۴… ’’مگر مناسب ہے کہ اس قدر ضرور ظاہر کردیں کہ ہم میں اور دوسری
تمام جماعت مسلمانوں میں نزاع لفظی ہے۔ جن علامات الٰہیہ کا نام ہم
وحی رکھتے ہیں۔ انہی کو علماء اسلام اپنے عرف میں الہام بھی کہہ دیا
کرتے ہیں۔‘‘
(براہین احمدیہ حصہ سوم ص۲۲۲، خزائن ج۱ ص۲۴۶ حاشیہ)
۵… ’’انہیں معنوں کر کے تو علماء وارث الانبیاء کہلاتے ہیں اور باطنی
علم کا ورثہ ان کو نہیں مل سکتا تو پھر وہ وارث کیونکر اور کیسے
ہوئے۔‘‘
(ایضاً ص۲۳۱، خزائن ج۱ص۲۵۶حاشیہ)
۶… ’’کیا آنحضرت ﷺ نے فرمایا نہیں کہ اس امت میں محدث ہوں گے۔‘‘
(ایضاً ص۲۳۱، خزائن ج۱ص۲۵۶حاشیہ)
۷… ’’ان ضلالتوں کا نہایت پر زورہونا اورزمانہ کا نہایت فاسد ہونا
اور منکروں کا نہایت مکار ہونا اور غافلوں کا نہایت خوابیدہ ہونا
اورمخالفوں کا اشد فی الکفر ہونا اس بات کے لئے بہت ہی تقاضا کرتا ہے
کہ ایسے شخص کا علم لدنی مشابہ بالرسل ہو اور یہی لوگ ہیں جن کا نام
احادیث میں امثل اور قرآن شریف میں صدیق آیاہے۔‘‘
(براہین احمدیہ حصہ سوم ۲۳۳،خزائن ج۱ص۲۵۷حاشیہ)
۸… ’’اوران لوگوں کا زمانہ ظہور پیغمبروں کے زمانہ بعث سے بہت ہی
مشابہ ہوتا ہے۔ یعنی جیسے پیغمبر اس وقت آتے رہے ہیں کہ جب دنیا میں
سخت درجے پر گمراہی اور غفلت پھیلتی رہی ہے۔ ایسا ہی یہ لوگ بھی اس
وقت آتے ہیں کہ جب ہر طرف گمراہی کا سخت غلبہ ہوتا ہے اورحق سے ہنسی
کی جاتی ہے۔‘‘
(براہین احمدیہ حصہ سوم ص۲۳۳، خزائن ج۱ص۲۵۸حاشیہ)
۹… ’’یااحمد بارک اللہ فیک‘‘
(براہین احمدیہ حصہ سوم ص۲۳۸، خزائن ج۱ص۲۶۵حاشیہ درحاشیہ)
’’ای اول تائب الی اللہ بامر اللہ فی ہذاالزمان… قل جاء الحق وزہق
الباطل… قل ان افتریہ فعلی اجرامی ھوالذی ارسل رسولہ بالھدی‘‘
(براہین احمدیہ حصہ سوم ص۲۳۹، خزائن ج۱ص۲۶۵)
’’یا احمد فاضت الرحمۃ علی شفتیک انک باعیننا یرفع اللہ ذکرک‘‘
(براہین احمدیہ حصہ سوم ص۲۴۱،خزائن ج۱ص۲۶۷)
’’یاایھاالمدثرقم فانذروربک فکبّر… انی رافعک الّی والقیت علیک
محبۃ منی‘‘
(براہین احمدیہ حصہ سوم ص۲۴۲،خزائن ج۱ص۲۶۷)
ترجمہ: