Top banner image

قادیانیت کا تعاقب

اللہ تعالیٰ جزائے خیر دے ان ہر دو حضرات(مولانا محمد اعجاز صاحب مولانا قاضی احسان احمدصاحب) کو جنہوں نے اپنی دوسری مصروفیات کے ساتھ ساتھ اس کام کو بھی جنگی بنیادوں پر سرانجام دیا، امید ہے کتاب عوام و خواص اور علماء و خطبا کے لئے بے حد مفید اور مسئلہ ختم نبوت کے سمجھنے اور تردید قادیانیت میں مددگار ثابت ہوگی(مولانا) سعید احمد جلال پوری شہیدؒامیر عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کراچی

کتاب کا نام: قادیانیت کا تعاقب
جمع و ترتیب: مولانا محمد اعجاز صاحب مولانا قاضی احسان احمد
کمپوزنگ: محمد فیصل عرفان خان
ناشر: عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت حضوری باغ روڈ ملتان
فون: 061-4583486 | 061-4783486
دوسرا ایڈیشن

 

 

 

صَلُّوا عَلَی الْحَبِیْب

 

 

 

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ

الحمدللہ وسلام علی عبادہ الذین اصطفی!

    عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے امیر مرکزیہ خواجہ خواجگان حضرت مولانا خواجہ خان محمد صاحب زید مجدہم کندیاں شریف نے اپنے ایک مکتوب میں ملک بھر بلکہ دنیا بھر کے علماء اور خطبا سے اپیل فرمائی تھی کہ:

    ’’آپ کو معلوم ہے کہ قادیانی، مرزائی اندر ہی اندر مسلمانوں کو مرتد بنانے میں مصروف ہیں، میں آپ حضرات سے اللہ کے نام پر اپیل کرتا ہوں کہ مہینہ میں کم از کم ایک مرتبہ اپنے خطبہ میں تحفظ عقیدہ ختم نبوت اور مرزا غلام احمد قادیانی اور اس کی جماعت کے خطرناک عزائم اور مکروہ چہرہ کے متعلق نوجوانوں کو آگاہ فرمادیا کریں تاکہ ہم حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اس حق کو ادا کرنے میں خدا کے ہاں اجر کے مستحق بن سکیں۔ امید ہے کہ آپ توجہ فرمائیں گے۔ والسلام

    فقیر خان محمد عفی عنہ خانقاہ سراجیہ۔‘‘

    اس پر بعض اصحابِ رائے حضرات نے یہ تجویز دی کہ مساجد کے ائمہ، خطبا اور علماء کی راہنمائی اور یہ بیان و خطاب کی تیاری کے لئے کوئی ایسی بنیادی راہ نما کتاب بھی ضرور ہونی چاہئے جس کو پڑھ کر حضرات خطبا اور علماء عقیدہ ختم نبوت اور تردید قادیانیت پر تیاری کرسکیں اور

4

متعلقہ موضوع پر انہیں پورا مواد یکجا مرتبہ شکل میں مل جائے، اس لئے عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے مرکزی راہنما شاہین ختم نبوت حضرت مولانا اللہ وسایا دامت برکاتہم نے برادر عزیز مولانا محمد اعجاز، مولانا قاضی احسان احمد طول عمرہ کی ذمہ داری لگائی کہ وہ اپنے اکابر کی کتب، تقاریر اور خطبات سے ماخوذ ایسے ۱۲ خطبات اور تقریریں مرتب کریں، جن سے حضرات علماء اور خطبا کی اس سلسلہ میں معاونت ہوسکے۔

اللہ تعالیٰ جزائے خیر دے ان ہر دو حضرات کو جنہوں نے اپنی دوسری مصروفیات کے ساتھ ساتھ اس کام کو بھی جنگی بنیادوں پر سرانجام دیا۔ یوں بہت جلد ۱۵ خطبات پر مشتمل یہ کتاب مرتب ہوکر آپ کے ہاتھوں میں ہے۔ امید ہے کتاب عوام و خواص اور علماء و خطبا کے لئے بے حد مفید اور مسئلہ ختم نبوت کے سمجھنے اور تردید قادیانیت میں مددگار ثابت ہوگی۔ اللہ تعالیٰ کتاب کے مرتبین اور ناشر کی مغفرت اور قارئین کی راہ نمائی کا ذریعہ بنائے۔آمین۔

(مولانا) سعید احمد جلال پوری شہید

امیر عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کراچی

نوٹ: کتاب کی تیاری کے سلسلہ میں جب کام شروع ہوا تب مندرجہ بالا دونوں بزرگ بقید حیات تھے، آج تکمیل کے مراحل کے وقت ہم ان کی دعائوں اور سرپرستی سے محروم ہیں، مگر ان کا صدقہ جاریہ اور ناموس رسالت سے لگن باقی ہے اور انشاء اللہ تاقیامت باقی رہے گی، حق تعالیٰ شانہ اس مساعی کو شرف قبولیت نصیب فرمائے۔ آمین۔ (مرتب)

