قیامت کی نشانی) ص۶۱۱، خزائن ج۵ ص۶۱۱)

کیا ہم قادیانی طرز استدلال کو اختیار کر کے تمام انبیاء علیہم السلام کے حیی (زندہ) ہونے پر اس عبارت کو بطور دلیل پیش نہیں کر سکتے۔ جب اس عبارت سے حضرت موسیٰ علیہ السلام اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی حیات ثابت ہوچکی تو اب امام ابن قیمؒ کے قول کو پڑھئے: ’’لوکان موسیٰ وعیسیٰ حیین‘‘ اگر موسیٰ علیہ السلام وعیسیٰ علیہ السلام زندہ ہوتے۔ ’’لکانا من اتباعہ‘‘ تو وہ ضرور آپ کے تابعداروں میں سے ہوتے۔ پس ہم کہتے ہیں کہ چونکہ امام موصوف نے اتباع شرح محمدی کی جو شرط حضرت موسیٰ علیہ السلام وعیسیٰ علیہ السلام کے

238

لئے لگائی ہے۔ وہ ان میں بدرجہ اتم پائی گئی ہے۔ لہٰذا وہ ضرور آسمان پر حضرت رسول کریمﷺ کا ممکن اتباع کر رہے ہیں۔

۶… مرزاقادیانی نے جو قول نقل کیا ہے۔ اس کے معنی تو زیادہ سے زیادہ یہی ہیں کہ: ’’اگر موسیٰ علیہ السلام وعیسیٰ علیہ السلام دونوں زندہ ہوتے تو آج رسول کریمﷺ کا اتباع کرتے۔‘‘

اس سے مرزائی صاحبان نتیجہ نکالتے ہیں کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام مرچکے ہیں۔ حالانکہ یہ نتیجہ ضرور نہیں ہے بلکہ اس میں رسول کریمﷺ کے اتباع کو حضرت موسیٰ علیہ السلام وعیسیٰ علیہ السلام کے لئے واجب قرار دیا جارہا ہے۔ ہاں اس وجوب کو ان دونوں کی حیات کے ساتھ مشروط کر دیا گیا ہے۔ چونکہ قادیانیوں کے نزدیک حضرت موسیٰ علیہ السلام آسمان پر زندہ موجود ہیں اور ہمارے نزدیک حضرت عیسیٰ علیہ السلام آسمان پر زندہ موجود ہیں۔ پس اگر اس قول سے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی موت کا ثبوت ملتا ہے تو یقینا حضرت موسیٰ علیہ السلام کی موت بھی ماننی پڑے گی اور اس کے بعد مرزاقادیانی ان کی حیات کو اپنا ضروری عقیدہ قرار نہیں دے سکتے۔ جیسا کہ لکھتے ہیں: ’’یہ وہی مرد خدا ہے جس کی نسبت قرآن شریف میں اشارہ ہے کہ وہ زندہ ہے اور ہم پر فرض ہوگیا کہ ہم اس بات پر ایمان لائیں کہ وہ آسمان میں زندہ موجود ہے۔ ’’ولم یمت ولیس من المیتین‘‘ وہ مردوں میں سے نہیں۔‘‘

(نور الحق حصہ اوّل ص۵۰، خزائن ج۸ ص۶۹)

جو جواب قادیانی حضرت موسیٰ علیہ السلام کی موت کے خلاف دیں گے وہی ہماری طرف سے سمجھ لیں۔

۲۰…امام ابن حزمؒ کا عقیدہ

عظمت شان

۱… مرزاغلام احمد قادیانی نے اپنی کتاب میں رئیس المکاشفین حضرت محی الدین ابن عربیؒ کی ایک عبارت نقل کی ہے اور خود ہی اس کا ترجمہ بھی کیا ہے۔ بنظر اختصار ہم مرزاقادیانی کا کیا ہوا ترجمہ یہاں لفظ بلفظ نقل کرتے ہیں۔

’’نہایت درجہ کا اتصال یہ ہے کہ ایک چیز بعینہ وہ چیز ہو جائے۔ جس میں وہ ظاہر ہو اور خود نظر نہ آئے۔ جیسا کہ میں نے خواب میں آنحضرتﷺ کو دیکھا کہ آپ نے ابو محمد ابن حزمؒ محدث سے معانقہ کیا۔ پس ایک دوسرے میں غائب ہوگیا۔ بجز رسول اللہﷺ کے نظر نہ آیا۔‘‘

(فتوحات مکیہ باب۱۲۳، بحوالہ ازالہ اوہام ص۲۶۲، خزائن ج۳ ص۲۳۲)

239

… مرزاقادیانی ایک دوسری جگہ لکھتے ہیں: ’’امام ابن حزمؒ اور امام مالکؒ بھی موت عیسیٰ علیہ السلام کے قائل ہیں اور ان کا قائل ہونا گویا امت کے تمام اکابر کا قائل ہونا ہے۔ کیونکہ اس زمانہ کے اکابر امت سے مخالفت منقول نہیں۔‘‘

(ایام الصلح ص۳۹، خزائن ج۱۴ ص۲۶۹)

معزز ناظرین! امام مالکؒ کے متعلق تو میں پیچھے ثابت کر آیا ہوں کہ وہ بھی حیات عیسیٰ علیہ السلام کے قائل ہیں اور اسی عیسیٰ ابن مریم بنی اسرائیل نبی کے دوبارہ آنے کا عقیدہ رکھتے ہیں۔ امام ابن حزمؒ کے متعلق مرزاقادیانی نے جو جھوٹ سے کام لیا ہے۔ اس کی حقیقت ابھی آپ کے سامنے آجاتی ہے۔ مگر بہرحال مرزاقادیانی کے بیانات سے اتنا تو ثابت ہوگیا کہ امام ابن حزمؒ کا مرتبہ اس قدر بلند ہے کہ رسول کریمﷺ کے ساتھ اتحاد کلی کے سبب ان کی اپنی علیحدہ ہستی نہ رہی تھی اور ہر مسئلہ میں ان کا قول قول فیصل کا حکم رکھتا ہے۔ اب حیات مسیح علیہ السلام کے متعلق ان کے اقوال ملاحظہ کیجئے۔

امام ابن حزمؒ کے اقوال

۱… ’’وقولہ تعالیٰ وما قتلوہ وما صلبوہ ولکن شبہ لہم انما ہو اخبار عن الذین یقولون تقلیداً لا سلافہم من النصاریٰ والیہود انہ علیہ السلام قتل وصلب فہؤلا شبہ لہم القول ای ادخلوا فی شبہۃ منہ وکان المشبہون لہم شیوخ السوء فی ذالک الوقت وشرطہم المدعون انہم قتلوہ وما صلبوہ وہم یعلمون انہ لم یکن ذالک وانما اخذوا من امکنہم وقتلوہ وصلبوہ فی استتار ومنع من حضور الناس ثم انزلوہ ودفنوہ تمویہا علی العامۃ التی شبہ الخبرلہا‘‘

ترجمہ کا ملخص یہ کہ کوئی دوسرا شخص حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی جگہ قتل کیاگیا اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام قتل اور صلیب سے بالکل بچا لئے گئے۔

(الملل والنحل لا بن حزم ج۱ ص۷۷)

۲… ’’انہ (ای نبیﷺ) اخبر انہ لا نبی بعدہ الا ماجاء ت الاخبار الصحاح من نزول عیسیٰ علیہ السلام الذی بعث الی بنی اسرائیل وادعی الیہود قتلہ وصلبہ فوجب الا قرار بہذا الجملۃ‘‘

(کتاب الفصل فی الملل والنحل ج۱ ص۹۵)

’’آنحضرتﷺ نے ارشاد فرمایا کہ میرے بعد کوئی نبی بھی نہیں ہوگا۔ بجز اس ہستی کے جس کا آنا صحیح احادیث سے ثابت ہے۔ یعنی حضرت عیسیٰ علیہ السلام جو بنی اسرائیل کی طرف

240

مبعوث ہوئے اور یہود نے ان کے قتل اور سولی پر چڑھانے کا دعویٰ کیا۔ پس اس حدیث کا اعتراف بھی ضروری ہے۔‘‘

۳… ’’واما من قال ان اللہ عزوجل ہو فلان انسان بعینہ او ان اللہ تعالیٰ یحل فی جسم من اجسام خلقہ او ان بعد محمدﷺ نبینا غیر عیسیٰ ابن مریم فانہ لا یختلف اثنن فی تکفیرہ لصحۃ قیام الحجۃ‘‘

(الملل والنحل لابن حزمؒ ج۲ ص۲۶۹)

’’اور جس شخص نے کہا کہ اللہتعالیٰ فلاں انسان ہے یا یہ کہا کہ اللہتعالیٰ اپنی مخلوق کے جسم میں حلول کر جاتا ہے یا یہ کہا آنحضرتﷺ کے بعد عیسیٰ ابن مریم کے سوا اور نبی ہوگا۔ تواس اس کے کافر ہونے میں کسی کو اختلاف نہیں۔‘‘ ناظرین! امام ابن حزمؒ کے مرتبہ وعظمت کا خیال کریں اور پھر ان اقوال سے حیات عیسیٰ علیہ السلام ابن مریم کا ثبوت ملاحظہ کریں۔ اس کے بعد مرزاقادیانی نے جو امام موصوف پر افتراء باندھا اس کی حقیقت کا خود اندازہ لگائیں۔ کیا اس کے بعد مرزاقادیانی پر ہم ایک معمولی انسان جیسا بھی اعتماد کر سکتے ہیں۔

۲۱…امام عبدالوہاب شعرانیؒ کا عقیدہ

عظمت شان

۱… ’’مرزاقادیانی نے امام عبدالوہاب شعرانیؒ کو ان لوگوں میں شمار کیا ہے۔ جو محدث اور صوفی ہونے کے علاوہ معرفت کامل اور تفقہہ تام کے رنگ سے رنگین تھے۔‘‘

(ازالہ اوہام ص۱۴۹، خزائن ج۳ ص۱۷۶)

۲… مرزاقادیانی امام شعرانیؒ کے مرتبہ کے اس قدر قائل تھے کہ انہیں صرف امام صاحب کے نام سے یاد فرماتے تھے۔

(ازالہ اوہام ص۱۵۰،۱۵۱، خزائن ج۳ ص۱۷۶)

اب ہم اس مرتبہ کے بزرگ کی کلام حیات عیسیٰ علیہ السلام کے ثبوت میں پیش کرتے ہیں۔ عبارت چونکہ بہت طویل ہے۔ ہم صرف اس کے اردو ترجمہ پر اکتفاء کرتے ہیں۔ شائقین حضرات عربی عبارت کے لئے اصل کی طرف رجوع کریں۔ امام موصوف فرماتے ہیں۔

’’اگر تو سوال کرے کہ جب عیسیٰ علیہ السلام آئے گا تو وہ کب مرے گا؟ تو جواب اس کا یہ ہے کہ جب دجال کو قتل کر چکیں گے تب فوت ہوں گے۔ اسی طرح شیخ اکبر نے فتوحات کے باب ۳۶۹ میں لکھا ہے۔ اگر تو سوال کرے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے نزول پر کیا دلیل ہے۔ تو جواب یہ ہے کہ ان کے نزول پر دلیل اللہ تعالیٰ کا یہ قول ہے۔ ’’وان من اہل الکتاب الا لیؤمنن بہ قبل موتہ‘‘ یعنی جس وقت نازل ہوگا اور لوگ اس پر

241

اکٹھے ہوں گے اور معتزلہ اور فلاسفر اور یہود اور نصاریٰ جو عیسیٰ علیہ السلام کے جسم کے ساتھ آسمان پر جانے کے منکر ہیں۔ اس وقت یہ سب لوگ ایمان لائیں گے اور اللہتعالیٰ نے عیسیٰ علیہ السلام کے بارے میں فرمایا۔ ’’وانہ لعلم للساعۃ‘‘ (اور عیسیٰ علیہ السلام البتہ قیامت کی نشانی ہے) اور قرآن کے لفظ علم کو عین اور لام کی زبر کے ساتھ پڑھا گیا ہے اور ’’انہ‘‘ میں جو ضمیر ہے وہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی طرف پھرتی ہے۔ چونکہ اللہتعالیٰ کا قول ہے۔ ’’ولما ضرب بن مریم مثلاً‘‘ اور اس کے معنی یہ ہیں کہ تحقیق مسیح علیہ السلام کا نازل ہونا قیامت کی نشانی ہے اور حدیث میں آیا ہے کہ لوگ نماز میں ہوں گے کہ ناگہاں اللہتعالیٰ بھیجے گا۔ حضرت مسیح ابن مریم کو وہ اتریں گے دمشق کی مشرقی طرف سفید منارہ کے پاس حضرت مسیح علیہ السلام نے زرد رنگ کی دو چادریں پہنی ہوں گی۔ دو فرشتوں کے بازوؤں پر اپنے ہاتھ رکھے ہوں گے۔ پس حضرت عیسیٰ علیہ اسلام کا نازل ہونا کتاب وسنت کے ساتھ ثابت ہوگیا۔ حق یہ ہے کہ عیسیٰ علیہ السلام اپنے جسم کے ساتھ آسمان کی طرف اٹھائے گئے ہیں اور اس کے ساتھ ایمان لانا واجب ہے۔ اللہتعالیٰ نے فرمایا ہے۔ ’’بل رفعہ اللہ الیہ‘‘ (بلکہ اللہ نے اس کو اپنی طرف اٹھا لیا) حضرت ابوطاہر قزوینیؒ نے کہا جان کہ عیسیٰ علیہ السلام کے آسمان میں جانے کی کیفیت اور اس کے اترنے اور آسمان میں ٹھہرنے کی کیفیت اور کھانے پینے کے سوا اس قدر عرصہ تک ٹھہرنا، یہ اس قبیل سے ہے کہ عقل اس کے جاننے سے قاصر ہے اور ہمارے لئے اس میں بجز اس کے کوئی راستہ نہیں کہ ہم اس کے ساتھ ایمان لائیں اور اللہ کی اس قدرت کو تسلیم کریں۔ پس اگر کوئی سوال کرے کہ اس قدر عرصہ تک کھانے پینے سے بے پرواہ ہوکر رہنا یہ کس طرح ہوسکتا ہے۔ حالانکہ اللہتعالیٰ فرماتا ہے۔ ’’وما جعلنا ہم جسد الا یاکلون الطعام‘‘ یعنی ہم نے نبیوں کا ایسا جسم نہیں بنایا جو کھانے پینے سے مستغنی ہو۔ تو اس کا جواب یہ ہے کہ طعام کھانا اس شخص کے لئے ضروری ہے جو زمین میں ہے۔ کیونکہ اس پر گرم وسرد ہوا غالب ہے۔ اس لئے اس کا کھاناپینا تحلیل ہو جاتا ہے۔ جب پہلی غذا ہضم ہو جاتی ہے تو اللہتعالیٰ اس کو اور غذا اس کے بدلے میں عنایت کرتا ہے۔ کیونکہ اس دنیا غبار آلود میں اللہ کی یہی عادت ہے۔ لیکن جس شخص کو اللہ آسمان کی طرف اٹھا لے۔ اللہ اس کے جسم کو اپنی قدرت سے لطیف اور نازل کر دیتا ہے اور اس کو کھانے اور پینے سے ایسا بے پرواہ کر دیتا ہے۔ جیسا کہ اس نے فرشتوں کو ان سے بے پرواہ کردیا ہے۔ پس اس وقت اس کا کھانا تسبیح ہوگا اور اس کا پینا تہلیل ہوگا۔ جیسا کہ آنحضرتﷺ نے اس سوال کے جواب میں فرمایا۔ جب کہ آپ سے

