۶…پولیس کی کثرت ہوگی جو ظالموں کی پشت پناہی کرے گی۔
۷…بڑے عہدے نااہلوں کو ملیںگے۔
۸…لڑکے حکومت کرنے لگیںگے۔
۹…تجارت بہت پھیل جائے گی، یہاں تک کہ تجارت میں عورت اپنے شوہر کا ہاتھ بٹائے گی۔ مگر کساد بازی ایسی ہوگی کہ
نفع حاصل نہ ہوگا۔
۱۰…ناپ تول میں کمی کی جائے گی۔
۱۱…لکھنے کا رواج بہت بڑھ جائے گا۔ مگر تعلیم محض دنیا کے لئے حاصل کی جائے گی۔
۱۲…قرآن کو گانے بجانے کا آلہ بنالیا جائے گا۔
۱۳…ریاشہرت اور مالی منفعت کے لئے گاگا کر قرآن پڑھنے والوں کی کثرت ہوگی اور فقہاء کی قلت ہوگی۔
۱۴…علماء کو قتل کیا جائے گا اور ان پر ایسا سخت وقت آئے گا کہ وہ سرخ سونے سے زیادہ اپنی موت کو پسند کریں گے۔
۱۵…اس امت کے آخری لوگ پہلے لوگوں پر لعنت کریں گے۔
۱۶…امانتدار کو خائن اور خائن کو امانتدار کہا جائے گا۔
۱۷…جھوٹے کو سچا اور سچے کو جھوٹا کہا جائے گا۔
۱۸…اچھائی کو برا اور برائی کو اچھا سمجھا جائے گا۔
۱۹…اجنبی لوگوں سے حسن سلوک کیا جائے گا اور رشتہ داروں کے حقوق پامال کئے جائیںگے۔
۲۰…بیوی کی اطاعت اور ماں باپ کی نافرمانی ہوگی۔
۲۱…مسجدوں میں شوروشغب اور دنیا کی باتیں ہوںگی۔
۲۲…سلام صرف جان پہچان کے لوگوں کو کیا جائے گا۔ (حالانکہ دوسری احادیث میں ہے کہ سلام ہر مسلمان کو کرنا
چاہئے۔ خواہ اس سے جان پہچان ہو یا نہ ہو)
۲۳…طلاقوں کی کثرت ہوگی۔
۲۴…نیک لوگ چھپتے پھریںگے اور کمینے لوگوں کا دور دورہ ہوگا۔
۲۵…لوگ فخر اور ریا کے طور پر اونچی اونچی عمارتیں بنانے میں ایک دوسرے کا مقابلہ کریں گے۔