Top banner image

قادیانیوں سے فیصلہ کن مناظرے

حضرت مولانا اللہ وسایا صاحب حفظہ اللہ

قادیانیوں سے فیصلہ کن مناظرے ،ایسے ہی حقائق آفریں اور چشم کشا مناظروں کی فکر انگیز روداد ہے، میں تو اسے اردو میں دینی ادب کی ایک منفرد رپورتاژ سے تعبیر کرنے پر مجبور ہوں، حضرت مولانا اللہ وسایا صاحب کی سادہ لیکن علمی گفتگو، سلیس مگر دلوں میں اتر جانے والے طرز استدلال کا کمال یہ ہے کہ یہودیت کے چربہ مذہب اور قادیانیت کا بوداپن، بتدریج راکھ کے ڈھیر میں تبدیل ہوتا نظر آتا ہے(متین خالد)

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ

نام کتاب : قادیانیوں سے فیصلہ کن مناظرے
ترتیب وتحقیق: مولانا غلام رسول دین پوری/جناب محمد متین خالد
صفحات : ۲۹۶
مطبع : ناصر زین پریس لاہور
ناشر : عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت حضوری باغ روڈ ملتان Ph: 061-4783486

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ

دریاؤں کے دل جس سے دہل جائیں … وہ طوفان

انسان کو جس نے بھی حیوان ناطق قرار دیا تھا، یقینا درست قرار دیا تھا۔ یوں تو بہت سے اوصاف انسان کو دیگر معاصر مخلوقات سے متمیز کرتے ہیں، لیکن وہ وصف جو امتیاز خصوصی کی حیثیت اسے شرف ومجد عطا کرتا ہے وہ ہے اس کی شخصیت کا نطق وبیاں کے زیور سے مرصع ہونا۔ مخلوقات عالم میں انسان وہ واحد مخلوق ہے جس کی زباں، ابلاغ اور اظہار کی فطری اہلیت اور جبلی استعداد رکھتی ہے۔ اس اہلیت اور استعداد کے رنگ کو شوخ وشنگ بنانے میں ’’لفظ‘‘ بنیادی کردار ادا کرتا ہے۔ میں تو یہ کہنے کی بھی جسارت کروں گا کہ خالق کائنات کی اوّلین تخلیق ’’لفظ‘‘ ہے۔ انسانی معاشروں میں ایسے انسان ہی منفرد مقام کے حامل ہوتے ہیں جو اس فطری اہلیت اور جبلی استعداد کو بروئے کار لاکر مثبت نظریات کا پرچار کرتے ہیں۔ یوں تو تمام خصائص واوصاف اﷲ ہی نے انسان کو عطاء کئے ہیں، ان میں سے چند چیدہ اور چنیدہ اوصاف جنہیں انسان کو ودیعت کرنے کے عمل کو اس نے اپنی شان رحیمی کا مظہر قرار دیا ہے، ان میں سے ایک قوت بیان ہے۔ ایمانی کیفیات اور روحانی محسوسات رکھنے والی باخبر شخصیات کے نزدیک سورۂ رحمن قرآن پاک کی دلہن ہے، اس سورۃ میں باربار مختلف نعمتوں کا ذکر کرنے کے بعد خدائے رحمن ورحیم انسانوں سے استفسار کرتا ہے، ’’تم اپنے رب کی کن کن نعمتوں کو جھٹلاؤ گے؟‘‘ اس سورۃ کی ابتدائی چار آیات انتہائی اہم ہیں، جن کا ترجمہ یہ ہے: ’’(۱)وہ رحمن ہے۔ (۲)اس نے قرآن سکھایا۔ (۳)اسی نے انسان کو پیدا کیا۔ (۴)اس نے اس کو بات کرنا سکھایا۔‘‘

بات کرنا اور سلیقے سے بات کرنا بلاشبہ ایک فن ہے، مجھے کہنے دیجئے کہ یہ عطیات خداوندی میں سے ہے، یونانی تو اسے باقاعدہ Gift of the Gab سے تعبیر کیا کرتے

3

تھے، بات برائے بات تو کوئی بات نہیں۔ اصل بات تو یہ ہے کہ ادھر کوئی لفظ اور جملہ آپ کے ہونٹوں کا الوداعی بوسہ لے، اور ادھر وہ مخاطب اور سامع کے دل میں یوں اتر جائے جیسے صدف کی آغوش میں ابرنیساں کا قطرہ اترتا ہے۔ بات کرنے کا سلیقہ یونہی نہیں آجاتا، یہ سلیقہ سیکھنے کے لئے شائق کو ریاضت اور مشق کی کئی جانکاہ وادیوں کا پرمصائب اور جانگسل سفر طے کرنا پڑتا ہے۔ انسانی تاریخ بتاتی ہے کہ اوّلین دور میں صرف اور صرف الفاظ ہی سب سے بڑی میڈیائی قوت ہوا کرتے تھے۔ اس دور میں جب انسان قبائلی زندگی بسر کر رہا تھا، قبائل کی تنظیم وتشکیل اور نظام قبائل کا قیام واستحکام ایسے ہی افراد کی مرہون منت ہوا کرتا تھا، جو اپنی بات دوسروں تک پہنچانے کا ڈھنگ جانتے تھے۔ قبائل بات کرنے کے فن سے آشنا فرد ہی کے سر پر سرداری کی دستار رکھا کرتے تھے۔ قبل از اسلام یونانیوں میں ڈیماستھنز، رومیوں میں سسرو اور عرب دنیا میں امراؤ القیس ایسے خطباء کو اہم مقام حاصل تھا۔ سچ تو یہ ہے کہ ان کی خطابت کے پرستار ان کی شخصیت اور فن کی پوجا کیا کرتے تھے۔ یہاں یہ بھی یاد رہے کہ انسانی ہدایت کے لئے خدا نے ہر بستی میں کوئی نہ کوئی ہادی اور رہبر بھیجا۔ انہیں اسلامی اصطلاح میں رسول، نبی یا پیغمبر کہا جاتا ہے۔ ہر رسول، نبی اور پیغمبر انفرادی واجتماعی خوبیوں کے لحاظ سے اکمل شخصیت ہوتا۔ ہر لحاظ، ہر جہت اور ہر پہلو سے ایک مکمل ترین شخصیت۔ اکملیت ہی ان مکمل ترین شخصیات کو ریاست اور معاشرے کے دوسرے شہریوں پر فوقیت اور برتری عطا کرتی۔ ہر نبی زبردست قوت اظہار کا مالک ہوتا۔ اس کی فصاحت وبلاغت مسلم الثبوت ہوتی۔ عرب فصاحت وبلاغت اور اظہار وابلاغ کے باب میں خود کو باقی اہل عالم سے افضل واعلیٰ گردانتے۔ خاتم الانبیاء حضور سرور عالم محمد عربی صلی اللہ علیہ وسلم نے زعم زبان آوری اور خبط طلاقت لسانی میں مبتلا ان فصحائے عالم کے روبرو اعلائے کلمتہ الحق کیا… اور … اس ناقابل تسخیر فصاحت وبلاغت میں کیا کہ وہ انگشت بدنداں دکھائی دیے۔ فصحائے عرب کی

4

فصاحت وبلاغت کا نقطہ اختتام حضور ختمی مرتبت(صلی اللہ علیہ وسلم) کی گفتگو کا نقطہ آغاز ٹھہرا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم جب بھی لب کشا ہوتے، مجمع ساکت وصامت ہو جاتا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد گرامی ہے کہ مجھے ’’جوامع الکلم‘‘ عطا کئے گئے ہیں۔ جہاں تک قرآن کی فصاحت وبلاغت کا تعلق ہے تو اس کا یہ چیلنج چودہ سو چالیس برس سے بدستور برقرار ہے کہ ’’آپ (بطور چیلنج) ان س کہہ دیجئے کہ اگر تمام انسان اور جن اس پر جمع ہوں کہ اس قرآن جیسا بنالائیں تو وہ اس جیسا ہرگز نہ لاسکیں گے، اگرچہ وہ ایک دوسرے سے مدد لیں۔‘‘

(بنی اسرائیل:۸۸)

ایک دوسرے مقام پر یہ چیلنج ان الفاظ میں دہرایا گیا۔ ’’اور اگر تم اس کلام کی نسبت جو ہم نے اپنے بندے پر اتارا ہے، شک میں ہو تو اس جیسی ایک سورۃ تم بھی بنالاؤ اور اﷲ کے سوا جو تمہارے مددگار ہیں، ان کو بھی بلالو، اگر تم سچے ہو، پھر اگر ایسا نہ کر سکو اور تم ہرگز نہیں کر سکو گے تو اس آگ سے بچو جس کا ایندھن آدمی اور پتھر ہیں اور وہ کافروں کے واسطے تیار کی گئی ہے۔‘‘

(البقرہ:۲۳)

داعی ٔ قرآن کا یہ فرمان بھی اسلام کے ہر داعی کے پیش نظر رہا ہے کہ: ’’بلاشبہ بعض دفعہ بیان میں بھی سحر ہوتا ہے۔‘‘

(مشکوٰۃ ص۴۰۹)

یہ ایک ناقابل تردید حقیقت ہے کہ حضور ختمی مرتبت صلی اللہ علیہ وسلم کی ختم نبوت کسی بھی دلیل کی محتاج نہیں۔ اس کے باوجود تاریخ کے مختلف ادوار میں ختم نبوت کے ناقابل تسخیر قلعہ میں بعض ’’مہم جو‘‘ سارقوں نے نقب زنی کی کوشش کی۔ ان میں سے ہر ایک کو منہ کی کھانا پڑی۔ ختم نبوت ایک واضح اور شفاف عقیدہ ہے۔ ایک حقیقی مؤمن اس عقیدے کے تحفظ کو اپنی حیات مستعار کا اوّلین فریضہ تصور کرتا ہے۔ قرن اوّل میں صحابہؓ نے منکرین ختم نبوت کے استیصال کے لئے جہاد بالسیف کیا۔ یہ جہاد بعد کے ادوار میں بھی جاری رہا۔ انیسویں صدی کے آخری عشرہ میں برطانوی استعمار نے برصغیر میں مرزاغلام احمد قادیانی نامی ایک طالع آزما

5

شخص کو اپنے مخصوص اہداف وعزائم کے حصول کے لئے اس امر پر آمادہ کیا کہ وہ اعلان نبوت کرے۔ تب سے جنوب مشرقی ایشیاء کے اس خطے کے پرستار ان شمع ختم نبوت نے تحفظ ختم نبوت کے محاذ پر کام شروع کیا۔ بیسویں صدی کے پہلے عشرہ سے ردقادیانیت کا مسئلہ ایک نئے موضوع کے طور پر ابھر کر سامنے آیا۔ اس دور کے جید، اکابر اور مستند اعاظم رجال نے اس جھوٹے مدعی ٔ نبوت کے وکیلان صفائی سے مباحثوں کا سلسلہ شروع کیا۔ ان مباحثوں کو ہماری مخصوص مسلم معاشرت میں مناظرے کے عنوان سے جانا جاتا ہے۔ مناظروں کی اپنی ایک تاریخ ہے۔ اس تاریخ کی ایک اہمیت بھی ہے۔ ۱۸۵۷ء کی جنگ آزادی کے بعد جب اس خطے میں برطانوی ملوکیت کا غلبہ قائم ہوگیا تو عیسائی پادریوں نے بلاجواز مسلمانوں کو دعوت مناظرہ دینا شروع کی۔ اس ضمن میں کئی شہرہ آفاق مناظرے ہوئے۔ اسی تسلسل میں قادیانیوں نے بھی اپنے مربی عیسائی حکمرانوں کی روش پر چلتے ہوئے مسلمان اکابرین کو مباہلوں، مجادلوں اور مناظروں کے لئے چیلنج کرنا شروع کیا۔ بسااوقات مسیلمۂ پنجاب مرزاغلام احمد قادیانی کو بھی انگیخت ہوتی اور وہ مسلمانوں کے ایسے دینی، علمی اور روحانی رہنماؤں اور پیشواؤں کو مباہلے اور مناظرے کی دعوت دے بیٹھتے۔ جنہیں اسلامیان برصغیر اپنی ارادتوں اور عقیدتوں کا مرجع جانتے۔ حضرت پیر مہر علی شاہؒ گولڑہ شریف، حضرت پیر جماعت علی شاہؒ، حضرت مولانا احمد حسن امروہویؒ، حضرت مولانا رحمت اﷲ کیرانویؒ اور مولانا ثناء اﷲ امرتسریؒ نے سینہ تان کر اس کی دعوت کو قبول کیا۔ خم ٹھونک کر شیرانہ اور مردانہ وار میدان میں آئے۔ لیکن شغال صفت اور روباہ مزاج مرزاقادیان ہر بار میدان سے روپوش رہا۔ وہ ذہنی طور پر ان بڑی شخصیات کے علمی شکوہ اور فکری طنطنے سے مرعوب اور ہراساں تھا۔ ردقادیانیت اور تحفظ ختم نبوت کے حوالے سے جو چراغ اکابرین امت نے روشن کیا تھا، ان کے متبعین نے اس کی لوؤں کے طرے کو سربلند رکھنے کے لئے ہر دور میں اپنے خون جگر کا

6

روغن زرتاب فراہم کیا۔ اس موضوع پر انہوں نے کسی بھی قادیانی سے بات کرتے ہوئے ہمیشہ سنجیدگی، ثقاہت اور علمی متانت کو اپنا ہتھیار بنایا۔ سچ تو یہ ہے کہ یہ اس وضع کے مناظرے نہیں تھے، جس کی ابتداء ایتھنز کے سوفسطائیوں نے رکھی تھی۔ مسلم مناظرین نے لفظی ہیرپھیر سے ہمیشہ اجتناب برتا۔ جب کہ قادیانی مناظر سوفسطائیوں کی پیروی کرتے ہوئے لفظی ہیرپھیر ہی کو اپنا کارگر ہتھیار تصور کرتے رہے۔ قادیانی مناظر لفظی ہیرپھیر کو نامناسب نہیں سمجھتے۔ اس کے برعکس اس دور میں مناظر بے بدل حضرت مولانا اﷲ وسایا صاحب مدظلہ نے ’’ادع الیٰ سبیل ربک بالحکمۃ والموعظۃ الحسنۃ‘‘ کو اپنا شعار بنایا۔ قادیانی سوقیانہ پن اور ابتذال کا مظاہرہ کرتے اور مولانا گھر سے یہ طے کر کے آتے کہ کووں کی کائیں کائیں سن کر عندلیب ہزارداستاں نے اپنی روش زمزمہ پیرائی کو ترک نہیں کرنا۔ حقیقت یہ ہے کہ قادیانی مناظرہ کو مناظرہ نہیں ’’مناقرہ‘‘ (چونچ بازی) سمجھتے ہیں۔ سو! حضرت مولانا اﷲ وسایا صاحب، باطل کے ان وکیلان صفائی کے روبرو حق کے وکیل استغاثہ کے روپ میںپیش ہوتے رہے اور فاتح عیسائیت جناب احمددیدات کی طرح مناظرے کو مقدمہ جان کر ایک ماہر وکیل کی طرح ہر پہلو سے اس کی تیاری کر کے میدان میں اترتے اور انہیں نوک دم بھاگنے پر مجبور کر دیتے۔ میں نے ان کے ایسے کئی مناظرے خود دیکھے اور سنے ہیں۔ بڑے بڑے قادیانی مبلغین ان سے گفتگو کرتے وقت ہچکچاتے، گھبراتے بلکہ سٹپٹاتے دیکھے گئے ہیں۔ جب میں قادیانی مناظرین کو مولانا کے دلائل کی تاب نہ لاکر میدان سے فرار ہوتے دیکھتا تو بے ساختہ قرآن کی ایک آیت کا یہ ٹکڑا میرے ذہن میں تازہ ہو جاتا۔ ’’جاء الحق وزہق الباطل ان الباطل کان زہوقا‘‘ سچ تو یہ ہے کہ حضرت مولانا اﷲ وسایا صاحب مدظلہ عصر حاضر میں وکیل صداقت ہیں۔ وکیلان صداقت ہی کو اکثر قتیلان صداقت ہونے کا اعزاز وافتخار حاصل ہوا کرتا ہے۔ حضرت مولانا اﷲ وسایا، حضرت مولانا

7

محمد یوسف لدھیانوی شہیدؒ کے خون شہادت سے روشن شاہراہ پر جرأت مندانہ اور دلاورانہ انداز میں گامزن ہیں۔ ان کا لسانی، قلمی اور عملی جہاد جاری وساری ہے۔

’’قادیانیوں سے فیصلہ کن مناظرے‘‘ ایسے ہی حقائق آفریں اور چشم کشا مناظروں کی فکر انگیز روداد ہے، میں تو اسے اردو میں دینی ادب کی ایک منفرد رپورتاژ سے تعبیر کرنے پر مجبور ہوں۔ حضرت مولانا اﷲ وسایا کی سادہ لیکن علمی گفتگو، سلیس مگر دلوں میں اتر جانے والے طرز استدلال کا کمال یہ ہے کہ یہودیت کے چربہ مذہب، قادیانیت کا بوداپن، بتدریج راکھ کے ڈھیر میں تبدیل ہوتا نظر آتا ہے۔ بلاشبہ حضرت مولانا اﷲ وسایا، علامہ اقبالؒ کے ان اشعار کی چلتی پھرتی تفسیر ہیں:

  1. ہر لحظہ ہے مؤمن کی نئی شان، نئی آن

    گفتار میں، کردار میں، اﷲ کی برہان

  2. ہمسایہ جبریل امین بندہ خاکی

    ہے اس کا نشیمن نہ بخارا نہ بدخشاں

  3. فطرت کا سرود ازلی اس کے شب و روز

    آہنگ میں یکتا صفت سورۃ رحمن

  4. جس سے جگر لالہ میں ٹھنڈک ہو، وہ شبنم

    دریاؤں کے دل جس سے دہل جائیں، وہ طوفان

محمد متین خالد

ض … ض … ض

8

مناظرہ منصور آباد … فیصل آباد

زیرنظر رپورٹ فیصل آباد شہر کے ایک علاقے منصور آباد میں محترم ڈاکٹر محمد جمیل صاحب کی قیام گاہ پر ہونے والے مناظرے پر مشتمل ہے۔ یہ مناظرہ ۳؍جنوری ۱۹۸۲ء کو مجلس تحفظ ختم نبوت پاکستان کے مبلغ، برادر محترم مولانا اﷲ وسایا صاحب مرکز ختم نبوت مسلم کالونی (ربوہ) اور مرزائیوں کے ساٹھ سالہ تجربہ کار اور گھاگ مربی (جو مغربی جرمنی میں مبلغ رہ چکے تھے اور فیصل آباد میں ایک سکول چلارہے تھے) تاج محمد بی۔اے علیگ کے درمیان ہوا۔

مناظرہ کیوں ہوا؟ اس کی وجہ یہ تھی کہ مذکورہ قادیانی مبلغ صاحب کے محترم ڈاکٹر محمد جمیل صاحب سے تعلقات تھے۔ جن کی وجہ سے وہ ڈاکٹر صاحب کے پاس جاکر مرزائیت کی تبلیغ کرتے تھے۔ ڈاکٹر صاحب نے سوچا کہ یہ صرف تصویر کا ایک ہی رخ پیش کر رہے ہیں۔ کیوں نہ مناظرہ ومباحثہ کی صورت پیدا کی جائے۔ چنانچہ باہمی رضامندی سے یہ طے پاگیا کہ کسی دن مجلس مباحثہ مقرر کر لی جائے۔

ڈاکٹر صاحب نے مباحثہ طے ہو جانے کے بعد جامعہ رضویہ جھنگ بازار اور دوسرے مدارس سے رابطہ قائم کیا تاآنکہ کسی نے انہیں جامعہ قاسمیہ غلام محمد آباد کے صدر مدرس حضرت مولانا فضل امین صاحب سے رابطہ قائم کرنے کے لئے کہا۔

انہوں نے مولانا فضل امین صاحب سے ملاقات کی اور سارا ماجرا گوش گزار کیا۔ مولانا نے دو دن کا وعدہ فرمایا اور یہ یقین دہانی کرادی کہ انشاء اﷲ ضرور بالضرور بات چیت کریں گے۔

۲؍جنوری کو محلہ مصطفیٰ آباد میں ختم نبوت کانفرنس تھی۔ جس میں مولانا اﷲ وسایا صاحب نے شرکت کرنا تھی۔ مولانا جب شام کو ربوہ سے وہاں پہنچے تو حضرت مولانا فضل امین صاحب بھی وہاں پہنچ گئے اور مولانا اﷲ وسایا کو بتایا کہ منصور آباد میں مجلس مباحثہ طے ہوچکی ہے۔ لیکن وقت کا تعین نہیں کیا۔ آپ وقت دیجئے تاکہ ڈاکٹر جمیل صاحب کو اس کی اطلاع کر دی جائے۔ مولانا اﷲ وسایا صاحب نے مولانا کو بتایا کہ اور کسی وقت کے تعین کی ضرورت نہیں۔ ’’صبح وہاں چلیں گے۔‘‘

9

مولانا نے ڈاکٹر صاحب کو اطلاع کر دی۔ اگلے روز مولانا اﷲ وسایا، حضرت مولانا فضل امین صاحب کے ہمراہ ڈاکٹر صاحب کی قیام گاہ پر پہنچ گئے، اور وہاں ایک گھنٹہ تک مرزائی مبلغ سے گفتگو ہوئی۔ اس گفتگو کو ریکارڈ کر لیا گیا تھا۔ جسے راقم نے ٹیپ ریکارڈ سے قلمبند کر کے ذیل میں پیش کیا ہے۔ اسے میں نے ان دنوں قلمبند کر لیا تھا لیکن بوجوہ (سنسر کی وجہ سے) چھپ نہیں سکتا تھا۔ تقریباً سوا سال بعد اسے شائع کیا جارہا ہے۔ اس مباحثہ میں مولانا اﷲ وسایا صاحب نے جہاں علمی گرفت کی، وہاں نزدیک ترین راستہ اپناتے ہوئے زیادہ زور مرزاغلام احمد قادیانی کے حوالوں پر دیا۔

چنانچہ آئندہ صفحات میں آپ دیکھیں گے کہ ان حوالوں کی وجہ سے مرزائی مبلغ پر بری طرح بوکھلاہٹ طاری ہوئی۔ یہاں تک کے وہ یہ کہنے پر مجبور ہوگیا کہ:

’’مرزاقادیانی نے غلط کہا۔‘‘

’’میں ان کی اس بات کو نہیں مانتا۔‘‘

اور یہ کہ:

’’اس بحث کو چھوڑیں کوئی اور بات کریں۔‘‘

تمہیدی خطاب مولانا محمد فضل امین صاحب

حضرت مولانا محمد فضل امین صاحب نے مرزائی مبلغ کو مخاطب کرتے ہوئے فرمایا کہ اگر کوئی عیسائی مسلمان ہوتا ہے تو پہلے اسلام کی خوبیاں دیکھتا ہے اور بعد ازاں وہ دونوں (یعنی اسلام اور عیسائیت) کا تقابلی جائزہ لیتا ہے۔ اسے اسلام میں خوبیاں نظر آتی ہیں تو وہ عیسائیت کو چھوڑ کر اسلام میں داخل ہوجاتا ہے۔ آپ یہ کہتے ہیں کہ ’’احمدیت‘‘ ایک سچا مذہب ہے اور آپ ختم نبوت کا انکار کر کے ’’احمدیت‘‘ کے بانی مرزاغلام احمد قادیانی کو نبی مانتے ہیں۔ کم ازکم آپ کا یہ فرض تو ہے کہ آپ یہ بتائیں اور ثابت کریں کہ ’’احمدیت‘‘ میں کیا خوبیاں ہیں؟

ہمیشہ کسی مذہب کی خوبیاں ہی انسان کو دوسری طرف لے جاتی ہیں۔ ’’احمدیت‘‘ میں کیا خوبیاں ہیں، وہ کون سا مقناطیسی مادہ اور دلائل موجود ہیں کہ آپ اسلام کو چھوڑ کر اور ختم نبوت جیسے مسلمہ اور اجتماعی مسئلے کا انکار کر کے اس کی طرف چلے گئے؟

10

مولانا اﷲ وسایا صاحب نے بھی آپ کی ’’احمدیت‘‘ کا مطالعہ کیا ہے۔ اس کے لٹریچر کی روشنی میں انہیں اس مذہب میں عیوب ونقائص نظر آئے اور اس کے بانی مرزاغلام احمد قادیانی کا جو کردار سامنے آیا، اس کی وجہ سے ادھر آنا تو درکنار مولانا اس کی مخالفت پر کمربستہ ہیں اور اسے پوری ملت اسلامیہ کے لئے خطرناک ترین اور گمراہ کن تصور کرتے ہیں۔ تو لہٰذا آپ اپنے مذہب کی خوبیاں پیش کیجئے، مولانا نقائص۔

آپ مجھ سے پوچھیں کہ مولانا! آپ کیوں ختم نبوت کے قائل ہیں؟ اپنے علم اور سمجھ کے مطابق میرا فرض ہے کہ میں دلائل سے ثابت کروں۔ کیونکہ میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا ایک متوالا ہوںا ور یہ میری ذمہ داری ہے کہ میں بتاؤں کہ آقائے نامدار، تاجدار مدینہ، حضرت محمد رسول ﷲ صلی اللہ علیہ وسلم میں کیا خوبیاں اور کیا کمالات تھے۔

آپ اپنے بانی سلسلہ (مرزاقادیانی) کے وہ کمالات اور خوبیاں پیش کیجئے جن کی وجہ سے آپ اپنے رشتہ داروں،قرابت داروں غرض پورے کنبے سے الگ ہوئے اور ان کی دشمنی مول لی اور کئی لاکھ روپے کی جائیداد کا نقصان اٹھایا۔ آخر کچھ خوبیاں دیکھ کر ہی آپ نے ایسا کیا ہوگا۔ جو بات بھی ذہن میں موجود ہے، اسے دلائل سے پیش کریں۔ مولانا اﷲ وسایا، ان کو سنیں گے پھر وہ عیوب اور نقائص آپ کے سامنے پیش کریں گے۔

مرزائی مبلغ تاج محمد بی۔اے علیگ:

مجھے صرف یہ دیکھنا ہے کہ میں نے کیوں تسلیم کیا۔ مجھے آپ کے شکوک یا کسی دوسرے سے واسطہ نہیں۔ وہ چاہے غلط ہے یا صحیح میں وہ پیش کروں گا۔

مولانا فضل امین:

جو شخص کسی مذہب کو قبول کرتا ہے اس کی نگاہ کمالات پر ہوتی ہے۔ اگرکمالات اور خوبیوں پہ نگاہ ہوگی۔ تبھی تو وہ دوسرے مذہب کو قبول کرے گا۔ ہم یہ چاہتے ہیں کہ دونوں پہلو سامنے آجائیں۔

تاج محمد:

میں یہ پیش کرتا ہوں کہ میں نے مرزاقادیانی کو کیوں قبول کیا۔

ڈاکٹر محمد جمیل:

دیکھو جی! انہیں اپنے جذبات کا اظہار کرنے دیں۔ جس طریقے سے بھی کریں اور آپ ان کے پوائنٹس نوٹ کر لیں۔ سب نے کہا۔ ’’اچھا تو شروع فرمائیں۔‘‘

مولانا اﷲ وسایا:

جی آپ ارشاد فرمائیں۔

11

تاج محمد:

سب سے پہلی بات یہ ہے کہ یہ جو کہا جاتا ہے کہ نبوت بند ہے۔ قرآن کریم اور مرزاقادیانی نے پیش کیا وہ یہی ہے کہ نبوت جاری ہے۔ شریعت والی نہیں بلکہ بغیر شریعت والی چنانچہ سورۃ حج لے لیجئے، اس میں ہے۔

’’اﷲ یصطفی من الملئکۃ رسلا ومن الناس (الحج:۷۵)‘‘ { ﷲتعالیٰ چنتا ہے رسول فرشتوں میں سے اور انسانوں میں سے۔} اس کو میں نے اپنے پروفیسر کے سامنے پیش کیا۔ انہوں نے بھی یہی کہا ’’چن چکا‘‘ اب نہیں، وہ چونکہ عربی کے پروفیسر تھے۔ میں نے کہا اچھا تو پھر ’’ایاک نعبدو ایاک نستعین (الفاتحہ:۴)‘‘ {ہم تیری ہی عبادت کرتے ہیں اور ہم تیری ہی مدد چاہتے ہیں۔} جس طرح سے یہ ہمیشہ کے لئے ہے، وہ بھی ہمیشہ کے لئے ہے۔ اس طرح سے ایک تو یہ کہ نبوت جاری ہے۔ دوسرے یہ کہ ہم نے خاتم النّبیین کو چھوڑ کر مرزاقادیانی کی نبوت کو کیوں قبول کیا؟ یہ نہیں ہم نے خاتم النّبیین کو نہیں چھوڑا۔ بلکہ ہم نبی اکرمa کو خاتم النّبیین مانتے ہیں۔ لیکن خاتم ’’بمعنی بند کرنا‘‘ عربی میں آج تک استعمال نہیں ہوا اور خاتم کا لفظ جہاں کہیں بھی استعمال ہوا، وہ نفی کمال کے معنی میں ہے۔ چنانچہ اس وقت عربی زبان میں کوئی ایسی مثال پیش نہیں کی جاسکتی جس میں خاتم بمعنی خاتمہ مراد ہو۔ کم ازکم میرے سامنے آج تک باوجود پوچھنے کے نہیں آئی، ہاں خاتم کا لفظ استعمال ہوا ہے۔

مولانا اﷲ وسایا:

آپ نے دو تین چیزیں بیان فرمائیں۔ میں آپ سے درخواست کروں گا، ابھی مولانا اﷲ وسایا اتنا ہی کہہ پائے تھے کہ تاج صاحب پھر بولے۔ ’’دوسری بات یہ ہے۔‘‘ جس پر مولانا اﷲ وسایا صاحب نے کہامیاں صاحب دوسری نہیں فی الحال پہلی سے نپٹ لیں۔ تاج محمد صاحب پھر بولے۔ ایک منٹ،… اور کہا کہ… میرا مطلب جو ہے وہ غلط یا صحیح میں نے جو کچھ سمجھا اپنی سمجھ کے مطابق وہ یہ سمجھا، اب ایک شخص آتا ہے وہ کہتا ہے۔ ’’آپ نے غلط سمجھا۔‘‘ میرے سامنے تو یہی ہے کوئی اور ہو تو میں اس پر غور کروں گا۔

مولانا اﷲ وسایا:

آپ نے جو بیان کیا میں نے اس میں سے تین چیزیں نوٹ کی ہیں۔

۱… آپ نے قران مجید کی ایک آیت پڑھ ڈالی جس سے ثابت کرنا چاہا کہ نبوت جاری ہے۔

12

۲…دوسرے آپ نے ارشاد فرمایا کہ خاتم النّبیین کا جو ترجمہ ہے آخری، یہ کسی جگہ نہیں۔

۳… تیسرے آپ نے ارشاد فرمایا کہ ہم نے حضور اکرمa کو چھوڑ کر مرزاغلام احمد کو نہیں مانا، حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی اتباع میں تسلیم کیا ہے۔ میری آپ سے درخواست ہے کہ آپ اپنی معلومات کی حد تک میری بات کو سمجھنے کی کوشش کریں۔ یا تو آپ نے مرزاصاحب کے لٹریچر کا مطالعہ نہیں کیا، اگر کیا ہے تو اس پر غور وفکر کی زحمت گوارا نہیں کی۔

آپ کی جماعت کا یہ عقیدہ ہے کہ حضور اکرمa آخری نبی ہیں، ہمارا بھی یہی عقیدہ ہے۔ اختلاف مرزاغلام احمد قادیانی کے دعویٰ نبوت سے ہوا۔

یہ آپ لوگ بھی تسلیم کرتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے لے کر مرزاقادیانی تک کسی کو نبوت نہیں ملی۔ میں یہ کہتا ہوں جیسا کہ آپ کہتے ہیں کہ اگر نبوت جاری ہے تو اس عرصہ چودہ سوسال میں کسی اور کو ضرور نبوت ملتی اور آپ یہ بھی بیان کرتے ہیں۔ بلکہ آپ لوگوں کا یہ عقیدہ ہے کہ مرزاغلام احمد قادیانی کے بعد بھی قیامت تک کسی اور کو نبوت نہیں ملے گی۔ ایسے میں اختلاف یہ نہ ہوا کہ نبوت بند ہے یا جاری ہے؟

ڈاکٹر جمیل صاحب:

مولانا! ان کا عقیدہ ہے کہ نبوت جاری ہے۔

مولانا اﷲ وسایا:

نہیں ڈاکٹر صاحب! آپ ان سے کہلوائیں کہ غلام احمد کے بعد کوئی اور نبی آسکتا ہے؟

مبلغ تاج محمد صاحب نے کوئی جواب نہیں دیا۔ پھر مولانا اﷲ وسایا صاحب بولے گویا تمہاری کتابوں کی روشنی میں یہ بات سامنے آئی کہ:

حضور صلی اللہ علیہ وسلم آخری نبی ہیں یا مرزاغلام احمد قادیانی؟ نبوت ہمارے نزدیک حضور صلی اللہ علیہ وسلم پر بند ہے اور آپ کے نزدیک مرزاقادیانی پر بند ہے، اس صورت میں اختلاف یہ سامنے آیا کہ ’’ہم حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو آخری نبی مانتے ہیں اور آپ مرزاقادیانی کو۔‘‘

میرا خیال ہے اور اپنے لٹریچر کی بنیاد پر آپ بھی انکار نہیں کریں گے کہ چودہ سو سال کے اندر آپ سوائے مرزاغلام احمد قادیانی کے اور کسی کو نبی نہیں مانتے… اور یہ بھی آپ کا عقیدہ ہے کہ مرزاغلام احمد کے بعد قیامت تک اور کوئی نبی نہیں۔

13

باقی یہ کہنا کہ خاتم النّبیین کا معنی آخری! ختم کرنے والا کسی جگہ نہیں، صحیح نہیں ہے۔ جناب! ایک لفظ میں بولتا ہوں۔ ایک آپ بولتے ہیں۔ آپ کے اور میرے الفاظ کا، مولانا فضل امین صاحب ترجمہ کرتے ہیں۔ ممکن ہے ہمارے الفاظ کے معانی میں مولانا غلطی کر جائیں۔ یہ بھی ممکن ہے کہ کوئی دوسرے صاحب ترجمہ کریں اور وہ بھی غلط کریں۔ لیکن جو لفظ میں نے یا آپ نے بولا ہے۔ اس کا عمدہ ترجمہ میں خود بتا سکتا ہوں۔ کوئی دوسرا نہیں۔ آپ جو لفظ بولیں گے اس کا ترجمہ بھی خود ہی بہتر انداز میں کر سکتے ہیں۔

خاتم النّبیین کا لفظ قرآن پاک میں حضور اکرمa کے بارے میں آیا اور خداوند قدوس نے انہیں پر نازل فرمایا۔ میں آپ سے درخواست کرتا ہوں کہ آپ کو میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے دروازے پر لے چلتا ہوں جو حضور صلی اللہ علیہ وسلم ترجمہ فرمادیں، آپ اسے بلا چون وچرا تسلیم فرمالیں۔ پھر جناب مرزاغلام احمد قادیانی کو نبی ماننے کی وجہ سے شک میں پڑے۔ کیونکہ بقول آپ کے مرزاقادیانی یہ کہتے ہیں کہ خاتم النّبیین کا معنی وہ نہیں۔ بلکہ یہ ہے۔ پھر میں آپ کو آپ کے مرزاقادیانی کے دروازے پر لے چلتا ہوں۔

آئیے! انہیں سے پوچھ لیں کہ وہ خاتم کا معنی کیا کرتے ہیں؟ مرزاقادیانی کہتے ہیں: ’’میں اپنے والدین کے ہاں خاتم الاولاد ہوں۔‘‘

(تریاق القلوب ص۱۵۷، خزائن ج۱۵ ص۴۷۹)

وہاں خاتم النّبیین کا لفظ ہے۔ یہاں خاتم الاولاد کا لفظ۔ وہ کہتے ہیں کہ فلاں پیدا ہوا پھر فلاں، پھر فلاں اور پھر وہ کہتے ہیں کہ ’’میری ہمشیرہ جنت بی بی نکلی۔‘‘

یہ اس کے اپنے لفظ ہیں۔ میں اس کی خواہ مخواہ کردار کشی نہیں کر رہا۔ بلکہ خود ان کے الفاظ نقل کر رہا ہوں۔ وہ خود یہ کہتے ہیں: ’’پہلے میری ماں کے پیٹ سے وہ نکلی، پھر میں نکلا۔‘‘

آپ تو پڑھے لکھے اور علی گڑھ کے تعلیم یافتہ ہیں۔ آپ ’’سلطان القلم‘‘ کی اردو کا بھی اندازہ لگالیں۔

ماں… جس کے بارے میں حضور سرور کائنات صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ اگر انسان جنت تلاش کرے تو یا میدان جہاد میں تلوار کے سائے میں کرے یا ماں کے قدموں

14

میں، اس کے بارے میں یہ کہہ رہے ہیں کہ اس میں سے پہلے وہ نکلی پھرمیں نکلا… خیر! مجھے اس سے بحث نہیں مجھے اگلی درخواست کرنی ہے۔ پہلے وہ کہتے ہیں کہ میری ماں کے پیٹ سے جنت بی بی نکلی پھر میں نکلا اور پھر کہا کہ: ’’میں اپنے والدین کے ہاں خاتم الاولاد تھا۔‘‘

یعنی میرے بعد کوئی لڑکا یا لڑکی پیدا نہیں ہوئے۔ یہاں انہوں نے خاتم الاولاد کا معنی آخری کیا ہے۔ میرا کہنے کا مطلب یہ ہے کہ جو یہاں خاتم الاولاد کا معنی لیتے ہو، وہی خاتم النّبیین میں خاتم کا معنی بھی کیا جائے۔

یا تو آپ حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھ کر خاتم النّبیین کی تشریح قبول کر لیں۔ اگر وہ قبول نہیں کرتے تو اپنے مرزاقادیانی کی تشریح کو قبول کر لیں۔

مرزاقادیانی کہتے ہیں:’’الا تعلم ان الرب الرحیم المتفضل سمی نبیناa خاتم الانبیاء بغیر استثناء وفسرہ نبیناa فی قولہ لا نبی بعدی‘‘

(حمامتہ البشریٰ ص۳۴، خزائن ج۷ ص۲۰۰)

یہ حمامتہ البشریٰ کی عبارت ہے۔ مرزاغلام احمد قادیانی کہتے ہیں کہ خاتم النّبیین کی توضیح وتشریح حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ فرمائی ہے۔ ’’لا نبی بعدی‘‘ غلام احمد قادیانی کی اس عبارت کا یہ مطلب ہے کہ خاتم النّبیین کا وہ ترجمہ صحیح ہے۔ جو حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے کیا ہے اور جو حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے اس ترجمے کو نہیں مانتا وہ بقول ان کے کافر ہے۔ خاتم النّبیین کے معنی والی بات بھی آگئی۔

تاج محمد:

نہ، بالکل نہیں۔

مولانا اﷲ وسایا:

میں نے ابھی ’’یصطفی‘‘ والی بات کرنی تھی کہ آپ درمیان میں بول اٹھے۔

تاج محمد:

نہ… نہ… بہرحال میں اس سے بالکل مطمئن نہیں۔ کیونکہ میں نے یہ کہا تھا کہ عربی زبان میں سے کوئی ایک مثال دیجئے کہ خاتم بمعنی خاتم ہو۔ اس معنی میں کہ خاتم النّبیین لیتے ہیں اور یہ کہ مرزاقادیانی نے اپنے آپ کو خاتم الاولاد کہا۔ یہاں اردو یا فارسی بالکل نہیں، عربی زبان میں پیش کرو۔

مولانا اﷲ وسایا:

’’اولاد‘‘ بھی عربی ہے۔ ’’خاتم‘‘ بھی عربی ہے۔ کیا ’’خاتم الاولاد‘‘

15

عربی نہیں؟ آپ اتنی بات کہہ دیں کہ مرزاقادیانی نے جو لکھا ہے ’’خاتم الاولاد‘‘ وہ عربی نہیں۔ ہاں کرو، یا نہ کرو۔

تاج محمد:

ہاں تو اولاد کی نفی نہیں ہے۔ اولاد کی نفی دنیا میں نہیں ہے۔

مولانا اﷲ وسایا:

اچھا تو میاں تاج صاحب! کیا خاتم النّبیین کا یہ معنی ہے کہ حضور(صلی اللہ علیہ وسلم) مہر لگاتے جائیں گے اور نبی بنتے جائیں گے۔ اگر یہ معنی ہے تو پھر خاتم الاولاد کا بھی یہ ترجمہ کر لو کہ: ’’مرزاقادیانی مہر لگاتے جائیں گے اس کی والدہ بچے جنتی جائے گی۔‘‘

کرو ترجمہ۔ منٹ لگاؤ۔ میں نے ابھی اگلی بات بھی کرنی ہے۔

تاج محمد:

میں نے عرض کی ہے۔

مولانا اﷲ وسایا:

آپ عرض کر رہے ہیں، میں نے بھی درخواست کی ہے۔ پہلے اس بات کا فیصلہ تو کر لیں۔

تاج محمد:

یہ سن لیں یہ عجیب چیز ہے۔

مولانا اﷲ وسایا:

کیا ’’خاتم الاولاد‘‘ کا لفظ عربی نہیں؟

تاج محمد:

دیکھو! ڈاکٹر صاحب۔

مولانا اﷲ وسایا:

افسوس میاں صاحب! آپ میرے جذبات کی قدر نہیں کر رہے۔ میں آپ کے بچوں جیسا ہوں۔ میری آپ سے مخلصانہ درخواست ہے کہ ’’خاتم الاولاد‘‘ کا لفظ عربی ہے یا نہیں؟ بتائیے!

تاج محمد:

جی! کیا؟

مولانا اﷲ وسایا:

’’خاتم الاولاد۔‘‘

تاج محمد:

’’خاتم الاولاد‘‘ اردو عبارت میں ہے۔

مولانا اﷲ وسایا:

مجھے اردو عبارت سے بحث نہیں۔ ’’خاتم الاولاد‘‘ کا لفظ عربی ہے یا نہیں؟

تاج محمد:

دیکھو ڈاکٹر صاحب (ڈاکٹر محمد جمیل صاحب) چونکہ آپ نے مجھے بلایا ہے۔ اس واسطے میں میرا کہنے کا مطلب یہ ہے کہ محاورات عرب میں خاتم کے لفظ کا معنی خاتم کبھی استعمال نہیں ہوا۔

16

مولانا اﷲ وسایا:

میاں (تاج) صاحب۔

تاج محمد:

نہ نہ نا، نہ نہ نا، میں ڈاکٹر صاحب میں، میں ڈاکٹر صاحب ذرا ٹھہریں میں ڈاکٹر صاحب۔

مولانا اﷲ وسایا:

جناب! اگر آپ کو حضور اکرمa کی زبان مبارک پر اعتبار نہیں تو میں آپ کو محاوروں کی طرف لے جاؤں گا۔ اگر آپ مرزاقادیانی کی بات نہیں مانتے تو میں آپ کو لغات والوں کی طرف لے جاؤں گا۔ آپ انکار کر دیں کہ میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا ترجمہ نہیں مانتا۔

تاج محمد:

میں ڈاکٹر صاحب سے مخاطب ہوں۔

مولانا اﷲ وسایا:

ڈاکٹر صاحب! آپ ان سے اتنی بات پوچھیں کہ کیا ان کو حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا ترجمہ پسند نہیں؟ خاتم النّبیین کا لفظ قرآن پاک میں استعمال ہوا۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا ترجمہ غلام احمد کی زبانی ان کی خدمت میں پیش کیا انہوں نے نہیں مانا۔

غلام احمد قادیانی کی عبارت ان کی خدمت میں پیش کی، انہوں نے اسے بھی تسلیم نہیں کیا۔ جس میں مرزاصاحب نے خود کہا کہ خاتم النّبیین کا ترجمہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے لا نبی بعدی کیا ہے۔ اس کو مان لو جو اس ترجمہ کو نہیں مانتا وہ کافر ہے۔

مولانا فضل امین صاحب:

خاتم الاولاد کا لفظ عربی ہے، کوئی کالج کا پروفیسر اس سے انکار نہیں کر سکتا۔

مولانا اﷲ وسایا:

ڈاکٹر صاحب! بس تاج صاحب اتنی بات کہہ دیں کہ مجھے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا ترجمہ اور بعد ازاں مرزاغلام احمد قادیانی کا ترجمہ پسند نہیں۔ میں ان کو لغت کے دروازے پر لے چلتا ہوں۔ تاج صاحب! آپ مجھے جہاں فرمائیں، میں جانے کے لئے تیار ہوں، میں آپ کا خادم ہوں بابا جی!

ڈاکٹر محمد جمیل صاحب:

تاج صاحب دیکھئے! دو چیزیں ہیں۔ ایک دلیل سے بات کرنا اور دوسرے بغیر دلیل کے ہٹ دھرمی کرنا۔

تاج محمد:

ٹھیک جی… آہو… اچھا۔

ڈاکٹر صاحب:

تاج صاحب! مولانا صاحب آئے ہیں۔ ان کو اپنی دلیل، کتابوں کے

17

حوالے، قرآن وحدیث کے حوالے پیش کرکے کہیں کہ میں مطمئن نہیں۔ قرآن اور حدیث کی رو سے، دو ہی ہمارے پاس ’’اہم ترین‘‘ چیزیں ہیں۔ تیسری کوئی چیز نہیں۔ مولانا اﷲ وسایا قرآن وحدیث کی رو سے آپ کو سمجھائیں گے۔ لیکن پھر بھی کوئی مسئلہ رہ جائے تو پھر اس کا حل پیش کریں گے، لیکن آپ گھبرائیں نہ۔ ہر بات بردباری اور تحمل مرزاجی سے کریں۔ بچے گھبرایا کرتے ہیں آپ تو اس سٹیج سے نکل چکے ہیں۔ ماشاء اﷲ! تعلیم یافتہ ہیں۔

مولانا فضل امین صاحب:

ہاں تو کیا خاتم الاولاد عربی نہیں، پنجابی لفظ ہے؟

تاج محمد:

آپ عرب کے محاورات میں سے مثال دیں کہ اس میں خاتم بند کرنے کے معنی میں استعمال کیا ہے۔

مولانا اﷲ وسایا:

بس آپ اتنی بات کہہ دیں کہ مرزاقادیانی نے خاتم الاولاد کا ترجمہ غلط کیا ہے۔

تاج محمد:

بائی مینوں گل کرن دیو، کی کردے او پئے سس، سس، سس سب نے کہا اچھا جی! ’’تسیں گل کرو۔‘‘

تاج محمد:

دیکھو نہ! یہ کہتے ہیں ’’لا نبی بعدی‘‘ یا جو کچھ بھی یہ کہتے ہیں، میں کہتا ہوں کہ یہ تو قرآن کی تعلیم کے خلاف ہے۔

مولانا اﷲ وسایا:

یہ قرآن کی تعلیم کی خلاف ورزی بھی، مرزاغلام احمد قادیانی نے کی ہے۔

تاج محمد:

میں کہتا ہوں جس نے بھی کی۔

مولانا اﷲ وسایا:

یہ کہہ دو کہ انہوں نے غلط کہا۔

تاج محمد:

دیکھو جی! مجھے یہ بات نہیں کرنے دیتے؟

ڈاکٹر صاحب:

اچھا جی! ان کو بات کرنے دیجئے۔

تاج محمد:

میں کہتا ہوں کہ جس طرح سے آپ کہتے ہیں اور آپ نے یہ خاتم الاولاد کا لفظ پیش کیا ہے۔ جیسے ’’ضریب‘‘ کا لفظ ہے اردو میں کچھ اور معنی میں، فارسی میں کچھ اور معنی میں اسی طرح سے خاتم الاولاد۔ میں کہتا ہوں کہ عربی زبان میں کسی عرب نے اس لفظ کو بند کرنے کے معنی میں استعمال کیا ہو۔

ڈاکٹر صاحب:

قطع کلامی معاف تاج صاحب! مولانا کہتے ہیں کہ ہمارے نزدیک سب

18

سے اعلیٰ ترین، افضل ترین اور افصح العرب حضور اکرمa ہیں۔ ان کی زبان میں بات کریں۔

تاج محمد:

ٹھیک ہے۔ حضور(صلی اللہ علیہ وسلم) نے جو کچھ فرمایا وہ بالکل بجا ہے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ حضور(صلی اللہ علیہ وسلم) کیا فرماتے ہیں۔

نبی اکرمa نے فرمایا۔ ’’یا علی انا خاتم الانبیاء وانت خاتم الاولیاء‘‘ اے علی میں تو خاتم الانبیاء ہوں اور تو خاتم الاولیاء ہے۔ اپنے چچا حضرت عباسؓ کو فرمایا: اے چچا! میں خاتم النّبیین ہوں نبوت میں اور تو خاتم المہاجرین ہے ہجرت میں۔

ڈاکٹر صاحب:

تاج صاحب کیا یہ احادیث ہیں؟ اگر یہ احادیث ہیں تو پھر آپ نے خود ہی مان لیا۔

تاج محمد:

جی ہاں! ’’اسیں تے من لیا۔‘‘

میرا کہنے کا مطلب یہ ہے کہ خاتم کے معنی بند کرنے کے تو نہ ہوئے نہ۔

مولانا اﷲ وسایا:

تاج صاحب! آپ نے بحث کو لمبا کر دیا۔

ڈاکٹر صاحب:

ایک منٹ مولانا! انہیں اپنا جوش ٹھنڈا کر لینے دیں۔

تاج محمد:

میرا کہنے کا مطلب یہ ہے کہ خاتم، دیکھو ناں… عرض کی کہ خاتم المہاجرین، ہجرت جاری ہے اور آج بھی جاری ہے۔ خاتم الاولیاء… آج بھی ولی ہیں اور آئندہ بھی ہوتے رہیں گے۔ جس طرح حضور(صلی اللہ علیہ وسلم) نے فرمایا کہ میں خاتم الانبیاء ہوں تو خاتم الاولیاء ہے، جس طرح ولایت جاری ہے اس طرح نبوت بھی جاری ہے۔ جس طرح سے ہجرت جاری ہے اسی طرح سے نبوت بھی جاری ہے۔

اچھا… دوسری بات یہ ہے کہ جب قرآن یہ کہتا ہے کہ: ’’خداتعالیٰ چنتا ہے۔ فرشتوں اور انسانوں میں سے۔‘‘ اس کے ہوتے ہوئے اس کے معنی کر دینا’’لا نبی بعدی‘‘ یہ بند کرنے کے معنوں میں قرآن کی تعلیم کے خلاف ہے۔ بلکہ اس کو ہم مطابقت میں لائیں گے کہ: ’’ایسا نبی جو کہ حضور(صلی اللہ علیہ وسلم) کی شریعت کو خارج کر دیوے وہ نہیں آسکتا۔ دوسرا آ سکتا ہے۔‘‘

مولانا اﷲ وسایا:

افسوس میاں صاحب! میں جس جذبہ وخلوص کے ساتھ حاصر ہوا تھا آپ

19

نے میرے خلوص اور جذبے کی قدر نہیں کی اور بلاوجہ بحث کو طول دے رہے ہیں۔ میری درخواست ہے کہ آپ مجھے سمجھانے کی کوشش کریں۔

آپ نے خاتم النّبیین کا لفظ بول کر ساتھ ہی یہ ارشاد فرمادیا کہ خاتم النّبیین کا یہ ترجمہ نہیں جو ہم کرتے ہیں۔ میں نے مرزاغلام احمد کی دو کتابوں سے حوالہ پیش کیا۔ ایک کتاب میں وہ وہی ترجمہ کرتے ہیں جو حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا یعنی یہ کہ خاتم النّبیین کا ترجمہ یہ ہے کہ حضور(صلی اللہ علیہ وسلم) کے بعد نبی کوئی نہیں۔ ایک خاتم الاولاد کا محاورہ مرزاقادیانی کی اپنی کتاب سے پیش کیا جو تریاق القلوب میں ہے۔ آپ نے ارشاد فرمایا کہ یہ اردو کا لفظ ہے۔ میں درخواست کرتا ہوں کہ گو میں غریب آدمی ہوں۔ مولانا فضل امین صاحب، یا ڈاکٹر صاحب میری ذمہ داری دیں گے۔ میں اس شخص کو ہزارروپے دوں گا۔ جو یہ ثابت کردے کہ خاتم الاولاد کا لفظ عربی نہیں۔ کوئی ماں کا لال جو عربی جانتا ہو یہ کہہ دے کہ خاتم الاولاد جو مرزاقادیانی نے لکھا ہے کہ وہ بند کرنے کے معنی میں نہیں ہے۔

میں یہ کہتا ہوں کہ جو خاتم الاولاد کا معنی ہے، وہی ترجمہ خاتم النّبیین کا کر لو۔ یعنی آخری، لیکن افسوس کہ آپ کو نہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا ترجمہ پسند آیا نہ مرزاغلام احمد کا۔ رہی عرب کے محاورے کی بات، میں ایک نہیں، سینکڑوں محاورے پیش کر سکتا ہوں۔ لیکن کم ازکم اتنی بات تو فرمادیں کہ مجھے غلام احمد قادیانی کا ترجمہ پسند نہیں اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا ترجمہ بھی پسند نہیں۔ پھر بحث کر کے طے کر لیتے کہ یہ ہے ہمارا تمہارا مشترکہ ترجمہ اور پھر آگے چلتے ہیں۔

اس کے بعد جو حدیث یا کوئی آیت اس ترجمے سے ٹکڑائے گی یا تو ہم اس ترجمے کو بدل لیتے یا پھر اس حدیث کو سمجھنے کی کوشش کرتے۔ افسوس کہ آپ نے کوئی بات نہ مانی۔ کتنے صدمے کی بات ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا ترجمہ بھی قبول نہیں کیا، مرزاغلام احمد قادیانی جس کو نبی مانتے ہیں جس کو مسیح موعود اور مجدد مانتے ہیں، اس کا ترجمہ بھی پسند نہیں آیا… میں ان باتوں کو چھوڑتا ہوں… آپ نے کہا کہ حضور(صلی اللہ علیہ وسلم) نے خاتم المہاجرین کہا ہے۔ میاں صاحب! خدا سے ڈرو۔ اس وقت آپ کی کافی عمر بیت چکی ہے۔ گور کنارے پہنچ چکے ہیں، یہ لاکھوں یا کروڑوں روپیہ جو آپ نے دنیا میں کمایا، یہ کچھ کام نہیں آئے گا۔ خدا کے لئے احادیث میں تحریف نہ کیا کرو۔ یہ خاتم المہاجرین والی جو حدیث ہے، اس کے بارے میں بخاری شریف

20

میں (امام بخاریؒ ج۲ ص۷۱۵) نے باب فتح مکہ باندھا ہے کہ ’’لا ہجرۃ بعد الفتح‘‘ یہ حضرت عبداﷲ بن عمر سے روایت ہے۔ اب دیکھیں کہ حضرت عباسؓ مکہ مکرمہ سے سب سے آخر میں ہجرت کر کے مدینہ طیبہ جا رہے تھے۔ مدینہ طیبہ سے حضور صلی اللہ علیہ وسلم فتح مکہ کے لئے تشریف لا رہے تھے۔ حضرت عباسؓ مکہ مکرمہ سے کئی میل دور نکل چکے تو سامنے حضور صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لے آئے، حضرت عباسؓ دیکھ کر غمزدہ ہوگئے کہ افسوس مجھے ہجرت کا ثواب نہیں ملا۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔

اے عباسؓ تو خاتم المہاجرین ہے اور تیرے بعد مکہ مکرمہ سے کسی نے ہجرت نہیں کرنی۔ مکہ سے ہجرت کرنے والوں میں سے تو سب آخری مہاجر ہے، اس لئے کہ مکہ مکرمہ نے قیامت تک دارالاسلام رہنا ہے۔ ہجرت دارالکفر سے ہتی ہے۔ دارالاسلام سے نہیں۔ یہ ہے مسئلہ۔

تاج صاحب! بحث برائے بحث اور ضد براے ضد نہ کرو، آدھی آیت پڑھنی یعنی ’’لا تقربوا الصلوٰۃ‘‘ (نماز کے قریب نہ جاؤ) کچھ حصہ آیت کا پڑھ لینا اور کچھ نہ پڑھنا، یہ درست نہیں۔ مکہ مکرمہ سے ہجرت کرنے والوں میں حضرت عباسؓ سب سے آخری مہاجر ہیں، اس واسطے حضرت عباسؓ نے قیامت تک مکہ سے ہجرت کرنے والوں کے لئے خاتم المہاجرین رہنا ہے۔

باقی آپ نے فرمایا کہ حضرت علیؓ کو کہاگیا کہ وہ خاتم الاولیاء ہیں، اس کی کوئی روایت پیش کرتے، کوئی حوالہ دیتے۔ میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی روایت پیش کرتا ہوں کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم جنگ کے لئے تشریف لے جارہے تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اے علیؓ! میرے بعد تمام تر نظام کو سنبھالنا اور لوگوں کے فیصلے تونے کرنے ہیں۔ میں جہاد پر جارہا ہوں۔ حضرت علیؓ کے دل میں خیال آیا کہ اپاہج، معذور، بچے، بوڑھے اور عورتیں سب یہاں ہیں، حضور صلی اللہ علیہ وسلم جہاد پر روانہ ہورہے ہیں۔ میں ان کمزور لوگوں میں ہوں۔ میں جہاد کے ثواب سے محروم رہ جاؤں گا؟ غمزدہ ہوکر حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں پیش ہوئے، حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اے علیؓ’’انت منی بمنزلۃ ہارون من موسیٰ‘‘ کیا تو یہ سمجھتا ہے کہ میں تجھے معذوروں اور اپاہج لوگوں میں چھوڑے جارہا ہوں، یہ بات نہیں بلکہ تیری میرے ہاں حیثیت وہی ہے جو حضرت

21

ہارون علیہ السلام اور حضرت موسیٰ علیہ السلام کی تھی، دونوں خدا کے نبی ہیں۔ موسیٰ علیہ السلام تشریف لے جاتے تو اپنے بھائی کو اپنا قائم مقام بنا کر جاتے تھے۔ اس سے یہ بات پیدا ہوسکتی تھی کہ موسیٰ علیہ السلام بھی نبی، ہارون علیہ السلام بھی نبی، جس طرح وہاں ایک نبی اپنے جس جانشین کو چھوڑے جارہا ہے وہ نبی ہے تو کیا یہاں بھی یہی صورت ہے؟ فوراً حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کا ازالہ فرمادیا کہ ’’لا نبی بعدی‘‘ اے علیؓ تو میرا انچارج بھی ضرور ہے اور بھائی بھی، لیکن میرے بعد نبی کوئی نہیں۔ یہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث ہے، اب آپ بحث نہ کریں۔ میری آپ کی خدمت میں مخلصانہ درخواست ہے کہ خاتم الاولاد اور خاتم النّبیین کا معنی جب تک کلیئر نہ ہوگا صاف نہ ہوگا آپ اعتراضات کرتے چلے جائیں۔

تاج محمد:

اچھا۔

مولانا اﷲ وسایا:

آپ نے فرمایا ’’اﷲ یصطفی‘‘ کہ یہ مضارع ہے ﷲتعالیٰ ہمیشہ چنتا ہے اور چنتا رہے گا ہرمضارع استمرار کے لئے استعمال نہیں ہوتا۔ اگر آپ نے یہی ترجمہ کر لیا کہ چن لیا اور چنتا رہے گا تو پھنس جائیں گے۔ مرزاغلام احمد قادیانی کا ایک الہام ہے وہ کہتے ہیں کہ:’’یریدون ان یروا طمثک‘‘

’’بابو الٰہی بخش چاہتا ہے کہ تیرا حیض دیکھے۔‘‘

(تتمہ حقیقت الوحی ص۱۴۳، خزائن ج۲۲ ص۵۸۱)

یعنی خون دیکھے، کیا اس کا یہ معنی ہے کہ مرزاقادیانی کو خون آتا رہے گا اور بابو الٰہی بخش دیکھتا رہے گا۔ یہ گفتگو شروع ہوئی تو ممکن ہے آپ کے جذبات کو ٹھیس پہنچے۔ کیونکہ اس قسم کی باتین اور مرزاقادیانی کی حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی کمال اتباع۔ یہ باتیں میں بعد میں کروں گا۔ میں اس جذبے سے بیٹھا ہوں کہ میری گفتگو کو سمجھنے کی کوشش کرو۔

تاج محمد:

اچھا… دیکھو… میں سمجھا۔

مولانا اﷲ وسایا:

میں نے کچھ باتیں کرنی تھیں۔ لیکن چلئے آپ ارشاد فرمائیے۔

تاج محمد:

جو کچھ میں نے دیکھا۔ ایک تو یہ بات ہے۔ ’’لا نبی بعدی‘‘ یہ صرف جنگ تبوک کے واسطے ہی تھی۔ پھر دیکھو! یعنی جو کہ جو، جو، جو۔

ڈاکٹر صاحب:

تاج صاحب! تسیں گل کرو کھل کے کرو۔

22

تاج محمد:

یعنی… وہ نہیں… وقتی طور پر کہ دیکھ بھائی جس طرح ڈاکٹر صاحب کسی کو بٹھا کے جائیں اور کہیں کہ میرے بعد تو ڈاکٹر تو نہیں۔ لیکن میراجانشین ہے میرا سب کچھ انتظام تیرا ہے ۔گویا اسی طرح لا نبی بعدی ہے۔

دوسری بات کہ ہر مضارع… نہیں۔ یہ تو ہر، ہر، ہر۔ یہ کہہ رہا ہے دوسرے خاتم الاولاد آپ نے کہا۔

مولانا اﷲ وسایا:

کی کی۔ ایہہ مضارع دی گل نوں کیویں پی گئے او، ہر ہر کر کے وچے چھڈ گئے اونوں مکاؤ۔

’’بابو الٰہی بخش چاہتا ہے کہ میں تیرا خون دیکھوں۔‘‘

تاج محمد:

میں یہ کہتا ہوں کہ اگر انہوں نے کہا جو کچھ انہوں نے (یعنی مرزاقادیانی نے) کہا غلط کہا۔

مولانا اﷲ وسایا:

بس بس میاں صاحب اتنی بات نہ کرو اﷲ واسطے۔

تاج محمد:

بھیڑیو! گل تے کرن دیو۔ ڈاکٹر صاحب! ایہہ گل نئیں کرن دیندے…

(جب اس نے کہا کہ مرزاقادیانی نے غلط کہا تو مولانا اﷲ وسایا نے فوراً گرفت کر لی جس پر وہ پریشان ہوا)

مولانا اﷲ وسایا:

ڈاکٹر صاب! آپ ان سے کہیں کہ بس اتنی بات لکھ دیں کہ غلام احمد نے غلط کہا ہے۔

تاج محمد:

ٹھہر جاؤ! گل کرن دیو مینوں۔

ڈاکٹر صاحب:

اچھا جی فرماؤ۔

تاج محمد:

یہ کہتے ہیں کہ ہر مضارع… گویا اس کا یہ مطلب ہے کہ چنتا ہے۔ اب نہیں چنتا۔ لیکن میں کہتا ہوں باربار قرآن میں آتا ہے۔

’’ماکان اﷲ لیذر المؤمنین علیٰ ما انتم علیہ (آل عمران:۱۷۹)‘‘ مدینہ میں بھی ﷲتعالیٰ آ کے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتا ہے کہ: ’’اے مسلمانو! یہ کس طرح ہوسکتا ہے کہ ﷲتعالیٰ تمہیں جس حالت میں چھوڑ دے، اس حالت میں کہ تم ہو یہاں تک کہ وہ خبیث اور طیب میں تمیز کرے گا اور تمیز بھی کیسے کرے گا۔ ’’رسول بھیج کر‘‘ پھر مسلمانوں کو مدینے میں آکر یہ کہتا ہے کہ رسول بھیجے گا…‘‘

23

اسی طرح ’’یصطفی‘‘ مضارع کا صیغہ ہے جس کا معنی یہ ہوگا کہ اﷲ رسول چنے گا… رہا ’’خاتم النّبیین‘‘ تواس میں نفیٔ جنس نہیں نفیٔ کمال ہے۔

دنیا میں اب کوئی نبی نہیں آسکتا۔ بجز آپ کے… خاتم النّبیین میں بھی ایک خاص نفی ہوئی۔ مطلق نبوت کی نفی نہیں، اس طرح سے خاتم الاولاد ہے۔ جس طرح دنیا میں اولاد کی نفی نہیں ہے۔ اسی طرح سے خاتم النّبیین میں نبوت کی نفی نہیں ہے۔ آپ کوئی ایسی بات پیش کرو۔

مولانا اﷲ وسایا:

آپ نے حوالہ سمجھنے کی کوشش نہیں کی۔ مرزاقادیانی کہتے ہیں کہ میں اپنے والدین کے ہاں خاتم الاولاد تھا۔ ساری دنیا کی نفی نہیں کرتے۔ بلکہ گھر کی بات کرتے ہیں کہ: ’’اپنے والدین کے ہاں میں خاتم الاولاد ہوں۔‘‘

تاج محمد:

تو پھر خاص ہی ہوئی نہ نفی جنس تو نہ ہوئی۔

مولانا اﷲ وسایا:

تو پھر آپ یہ معنی کر لیں کہ مرزاغلام احمد قادیانی جیسا تو کوئی نہیں پیدا ہوگا۔ لیکن اس کی ’’ماں اور ضرور جنے گی۔‘‘ یہ ترجمہ کریا یہ ترجمہ کر لو کہ خاتم الاولاد میں خاتم کا معنی مہر ہے۔ مرزاقادیانی مہر لگاتے جائیں گے، ان کی ماں بچے جنتی جائے گی… کیا کر رہے ہیں آپ، کم ازکم ’’ختم‘‘ کا معنی تو کریں… اور یہ جو آپ کہتے ہیں کہ ’’لا نبی بعدی‘‘ (جنگ تبوک کے) خاص واقعے سے متعلق ہے۔ میری درخواست سنو… (درمیان میں مرزائی مبلغ نے شور مچا دیا) مولانا اﷲ وسایا صاحب نے کہا کہ آپ جو یہ کہتے ہیں کہ یہ جنگ تبوک کے متعلق ہے، وہاں حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ ارشاد فرمایا کہ: ’’میرے بعد نبی کوئی نہیں، آپ نے قاعدہ کلیہ کے طور پر ارشاد فرمایا ہے۔‘‘

’’اناخاتم النّبیین لا نبی بعدی‘‘ یہاں یہ شبہ پڑ سکتا تھا کہ کوئی بے دین اس سے نبوت کے جاری ہونے کی دلیل نہ پکڑے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس کی تردید فرماتے گئے۔ جس طرح وہاں یہ تھا ’’انت منی بمنزلۃ ہارون من موسیٰ‘‘ ہارون علیہ السلام بھی نبی تھے۔ یہاں حضرت علیؓ بھی نبی ہوسکتے ہیں۔ فوراً حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ’’لا نبی بعدی‘‘ اس اشکال کو رفع فرمادیا۔ باقی آپ کایہ کہنا کہ ہر مضارع استرار کے لئے ہے، آپ کو مطمئن رہنا چاہئے کہ میں آپ کو مطمئن کروں گا اور سمجھانے کی کوشش کروں گا۔ آپ سے سمجھوں گا۔

تاج محمد:

نہیں، نہیں! آپ میرے پاس تشریف لائیں۔ میں آپ کو سمجھاؤں گا۔

24

مولانا اﷲ وسایا:

میں کروڑ مرتبہ آپ کے ساتھ جانے کے لئے تیار ہوں۔ لیکن پہلے یہاں کا تو تصفیہ کریں۔ آیت میں تو ’’اﷲ یصطفی‘‘ کے بارے میں تسلیم کرتا ہوں کہ یہ مضارع کا صیغہ ہے۔ لیکن یہاں مرزا کی عبارت میں بھی مضارع کا صیغہ ہے۔ آپ ترجمہ کر دیں کہ ’’غلام احمد کو حیض آتا رہے گا اور بابو الٰہی بخش دیکھتا رہے گا۔‘‘

یہاں بھی تو مضارع ہے… میں ابھی اس بحث میں نہیں پڑتا کہ ’’اﷲ یصطفی‘‘ کامعنی کیا ہے۔

تاج محمد:

آپ مجھے سمجھائیں۔

ڈاکٹر صاحب:

آپ سمجھنے کی کوشش کریں۔

تاج محمد:

جس طرح سے ’’اﷲ یصطفی من الملئکۃ رسلا من الناس (الحج:۷۵)‘‘ میں اس کو انہی معنی میں استعمال کرتا ہوں جن معنی میں الحمد شریف میں استعمال ہوا کہ ’’ایاک نعبد‘‘

ڈاکٹر صاحب:

آپ اپنے ذہن سے یہ معنی لیتے ہیں۔ مولانا صاحب آپ سے دلیل سے بات کرتے ہیں۔ آپ مولانا صاحب سے حوالے پوچھو۔ حدیث کے پوچھو، قرآن کے پوچھو، آپ کا اپنا ذہن اپنی جگہ پر بالکل درست ہے۔ لیکن آپ کا ذہن کوئی حرف آخر نہیں، آپ دلیل سے ہٹ کر بات کرتے ہیں۔

مولانا اﷲ وسایا:

ڈاکٹر صاحب! میں میاں تاج محمد صاحب سے افہام وتفہیم کی غرض سے بات کر رہا ہوں۔ میں باوضو بیٹھا ہوں اور اس جذبے کے تحت آیا ہوں کہ کوئی آدمی مجھے سمجھائے۔ اگر میرا آپ سے گفتگو کرنے کا موڈ نہ ہوتا تو میں آپ کو ایک منٹ میں بند کر دیتا۔ آپ کا یہ ترجمہ منٹ میں تسلیم کر لیتا کہ اﷲ چنے گا فرشتوں میں سے اور انسانوں میں سے اور بتاتا کہ غلام احمد تو انسان ہی نہیں ہے۔ اس نے اپنی کتاب میں یہ لکھا ہے کہ ؎

  1. کرم خاکی ہوں میرے پیارے نہ آدم زاد ہوں

    ہوں بشر کی جائے نفرت اور انسانوں کی عار

(براہین احمدیہ حصہ پنجم ص۹۷، خزائن ج۲۱ ص۱۲۷)

کہتا ہے کہ: ’’میں بندے دا پتر ای نئیں جہیڑی انسان دی سب توں شرم والی جگہ اے میں اوہ ہاں۔‘‘

25

غلام احمد کو تو آپ ’’بندے دا پتر‘‘ ہی نہیں ثابت کر سکتے۔ چہ جائیکہ اسے نبی ثابت کیا جائے۔

تاج محمد:

ہیں، میں، میں ہیں۔ (ہنس کر ٹالنے کی کوشش کی)

مولانا اﷲ وسایا:

ہنستے کیوں ہیں، حوالہ موجود ہے۔ حوالہ چاہو۔ بولو، حوالہ پیش کروں۔ اگر یہ حوالہ نہ ہو تو دس ہزار روپے انعام دوں گا۔ کہتا ہے: کرم خاکی…

آپ کی بچیاں ہیں؟ بچیاں میری بھی ہیں، بچیاں سب کی ہوتی ہیں۔ کوئی اپنی نوجوان بچی کے سامنے کتاب کھول کر اس سے کہہ سکتا ہے کہ اس کا ترجمہ کرو۔

ڈاکٹر صاحب:

آپ کی کتاب کا حوالہ دے رہے ہیں، اس کا جواب دیں۔

مولانا اﷲ وسایا:

آپ مجھ سے کتاب کا حوالہ پوچھیں، مجھے کہیں مولوی صاحب سر کیوں مارتے ہو کتاب کا حوالہ دو۔ اگر حوالہ نہ دوں تو ڈاکٹر صاحب فیصلہ کر کے مجرم بنائیں اور یا پھر تاج صاحب آپ اس کا ترجمہ کریں۔

کہتا ہے… ہوں بشر کی جائے نفرت… میں نے تو ابھی اس کا ترجمہ کیا ہی نہیں۔ میں تو کہتا ہوں تاج صاحب خود ترجمہ کریں۔

تاج محمد:

میں آپ کے سامنے قرآن پیش کر رہا ہوں اور آپ مرزاقادیانی… میں مرزاقادیانی… میں کسی کو بھی نہیں مانتا، میںیہ کہتا ہوں کہ قرآن یہ ہے… شور… شور… شور… (سب نے کہا کہ دیکھو مرزاقادیانی سے ہی انکار کر بیٹھے)

مولانا اﷲ وسایا:

ڈاکٹر صاحب! میں نے ابھی مرزاقادیانی کا ایک ہی حوالہ پیش کیا اور یہ پکار اٹھے ہیں کہ میں مرزاقادیانی کو نہیں مانتا… انہوں نے تو کروڑ دفعہ مرزاغلام احمد قادیانی سے جان چھڑانے کی کوشش کرنی ہے، وہ تو ان کے گلے کا ہار بن جائے گا۔ آپ اب کیوں مرزاقادیانی کا انکار کرتے ہیں۔ سنو! سرور کائنات صلی اللہ علیہ وسلم کے تمام تر فرمان میرے سرآنکھوں پر، وہ تم میرے سامنے پیش کرو، میرے ماں باپ میری روح میرا جسم قربان حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمان پر میں اس سے قطعاً انحراف نہ کروں گا؟ اور آپ فوراً بول اٹھے کہ میں غلام احمد کو نہیں مانتا۔ کیوں نہیں مانتے۔ اسے مانو ضرور مانو، میں نے ایک حوالہ دیا اور انکار کر بیٹھے۔ ابھی تو میں پندرہ مرتبہ آپ سے انکار کراؤں گا۔ مزا تو یہ ہے کہ ہمیشہ کے لئے اس مجلس میں اس سے انکار کر کے اٹھو… تو جناب بس اس کا ترجمہ کریں۔ ’’ہوں بسر کی جائے نفرت۔‘‘

26

تاج محمد:

میں صرف… بس بس۔ ایں!

مولانا اﷲ وسایا:

ذرا ہمت کرو۔ ایں آں میں وقت ضائع نہ کرو۔

تاج محمد:

بات یہ ہے کہ جو کچھ بھی انہوں نے کہا ہے خاتم الاولاد… میں نے کہا کہ وہ نفی جنس نہیں یعنی ہمیشہ کے لئے نہیں… اچھا… جی… آپ نے کہا۔میرا کہنے کا مطلب یہ ہے کہ میں نے آپ کو گفتگو سے یہ نتیجہ اخذ کیا اور دوسرے ’’لا ہجرۃ‘‘… آپ کہتے ہیں مکہ سے، میں کہتا ہوں ہجرت تو جاری ہے۔

مولانا اﷲ وسایا:

’’لا ہجرۃ بعد الفتح من المکۃ‘‘ یعنی مکہ مکرمہ سے کوئی ہجرت نہیں ہوسکتی۔ میاں صاحب! میری گذارشات کو سمجھنے کی کوشش کرو کہ مکہ مکرمہ نے دارالاسلام رہنا ہے۔ ہجرت دارالاسلام سے نہیں ہوتی، دارالکفر سے ہوتی ہے۔ کافروں کے شہر سے نکل کر مسلمانوں کے شہر کی طرف جانا ہوتا ہے۔ مسلمان تو اپنے شہر میں رہتا ہے۔ اگر کوئی سفر کرے تو وہ اس کا پرائیویٹ سفر ہوسکتا ہے۔ لیکن ہجرت میں شمار نہ ہوگا۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمان کا مطلب یہ ہے کہ: ’’مکہ مکرمہ نے قیامت تک دارالاسلام رہنا ہے۔‘‘

مکہ سے کوئی ہجرت نہیں ہوگی۔ مکہ سے ہجرت کرنے والے واقعی حضرت عباسؓ آخری مہاجر ہیں۔ ان کے بعد مکہ سے نہ کسی نے ہجرت کی اور نہ کسی کو ہجرت کا ثواب ملے گا۔

لیکن میں نے جو یہ گذارش کی ہے کہ مرزاغلام احمد قادیانی جس کے متعلق یہ بحث چل رہی ہے اسے انسان تو ثابت کریں۔ ایک ہی حوالے میں پھنس گئے۔ رہی لغت۔ میں ان کی خدمت میں درخواست کرتا ہوں کہ ’’تاج العروس‘‘ والا یا یہ کوئی لغت کی کتاب لے آئیں۔ خاتم کا معنی ان سے پوچھ لیں۔ وہ اگر اس کا معنی آخری کر دیں تو پھر آپ کی سزا کیا ہوگی؟

چلئے! ’’خاتم القوم ای آخرہم‘‘ لغت کا حوالہ ہے بولو۔

تاج محمد:

کیا کیا… تسیں… آں، آں۔ جی، آں۔

ڈاکٹر صاحب:

تاج یار گل سن!

جب مولانا گرائمر کے حساب سے سمجھانے کی کوشش کر رہے ہیں تو پھر بھی کیوں نہیں سمجھتے؟

27

تاج محمد:

خاتم کے یہ جو معنی کر رہے ہیں، میں اس سے نفیٔ جنس مراد نہیں لے رہا بلکہ نفیٔ کمال مراد لے رہا ہوں۔

ڈاکٹر صاحب:

تسیں حرف آخر نئیں۔

تاج محمد:

میری سنو بھی تو سہی… بھائی۔ ایک شخص کلام سن رہا ہے۔ وہ لیکچر کے معنی کچھ سمجھے گا یا نہیں۔ یعنی تقریر… کچھ تو سمجھے گا۔

ڈاکٹر صاحب:

بالکل سمجھے گا۔

تاج محمد:

فرض کرو۔ آپ نے خاتم الاولاد پیش کیا ہے۔ میرا مطلب یہ ہے کہ دنیا میں اولاد کی نفی نہیں ہوئی۔

مولانا اﷲ وسایا:

میاں صاحب! آپ نے مرنا نہیں۔ ڈاکٹر صاحب! آپ حوالہ سمجھنے کی کوشش کریں۔ مرزاغلام احمد قادیانی کہتے ہیں کہ: ’’میرے والدین کے ہاں فلانی فلانی اولاد پیدا ہوئی۔ وہ کہتے ہیں، پھر پیدا ہوئی، جنت بی بی… اور مرزاقادیانی نے جنت بی بی کا تذکرہ بھی لکھا ہے کہ جس وقت وہ نکلنے لگی تو اس کے پاؤں تھے اور میرا سر تھا… یہ بھی کتاب میں لکھا ہوا ہے۔ ذرا نبی کا کلام ملاحظہ فرمائیں۔‘‘

ڈاکٹر صاحب:

ان کی کتاب میں ہے؟

مولانا اﷲ وسایا:

ہاں، ہاں! ان کی کتاب میں… ذرا مجھ سے حوالہ تو پوچھیں۔

ڈاکٹر صاحب:

کیہڑی کتاب وچ لکھیا ہویا اے۔

مولانا اﷲ وسایا:

مسکراتے ہوئے… نہ زورے ورآ پیسے لگن گے۔ یہاں تاج صاحب مداخلت کرتے ہیں… مولانا اﷲ وسایا انہیں کہتے ہیں۔ ’’ذرا ٹھہرتے سہی۔‘‘

تاج محمد:

نہیں۔

مولانا اﷲ وسایا:

مرزاقادیانی کہتے ہیں کہ میںنے اس کے پاؤں سے سرملایا ہوا تھا۔ یہ نبی صاحب ہیں… ’’نکلن لگیاں رنگ لائی آندا اے۔‘‘بہرحال وہ کہتا ہے کہ میں اپنے والدین کے ہاں خاتم الاولاد تھا… یہ ساری دنیا کی نفی نہیں کرتا اپنے والدین کے ہاں سے نفی کرتا ہے… میاں صاحب! میں کہتا ہوں مجھ سے حوالہ تو پوچھیں… میں کتاب اس واسطے نہیں لایا کہ یہ انکارکریں اور یہ سمجھیں کہ مولوی کے پاس کچھ نہیں اور اس طرح یہ مجھ پر سوار ہونے کی کوشش کریں، پھر میں ان کو جواب دوں… مجھ سے پوچھیں تو سہی۔ ڈاکٹر

28

صاحب! ان سے پوچھیں کہ کیا انہیں اس حوالے کا علم نہیں؟

ڈاکٹر صاحب:

تاج صاحب! اس حوالے کا پتہ ہے؟… تسلیم کرتے ہیں؟

تاج محمد:

جی اس کا پتہ ہے تسلیم کرتے ہیں۔

مولانا اﷲ وسایا:

وہ کہتا ہے کہ میں خاتم الاولاد تھا یعنی میرے بعد کوئی لڑکی یا لڑکا میرے والدین کے ہاں پیدا نہیں ہوا… یہاں لانفیٔ کمال نہیں۔ اس نے لا نفیٔ جنس ترجمہ کیا ہے… یعنی میں آخری آیا ہوں…

اب یہاں کر ترجمہ… یہاں لا نفیٔ کمال کیسے ہے؟ کہہ دے۔ منٹ لگا… رپھڑ مکا۔

تاج محمد:

مولوی صاحب ذراٹھہرو۔ اتنا کہہ کر خاموش ہوگئے۔

ایک اور صاحب:

یہاں ایک اور صاحب بولے جو قادیانی تھے کہ یہ آپ سے خاتم کے معنی ای آخر۔ میرا کہنے کا مطلب یہ ہے کہ جس طرح قومیں ختم نہیں ہوگئیں۔

ڈاکٹر صاحب:

تاج! میری بات سن۔ اتنی لمبی بات نہیں، ایک لفظ ہے۔ خاتم… انہوں نے آپ کے سامنے لغات کے حوالے پیش کئے یا تو آپ ان لغات کو تسلیم نہیں کرتے۔

تاج محمد:

کس کو؟

ڈاکٹر صاحب:

لغات والوں کو۔

تاج محمد:

لغات والا ویسے جو کچھ بھی ہے لیکن محاورے میں وہ کبھی غلطی نہیں کر سکتا… ایک چیز ہے جس میں کسی کو دھوکہ نہیں دیا جاسکتا وہ ہے کسی لفظ کا استعمال… یعنی میں کچھ کروں… اسی طرح کوئی معنی آخری کرے… وہ ہوتا ہے لفظ کا استعمال… چنانچہ اسی طرح ان میں ایک خاتم کا ہے جس طرح خاتم القوم سے قومیں ختم نہیں ہوگئیں۔ اسی طرح خاتم النّبیین سے نبوت ختم نہیں ہوئی۔ بلکہ جاری ہے۔ ایک شخص کہتا ہے۔ ’’ای آخرہم‘‘ وہ اپنی طرف سے کر رہے ہیں۔ جہاں تک استعمال کا تعلق ہے وہ خاتم القوم، خاتم المہاجرین، خاتم الاولاد یہ بالکل نفی نہیں کرتے بلکہ ایک خاص قسم کی نفی کرتے ہیں۔

ڈاکٹر صاحب:

یہ آپ کے ذہن سے نفی کرتی ہیں… آپ کا ذہن یہ کہتا ہے میرے ذہن کے مطابق نفی نہیں۔

29

تاج محمد:

جی ہاں۔

ڈاکٹر صاحب:

مولانا صاحب آپ کو حوالے دے کر بتا رہے ہیں لغت کے، قرآن کے، حدیث کے، دنیاوی، آپ کے دین کے اور آپ کے مرزاقادیانی کے، لیکن یہ آپ کا ذہن ہے۔ اگر آپ ساری زندگی یہ کہتے رہیں کہ ڈاکٹر میں یہ نہیں مانتا جو مولانا کہتے ہیں… یہ بات نہیں۔ یا تو آپ مولانا صاحب کی بات کی نفی کرو کہ یہ غلط کہتے ہیں، اسے ہم نوٹ کر لیتے ہیں۔ کوئی اور مولانا صاحب سہی، پھر اگلی بات یہ کہ آپ حوالہ دیں قرآن اور حدیث کا ہم اسے نوٹ کر لیتے ہیں۔ اس کو سمجھنے کے لئے کوئی اور مولانا سہی۔ لیکن یہ بات ٹھیک نہیں۔

تاج محمد:

مولانا صاحب آپ ساری باتیں غلط کرتے ہیں میں ہی ٹھیک کرتا ہوں۔

کوئی عربی زبان سے محاورہ پیش کرو، آپ خواہ مخواہ بات کو بڑھائے جارہے ہیں۔

مولانا اﷲ وسایا:

میں نے انہیں لغت تاج العروس کا حوالہ دیا اور خاتم القوم کا محاورہ پیش کیا۔ لیکن انہوں نے نہیں مانا۔ لغت والے اس کا ترجمہ کرتے ہیں۔ ’’ای آخرہم‘‘ یہ ترجمہ تمام لغت والوں نے کیا ہے۔ لغت والے نہ تیرے رشتہ دار نہ میرے، وہ غیرجانبدار ہیں۔ انہوں نے ادب کی خدمت کرنی ہے۔ میاں تاج صاحب نے اس سے بھی انکار کر دیا؟

چلئے! میں کہتا ہوں ’’خاتم القوم ای آخرہم‘‘ کر ترجمہ اس کا نفیٔ جنس ہے یا نفیٔ کمال ہے… خاموشی…

مولانا اﷲ وسایا:

کر نہ کوئی ترجمہ… مکا رپھڑ۔

تاج محمد:

ذرا بات کرنے دیں… آرام سے… ڈاکٹر صاحب! ’’خاتم القوم‘‘… کیا قومیں ختم ہوگئیں؟

مولانا اﷲ وسایا:

استغفراﷲ!

تاج محمد:

عجیب بات ہے… کیا کر رہے ہیں آپ… ایک شخص کے پاس… خاتم القوم۔

مولانا فضل امین:

آگے تو کہیں وہاں ہے ’’ای آخرہم‘‘

تاج محمد:

آپ ذرا میری بات سنیں… میرا کہنے کا مطلب یہ ہے کہ کیا دنیا سے قومیں ختم

30

ہوگئیں… کیا لغت سے بھاگا جاسکتا ہے۔ میں عربی ٹیچر ہوں۔ میں بھی استاد ہوں… اچھا! اس طرح سے جس طرح سے ’’خاتم القوم‘‘ ہے۔

مولانا اﷲ وسایا:

ازراہ مزاح! استاد جی واسطہ رب دا غلط سبق نہ پڑھائیو! ’’خاتم القوم‘‘ کا ترجمہ لغت والوں نے کیا ہے آخری۔ یہ معنی کسی لغت والے نے نہیں کیا کہ ’’قومیں ختم ہوگئیں۔‘‘ اس لئے کہ قوموں کے ختم ہونے کا سوال نہیں۔ ورنہ لفظ ختم الاقوام ہوتا تب تو قومیں ختم ہوگئیں ترجمہ ہوتا، یہاں خاتم کا لفظ مفرد کی طرف مضاف کیا ہے۔ یعنی قوم کی طرف مضاف کیا کہ یہ شخص قوم کا آخری ہے۔ اقوام جمع کی طرف ہیں۔ بلکہ یہ لفظ ’’خاتم‘‘ لکھ کر اس کا ترجمہ یہ کیا ہے کہ… آخری۔ اسی طرح خاتم النّبیین کا معنی ہے آخری کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم آخری نبی ہیں… آگے چل… یہ لغت ہے کر ترجمہ حضور کو نہیں مانا اب لغت پیش کر رہا ہوں کر ترجمہ ’’خاتم القوم ای آخرہم‘‘

ڈاکٹر صاحب:

تاج صاحب! آپ میرے بچے کو پڑھاتے ہیں، اسے کسر کا پتہ نہیں یاد ہے آپ کو۔ تو آپ نے کہا، پتہ کیسے نہیں میں ابھی سمجھا کے جاتا ہوں۔

چنانچہ آپ نے وہ سمجھائی اور اسے پتہ چلا کہ کسر کسی چیز کا حصہ ہے۔ اسی طرح مولانا صاحب آپ کو لغت کا، ان کے لفظی معنی اور بامحاورہ معنی کو سمجھا رہے ہیں۔ پھر آپ کیوں نہیں سمجھتے؟

تاج محمد:

ٹھہرو ذرا بات سنو! ایک ہوتی ہے بحث برائے بحث۔

ڈاکٹر صاحب:

یہ آپ کی تو بحث برائے بحث ہے۔

تاج محمد:

ٹھہرو سنو! خدا کی قسم یہ میرے ہاتھ میں قرآن ہے۔ میں بحث برائے بحث نہیں کرتا جو میری سمجھ میں آرہا ہے میں وہ کہہ رہا ہوں۔

مولانا اﷲ وسایا:

اچھا تو آپ وہی بات کہہ رہے ہیں جو آپ کی سمجھ میں آرہا ہے۔

تاج محمد:

جی۔

مولانا اﷲ وسایا:

اﷲ واسطے مجھے اتنی بات سمجھا دو کہ مرزاقادیانی جو کہتے ہیں کہ…

’’میں بندے دا پتر نہیں۔‘‘

اس کا ترجمہ کیا ہے جو آپ کی سمجھ میں آئے، وہی ترجمہ کر دیں۔ چلئے میں آپ کی

31

سمجھ کو مانتا ہوں۔ کیجئے اس کا ترجمہ کیا کہتا ہے؟

  1. کرم خاکی ہوں میرے پیارے نہ آدم زاد ہوں

    ہوں بشر کی جائے نفرت اور انسانوں کی عار

تاج محمد:

یہ ایک عاجزی کا انتہائی درجہ ہے۔

مولانا اﷲ وسایا:

آپ بھی ذرا اس عاجزی کا اظہار فرمائیں اور کہہ دیں کہ: ’’میں بندے دا پتر نئیں۔‘‘ کریں عاجزی، میرے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے جو انکساری فرمائی، میں ڈاکٹر صاحب اور ہم جتنے مسلمان بیٹھے ہیں ایک دفعہ نہیں وہ ہم کروڑ مرتبہ انکساری یا عاجزی کرنے کے لئے تیار ہیں۔ جو حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے لفظ ارشاد فرمائے ہیں وہ کروڑ مرتبہ دہرانے کے لئے تیار ہوں… جو غلام احمد قادیانی نے کہا آپ بھی کہیں۔ اس نے کہا ہے… کرم خاکی… اور… نہ آدم زاد… آپ بھی عاجزی کر کے یہ کہہ دیں کہ بندے دا پتر نئیں… کر عاجزی… چاچا آپ تو ٹیچر ہیں میں تو تیرے شاگردوں جیسا ہوں۔

تاج محمد:

انہوں نے کہا ہے ’’خاتم القوم‘‘ کے معنی ’’ای آخرہم‘‘ میرا کہنے کا مطلب یہ ہے کہ جس طرح قومیں ختم نہیں ہوگئیں۔

ڈاکٹر صاحب:

تاج! میری بات سن۔ اتنی لمبی بات نہیں، ایک لفظ ہے۔ خاتم… انہوں نے آپ کے سامنے لغات کے حوالے پیش کئے یا تو آپ ان لغات کو تسلیم نہیں کرتے۔ اس میں قوموں کے ختم کی بات نہیں۔ بلکہ جس شخص کو قوم کا خاتم کہا اس کا معنی لغت والوں نے کیا کہ قوم کا آخری۔ قوم کا آخری فرد۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم انبیاء (علیہم السلام) کے آخری فرد ہیں۔

تاج محمد:

کس کو؟

ڈاکٹر صاحب:

لغات والوں کو۔

تاج محمد:

لغات والا ویسے جو کچھ بھی ہے لیکن محاورے میں وہ کبھی غلطی نہیں کر سکتا… ایک چیز ہے جس میں کسی کو دھوکہ نہیں دیا جاسکتا۔ وہ ہے کسی لفظ کا استعمال… یعنی میں کچھ کروں… اسی طرح کوئی معنی آخری کرے… وہ ہوتا ہے لفظ کا استعمال… چنانچہ اسی طرح ان میں ایک خاتم کا لفظ ہے جس طرح خاتم القوم سے قومیں ختم نہیں ہوگئیں۔ اسی طرح

32

خاتم النّبیین سے نبوت ختم نہیں ہوئی بلکہ جاری ہے۔ ایک شخص کہتا ہے ’’ای آخرہم‘‘ وہ اپنی طرف سے کر رہے ہیں۔ جہاں تک استعمال کا تعلق ہے وہ خاتم القوم، خاتم المہاجرین، خاتم الاولاد یہ بالکل نفی نہیں کرتے۔ بلکہ ایک خاص قسم کی نفی کرتے ہیں۔

ڈاکٹر صاحب:

یہ آپ کے ذہن سے نفی کرتے ہیں… آپ کا ذہن یہ کہتا ہے میرے ذہن کے مطابق نفی نہیں۔ بلکہ قوموں، اولادوں اور مہاجرین کے ختم کی بحث نہیں بلکہ جس شخص کو خاتم کہا وہ آخری ہے۔ یہ لغت کا فیصلہ ہے۔

تاج محمد:

جی ہاں۔

ڈاکٹر صاحب:

مولانا آپ کو حوالے دے کر بتا رہے ہیں لغت کے، قرآن کے، حدیث کے، دنیاوی۔ آپ کے دین کے اور آپ کے مرزاقادیانی کے۔ لیکن یہ آپ کا ذہن ہے اگر آپ ساری زندگی یہ کہتے رہیں کہ ڈاکٹر میں یہ نہیں مانتا جو مولانا کہتے ہیں… یہ بات نہیں یا تو آپ مولانا کی بات کی نفی کرو کہ یہ غلط کہتے ہیں، اسے ہم نوٹ کر لیتے ہیں۔ کوئی اور مولانا صاحب سہی، پھر اگلی بات یہ کہ آپ حوالہ دیں قرآن اور حدیث کا ہم اسے نوٹ کر لیتے ہیں۔ اس کو سمجھنے کے لئے کوئی اور مولانا سہی، لیکن یہ بات ٹھیک نہیں۔ آپ بلاوجہ کہتے رہیں میں نہیں مانتا۔ نہیں مانتا تو اس کا کیا علاج ہے کہ مولانا صاحب آپ ساری باتیں غلط کرتے ہیں۔ صرف میں ہی ٹھیک کہتا ہوں۔

تاج محمد:

نہیں، نہیں۔ میرا کہنے کا مطلب یہ ہے کہ میں نے ایک دلیل پیش کی ہے…

ڈاکٹر صاحب:

یہ ایک ایسی علت ہے جسے ڈاکٹری زبان میں بڑا عجیب سا لفظ سمجھتے ہیں اور یہ اس عمر میں پیدا ہو جاتی ہے… میں آپ کی اس بات کو ماننے کے لئے تیار نہیں… میں آپ کی ہر بات مانوں گا۔ لیکن علم کسی کا حرف آخر نہیں… آپ اگر یہ کہیں کہ میں جو کہتا ہوں وہ حرف آخر ہے۔ مولانا جو کہتے ہیں وہ حرف آخر نہیں، انہوں نے پچاس حوالے دئیے آپ نے کوئی حوالہ نہیں دیا… سوال یہ ہے کہ آپ اپنے ذہن کو مطمئن کرنے کے لئے کوئی حوالے پیش کریں… وہ بھی پیش کریں۔ پھر بھی اگر کسی پوائنٹ پر آپ کا ذہن مطمئن نہیں ہوتا تو دوسرے مولانا موجود ہیں۔ لیکن یہ بات غلط ہے کہ آپ ہر بات پر یہ کہیں کہ ’’میں نہیں مانتا۔‘‘

33

تاج محمد:

ذرا ٹھہرو… ایک بات اور سنیں۔

ڈاکٹر صاحب:

ایک نہیں ہزار سناؤ۔ لیکن اس کو دلیل کے ساتھ قرآن تیرے پاس ہے۔ اس کی رو سے بات کر، حدیث تیرے پاس ہے اس کی رو سے کر، اس سے پیش کر… اگر آپ کے پاس نہیں تو ہمارے پاس موجود ہے اس سے حل کر۔ پھر اسے سمجھ اور مولانا کو سمجھا۔ میں اسے نوٹ کر لیتا ہوں۔ کسی اور مولانا کو بلالیتے ہیں۔ اگر یہ غلط کہتے ہیں تو دوسرا صحیح کہے گا۔ اگر وہ بھی غلط کہیں گے تو تیسرا سہی۔ کوئی بات حرف آخر نہیں۔

تاج محمد:

ٹھیک ہے…

ڈاکٹر صاحب:

آپ جو مولانا کی دلیل کو رد کرتے ہیں وہ صرف دلیل سے کر سکتے ہیں، قرآن سے کر سکتے ہیں، حدیث سے کر سکتے ہیں، اپنے مرزاقادیانی کی کتابوں سے کر سکتے ہیں۔ لیکن آپ یہ نہیں کہہ سکتے کہ ’’میں نہیں مانتا۔‘‘

تاج محمد:

پھر سنو! دیکھو… میں نے… میرا کہنے کا مطلب یہ ہے کہ جس طرح انہوں نے ’’خاتم القوم‘‘ کے معنی یہ کئے ہیں۔ جس طرح قوموں کا خاتمہ نہیں ہوتا، قومیں جاری رہتی ہیں۔ اسی طرح یہ خاتم کا معنی جو ہے نفیٔ جنس نہیں… اچھا۔

ڈاکٹر صاحب:

یہ گرائمر… روز پڑھاتے ہو… کسی بھی زبان کو سیکھنے کے لئے اس کی گرائمر انتہائی ضروری ہے۔ انگریزی، اردو، فارسی، سنسکرت، کوئی زبان بھی لیں۔ گرائمر کے بغیر مکمل نہیں ہوسکتی۔

تاج محمد:

ٹھیک ہے۔ ہاں! ٹھیک ہے۔

ڈاکٹر صاحب:

اگر آپ یہ کہتے رہیں کہ ’’میں نہیں مانتا۔‘‘ مولانا اﷲ وسایا کہیں کہ میں تجھ سے منواؤں گا… یہ بات نہیں۔ یہ گرائمر موجود ہے۔ ہم عربی کی گرائمریں منگوا لیتے ہیں۔ اس کے لحاظ سے اس کا ترجمہ کریں۔ آخر کسی صورت تو ماننا پڑے گا۔ میں آپ کو نہیں جانے دوں گا چاہے دو دن بھوکے رہو۔

مولانا صاحب جو بات منواتے ہیں وہ نہ مان اور جو کوئی کہتا ہے وہ نہ مان۔ لیکن اس گرائمر کی رو سے جو ترجمہ ہے، وہ ماننا پڑے گا۔ نئیں تو میں نے تینوں نئیں چھڈنا۔

تاج محمد:

ٹھیک ہے۔

34

ڈاکٹر صاحب:

میں اپنی زبان سے کوئی مہمل کلمہ بول دیتا ہوں، دوسرا صحیح کلمہ بولتا ہے اس کو کیا کہیں گے؟ یہ آپ کو گرائمر کی رو سے ماننا پڑے گا۔ آپ اپنے شاگردوں کو نمبر دیتے ہیں۔ ہم شاگردہیں۔ کیا ان کے نمبر نہیں دیتے کہ اس بچے نے مہمل کلمہ لکھا ہے، اس بچے نے صحیح کلمہ لکھا ہے۔ یہ حرف کی تعریف ٹھیک لکھی ہے۔ یہ غلط لکھی ہے وغیرہ وغیرہ!

لیکن اس سے انکار نہیں کر سکتے، اگر مولانا صاحب گرائمر نہیں جانتے یا گرائمر کے لحاظ سے نہیں سمجھاتے تو میں دوسرے مولانا کو ابھی منگوا لیتا ہوں، لیکن یہ بات آپ نہیں کہہ سکتے کہ جو میں کہتا ہوں وہ حرف آخر ہے اور جو مولانا اﷲ وسایا کہتے ہیں حرف آخر نہیں۔ وہ آپ کو دلیل سے سمجھاتے ہیں اور آپ کہتے ہیں… ’’میں نہیں مانتا‘‘ یہ غلط ہے۔ دلیل سے اپنے دماغ کے خانے میں ان کی بات کو بٹھانے کی کوشش کرو۔

مولانا اﷲ وسایا:

آپ نے حضور اکرمa کی خاتم النّبیین والی آیت کے متعلق یہ ارشاد فرمایا کہ خاتم النّبیین کا معنی آخری نہیں میں نے ابتداء میں آپ سے درخواست کی کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کا ترجمہ پوچھ لیں۔ مدینے والے رحمت عالم صلی اللہ علیہ وسلم جو اس کا ترجمہ فرمادیں آپ بھی مان لیں، میں بھی مان لیتا ہوں۔

ڈاکٹر صاحب:

عکرمہؓ ابوجہل کے بیٹے تھے؟

تاج محمد:

ہاں۔

ڈاکٹر صاحب:

وہ کہتا تھا کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم خاتم النّبیین ہیں، میں ان کو مانتا ہوں۔ اس کا ابا الّو کا پٹھا کہتا تھا میں نہیں مانتا… وہ کہے جارہا ہے میں نہیں مانتا۔ اس کا بیٹا مانتا ہے۔ کتنے ہی دلائل اس کے ابے کو دئیے گئے وہ نہ مانا۔ اگر آپ نے نہیں ماننا تو اس کا تو کوئی حل نہ مولانا صاحب کے پاس ہے نہ میرے پاس۔ آپ دلائل سے بات کریں اپنی کتابوں کا حوالہ دیں۔ اپنی احادیث کا حوالہ دیں۔ اپنے پیغمبر کا حوالہ دیں۔ اپنے (ہمارے نہ) اپنے آخری رسول کا حوالہ دیں یا ہمارے آخری رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا دیں بات تو ہے سمجھنے کی، اپنے ذہن میں لانے کی، اپنی عقل میں بٹھانے کی، اپنے آپ کو ہوش میں لانے کی اگر وہ دلیل سے بات کرتے ہیں تو اس کا جواب دلیل سے دیں۔ چلیں!

مولانا اﷲ وسایا:

اگر میں خاتم کا معنی وہی تسلیم کر لوں تو یہ بتائیں کہ کیا چودہ سو سال میں کوئی اور حضور(صلی اللہ علیہ وسلم) کے بعد نبی بنا؟ اس کا جواب دیں۔

35

تاج محمد:

یار ایہدا جواب میرے پاس نئیں۔

ڈاکٹر صاحب:

تاج! خاتم النّبیین کا جو ترجمہ آپ کرتے ہیں اس کا یہاں اردو میں ترجمہ لکھیں… ڈاکٹر صاحب کے کہنے سے وہ قران پاک پر ترجمہ لکھنے لگا تو مولانا اﷲ وسایا صاحب نے اسے روکا کہ ’’قرآن پاک کو بطور تختی کے استعمال نہ کریں۔‘‘ چنانچہ انہوں نے لکھا۔

آواز آئی… کی لکھیا؟

مولانا اﷲ وسایا:

انہوں نے لکھا ہے۔ خاتم النّبیین کا معنی نبیوں میں سب سے بڑا۔ چلئے اس کے ثبوت کے لئے کوئی آیت پیش کریں۔ کوئی حدیث پیش کریں۔ کوئی لغت کی کتاب پیش کریں۔

تاج محمد:

خاتم المہاجرین جو میں نے پیش کیا۔

ڈاکٹر صاحب:

یہ آپ نے ترجمہ کیا ہے۔ یہ قرآن پاک آپ کے پاس ہے، نکال لیں اس میں سے کہ ہے کہیں یہ ترجمہ؟

جتنے بھی وہاں بیٹھے ہوئے تھے، سب نے تاج صاحب پر زور دیا کہ کڈھ کڈھ ایہہ ترجمہ… جلدی کر۔ لیکن خاموشی جواب ندارد۔

مولانا اﷲ وسایا:

حضرت آدم علیہ السلام سے لے کر حضور اکرمa تک ایک لاکھ چوبیس ہزار پیغمبر آئے، وہ سب کے سب نسل انسانی میں سے تھے۔ یہ مرزاقادیانی کو نبی مانتے ہیں اور مرزاقادیانی وہ ہیں جو کہتے ہیں کہ: ’’میں بندے دا پتر ای نئیں۔‘‘

اگر میں نے یہ عبارت غلط پڑھی ہے، ان کی کتاب میں نہیں، ان کی خدمت میں درخواست کرتا ہوں کہ کتاب سے انکار کر دیں… میں مجرم۔

اگر حوالہ نہ دکھاؤں جو چور کی سزا وہ میری سزا۔ یا جو ڈاکٹر صاحب تجویز فرما دیں… میرے واسطے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث حجت، تمہارے لئے غلام احمد کا کلام حجت، تم حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث پڑھو۔ ’’میں تہاڈا منہ چماں۔‘‘ میں غلام احمد قادیانی کی ’’حدیث‘‘ پڑھتا ہوں، آپ مجھے شاباش نہیں دیتے۔ اس کا ترجمہ تو کر دیں۔ اب کیجئے ترجمہ۔

کرم خاکی ہوں میرے پیارے نہ آدم زاد ہوں

36

اردو ہے، آپ علی گڑھ کے پڑھے ہوئے ہیں۔ کریں ترجمہ یا پھر علی گڑھ کی سندات پھاڑ ڈالیں۔

تاج محمد:

بھائی ٹھیک ہے۔ یہ جو چیزیں ہیں، یہ آپ نے کچھ ریفرنس پیش کئے ہیں۔ ان پر غور کروں گا۔

ڈاکٹر صاحب:

کر دیں ترجمہ۔

تاج محمد:

نہیں… ٹائم دیکھو۔

ڈاکٹر صاحب:

ایہہ گل غلط اے! آپ کا کیا مطلب ہے کہ مولانا فارغ ہیں۔

تاج محمد:

نہیں میرا مطلب یہ ہے کہ اگر مجھے علم ہوتا تو میں ایک دن فارغ کر لیتا… دیکھو نہ۔

مولانا فضل امین:

مولانا اﷲ وسایا صاحب دوسرا حوالہ پیش کریں۔

تاج محمد:

نہیں یار نہیں… اس کے لئے مولانا کچھ وقت چاہئے۔

مولانا اﷲ وسایا:

میں آپ سے کوئی وقت کی پابندی نہیں لگاتا۔ جو آپ ریفرنس پیش کریں میں سنوں گا۔ آپ پر کوئی پابندی نہیں۔ لیکن مجھ سے ریفرنس سننے کی آپ آمادگی پیدا کریں۔

تاج محمد:

میں آپ کا پابند نہیں۔

مولانا اﷲ وسایا:

میاں صاحب! آپ ساری دنیا سے یہ کہتے ہیں کہ مولوی ہم سے لڑتے ہیں، کون سا مولوی لڑتا ہے؟ میں نے تو ٹھنڈی ٹھنڈی باتیں کی ہیں۔ کہتے ہیں جی مولوی تو گالیاں نکالتے ہیں… وہ کون سا مولوی ہے جو گالیاں نکالتا ہے۔ میں نے تو پیار سے گذارشات پیش کی ہیں۔ مرزاقادیانی کہتے ہیں کہ… ’’میں بندے دا پتر ای نئیں۔‘‘

تاج محمد:

’’یار اس توں علاوہ کوئی ہور گل کر۔‘‘

مولانا اﷲ وسایا:

مرزاقادیانی کی اس بات کا مرزائی قیامت تک جواب نہیں دے سکتے۔ پوری دنیا کے قادیانی اکٹھے ہو جائیں، اس کا جواب نہیں دے سکتے۔ وہ اپنے ہاتھ سے لکھ کے گیا ہے۔

دوسری بات سنئے! عام مسلمان چھوٹے سے چھوٹے مسلمان کسی سے پوچھ لیں اور تمام مسلمانوں کا یہ عقیدہ ہے کہ نبی دھوکے باز نہیں ہوتا، نبی جھوٹ نہیں بولتا۔ فراڈ نہیں

37

کرتا… میری درخواست یہ ہے کہ مرزاغلام احمد قادیانی نے بیک وقت ایک کام میں دھوکہ اور فراڈ کیا اور فراڈیا نبی نہیں ہو سکتا۔

مرزاقادیانی نے ایک کتاب لکھی جس کا نام ’’براہین احمدیہ‘‘ ہے۔ انہوں نے لوگوں سے کہا کہ وہ مجھے پیسے دیں اور پیسے دے کر مطمئن رہیں میں حقائق اسلام پر ایک کتاب لکھنے لگا ہوں، اس کتاب کی پچاس جلدیں ہوں گی اور ۵۰جلدوں کی یہ قیمت ہے۔ مجھے پیشگی بھیج دو۔ کیونکہ میرے پاس اس کی طباعت کے لئے رقم نہیں ہے… لوگوں نے پیسے دئیے۔ مرزاقادیانی نے ہمت کر کے صرف ایک بڑی موٹی اور ضخیم کتاب چار جلدوں میں لکھ دی اور اسے چار حصوں میں تقسیم کر دیا۔

حصہ اوّل، دوم، سوم، چہارم، چار حصوں میں چھاپ کر کہنے لگے کہ چار جلدیں آگئیں۔ باقی چھیالیس جلدیں بچ گئیں۔ پیسے پچاس کے لئے اور کتاب چار حصے بنا کر ایک ہی دی۔

کافی عرصہ گزر گیا لوگوں نے خط لکھنے شروع کر دئیے کہ حضرت صاحب کتاب نہیں آئی… مرزاقادیانی خود بھی کہتے ہیں کہ نور الدین نے بھی مجھے خط لکھا کہ یا تو کتابیں پوری کرو یا پیسے واپس کرو۔ لوگ ہم سے بدظن ہیں۔ پھر بھی مرزاقادیانی نے نہ کتابیں پوری لکھیں اور نہ پیسے واپس کئے۔ کافی عرصہ کے بعد پانچویں جلد لکھ دی اور اس میں اعلان کر دیا کہ پچاس اور پانچ میں ایک نقطہ کا فرق ہے۔ لہٰذا پانچ سے وہ وعدہ پورا ہو گیا… حوالہ موجود ہے۔

بات یہیں تک پہنچی تھی کہ مرزائی مبلغ وقت کی قلت کا بہانہ کر کے اٹھ کھڑے ہوئے اور مجلس برخواست ہوگئی۔ پھر کبھی گفتگو کے لئے تیار نہیں ہوئے۔

(نوٹ: یہ گفتگو ٹیپ ریکارڈ میں محفوظ اور من وعن نقل کی گئی۔ از قلم مولانا محمد حنیف ندیم سہارنپوریؒ)

ض … ض … ض

38

مناظرہ چنگا بنگیال

عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے مبلغین حضرات کی سہ ماہی میٹنگ میں ۲۶؍شوال سے ۲۶؍ذیقعد ۱۴۲۴ھ تک فقیر (مولانا اﷲ وسایا) کے پروگرام شیخوپورہ، لاہور، گوجرانوالہ، سیالکوٹ، گجرات، راولپنڈی، اسلام آباد، چکوال، میانوالی، لیہ اور بھکر کے اضلاع کے لئے طے ہوئے۔ گجرات سے فراغت کے بعد مجھے راولپنڈی جانا تھا۔ درمیان میں جمعرات کا دن ۱۵؍ذیقعدہ ۱۴۲۴ھ مطابق ۸؍جنوری ۲۰۰۴ء سفر کے لئے فارغ رکھا تھا۔ چنگا بنگیال کے محترم جناب پروفیسر محمد آصف کو خط لکھ دیا کہ اس دن آپ کی لائبریری دیکھنے کے لئے حاضر ہونا ہے۔

چنانچہ چنگا بنگیال جانے کے لئے گوجر خان صبح دس گیارہ بجے جمعرات کو حاضر ہوگیا۔ محترم پروفیسر صاحب نے بتایا کہ چنگا بنگیال کے قادیانیوں سے میری رشتہ داری ہے۔ ان سے گفتگو ہوتی رہتی ہے۔ آپ کا خط ملا تو آج ان سے قادیانیت پر گفتگو رکھی ہے۔ قادیانی اور مسلمان چند رشتہ دار بیٹھک میں جمع ہوں گے۔ قادیانی مربی آئے گا۔ آپ گفتگو کریں گے۔ لیکن ہم نے آپ کانام نہیں بتانا۔ صرف یہ کہہ کر تعارف کرائیں گے کہ ہمارے دوست ہیں اور گفتگو شروع ہو جائے گی۔ فقیر نے عرض کیا کہ میرا آنا اختیاری تھا۔ آپ سے وعدہ نہ تھا۔ کوئی ضروری کام ہو جاتا تو سفر کینسل بھی ہوسکتا تھا۔ آپ نے گفتگو رکھی تو مجھے اطلاع ہونی چاہئے تھی۔ تاکہ سفر یقینی ہو جاتا۔ ورنہ حاضر نہ ہونے کی صورت میں آپ کو پریشانی ہوتی۔ خیرگفتگو کس عنوان پر ہوگی؟ انہوں نے بتایا کہ ہم مرزاقادیانی کے حوالہ سے گفتگو کریں گے۔ پروفیسر صاحب نے فرمایا کہ میری گفتگو چل رہی ہے۔ میں ہی گفتگو کا آغاز کروں گا۔ جہاں ضروری ہوا آپ شامل گفتگو ہو جائیں گے۔ طے ہوا کہ ظہر کے بعد گوجر خان سے چلیں گے۔ چنانچہ پروفیسر صاحب قادیانیوں کو گفتگو کا پابند کرنے کے لئے چنگا بنگیال چلے گئے۔ ہم حسب وعدہ ظہر کے بعد روزانہ ہوئے۔ لیکن آگے سڑک پر گیس والے کھدائی کر رہے تھے۔ سڑک بند تھی۔ ٹریفک بلاک تھی۔ کچھ پیدل چلنا پڑا۔ ہمیں وہاں پہنچتے پہنچتے عصر ہوگئی۔ عصر پڑھ کر قادیانیوں کے مکان پر حاضر ہوئے اور گفتگو ہوئی۔

39

فضل احمد:

چنگابنگیال کے ایک قادیانی فضل احمد تھے۔ اچھے ذی استعداد عالم تھے۔ طبیعت آزاد پائی تھی۔ ایک کتاب ’’اسرار شریعت‘‘ کئی حصوں میں لکھی۔ مرزاقادیانی کا تعارف سنا، قادیان گئے اور قادیانیت کا طوق پہن لیا۔ الفضل قادیان کے کچھ عرصہ ایڈیٹر بھی رہے۔ بعض لوگوں کا کہنا ہے کہ الفضل قادیان کا نام بھی ان کی مناسبت سے الفضل رکھاگیا۔ اسرار شریعت میں انہوں نے اسرار وحکمتیں بیان کی ہیں کہ نمازیں پانچ کیوں ہیں؟ دن کو اتنی، رات کو اتنی، فرض اتنے، سنتیں اتنی، یہ کیوں؟ وغیرہ وغیرہ۔ مرزاقادیانی نے اس اسرار شریعت سے صفحات کے صفحات اپنی کتابوں، اسلامی اصول کی فلاسفی، برکات الدعا، کشتی نوح، نسیم دعوت اور آریہ دھرم میں ان کا نام ذکر کئے بغیر نقل کر کے اسے اپنی تصنیف ظاہر کیا۔

ایک بار قادیانیوں نے ’’کمالات اشرفیہ‘‘ نامی کتابچہ شائع کیا۔ مرزاقادیانی کی کتاب اور حضرت تھانویؒ کی کتاب ’’المصالح العقلیہ! یعنی احکام اسلام عقل کی نظر میں‘‘ کے صفحات مقابلہ پر شائع کر کے اعلان کیا کہ مرزاقادیانی کی کتاب پہلے کی شائع شدہ ہے۔ جب کہ حضرت تھانویؒ کی کتاب بعد کی ہے۔ ثابت ہوا کہ حضرت تھانویؒ نے مرزاقادیانی کی کتابوں کے صفحات کے صفحات لے کر اپنی کتاب میں شائع کئے ہیں۔ اس انکشاف پر کہرام قائم ہوگیا۔ یہ قادیانی دجل کا شاہکار تھا کہ حضرت تھانویؒ کو مرزاقادیانی کی کتابوں سے سرقہ کرنے والا ظاہر کیاگیا۔ ﷲتعالیٰ نے کرم کیا کہ ہمارے مخدوم حضرت مولانا علامہ خالد محمود صاحب نے اسرار شریعت پڑھی ہوئی تھی۔ انہیں عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے مرکزی دفتر سے کتاب اسرار شریعت مل گئی۔ جب انہوں نے اس کتاب اور حضرت تھانویؒ کی کتاب کا تقابل کیا کہ فضل احمد چنگا بنگیال کے جب مسلمان تھے، یہ کتاب اسرار شریعت لکھی تھی۔ حضرت تھانویؒ نے اپنی کتاب میں اس سے عبارات نقل کیں اور مرزاقادیانی نے بھی اسرار شریعت سے نقل کی۔ اسرار شریعت حضرت تھانویؒ کی کتاب اور مرزاقادیانی ملعون کی کتاب سے پہلے کی تصنیف کردہ ہے۔ دونوں نے اس کتاب سے اقتباس لئے۔ لیکن:

۱… مرزاقادیانی نے اس کتاب اسرار شریعت سے اقتباس لئے، لیکن ان کا حوالہ نہ دیا۔

۲… مرزاقادیانی نے ان اقتباس کو اپنی کتاب میں سمو کر اپنی تصنیف بتایا۔ یہ اس کی بددیانتی کا کھلا شاہکار تھا۔ لیکن اس کے مقابل پر حضرت تھانویؒ نے اپنی کتاب کے مقدمہ

40

میں واضح طور پر لکھ دیا کہ مجھے ایک کتاب (اسرار شریعت) ملی ہے۔ اس میں رطب ویابس سب کچھ ہے۔ اس سے بعض چیزیں میں اپنی کتاب میں نقل کر رہا ہوں۔ حضرت تھانویؒ کی کمال دیانت اور مرزاقادیانی کے کمال دجل کا پول حضرت علامہ خالد محمودصاحب نے کھولا تو قادیانی امت بوکھلا گئی۔ قادیانیوں کی کمال عیاری اور کمال کذب کو دیکھ کر دنیا حیران رہ گئی کہ قادیانی کس طرح ناواقف لوگوں کو دھوکہ دیتے ہیں ؎

  1. ہیں کواکب کچھ، نظر آتے ہیں کچھ

    دیتے ہیں دھوکہ یہ بازیگر کھلا

یہ مولوی فضل احمد بعد میں ترقی کر کے خود مدعیٔ الہام ومدعیٔ نبوت ہوگئے۔ چنانچہ خود کئی رسالے لکھے۔ جن میں اپنے الہام شائع کئے۔ قرآن مجید میں جہاں سیدنا موسیٰ علیہ السلام کو حکم ہے کہ آپ (موسیٰ علیہ السلام) جاکر فرعون کو ڈرائیں۔ فضل احمد نے ان آیات کو اپنے اوپر نازل شدہ بتا کر اپنے آپ کو موسیٰ اور چنگا بنگیال کے رہائشیوں کو فرعون قرار دیا۔ ’’وغیرہ ذالک من الہفوات‘‘ مرزاقادیانی کی دیکھا دیکھی اور بھی قادیانیوں نے نبوت کا دعویٰ کیا۔ ان میں ایک فضل احمد بھی تھا۔ بعض لوگوں کا کہنا ہے کہ فضل احمد نے مرنے سے پہلے قادیانیت کو ترک کر دیا تھا۔ واﷲ اعلم!