242

پوچھا گیا کہ کیوں یا رسول اللہﷺ آپ کھانے پینے کے بغیر پے در پے روزے رکھتے ہیں اور ہم لوگوں کو اجازت نہیں دیتے تو آپؐ نے فرمایا کہ میں اپنے رب کے پاس رات گزارتا ہوں۔ میرا رب مجھ کو کھانا دیتا ہے اور پانی پلاتا ہے اور مرفوع حدیث میں ہے کہ دجال کے پہلے تین سال قحط کے ہوں گے۔ پہلے سال میں آسمان تیسرا حصہ بارش کم کر دے گا اور زمین تیسرا حصہ زراعت کا کم کر دے گی اور دوسرے سال میں دو حصے بارش کے کم ہو جائیں گے اور دو حصے زراعت کے کم ہو جائیں گے اور تیسرے سال میں بارش بالکل بند ہو جائے گی۔ پس اسماء بنت زیدؓ نے عرض کی یار سول اللہﷺ اب تو ہم آٹا گوندھنے سے پکنے تک صبر نہیں کر سکتے۔ اس دن کیا کریں گے۔ فرمایا جو چیز اہل آسمان کو کفایت کرتی ہے یعنی اللہ کی تسبیح اور تقدیس کرنا، وہی چیز اہل ایمان کو کافی ہوگی۔ شیخ ابوطاہرؒ نے فرمایا ہے۔ ایک شخص نامی خلیفہ فراط کو ہم نے دیکھا ہے کہ وہ شہر الیہر میں (جو مشرقی بلاد سے ہے) مقیم تھا۔ اس نے ۲۳سال تک کچھ نہیں کھایا اور دن رات اللہ کی عبادت میں مشغول رہا تھا اور اس سے اس میں کچھ ضعف نہیں آیا تھا۔ پس جب یہ بات ممکن ہے تو عیسیٰ علیہ السلام کے لئے آسمانوں میں تسبیح وتہلیل کی غذا ہو تو کیا بعید ہے اور ان باتوں کا اللہ ہی اعلم ہے۔‘‘

مندرجہ بالا عبارت سے یہ امر روز روشن کی طرح ثابت ہوتا ہے کہ حضرت امام عبدالوہاب شعرانیؒ وفات مسیح کے قائل نہ تھے۔ بلکہ برعکس حیات مسیح کے قائل تھے۔ چنانچہ ان کے یہ الفاظ قابل غور ہیں۔

’’حق یہ ہے کہ عیسیٰ علیہ السلام اپنے جسم کے ساتھ آسمان کی طرف اٹھائے گئے ہیں اور اس کے ساتھ ایمان لانا واجب ہے۔‘‘

(الیواقیت والجواہر مصنفہ امام شعرانی ج۲ ص۱۴۶، بحث۶۵)

معزز قارئین! غور فرمائیں کس طرح مرزائیوں کے مسلم امام فقیہ، محدث اور صوفی مرزائی جماعت کے دلائل وفات مسیح کا تجزیہ کر رہے ہیں۔ مرزائیوں کے تمام دلائل وفات مسیح علیہ السلام اور حیات مسیح علیہ السلام پر ان کے اعتراضات ایک طرف رکھے جائیں تو بھی امام شعرانی کی کلام ان سب کی تردید کے لئے کافی ہے۔

۲۲…حضرت شیخ محی الدین ابن عربی قدس سرہ العزیز کا عقیدہ

عظمت شان

مرزاقادیانی نے شیخ ابن عربی کی اپنی عبارت کا ترجمہ ازالہ اوہام میں

243

درج کیا ہے۔

۱… ’’جب اہل ولایت کو کسی واقعہ میں حدیث کی حاجت پڑتی ہے تو وہ آنحضرتﷺ کی زیارت سے مشرف ہوجاتا ہے۔ پھر جبرائیل علیہ السلام نازل ہوتے ہیں اور آنحضرت جبرائیل علیہ السلام سے وہ مسئلہ جس کی دل کو حاجت ہوتی ہے۔ پوچھ کر اس ولی کو بتادیتے ہیں۔ یعنی ظلی طور پر وہ مسئلہ نزول جبرائیلی علیہ السلام منکشف ہو جاتا ہے۔ پھر شیخ ابن عربی نے فرمایا ہے کہ ہم اس طریق سے آنحضرتﷺ سے احادیث کی تصحیح کرالیتے ہیں۔‘‘

(ازالہ اوہام ص۱۵۱،۱۵۲، خزائن ج۳ ص۱۷۷)

۲… ’’شیخ ابن عربی صاحب فتوحات مکیہ بڑے محقق اور فاضل ہونے کے علاوہ اہل زبان بھی تھے۔‘‘

(آئینہ کمالات اسلام ص۱۶۷، خزائن ج۵ ص ایضاً)

اس مرتبہ والے شیخ قدس سرہ کے اقوال ہم ناظرین کی خدمت میں پیش کرتے ہیں۔

۱… ’’فاستفتح جبرائیل السماء الثانیۃ کما فعل فی الاولیٰ فلما دخل اذا بعیسیٰ علیہ السلام بجسدہ عینہ فانہ لم یمت الی الاٰن بل رفعہ اللہ الی ہذہ السماء واسکنہ بہا‘‘

(فتوحات مکیہ ج۳ ص۳۴۱، باب ۳۶۷)

’’پس کھولا جبرائیل علیہ السلام نے دوسرا آسمان جس طرح کھولا تھا پہلا۔ پس جب رسول کریمﷺ (دوسرے آسمان میں) داخل ہوئے تو اچانک حضرت عیسیٰ علیہ السلام ابن مریم کو پایا کہ اپنے جسم عنصری کے ساتھ موجود تھے۔ عیسیٰ علیہ السلام ابھی تک فوت نہیں ہوئے۔ بلکہ اللہتعالیٰ نے ان کو اس آسمان پر اٹھا لیا اور ان کو وہیں رکھا ہوا ہے۔‘‘

۲… ’’انہ لا خلاف انہ ینزل فی آخر الزمان‘‘

(فتوحات مکیہ ج۲ ص۳، باب ۷۳)

’’اس بارہ میں کسی کا اختلاف نہیں کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام قرب قیامت میں نازل ہوں گے۔‘‘

نوٹ: اس عبارت سے پہلے شیخ قدس سرہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی حیات ہی کا ذکر کر رہے ہیں۔ ابوعبیدہ!

۳… ’’ثم ان عیسیٰ اذا نزل الی الارض فی آخر الزمان‘‘

(فتوحات مکیہ ج۳ ص۵۱۴، باب ۳۸۲)

پھر آخری زمانہ میں عیسیٰ علیہ السلام زمین پر نزول فرمائیں گے۔

۴… ’’لابد ان ینزل فی ہذہ الامۃ فی آخرالزمان ویحکم بسنۃ محمدﷺ مثل ما حکم الخلافا المہدییون الراشدون فیکسر الصلیب ویقتل الخنزیر ویدخل بدخولہ من اہل الکتاب فی الاسلام خلقا کثیر‘‘ (فتوحات مکیہ ج۲ ص۱۲۵،

244

باب ۷۳، سوال۱۴۵) ’’ پکی بات ہے کہ عیسیٰ علیہ السلام آخر زمانہ میں امت محمدیہ ﷺ میں نازل ہوں گے۔ حضورﷺ کی شریعت کے مطابق حکم کریں گے۔ جیسے ہدایت یافتہ راشدین خلفاء کرتے رہے۔ عیسیٰ علیہ السلام صلیب کو توڑنے خنزیر کو قتل کرنے کا حکم فرمائیں گے اور اہل کتاب کی خلق کثیر اسلام میں داخل ہوجائے گی۔‘‘

۵… ناظرین! کتاب ہذا کے گذشتہ صفحات کا دوبارہ مطالعہ کریں اور شیخ قدس سرہ کی روایت کردہ صحیح حدیث سے حیات عیسیٰ علیہ السلام پر صحابہ کرامؓ کے اجماع کا فیصلہ کن ثبوت ملاحظہ کریں۔

۲۳…حافظ ابن حجر عسقلانیؒ کا عقیدہ

عظمت شان

حافظ ابن حجر عسقلانیؒ آٹھویں صدی ہجری کے مجدد اعظم تھے۔ قادیانیوں نے ان کے مجدد ہونے پر اپنی کتاب (عسل مصفی ج۱ ص۱۶۴) پر مہر تصدیق ثبت کی۔

حیات عیسیٰ علیہ السلام کے ثبوت میں ابن حجر عسقلانیؒ کے اقوال

۱… ہم حافظ ابن حجر عسقلانیؒ کے الفاظ میں بخاری شریف کی ایک حدیث کی شرح درج کر آئے ہیں۔ جس میں حیات عیسیٰ علیہ السلام کا ثبوت ابن حجر عسقلانیؒ نے جرالامت حضرت ابن عباسؓ اور دیگر صحابہ کرام سے دے کر اہل سنت والجماعت کے عقیدہ پر مہر تصدیق ثبت کر دی ہے۔

۲… ہم ایک اور حدیث درج کر آئے ہیں جو حیات عیسیٰ علیہ السلام کا عقیدہ ضروری قرار دیتی ہے اور جس کی صحت پر ان حجر نے فتح الباری میں مہر تصدیق ثبت کر دی ہے۔

۳… ’’واما رفع عیسیٰ علیہ السلام فاتفق اصحاب الاخبار والتفسیر علی انہ رفع ببدنہ حیا وانما اختلفوا ہل مات قبل ان یرفع اونام فرفع‘‘

(تلخیص الحبیر ج۳ ص۴۶۲، کتاب الطلاق)

’’عیسیٰ علیہ السلام کے اٹھائے جانے کے بارہ میں محدثین اور مفسرین امت کا اجماع ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام زندہ جسم عنصری کے ساتھ اٹھائے گئے تھے۔ اگر کسی نے اختلاف کیا ہے تو اس بارہ میں کہ وہ رفع جسمانی سے پہلے فوت ہوئے تھے یا سوگئے تھے۔‘‘

۴… ’’ان عیسیٰ ایضاً قد رفع وھو حیی علی الصحیح‘‘

(فتح الباری ج۶ ص۲۶۷، باب ذکر ادریس علیہ السلام)

’’بے شک عیسیٰ علیہ السلام بھی حضرت ادریس علیہ السلام کی طرح اٹھائے گئے اور صحیح

245

یہی ہے کہ وہ زندہ ہیں۔‘‘

۵… ’’کیف انتم اذ نزل ابن مریم وامامکم منکم۰ وعند مسلم فیقال لہم (ای للعیسیٰ) صل لنا فیقول لا ان بعضکم علیٰ بعض امراء تکرمۃ لہذہ الامۃ‘‘

(فتح الباری ج۶ ص۳۵۸)

نیز اسی صفحہ پر ہے کہ:’’بان المہدی بہذہ لامۃ وان عیسیٰ یصلی خلفہ‘‘

(فتح الباری ج۶ ص۳۵۸)

حدیث بخاری شریف ’’کیف انتم اذا نزل ابن مریم وامامکم منکم‘‘ کی اسلامی تشریح پر مہر تصدیق ثبت کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ امام مہدی حضرت عیسیٰ علیہ السلام سے کہیں گے کہ ہمیں نماز پڑھائیے اور وہ عذر کریں گے… مسیح علیہ السلام مہدی کے پیچھے اقتداء کریں گے۔

۶… ’’ینزل عیسیٰ ابن مریم مصدقاً بمحمدﷺ علی ملتہ‘‘

(فتح الباری ج۶ ص۳۵۶)

’’عیسیٰ علیہ السلام ابن مریم نازل ہوں گے درآنحالیکہ وہ تصدیق کرنے والے ہوں گے۔ رسول کریمﷺ کی اور آنحضرتﷺ کی ملت پر ہوںگے۔‘‘

۲۴…امام جلال الدین سیوطیؒ کا عقیدہ

عظمت شان:

۱…قادیانی امت نے امام موصوف کو نویں صدی ہجری کا امام الزمان اور مجدد تسلیم کر لیا ہے۔ ملاحظہ کیجئے

(عسل مصفی ج۱ ص۱۶۴)

۲… امام جلال الدین سیوطیؒ کے متعلق ہم مرزاقادیانی کا عقیدہ ازالہ اوہام سے درج کرتے ہیں۔ ’’پھر امام شعرانی صاحب نے ان لوگوں کے نام لئے ہیں۔ جن میں سے ایک امام محدث جلال الدین سیوطی بھی ہیں… (امام جلال الدین صاحب فرماتے ہیں) کہ میں آنحضرتﷺ کی خدمت میں تصحیح احادیث کے لئے جن کو محدثین ضعیف کہتے ہیں۔ حاضر ہوا ہوں۔ چنانچہ اس وقت تک ۷۵دفعہ حالت بیداری میں حاضر خدمت ہوچکا ہوں۔‘‘

(ازالہ اوہام ص۱۵۱، خزائن ج۳ ص۱۷۷)

اس قدر بلند مرتبہ رکھنے والے مجدد کے اقوال کا اعتماد واعتبار تو یقینا قادیانی جماعت کے نزدیک مسلم ہے۔ پس ہم ان کی کتابوں سے حیات مسیح علیہ السلام پر مہر تصدیق ثبت کراتے ہیں۔

۱… ہم امام موصوف کی تفسیر دربارہ آیت ’’ومکروا ومکر اللہ‘‘ درج کر آئے ہیں۔ جس میں امام موصوف فرماتے ہیں کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے ایک دشمن کو حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی شبیہ دی گئی اور وہی قتل ہوا۔

246

۲… ہم امام صاحب کی تفسیر دربارہ ’’انی متوفیک ورافعک الیّٰ‘‘ درج کر آئے ہیں۔ جس میں امام صاحب ’’متوفیک‘‘ کے معنی ’’میں تجھ پر قبضہ کرنے والا ہوں‘‘ کرتے ہیں اور ’’رافعک الیّٰ‘‘ کے معنی کرتے ہیں۔ ’’دنیا سے بغیر موت کے اٹھانے والا ہوں۔‘‘ اور ’’مطہرک‘‘ کے معنی کرتے ہیں: ’’الگ کرنے والا ہوں کفار ویہود سے۔‘‘

۳… ہم آیت کریمہ ’’وما قتلوہ وما صلبوہ‘‘ کی تفسیر از امام جلال الدین درج کر آئے ہیں۔ جس میں امام صاحب فرماتے ہیں کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی شبیہ اس کافر یہودی پر ڈال دی گئی جو انہیں گرفتار کرانے گیا تھا۔ یہودیوں نے اسی کو عیسیٰ علیہ السلام سمجھ کر قتل کر دیا اور پھانسی پر لٹکا دیا۔ عیسیٰ علیہ السلام کو خدا نے آسمان پراٹھا لیا۔

۴… حدیث معراج مذکور ہے۔ اس کی صحت ماننے والوں میں سے امام صاحب بھی ہیں۔ اس حدیث میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام دوبارہ دنیا میں نازل ہوکر دجال کے قتل کا وعدہ کر رہے ہیں۔

۵… ہم نے آیت ’’اذ… تکلم الناس فی المہد وکھلا‘‘ درج کی ہے۔ اس کی تفسیر میں کہلا کے متعلق امام صاحب فرماتے ہیں کہ اس کا مطلب یہ ہے کہ قرب قیامت میں نازل ہوکر پھر ’’کھل‘‘ ہوں گے اور ہزارہا سال کے بعد کہولت کی حالت میں کلام کریں گے۔

امام موصوف کے اقوال دربارہ حیات مسیح علیہ السلام بے شمار ہیں۔ جس قدر مجھے مل سکے ہیں کچھ اوپر بیان کر چکا ہوں اور بقیہ آپ مندرجہ ذیل ملاحظہ فرمائیں۔

امام جلال الدین سیوطیؒ اپنی تفسیر میں حضرت امام محمد بن علیؓ بن بابی طالب کا قول نقل کرتے ہیں۔

