Top banner image

قادیانیوں کے بارے میں

وفاقی شرعی عدالت کا

فیصلہ

(مترجم)جناب محمد بشیر ایم اے

وفاقی شرعی عدالت ، اسلام آباد کی اجازت سے اردو دان حضرات کی خدمت میں فاضل عدالت کے قادیانیوں کے بارے میں مکمل فیصلے کا اردو ترجمہ مترجم جناب محمد بشیر صاحب پیش کیاجارہاہے اس میں پیش آمدہ حوالہ جات قادیانی کتب کے جدید ایڈیشنوں کے لگا دئیے ہیں تاکہ تلاش تقابل میں آسانی ہو اور اس سے استفادہ زیادہ سہل ہو جائے

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ

نام کتاب قادیانیوں کے بارے میں وفاقی شرعی عدالت کا فیصلہ
مسٹر جسٹس فخر عالم (چیف جسٹس)
مسٹر جسٹس چوہدری محمد صدیق
مسٹر جسٹس مولانا ملک غلام علی
مسٹر جسٹس مولانا عبد القدوس قاسمی
مترجم: جناب محمد بشیر ایم اے
صفحات: ۱۵۲
مطبع ناژر زین پریس لاہور
2

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْم

عرض ناشر

وفاقی شرعی عدالت ، اسلام آباد کی اجازت سے اردو دان حضرات کی خدمت میں فاضل عدالت کے قادیانیوں کے بارے میں مکمل فیصلے کا اردو ترجمہ مترجم جناب محمد بشیر صاحب پیش کیاجارہاہے۔ ہم نے اپنی حد تک اس کی صحت کا پورا اہتمام کیاہے۔ تاہم معزز قارئین سے گزارش ہے کہ وہ اگر کوئی اصلاح طلب چیز دیکھیں تو ہمیں مطلع فرمائیں تاکہ آئندہ اس کی اصلاح کی جاسکے۔ انشاء اللہ!

اس میں پیش آمدہ حوالہ جات قادیانی کتب کے جدید ایڈیشنوں کے لگا دئیے ہیں تاکہ تلاش تقابل میں آسانی ہو اور اس سے استفادہ زیادہ سہل ہو جائے۔ اسے محض تبلیغ کے نقطۂ نظر سے شائع کیاجارہا ہے۔

مرکزی ناظم نشرواشاعت

عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت، صدر دفتر ملتان (پاکستان)

وفاقی شرعی عدالت میں

(اصل دائرۂ کار)

  1. مسٹر جسٹس فخر عالم

    چیف جسٹس

  2. مسٹر جسٹس چوہدری محمد صدیق

  3. مسٹر جسٹس مولانا ملک غلام علی

  4. مسٹر جسٹس مولانا عبدالقدوس قاسمی

شریعت پٹیشن نمبر۱۷؍آئی ۱۹۸۴ء

  1. مجیب الرحمن

    درخواست دہندگان

  2. اور تین دیگر

بنام

  1. وفاقی حکومت پاکستان

    مدعی علیہ

  2. بذریعہ اٹارنی جنرل آف پاکستان

3

شریعت پٹیشن نمبر۲؍ایل ۱۹۸۴ء

  1. کیپٹن (ریٹائرڈ )عبدالواجد

    درخواست دہندگان

  2. اورایک دوسرا

بنام

  1. اٹارنی جنرل،اسلامی جمہوریہ پاکستان

    مدعی علیہ

  2. برائے درخواست دہندگان:

    مسٹر مجیب الرحمن ایڈووکیٹ

  3. (شریعت پٹیشن نمبر۱۷؍آئی ۱۹۸۴ء)

    (یکے از درخواست دہندگان)

  4. برائے درخواست دہندگان:

    کیپٹن (ر) عبدالواجد

  5. (شریعت پٹیشن نمبر۲؍ایل ۱۹۸۴ء میں)

    (یکے از درخواست دہندگان)

  6. منجانب مدعی علیہ:

    حاجی شیخ غیاث محمد ایڈووکیٹ

  7. مسٹر ایم ۔بی۔زمان ایڈووکیٹ

  8. ڈاکٹر سید ریاض الحسن گیلانی

ایڈووکیٹ

تاریخ سماعت:

  1. ۱۵؍۷؍۱۹۸۴ء

    ۱۶؍۷؍۱۹۸۴ء

  2. ۱۷؍۷؍۱۹۸۴ء

    ۱۸؍۷؍۱۹۸۴ء

  3. ۱۹؍۷؍۱۹۸۴ء

    ۲۲؍۷؍۱۹۸۴ء

  4. ۲۳؍۷؍۱۹۸۴ء

    ۲۴؍۷؍۱۹۸۴ء

  5. ۲۵؍۷؍۱۹۸۴ء

    ۲۶؍۷؍۱۹۸۴ء

  6. ۲۹؍۷؍۱۹۸۴ء

    ۳۰؍۷؍۱۹۸۴ء

  7. ۳۱؍۷؍۱۹۸۴ء

    ۱؍۸؍۱۹۸۴ء

  8. ۲؍۸؍۱۹۸۴ء

    ۵؍۸؍۱۹۸۴ء

  9. ۶؍۸؍۱۹۸۴ء

    ۷؍۸؍۱۹۸۴ء

  10. ۹؍۸؍۱۹۸۴ء

    ۱۱؍۸؍۱۹۸۴ء

  11. ۱۲؍۸؍۱۹۸۴ء

  12. تاریخ فیصلہ:

  13. ۱۲؍۸؍۱۹۸۴ء

4

فیصلہ!

فخر عالم چیف جسٹس

آرڈی ننس نمبر۲۰ مجریہ ۱۹۸۴ء جو قادیانی گروہ، لاہوری گروہ اور احمدیوں کی اسلام دشمن سرگرمیوں کی (ممانعت اور سزا) کا آرڈی ننس مجریہ ۱۹۸۴ء کہلاتا ہے۔ گزٹ آف پاکستان کی (غیر معمولی) اشاعت مورخہ ۲۶؍اپریل ۱۹۸۴ء میں شائع ہواتھا۔ اس آرڈی ننس نے مجموعہ تعزیرات پاکستان (ایکٹ نمبر۴۵ مجریہ ۱۸۶۰ء) مجموعہ ضابطہ فوجداری مجریہ ۱۸۹۸ء (ایکٹ نمبر۵مجریہ ۱۸۹۸ء)اور پریس اینڈ پبلی کیشنز آرڈی ننس مجریہ۱۹۶۳ء کی بعض دفعات میں ترمیم کر دی۔

۲… قادیانی لوگ جو قادیان کے مرزاغلام احمد(جنہیں بعد میں مرزا صاحب کہا جائے گا) کے پیرو کار ہیں، دو گروہوں میں منقسم ہیں۔ تاہم دونوںگروہ احمدیوں کے نام سے پکارے جاتے ہیں۔

۳… ایک گروہ جو عموماً قادیانی گروہ کے نام سے معروف ہے۔ یہ عقیدہ رکھتا ہے کہ مرزاصاحب مہدی معہود،مسیح موعود اورپیغمبر تھے۔ لاہوری گروہ کہتاہے کہ وہ مجدد، مہدی معہود اور مسیح موعود تھے۔

۴… دو درخواستیں، ایک قادیانی گروہ کے چند ارکان کی جانب سے اور دوسری لاہوری گروہ کے دو ارکان کی جانب سے بمطابق نمبر۱۷؍آئی۱۹۸۴ء اور۲؍ایل ۱۹۸۴ء دائرکی گئی تھیں۔ جن میں قرآن کریم اور رسول اللہ ﷺ کی سنت کی رو سے آرڈی ننس کے مندرجات کو چیلنج کیا گیا تھا۔

۵… اس مسئلے کی مفصل سماعت چا ر ہفتوں سے زیادہ مدت تک جاری رہی۔ مسٹر مجیب الرحمن جو شریعت پٹیشن نمبر۱۷؍آئی۱۸۸۴ء کے درخواست دہندگان میں سے ایک ہیں اور کیپٹن (ریٹائرڈ) عبدالواجد، جو شریعت پٹیشن نمبر۲؍ایل ۱۹۸۴ء کے درخواست دہندگان میں سے ہیں، نے درخواست دہندگان کے حق میں دلائل دیئے۔ جبکہ شیخ غیاث محمد ایڈووکیٹ اورڈاکٹر ریاض الحسن گیلانی نے حکومت کے حق میں دلائل دیئے۔ عدالت نے اس مسئلے سے متعلق امور میں اپنی مدد کے لئے مندرجہ ذیل مشیران قانونی اورمختلف مکاتب فکر سے تعلق رکھنے والے علماء کرام کو دعوت دی جنہوں نے مسئلہ پرمفصل بحث کی:

5
  1. (۱)… قاضی مجیب الرحمن

    (۲)… پروفیسر محمود احمد غازی

  2. (۳)… مولانا صدر الدین الرفاعی

    (۴)… علامہ تاج الدین حیدری

  3. (۵)… پروفیسر محمد اشرف

    (۶)… علامہ مرزامحمدیوسف

  4. (۷)… پروفیسر مولانا طاہر القادری

۶… ۱۹۷۳ء کے دستور کی دفعہ ۱۰۶ اور دفعہ ۲۶۰ میں دوسرے دستوری ترمیمی ایکٹ مجریہ ۱۹۷۴ء (ایکٹ نمبر۴۹مجریہ ۱۹۷۴ء) کے ذریعے ترمیم کردی گئی تھی۔ دفعہ ۲۶۰ میں ذیلی دفعہ (۳) کا اضافہ کردیاگیاتھا اور ایسے تمام اشخاص کو غیر مسلم قرار دیاگیاتھا جو کہ خاتم النّبیین حضرت محمد ﷺ کی قطعی اور غیر مشروط ختم نبوت کا عقیدہ نہیں رکھتے یا جو حضرت محمدﷺ کے بعد کسی بھی مفہوم یا لفظ میں نبی ہونے کا دعویٰ کریں یا جو کسی بھی ایسے مدعی کو نبی یامذہبی مصلح مانیں۔ دوسروں کے علاوہ اس تعریف میں قادیانیوں کے دونوں گروہوں کو شامل کرتے ہوئے انہیںغیر مسلم قرار دیا گیاتھا۔

۷… دفعہ ۱۰۶ صوبائی اسمبلیوں کی تشکیل سے بحث کرتے ہوئے ان ارکان کی تعداد اور اوصاف کو واضح کرتی ہے۔ جن کا اسمبلیوں کے لئے چناؤ ہوگا۔ نیز ان اسمبلیوں میں غیر مسلموںیعنی عیسائیوں،ہندوؤں،سکھوں،بدھوں اورپارسیوں کے لئے مخصوص اضافی نشستوں کا تعین کرتی ہے۔

دوسری دستوری ترمیم مجریہ ۱۹۷۴ء کی رو سے ان گروہوں میں قادیانی گروہ اور لاہوری گروہ کے اشخاص(جو خود کو احمدی کہتے ہیں)کا اضافہ کیاگیاتھا۔

۸… یوں دفعہ ۱۰۶ کو دفعہ ۲۶۰ کی ذیلی دفعہ ۳ کے اعلان میں عملی شکل دی گئی اور ہر دو عقیدوں کے احمدیوں کو دوسری اقلیتوں کے مساوی حیثیت دے دی گئی۔

۹… دستور کی ان دفعات کے علی الرغم احمدی، خود کو مسلمان اور اپنے مذہب کو اسلام کا نام دینے پرقائم رہے اورانہوں نے بڑی بے حسی کے ساتھ مسلمانان پاکستان کی پریشانی کو نظر انداز کئے گئے۔ ان کی جانب سے متذکرہ دستوری دفعات کی خلاف ورزی اورمرزاصاحب کی بیوی، افراد خانہ، ساتھیوں اورجانشینوں کے لئے علی الترتیب ام المومنین(مومنوں کی ماں) اہل بیت(رسول پاکﷺ کے خاندان کے افراد) صحابہ (ساتھی)،خلفاء راشدین(راست باز خلفاء)، امیر المومنین،خلیفۃ المومنین، خلیفۃ المسلمینایسے القاب جو عموماً مسلمان حکمرانوں اور

6

پاک باز خلفاء ہی کے لئے استعمال ہوتے ہیں اور جو صرف مسلمانوں کے لئے مخصوص ہیں اورکبھی بھی غیر مسلموں کے استعمال میں نہیں آئےایسے القاب، اوصاف اور الفاظ کا مسلسل استعمال اور ان کی بے حرمتی جاری رہی۔اسی وجہ سے مقدس شخصیات کے بارے میں توہین آمیز کلمات کے استعمال کو مجموعہ تعزیرات پاکستان( ایکٹ ۴۵مجریہ ۱۸۶۰ء) کی دفعہ ۲۹۸ اے(جس کا اضافہ حال ہی میں آرڈی ننس نمبر۴۴مجریہ ۱۹۸۰ء کے تحت کیاگیاہے)کے مطابق فوجداری اورقابل سزا جرم قرار دیا گیا ہے۔ یہ دفعہ یوں ہے:

۲۹۸۔اے

’’مقدس شخصیات کے بارے میںہتک آمیز کلمات وغیرہ کا استعمال۔ جو کوئی بھی زبانی یا تحریری الفاظ میں یا کسی بھی ذریعہ اظہار سے خواہ براہ راست یا بالواسطہ یا کسی چوٹ یا اشارے یا کنائے سے رسول پاکﷺ کی کسی بیوی(ام المومنین) یا افراد خاندان(اہل بیت) یا آپﷺ کے راست باز خلفاء (خلفاء راشدین) یا ساتھیوں(صحابہؓ)میں سے کسی کے مقدس نام کی توہین کرتاہے۔ وہ کسی بھی قسم کی قید جو تین سال تک ہوسکتی ہے یا جرمانے یا دونوں سزاؤں کا مستوجب ہوگا۔‘‘

۱۰… یہ دفعہ عمومی الفاظ میں ادا ہوئی تھی اورصرف احمدیوں پر لاگو نہیں کی گئی تھی۔ احمدیوں کے اصرار کی وجہ سے مسلمانوں میں پائے جانے والے احتجاج کے نتیجے میں زیربحث آرڈی ننس جاری کیاگیا۔ جس نے مجموعہ تعزیرات پاکستان(ایکٹ نمبر۴۵مجریہ ۱۸۶۰ء) میں دفعہ ۲۹۸۔بی اور دفعہ ۲۹۸۔سی کااضافہ کیا اورمجموعہ ضابطہ فوجداری مجریہ ۱۸۹۸ء (ایکٹ نمبر۵ مجریہ ۱۸۹۸ء ) اور ویسٹ پاکستان پریس اینڈ پبلی کیشنز آرڈی ننس مجریہ ۱۹۶۳ء میں ذیلی ترامیم کیں۔

دفعہ ۲۹۸۔بی اور دفعہ ۲۹۸۔سی یوں ہیں:

۲۹۸۔بی

مقدس شخصیات اورمقامات کے لئے مخصوص القاب، اوصاف اورالفاظ کا غلط استعمال:

۱… قادیانی گروہ یا لاہوری گروہ(جو خود کو احمدی یاکسی بھی دوسرے نام سے پکارتے ہیں) کا کوئی شخص جو خواہ تحریری یا زبانی الفاظ کے ذریعے یا کسی بھی اظہار بیان سے:

الف… رسول پاک حضرت محمدﷺ کے کسی خلیفہ یا صحابی کے علاوہ کسی شخص کو امیر المومنین، خلیفۃالمومنین، خلیفۃ المسلمین،صحابی یا رضی اللہ عنہ کے القاب سے ذکرکرتایامخاطب کرتاہے۔

7

ب… رسول پاک حضرت محمدﷺ کی کسی بیوی کے سوا کسی شخص کو ام المومنین کے نام سے ذکر کرتا یامخاطب کرتاہے۔

ج… رسول پاک حضرت محمد ﷺ کے افراد خاندان کے سواکسی دوسرے شخص کو اہل بیت کے نام سے یاد کرتا یامخاطب کرتاہے،یا

د… اپنی عبادت گاہ کومسجد کے نام سے موسوم کرتا،ذکرکرتایا پکارتاہے۔

وہ کسی بھی قسم کی قید جو تین سال تک ہو سکتی ہے،کی سزا پائے گا اورجرمانے کا بھی مستحق ٹھہرے گا۔

۲… قادیانی گروہ یا لاہوری گروہ (جوخود کو احمدی یاکسی دوسرے نام سے پکارتے ہیں)میں سے جو شخص بھی زبانی یا تحریری کلمات سے یا کسی محسوس اظہار سے نماز کے لئے بلانے کے طریقے یا شکل،جو اس کے اپنے عقیدے کے مطابق مروجہ اذان ہو،کاذکرکرتاہے یا مسلمانوں میں مروجہ اذان پڑھتاہے،وہ کسی بھی قسم کی قیدجو تین سال تک ہوسکتی ہے،کی سزا پائے گا اورجرمانے کا بھی مستحق ٹھہرے گا۔

۲۹۸۔سی

قادیانی گروہ وغیرہ کے اشخاص جو خود کو مسلمان پکاریں یا اپنے عقیدے کی تبلیغ یا تشہیر کریں۔

قادیانی گروہ یا لاہوری گروہ(جو اپنے آپ کو احمدی یا کسی بھی دوسرے نام سے پکارتے ہیں) میں سے جو شخص اپنے آپ کو براہ راست یا بالواسطہ مسلمان ظاہر کرے گا یا اپنے عقیدے کو اسلام کے نام سے ذکرکرے گا یا پکارے گا یا اپنے عقیدے کی تبلیغ یا تشہیر کرے گا یا دوسروں کو اپنا عقیدہ قبول کرنے کی دعوت دے گا۔یا خواہ زبانی یاتحریری کلمات سے یا محسوس تعبیرات یاکسی بھی طریقے سے مسلمانوں کے مذہبی جذبات کی بے حرمتی کرتاہے۔ وہ کسی بھی قسم کی قید جو تین سال تک ہو سکتی ہے، کی سزا پائے گا اورجرمانے کا بھی مستحق ٹھہرے گا۔

۱۱… ان دفعات نے احمدی کے لئے ان امور کو فوجداری جرم قرار دیا ہے:

الف… خود کو براہ راست یا بالواسطہ مسلمان ظاہر کرنا یا اپنے مذہب کو اسلام کا نام دینا۔

ب… اپنے عقیدے کی تبلیغ یا تشہیر کرنا یا دوسروں کو اپنا عقیدہ قبول کرنے کی دعوت دینا یا کسی انداز سے خواہ وہ کیسا ہو،مسلمانوں کے مذہبی جذبات کی توہین کرنا۔

8

ج… لوگوں کو نماز کے لئے اذان پڑھ کر بلانایانماز کے لئے بلانے کے اپنے طریقے یا شکل کو اذان کا نام دینا۔

د… اپنی عبادت گاہ کو مسجد کے نام سے ذکر کرنا یاپکارنا۔

ھ… رسول پاک حضرت محمدﷺ کے کسی خلیفہ یاصحابی کے علاوہ کسی دوسرے شخص کو امیر المومنین، خلیفۃ المسلمین، خلیفۃ المومنین، صحابی یا رضی اللہ عنہ، رسول پاک ﷺ کی کسی بیوی کے سوا کسی دوسرے شخص کو ام المومنین کے نام سے پکارنا، یا رسول پاکﷺ کے افراد خاندان کے سوا کسی شخص کو اہل بیت کا نام دینا۔

۱۲… وہ بڑی وجہ جس کی خاطر یہ درخواستیں دائر کی گئی ہیں اور جس پر مختلف زاویوں سے استدلال کیاگیا ہے، یہ ہے کہ زیربحث آرڈی ننس سے شریعت کی خلاف ورزی ہوئی ہے اور احمدیوں کے اپنے مذہب کو ماننے ،اس پرعمل پیرا ہونے، اس کی تبلیغ یا تشہیر کرنے کے دستوری حق کی خلاف ورزی ہوئی ہے۔

۱۳… یہ امر قابل توجہ ہے کہ دستوری دفعات کے باوجود درخواست دہندگان اپنے دلائل میں خود کو مسلمان اور اپنے عقیدے کو اسلام کہنے پرمصر رہے اورانہوں نے یہ مؤقف اختیار کئے رکھا کہ انہیں غیر مسلم قرار دینے کا فیصلہ کسی مذہبی ادارے کی جانب سے نہیں بلکہ اس وقت کی حکمران جماعت کی جانب سے کیاگیاتھا۔ درخواست دہندگان پر یہ حقیقت واضح کر دی گئی تھی کہ دستوری ترمیم تمام پارٹیوں کے اتفاق رائے سے منظو ر ہوئی تھی اورپارلیمنٹ نے یہ فیصلہ تقریباً عدالتی طریقے سے پرفریقین، جن میں قادیانی جماعت کے سربراہ بھی شامل ہیں، کے دلائل سننے کے بعد دیا تھا۔

۱۴… مسٹر مجیب الرحمن نے کہا کہ چونکہ عدالت کو دستور کی دفعات کے خلاف فیصلہ صادر کرنے کا اختیار حاصل نہیں۔ اس لئے وہ یہ نکتہ اٹھانا نہیں چاہتے کہ آیا قادیانی مسلمان ہیں یا غیر مسلم۔ تاہم وہ اس امر پرزور دیتے رہے کہ چونکہ قادیانی غیر مسلم نہیں ہیں بلکہ اقتدار اعلیٰ نے انہیں ایسا قرار دیاتھا۔

۱۵… بعد میں انہوں نے واضح کیا کہ اگر سرکاری وکیل نے یہ استدلال کیا کہ قادیانی، شریعت کی رو سے بھی غیر مسلم ہیں تو وہ اس استدلال کی مفصل تردید کرنا پسند کریں گے۔

ہم نے وفاقی حکومت کے وکیل مسٹر ریاض الحسن گیلانی سے استفسار کیا کہ کیا وہ صرف

9

اس مفروضے پر کہ قادیانیوں کو آئینی طورپر غیر مسلم قرار دے دیاگیا ہے۔ قائم رہیں گے یا اس سے ہٹ کرشریعت کی روشنی میں ان کی حیثیت پراستدلا ل کریںگے۔ انہوں نے مؤخرالذکر مفروضے کو پسند کیا۔ اس پر مسٹر مجیب الرحمن نے گزارش کی کہ وہ قرآن اورسنت کی روشنی میں قادیانیوں کی حیثیت کی توضیح پردلائل دیںگے۔

مسٹر مجیب الرحمن کا احمدیوں کے مسلمان ہونے کے مفروضے پر استدلال عدالت کو اس مسئلہ پر محاکمہ کرنے کی دعوت ہے۔یوں عدالت کو اس نکتہ پر اپنا فیصلہ دیئے بغیر چارہ نہیں۔ اس نکتے پر پورا زور استدلال صرف کیا گیا ہے۔ اس لئے اس فیصلے میں اسے نمٹایا جائے گا۔

اس لئے اختتام پر پیش کردہ تحریری دلائل میں شامل یہ دعویٰ کہ خود درخواست دہندگان نے اپنے عقیدے کے مسئلہ کو اٹھانا نہیں چاہاتھا۔صرف جزوی طورپر ہی درست ہے۔

اس درخواست میں اٹھائے گئے نکات اورزیربحث آرڈی ننس کی مختلف دفعات کے اثرات کی تفصیل میں جانے سے پہلے مناسب ہوگا کہ مسلمانوں کے ہاں حضرت محمدﷺ کی ختم نبوت کے عقیدے پر روشنی ڈالی جائے کیونکہ مسلمانوں اوراحمدیوں کے مابین اختلاف کا مرکزی نکتہ یہی ہے اوریہی دوسری دستوری ترمیم مجریہ ۱۹۷۴ء (ایکٹ نمبر ۴۹مجریہ ۱۹۷۴ء) جس کے مطابق احمدیوں کو غیر مسلم قرار دیاگیاتھا،کی اساس ہے۔

تمام مکاتب فکر کے مسلمان حضرت محمدﷺ کی قطعی ختم نبوت کا عقیدہ رکھتے ہیں اور اسے اپنے ایمان کاجزو سمجھتے ہیں۔ یہ اجماعی عقیدہ قرآن کریم کی آیت نمبر۴۰؍۳۳پر مبنی ہے۔ یہاں یہ آیت اپنے معنی اورتشریحات کے ساتھ درج کی جاتی ہے:

’’ماکان محمد ابااحد من رجالکم ولکن رسول اللہ وخاتم النّبیین، وکان اللہ بکل شی علیما(الاحزاب:۴۰)‘‘{محمد ؐ تم میں سے کسی شخص کا باپ نہیں ہے بلکہ وہ اللہ کا رسول اور نبیوں کی مہر ہے اوراللہ ہر چیز کو خوب جاننے والا ہے۔}

لفظ خاتم النّبیین کی تعبیر و تشریح شروع ہی سے ہوتی آئی ہے۔ خود رسول پاکﷺ کی احادیث میں اس کی تفسیر موجو دہے۔ نیز قرآن کریم کے مفسرین، فاضل علماء اور ممتاز فقہاء اس کی تشریح کر چکے ہیں۔ یہ مسلمہ بات ہے کہ اسے خاتم النّبیین بھی پڑ سکتے ہیں۔ خاتم کا معنی ختم کرنے والا ہے۔ اس امر میں کوئی اختلاف رائے نہیں کہ اگر لفظ خاتم النّبیین ہو تو اس کا معنی ہوگا’’وہ جس کی نبوت پر سلسلہ نبوت ختم ہوتاہے۔‘‘

10

خاتم کا معنی مہر اورخاتم النّبیین کا معنی نبیوں پرمہر ہوگا۔ اس کامسلمہ اوراجماعی مفہوم یہ ہے کہ وہ آخری نبی جو نبوت پر مہر لگا دیتاہے اور جس کے بعد کوئی نبی نہیں آسکتا اورنبیوں کی آمد کا اختتام قطعی ہے۔ یہی معنی مرزاصاحب نے قبول کیاتھا۔(ازالہ اوہام حصہ دوم ص۶۱۴،خزائن ج۳ ص۴۳۱)تاہم اپنے دعویٰ نبوت کے بعد انہوں نے اس لفظ کے معنی تبدیل کر لئے اور اس کا مطلب یہ نکالا کہ جن نبیوں کا بعد میں آنا مقدر ہے، ان کی آمد کے لئے حضرت محمد ﷺ کی مہر،جس کا معنی یہ ہے کہ نبیوں کی آمد کاسلسلہ منتہی اور بند نہیں ہوا بلکہ اس شرط کے ساتھ مشروط ہے کہ حضرت محمدﷺ کے بعد جو کوئی بھی نبی بن کرآئے گا، وہ لازماً ان کی مہر ہی سے آئے گا۔ منشاء یہ ہے کہ وہ انہی کی منظوری کی مہر سے نبی بن کر اس دنیا میں قرآن وسنت پرمشتمل ان کی شریعت کی تجدید کے لئے بھیجے گئے ہیں۔

یہ تعبیر جیسا کہ اوپر واضح ہوا، قطعی ختم نبوت کی اس تفسیر سے انحراف ہے جس پر اجماع ہوچکا ہے اور جس کی جھلک خود مرزاصاحب کی پہلی تحریروں میں پائی جاتی ہے۔

اس آیت میں لفظ ’’خاتم‘‘ دو طرح پڑھا گیا ہے یعنی خاتم یا خاتِم۔ ابن امیر اورعاصم خاتم (ت پر فتحہ یعنی زبر کے ساتھ) پڑھتے ہیں۔ اس شکل میں یہ اسم ہے جس کا معنی آخری ہے اور خاتم النّبیین کا معنی آخری نبی ہے۔ دوسرے اسے خاتِم(ت کے نیچے کسرہ یعنی زیرکے ساتھ) پڑھتے ہیں۔ جو اسم فاعل ہوگا اوراس کا معنی ختم کرنے والا ہے۔ اس شکل میں خاتم النّبیین ’’سلسلہ انبیاء کوختم کرنے والا‘‘ہوگا۔ یعنی جس پر نبوت ختم ہوگئی۔

(معالم التنزیل از امام بغویؒ جلد ۴ص۲۱۸)

لسان العرب میں ہے کہ ’’ختم‘‘ کا معنی ختم کرنا ہے۔ کہاجاتاہے ’’ختم اللہ امرہ بالخیر‘‘ {اللہ اس کا معاملہ بھلائی پر ختم کرے}ہر چیز کی انتہاء کو خاتم کہتے ہیں۔ اس کی جمع خواتم ہے اورمعنی خاتمے ہوگا۔ فراء کہتے ہیںکہ خاتم اورخاتم مترادف ہیں۔ فرق صرف یہ ہے کہ گرامر کی رو سے پہلا اسم ہے اوردوسرا سم فاعل ہے۔ خاتم اورخاتِم ،رسول اللہﷺ کے نام ہیں۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ آیت ۴۰؍۳۳ میں فرماتے ہیں کہ وہ خاتم النّبیین ہے جس کا معنی آخری نبی ہے۔

ختم کا معنی روکنا بھی ہے۔ اس کا عمومی مفہوم یہ ہوتا ہے کہ کسی چیز کو دوسری اشیاء میں ملنے سے بچانا۔ خاتم کا معنی مہر لگانا بھی ہے یعنی کسی دوسری چیز کو مہر شدہ چیز میں ملنے سے بچانا۔خاتم کا معنی انگوٹھی بھی ہے۔

(جلد ۱۲ص۵۳،۵۵)

الراغب کہتے ہیں کہ ’’ختم‘‘اور’’طبع‘‘کامعنی کسی چیز کو کندہ کرنا اورچھاپ اور

11

مہر سے ثبت کرنا ہوتاہے۔ پہلا لفظ کبھی کبھی مجازاً اپنے آپ کو کسی چیز سے بچانے یا محفوظ کرنے کے معنی میں بھی استعمال ہوتاہے۔محفوظ کرنے کے مفہوم سے ہی تحریروں اوردروازوں پر مہر لگانے کا مطلب نکلتا ہے اورکبھی ایک چیز سے دوسری چیز پر نقش یا اثرلگانے کے معنی میں۔ اسی سے چھاپ یا مہر سے مہر لگانا ہے اور کبھی اس کا مفہوم(کسی چیز کے )اختتام پرپہنچنا ہوتاہے۔ (دیکھئے لین لفظ ختم)

’’ختم علی قلبہ‘‘{اس کے دل پر مہر لگادی}کا مفہوم یہ ہے کہ اسے بے سمجھ بنا دیا یا اس کے دل و دماغ کو ناکارہ کردیا( لین لفظ ختم) ’’ختم اللہ علی قلوبھم‘‘{اللہ نے ان کے دلوں پر مہر لگادی}اور ’’طبع اللہ علی قلوبھم‘‘{اللہ نے ان کے دلوں پر ٹھپہ لگا دیا} اللہ تعالیٰ کے اس دستور کی طرف اشارہ کرتے ہیں کہ انسان جب عقیدہ باطلہ اور معاصی کے ارتکاب میں آخری حدوں کوچھونے لگتا ہے اورحق قبول کرنے سے کلیتہً غافل ہو جاتا ہے تو اس کے نتیجے میں اس کی کیفیت ایسی ہو جاتی ہے کہ وہ معاصی کو پسند کرتا اور گناہوں کا پختہ عادی ہو کر رہ جاتاہے۔ یوں گویا اس کے گندے کردار کی اس پر مہر لگا دی گئی۔

(دیکھئے مفردات امام راغب اصفہانی، صفحہ ۱۴۳،دیکھئے لین لفظ ختم) خاتم النّبیین کا معنی ہے’’وہ نبی جس کی آمد پر(سلسلہ) نبوت ختم ہو گیا۔

(مفردات راغب اصفہانی ص۱۴۲،۱۴۳)

تاج العروس میں ہے:’’ومن اسمائہ ﷺ الخاتم والخاتم وھو الذی فقد النبوۃ بمجیئہ‘‘{رسول اللہﷺ کے ناموں میں سے خاتَم اورخاتِم بھی ہیں، جن کا معنی یہ ہے کہ ان کی آمد پر نبوت ختم ہوگئی۔}

(تاج العروس جلد ۴ص۱۸۶نیز دیکھئے مجمع البحارج۸ص۱۹۴)

یوںلفظ خاتم(مہر) یا خاتم(ختم کرنے والا) دونوں ایک ہی معنے میں ہیں۔

اسی بناء پر تمام علماء لغت اورمفسرین نے بالاتفاق خاتم النّبیین کا معنی آخر النّبیین (آخری نبی) لیاہے۔ عربی زبان کے محاورے یا لغت میں خاتم کا لفظ ڈاک کی اس مہر پر نہیں بولا جاتا جو لفافے کے اجراء کی خاطر اس پر لگائی جاتی ہے۔ بلکہ اس مہر پر بولاجاتاہے جو لفافے کو محفوظ کرنے کی غرض سے لگائی جاتی ہے تاکہ جب تک مہر کو توڑا نہ جائے اس کے اندر کی چیز باہر اور نہ باہر سے کوئی چیز اس میں داخل کی جاسکے۔

تمام مشہور مفسرین نے آیت ۴۰؍۳۳ کی یہی تفسیر بیان کی ہے اورزیربحث مسئلہ

12

پرتفصیلی گفتگو کی ہے۔چند ایسی احادیث موجود ہیں جن میں قیامت کے قریب حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی بعثت ثانیہ کاذکر ہے۔کچھ علماء نے ان احادیث کو قرآن کریم اورسنت سے متعارض ہونے کی بناء پر ضعیف قرار دیا ہے۔ لیکن بہت بڑی اکثریت ان کی صحت کی قائل ہے۔ اکثریت کی رائے میں ان احادیث اورقرآن کریم کے مابین کوئی تعارض نہیں۔ کیونکہ عیسیٰ علیہ السلام جو اللہ کے رسول اور نبی تھے، رسول پاک ﷺ کی بعثت سے بہت پہلے منصب نبوت پر فائز ہوئے تھے۔ جبکہ آیت کا تعلق حضرت محمدﷺ کے بعدنئے نبی کی آمد سے ہے۔بلکہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا ظہور اس امت اسلامیہ کے ایک فرد اورشریعت اسلامیہ کے متبع کی حیثیت سے ہوگا۔ اب یہ مستند تفسیری آراء اورتشریحات درج کی جاتی ہیں:

۱… علامہ ابن جریر طبری(۲۲۴،۳۱۰ھ) اپنی مشہور تفسیر میں اس آیت کی تشریح یوں فرماتے ہیں ’’اس نے نبوت ختم کردی اوراس پرمہر لگادی۔ اب یہ دروازہ قیامت تک کسی کے لئے نہیں کھلے گا۔‘‘

(تفسیر طبری جز ۲۲ص۱۲)

۲… امام طحاوی (۲۳۹،۳۲۱ھ) اپنی کتاب ’’العقیدۃ السلفیہ‘‘ میں نبوت کے بارے میں ائمہ سلف خصوصاً امام ابوحنیفہ، امام ابویوسف اور امام محمد رحمہم اللہ کے عقائد کا ذکر کرتے ہوئے لکھتے ہیں:’’اور یہ کہ حضرت محمدﷺ اللہ تعالیٰ کے برگزیدہ بندے،اس کے نبی اورمحبوب ہیں اور وہ آخری نبی،سید الاولیاء اورسید المرسلین ہیں اوررب العالمین کے محبوب ہیں۔‘‘

(شرح الطحاویہ فی العقیدۃ السلفیہ،دارالمعارف مصر،صفحات ۱۵،۸۷،۹۶،۱۰۰،۱۰۲)

۳… علامہ ابن حزم اندلسی(۳۸۴،۴۵۶ھ)لکھتے ہیں:’’بلاشبہ حضرت محمدﷺ کی وفات کے بعد نزول وحی کاسلسلہ ختم ہے۔ وجہ یہ ہے کہ وحی کانزول صرف نبی پر ہوتاہے اوراللہ تعالیٰ خود فرماتے ہیں محمد ؐ تمہارے مردوں میں سے کسی کاباپ نہیں بلکہ وہ اللہ کا رسول اور آخری نبی ہے۔‘‘

(المحلیٰ جلد اول ص۲۶)

۴… امام غزالی(۴۵۰،۵۰۵ھ)فرماتے ہیں کہ ’’اس امر پر امت مسلمہ کا کامل اجماع ہے کہ اللہ کے رسول حضرت محمدﷺ کے بعد کوئی نبی نہیں۔ پوری امت اس بات پر متفق ہے کہ رسول پاکﷺ کے ارشاد ’’لانبی بعدی‘‘سے مراد یہی ہے کہ ان کے بعد نہ کوئی نبی اور نہ رسول ہوگا۔ جو شخص بھی اس حدیث کا کوئی اورمطلب بیان کرتا ہے، وہ دائرہ اسلام سے خارج ہے۔ اس کی تشریح باطل اوراس کی تحریر کفر ہوگی۔ علاوہ ازیں امت کا اس بات پر اجماع ہے کہ اس کے سوا

13

اس کی کوئی اورتشریح نہیں جو اس کاانکار کرتا ہے وہ اجماع امت کا منکر ہے۔‘‘

(الاقتصاد فی الاعتقاد،مصر،ص۱۱۴)

۵… محی السنہ بغوی(م ۵۱۶ھ)اپنی تفسیر معالم التنزیل میں لکھتے ہیں:’’اللہ تعالیٰ نے حضرت محمدﷺ پر نبوت ختم کردی ہے۔ سووہ انبیاء (کے سلسلے) کی آخری کڑی ہیں او ر ابن عباسؓ فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے (اس آیت میں)فیصلہ کردیا ہے کہ ان کے بعد اور کوئی نبی نہ ہوگا۔‘‘

(معالم التنزیل ج۳ص۱۵۸)

۶… علامہ زمخشری(۴۶۷،۵۳۸ھ) اپنی تفسیر’’الکشاف‘‘ میں لکھتے ہیں :’’اگر آپ یہ سوال کریں کہ جب یہ عقیدہ ہو کہ اللہ کے نبی حضرت عیسیٰ علیہ السلام قیامت سے پہلے آخری زمانہ میں نازل ہوںگے توپھر رسول اللہ ﷺ آخری نبی کیسے ہو سکتے ہیں؟ میں کہتاہوں کہ رسول اللہ ﷺ اس معنی میں آخری نبی ہیں کہ ان کے بعد کوئی اورشخص نبی کی حیثیت سے مبعوث نہ ہوگا۔رہا حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا معاملہ، تو وہ ان انبیاء میں سے ہیں جنہیں حضرت محمدﷺ سے پہلے نبوت سے سرفراز کیاگیا تھا اور جب وہ دوبارہ آئیں گے تو حضرت محمدﷺ کی شریعت کے متبع ہوںگے اور انہیں کے قبلہ (الکعبہ) کی طرف رخ کرکے نماز پڑھیںگے۔ جیسا کہ امت کے دوسرے افراد کرتے ہیں۔‘‘

(الکشاف ج۲ص۲۱۵)

۷… قاضی عیاض(م ۵۴۴ھ) لکھتے ہیں :’’جو شخص بھی اپنے لئے دعویٰ نبوت کرتا ہے یا یہ سمجھتا ہے کہ کوئی اسے حاصل کر سکتا ہے اورصفائے قلبی سے منصب نبوت پاسکتا ہے۔ جیسا کہ بعض فلسفیوں اور نام نہاد صوفیوں کا دعویٰ ہے۔ اسی طرح جو نبوت کا دعویٰ تو نہیں کرتالیکن اپنے اوپر وحی نازل ہونے کا مدعی ہے…ایسے تمام لوگ کافر اور حضرت محمدﷺ کے منکر ہیں۔ کیونکہ وہ ہمیں بتا چکے ہیں کہ وہ آخری نبی ہیں اور ان کے بعد کوئی نبی نہیں آئے گا اور یہ اطلاع منجانب اللہ تھی کہ اس نے نبوت بند کر دی ہے اور وہ تمام کائنات کی طرف مبعوث ہوئے تھے۔ تمام امت کا اس پر اجماع ہے کہ ان الفاظ کا اس ظاہری مفہوم کے سوا اور کوئی معنی نہیں اور اس سے مختلف تشریح یا خاص معنی لینے کی کوئی گنجائش نہیں۔ اس لئے اجماع اوراحادیث دونوں کی رو سے ایسے لوگوں کے کافر ہونے میں قطعاً کوئی شک نہیں ہوناچاہئے۔‘‘

(شفاء جلد ۲،ص۲۷۰،۲۷۱)

۸… امام رازیؒ (۵۴۳،۶۰۶ھ)اپنی تفسیر کبیر میں خاتم النّبیین کی آیت کی تفسیر بیان کرتے ہوئے لکھتے ہیں:’’اس سلسلے میں خاتم النّبیین کہنے کی وجہ یہ ہے کہ اگر ایک نبی کے بعد

14

دوسرا نبی آنا ہوتاہے تو وہ تبلیغ اور احکام کی توضیح کا مشن کسی حد تک نامکمل چھوڑ جاتاہے اور بعد میں آنے والا اسے مکمل کرتاہے۔ لیکن جس نبی کے بعد کسی اورنبی کی آمد نہیں ہوگی وہ اپنی امت پر بہت زیادہ شفیق ہوتاہے اور ان کے لئے واضح قطعی اورکامل ہدایت فراہم کرتاہے۔ جیسے ایک باپ جانتا ہو کہ اس کے بعد اس کے بیٹے کی نگہداشت کرنے والا کوئی سرپرست اور کفیل نہ ہوگا۔

(تفسیر کبیر جلد ۶ص۵۸۱)

۹… علامہ شہر ستانی(م ۵۴۸ھ) اپنی کتاب الملل والنحل میں لکھتے ہیں:’’اسی طرح جو یہ کہتا ہے …کہ محمد ﷺ کے بعد کوئی اور نبی (حضرت عیسیٰ نبی علیہ السلام کے سوا) مبعوث ہوگا۔ وہ بھی کافر ہے اور اس مسئلہ میں کسی قسم کا کوئی اختلاف رائے موجود نہیں۔ یہاں تک کہ کسی دو انسانوں میں بھی۔

۱۰… علامہ بیضاوی(م۶۸۵ھ) اپنی تفسیر انوارالتنزیل میں لکھتے ہیں:’’ رسول اللہ ﷺ انبیاء کی آخری کڑی ہیں جنہوں نے ان کے سلسلہ کو ختم کردیاہے اورسلسلہ نبوت پر مہر لگا دی ہے اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی بعثت ثانیہ سے رسول اللہ ْﷺ کے آخری نبی ہونے کی تردید نہیں ہوتی کیونکہ وہ جب آئیںگے تو انہی کی شریعت کے پیروکار ہوںگے۔

(انوار التنزیل ج۴ص۱۶۴)

۱۱… علامہ حافظ الدین نسفی(م ۷۱۰ھ) اپنی تفسیر مدارک التنزیل میں لکھتے ہیں ’’رسول اللہ ﷺ خاتم النّبیین یعنی آخری نبی ہیں۔ ان کے بعد کوئی اور شخص نبی نہیں ہوگا۔ رہے حضرت عیسیٰ علیہ السلام تو وہ آپﷺ سے پہلے انبیاء میں سے ہیں اور جب وہ دوبارہ آئیںگے تو وہ حضرت محمدﷺ کی شریعت پر عمل کریںگے اورانہی کی امت کے ایک فرد کی طرح ہوںگے۔

(مدارک التنزیل ج ۵ص۴۷۱)

۱۲… علامہ علاؤ الدین بغدادیؒ(م ۷۲۵ھ) اپنی تفسیر خازن میں لکھتے ہیں:’’وخاتم النّبیین‘‘{یعنی اللہ تعالیٰ نے حضرت محمد ﷺ پر سلسلہ نبوت بند کردیا ہے}اب ان کے بعد نہ کوئی نبوت ہے اور نہ اس میں کسی قسم کی شراکت یاحصہ داری ہے…اللہ تعالیٰ خوب جانتا ہے کہ ان کے بعد کوئی نبی نہیں ہوگا۔‘‘

(لباب التاویل فی معانی التنزیل ج۵ص۴۷۱،۴۷۲)

۱۳… علامہ ابن کثیرؒ(م ۷۷۴ھ)اپنی مشہور تفسیر میں لکھتے ہیں:’’تو یہ آیت اس امر میں نص ہے کہ ان کے بعد کوئی نبی نہیں ہوگا اور اگر ان کے بعد کوئی نبی نہیں ہوگا تو رسول بطریق اولیٰ نہ ہوگا۔ کیونکہ مقام رسالت مقام نبوت سے اخص ہے۔ کیونکہ ہر رسول نبی ہوتا ہے اور ہر نبی رسول

15

نہیں ہوتا… آپؐ کے بعد جو شخص بھی اس منصب کا دعویٰ کرتاہے وہ کذاب،دجال، مفتری اور کافر ہے۔ خواہ وہ کسی قسم کے غیر معمولی کرشمے اورجادوگری کے طلاسم دکھاتا پھرے…اور اسی طرح قیامت تک جو شخص بھی اس منصب کا مدعی ہو وہ کذاب ہے۔‘‘

(تفسیر ابن کثیر ج۳ص۴۹۳،۴۹۴)

۱۴… علامہ جلال الدین سیوطی(۹۱۱ھ)جلالین میں لکھتے ہیں:’’وکان اللہ بکل شی علیما‘‘اللہ تعالیٰ ہر چیز سے آگاہ ہے اورجانتا ہے کہ رسول اللہ ﷺ کے بعد کوئی نبی نہ ہوگا اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام جب نازل ہوںگے تو وہ حضرت محمدﷺ کی شریعت کے پیرو کار ہوں گے۔

(جلالین ص۷۶۸)

۱۵… علامہ ابن نجیم(م۹۷۰ھ) اپنی کتاب الاشباہ والنظائر میں لکھتے ہیں:’’جو شخص حضرت محمدﷺ کے آخری نبی ہونے کا انکار کرتاہے وہ مسلمان نہیں کیونکہ یہ ایمان کے بنیادی اصولوں میں سے ایک اصول ہے۔‘‘

(الاشباہ والنظائر ص۱۷۹)

۱۶… ملا علی قاری (م۱۰۱۶ھ) شرح فقہ اکبر میں لکھتے ہیں:’’اس نکتہ پر امت کاکامل اجماع ہے کہ حضرت محمدﷺ کے بعد نبوت کا دعویٰ کرنا کفر ہے۔

(شرح فقہ اکبر ص۲۰۲)

۱۷… شیخ اسماعیل حقی(۱۱۳۷ھ)اپنی تفسیر روح البیان میں مندرجہ بالا آیت کی تفسیر کرتے ہوئے لکھتے ہیں:’’عاصم نے اس لفظ کو خاتَم پڑھا ہے جس کا معنی مہر لگانے کا وہ آلہ ہے جس سے اشیاء پرمہر لگائی جاتی ہے۔جس کا معنی یہ ہے کہ رسول اللہﷺ آخر میں آئے ہیں اور انہی پر انبیاء کا سلسلہ بند ہوا اوراس پر مہر لگ گئی۔ بعض نے اسے خاتِم پڑھا ہے۔ جس کا معنی مہر لگانے والا ہے۔ تو اس طرح خاتِم خاتَم کا ہم معنی ہوا…اسی بناء پر امت کے علماء صالحین، ولایت میں آپ کے جانشین ہوںگے۔ کیونکہ نبوت کی جانشینی کا سلسلہ بند ہوگیا ہے۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی بعثت ثانیہ سے رسول اللہﷺ کے آخری نبی ہونے کی حیثیت متاثر نہیں ہوتی۔ کیونکہ خاتم النّبیین کا معنی یہ ہے کہ آپﷺ کے بعد کوئی نبی مبعوث نہ ہو گا…اور عیسیٰ علیہ السلام آپ ﷺ سے قبل نبوت سے سرفراز ہو چکے ہیں اوربعثت ثانیہ کے وقت وہ حضرت محمدﷺ کی شریعت کے متبع ہوں گے اور آپ ﷺ کے دوسرے امتیوں کی طرح انہی کے قبلہ کی طرف رخ کرکے نماز ادا کریں گے اور حضرت محمدﷺ کے خلیفہ ہوںگے۔ اہل سنت کا عقیدہ ہے کہ ہمارے رسول حضرت محمدﷺ کے بعد کوئی اور نبی نہیں ہوگا۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے’’بلکہ وہ اللہ تعالیٰ کا رسول اورآخری نبی ہے‘‘

16

‘‘ اوررسول اللہﷺ کا فرمان ہے ’’میرے بعد کوئی نبی نہیں ہے۔‘‘ اب جو شخص بھی یہ کہے کہ ہمارے نبی ﷺ کے بعد کوئی نبی ہے، اسے کافر قرار دیا جائے گا۔ کیونکہ اس نے ایمان کے ایک بنیادی جزو کاانکار کیا ہے۔ اسی طرح جو اس میں شک کرتاہے وہ بھی کافر ہے۔ کیونکہ باطل سے حق واضح اور روشن ہوچکا ہے اور حضر ت محمدﷺ کے بعد ایسا دعویٰ کرنا دجل وفریب کے سو ا کچھ نہیں۔

(روح البیان جز ۲۲ص۱۸۸)

۱۸… فتاویٰ عالمگیری،جسے بارہویں صدی ہجری میں ممتاز علماء کے ایک بورڈ نے شہنشاہ ہند اورنگ زیب عالمگیر کی ہدایت پر ، مدون کیاتھا،میں ہے’’اگرکوئی شخص اس بات کا منکر ہے کہ حضرت محمد مصطفیﷺ آخری نبی ہیں تو وہ مسلمان نہیں ہے اور اگر وہ دعویٰ کرے کہ وہ اللہ کا رسول یا نبی ہے تووہ کافر قرار دیا جائے گا۔‘‘

(فتاویٰ عالمگیری ج۲ص۲۶۳)

۱۹… علامہ شوکانی (م ۱۲۵۵ھ) اپنی تفسیر فتح القدیر میں لکھتے ہیں:’’جمہور نے اسے خاتِم پڑھا ہے اور عاصم نے خاتَم۔ پہلی قرأت کا معنی یہ ہے کہ رسول اللہﷺ نے انبیاء کو ختم کردیا ہے یعنی وہ تمام انبیاء کے بعد آخری نبی بن کر آئے ہیں اور دوسری قرأت کا معنی یہ ہے کہ وہ ان کے لئے ایسی مہرکی مانند ہیں جس سے ان پر مہر لگی اور جس کی ان میں شمولیت سے انہیں زینت ملی۔‘‘

(فتح القدیر ج۴ص۲۸۵)

۲۰… علامہ آلوسیؒ(م ۱۲۷۰ھ) اپنی تفسیر روح المعانی میں لکھتے ہیں:’’نبی کا لفظ عام ہے اور رسول خاص ہے۔ اس لئے رسول ﷺ کے خاتم النّبیین ہونے سے خاتم المرسلین ہونا لازمی ہو جاتا ہے۔ آپ ﷺ کے خاتم النّبیین ہونے کا معنی یہ ہے کہ اس دنیامیںآپ کے منصب نبوت پر فائز ہونے کے بعد کسی بھی انسان یا جن کو یہ منصب نصیب نہیں ہوگا۔‘‘

(روح المعانی جز۲۲ص۳۲)

’’ان کے بعد جو شخص بھی وحی نبوت کے نزول کا دعویٰ کرتا ہے اسے کافر قراردیا جائے گا۔ اس بارے میں مسلمانوں میں کسی قسم کا کوئی اختلاف نہیں۔‘‘

(روح المعانی جز۲۲ص۳۸)

’’حضرت رسول اللہ ﷺ کا آخری نبی ہونا ایسی حقیقت ہے جس کی تصریح خود کتاب اللہ نے کردی ہے اور سنت نے اسے واضح کر دیا ہے اور اس مسئلہ پر امت کا اجماع ہو چکا ہے لہٰذا اس کے خلاف جو بھی دعویٰ کرے گا وہ کافر قرار پائے گا۔‘‘

(روح المعانی جز ۲۲ص۳۹)

ختم نبوت کا یہی تصور مندرجہ ذیل شیعہ مفسرین نے بھی بیان کیاہے:

۱… علی بن ابراہیم (۳۲۹ھ۹۴۱ء)تفسیر القمی ص۵۳۲مطبوعہ نجف (عراق)

17

۲… شیخ ابوجعفر محمد بن حسن بن علی طوسی(م ۴۶۰ھ)تفسیر التبیان ج۸ص۳۱۴مطبوعہ نجف (عراق)

۳… ملا فتح اللہ کاشانی(م ۴۸۸ھ)تفسیر منہج الصادقین ج۷ص۳۳۳مطبوعہ نجف(عراق)

۴… ابوعلی فضل بن حسین طبرسی(م ۵۴۸ھ)تفسیر مجمع البیان ج ۲ص۲۸۹طبع نجف (عراق)

۵… ملا محسن کاشی،تفسیر الصافی ص۴۹۱،طبع نجف(عراق)

۶… ہاشم بن سلیمان بن اسماعیل حسینی(م ۱۱۰۷ھ)تفسیر البرہان ج۳ص۳۲۷ طبع قم (ایران)

۷… علامہ حسین بخش،انوارالنجف ج۱۱ص۲۱۱،طبع لاہور۔

۸… مولاناسید عمارعلی، تفسیر عمدۃ البیان ج۱۲طبع دہلی۔

۹… مقبول احمد، ترجمہ و تفسیر قرآن ص۵۰۷طبع لاہور۔

۱۰… حافظ فرمان علی،ترجمہ وتفسیر قرآن ص۵۸۵۔

زمخشریؒ(۴۶۷،۵۳۸ھ)تفسیر کشاف میں۔ قاضی بیضاویؒ(م ۶۸۵ ھ)انوار التنزیل میں۔ امام رازیؒ(۵۴۳،۶۰۶ھ)تفسیر کبیر ج۳ص۳۴۳میں۔ امام نوویؒ(۶۳۱، ۶۷۶ھ)شرح مسلم ج۲ص۱۸۹، شرح مسلم جز۱۸ص۷۵میں۔ علاؤالدین بغدادیؒ (م۷۲۵ھ) تفسیر خازن ص۴۷۱ ،۴۷۲ میں۔ تفتازانیؒ (۷۲۲،۷۹۲)شرح عقائد نسفی ص۱میں۔ ابن حجر عسقلانیؒ(م ۴۴۹ھ)فتح الباری ج۶ص۳۱۵،۱۱۷ میں۔ بدر الدین عینیؒ(م ۸۵۵ھ) عمدۃ القاری ج۱۶ص۴۰میں۔ قسطلانیؒ(۸۵۱،۹۲۳ھ)ارشاد الساری ج۶ص۱۸ میں۔ ابن ہیثمیؒ (۹۰۹،۹۷۳ھ)فتاویٰ حدیثیہ ص۱۲۸،۱۲۹ میں۔ شیخ عبدالحق محدث دہلویؒ(۹۵۸،۱۰۵۲ھ) اشعۃللمعات ج۴ص۳۷۳میں۔ زرقانیؒ(م۱۱۶۲ھ)شرح مواہب الدنیہ ج۳ص۱۱۶ میں اسی نقطہ نظر کی تائید کرتے ہیں کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی بعثت ثانیہ کے بارے میں قرآن کریم اور احادیث میں کوئی تعارض نہیں۔

یہ تصریحات ہر ملک اور مسلسل ہر زمانے کے ممتاز علماء، فقہاء، محدثین اورمفسرین کر چکے ہیں۔ ان کی پیدائش اور وفات کی تاریخوں پر ایک نظرڈالنے سے یہ ظاہرہوتاہے کہ ان میں تاریخ اسلام کی پہلی صدی سے لے کر تیرہویں صدی ہجری تک ہر دور کی نمایاں شخصیات موجود ہیں۔

رسول اللہﷺ نے بھی خاتم النّبیین کے یہی معانی اپنی متعدد احادیث میں واضح فرمائے ہیں۔ ان میں سے کچھ احادیث کا تذکرہ یہاں کیا جاتاہے:

18

۱… ’’قال النبی ﷺ کانت بنو اسرائیل تسوسہم الا نبیاء کلما ہلک نبی خلفہ نبی وانہ لانبی بعدی وسیکون خلفاء‘‘{نبی ﷺ نے فرمایا’’بنی اسرائیل کی رہنمائی انبیاء کرتے تھے۔ جب ایک نبی فوت ہو تا ایک اور نبی اس کا جانشین ہوتا۔ خبردار! میرے بعد کوئی نبی نہیں، خلفاء ہوں گے۔}

(بخاری کتاب الانبیاء ج۲ص۲۵۷ طبع دارلمعرفہ، بیروت ،لبنان)

۲… ’’قال النبی ﷺ ان مثل الانبیاء من قبلی کمثل رجل بنی بیتا فاحسنہ واجملہ الا موضع لبنۃ من زاویۃ فجعل الناس یطوفون بہ یعجبون لہ ویقولون ہلاّ وضعت ہذہ اللبنۃ فانا اللبنۃ وانا خاتم النّبیین‘‘{نبی ﷺ نے فرمایا’’مجھ سے پہلے انبیاء کی مثال ایک شخص کی طرح ہے جس نے ایک گھر تعمیر کیا اور اسے بہت عمدہ خوبصورت بنادیا لیکن ایک کونے میں ایک خشت کی جگہ رہنے دی۔ لوگ اس گھر کے گرد چکر لگاتے اور اس پرخوشی کااظہار کرتے اور کہتے یہ خشت کیوں نہیں لگائی؟ پس میں ہی یہ خشت ہوں اورمیںآخری نبی ہوں۔}’’سو اس طرح میری بعثت سے قصر نبوت مکمل ہوگیا ہے اور اب اس میں مزید کسی نبی کی کوئی گنجائش نہیں

(بخاری کتاب المناقب ج۲ص۲۷۰طبع دارالمعرفہ،بیروت)

اسی موضوع پر چار روایات صحیح مسلم(کتاب الفضائل) میں مروی ہیں۔ جن میں مذکورہ بالا الفاظ کے بعد یہ اضافہ ہے:’’فجئت فختمت الانبیاء‘‘{پس میں نے آکر انبیاء کا سلسلہ ختم کردیا۔}نیز انہی الفاظ میں یہ حدیث جامع ترمذی کتاب المناقب باب فضائل النبی میں موجود ہے۔

مسند ابوداؤد طیالسی میں یہ حدیث بروایت جابر بن عبداللہؓ مروی ہے اور اس کے آخری الفاظ یوں ہیں’’ختم بی النبیون‘‘{مجھ پر انبیاء کا سلسلہ ختم کر دیا گیا۔}

اسی موضوع پر کئی روایات مسند احمد میں الفاظ کے معمولی اختلاف کے ساتھ ابی بن کعبؓ، ابو سعید خدریؓ اورابوہریرہؓ سے مروی ہیں۔

۳… ’’ان رسول اللہ ﷺ قال فضلت علی الانبیاء بست اعطیت جوامع الکلم ونصرت بالرعب واحلت لی الغنائم وجعلت لی الارض مسجدا وطھورا وارسلت الی الخلق کافۃ وختم بی النبیون‘‘رسول اللہ ﷺ نے فرمایا’’مجھے دوسرے انبیاء پر چھ باتوں میں فضیلت دی گئی ہے(۱)مجھے جامع کلمات عطاء ہوئے

19

ہیں اور(۲) دشمنوں کے دلوں میں میراخوف طاری کیاگیاہے اور(۳) میرے لئے غنیمتیں حلال کر دی گئی ہیں اور(۴) زمین میرے لئے مسجد اور پاک کرنے والی بنا دی گئی اور(۵)مجھے تمام کائنات کی طرف رسول بناکر بھیجا گیا ہے اور(۶)مجھ پر انبیاء کا سلسلہ ختم کردیا گیا ہے۔

(صحیح مسلم ج۲ص۲۴۹طبع دارالکتب،بیروت)

۴… ’’قال رسول اللہﷺ ان الرسالۃ والنبوۃ قد انقطعت فلا رسول بعدی ولانبی‘‘{رسول اللہﷺ نے فرمایا بیشک رسالت اورنبوت ختم ہوچکی ہیں۔ اس لئے میرے بعد رسول ہوگا نہ کوئی نبی۔} (ترمذی ج۲ص۵۳طبع ایچ۔ایم سعید اینڈ کمپنی کراچی)

۵… ’’قال رسول اللہ ﷺ انا محمد وانا احمد وانا الماحی الذی یمحی بی الکفر وان الحاشر الذی یحشر الناس علی عقبی وانا العاقب الذی لیس بعدہ نبی‘‘{رسول اللہﷺ نے فرمایا’’میں محمد ہوں اور میں احمد ہوں اور میں وہ ماحی (مٹا دینے والا) ہوں جس کے ذریعے کفر مٹادیا جائے گا اور میں وہ حاشر ہوں جس کے پیچھے لوگ اکٹھے ہوںگے(میدان حشرمیں)اورمیں وہ عاقب (آخری)ہوں کہ میرے بعد کوئی نبی نہیں۔}

(صحیح مسلم ج۲ص۲۶۱ طبع دہلی)

۶… ’’قال رسول اللہ ﷺ ان اللہ لم یبعث نبیا الاحذرامتہ الدجال وانا اخرالانبیاء وانتم اخرالامم وھوالخارج فیکم لامحالۃ‘‘{رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اللہ تعالیٰ نے جو نبی بھی بھیجا اس نے اپنی امت کو دجال سے ڈرایا اور میں آخری نبی ہوں اورتم آخری امت ہو اور وہ لازماً تمہارے اندرسے نکلے گا۔}

(ابن ماجہ ج۲ص۱۷۸)

۷… عن عبدالرحمن بن جبیرقال سمعت عبداللہ بن عمرو بن العاص یقول خرج علینا رسول اللہ ﷺ یوما کالمودع فقال انا محمد النبی الامی ثلاثا ولا نبی بعدی‘‘{عبدالرحمن بن جبیرؒ سے روایت ہے کہ اس نے عبداللہ بن عمرو بن عاصؓ کو یہ کہتے ہوئے سنا کہ ایک دن اللہ کے رسول ﷺ اس طرح ہمارے پاس آئے جیسے گویا وہ الوداع کرنے والے ہیں۔ پھر آپؐ نے فرمایا میں ہی محمد نبی امی ہوں،تین مرتبہ اورمیرے بعد کوئی نبی نہیں۔}

(مسند احمد روایات عبداللہ بن عمروبن العاص)

۸… ’’قال رسول اللہ ﷺ لانبوۃ بعدی الاالمبشرات قیل وماالمبشرات یارسول اللہ قال الرویا الحسنۃ اوقال الرویا الصالحۃ‘‘رسول اللہ ﷺ نے

20

فرمایا میرے بعد کوئی نبوت نہیں مگر مبشرات ہیں۔ عرض کیاگیا اے اللہ کے رسولﷺ مبشرات کیا ہیں؟ آپﷺ نے فرمایا اچھے خواب۔ یا فرمایا نیک خواب۔(یہ اس لئے کہ اب وحی الٰہی کا کوئی امکان نہیں۔ زیادہ سے زیادہ کسی شخص کوسچے خواب میں القاء ہی ہوسکتاہے)

(ابوداؤد ج۲ ص۳۱۶)

۹… ’’قال النبی ﷺ لوکان بعدی نبی لکان عمر بن الخطاب‘‘{نبی ﷺ نے فرمایا اگر میرے بعد کوئی نبی ہوتا تووہ عمر بن خطابؓ ہوتا۔}

(ترمذی ج۲ص۲۰۹ طبع ایچ۔ ایم سعید اینڈ کمپنی کراچی)

۱۰… ’’قال رسول اللہﷺ لعلیؓ انت منی بمنزلۃ ہارون من موسیٰ الا انہ لانبی بعدی‘‘{اللہ کے رسول ﷺ نے حضرت علی ؓ سے فرمایا تم میرے لئے ایسے ہو جیسے ہارون علیہ السلام موسیٰ علیہ السلام کے لئے تھا۔ البتہ میرے بعد کوئی نبی نہیں ہے۔}

(صحیح مسلم ج۲ طبع دہلی ص۲۷۸)

بخاری و مسلم نے اس حدیث کو غزوہ تبوک کے ضمن میں ذکرکیاہے جبکہ یہی مضمون مسند احمد میں بروایت سعد بن ابی وقاصؓ دو حدیثوں میں مذکور ہے۔ جن میں سے ایک روایت کے آخری الفاظ یوں ہیں’’لیکن میرے بعد کوئی نبوت نہیں۔‘‘ اس واقعہ کے بارے میں ابوداؤد طیالسی، امام احمدؒ اورمحمد بن اسحاقؒ کی روایت کردہ مفصل احادیث سے معلوم ہوتا ہے کہ حضورﷺ نے غزوہ تبوک کے لئے روانگی کے وقت حضرت علی ؓ کو مدینہ کی نگرانی اور دفاع کے لئے پیچھے چھوڑنے کا فیصلہ کیا۔ اس پر منافقین نے ان کے خلاف نازیبا پروپیگنڈہ شروع کردیا۔ وہ حضورﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے اورعرض کیا’’اے رسول اللہ! کیا آپ مجھے پیچھے عورتوں اور بچوں میں چھوڑ رہے ہیں؟‘‘

اس پر حضورﷺ نے انہیں تسلی دی اورفرمایا’’تم میرے لئے ایسے ہو جیسے موسیٰ علیہ السلام کے لئے ہارون علیہ السلام تھے۔‘‘ یعنی جیسے اللہ کے نبی حضرت موسیٰ علیہ السلام کوہ طور کو روانہ ہوتے وقت ہارون نبی علیہ السلام کو بنی اسرائیل کی نگہداشت کے لئے پیچھے چھوڑ گئے تھے۔ اسی طرح آپﷺ انہیں مدینہ کے دفاع کی غرض سے پیچھے چھوڑ رہے ہیں۔ لیکن اس خدشے کے پیش نظر کہ حضرت علی ؓ کا ایک پیغمبر سے موازنہ بعد میں کسی شر کا باعث بن سکتا ہے، رسول اللہ ﷺ نے فوراً یہ استثناء کردیا کہ ’’میرے بعد کوئی نبی نہیں۔‘‘

21

۱۱… ’’عن ثوبانؓ قال رسول اللہﷺ …وانہ سیکون فی امتی کذّابون ثلاثون کلھم یزعم انہ نبی وانا خاتم النّبیین لانبی بعدی‘‘{ثوبانؓ سے روایت ہے کہ اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا…اوربیشک میری امت میں تیس کذاب ہوںگے۔ ان میں سے ہر ایک کا یہی دعویٰ ہوگا کہ وہ نبی ہے۔ خبردار! میں آخر ی نبی ہوں۔ میرے بعد کوئی نبی نہیں۔}

(ابوداؤد ج۲ص۲۰۲)