اس فضل احمد کے ذریعہ مرزاقادیانی کے زمانہ میں چنگا بنگیال میں قادیانیت پھیل گئی تھی۔ اب اسی فضل احمد کے خاندان کے بہت سارے گھرانے مسلمان ہو گئے ہیں۔ ان میں سے ایک پروفیسر محمد آصف بھی ہیں۔ پروفیسر صاحب کے پاس فضل احمد کی کتابیں ہیں۔ فقیر نے ان سے درخواست کی کہ عربی وفارسی، قادیانیت اور ردقادیانیت کی کتب مرکزی دفتر کی لائبریری کے لئے عنایت کر دیں۔ چنانچہ مناظرہ سے فراغت کے بعد لائبریری سے کتابیں لے کر مولانا مفتی محمود الحسن اسلام آباد لے گئے۔ وہاں سے دفتر ملتان انہوں نے بھجوانی تھیں۔ یہ ایک ضمنی بات تھی جو درمیان میں آگئی۔

روئیداد مناظرہ چنگا بنگیال

عصر کی نماز پڑھ کر پروفیسر محمد آصف صاحب نے فقیر کو ساتھ لیا اور قادیانی راجہ سعید کے مکان پر گئے۔ آٹھ یا نو کل افراد تھے۔ جن میں مرزائی، مسلم موجود تھے۔ اکثریت

41

پروفیسر صاحب کے رشتہ داروں کی تھی یا واقف کاروں کی۔ قادیانیوں نے گفتگو کے لئے سعید الحسن قادیانی مربی کو تیار کیا ہوا تھا۔ بہرحال پہنچتے ہی مختصر تعارف کے بعد گفتگو شروع ہوئی۔

پروفیسر محمد آصف صاحب:

ہمیں یہ دیکھنا ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا مہدی علیہ السلام یا سیدنا مسیح علیہ السلام کے متعلق کیا فرمایا ہے اور مرزاقادیانی ان علامات ومعیار پر پورا اترتا ہے؟ یا نہیں؟

قادیانی مربی سعید الحسن:

ہمیں وفات وحیات مسیح علیہ السلام پر گفتگو کرنی چاہئے۔ اگر مسیح علیہ السلام کی حیات ثابت ہو جائے تو مرزاقادیانی کے تمام دعاوی جھوٹے۔

پروفیسر صاحب:

انحضرتa نے سیدنا مہدی علیہ السلام ومسیح علیہ السلام کی جو علامات بتائی ہیں، وہ مرزاقادیانی میں دکھادیں۔ حیات مسیح علیہ السلام سمیت ساری بحث مکمل ہو جائے گی۔ مرزاقادیانی کو ان نشانیوں کی رو سے سچا بتادیں۔

قادیانی مربی:

آپ مرزاقادیانی کو کس حیثیت سے جانچنا چاہتے ہیں؟

پروفیسر صاحب:

نام، ذات، شخصیت اور دعاوی۔ ان چاروں حیثیتوں سے۔ پہلے امام مہدی علیہ السلام کی علامات کو لیں۔

قادیانی مربی:

پہلے حیات مسیح علیہ السلام پر بحث کریں۔

پروفیسر صاحب:

مرزاقادیانی کے دعاوی مہدی اور مسیح کے ہیں۔ منصب کے اعتبار سے پہلی سٹیج مہدی علیہ الرضوان کی ہے۔ سیدنا عیسیٰ علیہ السلام توان سے بلند وبالاتر ہیں۔ اس لئے مہدی علیہ الرضوان کی علامات جو رحمتدوعالم صلی اللہ علیہ وسلم نے بیان فرمائی ہیں، ان کو احادیث کی روشنی میں دیکھ لیتے ہیں۔ پھر مرزاقادیانی میں وہ علامات دیکھیں گے۔ اگر ان میں پائی گئیں تو پھر مسیح علیہ السلام کی علامات کو دیکھیں گے کہ وہ مرزاقادیانی میں پائی جاتی ہیں؟ یا نہیں؟ اس وقت حیات عیسیٰ علیہ السلام پر بھی بحث ہو جائے گی۔

قادیانی مربی:

آپ حیات مسیح علیہ السلام پر بحث کا آغاز کریں۔

فقیر:

آپ لکھ کر دے دیں کہ رحمت دو عالمa نے سیدنا مہدی علیہ الرضوان کی جو نشانیاں بیان فرمائی ہیں وہ مرزاقادیانی میں نہیں پائی جاتیں تو پھر ابھی حیات مسیح علیہ السلام پر گفتگو کا آغاز ہو جائے گا۔

42

قادیانی مربی:

مرزاقادیانی مہدی ہیں۔ ان میں علامات پائی جاتی ہیں۔ میں کیوں انکار کروں؟

پروفیسر صاحب:

بہت اچھا! میں مولانا (اشارہ فقیر کی طرف) سے درخواست کرتا ہوں کہ وہ احادیث شریف کی روشنی میں ہمیں سیدنا مہدی علیہ الرضوان کی علامات بیان کریں۔

فقیر:

’’بسم اﷲ الرحمن الرحیم! اللہم صلی علیٰ سیدنا محمد وعلیٰ آلہ واصحابہ اجمعین۰ اما بعد! یہ میرے ہاتھ میں صحاح ستہ میں شامل کتاب ابوداؤد شریف ہے۔ صحاح ستہ میں ابوداؤد شریف کا شامل ہونا مرزاقادیانی کو مسلم ہے۔ ابوداؤد شریف (ج۲ ص۱۳۰،۱۳۱) پر سیدنا مہدی علیہ الرضوان پر مشتمل باب ہے۔ اس باب میں کل روایات گیارہ ہیں۔ جو حضرت جابر بن سمرہؓ، حضرت عبداﷲ بن مسعودؓ، حضرت سیدنا علی المرتضیٰؓ، حضرت ام سلمہؓ اور حضرت ابی سعید خدریؓ جیسے جید صحابہ کرامؓ سے منقول ہیں۔ ان میں سے سب سے پہلے میں اس روایت کی تلاوت کرتا ہوں۔ جس میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا مہدی علیہ الرضوان کا نام، والد کا نام، قومیت اور جائے پیدائش کا ذکر فرمایا ہے۔ چنانچہ:

۱… حضرت عبداﷲ بن مسعودؓ سے روایت ہے:’’عن ابن عبداﷲ عن النبیa قال لو لم یبق من الدنیا الایوم، لطول اﷲ ذالک الیوم حتیٰ یبعث اﷲ فیہ رجل منی او من اہل بیتی، یواطیٔ اسمہ اسمی، واسم ابیہ اسم ابی، یملاء الارض قسطاً وعدلاً کما ملئت ظلما وجورا… الخ (ابوداؤد ج۲ ص۱۳۱، باب ذکر المہدی)‘‘ اسی روایت کو امام ترمذیؒ نے ترمذی شریف (ج۲ ص۴۷، باب ماجاء فی المہدی) میں بھی ذکر فرمایا ہے۔ اس کے علاوہ یہی روایت متعدد کتب احادیث میں مذکور ہے۔ اس کا ترجمہ یہ ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اگر دنیا کا ایک دن بھی باقی رہ جائے۔ تب بھی ﷲتعالیٰ اس دن کو لمبا فرمائیں گے۔ (یعنی یقینی ہے کہ قیامت سے پہلے ایسے ضرور ہوگا) حتیٰ کہ ﷲتعالیٰ اس میں ایک شخص کو بھیجیں گے۔ (یقنی طور پر ایسے ہو کر رہے گا) جو مجھ سے یعنی میرے اہل بیت سے ہوگا۔ اس کا نام میرے نام پر ہوگا۔ (یعنی محمد) اس کے والد کا نام میرے والد کے نام پر (عبداﷲ) ہوگا۔ وہ زمین کو عدل وانصاف سے بھردے گا۔ جیسا (ان سے قبل) وہ ظلم وجور سے بھری ہوئی ہوگی۔

43

۲… ابوداؤد کے اسی صفحہ پر ہے:’’عن ام سلمۃؓ: قالت سمعت رسول ﷲ صلی اللہ علیہ وسلم یقول المہدی من عترتی من ولد فاطمۃ… الخ!‘‘ ام المومنین حضرت ام سلمہؓ فرماتی ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے میں نے سنا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ مہدی علیہ الرضوان میری عترت یعنی فاطمہؓ کی اولاد سے ہوں گے۔

۳… ابوداؤد کے اسی صفحہ پر حضرت ام سلمہؓ سے روایت ہے کہ: ’’مدینہ طیبہ میں ایک خلیفہ کی وفات پر جانشینی کے مسئلہ پر اختلاف ہوگا تو مہدی علیہ الرضوان مدینہ طیبہ سے مکہ مکرمہ آجائیں گے۔ اہل مکہ ان کی بیعت کریں گے۔ رکن یمانی وحجر اسود کے مقام پر ان سے بیعت ہوگی۔ ان کے پاس شام وعراق کے ابدال مقام ابراہیم پر آکر بیعت ہوں گے۔‘‘

متعدد کتب حدیث سے میں نے صرف ابوداؤد کی یہ روایتیں آپ کے سامنے تلاوت کی ہیں۔ یہ کتاب ابوداود شریف مرزاقادیانی کی پیدائش سے صدیوں پہلے لکھی گئی۔ ظاہر ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اگر حضرت مہدی علیہ الرضوان کی آمد کا تذکرہ فرمایا تو اس کی علامات بھی بیان فرمائیں۔ چنانچہ ان روایات سے جو ابھی ابوداؤد شریف سے میں نے بمع ترجمہ کے آپ کے سامنے تلاوت کیں۔ ترجمہ غلط ہو تو قادیانی مربی مجھے ٹوک دیں اور اگر روایات نہ ہوں تومجھے بولنے سے روک دیں۔ (قادیانی سامعین آپ بات مکمل فرمائیں)

فقیر:

بہت اچھا! ان روایات سے ثابت ہوا کہ:

۱… سیدنا مہدی علیہ الرضوان کا نام محمد ہوگا۔

۲… سیدنا مہدی علیہ الرضوان کے والد کا نام عبداﷲ ہوگا۔

۳… سیدنا مہدی علیہ الرضوان آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی عترت سے ہوں گے۔ فاطمتہ الزہراءؓ کی نسل سے ہوں گے۔

۴… مدینہ طیبہ میں پیدا ہوں گے۔

۵… مکہ مکرمہ تشریف لائیں گے۔

یہ پانچ بنیادی علامات آپ مرزاقادیانی میں دکھا دیں۔ تاکہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام پر گفتگو کا آغاز ہو سکے۔

44

قادیانی مربی:

دیکھیں! مولانا صاحب نے ابوداؤد کھول کر روایات پڑھیں، ان کا ترجمہ کیا۔ لیکن کیا صرف یہی حضرت مہدی علیہ الرضوان کی علامات ہیں؟ حضرت مہدی علیہ الرضوان کی بہت ساری علامات ہیں۔ پھر ان میں اختلاف ہے۔ ان کو لیں تو وقت بہت لگے گا۔ اس لئے حیات مسیح علیہ السلام پر بحث کریں۔

فقیر:

میں ان تمام علامات مہدی علیہ الرضوان کو جو احادیث صحیحہ میں بیان کر دی گئی ہیں۔ ان کو مانتا ہوں۔ اگر ان میں آپ کے نزدیک اختلاف ہے تو محدثین نے اس کی تطبیق دی ہے۔ آپ میری باتوں کا جواب دیں۔ پھر اختلاف روایات بیان کریں۔ میں تطبیق بیان کروں گا۔ ابھی فیصلہ ہو جائے گا۔

قادیانی مربی:

آپ لکھ کر دیں کہ مہدی کی علامات میں کوئی اختلاف نہیں۔ میں ابھی اختلاف بتاتا ہوں۔

فقیر:

الحمدﷲ! ہم نتیجہ کی طرف بڑھ رہے ہیں۔ مجھے خوشی ہے کہ میرے سامنے تشریف فرما میرے دوست، قادیانی مربی صاحب نتیجہ خیز مجھ سے مطالبہ کر رہے ہیں۔ لائیں کاغذ میں لکھ کر دیتا ہوں کہ:

۱… تمام احادیث میں حضرت مہدی علیہ الرضوان کے نام پر کوئی اختلاف نہیں۔ تمام احادیث متفق ہیں کہ حضرت مہدی علیہ الرضوان کا نام محمد ہوگا۔ کوئی ایک روایت اس کے خلاف ہے تو میرے دوست قادیانی کرم فرمابتائیں۔ میں بڑے ادب سے درخواست کرتا ہوں کہ قیامت تک ایک روایت ایسی نہیں بتاسکتے نہ صحیح، نہ غلط، جس میں مہدی علیہ الرضوان کا نام محمد کے علاوہ کوئی ذکر ہو۔

۲… تمام احادیث میں اس بات پر کوئی اختلاف نہیں کہ سیدنا حضرت مہدی علیہ الرضوان کے والد کا نام عبداﷲ ہوگا۔ اس پر تمام احادیث متفق ہیں۔ اس پر کوئی اختلاف ہو تو میرے قادیانی دوست روایت بیان کریں۔ قیامت تک نہیں دکھا پائیں گے۔

۳… تمام احادیث کا اتفاق ہے کہ مہدی علیہ الرضوان آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے خاندان، فاطمی چشم وچراغ ، سیدہ فاطمہؓ کی اولاد سے ہوں گے۔ اس کے خلاف کوئی روایت ہے تو میرے قادیانی دوست مناظر پیش کریں۔ میرا دعویٰ ہے کہ اس کے خلاف قیامت تک روایت پیش نہیں کر سکتے۔

45

۴… سیدنا مہدی علیہ الرضوان مدینہ طیبہ سے مکہ مکرمہ آئیں گے۔ اس میں کوئی اختلاف نہیں۔ اس کے خلاف کوئی روایت ہے تو میرے قادیانی دوست پیش کریں۔ جب کہ میرا دعویٰ ہے کہ قیامت تک پیش نہیں کر سکیں گے۔

۵… سیدنا مہدی علیہ الرضوان مکہ مکرمہ آئیں گے۔ یہ بھی متفقہ روایت ہے۔ اس کے خلاف بھی میرے قادیانی دوست کوئی روایت ہے تو بیان کریں۔ میرا دعویٰ ہے کہ قیامت تک بیان نہ کر سکیں گے۔

اب میں تمام حضرات کے سامنے اعتراف کرتا ہوں، لکھ کر دیتا ہوں اور دسیوں انگلیوں کے نشان لگا کر دیتا ہوں کہ میں نے جو علامات مہدی علیہ الرضوان حدیث سے پیش کی ہیں۔ یہ متفقہ ہیں، ان میں کوئی اختلاف نہیں۔ اب میں بھی اپنے قادیانی مربی ومناظر سے درخواست کرتا ہوں کہ وہ ان علامات کے خلاف کوئی روایت ہے تو بیان کریں۔ میرا دعویٰ ہے کہ وہ قیامت تک ان علامات کے خلاف کوئی روایت نہ دکھا سکیں گے۔ اب تمام سامعین محترم بالخصوص قادیانی دوستوں سے کہتا ہوں کہ وہ اپنے مربی سے فرمائیں۔ وہ بتائیں کہ:

۱… مہدی کا نام آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمان کے مطابق محمد ہوگا۔ کیا مرزاقادیانی کا یہ نام تھا؟

۲… مہدی کے والد کا نام، عبداﷲ ہوگا۔ کیا مرزاقادیانی کے والد کا نام عبداﷲ تھا؟

۳… مہدی کی قوم سادات ہوگی۔ کیا مرزاقادیانی کی نسل مغل نہیں؟

۴… مہدی مدینہ طیبہ سے، مکہ مکرمہ آئیں گے۔ کیا مرزامدینہ طیبہ میں پیدا ہوا؟

۵… مہدی مکہ مکرمہ، آئیں گے کیا مرزاقادیانی مکہ مکرمہ گیا تھا؟

محترم سامعین! احادیث کی روشنی میں میرے پانچ سوال ہیں۔ ان کو حل کر دیں، تاکہ ہم حیات مسیح علیہ السلام پر گفتگو کریں۔ ہمت کریں کہ جیسے دو اور دو چار کی طرح میں نے ثابت کیا ہے یا تو آپ ان کا خلاف دکھائیں یامرزاغلام احمد قادیانی میں یہ علامات دکھائیں یا فرمادیں کہ مرزاقادیانی میں مہدی علیہ الرضوان کی متفقہ بنیادی علامتوں میں سے ایک علامت بھی نہ پائی جاتی تھی۔ بات ختم کریں۔ میں دوسری بحث کے لئے ابھی تیار ہوں۔ ان سوالات کے جوابات ٹھوس، واضح اور دو اور دو چار کی طرح بیان کر کے ممنون فرمائیں۔ میں اپنا قلب وجگر آپ کے قدموں پر رکھنے کے لئے تیار ہوں۔

46

قادیانی مربی:

دیکھیں صاحب! میں نے ابتداء میں بتادیا تھا کہ حیات مسیح پر گفتگو شروع کریں۔ آپ مہدی کو لے کر آگئے۔ آپ حیات مسیح پر گفتگو کریں، ورنہ میں چلتا ہوں۔ یہ کیا کہ ہمارے گھر آکر دوسری بحث شروع کر دیں۔ بنیادی بحث کیوں نہیں کرتے؟ بس میں چلتا ہوں۔

پروفیسر صاحب:

دیکھئے! اس وقت تک کی بحث تک ہم معاملہ کی تہہ تک پہنچ گئے۔ نتیجہ کیا ہے؟ موجود حضرات اور تمام رشتہ دار بعد میں بیٹھ کر قادیانی ومسلمان نتیجہ نکال لیں گے۔ میں قادیانی مربی سے درخواست کرتاہوں کہ حیات مسیح علیہ السلام پر ابھی اپنی گفتگو کا آغاز کریں اور دلائل دیں۔ ہمارے مولانا (فقیر) جواب دیں گے۔

فقیر:

جی بسم اﷲ! مجھے منظور ہے۔

قادیانی مربی:

خطبہ… تعوذ اور تسمیہ کے بعد آیت تلاوت کی ’’ما المسیح ابن مریم الارسول قد خلت من قبلہ الرسل (المائدہ:۷۵)‘‘ کہ مسیح علیہ السلام سے پہلے کے تمام رسول فوت ہوگئے۔ یہی آیت آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر اتری کہ ’’وما محمد الا رسول قد خلت من قبلہ الرسل (آل عمران:۱۴۴)‘‘ کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے پہلے کے رسول فوت ہوگئے۔ میں پوچھتا ہوں بلکہ دعویٰ سے کہتا ہوں کہ میرے سامنے کے صاحبان انکار نہیں کر سکیں گے۔ کیا حضرت عیسیٰ علیہ السلام آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے پہلے کے رسول نہ تھے؟ کریں انکار۔ قیامت تک نہیں کر سکیں گے۔ لہٰذا جب یہ ثابت ہوگیا کہ مسیح علیہ السلام پہلے کے رسول ہیں تو وہ بھی فوت ہوگئے۔ جناب میں دیکھتا ہوں کہ مولوی صاحب اس کا کیا جواب دیتے ہیں؟

فقیر:

محترم میرے کچھ کہنے سے قبل آپ فرمادیں کہ ازروئے لغت، خلت کا معنی وفات ہے؟ کسی لغت سے؟ یا کسی مجدد کے قول سے؟ میرا دعویٰ ہے کہ آج تک کسی مستند متفقہ مفسر نے یا تمہارے کسی مسلمہ مجدد نے اس آیت کا یہ معنی نہیں کیا جو آپ نے کیا ہے۔

قادیانی مربی:

لغت اور مجددین ومفسرین کی بات نہ کریں۔ میری بات کا جواب دیں۔

فقیر:

یہی تو آپ کی بات کا جواب ہے کہ اگر ’’قد خلت‘‘ کا معنی وفات ہے تو کسی مفسر یا مجدد نے جو مرزاقادیانی سے پہلے کے تھے۔ کسی نے اس آیت سے وفات مسیح پر استدلال کیا ہے تو آپ نام پیش کریں۔ اس کی عبارت پڑھیں۔ ورنہ میں ترجمہ کر کے اپنے ترجمہ کی

47

صداقت پر مفسرین ومجددین نہیں۔ بلکہ قادیانیوں کی شہادت پیش کروں گا۔ کسی ایک مفسر ومجدد کا قول پیش کریں کہ انہوں نے اس کا یہی ترجمہ کیا جو آپ نے کیا۔ نہیں پیش کر سکتے تو میں صحیح ترجمہ پیش کرتاہوں اور اس پر شہادتیں بھی پیش کروں گا۔

قادیانی مربی:

مولوی صاحب! مجدد، مفسر، لغت کی بات کرتے ہیں۔ میں قرآن پیش کرتا ہوں۔ میری بات کا جواب کیوں نہیں دیتے؟

فقیر:

بھائی! آپ جذباتی ہو رہے ہیں۔ میرا سوال ہے کہ جو آپ نے ترجمہ کیا ہے؟ آج تک کسی متفقہ مفسر ومجدد نے کیا؟ ورنہ تسلیم کریں کہ اس ترجمہ پر پوری امت میں سے آپ کے ساتھ ایک قابل ذکر آدمی بھی نہیں۔ آخر قرآن آج نہیں اترا۔ بلکہ چودہ سو سال قبل اترا ہے۔ جو چودہ سو سال سے امت نے اس کا ترجمہ سمجھا، وہ بتادیں۔ میں مان جاؤں گا۔ میں سامعین سے کہتا ہوں کہ میری بات معقول ہے تو قادیانی مناظر سے میرا مطالبہ منوائیں کہ وہ اپنے استدلال میں کوئی شہادت پیش کریں۔ ورنہ میں صحیح ترجمہ کر کے بیسیوں شہادتیں پیش کرتا ہوں۔

سامعین:

پروفیسر صاحب اور قادیانی! بات تو صحیح ہے۔ ہم معاملہ کو سمجھ گئے۔ آپ صحیح ترجمہ کریں۔

فقیر:

یہی میں چاہتا تھا کہ آپ دوست معاملہ کی تہہ تک پہنچ جائیں۔ بسم اﷲ! میں ترجمہ کرتا ہوں۔

قادیانی مربی:

مولوی صاحب چکر نہ دیں۔ آپ یہ نہ کہیں کہ میرا ترجمہ غلط ہے۔ کسی مفسر یا مجدد کا ترجمہ ہم پیش تو تب کریں کہ ہم ترجمہ نہ جانتے ہوں یا ہمیں لغت نہ آتی ہو۔

فقیر:

بھائی! غصہ نہ ہوں۔ ہم سے پہلے چودہ سو سال کے وہ بزرگ ومجدد لغت جانتے تھے۔ انہوں نے جو ترجمہ کیا۔ اگر وہ آپ والا ہے تو جی بسم اﷲ! آپ پیش کریں میں مانتا ہوں۔ نہیں تو میری درخواست یہ ہے کہ آپ نے جو ترجمہ کیا ہے۔ اس سے پوری امت میں سے کوئی ایک متفقہ مفسر ومجدد آپ لوگوں کے ساتھ نہیں۔ یہ آپ کے گھر کا ترجمہ ہے۔ خود مرزاقادیانی نے لکھا ہے کہ: ’’چودہ سو سال سے جس طرح قرآن مجید مسلمانوں کے پاس موجود ہے۔ اسی طرح چودہ سو سال سے امت کے پاس فہم قرآن بھی رہا۔‘‘

(ایام الصلح ص۵۵، مندرجہ خزائن ج۱۴ ص۲۸۸، از مرزاقادیانی)

48

اب میری درخواست ہے کہ امت نے آج تک اس آیت سے کیا سمجھا؟ اگر آپ کا ترجمہ صحیح ہے۔ یہی امت نے سمجھا کہ اس آیت میں انہوں نے وفات مسیح لکھی ہے تو آپ وہ پیش کریں، میں مان جاؤں گا۔ آپ پیش نہیں کر سکتے تو آپ کا ترجمہ غلط۔ میں صحیح ترجمہ پیش کرتا ہوں۔ اس پر لغت، مفسرین ومجددین پیش کرتا ہوں۔

قادیانی مربی:

مرزاغلام احمد قادیانی نے یہ کہاں لکھا ہے؟

فقیر:

آپ میری تردید کریں کہ یہ نہیں لکھا۔ میں مرزاقادیانی کا حوالہ پیش کرتا ہوں۔ آپ انکار کریں۔ اگر انکار نہیں کرتے تو میں پھر بھی مرزاقادیانی کا حوالہ پیش کرتا ہوں۔ لیکن مرزاقادیانی کے حوالہ کے بعد جناب پابند ہوں گے کہ چودہ سو سال سے امت کے فہم قرآن سے کوئی ایک شہادت اپنے ترجمہ کے صحیح ہونے پر پیش کریں۔

قادیانی مربی:

مولوی صاحب! آپ ترجمہ کریں۔

فقیر:

بھائی میں مسافر ہوں۔ آپ یہاں کے مکیں، آپ تنگ کیوں پڑ گئے؟ لیجئے! خلا… خلوا… خلت! اس کا تمام لغت والوں نے ترجمہ کیا مضا… مضوا! گزر گیا۔ ایک جگہ کو چھوڑ کر دوسری جگہ چلے جانا، گزر جانا، مضت، خلت کا معنی ہے۔ اب ترجمہ کریں کہ سیدنا مسیح علیہ السلام یا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے پہلے کے رسول گزر گئے۔ اس جگہ کو چھوڑ گئے۔ یہ جہاں چھوڑ گئے کوئی موت سے ، کوئی رفع سے، اس جہان سے گزر گئے۔ اگر موت ترجمہ ہو تو قرآن کی آیت ’’واذا خلوا الیٰ شیاطینہم (البقرہ:۱۴)‘‘ کیا ترجمہ کرو گے؟ ’’وقد خلت سنۃ الاولین (الحجر:۱۳)‘‘ کیا تمام پہلی شریعتیں مر گئیں؟ یا منسوخ ہو گئیں؟ وہ گزر گئیں یا فوت ہوگئیں؟ گزر گئیں یا منسوخ ہو گئیں۔ وہ شریعتیں آج موجود ہیں۔ لیکن منسوخ ہوگئیں۔ اگر فوت ہوگئیں ترجمہ ہوتا تو آج دنیا میں وہ موجود نہ ہوتیں۔ ان کا موجود ہونا دلیل ہے کہ خلت کا معنی موت نہیں۔ بلکہ مضت ہے گزر گئیں منسوخ شدہ ہوگئیں۔ فرمائیے چودہ سو سال سے لغت اور مفسرین ومجددین نے اس کا یہی ترجمہ کیا ہے۔ جس مفسر ومحدث کا فرمائیں میں اس کا یہی ترجمہ پیش کرتا ہوں۔ کوئی ایک نام لیں۔ میں اس کی تفسیر سے یہی ترجمہ پیش کرتا ہوں۔ میرا دعویٰ ہے کہ پوری امت نے جو ترجمہ کیا ہے وہ میرے والا ترجمہ ہے۔ آپ کے ساتھ کوئی ایک مفسر یا مجدد نہیں، جب کہ میرے ساتھ پوری امت ہے۔

49

قادیانی مربی:

کھودا پہاڑ نکلا چوہا۔ گزر گئے کا معنی مر گئے نہیں؟

فقیر:

ابھی گلی سے دو آدمی گزرے ہیں۔ کیا وہ مرگئے ہیں؟

قادیانی مربی:

ٹھیک ہے۔ گزر گئے۔ لیکن پوری آیت کو دیکھیں۔ ’’افائن مات او قتل‘‘ یہ آیت بتارہی ہے کہ خلت دو صورتوں میں بند ہے۔ یا موت؟ یا قتل؟

پروفیسر صاحب:

مولوی صاحب نے جو آیت پڑھی ’’واذا خلوا الیٰ شیاطینہم (البقرہ:۱۴)‘‘ اگر خلت دو معنوں میں بند ہے تو پھر آپ بتائیں کہ موت وقتل کی کون سی صورت ’’اذا خلوا الیٰ شیاطینہم‘‘ میں ہے؟

قادیانی مربی:

چلیں! اس آیت کو چھوڑیں۔ میں ایک آیت اور وفات مسیح کی پیش کرتا ہوں۔

فقیر:

پہلے آپ تسلیم کریں کہ اس آیت ’’قد خلت‘‘ سے وفات مسیح ثابت نہیں ہوتی۔ پھر دوسری پیش کریں۔

قادیانی مربی:

میں کیوں تسلیم کروں۔ پہلے دوسری آیت پڑھتا ہوں۔

پروفیسر صاحب:

دیکھئے مربی صاحب! آپ نے جو پہلی آیت پڑھی ہے۔ اس سے آپ کا مقصد واضح نہیں ہوا۔ آپ کا اس سے دعویٰ ثابت نہیں ہوا۔ تب ہی تو آپ دوسری آیت کی طرف جاتے ہیں۔ اب ہم مولانا سے کہیں گے کہ حیات مسیح پر دلیل دیں۔ پھر آپ اس کا جواب دیں۔

قادیانی مربی:

بالکل ٹھیک ہے۔ مولوی صاحب! دیں حیات مسیح علیہ السلام کے دلائل

فقیر:

جی! پہلی آیت: ’’اعوذ باﷲ من الشیطان الرجیم۰ بسم اﷲ الرحمن الرحیم۰ فبما نقضہم میثاقہم وکفرہم باٰیٰت اﷲ وقتلہم الانبیاء بغیر حق وقولہم قلوبنا غلف۰ بل طبع اﷲ علیہا بکفرہم فلا یؤمنون الا قلیلا۰ وبکفرہم وقولہم علیٰ مریم بہتانا عظیما۰ وقولہم انا قتلنا المسیح عیسیٰ بن مریم رسول اﷲ وما قتلوہ وما صلبوہ ولکن شبہ لہم وان الذین اختلفوا فیہ لفی شک منہ ما لہم بہ من علم الا اتباع الظن وما قتلوہ یقینا۰ بل رفعہ اﷲ الیہ وکان اﷲ عزیزاً حکیما (نساء:۱۵۵تا۱۵۸)‘‘ {ان کو

50

جو سزا ملی سو ان کی عہد شکنی پر اور منکر ہونے پر اﷲ کی آیتوں سے اور خون کرنے پر پیغمبروں کا ناحق اور اس کہنے پر کہ ہمارے دل پر غلاف ہے۔ سو یہ نہیں بلکہ اﷲ نے مہر کر دی ان کے دل پر کفر کے سبب۔ سو ایمان نہیں لاتے۔ مگر کم اور ان کے کفر پر اور مریم پر بڑا طوفان باندھنے پر اور ان کے اس کہنے پر کہ ہم نے قتل کیا مسیح عیسیٰ مریم کے بیٹے کو جو رسول تھا اﷲکا اور انہوں نے نہ اس کو مارا اور نہ سولی پر چڑھایا۔ لیکن وہی صورت بن گئی ان کے آگے اور جو لوگ اس میں مختلف باتیں کرتے ہیں تو وہ لو اس جگہ شبہ میں پڑے ہوئے ہیں۔ کچھ نہیں ان کو اس کی خبر صرف اٹکل پر چل رہے ہیں اور اس کو قتل نہیں کیا بے شک بلکہ اس کو اٹھا لیا اﷲ نے اپنی طرف اور اﷲ ہے زبردست حکمت والا۔}

۱… ان آیات کریمہ میں چار بار سیدنا مسیح علیہ السلام کے لئے ’’ہ‘‘ ضمیر لائی گئی ہے۔’’ما قتلوہ… ماصلبوہ… ما قتلوہ یقیناً‘‘ اور’’بل رفعہ اﷲ‘‘ میں سیدنا مسیح نہ وہ قتل ہوئے نہ پھانسی دئیے گئے۔ نہ وہ یقینا قتل ہوئے۔ ظاہر ہے کہ قتل اور پھانسی کا محل جسم ہے کہ روح پر وارد نہیں ہوتا۔ آج تک نہ کوئی روح قتل ہوئی نہ پھانسی دی گئی۔ یہ فعل زندہ جسم پر وارد ہوتا ہے۔ تین بار ’’ہ‘‘ ضمیر جسم کی طرف ہے تو چوتھی بار’’بل رفعہ اﷲ‘‘ میں بھی جسم کی طرف ’’ہ‘‘ ضمیر راجع ہے۔ جو مسیح (جسم) نہ قتل ہوا، نہ پھانسی، نہ یقینا قتل ہوا۔ بلکہ وہی جسم مسیح کو اﷲ تعالیٰ نے اپنی طرف اٹھا لیا۔

۲… یہی لفظ بل کا تقاضا ہے۔

۳… آج تک امت نے اس کا یہی ترجمہ کیاہے۔ اس آیت میں آج تک مسلمہ مجددین امت ومفسرین قرآن نے اس جگہ رفع سے مراد رفع درجات نہیں لیا۔

۴… رفع کا استعمال درجات کے لئے ہوا۔ لیکن جہاں قرینہ تھا۔ قرینہ کا ہونا بذات خود دلیل ہے کہ رفع کے لفظ کا درجات کی بلندی کے معنوں میں استعمال مجازی معنی ہے۔

۵… اس جگہ سیاق وسباق نفس واقعہ ہے۔ حالات بھی متقاضی ہیں کہ حقیقی معنی لیا جائے۔ یہود، مسیح کی روح کو قتل یا پھانسی دینے کے درپے تھے۔ نہ مدعی، بلکہ وہ جسم مسیح کو قتل یا صلیب پر لٹکانا چاہتے تھے۔ ﷲتعالیٰ نے قران مجید میں ان کے دعوؤں کی تردید فرمائی کہ جس جسم مسیح کو وہ قتل کرنا چاہتے تھے اس کو میں نے اپنی طرف اٹھا لیا۔

51

۶… ﷲتعالیٰ مکان وجہت کی قید سے پاک ہیں۔ لیکن قرآن مجید میں صراحت سے ثابت ہے کہ جب کبھی ﷲتعالیٰ کی طرف نسبت جہت ہوگی تو مراد آسمان ہوگا۔ ’’أامنتم من فی السماء (الملک:۱۶)‘‘ {کیا بے خوف ہو تم اس ذات (اﷲتعالیٰ) سے جو آسمانوں میں ہے۔} ﷲتعالیٰ کی طرف سے قرآن اترا۔ مراد من جانب اﷲ آسمان سے اترا۔ خود رحمتدوعالم صلی اللہ علیہ وسلم جب ﷲتعالیٰ سے تحویل قبلہ کے لئے دعا کرتے تو آسمانوں کی طرف چہرۂ اقدس فرماتے۔ سیدنا مسیح علیہ السلام کی قوم کے لئے ﷲتعالیٰ کی طرف سے مائدہ، سیدنا موسیٰ علیہ السلام کی قوم کے لئے من وسلویٰ آسمانوں سے نازل ہوا تھا۔ سیدنا آدم علیہ السلام کا زمین پر آنا آسمانوں پر سے ہوا۔ اس پر تمام سماوی مذاہب کا اتفاق ہے۔

۷… رفع کا لفظ لغت عربی میں وضع کے مقابل پر استعمال ہوا۔ وضع نیچے رکھنے کو۔ رفع اوپراٹھانے کے معنی کومشتمل ہے۔

۸… اس آیت سے امت مسلمہ نے سیدنامسیح علیہ السلام کے رفع جسمانی کو مراد لیا ہے۔ جو یہاں اس کے علاوہ دوسرے معنی کو لیتا ہے۔ وہ الحاد پر قدم مارتا ہے۔

دوسری آیت اسی صفحہ قرآنی پر ہے: ’’بسم اﷲ الرحمن الرحیم۰ ان مثل عیسیٰ عند اﷲ کمثل آدم (آل عمران:۵۹)‘‘ {حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی مثال ﷲتعالیٰ کے ہاں آدم علیہ السلام جیسی ہے۔}

۱… سیدنا حضرت آدم علیہ السلام بغیر ماں باپ کے پیداہوئے۔ سیدنا مسیح علیہ السلام بھی بغیر باپ کے پیدا ہوئے۔

۲… سیدنا حضرت آدم علیہ السلام کی کوکھ سے سیدہ حوا علیہا السلام پیدا ہوئیں۔ فقط مرد سے فقط عورت۔ ادھر فقط عورت سیدہ مریم علیہا السلام سے فقط مسیح علیہ السلام پیداہوئے۔

۳… سیدنا آدم علیہ السلام آسمانوں سے زمین پر آئے۔ سیدنا مسیح علیہ السلام زمین سے آسمانوںپر گئے اور پھر آسمانوں سے زمین پر آئیں گے۔

اب میں آتا ہوں احادیث شریف کی طرف۔ بخاری شریف کی روایت ہے کہ سیدنا مسیح علیہ السلام دوبارہ دنیا میں تشریف لائیں گے۔ اسی روایت کو امام بیہقیؒ نے کتاب الاسماء والصفات میں نقل کیا ہے تو صراحت فرمائی کہ: ’’ینزل اخی عیسیٰ بن مریم من السماء‘‘ کہ میرے بھائی سیدنا مسیح علیہ السلام آسمانوں سے نازل ہوں گے۔

52

(یہاں تک بات پہنچی تو قادیانی مربی مارے ندامت کے غصہ سے لال پیلاہو کر کرسی سے اٹھا)

قادیانی مربی:

چھوڑیں جی اس بحث کو۔ نماز مغرب قضا ہورہی ہے۔ گفتگو پھر سہی۔

فقیر:

جی بسم اﷲ! بہت اچھا۔ نماز میں واقعی بہت تاخیر ہورہی ہے۔ ہم اپنی مسجد میں نماز پڑھ کر زیادہ سے زیادہ دس منٹ میں واپس آتے ہیں۔ پھر بیٹھتے ہیں۔

قادیانی مربی:

آج نہیں۔ پھر کبھی بیٹھیں گے۔

فقیر:

ابھی نماز کے بعد بیٹھیں گے۔ ساری رات بیٹھنا پڑا تو فریقین بیٹھیں گے۔ ابھی تو ابتداء ہے۔ دلائل شروع کئے ہیں۔ حیات مسیح علیہ السلام پر آپ زور دے رہے تھے۔ میں نے آغاز کیا تو، پھر، اور، کبھی کا چکر نہیں آنے دیں گے۔ ابھی ساری رات، کل کا دن، پھر رات دن چلیں۔ میں وعدہ کرتا ہوں کہ جب تک بات پوری نہ ہو، میری ایک ایک بات کا جواب دیں۔ آپ کی ایک ایک بات کا میں جواب دوں گا۔ ابھی دس منٹ میں ہم واپس آتے ہیں۔ ہمارا انتظار کریں۔

قادیانی مربی:

میں پابند نہیں۔ پہلے بہت وقت لگ چکا ہے۔ پھر کبھی سہی۔

پروفیسر صاحب:

قادیانی مربی سے اور اپنے رشتہ داروں سے کہ چلو پھر سہی۔ لیکن وقت اور دن کا تعین تو کر دیں۔ آپ کو اختیار ہے۔

قادیانی حضرات:

کر لیں گے۔ آپ جائیں نماز پڑھیں۔ ہماری طرف سے آپ کو اجازت ہے۔

فقیر:

اتنی جلدی گھبرا گئے۔ آپ اور آپ کے مربی گھر سے یوں ترشی سے نکال رہے ہیں۔ ابھی گفتگو کریں۔ جب تک مجلس چلتی ہے چلنے دیں۔ میں وعدہ کرتا ہوں۔ آپ اپنے مربی کو تیار کریں کہ وہ میرے دلائل کو توڑے، جواب دے، اعتراض کرے اور مجھ سے جواب لے۔ ابھی تو حیات عیسیٰ علیہ السلام ہے۔ اس کے بعد ختم نبوت پر گفتگو ہوگی۔ مرزاقادیانی آپ کے سامنے پیش ہوں گے۔ ان کے لٹریچر سے بتاؤں گا کہ مہدی مسیح ہیں یا…!

قادیانی مربی:

بس ہم مناظرہ نہیں کرتے۔ کرتے ہی نہیں۔ آپ کیس کرادیں گے۔

پروفیسر صاحب:

اب تک کی بات چیت پر اگر کیس نہیں ہوا تو بقیہ بات چیت پر بھی کیس نہیں ہوگا۔ میں ذمہ داری لیتا ہوں اور اپنے مولانا (فقیر) سے لکھوا کر دیتا ہوں۔

53

فقیر:

قران مجید میرے سامنے ہے۔ کیس تو درکنار آپ فرمائیں تومیں اپنی پگڑی سے تمہارے گھر میں جھاڑو دینے کے لئے تیار ہوں۔ لیکن گفتگو کریں، تاکہ قیامت کے دن آپ یہ نہ کہہ سکیں کہ ہمیں مسئلہ کسی نے سمجھایا ہی نہیں تھا۔ بات کو چلائیں۔ میں گاؤں نہیں چھوڑتا۔ اس وقت تک حاضر ہوں جب تک فیصلہ نہیںہو جاتا۔

قادیانی مربی:

ہمارا گھر ہے۔ آپ قبضہ کرتے ہیں۔ ہم نہیں کرتے آپ سے مناظرہ نہ تاریخ مقرر کرتے ہیں۔ آپ کیا کر لیں گے؟

فقیر:

جادو وہ جو سرپر چڑھ کر بولے۔ اگر آپ اپنی شکست مانتے ہیں تو پھر آپ کی معذوری پر میں ترس کرتا ہوں۔

بزرگ بابا قادیانی:

ہم نے شکست کھائی۔ (ماتھے پر ہاتھ رکھ کر کہتے ہیں کہ) آپ جائیں۔

پروفیسر صاحب:

بہت اچھا۔ (یہ کہہ کر ہم وہاں سے مسجد چلے آئے۔ قادیانی مربی دوسرے راستہ سے مکان کے صحن میں چلا گیا تو مسلمان سامعین نے قادیانی سامعین سے کہا کہ تمہارا مربی ندامت سے پتلا کیوں ہوگیا۔ اتنی جلدی گھبرا گیا کہ بالکل ریت کی دیوار کی طرح بیٹھ گیا۔ قادیانی سامعین نے ندامت سے کہا کہ چلو چھوڑیں آپ بھی جائیں)

نماز سے فارغ ہوکر مسلمان حاضرین وسامعین نے فقیر کوایک پرتکلف دعوت سے سرفراز فرمایا۔ ہر مسلمان خوش تھا۔ چہرے خوشی سے دمک رہے تھے۔ پروفیسر صاحب نے کہا کہ مولانا! ہمارا مقصد پورا ہوا۔ انشاء اﷲ! اب یہ نظر اٹھا کر نہیں چل سکیں گے۔ آپ کو نہیں معلوم کہ دروازہ کے دوسری طرف صحن میں ہماری بیسیوں قادیانی رشتہ دار مستورات بیٹھی ہوئی تھیں۔ اب انشاء اﷲ! محنت سے میدان لگے گا۔ فقیر نے اﷲ رب العزت کا شکر ادا کیا۔ اس کے بعد پروفیسر صاحب کی لائبریری دیکھی۔ ضروری کتب جن پرہاتھ رکھا۔ پروفیسر صاحب نے دل وجان سے عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کی مرکزی لائبریری کے لئے عنایت فرمادیں۔ رات گئے گوجر خان بخیروعافیت واپسی ہوئی۔فالحمد ﷲاولاً وآخراً!

ض … ض … ض

54

مناظرہ چھوکر خورد

چھوکر خورد ضلع گجرات میں تقریباً ایک برادری کے لوگ آباد ہیں، ان میں کچھ خاندان قادیانی گروہ سے تعلق رکھتے ہیں۔ تبلیغی جماعت اور کچھ دوسرے اہل دل مسلمانوں نے قادیانی نمبردار کو دعوت دی کہ وہ قادیانی عقائد پر نظر ثانی کرے۔ قادیانی نمبردار نے کہا کہ آپ کسی عالم دین کو بلائیں۔ جو مجھے سمجھا دے، تو میں اس کے لئے تیار ہوں۔ چنانچہ ان حضرات کے حکم پر فقیر ۴؍فروری ۱۹۹۸ء کو چھو کر خورد حاضر ہوا۔ حضرت مولانا محمد عارف صاحب استاذ الحدیث جامعہ عربیہ گوجرانوالہ (جو اس قصبہ کے رہائشی ہیں) حضرت قاری حافظ محمد یوسف عثمانی، حضرت مولانا فقیر اﷲ اختر، مدرسہ تعلیم القرآن وجامع مسجد چھوکر خورد کے خطیب اور دوسرے مسلمان نمازی موجود تھے۔ ان کی موجودگی میں قادیانی نمبردار سے اڑھائی تین گھنٹے تک گفتگو ہوئی۔ آج کچھ فراغت پاکر محض اپنی یادداشت سے قارئین کے لئے قلمبند کرتا ہوں۔ ابتدائی تعارف اور سابقہ گفتگو کا خلاصہ پیش کرنے کے بعد ذیل کی گفتگو ہوئی۔

فقیر:

محترم آپ نے قادیانیت کو حق سمجھ کر قبول کیا ہے اور میں اسے باطل سمجھ کر اس کی تردید کرتا ہوں اور اس کی تردید ومخالفت کو دین کی خدمت سمجھتا ہوں۔ اﷲ رب العزت نے مجھے تھوڑے بہت دنیاوی وسائل اتنے نصیب فرمائے ہیں جن سے میری گزر اوقات بحمدہ تعالیٰ کروڑوں انسانوں سے اچھی ہو رہی ہے۔ قادیانیت کی تردید میرا دنیاوی پیشہ نہیں، نہ اس سے میرا رزق وابستہ ہے۔ بلکہ قادیانیت کی تردید اور ختم نبوت کی حفاظت میں دین سمجھ کر کرتا ہوں۔ آپ قادیانیت کو دین سمجھتے ہیں اور میں قادیانیت کی تردید کو دین سمجھتا ہوں تو پھر دین کے معاملہ میں ہم دونوں کیوں نہ عہد کریں کہ آج کی مجلس میں ہم قادیانیت کو غور وفکر سے جانچیں، ناپیں، تولیں اور پرکھیں کہ قادیانیت کیا ہے؟ یہ اسلام کی تحریک ہے یا غیرمسلموں کی سازش۔ تاکہ کسی نتیجہ پر پہنچ سکیں۔

55

قادیانی نمبردار:

واقعی آپ نے صحیح فرمایا میں نے بھی قادیانیت کو حق سمجھ کر قبول کیا ہے۔ اگر آپ مجھے سمجھا دیں کہ یہ حق نہیں تو میں اس پر غور کروں گا۔ جونکات آپ اٹھائیں گے میں ان سے متعلق اپنے قادیانی راہنماؤں سے ہدایات لوں گا اور پھر اس پر سوچ وبچار کر کے فیصلہ کروں گا۔

فقیر:

مجھے آپ کی بات سے اتفاق ہے۔ واقعتا نظریہ وعقیدہ تبدیل کرنا مشکل ہوتا ہے۔ اس کے لئے غوروفکر کی ضرورت ہوتی ہے۔ لیکن اگر مرزاقادیانی کی اردو کتب سے آپ پڑھ لیں کہ وہ شخص توہین رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا مرتکب تھا۔ اﷲ رب العزت کی ذات گرامی پر بہتان باندھتا تھا۔ حضرت سیدنا عیسیٰ علیہ السلام کی ذات گرامی کی توہین کرتا تھا۔ مسلمانوں پر کفر کا فتویٰ لگاتا تھا۔ جھوٹ بولتا تھا، حرام کھاتا تھا، وعدہ خلاف تھا، شراب کے حصول کے لئے کوشش کرتا تھا، نبوت تو درکنار اس میں ایک اچھے انسان کے بھی اوصاف نہ تھے، تو پھر اس پر غور کرنے یا قادیانی مربیوں سے پوچھنے کی ضرورت باقی نہیں رہتی۔ قادیانی مربی جن کا وظیفۂ حیات ہی جھوٹ کو اپنانا اور پھیلانا ہے، وہ آپ کو کیوںکر صحیح رہنمائی دیں گے۔ اس لئے آپ وعدہ کریں اور ایک سچے طالب حق ہونے کے ناطے مجھ سے مطالبہ کریں کہ آپ مجھے یہ حوالے دکھائیں۔ اگر ایسے ہے تو میں قادیانیت ترک کر دوں گا۔ اگر آپ ایسا عہد نہیں کرتے تو میں سمجھوں گا کہ آپ گفتگو ضرور کریں گے۔ مگر طالب حق ہونے کے رشتہ سے نہیں بلکہ محض اپنا بھرم رکھنے کے لئے۔ ایک طالب حق کو سمجھانا اور ایک بزعم خود بھرم رکھنے والے سے گفتگو کرنے کے لئے علیحدہ علیحدہ اسلوب ہیں۔ اب مجھ سے کیا اسلوب اختیار کرنے کے طالب ہیں؟ یہ آپ پر منحصر ہے۔

قادیانی نمبردار:

مولانا مجھے تو آپ صرف حیات عیسیٰ علیہ السلام کا مسئلہ قرآن سے سمجھا دیں۔ باقی جو حوالہ جات آپ نے فرمائے ہیں، ان سے مجھے دلچسپی نہیں ہے۔

فقیر:

محترم اب میں آپ پر اور سامعین پر انصاف چھوڑتا ہوں کہ وہ فیصلہ کریں کہ آپ طالب حق ہیں یا محض گفتگو کے خواہش مند۔ اس لئے کہ اگر آپ طالب حق ہوتے تو میری ان (متذکرہ) باتوں کے سنتے ہی چیخ اٹھتے اور آپ کے ضمیر کی صدا آپ کی زبان پر نوحہ کناں ہوتی کہ اگر مرزا ایسا ہے تو پھر مجھے مرزااور قادیانیت سے کوئی سروکار نہیں۔ میں حیات عیسیٰ

56

علیہ السلام پر گفتگو کروں گا، ضرور کروں گا۔ مگر ان حوالہ جات کی تفصیلات آپ مجھ سے طلب کریں کہ کیا واقعی مرزا ایسا تھا؟ اگر ثابت ہو جائے کہ ایسے تھا تو پھر مرزائیت پر چار حرف۔ اس کے بعد میں آپ کو پھر ایک مسلمان ہونے کے حوالہ سے حیات عیسیٰ علیہ السلام کا مسئلہ سمجھاؤں گا۔

قادیانی نمبردار:

مولانا میرے نزدیک اصل مسئلہ حیات عیسیٰ علیہ السلام کا ہے، اگر یہ صحیح ثابت ہو جائے تو پھر مرزا کو چھوڑ دوں گا۔ باقی جن حوالہ جات کا آپ نے فرمایا ہے مجھے ان سے سروکار نہیں۔

سامعین میں سے ایک بزرگ نے کہا کہ مولانا خدا آپ کا بھلا کرے، ہم اس شخص کے متعلق رائے رکھتے تھے کہ یہ مسئلہ سمجھنا چاہتا ہے۔ مگر آپ نے اس سے اگلوا لیا کہ یہ بجائے مسئلہ سمجھنے کے محض دفع الوقتی کر رہا ہے۔

قادیانی نمبردار:

ایسے نہیں آپ میرے ذمہ الزام نہ لگائیں۔ آپ لوگ مولوی صاحب کو پابند کریں کہ وہ حیات عیسیٰ علیہ السلام کا مسئلہ سمجھائیں۔ عیسیٰ علیہ السلام زندہ، تو مرزا جھوٹا۔

فقیر:

محترم آپ کو غلط فہمی ہوئی ہے آپ نے سنجیدگی سے قادیانیت کے کیس پر غور نہیں کیا۔ ورنہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی وفات یا حیات سے مرزاقادیانی کے سچے یا جھوٹے ہونے کا کیا تعلق؟ یہ ایسے ہے کہ ایک مراثی کے بیٹے نے ماں سے پوچھا کہ اگر نمبردار مر جائے تو پھر کون نمبردار ہوگا۔ ماں نے کہا اس کا بیٹا۔ لڑکے نے کہا کہ اگر وہ بھی مرجائے تو پھر کون ہوگا؟ ماں نے تنگ آکر کہا کہ بیٹا میں سمجھ گئی کہ سارا گاؤں بھی مر جائے تو پھر بھی مراثی کے لڑکے کو کوئی نمبردار نہیں بنائے گا۔ آپ غور فرمائیں کہ مرزاقادیانی حقیقت میں عیسیٰ علیہ السلام کی حیات کا منکر نہ تھا۔ بلکہ وہ اس کا قائل تھا۔ بعد میں جب اسے خود مسیح بننے کا شوق ہوا تو کہا کہ عیسیٰ علیہ السلام فوت ہوگئے۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی سیٹ پر قبضہ کے لئے اپنی تقرری کے لئے سیٹ خالی کرانا چاہتا ہے۔ سیٹ کے جھگڑا سے قبل اس کی ’’اسناد لیاقت‘‘ چیک کر لیں کہ اس کی حیثیت کیا ہے؟ اس لئے کہ خدا نہ کرے عیسیٰ علیہ السلام کی حیات ثابت نہ بھی ہو تو تب بھی مرزا میں سچے ہونے کی، اس سیٹ پر براجمان ہونے کی صلاحیت نہیں ہے۔ حیات

57

ووفات مسیح علیہ السلام کے بعد پھر بھی سوال پیداہوگا۔ مرزااس منصب کا مستحق ہے یا نہیں؟ تو پہلے سے ہی مرزا کو کیوں نہ پرکھ لیں؟

قادیانی نمبردار:

آپ میرے مرنے کی مثالیں نہ دیں۔ پہلے عیسیٰ علیہ السلام کو زندہ ثابت کریں۔ فرض کریں کہ مرزا جھوٹا تو کیا عیسیٰ علیہ السلام کی اس سے حیات ثابت ہو جائے گی۔

فقیر:

خوب کہا آنجناب نے، نمبردار کی مثال دینے سے آپ مر نہیں گئے۔ اس طرح جب ہم کہتے ہیں فرض کریں عیسیٰ علیہ السلام فوت ہو جائیں تو تب بھی مرزا جھوٹا، اس سے عیسیٰ علیہ السلام فوت نہیں ہو جاتے۔ اس بات سے آپ بھی زندہ ہیں تو عیسیٰ علیہ السلام بھی زندہ ہیں۔ اب آپ نے کہا کہ فرض کریں کہ مرزا جھوٹا۔ فرض کریں نہیں یقین کریں اور اقرار کریں کہ مرزا جھوٹا ہے تو میں حیات عیسیٰ علیہ السلام پر گفتگو کا آغاز کرتا ہوں۔

قادیانی نمبردار:

چھوڑیں تمام بحث کو آپ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا مسئلہ سمجھائیں۔

فقیر:

محترم چھوڑیں سے کام چلتا تو کب سے آپ نے چھوڑ دیا ہوتا۔ بات یہ نہیں اس لئے کہ یہودی بھی حیات عیسیٰ علیہ السلام کے منکر ہیں، پرویزی بھی حیات عیسیٰ علیہ السلام کے منکر ہیں۔ بعض ملحد وفلاسفر بھی حیات عیسیٰ علیہ السلام کے منکر ہیں۔ نیچری (سرسید) بھی حیات عیسیٰ علیہ السلام کے منکر ہیں۔ پانچویں سوار قادیانی بھی حیات عیسیٰ علیہ السلام کے منکر ہیں۔ اگر آپ کو حیات عیسیٰ علیہ السلام کا انکار ہوتا تو آپ یہودی ہوتے، پرویزی یا ملحد ہوتے، نیچری ہوتے، مگر آپ قادیانی ہوئے تو اس کا باعث حیات عیسیٰ علیہ السلام نہ ہوا بلکہ مرزا ہوا تو پہلے مرزا کو کیوں نہ دیکھیں۔

قادیانی نمبردار:

آپ نے ایک اور بحث شروع کر دی۔ نئی شق نکال لی۔ مجھے صرف حیات عیسیٰ علیہ السلام سمجھائیں۔

فقیر:

محترم! بندہ گنہگار آپ کو باور کرانا چاہتا ہے کہ حیات عیسیٰ علیہ السلام کا مسئلہ آپ لوگوں کو محض آڑ بنانے کے لئے قادیانی گروہ نے بتایا اور سکھایا ہوا ہے تاکہ اس میں الجھ کر آپ مرزا کو نہ سمجھ سکیں۔ اس لئے کہ آپ مرزا کی طرف آئیں گے تو مرزا کا پول کھلے گا۔ اس کی شامت آئے گی۔ قادیانیت الم نشرح ہو جائے گی۔ ورنہ حیات عیسیٰ علیہ السلام کا مسئلہ

58

آپ لوگوں کے نزدیک بھی اہم نہیں۔ لیجئے! یہ میرے ہاتھ میں مرزاقادیانی کی کتاب ازالہ اوہام ہے۔ اس کے (ص۱۴۰، خزائن ج۳ ص۱۷۱) پر مرزاقادیانی نے لکھا ہے:

’’اوّل تو جاننا چاہئے کہ مسیح کے نزول کا عقیدہ کوئی ایسا عقیدہ نہیں ہے جو ہمارے ایمانیات کی کوئی جزو یا ہمارے دین کے رکنوں میں سے کوئی رکن ہو، بلکہ صدہا پیش گوئیوں میں سے یہ ایک پیش گوئی ہے جس کو حقیقت اسلام سے کچھ بھی تعلق نہیں۔ جس زمانہ تک یہ پیش گوئی بیان نہیں کی گئی تھی۔ اس زمانہ تک اسلام کچھ ناقص نہیں تھا اور جب بیان کی گئی تو اس سے اسلام کچھ کامل نہیں ہوگیا۔‘‘

لیجئے نمبردار صاحب! مرزاقادیانی کی یہ عبارت پکار پکار کر آپ کو بلکہ تمام قادیانیوں کو متوجہ کر رہی ہے کہ رفع ونزول مسیح علیہ السلام پر بحث کی ضرورت نہیں۔ یہ کوئی ایمانیات کا مسئلہ نہیں۔ اس کا حقیقت اسلام سے کچھ تعلق نہیں۔ جب مرزا کے نزدیک ایسے ہے تو اس پر پھر بحث کے لئے آپ کیوں اصرار کرتے ہیں۔

قادیانی نمبردار:

نہیں، یہ مسئلہ ایمانیات کا ہے۔ مرزاقادیانی نے تو لکھا ہے کہ حیات عیسیٰ علیہ السلام کا عقیدہ شرک ہے۔

فقیر:

میرے بھائی! آپ کہتے ہیں کہ یہ مسئلہ ایمانیات کا ہے۔ مرزاکہتا ہے کہ ایمانیات کا نہیں۔ اب آپ فیصلہ کریں کہ آپ جھوٹے ہیں یا مرزاقادیانی جھوٹا ہے؟ آنجناب نے مرزاقادیانی کا قول نقل کیا ہے کہ حیات عیسیٰ علیہ السلام کا عقیدہ شرک ہے۔ یہ مرزاکی کتاب الاستفتاء کے (ص۳۹، خزائن ج۲۲ ص۶۶۰) پر ہے۔ اصل عبارت یہ ہے:

’’فمن سوء الادب ان یقال ان عیسیٰ مامات وان ہو الا شرک عظیم‘‘

اب آپ غور کریں کہ مرزا نے اس عبارت میں کہا کہ عیسیٰ علیہ السلام کو زندہ سمجھنا اور مردہ نہ سمجھنا شرک ہے اور براہین احمدیہ میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو زندہ قرار دیا۔ مرزا اپنی عمر کے باون سال تک حیات عیسیٰ علیہ السلام کا قائل رہا۔ آخری سترہ سال حیات عیسیٰ علیہ السلام کا منکر رہا۔ اس پر توجہ فرمائیں کہ آپ کہتے ہیں کہ مرزاقادیانی کا عقیدہ باون سال تک غلط تھا۔ سترہ سال صحیح تھا۔ ہمارا مؤقف ہے کہ باون سال تک مرزا کا عقیدہ صحیح رہا۔ سترہ

59

سال کا آخری عقیدہ غلط تھا۔ آپ کے اور مرزاصاحب کے نزدیک اگر حیات عیسیٰ علیہ السلام کا عقیدہ شرک ہے تو کیا مرزاقادیانی باون سال تک مشرک رہا؟

پہلی استدعاء:

لیجئے! میں آپ سے پہلی استدعاء کرتا ہوں کہ قادیانی مربیوں سے جاکر پوچھیں کہ نبی ماں کی گود سے قبر کی گود تک کبھی شرک میں مبتلا ہوتا ہے؟ کیا وہ شخص جو باون سال تک مشرک رہا، وہ نبی بن سکتا ہے؟

قادیانی نمبردار:

مرزاصاحب کو چھوڑیں، آپ حیات عیسیٰ علیہ السلام سمجھائیں۔

فقیر …دوسری استدعا:

جناب! میں نے حیات عیسیٰ علیہ السلام پر ابتدائی نکات بتانے کے لئے گفتگو کا آغاز کیا ہے۔ آپ ابھی سے کہتے ہیں کہ مرزا کو چھوڑیں۔ ہم نے تو اس کو قبول نہیں کیا۔ اس لئے چھوڑنے کا ہم سے کیا تقاضا کرتے ہیں؟ آپ نے اسے پکڑا ہے، جس نے پکڑا ہے وہی اسے چھوڑے۔ اس لئے آپ چھوڑ دیں، پھر ابھی تو مرزا کی پہلی کتاب میرے ہاتھ آئی ہے۔ اسی ازالہ اوہام کے (ص۱۹۰، خزائن ج۳ ص۱۹۲) پر مرزا نے لکھا ہے:

’’اس عاجز نے جو مسیح موعود کا دعویٰ کیا ہے جس کو کم فہم مسیح موعود خیال کر بیٹھے۔‘‘

اسی کتاب کے (ص۳۹، خزائن ج۳ ص۱۲۲) پر لکھا ہے کہ:

’’خداتعالیٰ نے میرے پر منکشف کیا ہے وہ یہ ہے کہ وہ مسیح موعود میں ہی ہوں۔‘‘

پھر اس کتاب کے (ص۱۸۵، خزائن ج۳ ص۱۸۹) پر لکھا ہے:

’’سواگر یہ عاجز مسیح موعود نہیں تو پھر آپ لوگ مسیح موعود کو آسمان سے اتار کر دکھائیں۔‘‘

محترم! آپ انصاف فرمائیں کہ میں نے ایک ہی کتاب کے تین مقامات سے حوالہ جات پیش کئے جو آپ کے سامنے ہیں۔ پہلے حوالہ میں کہا کہ جو مجھے مسیح موعود سمجھے وہ کم فہم ہے۔ اس لئے کہ میں مثیل مسیح موعود ہوں اور دوسرے حوالہ میں کہا کہ میں مسیح موعود ہوں۔ فرمائیں کہ ان دو متضاد باتوں سے ایک صحیح ہے۔ اگر مثیل ہے تو عین نہیں، اگر عین ہے تو مثیل نہیں۔ دونوں باتیں صحیح نہیں ہوسکتیں۔ آپ فرمائیں کہ ان دو باتوں سے مرزا نے کون سی بات غلط کہی؟ آخر ایک ہی صحیح ہوگی؟ اور پھر مرزا نے چشمہ معرفت (ص۲۲۲، خزائن ج۲۳ ص۲۳۱) پر لکھا ہے:

60

’’جب ایک بات میں کوئی جھوٹا ثابت ہو جائے تو پھر دوسری باتوں میں بھی اس پر اعتبار نہیں رہتا۔‘‘

لیجئے! اب دونوں سے ہاتھ دھونے پڑیں گے۔ (حقیقت الوحی ص۱۸۴، خزائن ج۲ ص۱۹۱) پر ہے کہ:

’’مخبوط الحواس کے کلام میں تناقض ہوتا ہے۔‘‘

اب میری آپ سے دوسری استدعاء ہے کہ قادیانی مربیوں سے پوچھیں کہ مرزا کی ان دو باتوں میں سے کون سی بات سچی ہے؟ اور کون سی جھوٹی؟

قادیانی نمبردار:

آپ تو مرزاقادیانی کا ایسا نقشہ پیش کر رہے ہیں کہ وہ گویا ایک جاہل تھا۔ حالانکہ اس کی کتابیں ملفوظات، اشتہارات، کیا یہ سب فرضی ہیں؟

فقیر:

جناب! میں نے مرزاقادیانی کو جاہل نہیں کہا۔ بلکہ اس کی کتابوں کی عبارتیں پیش کی ہیں۔ آپ نے خود نتیجہ نکالا ہے کہ وہ جاہل تھا۔ میرے نزدیک بھی کتابیں ملفوظات، اشتہارات سب ردی کی طرح ہیں۔ ان میں مجال ہے کہ کوئی علمی بات ہو اور سرسید نے مرزاقادیانی کی کتب کا صحیح تجزیہ کیا کہ:

’’مرزاقادیانی کے الہام اس کی کتابوں کی طرح ہیں نہ دین کے نہ دنیا کے۔‘‘

اگر ناراض نہ ہوں تو میرا بھی یہ مؤقف ہے۔ لیجئے! مرزاقادیانی کی یہ کتاب تریاق القلوب ہے۔ جس کے (ص۸۹، خزائن ج۱۵ ص۲۱۷) پر مرزاقادیانی نے لکھا ہے:

’’اور اسی لڑکے (مبارک) نے اسی طرح پیدائش سے پہلے یکم؍جنوری ۱۸۹۷ء میں بطور الہام یہ کلام مجھ سے کیا اور مخاطب بھائی تھے کہ مجھ میں اور تم میں ایک دن کی میعاد ہے۔ یعنی اے میرے بھائیو! میں پورے ایک دن کے بعد تمہیں ملوں گا۔ اس جگہ ایک دن سے مراد دو برس تھے اور تیسرا برس وہ ہے جس میں پیدائش ہوئی اور عجیب بات یہ ہے کہ حضرت مسیح نے تو صرف مہد میں باتیں کیں۔ مگر اس لڑکے نے پیٹ میں ہی دو مرتبہ باتیں کیں اور پھر بعد اس کے ۱۴؍جون ۱۸۹۹ء کو وہ پیدا ہوا اور جیسا کہ وہ چوتھا لڑکا تھا اس مناسبت کے لحاظ سے اس نے اسلامی مہینوں میں سے چوتھا مہینہ لیا۔ یعنی ماہ صفر اور ہفتہ کے دنوں میں سے چوتھا دن لیا یعنی چہار شنبہ۔‘‘

61

لیجئے! اب مرزاقادیانی کی اس عبارت کو جو آپ کے سامنے ہے، اسے پڑھیں اور باربار پڑھیں اور پھر ان معروضات پر غور کریں۔

۱… مرزانے لکھا کہ اس لڑکے نے مجھے بطور الہام کے کلام کرتے ہوئے کہا: ’’اے میرے بھائیو! میں پورے ایک دن کے بعد تمہیں ملوں گا۔ اس جگہ ایک دن سے مراد دو برس تھے۔ تیسرا برس وہ ہے جس میں پیدائش ہوئی۔‘‘

نمبردار صاحب! اس عبارت میں مرزاقادیانی کے دجل وکذب کا آپ اندازہ فرمائیں کہ ایک دن سے مراد دو برس تیسرا برس وہ جس میں پیدائش ہوئی۔ ایک ہی سانس میں مرزا نے ایک دن کو تین سال پر پھیلا دیا۔ کیا اس سے بڑا کذاب ودجال کوئی ہوسکتا ہے؟ اس جگہ یکم؍جنوری ۱۸۹۷ء کی بات کو ۱۴؍جون ۱۸۹۹ء تک پھیلانا مقصود تھا تو ایک دن کو تین سال کر دیا اور جہاں پچاس دینے تھے وہاں پچاس کو پانچ کر دیا۔ اس دجالیت کی دنیا میں کوئی اور مثال پیش کی جاسکتی ہے؟

۲… پھر اسی عبارت میں مرزا نے اپنے بیٹے مبارک کے متعلق کہا کہ: ’’اس نے ماںکے پیٹ میں باتیں کیں۔‘‘

میں یہ بحث نہیں کرتا کہ اگر اس نے ماں کے پیٹ میں باتیں کیں تو آواز کہاں سے آئی تھی؟ اس لئے کہ بچہ ماں کے پیٹ میں جب بولے گا، اگر ماں کے منہ سے آواز آئے، تو یہ بچے کی آواز یقین نہیں کی جاسکتی۔ اس لئے کہ ممکن ہے کہ اس کی ماں منہ بگاڑ کر اپنی بات کو بیٹے کی بات کہہ رہی ہو۔ لہٰذا ماں کے منہ سے نہیں تو پھر آواز کہاں سے آئی تھی؟ یہ تو بحث نہیں، بحث یہ ہے کہ مرزا کے لڑکے نے بات کی یکم؍جنوری ۱۸۹۷ء کو، اور پیدا ہوا ۱۴؍جون ۱۸۹۹ء کو، جو لڑکا جون ۱۸۹۹ء، کو پیدا ہوا وہ یکم؍جنوری ۱۸۹۷ء کو تو ابھی ماں کے پیٹ میں ہی نہیں آیا تو اس نے ماں کے پیٹ سے کیسے بات کی تھی؟ یہ اس امر کی دلیل ہے کہ مرزاجھوٹ بولتا تھا، من گھڑت الہام بناتا تھا۔

۳… مرزا نے اس عبارت میں کہا کہ: ’’اسلامی مہینوں سے چوتھا مہینہ لیا یعنی ماہ صفر۔‘‘

اب آپ فرمائیںکہ معمولی شدھ بدھ والے عام آدمی کو بھی پتہ ہے کہ صفر اسلامی مہینہ چوتھا نہیں بلکہ دوسرا ہے۔ جو ’’الّو کا چرخا‘‘ صفر کو چوتھا مہینہ کہے اس سے بڑھ کر کوئی جاہل ہوسکتا ہے؟

62

۴… مرزا نے اس عبارت میں لکھا کہ: ’’ہفتہ کے دنوں سے چوتھا دن لیا یعنی چہار شنبہ۔‘‘

مرزاقادیانی کی جہالت مآبی کو ملاحظہ فرمائیں۔ چہار شنبہ ہفتہ کا چوتھا دن نہیں ہوتا بلکہ پانچواں دن ہوتا ہے۔ اس اجہل نے جہل مرکب کا شکار ہوکر چہار شنبہ سے چوتھا دن باور کر لیا۔ حالانکہ (۱)ہفتہ۔ (۲)اتوار۔ (۳)پیر۔ (۴)منگل۔ (۵)بدھ۔

(۱)شنبہ۔ (۲)یک شنبہ۔ (۳)دوشنبہ۔ (۴)سہ شنبہ۔ (۵)چہار شنبہ۔

چہار شنبہ پانچواں دن ہوتا ہے نہ کہ چوتھا۔

تیسری استدعاء:

لیجئے! میری آپ سے تیسری استدعاء ہے کہ آپ قادیانی مربیوں سے پوچھیں کہ (اتنا بڑا دجال وکذاب جو ایک عبارت میں چار بار دجل وکذب کا مرتکب ہو) کیا دجال وکذاب نبی ہوسکتا ہے؟ جناب نمبردار صاحب! آپ نے مرزا کی جہالت کی بات کی، تو جو ماہ صفر کو چوتھا مہینہ اور چہار شنبہ کو چوتھا دن کہے، اس سے بڑا اور کوئی جاہل ہوسکتا ہے؟

قادیانی نمبردار:

مولانا صاحب! میں معافی چاہتا ہوں، آپ حیات عیسیٰ علیہ السلام کا مسئلہ بیان کریں اور وہ بھی قرآن سے، ورنہ مجھے اجازت۔

فقیر:

اب مجھے یقین ہورہا ہے کہ آنجناب مرزاقادیانی کے دجل وکذب سے تنگ آ گئے ہیں اور فرار کا سوچنے پر مجبور ہوگئے ہیں۔ لیجئے! میں قرآن مجید سے حیات عیسیٰ علیہ السلام پر اپنے دلائل کا آغاز کرتا ہوں۔ پہلی دلیل قرآن مجید سے اور استدلال مرزاقادیانی کی کتب سے لیجئے۔ یہ میرے ہاتھ میں مرزاقادیانی کی کتاب براہین احمدیہ چہار حصص ہے۔ اس کے ص۳۱۳ (یہ لاہوری ایڈیشن کا صفحہ ہے۔ قادیان کے ایڈیشن کا ص۴۹۸، خزائن ج۱ ص۵۹۳ ہے) اس پر مرزانے لکھا ہے:

’’ہو الذی ارسل رسولہ بالہدیٰ ودین الحق لیظہرہ علی الدین کلہ‘‘

یہ آیت جسمانی اور سیاست ملکی کے طور پر حضرت مسیح علیہ السلام کے حق میں پیش گوئی ہے اور جس غلبۂ کاملہ دین اسلام کا وعدہ دیاگیا ہے وہ غلبہ مسیح کے ذریعہ سے ظہور میں آئے گا اور جب حضرت مسیح علیہ السلام دوبارہ اس دنیا میں تشریف لائیں گے تو ان کے ہاتھ سے دین اسلام جمیع آفاق اور اقطار میں پھیل جائے گا۔‘‘

63

لیجئے! یہ قرآن مجید کی آیت کریمہ ہے جس سے مرزا استدلال کر رہا ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام دوبارہ اس دنیا میں تشریف لائیں گے۔ دوبارہ کے معنی، وہی پہلے والے آئیں گے، زندہ ہیں تب ہی آئیں گے۔ قرآن مجید کی آیت ہے اور مرزا کا معنی، اب آپ فرمائیں۔ قرآن سے ثابت ہوا کہ عیسیٰ علیہ السلام دوبارہ اس دنیا میں تشریف لائیں گے۔

قادیانی نمبردار:

مرزاصاحب نے اس میں رسمی عقیدہ لکھ دیا، بعد میں ان کو وحی اور الہام سے معلوم ہوا کہ وہ خود مسیح موعود ہیں اور یہ کہ عیسیٰ علیہ السلام فوت ہوگئے ہیں۔ آخر حضور صلی اللہ علیہ وسلم بھی تو پہلے بیت المقدس کی طرف رخ کر کے نماز پڑھتے تھے، بعد میں بیت اﷲ شریف کی طرف رخ کیا۔

فقیر:

محترم! آپ نے بڑی سادگی سے یہ بات کہہ دی۔ حالانکہ بات ایسے نہیں جیسے آنجناب نے کہا۔ بلکہ بڑی سنجیدگی سے غور کریں کہ اس کے یہ نتائج نکلتے ہیں۔

۱… مرزا قرآن مجید کی آیت پڑھ کر کہتا ہے کہ یہ آیت مسیح علیہ السلام کے متعلق ہے۔ پھرکہتا ہے یہ مرزا کی کتاب اربعین نمبر۲ میرے ہاتھ میں ہے۔ اس کے (ص۲۷، خزائن ج۱۷ ص۳۶۹) پر مرزا نے لکھا ہے:

’’میرے دعویٰ مسیح موعود ہونے کی بنیاد انہی الہامات سے پڑی ہے اور انہی (الہامات) میں خدا نے میرا نام عیسیٰ رکھا اور جو مسیح موعود کے حق میں آیتیں تھیں، وہ میرے حق میں بیان کر دیں۔‘‘

مرزا نے قرآن پڑھ کر کہا کہ یہ آیات مسیح کے متعلق ہیں اور وہ زندہ ہیں۔ پھر کہا کہ الہامات سے معلوم ہوا کہ وہ فوت ہوگئے اور ان آیات کا میں مصداق ہوں۔ کیا مرزاقادیانی کے الہام سے قرآن مجید منسوخ ہوگیا؟

چوتھی استدعاء:

اب میری آپ سے چوتھی استدعاء ہے کہ آپ اپنے قادیانی مربیوں سے معلوم کریں کہ جو شخص اپنے الہام سے قرآن مجید کو منسوخ کرے، اس سے بڑا کافر کوئی اور ہوسکتا ہے؟ باقی رہا آنجناب کا یہ کہنا کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم پہلے بیت المقدس کی طرف رخ کر کے نماز پڑھتے تھے پھر بیت اﷲ شریف کی طرف رخ کیا۔ تو جناب! فلاں شخص زندہ ہے یہ خبر ہے۔ فلاں طرف رخ کر کے نماز پڑھو یہ حکم ہے۔ احکام میں نسخ ہوتا ہے، اخبار میں نسخ نہیں

64

ہوتا… جب حضور صلی اللہ علیہ وسلم بیت المقدس کی طرف رخ کر کے نماز پڑھتے تھے وہ صحیح تھا۔ جب رخ بیت اﷲ شریف کی طرف کیا تو یہ بھی صحیح تھا۔ اس لئے کہ یہ احکام ہیں اور یہ دونوں صحیح ہیں۔ لیکن فلاں شخص زندہ ہے، نہیں فوت ہوگیا ان دونوں میں سے ایک بات صحیح ہوگی۔ دوسری غلط۔ دونوں صحیح نہیں ہوسکتیں۔ اس وضاحت کے بعد فقیر نے براہین احمدیہ چہار حصص کے لاہوری ایڈیشن ص۳۱۷ کی عبارت پیش کی۔

(قادیانی ایڈیشن ص۵۰۵، خزائن ج۱ ص۶۰۱)

’’عسیٰ ربکم ان یرحمکم وان عدتم عدنا وجعلنا جہنم للکافرین حصیرا‘‘

جس کی تفصیل میں مرزا نے الہامی طور پر اقرار کیا کہ: ’’حضرت مسیح علیہ السلام نہایت جلالت کے ساتھ دنیا پر اتریں گے۔‘‘ لیجئے! یہ دوسری آیت ہے۔

قادیانی نمبردار:

آپ مرزاقادیانی کو کیوںلیتے ہیں؟ اس کو چھوڑیں قرآن سے ثابت کریں۔

فقیر:

میں سمجھ گیا آپ مرزا سے اتنے الرجی ہوگئے ہیں کہ ان کا قرآنی ترجمہ بھی آپ کو قبول نہیں۔ لیجئے! میں چند آیات قرآنی پیش کرتا ہوں۔ ’’وما قتلوہ وما صلبوہ… بل رفعہ اﷲ الیہ وکان اﷲ عزیزاً حکیما… وان من اہل الکتاب الا لیؤمنن بہ قبل موتہ… وانہ لعلم للساعۃ‘‘ (امکان نزول کے لئے ’’ان مثل عیسیٰ عند اﷲ کمثل آدم‘‘) آسمان کا لفظ کہاں ہے؟ اس کے اثبات کے لئے مختلف آیات قرآنی مثلاً ’’قدنریٰ تقلب وجہک فی السماء… أامنتم من فی السماء۰ یعیسیٰ انی متوفیک ورافعک۰ وجیہاً فی الدنیا والآخرہ۰ اذ علمتک الکتاب والحکمۃ۰ تکلم الناس فی المہد وکھلا‘‘ پر تفصیل سے پون گھنٹہ تقریباً گفتگو کی (جس کی تفصیلات کے لکھنے کے لئے وقت چاہئے) اس پر قادیانی نمبردار نے کہا۔

قادیانی نمبردار:

اچھا کافی وقت ہوگیا ہے میں غور کروں گا۔

فقیر:

نہیں جناب! یہ تو آپ کی ڈیمانڈ تھی۔ قرآن مجید کے بعد حدیث شریف کا نمبر آتا ہے وہ سنیں۔ مرزاقادیانی نے اپنی کتاب (ازالہ اوہام ص۲۰۱، خزائن ج۳ ص۱۹۸) پر بخاری شریف ص۴۹۰ کی روایت نقل کی ہے۔ ’’والذی نفسی بیدہ لیوشکن ان ینزل

65

فیکم ابن مریم حکمًا عدلا فیکسر الصلیب ویقتل الخنزیر ویضع الحرب کیف انتم اذا نزل ابن مریم فیکم وامامکم منکم‘‘ قسم ہے اس ذات کی جس کے ہاتھ میںمیری جان ہے کہ ابن مریم علیہ السلام تم میں نازل ہوگا۔ عادل، حاکم ہوگا، صلیب کو توڑ ڈالے گا اور خنزیر کو قتل کر دے گا۔ جنگ اٹھا دی جائے گی۔ اس وقت تمہاری کیا کیفیت ہوگی جب تم میں ابن مریم نازل ہوگا اور تمہارا امام تم میں سے ہوگا۔

اور اسی کتاب (ازالہ اوہام ص۲۰۶، خزائن ج۳ ص۲۰۱) پر صحیح مسلم شریف کی روایت ہے۔ آخری الفاظ یہ ہیں۔ ’’فبینما ہو کذالک اذبعث اﷲ المسیح ابن مریم فینزل عند منارۃ البیضاء شرقی دمشق بین مہروزتین واضعاکفیہ علی ابخۃ الملکین… حتیٰ یدرکہ بباب لد فیقتلہ‘‘ ان حالات میں عیسیٰ بن مریم علیہ السلام کو ﷲتعالیٰ بھیجیں گے جو (جامع) دمشق کے سفید شرقی منارہ پر نازل ہوں گے۔ وہ دو زرد رنگ کی چادریں پہنی ہوئی ہوں گے۔ دو فرشتوں کے پروں پر ہاتھ رکھے ہوئے ہوں گے… دجال کو مقام ’’لد‘‘ پر پاکر قتل کر دیں گے۔

میرے محترم! یہ دونوں روایتیں صحیحین یعنی بخاری ومسلم کی ہیں۔ مرزاقادیانی نے خود ان کو اپنی کتاب میں نقل کیا ہے۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم قسم اٹھا کر فرماتے ہیں کہ عیسیٰ بن مریم علیہ السلام تمہارے اندر نازل ہوگا۔ اب میں ان روایات میں بیان کردہ علامات پر بحث کو مرکوز رکھتا ہوں۔ ورنہ جہاں تک حضرت مسیح ابن مریم علیہ السلام کی علامات بیان کردہ قرآن وحدیث کا تعلق ہے وہ ایک سواسی ۱۸۰ کے قریب ہیں اور یہ کہ ان میں سے ایک بھی مرزا میں نہیں پائی جاتی۔ دجل وتلبیس، تاویل وتحریف کر کے آپ کے قادیانی مربی جو کہتے پھریں؟ مگر جہاں تک حقائق کا تعلق ہے ایک بھی نشانی مرزاقادیانی آنجہانی میں نہیں پائی جاتی۔ قرآن مجید کی تیرہ آیات کی صراحۃ النص، عبارۃ النص اور اشارۃ النص حضور سرور کائنات صلی اللہ علیہ وسلم کی ۱۱۲ صحیح وصریح احادیث مبارکہ سے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی حیات کا مسئلہ ثابت ہے۔ تفصیلات احادیث معلوم کرنے کے لئے’’التصریح بما تواتر فی نزول المسیح‘‘ جو ملتان اور بیروت کی شائع شدہ ہے، اس میں دیکھی جاسکتی ہے۔ کراچی کے مولانا محمد رفیع عثمانی نے ’’نزول مسیح اور علامات قیامت‘‘ کے نام سے اس کا ترجمہ بھی کر دیا

66

ہے۔ خیر! مجھے اس وقت مرزا کی کتاب ازالہ اوہام میں بیان کردہ دو حدیثوں کی علامات کا جائزہ لینا ہے۔

۱… حضور صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ خدا کی قسم عیسیٰ بیٹا مریم کا نازل ہوگا۔ اس کے مقابلہ میں مرزا کہتا ہے کہ ’’حق کی قسم مرگیا ابن مریم‘‘ مرزاقادیانی کا یہ شعر ازالہ اوہام (ص۷۶۴، خزائن ج۳ ص۵۱۳) میں دیکھا جاسکتا ہے۔ ایک ہی شخصیت کے متعلق حضور صلی اللہ علیہ وسلم قسمیہ ارشاد فرماتے ہیں کہ نازل ہوگا زندہ ہے اور اس کے متعلق مرزا کہتا ہے کہ وہ مرگئے۔ اب آپ پر فیصلہ ہے کہ اپنے ایمان سے کہیں کہ کس کی قسم سچی ہے؟ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی یا مرزا بدمعاش کی؟

۲… حضور صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں جو نازل ہوگا وہ مریم کا بیٹا ہے۔ مرزاکہتا ہے کہ وہ میں ہوں۔ وہ نازل ہوگا۔ یہ ماںکے پیٹ سے پیدا ہوا۔ کیا مرزا کی ماں کا پیٹ آسمان تھا؟ وہ مریم علیہا السلام کے بیٹے ہیں۔ مرزاقادیانی چراغ بی بی کا لڑکا ہے۔ وہ حاکم ہوں گے، یہ غلام ابن غلام تھا۔ ساری زندگی انگریز کی ذلت آمیز خوشامد وچاپلوسی کرتا رہا، پچاس الماریاں کتابوں کی انگریز کی مدح میں لکھتا رہا۔ عریضے بھیجتا رہا، درخواستیں کرتا رہا۔ ان کی اطاعت کو فرض گردانتا رہا۔ وہ عادل ہوں گے۔ یہ اپنی بیوی سے عدل نہ کر سکا، اپنی پہلی اولاد سے انصاف نہ کر سکا۔

۳… وہ صلیب کو توڑ ڈالیں گے، ان کے آنے پر عیسائیت ختم ہو جائے گی جو صلیب کے پجاری ہیں وہ صلیب کے توڑنے والے بن جائیں گے۔ جو خنزیر خور ہیں وہ خنزیر کے قاتل بن جائیں گے صلیب وخنزیر کا پجاری کوئی نہ رہے گا، مرزا کے زمانہ میں عیسائیت کو جو ترقی ہوئی وہ کسی سے پوشیدہ نہیں۔ اب ’’ربوہ‘‘ (چناب نگر) میں مسیحی موجود ہیں۔ مرزا کا موجودہ جانشین مسیحیوں کی گود میں لندن بیٹھا ہے۔ کیا یہ اس کی دلیل نہیں کہ یہ علامتیں مرزا میں موجود نہ تھیں؟

پھر لگے ہاتھوں براہین احمدیہ کی عبارت جو پیش کر چکا ہوں وہ سامنے رہے کہ مسیح علیہ السلام کی آمد پر دین اسلام کا غلبہ ہوگا اور اس کو حدیث شریف میں یوں بیان کیاگیا ہے۔’’یہلک الملل کلہا الاملۃ واحدۃ الا فہی الاسلام‘‘ کہ تمام ادیان باطلہ مٹ جائیں گے۔ پوری دنیا میں اسلام ہی کی فرمانروائی ہوگی۔ لیکن اس کے برعکس مرزا کو دیکھو،

67

اس نے آتے ہی تمام مسلمانوں کو جو مرزا کو نہیں مانتے کافر قرار دیا جو مسلمان تھے، مرزا نے ان کو کافر بنادیا۔ اپنے ماننے والوں کو ہی فقط مسلمان قرار دیا۔ اب مرزائیوں کے دو گروپ ہوگئے ہیں۔ ایک لاہوری دوسرا قادیانی۔ لاہوریوں نے کہا کہ مرزا نبی نہیں تھا تو جو غیرنبی کو نبی مانے وہ کافر، تو گویا قادیانی کافر۔ مرزا نے کہا کہ تمام مسلمان کافر۔ لاہوریوں کے نزدیک قادیانی کافر، قادیانیوں کے نزدیک لاہوری کافر۔نتیجہ یہ نکلا کہ مرزا کے آنے پر دنیا میں ایک بھی مسلمان نہ رہا تو آپ فرمائیے کہ مسیح علیہ السلام کی آمد پر اسلام کا بول بالا ہوگا۔ مرزا کے آنے پر کفر کا بول بالا ہوا تو مرزا مسیح ہدایت ہوا یا مسیح ضلالت۔

پانچویں استدعا:

میری آپ سے یہ ہے کہ اس عقیدہ کو بھی قادیانیوں سے حل کرائیے گا۔

۴… ان کے آنے پر جنگیں موقوف ہو جائیں گے۔ جب دنیا میں کافر کوئی نہیں ہوگا تو پھر جنگ کس سے؟ لیکن مرزا کے آنے پر کتنی جنگیں ہوئیں؟ یہ آپ کے سامنے ہے۔

۵… مسیح نازل ہوں گے تو اس وقت مسلمانوں کے امام مسلمانوں میں سے موجود ہوں گے۔ اس سے مراد حضرت مہدی علیہ الرضوان ہیں۔ معلوم ہوا کہ مسیح اور ہیں، مہدی اور ہیں۔ یہ دونوں جدا جدا شخصیات ہیں۔ ان کے نام وکام وزمانہ وغیرہ کی تفصیلات احادیث مبارکہ میں موجود ہیں۔ مرزا نے کہا کہ وہ دونوں ایک ہیں اور وہ میں ہوں۔ یہ صراحۃً چودہ سو سالہ امت اسلامیہ کے تعامل سے ہٹ کر امر ہے جو سراسر کذب ودجل کا شاہکار ہے۔

۶… مسیح علیہ السلام جامع دمشق کے شرقی سفید مینار کے قریب نازل ہوں گے۔ مرزا نے کہا کہ دمشق سے مراد قادیان ہے۔ اس لئے کہ یہ دمشق کے شرق میں واقع ہے۔ اس ’’الّو کے پٹھے‘‘ سے کوئی یہ پوچھے کہ دمشق کے مشرق میں صرف قادیان ہے اور کوئی شہر نہیں؟ سفید مینار پر نازل ہوں گے۔ مینار کی مرزا نے تاویل وتحریف کی بجائے اسے حصول زر کا ذریعہ بنالیا کہ چندہ اکٹھا کرو، مینارہ بناتے ہیں۔ چندہ کا دھندا اور مینار کا اشتہار شروع ہوا۔مینار مکمل نہ ہوا، مرزا قبر میں چلا گیا۔ مینار مرزا کے مرنے کے بعد مکمل ہوا۔

حدیث شریف کی رو سے مینار پہلے ’’مسیح علیہ السلام بعد میں، مگر مرزا کہتا ہے کہ مسیح پہلے، مینار بعد میں۔ یہ تو بڑے میاں کی بات تھی اب چھوٹے میاں مرزامحمود کی سنو۔ یہ دمشق

68

گیا، کہتا ہے کہ مینار کا دروازہ کھولو میں اس پر چڑھتا ہوں تاکہ حدیث کے ظاہری الفاظ پورے ہو جائیں۔ دنیا میں شرافت ودیانت نام کی کوئی چیز ہے تو میں اس کو دہائی دیتا ہوں کہ حدیث میں ہے کہ مسیح بن مریم علیہ السلام مینار کے قریب نازل ہوں گے۔ یہاں خود ساختہ مسیح کا بیٹا ہے۔ وہ نازل ہوں گے۔ یہ نیچے سے اوپر جارہا ہے۔ حدیث کے ظاہری الفاظ پر عمل ہورہا ہے یا حدیث کو بازیچہ اطفال بنانے کے لئے شیطان کے ہاتھوں میں ابن الشیطان کھیل رہا ہے۔ اس کا فیصلہ آپ کریں۔

۷… آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا مسیح علیہ السلام نے نزول کے وقت دو زردرنگ کی چادریں پہن رکھی ہوں گی۔ مرزا کا نزول کی بجائے ولود ہوا۔ مگر چادروں کی بجائے الف ننگا۔ (قادیانیت کی طرح)

۸… مسیح علیہ السلام نے نزول کے وقت دو فرشتوں کے پروں پر ہاتھ رکھا ہوا ہوگا۔مگر مرزا ’’ولود‘‘ کے وقت دائی کے ہاتھ میں وصول شدہ پارسل کی طرح تھا۔

۹… مسیح علیہ السلام مقام لد پر (جو اسرائیل میں واقع ہے) دجال کو قتل کریں گے۔ مرزا دجالی طاقتوں کا پروردہ اور دجال اکبر کا نمائندہ تھا۔ بیان کردہ ان روایات سے میں نے ۹ علامتیں بیان کی ہیں۔ میری درخواست ہے کہ کیا کوئی علامت بھی مرزاقادیانی میں پائی جاتی تھی؟ نہیں اور یقینا نہیں تو پھر غور فرمائیں کہ مرزامسیح تھا یا دجال تھا؟

مسیح کیسے بنا؟

اب یہاں ایک سوال پیدا ہوتا ہے کہ مرزا مسیح کیسے بنا۔ مرزا کی کتاب کشتی نوح میں درج ہے کہ اس (خدا) نے براہین احمدیہ کے تیسرے حصہ میں میرا نام مریم رکھادوبرس تک صفت مریمیت میں میں نے پرورش پائی اور پردہ میں نشوونما پاتا رہا۔ پھر جب دو برس گزر گئے… مریم کی طرح عیسیٰ کی روح مجھ میں نفخ کی گئی اور استعارہ کے رنگ میں مجھے حاملہ ٹھہرایا (کس نے؟) گیا اور آخری کئی مہینہ کے بعد جو دس مہینہ سے زیادہ نہیں… مجھے مریم سے عیسیٰ بنایا گیا۔

(کشتی نوح ص۴۶،۴۷، خزائن ج۱۹ ص۵۰)

اب دیکھئے کہ غلام احمد سے مریم بن گئی۔ یعنی مرد سے عورت، دنیا کا نیا عجوبہ، پھر حمل ہوگیا۔ پھر مریم سے عیسیٰ بن گیا۔ یوں مرزاغلام احمد سے مسیح ابن مریم ہو گیا۔ میرا دعویٰ

69

ہے کہ دنیامیں حیانام کی کوئی چیز ہے تو مرزاقادیانی کو اس کی ہوا بھی نہیں لگی۔

مرزا کی اخلاق باختگی

’’مسیح موعود (مرزا ملعون) نے ایک موقعہ پر اپنی حالت یہ ظاہر فرمائی کہ کشف کی حالت آپ پر اس طرح طاری ہوئی کہ گویا آپ عورت ہیں اور ﷲتعالیٰ نے رجولیت کی طاقت کا اظہار فرمایا تھا۔ سمجھنے والے کے لئے اشارہ کافی ہے۔‘‘

(اسلامی قربانی ٹریکٹ نمبر۳۴ ص۱۲، تصنیف قاضی یار محمد قادیانی)

لیجئے صاحب! یہ مرزا کی حدیث (معاذ اﷲ) اس کا نام نہاد صحابی (معاذ اﷲ) بیان کر رہا ہے کہ مرزا قادیانی سے ﷲتعالیٰ نے وہ کام کیا جو مرد اپنی عورت سے کرتا ہے۔ مرزا کا یہ کشف ہے۔ کشفی حالت میں مرزا سے کیا کچھ ہو رہا ہے؟ یہ وہ کشف ہیں جن کی بنیاد پر کہا جاسکتا ہے کہ کشف والہام سے ثابت ہوا کہ مسیح ابن مریم فوت ہوگئے، اور مرزا ہی مسیح موعود ہے۔ یہ مرزا کے کشوف… اب مرزا کا ایک اور کشف بھی ملاحظہ ہو۔ مرزا نے اپنی کتاب ازالہ اوہام (ص۷۷، خزائن ج۳ ص۱۴۰) کے حاشیہ پر لکھا ہے:

’’کشفی طور پر میں نے دیکھا کہ میرے بھائی صاحب مرحوم مرزاغلام قادر میرے قریب بیٹھے باآواز بلند قرآن شریف پڑھ رہے ہیں اور پڑھتے پڑھتے انہوں نے ان فقرات کو پڑھا کہ ’’انا انزلناہ قریباً من القادیان‘‘ تو میں نے سن کر بہت تعجب کیا کہ کیا قادیان کا نام بھی قرآن شریف میں لکھا ہوا ہے۔ تب انہوں نے کہا کہ یہ دیکھو لکھا ہوا ہے۔ تب میں نے نظر ڈال کر جو دیکھا تو معلوم ہوا کہ فی الحقیقت قرآن شریف کے دائیں صفحہ میں شاید قریب نصف کے موقع پر یہی الہامی عبارت لکھی ہوئی موجود ہے۔ تب میں نے دل میں کہا کہ ہاں واقعی طور پر قادیان کا نام قرآن شریف میں درج ہے اور میں نے کہا تین شہروں کا نام اعزاز کے ساتھ قرآن شریف میں دیاگیا ہے۔ مکہ اور مدینہ اور قادیان۔ یہ کشف تھا جو کئی سال ہوئے مجھے دکھلایا گیا تھا۔‘‘

محترم لیجئے! یہ مرزاقادیانی کا کشف ہے، جسے وہ عالم بیداری میں اپنے ہاتھ سے لکھ کر کتاب کی زینت بنا رہے ہیں اور فی الحقیقت کہہ کر اپنے کشف کو پکا کر رہے ہیں۔ میری درخواست ہے کہ مرزاقادیانی اپنے دعوی کے مطابق نبوت کا مدعی تھا اور نبی کا کشف تو

70

درکنار، بجائے خود خواب بھی شریعت کے اندر حجت اور قابل اعتماد ہوتا ہے۔ صحیح ہوتا ہے۔ قرآن مجید کی نص قطعی ہے کہ سیدنا ابراہیم علیہ السلام نے اپنے بیٹے سیدنا اسماعیل علیہ السلام کی بابت خواب دیکھا۔ ’’انی اری فی المنام انی اذبحک فانظر ماذا تری قال یا ابت افعل ماتؤمر (الصّٰفّٰت:۱۰۲)‘‘ اسماعیل علیہ السلام نے یہ خواب سن کر یہ نہیں فرمایا کہ یہ خواب ہے، بلکہ فرمایا کہ آپ کر گزریں۔ جو اﷲ رب العزت نے فرمایا ہے۔ اسکی روشنی میں اسماعیل علیہ السلام نے گردن جھکائی، ابراہیم علیہ السلام نے چھری چلائی۔ دونوں نبیوں نے اپنے عمل سے ثابت کیا کہ شریعت میں نبی کا خواب بھی حجت ہوتا ہے۔ چہ جائیکہ کشف ہو۔ اب آپ فرمائیں تمام قادیانی مل کر اس عقدہ کو حل کریں کہ کیا قرآن مجید میں قادیان کا نام ہے؟ نہیں اور یقینا نہیں تو پھر مرزا کا کشف خلاف واقعہ ہوا، غلط ہوا۔ اب جس کے یہ کشف ہوں، اس آدمی کے ان جھوٹے کشوف پر اعتبار کر کے قرآن وحدیث کے خلاف نظریہ قائم کر لیا جائے۔ قرآن کہے مسیح علیہ السلام زندہ ہیں۔ مرزاقادیانی قرآن سے مسیح علیہ السلام کو زندہ کہے پھر اپنے الہام سے ان کی وفات کا اعلان کرے۔ فرمائیے ہم قرآن مجید کے اعلان کو مانیں یا مرزا کے ان جھوٹے کشوف والہامات کو؟

کشف کی بات چل نکلی ہے تو لیجئے مرزاقادیانی کا ایک خواب جو (تذکرہ طبع سوم ص۷۵۹) پر لکھا ہے۔ ملاحظہ ہو:

’’مجھے کشف ہوا تھا کہ اس (اسماعیل) نے میرے داہنے ہاتھ پر دست پھر دیا۔‘‘

اب اپنے نام نہاد مرزاقادیانی کو دیکھیں کہ کشف میں اپنے داہنے ہاتھ پر ’’پاخانہ‘‘ کی کہانی سنا رہا ہے۔ قادیانی اسے مرزاصاحب کے الہام وکشوف نامہ ’’تذکرہ‘‘ میں شائع کر رہے ہیں۔ مرزا کا ہاتھ کشف میں فلتھ ڈپو بنا ہوا ہے اور قادیانی اس مکروہ اور احمقانہ عمل کو بیان کر رہے ہیں۔ دونوں تابع ومتبوع کی مت ماری گئی ہے کہ اس کریہہ عمل کو دہرایا جارہا ہے۔

خیر! قادیانی نمبردار صاحب! میری درخواست ہے کہ اﷲ رب العزت کے نبی کا ہاتھ بابرکت ہوتا ہے۔ نبی اشارہ کرے خداتعالیٰ چاند کے ٹکڑے فرمادیں۔ نبی اپنا ہاتھ کسی صحابیؓ کے ٹوٹے ہوئے بازو پر پھیر دے تو وہ ساری عمر کے لئے صحیح ہو جائے۔ نبی اگر ہاتھ کا

71

اشارہ کرے تو درخت زمین چیر کر نبوت کے قدموں میں آجائے۔ نبی ہاتھ اٹھائے خدا بارش برسائے۔ نبی اپنا ہاتھ صحابی کی ’’سوٹی‘‘ کو لگا دے تو وہ ٹیوب سے زیادہ روشن ہو جائے۔ نبی پیالے میں ہاتھ رکھ دے تو خداتعالیٰ نبوت کی پانچوں انگلیوں سے پانی کے پانچ چشمے جاری فرمادیں۔ میں قادیانیوں سے درخواست کرتا ہوں کہ اگر وہ مرزا کو نبی مانتے ہیں تو مرزا سے درخواست کریں کہ مرزا یہی برکت والا ہاتھ جس پر اسماعیل نے تازہ تازہ پاخانہ پھرا ہے۔ یہ ہاتھ تمام قادیانیوں کے منہ پر پھیر دے تاکہ قادیانیوں کے منہ پلستر ہو جائیں۔ ’’میڈ ان قادیان‘‘ معاذ اﷲ!

تو جناب! یہ ہیں مرزا کے کشوف والہامات جو سراپا دجل وکذب کا شاہکار ہیں۔ ویسے بھی مرزاقادیانی جتنے جھوٹ بولتا تھا اس کی مثال نہیں۔ مثلا:

۱… مرزا نے اپنی کتاب (براہین احمدیہ حصہ پنجم ص۱۸۱، خزائن ج۲۱ ص۳۵۹) پر لکھاہے کہ:

’’احادیث صحیحہ میں آیا تھا، کہ وہ مسیح موعود صدی کے سر پر آئے گا اور چودھویں صدی کا مجدد ہوگا۔‘‘

میرا دنیا بھر کے قادیانیوں کو غیرت وحمیت کے نام پر چیلنج ہے کہ ہے کوئی ماں کا لال قادیانی؟ جو احادیث صحیحہ تو درکنار کسی ایک صحیح وصریح حدیث سے یہ دکھا دے کہ مسیح موعود چودھویں صدی میں آئے گا اور اس چودھویں صدی کا مجدد ہوگا۔ سو سال سے امت محمدیہ علیٰ صاحبہا الف الف تحیہ یہ چیلنج کرتی آرہی ہے کہ قادیانی کوئی ایک صحیح حدیث میں چودھویں صدی کا لفظ دکھا کر مرزاقادیانی کے دامن سے کذب وافتراء کے دھبہ کو صاف کریں۔ مگر کوئی حدیث ہو تو بیچارے بیان کریں۔ یہ حدیث نہیں ہے بلکہ مرزاقادیانی کی خود غرضی ہے۔ چونکہ چودھویں صدی میں اس نے فراڈ ودھوکہ اور دجل وکذب سے جھوٹا دعویٰ کیا، اسے صحیح بنانے کے لئے حضور سرور کائنات صلی اللہ علیہ وسلم کے نام پر احادیث مبارکہ کا ذکر کر کے جھوٹ بول رہا ہے اور قادیانیوں کی مت ماری گئی کہ وہ اتنے بڑے سفید جھوٹ کو مرزا کے سیاہ منہ سے سن کر اپنے سیاہ دل میں جگہ دے کر اپنی قبر وآخرت کو سیاہ کر رہے ہیں۔

چھٹی استدعاء:

جناب نمبردار صاحب! میری آپ سے یہ چھٹی استدعاء ہے کہ قادیانی مربیوں سے مل کر آپ وہ حدیث صحیح وصریح لائیں۔ جس میں مسیح موعود کے چودھویں صدی

72

میں آنے کے الفاظ ہوں، قیامت تک نہیں لاسکیں گے، چلو رعایت کرتا ہوں۔ صحیح نہیں ایک ضعیف یا موضوع روایت ہی دکھادیں۔ جس میں چودھویں صدی کے الفاظ ہوں اور اربعین نمبر۲ ص۲۹ میں لکھا کہ:

’’انبیاء گزشتہ کے کشوف نے اسی بات پر قطعی مہر لگادی کہ وہ چودھویں صدی کے سر پر پیدا ہوگا اور مزید یہ کہ پنجاب میں پیدا ہوگا۔ دیکھئے براہین احمدیہ میں کہا کہ احادیث صحیحہ میں آیا ہے کہ وہ چودھویں صدی میں آئے گا۔ اب اربعین میں کہا انبیاء گزشتہ کے کشوف میں ہے کہ چودھویں صدی میں ہوگا اور پنجاب میں ہوگا۔‘‘

ہمارا دعویٰ ہے کہ کسی نبی کے کشف میں پنجاب وچودھویں صدی کا ذکر نہیں۔ یہ مرزا کا ڈھونگ ڈھکوسلہ، بدبودار جھوٹ اور متعفن بددیانتی ہے۔ سو سال سے ہمارے چیلنج کے باوجود قادیانی اس کا جواب نہیں دے سکے۔ اب دیکھئے کہ اربعین کے پہلے ایڈیشن میں ’’انبیاء گزشتہ کے کشوف‘‘ کے الفاظ تھے۔ اب حالیہ ایڈیشن میں ’’اولیاء گزشتہ کے کشوف‘‘ کر دیا۔ یہ دلیل ہے اس بات کی کہ مرزاقادیانی نے انبیاء علیہم السلام اور حضور سرور کائنات صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات اقدس پر افتراء کیا۔ اب آپ انصاف فرمائیں کہ ایسے جھوٹے مفتری اور کذاب کے ایسے احمقانہ الہامات، ملحدانہ کشوف اور مرتدانہ رؤیا کی بنیاد پر ہم حیات عیسیٰ علیہ السلام کے ایک اجماعی عقیدہ کو چھوڑ کر اس مرزاملعون کو مسیح مان لیں۔ یہ کیسے ممکن ہے؟

جناب قادیانی نمبردار صاحب! اگر آپ نے منصفانہ فیصلہ کرنا ہو تو وہ کوئی مشکل نہیں، دو اور دو چار کی طرح بالکل حالات وواقعات کی بنیاد پر بھی مرزا کے کذب وصدق کو جانچا جاسکتا ہے۔ یہ دیکھئے میرے ہاتھ میں مرزاقادیانی کی کتاب حقیقت الوحی ہے۔ اس کے (ص۱۹۳،۱۹۴، خزائن ج۲۲ ص۲۰۱) پر مرزاقادیانی نے لکھا:

’’آخری مجدد اس امت کا مسیح موعود ہے جو آخری زمانہ میں ظاہر ہوگا۔ اب تنقیح طلب یہ امر ہے کہ آخری زمانہ ہے یا نہیں؟ یہود ونصاریٰ دونوں قومیں اس پر اتفاق رکھتی ہیں کہ یہ آخری زمانہ ہے۔ اگر چاہو تو پوچھ کر دیکھ لو۔ مری پڑ رہی ہے زلزلے آرہے ہیں ہر ایک قسم کی خارق عادت تباہیاں شروع ہیں۔ پھر کیا یہ آخری زمانہ نہیں؟ اور صلحاء اسلام نے بھی

73

اس زمانہ کو آخری زمانہ قرار دیا ہے اور چودھویں صدی میں سے تیس سال گزر گئے ہیں۔ پس یہ قوی دلیل اس بات پر ہے کہ یہی وقت مسیح موعود کے ظہور کا وقت ہے اور میں ہی وہ ایک شخص ہوں جس نے اس صدی کے شروع ہونے سے پہلے دعویٰ کیا… وہ مسیح موعود آخری زمانہ کا مجدد ہے وہ میں ہی ہوں۔‘‘

اب مرزاغلام احمد قادیانی کی اس بات سے یہ نتیجہ نکلا کہ:

۱… ہر صدی پر ایک مجدد ہوتا ہے۔

۲… آخری صدی (آخری زمانہ) کا مجدد مسیح موعود ہوگا۔

۳… چونکہ یہ زمانہ (صدی) آخری زمانہ ہے۔ لہٰذا اس صدی کا آخری مجدد جو مسیح موعود ہوگا وہ میں ہوں۔

۴… پس میں مسیح موعود ہوں۔ کیونکہ یہ صدی آخری زمانہ ہے۔

میرے محترم! چودھویں صدی کے اختتام کے بعد قیامت نہیں آئی۔ بلکہ اور صدی شروع ہوگئی تو پندرھویں صدی کے آغاز نے مرزاغلام احمد قادیانی کے کفر کو اور آشکارا کر دیا۔ پندرھویں صدی نے بتادیا کہ چودھویں صدی آخری نہ تھی۔ لہٰذا چودھویں صدی کا جو مجدد ہوگا وہ آخری مجدد نہ تھا تو وہ مسیح موعود بھی نہ ہوا۔ پس مرزا کی متذکرہ عبارت کی رو سے یہ امر پایہ تکمیل تک پہنچا کہ نہ چودھویں صدی آخری صدی تھی نہ مرزااس کا مجدد تھا اور نہ ہی مسیح موعود تھا۔

آخری بات

میں نے بالکل ابتداء میں عرض کیا تھا کہ مرزاقادیانی اﷲ رب العزت کی توہین کا مرتکب ہوا۔ اس نے اپنی کتاب (براہین احمدیہ حصہ پنجم کے ضمیمہ ص۱۴۴، خزائن ج۲۱ ص۳۱۲) پر یہ بحث کہ اس زمانہ میں وحی کیوں بند ہے۔ پر سیخ پاء ہوکر لکھتا ہے کہ:

’’کوئی عقلمند اس بات کو قبول کر سکتا ہے کہ اس زمانہ میں خدا سنتا تو ہے مگر بولتا نہیں۔ پھر بعد اس کے یہ سوال ہوگا کہ کیوں نہیں بولتا۔ کیا زبان پر کوئی مرض لاحق ہوگئی ہے۔‘‘

یہ عبارت پکار پکار کر کہہ رہی ہے کہ مرزا کے دل میں ذرہ برابر اﷲ رب العزت کا

74

احترام نہیں تھا۔ ورنہ مفروضے قائم کر کے یوں دریدہ دہنی کا مرتکب نہ ہوتا۔ اپنی کتاب دافع البلاء (ص۱۱، خزائن ج۱۸ ص۲۳۱) پر مرزا نے کہا:

’’سچا خدا وہی خدا ہے جس نے قادیان میں اپنا رسول بھیجا۔‘‘

اس کا مطلب یہ ہوا کہ خداوند کریم کی سچائی مرزاقادیانی کی رسالت سے بندھی ہوئی ہے۔ اگر مرزاقادیانی رسول نہیں تو پھر خدا بھی خدا نہیں۔ اس لئے سچے خدا کی یہ نشانی ہے کہ اس نے قادیان میں رسول بنا کر بھیجا۔ معاذ اﷲ! اور (کتاب البریہ ص۸۵، خزائن ج۱۳ ص۱۰۳) پر لکھا ہے کہ:

’’میں نے اپنے کشف میں دیکھا کہ میں خود خدا ہوں اور یقین کیا کہ وہی ہوں۔‘‘

۲… مرزاقادیانی نے رسول ﷲ صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات گرامی ومنصب مبارک کے ساتھ کیا تلعب کیا؟

الف… اس کی کتاب ایک غلطی کا ازالہ (ص۴، خزائن ج۱۸ ص۲۰۷) پر ہے:

’’محمد رسول اﷲ والذین معہ اشداء علی الکفار رحماء بینہم اس وحی الٰہی میں میرا نام محمد رکھا اور رسول بھی۔‘‘

ب… مرزاقادیانی کے بیٹے مرزابشیر احمد نے (کلمتہ الفصل ص۱۰۴،۱۰۵) پر لکھا:

’’مسیح موعود (مرزا) اور نبی کریم میں کوئی دوئی باقی نہیں۔ حتیٰ کہ ان دونوں کے وجود بھی ایک وجود کا ہی حکم رکھتے ہیں… قادیان میں ﷲتعالیٰ نے پھر محمد(صلی اللہ علیہ وسلم) کو اتارا۔‘‘

ج… اسی (کلمتہ الفصل ص۱۵۸) پر ہے:

’’پس مسیح موعود (مرزا) خود محمد رسول ﷲ صلی اللہ علیہ وسلم ہے جو اشاعت اسلام کے لئے دوبارہ دنیا میں تشریف لائے۔‘‘

د… اسی (کلمتہ الفصل ص۱۱۳) پر ہے:

’’پس ظلی نبوت نے مسیح موعود کے قدم کو پیچھے نہیں ہٹایا۔ بلکہ آگے بڑھایا اور اس قدر آگے بڑھایا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پہلو بہ پہلو لاکھڑا کیا۔‘‘

محترم! قادیانی نہ صرف یہ کہ مرزاغلام احمد قادیانی کو محمد رسول ﷲ صلی اللہ علیہ وسلم کے روپ میں (معاذ اﷲ) پیش کرتے ہیں۔ بلکہ رحمت عالم صلی اللہ علیہ وسلم کے نام اعزازات والقابات کا بھی

75

مرزا کو مستحق سمجھتے ہیں۔ درود وسلام (تذکرہ ص۷۷۷)، یٰسین (تذکرہ ص۴۷۹)، مدثر (تذکرہ ص۵۱)، انا اعطینٰک الکوثر (تذکرہ ص۳۷۴)،رحمۃ للعالمین (تذکرہ ص۸۱)، قل ان کنتم تحبون اﷲ فاتبعونی(تذکرہ ص۴۶) ان تمام کے بارہ میں مرزا کی نام نہاد وحی ہے کہ یہ اعزازات مجھے بخشے گئے۔

۳… مرزاقادیانی نے صرف یہی نہیں کہ وہ صرف آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی اہانت کا مرتکب ہوا، بلکہ تمام انبیاء علیہم السلام کی توہین کرنا ان پر برتری ثابت کرنا، مرزاقادیانی کا بدترین کافرانہ محبوب مشغلہ تھا۔ لیجئے! میرے ہاتھ میں مرزا کی کتاب حقیقت الوحی ہے۔ اس کے (ص۸۹، خزائن ج۲۲ ص۹۲) پر ہے:

’’آسمان سے کئی تخت اترے پر تیرا تخت سب سے اوپر بچھایا گیا۔‘‘

مرزانے اپنی کتاب (نزول المسیح ص۱۰۰، خزائن ج۱۸ ص۴۷۷،۴۷۸) پر کہا:

  1. انبیاء گرچہ بودہ اند بسے

    من بعرفان نہ کمترم زکسے

  2. آنچہ دادست ہر نبی راجام

    داد آں جام را مرابتمام

  3. زندہ شد ہر نبی بآمدنم

    ہر رسولے نہاں بہ پیرانہم

ترجمہ: ’’اگرچہ بہت سارے نبی ہوئے ہیں۔ لیکن میں عرفان (الٰہی) میں کسی (نبی) سے کم نہیں ہوں۔ ہر نبی کو جو جام (شریعت) دیا گیا۔ مجھے وہ مکمل بھر کر دیا گیا۔ میرے آنے سے تمام رسول زندہ ہوگئے۔ ہر رسول میرے کرتہ میں پوشیدہ ہے۔‘‘ معاذ اﷲ!

۴… اسی طرح مرزاقادیانی نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے متعلق جو یا وہ گوئی ودریدہ دہنی کی۔ اس کی صرف ایک مثال ملاحظہ ہو۔ انجام آتھم کے ضمیمہ میں (ص۷، خزائن ج۱۱ ص۲۹۱) پر لکھا ہے کہ:

’’حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی تین دادیاں اور نانیاں زناکار اور کسبی عورتیں تھیں۔‘‘

۵… مرزاقادیانی کا ارشاد (تذکرہ ص۶۰۷) پر درج ہے:

’’خداتعالیٰ نے میرے اوپر ظاہر کیا ہے کہ ہر ایک شخص جس کو میری دعوت پہنچی ہے اور اس نے مجھے قبول نہیں کیا وہ مسلمان نہیں۔‘‘

’’جو میرا مخالف ہے وہ جہنمی ہے۔‘‘

(تذکرہ ص۱۶۳)

76

’’میرے دشمن جنگل کے خنزیر اور ان کی عورتیں کتیا ہیں۔‘‘

(نجم الہدیٰ ص۵۳، خزائن ج۱۴ ص۵۳)

’’جو مرزا کو نہیں مانتا وہ نہ صرف کافر بلکہ پکا کافر اور دائرہ اسلام سے خارج ہے۔‘‘

(کلمتہ الفصل ص۱۱۰)

’’کل مسلمان جو مسیح موعود (مرزا) کی بیعت میں شامل نہیں ہوئے خواہ انہوں نے مسیح موعود (مرزا) کا نام بھی نہیں سنا، وہ کافر اور دائرہ اسلام سے خارج ہیں۔‘‘

(آئینہ صداقت ص۳۵، از بشیرالدین محمود)

۶… مرزاجھوٹ بولتا تھا، حرام کھاتا تھا، وعدہ خلافی کرتا تھا۔ اس پر ایک ہی واقعہ عرض کر دیتا ہوں۔ مرزانے براہین احمدیہ کتاب لکھنے کا اعلان کیا کہ اس کی پچاس جلدیں ہوں گی۔ پیشگی قیمت لوگوں سے وصول کر لی۔ بجائے پچاس کے صرف چار جلدیں لکھیں۔ لوگوں نے مطالبہ کیا، سخت سست کے خطوط لکھے، تو بہت تاخیر سے پانچویں جلد کے (ص۷، خزائن ج۲۱ ص۹) پر لکھا کہ پچاس لکھنے کا ارادہ تھا۔ مگر پچاس اور پانچ کے عدد میں نقطہ کا فرق ہوتا ہے۔ لہٰذا پانچ لکھنے سے پچاس کا وعدہ پورا ہوگیا۔ اب اس ایک واقعہ کو دیکھئے۔ اس سے تین باتیں ثابت ہوئیں۔

(۱)… پچاس کتابوں کے پیسے لئے، پانچ کتابیں دیں، باقی پینتالیس کے پیسے کھا گیا تو حرام خور ہوا۔

(۲)… پچاس لکھنے کا وعدہ تھا پانچ لکھیں وعدہ خلافی کی۔

(۳)… کہا کہ پچاس اور پانچ میں نقطہ کا فرق ہوتا ہے۔ حالانکہ پینتالیس کا فرق ہے تو جھوٹ بولا۔ اب آپ انصاف کریں جو جھوٹ بولے، وعدہ خلافی کرے، حرام کھائے وہ نبی کیسے ہوسکتا ہے؟

۷… مرزا نے اپنے لاہوری مرید کو خط لکھا جو (خطوط امام بنام غلام ص۵) میں چھپ گیا ہے۔ اس میں مرزا نے اس کو لکھا کہ پلومر کی دوکان (لاہور ہائیکورٹ کے سامنے) سے میرے لئے ٹانک وائن (شراب) کی بوتل اصلی خرید کر بھجوائیں۔ اس سے ثابت ہوا کہ وہ شراب کے حصول کا رسیا تھا۔

77

۸… لاہوری مرزائیوں میں سے کسی نے مرزامحمود کو خط لکھا۔ مرزامحمود نے وہ خط خطبۂ جمعہ میں پڑھ کر سنا دیا اور بعد میں الفضل قادیان نے وہ شائع کر دیا۔ قادیانی، لاہوری، مرزامحمود، الفضل سب کچھ یہ مرزاقادیانی کا ’’ٹبر‘‘ ہے۔ مرزاکا ٹبر کہتا ہے کہ:

’’مسیح موعود (مرزا) ولی اﷲ تھے اور ولی اﷲ کبھی کبھی زنا کر لیا کرتے ہیں۔ اگر انہوں نے کبھی کبھی زنا کر لیا تو اس میں کیا حرج ہوا۔ پھر لکھا ہے ہمیں مسیح موعود (مرزاغلام احمد قادیانی) پر اعتراض نہیں۔ کیونکہ ہ کبھی کبھی زنا کیا کرتے تھے۔ ہمیں اعتراض موجودہ خلیفہ پر ہے۔ کیونکہ وہ ہر وقت زنا کرتا رہتا ہے۔‘‘

(الفضل قادیان ج۲۶ نمبر۲۰۰ ص۶، مورخہ ۳۱؍اگست ۱۹۳۸ء)

لیجئے! میری بات اختتام کو پہنچی۔ آپ نے حوالہ جات نوٹ کر لئے ہیں۔آپ فرمائیں کیا خیال ہے؟

قادیانی نمبردار:

میں ان پر غور کروں گا۔ (قادیانی نمبردار سے پندرہ دن کا وعدہ کیامگر تاحال جواب نہیں ملا)

ض … ض … ض

78

مناظرہ ’’ایبٹ آباد‘‘

داتہ ضلع مانسہرہ، سرحد میں فاروق نامی ایک قادیانی رہتے تھے۔ انہوں نے کہا کہ میں مسلمان ہونا چاہتا ہوں۔ کوئی عالم دین میرے اشکال دور کر دے۔ وہ ایبٹ آباد تشریف لائے تو وہاں کی عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے ذمہ داران سے ملے اور اپنے مسلمان ہونے کے اعلان کے لئے شرط عائد کی کہ میری ملازمت اور رہائش کا انتظام کر دیں۔ ویسے تو میں مسلمان ہوگیا ہوں۔ اس نے بتایا کہ میں سمندری ضلع فیصل آباد کا رہائشی ہوں۔ فیصل آباد کے بریلوی مکتب فکر کے مدرسہ میں پڑھتا رہا ہوں۔ بعد میں، میں مرزائی ہوگیا۔ میرے اشکال دور کر دیں۔ رہائش بمع اہل وعیال اور ملازمت کا بھی اہتمام کریں۔ خلاصہ یہ کہ میں نے قادیانیت ترک کر دی ہے۔ اسلام قبول کرنے کے اعلان سے قبل میرے اشکالات کا حل ہوجائے۔ ایبٹ آباد کے دوست چاہتے تھے کہ ہم اس کی مدد کریں۔ لیکن اس کی پوزیشن واضح ہو کہ اس نے قادیانیت کو ترک بھی کیا ہے یا کرنا چاہتا ہے؟ یا صرف ہمیں دھوکہ دینے کے درپے ہے۔ جناب وقار گل جدون، جناب سید مجاہد شاہ، دانہ کے جناب سید شجاعت علی شاہ اور ایبٹ آباد کے علمائے کرام نے مجھے (فقیر کو) حکم فرمایا۔ فقیر (اﷲ وسایا)، حضرت مولانا قاضی احسان احمد مبلغ اسلام آباد (حال کراچی) کے ہمراہ ۱۸؍دسمبر ۲۰۰۳ء بروز جمعرات صبح دس بجے ایبٹ آباد حاضر ہوا۔ یہ سب حضرات اور قادیانی فاروق جمع تھے، گفتگو ہوئی۔ بعد میں کیسٹوں سے نقل کر کے جناب سید شجاعت علی شاہ صاحب نے مجھے (فقیر کو) بھجوادی۔ قارئین کرام تین باتیں ملحوظ رکھ کر اس کا مطالعہ فرمائیں۔

۱… فاروق صاحب نے قادیانیت ترک کر دی ہے یا نہیں؟

۲… یہ واقعتا مسلمان ہونا چاہتے ہیں یا نہیں؟

۳… محض چکر دے کر دنیوی مفاد حاصل کرنے کے درپے ہیں؟

بیٹھتے ہی ہم نے ان کے وساوس دور کرنے سے بات کا آغاز کیا۔

79

بسم اﷲ الرحمن الرحیم! جناب فاروق صاحب! وسوسے کو دور کرنا یا کسی کے وہم کو دور کرنا دنیا میں سب سے مشکل ترین کام ہے۔ وسوسہ سوائے توفیق الٰہی کے دور نہیں کیا جاسکتا۔ جب تک آپ اپنی طبیعت کے اندر خود طلب پیدا نہیں کریں گے۔ ہماری معروضات کا فائدہ نہ ہوگا۔ کیونکہ ایک آدمی کمزور ہے۔ کمزور جسم کے اندر بیماری کے جراثیم اثر کرتے ہیں۔ اگر اس کے جسم کے اندر قوت مدافعت نہیں ہے تو جتنا چاہے اس کا علاج کرتے رہیں، اس کی بیماری کی جڑ کبھی دور نہیں ہوگی۔ بیماری کی جڑ اس دن دور ہوگی جس وقت جسم کے اندر قوت مدافعت پیدا ہوگی۔ آپ کسی عالم دین کے ہاں جائیں، وہ مجھ سے کروڑ گنا زیادہ آپ کو وعظ کرتا رہے۔ لیکن باہر نکل کر آپ نے کہہ دینا ہے کہ میں مطمئن نہیں ہوا۔ اس لئے کہ بیماری کی جڑ موجود ہے۔ جراثیم موجود ہیں۔ اس کی وجہ سے کوئی دوائی اثر نہیں کر رہی۔

وساوس کو دور کرنے کا علاج

وساوس اور وہم کو دور کرنے کے لئے صرف اور صرف ایک طریقہ ہے کہ آپ اپنے طور پر سٹڈی کرنی شروع کر دیں۔ زنگ اترتا جائے، سٹڈی ہوتی جائے، زنگ اترتا جائے، تیاری ہوتی جائے۔ ایک ایسا وقت آئے گا کہ آپ بہترین جواب دینے والے بن جائیں گے۔ میں درخواست کرتا ہوں آپ سے کہ آپ نے ان (مقامی رفقاء) کے کہنے پر اسلام قبول کر لیا۔ لیکن حیات عیسیٰ علیہ السلام کے مسئلہ پر ابھی آپ کی طبیعت صاف نہیں ہوئی۔ ہمارا فرض بنتا ہے۔ ہم بیٹھیں گے اور یہ آج کی مجلس کوئی فیصلہ کن نہیں ہوگی۔ ہم بیٹھیں گے، کوئی چار چیزیں آپ کی خدمت میں عرض کریں گے۔ آپ جو ارشاد فرمائیں گے ہم سنیں گے۔ کسی نتیجہ پر پہنچ گئے تو ٹھیک ہے۔ نہیں تو اور کتابوں کے مطالعہ کی آپ کو سفارش کریں گے۔ اس کے بعد اور کتابوں کا آپ مطالعہ کریں گے۔ تب جاکر آپ کے اشکالات دور ہوں گے۔ لیکن ذہناً آپ آمادہ ہوں کہ میں نے مسئلہ سمجھنا ہے۔ دوستوں کے کہنے پر نہیں، بلکہ اپنی طلب سے۔

دوسری درخواست

میری دوسری درخواست یہ ہے کہ حیات مسیح علیہ السلام پر آپ کو اشکال ہے؟

80

مرزاقادیانی پر بھی کوئی اشکال ہے؟ اسے آپ ابھی بھی سچا مانتے ہیں؟ یا چھوٹا سمجھتے ہیں؟

فاروق:

’’جب چھوڑ دیا تو بس اب ٹھیک ہے۔ جھوٹا سمجھتا ہوں۔‘‘

مولانا:

یہ نہیں۔ یہ کہ: ’’جب چھوڑ دیا تو بس اب ٹھیک ہے۔ جھوٹا سمجھتا ہوں۔‘‘ اس طرح نہیں۔ ڈنکے کی چوٹ پر کہیں کہ: ’’میں مرزاقادیانی کو کافر سمجھا ہوں۔‘‘

فاروق:

ٹھیک ہے جی!