’’ان عیسیٰ لم یمت وانہ رفع الی السماء وھو نازل قبل ان تقوم الساعۃ‘‘

(تفسیر درمنثور ج۲ ص۳۶)

’’بالتحقیق عیسیٰ علیہ السلام فوت نہیں ہوئے اور تحقیق وہ اٹھائے گئے طرف آسمان کی اور نازل ہوںگے قیامت سے پہلے۔‘‘

امام صاحب اپنی کتاب کتاب الاعلام میں فرماتے ہیں: ’’انہ یحکم بشرع نبینا لا بشرعہ کما نص علی ذالک العلماء ووردت بہ الاحادیث وانعقد علیہ الاجماع‘‘

(الحاوی للفتاویٰ ج۲ ص۱۵۵)

’’عیسیٰ علیہ السلام ہمارے نبیﷺ کی شرع کے مطابق حکم کریں گے نہ کہ اپنی شرع سے جیسا کہ نص کیا اس پر علماء امت نے اور اس کی تاکید میں حدیثیں وارد ہوئی ہیں اور اس پر امت محمدی کا اجماع بھی قائم ہوچکا ہے۔‘‘

247

۲۵…حضرت ملا علی قاریؒ حنفی کا عقیدہ

عظمت شان

قادیانیوں کے نزدیک ملا علی قاریؒ دسویں صدی ہجری میں مجدد کی حیثیت سے مبعوث ہوئے تھے۔

(عسل مصفی ج۱ ص۱۶۵)

اقوال ملا علی قاریؒ دربارہ حیات عیسیٰ علیہ السلام

۱… ’’انہ یذوب کالملح فی الماء عند نزول عیسیٰ من السماء‘‘ (شرح فقہ اکبر ص۱۳۶) ’’حضرت عیسیٰ علیہ السلام جب آسمان سے نازل ہوں گے تو اس وقت (ان کو دیکھ کر) دجال اس طرح پگھلے گا جس طرح پانی میں نمک پگھلتا ہے۔‘‘

۲… ’’ان عیسیٰ نبی قبلہ وینزل بعدہ ویحکم بشریعتہ‘‘ (شرح شفاء استنبول ج۲ ص۵۱۹) ’’حضرت عیسیٰ علیہ السلام آنحضرتﷺ سے پہلے کے نبی ہیں اور آپ کے بعد نازل ہوں گے اور شریعت محمدی پر عمل کریں گے۔‘‘

۳… ’’نزول عیسیٰ من السماء‘‘ (شرح فقہ اکبر ص۱۳۶) ’’پس نازل ہوں گے حضرت عیسیٰ علیہ السلام آسمان سے۔‘‘

۴… ’’ان عیسیٰ یدفن بجنب نبیناﷺ بینہ وبین الشیخین‘‘ (جمع الوسائل مصری ص۵۶۳) ’’بالتحقیق حضرت عیسیٰ علیہ السلام آنحضرتﷺ کے پہلو میں آپ کے اور ابوبکرؓ وعمرؓ کے درمیان دفن ہوں گے۔‘‘

۲۶…شیخ محمد طاہر محی السنۃ گجراتیؒ کا عقیدہ

عظمت شان

قادیانی جماعت نے شیخ محمد طاہر گجراتیؒ محی السنۃ کو مجدد صدی دہم تسلیم کر لیا ہے۔

(عسل مصفی ج۱ ص۱۶۵)

۱… ’’وقال مالک مات عیسی لعلہ اراد رفعہ علی السماء… یجیٔ آخر الزمان لتواتر خبر النزول‘‘

(مجمع البحار ج۱ ص۵۳۴، بلفظ حکم)

’’اور امام مالک نے فرمایا کہ سوگئے حضرت عیسیٰ علیہ السلام اس واسطے کہ اللہتعالیٰ ان کو آسمان پر اٹھانے کا ارادہ فرمایا… اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام آخری زمانہ میں آئیں گے۔ کیونکہ احادیث ان کے نزول کے بارہ میں متواتر ہیں۔‘‘

248

نوٹ: مات بمعنی نام (یعنی سوگیا) بھی ہے۔

(قاموس بحوالہ ازالہ اوہام ص۶۴۰، خزائن ج۳ ص۴۴۵)

۲۷…امام ربانی مجدد الف ثانیؒ کا عقیدہ

عظمت شان

۱… از مرزاقادیانی: ’’مجدد الف ثانی کامل ولی اور صاحب خوارق کرامات بزرگ تھے۔‘‘

(کتاب البریہ ص۷۴، خزائن ج۱۳ ص۹۲)

۲… ازمرزاقادیانی: ’’حضرت مجدد الف ثانی اولیاء کبار میں سے ہیں۔‘‘

(آئینہ کمالات اسلام (قیامت کی نشانی) ، خزائن ج۵ ص۶۰۷)

۳… امام ربانی گیا ہویں صدی کے مجدد تھے۔ دیکھو نمبر۲ میں مرزاقادیانی کا قول جس میں امام ربانی شیخ احمد سرہندی کو اصلی نام سے ذکر کرنے کی بجائے مرزاقادیانی نے صرف مجدد الف ثانی یعنی گیارھویں صدی کا مجدد ہی لکھنا مناسب سمجھا۔

(عسل مصفی ج۱ ص۱۶۵)

۴… قادیانی مذہب کی کتاب (عسل مصفی ج۱ ص۱۷۲) سے ہم مجدد الف ثانی کا مرتبہ بیان کرتے ہیں۔

’’اور معلوم رہے کہ ہر صدی کے سر پر ایک مجدد ہوتا رہا ہے۔ لیکن صدی کا مجدد اور ہے اور الف (ہزار) کا اور۔ یعنی جس طرح سو اور ہزار میں فرق ہے۔ اسی طرح ان کے مجددوں میں فرق ہے۔ بلکہ اس سے بھی زیادہ۔‘‘

اب ہم ایسے بلند مرتبہ امام ومجدد کے اقوال کی ناظرین کو سیر کراتے ہیں۔

۱… ’’حضرت عیسیٰ علیہ السلام نزول فرما کر آنحضرتﷺ کی شریعت پر عمل پیرا ہوں گے اور آپ کے امتی ہوکر رہیں گے۔‘‘

(مکتوبات مترجم دفتر۲، مکتوب ۶۷)

۲… ’’قیامت کی علامتیں جن کی نسبت مخبر صادق نے خبر دی ہے۔ سب حق ہیں۔ ان میں کسی قسم کا خلاف نہیں۔ یعنی آفتاب عادت کے خلاف مغرب کی طرف سے طلوع کرے گا۔ حضرت مہدی علیہ الرضوان ظاہر ہوں گے اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام نزول فرمائیں گے۔‘‘

(مکتوبات مترجم دفتر۲، مکتوب۶۷)

۳… ’’حدیث میں آیا ہے کہ اصحاب کہف حضرت امام مہدی کے مددگار ہوں گے اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام ان کے زمانہ میں نزول فرمائیں گے اور دجال کو قتل کرنے میں ان کے ساتھ موافقت کریں گے۔‘‘

(حوالہ بالا)

۴… ’’انبیاء علیہم الصلوٰۃ والسلام کا کلمہ متفق ہے کہ ان کے دین کے اصول واحد ہیں۔

249

حضرت عیسیٰ علیہ السلام جب آسمان سے نزول فرمائیں گے تو حضرت خاتم الرسلﷺ کی شریعت کی متابعت کریں گے۔‘‘

(ایضاً)

۲۸…حضرت شاہ ولی اللہ صاحب محدث دہلویؒ کا عقیدہ

عظمت شان

۱… از مرزاقادیانی: ’’رئیس المحدثین تھے۔‘‘

(ازالہ اوہام ص۱۵۳)

۲… از مرزاقادیانی: ’’شاہ ولی اللہ رئیس المحدثین تھے۔‘‘

(ازالہ اوہام ص۱۵۵، خزائن ج۳ ص۱۷۹)

۳… از مرزاقادیانی: ’’شاہ ولی اللہ کامل ولی صاحب خوارق وکرامات بزرگ تھے۔‘‘

(کتاب البریہ ص۷۴، خزائن ج۱۳ ص۷۲)

۴… ازمولوی نورالدین قادیانی خلیفہ اوّل: ’’میرے پیارے ولی اللہ محدث دہلویؒ۔‘‘

(ازالہ اوہام ص، خزائن ج۳ ص۶۲۷)

۵… ’’حضرت احمد شاہ ولی اللہ محدث دہلویؒ بارھویں صدی میں مجدد وامام الزمان گزرے ہیں۔‘‘

(عسل مصفی ج۱ ص۱۶۵)

اب ہم قادیانیوں کے نزدیک رئیس المحدثین، کامل ولی، صاحب خوارق وکرامات بزرگ اور قادیانیوں کے پیارے ولی اللہ محدث دہلویؒ کے اقوال دربارہ حیات عیسیٰ علیہ السلام پیش کرتے ہیں۔

۱… ’’ونیز از ضلالت ایشان یکے آنست کہ جزم مے کنند کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام مقتول شدہ است، وفی الواقع درحق عیسیٰ علیہ السلام اشتبا ہے واقع شدہ بود رفع بر آسمان را قتل گمان کردند۔‘‘

(فوز الکبیر ص۱۰، مصنفہ شاہ ولی اللہ صاحب)

’’ان کی گمراہی ایک یہ تھی کہ انہوں نے یقین کر لیا کہ عیسیٰ علیہ السلام قتل کئے گئے ہیں۔ حالانکہ فی الواقع حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے معاملہ میں انہیں اشتباہ واقع ہوا اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام آسمان پر اٹھائے جانے کو انہوں نے قتل خیال کر لیا۔‘‘

نوٹ: دیکھئے یہاں شاہ صاحب قتل کے مقابلہ پر رفع آسمانی کا استعمال کر کے اعلان کر رہے ہیں کہ جیسا قتل کا فعل یہود اور نصاریٰ کے نزدیک حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے جسم عنصری پر ہوا تھا۔ فی الواقع اسی جسم عنصری پر رفع کا فعل وارد ہوا۔ ورنہ دونوں میں ضد کیسے ہوسکتی ہے؟ ابوعبیدہ!

۲… تین ہزار سے زائد صحابہ کا اجماع حیات عیسیٰ علیہ السلام پر ہم ایک صحیح حدیث سے بیان

250

کر آئے ہیں۔ اس حدیث کو رئیس المحدثین شاہ ولی اللہ صاحب نے صحیح تسلیم کیا ہے۔

(ازالۃ الخفاء باب ذکر حضرت عمرؓ)

۳… ہم حضرت شاہ ولی اللہ صاحبؒ کی کتاب ’’تاویل الاحادیث‘‘ سے نقل کر آئے ہیں۔ اس کا ملاحظہ کیا جائے۔ وہ عبارت اس مبحث میں فیصلہ کن ہے۔

۴… ہم شاہ صاحب کی ایک عبارت درج کر آئے ہیں۔ جو انہوں نے ’’وان من اہل الکتاب الا لیؤمنن بہ قبل موتہ‘‘ کی تفسیر میں فرمائی ہے۔ وہ بھی قابل دید ہے۔ ناظرین کے استفادہ کے لئے دوبارہ درج کرتے ہیں۔ ’’ونباشد ہیچ کس از اہل کتاب البتہ ایمان آورد بہ عیسیٰ علیہ السلام پیش از مردن عیسیٰ علیہ السلام وروز قیامت باشد عیسیٰ علیہ السلام گواہ برایشان۔‘‘

(فتح الرحمن مصنفہ شاہ صاحب)

۵… شاہ صاحب قدس سرہ کا مرتبہ آپ ملاحظہ کر ہی چکے ہیں۔ آپ صریح الفاظ میں حیات عیسیٰ علیہ السلام کا اعلان فرمارہے ہیں۔ فرماتے ہیں تمام اہل کتاب (یہودی ونصاریٰ) حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی موت سے پہلے پہلے ایمان لے آئیں گے۔ پس جب تک ایک یہودی یا عیسائی بھی دنیا میں اپنے مذہب پر قائم رہے گا۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی موت نہیں آئے گی۔ کیونکہ اس سے پہلے موت عیسیٰ علیہ السلام کا واقع ہونا باری تعالیٰ کے وعدہ کی خلاف ورزی ہے۔

۶… قادیانی جماعت کے مسلم مجدد ورئیس المحدثین ’’انی متوفیک ورافعک الیّ‘‘ کی تفسیر میں فرماتے ہیں: ’’من برگرندہ توام یعنی ازیں جہاں وبردارندۂ توام بسوئے خود وپاک سازندہ توام از صحبت کسانیکہ کافر شدند۔‘‘

(تفسیر فتح الرحمن مؤلفہ شاہ صاحب قدس سرہ العزیز)

’’(اے عیسیٰ علیہ السلام) میں تجھے اپنے قبضہ میں لینے والا ہوں اور تجھے اپنی طرف اٹھانے والا ہوں اور تجھے ان کافروں کی صحبت سے پاک کرنے والا ہوں۔‘‘

۷… حضرت شاہ صاحب اپنی تفسیر فتح الرحمن میں زیر آیت ’’وما قتلوہ وما صلبوہ‘‘ فرماتے ہیں۔ ’’ونہ کشتہ اند اورا وبردار نہ کردہ انداورا… وبیقین نکشتہ اند اورا بلکہ برداشت اورا خدا تعالیٰ بسوئے خود۔‘‘

’’یہودیوں نے نہ تو قتل کیا عیسیٰ علیہ السلام کو اور نہ سولی پر ہی چڑھایا ان کو… یقینی بات ہے کہ نہیں قتل کر سکے یہود ان کو بلکہ اٹھا لیا ان کو اللہ تعالیٰ نے اپنی طرف۔‘‘

حاشیہ پر شاہ صاحب قدس سرہ فرماتے ہیں:’’مترجم گوید یہودی کہ حاضر شوند

251

نزول عیسیٰ علیہ السلام البتہ ایمان آرند۔‘‘ ’’میں (حضرت شاہ صاحب) کہتا ہوں۔ اہل کتاب سے مراد وہ یہودی ہیں جو حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے نزول کے زمانہ میں ہوں گے۔‘‘

۸… حضرت رئیس المحدثین آیت’’وانہ لعلم للساعۃ‘‘ کے متعلق فرماتے ہیں:’’وہر آئینہ عیسیٰ علیہ السلام نشان ہست قیامت را۔‘‘

’’بے شک عیسیٰ علیہ السلام قیامت کی نشانی ہے۔‘‘

۲۹…امام شوکانیؒ کا عقیدہ

عظمت شان

قادیانی جماعت نے امام شوکانی صاحب کو بارھویں صدی کا امام اور مجدد تسلیم کر لیا ہے۔

(عسل مصفی ج۱ ص۱۶۵)

مجدد کی شان اور عظمت ہم قادیانی اصول سے اس باب کے شروع میں ظاہر کر چکے ہیں۔

اقوال امام شوکانیؒ

۱… ’’تواترت الاحادیث بنزول عیسیٰ حیا جسماً‘‘

(تفسیر فتح البیان ج۱)

’’حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے زندہ جسم عنصری کے ساتھ نازل ہونے کے بارہ میں حدیثیں متواتر ہیں۔‘‘

۲… ’’الاحادیث الواردۃ فی نزولہ متواترۃ‘‘

(کتاب الاذاعۃ للشوکانیؒ)

’’یعنی وہ احادیث نبوی جو حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے نزول کے بارہ میں آئی ہیں وہ متواتر ہیں۔‘‘

۳۰…شاہ عبدالعزیز صاحب محدث دہلویؒ کا عقیدہ

عظمت شان

آپ کو قادیانیوں نے مجدد صدی سیزدہم تسلیم کر لیا ہے۔

(عسل مصفی ج۱ ص۱۶۵)