ابوداؤد نے اس موضوع پر ایک اورروایت حضرت ابوہریرہؓ سے کتاب الملاحم میں بیان کی ہے۔ ترمذی نے بھی ان دونوں احادیث کو اسی سند سے اورثوبانؓ سے بیان کیا ہے۔ دوسری روایت کے الفاظ یوں ہیں۔’’تیس کذاب ہوںگے اور ان میں سے ہر ایک یہ دعویٰ کرے گا کہ وہ اللہ کا رسول ہے۔‘‘

۱۲… ’’قال النبی ﷺ لقد کان فیمن کان قبلکم من بنی اسرائیل رجال یکلمون من غیر ان یکونوا انبیاء فان یکن من امتی احد لکان عمر‘‘{نبی ﷺ نے فرمایا تم سے پہلے بنی اسرائیل میں ایسے لوگ ہوئے ہیں جن سے (اللہ تعالیٰ کی جانب سے ) کلام ہوتاتھا۔ لیکن وہ نبی نہیں ہوتے تھے۔ پس اگر میری امت میں کوئی شخص ہوتا تو وہ عمرؓ ہوتا۔}

(بخاری کتاب المناقب ج۲ص۲۸۲ طبع دارالمعرفہ،بیروت)

اس مضمون کی ایک روایت صحیح مسلم میں بھی مروی ہے۔ اس میں ’’یکلمون‘‘کی جگہ ’’محدث‘‘کالفظ مذکور ہے۔ تاہم دونوں کا معنی ’’وہ جن سے اللہ تعالیٰ یا کوئی غیر مرئی ہم کلام ہو۔‘‘

’’قال رسول اللہﷺ لا نبی بعدی ولاامۃ بعد امتی‘‘ {اللہ کے رسولﷺ نے فرمایا’’میرے بعد کوئی نبی نہیں اور میری امت کے بعد( کسی اور نبی کی) کوئی امت نہیں۔}

(بیہقی ج۵ص۱۹۷)

۱۴… ’’قال رسول اللہ ﷺ فانی آخر الانبیاء وان مسجدی آخرالمساجد‘‘{رسول اللہ ﷺ نے فرمایا پس میں آخری نبی ہوں اور میری مسجد (کسی نبی کی) آخری مسجد ہے (مدینہ میں مسجد نبوی کی طرف اشارہ ہے) (صحیح مسلم کتاب الحج ص۲۰۲)}

۱۵… ’’عن عرباض بن ساریۃؓ ان النبیﷺ قال انا خاتم النّبیین وان آدم فی طینۃ‘‘عرباضؓ بن ساریہ سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا میں آخری نبی تھا

22

جب کہ آدم ابھی گارے میں تھے(ابھی پیدا نہیں ہوئے تھے)

(مستدرک حاکم ج۲ص۴۱۸ طبع حیدر آباد دکن)

۱۶… ’’بابی انت وامی (یارسول اللہ) لقد انقطع بموتک مالم ینقطع بموت غیرک من النبوۃ والانبیاء واخبارالسماء‘‘{مروی ہے کہ حضرت علیؓ نے حضورﷺ کو مخاطب کرتے ہوئے کہا’’اے اللہ کے رسول! میرے باپ اورماں آپ ﷺ پر قربان ہوں۔ آپ ﷺ کی موت نے وہ چیز ختم کر دی ہے جو آپ ﷺ کے سوا کسی دوسرے کی موت سے ختم نہ ہوئی۔ یعنی نبوت غیبی خبریں اورآسمان کی وحی ۔} (نہج البلاغہ ج۲ص۲۵۵طبع مصر)

۱۷… ’’عن ابی جعفر وابی عبداللہ علیھما السلام…لقد ختم اللہ بکتابکم الکتب وختم بنبیکم الانبیاء‘‘{ابوجعفر اورابوعبداللہ علیہما السلام نے کہا ’’تحقیق اللہ نے تمہاری کتاب(قرآن کریم) پر الہامی کتابوں کوختم کردیا اور تمہارے نبی (حضرت محمد مصطفیﷺ )پر سلسلہ نبوت ختم کر دیا۔} (اصول الکافی ج اول ص۱۶۳ طبع نول کشور)

ان احادیث کو محدثین کی ایک بڑی تعداد نے متعدد اوربہت قوی اسناد کے ساتھ صحابہ کرامؓ کی عظیم تعداد سے روایت کیا ہے۔ ان کے مطالعہ سے واضح ہوتا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے مختلف مواقع پر، مختلف طریقوں سے اورمختلف الفاظ میں قطعی اعلان فرمادیاتھا کہ وہ آخری نبی ہیں او یہ کہ ان کے بعد کوئی نبی نہیں آئے گا اور یہ کہ نبوت ان پر ختم ہوچکی ہے اور یہ کہ ان کے بعد نبوت یا رسالت کے مدعی کذاب ہیں۔

قرآن کریم کے الفاظ ’’خاتم النّبیین‘‘کی اس سے زیادہ مستند،معتبر اور فیصلہ کن اور کوئی تعبیر نہیں ہوسکتی۔ رسول اللہﷺ کا ارشادبذات خود معتبر اورفیصلہ کن ہوتا ہے۔ لیکن جب اس سے قرآن کریم کے متن کی توضیح وتشریح ہوتی ہو تو وہ بالکل قطعی اورفیصلہ کن ہوتا ہے۔ سوال تو یہ ہے کہ رسول اللہ ﷺ کی ذات گرامی سے بڑھ کر اور کون قرآن کریم کے فہم و تعبیر کا اہل ہوگا؟ اس کے باوجود اگر کوئی شخص ختم نبوت کے مختلف معنی پیش کرتا ہے تو وہ کیونکر کسی بھی قسم کی توجہ یا التفات کا سزاوارہوگا؟ چہ جائیکہ اسے ماننے اور اس کی پیروی کرنے کا مستحق سمجھا جائے۔

یہ ایک مسلمہ قاعدہ ہے، تاہم میں ابن تیمیہ کی الایمان سے یہ اقتباس پیش کرتاہوں:

’’ومما ینبغی ان یعلم ان الالفاظ الموجود فی القرآن والحدیث اذاعرف تفسیرھا وما اریدبھا من جھۃ النبی ﷺ لم یحتج فی ذلک الی

23

الاستدلال باقوال اھل اللغۃ ولاغیرھم‘‘{یہ جان لینا چاہئے کہ جب رسول اللہ ﷺ کی ذات گرامی کی جانب قرآن وسنت کے الفاظ کی تشریح معلوم ہو جائے تو ایسی صورت میں ماہرین لغت یا ان کے علاوہ دوسروں کے اقوال کی ضرورت نہیں ہوتی۔}

(الایمان از امام ابن تیمیہؓ ص۲۷۱)

ختم نبوت اسلام کا ایک بنیادی اصول ہے۔ علامہ ابن نجیمؓ(الاشباہ والنظائر،کتاب السیر،باب الردۃ ص۱۷۹) میں لکھتے ہیں کہ اگر ایک شخص ختم نبوت کے عقیدے کو تسلیم نہیں کرتا تو وہ مسلمان نہیں ہے۔کیونکہ یہ ایمان کا ایسا بنیادی جزو ہے جسے جاننا اور تسلیم کرنا لازمی ہے۔

غزالیؒ(۴۵۰،۵۰۵ھ)قاضی عیاضؒ(م ۵۴۴ھ)علامہ شہرستانیؒ(م ۵۴۸ھ) ابن کثیرؒ (م ۷۷۴ھ) ملاعلی قاریؒ(م ۱۰۱۶ھ)شیخ اسماعیل حقیؒ(م ۱۱۳۷ھ) شوکانیؒ (م ۱۲۵۵ھ) اور فتاویٰ عالمگیری کی یہ آراء پہلے ہی گزر چکی ہیں کہ جو آدمی ختم نبوت کا عقیدہ نہیں رکھتا یا نبی ہونے کا دعوے دار ہے یا ایسے شخص کی پیروی کرتاہے تو وہ کافر اوردائرہ اسلام سے خارج ہے۔ ذیل میں امام ابوحنیفہؒ کافیصلہ بھی درج کیاجاتاہے:

ایک آدمی نے امام ابوحنیفہؒ (۸۰،۱۵۰) کے زمانے میں نبوت کا دعویٰ کیا اور کہا ’’آپ مجھے اپنی نبوت کا ثبوت پیش کرنے کا موقع دیں۔‘‘ امام صاحب نے فرمایا’’جو شخص اس سے اس کی نبوت کا ثبوت طلب کرے گا وہ بھی کافر ہو جائے گا۔ کیونکہ رسول اللہ ﷺ کا ارشاد ہے ’’میرے بعد کوئی نبی نہیں۔‘‘

(مناقب الاامام اعظم ابی حنیفہؒ، ابن احمد المکی جلد اوّل ص۱۶۱طبع حیدرآباد)

اس میں کوئی شک نہیں کہ جو شخص قرآن کریم کی ایک صریح اورعام آیت کی تاویل اور تخصیص کرکے اس کی تکذیب کرتا ہے تو وہ اس شخص کے برابر ہے جو نفس آیت کو جھٹلا دیتا ہے۔ حضرت محمدﷺ کی ختم نبوت کا عقیدہ مسلمانوں کے ایمان کاجزو اوردین کابنیادی اصول ہے۔ معروف علماء کے یہ فیصلے، دوسروں کے علاوہ اس مدعی نبوت اوراس کے پیروکاروں کے بارے میں شریعت کے صحیح مؤقف کااظہار کرتے ہیں۔

ہماری رائے میں ’’خاتم النّبیین‘‘کی آیت اس امر کا قطعی فیصلہ کر دیتی ہے کہ حضرت رسول ﷺ کے بعد ہر مدعی نبوت کذاب ہے۔ یہاں اس امر کاتذکرہ کرنا بھی مناسب ہو گا کہ کچھ لوگوں نے یہ کہہ کر آنحضرت ﷺ کی ختم نبوت پر اعتراض کیا کہ خاتَم کا معنی آخری نہیں ہوتا۔ بلکہ یہ ایسے ہی ہے جیسے کسی شخص کو ’’خاتم الشعراء یاخاتم المفسرین‘‘ کہا جائے۔

24

ان کلمات کا یہ معنی نہیں ہوتا کہ ایسے شخص کے بعد کوئی اور شاعر یافقیہ یا مفسر پیدا نہیں ہوگا۔ بلکہ یہ مفہوم ہوتا ہے کہ اس خاص شعبہ علم میں اس شخص کو ممتاز مقام حاصل ہے۔ لیکن یہ ایک مغالطہ آمیز دلیل ہے۔ ایسے لقب کا بطور مبالغہ استعمال ہونے سے یہ لازم نہیں آتا کہ خاتم صرف’’کامل اور ممتاز‘‘ کے معنی میں مستعمل ہے۔ ’’آخری ‘‘کے لئے نہیں۔

ایسا کوئی قاعدہ نہیںکہ کسی لفظ کے بعض اوقات مجازی معنی میں استعمال ہوجانے سے وہ اپنے حقیقی معنی کھو دے گا۔ اگر کوئی کسی عرب باشندہ سے کہے:’’وجاء خاتم القوم‘‘تو وہ یہ ہرگز نہیں سمجھے گا کہ قبیلے کا ممتاز ترین فرد آیاہے۔ بلکہ وہ یہ سمجھے گا کہ قبیلے کاآخری فرد آگیاہے۔

یہ حقیقت بھی پیش نظررہے کہ چند اشخاص کو دیئے ہوئے ’’خاتم الشعراء، خاتم الفقھاء‘‘وغیرہ القاب انسانوں کے دیے ہوتے ہیں اور کسی انسان کو یہ کبھی معلوم نہیں ہوتا کہ وہ جس شخص کو اس کے کسی معیار کی بناء پر خاتم قرار دے رہا ہے۔ اسی معیار کا کوئی اور شخص پیدا نہیں ہوگا۔ یہی وجہ ہے کہ انسانی لغت میں ان القاب کی امتیاز کے مبالغہ آمیز اعتراف سے زیادہ کوئی حیثیت نہیں ہوتی۔ لیکن جب اللہ تعالیٰ فرمائیں کہ فلاں اورفلاں معیار کسی خاص شخصیت پر ختم کر دیا گیا ہے۔ تو پھرایسی کوئی وجہ نہیں کہ ہم اس سے مجازی مفہوم سمجھیں خصوصاً جب کہ کوئی لغوی ابہام بھی موجود نہ ہو۔ اس لئے اللہ تعالیٰ کا کسی شخص کو خاتم النّبیین کہنا اور کسی انسان کادوسرے انسان کو بطور مبالغہ خاتم الشعراء یا خاتم الفقہاء وغیرہ کہنا یکساں قرار نہیں پائیں گے۔

قطعی ختم نبوت کے خلاف ایک دلیل اس حدیث پر مبنی ہے کہ آپ ﷺ کی مسجد آخری مسجد ہے۔ استدلال کیاگیا کہ وہ آخری مسجد نہیں ہے۔ کیونکہ اس کے بعد دنیا میں بے شمار اور مساجد تعمیر ہوئی ہیں۔ ’’آخری مسجد‘‘ کے الفاظ کمال اور امتیاز کے معنی میں استعمال ہوئے ہیں۔ یہ دلیل صرف مغالطہ ہے۔ ’’آخری مسجد‘‘ سے مراد انبیاء کی آخری مسجد یا ایسی مسجد جو دوسری مساجد کے مقابلے میںخصوصیات کی حامل ہو،ہے۔

اس بارے میں امام مسلمؒ نے، حضرت ابوہریرہؓ ،حضرت عبداللہ بن عمرؓ،حضرت میمونہؓ (حضور ﷺ کی بیوی) سے مروی یہ احادیث بیان کی ہیں کہ دنیا میں ایسی تین مساجد موجود ہیں جو دوسری تمام مساجد سے افضل ہیں اوران میں نماز پڑھنا دوسری مساجد میں نماز پڑھنے سے ہزار گنا زیادہ ثواب کا باعث ہے۔ یہ مکہ کی مسجد الحرام، یروشلم (بیت المقدس) کی مسجد الاقصیٰ اور مدینہ کی مسجد نبوی ہیں۔ اس لئے ان تین مساجد میں نمازپڑھنے کی نیت سے ان

25

کا سفر کرنا جائز ہے۔ یہ خصوصیت کسی اورمسجد کوحاصل نہیں۔ دوسری تمام مساجد خواہ دور ہوں یا نزدیک، کامرتبہ اور ثواب یکساں ہے۔ رسول اللہ ﷺ کی مراد یہ تھی کہ چونکہ ان کے بعد کوئی اورنبی نہیں آئے گا۔ اس لئے دنیا میں کوئی ایسی چوتھی مسجد تعمیر نہیں ہوگی جس میں نماز پڑھنے کا ثواب دوسری مساجد میں نماز پڑھنے سے زیادہ ہو اور جس میں نماز ادا کرنے کی نیت سے خصوصی سفر کا ہتمام کرنے کی اجازت ہو۔

ختم نبوت کی قطعیت کے اصول کے خلاف حضرت عائشہ ؓ کا ایک قول پیش کیا گیا ہے۔ وہ یہ ہے’’یہ کہو کہ رسول اللہ ﷺ خاتم النّبیین ہیں۔ لیکن یہ مت کہو کہ ان کے بعد کوئی نبی نہیں آئے گا۔‘‘ پہلی بات یہ ہے کہ رسول اللہ ﷺ کی مستند حدیث کہ ’’میرے بعد کوئی نبی نہیں آئے گا۔‘‘کی مخالفت میں حضرت عائشہؓ کا قول پیش کرنا انتہائی ناموزوں ہے۔ پھر حضرت عائشہؓ کی طرف منسوب یہ روایت خود معتبر نہیں۔کسی قابل ذکر محدث نے اسے کسی معتبر کتاب میں روایت نہیں کیا۔ یہ صرف درمنثور،جو قرآن کریم کی تفسیر ہے اور تکملہ مجمع البحار جو حدیث کی ڈکشنری ہے، میں مذکور ہے۔ لیکن سند کاکوئی ذکر نہیں۔ یہ ناقابل اعتماد ہے اور کسی بھی معروف عالم نے اسے لائق التفات نہیں سمجھا۔

ایک اورقابل توجہ روایت جو ابن ماجہ میں ابن عباسؓ سے مروی ہے۔ یہ ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے اپنے بیٹے ابراہیم کے بارے میں فرمایا:’’لوعاش ابراہیم لکان صدیقا نبیا‘‘{اگر ابراہیم زندہ رہتا تو وہ صدیق نبی ہوتا۔}

جیسا کہ (الموضوعات الکبریٰ ص۵۸) میں مذکور ہے۔ امام نوویؒ نے اس روایت کو باطل اورمردود قرار دیا ہے۔ اس کی سند میں ابوشیبہ نامی شخص ضعیف ہے۔ امام ترمذیؒ نے اسے حدیث میں ناقابل اعتماد قرار دیاہے۔ امام نسائیؒ نے اسے حدیث میں ضعیف کہاہے۔ امام احمدؒ نے کہا ہے کہ اس کے قول کا کوئی وزن نہیں ہے۔ امام ابوحاتمؒ نے اسے حدیث میں ناقابل اعتماد کہا ہے۔

(تہذیب التہذیب ج۱ص ۱۴۴،۱۴۵)

مسلمانوں کے ہاں حضرت محمدﷺ کی ختم نبوت کے عقیدے کے بیان کے بعد مناسب معلوم ہوتاہے کہ مرزاصاحب کے دعوی نبوت کی تاریخ اور ارتقاء کو بیان کیاجائے۔

مرزاصاحب ۱۸۳۹ء یا ۱۸۴۰ء میں موضع قادیان ضلع گورداسپور،پنجاب کے اس حصے میں جواب بھارت میں واقع ہے، پیداہوئے تھے۔ یہ مرزاصاحب کی اپنی تحریروں کے

26

مطابق ہے۔

(کتاب البریہ ص۱۴۶،خزائن ج۱۳ص۱۷۷)

لیکن بعد میں ان کے خاندان کے افراد میں ان کے سال ولادت کے بارے میں اختلاف پیداہوگیا۔ ان کے بیٹے مرزا بشیر احمد جوان کے سوانح نگار اور سیرت المہدی کے مصنف ہیں، کے پہلے نظریے کے مطابق سال ولادت ۱۸۳۶ء یا ۱۸۳۷ء ہوسکتاہے۔

(سیرت المہدی ج۲ص۱۵۰)

نظرثانی کے بعد انہوں نے تاریخ ولادت ۱۳؍فروری ۱۸۳۵ء مقرر کی۔ (سیرت المہدی ج۳ص۷۶)ایک تخمینے کے مطابق سال ولادت ۱۸۳۱ء ہوسکتاہے۔ (ایضاًص۷۴) معراج دین نے تاریخ ولادت ۷؍فروری ۱۸۳۲ء مقرر کی ہے۔ (ایضاً ص۳۰۲)جبکہ دیگر ۱۸۳۳ ء یا ۱۸۳۴ء کو سال ولادت قرار دیتے ہیں۔ (ایضاً ص۱۹۴)

مرزا بشیر احمد اوران کے دوسرے لوگوں کی،جو مرزاصاحب کو ایسا نبی مانتے ہیں جسے اللہ کی طرف سے خدائی علم عطا ہواتھا(اور اسی لئے انہیں اپنے سال ولادت کے بارے میں غلطی نہیں کرنی چاہئے تھی) ان متناقض آراء کی وجہ معلوم کرنا کچھ بعید نہیں۔ مرزاصاحب اپنی وفات کے وقت تقریباً انہتر سال کی عمر میں تھے۔(۱۸۳۹ء میں پیدا ہوئے اور ۱۹۰۸ء میں انتقال ہوا)

کہاجاتاہے کہ چھٹی صدی ہجری کے ایک صوفی نعمت اللہ ولی نے اپنی ایک مسلسل نظم میں مسلمانوں کے اندر رونما ہونے والے مستقبل کے واقعات کی پیشین گوئیاں کی ہیں اور تیرھویں صدی ہجری کے اختتام اورچودھویں صدی کے آغاز پر کسی ایسے شخص کی آمد کی پیش گوئی کی ہے جو شریعت کی تجدید کرے گا۔ مرزاصاحب نے اس نظم کو اپنے اوپر منطبق کیا۔ ایک شعر میں پیش گوئی کی گئی تھی کہ وہ شخص اپنے ظہور یعنی خدائی انتخاب کی خلعت سے سرفرازی سے چالیس سال بعد تک زندہ رہے گا۔ مرزاصاحب نے اس شعر کے مفہوم پرتبصرہ کرتے ہوئے لکھاکہ وہ اس منصب پر چالیس سال کی عمر میں فائز ہوئے تھے اور اسی سال یا اس کے قریب کی عمر تک زندگی پائیں گے۔

(نشان آسمانی ص۱۳، خزائن ج۴ص۳۷۴)

پھر انہوں نے ایک خدائی الہام کے نزول کا دعویٰ کیا:’’اطال اللہ بقاء ک‘‘یعنی اسّی پر پانچ،چار زیادہ یا پانچ چار کم۔‘‘

(حقیقت الوحی ص۹۷،خزائن ج۲۲ص۱۰۰حاشیہ)

یوں اس الہام کے مطابق انہیں پچھتر یا پچاسی سال کی عمر کے درمیان کسی وقت فوت ہونا تھا۔ ان کی عمرکوزیادہ ثابت کرنے اور ان کے عرصہ حیات کو پچھتر سال کے قریب تر لانے کی

27

مساعی سے مقصود اس پیش گوئی اورالہام کی صحت وصداقت کوثابت کرنا ہے۔

پیش گوئی کی تکمیل کو منوانے کی تمنا کاانکشاف قادیانیت کے ایک مبلغ مولوی عبدالرحیم درد۔ ایم۔اے کے ایک خط سے ہوتاہے۔ جو اس نے سیرت المہدی کے مؤلف مرزا بشیر احمد کو مرزاصاحب کی عمر کی بابت ان کی تحقیق کو سراہتے ہوئے لکھا تھا۔ اس نے ان پرزور دیا کہ اس مسئلے کو قطعی طور پر حل کر دیا جائے تاکہ سال ولادت ۱۸۳۶ء اور۱۸۳۷ء کے مابین طے کر دی جائے۔ اسی یا اس کے قریب کے الہامات جن کا اعادہ (اربعین نمبر۳ص۳۲، خزائن ج۱۷ ص۴۲۲، ضمیمہ تحفہ گولڑویہ ص۱۹، خزائن ج۱۷ص۶۶، ازالہ اوہام ص۶۳۵، خزائن ج۳ص۴۴۳)میںکیاگیا ہے،کا ذکر کرتے ہوئے اس نے لکھا کہ:

مرزاصاحب نے ان الہامات کا مفہوم یوں بیان کیا تھا :’’جوظاہر الفاظ وحی کے وعدہ کے متعلق ہیں۔ وہ تو ۷۴ اور۸۶ کے اندر اندر عمر کی تعیین کرتے ہیں۔‘‘

پس اگر آپ کی عمر شمسی یا قمری حساب سے اس کے اندر اندرثابت ہو جائے تو الہامات پورے ہو جاتے ہیں۔ یعنی اگرآپ کی پیدائش ۱۸۳۶ء اور۱۸۲۲ ء کے اندرثابت ہو جائے تو کسی قسم کا اعتراض نہیں کیاجاسکتا۔‘‘(سیرۃ المہدی ج۳ص۱۸۷،۱۸۸، روایت نمبر۷۶۳)اسی دلیل کا انکشاف (سیرت المہدی ج۳ ص۷۶)پربھی کیاگیاہے۔

مرزا بشیراحمد نے تاریخ ولادت ۱۳؍فروری ۱۸۳۵ طے کرنے کے بعد ہجری کیلنڈر کے مطابق مرزاصاحب کی عمر پچھتر سال سے زیادہ نکالی ہے۔

(سیرت المہدی ج۳ص۷۶)

مرزاصاحب ایک ایسے زمیندار گھرانے میں پیداہوئے تھے۔ جو اگرچہ ماضی میں متمول اورخوشحال تھا۔ لیکن ان کی پیدائش کے وقت سخت مالی مشکلات میں گھرا ہواتھا۔ ان کے والد غلام مرتضیٰ نے ۱۸۵۷ء میں ایسٹ انڈیا کمپنی سے اپنی وفاداری کا مظاہرہ کیاتھا اور جنگ آزادی کے مجاہدین جنہیںحکومت وقت باغی قرار دیتی تھی، کو کچلنے میں مدد دینے کی خاطر برطانوی فوج کو پچاس گھوڑے اورپچاس رنگروٹ فراہم کئے تھے۔ اس کے صلہ میں انہیں حکومت کے ہاں کچھ عزت حاصل تھی۔ اس لئے برطانوی حکومت کی مدح وستائش کا رجحان مرزاصاحب کے اندربچپن سے موت تک پختہ رہا۔ وہ اپنی متعدد کتابوں اوررسالوں میں برطانوی حکومت سے اپنے والد کی وفاداری اور گورنر کے دربار میں ایک نشست کا اعزاز پانے کا تذکرہ بڑے فخر سے پیش کرتے اور دہراتے ہیں اوراپنی تحریروں میں مذکورہ حکومت سے خود اپنی لازوال وفاداری کاذکر بھی کرتے ہیں۔

28

مرزاصاحب نے چند اساتذہ سے کچھ دینی تعلیم پائی تھی۔ خاندان کی مالی حالت کی وجہ سے انہیں پندرہ روپے ماہانہ کی قلیل تنخواہ پر سیالکوٹ کی عدالتوں میں کلرک کی آسامی پر ملازمت کرنا پڑی جو ۱۸۶۴ء سے ۱۸۶۸ء تک جاری رہی۔ بعد ازاں انہوں نے ملازمت سے استعفاء دے دیا اور خاندانی جائیداد کی بحالی کی خاطر مقدمہ بازی اورمذہبی لٹریچر کے مطالعہ میں مصروف ہو گئے۔جب وہ تقریبا ً پینتیس سال کے ہوئے تو ان کے والد کا انتقال ہوگیا۔

(کتاب البریہ ص۱۴۶ تا ۱۶۰، خزائن ج۱۳ص۱۷۶تا۱۹۲ملخص)

گزشتہ صدی کے ساتویں عشرے کے اختتام پر انہوں نے عیسائیت، آریہ سماج اور براہموسماج کے خلاف کچھ معنا میں تحریر کرنا شروع کئے اور ان مذاہب کے عالموں اور پیروکاروں کے ساتھ مباحثے اورمناظرے کئے اس طرح مسلمان علماء اورپڑھے لکھے طبقے میں ان کا تعارف ہوا اور ان حلقوں میں انہیں کچھ مقبولیت حاصل ہوگئی۔

۱۸۷۹ء میں انہوں نے ایک پمفلٹ میں عیسائیت اورہندو مت پر اسلام کی برتری کے ثبوت پر ایک ایسی کتاب لکھنے کا ارادہ مشتہر کیا۔ جو تین سو دلائل پرمشتمل ہوگی۔ اپنے پاس طباعت کی رقم نہ ہونے کی وجہ سے انہوں نے مسلمانوں پرزور دیا کہ وہ اپنے عطیات، چندے یا کتاب کی پیشگی قیمت بھیجیں۔ انہوں نے (حقیقت الوحی ص۳۳۷، خزائن ج۲۲ص۳۵۰)پرلکھا ہے کہ جب انہوں نے اپنی پہلی کتاب براہین احمدیہ تالیف کی تو اسے چھپوانے کے لئے ان کے پاس رقم نہ تھی۔ انہوں نے اللہ سے التجا کی اور ایک الہام کے نزول کا دعویٰ کیا۔ جس کے مطابق انہوں نے خطوط لکھے اور مختلف ذرائع سے رقم حاصل کی۔ کتاب کی قیمت پہلے دوسروں کے لئے ۲۵ روپے اور مسلمانوں کے لئے ۱۰ روپے مقررکی گئی۔

(براہین احمدیہ ج۳ ٹائٹل پیج کی پشت پر، خزائن ج۱ص۱۳۴)

پہلی دو جلدوں کی طباعت کے بعد اس کی قیمت دوسروں کے لئے ۱۰۰ روپے اور مسلمانوں کے لئے ۱۰ روپے یا ۱۵ روپے رکھی گئی تھی۔(ایضاً ص۶۷)لوگوں کی کافی تعداد نے کتاب کی قیمت پیشگی ادا کردی۔ لیکن ۱۸۸۴ء تک چار سالوں میں کتاب کی صرف چار جلدیں طبع ہوسکیں۔ پانچویں جلد ۱۹۰۵ء میںچھپی۔ چوتھی اورپانچویں جلد کی طباعت کے دوران دو عشروں سے زیادہ مدت میں مرزاصاحب نے تقریباً اسی کتابیں تالیف کیں۔ تاہم وہ پوری کتاب کی قیمت ادا کرنے والوں کے احتجاج اورکئی لوگوں کی مخالفانہ تنقید کے باوجود پانچویں جلد مکمل نہ کرسکے۔

(ایضاً ج۵ص۱، خزائن ج۲۱ ص۲)

29

کتاب کی پہلی جلد صرف ۸۲ صفحات پر مشتمل تھی(جو ۱۹۷۰ء کے ایڈیشن میں مختصر ہو کر صرف ۲۵ صفحات کی رہ گئی)یہ ۱۸۸۰ء میں چھپی تھی اور کتاب کی ضرورت کے مبادیات، عطیات دہندگان کی فہرست، چند نظموں اور ایک پمفلٹ جس میں ایسے شخص کو جو اپنے مذہب کی الہامی کتابوں سے خواہ دلائل کاپانچواں حصہ ہی غلط ثابت کردکھائے۱۰۰۰۰ روپے کی انعامی رقم دینے کا وعدہ کیاگیا ہے،پرمشتمل ہے۔

دوسری جلد جو ۵۵ صفحات (نئے ایڈیشن میں ۴۰صفحات) کے صرف مقدمے پر مشتمل ہے، بھی ۱۸۸۰ء میں طبع ہوئی تھی۔ جلد سوم جو ۱۴۳ صفحات (نئے ایڈیشن میں ۱۰۰ صفحات) پر مشتمل ہے، ۱۸۸۲ء میں چھپی تھی جبکہ جلد چہارم جو ۲۸۲ صفحات (نئے ایڈیشن میں ۱۹۱ صفحات) پر مشتمل ہے،۱۸۸۴ء میں چھپی تھی۔

(سیرت المہدی ج۲ص۱۵۱تواریخ طباعت کے لئے دیکھئے)

کتاب کی جلد پنجم (ص۱، خزائن ج۲۱ ص۲) سے معلوم ہوتا ہے کہ اصلاً مرزاصاحب کاارادہ یہ تھاکہ اسے پچاس جلدوں میں چھپوایا جائے اورچندہ دینے والوںکی ایک بڑی تعداد سے کتاب کی پیشگی قیمت وصول کر لی گئی تھی۔ لیکن انہوں نے اعلان کر دیا کہ چونکہ ۵ اور۵۰ کے ہندسوں میں صرف ایک صفر کافرق ہے۔ اس لئے جلد پنجم کی طباعت کے ساتھ ہی ان کا وعدہ پورا ہوگیا۔

کتاب کی طباعت سے کافی عرصہ پہلے اس کے تشہیری پمفلٹوں کے جواب میں مسلمانوں کے موافق ردعمل کے باوجود مرزاصاحب نے متمول مسلمانوں کی شکایت کرنے اور ان پر بے اعتنائی اختیار کرنے کے الزامات لگانے کا کوئی موقع ہاتھ سے نہیں جانے دیا۔ عطیات کی صرف دو مثالیں نقل کی جاتی ہیں۔ صرف ایک شخص کی طرف سے پانچ ہزار روپے جو موجودہ وقت میں کئی لاکھ کے مساوی ہوتے ہیں، پیش کئے گئے جبکہ ایک دوسرے شخص نے پانچ سو روپے کی رقم دو قسطوں میں پیش کی۔

(دیکھئے عرض ناشر، براہین احمدیہ جلد اوّل ص۵طبع ۱۹۷۰ء)

مرزاصاحب کا دعویٰ ہے کہ انہیں تین لاکھ سے زیادہ الہامات ہوئے۔ ان میں سے پچاس ہزار مالی امور سے متعلق ہیں۔ یعنی آیا اور کب مال حاصل کیا جائے۔ اس دعوے سے ظاہر ہوتا ہے کہ ان کے ذہن میں مالی امور ہر چیز سے بلند تھے۔

براہین احمدیہ جس میں تین سو دلائل کا وعدہ کیاگیاتھا،کا مرکزی موضوع خدائی الہامات یا وحی ہیں۔ جو بقول مرزاصاحب، نبی پاک کے ان متبعین میں ہمیشہ جاری رہتے ہیں جو اس کی

30

اہلیت رکھتے ہیں۔ وہ مقصد جس کی خاطر کتاب کی طباعت کا وعدہ کیاگیا،پورا ہوا یا نہیں تاہم جو واحد مقصد پیش نظر تھا اور اس کا کوئی وعدہ نہ تھا،خوب پورا ہوا۔ جلدسوم اور چہارم کا مرکزی نقطہ مرزاصاحب کے وہ مزعومہ الہامات اورخیالات ہیں جو ان کے آگے جاکر مسیح موعود، مہدی معہود اور نبی ہونے کے دعوؤں کی بنیاد بنے تھے۔ تاہم مامور من اللہ(اللہ کی جانب سے مامور)ہونے کا اساسی دعویٰ کتاب کی جلد سوم میں کیا گیاتھا۔ (سیرت المہدی ج۲ص۱۵۱) جبکہ جلد چہارم میں انہوں نے مجددیت کی نشانی ملنے کا دعویٰ کیا۔

(براہین ص۵۰۲ ،۵۰۳،خزائن ج۱ص۵۹۶،۵۹۹،حیات طیبہ از عبدالقادر ص۶۹،سیرت المہدی ج۲ص۱۵۱)

اسی طرح کتاب کو عوام کے اخراجات سے چھپوانے کا حقیقی مقصد اپنی ذات کی تشہیر، اپنے مزعومہ الہامات کا اعلان اوراپنے ان خیالات کی اشاعت جو آخرالامر انہیں نبوت کا دعویٰ کرنے میں مدد دے سکیں، کے سواکچھ نہ نکلا۔ اس آخری نکتے کی صحت کے ثبوت کے لئے براہین احمدیہ سے چند اقتباسات دیئے جاتے ہیں۔

۱… ’’اور یہ بھی ان کو معلوم رہے کہ تحقیقی الہام ربانی کے لئے کہ جوخاص خدا کی طرف سے نازل ہوتا ہے اورامور غیبیہ پر مشتمل ہوتاہے ایک اور راستہ بھی کھلا ہوا ہے اور وہ یہ ہے کہ خدا تعالیٰ امت محمدیہ میں کہ جو سچے دین پر ثابت اورقائم ہیں۔ ہمیشہ ایسے لوگ پیدا کرتا ہے کہ جو خدا کی طرف سے ملہم ہوکر ایسے امورغیبیہ بتلاتے ہیں۔ جن کا بتلانا بجز خدائے واحد لاشریک کے کسی کے اختیار میں نہیں اورخداتعالیٰ اس پاک الہام کو انہیں ایمان داروں کو عطاء کرتا ہے کہ جو سچے دل سے قرآن شریف کو خدا کا کلام جانتے ہیں اورصدق اوراخلاص سے اس پر عمل کرتے ہیں اور حضرت محمدﷺ کو خداکاسچا اورکامل اور سب پیغمبروں سے افضل اور اعلیٰ اور بہتر اورخاتم الرسل اور اپنا ہادی اوررہبر سمجھتے ہیں۔‘‘

(براہین احمدیہ حصہ سوم ص۲۱۵، خزائن ج۱ص۲۳۸حاشیہ)

۲… ’’اور گو وحی بجہت عدم ضرورت منقطع ہے۔ لیکن یہ الہام کہ جو آنحضرت ﷺ کے بااخلاص خادموں کو ہوتا ہے۔ یہ کسی زمانہ میں منقطع نہیں ہوگا اور یہ الہام وحی رسالت پر ایک عظیم الشان ثبوت ہے۔‘‘

(ایضاً ص۲۱۵،خزائن ج۱ص۲۳۸حاشیہ)

۳… ’’پھر نہ معلوم مولوی صاحب نے کہاں اور کس سے سن لیا کہ لفظ الہام کے کتب دین میں وہی معنی کرنے چاہئیں جو کتب لغت میں مندرج ہیں۔ جبکہ سواداعظم علماء کا الہام کو وحی کامترادف قرار دینے میں متفق ہے۔‘‘

(ایضاً ص۲۲۱،خزائن ج۱ص۲۴۴حاشیہ)

31

۴… ’’مگر مناسب ہے کہ اس قدر ضرور ظاہر کردیں کہ ہم میں اور دوسری تمام جماعت مسلمانوں میں نزاع لفظی ہے۔ جن علامات الٰہیہ کا نام ہم وحی رکھتے ہیں۔ انہی کو علماء اسلام اپنے عرف میں الہام بھی کہہ دیا کرتے ہیں۔‘‘

(براہین احمدیہ حصہ سوم ص۲۲۲، خزائن ج۱ ص۲۴۶ حاشیہ)

۵… ’’انہیں معنوں کر کے تو علماء وارث الانبیاء کہلاتے ہیں اور باطنی علم کا ورثہ ان کو نہیں مل سکتا تو پھر وہ وارث کیونکر اور کیسے ہوئے۔‘‘

(ایضاً ص۲۳۱، خزائن ج۱ص۲۵۶حاشیہ)

۶… ’’کیا آنحضرت ﷺ نے فرمایا نہیں کہ اس امت میں محدث ہوں گے۔‘‘

(ایضاً ص۲۳۱، خزائن ج۱ص۲۵۶حاشیہ)

۷… ’’ان ضلالتوں کا نہایت پر زورہونا اورزمانہ کا نہایت فاسد ہونا اور منکروں کا نہایت مکار ہونا اور غافلوں کا نہایت خوابیدہ ہونا اورمخالفوں کا اشد فی الکفر ہونا اس بات کے لئے بہت ہی تقاضا کرتا ہے کہ ایسے شخص کا علم لدنی مشابہ بالرسل ہو اور یہی لوگ ہیں جن کا نام احادیث میں امثل اور قرآن شریف میں صدیق آیاہے۔‘‘

(براہین احمدیہ حصہ سوم ۲۳۳،خزائن ج۱ص۲۵۷حاشیہ)

۸… ’’اوران لوگوں کا زمانہ ظہور پیغمبروں کے زمانہ بعث سے بہت ہی مشابہ ہوتا ہے۔ یعنی جیسے پیغمبر اس وقت آتے رہے ہیں کہ جب دنیا میں سخت درجے پر گمراہی اور غفلت پھیلتی رہی ہے۔ ایسا ہی یہ لوگ بھی اس وقت آتے ہیں کہ جب ہر طرف گمراہی کا سخت غلبہ ہوتا ہے اورحق سے ہنسی کی جاتی ہے۔‘‘

(براہین احمدیہ حصہ سوم ص۲۳۳، خزائن ج۱ص۲۵۸حاشیہ)

۹… ’’یااحمد بارک اللہ فیک‘‘

(براہین احمدیہ حصہ سوم ص۲۳۸، خزائن ج۱ص۲۶۵حاشیہ درحاشیہ)

’’ای اول تائب الی اللہ بامر اللہ فی ہذاالزمان… قل جاء الحق وزہق الباطل… قل ان افتریہ فعلی اجرامی ھوالذی ارسل رسولہ بالھدی‘‘

(براہین احمدیہ حصہ سوم ص۲۳۹، خزائن ج۱ص۲۶۵)

’’یا احمد فاضت الرحمۃ علی شفتیک انک باعیننا یرفع اللہ ذکرک‘‘

(براہین احمدیہ حصہ سوم ص۲۴۱،خزائن ج۱ص۲۶۷)

’’یاایھاالمدثرقم فانذروربک فکبّر… انی رافعک الّی والقیت علیک محبۃ منی‘‘

(براہین احمدیہ حصہ سوم ص۲۴۲،خزائن ج۱ص۲۶۷)

ترجمہ:

32

اے احمد اللہ تجھ میں برکت دے۔

تو اللہ کے حکم سے اس زمانے میں اللہ کی طرف پہلا تائب ہے۔

تو کہہ حق آگیا اورباطل مٹ گیا۔

تو کہہ اگر میں نے اسے جھوٹ بنالیا تو میراجرم مجھ ہی پرہے۔

وہی ہے جس نے اپنے رسول کو ہدایت دے کربھیجا۔

اے احمد تیرے ہونٹوں پر رحمت جاری ہوگئی ہے۔ بیشک تو ہماری نگاہوں میں ہے۔اللہ تیرا ذکر بلند کرے گا۔

اے مدثر اٹھ پس ڈرا اوراپنے رب ہی کی بڑھائی بیان کر۔ میں تجھے اپنے پاس اٹھاؤں گا اور تجھ پر میں نے اپنی محبت ڈال دی ہے۔

۱۰… ’’اس جگہ یہ وسوسہ دل میں نہیں لانا چاہئے کہ کیونکر ایک ادنیٰ امتی آں رسول مقبول کے اسماء یاصفات یا محامد میںشریک ہوسکے۔ بلاشبہ یہ سچ بات ہے کہ حقیقی طور پر کوئی نبی بھی آنحضرت ﷺ کے کمالات قدسیہ سے شریک مساوی نہیں ہوسکتا۔ بلکہ تمام ملائکہ کو بھی اس جگہ برابری کا دم مارنے کی جگہ نہیں۔ چہ جائیکہ کسی اور کوآنحضرت ﷺ کے کمالات سے کچھ نسبت ہو۔ مگر اے طالب حق’’ارشد ک اللہ‘‘تم متوجہ ہوکر اس بات کو سنو کہ خداوند کریم نے اس غرض سے کہ تا ہمیشہ اس رسول مقبول کی برکتیں ظاہر ہوں اور تاہمیشہ اس کے نور اور اس کی قبولیت کی کامل شعاعیں مخالفین کو ملزم اورلاجواب کرتی رہیں۔ اس طرح پر اپنی کمال حکمت اور رحمت سے انتظام کررکھا ہے کہ بعض افراد امت محمدیہ کہ جو کمال عاجزی اور تذلیل سے آنحضرت ﷺ کی متابعت اختیار کرتے ہیں…اپنے رسول مقبول ﷺ کی برکتیں ان کے وجود بے نمود کے ذریعہ سے ظاہر کرتاہے اور جو کچھ منجانب اللہ ان کی تعریف کی جاتی ہے۔ یاکچھ آثار اوربرکات اورآیات ان سے ظہور پذیر ہوتی ہیں۔ حقیقت میں مرجع تام ان تمام تعریفوں کا اورمصدر کامل ان تمام برکات کا رسول کریم ﷺ ہی ہوتاہے اورحقیقی اور کامل طور پر وہ تعریفیں اسی کے لائق ہوتی ہیں اوروہی ان کا مصداق اتم ہوتاہے۔ مگر چونکہ متبع سنن آں سرور کائنات کا اپنے غایت اتباع کے جہت سے اس شخص نورانی کے لئے جو وجود باجود حضرت نبوی ہے۔ مثل ظل ٹھہر جاتا ہے۔ اس لئے جو کچھ اس شخص مقدس میں انوار الٰہیہ پیدااورہویدا ہیں۔ اس کے اس ظل میں بھی نمایاں اور ظاہر ہوتے ہیں اورسایہ میں اس تمام وضع اورانداز کا ظاہر ہونا کہ جو اس کے اصل میں ہے، ایک ایسا امر ہے کہ جو

33

کسی پر پوشیدہ نہیں۔‘‘

(براہین احمدیہ حصہ سوم ص ۲۴۳،۲۴۴،خزائن ج۱ص۲۶۸،۲۶۹حاشیہ درحاشیہ، نیز دیکھئے ص۳۰۱، خزائن ج۱ ص۳۴۹)

۱۱… ’’یاادم اسکن انت وزوجک الجنۃ، یامریم اسکن انت وزوجک الجنۃ، یااحمد اسکن انت وزوجک الجنۃ، نفخت فیک من لدنی روح الصدق‘‘

(براہین احمدیہ حصہ چہارم ص۴۹۶، خزائن ج۱ص۵۹۰،۵۹۱)

جس کا ترجمہ مرزاصاحب نے یوں کیاہے:

’’اے آدم! اے مریم اے احمد تو اور جو شخص تیرا تابع اوررفیق ہے، جنت میں یعنی نجات حقیقی کے وسائل میں داخل ہوجاؤ۔ میں نے اپنی طرف سے سچائی کی روح تجھ میں پھونک دی ہے۔ (پھر وضاحت کرتے ہیں کہ )اس آیت میں بھی روحانی آدم کا وجہ تسمیہ بیان کیا گیا۔ یعنی جیسا کہ حضرت آدم علیہ السلام کی پیدائش بلاتوسط اسباب (ماں باپ) ہے۔ ایسا ہی روحانی آدم میں بلاتوسط اسباب ظاہر یہ نفخ روح ہوتا ہے اوریہ نفخ روح حقیقی طور پر انبیاء علیہم السلام سے خاص ہے اور پھر بطور تبعیت اوروراثت کے بعض افراد خاصہ امت محمدیہ کو یہ نعمت عطاء کی جاتی ہے۔‘‘

(براہین احمدیہ حصہ چہارم ص۴۹۷، خزائن ج۱ص۵۹۱)

۱۲… ’’اناانزلناہ قریبا من القادیان۔ وبالحق انزلناہ و بالحق نزل۔ صدق اللہ ورسولہ وکان امر اللہ مفعولا‘‘مرزاصاحب نے اس کی توضیح یوں کی ہے:

’’ یعنی ہم نے ان نشانوں اورعجائبات کو اورنیز اس الہام پر از معارف و حقائق کو قادیان کے قریب اتارا ہے اورضرورت حقہ کے ساتھ اتارا ہے اوربضرورت حقہ اترا ہے۔ خدا اور اس کے رسول نے خبر دی تھی جو اپنے وقت پر پوری ہوئی اورجو کچھ خدا نے چاہا تھا، وہ ہونا ہی تھا۔ یہ آخری فقرات اس بات کی طرف اشارہ ہیں کہ اس شخص کے ظہور کے لئے حضرت نبی کریمﷺ اپنی حدیث متذکرہ بالا میں اشارہ فرماچکے ہیں اورخدائے تعالیٰ اپنے کلام مقدس میں اشارہ فرماچکا ہے۔ چنانچہ وہ اشارہ حصہ سوم کے الہامات میں درج ہو چکا ہے اور فرقانی اشارہ اس آیت میں ہے:’’ھوالذی ارسل رسولہ بالھدی ودین الحق لیظھرہ علی الدین کلہ‘‘ یہ آیت جسمانی اورسیاست ملکی کے طورپر حضرت مسیح کے حق میں پیش گوئی ہے اورجس غلبہ کاملہ دین اسلام کا وعدہ کیاگیا ہے۔ وہ غلبہ مسیح کے ذریعہ ظہور میں آئے گا اورجب حضرت مسیح علیہ السلام دوبارہ اس دنیا میں تشریف لائیں گے۔ تو ان کے ہاتھ سے دین اسلام جمیع آفاق اور اقطار

34

میں پھیل جائے گا۔ لیکن اس عاجز پرظاہرکیاگیا ہے کہ یہ خاکسار اپنی غربت اورانکسار اورتوکل اورایثاراورآیات اورانوار کے رو سے مسیح کی پہلی زندگی کا نمونہ ہے اور اس عاجز کی فطرت اور مسیح کی فطرت باہم نہایت ہی متشابہ واقع ہوئی ہیں۔ گویا ایک ہی جوہر کے دو ٹکڑے یا ایک ہی درخت کے دو پھل ہیں… اور وہ یوں کہ مسیح ایک کامل اورعظیم الشان نبی یعنی موسیٰ کا تابع اورخادم دین تھا اور اس کی انجیل توریت کی فرع ہے اور یہ عاجز بھی اس جلیل الشان نبی کے احقر خادمین میں سے ہے کہ جو سید الرسل اور سب رسولوں کا سرتاج ہے۔ اگر وہ حامد ہیں تو وہ (مرزاصاحب) احمد ہے اور اگر وہ محمود ہیں تو وہ (مرزاصاحب) محمد ہےﷺ۔(یہ ملحوظ رہے کہ مرز ا صاحب جب اپنا تذکرہ کرتے ہیں تو ﷺ کے کلمات استعمال کرتے ہیں۔ حالانکہ یہ صرف انبیاء کے لئے مستعمل ہیں) سو چونکہ اس عاجز کو حضرت مسیح سے مشابہت تامہ ہے۔ اس لئے خداوند کریم نے مسیح کی پیش گوئی میں ابتداء سے اس عاجز کو بھی شریک کررکھا ہے۔یعنی حضرت مسیح پیش گوئی متذکرہ بالا کا ظاہری اورجسمانی طور پرمصداق ہے اور یہ عاجز روحانی اورمعقولی طو ر پر اس کا محل اور مورد ہے۔ یعنی روحانی طور پر دین اسلام کا غلبہ جو حجج قاطعہ اوربراہین ساطعہ پر موقوف ہے۔ اس عاجز کے ذریعہ سے مقدر ہے۔ گو اس کی زندگی میں یا بعد وفات ہو۔‘‘

(براہین احمدیہ حصہ چہارم ص۴۹۸،۴۹۹، خزائن ج۱ص۵۹۳،۵۹۴حاشیہ درحاشیہ)

۱۳… ’’پس خداوند تعالیٰ نے اس احقر عباد کو اس زمانہ میں پیدا کرکے اورصدہا نشان آسمانی اور خوارق غیبی اور معارف و حقائق مرحمت فرماکر اورصدہا دلائل عقلیہ قطعیہ پر علم بخش کر یہ ارادہ فرمایا ہے کہ تعلیمات حقہ قرآنی کو ہر قوم اورہر ملک میں شائع اور رائج فرماوے۔‘‘

(براہین احمدیہ حصہ چہارم ص۵۰۱، خزائن ج۱ ص۵۹۶ حاشیہ درحاشیہ)

۱۴… ’’غرض خداوند کریم نے جو اسباب اوروسائل اشاعت دین کے اوردلائل اوربراہین اتمام حجت کے محض اپنے فضل اورکرم سے اس عاجز کو عطاء فرمائے ہیں۔ وہ امم سابقہ میں سے آج تک کسی کو عطاء نہیں فرمائے۔‘‘

(براہین احمدیہ حصہ چہارم حاشیہ ص۵۰۱، خزائن ج۱ص۵۹۷)

۱۵… ’’یہ عاجز اس مقام تک لکھ چکا تھا کہ شہاب الدین نامی ایک شخص… نے بیان کیا کہ مولوی غلام علی صاحب اورمولوی احمد اللہ صاحب امرتسری اورمولوی عبدالعزیز صاحب اور بعض دوسرے مولوی صاحبان اس قسم کے الہام سے کہ جو رسولوں کے وحی سے مشابہ ہے، باصرار تمام انکار کر رہے ہیں…ان کی اس بارہ میں حجت یہ ہے کہ اگر یہ الہام حق اورصحیح ہے تو صحابہ جناب

35

پیغمبر خدا ﷺ اس کے پانے کے لئے احق اوراولی تھے…اس کی تصدیق کے لئے شیخ عبدالقادر جیلانیؒ اور مجدد الف ثانیؒ کے مکتوبات اور دوسرے اولیاء اللہ کی کتابیں دیکھنی چاہئیں کہ کس کثرت سے ان کے الہامات پائے جاتے ہیں۔ بلکہ امام ربانی صاحب اپنے مکتوبات کی جلد ثانی میں جو مکتوب پنجاہ و یکم ہے،اس میں صاف لکھتے ہیں کہ غیر نبی بھی مکالمات ومخاطبات حضرت احادیث سے مشرف ہوتا ہے اور ایسا شخص محدث کے نام سے موسوم ہے اورانبیاء کے مرتبہ سے اس کا مرتبہ قریب واقع ہوتاہے۔‘‘

(براہین احمدیہ حصہ چہارم ص۵۴۵،۵۴۶، خزائن ج۱ص۶۵۱،۶۵۲حاشیہ در حاشیہ)

۱۶… ’’خدا نے تجھ کو ترک نہیں کیا اور نہ وہ تجھ پر ناراض ہے۔ کیا ہم نے تیرا سینہ نہیں کھولا۔ کیا ہم نے ہر یک بات میں تیرے لئے آسانی نہیں کی کہ تجھ کو بیت الفکر اوربیت الذکر عطاء کیا اور جو شخص بیت الذکر میں باخلاص وقصد تعبد وصحت نیت وحسن ایمان داخل ہوگا۔ وہ سؤ خاتمہ سے امن میں آجائے گا۔ بیت الفکر سے مراد اس جگہ وہ چوبارہ ہے جس میں یہ عاجز کتاب کی تالیف کے لئے مشغول رہا ہے اوررہتا ہے اوربیت الذکر سے مراد وہ مسجد ہے کہ جو اس چوبارہ کے پہلو میں بنائی گئی ہے اور آخری فقرہ مذکورہ بالا اسی مسجد کی صفت میں بیان فرمایا ہے۔جس کے حروف سے بنائے مسجد کی تاریخ بھی نکلتی ہے اور وہ یہ ہے:’’مبارک ومبارک وکل امر مبارک یجعل فیہ‘‘یعنی یہ مسجد برکت دہندہ اور برکت یافتہ ہے اور ہر یک امر مبارک اس میں کیا جائے گا۔‘‘

(براہین احمدیہ حصہ چہارم ص۵۵۸،خزائن ج۱ص۶۶۶،۶۶۷ حاشیہ در حاشیہ)

براہین احمدیہ کے حصہ سوم اورچہارم کے مندرجہ بالا اقتباسات سے مندرجہ ذیل نکات اخذ ہوتے ہیں:

۱… مرز اصاحب نے اللہ تعالیٰ سے براہ راست ربط رکھنے اور ہم کلام ہونے کا دعویٰ کیا ہے۔

۲… مرزاصاحب نے اپنے الہام کو وحی کانام دیا اور علماء کی طرف سے ممکنہ اعتراض کے خوف کی وجہ سے لکھا کہ یہ صرف لغوی نزاع ہے۔ کیونکہ انہوں نے اللہ کی طرف سے حاصل کردہ معلومات کو وحی کہا ہے۔ جبکہ علماء اسے الہام کہتے ہیں۔

۳… مرزاصاحب کو امورغیبیہ اورمستقبل کے واقعات کا علم دیاگیاتھا۔

۴ … گناہوں سے پراس عہدمیں اس طرح کا مصلح ایک پیغمبر کی مانند ہوتا ہے۔ ایسے لوگوں کو حدیث میں امثل اورقرآن میں صدیق کہاگیاہے۔

۵… ان جیسے لوگوں کاظہور پیغمبروں کی بعثت سے مماثلت رکھتاہے۔

36

۶… اگرچہ رسول اللہ ﷺ کی مانند کوئی شخص نہیں ہوسکتا۔ البتہ اگر کوئی شخص آپﷺ اور آپ ﷺ کی سنت کی کامل اتباع کرے تو وہ آپ کا ظل(سایہ) ہو سکتاہے۔

۷… ظل کی حالت اوررویے کااظہاراصل رہنماء کی شخصیت کااظہارہے۔

۸… اگر اصل حامد ہے توظل احمد ہے اور اگر اصل رہنماء محمود ہے تو ظل محمدﷺ ہے اور مرزا صاحب لفظ محمد کے بعد جو ان کے خیال میں ان کا نام ہےﷺ کے دعائیہ کلمات جوصرف انبیاء کے لئے مخصوص ہیں، استعمال کرتے ہیں اوررسول پاک کے اسماء کے بعد یہ کلمات نہیں لکھتے۔

۹… مرزاصاحب حضرت عیسیٰ علیہ السلام سے مشابہت رکھتے تھے اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام اپنے ظہور کی پیش گوئی کا ظاہری اورجسمانی مصداق تھے جبکہ ان کا روحانی اطلاق مرزاصاحب پر ہوتاہے۔

۱۰… محدث کے ظہور کی پیش گوئی خود رسول اکرمﷺ نے فرمائی تھی اورمجدد الف ثانی کے قول کے مطابق محدث وہ شخص ہوتا ہے جسے براہ راست اللہ سے ہم کلام اورمخاطب ہونے کا شرف حاصل ہوتا ہے اور اس کامرتبہ انبیاء کے مرتبے سے قریب تر ہوتاہے۔

۱۱… قرآنی آیت ’’ھوالذی ارسل رسولہ بالھدی ودین الحق لیظھرہ علی الدین کلہ‘‘مرزا صاحب کے لئے نازل ہوئی۔

۱۲… اگرچہ مندرجہ بالا آیت مادی اورسیاسی اعتبار سے حضرت مسیح علیہ السلام کے لئے پیش گوئی ہے۔ لیکن مرزاصاحب دنیا میں حضرت مسیح کے ظہور اول کا نمونہ ہیں اوردونوں ایک ہی جوہر کے ٹکڑے ہیں۔

۱۳… اللہ نے مرزاصاحب کو وحی بھیجی کہ اس نے انہیں بیت الفکر اوربیت الذکر عطاء کئے ہیں۔ بیت الفکر وہ چوبارہ ہے جہاں بیٹھ کر انہوں نے براہین احمدیہ لکھی اوربیت الذکر سے مراد وہ مسجد ہے جو اس چوبارے کے نزدیک بنائی گئی تھی۔ الہام کی رو سے یہ مسجد متبرک ہے اور برکتیں عطاء کرتی ہے اوراس میں ہر برکت والا کام کیا جائے گا۔

ان نکات سے یہ صاف ظاہر ہوتاہے کہ اپنے دعویٰ کی بنیاد اٹھاتے ہوئے مرزاصاحب نے تسلسل کے ساتھ الہام پرزور دیا ہے۔ جسے وہ اپنی بیان کردہ وجوہات کی بناء پر وحی کہتے تھے۔ مرزاصاحب نے ۱۸۸۲ء میں دعویٰ کیا کہ وہ مامور من اللہ ہیں اور ان کا مقصد اصلاح ہے۔ اس کی تفصیلات براہین احمدیہ کی جلد سوم میں موجود ہیں۔ لیکن اس کے بعد انہوں

37

نے مجدد ہونے کا دعویٰ کرنے میں دو سال لگادیئے۔ مسیح ہونے کے دعویٰ کے لئے انہوں نے لکھا کہ وہ عیسیٰ علیہ السلام سے مماثلت رکھتے ہیں اور وہی شخص ہیں۔ جو وہی کام انجام دے گا جس کے لئے عیسیٰ علیہ السلام کو جسمانی شکل میں بھیجا گیا۔ ظلی نبوت کے دعویٰ کرنے کے لئے انہوں نے کہا کہ ان کی طرف وحی نازل ہوتی ہے۔ جو قرآن کی زبان اورآیات کی شکل میں ہوتی ہے او ر وہی آیت ۴۸:۲۸ کا مصداق ہیں۔

وہ نبی کے ظل ہیں اور ظل اصل کی تمام صفات کا حامل ہوتا ہے۔ اس طرح مسیح موعود اور نبی ہونے کے آئندہ دعویٰ کے سلسلے میں تمام رکاوٹیں دور کرنے کی کوشش کی گئی۔ اپنے دعویٰ کے مطابق ان پرالہامات کے نزول کی کیفیات پانچ ہیں جن میں سے دو اس کیفیت سے انتہائی مشابہت رکھتی ہیں جو رسول اللہ ﷺ پر نزول وحی کے وقت طاری ہوتی تھی۔

ان حوالوں میں سے ایک حوالہ ایسا ہے جس میں کہاگیا ہے کہ عیسیٰ علیہ السلام اس دنیا میں مسیح کی صورت میں جسمانی طورپر آرہا ہے۔ بعد میں جو کچھ کہا گیا وہ صرف یہ ثابت کرنے کی ایک کوشش تھی کہ مسیح کشمیر میں قدرتی موت مر چکا ہے اور اس کا جسمانی حالت میں دوبارہ آنا ناممکن ہے۔ نتیجتاً مثیل مسیح یعنی مرزاصاحب کو مسیح کے دوبارہ آمد کی پیشگوئی پوری کرنا پڑی۔

رسول اللہ ﷺ کے آخری نبی ہونے کے بارے میں قرآن کریم میں ایک واضح آیت موجود ہے۔ یہ رکاوٹ اس طرح دور کی گئی کہ لفظ خاتم کے نئے معنی دریافت کئے گئے کہ آج کے بعد نبی امت مسلمہ سے بھیجے جائیں گے اور وہ رسول اللہ ﷺ کی مہر سے سند حاصل کریں گے۔

گومہدی کا ذکر نہیں لیکن مرزاصاحب نے اپنے اندر جن صفات کا دعویٰ کیا تھا۔ ان کے پیش نظر مہدی ہونے کا دعویٰ کرنا مشکل نہ تھا۔

مرزاصاحب نے ۱۸۹۱ء میں مسیح موعود ہونے کادعویٰ کیا اور اس کے بعد عیسائی مشنریوں سے بھی مناظرے کئے۔ عبداللہ آتھم ایک عیسائی تھا۔ جو مناظرہ بازی کا ماہرتھا۔ مرزاصاحب نے ۲۲؍مئی ۱۸۹۳ء سے ۵؍جون ۱۸۹۳ء تک اس کے ساتھ اور دیگر عیسائی مشنریوں کے ساتھ مناظرے کئے۔ جو اسلام بحیثیت مذہب کے سچا اوربرتر ہونے کے بارے میں تھے۔ مناظرے کے آخری دن مرزاصاحب نے ایک پیش گوئی اس طرح کی:

’’آج رات جو مجھ پر کھلا وہ یہ ہے کہ جب میں نے بہت تضرع اورابتہال سے جناب الٰہی میںدعا کی کہ تو اس امر میں فیصلہ کر اور ہم عاجز بندے ہیں۔ تیرے فیصلہ کے سوا کچھ نہیں کر

38

سکتے۔ تو اس نے مجھے یہ نشان بشارت کے طور پر دیا ہے کہ اس بحث میں دونوں فریقوں میں سے جو فریق عمداً جھوٹ کو اختیار کر رہاہے اورسچے خدا کو چھوڑ رہا ہے اور عاجز انسان کو خدا بنارہا ہے۔ وہ انہی دنوں مباحثہ کے لحاظ سے یعنی فی دن ایک مہینہ لے کر یعنی ۱۵ ماہ تک ہاویہ میں گرایا جائے گا اور اس کو سخت ذلت پہنچے گی۔ بشرطیکہ حق کی طرف رجوع نہ کرے اور جو شخص سچ پر ہے اور سچے خدا کو مانتا ہے۔ اس کی اس سے عزت ظاہر ہوگی اور اس وقت جب یہ پیش گوئی ظہور میں آوے گی۔ بعض اندھے سوجاکھے کئے جاویں گے اور بعض لنگڑے چلنے لگیں گے اوربعض بہرے سننے لگیںگے…میں اس وقت اقرار کرتاہوں کہ اگر یہ پیش گوئی جھوٹی نکلی یعنی وہ فریق جو خدائے تعالیٰ کے نزدیک جھوٹ پر ہے۔ وہ پندرہ ماہ کے عرصہ میں آج کی تاریخ سے بسزائے موت ہاویہ میں نہ پڑے تو میں ہر ایک سزا کے اٹھانے کو تیار ہوں۔ مجھ کو ذلیل کیا جاوے اور روسیاہ کیا جاوے۔ میرے گلے میں رسہ ڈال دیا جاوے۔ مجھ کو پھانسی دیا جاوے۔ہر ایک بات کے لئے تیار ہوں اورمیں اللہ جل شانہ کی قسم کھا کر کہتاہوں کہ وہ ضرور ایسا ہی کرے گا۔ ضرور کرے گا۔ ضرور کرے گا۔‘‘

(جنگ مقدس ص۱۸۸، ۱۸۹،خزائن ج۶ص۲۹۱، ۲۹۳)

۲۲؍اگست ۱۸۹۴ء کو مرزاصاحب نے ایک مکتوب منشی رستم علی کو لکھا۔ جس میں انہوں نے اس اضطراب کااظہار کیا کہ وہ شخص (آتھم) ابھی تک صحت مند اورموٹاتازہ ہے۔ انہوں نے امتحان سے بچ جانے کی دعا مانگی۔‘‘

(مکتوبات احمدیہ ج۲ ص۶۰۵ طبع جدید)

(سیرت المہدی جلد اوّل ص۱۷۸، روایت نمبر۱۶۰) میں ان اقدامات کا ذکر ہے جو مرزاصاحب نے اپنی پیش گوئی کو پورا کرنے کے سلسلے میں کئے۔ اس کتاب میں یہ کہا گیا ہے کہ میاں عبداللہ سنوری نے انہیں اطلاع دی کہ آتھم کے بارے میں پیش گوئی کی میعاد پوری ہونے سے ایک دن پہلے مسیح موعود نے اسے اورمیاں احمد علی کو کہا کہ وہ اتنے وزن میں چنے لائیں اور ان پر فلاں سورہ قرآن اتنی بار پڑھیں۔(راوی کو تعداد اورسورہ یاد نہیں) میاں عبداللہ سنوری نے کہا کہ اس نے قرآن کی اس سورہ کی تلاوت تمام رات کی۔ مرزاصاحب دونوں کو قادیان سے باہر غالباً شمال کی جانب لے گئے اور حکم دیا کہ یہ چنے کسی غیر آباد کنویں میں ڈال دیں اور پھر جلدی سے منہ پھیر کر پیچھے دیکھے بغیر لوٹ آئیں۔ دونوں نے حسب ہدایت عمل کیا۔‘‘

’’پیش گوئی کے آخری دن احمدیوں کے چہرے مرجھائے ہوئے تھے اور وہ انتہائی مایوس تھے۔ بعض لوگوں نے لاعلمی کی بناء پرآتھم کی موت پر شرط لگادی تھی۔ ہر طرف دل گرفتگی اور

39

مایوسی پھیلی ہوئی تھی۔ لوگ دعاؤں میں روتے تھے اوراللہ سے دعا کرتے تھے کہ انہیں بے عزت نہ کیا جائے۔‘‘

(سیرت مسیح موعود ص۹، از شیخ یعقوب علی وقادیانی مذہب ص۳۲۵)

مرزاصاحب نے اس کی وضاحت یہ کہہ کر کی کہ پیش گوئی اس شرط کے تحت تھی کہ آتھم (اپنے عقائد سے ) دستبردار نہ ہو۔ پس خود مناظرہ میں ہی اس نے لفظ دجال واپس لے لیا تھا جو کہ اس نے رسول ﷺ کے بارہ میں ستر افراد کے سامنے کہاتھا۔ نہ صرف یہ بلکہ اس کا یہ رجوع مسلسل پندرہ مہینوں کی خاموشی کے ذریعے ثابت ہوگیا۔ پیش گوئی کی بنیاد یہ تھی کہ اس (آتھم) نے رسول اللہ ﷺ کو دجال کہاتھا اور اس گناہ کی پشیمانی کی شدت سے وہ پندرہ مہینوں کے بعد مر گیا۔‘‘