مولانا:

دیکھیں! جتنی مجلس بیٹھی ہے ان سب کا مرزاقادیانی کے متعلق یہی عقیدہ ہے کہ مرزاغلام احمد قادیانی کافر ہے۔

فاروق:

’’ٹھیک ہے جی!‘‘ اس میں کوئی اشکال نہیں۔

مولانا:

یہ علیحدہ علیحدہ باتیں ہیں۔ میں آپ پر جبراً اور ظلماً کوئی بات مسلط نہیں کروں گا۔ میں آپ کے اندر کی بات باہر لانا چاہتا ہوں۔

تیسری درخواست

اب میں تیسری یہ بات کہنا چاہتا ہوں کہ اگر حیات عیسیٰ علیہ السلام یا وفات عیسیٰ علیہ السلام کی بنیاد پر کسی کو سچا ماننا ہے تو سب سے پہلے عیسیٰ علیہ السلام کی حیات کا انکار یہودیوں نے کیا ہے۔ اس مسئلہ کی بنیاد پر اگر اسلام کو چھوڑ کر کسی گروپ میں جانا ہے تو پھر یہودیت میں جانا چاہئے۔ اس مسئلہ کے انکار سے اگر کسی کو فائدہ پہنچ رہا ہے تو وہ یہودی ہیں۔ جو یہ کہہ رہے ہیں کہ ’’انا قتلنا المسیح‘‘ کہ ہم نے اپنے ہاتھوں سے مسیح علیہ السلام کو قتل کیا۔ اس کو تو قرآن نے خود نقل کیا ہے۔ اگر حیات عیسیٰ علیہ السلام کے آپ انکاری ہیں اور اس کی وجہ سے کسی گروپ کے اندر جانا ہے تو سب سے پہلے یہودیت میں جانا چاہئے۔ پھر بعض ایسے بھی تھے مسیحیوں میں سے جو یہ کہتے تھے کہ عیسیٰ علیہ السلام کی صلیب پر موت واقع ہوگئی تھی۔ ان کو قبر میں رکھا گیا۔ تین دن بعد زندہ ہوئے اور آسمانوں پر چلے گئے۔ تین دن تک وہ بھی ان کو مردہ مانتے ہیں۔ ان کی وفات کے تین دن تک کے وہ بھی قائل ہیں۔ اگر مسیح علیہ السلام کی وفات کی بنیاد پر ہی کسی کے ہاں جانا ہے تو پھر مسیحی (عیسائی) بننا چاہئے۔ علاوہ ازیں سرسید احمد خاں بھی اس ملک میں ایسے تھے اور مرزاغلام احمد قادیانی سے پہلے انہوں نے حیات مسیح علیہ السلام کا انکار کیا۔ سب سے پہلے مرزاقادیانی نے ان کے

81

اگلے ہوئے نوالے، ان کی چبائی ہوئی اور چھچھوڑی ہوئی ہڈیوں کا رس چوسا اور پھر اس بنیاد پر اس کو جرأت ہوئی۔ حیات مسیح علیہ السلام کے انکار کی۔ اگر وفات مسیح علیہ السلام کی بنیاد پر آپ نے عقیدہ تبدیل کرنا تھا تو پھر اس کو پرویزی ہونا چاہئے تھا یا نیچری ہونا چاہئے تھا۔ حیات مسیح علیہ السلام کے مسئلہ پر ہماری گفتگو ایک دفعہ نہیں، بیسیوں دفعہ ہوگی اور میں بڑے کھلے دل کے ساتھ اس پر گفتگو کرنے کے لئے تیار ہوں۔ اخلاص کے ساتھ ہم آپ کو قریب کرنے کی کوشش کریں گے۔ آپ ہمارے قریب بیٹھنے کی کوشش کریں۔ جو ﷲتعالیٰ کو منظور ہے، وہی ہوگا میں آپ سے یہ درخواست کرتا ہوں کہ اگر حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی حیات کے انکار کی وجہ سے کہیں جانا تھا تو یہودیت مستحق تھی، عیسائیت مستحق تھی، پرویزی تھے، سرسید خاں تھے۔ آپ وہاں کیوں نہیں گئے؟ مرزاغلام احمد قادیانی کے پاس کیوں آئے؟ پہلے اس وسوسے کو دور کریں کہ حیات عیسیٰ علیہ السلام کے انکار کی وجہ سے یا مسئلہ کے سمجھ میں نہ آنے کی وجہ سے آپ مرزاقادیانی کے پاس گئے ہیں؟ قادیانیت قبول کرنے کا یہ مسئلہ باعث نہیں۔ اگر آپ اپنے طور پر یہ سمجھتے ہیں کہ یہ باعث ہے تو پھر آپ اپنے نفس کو بھی دھوکہ دے رہے ہیں۔ ضمیر کو بھی دھوکہ دے رہے ہیں۔ اپنے آپ کے ساتھ بھی زیادتی کر رہے ہیں۔ یہ مسئلہ قطعاً اس کا باعث نہیں۔ اس کے عوامل اور ہوں گے۔ عوامل کیا ہیں؟ مثلاً سگریٹ والوں کے پاس جاکر بیٹھتا ہوں تو مجھے بدبو آئے گی۔ بعد میں میں یہ کہوں کہ مجھے بدبو بہت آتی تھی۔ بھائی میں جس ماحول کے اندر گیا تھا۔ اس ماحول کے تو میرے اوپر اثرات پڑتے تھے۔ جس وقت آپ کی طبیعت نے قادیانیوں کے ساتھ بیٹھ کر یہ سوچنا شروع کر دیا کہ مرزاغلام احمد قادیانی کا فلاں مسئلہ بھی سچا ہوسکتا ہے۔ بس اس دن سے آپ کو جراثیم لگنا شروع ہوگئے۔ پھر چل سو چل۔ میری درخواست سمجھتے ہیں: پہلے ان جراثیم کو دفع کرنے کا تہیہ کریں۔

مرزاقادیانی اور حیات مسیح علیہ السلام

اگر واقعتا آپ کے اندر دین اسلام کی طلب ہے اور قادیانیوں کو چھوڑا ہے تو پہلے ان جراثیم سے اپنے آپ کو پاک کریں۔ ان جراثیم سے پاک ہونے کے بعد پھر آپ کی طبیعت بحال ہوگی۔ میں اسی کے ساتھ درخواست کرتا ہوں کہ مثلاً مرزاغلام احمد قادیانی اور حیات مسیح علیہ السلام کے مسئلہ کولیجئے۔ خود مرزاغلام احمد قادیانی اپنے دعویٰ مجددیت کے بعد

82

بارہ سال تک کہتا رہا کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام زندہ ہیں۔ قرآن مجید کی آیتیں پڑھ کر کہتا تھا کہ زندہ ہیں۔ پھر خود لکھتا ہے کہ بارہ سال کے بعد ﷲتعالیٰ کی متواتر وحی اور الہام نے مجھے کہا کہ تو مسیح ہے۔ بارہ سال سادگی کی وجہ سے مجھے ﷲتعالیٰ مسیح بناتا رہا اور میں انکار کرتا رہا۔ دیکھئے!

(نزول المسیح ص۷،۸، خزائن ج۱۹ ص۱۱۳،۱۱۴)

وہ خدا بھی کیا خدا ہوا کہ جو الہام کرتا ہے اور مرزاقادیانی انکار کرتا ہے اور یہ صاحب بھی کیا مسیح ہوئے کہ جو ﷲتعالیٰ سے متواتر الہام کو بارہ سال تک پس پشت ڈالتے رہے؟ بابو فاروق صاحب! یہ مذہب نہیں، تماشا ہے۔ اﷲ رب العزت کے نبی سب سے پہلے اپنی وحی کے اوپر ایمان لاتے ہیں۔ لیکن مرزاقادیانی بارہ سال تک کہتا ہے کہ میں اسی عقیدے کے اوپر قائم رہا۔ یعنی رسمی عقیدہ پر۔ لیکن رسمی عقیدہ نہیں قرآن مجید کی آیتیں پڑھ کر کہتا تھا کہ اس آیت سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ مسیح جس وقت دوبارہ اس جلالت شان کے ساتھ اس دنیا میں آئیں گے تو اسلام جمیع آفاق واقطار میں پھیل جائے گا۔

(براہین احمدیہ ص۴۹۹، خزائن ج۱ ص۵۹۳)

مرزاقادیانی کہتا ہے کہ بارہ سال ﷲتعالیٰ مجھے سمجھاتا رہا اور میں اسے اپنے (اس) وہم پر محمول کرتا رہا۔ یعنی رسمی عقیدہ پر قائم رہا۔ بارہ سال کے بعد جس وقت بارش کی طرح ﷲتعالیٰ کی متواتر وحی نے مجھے کہا کہ تو مسیح موعود ہے تو پھر مجھے یقین ہوا اور پھر یہ بھی اعلان کر دیا کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام فوت ہوگئے ہیں۔ اس بات کو لے کر مرزاقادیانی کا بیٹا مرزامحمود سیرت مسیح موعود کے اندر لکھتا ہے کہ: ’’الہاماً مرزاغلام احمد قادیانی کو یہ بتایا گیا کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام فوت ہوگئے۔‘‘

(سیرۃ مسیح موعود ص۳۰ از مرزامحمود قادیانی)

میں (فقیر) آپ سے بڑے درد کے ساتھ استدعا کرتا ہوں کہ اس پر توجہ فرمائیں کہ ایک آدمی قرآن کی بنیاد پر بارہ سال کہتا ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام زندہ ہیں۔ پھر الہام کی بنیاد پر کہتا ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام فوت ہوگئے ہیں۔ پھر اپنے الہام پر قرآن کو ڈھالنے کی کوشش کرتا ہے۔ آپ میری درخواست سمجھ رہے ہیں؟ دنیا میں اس سے بڑھ کر بڑا کافر کون ہوسکتا ہے جو اپنے الہام کی بنیاد پر قرآن مجید کی تغلیط کرے؟ پہلے یہ کہے کہ یہ مسئلہ یوں ہے۔ پھر الہام کی بنیاد پر کہے کہ یہ مسئلہ یوں نہیں یوں ہے۔ میرے عزیز! دنیا میں سب سے بڑا کافر وہ ہے جو اپنے الہام کی بنیاد پر قرآن کو منسوخ کرے۔ چلیں اس کو بھی چھوڑتے

83

ہیں۔ مرزاقادیانی نے کہا کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی میرے اندر خوبو ہے۔ میں ان کی طرز پر آیا ہوں۔ اس وقت مرزاقادیانی نے ایک کتاب لکھی جس کا نام فتح اسلام ہے۔ اس کے اندر کہتا ہے کہ: ’’حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی وفات کا تو قرآن میں تین جگہ ذکر ہے۔‘‘

(فتح اسلام ص۸، خزائن ج۳ ص۵۴)

یاد رکھئے! تین جگہ! جس وقت آگے چل کر اگلی کتاب لکھی۔ اس کتاب کا نام ہے ازالہ اوہام۔ اس کے اندر کہا کہ ﷲتعالیٰ نے مجھے کہا ہے کہ میں مسیح موعود ہوں۔ جس وقت کہا کہ میں مسیح موعود ہوں تو کہتا ہے کہ: ’’قرآن مجید کی تیس آیات سے ثابت ہوتا ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام فوت ہوگئے ہیں۔‘‘

(ازالہ اوہام ص۵۹۸، خزائن ج۳ ص۴۲۳)

ایک ساتھ جوں جوں اس کے دعاوی بڑھتے جارہے ہیں۔ توں توں قرآن مجید کی آیات کو وہ غلط مطلب پر لانے کی کوشش کرتا ہے اور پھر ان کے اندر تحریف کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ اس سے آپ یہ سمجھیں کہ مرزاغلام احمد قادیانی کا دل ودماغ شیطان کے ہاتھوں کس طرح شیطانی کھیل، کھیل رہا تھا؟ جب تک مسیح کی خوبو یا نقش قدم یا صفات کا دعویٰ نہیں کیا تھا تو حیات مسیح علیہ السلام کا قائل تھا۔ جب خوبو کا دعویٰ کیا تو کہتا ہے کہ تین آیتوں سے ثابت ہوتا ہے کہ مسیح علیہ السلام فوت ہوگئے ہیں۔ جس وقت کہا کہ میں وہی مسیح ہوں تو اب کہہ دیا کہ تیس آیتوں سے ثابت ہوتا ہے۔ تین کو تیس کر دیا۔ اس سے آپ خود سمجھ سکتے ہیں اور اس پر آپ سٹڈی کریں۔ میں آپ کے لئے لائنیں متعین کر دیتا ہوں۔آپ اس پر سٹڈی کریں کہ یہ خود غرض آدمی ہے۔ جو قرآن مجید میں اپنی خود غرضی کی بنیاد پر تحریف کرتا چلا جارہا ہے۔

ایک اصولی بات

آپ کے میں اعتراض سنوں گا۔ ان کا دور کرنے کی کوشش بھی کروں گا۔ آپ کے استدلال سنوں گا۔ اس کے جواب عرض کرنے کی کوشش کروں گا۔ لیکن اعتراض اور جواب سے پہلے کسی بھی مسئلہ سے متعلق قرآن مجید کی آیت کریمہ پرایک اس کا ترجمہ آپ کریں گے۔ ایک میں اس کا ترجمہ کروں گا۔ میرے ترجمہ سے ممکن ہے آپ اتفاق نہ کریں۔ آپ کے ترجمہ سے ممکن ہے میں اتفاق نہ کروں۔ اسلام کا، مسلمانوں کا اور خود مرزاغلام احمد

84

قادیانی کا یہ طے شدہ اصول ہے کہ: ’’جس طرح چودہ سو سال سے یہ قرآن امت مسلمہ کے ہاتھوں میں موجود ہے۔ اسی طرح اس کا فہم بھی امت کے ہاتھوں میں موجود ہے۔‘‘

(ایام الصلح ص۵۵، خزائن ج۱۴ ص۲۸۸)

کبھی چودہ سو سال میں ایک سیکنڈ بھی امت پر ایسا نہیں آیا کہ کائنات کے اندر قرآن مجید کو سمجھنے والا کوئی آدمی موجود نہ ہو۔ ہر دور کے اندر تفسیریں لکھی گئیں۔ مرزاغلام احمد قادیانی کے آنے پر حیات مسیح کے مسئلہ پر امت مسلمہ کا اور مرزاقادیانی کا اختلاف ہوا۔ اس سے پہلے کے جو بزرگ تھے جن کی مرزاغلام احمد قادیانی کی پیدائش سے پہلے کی تفسیریں ہیں۔ وہ تو متنازعہ نہیں؟ ٹھیک ہے؟ اس کے لئے سب سے پہلے بہتر ہوگا کہ جو آیت آپ پیش کریں اس کو ہم پہلے لے کر چلیں گے۔ حضرت علامہ فخرالدین رازیؒ کے دروازے پر۔ ان سے پوچھیں گے کہ آپ بتادیں ترجمہ کیا ہے۔ جو وہ ترجمہ کر دیں گے آپ بھی مان لیں میں بھی مان لوں گا۔ یہ مرزاغلام احمد قادیانی سے پہلے کے آدمی ہیں۔ حضرت علامہ طبریؒ اور میں ان کا نام اس لئے پیش کر رہا ہوں کہ یہ سب وہ لوگ ہیں جن کے متعلق مرزاقادیانی کہتا ہے کہ یہ فلاں صدی کا مجدد تھا۔ یہ فلاں صدی کا مجدد تھا۔ حضرت علامہ جلال الدین سیوطیؒ سے پوچھ لیں گے۔ حضرت علامہ جلال الدین سیوطیؒ کو بھی مرزاغلام احمد قادیانی مجدد مانتا ہے۔ صاحب روح المعانیؒ سے پوچھ لیں گے۔ مرزاقادیانی ان کی بھی تائید کرتا ہے۔ تو یہ میں نے پانچ تفسیروں کے نام لئے ہیں۔ (۱)روح المعانی، (۲)طبری، (۳)تفسیر رازی، (۴)جلالین، (۵)درمنثور۔ یہ تفاسیر عام موجود ہیں اور ہر ایک آدمی کو مل جاتی ہیں۔ یہ پانچ سات تفسیریں ہیں اور ان کے مصنّفین کو مرزاقادیانی مجدد مانتا ہے اور یہ سارے مرزاقادیانی سے پہلے کے لوگ ہیں۔ میں درخواست کرتا ہوں کہ جس آیت کو آپ پیش کریں یا میں پیش کروں اس کی توضیح وتشریح ان متذکرہ حضرات سے پوچھیں گے۔ وہ آپ کے اور میرے فیصل ہوں گے جو وہ فرمادیں۔ آپ بھی مان لیں گے اور میں بھی مان لوں گا۔ اس سے آگے گفتگو میں آسانی ہوگی کہ آخر کوئی تو فیصل ہو۔ لیکن اگر ان لوگوں نے بھی قرآن نہیں سمجھا، اور فاروق بھائی کہیں کہ میں نے سمجھنا ہے اور ان لوگوں سے ہٹ کر سمجھنا ہے تو فاروق بھائی ساری زندگی کوشش کرتا رہے۔ ’’یتخبطہ الشیطان من المس‘‘ والی

85

کیفیت ہو جائے گی۔ قرآن مجید کو کبھی بھی نہیں سمجھ سکھے گا۔ نہ میں اور نہ آپ۔ آخر کسی نہ کسی آدمی کے اوپر تو ہمیں اعتماد کرنا ہوگا۔ آپ میری بات سمجھ رہے ہیں؟ میں نے بہت ہی آپ کی خیرخواہی اور اخلاص کے ساتھ ایسی دو تین چیزیں پیش کی ہیں۔ مثلاً میں نے اتنا کہہ دیا کہ قرآن کو سمجھنے کے لئے ان چار پانچ تفسیروں کو سامنے رکھ لیں۔ میں تو فارغ ہوگیا۔ جس آیت کو سمجھنا ہے ان تفسیروں کو اٹھائیں۔ یہ وہ تفسیریں ہیں جو مرزاغلام احمد قادیانی سے پہلے کی ہیں۔ یہ وہ تفسیریں ہیں جن کو مرزاقادیانی بھی مانتا ہے۔ جو وہ کہتے جائیں آپ ان کو مانتے جائیں۔مجھ سے نہ پوچھیں۔ کسی سے بھی نہ پوچھیں۔ میں بھی فارغ اور آپ بھی فارغ۔

چوتھا آسان راستہ

اس کے بعد چوتھا اور آسان راستہ سٹڈی کرنے کا ہے کہ کبھی آپ نے یہ بھی سوچا کہ مرزاغلام احمد قادیانی کا دعویٰ ایک مجدد ہونے کا بھی ہے؟ مرزاقادیانی کہتا ہے کہ میں مجدد ہوں۔ ہمارے نزدیک مجدد کوئی ایسی حیثیت نہیں کہ جس پر ایمان لانا ضروری ہو۔ رحمت دوعالم صلی اللہ علیہ وسلم کی ایک حدیث شریف ہے۔ اس کے مطابق کوئی شخصیت بھی ہوسکتی ہے۔ کوئی ادارہ بھی ہوسکتا ہے۔ کسے کے لئے دعویٰ مجددیت کرنا ضروری نہیں۔ مرزاقادیانی سے بھی پوچھا گیا کہ: ’’گزشتہ بارہ صدیوں کے مجدد کون ہیں۔ اس نے جواب دیا کہ مجھے معلوم نہیں۔‘‘

(حقیقت الوحی ص۱۹۳، خزائن ج۲۲ ص۲۰۰،۲۰۱)

جب معلوم نہیں اور خود مجدد ہونے کا مدعی ہے تو معلوم ہوا کہ مجدد پر ایمان لانا مؤمن ہونے کے لئے ضروری نہیں۔ لیکن یہ اصولی طور پر مانتے ہیں کہ مجدد ہوسکتا ہے۔ اب ہر صدی میں مجدد تھے۔ مرزاغلام احمد قادیانی آیا ہے چودھویں صدی میں۔ اس سے پہلے تیرہ صدیوں میں مجدد تھے یا نہیں؟ اگر تھے تو کون تھے؟ مرزاقادیانی کا ایک مرید جس کا نام مرزاخدابخش ہے۔ اس نے مجددین کی ایک فہرست مرتب کی۔ مرزاقادیانی نے مکمل کتاب پڑھوا کر سنی اور تصدیق کی۔

(عسل مصفیٰ ج۱ ص۷)

عسل مصفیٰ شاید آپ نے پڑھی ہو یا سنی ہو۔ پہلے اس پر آپ توجہ کریں کہ مرزاقادیانی نے کہا کہ تیس آیات سے عیسیٰ علیہ السلام کی وفات ثابت ہوئی ہے۔ یہ خدا بخش

86

اتنا دجال نکلا۔ یہ کہتاہے کہ ساٹھ آیات سے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی وفات ثابت ہوتی ہے۔

(عسل مصفیٰ ج۱ ص۲۸۰تا۳۰۰)

یہ جملہ معترضہ تھا۔ توجہ فرمائیں کہ اس کتاب کے اندر اس نے گزشتہ تیرہ صدیوں کے مجددین کی فہرست دے دی۔

(عسل مصفیٰ ج۱ ص۱۶۲تا۱۶۵)

بھائی! سب سے آسان راستہ یہ ہے کہ اس پورے تیرہ صدیوں کے مجددین کی (فاروق بھائی! جاگ رہے ہیں؟) تیرہ صدیوں کے مجددین کی فہرست کو رکھ لیتے ہیں۔ اس میں انہوں نے کسی صدی کے پانچ مجدد لکھے ہیں۔ کسی کے تین لکھے ہیں۔ کسی کے دو، کسی کے چار، کسی کے گیارہ اور کسی کے نومجددین کی فہرست دے دی۔ یہ فہرست منگوالیتے ہیں۔ اس کو سامنے رکھ لیتے ہیں۔ اس فہرست کو دیکھ کر آپ ٹک مارک کرتے رہیں کہ اس صدی سے یہ مجدد اور اس صدی سے یہ مجدد۔ تیرہ آدمیوں کے ناموں پر ٹک مارک کر دیں اور کہہ دیں کہ جوان مجددین کا عقیدہ تھا وہی میرا عقیدہ۔ ان سے پوچھ لیتے ہیں کہ عیسیٰ علیہ السلام زندہ ہیں یا نہیں؟ ان سے پوچھ لیتے ہیں کہ حضور اکرمa کے بعد کوئی نبی ہوسکتا ہے یا نہیں؟ آپ سے استدعاء کرتا ہوں کہ اگر تیرہ صدیوں کے مجدد کہیں کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام زندہ اور چودھویں صدی کا مجدد کہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام فوت ہوگئے تو یا تیرہ صدیوں کے مجددین کو جھوٹا کہو یا اس ایک صدی کے مجدد کو جھوٹا کہو۔ اب یہ میرا سوال آپ کے ضمیر سے ہے کہ آپ اس پر کیا فیصلہ کرتے ہیں۔ چلیں یہاں اس کو بھی چھوڑتے ہیں۔ آگے چلتے ہیں…!

میں درخواست کروں گا آپ سے کہ مرزاغلام احمد قادیانی کے متعلق آپ وضاحت کر دیں کہ آپ اس کو کیا مانتے ہیں؟ پھر حیات عیسیٰ علیہ السلام کے مسئلہ پر آجائیں گے۔ میں مرزاقادیانی کی دلدل میں پھنسوں گا ہی نہیں۔ اگر آپ کو غلام احمد قادیانی کے مسئلہ کے متعلق بھی اشکال ہے تو پھر اسے صاف کرنا ہوگا۔

مجاہد شاہ:

حضرت! ان کو ایک کورس یا ڈوز مرزاقادیانی کے متعلق ضرور دے دیں۔

مولانا:

نہیں، میں کھلے دل سے کہتا ہوں کہ یہ ہمارے ساتھی ہیں۔ یہ خود بتائیں۔

فاروق:

پہلے تو میں آپ کا مشکور ہوں آپ دور سے آئے ہیں۔ ہمیں ٹائم دیا۔ آپ ہمارے بزرگ ہیں۔ ہم نے آپ کو تکلیف دی اور آپ صرف اور صرف میرے لئے آئے۔

87

ہم نے آپ کو بلایا ہے۔ میں آپ کا مشکور ہوں۔ ﷲتعالیٰ آپ کو جزائے خیر عطا فرمائے کہ آپ آئے۔ میں جس طرح قادیانیوں میں شامل ہوگیا تھا، ﷲتعالیٰ نے مجھے توفیق دی کہ دوبارہ میں واپس لوٹوں۔ اچھا اس کے متعلق میں عرض کرتا ہوں۔ عقل ﷲتعالیٰ نے ہر کسی کو دی ہے۔ عقل سلیم صرف انسانوں کو دی ہے۔ حیوانوں کو کیوں نہیں دی اور عقل کے ذریعہ بڑے فسادات ہوجاتے ہیں۔ اسی ضلع ایبٹ آباد میں بھی فساد ہوا۔

مولانا:

آپ کی بات بڑی واضح ہے۔ اس پر مثالیں دینے کی ضرورت نہیں۔ میں آپ پر کوئی قدغن نہیں لگانا چاہتا۔ میں یہ چاہتا ہوں کہ اس مجلس سے ہم زیادہ سے زیادہ فائدہ اٹھائیں۔ نتیجہ کی بات کہیں۔ میاں! عقل سلیم کا تو میں بھی قائل ہوں۔

فاروق:

جی ہاں! اگر ایک آدمی آجائے دکانوں سے چندہ وصول کرنے کے لئے یا نوٹس جاری کر دے۔ ہو وہ جھوٹا تو وہ عوام کیا کرتی ہے۔ اس کو پکڑ کے مارتی وارتی نہیں۔ اس کو ڈی۔سی یا اے۔سی کے حوالے کر دیتی ہے کہ یہ بندہ ہے اور کہہ رہا ہے کہ مجھے ڈی سی یا اے سی نے بھیجا ہے۔

مولانا:

فاروق بھائی! یہ پہلے زمانے کی باتیں ہیں۔ اب تو لوگ قبروں کے نام پر، بہشتی مقبرہ کے نام پر چندے کا دھندہ کر رہے ہیں۔ چندہ وصول کرتے ہیں۔ اسے ڈی سی یا اے سی کے پاس نہیں لے جاتے۔ بلکہ لوگ اسے مسیح موعود مان لیتے ہیں۔

فاروق:

اچھا اب دیکھنا ہے کہ ایک اتنا جھوٹ بول کر چلا جارہا ہے۔ دنیا کو گمراہ کرتا چلا جارہا ہے اور کہہ رہا ہے کہ میں نبی ہوں۔ مسیح موعود ہوں۔ مجدد ہوں۔ یہ کیا بات ہے؟ اور کہہ رہا ہے کہ خدا مجھے متواتر وحی کر رہا ہے۔ دیکھیں خدا کا نام لے کر دنیا کو گمراہ کر رہا ہے۔ خدا کی مخلوق کو گمراہ کر رہا ہے اور خدا اس سے بے خبر ہے؟ وہ لگاتار ۶۸،۶۹سال کی زندگی پاتا ہے اور اس میں اپنے دعویٰ سے پھرتا نہیں۔ دنیا مخالفت کرتی ہے۔ اس پر اس کو قتل کرنے کی کوشش کرتی ہے۔ اس پر حملے کرنے کے دعوے کرتی ہے۔ اس کو کہتے ہیں کہ تمہارے قادیان کی اینٹ سے اینٹ بجادیں گے۔ لیکن وہ کامیاب نہیں ہوسکتی۔ ایک وہ جو خدا کے نام پر جھوٹ بولتا چلا جارہا ہے۔ وہ ترقی کرتا جارہا ہے۔ وہ اس اپنے دعوے پر قائم ہے۔ ذرا پھرتا نہیں۔ اس کو خدا کیوں نہیں پکڑ رہا۔ کیا خدا کا اس کے متعلق کوئی حق نہیں کہ خدا اس کو پکڑے

88

اور تباہ کرے۔

مولانا:

جزاک اﷲ! آپ کی اس بات سے میں یہ سمجھا کہ آپ کو غلام احمد کے متعلق بھی ابھی شرح صدر نہیں تو ٹھیک ہے۔ کوئی حرج نہیں بھائی۔

فاروق:

میں کہتا ہوں کہ میں سیٹس فائی (Satisfy) ہوں۔ میرا دل صاف ہے۔

مولانا:

بابو!… میاں! مرزاقادیانی کو بعد میں لیتے ہیں۔ اس سے پہلے شیطان کو لے لیتے ہیں۔ مرزاقادیانی سے کہیں زیادہ اس کا جھوٹ وفریب چل رہا ہے۔

فاروق:

اصل بات یہ ہے کہ آپ مرزاقادیانی کی خبر لیں۔

مولانا:

اچھا ایک سیکنڈ! میرے خیال میں میری بات پوری ہونے دیں۔ چلو شیطان کے ساتھ آپ اتفاق نہیں کرتے۔ اس کو بھی چھوڑ دیتے ہیں۔ مرزاغلام احمد قادیانی سے پہلے جو مدعیٔ نبوت آئے ہیں، ان کو لے لیتے ہیں۔ فرعون کو لے لیتے ہیں۔ یہ مرزاقادیانی تو مسیح موعود ہونے کا دعویٰ کرتا ہے۔ فرعون خدائی کا دعویٰ کرتا تھا۔ جھوٹا مدعیٔ نبوت صالح بن طریف ایک آدمی گزرا ہے۔ تین سو سال تک وہ خود اور اس کی پشت درپشت اولاد نے ایران کے اندر حکومت کی ہے۔ اس نے بھی مسیح ہونے کا دعویٰ کیا تھا اور پھر خدائی کا دعویٰ کیا۔ باقی آپ کہتے ہیں کہ غلام احمد قادیانی کو اﷲرب العزت نے نہیں پکڑا تو میں آپ سے درخواست کرتا ہوں کہ مرزاغلام احمد قادیانی کے کیس کو لے لیں۔ یہ ایسا پکڑا گیا کہ ابھی آپ کے سامنے اس کا کیس آجائے گا۔ پہلے آپ ایک بنیادی بات سمجھیں۔ دیکھئے! اﷲ میاں اگر چاہتے تو دنیا میں کفر پیدا ہی نہ ہوتا۔ آپ اور میں ایک معیار مقرر کریں اور پھر کہیں کہ اس معیار کے مطابق خدا نے نہیں کیا۔ پھر خدا آپ کا اور میرا پابند ہوا۔ اپنی مرضی کا مالک ومختار نہ ہوا کہ اﷲ میاں یوں کر دے۔ یا اﷲ! یہ سو سال ہوگیا ہے۔ ہم قادیانیوں کے ساتھ لڑ رہے ہیں۔ ابھی تک قادیانی مسلمان نہیں ہورہے تو پھر خدا پر شک کرنا شروع کر دیں۔ اس کا آپ کو اور مجھے حق حاصل نہیں۔ سمجھے بھائی! چلو اور آگے۔ اس کو لیتے ہیں…!

بہاء اﷲ مرزاقادیانی سے پہلے کا تھا۔ اس نے بھی مسیح موعود ہونے کا اور نبی ہونے کا دعویٰ کیا تھا۔ بہاء اﷲ کے ماننے والے اب بھی ایران اور پاکستان کے علاقہ مکران کے اندر موجود ہیں۔ وہ ترقی کرتے چلے جارہے ہیں۔ ترقی کی بنیاد پر اگر کسی جماعت میں شامل

89

ہونا ہے تو پھر شیطانی جماعت مستحق ہے۔ فرعونی جماعت مستحق ہے۔ صالح بن طریف کی جماعت مستحق ہے۔ بہاء اﷲ یاان کی جماعت جو اس سے پہلے تھے۔ چلو اب میں عرض کرتا ہوں کہ مرزاغلام احمد قادیانی پر آجائیں۔ اﷲ میاں دنیامیں کسی کو پکڑ کر اور اسے کان سے اٹھاکر کہے کہ لوگو! یہ جھوٹا ہے۔ یوں نہیں کرتا بلکہ کسی کے سچا اور جھوٹا ہونے کے لئے اﷲ رب العزت فیصلہ فرمادیتے ہیں۔ لیکن اس کے لئے نظر چاہئے مثلاً:

۱… مرزاغلام احمد قادیانی نے کہا کہ: ’’اگر عبداﷲ آتھم فلاں تاریخ کو نہ مرے تو میرا منہ کالا کیا جائے اور دنیا میں سب بدتروں سے بدتر ٹھہروں۔‘‘

(جنگ مقدس ص۲۱۰،۲۱۱، خزائن ج۶ ص۲۹۲،۲۹۳)

اﷲ میاں نے اس تاریخ تک عبداﷲ آتھم کو نہیں مارا۔ مرزاقادیانی بدتر سے بدتر اپنی زبان سے ٹھہرا۔

۲… مرزاغلام احمد قادیانی نے کہا کہ: ’’اگر محمدی بیگم کے ساتھ میرا نکاح نہ ہوا تو میں جھوٹا۔ یہ میرے سچے اور جھوٹا ہونے کا معیار ہے۔‘‘

(انجام آتھم ص۲۲۳، خزائن ج۱۱ ص۲۲۳)

محمدی بیگم کے ساتھ نکاح نہیں ہوا اور ﷲتعالیٰ نے ثابت کر دیا کہ مرزاقادیانی جھوٹا ہے۔ آپ کی اطلاع کے لئے عرض ہے کہ مرزاقادیانی خود معیار مقرر کرتا چلا گیا اور میرا رب اس کو جھوٹا کرتا گیا۔ اس سے آگے یعنی کان سے پکڑ کر تو اﷲ تعالیٰ نے لٹکانا نہیں تھا کہ دیکھ لو یہ جھوٹا ہے۔ چلیں ایک اور معیار ہے۔ مرزاغلام احمد قادیانی کہتا ہے کہ اگر تثلیث کے بت کو نہ توڑدوں۔ یعنی میں جس امر کے لئے مبعوث ہوا ہوں جب تک اس کام کو مکمل نہ کرلوں اور میں اس دنیا سے مر جاؤں تو ساری دنیا گواہ رہے اس بات کی کہ میں جھوٹا ہوں۔

(اخبار بدر قادیان ج۲ نمبر۲۹ ص۴، مورخہ ۱۹؍جنوری ۱۹۰۶ء)

مرزاقادیانی مر گیا۔ تثلیث اسی طرح قائم ہے۔ یہ توآپ کے اور میرے سمجھنے کی بات ہے۔ ٹھیک ہے ناں جی؟ آگے چلتے ہیں۔ مرزاغلام احمد قادیانی کی مثال اس شاطر کی طرح تھی کہ میرے خیال میں دنیا کے اندر گرگٹ بھی اتنی تیزی کے ساتھ اپنے رنگ نہیں بدلتا جتنا مرزاقادیانی بدلتا تھا۔

فاروق:

معاف کرنا۔ میں عرض کرتا ہوں کہ جو آپ سوال کا جواب دیتے ہیں تو اس پر مجھے

90

کچھ کہنا ہے، تاکہ دوستوں کو پتہ چلے۔ جی ہاں!

مولانا:

ضرور۔ بات ضرور کریں۔ لیکن آپ کا کہنا کہ دوستوں کو پتہ چلے۔ اس سے پتہ چلتا ہے کہ آپ مناظرہ کے موڈ میں ہیں، نہ کہ سمجھنے کے موڈ میں۔

فاروق:

نہیں، نہیں۔ تاکہ مجھے سمجھ آئے سوال کی۔

مولانا:

آپ کے ان دوستوں پر بھی یہ حقیقت واضح ہو جانی چاہئے کہ اس وقت آپ کس پوزیشن میں ہیں؟ چلیں دوستوں نے آپ کی پوزیشن کلیئر کرنے کے لئے مجھے بلایا تو اس بات سے مسئلہ حل ہوا۔

فاروق:

میرے ذہن میں جو سوالات ہیں کلیئر ہو جائیں۔ مرزاقادیانی کہتا ہے کہ عبداﷲ آتھم عیسائی تھا اور محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کی شان میں گستاخی کرتا تھا۔ مرزاقادیانی کہتا ہے کہ اس نے میرے نبی کی شان میں گستاخیاں کیں اور میں نے اسے کہا کہ تو باز آجا۔ اگر تو باز نہ آیا تو مجھے خدا نے چھ سال کا وقت دیا ہے۔ تقریباً چھ سال کا کہ چھ سال کے اندر اندر تیری ہلاکت واقع ہو جائے گی۔ اگر اس سے تائب نہیں ہوتا۔ عبداﷲ آتھم جو تھا، اس سے خاموش ہوگیا۔ گالیاں دینے سے رک گیا۔ مرزاقادیانی نے جو میعاد مقرر کی تھی اس میعاد تک وہ خاموش رہا تو خداتعالیٰ نے اس کو موت سے بچا لیا۔

مولانا:

شاباش! یہ سمجھنے کی کوشش کریں تو تب فادہ ہوگا آپ کو۔

فاروق:

جی ہاں!

مولانا:

مرزاغلام احمد قادیانی نے ۵؍ستمبر ۱۸۹۴ء اس کے لئے تاریخ موت مقرر کی۔ تقریباً پندرہ مہینے کی۔ پندرہ مہینوں میں وہ نہیں مرا تو مرزاقادیانی نے کہا کہ آتھم ڈر گیا ہے۔

فاروق:

جی ہاں!

مولانا:

اس نے کہا کہ یہ ڈر گیا ہے۔ میرے عزیز! میں آپ سے درخواست کرتا ہوں۔ یہ ڈرگیا ہے والی بات مرزاغلام احمد قادیانی کو پہلے سے کہہ دینی چاہئے تھی کہ اب یہ نہیں مرے گا۔ آخری دن کے گزرنے کے بعد، تاریخ ختم ہو جانے کے بعد یوں کہا۔ اسی نقطہ کو اگر آپ لیں گے تو شاید آپ کا عقدہ حل ہو جائے گا۔ پانچ ستمبر کی جو تاریخ مقرر ہوگئی کہ ستمبر کی فلاں تاریخ کو مرے گا۔ اس دن قادیان کے اندر چنے پڑھے گئے۔ آیات کے وظیفے کئے گئے کہ

91

یہ آدمی مر جائے اور وہ چنے اور وظیفے پڑھ کر قادیان کے کنویں کے اندر ڈالنے کے لئے مرزاقادیانی نے مرید کو بھیجا۔ مرزامحمود کہہ رہا ہے کہ اس دن قادیان میں ماتم ہورہا تھا کہ یا اﷲ آتھم مر جائے۔ یا اﷲ آتھم مر جائے۔ دس محرم الحرام شیعہ اتنا ماتم نہیں کرتے جتنا ہم نے قادیان میں اس دن کیا۔

(خطبہ مرزامحمود الفضل قادیان مورخہ ۲۰؍جولائی ۱۹۳۰ء، سیرت المہدی ج۱ ص۱۷۸ طبع دوم)

میری درخواست سمجھے ہیں۔ عبداﷲ آتھم نہ مرا۔ اب اس نے کہا کہ عبداﷲ آتھم نہیں مرا تو اس نے رجوع بحق کر لیا ہوگا۔ وہ خدا بھی کیا خدا ہے جس نے مرزاقادیانی کو اس دن نہیں بتایا کہ وہ ڈرگیا ہے۔ بلکہ اس تاریخ کو عیسائیوں نے جلوس نکالے۔ مرزاقادیانی کا پتلا تیار کیا۔ اس کا منہ کالا کیا۔ اس کے پتلے بنا کر جوتیوں کے ہار ڈالے جو مرزاقادیانی نے کہا تھا کہ میرا منہ کالا کیا جائے۔ انہوں نے وہ کیا۔ مرزاقادیانی کو اب بچنے کا راستہ کوئی نہ تھا۔ کہتا ہے یہ اندر سے ڈر گیا ہے۔ میں اب آپ سے استدعاء کرتا ہوں۔ اگر واقعتا مرزاغلام احمد قادیانی سچا تھا تو اس تاریخ سے پہلے اسے اعلان کر دینا چاہئے تھا کہ یہ نہیں مرے گا۔ یا مرنے کے بعد یہ تاویل کرنی چاہئے تھی؟ آپ فیصلہ کریں۔

فاروق:

آپ دیکھیں! جب پیش گوئی کر دی اور وہ اتنی دیر تک جب اس نے رجوع اﷲ کی طرف کیا اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو گالیاں نہیں دیں۔ خاموش رہا تو وہ بچایا گیا۔ اس کے بعد پھر اس نے کہا کہ میں نے یہ بات نہیں کی۔ اسی طرح گالیاں نکالتا ہوں۔محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی شان میں گستاخیاں کرتا ہوں۔ مرزاقادیانی نے کہا کہ اب تم صرف لکھ کر دے دو۔ تم صرف اپنی زبان سے منہ کھولو گے۔ میں گالیاں اسی طرح دیتا ہوں۔ توبہ نہیں کی۔ صرف اتنا لکھ کے دے دو۔ تو اب تمہارا جو حشر ہوگا وہ خدا جانے۔ اب وہ اس بات سے ڈر گیا۔ اس نے جواب نہیں دیا اور مرزاقادیانی نے کہا کہ اب یہ موت واقع ہوگی اور مرگیا پھروہ مرا۔ پھر…!

مولانا:

ایک سیکنڈ! آپ نے بہت اچھی وہ (وضاحت) دی۔ لیکن آپ یا میری گفتگو کو نہیں سمجھ رہے یا سمجھنے کے موڈ میں نہیں۔ اگر آپ بحث کرنے کے موڈ میں سارا دن بیٹھے رہیں۔ زندگی میں کبھی آپ مسئلہ نہیں سمجھ پائیں گے۔ سمجھنے کی کوشش کریں۔ جو میں آپ سے عرض کر رہا ہوں کہ مرزاقادیانی آخری وقت تک انتظار میں بیٹھا رہا۔ مرے گا۔ مرے گا۔ مرے گا۔

92

جب تاریخ گزر گئی اس دن مغرب کی نماز تک اطلاع آتی رہی۔ پیغام آتے رہے کہ بھئی اس کا کیا ہوا ہے۔ آخر وقت تک اسے یقین تھا کہ یہ مرے گا۔ اس کے بعد جب نہیں مرا تو یہ جواب تیار کیاگیا کہ یہ ڈرگیا ہے۔ آتھم نے کہا میں کیسے ڈر گیا ہوں۔ مرزاقادیانی نے کہا کہ اگر نہیں ڈر گیا تو قسم اٹھا۔ آتھم نے کہا کہ عیسائیوں کے مذہب میں قسم اٹھانا ممنوع ہے۔ مرزاقادیانی کو کہا بہت اچھا۔ تمہارے مذہب کے اندر خنزیر کھانا ممنوع ہے اور ہمارے مذہب کے اندر قسم کھانا ممنوع ہے۔ میں (آتھم) کہتا ہوں کہ تو (مرزا) اندر سے ڈر گیا ہے۔ ورنہ تو خنزیر کھا۔ آتھم نے مرزاقادیانی کو کہا کہ اگر تو نہیں ڈرا۔ اگر خنزیر نہیں کھاتا تو اس کا معنی ہے تو ڈرگیا۔ یہ اس زمانے کی بخ بخ اور چخ چخ ہے۔ غلام احمد قادیانی کی اور عبداﷲ آتھم کی۔ میں درخواست کرتا ہوں۔ آپ دیکھیں، رب کریم اور اس کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے حالات کیسے ہوتے ہیں؟ نبی کا معجزہ تو یہ ہے کہ جنگ بدر سے پہلے رحمت عالم صلی اللہ علیہ وسلم نے کہا کہ فلاں فلاں یہاں یہاں مرے گا۔ شام مرے گا۔ صبح مرے گا۔ یہاں پر عتبہ مرے گا۔ یہاں پر امیہ مرے گا۔ اگلے دن جنگ ہوئی۔ جہاں جس کے متعلق نبوت نے کہا تھا، وہ وہیں مرا ہوا تھا۔ یہ بھی نہیں کہ چلو اس جنگ میں نہیں مرا۔ مر تو گیا۔ مر تو مرزاغلام احمد قادیانی بھی گیا۔ مرنا تو آپ نے بھی ہے۔ مرنا تو میں نے بھی ہے۔ چھ سال کے بعد پیشین گوئی پندرہ مہینے کے بعد یوں جاکر پوری ہوئی، پندرہ ماہ کی چھ سال میں اور آپ بھی سوچیں کہ اس کی بات سچی ثابت ہوگئی؟ سچی ثابت ہوگئی؟ پھر آپ سمجھ نہیں پائیں گے۔ آپ دیکھیں کہ ﷲتعالیٰ کا نبی کوئی بات اپنی طرف سے نہیں کہتا۔ کہہ دے تو ﷲتعالیٰ پوری کر دیتے ہیں۔ جیسے کسی کی موت کی۔ لیکن نبوت کی یہ شان نہیں کہ کسی کے مرنے جینے کے اوپر اپنی صداقت کے دلائل رکھے۔ سب سے پہلے نبی اپنی ذات کو پیش کرتا ہے کہ ’’ہل وجدتمونی صادقاً اوکاذباً‘‘ نبوت کسی کے مزاج کا بھی استہزاء نہیں کرتی۔ فلاں مرگیا۔ فلاں مر گیا۔ یہ نبوت کی شان کے خلاف ہے۔ غلام احمد قادیانی کا اس طرح کی بڑکیں لگانا دراصل شیطان اس کو سبق پڑھاتا تھا۔ وہ اسے الہام سمجھتا تھا۔ یہی اس عبداﷲ آتھم کو دیکھ لیں۔ یہ ساری باتیں کہ رجوع کرے۔ گالیاں نکالے۔ فلاں کرے۔ پھر رجوع بحق اس کو کہتے ہیں کہ وہ عیسائیت کو چھوڑ کر اسلام قبول کر لے۔ تثلیث کا بھی وہ قائل ہے۔ الوہیت مسیح کابھی قائل ہے۔ اب اس کو اکسا کر میں یہ

93

کہوں کہ اگر تو ڈرا نہیں تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو گالیاں نکال۔ نعوذ باﷲ! میرے خیال میں کسی کے ایمان کو پرکھنے کے لئے اتنی بات کافی ہے کہ مرزاقادیانی ایک عیسائی کو برانگیخت کرتا ہے کہ یا تو جھوٹا ہے۔ اگر جھوٹا نہیں تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو گالیاں نکال کر دکھا۔ میں آپ سے یہ بات کہوں کہ آپ اپنے والد صاحب کو گالی نکال کر دکھائیں۔ اس وقت آپ کے دل ودماغ کی کیفیت کیا ہوگی؟ ساری کائنات کے رشتے رحمت عالم صلی اللہ علیہ وسلم کے نعلین مبارک پر قربان۔ آپ اسی نکتہ نظر سے دیکھیں کہ گویا ایک عیسائی کا بازو پکڑ کر مرزاقادیانی کہتا ہے کہ اگر تم سچے ہو۔ تم نے توبہ نہیں کی تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو گالی نکال کر دکھاؤ۔ یہ آدمی جو عیسائیوں کو اکساتا ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو گالی نکال کر دیکھو۔ اس کی اپنی ذہنیت کیا تھی؟ کہا تھا پانچ ستمبر کو مرے گا۔ نہیں مرا۔ وجہ کچھ ہو۔ مرزاقادیانی کی بات تو پوری نہ ہوئی۔ اس نے کہا تھا کہ اگر نہیں مرے گا تو میں ذلیل ہو جاؤں گا۔ پھر اس کے بعد دو سال کی شرط۔ پھر چار سال کی پھر چھ سال کی۔ میرے عزیز! یہ اس طرح کے کام اٹکل پچو کے مداری کیا کرتے ہیں۔ اﷲ کے نبی نہیں کیا کرتے۔ اس کو اور آگے لے کر چلتے ہیں۔ مرزاغلام احمد قادیانی نے مثال کے طور پر کہا کہ اگر خدا نے قرآن میں میرا نام ابن مریم نہیں رکھا تو میں جھوٹا۔‘‘

(تحفہ الندوہ ص۵، خزائن ج۱۹ ص۹۸)

پورے قرآن میں کہیں آج تک تیرہ سو سال میں امت نے کہا کہ: ’’غلام احمد قادیانی کا نام قرآن میں ہے؟ مرزاقادیانی نے کہا کہ کشفاً مجھے بتایا گیا کہ قرآن میں قادیان کا نام ہے۔‘‘

(ازالہ اوہام حاشیہ ص۷۷، خزائن ج۳ ص۱۴۰)

اب یا تو قرآن میں قادیان کا نام ہونا چاہئے یا غلام احمد قادیانی کا کشف جھوٹا ہونا چاہئے۔ دونوں باتیں سچی ثابت نہیں ہوسکتیں۔ ان عنوانات پر ٹھنڈے دل ودماغ کے ساتھ غور کریں۔ میں یہ نہیں کہتا کہ آپ گفتگو نہ کریں۔ میں آپ کے اوپر گفتگو کا قدغن نہیں لگا رہا۔ میرے بس میں نہیں۔ آپ مجھ سے ویسے بھی دور بیٹھے ہیں۔ میں آپ کے پاؤں پر ہاتھ رکھ کر آپ سے استدعا کروں گا کہ آپ ان چیزوں کو سمجھنے کی کوشش کریں۔ اگر آپ کے دل کے اندر مرزاقادیانی کے متعلق نرم گوشہ ہے یا یہ چیزیں موجود ہیں کہ اس نے یہ کہا یہ کہا۔ پھر آپ اپنے دوستوں کو دھوکہ دے رہے ہیں۔ آپ نے پھر اسلام قبول نہیں کیا۔

94

فاروق:

قادیانیوں کے ساتھ جو میری گفتگو ہو تو یہ سوال جو میرے ذہن میں ہیں، ان سے بیان کروں۔ یہ عرض کرنا چاہتا ہوں۔

مولانا:

آپ قادیانیوں سے سوال تو تب کریں کہ پہلے قادیانیت سے جان چھڑالیں۔ آپ تو ان کے وکیل صفائی ہیں۔

فاروق:

اسی لئے میں کہتا ہوں کہ مجھے صفائی دی گئی ہے۔ جو صفائی مجھے دی، وہ میں آپ کے سامنے رکھوں۔ تاکہ میری وہ دور ہو جائے۔ یہی تو عرض ہے۔

مولانا:

میں یہی آپ سے استدعاء کرتا ہوں کہ آپ کا پھر یہ کہنا کہ میں نے قادیانیت کو چھوڑ دیا ہے، قرین قیاس نہیں۔

فاروق:

مطلب یہ ہے کہ اس طرح مجھے کسی نے سیٹس فائی (Satisfy) کیا ہی نہیں۔

مولانا:

کیا نہیں! مرزاغلام احمد قادیانی آپ کے دل ودماغ میں موجود ہے اور پھر آپ یہ بھی کہہ رہے ہیں کہ میں مسلمان ہوں۔ میں نے اسلام کا اعلان کیا۔ آپ کی ان دونوں باتوںکے اندر تضاد ہے۔ میں تو اتنی درخواست کرنا چاہتا ہوں۔

فاروق:

آپ دیکھیں نا! میں عرض کروں کہ اطمینان چاہتا ہوں۔

مولانا:

جب تک غلام احمد قادیانی…! جب تک کتا کنویں کے اندر پڑا ہے۔ اس کو آپ باہر نہیں نکالیں گے ساری زندگی پانی کو نکالتے رہیں۔ کنواں کبھی پاک نہیں ہوگا۔ مثلاً آپ نے کہا کہ مرزاقادیانی کو خدا نے نہیں پکڑا۔ مگر میں عرض کرتا ہوں کہ مرزاقادیانی کو قدرت نے پکڑا اور ایسا پکڑا کہ شیطان کی بھی مرزاقادیانی کے ساتھ چیخیں نکل گئیں۔ کیسے؟ مرزاقادیانی ہمیشہ نبوت کا دعویٰ کرتا اور پھر انکار کر دیتا۔ میں نبی ہوں۔ نہیں امتی نبی ہوں۔ نہیں تشریعی نبوت کی شرائط مجھ میں پائی جاتی ہیں۔ نہیں میں مدعیٔ نبوت کو لعنتی اور کافر سمجھتا ہوں۔ یہ ہاں! ناں! اقرار وانکار کا شیطانی کھیل مرزاقادیانی ساری زندگی کھیلتا رہا۔ زندگی میں ایک بار اور صرف ایک بار اس نے کہا کہ میرا نبوت کا دعویٰ ہے اور میں اس پر قائم ہوں۔ موت تک اس سے انکار نہیں کروں گا۔ یہ آخری خط جو اخبار عام کو لکھا۔ جس دن اخبار عام میں یہ خط چھپا کہ: ’’میں دعویٰ نبوت پر قائم ہوں اور کبھی انکار نہ کروں گا۔‘‘

(خط مطبوعہ اخبار عام ۲۶؍مئی ۱۹۰۸ء، ضمیمہ نمبر۲، حقیقت النبوۃ ص۲۷۰)

95

اسی دن ہیضہ کی موت سے بیت الخلاء کے اندر غلاظت سے لت پت قے کرتے ہوئے مر گیا تو قدرت نے اسے پکڑا۔ فرمائیں تو حوالے آپ کے سامنے رکھ دیتا ہوں۔

فاروق:

اس کا پھر ایک ہی جواب ہے کہ میں ایسے ماحول میں رہوں۔ آپ لوگوں کے ماحول میں۔ چوبیس گھنٹے جن کے پاس تعلیم حاصل کروں۔ وہاں پر آپ لوگوں کے ساتھ صحبت میں رہوں تاکہ جہاں سے قادیانیت کی ہوا بھی نہ لگے اورمیں اس کا مطالعہ کروں۔ ایک مبلغ بنوں۔ اپنے آپ کو وقف کروں۔

مولانا:

ایک سیکنڈ بھائی… ٹھہر جائیں… ٹھہر جائیں! میں مسلمان تب ہوتا ہوں کہ میرے کھانے کا انتظام کریں۔ میری رہائش کا انتظام کریں۔ میرے مکان کا انتظام کریں۔ میری ملازمت کا انتظام کریں اور میں یہ کام کروں اس پر بھی آپ سوچ لیں کہ اسلام قبول کرنے کے لئے یہ شرائط عائد کی جاتی ہیں۔ مہربانی فرمائیں! جس راستے سے گئے ہیں اسی راستہ سے واپس آئیں۔ سمجھے! اب انہوں نے دروازے بند کردئیے ہیں تو اس مقام کو جرأت کے ساتھ پھلانگنا ہوگا اور اگر کسی اور مقام کے اندر داخل ہونا ہے تو اس کے دروازے سے اندر داخل ہونا ہوگا۔ میری درخواست سمجھ رہے ہیں؟ (مجاہد شاہ صاحب! آپ پر اب کچھ معاملہ الم نشرح ہورہا ہے؟) بہت سارا فرق ہے اس کو نکالنے کی کشش کریں اور یہ میرے خیال میں آپ دوستوں کو خود نکال لینا چاہئے۔ اگر ایک ایک کام کے لئے مجھے ہی آنا پڑے تو میرے لئے مشکل ہوگا۔ فاروق بھائی! میں آپ سے استدعا کرتا ہوں کوئی حیات مسیح علیہ السلام کا مسئلہ آپ کے دل ودماغ میں نہیں۔ یہ وہاں جاکر بیماری لگی ہے۔ یہ وہاں سے آپ کو جراثیم ملے ہیں۔

فاروق:

میں مانتا ہوں۔

مولانا:

جزاک اﷲ! اور وہ جراثیم آپ میں بعینہ اسی طرح پورے موجود ہیں۔ جب کوئی آدمی کہتا ہے کہ یہ کیا ہے؟ آپ کہتے ہیں مرزاغلام احمد قادیانی جھوٹا۔ جب جاتے ہیں اور جراثیم کا حملہ ہوتا ہے تو کہتے ہیں انہوں نے یہ بھی کہا۔ انہوں نے یہ بھی کہا۔ فلاں مر گیا۔ فلاں زندہ ہے۔ آپ اس دلدل میں ہیں۔ آپ نے نہ قادیانیت کو چھوڑا ہے۔ میرے عزیز! نہ آپ نے اسلام کو قبول کیا ہے۔ جس طرح قرآن کی آیت ہے (میں معانی چاہتا ہوں)

96

قرآن کہتا ہے کہ: ’’بعض لوگ اس طرح ہوتے ہیں کہ ان کے دل ودماغ کے اندر شیطانی وساوس اس طرح قبضہ کر لیتے ہیں۔‘‘

’’یتخبطہ الشیطٰن من المس (البقرہ:۲۷۵)‘‘ پاگلوں کی طرح دنیا کے اندر، کیا ہوگیا؟ کیا ہوگیا؟ بس وہ کیفیت ہو جاتی ہے اور اس سٹیج پر ہو ہی جایا کرتی ہے۔ میں اس موقع پر آپ سے نفرت نہیں کر رہا۔ یہی تو وہ موقع ہے کہ میں سب سے زیادہ آپ سے محبت کروں۔ پھر کبھی آپ اس عنوان پر بھی سوچیں۔ مرزاغلام احمد قادیانی آپ کی کھوپڑی میں ابھی تک موجود ہے۔ اس کے وساوس بھی آپ کی کھوپڑی میں موجود ہیں۔ ایک آدمی نے کہا کہ کہو غلام احمد قادیانی کافر۔ آپ نے کہہ دیا کافر۔ لکھ کر دے دیا اورکہہ بھی دیا کافر۔ میں آپ سے استدعاء کرتا ہوں کہ کائنات کے کسی حصہ میں چلے جائیں۔کسی مسلمان کو جاکر کہہ دیں کہ تم اپنے نبی علیہ السلام کے متعلق (معاذ اﷲ) یہ بات کہو، وہ ذبح تو ہو جائے گا مگر رحمتدوعالم صلی اللہ علیہ وسلم کے متعلق یہ لفظ نہیں کہے گا۔ آپ کا خود اتنی بات کہہ دینا مرزاغلام احمد قادیانی کو سچا سمجھنے کے باوجود ایک مجلس میں کہہ دینا کہ کافر ہے۔ بعدمیں اٹھ کر کہنا نہیں وہ ایسا سچا ہوگا۔ یہ مرزاغلام احمد قادیانی کے کفر اور جھوٹا ہونے کے لئے اتنی بات کافی ہے۔ اگر اس پر سمجھنا چاہیں گے تو میں حاضر ہوں۔ اب آپ کی تشخیص ہوگئی۔ بے شک سوال کریں۔ مجلس ہے۔ علمی مجلس چلتی رہتی ہے۔ سوالات چلتے رہتے ہیں۔

مولانا:

آپ اپنا تعارف کرائیں اور بتائیں کہ آپ قادیانی کیوں ہوئے؟

فاروق:

اصل میں سمندری کے قریب ایک گاؤں ہے۔ میں وہاں کا رہنے والا تھا۔ جامعہ رضویہ میں دین کی کتابیں پڑھیں۔ پھر مل میں ملازم ہوا۔ ایک قادیانی سے دوستی ہوگئی۔ ماں باپ مسلمان ہیں۔ خاندان مسلمان ہے۔ صرف میں قادیانی ہوا۔ پھر مرزائیوں میں شادی ہوئی۔ اعوان برادری سے میرا تعلق ہے۔ اب داتہ میں تبلیغ کے لئے قادیانی جماعت نے مقرر کیا تھا۔

مولانا:

کتابیں کہاں تک پڑھیں؟

فاروق:

کئی سال جامعہ رضویہ فیصل آباد میں بہت ساری کتابیں پڑھیں۔

مولانا:

کہاں تک، کچھ کتابوں کے نام؟

فاروق:

خاموش!

97

مولانا:

مجھے اس پر بھی شبہ ہورہا ہے کہ چھوٹے سے چھوٹا طالب علم جو معمولی پڑھا ہوا ہو، اگر ہمارا طالب علم قدوری پڑھتا ہو تو اس کو ہدایہ تک کی اور ہدایہ تک کی شروحات کے نام یاد ہوتے ہیں۔ میں نے پوچھا کون سی کتابیں۔ کتابوں کے نام ایک بھی آپ نہیں بتاسکے۔ یہ محل نظر ہے کہ آپ نے جامعہ رضویہ میں دینی کتابیں پڑھیں۔ آپ اوروں کو تو غلطی میں ڈالیں۔ لیکن مجھ سے یہ توقع نہ رکھیں۔ آپ نے کسی دینی ادارہ سے نہیں پڑھا۔ قادیانیوں سے کچھ پڑھا ہو تو مجھے انکار نہیں۔ آپ سے استدعاء کرتا ہوں کہ قرآن مجید کی کسی بھی تفسیر کو سمجھنے کے لئے جو ہماری امہات التفاسیر ہیں۔ ان میں سے کسی ایک تفسیر کا انتخاب کر لیں۔ اس کو دیکھنا شروع کر دیں۔ اگر اپنے طور پر سٹڈی کرنی ہے تو آپ کا تشریف لانا ہمارے لئے خوشی کا باعث ضرور ہے کہ آپ ہمارے بھائی ہیں۔ جب آجائیں گے، تو آپ کی مدد کرنا بھی ہمارے فرائض میں شامل ہے۔ لیکن آپ اسلام پر کوئی احسان نہیں کر رہے کہ پہلے اہل اسلام میرا یوں انتظام کریں تو پھر میں یوں ہو جاؤں گا۔ ایک مفاد کی خاطر وہاں گئے تھے۔ وہ مفاد وہاں پورا نہیں ہوا، انہوں نے ٹھڈا مارا اور ادھر آگئے۔ یہ اسلام لانا نہیں پھر یہ تماشا ہے۔ میں گفتگو تلخی کی کر رہا ہوں۔ مجھے احساس ہے۔ اس موقع پر مجھے آپ کے دل کو نہیں توڑنا چاہئے۔ لیکن جب تک لوہے کو گرم کر کے اس پر ہتھوڑا نہ مارا جائے۔ اس سے کوئی اوزار نہیں بنا کرتا۔ جب تک میں یہ گفتگو نہ کروں آپ تب تک کسی نتیجہ پر نہیں پہنچ پائیں گے۔ آپ کا یہ کہنا کہ پہلے میرے لئے یہ انتظام کرو۔ پہلے میرے لئے چھ مرلے کا مکان بناؤ۔ پہلے مجھے پلاٹ لے کر دو۔ پھرمیری ملازمت کا انتظام کرو۔ کیوں بھائی! کیا اسلام نے ٹھیکہ لے رکھا ہے آپ کا؟ میرے لئے یہ چندہ کرو۔ میرے لئے یہ انتظام کرو۔ نوکر ہے اسلام آپ کا؟ یا میرا؟ مجھے تو اسلام کی ضرورت ہے۔ اسلام کو میری کیا ضرورت؟ کیا آپ اور میں مسلمان نہیں ہوں گے تو اسلام جھوٹا ہو جائے گا؟ اگر اسلام کو ان بنیادوں پر کام کرنا ہوتا تو یہ رفاہی ادارہ ہوسکتا ہے۔ اسلام نہیں۔ پھر یہ قادیانیت ہوسکتی ہے جو چندہ کے نام پر، نکاح کے نام پر، فلاں کے نام پر، فلاں چیز کے نام پر قادیانیت کو پھیلاتی ہے۔ یہ لمیٹڈ کمپنی اور فرم ہوسکتی ہے اسلام نہیں۔ اسلام تو کہتا ہے اس راستے آؤ گے تو میرے ہو۔ اگر راستے سے ذرا بھٹکو گے تو جاؤ جہنم میں ’’بای وادی یہیمون‘‘ جہاں چاہو پھرتے رہو۔ کوئی پرواہ نہیں

98

تمہاری، اور جتنے آسمانی مذاہب ہیں وہ معاف کرنا لالچ کی بنیاد پر، چندوں کی بنیاد پر اور یوں کرنا، یوں کرنا۔ ایک ہے مسلمان ہونے کے ناطے کہ آپ میرے بھائی ہیں۔ ڈوب رہے ہیں۔ آپ کو اٹھا کر کھڑا کرنا اور ڈوبنے سے نکالنا میرا ایک مسلمان ہونے کے ناطے فرض بنتا ہے۔ لیکن آپ یہ شرط نہیں لگاسکتے اور نہ ہی اسلام کی یہ ذمہ داری ہے کہ وہ آپ کو مکان اور رہائش مہیا کرے۔ اگر اسلام کی ذمہ داری ہوتی تو جتنے بھی مسلمان ہیں، وہ سب سے پہلے سارے ملک کے اندر ہتھوڑی چھینی لے کر سارے ملک میں پہلے مکان بناتے۔ پھر لوگوں کو دعوت دیتے۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم بھی یہی کام کرتے کہ پہلے مکان بناتے۔ پھر حضرت ابوبکرؓ کو کہتے کہ یہ مکان موجود ہے اور شادی کا انتظام کرتے۔ آپ مہربانی کریں ٹھنڈے دل ودماغ کے ساتھ ان چیزوں کو سوچیں۔ آپ کا چکر مفادات کی بنیاد پر ہے۔ کوئی مسائل وسائل نہیں ہیں۔ مفادات کی بنیاد پر آپ نے اسلام کو چھوڑا تھا۔ اب آپ اگر اسی پر قیاس کر کے مفادات کی بنیاد پر اسلام کی طرف آنا چاہتے ہیں تو آپ اپنے ساتھ بھی زیادتی کر رہے ہیں اور ہمارے ساتھ بھی زیادتی کر رہے ہیں۔ ڈنکے کی چوٹ پر کہہ دیجئے کہ مرزاغلام احمد قادیانی جھوٹا ہے۔ اپنے رب سے استغفار کیجئے۔ معافی مانگیں۔ میں آپ کو اور آپ مجھے۔ انسان انسان کو کروڑ دفعہ دھوکا دے سکتا ہے۔ لیکن انسان کبھی اپنے رب کو دھوکہ نہیں دے سکتا۔ آپ اپنے رب کے ساتھ معاملہ کو درست کریں۔ دعا کریں کہ یا اﷲ! ایک شخص نے مسیح ہونے کا دعویٰ کیا۔ مجدد ہونے کا دعویٰ کیا اور مجدد وہ کہ ۱۳صدیوں کے مجدد کچھ کہتے ہیں۔ یہ کچھ کہتا ہے۔ ۱۳صدیوں کے مجدد کچھ لکھتے ہیں یہ کچھ لکھتا ہے۔ وہ سچے تھے حیات مسیح علیہ السلام کے مسئلہ پر تو یہ جھوٹا ہے۔ یہ سچا ہے تو نعوذ باﷲ! تیرہ صدیوں کے مجددین جھوٹے ہیں۔ میں مرزاغلام احمد قادیانی کو ڈنکے کی چوٹ پر کافر کہتا ہوں۔ یہاں پر کھڑے ہوکر نعرہ لگائیں کہ مرزاغلام احمد قادیانی اور اس کے ماننے والے جھوٹے ہیں۔ کذاب ہیں، بے ایمان ہیں۔ ان کو چھوڑیں۔ پھر مسلمان کے علماء کے پاس آئیں کہ مرزاغلام احمد قادیانی کو میں نے چھوڑ دیا ہے۔ اب میں نے سٹڈی کرنی ہے۔ مجھے بتایا جائے کہ میرا راستہ کیا ہے؟ اگر آپ اپنی شرائط پر آئیں گے کہ مجھے اپنے ماحول میں رکھیں۔ مجھے اپنے ساتھ رکھیں۔ پھر مجھے فلاں جگہ پر بٹھائیں۔ اگر اس طرح کریں گے تو برادر عزیز! آپ کی یہ دنیاوی ڈیمانڈیں

99

بڑھتی جائیں گی۔ کوئی آدمی پوری نہیں کر سکے گا۔ اب فرمائیں، اب حیات مسیح علیہ السلام کا مسئلہ تو نکل گیا درمیان سے جس کے لئے ہم بیٹھے تھے۔ یہ تو چکر ہی اور نکل آیا۔ چلیں! میں آپ کے ساتھ ہوں۔ جی!

فاروق:

مسلمان کی تعریف کیا ہے؟ مسلمان کون ہوتا ہے؟

مولانا:

تصدیق الرسول بماجاء بہ! محمد عربی صلی اللہ علیہ وسلم جو کچھ لائے اس سب کو ماننے کا نام مسلمان ہے۔ ان میں کسی ایک چیز کاانکار کفر ہے۔ مثلاً میں یہ کہتا ہوں اور آپ بھی میرے ساتھ اتفاق کریں گے۔ مسلمان ہونے کے لئے ضروری ہے کہ قرآن کو سچا سمجھے۔ کافر ہونے کے لئے ضروری نہیں کہ پورے قرآن کا انکار کرے۔ اگر ایک آیت کا بھی انکار کرے گا تو کافر ہو جائے گا۔ وہ قرآن کو ماننے والا نہیں کہلا سکے گا۔ قرآن کو ماننے والا وہ ہے جو پورے قرآن کو مانے۔ ایک آیت کے انکار سے بھی کفر لازم آتا ہے۔ پورے دین کو سچا سمجھ کر قبول کرنا اس کا نام اسلام ہے۔ کسی ایک دینی مسئلہ کا جسے ضروریات دین کہتے ہیں۔ کسی ایک کا انکار کرنا کفر ہے۔ اب فرمائیں۔

فاروق:

قادیانی جو ہیں سارا کچھ سچ سمجھتے ہیں۔ قرآن مجید اور سارا کچھ۔ اس پر ایمان رکھتے ہیں تو وہ کیوں کافر؟

مولانا:

آپ نے سو فیصد صحیح کہا۔ ہم قادیانیوں کو قرآن پر ایمان لانے کی وجہ سے کافر نہیں کہتے کہ تم قرآن کو کیوں مانتے ہو؟ ہم قادیانیوں کو یہ نہیں کہتے کہ نماز پڑھتے ہو اس لئے کافر۔ ہم ان کو یہ نہیں کہتے کہ تم کلمہ پڑھتے ہو اس لئے کافر۔ بلکہ ہم ان کو اس لئے کافر کہتے ہیں کہ تم مرزاغلام احمد قادیانی کو سچا سمجھتے ہو اس لئے کافر۔ قرآن پڑھنے کی بنیاد پر تو ہم نے کسی کو کافر نہیں کہا۔ قادیانی ہمیں کہتے ہیں کافر۔ وہ یہ نہیں کہتے کہ تم قرآن کو مانتے ہو۔ اس لئے کافر۔ ہم کہتے ہیں کہ مرزاغلام احمد قادیانی کو تم مانتے ہو اس لئے تم کافر۔ قرآن کے ماننے کی وجہ سے ہم کسی کو کافر نہیں کہہ رہے۔ میرے خیال میں یہ ایسا جواب ہے یہاں پر آپ کا نکتہ حل ہو جانا چاہئے اور کوئی ہو نہ ہو۔ یہاں اس کو حل ہو جانا چاہئے۔ یہ آپ کو کس نے کہہ دیا؟ کہ قادیانی فلاں چیز کو مانتے ہیں۔ لہٰذا ثابت ہوا کہ مسلمان ہیں۔ ان بنیادوں پر تو ہم کافر کہہ ہی نہیں رہے۔ بلکہ مرزاقادیانی کو ماننے کی وجہ سے قادیانیوں کو کافر کہتے ہیں۔

100

وقار:

فاروق بھائی اپنے لئے رستہ نکال رہے ہیں۔

فاروق:

نہیں، نہیں!

مولانا:

اگر یہ راستہ نکالے کہ وہ ساری چیزوں کو مانتے ہیں۔ لیکن ساتھ مرزاقادیانی کو بھی مانتے ہیں تو بھی ان کے ساتھ گزارا کر لیا جائے۔ یہ تو پھر بہت مشکل بات ہو جائے گی۔ بات سمجھ رہے ہیں؟

فاروق:

ہاں!

مولانا:

میں نماز پڑھتا ہوں، روزہ رکھتا ہوں، داڑھی ہے، مسلمان ہوں، یہ چار میرے دوست ہیں، میرے ایمان واسلام کے گواہ ہیں۔ قادیانی مجھے بھی کافر کہتے ہیں۔ کیوں؟ اس لئے کہتے ہیں کہ ہم مرزاقادیانی کو نہیں مانتے۔ ہم قادیانیوں کو قرآن پڑھنے کی وجہ سے کافر نہیں کہہ رہے۔ ہم یہی کہتے ہیں کہ تم مرزاقادیانی کو مانتے ہو۔ لہٰذا تم کافر۔

فاروق:

قادیانیوں کو اگر مسلمان بنانا ہو تو آپ کیا کہلائیں گے؟

مولانا:

خدا کے بندے قادیانیوں کی کیوں شرط لگاتے ہو؟

فاروق:

مسئلہ ہی قادیانیوں کا ہے۔

مولانا:

ارے میاں! سیدھے راستے سے آؤ۔ اﷲ آپ کو ہدایت دے۔ عیسائی کو مسلمان کرنا ہو۔ یہودی کو مسلمان کرنا ہو۔ ہندو کو مسلمان کرنا ہو یا قادیانی کو۔ توبہ کراتے ہیں توبہ کس چیز کا نام ہے؟ گناہ کو چھوڑنا۔ گناہ کو چھوڑنا اور آئندہ نہ کرنے کا نام توبہ ہے۔ یا اﷲ میں چوری سے توبہ کرتا ہوں اور ارادہ یہ ہو کہ جاتے ہوئے جس کی اچھی جوتی ملے گی، لے جاؤں گا۔ یہ توبہ نہیں پھر مذاق ہے۔میری بات سمجھ رہے ہیں؟ بعینہ اسی طرح اگر کوئی عیسائی ہے تو جن کفریات پر وہ ہے ان کفریات کو ترک کرے۔ اسلام قبول کرے جو کچھ پہلے تھا وہ غلط۔ آئندہ یہ نہیں ہوگا۔ اس کا نام ہے اسلام۔ اب اگر ایک عیسائی توبہ کرے گا تو جہاں وہ وحدانیت کا اقرار کرے گا۔ وہاں تثلیث کا انکار کرے گا۔ جہاں وہ رب کریم کے محمد عربی صلی اللہ علیہ وسلم کے رسول برحق ہونے کا اقرار کرے گا وہاں سیدنا مسیح علیہ السلام کے الٰہ ہونے کا اسے انکار کرنا ہوگا۔ اب مسیح علیہ السلام کو بھی صرف اﷲ کا رسول مانے گا۔ اگر ایک عیسائی کہے کہ میں مسلمان ہوں، نمازیں پڑھتا ہوں، روزے رکھتا ہوں۔ لیکن مسیح اﷲ تھے۔ استغفراﷲ!

101

تثلیث سچی تھی۔ کفارہ سچا تھا۔ یہ آدمی پھر مذاق کر رہا ہے۔ اسلام قبول نہیں کر رہا۔ آپ ایک ہندو کو مسلمان کرنا چاہیں گے تو اس کے لئے سب سے پہلی شرط یہ ہوگی کہ وہ کہے کہ خدا ایک ہے۔ یہ جتنے میں نے بت بنا رکھے ہیں یہ سارے جھوٹے۔ جب تک وہ جتنی زیادہ شدت کے ساتھ اپنی ان مانی ہوئی چیزوں پر کلہاڑا نہیں چلائے گا۔ سیدنا ابراہیم علیہ السلام کی توحید کا کلہاڑا چلا کے ان اپنے معبودان باطلہ کے ٹکڑے ٹکڑے نہیں کرے گا۔ تب تک وہ مسلمان نہیں ہوگا۔ ایک آدمی اب اگر قادیانیت کو چھوڑ کر اسلام میں آنا چاہتا ہے تو قادیانیت اور اسلام میں واضح نزاع مرزا غلام احمد قادیانی ہے۔ مرزاغلام احمد قادیانی کو دنیا کی غلیظ ترین شئے سمجھ کر اسلام کی طرف آئے گا تو اس کے دل ودماغ میں دنیا کی محبوب ترین شخصیت محمد عربی صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت پیدا ہو جائے گی۔ بھائی! یہ ہے کہ کنویں سے پہلے پانی کی گندگی نکالو جس سے یہ کنوں پلید ہوا۔ خدا کے بندے میں نے تو پہلے کہہ دیا کہ وہ (مرزاقادیانی) پڑا ہے۔ پہلے اسے نکالو۔ پھر پاک ہی پاک۔ اسی کا نام اسلام رکھ لیں۔ اسی کا نام توبہ رکھ لیں۔

فاروق:

کیا وحی جاری ہے؟ یا بند؟

مولانا:

۱۳سوسال سے جاری تھی؟ یا بند تھی؟

فاروق:

جاری۔

مولانا:

کس کس پر؟

فاروق:

قرآن حکیم سے تو یہ ثابت ہوتا ہے کہ وحی جاری ہے۔

مولانا:

بھائی میاں! میں قرآن مجید کو سمجھنے کے لئے تو اصول طے کر رہا ہوں۔ آپ سے درخواست کر رہا ہوں کہ جس آیت سے آپ یہ سمجھتے ہیں کہ جاری ہے۔ اس کے لئے غلام احمد قادیانی سے پہلے کسی مجدد کی کتاب پڑھ لیں۔ وہ کہہ دے جاری ہے تو جاری ہے نہیں تو نہیں۔ میں تو یہ پوچھ ہی نہیں رہا کہ قرآن مجید کی کون سی آیت سے وحی بند ہے یا کون سی آیت سے وحی جاری ہے۔ میں تو یہ سوال ہی نہیں کر رہا۔ بلکہ ان کے نام بتادیں۔ کون کون سی وحی تھی۔ کس کس پر تیرہ سو سال میں جاری رہی۔ اگر وحی تیرہ سو سال سے جاری ہے تو کس کس پر وحی ہوئی؟ نام بتلائیں؟ اور اگر تیرہ سو سال میں بند تھی اور ایک آدمی کہتا ہے کہ مجھے ہوئی اور میرے بعد کسی کو نہیں ہوگی۔ یہ آدمی پھر جھوٹا ہے۔ مکار اور عیار ہے۔ یہ صرف اپنی دکان

102

چمکانے کے لئے ایسی ایک بات کہہ رہا ہے۔ تیرہ سو سال سے امت اس کو کبھی جاری نہیں مانتی۔ اگر نبوت جاری تو پھر تیرہ سو سال میں کون بنا؟ کوئی نہیں صرف مرزاغلام احمد قادیانی اس کے بعد کوئی نبی؟ نہیں! اب کہتے ہیں کہ خلیفے ہیں، نبی نہیں تیرہ سو سال میں مرزاقادیانی کی خاطر نبوت کو جاری رکھنا تھا؟ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی ختم نبوت کا بھی انکار کیا۔ تیرہ سو سالہ امت کے تعامل کو بھی چھوڑا۔ امت کے فہم قرآن کو اور امت کے نظریہ کو بھی رد کیا۔ ایک آدمی کی خاطر؟ اور جب وہ گزر گیا تو کہتے ہیں، اب پھر بند۔ نہیں تو اس کے بعد جتنے نبی ہوئے! چلو میاں! میں تیرہ سو سال کا نہیں پوچھتا۔ میں پوچھتا ہوں کہ مرزاغلام احمد قادیانی کو گئے ہوئے سو سال ہوگئے ہیں۔ آپ بتائیں سو سال کے بعد کتنی وحی آئی؟ یا کتنے نبی بنے؟ نبوت جاری ہے یا وحی جاری ہے۔ فرمائیں کتنے نبی بنے ہیں؟ اے کاش! آپ ٹھنڈے دل ودماغ سے اس پر غور فرمائیں۔ میں کہتا ہوں قوت مدافعت پیدا کرو۔ آپ کے ان سوالوں کا جواب آپ کا ضمیر دیتا چلا جائے گا۔

فاروق:

وحی جو ہے وہ غیرنبی کو بھی ہوسکتی ہے یا نہیں ہوسکتی یا نبی ہونا ضروری ہے۔

مولانا:

آپ بتائیں۔

فاروق:

آپ سے سوال ہے۔

مولانا:

بھائی میاں! بتادیں جو آپ کے دل ودماغ کے اندر ہے۔

فاروق:

قرآن حکیم میں کیا ہے

مولانا:

وحی شرعی! وحی شرعی جس کا انکار کفر ہو۔ وہ سوائے نبی کے کسی کو نہیں ہوسکتی۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد نہ تیرہ سو سال میں کسی کو ہوئی نہ قیامت تک ہوگی۔ جس کے انکار کی وجہ سے کفر لازم آئے۔ باقی خواب ہے، الہام ہے، ان کا ماننا ہمارے لئے ویسے بھی ضروری نہیں۔ مجھے الہام ہو کہ مولوی صاحب! آپ کے پاس روٹی رکھی ہوئی ہے اس کے اندر زہر ملا ہوا ہے۔ آپ اس کو نہ کھائیں۔ اس کے باوجود میں کھالوں اور واقعتا زہر ملا تھا۔ میں مرجاؤں تو مجھے خود کشی کا مرتکب نہیں کہا جائے گا۔ اس لئے کہ مجھے الہام ہوا ہے۔ میرا الہام صحیح بھی ہوسکتا ہے اور غلط بھی ہوسکتا ہے۔ میں نے خواب دیکھا ہے۔ میرا خواب سچا بھی ہوسکتا ہے اور جھوٹا بھی ہوسکتا ہے۔ جناب محترم فاروق صاحب! دین اسلام، امتی کے یا امت کے خوابوں

103

پر نہیں چلا کرتے۔ اگر خوابوں کی بنیاد پر دین اسلام چلا کرے تو پھر اسلام نہ ہوا، مذاق ہوا۔ ان کی حیثیت مبشرات کی ضرور ہوسکتی ہے۔ آپ اور میں کبھی خواب دیکھتے ہیں تو صبح کو نہانے کی ضرورت پیش آجاتی ہے۔ پھر کبھی خواب دیکھتے ہیں کہ بیت اﷲ شریف کا طواف کر رہے ہیں۔ وہ بھی خواب تھا اور یہ بھی خواب ہے۔ یہ انسانی دل ودماغ ہیں۔ اچھے خواب بھی آسکتے ہیں اور برے بھی۔ خوابیں کبھی بنیاد نہیں ہوا کرتیں اور کسی بڑے سے بڑے آدمی ماسوائے اﷲ رب العزت کے نبی کے کسی اور کا خواب قطعاً شرعی حجت یا دلیل نہیں۔ ہاں! نبی کا خواب حجت ہوتا ہے اور اسی لئے ’’رؤیا الانبیاء وحی‘‘ بخاری شریف کے اندر ہے۔ صرف نبی کا خواب شریعت کے اندر حجت ہوا کرتا ہے۔ باقی بڑے سے بڑے آدمی کا، میرے استاد کا، کسی مجدد کا خواب وہ بیان کرے اور میں کہوں نہیں مانتا میں اس کو۔ اسلام مجھے یہ نہیں کہے گا کہ تم اس کے خواب کو نہ ماننے کی وجہ سے کافر ہوگئے ہو۔ صرف نبوت کی ذات کو ماننے یا نہ ماننے کی بنیاد پر کفر اور اسلام کے فیصلے ہوتے ہیں۔ باقی دنیا کے کسی آدمی کی یہ اتھارٹی نہیں کہ اس کو ماننے یا نہ ماننے کی وجہ سے کفر لازم آئے۔ حضرت مولانا خان محمد صاحبؒ ہمارے بزرگ ہیں۔ ہمارے امیر ہیں۔ ساری دنیا کے ولیوں میں میری نظر کے مطابق وہ سب سے اچھے ہیں۔ کل میں کہہ دوں کہ جس میں حضرت مولانا خان محمد صاحبؒ کو نہیں مانتا۔ ان کو نہ ماننے کی وجہ سے مجھ پر کوئی الزام نہیں آئے گا۔ میں کہتا ہوں کہ میں مجدد الف ثانیؒ کو نہیں مانتا۔ ان کو نہ ماننے کی وجہ سے میرے اوپر کفر لازم نہیں آئے گا۔ ارے میاں! میری بات سمجھ رہے ہو؟ بھائی! اسلام میں صرف نبوت کی ذات ہوا کرتی ہے۔ جس کے اقرار یا انکار سے اسلام وکفر کے احکام مرتب ہوتے ہیں اور جس وقت مرزاغلام احمد قادیانی کہے کہ جو مجھے نہ مانے وہ کافر۔ چاہے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو ہزار دفعہ مانے، مرزاقادیانی کو نہ مانے وہ کافر۔ اس کا پھر معنی یہ ہوا کہ یہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی مسند پر بیٹھ گیا ہے۔ جو اعزاز حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا تھا، وہ اس نے لے لیا۔ اس لئے تو میں کہتا ہوں کہ پہلے اس کو نکالو۔ گاڑی تب چلے گی۔

فاروق:

وہ کہتا ہے کہ میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے مقابلہ پر نہیں ہوں۔ میں امتی ہوں۔ ان کی غلامی کی وجہ سے نبوت ملی ہے۔

مولانا:

یہ کیا فرمارہے ہیں آپ؟

104

فاروق:

ان کا غلام ہوں۔ خادم ہوں۔ حضور کا خادم۔ وہ کہتا ہے۔

مولانا:

لیکن وہ کہتا ہے کہ مجھے اعزاز وہ دو جو مخدوم اور آقا کو ملتا ہے۔ ہم نے کہا کہ اس آقا کے انکار سے کفر لازم آئے گا۔ اس نے کہا کہ: ’’میرے انکار سے بھی کفر لازم آئے گا۔‘‘

قرآن مجید نے کہا کہ

قرآن مجید نے کہا کہ ’’وما ارسلناک الا رحمۃ للعالمین‘‘ وہ کہتا ہے کہ میں ہوں غلام لیکن مجھے کہا گیا ہے کہ تو بھی ’’وما ارسلناک الا رحمۃ للعالمین‘‘ ہے۔

(تذکرہ ص۸۱)

اس کی وحی پڑھی ہے؟ کہ نہیں؟ قرآن مجید کہتا ہے کہ ’’وما رمیت اذ رمیت‘‘ غلام کہتا ہے کہ مجھے بھی کہاگیا ہے کہ ’’وما رمیت اذ رمیت‘‘

(تذکرہ ص۴۳،۱۳۱)

یہ بدنصیب غلام ہے یا آقا بننے کی کوشش کر رہا ہے؟ غلام کہتا ہے اور کہ ظلی طور پر مجھے بھی محمد کہاگیا ہے؟

(ایک غلطی کا ازالہ ص۵، خزائن ج۱۸ ص۲۰۹)

منصب بھی ان کا، ٹائٹل بھی ان کا، اختیارات بھی ان کے استعمال کرے مرزاقادیانی اور کہے کہ میں غلام ہوں۔ جناب! یہ پھر دھوکے باز ہی ہوسکتا ہے۔ غلامی والی بات غلط ہے۔ سمجھے؟

فاروق:

عیسیٰ علیہ السلام جب آئیں گے تو وہ نبی اﷲ ہوں گے یا غیرنبی اﷲ!

مولانا:

مرزاغلام احمد قادیانی کا قصہ حل ہوا کہ نہیں؟

فاروق:

جی ہاں! بس ہوگیا۔

مولانا:

ہاں! بس ہوگیا! یہ نہیں۔ شاہ صاحب فرمائیں۔

فاروق:

حدیث میں۔

مولانا:

بھائی! مرزاغلام احمد قادیانی کا مسئلہ حل ہوا؟

فاروق:

جی۔

مولانا:

ٹھیک ہے۔ مرزاغلام احمد قادیانی اپنے آپ کو محمد رسول اﷲ بھی کہے اور یہ بھی کہے کہ میرے ماننے یا نہ ماننے کی وجہ سے کفر واسلام کے فیصلے ہوں گے۔ یہ بھی لکھے کہ: ’’جو مجھے نہیں مانتا وہ جہنمی۔‘‘

(تذکرہ ص۱۶۳)

105

فلاں مجھ کو نہیں مانتا۔ تیرا کلمہ باطل، تیرا اسلام باطل، حج باطل، مرزاغلام احمد قادیانی کو پہلے مان۔ تو یہ اختیار تو حضور سرور کائنات صلی اللہ علیہ وسلم کے استعمال کر رہا ہے۔ دھوکہ میں رکھا گیا ہے آپ کو میرے عزیز! ہیں کواکب کچھ، نظر آتے ہیں کچھ۔ دعویٰ ان کا کچھ ہے۔ کر یہ کچھ رہے ہیں اور مرزاغلام احمد قادیانی نے یہ بھی کہا کہ: ’’جس اسلام میں میرا تذکرہ نہیں، وہ مردہ اسلام ہے۔‘‘

(الفضل قادیان ج۱۶ نمبر۳۲ ص۱۱، مورخہ۱۹؍اکتوبر ۱۹۲۸ء)

تیرہ سو سال میں مرزاقادیانی کا کوئی تذکرہ نہیں تھا تو تیرہ سو سال میں اسلام مردہ تھا۔ زندہ اسلام وہ جس میں مرزاقادیانی ہو۔ میرے عزیز! نبوت، قوموں کو دھوکے نہیں دیا کرتی۔ نبوت دھوکوں سے نکالنے کے لئے آیا کرتی ہے۔ نبی حق اور باطل کی تمیز قائم کرتا ہے۔ دھوکہ میں قوموں کو نہیں رکھتا۔ ایک قادیانی کے ساتھ جس طرح آپ کے ساتھ گفتگو ہورہی ہے، گفتگو ہورہی تھی۔ انہوں نے کہا جی میں قادیانی ہوں۔ پکا ٹھکا سکہ بند قادیانی ہوں۔ مجھے حیات مسیح علیہ السلام کا مسئلہ سمجھا دیجئے۔ میں نے کہا کہ میں آپ سے سوال کرتا ہوں کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام زندہ ہیں یا فوت ہوگئے ہیں؟ کہنے لگا فوت ہوگئے ہیں۔ میں نے کہا کہ مرزاغلام احمد قادیانی کو کیا مانتے ہو؟ کہنے لگا کہ مسیح۔ میں نے کہا کہ وہ کیوں؟ کہتے ہیں کہ اس کی جگہ آیا ہے۔ میں نے کہا کہ جو فوت ہوگیا، اس کی جگہ اس کا بیٹا، پوتا، پڑپوتا، اگر آنا تھا، اس کو آنا تھا۔ یہ کیسے آگیا؟ یہ مرزاغلام احمد قادیانی کیسے آگیا؟ قادیانی کہتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا کہ ایک آئے گا۔ میں نے کہا جو آدمی فوت ہوگیا وہ حضور علیہ السلام سے پہلے کا تھا یا حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد؟ کہتا ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے تو پہلے تھا، تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے پہلے مراہوگا۔ میں نے کہا کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا یہی کام رہ گیا تھا کہ جو آدمی مرگیا ہے حضور صلی اللہ علیہ وسلم اس کے متعلق کہیں کہ وہ آئے گا۔ پھر نبی علیہ السلام معاذ اﷲ! معاذ اﷲ! دنیاکو دلدل سے نکال رہے ہیں یا دلدل میں ڈال رہے ہیں کہ جو شخص فوت ہوگیا ہے اس کے متعلق فرماتے ہیں کہ آئے گا۔ وہ قادیانی چپ ہوگیا۔ میں نے کہا کہ پھر اس کاکوئی نام بھی حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے بتایا تھا؟ اس نے کہا جی ہاں! حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا کہ وہ آئے گا اور اس کا نام یہ ہوگا۔ میں نے کہا پھر اسی نام والا آئے گا۔ اسی نام والا آیا؟ نہیں؟ نہیں آتا کروڑوں سال نہ آئے۔ ہماری ذمہ داری نہیں۔ ہم تو جب مانیں گے کہ اسی نام والا انہی شرائط کے ساتھ آئے۔

106

مانیں گے اسی کو جو حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی شرائط پر آئے گا اور ایسا چمکتا دمکتا ہوا آئے گا کہ آسمان والے بھی دیکھ کر رشک کریں گے اور زمین والے بھی دیکھ کر اس پر رشک کریں گے۔ اب رہا عیسیٰ علیہ السلام کا تشریف لانا تو میرے خیال میں یہ مسئلہ مجھ سے نہ پوچھیں۔ مرزاغلام احمد قادیانی سے جو پہلے کے لوگ ہیں، ان سے پوچھتے ہیں اور وہ ہیں مثلاً علامہ محمود آلوسیؒ۔ وہ کہتے ہیں کہ عیسیٰ علیہ السلام کا تشریف لانا حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی ختم نبوت کے منافی نہیں۔ اس لئے کہ کسی ایک شخص کو جب اﷲ نبی بنادیں۔ پھر ’’ابدالآباد‘‘ تک وہ اﷲ کا نبی ہوگا۔ اس اعزاز سے اسے محروم نہیں کیا جائے گا کہ کل نبی تھا آج نبی نہ ہو۔ یہ تحصیل داروں کے یا ڈی سی کے عہدے تو ہوسکتے ہیں، نبوت کا یہ عہدہ نہیں۔ جو نبی ہے وہ ’’ابدالآباد‘‘ کے لئے نبی۔ اب عیسیٰ علیہ السلام جوتشریف لائیں گے تو وہ نبی ہوں گے یا نہیں؟ اگر نبی ہوں گے تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی ختم نبوت کے بعد ایک نبی آگیا۔ یہ سوال آج کا نہیں چودہ سو سال کا ہے۔ امت سے پوچھیں کہ انہوں نے اس کے متعلق کیا کہا؟ تو علامہ آلوسیؒ جس کا میں تذکرہ کر رہا ہوں بالکل ابتدائی صدیوں کے یہ آدمی ہیں۔ آج سے سینکڑوں سال پہلے کے۔ مرزاغلام احمد قادیانی کے آباؤاجداد بھی اس وقت تک پیدا نہیں ہوئے تھے۔ انہوں نے اس مسئلہ کو اٹھایا۔ کہتے ہیں کہ ’’وعیسیٰ ممن نبیٔ قبلہ‘‘ عیسیٰ علیہ السلام تشریف لائیں گے۔ یہ اﷲ رب العزت کے وہ نبی ہیں جو حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے پہلے نبی بنائے جاچکے تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد کسی کو نبی نہیں بنایا جائے گا۔ مثلاً کل قیامت کے دن ایک لاکھ چوبیس ہزار انبیاء علیہم السلام موجود ہوں گے۔ سب کی موجودگی میں خاتم النّبیین پھر بھی حضور صلی اللہ علیہ وسلم ہیں۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام نہیں۔ ایک لاکھ چوبیس ہزار نبی موجود ہیں۔ پھر بھی محمد عربی صلی اللہ علیہ وسلم کی ختم نبوت پر کوئی حرف نہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ختم نبوت پہ حرف تو تب آئے گا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد کسی کو نبی بنایا جائے۔ مرزاغلام احمد قادیانی کہتا ہے کہ میں اپنے ماں باپ کے ہاں خاتم الاولاد ہوں۔

(تریاق القلوب ص۱۵۷، خزائن ج۱۵ ص۴۷۹)

حالانکہ اس کا بھائی غلام قادر اس وقت زندہ تھا۔ غلام قادر کے زندہ ہونے کے باوجود مرزاغلام احمد قادیانی کی خاتمیت پر کوئی فرق نہیں آیا۔ اسی طرح حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی تشریف آوری یا ان کے موجود ہونے پر محمد عربی صلی اللہ علیہ وسلم کی خاتمیت پہ کوئی فرق نہیں۔

107

خاتمیت پہ فرق یہ ہے کہ ایران یا قادیان کا یہ کہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد میں نبی ہوں۔ یہ رحمت دوعالم صلی اللہ علیہ وسلم کی ختم نبوت کا منکر ہے۔

فاروق:

خاتم جو ہے اس کے معنی کیا ہیں؟ ختم کرنے والا؟

مولانا:

مجھ سے کیوں پوچھتے ہو؟ وہ تو اصول طے ہوگیا۔

فاروق:

قرآن کہتا ہے کہ ’’ماکان محمد ابا احد من رجالکم ولکن رسول اﷲ وخاتم النّبیین (احزاب:۴۰)‘‘

مولانا:

دیکھیں! آپ کے ذہن میں کوئی چیز متعین نہیں ہے۔ جو چیزیں آتی ہیں آپ اس پر بول پڑتے ہیں۔ میں نے آپ کے بہت سارے اشکالات کا جواب دیا۔ اس کا جواب دیتا ہوں۔ لیکن جو چیزیں جس پر سٹڈی کرنی ہو، آپ کھلے دل کے ساتھ کہیں کہ میں آپ کے ساتھ ہوں۔ مرزاغلام احمد قادیانی کو کھلے دل کے ساتھ جھوٹا سمجھتا ہوں۔ ہم آپ کو راستہ بتاتے ہیں کہ بھائی! یوں چل پڑیں منزل مقصود پر پہنچ جائیں گے۔ اسی میں سے ایک سٹڈی کا راستہ بھی بتادیا۔ چلو آپ نے لفظ خاتم کہہ دیا ہے۔ میں اس پر درخواست کر دیتا ہوں۔ سب سے پہلے قرآن سے پوچھیں گے کہ اس کا ترجمہ کیا ہے۔ قرآن اگر نہیں بتائے گا تو حدیث کے دروازے پر جائیں گے۔ پھر صحابہؓ کے دروازے پر اور پھر امت کے دروازے پر۔ یہ قرآن مجید کے ترجمہ کے راستے ہیں۔ ختم کا لفظ قرآن مجید میں سات مقام پر استعمال ہوا ہے۔ یہ ختم کا لفظ ’’ختامہ مسک‘‘ یہ ختم کا لفظ ’’الیوم نختم علی افواہہم‘‘ یہ ختم کا لفظ ’’ختم اﷲ علیٰ قلوبہم‘‘ یہ ختم کا لفظ ’’رحیق مخترم‘‘ وغیرہ! ان سب میں قدر مشترک ترجمہ یہ ہے کہ کسی چیز کو ایسے طور پر بند کرنا کہ نئی چیز اس میں ڈالی نہ جاسکے اور جو کچھ اس کے اندر ہے اسے باہر نہ نکالا جاسکے۔ اس موقعہ پر عربی میں ختم کا لفظ آتا ہے۔ اصل اس کا معنی یہ ہے۔ ہاں! انگشتری کے معنی میں بھی استعمال ہوتا ہے۔ مہر کے معنی میں بھی استعمال ہوتا ہے۔ زیب وزینت کے معنی میں بھی استعمال ہوتا ہے۔ لیکن سب سے اس کا قدر مشترک قواعد کی رو سے جن مقامات پر ختم کا لفظ قرآن مجید میں آیا، وہ یہ ہے کہ کسی چیز کو ایسے طور پر بند کرنا۔ مثلاً اب مہر لگائیں گے تب بھی بند ہوگا۔ سیل کریں گے تب بھی بند ہوگا۔ ٹھیک ہے نا جی؟ آپ نے کسی کو اپنی انگشتری دی۔ وہ بھی کسی زمانے میں مہر کا کام دیتی تھی۔ اس لئے یہ

108

ان معنوں میں بھی استعمال ہورہا ہے۔ کسی چیز کو ایسے طور پر بند کرنا کہ نئی چیز ڈالی نہ جاسکے اور جو کچھ اس میں ہے باہر نہ نکالا جاسکے۔ عربی زبان میں اس پر ختم کا لفظ بولتے ہیں۔ قرآن مجید کہتا ہے کہ:’’ختم اﷲ علیٰ قلوبہم! اﷲ نے ان کے دلوں پر مہر کر دی یا بندش کر دی۔‘‘ میں اب لغوی معنی لے رہا ہوں۔ قرآن مجید کی رو سے کر رہا ہوں۔ اﷲ نے ان کے دلوں پر مہر کر دی۔ فلاں، فلاں! یہ متعین افراد تھے۔ ان کے دلوں سے کفر نکل نہیں سکتا۔ وہاں ختم کا لفظ استعمال ہوا ہے۔ خاتم النّبیین کا اگر اس اعتبار سے ترجمہ دیکھا جائے تو پھر یہ ہوگا کہ رحمت دوعالم صلی اللہ علیہ وسلم کی تشریف آوری پر حق تعالیٰ نے سلسلۂ نبوت کی ایسے طور پر بندش کر دی کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے آنے کے بعد کسی نئے شخص کو سلسلۂ نبوت میں داخل نہیں کیا جاسکتا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے پہلے جتنے اس سلسلہ میں داخل تھے کسی کو خارج نہیں کیا جاسکتا۔ جائیے کائنات کی تمام لغت کی کتابیں اٹھا کر اس معنی کے خلاف نکالیں۔ نہیں نکال سکیں گے۔ میں نے آپ کو چیک دیا ہے۔ وہ بلینک چیک ہے۔ ساری کائنات کی کتابیں اٹھا کر لغت کو کھنگال ماریں۔ جس وقت یہاں پر آئیں گے کوئی آپ کو اشکال باقی نہیں رہے گا۔ جہاں کہیں خاتم کا لفظ جمع کی طرف مضاف ہوگا وہاں اس کا معنی سوائے آخری کے اور کوئی ہو ہی نہیں سکتا۔ جائیے اس اصول کو کبھی نہ بھولئے۔ اس طرح توفی کے لفظ کو لے لیتے ہیں کہ توفی کہتے کس کو ہیں۔ اس توفی کے لفظ کو سمجھنے کے لئے علامہ رازیؒ کے دروازے پر جاتے ہیں اور ان سے پوچھتے ہیں کہ حضرت آپ فرمائیں۔ وہ فرماتے ہیں کہ:’’التوفی جنس تحتہ انواع‘‘ یہ اب آپ کی بغیر ڈیمانڈ کے میں اس مسئلہ کو شروع کر رہا ہوں۔ تاکہ آپ کو یقین ہو کہ میں اس مسئلہ سے بھاگ نہیں رہا۔ کروڑ دفعہ میں اس پر گفتگو کرنے کو تیار ہوں۔ لیکن آپ کا یہ علاج نہیں۔ علامہ فخر الدین رازیؒ یہ کہتے ہیںکہ’’التوفی جنس تحتہ انواع‘‘ یہ توفی ایک جنس ہے۔ اس کے تحت کئی انواع ہیں۔ نیند کے معنی میں بھی توفی استعمال ہوا ہے۔ مرزاغلام احمد قادیانی بھی کہتا ہے کہ اماتت یعنی موت نیند کے معنوں میں بھی استعمال ہوا ہے۔

(ازالہ اوہام ص۹۴۳، خزائن ج۳ ص۶۲۱)

توفی موت کے معنوں میں بھی استعمال ہوا ہے۔ توفی استیفاء کے معنوں میں ’’اخذ الشیٔ وافیا‘‘(کسی چیز کو پورا پورا لینا کے معنوں میں) بھی استعمال ہوا ہے۔ وہ

109

آدمی دنیا کا سب سے بڑا دجال اور مکار ہے کہ جو قرآن کی دس آیتوں کو اکٹھا کر کے کہے کہ یہاں جونکہ توفی کامعنی موت ہے۔ لہٰذا اس آیت میں بھی معنی موت ہے۔ وہ دنیا کا دجال تو ہوسکتا ہے۔ قرآن مجید کو سمجھانے والا نہیں۔ قرآن مجید کو سمجھانے والا وہ ہوگا جو ہر آیت کو سمجھنے سے پہلے موضوع کو محل کو اور مقام کو دیکھے کہ یہ ﷲتعالیٰ نے کس موضوع، کس ماحول میں اپنے نبی کو یہ بات کہہ کر؟ کس بات کی نشاندہی کی تھی؟ ترجمہ پھر سمجھ میں آئے گا۔ مثلاً یہ میرے استاد ہیں۔ یار تم بڑے استاذ ہو۔ لفظ ایک ہے۔ لیکن اس کے ترجمے دو ہوگئے۔ میری بات سمجھ رہے ہیں؟ میرے عزیز! اب استاذ کے معنی ہمیشہ فراڈ کرتے چلے جانا ہے یا استاد کامعنی ہمیشہ یہ کریں جس نے اس کو پڑھایا۔ یہ کرتے چلے جانا ہے۔ استاد کا لفظ کبھی برے کے لئے استعمال ہوتا ہے۔ کبھی شیخ کے معنی میں بھی استعمال ہوتا ہے۔ جس کے پاس پڑھا جائے اس کے معنوں میں بھی استعمال ہوا۔ کبھی کبھی اس کو کسی اور معنی میں بھی لے لیتے ہیں۔ جس موقع پر توفی کا لفظ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے لئے آیا اس کو دیکھیں۔ اس ماحول کو دیکھیں کہ یہودی پکڑنا چاہتے ہیں اور میرا رب بچانا چاہتا ہے۔ اس موقع پر ﷲتعالیٰ فرماتے ہیں’’یاعیسیٰ انی متوفیک‘‘ یہ آپ کا کچھ نہیں کر سکیں گے۔ آپ میرے قبضے میں ہیں۔ کامل، مکمل، بالکل آپ میرے قبضے کے اندر ہیں۔ اگر اس کا معنی یہ ہو کہ ’’انی متوفیک‘‘ اور وہ یہودی بھی آپ کو مارنا چاہتے ہیں اور ﷲتعالیٰ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو کہیں کہ میں بھی آپ کو مارنا چاہتا ہوں تو پھر رب کریم حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی نمائندگی نہیں فرمارہے پھر تو یہودیت کی ترجمانی ہورہی ہے؟ معاذ اﷲ!

یہودی بھی حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو مارنا چاہتے ہیں۔ اﷲ تعالیٰ فرماتے ہیں ان کو تکلیف نہیں دیتا۔ میں آپ کو ماردیتا ہوں اور مارنے کے بعد پھر جو چاہیں آپ کے جسم کے ساتھ کریں۔ یہ تو پھر یہودیت کی تمنا پوری ہورہی ہے۔ میں نے یہ دو مثالیں صرف خاتم النّبیین کا لفظ سمجھانے کے لئے اور صرف آپ کے دل ودماغ کو کھولنے کے لئے دی ہیں۔ ختم کے لفظ کو بھی آپ لے کر چلیں گے۔ جتنا لے چلیں یا اسی توفی کے ایک لفظ کو لے لیں۔ میں مرزاغلام احمد قادیانی کی سات عبارتیں ایسی رکھ دوں گا جس میں توفی ہے۔ لیکن موت کا معنی نہیں۔ انہوں نے اس کے دوسرے ترجمے کئے۔ ایک لفظ مثلاً: ’’اسد‘‘ لغت میں ۲۸معنوں

110

کے لئے استعمال ہوا ہے۔ ’’عقرب‘‘ کا لفظ ۳۵ سے زیادہ معنوں کے لئے استعمال ہوا ہے۔ ایک آدمی کہتا ہے یا میں کہتا ہوں کہ فاروق صاحب نہیں آئے یا شاہ صاحب مجھے کہتے ہیں شیر آرہا ہے۔ میں کہتا ہوں یار وہ دیکھو بکری کو کیا ہوا ہے۔ کہتے ہیں شیر آیا تھا۔ یہاں بھی شیر کا لفظ استعمال ہوا، وہاں بھی شیر کا لفظ استعمال ہوا۔ وہاں کا ماحول بتارہا ہے کہ درندے کے معنوں میں استعمال ہوا ہے۔ یہاں شیر کا لفظ بتارہا ہے کہ بہادر کے معنوں میں استعمال ہوا۔ اب ایک آدمی مثلاً ایک شاعر کہتا ہے ؎

  1. صبح دم چوں رخ نمودی شد نماز من قضا

    سجدہ کے باشد روا چوں آفتاب آمد بروں

کہتا ہے صبح صبح میں نے اپنے دوست کو دیکھ لیا۔ میری تو نماز قضا ہوگئی۔ جب سورج نکل آتا ہے نماز تو جائز نہیں ہوا کرتی۔ شاعر اس شعر میں دوست کے رخ کو سورج کے معنوں میں لے رہا ہے۔ رخ محبوب کو یہ آفتاب کے معنوں میں لے رہا ہے۔ اب کوئی دنیا کا لال بجھکڑ کھڑا ہوجائے اور وہ کہے کہ آفتاب کا معنی ہی رخ محبوب ہوتا ہے۔ اس آدمی کو فالو نہیں کریں گے۔ مجدد اور مسیح نہیں بنائیں گے۔ بلکہ اس احمق کو کہیں گے کہ پہلے تو اپنے دماغ کا علاج کرا۔ سوچنا یہ ہے کہ کن معنوں میں اس لفظ کو استعمال کیا گیا ہے۔ جس شخص نے اﷲ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے مفہوم کو قرآن کے سیاق وسباق میں پالیا۔ ’’فقد فاز فوزاً عظیما‘‘ لغت کو اٹھایا اور اپنی مرضی کے ساتھ اس کے ترجمے کرنے شروع کر دئیے۔ نہ کبھی وہ قرآن کو سمجھ سکتا ہے نہ حدیث کو سمجھ سکتا ہے اور نہ اس بات کی روح کو پاسکتا ہے۔ آپ ان بنیادوں پر جب سٹڈی کریں گے تو پھر انشاء اﷲ! میرے بھی استاد بن جائیں گے۔ یہ ہوسکتا ہے۔ وہ ہوسکتا ہے۔ جو ایمان کی حلاوت ہے۔ وہ ابھی تک دل میں اتری نہیں۔ وہ کڑواہٹ ابھی کفر کی باقی ہے۔ وہ زنگ ابھی باقی ہے اور زنگ آلود میں فولاد کا شربت ڈالتے ہیں۔ اسے بھی زنگ بنا دیتا ہے۔ پہلے وہ نکلے گا تو دل دماغ صاف ہوا۔ میں اﷲ رب العزت کی ذات کو گواہ بنا کے کہتا ہوں کہ میرے دل میں آپ کے لئے بے پناہ احترام ہے۔ حتیٰ کہ اگر مجھے اپنے جسم اور جان سے چمڑا جدا کر کے جوتی بنا کر دینے کی ضرورت پیش آجائے، میں اس وقت کم ازکم اس جذبہ سے گفتگو کر رہا ہوں کہ میں اس سے بھی دریغ نہیں کروں گا۔ جب

111

یہ مرحلہ آجائے اس پر پورا اتر سکتا ہوں یا نہیں۔ میں اس کا تو کچھ نہیں کہہ سکتا۔ لیکن اس وقت کم ازکم میرے یہ جذبات ہیں کہ اگر آپ کو اس طرح بھی منت معذرت کر کے سمجھانا پڑے، اس وقت میرے جذبات یہ ہیں کہ میں اس کام کے لئے بھی تیار ہوں۔ لیکن آپ سمجھنے کی کوشش تو کریں۔ میرے عزیز! یہ دین ہے یا تماشا کہ ساری زندگی اس مرزاغلام احمد قادیانی کو کافر کہتے رہے۔ چار قادیانیوں نے چکر دیا تو ان کے ساتھ چلے گئے۔ ایک آدمی نے مانسہرہ کے اندر کھڑے ہوکر کہا کہ کہو کافر۔ کہتا ہے غلام احمد قادیانی کافر۔ اس کے بعد کہتا ہے جی وہ ذرا ابھی تک میرے شک باقی ہیں۔ اب تک میرے شکوک باقی ہیں۔ وہ جی لیکھرام کو اس نے یہ کہہ دیا۔ فلاں کو اس نے یہ کہہ دیا تھا۔ نکلیں اس دلدل سے۔ میں اپنی داڑھی کے سفید بالوں کا واسطے دے کر کہتا ہوں کہ نکلیں اس دلدل سے اور سب کچھ برے خیالات کو نکالیں۔ نئی طلب کے ساتھ، نئے جذبے کے ساتھ اور نئے ولولے کے ساتھ جس وقت آپ نکلیں گے تو پھر پورے ماحول میں آپ ہی آپ ہوں گے اور کوئی نہیں ہوگا۔ کر سکتے ہیں؟ نہیں کر سکتے تو نہ اسلام آپ کا محتاج ہے نہ میرا محتاج ہے۔ یہ جملہ سخت کہا ہے۔ ناراض نہ ہوں۔ لائیے مسکراہٹ لبوں پہ۔ میں آگے بھی چلوں۔ ہاں! کیا فرماتے ہیں آپ۔ اب وہ رخ محبوب تو آپ ہوگئے نا۔فاروق بھائی! اب میں آپ سے کہتا ہوں کہ پہلے جس وقت آپ آئے تھے، وہاں پر بیٹھے تھے۔ اس وقت کی کیفیت کو اور اس وقت جو آپ کے چہرے کے حالات ہیں، اس وقت بھی آئینہ دیکھا ہوتا۔ اس وقت بھی دیکھا ہوتا تو زمین وآسمان کا فرق ہے۔ میں درخواست کرتا ہوں آپ یہ دیکھیں رزق میرے سامنے ہے۔ میں اﷲ کی قسم اٹھاکر کہتاہوں کہ مرزاغلام احمد قادیانی کی جتنی کتابیں چھتیس سال میں قادیانیت اور ردقادیانیت پر میں نے پڑھیں میں دیانتداری کے ساتھ کہتا ہوں کہ شیطان نے بھی شاید دین سلام کی بربادی کے لئے اتنے اقدام نہیں کئے ہوں گے جتنے یہ مرزاغلام احمد قادیانی کرتا تھا۔ دین اسلام اور دیانت رہی اپنی جگہ، میں کہتا ہوں کہ پرلے درجے کا کمینہ، دنیادار، ہندو بنیا بھی دنیا کمانے کے لئے وہ خباثتیں نہیں کرتا جو مرزاغلام احمد قادیانی کرتا تھا۔ مجھے کچھ دن پہلے ایک حوالہ ملا ہے۔ چھتیس سال ہوگئے میں نے کبھی یہ حوالہ نہیں پڑھا تھا۔ مرزاغلام احمد قادیانی رہتا تھا قادیان میں اور حکیم نورالدین رہتا تھا کشمیر میں۔ اس نے کشمیر سے پیسے

112

بھجوانے تھے قادیان میں۔ اب پیسے بھجوانے کے دو ذریعے ہیں ایک پرائیویٹ اور ایک گورنمنٹ کا۔ پرائیویٹ یہ ہے کہ کوئی آپ کا بااعتماد دوست آرہا ہے۔ آپ اس کو دے دیں۔ وہ ان تک پہنچا دے گا۔ اگر ایسا نہیں ہے تو گورنمنٹ کے دو ذریعے ہیں۔ ایک بینک کے ذریعہ آپ بھیجیں گے یا منی آرڈر کے ذریعہ۔ بینک کے ذریعہ بھیجیں تو ڈرافٹ بنوائیں۔ ڈرافٹ کو پھر ڈاک میں ڈالیں۔ خرچہ آئے گا۔ اس زمانے کا پانچ سو روپیہ جس زمانے میں مرزاقادیانی کا بیٹا یہ کہتا ہے کہ ایک آنے کا کلو گوشت ملتا تھا۔ سولہ آنے کا روپیہ ہوتا تھا۔ روپے کا سولہ کلو گوشت ملتا تھا۔ پانچ سو کا معنی یہ ہے کہ پانچ سو کا آٹھ ہزار کلو گوشت ملتا تھا۔ آٹھ ہزار کلو گوشت آج کے دور میں ڈیڑھ سو روپے کے حساب سے لگایا جائے تو وہ بارہ لاکھ روپے کا بنتا ہے۔ اتنی رقم بھجوانی تھی اس زمانے میں۔ اب ڈاک سے بھیجیں تب پیسے خرچ ہوتے ہیں۔ بینک سے بھیجیں تب خرچ ہوتے ہیں۔ لفافے میں ڈال کر بھیج دیں۔ لفافہ چیک ہو جائے تب بھی آدمی پکڑا جائے گا اور اگر اسے کوئی نکال لے تو پانچ سو روپے ضائع گئے۔ نورالدین نے پانچ سو کا نوٹ پھاڑا اور اس کا ایک ٹکڑا لفافے میں ڈال کے بھیج دیا۔ آدھا نوٹ جب قادیان میں پہنچا تو مرزاغلام احمد قادیانی نے خط لکھا کہ پانچ سو روپے کے نوٹ کا ایک حصہ پہنچ گیا ہے۔ اب دوسرا بھی محفوظ طریقے سے بھیج دیں۔ اس لئے کہ بارشیں ہورہی ہیں کہیں خراب نہ ہو جائے۔ اس نے لفافے کے اندر پانچ سو کے نوٹ کا ٹکڑا ڈال کے بھیج دیا۔

(مکتوبات احمدیہ ج۵ نمبر۲ ص۳۵،۴۳،۴۴،۴۵،۵۲)

یہ آدمی جو گورنمنٹ کا ٹیکس بچانے کے لئے، بینک کے پیسے بچانے کے لئے اتنی خبیث سے خبیث حرکتیں کر رہا ہے یہ نبی ہے؟ نبوت اسکو کہتے ہیں کہ ایک ہاتھ میں چاند لاکے رکھ دو اور دوسرے پہ سورج لاکے رکھ دو۔ پھر بھی اپنے منصب کو نہیں چھوڑوں گا۔ نبوت اس کو کہتے ہیں کہ پہاڑ کی طرف اشارہ کر کے اسے سونے کا بنادے۔ اس کی طرف اشارہ کر کے اسے چاندی کا بنادے۔ نبی کہتا ہے مجھے سونا چاندی نہیں چاہئے۔ رب چاہئے۔ مرزاقادیانی تو اس غلیظ بنئے کی طرح ہے جس کے چار آنے گٹر کے اندر گر گئے تھے تو چار آنوں کو تلاش کرنے کی خاطر اپنے ہاتھوں کو آلودہ کر رہا تھا۔ یہ نبی ہے؟ محض اپنی اولاد کو جو پہلی بیوی سے تھی، محروم کرنے کے لئے اپنی ساری جائیداد نصرت بیگم کے نام پر لگوادی۔ اس

113

کے نام رہن رکھ رہا ہے۔

(سیرۃ المہدی ج۲ ص۵۲، روایت نمبر۳۶۶)

پہلی اولاد میں سے بیٹا مرتا ہے تو بیوی کو جاکر کہہ دیتا ہے کہ یہ ایک رہ گیا تھا جو تیری اولاد کے ساتھ وارث ہوتا وہ بھی مرگیا ہے۔

(سیرۃ المہدی ج۱ ص۲۲، روایت نمبر۲۵)

اب تیری اولاد اکیلی میری وارث ہوگی۔ یہ نبی ہے؟ ایک بے دین، پتھر دل آدمی اپنی اولاد کے متعلق بھی یہ سوچا کرتا ہے؟ نبی علیہ الصلوٰۃ والسلام تو غیروں کے درد کے اندر تڑپا کرتے تھے۔ اسے اپنی اولاد کا بھی درد نہیں۔ سوچیں گے تو بہت سارے آپ کے لئے راستے نکلیں گے۔ میں دیانتداری کے ساتھ کہتا ہوں کہ نبوت اور یہ منصب تو اپنی جگہ، کائنات میں شرافت نام کی کوئی چیز ہے تو مرزاغلام احمد قادیانی کو تو اس شرافت کا پرلہ حصہ بھی نہیں ملا۔ اپنے مرید حکیم نورالدین کو کہتا ہے کہ: ’’رات میں نے فلاں دوائی کھائی ہے۔ اس دوائی کے کھانے کے بعد اتنی دیر اپنی بیوی کے ساتھ… قوت باہ کو مفید ہے۔ تم بھی استعمال کرو فائدہ بہت دے گی۔‘‘

(مکتوبات احمدیہ ص۱۴ ج۵ نمبر۲)

یہ نبی ہے؟ یہ اپنے خلیفہ کو یہ کہہ رہا ہے کہ میں…! تم بھی…! یہ نبی ہے؟ کیا نبوت کی یہی گفتگو ہوا کرتی ہے؟ ہاں! نبی اس کو کہتے ہیں کہ سامنے کوئی بچی آرہی ہے۔ نبوت اپنی چادر دیتی ہے کہ جاؤ جاکر اس بچی کے سر پر ڈال دو۔ یا رسول ﷲ صلی اللہ علیہ وسلم کافر کی بیٹی ہے۔ فرمایا بیٹی کافر کی ہے دربار تو محمدعربیa کا ہے۔ یہاں جو آئے گا عزت پائے گا۔ سوچو! ماننے پر آئے تو کس کو مانا؟ تمہیں رحمتدوعالم صلی اللہ علیہ وسلم کے گھر میں کون سی کمی نظر آئی تھی جسے چھوڑ کر قادیانیت قبول کی؟ فاروق بھائی! دین دیانت نام کی اگر کوئی چیز ہے…! سیدنا حصرت عیسیٰ علیہ السلام کا قضیہ تو اس وقت ہوگا جس وقت وہ اس دنیا میں تشریف لائیں گے۔ اس وقت تو ان کا قضیہ ہی نہیں جس وقت وہ تشریف لائیں گے اور جن مسلمانوں کو ان کے ساتھ پالا پڑے گا…! میں کہوں فاروق صاحب آئیں گے، اور آجائیں مولانا شفیق الرحمن صاحب، تو مجھ سے کوئی پوچھے کہ مولوی صاحب آپ نے تو فاروق صاحب کا کہا تھا۔ میں کہوں فاروق سے مراد میری مولانا شفیق الرحمن تھا، تو دنیا کا کوئی آدمی مجھے سچا کہے گا یا مکار کہے گا؟ میں پوچھتا ہوں آپ سے۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام آئیں گے۔ میں کہتا ہوں عیسیٰ علیہ السلام سے مراد مرزاغلام احمد قادیانی تھا۔ پھر معاذ اﷲ مکر کس نے کیا؟

114

فاروق:

وہ اس سے استدلال لیتے ہیں کہ قرآن کریم میں جو پیش گوئی حضرتمحمد صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے آئی ہے کہ ’’یأتی من بعدی اسمہ احمد (صف:۶)‘‘ آپ کا نام تو قرآن مجید میں احمد رکھا ہے۔ آئے محمد، پیش گوئی احمد کی ہے۔ آئے محمد۔ پھر کلمہ پڑھنا چاہئے ’’لا الہ الا اﷲ احمد رسول اﷲ‘‘ یہ محمدکا کلمہ کیوں پڑھتے ہو؟

مولانا:

اگر ہمیشہ سے یہ ہورہا ہے کہ نام محمد کا کہاگیا۔ آئے احمد۔ تو اس کا معنی یہ ہے کہ ﷲتعالیٰ کی سنت یہ چلی آرہی ہے کہ نام فاروق کا لیتے ہیں، مراد شفیق کی ہوتی ہے؟ یعنی لفظ کوئی بولا جاتا ہے مراد کچھ ہوتی ہے۔ یہی ہے مفہوم آپ کے نزدیک قرآن مجید کا؟

فاروق:

نہیں میرے نزدیک تو یہ نہیں۔

مولانا:

میری بات کو سمجھیں جو میں آپ کو سمجھانا چاہتا ہوں۔ ایک ہے ’’مبشرا برسول یأتی‘‘ کا لفظ۔ میں اس کو چھوڑتا ہوں۔ میں آپ سے استدعاء کرتا ہوں۔ حضور علیہ السلام فرمائیں کہ میرے بعد ابوبکرؓ آئیں گے اور کوئی ایک آدمی کھڑے ہوکر کہہ دے کہ ابوبکرؓ سے مراد اسماعیل صاحب تھے۔ کوئی آدمی مانے گا اس بات کو؟ بھائی عربی لغت کے پاس جائیں، علم کلام کے پاس جائیں، علم بلاغت کے پاس جائیں۔ انہوں نے تو سب سے پہلے اصول ہی یہ مقرر کیا ہے کہ: ’’لااستعارۃ فی الاعلام‘‘ کہ ناموں میں استعارہ نہیں چلا کرتا۔ نام کسی کا ہو اور مراد کوئی ہو؟ اگر اسی طرح ہو تو ساری دنیا کا نظام ہی چوپٹ ہو جائے۔ اسلام، دین، مذہب، شریعت یہ چیزیں دنیا کے نظام کو سیٹ کرنے کے لئے آتی ہیں۔ بگاڑنے کے لئے نہیں آتیں۔ اگر پرویز مشرف سے مراد ضیاء الحق ہو، ضیاء الحق سے مراد ذوالفقار علی بھٹو ہو، ذوالفقار علی بھٹو سے مراد نواز شریف ہو۔ نواز شریف سے مراد مولانا فضل الرحمن، مولانا فضل الرحمن سے مراد مولانا سمیع الحق۔ مریں مولانا سمیع الحق اور کہیں کہ جائیداد مولانا فضل الرحمن کی ہے، تو کیا کائنات کا نظام چل سکتا ہے؟ اگر احمد نے آنا تھا، احمد نہیں آئے، محمد آئے۔ احمد کوئی اور تھامحمد کوئی اور ہے؟ پھر اس کا معنی یہ ہوا کہ دین اسلام نہیں پھر یہ تماشا ہے۔ معاذ اﷲ!