5
  1. تمام مسلمانوں سے اپیل

    125

  2. قادیانیت کیا ہے؟

  3. شیاطین انسانوں کی شکل میں

    130

  4. حضرت حق تعالیٰ جل شانہ کی شانِ اقدس میں مرزا کی ہرزہ سرائی

    132

  5. حضور نبی کریم علیہ الصلوٰۃ والتسلیم

    133

  6. مرزا بعینہٖ محمد رسول اللہ

    134

  7. محمد رسول اللہ کے تمام کمالات مرزا قادیانی میں

    135

  8. حضرات انبیاء کرام علیہم السلام

    136

  9. حضرت مسیح علیہ السلام

    137

  10. اسلام اور مرزا قادیانی

    138

  11. حضرات صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اجمعین

    139

  12. قرآن و سنت

    140

  13. حرمین شریفین زادہما اللہ شرفاً و تعظیماً

    141

  14. علما اور اولیا امت

    142

  15. تمام مسلمانوں کے لئے فتویٰ کفر

    144

  16. مسلمانوں سے معاشرتی بائیکاٹ

    145

  17. الگ دین الگ امت

    146

  18. وضاحت

    147

  19. مرزائیوں کے قبرستان میں مسلمانوں کا بچہ بھی دفن نہیں ہوسکتا

    147

  20. سیّدنا عیسیٰ علیہ السلام کے متعلق موجود نظریات اور ان کی تنقیح

  21. حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے بارے میں اسلامی عقیدہ

    156

  22. اسلامی عقیدہ کے اہم اجزا یہ ہیں

    156

  23. سیّدنا عیسیٰ علیہ السلام کے متعلق یہودیوں کا نقطۂ نظر کیا ہے؟

    157

  24. سیّدنا عیسیٰ علیہ السلام کے متعلق مسیحی نقطۂ نظر کیا ہے؟

    157

11
  1. نزول عیسیٰ ختم نبوت کے منافی نہیں

    180

  2. آپؐ کے بعد دعویٰ نبوت کرنے والا دجال ہے

    180

  3. ختم نبوت کا اعلان میدانِ عرفات میں

    180

  4. مدعی نبوت سے بڑا جھوٹا کوئی نہیں

    181

  5. منصب نبوت سے بڑا کوئی منصب نہیں

    181

  6. مدعی نبوت منصب چھیننا چاہتا ہے

    181

  7. آپؐ سے زیادہ کوئی محبوب نہیں

    181

  8. عشق رسول کا ایک عجیب واقعہ

    182

  9. محبت نبوی کے مقابلہ میں سب محبتیں ہیچ ہیں ایک قصہ

    182

  10. گناہ گار سے گناہ گار مسلمان کا دل محبت نبوی سے لبریز

    183

  11. محبت نبوتؐ کا ایک عجیب قصہ

    183

  12. مولانا محمد یوسف لدھیانوی شہیدؒ کی حضرت مدنیؒ سے دلی محبت کا قصہ

    184

  13. آپؐ کا مسیلمہ ’’کذاب‘‘ لکھوانا

    185

  14. مرزا غلام احمد قادیانی، مسیلمہ کذاب سے ایک قدم آگے

    185

  15. ہماری دشمنی کا سب سے بڑا مظہر مرزا قادیانی

    186

  16. مرزا قادیانی کے مقابلہ میں کام کرنے والے حضورؐ کے محبوب ہیں

    186

  17. امیر شریعتؒ کو بارگاہ نبویؐ سے سلام

    186

  18. حاجی مانکؒ کو روزانہ زیارت نبویؐ کا اعزاز

    187

  19. جج کا محبت نبویؐ سے مجبور ہونا

    187

  20. فتنہ ارتداد کا مقابلہ اور اس دور میں اس کا مصداق

  21. پیش گوئی اور وعدہ

    193

  22. مرتدین کا مقابلہ کرنے والی جماعت کے اوصاف

    193

  23. حضرت علیؓ کی فضیلت

    194

  24. حضرت صدیق اکبرؓ کا اعزاز

    195

13

    کذبِ مرزا

  1. نام و نسب

    246

  2. تاریخ و مقام پیدائش

    246

  3. تعلیم اور اساتذہ کا ادب

    246

  4. خلاصہ

    246

  5. جوانی کی رنگ رلیاں اور ملازمت

    247

  6. حکومت برطانیہ کا منظور نظر

    248

  7. صداقت اسلام کے نعرئہ سے اسلام کی بیخ کنی کا آغاز

    248

  8. دعاوی مرزا

    249

  9. الاربعین فی خاتم النبیین ﷺ

  10. ختم نبوت، انبیاء علیہم السلام میں صرف آپؐ کی خصوصیت ہے

    256

  11. آنحضرت ﷺکے بعد جو نبوت کا دعویٰ کرے وہ دجال اور کذاب ہے.