حضرت شاہ صاحبؒ کی روایات دربارہ حیات عیسیٰ علیہ السلام آپ ملاحظہ فرمائیں۔

جہاں ام المؤمنین حضرت صفیہؓ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے رفع جسمانی کا نہ صرف اعلان کر رہی ہیں بلکہ وہ جگہ بھی بتارہی ہیں جہاں سے حضرت عیسیٰ علیہ السلام آسمان پر اٹھائے گئے۔

۳۱…حضرت شاہ رفیع الدین محدث دہلویؒ کا عقیدہ

عظمت شان:

۱… قادیانی جماعت، شاہ صاحبؒ کو تیرھویں صدی کا مجدد تسلیم کرتی ہے۔

(عسل مصفی ج۱ ص۱۶۵)

252

شاہ رفیع الدین صاحب مجدد صدی سیزدہم اپنے ترجمہ قرآن شریف میں فرماتے ہیں۔

۱… ’’انی متوفیک ورافعک‘‘ اے عیسیٰ علیہ السلام تحقیق میں لینے والا ہوں تجھ کو اور اٹھانے والا ہوں تجھ کو اپنی طرف اور پاک کرنے والا ہوں تجھ کو ان لوگوں سے جو کافر ہوئے۔

۲… ’’وان من اہل الکتاب الا لیؤمنن بہ قبل موتہ‘‘ نہیں کوئی اہل کتاب میں سے مگر ایمان لاوے گا ساتھ اس کے پہلے موت اس کی کے۔

(ترجمہ شاہ صاحب بزیر آیت کریمہ)

۳… ’’وانہ لعلم للساعۃ‘‘ اور تحقیق وہ البتہ علامت قیامت کی ہے۔

(ترجمہ شاہ صاحب بزیر آیت کریمہ)

ناظرین! غور کیجئے حضرت شاہ رفیع الدین صاحب محدث دہلوی کن صاف الفاظ میں حیات عیسیٰ علیہ السلام کا عقیدہ ظاہر کر رہے ہیں۔

۳۲…حضرت شاہ عبدالقادر صاحب محدث دہلویؒ کا عقیدہ

عظمت شان

قادیانیوں نے حضرت شاہ صاحب کو بھی مجدد صدی دوازدہم مان لیا ہے۔

(عسل مصفی ج۱ ص۱۶۵)

قارئین عظام! ذیل میں ہم حضرت شاہ عبدالقادر صاحبؒ کے اقوال پیش کرتے ہیں۔

۱… ’’انی متوفیک ورافعک الیّٰ‘‘ اے عیسیٰ علیہ السلام میں تجھ کو بھرلوں گا (اپنے قبضہ میں لے لوں گا) اور اٹھا لوں گا اپنی طرف اور پاک کروں گا تجھ کو کافروں سے۔

(زیر آیت کریمہ)

۲… ’’وما قتلوہ وما صلبوہ ولکن شبہ‘‘ اور نہ (یہود نے) اس کو مارا ہے اور نہ سولی پر چڑھایا ہے۔ ولیکن وہی صورت بن گئی ان کے آگے… اور اس کو مارا نہیں بے شک بلکہ اس کو اٹھالیا اللہ نے اپنی طرف۔ (ف) یہود کہتے ہیں ہم نے مارا عیسیٰ علیہ السلام کو اور مسیح اور رسول خدا نہیں کہتے یہ اللہ نے ان کی خطا ذکر فرمائی اور فرمایا کہ اس کو ہرگز نہیں مارا حق تعالیٰ نے ایک صورت ان کو بنادی اس کو (یہودیوں نے) سولی چڑھایا۔

(بزیرآیت کریمہ)

253

۳… ’’وان من اہل الکتاب الا لیؤمنن بہ قبل موتہ‘‘ کے متعلق حضرت شاہ صاحب اپنی مشہور تفسیر موضح القرآن میں لگی لپٹی بغیر فرماتے ہیں۔ ’’حضرت عیسیٰ علیہ السلام ابھی زندہ ہیں۔ جب یہود میں دجال پیدا ہوگا۔ تب (حضرت عیسیٰ علیہ السلام) اس جہاں میں آکر اس کو ماریں گے اور یہود ونصاریٰ (مرزائی بھی۔ ابوعبیدہ) ان پر ایمان لائیں گے کہ یہ (عیسیٰ علیہ السلام) نہ مرے تھے۔‘‘

(موضح القرآن زیر آیت کریمہ)

۴… ’’وانہ لعلم للساعۃ‘‘ اور وہ نشان ہے اس گھڑی کا۔ (ف)حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا آنا نشان قیامت ہے۔

(موضع القرآن زیر آیت کریمہ)

۳۳…شیخ محمد اکرم صابریؒ کا عقیدہ

عظمت شان

مرزاقادیانی نے شیخ موصوف کو اکابر صوفیہ میں سے شمار کیا ہے۔

(ایام الصلح ص۳۸، خزائن ج۱۴ ص۳۸۲)

اور صرف ان کی بلند شخصیت سے بذریعہ افتراء محض پبلک کو دھوکہ دینے کی ناکام کوشش کی ہے۔ ذیل میں ہم اس افتراء کا پردہ چاک کرتے ہیں۔ شیخ محمد اکرم صابریؒ فرماتے ہیں۔

’’بعضے برانند کہ روح عیسیٰ درمہدی بروز کند ونزول عبارت ازین بروز است مطابق این حدیث لا مہدی الا عیسیٰ ابن مریم‘‘

(اقتباس الانوار ص۵۲، بحوالہ ایام الصلح ص۱۳۸، خزائن ج۱۴ ص۳۸۳)

’’یعنی بعضے کہتے ہیں کہ عیسیٰ علیہ السلام کی روح مہدی میں بروز کرے گی اور ان کے نازل ہونے کا مطلب یہی بروز عیسوی ہے۔ مطابق حدیث لا مہدی الا عیسیٰ ابن مریم‘‘

مرزاقادیانی نے یا تو غلطی سے یا محض دجل اور فریب کی غرض سے ’’بعضے براند‘‘ سے ایک گروہ اکابر صوفیہ کا مراد لے لیا ہے۔ ذرا مرزاقادیانی یا ان کے حواری ان اکابر صوفیہ کا نام تو بتائیں؟ جو اس عقیدہ کے حامل تھے۔

لیجئے! ہم بتاتے ہیں کہ مرزاقادیانی کے اکابر صوفیہ اور شیخ محمد اکرمؒ کے بیان کردہ بعضے سے مراد کون سے صوفیہ ہیں۔ یہ وہی ’’اکابر صوفیہ‘‘ ہیں۔ جنہوں نے مرزاقادیانی کی طرح عیسیٰ ابن مریم بننے کی سعی لاحاصل کی اور مرزاقادیانی کی طرح بامر مجبوری بروز عیسوی کے قائل ہوئے۔ ایسے ہی کذابین، دجالین کے متعلق خود حضرت عیسیٰ علیہ السلام فرماگئے تھے۔

’’خبردار کوئی تمہیں گمراہ نہ کر دے۔ کیونکہ بہتیرے میرے نام سے آئیں گے

254

اور کہیں گے کہ میں مسیح ہوں اور بہت سے لوگوں کو گمراہ کریں گے۔‘‘

(انجیل متی باب۲۴)

ہم اس مضمون کو باب اوّل میں بیان کر آئے ہیں۔ پس مرزاقادیانی کے گروہ اکابر صوفیہ کی فہرست دیکھنی ہو تو وہ (عسل مصفی ج۲ ص۲۱۲،۲۱۸) پر ملاحظہ کریں۔ ایسے صوفیاء کے نام یہ ہیں۔

۱…’’صوفی ‘‘ مسٹر وارڈ (لندن) ۲…’’صوفی‘‘ ایک حبشی (جزیرہ جمیکا)

۳…’’صوفی‘‘ ایک فرنگی (ملک روس) ۴…’’صوفی‘‘ بھیک صدی دہم

۵…’’صوفی‘‘ ابراہیم بذلہ ۶…’’صوفی‘‘ شیخ محمد خراسانی

۷…’’صوفی‘‘ محمد بن تومرت ۸…’’صوفی‘‘ صوفی پگٹ (لندن)

۹…’’صوفی‘‘ چراغ دین ساکن جموں مرزائی ۱۰…’’صوفی‘‘ ڈوئی صاحب (امریکہ)

۱۱… ’’صوفی‘‘ عبد اللہ تیما پوری مرزائی علاقہ دکن

ؓؓ۱۲… ’’صوفی‘‘ انوسینٹ صاحب سکنہ روس

۱۳… ’’صوفی‘‘ نامعلوم الاسم ساکن پیرس

ناظرین! یہ ہیں مرزاقادیانی کے اکابر صوفیہ جنہوں نے اپنی مسیحیت کے ثبوت کے لئے بروز کا جامہ پہننا ضروری سمجھا۔ غالباً انہیں کے متعلق شیخ محمد اکرم صاحب نے (اقتباس الانوار ص۵۲) پر ’’وبعضے برانند‘‘ کہ روح عیسیٰ علیہ السلام درمہدی بروز کند ونزول عبارت ازیں بروز است الخ! لکھ کر آگے خود ہی ان مرزائی صوفیاء کا بھانڈا یوں پھوڑا ہے۔ فرماتے ہیں: ’’وایں مقدمہ بغایت ضعیف است۔‘‘

(اقتباس الانوار ص۵۲)

یعنی یہ دعویٰ بے حد ضعیف ہے۔

پھر اسی (اقتباس الانورا ص۷۲) پر فرماتے ہیں: ’’یک فرقہ براں رفتہ اندکہ مہدی آخرالزمان عیسیٰ ابن مریم است واین روایت بغایت ضعیف است زیرا کہ اکثر احادیث صحیحہ ومتواترہ از حضرت رسالت پناہﷺ ورود یافتہ کہ مہدی از بنی فاطمہ خواہد بود وعیسیٰ علیہ السلام باواقتداء کردہ نماز خواہد گزارد وجمیع عارفان صاحب تمکین براین متفق اند۔‘‘

یعنی ایک فرقہ ایسے ہی گمراہ صوفیوں کا اس طرف گیا ہے کہ عیسیٰ علیہ السلام ابن مریم ہی مہدی بھی ہوں گے۔ مگر یہ روایت بھی بے حد ضعیف ہے۔ کیونکہ رسول کریمﷺ کی اکثر متواتر صحیح حدیثیں اس بارہ میں موجود ہیں کہ مہدی علیہ السلام حضرت فاطمہؓ کی اولاد سے ہوگا اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام ان کے پیچھے نماز پڑھیں گے اور تمام عارفان صاحب تمکین اس پر متفق ہیں۔

255

ناظرین! دیکھئے کن صاف الفاظ میں شیخ محمد اکرم صابری جو خود بھی مرزاقادیانی کے نزدیک اکابر صوفیہ میں سے ہیں۔ سچے اور خدارسیدہ صوفیائے عظام کا عقیدہ حیات ونزول عیسیٰ علیہ السلام بیان فرمارہے ہیں۔ عقیدہ بروز رکھنے والوں کا رد کر رہے ہیں۔ مگر مرزاقادیانی ہیں کہ بھوکے کی طرح دو اور دو چار روٹیاں ہی کا نعرہ لگائے جاتے ہیں۔

مرزاقادیانی کا طرز استدلال بعینہ ایسا ہے۔ جیسا کوئی منکر نماز قران کریم سے نماز پڑھنے کے خلاف بطور دلیل یہ آیت پڑھ دے۔ ’’لا تقربوا الصلوٰۃ‘‘ یعنی نماز کے قریب بھی مت جاؤ اور اس سے اگلی عبارت (وانتم سکریٰ یعنی نشے کی حالت میں) اس کی آنکھوں کو خیرہ کر دے۔

حضرات! دنیا اسلام میں بے شمار محدثین، مجددین، آئمہ مفسرین وآئمہ مجتہدین گزرے ہیں۔ بلا استثناء تمام کے تمام حیات عیسیٰ علیہ السلام اور قرب قیامت میں ان کے نزول کا عقیدہ رکھنا جزو ایمان قرار دیتے چلے گئے ہیں۔ سب کے اقوال بیان کرنے سے میں بوجوہ ذیل معذور ہوں۔

۱… چونکہ پہلے زمانہ میں تمام مسلمان اس عقیدہ پر ایسا ہی ایمان رکھتے تھے۔ جیسا کہ خدا اور اس کے رسول کی رسالت پر اس واسطے بعض علماء اسلام نے اس پر گفتگو کرنا غیر ضروری سمجھا۔ مثلاً ہر ایک آدمی جانتا ہے کہ مرزاغلام احمد قادیان کا رہنے والا تھا۔ اب اس پر دلیل قائم کرنے کی ضرورت ہی نہیں ہے۔ پس بعض علماء سلف نے اس پر مزید بحث کرنا ضروری ہی نہیں سمجھا۔ ’’آفتاب آمد دلیل آفتاب‘‘ کا مصداق سمجھ کر دیگر ضروریات دین کے حل کرنے میں لگے رہے۔

۲… اکثر نے اس پر خوب بحث کی ہے۔ مگر چونکہ میرا اصول اس کتاب میں یہ رہا ہے کہ صرف اسی بزرگ کے اقوال نقل کئے ہیں جو قادیانیوں کے نزدیک مسلم امام تھے اور ان کے متعلق مجھے قادیانی تصدیقات نہیں مل سکیں۔ لہٰذا ان بزرگوں کے اقوال نقل نہیں کئے۔

۳… بہت سے ایسے ہیں کہ قادیانیوں کے نزدیک ان کی عظمت مقبول ہے۔ مگر بخوف طوالت ان کے اقوال کو چھوڑ دیا ہے۔

۴… بہت سے مشہور آئمہ دین ومفسرین کلام اللہ ایسے ہیں۔ جن کی عظمت کا دنیا اسلام کا بچہ بچہ قائل ہے اور خود قادیانیوں کے نزدیک وہ اپنے اپنے وقت کے امام مفسر اور مجدد تھے۔ میں نے صرف ایسے ہی بزرگان دین کے اقوال نقل کئے ہیں۔

256

باب ششم

حیات عیسیٰ علیہ السلام کا ثبوت

از اقوال مرزاغلام احمد قادیانی

حضرات! ہم نے گذشتہ پانچ ابواب میں انجیل، کلام اللہ، احادیث نبوی، اقوال صحابہ اور اقوال مجددین سے حیات عیسیٰ علیہ السلام کے ثبوت میں سیر حاصل بحث کی ہے۔ مزید بحث کی ضرورت نہ تھی۔ مگر جادو وہ جو سر پر چڑھ کر بولے۔ اب ذیل میں ہم خود مرزاقادیانی اور اس کی امت کے اقوال سے حیات عیسیٰ علیہ السلام کا ثبوت دیتے ہیں۔ آپ حیران ہوں گے کہ یہ کیا بات ہے۔ وفات مسیح علیہ السلام کے مدعی کے اقوال سے یہ کیسے ممکن ہے؟ لیکن مشاہدہ کی تکذیب کرنا محال ہے۔ پیشتر اس کے کہ ہم ایسے اقوال بیان کریں۔ ہم یہ بتلا دینا چاہتے ہیں کہ یہ اقوال بھی ایسے ہی ہوں گے کہ ان کا رد قادیانیوں سے ممکن نہ ہوگا۔ دلائل ذیل ذہن نشین کر لیں۔

۱… ہم مرزاقادیانی کے اقوال اس زمانہ کے بیان کریں گے۔ جب کہ مرزاقادیانی اپنے زعم میں مجدد ومحدث ومامور من اللہ ہوچکے تھے۔

۲… ان کتابوں سے اقوال نقل کریں گے جن کے الہامی ہونے کا مرزاقادیانی کا خود دعویٰ تھا۔

۳… مرزاقادیانی چونکہ اپنے آپ کو تحصیل علم میں ظاہری اساتذہ سے مستغنی کہتے تھے اور ماشاء اللہ ’’امی نبی‘‘ ہونے کے قائل تھے۔ لہٰذا ان کی ہر بات الہامی متصور ہوگی۔

۴… مجدد کی شان ہے کہ وہ خود اپنی طرف سے کچھ نہیں کہتا بلکہ جو کچھ کہتا ہے۔ وہ الہام اور وحی کی بناء پر کہتا ہے۔ لہٰذا مرزاقادیانی کا ہر فعل اور ہر قول الہامی متصور ہوگا۔

۵… مرزاقادیانی کہتا ہے کہ ان پر یہ وحی نازل ہوئی تھی۔ ’’وما ینطق عن الہویٰ ان ہوالا وحی یوحی‘‘ (تذکرہ ص۳۷۸،۳۹۴) یعنی مرزاقادیانی اپنی طرف سے کوئی بات نہیں کرتے تھے۔ بلکہ بذریعہ وحی جلی وخفی بات کرتے تھے۔ پس مرزاقادیانی کے

257

اقوال کی اطاعت تو قادیانی جماعت پر واجب بلکہ فرض ہے۔ اقوال مرزاقادیانی کی انفرادی توثیق ہم ساتھ ساتھ کراتے جائیں گے۔ (انشاء اللہ)

اقوال ودلائل مرزاقادیانی دراثبات حیات عیسیٰ علیہ السلام

۱… ’’ھو الذی ارسل رسولہ بالہدیٰ ودین الحق لیظہرہ علی الدین کلہ‘‘ یہ آیت جسمانی اور سیاست ملکی کے طور پر حضرت مسیح علیہ السلام کے حق میں پیش گوئی ہے اور جس غلبہ کاملہ دین اسلام کا وعدہ دیاگیا ہے۔ وہ غلبہ مسیح کے ذریعہ سے ظہور میں آئے گا اور جب حضرت مسیح علیہ السلام دوبارہ اس دنیا میں تشریف لائیں گے تو ان کے ہاتھ سے دین اسلام جمیع آفاق اور اقطار میں پھیل جائے گا۔ لیکن اس عاجز پر ظاہر کیاگیا ہے کہ یہ خاکسار اپنی غربت اور انکسار اور توکل اور ایثار اور آیات اور انوار کی رو سے مسیح کی پہلی زندگی کا نمونہ ہے اور اس عاجز کی فطرت اور مسیح کی فطرت باہم نہایت ہی متشابہ واقع ہوئی ہے… چونکہ اس عاجز کو حضرت مسیح علیہ السلام سے مشابہت تامہ ہے۔ اس لئے خداوند کریم نے مسیح علیہ السلام کی پیش گوئی میں ابتداء سے اس عاجز کو بھی شریک کر رکھا ہے۔ یعنی حضرت مسیح علیہ السلام پیش گوئی متذکرہ بالا کا ظاہری اور جسمانی طور پر مصداق ہے اور یہ عاجز روحانی اور معقولی طور پر اس کا محل اور مورد ہے۔‘‘

(براہین احمدیہ ص۴۹۸،۴۹۹، خزائن ج۱ ص۵۹۳،۵۹۴ حاشیہ)

۲… (الہام مرزا) ’’عسیٰ ربکم ان یرحم علیکم وان عدتم عدنا وجعلنا جہنم للکافرین حصیرا‘‘ خداتعالیٰ کا ارادہ اس بات کی طرف متوجہ ہے تم پر رحم کرے اور اگر تم نے گناہ اور سرکشی کی طرف رجوع کیا تو ہم بھی سزا اور عقوبت کی طرف رجوع کریں گے اور ہم نے جہنم کو کافروں کے لئے قید خانہ بنارکھا ہے۔ یہ آیت اس مقام میں حضرت مسیح علیہ السلام کے جلالی طور پر ظاہر ہونے کا اشارہ ہے۔ یعنی اگر طریق افق اور نرمی اور لطف احسان کو قبول نہیں کریں گے اور حق محض جو دلائل واضح اور آیات بینہ سے کھل گیا ہے۔ اس سے سرکش رہیں گے تو وہ زمانہ بھی آنے والا ہے کہ جب خداتعالیٰ مجرمین کے لئے شدت اور عنف اور قہر اور سختی کو استعمال میں لائے گا اور حضرت مسیح علیہ السلام نہایت جلالیت کے ساتھ دنیا پر اتریں گے اور تمام راہوں اور سڑکوں کو خس وخاشاک سے صاف کر دیں گے اور کج اور ناراست کا نام ونشان نہ رہے گا۔ جلال الٰہی گمراہی کے تخم کو اپنی تجلی قہری سے نیست ونابود کر دے گا اور یہ زمانہ اس زمانہ کے لئے بطور ارہاص کے واقع

258

ہوا ہے۔ یعنی اس وقت جلالی طور پر خداتعالیٰ اتمام حجت کرے گا۔‘‘

(براہین احمدیہ ص۵۰۵ حاشیہ، خزائن ج۱ ص۶۰۱)

۳… ’’حضرت مسیح علیہ السلام تو انجیل کو ناقص کی ناقص ہی چھوڑ کر آسمانوں پر جا بیٹھے۔‘‘

(کتاب بالا ص۳۶۱، خزائن ج۱ ص۴۳۱)

ان کے اقوال کی عظمت

۱… یہ اقوال اس کتاب (براہین احمدیہ) سے لئے گئے ہیں۔ جس کی شان مرزاقادیانی کے الفاظ میں یہ ہے۔

الف… ’’کتاب براہین احمدیہ جس کو خداتعالیٰ کی طرف سے مؤلف (مرزاقادیانی) نے ملہم ومامور ہوکر بغرض اصلاح وتجدید دین تالیف کیا ہے۔‘‘

(قول مرزا مندرجہ تبلیغ رسالت ج۱ ص۱۴، مجموعہ اشتہارات ج۱ ص۲۳، اشتہار مشمولہ سرمہ چشم آریہ ص۳)

ب… ’’ہم نے صدہا طرح کا فتور اور فساد دیکھ کر کتاب براہین احمدیہ کو تالیف کیا تھا اور کتاب موصوف میں تین سو مضبوط اور محکم عقلی دلیل سے صداقت اسلام کو فی الحقیقت آفتاب سے بھی زیادہ تر روشن دکھلایا گیا۔‘‘

(تبلیغ رسالت ج۱ ص۲۹، مجموعہ اشتہارات ج۱ ص۳۸)

ج… ’’اب اس کتاب کا متولی اور مہتمم ظاہراً وباطناً حضرت رب العالمین ہے اور کچھ معلوم نہیں کہ کس انداز تک اس کو پہنچانے کا ارادہ ہے اور سچ تو یہ ہے کہ جس قدر جلد چہارم تک انوار حقیقت اسلام کے ظاہر کئے ہیں۔ یہ بھی اتمام حجت کے لئے کافی ہیں۔‘‘

(تبلیغ رسالت ج۱ ص۴۸، مجموعہ اشتہارات ج۱ ص۵۶)

د… ’’براہین احمدیہ وہ کتاب ہے جو بقول مرزاقادیانی آنحضرتﷺ کے دربار میں رجسٹری ہوچکی ہے۔ آپ نے اس کا نام قطبی رکھا۔ یعنی قطب ستارہ کی طرح غیر متزلزل ومستحکم ہے۔ جس کے کامل استحکام کا پیش کر کے دس ہزار روپیہ کا اشتہار دیا گیا ہے۔‘‘

(براہین احمدیہ ص۲۴۸، خزائن ج۱ ص۲۷۵)

ھ… ’’اس کتاب میں یہ فائدہ ہے کہ یہ کتاب مہمات دینیہ کے بیان کرنے میں ناقص البیان نہیں۔ بلکہ وہ تمام صداقتیں جن پر اصول علم دین کے مشتمل ہیں اور وہ تمام حقائق عالیہ کہ جن کی ہیئت اجماعی کا نام اسلام ہے۔ وہ اس میں مکتوب اور مرقوم ہیں اور یہ ایسا فائدہ ہے کہ جس کے پڑھنے والوں کو ضروریات دین پر احاطہ ہو جائے گا اور کسی مغوی اور بہکانے والے کے پیچ میں نہیں آئیں گے۔ بلکہ دوسری کو وعظ اور نصیحت اور ہدایت کرنے

259

کے لئے ایک کامل استاد اور ایک عیار رہبر بن جائیں گے۔‘‘

(براہین احمدیہ ص۱۳۶، خزائن ج۱ ص۱۲۹)

و… ’’پانچواں اس کتاب میں یہ فائدہ ہے کہ اس کے پڑھنے سے حقائق اور معارف کلام ربانی کے معلوم ہو جائیں گے… تمام وہ دلائل اور براہین جو اس میں لکھی گئی ہیں اور وہ تمام کامل صداقتیں جو اس میں دکھائی گئی ہیں۔ وہ سب آیات بینات قرآن شریف ہی سے لی گئی ہیں۔

یہ کتاب قرآن شریف کے دقائق اور حقائق اور اس کے اسرار عالیہ اور اس کے علوم حکیمیہ اور اس کے اعلیٰ فلسفہ ظاہر کرنے کے لئے ایک عالی بیان تفسیر ہے۔‘‘

(کتاب براہین احمدیہ ص۱۳۷، خزائن ج۱ ص۱۳۰)

ز… ’’ اللہتعالیٰ براہین احمدیہ میں فرماتا ہے۔‘‘

(تتمہ حقیقت الوحی ص۵۱، خزائن ج۲۲ ص۴۸۵)

اس قسم کے فقرے مرزاقادیانی نے اپنی تالیفات میں بہت جگہ لکھے ہیں۔ مسلمان کہا کرتے ہیں اللہتعالیٰ قرآن شریف میں فرماتے ہیں۔ جس کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ قرآن شریف کلام اللہ ہے۔ اسی طرح اللہ براہین احمدیہ میں فرماتا ہے گویا براہین احمدیہ کلام اللہ ہے۔

۲…تالیف براہین احمدیہ کے زمانہ میں مرزاقادیانی کی شان

الف… ’’مؤلف (براہین احمدیہ) کو علم دیا گیا ہے کہ وہ مجدد وقت ہے۔‘‘

(تبلیغ رسالت ج۱ ص۱۴، مجموعہ اشتہارات ج۱ ص۲۳)

ب… ’’مؤلف نے براہین احمدیہ کو خداتعالیٰ کی طرف سے ملہم اور مامور ہوکر بغرض اصلاح وتجدید دین تالیف کیا ہے۔‘‘

(تبلیغ رسالت ج۱ ص۱۴، مجموعہ اشتہارات ج۱ ص۲۳)

ج… ’’کشف کی حالت میں جناب پیغمبر خداﷺ وحضرت علیؓ وحسنینؓ وفاطمہ زہراؓ تشریف لائے اور ایک نے ان میں سے اور ایسا یاد پڑتا ہے کہ حضرت فاطمہؓ نے… ایک کتاب مجھ کو دی کہ جس کی نسبت یہ بتایا گیا یہ تفسیر قران ہے۔ جس کو علیؓ نے تالیف کیا ہے اور اب علیؓ وہ تفسیر مجھ کو دیتا ہے۔ فالحمدﷲ علی ذالک!‘‘

(براہین احمدیہ ص۵۰۳، خزائن ج۱ ص۵۹۹)

نوٹ از ابوعبیدہ: گویا اس زمانہ میں مرزاقادیانی پورے مفسر بنادئیے گئے تھے۔

د… ’’ اللہتعالیٰ دوسری جگہ براہین احمدیہ میں فرماتا ہے۔ الرحمن علم القرآن… یعنی وہ خدا ہے جس نے تجھے قرآن سکھلایا اور صحیح معنوں پر مطلع کیا۔‘‘

(تتمہ حقیقت الوحی ص۵۱، خزائن ج۲۲ ص۴۸۵)

نوٹ از ابوعبیدہ: اس سے بھی معلوم ہوا کہ مرزاقادیانی کو خدا نے براہین

260

احمدیہ کی تالیف کے زمانہ میں مفسر قرآن بنادیا تھا۔

۳…مجدد اور ملہم من اللہ کی شان مرزاقادیانی کے الفاظ میں

الف… ’’جو لوگ خداتعالیٰ سے الہام پاتے ہیں۔ وہ بغیر بلائے نہیں بولتے اور بغیر سمجھائے نہیں سمجھتے اور بغیر فرمائے کوئی دعویٰ نہیں کرتے اور اپنی طرف سے کسی قسم کی دلیری نہیں کرتے۔‘‘

(ازالہ اوہام ص۱۹۸، خزائن ج۳ ص۱۹۷)

ب… ’’مجدد کا علوم لدنیہ وآیات سماویہ کے ساتھ آنا ضروری ہے۔‘‘

(ازالہ اوہام ص۱۵۴، خزائن ج۳ ص۱۷۹)

ناظرین باتمکین! کیا میں آپ کی انصاف پسند طبعوں کو اپیل کرتے ہوئے دریافت کر سکتا ہوں کہ براہین احمدیہ واقعی اگر ایسی باعظمت کتاب تھی۔ جیسی کہ مرزاقادیانی نے ظاہر کی ہے اور مرزاقادیانی اگر واقعی اپنے دعویٰ مجددیت اور الہام میں صادق تھے اور مجدد وملہم من اللہ کی وہی شان ہوتی ہے جو انہوں نے لکھی ہے تو اندریں حالات جو مضمون انہوں نے حیات عیسیٰ علیہ السلام کے بارہ میں لکھا ہے۔ کیا مرزاقادیانی اس کی تاویل۔ ان الفاظ میں کر سکتے ہیں اور کسی معقول طریقہ سے کسی صاحب انصاف کو اپنا ہمنواء بناسکتے ہیں؟

عذر مرزا: ’’پھر میں قریباً بارہ برس تک جو ایک زمانہ دراز ہے۔ بالکل اس سے بے خبر اور غافل رہا کہ خدا نے مجھے بڑی شد ومد سے براہین احمدیہ میں مسیح موعود قرار دیا ہے اور میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی آمد ثانی کے رسمی عقیدہ پر جما رہا۔‘‘

(اعجاز احمدی ص۷، خزائن ج۱۹ ص۱۱۳)

قول مرزا

نمبر۱… ’’میں نے مسلمانوں کا رسمی عقیدہ براہین احمدیہ میں لکھ دیا۔ تا میری سادگی اور عدم بناوٹ پر وہ گواہ ہو۔ وہ میرا لکھنا جو الہامی نہ تھا۔ محض رسمی تھا۔ مخالفوں کے لئے قابل استناد نہیں۔ کیونکہ مجھے خود بخود غیب کا دعویٰ نہیں۔ جب تک کہ خداتعالیٰ مجھے نہ سمجھا دے۔‘‘

(کشتی نور ص۷۴، خزائن ج۱۹ ص۵۰)

ناظرین! کیا مرزاقادیانی کی یہ تاویل ان حقائق کے سامنے جو اوپر مذکور ہوئے ہیں۔ ایک لمحہ کے لئے بھی ٹھہر سکتی ہے؟ خود غرض کا ستیاناس ہو۔ کس سادگی سے کہتے ہیں کہ میں نے مسلمانوں کا رسمی عقیدہ لکھ دیا تھا۔ اجی! پھر آپ نے جو کچھ براہین احمدیہ کی عظمت کے متعلق لکھا ہے۔ کیا وہ (معاف فرمائیں) بکواس محض نہ تھا۔ کیا مجدد کی یہی

261

شان ہوتی ہے کہ وہ لوگوں کے رسمی عقیدوں پر قائم رہتا ہے اور پھر ایسے عقائد والی کتاب کو الہامی قرار دیتا ہے اور اس پر ہزار روپیہ انعام کا بھی اعلان کرتا ہے۔ ذرا مامور من اللہ اور ملہم کی شان دوبارہ اپنے ہی الفاظ میں سن کر کچھ تو ایسی تاویل کو دنیا کے سامنے پیش کرتے ہوئے شرمائیے آخر ساری دنیاآپ کی اندھی تقلید تو کرنے کو تیار نہیں ہے۔ دیکھئے ملہم من اللہ کی شان آپ کے نزدیک یہ ہے۔

’’جو خداتعالیٰ سے الہام پاتے ہیں وہ بغیر بلائے نہیں بولتے اور بغیر سمجھائے نہیں سمجھتے اور بغیر فرمائے کوئی دعویٰ نہیں کرتے اور اپنی طرف سے کسی قسم کی دلیری نہیں کرتے۔‘‘

(ازالہ اوہام ص۱۹۸، خزائن ج۳ ص۱۹۷)

اب فرمائیے! مسلمانوں کا رسمی عقیدہ لکھنے میں بغیر خدا کے بلائے آپ کیوں بول پڑے اور بغیر سمجھائے کیوں آپ نے عیسیٰ علیہ السلام کو زندہ سمجھ لیا اور بغیر حکم الٰہی کیوں آپ نے ان کی آمد ثانی کا اعلان کر دیا اور اپنی طرف سے کیوں عیسیٰ علیہ السلام کی زندگی اور آمد ثانی کا عقیدہ رکھنے کی دلیری کر لی۔ کیا ایسا بیباک انسان کسی ذمہ دار عہدہ پر مأمور کئے جانے کا مستحق ہوسکتا ہے۔ ہرگز نہیں۔

حیات عیسیٰ علیہ السلام کے عقیدہ کے الہامی ہونے پر

مضمون حیات عیسیٰ علیہ السلام کی اندرونی شہادت

قول مرزا نمبر۲

… میں ہم نے مرزاقادیانی کے الفاظ نقل کئے ہیں۔

’’لیکن ہم پر ظاہر کیاگیا ہے۔‘‘

اب فرمائیے! اس فقرہ میں ظاہر کرنے والا کون ہے یا تو اللہتعالیٰ ہوسکتا ہے یا شیطان؟ تیسرا تو ممکن ہی نہیں۔ اگر اللہتعالیٰ ہیں تو پھر الہام رحمانی ہے۔ اگر شیطان نے مرزاقادیانی پر ظاہر کیا تھا تو یہ الہام شیطانی ہے۔ بہرحال ہے ضرور الہام ہی ہے۔ رسمی عقیدہ نہیں ہوسکتا۔

مرزاقادیانی نے اپنے اقوال نمبر:۱،۲ میں حیات عیسیٰ علیہ السلام اور ان کی آمد ثانی کو اپنی تصدیق میں پیش کیا ہے۔ کیا کسی رسمی عقیدہ کو اپنی تائید میں پیش کرنا جائز ہے؟ پس ان تصریحات سے ثابت ہوا کہ مرزاقادیانی نے جو کچھ لکھا۔ وہ شرح صدر سے لکھا اور الہام سے سمجھ کر لکھا تھا۔ اب عذر کرنا عذر لنگ کا حکم رکھتا ہے۔ سیدھا کیوں نہیں کہہ دیتے۔ بس بھائی! اس وقت ابھی ابتدائی زمانہ تھا۔ اتنی جرأت پیدا نہ ہوئی تھی کہ میں اس

262

عقیدہ کا اظہار کرتا۔ آہستہ آہستہ زمین تیار کرتا رہا۔ حتیٰ کہ ۱۸۹۲ء میں میرے جاں نثاروں کی تعداد کافی ہوگئی اور میں نے وفات مسیح علیہ السلام کا اعلان کر دیا۔

ایک عجیب انکشاف

قول مرزا نمبر۳

… مرزاقادیانی اس عقیدہ کو براہین احمدیہ میں لکھنے کی وجہ بیان کرتے ہیں۔ ’’تا میری سادگی اور عدم بناوٹ پر گوارہ ہو۔‘‘

(کشتی نوح ص۴۷، خزائن ج۱۹ ص۵۰)

دیکھا ناظرین! صاف معلوم ہوتا ہے کہ براہین احمدیہ کی تالیف کے زمانہ میں ہی مرزاقادیانی دعویٰ مسیحیت کا ارادہ کر چکے تھے۔ اس دعویٰ کی تکمیل کے لئے ضروری تھا کہ حیات عیسیٰ علیہ السلام کا عقیدہ پہلے ترک کیا جاتا۔ لیکن ایسا کرنے سے دنیائے اسلام میں تہلکہ مچ جاتا۔ پس اس وقت لکھ دیا کہ عیسیٰ علیہ السلام زندہ ہیں۔ تاکہ بعد میں اپنی سادگی کا اظہار کیاجائے۔ کس قدر زبردست دجل اور فریب ہے۔ جب زمین تیار کر لی۔ مریدوں کی تعداد ہزاروں تک پہنچ گئی۔ فوراً کہہ دیا۔ میں نے سادگی سے ایسا لکھ دیا تھا۔ لطف یہ کہ فرماتے ہیں۔ میں نے اپنا عقیدہ حیات عیسیٰ علیہ السلام کا براہین میں ظاہر ہی اسی واسطے کیا تھا کہ آئندہ اپنی سادگی کے ثبوت میں پیش کر کے جان چھڑا لوں گا۔

اسی واسطے رسول کریمﷺ فرماتے ہیں: ’’سیکون فی امتی ثلاثون دجالون کذابون‘‘ یعنی میری امت میں تیس بڑے بڑے فریبی اور زبردست جھوٹ بولنے والے ہوں گے۔ ’’کلہم یزعم انہ نبی اللہ‘‘ ان میں سے ہر ایک خیال کرے گا کہ وہ اللہ کا نبی ہے۔ ’’انا خاتم النبیین لا نبی بعدی‘‘ اور میں نبیوں کا ختم کرنے والا ہوں۔ میرے بعد کوئی نبی مبعوث نہ ہوگا۔

قول مرزا نمبر۴

… ’’واضح ہو کہ اس امر سے دنیا میں کسی کو بھی انکار نہیں کہ احادیث میں مسیح موعود کی کھلی کھلی پیش گوئی موجود ہے۔ بلکہ قریباً تمام مسلمانوں کا اس بات پر اتفاق ہے کہ احادیث کی رو سے ضرور ایک شخص آنے والا ہے۔ جس کا نام عیسیٰ ابن مریم ہوگا اور یہ پیش گوئی بخاری اور مسلم اور ترمذی وغیرہ کتب، حدیث میں اس کثرت سے پائی جاتی ہے جو ایک منصف مزاج کی تسلی کے لئے کافی ہے۔‘‘

(شہادۃ القرآن ص۲، خزائن ج۶ ص۲۹۸)

نوٹ از ابوعبیدہ: احادیث میں مسیح موعود کا نام عیسیٰ بن مریم۔ مسیح ابن مریم مذکور ہے اور تمام امت نے عیسیٰ ابن مریم سے مراد وہی عیسیٰ ابن مریم رسول الیٰ بنی اسرائیل ہی لیا ہے۔ پس وہی نازل ہوں گے اور یہی ثابت کرنا ہمارا مقصود ومطلوب

263

ہے۔ فاالحمدﷲ علی ذالک!

قول مرزا نمبر۵

… ’’مسیح موعود (عیسیٰ ابن مریم) کے بارہ میں جو احادیث میں پیش گوئی ہے۔ وہ ایسی نہیں ہے کہ جس کو صرف آئمہ حدیث نے چند روایتوں کی بنا پر لکھا ہو بس۔ بلکہ یہ ثابت ہوگیا ہے کہ یہ پیش گوئی عقیدہ کے طور پر ابتداء سے مسلمانوں کے رگ وریشہ میں داخل چلی آئی ہے۔ گویا جس قدر اس وقت روئے زمین پر مسلمان تھے۔ اسی قدر اس پیش گوئی کی صحت پر شہادتیں موجود تھیں۔ کیونکہ عقیدہ کے طور پر وہ اس کو ابتداء سے یاد کرتے چلے آتے تھے۔ اگر نعوذ ب اللہ یہ افتراء ہے تو اس افتراء کی مسلمانوں کو کیا ضرورت تھی اور کیوں انہوں نے اس پر اتفاق کر لیا ہے اور کس مجبوری نے انہیں اس افتراء پر آمادہ کر لیا۔‘‘

(شہادۃ القرآن ص۸، خزائن ج۶ ص۳۰۴)

نوٹ از ابوعبیدہ: ناظرین کس قدر صفائی سے مرزاقادیانی اعلان کر رہے ہیں کہ تمام مسلمان اس پیش گوئی کو بطور عقیدہ تیرہ سو سال سے یاد کرتے آرہے ہیں۔ پیش گوئی کیا ہے؟ پیش گوئی وہی ہے جسے ہم پچھلے پانچ بابوں میں بیان کر چکے ہیں۔ مرزاقادیانی اور تیرہ صدسال کے کروڑہا مسلمانوں کے عقیدہ میں فرق یہ ہے کہ مسلمان بلا استثناء عیسیٰ ابن مریم ’’رسولا الی بنی اسرائیل‘‘ کی آمد کے قائل ہیں اور مرزاقادیانی کہتے ہیں اور تمام جہان کے مسلمانوں کی آنکھوں میں مٹی جھونک کر کہتے ہیں کہ وہ میں ہوں۔

قول مرزا نمبر۶

… ’’یہ بات پوشیدہ نہیں کہ مسیح ابن مریم کے آنے کی پیش گوئی ایک اوّل درجہ کی پیش گوئی ہے۔ جس کو سب نے باتفاق قبول کر لیا ہے اور جس قدر صحاح میں پیش گوئیاں رکھی گئی ہیں۔ کوئی پیش گوئی اس کے ہم پہلو اور ہم وزن ثابت نہیں ہوتی۔ تواتر کا اوّل درجہ اس کو حاصل ہے۔ انجیل بھی اس کی مصدق ہے۔ اب اس قدر ثبوت پر پانی پھیرنا اور یہ کہنا کہ یہ تمام حدیثیں موضوع ہیں۔ درحقیقت ان لوگوں کا کام ہے جن کا خداتعالیٰ نے بصیرت دینی اور حق شناسی سے کچھ بھی بخرہ اور حصہ نہیں دیا اور بباعث اس کے کہ ان کے دلوں میں ’’قال اللہ (قرآن شریف) وقال الرسول (حدیث)‘‘ کی عظمت باقی نہیں رہی۔ اس لئے جو بات ان کی اپنی سمجھ سے بالا تر ہو۔ اس کو محالات اور ممتنعات میں داخل کر لیتے ہیں۔ قانون قدرت بے شک حق اور باطل کے آزمانے کے لئے ایک آلہ ہے۔ مگر ہر قسم کی آزمائش کا اسی پر مدار نہیں… بلکہ اگر سچ پوچھو تو قانون قدرت مصطلحہ حکماء کے ذریعہ جو صداقتیں معلوم ہوئی ہیں وہ ادنیٰ درجہ کی صداقتیں ہیں۔ لیکن

264

اس فلسفی قانون قدرت سے ذرہ اوپر چڑھ کر ایک اور قانون قدرت بھی ہے۔ جو نہایت دقیق اور غامض اور بباعث وقت وغموض موٹی نظروں سے چھپا ہوا ہے۔ جو عارفوں پر ہی کھلتا ہے اور ان پر ہی ظاہر ہوتا ہے۔ اس دنیا کی عقل اور اس دنیا کے قوانین شناس اس کو شناخت نہیں کر سکتے اور اس سے منکر رہتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ جو امور اس کے ذریعہ سے ثابت ہوچکے ہیں اور جو سچائیاں اس کی طفیل سے بپایۂ ثبوت پہنچ چکی ہیں۔ وہ ان سفلی فلاسفروں کی نظر میں اباطیل میں داخل ہیں… مسلمانوں کی بدقسمتی سے یہ فرقہ (مرزائی وچکڑالوی) بھی اسلام میں پیدا ہوگیا۔ جس کا قدم الحاد کے میدانوں میں آگے ہی آگے چل رہا ہے۔‘‘

(ازالہ اوہام ص۵۵۷،۵۵۸، خزائن ج۳ ص۴۰۰،۴۰۱)

ناظرین! خدارا خیال فرمائیے کہ مرزاقادیانی حیات مسیح کے بارہ میں کس قدر صاف صاف مضمون بیان فرمارہے ہیں۔ مسیح ابن مریم کے آنے کو دنیوی فلاسفروں نے قبول نہ کیا تو مرزاقادیانی انہیں لتاڑ رہے ہیں۔ اگر کسی مثیل نے آنا تھا تو یہ کون سی ایسی مشکل ہے جو سفلی فلاسفروں کی سمجھ سے بالاتر ہے؟ ہاں عیسیٰ علیہ السلام کا آسمان پر چڑھ جانا ان کی سفلی نظروں میں محالات وممتنعات سے ہے۔ آسمان پر بغیر کھانے پینے کے رہنا ان کی دہریہ نظروں میں ناممکن ہے۔ بغیر ہوا کے زندگی ان کی زمینی عقول کی سمجھ میں نہیں آتی۔ پھر عیسیٰ علیہ السلام کا زمانہ کے اثر سے بچایا جانا ان کے نزدیک محالات عقلی سے ہے۔ دوبارہ ان کا نزول وہ سمجھنے سے قاصر ہیں۔ ان کی آمد ثانی باوجود اپنی تمام حکمتوں اور ضرورتوں کے جن کا مفصل بیان انجیل، قرآن اور احادیث اور دیگر کتب دین میں مذکور ہے۔ ان کی ملحدانہ عقول سمجھنے سے یکسر عاری ہیں۔ ’’واذ اخذ اللہ میثاق النبیین… لتؤمنن بہ ولتنصرنہ‘‘ کے مطابق کسی رسول کا رسول کریمﷺ سے پہلے مبعوث ہوکر آپؐ کے بعد بھی کچھ مدت تک زندہ رہنا ان کی فلسفی نگاہوں میں عقل کے خلاف ہے اور بالخصوص ختم نبوت کو توڑنا ہے۔ ختم نبوت کی حقیقت وہ سمجھ ہی نہیں سکتے۔ ’’وغیر ذالک‘‘ فرمائیے۔ ناظرین! کیا مرزاقادیانی یہاں ایسے ہی لوگوں کو نہیں لتاڑ رہے ہیں۔ لطف یہ کہ خود ہی ایسے لوگوں کے امام بھی ہیں۔ کیونکہ حیات عیسیٰ علیہ السلام کے عقیدہ کے خلاف جس قدر ’’عقلی محالات اور حجتیں‘‘ مرزاقادیانی نے اور ان کی جماعت نے پیدا کی ہیں۔ کسی اور ملحد نے آج تک ایسے اشکلات پیش نہیں کئے۔

قول مرزا نمبر۷

… ’’تعلمون ان النزول فرع للصعود‘‘

(انجام آتھم ص۱۶۸، خزائن ج۱۱ ص ایضاً)/p>

265

’’تم جانتے ہو کہ نازل ہونا عیسیٰ علیہ السلام کا ان کے آسمان پر چڑھنے کی فرع ہے۔‘‘

پس اگر نزول ثابت ہو جائے تو آسمان پر جانا خود بخود ثابت ہو جائے گا۔

قول مرزا نمبر۸

… ’’اس جگہ یہ بھی یاد رکھنا چاہئے کہ مسیح کا جسم کے ساتھ آسمان سے اترنا اس کے جسم کے ساتھ چڑھنے کی فرع ہے۔‘‘

(ازالہ اوہام ص۲۶۹، خزائن ج۳ ص۲۳۶)

قول مرزا نمبر۹

… ’’والنزول ایضا حق نظراً علی تواتر الاثار وقد ثبت من طرق فی الاخبار‘‘

(انجام آتھم ص۱۵۸،خزائن ج۱۱ ص ایضاً)