اب اگر آیت کے مفہوم کو سمجھنا چاہتے ہو تو پھر محمد عربی صلی اللہ علیہ وسلم کے دروازے پر چلیں۔ پھر تفسیر آپ بھی نہ کریں میں بھی نہ کروں۔ یہ دنیا کا دجال ہے جو اس طرح کی مثالیں دے کے آپ کو یہ بتانا چاہتا ہے کہ محمد اور ہیں احمد اور ہیں۔ یہاں سے خربی پیدا کر کے آپ کو وہ آگے لے جارہا ہے۔ جس وقت آپ نے یہ بات مان لی کہ محمد اور ہے احمد اور ہے۔

115

اسی وقت آپ مان لیں گے کہ نام دمشق کا لیا تھا مراد قادیان ہے۔ نام اترنے کا لیا تھا مراد پیدا ہونا ہے۔ نام مینار کا لیا تھا مراد اس سے ماں کے پیٹ سے پیدا ہوتا ہے۔ جس وقت ایک بات انہوں نے منوالی تو پھر چل سو چل۔ گمراہی ہی گمراہی۔ اگر اسی لفظ احمد کے مراد کو آپ سمجھنا چاہتے ہیں تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے دروازے پر چلے جاتے ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھتے ہیں کہ یا رسول ﷲ صلی اللہ علیہ وسلم آپ پہ قرآن مجید اترا ہے۔ آپ بتائیں۔ اس سے مراد کیا ہے؟ تو محمد عربی صلی اللہ علیہ وسلم سے ایک نہیں بیسیوں تواتر کی احادیث کے ساتھ یہ ثابت ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ فرمایا کہ ’’انا محمد وانا احمد‘‘ محمد بھی میں ہوں، احمد بھی میں ہوں۔ آپ کہیں کہ آنا احمد تھا مراد محمد ہے۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم خود فرماتے ہیں کہ میں محمد ہوں۔ میں احمد ہوں۔ قصہ ہی ختم ہوگیا۔ اس دجل سے انہوں نے راستہ نکالا اور آپ چل پڑے کہ محمد واحمد کے متعلق کہا کچھ گیا تھا۔ آیا کسی نام کا۔ پھر وہ آپ کو اور آگے لے کر چلیں گے۔ جب آپ نے بنیاد ہی غلط اختیار کر لی تھی۔ رخ امرتسر کا کر لیا تھا۔ سوچا یہ تھا کہ میں مکہ جارہا ہوں۔ مکہ نہیں پہنچیں گے۔ کبھی نہیں پہنچیں گے۔ امرتسر ہی پہنچیں گے۔ اسی سے انہوں نے آپ سے یہ منوالیا۔ دمشق کا معنی قادیان۔ نازل ہونے کا معنی پیدا ہونا مسیح کا معنی غلام احمد۔ بس پھر چل سو چل۔

فاروق:

وہ حوالہ پیش کرتے ہیں کہ محمد(صلی اللہ علیہ وسلم) نبی آئے گا۔ اس کے معنی آپ کی شریعت ہوگی اور وہ فاران کی چوٹیوں سے نازل ہوگا۔ اس سے وہ حضرتمحمد صلی اللہ علیہ وسلم مراد لیتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ آپ کب فاران کی چوٹیوں سے نازل ہوئے۔ جیسے نازل ہونے سے مراد آسمان سے نازل ہونا ہے؟ قرآن حکیم میں جہاں تک نزول کا لفظ آیا ہے۔ کہیں بھی یہ نہیں کہ وہ آسمان سے نازل ہوا ہو۔ جیسے اﷲ نے فرمایا کہ لوہا ہم نے نازل کیا۔ کبھی لوہا نازل ہوا؟

مولانا:

خدا کے بندے! اب لفظ نازل کیا ہے؟ اس کے اصل معنی کیا ہیں؟ ایک جگہ سے منتقل ہوکر دوسری جگہ جانے کو نازل کہتے ہیں۔ آسمانوں سے آئے تب بھی نازل ثابت۔ وہ اسلام آباد سے چل کر آئے تب بھی نازل۔ قرآن کسی پر اترے تب بھی نازل۔ یہ ایک لفظ جس کو کہتے ہیں قدر مشترک۔ جب وہ معلوم ہوگیا اب آپ بڑھتے جائیں گے۔ ساری قرآن مجید کی آیتیں کھلتی جائیں گی۔ اگر کسی کے لئے قرینہ موجود ہے کہ یہ آسمانوں سے آنے کا ہے۔ اس کے لئے آسمانوں سے وہ آئے گا۔ کسی کے لئے نزیل کا لفظ ہے۔ وہ پہاڑوں سے آئے گا۔ کسی کے لئے فاران کا لفظ ہے۔ تو ایک جگہ کو چھوڑ کر دوسری جگہ تو آرہا ہے۔ اسی

116

کو نازل ہونا کہتے ہیں۔ جس کے متعلق ہے وہ پہاڑوں سے آئے گا۔ وہ پہاڑوں سے آئے گا۔ جس کے متلق ہے اسلام آباد سے آئے گا۔ وہ اسلام آباد سے آئے گا۔ جس کے متعلق آسمانوں سے ہے۔ وہ آسمانوں سے آئے گا۔ جس کے متعلق پیدا ہونے کا ہے۔ وہ پیدا ہوگا میں یہی کہتا ہوں کہ آپ سمجھنے کے لئے میری ایک درخواست یاد رکھیں۔ قرآن مجید کی ایک خوبی یہ ہے کہ اس کا صحیح ترجمہ کرتے چلے جائیں۔ آیات منکشف ہوتی جاتی ہیں۔ ایک آیت کا ترجمہ غلط کر لو تو قرآن مجید آگے اڑنگا لگا کر کھڑا ہو جاتا ہے۔ چلنے ہی نہیں دیتا۔ جب ایک غلط معنی کریں گے تو قرآن مجید کا ترجمہ ایسی رکاوٹ ڈالے گا کہ آپ کو چلنے ہی نہیں دے گا۔ سوائے اس کے کہ پھر جو آدمی تحریف کا قائل ہو جائے۔ جو چاہے، جب چاہے جو بکواس کر دے۔ پھر وہ قرآن فہمی نہیں ہوگی۔ قرآن مجید کی ایک آیت کا صحیح ترجمہ کر لو تو پھول پھول، کلیاں کلیاں کھلتی جائیں گی۔ گلدستہ بنتا چلا جائے گا اور آپ اس کی خوشبو سے دل ودماغ کو اور ایمان کو معطر کرتے چلے جائیں گے۔ یہ قرآن مجید کی خوبی ہے۔ مرضی سے کبھی سمجھنے کی کوشش نہیں کرنی چاہئے۔ اگر فقط لغت کو لے کر بیٹھ جائیں اور اس کا ترجمہ کرنے لگ جائیں تو کبھی ہماری کشتی کنارے صحیح سالم نہیں اترے گی۔ ہم تباہ وبرباد ہو جائیںگے۔

فاروق:

آیتوں کے جو معنی اورمفہوم دیتے ہیں، وہ ساتھ تفسیروں کا ذکر کرتے ہیں اور ساتھ علماء کے جو اقوال ہیں، پرانے علماء کے نقل کرتے ہیں۔

مولانا:

میں ان کے علماء کے ساتھ، وہ میرے ساتھ ہیں۔ یہی میرا آپ سے رونا ہے۔

فاروق:

اور مولانا قاسم نانوتویؒ نے جو یہاں کہا۔

مولانا:

بھائی میاں! حضرت مولانا قاسم نانوتویؒ نے نہیں ملا علی قاریؒ کو لے لیں۔ فلاں کو لے لیں۔ ان کی بات نہیں کرر ہا۔ میں آپ سے استدعاء کرتا ہوں کہ آپ ان کی بات کیوں کرتے ہیں کہ یہ علماء کے نام لیتے ہیں۔ مرزاغلام احمد قادیانی کی بات کرتا ہوں کہ محمد عربی صلی اللہ علیہ وسلم کا نام لیتا ہے۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث نقل کرتا ہے۔ اس حدیث شریف میں آسمان کا لفظ تھا۔ مرزاقادیانی نے اپنی کتاب (حمامتہ البشریٰ ص۱۴۶،۱۴۸، خزائن ج۷ ص۳۱۲، ۳۱۴) پر حضرت ابن عباسؓ کی روایت نقل کی۔ جب (کنزالعمال ج۱۴ ص۶۱۹، حدیث نمبر۳۹۷۲۶) پر اس کو دیکھا جائے تو مرزاقادیانی کی بددیانتی سامنے آتی ہے کہ لفظ ’’من السماء‘‘ کو کھا گیا۔ جن کا سربراہ اتنا بڑا غدار اور اتنا بڑا خائن تھا ان چھوٹے قادیانیوں کی بات کو میں کس طرح مان لوں؟

117

اصل کتاب بھی آپ کے سامنے نہیں۔ مفہوم اور اس کا قول بھی آپ کے سامنے نہیں۔ فلاں نے یہ کہا، فلاں نے یہ کہا۔ ایک ٹکڑا نقل کرتے گئے۔ آپ کے سامنے رکھتے گئے۔ آپ نے کہا اگر اتنے قائل تھے تو میں بھی قائل ہوں۔ آپ کو دھوکہ دیا جارہا ہے۔ جائیں میں آپ سے استدعاء کرتا ہوں۔ ملا علی قاریؒ کو لیتے ہیں۔ مولانا قاسم نانوتویؒ کو لیتے ہیں۔ اگر ملا علی قاریؒ ختم نبوت کا قائل نہیں میں بھی آج چھوڑ دوں گا۔ لائیے ملا علی قاریؒ کی کسی عبارت پر ٹک لگائیے، کسی پر تو نشان لگائیے کہ یہ ہے۔ میں کہتا ہوں ملا علی قاریؒ کو مان لیتے ہیں۔ ان کے پاس چلتے ہیں اور پوچھتے ہیں کہ عیسیٰ علیہ السلام زندہ ہیں؟ وہ کہہ دیں کہ زندہ ہیں تو مان لیں۔ وہ کہہ دیں کہ فوت ہوگئے تو چھوڑ دیں۔ وہ کہتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد دعویٰ نبوت کرنے والا کافر ہے۔ مولانا نانوتویؒ کہتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد نبوت کا دعوی کرنے والا کافر ہے۔ یہ حوالے میں دکھاتا ہوں۔ قادیانی نامکمل، ادھوری، اگر، مگر، چونکہ محال فرض محال کی بات کرتے ہیں۔ اس سے دھوکہ دیتے ہیں۔ میں فیصلہ کی بات دیکھتا ہوں کہ مسیح زندہ ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد نبوت کا مدعی کافر ہے۔ اس فیصلہ پر ملا علی قاریؒ، مولانا نانوتویؒ کے دستخط دکھاتا ہوں۔ قادیانیوں کی طرح فرض محال کی بحث نہیں۔ فیصلہ کی بات سمجھئے۔ اس کو سمجھ لیں۔ مدار بنالیں۔ تب بھی آپ پرحق واضح ہو جائے گا۔

فاروق:

چہ جائیکہ وہ امتی نبی کی حیثیت سے۔ وہ جب آئیں گے تو امتی نبی ہوں گے۔ یہ آیت نہیں ہے۔

مولانا:

بھائی! یہی میں سمجھاتا ہوں۔ آپ دماغ سے کام نہیں لے رہے۔ دماغ کو استعمال کریں۔ میں کہتا ہوں حضرت عیسیٰ علیہ السلام نہیں، سارے نبی کل قیامت کے دن موجود ہوں گے۔ پھر بھی حضور صلی اللہ علیہ وسلم خاتم ہیں۔ پہلے کے کسی نبی کی آمد سے رحمت دوعالم صلی اللہ علیہ وسلم کی خاتمیت پر فرق نہیں آتا۔ آپ میرے چھوٹے بھائی ہیں۔ آپ مجھے اجازت دیں میں آپ کو سمجھادوں کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد کوئی نیا نبوت کا دعوی کرے ایران کا یا قادیان کا تو یہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی خاتمیت کے خلاف ہے۔

فاروق:

بالکل صحیح۔

مولانا:

اسی ملا علی قاریؒ کو لیتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ ’’دعویٰ النبوۃ بعد نبیّنا(صلی اللہ علیہ وسلم) کفر بالاجماع‘‘ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد جو نبوت کا دعویٰ کرے وہ کافر ہے۔ اجماعی طور پر

118

کافر ہے۔ یہ ملا علی قاریؒ کہتے ہیں۔ اسی لئے وہ کہہ رہے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی تشریف آوری حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی ختم نبوت کے منافی نہیں ہوگی۔ وہ پہلے کے نبی ہیں۔ جب وہ آئیں گے تو محمدعربیa کی شریعت کو فالو کریں گے۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد جو نبوت کا دعویٰ کرے تو کہتے ہیں ’’دعویٰ النبوۃ بعد نبیّنا(صلی اللہ علیہ وسلم) کفر بالاجماع‘‘ انہیں حضرت ملا علی قاریؒ سے پوچھا گیا۔ ان کی کتاب شرح فقہ اکبر ہے۔ اس کے اندر کہتے ہیں ’’انہ نازل من السماء فہو حق کائن‘‘ عیسیٰ علیہ السلام آسمانوں سے اتریں گے۔ یہ پکی بات ہے۔ ہوکر رہے گی۔ وہ حیات مسیح کے بھی قائل ہیں۔ یہی ملا علی قاریؒ جن کو قادیانی اپنا گواہ بنا کے پھر رہے ہیں۔

فاروق:

آسمان کا ذکر ہے؟

مولانا:

’’جزاکم اﷲ‘‘ اگر مل جائے تو؟

فاروق:

آسمان کا لفظ…!

مولانا:

میں کہتا ہوں آسمان اتنا بڑا آسمان کہ ساتوں آسمان آپ کو ساتھ نظر آجائیں اور ایک کتاب نہیں پانچ سات امہات الکتب میں۔ بیہقیؒ کی کتاب الاسماء والصفات کے اندر موجود ہے۔ کنزالعمال کے اندر موجود ہے اور میں ایک دو کتابوں کا نہیں کہہ رہا۔ حضرت امام بخاریؒکی تاریخ البخاری کے اندر موجود ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے روضہ اقدس میں حضرت ابوبکرؓ اور حضرت عمرؓ کے ساتھ دفن ہوں گے اور حضرت ابن عباسؓ جن کے متعلق مرزاغلام احمد قادیانی کہتا ہے کہ وہ وفات مسیح کے قائل تھے، وہ کہتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ’’ان اخی عیسیٰ ابن مریم ینزل من السماء‘‘ حضرت ابن عباسؓ نقل کرنے والے ہیں اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میرا بھائی عیسیٰ بن مریم (علیہما السلام) آسمانوں سے نازل ہوگا۔ اتنا بڑا آسمان کا لفظ کہ ساری دنیا کی زمین اس کے نیچے آجائے۔ اتنا بڑا آسمان کا لفظ موجود ہے۔

فاروق:

تو پھر وہ کہتے ہیں کہ آسمان سے عیسیٰ نازل ہوگا اور سب نے دیکھ لیا پھر تو ایمان لانے میں شک ہی کوئی نہ ہوگا۔ ایمان بالغیب کا تو فائدہ ہی کوئی نہ ہوا۔ پھر تو ظاہر ہے کہ لوگ مان لیں گے۔ سب کو مان لیں گے۔

مولانا:

بھائی! اس وقت یہی تو ہے کہ وہ جس وقت آئیں گے ان کے آنے کے بعد تمام

119

دنیا میں اسلام پھیل جائے۔ اس کے بعد فوت ہوں گے۔ ان کے بعد وہ ساری قیامت کی نشانیاں پوری ہورہی ہیں۔ توبہ کے دروازے بھی بند ہوں گے۔ وہ تو پیریڈ ہی قیامت کا شروع ہوگا۔

فاروق:

پھر ان کے آنے کا فائدہ کوئی نہیں۔

مولانا:

خوب بھائی! بالکل اسی طرح ہے کہ ان کے آنے کا فائدہ کوئی نہیں ہوگا۔ وہ نہیں آئیں گے۔ مرزاغلام احمد قادیانی کو مان لو۔ اس کے آنے کا بڑا فائدہ ہے؟

فاروق:

میں عرض کرتا ہوں کہ وہ آئیں گے تو مخلوق کی ہدایت کے لئے آئیں گے۔

مولانا:

محض مخلوق کی ہدایت کے لئے نہیں آئیں گے۔ قرآن اور سنت مخلوق کی ہدایت کے لئے کافی ہے۔ وہ آئیں گے رحمت دوعالم صلی اللہ علیہ وسلم کی امت کو ساتھ لے کر دجال کے قتل کے لئے۔

فاروق:

تو دجال!

مولانا:

دجال جو ہے اتنا بڑا فتنہ ہوگا اس کو قتل کرنے کے لئے آئیں گے۔ جس کی پشت پر ستر ہزار یہودی ساتھ ہوں گے۔

فاروق:

دجال کے ساتھ؟

مولانا:

ہاں، ہاں۔

فاروق:

دجال کیا چیز ہے؟

مولانا:

آپ بتائیں کیا چیز ہے؟

فاروق:

میںنے تو جو پڑھا ہے، سنا ہے۔

مولانا:

مرزاغلام احمد قادیانی کیا کہتا ہے؟ کیا چیز ہے؟

فاروق:

وہ کہتا ہے کہ دجال کے معنی ہیں فریبی، جھوٹا، کذاب، ڈھانپ لینے والا، سیروسیاحت کرنے والا، اندھا، کذاب، ایک آنکھ اس کی اندھی ہوگی۔ اس سے وہ مراد لیتا ہے کہ اسلام کی جو آنکھ ہوگی وہ اندھی ہوگی؟

مولانا:

اسلام کی آنکھ اندھی ہوگی۔

فاروق:

اندھی ہوگی۔ اسلام کو پڑھتا نہیں ہوگا۔ دیکھتا نہیں ہوگا اور دنیا کی آنکھ اس کی بہت تیز ہوگی۔ دنیا میں اتنی ترقی کرے گا کہ بہت بے شمار ترقی کر جائے گا اور اسلام کی طرف

120

سے بے بہرہ ہوگا۔

مولانا:

تو اس کو قتل کرنے کا معنی پھر یہ ہوگا کہ اس کی اندھی آنکھ کو ٹھیک کر دیا جائے گا۔ مسیح آکر اس کو ٹھیک کر دے گا۔ یعنی قتل کر دے گا۔ قتل کا معنی ٹھیک کر دے گا۔ معنی یہ ہے کہ اس کی آنکھ کو وہ تیز کرے گا کہ اسے مسلمان کرے گا۔

فاروق:

اس کے عقائد سے لوگوں کو آگاہ کر دے گا۔ اس سے مراد ہے اس کے باطل عقائد لوگوں کو معلوم ہو جائیں گے۔

مولانا:

اس کے باطل عقائد اگر محمد عربی صلی اللہ علیہ وسلم آگاہ کئے بغیر اس دنیا سے چلے گئے پھر تو دین پورا ہی نہ ہوا۔

فاروق:

آپ اس کی تفصیل بتائیں۔

مولانا:

میں وضاحت سے پہلے یہی کہتا ہوں کہ جرح سے فارغ ہوں تو پھر صفائی دوں گا۔

فاروق:

دوسرا حدیث میں ہے۔ ’’یقتل الخنزیر‘‘ حضرت عیسیٰ علیہ السلام جب آئیں گے۔

مولانا:

پہلے دجال سے فارغ ہو لینے دیں۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی طرف نہ جائیں۔ پہلے دجال سے فارغ ہو لیں۔ مرزاغلام احمد قادیانی کے اس دجل سے تو نکلیں۔

فاروق:

ہاں جی! عام آدمی جو کہتے ہیں کہ دجال گدھے پہ سوار ہوگا اور وہ بہت بڑا گدھا ہوگا۔

مولانا:

گدھے پہ، سوار ہوگا۔ اس کو بعد میں لیں گے۔ پہلے اس لفظ کو لیں کہ بھائی آپ یہ بتائیں کہ یہ دجال کیا چیز ہے؟

فاروق:

دجال ایک گروہ ہے۔ جن کا عقیدہ اسلام کے مخالف ہے۔

مولانا:

عیسائی دجال ہیں؟ ایک گروہ ہے؟

فاروق:

ہاں۔

مولانا:

ٹھیک ہے۔ مرزاقادیانی انہی عیسائیوں کو کہتا تھا کہ میں آپ کی رعایا ہوں۔ ملکہ وکٹوریہ کو کہتا تھا کہ تو زمین کا نور ہے۔ میں آسمان کا نور ہوں۔ دجال نور ہوگا؟

فاروق:

پھر کیوں کہا؟

مولانا:

چلیں، چلیں۔ شاباش! آپ میری انگلی پکڑیں گے۔ جہاں اب میں سوال کروں گا۔ چلیں!

فاروق:

وہ کہتے ہیں ملکہ وکٹوریہ جھوٹی تھی۔ وہ انگریزنی تھی جو حکمران تھی۔ وہ مسلمانوں

121

کے ساتھ زیادتی کرتے، سکھ آزادی نہیں دیتے تھے اور بہت زیادتی کرتے تھے۔ ظلم کرتے تھے۔ ٹھیک ہے نا اور اسی کے ساتھ ملکہ جو تھی اس نے مسلمانوں کے لئے اذان کھلوادی۔ اذان سرعام دینے لگ گئے۔ نمازیں پڑھنا شروع کردیں اور انہوں نے سکھوں کو منع کیا ملکہ وکٹوریہ نے۔

مولانا:

یہ بات واقعات کے خلاف ہے۔ واقعات یہ ہیں کہ یہاں ہندوستان کے اندر مسلمانوں کی حکومت تھی۔ دوچار علاقوں میں سکھوں کی مسلمانوں سے ضرور لڑائی ہوئی تھی۔ دہلی وغیرہ سارے علاقہ میں مسلمانوں کی حکومت تھی۔ اذانیں ہوتی تھیں۔ انگریز آیا۔ پھر بھی اذانیں ہوتی رہیں۔ اس نے کون سی کھلوائی تھی۔ آپ تاریخ پر بھی نظر رکھیں۔ یہ تو ہندوستان کی تاریخ ہے۔ آپ کشمیر کو لے کر بیٹھ گئے۔ میں آپ سے استدعاء کرتا ہوں کہ دجال کے بارے میں چلتے ہیں۔ رحمت دوعالم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں ان سے پوچھتے ہیں۔

فاروق:

جی ہاں!

مولانا:

یہ روایت بخاری شریف سے لے کر مسلم شریف تک اور مشکوٰۃ شریف سے لے کر بخاری شریف تک موجود ہے۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں ایک ابن صیاد تھا۔ اس کے متعلق مشہور ہوگیا کہ وہ دجال ہے۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم اس کی تفتیش کے لئے گئے۔ اس کی والدہ اسے آواز دے دیتی تھی۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم ابوالقاسم تشریف لائے۔ وہ گول مٹول سا ایک بچہ ہے۔ اس کے اوپر چادر ڈالی ہوئی ہے۔ رحمتدوعالم صلی اللہ علیہ وسلم نے کوئی بات پوچھی۔ اس نے آگے سے غوں غوں کر دی۔ دخ کالفظ کہا۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اس پر معاملہ مشتبہ کر دیا گیا ہے۔ ابھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات اقدس پر پوری تفصیلات جو آگے احادیث میں آتی ہیں۔ یہ اس پیریڈ کی بات نہیں اس سے پہلے کی بات ہے۔ ابن صیاد پر معاملہ خلط کر دیا ہے۔ مدینہ کے اندر نہیں آئے گا۔ یہ نہیں ہوگا۔ یہ تفصیلات آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو بعد میں بتائی گئیں اور یہ مکہ میں نہیں بتائیں، مدینہ طیبہ میں آخری عمر میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بتائی تھیں۔ اس وقت ان تفصیلات کا اعلان نہیں تھا۔ اتنا معلوم تھا دجال ہوگا۔ لیکن کون؟ کہاں؟ اتنا مشہور ہوگیا کہ ایک عجیب وغریب ہے۔ کسی نے کہا دجال ہے۔ رحمتدوعالم صلی اللہ علیہ وسلم دیکھنے کے لئے چلے گئے۔ عام روٹین کی بات ہے۔ وہاں گئے تو فرمایا کہ اس کے اوپر معاملہ خلط ہوگیا۔ جب پوچھا تو اس نے کوئی ایسی الٹی پلٹی بات کہہ دی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اس کے اوپر معاملہ خلط کر دیا گیا ہے۔ چھوڑیں اس کو،

122

اسی موقع پر حضرت سیدنا رحمت عالم صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ کرامؓ کی موجودگی میں حضرت سیدنا فاروق اعظمؓ نے تلوار نکال لی اور درخواست کی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم مجھے اجازت دیں کہ میں اس کو قتل کر دوں۔ حضرت سیدنا فاروق اعظمؒ کے ہاتھ میں تلوار ہے۔ ایک یہ چیز موجود ہے۔ جس کے متعلق یہ معلوم ہوا ہے کہ یہ شخص دجال ہے۔ پروپیگنڈہ ہوا۔ اس کو قتل کرنا چاہتے ہیں۔ تلوار لئے کھڑے ہیں۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت عمرؓ کی طرف دیکھ کر فرمایا عمرؓ اگر یہ وہ ہے تم اس کو قتل نہیں کر سکتے۔ ’’لست صاحبہ‘‘ تم اس کو قتل نہیں کر سکتے۔ اس کو عیسیٰ بن مریم علیہما السلام قتل کرے گا۔ اگر یہ وہ نہیں، تو اپنے ہاتھ خون ناحق سے تم کیوں رنگین کرتے ہو؟ اس حدیث شریف نے یہ بتادیا کہ اس کو قتل آلے کے ساتھ کیا جائے گا۔ قلم کی لڑائی اس کے ساتھ نہیں ہوگی۔ اس حدیث شریف نے بتادیا کہ دجال وہ شخص معین کا نام ہے۔ کسی گروہ کا نام نہیں۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی موجودگی کے اندر ایک کیس پیش ہوا ہے۔ دنیا میں وہ بڑا ظالم ہے جو رحمتدوعالم صلی اللہ علیہ وسلم کے فیصلے کو نہ مانے۔ کیس حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں پیش ہوا ہے۔ علی رؤس الاشہاد پیش ہوا ہے۔ صحابہؓ اس کی گواہی دینے والے ہیں اور کتاب بھی ایسی کہ مشکوٰۃ سے لے کر بخاری شریف تک وہ روایت موجود ہے۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے فرمایا یہ بتاتا ہے کہ یہ شخص معین کا نام ہے۔ اس کے بعد آگے چل کر اس کی اتنی نشانیاں اور علامتیں بتادیں کہ وہ شام اور عراق کے درمیانی راستہ سے خروج کرے گا۔ خدائی کا دعویٰ کرے گا۔ اس کی دونوں آنکھوں میں نقص ہوگا۔ ’’ممسوح العین‘‘ ایک آنکھ بے نور ہوگی اور انگور کے دانے کی طرح باہر کو ابھری ہوئی ہوگی۔ ایک اسلام والی نہیں ہوگی، ایک فلاں والی نہیں ہوگی۔ پھر تو دنیا میں جس شخص کو جتنے کافر ہیں سارے پھر دجال ہوگئے اور اگر یہ دجال تھے تو یہ دجال تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں بھی موجود تھے۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے کیوں فرمایا کہ وہ آئے گا۔ اگر عیسائی دجال تھے تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں موجود تھے۔

فاروق میاں! جاگ رہے ہو؟ اس سے مراد نصرانیوں کا گروہ ہے تو نجران کے اندر تو عیسائی حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی موجودگی میں موجود تھے۔ پھر یہ کیوں حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت عائشہؓ سے فرمایا کہ اگر دجال میرے زمانے میں آیا تو میں اس سے نپٹ لوں گا اور اگر میرے زمانے میں نہ آئے تو تم یہ پڑھا کرو۔ پھر رحمتدوعالم صلی اللہ علیہ وسلم نے کیوں ان کو فرمایا تھا۔ عیسائی اگر ہوتے یہ تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں موجود تھے۔ میں نے یہی درخواست کی ہے کہ آپ

123

اسے سمجھنے کی کوشش کریں گے تو قرآن وحدیث کھلتا چلا جائے گا۔ قرآن مجید تو ہے سدا بہار پھول۔ یہ تو ایک ایسا باغ ہے کہ آدمی جائے تو اس میں معطر ہو جائے۔ الّا!یہ کہ وہ شخص جو مزکوم ہو جائے۔ پھوں پھوں کرتا ہو۔ سارے جہاں کی گندگی سر پہ اٹھائے پھر رہا ہو اور کہے پھولوں سے خوشبو نہیں آتی۔ سر میں تو تیرے رکھی ہے گندگی۔ ناک تیرا بند ہے۔ پھلاں وچوں خوشبو کتھوں آئے۔ سمجھیں! یہ سب دجل ہے۔ مکر ہے۔ دجال قادیان… مرزاغلام احمد قادیانی کا۔ اسی سیدنا مسیح علیہ السلام کے متعلق مرزاقادیانی کبھی کہتا ہے اس کی قبر شام کے اندر ہے۔ کبھی کہتا ہے یروشلم میں ہے۔ کبھی کہتا ہے کشمیر کے اندر ہے۔ کبھی کہتا ہے فلاں گرجا ہے۔ اس گرجا کے ساتھ والدہ کی قبر کے ساتھ بنی ہوئی ہے۔ ’’یتخبطہ الشیطان من المس‘‘ ساری کائنات یہ کہے کوئی نبی آسکتا ہے۔ حضور سرورکائناتa کے بعد کوئی نبی بن سکتا ہے۔ ساری کائنات غلط کہتی ہے۔ یہ سب قرآن وسنت کے خلاف ہے۔ باقی یہ بات کہ مولانا قاسم نانوتویؒ نے کہی یا نہیں کہی۔ آپ ایک عبارت پیش کریں گے میں دس پیش کروں گا۔ نہ آپ کی بات کا اعتبار نہ میری بات کا اعتبار۔ خود مولانا محمد قاسم نانوتویؒ سے پوچھ لیتے ہیں۔ انہوں نے یہ کتاب لکھی۔ ان کی زندگی میں اس پر ایک اعتراض ہوا۔ مولانا محمد قاسم نانوتویؒ نے اس کا جواب دیا۔ وہ جواب چھپا ہوا موجود ہے۔ وہ ان کی زندگی کے اندر ہوا ہے۔ انہوں نے کہا کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد جو نبوت کا دعویٰ کرے میں اسے کافر سمجھتا ہوں۔ اس عبارت سے میرا یہ معنی ہی نہیں یہی عبارت جب خواجہ قمرالدین سیالویؒ کے سامنے پیش ہوئی تو خواجہ سیالویؒ نے کہا کہ مولانا قاسم نانوتویؒ کی جوتیوںکے اندر جو علم ہے یہ اعتراض کرنے والے کی کھوپڑی ان کی جوتیوں تک بھی نہیں پہنچی۔ مولانا قاسم نانوتویؒ نہیں ساری کائنات اگر کہے قرآن وسنت کے خلاف ہے۔ نہیں مانتے۔ بھائی! میرے عزیز! نبوت تماشا نہیں۔

مجاہد شاہ:

ہمارے یہاں بھی ایک مولوی صاحب نے کہا تھا کہ نبوت کا دروازہ تو قاسم نانوتویؒ نے کھولا ہے۔

مولانا:

بھائی! یہی مولانا صاحب کا جواب ہی تو آگیا۔ ہاں بھائی! چلیں۔

فاروق:

کیا مسیح اور عیسیٰ ایک ہی وجود ہیں یا دو الگ الگ۔

مولانا:

حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھ لیتے ہیں۔ وہ فرمادیں ایک ہے۔ آپ بھی مان لیں۔ وہ

124

فرمادیں دو ہیں ٹھیک ہے۔ آپ فرمادیں انہوں نے کیا فرمایا تھا ایک ہے کہ دو ہیں؟

فاروق:

یہ حدیث پیش کرتے ہیں۔ ’’لا مہدی الا عیسیٰ‘‘ اس حدیث شریف کو لے لیں۔

مولانا:

ایک ہی حدیث پیش کی نا آپ نے۔ میں اس کے مقابلہ میں چالیس حدیثیں پیش کروں گا۔ ایک کا اعتباریا چالیس کا؟

فاروق:

چالیس کا۔

مولانا:

وہی حدیث جس کو پیش کرتے ہیں پہلے اس کو لے لیتے ہیں۔ کون سی کتاب میں جس کتاب کے اندر وہ روایت ہے۔ اگر اسی کتاب میں آگے لکھا ہوا ہو کہ اس کے اندر فلاں فلاں راوی ہیں۔ ’’فہما کذابان لا یحتج بہما‘‘ اس کے اندر فلاں راوی ہیں۔ وہ جھوٹ بولتے ہیں۔ ان کی روایت کا کوئی اعتبار نہیں۔ ایسی جھوٹی روایتوں کے اوپر ایمان چلا کرتا ہے؟ چالیس صحیح روایتوں کو چھوڑ کراس روایت پر ایمان کی بنیاد رکھی جارہی ہے جو سرے سے ضعیف ہے۔ چالیس روایتیں مجھ سے پوچھیں وہ کیا ہیں۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے عیسیٰ علیہ السلام کے متعلق۔ بخاری شریف کو لینا ہو۔ فرمایا ’’ینزل عیسیٰ ابن مریم فیکم وامامکم منکم‘‘ عیسیٰ بیٹا مریم علیہما السلام کا تم میں نازل ہوگا اور تمہارا امام تم میں سے ہوگا۔ یہ روایتیں بتارہی ہیں۔ ایک ہم میں آرہا ہے۔ ایک ہم میں سے ہوگا۔ آدمی دو ہیں ایک نہیں۔ جو وہاں سے آئے گا اس کا نام عیسیٰ ابن مریم علیہما السلام بتایا۔ جو ہم میں سے ہوگا اس کا نام محمد بتایا۔ نام بھی دو۔ ایک کا نام اﷲ وسایا، ایک کا نام فاروق۔ نام دو ہیں۔ ایک آدمی کہتا ہے یہ دو ایک تھے۔ یہ فراڈ ہوگا۔ چوہدری صاحب! یہ مرزاقادیانی کھڑے ہوگئے۔ کہتے ہیں یہ دو ایک ہیں اور وہ ایک میں ہوں۔ میری بات سمجھ رہے ہیں؟ حضور صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں ابوداؤد کے اندر روایت ہے۔ ’’قال قال رسول ﷲ صلی اللہ علیہ وسلم یواطیٔ اسمہ اسمی واسم ابیہ اسم ابی اوکما قال‘‘ کہ حضرت سیدنا مہدی علیہ الرضوان آئیں گے ان کا نام میرے نام پر ہوگا۔ ان کے والد کا نام میرے والد کے نام پر ہوگا۔ ’’من ولد فاطمہ‘‘ وہ سیدہ فاطمہ کی اولاد سے ہوگا۔ مرزاغلام احمد قادیانی نے بھی اس روایت کو لیا ہے۔ مرزاقادیانی براہین احمدیہ کے اندر کہتا ہے کہ: ’’میرا یہ دعویٰ نہیں ۃے کہ میں وہ مہدی ہوں جو مصداق من ولد فاطمۃ ومن عترتی وغیرہ ہے۔‘‘

(ضمیمہ براہین احمدیہ حصہ پنجم ص۱۸۵، خزائن ج۲۱ ص۳۵۶)

اگر تو حدیثوں والا مہدی نہیں تو پھر ہمیں حدیثوں والا مہدی چاہئے تو پھر انگریز کا

125

مہدی ہوسکتا ہے۔ حدیثوں والا نہیں اور یہ مرزاغلام احمد قادیانی خود مان رہا ہے کہ میں حدیثوں والا نہیں ہوں۔ انگریز کے کارندے اگر تو حدیثوں والا نہیں تو پھر تجھے مانیں کیسے؟ ہم تو حدیثوں والے کو مانیں گے۔ پھر مرزاقادیانی حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے متعلق کہتا ہے کہ: ’’ممکن ہے ایسا مسیح بھی آجائے جس پر حدیثوں کے ظاہری الفاظ فٹ آجائیں۔‘‘

(ازالہ اوہام ص۱۹۹، خزائن ج۳ ص۱۹۷)

’’ممکن ہے کہ وہ دمشق کے اندر بھی نازل ہو۔‘‘

(ازالہ اوہام ص۲۹۵، خزائن ج۳ ص۲۵۱)

جس کا دوسرا معنی یہ ہے کہ میں وہ مسیح ہوں جس پر حدیثیں فٹ نہیں آرہیں۔ فٹ نہیں آرہیں تو تمہاری ڈگری بھی غلط، تمہاری سندیں بھی جعلی، تم تشریف لے جاؤ۔ تم پھر دجال کے نمائندے ہو، ہمارے نمائندے نہیں۔ آپ کا دماغ بغض وعناد سے خالی ہو تو ان کی کتابوں سے ایسی شاہراہیں کھلیں گی کہ موٹروے سے بھی زیادہ وہاں تو بریک بھی نہیں لگانی پڑے گی۔

فاروق:

حضرت امام باقرؒ کی روایت ہے سورج اور چاند کے گرہن کی۔

مولانا:

ہاں۔

فاروق:

امام مہدی علیہ الرضوان کی نشانیوں میں سے ایک نشانی ہے۔

مولانا:

کیا۔

فاروق:

جب وہ نازل ہوگا تو اس کی نشانی یہ ہوگی۔

مولانا:

نازل ہوگا یا پیدا ہوگا؟

فاروق:

پیدا ہوگا۔

مولانا:

اچھا چلو۔

فاروق:

اس کے لئے خدا نے یہ مقرر کیا ہے کہ جب سے کائنات پیدا کی گئی ہے، تب سے لے کر اس کے زمانے تک وہ نشانی کسی کے لئے ظاہر نہیں کی گئی۔

مولانا:

ہاں!

فاروق:

اور اس کے بعد بھی ظاہر نہیں کی جائے گی۔ وہ صرف اور صرف میرے امام مہدی کے لئے ہے۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے۔

126

مولانا:

ابھی آپ کہہ رہے تھے کہ امام باقرؒ۔

فاروق:

وہی ناکہ امام باقرؒ روایت کر رہے ہیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔

مولانا:

روایت کے اندر اگر یہ لفظ ہو کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔ حضرت امام باقرؒ یہ کہیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، تو حضرت امام باقرؒ سے بڑھ کر اور کوئی سچا راوی نہیں ہوسکتا۔ پھر ہم آپ کو مان لیں گے۔ اگر اس میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا لفظ نہ ہو تو پھر آپ یہ نہ کہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں اس میں تویہ لفظ ہی نہیں ہے۔

فاروق:

روایت یہ کرتے ہیں کہ امام باقر سے روایت ہے۔

مولانا:

چلئے…! یہی تو میں عرض کرتا ہوں میرے عزیز! آپ نے روایتوں کو پڑھا نہیں ان کو لے لیا۔ یہ دارقطنی کی روایت ہے اور الحمدﷲ! دارقطنی کے تین نسخے میرے پاس ہیں۔ بیروت کا چھپا ہوا بھی ہے۔ پاکستان کا چھپا ہوا بھی ہے اور جس کے حواشی لکھے گئے ہیں، وہ بھی موجود ہے۔ یہ حضرت امام باقرؒ کا قول ہے اور اس کے اندر فلاں راوی ہے وہ جھوٹ بولتا تھا۔ پھر روایت میں ’’اوّل لیلۃ من رمضان‘‘ ہے روایت صحیح بھی ہوتی۔ امام باقرؒ کا قول بھی ہوتا تو پھر قول یہ ہے کہ رمضان المبارک کی پہلی رات کو چاند گرہن لگے گا اور آگے الفاظ موجود ہیں۔ جب سے دنیا قائم ہوئی ہے۔ کبھی رمضان المبارک کی پہلی رات کو گرہن نہیں لگا۔ حضرت آدم علیہ السلام سے لے کر اس وقت تک نہیں لگا۔ پہلی رات کو چاند گرہن کبھی نہیں لگا۔ لگتا ہی نہیں ہے۔ مہدی کے زمانے میں اگر روایت صحیح ہو تو لگے گا۔

فاروق:

وہاں جو پہلی رات کا چاند ہوتا ہے اس کو ہلال کہا جاتا ہے۔ ہلال کہتے ہیں نا جی اس کو۔

مولانا:

اب قرآن کے دروازے پر چلتے ہیں۔ دیکھئے! ’’والقمر قدرناہ منازل‘‘ چاند کے لئے ہم نے منازل مقرر کئے ہیں۔ پہلی رات کو چاند کہتے ہیں۔ ہلال بھی کہتے ہیں۔ لیکن چاند کا لفظ پہلی رات پر بھی بولا جاتا ہے۔ دوسری پر، چوتھی پر۔ اوّل سے تیس تک چاند بولا جاتا ہے۔ قرآن کہہ رہا ہے ’’والقمر قدرناہ منازل‘‘ ہم نے چاند کی منازل مقرر کی ہیں۔ پہلی رات کا دوسری کا تیسری کا۔ قرآن مجید کہہ رہا ہے کہ پہلی رات کے چاند کو بھی چاند ہی کہا جاتا ہے۔ (قمر کہا جاتا ہے) یہ قرآن مجید کہہ رہا ہے۔

فاروق:

ٹھیک ہے۔ ’’جزاکم اﷲ‘‘ آپ اچھی طرح سمجھا رہے ہیں مجھے۔

127

مولانا:

سمجھا نہیں رہا۔ دل چیر کے آپ کے قدموں پر نچھاور کر رہا ہوں۔ میں نے یہی کہا کہ دجل نہ کریں۔ روایت صحیح ہو۔ پچھلے رمضان کے اندر بھی گرہن لگا ہے۔ تیرہ تاریخ کو لگا ہے۔ حضرت آدم علیہ السلام سے لے کر اب تک ساٹھ دفعہ لگ چکا ہے۔ اس دفعہ بھی لگا ہے۔ اس کے شیڈول اس کے نقشے دنیاکے اندر موجود ہیں۔ تیرہ رمضان المبارک کو اور اٹھائیس رمضان المبارک کو روایت کے الفاظ پڑھیں۔ اس کے الفاظ کے مطابق ہے تو میں مان لیتا ہوں۔ چلیں! امام باقرؒ نہ ہو،یا جھوٹا راوی سہی۔ میں جھوٹے راوی کو بھی چھوڑتا ہوں۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان نہیں۔ چلو میں اس قید کو بھی اڑاتا ہوں۔ امام باقرؒ کے قول کو سچا مان کے کہتا ہوں۔ اس کے مطابق چاند گرہن ہوگیا ہے؟ میں ماننے کے لئے تیار ہوں۔ روایت کے الفاظ کو پڑھیں۔

فاروق:

روایت بالکل ہے۔ آپ کہتے ہیں۔ نہیں، امام مہدی کے متعلق۔

مولانا:

بھائی! میں کہتا ہوں روایت ہے۔ لیکن جھوٹی ہے۔ سچی نہیں۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث نہیں۔ امام باقرؒ کا قول اور وہ بھی ان کی طرف جھوٹ منسوب کیا ہے۔ ان کی طرف منسوب ہوبھی تو قول کے صحیح الفاظ کے مطابق گرہن نہیں ہوا۔ روایت کے اصل الفاظ یہ ہیں۔ ’’اوّل لیلۃ من رمضان‘‘ کہ رمضان شریف کی پہلی رات کو چاند گرہن لگے گا۔ میں آپ سے استدعاء کرتا ہوں کہ جائیں تشریف لے جائیں۔ دنیا جہان میں آج تک جتنی قادیانی روایتیں پیش کرتے ہیں یا ان کے معانی کے اندر تحریف کرتے ہیں یا سرے سے وہ روایتیں ہی غلط ہیں۔ ایک صحیح اور صریح روایت قادیانیوں کے پاس نہیں۔ میں نے اتنا بڑا دعویٰ کیا ہے۔ رہتی دنیا تک سارے قادیانی ماں کے لال اکٹھے ہو جائیں۔ میرے اس دعوے کو نہیں توڑ سکتے۔ کوئی ایک صحیح صریح روایت ان کے پاس اپنے عقیدے کے اثبات کے لئے نہیں۔ جتنی روایات پیش کرتے ہیں یا سرے سے جھوٹی ہیں یا سرے سے ان کے اندر دجل کرتے ہیں۔ کوئی صحیح صریح روایت قادیانیوں کے پاس خدا کی قسم اٹھا کر کہتا ہوں نہیں ہے۔ اﷲ معاف فرمائے۔ اﷲ معاف فرمائے۔ میں پھر اس دعوے کو دہراتا ہوں۔ آپ کے ایمان کی زیادتی کے لئے کہتا ہوں۔ میرا قادیانیت کی تردید کرنا کوئی میرامعاشی مسئلہ اس کے ساتھ وابستہ نہیں۔ میرا کوئی یہ پیشہ نہیں۔ پروفیشنل ملاں نہیں ہوں کہ میں قادیانیت کی تردید کرتا ہوں۔ تب مجھے رزق ملتا ہے۔ اﷲ نے میرے رزق کے لئے اور دروازے کھولے

128

ہیں۔ میری اپنی زمین ہے۔ اﷲ کا فضل ہے۔ کھانا پینا میرا زمین کی آبادی سے آجاتا ہے۔ میں جو قادیانیت کی تردید کرتا ہوں، دین وایمان سمجھ کر کرتا ہوں۔ میں قادیانی مربی کی طرح چندے کی دھندے کی خاطر تردید نہیں کرتا۔ میری درخواست سمجھ رہے ہیں؟ میرا یہ کام آخرت کی نجات کے لئے اور رسول ﷲ صلی اللہ علیہ وسلم کی شفاعت کے لئے ہے۔ میں دعوے کے ساتھ کہتا ہوں کہ ایک سچی روایت، صحیح صریح روایت قادیانیوں کے مؤقف کی سچائی کے لئے ان کے پاس ہو۔ مجھے اﷲ قیامت کے دن معاف نہ کرے۔ میری نجات نہ ہو اتنا بڑا آپ کے سامنے چیلنج کر رہا ہوں۔ ایک صحیح صریح روایت ان کے پاس نہیں۔ یا سرے سے روایت جھوٹی ہوگی یا اس کے اندر دجل کریں گے۔ دو چیزوں سے ان کی روایت خالی نہیں ہوگی۔ یہی امام باقرؒ کی روایت یہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کافرمان نہیں بلکہ امام باقرؒ کا اپنا قول ہے۔ اس کے اندر جھوٹے راوی موجود ہیں۔ ان کا اعتبار نہیں اور یہ روایت چالیس روایتوں کے متضاد ہے۔ ایک قول وہ بھی کسی امام کا، نبی علیہ السلام کے معاملہ میں جھوٹا آدمی اس امام کی طرف قول کو منسوب کرے۔ اب میں آپ سے پوچھتا ہوں دنیا میں کہیں انصاف نام کی اگر کوئی چیز ہے؟ تو آپ ارشاد فرمائیں۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی چالیس صحیح روایتوں کو دیکھا جائے گا یا ایک امام کے قول کو جس کو جھوٹا راوی روایت کررہا ہے اس کو دیکھا جائے گا؟

فاروق:

اگر یہ واقعہ ہو جاتا ہے۔ اگر جھوٹا بھی ہے۔

مولانا:

شاباش!

فاروق:

اگر یہ واقعہ ہو جاتا ہے اور اس کی تصدیق کردیتا ہے تو پھر سچا مانیں گے یا جھوٹا۔

مولانا:

آپ فرمادیں واقعہ ہوگیا۔

فاروق:

ہاں ان کے مطابق واقعہ ہوگیا اور تاریخ کے مطابق واقعہ ہوگیا۔

مولانا:

شاباش! اب روایت کے الفاظ پڑھ لیں۔ پھر واقعہ کو دیکھتے ہیں۔

فاروق:

اخباروں میں، وہ میرے پاس موجود ہیں۔

مولانا:

بھائی! یہاں اخبار نہیں۔ حضرت آدم علیہ السلام، حضرت نوح علیہ السلام، حضرت ابراہیم علیہ السلام، نبوت پر ایمان تو لوگوں کے بدلتے رہے کہ پہلے حضرت موسیٰ علیہ السلام کو مانتے تھے پھر حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو مانتے تھے پھر محمد عربی صلی اللہ علیہ وسلم کو۔ نبوتوں پر ایمان بدلتا رہا۔ یہ قیامت کا اور توحید کا عقیدہ تو ایسا ہے یہ ایک دو عقیدے ایسے ہیں کہ کبھی یہ نہیں بدلے

129

اور دنیا کا کون سا آدمی ہے جو قیامت کے متعلق اتنی بات کہہ دے کہ اس دن میری نجات نہ ہو۔ یہ تو کوئی بھی نہیں کہہ سکتا۔ میں نے اتنا بڑا آپ کے ساتھ دعویٰ کیا ہے تو آخر کسی بنیاد پر کیا ہوگا۔ جائیں میری اس بنیاد کو توڑنے کی کوشش کریں۔ لیں ہتھوڑا پھر بھی نہیں ٹوٹے گی۔ انشاء اﷲ! اس قول میں ’’اوّل لیلۃ من رمضان‘‘ کہ رمضان شریف کی پہلی رات کو چاند گرہن ہوگا۔ مرزاقادیانی کے زمانہ میں پہلی رات کو چاند گرہن ہوا؟ مل کر پوری کائنات کے قادیانی اس کو ثابت کر سکتے۔ میں اب آپ سے استدعاء کرتا ہوں کہ یہ ساری چیزوں سے کسی کے رعب میں آنے کی وجہ سے نہیں۔ کسی کے دھمکانے سے نہیں، دلائل اور حقائق کی بنیاد پر کہہ دیں کہ مرزاغلام احمد قادیانی جھوٹا تھا۔ ٹھیک ہے؟ مرزاغلام احمد قادیانی کافر تھا، دجال تھا، تثلیث غلط ہے، فلاں غلط ہے، وہ کہہ کر عیسائی مسلمان ہوگا۔ پہلے جو اس کے کفریہ نظریات ہیں ان کو چھوڑے گا۔ مرزاغلام احمد قادیانی کو ماننے کی وجہ سے جوکفر ہے۔ وہ اس کو چھوڑ دیں۔ یہ آپ کے مسلمان بھائی ہیں۔ اب یہ راستہ دیکھنا چاہتے ہیں۔ اس کا واحد راستہ یہ ہے کہ ان کو تبلیغی جماعت کے ساتھ بھیج دیا جائے۔ جتنا عرصہ آسانی کے ساتھ گزارا کر سکتے ہیں کریں۔ اس کے بعد آپ دوست اس کی مدد کریں۔ پھر اس کو میں کتابیں نصاب کی متعین کر کے دوں گا۔ لائن میں متعین کر کے دوں گا۔ اس پر سٹڈی کریں۔ انشاء اﷲ! جب ایمان آتا ہے وہ اپنے راستے خود بناتا ہے۔ جہاں دنیا کے اندر مخالفت ہورہی ہو، وہاں قرآن مجید کی تعلیم شروع کر دیں۔ قرآن مجید اپنے راستے خود بناتا چلا جاتا ہے۔ یہ جس وقت تبلیغ سے واپس آئیں گے۔ سارے وسوسے ان کے دور ہو چکے ہوں گے۔ اس لئے کہ ایمان کی حلاوت ان کے دل کے اندر اتر چکی ہوگی۔ یہ اب اس کی ہمت پر ہے۔ یہ جوان آدمی ہے۔ اس نے جتنا وقت قادیانیت پر لگایا ہے اب اتنا وقت اسلام کو سیکھنے پر بھی لگائے۔ اس راستے کو لیں۔ پھر کوئی اشکال رہ گئے ہیں۔ میں ایک دفعہ نہیں ساری دنیا جہاں کے پروگرام چھوڑ کر ان کے پاس آؤں گا۔ آج بھی میں نے اپنی کئی مصروفیتیں ترک کی ہیں۔ پھر یہاں کے لئے وقت نکالا ہے۔ حسن اتفاق تھا کہ اٹک آرہا تھا۔ یہ تو وقار گل صاحب اور مجاہد شاہ صاحب کا حکم تھا کہ آپ نے ہر حال میں پہنچنا ہے۔ اگلا مہینہ میرادن رات صبح شام مصروف ہے۔ میں آج بھی اتنی مصروفیات کو ترک کر کے آیا ہوں۔ لیکن ان کی خاطر جہاں پر جس وقت آواز دیں گے، ساری مصروفیات چھوڑ کے آؤں گا۔ ایک آدمی بھی اگر ہماری کوشش کی وجہ سے

130

ہدایت پر آجائے تو ہماری نجات کے لئے کافی ہے۔ میں ان کے ایمان اور اسلام پر نہیں کہہ رہا، پہلے مجلس میں بیٹھے تھے ان کے دل ودماغ کی اور کیفیت تھی۔ اب بیٹھے ہیں تو ان کے دل ودماغ کی اور کیفیت ہے۔ یہ ایک مجلس کا نتیجہ ہے۔ اگر اپنا علاج کروانا چاہتے ہیں تو اپنی مرضی کے مطابق نہیں بلکہ حکیم کے نسخہ کو استعمال کریں۔ یہ کہہ دیں کہ میں فلاں جگہ رہنا چاہتا ہوں۔ میرا یہ انتظام کیا جائے۔ میرا یہ انتظام کیا جائے۔ آپ کی ڈیمانڈ اسلام نہیں مانے گا۔ اسلام والے مانیں گے۔ لیکن وہ بھی آپ سے درخواست کریں گے کہ ہمارے بھائی بنیں! ہمارے قانون میں داخل ہوں۔ پھر آپ کے راستے کو متعین کیا جائے گا۔ پہلے کیفیت اور تھی اب اور ہے۔ آئندہ کیا ہوگی۔ یہ آپ جائیں اور یہ جانیں۔ میں فارغ۔ راستہ صرف اور صرف یہی ہے۔

فاروق:

مسائل جی! فقہی مسائل جو ہیں نماز کے بارے میں۔

مولانا:

لو بھائی! اب ایک اور آفت کہ شافعی کچھ کہتے ہیں، حنفی کچھ کہتے ہیں۔ مالکی کچھ کہتے ہیں۔ دیوبندی کچھ کہتے ہیں، بریلوی کچھ کہتے ہیں اور اہل حدیث کچھ کہتے ہیں۔

فاروق:

ہزاروں قسم کے ہیں پرابلم۔

مولانا:

ہزاروں قسم کے نہیں۔

فاروق:

لیکن میں ابھی کسی میں داخل نہیں ہونا چاہتا۔

مولانا:

بالکل میں یہی کہتا ہوں کہ قادیانیوں میں بھی تو کئی قسمیں ہیں۔

فاروق:

ہر جگہ کئی قسمیں ہیں۔

مولانا:

وہاں پر تو جانے کے لئے آپ نے یہ شرط نہیں لگائی۔ اسلام میں آنے کے لئے شرط لگا رہے ہیں۔ چلو بھائی! پہلے میں آپ کے اس کانٹے کو نکالتا ہوں۔ آپ کی یہ شرط بھی دور ہو جائے گی۔

فاروق:

میں کہتا ہوں کہ کتنے فرقے ہیں؟

مولانا:

وہ میں فرقوں کی بات کر لیتا ہوں۔ بھائی! اگر نیت بات سمجھنے کی ہو تو ایک سیکنڈ لگتا ہے۔ میں آپ کے اسی نقطہ کو بھی حل کر دیتا ہوں۔ کوئی فرقے نہیں۔ کوئی کچھ بھی نہیں۔ سمجھے ناجی! ایک آدمی قتل ہوا۔ اس کی ایف۔آئی۔آر درج ہوئی۔ ایک اس کی طرف سے۔ اب دس وکیل کھڑے ہوگئے۔ واقعہ بھی ہوا ہے۔ قتل بھی موجود ہے۔ دس وکیل کھڑے ہوئے۔ ملزم کی

131

طرف سے وہ کہتے ہیں کہ ایف۔آئی۔آر بھی صحیح ہے۔ واقعہ بھی صحیح۔ لیکن اس نکتہ سے یہ نکتہ نکلتا ہے کہ اس کو رہا ہونا چاہئے۔ دس وکیل اس کے خلاف کھڑے ہوکر دلائل دے رہے ہیں کہ اس سے ثابت ہوتا ہے کہ اس آدمی کو پھانسی ملنا چاہئے۔ اب بیس وکیل کھڑے ہیں۔ ہر وکیل اپنی بات کر رہا ہے۔ کوئی ان کو نہیں کہتا کہ تم جھوٹ بول رہے ہو۔ کوئی ان کو یہ نہیں کہتا کہ تم غلط ہو۔ یہ صحیح ہے۔ یہ غلط ہے۔ کوئی اس کو نہیں کہتا۔ سارے یہ کہتے ہیں کہ یہ قانون کی تعبیر وتشریح کر رہے ہیں۔ یہ قانون کے شارح ہیں۔ جو جس کو فالو کرے گا نتیجہ پر پہنچ جائے گا۔ امام ابوحنیفہؒ، امام مالکؒ، امام شافعیؒ، امام احمد بن حنبلؒ یہ جتنے ہمارے طبقات ہیں۔ یہ سارے ایک کہتا ہے قانون کو میں یہ سمجھا ہوں۔ دوسرا یہ کہتا ہے کہ میں یہ سمجھا ہوں۔ وہ کہتا ہے یہ آسان راستہ ہے۔ مدینہ طیبہ جانے کا۔ دوسرا کہتا ہے یہ آسان راستہ ہے جانے کا۔ جس نے امام ابوحنیفہؒ کی تحقیق کے متعلق کہا کہ میں اس کو فالو کروں گا۔ نتیجہ اس کا بھی مدینہ طیبہ جانے کا ہے۔ اصول کو وہ بھی مانتا ہے۔ ان کی تحقیقات پر عمل کرتا ہے۔ اسی کا نام حنفیت ہے۔ جو حضرت امام شافعیؒ کے متعلق کہتا ہے کہ ان کی تحقیقات کو فالو کرتا ہوں۔ اس کا نتیجہ بھی وہی ہے جو یہ کہتا ہے کہ میں دیوبندی مدرسہ میں پڑھ کر آیا ہوں۔ ان کی تحقیقات کو فالو کرتا ہوں۔ اس کا نام دیوبندیت ہے۔ جو کہتا ہے میں بریلوی حضرات کے یہاں پڑھ کر آیا ہوں۔میں ان کو فالو کرتا ہوں۔ اسی کا نام بریلویت ہے۔ کوئی فرقہ نہیں۔ کوئی طبقے نہیں۔ کچھ نہیں۔ اصول کو مانتے ہیں کہ واقعہ ہوا ہے۔ اب واقعہ کی تشریحات ہیں۔ وہ مختلف تعبیر وتشریح قانون کے اندر ہوسکتی ہے تو قرآن وسنت کے اندر کیوں نہیں ہوسکتی؟

فاروق:

یہ تو ہونی چاہئے۔

مولانا:

میں آپ کو یہ نہیں کہہ رہا کہ جو بریلوی بنے گا کافر ہو جائے گا۔ جو دیوبندی بنے گا کافر ہو جائے گا۔ جو حنفی بنے گا کافر ہو جائے گا۔ سمجھے ناجی! یہ ان کو میں نہیں کہہ رہا۔ جو اصول کو مانتے ہیں وہ مسلمان ہیں۔ مدینہ طیبہ جانے کا راستہ ہے۔ اٹھارہ ہزار ملک ہیں دنیا کے اندر۔ اٹھارہ ہزار راستے ہیں مدینہ طیبہ کو جارہے ہیں۔ سفر مرکز کی طرف ہورہا ہے۔ راستہ جونسا چاہے اختیار کر لیں۔ میں کبھی آپ کو نہیں کہہ رہا کہ آپ فلاں مسلک کے اندر شامل ہو جائیں۔ جونسے مسلک کو چاہیں اختیار کر لیں۔ دین اسلام کی حلاوت اترنی چاہئے۔ اس وقت آپ کے لئے علاج یہی تجویز ہے کہ تبلیغی جماعت کے ساتھ جائیں۔ واپس آنے کے

132

بعد آپ مجھے کہیں کہ نہیں میں فلاں کو فالو کروں گا۔ میں آپ کو اجازت دوں گا۔ ایک دفعہ نہیں کروڑ دفعہ کریں۔ اس وقت علاج یہ ہے اس دلدل سے نکلنے کا۔ اس راستہ سے نکلنے کا کہ یہ کفر کی غلاظت چھٹے۔ اسلام کی عظمت آئے۔ یہ پہلے اسلام کو اپنے دل کے اندر گھر کرنے دیں۔ اس کے بعد کہہ دیں کہ فلاں تحقیق کو فالو کرتا ہوں۔ کوئی حرج نہیں۔ وہ بھی مسلمان ہیں۔ تبلیغ والے غیرمسلم نہیں ہیں۔ بریلوی حضرات کو میں غیرمسلم نہیں کہتا۔ دیوبندیوں کو غیرمسلم، شافعیؒ وامام مالکؒ کو نہیں کہہ رہا۔ میں صرف اس وقت یہ عرض کر رہا ہوں کہ اس وقت بہتر علاج آپ کے لئے صرف اور صرف یہ ہے اور اگر آپ یہ کہیں کہ ان میں جانے سے فرقہ واریت کے اندر چلا جاؤں گا تو پھر میں درخواست کروں گا کہ ابھی تک پھر کانٹا آپ کے اندر موجود ہے۔ جیسا کہ پہلے میں نے آپ کی تشخیص کر کے کہہ دیا تھا کہ آپ ابھی تک دلدل سے نکلے نہیں۔ یہ سب شیطان کے بہکاوے ہیں کہ پہلے یوں ہو جائے پھر یوں ہو جائے۔ اس کے بعد یوں ہوگا۔ مہربانی کریں کہ اسلام شرائط کا محتاج نہیں۔ اس راستہ پر چل پڑیں۔ ساری چیزوں کو چھوڑ کر اس راستہ پر چل پڑے۔ قادیانیت کو قبول کرتے ہوئے آپ نے شرط کو چھوڑ کر اس راستہ پر چل پڑیں؟ قادیانیت کو قبول کرتے ہوئے آپ نے شرط نہیں لگائی تھی کہ جناب لاہوری کون ہیں۔ قادیانی کون ہیں؟ فلاں کون ہیں؟ فلاں کون ہیں؟ اس وقت تو شرط نہیں لگائی تھی۔ اب آتے ہوئے شرطیں لگاتے ہو۔

فاروق:

شرط نہیں ہے۔

مولانا:

میں یہی استدعا کرتا ہوں کہ ان کانٹوں کو بالکل سرے سے آگ لگائیں۔ ان کی راکھ اڑادیں جس طرح اڑتی ہے۔ اب بالکل اگر مجھے معالج سمجھ کر بلایا ہے تو نسخہ تجویز کرنے کا اختیار تو مجھے ہوگا۔ کڑوا دوں تب، کسیلا دوں تب، میٹھا ہو تب، کھٹا ہو تب، وہ اب اس کو اپنے حلق سے اتاردیں۔ اتارنے کے بعد آپ کی صحت بحال ہوجائے گی۔ جراثیم جاتے رہیں گے۔ اب مقوی غذا چاہئے۔ اس مقوی غذا کے متعلق آپ اور میں فیصلہ کر لیں گے بیٹھ کر کہ آپ کو کون سا خمیرہ اور کون سی معجون دینی ہے۔ ضرور دیں گے۔ لیکن یہ سب بہانے ہیں اور ہاں! ابھی یہاں سے نکلنے کے بعد اور میری ساری باتیں سننے کے بعد بھی شیطان نے ایسا حملہ کرنا ہے آپ پر کہ یہ کیا؟ اور وہ کیا؟

فاروق:

محفل کا آدمی پر اثر ہوتا ہے نا جی۔

133

مولانا:

اس وقت جو آپ کے قلب وجگر کی کیفیت ہے خود رحمت دوعالم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں ایک صحابیؓ حاضر ہوئے اور انہوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے درخواست کی کہ آقا صلی اللہ علیہ وسلم ہم جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بیٹھتے ہیں کیفیت اور ہوتی ہے جب باہر جاتے ہیں کیفیت اور ہو جاتی ہے۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہر وقت اگر یہ کیفیت رہے تو پھر فرشتے آسمانوں سے آگر تم سے مصافحہ کریں۔ پھر تو تمہاری یہ کیفیت ہو کہ ملکوتی بن جاؤ۔ سمجھے نا جی! آپ نے اچھا کیا کہ آپ کے ذہن کے اندر جتنے اشکالات تھے، آپ نے ان کو بیان کیا۔ میں ان کے جواب آپ کی خدمت میں عرض کرتا رہا۔ ایک ماحول بن گیا ہے۔ یہی وقت ہے لوہا گرم ہے۔ ہتھوڑا ماریں۔ اس کو ٹھنڈا نہ ہونے دیں۔ سارے خیالات کو یکسر چھوڑ کر سب سے پہلے مرزاغلام احمد قادیانی کا کفر، کتے کو نکالیں۔ پہلے کنویں سے۔ وہ نکلے گا اس کے کفر کا علی الاعلان ڈنکے کی چوٹ پر اعلان کریں۔ نہ مانسہرہ والوں کو دیکھیں نہ داتہ والوں کو۔ نہ ایبٹ آباد والوں کو، نہ اس کے طرز عمل کو، نہ میرے طرز عمل کو ساری چیزوں سے بالائے طاق ہوکر ڈنکے کی چوٹ پر کھڑے ہوکر، پہاڑ پر کھڑے ہو کر پکاریں بلند آواز کے ساتھ کہ آپ کی آواز جائے پورے کرۂ ارض پر کہ آپ مرزاغلام احمد قادیانی کو کافر سمجھتے ہیں۔ اس کو چھوڑدیا ہے۔ اب اتنا عرصہ میں رہا تھا۔ اس کے جانے کے بعد اب جو ہے وہ میرے اندر رنگ آنا چاہئے۔ رنگین ہونے کا وہ راستہ ہے۔ اس کو اختیار کریں۔ واپس آئیں۔ پھر کبھی ادویات کی ضرورت ہوگی تو بیٹھ کر طے کر لیں گے۔ چلو پھر آپ جونسی دوا کہیں گے تجویز کر لیں گے۔ چلو میں بھی نسخے میں تبدیلی کر لوں گا۔ میں نہیں کہوں گا کہ میرے والا ہی نسخہ استعمال کریں۔ تب آپ کے گوڈے گٹے ٹھیک ہوں گے۔ ممکن ہے کوئی اور دوائی مل جائے۔ وہ بعد کے مسئلے ہیں کہ راستہ کون سا۔ میں فلاں راستہ میں نہیں جانا چاہتا۔ یہ مہربانی کر لیں بھائی! ﷲتعالیٰ سے دعا ہے کہ وہ آپ کو ہدایت کاملہ نصیب فرمائے۔ آمین!

ض … ض … ض

134

مناظرہ چک۹۸ شمالی … سرگودھا

فقیر گوجرانوالہ، لاہور، حافظ آباد کے تبلیغی وتنظیمی سفر سے واپس (ربوہ) چناب نگر حاضر ہوا تو جناب قاری منیر احمد خاں مدرس مدرسہ ختم نبوت (ربوہ) چناب نگر نے اطلاع دی کہ چک نمبر۹۸ شمالی سرگودھا سے مولانا ممتاز حسن صاحب خطیب چک مذکور تشریف لائے تھے اور کہا کہ قادیانیوں سے ۱۹؍فروری ۱۹۸۲ء بروز جمعہ گفتگو ہے۔ فقیر کو تشویش ہوئی کہ جمعہ کو ریلوے جامع مسجد فیصل آباد، اور (ربوہ) چناب نگر جامع مسجد محمدیہ میں عظیم اجتماع ہوتے ہیں۔ حضرت مولانا خدابخش صاحب اور فقیر اگر چک نمبر۹۸ شمالی جائیں تو جمعہ کا کیا بنے گا… کوفت ہوئی کہ احباب نے پوچھے بغیر ایسے وقت کا تعین کیا۔ جس سے پیچیدگی پیدا ہوسکتی ہے۔ ۱۸؍فروری ۱۹۸۲ء صبح حضرت مولانا خدابخش صاحب تشریف لائے اور پنڈی رسول سٹیشن پر مولانا ممتاز حسین سے ملاقات وتفصیلات سے آگاہ فرمایا۔ مولانا سرگودھا روانہ ہوگئے۔ طے ہوا کہ فقیر بھی ۱۹؍فروری صبح سرگودھا سے سوار ہوگا اور مولانا خدا بخش صاحب، مولانا محمد اقبال بھی سرگودھا سے اسی ٹرین پر سوار ہوجائیں گے۔

۱۸؍فروری ۱۹۸۲ء دوپہر کو مولانا عزیزالرحمن جالندھری مدظلہ ملتان سے تشریف لائے۔ وہ (ربوہ) چناب نگر جامع مسجد ختم نبوت کی تعمیرات کے انچارج ہیں۔ وہ میری درخواست پر آمادہ ہوگئے کہ ریلوے کالونی جامع مسجد فیصل آباد کا جمعہ پڑھادیں گے۔ جب کہ جامع مسجد محمدیہ ربوہ کے جمعہ کے لئے مولانا احمد یار چاریاری کو پیغام بھجوایا۔ ۱۸؍فروری ظہر کے قریب میرے معتبر ذرائع نے اطلاع دی کہ جامعہ احمدیہ (ربوہ) چناب نگر میں چک نمبر۹۸ شمالی کی گفتگو کے لئے بڑی تیاریاں ہورہی ہیں اور ان کے مبلغین کتابیں لے کر چک نمبر۹۸ شمالی جانے کے لئے پابرکاب ہیں۔ اسی روز مغرب کے قریب معروف مبلغ اسلام حضرت مولانا عبدالحفیظ صاحب خطیب چک نمبر۹۹ اور حضرت مولانا حافظ ممتاز حسین تشریف لائے۔ہر دو حضرات مصر تھے کہ فقیر ابھی ان کے ساتھ چک نمبر۹۸ شمالی چلے۔ کیونکہ ان کا مؤقف تھا کہ فریق مخالف کے مبلغ پہنچ گئے ہوں گے۔ ہمارے مسلمان حضرات کو پریشانی نہ ہو۔ فقیر نے اپنی مصروفیات کا عذر کر کے صبح حاضری کا وعدہ کیا۔ دونوں بزرگ شام کو چناب

135

ایکسپریس سے چک ۹۸ شمالی تشریف لے گئے۔ فقیر صبح جناب برادر عزیز، قاری منیر احمد خان کے ہمراہ کتابوں کے بکس لے کر عازم سرگودھا ہوا۔ شدید بارش تھی۔ تاہم اڈہ بس (ربوہ) چناب نگر پر صاحب علم وفضل دوست پروفیسر حافظ محمد یوسف کتابیں لے کر تشریف لائے ہوئے تھے۔

اتفاق سے وہ بھی اسی بس میں سوار ہوئے، خوشی ہوئی۔ ان حضرات سے بھی طے تھا کہ فقیر کے ہمراہ تشریف لے جائیں گے۔ شدید بارش میں خدا خدا کر کے ریلوے سٹیشن سرگودھا پہنچے۔ حضرت مولانا خدا بخش صاحب، مولانا محمد اقبال تشریف لائے ہوئے تھے۔ ٹرین کے ذریعہ تقریباً ساڑھے دس بجے تک چک نمبر۹۸ شمالی پہنچے۔ احباب سے ملاقاتوں کا سلسلہ جاری رہا۔ فقیر نے اپنے مسلمان احباب کو بلوایا۔ جن سے قادیانیوں نے گفتگو کا کہا ہوا تھا۔ وہ احباب آئے ان سے ملاقات وتفصیل کا سن کر فقیر نے ان کو بھیجا کہ جاکر آپ قادیانی مرتدین کے ذمہ دار حضرات کو کہیں کہ مسلمانوں کے علماء آگئے ہیں۔ آپ اپنے مبلغ سمیت تشریف لائیں تاکہ گفتگو ہوسکے۔ وہ حضرات گئے تو انہوںنے کہا کہ جناب جمعہ کے بعد گفتگو کریں گے۔ فقیر نے اپنے مسلمان احباب سے کہا کہ آپ ان سے کہیں کہ گفتگو بیشک جمعہ کے بعد ہوگی۔ مگر شرائط تو پہلے طے کر لیں، تاکہ ان شرائط کی روشنی میں جمعہ کے بعد گفتگو ہوسکے۔ جمعہ کے بعد اگر شرائط طے کرنے لگے تو وقت ضائع ہوگا۔ یہ کام جمعہ سے پہلے نپٹالیں۔ چنانچہ نصراﷲ بھلی ایڈووکیٹ قادیانی، ملک محمد اسلم قادیانی، محمود انور بھلی قادیانی، مبارک احمد قادیانی مبلغ (ربوہ) چناب نگر، یہ چارحضرات شرائط کے لئے تشریف لائے۔ چوہدری محمد اشرف گھمن، چوہدری محمد علی، حاجی سردار خان، اور راقم الحروف نے شرائط پر گفتگو شروع کی۔ نصراﷲ بھلی ایڈووکیٹ قادیانی نے کہا کہ گفتگو صرف حیات ووفات مسیح پر ہوگی۔ فقیر نے عرض کیا کہ ہم اس جذبہ سے آپ حضرات کے گاؤں حاضر ہوئے ہیں کہ تمام مختلف فیہ مسائل پر گفتگو ہو جائے۔ وہ اس پر آمادہ نہ ہوئے۔ اس پر فقیر نے عرض کیا کہ پہلے حیات مسیح پر گفتگو ہو جائے۔ پھر آپ کے رہنما اور مدعیٔ نبوت مرزاکے کذب پر پھر ختم نبوت تینوں مسائل پر گفتگو ہو جائے گی۔ حاضرین نے کہا کہ ٹھیک ہے۔ وہ حضرات مصر تھے کہ مرزاقادیانی کے صدق وکذب پر بحث نہ ہو۔ اس پر فقیر نے تفصیل سے عرض کیا کہ ہم بازار میں ہانڈی لینے کے لئے جاتے ہیں۔ دو رپے کی ہنڈیا لینی ہوتی ہے۔ باربار اسے ٹھوکتے بجاتے ہیں کہ کہیں

136

کھوکھلی تو نہیں، کچی تو نہیں۔ یہ دنیاداری کی بات ہے۔ مرزاقادیانی جس نے کہا ہے کہ مجھے مانو گے تو ٹھیک ہے؟ ورنہ جہنم میں جاؤ گے، اسے ذرا ٹھوکنے بجانے تو دو۔ اس کو مل کر ہم اس کے لٹریچر کی روشنی میں دیکھیں کہ وہ کیا تھا اور یہ اس لائق بھی ہے کہ ایسی عظمت کا مستحق قرار دیا جاسکے۔ میرا دعویٰ ہے کہ اس کا لٹریچر ہی اس کی جانچ پڑتال کے لئے کافی ہے۔ آپ کو اس پر بحث کرنی چاہئے۔ ہم بڑے خلوص سے آپ کے پیشوا مرزاقادیانی کو جانچنا پرکھنا چاہتے ہیں۔ اس پر انہوں نے کہہ دیا کہ آپ کی مرضی گفتگو کرو یا نہ کرو۔ صدق وکذب مرزا پر بحث نہیں کریں گے۔ فقیر نے اپنے احباب کی طرف دیکھا۔ وہ حیران کہ ان حضرات کے بلند وبانگ دعاوی اب اس طرح انحراف؟ فقیر نے فوراً کہا کہ آپ حصرات جان چھڑانا چاہتے ہیں۔ میں بغیر گفتگو آپ کی جان نہیں چھوڑوں گا۔

لیجئے! جو مضمون آپ پسند کریں فقیر حاضر ہے۔ اس بات سے اپنے احباب کے چہرے خوشی سے دمک اٹھے اور ان لوگوں پر اوس پڑ گئی۔ جو مرزاقادیانی مدعیٔ نبوت کو سچا ثابت کرنے کے لیے آئے تھے کہ اب تو سوائے گفتگو کے چارہ کار نہیں رہا۔ شرائط لکھنے شروع کئے فقیر نے تحریر شروع کی۔ حوالہ جات کے لئے فریقین کی کتابیں پیش ہوں گی۔ اس پر قادیانیوں نے کہا کہ حوالہ جات صرف قرآن وحدیث سے پیش ہوں گے۔ فقیر نے عرض کیا کہ بھائی قرآن وحدیث ہمارے سرآنکھوں پر، آپ کا لٹریچر آپ کے سرآنکھوں پر، آپ اپنے لٹریچر سے کیوں گریز کرتے ہیں۔ ایک نے کہا کہ ہم تو صرف خدا ورسول کو مانتے ہیں اور کسی کو نہیں۔ فقیر نے کہا کہ جس خدا کو آپ مانتے ہیں اس کی تفصیل کا مجھے علم ہے۔ تمہاری کتابوں میں لکھا ہے کہ وہ (خدا) معاذ اﷲ! آپ کے نبی کے ساتھ وہ کارروائی کیا کرتا تھا، جو مرد اپنی عورت سے کرتا ہے۔ کتاب میرے پاس ہے۔ فرمائیں تو حوالہ دکھاؤں اس پر وہ گھبرا گئے۔ کہنے لگے کہ صاحب اب جمعہ کا وقت ہورہا ہے۔ جمعہ کے بعد تحریر کریں گے۔ گفتگو ہو نہ ہو۔ ہم جمعہ نہیں چھوڑ سکتے۔ میں نے کہا آپ جمعہ کی جماعت کو روتے ہیں۔ آپ کے مرزاقادیانی تو چھ ماہ تک نماز کے تارک تھے۔ دکھاؤں حوالہ؟ بہرحال ۳بجے واپسی کا وعدہ کر کے چلے گئے۔ حضرت مولانا خدا بخشؒ صاحب خطیب چناب نگر (ربوہ) نے جمعہ سے قبل حیات عیسیٰ علیہ السلام پر فاضلانہ خطاب کیا۔ پورے گاؤں کے اہل اسلام نے آپ کی امامت میں جمعہ پڑھا۔ ۳بجے تک وہ حضرات تشریف نہ لائے۔ فقیر نے اہل اسلام کی طرف

137

سے شرائط لکھ کر بھیج دیں کہ ان کا کوئی نمائندہ بھی اس پر دستخط کر دے تاکہ گاؤں کے چند معززین آئیں۔ ہم ان سے مشاورت کے بعد دستخط کر دیں گے۔ ہمارے ساتھی وہاں گئے۔ ان حضرات کا اصرار یہ تھا کہ گفتگو ہمارے مکان پر ہو۔ اہل اسلام کا مؤقف تھا کہ پچھلے جمعہ کی گفتگو مقامی مسلمان حضرات اور قادیانیوں کی ان کے مکان پر ہوئی تھی۔ یہ گفتگو مسلمانوں کے مکان پر ہوگی۔ جس پر وہ آمادہ نہ ہوئے اور راہ فرار اختیار کی۔ ہمارے حضرات نے پیغام بھجوایا کہ سکول، گاؤں کے چوک، گرجا جو غیرجانبدار جگہ ہے، وہاں آجائیں۔ وہ اس پر بھی آمادہ نہ ہوسکے۔

ہمارے احباب نے طے کیا کہ گاؤں کے وسط میں دو مکان ایک دوسرے کے سامنے واقع ہیں۔ درمیان میں چند فٹ کی گلی ہے۔ مسلمانوں کی بیٹھک میں مسلمان بیٹھ جائیں اور قادیانی اپنے ساتھی کی بیٹھک میں۔ ہر ایک کا اجتماع اپنے اپنے مکان پر ہوگا اور گفتگو کرنے والے حضرات سامنے بیٹھ جائیں۔ گفتگو دونوں فریق بآسانی سن سکیں گے۔ کیونکہ ان مکانات کا محل وقوع ایساہے اس پر ہمیں اطلاع ملی کہ اس شرط پر وہ آمادہ ہیں۔ چنانچہ ہم اپنی کتابیں لے کر جملہ حاضرین سمیت وہاں پہنچ گئے۔ وہ حضرات بھی متذکرہ بیٹھک کے ساتھ والے مکان میں موجود تھے۔ لیکن پورا پوناگھنٹہ انتظار کے باوجود نہ آئے۔ مرزائیوں نے پیغام بھیجا کہ گاؤں کے اہل اسلام کے خطیب مولانا حافظ ممتاز حسین آئیں۔ ہم ان سے کچھ طے کرنا چاہتے ہیں۔

مولانا ممتاز حسین تشریف لے گئے۔ ان کے مبلغ مبارک منگلا اور مبشر احمد نے کہا کہ حوالہ جات صرف قرآن وحدیث سے پیش ہوں گے۔ ہمارے مولانا کچھ کہنا چاہتے تھے کہ ان کا اپنا آدمی مسٹر بھلی ایڈووکیٹ بول پڑا اور اپنے قادیانی مربیوں کو کہا کہ کچھ خدا کا خوف کرو۔ بات کسی طرف لگنے بھی دو۔ شرم کی بات ہے کہ ہم طے کر آئے ہیں کہ حوالہ جات کے لئے فریقین کے مسلمات پیش ہوں گے۔ آپ اپنی کتابوں سے کیوں بھاگتے ہیں؟ مسلمان عالم دین کی موجودگی میں مرزائی کا اپنے مرزائی مناظرین کو ڈانٹ ڈپٹ کرنا، مرزائی مناظر کھسیانے ہوگئے۔ مولانا ممتاز حسین صاحب کو کہا کہ آپ تشریف لے چلیں، ہم آرہے ہیں۔ مولانا ممتاز حسین نے ہمیں آکر تمام حاضرین کی موجودگی میں ان کا پیغام سنایا کہ وہ آرہے ہیں۔ چنانچہ ہم نے اپنی کتابیں میز پر لگانی شروع کر دیں۔ فقیر نے قرآن مجید،

138

بخاری شریف منگوا کر اپنی گود میں رکھ لی اور درود شریف پڑھنا شروع کر دیا۔ پندرہ بیس منٹ انتظار کے باوجود قادیانی تشریف نہ لائے۔ گلی میں دونوں طرف فریقین کے آدمیوں کے ٹھٹھ لگے ہوئے تھے۔ فقیر نے ایک ہاتھ میں قرآن مجید، دوسرے میں بخاری شریف اٹھائی۔ سامعین کے درمیان کھڑے ہوکر اعلان کیا کہ او ختم نبوت کے منکرو اپنے مبلغین کو باہر نکالو، وہ کیوں نہیں نکلتے، کیا رکاوٹ ہے؟ فقیر دعویٰ سے کہتا ہے کہ وہ مرجائیں گے باہر نہیں آئیں گے۔ قرآن ہمارے ساتھ ہے۔ حدیث ہمارے ساتھ ہے۔ چودہ سو سال سے پوری امت کا عقیدہ یہی ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام زندہ ہیں۔ آسمان پر تشریف فرماہیں۔ قرب قیامت میں نازل ہوں گے اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی شریعت کی غلامی میں زندگی گزاریں گے اور مدینہ طیبہ میں ان کی وفات ہوگی۔ میں یہ شریعت محمدیہ سے ثابت کرنے کے لئے تیار ہوں۔ مرزاقادیانی کے لٹریچر سے ثابت کرنے کے لئے تیار ہوں۔ ہے ہمت تو باہر آئیں۔ لیکن وہ ذلت آمیز شکست سے بچنے کے لئے میرا سامنا نہیں کر رہے۔

گاؤں کے مرزائیو! میری تم سے درخواست ہے کہ اپنے مبلغین کو نکالو باہر، تاکہ آج حق وباطل کا معرکہ اس گاؤں کے لوگ بھی دیکھ لیں۔ ہے ہمت تو آئیں۔ کیوں نہیں آتے؟ آؤ ہم تمہارے انتظار میں ہیں۔ اس اثناء میں مولوی مبارک قادیانی مناظر آیا اور کہا کہ جی ہمیں خطرہ ہے کہ آپ گالی نکالیں گے، لوگ مشتعل ہو جائیں گے۔ فقیر نے کہا کہ جناب بہانہ نہ بنائیں۔ آپ کی اگر بات صحیح ہے تو آپ کے لئے سنہری چانس ہے، ضائع نہ کریں۔ آپ دلائل سے بات کریں۔ میں گالی سے گفتگو کروں تو گاؤں کے لوگ آپ کو سچا کہہ دیں گے۔ آپ آئیں گفتگو کریں۔ آپ کے لئے گولڈن چانس ہے۔ ضائع نہ کریں۔ فریقین نے ٹھیک ہے ٹھیک ہے کہہ کر میری اس معقول بات کی بھی تصدیق کی۔ مبارک صاحب واپس گئے۔ اب ان کے لئے نہ جائے رفتن نہ پائے ماندن۔ پریشان ہوکر گھر میں گھس گئے۔ فقیر اپنے احباب سمیت میدان میں کھڑا ہے۔ اس وقت کا منظر قابل دید تھا۔ فقیر نے کہا کہ لوگو! قادیانی اور مسلمان سب گواہ رہیں کہ قادیانی مبلغین زہر کا پیالہ پی لیں گے لیکن میرے سامنے نہیں آئیں گے۔

میں چیلنج کرتا ہوں کہ مسلمانوں کا میں نمائندہ ہوں۔ ان کا نمائندہ مرزاناصر ہے۔ وہ مجھ سے جہاں چاہے میں مباہلہ کے لئے تیار ہوں۔ اگر مباہلہ نہ کرے تو فیصلہ کا آسان

139

راستہ یہ ہے کہ آپ گاؤں والے مل کر آگ کی بھٹی تیار کریں، ناصر کو کہو وہ دادا کی صداقت کا دم بھر کر اس میں چھلانگ لگائے، میں اپنے آقا ومولا(صلی اللہ علیہ وسلم) کی ختم نبوت کا اقرار اور مرزاقادیانی کے جھوٹے ہونے کا اعلان کر کے چھلانگ لگاتا ہوں۔ آپ دیکھ لیں گے آگ میرے اور مرزاناصر کے درمیان فیصلہ کر دے گی کہ کون حق پر ہے؟ اس چیلنج سے موجود قادیانیوں نے شرم کے مارے سر جھکا دئیے۔

اہل اسلام خوشی سے پھولے نہ سماتے تھے۔ زندہ باد کی فضا میں فقیر کو ہجوم نے گھیر لیا۔ مبارکباد شروع ہوگئی۔ احباب خوشی سے ایک دوسرے کے گلے ملے۔ فوری طور پر چائے کا اہتمام کیاگیا۔ اس میں شریک تھے کہ ایک مرزائی آیا۔ فقیر نے کہا کہ فرمائیے آپ کے مبلغین کیوں نہ نکلے؟ کہا جی! وہ آپ سے ڈر گئے تھے۔ میں نے کہا کہ کیا میں نے ان کو کھاجانا تھا؟ دلائل کی بات تھی وہ کیوں نہ آئے؟ ان کو آنا چاہئے تھا۔ میں اب بھی حاضر ہوں۔ اگر وہ اپنی طے شدہ بیٹھک میں نہیں آتے تو میں آپ کو ایک حوالہ دکھاتا ہوں آپ یہ لے جائیں ان سے اس کا ترجمہ پوچھ کر آئیں۔ آپ کی کتاب، آپ کا حوالہ، آپ اپنے مولوی سے اس کا مطلب پوچھ آئیں۔ وہ بیچارہ بڑا پریشان ہوا کہ پتہ نہیں مولوی صاحب کیا حوالہ نکالیں گے؟ فقیر نے بیگ منگوایا، حوالہ نکالنا چاہا۔ لیکن اس دوران معلوم ہوا کہ قادیانی مناظر ربوہ جانے کے لئے گاؤں چھوڑ کر سٹیشن چلے گئے ہیں۔

مسلمانوں میں ان کے فرار کی خبر سے خوشی کی لہر دوڑ گئی اور قادیانی شرم کے مارے ایک ایک کر کے کھسکنے شروع ہوگئے۔ فقیر نے احباب سمیت جماعت سے نماز عصر پڑھی (وہ لیٹ ہورہی تھی) نماز کے بعد اجتماعی دعا کی گئی۔ بیسیوں احباب کے جلو میں ہمارا قافلہ سٹیشن کی طرف روانہ ہوا۔ راستے میں ان کے فرار کے دلچسپ تذکرے ہوتے رہے۔ احباب کی خوشی وانبساط قابل دید تھی۔ فالحمدﷲ! سٹیشن پر پہنچے تو قادیانی مناظر سٹیشن پر بیٹھے خاک چاٹ رہے تھے۔ ان کی درماندگی وپریشانی قابل رحم تھی۔ وہ بیچارے اکیلے تھے۔ صرف ایک آدمی ساتھ تھا۔ ہمارے احباب کا اجتماع دیکھ کر وہ سخت پریشان ہوئے۔ مگر یہ عزت ہماری نہ تھی، حق کی عزت تھی۔ ﷲتعالیٰ نے حق وباطل کا ایسا نظارہ کر دیا کہ انگشت بدنداں ہوں کہ آخر ان کو کیا ہوگیا؟ اتنی بڑی ذلت کے باوجود سامنے نہ آئے۔ فالحمدﷲ!

ض … ض … ض

140

مناظرہ چک عبداﷲ … ضلع بہاول نگر

مجلس تحفظ ختم نبوت ایک عالمی، تبلیغی، اصلاحی، مذہبی، جماعت ہے، جس کا ملک کی سیاست سے قطعاً کوئی تعلق نہیں۔ مجلس کی بنیاد حضرت امیر شریعتؒ نے رکھی تھی اور خطیب پاکستان قاضی احسان احمد شجاع آبادیؒ، مجاہد ملت مولانا محمد علی جالندھریؒ، مناظر اسلام مولانا لال حسین اخترؒ، فاتح قادیان مولانا محمد حیاتؒ، شیخ الاسلام مولانا سید محمد یوسف بنوریؒ جیسے مردان حق نے اپنے اپنے دور میں اس کی قیادت وسیادت کا فریضہ سرانجام دیا۔ بحمدہ تعالیٰ! آج اس کی امارت شیخ طریقت مولانا خان محمد صاحبؒ سجادہ نشین خانقاہ سراجیہ فرمارہے ہیں۔ مجلس ختم نبوت کا طرۂ امتیاز ملک عزیز وبیرون ملک میں رحمت عالم صلی اللہ علیہ وسلم کے وصف خاص ختم نبوت کی حفاظت واشاعت کا فریضہ سرانجام دینا ہے اور بس۔ اﷲ رب العزت نے مجلس کو اس عطیم کام کے صدقہ میں کس کس طرح اپنی رحمتوں سے سرفراز فرمایا، کیا کیا بشارتیں سنائی گئیں۔ اس کی طویل فہرست ہے۔

مجلس کے اکابر نے یوم تأسیس سے اعلان کیا تھا کہ کائنات کے کسی حصہ میں کوئی منکر ختم نبوت کسی مسلمان کو تنگ کرے، اس کے ایمان پر ڈاکہ ڈالے، مجلس کے دفتر کو ایک کارڈ لکھ کر اطلاع کر دی جائے۔ مجلس کے فاضل مبلغین اسلام اور مناظرین ختم نبوت اس دوردراز کے علاقہ میں پہنچ کر اہل اسلام کے ایمانوں کو بچائیں گے۔ قادیانیوں کے ہر چیلنج کا منہ توڑ جواب دیں گے اور ان کو عبرتناک شکست سے دوچار کریں گے۔ اندرون وبیرون ملک مجلس نے اپنے اس اعلان کی کس طرح لاج رکھی اور کس طرح دشوار گزار اطراف واکناف کے سفر طے کر کے دنیائے اسلام سے خراج تحسین، حضور سرور کائنات صلی اللہ علیہ وسلم کی خوشنودی اور اﷲ رب العزت کی رضا کا سرٹیفکیٹ حاصل کیا، اس سے پوری دنیا آگاہ ہے۔ آج بھی بحمدہ تعالیٰ! مجلس کا پوری دنیا میں لٹریچر، وعظ وتبلیغ کے ذریعہ اشاعت اسلام وتحفظ عقیدۂ ختم نبوت کا مربوط نظام موجود ہے۔ مجلس کے فاضل اجل مبلغین کی سرگرمیوں اور تبلیغی کاوشوں کی تفصیلات مجلس کے ترجمان ہفت روزہ (اب ماہنامہ) ’’لولاک‘‘ فیصل آباد کے ذریعہ اسلامیان پاکستان تک پہنچتی رہتی ہیں۔ آج کی مجلس میں ہم مجلس تحفظ ختم نبوت پاکستان

141

کے شعبۂ تبلیغ کی ایک عظیم الشان کامیابی وکامرانی سے اسلامیان پاکستان کو باخبر کرنا چاہتے ہیں۔ جس کے پڑھنے سے جہاں دلوں کو تازگی، ایمانوں کو حرارت، قلب وجگر کو فرحت میسر آئے گی، وہاں دشمنان دین، منکرین ختم نبوت قادیانیوں کی ذلت آمیز شکست کا بھی نقشہ سامنے آجائے گا۔

مجلس کے مرکزی دفتر ملتان میں ایک اطلاع

از چک سرکاری ضلع بہاول نگر بتاریخ ۱۷؍فروری ۱۹۸۱ء

بخدمت جناب من! السلام علیکم ورحمتہ اﷲ وبرکاتہ!

ہمارے قریب ریلوے اسٹیشن چک عبداﷲ پر ایک نائب اسٹیشن ماسٹر رانا صاحب عرصہ ایک سال سے آئے ہیں، وہ قادیانی ہیں اور سال بھر سے اہل اسلام کو گمراہ کرنے کی کوشش کر رہے ہیں اور ان کے ایمانوں کو خراب کر رہے ہیں۔ مرزائی مذہب کی کتابیں ولٹریچر تقسیم کرتے ہیں۔ اب اس نے ہمیں مناظرہ کی دعوت دی ہے۔ آپ سے التماس ہے کہ آپ ہماری مدد کریں۔ کوئی ماہر تجربہ کار عالم مقرر فرمائیں جو ان کو شکست فاش دے کر مسلمانوں کے ایمان کو محفوظ کرے۔ وہ ہمیں آئے دن تنگ کرتا ہے۔ آپ کا فرض ہے کہ ہماری مدد کریں اور جماعت کے خرچ پر مناظرہ کا انتظام کریں۔ کیونکہ ہم غریب آدمی ہیں۔ ایک آدھ آدمی کے قیام طعام سے زائد خرچ بھی برداشت نہیں کر سکتے۔ جواب ہر حالت میں دیں۔ مہربانی! آپ کا مخلص: چوہدری محمد رانجھا۔

ادائیگیٔ فرض کا احساس

جب یہ خط مجلس تحفظ ختم نبوت پاکستان کے ناظم دفتر وخازن حضرت مولانا عزیزالرحمن جالندھری مدظلہ کو ملا تو انہوں نے سوچاکہ اگر خط لکھ کر تاریخ کا تعین کیا جائے تو خط جانے اور جواب آنے پر دس پندرہ دن لگ جائیں گے۔ اس عرصہ میں اگر کوئی شخص مرتد ہوگیا تو قیامت کے دن اس کا جواب ہمارے پاس کیا ہوگا؟ اس لئے جواب لکھنے کی بجائے آپ نے فوراً مجلس تحفظ ختم نبوت ربوہ زون کے کنوینئر مولانا خدا بخش صاحب شجاع آبادیؒ اور مجلس کے مایۂ ناز مبلغ ومناظر مولانا اﷲ وسایا صاحب خطیب جامع مسجد محمدیہ ربوہ کو حکم فرمایا

142

کہ آپ حضرات وہاں تشریف لے جاکر اسلامیان علاقہ کے ایمانوں کو بچائیں۔

چنانچہ حضرت مولانا اﷲ وسایا صاحب اور مولانا خدا بخش صاحب ۲۵؍فروری ۱۹۸۱ء کو بہاول نگر تشریف لے گئے۔ وہاں سے بہاول نگر مجلس کے امیر حضرت مولانا قاری عبدالغفور صاحب اور جنرل سیکرٹری مجلس بہاول نگر جناب مولانا فیض احمد صاحب مدرسہ اسٹیشن کے مولانا شہاب الدین کے ہمراہ چک عبداﷲ تشریف لے گئے۔

قصۂ زمین برسر زمین

چک عبداﷲ ریلوے اسٹیشن ہے۔ چشتیاں اور بہاول نگر کے درمیان واقع ہے۔ قرب وجوار کے دیہاتوں کا مرکزی اڈہ بھی ہے۔ مجاہدین ختم نبوت کا یہ قافلہ جب چک عبداﷲ پہنچا تو معلوم ہوا کہ نائب اسٹیشن ماسٹر رانا بشارت احمد واقعتا قادیانی ہے اور وہ اپنی جماعت کے جلسہ پر ڈاہرانوالہ گیا ہوا ہے۔ صبح آیا اور حاضری لگا کر جلسہ پر چلا گیا ہے۔ مولانا اﷲ وسایا صاحب نے احباب کے مشورہ سے کچھ پمفلٹ کانٹے والے کو دئیے کہ رانا صاحب تشریف لائیں تو ان کو دے دینا اور ان سے کہنا کہ آپ سے ملنے کے لئے کچھ ساتھی آئے تھے۔ اب مسئلہ درپیش تھا کہ اس علاقہ میں کام کی راہیں تلاش کی جائیں تاکہ وقت ضائع نہ ہو۔ چنانچہ مشاورت کے بعد وفد کے ارکان نیشنل بینک، مل آفس، کینال ریسٹ ہاؤس، پٹوار خانہ، اڈہ پر دکاندار وتاجر حضرات سے ملے۔ ان میں مجلس کا لٹریچر فری تقسیم کیا۔ اپنی آمد کی غرض بیان کی۔ مقامی احباب کے اصرار پر اڈہ کی مسجد میں مختصر تبلیغی مجلس کا انعقاد کیاگیا۔ ظہر کی نماز کے بعد حضرت مولانا اﷲ وسایا صاحب نے مسئلہ ختم نبوت کے تحفظ اور مرزائیوں کے عقائد باطلہ پر روشنی ڈالی۔ آپ نے اپیل کی کہ تمام مسلمان، قادیانیوں کے عقائد ونظریات سے خود بچیں اور دوسروں کو بچائیں۔ آپ نے فرمایا کہ اگر قادیانی ایک جھوٹے اور خود ساختہ نبی کے غلط وخلاف اسلام عقائد کو پھیلانے کے لئے کوشاں ہیں تو پھر حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کے پیروکار اپنے سچے نبی کی عزت وناموس اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے وصف خاص ختم نبوت کے تحفظ کے لئے بھی کوشش کریں۔ اس پر تمام حاضرین نے تردید قادیانیت کی اور حفاظت واشاعت عقیدۂ ختم نبوت کا وعدہ کیا۔ اس اثناء میں معلوم ہوا کہ رانا بشارت احمد بھی اپنے جلسہ سے واپس آگئے ہیں۔ انہیں پیغام بھجوادیا۔ چنانچہ وہ مسجد میں آگئے۔

143

قادیانی سے گفتگو کا آغاز

تعارف کے بعد، خطیب اسلام حضرت مولانا خدا بخشؒ صاحب کے کہنے پر مناظر ختم نبوت حضرت مولانا اﷲ وسایا صاحب نے رانا بشارت احمد سے گفتگو کا آغاز کیا۔ آپ نے فرمایا کہ رانا صاحب ممکن ہے آپ کی جماعت کا کوئی مولوی صرف اور صرف اپنے پیٹ کے لئے کاروباری طور پر مرزائیت کی تبلیغ کرتا ہو، یا مسلمانوں سے کوئی صاحب کاروبار کے طور پر آپ کی جماعت کی تردید کرتے ہوں۔ لیکن میرا آپ کے متعلق خیال ہے کہ آپ نے کاروبار کے لئے پیشہ وارانہ طور پر نہیں بلکہ حق سمجھ کر مرزائیت کو قبول کیا ہوگا۔ (رانا صاحب فرط مسرت سے سر ہلا کر کہنے لگے جی بالکل آپ نے صحیح فرمایا ہے۔ واقعتا میں احمدیت کو حق پر سمجھتا ہوں) مولانا نے فرمایا کہ بالکل اسی طرح میں بھی قبر کو سامنے رکھ کر یوم جزاء وسزا کے مالک کی قسم اٹھا کر کہتا ہوں کہ ہماری جماعت مجلس تحفظ ختم نبوت پاکستان بھی آپ کی جماعت مرزائیت کے عقائد ونظریات کی تردید دین سمجھ کر ﷲتعالیٰ کی رضا، حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی خوشنودی اور اپنی نجات سمجھ کر کرتی ہے۔ ہمارا بھی یہ کاروبار یا پیشہ نہیں۔ (رانا صاحب نے کھسیانا ہوکر کہا جی صحیح ہے) مولانا نے فرمایا اس لئے میں آج کی محفل میں آپ سے درخواست گزار ہوں کہ آپ مہربانی کر کے یہ ارشاد فرمائیں کہ آپ کو مرزائیت میں کیا کیا خوبیاں نظر آئیں جن کی بنیاد پر آپ نے یہ مذہب قبول کیا اور میں دیانتداری سے آپ کو بتاؤں گا کہ مجھے کیا کیا عیوبات اور مکروفریب قادیانیت میں نظر آئے۔ جس کی بنیاد پر میں اس فرقۂ ضالہ کی تردید میں دن رات ایک کئے ہوئے ہوں۔ آپ قادیانیت کی خوبیاں بیان کر دیں، میں اس کے عیوبات اور قبائح آپ کے سامنے رکھ دیتا ہوں۔ پھر میری بات آپ کی سمجھ میں آجائے تو آپ قبول فرمالیں۔ آپ کی بات میری سمجھ میں آگئی تو میں اس پر غور کروں گا۔ حضرت مولانا اﷲ وسایا صاحب کی اس تمہیدی گفتگو کے بعد جناب رانا بشارت احمد نے کہا کہ حضرت مولانا! میں نے احمدیت کو قبول اس لئے کیا ہے کہ مرزاقادیانی میرے نزدیک عاشق رسول تھے۔ احمدیت قبول کرنے سے مجھے فرقہ واریت سے نجات ملی اور تیسری بات یہ ہے کہ مرزاقادیانی اپنے وقت کے مجدد ومہدی ہیں۔

144

حضرت مولانا اﷲ وسایا کی جوابی تقریر

حضرت مولانا اﷲ وسایا صاحب نے جواباً فرمایا کہ رانا صاحب آپ کی تینوں باتوں سے مجھے نہ صرف شدید اختلاف ہے بلکہ میں سمجھتا ہوں کہ آپ نے شاید اپنے مذہب کا صحیح معنی میں مطالعہ نہیں کیا یا آپ کو نہیں کرنے دیا گیا، یا آپ سے آپ کی جماعت کے بانی مرزاقادیانی کی کتب کو اوجھل رکھا گیا ہے۔ اگر آپ دیانتداری سے ان کتابوں کو پڑھتے تو میری طرح آپ بھی اس نتیجہ پر پہنچتے کہ مرزاقادیانی نبی، رسول، مجدد تو درکنار ایک شریف انسان اور قابل اعتماد واعتبار آدمی بھی نہ تھا۔ دیکھئے! آپ نے تین باتیں ارشاد فرمائیں:

۱… مرزاقادیانی عاشق رسول تھے۔

۲… فرقہ واریت سے نجات ملی۔

۳… وہ مجدد ومہدی تھے۔

اس وقت سردست میں پہلی بات کو لیتا ہوں۔ میں اس بحث میں نہیں پڑتا کہ:

الف… مرزائیت کے قبول کرنے سے فرقہ واریت سے نجات ملتی ہے یا مرزاغلام احمد کے خود ماننے والے کس بری طرح فرقہ واریت کا شکار ہیں کہ آپس میں ایک دوسرے پر نہ صرف زنا، شراب، لواطت، بددیانتی، اخلاق باختگی کے ناقابل تردید ثبوت پیش کرتے ہیں۔ بلکہ ایک دوسرے پر کافر، منافق، بے دین کے فتوے بھی لگاتے ہیں۔ مرزائیت میں مذہبی واخلاقی فرقہ واریت کی جو کیفیت ہے اس کی تو نظیر پیش نہیں کی جاسکتی۔

ب… باقی رہی یہ بات کہ وہ مجدد تھے یا مہدی بلکہ وہ تو اپنے لکھے کے مطابق نسل انسانی (آدم زاد) بھی نہ تھے۔ انسان کے تخم ہی نہ تھے۔ ہاں البتہ وہ اپنے کو انسان کی شرم والی جگہ (تعین خود کیجئے وہ کون سی جگہ ہوتی ہے) تھے وہ خود لکھتے ہیں کہ ؎

  1. کرم خاکی ہوں میرے پیارے، نہ آدم زاد ہوں

    ہوں بشر کی جائے نفرت اور انسانوں کی عار

(براہین احمدیہ حصہ پنجم ص۹۷، خزائن ج۲۱ ص۱۲۷)

لیکن جناب رانا صاحب اس وقت میں اس بحث میں نہیں پڑنا چاہتا تاکہ وقت ضائع نہ ہو۔ آپ کی پہلی بات کہ ’’مرزاقادیانی عاشق رسول تھے‘‘ کی وضاحت کرنا چاہتا

145

ہوں۔ دیکھئے رانا صاحب! مجھے بحمدہ تعالیٰ مرزائیت کے لٹریچر کا بھرپور مطالعہ ہے۔ میرا دعویٰ ہے کہ اس کائنات میں اگر کوئی انسان حضور سرور کائنات صلی اللہ علیہ وسلم کی توہین کرنے والا ہے تو وہ مرزاقادیانی ہے۔ میرے نزدیک وہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا بدترین دشمن بلکہ معاف رکھیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا وہ بدزبان دشمن ہے جتنی رحمت عالم صلی اللہ علیہ وسلم کی توہین مرزاقادیانی نے کی ہے، اس کرۂ ارض میں اور کسی بدبخت نے نہیں کی۔

(جناب رانا صاحب نے مولانا کی تقریر کو درمیان میں ٹوک کر کہا) مولانا آپ تفصیل میں نہ جائیں بلکہ اس کی مثال پیش کریں کہ مرزاقادیانی واقعتا حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے گستاخ تھے۔ زیادہ تقریر سے کیا فائدہ؟

مولانا اﷲ وسایا

مولانا اﷲ وسایا نے اپنی گفتگو کا دوبارہ آغاز کرتے ہوئے ارشاد فرمایا۔ رانا صاحب! مجھے شدید صدمہ ہے کہ آپ نے میری بات کو پورا نہیں ہونے دیا۔ ورنہ آپ کا جو مطالبہ ہے کہ مرزاقادیانی کی کتب سے توہین حضرت سرور کائنات صلی اللہ علیہ وسلم کے حوالہ جات پیش کریں۔ میں وہ عرض کرنا چاہتا تھا مگر آپ سے صبر نہ ہوسکا۔ آپ غصہ تھوک دیں۔ ٹھنڈے دل سے میری معروضات سنیں۔ میرا فرض ہے کہ میں آج اپنی ہر بات اور دعویٰ کا ثبوت پیش کروں۔

انشاء اﷲ العزیز! ایسا ہی ہوگا آپ اطمینان فرمائیں۔ تو میں عرض کر رہا تھا کہ مرزاقادیانی نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی توہین کی ہے اور اپنی کتاب خطبہ الہامیہ میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت کے زمانہ کو پہلی رات کے چاند سے تشبیہ دی ہے اور اپنے زمانہ کو چودھویں رات کے چاند سے تشبیہ دی ہے۔

(خطبہ الہامیہ ص۱۸۴، خزائن ج۱۶ ص۲۷۵)

رانا صاحب نے پھر بات ٹوک کر کہا۔ مولانا یہ کبھی نہیں ہوسکتا۔ مولانا نے مسکرا کر فرمایا۔ رانا صاحب! اطمینان رکھیں۔ آپ پریشان کیوں ہوگئے وہ تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے متعلق لکھتا ہے کہ (نعوذ باﷲ) آپ صلی اللہ علیہ وسلم سور کی چربی استعمال کیا کرتے تھے۔

(الفضل قادیان مورخہ ۲۲؍فروری ۱۹۲۴ء)

رانا صاحب نے استغفراﷲ! کہتے ہوئے کہا کہ یہ کیسے ہوسکتا ہے؟ مولانا نے مسکرا کر کہا آپ کا یہ سوال غلط ہے کہ یہ کیسے ہوسکتا ہے۔ آپ یہ سوال مرزاقادیانی سے کریں کہ اس نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی یہ توہین کیوں اور کس طرح کی؟ آپ تو مجھ سے یہ سوال کریں کہ یہ

146

حوالہ ہے یا نہیں۔ اگر حوالہ ہے تو مرزاقادیانی مجرم اگر حوالہ نہیں تو میں مجرم۔ رانا صاحب آپ کی جماعت کا عقیدہ ہے کہ ؎

  1. محمد پھر اتر آئے ہیں ہم میں

    اور آگے سے بڑھ کر ہیں اپنی شان میں

  2. محمد دیکھنے ہوں جس نے اکمل

    غلام احمد کو دیکھے قادیان میں

رانا صاحب نے کہا مولانا میری درخواست ہے کہ آپ حوالہ اگر لاکر دکھادیں تو بات پھر بنے گی۔ مولانا نے فرمایا۔ رانا صاحب میں ایک بار نہیں ہزاربار آپ کے مطالبہ کو تسلیم کرتا ہوں کہ آپ کو حوالہ جات لاکر دکھاؤں مگر میری ایک درخواست ہے کہ اگر میں حوالہ لاکر نہ دکھاؤں تو میری کیا سزا ہوگی؟ اور اگر حوالہ جات دکھادوں تو ان حوالہ جات کو پڑھنے کے بعد آنجناب کا کیا ردعمل ورویہ ہوگا؟ دونوں باتوں کا میں آپ کو اختیار دیتا ہوں۔ آپ طے کر دیں پھر تحریر ہو جائے۔

رانا صاحب نے کہا۔ مولانا تحریر کی کیا ضرورت ہے۔ یہ لوگ مجھے جانتے ہیں۔ آپ ان حاضرین سے پوچھ سکتے ہیں کہ میں ایک سال سے یہاں پر قیام پذیر ہوں۔ میرے سال بھر کے ریکارڈ سے یہ لوگ ثابت نہیں کر سکتے کہ میں نے کبھی جھوٹ بولا ہو۔ تحریر کی کیا ضرورت ہے۔ میں آپ سے وعدہ کرتا ہوں کہ اگر آپ حوالہ جات لاکر مجھے دکھا دیں تو میں قادیانیت سے تائب ہوکر غلام احمد کے جھوٹے ہونے کا اعلان کروں گا۔

مولانا اﷲ وسایا صاحب نے فرمایا۔ رانا صاحب مجھے تو آپ کی یہ بات سن کر بجائے خوشی کے سخت صدمہ ہوا ہے کہ آپ ایسے انسان ہیں کہ آپ نے کبھی جھوٹ نہیں بولا مگر افسوس، صدمہ اور دکھ کی میرے لئے بات یہ ہے کہ آپ مانتے ایسے آدمی کو ہیں جو ہر قدم پر جھوٹ بولتا تھا۔ میرا دعویٰ ہے کہ اس کائنات میں اگر جھوٹے لوگوں، کذاب انسانوں کا کنونشن بلایا جائے تو جھوٹوں کے عالمی چمپئن کا اعزاز مرزاقادیانی کو ملے گا۔

رانا صاحب نے پھر بات کاٹ کر کہا کہ وہ کیسے؟

مولانا نے فرمایا۔ رانا صاحب! مرزاقادیانی کے سینکڑوں جھوٹ ہوں گے مگر اس وقت ایک جھوٹ کو آپ کے سامنے پیش کرتا ہوں کہ مرزاقادیانی نے اپنی کتاب شہادت

147

القرآن میں لکھا ہے کہ آخری خلیفہ کے وقت آسمان سے آواز آئے گی۔ ’’ہذا خلیفۃ اﷲ المہدی‘‘ لکھا ہے کہ یہ روایت بخاری اصح الکتب بعد کتاب اﷲ میں ہے۔ (شہادت القرآن ص۴۱، خزائن ج۶ ص۳۳۷) میں دعویٰ کرتا ہوں کہ پوری بخاری شریف میں اگر یہ روایت دکھا دی جائے تو میں دس ہزار روپیہ انعام دینے کے لئے تیار ہوں۔ مگر میرا دعویٰ ہے کہ پوری کائنات کے مرزائی اکٹھے ہوکر بلکہ خود مرزاقادیانی اپنی قبر سے نکل کر بھی بخاری شریف سے یہ روایت نہیں دکھا سکتے۔ جناب مرزاقادیانی نے سفید جھوٹ بولا ہے۔ جسے اس کی جماعت کے زلہ خوار ووظیفہ خور مرزائی مبلغ سچا ثابت نہیں کر سکتے۔ ’’وان لم تفعلوا ولن تفعلوا فاتقوا النار‘‘ رانا صاحب! اس کا ایک اور کرارہ کرارہ جھوٹ بھی سنئے۔

راناصاحب:

نہ، نہ مولانا چلو آپ تحریر کریں۔

مولانا نے مسکرا کر فرمایا۔ بہت اچھا لائیے قلم دوات میں تحریر کرنے کے لئے تیار ہوں… تمام حاضرین کے چہرے خوشی سے دمک اٹھے۔ کاغذ قلم لانے کو ساتھی اٹھے۔ مولانا نے پہلو بدلا۔ تیار ہوئے آپ کے پہلو میں ایک کتاب ’’وصال ابن مریم‘‘ (مصنفہ مرزاطاہر احمد قادیانی) پڑی تھی۔ آپ نے اسے ہٹانا چاہا تو پھر رانا صاحب نے فرمایا:

دلچسپ لطیفہ:

مولانا آپ کتاب کو پیچھے کیوں دھکیل رہے ہیں۔ کیا آپ اس سے الرجک ہیں؟ مولانا پھر مسکرائے اور فرمایا رانا صاحب میں کتاب سے کیا الرجک ہوں۔

راناصاحب:

تو آپ اس کو دھکیلتے کیوں ہیں؟ پڑھتے کیوں نہیں۔

مولانا:

رانا صاحب میں نے نہ صرف اس کتاب کو پڑھا ہے بلکہ اس کے مصنف کو اس کے باپ کو اور اس کے دادا مرزاغلام احمد قادیانی کو بھی پڑھا ہے۔ اگر فرمائیں اور طبع نازک پر گراں نہ گزرے تو بیچارے مصنف کتاب ہذا تو درکنار اس کے بڑے صاحب یعنی جناب مرزاقادیانی کے متعلق اس کے اپنے لٹریچر سے سنئے۔ اس کے اپنے ایک مرید نے جو اس کو مسیح موعود اور ولی اﷲ مانتا ہے۔ لکھا ہے کہ حضرت مرزاقادیانی کبھی کبھی زنا کر لیا کرتے تھے۔ پنجابی میں یعنی کبھی کبھی حضرت صاحب ڈگ لا لیندے سی گے۔

رانا صاحب نے فوراً کہا مولانا چھوڑئیے اس گفتگو کو۔ آپ اگر حوالہ جات دکھادیں تو میں لکھ کر دیتا ہوں کہ میں مرزائیت کو چھوڑ دوں گا۔

مولانا:

مجھے خوشی ہوگی۔

148

کاغذ قلم آتا ہے۔ مولانا تحریر کے لئے شروع ہوتے ہیں۔ فرماتے ہیں رانا صاحب آپ فرمائیں کہ کون کون سے حوالہ جات میں دکھاؤں تو آپ مسلمان ہو جائیں گے؟

راناصاحب:

مولانا آپ دکھادیں کہ مرزاقادیانی نے لکھا ہو کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نعوذ باﷲ! سؤر کی چربی استعمال کرتے تھے۔ دوسرے وہ شعر کہ مرزاقادیانی محمد رسول ﷲ صلی اللہ علیہ وسلم سے افضل ہیں۔ تیسرا کہ مرزاقادیانی جھوٹ بولتے تھے۔ چوتھا کہ وہ زنا کیا کرتے تھے۔ مولانا نے قلم پکڑا کاغذ سامنے رکھا اور فرمایا راناصاحب اس کے علاوہ بھی اگر کوئی حوالہ ارشاد فرمائیں تو اس کا بھی میں تحریر میں ذکر کر دوں۔

راناصاحب:

نہ، نہ مولانا یہ کافی ہیں۔

مناظرہ کے لئے فریقین کی متفقہ تحریر کا متن

بسم اﷲ الرحمن الرحیم باعث تحریر آنکہ!