    257

  12. امت کا انتظام اور ان کے دینی تحریفات کی اصلاح کرنا بھی نبوت نہیں

    248

  13. ختم نبوت کو حسی چیز کی مثال سے واضح کرنا

    259

  14. آنحضرت ﷺ کے بعد غیر تشریعی نبی بھی نہیں

    260

  15. آنحضرت ﷺ کے بعد کوئی نبی ہوتا تو حضرت عمرؓ ہوتے

    261

  16. حجۃ الوداع کے موقع پر اعلان ختم نبوت

    262

  17. رسالت اور نبوت اب دونوں منقطع ہیں

    263

  18. آنحضرت ﷺکی بعثت علامات قیامت میں سے ہے

    264

  19. آنحضرت ﷺ کے اسماء مبارکہ

    264

  20. آپ ﷺنبوت سے اس وقت سرفراز تھے جبکہ آدم ؑ میں نفخ روح بھی نہ ہوا تھا

    266

  21. آنحضرت ﷺ کی مسجد انبیاء علیہم السلام کی مساجد میں آخری مسجد ہے

    267

  22. آنحضرت ﷺ قائد المرسلین اور خاتم النبیین ہیں

    267

  23. مہر نبوت خود آپ ﷺکے خاتم النبیین ہونے کی دلیل تھی

    268

16

    مسئلہ حیات ونزول مسیح ابن مریم علیہ السلام

  1. حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا نزول یقینی مسئلہ ہے

    268

  2. عیسیٰ ؑ آسمان سے اتریںگے زمین کے کسی خطہ میں پیدا نہیں ہوں گے

    270

  3. حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا نزول حق تعالیٰ کا ایک وعدہ ہے

    271

  4. عیسیٰ علیہ السلام کا حلیہ مبارک اور ان کے زمانہ میں امن وفراوانی رزق

    272

  5. حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی ابھی وفات نہیں ہوئی

    273

  6. آنحضرت ﷺ کی سیدنا عیسیٰ علیہ السلام کے متعلق سلام کی وصیت

    274

  7. حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا نزول اس امت کے لئے رحمت ہے

    274

  8. حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے آگ پر پکی ہوئی چیز نہیں کھائی

    275

  9. حضرت عیسیٰ علیہ السلام حج وعمرہ ادا فرمائیں گے

    275

  10. دجال کو تو صرف حضرت عیسیٰ علیہ السلام ہی قتل کریں گے

    276

  11. عیسیٰ ؑ نزول کے بعد نکاح کریں گے، اولاد ہوگی پھر وفات اور مقام دفن

    276

  12. حضرت عیسیٰ علیہ السلام دمشق کے مشرقی مینار پر نازل ہوں گے

    278

  13. عیسیٰ علیہ السلام کا امام مہدی کے پیچھے نماز پڑھنا اس امت کا اعزاز ہے

    278

  14. حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا نزول قیامت کی بڑی دس علامات میں سے ہے

    278

  15. سیدنا امام مہدی علیہ الرضوان … نام ونسب اور حلیہ مبارک

    280

  16. احادیث مبارکہ دربارہ دجال اکبر

    281

  17. قیامت اور علامات قیامت

    284

  18. اہمیت علامات قیامت

    285

  19. خطبہ جمعتہ المبارک

    290

  20. عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کی الیکٹرانک میڈیا پر خدمات

    293

  21. ☆ ☆ ☆

17

عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کا تعارف

قادیانی زندیق ہیں

سوال: کیا فرماتے ہیں مفتیان عظام اس مسئلہ کے بارے میں کہ مرزائی اور قادیانی کفر کی کون سی قسم میں داخل ہیں؟ کیا یہ منافق، زندیق اور مرتد ہیں یا اصلی کافر؟ برائے کرم شریعت کی روشنی میں بتائیں کہ یہ کون سی قسم میں داخل ہیں؟

(سائل : ابو محمد، کراچی)

جواب:… جو شخص اسلام چھوڑ کر کوئی دوسرا مذہب اختیار کرے وہ مرتد کہلائے گا، مگر چونکہ قادیانی اپنے کفر کو اسلام کا نام دیتے ہیں، اس لئے یہ عام کافر، منافق اور مرتد نہیں بلکہ زندیق ہیں، ہر کافر، مشرک اور مرتد کی توبہ قبول کی جاتی ہے ،مگر زندیق کی توبہ بھی ناقابل قبول ہے، اس لئے قادیانی زندیق ہیں اور زندیق تمام کافروں سے بدتر ہوتے ہیں، لہٰذا ان بدترین کافروں سے اپنے آپ کو اور مسلمانوں کو محفوظ کرنا چاہئے، لہٰذا ان کے ساتھ سلام، کلام، میل ملاپ اور خرید و فروخت ناجائز اور حرام ہے۔

مولانا سعید احمد جلال پوری شہید

دارالافتاء ختم نبوت ، کراچی

19

بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ

نَحْمَدُہٗ وَنُصَلِّیْ عَلٰی رَسُوْلِہِ الْکَرِیْمِ، اَمَّا بَعْدُ!

متحدہ ہندوستان پر جب انگریز نے اپنے استبدادی پنجے مضبوطی سے گاڑ لئے تو اس نے اپنے اقتدار کو طول دینے کے لئے ’’لڑائو اور حکومت کرو‘‘ کی پالیسی اختیار کی۔ اس کے لئے اسے ایک ایسے مدعی نبوت کی ضرورت پیش آئی جو اس کے ظالمانہ و کافرانہ نظام حکومت کو ’’سندالہام‘‘ مہیا کرسکے، اس کے لئے اس نے ہندوستان بھر کے ضمیر فروش طبقات سے اپنے مطلب کا آدمی تلاش کرنے کے لئے کوششیں شروع کیں۔ اللہ رب العزت کی قدرت کے قربان جایئے کہ قادیانی فتنہ کے جنم لینے سے قبل دارالعلوم دیوبند کے مورث اعلیٰ حضرت حاجی امداداللہ مہاجر مکیؒ پر بطور کشف اللہ تعالیٰ نے منکشف فرمادیا تھا کہ ہندوستان میں ایک فتنہ برپا ہونے والا ہے۔ چنانچہ مکہ مکرمہ میں ایک دن ان کے ہاں حضرت اقدس مولانا پیرمہر علی شاہ گولڑویؒ تشریف لے گئے تو آپ نے حضرت پیر صاحبؒ سے فرمایا:

’’ہندوستان میں عنقریب ایک فتنہ نمودار ہوگا تم ضرور اپنے وطن میں واپس چلے جائو اگر بالفرض تم ہندوستان میں خاموش بھی بیٹھے رہے تو وہ فتنہ ترقی نہ کرے گا اور ملک میں سکون ہوگا، میرے (پیر صاحبؒ کے) نزدیک حاجی صاحبؒ کی فتنہ سے مراد فتنہ قادیانیت تھی۔‘‘

(ملفوظات طیبہ ص ۱۲۶، تاریخ مشائخ چشت ص ۷۱۳، ۷۱۴، بیس بڑے مسلمان ص ۹۸، مہر منیر ص : ۱۲۹)

گویاکہ مرزا قادیانی کے فتنہ انکار ختم نبوت سے قبل ہی حق تعالیٰ نے اپنے مقبول بندوں کو

20

اس فتنے کے خلاف کام کرنے کے لئے متوجہ فرمادیا۔

مرزا غلام احمد قادیانی نے انگریز کے منصوبہ کے مطابق پہلے مبلغ اسلام، مناظر اسلام، مجدد، مہدی، مثیل مسیح، مسیح، ظلی و بروزی نبی، غیر تشریعی نبی اور پھر معاذاللہ خدا ہونے کے دعوے کئے۔

اس کی سب سے پہلی کتاب جس وقت منظر عام پر آئی اور مرزا ابھی تعارف اور جماعت سازی کے ابتدائی مرحلے طے کررہا تھا اس وقت میاں شاہ عبدالرحیم سہارنپوریؒ کے پاس مرزا کی کتاب پر تبصرہ کرنے کے لئے قادیانی وفد حاضر ہوا تو آپ نے فرمایا کہ:

’’مجھ سے پوچھتے ہو تو سن لو! یہ شخص تھوڑے دنوں میں ایسے دعوے کرے گا جو نہ رکھے جائیں گے، نہ اٹھائے جائیں گے۔‘‘

قادیانی وفد یہ سن کر جزبز ہونے لگا کہ دیکھو علمأ تو علمأ، درویش کو بھی دوسرے لوگوں کا شہرت پانا گراں گزرتا ہے۔ میاں صاحبؒ نے فرمایا: مجھ سے پوچھا ہے تو جو سمجھ میں آیا بتادیا، ہم تو اس وقت زندہ نہ ہوں گے، تم آگے دیکھ لینا۔

(ماخوذ از ارشادات قطب الارشاد حضرت شاہ عبدالقادر رائے پوریؒ ص ۱۲۸)

قادیانیوں کے خلاف پہلا فتویٰ

مرزا غلام احمد قادیانی نے اب پرپُرزے نکالے۔ جماعت سازی کے لئے۱۳۰۱ھ مطابق ۱۸۸۴ء میں لدھیانہ آیا تو مولانا محمد لدھیانویؒ، مولانا عبداللہ لدھیانویؒ اور مولانا محمد اسمٰعیل لدھیانویؒ نے فتویٰ دیا کہ مرزا غلام احمد قادیانی مجدّد نہیں بلکہ زندیق اور ملحد ہے۔

(فتاویٰ قادریہ ص ۳)

یہ مولانا محمد لدھیانویؒ معروف احرار رہنما مولانا حبیب الرحمن لدھیانویؒ کے دادا تھے۔ ان حضرات کا فتویٰ مرزا قادیانی کے کفر کو الم نشرح کرنے کے لئے کھڑے پانی میں پتھر پھینکنے کے مترادف ہوا۔ اس کی لہریں اٹھیں، حالات نے انگڑائی لی پھر:

’’لوگ ملتے گئے اور کارواں بنتا گیا‘‘

۱۸۹۰ء میں مولانا محمد حسین بٹالویؒ نے بھی مرزا قادیانی کے خلاف فتویٰ دیا۔ مرزا قادیانی نے انگریز کے ایما پر رسائل و کتب شائع کیں۔ ہندوستان کے علمائے کرام حسب

21

ضرورت اس کی تردید میں کوشاں رہے۔ چنانچہ دارالعلوم دیوبند کے مدرس مولانا محمد سہولؒ نے ۱۲/ صفر ۱۳۳۱ھ بمطابق ۱۹۱۴ء کو فتویٰ مرتب کیا کہ:

۱:… مرزا غلام احمد قادیانی مرتد، زندیق، ملحد اور کافر ہے۔

۲:… یہ کہ اس کے ماننے والوں سے اسلامی معاملہ کرنا شرعاً ہرگز درست نہیں۔ مسلمانوں پر لازم ہے کہ مرزائیوں کو سلام نہ کریں، ان سے رشتہ ناتہ نہ کریں، ان کا ذبیحہ نہ کھائیں، جس طرح یہود، ہنود، نصاریٰ سے اہل اسلام مذہباً علیحدہ رہتے ہیں اسی طرح مرزائیوں سے بھی علیحدہ رہیں۔ جس طرح بول و براز، سانپ اور بچھو سے پرہیز کیا جاتا ہے اس سے زیادہ مرزائیوں سے پرہیز کرنا شرعاً ضروری اور لازمی ہے۔

۳:… مرزائیوں کے پیچھے نماز پڑھنا ایسے ہے جیسے یہود و نصاریٰ اور ہندو کے پیچھے نماز پڑھنا۔

۴:… مرزائی مسلمانوں کی مساجد میں نہیں آسکتے۔ مرزائیوں کو مسلمانوں کی مساجد میں عبادت کی اجازت دینا ایسے ہے۔ جیسے ہندوؤں کو مسجد میں پوجا پاٹ کی اجازت دینا۔

۵:… مرزا غلام احمد قادیانی، قادیان (مشرقی پنجاب، ہندوستان) کا رہائشی تھا، اس لئے اس کے پیروکاروں کو ’’قادیانی‘‘ یا ’’فرقہ غلامیہ‘‘ بلکہ جماعت شیطانیہ ابلیسیہ کہا جائے۔

اس فتویٰ پر دستخط کرنے والوں میں شیخ الہند حضرت مولانا محمود حسن دیوبندیؒ، حضرت مولانا مفتی محمد حسنؒ، حضرت مولانا سید محمد انور شاہ کشمیریؒ، حضرت مولانا سید مرتضیٰ حسن چاند پوریؒ، حضرت مولانا عبدالسمیع ؒ، حضرت مفتی عزیزالرحمن دیوبندیؒ، حضرت مولانا محمد ابراہیم بلیاویؒ، حضرت مولانا اعزاز علی دیوبندیؒ، حضرت مولانا حبیب الرحمنؒ ایسے دیگر اکابر علمائے کرام کے دستخط تھے جن کا تعلق دیوبند، سہارنپور، دہلی، کلکتہ، ڈھاکہ، پشاور، رام پور، راولپنڈی، ہزارہ، مراد آباد، وزیر آباد، ملتان اور میانوالی وغیرہ سے تھا۔

اس کے بعد ۱۳۳۲ھ بمطابق ۱۹۱۵ء میں دارالعلوم دیوبند سے ایک فتویٰ جاری ہوا جس

22

میں قادیانیوں سے رشتہ ناتہ کو حرام قرار دیا گیا تھا۔ یہ فتویٰ حضرت مولانا مفتی عزیزا لرحمن ؒکا مرتب کردہ ہے، اس پر دیوبند سے حضرت مولانا سید اصغر حسینؒ، حضرت مولانا رسول خانؒ، حضرت مولانا محمد ادریس کاندہلویؒ، حضرت مولانا گل محمد خانؒ، سہارنپور سے مظاہرالعلوم کے مہتمم حضرت مولانا عنایت الٰہیؒ، حضرت مولانا خلیل احمد سہارنپوریؒ، حضرت مولانا عبدالرحمن کامل پوریؒ، حضرت مولانا عبداللطیفؒ، حضرت مولانا بدر عالم میرٹھیؒ، تھانہ بھون سے حکیم الامت حضرت مولانا محمد اشرف علی تھانویؒ، رائے پور سے حضرت مولانا شاہ عبدالرحیم رائے پوریؒ، حضرت مولانا شاہ عبدالقادر رائے پوریؒ، دہلی سے حضرت مولانا مفتی کفایت اللہ دہلویؒ جیسے سینکڑوں علمائے کرام کے دستخط ہیں۔ اس فتویٰ کا نام ’’فتویٰ تکفیر قادیان‘‘ ہے۔ یہ کتب خانہ اعزازیہ دیوبند سے شائع ہوا اور اب عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت نے (فتاویٰ ختم نبوت، ج:۲، ص:۲۸۷) میں شامل اشاعت کردیا ہے۔

قادیانیوں کے خلاف مقدمات

پوری امت مسلمہ کے تمام مکاتب فکر کی محنتوں اور کوششوں سے متحدہ ہندوستان میں قادیانیوں کا کفر آشکارا ہوا اور عدالتوں تک پہنچنے لگا۔ یوں تو ہندوستان کی مختلف عدالتوں نے قادیانیوں کے خلاف فیصلے دیئے۔ ماریشس تک کی عدالتوں کے فیصلہ جات قادیانیوں کے خلاف موجود ہیں لیکن سب سے زیادہ جس مقدمہ نے شہرت حاصل کی اور جو ہر عام و خاص کی توجہ کا مرکز بن گیا وہ ’’مقدمہ بہاولپور‘‘ ہے۔ علمائے بہاولپور کی دعوت پر حضرت مولانا سیّد محمد انور شاہ کشمیریؒ ، حضرت مولانا ابو الوفا شاہجہانپوریؒ، حضرت مولانا مفتی محمد شفیعؒ، حضرت مولانا سید مرتضیٰ حسن چاند پوریؒ ایسے اکابر علمائے کرام نے بہاولپور ایسے دور افتادہ شہر آکر کیس کی وکالت کی۔ اس مقدمہ کی ۱۹۲۶ء سے لے کر ۱۹۳۵ء تک کارروائی چلتی رہی۔ اس مقدمہ میں جج نے قادیانیت کے کفر پر عدالتی مہر لگا کر قادیانیت کے وجود میں ایسی کیل ٹھونکی جس سے قادیانیت بلبلا اٹھی۔ سپریم کورٹ کے تمام فیصلوں کی بنیاد یہی فیصلہ ہے جس کی کامیابی میں فرزندانِ اہلِ حق سب سے نمایاں ہیں۔فالحمد للّٰہ اوّلاً و آخراً۔