(حقیقت الوحی ص۱۸۵، خزائن ج۲۲ص۱۹۳،کشتی نوح ص۶، خزائن ج۱۹ص۶)

مرزاصاحب نے ’’نسیم دعوت‘‘( ص۸۱ ،خزائن ج۱۹ص۴۵۱)پر لکھا کہ: ’’بعض دفعہ پیش گوئی کی تکمیل گناہ کی پشیمانی سے مؤخر ہوجاتی ہے۔ پیش گوئی کی تکمیل پر کوئی اعتراض اسی صورت میں وارد ہوسکتا تھا۔ جب وہ خودآتھم سے پہلے مر جائیں۔‘‘

یہ ملحوظ رہے کہ پیش گوئی میں اس قسم کی کوئی بات شامل نہ تھی کہ آتھم نے رسول اللہ ﷺ کے لئے نامناسب الفاظ استعمال کئے تھے۔ پیش گوئی کی بنیاد یہ تھی کہ آتھم سچے خدا کو چھوڑ کر ایک عاجز انسان کو الوہیت کا درجہ دیتاہے۔ اشارہ اس کے انجیلوں پر عقیدے کی طرف تھا۔ پیش گوئی کی تکمیل کے بغیر ہی آتھم کی موت کے لئے مقرر کردہ پندرہ مہینوں کا عرصہ گزرگیا۔

امرتسر کے مولوی ثناء اللہ، مرزاصاحب کے بڑے مخالفوں میں سے ایک تھے۔ ۱۵؍اپریل ۱۹۰۷ء کو مرزاصاحب نے ایک مکتوب انہیں سخت غصے کے عالم میں (جو مکتوب کی زبان سے عیاں ہے)لکھا۔ جس میں انہوں نے اپنے خلاف ان (مولوی ثناء اللہ) کے اس پراپیگنڈہ کا حوالہ دیا کہ وہ کذاب، جھوٹے اوردجال ہیں اورپھر اعلان کیا کہ:

’’اگر میں ایسا ہی کذاب اورمفتری ہوں جیساکہ اکثر اوقات آپ اپنے ہر ایک پرچہ میں مجھے یاد کرتے ہیں تو میں آپ کی زندگی میں ہی ہلاک ہو جاؤں گا۔ کیونکہ میں جانتا ہوں کہ مفسد اورکذاب کی بہت عمر نہیں ہوتی اورآخر وہ ذلت اورحسرت کے ساتھ اپنے دشمنوں کی زندگی میں ہی ہلاک ہو جاتاہے اوراس کا ہلاک ہونا ہی بہترہوتاہے۔ تاخداکے بندوں کو تباہ نہ کرے اور اگر میں کذاب اورمفتری نہیں ہوں اورخداکے مکالمہ اور مخاطبہ سے مشرف ہوں اورمسیح موعود ہوں تو میں خداکے فضل سے امید رکھتاہوں کہ سنت اللہ کے موافق آپ مکذبین کی سزا سے نہیں بچیں

40

گے۔پس اگر وہ سزا جو انسان کے ہاتھوں سے نہیں بلکہ محض خدا کے ہاتھوں سے ہے۔ جیسے طاعون، ہیضہ، مہلک بیماریاں آپ پر میری زندگی میں ہی وارد نہ ہوئیں تو میں خدا تعالیٰ کی طرف سے نہیں۔‘‘ آخر میں دعا کی گئی کہ اللہ اس بارے میں اپنا فیصلہ نازل فرمائے۔

(حیات طیبہ ص۴۲۳ تا ۴۲۵)

حقیقت یہ ہے کہ مولوی ثناء اللہ طویل عرصہ تک مرزاصاحب کی وفات کے بعد بھی زندہ رہے اورمرزاصاحب ۱۹۰۸ء میں اپنے پیروؤں کے عام مؤقف کے مطابق اسہال سے اور اپنے سسر کے مؤقف کے مطابق ہیضہ میں مبتلا ہوکر مر گئے۔

(حیات ناصر ص۱۴ مؤلفہ میر نواب ناصر قادیانی)

مرزاصاحب کی وفات کے بعد ان کے مریدوں نے صورت حال کو الجھانا شروع کر دیا کہ یہ مکتوب (ایک دوسرے پر لعنت بھیجنا اوردعامانگنا کہ جو شخص صحیح راستے پر نہ ہو وہ مر جائے) کی پیش کش تھی۔ لیکن مولوی ثناء اللہ نے یہ پیشکش قبول نہ کی۔ حالانکہ یہ مکتوب اس طرح کی تاویل کا متحمل نہیں بلکہ صاف صاف یکطرفہ طور پر ایک ایسا معاملہ ہے جس میں دوسرے کی رضامندی کی ضرورت ہی نہیں۔

یہ کوئی اہم امر نہیں کہ کون پہلے مرتاہے۔ مرزاصاحب کی وفات قبل از وفات مولوی ثناء اللہ نے اس لئے اہمیت اختیار کرلی کیونکہ مرزاصاحب سخت اورگستاخانہ زبان استعمال کرتے اور اکثر اللہ کی طرف سے مبعوث ہونے یاکذاب ہونے کے ثبوت کے طور پر زندگی اورموت کو ٹیسٹ قرار دیتے۔

اپنی سچائی ثابت کرنے کے لئے مرزاصاحب نے جو طریقے اختیار کئے ان میں اپنے مخالفوں کی موت کی پیش گوئی کرنا بھی شامل ہے۔ جب کوئی مخالف مرتا کہ اسے ایک نہ ایک دن مرنا ہی تھا۔ تو یہ مرزاصاحب کی مزعومہ بعثت کی سچائی کاثبوت تصور کیا جاتا۔ آخر کار مرزاصاحب کو ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ(ڈپٹی کمشنر) گورداسپور کے حکم مورخہ ۲۳؍اگست ۱۸۹۷ء جو ان کے خلاف ۱۰۷ ضابطہ فوجداری کے تحت نقص امن کے سلسلے میں مقدمہ میں جاری کیاگیا، کے ذریعے مجبور کیا گیاکہ وہ کسی شخص کی موت یا تذلیل کی پیش گوئیاں کرنے سے باز رہیں۔

(کتاب البریہ ص۲۶۱،خزائن ج۱۳ص۳۰۱)

بتایاگیا ہے کہ مرزاصاحب نے عدالت میں یقین دہانی کرائی کہ ایسی زبان استعمال نہیں کریںگے۔

(تبلیغ رسالت حصہ ششم ص۱۶۸، نیز۱۶۶، مجموعہ اشتہارات ج۲ص۴۶۶،۴۶۸)

41

لیکن مرزاصاحب نے اس کا انکار کیا ہے۔ تاہم انہوں نے اس قسم کی یقین دہانی ۱۸۹۹ء میں ۲۴؍فروری کو مسٹر ایم ڈوئی ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ گورداسپور کی عدالت میں کرائی۔

(تبلیغ رسالت حصہ ہشتم ص۴۴، مجموعہ اشتہارات ج۳ص۱۳۴)

براہین احمدیہ،جس میں مرزاصاحب نے وحی خداوندی کے نزول پر بہت زوردیا ہے، کی اشاعت نے مسلمانوں کے جذبہ تجسس کو خاصی حد تک ابھارا۔وہ مرزاصاحب کی دوسری پیش گوئیوں اوران کے پورے ہونے کا انتظار کرتے رہتے۔ مرزاصاحب نے اپنی پیش گوئیوں پر مشتمل پمفلٹ بھی شائع کئے۔ یہ پیش گوئیاں پوری نہ ہوئیں۔ اس طرح مرزاصاحب اعتراضات اور تمسخر کانشانہ بنے اوراپنی پوزیشن صاف کرنے کے لئے انہیں اپنے اقوال کی صحت کے لئے تاویل (کسی لفظ کے معنی کا مختلف مفہوم لینا) کاسہارالیناپڑا۔

مرزاصاحب نے ۲۰؍فروری ۱۸۸۶ء (مجموعہ اشتہارات ج۱ص۱۰۱)کوایک وحی ایک پمفلٹ میں شائع کی کہ ان کے ہاں ایک بچہ پیداہوگا۔ جس کا نام عمانویل اوربشیرہوگا۔ اس موقع پر جو بھی پیداہوگا وہ دولت میں کھیلے گا اوربڑی شان و شوکت کا مالک ہوگا۔ جب وہ آئے گا تو وہ ان کی کئی بیماریاں اپنی معجزانہ طاقت سے دور کرے گا۔ وہ کلمۃ اللہ(اللہ کاکلمہ) ہوگا۔ لوگوں نے اس وحی کے پورا ہونے کا انتظار شروع کردیا۔ پھر ایسا ہوا کہ مئی ۱۸۸۶ء میں مرزاصاحب کے ہاں لڑکی پیداہوئی۔ اس موقع پر جیساکہ سیرت المہدی کے مصنف نے کہا جو لوگ مرزاصاحب پر ایمان رکھتے تھے،مایوس ہوئے۔ جبکہ ان لوگوںمیں جو ایمان نہیں رکھتے یا ان کے مخالف تھے۔ تمسخر اورہنسی مذاق کی ایسی لہر اٹھی کہ اس سے زلزلہ کی کیفیت پیداہوگئی۔ مرزاصاحب نے پمفلٹ اور خطوط کے ذریعے اعلان کیا کہ اس وحی میں ایسا کوئی اشارہ نہ تھا کہ اسی حمل میں لڑکا پیداہو گا۔

(سیرت المہدی ج اول ص۱۰۶)

بعد ازاں اگست ۱۸۸۷ء میں ان کے ہاں ایک لڑکا پیداہوا۔ اس کی پیدائش پر بہت خوشی منائی گئی اور جن کا ایمان ڈگمگا گیاتھا،پختہ ہوگیا۔ لوگوں نے خیال کیا کہ یہ فرزند موعود ہے اور مرزا صاحب بشیراوّل کی پیدائش پر یہی رائے رکھتے تھے۔ لوگوں نے مرزاصاحب کی طر ف رجوع کرنا شروع کردیا۔ لیکن ایک سال بعد وہ لڑکا مرگیا۔ اس واقعہ نے ملک میں اس قدر طوفان اورزلزلہ بپا کیا کہ اس کی مانند قبل ازیں اوربعد ازیں کبھی دیکھا نہ سناگیا۔بہت سے ایسے لوگوں کو

42

جو ان پر یقین رکھتے تھے۔ ایسا دھکا لگا کہ پھر مرزا صاحب کی طرف راجع نہ ہوئے۔ مرزاصاحب نے پھر لوگوںکو خطوط اورپمفلٹ کے ذریعے قائل کرنے کی کوشش کی کہ انہیں کبھی یہ یقین نہ تھا کہ یہی لڑکا وحی کا مصداق ہے۔

چونکہ ان پر کئی باروحی کانزول ہوا جس میں اس کے درجات بہت بلند کئے گئے۔ تو انہوں نے سوچا کہ شاید یہی لڑکا فرزند موعود ہوگا۔ لیکن خود وحی میں اس طرف کوئی اشارہ نہیں تھا۔ ان کے کچھ مریدوں کو ان کی اس تاویل پر یقین آگیا۔ جبکہ دیگر پیرو مایوس ہوئے اورمخالفوں نے تمسخر اڑایا۔

(سیرت المہدی جلد اول ص۱۰۶)

یہاں یہ امر قابل ذکر ہے کہ وحی پر مشتمل پمفلٹ ۲۰؍فروری ۱۸۸۶ء کو شائع ہوا۔ ایک اور پمفلٹ ۲۲؍مارچ ۱۸۸۶ء کو شائع کیاگیا۔ جس میں کہاگیا کہ یہ لڑکا نو سال کے اندر پیدا ہوگا۔ تیسراپمفلٹ ۸؍اپریل ۱۸۸۶ء کو شائع ہوا۔ جس میں بیان کیاگیا کہ جلد ہی ایک لڑکا پیدا ہوگا اور اس کے پیداہونے کا عرصہ حمل کے عرصے سے زیادہ نہیں ہوگا۔

(تبلیغ رسالت حصہ اوّل ص۸۶،۸۷، مجموعہ اشتہارات ج۱ص۱۲۷،۱۲۸)

اسی وجہ سے جب مئی ۱۸۸۶ء میں مرزاصاحب کے ہاں لڑکی پیدا ہوئی تو لوگوں نے مرزاصاحب کا مذاق اڑایا۔ لیکن مرزاصاحب نے اسے بھی اپنے حق میں استعمال کیا۔ کہا گیا کہ یہ پیش گوئی کبھی نہیں کی گئی کہ اسی حمل سے لڑکاپیداہوگا۔ حمل کے عرصے سے زیادہ عرصہ نہ ہونے کے الفاظ کا یہ معنی بھی ہوسکتاہے کہ لڑکااڑھائی یا تین سال میں پیداہو اور اس کا یہ مطلب بھی ہو سکتاہے کہ نو سال کے اندرلڑکا کسی وقت بھی پیداہو سکتاہے۔(ایضاً)ظاہر ہے کہ یہ تاویلات لوگوں کو مطمئن نہیں کر سکتی تھیں۔

یہ وضاحت کہ مرزاصاحب کو یقین نہ تھا کہ بشیر اوّل وحی کامصداق ہے۔ پمفلٹ ۷؍اگست ۱۸۸۷ء کی روشنی میں پرکھی جا سکتی ہے۔ جس میں مرزاصاحب نے بکمال مسرت پورے اطمینان کااظہارکیا ہے کہ اس رات کوڈیڑھ بجے پیش گوئی سچی ثابت ہوئی اوروہ بابرکت فرزند پیدا ہوا۔

(تبلیغ رسالت حصہ اوّل ص۹۹، مجموعہ اشتہارات ج۱ص۱۴۱)

پمفلٹ کا عنوان ہی خوشخبری رکھاگیا۔ خوشخبری کے پمفلٹ نے ثابت کردیا کہ مرزاصاحب کو خود بھی یقین تھا اورانہوں نے خود ہی یہ خبرعوام میں پھیلائی۔

43

مرزاصاحب کی محمدی بیگم کے ساتھ شادی کرنے کی کوششیں اوران میں ناکامی کا سب کو علم ہے۔۲۰؍فروری ۱۸۸۷ء کے پمفلٹ میں، جس میں لڑکے کی پیدائش کے بارے میں پیش گوئی تھی، ایک اور پیش گوئی درج کی گئی جس کے بارے میں دعویٰ کیاگیا کہ یہ وحی کی بنیاد پر کی گئی۔ اس میں مرز ا قادیانی نے لکھا کہ: ’’خدا نے انہیںعورتوں کی اچھی خبریں دی ہیں۔ جن میں سے کچھ کو وہ مستقبل میں حاصل کر سکیں گے۔‘‘ ان کے دوسرے پمفلٹوں اور تحریروں سے ظاہر ہے کہ یہ خبریں ان کی مستقبل کی شادیوں کے بارے میں تھیں۔ لیکن یہ حقیقت ہے کہ مرزاصاحب کی ’’آخری شادی ۱۷؍نومبر ۱۸۸۴ء کوہوئی تھی۔‘‘

(حیات طیبہ ص۷۶)

مرزاصاحب نے مولوی نور الدین کے نام ۸؍جون ۱۸۸۶ء کے ایک مکتوب میں لکھا کہ: ’’تقریباً چار ماہ پہلے ان پر یہ کشف ہوا کہ ان کے ہاں ایک صاحب درجات لڑکا تولد ہوگا۔ کچھ عرصہ سے انہیں کئی الہام ہو رہے تھے کہ ان کی پھر شادی ہوگی اور اللہ کی طرف سے یہ فیصلہ ہو چکا ہے کہ انہیںایک نیک اور پاک باز بیوی عطاء کی جائے گی۔ جس سے ان کی اولاد ہوگی۔ اس کے بعد انہوں نے شادی کے دو پیغامات بھیجے جو نامنظور ہوئے۔‘‘

(مکتوبات احمدیہ ج۵ نمبر۲ ص۵)

مرزاصاحب نے دعویٰ کیا کہ اللہ تعالیٰ نے بارہا انہیں پیش گوئی کے طور پر مطلع کیا ہے کہ ان کی شادی مرزا احمد بیگ کی بڑی لڑکی سے ہوگی۔ خواہ کنوار پن کی حالت میں خواہ بیوگی کی صورت میں۔

(ازالہ اوہام ص۳۹۶،خزائن ج۳ص۳۰۵)

۱۰؍مئی ۱۸۸۸ء کو مرزاصاحب کی طرف سے شادی کی درخواست کاایک خط اخبار نور افشاں میں شائع ہوا۔ ان کے مخالفوں نے انہیں اپنے اعتراضات کا نشانہ بنالیا۔ مرزاصاحب نے جواب میں ایک اور پمفلٹ ۱۹؍جولائی ۱۸۸۸ء کو شائع کیا۔ جس میں انہوں نے اپنے اس خط کاجواز پیش کیا اور پھر کہا کہ انہوں نے اللہ کے حکم کی تعمیل میں مرزا احمد بیگ کی بڑی لڑکی محمدی بیگم کے رشتہ کے لئے کہا ہے۔ انہوں نے اپنے مقصد کے حصول کے لئے جو طریق کار اختیار کیا۔ اس کی تفصیل دی۔ ان کے بعض قریبی رشتہ داروں نے ان سے نشانات طلب کئے۔ لڑکی(محمدی بیگم) کا والد انکا تابع فرمان تھا اور اپنی لڑکیوں کو ان (رشتہ داروں) کی لڑکیاں تصور کرتاتھا اور وہ بھی یہی تصور کرتے تھے۔ وہ مرزاصاحب کو جھوٹا اورکذاب سمجھتے تھے۔ انہوں نے اسلام اور قرآن کریم پر اعتراضات کئے اور مرزاصاحب سے نشانیاں طلب کیں۔

44

اس وجہ سے مرزاصاحب نے ان کے لئے کئی بار دعا کی۔ جو اس طرح قبول ہوئی کہ لڑکی کے والد نے ان سے ایک مسئلے میں مدد چاہی۔ اس کی بہن مرزاصاحب کے ایک چچا زاد بھائی غلام حسین سے شادی شدہ تھی۔ غلام حسین گزشتہ پچیس سال سے لاپتہ تھا۔ اس کی زمین جس کے مرزاصاحب قانونی وارث تھے،اس کی بیوی کے نام کاغذات مال میں درج کرائی گئی تھی۔ اس کا بھائی احمد بیگ چاہتا تھا کہ اس زمین جس کی قیمت چار،پانچ ہزار روپے تھی، کاہبہ اس کے لڑکے محمدبیگ کے نام ہو جائے۔ غلام حسین کی بیوی کی طرف سے ایک ہبہ نامہ تیار کیاگیا اورمرزاصاحب کے پاس کی کی رضا مندی کے حصول کے لئے لایا گیا جو کہ قانوناً ضروری تھا۔ مرزاصاحب دستخط کرنے پر آمادہ تھے۔ لیکن انہیں اللہ کی طرف سے حکم ملا کہ اب انہیں اس (احمد بیگ) کی لڑکی کا رشتہ مانگنے کی تحریک کرنی چاہئے اور اسے بتانا چاہئے کہ اس تبرع اور سخاوت کا اظہار اسی شرط کے تابع ہے اور یہ شادی برکت کا سبب اورمغفرت کی وجہ بنے گی اور اگروہ اس شادی پر رضا مند نہ ہوا تولڑکی غم وجنون کا شکار ہوجائے گی اورجس شخص کے ساتھ اس کی شادی ہو گی، وہ شادی کے اڑھائی سال کے اندر مر جائے گا۔اوراس کا والد اس سے تین سال کے اندر مر جائے گا۔

(تبلیغ رسالت ج۱ ص۱۱۶، مجموعہ اشتہارات ج۱ص۱۵۷،۱۵۸)

مندرجہ بالا پمفلٹ کے ضمیمہ مورخہ ۱۵؍جولائی ۱۸۸۸ ء سے معلوم ہوتا ہے کہ مرزاصاحب کے رشتہ دار ان کو کذاب اور سوداگر( جس نے دولت ہتھیانے کے لئے اللہ سے ہم کلام ہونے کا دعویٰ کیا) خیال کرتے تھے۔ مرزاصاحب نے لکھا کہ یہ لوگ نشانیاں دکھانے پربھی مطمئن نہ ہوئے۔انہیں اس رشتہ کی ضرورت ہی نہ تھی۔ شادی کی درخواست صرف بطور نشانی تھی تاکہ جو لوگ انہیں ماننے سے انکاری ہیں۔ انہیںخدا کی طرف سے قدرت کے عجائب دکھادیئے جائیں اور ان کی جانب سے (شادی کی تجویز) کی قبولیت کی صورت میں ان پر اللہ تعالیٰ کی رحمتوں اور برکتوں کانزول ہوتا اور آنے والی آفتیں اورمصائب ٹل جاتے۔ لیکن اگر وہ انہیںمسترد کر دیں تو ان کی تنبیہہ کے لئے خوفناک اورخطرناک نشانیوں کا ظہور ہو۔

(تبلیغ رسالت ج۱ ص۱۱۹، ۱۲۰، مجموعہ اشتہارات ج۱ص۱۶۱،۱۶۲)

مرزاصاحب نے ان دھمکیوں پر ہی اکتفانہیں کیا۔ انہوں نے اپنے رشتہ داروں اور خود مرزا احمد بیگ کو خطوط لکھے۔ یہ التجاؤں کے خطوط تھے۔ مرزا احمد بیگ کے نام ۲۰؍فروری

45

۱۸۸۸ء کے خط میں لکھاکہ شادی کے وعدے کی صورت میں وہ ہبہ نامے پر دستخط کرنے پر آمادہ ہوںگے اور ان کی اپنی جائیداد خداا ور احمد بیگ کی ملک ہوگی۔ انہوں نے یہ وعدہ بھی کیا کہ ان کی کوششوں سے، ان کا لڑکا محکمہ پولیس میں ملازم ہو جائے گا اور اس کا نکاح ان کے کسی متمول پیروکار کی لڑکی سے کر دیا جائے گا۔

(نوشتہ غائب از ایم۔ ایس خالد ص۱۰۰،۱۰۱)

انہوں نے ۱۷؍جولائی ۱۸۹۲ء کو مرزا احمد بیگ کو ایک اورخط تحریر کیا۔ جس میں کہا کہ ان کی شادی کی پیش گوئی بہت مشہور ہے اور اس سے اس پیش گوئی کی تکمیل میں مدد دینے کی درخواست کی۔

(کلمہ فضل رحمانی از قاضی فضل احمد ص۱۲۳)

مرزاصاحب کے بیٹے فضل احمد کی شادی مرزا شیر علی کی لڑکی کے ساتھ ہوئی تھی اور مرزا شیر علی کی زوجہ مرزا احمد بیگ کی بہن تھی۔ مرزاصاحب نے مرزا شیر علی اور اس کی بیگم کو بھی خطوط لکھے اور ان سے محمدی بیگم کے نکاح کے حصول میں مدد دینے کے لئے کہا اور انہیں دھمکی دی کہ اگر اس کی شادی کسی اورشخص کے ساتھ کر دی گئی تو وہ اپنے بیٹے فضل احمد سے کہیں گے کہ وہ اپنی بیوی کو طلاق دے دے۔ مرزا شیر علی نے مرزاصاحب کوجواباً کہا کہ اگر وہ اپنے آپ کو مرزا احمد بیگ کی جگہ تصور کریں اورمؤخر الذکر ان سے ان کی لڑکی کے ساتھ شادی کرانے کی درخواست کرے اور وہ پچاس سال سے زیادہ عمر کا ہو اورمسیلمہ کذاب(رسول اللہﷺ کے زمانے میں ایک جھوٹا مدعی نبوت) پر سبقت لے گیاہو،تو وہ رشتہ دیتے؟

مرزاصاحب کی اس دھمکی کے جواب میں کہ اپنی بیوی(جو مرزا احمدبیگ کی ہمشیرہ تھیں) کے ذریعے مرزا احمد بیگ پراثرانداز ہونے سے انکار کی صورت میں ان کا لڑکا ان کی لڑکی کو طلاق دے دے گا۔ مرزا شیرعلی نے دریافت کیا کہ اس کی بیوی کا کیا حق ہے کہ اپنی بیٹی کے لئے بھائی کی لڑکی کو ایک دائم المرض آدمی جو مراق سے خدائی تک پہنچ چکاہو،دینے کے لئے کہے۔

(نوشتہ غیب از ایس ایم خالد وزیرآبادی ص۱۲۸)

بالآخر مرزاصاحب کے دباؤ کے تحت، ان کے بیٹے فضل احمد نے اپنی بیوی مرزا شیر علی بیگ کی لڑکی کو بادل ناخواستہ طلاق دے دی۔ مرزاصاحب کی پہلی بیوی اور اس کے بیٹے سلطان احمد نے محمدی بیگم کے خاندان کا ساتھ دیا۔ مرزاصاحب نے اپنی بیوی کو طلاق دے دی اور اپنے بیٹے سلطان احمد کو اپنی وراثت سے محروم کردیا۔

(تبلیغ رسالت ج۲ ص۹،۱۱، مجموعہ اشتہارات ج۱ص۲۱۹تا۲۲۱)

محمدی بیگم کی شادی مرزا سلطان محمد کے ساتھ ہوگئی جو پیش گوئی کے مطابق فوت نہیں

46

ہوئے اور ایک مدت دراز تک زندہ رہے۔ مرزا احمد بیگ اپنی لڑکی کی شادی سے چھ ماہ کے اندر فوت ہوگیا اوراسے پیش گوئی کی تکمیل قرار دیا۔ لیکن سلطان محمد کی شادی اور موت کا کیاہوا؟ وہ مرزاصاحب کے مرنے کے بعد بھی عرصہ دراز تک زندہ رہے۔ جنگ عظیم اوّل میں شریک ہوکر زخمی ہوئے۔ لیکن زندہ رہے۔

(قادیانیت از سید ابوالحسن ندوی ص۱۶۵)

سیرت المہدی میں یہ بات تسلیم کی گئی کہ مرزاصاحب نے اپنے رشتہ داروں کو خطوط لکھے اور اس شادی کے لئے بڑی جدوجہد کی۔ (جلد اول ص۲۰۵)تاہم مصنف نے یہ واضح کرنے کی سعی کی ہے کہ کوئی نبی بھی ایسا نہیں ہے جس نے اپنی پیشگوئیوں کی تکمیل کی کوشش نہ کی ہو۔

(ایضاً ص۱۹۳)

یقینا بہت ہی بڑا دعویٰ ہے۔ لیکن اسے درست فرض کرتے ہوئے بھی کیا یہ جائز تھا کہ وہ اپنے بیٹے کو اپنی بیوی کو طلاق دینے پر مجبور کرتے اوراپنے بیٹے کے خسرکو دھمکیاں دیتے کہ ان کی مدد کرنے سے انکار کی صورت میں وہ اپنے بیٹے کو ہدایت کریں گے کہ وہ اپنی بیوی کو طلاق دے دے۔ جس دین کو مرزاصاحب بظاہر مانتے تھے۔ اس میں ایسا کوئی تصور موجود نہیں ہے کہ نافرمان لڑکے کو اپنی زندگی میں ہی وراثت سے محروم کر دیا جائے۔ لیکن انہوں نے اس کا تحریری اعلان کیا۔ انہوں نے اسی بناء پر اپنی پہلی بیوی کو بھی طلاق دے دی کہ وہ اس شادی کے لئے اپنے رشتہ داروں پر زوردینے کے لئے آمادہ نہ ہوئی۔ اسلام میں طلاق مکروہ ترین چیز ہے۔ لیکن مرزاصاحب اپنی بیوی، اپنے بیٹے اوربہو سے بھی انتقام لینے میں تیز نکلے۔

سیرت المہدی کا مصنف لکھتا ہے کہ نہ صرف مرزا احمد بیگ کا انتقال ہوگیا۔ بلکہ خاندان کئی بدنصیبیوں سے دوچار ہوگیا۔(سیرت المہدی ج۱ص۱۹۶)کہاجاتا ہے کہ مرزا احمد بیگ کی موت سے پیش گوئی پوری ہوگئی۔لیکن پیش گوئی یہ تھی کہ محمدی بیگم کا خاوند اڑھائی سال کے اندر اور اس کا والد تین سال کے اندر مر جائیں گے۔ پیش گوئی کی معقول تعبیر یہ ہوتی کہ والد کی موت محمدی بیگم کے خاوند کی موت کے بعد لیکن شادی کے تین سال کے اندر واقع ہوتی۔ لیکن وہ شادی کے بعد جلدی مرگیا اور جس شخص کو پہلا شکار ہونا تھا، وہ زندہ رہا۔

منگنی یا شادی میں ناکامی یا کامیابی عام حالات میں کوئی بڑی اہمیت نہیںرکھتی لیکن مرزاصاحب کے خدائی الہام پر اصرار نے اس واقعہ کو اہمیت دے دی۔

47

(انجام آتھم ص۳۱،خزائن ج۱۱ص ایضاً)میںلکھا:

’’کہ نفس پیش گوئی داماد احمدبیگ کی تقدیر مبرم ہے۔ اس کی انتظار کرو اور اگر میں جھوٹا ہوں تو یہ پیش گوئی پوری نہیں ہوگی اور میری موت آ جائے گی۔‘‘

اور یہ پوری نہ ہوئی۔ یہ ۱۸۹۹ء کی بات ہے۔شادی کے بارے میں اس سے قبل بھی وہ تقریباً یہی بات ایک رسالے مطبوعہ ۶؍ستمبر۱۸۹۴ء میںکہہ چکے تھے۔ انہوں نے لکھا تھا:

’’نفس پیش گوئی یعنی اس عورت کااس عاجز کے نکاح میں آنا یہ تقدیر مبرم ہے۔جو کسی طرح ٹل نہیں سکتی۔ کیونکہ اس کے لئے الہام الٰہی میں یہ فقرہ موجود ہے کہ ’’لاتبدیل لکلمات اللہ‘‘یعنی میری یہ بات ہرگز نہیں ٹلے گی۔ پس اگر ٹل جائے تو خدا کا کلام باطل ہوتا ہے۔

(مجموعہ اشتہارات ج۲ص۴۳)

لیکن جس وقت یہ الفاظ کہے جارہے تھے۔ سلطان محمد کی موت کے لئے مقرر کردہ مدت اس سے قبل گزر چکی تھی۔لیکن مرزاصاحب مصر رہے کہ جو مقرر ہوچکا ہے، وہ ضرور واقع ہو گا۔ خواہ اس میں کچھ تاخیر ہوجائے۔ ۱۸۹۱ء میں مرزاصاحب نے پیش گوئی کی:

’’سلطنت برطانیہ ہشت سال‘‘ اور ’’سلطنت برطانیہ ہفت سال‘‘

یہ پیش گوئی بہت سی تعبیرات کا موضوع سخن بنی رہی۔کیونکہ برطانوی حکمرانی جنگ عظیم دوم کے بعد تک قائم رہی۔

(سیرت المہدی ج۲ص۳۱۴ نمبر۹)

(براہین احمدیہ ج۵صفحات ۷۳،۷۴، خزائن ج۲۱ ص۹۴،۹۵)میں مرزاصاحب نے قرآن کریم کی آیت ۳؍۵۵:’’اذ قال اللہ یٰعیسیٰ انی متوفیک ورافعک الّی ومطھرک من الذین کفروا وجاعل الذین اتبعوک فوق الذین کفروا الی یوم القیامۃ‘‘{جب اللہ نے کہا اے عیسیٰ میں تجھے قبض کرنے والا ہوں اور اپنی طرف اٹھالینے والا ہوں اور جن لوگوں نے کفر کیا ہے۔ ان سے تجھے پاک کرنے والاہوں اور جن لوگوں نے تیری پیروی کی ان کو قیامت تک کے لئے ان لوگوں پرغالب کرنے والاہوں جنہوں نے تمہارا انکار کیاہے۔}

درج کرنے کے بعد لکھاہے:’’یعنی اے عیسیٰ میں تجھے وفات دوںگا او ر اپنی طرف اٹھاؤں گا اور تیری بریت ظاہر کروں گا اورجو تیرے پیرو ہیں، میں قیامت تک ان کو تیرے منکروں

48

پر غالب رکھوںگا۔ اس جگہ اس وحی الٰہی میں عیسیٰ سے مراد میں ہوں اور تابعین یعنی پیروؤں سے مراد میری جماعت ہے۔ قرآن شریف میں یہ پیش گوئی حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی نسبت ہے اور مغلوب قوم سے مراد یہودی ہیں۔ جو دن بدن کم ہوتے گئے۔ پس اس آیت کو دوبارہ میرے لئے اور میری جماعت کے لئے نازل کرنا اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ مقدر یوں ہے کہ وہ لوگ جو اس جماعت سے باہر ہیں۔ وہ دن بدن کم ہوتے جائیں گے اور تمام فرقے مسلمانوں کے جو اس سلسلہ سے باہر ہیں، وہ دن بدن کم ہوکر اس سلسلہ میں داخل ہوتے جائیں گے یا نابود ہوتے جائیں گے۔ ‘‘

اس پیش گوئی کا بطلان اس قدر عیاں اورظاہر ہے کہ اس بارے میں کچھ زیادہ کہنے کی ضرورت نہیں۔ ۱۹۸۱ء کی آخری مردم شماری کے مطابق پاکستان میں قادیانیوں کی تعداد ۰۰۰،۱۰۳ ہے اورصرف پنجاب میں جہاں مرزاصاحب کے کچھ ماننے والے موجود تھے، مسلمانوں کی تعداد میں کئی گنا اضافہ ہوچکا ہے۔ قادیانیوں کی تعداد میں ہمیشہ مبالغہ کیاگیا ہے۔ یہ امر مذہب اور اخلاقیات کی انسائیکلو پیڈیا جلد ۱۰ص۵۳۰(ق) سے ظاہر ہوتاہے:

’’یہ تحریک ۱۸۸۹ء میں اپنی ابتداء سے لگاتار بڑھتی رہی۔ ۱۸۹۶ء میں اپنے اراکین کی تعداد ۳۱۳ ہونے کا دعویٰ تھا۔ ۱۹۰۱ء میں سرکاری مردم شماری میں صوبہائے متحدہ میں ۱۱۳ ۱ مرد اور بمبئی پریذیڈنسی میں ۱۱۰۸۷(صاف طور پرغلط)۔ ۱۹۰۴ء میںمرزاصاحب نے ۰۰۰،۱۰۰ سے زیادہ مریدوں کا دعویٰ کیا اور اپنی موت سے قبل پیروکاروں کی کل تعداد کا تخمینہ ۰۰۰،۵۰۰ لگایا۔ اس واضح مبالغے کا موازنہ ۱۹۱۱ء میں پنجاب کی مردم شماری کی رپورٹ کے نتائج سے کیاجا سکتاہے۔ یعنی ۱۸۶۹۵ احمدی۔ ایک آزاد تخمینے کے مطابق آج کے ہندوستان میں تحریک کی کل تعداد غالباً ۰۰۰،۶۰ ہوگی۔ دوسرے ممالک میں بھی کچھ بکھرے ہوئے پیروکار موجود ہیں۔‘‘

۱۹۳۱ء کی مردم شماری میں ان کی تعداد ۵۵ ہزار ہے۔جس کا اندازہ مرزا محمود احمد نے پچھتر ہزار لگایا۔

(خطبہ میاں محمود احمد الفضل، قادیان ج۲۱نمبر۱۵۲، مورخہ ۲۱؍جون ۱۹۳۴ء قادیانی مذہب ص۴۱۵)

ایک رسالہ مورخہ ۲۷؍ستمبر ۱۸۹۹ء میں مرزاصاحب نے لکھا کہ انہوں نے کسی کتاب میں اپنے پیروؤں کی تعداد تین سو دی تھی۔ یہ تعداد دس ہزارہو چکی ہے اور تین سال کے اندر ایک

49

لاکھ سے بڑھ جائے گی۔ (تبلیغ رسالت ج۸ ص۵۴، مجموعہ اشتہارات ج۳ص۱۴۴)ایک رسالے مورخہ ۴؍نومبر ۱۹۰۰ء میں انہوں نے اس تعداد کاتخمینہ تیس ہزار لگایا۔

(تبلیغ رسالت ج۹ ص۹۰، مجموعہ اشتہارات ج۳ص۳۶۵)

مرزاصاحب نے حلفاً کہا کہ ’’میں حلفاً کہہ سکتا ہوں کہ کم از کم ایک لاکھ آدمی میری جماعت میں ایسے ہیں کہ سچے دل سے میرے پر ایمان لائے ہیں۔

(سیرت المہدی ج۱ص۱۶۵)

(تحفۃ الندوہ ص۵،خزائن ج۱۹ص۹۷)میں بھی انہوں نے یہی تعداد مقررکی اور کہا کہ ان میں سے دس ہزار طاعون کے زمانے میں شامل ہوئے تھے۔

(حقیقت الوحی کے تتمہ مطبوعہ ۱۹۰۷ء ص۱۱۷،خزائن ج۲۲ص۵۵۳)میں مرزاصاحب نے اپنے پیروؤں کی تعداد چار لاکھ بتائی۔

مرزاصاحب اوران کے جانشینوں کے علاوہ ان کے پیروکاروں، جن میں مبارک احمد پروفیسر جامعہ احمدیہ قادیان شامل ہیں، نے بھی تعداد کو بڑھاچڑھا کر بیان کیاہے۔ مؤخر الذکر نے احمدیوں کی تعداد پچاس لاکھ بیان کی ہے۔ عبدالرحیم درد نے مسٹر فلبی کے سامنے بیان کیا کہ پنجاب کے مسلمانوں کی غالب اکثریت احمدی مسلمانوں کی ہے۔ یہ بیان اس وقت دیا گیا تھا جب پنجاب کے مسلمانوں کی تعداد صرف ڈیڑھ کروڑ تھی۔ اس کا معنی یہ ہوا کہ اس کے دعوے کے مطابق پنجاب میں قادیانیوں کی تعداد پچھتر لاکھ تھی۔ حال ہی میں اکانومسٹ لندن نے یہ تعداد ایک کروڑ دی ہے۔ اس رسالے نے یقینا قادیانیوں سے غذا پائی ہوگی۔ پنجاب کے مسلمانوں کی تعدادساڑھے چار کروڑ سے زیادہ ہے اور پورے ملک میں قادیانیوں کی تعداد ۰۰۰،۱۰۳ ہے۔ یہ تھی مرزاصاحب کی پیش گوئی!

یونٹی کلکتہ نے ایک مضمون میں، جومرزاصاحب کے انتقال پرلکھاگیا، ان کے متبعین کی تعداد بیس ہزار بتائی۔

(سیرت المہدی ج۱ص۲۸۲، روایت نمبر۲۹۵)

جب مرزاصاحب کے تھوڑے بہت پیروکار بن گئے۔ تو انہوں نے ایک رسالہ مورخہ یکم؍دسمبر ۱۸۸۸ء میں انہیں بیعت کرنے کی دعوت دی۔ (حیات طیبہ ص۹۷،۹۸)انسائیکلو پیڈیا آف ریلجنز اینڈ ایتھکس کے مضمون قادیان (جلد ۱۰) کے مطابق ایسے پیروکاروں کی تعداد ۱۸۹۶ء میں ۳۱۳ تھی۔

50

اپنے حامیوں کی کافی بڑی تعداد جمع کرلینے کے بعد مرزاصاحب نے ۱۸۹۱ء میں اپنے مسیح موعود اور مہدی معہود ہونے کے اعلان کا دوسرا قدم اٹھایا اور امت مسلمہ کا یہ خدشہ کہ وہ نبوت کا دعویٰ کرنے کی جانب رواں دواں ہیں،جزوی طور پر درست ثابت ہوا۔ درحقیقت مرزاصاحب پہلے ہی براہین احمدیہ میں اپنے مسیح موعود ہونے کی بنیاد رکھ چکے تھے۔ کیونکہ وہاں وہ اپنے مثیل مسیح (مسیح جیسا) ہونے کا دعویٰ کرچکے تھے۔

مرزاصاحب نے فتح اسلام (۱۸۹۱ء میں طبع ہوئی تھی) میں یہ اعلان کردیاتھا کہ ’’میں وہی ہوں جو وقت پر اصلاح خلق کے لئے بھیجا گیا کہ دین کو تازہ طور پر دلوں میں قائم کر دیا جائے۔ میں اس طرح بھیجا گیا ہوں جس طرح وہ شخص بعد کلیم اللہ مرد خدا کے بھیجا گیاتھا۔جس کی روح بہت تکلیفوں کے بعد آسمانوں کی طرف اٹھائی گھی۔ سو جب دوسرا کلیم اللہ جو حقیقت میں سب سے پہلا اورسید الانبیاء ہے، دوسرے فرعونوں کی سرکوبی کے لئے آیا جس کے حق میں ہے (آیت قرآنی ۷۳؍۱۵)’’انا ارسلنا الیکم رسولا شاہد اعلیکم کما ارسلنا الی فرعون رسولا‘‘ سو اس کو بھی جو اپنی کارروائیوں میں کلیم اوّل(موسیٰ) کا مثیل مگر رتبہ میں ا سے بزرگ تر تھا۔ ایک مثیل المسیح کا وعدہ دیاگیا اور وہ مثیل المسیح قوت اور طبع اورخاصیت مسیح ابن مریم پاکر اسی زمانہ کی مانند اور اسی مدت کے قریب قریب جو کلیم اوّل کے زمانہ سے مسیح ابن مریم کے زمانہ تک تھی۔ یعنی چودھویں صدی کے آسمان سے اترا۔ ‘‘

(فتح اسلام ص۱۱، خزائن ج۳ص۸)

’’کلیم اوّل‘‘ کے بعد کی زبان مبہم ہے۔ لیکن میں نے مرزاصاحب کے نظریے کو وہ منشاء بیان کردیاہے۔ جسے وہ خود دیگر کتابوں اور مقامات میں واضح کر چکے ہیں۔

مرزاصاحب نے لکھا کہ ’’جس مسیح نے آنا تھا وہ آچکا ہے۔‘‘

(فتح اسلام ص۱۵، خزائن ج۳ ص۱۰)

مرزاصاحب کایہ نظریہ کہ وہ مسیح کے نام سے مبعوث ہوئے ہیں،نیا نہیں ہے۔ براہین احمدیہ میں وہ بیان کر چکے ہیں کہ ان کی فطرت میں مسیح سے ایک مخصوص مشابہت موجود ہے اور اس وجہ سے وہ مسیح کے نام سے مبعوث ہوئے ہیں۔ اس نظریے میں بعد میں یہ ترقی ہوئی کہ عیسیٰ فوت ہو چکے ہیں اورانہوں نے کشمیر میں اپنی طبعی موت سے وفات پائی تھی اورچونکہ ان کی روح جنت میں جا چکی ہے۔ اس لئے وہ واپس اس دنیا میں تشریف نہیں لائیںگے۔

51

وہ(توضیح المرام ص۱۹، خزائن ج ۳ ص۶۰)میں مزید لکھتے ہیں:

’’میں کہتاہوں کہ نہ من کل الوجوہ باب نبوت مسدود ہوا ہے اور نہ ہر ایک طور سے وحی پر مہر لگائی گئی ہے۔ بلکہ جزئی طور پروحی اور نبوت کا اس امت مرحومہ کے لئے ہمیشہ دروازہ کھلا ہے مگر اس بات کو بحضور دل یاد رکھنا چاہئے کہ یہ نبوت جس کا ہمیشہ کے لئے سلسلہ جاری رہے گا نبوت تامہ نہیںہے…بلکہ وہ صرف ایک جزئی نبوت ہے جو دوسرے لفظوں میں محدثیت کے اسم سے موسوم ہے۔ جو انسان کامل کی اقتداء سے ملتی ہے۔‘‘

براہین احمدیہ میں وہ محدث کو نبی کے برابر قرار دے چکے ہیں۔ لیکن اب اسے جزوی نبی کہہ رہے ہیں۔ براہین احمدیہ کے اصل الفاظ یہ ہیں ’’اور انبیاء کے مرتبہ سے اس کا مرتبہ قریب واقع ہوتاہے۔‘‘

(براہین احمدیہ ج۵۴۶، خزائن ج۱ص۶۵۲)

انہوں نے عیسیٰ علیہ السلام کی والدہ مریم، موسیٰ علیہ السلام کی والدہ اور عیسیٰ علیہ السلام اور خضر علیہ السلام کے حواریوں کی مثالیں دی ہیں۔ جن میں سے کوئی بھی پیغمبر نہ تھا۔ درحقیقت وہ ۱۸۹۰ء تک قطعی ختم نبوت کے مؤقف پر قائم رہے۔ لیکن بعد میں اوپر بیان کیا ہوامؤقف اختیار کر لیا۔

انہوں نے شریعت کے بغیر نبیوں کی آمد کا دروازہ کھلا رکھا اور اپنا یہ عقیدہ ان الفاظ میں بیان کیا:

’’اب کوئی ایسی وحی یا ایسا الہام منجانب اللہ نہیں ہوسکتا جو احکام فرقانی کی ترمیم یا تنسیخ یا کسی ایک حکم کے تبدیل یا تغیر کرسکتاہو۔ اگر کوئی ایساخیال کرے تو وہ ہمارے نزدیک جماعت مومنین سے خارج اورملحد اورکافر ہے۔‘‘

(ازالہ اوہام ص۱۳۸،خزائن ج۳ص۱۷۰)

۱۸۹۱ء تک توبرصغیر ہندوستان کے مسلمان،مرزاصاحب کی پیش گوئیوں کے جھوٹا ہونے پر ان کاصرف مذاق اڑاتے۔ محمدی بیگم کے واقعہ میں آچکا ہے کہ خود ان کے اپنے خاندان کے افراد انہیں دجال، مسیلمہ اوراس نوع کے دیگر القاب سے یاد کرتے۔ غالباً وہ انہیں بہتر جانتے تھے۔ لیکن مسیح اورمہدی ہونے کے دعاویٰ نے مسلمانوں کو پریشان کردیا اورتنقید اورغم وغصہ کا ایک طوفان اٹھ کھڑا ہوا۔مرزاصاحب نے بظاہر مسلمانوں کو ٹھنڈا کرنے کی غرض سے اپنے قدموں پر کچھ واپسی دکھائی۔

52

لیکن اس موضوع پرگفتگو سے پہلے مناسب ہوگا کہ نبی اور رسول یا مرسل کے الفاظ کی وضاحت کردی جائے۔

ہر رسول نبی ہوتاہے اور یہ ضروری نہیں کہ ہر نبی رسول بھی ہو۔ دونوں میں فرق یہ ہے کہ نبی وہ ہوتا ہے جسے اللہ کی طرف سے وحی آتی ہو اورفرشتے اس پروحی لاتے ہوں۔ جبکہ رسول وہ ہوتا ہے جو نئی شریعت لائے یا سابقہ شریعت کے کچھ احکام منسوخ کرے۔ رسول اور مرسل میں عموماً کوئی فرق نہیں کیاجاتا۔ صرف کرامیہ نے یہ فرق کیا ہے کہ رسول منجانب اللہ فرستادہ شخص ہوتا ہے اورمرسل کسی بھی بھیجنے والے کا بھیجا ہوا شخص ہوتا ہے۔

(اصول الدین از عبدالقاہر بغدادی ص۱۵۴)

بعد کے دور میں لفظ رسول اور نبی کے مابین فرق ختم ہوگیا۔ تاہم اگر کسی نے فرق کیا ہے تو وہ وہی ہے جس کاتذکرہ اوپر ہو چکا ہے۔ (اردو دائرہ معارف اسلامیہ ج۱۰ص۲۵۳لفظ ’’رسول‘‘) ابوحفص عمر نسفی کی کتاب العقائد النسفیۃ کے مطابق ان دونوں الفاظ میں کوئی فرق نہیں۔ تاہم اس کتاب میں لفظ رسول ایسے شخص کے لئے استعمال ہوا ہے جو صاحب شریعت ہو۔

(ایضاً)

مرزاصاحب نے یہ تینوں الفاظ نبی،رسول اورمرسل (ازالہ اوہام ص۵۳۴، ۵۳۵، خزائن ج۳ ص۳۸۷) میںاستعمال کئے ہیں۔ وہ عیسیٰ کی بحیثیت مسیح دوبارہ آمد کی تردید کرتے ہوئے لکھتے ہیں:

’’اورکیونکر ممکن تھا کہ خاتم النّبیین کے بعد کوئی اور نبی اسی مفہوم تام اور کامل کے ساتھ جو نبوت تامہ کی شرائط میں سے ہے آسکتا۔ کیا یہ ضروری نہیں کہ ایسے نبی کی نبوت تامہ کے لوازم جو وحی اورنزول جبرئیل ہے،اس کے وجود کے ساتھ لازم ہونی چاہئے۔ کیونکہ حسب تصریح قرآن کریم رسول اسی کو کہتے ہیں جس نے احکام و عقائد دین جبرئیل کے ذریعہ سے حاصل کئے ہوں۔ لیکن وحی نبوت پر تو تیرہ سو برس سے مہر لگ گئی ہے۔ کیا یہ مہر اس وقت ٹوٹ جائے گی۔‘‘(مطلب یہ ہواکہ ان کے مطابق مہر نہیںٹوٹنی چاہئے)

یہ ملحوظ رہے کہ یہاں نبی اور رسول کے الفاظ ایک دوسرے کی جگہ استعمال کئے گئے ہیں اور ان میں واضح امتیاز نہیں کیاگیا۔

(ازالہ اوہام ص۷۶۱،خزائن ج۳ص۵۱۱)

’’چہارم قرآن کریم بعد خاتم النّبیین کے کسی رسول کا آنا جائز نہیں رکھتا۔ خواہ وہ نیا

53

رسول ہو یاپرانا ہو۔ کیونکہ رسول کو علم دین بتوسط جبرئیل ملتا ہے اورباب نزول جبرئیل بہ پیرایہ وحی رسالت مسدود ہے اور یہ باب خود ممتنع ہے کہ دنیا میں رسول توآئے مگر سلسلہ وحی رسالت نہ ہو۔‘‘

(ازالہ اوہام ص۶۱۴،خزائن ج۳ص۴۳۱، ۴۳۲)کے پر قرآ ن کریم کی آیت ۳۳؍۴۰ ’’ماکان محمد ابااحمد من جالکم ولکن رسول اللہ و خاتم النّبیین‘‘ {محمد تمہارے مردوں میں سے کسی کے باپ نہیں بلکہ وہ اللہ کا رسول اور خاتم النّبیین ہے۔} کا ذکر کرکے اس کے آخری حصے کا مفہوم یوں بیان کیاہے:

’’مگر وہ رسول اللہ ہے اورختم کرنے والا ہے نبیوں کا۔‘‘

اور مزید کہا ہے:

’’یہ آیت بھی صاف دلالت کررہی ہے کہ بعد ہمارے نبی ﷺ کے کوئی رسول دنیا میں نہیں آئے گا۔ پس اس سے بھی بکمال وضاحت ثابت ہے کہ مسیح ابن مریم دنیا میں نہیں آسکتا کیونکہ مسیح ابن مریم رسول ہے اوررسول کی حقیقت اورماہیت میں یہ امر داخل ہے کہ دینی علوم کو بذریعہ جبرئیل حاصل کرے۔‘‘

(ازالہ اوہام ص۶۱۰، خزائن ج۳ ص۴۳۱)

اورمزید کہا :’’اورابھی ثابت ہو چکا ہے کہ اب وحی رسالت تابقیامت منقطع ہے۔‘‘

(ایضاً)

یہ ظاہر ہوتاہے کہ انہوں نے خاتم النّبیین کی ترکیب، جس میں لفظ نبی شامل ہے، سے یہ نتیجہ اخذ کیاہے کہ قیامت تک کوئی رسول نہیں ہوگا۔ جبکہ اس سے قبل براہین احمدیہ میں ان کا مؤقف یہ تھا کہ وحی نبوت رسول اللہﷺ پر ختم ہے لیکن اب پھر ختم نبوت کی قطعیت میں، یہ کہتے ہوئے ایک سوراخ نکالا ہے کہ وحی رسالت ختم نہیں ہوئی۔

ایک اشتہار مورخہ ۲؍اکتوبر ۱۸۹۱ء جو (تبلیغ رسالت ج۲ ص۲۰، مجموعہ اشتہارات ج۱ص۲۳۰، ۲۳۱)میں منقول ہے، میں کہتے ہیں:

’’میں ان تمام امور کا قائل ہوں جو اسلامی عقائد میںداخل ہیں اور جیسا کہ اہل سنت جماعت کا عقیدہ ہے۔ ان سب باتوںکو مانتاہوں جو قرآن اورحدیث کی رو سے مسلم الثبوت ہیں اور سیدنا ومولانا حضرت محمد ﷺ ختم المرسلین کے بعد کسی دوسرے مدعی نبوت اوررسالت کو کافر اور کاذب جانتاہوں۔ میرایقین ہے کہ وحی رسالت حضرت آدم صفی اللہ سے شروع ہوئی اورجناب رسول اللہ ﷺ پر ختم ہوگئی۔‘‘

54

یہ مؤقف پھر اس مؤقف سے قطعی مختلف ہے جس پر پہلے بحث ہو چکی ہے۔

ایک دوسرے اشتہار مورخہ ۲۳؍اکتوبر ۱۸۹۱ء جو جامع مسجد دہلی میں منعقدہ ایک اجتماع میں تقسیم کیاگیا اور جو (تبلیغ رسالت ج۲ ص۴۴، مجموعہ اشتہارات ج۱ص۲۵۵)میں نقل کیاگیا ہے، میں بیان کرتے ہیں:

’’ان تمام امور میں میرا وہی مذہب ہے جو دیگر اہل سنت والجماعت کا مذہب… اب میں مفصلہ ذیل امور کا مسلمانوں کے سامنے صاف صاف اقرار اس خانہ خدا (جامع مسجد دہلی) میں کرتاہوں کہ میں جناب خاتم الانبیاء ﷺ کی ختم نبوت کا قائل ہوں اور جو شخص ختم نبوت کا منکر ہو، اس کو بے دین اوردائرہ اسلام سے خارج سمجھتاہوں۔‘‘

پہلے اشتہار مورخہ ۲؍اکتوبر ۱۸۹۱ء میں بیان کیاگیا تھا کہ مرزاصاحب کسی قسم کی نبوت کے مدعی کو بھی دجال، کاذب اورکافر سمجھتے ہیں۔ دوسرے اشتہار میں انہوں نے ختم نبوت کا لفظ جو بظاہر نبی اور رسول دونوں کے مفہوم کو شامل ہے،استعمال کیاہے۔

اپنی کتاب (انجام آتھم ص۲۷،۲۸، خزائن ج۱۱ ص ایضاً)پرلکھتے ہیں:

’’کیا ایسا بدبخت مفتری جو خود رسالت اورنبوت کا دعویٰ کرتا ہے قرآن شریف پر

ایمان رکھ سکتا ہے اورکیا ایسا وہ شخص جو قرآن کریم پر ایمان رکھتا ہے اور آیت :’’ولکن رسول اللہ وخاتم النّبیین‘‘کو خدا کاکلام یقین رکھتاہے۔ وہ کہہ سکتا ہے کہ میں بھی آنحضرت ﷺ کے بعد نبی اوررسول ہوں۔ صاحب انصاف طلب کو یاد رکھنا چاہئے کہ اس عاجز نے کبھی اور کسی وقت حقیقی طور پر نبوت یا رسالت کا دعویٰ نہیں کیا اور غیر حقیقی طور پرکسی لفظ کو استعمال کرنا اورلغت کے عام معنوں کے لحاظ سے اس کو بول چال میں لانا مستلزم کفر نہیں۔ مگر میں اس کو بھی پسند نہیںکرتا کہ اس میں عام مسلمانوں کو دھوکہ لگ جانے کا احتمال ہے۔ لیکن وہ مکالمات اورمخاطبات جو اللہ جل شانہ کی طرف سے مجھ کو ملے ہیں جن میں یہ لفظ نبوت اور رسالت بکثرت آیا ہے۔ ان کو بوجہ مامور ہونے کے مخفی نہیں رکھ سکتا۔ لیکن بار بار کہتاہوں کہ ان الہامات میں جو لفظ مرسل یا رسول یا نبی کا میری نسبت آیاہے(لفظ رسول اور نبی میں مراد مجاز ہے) وہ اپنے حقیقی معنوں پر مستعمل نہیں ہے اور اصل حقیقت جس کی میں علی رؤوس الاشہاد گواہی دیتاہوں یہی ہے جو ہمارے… نہ کوئی پرانا اور نہ کوئی نیا۔ ’’ومن قال بعد رسولنا وسیدنا انی نبی ورسول علی وجہ

55

الحقیقۃ والافتراء وترک القرآن واحکام الشریعۃ الغراء فھو کافر کذاب‘‘ غرض ہمارا مذہب یہی ہے کہ جو شخص حقیقی طورپر نبوت کا دعویٰ کرے اورآنحضرت ﷺ کے دامن فیوض سے اپنے تئیں الگ کرکے اور اس پاک سرچشمہ سے جدا ہوکرآپ ہی براہ راست نبی اللہ بننا چاہے تو وہ ملحد بے دین ہے اورغالباً ایسا شخص اپنا کوئی نیا کلمہ بنائے گا اور عبادات میں کوئی نئی طرز پیدا کرے گا اور احکام میں کچھ تغیر وتبدل کردے گا۔ پس بلاشبہ وہ مسیلمہ کذاب کابھائی ہے اور اس کے کافر ہونے میں کوئی شک نہیں۔‘‘

(حمامۃ البشری ص۷۹،خزائن ج۷ص۲۹۷)میںانہوں نے کہا ہے:

’’ماکان لی ان ادعی النبوۃ واخرج من الاسلام والحق بالکافرین‘‘

‘یعنی میں کیوں نبوت کا دعویٰ کرکے دائرہ اسلام سے خارج ہوجاؤں اورکافروں میں داخل ہوجاؤں؟ یہ کہ ان کا دعویٰ نبوت کا نہیں بلکہ محض ولایت اورمجددیت کاتھا۔ انہوں نے اپنے الہام اور عبدالقادر جیلانیؒ کے الہام کے مابین مشابہت بتائی۔ انہوں نے (حمامۃ البشریٰ ص۶۰، خزائن ج۷ص۲۰۰)پر زوردے کر کہاہے:

’’الاتعلم ان الرب الرحیم المتفضل سمّٰی نبینا ﷺ خاتم الانبیاء بغیر استثناء وفسرہ نبینا فی قولہ لانبی بعدی ببیان واضح للطالبین ولو جوّزنا ظہور نبی بعد نبینا ﷺ لجوّزنا انفتاح باب وحی النبوۃ بعد تغلیقہا و ہذاخلف بما لایخفی علی المسلمین وکیف یجیئی نبی بعد رسولنا ﷺ وقد انقطع الوحی بعدوفاتہ وختم اللہ بہ النّبیین‘آخری حصے کا تعلق اسی نکتے سے ہے کہ کیا عیسیٰ دوبارہ آئیںگے اوروہ آخری نبی ہوںگے۔ انہوں نے کہا کہ ’’ہمارا عقیدہ یہ ہے کہ ہمارے نبی (حضرت محمدﷺ) کی آمد پرنبوت ختم ہوگئی ہے۔‘‘

اس آخری اصول سے یہ واضح ہوتا ہے کہ مرزاصاحب کے مطابق نزول عیسیٰ کا مطلب نبی کی آمد نہیں۔ کیونکہ اس سے ان کا آخری نبی ہونا لازم آتاہے۔ یہی بیان (ایام صلح ص۱۴۶، خزائن ج۱۴ ص۳۹۲،۳۹۳)میں بھی موجود ہے۔ وہ لکھتے ہیں:

’’قرآن شریف میں مسیح ابن مریم کے دوبارہ آنے کا تو کہیں بھی ذکر نہیں۔ لیکن ختم

56

نبوت کا بہ کمال تصریح ذکر ہے اور پرانے یا نئے نبی کی تفریق یہ شرارت ہے۔ نہ حدیث میں نہ قرآن میں یہ تفریق موجود ہے اورحدیث لانبی بعدی میں بھی نفی عام ہے۔ پس یہ کس قدر جرأت اور دلیری کی گستاخی ہے کہ خیالات رکیکہ کی پیروی کرکے نصوص صریحہ قرآن کو عمداً چھوڑ دیا جائے اور خاتم الانبیاء کے بعد ایک نبی کا آنا مان لیا جائے اوربعد اس کے جو وحی منقطع ہوچکی تھی۔ پھر سلسلہ وحی نبوت کا جاری کردیا جائے۔کیونکہ جس میں شان نبوت باقی ہے اس کی وحی بلاشبہ نبوت کی وحی ہوگی۔‘‘

ایک اشتہار مورخہ ۲۰؍شعبان ۱۳۱۴ء (۱۸۹۷ء) جو (تبلیغ رسالت ج۶ ص۲، مجموعہ اشتہارات ج۲ ص۲۹۷) پر چھپا ہواہے،میں لکھتے ہیں:

’’ہم بھی مدعی نبوت پر لعنت بھیجتے ہیں۔ ’’لاالہ الااللہ محمد رسول اللہ‘‘ کے قائل ہیں اورآنحضرت ﷺ کے ختم نبوت پر ایمان رکھتے ہیں اوروحی نبوت نہیں بلکہ وحی ولایت جو زیر سایہ نبوت محمدیہ اورباتباع آنجناب ﷺ اولیاء کو ملتی ہے اس کے ہم قائل ہیں۔‘‘

خاتم(مہر) کا لفظ جسے نبوت کا دعویٰ کرنے کے بعد مختلف معنی دینے کی کوشش کی گئی، بھی (ازالہ اوہام ص۵۷۷، خزائن ج۳ص۴۱۱)میںاسی مفہوم میں استعمال ہوا ہے۔ جس کا تذکرہ اوپر ہوا ہے۔ مرزاصاحب نے رسول پاک ﷺ کے بعد وحی نبوت کی نفی کی ہے۔

(جنگ مقدس ص۶۷، خزائن ج۶ص۱۵۶)میں مرزاصاحب نے اس الزام کی تردید کی ہے کہ وہ نبوت کا دعویٰ کر رہے ہیں اورمعجزے کی تشریح ان الفاظ میں کی ہے:

’’میرا نبوت کا کوئی دعویٰ نہیں۔ یہ آپ کی غلطی ہے یا آپ کس خیال سے کہہ رہے ہیں۔ کیا یہ ضروری ہے کہ جو الہام کا دعویٰ کرتا ہے وہ نبی بھی ہوجائے۔ میں تومحمدی اور کامل طور پر اللہ اور رسول کا متبع ہوں اور ان نشانیوں کانام معجزہ رکھنا نہیں چاہتا۔ بلکہ ہمارے مذہب کی رو سے ان نشانیوں کا نام کرامات ہے۔ جو اللہ کے رسول کی پیروی سے دیئے جاتے ہیں۔‘‘

مرزاصاحب نبوت کا دعویٰ کرنے سے کچھ پہلے اپنے لئے نبی کا لفظ کثرت سے استعمال کرنے لگے اورپھر مسلمانوں کے اشتعال، مخالفت اورپریشانی کو دور کرنے کی غرض سے اس کی اپنے انداز سے وضاحت کرنے میںعجلت بھی دکھاتے۔

(سراج منیر ص۳، خزائن ج۱۲ص۵)پر وہ لکھتے ہیں:

57

’’یہ سچ ہے کہ وہ الہام خدا نے اس بندے پر نازل فرمایا۔ اس میں اس بندہ کی نسبت نبی اور رسول اورمرسل کے لفظ بکثرت موجود ہیں۔ سو یہ حقیقی معنوں پر محمول نہیں ہیں۔ ’’ولکل ان یصطلح‘‘(ہر ایک کو اصطلاح بنانے کاحق ہے) سو خدا کی یہ اصطلاح ہے جو اس نے ایسے لفظ استعمال کئے۔ ہم اس بات کے قائل اورمعترف ہیں کہ نبوت کے حقیقی معنوں کی رو سے بعد آنحضرت ﷺ نہ کوئی نیا نبی آسکتاہے اورنہ پرانا۔ قرآن ایسے نبیوں کے ظہور سے مانع ہے۔ مگر مجازی معنوں کی رو سے خدا کااختیار ہے کہ کسی ملہم کو نبی کے لفظ سے یا رسول کے لفظ سے یاد کرے۔‘

ایک مکتوب مطبوعہ الحکم قادیان ج۳ نمبر۲۹،مورخہ ۱۷؍اگست ۱۸۹۹ء میں مرزاصاحب نے لکھاہے:

’’حال یہ ہے کہ اگرچہ عرصہ بیس سال سے متواتر اس عاجز کو الہام ہوا ہے۔ اکثر دفعہ ان میں رسول یا نبی کا لفظ آگیا ہے۔ لیکن وہ شخص غلطی کرتا ہے جو ایسا سمجھتاہے کہ اس نبوت اور رسالت سے مراد حقیقی نبوت اور رسالت ہے…چونکہ ایسے لفظوں سے جو محض استعارے کے رنگ میں ہیں، اسلام میں فتنہ پڑتا ہے اور اس کا نتیجہ سخت بد نکلتاہے۔ اس لئے اپنی جماعت کی معمولی بول چال اوردن رات کے محاورات میں یہ لفظ نہیں آنے چاہئیں۔‘‘

یہ بات پہلے بیان ہوچکی ہے کہ مرزاصاحب نے (توضیح المرام ص۱۹، خزائن ج۳ ص۶۰) میں کہا ہے کہ جزوی نبوت اوروحی کا باب بند نہیں اور یہ کہ محدث(جو اللہ سے مکالمہ اور مخاطبہ کا شرف پائے) جزوی نبی ہوتاہے۔

وہ (ازالہ اوہام ص۱۳۸، خزائن ج۳ص۱۷۰)میں ایسے لوگوں کو کافر قرار دیتے ہیں جو رسول پاک ﷺ کے بعد کسی بھی ایسی وحی کو ممکن سمجھتے ہیں جو قرآن کے ایک حکم کو تبدیل یامنسوخ کرے۔ یوں نبوت بلاشریعت کا باب کھلا رکھا۔ لیکن اسی کتاب کے (ص۵۳۴، خزائن ج۳ ص۳۸۷) پرانہوں نے وحی نبوت کو ناممکن قرار دیا اور (ص۷۶۱، خزائن ج۳ص۵۱۱)پروحی رسالت کے باب کو مسدود قراردیا۔ اس سے صرف یہ ثابت ہوتا ہے کہ اگر مرزاصاحب مسلمانوں کے عقیدے کے خلاف کچھ کہنے میں ایک قدم آگے بڑھتے تو ان کی مخالفت کا احساس کرتے ہوئے دو قدم پیچھے لوٹتے تاکہ انہیں یہ باور کراسکیں کہ ان کا بھی وہی عقیدہ ہے جو وہ مانتے ہیں۔ اپنے آئندہ کے دعوؤں کو ترقی دینے اور بڑھانے کی غرض سے کوئی متضاد سی بات کہہ دی جاتی اور پھر مسلمانوں کے عقیدے کو بار باردہرایا جاتا تاکہ وہ بچاؤ کا کام دے سکے۔ پہلے محدثیت نبوت سے

58

قریب تر بنی، پھر یہ جزوی نبوت ٹھہری اورپھر مہر نبوت سالم قرار دی گئی۔ پہلے نبوت کا دروازہ بند ہوا اور پھر اسی نظریے کو تدریجاً ترقی دی گئی تاآنکہ ان کے پیروکار نئے دعوے کے لئے تیار ہوگئے۔

اب محدثیت کے نظریے کے ارتقاء اوروسعت کا جائزہ مرزاصاحب کے الفاظ میں ہی لیا جاسکتاہے۔ مولوی عبدالحکیم اورمرزاصاحب کے مابین ایک معاہدے مورخہ ۳؍فروری ۱۸۹۲ء (تبلیغ رسالت ج۲ ص۹۵، مجموعہ اشتہارات ج۱ص۳۱۳)میں چھپا ہے۔ مرزاصاحب تمام مسلمانوں کو مخاطب کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ: ’’ان کے رسائل فتح اسلام، توضیح المرام اورازالہ اوہام میں یہ درج ہوچکا ہے کہ محدث ایک مفہوم میں نبی ہوتاہے اورمحدثیت جزوی نبوت یا نبوت ناقصہ ہے۔ یہ تمام الفاظ حقیقی معنوں پر محمول نہیں ہیں۔ بلکہ صرف سادگی سے ان کے لغوی معنوں کے رو سے بیان کئے گئے ہیں ورنہ حاشا وکلا مجھے نبوت حقیقی کا ہرگز دعویٰ نہیں ہے۔ بلکہ جیسا کہ میں کتاب (ازالہ اوہام ص۱۳۷)میں لکھ چکاہوں۔ میرا اس بات پر ایمان ہے کہ ہمارے سید و مولیٰ محمد مصطفی ﷺ خاتم الانبیاء ہیں۔ سو میں تمام مسلمان بھائیوں کی خدمت میں واضح کرنا چاہتا ہوں کہ اگر وہ ان لفظوں سے ناراض ہیں اوران کے دلوں پر یہ الفاظ شاق ہیں۔ تو وہ ان الفاظ کو ترمیم شدہ تصور فرما کر بجائے اس کے محدث کا لفظ میری طرف سے سمجھ لیں…کہ بجائے لفظ نبی کے محدث کا لفظ ہر ایک جگہ سمجھ لیں اوراس کو (یعنی لفظ نبی کو) کاٹا ہواخیال فرمالیں۔‘‘

(حمامۃ البشری ص۸۲، خزائن ج۷ص۳۰۱)میں دعویٰ نبوت کی تردید کرتے ہوئے لکھتے ہیں:’’میں نے لوگوں سے سوائے اس کے جو میں نے اپنی کتابوں میں لکھا ہے اورکچھ نہیں کہا کہ میں محدث ہوں اور اللہ تعالیٰ مجھ سے اسی طرح کلام کرتاہے جس طرح محدثین سے۔‘‘ نیز دیکھئے (آئینہ کمالات اسلام ص۲۳۸، خزائن ج۵ص ایضاً ،حمامۃ البشری ص۸۲، خزائن ج۷ص۳۰۰)پروہ کہتے ہیں:

’’ہاں میں نے کہا ہے کہ نبوت کے تمام اجزاء تحدیث میں پائے جاتے ہیں۔ لیکن بالقوہ نہ کہ بالفعل۔ پس محدث بالقوہ نبی ہوتاہے اور اگر باب نبوت مسدود نہ ہوتا تو وہ بالفعل نبی ہوتا۔ اس لئے ہم کہہ سکتے ہیں کہ نبی محدث ہے بطریق کمال اوربالفعل اور محدث نبی ہے بالقوہ۔‘‘

اور نبوت کا باب کھولنے کے بعد انہوں نے خود نبوت کاملہ حاصل کرلی۔ اس طرح مسیح ہونے کا دعویٰ بھی ارتقائی مراحل سے گزرا۔ مرزاصاحب نے براہین احمدیہ میں لکھا کہ وہ مسیح کی پہلی زندگی کا نمونہ ہیں اور دونوں کی فطرت میں مشابہت پائی جاتی ہے۔ چونکہ مرزاصاحب کو مسیح

59

سے مشابہت تامہ حاصل ہے لہٰذا خدا نے انہیں مسیح کی پیش گوئی میں بھی شریک رکھا۔ کہا جاتاتھا کہ مسیح دنیا میں آئے گا اور چار دانگ عالم میں اسلام کی اشاعت کرے گا۔ یہ جسمانی ظہور ہوگا۔ لیکن اس پیش گوئی کا روحانی مصداق مرزاصاحب ہیں۔(براہین ص۴۹۹، خزائن ج۱ ص۵۹۴)اس نظریے کے مطابق عیسیٰ بن مریم ضرور آئے گا لیکن روحانی پہلو سے مرزاصاحب اس کے ثانی یا مثیل ہیں۔

(فتح اسلام ص۱۱، خزائن ج۳ص۸)میںیہ بیا ن کیاگیاتھا کہ مرزاصاحب ایسے زمانے میں مبعوث ہوئے ہیں جو مسیح کی آمد کے زمانے سے مشابہ ہے۔ انہوں نے اعلان کیا کہ اللہ تعالیٰ نے مسیح کا مثیل اس لئے بھیجا کہ وہ لوگوں میں علم دین کی اشاعت کرے اورپھر غیر مبہم الفاظ میں ایک مختلف بات کہہ دی کہ:

’’مسیح جو آنے والا تھا یہی ہے چاہو تو قبول کرلو۔‘‘

(فتح اسلام ص۱۵، خزائن ج۳ص۱۰)

اس دعوے نے مسلمانوں کوہلاکررکھ دیا۔ بڑی سخت مخالفت ہوئی اورانہیں کافر قرار دیا گیا۔

(دیکھئے آسمانی فیصلہ ص۴، خزائن ج۴ ص۳۱۳)

مرزا صاحب اپنی عادت کے مطابق اپنے قدموں پر فوراً واپس لوٹے اور اپنے دعوے کو صرف مثیل ہونے تک محدود کرلیا۔

(توضیح المرام ص۱۶تا۲۱، خزائن ج۳ص۵۹تا۶۱)

انہوں نے کہا کہ ’’مجھے مسیح ابن مریم ہونے کا دعویٰ نہیں اور نہ میں تناسخ کا قائل ہوں۔ بلکہ مجھے تو فقط مثیل مسیح ہونے کا دعویٰ ہے جس طرح محدثیت نبوت سے مشابہ ہے۔ ایسا ہی میری روحانی حالت مسیح ابن مریم کی روحانی حالت سے اشد درجہ کی مناسبت رکھتی ہے۔ ‘‘

(تبلیغ رسالت ج۲ ص۲۱، مجموعہ اشتہارات ج۱ص۲۳۱)

اپنے اس دعوے کے برعکس کہ وہ وہی مسیح ہیں جسے آنا تھا۔ انہوں نے کہا کہ ’’ممکن ہے کہ مستقبل میں کوئی مسیح نہ آئے۔ ممکن ہے دس ہزار اورمسیح آجائیں اوران میں سے ایک دمشق میں نازل ہو جائے۔(ازالہ اوہام ص۲۹۴،۲۹۵، خزائن ج۳ص۲۵۱)یااوردس ہزار بھی مثیل مسیح آجائیں۔‘‘ لیکن مزید کہا’’ہاں اس زمانے کے لئے میں مثیل مسیح ہوں اوردوسرے کی انتظار بے سود ہے۔‘‘

(ایضاًص۱۹۹، خزائن ج۳ ص۱۹۷)

انہوں نے بعد میں بے نقاب ہوکر کہہ دیا کہ ’’میرے بعد قیامت تک نہ کوئی مہدی آئے گا اور نہ کوئی مسیح…جسے آنا تھا وہ میں ہی ہوں۔‘‘

(تبلیغ رسالت ج۱۰ ص۷۸، مجموعہ اشتہارات ج۳ص۵۲۰)

60

یہ وہی حکمت عملی جو مرزاصاحب کی کتابوں میں بکثرت ملتی ہے۔ وہ ایک وقت میں کئی متضاد باتیں کہتے ہیں۔ تاکہ کسی خاص مرحلے میں جو موزوں ہو اس کی پناہ لے سکیں۔

اسی طرح انہوں نے (ازالہ اوہام ص۶۳۴، خزائن ج۳ص۴۴۲)میں الہام لکھا:

’’جعلناک المسیح ابن مریم‘‘(ہم نے تجھ کو مسیح ابن مریم بنایا)اوراپنے دعوے کی تائید میں کہ وہی مسیح موعود ہیں’’اربعین‘‘ میں اس کا حوالہ دیا ہے۔ دیکھئے

(ار بعین نمبر ۳،ص۳۲، خزائن ج۱۷ص۴۲۲)

(نشان آسمانی ص۲۱،خزائن ج۴ص۳۸۳)میںمرزاصاحب نے اپنے ایک پیروکار کی مزعومہ شہادت شائع کی ہے کہ اسے ایک گلاب شاہ نامی شخص نے اطلاع دی تھی کہ وہی (مرزاصاحب) وہ مسیح موعود ہیں جس کی آمد کاوعدہ کیاگیا تھا اورجو کتابوں میں عیسیٰ کے نام سے مذکور ہے اور (نشان آسمانی ص۲۲،خزائن ج۴ص۳۸۴)پر’’وہ عیسیٰ جو آنے والا ہے،اس کا نام غلام احمد ہے۔‘‘

مرزاصاحب نے بہت پہلے ۱۸۸۴ء میں ہی براہین احمدیہ میں کہہ دیاتھا کہ ان میں مریم کی طرح عیسیٰ کا نفخ ہواہے اور وہ دس ماہ تک حمل سے رہے اور پھر انہیں مریم سے عیسیٰ بنایاگیا اور وہ ابن مریم ہوگئے۔ ممکن ہے کہ اس وقت وہ عیسیٰ کی وفات کے بارے میں اپنے نظریے کے اظہار کو قبل از وقت خیال کرتے ہوں یا ممکن ہے کہ اس وقت تک یہ نظریہ تیار نہ ہواہو۔ تاہم اس کے مسیح موعود عیسیٰ بننے کا ارادہ بالکل واضح ہے اور بعد میں اسے مثلاً ’’اربعین‘‘ ’’ایک غلطی کا ازالہ‘‘ اور ’’کشتی نوح‘‘میں صاف حقیقت کی شکل میں پیش کیاگیا۔

اربعین مطبوعہ ۱۹۰۰ء میں مرزاصاحب نے لکھا(ص۴، خزائن ج۱۷ ص۳۴۵)کہ ’’اللہ تعالیٰ کی پاک او رمطہر وحی سے اطلاع دی گئی ہے کہ میں اس کی جانب سے مسیح موعود اورمہدی ہوں۔‘‘

یہ نکتہ کتاب کے متعدد مقامات پر بتکرار پیش کیاگیا۔ ’’ایک غلطی کاازالہ‘‘ کے (ص۳، خزائن ج۱۸ص۲۱۰)پرصاف صاف کہا ہے کہ وہ مسیح موعود ہیں۔ یہ امر ناقابل فہم ہے کہ وہ دس ہزار مسیح یا اسی تعداد کے مثیلوں میں سے ایک کیسے ہو سکتے ہیں۔ مثیل کا نکتہ صرف رائے عامہ کو ٹھنڈا کرنے کی غرض سے اختیارکیاگیا۔

(کشتی نوح ص۴۷، خزائن ج۱۹ص۵۱)پرانہوں نے لکھا کہ انہیں (عیسیٰ اورمریم کے بارے میں ) اس وحی کی اہمیت کا احساس نہ ہوا۔ لیکن وقت آیا اوران پر اسرار کا انکشاف ہوا

61

اوردیکھا کہ مسیح موعود ہونے کے دعوے میں کوئی نئی بات نہ تھی۔ یہ وہی دعویٰ تھا جسے براہین احمدیہ میں کئی بار بڑی وضاحت کے ساتھ لکھاگیاتھا۔

مزید کہاگیا کہ اللہ تعالیٰ نے ان کے بارے میںکہاہے کہ وہ انہیں ایک نشان بتائے گا اورالہامی تحریروں میں مریم اورعیسیٰ کے نام انہی کے لئے استعمال ہوتے ہیں اور یہ کہ وہ وہی عیسیٰ بن مریم ہیں جسے آنا تھا۔ وہی حق ہیں اور وہی موعود ہیں۔

(ایضاً ص۴۸،خزائن ج۱۹ص۵۲)

مرزاصاحب نے اپنے پیروکاروں کو مزید پختہ کرلینے کے بعد ۱۹۰۱ء میں نبوت کا دعویٰ کیا۔ جیساکہ پہلے بیان کیاجاچکا ہے وہ براہین احمدیہ حصہ سوم اورچہارم کی اشاعت سے ہی مسلم عوام کو اپنے دعویٰ نبوت کے لئے تیارکررہے تھے اورپنجاب اور اس وقت کے برصغیر ہندوستان کے مسلمانوں نے بہت پہلے اس دعویٰ کا اندازہ کرلیاتھا۔ خود مرزاصاحب کے خاندان کے افراد انہیں مسیح موعود اورمہدی موعود ہونے کے دعوؤں سے کئی سال پہلے ہی جھوٹا مدعی قرار دینے لگے تھے۔ نبوت کا دعویٰ سب سے پہلے ایک رسالہ ’’ایک غلطی کاازالہ جو (بیسویں صدی کے آغاز پر ۱۹۰۱ء میں طبع ہوا)میں کیاگیا۔

حقیقی دعویٰ کرنے سے قبل جیسا کہ پہلے واضح ہوچکا ہے مرزاصاحب نے نبوت کے بارے میں اپنے مزعومہ الہامات کا تذکرہ کرنے کی سعی کی اورپھر انہیں اس ادعا کے نقاب میں چھپانے کی کوشش کی کہ رسول اورنبی کے الفاظ ان کے لئے استعارے کے طور پراستعمال ہوئے ہیں نہ کہ حقیقی معنوں میں۔(اربعین مطبوعہ ۱۹۰۰ء، نمبر ۲ ص۱۸،خزائن ج۱۷ص۳۶۶)میں انہوں نے اسی کا حوالہ دیا جو وہ پہلے ہی براہین احمدیہ میں دے چکے تھے کہ ’’یہ خداکا رسول ہے نبیوں کے حلوں میں۔‘‘حاشیے میں یہ کہہ دیا کہ یہ لفظ محض استعارۃً استعمال ہواہے۔

(اربعین نمبر۳ ص۳۶، خزائن ج۱۷ ص۴۲۶) پرلکھاہے:

’’خدا وہ خدا ہے جس نے اپنے رسول یعنی اس عاجز کو ہدایت اوردین حق اورتہذیب اخلاق کے ساتھ بھیجا۔ ان کو کہہ دے کہ اگر میں نے افتراء کیاہے تو میرے پر اس کا جرم ہے یعنی میں ہلاک ہوجاؤں گا۔‘‘

جھوٹے کی ہلاکت کے اس نظریے کی بنیاد انہوں نے قرآن کریم کی آیت ۴۰؍۲۸ کو بنایا۔

(اربعین نمبر۴ص۵خزائن ج۱۷ص۴۳۴)’’وان یک کاذبافعلیہ کذبہ‘‘(اگر وہ جھوٹا ہے تو اس کا جھوٹ اسی پرہے)

62

مرزاصاحب نے آیت کے پہلے حصے کا ترجمہ یوں کیا:

’’اگر یہ نبی جھوٹا ہے تو اپنے جھوٹ سے ہلاک ہو جائے گا۔‘‘

یہ ترجمہ درست نہیں بلکہ اس کے برعکس مسلمہ اصول یہ ہے کہ ایسے شخص کو لمبی ڈھیل دی جاتی ہے ۔ اس اصول کا مولوی ثناء اللہ امرتسری نے اس وقت حوالہ دیاتھا جب مرزاصاحب نے ان میں سے جو کاذب ہے یا غلطی پر ہے،کی موت کی پیش گوئی کی تھی اورکہاتھا کہ ایسا شخص تباہ ہو جائے گا۔

(اربعین نمبر۴ص۶، خزائن ج۱۷ص۴۳۵،۴۳۶)پرمرزاصاحب نے ایک قدم اور آگے بڑھایا اور باشریعت نبی ہونے کا دعویٰ کردیا اوراس غرض سے باشریعت نبی کی تعریف میں چند تبدیلیاں کردیں۔ ایسے نبی کی پہلی تعریف یہ تھی کہ: ’’وہ نئی شریعت لے کرآتاہے یا سابقہ شریعت میں تبدیلی کرتاہے۔‘‘ اب انہوں نے شریعت کی تعریف یوں کی:

’’جس نے اپنی وحی کے ذریعے سے چند امرونہی بیان کئے اوراپنی امت کے لئے ایک قانون مقرر کیا وہی صاحب شریعت ہوگیا۔ پس اس تعریف کی رو سے ہمارے مخالف ملزم ہیں۔ کیونکہ میری وحی میں امر بھی ہے اورنہی بھی۔ مثلاً یہ الہام:’’قل للمؤمنین یغضوا من ابصار ھم ویحفظوافروجھم ذلک ازکی لھم‘‘یہ براہین احمدیہ میں درج ہے اوراس میں امر بھی ہے اور نہی بھی اوراس پر تئیس برس کی مدت بھی گزر گئی ہے اورایسا ہی اب تک میری وحی میں امر بھی ہوتے ہیں اور نہی بھی اور اگر کہوکہ شریعت سے وہ شریعت مراد ہے جس میں نئے احکام ہوں تو یہ باطل ہے۔‘‘

یہ ایک نیا نظریہ تھا اور نبوت باشریعت کے دعوے کو سہارا دینے کی خاطر شریعت کی نئی تعریف پیش کی گئی۔

(ملفوظات ج۱۰ص۲۶۷،نومبر۱۹۰۷ تا۶؍جولائی ۱۹۰۸ کی مدت سے متعلق)میں ایک سوال کے جواب میں کہا کہ:

’’جو علامات الٰہیہ بھی مجھے ملے ہیں۔ ان سے یہ نہ سمجھا جائے کہ یہ نئی شریعت یا نئی نبوت یا نبوت باشریعت ہے۔ بلکہ انہیں کثرت الہامات کی بناء پر لغوی معنوں کی رو سے نبی یعنی جو خبریں لاتا ہے کہاگیاہے۔‘‘

یہاں پھر نبوت باشریعت اورنبوت بدون شریعت میں فرق کیاگیا اوریہ دعویٰ بھی اس تعریف سے متصادم ہے جو(اربعین نمبر۴ص۶، خزائن ج۱۷ ص۴۳۵)میں کی گئی تھی۔

63

رسالہ (ایک غلطی کا ازالہ ص۴ ، خزائن ج۱۸ص۲۱۰)میں انہوں نے کہاکہ’’ جس جس جگہ میں نے نبوت یا رسالت سے انکار کیا ہے۔ صرف ان معنوں سے ہے کہ مستقل طور پر کوئی شریعت لانے والا نہیں ہوں اور نہ میں مستقل نبی کے طورپر ہوں۔‘‘تاہم یہ دعویٰ جہاد کی تنسیخ کے مسئلے سے متضاد ہے۔ کیونکہ جہاد کے بارے میں قرآن کریم اوررسول اللہ ﷺ کی سنت میں واضح احکام موجود ہیں۔

(دافع البلاء مطبوعہ ۱۹۰۱ء ص۱۱،خزائن ج۱۸ص۲۳۱)میں مرزاصاحب نے لکھا کہ ’’سچا خدا وہی خدا ہے جس نے قادیان میں اپنا رسول بھیجا۔‘‘(حقیقت الوحی ص۳۹۱، خزائن ۲۲ص۴۰۶،۴۰۷)پرلکھا:

’’غرض اس حصہ کثیر وحی الٰہی اورامورغیبیہ میں اس امت میں سے میں ہی ایک فرد مخصوص ہوں اورجس قدر مجھ سے پہلے اولیاء اورابدال اور اقطاب اس امت میں گزر چکے ہیں۔ ان کو یہ حصہ کثیر اس نعمت کا نہیں دیاگیا۔ پس اس وجہ سے نبی کا نام پانے کے لئے میں ہی مخصوص کیاگیا اوردوسرے تمام لوگ اس نام کے مستحق نہیں۔ کیونکہ کثرت وحی اورکثرت امور غیبیہ اس میں شرط ہے اوروہ شرط ان میں پائی نہیں جاتی۔‘‘

جہاد کا حکم ۱۹۰۰ء میں منسوخ کیاگیا(اربعین نمبر۴ص۱۳،خزائن ج۱۷ص۴۴۳)میں بیان کیاگیا کہ :’’اور جمالی رنگ کی زندگی کے لئے مسیح موعود کو آنحضرت ﷺ کا مظہر ٹھہرایا۔ یہی وجہ ہے کہ اس کے حق میں فرمایاگیا’’یضع الحرب‘‘یعنی لڑائی نہیں کرے گا۔‘‘

(مجموعہ اشتہارات حصہ سوم از ۱۸۹۸ء تا ۱۹۰۸ء ص۱۹)پرمرزاصاحب نے لکھا کہ:

’’میں یقین رکھتاہوں کہ جیسے جیسے میرے مرید بڑھیں گے۔ ویسے ویسے مسئلہ جہاد کے معتقد کم ہوتے جائیں گے۔ کیونکہ مجھے مسیح اورمہدی مان لینا ہی مسئلہ جہاد کا انکار کرنا ہے۔‘‘

(جہاد اورگورنمنٹ انگریزی ص۱۴،خزائن ج۱۷ص۱۵)پرلکھتے ہیں:

’’دیکھو میں ایک حکم لے کر آپ لوگوں کے پاس آیاہوں۔ وہ یہ ہے کہ اب سے تلوار کے جہاد کاخاتمہ ہے۔ مگر اپنے نفسوں کے پاک کرنے کا جہاد باقی ہے۔‘‘نیز دیکھئے (خطبۃ الالہامیہ ص۲۵، خزائن ج۱۳ ص۵۸، تحفہ گولڑویہ (ضمیمہ) ص۲۷، خزائن ج۱۷ ص۷۷،اشتہار واجب الاظہار ص۱، خزائن ج۱۵ ص۵۱۸)

مرزاصاحب نے ’’نبی‘‘ کی جو تعریف کی ہے وہ (اربعین نمبر۴ص۶، خزائن ج۱۷ ص۴۳۵)سے نقل کی جا چکی ہے۔ یہ کتاب ۱۹۰۰ء میں لکھی گئی تھی اور جیسا کہ اوپر ذکر ہوا اس میں

64

بھی جہاد کی ممانعت کے احکام موجود ہیں۔ اس کا صاف مطلب یہ ہوا کہ مرزاصاحب نے مزعومہ نبی ہونے کی حیثیت سے جہاد، جو قرآنی احکام پرمبنی ہے، کو منسوخ کرنے کا حق استعمال کیاہے اور شریعت کو منسوخ کرنے کا فریضہ انجام دے کر اپنے دعوے کے مطابق نبوت تامہ حاصل کی۔ نبوت تامہ کے اس نکتے پرمرزا بشیر احمد نے کلمۃ الفصل ص۱۱۲ اور۱۱۳ پر بحث کی ہے۔ اس نے نبوت کی تین قسمیں بیان کی ہیں:

۱… حقیقی نبوت…جس میں نبی صاحب شریعت ہوتاہے۔

۲… نبوت…جس میں نبی صاحب شریعت نہیں ہوتا ۔

۳… ظلی نبوت…جو قادیانی نکتہ نظر کے مطابق رسول اللہ ﷺ کی اتباع کامل سے حاصل ہوتی ہے۔

اس اعتراض کا ذکر کرتے ہوئے کہ ظلی نبوت ایک گھٹیا نبوت ہے،مرزا بشیر احمد نے اسے ’’نفس کا دھوکہ قراردیا۔ جس کی کوئی بھی حقیقت نہیں۔ کیونکہ ظلی نبوت کے لئے یہ ضروری ہے کہ انسان نبی کریم ﷺ کی اتباع میں اس قدر غرق ہو جائے کہ من توشدم تومن شدی کے درجہ کو پالے۔ ایسی صورت میں وہ نبی کریم ﷺ کے جمیع کمالات کو عکس کے رنگ میں اپنے اندر اترتا پائے گاحتیٰ کہ ان دونوں میں قرب اتنا بڑھے گا کہ نبی کریم ﷺ کی نبوت کی چادر بھی اس پر چڑھائی جائے گی۔ تب جاکر وہ ظلی نبی کہلائے گا۔ پس جب ظل کا یہ تقاضا ہے کہ اپنے اصل کی پوری تصویر ہو اوراسی پر تمام انبیاء کا اتفاق ہے تو وہ نادان جو مسیح موعود کی ظلی نبوت کوایک گھٹیا قسم کی نبوت سمجھتاہے۔ یااس کے معنی ناقص نبوت کے کرتا ہے۔ وہ ہوش میں آئے اور اپنے اسلام کی فکر کرے۔ کیونکہ اس نے اس نبوت کی شان پرحملہ کیا ہے۔ جو تمام نبوتوں کی سرتاج ہے۔ میں نہیں سمجھ سکتا کہ لوگوں کو کیوں حضرت مسیح موعود کی نبوت پر ٹھوکر لگتی ہے اور کیوں بعض لوگ آپ کی نبوت کو ناقص نبوت سمجھتے ہیں۔ کیونکہ میں تو یہ دیکھتاہوں کہ آپ آنحضرت ﷺ کے بروز ہونے کی وجہ سے ظلی نبی تھے اوراس ظلی نبوت کا پایہ بہت بلند ہے۔ یہ ظاہر بات ہے کہ پہلے زمانوں میں جو نبی ہوتے تھے۔ ان کے لئے یہ ضروری نہ تھا کہ ان میں وہ تمام کمالات رکھے جاویں جو نبی کریم ﷺ میں رکھے گئے۔ بلکہ ہر نبی کو اپنی استعداد اورکام کے مطابق کمالات عطاء ہوتے تھے۔ کسی کو بہت کسی کو کم۔ مگر مسیح موعود کو تو تب نبوت ملی جب اس نے نبوت محمدیہ کے تمام کمالات کو حاصل کرلیا۔‘‘

یہ امر پہلے واضح ہوچکا ہے کہ عیسیٰ بن مریم کی بعثت ثانیہ کے انکار کی ایک وجہ یہ تھی کہ وہ

65

ایک نبی تھے اورنبوت تیرہ سو سال پہلے ہی ختم ہوچکی تھی۔ مرزاصاحب نے اس اصول کو دوہرے پن سے بلند نہ رہنے دیا۔(ازالہ اوہام ص۵۶۹، خزائن ج۳ ص۴۰۷) میں انہوں نے کہاکہ:

’’یہ درست ہے کہ آنے والے مسیح کو رسول اکرم ﷺ کی امت میں سے نبی کہاگیا ہے۔ لیکن یہ نبوت ناقصہ ہوگی۔‘‘ بعد میں مرزاصاحب نے اسے نبوت کاملہ، تشریعی نبوت اوردوسرے نبیوں سے برتر نبوت میں ترقی دے دی۔

مرزاصاحب نے غیر مبہم لفظوں میں کہاکہ جبرئیل کے بسلسلہ وحی آنے کا باب بند ہے۔ (ازالہ اوہام ص۷۸، خزائن ج۳ ص۴۱۲)لیکن یہ امر بھی ان کے منصوبے یا پروگرام میں حائل نہ ہوسکا۔ انہوں نے اللہ سے براہ راست مکالمہ اورمخاطبہ کا دعویٰ کرکے جبرئیل کی ضرورت کو بے اثر کردیا۔ لیکن یہ اہتمام بھی کافی نہ تھا اورانہیں کامل نبیوں کی سطح پر نہ پیش کرسکا۔ تو انہوں نے دعویٰ کردیا کہ ان کے پاس جبرئیل آیاتھا۔ (حقیقت الوحی ص۱۰۳، خزائن ج۲۲ص۱۰۶)میںکہا:

’’وقالواانی لک ہذا، قل ھواللہ عجیب جانی آیل واختار وادار اصبعہ واشار ان وعداللہ اتٰی فطوبیٰ لمن وجد ورأی الامراض تشاع و النفوس تضاع۔‘‘مرزاصاحب نے اس کا اردو ترجمہ یوں لکھاہے:

’’اورکہیں گے تجھے یہ مرتبہ کہاں سے حاصل ہوا کہہ خدا ذوالعجائب ہے۔ میرے پاس ایل آیا اور اس نے مجھے چن لیا اوراپنی انگلی کوگردش دی اوریہ اشارہ کیا کہ خدا کا وعدہ آگیا۔ پس مبارک وہ جو اس کو پاوے اوردیکھے کئی طرح کی بیماریاں پھیلائی جائیں گی اور کئی آفتوں سے جانوں کا نقصان ہوگا۔‘‘

حاشیے میں مرزاصاحب نے ایل کا ترجمہ جبرائیل بتایاہے۔ جبرائیل کا نزول نبوت کی تکمیل کی علامت ہے اور یوں مرزاصاحب ایک کامل نبی بن گئے۔

ان عبارتوں سے واضح طور پر ثابت ہوتاہے کہ مرزاصاحب کو ناقص نبی نہیں سمجھا جاتا تھا۔ بلکہ اس کے بر عکس انہیں رسول اللہ ﷺ کی مانند کامل نبی خیال کیا جاتاتھا۔ یہی بات اس حقیقت سے بھی ثابت ہوتی ہے کہ مرزاصاحب کو مرتبے میں دیگر تمام انبیاء سے افضل مانا جاتا تھا۔

مرزاصاحب کی برابری بلکہ برتری کا سراغ براہین احمدیہ حصہ چہارم میں اپنے بارے میں لکھی ہوئی ان عبارتوں سے بھی لگایا جا سکتا ہے۔ انہوں نے اپنے مختلف مزعومہ الہامات کا ذکر کیا ہے۔ جن میں ابراہیم، داؤد، یوسف،عیسیٰ وغیرہ کے اسماء آئے ہیں اوران میں سے ہر ایک کو

66

نقل کرنے کے بعد لکھا ہے کہ جہاں بھی ان انبیاء کا تذکرہ ہوا ہے۔ اس سے مراد وہ خود ہیں۔

(۵۵۴تا ۵۵۹، خزائن ج۱ص۶۶۲تا۶۶۶)

ملفوظات احمدیہ حصہ چہارم (ص۱۴۲)پرکہاگیا ہے کہ انبیاء کے کمالات کے بارے میں مرزاصاحب نے کہا:

’’کمالات متفرقہ جو تمام انبیاء میں پائے جاتے تھے۔ وہ سب کے سب حضرت رسول کریم ﷺ میں ان سب سے بڑھ کر موجود تھے اور اب وہ سارے کمالات حضرت رسول کریمﷺ سے ظلی طورپر ہم کو(مرزاصاحب) کو عطاء کئے گئے اوراس لئے ہمارا نام آدم، ابراہیم، موسیٰ، نوح، داؤد، یوسف، سلیمان اوریحییٰ اورعیسیٰ ہے۔‘‘

اور ایک اورمقام پرکہا:

’’پہلے تمام انبیاء ظل تھے۔حضرت نبی کریم ﷺ کی خاص صفات کے اور اب ہم (مرزاصاحب) ان تمام صفات میں حضرت نبی کریم ﷺ کے ظل ہیں۔‘‘

(ملفوظات احمدیہ ج۴ص۱۴۲)

ظل اوراصل میں کوئی فرق نہیں ہوتا۔ عملاً ایک دوسرے کا ثانی یا دہراہوتاہے۔ یہی بات مرزاصاحب کے اس دعوے سے بھی ثابت ہوتی ہے کہ وہ رسول اللہ ﷺ کے تمام کمالات میں ان کے ظل ہیں جبکہ دیگر تمام انبیاء میں سے ہر نبی کو کم تعداد میں کمالات حاصل تھے۔ سو یہ امر واضح ہے کہ مرزاصاحب کے مطابق کمال یا افضلیت کے مسائل وہ ہیں جو رسول پاک ﷺ کے برابر ہیں اوردیگر انبیاء سے برترہیں۔

براہین احمدیہ میں ایسی قرآنی آیات کریمہ جو رسول اللہ ﷺ کی شان میں نازل ہوئی تھیں،کی شکل میں متعدد ایسے الہامات کاتذکرہ موجود ہے۔ مرزاصاحب کا یہ دعویٰ ہے کہ یہ تمام آیات خود ان کے بارے میں نازل ہوئی ہیں اور وہ ان کا مصداق ہے۔ ایک واضح مثال آیت ۴۸؍۲۸ ’’ھوالذی ارسل رسولہ بالھدی ودین الحق‘‘ہے۔ نیز آیات ۸؍۱۷، ۶۸؍۲، ۳؍۳۱، ۲۶؍۲۲وغیرہ۔ اس طرح انہوں نے براہین احمدیہ میں اپنے رسول ﷺ کے برابر ہونے کی بنیاد رکھ دی تھی۔

انہوں نے دعویٰ کیا کہ ان پر تین لاکھ الہامات نازل ہوئے۔ جن میں سے پچاس ہزار مختلف ذرائع سے دولت کے حصول سے متعلق تھے۔ کئی دوسرے مقامات پر مرزاصاحب نے یہ ظاہر کرنے کی کوشش کی کہ انہیں عطاء شدہ نشانیوں کی تعداد ان نشانیوں سے بہت ہی زیادہ ہے جو

67

دوسرے نبیوں مثلا نوح، یوسف، عیسیٰ علیہم السلام وغیرہ کو دی گئی تھیں۔

کلمۃ الفصل(ریویو آف ریلجنز شمارہ ۳ج۱۴ص۱۴۷) میں مرزا بشیراحمد نے لکھا کہ:

’’یہ ممکن نہیں کہ جو شخص رسول پاک ﷺ کا انکار کرے وہ کافر ہو۔ لیکن جو شخص مسیح موعود کا منکر ہو وہ کافر نہ ہو۔ اگر ظہور اول کا انکار کفر ہے۔ تو ظہور ثانی جس میں مسیح موعود کے مطابق اس کی روحانیت زیادہ قوی، اکمل اوراتم ہے، کے انکار کو کفر نہ سمجھاجائے۔‘‘

ظہورثانی مرزاصاحب کی نبوت ہے۔ رسول کریم ﷺ کی روحانیت اورمرزاصاحب کی روحانیت کاموازنہ کرتے ہوئے کہاجاتاہے کہ یہ زیادہ قوی، اکمل اوراتم ہے اور یہ ان کی رسول پاک ﷺ پر بھی برتری کا پیمانہ ہے۔ یہ امر اس واقعہ سے بھی ثابت ہوتا ہے جو مرزاصاحب کی زندگی میں رونما ہوا۔ ایک شاعر قاضی اکمل جومرزاصاحب کا پیروتھا، نے ان کی ستائش میں ایک قصیدہ لکھا۔ جو قادیان کے اخبار(البدر مورخہ ۲۵؍اکتوبر ۱۹۰۶ء)میںشائع ہوا۔ قصیدے کا ایک شعر تھا:

محمد پھر اترآئے ہیں ہم میں

اورآگے سے ہیں بڑھ کر اپنی شان میں

(پیغام صلح لاہورشمارہ ۴۷،ج۳۲،مورخہ ۳۰نومبر۱۹۴۴ء)

اس شعر میں محمدؐ کے پھر اتر آنے کا مطلب یہ ہے کہ محمد، مرزاصاحب کی شکل میں دوبارہ آگئے اوران کی شان وشوکت رسول اللہ ﷺ کے ظہور سے بڑھ کر ہے۔

(الخطبۃ الاہامیہ ص۱۹۳تا۱۹۸، خزائن ج۱۶ ص۲۸۸تا۲۹۴ ملخص)

اگلا قدم اپنے اوپر ختم نبوت کا دعویٰ ہے۔ یہ مندرجہ ذیل سے واضح ہوتاہے:

’’محمدی ختم نبوت کی اصل حقیقت کو دنیا میں کماحقہ کوئی نہیں جو سمجھ سکتاہو، سوائے اس کے جو خود حضرت خاتم الانبیاء کی طرح خاتم الاولیاء ہے۔ کیونکہ کسی چیز کی اصل حقیقت کو سمجھنا اس کے اہل پر موقوف ہوتاہے اور یہ ایک ثابت شدہ امر ہے کہ ختمیت کا اہل حضرت محمدﷺ یا حضرت مسیح موعود (مرزا) ہے۔‘‘

(تشہیذ الاذہان قادیان نمبر۸ج۱۲،۱،۲ ؍اگست ۱۹۱۷ء)

’’غرض اس حصہ کثیر وحی الٰہی اورامورغیبیہ میں اس امت میں سے میں ہی ایک فرد مخصوص ہوں اورجس قدر مجھ سے پہلے اولیاء اورابدال اوراقطاب اس امت میں سے گزر چکے ہیں۔ ان کو یہ حصہ کثیر اس نعمت کا نہیں دیاگیا۔ پس اس وجہ سے نبی کا نام پانے کے لئے میں ہی مخصوص کیاگیا اور دوسرے تمام لوگ اس نام کے مستحق نہیں۔کیونکہ کثرت وحی اور کثرت

68

امورغیبیہ اس میں شرط ہے اور وہ شرط ان میں پائی نہیں جاتی اورضرور تھا کہ ایسا ہوتا کہ آنحضرت ﷺ کی پیش گوئی صفائی سے پوری ہو جاتی۔ کیونکہ اگر دوسرے صلحاء جو مجھ سے پہلے گزر چکے ہیں۔ وہ اسی قدر مکالمہ الٰہیہ اورامورغیبیہ سے حصہ پالیتے تو وہ نبی کہلانے کے مستحق ہو جاتے تو اس صورت میں آنحضرت ﷺ کی پیش گوئی میں ایک رخنہ واقع ہوجاتا۔ اس لئے خداتعالیٰ کی مصلحت نے ان بزرگوں کواس نعمت کو پورے طور پرپانے سے روک دیاتاکہ جیسا کہ احادیث صحیحہ میں آیا ہے کہ ایسا شخص ایک ہی ہوگا، وہ پیش گوئی پوری ہو جاوے۔‘‘

(حقیقت الوحی ص۳۹۱،خزائن ج۲۲ص۴۰۶،۴۰۷)

یہ عبارت مرزاصاحب کے اس نقطہ نظرکوواضح کرتی ہے کہ حضرت محمدﷺ کے بعد وہ واحد نبی ہیں اور ان کا بروز ہونے کی بناء پر وہ اس نام کے مستحق ہوئے ہیں۔ تو اس کا لازمی نتیجہ یہ ہوا کہ رسول اللہ ﷺ نہیںبلکہ مرزاصاحب آخری نبی ہیں۔ یہ امر درج ذیل عبارتوں سے مزید واضح ہوتاہے:

’’کیونکہ میں بارہا بتلاچکا ہوں کہ میں بموجب آیت :’’واٰخرین منھم لما یلحقوابھم‘‘بروزی طور پر وہی نبی خاتم الانبیاء ہوں۔‘‘

(ایک غلطی کاازالہ ص۵،خزائن ج۱۸ص۲۱۲)

’’میں خدا کی سب راہوں میں سے آخری راہ ہوں اوراس کے سب نوروں میں سے آخری نورہوں۔‘‘

(کشتی نوح ص۵۶،خزائن ج۱۹ص۶۱)

’’ولکن رسول اللہ وخاتم النّبیین‘‘اس آیت میں ایک پیش گوئی مخفی ہے اور وہ یہ کہ اب نبوت پر قیامت تک مہر لگ گئی ہے اور بجز بروزی وجود کے جو خود آنحضرت ﷺ کا وجود ہے، کسی میں یہ طاقت نہیں کہ کھلے کھلے طورپر نبیوں کی طرح خدا سے کوئی علم غیب پاوے اورچونکہ وہ بروز محمدی جو قدیم سے موعود تھا،وہ میں ہوں۔ اس لئے بروزی رنگ کی نبوت مجھے عطاء کی گئی ہے اور اس نبوت کے مقابل اب تمام دنیا بے دست وپا ہے کیونکہ نبوت پر مہر ہے۔ ایک بروز محمدی جمیع کمالات محمدی کے ساتھ آخری زمانے کے لئے مقدر تھاسو وہ ظاہرہوگیا۔‘‘

(ایک غلطی کا ازالہ ص۶،خزائن ج۱۸ص۲۱۵)

’’معلوم ہوا کہ ختمیت ازل سے محمدﷺ کو دی گئی۔ پھر اس کو دی گئی جسے آپ کی روح نے تعلیم دی اوراپنا ظل بنایا۔‘‘

(ماالفرق فی آدم والمسیح الموعودضمیمہ الخطبۃ الالہامیہ ص ، ب، خزائن ج۱۶س۳۱۰)

’’آخری زمانے کے لئے خدا نے مقدر کیاہواتھا کہ وہ عام رجعت کا زمانہ ہوگا تایہ

69

امت مرحومہ دوسری امتوں سے کسی بات میں کم نہ ہو۔ پس اس نے مجھے پیدا کرکے ہر ایک گزشتہ نبی سے مجھے اس نے تشبیہ دی کہ وہی میرانام رکھ دیا۔ چنانچہ آدم، ابراہیم، نوح، موسیٰ، داؤد، سلیمان، یحییٰ، عیسیٰ وغیرہ یہ تمام نام براہین احمدیہ میں میرے رکھے گئے اور اس صورت میں گویا تمام انبیاء گزشتہ اس امت میں دوبارہ پیداہوگئے۔ یہاں تک کہ سب کے آخر مسیح پیدا ہوگیا اور جو میرے مخالف تھے۔ ان کا نام عیسائی اوریہودی اورمشرک رکھاگیا۔‘‘

(نزول المسیح ص۴،خزائن ج۱۸ص۳۸۲، کلمۃ الفصل ص۱۳۳)

ان تحریروں کی توضیح مرزاصاحب کے جانشینوں نے کی۔ مرزا بشیر احمد نے( کلمۃ الفصل ص۱۱۶ )میں کہا:

’’ اب اگر آپؐ کے بعد بھی بہت سے نبی آجاتے تو پھر آپؐ کی شان لوگوں کی نظر سے گر جاتی کیونکہ آپؐ کے بعد بہت سے نبیوں کے ہونے کے یہ معنی ہیں کہ نعوذ باللہ محمد رسول ﷺ کا درجہ اتنا معمولی ہے کہ بہت سے لوگ محمد رسول اللہ بن سکتے ہیں۔ کیونکہ جو کوئی بھی ظلی نبی ہو گا وہ بوجہ نبی کریم ﷺ کے تمام کمالات حاصل کرلینے کے بعد محمد رسول ہی کہلائے گا۔ پس اس لئے امت محمدیہ میں صرف ایک شخص نے نبوت کادرجہ پایا۔‘‘

اس سے معاملہ طے ہوجاتاہے۔ باب نبوت کو کھولنے کے تمام نظریات تنہا مرزاصاحب ہی کی خاطر تھے اورجو استدلال باب نبوت کے کھولنے کے خلاف درست تھا، اسے بالآخر اختیار کرلیاگیا۔ لیکن مرزاصاحب کے مفاد کی خاطر صرف ایک استثناء کرنے کے بعد۔ اس حقیقت کو حضرت مسیح موعود نے اپنی کتاب اعجاز المسیح میں بھی بڑی وضاحت کے ساتھ بیان کیا ہے اورکھول کھول کر بتایا ہے کہ:

’’نبی کریمﷺ کے دو بعث ہیں۔ بعث اول میں اسم محمد کی تجلی تھی۔ مگر بعث دوم اسم احمد کی تجلی کے لئے ہے۔‘‘(یعنی مرزاصاحب بطور بروز)

(کلمۃ الفصل ص۱۴۰)

یوں تیسری بعث کی نفی کر دی گئی ۔

تشحیذ الاذہان قادیان (نمبر۸ج۱۲ص۱۱،اگست ۱۹۱۷)میں بیان کیاگیا ہے کہ’’ آنحضرت ﷺ کے بعد صرف ایک ہی نبی کا ہونا لازم ہے اوربہت سارے انبیاء کا ہونا خدا تعالیٰ کی بہت ساری مصلحتوں اورحکمتوں میں رخنہ واقع کرتاہے۔‘‘

(قادیانی مذہب ص۲۴۹)

اسی پرچے کے (شمارہ مارچ ۱۹۱۴ء نمبر۳ج۹ص۳۰،۳۲)میں مزید بیان کیا:

’’پس ثابت ہواکہ امت محمدیہ میں ایک سے زیادہ نبی کسی صورت میں نہیں آ سکتے۔

70

چنانچہ نبی کریمﷺ نے اپنی امت میں صرف ایک نبی اللہ کے آنے کی خبر دی ہے۔ جو مسیح موعود ہے اور اس کے سواقطعاً کسی کا نام نبی اللہ یا رسول اللہ نہیں رکھا اورنہ کسی اورنبی کے آنے کی آپ نے خبر دی ہے۔ بلکہ ’’لانبی بعدی‘‘فرماکر اوروں کی نفی کردی اورکھول کربیان فرمادیا کہ مسیح موعود کے سوا میرے بعد قطعاً کوئی نبی یارسول نہیں آئے گا۔‘‘

(قادیانی مذہب ص۲۴۹)

اب مرزاصاحب اوران کے جانشینوں کے ان دعوؤں کا کچھ متضاد بیانات سے موازنہ کیجئے۔

’’ایک غلطی کا ازالہ (ص۶، خزائن ج۱۹ ص۲۱۵)میں مرزاصاحب لکھتے ہیں:

’’ممکن نہیں کہ کبھی یہ مہر ٹوٹ جائے۔ ہاں یہ ممکن ہے کہ آنحضرت ﷺ نہ ایک دفعہ بلکہ ہزار دفعہ دنیا میں بروزی رنگ میں آجائیں اوربروزی رنگ میں اورکمالات کے ساتھ اپنی نبوت کااظہارکریں۔‘‘

(لیکچر سیالکوٹ ص۳۲، خزائن ج۲۰ ص۲۲۷) پر مرزاصاحب نے کہا:

’’لہٰذا ضرور ہوا کہ تمہیں یقین اورمحبت کے مرتبے پر پہنچانے کے لئے خدا کے انبیاء وقتاً بعد وقت آتے رہیں۔‘‘

میاں بشیر الدین محمود نے کہا کہ ’’ہزاروں نبی ہوںگے۔‘‘

(انوار خلافت ص۶۲)

’’ہاں قیامت تک رسول آتے رہیں گے۔‘‘

(الفضل قادیاں مورخہ ۲۷؍جولائی ۱۹۲۷ء، نمبر ۶۸ ج۱۴ مرزا بشیر الدین محمود بحوالہ قادیانی مذہب ص۲۳۱)

(حقیقت النبوۃ ص۱۳۸)پراس نے ایک مختلف بات کہی ہے کہ ’’اس لئے ہم اس امت میں صرف ایک ہی نبی کے قائل ہیں۔ آئندہ کا حال پردہ غیب میںہے۔‘‘

ایک سوال کے جواب میں اس نے لکھا:

’’آپ کا چوتھا سوال یہ ہے کہ مرزاصاحب کے بعد کوئی اورنبی آئے گایاآسکتا ہے۔ اگر کوئی اورنبی نیا مبعوث ہوتو احمدی لوگ اس پر ایمان لائیں گے یانہیں۔ اس کا جواب یہ ہے کہ حضرت مرزاصاحب کے بعد نبی آسکتاہے۔ آئے گا کے متعلق میں قطعی طورپر کچھ نہیں کہہ سکتا۔ ہاں حضرت مسیح علیہ السلام کی کتب سے ایسا معلوم ہوتاہے کہ کوئی ایسا نبی آئے گا۔ اس پر ایمان لانا احمدیوں کے لئے ضروری ہوگا۔‘‘

(مکتوب میاں بشیرالدین محمود مندرجہ الفضل قادیاں، مورخہ ۲۹؍اپریل ۱۹۲۷ء نمبر۸۵ج۱۴بحوالہ قادیانی مذہب ص۲۲۹)

نبیوں کی آمد کے نظریے میں ایک مزیدتبدیلی اس کے اس جواب میں نظر آتی ہے۔جو

71

اس نے اس سوال پر دیا کہ ’’حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام (مرزاصاحب) کے بعد بھی جب نبی آنے کا امکان ہے۔ تو آپ کوآخری زمانے کا نبی کہنے کاکیا مطلب ہے۔‘‘اس کا جواب یہ تھا:

’’آخری زمانے کا نبی اصطلاح ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ آپ (مرزاصاحب) کے توسط کے بغیر کسی کو نبوت کا درجہ حاصل نہیں ہوسکتا۔‘‘

(خطبہ جمعہ میاں بشیر الدین محمود مندرجہ الفضل نمبر۱۲۰ج۲مورخہ۲؍مئی ۱۹۳۱ء بحوالہ قادیانی مذہب ص۲۲۹)

مرزاصاحب اوران کے جانشین کے یہ تمام مختلف بیانات مرزاصاحب کی اس پالیسی کے عین مطابق ہیں کہ ایک ہی کتاب یا رسالے میں بیک وقت یا بعد میں دوسری کتابوں یا رسالوں میں مختلف بلکہ متضاد باتیں کہہ دی جائیں۔ بہرحال مرزاصاحب کی کتابوں اور کلمۃ الفصل اورتشحیذ الاذہان کے اقتباسات اس امر کوثابت کرتے ہیں کہ مرزاصاحب نے حقیقتاً اپنے آخری نبی ہونے کادعویٰ کیاتھا۔

علامہ اقبال کی آراء سے ان نظریات پر مزید روشنی پڑتی ہے۔ وہ کہتے ہیں:

’’بانی کا اپنا استدلال جو قرون وسطیٰ کے متکلمانہ اسلوب سے بالکل ملتا ہے۔ یہ ہے کہ اگر پیغمبر اسلام کی روحانیت کسی اورنبی کی تخلیق نہ کرسکے تو وہ خود ناقص ٹھہرے گی۔ اس کا دعویٰ ہے کہ خود اس کی نبوت پیغمبر اسلام کی روحانیت کے تخلیق انبیاء کی صفت سے متصف ہونے کاثبوت ہے۔ لیکن اگر آپ اس سے مزید سوال کریں کہ کیاحضرت محمدؐ کی روحانیت ایک سے زیادہ نبیوں کی تخلیق کے قابل ہے، تو اس کا جواب ہے’’نہیں‘‘ اس کا حقیقی مفہوم یہ ہوگا:’’محمدؐ آخری نبی نہیں ہے۔ آخری میں ہوں۔ تاریخ انسانیت میں عموماً اورتاریخ ایشیاء میں خصوصاً ختم نبوت کے اسلامی عقیدے کی فکری قدر ومنزلت کے ادراک سے صرف نظر کرتے ہوئے وہ سمجھتا ہے کہ اس معنی میں ختمیت کہ محمدؐ کا کوئی پیروکار مرتبہ نبوت نہ پاسکے،نبوت محمدیہؐ کے ناقص ہونے کی دلیل ہے۔ جہاں تک میں اس کی نفسیات کا مطالعہ کر سکاہوں۔ وہ اپنے دعویٰ نبوت کی خاطر جسے وہ پیغمبر اسلام کی تخلیقی روحانیت قرار دیتاہے،استعمال کرتاہے اورپھر اسی لمحہ پیغمبر اسلام کی روحانیت کی تخلیقی صلاحیت کو صرف ایک نبی یعنی بانی تحریک احمدیہ کی تخلیق تک محدود کرکے،ان کی ختمیت کی نفی کرتا ہے۔ سو یوں یہ نیا نبی چپکے سے اس ذات کی ختمیت کوچرا لیتاہے۔ جسے وہ اپنا روحانی مورث ہونے کا دعویٰ کرتاہے۔وہ پیغمبر اسلام کے بروز ہونے کا مدعی ہے اوردعویٰ کرتا ہے کہ پیغمبر اسلام کا بروز ہونے سے ان کی ختم نبوت کی خلاف ورزی نہیں ہوتی۔ اس نے دو ختمیتوں، ایک خود اپنی

72

اوردوسری پیغمبر اسلام ؐ کی،کی نشاندہی کرکے ختم نبوت کے معنی کونظرانداز کیا ہے۔ تاہم یہ امر بالکل واضح ہے کہ بروز کا لفظ،کامل مشابہت کے مفہوم میں بھی اس کے کسی کام نہ آئے گا۔ کیونکہ بروز اصل کے مماثل ہوتاہے۔ اگر یہ سمجھیں تو پھر بھی دلیل بیکار رہے گی۔ لیکن اگر اسے آریائی معنوں میں تناسخ کے مفہوم میں لیں۔ تو استدلال خوشنما ہوجاتاہے۔ لیکن اس کا مصنف چھپا ہوا مجوسی بن کر رہ جاتاہے۔‘‘

(Thoughts and reflections of Iqbal از عبدالوحید ص۲۶۶،۲۶۸)

یہ واضح ہے کہ شریعت کا ایسا کوئی اصول نہیں جس سے رسول اللہ ﷺکے بعد کسی نبی کی آمد کی گنجائش نکلتی ہو اور نہ شریعت میں بروز، حلول،ظل وغیرہ کا کوئی تصور موجود ہے۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی بعثت ثانیہ اورمہدی کے ظہور کی احادیث کسی بھی طرح مرزاصاحب پر منطبق نہیں ہوتیں۔ اس لئے انہوں نے اپنے دعوؤں کی پوری عمارت نہ صرف متن قرآن بلکہ احادیث کی تاویلات پرکھڑی کی۔ قادیان دمشق بنااور مسجد اقصیٰ قادیان کی مسجد ہے۔

ان کی راہ میں بڑی مشکل عیسیٰ علیہ السلام تھے۔ اس لئے عیسیٰ علیہ السلام کو میدان سے ہٹانا ضروری تھا اور یہ مقصد ان کی کشمیر میں اپنی طبعی موت کے تصورسے پورا کیاگیا۔ان سے حضرت عیسیٰ علیہ السلام جیسے معجزات پیش کرنے کو کہاگیا تو جواب میںانہوں نے عیسیٰ اوران کے معجزات کے دلائل کامذاق اڑایا۔

دعویٰ نبوت کا نتیجہ بے قاعدگیوں کے سواکیاہوتا۔ ان کے دعویٰ کے یہ جزوی نتائج سامنے آچکے ہیں۔ مزید خلاف ورزیاں بھی ظاہر ہوسکتی ہیں۔ انہوں نے رائے بنالی تھی کہ قرآن کریم کی صحیح تفسیر اورحدیث کی صحت کو جانچنے کے صرف وہی اہل ہیں۔

آئیے عیسیٰ علیہ السلام کے بارہ میںاسلامی نقطہ نظر سمجھ لیں اوران کے بارے میں مرزاصاحب کا تصور بھی۔

اللہ کے تمام انبیاء اوررسل پرایمان لانا ایک مسلمان کے ایمان کا جزو ہے۔

’’والذین یؤمنون بماانزل الیک وماانزل من قبلک وبالآخرۃ ھم یوقنون(البقرۃ:۴)‘‘{اورجو ایمان لاتے ہیں اس پر جو تجھ پر نازل ہوا اوراس پر جو تجھ سے پہلے نازل ہوا اوروہ آخرت پریقین رکھتے ہیں۔}

’’من آمن باللہ والیوم…والنّبیینالبقرۃ:۷۷‘‘{جو اللہ پر اور دن… اورنبیوں پر ایمان لائے۔}نیز آیات ۳؍۱۷۹، ۷؍۱۵۸،۴ا؍۱۳۶۔

73

’’فامنوباللہ ورسلہ‘‘{پس اللہ اور اس کے رسولوں پر ایمان لاؤ۔}

ایک اورمسلمہ اصول یہ ہے کہ مسلمان انبیاء میں تفریق نہیں کرتے۔

’’لانفرق بین احد من رسلہ(البقرۃ:۲۸۵)‘‘{ہم ان کے رسولوں میں کسی کے درمیا ن فرق نہیں کرتے۔}

حضرت ابوسعید خدریؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:’’لاتخیّروا بین الانبیاء‘‘{انبیاء کے درمیان افضلیت میں ترجیح نہ دو۔}

عبداللہ بن جعفرؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:’’ماینبغی لنبی ان یقول الی… خیر من یونس بن متی‘‘{کسی نبی کے لئے جائز نہیں کہ وہ کہے… کہ میں یونس بن متی سے بہترہوں(ایضاً)}

حضرت ابوسعید خدریؓ سے روایت ہے کہ ایک یہودی کو رسول اللہ ﷺ کے ایک صحابی نے پیٹ دیا۔تو وہ آپ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اورشکایت کی کہ آپؐ کے ایک صحابی نے مجھے پیٹاہے۔ آپؐ نے اس سے پوچھا کہ اسے کیوں پیٹا ہے؟ اس (صحابی) نے جواب دیا کہ اس (یہودی) نے موسیٰ علیہ السلام کو آپؐ پر افضلیت دی تھی۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:’’ایک نبی کو دوسرے نبی پر افضلیت یا ترجیح مت دو۔‘‘

صحیح بخاری میں اس شکایت پر آنحضرت ﷺ کے سخت ردعمل کا اظہار ان الفاظ میں مذکور ہے:’’فغضب النبی ﷺ حتی رؤی فی وجھہ‘‘{نبی ﷺ اس قدر غضبناک ہوئے کہ غصہ آپؐ کے چہرے میں دیکھاگیا۔}

قرآن کریم حضرت مریم کی پیدائش اورتربیت حضرت یحییٰ کی پیدائش جوحضرت عیسیٰ علیہ السلام کی خوشخبری دینے والے تھے اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی پیدائش کا بیان کسی قدر تفصیل سے کرتاہے۔

(دیکھئے سورئہ آل عمران کی آیات ۴۵ تا۴۹)

حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی ولادت سے متعلق آیات یہاں درج کی جاتی ہیں:

’’واذکرفی الکتٰب مریم اذانتبذت من اھلہا مکانا شرقیا‘‘{اور کتاب میں مریم کو یادکر جبکہ وہ اپنے لوگوں سے الگ ہوکر پورب کی جگہ میں جابیٹھی۔}

’’فاتخذت من دونھم حجابا فارسلنا الیھا روحنا فتمثل لھا بشرا سویا‘‘{پس اس نے اپنے آپ کو ان سے پردے میں کرلیا تو ہم نے اس کے پاس اپنا فرشتہ بھیجا جو اس کے سامنے ایک کامل بشر کی صورت میں نمودار ہوا۔}

74

’’قالت انی اعوذ بالرحمن منک ان کنت تقیا‘‘{وہ بولی کہ اگر تم کوئی خدا ترس آدمی ہو تو میں تم سے رحمن کی پناہ مانگتی ہوں۔}

’’قال انما انا رسول ربک لاھب لک غلاما زکیا‘‘{اس نے کہا میں تیرے رب ہی کا فرستادہ ہوں تاکہ تجھے ایک پاکیزہ فرزند عطا کروں۔}

’’قالت انّٰی یکون لی غلام ولم یمسسنی بشرو لم اک بغیا‘‘{وہ بولی میرے لڑکا کیسے ہوگا جبکہ نہ مجھے کسی مرد نے ہاتھ لگایا اور نہ میں بدکار ہوں۔}

’’قال کذلک قال ربک ھو علّی ھیّن ولنجعلہ ایۃ للناس ورحمۃ منا وکان امرا مقضیا‘‘{اس نے کہا یوں ہی ہوگا۔ تیرے رب کا فرمان ہے کہ یہ میرے لئے آسان ہے تاکہ ہم ان لوگوں کے لئے اپنی ایک نشانی اور اپنی جانب سے رحمت بنائیں اور یہ ایک طے شدہ امر ہے۔}

’’فحملتہ فانتبذت بہ مکانا قصیا‘‘{پس اس نے اس کا حمل اٹھالیا اور اسے لے کر ایک دور کے مقام کو چلی گئی۔}

’’فاجاء ھاالمخاض الی جذع النخلۃ ، قالت یلیتنی مت قبل ہذا وکنت نسیا منسیا۔ فنادا ھامن تحتہا الا تحزنی قدجعل ربک تحتک سریا، وھزی الیک بجذع النخلۃ تساقط علیک رطباجنیا فکلی واشربی وقرّی عینا فاما ترینّ من البشر احد فقولی انی نذرت للرحمن صوما فلن اکلم الیوم انسیا‘‘{پھر اس کو درد زہ کھجور کے تنے کے پاس لے گیا۔ اس نے کہا،اے کاش!میں اس سے پہلے ہی مر کھپ کے بھولی بسری چیز ہوچکی ہوتی۔ پس اس کے نیچے سے فرشتے نے اس کوآواز دی کہ مغموم نہ ہو۔ تمہارے نیچے سے تمہارے رب نے ایک چشمہ جاری کردیاہے۔ توکھجور کے تنہ کو اپنی طرف ہلا،تجھ پر تازہ خرمے جھڑیں گے۔پس کھا، پی اورآنکھیں ٹھنڈی کر۔ پس اگر تجھے کوئی آدمی نظرآئے تو اسے کہہ دے کہ میں نے رحمن کے لئے روزے کی نذرمان رکھی ہے۔ اس لئے آج میں کسی انسان سے بات نہیں کر سکتی۔}

’’فاتت بہ قومھا تحملہ، قالوایامریم لقد جئت شیئا فریا‘‘{پس وہ اس کو گود میں اٹھائے ہوئے اپنی قوم کے پاس آئی۔ انہوں نے کہا اے مریم!تو نے تو یہ نہایت عجیب حرکت کرڈالی ہے۔}

’’یااخت ہارون ماکان ابوک امراسوء وماکانت امک بغیا۔فا شارت

75

الیہ، قالواکیف نکلم من کان فی المہد صبیا‘‘{باپ ہی کوئی براآدمی تھا اورنہ تمہارے ماں ہی کوئی بدکار تھی۔ پس اس نے اس کی طرف اشارہ کیا۔ انہوں نے کہا ہم اس سے کس طرح بات کریں جو ابھی گود میں بچہ ہے؟}

’’قال انی عبداللہ اتٰنی الکتٰب وجعلنی نبیا‘‘{اس نے جواب دیا کہ میں اللہ کا بندہ ہوں،اس نے مجھے کتاب عطاء فرمائی اورمجھے نبی بنایاہے۔}

’’وجعلنی مبارکا این ماکنت واوصنی بالصلوٰۃ والزکوٰۃ مادمت حیا، وبراً بوالد تی ولم یجعلنی جبارا شقیا‘‘{اور میںجہاں کہیں بھی ہوں اس نے مجھے خیر وبرکت والا بنایا ہے اور جب تک زندہ رہوں اس نے مجھے نمازاورروزہ کی ہدایت کی ہے اور مجھے ماں کا فرمانبردار بنایاہے اورمجھے سرکش اوربدبخت نہیں بنایا ہے۔}

’’والسلام علیّٰ یوم ولدت ویوم اموت ویوم ابعث حیا‘‘{مجھ پر سلامتی ہے جس دن میں پیداہوا۔ جس دن مروں گا اورجس دن زندہ کر کے اٹھایاجاؤں گا۔}

’’ذلک عیسی ابن مریم قول الحق الذی فیہ یمترون(مریم آیات ۱۶ تا۳۴)‘‘{یہ ہے عیسیٰ بن مریم!یہ اصل حقیقت کا بیان ہے جس میں یہ لوگ جھگڑ رہے ہیں۔}

’’اذ قالت الملائکۃ یمریم ان اللہ یبشرک بکلمۃ منہ اسمہ المسیح عیسیٰ بن مریم وجیہا فی الدنیا والاخرۃ ومن المقربین‘‘{یاد کرو جب فرشتوں نے کہا اے مریم!اللہ تمہیں اپنی طرف سے ایک کلمہ کی خوشخبری دیتا ہے۔ اس کا نام مسیح عیسیٰ بن مریم ہوگا۔ وہ دنیا اورآخرت دونوں میں ذی وجاہت اورمقرب بندوں میں سے ہوگا۔}

’’ویکلم الناس فی المہد وکھلا ومن الصالحین۔ قالت رب انّٰی یکون لی ولد ولم یمسسنی بشر قال کذلک اللہ یخلق مایشاء اذاقضیٰ امرا فانما یقول لہ کن فیکون‘‘{وہ لوگوں سے گہوارے میں بھی بات کرے گا اورادھیڑ ہوکر بھی اور وہ صالحین کے گروہ میں سے ہوگا۔ وہ بولی میرے پروردگار! میرے کس طرح لڑکا ہوگا جبکہ کسی مرد نے مجھے ہاتھ تک نہیں لگایا۔ ارشاد ہوا،اسی طرح اللہ پیداکرتا ہے جو چاہتاہے ۔ جب چاہتا ہے۔ جب وہ کسی امر کافیصلہ کر لیتاہے تو اس کوکہتاہے کہ ہوجا، سو وہ ہوجاتاہے۔}

’’ویعلمہ الکتٰب والحکمۃ والتوراۃ والانجیل‘‘{اور اللہ اسے کتاب اور حکمت اورتورات اورانجیل سکھائے گا۔}

76

’’ورسولا الی بنی اسرائیل انی قد جئتکم بایۃ من ربکم انی اخلق لکم من الطین کھیۃ الطیر فانفخ فیہ فیکون طیرا باذن اللہ وابری الاکمہ والابرص واحی الموتی باذن اللہ وانبئکم بماتاکلون وماتد خرون فی بیوتکم ان فی ذلک لایۃ لکم ان کنتم مؤمنین (آل عمران آیات ۴۵تا۴۹)‘‘{اور اسے بنی اسرائیل کی طرف رسول بناکر بھیجے گا۔ (چنانچہ اس نے بنی اسرائیل کو دعوت دی کہ) میں تمہارے خداوند کی طرف سے نشانی لے کر آیاہوں۔ میں تمہارے لئے مٹی سے پرندوں کی صورت کے مانند بناتاہوں۔ پھر اس میں پھونک مار دیتاہوں تو وہ اللہ کے حکم سے واقعی پرندہ بن جاتا ہے اور میں اللہ کے حکم سے اندھے اورکوڑھی کو اچھا کر دیتاہوں اور اللہ کے حکم سے مردوں کو زندہ کر دیتاہوں اور میں تمہیں بتا سکتاہوں جو کچھ تم کھاتے اورذخیرہ کرتے ہو اپنے گھروں میں۔ بیشک ان باتوں کے اندر تمہارے لئے نشانی ہے اگر تم ایمان رکھتے ہو۔}