’’اورنازل ہونا عیسیٰ ابن مریم کا بسبب متواتر احادیث صحیحہ کے بالکل حق ہے اور یہ امر احادیث میں مختلف طریقوں سے ثابت ہوچکا ہے۔‘‘

قول مرزا نمبر۱۰

… ’’وانی انا المسیح النازل من السماء‘‘

(ضمیمہ تحفہ گولڑویہ ص۳۱، خزائن ج۱۷، ص۸۳)

’’اور آسمان سے نازل ہونے والا مسیح ابن مریم میں ہی ہوں۔‘‘

نوٹ از ابوعبیدہ: ناظرین مرزاقادیانی فرماتے ہیں کہ آسمان سے نازل ہونا آسمان پر چڑھنے کی فرع ہے۔ یعنی اگر کسی شخص کا آسمان پر جانا ثابت ہو جائے تو اس کا آنا بھی ممکن ہے اور اگر کسی شخص کا آسمان سے نازل ہونا ثابت ہو جائے تو اس کا آسمان پر جانا بالیقین ثابت ہو جائے گا۔ کیونکہ اگر وہ آسمان پر گیا نہیں تو آکیسے سکتا ہے۔ چونکہ ہم بیسیوں دلائل سے ثابت کر چکے ہیں کہ عیسیٰ علیہ السلام آسمان پر اٹھائے گئے۔ پھر بیسیوں دلائل سے عیسیٰ علیہ السلام کا آسمان سے نازل ہونا ثابت کر چکے ہیں۔ علاوہ ازیں خود اقوال مرزا سے عیسیٰ ابن مریم کا دوبارہ آنا ثابت ہوچکا ہے۔

مرزاقادیانی خود فرماتے ہیں کہ: ’’آسمان سے نازل ہونے والا مسیح ابن مریم میں ہی ہوں۔‘‘

پس ثابت ہوا کہ یا تو غلام احمد ابن چراغ بی بی حضرت عیسیٰ ابن مریم ہی کا دوسرا نام ہے۔ یا مرزاقادیانی کو مراق ہے۔ ’’۱۸۴۰ء میں پہلے مرزاقادیانی کی بہن جنت ماں کے پیٹ سے نکلی تھی۔ اس کے بعد مرزاقادیانی باہر نکلے تھے۔‘‘

(تریاق القلوب ص۱۵۷، خزائن ج۱۵ ص۴۷۹ حاشیہ)

باوجود اس کے دعویٰ کرتے ہیں کہ آسمان سے نازل ہونے والا مسیح ابن مریم میں ہوں۔ (معاف فرمائیے) کیا مرزاقادیانی کی ماں کا پیٹ آسمان تھا؟ اگر نہیں اور یقینا نہیں تو پھر آسمان سے نازل ہونے والے عیسیٰ ابن مریم مرزاقادیانی کیسے ہوگئے؟

266

ہاں آریہ سماج کے عقیدہ تناسخ کے مطابق کوئی صورت ہوگئی ہو تو آریہ جانیں یا مرزائی۔ اہل اسلام تو تناسخ کے قائل نہیں۔

قول مرزا نمبر۱۱

… ’’خدا نے ان کے منصوبوں سے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو بچا لیا۔‘‘

(چشمہ معرفت ص۱۶۲، خزائن ج۲۳ ص۱۷۴)

ناظرین! اب صرف یہ معلوم کرنا ہے کہ منصوبوں سے بچانے کا مطلب کیا ہے۔ یہودیوں کے منصوبے خود مرزاقادیانی نے اپنی کتابوں میں بسط کے ساتھ بیان کئے ہیں۔ آپ اسی کتاب کے گذشتہ صفحات پر مرزاقادیانی کے اقوال ملاحظہ کریں۔ ’’ان کا منصوبہ یہ تھا کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو سولی دی جائے۔‘‘

اس کے متعلق مرزاقادیانی فرماتے ہیں: ’’خدا نے مسیح سے وعدہ فرمایا تھا کہ میں تجھے صلیب سے بچاؤں گا۔‘‘

قول مرزا نمبر۱۲

… ’’خدا نے مسیح کو وفات دے کر مردوں میں نہیں رکھا بلکہ زندہ کر کے اور نبیوں کے پاس آسمان پر بلا لیا۔‘‘

(آئینہ کمالات اسلام ص۲۷۷، خزائن ج۵ ص ایضاً)

قول مرزا نمبر۱۳

… ’’معراج کی رات میں آنحضرتﷺ نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو جو اصل عیسیٰ ہے دیکھا اور اس کا سرخ رنگ پایا۔‘‘

(ازالہ اوہام ص۹۰۰، خزائن ج۳ ص۵۹۲)

قول مرزا نمبر۱۴

… ’’انجیل کے بعض اشارات سے پایا جاتا ہے کہ حضرت مسیح بھی جورو کرنے کی فکر میں تھے۔ مگر تھوڑی سی عمر میں اٹھائے گئے۔ ورنہ یقین تھا کہ اپنے باپ داؤد کے نقش قدم پر چلتے۔‘‘

(آئینہ کمالات اسلام ص۲۸۳، خزائن ج۵ ص ایضاً حاشیہ)

ناظرین! غور کیجئے قول نمبر:۱۲ میں مرزاقادیانی حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی حیات جسمانی بعد الممات کے قائل ہیں۔ قول نمبر:۱۳ میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا جسم عنصری کے ساتھ آسمان پر چڑھ جانا تسلیم کر رہے ہیں۔ کیونکہ ’’سرخ رنگ‘‘ اور ’’اصل عیسیٰ علیہ السلام‘‘ کے الفاظ جسم عنصری کا ببانگ دہل اعلان کر رہے ہیں۔ قول نمبر:۱۴ میں مرزاقادیانی اپنا یقین ظاہر کر رہے ہیں کہ اگر حضرت عیسیٰ علیہ السلام اٹھائے نہ جاتے تو اپنے باپ داؤد کے نقش قدم پر چلتے۔

پس مرزاقادیانی کے قول کے مطابق اگر حضرت عیسیٰ علیہ السلام اٹھائے نہ جاتے تو حضرت داؤد علیہ السلام کی طرح بیسیوں بیویاں کرتے۔ مرزاقادیانی کا عقیدہ ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے ۱۵۳ سال کی عمر پائی اور یہ محض جھوٹ ہے۔ کیونکہ مرزاقادیانی کا ’’یقین‘‘ باطل ثابت ہورہا ہے۔ باوجود ۱۵۳ سال کی عمر کے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا شادی نہ کرنا مرزا

267

قادیانی کو جھٹلا رہا ہے۔ مرزاقادیانی کے یقین کو درست ثابت کرنے کے لئے ماننا پڑے گا کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام آسمان پر اٹھا لئے گئے۔ ورنہ ضرور شادی کرتے۔

قول مرزا نمبر۱۵

… ’’سلف حلف کے لئے بطور وکیل کے ہوتے ہیں اور ان کی شہادتیں آنے والی ذریت کو ماننی پڑتی ہیں۔‘‘

(ازالہ اوہام ص۳۷۴، خزائن ج۳ ص۲۹۳)

ہم نے رسول کریمﷺ، صحابہ کرامؓ، تابعینؒ، مجتہدینؒ، مجددینؒ، مفسرینؒ اور صوفیائے کرامؒ کے اقوال سے حیات عیسیٰ علیہ السلام اور ان کی آمد ثانی صاف صاف الفاظ میں ثابت کر دی ہے۔ مرزاقادیانی اگر زندہ ہوتے تو امید تھی کہ ہمارے دلائل سے متاثر ہوکر وفات مسیح کے عقیدہ سے تائب ہو جاتے۔

قول مرزا نمبر۱۶

… ’’ایک نئے معنی اپنی طرف سے گھڑ لینا بھی تو الحاد اور تحریف ہے۔ خداتعالیٰ مسلمانوں کو اس سے بچائے۔‘‘

(ازالہ ص۷۴۵، خزائن ج۳ ص۵۰۱)

حضرات! مرزاقادیانی نے کلام اللہ کے معنی کرتے وقت خود کلام اللہ، رسول کریمﷺ، صحابہ کرامؓ، تابعینؒ اور مجددین امت وصوفیاء ومفسرین سب کے خلاف علم بغاوت کھڑا کر دیا ہے۔ پس یا تو اس عقیدہ سے رجوع کیا ہوتا یا اپنے ہی قول سے ملحد اور محرف کلام اللہ ثابت ہوں گے۔

قول مرزا نمبر۱۷

… ’’صحابہ کا اجماع وہ چیز ہے جس سے انکار نہیں کیا جاسکتا۔‘‘

(براہین احمدیہ حصہ۵، ص۲۰۳، خزائن ج۲۱ ص۳۷۶ حاشیہ، بحوالہ خزینۃ العرفان ص۴۱۹)

قول مرزا نمبر۱۸

… ’’شرعی حجت صرف اجماع صحابہ ہے۔‘‘

(خزینۃ العرفان ص۵۵۲، براہین احمدیہ حصہ۵، ص۲۳۴، خزائن ج۲۱ ص۴۱۰)

قول مرزا نمبر۱۹

… ’’اجماع کے خلاف عقیدہ رکھنے والے پر خدا کی لعنت اس کے فرشتوں کی لعنت۔‘‘

(انجام آتھم ص۱۴۴، خزائن ج۱۱ ص ایضاً)

قول مرزا نمبر۲۰

… ’’صحابہ کا اجماع حجت ہے جو کبھی ضلالت پر نہیں ہوتا۔‘‘

(تریاق القلوب ص۱۴۷، خزائن ج۱۵ ص۴۶۱)

ہم نے قادیانی مسلمات کی رو سے ثابت کر دیا ہے کہ حیات جسمانی ونزول جسمانی حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا عقیدہ ابتداء اسلام سے مسلمانوں کے قلوب میں محکم طور پر چلا آرہا ہے۔ صحابہ کا اجماع بھی روز روشن کی طرح ثابت ہوچکا ہے۔ اب تو امید ہے

268

کہ قادیانی جماعت اپنے ہی نبی کی لعنت سے بچنے کے لئے اجماع صحابہ اور اجماع امت کے سامنے سر تسلیم خم کر دیں گے۔

قول مرزا نمبر۲۱

… ’’اگر کوئی شخص آسمان سے آنے والا ہوتا تو اس موقعہ پر رجوع کا لفظ ہوتا نہ نزول کا لفظ۔‘‘

(چشمہ معرفت ص۲۲۰، خزائن ج۲۳ ص۲۲۹)

قول مرزا نمبر۲۲

… ’’اگر اس جگہ (حدیث میں) نزول کے لفظ سے مقصود تھا کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام دوبارہ آسمان سے آئیں گے تو بجائے نزول کے رجوع کہنا چاہئے تھا۔ کیونکہ جو شخص واپس آتا ہے اس کو زبان عرب میں ’’راجع‘‘ کہا جاتا ہے نہ کہ نازل۔‘‘

(ایام الصلح ص۱۴۶، خزائن ج۱۴ ص۳۹۲)

ناظرین! مرزاقادیانی بیچارے علم حدیث سے کلیتہً بے بہرہ تھے۔ اگر احادیث کی کتابوں پر عبور ہوتا تو ضرور انہیں اپنے ہی معیار کے مطابق حیات عیسیٰ علیہ السلام کا عقیدہ رکھنا ضروریات دین سے معلوم ہو جاتا۔ ہم نے ایسی حدیث جن میں رجوع کا لفظ ہے۔ درج کر کے مفصل بحث کی ہے۔ اسے دوبارہ ملاحظہ کر لیا جائے۔

قول مرزا نمبر۲۳

… ’’اب اگر مسیح کو سچا نبی ماننا ہے تو اس کے فیصلہ کو بھی مان لینا چاہئے۔ زبردستی سے یہ نہیں کہنا چاہئے کہ یہ ساری کتابیں توریت وانجیل محرف ومبدل ہیں۔ بلاشبہ ان مقامات سے تحریف کا کوئی علاقہ نہیں اور دونوں فریق یہود ونصاریٰ ان عبارتوں کی صحت کے قائل ہیں۔ پھر امام المحدثین حضرت اسماعیل صاحب اپنی صحیح بخاری میں یہ بھی لکھتے ہیں کہ ان کتابوں میں کوئی لفظی تحریف نہیں۔‘‘

(ازالہ اوہام ص۲۷۳، خزائن ج۳ ص۲۳۸)

قول مرزا نمبر۲۴

’’فاسئلو اہل الذکر ان کنتم لا تعلمون‘‘ یعنی اگر تمہیں ان بعض امور کا علم نہ ہو جو تم میں پیدا ہوں تو اہل کتاب کی طرف رجوع کرو اور ان کی کتابوں کے واقعات پر نظر ڈالو تااصل حقیقت تم پر منکشف ہو جائے۔

(ازالہ اوہام ص۶۱۶، خزائن ج۳ ص۴۳۳)

ناظرین! ہم انجیلوں کی شہادت حیات عیسیٰ علیہ السلام کے ثبوت میں پہلے باب میں درج کر آئے ہیں۔ وہاں ملاحظہ کر لیا جائے۔ یہاں مجمل طور سے اس کا ثبوت آپ کی خدمت میں پیش کرتے ہیں۔

مرزاقادیانی لکھتے ہیں: ’’تمام فرقے نصاریٰ کے اسی قول پر متفق نظر آتے ہیں کہ تین دن تک حضرت عیسیٰ علیہ السلام مرے رہے اور پھر قبر میں سے آسمان کی طرف اٹھائے گئے اور چاروں

269

انجیلوں سے یہی ثابت ہوتا ہے اور خود حضرت عیسیٰ علیہ السلام انجیلوں میں اپنی تین دن کی موت کا اقرار بھی کرتے ہیں۔‘‘

(ازالہ اوہام ص۲۴۸، خزائن ج۳ ص۲۲۵)

پس حسب الحکم مرزاقادیانی چونکہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو سچا نبی مانتے ہیں۔ حضرت کے فیصلہ کو بھی مانیں۔ یعنی: ’’خود حضرت عیسیٰ علیہ السلام اپنی موت کا اقرار کر رہے ہیں۔‘‘

کی عبارت سے ظاہر ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام زندہ ہوگئے تھے۔ کیونکہ مردہ اپنی تین دن کی موت کی شہادت کس طرح دے سکتا ہے۔ پھر مرزاقادیانی تو تواتر قومی کا ماننا بھی ضروری سمجھتے ہیں۔

(ازالہ اوہام ص۵۵۶، خزائن ج۳ ص۳۹۹)

پس مرزاقادیانی اور ان کی جماعت کے لئے اس فیصلہ کے سامنے سر تسلیم خم کرنا اپنے ہی عقیدہ کی رو سے ضروری ہے۔

قول مرزا نمبر۲۵

… ’’یہودیوں نے حضرت مسیح علیہ السلام کے لئے قتل وصلیب کا حیلہ سوچا تھا۔ خدا نے مسیح کو وعدہ دیا کہ میں تجھے بچاؤں گا اور تیرا رفع کروں گا۔‘‘

(اربعین نمبر۳ ص۸، خزائن ج۱۷ ص۳۹۴)

قول مرزا نمبر۲۶

… ’’ماسوا اس کے یہ بھی تو سوچنے کے لائق ہے کہ خداتعالیٰ کا وعدہ کہ میں ایسا کرنے کو ہوں۔ ’’انی متوفیک ورافعک الی (ابوعبیدہ)‘‘ خود یہ الفاظ دلالت کرتے ہیں کہ وہ وعدہ جلد پورا ہونے والا ہے اور اس میں کچھ توقف نہیں۔‘‘

(آئینہ کمالات اسلام ص۴۶، خزائن ج۵ ص ایضاً)