قادیانیت کا جماعتی سطح پر احتساب

فرد کا مقابلہ فرد اور جماعت کا مقابلہ جماعت ہی کرسکتی ہے۔ چنانچہ مارچ ۱۹۳۰ء کو لاہور میں انجمن خدام الدین کے سالانہ اجتماع میں جو حضرت شیخ التفسیر مولانا احمد علی لاہوریؒ کی دعوت

23

پر منعقد ہوا تھا ملک بھر سے پانچ سو علمائے کرام کے اجتماع میں امام العصر حضرت مولانا سید محمد انور شاہ کشمیریؒ نے حضرت مولانا سید عطأ اللہ شاہ بخاریؒ کو ’’امیر شریعت‘‘ کا خطاب دیا اور قادیانیت کے محاذ کی ان پر ذمہ داری ڈالی۔ اس وقت قادیانیت کے خلاف افراد اور اداروں کی محنت میں دارالعلوم دیوبند کا کردار قابل رشک تھا۔ ندوۃ العلمأ لکھنؤ کے بانی حضرت مولانا سید محمد علی مونگیریؒ تو گویا تکوینی طور پر محاذ ختم نبوت کے انچارج تھے۔ قادیا نیوں کے خلاف ان کا اور مولانا مرتضیٰ حسن چاندپوریؒ کا وجود ہندوستان کی دھرتی پر درئہ عمرؓ کی حیثیت رکھتا تھا۔ اب جماعتی سطح پر قادیانیوں کے احتساب کے لئے حضرت امیر شریعت سید عطأ اللہ شاہ بخاریؒ کی ڈیوٹی لگی۔ آپ نے مجلس احرار اسلام ہند میں مستقل شعبہ تبلیغ قائم کردیا۔ جمعیۃ علمائے ہند اور دارالعلوم دیوبند کی پوری قیادت کا ان پر اس سلسلہ میں بھرپور اعتماد تھا۔ حکیم الامت حضرت مولانا محمد اشرف علی تھانویؒ ایسے مقبولانِ بارگاہِ الٰہی نے سرپرستی سے سرفراز فرمایا۔

قادیان کانفرنس

اللہ رب العزت کے فضل وکرم سے مجلس احرار اسلام ہند نے ۲۰،۲۱، ۲۲/ اکتوبر ۱۹۳۴ء کو قادیان میں ’’تبلیغ کانفرنس‘‘ کے عنوان سے کانفرنس کا انعقاد کیا۔ اس میں ان اکابرین ملت نے قادیانیت کا مقابلہ کیا۔ اس کے علاوہ فاتح قادیان حضرت مولانا محمد حیاتؒ، حضرت مولانا عنایت اللہ چشتیؒ، ماسٹر تاج الدین انصاریؒ، حضرت مولانا رحمت اللہ مہاجر مکیؒ وغیرہ ان سب حضرات نے قادیان میں رہ کر قادیانیت کو ناکوں چنے چبوائے۔ اس کانفرنس میں علمائے کرام نے ملک کے چپہ چپہ میں قادیانی عقائد و عزائم کی قلعی کھولنے کی ایک لہر پیدا کردی۔

قادیان سے چناب نگر تک

مختصر یہ کہ ان اکابر کی قیادت میں امیر شریعت مولانا سید عطاء اللہ شاہ بخاریؒ اور ’’مجلس احرار اسلام‘‘ کے سرفروشوں نے اپنی شعلہ بار خطابت کے ذریعے انگریز اور انگریز کی ساختہ پرداختہ قادیانی نبوت کے خرمن خبیثہ کو پھونک ڈالا۔ تاآنکہ ۱۹۴۷ء میں انگریزی اقتدار رخت سفر باندھ کر رخصت ہوا تو برصغیر کی تقسیم ہوئی اور پاکستان منصہ شہود پر جلوہ گر ہوا۔ اس تقسیم کے نتیجہ میں قادیانی نبوت کا منبع خشک ہوگیا اور قادیان کی منحوس بستی ہندوستان کے حصہ میں آئی۔ قادیانی خلیفہ اپنی ’’ارض حرم‘‘ اور ’’مکۃ المسیح‘‘ (قادیان) سے برقعہ پہن کر فرار ہوا اور پاکستان

24

میںربوہ کے نام سے نیا دارالکفر تعمیر کرنے کے بعد پورے ملک کو مرتد کرنے کا اعلان کرنے لگا۔

قیام پاکستان کے بعد

قادیانیوں کو یہ غلط فہمی تھی کہ پاکستان کے ارباب اقتدار پر ان کا تسلط ہے۔ ملک کے کلیدی مناصب ان کے قبضے میں ہیں‘ پاکستان کا پہلا وزیر خارجہ ظفر اللہ خان خلیفہ قادیان کا ادنیٰ مرید ہے‘ اس لئے پاکستان میں مرزا غلام احمد قادیانی کی نبوت کا جعلی سکہ رائج کرنے میں انہیں کوئی دقت پیش نہیں آئے گی۔ ان کی امید افزائی کا خاص پہلو یہ بھی تھا کہ ’’احرار اسلام‘‘ کا قافلہ تقسیم ملک کی وجہ سے بکھر چکا تھا۔ تنظیم اور تنظیمی وسائل کا فقدان تھا اور پھر ’’احراراسلام‘‘ ناخدایان پاکستان کے دربار میں معتوب تھے۔ اس لئے قادیانیوں کو غرہ تھا کہ اب حریم نبوت کی پاسبانی کے فرائض انجام دینے کی کسی کو ہمت نہیں ہوگی‘ لیکن وہ یہ بھول گئے تھے کہ حفاظت دین اور ’’تحفظ ختم نبوت‘‘ کا کام انسان نہیں کرتے، خدا کرتا ہے اور وہ اس کام کے لئے خود ہی رجال کار بھی پیدا فرمادیتا ہے۔

مجلس تحفظ ختم نبوت کا قیام

امیر شریعت سید عطاء اللہ شاہ بخاریؒ اور ان کے رفقاء قادیانیوں کے عزائم سے بے خبرنہیں تھے۔ چنانچہ جدید حالات میں قادیانیت کے خلاف کام کرنے کا لائحہ عمل مرتب کرنے کے لئے ملتان کی ایک چھوٹی سی مسجد ’’مسجد سراجاں‘‘ (۱۹۴۹ء) میں ایک مجلس مشاورت ہوئی۔ جس میں امیر شریعت ؒ کے علاوہ مجاہد ملت حضرت مولانا محمد علی جالندھریؒ ‘ خطیب پاکستان مولانا قاضی احسان احمد شجاع آبادیؒ ‘ مولانا عبدالرحمن میانویؒ ‘ مولانا تاج محمود ؒ فیصل آباد اور مولانا محمد شریف جالندھری ؒ شریک ہوئے۔ غوروفکر کے بعد ایک غیر سیاسی تبلیغی تنظیم ’’مجلس تحفظ ختم نبوت‘‘کی بنیاد رکھی گئی اور اس کا ابتدائی میزانیہ ایک روپیہ یومیہ تجویز کیا گیا۔ چنانچہ صدرالمبلغین کی حیثیت سے فاتح قادیان حضرت مولانا محمد حیات صاحب رحمۃ اللہ علیہ کو‘ جو قادیان میں شعبہ تبلیغ احرار اسلام کے صدر تھے‘ ملتان طلب کیا گیا۔ ان دنوں مسجد سراجاں ملتان کا چھوٹا سا حجرہ مجلس تحفظ ختم نبوت کا مرکزی دفتر تھا‘ وہی دارالمبلغین تھا‘ وہی دارالاقامہ تھا ‘وہی مشاورت گاہ تھی اور یہی چھوٹی سی مسجد اس عالمی تحریک ’’مجلس تحفظ ختم نبوت‘‘ کا ابتدائی کنٹرول آفس تھا۔

حق تعالیٰ شانہ نے اپنی قدرت کاملہ سے اس نحیف و ضعیف تحریک میں ایسی برکت ڈالی کہ آج اس کی شاخیں اقطار عالم میں پھیل چکی ہیں اور اس کا مجموعی میزانیہ کروڑوں سے متجاوز ہے۔ الحمدللہ!

25

قیادت باسعادت

’’مجلس تحفظ ختم نبوت‘‘ کو یہ سعادت ہمیشہ حاصل رہی ہے کہ اکابر اولیأ اللہ کی قیادت و سرپرستی اور دعائیں اسے حاصل رہی ہیں۔ حضرت اقدس رائے پوریؒ آخر دم تک اس تحریک کے قائد و سرپرست رہے۔ ان کے وصال کے بعد حضرت مولانا خیر محمد جالندھریؒ‘ حضرت مولانا سید محمد یوسف بنوریؒ‘ حضرت مولانا عبداللہ درخواستیؒ اور حضرت مولانا خواجہ خان محمدصاحب ؒخانقاہ سراجیہ کندیاں‘ اس کے سرپرست تھے ’’مجلس تحفظ ختم نبوت‘‘ کے بانی اور امیر اول امیر شریعت سیّد عطاء اللہ شاہ بخاریؒ (۱۳؍دسمبر ۱۹۵۴ء تا ۲۱؍اگست ۱۹۶۱ء) تھے۔ امیر شریعتؒ کی وفات ۱۹۶۱ء میں ہوئی اور خطیب پاکستان مولانا قاضی احسان احمد شجاع آبادیؒ (۹؍مارچ ۱۹۶۳ء تا ۲۳؍نومبر ۱۹۶۶ء) ان کے جانشین مقرر ہوئے۔ ان کے وصال کے بعد مجاہد ملت حضرت مولانا محمد علی جالندھریؒ (۲۳؍نومبر ۱۹۶۶ء تا ۲۱؍اپریل ۱۹۷۱ء) کو امارت سپرد کی گئی۔ ان کے وصال کے بعد مناظر اسلام مولانا لال حسین اختر ؒ(۲۱؍اپریل ۱۹۷۱ء تا ۱۰؍جون ۱۹۷۳ء) امیر مجلس ہوئے۔ مولانا لال حسین اخترؒ کی وفات کے بعد عارضی طور پر فاتح قادیان حضرت مولانا محمد حیات صاحبؒ (۱۱؍جون ۱۹۷۳ء تا ۱۹؍اپریل ۱۹۷۴ء) کو مسند امارت تفویض ہوئی مگر اپنے ضعف و عوارض کی بنأ پر انہوں نے اس گراں باری سے معذرت کا اظہار فرمایا۔ یہ ایک ایسا بحران تھا کہ جس سے اس عظیم الشان تحریک کی پیش قدمی رک جانے کا اندیشہ لاحق ہوگیا تھا۔ لیکن حق تعالیٰ شانہ کا وعدہ حفاظت دین یکایک ایک ایسی ہستی کو اس منصب عالی کے لئے کھینچ لایا جو اپنے اسلاف کے علوم و روایات کی امین تھی اور جس پر ملت اسلامیہ کو بجاطور پر فخر حاصل تھا۔ یعنی شیخ الاسلام حضرت مولانا سید محمد یوسف بنوریؒ (۱۹؍اپریل ۱۹۷۴ء تا ۱۷؍اکتوبر ۱۹۷۷ء)۔