آیت نمبر۴۹ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے ان معجزات کو بیان کرتی ہے جو انہیں بطور نشانی عطاء کئے گئے تھے۔ تاہم کئی آیات کریمہ میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی الوہیت کے تصور کی تردید کی گئی ہے۔ مثلاً آیات نمبر۳؍۵۹، ۴؍۱۷۱ اور ۴؍۱۷۲وغیرہ۔

مرزاصاحب نے ایک طرف اللہ کے تمام انبیاء اور رسل پر برتری کا دعویٰ کیا اوردوسری طرف انبیاء خصوصاً حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے خلاف ہتک آمیز زبان استعمال کی۔ انہوں نے عیسیٰ علیہ السلام پربرتری کا دعویٰ کرتے ہوئے کہا:

’’خدا نے اس امت میں سے مسیح موعود بھیجا جو اس پہلے مسیح سے اپنی تمام شان میں بہت بڑھ کر ہے۔ مجھے قسم ہے اس ذات کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے کہ اگر مسیح ابن مریم میرے زمانے میں ہوتا تو وہ کام جو میں کر سکتاہوں وہ ہرگز نہ کر سکتا اور وہ نشان جو مجھ سے ظاہر ہو رہے ہیں، وہ ہرگز نہ دکھلاسکتا۔‘‘

(حقیقت الوحی ص۱۴۸، خزائن ج۲۲ص۱۵۲)

قران کریم کی آیت ۳؍۴۹ میں صرف حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے معجزات کا تذکرہ کیاگیا ہے۔ وہ مٹی سے پرندے کی صورت بناتے اور اس میں پھونک مارتے تو وہ پرندہ بن جاتا۔ وہ مادرزاد اندھے اورکوڑھی کو اچھا کر لیتے اور مردوں کو زندہ کرتے تھے۔ یہ ان کی نشانیاں تھیں۔ مرزاصاحب نے مسیح موعود اورمثیل عیسیٰ ہونے کا دعویٰ کیا تو انہیں بھی کچھ ایسے معجزات دکھانے کو کہا گیا۔ تو انہوں نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے معجزات کاانکار کردیا اورکہا کہ قرآن کریم میں معجزات کا بیان صرف بطور تشبیہہ ہے۔

77

انہوں نے عیسیٰ علیہ السلام کے ایسے معجزات پراعتقاد رکھنے کی مذمت کی اور اسے ’’صریح الحاد اور سخت بے ایمانی قراردیا۔‘‘

(ازالہ اوہام ص۲۹۶، خزائن ج۳ص۲۵۱)

انہوں نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے معجزات کے ہونے کا انکار کرتے ہوئے لکھا کہ ’’آپ نے معجزہ مانگنے والوں کو ننگی گالیاں دیں اور ان کو حرام کار اورحرام کی اولاد ٹھہرایا۔ اسی روز سے شریفوں نے آپ سے کنارہ کیا۔‘‘

(ضمیمہ انجام آتھم ص۶حاشیہ، خزائن ج۱۱ص۲۹۰)

پھر انہوں نے ایک مختلف مؤقف اختیار کرتے ہوئے لکھا کہ’’سو کچھ تعجب کی جگہ نہیں کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت مسیح کو عقلی طور پر ایسے طریق پر اطلاع دے دی ہو جو ایک مٹی کا کھلونا کسی کل کے دبانے یا کسی پھونک مارنے کے طور پر ایسا پرواز کرتا ہو جیسے پرندہ پرواز کرتاہے۔‘‘

(ازالہ اوہام ص۳۰۲، خزائن ج۳ص۲۵۴)

یہ صرف عمل الترب (مسمریزم) تھا جو روح کی قوت سے ترقی پذیر ہوگیا تھا۔

(ازالہ اوہام ص۳۲۲، خزائن ج۳ ص۲۶۳)

’’اسی زمانہ میں ایک تالاب بھی موجود تھا جس سے بڑے بڑے نشان ظاہر ہوتے تھے۔ خیال ہو سکتاہے کہ اس تالاب کی مٹی آپ بھی استعمال کرتے ہوں گے…اورآپ کے ہاتھ میںسوا مکر وفریب کے اورکچھ نہ تھا۔‘‘

(ضمیمہ انجام آتھم ص۷حاشیہ، ازالہ اوہام ص۳۲۲، خزائن ج۱۱ ص۲۹۱)

مرزاصاحب نے لکھا کہ ’’اب یہ بات یقینی اورقطعی طورپرثابت ہو چکی ہے کہ حضرت مسیح ابن مریم باذن حکم الٰہی اس عمل الترب(مسمریزم) میں کمال رکھتے تھے۔‘‘

(ازالہ اوہام ص۳۰۹،خزائن ج۳ص۲۵۷حاشیہ)

اور’’اگر یہ عاجز اس عمل کو مکروہ اورقابل نفرت نہ سمجھتا تو خدائے تعالیٰ کے فضل اور توفیق سے قوی امید رکھتا تھا کہ ان اعجوبہ نمائیوں میں سے حضرت ابن مریم سے کم نہ تھا۔‘‘

(ازالہ اوہام ص۳۱۰، خزائن ج۳ص۲۵۸)

حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی پیدائش کے بارے میں مرزاصاحب نے کہا:

’’اور جس حالت میں برسات کے دنوں میں ہزارہاکیڑے مکوڑے خود بخود پیدا ہو جاتے ہیں اورحضر ت آدم علیہ السلام بھی بغیر ماں باپ کے پید اہوئے تو پھر حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی اس پیدائش سے کوئی بزرگی ان کی ثابت نہیں ہوتی۔ بلکہ بغیرباپ کے پیداہونا بعض قویٰ سے محروم ہونے پر دلالت کرتاہے۔‘‘

(چشمہ مسیحی ص۲۷،خزائن ج۲۰ص۳۵۶)

78

ا س سے عیسیٰ علیہ السلام کے بارے میں مرزاصاحب کی اس رائے کی تائید ہوتی ہے کہ ’’عیسیٰ ہیجڑا اور مردانہ صفات سے عاری ہونے کی بناء پر شادی نہ کرسکا۔‘‘

(دیکھئے مکتوبات احمدیہ ج۳ص۲۸طبع جدید ج۱ص۱۹۲)

مرزاصاحب نے کہا کہ ’’آپ(عیسیٰ علیہ السلام) کا شجرئہ نسب انتہائی گندہ تھا۔ تین دادیاں اورنانیاں آپ کی زناکار اورکسبی عورتیں تھیں۔‘‘

(ضمیمہ انجام آتھم ص۷حاشیہ، خزائن ج۱۱ص۲۹۱)

نیز الزام لگایا کہ ’’ہاں آپ کو گالیاں دینے اوربدزبانی کی اکثر عادت تھی۔ ادنیٰ ادنیٰ بات پر غصہ آجاتاتھا۔ اپنے نفس کو جذبات سے روک نہیں سکتے تھے… آپ کو کسی قدر جھوٹ بولنے کی بھی عادت تھی۔‘‘

(ایضاً ص۵حاشیہ،خزائن ج۱۱ص۲۸۹)

ایک دفعہ مرزاصاحب کو افیون کے استعمال کا مشورہ دیاگیا تو فوراً بولے کہ پھر لوگ کہیں گے کہ:

’’پہلا مسیح شرابی تھا اور دوسرا افیون خور۔‘‘

(نسیم دعوت ص۶۷، خزائن ج۱۹ ص۴۳۵)

میں نے صرف چند اقتباسات پیش کئے ہیں۔ جن میں مرزاصاحب نے اللہ کے ایک عظیم نبی کے بارے میں حقارت آمیز، نفرت آمیز اورگھٹیا کلمات استعمال کئے ہیں۔ میں نے ان حوالوں کو پیش کرنے سے عموماً احتراز کیا ہے۔ جن کے بارے میں ا ن کا بہانہ یہ ہے کہ وہ ان عیسائی مشنریوں کے ساتھ مناظروں میں ردعمل کے طور پر کہے گئے تھے جو رسول کریم ﷺ کی شان میں زیادہ گندی زبان استعمال کرتے تھے۔ کوئی مناظرہ باز اسے جائز سمجھے تو سمجھے لیکن اسلام کسی بھی نبی یا رسول کے بارے میں نازیبا کلمات کہنے کی اجازت نہیں دیتا۔ عہد نامہ قدیم میں کئی انبیاء مثلاً نوح علیہ السلام اورلوط علیہ السلام کے بارے میں کئی نفرت انگیز باتیں ہو سکتی ہیں۔ لیکن اسلامی عقیدے کی رو سے نبی معصوم ہوتاہے۔ لوگوں کا ایسا رہنماء جس کا مشن ہی ان کو نیکی کی تعلیم و تربیت دینا ہو، وہ خود نیک ہی ہوسکتاہے۔

قرآن کریم میں حضرت مریم علیہما السلام کے حمل اورعیسیٰ علیہ السلام کی ولادت کا تذکرہ بہت عمدہ انداز میں کیاگیاہے۔ لیکن مرزاصاحب نے اسے برسات کے موسم میں کیڑے مکوڑوں کی پیدائش سے تشبیہہ دے دی۔ مرزاصاحب ایک تالاب کی مٹی میں معجزاتی خصوصیات تسلیم کرنے کو تیار ہیں۔ لیکن ایک نبی اللہ کے معجزات کو نہیں مانتے۔

یہ یاد رہے کہ مرزاصاحب نے اپنے کمرے کے قریب واقع مسجد کو بیت الذکر کانام دیا تھا۔

79

براہین احمدیہ میں مرزاصاحب نے یہ کہتے ہوئے کہ جو کوئی اس میں داخل ہوتا ہے، امن میں ہے۔ اسے مکہ کے کعبہ یا بیت الحرام کی خصوصیت دے دی ہے۔

(براہین ص۵۵۹،خزائن ج۱ص۶۶۷)

دوسرا قدم یہ تھا کہ قادیان کا مرتبہ بڑھا کر اسے مکہ کے مساوی قرار دیا جائے۔ انہوں نے درثمین (ص۵۰)پرلکھا:

  1. ’’زمین قادیان اب محترم ہے

    ہجوم خلق سے ارض حرم ہے‘‘

اپنے طور پر اس شعر کی کوئی زیادہ معنویت نہ ہوتی لیکن دوسرے حالات کے پیش نظر یہ بہت ہی متعلق ہے۔

آئینہ کمالات اسلام(ص۳۵۲،خزائن ج۵ص ایضاً)میں مرزاصاحب نے قرار دیا کہ ’’قادیان میں منعقدہ سالانہ جلسے میں شرکت کا ثواب نفلی حج سے زیادہ ہے۔‘‘

مرزاصاحب نے صاحبزادہ عبداللطیف کو حج پر جانے سے روک دیا۔ وہ احمدیت کی تعلیم پانے کے لئے قادیان رک گیا

(قادیانی مذہب ص۴۴۱، الفضل ج۲۰نمبر۸۰ ص۴، مورخہ۵؍جنوری ۱۹۳۳)

’’مرزابشیرالدین محمود احمد نے قادیان آنے کو حج کے برابر قرار دیا۔‘‘

(قادیانی مذہب ص۴۳۹، الفضل ج۲۰ نمبر۶۶ ص۵، مورخہ یکم؍دسمبر ۱۹۳۲ء)

مرزا صاحب نے اپنی مسجد کو مسجد اقصیٰ کا نام دیا۔

(تبلیغ رسالت ج۹ ص۳۷،مجموعہ اشتہارات ج۳ص۲۸۶)

اس کامشرقی مینارہ بنوایاجارہاتھا۔ کیونکہ رسول کریمﷺ کی ایک حدیث ہے کہ مسیح دمشق کے مشرقی مینارہ پرنازل ہوگا۔ ایک اورروایت یہ ہے کہ نزول (بیت المقدس) مسجد الاقصیٰ سے ہوگا۔ اس طریقے پر جسے معقولیت کا مذاق ہی کہاجاسکتاہے۔ مرزاصاحب نے یہ ثابت کرنے کی سعی کی کہ مذکورہ بالا مینارہ مسجد الاقصیٰ کا ہی ہے۔اس لئے قادیان میں واقع ان کی مسجد کا مینارہ تعمیر کر دیا جائے تاکہ رسول کریم ﷺ کی پیشگوئی کامنشاء پورا ہوجائے۔

(تبلیغ رسالت ج۹ ص۳۸، مجموعہ اشتہارات ج۳ص۲۸۷)

مرزاصاحب نے قرآن کریم کی آیت ۱۷؍۱

’سبحان الذی اسریٰ بعبدہ لیلا من المسجد الحرام الی المسجد

80

الاقصا الذی بٰرکنا حولہ لنریہ من ایتنا، انہ ھو السمیع البصیر (سورہ بنی اسرائیل:۱)‘‘{پاک ہے وہ ذات جو اپنے بندے کو لے گئی ایک شب مسجد الحرام سے اس مسجد اقصیٰ تک جس کے اردگرد کو ہم نے برکت بخشی تاکہ ہم اس کو اپنی کچھ نشانیاں دکھائیں بے شک سمیع وبصیر وہی ہے۔}

جو رسول اللہ ﷺ کی معراج کے بارے میں ہے،کاحوالہ دیا اور اسی طریقہ استدلال کو اختیار کرتے ہوئے کہا کہ ’’رسول اللہ ﷺ معراج کی رات کعبہ(مکہ)سے قادیان کی مسجد اقصیٰ تک سیر فرماہوئے۔‘‘

(تبلیغ رسالت ج۹ ص۳۹،۴۰، مجموعہ اشتہارات ج۳ص۲۸۸،۲۸۹)

شریعت پٹیشن نمبر۲؍ایل ۱۹۸۴ء کے درخواست دہندہ کیپٹن عبدالواجد جو احمدیوں کے لاہوری گروہ کے رکن ہیں، کے دلائل عموماً دوسری شریعت پٹیشن کے درخواست دہندہ مجیب الرحمن کے دلائل کا اعادہ تھے۔تاہم انہوں نے احمدیوں کے لاہوری گروہ اورقادیانی گروہ کے عقائد کے مابین فرق کا نکتہ اٹھایا اور کہا کہ لاہوری گروہ مرزاصاحب کی نبوت کا عقیدہ نہیں رکھتا اور نہ ہی مرزاصاحب نے کبھی اپنے نبی ہونے کادعویٰ کیا۔لاہوری گروہ کے لوگ حضرت محمدﷺ کی غیرمشروط اور قطعی ختم نبوت کا عقیدہ رکھتے ہیں اور مرزاصاحب کو مہدی معہود، مسیح موعود، مجدد اورمحدث، نبوت سے کم تر چیز سمجھتے ہیں۔

اس بارے میں انہوں نے کئی کتابوں جن میں ازالہ اوہام،نشان آسمانی، آئینہ کمالات اسلام، حمامۃ البشری، ایام صلح وغیرہ شامل ہیں، کا سہارا لیتے ہوئے یہ ثابت کرنے کی کوشش کی کہ مرزاصاحب نے کبھی نبوت کادعویٰ نہیں کیا تھا۔ ان پر یہ امر واضح کیاگیا کہ اس بارے میں مرزاصاحب کی تحریریں ۱۹۰۱ء سے لیکر۱۹۰۸ء تک کی متعلقہ تحریریں ہوںگی اور ’’ایک غلطی کا ازالہ‘‘ ایک بنیادی تحریر ہے۔ انہوں نے اس رسالے کے کچھ حصے پڑھے لیکن وہ نہیں جو موضوع سے متعلق ہیں۔

کیپٹن عبدالواجد نے اس بات کا انکار کیا کہ مرزاصاحب یا قادیانیوں کے لاہوری گروہ نے کبھی امت مسلمہ یا جوبھی کلمہ (اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اورمحمدؐ اللہ کارسول ہے) پڑھتے ہوں،کو کبھی مرزاصاحب کے بارے میں ان کے عقیدے کی وجہ سے کافر قرار دیاہو۔ تاہم انہوں نے اس بات کو تسلیم کیا جو مسلمان مرزاصاحب کو کافر کہتے ہیں، وہ اس الزام کے بعد کافر ہو جاتے ہیں۔

ان دونوں دعوؤں میںکوئی وزن نہیں۔مرزاصاحب کی تحریروں سے واضح ہوگا کہ نہ

81

صرف انہوں نے نبوت کادعویٰ کیا بلکہ لاہوری گروہ کا بانی( مولوی محمدعلی) بھی ۱۹۱۴ء تک جب اس نے احمدیوں کی بڑی جماعت سے علیحدہ ہوکر اپنا گروہ بنالیا،انہیں نبی مانتارہا۔ اس مفروضے کی تائید میں عبدالقادر کی کتاب’’حیات طیبہ‘‘ جو مرزاصاحب کی سوانح حیات ہے،سے حوالے دیئے جا سکتے ہیں۔ صرف دواقتباسات کافی ہوںگے۔

(ص۲۹۹ )پر بیان کیاگیا ہے کہ ۱۹۰۴ء میں مولوی کرم الدین کے مقدمہ میں محمدعلی استغاثہ کے طورپر بطور گواہ پیش ہوا اورحلفاً بیان دیا کہ:’’مکذ ب مدعی نبوت کذاب ہوتاہے۔ مرزاصاحب ملزم مدعی نبوت ہے۔‘‘

(ص۳۰۰)پرمولو ی محمدعلی کی تحریر جو اس کے اخبار پیغام صلح مورخہ ۱۶؍اکتوبر ۱۹۱۳ء میں شائع ہوئی تھی،میں سے مندرجہ ذیل اقتباس نقل کیاگیاہے:

’’ہم حضرت مسیح موعود اورمہدی معہود کو اس زمانہ کا نبی،رسول اورنجات دہندہ مانتے ہیں۔‘‘

ان اقتباسات سے یہ بات واضح ہے کہ مولوی محمد علی اوراس کے ساتھی مرزاصاحب کو ان کی زندگی اور ان کے جانشین ایم نور الدین کے زمانہ تک نبی مانتے رہے۔ یہ بعد کی بات ہے کہ جب مولوی محمد علی احمدیوں کی عام جماعت سے علیحدہ ہوا۔ تو اس نے یہ مختلف مؤقف اختیار کرلیا کہ ’’امت کے اندر ہوکر بھی نبوت کا دعویٰ کرنا کذاب کا کام ہے۔‘‘ (النبوۃ فی الاسلام ص۱۱۵) اور یہ کہ ’’میں مرز اصاحب کو نبی قرار دینا نہ صرف اسلام کی بیخ کنی سمجھتاہوں۔‘‘

(پیغام صلح ج۲ص۱۱۹مورخہ ۱۶؍اپریل ۱۹۱۵ء)

جب مرزاصاحب نے صرف مسیح موعود اورمہدی معہود ہونے کا دعویٰ کیا تو انہیں کفر کے فتوے کا سامناکرناپڑا۔ یہی فتویٰ ان کے پیروؤں پر بھی منطبق ہوتاتھا۔ مولانا محمدحسین بٹالوی جنہوں نے براہین احمدیہ کے کچھ اجزاء کی تحریر کرنے پر مرزاصاحب کی تعریف کی تھی، ان دعوؤں کی بناء پر حقیقت حال سے آگاہ ہوگئے اور ان کے سخت مخالف بن گئے۔ انہوں نے نہ صرف خود ان کے کافر ہونے کا فتویٰ دیا بلکہ اس پرتمام ہندوستان کے علماء کی ایک بہت بڑی تعداد کے دستخط حاصل کئے۔

(حیات طیبہ از عبدالقادر ص۱۳۲)

تاہم ان فتوؤں سے متاثر ہوئے بغیر اس نکتے کا معروضی مطالعہ ہونا چاہئے۔ مرزاصاحب اور ان کے جانشینوں کی تحریروں کے اقتباسات سے یہ ثابت ہوچکا ہے کہ مرزاصاحب نے نبی ہونے کا غیر مبہم دعویٰ کیاتھا اوران تمام لوگوں کوجنہوں نے ان کا دعویٰ قبول

82

نہیں کیاتھا، کافر قرار دیاتھا۔

اب اسلام کا ان لوگوں کے بارے میں کیامؤقف ہے، جو ایک کافر کے واضح کفر کو نظر انداز کریں یا اس سے آنکھیں بند کرلیں اور اسے مامور من اللہ،مجدد مسیح موعود اورمہدی مانیں۔ حالانکہ وہ دائرئہ اسلام سے خارج ہونے کی وجہ سے ایسا نہیں ہوسکتا؟ کیا کفر کی تائید کفر نہیں ہے؟

’’اسلام کا مسلمہ اصول یہ ہے کہ جو شخص کفر کو نیکی سمجھے یا اس پرراضی ہو جائے یا اس پر خوش ہو جائے، وہ مسلمان نہیں ہے۔‘‘

(اکفار الملحدین از مولانا انورشاہ کشمیریؒ ص۵۹)

(البحرالرائق ج۵ص۲۴)پرلکھا ہے کہ:

’’جو یہودی احبار کے خطبوں کو مستحسن خیال کرے اور ان کی تاویل کو پسند کرے، وہ کافر ہے۔،مرزاصاحب نے اس اصول کو کچھ زیادہ صاف گوئی میں پیش کرتے ہوئے لکھ دیا کہ ’’اورکافرکو مومن کہنے والا بھی کافر ہوجاتاہے۔‘‘

(حقیقت الوحی ص۱۶۴، خزائن ج۲۲ص۱۶۸)

قرآن کریم کی آیت نمبر۲؍۲۵۶ اس نکتہ پر موزوں ہے اوروہ یہ ہے:

’’لااکراہ فی الدین قد تبین الرشد من الغیّی، فمن یکفر بالطاغوت ویؤمن باللہ فقد استمسک بالعروۃ الوثقی، لا انفصام لہا، واللہ سمیع علیم (البقرہ:۲۵۶)‘‘{دین کے معاملے میں کوئی جبر نہیں ہے۔ ہدایت گمراہی سے بالکل الگ ہو چکی ہے۔ تو جس نے طاغوت کا انکار کیا اوراللہ پر ایمان لایا اس نے مضبوط رسی پکڑ لی جو ٹوٹنے والی نہیں اوراللہ سننے والا،جاننے والاہے۔}

قرآن کریم میں متعدد مواقع پر لفظ’’طاغوت‘‘اللہ کے مقابل کے طور پر استعمال ہوا ہے۔ دیکھئے مذکورہ بالا آیت، نیز آیت نمبر۱۶؍۳۶(اللہ کی بندگی کرو اورطاغوت سے بچو) اور آیت نمبر ۴؍۷۶(جو لوگ ایمان لائے ہیں اوراللہ کی راہ میں جنگ کرتے ہیں اور جنہوں نے کفر کیا وہ طاغوت کی راہ میں لڑتے ہیں)

طاغوت شیطان، ساحر، کاہن اورضلالت کے لیڈر کے معانی کو متضمن ہوتاہے۔ جوہری کہتاہے:’’الطاغوت الکاہن والشیطان وکل رأس فی الضلال(قرطبی)‘‘ {طاغوت، کاہن، شیطان، گمراہی کا ہر لیڈر ہوتاہے۔}

’’کل رأس فی الضلال‘‘{ضلالت کا ہرلیڈر}میں کسی ایسے مذہب یا نظریے کا بانی جولوگوں کو گمراہ کرے یا جو صراط مستقیم کے مخالف ہو، شامل ہے۔

(دیکھئے ضیاء القرآن از پیر محمدکرم شاہ جواب سپریم کورٹ کے شریعت بیچ کے جج ہیں، ج اول صفحات ۱۷۹،۱۸۰)

83

اسی بناء پر اس آیت نمبر ۲؍۲۵۶ میں مستعمل لفظ’’طاغوت‘‘ کا ترجمہ مختلف مترجمین نے مختلف کیا ہے۔ پکتھل نے اس کا ترجمہ ’’جھوٹاخدا‘‘ جب کہ آربری نے ’’بت‘‘ کیاہے۔ مولانامحمود حسنؒ نے اس کا ترجمہ ’’گمراہ کرنے والا‘‘کیاہے۔ یہ بہت ہی مناسب ترجمہ ہے اور سب کو شامل کرتاہے۔ یہ ایسے شخص کو شامل ہے، جو الحاد کے کی مذہب کی بنیاد رکھتاہے۔

ایک مؤمن یا مسلمان کا وصف یہ ہے کہ اللہ پر ایمان رکھے اورطاغوت جس میں جھوٹا نبی شامل ہے، کا کفر یا انکار کرے۔ اس کا نتیجہ یہ ہے کہ جو شخص ایک جھوٹے نبی، ضلالت کے لیڈر یا کسی ایسے مذہب کے بانی، جو اسلام سے انحراف ہو،کا انکار نہیں کرتا، وہ مسلمان نہیں ہوسکتا۔ خواہ اللہ پر ایمان رکھتاہو۔ ایسے شخص کا معاملہ جو طاغوت اور اللہ دونوں پرایمان رکھے،اس سے بھی بدتر ہوگا۔

اسے کسی بھی تصور یا تاویل سے مسلمانوں کے مساوی درجہ پر نہیں رکھا جاسکتا۔ ’’ سد ذرائع‘‘ کے اصول کی رو سے بھی امت کو انتشار سے بچانے کی خاطر ایسے گمراہ شخص کو دائرہ اسلام سے خارج قرار دینا چاہئے تاکہ طاغوت پر اعتقاد کے شر سے امت مسلمہ محفوظ رہے۔

مرزاصاحب نے رسالہ ’’ایک غلطی کا ازالہ‘‘ میں پہلی دفعہ نبوت کا دعویٰ کیا۔ اس کے لکھنے کی وجہ یہ تھی کہ اس کی تحریر سے چند روز پہلے ایک ’’مخالف‘‘نے مرزاصاحب کے ایک پیروکار پر یہ اعتراض کیا کہ جس سے تم نے بیعت کی ہے۔ وہ نبی اوررسول ہونے کادعویٰ کرتا ہے۔ پیروکار نے اس الزام کا انکار کردیا۔ مرزاصاحب نے لکھا کہ یہ انکار درست نہ تھا۔ ’’حق یہ ہے کہ خدا تعالیٰ کی وہ پاک وحی جو میرے پر نازل ہوتی ہے۔اس میں ایسے الفاظ رسول اورمرسل اورنبی کے موجود ہیں۔ نہ ایک دفعہ بلکہ صدہا دفعہ،پھر کیونکر یہ جواب صحیح ہوسکتاہے کہ ایسے الفاظ موجود نہیں ہیں… اور براہین احمدیہ میں جس کو طبع ہوئے بائیس برس ہوئے یہ الفاظ کچھ تھوڑے نہیں ہیں۔ چنانچہ وہ مکالمات الٰہیہ جو براہین احمدیہ میں شائع ہوچکے ہیں، ان میں سے ایک یہ وحی اللہ ہے:’’ھوالذی ارسل رسولہ بالھدی ودین الحق لیظہرہ علی الدین کلہ‘‘ ( براہین احمدیہ ص۴۹۹) اس میں صاف طور پر اس عاجز کو رسول کہہ کے پکاراگیاہے۔ پھراس کے بعد اس کتاب میںمیری نسبت یہ وحی اللہ ہے ’’جری اللہ فی حلل الانبیاء‘‘یعنی خدا کا رسول نبیوں کے حلوں میں۔‘‘(دیکھو براہین احمدیہ ص۵۰۴) پھر اسی کتاب میں اس مکالمہ کے قریب ہی یہ وحی اللہ ہے:’’محمد رسول اللہ والذین معہ اشدّاء علی الکفار رحماء بینھم‘‘قرآن کریم کی آیت نمبر ۴۸؍۲۹، ترجمہ یوں ہے:’’محمد اللہ کا رسول ہے اورجو اس کے ساتھ ہیں۔

84

کافروں پرسخت اورآپس میں نرم ہیں۔‘‘اس وحی الٰہی میں میرا نام محمد رکھاگیا اوررسول بھی…اسی طرح براہین احمدیہ میں اور کئی جگہ رسول کے لفظ سے اس عاجز کو یاد کیاگیا۔‘‘

(ایک غلطی کاازالہ ص۱،خزائن ج۱۸ص۲۰۶، ۲۰۷)

پھر مرزاصاحب نے اس اعتراض پر بحث کی ہے کہ چونکہ حضرت محمد ﷺ آخری نبی ہیں۔ ان کے بعد کوئی نبی نہیں آسکتا۔ انہوں نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی دنیا میں دوبارہ آمد بحیثیت نبی کے مسلمانوں کے عقیدے کی تردید کرتے ہوئے لکھا کہ حضرت محمدﷺ کے آخری نبی ہونے کی آیت کا معنی یہ ہے کہ’’ آنحضرت ﷺ کے بعد پیش گوئیوں کے دروازے قیامت تک بند کر دیئے گئے اورممکن نہیں کہ اب کوئی ہندو یا یہودی یا عیسائی یا کوئی رسمی مسلمان نبی کے لفظ کو اپنی نسبت ثابت کرسکے۔ نبوت کی تمام کھڑکیاں بند کی گئیں مگر ایک کھڑکی سیرۃ صدیقی کی کھلی ہے یعنی فنا فی الرسول کی۔‘‘

(ایک غلطی کا ازالہ ص۲، خزائن ج۱۸ ص۲۰۷)

مرز اصاحب مزید کہتے ہیں:

’’پس جو شخص اس کھڑکی کی راہ سے خدا کے پاس آتاہے۔ اس پر ظلی طورپر وہی نبوت کی چادر پہنائی جاتی ہے جو نبوت محمدی کی چادر ہے۔ اس لئے اس کا نبی ہونا غیرت کی جگہ نہیں۔ کیونکہ وہ اپنی ذات سے نہیں بلکہ اپنے نبی کے چشمہ سے لیتاہے اورنہ اپنے لئے بلکہ اسی کے جلال کے لئے۔ اس لئے اس کا نام آسمان پر محمد اوراحمد ہے۔ اس کے معنی یہ ہیں کہ محمد کی نبوت آخر محمد کو ہی ملی۔ گو بروز ی طورپر۔‘‘

(ایک غلطی کاازالہ ص۲، خزائن ج۱۸ص۲۰۷،۲۰۸)

نیز (ص۷)پر انہوں نے لکھا:

’’پس باوجود اس شخص کے دعویٰ نبوت کے جس کا نام ظلی طورپر محمد اوراحمد رکھا گیا پھر بھی سیدنامحمد خاتم النّبیین ہی رہا۔ کیونکہ یہ محمد ثانی اسی محمدﷺ کی تصویر اور اسی کا نام ہے۔‘‘

(ایک غلطی کا ازالہ ص۳، خزائن ج۱۸ص۲۰۹)

انہوںنے مزید لکھا:

’’نام محمد اور احمد سے مسمی ہوکر میں رسول بھی ہوں اورنبی بھی۔‘‘

(ایک غلطی کا ازالہ ص۴،خزائن ج۱۸ص۲۱۱)

قرآن کریم کی آیت نمبر۶۲؍۳

’’واخرین منھم لما یلحقوا بھم‘‘{اور انہی میں سے ان دوسروں میں بھی جو ابھی ان میں شامل نہیں ہوئے۔}

85

کو بھی مرزاصاحب نے اسی طرح توڑمروڑ کر اورغلط معنی پہناتے ہوئے اپنے نظریے پر چسپاں کرنے اوراپنے سمیت مستقبل کے نبیوں پر منطبق کرنے کی کوشش کی ہے اور لکھاہے:

’’میں…بروزی طورپر وہی نبی خاتم الانبیاء ہوں اورخدا نے آج سے بیس برس پہلے براہین احمدیہ میں میرا نام محمد اوراحمد رکھاہے اورمجھے آنحضرت ﷺ کا ہی وجود قرار دیا ہے۔ پس اس طورسے آنحضرت ﷺ کے خاتم الانبیاء ہونے میں میری نبوت سے کوئی تزلزل نہیں آیا۔ کیونکہ ظل اپنے اصل سے علیحدہ نہیں ہوتا۔‘‘

(ایک غلطی کا ازالہ ص۵،خزائن ج۱۸ص۲۱۲)

قرآن کریم کی آیت نمبر ۶۲؍۳ کو اس سے قبل کی آیت ۶۲؍۲ سے ملاکر پڑھنا چاہئے۔ اس کا تعلق آنحضرت ﷺ کی بعثت کے مقاصد سے ہے کہ ’’اسی نے بھیجا ہے امیوں میں ایک رسول انہی میں سے جو ان کو اس کی آیات پڑھ کر سناتاہے اوران کو پاک کرتاہے اوران کو کتاب اور حکمت کی تعلیم دیتاہے اور بیشک یہ لوگ اس سے پہلے کھلی گمراہی میں تھے( اورانہی میں سے ان دوسروں میں بھی جو ابھی ان میں شامل نہیں ہوئے۔‘‘)(بریکٹ کے الفاظ اس حصے کا ترجمہ ہے جس سے مرزاصاحب نے غلط مفہوم نکالاہے)

یہ دونوں آیات (۶۲؍۲، ۶۲؍۳) صرف ایک ہی نبی یعنی رسول کریم ﷺ کا تذکرہ کرتی ہیں۔ ان کا واضح مفہوم یہ ہے کہ ان کا پیغام جو وحی الٰہی یعنی آیات کریمہ اورحکمت پرمشتمل ہے، کی تعلیم ان کی وفات کے بعدآئندہ نسلوں میں جاری رہے گی۔ ان آیات میں آئندہ ہونے والے نبیوں کا کوئی تذکرہ نہیں کیونکہ نبوت پر مہر لگ چکی ہے۔

انہوں نے پھر اپنی بروزی نبوت کا دعویٰ دہرایا اورلکھا:’’اسی لحاظ سے میرا نام محمد اور احمد ہوا۔پس نبوت اوررسالت کسی دوسرے کے پاس نہیں گئی۔ محمد کی چیز محمد کے پاس ہی رہی۔‘‘

(ایک غلطی کا ازالہ ص۶، خزائن ج۱۸ص۲۱۶)

یہ واضح ہے کہ مرزاصاحب کے اس ادّعا کہ وہ خود محمد اوراحمد (رسول اللہ ﷺ کے اسماء گرامی) ہیں، کے نتائج سخت اضطراب کا باعث بنے۔ مرزاصاحب کے ساتھی رسول کریم کے صحابہ بن گئے۔ مسلمانوں کے کلمہ ’’لاالہ الااللہ محمد رسول اللہ‘‘میں محمد سے مراد مرزاصاحب ہوگئے۔ جہاں بھی لفظ محمد پڑھایالکھا جائے ۔ اس سے مراد مرزاصاحب ہوگئے۔

اب خود اسی تصور کا تجزیہ کرنا چاہئے۔ ڈاکٹر عبدالقادر محمود کی کتاب’’الفلسفۃ الصوفیۃ فی الاسلام‘‘ کے (صفحات ۵تا۱۱)میں اس امر کی وضاحت کی گئی ہے کہ ظلی اوربروزی کے معانی ہندوؤں کے ہاں حلول اورتناسخ کے تصور ات سے بہت زیادہ مشابہ ہیں۔‘‘

86

مرزاصاحب نے خود تسلیم کیا ہے کہ بروز کے معنی اوتار ہے۔ اپنے لیکچر سیالکوٹ (ص۳۳، خزائن ج۲۰ ص۲۲۸) میںکہتے ہیں:’’آخر یہ بھی واضح ہو کہ میرا اس زمانہ میں خدا تعالیٰ کی طرف سے آنا محض مسلمانوں کی اصلاح کے لئے ہی نہیں۔ بلکہ مسلمانوں اورہندوؤں اور عیسائیوں تینوں قوموں کی اصلاح منظور ہے اور جیسا کہ خدا نے مسلمانوں اورعیسائیوں کے لئے مسیح موعود کر کے بھیجا ہے۔ ایسا ہی میں ہندوؤں کے لئے بطوراوتار کے ہوں…اب یہ واضح ہو کہ راجہ کرشن جیسا کہ میرے پرظاہر کیا گیا ہے، درحقیقت ایک ایسا کامل انسان تھا… اوراپنے وقت کا اوتار یعنی نبی تھا… خدا کا وعدہ تھا کہ آخری زمانہ میںاس کا بروزیعنی اوتار پیداکرے۔‘‘

(ضمیمہ رسالہ جہاد مطبوعہ ۱۹۰۰ء)میں انہوں نے لکھا:

’’سو اس وقت خدا نے مجھے…حضرت عیسیٰ مسیح کا اوتار کرکے بھیجا ایسا ہی اس نے… میرا نام محمد اوراحمد رکھا اورمجھے توحید پھیلانے کے لئے تمام خواوربو اوررنگ اور روپ اور جامہ محمدی پہناکر حضرت محمدﷺ کا اوتار بنادیا۔ سو میں ان معنوں میں کرکے عیسیٰ مسیح بھی ہوں اور محمد مہدی بھی…اور یہ وہ طریق ظہور ہے جس کو اسلامی اصطلاح میں بروز کہتے ہیں۔‘‘

(ضمیمہ رسالہ جہاد ص۶،۷، خزائن ج۱۷ص۲۷،۲۸)

اسلام کی صاف شفاف شریعت میں حلول یا تناسخ کا کوئی تصور نہیں پایاجاتا۔ ان اصطلاحات کا رواج ایسے لوگوں مثلاً مزدک اورلیمان کی جانب سے ہواجو تناسخ کے قائل تھے۔ اسی طرح اسلام میں ظلیت کا بھی کوئی تصور موجود نہیں۔

(خاتم النّبیین مولانا انورشاہ کشمیریؒ ص۲۱۰)

مولانا محمد یوسف بنوری ’’مؤقف الامۃ الاسلامیہ‘‘ میں لکھتے ہیں کہ مذاہب کے تقابلی مطالعہ سے یہ امر واضح ہوتا ہے کہ ظلیت اور بروز کا سارا نظریہ ہندو تصور ہے اور اسلام میں ایسا کوئی تصور موجود نہیں۔ نیز عبدالقادر بغدادی (م۴۲۹) نے بھی کہا ہے کہ حلول کی دلیل جھوٹی اور بے کار ہے۔

(اصول الدین ص۷۲)

مجدد الف ثانی جن کی تحریروں پر مرزاصاحب اعتماد کرتے ہیں،بھی نبوت میں ظل کے تصور کی تردید کرتے ہوئے اپنے مکتوب نمبر۳۰۱ میں کہتے ہیں کہ: ’’نبوت قرب الٰہی سے عبارت ہے۔ اس میں ظلیت کا کوئی اشارہ یا اشتباہ تک موجود نہیں ہوتا۔‘‘

درخواست دہندگان کی ایک اور دلیل یہ ہے کہ قادیانی امت مسلمہ کا حصہ ہیں اور محض عقیدے کے اختلافات کی بناء پر امت کے ایک رکن کو اس سے خارج نہیں کیا جا سکتا۔ ان کی تعریف کی رو سے جو شخص بھی اللہ تعالیٰ کی توحید اورحضرت محمد ﷺ کی نبوت کا عقیدہ رکھے، وہ

87

مسلمان اور امت مسلمہ کا رکن ہے۔ انہوں نے قرآن کریم کی آیت نمبر ۴؍۹۴ کا حوالہ دیا کہ ’’جو شخص مسلمان ایسا سلام(السلام علیکم !یعنی تم پرسلامتی ہو) کہے اسے غیر مسلم نہیں کہنا چاہئے۔‘‘

نیز فقہاء کی ان آراء کا حوالہ دیا کہ جو ’’لاالہ الااللہ‘‘پڑھے اسے (جہاد میں) قتل نہیں کیا جاسکتا۔ اس کے علاوہ چند احادیث پیش کیں۔ جن پر ان آراء کی بنیاد ہے۔ تو اب سوال یہ ہے کہ امت یا امت مسلمہ کیا چیزہے؟

لفظ امت(جمع امم) مختلف معنوں میں استعمال ہوتاہے۔ مثلاً لوگ یا افراد (آیت نمبر ۴۳؍۲۱۱) طریقہ یا اصول(آیت ۴۳؍۲۳) مدت(آیت نمبر ۱۱؍۷) راہنماء یا قائد (آیت نمبر ۱۶؍۱۲) قوم (آیت ۱۶؍۳۶)ایک ہی نبی یا ایک ہی دین کے پیروکار(آیات ۲؍۲۱۳ اور ۲۱؍۹۲) (دیکھئے غریب القرآن فی لغت القرآن از علامہ شیرازیؒ ص۱۸،۱۹ ،نیز عمدۃ القاری ج۵ص۱۹۸)

امام راغب کہتے ہیں کہ امت ہر ایسی جماعت ہے جو کسی امر میں مشترک ہو(جو نظریے، عقیدے اورسماجی،ثقافتی،معاشی،سیاسی اوردینی خواہشات کے اشتراک کو شامل ہے)

(المفردات فی غرائب القرآن ص۲۳)

اس کی واضح مثال قرآن کریم کی درج ذیل آیت ہے:

’’ومامن دآبۃ فی الارض ولاطائر یطیربجناحیہ الاامم امثالکم، ما فرطنا فی الکتاب من شی ثم الی ربھم یحشرون(الانعام:۳۸)‘‘{اور کوئی جانور نہیں جو زمین پرچلتا ہو اور کوئی پرندہ نہیں جو دونوں بازوؤں سے اڑتاہو مگر یہ سب تمہاری ہی طرح جماعتیں ہیں۔ ہم نے کتاب میں کوئی کسر نہیںچھوڑی۔پھر یہ سب اپنے پروردگار کے حضور اکٹھے کئے جائیںگے۔}

اس آیت میں جانوروں کی ہر اس نوع کو شامل کیا گیا جو ایک طرز پر زندگی بسر کرتے ہیں۔ مثلاً مکڑی اپنا جالا بنتی ہے اورسفید مور اپنا گھونسلا تنکوں سے بناتے ہیں۔

قرآن کریم کی رو سے سب انسان ایک ہی امت تھے۔(آیت ۲؍۲۱۳)پھربعد میں وہ گروہوں میں تقسیم ہوگئے اور امت کے تعین کے لئے جماعتی رشتہ گروہی رشتہ یا دینی رشتہ ہی فیصلہ کن عنصر قرار پائے۔

آیت نمبر ۵؍۴۸ میں ارشاد ہوتاہے::’’ولوشاء اللہ لجعلکم امۃ واحدۃ‘‘{اور اگر اللہ چاہتا تو تمہیں ایک ہی جماعت بنا دیتا۔}

جماعت کی وحدت سے مراد ایمان میں متحد ہونا ہے۔

(المفردات ص۲۳)

88

بعض اوقات لفظ امت سے مراد ایسے لوگ ہوتے ہیں۔ جن کی جانب کسی پیغمبر کی بعثت ہوتی ہے۔(دیکھئے آیات ۱۰؍۴۷، ۲۳؍۴۴، ۳۵؍۲۴ اور۴۰؍۵)اور کبھی اس کا اطلاق ایسے لوگوں پر ہوتاہے۔ جو کسی ایک نبی پر ایمان رکھتے ہوں۔ (آیات ۵؍۴۸، ۱۶؍۹۳، ۲۲؍۶۷ اور ۴۲؍۲) اول الذکر کو ’’امۃ الدعوۃ‘‘اور دوسری کو ’’امۃ الاجابہ‘‘کہا جاتاہے۔

(دیکھئے کشاف اصطلاحات الفنون تھانوی حصہ اول ص۹۱)

قرآن کریم میں حضرت محمد ﷺ کی امت کو بہترین امت قرار دیاگیا ہے۔ آیت ۳؍۱۱۰ میں ارشاد ہوتاہے:’’کنتم خیر امۃ اخرجت للناس‘‘{تم وہ بہترین امت ہو جسے لوگوں کے لئے کھڑاکیاگیاہے۔}

اور پھر اسی امت کی صفات کا بیان ہواہے:’’تامرون بالمعروف وتنھون عن المنکر وتؤمنون باللہ ‘‘{تم بھلائی کا حکم دیتے اور برائی سے روکتے ہو اوراللہ پر ایمان رکھتے ہو۔}

اور پھر یہی آیت بہترین امت اوراہل کتاب کے مابین فرق کو واضح کرتی ہے: ’’ولو امن اھل الکتاب لکان خیرا لھم، منھم المومنؤن واکثرھم الفاسقونآل عمران آیت:۱۱۰‘‘{اور اگر اہل کتاب ایمان لاتے تو ان کے لئے یہ بہترہوتا۔ ان میں سے کچھ تومومن ہیں اوراکثرنافرمان ہیں۔}

آنحضرت ﷺ نے فنی طورپر امت کے لفظ کو دونوں معنی یعنی آپ ﷺ پر ایمان رکھنے والوں اوردیگر مذاہب کے پیروکاروں کی جماعت اورصرف آپ ﷺ پر ایمان رکھنے والوں کی جماعت کے لئے استعمال فرمایا ہے۔ آپﷺ نے یہ لفظ ان دونوں معانی کے لئے میثاق مدینہ میں استعمال فرمایاہے۔ میثاق کادیباچہ یوں ہے:

’’ہذا کتاب من محمد النبی بین المؤمنین والمسلمین من قریش یثرب ومن تبعھم فلحق بھم و جاہد معھم فانھم امۃ من دون الناس‘‘{یہ نوشتہ ہے محمد نبی کی طرف سے قریش یژب کے مومنوں اورمسلمانوں کے درمیان اور ان لوگوں کے درمیان جو ان کے تابع ہوں اوران میں شامل ہوجائیں اور ان کے ہمراہ جہاد میں شامل ہوں۔ پس وہ دوسرے لوگوں کے مقابل میں ایک امت ہیں۔}

اسی میثاق کی دفعہ ۲۶ میں یہ الفاظ ہیں:’’ان یہود بنی عوف امۃ مع المسلمین‘‘{بنی عوف کے یہودی مسلمانوں کے ساتھ ایک امت ہیں۔}

89

(سیرت ابن ہشام ج اول ص۵۵۴ اردو ترجمہ)’’جولوگ معاہدے میں فریق ہیں وہ گروہ ہیں یعنی ان میں سے ہر ایک، ایک امت ہیں۔‘‘

اور وہ یہودی جو بعد میں اس میثاق کے فریق بن گئے۔ انہیں مسلمانوں کے ساتھ شامل کر کے ایک ہی امت قرار دیاگیا۔کیونکہ میثاق میں مذکورہ مقاصد اور خواہشات، تمام معاہدین کے لئے یکساں ہیں اور ایک ہی دین کی اتباع کی بناء پر مسلمان ایک ہی امت ہیں۔ یوں یہ میثاق، سیاسی معنوں میں، ایک ایس قوم کی بنیاد رکھتاہے۔ جو مسلم اکثریت اورغیر مسلم اقلیتوں پر مشتمل ہے۔ بایں ہمہ یہ مسلمانوں کے الگ امت ہونے کی منفرد خصوصیت پربھی اصرار کرتاہے۔

حضرت ابراہیم علیہ السلام اور حضرت اسماعیل علیہ السلام نے مکہ میں کعبہ کی بنیادیں اٹھاتے ہوئے دعا کی تھی:’’ربنا واجعلنا مسلمین لک ومن ذریتنا امۃ مسلمۃ لک (بقرہ:۱۲۸)‘‘{اے ہمارے رب!ہم دونوں کو تواپنا فرمانبردار بنا اور ہماری ذریت سے بھی تو اپنی ایک فرمانبردار امت بنا۔}

اسلام کا ایک معنی فرمانبرداری اور اطاعت ہے۔ ’’مسلم‘‘ کا معنی ’’فرمانبردار‘‘ ہے۔ یہ آیت واضح کرتی ہے کہ جو لوگ فرمانبرداری کرتے ہیں۔ وہ ایک امت شمار ہوتے ہیں یا مسلمان اپنے اسلام(فرمانبرداری) کی بدولت ایک ہی قوم ہوں گے۔ یوں اسلام کا مشترک رشتہ انہیں ایک امت میں پرودے گا۔ کیونکہ اصول یہ ہے کہ مشترکہ خواہشات اورنظریات کے حامل اشخاص ایک قوم ہوتے ہیں۔ یہ حقیقت آیات نمبر ۳؍۱۰۴ اور۷؍۱۸۱ سے، جو درج ذیل ہیں، واضح ہوتی ہے:

’’ولتکن منکم امۃ یدعون الی الخیر ویأمرون بالمعروف و ینھون عن المنکرو اولئک ھم المفلحون (آل عمران:۱۰۴)‘‘{اور چاہئے کہ تم میں سے ایک ایسا گروہ ہو جو نیکی کی دعوت دے اور معروف کا حکم دے اور برائی سے روکے اور یہی لوگ فلاح پانے والے ہیں۔}

’’وممن خلقنا امۃ یھدون بالحق وبہ یعدلون (الاعراف:۱۸۱)‘‘{اور جن کو ہم نے پیداکیاہے۔ ان میں ایک گروہ ایسے لوگوں کا بھی رہا ہے جو حق کے مطابق رہنمائی کرتے اوراسی کے مطابق فیصلے کرتے ہیں۔}

اسلام(فرمانبرداری) صرف آنحضرت ﷺ کی امت کا دین یا نظام حیات نہیں ہے۔ تمام انبیاء، اسلام کی تبلیغ کرتے رہے۔ کیونکہ ان پربھی یہی وحی اورنبوت نازل ہوتی تھی۔

90

(آیت نمبر۴؍۱۶۳)ابراہیم علیہ السلام نہ یہودی تھا اورنہ عیسائی بلکہ وہ مسلم تھا۔(آیت ۳؍۶۶)وہ اسلام جو آنحضرت ﷺ کو عطا ہوا وہ وہی دین قیم ہے جو ابراہیم علیہ السلام کا دین ہے۔(آیت ۶؍۱۶۲)

تمام انبیاء نے لوگوں کو یہی دعوت دی کہ وہ اللہ تعالیٰ کی عبادت کریں اور اللہتعالیٰ کے احکام کی اطاعت کریں۔ (آیات ۷؍۵۹،۷؍۷۳،۲۱؍۴۲ ،۲۳؍۵۲) میں انبیاء سابقین کا تذکرہ کرنے کے بعد خصوصیت سے ارشاد ہوا:’’ان ہذہ امتکم امۃ واحدۃ‘‘{یہ ہے تم سب کا دین، ایک ہی دین۔}واضح رہے کہ قرطبی نے کہا ہے ’’الامۃ ھنا الدین‘‘(یہاں لفظ امت سے مراد دین ہے) تاہم اس کا معنی جماعت بھی ہوسکتاہے۔

اسلام میں ایمان کی بنیادی شرائط میں سے ایک شرط یہ ہے کہ مومن لازماً اللہ تعالیٰ پر اور حضرت محمد ﷺ سمیت تمام انبیاء پر ایمان رکھے اورآپ ﷺ کو آخری نبی اور رسول تسلیم کرے اور یہ کہ ان کے بعد روز قیامت تک کوئی نبی یا رسول نہ آئے گا اور اللہ کی طرف سے نازل کردہ تمام کتابوں، فرشتوں اور آخرت پرایمان رکھے۔

اگلی شرط اقامت الصلوٰۃ ہے۔ پھر روزے رکھنا، حج کرنا اورزکوٰۃ اداکرنا ضروری ہے۔ ایمان کے اجزاء ہر دین میں یکساں رہے ہیں۔ لیکن نماز اورروزے کا طریقہ، زکوٰۃ کی جزئیات اورحج کے احکام مسلمانوں کو دوسروں سے ممتاز کرتے ہیں۔ اسی طرح عبادت گاہ (مسجد) اورمومنین کو نمازوں کے لئے بلانے کا طریقہ بھی دوسرے ادیان سے الگ ہیں۔ مسلمانوں کو ایسی بہترین جماعت کہاگیا ہے جسے انسانیت کی خاطر کھڑاکیاگیا ہے۔ (آیت ۳؍۱۱۰)وہ معروف کا حکم کرتے اور منکر سے روکتے ہیں۔’’تأمرون بالمعروف وتنھون عن المنکر‘‘ (آیات ۱۰۴؍۳،۳؍۱۱۰)

رسول اللہ ﷺ کی وفات کے بعد پوری امت پر فرض ہے کہ وہ دین کے مقاصد کو آگے بڑھائیں(آیت ۳؍۱۴۴)اورانہیں حکم دیاگیا ہے کہ وہ ثابت قدم رہیں اور متحد رہیں کیونکہ استقلال اورثابت قدمی میں انہیں دوسروں پربازی لے جانا ہے(آیت نمبر۳؍۲۰۰) اور یہ مسلمانوں کاطریقہ یاشیوہ نہیں کہ وہ ہدایت الٰہی واضح ہو چکنے کے بعد اللہ کے رسول ﷺ کی مخالفت کریں(آیت۴؍۱۱۵) اس کا معنی یہ ہواکہ انہیں لازماً آنحضرت ﷺ کی اطاعت کرنی چاہئے۔ آیت نمبر ۴؍۵۹ میں امت مسلمہ کو حکم دیا گیا ہے کہ وہ برسر اقتداراشخاص(جن سے مراد مرکزی ہیئت حاکمہ اور اس کے ماتحت عمال ہیں)کی اطاعت کریں۔ ان فرامین سے یہ سمجھنا

91

مشکل نہیں کہ یہ امت مسلمہ کا فریضہ ہے کہ وہ اسلام کاپرچم بلند رکھیں اور اس مقصد کے حصول کے لئے بالکل متحد رہیں۔

نسل، رنگ اوروطن سے قطع نظر تمام مسلمان آپس میںبھائی بھائی ہیں۔’’انما المؤمنون اخوۃ (آیت۴۹؍۱۰)‘‘ایک کا قتل سب کا قتل ہے اور ایک کا موت سے بچانا سب کا بچاناہے۔ امت مسلمہ کو حق وعدل پر قائم رہنے اوراس پر جمے رہنے اوراسے دنیا میںقائم کرنے کاحکم دیاگیاہے۔(آیت ۴؍۱۳۵) انسانیت کی فلاح اوربہتری کی خاطر انہیں معتدل اور امت وسط بنایاگیاہے۔(آیت۳؍۱۴۳)

اس طرح پوری امت مسلمہ خدائے واحد کی پرستش کرتی ہے اور یہ ایک ہی آخری نبی اور رسول کی امت ہے اور دنیا کے ہر ہر گوشے سے ایک ہی مشترکہ مرکز کعبہ کی جانب رخ کرکے نماز ادا کرتی ہے۔ مسلمان امت کے تمام افراد کو ایک دوسرے کا بھائی گردانتے ہیں اور دوسرے مسلمانوں پر کسی مصیبت یاپریشانی کے آنے سے دکھ محسوس کرتے ہیں۔ ان کا نظریہ اور خواہشات یکساں ہیں۔ یہ ہے ایک امت کا حقیقی معیار!

مسلمان دیگر مذاہب کے لئے بہت زیادہ روادار ہوتے ہیں۔ لیکن وہ اپنے ایمان پر کسی حملے اورامت کی بیخ کنی اورتباہی کو ہرگز برداشت نہیں کرتے۔ انہیں یہ دونوں نہایت عزیز ہیں۔

مسٹر ریاض الحسن گیلانی نے اجتماعی سالمیت اوریکجہتی کی اساس، عوامل اورساخت پر بحث کی ہے اور کہا ہے کہ یکجہتی نامیاتی اورمیکانی ہوتی ہے۔نامیاتی یکجہتی سے مراد ایسی سالمیت ہو گی جس کے نتیجے میں عمل کی تقسیم ہوتی ہے۔ جبکہ میکانی یکجہتی سوسائٹی یا جماعت کی ایسی کیفیت کو ظاہر کرتی ہے۔ جس میں تمام افراد میں بنیادی خواص مشترک ہوتے ہیں اور اسی اشتراک کے نتیجے میں وہ ایک دوسرے سے ہمدردی اوریکجہتی کااظہار کرتے ہیں۔

انہوں نے استدلال کیا کہ امت مسلمہ کے لئے میکانی یکجہتی کا وصف موزوں ہے اور O.G.Burnاور NIMKOOf کی سوشیالوجی کی ایک درسی کتاب سے یہ اقتباس پیش کیا:

’’میکانی سا لمیت سے عوامی معاشرے کی بنیادی خصوصیت کااظہار ہوتاہے۔ تنہائی، ثقافتی یگانگت، باہم مربوط مفاہمتوں کے ایک ہی جال کاروایتی نظام اور سب سے غالب سماجی تعلقات میں ذاتی انسانی کردار اور دوسرے درجے پر موروثی اداروں کی اہمیت اور لادینی طبقات کے بالمقابل مقدس امور کی اضافی اہمیت( ٹیوسک) نامیاتی تنظیم یا تشکیل سے مخالف خصوصیات

92

کے اظہار کامیلان ہوتاہے(مریڈا)یہ اقتباس سماجی ڈھانچے اوراس کی تہذیبی طرز تشکیل پر روشنی ڈالتاہے۔‘‘

ابن خلدون نے بڑی تفصیل کے ساتھ ایک ہی نسل کے قبائل اورخونی رشتوں میں مربوط حلیفوں اوراتحادیوں میں گروہی عصبیت پر بحث کی ہے۔ یہ شدید عصبیت اس بدوی زندگی کا نتیجہ ہے۔ جو انتہائی جرأت، دلیری اورشجاعت کو جنم دیتی ہے۔

(مقدمہ انگریزی ترجمہ ج اول ص۲۶۴)

اس نے اس عصبیت کے بل بوتے پر ملکی اقتدار کی اہمیت پر روشنی ڈالتے ہوئے بتایا ہے کہ اس بارے میں دینی وحدت اور یگانگت اہم ترین نقطہ اورمؤثر عنصرشمار ہوتی ہے۔ اس نے لکھاہے:

’’اس کا راز یہ ہے کہ عرب چونکہ وحشی الخلق ہیں اوردرشتی اور خودداری، بلند ہمتی اور حکمرانی کا چسکا بڑے پیمانہ پر اپنے اندر رکھتے ہیں۔ اس لئے یہ ایک دوسرے کا محکوم بننا بڑی مشکل سے گوارہ کرتے ہیں۔ یہ اپنی خواہشات میں کسی خاص نقطہ پر بڑی مشکل سے جمع ہوتے ہیں۔ اب جب نبوت یا ولایت کی دعوت ان میں پھیلتی ہے تو داعی چونکہ انہیں میں سے ہوتا ہے۔ تو ان کی نخوت اوراکڑ کافور ہوجاتی ہے اور یہ بہت آسانی سے رام ہو کر اکٹھے ہو جاتے ہیں۔ دین خود ان کی مزاجی درشتی اوراکڑ حسد و خود پسندی کے مادہ کی بیخ کنی کرتاہے۔ ان میں نبی یا ولی ان کو احکام خداوندی پرقائم رکھنے اورناپسندیدہ اخلاق وعادات کو مٹاکر پسندیدہ صفات وخصائل ان کی جگہ پیداکرنے کی انتھک کوشش کرتے ہیںاور اظہارحق کے لئے ان سب کو ایک جی اور ایک دل کردیتے ہیں۔ جب یہ اتحادو اتفاق کی ایک لڑی میں پروئے جاتے ہیں تو ملکوں پر چھا جاتے ہیںاور ملکوں کی زمام حکومت اپنے ہاتھ میں سنبھال لیتے ہیں۔ عرب گو درشت خو اوردرشت مزاج ہوتے ہیں۔ مگر تمام قوموں سے جلد تر حق وہدایت قبول کر لیتے ہیں۔ یہ اس لئے کہ ان کی طبیعتیں کج ملکات اور مذموم عادات سے پاک ہوتی ہیں۔ وحشی الطبع ہونے کے باوجود فطرت سلیمہ پرقائم او ربھلائی کو تسلیم کر لینے کی بڑی صلاحیت رکھتے ہیں اورقبیح ونازیبا عادات اور ناشائستہ جذبات قبول کرنے سے بہت دور اوربہت حد تک محفوظ ہوتے ہیں اورمذکورہ بالا حدیث’’ہر بچہ فطرت پر پیداہوتاہے‘‘ کامصداق ہوتے ہیں۔‘‘

اس امر کا انکار ناممکن ہے کہ رنگ، علاقے،نسل،زبان اورتہذیب کے امتیازات سے قطع نظر جماعت میں تعاون،رفاقت اور اخوت اورنظریاتی وابستگی اورگہرا ارتباط ہی ان برادرانہ

93

جذبات کی آبیاری کرتے ہیں۔ جن کی مثالیں تاریخ اسلام سے پیش کرنا مشکل نہیں۔ سندھ کے راجہ داہر پر حملہ چند مسلمانوں کی امداد کی فریاد پر ہواتھا۔ چند مسلمان بھائیوں کی فریاد پر لبیک کہتے ہوئے مسلم افواج نے سخت مشکلات کے باوجود اتنا طویل فاصلہ طے کرلیا۔

تاہم جدید دور کی قوم اور ایک دینی امت کے مابین بہت بڑافرق ہے۔ قوم اشخاص کے ایک مجموعے کانام ہے۔ لیکن اس مجموعے کا اساسی عامل اورقوت محرکہ ذاتی مفاد ہوتاہے۔ ایسے مجموعے کے عوامی اوراوصاف کئی ہوتے ہیں۔ لیکن افراد اور گروہوں کا ذاتی مفاد ان میں سے ایک بلکہ بڑامعیار ہوتاہے۔ لیکن ایک دینی امت کی تشکیل میں ایسا کوئی عامل موجود نہیں ہوتا۔ امت مسلمہ کی تشکیل وتقویت میں معاون عوامل میں اسلام کی انسانیت نواز خصوصیات، وطن، رنگ، نسل، زبان یا تہذیب کے فرق سے صرف نظر کرتے ہوئے ہر امیر وغریب، آقا وغلام، مرد وعورت کی مساوات کی تاکید، اخوت اور انفرادی آزادیوں کی ضمانت شامل ہیں۔

افواج اسلام انہی اوصاف کی علمبردار تھیں اورانہوں نے بردباری، رواداری کی سپرٹ اورعلم وتحقیق کی محبت کو پھیلایا۔ اگرچہ اپنے سیاسی ضعف کے ادوار میں وہ خود ظلم اور مذہبی تشدد کا شکار ہوئے۔

ایک امت کے افراد میں انجذاب کے دیگر عوامل میں اپنے ورثے سے محبت اور اپنی تاریخ پر افتخار بھی شامل ہیں۔

یہ تمام عوامل دین کی تعلیمات اوراسلام کے قوت محرکہ ہونے کے امتیازی وصف کا نتیجہ ہیں۔ لیکن سب سے بڑاعنصر مسلمانوں کے دلوں میں آنحضرت ﷺ کا اکرام اورمحبت ہے۔ کیونکہ امت انہی کی بدولت ان تمام نعمتوں سے بہرہ یاب ہوئی۔ اس اکرام و محبت کی گہرائی کا اظہار اس حقیقت سے ہوتا ہے کہ مسلمانوں نے آنحضرت ﷺ کی حیات کی تمام تفصیلات و جزئیات محفوظ کرتے ہوئے ان کی سیرت پر ہزاروں کتابیں لکھ ڈالیں۔ مسلمانوں پر قرآن کریم اور آنحضرت ﷺ کی سنت کی اطاعت فرض ہے۔

اسی لئے انہوں نے آپ ﷺ کی حیات مبارکہ کے تمام واقعات،خواہ وہ کتنے ہی معمولی کیوں نہ ہوں، کو محفوظ اورمدون کردیاہے۔ آپ ﷺ کی اطاعت کرنا آپؐ سے محبت کے ہم معنی ہے۔ لیکن آنحضرت ﷺ کی اطاعت سے برتر ان کی ذات سے جذباتی وابستگی اور والہانہ محبت ہے۔ رسول اللہ ﷺ سے گہری محبت جیسا کہ علامہ اقبال نے واضح کردیا ہے ،کی بدولت ختم نبوت کا عقیدہ ہر مسلمان کے ایمان کاجزو ہے اورختم نبوت کا یہی عقیدہ امت کی سالمیت کا اہم

94

ترین عنصرہے۔

امت میں اخوت اورسالمیت کے شعور سے ہی اس کے استحکام کو فروغ ملتاہے اور یہ استحکام جذباتی جوش وولولے کے ساتھ شامل ہوکر، انتشار کے تمام محرکات کے خلاف مزاحمت منظم کرتاہے۔اسی لئے امت نے نبوت کے تمام دعوؤں کی سختی سے مزاحمت کی ہے تاکہ چشمہ ایمان صافی رہے، اور اسی طرح اسلام اور ختم نبوت کے باہمی تعلق میں کسی بھی مداخلت کو ناگوار قراردیاہے۔

قادیانی امت مسلمہ کا حصہ نہیں ہیں۔ اس بات کو خود ان کا اپنا طرز عمل خوب واضح کرتا ہے۔ ان کے نزدیک تمام مسلمان کافر ہیں۔ وہ ایک الگ امت ہیں۔ یہ متناقض ہے کہ انہوں نے امت مسلمہ کی جگہ لے لی ہے اور مسلمانوں کو اس امت سے خارج قرار دیا ہے۔ مسلمان انہیں امت مسلمہ سے خارج قرار دیتے ہیں اور عجیب بات یہ ہے کہ وہ مسلمانوں کو اس امت سے خارج سمجھتے ہیں۔ ظاہر ہے دونوں ایک ہی امت میں سے نہیں ہوسکتے۔ یہ سوال کہ امت مسلمہ کے افراد کون ہیں؟ برطانوی ہندوستان میں کسی ادارے کے موجود نہ ہونے کی بناء پر حل نہ ہوسکا۔ لیکن اسلامی ریاست میں اس موضوع کو طے کرنے کے لئے ادارے موجود ہیںاور اس لئے اب کوئی مشکل درپیش نہیں ہے۔ مقننہ اوروفاقی شرعی عدالت اسے طے کرنے کے لئے بااختیار ہیں۔

قادیانیوں اورمسلمانوں کے مابین یہ کشمکش اورقطعی علیحدگی خود مرزاصاحب اورا ن کے جانشینوں کی تحریروں کا نتیجہ ہے۔ مرزا بشیرالدین محمود نے اپنی کتاب انوار خلافت میں اس نکتے پرمفصل گفتگو کی ہے اور استدلال واضح کیا ہے کہ کیوں قادیانی غیراحمدی امام کے پیچھے نماز نہیں پڑھ سکتے اورغیر احمدیوں کا جنازہ نہیں پڑھ سکتے اوراپنی لڑکیوں کا نکاح غیر احمدیوں سے نہیں کر سکتے۔ بنیادی وجہ یہ ہے کہ قادیانیوں کے نزدیک غیر احمدی کافر ہیں۔

مرزا بشیر الدین محمود نے ایک واقعہ لکھا ہے کہ:’’لکھنؤ میں ہم ایک آدمی سے ملے جو بڑا عالم ہے۔ اس نے شیخ یعقوب علی، جو ہمارے ہمراہ تھے سے کہاکہ آپ کے دشمن یہ مشہو ر کرتے پھرتے ہیں کہ آپ غیراحمدی لوگوں کو کافر سمجھتے ہیں۔ میں نہیں مان سکتا کہ آپ ایسا وسیع حوصلہ رکھنے والے ایسا کہتے ہوں۔ میں نے ان کو کہا آپ کہہ دیں کہ واقع میں ہم آپ لوگوں کو کافر کہتے ہیں۔ یہ سن کر وہ حیران سارہ گیا۔‘‘