اگر یہ بات صحیح ہے تو پھر مرزاقادیانی آپ کیوں واقعہ صلیب سے ۸۷سال بعد ’’انی متوفیک‘‘ کے وعدے کو ملتوی کرتے ہو۔ لیجئے ہم آپ کے حکم کے مطابق ہی اس کے معنی کرتے ہیں۔ خدائی وعدہ میں توقف نہیں ہونے دیتے۔ آپ کو ہم وعدہ کرنے کے بعد ۸۷سال تک کشمیر میں انتظار کی زحمت سے بھی بچاتے ہیں۔ لیجئے اسلامی معنی سنئے: ’’یعیسیٰ انی متوفیک‘‘ اے عیسیٰ میں تجھے اپنے قبضہ میں لینے والا ہوں۔ ’’ورافعک الیّٰ‘‘ اور تجھے اپنی طرف اٹھانے والا ہوں۔ ’’ومطہرک من الذین کفروا‘‘ اور تجھے ان کافروں کی صحبت سے علیحدہ کرنے والا ہوں۔

مرزاقادیانی! یہ وعدہ اللہتعالیٰ نے یہود کی یورش کے وقت حضرت عیسیٰ علیہ السلام سے کیا تھا اور اسی وقت پورا کر دیا۔ یعنی انہیں آسمان پر اٹھا لیا۔ اب آپ کو اس پر کون سا

270

اشکال ہے۔ شاید ’’انی متوفیک‘‘ کے معنی میں تجھے اپنے قبضہ میں لینے والا ہوں۔ آپ کے نازک دل کو چبھ رہے ہوں گے۔ ہم نے یہ معنی اپنے پاس سے نہیں کئے بلکہ (چشمہ معرفت ص۱۵۴، خزائن ج۲۳ ص۱۶۲) پر آپ نے خود توفی کے معنی ’’قبضہ میں لینا‘‘ کئے ہیں۔ فرمائیے! اب آپ کو ہمارے اسلامی معنی اور تفسیر ماننے سے کون سا امر مانع ہے۔ کیا اپنی مسیحیت کے سوا کوئی معقول مانع ہوسکتا ہے؟ ہرگز نہیں۔

قول مرزا نمبر۲۷

… ’’تیرھویں صدی کے اختتام پر مسیح موعود کا آنا ایک اجماعی عقیدہ معلوم ہوتا ہے۔‘‘

(ازالہ اوہام ص۱۸۵، خزائن ج۳ ص۱۸۹)

ابوعبیدہ: ناظرین مسیح موعود کے آنے پر امت محمدی کے اجماع کو مرزاقادیانی تسلیم کر کے بطور حجت مخالفین کے سامنے پیش کر رہے ہیں۔ میری عرض ہے کہ جن مجددین امت، مفسرین اسلام اور بزرگان دین سے یہ اجماع منقول ہے۔ اگر مرزاقادیانی یا ان کی جماعت ان میں سے کسی ایک ہی کا یہ قول پیش کر سکیں کہ مسیح موعود عیسیٰ ابن مریم نہیں ہوگا۔ بلکہ وہ اس کا مثیل ہوگا تو ہم انعام پیش کرنے کو تیار ہیں۔ سب کے سب بزرگان دین کا اجماع اسی بات پر ہے کہ مسیح موعود عیسیٰ علیہ السلام ہی ہیں اور وہ ہی آئیں گے۔ ان کے اس اجماع کو کیوں تسلیم نہیں کرتے۔ کیا اسی کو ’’میٹھا میٹھا ہڑپ اور کڑوا کڑوا تھو‘‘ نہیں کہتے۔

قول مرزا نمبر۲۸

… ’’یہ آیت کہ ’’ہو الذی ارسل رسولہ بالہدیٰ ودین الحق‘‘ درحقیقت اسی مسیح ابن مریم کے زمانہ سے متعلق ہے۔‘‘

(ازالہ اوہام ص۶۷۵، خزائن ج۳ ص۴۶۴)

ابوعبیدہ: دیکھئے حضرات! کیسے صاف صاف الفاظ میں مسیح ابن مریم کا آنا ازروئے کلام اللہ تسلیم کر رہے ہیں۔ مگر خود غرضی کا ستیاناس کہ پھر مسیح ابن مریم خود بن بیٹھتے ہیں۔ مسیح ابن مریم کے معنی ہیں۔ وہ مسیح جو بیٹا ہے مریم کا۔ مرزاقادیانی اس کے معنی یہ منوانے کی سعی لاحاصل کرتے ہیں کہ اس کے معنی غلام احمد ابن چراغ بی بی ہیں۔

اب کون عقل کا اندھا ان معنوں کو قبول کرے۔

قول مرزا نمبر۲۹

… ’’اس پر اتفاق ہوگیا ہے کہ مسیح کے نزول کے وقت اسلام دنیا پر کثرت سے پھیل جائے گا اور ملل باطلہ ہلاک ہو جائیں گی اور راست بازی ترقی کرے گی۔‘‘

(ایام الصلح ص۱۳۶، خزائن ج۱۴ ص۳۸۱)

قول مرزا نمبر۳۰

…(الف)’’صحیح مسلم کی حدیث میں جو یہ لفظ موجود ہے کہ حضرت

271

مسیح علیہ السلام آسمان سے اتریں گے تو ان کا لباس زرد رنگ کا ہوگا۔‘‘

(ازالہ اوہام ص۸۱، خزائن ج۳ ص۱۴۲)

(ب) ’’آنحضرتﷺ نے فرمایا تھا کہ مسیح آسمان پر سے جب اترے گا تو زرد چادریں اس نے پہنی ہوںگی۔‘‘

(قادیانی رسالہ تشحیذ الاذہان ص۵، ماہ جون۱۹۰۶ء، اخبار بدر ماہ جون۱۹۰۶ء، ازالہ اوہام ص۳۴، خزائن ج۳ ص۱۴۲)

حضرات غور فرمائیے! مرزاقادیانی کیسے صریح الفاظ میں مسیح علیہ السلام کا آسمان سے نازل ہونا تسلیم کر رہے ہیں اور رسول کریمﷺ کی صحیح حدیث کو بطور دلیل پیش کر رہے ہیں۔ باوجود اس کے پھر کہتے ہیں کہ وہ عیسیٰ میں ہوں۔

فرمائیے! اس قدر تحکم اور بے انصافی کی وجہ سوائے مراق کے کوئی اور بھی ہوسکتی ہے۔ مرزاقادیانی کو ہم آسمان سے اترنے والا مسیح کیسے مان لیں۔ وہ تو ماں کے پیٹ سے نازل ہوئے تھے۔

مرزابشیرالدین محمود احمد خلیفہ قادیانی کے اقوال

۱… ’’پچھلی صدیوں میں قریباً تمام مسلمانوں میں مسیح کے زندہ ہونے پر ایمان رکھا جاتا تھا اور بڑے بڑے بزرگ اسی عقیدہ پر فوت ہوئے ہیں۔‘‘

(حقیقت النبوۃ ص۱۴۲)

ابوعبیدہ: حضرات جس عقیدہ (حیات مسیح علیہ السلام) پر امت محمدی کے ساڑھے تیرہ صد سال کے بزرگان دین اور مجددین امت ایمان لانا ضروری سمجھتے تھے۔ کیا ہم مرزاقادیانی کو مسیح موعود ثابت کرنے کے لئے اس عقیدہ کو خیرباد کہہ دیں گے؟ ہرگز نہیں۔

۲… دوسرا قول مرزا بشیر الدین محمود کا جو پہلے صفحات میں گزر چکا ملاحظہ کریں اور اس پر ہماری تنقید کا لطف اٹھائیں۔

مولوی نورالدین خلیفہ قادیانی کا قول

مولوی نور الدین قادیانی نے اپنی کتاب فصل الخطاب حصہ دوم ص۷۳، نویں بشارت پر آیت ’’وان من اہل الکتاب الا لیؤمنن بہ قبل موتہ‘‘ کا ترجمہ ان الفاظ میں کیا ہے۔ ’’اور نہیں کوئی اہل کتاب سے البتہ ایمان لائے گا ساتھ اس کے (حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے) پہلے موت اس کی (عیسیٰ علیہ السلام) کے۔‘‘

یہ اس شخص کا ترجمہ ہے جو مسیحیت مرزا کا سب سے بڑا حامی بلکہ بانی تھا۔

مولوی سید سرور شاہ قادیانی کا قول

سید سرور شاہ قادیانی ’’انہ لعلم للساعۃ‘‘ کی تفسیر میں پھنسا ہوا ہے اور مجبور ہو کر

272

لکھتا ہے: ’’ہمارے نزدیک تو اس کے آسان معنی یہ ہیں کہ وہ مثیل مسیح ساعۃ (قیامت) کا علم ہے۔‘‘

(ضمیمہ اخبار بدر قادیان مورخہ ۶؍اپریل ۱۹۱۱ء)

ابوعبیدہ: قارئین عظام خود غرضی کی بھی کوئی حد ہونی چاہئے۔ ’’انہ‘‘ میں ضمیر ’’ہ‘‘ کو مثیل مسیح کی طرف پھیرتا ہے جو یہاں کیا سارے کلام اللہ میں مذکور نہیں۔ صرف مرزاقادیانی کی مسیحیت کی خاطر عیسیٰ ابن مریم سے مسیح اور پھر اس کے مثیل کی پچر اپنی طرف سے لگادی ہے۔ العیاذ ب اللہ!

مولوی سید محمد احسن امروہی کی شہادت

مولوی سید محمد احسن امروہی کو مرزاقادیانی ان دو فرشتوں میں سے ایک سمجھا کرتے تھے۔ جن کے کندھوں پر حضرت مسیح علیہ السلام کے نازل ہونے کا ذکر احادیث نبوی میں موجود ہے۔ وہ ’’انہ لعلم للساعۃ‘‘ کی تفسیر میں فرماتے ہیں۔ ’’دوستو! یہ آیت سورۂ زخرف میں ہے اور بالاتفاق تمام مفسرین کے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے دوبارہ آنے کے واسطے ہے۔ اس میں کسی کو اختلاف نہیں۔‘‘

(اخبار الحکم مورخہ ۲۸؍فروری ۱۹۰۹ء)

ایک اور جگہ لکھتے ہیں: ’’آیت دوم میں تسلیم کیا کہ ضمیر ’’انہ‘‘ کی طرف قرآن شریف یا آنحضرتﷺ کے راجع نہیں۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام ہی کی طرف راجع ہے۔‘‘

(اعلام الناس حصہ دوم ص۵)

ان دونوں عبارتوں سے ظاہر ہے کہ سید محمد احسن امروہی بھی دل میں حیات عیسیٰ علیہ السلام کا عقیدہ رکھتے تھے۔ صرف مسیحیت قادیانی کے گرویدہ اور محتاج ہونے کے سبب مرزاقادیانی کو عیسیٰ علیہ السلام ابن مریم سمجھ لیا۔ ناظرین! کہاں تک لکھتا جاؤں۔ انصاف پسند طبائع کے لئے اسی قدر دلائل حیات مسیح علیہ السلام کافی ہیں اور اندھا دھند تقلید کرنے والے کے لئے ہزار دفتر بھی ناکافی ہے۔

انشاء اللہ العزیز! زندگی نے ساتھ دیا اور حالات نے موافقت کی تو حیات عیسیٰ علیہ السلام کا دوسرا حصہ بھی شائع ہوکر رہے گا۔ اس حصہ میں قادیانی دلائل وفات مسیح علیہ السلام کا تجزیہ اور تردید کرنے کے علاوہ حیات مسیح علیہ السلام اور آپ کے رفع جسمانی میں خالق کون ومکان احکم الحاکمین نے جو جو حکمتیں مضمر رکھی ہوئی ہیں۔ ان میں سے بہت سی پبلک کے سامنے پیش کی جائیں گی۔ ’’وما توفیقی الا ب اللہ‘‘

اظہار تشکر وامتنان

ناظرین! میں ضروری خیال کرتا ہوں کہ اس کتاب کے تالیف کرنے میں جن

273

حضرات کی تصنیفات سے میں نے مدد حاصل کی ہے۔ ان کا تہ دل سے شکریہ ادا کروں۔

۱… اللہتعالیٰ اپنی بے پایاں رحمت سے ان محدثین اور مجددین امت کو پورا پورا حصہ دے جو مرزاقادیانی کی ولادت سے بھی صدیوں پہلے اس مسئلہ پر فیصلہ کن روشنی ڈال چکے ہیں اور کلام اللہ کے سمجھنے میں ہمارے سچے راہ نماز ہیں۔

۲… میں نے مندرجہ ذیل حضرات کی تصنیفات سے بھی بہت سا استفادہ کیا ہے۔ (۱)شیخ الاسلام رئیس المحدثین حضرت مولانا سید محمد انور شاہ صاحب کشمیریؒ۔ (۲)حضرت مولانا پیر مہر علی شاہ صاحب گولڑویؒ۔ (۳)مولانا محمد ابراہیم میر سیالکوٹیؒ۔ (۴)مولانا پیر بخش صاحب لاہور مرحوم۔ (۵)مولانا حبیب اللہ صاحب امرتسریؒ۔ (۶)مولانا محمد عالم آسی صاحب مولوی فاضل امرتسری مصنف کاویہ۔

شیخ الاسلام حضرت مولانا سید محمد انور شاہ صاحب کشمیریؒ کی کتاب ’’عقیدۃ الاسلام فی حیات عیسیٰ علیہ السلام‘‘ ایسی کتاب ہے کہ اس سے پہلے اس کی مثل یقینا نہیں لکھی گئی۔ مگر چونکہ کتاب عربی میں ہے۔ اس واسطے اردو دان طبقہ اس سے استفادہ نہیں کر سکتا۔

۳… تیسرے درجہ میں مرزاغلام احمدقادیانی اور ان کی ذریت کا شکریہ ادا کرنا ضروری سمجھتا ہوں کہ ان کی تصنیفات مجھے مداری کی پٹاری کا کام دیتی رہی ہیں۔ میں جو کچھ ثابت کرنا چاہتا تھا۔ اس کی تائید میں ہر ایک قسم کا مواد ان کی کتابوں میں موجود پایا۔

معذرت

میں ایک بہت ہی قلیل الفرصت انسان ہوں۔ زمانہ تالیف میں کبھی بھی پورے اطمینان کے ساتھ تعلیمی فرائض سے فرصت نہ مل سکی۔ لہٰذا صرف ممکن ہی نہیںبلکہ فی الواقع کتاب میں لفظی ومعنوی فروگذاشتیں ہوں گی۔ جو صاحب مجھے ان سے مطلع فرمائیں گے۔ اگرچہ وہ قادیانی ہی کیوں نہ ہوں۔ شکریہ کے ساتھ قبول کر کے طبع ثانی میں درست کر دی جائیں گی۔ ممکن ہے صفحات کے حوالوں میں کوئی غلطی رہ گئی ہو۔ اس کے متعلق عرض ہے کہ نفس مضمون کے صحیح ہونے کا میں ذمہ دار ہوں۔ بعض جگہ کتابت کی غلطیاں رہ گئی ہیں۔ سو اپنی قلت فرصت کا عذر پیش کرتا ہوں اور امید کرتا ہوں کہ قارئین عظام قبول کر کے ممنون فرمائیں گے اور دعا فرمائیں گے کہ اللہتعالیٰ مجھے اعمال صالحہ بالخصوص استیصال فتنہ ارتداد کی زیادہ سے زیادہ توفیق ارزانی فرمائے۔

اہل اسلام کی دعائوں کا محتاج:

خاکپائے علماء اسلام ابوعبیدہ نظام الدین بی۔اے

سائنس ماسٹر اسلایہ ہائی سکول کوہاٹ، مورخہ ۲۵؍مارچ ۱۹۳۶ء

274