اﷲ وسایا ولد محمد رمضان مبلغ ختم نبوت اور جناب رانا بشارت احمد ولد رانا محمد ابراہیم نائب اسٹیشن ماسٹر چک عبداﷲ (مرزائی) کے درمیان آج ۲۵؍فروری ۱۹۸۱ء کو مسجد اڈہ چک عبداﷲ میں بیسیوں مسلمانوں کی موجودگی میں گفتگو ہوئی۔ جس میں مندرجہ ذیل حوالہ جات پیش ہوئے۔

۱… مرزاغلام احمد قادیانی نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی توہین کی ہے اور لکھا ہے۔ ان کا اپنا مکتوب ان کے اپنی جماعت کے رسالہ میں چھپا ہوا موجود ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم (نعوذ باﷲ) سؤر کی چربی استعمال کیا کرتے تھے۔

۲… مرزاغلام احمد قادیانی کے ایک مرید نے مرزاغلام احمد قادیانی کے متعلق لکھا ہے اور چھپا ہوا موجود ہے کہ ؎

  1. محمد دیکھنے ہوں جس نے اکمل

    غلام احمد کو دیکھے قادیان میں

۳… مرزاغلام احمد قادیانی نے اپنی کتاب میں لکھا ہے کہ جب حضرت مہدی تشریف لائیں گے تو آسمان سے آواز آئے گی۔ ’’ہذا خلیفۃ اﷲ المہدی‘‘ یہ روایت بخاری

149

شریف میں موجود ہے۔ مولوی اﷲ وسایا نے دعویٰ کیا کہ یہ روایت ساری بخاری شریف میں موجود نہیں ہے۔ مرزاغلام احمد قادیانی نے امام بخاری پر جھوٹ بولا ہے۔

۴… مولوی اﷲ وسایا نے کہا کہ مرزائیوں کی اپنی جماعت کے اخبار میں چھپا ہوا موجود ہے کہ مرزاغلام احمد قادیانی کبھی کبھی زنا کر لیاکرتے تھے۔

ان ہر چار حوالہ جات کو ثابت کرنا مولوی اﷲ وسایا کے ذمہ ہے کہ یہ مندرجہ عبارتیں ان کے لٹریچر میں موجود ہیں۔ اس لٹریچر کی کتب کو ساتھ لانا بھی مولوی اﷲ وسایا کے ذمہ ہے۔ رانا بشارت احمد نے اعلان کیا کہ اگر مجھے یہ حوالہ جات دکھا دئیے جائیں تو میں احمدیت کو چھوڑ کر مرزاغلام احمد قادیانی کے جھوٹے ہونے کا اعلان کر دوں گا۔ اگر فریقین میں سے کوئی (یعنی مولوی اﷲ وسایا، یا رانا بشارت احمد) نہ آئے تو اس فریق کی شکست تصور ہوگی اور وہ دوسرے فریق کو پانچ صد روپیہ دینے کے پابند ہوں گے۔

یہ حوالہ جات مسجد لاری اڈہ چک عبداﷲ ضلع بہاول نگر میں مورخہ ۹؍مارچ ۱۹۸۱ء بروز پیر بوقت ۳بجے دن بعد از ظہر پیش ہوں گے۔ یہ حوالہ جات جناب ماسٹر شفیق احمد انصاری ولد حاجی محمد بخش انصاری ماسٹر ہائی سکول چک سرکاری کو دکھائے جائیں گے۔ وہ پڑھ کر فیصلہ دیں گے کہ یہ حوالہ جات صحیح ہیں یا نہیں۔ ان کا فیصلہ ہر دو کے لئے قابل قبول ہوگا۔

  1. العبد اﷲ وسایا بقلم خود

    العبد بشارت احمد رانا بقلم خود

  2. گواہ شد

    گواہ شد

  3. (مولانا) شہاب الدین چک مدرسہ

    (مولانا) فیض احمد

  4. محمد بشیر

    شفیق احمد

انتظار، انتظار، انتظار

اس تحریر کے بعد فریقین پر لطف اور خوشگوار محفل سے فارغ ہوئے۔ رانا صاحب اسٹیشن پر تشریف لے گئے۔ مولانا اﷲ وسایا، مولانا خدا بخش، مولانا فیض احمد، مولانا عبدالغفور نے احباب کے ہمراہ نماز پڑھی۔ مولانا شہاب الدین نے نماز پڑھائی۔ اس تحریر وکامیابی پر تمام ساتھیوں کے دل مسرت سے اچھل رہے تھے۔ وہ خوش تھے کہ ﷲتعالیٰ نے

150

اپنے خاص فضل وکرم سے احقاق حق وابطال باطل کے لئے موقع فراہم فرمایا ہے۔ مولانا اﷲ وسایا اور مولانا خدا بخشؒ نے تمام احباب سے اجازت لی۔ ۹؍مارچ کو آنے کا وعدہ کیا اور چشتیاں ملتان کے سفر پر روانہ ہوئے۔ اب کیا تھا پورے ضلع بہاول نگر میں ۹؍مارچ کا انتظار ہونے لگا۔ تمام مدارس ومساجد میں ۹؍مارچ کو ہونے والے مناظرہ کے تذکرے ہونے لگے۔ اس خبر کو سن کر پورے ضلع کے مجاہدین ختم نبوت چک عبداﷲ پہنچنے کے لئے انتظار کی گھڑیوں کو گننے لگ گئے۔

آج ۹؍مارچ ہے

اﷲ رب العزت کے فضل سے ۹؍مارچ ۱۹۸۱ء آیا۔ بہاول نگر سے مولانا فیض احمد، مولانا عبدالحفیظ، مولانا قاری عبدالغفورؒ، مولانا سید بشیر حسین شاہ، مولانا قاری شریف احمد، مجاہد ختم نبوت صابر علیؒ ، مبلغ ختم نبوت مولانا محمد امیر جھنگوی عظیم الشان قافلہ کی قیادت کرتے ہوئے تشریف لائے۔ فقیر والی، منچن آباد، ہارون آباد، چشتیاں سے قافلے آرہے ہیں۔ وہاں کے جید علماء کرام قیادت فرمارہے ہیں۔ آج ۹؍مارچ ہے۔ صبح دس بجے ہی لاری اڈہ مسجد وسڑک پر انسانوں کے ٹھٹ کے ٹھٹ لگے ہوئے ہیں۔ ضلع بھر سے پچاس ساٹھ علماء کرام کی تشریف آوری سے عوام دل کی گہرائیوں سے تاج وتخت ختم نبوت زندہ باد، اسلام زندہ باد، اکابرین مجلس ختم نبوت زندہ باد، مبلغین ختم نبوت زندہ باد کے فلک شگاف نعرے لگارہے ہیں۔ لوگ وجد میں آکر اﷲ اکبر! کی صدا بلند کرتے ہیں تو ﷲتعالیٰ کے نام کے جلال سے درودیوار کانپ اٹھتے ہیں۔ یہ دیکھو کون ہیں انہیں مولانا فیض احمد بہاول نگری کہا جاتا ہے۔ یہ مجلس بہاول نگر کے سیکرٹری جنرل ہیں۔ تقریر کے لئے تشریف لاتے ہیں۔ دو گھنٹے خطاب فرماتے ہیں، ان کے بعد باری باری ضلع بھر کے علماء کرام تشریف لارہے ہیں۔ عوام موقع بموقع زندہ باد کے ایمان پرور نعروں سے مجمع کو سراپا خلد بنادیتے ہیں۔

مبلغین ختم نبوت کی آمد

عوام کی نظریں چشتیاں سے آنے والی بسوں پر لگی ہیں۔ آج وہاں سے ان کے محبوب مبلغین ختم نبوت نے تشریف لانا ہے۔ اسی اثناء میں یکدم بس رکتی ہے۔ نظریں اٹھتی

151

ہیں۔ مبلغین کے چہروں پر پڑتی ہیں۔ زندہ باد کے فلک شگاف نعرے شروع ہو جاتے ہیں۔ مناظر ختم نبوت مولانا اﷲ وسایا صاحب بس سے اپنے احباب سمیت اترتے ہی مسجد تشریف لے جاکر اعلان فرماتے ہیں کہ میں اور میرے ساتھی خطیب اسلام مولانا خدا بخش، مبلغ اسلام مولانا قاضی اﷲ یار خان اور خطیب اہل سنت مولانا قاری عبدالسلام اس مسجد میں چار بجے تک اعتکاف کی نیت سے قیام کریں گے۔ مولانا نے فرمایا ظہر کی نماز پڑھئے۔ نماز پڑھی جارہی ہے۔مسجد کا اندروباہر کا صحن بھرا ہوا ہے۔ گلیوں میں شمالاً جنوباً دونوں سائیڈوں پر سڑک کی جانب صفیں ہی صفیںہیں، نماز سے فارغ ہوتے ہی مولانا قاری عبدالغفور کی صدارت کا اعلان کیا جاتا ہے۔

حضرت مولانا ولی محمد صاحب:

نے فرمایا میں آج سید عطاء اﷲ شاہ بخاریؒ کی جماعت مجلس تحفظ ختم نبوت کے علماء کرام کی آمد کا خیرمقدم کرتا ہوں۔ میرے پیر قطب الاقطاب حضرت لاہوریؒ فرمایا کرتے تھے کہ ’’ختم نبوت کا کام کرنے والی جماعت کے تمام مبلغین اور کارکن بغیر حساب کتاب کے جنت میں جائیں گے۔‘‘

مولانا قاضی اﷲ یار خاں:

مجلس کے مایہ ناز بزرگ رہنما حضرت مولانا قاضی اﷲ یار خانؒ اپنی آمد کی غرض وغایت قادیانیوں کی اسلام دشمنی کی تفصیلات بیان کرتے ہیں۔

مولانا خدا بخشؒ شجاع آبادی:

ربوہ زون کے کنوینئر خطیب اسلام مولانا خدابخشؒ شجاع آبادی اپنے ایمان پرور خطاب سے لوگوں کے دلوں میں جذبۂ عشق رسالت مآبa پیدا کرتے ہیں۔ عوام سامعین زاروقطار رو رہے ہیں اور حضورسرور کائنات صلی اللہ علیہ وسلم کی عزت وناموس کے تحفظ کے لئے دن رات کام کرنے کا عہد کر رہے ہیں۔

مولانا قاری عبدالسلام حاصل پوری:

یہ تنظیم اہل سنت کے مایۂ ناز خطیب ورہنما اور مجلس تحفظ ختم نبوت بہاول نگر کے مجاہد وبہادر عالم دین ہیں۔ خطبہ پڑھتے ہی اپنی گرجدار آواز سے لوگوں کے دلوں پر جادو کر دیتے ہیں۔ آپ کے جہاد آفریں بیان پر تین بج جاتے ہیں۔ یہ مجلس تحفظ ختم نبوت کے ایثار وخلوص، محنت ودیانت کی مثالیں دے کر لوگوں کو سمجھا رہے ہیں کہ دیکھئے! آج کے دور میں جب تبلیغ مہنگی ہے۔ فقط ایک یہ جماعت ہے جہاں ضرورت پڑے اپنے جماعتی خرچ پر مبلغین ومناظرین کا اہتمام کرتی ہے۔ مجلس کا نہ صرف کراچی سے پشاور تک بلکہ پوری دنیا میں وعظ وتبلیغ لٹریچر ونشرواشاعت کا مربوط نظام ہے۔

152

مناظر ختم نبوت مولانا اﷲ وسایا:

تین بج گئے ہیں۔ مولانا اﷲ وسایاصاحب نعروں کی گونج میں سٹیج پر تشریف لاتے ہیں۔ قادیانیوں کا لٹریچر میز پر سلیقہ سے رکھا ہے۔ آپ مجاہد اسلام کی حیثیت سے کھڑے ہیں، گھڑی پر نظر ہے۔ پوچھتے ہیں کیا ٹائم ہے۔ آوازیں آتی ہیں جی سواتین بج گئے ہیں۔ فرمایا رانا بشارت احمد کہاں ہے؟ لوگوں نے کہا کہ جی معززین ثالث کو لے کر اسے لینے کے لئے گئے ہیں۔ آپ مسکرا کر ارشاد فرماتے ہیں کہ میرا وجدان یہ کہتا ہے کہ آج کے دن رانا بشارت احمد تو درکنار کوئی قادیانی ماں کا لال میرے سامنے نہیں آئے گا ؎

  1. نہ خنجر اٹھے گا، نہ تلوار ان سے

    یہ بازو میرے آزمائے ہوئے ہیں

لوگ مولانا اﷲ وسایا زندہ باد، اسلام زندہ باد، مبلغین ختم نبوت زندہ باد کے نعرے لگانے شروع کرتے ہیں۔ حضرت مولانا خدا بخشؒ اٹھتے ہیں، اعلان کرتے ہیں کہ رانا بشارت احمد کے آنے تک میں اپنے بھائی مولانا اﷲ وسایا کو حکم دیتا ہوں کہ وہ تقریر شروع کر دیں۔ بیان جاری رکھیں۔ جب رانا صاحب آجائیں گے تو گفتگو شروع ہو جائے گی۔ ٹھیک ہے ٹھیک ہے کی مجمع سے آوازیں آتی ہیں۔ مولانا اﷲ وسایا تقریر شروع کرتے ہیں۔ ساڑھے تین بجے سے پونے پانچ بجے تک مولانا کی تقریر جاری رہتی ہے۔ مولانا کی تقریر کیا تھی۔ معلومات کا خزینہ تھی۔ حضور سرور کائنات صلی اللہ علیہ وسلم کا ذکر ہوتا لوگ جھوم اٹھتے۔ صحابہ کرامؓ کا ذکر آتا عوام پھڑک اٹھتے۔ اہل بیتؓ کا ذکر آتا عوام میں محبت کی لہر دوڑ جاتی ہے۔ قادیانیوں کے عقائد ونظریات کا پوسٹ مارٹم ہوتا تو لوگ ختم نبوت زندہ باد کے نعرے لگاتے۔ مرزائیت مردہ باد کے نعروں سے فلک جھوم اٹھتا۔ ابھی دیکھو وہ ایک دیوانہ اٹھا ہے۔ چشم پرنم سے کہتا ہے لوگو ختم نبوت زندہ باد کا نعرہ زور سے لگاؤ۔ مجھے اس نعرے سے محمد عربی صلی اللہ علیہ وسلم کی خوشنودی وشفاعت کا استحقاق نظر آتا ہے۔ نعرہ لگاؤ جو مدینہ پہنچے محمد عربی صلی اللہ علیہ وسلم کے دربار میں پہنچے حضور صلی اللہ علیہ وسلم سن کر خوشی منائیں کہ آج میرے نام لیوا چک عبداﷲ میں میری ختم نبوت کے دشمنوں کے مقابلہ میں آگئے ہیں۔ اب دیکھو! ختم نبوت زندہ باد، امیر شریعتؒ زندہ باد، قاضی مرحوم زندہ باد، مجاہد ملت حضرت مولانا محمد علی جالندھریؒ زندہ باد، مناظر اسلام مولانا لال حسینؒ زندہ باد، فاتح قادیان مولانا محمد حیاتؒ زندہ باد، شیخ الاسلام حضرت بنوریؒ زندہ باد، پیر

153

طریقت مولانا خان محمدؒ زندہ باد، مجاہد ختم نبوت مولانا تاج محمودؒ زندہ باد، مولانا قاضی اﷲ یارؒ زندہ باد، مولانا خدا بخشؒ زندہ باد، اسلام زندہ باد، پاکستان زندہ باد کے ایمان پرور نعروں سے فضا گونج اٹھتی ہے۔ میرا ایمان ہے کہ آج کی اس تقریب پر فرشتے بھی رشک کررہے ہوں گے کہ کس طرح محمد عربی صلی اللہ علیہ وسلم کے دیوانے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی عزت وناموس کے تحفظ کے لئے میدان عمل میں آئے ہوئے ہیں۔

ٹیپ ریکارڈیں لگی ہوئی ہیں۔ مولانا اﷲ وسایا بڑے تسلسل سے حوالہ پر حوالہ دیتے جارہے ہیں۔ سی۔آئی۔ڈی والے کارروائی لکھ رہے ہیں۔ مولانا کی ایمان پرور تقریر کا سلسلہ جاری ہے۔ پونے پانچ بجنے کو ہیں۔ اطلاع ملتی ہے کہ رانا بشارت احمد اور مرزائیوں نے مناظرہ کرنے سے انکار کر دیا ہے۔ اب کیا ہے۔ زندہ باد اور مردہ باد کے فلک شگاف ایمان پرور جہاد آفریں، حقائق افروز نعرے لگ رہے ہیں۔ مولانا اﷲ وسایا زندہ باد، مرزائیت مردہ باد ہورہی ہے۔ مولانا اﷲ وسایا لوگوں کو حنفی نعروں سے روک رہے ہیں۔ ملک عزیز کی سلامتی واستحکام اور اسلامی قوانین کے نفاذ کے لئے دعاء کی اپیل کر رہے ہیں۔ علماء کرام مولانا کو مبارک باد پیش کر رہے ہیں۔ مولانا قاضی اﷲ یارؒ، مولانا خدا بخشؒ، قاری عبدالسلام، قاری عبدالغفورؒ، مولانا فیض احمد کے چہرے عوام کی طرح خوشی سے دمک اٹھتے ہیں۔ ایک دوسرے کو خوشی سے گلے مل رہے ہیں۔

مولانا اﷲ وسایا اس کامیابی پر اﷲ رب العزت کے حضور سر جھکائے کھڑے ہیں۔ آپ کی آواز رندھ گئی ہے۔ آنکھوں سے آنسو جاری ہیں۔ ﷲتعالیٰ کا شکر ادا کر رہے ہیں۔ لوگ خوشی سے پھولے نہیں سماتے۔

مولانا اﷲ وسایا نے سر اٹھایا اور اعلان فرمایا حضرات خوش نصیبی کی بات ہے کہ اس اجلاس میں میرے اور رانا بشارت احمد کے متفقہ ثالث جناب ماسٹر شفیق احمد انصاری تشریف فرما ہیں۔ میں ان سے درخواست گزار ہوں کہ وہ سٹیج پر تشریف لائیں۔ حوالہ جات دیکھیں اور فیصلہ لکھ کر دے دیں۔ ماشاء اﷲ ٹھیک ہے۔ ٹھیک ہے، کی آوازیں زندہ باد کی صداؤںمیں ماسٹر شفیق احمد صاحب تشریف لاتے ہیں۔ مولانا اﷲ وسایا تحریر پڑھ کر سناتے ہیں۔ پھر حسب تحریر حوالہ جات پیش کرتے ہیں۔ خدا گواہ ہے کہ ایک ایک حوالہ پر جب ماسٹر شفیق احمد صاحب ٹھیک ہے، صحیح ہے کا اعلان کرتے تو لوگوں کے جذبہ ایمانی حرارت کی کیا

154

کیفیت ہوتی وہ بیان سے باہر ہے۔ وہ میری پوری ہمت کے باوجود بھی تحریر سے بالاتر ہے۔ وہ منظر دیکھنے سے تعلق رکھتا تھا۔ مولانا پہلا حوالہ نکلاتے ہیں۔ ماسٹر صاحب لیجئے! یہ مرزائیوں کا اخبار الفضل ہے۔ قادیان سے چھپا ہے۔ تاریخ اشاعت ۲۲؍فروری ۱۹۲۴ء ہے۔ صفحہ نمبر۹ پر مرزاقادیانی کا مکتوب ہے کہ نعوذ باﷲ! حضور صلی اللہ علیہ وسلم سؤر کی چربی استعمال کیا کرتے تھے۔ ماسٹر صاحب آبدیدہ ہوکر اعلان کرتے ہیں لوگو! حوالہ صحیح ہے۔ واقعی لکھا ہے، پڑھ کر سناتے ہیں۔ لوگ مرزاقادیانی پر لعنت لعنت کی آوازیں کستے ہیں، مولانا اﷲ وسایا روک رہے ہیں۔ مولانا پھر دوسرا اخبار اٹھاتے ہیں۔ حوالہ نکالتے ہیں۔ لیجئے ماسٹر صاحب! یہ اخبار بدر ہے قادیان سے چھپا ہے۔ تاریخ اشاعت ۲۵؍اکتوبر ۱۹۰۶ء ہے۔ اس کے صفحہ۱۴ پر نظم ہے۔ یہ اس کے شعر ہیں۔ پڑھ کر سنائیں۔ ماسٹر صاحب اخبار لیتے ہیں۔ حوالہ پڑھ کر سناتے ہیں۔

  1. محمد پھر اتر آئے ہیں ہم میں

    اور آگے سے بڑھ کر ہیں اپنی شان میں

  2. محمد دیکھنے ہوں جس نے اکمل

    غلام احمد کو دیکھے قادیان میں

لوگو! حوالہ صحیح ہے۔ مولانا اﷲ وسایا صاحب مرزاغلام احمد کی کتاب شہادت القرآن اٹھاتے ہیں۔ ص۴۱ کھول کر ماسٹر صاحب کو دکھاتے ہیں کہ یہ کتاب ربوہ کی چھپی مرزاکی لکھی ہوئی ہے۔ اس میں جس حدیث کا تذکرہ ہے۔ وہ ’’ہذا خلیفۃ اﷲ المہدی‘‘ والی حدیث ساری بخاری شریف میں موجود نہیں۔ میرا دعویٰ ہے کہ میں ہر اس قادیانی کو دس ہزار روپیہ انعام دینے کو تیار ہوں جو بخاری شریف سے یہ روایت مجھے دکھا دیں۔ میرا دعویٰ ہے کہ قیامت تک کے تمام قادیانی، مرزاقادیانی سمیت دس دفعہ ماں کے پیٹ سے بھی نکل کر آئیں تو پھر بھی میرے اس چیلنج کو قبول نہیں کر سکتے… لیجئے ماسٹر صاحب! یہ چوتھا اور آخری حوالہ ہے۔ اخبار الفضل ہے۔ قادیان کا چھپا ہوا۔ تاریخ اشاعت ۳۱؍اگست ۱۹۳۸ء ہے۔ اس کے صفحہ۶ پر مرزاقادیانی کے ایک مرید کا خط موجود ہے جو یہ کہتا ہے کہ مرزاقادیانی کبھی کبھی زنا بھی کر لیا کرتے تھے۔ ماسٹر صاحب نے چوتھا اور آخری حوالہ پڑھا لوگ مولانا اﷲ وسایا زندہ باد کے نعرے لگا رہے ہیں۔ ماسٹر صاحب اعلان کرتے ہیں۔

155

حضرات آپ انتظار کریں۔ میں فیصلہ کا اعلان کرتاہوں۔ کاغذ وقلم لا کر سامنے رکھ دیا جاتا ہے۔ ماسٹر صاحب موصوف درج ذیل فیصلہ فرماتے ہیں۔

اہل اسلام کی فتح اور قادیانیوں کی ذلت آمیز شکست کااعلان

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ

آج ۹؍مارچ ۱۹۸۱ء بروز پیر تین بجے دن مسجد لاری اڈہ چک عبداﷲ ضلع بہاول نگر میں حسب تحریر وعدہ مولانا اﷲ وسایا مبلغ ختم نبوت ربوہ، مولانا خدابخش، مولانا قاضی اﷲ یار خان، مبلغین ختم نبوت کتابیں لے کر تشریف لائے۔ مگر رانا بشارت احمد (فریق ثانی) مرزائی وعدہ تحریر کے باوجود نہ آئے۔ مولانا اﷲ وسایا نے سینکڑوں مسلمانوں کی موجودگی میں ہر چہار حوالہ جات دکھائے۔ میں نے ان کو تمام مسلمانوں کی موجودگی میں دیکھا پڑھا، حوالہ جات صحیح ہیں۔ مبلغین ختم نبوت کا مؤقف صحیح ہے۔ رانا بشارت احمد نہ آنے کی وجہ سے پانچ صد روپیہ مبلغین ختم نبوت کو ادا کرے اور اپنے سابقہ وعدہ وتحریر کی بناء پر مرزائی مذہب سے بھی تائب ہو جائے۔ بہرحال مبلغین ختم نبوت کا مؤقف صحیح ہے۔ میں ان کی فتح اور رانا بشارت احمد قادیانی کی شکست کا اعلان کرتا ہوں۔ ﷲتعالیٰ مبلغین ختم نبوت اور مجلس تحفظ ختم نبوت کی ان مساعی کو قبول کرے۔

دستخط ثالث شفیق احمد انصاری بقلم خود مورخہ ۹؍مارچ ۱۹۸۱ء، پانچ بجے شام اس دستاویز پر پچیس تیس گواہوں نے دستخط کئے۔

(رپورٹ: حافظ محمد حنیف ندیم)

ض … ض … ض

156

مناظرہ چناب نگر

اس نے اندر آنے کی اجازت چاہی۔ میں نے اٹھ کر خیرمقدم کیا۔ ان کا سائیکل لے کر سائے میں رکھا۔ وہ دفتر کے کمرہ میں تشریف لائے۔ ان کے لئے میں نے سفید چادر بچھانا چاہی۔ اصرار سے انہوں نے روک دیا، بیٹھ گئے۔ خیر خیریت کے بعد وہ گویا ہوئے کہ مجھے روشن دین کہتے ہیں۔ میں کوئٹہ میں جماعت احمدیہ کا مربی رہا ہوں۔ عرصہ سے میں جماعت کی تبلیغی خدمات سرانجام دے رہا ہوں۔ اب میری ڈیوٹی خلیفہ کے پرائیویٹ سیکرٹری کے دفتر میں لگ گئی ہے۔ ربوہ (چناب نگر) میں سیروسیاحت کے ارادے سے نکلا تھا۔ آپ کے لئے یہ مٹھائی لایا ہوں۔ قبول فرمائیں۔ آپ سے مجھے مل کر خوشی ہوئی اور راقم نے بھی جواباً ان کی تشریف آوری کا شکریہ ادا کیا۔ ان کی زحمت فرمائی پر دل ونگاہ بچھادئیے۔ مگر مٹھائی لینے پر معذرت کی۔ انہوں نے اصرار کیا تو میں نے عرض کیا کہ آپ اپنی جماعت کے اصول وضوابط کے پابند ہیں۔ میں اپنی جماعت کے اصول وضوابط کا پابند ہوں۔ میری جماعت مجلس تحفظ ختم نبوت کی ربوہ (چناب نگر) کے محاذ پر کام کرنے والے مبلغین وکارکنوں کو ہدایت ہے کہ وہ آپ حضرات کا کوئی تحفہ، ہدیہ قبول نہ کریں۔ اس پر وہ گویا ہوئے۔

روشن دین قادیانی:

مولانا آپ کے یہاں پر کھانے کا کیا انتظام ہے؟

راقم:

ہمارے مدرسہ ختم نبوت میں جہاں آپ تشریف رکھتے ہیں مجلس تحفظ ختم نبوت نے لنگر قائم کیا ہوا ہے۔ باورچی ہے جو اساتذہ، مبلغین، طالب علموں ومہمانوں کا کھانا صبح وشام تیار کرتا ہے۔ جملہ مصارف مجلس خود برداشت کرتی ہے۔

روشن دین قادیانی:

مولانا یہاں ربوہ (چناب نگر) میں ہماری جماعت نے کھانا کھلانے کے لئے وسیع لنگر کا انتظام کیا ہوا ہے۔ آپ مسافر ہیں، ضرورت ہو تو وہاں سے آپ کھانے کی تکلیف کرلیا کریں۔

راقم:

مکرم آپ بزرگ سفید ریش ہیں، میرے قابل احترام ہیں۔ آپ ایسی بات نہ

157

کریں۔ جس سے مجھے تکلیف پہنچے، میں نے عرض کیا ہے کہ نہ صرف میرے بلکہ جملہ مبلغین، مدرسین، طلباء کرام اور مہمانوں کے لئے مجلس تحفظ ختم نبوت نے لنگر کا یہاں پر انتظام کر رکھا ہے تو ہمیں کیا ضرورت ہے کسی کے دروازہ پر جانے کی۔ اگر آپ برانہ منائیں تو آپ پہلے آدمی ہیں جن کو یہ جرأت ہوئی ہے جو مرزائیوں کے لنگر سے کھانے کی ہمیں دعوت دے رہا ہے۔ آپ میرے جذبات کا خیال رکھیں۔ ایسی گفتگو نہ فرمائیں جس سے تلخی ہو۔

روشن دین قادیانی:

مولانا ایک ہوتے ہیں عقائد، ایک ہوتے ہیں معاملات۔ آپ کا ہمارا عقائد کا اختلاف ہے۔ معاملات میں تو باہمی پیار ومحبت کا مظاہرہ ہونا چاہئے۔ اس لئے میں اپنے مؤقف پر قائم ہوں۔

راقم:

مکرمی میں نہیں چاہتا تھا کہ آپ اس تلخ موضوع کو چھیڑیں۔ آپ میری درخواست کے علی الراغم اگر مصر ہیں تو سنئے کہ مجھے آپ حضرات کے عقائد ومعاملات دونوں سے اختلاف ہے، اور یہ ہو بھی سکتا ہے کوئی ایسی بعید بات نہیں۔ بلکہ بسااوقات عقیدہ میں متفق ومتحد ہوتے ہوئے بھی انسان معاملات میں مختلف ہوسکتا ہے۔ جیسا کہ مرزاغلام احمد قادیانی کے مرید ہم عقیدہ وہم مشرب خواجہ کمال الدین، سرور شاہ، مولوی محمد علی تھے۔ تینوں مرزا قادیانی کے مرید باصفا تھے۔ مگر مرزاقادیانی کے معاملات پر ان کو نہ صرف اختلاف تھا بلکہ وہ شاکی تھے کہ چندہ کی رقم جو لنگر کے لئے جاتی ہے۔ مرزا کی بیوی اس سے زیورات بنواتی ہے۔

(کشف الاختلاف از سرور شاہ قادیانی ص۱۳،۱۴)

یہ گفتگو قادیانی جماعت کے لٹریچر میں موجود ہے۔ آپ انکار نہیں کریں گے۔ اگر انکار فرمائیں تو حوالہ میرے ذمہ، تو میں عرض یہ کرنا چاہتا ہوں کہ ایک آدمی عقیدہ میں متحد، معاملات میں مختلف ہوسکتا ہے۔ جبکہ میری پوزیشن یہ ہے کہ عقیدہ ومعاملات میں مجھے آپ حضرات کے رویہ پر اعتراض ہے۔

روشن دین قادیانی:

مولانا آپ نے خواجہ کمال الدین، مولوی محمد علی کے مرزاقادیانی کی ذات پر اعتراض کا ذکر کیا تو دیکھئے عیسائی حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات پر اعتراض کرتے ہیں۔

راقم:

جناب مکرم! آپ تمام گفتگو میں یہ خیال رکھیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم اور مرزاغلام احمد قادیانی کا تقابل نہ کریں۔ میں اسے سوء ادبی سمجھتا ہوں۔ اس کا بطور خاص خیال رکھئے گا۔

۲… جہاں تک اعتراض کا تعلق ہے تو عیسائی حضور صلی اللہ علیہ وسلم پر اعتراض کرتے ہیں صحابۂ

158

کرامؓ جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے جان نثار تھے وہ تو اعتراض نہیں کرتے مگر یہاں تو الٹی گنگا ہے کہ:

روشن دین قادیانی:

مولانا اچھا آپ کی مرضی، نہ کھائیں کھانا ہمارے لنگر سے۔

راقم:

میں نے ابتداء میں عرض کیا تھا کہ آپ اس موضوع کو نہ چھیڑیں۔

راقم:

کوئی گفتگو علمی ہونی چاہئے۔

روشن دین قادیانی:

ٹھیک ہے ضرور میرا خیال بھی یہی ہے۔

راقم:

خیال نہیں بلکہ پروگرام ومقصد آمد بھی یہی ہے۔

روشن دین قادیانی:

ہنس کر آپ ٹھیک کہتے ہوں گے تو گفتگو میں قرآن مجید سے حوالہ جات پیش ہوں۔

راقم:

مکرمی مجھے خوشی ہے مگر آپ اتنا ارشاد فرمائیں کہ جس طرح قرآن مجید اور احادیث صحیحہ ہمارے لئے قابل قبول علی الرأس والعین اور مرزاغلام احمد کی کتب وتحریرات آپ کے لئے قابل قبول ہونی چاہئیں۔ قرآن مجید واحادیث سے آپ مجھے ملزم کریں۔ مرزاقادیانی کی تحریرات سے میں آپ کو ملزم کروں گا۔ آپ مرزاقادیانی کی کتب سے جان نہ چھڑائیں۔ میرے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان میرے لئے سرآنکھوں پر، مرزاقادیانی کی کتب آپ کے لئے۔

روشن دین قادیانی:

مولانا صرف قرآن مجید، آپ یوں سمجھئے کہ میں صرف قرآن مجید کو ہی مانتا ہوں۔

راقم:

مجھے انتہائی خوشی ہوگی۔ میں قرآن مجید سے ہزاربار آپ سے گفتگو کروں گا۔ مگر آپ لکھ دیں کہ میں مرزاقادیانی کی تحریرات کو نہیں مانتا، یا ان کی تحریرات غلط ہیں تاکہ صرف قرآن مجید سے گفتگو ہو سکے۔

نوٹ:

یاد رہے اس موقع پر موجود ایک ساتھی نے کہہ دیا کہ جناب مرزاقادیانی نے (ازالہ اوہام ص۷۶، خزائن ج۳ ص۱۴۰) پر کہا کہ ’’انا انزلناہ قریباً من القادیان‘‘ قرآن مجید نصف کے قریب صفحے کے دائیں جانب لکھا ہوا ہے، وہ کہاں ہے؟ قرآن مجید میں لاتا ہوں۔ آپ (روشن دین صاحب) مجھے نکال دیں۔

159

روشن دین قادیانی:

وہ تو کشف یا خواب کی بات ہے، جس کا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں۔

راقم:

تو جناب روشن دین صاحب! ﷲتعالیٰ آپ کا دینی طور پر مستقبل بھی روشن کرے۔ آپ یہ فرمائیں کہ مرزاقادیانی کا کشف صحیح تھا یا غلط؟ اگر صحیح تھا تو قرآن مجید حاضر ہے۔ آپ ’’انا انزلناہ قریباً من القادیان‘‘ نکال کردکھا دیں یا اعتراف کریں کہ مرزاقادیانی کے کشف کا حقیقت سے تعلق نہیں۔ جیسا کہ آپ نے ابھی فرمایا، مگر یہ لکھ بھی دیں۔

روشن دین قادیانی:

چھوڑئیے! اگر آپ بحث علمی نہیں کرنا چاہتے تو میں چلتا ہوں۔

راقم:

جناب کیوں اتنی خوشی وتمناؤں سے آئے، اتنی جلدی بھاگم بھاگ، آپ تشریف رکھیں اگر آپ کو یہ گفتگو پسند نہیں تو جو آپ کی پسند۔

روشن دین قادیانی:

دیکھئے! حضور صلی اللہ علیہ وسلم سب سے افضل واعلیٰ ہیں۔

راقم:

معاف رکھیں۔ میں آپ کی بات درمیان سے کاٹ رہا ہوں۔ کیاکوئی شخص حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے شان میں بڑھ سکتا ہے؟

روشن دین قادیانی:

توبہ توبہ، معاذ اﷲ! یہ تصور بھی نہیںہوسکتا۔

راقم:

تو ان شعروں کے متعلق آپ کا کیا خیال ہے کہ ؎

  1. محمد پھر اتر آئے ہیں ہم میں

    اور آگے سے بڑھ کر ہیں اپنی شان میں

  2. محمد دیکھنے ہوں جس نے اکمل

    غلام احمد کو دیکھے قادیان میں

(اخبار بدر قادیان نمبر۴۳ ج۲ ص۱۴، مورخہ ۲۵؍اکتوبر ۱۹۰۶ء)

ان اشعار میں اکمل قادیانی نے مرزاغلام احمد قادیانی کو حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے افضل واعلیٰ اور شان میں بڑھ کر کہا ہے۔ کیا اس سے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی توہین نہیں ہوئی؟ آپ کہتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے شان میں کوئی نہیں بڑھ سکتا۔ مگر آپ کی جماعت کا شاعر کہتا ہے کہ غلام احمد، حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے بڑھ کر ہے تو آپ صحیح کہتے ہیں؟ یا آپ کی جماعت کا اکمل قادیانی؟ ایک صحیح، ایک غلط، صحیح کون ہے غلط کون، فیصلہ فرمائیں؟

روشن دین قادیانی:

مولانا! آپ تو محض اعتراض کرتے ہیں۔ ہماری جماعت کے دوسرے سربراہ جناب بشیرالدین محمود احمد نے صاف کہا ہے کہ یہ شعر غلط ہیں۔ ان سے واقعتا حضور صلی اللہ علیہ وسلم

160

کی توہین کا پہلو نکلتا ہے،یہ غلط ہیں۔ ہمارا ان سے کوئی تعلق نہیں۔

(احمدیہ تعلیمی پاکٹ بک ص۲۰۸)

راقم:

جناب دیکھئے! کہ بشیرالدین محمود صاحب نے تو کہا کہ یہ شعر غلط ہیں۔مگر اکمل شاعر کہتا ہے کہ مرزاغلام احمدقادیانی کے حضور میں نے یہ شعر پڑھے، مرزاقادیانی نے تحسین کی۔ مجھے جزاک اﷲ کہا۔ ان شعروں کو جو خوبصورت قطعہ کی شکل میں لکھے ہوئے تھے۔ وہ گھر میں لے گئے۔

(الفضل قادیان مورخہ ۲۲؍اگست ۱۹۴۴ء ج۳۲ نمبر۱۹۶ ص۴)

بیٹا بشیرالدین کہے شعر غلط، باپ غلام احمد کہے جزاک اﷲ! اور کرے تحسین، تو اب آپ فرمائیں کہ باپ غلط یا بیٹا غلط، کون صحیح کون غلط؟ ایک شاعر، ایک شعر، اس کی باپ کرے تحسین، بیٹا کرے تغلیط تو صحیح کون غلط کون؟ وضاحت فرمائیے۔

روشن دین قادیانی:

مولانا آپ حوالہ دیں کہ مرزاقادیانی نے کہاں تحسین کی ہے۔

راقم:

فقیر ہزار بار حوالہ دکھانے کا پابند ہے مگر آپ لکھ کر دے دیں کہ اگر حوالہ دکھا دوں تو آپ باپ بیٹے میں سے کس کو صحیح اور کس کو غلط فرمائیں گے۔

روشن دین قادیانی:

دیکھئے مولانا آپ حوالہ دکھائیں تو سہی۔

راقم:

جناب فقیر حوالہ کا پابند ہے۔ مگر آپ کا ردعمل کیا ہوگا؟ وہ لکھوادیں۔

روشن دین قادیانی:

مولانا حوالہ ہے نہیں۔

راقم:

بالکل صحیح! اگر حوالہ نہ دکھا سکوں تو میری سزا تجویز کر دیں۔ میں اس پر دستخط کر دیتا ہوں۔ سزا تجویز کرنے کا بھی آپ کو اختیار دیتا ہوں۔ اگر حوالہ دکھا دوں آپ بشیرالدین اور غلام احمد میں سے کس کو غلط،کس کو صحیح فرمائیں گے؟ وہ آپ لکھ دیں۔

وہ لکھنے پر قطعاً آمادہ نہ ہوئے۔ ہزار جتن کئے مگر وہ نہ مانا۔ گدی کھجلائے، سر ہلائے، ہاتھ پاؤں مارے۔ ناک بھوں چڑھائے، مگر حوالے دیکھنے کے بعد ردعمل کیا ہوگا؟ کی تحریر پر آمادہ نہ ہوا۔ فقیرکی آواز قدرتاً بلند ہے۔ آہستہ سے آہستہ گفتگو بھی دور تک سنائی دیتی ہے۔ اگر یہ تڑاکم تڑاک آواز خوبی ہے تو قدرت کا عطیہ، اگر عیب ہے تو فہومنی، میری آواز سن کر حضرت مولانا عبدالرحمن صاحب ظفر بھی اپنے گھر سے آگئے۔ راقم نے پوری تفصیل عرض کی۔ مولانا نے ازراہ انصاف مکرم روشن دین صاحب سے فرمایا کہ بات صحیح ہے۔ حوالہ نہ دکھا سکیں تو مولانا کی سزا اور اگر دکھادیں تو آپ کا ردعمل تحریر ہو جائے۔مگر وہ صاحب نہ مانے۔ گم صم بنے بیٹھے رہے۔ راقم کا جب اصرار ہوا تو وہ بولے۔

161

روشن دین قادیانی:

دیکھئے! ہمارا حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے متعلق…

راقم:

میں آپ سے درخواست کرتا ہوں کہ آپ میرے سامنے مرزاغلام احمد قادیانی کو ’’مسیح موعود‘‘ نہ کہیں اور نہ ہی ’’علیہ السلام‘‘۔

روشن دین قادیانی:

تنگ نظری کی انتہاء ہے۔ میرا عقیدہ ہے، آپ کیوں روکتے ہیں؟

راقم:

میری تنگ نظری نہیں، آپ کا بھلا اسی میں ہے۔

روشن دین قادیانی:

تو مجھے اپنے عقیدہ کا برملا اظہار کرنے دیں کہ مرزاقادیانی، مسیح موعود علیہ السلام تھے۔

راقم:

جناب اگر آپ کو اپنے عقیدہ کے اظہار کا حق حاصل ہے تو کیا آپ مجھے بھی آپ میرے عقیدہ کے اظہار کا حق دیتے ہیں؟

روشن دین قادیانی:

بالکل کیوں نہیں؟

راقم:

میں نہیں چاہتا تھا کہ یہ الفاظ کہوں۔مگر آپ نے مجبور کر دیا تو آپ کے نزدیک مرزاقادیانی مسیح موعود، میرے نزدیک دجال۔ آپ کے نزدیک مرزاقادیانی علیہ السلام میرے نزدیک مستحق لعنت ونفرین ہیں۔ اب آپ اپنے عقیدہ کا اظہار کریں۔ میں اپنے عقیدہ کا۔ اب آپ کو ناگوار نہ گزرے، دونوں اپنے اپنے عقیدہ کا اظہار کرتے رہیں۔ میں یہ نہیں چاہتا تھا، یہ آپ نے مجبوراً مجھ سے کہلوایا ہے۔

روشن دین قادیانی:

جو کسی پر لعنت کرے وہ کہنے والے پر پڑتی ہے۔

راقم:

مجھے آپ کا یہ اصول بھی قابل قبول۔ میں نے کہا ایک دفعہ لعنتی۔ مرزاقادیانی نے لکھا ہزاربار، لفظ لعنت، لعنت، لعنت، لعنت کی گردان (نورالحق ص۱۵۸تا۱۶۲، خزائن ج۸ ص ایضاً) تو وہ ہزاربار لعنتی، ناراض نہ ہوں۔ یہ شخصیت پر اعتراض نہیں، ا س کی تحریر موجود ہے وہ اپنی تحریر کی رو سے اب جانچے پرکھے، ناپے تولے، کریدے کھودے جارہے ہیں۔

روشن دین قادیانی:

آپ کی تنگ نظری کا تو یہ عالم ہے کہ آپ ہمیں مرزائی کہتے ہیں۔ حالانکہ ہم احمدی ہیں۔

راقم:

ناراض نہ ہوں کہ یہ آپ کی جماعت کے متعلق مرزائی کا لفظ، ہم مسلمانوں نے نہیں بلکہ آپ نے خود تجویز کیا ہے۔

روشن دین قادیانی:

جھوٹ کی انتہاء ہوگئی۔

162

راقم:

نہیں سچ کی ابتداء ہے کہ آپ کے مرزاقادیانی کی زندگی میں، قادیان میں آپ کی جماعت کا سالانہ جلسہ ہوا۔ آپ کا مرزا، آپ کا قادیان، آپ کا سالانہ جلسہ، آپ کا شاعر، آپ کا شعر، آپ کے سامعین، آپ کا مولوی محمد علی ایم اے۔ اس کے متعلق شاعر نے کہا ؎

  1. کیا جس نے راز طشت ازبام عیسائیت کا

    یہی وہ ہیں یہی وہ ہیں یہی ہیں پکے مرزائی

(اخبار بدر قادیان مورخہ ۱۷؍جنوری ۱۹۰۷ء)

مرزاقادیانی کے زمانہ میں مرزاقادیانی کے قادیان میں مرزاقادیانی کے جلسہ پر مرزاقادیانی کے مرید نے اپنی جماعت کے متعلق مرزائی پکے مرزائی، پکے مرزائی کے لفظ کا استعمال کیا۔ مرزاقادیانی آپ کی جماعت نے آج تک ان شعروں پر اعتراض نہ کیا تو یہ میرا قصور نہیں۔ آپ کی جماعت کا یہ پسندیدہ نام ہے۔ گھبرائیں نہ، میں حکیم نورالدین کا بھی حوالہ پیش کردوں۔ وہ بھی کہتے ہیں۔ (میں اور اکثر عقلمند مرزائی…)

(کلمتہ الفصل ص۱۵۳)

روشن دین قادیانی:

نا، نا، نا۔ مولانا! بس مجھے اجازت، میں پھر حاضر ہوں گا۔

راقم:

آپ کی مرضی اگر جانا چاہیں تو بخوشی جاسکتے ہیں۔ آپ کو میں پابند نہیں کر سکتا۔ مگر کنری ضلع میرپورخاص سندھ کی ایک بات سن لیں۔

روشن دین قادیانی:

نہ، نہ، نہ۔ مجھے اجازت! یہ کہہ کر اٹھ کھڑے ہوئے۔ راقم نے مٹھائی کا لفافہ ان کے ہاتھ میں تھما دیا۔ انہوں نے کہا کہ اچھا آپ نہ رکھیں کسی کو دے دیں۔ فقیر نے عرض کیا کہ مرزائی جماعت میں اس کے بے شمار غریب لوگ مستحق موجود ہیں، ان کو آپ اپنے ہاتھوں سے دے دیں۔

روشن دین قادیانی:

اچھا جی! اجازت۔

راقم:

ٹھیک ہے۔ راقم سائیکل اٹھا کر سڑک پر لے گیا۔ حضرت مولانا عبدالرحمن صاحب ظفر بھی ہمراہ الوداع کہنے کے لئے گئے۔ جاتے ہوئے انہوں نے کہا کہ جی میں پھر حاضر ہوں گا۔ راقم نے عرض کیا کہ میں آپ کے لئے سراپا انتظار ہوں۔ مگر راقم کا وجدان کہتا ہے کہ سینکڑوں مرزائی مبلغین یہ وعدہ کر کے گئے۔ مگر وہ وعدہ ہی کیا جو وفا ہو گیا۔ ان کی بھی حالت یہی ہوگی۔ خدا کرے آجائیں۔ اگر تشریف لائیں گے تو بخاریؒ کے خدام پھر بھی حاضر دیدہ باید۔ ان کو رخصت کر کے آئے تو مولانا عبدالرحمن صاحب ظفر نے فرمایا کہ وہ

163

کنری کا آپ کیا واقعہ سنانا چاہتے تھے؟ جو انہوں نے نہ سنا۔

فقیر نے عرض کیا کہ ہوایوں کہ آج سے برسوں پہلے کنری سندھ میں ایک مسلمان لوہار کی دکان پر ایک مرزائی آگیا۔ اس نے مرزاغلام احمد قادیانی کی مدح وتوصیف شروع کر دی اور کہا کہ مرزاقادیانی تمام نبیوں کا سردار تھا۔ مسلمان لوہار دستے والی کلہاڑی کی دھار تیز کرتا رہا۔ جب مرزائی مبلغ کی تبلیغ کرتے کرتے منہ میں جھاگ تیرنے لگی تو مسلمان نے کلہاڑی لہرا کر مرزاقادیانی کو برا بھلا کہنا شروع کر دیا اور مرزائی سے مطالبہ کیا کہ جو گالیاں مرزاقادیانی کو میں نے دی ہیں، تم بھی دہراتے چلو تاکہ سبق یاد ہو جائے۔ مرزائی ڈر کے مارے گفتنی وناگفتنی ان گالیوں کی گردان مرزاقادیانی کو سنانے میں مسلمان لوہار سے بھی چند قدم آگے۔

اب مسلمان نے وہ تیز دھار کلہاڑی مرزائی کے ہاتھ تھما دی اور گردن جھکا کر اس کے سامنے بیٹھ گیا اور کہا کہ آپ مجھ سے یہ مطالبہ کریں کہ میں نعوذ باﷲ! حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی توہین کروں ورنہ کلہاڑی آپ کے ہاتھ میں ہے۔ یہ کہہ کر لوہار رو پڑا کہ میں مر جاؤں گا۔ ٹکڑے ٹکڑے ہونا قبول کر لوں گا۔ لیکن حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی توہین کا تصور بھی نہیں کر سکتا۔ یہ کہہ کر اٹھ کھڑا ہوا اور کہا کہ مرزائی مبلغ صاحب آپ کے اور ہمارے سچے جھوٹے ہونے کی یہی دلیل ہے۔ سچے ہی کی توہین ناقابل برداشت، جھوٹے کی جتنی توہین کئے جاؤ، اس جھوٹے کے ماننے والوں پر اس کا اثر نہ ہوگا۔

قارئین کی دلچسپی ومعلومات کے لئے وہ حوالے نقل کر دیتا ہوں جو روشن دین نے تحریر کے خوف سے دیکھنے کی زحمت گوارا نہ کی۔ اکمل کے شعر (اخبار بدر قادیان شمارہ نمبر۴۳ ج۲ مورخہ ۲۵؍اکتوبر ۱۹۰۶ء) میں ہے۔ اخبار دفتر ختم نبوت ملتان میں اصل موجود ہے۔ ان شعروں کو غلط کہنے کی تفصیل قاضی نذیر مرزائی کی احمدیہ تعلیمی پاکٹ بک میں بشیرالدین محمود کا انکار اور ان اشعار سے اظہار لاتعلقی اس میں موجود ہے۔ جب کہ ان اشعار کی تحسین، اور تعریف از مرزاغلام احمد قادیانی (اخبار الفضل قادیان مورخہ ۲۲؍اگست ۱۹۴۴ء ج۳۲ ش۱۹۶) میں دیکھی جاسکتی ہے۔ یہ اخبار بھی اصل دفتر ختم نبوت ملتان میں موجود ہے۔ اب مرزائی احباب بھی ہرسہ حوالہ جات دیکھ کر فیصلہ کر لیں کہ مرزاغلام احمد قادیانی اور مرزابشیرالدین میں سے کون جھوٹا تھا اس لئے کہ مرزاقادیانی ان شعروں کو صحیح کہتا ہے، بیٹا غلط۔ کیا انصاف پسند مرزائی اس کی وضاحت کریں گے؟ تاقیام قیامت مرزائی حضرات پر میرا یہ قرض ہے۔ الیس منکم رجل رشید!

ض … ض … ض

164

مناظرہ جناح کالونی … فیصل آباد

’’یہ مناظرہ دو مجلسوں میں حافظ محمد حنیف (ندیم سہارنپوریؒ) اور فیصل آباد کے مشہور مرزائی مبلغ اکرام صاحب کے درمیان ہوا۔ یہ صاحب مرزائیوں کی نام نہاد عبادت گاہ جو امین پور بازار میں ہے، اس کے متولی محمد یوسف کے بڑے صاحبزادے ہیں۔ پہلی نشست جمعہ ۲؍دسمبر ۱۹۸۳ء بعد نماز عصر طاہر صاحب کے مکان پر اور دوسری نشست مراد کلاتھ ہاؤس والے مشہور مرزائیوں کی کوٹھی پر ہوئی۔ دوسری نشست میں مولانا اﷲ وسایا صاحب بھی شریک ہوئے۔ ذیل میں اس مناظرہ کی مکمل روئیداد پیش خدمت ہے۔‘‘

محمد طاہر صاحب جناح کالونی کے ایک مسلمان نوجوان ہیں۔ ان کی ایک مرزائی نوجوان سے دوستی اور تعلقات تھے۔ طاہر صاحب نے ایک دن باتوں باتوں میں اپنے دوست کو کہاکہ آپ مرزائیت کو سمجھنے کی کوشش کریں۔ مرزائی نوجوان نے کہا میں ضرور سمجھنے کی کوشش کروں گا۔ چنانچہ ان سے ایک مجلس میں گفتگو کا طے ہوگیا۔

طاہر صاحب نے حضرت مولانا تاج محمود صاحبؒ سے فون پر رابطہ قائم کر کے صورتحال ان کے سامنے رکھی۔ مولانا نے اسے کہا کہ آپ اس نوجوان کو لے کر آجائیں۔ حافظ محمد حنیف یہاں موجود ہیں، وہ گفتگو کریں گے اور ان نوجوان کو سمجھائیں گے۔ مولانا نے حافظ صاحب کو بتادیا تھا کہ دو نوجوان آرہے ہیں۔ آپ ان سے گفتگو کریں۔ وہ یہاں انتظار کرتے رہے۔ لیکن وہ اپنی کسی مصروفیت کی وجہ سے یہاں نہ آسکے۔ اس کے بعد جمعہ ۲؍دسمبر کو طاہر صاحب مرزائی نوجوان سے گفتگو کا وقت طے کر کے آئے۔ ان کے ساتھ بخاری مسجد جناح کالونی کے خطیب مولانا محمد یونس صاحب بھی تھے۔ حافظ صاحب کے بارے میں پوچھا اور اپنا مدعا بیان کیا۔ ہر چند حافظ صاحب نے اصرار کیا کہ کوئی اور وقت مقرر کر لیں۔ اس دوران میں کچھ کتابیں بھی ربوہ سے منگوالوں گا۔ لیکن چونکہ وقت طے تھا اس لئے انکار پر ان کا اصرار غالب آگیا اور حافظ صاحب ان کے ساتھ چلے گئے۔

165

نماز عصر کے بعد وہاںپہنچے۔ تھوڑی دیر بعد مرزائی نوجوان بھی آگئے۔ ان کے ہمراہ مرزائی جماعت فیصل آباد کے ایک سرکردہ راہنما اکرام صاحب بھی تھے۔ ان کے پہنچنے پر مرزائی دوستوں کو مخاطب کرتے ہوئے حافظ صاحب نے سلسلۂ کلام یوں شروع کیا۔

حافظ محمد حنیف:

مجھے خوشی ہے آپ تشریف لائے۔ گفتگو شروع کرنے سے پہلے میری آپ سے گزارش ہے کہ میں اور میرے تمام دوست مسلمان اور محمدی ہیں۔ اگر ہمیں کسی کافر، مشرک، عیسائی وغیرہ کو تبلیغ کاموقع ملے گا تو ہم اس کے سامنے سرکاردوعالم صلی اللہ علیہ وسلم کی خوبیاں، کمالات اور اپنے سچے مذہب اسلام کی صداقت اور حقانیت کو واضح کریں گے۔ یہ نہیں کہ اس کو ہم یہ تو بتادیں کہ ہم محمدی ہیں۔ ہمارا مذہب اسلام ہے اور بحث ہم شروع کر دیں حضرت موسیٰ علیہ السلام کی کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام خدا کے پیغمبر تھے یا نہیں تھے؟ اسی طرح اگر کوئی عیسائی ہمارے پاس آتا ہے اور ہمیں تبلیغ کرتا ہے تو وہ بھی حضرت عیسیٰ علیہ السلام سے کسی پہلے نبی پر گفتگو نہیں کرے گا۔ بلکہ حضرت عیسیٰ بن مریم علیہ السلام کی خوبیاں اپنے مذہب کے مطابق پیش کرے گا۔ اسی طرح آپ لوگ (مرزائی) ہمیں دعوت تو یہ دیتے ہیں کہ مرزاغلام احمد قادیانی نبی تھا۔ یہ تھا، وہ تھا اور جھگڑا شروع کر دیں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا… یہ گفتگو خلاف اصول اور خلاف ضابطہ ہے۔ آپ ہمیں یہ بتائیں کہ مرزاغلام احمد قادیانی میں کیا کیا خوبیاں تھیں۔ ہم آپ کو یہ بتائیں گے کہ ان میں کیا کیا خامیاں تھیں۔ ان کا کردار کیسا تھا؟ اخلاق کیسا تھا؟ وغیرہ وغیرہ۔

کسی باقاعدہ اور باضابطہ گفتگو سے پہلے ہمیں یہ موضوع متعین کرنا ہوگا کہ ہم فلاں موضوع پر گفتگو کریں گے۔

اکرام مرزائی:

مولوی صاحب! ہمارا اور آپ کا اختلاف یہ ہے کہ آپ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو زندہ مانتے ہیں اور یہ قرآن کے خلاف ہے اور ہم نے گفتگو حیات ووفات عیسیٰ(علیہ السلام) کے موضوع پر کرنی ہے اور میرا یہ دعویٰ ہے کہ آپ اس موضوع کی طرف نہیں آئیں گے۔

166

حافظ محمد حنیف:

یہ آپ نے کیسے دعویٰ کر لیا کہ میں حیات عیسیٰ علیہ السلام کی طرف نہیں آؤں گا۔ میں اس موضوع پر ضرور گفتگو کروں گا۔ لیکن پہلے موضوع کے تعین پر گفتگو ہو جائے۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو مار کر بھی آپ نے یہی کہنا ہے کہ مرزاغلام احمد قادیانی نبی تھا۔ اس لئے کیوں نہ ہم پہلے ہی مرزاصاحب کی ذات پر گفتگو کر لیں۔ جس شخص نے سرکاردوعالم صلی اللہ علیہ وسلم کی مسند ختم نبوت پر ڈاکہ ڈالا ہے اور امت میں انتشار پیدا کیا ہے، اس ذات پر کیوں بحث نہ کی جائے؟

اکرام مرزائی:

دیکھا! میں کہتا تھا کہ حیات عیسیٰ پر گفتگو نہیں کریں گے۔ آپ اس کا ثبوت ہی نہیں دے سکتے کہ عیسیٰ علیہ السلام زندہ ہے اور وہی عیسیٰ علیہ السلام نازل ہوگا۔ کیاآپ قرآن میں دکھا سکتے ہیں کہ عیسیٰ علیہ السلام آسمان پر اٹھا لئے گئے

حافظ محمد حنیف:

اگرچہ ہمارا موضوع طے نہیں ہے اور آئندہ گفتگو کے لئے موضوع کا تعین کیا جارہا ہے۔ لیکن پھر بھی میں یہ واضح کرتا چلوں کہ قرآن کی آیت: ’’وما قتلوہ یقیناً۰ بل رفعہ اﷲ الیہ وکان اﷲ عزیزاً حکیما (النساء:۱۵۷،۱۵۸)‘‘

جس کا مفہوم یہ ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو یقینا قتل نہیں کیاگیا۔ بلکہ ﷲتعالیٰ نے ان کو اپنی طرف اٹھا لیا اور ﷲتعالیٰ بڑا غالب اور حکمت والا ہے۔ اس آیت سے ثابت ہوتا ہے کہ وہ یعنی یہودی حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو قتل کرنا چاہتے تھے۔ ﷲتعالیٰ نے اسی عیسیٰ علیہ السلام پیغمبر خدا کو اوپر اٹھالیا جسے وہ قتل کرنا چاہتے تھے۔ رہی یہ بات کہ اس میں آسمان کا ذکر کہاں ہے؟ تو اس سلسلہ میں میری آپ سے یہ گزارش ہے کہ اگر میں آپ کو تفسیروں کے حوالے دوں تو آپ ان کا انکار کر دیں گے۔ اس لئے میں مناسب سمجھتا ہوں کہ آپ کو حدیث رسول ﷲ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف لے چلوں۔ کیونکہ قرآن میں ایک مسئلہ اجمالی رنگ میں بیان ہوا اور حدیث رسول ﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے تفصیل سے بیان کر دیا۔ مثلاً حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام نازل ہوں گے۔ (ابھی حافظ صاحب یہیں تک پہنچے تھے کہ مرزائی اکرام درمیان میں بول پڑا)

167

اکرام مرزائی:

نہ، نہ، نہ! میرا مطلب یہ ہے کہ پہلے آپ رفع آسمانی ثابت کریں۔

حافظ محمد حنیف:

میں نے تو رفع ثابت کر دیا یہودی جس کو قتل کرنا چاہتے تھے، اﷲ نے اس کا رفع فرمایا۔

اکرام مرزائی:

رفع سے مراد بلندی مرتبت ہے نہ کہ روح اور جسم کا اوپر اٹھایا جانا۔

مولانا محمد یونس:

یہ معنی قیاس ہے۔ آپ قیاس کی طرف نہ جائیں اور من گھڑت ترجمہ نہ کریں۔

حافظ محمد حنیف:

خدا نے بہت سی چیزیں حلال کی ہیں اور بہت سی حرام کی ہیں۔ قرآن میں کچھ چیزوں کے حلال اور حرام کا تذکرہ ہے۔ مثلاً ایک صاحب آپ سے سوال کرے کہ گدھا حلال ہے یا حرام اور ساتھ ہی یہ تقاضا بھی کرے کہ اس کا جواب قرآن سے دیں۔ مجھے آپ بتائیں کہ آپ قرآن سے دکھا سکتے ہیں کہ گدھا حلال ہے یا حرام؟ ظاہر ہے کہ ہمیں کسی چیز کی حلت یا حرمت پر قرآن پاک میں اشارہ نہیں ملتا تو ہمیں حدیث رسول ﷲ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف رجوع کرنا پڑے گا۔

اگر آپ یہی دیکھنا چاہتے ہیں کہ قرآن پاک میں آسمان کا ذکر کہاں ہے؟ تو میں بھی دعوے سے کہہ سکتا ہوں کہ قرآن پاک میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام پر موت کا لفظ بھی کہیں نہیں آیا۔ ثبوت آپ کے ذمے؟ میں پھر آپ سے کہتا ہوں کہ آپ مرزا غلام احمد قادیانی سے جان نہیں چھڑانا چاہتے ہیں جو ہمارے اور آپ کے اصلی اختلاف کا سبب ہے۔

اکرام مرزائی:

آپ نے سوال کیا کہ قرآن میں کہیں موت کا لفظ نہیں آیا۔ حالانکہ قرآن مجید میں ’’وما محمد الا رسول قد خلت من قبلہ الرسل‘‘ موجود ہے۔ اس آیت میں ہے کہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے پہلے کے رسول سب وفات پاچکے۔ جیسا کہ ’’قد خلت من قبلہ الرسل‘‘ سے واضح ہے۔ اگر سب نبی فوت نہیں ہوئے تو یہ اس آیت کے خلاف ہے۔ کیوں جی!’’قد خلت‘‘ کا کیا معنی ہے؟

حافظ محمد حنیف:

’’قد خلت‘‘ کا معنی جگہ چھوڑنا، خالی کرنا اور گزرنا ہے۔ موت نہیں

168

ہے۔ میں نے آپ سے سوال یہ کیا تھا کہ آپ قرآن میں موت کا صحیح لفظ دکھائیں۔

اکرام مرزائی:

گزرنا بھی موت کے معنی میں ہی استعمال ہوتا ہے۔

حافظ محمد حنیف:

اگر یہی معنی ہے تو پھر قرآن پاک کی اس آیت ’’وکذالک ارسلنک فی امۃ قد خلت من قبلہا امم (الرعد:۳۰)‘‘

یہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو فرمایا گیا ہے جس کا مطلب ہے کہ اے نبی صلی اللہ علیہ وسلم بھیجا ہم نے آپ کو ایک امت میں اس سے پہلے بہت سی امتیں ہو چکی ہیں۔ اگر ’’قد خلت‘‘ کا معنی موت کیا جائے تو اس کا مطلب یہ ہوگا کہ پہلی سب امتیں مر چکی ہیں۔ حالانکہ عیسائی اب بھی موجود ہیں جو اپنے کو حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا امتی کہلاتے ہیں اور یہودی اب بھی ہیں جو حضرت موسیٰ علیہ السلام کے امتی ہونے کے دعویدار ہیں۔ اگر اس طرح معنی کئے جاتے رہے تو قرآن پاک معاذ اﷲ غلط ٹھہرتا ہے۔

اکرام مرزائی:

میں عالم نہیں ہوں۔ لیکن بہرحال عیسیٰ علیہ السلام کو زندہ ماننا اور یہ کہنا کہ انہیں آسمان پر اٹھایا گیا تھا خلاف معمول ہے۔ (یعنی قانون قدرت کے خلاف ہے) جب یہ خلاف معمول ہے تو ہمیں پہلے اسی پر گفتگو کرنا چاہئے۔

حافظ محمد حنیف:

کہاں آپ موت ثابت کر رہے تھے؟ کہاں یہ کہنے لگ گئے کہ یہ خلاف معمول (یعنی قانون قدرت کے خلاف) ہے۔ لیکن اگر واقعی یہ خلاف معمول ہے تو آپ کے مرزاقادیانی نے لکھا ہے کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام آسمان پر زندہ موجود ہیں۔

’’ولم یمت ولیس من المیتین‘‘

(نورالحق حصہ اوّل، خزائن ج۸ ص۶۹)

تو ذرا بتائیے کہ موسیٰ علیہ السلام کیسے زندہ ہیں اور آسمان پر کیسے پہنچ گئے؟

اکرام مرزائی:

یہ غلط ہے مرزاصاحب نے کہیں نہیں لکھا۔

حافظ محمد حنیف:

یہ ذمہ داری میری ہے کہ میں حوالہ دکھاؤں۔ اگر میں حوالہ دکھادوں تو پھر آپ کی ذمہ داری ہے کہ اس بات پر گفتگو کے لئے تیار ہو جائیں گے کہ مرزاصاحب کیا تھا اور کیا نہیں تھے۔ ان کا کردار کیا تھا اور اخلاق کیسے تھے؟

169

اکرام مرزائی:

نہیں پھر بھی ہم گفتگو اسی موضوع پر کریں گے کہ عیسیٰ علیہ السلام زندہ ہیں یا نہیں؟

حافظ محمد حنیف:

آپ یہ کہہ چکے ہیں کہ میں عالم نہیں تو آپ ایک علمی بحث کیوں چھیڑنا چاہتے ہیں۔ آپ کامقصد یہی ہے کہ مرزاقادیانی کے صدق وکذب کی آسان اور عام فہم بحث کو چھوڑ کر مشکل الفاظ کی بحث شروع کر دی جائے اور پھر لغت کی کتابوں تک نوبت پہنچ جائے۔ جو نہ آپ کی سمجھ میں آنے والی ہے اور نہ ہی ان لوگوں کی جو یہاں موجود ہیں۔

دیکھئے جناب! مرزاقادیانی آپ کے لئے حجت ہیں وہ جو کچھ فرمائیں گے، گو وہ ہم نہیں مانتے۔ لیکن آپ کو بلا چون وچرا قبول کر لینا چاہئے۔ آپ کے مرزاقادیانی نے لکھا ہے کہ یہ مسئلہ دین کے ارکان میں سے نہیں ہے۔

(ازالہ اوہام ص۱۴۰، خزائن ج۳ ص۱۷۱)

جب یہ مسئلہ دین کے ارکان میں سے ہی نہیں ہے اور جیسا کہ آپ کے مرزاقادیانی نے لکھا ہے تو اس پر بحث کیوں کرتے ہیں؟

اکرام مرزائی:

یہ غلط ہے جھوٹ ہے، مرزاقادیانی نے نہیں لکھا۔

حافظ محمد حنیف:

حوالہ دکھانا میری ذمہ داری ہے۔ اگر میں نہ دکھا سکوں تو میں جھوٹا۔

اکرام مرزائی:

تو پھر ٹھیک ہے، یہ حوالہ دکھائیں۔

سامعین:

ٹھیک ہے، یہ حوالہ ضرور دکھائیں۔ چنانچہ مرزائیوں اور مسلمان دوستوں کے مشورہ سے طے پایا کہ یہ گفتگو اچانک طے ہوئی تھی، کتابیں وغیرہ موجود نہیں تھیں۔ اس لئے گفتگو جمعہ ۹؍دسمبر کو ایک دوسرے مسلمان دوست ایوب صاحب کے مکان پر ہوگی۔ اس مرزائی نے اصرار کیا کہ گفتگو میرے مکان پر ہو۔

حافظ محمد حنیف:

نہ آپ کی جگہ پر نہ میری جگہ پر بلکہ یہ غیرجانبدار قسم کے دوست ہیں، اس لئے گفتگو ایوب صاحب کے مکان پر ہوگی۔

نماز مغرب کا وقت لیٹ ہواجارہا تھا کہ گفتگو آئندہ پر ملتوی کر کے یہ مجلس برخواست کر دی گئی۔

170

۹؍دسمبر:

ہمارا اندازہ تھا جو بالکل صحیح نکلا کہ آئندہ جمعہ کو یہ گفتگو سے بچتے ہوئے، ربوہ سے اپنا کوئی بڑا لیڈر بلوائے گا۔ چنانچہ میں نے بھی مولانا اﷲ وسایا صاحب کو اطلاع دے کر لاہور سے بلوالیا۔

۹؍بجے گفتگو کا طے تھا۔ طاہر صاحب جو اس گفتگو کا اصل محرک تھے، انہیں قدرے تاخیر ہوگئی۔ حافظ صاحب نے فوراً رکشہ کیا اور جناح کالونی پہنچ گئے۔ تاکہ مرزائی دوست یہ نہ کہیں کہ دیکھو ۹؍بجے کا وعدہ کیا تھا اور نہیں آئے۔

معاملہ الٹ ہوگیا:

یہ دونوں حضرات وہاں پہنچے تو معلوم ہوا کہ ایوب صاحب نے مکان پر گفتگو رکھنے کی بجائے فیصل آباد کے مشہور مرزائی مراد کلاتھ ہاؤس والوں کی کوٹھی پر رکھ دی ہے۔ ہم فوراً سمجھ گئے کہ حیلے بہانے سے یہ گفتگو سے جان چھڑانا چاہتے ہیں۔ لیکن پھر بھی یہ دونوں حضرات کتابیں اٹھا کر فوراً مرزائیوں کے مکان پر پہنچ گئے۔ مسلمان صرف پانچ یا چھ آدمی تھے اور مرزائی پندرہ، سولہ۔ وہ کچھ کمرے میں بیٹھ گئے، کچھ مکان کے صحن میں اور کچھ مکان سے باہر، یہ چھ مسلمان ان کے محاصرے میں تھے۔ اس پر مستزاد یہ کہ ایک پروفیسر نورالحق نور کو ربوہ سے بلایا ہوا تھا۔ ان حضرات نے کتابیں میز پر رکھیں تو پروفیسر صاحب نے اپنا یوں تعارف کرایا۔

’’مجھے پروفیسر نورالحق نور کہتے ہیں۔ میں امریکہ، افریقہ اور دوسرے بہت سے ممالک کے دورے کر چکا ہوں۔‘‘

مولانا اﷲ وسایا:

آپ کہاں سے تشریف لائے ہیں؟

پروفیسرصاحب:

میں ربوہ رہتا ہوں اور وہیں سے حاضر ہوا ہوں اور آپ کا تعارف؟

مولانا اﷲ وسایا:

فقیر کا نام اﷲ وسایا ہے۔ فقیر ربوہ میں ہی رہتا ہے اور مجلس تحفظ ختم نبوت کا ادنیٰ خادم ہے۔

چہروں پر ہوائیاں اڑنے لگیں:

مولانا اﷲ وسایا نے جب اپنا نام اور تعارف کرایا تو ان کے چہروں پر ہوائیاں اڑنے لگیں۔ ایک رنگ آئے اور ایک جائے کہ یہ کون سی بلا ہمیں چمٹ گئی۔

171

پروفیسرصاحب:

میں دو باتیں کرنا چاہتا ہوں۔

مولانا اﷲ وسایا:

آپ دو چھوڑ تین باتیں کریں۔ لیکن پہلے میری ایک بات سن لیں۔

طاہر صاحب:

ہمارے اور اکرام صاحب کے درمیان ایک حوالے پر آکر گفتگو ختم ہوئی تھی۔ حوالہ یہ تھا کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی حیات کا مسئلہ ایمانیات کا جز نہیں ہے۔ مولانا محمد حنیف صاحب یہ حوالہ دکھانے کے پابند ہیں۔ پہلے حوالہ، پھر کوئی اور بات، سب نے کہااچھا تو سنائیے حوالہ؟

(ازالہ اوہام ص۱۴۰، خزائن ج۳ ص۱۷۱) پر لکھا ہے: ’’مسیح کے نزول کا عقیدہ کوئی ایسا نہیں، جو ہمارے ایمانیات کی جز یا ہمارے دین کے رکنوں میں سے کوئی رکن ہو۔ بلکہ صدہا پیش گوئیوں میں سے ایک پیش گوئی ہے۔ جس کو حقیقت اسلام سے کچھ بھی تعلق نہیں۔ جس زمانے تک یہ پیش گوئی بیان نہیں کی گئی تھی۔ اس زمانے تک اسلام کچھ ناقص نہیں تھا اور جب بیان کی گئی تو کچھ کامل نہیں ہوگیا۔‘‘

یہ حوالہ انتہائی واضح ہے۔ ذرا سوچئے جب یہ مسئلہ دین کے رکنوں میں سے کوئی رکن نہیں ہے اور اس مسئلہ کا حقیقت اسلام سے کوئی تعلق نہیں ہے تو پھر اختلاف اس پر نہ ہوا۔ بلکہ مرزاقادیانی کی ذات پر ہوا۔ مرزاصاحب خود فرماتے ہیں:’’کل مسلم یقبلنی ویصدق دعوتی الا ذریۃ البغایا‘‘

ہر مسلمان نے مجھے قبول کیا اور میری دعوت کی تصدیق کی مگر کنجریوں کی اولاد نے مجھے قبول نہیں کیا۔

(آئینہ کمالات اسلام ص۵۴۷،۵۴۸، خزائن ج۵ ص ایضاً)

مرزاصاحب کو ساری دنیا کے مسلمان نہیں مانتے، اسی جرم کی وجہ سے مرزاصاحب نے تمام دنیا کے مسلمانوں کو بیک قلم کنجریوں کی اولاد قرار دے دیا۔ کنجریوں کی اولاد اس لئے نہیں کہا کہ مسلمان حیات عیسیٰ علیہ السلام کا عقیدہ رکھتے ہیں۔ بلکہ یہ گالی اس لئے دی کہ وہ مرزاصاحب کو نہیں مانتے۔ آگے سنئے!

مرزاصاحب کا ایک لڑکا بشیراحمد ایم۔اے ہے۔ اس نے اپنی کتاب میں لکھا ہے جو

172

یہ میرے ہاتھ میں ہے کہ ’’ہر وہ شخص جو موسیٰ کو مانتا ہے۔ مگر عیسیٰ کو نہیں مانتا۔ عیسیٰ کو مانتا ہے مگر محمد رسول ﷲ صلی اللہ علیہ وسلم کو نہیں مانتا، محمد رسول اﷲ کو مانتا ہے۔ مگر مسیح موعود (مرزاغلام احمد) کو نہیں مانتا، وہ نہ صرف کافر بلکہ پکا کافر اور دائرہ اسلام سے خارج ہے۔‘‘

(کلمتہ الفصل ص۱۱۰)

یہ تمام دنیا کے مسلمانوں کو جو کافر بلکہ پکا کافر قرار دیا گیا ہے۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی حیات کی وجہ سے نہیں بلکہ مرزاصاحب کی ذات کی وجہ سے قرار دیا ہے۔

حافظ صاحب کی گفتگو یہیں تک پہنچی تھی۔ ان سے اس کا جواب نہ بنتا تھا، نہ بنا۔ البتہ گفتگو روکنے یا یوں سمجھئے کہ مزید ذلت ورسوائی سے بچنے کے لئے اکرام صاحب نے کترنی کی طرح زبان چلاتے ہوئے حضرت داؤد علیہ السلام حضرت یوسف علیہ السلام، حضرت یونس علیہ السلام، حضرت لوط علیہ السلام اور کچھ دوسرے نبیوں پر اتنے گندے اور سوقیانہ الزام لگائے کہ الامان والحفیظ!

مولانا اﷲ وسایا:

کیا آپ یہ سمجھتے ہیں کہ انبیاء کرام علیہم السلام کے یہاں کوئی وارث نہیں ہیں؟ جب یہاں کسی دوسرے نبی کا ذکر ہی نہیں ہے تو اصل گفتگو سے فرار کیوں؟ اور خلط مبحث کیوں کیا جارہا ہے؟ اگر آپ کا مطلب بحث برائے بحث ہے تو چشم ماروشن دل ماشاد۔ سنئے! مرزاصاحب کی ایسی عبارت میں پیش کر سکتا ہوں۔ جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ العیاذ باﷲ! خدا نے مرزا سے بدفعلی کی تھی۔ ابھی مولانا اﷲ وسایا صاحب نے اتنی ہی بات کی تھی کہ مرزائیوں نے شور مچادیا۔ بکواس ہے، غلط ہے۔

مولانا اﷲ وسایا:

شرافت کا جواب شرافت ہے۔ یہ شخص اٹھارہ نبیوں کی توہین کر گیا۔ آپ چپ رہے۔ میں نے مرزاقادیانی کی ایک بات کی تو گالیاں دیتے ہو۔ مجھ سے حوالہ مانگو کہ مرزا نے یہ کہاں لکھا ہے؟

لیکن مرزائیوں نے صاف انکار کر دیا کہ ہم کوئی بات نہیں کرتے، ان کے انکار پر دوستوں نے کتابیں اٹھائیں اور بخاری مسجد میں آگئے۔ ان حضرات کو دیکھ کر وہاں محلہ کے نوجوان جمع ہوگئے۔

173

مولانا اﷲ وسایا صاحب نے کتابیں سامنے رکھ لیں اور حوالے سنانے شروع کئے۔ حوالے سنکر سب توبہ توبہ کر اٹھے۔ سب نوجوانوں نے اصرار کیا کہ رات کو درس قرآن پاک ہو جائے۔ مولانا اﷲ وسایا صاحب نے جمعہ سمندری پڑھانا تھا، وعدہ کر لیا گیا کہ میں سمندری سے شام کو واپس آجاؤں گا۔ آپ درس قرآن پاک کا اعلان فرما دیں… رات کو اچھا خاصا اجتماع ہوا، مولانا اﷲ وسایا صاحب نے درس قرآن پاک دیا اور مرزائیت کا کچا چٹھا کھولا۔ اگرچہ مرزائیوں کی ذلیل اور کمینہ حرکت کی وجہ سے گفتگو ادھوری رہ گئی۔ تاہم دوستوں کے ساتھ مجلس اور رات کے درس قرآن سے وہ مقصد پورا ہوگیا۔

ض … ض … ض

174

مباہلہ کا چیلنج منظور ہے

قادیانی خلیفہ مرزاطاہر احمد کے نام کھلا خط

جناب مرزاطاہر احمدہیڈ آف دی قادیانی جماعت ساکن لندن!

والسلام علیٰ من اتبع الہدی!

جون ۱۹۸۸ء کے وسط میں آپ کا چار سطری بیان مباہلہ کے عنوان سے پاکستان کے اخبارات میں شائع ہوا۔ پاکستان وبرطانیہ کے متعدد علمائے کرام نے اپنے اپنے طور پر مباہلہ کا چیلنج قبول کرنے کا اعلان کیا۔ ۶؍جولائی ۱۹۸۸ء تک پاکستان کے کسی اخبار میں ان حضرات علمائے کرام کے مباہلہ قبول کرنے کے متعلق آپ کا ردعمل معلوم نہیں ہوا۔ بالآخر عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے چار خدام وقفہ وقفہ سے لندن پہنچے۔ ۹؍جولائی ۱۹۸۸ء کے اخبار ’’ملت‘‘ لندن میں آپ کی طرف سے مباہلہ کا پھر اعلان شائع ہوا۔ پاکستانی اخبارات کی نسبت اس میں کچھ زیادہ تفصیلات تھیں۔

چنانچہ ۱۲؍جولائی ۱۹۸۸ء کو عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے ہم چار خدام نے ایک اخباری بیان اور اشتہار اردو اخبارات لندن کو بھیجا۔ ۱۳؍جولائی ۱۹۸۸ء کے روزنامہ ملت لندن کے آخری صفحہ پر اشتہار اور اردو روزنامہ ’’جنگ‘‘ لندن کے پہلے صفحہ پر بیان شائع ہوا اور ۱۴؍جولائی ۱۹۸۸ء کو روزنامہ ’’جنگ‘‘ لندن کے صفحہ۷ پر اشتہار اور ’’ملت‘‘ لندن کے پہلے صفحہ پر بیان شائع ہوا۔ (جو لف ہذا ہیں) اس وقت ہمیں مباہلہ کی تفصیلات سوائے اخباری بیانات کے معلوم نہ تھیں۔ ۱۳؍جولائی ۱۹۸۸ء کو رجسٹر ڈاک سے جماعت احمدیہ عالمگیر کی طرف سے دنیا بھر کے معاندین اور مکفرین اور مکذبین کو ’’مباہلہ کا کھلا چیلنج‘‘ نامی ۲۶صفحاتی پمفلٹ اور اس کے ساتھ آپ کے پریس سیکرٹری رشید احمد چوہدری کے دستخطوں سے ۱۲؍جولائی ۱۹۸۸ء کا لکھا ہوا ایک خط موصول ہوا، جس میں لکھا تھا کہ:

175

’’آپ کا شمار بھی انہی معاندین احمدیت میں ہوتا ہے۔ اگر آپ بدستور اپنے معاندانہ مؤقف پر قائم ہیں تو آپ کو جماعت کی طرف سے باقاعدہ یہ دعوت دی جاتی ہے کہ آپ اس چیلنج کو بغور پڑھ کر پوری جرأت کے ساتھ اس کی تشہیر کریں۔‘‘

اس کو اوّل سے آخر تک غور سے پڑھا۔ اس میں آپ نے بعض امور کو خلط ملط کرنے کی کوشش کی ہے۔ جن کی تصریحات ذیل میں پیش خدمت ہیں۔ انہیں ملاحظہ فرمائیں۔ ان تصریحات کے بعد ہمیں کلیتاً آپ کے مباہلہ کا چیلنج قبول ہے۔ ہمیں یہ معلوم نہ ہوسکا کہ آپ نے آمنے سامنے میدان میں آکر مباہلہ کی بجائے تحریری مباہلہ کا راستہ اختیار کر کے قرآنی تصریحات کو کیوں نظر انداز کیا؟ یہی آپ کے دادا جان مرزاغلام احمد قادیانی سے شکایت تھی کہ انہوں نے بھی پیر مہر علی شاہ گولڑویؒ کے سامنے لاہور آنے کی جرأت نہ کی۔ یہی شکایت آپ کے والد مرزابشیرالدین سے تھی کہ وہ بھی آپ کی ہی جماعت کے ایک فرد (جو بعد میں مرزائیت سے تائب ہوگئے تھے) مولوی عبدالکریم مباہلہ کے سامنے تشریف نہ لائے۔ مولوی عبدالکریم نے مباہلہ کا چیلنج دیا۔ آپ کے والد نے قبول نہ کیا۔ انہوں نے مباہلہ نامی اخبار قادیان سے شائع کیا۔ ہم مباہلہ کی تفصیلات میں جانا نہیں چاہتے کہ وہ کن خفیہ امور، رنگین واردات اور سنگین الزامات پر آپ کے والد سے مباہلہ چاہتے تھے۔ تفصیلات اس لئے مناسب نہیں کہ آپ کی طبع نازک پر گراں گزریں گی۔ (اگر تفصیلات کسی کو درکار ہوں تو وہ ’’تاریخ محمودیت کے چند پوشیدہ اوراق‘‘، ’’کمالات محمودیہ‘‘، ’’ربوہ کا پوپ‘‘، ’’ربوہ کا رسپوٹین‘‘، ’’ربوہ کا مذہبی آمر‘‘، ’’شہر سدوم‘‘ وغیرہ نامی کتب کا مطالعہ فرمائے) آپ نے بھی آمنے سامنے نہ آکر اپنے ان اکابرین کی سنت پر عمل کیا ہے۔

آپ نے ۸؍جون ۱۹۸۸ء میں مباہلہ کا چلینج دیا۔ قدرت کی شان بے نیازی کہ آپ کے دادا مرزاغلام احمد قادیانی نے بھی جون ۱۸۹۳ء میں عبداﷲ آتھم عیسائی کو چیلنج دیا تھا۔ جو مرزاغلام احمد قادیانی کی پیشین گوئی دربارۂ عبداﷲ آتھم کا حشر ہوا، وہی آپ کے اس مباہلہ کا ہوگا۔ انشاء اﷲ العزیز! آپ کے دادا نے کہا کہ پندرہ دن سے مراد پندرہ ماہ ہیں اور

176

پندرہ ماہ میں عبداﷲ آتھم مر جائے گا۔ نہ مرا تو مجھ کو ذلیل کیا جائے۔ روسیاہ کیا جائے، میرے گلے میں رسہ ڈال دیا جائے، مجھ کو پھانسی دیا جائے۔ جب وہ پندرہ ماہ میں نہ مرا تو آتھم کی عیسائی پارٹی نے مرزاقادیانی کا پتلا بنا کر اس کے ساتھ وہی حشر کیا۔

مرزاطاہر صاحب! یقین جانئے! کہ اس تحریر کے لکھتے وقت ہمارے قلوب اس طرح ایمان ویقین سے لبریز ہیں کہ صرف ایک سال کی مہلت نہیں، اگر ہمیں آپ اپنے ساتھ آگ میں کود جانے کا چیلنج دیتے تو اس کے لئے بھی ہم تیار تھے۔ اگر ہے شوق تو اعلان کیجئے اور پھر حضرت محمد عربی صلی اللہ علیہ وسلم کی ختم نبوت کے ہم دیوانوں کا ذوق جنوں دیکھئے۔ اس بات کو دیوانوں کی بڑ نہ سمجھیں۔ پیدا کرنے والی ذات کی قسم اگر آپ آگ میں چھلانگ لگانے کا مباہلہ کا چیلنج دیں تو بھی ہمیں آگ کچھ نہیں کہے گی۔ جس پروردگار عالم نے محمد عربی صلی اللہ علیہ وسلم کے والد سیدنا حضرت ابراہیم علیہ السلام پر آگ کو ٹھنڈا کیا تھا، وہ محمد عربی صلی اللہ علیہ وسلم کے صدقے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے غلاموں پر بھی آگ کو ٹھنڈا کر دیں گے۔ بہرحال آپ کا میدان میں آمنے سامنے نہ آنا اور جون کے مہینہ کو اپنے مباہلہ کے لئے منتخب کرنا یا قدرت کا آپ سے منتخب کروانا ایسے امور ہیں جس پر ہم اﷲ رب العزت کے حضور سجدہ ریز ہیں۔

تصریحات

۱… آپ نے اپنے پمفلٹ مباہلہ کے صفحہ۱ پر لکھا ہے۔ ’’احمدیت کو قادیانیت اور مرزائیت کے فرضی ناموں سے پکارا جارہا ہے۔‘‘ آنجناب کے معرض وجود میں آنے سے پہلے آپ کے دادا مرزاغلام احمد قادیانی کے زمانہ میں آپ لوگوں کی جماعت کے سالانہ جلسہ پر آپ کے ایک شاعر نے یہ شعر کہے تھے ؎

  1. کیا راز طشت ازبام جس نے عیسائیت کا

    یہی وہ ہیں یہی وہ ہیں یہی ہیں پکے مرزائی

(اخبار بدر قادیان مورخہ ۱۷؍جنوری ۱۹۰۷ء)

یہ شعر آپ کے اخبار میں شائع ہوئے۔ اس وقت مرزاغلام احمد قادیانی سمیت

177

کسی مرزائی نے اپنے آپ کو مرزائی کہلوانے پر اعتراض نہ کیا۔ تعجب ہے کہ مرزائی کا خطاب پاکر آپ کے دادا اور آپ کے نام نہاد صحابہ تو خاموش رہیں اور آپ آج اس پر چیں بجبیں ہوں۔ آخر کیوں؟ جناب اگر مرزائی یا قادیانی کہنے سے آپ غصہ ہوتے ہیں تو مرزاقادیانی پر غصہ نکالیں یا حکیم نورالدین پر جس کا قول (کلمتہ الفصل ص۱۵۳) پر مرزابشیراحمد ایم۔اے آپ کے چچا نے نقل کیا ہے، جس میں آپ کی جماعت کے لئے ’’مرزائی‘‘ کا لفظ استعمال کیاگیا ہے۔

آپ کی جماعت کو قادیانی کہنے میں بھی ہمارا قصور نہیں۔ حکیم نورالدین کی وفات پر آپ لوگوں کا ’’گدی نشین‘‘ ہونے پر اختلاف ہوا۔ ایک گروہ نے لاہور کو اپنا مرکز بنایا اور دوسرے نے قادیان کو۔ اگر آپ لوگ نہ لڑتے تو یہ لاہوری اور قادیانی کا خطاب نہ پاتے، اور یہ بات بھی سمجھ سے بالاتر ہے کہ آپ لفظ قادیانی پر کیوں برامناتے ہیں؟ آخر مرزاغلام احمد بھی تو اپنے نام کے ساتھ قادیانی لکھتا تھا۔ اگر قادیانی کا لفظ برا ہے تو جو شخص اپنے نام کے ساتھ اس کو شامل کرتا تھا اس کے متعلق آپ کا کیا خیال ہے؟

ہم اپ کو احمدی اس لئے نہیں کہہ سکتے کہ ایسا کہنا ہمارے لئے ممکن نہیں۔ کیونکہ احمد آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا اسم گرامی ہے۔ اس لئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی امت تو اپنے آپ کو احمدی کہلا سکتی ہے، آپ لوگوں کے مرزا کا نام احمد نہیں تھا۔ بلکہ غلام احمد تھا۔ جس سے معلوم ہوا کہ احمد اور چیز ہے غلام اور چیز ہے۔ احمد کے ماننے والوں کو تو احمدی کہا جاسکتا ہے۔ مگر غلام کے ماننے والوں کو نہیں، انہیں غلامی کہیں غلمدی کہیں، قادیانی کہیں، مرزائی کہیں، کچھ کہیں یا کہلوائیں احمدی ان کو نہیں کہا جاسکتا۔

۲… آپ نے مباہلہ کے صفحہ۴ پر لکھا ہے کہ مباہلہ کے دو پہلو ہیں… ہم ان دونوں پہلوؤں کو پیش نظر رکھتے ہوئے دو طریق پر مباہلہ کا چیلنج شائع کررہے ہیں۔ ہر مکذب، مکفر کو کھلی دعوت ہے کہ مباہلہ کے جس چیلنج کو چاہے قبول کرے۔ ہمیں آپ کے مباہلہ کے دونوں پہلو قابل قبول ہیں۔ دادا کا بھی اور پوتے کا بھی۔

178

۳… آپ نے ص۶ پر کہا ہے کہ ہم سب مکذبین ومکفرین کو دعوت دیتے ہیں کہ وہ اس چیلنج کو غور سے پڑھ کر اس کو قبول کرنے کا اعلان کریں۔ ہم نہ صرف اس عبارت ص۶تا۸ میں مندرجہ مرزا کے دعاوی کو غلط سمجھتے ہیں۔ بلکہ مرزاقادیانی نے اپنی کتابوں میں جہاں کہیں جو دعاوی کئے ہیں، ان تمام دعاوی میں مرزاغلام احمد قادیانی کو مفتری، دجال، کذاب، لعنتی، کافر اور دائرۂ اسلام سے خارج سمجھتے ہیں اور پختہ ایمان ویقین کے ساتھ اعلان کرتے ہیں کہ مرزاقادیانی پر شیطان کا غلبہ تھا۔ اسے کوئی وحی نہ ہوتی تھی، وہ کذاب ودجال تھا۔ اگر ہم اس اعلان میں جھوٹے ہیں تو ہمارے پر خدا کی لعنت، ورنہ مرزاطاہر اور اس کی تمام روحانی وجسمانی ذریت پر بے شمار ’’لعنۃ اﷲ علیٰ الکاذبین‘‘

مرزاطاہر صاحب! آپ کا چیلنج نمبر۲ آپ کے رسالہ کے صفحہ۹ سے شروع ہو کر صفحہ۱۸ پر ختم ہوتا ہے۔ اس میں ۹،۱۰ پر ۹ باتوں کا ذکر ہے۔

نمبر۱… مرزاطاہر صاحب! آپ نے کہا کہ ہمارا یہ عقیدہ نہیں کہ مرزاخدا تھے۔

نہ جانے مباہلہ کے شوق میں آپ نے اپنے دادا کے دعاوی سے انکار کیوں شروع کر دیا ہے؟ حالانکہ مرزاقادیانی نے اپنی کتاب (کتاب البریہ ص۸۵، خزائن ج۱۳ ص۱۰۳) پر لکھا ہے کہ: ’’میں نے خواب میں دیکھا کہ میں خود خدا ہوں اور یقین کیا کہ میں وہی خدا ہوں۔‘‘ اپنی کتاب کے اگلے صفحہ پر دعویٰ کیا کہ: ’’زمین وآسمان کو بھی میں نے بنایا۔‘‘ (یاد رہے کہ نبی کا خواب بھی شریعت میں حجت ہوتا ہے)

نمبر۲… مرزاطاہر صاحب! آپ نے کہا کہ ہمارا یہ عقیدہ نہیں کہ مرزاخدا تھے یا خدا کے بیٹے تھے۔ حالانکہ مرزاقادیانی نے کہا کہ خداتعالیٰ نے مجھے کہا کہ ’’اسمع یا ولدی‘‘ اے میرے بیٹے سن!

(البشریٰ ج۱ ص۴۹، حقیقت الوحی ص۸۶، خزائن ج۲۲ ص۸۹)

پھر کہا کہ مجھے خدا نے کہا کہ ’’انت منی بمنزلۃ ولدی‘‘ تو مجھ سے میرے فرزند کے مانند ہے۔

نمبر۳… مرزاطاہر صاحب! آپ نے کہا کہ ہمارا یہ عقیدہ نہیں کہ مرزاخدا کا باپ تھا۔

179

حالانکہ مرزاقادیانی نے اپنی کتاب (حقیقت الوحی ص۹۵، خزائن ج۲۲ ص۹۹) پر ’’اپنے بیٹے کو خدا جیسا قرار دیا۔‘‘ جب مرزا کا بیٹا خدا ہوا تو مرزاقادیانی خدا کا باپ ہوا۔

جناب مرزاطاہر صاحب! اگر طبع نازک پر گراں نہ گزرے تو سینہ تھام کر سنئے کہ آپ کے دادا نے صرف خدا، خدا کا باپ یا بیٹا ہونے کا ہی دعویٰ نہیں کیا بلکہ یہ بھی کہا ہے کہ ﷲتعالیٰ نے میرے ساتھ وہ کام کیا جو مرد اپنی عورت کے ساتھ کرتا ہے۔

(اسلامی قربانی نمبر۳۴ ص۱۲)

مرزانے کہا کہ مجھے حمل ہوگیا۔

(کشتی نوح ص۴۸، خزائن ج۱۹ ص۵۰)

دس ماہ کے بعد دردزہ ہوا اور پھر کہا کہ ’’بابو الٰہی بخش چاہتا ہے کہ تیرا حیض دیکھے… تجھ میں حیض نہیں بلکہ وہ بچہ ہوگیا ہے۔‘‘

(تتمہ حقیقت الوحی ص۱۴۳، خزائن ج۲۲ ص۵۸۱)

نمبر۴… مرزاطاہر صاحب! آپ نے کہا کہ ہمارا یہ عقیدہ نہیں کہ مرزاقادیانی تمام انبیاء کرام سے بشمول حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کے افضل وبرتر ہے۔ حالانکہ جناب کے دادا مرزاقادیانی کی کتاب (حقیقت الوحی ص۸۹، خزائن ج۲۲ ص۹۲) پر مرزا نے کہا کہ مجھے الہام ہوا کہ ’’آسمان سے کئی تخت اترے پر تیرا تخت سب سے اوپر بچھایا گیا۔‘‘

کیا اس میں تمام انبیاء علیہم السلام سے افضلیت کا دعویٰ نہیں؟ آپ کے باپ مرزا بشیرالدین قادیانی نے اپنی کتاب (حقیقت النبوۃ ص۲۵۷) پر لکھا کہ: ’’مرزابعض اولوالعزم نبیوں سے بھی آگے نکل گیا۔‘‘ مرزا نے اپنی کتاب (نزول المسیح ص۹، خزائن ج۱۸ ص۴۷۷) پر لکھا ہے کہ: ’’اگرچہ دنیا میں بہت سارے نبی تھے۔مگر میں معرفت میں کسی سے کم نہیں ہوں۔‘‘ نیز یہ شعر ہے کہ ؎

  1. ابن مریم کے ذکر کو چھوڑو

    اس سے بہتر غلام احمد ہے

(دافع البلاء ص۲۰، خزائن ج۱۸ ص۲۴۰)

180

اب بتائیے! کہ اس نے انبیاء علیہم السلام سے افضل ہونے کا دعویٰ کیا یا نہیں؟ لیجئے رحمت عالم صلی اللہ علیہ وسلم کے متعلق اس شخص نے اپنی کتاب (تحفہ گولڑویہ ص۴۰، خزائن ج۱۷ ص۱۵۳) پر لکھا ہے کہ: ’’آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے معجزات تین ہزار تھے ‘‘ اور اپنی کتاب (تذکرۃ الشہادتین ص۴۳، خزائن ج۲۰ ص۴۳) پر اپنے نشانات کی تعداد دس لاکھ لکھی ہے اور پھر (نصرۃ الحق ص۵، خزائن ج۲۱ ص۶۳) پر لکھا ہے کہ ’’نشان اور معجزہ ایک چیز ہے۔‘‘ ان تینوں حوالوں کو ملائیں تو نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے معجزات تین ہزار تھے اور مرزاقادیانی کے دس لاکھ تھے۔

مرزاطاہر صاحب آپ کو باربار سوچنا چاہئے کہ اب آپ صحیح کہتے ہیں یا آپ کے دادا؟ لیجئے! مرزاقادیانی کی موجودگی میں آپ کی جماعت کے ایک شاعر اکمل نے کہا ؎

  1. محمد پھر اتر آئے ہیں ہم میں

    اور آگے سے ہیں بڑھ کر اپنی شان میں

  2. محمد دیکھنے ہوں جس نے اکمل

    غلام احمد کو دیکھے قادیان میں

نیز مرزا نے اپنی کتاب (الاستفتاء ص۸۷، خزائن ج۲۲ ص۷۱۵) پر لکھا ’’اتانی مالم یوت احدا من العالمین‘‘ مجھ کو وہ کچھ چیز دی گئی جو دونوں جہانوں میں کسی کو نہیں دی گئی۔

نمبر۵… مرزاطاہر صاحب! آپ نے کہا ہے کہ آپ کا یہ عقیدہ نہیں ہے کہ مرزا کی وحی کے مقابلہ میں حدیث مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کوئی شئے نہیں۔ لیکن اے کاش اس عقیدۂ فاسدہ کی تردید سے پہلے آپ نے مرزاقادیانی کے ان حوالہ جات کو پڑھ لیا ہوتا۔ مرزانے کہا کہ ’’میں خدا تعالیٰ کی قسم کھا کر بیان کرتا ہوں کہ میرے دعویٰ کی بنیاد حدیث نہیں بلکہ قرآن ہے اور وہ وحی ہے جو میرے پر نازل ہوئی۔ ہاں تائیدی طور پر ہم وہ حدیثیں بھی پیش کرتے ہیں جو قرآن شریف کے مطابق ہیں اور میری وحی کے معارض نہیں اور دوسری حدیثوں کو ہم ردی کی طرح پھینک دیتے ہیں۔‘‘

(اعجاز احمدی ص۳۰، خزائن ج۱۹ ص۱۴۰)

181

نمبر۶… مرزاطاہر صاحب! آپ نے کہا ہے کہ ہمارا یہ عقیدہ نہیں کہ مرزاکی عبادت گاہ عزت واحترام میں خانہ کعبہ کے برابر ہے… آپ نے یہاں غلط کہا، دھوکہ دینے کی کوشش کی۔ حالانکہ اصل حوالہ یہ ہے کہ آپ کے مرزاقادیانی نے قادیان کی اپنی عبادت گاہ کو (جسے آپ لوگ مسجد کہتے ہیں) مسجد اقصیٰ قرار دیا اور کہا ’’سبحان الذی اسریٰ بعبدہ لیلاً من المسجد الحرام الیٰ المسجد الاقصیٰ‘‘ میں مسجد اقصیٰ سے مراد مسیح موعود (مرزاقادیانی) کی مسجد ہے جو قادیان میں واقع ہے۔

(خطبہ الہامیہ ص۲۱ حاشیہ، خزائن ج۱۶ ص ایضاً)

نمبر۷… مرزاطاہر صاحب! آپ نے کہا کہ ہمارا یہ عقیدہ نہیںکہ قادیان کی سرزمین مکہ مکرمہ کے ہم مرتبہ ہے۔ حالانکہ مرزا نے کہا ہے کہ قرآن شریف میں تین شہروں کا ذکر ہے۔ یعنی مکہ، مدینہ اور قادیان کا۔

(خطبہ الہامیہ ص۲۰ حاشیہ، خزائن ج۱۶ ص ایضاً)

مرزاطاہر صاحب! مرزاقادیانی کے اس حوالہ کے بعد فرمائیں کہ آپ کے مرزا کے نزدیک مکہ مکرمہ، مدینہ منورہ اور قادیان کی حیثیت ایک جیسی ہے یا نہیں؟ اور ساتھ ہی صرف مرزاطاہر نہیں بلکہ پوری مرزائی امت کو چیلنج ہے کہ وہ قرآن سے قادیان کا لفظ نکال کر دکھائیں ورنہ قرار کریں کہ مرزاقادیانی نے جھوٹ بولا۔ ’’لعنۃ اﷲ علی الکاذبین‘‘

نمبر۸… مرزاطاہر صاحب! آپ نے کہا کہ یہ ہمارا عقیدہ نہیں کہ سال میں ایک دفعہ قادیان جانا تمام گناہوں کی بخشش کا موجب ہے۔ حالانکہ آپ لوگوں کا صرف یہ عقیدہ نہیں کہ سال میں ایک دفعہ قادیان جایا جائے۔ بلکہ آپ لوگوں کا عقیدہ ہے کہ قادیان تمام بستیوں کی ماں ہے۔ (یعنی ام القریٰ) پس جو قادیان سے تعلق نہیں رکھے گا وہ کاٹا جائے گا۔ تم ڈرو کہ تم میں سے کوئی نہ کاٹا جائے، پھر یہ تازہ دودھ کب تک رہے گا۔ آخر ماؤں کا دودھ بھی سوکھ جایا کرتا ہے۔ کیامکہ اور مدینہ کی چھاتیوں سے یہ دودھ سوکھ گیا کہ نہیں۔

(حقیقت الرؤیا ص۴۶، از بشیرالدین والد مرزاطاہر)

اسی مرزابشیرالدین نے کہاکہ جو قادیان نہیں آتا یا کم از کم ہجرت کی خواہش نہیں

182

رکھتا۔ اس کی نسبت شبہ ہے کہ اس کا ایمان درست ہو… یہ بالکل درست ہے کہ یہاں (قادیان) میں مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ والی برکات نازل ہوتی ہیں۔

(منصب خلافت ص۳۳)

نمبر۹… مرزاطاہر صاحب! آپ کا یہ کہنا کہ ہمارا یہ عقیدہ نہیں کہ حج بیت اﷲ کی بجائے قادیان کے جلسہ میں شمولیت ہی حج ہے۔ حالانکہ آپ کے والد نے کہا… آج جلسہ (قادیان) کا پہلا دن ہے اور ہمارا جلسہ بھی حج کی طرح ہے۔

(برکات خلاف ص ہ)

اس (قادیان) جگہ نفلی حج سے زیادہ ثواب ہے۔

(آئینہ کمالات اسلام ص۳۵۲، خزائن ج۵ ص ایضاً)

مرزاقادیانی نے کہا ؎

  1. زمین قادیان اب محترم ہے

    ہجوم خلق سے ارض حرم ہے

(درثمین ص۵۲، از مرزاقادیانی)

اس حوالہ میں حرمین شریفین مکہ مکرمہ ومدینہ طیبہ کی طرح قادیان کو ارض حرم قرار دیا جارہا ہے۔ ان تمام حوالہ جات کو سامنے رکھ کر اب مرزاطاہر آپ کا کیا خیال ہے کہ آپ نے جن باتوں سے انکار کیا ہے… کیا وہ آپ کا انکار صحیح ہے یا محض دھوکا دہی اور فریب کاری ہے۔

مرزاطاہر صاحب! آپ نے تقریباً ہر صفحہ پر ایک ایک بات کے اختتام پر ’’لعنۃ اﷲ علیٰ الکاذبین‘‘ کا ورد کیا ہے۔ آپ کے دادا مرزاقادیانی نے بھی اپنی کتاب (نورالحق ص۱۱۸تا۱۲۲، خزائن ج۸ ص۱۵۸تا۱۶۳) میں چار صفحات پر صرف لعنت، لعنت کا ورد کیا ہے۔ جس کے جواب میں صرف اتنا عرض ہے کہ آپ کی ذکر کردہ نوباتوں کی وضاحت وحوالہ جات آپ کی ہی کتب سے عرض کر دئیے ہیں۔ اس کے باوجود اگر آپ ان سے انکار کریں، تو ان کتابوں کے مصنّفین اور آپ سب لوگوں کے لئے بموجب حکم قرآنی ’’لعنۃ اﷲ علیٰ الکاذبین‘‘ اب اگر ہے ہمت تو مرد میدان بنیں اور آمین کہیں۔

183

پمفلٹ مباہلہ کے ص۱۰ کی آخری سطر سے ص۱۱ کے آخر تک آٹھ باتوں کا ذکر ہے۔ ذیل میں اس کی وضاحت ملاحظہ ہو۔

۱… مرزاطاہر صاحب! آپ نے کہا کہ مرزاقادیانی نے ختم نبوت سے صریحی انکار نہیں کیا۔ حالانکہ مرزا کی کتاب (دافع البلاء ص۲۳۱، خزائن ج۱۸ ص۲۳۱) پر ہے کہ ’’سچا خدا وہی خدا ہے جس نے قادیان میں اپنا رسول بھیجا۔‘‘ نیز (ایک غلطی کا ازالہ ص۱۷، خزائن ج۱۸ ص۲۱۱) پر کہا کہ: ’’خدا تعالیٰ نے مجھے رسول اور نبی کے نام سے پکارا ہے۔‘‘ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد اگر دعویٰ نبوت ورسالت ختم نبوت کا صریح انکار نہیں تو اور کیا ہے؟

۲… مرزاطاہر صاحب! آپ نے کہا ہے کہ مرزاقادیانی نے قرآن مجید میں لفظی ومعنوی تحریف نہیں کی۔ حالانکہ مرزاقادیانی نے اپنی کتاب (ازالہ اوہام ص۷۷ حاشیہ، خزائن ج۳ ص۱۴۰) میں لکھا ہے کہ: ’’انا انزلناہ قریباً من القادیان‘‘ کشفی طور پر مجھے معلوم ہوا کہ یہ قرآن میں لکھا ہوا ہے۔ اس میں ایک ہی عبارت سے تحریف لفظی وتحریف معنوی ثابت ہوئی۔

۳… مرزاطاہر صاحب! آپ نے کہا کہ مرزا نے روضۂ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی توہین نہیں کی۔ حالانکہ مرزاقادیانی نے اپنی کتاب (تحفہ گولڑویہ حاشیہ ص۷۰، خزائن ج۱۷ ص۲۰۵) پر کہا کہ خداتعالیٰ نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے چھپانے کے لئے ایک ایسی جگہ تجویز کی جو نہایت متعفن اور تنگ اور تاریک اور حشرات الارض کی نجاست کی جگہ تھی۔ مرزاکی یہ عبارت روضۂ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے متعلق ہے یا غار حرا کے متعلق۔ بہرحال! یہ بدترین قسم کی سفاکانہ گستاخی ہے۔

۴… مرزاطاہر صاحب! آپ نے کہا کہ مرزا نے حضرت حسینؓ کے ذکر کو گونہہ کا ڈھیر نہیں کہا۔ حالانکہ مرزاقادیانی اپنی کتاب ضمیمہ نزول المسیح جس کا دوسرا نام اعجاز احمدی ہے۔ اس کے (ص۸۲، خزائن ج۱۹ ص۱۹۴) پر شیعہ قوم کو مخاطب ہوکر لکھتا ہے کہ: ’’تم نے خدا کے جلال اور مجد کو بھلا دیا اور تمہارا ورد صرف حسین ہے۔ کیا تو انکار کرتا ہے؟ پس یہ اسلام پر ایک مصیبت ہے کہ کستوری کی خوشبو کے پاس گونہہ (گندگی) کا ڈھیر ہے۔ کیا اس میں مرزا نے

184

خدا کے ذکر کو کستوری اور حضرت حسینؓ کے ذکر کو گونہہ سے تشبیہ نہیں دی۔ (نامعلوم مرزاطاہر انکار کر کے لوگوں کی آنکھوں میں کیوں مٹی ڈالنے کی کوشش کر رہا ہے؟)

۵… مرزاطاہر صاحب آپ نے کہا کہ مرزا نے جھوٹے مدعیان نبوت کا مطالعہ کر کے دعویٰ نہیں کیا۔

طاہر صاحب! آپ یہاں بھول گئے۔ دراصل ہمارا (مسلمانوں کا) مؤقف یہ ہے کہ مرزاقادیانی کے دعویٰ نبوت کے باعث اس کا روحانی رشتہ مسیلمہ کذاب سے ملتا ہے اور ختم نبوت کے محاذ پر کام کرنے والوں کا روحانی سلسلہ حضرت صدیق اکبرؓ سے ملتا ہے۔ پس جھوٹے مدعیان نبوت کا مرزاقادیانی جانشین اور زلہ خوار ہے۔

۶… مرزاطاہر صاحب! آپ نے کہا کہ مرزاقادیانی نے انگریزوں کے ایماء پر اسلامی نظریۂ جہاد کو منسوخ نہیں کیا۔

نہ معلوم مرزاطاہر صاحب! سیدھے ہاتھ سے کان پکڑنے سے کیوں شرماتے ہیں۔ ہمارے عقیدہ کے مطابق مرزاقادیانی پر وحی نہیںہوتی تھی۔ وہ ایک دجال وکذاب، مفتری اور کاذب اور کافر تھا۔ اس لئے اس نے جہادکو منسوخ کیا تو ظاہر ہے کہ انہیں لوگوں کے کہنے پر کیا جن کو منسوخیٔ جہاد سے فائدہ پہنچ سکتا تھا اور وہ انگریز تھے۔

۷… مرزاطاہر صاحب! آپ نے کہا کہ مرزا نے تشریعی نبوت کا دعویٰ نہیں کیا۔ حالانکہ مرزاقادیانی کی یہ عبارت پکار پکار کر کہہ رہی ہے کہ مرزاقادیانی تشریعی نبوت کا مدعی تھا۔ لیجئے! عبارت یہ ہے۔ ’’ماسوا اس کے یہ بھی تو سمجھو کہ شریعت کیا چیز ہے۔ جس نے اپنی وحی کے ذریعہ سے چند امر اور نہی بیان کئے اور اپنی امت کے لئے ایک قانون مقرر کیا وہی صاحب شریعت ہوگیا۔ پس اس تعریف کی رو سے بھی ہمارے مخالف ملزم ہیں۔ کیونکہ میری وحی میں امر بھی ہیںاور نہی بھی۔‘‘

(اربعین نمبر۴ ص۶، خزائن ج۱۷ ص۴۳۵)

۸… مرزاطاہر! آپ نے کہا کہ قرآن کے مقابل پر ہماری کتاب دو تذکرہ کی کوئی حیثیت نہیں ہے، اور نہ ہی ہم اسے قرآن شریف کے ہم پلہ قرار دیتے ہیں۔

185

مرزا طاہر! دو امور ہیں ایک یہ کہ مرزاقادیانی کے نزدیک اپنی وحی کا درجہ کیا ہے؟ آیا وہ قرآن کے برابر ہے یا نہیں؟ (نزول المسیح ص۹۹، خزائن ج۱۸ ص۴۷۷) پر ہے کہ میں اپنی وحی کو قرآن مجید کی طرح خطاؤں سے پاک سمجھتا ہوں۔ (حقیقت الوحی ص۲۱۱، خزائن ج۲۲ ص۲۲۰) پر ہے کہ قرآن شریف کی طرح میں اپنی وحی پر ایمان لاتا ہوں۔ (تبلیغ رسالت ص۶۴۸، مجموعہ اشتہارات ج۳ ص۱۵۴، اربعین نمبر۴ ص۱۹، خزائن ج۱۷ ص۴۵۴) پر ہے کہ تورات، انجیل اور قرآن کی طرح اپنی وحی پر بھی ایسا ایمان ہے۔

ان تمام حوالہ جات کو سامنے رکھ کر جلال الدین شمس مرزائی نے کہا کہ حضرت مسیح موعود (مرزاقادیانی) اپنے الہامات کو کلام الٰہی قرار دیتے ہیں اور ان کا مرتبہ بلحاظ کلام الٰہی ہونے کے ایسا ہی ہے جیسا کہ قرآن مجید اور تورات اور انجیل کا۔

ان حوالہ جات سے یہ بات واضح ہو گئی کہ مرزاقادیانی کی وحی قرآن مجید کے ہم پلہ ہے۔ اب سوال یہ باقی رہ جاتا ہے کہ اس کی وحی کے مجموعہ کا کیا نام ہے؟ ظاہر ہے کہ اس کا نام تذکرہ ہے۔ تو صاف ظاہر ہے کہ مرزائیوں کے نزدیک تذکرہ نامی کتاب قرآن مجید کے ہم پلہ ہے اور پھر یہ بھی ملحوظ خاطر رہے کہ قرآن مجید کا ایک نام تذکرہ بھی ہے۔ ’’کلا انہا تذکرۃ‘‘ مرزائیوں نے اپنی الہامی کتاب کا نام قرآن نہیں رکھا کہ مسلمان مشتعل نہ ہوں۔ قرآن مجید کا دوسرا غیرمعروف نام تذکرہ رکھ دیا تاکہ یہ بھی ثابت کر سکیں کہ یہ ہماری کتاب بھی قرآن ہے۔

ص۱۰سے۱۱ تک آٹھ باتوں سے مرزاطاہر نے انکار کر کے کہا ہے کہ ’’لعنۃ اﷲ علیٰ الکاذبین‘‘ ہم نے ان تمام باتوں کو مرزاقادیانی کی کتابوں سے ثابت کر دیا۔ اب ہم بھی کہتے ہیں مرزاطاہر بھی کہے کہ ’’لعنۃ اﷲ علیٰ الکاذبین‘‘ تاکہ دنیا کے سب سے بڑے کذاب مرزاقادیانی کی روح پر بھرپور لعنتوں کی بارش ہو۔ ایک بار پھر ’’لعنۃ اﷲ علیٰ الکاذبین‘‘

پمفلٹ کے ص۱۲ پر مرزاطاہر صاحب نے چار باتوں سے انکار کیا۔

186

۱… کہ مرزاقادیانی دھوکہ باز اور بے ایمان نہیں تھا۔ حالانکہ اس کے دھوکے باز، بے ایمان، وعدہ خلاف وحرام مال کمانے والا ثابت کرنے کے لئے صرف ایک حوالہ کافی ہے۔ جس میں اس نے لکھا ہے کہ ’’پچاس کتابیں لکھنے کا ارادہ تھا۔ مگر پچاس اور پانچ میں صرف ایک نقطہ کا فرق ہے۔ لہٰذا پچاس کا وعدہ پانچ سے پورا ہوگیا۔‘‘

(براہین احمدیہ حصہ پنجم ص۷، خزائن ج۲۱ ص۹)

کیونکہ:

الف… پچاس کتب کے پیسے لئے اور کتابیں پانچ دیں۔ پینتالیس کتابوں کے پیسے کھا گیا۔ حرام خور وبے ایمان ہوا۔

ب… پچاس کا وعدہ کیا صرف پانچ دیں۔ وعدہ خلافی کی، دھوکہ بازی کی۔ وعدہ خلاف ودھوکہ باز ثابت ہوا۔

۲… مرزا کو گھر کا مال کھانے کی پاداش میں والد نے گھر سے نہیں نکال دیا تھا۔

مرزاطاہر صاحب! خوامخواہ کیوں غلط بیانی دھوکہ دہی سے معاملہ کو خلط ملط کرتے ہیں۔ واقعہ یہ ہے کہ مرزاقادیانی نے باپ کی پنشن سات سو روپے اس زمانے میں وصول کر کے غبن کر لی۔ جس کے باعث شرم کے مارے گھر سے باہر نکلا رہا۔ گھر کا مال غبن بھی کیا اور گھر سے باہر بھی نکلا رہا… اس بات کے انکار سے پہلے اپنے چچا مرزابشیر احمد ایم۔اے کی کتاب (سیرۃ المہدی ج۱ ص۴۳، روایت نمبر۴۹) ہی کو پڑھ لیا ہوتا تاکہ آپ کو شرمساری نہ ہوتی۔

۳… مرزاطاہر صاحب! آپ نے کہا کہ ہمارے مخالفین کہتے ہیں کہ مرزا کی اکثر پیشین گوئیاں اور مبینہ وحی الٰہی جھوٹ کا پلندہ ہیں۔ مرزاطاہر صاحب! بلاوجہ خوش فہمی میں مبتلا نہ ہوں، مرزاقادیانی کی اکثر نہیں، تمام پیش گوئیوں کو ہم غلط مانتے ہیں اور اس کو وحی الٰہی نہیں بلکہ القائے شیطانی یقین کرتے ہیں۔ اس لئے مرزاقادیانی ہمارے نزدیک اپنے تمام دعاوی میں جھوٹا، مکار، عیار، دھوکہ باز، دجال، کذاب، مفتری وبے ایمان تھا۔

187

۴… مرزاطاہر صاحب! آپ نے کہا کہ ہمارے مخالفین کا یہ الزام ہے کہ مرزاغلام احمد قادیانی کو لاکھوں ایکڑ زمینیں دی گئیں۔ مرزاطاہر صاحب! آپ کیوں بلاوجہ ضد کر رہے ہیں؟ ربوہ کی زمین سرموڈی نے نہیں دی؟ اور سندھ اور تھرپارکر کی زمین کس نے کس خوشی میں آپ کو الاٹ کی تھی؟

ان چار امور کو ذکر کر کے مرزاطاہر صاحب آپ نے ’’لعنۃ اﷲ علیٰ الکاذبین‘‘ کا ورد کیا ہے۔ جس کے جواب میں ہم نے تمام حوالے نقل کر دئیے ہیں۔ تاکہ آپ کو اپنا آئینہ دکھایا جاسکے۔ حوالہ جات غلط ہیں تو انکار کی جرأت کریں۔ ورنہ ہماری طرف سے ’’لعنۃ اﷲ علیٰ الکاذبین‘‘ کا تحفہ قبول کریں۔

پمفلٹ کے ص۱۲ کی آخری دو سطروں سے ص۱۳ مکمل پر گیارہ باتوں سے انکار کیا ہے۔

۱… جماعت احمدیہ انگریز کا خود کاشتہ پودا نہیں۔ حالانکہ مرزاقادیانی نے اپنی کتاب کتاب البریہ میں شامل درخواست (ص۱۳، خزائن ج۱۳ ص۳۵۰) پر انگریز گورنر کو خط لکھا کہ سرکار انگریزی کے پکے خیرخواہ اور خدمت گزار ہیں۔ اس خود کاشتہ پودا کی نسبت نہایت حزم اور احتیاط اور تحقیق اور توجہ سے کام لے اور ماتحت حکام کو اشارہ فرمائے کہ وہ بھی اس خاندان کی ثابت شدہ وفاداری اور اخلاص کا لحاظ رکھ کر مجھے اور میری جماعت کو ایک خاص عنایت اور مہربانی کی نظر سے دیکھیں۔

مرزاطاہر صاحب! مرزاقادیانی صرف اپنی جماعت کو نہیں بلکہ اپنے خاندان کو جس میں اب آپ بھی ہیں، انگریز کا خود کاشتہ قرار دے رہا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ آپ کو پاکستان میں جب گرم ہوا لگی تو آپ نے بھی اپنے مالکان کے ہاں آکر پناہ لی… اب انکار چہ معنی دارد!