(انوار خلافت ص۹۲)

پھر اس نے دین اوردنیا کا فرق کرتے ہوئے قادیانیوں کو ہدایت کی ہے کہ وہ دینی امور میں الگ ہو جایا کریں۔

(انوار خلافت ص۹۲)

95

کلمۃ الفصل میں کہاگیاہے:

’’حضرت مسیح موعود نے غیر احمدیوں کے ساتھ صرف وہی سلوک جائز رکھا ہے جو نبی کریم نے عیسائیوں کے ساتھ کیا۔غیر احمدیوں سے ہماری نمازیں الگ کی گئیں۔ ان کو لڑکیاں دینا حرام قرار دیاگیا۔ ان کے جنازے پڑھنے سے روکاگیا۔ اب باقی کیارہ گیا ہے جو ہم ان کے ساتھ مل کر کر سکتے ہیں۔ دو قسم کے تعلقات ہوتے ہیں۔ ایک دینی، دوسری دنیوی۔ دینی تعلق کا سب سے بڑاذریعہ عبارت کااکٹھا ہوناہے اوردنیوی تعلقات کا سب سے بڑا ذریعہ رشتہ و ناطہ ہے۔ سو یہ دونوں ہمارے لئے حرام قرار دیئے گئے۔‘‘

(ص۱۶۹)

آئینہ صداقت میں مرزا بشیرالدین محمود،مرزاصاحب کی ایک مزعومہ وحی کا ذکر کرتاہے کہ :’’جو شخص مسیح موعود کے ایک لفظ کو بھی جھوٹاخیال کرے، وہ خدا کے دربار میں مردود ٹھہرے گا۔‘‘ پھر وہ احمدیوں پر زوردیتاہے کہ ’’وہ اپنے امتیازی نشانات کو نہ چھوڑیں کہ وہ ایک سچے نبی کو مانتے ہیں اوران کے مخالف اسے نہیں مانتے۔‘‘

(آئینہ صداقت ص۵۳)

مرزاصاحب کے زمانے میں ایک تجویز پیش کی گئی کہ احمدی اورغیر احمدی دونوں مل کر (اسلام کی ) تبلیغ کریں۔ لیکن مرزاصاحب نے پوچھا’’تم کس اسلام کی تبلیغ کروگے؟ کیا تم خدا کی نشانیوں اورنعمتوں کو چھپاؤ گے؟ جو اس نے تمہیں عطاء کی ہیں؟‘‘

(آئینہ صداقت ص۵۳)

قادیانیوں کے اس طرز عمل میں تعجب کی کوئی بات نہیں ہے۔ کیونکہ یہ عالمی مظہر ہے کہ ایک دین کے ماننے والے کسی بھی دوسر ے دین کے پیروؤں کو کافر، منکر یا اپنے دین کے دائرے سے خارج قرار دیتے ہیں۔ یہی بات یہودیوں، عیسائیوں، مجوسیوں اور ہندوؤں اوردوسرے لوگوں کے ہاں بھی ہے۔ یہ امر نہ صرف مذہبی گروہوں کے ہاں درست ہے۔ بلکہ لادینی نظریاتی گروہوں مثلاً کمیونسٹوں اور سوشلسٹوں کے ہاں بھی موجود ہے۔

مختلف انبیاء کی امم (امت کی جمع) کے افراد میں عموماً مسلمہ اصول یہ ہے کہ جو شخص بھی ایک امت کے نبی کو نہیں مانتا، وہ اس امت سے خارج یا اس جماعت سے باہرہے۔ اس کا لازمی نتیجہ یہ ہے کہ مرزاصاحب کے دعویٰ نبوت کی بناء پر جو ان پر ایمان نہیں لاتا یا انہیں جھوٹا نبی یا کذاب سمجھتا ہے،وہ مرزاصاحب کی امت یاجماعت جو احمدیوں کے نام سے معروف ہے،میں سے ہرگز نہیں ہوسکتا۔

نمازوں اورنکاح کے بارے میں ہدایات خود مرزاصاحب کی ہیں نہ کہ کسی جانشین کی۔ انہوں نے خاص دعویٰ نبوت سے پہلے لکھا تھا’’جو شخص میری پیروی نہیں کرتا اور ہماری بیعت نہیں

96

یا ہمارامخالف ہے وہ خداکانافرمان اورجہنمی ہے۔‘‘

(تذکرہ ص۳۳۶،اقتباس از خط مرزاصاحب مورخہ ۱۶؍جون ۱۸۹۹ء بنام بابو الٰہی بخش)

اس حقیقت کے باوجود کہ مرزاصاحب اس سے قبل بیان کر چکے ہیںکہ مسیح موعود پر اعتقاد کرنا ایمان کا جزو نہیں۔ پھر بھی یہ کہہ رہے ہیں۔(حقیقت الوحی ص۱۷۹،۱۸۰، خزائن ج۲۲ ص۱۸۵، ۱۸۶)پروہ کفر کی دو قسمیں بیان کرتے ہوئے لکھتے ہیں:

’’اوّل ایک یہ کفر کہ ایک شخص اسلام سے ہی انکار کرتاہے اورآنحضرت ﷺ کو خدا کا رسول نہیں مانتا۔ دوم یہ کفرکہ مثلاً مسیح موعود کو نہیں مانتا اوراس کے باوجود اتمام حجت کے جھوٹا جانتا ہے جس کے ماننے اورسچا جاننے کے بارے میں خدا اوررسول نے تاکید کی ہے اور پہلے نبیوں کی کتابوں میں بھی تاکید پائی جاتی ہے۔ پس اس لئے کہ وہ خدا اوررسول کے فرمان کا منکر ہے کافر ہے،(مرزاصاحب کو نہ ماننے کی وجہ سے کافر ہے) اوراگرغور سے دیکھاجائے تویہ دونوں قسم کے کفر ایک ہی قسم میں داخل ہیں۔ کیونکہ جو شخص باوجود شناخت کرلینے کے خدا اوررسول کے حکم کو نہیں مانتا وہ بموجب نصوص صریحہ قرآن اورحدیث کے خدااوررسول کو بھی نہیں مانتا اور اس میں شک نہیں کہ جس پر خداتعالیٰ کے نزدیک اوّل قسم کفر یا دوسری قسم کفر کی نسبت اتمام حجت ہوچکا ہے۔ وہ قیامت کے دن مواخذہ کے لائق ہوگا اورجس پر خدا کے نزدیک اتمام حجت نہیں ہوا اور وہ مکذب اورمنکر ہے تو گوشریعت نے اس کا نام بھی کافر ہی رکھا ہے اور ہم بھی اس کو باتباع شریعت کافر کے نام سے ہی پکارتے ہیں۔‘‘

ایک سوال کے جواب میں مرزاصاحب نے (حقیقت الوحی ص۱۶۳، خزائن ج۲۲ ص۱۶۷) پر لکھا:

’’جب کہ میں نے ایک مکذب کے نزدیک خدا پر افتراء کیا۔ اس صورت میں نہ میں صرف کافر بلکہ بڑا کافر ہوااوراگر میں مفتری نہیں توبلاشبہ وہ کفر اس پر(یعنی مرزاصاحب کو جھٹلانے والے پر)ہوگا۔ علاوہ اس کے جو مجھے نہیں مانتا وہ خدا اور رسول کو بھی نہیں مانتا۔‘‘

مسٹر مجیب الرحمن نے مسٹر ریاض الحسن گیلانی کے ان دلائل پر یہ اعتراض کیا اور کہا کہ غیر احمدیوں کے کفر کا مذکورہ بالا نظریہ صرف ۱۹۲۳ء تک رہا تھا اوراس کے بارے کے تمام حوالوں کا تعلق اسی مدت سے ہے۔ انہوں نے گزارش کی کہ مرزا بشیر احمد نہ احمدیوں کا امام تھا اور نہ خلیفہ۔ وہ صرف ان کا ترجمان تھا۔ لیکن مرزا بشیر الدین محمود نے منیر انکوائری رپورٹ کے سامنے واضح کیاتھا کہ اس نے غیراحمدیوں کو ان معنوں میں کافر قرار نہیں دیاتھا کہ وہ امت مسلمہ سے خارج ہیں۔

97

مفہوم یہ تھا کہ ان کا کفر کفر کبیر نہ تھا۔ سخت خطرے کے ایسے اوقات میں جب کہ پاکستان کی امت مسلمہ کا اشتعال اپنے عروج پر تھا۔ مرزا بشیرالدین محمود کی اس وضاحت کی حیثیت کچھ پیچھے ہٹنے کی اس پالیسی سے زیادہ نہ تھی جسے جیسا کہ پہلے واضح ہوچکاہے، خود مرزاصاحب کئی بار اختیار کر چکے تھے۔ مرز اقادیانی نے خود کہا کہ ایسا شخص کافر ہے۔ کیونکہ وہ خدا اوراس کے رسول کا منکر گردانا جائے گا۔ تو ایسے شخص کے امت مسلمہ سے خارج ہونے کا اس سے بہتر ثبوت اورکیا ہوگا۔

مرزاصاحب نے اپنے مسلمان مخالفین کو کفر کے قائدین قرار دیا۔

(تذکرہ ص۱۰۷)

مرزاصاحب نے اپنے مکتوب مارچ ۱۹۰۶ء بنام ڈاکٹر عبدالحکیم، میں لکھا:’’خدا تعالیٰ نے میرے پر ظاہر کیا ہے کہ ہر ایک وہ شخص جس کو میری دعوت پہنچی ہے اور اس نے مجھے قبول نہیں کیا وہ مسلمان نہیںہے۔‘‘

(تذکرہ ص۶۰۷)

مرزا بشیر الدین محمود نے غیر احمدیوں کو عیسائیوں کے برابر قرار دیا۔ شیخ نور محمد نے مرزاصاحب سے درخواست کی کہ وہ جماعت (جماعت احمدیہ) سے اس کا ستعفا قبول کرلیں۔ جس پر انہوں نے جواب دیا’’شیخ نورمحمدکو بتادو کہ وہ صر ف جماعت سے علیحدہ نہیں ہوا بلکہ اسلام سے بھی نکل گیاہے۔‘‘

(سیرۃ المہدی ج سوم ص۲۴۹)

یہ امر بہت معروف ہے کہ پاکستان کے سابق وزیرخارجہ سرظفر اللہ خان نے قائداعظم کا جنازہ نہیں پڑھاتھا۔ اخبار ’’زمیندار‘‘مورخہ ۸؍فروری ۱۹۵۰ء کے مطابق جامع مسجد ایبٹ آباد کے خطیب مولانا محمد اسحاق نے سرظفر اللہ خان سے نمازجنازہ میں شرکت نہ کرنے کی وجہ پوچھی تو انہوں نے جواب دیا کہ وہ قائداعظم کو صرف ایک سیاسی لیڈر سمجھتے ہیں۔ ان سے استفسار کیا گیا کہ کیا وہ بھی مرزاصاحب کو نہ ماننے کی وجہ سے مسلمانوں کو کافر قرار دیتے ہیں؟ حکومت کے وزیر ہوتے ہوئے بھی؟سرظفر اللہ نے جواب دیا کہ آپ مجھے ایک کافر حکومت کا مسلمان ملازم یا مسلمانوں کی حکومت کا کافر ملازم سمجھ لیں۔

مسٹر مجیب الرحمن، سرظفر اللہ کے اس مؤقف کی تردید نہ کرسکے لہٰذا یہ امر کسی قسم کے شک و شبہ کے بغیر ثابت ہوجاتاہے کہ جیسا کہ سرظفر اللہ نے پیش کردیاہے۔ یا تو پاکستان میں رہنے والے لوگوں کی اکثریت کافر ہے یا قادیانی کافر ہیں۔ جس کا بدیہی نتیجہ یہ ہے کہ دونوں ہرگز نہیں مل سکتے اور نہ ہی ایک امت کے افرا د ہوسکتے ہیں۔ دونوں میں وحدت کا کوئی نکتہ موجود نہیں۔ کیونکہ مسلمان ختم نبوت کا عقیدہ رکھتے ہیں اور اس کے برعکس قادیانی مرزاصاحب کو ایک نیا نبی مانتے ہیں۔ مسلمانوں کی ایک عظیم صاحب بصیرت شخصیت نے قادیانیوں کو امت مسلمہ کی

98

سالمیت کے لئے خطرہ اورانتشار کے علمبردار قرار دیاتھا۔ انہوں نے کہاتھا’’اس (امت مسلمہ) کی سالمیت صرف عقیدہ ختم نبوت کی رہین منت ہے۔‘‘ Thought and reflection of iqbal صفحہ ۲۴۹۔علامہ اقبال نے مزیدکہا:

’’آخر کار،اگر جماعت کی وحدت و سالمیت ہی کو خطر ہ لاحق ہو، تو اس کے لئے صرف ایک چارہ کار رہ جاتاہے کہ وہ انتشار انگیز قوتوں کے خلاف اپنا دفاع کرے اوراپنے دفاع کے کیاطریقے ہوں؟ مدلل تحریریں اور ایسے شخص کے دعوؤں کا ابطال جو اپنی اصل جماعت کی نگاہوں میں’’مذہبی مہم جو‘‘ہو۔ توکیا یہ معقولیت ہے کہ جس اصل جماعت کی سالمیت خطرے میں ہو، اسے برداشت کی تلقین کی جائے اورباغی ٹولے کو تحفظ کے ساتھ اپنا پروپیگنڈہ جاری رکھنے کی اجازت دی جائے۔ خواہ یہ پروپیگنڈہ سخت غلیظ بھی ہو۔‘‘

(ایضاً ص۲۵۳)

برطانوی سامراج اور استعمار کی حکومت سے مرزاصاحب کی محبت اوروفاداری ایک بدیہی امر ہے۔ انہوں نے تقریباً اپنی ہر کتاب میں کم از کم کئی صفحات انگریزی سرکار کی تعریف و توصیف کے لئے مخصوص کئے ہیں اور ان کے جانشینوں کا طرز عمل بھی یہی رہا ہے۔ذیل میں ایسی تحریروں کی چندمثالیں ملاحظہ ہوں:

۱… ’’بعض احمق اور نادان سوال کرتے ہیں کہ اس گورنمنٹ سے جہاد کرنا درست ہے یا نہیں۔ سو یاد رہے کہ یہ سوال ان کا نہایت حماقت کا ہے۔ کیونکہ جس کے احسانات کا شکر کرنا عین فرض اورواجب ہے۔ اس سے جہاد کیسا؟ میں سچ سچ کہتاہوں کہ محسن کی بدخواہی کرنا ایک حرامی اوربدکارآدمی کا کام ہے۔ سو میرا مذہب جس کو میں بار بارظاہر کرتا ہوں۔ یہی ہے کہ اسلام کے دو حصے ہیں۔ ایک یہ کہ خدا کی اطاعت کرے۔ دوسری اس سلطنت کی جس نے امن قائم کیا ہو۔ جس نے ظالموں کے ہاتھ سے اپنے سایہ میں ہمیں پناہ دی ہو۔‘‘

(شہادۃ القرآن ص د، مطبوعہ ۱۸۹۳،خزائن ج۶ص۳۸۰)

ب… ’’اور اب اہل عقل جب ایک طرف دینی حمایت کے مضمون میری تحریروں میں پاتے ہیں اور دوسری طرف میری یہ نصیحتیں سنتے ہیں کہ اس گورنمنٹ کی سچی خیر خواہی اور اطاعت کرنی چاہئے۔ تو وہ میرے پر کوئی بدظنی نہیںکر سکتے اورکیونکر کریں؟ یہ ایک واقعی امرہے کہ مسلمانوں کو خدا اور رسول کا حکم ہے کہ جس گورنمنٹ کے ماتحت ہوں وفاداری سے اس کی اطاعت کریں۔ میں نے اپنی کتابوں میں یہ شرعی احکام مفصل بیان کردیئے ہیں۔ اب گورنمنٹ غورفرما سکتی ہے کہ جس حالت میںمیراباپ گورنمنٹ کا ایسا سچا خیر خواہ تھا اور میرابھائی بھی اسی کے قدم پر چلاتھا اور میں

99

بھی انیس برس سے یہی خدمت اپنے قلم کے ذریعے بجالاتاہوں۔‘‘

(کشف الغطاء مطبوعہ ۱۸۹۸ء ص۶، خزائن ج۱۴ص۱۸۶)

ج… ’’اور جیسا کہ میں نے پہلے اس سے شرائط بیعت کی دفعہ چہارم میں سمجھایا ہے۔ سرکار انگریزی کی سچی خیر خواہی اوربنی نوع کی سچی ہمدردی کریں اور اشتعال دینے والے طریقوں سے اجتناب رکھیں اور پرہیز گار اورصالح اوربے شر انسان بن کر پاک زندگی کا نمونہ دکھائیں۔‘‘

(کتاب البریہ مطبوعہ ۱۸۹۸ء ص۱۲، خزائن ج۱۳ص۱۳)

د… ’’ڈپٹی کمشنر نے حکم دیاکہ اب اگر احمدیوں کو کوئی تکلیف ہوئی تو مسلمانوں کے جتنے لیڈر ہیں۔ ان سب کو نئے قانون کے تحت ملک بدر کردیا جائے گا۔ ایسا حکم صرف وہی شخص صادر کر تا ہے جس کی ہمدردیاں پوری جماعت کو شامل ہوں۔ تمہارے مالا باری بھائیوں سے اس حکومت کا یہ تازہ سلوک ہے اور جو کسی کے بھائی سے ہمدردی کرے تو وہ اس سے بھی کرتاہے۔ سو تمہیں اس حکومت کا شکر گزار ہونا چاہئے کیونکہ مالابار احمدی ہمارے بھائی ہیں۔ ہمارا ایک مبلغ ماریشیس گیا تھا۔ غیر احمدیوں نے فیصلہ کیا کہ وہ جہاں جائے اسے تقریر نہ کرنے دی جائے۔ اس نے حکومت سے سرکاری ہال (کے استعمال) کی اجازت مانگی۔ گورنر نے اسے اس ہال میں ہفتے میں تین دن خطاب کرنے کی اجازت دے دی۔یوں اس نے آدھاہفتہ ہمارے مبلغ کو دے دیا اور آدھا ہفتہ اپنے لئے رکھ لیا۔‘‘

(انوارخلافت از مرزابشیر الدین محمود ص۹۶)

ھ… (کتاب البریہ ص۷،۸،خزائن ج۱۳ص۸،۹)پران کتابوں کے نام، تاریخ طباعت اور صفحات کے نمبر درج کئے گئے ہیں۔ جن میں مرزاصاحب نے برطانوی حکومت کی مدح وستائش کی۔ انہوں نے اپنی ۲۴ کتابوں اوررسالوں کا حوالہ دیا ہے۔ جن میں سرکار برطانیہ کی تعریف و توصیف کے پل باندھے ہیں۔ ان کی وفات سے کم از کم گیارہ سال قبل ایسے صفحات کی تعداد کئی درجنوں تک پہنچتی ہے۔

مسٹر ریاض الحسن گیلانی نے ان چند مثالوں کی بنیاد پربحث کرتے ہوئے کہا کہ برطانوی حکومت سے مرزاصاحب کی مستقل وفاداری بلاوجہ اوربے مقصد نہ تھی۔ انہوں نے اسے اپنے پیروکاروں کے ایمان کا جزو اور ان کی بیعت کے حلف کا حصہ بنادیاتھا۔ انہوں نے جہاد کی بھی ممانعت کردی۔ حالانکہ اس کے بارے میں قرآن کریم میں خاص احکام پائے جاتے ہیں۔ مرزاصاحب خود شاہ سے زیادہ وفادار تھے۔ وجہ یہ تھی کہ تحریک احمدیہ کو حکومت کی ہمدردیاں حاصل تھیں اور انہی کی ہدایات پر اور ان کے تحفظ وتائید کے سائے میں شروع ہوئی تھی۔ ۱۸۵۷ء کی

100

جنگ آزادی کے بعد حکومت کا مفاد یہ تھا کہ امت مسلمہ میں انتشار و افتراق پیدا کیاجائے اور اسلام ہی سے ایک نئے مذہب کی اختراع سے یہ مقصد پوراہوسکتاتھا۔

فاضل وکیل نے مرزاصاحب پر تنقید کی کہ انہوں نے قرآ ن کریم کی مخالفت میں جہاد کو منسوخ کیا۔ انہوں نے اپنے نکتے کے ثبوت میں مرزاصاحب کی تحریروں کا حوالہ دیا اور درج ذیل چندمثالیں پیش کیں:

۱…

  1. اب چھوڑدو جہاد کا اے دوستوخیال

    دین کے لئے حرام ہے اب جنگ و قتال

  2. اب آگیا مسیح جو دین کا امام ہے

    دین کی تمام جنگوں کا اختتام ہے

  3. اب آسمان سے نور خدا کانزول ہے

    اب جنگ اورجہاد کا فتویٰ فضول ہے

  4. دشمن ہے وہ خدا کا جوکرتاہے اب جہاد

    منکر نبی کا ہے جو یہ رکھتاہے اعتقاد

(ضمیمہ تحفہ گولڑویہ طبع ۱۹۰۲ء ص۲۷،خزائن ج۱۷ص۷۷،۷۸)

۲… ’’اس (کسر صلیب)کا یہ معنی نہیں ہوسکتا کہ لکڑی کی وجہ صلیب جسے عیسائی لٹکاتے ہیں، اسے مسیح توڑ دے گا… اس سے ایک اورصداقت ظاہر ہوتی ہے۔جووہی صداقت ہے جو ہم لائے ہیں۔ ہم نے صاف صاف کھول کر اعلان کردیاہے کہ اب جہاد منسوخ ہے(امن کا قیام) مسیح موعود کافریضہ ہے کہ جہاد کا خاتمہ کردے۔ سو اس مقصد کی خاطر جہاد کی ممانعت کر دینا ہمارے لئے لازمی تھا۔ سو ہم کہتے ہیں کہ یہ ممنوع ہے اور دین کے نام پر تلوار یا ہتھیار اٹھانا سخت گناہ ہے۔‘‘

(ملفوظات ج۴طبع ۱۹۰۲ء ص۱۸)

۳… ’’اورپھر مسیح موعود کے وقت قطعاً جہاد کا حکم موقوف کردیاگیا۔‘‘

(اربعین نمبر۴،مطبوعہ ۱۹۰۰ء ص۱۳،خزائن ج۱۷ص۴۴۳حاشیہ)

۴… ’’میرے اصولوں اوراعتقادوں اورہدایتوں میں کوئی امر جنگ جوئی اورفساد کا نہیں اورمیں یقین رکھتاہوں کہ جیسے جیسے میرے مرید بڑھیں گے۔ ویسے ویسے مسئلہ جہاد کے معتقد کم

101

ہوتے جائیں گے۔ کیونکہ مجھے مسیح اورمہدی مان لینا ہی مسئلہ جہاد کا انکار کرناہے۔‘‘

(مجموعہ اشتہارات از۱۸۹۸تا۱۹۰۸ء ج۳ ص۱۹)

اسی نوع کے مزید اقتباسات،جو بکثرت موجود ہیں، کا تذکرہ غیرضروری ہے۔

مسٹرمجیب الرحمن نے دلیل دی کہ انیسویں صدی اوربیسویں صدی کے اوائل میں صرف مرزاصاحب ایسے واحد شخص نہ تھے جنہوں نے برطانوی گورنمنٹ سے وفاداری کا اظہار کیا تھا۔ بلکہ ملک کے متعدد علماء اورمفکرین نے اس سامراجی طاقت کی تعریف میں کچھ نہ کچھ لکھا تھا۔

مسٹر مجیب الرحمن کے پیش کردہ اقتباسات سے ظاہر ہوتا ہے کہ ان علماء نے جہاد کی مخالفت کرتے ہوئے کئی عوامل کو مدنظررکھا تھا۔ بڑی وجہ یہ تھی کہ مسلمان مغلوب ہو چکے تھے۔ لیکن انہیں مذہبی آزادی حاصل تھی اوران پر ان کا اپنا پرسنل لاء نافذ تھا۔ ایک دوسری وجہ جو کئی علماء نے ملحوظ رکھی یہ تھی کہ جہاد اس وجہ سے جائز نہ تھا کہ قیادت کے لئے کوئی امام موجود تھا اور نہ قتال کے لئے اسلحہ۔ اس کا مطلب یہ ہواکہ ان فتاویٰ میں سے اکثر کے پس پردہ جہاد میں کامیابی کا عدم امکان کارفرماتھا۔

مسئلہ اتنا سادہ نہیں جیساکہ مسٹر مجیب الرحمن نے پیش کیاہے۔ اس نکتے کی توضیح سے قبل یہ بیان کرنا مناسب ہوگا کہ صرف مسیح موعود کے حوالے سے ’’یضع الحرب‘‘یعنی جنگ کا خاتمہ کرنے، کے اصول کا مطلب یہ ہے کہ قتل دجال، کسر صلیب اورخنازیر کے قتل کے نتیجے میں اسلام کو غلبہ عام نصیب ہونے کی وجہ سے دنیا میں کفار کا وجود نہیں رہے گا۔ اس کایہ مفہوم نہیں کہ کفار کی حکومت کی مزاحمت نہیں کی جائے گی۔

’’یضع الحرب‘‘(جنگ کا خاتمہ کرنے) کا اصول اس دور کے حالات پر جب مرزاصاحب نے قرآن کریم کے حکم جہاد کو منسوخ اورممنوع قرار دیا تھا،قطعاً منطبق نہیں ہوتا۔

یہ بھی درست نہیں کہ انہوںنے صرف ایک مختصر مدت کے لئے جہاد کو معطل کیاتھا۔ مذکورہ بالا اقتباسات اس دعوے کی تردید کرتے ہیں۔ مسیح کی آمد پر(جہاد کے خاتمے کی) حدیث سے مراد جہاد کا قطعی خاتمہ ہے۔ اس کی بنیاد پرجہاد کی منسوخی کسی عبوری نوعیت کے نسخ کے حکم کی نفی کر دیتی ہے۔

اس مسئلے کو صوبہ پنجاب کی سیاسی صورتحال کی روشنی میں دیکھنا چاہئے۔ یہ ایسا وقت تھا کہ جاگیرداروں اورزمینداروں کاسارا طبقہ حکومت وقت کا خوشامدی شمار ہوتاتھا اور وہ اس کی رضا جوئی کی خاطر سب کچھ کرنے کو تیار رہتے تھے اورکسی انگریز سے ملاقات باعث افتخار سمجھتے تھے۔

102

مرزاصاحب کی تحریروں سے یہ امرواضح ہے کہ ان کی ذات اور ان کے بھائی سمیت ان کے خاندان نے برطانویوں سے اپنی دائمی وفاداری جاری رکھی۔ ایسی تحریریں جن میں مرزاصاحب نے برطانویوں کی مدح سرائی کی ہے،بے مقصد نہیں ہیں۔ مذکورہ بالا اقتباس سے ایک مقصد واضح ہے کہ احمدی برطانوی حکومت کی پناہ میں تھے۔ جب کہ موریشس سے متعلق دوسرے اقتباس سے ثابت ہوتاہے کہ وہ حکومت وقت کے اس قدر منظور نظر تھے کہ مسلمانوں کی مخالفت کے باوجود، حکومت موریشس نے قادیانی مبلغ کو احمدیت کے پرچار کے لئے ہفتے میں تین دن کے لئے گورنمنٹ ہال الاٹ کردیا۔ انگریزی سرکار کے لئے مرزاصاحب کی تعریف، چاپلوسی اور تملق کی حد سے بھی متجاوز ہے۔ اس سے عوام کے ذہنوں میں ایسے شکوک کا پیدا ہونا یقینی ہے کہ یا تو وہ امت مسلمہ میں انتشار و افتراق پھیلانے اور انہیں دائمی غلامی میںجکڑنے کی غرض سے، حکومت وقت کی جانب سے سونپا ہوا کردار ادا کررہے تھے یا وہ اس سے مفادات کے حصول کی جستجومیں تھے۔

یہ دلیل کہ دوسرے علماء نے اسی قسم کافتویٰ دیاتھا،میل نہیں کھاتی کیونکہ یہ حکومت کی حمایت میں کوئی اکادکا رائے یافتویٰ نہ تھا۔ بلکہ یہ دانے کو چھڑانے کامسلسل عمل تھا۔

اسے محض اتفاق قرار دینا مشکل ہے کہ مرزاصاحب،جومجدد،مسیح موعود، مہدی اورنبی ہونے کے دعویدار تھے،نے حکومت برطانیہ کی مدح سرائی کی جب کہ تیرھویں صدی کے اختتام کے قریب اوربعد میں ایران میں بابی مذہب کے بانی مرزا علی محمدباب اور(بہائی مذہب کے بانی) حسین علی بہاؤ اللہ نے روسیوں کی مدح سرائی کی۔ علاوہ ازیں بہاؤ اللہ نے برطانوی حکومت کی بھی مدح سرائی کی تھی اور دونوں نے جہاد کو منسوخ قرار دیاتھا۔ درحقیقت بہاء اللہ نے بھی مرزاصاحب کے انداز پر جہاد کی منسوخی کا حکم دیاتھا۔

اس نکتے پر بحث کے اختتام پر مناسب ہوگا کہ علامہ اقبال کی آراء اورخیالات سے اقتباس پیش کیاجائے:

کیا اسلام میں تصورخلافت ایک مذہبی ادارے کی تشکیل کرتاہے؟ ہندوستانی مسلمان اور اسی طرح ترک سلطنت سے باہر کے تمام مسلمان کس طرح ترکی خلافت سے متعلق ہو سکتے ہیں؟ کیا ہندوستان دارالحرب ہے یا دارالسلام؟ اسلام کے نظریہ جہاد کے حقیقی معنی کیاہیں؟ قرآن کریم کی آیت ’’اللہ کی اطاعت کرو اور رسول کی اطاعت کرو اوراپنے میں سے اولی الامر یعنی حاکموں کی‘‘ میں ’’اپنے میں سے‘‘ کاکیا معنی ہے؟ اورامام مہدی کے ظہور کی پیش گوئی کرنے وال

103

احادیث نبویہ کا کیامفہوم ہے؟ یہ اورکچھ اورسوالات جو بعد میں اٹھے، واضح وجوہ کے بناء پر صرف ہندوستانی مسلمانوں کیلئے تھے۔تاہم یورپی سامراج جو اس وقت عالم اسلام میں تیزی سے نفوذ کر رہا تھا،بھی ان میں گہری دلچسپی رکھتاتھا۔ ان سوالات سے اٹھنے والی بحثوں نے ہندوستان میں تاریخ اسلام کا ایک دلچسپ ترین باب رقم کیا۔ داستان بڑی طویل ہے اور تاحال کسی مؤثر قلم کی منتظر ہے۔ مسلمان سیاست دان جن کی نگاہیں بڑی حد تک حالات کے حقائق پر مرکوز تھیں۔علماء کے ایک طبقے کی حمایت کرنے میں کامیاب ہوگئے کہ وہ دینی استدلال کی راہ اپنائیں۔ جو ان کے خیال میں موقع و محل کے لحاظ سے مناسب تھا۔ لیکن یہ آسان نہ تھا کہ محض منطق کے بل بوتے پران اعتقادات پرقابو پالیا جائے جو صدیوں سے ہندوستانی مسلمانوں کے شعور میں پختہ تھے۔ ایسی صورت میں منطق یا تو سیاسی مصلحت اختیارکرلیتی ہے یا رسوم ورواج کا دھارا بدل دیتی ہے۔ دونوں صورتوں میں استدلال عوام کو متاثر کرنے میں ناکام رہ جاتاہے۔ اسلام کے راسخ مذہبی عوام کو صرف ایک چیز قطعی متأثر کر سکتی ہے اور وہ ہے وحی کی سند۔ قدیم راسخ اعتقادات کے مؤثر استیصال کے لئے یہ ضروری سمجھا گیا کہ مندرجہ بالا سوالات میں مضمر دینی نظریات کی مناسب سیاسی تعبیر کے لئے الہامی بنیاد تلاش کی جائے۔ یہ الہامی بنیاد احمدیت نے فراہم کی اور احمدی خود یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ انہوں نے برطانوی سامراج کی یہ بہت بڑی خدمت کی۔‘‘

اور ص۳۱پر بحث سمیٹتے ہوئے لکھتے ہیں:

’’جیسا کہ میں نے اوپر واضح کیاہے، مسلمانوں کے مذہبی افکار کی تاریخ میں احمدیت کا کردار یہ ہے کہ وہ ہندوستان کی موجودہ سیاسی غلامی کے لئے الہامی اساس فراہم کرنا چاہتی ہے۔‘‘

ایک درخواست دہندہ مسٹر مجیب الرحمن،جنہوں نے بحث میں حصہ لیا،نے اپنے دلائل کے یہ نکات پیش کئے:

۱… دفعہ ۲۰۳۔ڈی کی گنجائش اورحد

۲… فہم قرآن کے اصول

۳… قرآن کریم کی روح

۴… مذہب کو ماننے اوراس پر عمل کرنے کی گنجائش

۵… اپنے مذہب کی تبلیغ کرنے کاحق

۶… قیام پاکستان سے پہلے اورقیام کے وقت قادیانیوں اور مسلمانوں کے درمیان مختلف

104

معاہدوں کا اثر جوانہیں مذہب کی مکمل آزادی، جس میں ان کے پرچار کا حق شامل ہے، کی ضمانت دیتاہے۔

مسٹر مجیب الرحمن نے ریاست کے اقتدار اور وفاقی شرعی عدالت کو تفویض کردہ اختیارات کی حدود کے حوالے سے دفعہ ۲۰۳۔ڈی کی گنجائش پربحث کی اوردلیل دی کہ قرآن و سنت کی رو سے ایسے حکم کی کوئی اطاعت نہیں ہوتی۔ جس سے گناہ کا ارتکاب یا اللہ اور اس کے رسول کی معصیت لازم آتی ہو۔ اس کی اساس معروف حدیث’’لاطاعۃ فی معصیۃ اللہ ‘‘ (اللہ کی نافرمانی میں کوئی اطاعت نہیں)ہے۔(بخاری کتاب الاحکام ج۲صفحات ۱۰۵۷، ۱۰۵۸، ۱۰۷۸)اوراسی طرح کی دیگر احادیث۔

قرآن کریم کی آیت:’’یاایھاالذین اٰمنواطیعو اللہ واطیعو الرسول و اولی الامر منکم، فان تنازعتم فی شی فردوہ الی اللہ والرسول ان کنتم تؤمنون باللہ والیوم الاخر، ذلک خیرو احسن تاویلا

(النساء:۵۹)‘‘

{اے ایمان والو!اللہ کی اطاعت کرو اور رسول کی اطاعت کرو اور اپنے اولو الامر کی۔ پس اگر کسی امر میں تمہارا اختلاف ہو جائے تو اس کو اللہ اوررسول کی طرف لوٹاؤ۔ اگر تم اللہ اور روز آخرت پر ایمان رکھتے ہو۔یہ طریقہ بہتر اورانجام کارزیادہ اچھاہے۔} پر بناء رکھتے ہوئے انہوں نے کہا کہ یہ آیت حاکم اورمحکوم کے مابین نزاع سے متعلق ہے۔ انہوں نے کہاکہ آیت میں ’’اولوالامر‘‘سے مراد صرف ارباب اقتدار ہیں، نہ کہ علماء یا کوئی اور دینی عالم، جیساکہ بعض علماء سمجھتے ہیں۔ انہوں نے مزید کہاکہ دفعہ ۲۰۳۔ڈی کے نفاذ سے اللہ تعالیٰ اوردوسروں جن میں ریاست بھی شامل ہے، سے وفاداریوں میں تصادم سے بچاؤ اور تصفیہ مقصود ہے۔ پہلے مفروضے کے لئے انہوں نے متعدد کتب کے حوالے دیئے۔ دوسرے نکتے کے لئے انہوں نے عدالت کی توجہ خصوصاً ترجمان القرآن (ج اوّل ص۹۸)پرپیش کردہ رائے کی طرف مبذول کروائی کہ قرآن کریم کے اس حکم میں جس اختلاف کا ذکرکیاگیاہے۔ اس کا تصفیہ کرنے کے لئے ایک ادارے کا وجود ہونا چاہئے۔

’’فان تنازعتم فی شیٔ فردوہ الی اللہ والرسول‘‘{پس اگر کسی امر میں تمہارااختلاف ہو جائے تو اسے اللہ اور رسول کی طرف لوٹاؤ۔}

انہوں نے کہاکہ یہ عدالت ایساادارہ ہے۔ اولوالامر کی تشریح و توضیح پر کسی کتاب سے حوالہ دینے اوراس نکتے پربحث کرنا اس لئے غیرضروری ہے کہ پیش کردہ نکتہ قطعی ہے اور یہ عدالت

105

مقدمہ نمبر ایس،پی کے۔۲،۱۹۸۲ء میں ایسا قرار دے چکی ہے کہ اولوالامر سے ریاست میں برسر اقتدار لوگ جن میں مقننہ، انتظامیہ اورعدلیہ شامل ہیں، مراد ہیں۔

آئین کی دفعہ ۲۰۳۔ڈی میں بتایاگیاہے کہ اس عدالت کا وظیفہ یہ ہے کہ جو قوانین عدالت کے دائرہ اختیارمیں آتے ہوں۔ ان میں قرآن اورسنت رسول اللہ ﷺ سے تصادم اور تناقض کو ختم کرے۔ اس لئے یہ صحیح دکھائی دیتاہے کہ یہ عدالت اپنے آئینی دائرہ اختیار کی حد تک ایسا ادارہ ہے۔ جو ترجمان القرآن جلد ۱ص۹۸ کی تحریر کے مطابق کسی قانون کے مندرجات میں اختلاف کو قرآن کریم اور سنت رسول کریمﷺ کی رو سے حل کر سکتاہے۔ مسٹر مجیب الرحمن کی اس دلیل پر شاید ہی کوئی اعتراض ہو سکتاہو۔

یہ دلیل کہ گناہ میں کوئی اطاعت نہیں ہے،بھی قطعی ہے۔ یہ عدالت اس نکتے کا پہلے ہی تفصیل کے ساتھ جائزہ لے چکی ہے۔ نیز پریس اینڈ پبلی کیشنز آرڈی ننس مجریہ ۱۹۶۳ء (آرڈی ننس ۳۰ مجریہ ۱۹۶۳ء) اورپنجاب، سندھ، صوبہ سرحد اوربلوچستان کے سرونٹس ایکٹس، پر اپنے حالیہ فیصلوں میں ایک مسلم ریاست کی قانون سازی کی گنجائش کا بھی جائزہ لے چکی ہے۔

دوسرے نکتے پر انہوں نے دلیل دی کہ جس چیز کو قرآن اور سنت جائز قرار دیں۔ اسے حکام ناجائز قرار نہیں دے سکتے اور اس کے لئے نص صریح کا وجود ضروری ہے۔ انہوں نے تقلید کو نظرانداز کرنے کی ضرورت پرزوردیا۔

یہ درحقیقت پارلیمنٹ کے قادیانیوں کو غیر مسلم قرار دینے کے حق کو بالواسطہ چیلنج ہے۔ اس نکتے کا مختصر جواب یہ ہے کہ یہ نکتہ جیساکہ علامہ اقبال نے کہاتھا، ایک قانونی مسئلہ ہے۔ اس لئے پارلیمنٹ نے، جوقانون ساز ادارہ ہے، دفعہ ۲۶۰ میں اعلان کرکے اپنے دائرہ اختیار کے اندر کام کیاہے۔ علامہ اقبال نے کہاتھا:

’’یہ سوال کہ کوئی شخص یا جماعت دائرہ اسلام سے خارج ہو چکی ہے، خالص قانونی مسئلہ ہے اوراسے اسلام کے تعمیری اصولوں کی روشنی میں ہی حل کرناچاہئے۔‘‘

مذکورہ بالا دلیل کی طرح وفاقی حکومت کے وکیل شیخ غیاث محمد نے بھی ایسی ہی دلیل پیش کی ہے۔ یہ عدالت پہلے صوبائی سرونٹس ایکٹس کا جائزہ لیتے ہوئے اس نکتے اوراپنے دائرہ کار کی گنجائش کافیصلہ دے چکی ہے۔ یہ قرار دیاگیاتھاکہ عدالت کا دائرہ کار قرآن و سنت کی صرف صریح نصوص تک محدود نہیں ہے۔ عدالت کسی قانون کی پیچیدگیوں کا جائزہ لیتے وقت قرآن اور سنت کے وضع کردہ اصولوں سے استفادہ کر سکتی ہے۔ عدالت نے مقدمہ محمد ریاض بنام وفاقی

106

حکومت وغیرہ پی۔ ایل۔ ڈی ۱۹۸۰ء ایف ۔ ایس سی۱، میں قرار دیاتھا کہ وہ پبلک لاء میں تقلید کے اصول کی پابند نہیں ہے۔ مسٹر مجیب الرحمن کے خدشات کے ازالے کے لئے یہ کافی ہے۔

مسٹر مجیب الرحمن نے پھر فہم قرآن کے اصول کاتذکرہ کیااورکہا کہ پہلا اصول یہ ہے کہ قرآن کو خود قرآن ہی کی روشنی میں سمجھاجائے۔ کیونکہ وہ ایک ہی مضمون کو مختلف اسلوبوں سے پیش کرتاہے۔ تکرار سے مقصود انسانی ذہن پر مضمون کو نقش کرنا ہے۔کبھی ایک مضمون کو ایک جگہ مختصر کیاگیا ہے اور اسے دوسری جگہ کھول کر تفصیل سے واضح کردیاگیاہے۔ انہوں نے مندرجہ ذیل آیات قرآنیہ کا حوالہ دیاہے:

’’وکذلک نصرف الایت ولیقولوا درست و لنبینہ لقوم یعلمون (الانعام:۱۰۵)‘‘{اسی طرح ہم اپنی دلیلیں مختلف اسلوبوں میںبیان کرتے ہیں اورتاکہ وہ بول اٹھیں کہ تم نے پڑھا ہے اور تاکہ ہم اس کو اچھی طرح واضح کردیں ان لوگوں کے لئے جو جاننا چاہیں۔}

’’ولقد صرّفنا فی ہذاالقرآن لیذکرواوما یزید ھم الا نفورابنی اسرائیل:۴۱‘‘{اور ہم نے اس قرآن میں پھیر پھیر کر بات واضح کردی ہے تاکہ وہ یاد دہانی حاصل کریں۔ لیکن یہ چیز ان کی بیزاری ہی میں اضافے کئے جارہی ہے۔}

’’ولقد صرّفنا للناس فی ہذاالقرآن من کل مثل فابی اکثر الناس الا کفورا (بنی اسرائیل:۸۹)‘‘{اورہم نے لوگوں کے لئے اس قرآن میں طرح طرح سے ہر قسم کی حکمت کی باتیں بیان کی ہیں لیکن اکثر لوگ انکارہی پر اڑے ہوئے ہیں۔}

’’ولقد صرّفنا فی ہذاالقرآن للناس من کل مثل، وکان الانسان اکثر شی جدلا (الکہف:۵۴)‘‘{اور ہم نے لوگوں کے لئے اس قرآن میں ہر قسم کی مثالیں گوناگوں طریقوں سے بیان کردی ہیں۔ لیکن انسان سب سے زیادہ جھگڑالو واقع ہواہے۔}

ان اصولوں میں کوئی اختلاف نہیں۔ بحث کے دوران مسٹر مجیب الرحمن ہماری توجہ قرآن کریم کی متعدد آیات پر مبذول کراتے رہے۔ جو ان کے مطابق اپنی وجہ نزول تک محدود نہیں ہیں۔ بلکہ انہیں اپنے مفہوم میں عام سمجھنا چاہئے۔

انہوںنے دوسرا اصول یہ پیش کیا کہ کسی آیت کو سمجھنے کے لئے اس کے سبب نزول کی دریافت ضروری ہے۔ یہ امر کسی آیت کے فہم میں معاون ہوتاہے۔ تاہم اس کا معنی سبب نزول کی حد تک محدود یا مخصوص نہ ہوگا اوراس کے انطباق کا عموم کم نہیں ہوگا۔ یہ ان رہنماء اصولوں پر مشتمل

107

ہیں جو روز قیامت تک قابل نفاذ ہیں۔ انہوں نے الاتقان(جلد اول نوع۹ اسباب نزول ص۷۰ تا ۸۷) کے حوالے دیئے۔

تیسرا اصول یہ ہے کہ اگر قرآن سے کوئی رہنمائی میسر نہ آئے تو رسول اللہ ﷺ کی سنت کی جانب رجوع کیاجائے۔آخری اصول یہ ہے کہ اگر سنت سے بھی کوئی روشنی نہ پڑتی ہو تو پھر تفسیر میں رہنمائی حاصل کرنے کا دوسراذریعہ آثار(رسول اللہ ﷺ کے صحابہ کے اقوال) ہیں۔ انہوں نے زور دیا کہ قرآن کریم کی روح کو صحیح طور پر سمجھنے اور اسے مدنظر رکھنے کی کوشش کی جائے۔

چوتھے نکتے پر،جس میں عقیدے کی آزادی اوراپنے مذہب پر عمل کرنے کا حق شامل ہیں۔ مسٹر مجیب الرحمن نے کہا کہ اس بارے میں کئی سوالات پیدا ہوتے ہیں:

۱… کیا اسلام کسی غیر مسلم کو اللہ تعالیٰ کی توحید کا اعلان کرنے کا حق یا اجازت دیتاہے؟

۲… کیا اسلام کسی غیر مسلم کو رسول اللہ ﷺ کو اپنے دعوے میں صادق تسلیم کرنے کا حق یا اجازت دیتاہے؟

۳… کیا اسلام غیر مسلم کو یہ حق دیتاہے کہ وہ قرآن کریم کو ایک اچھے نظام حیات کی حامل اور قابل اطاعت کتاب تسلیم کرے؟

۴… کیا کسی غیر مسلم کو یہ اجازت ہے یا نہیں کہ وہ اگر چاہے تو قرآن کریم کے احکام پر عمل کرے؟

۵… اگر جواب نفی میں ہے، تو نفی کی تائید میں قرآن اورسنت کاحکم کہاںہے؟

۶… ایسے شخص کے بارے میں قرآن کریم کیالائحہ عمل تجویز یا مہیا کرتاہے۔ جو قرآن کی حقانیت، محمد رسول اللہ ﷺ کی نبوت اور اللہ کی توحید کو مانتاہو۔ لیکن اسے مسلمان نہ سمجھا جائے اور نہ ہی اسے ایسا سمجھاجانے کاحق دیاجائے؟

قرآن کریم کی آیات ۲؍۲۵۶، ۸؍۲۹، ۱۰؍۹۹،۱۰؍۱۰۸، ۲۶؍۳، ۹۰؍۱۰، ۹۱؍۸، ۹۱؍۹، ۹۱؍۱۰ نیز مشہور مفسرین کی تفاسیر سے استدلال کرتے ہوئے انہوںنے یہ خلاصہ پیش کیا کہ احکام اسلام کی رو سے:

الف… دین قبول کرنے کے لئے کوئی جبر نہیں ہوناچاہئے۔

ب… اسے رضاکارانہ طورپرقبول کرلینے پر کوئی پابندی نہیں ہونی چاہئے۔

ج… کسی کو طاقت استعمال کرکے اس کے مذہب سے نہیں نکالنا چاہئے اور …

د… جو کوئی اپنے دین سے وابستہ رہنا نہ چاہے اسے اِسے ترک کر دینے سے روکنا نہیں چاہئے۔

108

انہوں نے ان آیات کا بھی حوالہ دیا:’’من کفر باللہ من بعد ایمانہ الا من اکرہ وقلبہ مطمئن بالایمان ولکن من شرح بالکفرصدرا فعلیھم غضب من اللہ، ولھم عذاب عظیم(النحل:۱۰۶)‘‘{جو اپنے ایمان لانے کے بعد اللہ کا کفر کرے گا، بجز اس کے جس پر جبر کیاگیاہو اوراس کا دل ایمان پر جما ہواہو، لیکن جو کفر کے لئے سینہ کھول دے گاتو اn پر اللہ کا غضب ہوتاہے اور ان کے لئے عذاب عظیم ہے۔}

’’یاایھاالذین اFمنو الا یحل لکم ان ترثوا النساء کرھا، ولا تعضلوھن لتذھبوا ببعض مااتیتمو ھن الا ان یاتین بفاحشۃ مبینۃ وعاشر وھن بالمعروف فان کرھتموھن فعسیٰ ان تکرھوا شیئا ویجعل اللہ فیہ خیرا کثیرا(النساء:۱۹)‘‘{اے ایمان والو!تمہارے لئے یہ بات جائز نہیں کہ تم عورتوں کے زبردستی وارث بن جاؤ اور نہ یہ بات جائز ہے کہ جو کچھ تم نے ان کو دیا ہے اس کا کچھ حصہ واپس لینے کے لئے ان کو تنگ کرو۔ مگر اس صورت میں کہ وہ کسی کھلی ہوئی بدکاری کی مرتکب ہوئی ہوں اور ان کے ساتھ معقول طریقے پر برتاؤ کرو، اگر تم ان کو ناپسند کرتے ہو تو بعید نہیں کہ ایک چیز کو تم ناپسند کرو اوراللہ تمہارے لئے اس میں بہت بڑی بہتری پیداکردے۔}

’’لااکراہ فی الذین قد تبیّن الرشد من الغی، فمن یکفر بالطاغوت ویؤمن باللہ فقد استمسک بالعروۃ الوثقی لاانفصام لھا، واللہ سمیع علیم (البقرۃ:۲۵۶)‘‘{دین کے معاملے میں کوئی جبر نہیں۔ ہدایت گمراہی سے بالکل الگ ہو چکی ہے تو جس نے طاغوت کا انکار کیا اوراللہ پر ایمان لایااس نے مضبوط حلقہ پکڑ لیا جوٹوٹنے والا نہیں اوراللہ سننے والا جاننے والا ہے۔}

’’ولوشاء اللہ ما اشرکوا وما جعلنٰک علیھم حفیظا، وما انت علیھم بوکیل (الانعام:۱۰۷)‘‘{اور اگر اللہ چاہتا تو یہ شرک نہ کرپاتے اورہم نے تم کو ان پر نگران نہیں مقرر کیاہے اورنہ تم ان کے ضامن ہو۔}

’’ولوشاء ربک لاٰمن من فی الارض کلھم جمیعا، افانت تکرہ الناس حتیٰ یکونوا مؤمنین (یونس:۹۹)‘‘{اوراگر تیرا رب چاہتا تو روئے زمین پر جتنے لوگ بھی ہیں سب ایمان قبول کرلیتے توکیا تم لوگوں کو مجبور کرو گے کہ وہ مومن بن جائیں۔}

’’قل یاایھاالناس قد جاء کم الحق من ربکم فمن اھتدی فانما یھتدی لنفسہ، ومن ضلّ فانما یضلّ علیھا، ومااناعلیکم بوکیل

109

(یونس:۱۰۸)‘‘{کہہ دو، اے لوگو! تمہارے رب کی طرف سے تمہارے پاس حق آگیا ہے تو جو ہدایت قبول کرے گا وہ اپنے ہی لئے کرے گا اورجو بھٹکے گا تو اس کا وبال اسی پر آئے گا اور میں تمہارا ذمہ دار نہیں ہوں۔}

’’لعلّک باخع نفسک الّا یکونوا مؤمنین‘‘{شاید تم اپنے آپ کو اس فکر میں ہلاک کر رہو گے کہ یہ لوگ ایمان لانے والے نہیں بنتے۔}

’’ان نشاء ننزّل علیھم من السماء اٰیۃ فظلت اعنا قھم لھا خضعین (الشعراء:۳،۴)‘‘{اگر ہم چاہیں تو ان پر آسمان سے کوئی نشانی اتاردیں۔ پس ان کی گردنیں اس کے آگے جھکی ہی رہ جائیں۔}

’’وھدینہ النجدین (البلد:۱۰)‘‘{اوراس کو ہم نے دونوں راہیں سمجھا دیں۔}

’’قد افلح من زکّھا وقد خاب من دسّھا (الشمس:۹،۱۰)‘‘{بیشک کامیاب ہوا جس نے اس کو پاک کیا اورنامراد ہواجس نے اس کو آلودہ کیا۔}

’’وقل الحق من ربکم فمن شاء فلیومن ومن شاء فلیکفرانا اعتدنا للظلمین نارا احاط بھم سرادقھا، وان یستغیثوا یغاثوابماء کالمھل یشوی الوجوہ، بئس الشراب، وسائت مرتفقا (الکہف:۲۹)‘‘{کہہ دے یہی حق ہے تمہارے رب کی جانب سے تو جس کا جی چاہے ایمان لائے اور جس کا جی چاہے کفر کرے۔ ہم ظالموں کے لئے ایسی آگ تیار کر رکھی ہے جس کی قناتیں ان کو اپنے گھیرے میں لے لیں گی اور اگر وہ پانی کے لئے فریاد کریں گے تو ان کی فریاد رسی ایسے پانی سے کی جائے گی جو پگھلے ہوئے انبے کی مانند ہوگا۔ چہروں کو بھون ڈالے گا۔ کیا ہی برا پانی ہوگا اورکیا ہی براٹھکانا۔}

سورئہ الکافرون کی آیات ۴،۵اور۶ اس مسئلے کو قطعی طورپر طے کرتے ہوئے ہر شخص کو اپنے دین پر رہنے دیتی ہیں:

’’ولا انا عابد ما عبدتم، ولا انتم عابدون ما اعبد، لکم دینکم ولی دین (الکافرون:۴تا۶)‘‘{اور نہ میں پوجنے والا ہوں جن کو تم نے پوجا اور نہ تم پوجنے والے ہو جسے میں پوجتاہوں تمہارے لئے تمہارادین اورمیرے لئے میرادین ہے۔}

آیت نمبر۱۰؍۱۰۰کی تفسیر میں سید قطب لکھتے ہیں:

’’اگر اللہ تعالی کو منظور ہوتا تو تمام انسانیت کو ایک ہی راہ پرمجبور کرتا اورانہیں اس کے خلاف کسی قسم کا اختیار نہ دیتا۔لیکن اس کی حکمت، جس کے کچھ مقاصد ہم سمجھ سکیں یا نہ سمجھ سکیں، کا

110

تقاضا یہ تھاکہ انسان کی تخلیق اس طرح ہو کہ اسے نیکی اور بدی یا ہدایت اور گمراہی کی استعداد اور صلاحیت سے بہرہ ور کیاجائے۔پس ایمان کی بنیاد ہر شخص کی اپنی پسند پرہے۔ رسول اللہ ﷺ کسی کو ایمان لانے پر مجبور نہیں کرسکتے۔ کیونکہ قلب و ضمیر کے ارادوں اورجذبات میں جبر کی کوئی گنجائش نہیں ہوتی۔‘‘

(فی ظلال القرآن ج۴ص۴۷۸)

اسماعیل حقیؒ کی تفسیر روح البیان(جلد ۴ص۸۴)میںبھی یہی مفہوم دیاگیا ہے۔کہا گیا ہے کہ اللہ تعالیٰ کی حکمت کا یہ منشاء نہ تھا کہ انسانوں کی تخلیق ایسے نہج پر ہوتی کہ وہ سب مومن بن جائیں۔ بلکہ منشاء خداوندی یہ ہے کہ ہر انسان خود اپنی پسند کے مطابق ایمان یا کفر کو اختیار کرے۔ مزید بتایاگیاہے کہ جب اللہ تعالیٰ نے دیکھا کہ اس کے رسول ﷺ کی خواہش یہ ہے کہ تمام لوگ دائرہ ایمان میں داخل ہو جائیں تو اس نے یہ آیت نازل فرمائی اورآپ ﷺ کی قوم کے ایمان کو اپنی مشیت پر معلق کردیا اوربتایا کہ تمہارے خالق کی یہ مرضی نہیںہے۔تو پھرکیاآپﷺ ایسے امر میں کیسے جبر کر سکتے ہیں جو اللہ تعالیٰ کی منشاء کے خلاف ہے( کہ تمام لوگ مشرف بایمان ہوجائیں)

اسی تفسیر میں الکشفی کی اس رائے کاتذکرہ کرتے ہوئے کہ یہ آیت، آیت جہاد سے منسوخ ہے، مزید بتایاہے کہ درست بات یہ ہے کہ یہ منسوخ نہیں ہے۔ کیونکہ ایمان کے مسئلے میں جبر درست نہیں ہوتا اور اس لئے بھی کہ اس کا تعلق دل سے ہوتاہے۔ نیز دیکھئے (مدارک التنزیل ج۲ ص۳۸، المنار ج۲ص۴۸۳،۴۸۴،معارف القرآن ج۴ص۵۷۷،تفسیر المراغی ج۲ص۱۵۸)

’’وماجعلنک علیھم حفیظا وما انت علیھم بوکیل(الانعام:۱۰۷)‘‘ {اورہم نے تم کو ان پر نگران مقرر نہیں کیا اورنہ تم ان کے ضامن ہو۔}

کی تفسیر میں بھی اسی قسم کا بیان ہواہے۔(دیکھئے تفسیر المراغی ج۷ص۲۱۱،روح البیان ج۳ جز۴ ص۴۸، المنار ج۷ص۵۰۱،۵۰۲، فی ظلال القرآن ج۷ص۳۰۵،۳۰۶،معارف القرآن ج۳ص۴۱۳، تفسیر کبیر امام رازی جز۱ص۱۰۳)

المنارمیں نگران یا وکیل کے فرائض بیان کرتے ہوئے بتایاگیاہے کہ رسول اللہ ﷺ کی بعثت کا مقصد یہ تھا کہ وہ لوگوں کو دین کی دعوت اور تعلیم دیں اورانہیں اسے قبول کرنے کی صورت میں فوز وفلاح کی خوشخبری دیں اور دین الٰہی پر ایمان نہ لانے اوراسے قائم نہ کرنے کی صورت میں انہیں برے نتائج سے آگاہ کردیں۔ پیغمبر ﷺ کے یہی فرائض ہیں۔ تاہم وہ اللہ تعالیٰ کی جانب سے اس کی مخلوق کے نگران نہ تھے اورنہ ہی انہیں اس امر کا اختیار دیاگیاتھا کہ وہ اپنی قوم کو ایمان

111

لانے پر مجبو ر کر دیتے۔ فی ظلال القرآن(از سید قطب شہید) کے مطابق یہ آیت امت کی تشکیل سے بحث کرتی ہے۔

دین میں اکراہ یا جبر کے مسئلہ پر تمام مفسرین نے بحث کی ہے۔ دیکھئے (المغنی حصہ ۸ ص۲۴۳، تفسیر بیضاوی جلد اوّل ص۳۶۲، مدارک التنزیل جلد اوّل ص۱۷۰، فی ظلال القرآن جلد ۳ص۲۶،۲۸، المراغی ج۱۳ ص۵۳، المنار ج۹ ص۶۶۵، ترجمان القرآن ج۱ ص۲۶۷، تفہیم القرآن جلد اول ص۱۹۶، روح المعانی جلد ۳ص۱۲،۱۳)

المغنی کے مطابق ایک رائے یہ ہے کہ محض دھمکی بھی اکراہ ہے۔ المنار(جلد ۳ص۱۶) کے مطابق اصل دین عقیدہ ہے۔ جو اطمینان قلبی کی بدولت نصیب ہوتاہے۔ اطمینان قلب کا واحد ذریعہ استدلال اورحجت ہے نہ کہ اکراہ یاجبر۔ ایک اہم نکتہ۔

(دیکھئے المنار جلد ۹ص۶۶۵)

یہ ہے کہ کسی کو اپنا عقیدہ ترک کرنے پر مجبور کرنا جائز نہیں۔ مجبور نہ کئے جانے کا حق ایک بنیادی حق شمار کیاگیا ہے۔(فی ظلال القرآن ج۳ص۲۶،۲۸)آیت ۱۸؍۲۹ کی تفسیر کے لئے (المراغی جز ۱۵ص۱۴۳،فی ظلال جز ۱۵ص۹۵،تفسیر المظہری ج۶ص۱۰، تفہیم القرآ ن ج۳ص۲۳) پرزور دیا گیا تھا۔ یہ آیت واضح طور پر ہر انسان کو کوئی عقیدہ قبول کرنے یا نہ کرنے کا اختیار دیتی ہے۔

ان آیات کریمہ پر مبنی ان تمام دلائل کا لب لباب یہ ہے کہ دین کے معاملہ میں کوئی جبر نہیں ہے اور اللہ تعالیٰ کی مشیت نہیں کہ تمام لوگ مومن بن جائیں۔ رسول اللہ ﷺ کی بعثت کا مقصد صرف یہ تھا کہ وہ اللہ تعالیٰ کے پیغام کو عام کریں۔ یہ مقصود نہ تھا کہ وہ لوگوں کو اسلام قبول کرنے پر مجبور کریں۔ قرآن وسنت میں ایسی کوئی چیز موجود نہیں جو اس امر پرپابندیاں عائد کرنے کی اجازت دے کہ غیرمسلم، اللہ تعالیٰ کی توحید، رسول اللہ ﷺ کی رسالت اورحکمت کی صداقت، قرآن کریم کے پیغام کی صداقت پرایمان لائیں یا قرآن کو اپنا دستور حیات بنائیں۔

اسی طرح یہ بھی جائز نہیں کہ کسی شخص کو زبردستی اس دین سے نکالاجائے جس سے وہ وابستہ رہنا چاہتا ہو۔ انہوںنے مزید کہا کہ آرڈی ننس قادیانیوں کو دین اسلام، جس سے وہ وابستہ رہنا چاہتے ہیں،سے زبردستی نکالنے کے مترادف ہے۔ اس سلسلے میں لفظ اکراہ پر بھی روشنی ڈالی گئی کہ یہ صرف طاقت کے استعمال تک محدود نہیں بلکہ یہ ایسے حالات پیدا کرنے کو بھی شامل ہے جو کسی کے لئے اپنے دین کو ماننے یا اس پرعمل کرنے کے لئے سازگار نہ ہوں

مسٹر مجیب الرحمن کے پہلے چار سوالوں کا جواب اثبات میں دیناہوگا۔ کسی غیر مسلم کے اس حق پر ایسی کوئی آئینی، قانونی یا شرعی پابندی نہیں کہ وہ اللہ تعالیٰ کی توحید کااعلان کرے،پیغمبر

112

اسلامﷺکو اپنے دعوے میں سچا تسلیم کرے، قرآن کریم کو اچھے دستور حیات کا حامل تسلیم کرے اور اس کے احکام پر عمل پیراہو۔ چار سوالوں کے مثبت جواب کے بعد پانچواں سوال پیدا نہیں ہوتا۔ چھٹے سوال کا واضح جواب یہ ہے کہ ایسے غیر مسلم سے قرآن وسنت کی عائد کردہ شرائط جن کا تذکرہ مناسب موقع پرآئے گا، کے تحت دوسری اقلیتوں جیسا سلوک کیاجائے گا۔

مسٹر مجیب الرحمن نے’’اکراہ‘‘ کے بارے میں جو چار اصول بنائے ہیں۔ وہ بھی قطعی ہیں۔ لیکن تیسرے اصول کا اطلاق جیساکہ مسٹر مجیب الرحمن نے کیاہے۔ درست نہیں ہے۔ تیسرا اصول یہ ہے کہ کسی شخص کو طاقت کے استعمال سے اس کے دین سے نہیں نکالاجا سکتا۔ اپنے تحریری دلائل میں وہ اس پر یہ اضافہ کرتے ہیں ’’جیساکہ ہمیں نکالاگیا۔‘‘ زیربحث آرڈی ننس میں ایسی کوئی بات نہیں کہ انہیں اپنے مذہب سے نکال دیاگیا۔

یہ استدلال کیاگیاتھا کہ احمدیوں پر اپنے آپ کو مسلمان کہنے یا ایسا ظاہر کرنے پر پابندی عائد کرنا،انہیں اپنے دین سے، جو ان کے مطابق اسلام ہے، نکالنے کے مترادف ہے۔ اس سوال پر ہم پہلے غور کر چکے ہیں اوراس نتیجے پر پہنچے ہیںکہ ہر دو عقیدوں کے قادیانی مسلمان نہیں ہیں بلکہ غیر مسلم ہیں۔ لہٰذا آرڈی ننس انہیں اپنے آپ کو ایسا کہلانے سے روکتاہے جو وہ نہیں ہیں۔ کیونکہ انہیں اپنے آپ کوجھوٹ موٹ مسلمان ظاہر کرکے کسی شخص خصوصاً امت مسلمہ کو دھوکہ دینے کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔ یہ امر پہلے واضح ہوچکا ہے کہ مرزاصاحب اور لاہوری گروہ کے سوا، دیگر قادیانیوں نے الٹا مسلمانوں کو غیر مسلم اوردائرہ اسلام سے خارج قرار دے کر اپنے آپ کو ایسی جماعت کی جگہ،جس میں قرآن کریم کی محبت اورعقیدت سب سے بلند ہے، مسلم امت قراردے لیاہے۔ یہ برداشت نہیں کیاجاسکتا اور غیر مسلموں کو یہ اجازت نہیں دی جاسکتی کہ وہ امت کا شیرازہ بکھیر کر مسلمانوں کے حقوق اور مراعات پر غاصبانہ قبضہ کرلیں۔

پھر یہ امر قادیانیوں کے مرزاصاحب کو خواہ نبی یا مجدد، مہدی معہود یا مسیح موعود ماننے کے حقوق پر بھی اثرانداز نہیں ہوتا اور نہ ہی ا س سے ان کے اس حق میں مداخلت ہوتی ہے کہ وہ اپنے مذہب پر عمل کریں اوراس کے اصولوں کے مطابق اپنی عبادت گاہوں میں عبادت کریں۔

شریعت اسلامیہ غیر مسلموں کو اپنے دین کو ماننے نیز اس پر عمل کرنے کا پورا تحفظ فراہم کرتی ہے۔ مذکورہ بالا آیات کریمہ اوران کی تفسیر میں مفسرین کی آراء ا س امر کی تائید کرتی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ رسول اللہ ﷺ اورآپﷺ کے معزز خلفاء نے مشرکوں اور غیر مسلموں سے خواہ وہ مسلمانوں سے برسرپیکار تھے یا نہیں،دوسرے امورکے علاوہ انہیں دین کی آزادی سے متعلق بہترین

113

بہترین شرائط پر معاہدے کئے۔

اس بارے میں رسول اللہ ﷺ نے جو پہلا قدم اٹھایا وہ مدینہ کے یہودیوں، عیسائیوں اوردوسرے غیر مسلموں کے ساتھ تحریری میثاق تھا۔ اس معاہدے کی پہلی دفعہ ڈاکٹر حمید اللہ کے الفاظ میں یہ طے کرتی ہے کہ ’’معاہدے کے تمام فریقوں کو ایک ہی امت(جماعت) قرار دے دیاگیا۔‘‘یہ واضح طور پر ایک ایسی سیاسی قوم بنانے کی کوشش تھی جو مسلمانوں اورغیر مسلموں کی مدد کرسکے۔

اس معاہدے کی دفعہ ۲۶ کا بیان ہے کہ بنی عوف کے یہودی مسلمانوں کے ساتھ مل کر ایک امت ہیں۔ یعنی انہوں نے سیاسی اتحاد کی بنیاد پر ایک سیاسی وحدت قائم کی ہے۔ معاہدے کے فریقوں، جن میں مسلم امت شامل تھی، نے اس معاہدے کے تحت ایک سیاسی امت تشکیل دینے پر اتفاق کرلیا جسے ’’امۃ من دون الناس‘‘{دوسرے لوگوں کے بالمقابل ایک سیاسی وحدت} (دفعہ ا) اور’’امت واحدۃ ‘‘{متحدہ سیاسی وجود}(دفعہ ۲۶)قرار دیاگیا۔

’’امۃ واحدۃ من دون الناس‘‘کی تشکیل کے بعد ان سب کے حقوق اور فرائض بیان کئے گئے جن میں صاف صاف بتایاگیا کہ ہر ایک کو اپنے دین کو ماننے اور اس پر عمل کرنے کا حق ہوگا۔ تاہم دفعہ ۲۶ میں یہ خاص شق رکھی گئی کہ یہودی اپنے دین پر رہیں گے اور مسلمان اپنے دین پر رہیںگے۔

(دیکھئے سیرت ابن ہشام اردو جلد ۱ص۵۵۴)

عمرابوالنصر کی کتاب’’ھارون البرامکۃ (اردو ترجمہ از شیخ محمد احمد پانی پتی صفحات ۲۷۸،۲۷۹)‘‘میں بتایا گیا ہے کہ ہارون الرشید کے دور میں تعصب اور غیر رواداری کی ایک مثال نہیں ملتی۔ شام، مصر اورروم میں عیسائیوں کو عبادت کے لئے گرجے تعمیر کرنے اورصلیب کے جلوس نکالنے کی عام اجازت تھی۔ یہودیوں کو اپنے معابد میں عبادت کرنے کا پوراحق تھا۔ آتش پرست کسی پابندی کے بغیر اپنی آگ روشن رکھتے اوراس کی عبادت کرتے۔ سندھ میں ہندوؤں پرمندر میں عبادت کرنے اوراپنے دیوتاؤں کے آگے جھکنے پر کوئی پابندی نہ تھی۔ مختصر یہ کہ مذہب کے معاملے پر کوئی جبر نہ تھا۔

مصر کے اخبار الہلال کا ایڈیٹر جرجی زیدان اپنی کتاب(تاریخ التمدن الاسلامی ج۳ ص۱۹۴)میں لکھتاہے کہ تعلیم کے میدان میں مسلمانوں کی برق رفتار ترقی کی ایک وجہ یہ ہے کہ خلفاء اسلام ہر قوم اور ہر مذہب کے علماء کی بڑی قدر کرتے تھے اورانہیں فراخدلی سے نوازتے تھے اور کسی کے مذہب اور نسب یانسل کا کبھی خیال نہ کرتے تھے۔ ان میں ہر مذہب کے لوگ عیسائی،

114

یہودی، صابی، سامری اورآتش پرست مل کر رہتے تھے۔خلفاء ان سے نہایت عزت اور احترام کے ساتھ پیش آتے۔ غیر مسلموں کو بھی وہی مقام اورآزادی حاصل تھی جو مسلمانوں کے امراء اور افسروں کو دی جاتی۔

(ص۲۸۲)پرعیسائیوں کے ساتھ ہارون الرشید کے سلوک اوربردباری کی ایک مثال بیان کی گئی ہے۔ ’’اس کاصبر وتحمل اس قدر قوی تھا کہ ایک قیصر روم کی مکرروعدہ خلافیوں اور سرحدوں پر غارت کے واقعات سے تنگ آکر اس نے چیف جسٹس امام ابویوسفؒ سے پوچھ لیا کہ اسلامی قلمرو میں عیسائیوں کے گرجا گھروں کو تحفظ کیوں دیا جاتاہے اور انہیں شہروں میں صلیب کے جلوس نکالنے کی اجازت کیوں دی گئی ہے۔ امام ابویوسفؒ نے جرأت مندانہ جواب دیاکہ حضرت عمرؓ کے دور میںرومی علاقوں کی فتح کے بعد عیسائیوں کو تحریری طورپر یقین دلایاگیا تھا کہ ان کے گرجا گھروں کو تحفظ حاصل ہوگا اورانہیں اپنے مذہب پر عمل کرنے اورصلیب کو لے کر چلنے کا پورا حق ہوگا۔ اب اس حکم کوختم کرنے کا کسی کو اختیار نہیں ہے۔‘‘

یہ حقیقت بہت معروف ہے کہ مسلم فاتحین کے مطالبے کے باوجود حضرت عمرؓ نے ذمیوں کے قبضے میں موجود مفتوحہ اراضی کو ان میں تقسیم کرنے سے انکار کردیاتھا۔ حضرت عمرؓ کی طرف سے بیت المقدس کے باشندوں کو دی گئی عام معافی کا معاہدہ ایک تاریخی دستاویز ہے۔ اس کے متعلقہ حصوں کوذیل میں نقل کیاجاتاہے:

’’اللہ کے بندے عمرؓ امیرالمومنین نے اہل ایلیا کو ان کی جانوں اور مالوں کو پناہ دی ہے۔ ان کے گرجا، صلیبیں، بیمار، تندرست اورتمام مذاہب کے لوگ پناہ میں رہیں گے۔ ان کے گرجاؤں میں کوئی نہیں رہے گا نہ وہ گرائے جائیں گے…اورنہ ان کی صلیب اور مال۔ کسی چیز کو نقصان پہنچایاجائے گا۔ ان کے مذہب کے معاملے میں ان پر کوئی زبردستی نہیں کی جائے گی۔

(تاریخ طبری ج۲اردو ترجمہ از سید محمد ابراہیم ص۵۰۱، وثیقہ ۳۵۷ ص ۳۰۴،۳۰۵ از سیاسی وثیقہ جات مرتبہ ڈاکٹر حمید اللہ ، الفاروق مولانا شبلی نعمانی حصہ دوم ص۱۴۹)

حضرت حذیفہ بن الیمانؓ نے اہل مدنیار کو تحریری ضمانت دی کہ ان کا مذہب تبدیل نہیں کیا جائے گا اور ان کے معاملات میں مداخلت نہیں کی جائے گی۔

(تاریخ طبری ص۱۵۵)

’’جرجان کے فتح کے موقع پر امان کے معاہدے میں یہ شق رکھی گئی کہ ان کی جانوں، جائیداد اوردین کو تحفظ حاصل ہوگا اور ان میں سے کوئی چیز تبدیل نہیں کی جائے گی۔‘‘

(ایضاً ص۱۵۵)

115

رسول اللہ ﷺ کی جانب سے مقنا،حنین اور خیبر کے لوگوںکو دیئے گئے امان نامے میں بتایا گیا ہے کہ آپ ﷺ کو وحی الٰہی کے ذریعے تینوں طبقات کے اپنے گھروں کو لوٹنے کی اطلاع ہو گئی تھی۔سو ضرور لوٹ جائیں۔ ان سب کے لئے خدا اوراس کے رسول کی طرف سے پناہ ہے۔ نہ صرف تمہاری جانوں کے لئے امان ہے بلکہ تمہارے دین، اموال، غلاموں اورجملہ املاک کے لئے بھی۔ ان سب چیزوں میں خدا اور رسول کا ذمہ ہے۔ ماسواء مذکورہ بالا رعایتوں کے یہ مراعات بھی دی جاتی ہیں۔

۱… جزیہ کی معافی

۲… …

۳… …

۴… ترک بیگار

۵… فوجی مہم میں شرکت سے استثناء

۶… فوجی ضرورت کے لئے تمہارے گھر خالی کرانے کی معافی

۷… …

۸… …

۹… مسلح ہوکر نکلنے کی اجازت ہے۔

۱۰… تم خود پر حملہ آور کے خلاف جنگ کر سکتے ہو۔ ایسی لڑائی میں تمہارے مخالف کے مقتولوں کی دیت یا قصاص تم سے نہ دلوایاجائے گا۔

۱۱… تا۱۷……

۱۸… تمہارے جنازے لے جانے کی راہ میں رکاوٹ نہ ہوگی۔

۱۹… اہل بیت رسول اللہ ﷺ اورجملہ مسلمانوں پر تمہارے شرفاء کی تعظیم واجب ہے۔

۲۰… تا۲۱……

۲۲… اسلام میں کسی کو جبراً مسلمان کرنا روانہیں۔

۲۳… تا۲۶…

۲۷… جو شخص میرایہ خط پڑھے یا اسے سنے اوراس میں تغیر یا اس کی مخالفت کرے۔ ایسے شخص پر اللہ اورملائکہ اور تمام جہان کی لعنت ہے…میں اس کا دشمن ہوںگا۔(روز قیامت کو)

(سیاسی وثیقہ جات نمبر۳۴صفحات ۵۹تا۶۲)

116

وثیقہ نمبر۹۴(ایضاً ص ۹۶تا۹۸)رسول اللہ ﷺ اور نجران کے عیسائیوں کے درمیان طے پانے والا معاہدہ ہے۔ یہ بہت ہی نرم شرائط پر مشتمل ہے۔ دین سے متعلق شرائط دفعہ ۸ب اور ۹ میں موجود ہیں۔ رسول اللہ ﷺ نے خود کو ان کے دین(کی آزادی) ان کے گوشہ نشین پادریوں اور کاہنوں کے تحفظ کا ذمہ دار قراردیا۔

رسول اللہ ﷺ کے سید بن حارث اوراس کی جماعت کے دوسرے عیسائیوں کے ساتھ کئے گئے معاہدے میں دوسرے امور کے علاوہ انہیں عقیدے اوردین پرعمل کرنے کے امور میں کامل آزادی دی گئی(دفعہ ۵)۔ان کے گرجے، عبادت خانے، خانقاہیں اور مسافر خانے خواہ وہ پہاڑوں میں ہوں یا کھلے میدان یا تیرہ و تار غاروں کے اندر ہوں یا آبادیوں میں گھرے ہوئے ہوں یا وادیوں کے دامن اور ریگستانوں میںہوں، سب کی حفاظت میرے ذمہ ہے۔

(دفعہ۴، ایضاً ص۱۰۹)

کسی عیسائی کو مسلمان ہونے کے لئے مجبور نہیںکیا جائے گا۔(دفعہ ۲۳)ان سے مذہبی گفتگو میں احسن طریق سے پیش آیاجائے۔(دفعہ ۲۴)

حضرت سلمان فارسیؓ کے رشتہ داروں کے لئے جو آتش پرست تھے، بھی فرمان نبوی کے ذریعے اسی طرح ان کے مذہب کے بارے میں کامل آزادی دی گئی۔(ایضاً ص۳۳۱،دفعہ۸)

ان کے آتش کدوں کی بحالی اور ان کی آمدنی اورفروغ میں انہیں آزادی ہے۔

(دفعہ ۴)

جس مسلمان کے گھر میں نصرانی عورت ہو، اسے اپنے مذہبی شعائر ادا کرنے کی اجازت ہونی چاہئے۔ وہ عورت جب چاہے اپنے علماء سے مسئلہ دریافت کر سکتی ہے۔ جو شخص اپنی نصرانی بیوی کو اس کے مذہبی شعائر ادا کرنے سے منع کرے وہ خدا اوررسولﷺ کی طرف سے ان کو دیئے گئے میثاق کا مخالف اورعند اللہ کاذب ہے۔

(دفعہ ۳۵)

حضرت عمرؓ نے اپنی خلافت میں اہل بخران کی امان کی تجدید کی اور رسول اللہ ﷺ کی طرف سے عطاء کردہ تمام شرائط اورمراعات کو بحال رکھا اور ان کے طریق عبادت، پادریوں اور راہبوں کے تحفظ کے بارے میں مزید خاص مراعات دے دیں۔

(وثیقہ نمبر۹۸ ایضاًص ۱۱۴،۱۱۵)

ڈاکٹر حمید اللہ کی کتاب(Muslim conduct of state )کی دفعہ ۲۰۸ اور ۲۰۹ یوں ہیں:

’’(۲۰۸)حنفی فقہ کا معروف مجموعہ یعنی البحرالرائق واضح کرتی ہے کہ غیر مسلموں کے

117

قبرستان کا اتنا ہی احترام کیا جائے گا۔ جتنا کہ خود مسلمانوں کے قبرستانوں کا ہے اورجس طرح ان کی زندگی میں ان کی جان، جائیداد اور عزت کا احترام کیاجاتاہے،اسی طرح انتقال کے بعد ان کی ہڈیوں کا احترام کیاجائے گا۔

(۲۰۹)امام ابوحنیفہؒ اور امام شافعیؒ اس امر پر متفق ہیں کہ اگر غیر مسلم قرآن کریم،حدیث رسولؐ یا اسلامی فقہ پڑھنا چاہیں تو انہیں اس سے روکا نہیں جا سکتا۔‘‘

اسی کتاب کی (دفعہ۲۰۰)میں بیان کیاگیاہے:

’’اسلامی قانون نے مسلمانوں اورغیر مسلموں کے درمیان واضح فرق رکھاہے۔ کئی پہلوؤں سے غیر مسلموں کی حالت بہتر ہوتی ہے۔ وہ زکوٰۃ کی ادائیگی سے مستثنیٰ ہیں جب کہ تمام مسلمان مرد،عورت، جوان، بوڑھے ہر سال اپنی بچت کے ۲۰۰ درہم (یا ۱۰۔۲ پونڈ تقریباً)حصے سے زائد پراڑھائی فیصد کے حساب سے لازمی طور پر زکوٰۃ ادا کرتے ہیں۔ وہ لازمی بھرتی سے بھی مستثنیٰ ہوتے ہیں۔ جبکہ تمام مسلمان لازمی بھرتی کے تحت آتے ہیں۔ انہیں ایک نوع کی خود مختاری حاصل ہوتی ہے۔ ان کے مقدمات کا تصفیہ ان کے اپنے ہم عقیدہ لوگوں کے ہاتھوں اوران کے پرسنل لاء کے مطابق ہوتاہے۔ اسلامی ریاست ان کی جان اورجائیداد کے تحفظ کی اتنی ہی ذمہ دار ہوتی ہے جتنا کہ مسلمانوں کے جان ومال کی۔‘‘

عبدالوحید خان اپنی کتاب’’تاریخ افکار سیاست‘‘ کے (ص۱۸۱)پرمسلمانوں کی مذہبی رواداری کے بارے میں لکھتاہے:

’’تقریباً ہردور میں مذہبی رواداری اسلامی ریاست کی نمایاں خصوصیت رہی ہے۔ ایسی مثالیں ملتی ہیں کہ بعض اوقات حکومت نے مسلمانوں پر مذہبی پابندیاں عائد کردیں اور بسا اوقات مسلمان اپنے عقائد کی وجہ سے (جو حاکم وقت کے عقائد سے مختلف ہوتے) ابتلاء کا شکار ہوئے۔ لیکن اسلامی ریاست کی غیر مسلم رعایا جس مساوی سلوک اور اپنے دینی معاملات میں کامل آزادی سے بہرہ ور رہی، تاریخ اس کی مثال پیش کرنے سے قاصر ہے۔‘‘

وہ مزیدکہتے ہیں کہ اسلامی ریاستوں میں مکمل مذہبی آزادی موجود رہی اور مختلف مذاہب کے لوگ اپنے اپنے طریقوں پر(اور اپنے ضمیر کے مطابق) عمل کرتے۔ ان کی عبادت گاہوں کا تحفظ حکومت کی ذمہ داری تھی ۔ متوکل علی اللہ کے زمانے میں ذمیوں پر کچھ زیادتیوں کی مثالیں مل سکتی ہیں۔ لیکن ان کے پس پردہ ایک عنصر یہ تھا کہ اس وقت خود غیر مسلم،قائم حکومت کے خلاف سازشیں کرنے لگے تھے اور ایسی سازشیں ان کی عبادت گاہوں میں تیار ہوتی تھیں۔ بدیں

118

وجہ حکومت کو ان کا لباس مقرر کرنے اور ان کی نقل وحرکت پر نظررکھنے کی ضرورت پیش آئی۔ ورنہ خود متوکل علی اللہ بالکل آزادخیال شخص تھا اور مذہبی رواداری کا حامی بھی۔

وہ مزید لکھتے ہیں کہ:

’’عباسی حکومت میں مذہبی آزادی اس قدرزیادہ تھی کہ مانی کے پیروکار جنہیں اپنے وطن ایران میں جائے پناہ نہ مل سکی، بغداد میں آزادی سے اپنے خیالات کا پرچار کرتے تھے۔ نیز ہندوستان کے علماء، یہودی اورعیسائی مبلغ بھی اسلامی علاقوں میں کسی روک ٹوک کے بغیر اپنے مذاہب کی تشہیر کرتے تھے۔ بنو امیہ کے دور میں غیر مسلموں کو ریاست کے اعلیٰ عہدوں پر فائز کرلیاجاتاتھا۔ لیکن بنو عباس کے دور میں ایک غیر مسلم کو وزیراعظم مقرر کردیاگیا۔ محتشم کا وزیراعظم فضل بن مروان عیسائی تھا اور اس عہد میں بیت الحکمت، جس میں مختلف موضوعات کی کتابوں کاترجمہ ہوا،کا سارا نظم ونسق غیر مسلموں کے ہاتھوں میںتھا۔ بنو عباس کے دربار میں جبرائیل خاندان کو جو اہمیت حاصل تھی، وہ ایک معروف تاریخی واقعہ ہے۔‘‘

عبدالرحیم اپنی کتاب (Mohammadan jurisprudence )کے (طبع ۱۹۵۸ء ص۲۵۱) پر، (ردالمختار ج۳ص۳۱۹،۳۲۰)سے آنحضرت ﷺ کی ایک حدیث درج کرتاہے کہ ’’غیر مسلموں کو ان کے عقیدے پر چھوڑ دو‘‘ اسی قاعدے کی رو سے اس کے مطابق شافعیہ کا فتویٰ یہ ہے کہ اسلامی قانون غیر مسلم کی شراب نوشی میںمداخلت نہیں کرے گا جبکہ امام ابوحنیفہؒ کی رائے …قانون غیر مسلم کو شراب کی فروخت کا حق دیتاہے اورجو اسے ضائع کرے گا وہ تاوان ادا کرنے کا ذمہ دارہوگا۔ نیز اس کے مطابق قانون اسلامی ریاست کے مجوسی شہری کو ایسا رشتہ کرنے سے نہیں روکے گا جو اسلام کی نگاہ میں ممنوع ہو اور اگر بیوی نے درخواست دی تو عدالت اس کے خلاف بیوی کے نان نفقے کا حکم جاری کر دے گی۔‘‘

مولانامودودی اپنی کتاب’’اسلامی ریاست‘‘ میں لکھتے ہیں:

’’ذمی دو طرح کے ہوسکتے ہیں۔ ایک وہ جو اسلامی حکومت کا ذمہ قبول کرتے وقت کوئی معاہدہ کریں اوردوسرے وہ جو بغیرکسی معاہدے کے ذمہ میں داخل ہوں۔ پہلی قسم کے ذمیوں کے ساتھ تو وہی معاملہ کیاجائے گا جو معاہدے میں طے ہوا ہو۔ رہے دوسرے قسم کے ذمی تو ان کا ذمی ہونا ہی اس بات کو مستلزم ہے کہ ہم ان کی جان ومال اورآبرو کی اسی طرح حفاظت کرنے کے ذمہ دار ہیں جس طرح خود اپنی جان اورمال اورآبروکی کریںگے۔ ان کے قانونی حقوق وہی ہوں گے جو مسلمانوں کے ہوںگے۔ ان کے خون کی قیمت وہی ہوگی جو مسلمانوں کے خون کی ہے۔

119

ان کو اپنے مذہب پر عمل کرنے کی پوری آزادی ہوگی۔ ان کی عبادت گاہیں محفوظ رہیں گی۔ ان کو اپنی مذہبی تعلیم کا انتظام کرنے کا حق دیاجائے گا اوراسلامی تعلیم بجبر ان پر نہیں ٹھونسی جائے گی۔

(اسلامی ریاست ص۵۲۳)

قرآن کریم کی آیات، رسول ﷺ اورآپﷺ کے خلفاء کے معاہدوں اورتاریخ کے دوسرے مسلم خلفاء کے طرز عمل سے یہ عیاں ہے کہ اس دور میں غیرمسلموں کو وہ مراعات اورحقوق حاصل تھے، جو تاحال استعماری حکمرانوںنے کئی ممالک میں اپنی رعایا کو نہیں دیئے۔یہ حقیقت ہے کہ کئی ممالک نے ایسے حقوق اپنے شہریوںکو نہیںدیئے۔اپنے مذہب کوماننے اوراس پر عمل کرنے کے بارے میں غیر مسلموں کو کامل آزادی رہی اورمذہب کوماننے اوراس پرعمل کرنے کا حق فی الواقع بنیادی انسانی حق شمارکیاگیا۔

دین کے بارے میں اسلام کامل رواداری کا درس دیتاہے اور اس امر کو ہر انسان کے ضمیر پر چھوڑدیتا ہے کہ وہ چاہے تو اسلام قبول کرلے ۔ کسی قسم کے جبر کی اجازت نہیں دی گئی۔ جو چاہے ایمان لائے اور چاہے تو نہ لائے۔ یہاں تک کہ رسول اللہ ﷺ کو بھی عقیدے کے بارے میں مداخلت کا کوئی اختیار نہ تھا۔ آپ ﷺ کا فریضہ صرف اللہ کے پیغام کی دعوت دینا اور اس کی تعبیر و تشریح،نیز اہل ایمان کوجنت کی بشارت دینا اور کفار کو دوزخ کی خبردیناتھا۔(کیونکہ آپ ﷺ بشیر و نذیر بھی تھے)

تاہم یہ تمام دلائل غیر متعلق ہیں۔کیونکہ زیربحث قانون قادیانیوں کو اپنا عقیدہ بدلنے اور اسلام قبول کرنے پر مجبور نہیں کرتا۔ ان حالات میں مسٹر مجیب الرحمن نے شکایت کی کہ قادیانیوں پر اسلام کو اپنا دین ماننے پر پابندی لگا دی گئی ہے اور انہیں اذان،جو دین کا ایک حصہ ہے، کہنے کے حق اوراپنی عبادت گاہ کو مسجد کانام دینے سے محروم کر دیا گیاہے۔ لیکن نہ وہ مسلمان ہیں اور نہ ہی یہ امور اکراہ،جبر یادھمکی کے ان اصولوں کے تحت آتے ہیں جن پر آیات کااطلاق ہوتاہے۔ ان آیات کا اطلاق کسی اور دین کو چھوڑ کر اسلام قبول کرنے پر ہوتا ہے۔

مسٹر مجیب الرحمن نے قرآن کریم اورسنت کی رو سے معاہدات کی لازمی پابندی کرنے پر بحث کی۔ ان دلائل کا جائزہ لینا اس لئے ضروری نہیں کہ ’’اوفوابالعقود‘‘{معاہدے پورے کرو} اور’’اوفوابالعہد‘‘{عہد پوراکرو}کے واضح احکام اس مفروضے کی صحت میں کوئی شک نہیں رہنے دیتے۔ اس امر کی بہترین مثال معاہدہ حدیبیہ ہے۔ جس میں فریقین کے مابین طے شدہ شرائط میں سے ایک شرط یہ تھی کہ جو شخص مشرکین مکہ میں سے مسلمان ہوکر ان کی

120

اجازت کے بغیر مسلمانوںمیں شامل ہوگا، اسے اہل مکہ کی طرف لوٹا دیا جائے گا۔ کچھ ایسے واقعات رونما ہوئے کہ جن میں اہل مکہ کے جوروستم کاشکار ہونے والے مسلمان بچ نکلے اورمدینہ پہنچ گئے۔ لیکن معاہدہ کے احکام کی پابندی کرتے ہوئے آپ ﷺنے انہیں واپس لوٹ جانے کاحکم دے دیا۔

مسٹرمجیب الرحمن نے دلیل دی کہ قیام پاکستان کے وقت قائداعظم اور احمدیوں کے درمیان فی الواقع ایک عہد تھا اورقائداعظم کا پاکستان میں مسلمانوں اورغیر مسلموں کی کامل مساوات اور دوسرے امورکے علاوہ انہیں اپنے اپنے مذاہب کو ماننے اور ان پرعمل کرنے کی آزادی دینے کااعلان ایک ضمنی معاہدے یاضمانت کے مترادف تھا۔جسے ۱۹۷۳ء تک ملک کے مختلف دساتیر میں شامل یا ملحوظ رکھاگیاتھا۔ان دساتیر نے پاکستان کے تمام شہریوں کو اپنے مذاہب کو ماننے، ان پر عمل کرنے اورتبلیغ کرنے کے حق کی ضمانت دی تھی اور ۱۹۷۴ء تک قادیانیوں کو غیر مسلم قرار نہیں دیاتھا۔

ہمیں قادیانیوں اورقائداعظم کے درمیان ایسا کوئی معاہدہ نہیں دکھایاگیا کہ انہیں مسلمان سمجھاجائے گا اور نہ ہی قیام پاکستان یا قائداعظم کی زندگی میں یہ سوا ل اٹھاتھا۔ ۱۹۵۶ء ، ہمیں قادیانیوں اورقائداعظم کے درمیان ایسا کوئی معاہدہ نہیں دکھایاگیا کہ انہیں مسلمان سمجھاجائے گا اور نہ ہی قیام پاکستان یا قائداعظم کی زندگی میں یہ سوا ل اٹھاتھا۔ ۱۹۵۶ء ، ۱۹۶۲ء کے دساتیر یا ۱۹۷۳ء کے اصل دستور کا کوئی سہارا نہیں لیا جاسکتا۔کیونکہ قادیانیوں کو ایک ایسی دستوری ترمیم کے ذریعے غیر مسلم قراردیاتھا۔ جو بالاتفاق منظور ہوئی تھی اور جو مسلمانوں کے مسلسل احتجاجات کا نتیجہ تھی۔ یوں قادیانیوں کوغیرمسلم قراردے دیاگیا۔

اس آرڈیننس کے نفاذ کی ضرورت کوسمجھنے کے لئے یہ ضروری ہوگا کہ ۱۹۷۴ء کی اس آئینی ترمیم کے اثرات کاجائزہ لیاجائے جس کے ذریعے قادیانیوں کو غیر مسلم قرار دیاگیاتھا۔ مسٹر مجیب الرحمن نے اس رائے کا پرجوش اظہارکیا کہ آئین نے قادیانیوں کو صرف غیر مسلم قرار دیاہے اور ان پر خود کوغیر مسلم ہونے کی حیثیت سے کوئی ذمہ داری عائدنہیںکی۔ہم نے ان سے یہ استفسار کیا کہ کیا پاکستان کے قادیانی شہریوں پر آئین کی پابندی لازمی ہے یا نہیں۔ انہوں نے تسلیم کیا کہ ان پر اس کی پابندی لازمی ہے۔

اسی تسلیم سے یہ نتیجہ اخذ ہوتاہے کہ اعلان کے مطابق قادیانی اس امر کے پابندہیں کہ وہ آئین اورقانون کی رو سے غیر مسلم ہیں۔ وہ انتخابات میں قومی اورصوبائی اسمبلیوں کے لئے ان نشستوں سے بطورامیدوارکھڑے ہو سکتے ہیں۔ جو غیر مسلموں کے لئے مخصوص ہیں۔ ایسے مقدمات جن میں عقیدے کا مسئلہ درپیش ہو، انہیں لازماً اپنے آپ کوغیر مسلم کہناہوگا۔ اپنے

121

مسلمان ہونے کے مفروضے کی بنیاد پر وہ کسی بھی قانونی حق کا دعویٰ نہیں کر سکتے۔ اس پٹیشن پر بحث کے دوران ان کا خود کو مسلمان کہنے پراصرار واضح طور پر غیر آئینی ہے۔

دفعہ۲۶۰(۳)قادیانیوں کو آئین اورقانون کے مقاصد کے لئے غیر مسلم قرار دیتی ہے۔ دفعہ(۲۰) پاکستان کے شہریوں کو دیگر امور کے علاوہ اپنے مذہب کو ماننے کے حق کی ضمانت دیتی ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ یہ دفعہ آئین کی دوسری دفعات کے تابع ہے۔ اس نکتے کو مسٹر مجیب الرحمن نے تسلیم کیاتھا۔ آئین کی دفعہ ۲۶۰(۳) کے ساتھ ملا کر پڑھتے ہوئے دفعہ (۲۰) کی مندرجہ بالا عبارت کا مطلب یہ ہوگا کہ قادیانی یہ اعلان کرسکتے ہیں کہ وہ اللہ تعالیٰ کی توحید اور یا مرزاصاحب کی نبوت کا عقیدہ رکھتے ہیں۔ لیکن خود کے مسلمان ہونے اور اپنے دین کے اسلام ہونے کا اعلان نہیں کرسکتے۔ مختصر حکم میں نادانستہ طورپر کچھ آراء درکر آئی تھیں۔ لیکن اس جامع فیصلے میں مؤقف پوری طرح واضح کردیاگیاہے۔ اس لئے اس بات پر زور دینا درست نہیں ہے کہ آئین انہیں اپنے آپ کو غیر مسلم کہنے پر مجبور نہیں کرتا۔

اس بارے میں ساری دقت قادیانیوں کے اس رویے کی بناء پر پیداہوئی کہ وہ خود کو مسلمان یا اپنے عقیدے کو اسلام نہ کہنے کے پابند ہونے کے باوجود اپنے آپ کو مسلمان کہنے اور اپنے پروپیگنڈے اورتبلیغ کو اسلام کے نام پر جاری رکھنے پراڑے رہے۔ انہیں خود کو براہ راست یا بالواسطہ مسلمان ظاہر کرنے سے مجتنب رہناچاہئے تھا۔لیکن وہ ڈھٹائی کے ساتھ اپنے مخالف طرز عمل سے مسلم امت کاصبر و ضبط آزمانے پر جمے رہے۔

ایسے القاب جو رسول اللہ ﷺ کے صحابہؓ، آپ ﷺ کی بیویوں اور افراد خاندان کے لئے مخصوص ہیں، کے استعمال پر پابندی لگانے کی ایک وجہ یہ ہے کہ ان کو استعمال کرکے قادیانی اپنے آپ کو بالواسطہ مسلمان ظاہر کرتے ہیں۔ ام المومنین(مسلمانوں کی ماں) امیر المومنین،خلیفۃ المسلمین،خلیفۃ المومنین( سب امت مسلمہ کے سربراہ، یا حاکم اعلیٰ کے لئے ہیں) کے القاب مؤمنین اورمسلمین کے الفاظ پر مشتمل ہیں اورلوگوں کو یہ دھوکہ دے سکتے ہیں کہ ان کے حاملین مسلمان ہیں یا خود کومسلمان پکارتے ہیں۔ ’’رضی اللہ عنہ‘‘کی ترکیب قرآن کریم میں رسول اللہﷺ کے صحابہ یازیادہ سے زیادہ مسلمانوں کے لئے بطور دعا استعمال ہوئی ہے۔

’’صحابی‘‘ اور ’’اہل بیت‘‘ کے کلمات مسلمان علی الترتیب رسول اللہ ﷺ کے ساتھیوں اور آپ ﷺ کے خاندان کے افراد جو سب بلاشبہ بہترین مسلمان تھے، کے لئے استعمال کرتے ہیں۔ مرزاصاحب کے ساتھیوں اور ان کے خاندان کے افراد کے لئے ایسی اصطلاحات کے

122

استعمال کا معنی یہ ہے کہ قادیانی اپنے آپ کو مسلمان ظاہر کرتے ہیں۔دوسرا نکتہ بھی وزنی ہے کہ مسلمانوں کے نزدیک قادیانیوں کا مرزاصاحب کی بیوی، افراد خاندان، ساتھیوں اور جانشینوں کے لئے ایسی مقدس اصطلاحات کا استعمال ان کی بے حرمتی کے مترادف ہے۔ اسی طرح اذان کہنا اورعبادت گاہ کو مسجد کا نام دینا اس بات کی پختہ علامت ہے کہ اذان پڑھنے والا یا مسجد میں مجتمع یا نماز پڑھنے والے اشخاص مسلمان ہیں۔

ان القاب اوراوصاف کے استعمال کی ممانعت کی دفعات سے آئینی دفعہ کا نفاذ ہوتا ہے اور اس آرڈی ننس میں اسی اصول کا اعادہ کیا گیاہے کہ قادیانی کسی بھی طریقے سے براہ راست یا بالواسطہ اپنے آپ کو مسلمان کہلا یا ظاہر نہیں کرسکتے۔

مذہب کی تبلیغ پر پابندی کا محرک بھی اسی طرح کی سوچ ہے۔ قادیانیوں نے خود کو مسلمان کہنے اورمسلمانوں کو یہ تسلی دینے، کہ احمدیت کو ماننے کا معنی اسلام کو ترک کرنا یا ایمان کے بدلے کفر کو اختیار کرنا نہیں۔ بلکہ بہتر مسلمان بننے کا موقع ہے،کی حکمت عملی کی بدولت ان میں اور زیادہ تر پنجاب میںکچھ کامیابی حاصل کی۔ا س مقصد کے لئے وہ تعلیم یافتہ مسلمانوں کے دلوں میں سخت فرقہ واریت اور علماء کی مسلسل شدت کے خلاف موجود نفرت کے روایتی سروں کو چھیڑتے ہیں اور انہیں اپنی تبلیغ جسے وہ اسلام میں آزاد خیالی قرار دیتے ہیں، کی جانب راغب کرتے ہیں۔ یہ حکمت عملی جس نے انہیں کچھ فائدہ دیا ہے، اس سوداگر کے اس فراڈ سے گہری مماثلت رکھتی ہے جو اپنے گھٹیا سامان کو ایک شہرت یافتہ فرم کا اعلیٰ قسم کا معروف سامان ظاہر کرکے چلتا کرتاہے۔ قادیانی یہ تسلیم کرلیںکہ ان کی تبلیغ اسلام کے لئے نہیں بلکہ کسی اورمذہب کی طرف ہے۔ تو بے خبر مسلمان بھی اپنے ایمان کوچھوڑ کر کفر قبول کرنے سے نفرت کریںگے۔ بلکہ الٹا قادیانیوں کے دلوں سے احمدیت کا طلسم ٹوٹ جائے گا۔

ہم پروفیسر طاہر القادری کی اس رائے سے متفق ہیں کہ اگر قادیانی آئینی دفعات کی پابندی کرتے تو اس آرڈی ننس کے نفاذ کی ضرورت ہی پیش نہ آتی۔ مذہب کی تبلیغ پر پابندی لگانے کی ایک وجہ یہ بھی ہے۔

ایک دوسری اہم وجہ یہ تھی کہ قادیانی اپنے آپ کو مسلمان ظاہر کرکے جس مسلمان سے ملتے اسے اپنے مذہب کی تبلیغ کرنے کی کوشش کرتے اور مرزاصاحب کو نبی کہہ کر اس کے جذبات کی سخت توہین کرتے۔ کیونکہ تمام مسلمان حضرت محمدﷺ کی ختم نبوت کا عقیدہ رکھتے ہیں۔

اس سے مسلمانوں میں سخت غم وغصہ اورمنافرت کے جذبات جنم لیتے۔ جن کے نتیجے

123

اس سے مسلمانوں میں سخت غم وغصہ اورمنافرت کے جذبات جنم لیتے۔ جن کے نتیجے میں امن وامان کا مسئلہ پیدا ہوجاتاتھا۔ ان کے مسیح موعود اورمہدی کے دعوے پر جذبات سخت مشتعل ہوئے تھے۔ یہ خالی دعوے نہیں بلکہ قادیانیت کی تاریخ اورخود مرزاصاحب کی کتابوں سے واضح ہوتاہے کہ انہیں نہ صرف علماء بلکہ عام مسلمانوں کے ہاتھوں سخت عداوت کا سامنا کرناپڑا۔ اس لئے ان کی تحریروں میں اپنے مخالفین کے لئے سخت بیہودہ اورغیر مہذب زبان استعمال کی گئی ہے۔ ایسے واقعات بھی ہوئے جن میں اجتماعی احتجاجات کئے گئے۔ مثال کے طور پر عبدالقادر کی (کتاب حیات طیبہ ص۱۲۱،۱۲۷،۱۴۰)دیکھئے۔مرزاصاحب کی اکثر تحریریں اپنے مخالفوں کے لئے بددعاؤں اور سخت کلامی سے پر ہیں۔ انہوں نے خود بھی ان سے مسلمانوں کی عمومی عداوت کا ذکر کیا ہے۔(حمامۃ البشریٰ ص۷، خزائن ج۷ص۱۸۳،ازالہ اوہام ص۱۱،خزائن ج۳ص۱۰۸حاشیہ، حمامتہ البشریٰ ص۹، خزائن ج۷ ص۱۸۴)پرانہوں نے لکھا:

’’پس یہی وہ دعویٰ ہے جس پر میری قوم(غیر احمدی مسلمان ) مجھ سے لڑتی ہے اور وہ مجھے مرتد سمجھتے ہیں اور وہ زور سے بولتے ہیں اور’’ملھم‘‘حقیقی کا کوئی احترام بجا نہیں لاتے۔ انہوں نے کہا کہ وہ کافر، کذاب اوردجال ہے۔ اگر انہیں حکام کی تلوار کا خوف نہ ہوتا تو وہ میرے قتل کے درپے تھے۔‘‘

مرزاصاحب کے کچھ واقعات سے صدمے اورطوفان کی ایسی لہر اٹھی کہ وہ ان کے مریدوں میں زلزلوں کے نام سے یاد کئے جاتے ہیں۔ سیرت المہدی کے مؤلف کی دی ہوئی تعداد کے مطابق ایسے زلزلے پانچ تھے:

۱… پہلا طوفان عظیم جس نے احمدیت کو ہلاکر رکھ دیا وہ مرزاصاحب کی اس پیش گوئی کے بعد کہ اسی حمل کے دوران پسر موعود پیداہوگا،۱۸۸۶ء میں لڑکی کی پیدائش تھی۔

۲… دوسرا طوفان اس لڑکے کی وفات پر اٹھا جو اس لڑکی کے بعد پیداہوا تھا۔

۳… تیسرا صدمہ جس نے ہندوستان کے مسلمانوں کو متزلزل کردیا وہ مسیح موعود اور مہدی معہود ہونے کا دعویٰ تھا۔

۴… چوتھا طوفان آتھم کی موت کے بارے میں پیش گوئی کے پورا نہ ہونے پراٹھا۔

۵… پانچواں زلزلہ مرزاصاحب کا انتقال تھامولوی ثناء اللہ کی وفات سے بہت پہلے اور وہ بھی ایک مہلک بیماری سے جو ہیضہ بتائی گئی تھی اور پھر ایسی موت جو مرزاصاحب کے لئے ایک وضع کردہ اصول کے مطابق بارگاہ الٰہی سے مردود اوراس پر افتراء کرنے والوں کے لئے ہی مخصوص ہے۔‘‘

(سیرت المہدی ج۱،ص۱۰۶،۱۰۸، ۱۱۶)

124

اس تعداد کی بنیاد بھی مرزاصاحب کی ایک پیش گوئی پررکھی گئی ہے۔ جس میں انہوں نے پانچ زلزلوں کی پیش گوئی کی تھی۔ لیکن اگر اس پیش گوئی کے مفہوم کے مطابق ان واقعات میں سے ہر واقعہ کو ایک زلزلہ شمار کیا جائے تو یہ فہرست یقینا ناقص ہے۔ محمدی بیگم سے شادی میں ناکامی پر مرزاصاحب کو جس تمسخر کا سامناکرناپڑا وہ علم الزلازل کی رو سے بہت لمبے عرصے اور مسلسل طوفانوں پر مشتمل تھا۔ اسی طرح نبوت کا دعویٰ کرنے پر مرزاصاحب جس مخالفت اورعداوت کا نشانہ بنے اس کی نوعیت ایسی تھی کہ آج تک اس کی شدت کم نہیں ہوئی۔

پہلے،دوسرے،چوتھے، پانچویں زلزلے اورمحمدی بیگم کے واقعہ نے مرزاصاحب کو مسلمانوں، عیسائیوں اورہندوؤں میں یکساں طور پر ہنسی، مذاق اورنفرت کا نشانہ بنادیا۔ ۱۸۹۱ء میںمسیح موعود، مہدی معہود نیز نبی یا رسول اللہ ﷺ کا بروز ہونے کے دعوؤں نے عامۃ المسلمین، علماء دین او ر دانشور طبقے میں یکساں طورپر عداوت غم وغصے اور ملامت و مذمت کا لامتناہی سلسلہ پیدا کردیا۔

(دیکھئے سیرت المہدی ج۱ص۱۰۶،۱۰۸،ج ۲ص۸۷، ۴۴، ۶۴،ج۳ص۱۱۳)

یہ ان کی زندگی میں مسلمانوں کے بار بار رونما ہونے والے سخت ترین اشتعال کی ایک تصویر ہے۔ قیام پاکستان کے بعد ۱۹۵۳ء کے مارشل لاء کا نفاذ، منیر انکوائری کمیٹی کی تشکیل اور ۱۹۷۴ء کی آئینی ترمیم یہ سب مسلمانوں کے سخت اشتعال، احتجاج، جھنجھلاہٹ اورغم وغصے کو ثابت کرتے ہیں۔ مجموعہ ضابطہ فوجداری پاکستان کی دفعہ ۲۹۸ سی مسلمانوں کے جذبات کو مجروح کرنے کی ممانعت کرتی ہے اور یہ خود ان امور پر مسلمانوں کے اضطراب اورغم وغصے کا ثبوت ہے جنہیں آخرکار آرڈی ننس نے ممنوع قرار دے دیاہے۔

مسلمان ام المومنین، اہل بیت، صحابی، امیر المومنین، خلیفۃ المومنین، خلیفۃ المسلمین کی اصطلاحات صرف علی الترتیب رسول اللہ ﷺ کی ازواج مطہرات، افراد خاندان، ساتھیوں اور آپ ﷺ کے صالح خلفاء ہی کے لئے استعمال کرتے رہے۔ مسلمانوں کے نزدیک یہ اصطلاحات صرف ان عظیم شخصیات اور رسول کریم ﷺ کی صحبت ورفاقت سے مشرف ہونے والے اشخاص کے لئے مخصوص ہیں۔ لیکن قادیانی انہیں مرزاصاحب کی بیوی، خاندان اور ساتھیوں کے لئے، جنہیں غیر مسلم قرار دیا جاچکاہے، استعمال کرتے ہیں۔ اس امر کومسلمانوں نے ہمیشہ برا منایاہے۔ اسی بناء پر آرڈی ننس نے ایسی اصطلاحات کے استعمال کو فوجداری جرم قرار دیاہے۔

امہات المومنین، ام المومنین اورازواج مطہرات کے کلمات صرف رسول اللہ ﷺ کی

125

بیویوں کے لئے مخصوص ہیں اور ان کے مخصوص استعمال پر خود قرآن کریم کا ارشاد موجود ہے۔ قرآن کریم کی آیت ۳۳؍۶ میں آنحضرت ﷺ کی بیویوں کی شان میں ارشاد ہوتاہے:

’’وازواجہ امہاتم‘‘{اوراس کی بیویاں ان کی مائیں ہیں۔}

اسی طرح متعدد ایسی احادیث موجود ہیں جن میں پیغمبرؐ کی ہر بیوی کو ام المومنین(مؤمنوں کی ماں) کہاگیاہے۔ ہر مسلمان کی حقیقی ماں، سوتیلی ماں(دیکھئے آیت ۴؍۲۳)کے علاوہ وہ بھی مسلمانوں کی مائیں ہیں۔ اس تعلق کی وجہ اولاً دوسری تمام خواتین پر پیغمبر ﷺ کی بیویوں کی فضلیت و تفوق ہے اورثانیاً آپ ﷺ کے بعد آپ ﷺ کی کسی بیوی سے نکاح کرنے کی ممانعت ہے۔

سورئہ الاحزاب کی آیت ۳۲ میں ارشاد ہوتاہے:

’’ینساء النبی لستنّ کاحد من النساء‘‘{اے نبی کی بیویو! تم عام عورتوں کی مانند نہیں ہو۔}

نیز اس سے قبل آیت ۳۰ میں فرمایا:

’’ینساء النبی من یات منکن بفاحشۃ مبینۃ یضٰعف لھا العذاب ضعفین، وکان ذلک علی اللہ یسیرا‘‘{اے نبی کی بیویو! تم میں سے جو کسی کھلی بے حیائی کی مرتکب ہوگی تو اس کے لئے دوگناعذاب ہے اور یہ بات اللہ کے لئے آسان ہے۔}

یہ دونوں آیات اس حقیقت کو واضح کرتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کی بیویاں دوسری خواتین کی مانند نہیں ہیں۔ انہیں ام المومنین یا ازواج مطہرات کا خطاب دینے کی ایک وجہ یہی ہے۔ یہ امر بھی ملحوظ رہے کہ اس اصول کی بناء پر اللہ کے رسول کی وراثت امت کو ملتی ہے۔ رسول اللہ ﷺ کی بیویوں کو کوئی وراثت نہیں ملی تھی۔ یوں وہ اپنے گزارے کے لئے کسی ذریعہ آمدن سے محروم ہوگئیں۔ آپ ﷺ کی زندگی میں بھی انہوں نے نہایت غربت میںگزارہ کیا۔ اس کے باوجود اگر ان کے پاس کوئی پونجی ہوتی یاگھر میں کھانے کی کوئی چیز میسر آجاتی تو وہ اسے اپنے استعمال میں لانے کی بجائے کسی محتاج کو صدقہ کردیتیں۔

ایک دفعہ انہوں نے کچھ مطالبات کئے تو اللہ تعالیٰ کی بارگاہ سے فوراً یہ تنبیہ نازل ہوئی کہ یا تو تم پیغمبر ﷺ کی معیت میں روکھی سوکھی زندگی گزارتی رہو یا تمہیں دنیا کا سامان دے دلا کر رخصت کر دیاجائے گا۔ (آیت ۳۳؍۲۸) تاہم انہوں نے رسول اکرم ﷺ کی مبارک رفاقت کو اختیار کیا۔ آپ ﷺ کی ان ازواج مطہرات میں سے کچھ ایسی بھی تھیں جو متمول خاندانوں سے

126

آئی تھیں اورخوشحالی دیکھ چکی تھیں۔ مثلاً حضرت سودہؓ، حضرت صفیہؓ، حضرت جویریہؓ، حضرت ام حبیبہؓ۔ لیکن انہوں نے بھی فقر وفاقہ کی زندگی کو پیغمبر اسلام ﷺ سے الگ ہونے پر ترجیح دی۔ ان عظیم شخصیات کا کسی بھی دوسری عورت سے موازنہ کرنا اوران کے خطاب کو کسی دوسری عورت پر منطبق کرنا ناممکن ہے۔

ایک اوراصطلاح جس کے استعمال سے قادیانیوں کو روک دیاگیاہے۔’’اہل بیت‘‘ ہے۔ یہ حضرت رسول اکرم ﷺ کے خاندان کے افراد کے لئے مستعمل ہے۔ سورہ ہود کی آیت ۷۳ میں ارشاد ہوا:’’رحمت اللہ وبرکاتہ علیکم اھل البیت‘‘{اللہ کی رحمت اوربرکتیں نازل ہوں آپ پر اے گھر والو!}

سورۃ الاحزاب کی آیت ۳۳ میں ارشاد ہوا:

’’انما یرید اللہ لیذھب عنکم الرجس اھل البیت ویطھرّکم تطھیرا‘‘ {اے نبی کے گھر والو!اللہ تو بس یہ چاہتاہے کہ تم سے آلودگی کو دور کرے اورتمہیں خوب پاک کر دے۔}

ان ارشادات سے اہل بیت رسالت کو اس امر سے آگاہ کرنا مقصود ہے کہ انہیں ہر قسم کے گناہوں اورمعصیت سے اجتناب کرنا چاہئے اوراپنے عقیدے،عمل اورمعاملات میں تقویٰ اور طہارت کے اعلیٰ معیار کا پابند رہناچاہئے۔

قرآن کریم اس امر کی صراحت کرتاہے کہ خاندان رسالت کے تمام افراد ان صفات و محامد سے متصف تھے۔ بصورت دیگر نوح علیہ السلام کے بیٹے کو بھی ان کے اہل بیت سے خارج قرار دیا گیاتھا۔کیونکہ اس نے کفر کو اختیار کرلیاتھا اوراحکام الٰہیہ کا منکرتھا۔ سورئہ ہود کی ان آیات کو پڑھئے:

’’وناد نوح ربہ فقال رب ان ابنی من اھلی وان وعدک الحق وانت احکم الحٰکمین، قال یٰنوح انہ لیس من اہلک، انہ عمل غیر صالح فلا تسئلن مالیس لک بہ علم انی اعظک ان تکون من الجٰھلین (ہود:۵۴،۶۴)‘‘{اور نوح نے اپنے رب کو پکارا اورکہا اے میرے پروردگار!میرا بیٹا تو میرے اہل میں سے ہے اورتیرا وعدہ پکا ہے اور تو تمام فیصلہ کرنے والوں سے بڑھ کر فیصلہ کرنے والا ہے۔ فرمایا اے نوح !وہ تمہارے اہل میں سے نہیںہے۔ وہ نہایت نابکار ہے۔ پس مجھ سے اس چیز کے لئے درخواست نہ کرو جس کے بارے میں تمہیں کچھ علم نہیں اورمیں تجھے نصیحت کرتاہوں کہ تم جاہلوں میں سے نہ بنو۔}

127

اہل بیت کی اصطلاح بھی جیسا کہ کئی احادیث سے واضح ہوتاہے، حضرت رسول اللہﷺ کے خاندان کے افراد کے لئے مخصوص ہے۔ ایسے اشخاص جو مسلمان نہیں ہیں یا جو مسلمان نہیں تھے ان کو اس نام سے نہیں پکارا جا سکتا۔ قادیانیوں کی طرف سے مرزاصاحب کے افراد خاندان کے لئے ایسے نام کا استعمال زخموں پر نمک چھڑکنے کے مترادف ہے۔ وہ اوصاف جن سے رسول اللہﷺ کے افراد خاندان متصف تھے۔ وہ کسی اور شخص میں موجود نہیں ہو سکتے۔ اس لئے یہ کوئی حیرت کی بات نہیں کہ مسلمانوں نے اس توہین کا برامنایا۔ اس اصطلاح کے استعمال سے امن وامان کا مسئلہ پیداہوتاہے۔ لہٰذا یہ امت کے مفاد میں تھا کہ اس کے استعمال کو فوجداری جرم قرار دے کر قادیانیوں کو اس کے استعمال سے منع کردیاجائے۔

’’رضی اللہ عنہ‘‘ کا معنی ہے’’اللہ اس سے راضی ہوا۔‘‘ قرآن کریم میں ان لوگوں کے بارے میں کافی رہنمائی موجود ہے۔ جن کے لئے یہ وصف استعمال ہو سکتاہے۔ ذیل میں متعلقہ آیات درج کی جاتی ہیں:

’’والسابقون الاولون من المہاجرین والانصار والذین اتبعوھم باحسان رضی اللہ عنھم ورضواعنہ واعدلھم جنت تجری تحتھا الانحٰر خٰلدین فیھا ابدا ذلک الفوز العظیم (التوبہ:۱۰۰)‘‘{اور مہاجرین اور انصار میں سے جو سب سے پہلے سبقت کرنے والے ہیں اور پھر جن لوگوں نے خوبی کے ساتھ ان کی پیروی کی ہے۔ اللہ ان سے راضی ہوا، ا ور وہ اس سے راضی ہوئے اور اس نے ان کے لئے ایسے باغ تیار کر رکھے ہیں جن کے نیچے نہریں بہتی ہوںگی۔ ان میں یہ ہمیشہ ہمیشہ رہیں گے اوربڑی کامیابی یہی ہے۔}

’’لقد رضی اللہ عن المؤمنین اذیبا یعونک تحت الشجرۃ فعلم مافی قلوبھم فانزل السکینۃ علیھم واثابھم فتحاقریبا (الفتح:۱۸)‘‘{اللہ راضی ہوا ایمان والوں سے جبکہ وہ تم سے بیعت کر رہے تھے درخت کے نیچے۔ تو اللہ نے ان کے دلوں کا حال جان لیا تو اتاری ان پر طمانیت اور ان کو ایک عنقریب ظاہر ہونے والی فتح سے نوازا۔}

’’لاتجد قوما یؤمنون باللہ والیوم الاٰخریوادون من حاد اللہ ورسولہ ولوکانوا ابائھم اوابنائہم اواخوانھم اوعشیرتھم‘‘تم کوئی ایسی قوم نہیں پا سکتے جو اللہ اور روز آخرت پر ایمان رکھتی ہو اور وہ دوستی رکھے ان سے جو اللہ اور اس کے رسول سے برسر مخالفت ہوں اگرچہ وہ ان کے باپ یا ان کے بیٹے یا ان کے بھائی یا اہل کنبہ ہی

128

کیوں نہ ہوں۔

’’اولئک کتب فی قلوبھم الایمان وایّدھم بروح منہ، ویدخلھم جنت تجری من تحتھاالانحٰر خلدین فیھا، رضی اللہ عنھم ورضواعنہ، اولئک حزب اللہ، الاانّ حزب اللہھم المفلحون (مجادلۃ:۲۲)‘‘{یہی لوگ ہیں جن کے دلوں میں اللہ نے ایمان ثبت فرما دیا ہے اوراپنی طرف سے ایک فیضان خاص سے ان کی تائید فرمائی ہے اور ان کو داخل کرے گا ایسے باغوں میں جن کے نیچے نہریں جاری ہوںگی۔ وہ ان میں ہمیشہ رہیں گے۔ اللہ ان سے راضی ہوا اور وہ اللہسے راضی ہوئے۔ یہی لوگ اللہ کی پارٹی ہیں۔ سن رکھو کہ اللہ کی پارٹی ہی فلاح پانے والی ہے۔}

ان آیات سے واضح ہوتاہے کہ اللہ تعالیٰ نے یہ بشارت صرف رسول اللہ ﷺ کے صحابہ کو دی یا مومنین کو۔ غیر مسلموں کے لئے جن سے اللہ تعالیٰ ہرگز راضی نہیں ہوسکتا۔رضی اللہ عنہ کی صفت استعمال نہیں کی جاسکتی۔ مرتد اور کافر اس بشارت میں شریک نہیں ہو سکتے۔ ان کے لئے خبر یہ ہے کہ وہ جنت میں نہیں بلکہ دوزخ میں رہیں گے۔ ان حالات میں کوئی ایساقاعدہ وضع کرنا ممکن نہیں جس کی رو سے مرتدین بھی اسے استعمال کرسکیں۔ اسلام کا مسلمہ ضابطہ یہ ہے کہ خواہ مسلمان کفار کے لئے دعائے مغفرت کرتے رہیں۔اللہ انہیں ہرگز معاف نہیں کرے گا درج ذیل آیات ملاحظہ کیجئے:

’’استغفرلھم اولاتستغفرلھم، ان تستغفرلھم سبعین مرۃ فلن یغفراللہ لھم، ذلک بانھم کفروا باللہ ورسولہ، واللہ لایھدی القوم الفٰسقین (توبہ:۸۰)‘‘{تم ان کے لئے مغفرت چاہو یا نہ چاہو اگر تم ان کے لئے ستر بار بھی مغفرت چاہو گے تو بھی اللہ ان کو بخشنے والا نہیں۔ یہ اس وجہ سے کہ انہوں نے اللہ اور اس کے رسول کا انکار کیا اور اللہ نافرمانوں کو راہ یاب نہیںکرتا۔}

’’سواء علیھم استغفرت لھم ام لم تستغفرلھم، لن یغفراللہ لھم، ان اللہ لایھدی القوم الفٰسقین (المنافقون:۶)‘‘{ان کے لئے یکساں ہے،تم ان کے لئے مغفرت مانگو یا نہ مانگو اللہ ان کو ہرگز معاف نہیں کرے گا۔ بیشک اللہ نافرمانوں کوراہ یاب نہیں کرتا۔}

’’وماکان استغفار ابراہیم لابیہ الاعن موعدۃ وعدھا ایّاہ، فلمّا تبیّن لہ انہ عدوﷲ تبرّا منہ، ان ابراہیم لاوّاہ حلیم (توبہ:۱۱۴)‘‘اور ابراہیم

129

علیہ السلام کا اپنے باپ کے لئے مغفرت مانگنا صرف اس وعدے کے سبب سے تھا جو اس نے اس سے کر لیاتھا۔ پھر جب اس پر واضح ہوگیاکہ وہ اللہ کا دشمن ہے۔ تو اس نے اس سے اعلان برأت کردیا۔ بیشک ابراہیم علیہ السلام بڑا ہی نرم دل اوربردبار تھا۔

یہ آیات اس امر کی صراحت کرتی ہیںکہ وہ لوگ جنہیں معاف نہیںکیا جائے گا۔ وہ یہ امید نہیں رکھ سکتے کہ اللہ تعالیٰ ان سے راضی ہو جائے گا۔

مسٹر مجیب الرحمن نے ہمیں کئی ایسی کتابیں دکھائیں جن میں صوفیاء اوردوسرے مسلمانوں کے لئے اس وصف کا استعمال کیاگیاتھا۔ لیکن یہ بات ان کے لئے مفید مطلب نہیں ہوسکتی۔ کیونکہ جیسا کہ پہلے بیان ہو چکا ہے کہ مومنین کے لئے اس کا استعمال جائز ہے۔ اس امر کی تردید نہیں کی گئی کہ غیر مسلموںنے اس صفت کو استعمال نہیں کیا۔ یہ ان کے دلائل کا مسکت جواب ہے۔

ایک اورمتنازعہ اصطلاح ’’صحابی‘‘ ہے۔ یہ لفظ مسلمہ طور پر صرف رسول اللہ ﷺ کے ساتھیوں کے لئے استعمال کیاگیاہے اورغیر مسلموں کے لئے استعمال نہیں ہوا۔ لیکن قادیانیوں نے اسے مرزاصاحب کے ساتھیوں کے لئے استعمال کیاہے۔

علامہ سخاویؒ نے اس اصطلاح کے یہ معنی لکھے ہیں’’ابوالحسینؒ معتمد‘‘ میں لکھتا ہے کہ صحابی وہ شخص ہے جس نے ایمان کی حالت میں رسول اللہ ﷺ کی طویل صحبت پائی ہو اور ان سے علم سیکھا ہو۔‘‘

(فتح المغیث ص۳۷۱)

اس لئے صحابہ وہ خوش نصیب انسان ہے۔ جو ایمان کی حالت میں رسول ﷺ کی صحبت سے مشرف ہواہو اور ایمان ہی کی حالت میں فوت ہواہو(دیکھئے ملخص اصابہ جلد ۱ص۱۹ اور اسد الغابہ جلد ۱صفحات ۱۸،۱۹)ایک ایسا شخص جسے جھوٹا نبی قرار دیاگیاہو، کی صحبت اختیار کرنے والے شخص پر اس مخصوص اورفنی اصطلاح کا استعمال نہیں کیاجاسکتا۔

رسول اللہ ﷺ کا یہ ارشاد گرامی قابل توجہ ہے:

’’خیرالقرون قرنی ثم الذین یلونھم ثم الذین یلونھم‘‘

یہ حدیث ان تین نسلوں کا تذکرہ کرتی ہے۔ جنہیں صحابہ، تابعین اورتبع تابعین کے نام سے یاد کیا جاتاہے۔ اس حدیث یہ بھی واضح ہے کہ صحابہ وہ ہیں جنہوں نے رسول ﷺ کی صحبت پائی۔ تابعین وہ ہیں جو صحابہ کے بعد ہوئے اورانہوں نے رسول کریم ﷺ کی زیارت نہیں کی اور تبع تابعین وہ لوگ ہیں۔ جو تابعین کے بعد ہوئے۔ کسی شخص کے صحابی ہونے کے لئے اہم

130

امر یاشرط یہ ہے کہ اس نے رسول کریم ﷺ کی زیارت کی ہو اوریہ زیارت بھی اس نے مومن ہونے کی حالت میں کی ہو اورپھر ایمان ہی کی حالت میں اس کی موت واقع ہوئی ہو،نہ کہ کفر کی حالت میں۔

دوسری اصطلاحات امیر المومنین، خلیفۃ المسلمین اورخلیفۃ المومنین ہیں۔ یہ تینوں اصطلاحات جن میں مومنین اورمسلمین کے الفاظ موجود ہیں، واضح طور پر مسلمانوں ہی کے لئے مخصوص ہیں۔ اعلیٰ ترین منصب پرفائز شخص، خواہ وہ صدر کہلاتا ہو یا وزیراعظم، بادشاہ، خلیفۃ المومنین،خلیفۃ المسلمین یا امیرالمومنین کے نام سے موسوم ہو،کی معروف شرط یہ ہے کہ اسے مسلمان ہونا چاہئے۔

حضرت ابوبکرصدیقؓ نے خلیفۃ رسول اللہ کا لقب اختیارکیا۔ اگرچہ ہر انسان خلیفۃ اللہ (زمین میں اللہ تعالیٰ کا نائب)ہے۔ لیکن حضرت ابوبکرؓ نے صرف خلیفۃ رسول اللہ کا لقب اختیار فرمایا۔ جب خلیفہ ثانی نے زمام خلافت سنبھالی تو ان کا خیال تھا کہ وہ خلیفۃ خلیفۃ رسول اللہ یعنی رسول اللہ ﷺ کے خلیفے کے خلیفہ کہلائیںگے۔ لیکن محسوس ہوا کہ اگر ہر نئے حکمران کے لئے خلیفہ کا لفظ بڑھتا چلا گیا تو یہ بہت طویل ہو جائے گا۔اس لئے حضرت عمرؓ نے امیرالمومنین کا لقب اختیار کرلیا۔

(اسلام کا نظام حکومت صفحات ۲۴۴،۲۴۵)

اس لئے امیر المومنین یاخلیفۃ المسلمین یا خلیفۃ المومنین کے القاب صرف مسلمانوں کے سربراہان کے لئے مستعمل ومخصوص ہیں۔ کوئی مسلمان پسند نہیں کرے گاکہ ایسے لوگ جو غیر مسلم ہیں یا جو امت مسلمہ سے خارج ہیں،وہ یہ لقب اختیار کریں۔اس وجہ سے اور خصوصاً قادیانیوں کے ان القاب اور اصطلاحات کے استعمال کے نتیجے میں مسلمانوں کی ان سے عداوت کی بناء پر،اس آرڈی ننس کانفاذ ہوا۔

مسٹر مجیب الرحمن نے دلیل دی کہ ’’رضی اللہ عنہ‘‘ کے الفاظ کئی صوفیاء اور اولیاء کیلئے استعمال ہوئے ہیں۔ امیر المومنین کے الفاظ امام مالکؒ کے لئے استعمال ہوئے۔ انہیں امیر المومنین فی الحدیث کہا جاتا ہے۔ نیز نظام حیدرآباد کے لئے بھی استعمال ہوئے جبکہ ایک صوفی کی ایک مرید عورت کے لئے ام المومنین کا استعمال ہواہے۔

یہ دلائل نکتے سے غیر متعلق ہیں۔ مسلمانوں یا ان کے صوفیوں کے لئے ان اصطلاحات کا شاذونادر استعمال حجت نہیں بن سکتا۔ کیونکہ وہ سب لوگ جن کے لئے ان کا استعمال ہوا تھا، وہ کم از کم مسلمان ضرور تھے اورکافر نہ تھے۔ ثانیاً ان کا استعمال حضرت رسول ﷺ

131

کی نقل اتارنے کی نیت سے نہ تھا۔ ثالثاً یہ شاذونادر مثالیں ہیں۔

قادیانیوں کے ہاں ان اصطلاحات کا استعمال اس اصول پر مبنی ہے کہ مرزاصاحب رسول اللہ ﷺ کا بروز ہیں اور ان کی مزعومہ بعث حضرت رسول اللہ ﷺ کی بعث دوم ہے اور اس کے نتیجے میںمرزاصاحب کے ساتھی، بیوی، افراد خاندان اورجانشین اسی تکریم اور عقیدت کے مستحق ہیں۔ جورسول اللہ ﷺ کے صحابہ، بیویوں،اہل بیت اور خلفاء کو حاصل ہے۔ ’’اگر مرزا صاحب محمد ہیں تو ان کے صحابہ محمد رسول کے ہی صحابہ ہیں۔‘‘

(الفضل قادیان ج۳نمبر۱۰مورخہ ۱۵؍جولائی ۱۹۱۵ء بحوالہ قادیانی مذہب ص۳۱۲)

مرزاصاحب کی عبارت زیادہ واضح ہے۔ انہوں نے لکھا:’’صار وجودی وجودہ ‘‘(میراوجود ان کا وجود ہوگیا) اورجو کوئی بھی میری جماعت میں شامل ہوتا ہے، وہ رسول ﷺ کے صحابہ کی جماعت میں شامل ہوجاتاہے۔‘‘

(خطبہ الہامیہ ص۱۷۱،خزائن ج۱۶ص۲۵۸،۲۵۹)

اس بارے میں زیر بحث آرڈیننس بالکل درست ہے۔

دوسرا مسئلہ اذان پرپابندی کے بارے میں ہے۔ آرڈی ننس غیر مسلموں یعنی قادیانیوں کو لوگوں کو نماز کے لئے اذان کے کلمات پڑھ کر بلانے سے روکتا ہے۔ اذان کا معنی پکار ہے اورمؤذن ’’پکارنے والا‘‘ ہوتاہے۔ یہ لغوی معانی آیات قرآنیہ ۷؍۴۴، ۱۲؍۷۰اور۲۲؍۲۷ سے واضح ہوتے ہیں۔ ارشاد ہوتاہے:

’’قالوا نعم،فاذّن مؤذن بینھم ان لعنۃ اللہ علی الظٰلمین (الاعراف:۴۴)‘‘{وہ کہیں گے ہاں! پھر ایک منادی کرنے والا ان کے بیچ میں پکارے گا کہ اللہ کی لعنت ہے ظالموں پر۔}

’’ثم اذّن مؤذن ایتھا العیر انکم لسارقون (یوسف:۷۰)‘‘{پھر ایک منادی نے آواز دی اے قافلو والو تم لوگ چور ہو۔}