۲… قادیانی ملت اسلامیہ کے دشمن نہیں۔

صرف دشمن نہیں بلکہ بدترین دشمن ہیں۔ اس سے بڑھ کر اور ملت اسلامیہ کی کیا دشمنی ہوسکتی ہے کہ تمام ملت اسلامیہ کو قادیانی جماعت نے کافر قرار دے دیا ہے۔

188

ملاحظہ ہو… مرزاطاہر صاحب! آپ کے والد کی کتاب (آئینہ صداقت ص۳۵) پر ہے کہ: ’’کل مسلمان جو مسیح موعود کی بیعت میں شامل نہیں ہوئے خواہ انہوں نے حضرت مسیح موعود کا نام بھی نہیں سنا وہ کافر اور دائرہ اسلام سے خارج ہیں۔‘‘ تمام مسلمانوں کو مرزاقادیانی نے کنجریوں کی اولاد کہا۔

(آئینہ کمالات اسلام ص۵۴۷،۵۴۸، خزائن ج۵ ص ایضاً)

فرمائیے! اس سے بڑھ کر ملت اسلامیہ کی اور کیا دشمنی ہوسکتی ہے۔

مرزاطاہر نے کہا ہے کہ ہمارے دشمن ہم پر الزام لگاتے ہیں کہ:

۳… مرزائیت عالم اسلام کے لئے سرطان ہے۔

۴… یہودیوں کی اور انگریزوں کی اسلام دشمن سازش ہے۔

۵… اسرائیل اور یہودیوں کی ایجنٹ ہے۔

مرزاطاہر صاحب! یقین فرمائیے کہ یہ تینوں آپ پر الزامات نہیں بلکہ حقائق ہیں۔ رہتی دنیا تک ہم مسلمان ان کی ذمہ داری قبول کرتے ہیں۔ آپ اپنے گھر میں بیٹھ کر ان کا انکار تو کر سکتے ہیں۔ مگر حقائق کی دنیا میں سامنا کرنا آپ کے لئے مشکل ہے۔

۶… یہ کہ یہ جماعت امریکہ کی ایجنٹ ہے۔ اس میں کیا کلام ہے۔ ۱۹۵۳ء کی انکوائری میں ہائیکورٹ کے جج صاحبان کے سامنے پاکستان کے وزیراعظم خواجہ ناظم الدین نے یہ تسلیم نہیں کیا تھا کہ اگر میں مسلمانوں کے مطالبہ پر کہ چوہدری ظفر اﷲ خان قادیانی آنجہانی کو وزارت خارجہ سے ہٹا دیتا تو امریکہ گندم کا ایک دانہ نہ دیتا اور پھر آج کل امریکہ کی سینٹ کی وہ کمیٹی جو پاکستان کی امداد کی بندش کی رپورٹیں کر رہی ہے کہ وہاں پاکستان میں مرزائیوں کو تنگ کیا جارہا ہے۔ لہٰذا پاکستان کو امداد نہ دی جائے۔ ان تمام حقائق کے ہوتے ہوئے آپ کا انکار کرنا شدید زیادتی نہیں تو اور کیا ہے۔

۷… اس جماعت اور روس میں خفیہ مذاکرات۔

۸… اسرائیلی فوج میں مرزائی جماعت کا وجود۔

۹… چھ سو پاکستانی قادیانی اسرائیل فوج میں موجود ہیں۔

189

۱۰… قادیانی شرپسندی کے لئے اسرائیل میں ٹریننگ لیتے ہیں۔

۱۱… جرمنی میں چار ہزار قادیانی گوریلا تربیت حاصل کرتے ہیں۔ ان تمام امور کو ذکر کر کے مرزاطاہر نے ان سے انکار کیا ہے۔ حالانکہ یہ تمام باتیں صرف عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت نے نہیں بلکہ پاکستان کے نامور سیاستدان، اخبارات وغیرہ کہہ چکے ہیں اور اخبارات نے فوٹو دیے ہیں کہ جب اسرائیل میں مرزائی مشن کا ایک سربراہ جانے لگا تو اپنے بعد آنے والے کو تعارف کے لئے اسرائیلی وزیراعظم سے ملوایا۔ یہ تمام فوٹو اخبارات میں چھپ چکے ہیں۔

کیامرزاطاہر صاحب! آپ اس پر مباہلہ کرتے ہیں کہ اسرائیل میں قادیانی مشن کام نہیں کر رہا ہے۔ مرزاطاہر صاحب! کریں انکار… ہے ہمت تو میدان میں اتریں، آئیں بائیں شائیں کر کے بات کو ادھر سے ادھر لے جا کر معاملہ کو الجھانا ہی دجل وفریب ہے۔ جس کا حصہ آپ کو اپنے دادا مرزاقادیانی سے ملا ہے۔ اسرائیل میں قادیانی مشن ہے اور یہ کہ یہ یہودیوں کے ایجنٹ ہیں۔ یہ ایسے امور ہیں جن سے آپ جرأت سے انکار کریں، ہم جرأت سے ’’لعنۃ اﷲ علیٰ الکاذبین‘‘ کہیں۔

مرزاطاہر صاحب! آپ نے ص۱۴ پر آٹھ باتوں سے انکار کیا ہے۔

۱… مرزاطاہر صاحب! آپ نے کہا کہ یہ درست نہیں کہ ہمارا کلمہ مسلمانوں والا کلمہ نہیں۔

۲… یہ کہ جب مسلمانوں والا کلمہ پڑھتے ہیں تو محمد رسول ﷲ صلی اللہ علیہ وسلم سے مراد مرزاقادیانی لیتے ہیں۔

ان دونوں باتوں سے انکار کر کے آپ اپنے مجرم ضمیر کو تو دھوکہ دے سکتے ہیں۔ جن لوگوں کی مرزائیت کے لٹریچر پر نظر ہے وہ خوب جانتے ہیں کہ مرزاقادیانی نے اپنی کتاب (ایک غلطی کا ازالہ ص۳، خزائن ج۱۸ ص۲۰۷) پر کہا ہے کہ مجھے وحی ہوئی ’’محمد رسول اﷲ والذین معہ‘‘ اس وحی الٰہی میں میرانام (یعنی مرزا کا) محمد رکھا گیا ہے اور رسول بھی۔ ظاہر ہے کہ یہ آیت کریمہ قرآن مجید کا جزو ہے اور اس میں محمد رسول اﷲ سے مراد رحمت عالم صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات اقدس ہے نہ کہ مرزاقادیانی۔ لیکن مرزا یہ کہتا ہے کہ ’’اس سے مراد میں ہوں۔‘‘ اسی

190

طرح مرزاقادیانی کے لڑے اور مرزاطاہر کے چچا مرزا بشیر احمد ایم۔اے نے اپنی کتاب (کلمتہ الفصل ص۱۵۸) پر کہا ہے کہ مسیح موعود (مرزاقادیانی) کی بعثت کے بعد محمد رسول اﷲ کے مفہوم میں ایک اور رسول کی زیادتی ہوگئی… مسیح موعود (مرزا) کی آمد نے محمد رسول ﷲ صلی اللہ علیہ وسلم کے مفہوم میں ایک رسول کی زیادتی کردی ہے اور بس۔ یہ عبارت صاف صاف پکار پکار کر بلکہ چیخ چیخ کر مرزائیوں کے عقیدہ کا اظہار کر رہی ہے کہ کلمہ طیبہ میں مرزائیوں کے نزدیک محمد رسول ﷲ صلی اللہ علیہ وسلم کے مفہوم میں مرزاقادیانی بھی شریک ہوگیا۔ پس ثابت ہوا کہ جب مسلمان کلمہ طیبہ پڑھتے ہیں تو مسلمانوں کے نزدیک محمد رسول اﷲ سے مراد صرف اور صرف رحمت عالم صلی اللہ علیہ وسلم ہوتے ہیں۔ جس طرح کلمہ طیبہ کے جز اوّل ’’لا الہ الا اﷲ‘‘ میں رب العزت کی ذات وصفات میں کوئی دوسرا شریک نہیں۔ جو شریک بنائے، وہ مشرک ہے۔ اسی طرح دوسرے جز ’’محمد رسول اﷲ‘‘ میں رحمت عالم صلی اللہ علیہ وسلم کا بھی کوئی شریک نہیں جو اس میں کسی کو شریک بنائے وہ بھی مسلمان نہیں۔

اس لئے جب مسلمان کلمہ طیبہ میں محمد رسول اﷲ کا اقرار کرتے ہیں تو ان کی مراد آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہوتے ہیں اور جب مرزائی کلمہ طیبہ میں محمد رسول اﷲ پڑھتے ہیں تو ان کی مراد مرزاغلام احمد قادیانی بھی ہوتا ہے۔ لہٰذا ثابت ہوا کہ مسلمانوں کا کلمہ اور ہے اور مرزائیوں کا کلمہ اور ہے۔ اب ان واضح عبارتوں کے بعد مرزاطاہر صاحب! آپ کے انکار پر ہم صرف اتنا ہی کہہ سکتے ہیں کہ ’’لعنۃ اﷲ علیٰ الکاذبین‘‘

۳… مرزاطاہر نے کہا ہے کہ یہ غلط ہے کہ ہمارا خدا وہ خدا نہیںجو محمد رسول اﷲ کا خدا ہے۔

نہ معلوم مرزاطاہر عمداً جھوٹ بول رہے ہیں یا اس سے دھوکہ دینا مطلوب ہے۔ حالانکہ مرزاقادیانی کا الہام ہے۔ ’’ربنا عاج‘‘ کہ ہمارا رب عاج ہے۔ مرزاقادیانی نے اس کا ترجمہ نہیں کیا۔ جب کہ لغت میں عاج کا معنی ہاتھی دانت یا گوبر ہے۔ ظاہر ہے کہ اس الہام کے ہوتے ہوئے مرزائیوں کا خدا ہاتھی دانت یا گوبر سے بنا ہوا ہے۔ پس یہ عقیدہ خداتعالیٰ کی ذات بابرکات کے متعلق نہ محمد رسول ﷲ صلی اللہ علیہ وسلم کا ہے اور نہ قرآن کا۔

191

مرزاطاہر کے والد مرزابشیرالدین نے کہا کہ حضرت مسیح موعود (مرزاقادیانی) کے منہ سے نکلے ہوئے الفاظ میرے کانوں میں گونج رہے ہیں۔ آپ نے فرمایا کہ ’’یہ غلط ہے کہ دوسرے لوگوں سے ہمارا اختلاف صرف وفات مسیح یا اور چند مسائل میں ہے۔ آپ نے فرمایا ﷲتعالیٰ کی ذات، رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم، قرآن، نماز، روزہ، حج، زکوٰۃ غرض یہ کہ آپ نے تفصیلاً بتایا کہ ایک ایک چیز میں ان سے (مسلمانوں سے) ہمارا اختلاف ہے۔‘‘

(روزنامہ الفضل قادیان ج۱۹ شمارہ۱۳، مورخہ ۳۰؍جولائی ۱۹۳۱ء)

اس حوالہ کو مرزاطاہر پڑھیں اور سوچیں کہ باپ تو کہتا ہے کہ ہمیں مسلمانوں سے ہر چیز میں اختلاف ہے اور بیٹا کہتا ہے نہیں۔ اب فیصلہ کریں کہ باپ جھوٹا تھا یا بیٹا جھوٹا ہے۔ جب کہ ہمارے نزدیک دونوں… اور مصداق ہیں۔ ’’لعنۃ اﷲ علیٰ الکاذبین‘‘ کا۔

۴… مرزاطاہر صاحب! آپ نے کہا ہے کہ یہ غلط ہے کہ ہمارے فرشتے وہ نہیں جن کا ذکر قرآن وسنت میں ہے۔

حالانکہ مرزاقادیانی نے اپنی کتاب (حقیقت الوحی ص۳۳۲، خزائن ج۲۲ ص۳۴۶) پر کہا کہ یہ میرے پاس آنے والے کا نام ٹیچی ہے۔ اصل عبارت ملاحظہ ہو: ’’ایک شخص جو فرشتہ معلوم ہوتا تھا میرے سامنے آیا اور اس نے بہت سا روپیہ میرے دامن میں ڈال دیا۔ میں نے اس کا نام پوچھا اس نے کہا کچھ نہیں۔ میں نے کہا کہ آخر کچھ تو نام ہوگا۔ اس نے کہا ٹیچی۔‘‘

اس حوالہ سے دو باتیں ثابت ہوئیں۔ ایک یہ کہ مرزا کے پاس آنے والا فرشتہ ٹیچی نامی تھا۔ دوسرا یہ کہ مرزا کا فرشتہ جھوٹ بھی بولتا تھا۔ اس لئے کہ جب مرزاقادیانی نے اس سے نام پوچھا تو اس نے کہا کہ نام کچھ نہیں۔ اگر نام ٹیچی تھا تو یہ کہہ کر جھوٹ بولا کہ میرا نام کچھ نہیں۔ اگر نام کچھ نہیں تھا تو دوسری مرتبہ پوچھنے پر ٹیچی نام بتا کر جھوٹ بولا یا پہلے جھوٹ بولا یا بعد میں۔ بہرحال جھوٹ بولا۔ تو ٹیچی فرشتہ اور جھوٹ بولنے والا فرشتہ مرزائیوں کا ہوسکتا ہے۔ قرآن وسنت کا نہیں۔ کیونکہ قرآن تو پکار پکار کر کہہ رہا ہے کہ ’’لا یعصون اﷲ

192

ماامرہم‘‘ فرشتے معصیت سے پاک ہوتے ہیں۔ جب کہ مرزائیوں کے نزدیک فرشتے جھوٹ بولتے ہیں۔

۵… مرزاطاہر صاحب! آپ نے کہا کہ یہ بھی غلط ہے کہ قادیانیوں کے رسول مختلف ہیں۔

حالانکہ چوہدری ظفر اﷲ خان کا ٹریکٹ جو مارچ ۱۹۳۳ء میں بتقریب یوم التبلیغ شائع ہوا اس میں ہے کہ ؎

  1. خدا کے راست باز نبی رامچندر پر سلامتی ہو

    خدا کے راست باز نبی کرشن پر سلامتی ہو

  2. خدا کے راست باز نبی بدھ پر سلامتی ہو

    خدا کے راست باز نبی زرتشت پر سلامتی ہو

  3. خدا کے راست باز نبی کنفیوشش پر سلامتی ہو

    خدا کے راست باز نبی احمد (یعنی مرزا) پر سلامتی ہو

  4. خدا کے راست باز نبی بندہ بابا نانک پر سلامتی ہو

(منقول از پیغام صلح لاہور ج۲۱ نمبر۲۲، مورخہ ۱۱؍اپریل ۱۹۳۳ء)

اب فرمائیے! مرزائیوں کے نزدیک یہ لوگ نبی تھے۔ جب کہ مسلمانوں کے نزدیک قرآن وحدیث میں کہیں ان کا ذکر نہیں اور ظلم یہ کہ مرزاقادیانی کو بھی نبیوں کی فہرست میں مرزائی شامل کرتے ہیں۔ جب کہ مسلمانوں کے نزدیک وہ دجال، کذاب، مفتری،کافر وبے ایمان تھا۔

۶… مرزاطاہر صاحب آپ نے کہا کہ ہماری عبادت اسلامی عبادت سے مختلف نہیں۔ اس کا جواب اسی بحث کے نمبر۳ میں گزر چکا ہے۔

۷… مرزاطاہر صاحب! آپ نے کہا کہ ہمارا حج مختلف نہیں۔ حالانکہ آپ کے والد مرزابشیرالدین نے کہا کہ ’’ہمارا جلسہ بھی حج کی طرح ہے۔‘‘

(خطبہ جمعہ مرزامحمود مندرجہ برکات خلافت ص ہ، تقاریر جلسہ سالانہ ۱۹۱۴ء)

193

شیخ یعقوب علی صاحب بھی بیان کرتے ہیں کہ حضرت مسیح موعود (مرزا قادیانی) نے یہاں (قادیان) آنے کو حج قرار دیا ہے۔ ایک واقعہ مجھے (مرزامحمود کو) بھی یاد ہے۔ صاحبزادہ عبداللطیف (کابلی) حج کے ارادہ سے کابل سے روانہ ہوئے تھے۔ وہ جب یہاں حضرت مسیح موعود (مرزاقادیانی) کی خدمت میں حاضر ہوئے تو انہوں نے حج کرنے سے متعلق اپنے ارادہ کا اظہار کیا۔ اس پر حضرت مسیح موعود (یعنی مرزاقادیانی) نے فرمایاکہ اس وقت اسلام کی خدمت کی بے حد ضرورت ہے اور یہی حج ہے۔ چنانچہ پھر صاحبزادہ صاحب حج کے لئے نہ گئے اور یہیں رہے۔ کیونکہ وہ اگر حج کے لئے چلے جاتے تو احمدیت نہ سیکھ سکتے۔

(تقریر جلسہ سالانہ مرزامحمود مندرجہ الفضل قادیان ج۲ شمارہ۸، مورخہ ۵؍جنوری ۱۹۲۲ء)

۸… مرزاطاہر صاحب آپ نے کہا کہ یہ غلط ہے کہ ہمارے تمام بنیادی عقائد قرآن وسنت سے جدا ہیں۔

دیکھئے تمام بحث تفصیل سے پہلے گذر چکی ہے۔ قرآن وحدیث کا واضح حکم یہ ہے کہ رحمت عالم صلی اللہ علیہ وسلم اﷲ رب العزت کے آخری نبی ہیں اور اس کے مقابلہ میں مرزاقادیانی کہتا ہے کہ میں رسول ونبی ہوں۔ قرآن وحدیث کی رو سے رحمت عالم صلی اللہ علیہ وسلم کو ایمان کی حالت میں دیکھنے والے صحابہؓ ہیں۔ جب کہ مرزائیوں کے نزدیک مرزا کو دیکھنے والے صحابہ ہیں۔

مسلمانوں کے نزدیک رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی گھر والیاں ام المؤمنین ہیں…

مرزائیوں کے نزدیک مرزاقادیانی کی بیوی ام المؤمنین ہے۔

مسلمانوں کے نزدیک رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی اولاد در اولاد اہل بیت ہیں۔

مرزائیوں کے نزدیک مرزاقادیانی کی اولاد اہل بیت۔

مسلمانوں کے نزدیک سیدۃ النساء حضرت فاطمتہ الزہراؓ بنت نبی صلی اللہ علیہ وسلم…

مرزائیوں کے نزدیک مرزاقادیانی کی بیوی سیدۃ النساء ہے۔

غرض! یہ کہ مرزائیت کسی مذہب وعقیدہ کا نام نہیں بلکہ رحمت عالم صلی اللہ علیہ وسلم کے دین متین سے مکمل بغاوت کا دوسرا نام ہے۔ جسے قادیانی احمدیت کے نام سے تعبیر کرتے ہیں۔

194

جس کی کسی قدر تفصیلات اوپر بیان ہوچکی ہیں۔

ص۱۵ سے ص۱۸ تک مرزاطاہر صاحب آپ نے کچھ سیاسی اعمال وافعال کا ذکر کیا ہے کہ ہم لوگ آپ کی جماعت کی طرف یہ الزامات منسوب کرتے ہیں اور آپ نے بڑے شدومد سے ان کا انکار کیا ہے۔

انصاف کا خون نہ کریں۔ ان چیزوں کا مباہلہ سے کیا تعلق ہے۔ یہ ساری باتیں آپ میں نہ بھی پائی جائیں تب بھی مرزاقادیانی اور اس کی جماعت غلط اور اس کے قائد جھوٹ پر مبنی ہیں۔ یہ ساری باتیں آپ میں پائی جائیں تب بھی مرزائیت جھوٹے عقیدہ کی حامل ایک جھوٹی جماعت ہے۔ یہ الزامات صحیح ہیں تو بھی مرزاقادیانی جھوٹا تھا۔ یہ الزام سیاسی غلط ہیں تو بھی مرزاقادیانی جھوٹا تھا۔

ص۱۹ سے ص۲۶ تک مرزاقادیانی کی دو عبارتیں اور آخر میں اپنی دعا تحریر کی ہے۔ آپ کے اصل عقائد بمعہ حوالہ جات کی تفصیل کے لئے، قادیانیوں کو دعوت اسلام، نامی کتابچہ لف ہذا ہے۔ اسے علیحدگی میں پڑھیں اور اپنے گریبان میں جھانک کر دیکھیں کہ اصل حقائق کیا ہیں۔

ضروری گذارش

بعض جگہ تحریر میں قدرے تلخی آگئی ہے۔ دراصل وہ بھی آپ کی کرم فرمائی کا نتیجہ ہے کہ آپ نے واضح اپنی عبارتوں کے باوجود ناحق انکار کر کے بلاوجہ معاملہ کو الجھایا ہے اور پھر الٹا چور کوتوال کو ڈانٹے، آپ نے مسلمانوں کو غلط کار ثابت کرنے کی کوشش کی ہے۔

آخری گذارش

آپ کے مباہلہ کے پمفلٹ کے متعلق جتنی ضروری تصریحات تھیں وہ ہم نے عرض کر دیں ہیں۔ ان حوالہ جات کو پڑھیں، اپنی کتابوں سے ملائیں، تمام تر حوالہ جات صحیح ثابت ہوں تو پھر فیصلہ کریں کہ آپ نے مباہلہ نامی پمفلٹ شائع کر کے مخلوق خدا کو دھوکہ دینے کی کیوں ناکام کوشش کی ہے؟

195

مرزاطاہر صاحب! یقین کیجئے کہ یہ تمام تر حوالہ جات ہم نے بڑی دیانتداری کے ساتھ عرض کر دئیے ہیں۔ اﷲ رب العزت جن کے حضور ہم سب کو بالآخر پیش ہونا ہے اس کو حاضر وناظر یقین کر کے دل کی گہرائیوں سے اقرار کرتے ہیں کہ ہم نے کوئی بھی حوالہ نقل کرنے میں بددیانتی یا اس سے غلط مطلب براری کے لئے خیانت نہیں کی۔ یہ تمام تر آپ کے لٹریچر کے حوالہ جات ہیں۔ اب اگر ہے ہمت تو قرآنی تصریحات کو سامنے رکھ کر جگہ اور وقت کا تعین کریں، ہم آپ کے ساتھ آمنے سامنے مباہلہ کرنے کے لئے تیار ہیں۔ ہم اﷲ رب العزت کی ذات کو گواہ بنا کر پختہ ایمان ویقین کے ساتھ اعلان کرتے ہیں کہ مرزاغلام احمد قادیانی ایک جھوٹا مدعیٔ نبوت تھا۔ اس کے تمام تر لایعنی دعاوی سب فریب جھوٹ، مکاری وعیاری کا مرقع تھے۔ اس کو وحی الٰہی نہیں بلکہ القائے شیطانی ہوتا تھا۔ وہ اور اس کے سارے ماننے والے ہر دو گروپ لاہوری وقادیانی کو ہم کافر اور دائرہ اسلام سے خارج سمجھتے ہیں۔ مرزاابوجہل وشیطان کی طرح رحمت عالم صلی اللہ علیہ وسلم کے دین کا دشمن تھا۔

اس پر آپ جب چاہیں مباہلہ کے لئے ہم تیار ہیں۔ اگر آپ نے جگہ اور وقت کا تعین نہ کیا تو پھر مجبوراً یہ قدم ہمیں اٹھانا ہوگا تاکہ حق وباطل کا ایک بار پھر تصفیہ ہو۔ مباہلہ کے بعد ہم معاملہ اﷲ رب العزت پر چھوڑ دیں گے کہ وہ باطل کو مٹانے والا ہے۔ اس عزم کے ساتھ ہم اس تحریر کو ختم کرتے ہیں کہ آپ بھی ہمیشہ اپنے باپ، دادا کی سنت پر عمل پیرا ہوتے ہوئے کبھی بھی ہمارے سامنے میدان میں آکر قرآنی تصریحات کے مطابق مباہلہ نہیں کریں گے۔ نہ آپ کو اس کی جرأت ہوگی۔ آپ نقلی مسیحی ہیں۔ اصلی مسیحی، نصاریٰ نجران جس طرح رحمت عالم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے مباہلہ کے لئے نہی آئے تھے نقلی مسیحی قادیانی بھی رحمت عالم صلی اللہ علیہ وسلم کے خدام کے سامنے کبھی آنے کی جرأت نہیں کریں گے۔

فان لم تفعلوا ولن تفعلوا فاتقوا النار

ض … ض … ض

196

ایک قادیانی کے چند سوالات اور ان کے مفصل جوابات

آج مورخہ۱۳؍ربیع الاوّل ۱۴۳۲ھ بمطابق ۱۷؍فروری ۲۰۱۱ء بروز جمعرات بعد نماز ظہر مولانا اﷲ وسایا، مدرسہ عربیہ ختم نبوت مسلم کالونی چناب نگر سے ’’ختم نبوت کانفرنس منعقدہ مصطفی آباد فیصل آباد‘‘ کے لئے روانہ ہوئے۔ پروگرام کچھ یوں ترتیب دیاگیا کہ فیصل آباد سے آگے ’’جڑانوالہ روڈ ورکشاپ سٹاپ‘‘ پر کچھ افراد قادیانیوں کے رہتے ہیں۔ ان کا مطالبہ ہے کہ ہمارے کچھ اشکالات ہیں۔ ان کا جواب ہمیں مل جائے اور کوئی ہماری تشفی کرادے تو ہم اسلام قبول کرنے کے لئے تیار ہیں۔ یہ بھی بتادیا گیا تھا کہ یہ پروگرام ’’جامع مسجد شوکت علی فضلی‘‘ واقع برلب جڑانوالہ روڈ میں ہوگا۔ اس عظیم اور نیک مقصد کے لئے مولانا نے سفر فرمایا، اور اپنے ہمراہ مولانا عبدالرشید سیال مبلغ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت فیصل آباد، اور راقم الحروف کو بھی کمال شفقت فرماتے ہوئے لے لیا۔ نماز عصر کے وقت جامع مسجد مذکورہ بالا میں پہنچے۔ اذان ہو چکی تھی۔ جماعت باوضو تیار بیٹھی تھی۔ مولانا اﷲ وسایا اور ان کے رفقاء نے نماز کی تیاری کی۔ جماعت کے ساتھ نماز ادا کرنے کے بعد مولانا حاضرین کی طرف متوجہ ہوئے۔ الحمدﷲ! اس سوالیہ نشست کے بارے میں جن جن مسلمانوں کو علم ہوا تو وہ بھی کافی تعداد میں جمع ہوگئے۔ جس میں عوام کے علاوہ علماء بھی تھے، تو حاضرین نے مولانا اﷲ وسایا کی خدمت میں عرض کیا کہ یہ قادیانی ہمیں بہت تنگ کرتے ہیں اور ہر آئے دن ہم سے الٹے پلٹے سوالات کرتے رہتے ہیں۔ جن کا نہ سر نہ پاؤں۔ ہمیں تو اتنا علم نہیںکہ انہیں جواب دے کر مطمئن کر سکیں اس لئے حاضرین کی یہ تعداد جمع ہو گئی ہے کہ ہم بھی قادیانیوں کے سوالات سنیں اور مولانا کے جوابات بھی۔ تاکہ ہمارے ایمان میں اضافہ ہو، اور آئندہ کوئی قادیانی سوال کرے تو ہم اسے جواب دے کر مطمئن کر سکیں۔ چنانچہ مولانا اﷲ وسایا نے دریافت فرمایا کہ کون صاحب ہیں اور کہاں ہیں؟ تو نمازیوں میں سے چند رفقاء گئے اور اسے لے آئے۔ جب وہ مسجد میں پہنچا تو مولانا اﷲ وسایا نے باوجود نقاہت کے کھڑے ہوکر اس سے معانقہ فرمایا اور اپنے ساتھ بائیں جانب بٹھا لیا۔ بعد از طلب خیریت، نام دریافت فرمایا کہ آپ کا نام کیا ہے؟ اس نے بتایا میرا نام محمد اسلم ہے۔

197

محمد اسلم قادیانی کے سوالات واشکالات سے پہلے مولانا نے کچھ گذارشات بطور تمہید کے فرمائیں! جو آگے تمہید کے زیرعنوان قارئین ملاحظہ فرمائیں گے۔ لیکن اس تمہید سے پہلے راقم الحروف (دین پوری) عرض گذار ہے۔

تنبیہ:

ﷲتعالیٰ مولانا اﷲ وسایا کی صحت، علم وعمل، کمال فطانت وسرعت زکاوت، اور خدمات ختم نبوت میں برکت رکھیں۔ اسلم قادیانی کو اعتراض کرنا بھی کسی نے نہ سکھایا تھا۔ بمشکل ایک لفظ یا ایک جملہ کہہ پاتا اور آگے خاموشی سادھ لیتا، مگر مولانا اﷲ وسایا اس کا مکمل اعتراض پہلے اس کے آگے رکھتے، اور اس سے تائید لیتے کہ تویہ کہنا چاہتا ہے؟ تو وہ جی ہاں میں جواب دیتا۔ پھر مولانا اﷲ وسایا اس کا مفصل اور مکمل جواب ارشاد فرماتے۔ وہ پوری آیت کیا اس کے ترجمہ کا ایک لفظ اور وہ بھی قادیانیت کے نقطۂ نظر اور غلیظ نظریے (جو صبح وشام انہیں رٹوائے گئے تھے) کے مطابق کہتا۔ مولانا اﷲ وسایا اس آیت کے سیاق وسباق کو ملا کر مکمل ترجمہ وتفسیر کر کے کمال دیانت اور کامل اعتماد کے ساتھ اس کا جواب مرحمت فرماتے۔ یوں محسوس ہوتا کہ اب اسلم قادیانی، قادیانیت ترک کر کے داخل اسلام ہو جائے گا، اور اس بات کی مسرت اور مولانا اﷲ وسایا کے مسکت جوابات کو سن کر حاضرین مجلس کے چہروں پر اور خود مولانا اﷲ وسایا کے مبارک چہرے پر بشاشت وانبساط نمایاں طور پر بندہ راقم الحروف محسوس کرتا۔ مگر ہدایت کا فیصلہ تو ﷲتعالیٰ نے اپنے قبضہ میں رکھا ہے۔ وہ جسے چاہے ہدایت سے نوازتا ہے اور اس کے آگے دم مارنے کی کسی کو ہمت نہیں۔

نیز راقم بخوبی جانتا ہے کہ اس دن مولانا اﷲ وسایا کی طبیعت بہت ناساز تھی۔ ضعف ونقاہت الگ تھی۔ مولانا اﷲ وسایا ایک جواب سے ابھی فارغ نہ ہو پاتے کہ اسلم قادیانی پھر کوئی شوشہ چھوڑ دیتا۔ مولانا اﷲ وسایا دوبارہ کمال دیانت کے ساتھ برجستہ جواب ارشاد فرماتے۔

اس سے بھی زیادہ عجیب بات یہ کہ مولانا اپنی جوابی تقریر میں ’’مرزاغلام احمد قادیانی‘‘ ملعون ودجال کی ناپاک اور غلیظ کتب سے بھی ازبر حوالہ جات نہایت دیانتداری سے پیش فرماتے اور ان حوالہ جات میں کئی ایسی کتب کا نام لیا جن کے متعلق جو میں نے بھی کبھی نہیں سنا تھا۔ نیز اس تقریر وگفتگو میں بندہ (دین پوری) کے سامنے بھی عجیب وغریب نکات سامنے آئے جنہیں زندگی میں آج پہلی مرتبہ سننے کا اتفاق ہوا اور کیوں نہ ہو کہ ایسے

198

مواقع کبھی کبھی فراہم ہوتے ہیں۔ ﷲتعالیٰ مولانا اﷲ وسایا کی صحت اور خدمات ختم نبوت میں برکت عطا فرمائیں۔ آمین! اور مولانا اﷲ وسایا کے علوم ومعارف سے ہمیں مستفیض فرمائیں۔ آمین!

نوٹ:

یاد رہے کہ یہ مجلس بعد از نماز عصر تا مغرب اور بعد از نماز مغرب تا عشاء منعقد رہی۔

تمہید

سوالات سے قبل مولانا اﷲ وسایا نے تمہیداً فرمایا کہ مجھے یہاں کے دوستوں نے بتایا کہ ایک صاحب قادیانی ہے، وہ کہتا ہے کہ میرے کچھ اشکالات ہیں، کچھ سوالات ہیں۔ مولوی صاحب آکر جواب دے دیں۔ میرے اشکالات دور کر دیں تو میں اسلام قبول کر لوں گا۔ مجھے اس سفر کا اندازہ تو نہیں تھا کہ کتنا دور ہے؟ اس لئے یہاں پہنچنے میں کچھ دیر ہوگئی۔ میں نے سمجھا تھا کہ شایدڈھڈی والا ہوگا، جہاں ہمارے دوست شاہ صاحب رہتے ہیں۔ تاہم! برادر! میں نہایت اختصار کے ساتھ سب سے پہلے دو باتیں عرض کرتا ہوں۔ آپ توجہ سے سنیں۔

۱… پہلی بات تو یہ ہے کہ ایمان اور اسلام ﷲتعالیٰ اور بندے کے درمیان ایک معاملہ ہے۔ میں آپ کو دھوکہ دے سکتا ہوں۔ آپ مجھے دھوکہ دے سکتے ہیں۔ لیکن ﷲتعالیٰ کو کوئی دھوکہ نہیں دے سکتا۔ بندہ اپنے رب کو کبھی دھوکہ نہیں دے سکتا۔ ایسے نابھائی اسلم؟ جی بالکل! (اسلم نے جواب میں کہا) میری آپ سے درخواست ہے کہ قبول اسلام سے پہلے ایک مرتبہ نہیں دس مرتبہ سوچ لو۔ کیونکہ قبول اسلام کے بعد اسلام کو چھوڑ دینا دوبارہ کفر کی طرف واپس ہوجانا، قادیانیت میں چلے جانا، یہ اسلام میں ناقابل برداشت جرم ہے۔ جس سے پورے معاشرہ کا نظام خراب ہو جاتا ہے۔ معاشرہ میں فساد لازم آجاتا ہے۔ جو شرعاً بہت بڑا جرم ہے۔ مذہب اسلام کے ساتھ مذاق ہے یہ کیا بات ہوئی؟ کہ صبح اسلام قبول کیا۔ شام کو چھوڑ دیا۔ آج اسلام میں داخل ہوئے، کل کو ماری چھلانگ اور پھر کفر میں جا پڑے۔ یہ ایک گھناؤنا فعل ہے۔ جس کی شریعت اجازت نہیں دیتی۔ نیز یہ بھی یاد رکھیں کہ یہ احباب جو یہاں جمع ہیں، ان حاضرین میں سے کسی ایک کو بھی میں نے نہیں بلایا، اور نہ ہی میں اس حق میں ہوں۔ میں اور آپ تو بس کسی کونے میں بیٹھ جاتے۔ آپ مجھ سے پوچھتے جاتے، سوالات کرتے

199

جاتے۔ میں ان سوالات کا جواب دیتا جاتا۔ آپ اپنی کہتے جاتے میں اپنی کہتا جاتا بات کسی کنارے جا لگتی۔ بہرحال! میں دوبارہ درخواست کرتا ہوں کہ قبول اسلام سے پہلے دس دفعہ سوچ لیں، بیس دفعہ سوچ لیں۔ آج نہیں! کل سہی! جب شرح صدر ہو اسلام قبول کر لو۔

۲… دوسری بات یہ ہے کہ ختم نبوت پر وعظ کرنا یا قادیانیت کی تردید کرنا میرا پیشہ نہیں، کہ جان کر میں نے یہ پیشہ اختیار کیا ہو۔ ﷲتعالیٰ نے تھوڑی بہت زمین دے رکھی ہے۔ اسی سے میرا روٹی کپڑا اور دیگر ضروریات زندگی پوری ہو جاتی ہیں۔ لہٰذا یہ بات ذہن نشین کر لیں کہ یہ میرا پیشہ نہیں، بلکہ میں نے اپنی عاقبت اور قبر کو سامنے رکھ کر اسے حق اور سچ سمجھ کر اختیار کیا ہوا ہے، کہ شب وروز تحفظ ختم نبوت اور تردید قادیانیت کرتا ہوں اور جہاں تک میں سمجھتا ہوں۔ آپ نے بھی اپنی عاقبت اور قبر کو سامنے رکھ کر قادیانیت کو حق اور سچ سمجھ کر اسے اختیار کیا ہے۔ کوئی دنیاوی مفاد آپ کے بھی پیش نظر نہیں۔ کیوں بھائی اسلم؟ جی بالکل اسی طرح ہی ہے۔ (اسلم قادیانی نے جواب میں کہا) یوں میں اور آپ ایک دوسرے کے بہت ہی قریب ہیں۔ میں آپ سے وعدہ کرتا ہوں کہ اس دوران (یعنی گفتگو کے دوران) ڈنڈی نہیں ماروں گا۔ آپ کے سوالات واشکالات کا ﷲتعالیٰ کو حاضر وناظر جان کر صحیح صحیح جواب دوں گا اور آپ بھی وعدہ کریں کہ دوران گفتگو ڈنڈی نہیں ماریں گے، صحیح صحیح بات کریں گے۔ میں پھر عرض کرتا ہوں کہ میرا وعدہ ہے۔ دوران گفتگو ڈنڈی نہیں ماروں گا۔ کیونکہ میں اب زندگی کے اس حصے میں ہوں پتہ نہیں کس وقت بلاوا آجائے۔ اب میں نے دھوکہ دے کے کیا کرنا ہے؟ اپنی عاقبت تو خراب نہیں کرنی۔ میری بات سمجھ آئی ہے؟ جی بالکل!

یاد رکھیں! اس مجلس کے بعد آپ کو اختیار ہے! ایک مجلس نہیں کئی مجلسیں آپ اختیار کریں۔ پھر سوچیں جلدی نہ کریں۔ آج نہیں کل! جب جی چاہے اسلام قبول کر لیں۔ (یہ باتیں بطور تمہید مولانا اﷲ وسایا نے اسلم قادیانی کو مانوس اور اپنے قریب کرنے کے لئے ارشاد فرمائیں)

سوالات وجوابات

مولانا نے پھر اسلم قادیانی سے فرمایا: اب آپ دل کھول کر سوال کریں۔ پوچھیں۔ اپنے اشکالات میرے سامنے رکھیں اور میں جواب دوں۔

200

اسلم قادیانی:

میں عالم نہیں ہوں۔ پڑھا ہوا نہیں۔ خلیفۂ وقت کی کتابوں میں جو کچھ پڑھا ہے اس کے تحت پوچھتا ہوں۔ سورۂ نساء میں ﷲتعالیٰ نے فرمایا ہے۔ یہود نے (حضرت ) عیسیٰ علیہ السلام کو قتل نہیں کیا اور وہ سولی نہیں چڑھے۔ ان لوگوں کو شبہ میں ڈال دیا۔ قتل بھی نہیں ہوئے۔ سولی بھی نہیں چڑھے۔ انہیں شبہ میں ڈال دیا۔ انہیں کون سی شبہ پڑ گئی۔ پھر آگے ہے کہ انہیں اﷲ نے طرف اپنے اٹھا لیا۔ میں نے اہل سنت والجماعت کے ایک عالم دین (جنہیں شاید آپ بھی جانتے ہیں) مولانا شاہ عبدالقادر صاحبؒ کے ترجمہ میں بھی دیکھا۔ انہوں نے بھی اس طرح کا ترجمہ کیا ہے! اب آپ اس سے حیات ثابت کریں؟ (حضرت نے قران پاک منگوایا اور سورۂ نساء کی وہ آیات کھولیں اور پڑھیں)

مولانا اﷲ وسایا:

لو جی! یہ ہے وہ آیت کریمہ جس کے متعلق آپ کہتے ہیں۔ دیکھئے! بات یہاں سے شروع ہورہی ہے۔ ’’اعوذ باﷲ من الشیطٰن الرجیم۰ بسم اﷲ الرحمٰن الرحیم۰ فبما نقضہم میثاقہم وکفرہم بآیٰت اﷲ، وقتلہم الانبیاء بغیر حق، وقولہم قلوبنا غلف، بل طبع اﷲ علیہا بکفرہم، فلا یؤمنون الا قلیلا۰ وبکفرہم وقولہم علی مریم بہتانا عظیما۰ وقولہم انا قتلنا المسیح عیسیٰ ابن مریم رسول اﷲ، وما قتلوہ وما صلبوہ، ولکن شبہ لہم، وان الذین اختلفوا فیہ لفی شک منہ، ما لہم بہ من علم الااتباع الظن وما قتلوہ یقینا۰ بل رفعہ اﷲ الیہ، وکان اﷲ عزیزًا حکیمًا (نساء:۱۵۵تا۱۵۸)‘‘ {ان کو جو سزاملی سو ان کی عہد شکنی پر، اور منکر ہونے پر اﷲ کی آیتوں سے، اور خون کرنے پر پیغمبروں کا ناحق، اور اس کہنے پر کہ ہمارے دل پر غلاف ہے، سو یہ نہیں، بلکہ اﷲ نے مہر کر دی ان کے دل پر، کفر کے سبب سو ایمان نہیں لاتے مگر کم، اور ان کے کفر پر، اور مریم علیہا السلام پر بڑا بہتان باندھنے پر، اور ان کے اس کہنے پر، کہ ہم نے قتل کیا مسیح عیسیٰ مریم علیہما السلام کے بیٹے کو، جو رسول تھا اﷲ کا، اور انہوں نے نہ اس کو مارا، اور نہ سولی پر چڑھایا۔ لیکن وہی صورت بن گئی ان کے آگے، اور جو لوگ اس میں مختلف باتیں کرتے ہیں، تو وہ لوگ اس جگہ شبہ میں پڑے ہوئے ہیں۔ کچھ نہیں ان کو اس کی خبر، صرف اٹکل پرچل رہے ہیں، اور اس کو قتل نہیں کیا بے شک، بلکہ اس کو اٹھا لیا۔ اﷲ نے اپنی طرف، اور ﷲتعالیٰ ہے زبردست، حکمت والا۔}

201

بھائی اسلم:

ﷲتعالیٰ نے یہاں سے بات شروع کی ہے اور یہودیوں کے لعنتی ہونے کے اسباب بیان فرمائے ہیں، اور وہ اسباب دو حصوں میں تقسیم فرمائے ہیں۔ (۱)اقوال۔ (۲)افعال۔ جو باتیں تھیں وہ ان کے اقوال اور قول کہہ کر بتائے اور جو کام تھے، افعال تھے۔ وہ افعال کہہ کر، کام کہہ کر، فعل کہہ کر بتائے۔ مثلاً فرمایا:

۱… ان کے لعنتی ہونے کا ایک سبب یہ ہے کہ وہ وعدہ خلافی اور عہد شکنی کرتے تھے۔

۲… ان کے لعنتی ہونے کا ایک سبب یہ ہے کہ وہ اﷲ کی آیات کا انکار کرتے تھے۔ اﷲ کی آیات کا مذاق اڑاتے تھے۔ اﷲ کی آیات کا انکار کرنا، یا مذاق اڑانا یہ کفر ہے جو یہود نے کیا۔

۳… ان کے لعنتی ہونے کا ایک سبب یہ ہے کہ انہوں نے ﷲتعالیٰ کے پیغمبروں کا قتل ناحق کیا۔ انبیاء علیہم السلام کو قتل کرنا بہت بڑا جرم ہے۔ ایک قتل کرنا دوسرا ناحق قتل کرنا۔ جیسے کہا جاتا ہے۔ کریلا اور نیم چڑھا۔ ایک قتل کرنا دوسرا انبیاء علیہم السلام کا قتل کرنا اورقتل بھی ناحق تو اس فعل قتل کی وجہ سے بھی وہ لعنتی ہوئے۔

۴… ان کے لعنتی ہونے کا ایک سبب یہ ہے کہ وہ کہتے تھے کہ ’’ہمارے دلوں پر غلاف ہے‘‘ تمہاری رشد وہدایت کی ہمیں ضرورت نہیں۔ ﷲتعالیٰ نے تردید کرتے ہوئے فرمایا کہ ہم نے ان کے تکبر وعناد کی وجہ سے ان کے دلوں پر مہر لگادی ہے۔ اس وجہ سے رشد وہدایت کا اثر ان کے دلوں پر نہیں ہوتا۔

۵… ان کے لعنتی ہونے کا ایک سبب یہ ہے کہ انہوں نے مائی مریم (علیہا السلام) پر غلط بہتان باندھ کر کفر کا ارتکاب کیا۔ دونوں کام کئے، زبانی کلامی بہتان بھی لگایا اور فعل کفر بھی اختیار کیا۔ دیکھئے! ان کے قول کو قول کہہ کر بتلایا اور ان کے فعل کو فعل کہہ کر بتلایا۔

۶… ان کے لعنتی ہونے کا ایک سبب یہ ہے کہ یہود کہتے تھے۔ ’’ہم نے مسیح عیسیٰ بیٹے مریم (علیہما السلام) کو قتل کر ڈالا‘‘ میری آپ سے درخواست ہے کہ نبی کا قتل کرنا کفر ہے۔ بلکہ ارادۂ قتل بھی کفر ہے۔ پھر اس پر فخر کرنا، اکٹرنا یہ اس سے بھی بڑھ کر کفر ہے۔

بھائی اسلم:

یہاں یہ فرق سمجھیں! کہ ﷲتعالیٰ نے لعنت کے اسباب میں یہود کا قول نقل کیا ہے کہ وہ کہتے تھے کہ ہم نے مسیح عیسیٰ بیٹے مریم علیہما السلام کو قتل کر دیا۔ معلوم ہوا صرف ان کا قول ہے واقعہ میں قتل نہیں کیا۔ اگر قتل کیا ہوتا تو حسب سابق ﷲتعالیٰ فرماتے: ’’وقتلہم

202

وصلبہم المسیح عیسیٰ ابن مریم‘‘ جیسا کہ آیت مبارکہ میں اس سے قبل فرمایا: ’’وقتلہم الانبیاء بغیر حق‘‘ اگر قتل کیا ہوتا تو قرآن قول نقل نہ کرتا۔ فعل نقل کرتا۔ یہ فرق ضرور سمجھیں۔

اب ان کی تردید میں ﷲتعالیٰ نے پہلے تو فرمایا: ’’ماقتلوہ‘‘ کہ ان یہود نے سرے سے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو قتل ہی نہیں کیا۔

بھائی اسلم:

یہاں اہل علم بیٹھے ہیں جو صرف ونحو کے علوم رکھتے ہیں، اور وہ زیادہ سمجھتے ہیں۔ مثلاً عربی میں ایک جملہ استعمال کیا جاتا ہے۔ کہا جاتا ہے:’’ما ضربوہ‘‘ اس کا معنی یہ ہے کہ: ’’اس پر سرے سے فعل ضرب واقع نہیں ہوا۔‘‘ یہ نہیں کہ مارا تو ہے مگر تھوڑا سا مارا ہے۔ مارا تو ہے بس کٹاپا چڑھایا ہے۔ جانوں نہیں مارا۔ یہ ترجمہ نہیں بلکہ یہ ترجمہ ہے کہ: ’’اس پر سرے سے فعل ضرب واقع نہیں ہوا۔‘‘

تو اب بالکل اسی طرح سمجھیں ’’ما قتلوہ‘‘ کا معنی کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام پر سرے سے فعل قتل واقع نہیں ہوا۔ ایسے نہیں ہے۔ جیساکہ مرزاقادیانی کہتے ہیں کہ: ’’حضرت مسیح کو اتنا مارا گیا کہ آدھ مرے ہوئے ہوگئے تھے۔ یا ان کے جسم پر کنگھیاں پھیری گئی تھیں۔ پھر علاج معالجہ سے ٹھیک ہو گئے تھے وغیرہ۔‘‘ یہ بالکل غلط ہے۔

پھر فرمایا: ’’ما صلبوہ‘‘ کہ انہوں نے حضرت عیسیٰ ابن مریم (علیہما السلام) کو سولی پر بھی نہیں چڑھایا۔ کیا مطلب؟ کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام پر سرے سے فعل صلب واقع نہیں ہوا۔ یہ قرآن کہہ رہا ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام پر سرے سے فعل صلب واقع نہیں ہوا۔

بھائی اسلم! اﷲ کے گھر میں بیٹھ کر، باوضو ہوکر، قرآن پر ہاتھ رکھ کر، اور اپنی قبر کو سامنے رکھ کر کہہ رہا ہوں کہ یہ اس کا صحیح ترجمہ ہے۔ غلط ترجمہ کر کے اور جھوٹ بول کر میں نے اپنی قبر کالی نہیں کرنی۔ یہ تیرے سمجھانے کے لئے کہہ رہا ہوں۔ آگے فرمایا: ’’ولکن شبہ لہم‘‘ کہ وہ شبہ میں ڈال دئیے گئے۔ اب یہ کہ وہ شبہ کس چیز کا تھا؟ جس میں وہ ڈالے گئے؟ قتل کوئی مخفی چیز نہیں ہوتی۔ یہ قاتل کھڑا ہے۔ یہ لاش پڑی ہے۔ یہ خون گرا ہوا ہے۔ یہ آلۂ حرب وضرب پڑا ہے۔ قتل کوئی مخفی چیز تو ہے نہیں جو آنکھوں سے نظر نہ آئے۔ پھر شبہ کس چیز کا؟ تو اس کا جواب یہ ہے کہ انہوں نے اپنا ایک آدمی تیار کیا۔ جس کا نام یہودا تھا کہ تو اندر

203

جا، باقی سب تیرے پیچھے آکر اچانک حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو قتل کر دیں گے۔ چنانچہ دروازہ کھولا۔ اندر داخل ہوئے۔ ان کے منصوبۂ قتل سے پہلے ﷲتعالیٰ نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو اپنی طرف اٹھا لیا۔ اس کا ثبوت بھی قرآن میں موجود ہے۔ اس طرح کہ قران پاک میں ﷲتعالیٰ نے فرمایا ہے۔ ’’وایدناہ بروح القدس‘‘ {کہ ہم نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی حضرت جبرائیل امین علیہ السلام کے ذریعہ مدد کی۔} دیکھئے! یہ آیت مبارک بھی اس پر پوری پوری صادق آرہی ہے۔

بھائی اسلم! ماننا نہ ماننا مقدر کی بات ہے۔ سمجھنانہ سمجھنا مقدر کی بات ہے۔ مگر قرآن پاک کی یہ خوبی ہے کہ اگر اس کا ترجمہ صحیح کیا جائے تو اٹھارہ آیات کریمہ نگینے کی طرح جڑتی آتی ہیں، اور مالا تیار ہوتی جاتی ہے، اور اگر ترجمہ غلط کیا جائے تو اگلی آیت آگے آکر رکاوٹ ڈال دیتی ہے کہ ترجمہ غلط ہے۔ جب تک صحیح ترجمہ نہ کیا جائے آگے نہیں بڑھنے دیتی۔

اب اگلی آیت سنو! دوسری جگہ اﷲ پاک ارشاد فرماتے ہیں:’’ومکروا ومکراﷲ واﷲ خیر الماکرین‘‘ {یہود نے بھی تدبیر کی، اور اﷲ نے بھی تدبیر کی اور ﷲتعالیٰ سب سے بہتر تدبیر کرنے والے ہیں۔} مکر: خفیہ تدبیر کو کہا جاتا ہے۔

یہ دیکھو دوسری آیت مبارکہ ہے جو پوری پوری صادق آرہی ہے۔ جس کا مطلب یہ ہے کہ یہود نے بھی تدبیر کی اور اﷲ نے بھی تدبیر کی۔ یہود کی تدبیر تھی حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو قتل کرنے کی اور صلیب دینے کی، اور اﷲ کی تدبیر تھی حضرت عیسیٰ ابن مریم علیہما السلام کو بچانے کی۔ اب نتیجہ کیا نکلا؟

قرآن کہتا ہے۔ اﷲ تعالیٰ کی تدبیر کامیاب رہی۔ اﷲ کی تدبیر کیسے کامیاب رہی؟ ہوا اس طرح کہ جس یہودا کو انہوں نے اندر بھیجا تھا اس پر حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی شبیہ ڈال دی گئی۔

سوال:

اب سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا اس طرح ممکن بھی ہے؟ کہ ایک چیز پر دوسری چیز کی شبیہ ڈال دی جائے؟ کیا شکل بدلنا ممکن ہے؟ کوئی اس کی مثال؟

جواب:

بالکل ممکن ہے! اور قرآن پاک میں اس کی مثال موجود ہے۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام جب کوہ طور پر کھڑے تھے، اور ﷲتعالیٰ سے ہم کلامی ہو رہی تھی، دوران گفتگو اﷲ تعالیٰ

204

نے دریافت فرمایا: اے موسیٰ آپ کے دائیں ہاتھ میں کیا ہے؟ جواب دیا عصا! فرمایا اسے زمین پر ڈالو! حضرت موسیٰ علیہ السلام نے عصا جو ڈالا۔ تو اﷲ کے حکم سے سانپ کی شکل اختیار کر لی، اور اب لگا حرکت کرنے ایک سیکنڈ لگا،یا وہی عصا تھا، یا اب سانپ بن گیا۔ پھن نکالی اور حضرت موسیٰ علیہ السلام مارے ڈر کے دوڑنے لگے۔ ﷲتعالیٰ نے فرمایا: ’’لا تخف‘‘ {مت ڈرئیے۔} اپنا عصا لے لو! جب عصا اٹھایا تو اب وہی لکڑی رہ گئی۔ جو رب لکڑی کو سانپ بنا سکتا ہے، وہی رب اس بندے پر حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی شبیہ بھی ڈال سکتا ہے۔ تو حضرت عیسیٰ علیہ السلام تو زندہ آسمان پر اٹھالئے گئے۔ یہودیوں نے اس بندے کو عیسیٰ علیہ السلام سمجھ کر پکڑ لیا۔ اب نہ آؤ دیکھا نہ تاؤ۔ گھونسہ مار، کوئی ٹھوکر مار، کوئی ڈنڈا مار، نہ آؤ دیکھا نہ تاؤ پکڑا اور سولی چڑھا دیا۔ جب اسے سولی دی تو پریشان ہوئے کہ جو بندہ ہم نے بھیجا تھا وہ کہاں گیا؟

اسلم قادیانی:

ان لوگوں کو یہ پتہ نہیں تھا کہ جو بندہ ہم نے بھیجا تھا وہ کہاں گیا؟ وہ اتنے پاگل تھے؟ ان باتوں کو رہنے دیں۔ مجھے یہ سمجھائیں کہ انہیں شبہ کس چیز کا لگا؟۔

مولانا اﷲ وسایا:

میں اسی شبہ کی طرف آرہا ہوں۔ میرے بھائی! یاد رکھیں بھائی اسلم! مسلمانوں کی کتابیں بھی اور عیسائیوں کی کتابیں بھی۔ مسلمانوں کی تفسیریں اور عیسائیوں کی اناجیل بھی اس بات پر گواہ ہیں، اور یہ بتلاتی ہیں کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام اپنے مکان میں تنہا نہیں تھے۔ حضرت کے ساتھ اس مکان میں کئی حواری بھی موجود تھے اور حضرت اپنے گھر کے چشمہ سے غسل فرما کر باہر تشریف لائے۔ اپنے حواریوں کے پاس، تو ان کے سامنے ایک تقریر فرمائی۔ جس میں یہ بھی فرمایا: کہ کون شخص تم میں سے اس بات پر راضی ہے، کہ اس پر میری شباہت ڈال دی جائے، اور وہ میری جگہ قتل کیا جائے، اور قیامت کے دن میرے ساتھ رہے۔ یہ سنتے ہی ایک نوجوان کھڑا ہوا اور قربانی دینے کے لئے اپنے آپ کو پیش کیا۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے فرمایا۔ بیٹھ جاؤ! پھر اسی طرح اعلان فرمایا۔ پھر وہی نوجوان کھڑا ہوا۔ حضرت نے فرمایا بیٹھ جاؤ! تیسری مرتبہ پھر اعلان فرمایا۔ پھر وہی نوجوان کھڑا ہوا۔ حضرت نے فرمایا۔ اچھا تو ہی وہ شخص ہے؟ اس کے فوراً بعد اس نوجوان پر حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی شباہت ڈال دی گئی، اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو روشندان سے آسمان پر اٹھا لیا گیا۔ اب یہودی حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو گرفتار کرنے کے لئے جو مکان میں داخل ہوئے، تو

205

اس حواری (جس پر حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی شبیہ ڈالی گئی تھی) کو گرفتار کیا۔ قتل کر کے صلیب چڑھادیا۔ بھائی اسلم! میں نے آپ کو پہلے اور انداز میں سمجھایا۔ اب اور انداز میں عرض کر رہا ہوں! یہ دونوں باتیں مسلمانوں کی کتب میں موجود ہیں۔ مفسرین کی کمال دیانت دیکھیں! کہ انہوں نے اپنی تفاسیر میں دونوں قول اور دونوں باتیں نقل کر دی ہیں۔ عیسائیوں نے صرف پہلی بات کو لیا۔ دوسری کو ذکر نہیں کیا۔ یاد رکھیں! قرآن پاک کوئی تاریخی کتاب نہیں یہ تو احکامات اور اصول وضوابط کی کتاب ہے۔ تاریخی کتاب نہیں۔

اسلم:

جی بالکل! تاریخی کتاب نہیں۔

مولانا اﷲ وسایا:

اﷲ تعالیٰ تجھے بہتر بدلہ دے میرا بھائی! تو بہت ہی سمجھدار ہے۔

اب یہ جو ﷲتعالیٰ نے فرمایا: ’’ولکن شبہ لہم‘‘ کہ انہیں شبہ لگ گیا، تو وہ شبہ کیا تھا؟ سنیں میری درخواست! جو بات میں نے پہلے کہی ہے کہ یہودیوں نے اپنا بندہ اندر بھیجا تھا۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام تو چلے گئے آسمانوں پر، اور انہوں نے یہودا کو پکڑ کر قتل کیا اور سولی چڑھادیا۔ تو شبہ اس طرح لگا کہ چہرہ اس کا حضرت عیسیٰ علیہ السلام جیسا ہے اور ہڈ، بت ہمارے ساتھی کے لگتے ہیں۔ یہ عیسیٰ (علیہ السلام) ہے تو ہمارا ساتھی کہاں؟ اور اگر یہ ہمارا ساتھی ہے تو حضرت عیسیٰ علیہ السلام کہاں؟ یہ جو اس جستجو میں پڑے ہیں قرآن نے اسے کہا: ’’شبہ لہم‘‘ جب تک وہ قتل نہیں ہوا تو قرآن نے ’’شبہ لہم‘‘ نہیں کہا اب قتل ہوگیا اور یہ تحقیق اور جستجو میں پڑے تو قرآن نے کہا: ’’شبہ لہم‘‘ اور آج تک یہود اسی چکر میں پڑے ہوئے ہیں۔ قرآن نے کہا: ’’ما لہم بہ من علم الا اتباع الظن‘‘ {ان کے پاس اس کا علم نہیں ہے وہ اٹکل کی باتیں کر رہے ہیں۔} مطلب یہ ہے کہ ان میں سے کسی نے بھی اٹکل کے سوا کچھ نہیں کہا۔ اس کا صحیح علم کسی کو بھی نہیں، یہ ہے وہ شبہ جس کے متعلق تو پوچھتا ہے۔ کوئی بات سمجھ میں آئی؟ اب شبہ سمجھ میں آیا؟

اسلم قادیانی:

ہوں! دیکھو جی! بات تو ہوئی نا۔

مولانا اﷲ وسایا:

دیکھئے! بھائی اسلم! یہود کہتے تھے۔ ’’انّا قتلنا‘‘ (کہ بے شک ہم نے قتل کر دیا) اس میں ایک ’’انّا‘‘ کی ضمیر جمع کی ہے اور ’’قتلنا‘‘ کی ضمیر نا بھی جمع کی ہے۔ یہود نے کہا پکی بات ہے۔ ہم نے قتل کیا مسیح عیسیٰ بیٹے مریم (علیہما السلام) کو، قاتل کہتے ہیں ہم نے قتل کیا۔ قرآن الٹا نفی میں کہتا ہے۔ ’’ما قتلوہ‘‘ {انہوں نے اس کو قتل نہیں کیا۔}

206

’’ولکن شبہ لہم‘‘ {اور لیکن انہیں شبہ میں ڈال دیا گیا۔} سمجھ گئے بھائی اسلم! جی سمجھ گیا۔ آگے چلیں! حضرت عیسیٰ علیہ السلام قتل بھی نہیں ہوئے۔ سولی بھی نہیں دئیے گئے تو ہوا کیا؟ قرآن نے کہا: ’’بل رفعہ اﷲ الیہ‘‘ {کہ ﷲتعالیٰ نے اسے اپنی طرف اٹھا لیا۔} بھائی اسلم! غور کریں۔ یہاں چار جملے ﷲتعالیٰ نے ذکر کئے ہیں: (۱)’’ما قتلوہ‘‘ (۲)’’ما صلبوہ‘‘ (۳)’’ما قتلوہ‘‘ (۴)’’بل رفعہ‘‘ ان میں سے ’’ماقتلوہ‘‘ کی ضمیر’’ہ‘‘ کی ’’ما صلبوہ‘‘ کی ضمیرہ کی پھر ’’ماقتلوہ‘‘ کی ضمیر بھی ’’ہ‘‘ کی اور ’’بل رفعہ‘‘ کی ضمیر بھی ’’ہ‘‘ کی۔ یہ چاروں ضمیریں ’’ہ‘‘ کی ہیں اور چار کی چار حضرت مسیح عیسیٰ ابن مریم علیہما السلام کی طرف راجع ہیں۔ اس سے مراد حضرت مسیح عیسیٰ ابن مریم علیہما السلام ہیں! کیا مطلب؟ جس عیسیٰ علیہ السلام کو انہوں نے قتل نہیں کیا۔ جس عیسیٰ علیہ السلام کو انہوں نے پھانسی نہیں دی۔ پھر کہا جس عیسیٰ علیہ السلام کو پکی بات ہے انہوں نے قتل نہیں کیا۔ اسی عیسیٰ علیہ السلام کو ﷲتعالیٰ نے اپنی طرف اٹھا لیا۔ ذرا اور انداز سے سمجھیں۔ قتل جسم ہوتا ہے تو اٹھایا بھی جسم گیا ہے۔ اگر قتل روح کی گئی ہے تو اٹھائی بھی روح گئی ہے۔ آج تک دنیا میں کسی کی روح کو قتل نہیں کیاگیا، اور نہ ہی اس کا (سوا مرزاقادیانی کے) کوئی قائل ہے۔ فعل قتل جسم کا ہوتا ہے روح کا نہیں۔

اسلم قادیانی:

حکم دیں تو عرض کروں؟

مولانا اﷲ وسایا:

میرا بھائی حکم کیا؟ تو دل کھول کر سوال کر۔ تیرے لئے تو بیٹھا ہوں۔

اسلم قادیانی:

حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے نعلین کو نجاست لگی ہوئی تھی۔ رب کو گوارا نہ ہوا۔ اﷲ تو غیرت رکھتا ہے۔ کافر کو ﷲتعالیٰ نے نبی کی شکل کیوں اور کیسے دے دی؟

مولانا اﷲ وسایا:

اﷲ تجھے دیوے عزت بھائی اسلم! اور تجھے خوش رکھے تو نے بہت اچھا سوال کیا! اب تو مجھے بتا کہ ﷲتعالیٰ نے اسے اپنے نبی کی شکل دے کر عزت کرائی تو بات تو ہوئی، اور اگر شکل نبی کی دے کرجوتے مروائے تو تو خود سوچ۔ میں نے تجھے دوروایتوں کے حوالے سے، عیسائیوں اور مسلمانوں کی کتابوں کے حوالے سے مفصل بات سمجھا دی ہے، اور یہ بھی بتایا ہے کہ ہمارے مفسرین کی کمال دیانت دیکھئے! کہ انہوں نے اپنی طرف سے کوئی بات نہیں فرمائی اور نہ ہی گھڑی مسلمانوں کے معتبر ائمہ کے حوالے بھی، اور یہودیوں کے اقوال بھی انہوں نے کمال دیانت سے لکھ دئیے ہیں اور بتادئیے ہیں، اور پھر تفصیل کے

207

ساتھ یہ بتایا کہ ﷲتعالیٰ نے اسی جسم کو اپنی طرف اٹھالیا۔ جس جسم کو انہوں نے قتل نہیں کیا۔ میں نے اتنی وضاحت کے ساتھ آپ کو بات سمجھا دی۔ مجھے کہاں سے پھر دھکیل کے پیچھے لے آیا! اور بھی بہت سی باتیں میں نے آپ کو سمجھانی ہیں۔ یہ تو تیرے سمجھنے اور سوچنے کے لئے اتنی لمبی چوڑی تفصیل ذکر کی ہے۔ اب کی ہوئی ساری تقریر مجھ سے پھر نہ کروا۔ سمجھ گیا ہے یا نہیں؟

اسلم:

جی بالکل سمجھ میں آگئی ہے بات۔

مولانا اﷲ وسایا:

جزاک اﷲ! میرے بھائی! آگے چلئے۔

اب آپ پوچھیں گے کہ اﷲ تو ہر جگہ موجود ہے۔ اس میں آسمان کا لفظ کہاں ہے؟

اسلم قادیانی:

میں نے تو آسمان کی بات ہی نہیں کی؟

مولانا اﷲ وسایا:

آپ نہیں کرتے، لیکن قادیانی تو کرتے ہیں اور پوچھتے ہیں کہ اس آیت میں آسمان کا لفظ دکھاؤ؟ تو میں ان سے متعلق کہہ رہا ہوں۔ ایک قادیانی نے مجھ سے گفتگو کے دوران پوچھا۔ آپ کہتے ہیں حضرت عیسیٰ علیہ السلام آسمان پر ہیں۔ آسمان پر اٹھائے گئے ہیں، تو آسمان کا لفظ دکھائیں؟ کہاں ہے؟ میں نے کہا عیسیٰ علیہ السلام کو نہیں اٹھایا تو کس چیز کو اٹھایا؟ کہنے لگا روح کو۔ میں نے کہا روح کو کہاں اٹھایا؟ کہنے لگا آسمان کی طرف۔ میں نے کہا میرا اور آپ کا جھگڑا آسمان کا تو ہے ہی نہیں، تو بھی کہتا ہے آسمان کی طرف اٹھائے گئے ۔ میں بھی یہی کہہ رہا ہوں کہ آسمان کی طرف اٹھائے گئے۔ فرق صرف اتنا ہے کہ تو کہتا ہے صرف روح اٹھائی گئی۔ میں کہتا ہوں جسم اور روح دونوں اٹھائے گئے۔ آسمان کا تو سرے سے جھگڑا ہی نہیں۔

ﷲتعالیٰ ہر جگہ موجود ہیں۔ ان کی توجہ کائنات کے ذرے ذرے پر موجود ہے۔ لیکن جب جہت بتانی یا ثابت کرنی ہوگی تو نسبت آسمان کی طرف کریں گے۔ اس بات کی مؤید یہ آیت مبارکہ ہے۔ دیکھئے! قرآن کہتا ہے: ’’ء امنتم من فی السماء ان یخسف بکم الارض (ملک:۱۶)‘‘ {کیا تم اس ذات سے بے خوف ہو جو آسمان میں ہے۔ یہ کہ تمہیں زمین میں دھنسا دے۔} دیکھیں! اس آیت مبارکہ میں جہت کو ثابت کیا تو نسبت آسمان کی طرف کی، جیسے یہ آیت کریمہ اس پر شاہد ہے۔ اسی طرح حدیث پاک کا ایک واقعہ بھی اس کا مؤید اور شاہد ہے۔

208

واقعہ:

حدیث پاک میں ہے۔ حضرت معاویہ بن حکمؓ نے رسول ﷲ صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کیا کہ میری ایک باندی ہے جو میری بکریاں چراتی ہے۔ میری ایک بکری گم ہوگئی تو میں نے اس سے پوچھا۔ بکری کہاں گئی؟ اس نے کہا بھیڑیا کھا گیا ہے۔ میں نے غصہ میں اس کے چہرے پر طمانچہ رسید کر دیا۔ نیز مجھ پر کفارہ بھی ہے۔ مگر یہ معلوم نہیں کہ وہ مؤمنہ بھی ہے یا نہیں کہ کفارہ میں اسے آزاد کردوں اور اپنے جرم کی بھی تلافی کر لوں۔ تو حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔ اسے میرے پاس لے آؤ۔ چنانچہ معاویہ بن حکمؓ اس باندی کو حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں لائے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس باندی سے استفسار فرمایا۔ ’’این اﷲ؟‘‘ {اﷲ کہاں ہے؟} بولی: ’’فی السماء‘‘ {کہ ﷲتعالیٰ آسمان میں ہیں۔} فرمایا: ’’من انا؟‘‘ {میں کون ہوں؟} بولی: ’’انت رسول اﷲ‘‘ { آپ صلی اللہ علیہ وسلم اﷲ کے رسول ہیں۔}

آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے معاویہ بن حکمؓ سے ارشاد فرمایا۔ ’’انہا مؤمنۃ‘‘ {یہ تو ایماندار باندی ہے} لہٰذا اسے آزاد کر سکتا ہے۔ دیکھئے! اس حدیث میں باندی نے جہت کے سوال میں ﷲتعالیٰ کی نسبت آسمان طرف کی اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے قبول فرمالیا، اور اس کے ایمان کی شہادت بھی دی۔

اور دوسری آیت مبارکہ ہے: ’’ام امنتم من فی السماء ان یرسل علیکم حاصبا (ملک:۱۷)‘‘ {کیا تم اس ذات سے بے خوف ہو جو آسمان میں ہے۔ یہ کہ تم پر پتھروں کی بارش برسائے۔} اس آیت میں بھی ﷲتعالیٰ کی جہت کی نسبت آسمان کی طرف کی گئی ہے۔ ان کے علاوہ بیسیوں آیات اور بیسیوں احادیث مبارکہ میں اس طرح کے الفاظ اور اس طرح کا مضمون وارد ہے، اور خود مرزاقادیانی نے بھی اپنی کتابوں میں جگہ بہ جگہ آسمان کا لفظ لکھا ہے۔ مثلاً ’’براہین احمدیہ‘‘ میں لکھا ہے: ’’حضرت مسیح تو انجیل کو ناقص کی ناقص ہی چھوڑ کر آسمانوں پر جا بیٹھے۔‘‘

(براہین احمدیہ ص۳۶۱ حاشیہ، خزائن ج۱ ص۴۳۱)

اسلم قادیانی:

میرا سوال تو آسمان کے بارے میں ہے ہی نہیں؟

مولانا اﷲ وسایا:

تو نہیں بھائی، جو قادیانی اس طرح کا سوال کرتے ہیں میں ان کے جواب میں کہہ رہا ہوں۔ تو تو میرا بھائی ہے۔ میری یہ گفتگو، میری یہ درخواست اور گذارش، ان قادیانیوں سے متعلق ہے جو اس طرح کے الٹے پلٹے سوال کرتے ہیں۔

سیدنا مسیح عیسیٰ ابن مریم (علیہما السلام) آسمانوں کی طرف روح اور جسم دونوں

209

کے ساتھ اٹھائے گئے ہیں۔ اس بات کو مضبوط اور پختہ کرنے کے لئے آگے قرآن کہتا ہے: ’’عزیزاً حکیما‘‘ یہاں دو لفظ ذکر فرمائے ہیں۔ (۱)عزیز۔ (۲)حکیم۔

عزیز کا معنی طاقت والا، زبردست ہے اور حکیم کا معنی حکمت والا ہے۔ اگر ’’بل رفعہ‘‘ میں روحانی طور پر اٹھایا جانا مراد ہو تو ’’بل رفعہ‘‘ کی ’’عزیزا حکیما‘‘ کے ساتھ کوئی مناسبت نہیں رہتی۔ اس لئے کہ ’’عزیز‘‘ اور ’’حکیم‘‘ دونوں لفظ ایسے موقع پر استعمال کئے جاتے ہیں۔ جہاں پر کوئی عجیب وغریب امر پیش آیا ہو۔ یہاں عجیب امر جسم اور روح کا آسمان پر اٹھایا جانا پیش آیا ہے۔ اس لئے قرآن نے ’’عزیزاً حکیما‘‘ فرمایا ہے۔

نکتہ

بھائی اسلم دیکھئے! ہر لطیف چیز کا مرکز اوپر ہے اور ہر کثیف چیز کا مرکز نیچے۔ اسے ایک مثال سے سمجھیں، دیکھیں! گیند ہے، اس میں ہوا بھر کر اس کا منہ بند کر کے پانی کی تہہ میں لے جا کر چھوڑیں گے تو پانی کو چیرتی ہوئی اوپر آجائے گی۔ اس لئے کہ ہوا ایک لطیف چیز ہے اور اس کا مرکز اوپر ہے۔ اس لئے یہ اپنے مرکز کی طرف خود بخود آئی۔ اسی طرح اینٹ، پتھر، ڈھیلا اوپر پھینکے جائیں تو یہ نیچے تڑاخ کر کے گریں گے۔ اس لئے کہ یہ کثیف چیزیں ہیں اور ہر کثیف اور وزنی چیز کا مرکز نیچے ہے۔ اس لئے اینٹ، پتھر وغیرہ نیچے آگرے۔ بالکل یوں ہی سمجھیں کہ روح ایک لطیف چیز ہے اور ہر کسی کی روح اوپر جاتی ہے تو یہاں ﷲتعالیٰ کی صفت عزیز کیسے ثابت ہوگی؟ جس کا معنی طاقت کا ہے تو ﷲتعالیٰ کی طاقت یہاں کیسے ثابت ہوئی؟ یاد رکھیں! جس جسم نے (جو کہ کثیف ہے) یہاں رہنا تھا وہ اوپر چلا گیا؟ اب یہ کہ کیسے چلا گیا؟ قرآن نے کہا ’’عزیزاً‘‘ (کہ ﷲتعالیٰ زبردست ہے، طاقت والا ہے) وہ اپنی قوت وطاقت سے سیدنا مسیح عیسیٰ ابن مریم علیہما السلام کو اوپر لے گیا۔ اب رہا یہ سوال؟ کہ پیغمبر تو اور بھی ہیں۔ سیدنا مسیح عیسیٰ ابن مریم علیہما السلام کو کیوں اٹھا کر لے گیا؟ تو قرآن نے کہا ’’حکیما‘‘ (وہ حکمت والا ہے) اس نے اپنی حکمت سے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو اوپر اٹھا لیا ہے تم کون ہو؟ ٹیں ٹیں کرنے والے۔

پھر سوال ہوتا ہے؟ کہ کیا سیدنا عیسیٰ ابن مریم علیہما السلام ساری زندگی وہاں

210

آسمانوں پر ہی رہیں گے؟ تو اسکے جواب میں آگے قرآن کہتا ہے: ’’وان من اہل الکتاب الا لیؤمنن بہ قبل موتہ ویوم القیامۃ یکون علیہم شہیدا (نساء:۱۵۹)‘‘ {اور جتنے فرقے ہیں اہل کتاب کے سو عیسیٰ علیہ السلام پر ایمان لائیں گے۔ اس کی موت سے پہلے اور قیامت کے دن ہوگا ان پر گواہ۔}

مطلب یہ ہے کہ اس وقت حضرت عیسیٰ علیہ السلام زندہ آسمان پر تشریف فرماہیں۔ ساری زندگی وہاں نہیں رہیں گے۔ قرب قیامت میں دجال پیدا ہوگا۔ اس وقت تشریف لائیں گے، اور دجال کو قتل کریں گے اور یہود ونصاریٰ کے وہ گروہ جو حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے قتل وصلیب کے مدعی تھے یا ہوں گے۔ وہ حضرت کو دیکھ کر ایمان لائیں گے، اور اس بات کا یقین کر لیں گے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام زندہ ہیں۔ مرے نہیں تھے۔ پھر کچھ عرصہ دنیا میں رہ کر انتقال فرمائیں گے، اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے روضہ اقدس میں دفن ہوں گے۔

اب یہ کہ وہ آکر کیا کارنامے سرانجام دیں گے؟ تو اس آیت کی تفسیر کرتے ہوئے حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: بخاری شریف (جسے مرزاقادیانی نے بھی اپنی کتابوں میں اصح الکتب بعد کتاب اﷲ کتاب البخاری کہا ہے) میں ہے: ’’قال رسول ﷲ صلی اللہ علیہ وسلم والذی نفسی بیدہ لیوشکن ان ینزل فیکم ابن مریم حکما عدلا، فیکسر الصلیب، ویقتل الخنزیر، ویضع الحرب، ویفیض المال، حتی لا یقبلہ احد، حتی تکون السجدۃ الواحدۃ خیرا من الدنیا وما فیہا ثم یقول ابوہریرۃؓ: واقروا! ان شئتم! وان من اہل الکتاب الا لیؤمنن بہ قبل موتہ ویوم القیامۃ یکون علیہم شہیدا (بخاری شریف ج۱ ص۴۹۰)‘‘ {رسول ﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: قسم ہے اس ذات پاک کی جس کے قبضہ میں میں محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) کی جان ہے۔ یقینا وہ زمانہ قریب ہے جب تم میں ابن مریم علیہما السلام حاکم عادل ہونے کی حیثیت سے نازل ہوں گے۔ صلیب کو توڑ ڈالیں گے۔ خنزیر (سؤر) کو قتل کریں گے۔ جنگ کا خاتمہ کریں گے۔ مال ودولت کی ایسی فراوانی ہوگی کہ اسے کوئی قبول نہ کرے گا، اور لوگوں کی نظر میں ایک سجدہ کی قدروقیمت دنیا ومافیہا سے زیادہ ہوگی۔ پھر حضرت ابوہریرہؓ فرمانے لگے۔ اگر تم چاہو تو بطور تائید کے قرآن پاک کی یہ آیت پڑھ لو۔ ’’وان من اہل الکتاب…الخ‘‘ (اہل کتاب میں سے کوئی ایسا نہیں ہوگا جو حضرت عیسیٰ علیہ السلام پر ان

211

کی وفات سے پہلے ایمان نہ لے آئے، اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام ان پر قیامت کے دن گواہ ہوں گے)}

دیکھیں بھائی اسلم! اس حدیث پاک میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے نزول کے بعد کے فرائض اور انجام دئیے جانے والے کارنامے ذکر فرمائے ہیں۔

۱… پہلی بات یہ ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام حاکم عادل ہوں گے۔ یہاں انصاف کا راج ہوگا۔

۲… نصاریٰ کے سب سے بڑے شعار صلیب کو توڑ ڈالیں گے۔ یعنی صلیب پرستی ختم ہو جائے گی۔

۳… خنزیر کو قتل کر دیں گے۔ یعنی جو حلال سمجھ کر اسے کھاتے اور اس سے محبت رکھتے ہیں، اور اسے پالتے ہیں۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام ان کی تردید کریں گے، اور وہ مسلمان ہوکر خود خنزیر کا صفایا کر دیں گے۔

اسلم قادیانی:

حضرت! کیا حضرت عیسیٰ علیہ السلام خود خنزیروں کو قتل کریں گے؟ یہ تو نبی کے منصب اور ان کی شان کے خلاف ہے؟

مولانا اﷲ وسایا:

بھائی اسلم! آپ بات سمجھنے کی کوشش کریں۔ انشاء اﷲ! ساری صورتحال آپ پر واضح ہو جائے گی۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام نعوذ باﷲ! خود خنزیروں کو قتل نہیں کریں گے۔ بلکہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی تشریف آوری سے خنزیر کھانے والی اور اس کا ریوڑ پالنے والی قوم نہ رہے گی۔ وہ قوم اس لئے نہیں رہے گی کہ اس وقت سب کے سب مسلمان ہو جائیں گے۔ جب وہ مسلمان ہو جائیں گے تو اب وہی مسلمان جو خود اپنے ہاتھ سے خنزیر کو پالتے تھے وہی اپنے ہاتھوں سے خنزیروں کو قتل بھی کریں گے۔ یہ قتل چونکہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے نزول کے بعد ہوگا، اور آپ کا نزول، قتل کا سبب بنا، اس لئے قتل کی نسبت حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی طرف کر دی گئی۔ اب میں مثال کے ساتھ آپ کو سمجھاتا ہوں۔ دیکھئے! ’’ذوالفقار علی بھٹو‘‘ کو ’’جنرل ضیاء الحق‘‘ نے پھانسی دی۔ دی یا نہیں دی؟ جی بالکل دی۔ حالانکہ پھانسی کا فیصلہ کرنے اور سنانے والا ’’مشتاق احمد (چیف جسٹس لاہور)‘‘ تھا اور پھانسی کا پھندا گلے میں ڈالنے اور لٹکانے والا مشہور جلاّد ’’تارا مسیح‘‘ تھا۔ مگر بایں ہمہ پھانسی کی نسبت جنرل ضیاء الحق کی طرف کی جاتی ہے اور کی جاتی رہے گی۔ کیونکہ یہ پھانسی والا

212

کام اس کے عہد اقتدار اور اس کی سلطنت میں ہوا۔ حالانکہ اس نے خود پھانسی نہیں دی۔ دوسری مثال لیجئے! ’’جنرل ایوب خان‘‘ نے ۱۹۶۵ء کی پاک بھارت جنگ میں فتح حاصل کی۔ حالانکہ لڑنے والے فوجی تھے۔ چونکہ عہد حکومت اور سلطنت ایوب خان کی تھی اور حکم اس کا تھا۔ اس لئے فتح کی نسبت ایوب خان کی طرف کی جائے گی۔ اسی طرح خنزیر چونکہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے زمانہ میں قتل ہوں گے تو احادیث مبارکہ میں اس کا کریڈٹ آپ کو دیاگیا۔

بھائی اسلم! اگر قادیانیوں کے بقول قتل خنزیر سے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی توہین لازم آتی ہے تو پھر قادیانی جماعت کے بہت بڑے مفتی، مفتی صادق اپنی کتاب ’’ذکر حبیب‘‘ میں لکھتے ہیں کہ ’’مرزاقادیانی کے ایک مرید نے مرزاقادیانی سے شکایت کی کہ لوگ مجھے کتا مار پیر کہتے ہیں۔ اس پر مرزاقادیانی نے کہا کہ اس میں کیا حرج ہے۔ خدا نے مجھے سؤر مار کہا ہے۔‘‘

(ذکر حبیب ص۱۶۲)

اس کے علاوہ ’’تحفہ گولڑویہ، براہین احمدیہ، کشتی نوح، سیرت المہدی‘‘ وغیرہ مرزاقادیانی کی کتابوں میں اس طرح کی کئی باتیں موجود ہیں۔اگر حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے لئے قتل خنزیر باعث ملامت ہے تو مرزاقادیانی کے لئے کیوں نہیں؟ اچھا آگے چلئے۔

۴… حضرت عیسیٰ علیہ السلام جنگ کا خاتمہ کر دیں گے۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے زمانہ میں تمام ادیان باطلہ مٹ جائیں گے۔ صرف ایک دین، دین اسلام باقی رہے گا۔ اسی کو حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے یوں بیان فرمایا: ’’حتی یہلک اﷲ فی زمانہ الملل کلہا غیر الاسلام‘‘ {حتیٰ کہ ﷲتعالیٰ ان کے زمانہ میں اسلام کے سوا تمام ادیان ومذاہب باطلہ کا خاتمہ کر دیں گے۔} اب حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی نسبت قتل خنزیر اور جنگ موقوف کرنے پر کیا اشکال باقی رہا؟۔

اسلم قادیانی:

جی! کوئی نہیں۔

مولانا اﷲ وسایا:

بہت اچھا! آگے چلئے۔

۵… مال ودولت کی بہتات ہوگی۔ یعنی اخروی برکات کے ساتھ ساتھ دنیاوی برکات کا ظہور بھی ہوگا۔

۶… عبادت محبوب ہوگی۔ حضرت ابوہریرہؓ ہوں یا دیگر صحابہ کرام(رضوان اﷲ

213

تعالیٰ علیہم اجمعین) قرآن پاک کی تفسیر حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمان میں ڈھونڈتے تھے۔ اس حدیث پاک میں بھی حضرت ابوہریرہؓ نے آیت ’’وان من اہل الکتاب… الخ!‘‘ کی تفسیر حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمان سے کر کے فرمایا کہ اگر تمہیں یقین نہیں تو ﷲتعالیٰ کا یہ فرمان ’’وان من اہل الکتاب‘‘ پڑھ کے دیکھ لو۔

دیکھ، بھائی اسلم! پہلی آیات میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے آسمان پر جانے کا ذکر ہے اور اس آیت میں واپس آنے کا ذکر ہے۔ خود مرزاقادیانی نے بھی اس کا اقرار کیا ہے۔ چنانچہ ’’براہین احمدیہ‘‘ میں لکھتا ہے۔ ’’ھو الذی ارسل رسولہ بالہدیٰ… الخ یہ آیت جسمانی اور سیاست ملکی کے طور پر حضرت مسیح کے حق میں پیش گوئی ہے اور جس غلبہ کاملہ دین اسلام کا وعدہ دیا گیا ہے۔ وہ غلبہ مسیح کے ذریعہ سے ظہور میں آئے گا، اور جب حضرت مسیح علیہ السلام دوبارہ اس دنیا میں تشریف لائیں گے تو ان کے ہاتھ سے دین اسلام جمیع آفاق اور اقطار میں پھیل جائے گا۔‘‘

(براہین احمدیہ ص۴۹۸،۴۹۹، خزائن ج۱ ص۵۹۳)

یہ تھی وہ آیت کریمہ جس کے متعلق آپ پوچھ رہے تھے، اور میں نے تفصیل آپ کے سامنے رکھ دی۔

ایک قادیانی سے گفتگو

ایک قادیانی سے میری گفتگو ہورہی تھی۔ دوران گفتگو کہنے لگا۔ عیسیٰ فوت ہوگئے۔ ان کی جگہ آیا مرزاقادیانی، میں نے کہا دلیل؟ کہنے لگا قرآن میں ہے عیسیٰ فوت ہوگیا ہے۔ میں نے کہا یہ بات مجھے سمجھا دے، میں نے مان لیا فوت ہوگیا، تو فوت شدہ کیسے آگیا؟ یہ بات مجھے سمجھا دے۔ میں نے کہا کیا حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا یہی کام رہ گیا تھا کہ فوت ہونے والے کے بارے میں کہتے رہے کہ وہی دوبارہ آئے گا؟ کیا یہی کام رہ گیا تھا؟ بس! کوئی تو عقل کی بات ہونی چاہئے۔

دیکھئے، بھائی اسلم! کیا اسلم اور عبدالرشید ایک کچھ ہوسکتے ہیں؟ جمیل اور عبدالرشید ایک ہوسکتے ہیں؟ عبدالرشید جمیل کے گھر جاکر دروازہ پر دستک دے، اندر سے آواز آئے کون؟ عبدالرشید کہے میں جمیل! وہ کہیں تو تو عبدالرشید ہے۔ تو جمیل کیسے ہوسکتا ہے؟ وہ کہے نہیں جناب! میں جمیل ہوں۔ جب جمیل اور عبدالرشید ایک نہیں ہوسکتے۔ اگر ایسا ہو تو دنیا کا

214

نظام قائم نہیں رہ سکتا۔ معاشرہ تباہ وبرباد ہو جائے گا۔ یہ تیرے سوچنے کی باتیں ہیں بھائی اسلم! ایک اور بات کہتا چلوں۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم بھی قسم اٹھا کر فرمارہے ہیں۔ ’’کہ قسم ہے مجھے اس ذات کی جس کے قبضہ میں میری جان ہے۔ عنقریب عیسیٰ بیٹا مریم علیہا السلام کا تم میں نازل ہوگا۔‘‘ اس کے بالمقابل مرزاقادیانی بھی قسم اٹھا کر کہتا ہے۔ ’’ابن مریم مر گیا حق کی قسم۔‘‘

(ازالہ اوہام ص۷۶۴ ، خزائن ج۳ ص۵۱۳)

دیکھیں! اب ایک پیش گوئی حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی ہے اور ایک مرزاقادیانی کی۔ ایک کی پیش گوئی سچی اور ایک کی جھوٹی ہوگی۔ یہ تو نہیں ہوسکتا کہ دونوں سچی ہوں۔ یہ تو اجتماع ضدین ہے، اور یہ بھی نہیں ہوسکتا کہ کوئی بھی سچی نہ ہو، تو ماننا پڑے گا کہ ایک سچی اور ایک جھوٹی ہے۔ کیسے بھائی اسلم؟ جی بالکل!

مولانا اﷲ وسایا:

قادیانیوں کا مقدر دیکھو۔ وہ کہتے ہیں مرزاقادیانی کی بات سچی ہے اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم (نعوذ باﷲ! نقل کفر کفر نباشد) کی جھوٹی۔

اسلم قادیانی:

’’استغفراﷲ، توبہ توبہ‘‘ حاضرین نے بھی درد بھرے لہجے میں کہا۔ ’’استغفراﷲ، استغفراﷲ‘‘

اسلم قادیانی:

سورۂ مائدہ کی ایک آیت ہے۔ جس میں ہے کہ جتنے بھی رسول آئے وہ فوت ہوگئے۔ یہ آیت حضور(صلی اللہ علیہ وسلم) پر نازل ہوئی ہے۔ آپ سے پہلے کے رسولوں میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام بھی ہیں۔ لہٰذا وہ بھی فوت ہوگئے۔

مولانا اﷲ وسایا:

(قرآن پاک کی وہ آیت کھولی اور فرمایا، دیکھ!) بھائی اسلم! یہ ہے سورۂ مائدہ کی وہ آیت مبارکہ جس کے متعلق تو کہتا ہے۔ دیکھئے: ’’ما المسیح ابن مریم الا رسول قد خلت من قبلہ الرسل وامہ صدیقۃ کانا یا کلان الطعام (المائدہ:۷۵)‘‘ {مسیح ابن مریم علیہما السلام تو رسول ہے۔ اس سے پہلے رسول ہوچکے ہیں اور اس کی ماں صدیقہ ہے۔ دونوں طعام کھایا کرتے تھے۔}

یہ ہے اس کا ترجمہ بالکل اس طرح کی آیت کریمہ سورۂ آل عمران میں ہے۔ جو حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے متعلق نازل ہوئی۔ دیکھئے: ’’وما محمد الا رسول قد خلت من قبلہ الرسل (آل عمران:۱۴۴)‘‘ {اورمحمد صلی اللہ علیہ وسلم تو ایک رسول ہے۔ ہو چکے اس سے پہلے بہت سے رسول۔} میرے ماں باپ، میرا جسم وروح، حضور صلی اللہ علیہ وسلم پر قربان۔ یہ آیت حضور صلی اللہ علیہ وسلم پر

215

نازل ہوئی۔ بھائی اسلم! میں آپ سے پوچھتا ہوں۔ جس وقت یہ آیت نازل ہوئی کیا حضور صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت زندہ تھے یا نہیں؟

اسلم قادیانی:

زندہ تھے۔

مولانا اﷲ وسایا:

جس طرح اس آیت کے نزول کے وقت حضور صلی اللہ علیہ وسلم زندہ تھے تو اسی طرح پہلی آیت مبارکہ جو حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے متعلق ہے۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام پر نازل ہوئی تو حضرت عیسیٰ علیہ السلام بھی زندہ تھے۔ جس طرح اس آیت سے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات ثابت نہیں ہوتی۔ اسی طرح اس آیت سے بھی حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی وفات ثابت نہیں ہوتی۔

اسلم قادیانی:

مجھے سمجھاؤ ذرا! میری سمجھ میں نہیں آیا؟

مولانا اﷲ وسایا:

آپ میری بات سمجھنے کی کوشش کریں۔ چلو بقول تمہارے! اس آیت (پہلی آیت مبارکہ) سے ثابت ہوا اس آیت (دوسری آیت مبارکہ) سے ثابت نہ ہوا۔ تو کہہ دے۔ اس آیت سے نہ سہی اس آیت سے ہی سہی۔

اسلم قادیانی:

میری سمجھ میں نہیں آیا۔

مولانا اﷲ وسایا:

’’سورۂ مائدہ‘‘ کی آیت میں ہے۔ ’’قد خلت من قبلہ الرسل‘‘ {کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام سے پہلے رسول ہوچکے ہیں۔} اور سورۂ آل عمران کی آیت میں بھی ’’قد خلت من قبلہ الرسل‘‘ {کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے پہلے رسول ہوچکے ہیں۔} ہے۔ ان دونوں میں فرق یہ ہے کہ ’’سورۂ مائدہ‘‘ والا حکم سیدنا عیسیٰ علیہ السلام پر اس وقت نازل ہوا۔ جب حضرت عیسیٰ علیہ السلام زندہ تھے۔ جس میں ﷲتعالیٰ نے فرمایا کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام سے پہلے کے رسول گذر چکے ہیں، اور ’’سورۂ آل عمران‘‘ والا حکم حضور سرور کائنات صلی اللہ علیہ وسلم پر اس وقت نازل ہوا جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم زندہ تھے۔ جس میں ﷲتعالیٰ نے فرمایا کہ آپ سے پہلے کے رسول گذر چکے۔ ان دونوں آیتوں کے حکم سے تو یہ ثابت ہوتا ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم بھی زندہ، اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام بھی زندہ تھے۔ ان سے وفات تو ثابت نہیں ہوتی۔

بھائی اسلم! یہ فرق تیرے مولویوں نے تجھے نہیں سمجھایا، میں تجھے سمجھاتا ہوں۔

اسلم قادیانی:

دیکھو جی! بات صاف ہے مجھے انہوں نے یہ فرق نہیں بتلایا، اور نہ ہی

216

دوسری آیت بتلائی۔ بس صرف ایک آیت بتلائی ہے۔ (پھر اسلم نے مولانا اﷲ وسایا سے دریافت کیا کہ) اچھا یہ بتاؤ؟ یہ کس سورۃ کی آیت ہے؟ اور کون سے نمبر کی آیت ہے؟ (یہاں اسلم قادیانی کا دماغ چکرا گیا)

مولانا اﷲ وسایا:

یہ ہمارے نزدیک ہمارے قرآن پاک کے مطابق ’’سورۂ مائدہ‘‘ کی آیت نمبر۷۵ ہے اور تمہارے نزدیک آیت نمبر۷۶ ہے۔

اسلم قادیانی:

وہ کس طرح؟

مولانا اﷲ وسایا:

یہی تو قادیانی لوگ امت کو دھوکہ دیتے ہیں، اور سادہ لوح مسلمانوں کو چکر دیتے ہیں۔ یاد رکھیں۔ ہمارے اعداد وشمار کے مطابق قرآن پاک کی سورۂ مائدہ کی آیت نمبر۷۵ ہے اور قادیانیوں کے اعداد وشمار کے مطابق آیت۷۶ ہے۔ (دیکھئے! مرزابشیرالدین محمود کی تفسیر صغیر ص۲۴۳) بھائی اسلم! ’’مرزابشیرالدین محمود‘‘ نے اپنی تفسیر میں سورۂ مائدہ کی آیت کے تحت حاشیہ میں سورۂ آل عمران کا حوالہ بھی دیا ہے اور دونوں آیتوں سے وفات مسیح ثابت کرنے کی ناکام کوشش کی ہے۔ اب میں تھوڑی سی تفصیل عرض کرتا ہوں۔ وہ یہ کہ سورۂ مائدہ والی آیت میں عیسائیوں کے دو فرقوں کی تردید کر کے صحیح صورتحال سمجھائی ہے۔

پہلا گروہ:

یہ فرقہ کہتا ہے کہ حضرت مسیح عیسیٰ ابن مریم علیہما السلام خود خدا ہیں۔ ﷲتعالیٰ نے اس فرقہ کی تردید یوں فرمائی۔ ’’لقد کفر الذین قالوا ان اﷲ ہو المسیح ابن مریم، وقال المسیح یبنی اسرائیل اعبدوا اﷲ ربی وربکم (المائدہ:۷۲)‘‘ {البتہ وہ کافر ہوئے جن کا یہ قول ہے کہ مسیح ابن مریم (علیہما السلام) ہی خدا ہے۔ کیونکہ مسیح نے تو خود کہا ہے لوگو! میرے اور اپنے خدا کی عبادت کیا کرو۔}دیکھئے! جو فرقہ سیدنا مسیح عیسیٰ ابن مریم علیہما السلام کو خدا کہتا ہے ﷲتعالیٰ نے اسے کافر کہا اور ساتھ کے ساتھ یہ بھی فرمایا کہ وہ تو بنی اسرائیل کو یہ تعلیم دیتے تھے کہ خدا کی عبادت کیا کرو۔ جو میرا بھی رب ہے اور تمہارا بھی۔ اگر حضرت مسیح علیہ السلام خدا ہوتے تو اپنی عبادت کی تعلیم دیتے، ناکہ ﷲتعالیٰ کی عبادت کی۔

دوسرا گروہ:

یہ فرقہ کہتا ہے کہ ﷲتعالیٰ تین میں سے تیسرے ہیں۔ یعنی خدائیت تین کے مجموعے کا نام ہے۔

217

۱… حضرت عیسیٰ علیہ السلام۔

۲… حضرت مریم علیہا السلام۔

۳… ﷲتعالیٰ کی ذات گرامی۔

اس فرقہ کے تردید ﷲتعالیٰ نے یوں فرمائی:’’لقد کفر الذین قالوا ان اﷲ ثالث ثلثۃ (مائدہ:۷۳)‘‘ {البتہ وہ کافر ہوئے جن کا یہ قول ہے کہ ﷲتعالیٰ تین میں سے تیسراہے۔}

اس آیت مبارکہ میں اس فرقہ کو کافر کہاگیا ہے۔ جو تثلیث کا قائل ہے۔ ان دونوں فرقوں اور گروہوں کی تردید کر کے صحیح صورتحال بتاتے ہوئے ﷲتعالیٰ نے فرمایا: ’’ما المسیح ابن مریم الا رسول قد خلت من قبلہ الرسل‘‘ کہ مسیح عیسیٰ بیٹا مریم (علیہما السلام) کا۔ (نہ تو خدا ہے اور نہ ہی تین میں سے تیسرا ہے۔ بلکہ) صرف خدا کا رسول ہے۔ جیسے کہ ان سے پہلے رسول ہوگذرے ہیں۔ ان رسولوں کی طرح یہ بھی ایک رسول ہیں۔ جیسے وہ خدا نہیں تھے۔ اسی طرح یہ بھی خدا نہیں۔ دیکھئے! جو لوگ ایک کو تین اور تین کو ایک کہتے تھے۔ ان پر دلیل قائم کی کہ ہزاروں شخصوں نے ماں بیٹا کو لوازم بشری کا محتاج پایا اور دیکھا ہے، بایں ہمہ انہیں خدا کہنے کی ناپاک جرأت کس طرح کی ہے؟ یہ ان کا کفر ہے۔ بھائی اسلم! یہاں پر بندہ سوچ سکتا ہے اور بآسانی سمجھ سکتا ہے کہ اس میں موت وحیات کی کیا بحث ہے؟

اب اگر بالفرض! کوئی آدمی یہ آیت سورۂ مائدہ کی قادیانیت کے ’’علی الرغم‘‘ پیش کر دے کہ ’’قل فمن یملک من اﷲ شیئا ان ارادان یہلک المسیح ابن مریم وامہ ومن فی الارض جمیعاً (المائدہ:۱۷)‘‘ {آپ فرمادیں! کون سی چیز خدا کو روک سکتی ہے؟ اگر وہ یہ چاہے کہ مسیح ابن مریم علیہما السلام اور اس کی ماں کو نیز تمام وہ مخلوق جو صفحۂ زمین پر ہے۔ ہلاک کر دے۔} اس میں ایک تو ’’ہلاک کر دے‘‘ بتلا رہا ہے کہ اب تک ﷲتعالیٰ نے حضرت مسیح ابن مریم علیہما السلام کو ہلاک نہیں کیا، اور دوسرا جملہ ’’من فی الارض جمیعاً‘‘ بھی بتلا رہا ہے کہ ’’جمیع من فی الارض‘‘ زندہ ہیں تبھی تو مسیح بھی زندہ ہیں۔ تو قادیانی کیا جواب دیں گے؟ اگر سورۂ مائدہ کی اس آیت سے استدلال صحیح نہیں، تو قادیانیوں کا غلط استدلال بدرجۂ اولیٰ واتم غیر صحیح ہے۔

218

اب دوسری آیت سورۂ آل عمران والی ملاحظہ فرمائیں۔ یہ آیت مبارکہ غزوۂ احد کے متعلق نازل ہوئی ہے۔ اس وقت جب کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم زخمی ہوگئے، تو شیطان لعین نے آواز لگا کر کہا کہ (العیاذ باﷲ) حضرتمحمد صلی اللہ علیہ وسلم مارے گئے ہیں۔ یہ سنتے ہی مسلمانوں کا لشکر منتشر ہوگیا، تو ﷲتعالیٰ نے عجیب انداز سے مسلمانوں کو سمجھایا کہ ذرا سوچو تو سہی! کیا احکامات شرعیہ کی تعمیل صرف اس وقت تک کی جاتی ہے۔ جب تک نبی اپنی امت میں بہ نفس نفیس موجود رہے؟ یہ نظریہ وخیال بالکل غلط ہے۔ ذرا خیال تو کرو کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے پہلے کتنے اور کس قدر رسول گذر چکے ہیں۔ کیا وہ سب اپنی امتوں میں اب موجود ہیں، اور کیا ان کے متبعین نے اپنا دین محض اس وجہ سے ترک کر دیا ہے کہ وقت کے نبی چونکہ ہمارے اندر موجود نہیں تو ان کی شریعت بھی قابل عمل نہیں۔ حالانکہ کسی امت نے بھی ایسے نہیں کیا۔ جب کسی امت نے بھی ایسا نہیں کیا تو تم ایسا کرو گے کیا؟ بس اتنی بات ﷲتعالیٰ نے بیان فرمائی ہے۔ اس میں وفات مسیح کی کون سی دلیل اور کون سی بات ہے؟

اب سوال پیدا ہوتا ہے کہ ’’خلت‘‘ کا معنی پھر کیا ہے؟ تو اس کا جواب یہ ہے کہ: ’’خلا، خلو، خلت‘‘ کا معنی ایک جگہ کو چھوڑ کر دوسری جگہ چلے جانا ہے۔ جگہ خالی کرنا یہ معنی صحیح ہے۔ اس کے لئے میں قرآن سر پر رکھنا چاہتا ہوں۔ فوت ہونا، مرجانا یہ ترجمہ غلط ہے۔ قرآن پاک بھی یہی معنی سمجھاتا ہے۔ دیکھو قرآن کہتا ہے: ’’واذا لقوا الذین اٰمنوا قالوا اٰمنا واذا خلوا الیٰ شیاطینہم قالوا انا معکم انما نحن مستہزؤن (البقرہ:۱۴)‘‘ {منافقین جب مؤمنین سے ملتے ہیں تو کہتے ہیں۔ ہم ایمان لائے اور جب علیحدہ ہوکر اپنے سرداروں کے ہاں جاتے ہیں تو کہتے ہیں کہ ہم تو تمہارے ساتھ ہیں۔ ہم تو ان سے مزاق کرتے ہیں۔}

بھائی اسلم! قرآن کہہ رہا ہے: ’’واذا خلوا‘‘ اور ان کے متعلق کہہ رہا ہے جو زندہ تھے۔ مر نہیں گئے تھے۔ منافقین کی خباثت اور سادہ لوح مسلمانوں کو دھوکہ دینا اس کو قرآن نے یوں بتایا ہے کہ منافقین جب ایمانداروں سے ملتے تو انہیں دھوکہ دیتے اور کہتے۔ ہم بھی مؤمن ہیں اور واپس اپنے سرداروں کے پاس جاتے اور سرداران سے پوچھتے کہ کہاں گئے تھے؟ تو جواب دیتے ہم مؤمنین سے گپ شپ کرنے ان سے مزاق کرنے کے لئے گئے تھے۔ یہاں ’’خلوا‘‘ کا معنی جگہ خالی کرنا، ایک جگہ سے دوسری جگہ چلے جانا ہے۔

219

مرجانا، فوت ہوجانا نہیں۔ یہ قرآن کہہ رہاہے۔ ’’خلا، خلوا، خلت‘‘ کا ترجمہ جگہ خالی کرنا، ایک جگہ سے دوسری جگہ چلے جانا، منتقل ہونا اور گذر چکے ہے۔ یہی ترجمہ مرزاقادیانی نے کیا ہے اور یہی ترجمہ ’’حکیم نورالدین‘‘ نے کیا ہے۔ البتہ دنیا کا سب سے پہلا شخص جس نے ’’خلت‘‘ کا ترجمہ موت اور مرگئے سے کیا ہے۔ وہ مرزاغلام احمد قادیانی کا بیٹا ’’مرزابشیرالدین محمود‘‘ ہے۔

بھائی اسلم! بتا! کیا قرآن پاک آج نازل ہوا ہے؟

اسلم قادیانی:

جی نہیں! یہ تو بہت پہلے نازل ہوا ہے۔

مولانا اﷲ وسایا:

جزاک اﷲ! جب قرآن بہت پہلے حضور صلی اللہ علیہ وسلم پر نازل ہوچکا۔ آج نازل نہیں ہوا۔ تو مرزاغلام احمد قادیانی سے پہلے جتنے مفسرین گذرے ہیں اور جتنی تفاسیر لکھی جاچکی ہیں۔ یاد رکھو! مرزاقادیانی سے پہلے کسی بھی ایک مفسر نے اور کسی بھی تفسیر نے ’’موت‘‘ ترجمہ نہیں کیا، اور نہ ہی بتایا۔ دیکھئے! ’’مرزابشیرالدین محمود‘‘ کی تفسیر۔

(تفسیر صغیر ص۲۴۳)

اٹھارہ آیات بتلا رہی ہیں کہ: ’’خلا، خلوا، خلت‘‘ کا معنی ’’موت‘‘ نہیں، گذر جانا ہے۔ ایک جگہ کو چھوڑ کر دوسری جگہ چلے جانا ہے۔ یہ قرآن پاک کا اعجاز ہے۔ میرے ماں باپ، میرا جسم اور روح قربان ہو۔ قرآن پاک نے کمال کا لفظ ذکر کیا ہے۔ ’’خلت‘‘ کہ تمام نبیوں نے یہ جہان چھوڑ دیا ہے۔ دوسرے جہاں میں تشریف لے گئے ہیں۔ سیدنا حضرت عیسیٰ علیہ السلام بھی اﷲ کی مرضی کے مطابق عارضی طور پر زمین کو چھوڑ کر آسمانوں پر تشریف لے گئے ہیں۔ کیا فصاحت وبلاغت ہے۔ اس ایک لفظ میں کہ اس کے مقابلے میں کوئی دوسرا لفظ دنیا کا کوئی شخص لا نہیں سکتا، اور نہ تاقیامت لاسکتا ہے۔ اگر ہمت ہے تو دکھاؤ؟

اسلم قادیانی:

جی ’’خلا‘‘ کا معنی جگہ کو خالی کرنا ہے؟

مولانا اﷲ وسایا:

ہاں! جگہ کو خالی کرنا، گذر جانا، گذرنا ہے۔ ’’مرزاغلام احمد قادیانی‘‘ سے پہلے کسی بھی مفسر نے ’’موت‘‘ ترجمہ نہیں کیا۔ اگر کیا ہو تو جو چور کی سزا وہ میری سزا۔ میں نے ترجمہ غلط نہیں کیا۔ بھائی اسلم! کیسے کر سکتا ہوں۔ مرنے کا وقت قریب ہے۔ داڑھی سفید ہوگئی ہے۔ بوڑھا آدمی ہوں۔ میں نے تیری قبر میں نہیں جانا، تو نے میری قبر میں نہیں۔ مسجد

220

میں باوضو ہوکر قرآن پہ ہاتھ رکھ کر کہہ رہا ہوں میں نے آپ کو صحیح ترجمہ بتایا ہے۔

چیلنج

ایک اور بات بتاؤں! مرزاقادیانی کا ایک مرید ہے۔ جس کا نام ’’خدابخش مرزائی‘‘ ہے۔ اس نے ایک کتاب لکھی ہے۔ جس کا نام ’’عسل مصفّٰی‘‘ ہے۔ یہ کتاب ’’مرزاخدابخش‘‘ نے لکھ کر ’’مرزاغلام احمد قادیانی‘‘ کو دکھائی۔ اس کتاب کے ایک ایک حرف پر ’’مرزاغلام احمد‘‘ کی تصدیق ثبت ہے۔ گویا کہ ’’عسل مصفّٰی‘‘ مرزاغلام احمد قادیانی کی تصدیق شدہ کتاب ہے۔ اس کتاب کے ص۱۶۲سے۱۶۵تک پہلی صدی ہجری سے لے کر تیرھویں صدی ہجری تک کے مجددین کی ایک فہرست لکھی ہے، اور نام بنام لکھی ہے، اور یہ وہ فہرست ہے جسے قادیانی بھی تسلیم کرتے ہیں اور کیوں نہ تسلیم کریں۔ جب کہ مرزاقادیانی کی تصدیق شدہ ہے۔ ان مجددین میں سے کسی ایک نے بھی ’’خلت‘‘ کا ترجمہ ’’موت‘‘ سے نہیں کیا۔ اگر کیا ہے تو دکھادیں؟

مولانا اﷲ وسایا نے استفسار کرتے ہوئے فرمایا۔ بھائی اسلم! مجھے یہ سمجھا دے۔ مرے عیسیٰ (علیہ السلام) بنے غلام احمد نبی؟ یہ عقدہ حل کر دو اور مجھے سمجھا دو۔ غلام احمد قادیانی کیسے عیسیٰ بنا؟ تیرے منہ میں گھی شکر!

اسلم قادیانی:

ہم کہتے ہیں مثیل مسیح،کیا آپ نے یہ بات سنی ہے؟

مولانا اﷲ وسایا:

نہیں میں نے نہیں سنا۔ مگر میں اس چکر میں پڑا ہوا ہوں اﷲ واسطے آپ مجھے اس چکر سے نکال دیں۔ بہت پھنسا ہوا ہوں کہ مرزاغلام احمد قادیانی مسیح کیسے بنا؟

اسلم قادیانی:

(نے حواس باختہ ہو کر کہا) ہم کہتے ہیں کہ عیسیٰ علیہ السلام اور مہدی علیہ الرضوان ایک ہیں۔

مولانا اﷲ وسایا:

میں یہ نہیں پوچھ رہا کہ عیسیٰ علیہ السلام اور مہدی علیہ الرضوان ایک وجود ہے یا دو؟ میں یہ کہہ رہا ہوں کہ مجھے اس چکر سے نکالو! اور یہ بات سمجھاؤ! کہ غلام احمد قادیانی کیسے مسیح بنا؟ قرآن کہتا ہے مسیح زندہ آسمان پر ہیں۔ حدیث بھی یہی کہتی ہے کہ مسیح عیسیٰ ابن مریم (علیہما السلام) آسمانوں پر تشریف فرما ہیں۔ قرب قیامت میں واپس تشریف لے آئیں گے۔ قادیانی کہتے ہیں کہ عیسیٰ (علیہ السلام) فوت ہوگیا۔ جب عیسیٰ علیہ السلام

221

فوت ہوگئے تو کیا فوت ہونے والا دوبارہ آئے گا؟ یا آیا ہے؟ جب فوت ہوگیا تو فوت ہونے والے نے آکر کیا کرنا ہے؟ اور ’’مرزاغلام احمد قادیانی‘‘ نے آکر کیا کیا ہے؟ بس اس نام والے چکر سے مجھے نکال دے؟

اسلم قادیانی:

دیکھو جی! ایک بندے کے متعلق ہم کہتے ہیں شیر ہے۔ حالانکہ اس کا کان نہیں شیر کے کان کی طرح، اس کی دم بھی نہیں۔ اسی طرح ہم مثیل مسیح کہتے ہیں۔

مولانا اﷲ وسایا:

اسلم! پورے قرآن میں اور ذخیرۂ احادیث میں بلکہ قرآن پاک کی کسی آیت اور ذخیرۂ احادیث میں سے کسی ایک حدیث میں مثیل کا لفظ دکھا دے۔ بس لڑائی ختم۔ بحث ختم! میں دعویٰ سے کہتا ہوں! پورے قرآن میں اور ذخیرۂ احادیث میں کہیں بھی مثیل کا لفظ نہیں اگر کوئی قادیانی دکھا دے جو چور کی سزا وہی میری سزا۔

اسلم قادیانی:

میں نے سنا ہے مرزاقادیانی کا دعویٰ مثیل مسیح کا ہے۔ بس!

مولانا اﷲ وسایا:

قادیانی دھوکہ دیتے ہیں۔ مسلمانوں سے یہ کہتے ہیں کہ وہ مسیح موعود ہے اور کبھی کہتے ہیں وہ مثیل مسیح ہے۔ وغیرہ! مرزاقادیانی نے خود ’’ازالہ اوہام‘‘ میں لکھا ہے: ’’اس عاجز نے جو مثیل موعود ہونے کا دعویٰ کیا ہے۔ جس کو کم فہم لوگ مسیح موعود خیال کر بیٹھے ہیں۔‘‘

آگے لکھتا ہے: ’’میں نے یہ دعویٰ ہر گز نہیں کیا کہ میں مسیح ابن مریم ہوں جو شخص یہ الزام میرے پر لگاوے وہ سراسر مفتری اور کذاب ہے۔ بلکہ میری طرف سے عرصہ سات یا آٹھ سال سے برابر یہی شائع ہورہا ہے کہ میں مثیل مسیح ہوں۔‘‘

(ازالہ اوہام ص۱۹۰، خزائن ج۳ ص۱۹۲)

اس عبارت میں مثیل مسیح ہونے کا دعویٰ کیا ہے اور ساتھ ہی یہ کہا کہ: ’’کم فہم لوگ مجھے مسیح موعود خیال کر بیٹھے ہیں۔‘‘ جب کہ اسی کتاب کے ٹائٹل پر لکھا ہوا موجود ہے۔ ’’حضرت مرزاغلام احمد قادیانی مسیح موعود‘‘ ادھر یہ کہتا ہے کہ مجھے مسیح موعود خیال کرنے والے کم فہم ہیں۔ ادھر کتاب کے ٹائٹل پر ’’مسیح موعود‘‘ لکھا ہوا ہے۔ پھر مزے کی بات یہ ہے کہ اسی کتاب ’’ازالہ اوہام‘‘ میں لکھتا ہے کہ خداتعالیٰ نے مجھ پر الہام فرمایا ہے۔ جس میں فرمایا: ’’وجعلنٰک المسیح ابن مریم‘‘ (ازالہ اوہام ص۶۷۴، خزائن ج۳ ص۴۶۴،۵۷۳، خزائن ج۳ ص۴۰۹) کیا دنیا میں انصاف نام کی کوئی چیز ہے؟

222

اسلم قادیانی:

کیا یہ عبارت ’’ازالہ اوہام‘‘ کی ہے؟ کیا اس میں اس طرح لکھا ہوا ہے؟

مولانا اﷲ وسایا:

قسم ہے رب کی! سچی بات ہے۔ اس میں لکھا ہوا ہے۔

اسلم قادیانی:

آپ کو پتہ ہے؟ ہم کتنا چندہ دیتے ہیں؟ ہم دوتین ہزار اس لئے تو نہیں دیتے کہ ہمارا دیا ہوا رائیگاں جائے؟

مولانا اﷲ وسایا:

یہ بات کہہ کر تو مجھے پھر وہیں لے آیا ہے جہاں سے بات شروع کی تھی۔ میں نے شروع میں تجھے کہا تھا کہ میں حق نہ سمجھ کر یہ کام نہیں کر رہا، اور تو بھی اپنے کام کو حق نہ سمجھ کر نہیں کر رہا۔ نہ میرا مفاد دنیوی اس کام سے وابستہ ہے، نہ تیرا مفاد دنیوی اس کام سے وابستہ ہے۔ اب سن! جتنا چندہ تم اپنی جماعت کو دیتے ہو پھر وہ جس مقصد کے لئے دیتے ہو۔ اطفال کا، لجنہ کا، خدام کا، ناصرات کا سب مجھے پتہ ہے۔ پھر وہ چندہ کہاں کہاں جاکر خرچ ہوتا ہے؟ وہ بھی مجھے معلوم ہے۔

واقعہ

بھائی اسلم! تجھے ایک واقعہ سناتا ہوں اور یہ واقعہ مفتی سرور شاہ نے اپنی کتاب ’’کشف الاختلاف‘‘ میں لکھا ہے کہ ایک مرتبہ ’’مرزاغلام احمد قادیانی‘‘ کے چار مرید (۱)محمد علی، (۲)مفتی صادق، (۳)سرور شاہ، (۴)خواجہ کمال، خود ’’مرزاغلام احمد قادیانی‘‘ کے زمانہ میں کہیں جارہے تھے اور تانگے پر سوار تھے۔ بات چل پڑی کہ ہم اپنی بیویوں سے کہتے ہیں۔ صحابہؓ کی طرح فقروفاقہ کی زندگی گذارو۔ تکلف وتصنع سے اپنے آپ کو بچاؤ۔ تاکہ اپنی آمد میں سے بچا بچا کر قادیان بھیجیں۔ چنانچہ ہم ایسا ہی کرتے ہیں، اور اپنی آمد کا وافر حصہ وہاں بھیجتے ہیں۔ ادھر حال یہ ہے کہ ان کی بیویاں ٹھاٹھ باٹھ سے رہتی ہیں۔ ہمارے پیسے اور دئیے ہوئے چندے پر پلتی ہیں۔ کام ٹکے کا نہیں ہورہا۔ اب چلتے ہیں اور حضرت سے کہتے ہیں۔ ہمارے پیسے کا حساب دو۔ سرور شاہ کو آگے کیا کہ تونے بات کرنی ہے۔ چنانچہ یہ قادیان گئے اور مرزاغلام احمد قادیانی سے بات کی۔ مرزاغلام احمد قادیانی سنتے ہی غصے میں آگیا، اور کہنے لگا میں تمہارا منشی لگا ہوا ہوں۔ پیسے کا حساب دوں۔ مجھے ایک طرف کر دو۔ پھر تمہیں دیکھتا ہوں۔

(دیکھئے تفصیل: کشف الاختلاف ص۱۲تا۱۴)

غرضیکہ بھائی اسلم! مجھے سب پتہ ہے۔ ’’مرزاغلام احمد‘‘ کہاں کہاں پیسہ خرچ کرتا

223

تھا۔ ’’مرزامحمود‘‘کہاں کہاں خرچ کرتاتھا۔ ’’حکیم نورالدین، مرزاناصر، مرزاطاہر‘‘ کہاں کہاں خرچ کرتے تھے اور اب کہاں کہاں خرچ ہورہا ہے۔ اگر اس بات کو میں نہیں جانتا تو پھر کائنات میں اور کوئی شخص نہیں جانتا۔ اس داستان کو تو مت چھیڑ۔ بہت طویل بھی ہے، اور بھیانک بھی۔

سلسلۂ کلام جاری رکھتے ہوئے اسلم قادیانی کہنے لگا:

اسلم قادیانی:

امام مہدی کی نشانیوں میں سے ہے۔

مولانا اﷲ وسایا:

ٹھہر! بھائی!! پہلے یہ تو بتا کہ مسیح اور مہدی ایک ہیں یا دو؟

اسلم قادیانی:

جی!