’’واذّن فی الناس بالحج یاتوک رجالا وعلیٰ کل ضامر یاتین من کل فج عمیق (الحج:۲۷)‘‘{اورلوگوں میںحج کی منادی کرو وہ تمہارے پاس آئیں گے پیادہ بھی اورلاغر اونٹنیوں پرجو پہنچیں گے دور دراز گہرے پہاڑی رستوں سے ۔}

ان تینوں آیات میں ’’اذن‘‘ کا لفظ استعمال ہوا ہے۔ ’’اذان‘‘ اسی کااسم ہے اور اس کا معنی پکار یا نداء ہے۔ پکار سے مقصود اطلاع دینا ہوتاہے اورمؤذن منادی کے معنی میں مستعمل

132

ہے۔ اذّن، اذان اور مؤذن کے یہ لغوی معانی ہیں۔ آیت نمبر۶۲؍۹ میں ’’اذانودی للصلوٰۃ‘‘ ّجب نماز کے لئے پکاراجائےکے کلمات میں نماز کے لئے پکارنے کے اس طریقے کا تذکرہ ہے جو اذان کے نام سے مشہور ہے۔اس لئے ان کا ترجمہ ’’جب اذان دی جائے‘‘کیاجائے گا۔ یہ آیت کریمہ مع ترجمہ ملاحظہ کیجئے:

’’یاایھاالذین امنو اذانودی للصلوٰۃ من یوم الجمعۃ فاسعوا الی ذکر اللہ وذروا البیع، ذلکم خیر لکم ان کنتم تعلمون(جمعۃ:۹)‘‘{اے ایمان والو! جب جمعہ کے دن نماز کے لئے اذان دی جائے تو اللہ کے ذکر کی طرف مستعدی سے چل کھڑے ہو اور خرید وفروخت چھوڑ دو۔ یہ تمہارے لئے بہتر ہے اگر تم جانو۔}

ہجرت سے پہلے اذان کا کوئی تصور نہ تھا۔ہجرت کے بعد ایک شخص لوگوں کو نماز کے لئے ’’الصلوٰۃ جامعۃ‘‘کہہ کر بلاتا۔ جس کا معنی یہ ہے کہ نماز کی جماعت تیار ہے۔ آنحضرت ﷺ نے نماز کے لئے بلانے کے نظم کو اہمیت دی۔ آپ ﷺ کے تین صحابہ حضرت ابوبکرؓ، حضرت عمرؓ اور حضرت عبداللہ بن زیدؓ نے طریقہ اذان کے خواب دیکھے۔ان تینوں خوابوں میں سے حضرت عبداللہ بن زیدؓ اورحضرت عمرؓ کے خواب بہت معروف ہیں۔ حضرت عبداللہ بن زیدؓ نے اسی رات رسول اللہ ﷺ کو اپنے خواب کا واقعہ بتادیا۔ لیکن حضرت عمرؓ نے آپﷺ کو صبح اطلاع دی۔ اس دن سے آنحضرت ﷺ نے حضرت بلال ؓ کو حکم دے دیا کہ وہ یہ اذان پڑھ کرلوگوں کو نماز کے لئے بلایا کریں۔ بعد میں حضرت بلال ؓ نے فجر کی اذان میں ’’الصلوٰۃ خیر من النوم‘‘{نماز نیند سے بہتر ہے۔}کے الفاظ کا اضافہ کردیا اورآپ ﷺ نے ان کی منظوری دے دی۔

(الجامع لاحکام القرآن قرطبی ج۶ص۲۲۵)

اذان کے وجوب کے بارے میں اختلاف رائے ہے۔ تاہم جیسا کہ ابوعمر کا کہنا ہے۔ اذان، دارالاسلام اوردارالحرب کے مابین امتیازی صفت یا علامت ہے۔

(ایضاً)

یہ دین اسلام کی امتیازی خصوصیات یا علامتوں میں سے ایک ہے۔ اس لئے یہ مسلمانوں کا شعار یعنی ان کا امتیازی نشان ہے۔

(البحراالرائق ابن نجیم ج۱ص۲۴۰)

بتایاگیا ہے کہ اس امر پر اجماع ہے کہ یہ اسلام کا شعار(امتیازی نشان) ہے۔

(فتاویٰ قاضیخان برحاشیہ فتاویٰ عالمگیری،حجۃ اللہ البالغۃ از شاہ ولی اللہ ج۱ص۴۷۴)

133

اذان کے شعار اسلام ہونے کے لئے یہ دلائل کافی ہوںگے:

۱… رسول اللہ ﷺ کے زمانے میں لوگوں کو ان کی عبادت گاہوں کی طرف بلانے کی مشہور شکلیں یہ تھیں:

الف… نرسنگا پھونکنا۔

ب… گھنٹی بجانا۔

ج آگ جلانا۔

لیکن آنحضرت ﷺ نے ان میں سے کوئی شکل یا طریقہ پسند نہیں فرمایا۔ بلکہ آخر کار اذان کے کلمات پڑھ کر بلانے کو پسند فرمایا۔

۲… اسلام کا اصول یہ ہے کہ اذان پڑھنے والے شخص کو مسلمان تصور کیا جائے گا تاآنکہ اس کے برعکس ثابت ہو جائے۔ ابن عصام مزنی کے والد سے روایت ہے کہ وہ کہتے ہیں کہ اللہ کے رسولﷺ نے ہمیں ایک فوجی مہم پربھیجااورفرمایا کہ جب تم کوئی مسجد دیکھو یا مؤذن کی اذان سنو تو پھر کسی کو قتل نہ کرو(سنن ابی داؤد ج۱ص۳۵۱)یہی حدیث صحیح بخاری (ج۱ص۸۶)پرحضرت انسؓ سے بھی مروی ہے۔

۳… ایک اور حدیث یوں مروی ہے: ’’عن انس ان النبی ﷺ کان یغیر عند صلوٰۃ الصبح وکان یستمع فاذاسمع اذانا امسک والااغار‘‘{نبی ﷺ دشمن پرنماز فجر کے وقت حملہ کرتے تھے۔آپ غور سے سنتے تھے اوراگر آپ وہاں اذان کی آواز سنتے تو رک جاتے،ورنہ حملہ کر دیتے۔}

(سنن ابی داؤد ج۱ص۳۵۴،مشکوٰۃ ج۱ص۱۶۰اردوترجمہ)

پہلی حدیث میں مذکور آنحضرت ﷺ کی ہدایت اوراذان سننے پر حملہ نہ کرنے کے معمول کی وجہ یہ ہے کہ اذان سے اس امر کا ظن غالب ہوتاہے کہ اس آبادی میں مقیم لوگ مسلمان ہیں اور وہ حملے سے محفوظ ہوںگے۔

اسی لئے فقہاء نے یہ رائے قائم کی ہے کہ جوشخص اذان پڑھتا ہے۔ اسے مسلمان سمجھا جائے گا۔ اگر لوگ کسی ذمی کے بارے میں یہ گواہی دیں کہ اس نے اذان دی ہے تو اسے مسلمان تصور کیا جائے گا۔

(البحرالرائق ج۱ ابن نجیم ص۲۷۹،ردالمختار ابن عابدین ج۱ص۳۵۳)

ان آراء سے استدلال کرتے ہوئے مسٹر مجیب الرحمن نے دلیل دی کہ جو شخص اذان پڑھتا ہے اسے مسلمان تصور کیاجاناچاہئے۔ لیکن یہ دلیل درست نہیں ہے۔ کیونکہ مذکورہ حدیث کا منشاء صرف اس قدر ہے کہ اذان کہنے سے کسی شخص کے حق میں اس کے مسلمان ہونے کا احتمال

134

ہوتاہے۔ لیکن یہ احتمال قطعی نہیں ہوتا۔بلکہ غلط بھی ثابت ہوسکتاہے۔ آخرالامر اگر یہ معلوم ہو جائے کہ اذان پڑھنے والا شخص فی الواقع غیر مسلم ہے یا اس کے ایسے عقائد سامنے آجائیں جن سے ثابت ہوتاہو کہ وہ غیرمسلم ہے ۔ تو اسے محض اس بناء پر اذان کہنے کافائدہ اٹھانے اور اپنے آپ کو مسلمان کہلانے کے استحقاق کادعویٰ کرنے کی اجازت نہیں دی جاسکتی۔(رد المختار ج۱ص۲۷۹)پر اس امر کی توضیح کی گئی ہے کہ کسی مسجد میںمؤذن کے اذان پڑھنے سے یہ غالب احتمال ہوتا ہے کہ وہ مسلمان ہے۔ کیونکہ اذان کہنے کی اجازت عموماً صرف مسلمان ہی کو دی جاتی ہے۔

یعنی اگر وہ مسلمان نہ ہوتا تو اس مسجد کے نمازی اسے اذان پڑھنے کی اجازت نہ دیتے۔ تاہم اس امر کی وضاحت کی گئی ہے کہ کافر کی اذان درست نہیں ہے۔ اس سے یہ نتیجہ اخذ ہوتا ہے کہ کوئی شخص صرف اذان کہنے سے مسلمان نہیں ہوسکتا۔ ہاں اگر وہ معمول کے مطابق ایسا کرتا ہے اوراللہ تعالیٰ کی توحید اور رسول اللہﷺ کی رسالت کا عقیدہ رکھتاہے۔ تو اس کے اسلام کا احتمال قوی ہوگا۔

اب ہم مسٹر مجیب الرحمن کے استدلال پر بحث کرتے ہیں۔ انہوں نے مذکورہ بالا احادیث نبویہ اورقرآن کریم کی آیات نمبر۴؍۴۹ پر بنیاد رکھی ہے۔ یہ آیت یوں ہے:

’’یایھاالذین امنو اذاضربتم فی سبیل اللہ فتبیّنوا ولا تقولوا لمن القی الیکم السلٰم لست مؤمنا، تبتغون عرض الحیوۃ الدنیا فعند اللہ مغانم کثیرۃ، کذلک کنتم من قبل فمن اللہ علیکم فتبینوا،ان اللہ کان بما تعملون خبیرا (النساء:۹۴)‘‘

’’یایھاالذین امنو اذاضربتم فی سبیل اللہ فتبیّنوا ولا تقولوا لمن القی الیکم السلٰم لست مؤمنا، تبتغون عرض الحیوۃ الدنیا فعند اللہ مغانم کثیرۃ، کذلک کنتم من قبل فمن اللہ علیکم فتبینوا،ان اللہ کان بما تعملون خبیرا (النساء:۹۴)‘‘

اس دلیل کا جواب خود آیت میں موجود ہے۔ لفظ’’فتبیّنوا‘‘(پس اچھی طرح تحقیق کرلیاکرو)ہے۔ مسلمانوں کی طرح سلام کرنے، ’’لاالہ الاللہ‘‘کہنے یا اذان پڑھنے یا مسجد ایسی عبادت گاہ میںنماز پڑھنے سے کسی شخص کے مسلمان ہونے کا احتمال ہوتاہے۔ لیکن یہ غلط بھی ہو سکتا ہے۔جس کامطلب یہ ہوا کہ اگرغلط ہونے کا ثبوت موجود ہو تو

135

اسے مومن یامسلم نہیں کہا جائے گا۔

مسٹر مجیب الرحمن نے تسلیم کیا کہ اذان مسلمانوں کا شعارہے لیکن کہا کہ یہ قادیانیوں کا بھی شعار ہے اور جب یہ دونوں کا یکساں شعار ہے تو پھر یہ مسئلہ قرآن کریم کی آیات نمبر ۵؍۲ اور ۳؍۶۴ کے مطابق طے کیا جائے گا۔ دونوں آیات کریمہ درج ذیل ہیں۔

’’یایھاالذین امنوا لا تحلّوا شعائر اللہ ولا الشہر الحرام ولاالھدی ولا القلائد ولا امین البیت الحرام یبتغون فضلا من ربھم ورضوانا،واذا حللتم فاصطادوا، ولا یجرمنّکم شنان قوم ان صدو کم عن المسجد الحرام ان تعتدوا وتعاونوا علی البر والتقویٰ،ولا تعاونوا علی الاثم والعدوان واتقوااللہ، ان اللہ شدید العقاب(المائدہ:۲)‘‘{اے ایمان والو!اللہ کے شعائر کی بے حرمتی نہ کرو، نہ محترم مہینوں کی اور نہ قربانیوں کی اور نہ پٹے بندھے ہوئے نذر کے جانوروں کی اور نہ بیت اللہ کے عازمین کی جو اپنے رب کے فضل اور اس کی خوشنودی کے طالب بن کر نکلتے ہیںاور جب حالت احرام سے باہر آجاؤتو شکار کرو او ر کسی قوم کی دشمنی، کہ اس نے تمہیںمسجد حرام سے روکاہے،تمہیں اس بات پرنہ ابھارے کہ تم حدود سے تجاوز کرو۔ اور تم نیکی اورتقویٰ میں تعاون کرو اورگناہ اور تعدی میں تعاون نہ کرو اوراللہ سے ڈرتے رہو۔بیشک اللہ سخت پاداش والاہے۔}

’’قل یاھل الکتب تعالوا الی کلمۃ سواء بیننا وبینکم الّانعبد الا اللہ ولا نشرک بہ شیئا ولا یتخذ بعضنا بعضا اربابا من دون اللہ، فان تولوا فقولوا اشہدوا بانا مسلمون (آل عمران:۶۴)‘‘کہہ دو اے اہل کتاب اس چیز کی طرف آؤجو ہمارے اورتمہارے درمیان یکساں مشترک ہے، یہ کہ ہم اللہ کے سوا کسی کی عبادت نہ کریں اور نہ اس کے ساتھ کسی چیز کو شریک ٹھہرائیں او رنہ ہم میں سے کوئی ایک دوسرے کو اللہ کے

136

سوا رب ٹھہرائے اگر وہ اس چیز سے اعراض کریں تو کہہ دو کہ گواہ رہو کہ ہم تو مسلم ہیں۔

یہ امر قابل ذکر ہے کہ اس آیت کے الفاظ’’تعالوا الی کلمۃ سواء بیننا وبینکم‘‘ کا ترجمہ پکتھل نے ’’اس معاہدے کی طرف آؤ جو ہمارے اورتمہارے درمیان ہے‘‘ کیا ہے۔ یہ ترجمہ درست نہیں۔ کیونکہ اس آیت میں کسی معاہدے کا تذکرہ نہیں بلکہ ایسی چیز کا ذکر کیا گیا ہے جو دونوں میں یکساںمشترک ہے تاہم مولانا فتح محمد کا اردو ترجمہ باالکل صحیح ہے اور اوپردیئے گئے ترجمہ میں اس کی عکاسی کی گئی ہے۔

مسٹر مجیب الرحمن کا استدلال یہ ہے کہ جو امر قادیانیوں اور مسلمانوں کے مابین مستحسن اور مشترک ہو اس میںمداخلت نہیںہونی چاہئے۔ کیونکہ وہ دونوں کے درمیان ’’کلمۃ سواء‘‘ ہے۔ ’’کلمۃ سواء‘‘کی تفسیر کے لئے انہوں نے (مدارک التنزیل ج اول ص۲۲۲ )کاحوالہ دیا کہ ’’کلمۃ سواء‘‘یعنی ہمارے اورتمہارے درمیان ایسا یکساں مشترک امرجس کے بارے میں قرآن، تورات اورانجیل میں اختلاف موجود نہیں ہے اور ’’کلمۃٍ‘‘کی تفسیر خود یہ ارشاد باری تعالیٰ ہے (یہ کہ ہم اللہ کے سوا کسی کی عبادت نہ کریں۔)امام ابن کثیر کہتے ہیں کہ ’’کلمۃ سوائٍ‘‘ سے مراد صرف خدائے واحد کی عبادت کرنا ہے۔ کیونکہ یہ تمام انبیاء کی مشترک دعوت تھی۔

(تفسیر ابن کثیر اردو ج اول ص۶۷)

امام سیوطی کی الدرالمنثور(ج۲ ص۴۰) میںہے کہ ’’کلمۃٍ سوائٍ‘‘سے مراد ’’لا الہ الااللہ‘‘{اللہ کے سوا کوئی معبود نہیںہے۔}ہے۔ مفتی محمد شفیع ’’کلمۃ سواء‘‘کے بار ے میں کہتے ہیںکہ اس پرلوگوں کو مل جانا چاہئے۔ اس سے مسٹر مجیب الرحمن نے یہ استنباط کیاہے کہ ایسے امر کوقابل سزا جرم نہیں قرار دیاجاسکتا۔

قرآن پاک کی سور ہ نمبر۴۱آیت نمبر۳۳ میں ارشا د ہواہے:’’ومن احسن قولا ممن دعا الی اللہ وعمل صالحا وقال انّنی من المسلمین (حم سجدہ:۳۳)‘‘{اور اس سے بڑھ کر اچھی بات کس کی ہوگی جو اللہ کی طرف بلائے اور نیک عمل کرے اورکہے کہ میں مسلمانوں میں سے ہوں۔}

قرطبی کے مطابق اس آیت کریمہ کا شان نزول یہ ہے کہ جب مؤذن اذان پڑھتا اور مسلمان نماز ادا کرنے کے لئے کھڑے ہوتے تویہودی ان پرطنز کرتے اورمؤذن کے بارے میں نازیبا کلمات بولتے تھے۔ اس لئے اس آیت میں اذان کو ’’احسن قول‘‘{بہترین بات یا سب سے اچھی بات۔} فرمایاگیا۔

(قرطبی ج۶ ص۲۲۴،۲۲۵)

137

یہ امر پہلے واضح ہو چکا ہے کہ کسی غیر مسلم کی اذان، اذان شمار نہیں ہوگی اور اس لئے اس پر ’’بہترین بات‘‘ کا اطلاق نہیں ہوگا۔اس آیت میں ایک مومن یا مسلم کی تعریف کی گئی ہے۔جس سے اس امر میںکوئی شبہ نہیں رہ جاتا کہ اذان ’’احسن قول‘‘{بہترین بات} صرف اس وقت شمار ہوگی جب اسے کوئی مسلمان پڑھے۔ کیونکہ اس کا صحیح حق یہی ہے کہ اسے ایسا شخص پڑھے جو عمل صالح اورمسلمانوںکے عقید ے کا حامل ہو۔

عدالت کے سامنے قرآن کریم کی آیت نمبر۵؍۲ کے شان نزول کے بارے میں اختلاف کااظہارکیاگیاتھا۔ سوال یہ تھا کہ کیا اس آیت میں شعائر اللہ سے مراد مشرکین کے امتیازی نشانات یاخصوصیات ہیںیا مسلمانوںکی؟مسٹر مجیب الرحمن نے مفسرین کی آراء سے اس نقطہ نظر کی تائید میں حوالے پیش کئے کہ اس آیت میں شعائر سے مراد مشرکین کے امتیازی نشانات ہیں جبکہ مسٹر ریاض الحسن گیلانی نے ان کے مخالف آراء کا سہارالیا۔پیر محمد کرم شاہ،جواب سپریم کورٹ کے شریعت بنچ کے جج ہیں، اپنی معروف تفسیر ضیاء القرآن میں مسٹر مجیب الرحمن کی رائے کی تائید کرتے ہیں۔

کچھ آراء ایسی بھی ہیں کہ یہ آیت منسوخ ہوچکی ہے۔ مسٹر مجیب الرحمن نے دلیل دی کہ آیت کا یہ حصہ ’’لاتحلّو اشعائراللہ‘‘ہرگز منسوخ نہیں ہوا۔

اس اختلاف میں جانے کی چنداں ضرورت نہیں ہے۔ اگر اس آیت کا تعلق حج کے موقع پر قربانیاںلانے اور انہیں منیٰ میں ذبح کرنے سے متعلق غیر مسلموں کے شعائر سے بھی ہو،تو آیت نمبر۹؍۲۸ میں ایک مختلف حکم دیاگیاتھا۔ یہ آیت کریمہ حسب ذیل ہے:

’’یایھاالذین امنوا انما المشرکون نجس فلا یقربوا المسجد الحرام بعد عامھم ہذا، وان خفتم عیلۃ فسوف یغنیکم اللہ من فضلہ ان شاء، ان اللہ علیم حکیم (التوبہ:۲۸)‘‘{اے ایمان والو! یہ مشرکین بالکل نجس ہیں تو یہ اپنے اس سال کے بعد مسجد حرام کے پاس نہ پھٹکنے پائیں۔ اور اگر تمہیں غربت کا اندیشہ ہو تو اللہ اگر چاہے گا تو اپنے فضل سے تم کو مستغنی کر دے گا۔ بیشک اللہ علم والا حکمت والاہے۔}

مشرکین کو کعبہ کے قریب پھٹکنے سے روک دیا گیاہے۔ایک حدیث میں مذکور ہے کہ اس حکم الٰہی کے نفاذ کے لئے رسول اللہ ﷺ نے حضرت علیؓ کو یہ حکم دے کر مکہ روانہ کیا کہ آئندہ غیر مسلموں کو حج سے منع کردیاجائے۔

اس حکم میں مشرکین کو کعبے میں اپنے شعائر کی ادائیگی سے روک دیاگیاہے اور

138

رسولﷺ کے حکم سے انہیںحج اور زیارت کے شعائر سے منع کردیاگیا۔

(تفہیم القرآن ج۲ص۱۸۶ حاشیہ ۲۵)

اس سے یہ بدیہی نتیجہ اخذ ہوتاہے کہ شریعت اسلامیہ کسی غیر مسلم کو اس بات کی اجازت نہیںدیتی کہ وہ شعائر اسلام کو اختیار کرے۔ کیونکہ شعائر کا مفہوم یہ ہے کہ امت کی ایسی خصوصیات یا امتیازی نشانات جن سے اس کی پہچان ہوتی ہے۔ اگر کوئی اسلامی ریاست برسر اقتدار ہونے کے باوجود غیرمسلموں کو ایسے شعائر اسلام اختیار کرنے کی اجازت دیتی ہے۔ جن سے امت مسلمہ کی امتیازی حیثیت متاثر ہوتی ہے تو یہ اس ریاست کی غفلت اور اپنے فرائض کی ادائیگی میں ناکامی شمار ہوگی۔

اسلامی ریاست میںغیرمسلموں کو شعائر اسلام اختیار کرنے کی کھلی اجازت دے دینا شعائر اسلام سے غیرقانونی سلوک کے مترادف ہے۔اس لئے ان کی ممانعت کر دینا اشد ضروری ہے۔ مندرجہ بالا آیت نمبر۹؍۲۸ اور اس کے نتیجے میں آنحضرت ﷺ کے عمل سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ اسلامی ریاست کے قانون سازی کے اختیارات میں غیر مسلموں کو شعائر اسلام اختیار کرنے کی ممانعت کردیناشامل ہے اور یہ بھی اسلامی ریاست کے تشریعی اختیارات میں شامل ہے کہ وہ ایسے غیر مسلموں کو سزا دے جو شعائر اسلام اختیار کرنے سے باز نہیں رہتے۔زیر بحث آرڈی ننس میں یہی سزا دی گئی ہے۔ اس سے مسٹر مجیب الرحمن کے تعزیر کے بارے میںدلائل کا احاطہ بھی ہو جاتا ہے۔ اس بارے میں مسٹر مجیب الرحمن نے درج ذیل نکات پیش کئے۔

۱… اگر اذان شعار اسلام ہے اور یہی شعارغیر مسلموںمیں مشترک ہو تو کیا غیر مسلموں کو اس سے روک دیاجائے گا۔

۲… کیا ’’کلمۃ سواء‘‘کے بارے میں حکم کے مطابق یہ لازمی نہیں ہے کہ مسلمان اور غیر مسلم اس میں اکٹھے شریک رہیں؟

۳… کیا’’احسن قول‘‘(بہترین بات) کو پڑھناقابل سزا جرم قرار دیا جا سکتاہے؟

ان سوالات کے جوابات پہلے دیئے جاچکے ہیں اور اب ان کا خلاصہ پیش کیا جا سکتا ہے۔ آیت نمبر۹؍۲۸ اور اس سے اخذ کردہ قوانین کی روشنی میں غیر مسلموں کو ایسے شعائر کی ادائیگی کی ممانعت کی جاسکتی ہے جو مسلمانوں اورغیر مسلموں میں مشترک ہوں۔ ’’کلمۃ سواء‘‘ مختلف معاملات کے لئے استعمال ہواہے۔ لیکن پہلے سوال کے جواب کی وجہ سے دوسرا سوال غیر ضروری ہو جاتاہے۔ تاہم اس امر پرزور دیاجاسکتاہے کہ اگرچہ کفار بھی طواف کرتے تھے۔ لیکن جب

139

مسلمانوں نے خانہ کعبہ کا انتظام سنبھال لیا تو انہیں اس سے روک دیاگیا۔ یہ قرار دیا جاچکا ہے کہ کسی غیر مسلم کی اذان پر احسن قول کا اطلاق نہیںہوتا اور اگر پہلے سوال کے جواب کی رو سے کسی شخص پر ایسے شعائر کی ادائیگی کی پابندی لگائی جا سکتی ہے تو اسے اس پابندی کی خلاف ورزی کرنے پر سزا دینے کا حکم بھی دیا جا سکتاہے۔

جب قادیانی قادیان میں تھے اور وہاںان کی اکثریت تھی اور انہیں کافی قوت حاصل تھی تو ان کا اپنا طرز عمل بہت مختلف ہے۔ قادیانیوں نے مسلمانوں کو خود ان کی اپنی مساجد میں اذان دینے سے روک دیاتھا۔ احرار نے قادیان میں مسلمانوں کی مساجد میں اذان کہنے کے لئے کچھ رضاکار بھیجے توقادیانیوں نے ان پرلاٹھیوںسے حملہ کردیا اور ان سب کو کئی زخم لگائے اور وہ ہسپتالوں میں بستروں پر پڑے رہے۔

(تحریک ختم نبوت ۱۸۹۱،۱۹۷۴ء از شورش کشمیری ص۷۸)

یہ انگریز سرکار کے دور میں وحشیانہ قوت کے بل بوتے پر ہواہوگا۔ یہ اس امر کی مثال ہے کہ جس چیز کو وہ اپناشعار(امتیازی نشان) خیال کرتے تھے۔ اسے انہوں نے مسلمانوں کے لئے عملاً غیر قانونی قرار دے دیاتھا۔اس سے یہ اخذ ہوتاہے کہ برسراقتدار اکثریت کی جانب سے ایسی پابندی قانونی ہوگی۔

ان کی عبادت گاہ کومسجد کا نام دینے پر پابندی کے خلاف مسٹر مجیب الرحمن کی دلیل یہ تھی کہ قرآن کریم کی رو سے مسجد کا لفظ صرف مسلمانوں کے لئے مخصوص نہیں بلکہ یہ ایسے لوگوں کی عبادت گاہوں کے لئے بھی استعمال ہوا ہے جو اب غیر مسلم ہیں۔ جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا گزشتہ ۱۴۰۰ سال میں کبھی بھی غیر مسلموں کی عبادت گاہوں کو مسجد کا نام دیاگیاہے، تو ان کا جواب نفی میں تھا۔لیکن چند دنوں کے بعد انہوں نے بتایا کہ وہ کم از کم کراچی میں یہودیوں کی ایک ایسی عبادت گاہ دریافت کرنے میں کامیاب ہوگئے ہیں۔ جس پر ’’مسجد بنی اسرائیل‘‘ کے الفاظ لکھے ہوئے ہیں۔ انہوں نے اس تحریر کی تصاویر پیش کی جن سے ظاہر ہوتاہے کہ یہ یہودیوں کا معبد ہے۔ اس کا ترجمہ کسی نے ’’مسجد بنی اسرائیل‘‘ کردیاہے۔ ایسا نام یہودیوں میں عام طورپر رائج نہیں ہے۔

یہ مسئلہ کہ قرآن کریم میں آنحضرت ﷺ کے پیروکاروںکے علاوہ دوسروں کی عبادت گاہ کو مسجد کہا گیاہے۔ نکتے سے غیر متعلق ہے۔ ابتداء یعنی حضرت آدم علیہ السلام سے ہی اسلام دین الٰہی چلاآرہاہے۔ اگر کسی اورنبی کی امت کے لوگوں،جو اس وقت کے دین اسلام کے پیرو کار تھے،کی عبادت گاہوں کے لئے مسجد کا لفظ استعمال ہواہے تو اس سے یہ نتیجہ نہیں نکالا جا

140

سکتاکہ غیر مسلموں کی عبادت گاہوں کو بھی مسجد ہی کا نام دیا جائے گا۔نکتہ یہ ہے کہ گزشتہ ۱۴۰۰ سال میں یہ نام صرف مسلمانوں ہی کی عبادت گاہوں کے لئے مخصوص رہا ہے اور یہ رواج صرف انہی میں رہا ہے کہ وہ اپنی عبادت گاہوں کو مساجد کا نام دیتے ہیں۔

قرآن کریم میں مساجد کا لفظ اپنے لغوی معنوں میں استعمال ہواہے۔لیکن اب یہی لفظ صر ف مسلمانوں کی عبادت گاہ کے فنی مفہوم میں سمجھاجاتاہے (دیکھئے العلاقات الدولیۃ فی الاسلام ص۲۰۲)اس کی روشنی میں توعید گاہ بھی مسجد نہیں ہے۔

قرآن کریم کی آیت نمبر ۲۲؍۴۰ کا حوالہ دیاگیاہے، جو یہ ہے:

’’الذین اخرجوامن دیارھم بغیر حق الّا ان یقولوا ربنااللہ، ولولا دفع اللہ الناس بعضھم ببعض لہدّمت صوامع وبیع وصلوٰت و مساجد یذکر فیھا اسم اللہ کثیراولینصرن اللہ من ینصرہ ان اللہ لقوی عزیز (الحج:۴۰)‘‘{وہ لوگ جو اپنے گھروں سے بے قصور محض اس بناء پر نکالے گئے کہ وہ کہتے ہیں کہ ہمارا رب اللہ ہے اوراگر اللہ لوگوں کو،ایک دوسرے سے دفع نہ کرتارہتا تو خانقاہیں اور گرجے اور کینسے اورمسجدیں جن میں کثرت سے اللہ کا نام لیاجاتاہے،ڈھائے جاچکے ہوتے اور بیشک اللہ ان لوگوں کی مدد کرے گا جو اس کی مدد کے لئے اٹھیں گے، بیشک اللہ قوی اورغالب ہے۔}

استدلال کیاگیاتھاکہ تمام ادیان کی عبادت گاہوں کو حاصل تقدس کی بناء پر کسی شخص کو اپنی عبادت گاہ کومسجد کا نام دینے سے نہیںروکاجاسکتا۔ تاہم قرطبی نے واضح کیا ہے کہ عبادت گاہوں کے مذکورہ ناموں میں سے خانقاہوں، گرجوں،کینسوں کا تعلق غیر مسلموں کی عبادت گاہوں اوراستہانوں سے ہے۔ جبکہ مساجد کا لفظ مسلمانوں کی عبادت گاہوں کے تذکرے کے لئے استعمال ہواہے۔

(احکام القرآن ج۱۲ص۷۲)

لیکن اگر یہ فرض کرلیںکہ مسجد کا لفظ ان لوگوں کی عبادت گاہ کے لئے بھی استعمال ہوا ہے جو حضرت محمدﷺ کی بعثت کے بعد غیر مسلموں کے زمرے میں آتے ہیں۔ تو پھر بھی یہ تسلیم کرنا پڑے گا کہ مسجد کا لفظ ایسے لوگوں کی عبادت گاہ کے لئے استعمال ہواہے جو اس وقت مسلمان ہی تھے۔

اس حدیث کی روشنی میں جس کاذکر پہلے اذان کی بحث میں کیاجاچکاہے۔ مسجد کو بھی اسلام کاشعار قرار دیاگیاہے۔جہاںمسجد پائی جائے وہاں قتل کرنے سے منع کردیاگیا۔ کیونکہ مسجد اسلام کاامتیازی نشان یا شعار ہے۔جو شخص اس میں نماز پڑھتاہے وہ مسلمان قرار پائے گا الاّ یہ کہ

141

اس کے خلاف ثبوت مل جائے۔

سورہ توبہ کی آیات ۱۷اور۱۸ اس مسئلے کا حل پیش کرتی ہیں۔ ملاحظہ کیجئے:

’’ماکان للمشرکین ان یعمروا مسٰجد اللہ شاھدین علی انفسھم بالکفر، اولئک حبطت اعمالھم وفی النار ھم خٰلدون۔ انما یعمر مسجد اللہ من امن باللہ والیوم الاخر واقام الصلوٰۃ واتی الزکوٰۃ ولم یخش الا اللہ فعسی اولئک ان یکونوا من المھتدین‘‘{مشرکین کو یہ حق نہیں پہنچتاکہ وہ اللہ کی مساجد کا انتظام کریں،درانحالیکہ وہ خود اپنے کفر کے گواہ ہیں۔ ان لوگوں کے سارے اعمال برباد گئے اوردوزخ میں ہمیشہ رہنے والے تو یہی ہیں۔ اللہ کی مساجد کاانتظام کرنے والے تو صرف وہی لوگ ہو سکتے ہیں جو اللہ اورروز آخرت پر ایمان رکھتے ہوں اورنماز قائم کرتے ہوں اورزکوۃ دیتے ہوں اور اللہ کے سوا کسی سے نہ ڈرتے ہوں۔ یہ لوگ توقع ہے کہ ہدایت یافتہ بنیں۔}

اس مسئلے میں اختلاف رائے موجود ہے کہ کیا غیر مسلم یامشرکین مسجد تعمیر کر سکتے ہیں یا اس میں داخل ہوسکتے ہیں۔تعمیر کے بارے میں مسلمہ اصول یہ ہے کہ مسجد خواہ غیر مسلم نے تعمیر کی ہو اسے مسلمانوںکی عبادت گاہ کے طور پر ہی استعمال ہونا چاہئے۔ البتہ داخل ہونے کے بارے میں اختلاف رائے ہے۔ مالکی اورحنبلی انکے مسجد میں داخلے کے خلاف ہیں۔شافعیہ کے نزدیک مسجد الحرام کے سوا باقی مساجد میں انتظامیہ کی اجازت کے ساتھ جائز ہے۔حنفیہ کے ہاں وہ مسجد میں داخل ہوسکتے ہیں۔

رسول اللہ ﷺ نے منافقین کو مسجد سے نکال دیا تھا۔ عبداللہ بن عباسؓ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ رسول اللہ ﷺ جمعہ کے روز خطبہ ارشاد فرمارہے تھے۔توآپ ﷺ نے چند اشخاص جو نماز کیلئے جماعت میں بیٹھے تھے، کا نام لے کر انہیںمسجد سے باہر نکل جانے کا حکم دیا۔ کیونکہ وہ منافق تھے۔

(روح المعانی آلوسی ج۲ص۱۰)

اس بحث کو معروف احمدی سرظفر اللہ خان کی رائے پرختم کیاجاتاہے کہ ’’اگر احمدی غیر مسلم ہیںتو پھر ان کا مسجد سے کوئی تعلق نہیں ہوسکتا۔‘‘

(تحدیث نعمت ص۱۶۲)

انہوں نے مسئلے کو بالکل درست پیش کیا ہے ۔ لیکن آرڈی ننس قادیانیوں کو صرف اپنی عبادت گاہوں کو مسجد کا نام رکھنے یا پکارنے سے روکتا ہے۔ شریعت کی نگاہ میں یہ قابل اعتراض امر نہیں ہے۔ بلکہ اس سے شریعت کے مقصد کو فروغ ملتاہے۔

ارتداد کے اصول کی موجودگی میں اسلامی ریاست میں دیگر مذاہب کی اشاعت کا حق

142

غیر محدود نہیں ہوسکتا۔ قرآن کریم کا ارشاد ہے:

’’یایھاالذین امنوا من یرتدّمنکم عن دینہ فسوف یاتی اللہ بقوم یحبھم ویحبونہ اذلۃ علی المؤمنین اعزۃ علی الکفرین یجاہدون فی سبیل اللہ ولا یخافون لومۃ لائم، ذلک فضل اللہ یؤتیہ من یشاء واللہ واسع علیم (المائدہ:۵۴)‘‘{اے ایمان والو! جو تم میں سے اپنے دین سے پھر جائے گا، تو اللہ کو کوئی پرواہ نہیں وہ جلد ایسے لوگوں کو اٹھائے گا جن سے وہ محبت کرے گا اور وہ اس سے محبت کریںگے۔ وہ مسلمانوں کے لئے نرم مزاج اورکافروں کے مقابل میںسخت ہوںگے ۔ اللہ کی راہ میں جہاد کریں گے اور کسی ملامت کرنے والے کی ملامت کی پرواہ نہ کریںگے۔ یہ اللہ کا فضل ہے۔ وہ جس کو چاہے بخشے گا اوراللہ بڑی وسعت رکھنے والا اورعلم والاہے۔}

’’ومن یرتدد منکم عن دینہ فیمت وھوکافر فاولئک حبطت اعمالھم فی الدنیا والاخرۃ واولئک اصحب النار، ہم فیھا خلدون (البقرہ:۲۱۷)‘‘

{اور تم میں سے جو اپنے دین سے پھر جائے گا اورحالت کفر میں مر جائے گا تو یہی لوگ ہیں جن کے اعمال دنیا اورآخرت میں اکارت گئے اور یہی لوگ دوزخ میں پڑنے والے ہیں اور وہ اس میں ہمیشہ رہیں گے۔}

اس مسئلے کی تفصیل میں جانے کی ضرورت نہیں ہے۔ کیونکہ تمام مذاہب کی یہ مسلمہ روایت رہی ہے کہ کسی شخص کی ایک مذہب سے دوسرے مذہب میں تبدیلی اس کے ہم مذہب افراد کی نگاہوں میں دشمنی سے کم شمار نہیں ہوتی۔ اس کی مناسب مثال اچھوتوں کے اجتماعی قبول اسلام پر ان سے ہندوؤں، جن میں نام نہاد سیکولر ریاست کے حکمران شامل ہیں، کی عداوت و مخاصمت ہے۔

ممکن ہے اس کی وجہ یہ ہوکہ ایک مذہب سے دوسرے مذہب میں ایسی تبدیلی غالباً اس مذہبی جماعت کے لئے باعث انتشار ہوتی ہو۔ قادیانی لٹریچر میں بھی اگر کوئی مسلمان قادیانی ہو جائے اور پھر دوبارہ اسلام قبول کرے تو وہ مرتد شمار ہوتا ہے اور ایک غیرمسلم ہی کی طرح عذاب جہنم کا مستحق قرارپاتاہے۔ ان حالات میں یہ قرار دینا مشکل ہے کہ اسلام غیر مسلموں کو یہ بنیادی حق دیتاہے کہ وہ مسلمانوں میں اپنے مذہب کی غیر مشروط تبلیغ کرتے رہیں۔

تاریخ اسلام میں ایسی مثالیں موجود ہیں کہ خلیفہ یا بادشاہ کے دربار میں کسی مذہب کی برتری پرمباحثے منعقد ہوتے تھے۔ جن میں مسلمان اورغیر مسلم علماء دین برابر شرکت کرتے۔ لیکن

143

ان واقعات کو اس امر کی مؤثر دلیل قرار نہیں دیا جاسکتا کہ یہ کسی کا مسلمہ حق ہے کہ وہ مسلمانوں میں اپنے مذہب کی تبلیغ کرکے انہیں غیرمسلم بناتارہے۔

مسٹر مجیب الرحمن نے اپنے اس دعوے کے ثبوت میں،کہ اسلام، غیر مسلموں کو اسلامی ریاست میں اپنے مذہب کی تبلیغ کاحق دیتا ہے،قرآن کریم کی کسی آیت، حدیث نبوی یا کسی فقیہہ کے قول سے براہ راست استدلال نہیں کیا۔

انہوں نے کہا کہ قرآن کی رو سے تبلیغ ایک فریضہ ہے اور اس فریضے کی تکمیل اس سے ہوتی ہے کہ کافر کو اپنے مذہب کی تبلیغ کرنے کا حق حاصل ہو۔انہوں نے قرآن کریم کی آیت ۲؍۱۷۰ کا حوالہ دیا:

’’واذاقیل لہم اتبعوا ماانزل اللہ قالوا بل نتبع ماالفینا علیہ ابائنا، اولوکان اباء ھم لایعقلون شیئا ولایھتدون(البقرۃ:۱۷۰)‘‘{اور جب ان کو دعوت دی جاتی ہے کہ خدا کی اتاری ہوئی چیز کی پیروی کرو تو وہ جواب دیتے ہیں کہ ہم تو اس طریقے کی پیروی کریں گے جس پر ہم نے اپنے باپ دادا کو پایاہے۔ کیا اس صورت میں بھی جب کہ ان کے باپ دادا نہ کچھ سمجھتے رہے ہوں اورنہ راہ ہدایت پر رہے ہوں۔}

اور کہا کہ یہ آیت آباء واجداد کی اندھی پیروی کی مذمت کرتی ہے۔ انہوں نے آیات نمبر۲؍۱۱۲، ۵؍۱۰۵، ۲۶؍۷۱تا۷۵ اور۴۳؍۲۱ کا بھی حوالہ دیا اورکہا کہ آیات کے یکجا مطالعے سے یہ امر واضح ہوتا ہے کہ جب حضور ﷺ کفار کو سچے پیغام کی تبلیغ فرماتے تو ان کا یہی جواب ہوتا کہ ہمارے لئے ہمارے آباؤاجداد ہی کافی ہیں۔ خواہ ان کے آباء واجداد عقل وہدایت سے عاری تھے۔اسلام کا منشاء یہ ہے کہ ہر دوقسم کے دلائل یعنی آفاقی اورانفسی کو اختیا ر کرتے ہوئے نظریہ تقلید پر اس زورکو ختم کردیاجائے۔

آفاقی دلائل کا تعلق نظام قدرت، ارض وسماء کی تخلیق اور دن رات کی گردش وغیرہ ان مظاہر قدرت سے ہے۔ جن کاتذکرہ قرآن کریم نے کردیاہے۔انہیں اس نظام کے حسن وجمال اور عمدہ نظم پر متوجہ کرتے ہوئے قائل کیا جائے کہ دوخداؤں کی موجودگی میں یہ نا ممکن ہوتا۔ انفسی دلائل کا مفہوم یہ ہے کہ وہ زندگی کے مختلف مراحل کی تخلیق میں تامل و تدبر کریں گے تو اس حقیقت کو پالیں گے کہ انسان کی تخلیق صرف ایک خدا کا عمل ہے۔ یہی وہ انداز ہے جسے اختیار کرتے ہوئے قرآن کریم ارشاد فرماتا ہے۔

’’ادع الی سبیل ربک بالحکمۃو الموعظۃ الحسنۃ وجادلہم بالتی

144

ھی احسن (النحل:۱۲۵)‘‘{اپنے رب کے راستہ کی طرف حکمت اور اچھی نصیحت کے ساتھ دعوت دو اور ان کے ساتھ اس طریقہ سے بحث کرو جو پسندیدہ ہے۔}انہوں نے اس امر پرزور دیا کہ اصل چیز حجت ہے:

’’ولکن لیقضی اللہ امرا کان مفعولا، لیھلک من ھلک عن بیّنۃ ویحییٰ من حیی عن بیّنۃ (الانفال:۴۲)‘‘{اور تاکہ اللہ اس امر کا فیصلہ فرما دے جس کا ہونا طے ہو چکا تھا۔ تاکہ جسے ہلاک ہونا ہے حجت دیکھ کر ہلاک ہو اور جسے زندگی حاصل کرنی ہے وہ حجت دیکھ کر زندگی حاصل کرے۔}

آخر میں انہوں نے آیات نمبر۶؍۱۴۸، ۲۸؍۷۵، ۳۷؍۱۵۶،۱۵۷، ۲۷؍۶۴، ۲۱؍۲۴ اور ۲؍۱۱۱ کاحوالہ دیا۔ ان آیات کے متعلقہ حصے یہاں پیش کئے جاتے ہیں:

’’قل ھل عند کم من علم فتخرجوہ لنا (الانعام:۱۴۸)‘‘{پوچھو تمہاے پاس ہے اس کا کوئی علم کہ تم اس کو ہمارے سامنے پیش کر سکو۔}

’’ام لکم سلطن مبین، فاتوا بکتٰبکم ان کنتم صدقین (الصفت: ۱۵۶، ۱۵۷)‘‘{کیا تمہارے پاس کوئی واضح حجت ہے۔پس پیش کرو تم اپنی کتاب اگر تم سچے ہو۔}

’’فقلنا ھاتواء برھانکم (القصص:۷۵)‘‘{پس ہم کہیں گے کہ اپنی دلیل پیش کرو۔}

’’قل ھاتوابرھانکم (الانبیاء:۲۴)‘‘{ان سے کہو کہ اپنی دلیل پیش کرو۔}

’’قل ھاتوابرھانکم (النمل :۶۴)‘‘{کہو کہ تم اپنی دلیل لاؤ۔}

’’قل ھاتوابرھانکم (البقرۃ:۱۱۱)‘‘{تم کہو اپنی دلیل پیش کرو۔}

انہوں نے ان آیات کی توضیح کے لئے متعدد تفاسیر کے حوالے پیش کئے۔ انہیں یہاں نقل کرنے کی اس لئے ضرورت نہیں کہ ان آیات کے معانی بالکل واضح ہیںکہ مسلمان مشرکین اور غیر مسلموں سے ان کے پختہ عقائد کے بارے میںحجت طلب کر سکتے ہیں۔

لیکن مسٹر مجیب الرحمن کا استدلال یہ ہے کہ اس سے غیر مسلموں کو اپنے مذہب کی تبلیغ کرکے انہیں مرتد بنانے کاحق ملتاہے۔

ہم ادنیٰ سے ادنی امکان کی حد تک بھی اس سے اتفاق نہیں کرتے۔

یہ تمام آیات اسلام کی دعوت و تبلیغ کے اصولوں اور اس کے اسلوب اور طریقہ کار سے

145

متعلق ہیں۔ اصو ل یہ ہے کہ کسی غیرمسلم سے اسلام کی دعوت پر گفتگو کرتے ہوئے مسلمان کو نہایت شائستہ اورنرم رویہ اختیار کرنا چاہئے اورنہ صرف اسلام کے تمام اچھے نکات کو معقول اور مدلل طریقے سے پیش کرنا چاہئے بلکہ غیر مسلم کو یہ موقع دینا چاہئے کہ وہ بھی اپنے دین کے اچھے پہلوؤں کے بارے میں اس کے سامنے اپنی رائے کااظہارکرے۔ یہ ضروری ہے کہ غیر مسلم کو اپنے دین کے بارے میں اپنا مؤقف کھل کر بیان کرنے دیا جائے تاکہ مسلمان اس کی تردید کر سکے اور دیگر مذاہب کے تخیّلاتی فلسفے پر اسلام کی برتری کو ثابت کر سکے۔

درحقیقت قرآن دو افراد کے درمیان اس قسم کی آزادانہ بحث ہی کی اجازت نہیں دیتا۔ بلکہ وہ جیساکہ ’’ھاتوا برھانکم‘‘(اپنی دلیل پیش کرو) سے ظاہر ہے،مسلمان سے کہتا ہے کہ غیر مسلم کو چیلنج دو کہ وہ اپنے عقیدے کی صداقت کے دلائل سامنے لائے۔درحقیقت یہ اس امر کا اشارہ ہے کہ غیر مسلم ایسے دلائل پیش کرنے سے قاصر ہیں۔

دیکھئے (المراغی ج۱ص…)کہاگیاہے ’’فھوفی عرف التخاطب تکذیب‘‘خطاب کے عرف میں یہ انہیں جھوٹا قرار دینے کی ایک شکل ہے۔ یہ قطعی بات ہے کہ قرآن کریم کے دلائل ناقابل تردید ہیں۔ کفر کی تائید میں کوئی دلیل پیش کرنا ممکن نہیں ہے۔

اس سے اس امکان کی نفی ہو جاتی ہے کہ مسلمان، غیر مسلم کے اپنے مذہب کے حق میں دلائل سے متاثر ہوکر مرتد ہو جائے گا۔ یہ آیات تبلیغ کی صرف اس صورت پر چسپاں ہوتی ہیں جوغیر مسلموں کو اسلام کی دعوت دینے کے لئے کی جائے۔ ان آیات کا رخ موڑکر انہیں غیر مسلموں کے اس دعوے کی تائید میں پیش نہیں کیا جا سکتا کہ انہیں اپنے مذہب کی تبلیغ کرنے کا حق حاصل ہے۔ جیسا کہ پہلے بیان گزر چکا ہے قرآن کریم، سنت رسول اللہ ﷺ یا ان کی تفاسیر و شروح میں ایسی کوئی دلیل موجود نہیں ہے جس میں غیر مسلموں کے حق کو تسلیم کیاگیاہو کہ وہ مسلمانوں میں اپنے مذہب کی تشہیر وتبلیغ کریں۔ یہ آیات اور ان کی تفاسیر اس دعوے کی تائید نہیں کرتیں کہ غیر مسلموں کو یہ بنیادی حق حاصل ہے کہ وہ مسلمانوں میںاپنے مذہب کی تشہیر و تبلیغ کریں۔ اس کے باوجود اسلامی ریاست کو یہ اختیار حاصل ہے کہ وہ غیر مسلموں کو اپنے مذہب کی تبلیغ کی اجازت دے۔جیساکہ آئین کی دفعہ ۲۰ میں دی گئی ہے۔ تاہم یہ اجازت صرف اس صورت میں دی جاسکتی ہے کہ جب غیر مسلم،غیر مسلم کی حیثیت سے تبلیغ کریں نہ کہ خود کو مسلمان ظاہر کرکے، یہ مقننہ کا کام ہے کہ وہ دیگر شرائط وضع کرے۔

مولانا مودودی نے اپنی کتاب اسلامی ریاست کے صفحات ۵۸۲ تا ۶۰۲ پراقلیتوں کے

146

حقوق پر مفصل بحث کی ہے اور ایک اسلامی ریاست میں غیر مسلموںکے اپنے مذہب کی برتری ثابت کرنے کے لئے مواد چھاپنے کے حق میں بھی بیان کیا ہے۔لیکن انہوںنے کہا کہ اس امر کی اجازت نہیں دی جاسکتی کہ کسی مسلمان کو انفرادی طور پر کسی دوسرے مذہب کی تبلیغ کی جائے۔ وہ مزید کہتے ہیںکہ کوئی مسلمان اپنادین بدلنے کا مجاز نہ ہوگا۔

مسٹر مجیب الرحمن نے اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے اس اعلان سے بھی حوالے پیش کئے جو ۱۹۴۸ء میں منظور ہواتھاجس دفعہ کا انہوں نے ذکر کیا تھا وہ یوں ہے:

’’(دفعہ ۱۸) ہر شخص کو سوچ،ضمیر اور مذہب کی آزادی کاحق حاصل ہے۔اس حق میں اپنا مذہب یا عقیدہ بدلنے کی آزادی اور خواہ انفرادی طور پر یا برادری میںدوسروں کے ہمراہ یا عوام میں یانجی طورپر،اپنے مذہب یا عقیدے کو، تعلیم،عمل،عبادت اوررسوم میں ظاہر کرنے کی آزادی شامل ہے۔‘‘

اس چارٹر میں کسی ملک کے شہریوں کو اپنے مذہب کی تبلیغ و اشاعت کا حق دینے کے بارے میں کچھ نہیں ہے۔ آخر میں اسلامک کونسل کے شائع کردہ دو رسالوں کا حوالہ دیا جا سکتا ہے۔ پہلا ’’انسانی حقوق کا منشور‘‘ ہے اور دوسرا’’مثالی اسلامی آئین‘‘ ہے۔ ان دونوں رسالوںمیں قرآن کریم اور سنت رسول ﷺ کے احکام کی روشنی میں وضع کردہ انسانی حقوق میں عموماً وہ انسانی حقوق شامل ہیں جو اقوام متحدہ نے منظور کئے ہیں۔ تاہم کئی حقوق زیادہ ہیں۔مثلاً انصاف کاحق، طاقت کے غلط استعمال کے خلاف تحفظ کا حق،پناہ کا حق،اقلیتوں کے یہ حقوق کہ ان کے شخصی معاملات ان کے اپنے شخصی قوانین کے مطابق طے کئے جائیں گے۔عوامی امور کے نظم و انتظام میں شرکت کے حقوق و فرائض، کارکنوںکے مرتبے،وقار اورسماجی تحفظ کے حقوق وغیرہ۔

رسالہ’’انسانی حقوق کا عالمی منشور‘‘ کے پیراگراف ۱۲اور۱۳ عقیدے، سوچ اورتقریر کی آزادی کے حق اورمذہب کی آزادی کے حق سے تعلق رکھتے ہیں۔ انہیں یہاں درج کیاجاتاہے۔

’’۱۲،(الف) ہر شخص کو اس وقت تک اپنے خیالات اورعقائد کے اظہار کا حق حاصل ہے جب تک وہ قانون میں بیان کردہ حدود میں رہتاہے۔تاہم کوئی بھی شخص اس بات کا مجاز نہیں کہ وہ جھوٹ کی اشاعت کرے یا ایسی اطلاعات پھیلائے جو عوامی مذاق کو مشتعل کریں یا تہمت تراشی کرے یا دوسرے لوگوں پر طعن و تشنیع کرے یا ان پر ہتک آمیز الزامات لگائے۔

ب… علم کی جستجو اورحق کی تلاش ہر مسلمان کا نہ صرف حق ہے بلکہ فرض یہ ہے۔

ج … یہ ہر مسلمان کا حق اورفرض ہے کہ وہ ظلم کے خلاف قانون کی طے کردہ حدود کے اندر

147

رہتے ہوئےاحتجاج اورجدوجہد کرے،خواہ اس میں ریاست کے حاکم اعلیٰ کو چیلنج کرنا شامل ہو۔

د… اطلاعات کی اشاعت پر کوئی پابندی نہیں ہوگی بشرطیکہ اس سے معاشرے یا ریاست کی سلامتی کو خطرہ لاحق نہ ہو اور یہ قانون کی طرف سے عائدکردہ حدود کے اندر محدود ہو۔

ھ… کوئی شخص دوسروں کے مذہبی عقائد کی توہین یاتضحیک نہیں کرے گا یا ان کے خلاف عوام میں عداوت نہیں پھیلائے گا۔ دوسروں کے مذہبی جذبات کا احترام ہر مسلمان کافرض ہے۔

۱۳… ہر شخص کو ضمیر اور اپنے مذہبی عقائد کے مطابق عبادت کی آزادی کا حق حاصل ہے۔ اسی طرح رسالہ ’’مثالی اسلامی آئین‘‘ کی دفعات ۸ اور ۱۶ اقلیتوں کے مذہبی حقوق سے متعلق ہیں۔ وہ درج ذیل ہیں:

(۸)ہر شخص کو اپنے خیالات، آراء اورعقائد کا حق حاصل ہے اور اسے ان کے اظہار کا حق اس وقت تک حاصل ہے جب تک وہ قانون کی مقررکردہ حدود کے اندررہتاہے۔

(۱۶)(الف) مذہب میں کوئی جبر نہیں ہے۔

ب… غیرمسلم اقلیتوں کو اپنے مذہب پر عمل کرنے کا حق ہے۔

ج… شخصی قوانین کے معاملات میں اقلیتوں پر ان کے اپنے قوانین اورروایات نافذ ہوں گے الاّیہ کہ وہ خود یہ پسند کریں کہ ان پرشریعت نافذ ہو۔فریقوں کے درمیان تنازعہ میں شریعت نافذ ہوگی۔

قابل توجہ امر یہ ہے کہ کسی کے مذہب کی تبلیغ کے حق کو اقلیتوں کے انسانی حقوق میں شامل نہیںکیاگیا۔یہ اس بیان کے عین مطابق ہے جو اوپرگزر چکا ہے۔

آئین کی دفعہ ۲۰ پاکستان کے تمام شہریوں کو اپنے مذہب کوماننے،عمل کرنے اور اشاعت کرنے کاحق دیتی ہے۔ لیکن یہ حق قانون،امن عامہ اور اخلاق کے تابع ہے۔ اس کا بیان یوں ہواہے:

’’قانون،امن عامہ اوراخلاق کے مطابق:

الف… ہر شہری کو اپنا مذہب ماننے،اس پرعمل کرنے اوراس کی اشاعت کا حق حاصل ہوگا۔

ب… ہر مذہبی جماعت اور اس کے ہر فرقے کو اپنے مذہبی ادارے قائم کرنے،دیکھ بھال کرنے اور چلانے کاحق ہوگا۔

جبندر کشور کے مقدمے پی ایل ڈی ۱۹۵۷ء ایس سی صفحہ ۹ میں سپریم کورٹ کو ۱۹۵۶ء کے آئین کی دفعہ ۱۸ کی اسی نوع کی عبارت کی تشریح کرنے کاموقع ملاتھا۔ یہ قرار دیاگیاتھا کہ

148

قانون کے مطابق کے الفاظ مقننہ کو یہ اجازت نہیں دیتے کہ جو آئین نے ایک ہاتھ سے دیا ہے وہ اسے دوسرے ہاتھ سے واپس لے لے اور اس حق کو صرف نظام کے تحت لایا جا سکتا ہے۔ لیکن چھینا نہیںجا سکتا۔ جناب جسٹس محمدمنیر چیف جسٹس(ریٹائرڈ) نے اس بارے میں یہ رائے دی:

’’جب امن وامان کا مسئلہ پیدا ہو تو قانون کے ذریعے سے منضبط کرنے کی گنجائش کو اس قدر تنگ نہیں کیا جاسکتا۔‘‘

دفعہ ۲۰ بھی قانون اور امن عامہ کے تابع ہے اور تبلیغ کا حق اسی کے تابع ہے۔

مرزا غلام احمدکے دعوؤں اور ان کے ارتقائی رجحان کے تاریخی تجزیے میں یہ امر پہلے واضح ہو چکا ہے کہ مرزا غلام احمد کے مجدد اورمامور من اللہ ہونے کے دعوے کے فوراً بعد ہی برصغیر ہندوستان کے مسلمانوں میں بے چینی کے جذبات پیدا ہوگئے تھے اور انہوں نے بالکل درست اپنے خدشات کا اظہار کردیاتھا کہ یہ نبوت کی طرف پہلا قدم ہے۔ مرزاصاحب نے اس کی تردید کرنے میں ہوشیاری دکھائی اوردعویٰ کیا کہ وہ حضرت محمدﷺ کی ختم نبوت پر پختہ یقین رکھتے ہیں اور ان کی رائے میں کسی قسم کی نبوت کا دعویٰ کفر سے کم نہیں ہے۔

اور جب ۱۸۹۰ء میں مسیح موعود اورمہدی ہونے کا دعویٰ کیاگیا تو مسلمانوں کی بے چینی،غم وغصے اورعداوت میں اضافہ ہوا۔ یہ مرزاصاحب کی کتابوں اور دوسرے قادیانی لٹریچر سے واضح ہوتا ہے کہ جب وہ مختلف شہروں میں جاتے تو مسلمان ان کی قیام گاہ کے گرد جمع ہو جاتے تھے۔ علماء بھی سخت مشتعل تھے۔

۱۹۰۱ء میں مرزاصاحب کے صاف دعویٰ نبوت کی وجہ سے یہ اشتعال اپنے عروج پر پہنچ گیا۔

قیام پاکستان کے بعد اس مسئلے پر ایسا احتجاج ہوا کہ اس کو دبانے کے لئے ۱۹۵۳ء کا مارشل لاء نافذ کرناپڑا۔ تاہم یہ مسلمانوں کے اس مطالبے کو خاموش کرنے میں کامیاب نہ ہو سکا جسے علماء نے اپنے ۲۲ نکاتی پروگرام میں آئین میں قادیانیوں کو غیر مسلم اوراقلیتی حیثیت دینے کے لئے پیش کیاتھا۔

مارشل لاء کے نفاذ کے علی الرغم احتجاج جاری رہا ۔ یہاں تک کہ پارلیمنٹ اور قومی اسمبلی میں مسلمان عوام کے نمائندوں کو،قادیانی گروہ کے سربراہ مرزا ناصر احمد تک قادیانیوں کی مکمل سماعت کرنے کے بعد (دوسرا ترمیمی) آئینی ایکٹ مجریہ ۱۹۷۴ء منظور کرناپرا اور ۱۹۷۳ء کے آئین کی دفعہ ۲۶۰ میں ایک تعریف کا اضافہ کرناپڑا۔ جس کی رو سے دونوںمعروف گروہوں

149

کے قادیانیوں کو غیر مسلم قرارد ے دیاگیا اور دفعہ ۱۰۶ میں ایک ترمیم کے ذریعے انہیںپاکستان کی دوسری اقلیتوں مثلاً عیسائیوں، پارسیوں اورہندوؤں وغیرہ کے مساوی مقام دے دیاگیا۔

اس اعلان کے نتیجے میں، جو مسلمانوں کے متفقہ مطالبے پر منظور ہواتھا،قادیانیوں کے لئے روا،نہ تھا کہ وہ خود کو مسلمان کہتے یا اپنے تصور کے اسلام کی حقیقی اسلام کے طور پراشاعت کرتے،لیکن انہوں نے آئینی ترمیم کا بالکل احترام نہ کیا اور اپنے عقیدے کو پہلے کی طرح اسلام قرار دیتے رہے۔ وہ اپنی کتابوں اوررسالوں وغیرہ کی اشاعت کے ذریعے نیز انفرادی طور پر مسلمانوں کے اندراپنے مذہب کی آزادانہ تبلیغ کرتے ہوئے غیض وغضب کا باعث بنتے رہے۔

اس سے لازماً اورواضح طور پر امن وامان کی صورت حال پیدا ہو جاتی۔ یہ سلسلہ موجودہ آرڈیننس کے پاس اورنافذ ہونے تک جاری رہا۔ ان حالات میں یہ آرڈی ننس،دفعہ ۲۰ کے قانون اور امن وامان کے تحفظ کے تابع ہونے کے استثناء میں شامل دکھائی دیتاہے۔

مندرجہ بالا وجوہ کی بناء پر ان دونوں پٹیشنز میںکوئی وزن نہیں ہے اور انہیں خارج کیا جاتاہے۔اس فیصلے کو ختم کرنے سے پہلے ہم مسٹر مجیب الرحمن پٹیشنر اورمسٹر ریاض الحسن گیلانی ایڈووکیٹ برائے وفاقی حکومت کی جانب سے دی گئی معاونت کے لئے اپنی گہری قدردانی کو ریکارڈپر لانا چاہتے ہیں۔ مسٹر گیلانی کی مقدمے کی تیاری اور پیشکش قابل تعریف تھی۔

چیف جسٹس

جج نمبر۲…جج نمبر۳…جج نمبر۴

اسلام آباد ۔۲۹؍اکتوبر ۱۹۸۴ء

150

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ

رابطہ عالم اسلامی کی قرارداد

مرزائی کافر ومرتد، دائرئہ اسلام سے خارج ہیں

مورخہ ۱۶،۱۷؍اپریل ۱۹۷۳ء کو مکہ مکرمہ میں عالمی اسلامی تنظیموں کا اجلاس منعقد ہوا۔ جس میں پوری دنیا کی اسلامی تنظیموں کے سربراہوں ،علماء ومشائخ نے شرکت کر کے یہ فیصلہ دیا۔ترجمہ:

۱… ’’تمام اسلامی تنظیموں کو چاہئے کہ وہ قادیانی معامد،مدارس ،یتیم خانوں اور دوسرے تمام مقامات میں جہاں وہ سیاسی سرگرمیوں میں مشغول ہیں۔ ان کا محاسبہ کریں اور ان کے پھیلائے ہوئے جال سے بچنے کے لئے عالم اسلام کے سامنے ان کو پوری طرح بے نقاب کریں۔

۲… اس گروہ کے کافر اورخارج از اسلام ہونے کا اعلان کریں اوران کے اس جرم کی وجہ سے مقامات مقدسہ میں ان کا داخلہ ممنوع قرار دیاجائے۔

۳… قادیانیوں سے عدم تعاون اوراقتصادی ،معاشرتی اورثقافتی ہر میدان میں مکمل بائیکاٹ کیا جائے۔ان کے کفر کے پیش نظر ان سے شادی بیاہ کرنے سے اجتناب کیا جائے اوران کو مسلمانوں کے قبرستان میں دفن نہ کیاجائے۔ان سے ہر طرح کافروں جیسا سلوک کیا جائے۔

۴… تمام اسلامی حکومتوں سے مطالبہ کیاگیا کہ ان کے ہر قسم کے ذرائع ووسائل پر پابندی عائد کی جائے۔ان کے لئے کلیدی اسامیوں پرملازمتوں کادروازہ بند رکھا جائے اوراس سلسلہ میں کسی قسم کی فراخ دلی سے کان نہ لیا جائے۔

۵… قرآن مجید میں قادیانیوں کی تحریفات کی تصاویر شائع کی جائیں اوران کے تراجم قرآن کا شعار کر کے لوگوں کو ان سے متنبہ کیا جائے اوران تراجم کی ترویج کا سد باب کیا جائے۔‘‘

151

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ

ملفوظ

حضرت مولانا محمد علی جالندھریؒ

امیر سوم عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت

ایک جلسہ میں دوران تقریر فرمایا: ’’دیکھو! میں اپنی عمر کے آخری پیٹے میں ہوں، بوڑھا ہو گیا ہوں، شاید جدائی کا وقت قریب ہو، میں آپ دوستوں سے ایک ہی درخواست کرنا چاہتا ہوں، شاید آپ اس پر عمل کر کے میری قبر ٹھنڈی کریں۔

سرکاری حکام اور ارباب حل وعقد کو میری وصیت ہے کہ وہ عقیدۂ ختم نبوت کے وفادار بن کر رہیں اور کسی عہدہ کے لالچ یا دنیا کی عارضی عزت کے بدلے جناب رسول اللہ ﷺ سے بے وفائی کرتے ہوئے منکرین ختم نبوت کی مدد یا حوصلہ افزائی نہ کریں، ورنہ ان کا حشر وہی ہوگا جو ان سے پہلے ان حکام کا ہو چکا ہے جنہوں نے آنحضرت ﷺ کی ختم نبوت کا عہد وفا توڑ دیا اور دشمنان عقیدۂ ختم نبوت کے ہاتھ مضبوط کئے۔

عام لوگوں سے میری درخواست ہے کہ ایک وقت آسکتا ہے جب عقیدۂ ختم نبوت کا نام لینا جرم بن جائے گا، اللہ کرے ایسا نہ ہو، لیکن اگر حالات تمہیں ایسے موڑ پر لاکر کھڑا کر دیں تو جان دے دینا مگر باوفا نبی اکرمa سے دنیا کی عارضی تکلیف پر بے وفائی نہ کرنا اور اپنے عقیدہ پر جمے رہنا، یہاں تک کہ موت تمہیں دنیا کی ان عارضی چیزوں سے بچا کر اللہ کریم کی دائمی نعمتوں والی جنت میں داخل کر دے۔‘‘

152