مولانا اﷲ وسایا:

یہ ایک ہیں کہ دو؟

اسلم قادیانی:

ہمیں ایک بتایا گیا ہے۔ (یعنی مسیح اور مہدی ایک شخصیت بتائی گئی ہے دو نہیں)

مولانا اﷲ وسایا:

پکی بات ہے ایک ہیں؟

اسلم قادیانی:

جی! پکی بات ہے۔

مولانا اﷲ وسایا:

مرزاقادیانی نے اپنی کتاب ’’تحفہ گولڑویہ‘‘ میں لکھا ہے…

اسلم قادیانی:

یہ اور کتاب ہے؟ (یعنی مرزاغلام احمد کی یہ کوئی اور کتاب ہے؟)

مولانا اﷲ وسایا:

ہاں ہاں یہ اور کتاب ہے۔

اسلم قادیانی:

دیکھو جی! اس نے تو یہ بھی کہا ہے کہ: ’’میں سے میں پیداہوا ہوں۔‘‘ (یعنی میں اپنے آپ سے پیدا ہوا ہوں)

مولانا اﷲ وسایا:

بالکل اس نے تو یہ بھی کہا ہے کہ مجھے حیض آتا ہے، اور مجھے دس مہینے حمل رہا ہے۔ چنانچہ ’’حقیقت الوحی‘‘ میں لکھا ہے ملاحظہ ہو: ’’بابو الٰہی بخش چاہتا ہے کہ تیرا حیض دیکھے۔‘‘

(تتمہ حقیقت الوحی ص۱۴۳، خزائن ج۲۲ ص۵۸۱)

اور دوسری کتاب ’’کشتی نوح‘‘ میں لکھا ہے: ’’مریم کی طرح عیسیٰ کی روح مجھ میں نفخ کی گئی اور استعارہ کے رنگ میں مجھے حاملہ ٹھہرایا گیا اور آخر کئی مہینے کے بعد جو دس مہینے سے زیادہ نہیں مجھے مریم سے عیسیٰ بنایا گیا۔‘‘

(کشتی نوح ص۴۷، خزائن ج۱۹ ص۵۰)

بہرحال! میرا سوال آپ سے یہ ہے کہ کیا اس طرح آج تک ہوا ہے کہ کوئی اپنے آپ سے پیدا ہوا ہو؟ یہ تو ہے کہ مرد وعورت کے اختلاط سے بچہ پیدا ہوتا ہے؟ مگر اپنے آپ

224

سے کوئی پیدا ہوا ہو اس کی کوئی مثال؟

اسلم قادیانی:

روحانی طور پر ہوتا ہے۔

مولانا اﷲ وسایا:

کوئی ہوا ہے؟

اسلم قادیانی:

خاموش!

مولانا اﷲ وسایا:

کہہ دے پھر کہ نہیں ہوا۔ اگر ہوا ہے تو پھر اسے مسیح ماننا پڑ جائے گا۔ مرزاغلام احمد کو نہیں! سنو! خود مرزاغلام احمد قادیانی نے اسی ’’تحفہ گولڑویہ‘‘ (جس کا میں حوالہ دینا چاہتا ہوں) میں لکھا ہے: ’’سچ کی یہی نشانی ہے کہ اس کی کوئی نظیر بھی ہوتی ہے اور جھوٹ کی یہ نشانی ہے کہ اس کی نظیر کوئی نہیں ہوتی۔‘‘

(تحفہ گولڑویہ ص۶، خزائن ج۱۷ ص۹۵)

اگر اپنے آپ سے آج تک کوئی پیدا نہیں ہوا، تو سمجھ لے کہ مرزاغلام احمد قادیانی نے جھوٹ بولا ہے۔ اگر کوئی پیدا ہوا ہوتا تو دنیا میں اس کی نظیر موجود ہوتی۔

اور دوسطر چھوڑ کر آگے لکھتا ہے: ’’یہ مسلّم مسئلہ ہے کہ بجز خداتعالیٰ کے تمام انبیاء کے افعال اور صفات نظیر رکھتے ہیں۔‘‘

(حوالہ بالا)

اسلم قادیانی:

امام مہدی کی آسمانی نشانی یہ ہے۔

مولانا اﷲ وسایا:

پہلے یہ تو بتا کہ مسیح اور مہدی ایک ہیں یا دو؟

اسلم قادیانی:

ایک ہیں۔

مولانا اﷲ وسایا:

مرزاغلام احمد قادیانی نے ’’تحفہ گولڑویہ‘‘ میں لکھا ہے کہ: ’’مسیح موعود اور مہدی اور دجال تینوں مشرق میں ہی ظاہر ہوں گے۔‘‘

(تحفہ گولڑویہ ص۴۶، خزائن ج۱۷ ص۱۶۷)

اس عبارت سے تو یہ معلوم ہو رہا ہے کہ مسیح، اور مہدی، اور دجال تینوں الگ الگ ہیں۔ مجھے اس سے بحث نہیں کہ وہ مشرق میں ہوں گے یا مغرب میں؟ بہرحال یہ تینوں الگ الگ ہیں ایک نہیں۔ یہ تو عیسائیوں کا عقیدہ ہے۔ تین ایک اور ایک تین۔ تین، تین ہی ہوتے ہیں۔ دو نہیں ہوسکتے۔ دو تین نہیں ہوسکتے۔ یہ فرق رکھنا ضروری ہے۔ ورنہ سارے دین کا ستیاناس ہوجائے گا۔

بھائی اسلم! میری طرف دیکھو!! آپ سے میری درخواست ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے: ’’کیف انتم اذا نزل ابن مریم فیکم وامامکم منکم (بخاری ج۱ ص۴۹۰)‘‘

225

(اس وقت (خوشی کے باعث) تمہارا کیا عالم ہوگا۔ جب عیسیٰ بیٹا مریم علیہما السلام کا تم میں نازل ہوگا اور تمہارا امام تم میں سے ہوگا)

’’فیکم‘‘ اور ’’منکم‘‘ دونوں حدیث پاک کے الفاظ ہیں اور عربی میں ہیں۔ یہ دونوں الگ الگ شخصیات کی خبر دے رہے ہیں۔ ’’فیکم‘‘ بتلا رہا ہے کہ تم میں نازل ہوگا اور ’’منکم‘‘ بتلا رہا ہے کہ تم میں سے ہوگا۔ ایک تم میں نازل ہوگا اور ایک تم میں سے ہوگا۔ یہ دو شخصیتیں ہیں۔ ایک نہیں۔ ایک (عیسیٰ علیہ السلام) بن باپ کے صرف ماں سے پیدا ہوا، اور ایک (امام مہدی علیہ الرضوان) باپ اور ماں دونوں سے پیدا ہوا۔ ایک بنی اسرائیل میں سے ہوا، اور ایک میری اولاد میں سے ہوں گے۔ سیدہ فاطمہؓ کی اولاد میں سے ہوں گے۔ سیدنا امام حسنؓ اور سیدنا امام حسینؓ کی اولاد میں سے حسنی اور حسینی ہوں گے۔ ایک پیدا ہوچکے ہیں یروشلم میں اور ایک پیدا ہوں گے مدینہ منورہ میں۔ ایک کا نام عیسیٰ علیہ السلام، ماں کا نام مریم علیہا السلام ہے، اور ایک کا نام حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میرے نام کے موافق (محمد) ہوگا، اور ان کے باپ کا نام میرے والد ماجد کے نام (عبداﷲ) کے موافق (عبداﷲ) ہوگا۔ یہ فرق یاد رکھیں! اور یہ فرق ’’فیکم‘‘ اور ’’منکم‘‘ بتلا رہے ہیں اور یہ فرق بھی سمجھا رہے ہیں کہ ایک امام ہوگا اور ایک مقتدی۔

حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔ جب حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا نزول ہوگا۔ جامع مسجد دمشق کے مشرقی مینار پر تو نماز فجر (ایک روایت کے مطابق، اور ایک روایت میں نماز عصر کا ذکر بھی آتا ہے) کی اذان اور اقامت ہوچکی ہوگی۔ تکبیر تحریمہ کہی جانے والی ہوگی۔ امام مہدی علیہ الرضوان مصلّٰی پر جاچکے ہوں گے۔ اﷲ اکبر! کہنے والے ہوں گے کہ اتنے میں سیدنا عیسیٰ علیہ السلام تشریف لے آئیں گے۔ امام مہدی علیہ الرضوان کو معلوم ہوگا تو مصلّٰی سے پیچھے ہٹیں گے۔ سیدنا عیسیٰ علیہ السلام ان کے کندھوں پر ہاتھ رکھ کر انہیں آگے کریں گے اور فرمائیں گے۔ آپ ہی پڑھائیں! ’’تکرمۃ اﷲ ہذہ الامۃ‘‘ (اس فضیلت وبزرگی کی بناء پر جو ﷲتعالیٰ نے اس امت کو عطاء فرمائی ہے) یہ اس امت کا اعزاز ہے کہ بنی اسرائیل کے جلیل القدر پیغمبر اس امت کے امام کے پیچھے نماز پڑھیں گے۔

بھائی اسلم! حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا ایک فرمان نہیں، چالیس روایات امام مہدی علیہ الرضوان کے متعلق اور ایک سو بیس روایات سیدنا عیسیٰ علیہ السلام کے متعلق کتب احادیث

226

میں موجود ہیں۔ چالیس جمع ایک سوبیس، ایک سو ساٹھ کل احادیث مبارکہ ہیں۔ خدا کی ذات گواہ ہے۔ میں جھوٹ نہیں بول رہا۔ اس قدر احادیث بول رہی ہیں کہ مسیح علیہ السلام اور مہدی علیہ الرضوان دو الگ الگ شخصیتیں ہیں۔ دونوں ایک نہیں۔ ایک والی بات مرزاغلام احمدقادیانی کی ہے۔ نہ قرآن کی ہے اور نہ احادیث کی۔

اسلم قادیانی:

سمجھ آگیا۔

مولانا اﷲ وسایا:

بھائی اسلم! اب تو گلے لگ! فیصلہ تو بعد میں ہوگا۔ گلے تو لگ! اب تو صلح کر لے۔ دیکھ بھائی اسلم! یہ قادیانی کتنا بڑا پروپیگنڈا کرتے ہیں؟ اور شور مچاتے ہیں کہ مولویوں سے بچنا یہ گالیاں بہت دیتے ہیں۔ سچ بتائیں میں نے کتنی گالیاں آپ کو دی ہیں؟

اسلم قادیانی:

کوئی گالی نہیں دی۔ آپ نے تو صحیح مسائل سمجھائے ہیں۔

مولانا اﷲ وسایا:

تو پھر میری درخواست مان! قادیانیت نرا فراڈ ہے۔ اس سے بچ جا، اس سے بچ جا!

اسلم قادیانی:

وہ جی ہم جہاں کام کرتے ہیں گیٹ پر کلمہ لکھا ہوا تھا۔ لوگوں نے حکومت کو درخواست دی۔ انہوں نے وہ کلمہ اتار دیا ہے۔ مسلمانوں کا یہ کام تو نہیں کہ لکھا ہوا کلمہ اتروائیں؟

مولانا اﷲ وسایا:

میری درخواست سنئے! بالکل کلمہ نہیں اتارنا چاہئے۔ کلمہ تو اسلام اور مسلمانوں کی پہچان کا ذریعہ ہے۔ مگر میری گذارش ہے کہ ایک بندہ گوشت فروخت کرتا ہے۔ ذبح خنزیر کرتا ہے اور بورڈ پر یہ لکھ کر لگاتا ہے کہ یہ بکری کا گوشت ہے یا گوشت کتے کا رکھ کر بیٹھا ہے اور بورڈ پر لکھا ہوا ہے یہ بکری کا گوشت ہے۔ کیا اس طرح دھوکہ دینا صحیح ہے؟

اسلم قادیانی:

نہیں! یہ تو بہت بڑا دھوکہ ہے۔ توبہ، توبہ!

مولانا اﷲ وسایا:

جب گوشت خنزیر کا ہو بورڈ بکری کے گوشت کا، یہ بورڈ رہے یا اتر جائے؟

اسلم قادیانی:

اتار دینا چاہئے۔

مولانا اﷲ وسایا:

اب تو بتا؟ اندر قادیانیت ہو، اندر مرزاقادیانی ہو، اور بورڈ ہو ’’لا الہ الا اﷲ محمد رسول اﷲ‘‘

اسلم قادیانی:

اتار دینا چاہئے۔

227

مولانا اﷲ وسایا:

تو پھر میں کیسے رہنے دوں۔ یہ تو دھوکہ ہے امت کے ساتھ۔ یہ تو دکھوکہ ہے اﷲ اور اس کے رسول کے ساتھ۔ تیرے سمجھانے کے لئے یہ تھوڑا سا سخت لہجہ اختیار کیا ہے۔ اسے محسوس نہ کرنا۔

آگے چلئے! مرزاغلام احمد قادیانی کا بیٹا جس کا نام ہے۔ ’’مرزابشیراحمد ایم۔اے‘‘ اس نے اپنی کتاب (کلمتہ الفصل ص۱۰۵،۱۵۸) پر لکھا ہے۔ لوگوں نے اس سے سوال کیا کہ جب تم نے اپنا نبی علیحدہ بنالیا ہے، اور اس کی پیروی کر رہے ہو تو کلمہ بھی علیحدہ بنا لو؟ اس نے جواب دیا ہمیں علیحدہ کلمہ بنانے کی ضرورت ہی نہیں۔ ہماری ضرورت اس کلمہ سے پوری ہو جاتی ہے۔ جب تک ہماری ضرورت پوری ہوتی رہے گی نیا کلمہ بنانے کی ضرورت نہیں ہوگی۔

اسلم قادیانی:

یہ کون سی کتاب ہے جس کا نام آپ نے لیا ہے؟

مولانا اﷲ وسایا:

کتاب کا نام ہے ’’کلمتہ الفصل‘‘

اسلم قادیانی:

یہ کتاب مل جائے گی؟

مولانا اﷲ وسایا:

کیوں نہیں۔ بالکل مل جاتی ہے۔ مجھے علم نہیں تھا کہ وہاں کتابوں کی ضرورت ہوگی، اور اگر میں ساتھ بھی لاتا تو تو کہہ دیتا کہ یہ مولوی صاحب خود چھاپ کے لے آیا ہے اور قادیانی اس طرح کہہ بھی دیتے ہیں۔

اسلم قادیانی:

’’ربوہ‘‘ کی لائبریری سے مل جاتی ہے؟ یہ بھی مسئلہ ہے ہمیں لائبریری میں جانے بھی نہیں دیتے۔

مولانا اﷲ وسایا:

شریفا! لائبریری ان کی ہے۔ پوچھتا مجھ سے ہے؟ مجھے ان کی لائبریری سے کیا کام؟

اسلم قادیانی:

کیا آپ نے وہ کتاب دیکھی اور پڑھی ہے؟ یا آپ ویسے کہہ رہے ہیں؟

مولانا اﷲ وسایا:

ہاں! ہاں! میں سفید داڑھی رکھ کر جھوٹ تھوڑا بول رہا ہوں۔ میں نے دیکھی کیا؟ اس کو پڑھا بھی ہے۔ سنیں! ’’مرزابشیراحمد‘‘ نے اس میں یہ بھی لکھا ہے کہ (العیاذ باﷲ) حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت دو مرتبہ ہوئی۔ ایک مرتبہ مکہ مکرمہ میں اور دوسری مرتبہ (العیاذ باﷲ) مرزاغلام احمد کی شکل میں قادیان میں ہوئی۔ نیز یہ بھی لکھا ہے کہ: ’’مسیح موعود خود محمد رسول اﷲ ہے۔ جو اشاعت اسلام کے لئے دوبارہ دنیا میں تشریف لائے۔‘‘ (ان دونوں

228

عبارتوں کے حوالے مع مکمل عبارت آگے آجائیں گے)

بھائی اسلم! بس اس حوالے پر اور اس بات پر کاٹ لگادے۔ میں تو تیرے سمجھانے کے لئے قرآن پاک کی طرف آیا ہوں، اور اب تک قرآن پاک کھول کر تجھے سمجھاتا آیا ہوں۔ اگر حوالوں پر آتے ہیں تو ’’انشاء اﷲ‘‘ کمی نہیں چھوڑوں گا۔ اگر قرآن پاک کے حوالے سے بات نہ کرتا تو تو کہتا کہ دیکھو جی! مولوی صاحب نے تو قرآن پاک کی بات ہی نہیں کی۔ بس اب اس حوالے پر تو کاٹ لگادے۔

اسلم قادیانی:

مجھے یہ حوالہ (یعنی ’’کلمتہ الفصل‘‘ والا) دکھا سکتے ہو؟

مولانا اﷲ وسایا:

تو کہہ دے۔ میں حوالہ دکھانے کے لئے تیار ہوں! تو جہاں کہے۔ جس جگہ کا کہے! میں وہاں آنے کے لئے اور حوالہ دکھانے کے لئے حاضر ہوں۔ اگر حوالہ نہ دکھاؤں تو تیرا ہاتھ میرا گریبان، پکڑ کر مجھے کھینچنا اور ایک ایک چوک میں لے جاکر لوگوں سے کہنا یہ مولوی صاحب جھوٹے ہیں۔ مجھے حوالہ دکھانے کا کہہ کر پھر گئے ہیں اور حوالہ نہیں دکھاتے۔

اسلم قادیانی:

بس حوالہ دکھاؤ۔

مولانا اﷲ وسایا:

کب دکھاؤں؟ میں آؤں یا تو آئے گا؟ یہاں کا کہو۔ جس جگہ کا کہو؟ حکم کرو!

اسلم قادیانی:

کل آجائیں۔

مولانا اﷲ وسایا:

شریفا! میں آؤں؟ تو نہ آنا۔ بھائی اسلم! کوئی آجائے، پنچایت میں جس بندے کا تو کہے وہ آجائے، ورنہ کوئی آئے یا نہ آئے۔ اسلم تو ضرور آئے۔ اسلم! اسلم! (یہاں حضرت کی آنکھیں آنسوؤں سے بھر گئیں اور حضرت پر گریہ طاری ہوگیا دم گھٹنے لگا) تو کہہ کہ مولوی صاحب میرے گھر میں میرے دروازے پر چلو، اور میرے گھر کی صفائی کرو۔ جھاڑو دو تو میں اپنی ٹوپی اتار کر صفائی کرنے کے لئے تیار ہوں۔

اسلم قادیانی:

استغفراﷲ! میں اتنی گستاخی نہیں کر سکتا۔

مولانا اﷲ وسایا:

بھائی اسلم! میں بس اتنی درخواست ضرور کروں گا کہ قادیانیت نرا فراڈ ہے۔ سراسر دھوکہ اور فریب ہے۔ اس سے بچ جا۔ ہاں اب حکم کر!

اسلم قادیانی:

بس مجھے یقین آگیا ہے حوالہ دیکھنے کی ضرورت نہیں۔

229

مولانا اﷲ وسایا:

کاٹ لگادے۔

اسلم قادیانی:

لگادی۔

مولانا اﷲ وسایا:

لگادی؟

اسلم قادیانی:

جی! لگادی۔

مولانا اﷲ وسایا:

بس میں اس حوالے سے چھوٹ گیا؟

اسلم قادیانی:

جی! بالکل چھوٹ گئے۔

مولانا اﷲ وسایا:

بالکل چھوٹ گئے؟ پکی بات ہے۔ چھوٹ گئے؟

اسلم قادیانی:

پکی بات ہے چھوٹ گئے۔

مولانا اﷲ وسایا:

اچھا آگے چلیں! اور جو بات پوچھنی ہو؟ پوچھیں۔

اسلم قادیانی:

حدیث میں آتا ہے۔ مہدی کی علامات میں سے ایک علامت یہ ہے کہ چاند اور سورج کو اکٹھے گہن لگایا جائے گا۔

مولانا اﷲ وسایا:

ہاں آگے چلیں۔

اسلم قادیانی:

باتیں ساری آپ کو آتی ہیں۔ آپ ساری باتیں جانتے ہیں (ہنستے ہوئے کہا) میں کیا بتاؤں؟ (حضرت بھی اور حاضرین مجلس بھی ہنسے اور)

مولانا اﷲ وسایا نے فرمایا: بھائی اسلم! تو اشارہ کرتا ہے میں تیری بات کے آخر تک اور اس کی تہہ تک پہنچ جاتا ہوں۔ اب سن! جس حدیث کے متعلق تو کہہ رہا ہے۔ یہ ’’سنن دارقطنی‘‘ میں اس طرح ہے۔’’حدثنا ابوسعید الا صطخری حدثنا محمد بن عبداﷲ بن نوفل حدثنا عبید بن یعیش حدثنا یونس بن بکیر عن عمر وبن شمر عن جابر عن محمد بن علی قال: ان لمہدینا اٰیتین لم تکونا منذ خلق السمٰوٰت والارض ینکسف القمر لاول لیلۃ من رمضان، وتنکسف الشمس فی النصف منہ ولم تکونا منذ خلق اﷲ السمٰوٰت والارض (دارقطنی ج۲ ص۶۵)‘‘

’’محمد بن علی کہتے ہیں کہ ہمارے مہدی کی دو نشانیاں ہیں۔ جب سے زمین وآسمان بنے ہیں۔ کسی کے لئے (یہ دونوں نشانیاں) نہیں بنیں۔ (۱)رمضان کی پہلی رات کو چاند گرہن ہوگا۔ (۲)اور اسی رمضان کے نصف میں سورج گرہن ہوگا اور جب سے زمین

230

وآسمان پیدا ہوئے ہیں۔ کسی کے لئے یہ دونوں نشانیاں (ثابت) نہیں ہوئیں۔‘‘

بھائی اسلم! یہ حدیث نہیں یہ تو امام محمد بن علیؓ کا اپنا قول ہے۔ اگر کوئی اسے حدیث ثابت کر دے تو جو چور کی سزا وہی میری سزا۔ محمد بن علی اپنا قول پیش کرتے ہوئے کہہ رہے ہیں۔’’ان لمہدینا اٰیتین‘‘ کہ ہمارے مہدی کی دو نشانیاں ہیں۔ وہ اپنے مہدی کی طرف نسبت کر کے کہہ رہے ہیں۔ اس سے مراد مرزاغلام احمد قادیانی نہیں ہے۔ بلکہ مرزاغلام احمد قادیانی تو یہ کہتا ہے۔ میں حدیث والا مہدی نہیںہوں۔ کیونکہ امام مہدی علیہ الرضوان تو دجال کا مقابلہ کریں گے۔ عیسائیوں کے خلاف جہاد کریں گے۔ یہ کام مرزاغلام احمد قادیانی کے بس کے نہیں تھے، اور نہ ہی اس نے یہ کام کئے۔ اس لئے کہا کہ میں حدیث والا مہدی اور خونی مہدی نہیں ہوں۔ بلکہ مرزاقادیانی تو امام مہدی علیہ الرضوان کے متعلق حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی احادیث کو ضعیف، موضوع اور مجروح کہہ رہا ہے۔ چنانچہ اپنی کتاب ’’حقیقت المہدی‘‘ میں لکھتا ہے: ’’اس قسم کی تمام حدیثیں جو مہدی کے آنے کے بارے میں ہیں۔ ہرگز قابل وثوق اور قابل اعتبار نہیں ہیں۔‘‘

پھر آگے احادیث کو تقسیم کرتے ہوئے لکھتا ہے: ’’اوّل وہ حدیثیں کہ موضوع اور غیرصحیح اور غلط ہیں۔‘‘

’’دوسری وہ حدیثیں ہیں جو ضعیف اور مجروح ہیں۔‘‘

(حقیقت المہدی ص۳،۴، خزائن ج۱۴ ص۴۲۹،۴۳۰)

اور دوسری کتاب ’’تحفہ قیصریہ‘‘ میں لکھتا ہے: ’’میں خونی مہدی نہیں ہوں۔‘‘

(تحفہ قیصریہ ص۱۳، خزائن ج۱۲ ص۲۶۵)

مرزاقادیانی کے ان حوالہ جات سے آپ نے سمجھ لیا کہ مرزاقادیانی کے نزدیک تو احادیث مہدی (علیہ الرضوان) سرے سے معتبر ہی نہیں۔ پھر مرزاقادیانی کیسے مہدی ہے؟ نیز جس روایت سے تو نے استدلال کیا ہے۔ اس کی سند میں دوراوی (۱)عمروبن شمر۔ (۲)جابر ہیں جن کو محدثین نے ’’منکر الحدیث‘‘ اور ’’متروک الحدیث‘‘ کہا ہے۔ (دیکھئے دارقطنی ج۲ ص۶۵ حاشیہ) لہٰذا یہ روایت تو سرے سے ساقط الاعتبار ہے۔ قابل قبول ہی نہیں۔

اگر اس قول کو صحیح تسلیم کیا جائے تو اس میں ایک جملہ ہے ’’اوّل لیلۃ من رمضان‘‘ کہ رمضان المبارک کی پہلی رات کا چاند گرہن ہوگا۔ جب کہ مرزاغلام احمد

231

قادیانی کے زمانے میں رمضان المبارک کی تیرھویں تاریخ کا چاند گرہن ہوا ہے۔ پہلی رات کا نہیں اور یہ ایک مرتبہ نہیں ہوا۔ بلکہ مرزاقادیانی کے دنیا میں آنے سے پہلے ساٹھ مرتبہ گرہن ہوچکا ہے۔ دیکھئے! اس قول میں ہے: ’’رمضان المبارک کی پہلی رات کا چاند‘‘ جب کہ مرزاغلام احمد قادیانی کہتا ہے۔ ’’ان تین میں سے پہلی‘‘ اب آپ اندازہ لگائیں کہ مرزاقادیانی کی بات کہاں تک اور کس حد تک سچی ہے؟

اسلم قادیانی:

دیکھو جی! پہلی تاریخ سے لے کر دس تاریخ تک کے چاند کو عربی میں ’’ہلال‘‘ تو کہتے ہیں نا۔

مولانا اﷲ وسایا:

قرآن کہتا ہے: ’’والقمر قد رناہ منازل‘‘ (ہم نے چاند کی منزلیں مقرر کر رکھی ہیں) یہ قرآن پاک کی آیت ہے۔ اس میں پہلی رات کے چاند کو بھی ’’قمر‘‘ کہاگیا ہے اور دوسری، تیسری، چوتھی، پانچویں وغیرہ کی رات کے چاند کو بھی ’’قمر‘‘ کہاگیا ہے۔ ہلال نہیں۔

اسلم قادیانی:

دیکھیں! مولانا صاحب! آج تک نہ ہماری کسی سے بات ہوئی ہے، اور نہ ہی کسی نے ہمیں یہ باتیں بتائی ہیں۔

مولانا اﷲ وسایا:

میں بھی یہی درخواست کرتا ہوں۔ اﷲ کے لئے تو اوروں کو بھی پکڑ کر لے آ۔ میرے ساتھ ان کی بات کرا تجھے بھی سمجھا رہا ہوں۔ انہیں بھی سمجھاؤں گا۔

(گفتگو ابھی یہاں تک پہنچی تھی کہ اتنے میں مغرب کی اذانیں ہونے لگیں۔ حضرت نے فرمایا اذان دو۔ نماز پڑھ لیں۔ اسلم قادیانی سے پوچھا۔ کیا اتنی گفتگو کافی ہے۔ یا نماز کے بعد پھر بیٹھنا ہے؟ تو حاضرین مجلس نے عرض کیا۔

حاضرین مجلس:

حضرت! نماز کے بعد دوسری نشست ہو جائے۔ اس میں مسلمانوں کا بھی فائدہ ہوگا اور اس (اسلم قادیانی) کی بھی تسلی ہو جائے گی۔ چنانچہ اذان ہوئی نماز جماعت کے ساتھ ادا ہوئی۔ اسلم قادیانی نے بھی حضرت کے ساتھ دائیں طرف کھڑے ہوکر نماز پڑھی۔

دوسری نشست

(نماز مغرب ادا کرنے کے بعد مولانا اﷲ وسایا حاضرین کی طرف متوجہ ہوئے۔

232

اسلم قادیانی بھی مولانا اﷲ وسایا کے ساتھ بیٹھ گیا۔ مسکراتے ہوئے مولانا اﷲ وسایا نے فرمایا)

مولانا اﷲ وسایا:

بھائی اسلم! تو ہمارا دین ومسلک قبول کرے یا نہ کرے؟ اب تو تو مرزائی نہیں رہا۔ اس لئے کہ مغرب کی نماز تونے ہمارے ساتھ پڑھ لی ہے۔ اگر تو ہمارا دین قبول نہ بھی کرے بہرحال مرزائی تو نہیں رہا۔

اسلم قادیانی:

مجھے تو اس مسجد میں نماز پڑھتے ہوئے پندرہ بیس دن گذر گئے ہیں۔ میں نے ’’یاسین‘‘ سے جواس مسجد کا امام ہے کہا ہے کہ مجھے تسلی کرادو۔

مولانا اﷲ وسایا:

(اسلام کی ترغیب دیتے ہوئے فرمانے لگے) بس چھوڑ یار! اﷲ کا نام لے اور اسلام قبول کر! اور مرزائیت پہ لعنت بھیج۔

اسلم قادیانی:

تسلی کر لوں۔

مولانا اﷲ وسایا:

تسلی کر! باربار کر! ایک مرتبہ نہیں ہزارمرتبہ کر! یہی بات تو میں نے شروع میں کر دی ہے کہ ایک مرتبہ نہیں دس مرتبہ سوچ لے۔ مگر قبول اسلام کے بعد پھر لوٹ جانا یہ شریعت میں ناقابل معافی جرم ہے۔

اسلم قادیانی:

دیکھو جی! جس بندے کے دل میں وسوسہ ہو تو وہ دور کرنا چاہئے۔ وسوسہ دل میں نہ رہے۔

مولانا اﷲ وسایا:

بھائی اسلم! دنیا میں سب سے مشکل کام وسوسہ دور کرنا ہے۔ جتنا مشکل کام وسوسہ دور کرنا ہے، دنیا میں اس سے زیادہ مشکل کام اور کوئی نہیں۔ میری بات آپ سمجھ رہے ہیں؟

اسلم قادیانی:

جی ہاں!

مولانا اﷲ وسایا:

جانتے ہو؟ وسوسہ کیاہے؟

اسلم قادیانی:

نہیں۔

مولانا اﷲ وسایا:

سنو! میں آپ کو وسوسہ سمجھاؤں۔ مثال کے طور پر پانی کا گلاس بھرا ہوا رکھا ہو، اور آپ کو پیاس لگی ہو۔ آپ نے پینے کے لئے پانی کا گلاس اٹھایا۔ کسی نے کہہ دیا اسلم! یہ گلاس نہ اٹھانا۔ اس سے پانی نہ پینا۔ کیونکہ اس میں چوہے نے منہ مارا ہے۔ آپ نے یہ سنتے ہی فوراً وہ گلاس پانی کا رکھ دیا۔ تو یہ جو کہا کہ چوہا منہ مارگیاہے۔ یہی وسوسہ ہے۔ اسے دور کرنا بہت ہی مشکل کام ہے۔ اب ہزار آدمی تجھے کہتے رہیں کہ یہ پانی ٹھیک ہے۔ پی لو۔

233

آپ کبھی ہاتھ بھی نہیں لگائیں گے۔ آپ کے دل میں سے یہ بات نکالنی بہت مشکل ہے کہ چوہا منہ مارگیا ہے۔ اس لئے آپ وسوسہ چھوڑ دیں۔ اس لئے کہ دین ایک حقیقت کا نام ہے۔ وسوسہ کا نام دین نہیں، اور قادیانیت کیا ہے؟ بس ان قادیانیوں کا کام صرف یہی ہے۔ وسوسہ ڈالتے رہنا اور کوئی کام ان کا نہیں۔ ان کا کام وسوسہ ڈالنا ہے۔ اچھا! عیسیٰ علیہ السلام آسمانوں پر ہیں؟ اچھا! وہاں کیا کھاتے ہوں گے؟ اچھا! وہاں کیا پیتے ہوں گے؟ اچھا! وہ تو پیر فرتوت ہوگئے ہوں گے؟ وہ حجامت کہاں کراتے ہوں گے؟ بس قادیانی اس قسم کی باتیں کرتے ہیں اور لوگوں کے دلوں میں وسوسے ڈالتے جاتے ہیں۔

اسلم قادیانی:

وہ ہمیں یہ باتیں نہیں کرتے۔ ہمیں صرف یہ کہتے ہیں کہ عیسیٰ (علیہ السلام) فوت ہوگئے ہیں۔ بس اور کچھ نہیں کہتے۔

مولانا اﷲ وسایا:

آپ سے نہ کرتے ہوں، ہم سے یہ باتیں کرتے ہیں، اور کہتے ہیں کہ اگر حضرت عیسیٰ علیہ السلام زندہ ہیں تو کیا کھاتے ہوں گے؟ کیا پیتے ہوں گے؟ وغیرہ وغیرہ۔

اسلم قادیانی:

اچھا مجھے ایک اور بات بتاؤ۔ یہ آنکھوں دیکھا واقعہ ہے۔ خلیفہ رابع تھا۔ غالباً اس کا نام مرزاطاہر تھا۔ اس نے مباہلہ کا چیلنج کیا، اور پوری دنیا سے کیا، حتیٰ کہ ضیاء الحق سے بھی کہا کہ تو مباہلہ کا چیلنج قبول کر۔ کسی نے حتیٰ کہ ضیاء الحق نے بھی اس چیلنج کو قبول نہیں کیا۔

مولانا اﷲ وسایا:

بس! بھائی اسلم! یہ بات گھڑی گئی ہے۔ یہ بات من گھڑت ہے۔ اس کے مرنے کے بعد بنالی گئی ہے۔ جس کا حقیقت کے ساتھ کوئی تعلق نہیں ہے۔ مرزاطاہر نے جنرل ضیاء الحق کے مرنے کے بعد اپنی طرف سے ایک بات گھڑکر اپنی کتابوں میں لکھ دی ہے۔ بھائی اسلم! اگر مباہلہ کی بات کرتے ہو تو آؤ۔ وہاں سے شروع کرتے ہیں۔ (یعنی مرزاغلام احمد قادیانی کی زندگی سے) ’’مرزاغلام احمد قادیانی‘‘ زندہ تھا۔ (یہ تو مرنے کے بعد ایک کہانی گھڑ لی گئی ہے) یہ اس کی زندگی کی بات ہے اور یہ بات خود مرزے کی کتاب ’’چشمہ معرفت‘‘ اور ’’حقیقت الوحی‘‘ اور ’’مجموعۂ اشتہارات‘‘ میں بھی موجود ہے اور خود مرزاقادیانی نے لکھا ہے۔ بات یہ ہے کہ ’’ڈاکٹر عبدالحکیم خان‘‘ مرزاقادیانی کا مرید تھا۔ عرصہ بیس(۲۰) سال تک مرزاقادیانی کا مرید رہا ہے۔ پھر جب مرزاقادیانی کی کتابیں پڑھیں، اور مرزاقادیانی کا جھوٹ، کفر اور اس کا باطل ہونا اس پر واضح ہوا تو اس نے

234

مرزائیت سے توبہ کی، حتیٰ کہ مرزاقادیانی کی تردید میں چند رسالے بھی لکھے۔ مرزاقادیانی بھی ان کے سخت مخالف ہوگئے۔ بالآخر دونوں نے ایک دوسرے کے خلاف موت (مرنے) کی پیش گوئیاں شائع کیں۔ یہ ایک لمبی داستان ہے۔ بہرحال! دوبدو، دو پہلوانوں نے ایک دوسرے کو کہا کہ تو فلاں تاریخ تک مر جائے گا۔ دوسرے نے کہا تو فلاں تاریخ تک مر جائے گا۔ ’’ڈاکٹر عبدالحکیم خان‘‘ نے مرزے سے کہا کہ تو ۴؍اگست ۱۹۰۸ء تک مر جائے گا۔ مرزے نے عبدالحکیم خان سے کہا کہ تو ۴؍اگست ۱۹۰۸ء تک مر جائے گا۔ اب سنئے! مرزاقادیانی کی کہانی خود مرزاقادیانی کی زبانی۔ سنئے! اور سردھنئے!!

مرزاقادیانی اپنی کتاب ’’چشمہ معرفت‘‘ میں لکھتا ہے: ’’ہاں آخری دشمن اب ایک اور پیدا ہوا ہے۔ جس کا نام عبدالحکیم خان ہے اور وہ ڈاکٹر ہے اور ریاست پٹیالہ کا رہنے والا ہے۔ جس کا دعویٰ ہے کہ میں(مرزا غلام احمد۔ ناقل) اس کی زندگی میں ہی ۴؍اگست ۱۹۰۸ء تک ہلاک ہو جاؤں گا اور یہ اس کی سچائی کے لئے ایک نشان ہوگا۔ یہ شخص الہام کا دعویٰ کرتا اور مجھے دجال اور کافر اور کذاب قرار دیتا ہے۔ پہلے اس نے بیعت کی اور برابر بیس برس تک میرے مریدوں اور میری جماعت میں داخل رہا۔ پھر مرتد ہوگیا۔ میں نے منع کیا۔ مگر وہ باز نہ آیا۔ آخر میں نے اسے اپنی جماعت سے خارج کر دیا۔ تب اس نے یہ پیش گوئی کی کہ میں (مرزاغلام احمد۔ ناقل) اس کی زندگی میں ہی ۴؍اگست ۱۹۰۸ء تک اس کے سامنے ہلاک ہو جاؤں گا۔ مگر خدا نے اس کی پیش گوئی کے مقابل پر مجھے خبر دی کہ وہ خود عذاب میں مبتلا کیا جائے گا، اور خدا اس کو (یعنی عبدالحکیم خان کو۔ ناقل) ہلاک کرے گا، اور میں اس کے شر سے محفوظ رہوں گا… بلاشبہ یہ سچ بات ہے کہ جو شخص خداتعالیٰ کی نظر میں صادق ہے۔ خدا اس کی مدد کرے گا۔‘‘

(چشمہ معرفت ص۳۲۱،۳۲۲، خزائن ج۲۳ ص۳۳۷)

اس طرح کی باتیں مرزاقادیانی کی مختلف کتابوں میں پائی جاتی ہے۔ دیکھئے :

(حقیقت الوحی ص۷۲، ۱۳۱، ۱۲۷، خزائن ج۲۲ ص۷۲،۱۲۷،۱۳۱، مجموعہ اشتہارات ج۳ ص۵۸۵، ۵۹۱، ۵۵۹، ۵۶۰)

نتیجہ یہ نکلا کہ ۴؍اگست سے پہلے پہلے ۲۶؍مئی ۱۹۰۸ء میں مرزاقادیانی مرگیا، اور ’’ڈاکٹر عبدالحکیم خان‘‘ اس کے بعد تک زندہ رہا۔ اب ایک پیش گوئی عبدالحکیم خان نے کی اور ایک پیش گوئی مرزاقادیانی نے کی، فیصلہ بھی مرزاقادیانی نے کردیا ہے کہ خداتعالیٰ سچے

235

کی مدد کرے گا۔ معلوم ہوا ڈاکٹر عبدالحکیم خان سچا تھا۔ خداتعالیٰ نے اس کی مدد کی اور مرزاقادیانی جھوٹا تھا۔ خداتعالیٰ نے عبدالحکیم خان کے سامنے اسے ذلیل کیا، رسوا کیا، تو ضیاء الحق نے تو کہا بھی نہیں تھا کہ تو مر جائے گا۔ اگر کہیں لکھا ہوا ہے تو دکھا دو! یہ مرزاطاہر کی گھڑی ہوئی بات ہے یا دوسرے مرزائیوں کی، ضیاء الحق کی نہیں۔

اسلم قادیانی:

ان ساری باتوں کو چھوڑو۔ مجھے حوالہ دکھاؤ !

مولانا اﷲ وسایا:

بتاؤ! جہاں تو کہے میں حوالہ دکھانے کے لئے تیار ہوں۔

اسلم قادیانی:

جہاں کہو! میں آجاؤں گا بس حوالہ دکھا دو۔

مولانا اﷲ وسایا:

کون سا حوالہ؟ حکم کر!

اسلم قادیانی:

جس کتاب کا پہلے نام لے رہے تھے۔

مولانا اﷲ وسایا:

’’کلمتہ الفصل‘‘ کا؟

اسلم قادیانی:

جی ہاں۔

مولانا اﷲ وسایا:

تو صرف ’’کلمتہ الفصل‘‘ کا کہتا ہے۔ میں سارے حوالے دکھانے کے لئے تیار ہوں۔ آج کی مجلس میں جو جو باتیں ہوئیں، تمام علماء کرام نے جو جو باتیں اس موضوع پر کہی ہیں، وہ سب دکھانے کے لئے تیار ہوں، تو حکم کر! وقت بتا! جگہ بتا!

اسلم قادیانی:

صبح کو دکھا دو۔ دیر نہیں ہونی چاہئے۔ جہاں کہو میں آجاؤں گا۔

حاضرین مجلس:

’’چناب نگر‘‘ رکھ لو وہاں آجائے۔

مولانا اﷲ وسایا:

وہاں رکھ لو۔ میں حاضر ہوں۔

اسلم قادیانی:

وہاں نہیں۔ واویلا نہیں کرنا۔ لوگوں نے شہرت کر دینی ہے۔

مولانا اﷲ وسایا:

اچھا حکم کر۔

اسلم قادیانی:

ابھی دکھا دو۔

مولانا اﷲ وسایا:

تو کہہ دیتا کہ کتابیں بھی ساتھ لیتے آنا! تو میں کتابیں ساتھ لے کر آتا۔ میں تو اس لئے ساتھ لے کر نہیں جاتا۔ یہ قادیانی ہمیں بدنام کرتے ہیں کہ مولویوں نے خود اپنی طرف سے کتابیں چھاپی ہوئی ہیں۔ ہمیں ان کی کتابوں کے چھاپنے سے کیا کام؟ (یہاں مولانا عبدالرشید، مولانا سید خبیب شاہ کہنے لگے کہ کتاب ہمارے پاس ہے۔ ہم لے کر آجاتے ہیں)

236

مولانا اﷲ وسایا:

تمہارے پاس کتاب ہے؟ اور ابھی لے آسکتے ہو؟

شاہ صاحب:

جی ہاں! ہے اور ابھی منگا لیتے ہیں۔

مولانا اﷲ وسایا:

چلو منگا لو! ہم انتظار کر لیتے ہیں۔ (چنانچہ کتاب لینے رفقاء چلے گئے)

حاضرین مجلس:

جتنا وقت کتاب آنے تک کا ہے اتنا ہم اور گفتگو کر لیتے ہیں۔

مولانا اﷲ وسایا:

بالکل ٹھیک ہے۔ جی بھائی اسلم! کوئی اور بات یا اشکال ہو تو بتاؤ۔

اسلم قادیانی:

وہ کون سی آیت ہے جس میں ہے کہ پچھلوں میں بھی نبی آئے گا؟

(مولانا اﷲ وسایا صاحب نے قرآن پاک کھول کر فرمایا)

مولانا اﷲ وسایا:

یہ ’’اٹھائیسواں پارہ سورۂ جمعہ‘‘ کی آیت ہے اور مکمل آیت یوں ہے:’’ہو الذی بعث فی الامیین رسولاً منہم یتلوا علیہم اٰیٰتہ ویزکیہم ویعلمہم الکتاب والحکمۃ وان کانوا من قبل لفی ضلال مبین۰ واٰخرین منہم لما یلحقوا بہم وھو العزیز الحکیم (جمعہ:۲،۳)‘‘

جس کا ترجمہ یوں ہے: ’’وہی وہ ذات ہے جس نے بھیجا ان پڑھوں میں ایک رسول انہی میں سے، پڑھ کر سناتا ہے ان کو اس کی آیتیں، اور ان کو سنوارتا ہے، اور سکھلاتا ہے ان کو کتاب اور عقلمندی، اور اس سے پہلے وہ پڑے ہوئے تھے۔ صریح بھول میں اور دوسرے لوگوں کے واسطے بھی انہی میں سے جو ابھی نہیں ملے ان میں، اور وہی ہے زبردست حکمت والا۔‘‘

یہ آیت مبارکہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت عامہ کو بیان کر رہی ہے، اور یہ بتلا رہی ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیم اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی دعوت جس طرح اہل عرب یعنی صحابہ کرامؓ (وغیرہم) کے لئے ہے۔ اسی طرح ان کے بعد قیامت کی صبح تک آنے والے تمام انسانوں کے لئے بھی ہے۔

اس طرح کی آیت مبارکہ (سورۂ بقرہ پارہ نمبر:۱) میں بھی ہے۔ جس میں حضرت ابراہیم علیہ السلام کی دعا ذکر کی گئی ہے۔ ’’ربنا وابعث فیہم رسولاً منہم یتلو علیہم آیاتہ… الخ!‘‘ اس آیت مبارکہ میں اجابت (قبولیت) دعا کا ذکر ہے۔ اسی لئے حضور صلی اللہ علیہ وسلم فرمایا کرتے تھے کہ: ’’انا دعوۃ ابراہیم‘‘ میں حضرت ابراہیم علیہ السلام کی دعا کا ثمرہ اور نتیجہ ہوں۔ اب اس دعا کے نتیجہ میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت عمومی ہوئی۔ موجودین

237

کے لئے بھی اور غیرموجودین کے لئے بھی اہل عرب کے لئے بھی اور اہل عجم کے لئے بھی۔ اسی بات کو حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے یوں بھی بیان فرمایا ہے: ’’انا نبی من ادرک حیا ومن یولد بعدی‘‘ (کہ میں ان کا بھی نبی ہوں جو اب زندہ ہیں اور ان کا بھی جو میرے بعد پیدا ہوں گے)

یہ مطلب ہے آیت مبارکہ کا۔ وہ مطلب نہیں جو مرزاقادیانی اور اس کے پیروکار لیتے اور بیان کرتے ہیں کہ اس میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی دو بعثتوں کا بیان ہے۔ ایک مرتبہ مکہ مکرمہ میں، اور دوسری مرتبہ قادیان میں۔ (العیاذ باﷲ)

یہ سراسر دجل ہے۔ لہٰذا اس آیت سے یہ معلوم ہوا کہ مبعوث ایک ذات ہے (اور وہ حضرتمحمد صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات اقدس ہے) اور مبعوث الیہم موجودین وغائبین سب ہیں، اور مرزاقادیانی نے بھی ایک جگہ اپنی کتاب ’’آئینہ کمالات اسلام‘‘ میں اسی آیت کریمہ کے تحت یہی مطلب لکھا ہے۔ دیکھئے! ’’یعنی ہمارے خالص اور کامل بندے بجز صحابہ کرامؓ کے اور بھی ہیں۔ جن کا گروہ کثیر آخری زمانہ میں پیدا ہوگا، اور جیسے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہؓ کی تربیت فرمائی۔ ایسا ہی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اس گروہ کی بھی باطنی طور پر تربیت فرمائیں گے۔‘‘

(آئینہ کمالات اسلام خزائن ج۵ ص۲۰۸،۲۰۹)

بھائی اسلم! یاد رکھیں۔ کسی بھی تفسیر میں ’’واٰخرین منہم‘‘ کی تفسیر دوسرے نبی سے نہیں کی گئی۔ اگر کسی نے (مرزائیوں کے علاوہ) کی ہے تو میں ماننے کے لئے تیار ہوں۔

اسلم قادیانی:

کسی نے نہیں کی؟

مولانا اﷲ وسایا:

بالکل کسی نے نہیں کی! اگر کسی نے کی ہے تو دکھا دو؟ کیسے کر سکتے ہیں۔ سینکڑوں آیات واحادیث عموم بعثت کی کھڑی ہیں۔ وہ کہاں جائیں گی؟ بات سمجھ آئی؟

اسلم قادیانی:

جی سمجھ گیا ہوں۔

اسلم قادیانی:

وہ سورۂ مائدہ کی آیت ہے۔ غالباً جس میں آتا ہے کہ عیسیٰ علیہ السلام قیامت کے دن کہیں گے جب ﷲتعالیٰ پوچھیں گے کہ: ’’مجھے پتہ نہیں۔‘‘

مولانا اﷲ وسایا:

(نے قرآن پاک کھولا اور فرمایا:) یہ ہیں سورۂ مائدہ کی وہ آیات مبارکہ جن کی تو بات کر رہا ہے، اور بات کا سلسلہ یہاں سے شروع ہورہا ہے۔ دیکھئے! میں ان کا ترجمہ کرتا ہوں۔

238

’’اذ قال الحواریون یٰعیسیٰ ابن مریم ہل یستطیع ربک ان ینزل علینا مائدۃ من السماء قال اتقوا اﷲ ان کنتم مؤمنین (مائدہ:۱۱۲)‘‘ {(اس وقت کو یاد کریں) جب حواریوں نے کہا۔ اے عیسیٰ بیٹا مریم(علیہما السلام) کا کیا تیرا رب کر سکتا ہے کہ اتارے ہم پر ایک دسترخوان (کھانوں سے بھرا ہوا) آسمان سے؟ بولے حضرت عیسیٰ علیہ السلام۔ اﷲ سے ڈرو! اگر تم ایمان لانے والے ہو۔}

بھائی اسلم! ایک بات تو یہ ہے کہ ’’حواری‘‘ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے صحابیوں کا لقب ہے۔ دوسری بات یہ ہے کہ ’’کر سکتا ہے‘‘ کا مطلب یہ ہے کہ آپ کی دعا وبرکت سے ہمارے لئے دسترخوان نازل کرے، اور آسمان سے نازل کرنے کا مطلب یہ ہے کہ بغیر کسی مشقت اور محنت کے پکا پکایا کھانا ہمیں مل جائے، اور یہ بھی فرمایا کہ ایماندار بندے ایسی فرمائشیں نہیں کیا کرتے، اور خداتعالیٰ کو آزماتے نہیں ہیں کہ وہ ایسا کر سکتا ہے یا نہیں؟

آگے قرآن کہتا ہے: ’’قالوا نرید ان نأکل منہا وتطمئن قلوبنا ونعلم ان قدصد قتنا ونکون علیہا من الشہدین (مائدہ:۱۱۳)‘‘

’’حواریوں نے کہا: ’’ہم چاہتے ہیں کہ کھاویں اس میں سے، اور مطمئن ہو جائیں ہمارے دل اور ہم جان لیں کہ تو نے ہم سے سچ کہا، اور رہیں ہم اس پر گواہ۔‘‘

مطلب یہ ہے کہ ہم آزمائش کے لئے دسترخوان کا مطالبہ نہیں کر رہے۔ بلکہ مقصد یہ ہے کہ بغیر محنت کے رزق ملتا رہے، اور ہم یکسوئی اور اطمینان قلبی سے عبادت کرتے رہیں، اور آپ نے جو جنت کی نعمتوں کے متعلق خبر دے رکھی ہیں۔ اس کا یہ نمونہ ہوگا اور ہمیں جنت کی نعمتوں کے متعلق کامل یقین ہو جائے گا، اور ہم ایک قسم کے عینی گواہ بن جائیں گے۔ بس یہ مقصد ہے اور کچھ مقصد نہیں۔ تو ان حواریوں کے مطالبہ پر حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے ﷲتعالیٰ کی بارگاہ میں ان الفاظ کے ساتھ دعا مانگی۔

’’قال عیسیٰ ابن مریم اللہم ربنا انزل علینا مائدۃ من السماء تکون لنا عیدً الا ولنا واٰخرنا واٰیۃ منک وارزقنا وانت خیر الرازقین (مائدہ:۱۱۴)‘‘ {کہا عیسیٰ (علیہ السلام) بیٹے مریم کے نے، اے اﷲ رب ہمارے اتار ہم پر دسترخوان (کھانوں سے) بھرا ہوا آسمان سے کہ وہ عید کا دن ہے۔ ہمارے پہلوں اور پچھلوں کے لئے اور نشانی ہو تیری طرف سے اور روزی دے ہم کو اور تو ہی ہے سب سے بہتر

239

روزی دینے والا۔}

مطلب یہ ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے بارگاہ الٰہی میں دعا فرمائی، جس کا مضمون یہی ہے جو آیت میں بتلایا گیا ہے کہ یا اﷲ! کھانوں سے بھرا ہوا دستر خوان نازل فرمائیے۔ ایسا دسترخوان کہ وہ آپ کی قدرت کی بہت بڑی دلیل ہو، اور میری نبوت کی سچائی کے لئے بہت بڑا معجزہ ہو۔

بھائی اسلم! یہاں غور طلب بات یہ ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے دعا میں فرمایا: ’’ہم پر آسمان سے دسترخوان نازل فرما۔‘‘

معلوم ہوا آسمان سے چیزیں آسکتی ہیں اور جابھی سکتی ہیں۔ ورنہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام ’’آسمان‘‘ کا لفظ ذکر نہ فرماتے اور قرآن بھی نہ کہتا۔ اسی طرح حضرت عیسیٰ علیہ السلام بھی آسمان پر تشریف لے گئے۔ جس کی خبر سورۂ مائدہ کی آیت کریمہ ’’بل رفعہ اﷲ الیہ‘‘ اور سینکڑوں احادیث دے رہی ہیں، اور وہ قرب قیامت میں واپس تشریف لے آئیں گے۔ قادیانی دھوکہ دیتے ہیں اور کہتے ہیں کہ راستہ میں کرۂ ناریہ ہے، اور کرۂ زمہریر ہے اور پتہ نہیں کیا کیا کہتے ہیں تو اس آیت نے بھی ان کا رد کر دیا۔ غور کریں! اگر آسمان سے دسترخوان نازل ہوسکتا ہے۔ کرۂ ناریہ سے وہ نہیں جلا، اور کرۂ زمہریر سے وہ منجمد نہیں ہوا، تو یوں ہی حضرت عیسیٰ علیہ السلام صحیح وسالم آسمان پر تشریف لے گئے ہیں، اور صحیح وسلامت واپس تشریف لے آئیں گے۔ اسی طرح شب معراج حضور صلی اللہ علیہ وسلم آسمانوں پرتشریف لے گئے، اور واپس تشریف لے آئے۔ ان جیسے واقعات میں ان کروں (اگر وہ موجود ہیں تو انہوں) نے کچھ نہ بگاڑا تو سیدنا عیسیٰ علیہ السلام کا بھی کچھ نہیں بگاڑ سکے، اور نہ ہی کچھ بگاڑ سکیں گے۔ گویا اس آیت نے رفع ونزول مسیح علیہ السلام کا مسئلہ بھی ساتھ ساتھ حل کر دیا۔ یہ باتیں تیرے سمجھنے کی ہیں۔ بھائی اسلم! اچھا، آگے چلئے۔

’’قال اﷲ انی منزلہا علیکم فمن یکفر بعد منکم فانی اعذبہ عذاباً لا اعذبہ احدا من العلمین (مائدہ:۱۱۵)‘‘ { ﷲتعالیٰ نے فرمایا بے شک میں اتاروں گا وہ دسترخوان تم پر پھر جو کوئی تم میں سے ناشکری کرے گا۔ اس کے (نازل ہونے کے) بعد تو میں اس کو وہ عذاب دوں گا جو کسی کو نہ دوں گا جہاں میں۔}

اس آیت مبارکہ میں ایک تو قبولیت دعاء کا ذکر ہے۔ اس طرح کہ ﷲتعالیٰ نے

240

حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی دعا کو قبولیت کا شرف بخشتے ہوئے فرمایا۔ میں ضرور دسترخوان اتاروں گا اور ساتھ ساتھ تنبیہ کا ذکر بھی ہے۔ کیونکہ جو چیز غیرمعمولی اور اہم ہوتی ہے۔ اتنا ہی اس کے حقوق وآداب زیادہ ہوتے ہیں۔ چونکہ دسترخوان آسمانی چیز پھر رب العزت اتارنے والا، اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا معجزہ یہ کوئی معمولی چیز نہیں تھی۔ اس لئے سخت تنبیہ فرمائی کہ اس کا شکر ادا کرنا نہایت اہم اور ضروری ہے۔ ناشکری کروگے تو سخت عذاب دوں گا۔ ایسا سخت عذاب کہ دنیا جہاں میں کسی کو بھی ایسا نہیں ملا ہوگا۔

اب متوجہ ہوں! سیدنا حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا آسمانوں پر تشریف لے جانا اور واپس تشریف لے آنا، اور اس پر عقیدہ رکھنا بھی ایک اہم اور غیرمعمولی بات ہے۔ اس میں چہ میگوئیاں کرنا سراسر کفر ہے۔ جو موجب عذاب شدید ہے۔

بھائی اسلم! اب وہ آیات شروع ہورہی ہیں جن کے متعلق تیرا اشکال ہے۔ ذرا توجہ کریں۔

’’واذ قال اﷲ یعیسیٰ ابن مریم ء انت قلت للناس اتخذونی وامی الٰہین من دون اﷲ قال سبحنک مایکون لی ان اقول مالیس لی بحق ان کنت قلتہ فقد علمتہ تعلم ما فی نفسی ولا اعلم ما فی نفسک انک انت علام الغیوب (مائدہ:۱۱۶)‘‘ {اور اس وقت کو یاد کیجئے۔ جب کہیں گے ﷲتعالیٰ اے عیسیٰ بیٹا مریم کا کیا تو نے کہا تھا لوگوں سے کہ ٹھہراؤ تم مجھ کو اور میری ماں کو دو معبود اﷲ کے سوا۔ کہیں گے (حضرت عیسیٰ علیہ السلام) تو پاک ہے! مجھ کو لائق نہیں کہ کہوں ایسی بات جس کا مجھ کو حق نہیں۔ اگر میں نے یہ کہا ہوتا تو تجھ کو ضرور معلوم ہوگا۔ تو جانتا ہے جو میرے جی میں ہے اور میں نہیں جانتا جو تیرے جی میں ہے۔ بے شک تو ہی ہے جاننے والا چھپی باتوں کا۔}

’’ما قلت لہم الا ما امرتنی بہ ان اعبدوا اﷲ ربی وربکم وکنت علیہم شہیدا ما دمت فیہم فلما توفیتنی کنت انت الرقیب علیہم وانت علیٰ کل شیٔ شہید (مائدہ:۱۱۷)‘‘ {میں نے کچھ نہیں کہا ان کو مگر جو تو نے حکم دیا کہ بندگی کرو اﷲ کی جو رب ہے میرا اور رب ہے تمہارا اور میں ان سے خبردار تھا۔ جب تک ان میں رہا۔ پھر جب تو نے مجھ کو اٹھالیا تو تو ہی تھا خبر رکھنے والا ان کی اور تو ہر چیز سے خبردار ہے۔}

241

بھائی اسلم! ان آخری آیتوں کے سمجھنے سے پہلے یہ بات سمجھیں کہ اس رکوع سے پہلے والے رکوع کے شروع میں ﷲتعالیٰ نے فرمایا ہے: ’’یوم یجمع اﷲ الرسل فیقول ماذا اجبتم قالوا لا علم لنا انک انت علام الغیوب (مائدہ:۱۰۹)‘‘ {جس دن اﷲ تعالیٰ جمع کرے گا سب پیغمبروں کو پھر کہے گا تم کو کیا جواب ملا تھا؟ وہ کہیں گے ہم کو خبر نہیں تو ہی چھپی ہوئی باتوں کو جاننے والا ہے۔}

اس رکوع سے پہلے والا رکوع یوں سمجھیں کہ تمہید ہے۔ دوسرے رکوع کی۔ پہلے رکوع کی ابتداء میں ہے کہ ﷲتعالیٰ قیامت کے دن تمام رسولوں اور پیغمبروں کو اکٹھا کر کے ان کی امتوں کے روبرو سوال کریں گے کہ میں نے تمہیں پیغام حق دے کر بھیجا تھا۔ جب وہ پیغام تم نے اپنی اپنی امتوں کو پہنچایا تو تمہاری امتوں نے تمہیں کیا جواب دیا تھا؟ اور کہاں تک انہوں نے میرے پیغام اور میری دعوت کو قبول کیا تھا؟ محشر کا دن خداتعالیٰ کی قہاریت کا دن ہوگا تو عظمت وجلال میں ﷲتعالیٰ یہ سوال انبیاء علیہم السلام اور رسولوں سے فرمائیں گے۔ اس وقت انبیاء علیہم السلام انتہائی خوف وخشیت اور غایت ادب سے عرض کریں گے۔ ’’لا علم لنا‘‘ {کہ ہمیں کچھ خبر نہیں۔} پھر حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے طفیل ﷲتعالیٰ کا جلال ختم ہوگا۔ تب کچھ عرض کر سکیں گے۔

دیکھیں! اس میں تو سب پیغمبروں کی نسبت ذکر فرمایا: ’’لا علم لنا‘‘ {کہ ہمیں کچھ خبر نہیں۔}

اس میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی تخصیص کہاں ہے کہ تنہا وہ فرمائیں گے۔ ’’مجھے کوئی پتہ نہیں۔‘‘

یا اس میں کہاں لکھا ہوا ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام فوت ہوگئے تھے؟ قادیانیوں کا ایک دجل تو یہاں یہ سمجھ آیا۔

آگے چلیں! انبیاء ورسل (علیہم السلام) سے اس سوال وجواب کے بعد خاص طور پر حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا ذکر فرمایا۔ جنہیں اس وقت دنیا میں کروڑوں آدمیوں نے خدائی کا درجہ دے رکھا ہے۔ اس وجہ سے خصوصیت کے ساتھ ان (عیسیٰ علیہ السلام) سے اس عقیدۂ باطلہ کی نسبت دریافت کیا جائے گا۔ لیکن سوال کرنے سے پہلے ﷲتعالیٰ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو وہ عظیم الشان احسانات یاد کرائیں گے۔ جو ﷲتعالیٰ نے ان پر اور ان کی والدہ

242

ماجدہ پر فرماچکے ہوں گے کہ دیکھ! میں نے آپ پر یہ انعام کیا۔ یہ انعام کیا اور یہ انعام کیا وغیرہ وغیرہ!

پھر ﷲتعالیٰ ارشاد فرمائیں گے:’’ئانت قلت للناس اتخذونی وامی الہین من دون اﷲ‘‘ {کیا تو نے لوگوں سے کہہ دیا تھا؟ کہ مجھ کو اور میری والدہ کو بھی خدا کے سوا معبود مانو۔}

اس سوال پر حضرت مسیح عیسیٰ ابن مریم علیہما السلام کانپ جائیں گے اور یوں عرض کریں گے۔ ’’سبحنک‘‘ {آپ کی ذات اس سے پاک ہے کہ الوہیت وغیرہ میں آپ کا کوئی شریک کیا جائے۔} یعنی میں ایسی نامناسب بات کیسے کہہ سکتا تھا؟ آپ نے مجھے پیغمبر بنایا۔ میری پیغمبری کے شایان شان نہیں تھا کہ کوئی ناحق بات میرے منہ سے نکلے۔ آپ کے علم محیط سے کوئی چیز باہر نہیں ہوسکتی۔ اگر میں نے ایسا کہا ہوتا تو آپ کے علم میں ضرور موجود ہوتا۔ میرے دل کی چھپی ہوئی باتیں آپ کو معلوم ہیں اور آپ کی ذات کی معلومات کو میں نہیں جانتا بجز اس کے جو آپ نے مجھے بتلادیا تو میں اپنی یا اپنی والدہ کی الوہیت کی تعلیم کیسے دے سکتا تھا؟ بلکہ میں نے تو ان کو صرف آپ کی بندگی اور عبادت کی دعوت دیتا رہا اور انہیں واضح طور پر بتلاتا رہا کہ میرا اور تمہارا سب کا ایک ہی خدا ہے۔ جو تنہا عبادت کے لائق ہے۔ صرف یہ نہیں کہ میں نے تیری مخلوق کو تیری توحید اور عبادت کی طرف دعوت دی۔ بلکہ جب تک میں ان کے اندر رہا۔ برابر ان کے احوال کی خبر گیری اور نگرانی کرتا رہا کہ کوئی غلط عقیدہ قائم نہ کر بیٹھیں پھر ان میں میرے قیام کی مدت جب پوری ہوئی جو آپ کے علم میں مقدر تھی تو آپ نے مجھے اپنی طرف اٹھا لیا تو پھر آپ ہی ان کے احوال پر خبردار ہوسکتے تھے۔ میں اس کے متعلق کیا عرض کرسکتا ہوں؟

دیکھئے بھائی اسلم! یہ آیات مبارکہ کا ترجمہ اور خلاصہ ہے جو تو نے سن لیا۔ اب تو بتا؟ کس آیت اور جملہ کا ترجمہ ہے؟ ’’مجھے پتہ نہیں۔‘‘ جو تو نے اشکال میں پیش کیا۔ اگر ہے تو دکھا۔

اسلم قادیانی:

کسی کا نہیں؟

مولانا اﷲ وسایا:

کسی کا نہیں؟ ہے تو دکھا! جہاں تک تعلق ہے تمام انبیاء علیہم السلام سے سوال کا اور ان کے جواب کا وہ میں نے تجھے پچھلے رکوع کے شروع میں دکھادیا کہ ﷲتعالیٰ

243

تمام انبیاء علیہم السلام سے ان کی امتوں کے متعلق پوچھیں گے تو تمام ا نبیاء علیہم السلام پہلے جواب دیں گے۔ ’’لا علم لنا‘‘ {ہمیں معلوم نہیں۔}

پھر حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی خصوصیت کی بات آئی تو آپ نے وہ ساری سن لی۔ کیا جواب دیں گے۔ اس جواب میں تو کہیں بھی نہیں کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام یہ کہیں کہ: ’’مجھے پتہ نہیں۔‘‘

اسلم قادیانی:

اچھا! پھر انہوں نے ہمیں غلط بتایا ہے۔

مولانا اﷲ وسایا:

یہ ان سے پوچھو! کہ ہمیں غلط کیوں بتایا؟

اسلم قادیانی:

اچھا ایک اور بات بتاؤ وہ کون سی آیت ہے اور کس طرح ہے؟ جس میں آتا ہے کہ ہم جھوٹے کی شہ رگ کاٹ دیتے ہیں؟

مولانا اﷲ وسایا:

یہ دیکھو قرآن پاک کا انتیسو اں پارہ ’’سورہ الحاقہ‘‘ ہے اور یہ آیت مبارکہ ہے۔ لیکن بات کا آغاز یہاں سے ہورہا ہے۔ ’’انہ لقول رسول کریم (الحاقہ:۴۰)‘‘ {پکی بات ہے کہ یہ قرآن پاک البتہ بات ہے ایک قاصد باعزت کی۔}

’’وما ہو بقول شاعر۰ قلیلاً ما تؤمنون (الحاقہ:۴۱)‘‘ {اور نہیں ہے یہ قرآن پاک کسی شاعر کی بات، تم تھوڑا یقین کرتے ہو۔}

’’ولا بقول کاہن قلیلاً ماتذکرون (الحاقہ:۴۲)‘‘ {اور نہیں ہے بات کاہن کی تم بہت کم دھیان کرتے ہو۔}

’’تنزیل من رب العلمین (الحاقہ:۴۳)‘‘ {یہ اتارا ہوا ہے جہان کے رب کا۔}

’’ولو تقول علینا بعض الاقاویل (الحاقہ:۴۴)‘‘ {اور اگر یہ بنا لاتا ہم پر کوئی بات۔}

’’لاخذنا منہ بالیمین (الحاقہ:۴۵)‘‘ {تو ہم پکڑ لیتے اس کا دایاں ہاتھ۔}

’’ثم لقطعنا منہ الوتین (الحاقہ:۴۶)‘‘ {پھر ہم کاٹ ڈالتے اس کی گردن۔}

’’فما منکم من احد عنہ حاجزین (الحاقہ:۴۷)‘‘ {پھر تم میں کوئی ایسا

244

نہیں جو اس سے بچالے۔}

’’وانہ لتذکرۃ للمتقین (الحاقہ:۴۸)‘‘ {اور بے شک یہ قرآن پاک نصیحت ہے ڈرنے والوں کے لئے۔}

’’وانا لنعلم ان منکم مکذبین (الحاقہ:۴۹)‘‘ {اور ہم کو معلوم ہے کہ تم میں بعضے جھٹلاتے ہیں۔}

’’وانہ لحسرۃ علی الکفرین (الحاقہ:۵۰)‘‘ {اور بے شک یہ قرآن پاک پچتاوا ہے منکروں پر۔}

’’وانہ لحق الیقین (الحاقہ:۵۱)‘‘ {اور بے شک یہ قرآن البتہ یقین کرنے کے قابل ہے۔}

’’فسبح باسم ربک العظیم (الحاقہ:۵۲)‘‘ {اب بول پاکی اپنے رب کے نام کی جو ہے سب سے بڑا۔}

بھائی اسلم! یہ آیات ہیں جن کا میں نے ترجمہ کر دیا ہے۔ آیت نمبر۴۰ سے لے کر آیت نمبر۵۲ تک یہ بارہ آیات ہیں۔ ان آیات مبارکہ میں جو بات بیان کی گئی ہے۔ ’’وہ قرآن پاک کا کلام اﷲ ہونا ہے۔‘‘

کہ قرآن پاک کوئی شاعری نہیں اور نہ ہی کاہنوں کی باتیں ہیں۔ بلکہ یہ قرآن پاک اﷲ کا کلام ہے۔ جس کو آسمان سے ایک بزرگ فرشتہ (جبرائیل علیہ السلام) لے کر ایک عظیم ترین پیغمبر پر اترا۔ دونوں رسول کریم ہیں ایک (حضور صلی اللہ علیہ وسلم) کا کریم ہونا تو تم آنکھوں سے دیکھتے ہو اور دوسرے (حضرت جبرائیل علیہ السلام) کا کریم ہونا حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے سنتے ہو۔ بہرصورت یہ قرآن کلام اﷲ ہے۔ شاعر کا کلام نہیں۔ شاعر کا کلام بے اصل ہوتا ہے۔ اس کے مضامین وہمی اور خیالی ہوتے ہیں۔ جب کہ قرآن پاک حقائق کا خزانہ ہے۔ اس کے اصول قطعی دلائل پر مبنی ہیں۔ یہ معجز کلام ہے۔ اس کے مشابہ کلام تمام جن وانس آج تک اور آج سے قیامت تک نہ بناسکے ہیں اور نہ بناسکیں گے۔ شاعروں کا کلام بے فائدہ وبے کار ہوتا ہے۔ جب کہ اس کا ایک شوشہ بھی بے کار وبے فائدہ نہیں۔ انسان کے کلام جیسا کلام بنایا جاسکتا ہے۔ یہ اﷲ کا کلام ہے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا اپنا کلام ہوتا تو چودہ صدیوں میں کوئی تو اس جیسا بنا لیتا۔

245

اگر بالفرض حضور صلی اللہ علیہ وسلم یا حضرت جبرائیل امین (علیہ السلام) اس کلام کو بنانے والے ہوتے تو ﷲتعالیٰ ان کا دایاں ہاتھ پکڑ لیتے۔ یا گردن ہی ماردیتے۔ جب دونوں کے ساتھ ایسا نہیں ہوا تو پھر ماننا پڑے گا کہ یہ کلام اﷲ ہے۔ خدا سے ڈرنے والے اس کلام سے نصیحت حاصل کرتے ہیں اور جن کے دلوں میں خوف خدا نہیں وہ اسے جھٹلائیں گے۔ لیکن ایک وقت (قیامت کا) آنے والا ہے کہ اس کا جھٹلانا (کافروں کے لئے) سخت حسرت کا باعث ہوگا۔ یہ کتاب تو ایسی چیز ہے جس پر پختہ سے پختہ یقین رکھا جائے۔ اس پر ایمان ویقین رکھ کر اپنے رب کی تسبیح وتحمید میں لگنا چاہئے۔

اندازہ لگائیں! ان آیات میں سے وہ کون سی آیت ہے؟ جس کا ترجمہ یہ ہو کہ ’’ہم جھوٹے کی شہ رگ کاٹ دیتے ہیں۔‘‘ اگر یہ صحیح ہے تو پھر سن اسلم! مرزاقادیانی نے نبوت کا دعویٰ کر کے جھوٹ بولا۔ خداتعالیٰ نے اسی وقت اس کی شہ رگ کاٹ دی۔ ہوایوں کہ مرزاقادیانی اپنی پوری زندگی میں نامعلوم کتنے جھوٹے دعوے کرتا رہا۔ مثلاً میں مجدد ہوں، میں محدث ہوں، میں ملہم من اﷲ ہوں، میں مہدی ہوں، میں مثیل مسیح ہوں، میں مسیح ہوں وغیرہ وغیرہ۔

لیکن گرگٹ کی طرح کبھی کسی رنگ میں اور کبھی کسی رنگ میں۔ اسی طرح دعویٔ نبوت ورسالت میں بھی لوگوں کو دھوکا دیتا رہا۔ بالآخر جس دن واضح طور پر اس نے کسی کے سوال کے جواب میں اعلان کیا کہ: ’’ہمارا دعویٰ ہے کہ ہم نبی اور رسول ہیں۔‘‘ اور یہ دعویٰ مرزاغلام احمد کے ملفوظات میں موجود ہے۔

(ملفوظات ج۱۰ ص۱۲۷)

جس دن یہ دعویٰ چھپ کر آیا اسی دن مرزاقادیانی کی شہ رگ ﷲتعالیٰ نے کاٹ دی اور وبائی ہیضہ میں مرگیا۔ اس کی بھی ایک داستان ہے۔ اس کا خلاصہ سناتا ہوں۔ تفصیل کا وقت نہیں۔ وہ اس طرح کہ ’’مرزاغلام احمد قادیانی‘‘ نے ’’مولانا ثناء اﷲ امرتسری‘‘ سے مورخہ ۱۵؍اپریل ۱۹۰۷ء میں ایک اشتہار شائع کر کے مباہلہ کیا۔ا س مباہلہ میں مرزاقادیانی نے بددعا کی کہ یا اﷲ مولوی ثناء اﷲ مجھے دجال، کذاب، مفتری، مردود، مفسد وغیرہ کہتا ہے۔ یا اﷲ! ہمارے درمیان سچا فیصلہ فرمادے۔ اگر میں واقعی تیری طرف سے ہوں تو مولوی ثناء اﷲ امرتسریؒ میرے سامنے مر جائے۔ انسانی ہاتھوں سے نہیں بلکہ محض خدا کے ہاتھوں سے جیسے طاعون، ہیضہ وغیرہ مہلک بیماریوں سے اور اگر میں جھوٹا ہوں، مفسد وکذاب ہوں اور

246

مفتری ہوں تو مجھے مولوی ثناء اﷲ صاحب کی زندگی میں ہلاک کر دے اور میری موت سے ان کو اور ان کی جماعت کو خوش کر دے۔

(تفصیل کے لئے دیکھئے: مجموعہ اشتہارات ج۳ ص۵۷۸،۵۷۹)

اب نتیجہ کیا نکلا؟ اس مباہلہ کے ایک سال بعد مورخہ ۲۶؍مئی ۱۹۰۸ء کو مرزاقادیانی وبائی مرض ’’ہیضہ‘‘ میں مرگیا اور باقرار خود اپنا مفسد، کذاب اور مفتری ہونا دنیا پر ثابت کر گیا۔

بھائی اسلم! یہ باتیں ہماری طرف سے گھڑی ہوئی نہیں خود مرزائیوں کی کتابوں میں موجود باتیں ہیں۔ مرزاغلام احمد قادیانی کے سسر ’’میرناصر نواب‘‘ کی سوانح حیات جس کا نام ’’حیات ناصر‘‘ ہے۔ اس کے صفحہ۱۴ پر لکھا ہوا ہے کہ ’’حضرت صاحب جس رات کو بیمار ہوئے اس رات کو میں اپنے مقام پر جاکر سوچکا تھا۔ جب آپ کو بہت تکلیف ہوئی تو مجھے جگایا گیا۔ جب میں حضرت کے پاس پہنچا اور آپ کا حال دیکھا تو آپ نے مجھے مخاطب کر کے فرمایا۔ میر صاحب مجھے وبائی ہیضہ ہو گیا ہے۔ اس کے بعد آپ نے کوئی ایسی صاف بات میرے خیال میں نہیں فرمائی۔ یہاں تک کہ دوسرے روز دس بجے کے بعد آپ کا انتقال ہوگیا۔‘‘

(حیات ناصر ص۱۴)

اس سے بھی زیادہ تفصیل کے ساتھ مرزا غلام احمد قادیانی کا بیٹا ’’مرزابشیر احمد ایم۔اے سیرت المہدی‘‘ میں اپنی ماں کے حوالے سے لکھتا ہے کہ حضرت مسیح (مرزامردود۔ ناقل!) اسہال کی بیماری سے سخت بیمار ہوئے۔ پہلا دست کھانا کھانے کے دوران آیا۔ تھوڑی دیر کے بعد پھر حاجت محسوس ہوئی۔ دو تین دفعہ رفع حاجت کے لئے گئے اور بہت زیادہ ضعیف ہوگیا۔ تھوڑی دیر کے بعد پھر اور دست آیا۔ اب اور زیادہ ضعف ہوگیا۔ حتیٰ کہ جانے اور آنے کی ہمت نہ رہی تو میں نے چارپائی کے ساتھ ہی انتظام کر دیا تو پھر وہیں بیٹھ کر فارغ ہوئے۔ تھوڑی دیر بعد ایک اور دست آیا اور ساتھ قے بھی آئی۔ اب فراغت کے بعد لیٹنے لگے تو پشت کے بل چارپائی پر گرے۔ سر چارپائی کی لکڑی کے ساتھ جا (ٹھا کر کے) ٹکرایا۔ حالت دگرگوں ہوگئی۔ اس پر میں نے کہا یہ کیا ہونے لگا ہے تو مرزاقادیانی نے کہا: ’’یہ وہی ہے جو میں کہا کرتا تھا۔‘‘ (یعنی وبائی ہیضہ)

(دیکھئے! سیرت المہدی ج۱ ص۹تا۱۱)

آپ اندازہ لگائیں کیسے شہ رگ کٹی اور خدا نے پکڑا اور پکڑا بھی اس حالت میں

247

کہ منہ سے بھی پاخانہ اور نیچے سے بھی اور بیت الخلاء میں لت پت۔ اسی حالت میں مرزاغلام احمد قادیانی آنجہانی جہنم مکانی ہوگیا۔

پھر لاہور سے قادیان اس ریل پر لایا گیا جسے خردجال کہا کرتا تھا۔ یعنی دجال کی سواری۔ انگریز کو دجال اور اس کی بنائی ہوئی گاڑی کو دجال کی سواری تو اس دجال کی سواری پر سوار کر کے اسے قادیان پہنچایا گیا۔ سچ ہے:

’’حق بحقدار رسید‘‘

اسلم قادیانی:

ہم نے سنا ہے کہ قادیانیوں کو حکومت نے کافر قرار نہیں دیا اور نہ ہی یہ اسمبلی نے کوئی فیصلہ دیا ہے۔ یہ مولویوں کی گھڑی ہوئی بات ہے، کیا واقعی ایسے ہے؟

مولانا اﷲ وسایا:

نہیں! یہ بالکل غلط اور مرزائیوں کی گھڑی ہوئی کہانی ہے۔ ۱۹۷۴ء میں قومی اسمبلی پاکستان نے باقاعدہ علی الاعلان مرزائیوں وقادیانیوں کے کافر ومرتد ہونے کا فیصلہ دیا اور سنایا، اور اس وقت کی اخبارات میں بڑی بڑی سرخیوں کے ساتھ شائع بھی ہوا۔

الحمدﷲ! عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کی طرف سے دس مرتبہ سے زیادہ اس کے ایڈیشن شائع ہو چکے ہیں اور قومی اسمبلی کے حوالے سے ہی شائع ہوئے ہیں اور اب بھی ہورہے ہیں۔ جب کبھی بھی یہ کاروائی چھپ کر آتی ہے ہاتھوں ہاتھ ختم ہو جاتی ہے۔ اگر یہ مولویوں کی طرف سے گھڑی ہوئی ہوتی تو حکومت پابندی لگاتی اور چھاپنے والوں کو گرفتار کرتی۔ یہ قادیانیوں کی خباثت ہے کہ وہ جس ملک میں رہتے ہیں اس کا فیصلہ نہیں مانتے۔

اسلم قادیانی:

دیکھو جی! ہمیںجو کچھ بتلایا گیا ہے اس سے زیادہ ہمیں علم نہیں۔

(گفتگو کا دورانیہ یہاں تک پہنچا ہی تھا کہ اتنے میں رفقاء کتابیں لے آئے اور حضرت نے اسلم قادیانی کو مطلوبہ حوالے دکھائے)

مولانا اﷲ وسایا:

لاؤ بھائی کتاب، بھائی اسلم! یہ ہے وہ کتاب جس کا میں نے آپ کو حوالہ سنایا تھا۔ دیکھ! اس کے ٹائٹل پر لکھا ہوا ہے۔ (جلد نمبر۱۴، نمبر۳،۴) اوپر لکھا ہوا ہے: ’’ری ویو آف ریلیجنز یعنی دنیا کے مذاہب پر نظر۔‘‘

’’بابت ماہ جمادی الاوّل وجمادی الثانی ۱۳۳۳ھ‘‘ یہ لکھا ہوا ہے۔ (کلمتہ الفصل ص۹۱تا۱۸۴) اس کتاب کے میں نے دو حوالے دئیے تھے۔ وہ دونوں آپ کو دکھاتا ہوں۔

۱… پہلا حوالہ ص۱۰۵ کا تھا۔ یہ ہے ص۱۰۵ اور عبارت یہ ہے اب غور سے سن!

248

’’اور’ھو الذی ارسل رسولہ بالہدیٰ ودین الحق لیظہرہ علی الدین کلہ‘‘ کے فرمان کے مطابق تمام ادیان باطلہ پر اتمام حجت کر کے اسلام کو دنیا کے کونوں تک پہنچاوے تو اس صورت میں کیا اس بات میں کوئی شک رہ جاتا ہے کہ قادیان میں ﷲتعالیٰ نے پھر محمد(صلی اللہ علیہ وسلم) کو اتارا۔‘‘

(اسلم قادیانی نے کہا: استغفراﷲ!) ’’تا اپنے وعدہ کو پورا کرے جو اس نے ’’اٰخرین منہم لما یلحقوا بہم‘‘ میں فرمایا تھا۔‘‘

(یہاں پھر اسلم قادیانی نے کہا: استغفراﷲ!) یہ ہے وہ آیت جو تو مجھ سے پوچھتا تھا۔ آگے چلئے!

مرزاغلام احمد کہتا ہے: ’’یہ میں اپنی طرف سے نہیں کہتا بلکہ مسیح موعود (مرزامردود۔ ناقل) نے خود (خطبہ الہامیہ ص۱۸۰) میں آیت ’’اٰخرین منہم‘‘ کا ذکر کرتے ہوئے تحریر فرمایا ہے کہ کس طرح ’’منہم‘‘ کے لفظ کا مفہوم متحقق ہو۔ اگر رسول کریم ’’اٰخرین‘‘ میں موجود نہ ہوں۔ جیسا پہلوں میں موجود تھے۔ پس وہ جس نے مسیح موعود اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو دو وجودوں کے رنگ میں لیا۔ اس نے مسیح موعود کی مخالفت کی۔‘‘

دیکھو! مذکورہ عبارت میں مرزابشیر احمد کہہ رہا ہے کہ محمد عربی صلی اللہ علیہ وسلم اور مرزاغلام احمد قادیانی دو وجود نہیں بلکہ ایک وجود ہے۔ جو دو وجود تصور کرتا ہے۔ وہ مسیح موعود (مرزامردود۔ ناقل) کی مخالفت کرتا ہے۔

حاضرین مجلس واسلم قادیانی:

استغفراﷲ! نعوذ باﷲ!

مولانا اﷲ وسایا:

مخالفت کی وجہ بیان کرتے ہوئے ’’مرزابشیر احمد‘‘ آگے لکھتا ہے: ’’کیونکہ مسیح موعود کہتا ہے۔ ’’صار وجودی وجودہ‘‘ اور وہ جس نے مسیح موعود (مرزامردود ۔ ناقل) اور نبی کریم میں تفریق کی۔ اس نے بھی مسیح موعود کی تعلیم کے خلاف قدم مارا۔ کیونکہ مسیح موعود صاف فرماتا ہے کہ ’’من فرق بینی وبین المصطفے فما عرفنی ومارأی‘‘ (خطبہ الہامیہ ص۱۷۱، خزائن ج۱۶ ص۲۵۹) اور وہ جس نے مسیح موعود کی بعثت کو نبی کریم کی بعثت ثانی نہ جانا۔ اس نے قرآن کو پس پشت ڈال دیا۔ کیونکہ قرآن پکار پکار کر کہہ رہا ہے کہ محمد رسول اﷲ ایک دفعہ پھر دنیا میں آئے گا۔ پس ان سب باتوں کے سمجھ لینے کے بعد اس بات میں کوئی شک باقی نہیں رہتا کہ وہ جس نے مسیح موعود کا انکار کیا۔ اس

249

نے مسیح موعود کا انکار نہیں کیا۔ بلکہ اس نے اس کا انکار کیا جس کی بعثت ثانی کے وعدہ کو پورا کرنے کے لئے مسیح موعود (مرزا مردود۔ ناقل) مبعوث کیاگیا اور اس نے اس کا انکار کیا جس نے ’’اٰخرین‘‘ میں آنا تھا۔‘‘

(کلمتہ الفصل ص۱۰۵)

اس ساری عبارت کا خلاصہ یہ ہے کہ ’’مرزابشیر احمد‘‘ کہتا ہے: ’’مرزاغلام احمد کا آنا خود محمد عربی صلی اللہ علیہ وسلم کا دوبارہ آنا ہے۔ گویا کہ محمد عربی صلی اللہ علیہ وسلم اور مرزاقادیانی میں کوئی فرق نہیں۔‘‘

حاضرین مجلس واسلم قادیانی:

استغفراﷲ! استغفراﷲ!

مولانا اﷲ وسایا:

آگے چلئے! دوسرا حوالہ جو میں نے آپ کو اس کتاب کا دیا وہ یہ ہے۔

۲… ’’معترض کا یہ خیال ہے کہ کلمہ میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا اسم مبارک اس غرض سے رکھاگیا ہے کہ وہ آخری نبی ہیں۔ تبھی تو یہ اعتراض کرتا ہے کہ اگر محمد رسول ﷲ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد کوئی اور نبی ہے تو اس کا کلمہ بناؤ، نادان اتنا نہیں سوچتا کہ محمد رسول ﷲ صلی اللہ علیہ وسلم کا نام کلمہ میں تو اس لئے رکھا گیا ہے کہ آپ نبیوں کے سرتاج اور خاتم النّبیین ہیں اور آپ کا نام لینے سے باقی سب نبی خود اندر آجاتے ہیں۔ ہر ایک کا علیحدہ نام لینے کی ضرورت نہیں ہے۔ ہاں حضرت مسیح موعود (مرزامردود۔ ناقل) کے آنے سے ایک فرق ضرور پیدا ہوگیا ہے اور وہ یہ کہ مسیح موعود کی بعثت سے پہلے تو محمد رسول ﷲ صلی اللہ علیہ وسلم کے مفہوم میں صرف آپ سے پہلے گذرے ہوئے انبیاء شامل تھے۔ مگر مسیح موعود کی بعثت کے بعد محمد رسول ﷲ صلی اللہ علیہ وسلم کے مفہوم میں ایک اور رسول کی زیادتی ہوگئی۔ لہٰذا مسیح موعود کے آنے سے نعوذ باﷲ! ’’لا الہ الا اﷲ محمد رسول اﷲ‘‘ کا کلمہ باطل نہیں ہوتا۔ بلکہ اور بھی زیادہ شان سے چمکنے لگ جاتا ہے۔‘‘

(کلمتہ الفصل ص۱۵۸)

یہ دیکھ بھائی اسلم! مرزابشیر کہہ رہا ہے اور قادیانیوں کا یہ عقیدہ ہے کہ مرزاغلام احمد (العیاذ باﷲ) محمد رسول اﷲ(صلی اللہ علیہ وسلم) کے مفہوم میں شامل ہے اور مسیح موعود (مرزامردود۔ ناقل) کی بعثت کے بعد محمد رسول اﷲ کے مفہوم میں ایک اور رسول کی زیادتی ہوگئی۔ لہٰذا محمد رسول ﷲ صلی اللہ علیہ وسلم کا کلمہ بھی باطل نہ ہوا۔ کیا مطلب؟ کہ جب ہم (قادیانی) کلمہ پڑھتے ہیں تو اس میں مرزاغلام احمد قادیانی بھی آجاتا ہے؟

حاضرین مجلس واسلم قادیانی:

استغفراﷲ! استغفراﷲ!

250

مولانا اﷲ وسایا:

اب تو بتا یہ کلمہ مبارک وہاں لکھا ہوا میں رہنے دوں؟

اسلم قادیانی:

نہیں۔

مولانا اﷲ وسایا:

ہمارے نزدیک تو جس طرح ﷲتعالیٰ کی ذات اپنی توحید میں ’’وحدہ لا شریک‘‘ ہے۔ اسی طرح حضور خاتم النّبیین صلی اللہ علیہ وسلم اپنی ختم نبوت میں ’’وحدہ لا شریک‘‘ ہیں۔

آگے لکھتا ہے: ’’غرض اب بھی اسلام میں داخل ہونے کے لئے یہی کلمہ ہے صرف فرق اتنا ہے کہ مسیح موعود کی آمد نے محمد رسول اﷲ کے مفہوم میں ایک رسول کی زیادتی کر دی ہے اور بس۔ علاوہ اس کے اگر ہم بفرض محال یہ بات مان بھی لیں کہ کلمہ شریف میں نبی کریم کا اسم مبارک اس لئے رکھا گیا ہے کہ آپ آخری نبی ہیں تو تب بھی کوئی حرج واقع نہیں ہوتا اور ہم کو نئے کلمہ کی ضرورت پیش نہیں آتی۔ کیونکہ مسیح موعود (مرزا مردود۔ ناقل) نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے کوئی الگ چیز نہیں ہے۔ جیسا کہ وہ خود فرماتا ہے: ’’صاروجودی وجودہ‘‘ نیز ’’من فرق بینی وبین المصطفے فما عرفنی ومارأی‘‘ اور یہ اس لئے ہے کہ ﷲتعالیٰ کا وعدہ تھا کہ وہ ایک دفعہ اور خاتم النّبیین کو دنیا میں مبعوث کرے گا۔ جیسا کہ آیت ’’آخرین منہم‘‘ سے ظاہر ہے۔ پس مسیح موعود خود محمد رسول اﷲ ہے جو اشاعت اسلام کے لئے دوبارہ دنیا میں تشریف لائے۔ اس لئے ہم کو کسی نئے کلمہ کی ضرورت نہیں۔ ہاں اگر محمد رسول اﷲ کی جگہ کوئی اور ہوتا تو ضرورت پیش آتی۔‘‘

(کلمتہ الفصل ص۱۵۸)

بھائی اسلم:

یہ دیکھ! ’’پس مسیح موعود خود محمد رسول اﷲ ہے جو اشاعت اسلام کے لئے دوبارہ دنیا میں تشریف لائے۔‘‘ اس میں قادیانیت کا کفر ننگا ناچ رہا ہے کہ مرزاغلام احمد قادیانی خود محمد رسول اﷲ ہے۔ اس سے بڑھ کر اور کیا کفر ہوا؟

حاضرین مجلس واسلم قادیانی:

استغفراﷲ! استغفراﷲ!

اسلم قادیانی:

یہ کتاب انہوں نے لکھ کر چھپوائی ہے؟ یا آپ نے لکھی ہے؟

حاضرین:

استغفراﷲ! استغفراﷲ!

مولانا اﷲ وسایا:

بھائی اسلم! قادیانیت میرے نزدیک کفر ہے کہ نہیں؟

اسلم قادیانی:

جی ہے۔

مولانا اﷲ وسایا:

اگر میں اپنی طرف سے کفر بنا کر چھاپوں اور اسے پھیلاؤں پھر تو میں

251

کفر کی تبلیغ کر رہا ہوں۔ اسلام کی تبلیغ نہیں کر رہا۔ ختم نبوت کی تبلیغ نہیں کر رہا۔ یہ تو ان سے پوچھ! کہ یہ کتاب تمہاری ہے یا نہیں؟ پھر ان سے لکھوا کے لے آ! وہ لکھ دیں اور مہر لگادیں کہ یہ کتاب ہماری نہیں تو پھر میں مجرم۔ وہ کیسے انکار کر سکتے ہیں؟ مرزاغلام احمد قادیانی کی ہڈیاں بھی قبر سے چیخ کر بولیں گی کہ یہ کتاب ہماری ہے۔ کریں تو سہی انکار۔ میں دیکھتا ہوں کیسے انکار کرتے ہیں؟ ان کا دادا بھی انکار نہیں کر سکتا۔ میں غصے اس لئے ہوا ہوں کہ تو نے کہہ دیا ہے کہ یہ کتاب تم نے چھپوائی ہے؟ خنزیروں کی کتاب میں نے چھاپنی ہے؟ میں نے چھپوا کر کیا کرنی ہے شریفا!

مولانا اﷲ وسایا:

یہ ایک اور کتاب ہے مرزاغلام احمد قادیانی کی اس کا نام ہے ’’ایک غلطی کا ازالہ‘‘ اس پر لکھا ہوا ہے ’’الشرکۃ الاسلامیہ لمیٹڈ ربوہ‘‘ بعد از ہجرت باردوم تو اب بھی کہہ دے کہ یہ کتاب بھی تو نے چھاپی ہے۔ یہ چھوٹی سی کتاب ہے۔ یہ دیکھو ’’مرزاغلام احمد قادیانی‘‘ نے لکھا ہے: ’’ھو الذی ارسل رسولہ بالہدیٰ ودین الحق لیظہرہ علی الدین کلہ‘‘ اس میں صاف طور پر اس عاجز کو رسول کر کے پکارا گیا ہے۔ پھر اس کے بعد اسی کتاب میں میری نسبت یہ وحی اﷲ ہے۔ ’’جری اﷲ فی حلل الانبیاء‘‘ یعنی خدا کا رسول نبیوں کے حلوں میں پھر اسی کتاب میں اس مکالمہ کے قریب ہی یہ وحی اﷲ ہے۔ ’’محمد رسول اﷲ والذین معہ اشداء علی الکفار رحماء بینہم‘‘ اس وحی الٰہی میں میرا نام محمد رکھا گیا ہے اور رسول بھی۔‘‘

(ایک غلطی کا ازالہ ص۴)

یہ چھوٹی سی کتاب ۱۶صفحات کی جواب (روحانی خزائن ج۱۸) میں (ص۲۰۵تا۲۱۶) پر موجود ہے۔ جس میں مرزاغلام احمد قادیانی نے صرف اسی بات کو لکھا ہے کہ محمد رسول اﷲ(صلی اللہ علیہ وسلم) اور مجھ میں کوئی فرق نہیں۔ یہ ’’کلمتہ الفصل‘‘ کا ایک اور حوالہ ہے۔ دیکھو!

مرزابشیر احمد ایم اے لکھتا ہے: ’’ہر ایک ایسا شخص جو موسیٰ کو تو مانتا ہے مگر عیسیٰ کو نہیں مانتا یا عیسیٰ کو مانتا ہے مگر محمد کو نہیں مانتا اور یا محمد کو مانتا ہے پر مسیح موعود کو نہیں مانتا وہ نہ صرف کافر بلکہ پکا کافر اور دائرۂ اسلام سے خارج ہے۔‘‘

(کلمتہ الفصل ص۱۱۰)

اس عبارت میں قادیانیوں کے علاوہ پوری دنیا کے انسانوں کو کافر کہاگیا ہے۔ چاہے وہ یہودی ہیں، یا عیسائی، یا مسلمان، یا سکھ، یا ہندو۔ ان کے نزدیک سب کافر ہیں۔ دوسرے نہ بھی ہوں (ان کے نزدیک) ساری دنیا کے مسلمانوں کو تو بہرحال کافر ٹھہرایا جو

252

مرزاغلام احمد قادیانی کو نبی نہیں مانتے۔ اب کچھ بات سمجھ آئی ہے یا نہیں؟

اسلم قادیانی:

ٹھیک ہے جی! بات سمجھ میں آگئی ہے۔ مسئلہ تو بالکل صحیح ہے۔

متولی مسجد:

بس حضرت جی! گفتگو اس بات پر ختم کر دیں! بہت ساری باتیں ہو گئی ہیں۔ ﷲتعالیٰ ہی ان باتوں کی اہمیت اور قدرومنزلت ہمارے دلوں میں پیدا فرمادیں، اور ﷲتعالیٰ ہی ان تمام باتوں پر بے انتہاء اجر عطاء فرمادیں۔ باتیں آپ نے بڑی وضاحت کے ساتھ سمجھا دی ہیں۔ کوئی ایسی مشکل بات نہیں تھی جو کسی کی سمجھ میں نہ آئی ہو۔ بس اسی بات پر گفتگو ختم کر دیں۔ زیادہ گفتگو اچھی نہیں ہوتی۔ بات اتنی کرنی چاہئے جو سمجھ میں آجائے۔ آپ نے بہت قیمتی باتیں بتائی ہیں جو آج تک ہمارے سننے میں بھی نہیں آئیں۔ ﷲتعالیٰ آپ کا تشریف لے آنا۔ ہمیں سمجھانا قبول ومنظور فرمائے۔ آمین!

مولانا اﷲ وسایا:

اسلم! اب تو میری گود میں تو کچھ ڈال دے! (یعنی تیرے قبول اسلام کی خیرات مانگ رہا ہوں۔ تھوڑا سا حصہ میری گود میں ڈال دے اور اسلام قبول کر لے) اتنا سفر کر کے تیری خاطر میں آیا ہوں۔ تیرے اخلاق کے لئے یہ بات زیب نہیں دیتی کہ میں خالی جاؤں اور اتنے رفقاء کا ہجوم اور مسلمانوں کا یہ جم غفیر صرف اور صرف تیرے لئے یہاں جمع ہوا ہے۔ یہ کیا کہیں گے؟ اور اس ساری لمبی چوڑی گفتگو کا کیا نتیجہ نکالیں گے؟

اسلم قادیانی:

بس جی دعا کریں۔ ﷲتعالیٰ مسبّب الاسباب ہیں۔ جیسے اﷲ کو منظور۔

مولانا اﷲ وسایا:

بھائی اسلم! زندگی کا کوئی پتہ نہیں۔ زندگی کا کوئی پتہ نہیں۔ بس بہادروں کی طرح ایک مرتبہ رسہ توڑ دے۔ قادیانیت پر لعنت بھیج اور اسلام قبول کر لے۔

اسلم قادیانی:

دیکھو جی! جیسے اﷲ کو منظور۔

مولانا اﷲ وسایا:

دیکھو بھائی! عشاء کا وقت ہوگیا ہے؟

حاضرین:

جی! کب کی اذانیں بھی ہو گئی ہیں۔

مولانا اﷲ وسایا:

چلئے بھائی!

غلام رسول:

جی حضرت!

مولانا اﷲ وسایا:

اذان کہو بھائی! نماز پڑھیں۔ (اذان ہوئی، نماز باجماعت ادا کی گئی)اختتام نماز پر ہی مجلس کا اختتام ہوا۔فالحمد ﷲ علیٰ ذالک اولاً وآخراً!

253

سعی مشکور

اﷲ تعالیٰ کا لاکھوں لاکھ شکر واحسان اور ان کا انعام وخاص فضل کہ اس نے میرے استاذ مکرم حضرت اقدس مولانا اﷲ وسایا صاحب دامت برکاتہم کے سوز دروں کو مثمر اور بارآور فرمایا اور حضرت کے ضعف ونقاہت کو شرف قبول بخشا اور سچ فرمایا ’’اولٰئک کان سعیہم مشکورا‘‘ {ان کی سعی مقبول ہوئی۔}

اگرچہ آیت مبارکہ کا وعدہ آخرت سے تعلق رکھتا ہے مگر کبھی کبھی اﷲ تعالیٰ ترغیباً وتشویقاً یہاں بھی کچھ نمونے رونما فرمادیتے ہیں۔ تاہم حضرت کی دعائوں کا تسلسل اور میرے رب کا خاص فضل ہوا کہ ’’محمداسلم ولدسردار احمد قوم گجر ساکن ورکشاپ سٹاپ جڑانوالہ روڈ، فیصل آباد‘‘ نے اسلام قبول کرلیا۔

داستان قبول اسلام

ہوا یوں کہ سوالیہ نشست کے بعد واپسی پر حضرت نے مولانا عبدالرشید مبلغ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت سے فرمایا: بھائی! محمداسلم سے رابطہ ضرور رکھنا۔ مبادا! اسلام قبول کرلے۔ چنانچہ مجلس گفتگو کے بعد اس سے مسلسل رابطہ رکھا گیا۔ بالآخر وہ مبارک دن آگیا کہ اس نے از خود ’’قاری محمد احمد رحیمی صاحب امام مسجد شوکت علی فضلی واقع برلب روڈ جڑانوالہ ورکشاپ سٹاپ‘‘ سے کہا کہ ختم نبوت کے مبلغ کے پاس مجھے لے چلو۔ میں اسلام قبول کرتا ہوں۔ قاری صاحب موصوف نے ’’مولانا عبدالرشید صاحب‘‘ سے فون پر رابطہ کیا کہ ہم آپ کے ہاں آرہے ہیں۔ اور ساری صورت حال بھی بتائی۔ مولانا عبدالرشید نے کہا کہ یہاں آنے کی بجائے ’’جامعہ عبیدیہ‘‘ حضرت مولانا سید جاوید حسین شاہ صاحب دامت برکاتہم کے ہاں چلو۔ جو ہماری مجلس فیصل آباد کے امیر بھی ہیں۔ میں بھی وہاں پہنچتا ہوں۔

چنانچہ وہ حضرات بھی اور مولانا عبدالرشید بھی نماز ظہر کے قریب ’’جامعہ عبیدیہ‘‘ میں پہنچے۔ نماز ظہر باجماعت ادا کی۔ بعد از نماز ظہر حضرت شاہ صاحب نے مولانا عبدالرشید سے فرمایا کہ عقیدۂ ختم نبوت کی اہمیت وفضیلت پر کچھ بیان کردو۔ مولانا موصوف نے پندرہ منٹ بیان کیا جس میں ’’ختم نبوت کی اہمیت، حیات مسیح عیسیٰ ابن مریم علیہماالسلام، ظہور امام مہدی علیہ الرضوان‘‘ پر بہت ہی جامع گفتگو کی۔ اب مرحلہ آیا محمداسلم ولد سردار احمد کے

254

مسلمان کرنے اور کلمہ پڑھانے کا تو حضرت شاہ صاحب مدظلہ نے مولانا عبدالرشید سے فرمایا کہ آپ کلمہ پڑھائیں۔ اس لئے کہ محنت آپ حضرات کی ہے۔ لہٰذا آپ ہی کا حق ہے کہ آپ انہیں کلمہ پڑھاکر حلقۂ اسلام میں داخل کرائیں۔ مولانا نے عرض کیا کہ نہیں حضرت آپ ہمارے بڑے ہیں۔ برزگ ہیں اور سرپرست ہیں۔ خیر وبرکت اسی میں ہے کہ آپ ہی کلمہ پڑھائیں۔

چنانچہ اس لے دے کے بعد حضرت شاہ صاحب دامت برکاتہم نے محمداسلم کو اپنے آگے بٹھایا۔ سب سے پہلے اسے ایمان مفصل باترجمہ: ’’آمنت باﷲ وملائکتہ وکتبہ ورسلہ والیوم الآخر والقدر خیرہ وشرہ من اﷲ تعالیٰ والبعث بعد الموت‘‘ {میں ایمان لایا اﷲ پر اور اس کے فرشتوں پر اور اس کی کتابوں پر اور اس کے رسولوں پر اور آخرت کے دن پر اور اس کی اچھی اور بری تقدیر پر جو اﷲ تعالیٰ کی طرف سے ہونے والی ہے اور مرنے کے بعد جی اٹھنے پر۔} اور ایمان مجمل باترجمہ:’’آمنت باﷲ کما ہو باسمائہ وصفاتہ وقبلت جمیع احکامہ اقرار باللسان وتصدیق بالقلب‘‘ {میں ایمان لایا اﷲ پر جیسا کہ وہ اپنے ناموں اور صفتوں کے ساتھ ہے اور میں نے اس کے تمام احکام کو قبول کیا۔ زبان سے اقرار کرکے اور دل سے تصدیق کرکے} پڑھایا۔پھر کلمہ طیبہ: ’’لاالہ الا اﷲ محمدرسول اﷲ‘‘ {اﷲ کے سوا کوئی معبود نہیں اور حضرت محمدمصطفی صلی اللہ علیہ وسلم اﷲ تعالیٰ کے رسول ہیں۔} پڑھاکر اس کا اقرار کرایا کہ: ’’میں مرزا غلام احمد قادیانی دجال وکذاب، لعین ومرتد پر لعنت بھیج کر حضور خاتم النّبیین صلی اللہ علیہ وسلم کی ختم نبوت پر غیر مشروط طور پر ایمان لاتا ہوں۔ جو اﷲ تعالیٰ کے آخری رسول اور پیغمبر ہیں۔‘‘

چنانچہ محمداسلم صاحب نے ان کلمات کو دھراکر کہا: ’’میں مرزا غلام احمد قادیانی کو دجال وکذاب اور لعین ومرتد سمجھتا ہوں اور اس سے تائب ہوکر حضور خاتم النّبیین مکی ومدنی صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات اقدس پر ایمان لاتا ہوں اور انشاء اﷲ! بقیہ زندگی بھی اسی عقیدہ پر قائم رہوں گا اور جو عقیدہ حضرات صحابہ کرام رضوان اللہ تعالی علیہم اجمعین اور علمائے امت وبرزگان دین کا ہے۔ اس کے مطابق زندگی گزاروں گا اور اہل سنت والجماعت کے عقیدہ پر قائم رہوں گا۔بس اب کیا ہوا کہ ہر طرف سے مبارک ہو، مبارک ہو، کی صدائیں بلند ہونے لگیں اور بھائی محمداسلم بن سردار احمد کو مارے خوشی کے ہر ایک گلے لگانے لگا، مسرتوں کی انتہاء نہ رہی اور ہماری مجلس

255

کے سرگرم عمل ساتھی جناب شیخ محمدسلیمان صاحب نے خوشی میں مٹھائی تقسیم کی اور حضرت شاہ صاحب دامت برکاتہم نے دعا فرمائی۔

اﷲ تعالیٰ حضرۃ الاستاذ، شاہین ختم نبوت، مناظر اسلام، حضرت مولانا اﷲ وسایا صاحب دامت برکاتہم کی سعی بلیغ، خدمات ختم نبوت اور جمیع رفقاء کی کاوش کو اپنی بارگاہ میں شرف قبول بخشیں، اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی شفاعت کبریٰ نصیب فرمائیں۔ آمین!

وصلی اﷲ تعالیٰ علی رسولہ محمد خاتم النّبیین

وعلیٰ آلہ واصحابہ واتباعہ اجمعین

ض … ض … ض

256

مولانا اﷲ وسایا کی ایک قیصرانی سردار سے گفتگو

تمہید

تحصیل تونسہ شریف کی قوم قیصرانی سے تعلق رکھنے والے ایک سردار صاحب جو اپنے علاقہ کے تمن دار اور رئیس ہیں۔ وہ قادیانی ہیں۔ ان سے مختلف علماء کرام کی گفتگوئیں بھی ہوئیں۔ مولانا عبدالعزیز لاشاری اور مولانا امان اﷲ (ساکن کوٹ قیصرانی، تونسہ شریف) نے ردقادیانیت پر مشتمل کتب بھی انہیں مطالعہ کے لئے ارسال کیں۔ مولانا امان اﷲ وغیرہم نے ان سے ملاقات کا سلسلہ بھی جاری رکھا۔ اس مسلسل ملاقات کا نتیجہ یہ نکلا کہ موصوف ۱۲؍ستمبر بروز سوموار ۲۰۱۱ء بوقت اڑھائی بجے دن، دو ساتھیوں کی معیت میں ’’دفترمرکزیہ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت ملتان‘‘ تشریف لائے۔ مرکزی دفتر کی لائبریری میں مجلس منعقد ہوئی۔ اس مجلس میں حضرت مولانا اﷲ وسایا کے ساتھ مولانا عبدالعزیز لاشاری، مولانا محمد اقبال (مبلغ ڈیرہ غازیخان)، مولانا عبدالخالق (مبلغ مظفرگڑھ) بھی شریک محفل ہوئے۔ سب سے پہلے حضرت مولانا اﷲ وسایا نے وضو فرمایا۔ اس دوران وہاں موجود حضرات نے سردار صاحب موصوف کو دفترمرکزیہ کا بایں صورت تعارف کرایا کہ یہ سید عطاء اﷲ شاہ صاحب بخاری رحمۃ اللہ علیہ کی قائم کردہ جماعت عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کی تین منزلہ عمارت ہے۔ سردار صاحب پہلے سرنگوں بیٹھے تھے۔ ایک دم سے سراٹھایا؟ اور تعجب سے دیکھا اور کہا۔ اچھا یہ عمارت سید عطاء اﷲ شاہ صاحب بخاری رحمۃ اللہ علیہ کی جماعت کی ہے؟ رفقاء نے جی ہاں سے جواب دیا۔ اتنے میں حضرت وضو فرما کر تشریف لائے اور استفسار احوال ہوا۔

آغاز گفتگو

مولانا اﷲ وسایا:

سردار صاحب! بڑی کرم نوازی اور ذرہ نوازی فرمائی۔ اﷲ آپ کو عزت دے کہ آج آپ یہاں تشریف لائے۔ ﷲتعالیٰ آپ کا تشریف لے آنا اور آج کا سفر اپنی رضا کے لئے قبول فرمائے۔ آمین!

257

سردار صاحب نے سلسلۂ گفتگو جاری رکھتے ہوئے اپنا قلبی حال تفصیل سے سنایا (جو سب کا سب تو یہاں قلمبند نہیں کیا جاسکتا) البتہ چیدہ چیدہ باتیں اور جستہ جستہ حال معرض تحریر میں لایا جاتا ہے۔

سردار صاحب:

میں خاندانی طور پر قادیانی تھا۔ بچپن میں جب کالج میں پڑھتا تھا تو میرے دل میں ایک خواہش تھی کہ جب میں چالیس برس کا ہوں گا تو قادیانیت کا تفصیلی مطالعہ کروں گا اور میرے ایک کالج کے دوست بھی تھے جو مجھے قادیانیت سے نفرت دلاتے تھے۔ کچھ عرصہ قبل مولانا امان اﷲ صاحب سے بھی ملاقات کرتا رہا۔ وہ بھی مجھے سمجھاتے رہے۔ آپ حضرات نے جو کتابیں بھجوائی تھیں پہلے والی تو نہ مل سکیں۔ اب والی مل گئی تھیں۔ الحمدﷲ! میں نے ان کا باربار مطالعہ کیا۔ باربار مطالعہ کرنے سے میں اس نتیجہ پر پہنچا ہوں کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم خاتم النّبیین ہیں۔ آخری نبی ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد کوئی نبی نہیں اور یہ سمجھتا ہوں کہ مرزاقادیانی کو کم ازکم نبی نہیں سمجھنا چاہئے۔ کم ازکم، حضرت صاحب! یوں تو میرے پاس بکثرت علماء کرام اور دوسرے لوگ آتے رہے اور اب بھی آتے ہیں۔ لیکن مجھے ان کے مقاصد جداجدا نظر آتے تھے۔ کوئی دنیاوی غرض سے آتا۔ کوئی سیاسی نقطۂ نظر لے کر آتا۔ غرضیکہ سیاسی وسماجی، دکھ وسکھ ہر لحاظ سے ان کی گفتگو میرے ساتھ بہت ہوتی رہی۔ لیکن دل کو تسلی سچی بات ہے نہیں ہوئی۔ انہوں نے مجھے کوئی میسج نہیں دیا۔ کوئی پیغام نہیں دیا۔ یہ ہے اصل مجلس جو آج اس جگہ پر آپ کے ساتھ ہورہی ہے۔ امید رکھتا ہوں کہ مجھے یہاں سے جو کچھ ملے گا صحیح ملے گا۔ اس لئے کہ یہاں میری اور آپ کی صرف اور صرف اﷲ کی رضا کے لئے ملاقات ہورہی ہے۔ بس آپ مجھے تسلی کرادیں۔

مولانا اﷲ وسایا:

بہت اچھا سردار صاحب! اﷲ آپ کو خوش رکھیں اور اﷲ آپ کو عزتوں سے نوازے۔ آپ نے تو میرے لئے بہت آسانی کر دی اور اکثر مسئلہ ہی حل کر دیا۔ اگر آپ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی ختم نبوت کے قائل ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو خاتم النّبیین تسلیم کرتے ہیں اور مرزاقادیانی کو دعویٰ نبوت میں جھوٹا سمجھتے ہیں تو میرا اور آپ کا نزاع اور جھگڑا ہی ختم۔ کیونکہ ختم نبوت کا معنی یہ ہے کہ نبوت آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر ختم ہوگئی۔ آگے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد نبوت کا

258

سلسلہ جاری نہیں۔ اگر کوئی نبوت کا دعویٰ کرے گا تو اسے جھوٹا، کذاب ودجال کہا جائے گا۔ اگر نبوت ختم تو جاری کیسے؟ اگر نبوت جاری ہے تو ختم نبوت کا کیا معنی؟ ہمارا قادیانیوں کے ساتھ یہی نزاع اور جھگڑا ہے کہ ہم کہتے ہیں کہ نبوت آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات اقدس پر ختم ہے اور قادیانی کہتے ہیں، نہیں۔ نبوت مرزاغلام احمد قادیانی پر ختم ہے۔ ہم کہتے ہیں اگر نبوت مرزاقادیانی پر ختم ہے تو آیت:’’ماکان محمد ابا احد من رجالکم ولکن رسول اﷲ وخاتم النّبیین (احزاب:۴۰)‘‘ اور دیگر ان آیات واحادیث کا کیا بنے گا؟ جن میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی ختم نبوت کو بصراحت بیان کیاگیا ہے؟۔

تاہم یہ بہت بڑا دھوکہ اور فریب ہے کہ نبوت کو ختم بھی مانا جائے اور جاری بھی۔ یہی دھوکہ مرزاقادیانی نے دیا اس کی کتابوں میں بیسیوں جگہ ایسی عبارات موجود ہیں۔ کسی جگہ ختم نبوت کا اقرار ہے تو دوسری جگہ نبوت کا اجراء۔ مثلاً یہ دیکھیں! مرزاقادیانی کی کتاب ہے۔ مجموعہ اشتہارات! یہ چناب نگر (ربوہ) کی چھپی ہوئی ۴۴۸ صفحات پر مشتمل کتاب ہے۔ اس میں لکھتا ہے:

’’میں نہ نبوت کا مدعی ہوں اور نہ معجزات اور ملائک اور لیلۃ القدر وغیرہ سے منکر۔ بلکہ میں ان تمام امور کا قائل ہوں، جو اسلامی عقائد میں داخل ہیں اور جیسا کہ اہل سنت جماعت کا عقیدہ ہے۔ ان سب باتوں کو مانتا ہوں۔ جو قرآن اور حدیث کی رو سے مسلم الثبوت ہیں اور سیدنا ومولانا حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم ختم المرسلین کے بعد کسی دوسرے مدعیٔ نبوت اور رسالت کو کاذب اور کافر جانتا ہوں۔ میرا یقین ہے کہ وحی رسالت حضرت آدم صفی اﷲ سے شروع ہوئی اور جناب رسول اﷲ محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم پر ختم ہوگئی۔ ’’اٰمنت باﷲ وملائکتہ وکتبہ ورسلہ والبعث بعد الموت… میں ان تمام عقائد کو مانتا ہوں۔ جن کے ماننے کے بعد ایک کافر بھی مسلمان تسلیم کیا جاتا ہے اور جن پر ایمان لانے سے ایک غیرمذہب کا آدمی بھی معاً مسلمان کہلانے لگتا ہے۔ میں ان تمام امور پر ایمان رکھتا ہوں جو قرآن کریم اور احادیث صحیحہ میں درج ہیں۔‘‘

(مجموعہ اشتہارات ج۱ ص۲۳۰،۲۳۱)

یہ مرزاقادیانی کی کتاب ہے جس میں لکھا ہے کہ:

259

۱… محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کی ختم نبوت کے بعد کسی دوسرے مدعیٔ نبوت کو کاذب اور کافر جانتا ہوں۔

۲… یہ بھی لکھا کہ میں ان تمام عقائد کو مانتا ہوں کہ جن کے ماننے کے بعد ایک کافر بھی مسلمان تسلیم کیا جاتا ہے۔

لیکن دوسری جگہ اپنی کتاب ملفوظات! (یہ بھی ربوہ کی چھپی ہوئی ۴۵۹ صفحات پر مشتمل کتاب ہے جس) میں لکھتا ہے: ’’ہمارا دعویٰ ہے کہ ہم نبی اور رسول ہیں۔‘‘

(ملفوظات ج۱۰ ص۱۲۷)

اس پہلی کتاب (مجموعہ اشتہارات جس کا حوالہ میں نے آپ کو ابھی پڑھ کر سنایا) میں لکھا کہ: ’’ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد جو آدمی نبوت کا دعویٰ کرے میں اسے کافر سمجھتا ہوں۔‘‘

اور اس کتاب (ملفوظات) میں لکھا کہ: ’’ہمارا دعویٰ ہے کہ ہم نبی اور رسول ہیں۔‘‘

اور اسی کتاب (ملفوظات) میں آگے لکھتا ہے: ’’ہمارا مذہب تو یہ ہے کہ جس دین میں نبوت کا سلسلہ نہ ہو وہ مردہ ہے۔ یہودیوں، عیسائیوں، ہندوؤں کے دین کو جو ہم مردہ کہتے ہیں تو اسی لئے کہ ان میں اب کوئی نبی نہیں ہوتا… ہم پر کئی سالوں سے وحی نازل ہورہی اور ﷲتعالیٰ کے کئی نشان اس کے صدق کی گواہی دے چکے ہیں۔ اسی لئے ہم نبی ہیں۔ امر حق کے پہنچانے میں کسی قسم کا اخفاء نہ رکھنا چاہئے۔‘‘

(ملفوظات ج۱۰ ص۱۲۷،۱۲۸)

پھر اسی کتاب کے ایک اور مقام پر لکھتاہے: ’’دیکھو موجودہ زمانے میں خدا نے اتنی کثرت سے زبردست نشانات کا ذخیرہ جمع کردیا ہے اور ایسے ایسے اسباب مہیا کر دئیے ہیں کہ اگر ایک لاکھ نبی بھی ان نشانات سے اپنی نبوت کا ثبوت کرنا چاہے تو کر سکے۔‘‘

(ملفوظات ج۱۰ ص۲۲۸)

اب یہ کتاب (ملفوظات) بھی مرزاقادیانی کی اور پہلی کتاب (مجموعہ اشتہارات) بھی مرزاقادیانی کی، پہلی کتاب میں نبوت کے دعویٰ کرنے والے کو کافر سمجھ رہا ہے اور کہہ رہا ہے اور اس دوسری کتاب میں ایک جگہ کہا: ’’ہم نبی اور رسول ہیں۔‘‘ اور دوسری جگہ کہا: ’’جس مذہب میں نبوت کا سلسلہ نہ ہو وہ مردہ ہے۔‘‘ اور تیسری جگہ کہا: ’’خدا

260

نے اتنی کثرت سے زبردست نشانات کا ذخیرہ جمع کر دیا ہے کہ اگر ایک لاکھ نبی بھی ان نشانات سے اپنی نبوت کا ثبوت کرنا چاہے تو کر سکے۔‘‘

خان صاحب! کتنا بڑا دھوکہ اور فریب ہے جو نبوت کے نام پر مرزاقادیانی نے دیا ہے اور یہی دھوکہ آج مرزائی دے رہے ہیں۔ آدمی تھوڑا سا خالی الذہن ہوکر سوچے تو بہت جلد بات سمجھ میں آسکتی ہے۔

آگے مولانااﷲ وسایا صاحب نے سردار صاحب موصوف کو مخاطب کرتے ہوئے فرمایا:

مولانا اﷲ وسایا:

خان صاحب! میں یہ کام جو کر رہا ہوں کسی لالچ اور دنیوی نفع کے لئے نہیں کر رہا۔ کیا مطلب؟ اگر بالفرض تم مسلمان ہو جاؤ تو اس میں میری کوئی مالی منفعت نہیں اور نہ ہی میری معاش اس سے وابستہ ہے اور اگر تم مسلمان نہ ہوئے تو اس سے میرا مالی نقصان نہیں ہوگا۔ میں یہ کام صرف اور صرف حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی شفاعت کے حصول کے لئے کر رہا ہوں اور یہ بھی یاد رکھیں کہ میں اپنی تمام ترگفتگو میں جھوٹ نہیں بولوں گا۔ دھوکہ نہیں دوں گا۔ اگر جھوٹ بولوں گا تو اپنی قبر کالی کروں گا۔ پھر تو میں نے کوئی چیز نہ کمائی۔ خیر! میں آپ کو سمجھا رہا تھا کہ مرزاقادیانی اور اس کے پیروکار کیسے دھوکہ دیتے ہیں۔ کبھی کہتے ہیں نبوت ختم ہے اور کبھی کہتے ہیں نبوت جاری ہے۔ کبھی مدعیٔ نبوت کو کافر کہتے ہیں اور کبھی جھوٹے مدعیٔ نبوت کے نہ ماننے والے کو کافر۔

لیجئے! ایک اور حوالہ بھی دیکھئے۔ یہ دیکھیں! کتاب مجموعہ اشتہارات بھی مرزاقادیانی کی ہے۔ یہ ۶۲۶ صفحات پر مشتمل ہے۔ اس میں مرزا قادیانی کا ایک خط ہے اور یہ خط اس کی زندگی کا آخری خط ہے۔ جو ۲۳؍مئی ۱۹۰۸ء کو ’’اخبار عام‘‘ میں چھپا تھا۔ چنانچہ لکھتا ہے: ’’اور جس بناء پر میں اپنے تئیں نبی کہلاتا ہوں وہ صرف اس قدر ہے کہ میں خداتعالیٰ کی ہم کلامی سے مشرف ہوں اور وہ میرے ساتھ بکثرت بولتا اور کلام کرتا ہے اور میری باتوں کا جواب دیتا ہے اور بہت سی غیب کی باتیں میرے پر ظاہر کرتا اور آئندہ زمانوں کے وہ راز میرے پر کھولتا ہے کہ جب تک انسان کو اس کے ساتھ خصوصیت کا قرب نہ ہو

261

دوسرے پر وہ اسرار نہیں کھولتا اور انہیں امور کی کثرت کی وجہ سے اس نے میرا نام نبی رکھا ہے۔ سو میں خدا کے حکم کے موافق نبی ہوں اور اگر میں اس سے انکار کروں تو میرا گناہ ہوگا اور جس حالت میں خدا میرا نام نبی رکھتا ہے تو میں کیونکر اس سے انکار کر سکتا ہوں۔ میں اس پر قائم ہوں۔ اس وقت تک جو اس دنیا سے گذر جاؤں۔ مگر میں ان معنوں سے نبی نہیں ہوں کہ گویا میں اسلام سے اپنے تئیں الگ کرتا ہوں یا اسلام کا کوئی حکم منسوخ کرتاہوں۔ میری گردن اس جوئے کے نیچے ہے جو قرآن شریف نے پیش کیا۔‘‘

(مجموعہ اشتہارات ج۳ ص۵۹۷)

دیکھیں! اس عبارت میں مرزاقادیانی کا دجل کتنا آشکارا ہورہا ہے۔ اس طرح کہ بیک وقت ایک ہی عبارت میں کئی متضاد باتیں کہہ دی ہیں۔ مثلاً یہ کہ قرآن شریف کو بھی تسلیم کر رہا ہے اور نبی بھی بن رہا ہے اور ساتھ یہ بھی کہہ رہا ہے کہ اسلام کا کوئی حکم اس سے متأثر نہیں ہوتا۔ یعنی منسوخ اور ختم نہیں ہوتا۔

خان صاحب! یہ مرزاقادیانی کا آخری خط ہے جو اس نے اپنی زندگی کے آخری دنوں میں لکھا۔ جس میں اس نے قرآن پاک کو ماننے کے ساتھ ساتھ دعویٰ نبوت کا بھی کیا اور آپ جانتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم آخری نبی ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد کوئی نیا نبی نہیں آئے گا اور یہ قرآن پاک ﷲتعالیٰ کی آخری کتاب ہے۔ جو ﷲتعالیٰ نے اپنے آخری نبی حضرت محمد رسول ﷲ صلی اللہ علیہ وسلم پر نازل فرمائی۔ جس کے بعد اور کوئی کتاب نہیں۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو آخری نبی اور قرآن پاک کو آخری کتاب ماننے کے ساتھ ساتھ نبوت کا دعویٰ کرنا یہ سراسر کفر، دجل، دھوکہ اور فریب نہیں تو پھر اور کیا ہے؟ یہ آپ سوچیں۔

آگے چلیں! یہ بھی مرزاقادیانی کی کتاب ہے۔ جس کا نام حقیقت الوحی ہے۔ یہ روحانی خزائن کی جلد نمبر۲۲ میں ہے اور ۷۳۹ صفحات کی کتاب ہے۔ اس میں لکھتا ہے: ’’غرض اس حصہ کثیر وحی الٰہی اور امور غیبیہ میں اس امت میں سے میں ہی ایک فرد مخصوص ہوں اور جس قدر مجھ سے پہلے اولیاء اور ابدال اور اقطاب اس امت میں سے گذر چکے ہیں۔ ان کو یہ حصہ اس کثیر نعمت کا نہیں دیا گیا۔ پس اس وجہ سے نبی کا نام پانے کے لئے میں ہی

262

مخصوص کیاگیا اور دوسرے تمام لوگ اس نام کے مستحق نہیں۔‘‘

(حقیقت الوحی ص۳۹۱، خزائن ج۲۲ ص۴۰۶،۴۰۷)

اور چند سطر آگے لکھتا ہے: ’’اور خدا کا کلام اس قدر مجھ پر ہوا ہے کہ اگر وہ تمام لکھا جائے تو بیس جزو سے کم نہیں ہوگا۔‘‘

(حقیقت الوحی ص۳۹۱، خزائن ج۲۲ ص۴۰۷)

خان صاحب! غور فرمائیں۔ حقیقت الوحی کی پہلی عبارت میں مرزاقادیانی کہہ رہا ہے کہ چودہ سو سال میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد اور کوئی نبی نہیں بنا۔ صرف میں ہی اکیلا نبی بنا اور دوسری عبارت بھی بتلا رہی ہے کہ مرزاقادیانی نے اپنے لئے وحی کا دعویٰ کر کے اپنی نبوت کو ثابت کیا ہے۔

حاصل ان عبارتوں اور قادیانیوں ومرزائیوں کی ان تمام تر باتوں کا یہ ہوا کہ نبوت حضور صلی اللہ علیہ وسلم پر ختم نہیں۔ بلکہ مرزاقادیانی پر ختم ہے۔ جب کہ ہم یہ کہتے ہیں کہ سلسلۂ نبوت حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم پر ختم ہے اور مرزاقادیانی بوجہ جھوٹے دعویٰ نبوت کے کذاب ودجال ہے۔ معلوم ہوا کہ ہمارا اور قادیانیوں کا اختلاف اختتام نبوت اور اجراء نبوت پر نہیں۔ بلکہ فقط ختم نبوت پر ہے۔ اس طرح کہ ہمارے نزدیک حضور صلی اللہ علیہ وسلم آخری نبی ہیں اور مرزائیوں کے نزدیک مرزاقادیانی آخری نبی ہے اور مرزاقادیانی کے بعد مرزائی آگے نبوت جاری نہیں مانتے بلکہ خلافت مانتے ہیں۔

خان صاحب! اتنی طویل گفتگو آپ کی تشفی اور تسلی کے لئے کر رہا ہوں۔ لیجئے! اور حوالہ ملاحظہ ہو۔ یہ مرزاقادیانی کی ایک اور کتاب ہے جس کا نام ہے کشتی نوح۔ اس کا دوسرا نام دعوت الایمان اور تیسرا نام تقویۃ الایمان ہے۔ یہ روحانی خزائن کی جلد نمبر۱۹ میں ہے۔ اس جلد کے کل صفحات ۴۸۰ ہیں۔ یہ دیکھوکشتی نوح کا ص۵۶ اور ص۶۳ ہے۔ اس میں لکھتا ہے: ’’میں خدا کی سب راہوں میں سے آخری راہ ہوں اور میں اس کے سب نوروں میں سے آخری نور ہوں۔ بدقسمت ہے وہ جو مجھے چھوڑتا ہے۔ کیونکہ میرے بغیر سب تاریکی ہے۔‘‘

(کشتی نوح ص۵۶، خزائن ج۱۹ ص۶۱)

اس میں بھی مرزاقادیانی نے صراحۃً یہ دعویٰ کیا ہے کہ میں آخری نبی ہوں۔ ایک

263

ایک جملہ ببانگ دہل یہ کہہ رہا ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم آخری نبی نہیں بلکہ مرزاقادیانی ہے۔

یہ دیکھیں! مرزاقادیانی کی اور کتاب ہے جس کا نام دافع البلاء ہے۔ یہ روحانی خزائن کی جلد نمبر۱۸ میں ہے۔ اس جلد کے کل صفحات ۶۲۰ ہیں۔ دافع البلاء کا ص۱۱ بھی ہے اور ص۱۵ بھی۔ اس میں لکھا ہے: ’’سچا خدا وہی خدا ہے جس نے قادیان میں اپنا رسول بھیجا۔‘‘

(دافع البلاء ص۱۱، خزائن ج۱۸ ص۲۳۱)

خان صاحب! میں کلمۂ طیبہ ’’لا الہ الا اﷲ محمد رسول اﷲ‘‘ (صلی اللہ علیہ وسلم) پڑھ کر کہتا ہوں کہ مرزاقادیانی نے اس عبارت کہ ’’خدا نے قادیان میں اپنا رسول بھیجا۔‘‘ میں بالکل اسی طرح رسالت کا دعویٰ کیا ہے جس طرح کہ رحمتدوعالم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی ذات اقدس کے لئے رسالت کا دعویٰ کیا۔ نیز یہ دیکھیں اور عبارت ہے: ’’خداتعالیٰ بہرحال جب تک کہ طاعون دنیا میں رہے گو ستر برس تک رہے۔ قادیان کو اس کی خوفناک تباہی سے محفوظ رکھے گا۔ کیونکہ یہ اس کے رسول کا تخت گاہ ہے اور یہ تمام امتوں کے لئے نشان ہے۔‘‘

(دافع البلاء ص۱۰، خزائن ج۱۸ ص۲۳۰)

کیا اب بھی کوئی شک ہوسکتا ہے کہ مرزاقادیانی نے نبوت ورسالت کا دعویٰ نہیں کیا؟ یہ دیکھیں خان صاحب! یہ ایک اور کتاب ہے جس کا نام ’’تذکرہ‘‘ ہے۔ یہ آٹھ سو اٹھارہ(۸۱۸) صفحات پر مشتمل کتاب ہے۔ اس میں مرزاقادیانی کے الہامات، کشوف، اس کی وحی اور رؤیا کو تاریخ وائز درج اور جمع کیاگیا ہے۔ حقیقت میں اس میں کیا لکھا ہوا ہے؟ یہ ایک دلچسپ موضوع ہے اور عجیب وغریب بحث ہے۔ اب وقت نہیں۔ بہرحال ملاحظہ فرمائیں۔ ایک جگہ پر لکھا ہے: ’’کشفی طور پر میں نے دیکھا کہ میرے بھائی صاحب مرحوم مرزاغلام قادر میرے قریب بیٹھ کر بآواز بلند قرآن شریف پڑھ رہے ہیں اور پڑھتے پڑھتے انہوں نے ان فقرات کو پڑھا کہ:’’انا انزلناہ قریباً من القادیان‘‘ تو میں نے سن کر بہت تعجب کیا کہ کیا قادیان کا نام بھی قرآن شریف میں لکھا ہوا ہے؟ تب انہوں نے کہا کہ یہ دیکھو۔ لکھا ہوا ہے۔ تب میں نے نظر ڈال کر جو دیکھا تو معلوم ہوا کہ فی الحقیقت قرآن شریف کے دائیں صفحہ میں شاید قریب نصف کے موقع پر یہی الہامی عبارت لکھی ہوئی موجود ہے۔ تب

264

میں نے اپنے دل میں کہا کہ ہاں واقعی طور پر قادیان کا نام قرآن شریف میں درج ہے اور میں نے کہا کہ تین شہروں کا نام اعزاز کے ساتھ قرآن شریف میں درج کیاگیا ہے۔ مکہ اور مدینہ اور قادیان۔‘‘

(تذکرہ مجموعہ الہامات ص۷۵،۷۶)

خان صاحب! ہم قادیانیوں کے سامنے قرآن مجید اور یہ کتاب (تذکرہ) رکھ کر ان سے پوچھتے ہیں کہ قرآن مجید میں دکھاؤ؟ کہاں اور کس جگہ پر ’’قادیان‘‘ کا لفظ لکھا ہوا ہے؟ تو قادیانی کہتے ہیں۔ یہ تو ایک کشف تھا۔ ہم کہتے ہیں کہ اﷲ کے بندو! نبی کا تو خواب بھی جھوٹا نہیں ہوسکتا۔ بلکہ وہ وحی الٰہی ہوتا ہے۔ یہ تو ایک کشف تھا اور کشف خواب سے درجہ اور مرتبہ میں کہیں اعلیٰ ہوتا ہے۔ اس پر میں آپ کو قرآن پاک سے مثال دے کر سمجھاتا ہوں کہ نبی کا خواب کیسے وحی الٰہی ہوتا ہے؟ دیکھئے: ’’حضرت ابراہیم علیہ السلام نے خواب میں دیکھا کہ میں اپنے بیٹے حضرت اسماعیل علیہ السلام کو ذبح کر رہا ہوں۔ جب بیدار ہوئے تو حضرت اسماعیل علیہ السلام کو اپنا مبارک خواب بیان فرمایا۔ ’’انی ارٰی فی المنام انی اذبحک فانظر ماذاتری‘‘ (میں خواب میں دیکھتا ہوں کہ تجھ کو ذبح کرتا ہوں۔ پھر دیکھ تو تیرا کیا خیال ہے؟) تو حضرت اسماعیل علیہ السلام نے یہ نہیں فرمایا کہ یہ تو محض ایک خواب ہے۔ چھوڑو! بلکہ قرآن نے بتایا کہ حضرت اسماعیل علیہ السلام نے یوں عرض کیا: ’’یٰابت افعل ماتؤمر‘‘ (اے میرے اباجان جو آپ کو حکم دیاگیا ہے وہ کر گزریں)‘‘

(سورۃ الصافات: پ۲۳، آیت۱۰۲)

دیکھئے! یہ ایک نبی کا خواب ہے جو قرآن پاک میں موجود ہے۔ ہم قادیانیوں سے کہتے ہیں۔ اگر کشف مرزا قادیانی کا ہے اور سچا ہے تو قرآن پاک میں ’’قادیان‘‘ کا لفظ دکھاؤ؟ اگر قرآن پاک میں ’’قادیان‘‘ کا لفظ نہیں تو پھر کشف جھوٹا ہے۔

خیر! آگے چلتے ہیں۔ یہ دیکھیں! مرزاقادیانی کی ایک اور کتاب ہے جس کا نام ’’ایک غلطی کا ازالہ‘‘ ہے اور یہ ’’روحانی خزائن‘‘ کی جلد نمبر۱۸ میں ہے۔ یہ رسالہ مرزاقادیانی نے اس وقت لکھا تھا۔ جس وقت مرزاقادیانی کے ایک مرید سے کسی نے اعتراض کیا کہ تم نے جس شخص سے بیعت کر رکھی ہے۔ وہ تو نبی اور رسول ہونے کا دعویٰ رکھتا

265

ہے؟ تو اس مرید نے اس آدمی کے اعتراض کا جواب محض انکار کے ساتھ دیا۔ مرزاقادیانی کو جب پتہ چلا تو اس کے جواب میں یہ کتابچہ ’’ایک غلطی کا ازالہ‘‘ کے نام سے لکھا۔ ملاحظہ ہو۔ رسالہ کے شروع میں ص۲ پر لکھا: ’’چند روز ہوئے ہیں کہ ایک صاحب پر ایک مخالف کی طرف سے یہ اعتراض پیش ہوا کہ جس سے تم نے بیعت کی ہے۔ وہ نبی اور رسول ہونے کا دعویٰ کرتا ہے اور اس کا جواب محض انکار کے الفاظ سے دیاگیا۔ حالانکہ ایسا جواب صحیح نہیں ہے۔ حق یہ ہے کہ خداتعالیٰ کی وہ پاک وحی جو میرے پر نازل ہوتی ہے۔ اس میں ایسے الفاظ رسول اور مرسل اور نبی کے موجود ہیں۔ نہ ایک دفعہ بلکہ صدہا دفعہ پھر کیونکر یہ جواب صحیح ہوسکتا ہے کہ ایسے الفاظ موجود نہیں ہیں۔ بلکہ اس وقت تو پہلے زمانہ کی نسبت بہت تصریح اور توضیح سے یہ الفاظ موجود ہیں اور ’’براہین احمدیہ‘‘ میں بھی جس کو طبع ہوئے بائیس برس ہوئے۔‘‘

(ایک غلطی کا ازالہ ص۲، خزائن ج۱۸ ص۲۰۶)

اسی رسالہ میں آگے لکھا: ’’ایک یہ وحی اﷲ ہے:’’ہوالذی ارسل رسولہ بالہدی ودین الحق لیظہرہ علی الدین کلہ‘‘ اس میں صاف طور پر اس عاجز کو رسول کر کے پکارا گیا ہے۔‘‘

(حوالہ بالا)

اور آگے سورۂ فتح کی آیت کے تحت لکھا: ’’یہ وحی اﷲ ہے: ’’محمد رسول اﷲ والذین معہ اشداء علی الکفار رحماء بینہم‘‘ اس وحی الٰہی میں میرا نام محمد رکھا گیا اور رسول بھی۔‘‘

(ایک غلطی کا ازالہ ص۳، خزائن ج۱۸ ص۲۰۷)

یہ تینوں عبارتیں بتلارہی ہیں اور مرزاقادیانی مذکورہ تینوں عبارتوں میں صرف نبوت ہی نہیں بلکہ تاکید درتاکید کے ساتھ رسالت کا دعویٰ بھی کر رہا ہے اور صرف نبوت ورسالت ہی نہیں بھی بلکہ ختم نبوت کا دعویٰ کر رہا ہے۔ اس طرح کہ ’’میرا نام محمد رکھاگیا ہے۔‘‘ اب کون سا مسلمان ہے؟ جو یہ نہیں جانتا کہ قرآن پاک کی آیت میں ’’محمد رسول اﷲ‘‘ سے مراد رحمتدوعالم صلی اللہ علیہ وسلم ہیں یا مرزاقادیانی؟ جاہل سے جاہل بھی یہی بتلائے گا کہ اس سے مراد حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم ہیں۔

اب مرزاقادیانی سے سوال ہوا کہ جی کس طرح تیرا نام محمد رکھاگیا ور رسول بھی؟

266

تو مرزاقادیانی نے کہا! ظلی طور پر اور بروزی طور پر۔ پھر سوال ہوا کہ ظل اور بروز کیا ہوتا ہے؟ تو مرزاقادیانی نے کہا۔ کیونکہ میں محمد رسول اﷲ ہوں (العیاذ باﷲ) اس واسطے اگر میں نے نبوت کا دعویٰ کیا ہے تو یہ ختم نبوت کے منافی نہیں۔ کیونکہ محمد کی چیز محمد کو مل گئی۔ وہ بھی محمد میں بھی محمد۔ ان کے پاس بھی نبوت، میرے پاس بھی نبوت۔ کیونکہ حضور(صلی اللہ علیہ وسلم) کے بعد کوئی اور نہیں آیا۔ محمد ہی آیا ہے نا؟ اب ان دعاوی کے بعد مرزاقادیانی کہتا ہے: ’’غرض میری نبوت اور رسالت باعتبار محمد اور احمد ہونے کے ہے نہ میرے نفس کی رو سے اور یہ نام بحیثیت فنا فی الرسول مجھے ملا ہے۔‘‘

(ایک غلطی کا ازالہ ص۴، خزائن ج۱۸ ص۲۰۸)

خان صاحب! جیسے کوئی شخص فنا فی اﷲ ہو جائے تو وہ خدا نہیں بن جاتا۔ ایسے ہی کوئی شخص فنا فی الرسول ہو جائے تو وہ رسول بھی نہیں بن جاتا۔ حضرات صحابہ کرام رضوان اللہ تعالی علیہم اجمعین سے بڑھ کر کس نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت واطاعت کی ہے؟ کسی ایکصحابی رضی اللہ عنہ نے بھی یہ نہیں کہا کہ میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت کر کے محمد رسول اﷲ بن گیا ہوں۔ جب کہ مرزاقادیانی اور اس کی ذریت یہ کہتی ہے کہ مرزاقادیانی فنا فی الرسول ہونے کے تحت نبی بن گیا ہے۔ ایک اور عبارت دیکھیں: ’’گو ظلی طور پر پس باوجود اس شخص کے دعویٰ نبوت کے جس کا نام ظلی طور پر محمد اور احمد رکھا گیا۔ پھر بھی سیدنا محمد خاتم النّبیین ہی رہا۔ کیونکہ یہ محمد ثانی (یعنی مرزاقادیانی) اسیمحمد صلی اللہ علیہ وسلم کی تصویر اور اسی کا نام ہے۔ مگر عیسیٰ بغیر مہر توڑنے کے آنہیں سکتا… اگر خداتعالیٰ سے غیب کی خبریں پانے والا نبی کا نام نہیں رکھتا تو پھر بتلاؤ کس نام سے اس کو پکارا جائے۔‘‘

(ایک غلطی کا ازالہ ص۵، خزائن ج۱۸ ص۲۰۹)

آگے لکھتا ہے: ’’اور میں جیسا کہ قرآن شریف کی آیت پر ایمان رکھتا ہوں۔ ایسا ہی بغیر فرق ایک ذرہ کے خدا کی اس کھلی کھلی وحی پر ایمان لاتا ہوں جو مجھے ہوئی۔‘‘

(ایک غلطی کا ازالہ ص۶، خزائن ج۱۸ ص۲۱۰)

مطلب یہ ہے کہ میری وحی بھی قرآن پاک کی طرح تمام خطاؤں سے پاک اور میری وحی بھی قرآن پاک ہی کی طرح ہے۔ اس لئے میں بھی محمد رسول اﷲ ہوں اور میری وحی بھی قرآن ہی ہے۔

267

پھر آگے لکھتا ہے: ’’اس واسطہ کو ملحوظ رکھ کر اور اس میں ہوکر اور اس کے نام محمد اور احمد سے مسمّٰی ہوکر میں رسول بھی ہوں۔‘‘

(ایک غلطی کا ازالہ ص۷، خزائن ج۱۸ ص۲۱۱)

نیز لکھا: ’’میں بموجب آیت: ’’واٰخرین منہم لما یلحقوا بہم‘‘ بروزی طور پر وہی نبی خاتم الانبیاء ہوں اور خدا نے آج سے بائیس برس پہلے براہین احمدیہ میں میرا نام محمد اور احمد رکھا ہے۔‘‘

(ایک غلطی کا ازالہ ص۸، خزائن ج۱۸ ص۲۱۲)

خان صاحب توجہ فرمائیں! مرزاقادیانی کی اس عبارت کا مطلب تو یہ ہوا کہ براہین احمدیہ بھی قرآن پاک کی طرح اﷲ کی کتاب ہے۔ ہم جب گفتگو کرتے ہیں یا تحریر کرتے ہیں اور استدلال کا یا حوالہ دینے کا وقت آتا ہے تو ہم کہتے ہیں کہ ﷲتعالیٰ قرآن مجید میں یوں فرماتے ہیں۔ ہم یوں نہیں کہتے کہ ﷲتعالیٰ نے بخاری شریف میں یوں فرمایا ہے یا یوں فرماتا ہے۔ ہم کبھی ایسے نہیں کہتے۔ لیکن مرزاقادیانی کا فریب دیکھو۔ وہ کہہ رہا ہے کہ ﷲتعالیٰ نے ’’براہین احمدیہ‘‘ میں میرا نام محمد رکھا اور احمد رکھا ہے۔ ہم مرزاقادیانی اور اس کے پیروکاروں سے کہتے ہیں کہ اگر مان لیا جائے کہ ’’براہین احمدیہ‘‘ ﷲتعالیٰ کی کتاب ہے اور ﷲتعالیٰ کی طرف سے آئی ہے تو اس میں یہ مسئلہ بھی تو تو نے لکھا ہے کہ: ’’اور جب حضرت مسیح علیہ السلام دوبارہ اس دنیا میں تشریف لائیں گے تو ان کے ہاتھ سے دین اسلام جمیع آفاق اور اقطار میں پھیل جائے گا۔‘‘

(براہین احمدیہ ص۴۹۹، خزائن ج۱ ص۵۹۳)

پھر کیسے کہتا ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام (العیاذ باﷲ) فوت ہوگئے ہیں۔ خیر! آگے دیکھیں مرزاقادیانی لکھتا ہے: ’’اور مجھے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا وجود قرار دیا ہے۔ پس اس طور سے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے خاتم الانبیاء ہونے میں میری نبوت سے کوئی تزلزل نہیں آیا۔ کیونکہ ظل اپنے اصل سے علیحدہ نہیں ہوتا اور چونکہ میں ظلی طور پر محمد ہوں(صلی اللہ علیہ وسلم) پس اس طور سے خاتم النّبیین کی مہر نہیں ٹوٹی۔ کیونکہمحمد صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت محمد تک ہی محدود رہی۔‘‘

(ایک غلطی کا ازالہ ص۸، خزائن ج۱۸ ص۲۱۲)

(حضرت نے خان صاحب کو مخاطب اور متوجہ کر کے فرمایا) خان صاحب! اس عبارت میں مرزاقادیانی نے ظل کا تصور پیش کیا ہے۔ ظل عربی زبان کا لفظ ہے۔ عربی میں

268

ظل سایہ کو کہتے ہیں۔ مثلاً آپ شیشے کے سامنے کھڑے ہوں تو شیشے میں آپ کی تصویر نظر آئے گی۔ یہ تصویر آپ کا ظل ہے اور تم اصل ہو یہ مثال آپ نے سمجھ لی؟

خان صاحب:

جی ہاں! سمجھ لی۔ اگر شیشے کے سامنے سیف ہو تو تصویر سیف کی آئے گی ہوائی جہاز کی نہیں آئے گی۔

خان صاحب:

جی! بالکل سیف اور تتلی کی آئے گی۔

مولانا اﷲ وسایا:

اب آپ سمجھیں! مرزاقادیانی کہتا ہے: ’’میں ظلی طور پر نبی ہوں۔‘‘ اس کا کیا معنی؟ (العیاذ باﷲ! ثم العیاذ باﷲ! نقل کفر کفر نباشد) اس کا معنی اور مطلب یہ ہے کہ حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کو آئینے اور شیشے کے سامنے کھڑا کرو۔ اس میں جو تصویر نظر آئے وہ مرزاقادیانی ہے۔ (العیاذ باﷲ)

خان صاحب! شیشے کے سامنے آپ کھڑے ہوں تو اس میں آپ کی تصویر آئے گی۔ میری تصویر نہیں آئے گی۔ وہ تصویر آپ کی ہوگی میری نہیں ہوگی۔ مرزاقادیانی کہتا ہے کہ میں حضور(صلی اللہ علیہ وسلم) کا ظل ہوں۔ اس کا معنی یہ ہواکہ مرزاغلام احمد قادیانی بھی محمد رسول اﷲ ہے۔

سردار صاحب:

(نے جواب دیتے ہوئے کہا) یہ تو غیرفطری عمل ہے۔

مولانا اﷲ وسایا:

یہ قادیانی لوگوں کو بے وقوف بنانے کی خاطر یوں ہانک دیتے ہیں کہ جی وہ ظلی اور بروزی طور پر نبی تھا۔ (مزید سمجھانے کے لئے مولانانے فرمایا) خان صاحب! ہماری قادیانیوں سے جب گفتگو یا مناظرہ ہوتا ہے تو اس میں الٹی سیدھی باتیں بھی ہوجایا کرتی ہیں۔ مثلاً میرا ایک جگہ ایک قادیانی سے مناظرہ ہوا۔ مناظرہ میں میں نے اس قادیانی سے کہا کہ مرزاقادیانی تو یہ دعویٰ کرتا ہے کہ میں محمد رسول اﷲ ہوں۔ (معاذ اﷲ) تو فوراً اس قادیانی نے مجھے پنجابی شعر کا ایک مصرع ایک ٹکڑا سنایا ؎

میں رانجھا رانجھا کردی رانجھا ہوگئی

آپ جانتے ہیں خان صاحب! شاعر کی شعروشاعری سے عقائد ثابت نہیں ہوا کرتے۔

269

خان صاحب:

بالکل آپ سچ فرمارہے ہیں۔

مولانا اﷲ وسایا:

شعروشاعری کا عقائد سے کیا تعلق؟ کیونکہ وہ دنیا اور ہے اور یہ دنیا اور۔

خان صاحب:

جی بالکل۔

مولانا اﷲ وسایا:

خان صاحب! اگر کوئی آدمی ہزارسال تک بھی دن رات ایک کر کے اﷲ اﷲ کرتا رہے اور ﷲتعالیٰ کی اطاعت کرتا رہے تو وہ آدمی خدا نہیں بن جاتا۔

خان صاحب:

جی بالکل ایسے ہے۔

مولانا اﷲ وسایا:

اور اسی طرح چھوٹا بچہ ابا، ابا کرتا رہے تو وہ کبھی باپ نہیں بن جاتا۔ بلکہ بیٹا ہی رہتا ہے اور اسی طرح حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ دن میں دس مرتبہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی زیارت کرتے تھے۔ انہوں نے تو کبھی یہ نہیں فرمایا کہ میں محمد رسول اﷲ ہوں۔ حالانکہ دیگر صحابہe میں سے سب سے پہلے حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ ہی حضور صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان لائے۔ لیکن کبھی بھی محمد رسول اﷲ ہونے کا دعویٰ نہیں کیا اور نہ ہی کسی اورصحابی رضی اللہ عنہ نے یہ دعویٰ کیا۔

اچھا خیر! تو وہ قادیانی کہنے لگا نہیں جی ؎

میں رانجھا رانجھا کردی رانجھا ہوگئی

میں نے جان کر اس موضوع کو تھوڑی دیر کے لئے مصلحتاً ملتوی کر دیا اور باتیں ہوتی رہیں۔ لیکن میرے ساتھ کی سنگت پریشان ہوئی کہ چاہئے تھا مولوی صاحب (مولانا اﷲ وسایا صاحب) یا تو اس موضوع کو نہ چھیڑتے۔ اگر بالفرض چھیڑا بھی ہے تو اسے کسی کنارے لگاتے۔ آخر چلتے چلتے میں نے پھر وہی موضوع شروع کر دیا۔ اس قادیانی کا نام تھا مجیب الرحمن غالباً اور یہ راولپنڈی کا رہنے والا تھا۔ میں نے اس سے پوچھا تیرے والد کا کیا نام ہے؟ وہ قادیانی کہنے لگا کیوں جی؟ میرے والد کا نام پوچھ کر آپ کیا کریں گے؟ میں (مولانا اﷲ وسایا) نے کہا اگر ہے تو بتادیں! اگر نہیں تو مجھ سے پوچھ۔ میں تجھے اپنے والد صاحب کا نام بتاتا ہوں۔ تو اس قادیانی نے کہا جی میرے والد صاحب کا نام ہے گل، میں نے کہا کوئی حرج نہیں۔ اب میں نے نہ تو اس سے کوئی سوال کیا نہ کوئی جواب دیا۔ جب بات آئی گئی ہوگئی تو میں نے جیب سے تسبیح نکالی اور پڑھنی شروع کی۔ (ایک ایک دانہ گراتا اور

270

کہتا) گل، گل، گل، اب وہ سوچھنے لگا کہ پتہ نہیں مولوی صاحب کو کیا ہوگیا ہے؟ کہیں پاگل تو نہیں ہوگئے اور میرے ساتھی بھی پریشان کہ پتہ نہیں ہمارے مولوی صاحب کو کیا ہوگیا ہے؟۔ جب تسبیح پوری ہوئی سو (۱۰۰) کا عدد مکمل ہوا تو میں نے تسبیح نیچے رکھی اور کہا ؎

میں گل گل کر کے گل ہوگیا

آج کے بعد میں تیرا باپ اور تو میرا بیٹا اور بیٹے باپ کے ساتھ مناظرہ نہیں کرتے۔ بلکہ حلالی اولاد ماں باپ کی اطاعت کیا کرتی ہے۔ مناظرے نہیں۔

قادیانی:

مولوی صاحب! اخلاق بھی کوئی چیز ہوا کرتی ہے۔

مولانا اﷲ وسایا:

تو کہتا ہے کہ مرزاقادیانی حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی اتباع کر کے محمد رسول اﷲ بن گیا۔ میں تیرے والد کی اتباع کر کے تیرا والد نہیں بن سکتا؟ بندۂ خدا ساری کائنات کے سارے رشتے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے نعلین مبارک پر قربان۔ اگر تو اپنے والد کے لئے یہ فارمولا قبول نہیں کرتا۔ تو پوری امت حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے یہ (مرزائیوں والا) فارمولا کس طرح قبول کرے؟

مولانا اﷲ وسایا:

(نے سلسلۂ کلام جاری رکھتے ہوئے فرمایا) خان صاحب! آپ کو میں اب ایک اور حوالہ دکھانے لگا ہوں۔ جسے دیکھ کر آپ حیران ہوں گے۔ حوالہ سے قبل سنیں۔ کسی نے مرزاقادیانی کے بیٹے مرزابشیر احمد سے سوال کیا کہ جب تم نبی الگ مانتے ہو تو کلمہ بھی الگ بناؤ؟۔ جب تم نے اپنا نیا رسول مان لیا ہے تو کلمہ الگ کیوں نہیں بناتے؟۔ مسلمانوں والا کلمہ کیوں استعمال کرتے ہو؟۔ تو مرزابشیراحمد نے جواب دیا کہ ہمیں الگ طور پر کلمہ بنانے کی ضرورت نہیں۔ کیونکہ مرزاغلام احمد قادیانی کو نبی ماننے سے کلمہ میں کوئی فرق نہیں آتا۔ کیونکہ مرزاغلام احمد قادیانی الگ نبی نہیں بلکہ خود محمد رسول اﷲ ہے اور اس سے کلمہ طیبہ باطل نہیں ہوتا۔ زیادہ سے زیادہ اس کے مفہوم میں ایک اور رسول کی زیادتی ہو جاتی ہے اور اس سے کوئی حرج واقع نہیں ہوتا۔ یہ خلاصہ ہے۔ اس کے جواب کا اب براہ راست حوالہ دیکھیں۔ یہ دیکھیں کتاب جس کا نام ’’کلمتہ الفصل‘‘ ہے۔ اس کے اوپر لکھا ہوا ہے۔ ’’ری ویو آف ریلیجنز‘‘ یعنی دنیا کے مذہب پر نظر جلد نمبر۴ بابت ماہ مارچ واپریل ۱۹۱۵ء، مطابق جمادی الاوّل وجمادی

271

الثانی ۱۳۳۳ھ، اس کے ص۹۱ سے لے کر ص۱۸۴ تک کل ۹۳ صفحات ہیں اور اس کے اندر لکھا ہوا ہے۔ ’’کلمتہ الفصل دربارہ مسئلہ کفر واسلام‘‘ (رقمزدہ حضرت صاحبزادہ مرزابشیر احمد صاحب، بی،اے) اس میں وہ اعتراض اور جواب ہے جس کا خلاصہ میں نے ابھی آپ کو سنایا۔ دیکھئے: ’’اعتراض یہ کیا جاتا ہے کہ اگر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد مرزاصاحب بھی ایسے نبی ہیں کہ ان کا ماننا ضروری ہے تو پھر مرزاصاحب کا کلمہ کیوں نہیں پڑھتے؟ تو اس کا جواب یہ ہے کہ… نادان اتنا نہیں سوچتا کہ محمد رسول اﷲ کا نام کلمہ میں تو اس لئے رکھا گیا ہے کہ آپ نبیوں کے سرتاج اور خاتم النّبیین ہیں اور آپ کا نام لینے سے باقی سب نبی خود اندر آجاتے ہیں۔ ہر ایک کا علیحدہ نام لینے کی ضرورت نہیں ہے۔ ہاں حضرت مسیح موعود (مرزاقادیانی) کے آنے سے ایک فرق ضرور پیدا ہوگیا ہے اور وہ یہ کہ مسیح موعود کی بعثت سے پہلے تو محمد رسول اﷲ کے مفہوم میں صرف آپ سے پہلے گذرے ہوئے انبیاء شامل تھے۔ مگر مسیح موعود (مرزامردود۔ ناقل!) کی بعثت کے بعد محمد رسول اﷲ کے مفہوم میں ایک اور رسول کی زیادتی ہوگئی۔ لہٰذا مسیح موعود کے آنے سے نعوذ باﷲ ’’لا الہ الا اﷲ محمد رسول اﷲ‘‘ کا کلمہ باطل نہیں ہوتا۔ بلکہ اور بھی زیادہ شان سے چمکنے لگ جاتا ہے۔ غرض اب بھی اسلام میں داخل ہونے کے لئے یہی کلمہ ہے۔ صرف فرق اتنا ہے کہ مسیح موعود (مرزاقادیانی) کی آمد نے محمد رسول اﷲ کے مفہوم میں ایک رسول کی زیادتی کر دی ہے اور بس۔‘‘

یہ عبارت کا ایک حصہ ہے۔ اب دوسرا حصہ ملاحظہ فرمائیں! اور یہ دوسرا جواب بھی ہے: ’’علاوہ اس کے اگر ہم بفرض محال یہ بات مان بھی لیں کہ کلمہ شریف میں نبی کریم کا اسم مبارک اس لئے رکھا گیا ہے کہ آپ آخری نبی ہیں تو تب بھی کوئی حرج واقع نہیں ہوتا اور ہم کو نئے کلمہ کی ضرورت پیش نہیں آتی۔ کیونکہ مسیح موعود نبی کریم سے کوئی الگ چیز نہیں ہے۔ جیسا کہ وہ خود فرماتے ہیں: ’’صارو جودی وجودہ‘‘ (کہ میرا وجود اس کا وجود ہے) نیز ’’من فرق بینی وبین المصطفیٰ فما عرفنی وماراٰی‘‘ اور یہ اس لئے ہے کہ ﷲتعالیٰ کا وعدہ تھا کہ وہ ایک دفعہ اور خاتم النّبیین کو دنیا میں مبعوث کرے گا۔ جیسا کہ آیت : ’’اٰخرین منہم‘‘ سے ظاہر ہے۔ پس مسیح موعود (مرزامردود۔ ناقل!) خود محمد رسول اﷲ

272

ہے جو اشاعت اسلام کے لئے دوبارہ دنیا میں تشریف لائے۔ اس لئے ہم کو کسی نئے کلمہ کی ضرورت نہیں۔ ہاں اگر محمد رسول اﷲ کی جگہ کوئی اور آتا تو ضرورت پیش آتی۔‘‘

(کلمتہ الفصل ص۱۵۸)

اس وقت خان صاحب! ساری امت جو ایک پاؤں پر کھڑے ہو کر یہ اعلان کر رہی ہے کہ ہمارا قادیانیت سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ یہ بلاوجہ نہیں۔ خان صاحب! بھٹو صاحب مسلمان ضرور تھا لیکن کوئی مذہبی آدمی نہیں تھا۔ میری مراد مذہبی آدمی سے یہ ہے کہ وہ مولوی نہیں تھا۔

سردار صاحب:

جی بالکل! وہ تو ایک سیاسی آدمی تھا۔ آزاد آدمی تھا۔

مولانا اﷲ وسایا:

بھٹو صاحب مذہبی آدمی تو نہیں تھا۔ لیکن جب اس کے سامنے یہ چیز لائی گئی یعنی مرزاقادیانی کی اس طرح کی عبارتیں جو میں آپ کو دکھا رہا ہوں تو اس نے بھی کہہ دیا۔ اب بس! اس پر کبھی صلح نہیں ہوسکتی۔ کچھ ہو جائے اس پر اب صلح نہیں ہوسکتی۔

سردار صاحب:

بالکل ایسے۔

مولانا اﷲ وسایا:

اب میں آپ کو اسی کتاب کا ایک اور حوالہ دکھاتا ہوں۔ یہ اس کتاب کا ص۱۰۴ ہے۔ اس پر یہ عبارت ہے: ’’اور جو آپ کی اتباع میں اس قدر آگے نکل گیا ہو کہ بس آپ کی ایک زندہ تصویر بن جاوے۔ تو بلاریب ایسے شخص کا دنیا میں آنا خود نبی کریم کا دنیا میں آنا ہے اور چونکہ مشابہت تامہ کی وجہ سے مسیح موعود اور نبی کریم میں کوئی دوئی باقی نہیں رہی۔ حتیٰ کہ ان دونوں کے وجود بھی ایک وجود کا ہی حکم رکھتے ہیں۔ جیسا کہ خود مسیح موعود نے فرمایا ہے کہ: ’’صارو جودی وجودہ‘‘ (دیکھو خطبہ الہامیہ) اور حدیث میں بھی آیا ہے کہ حضرت نبی کریم (صلی اللہ علیہ وسلم) نے فرمایا کہ مسیح موعود میری قبر میں دفن کیا جاوے گا۔ جس سے یہی مراد ہے کہ وہ میں ہی ہوں۔ یعنی مسیح موعود (مرزاقادیانی) نبی کریم سے الگ کوئی چیز نہیں ہے۔ بلکہ وہی ہے جو بروزی رنگ میں دوبارہ دنیا میں آئے گا۔ تااشاعت اسلام کا کام پورا کرے اور ’’ھو الذی ارسل رسولہ بالہدیٰ ودین الحق لیظہرہ علی الدین کلہ‘‘ کے فرمان کے مطابق تمام ادیان باطلہ پر اتمام حجت کر کے اسلام کو دنیا کے کونوں تک پہنچا دے تو اس صورت میں کیا اس بات میں کوئی شک رہ جاتا ہے کہ قادیان میں ﷲتعالیٰ نے پھر محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) کو اتارا۔‘‘

(کلمتہ الفصل ص۱۰۴،۱۰۵)

273

ان دعاوی کے بعد خان صاحب! بالکل سمجھ میں نہیں آتا۔ بالکل سمجھ میں نہیں آتا کہ کیا کیاجائے؟۔ اب یہ دیکھیں! اسی کتاب کا ص۱۱۳ ہے۔ اس میں مرزابشیر احمد لکھتا ہے کہ مرزاقادیانی کی ظلی اور بروزی نبوت کوئی گھٹیا نبوت نہیں۔ دیکھئے: ’’وہ ناداں جو مسیح موعود (مرزاقادیانی) کی ظلی نبوت کو ایک گھٹیا قسم کی نبوت سمجھتا یا اس کے معنی ناقص نبوت کے کرتا ہے۔ وہ ہوش میں آوے اور اپنے اسلام کی فکر کرے۔ کیونکہ اس نبوت کی شان پر حملہ کیا ہے جو تمام نبوتوں کی سرتاج ہے… مگر مسیح موعود (مرزاقادیانی) کو تو تب نبوت ملی جب اس نے نبوت محمدیہ کے تمام کمالات کو حاصل کر لیا اور اس قابل ہوگیا کہ ظلی نبی کہلائے۔ پس ظلی نبوت نے مسیح موعود کے قدم کو پیچھے نہیں ہٹایا بلکہ آگے بڑھایا کہ نبی کریم کے پہلو بہ پہلو لاکھڑا کیا۔‘‘

(کلمتہ الفصل ص۱۱۳)

پھر جو آدمی مرزاقادیانی کو نہ مانے اس کے بارے میں مرزابشیراحمد کا فتویٰ سنئے۔ چنانچہ اسی کتاب کے ص۱۱۰ پر لکھتا ہے: ’’ہر ایک ایسا شخص جوموسیٰ علیہ السلام کو تو مانتا ہے مگر عیسیٰ علیہ السلام کو نہیں مانتا یا عیسیٰ علیہ السلام کو مانتا ہے۔ مگرمحمد صلی اللہ علیہ وسلم کو نہیں مانتا اور یامحمد صلی اللہ علیہ وسلم کو مانتا ہے۔ پر مسیح موعود (مرزامردود۔ ناقل!) کو نہیں مانتا۔ وہ نہ صرف کافر بلکہ پکا کافر اور دائرۂ اسلام سے خارج ہے اور یہ فتویٰ ہماری طرف سے نہیں ہے۔ بلکہ اس کی طرف سے ہے جس نے اپنے کلام میں ایسے لوگوں کے لئے’’اولئک ہم الکافرون حقا‘‘ فرمایا ہے۔‘‘

(کلمتہ الفصل ص۱۱۰)

خان صاحب! اس کا مطلب یہ ہوا کہ پوری دنیا کے مسلمان جو مرزاقادیانی کو نہیں مانتے وہ نہ صرف کافر بلکہ پکے کافر اور دائرۂ اسلام سے خارج ہیں۔

آگے چلیں! مرزاقادیانی نے جب ظلی اور بروزی نبی ہونے کا دعویٰ کیا تو لوگوں نے اس کی نبوت پر اعتراض کیاکہ آج تک تو کوئی ظلی اور بروزی نبی دنیا میں نہیں آیا؟۔ تو اس کا جواب اسی کتاب کے ص۱۱۷ پر مرزابشیرالدین نے یہ دیا: ’’اب جس طرح رسول کا لفظ حقیقی اور مستقل نبیوں پر بولا جائے گا۔ اسی طرح ظلی اور بروزی نبی پر بھی بولا جائے گا۔ ورنہ اگر ظلی اور بروزی نبی کو صرف نبی کے نام سے پکارنا جائز نہیں تو کیوں ﷲتعالیٰ نے مسیح موعود

274

(مرزاقادیانی) کو بارہا نبی اور رسول کے الفاظ سے یاد کیا۔ خدا نے تو اپنے کلام میں کبھی بھی ظلی یا بروزی کا لفظ استعمال نہیں کیا۔ بلکہ ہمیشہ صرف نبی اور رسول کے الفاظ استعمال کرتا رہا۔ پس اگر مسیح موعود کو صرف نبی کے نام سے پکارنا جائز نہیں تو نعوذ باﷲ سب سے پہلے ناجائز حرکت کرنے والا خود خدا ہے۔ مگر دراصل یہ سارا نفس کا دھوکہ ہے۔ کیونکہ جس طرح حقیقی اور مستقل نبوتیں نبوت کی اقسام ہیں۔ اسی طرح ظلی اور بروزی نبوت بھی نبوت کی ایک قسم ہے۔ اگر ہم حقیقی یا مستقل نبیوں کو ہمیشہ صرف نبی کے نام سے پکارتے ہیں تو کیا وجہ ہے کہ ظلی نبی کو نبی کے نام سے نہ پکار سکیں۔‘‘

(کلمتہ الفصل ص۱۱۷)

سردار صاحب:

مولانا صاحب! ان حوالہ جات کو دیکھنے اور سننے کے بعد میں اس نتیجہ پر پہنچا ہوں کہ مرزاقادیانی کو اور جوڈگری دو، کم ازکم! کم ازکم دے سکتے ہو۔ لیکن نبوت کی ڈگری اسے دی جائے اور کہا جائے کہ وہ نبی تھا۔ عقل اس بات کو تسلیم نہیں کرتی۔ لیکن ایک بات مجھے سمجھاؤ کہ پھر ’’خاتم النّبیین‘‘ میں ’’خاتم‘‘ کا معنی اور مطلب کیا ہوگا؟۔ جبکہ کہا جاتا ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام ابھی زندہ ہیں اور قرب قیامت میں تشریف لائیں گے۔ اس سے ذرا پریشانی ہے کہ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم خاتم النّبیین ہیں تو پھر حضرت عیسیٰ علیہ السلام کیسے آئیں گے؟ اور ان کا زندہ ہونا کیسے ہے؟۔

مولانا اﷲ وسایا:

بہت اچھا خان صاحب! اﷲ آپ کو عزت دے۔ پہلی بات تو یہ ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی ختم نبوت کو ایک تو قرآن پاک نے بیان کیا اور خود حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی احادیث مبارکہ میں بیان فرمائی اور دوسری بات یہ ہے کہ پوری امت مسلمہ کا اس پر اتفاق ہے کہ رحمت عالم صلی اللہ علیہ وسلم خاتم النّبیین ہیں۔ آپ کے بعد جو آدمی دعویٰ نبوت کا کرے وہ کافر ہے۔ ہمارے ایک امام گزرے ہیں۔ جن کا نام امام ابوحنیفہ (نعمان بنثابت رحمۃ اللہ علیہ) ہے۔ انہوں نے لکھا ہے: ’’ان دعوی النبوۃ بعد نبیناa کفر بالاجماع‘‘ (کہ بے شک ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد نبوت کا دعویٰ کرنا بالاتفاق کفر ہے) رہی یہ بات کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا زندہ ہونا اور ان کا آسمان سے نازل ہونا ختم نبوت کے منافی ہے۔ یہ چیز ختم نبوت کے منافی نہیں۔ اس لئے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے پہلے نبی بن چکے ہیں۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم

275

کے بعد نبی نہیں بنے۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا زندہ ہونا اور آسمان سے ان کا نازل ہونا ختم نبوت کے منافی تب ہوتا جب وہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد نبی بنتے۔ دوسرے الفاظ میں یوں سمجھیں کہ جو تعداد حضرات انبیاء علیہم السلام کی ﷲتعالیٰ کے علم میں مقدر تھی۔ وہ حضرت آدم علیہ السلام سے لے کر حضور صلی اللہ علیہ وسلم تک پوری ہوچکی۔ اب رحمتدوعالم صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد کوئی نیا نبی نہیں آئے گا۔ کیونکہ حضرات انبیاء علیہم السلام کی مقررہ تعداد پوری ہوچکی ہے۔ خان صاحب! اسے مثال سے یوں سمجھیں کہ ایک اسکول یا کالج کا پرنسپل اور یا مدرسہ کا کوئی مہتمم یہ اعلان کر دے اور چھاپ بھی دے کہ اس سال ہم نے اپنے اسکول یا کالج یا مدرسہ میں ایک سو طلبہ کا داخلہ کرنا ہے اور اعلان کے مطابق تعداد پوری ہو جائے۔ تو ظاہر بات ہے کہ اس تعداد میں آخری طالب علم اسے تصور کیا جائے گا۔ جو سب سے آخر میں داخل ہوا ہے۔ اب ان میں سے کوئی وقتی یا عارضی طور پر کہیں چلا جائے اور جس کام کے لئے گیا تھا وہ پورا کر کے واپس آئے۔ تو پرنسپل صاحب یا مہتمم صاحب اسے کلاس میں بٹھا دے تو اس کا بیٹھنا اور پڑھنا اس اعلان داخلہ کے منافی نہیں۔ بلکہ عین مطابق ہے۔ اب کوئی نیا داخلہ لینے کے لئے آتا ہے تو پرنسپل یا مہتمم صاحب اسے داخلہ نہیں دیتے اور یہ کہہ کر کہ ہماری تعداد اعلان داخلہ کے مطابق پوری ہوچکی ہے۔ اب کسی نئے طالب علم کو داخلہ نہیں ملے گا۔ اسے جواب دیتے ہیں اور واپس کر دیتے ہیں۔ وہ کہتا ہے کہ فلاں طالب علم کو تو بٹھا لیاگیا ہے۔ مجھے داخلہ کیوں نہیں دیا جاتا؟ تو پرنسپل صاحب اور مہتمم صاحب یہی جواب دیں گے کہ اس کا داخلہ تو پہلے سے ہوا ہوا ہے۔ نئے سرے سے اب داخل نہیں ہوا۔ اسی طرح حضرت عیسیٰ علیہ السلام بھی نبی پہلے سے بن چکے ہیں۔ وہ تشریف لائیں گے تو نئے نبی بن کر تشریف نہیں لائیں گے۔ بلکہ وہ سلسلۂ نبوت میں پہلے داخل ہوچکے ہیں۔ اسے مزید یوں سمجھیں کہ آپ تو ایک نبی حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی بات کرتے ہیں۔ ہمارا کیا بلکہ پوری امت مسلمہ کا یہ عقیدہ ہے اور قرآن وحدیث میں یہ موجود ہے کہ قیامت کے دن رحمت عالم صلی اللہ علیہ وسلم کی موجودگی میں تمام انبیاء علیہم السلام تشریف فرما ہوں گے۔ اس وقت بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم خاتم النّبیین ہوں گے۔ ہوں گے یا نہیں ہوں گے؟

سردار صاحب:

بالکل ہوں گے۔

276

مولانا اﷲ وسایا:

اس کے علاوہ ہر مسلمان جانتا ہے کہ شب معراج حضرات انبیاء علیہم السلام سب کے سب مسجد اقصیٰ میں جمع تھے اور سب سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ملاقات کرائی گئی۔ تب بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم خاتم النّبیین تھے۔ جب تمام انبیاء علیہم السلام کا موجود ہونا ختم نبوت کے منافی نہیں۔ تو ایک حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا تشریف لانا ختم نبوت کے کس طرح منافی ہوسکتا ہے؟ اور اس حقیقت کا کیسے انکار کیا جائے؟۔ جس پر قرآن پاک کے علاوہ بیسیوں احادیث مبارکہ موجود ہیں۔ جن میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے آنے کی بشارتیں دی ہیں اور بڑی وضاحت کے ساتھ اور تاکید کے ساتھ ان کا آنا بتلایا ہے۔ مثلاً بخاری شریف میں ہے: ’’عن ابی ہریرۃ رضی اللہ عنہ قال: قال رسول ﷲ صلی اللہ علیہ وسلم والذی نفسی بیدہ لیوشکن ان ینزل فیکم ابن مریم حکما عدلاً، فیکسر الصلیب، ویقتل الخنزیر، ویضع الحرب، ویفیض المال حتیٰ لا یقبلہ احد، حتیٰ تکون السجدۃ الواحدۃ خیرا من الدنیا وما فیہا، ثم یقول ابوہریرۃ رضی اللہ عنہ واقرؤا ان شئتم وان من اہل الکتاب الا لیؤمنن بہ قبل موتہ ویوم القیامۃ یکون علیہم شہیداً (بخاری ج۱ ص۴۹۰)‘‘ {حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت فرماتے ہیں کہ رسول ﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔ قسم ہے اس ذات پاک کی جس کے قبضہ میں میری جان ہے۔ یقینا وہ زمانہ قریب ہے جب تم میں ابن مریم علیہما السلام حاکم عادل ہونے کی حیثیت سے نازل ہوں گے۔ صلیب کو توڑ ڈالیں گے۔ خنزیر کو قتل کریں گے۔ جنگ کا خاتمہ کریں گے۔ مال ودولت کی ایسی فراوانی ہوگی کہ اسے کوئی قبول نہ کرے گا اور لوگوں کی نظر میں ایک سجدہ کی قدر وقیمت دنیا ومافیہا سے زیادہ ہوگی۔ پھر حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرمانے لگے۔ اگر تم چاہو تو بطور تائید قرآن پاک کی یہ آیت پڑھ لو۔ ’’وان من اہل الکتاب… الخ!‘‘ اہل کتاب میں سے کوئی ایسا نہیں ہوگا جو حضرت عیسیٰ علیہ السلام پر ان کی وفات سے پہلے ایمان نہ لے آئے اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام ان پر قیامت کے دن گواہ ہوں گے۔}

خان صاحب! غور کریں! حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے اس ارشاد مبارک میں قسم اٹھا کر فرمایا کہ ضرور بالضرور نازل ہوں گے عیسیٰ ابن مریم (علیہما السلام)

277

خان صاحب! ہمارا یہ عقیدہ ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے جو فرمایا وہ حق اور سچ ہے۔ زمین وآسمان تو ریزہ ریزہ ہوسکتے ہیں۔ مگر حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمایا ہوا جھوٹا نہیں ہوسکتا اور دوسری حدیث میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:’’کیف انتم اذا نزل ابن مریم فیکم وامامکم منکم‘‘ {کہ اس وقت تمہاری خوشی کا کیا عالم ہوگا جب عیسیٰ ابن مریم علیہما السلام تم میں نازل ہوگا اور تمہارا امام تم میں سے ہوگا۔}

اس حدیث پاک میں بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ فرمایا کہ عیسیٰ علیہ السلام نازل ہوں گے۔ غلام احمد قادیانی کا نام نہیں لیا، اور فرمایا ابن مریم علیہما السلام نازل ہوگا۔ یہ نہیں فرمایا کہ ابن چراغ بی بی نازل ہوگا، اور فرمایا تمہارا امام تم میں سے ہوگا۔ معلوم ہوا عیسیٰ ابن مریم علیہما السلام اور شخصیت ہیں اور امام مہدی علیہ الرضوان اور شخصیت۔ دو ایک نہیں ہوسکتے اور ایک دو نہیں ہوسکتا۔ جب کہ مرزاقادیانی یہ کہتا ہے کہ عیسیٰ مسیح(علیہ السلام) بھی میں ہوں اور مہدی(علیہ الرضوان) بھی میں۔

اور مرزاقادیانی نے بھی پہلے اپنی کتاب ’’براہین احمدیہ‘‘ (جو روحانی خزائن کی پہلی جلد میں ہے اور یہ پہلی جلد ۶۷۳ صفحات پر مشتمل ہے) کے ص۴۹۹ اور روحانی خزائن کے ص۵۹۳ پر حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی حیات اور نزول کا اقرار لکھا ہے۔ یہ دیکھیں! قرآن پاک کی آیت نقل کر کے لکھتا ہے: ’’ھو الذی ارسل رسولہ بالہدیٰ ودین الحق لیظہرہ علی الدین کلہ یہ آیت جسمانی اور سیاست ملکی کے طور پر حضرت مسیح علیہ السلام کے حق میں پیش گوئی ہے اور جس غلبۂ کاملہ دین اسلام کا وعدہ دیاگیا ہے وہ غلبہ مسیح علیہ السلام کے ذریعہ سے ظہور میں آئے گا اور جب حضرت مسیح علیہ السلام دوبارہ اس دنیا میں تشریف لائیں گے۔ تو ان کے ہاتھ سے دین اسلام جمیع آفاق اور اقطار میں پھیل جائے گا۔ لیکن اس عاجز پر ظاہر کیاگیا ہے کہ یہ خاکسار اپنی غربت اور انکسار اور توکل اور ایثار اور آیات اور انوار کے رو سے مسیح کی پہلی زندگی کا نمونہ ہے۔‘‘

(براہین احمدیہ ص۴۹۹، خزائن ج۱ ص۵۹۳)

اس عبارت میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے نزول کو بھی مرزاقادیانی نے لکھا اور ساتھ ہی اپنے آپ کو عاجز کہہ کر انکار بھی تدریجاً کر رہا ہے اور دوسری جگہ پر صاف انکار لکھا ہے۔ چنانچہ دیکھیں! یہ مرزاقادیانی کی کتاب ہے۔ جس کا نام ہے ’’مسیح ہندوستان میں‘‘ یہ

278

’’روحانی خزائن‘‘ کی جلد نمبر۱۵ میں ہے۔ یہ جلد۶۳۲ صفحات پر مشتمل ہے۔ یہ اس کتاب کا ’’دیباچہ‘‘ ہے۔ اس کے ص۱۴ پر لکھا ہے: ’’حضرت مسیح علیہ السلام … ایک سو بیس برس کی عمر پاکر سری نگر کشمیر میں فوت ہوگئے اور سری نگر محلہ خانیار میں ان کی قبر ہے۔‘‘

(مسیح ہندوستان میں ص۱۴، خزائن ج۱۵ ص۱۴)

خان صاحب! یہ دونوں کتابیں مرزاقادیانی کی ہیں۔ پہلی کتاب ’’براہین احمدیہ‘‘ جس کے بارے میں ایک جگہ لکھتا ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی تصدیق سے اس کا نام ’’قطبی‘‘ رکھا ہے۔ دیکھئے: ’’جناب خاتم الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کو خواب میں دیکھا اور اس وقت اس عاجز کے ہاتھ میں ایک دینی کتاب تھی کہ جو خود اس عاجز کی تالیف معلوم ہوتی تھی۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کتاب کو دیکھ کر عربی زبان میں پوچھا کہ تو نے اس کتاب کا کیا نام رکھا ہے؟ خاکسار نے عرض کیا کہ اس کا نام میں نے قطبی رکھا ہے۔‘‘

(براہین احمدیہ ص۲۴۹، خزائن ج۱ ص۲۷۵)

دوسری جگہ لکھتا ہے کہ یہ کتاب قرآن پاک کی تفسیر ہے۔ ملاحظہ فرمائیں: ’’پھر بعد اس کے ایک کتاب مجھ کو دی گئی۔ جس کی نسبت یہ بتلایا گیا کہ یہ تفسیر قرآن ہے۔ جس کو علی رضی اللہ عنہ نے تالیف کیا ہے اور اب علی رضی اللہ عنہ وہ تفسیر تجھ کو دیتا ہے۔‘‘

(براہین احمدیہ ص۵۰۴، خزائن ج۱ ص۵۹۹)

اس کتاب میں حضرت عیسیٰ ابن مریم علیہما السلام کی حیات اور ان کے نزول کا اقرار کیا۔ جب کہ دوسری کتاب ’’مسیح ہندوستان میں‘‘ لکھاکہ حضرت مسیح علیہ السلام فوت ہوگئے ہیں۔ خان صاحب! غور کریں۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے قسم کھا کر ارشاد فرمایا کہ عیسیٰ ابن مریم علیہما السلام نازل ہوںگے۔ یہ نہیں فرمایا کہ غلام احمد بن چراغ بی بی پیدا ہوگا۔ بالکل اس کے مقابلہ میں مرزاقادیانی کہتا ہے ؎

ابن مریم مرگیا حق کی قسم

(ازالہ اوہام ص۷۶۴، خزائن ج۳ ص۵۱۳)

خان صاحب! یہ تو نہیں ہوسکتا کہ بلایا کسی کو جائے اور چلا جاؤں میں۔ مثلاً بلایا جائے ’’عبدالعزیز‘‘ کو اور آجائے ’’امان اﷲ‘‘ اور ’’امان اﷲ‘‘ کہے کہ میں ’’عبدالعزیز‘‘ ہوں۔ تو ’’امان اﷲ‘‘ عبدالعزیز کیسے ہوسکتا ہے؟

279

سردار صاحب:

بالکل نہیںہوسکتا۔ یہ تو عقل کے بھی خلاف ہے۔

مولانا اﷲ وسایا:

خان صاحب! مزے کی بات آپ کو سناؤں۔ مرزاقادیانی سے جب پوچھا گیا کہ تو مسیح عیسیٰ بن مریم کیسے بنا؟ تو مرزاقادیانی نے کہا: ’’مریم کی طرح عیسیٰ کی روح مجھ میں نفخ کی گئی اور استعارہ کے رنگ میں مجھے حاملہ ٹھہرایا گیا اور آخر کئی مہینہ کے بعد جو دس مہینے سے زیادہ نہیں… مجھے مریم سے عیسیٰ بنایا گیا۔‘‘

(کشتی نوح ص۴۷، خزائن ج۱۹ ص۵۰)

کہ پہلے میں ’’مریم بنا‘‘ پھر مجھے حمل ہوا اور دس مہینے تک مجھے حمل رہا۔ پھر مریم سے عیسیٰ بنا۔ جب پوچھا گیا کہ مرزاقادیانی حاملہ کس طرح ہوا تو اس کا جواب مرزاقادیانی کے ایک مرید قاضی یار محمد نے اپنی کتاب ’’اسلامی قربانی‘‘ میں یوں دیا کہ: ’’جیسا کہ حضرت مسیح موعود (مرزاقادیانی) نے ایک موقعہ پر اپنی حالت یہ ظاہر فرمائی ہے کہ کشف کی حالت آپ پر اس طرح طاری ہوئی کہ گویا آپ عورت ہیں اور ﷲتعالیٰ نے رجولیت کی طاقت کا اظہار فرمایا تھا۔ سمجھنے والے کے لئے اشارہ کافی ہے۔‘‘

(اسلامی قربانی ص۱۲، مؤلفہ قاضی یار محمد)

اب اس عبارت کو غور سے دیکھیں اور اندازہ لگائیں کہ کس طرح مرزاقادیانی اور اس کا مرید ایک سانس میں متضاد باتیں کہہ جاتے ہیں۔ دیکھیں مثلاً ایک طرف مرزاقادیانی کے مرید نے مرزاقادیانی کو مسیح موعود بھی لکھا ہے اور دوسری طرف مرزاقادیانی کو عورت بھی کہا ہے اور مرزاقادیانی کے مرید نے مرزاقادیانی کے حوالے سے لکھا ہے اور پھر اپنے آپ کو عیسیٰ بھی کہتا ہے۔ جب کہ اس نے خود حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے دوبارہ دنیا میں آنے کا اقرار ’’براہین احمدیہ‘‘ میں لکھا ہے کہ: ’’جب حضرت مسیح علیہ السلام دوبارہ اس دنیا میں تشریف لائیں گے تو ان کے ہاتھ سے دین اسلام جمیع آفاق واقطار میں پھیل جائے گا۔‘‘

(حوالہ اوپر گذر چکا ہے)

اور ادھر مرزاقادیانی اپنے نہ ماننے والوں کو غیرمسلم بھی کہتا ہے۔ یہ دیکھیں اس کی کتاب ہے جس کا نام ’’تذکرہ‘‘ ہے۔ اس میں لکھتا ہے: ’’خداتعالیٰ نے میرے پر ظاہر کیا ہے کہ ہر ایک شخص جس کو میری دعوت پہنچی ہے اور اس نے مجھے قبول نہیں کیا۔ وہ مسلمان نہیں ہے اور خدا کے نزدیک قابل مؤاخذہ ہے۔‘‘

(تذکرہ مجموعہ الہامات ص۶۰۷)

مرزاقادیانی کی اس عبارت کا اعتبار کیا جائے پھر تو دنیا میں کوئی بھی مسلمان نہیں

280

رہتا۔ کیونکہ دنیا کا کوئی ایک مسلمان بھی ایسا نہیں جو مرزاقادیانی کو نبی مانتا ہو تو مرزاقادیانی کے نزدیک مسلمان سب کے سب کافر ہوئے اور پھر مرزائیوں کے دوگروہ ہیں۔

۱… قادیانی مرزائی۔

۲… لاہوری مرزائی۔

قادیانی مرزائی، لاہوری مرزائیوں کو کافر کہتے ہیں اور لاہوری مرزائی، قادیانی مرزائیوں کو کافر کہتے ہیں۔ اس سے نتیجہ یہ نکلا کہ دنیا میں ایک بھی مسلمان نہ رہا۔ جب دنیا کے سارے مسلمان کافر ہوگئے اور ایک بھی مسلمان نہ رہا تو پھر پوری دنیا میں اسلام کیسے پھیلا؟

سردار صاحب:

مولانا صاحب! لوگ میرے پاس ہر طرح کے آتے ہیں اور ہر رنگ میں آتے ہیں۔ کوئی کچھ کہتا ہے اور کوئی کچھ، کوئی سیاسی رنگ میں غرضیکہ اپنے اپنے مفادات لے کر آتے ہیں۔ مگر میں اس چیز کی نفی کرتا ہوں۔ ہمارے خاندان میں دو تین ٹاپک ایسے ہیں جن کا سیاست کے ساتھ تعلق ہے۔ اس لحاظ سے ہرقسم کا آدمی ہمارے پاس آتا ہے۔ اصل چیز یہ ہے جو آپ فرمارہے ہیں۔

مولانا اﷲ وسایا:

(نے سلسلۂ کلام جاری رکھتے ہوئے مزید فرمایا) خان صاحب سنیں!

۱… میری درخواست یہ ہے کہ ایمان اور اسلام بندے اور اس کے رب کے درمیان کا ایک معاملہ ہے۔ ممکن ہے کہ میں اپنی گفتگو کے دوران آپ کو دھوکہ دے دوں اور آپ دوران گفتگو مجھے دھوکہ دے لیں۔ لیکن بندہ اپنے رب کو تو دھوکہ نہیں دے سکتا۔ (ایک بات)

۲… دوسری بات یہ ہے کہ ایمان اور اسلام کی گارنٹی مولوی کے پاس یا اس کے ہاتھ میں نہیں ہے کہ مولوی صاحب سرٹیفکیٹ جاری کر دیں گے تو میں مسلمان ہو جاؤں گا۔ ورنہ نہیں۔ ایک آدمی غلط بیانی کر کے، جھوٹ بول کر مولوی صاحب سے سرٹیفکیٹ لے لے اور وہ عنداﷲ مؤمن نہ ہو اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ ایک آدمی ہے تو مؤمن۔ لیکن اس کے ایمان کا کسی کو بھی پتہ نہیں سوائے ﷲتعالیٰ کے اور کیا ایسا ہے بھی سہی؟ تو یاد رکھیں! صحیح بخاری شریف اور صحیح مسلم شریف کی ایک طویل روایت ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ: ’’حضرت انس رضی اللہ عنہ روایت فرماتے ہیں کہ رسول ﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جب قیامت کا دن ہوگا۔ سب اوّلین وآخرین میدان حشر میں جمع ہوں گے۔ لوگوں میں سخت اضطراب کی کیفیت ہوگی۔ پھر سبھی

281

لوگ حضرت آدم علیہ السلام کی خدمت میں حاضر ہوکر عرض کریں گے کہ اپنے رب سے ہماری سفارش کر دیں۔ تاکہ اس حالت سے ہماری رہائی ہو جائے۔ حضرت آدم علیہ السلام فرمائیں گے۔ میں اس مرتبہ کا نہیں ہوں۔ تم حضرت ابراہیم علیہ السلام کے پاس جاؤ۔ وہ خلیل اﷲ ہیں۔ لوگ حضرت ابراہیم علیہ السلام کے پاس جائیں گے اور شفاعت کا سوال ان کے آگے رکھیں گے۔ وہ بھی یہی فرمائیں گے کہ میں اس لائق نہیں۔ تم موسیٰ علیہ السلام کے پاس جاؤ۔ وہ کلیم اﷲ ہیں۔ (غرض حضرت موسیٰ علیہ السلام کے بعد حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے پاس پھر رحمت دوعالم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوں گے) سب سے آخر میں جب حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں پہنچیں گے اور آپ سے شفاعت کا سوال کریں گے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرمائیں گے۔ ہاں میں اس لائق ہوں۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم سربسجود ہوں گے اور ﷲتعالیٰ کی خاص حمد وثناء کریں گے۔ اس کے بعد ﷲتعالیٰ فرمائیں گے۔ اپنا سرسجدے سے اٹھاؤ۔ جو سفارش کرو قبول ہوگی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں میں عرض کروں گا۔ میری امت! میری امت! تو اﷲ تعالیٰ فرمائیں گے۔ جاؤ! جس کے دل میں جو کے دانہ کے برابر بھی نور ایمان ہو۔ اس کو نکال لو! تو میں جاؤں گا اور ایسا ہی گروں گا۔ غرضیکہ باربار حضور صلی اللہ علیہ وسلم ﷲتعالیٰ کی بارگاہ میں سفارش فرمائیں گے۔ آخر میں خود ﷲتعالیٰ اپنے چلو مبارک سے اہل ایمان کو جہنم سے نکال کر جنت میں بھیجیں گے اور یہ وہ لوگ ہوں گے جن کا ایمان صرف اور صرف ﷲتعالیٰ کو معلوم ہوگا اور کسی کو معلوم نہیں ہوگا۔ نہ انبیاء علیہم السلام کو، نہ صلحاء کو، نہ علماء کو، نہ شہداء کو، نہ قراء کو، نہ حفاظ کو، کسی کو بھی معلوم نہیں ہوگا اور ﷲتعالیٰ اپنے چلو سے اس وقت نکالیں گے۔ جب سب سفارش کر چکے ہوں گے۔‘‘

ایک عجیب قول

ہمارے ایک بزرگ تھے جن کا نام سید نفیس الحسینی شاہ صاحبؒ ہے۔ وہ جب یہ حدیث بیان فرماتے تو گریہ ان پر طاری ہوجاتا تھا اور فرماتے سب سے زیادہ خوش قسمت وہ ہے جو اﷲ کے چلو میں آجائے اور سب سے محروم القسمت وہ ہے جو اﷲ تعالیٰ کے چلو مبارک سے رہ جائے۔

دوسری بات یہ ہے کہ دنیا کچھ بھی کہے، کہتی رہے۔ دنیا تو خداتعالیٰ پر بھی تبصرہ کرتی ہے۔ اس لئے دنیا کی طرف دھیان نہیں دینا چاہئے۔

282

سردار صاحب:

جی بالکل! بے شک آپ نے صحیح فرمایا ہے۔ مولانا صاحب! ہمارا جو خاندان ہے ایک فیملی ہے۔ یہ سرداری نظام کے ماتحت ہے اور سیاست کے ساتھ تعلق رکھتا ہے۔ یہ بہت بڑی بدقسمتی اور بدبختی کی بات ہے۔ میں اﷲ کو حاضر وناظر جان کر کہتا ہوں کہ اگر بالفرض ہمارا خاندان مرزائیت میں نہ ہوتا۔ بلکہ مسلمان ہوتا تو وہ سیاست کی سوچ بھی نہ رکھتے۔ ایک پرسنٹ بھی اور نہ ہی انہیں سیاست کی کبھی ہوا لگتی۔ کیونکہ مرزائیت کی بنیاد ہی سیاست ہے۔ میربادشاہ میرے رشتہ داروں میں سے ہے۔ ایک مرتبہ وہ میرے بارے میں کہنے لگے کہ اگر یہ مسلمان ہونا چاہتا ہے تو بخوشی ہو جائے۔ مگرجس طرح مسلمان ہونے کے لئے لازمی ہے کہ وہ مرزاقادیانی پر لعنت بھیجے۔ تو ایسے یہ والدین پر بھی لعنت بھیجے۔ مولانا صاحب! میں یہ سمجھتا ہوں کہ یہ قرآن وحدیث کا مسئلہ نہیں کہ آدمی اپنے والدین پر لعنت بھیجے۔

مولانا اﷲ وسایا:

میں تھوڑی دیر کے لئے آپ کی بات کاٹنا چاہتا ہوں۔ (معذرت کے ساتھ) (خان صاحب: کوئی بات نہیں) (۱)ایمان اور اسلام آپ کے اور آپ کے رب کے درمیان ایک معاملہ ہے۔

سردار صاحب:

بالکل ٹھیک ہے۔

مولانا اﷲ وسایا:

(۲)دوسری بات یہ ہے کہ دنیا کیا کہتی ہے؟۔ کچھ سے کچھ کہے۔ آپ کا اور آپ کے رب کا معاملہ صحیح ہونا چاہئے۔ دنیا کو آپ کہیں کہ میں اسلام قبول کر رہا ہوں۔ قادیانیت کو چھوڑ رہا ہوں۔ لیکن آپ کا اندر ہی اندر یہ ارادہ اور نیت ہو کہ میں نے سیاست کرنی ہے۔ تو یہ بھی آپ کا اور آپ کے رب کا معاملہ ہے۔

سردار صاحب:

جی بالکل!

مولانا اﷲ وسایا:

دنیا کچھ کہے۔ لیکن آپ اس کے بالمقابل یہ کہیں کہ جب ہمارا معاملہ ان (قادیانیوں) سے جدا ہے۔ ساری زندگی مسلمان ان سے جدا، مسلمانوں کا کھانا پینا ان سے علیحدہ، اٹھنا بیٹھنا جدا، شادی، غمی ان سے جدا، مرنا جینا ان سے جدا، قبرستان ان سے جدا، جب ہر ہر چیز مسلمانوں کی ان سے علیحدہ اور جدا ہے تو دنیا جو مرضی کہتی رہے دس مرتبہ کہے۔ اگر آپ کا معاملہ اپنے رب کے ساتھ ٹھیک ہے۔ آپ کا ضمیر اور دل مطمئن ہے۔ پھر آپ کو کسی کی کوئی پرواہ نہیں کرنی چاہئے۔ آپ علی الاعلان کہیں کہ میں نے اسلام قبول کر لیا ہے۔

283

اب میرے تمام معاملات مسلمانوں کے ساتھ ہوں گے۔ پھر دنیا کی کوئی پرواہ نہ ہو۔ مرزائی کچھ سے کچھ کہیں۔ بھلا یہ کیوں نہ کہیں کہ اس نے صرف سیاست کی خاطر اسلام قبول کیا ہے۔ کہتے رہیں۔ آپ مطمئن رہیں۔ جب آپ نے اسلام قبول کر لیا اور اعلان کر دیا کہ مرزاقادیانی پر لعنت بھیج کر میں مسلمان ہونا چاہتا ہوں۔ آج کے بعد میرے تمام معاملات مسلمانوں کے ساتھ ہوں گے۔ مرزائیوں کے ساتھ نہیں ہوں گے تو پھر ہمارا فرض بنتا ہے کہ ہم آپ کا احترام کریں۔ ہم آپ کو اپنے سے اچھا سمجھیں۔

سردار صاحب:

جی بالکل آپ نے صحیح فرمایا۔

مولانا اﷲ وسایا:

خان صاحب! ہم جیسے مولویوں کے لئے بہت بڑی رکاوٹ ہے۔ اﷲ جانتا ہے رزق سامنے ہے۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی شریعت مطہرہ یہ کہتی ہے کہ اگر ایک آدمی پہلے سے مسلمان نہیں تھا۔ اب اس نے اسلام قبول کیا ہے۔ تو اسلام قبول کرنے کے بعد وہ ایسے ہے جیسے آج اپنی ماں کے پیٹ سے گناہوں سے پاک وصاف پیدا ہوا ہو۔

خان صاحب! دنیا مانتی ہے کہ ابوجہل کافر تھا، مسلمان نہیں تھا اور تھا حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا قریبی۔ لیکن اس کا بیٹا حضرت عکرمہ رضی اللہ عنہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کاصحابی رضی اللہ عنہ تھا۔ ﷲتعالیٰ نے انہیں اسلام قبول کرنے کی سعادت بخشی اور یہ بھی دنیا کو معلوم ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ کرام رضوان اللہ تعالی علیہم اجمعین کو یہ نصیحت فرمارکھی تھی کہ جس وقت حضرت عکرمہ رضی اللہ عنہ مجلس میں بیٹھے ہوں تو ابوجہل کی غیبت نہ کرنا۔ کیونکہ اس سے حضرت عکرمہ رضی اللہ عنہ کا دل دکھے گا۔ انہیں ایذاء پہنچے گی۔ اس لئے خان صاحب! ہمارا آپ سے یہ مطالبہ نہیں کہ آپ اپنے والدین پر لعنت بھیجیں۔

سردار صاحب:

جی بالکل! وہ تو ان کا اپنا معاملہ ہے اور یہ مسئلہ جدا ہے۔

مولانا اﷲ وسایا:

ذرا قطع کلامی معاف! ایک طرف ہے والدین پر لعنت بھیجنے کا مطالبہ اور یہ آپ جیسے آبرودار آدمی کے لئے تو بہت ہی مشکل ہے اور ایک طرف ہے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت کا تقاضا۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات اقدس پر تو ساری دنیا اور دنیا کے سارے ماں باپ بھی قربان۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات اقدس اور محبت کے مقابلہ میں اس کی کوئی حیثیت نہیں اور ایک طرف ہے قادیان کا دہقان۔ وہ یہ کہے کہ میں محمد رسول اﷲ ہوں۔ (خان صاحب اور حاضرین: استغفراﷲ!، استغفراﷲ!)

284

خان صاحب! تم جیسے بہادر آدمی کے لئے تو بڑی دلیری اور جرأت کے ساتھ اعلان کردینا چاہئے کہ میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی ختم نبوت پر ایمان رکھتا ہوں اور مرزاقادیانی نے چونکہ جھوٹی نبوت کا دعویٰ کیا ہے اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد دعویٰ نبوت کفر ہے۔ اس لئے میں مرزاقادیانی کی جھوٹی نبوت پر لعنت بھیجتا ہوں۔ نہ میرا اس سے کوئی تعلق اور نہ اس کا میرے ساتھ کوئی تعلق اور آج کے بعد نہ میرا مرزائیوں کے ساتھ کوئی تعلق ہے اور نہ ان کا میرے ساتھ کوئی تعلق اور ویسے بھی ﷲتعالیٰ نے آپ کو خاندانی وجاہت بخشی ہے۔ اس سے آپ فائدہ اٹھائیں۔ لہٰذا اس وقت میری آپ سے صرف ایک ہی درخواست ہے۔ وہ یہ کہ آپ سیاسی مفادات کی خاطر اسلام قبول نہ کریں۔ کسی کے کہنے کی وجہ سے نہیں۔ بلکہ اپنے دل ودماغ کو حاضر کرکے اچھی طرح سوچ وبچار کر کے ایسا بہادرانہ اور جرأتمندانہ فیصلہ کرو کہ مثال قائم ہو جائے کہ کسی جوان آدمی نے یہ فیصلہ کیا ہے اور کیا تھا اور امید ہے کہ آپ کی برکت سے ﷲتعالیٰ سارے خاندان کو ہدایت عطاء فرمائیں گے اور آنے والی نسل بھی انشاء اﷲ راہ راست پر رہے گی۔ اس کا سارا ثواب انشاء اﷲ جناب کو ملے گا۔ اس کے بارے میں آپ سے جتنا ہوسکے۔ سوچ سمجھ کر جلدی اور صحیح فیصلہ کریں۔

سردار صاحب:

مولانا صاحب! میں تو اس وقت یہ سمجھتا ہوں کہ جتنی بھی میری فیملی ہے۔ میرا خاندان ہے اگر ﷲتعالیٰ مجھے ہدایت دے دے تو میں کتنے آدمی لے کر آؤں گا؟ انشاء اﷲ! سارا خاندان مسلمان کراؤں گا۔ اﷲ جانتا ہے۔ کیا میرا دل یہ گوارا کر سکتا ہے کہ میرے دوست، میرے عزیز، میرے بہن بھائی، میراکنبہ قبیلہ، میرا خاندان اور میرے رشتے داروں میں سے کوئی جہنم میں چلا جائے؟ مجھے یہ گوارا نہیں کہ میں تو مسلمان ہو جاؤں اور میرا خاندان جہنم میں جائے۔ اس واسطے میں ان کے لئے بھی کوشش کروں گا کہ وہ بھی مسلمان ہو جائیں۔

دوسری میری درخواست یہ ہے کہ اﷲ گواہ ہے کہ جیسے میرا معاملہ ہے کہ میرے پاس یوں تو ہر قسم کے لوگ، ہر طبقے کے لوگ، سیاسی سماجی لائن کے آتے ہیں۔ اسی طرح میرے باقی رشتے داروں کا معاملہ ہے کہ ان کے پاس بھی کوئی ایسا آدمی نہیں آیا۔ جس نے ختم نبوت کا پیغام دیا ہو اور آکر یہ کہا ہو کہ آؤ مل بیٹھتے ہیں اور مذاکرات کرتے ہیں۔ تمہیں سمجھاتے ہیں۔ آپ کے جواشکلات ہیں وہ دور کرتے ہیں۔ جہاں تک میری معلومات ہیں

285

کوئی ایسا آدمی نہیں آیا۔ لیکن اﷲ تعالیٰ نے مجھ پر کرم فرمایا کہ میرے یہ دوست تشریف لائے اور یہ کہا کہ اس لعنت (مرزائیت) کو چھوڑ دو اور مسلمان ہو جاؤ۔ اسی طرح میری گھروالی گورچانی سرداروں کی بیٹی ہے۔ اس کا بھی میرے ساتھ یہی جھگڑا چلتا رہتا ہے کہ تو مسلمان ہو جا۔ میرے کہنے کا مقصد یہ ہے کہ جیسے مجھے والدین کی طرف سے کوٹھیاں، بنگلے، ڈیرے اور زمین وغیرہ وراثت میں ملی ہیں۔ اسی طرح یہ مرزائیت بھی مجھے خاندانی طور پر وراثت میں ملی ہے۔ آپ دعافرمائیں کہ ﷲتعالیٰ مجھے صراط مستقیم دکھا دے۔ راہ راست پر لے آئے اور میں مسلمان ہو جاؤں۔

مولانا اﷲ وسایا:

ہمارے ایک بزرگ تھے۔ حضرت مولانا محمد یوسف لدھیانوی شہیدc، ایک مرتبہ وہ سبق پڑھانے کے لئے تشریف لائے۔ تو ایک شاگرد نے سوال کیا؟ کہ میری ایک آدمی کے ساتھ قرابت داری ہے۔ لیکن وہ قادیانی ہے۔ اس کا والد فوت ہوگیا ہے۔ وہ بھی قادیانی تھا تو کیا میں اس کے پاس تعزیت کے سلسلہ میں جاسکتا ہوں؟ اور اس سے تعزیت کر سکتا ہوں؟ حضرت لدھیانویc نے فرمایا کہ بھائی! تو تو جائے تعزیت کے لئے اور لوگوں سے کہتے رہو قادیانیت سے بچو! یہ بہت بڑا فتنہ ہے۔ آپ کی تبلیغ کچھ ہو اور عمل کچھ۔ تو آپ کی تبلیغ کا کچھ بھی اثر نہ ہوگا۔ اس نے پھر سوال کیا اور پوچھا کہ کسی کو پتہ نہیں چلنے دوں گا۔ حضرتؒ نے فرمایا۔ یہ تو غلط بات ہے۔ پھر پوچھا کہ چلو یہ ارشاد فرمائیں کہ ازروئے شریعت کیا حکم ہے؟ کیا شریعت اس کی اجازت دیتی ہے؟ تو حضرتؒ نے فرمایا۔ اگر یہ پوچھتے ہو کہ شریعت کیا کہتی ہے تو پھر سنو! شریعت کا تقاضا یہ ہے کہ آپ اس کے پاس جائیں۔ لیکن جا کر آپ اس کے لئے بخشش کی دعا نہ کریں۔ البتہ اتنا کہہ سکتے ہیں کہ دیکھ! تیرا والد فوت ہوگیا ہے۔ یقینا اس کا تجھے صدمہ ہے۔ لیکن تجھے ایک صدمہ ہے۔ مجھے دو صدمے ہیں۔ ایک تو یہ کہ میرے دوست کا والد ہے۔ دوسرا یہ کہ حالت کفر میں مرا ہے۔ کاش! وہ حالت اسلام میں فوت ہوتا تو ہمیں بہت خوشی ہوتی۔ بس یہ کہہ کر آپ واپس ہوجائیں نہ کچھ کھائیں نہ پئیں۔ صرف اتنی گنجائش ہے اس سے زیادہ کی گنجائش نہیں۔

خان صاحب! پبلک کو خوشی اس وقت ہوگی کہ آپ بھرے مجمع میں آئیں۔ اجتماع رکھیں۔ اس میں علی الاعلان منبر پر کھڑے ہو کر کہیں کہ میں مسلمان ہوں۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی ختم

286

نبوت کا اقرار کرتا ہوں۔ مرزاقادیانی کی جھوٹی نبوت پر ہزاربار لعنت بھیجتا ہوں۔ تب ہے مزہ!

باقی رہے آپ کے سیاست میں مخالف؟ وہ کچھ کہیں۔ اسے سیاسی رنگ دیں۔ آپ ان کی طرف توجہ نہ دیں۔ آپ ﷲتعالیٰ کی طرف متوجہ رہیں اور اس کا شکر ادا کریں کہ اس نے آپ کو اس کام کی توفیق بخشی اور یہ کہ آپ کا یہ فیصلہ دنیا کے لئے ہے یا آخرت کے لئے؟۔ اﷲ اسے بہتر جانتے ہیں۔ آپ کا یہ اسلام قبول کرنا صرف اور صرف اس کی رضا کے لئے ہو۔ ﷲتعالیٰ آپ کو اس کی توفیق بخشیں۔ بھائی عزیز! ملک محمد جعفر خان اور غلام جیلانی برق والی کتابیں لے آؤ۔ (چنانچہ کتابیں لے آئے یہ دونوں کتابیں مجلس کی مطبوعہ کتب میں سے احتساب قادیانیت کی جلد نمبر بتیس(۳۲) میں ہیں)

مولانا اﷲ وسایا:

فرمایا: یہ دو کتابیں ہیں۔ (۱)’’حرف محرمانہ‘‘ یہ ڈاکٹر غلام جیلانی برق کی کتاب ہے۔ انہوں نے یہ کتاب قادیانیت کے رد میں لکھی ہے۔ خود اگرچہ ’’انکار حدیث‘‘ کی طرف مائل تھے۔ مگر قادیانیت پر خوب گرفت کی ہے۔ جو حق کا متلاشی ہو وہ اس کتاب کا ضرور مطالعہ کرے۔ (۲)یہ دوسری کتاب ہے۔ اس کا نام ’’احمدیہ تحریک‘‘ ہے۔ اس کے مصنف ملک محمد جعفر خان ہیں۔ یہ شخص پہلے قادیانی تھا۔ پھر ﷲتعالیٰ نے اسے توفیق بخشی اور مسلمان ہوا۔ باقی اس کی پوری فیملی قادیانی تھی۔ انہیں قادیانیت سمجھانے کے لئے یہ کتاب لکھی۔ اس میں ایک خط بھی ہے۔ جس میں اپنے عزیزوں کو بالخصوص نوجوانوں کو قادیانیت ترک کرنے کی بھرپور کوشش کی ہے اور یہ بھی کہا ہے کہ مذہب اسلام جب کامل اور مکمل مذہب ہے پھر کون سی کمی رہ گئی تھی جس کی تلافی کے لئے مرزاقادیانی آیا اور آکر اس نے وہ کمی پوری کر دی ہو؟۔ اگر بالفرض یہ نہ آتا تو امت کو کون سا نقصان پہنچتا؟ یا جب نہیں آیا تھا تو امت نے کون سی کمی محسوس کی؟۔ اس نکتۂ نظر سے اس نے یہ کتاب لکھی ہے۔ یہ دونوں کتابیں آپ کے لئے ہدیہ ہیں۔ قادیانیت کو سمجھنے کے لئے یہ دونوں اہم ہیں۔ جناب ان کا مطالعہ فرمائیں اور کچھ فائدہ نہ دیں گی تو انشاء اﷲ! اتمام حجت کا ضرور کام دیں گی۔

خان صاحب! اگر قادیانی دوست اتنا بھی سوچ لیں۔ بحث ومباحثے اور مناظرے وغیرہ سے ہٹ کر تھوڑا اپنے دل ودماغ سے سوچ لیں کہ مرزاغلام احمد قادیانی کے آنے کے بعد ہمیں کیا ملا ہے؟ وہ کون سی کمی تھی جو مرزاقادیانی کے آنے کے بعد پوری ہوئی؟ تو مسلمان ہو جائیں گے۔ انشاء اﷲ!

287

سردار صاحب:

بالکل جی بالکل! کچھ نہیں ملا۔

مولانا اﷲ وسایا:

(۲)اگر قادیانی حضرات اتنا بھی سوچ لیں کہ مناظرے ہوں یا مباحثے، پنچائیت ہو یا عدالت۔ غرضیکہ کسی بھی جگہ یا کسی مقام پر جب کبھی بھی اور جہاں کہیں بھی مسلمانوں کے ساتھ قادیانیوں کا مناظرہ ہوا ہو یا بات چیت۔ ہر جگہ پر حتیٰ کہ پاکستان سے لے کر مکہ مکرمہ کی رابطۂ عالم اسلامی تک کوئی عدالت ایسی نہیں جس نے مسلمانوں کے حق میں فیصلہ نہ دیا ہو۔ سب عدالتوں نے مسلمانوں کے حق میں فیصلہ دیا ہے۔ قادیانیوں کے حق میں نہیں۔ وہ عدالت چاہے مسلمانوں کی ہے یا غیرمسلموں کی۔

خان صاحب! مجھے یاد ہے میں ’’جوہانسبرگ‘‘ کی اس عدالت میں موجود تھا۔ جہاں قادیانیوں کے خلاف عدالت میں ایک کیس چلا۔ ہوا یوں کہ ایک قادیانی نے جا کر عدالت میں مقدمہ دائر کر دیا کہ اگر میں کل کو مرجاؤں تو مجھے مسلمانوں سے یہ اندیشہ ہے کہ وہ مجھے اپنے قبرستان میں دفن نہیں ہونے دیں گے اور اپنی مسجد میں مجھے نماز پڑھنے کے لئے نہیں آنے دیں گے اور میں مسلمان ہوں۔ مرزاغلام احمد قادیانی کو مانتا ہوں۔ مگر ہوں مسلمان۔ لہٰذا مسلمانوں کو چاہئے کہ مجھے مسلمان تصور گردانتے ہوئے اپنی مساجد میں آنے دیں۔ اگر میں مرجاؤں تو مجھے مسلمانوں کے قبرستان میں دفن کیا جائے۔ عجیب بات یہ کہ اس قادیانی نے اپنا وکیل ایک یہودی کو مقرر کیا ہوا تھا۔ جبکہ مسلمانوں نے اپنا وکیل ایک عیسائی مقرر کیا۔ کیس چلا۔ جج ایک عیسائی عورت تھی۔ کیس اس عیسائی عورت (جو جج مقررہ تھی) کے ہاں پہنچا۔ اس نے کیس کی سماعت کی۔ سماعت کے بعد اس نے کہا کہ جو مسلم اتھارٹیز ہیں یہ تو ان کا کام ہے۔ ہمارا کام یہ نہیں۔ یہ کہہ کر اس نے کیس خارج کر دیا۔ چنانچہ دونوں فریق اپیل کے لئے چلے گئے۔ اپیل کے بعد جج نے بلایا اور کہا ادھر آؤ؟۔ بحث ومباحثہ ہوئی۔ بحث میں ہمارے وکیل نے مرزاقادیانی کا یہ حوالہ پیش کیا کہ مرزاقادیانی نے اپنی کتاب ’’انجام آتھم‘‘ میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے متعلق لکھا ہے کہ: ’’آپ کا خاندان بھی نہایت پاک اور مطہر ہے۔ تین دادیاں اور نانیاں آپ کی زناکار اور کسبی تھیں۔ جن کے خون سے آپ کا وجود ظہور پذیر ہوا۔‘‘

(ضمیمہ انجام آتھم ص۷ حاشیہ، خزائن ج۱۱ ص۲۹۱)

جج صاحب نے حوالہ پڑھ کر کتاب بند کر کے رکھ دی اور ہمارے (مسلمانوں

288

کے) وکیل سے مخاطب ہوکر کہا کہ تم نے یہ حوالہ اس لئے پیش کیا ہے کہ میں ایک عیسائی مذہب کا آدمی ہوں اور یہ حوالہ دکھا کر میرے جذبات برانگیختہ کرنا چاہتے ہو۔ ہمارا وکیل بہت بڑا ذہین تھا۔ اس نے کہا: جج صاحب بات یوں نہیں۔ بات یہ ہے کہ اصول یہ رہا ہے کہ جو بھی ﷲتعالیٰ کا سچا نبی آیا۔ آتے ہی اس نے سابقہ نبی کی تائید اور حمایت کی۔ سابقہ نبی کی کسی بھی نبی نے مخالفت نہیں کی۔ میں نے یہ حوالہ اس غرض سے پیش نہیں کیا۔ جو آپ سمجھ رہے ہیں۔ بلکہ میں نے تو یہ حوالہ اس لئے پیش کیا ہے کہ اگر بالفرض مرزاغلام احمد قادیانی بھی واقعتا ﷲتعالیٰ کا سچا نبی ہوتا تو حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی نانیوں اور دادیوں کے متعلق ایسی گھنائونی بات کبھی نہ لکھتا۔ بلکہ ان کی تائید اور حمایت کرتا۔ تو مرزاغلام احمد قادیانی کا اﷲ کے ایک سچے نبی کے متعلق ایسی زبان استعمال کرنا۔ یہ دلیل ہے۔ اس بات کی کہ مرزاقادیانی سچا نبی نہیں تھا۔ یہ سن کر جج نے کہا ہاں! واقعی میں بھی اس بات سے اتفاق کرتا ہوں۔ مہینہ بھر یہ کیس چلتا رہا۔ بالآخر اس نے یہ فیصلہ دیا کہ میں مقامی عدالت کی اس بات سے اتفاق کرتا ہوں کہ ہمیں یہ حق حاصل نہیں کہ ہم یہ فیصلہ دیں۔ کون مسلمان ہے اور کون کافر؟ لیکن دوسری بات سے میں اتفاق نہیں کرتا کہ ساری دنیا کی مسلم اتھارٹیز کہیں، قومی اسمبلی کہے، مسلم ممالک کہیں، سینٹ کہے، مسلم عدالتیں کہیں، رابطۂ عالم اسلامی کہے، تمام علماء کہیں، دار الافتاء کا فتویٰ کہے کہ قادیانی گروپ ہماری سوسائٹی کا حصہ نہیں اور ہماری عدالت بزور کہے کہ نہیں جی یہ تمہارا حصہ ہے۔ عدالت کو یہ حق حاصل نہیں۔ لہٰذا جو فیصلہ مسلمانوں اور مسلم عدالتوں کا ہے۔ وہی فیصلہ اس عدالت کا ہے کہ نہ تو تم مسلمانوں کی مسجد میں نماز پڑھ سکتے ہو اور نہ مسلمانوں کے قبرستان میں تم دفن ہوسکتے ہو۔ خان صاحب! پوری دنیا کی کسی ایک بھی عدالت کا فیصلہ ان کے حق میں نہیں اور نہ کسی اسمبلی کا فیصلہ ان کے حق میں ہے۔ ان تمام تر فیصلہ جات کے بعد کم از کم قادیانیوں کا پڑھا لکھا طبقہ کل بروز قیامت یہ نہیں کہہ سکتا کہ ہمیں معلوم نہیں تھا۔ بالکل یہ نہیں کہہ سکتا۔ اس لئے کہ ان پر ہر لحاظ سے اتمام حجت ہوچکا ہے کہ شریفو! آخر تم میں عقل تو موجود تھی پھر کیا وجہ؟ کہ ساری دنیا ایک طرف تھی اور تم تنہا مرزاقادیانی کے پیچھے لگ کر ایک طرف تھے؟

سردار صاحب:

بس مولانا صاحب! ﷲتعالیٰ سے میرے لئے دعا کریں۔ ﷲتعالیٰ مجھے اور میرے خاندان کو ہدایت بخشے۔

289

مولانا اﷲ وسایا:

میں آپ کی دعاؤں کا محتاج ہوں اور ہر مسلمان دوسرے مسلمان کی دعا کا محتاج ہے۔ بہرحال آپ میرے لئے دعا کریں۔ میں آپ کے لئے دعا گو رہوں گا۔ ﷲتعالیٰ آپ کو بہت ہی عزتوں سے نوازے۔

سردار صاحب:

میں جو کچھ سمجھتا ہوں یا اب جو کچھ سمجھا ہے وہ یہ ہے کہ: ’’لا الہ الا اﷲ محمد رسول اﷲ‘‘ میں سرور کائنات صلی اللہ علیہ وسلم کو خاتم النّبیین سمجھتا ہوں اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد جو کوئی بھی جھوٹی نبوت کا دعویٰ کرے۔ خواہ وہ مرزاقادیانی ہو یا کوئی اور؟ میں اس پر ہزاربار لعنت بھیجتا ہوں۔ یہ میرا عقیدہ اور میرا ایمان ہے۔ انشاء اﷲ! اب پوری دنیا سنے گی۔

مولانا اﷲ وسایا:

بس خان صاحب! جہاں جہاں تم یہ اعلان کرتے جاؤ گے خود بخود پبلک تمہاری طرف مشہور محاورہ: ’’آوازۂ خلق نقارۂ خدا‘‘ کے تحت مائل ہوتی جائے گی۔ بس ایک مرتبہ ہمت کریں اور جرأتمندانہ اور بہادرانہ فیصلہ کریں۔

سردار صاحب:

آپ کی دعاؤں کی ضرورت ہے۔ بس آپ میرے لئے دعا فرمائیں۔

مولانا اﷲ وسایا:

خان صاحب! بہت بڑی زیادتی ہے۔ بہت بڑی زیادتی ہے۔ میں نے تو جان بوجھ کر بہت ساری چیزیں آپ کی خدمت میں پیش نہیں کیں۔ مثلاً یہ کہ مرزاقادیانی نے جب ’’نصرت جہاں بیگم‘‘ سے شادی کی، رات گزاری، صبح اٹھا تو کہنے لگا مجھے ﷲتعالیٰ نے الہام کیا ہے: ’’اذکر نعمتی رأیت خدیجتی‘‘ (کہ تو میرا شکر ادا کر کہ تو نے خدیجہ کو پالیا)

(اربعین نمبر۲ ص۳۶،۴۳، خزائن ج۱۷ ص۳۸۵)

کیا مطلب کہ یہ ’’نصرت جہاں‘‘ تیرے گھر نہیں آئی یہ خدیجہ ہے۔ کتنی بڑی زیادتی ہے۔

حاضرین:

استغفراﷲ! استغفراﷲ!

پھر حاشیہ میں لکھتا ہے: ’’مسیح موعود کو خاندان سادات سے تعلق دامادی ہوگا۔ کیونکہ مسیح موعود کا تعلق جس سے وعدہ ’’یولد لہ‘‘ کے موافق صالح اور طیب اولاد پیدا ہو، اعلیٰ اور طیب خاندان سے چاہئے اور وہ خاندان سادات ہے اور فقرہ ’’خدیجتی‘‘ سے مراد اولاد خدیجہ یعنی بنی فاطمہ ہے۔‘‘

(اربعین نمبر۲ ص۳۶،۴۳، خزائن ج۱۷ ص۳۸۵)

اور مثلاً یہ کہا کہ:

290

۱… ’’حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا نے کشفی حالت میں اپنی ران پر میرا سر رکھا۔‘‘

۲… ’’حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا نے نہایت محبت اور شفقت سے مادر مہربان کی طرح اس عاجز کا سر اپنی ران پر رکھ لیا۔‘‘

(ایک غلطی کا ازالہ ص۹، خزائن ج۱۸ ص۲۱۳)

جب مرزاقادیانی سے پوچھا گیا کہ تونے یہ کیوں کہا تو اس نے کہا کہ میں بیٹا ہوں اس لئے کہا۔ خان صاحب! کیا کوئی مسلمان اپنی ماں کے متعلق ایسی گفتگو کر سکتا ہے؟ یا کسی سے سن سکتا ہے؟ چہ جائیکہ حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا کے متعلق ہو؟ گفتگو کرنا تو دور کی بات۔ سننا بھی گوارا نہیں کرتا۔ کس قدر زیادتی کی بات ہے کہ ایک قادیان کا دھقان حضرت فاطمہ سیدۃ النساء رضی اللہ عنہا کے متعلق ایسی گستاخی اور بکواس کر رہا ہے۔

اسی طرح مرزاقادیانی کا ایک مرید جس کا نام محمد حسین ہے۔ وہ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ اور حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کے متعلق معاذ اﷲ! یہ لکھتا ہے کہ: ’’ابوبکر رضی اللہ عنہ وعمر رضی اللہ عنہ کیا تھے۔ وہ تو مرزاقادیانی کے جوتوں کے تسمے کھولنے کے برابر بھی نہ تھے۔‘‘

(قادیانی ماہنامہ ’’المہدی‘‘ بابت ماہ جنوری، فروری ۱۹۱۵ء، ص۵۷ )

اور ایک جگہ مرزاقادیانی لکھتا ہے ؎

  1. ابن مریم کے ذکر کو چھوڑو

    اس سے بہتر غلام احمد ہے

(دافع البلاء ص۲۰، خزائن ج۱۸ ص۲۴۰)

اور حضرت امام حسینb کے متعلق کہتا ہے ؎

  1. کربلائے است سیر ہر آنم

    صد حسین است درگریبانم

(کہ میری ہر آن کربلا میں سیر ہوتی ہے اور میرے گریبان میں سو حسین ہیں)

(نزول المسیح ص۹۹، خزائن ج۱۸ ص۴۷۷)

اس شعر کی مزید تشریح مرزاقادیانی کا بیٹا مرزامحمود یوں لکھتا ہے: ’’حضرت مسیح موعود (مرزامردود۔ ناقل!) نے فرمایا کہ میرے گریبان میں سو حسین ہیں۔ لوگ اس کے یہ معنی سمجھتے ہیں کہ حضرت مسیح موعود نے فرمایا کہ میں سو حسین کے برابر ہوں۔ لیکن میں کہتا ہوں

291

کہ اس سے بڑھ کر اس کا مفہوم یہ ہے کہ سو حسین کی قربانی کے برابر میری ہر گھڑی کی قربانی ہے۔ وہ شخص جو اہل دنیا کی فکروں میں گھلا جاتا ہے۔ جو ایسے وقت میں کھڑا ہوتا ہے۔ جب کہ ہر طرف تاریکی اور ظلمت پھیلی ہوئی ہے اور اسلام کا نام مٹ رہا ہے۔ وہ دن رات دنیا کا غم کھاتا ہوا اسلام کو قائم کرنے کے لئے کھڑا ہوتا ہے۔ کون کہہ سکتا ہے کہ اس کی قربانی سو حسین کے برابر نہ تھی۔ یہ تو ادنیٰ سوال ہے کہ حضرت مسیح موعود امام حسین کے برابر تھے یا ادنیٰ؟‘‘

(خطبۂ محمود مندرجہ اخبار ’’الفضل‘‘ قادیان مورخہ ۲۶؍جنوری ۱۹۲۶ء)

مرزامحمود یہ کہہ رہا ہے کہ اس شعر کا ایک معنی تو پبلک سمجھتی اور کرتی ہے۔ مگر میرے نزدیک اس کا مفہوم یہ ہے کہ: ’’سو حسین کی قربانی کے برابر میری (مرزاقادیانی کی) ہر گھڑی کی قربانی ہے۔‘‘ کیا مطلب؟ کہ حضرت امام حسینb کا مقام میرے (مرزاقادیانی کے) مقام سے بہت کم ہے۔ استغفراﷲ! استغفراﷲ!

آگے مرزاقادیانی لکھتا ہے ؎

  1. آدمم نیز احمد مختار

    دربرم جامہ ہمہ ابرار

(نزول المسیح ص۹۹، خزائن ج۱۸ ص۴۷۷)

(میں آدم ہوں نیز احمد مختار ہوں۔ میں تمام نیکوں کے لباس میں ہوں)

  1. آنچہ داد است ہر نبی راجام

    داد آں جام را مرابتمام

(نزول المسیح ص۹۹، خزائن ج۱۸ ص۴۷۷)

(خدا نے جو پیالے ہر نبی کو دئیے ہیں ان تمام پیالوں کا مجموعہ مجھے دے دیا ہے)

  1. آنچہ من بشنوم زوحی خدا

    بخدا پاک دانمش زخطا

(نزول المسیح ص۹۹، خزائن ج۱۸ ص۴۷۷)

(جو کچھ میں خدا کی وحی سے سنتا ہوں۔ خدا کی قسم اسے خطا سے پاک سمجھتا ہوں)

292
  1. ہمچو قرآن منزہ اش دانم

    از خطاہا ہمیں ایمانم

(نزول المسیح ص۹۹، خزائن ج۱۸ ص۴۷۷)

(میرا ایمان ہے کہ میری وحی قرآن کی طرح تمام غلطیوں سے مبرا ہے)

  1. انبیاء گرچہ بودہ اند بسے

    من بعرفان نہ کمترم زکسے

(نزول المسیح ص۹۹، خزائن ج۱۸ ص۴۷۷)

(اگرچہ دنیا میں بہت سے نبی ہوئے ہیں۔ میں معرفت میں ان نبیوں میں سے کسی سے کم نہیں ہوں)

  1. آں یقینے کہ بود عیسیٰ را

    برکلامے کہ شد بر والقاء

(نزول المسیح ص۹۹، خزائن ج۱۸ ص۴۷۷)

(وہ یقین جو حضرت عیسیٰ کو اس کلام پر تھا۔ جو ان پر نازل ہوا)

  1. وآں یقین کلیم برتورات

    وآن یقین ہائے سید السادات

(نزول المسیح ص۹۹، خزائن ج۱۸ ص۴۷۷)

(وہ یقین جو حضرت موسیٰ کو تورات پر تھا۔ وہ یقین جو سید المرسلین(صلی اللہ علیہ وسلم) کو قرآن پر تھا)

  1. کم نیم زاں ہمہ بروئے یقین

    ہر کہ گوید دروغ ہست لعین

(نزول المسیح ص۱۰۰، خزائن ج۱۸ ص۴۷۸)

(وہی یقین مجھے اپنی وحی پر ہے اور اس یقین میں، میں کسی نبی سے کم نہیں ہوں۔ جو جھوٹ کہتا ہے وہ لعین ہے)

293
  1. زندہ شد ہر نبی بآمدنم

    ہر رسولے نہاں بہ پیرہنم

(نزول المسیح ص۱۰۰، خزائن ج۱۸ ص۴۷۸)

(میری آمد سے ہر نبی زندہ ہوگیا۔ ہر رسول میرے پیرہن (کرتے) میں چھپا ہوا ہے)

حاضرین! معاذ اﷲ! استغفراﷲ!

کتنا واضح کفر ہے اور یہ بھرا ہوا ہے، اس کی کتابوں میں، توخان صاحب! جان کر میں ان باتوں کی طرف نہیں آیا۔

اچھا! یہ دیکھیں مرزاقادیانی کہتا ہے کہ جو آدمی تین مرتبہ میری کتابوں کو نہیں پڑھتا۔ اس کے ایمان میں شبہ ہے۔ یہ دیکھو ’’سیرۃ المہدی‘‘ کتاب جو مرزاقادیانی کے بیٹے مرزا بشیر احمد نے لکھی ہے اور یہ قادیان کا چھپا ہوا نسخہ ہے۔ اس کی دوسری جلد میں ہے: ’’مولوی شیر علی صاحب نے مجھ سے بیان کیا کہ حضرت صاحب فرمایا کرتے تھے کہ ہماری جماعت کے آدمیوں کو چاہئے کہ کم از کم تین دفعہ ہماری کتابوں کا مطالعہ کریں اور فرماتے تھے کہ جو ہماری کتب کا مطالعہ نہیں کرتا۔ اس کے ایمان کے متعلق مجھے شبہ ہے۔‘‘

(سیرت المہدی ج۲ ص۷۸، روایت نمبر۴۰۷)

اور یہ نیا ایڈیشن ہے جو ’’چناب نگر‘‘ کا چھپا ہوا ہے۔ اس نئے ایڈیشن میں اسی روایت کو تبدیل کر کے پیش کیا ہے۔ پہلے ایڈیشن میں تھا کہ جو تین مرتبہ میری کتابیں نہیں پڑھتا۔ مجھے اس کے ایمان کے متعلق شبہ ہے۔ اب موجودہ ایڈیشن میں ہے کہ: ’’جو تین دفعہ میری کتابیں نہیں پڑھتا اس میں ایک قسم کا کبر پایا جاتا ہے۔‘‘

(سیرت المہدی ص۳۶۵، روایت ۴۱۰)

ہماری جب قادیانیوں سے گفتگو یا مناظرہ ہوتا ہے تو ہم قادیانیوں سے پوچھا کرتے ہیں کہ تم نے مرزاقادیانی کی کتب کو تین مرتبہ پڑھا ہے یا نہیں؟ تو وہ بہت گھبراتے اور پریشان ہوتے ہیں۔ جب ہم یہ حوالہ انہیں دکھاتے ہیں۔ اس لئے انہوں نے اس اعتراض سے بچنے کے لئے عبارت ہی بدل ڈالی ہے۔ انہیں یہ فکر نہیں کہ کسی نہ کسی طرح ہم

294

مرزاقادیانی سے اپنی جان چھڑالیں۔ ان کی بدقسمتی دیکھو! ہم سے جان چھڑانے کے لئے عبارت ہی بدل ڈالی۔ خان صاحب! عدالت کا جج فیصلہ سناتے وقت کبھی شہادت اور گواہی سے غلط نتیجہ تو اخذ کر سکتا ہے کہ چلو اگلی کسی عدالت میں چلا جائے گا۔ لیکن یہ نہیں سنا ہوگا کہ آج کسی جج نے غلط حوالہ کوڈ کیا ہو کہ کتاب میں کچھ اور ہو اور جج کچھ اور لکھ دے۔ کبھی بھی کسی جج نے یہ کام نہیں کیا۔ چہ جائیکہ جھوٹا نبی اور اس کی ذریت ایسے کرے۔

خان صاحب! حدیث پاک کی ایک کتاب ہے۔ ’’کنزالعمال‘‘ اس میں یہ حدیث پاک حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ کے حوالہ سے موجود ہے کہ:’’سمعت رسول ﷲ صلی اللہ علیہ وسلم یقول: ینزل اخی عیسیٰ ابن مریم من السماء‘‘ {کہ میں نے رسول ﷲ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ میرے بھائی عیسیٰ ابن مریم علیہما السلام آسمان سے نازل ہوں گے۔}

(کنزالعمال ج۱۴ ص۶۱۹، حدیث نمبر۳۹۷۲۶)

مرزاقادیانی کا حال دیکھیں! اس نے یہی حدیث اس طرح نقل کی ہے اور حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ کے حوالے سے نقل کی ہے: ’’ینزل اخی عیسیٰ ابن مریم علیٰ جبل افیق‘‘

(حمامتہ البشریٰ ص۱۴۶، خزائن ج۷ ص۳۱۲)

اس حدیث پاک میں ’’من السماء‘‘ کا لفظ کھا گیا ہے۔ سرے سے لکھا ہی نہیں۔ اندازہ لگائیں جو کام ہائیکورٹ کا جج نہیں کرتا وہ (جھوٹے) نبی (مرزاقادیانی) نے کردیا۔

حاضرین:

خان صاحب! بس اب ہمت کریں اور اپنا تعلق ان حضرات سے رکھیں۔ آمد ورفت، ملاقاتیں، کبھی آپ آجائیں کبھی، حضرت کو دعوت دیں۔ اسی میں آپ کی کامیابی ہے۔ حضرت بس! باتیں بہت ہوچکی ہیں اور نہایت قیمتی۔ اب بس کریں۔ عصر کی اذان بھی ہورہی ہے۔

سردار صاحب:

بس حضرت! میرے لئے دعا فرمائیں۔ ﷲتعالیٰ مجھے استقامت عطاء فرمائے اور اسی پر مرتے دم تک قائم ودائم رکھے۔

مولانا اﷲ وسایا:

ﷲتعالیٰ آپ کو بہت ہی عزتوں سے نوازے، ﷲتعالیٰ آپ کی حفاظت فرمائے۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی شفاعت آپ کو نصیب ہو۔ خان صاحب! حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے

295

فرمایا: ’’الناس معادن کمعادن الذہب والفضۃ، خیارہم فی الجاہلیۃ خیارہم فی الاسلام (مشکوٰۃ ص۳۲)‘‘ {کہ لوگ معدنیات یعنی کانوں کی طرح ہیں۔ جیسے سونے اور چاندی کی کانیں ہوتی ہیں۔ ان میں جو زمانۂ جاہلیت میں قوی ہوتے ہیں وہ زمانۂ اسلام میں بھی قوی ہوتے ہیں۔}

اس طرح کافرمان مبارک حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کے بارے میں بھی ہے۔ جس کا مطلب یہ ہے کہ حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ زمانۂ جاہلیت میں بھی اپنے قبیلہ اور قوم کے سردار تھے۔ اسلام لانے کے بعد بھی ﷲتعالیٰ نے انہیں یہ وجاہت بخشی، اس حدیث پاک کا بھی یہی مطلب ہے کہ جو لوگ حالت کفر میں کمزور اور ڈھیلے ہوتے ہیں تو وہ حالت ایمان میں بھی کمزور اور ڈھیلے ہوتے ہیں اور جو لوگ حالت کفر میں قوی ہوتے ہیں وہ حالت ایمان میں بھی قوی۔ غرضیکہ ایمان واسلام اپنی جگہ۔ لیکن جو خاندانی جواہر ہیں ان کی تو بات ہی کیا ہے اور جو لوگ حالت کفر میں بہادر تھے۔ جیسے حضرت عمرؓ۔ اگر وہ اسلام میں آئے تو اسی بہادری کے ساتھ آئے۔

خان صاحب! اﷲ پاک نے آپ کو خاندانی وجاہت بخشی ہے اور پھر نسل درنسل نامعلوم یہ وجاہت اور یہ سلسلہ کہاں تک جائے گا؟۔ ﷲتعالیٰ ہر مسلمان کے ایمان کی حفاظت فرمائے اور آپ کو بھی ایمان واسلام پر استقامت نصیب فرمائے۔ آمین، ثم آمین!

اس مجلس کا اختتام دعائے خیر پر ہوا اور نماز عصر ادا کی گئی۔ ﷲتعالیٰ سردار صاحب موصوف اور ان کے خاندان کو ایمان واسلام والی زندگی نصیب فرمائیں۔ آمین، ثم آمین!

وصلی اﷲ تعالیٰ علی النبی الحبیب خاتم النّبیین سیدنا محمد وآلہ

واصحابہ اجمعین!

ض … ض … ض

296