تحفظ ختم نبوت اور رد قادیانیت کا کام امام العصر حضرت مولانا محمد انور شاہ کشمیریؒ کی وراثت و امانت تھی اور اس کام کے اصل حق دار اور اہل علوم انوری کے وارث حضرت شیخ بنوریؒ ہی ہوسکتے تھے، چنانچہ حضرت امیر شریعت قدس سرہ کی امارت خطیب پاکستان مولانا قاضی احسان احمد شجاع آبادیؒ کی خطابت‘ مجاہد ملت مولانا محمد علی جالندھریؒ کی ذہانت‘ مناظراسلام مولانا لال حسین اختر ؒ کی مناظرانہ آہنی گرفت‘ حضرت شیخ الاسلام مولانا سید محمد یوسف بنوریؒ کی بلندئ عزم نے نہ صرف مجلس تحفظ ختم نبوت کی عزت و شہرت کو چار چاند لگادیئے بلکہ ان حضرات

26

کی قیادت نے قصر قادیانیت پر اتنی کاری ضرب لگائی کہ قادیانی تحریک کے بانی مرزا غلام احمد قادیانی کی جعلی نبوت پر کذب و افترأ کی آئینی مہر لگ گئی۔

غیر سیاسی جماعت

’’مجلس تحفظ ختم نبوت‘‘ کا مقصد ِ تاسیس‘ عقیدئہ ختم نبوت کی حفاظت اور امت مسلمہ کو قادیانی الحاد سے بچانا تھا۔ اس کے لئے ضرورت تھی کہ جماعت خارزار سیاست میں الجھ کر نہ رہ جائے ‘چنانچہ جماعت کے دستور میں تصریح کردی گئی کہ جماعت کے ذمہ دار ارکان سیاسی معرکوں میں حصہ نہیں لیں گے‘ کیونکہ سیاسی میدان میں کام کرنے کے لئے دوسرے حضرات موجود ہیں۔ اس لئے ’’مجلس تحفظ ختم نبوت‘‘ کا دائرہ عمل دعوت و ارشاد‘ اصلاح و تبلیغ اور رد قادیانیت تک محدود رہے گا۔ اس فیصلے سے دو فائدے مقصود تھے: ایک یہ کہ ’’جماعت تحفظ ختم نبوت‘‘ کا پلیٹ فارم تمام مسلمانوں کا اجتماعی پلیٹ فارم رہے گا اور عقیدئہ ختم نبوت کا جذبہ اہل اسلام کے اتحاد و اتفاق اور ان کے باہمی ربط و تعلق کا بہترین ذریعہ ثابت ہوگا۔ دوم یہ کہ ’’مجلس تحفظ ختم نبوت‘‘ کا ارباب اقتدار سے یا کسی اور سیاسی جماعت سے تصادم نہیں ہوگا۔ اور امت مسلمہ کا اجتماعی عقیدئہ ختم نبوت، اطفال سیاست کا کھلونا بننے سے محفوظ رہے گا۔

پاکستان اور قادیانیت

۱۹۴۷ء میں پاکستان بنا، قادیانی جماعت کا لاٹ پادری مرزا محمود قادیان چھوڑ کر پاکستان آگیا، پنجاب کے پہلے انگریز گورنر موڈی کے حکم پر چنیوٹ کے قریب ان کو برلبِ دریا ایک ہزار چونتیس ایکڑ زمین عطیہ کے طور پر الاٹ کی گئی۔ فی مرلہ ایک آنہ کے حساب سے صرف رجسٹری کے کل اخراجات 10,034/-روپے وصول کئے۔ قادیانیوں نے بلاشرکت غیرے وہاں پر اپنی اسٹیٹ ’’مرزائیل‘‘ کی اسرائیل کی طرز پر بنیاد رکھی۔ ظفراللہ قادیانی پاکستان کا پہلا وزیر خارجہ بنا۔ اس نے سرکاری خزانہ سے آب و دانہ کھا کر قادیانیت کو دنیا بھر میں متعارف کرایا۔ انگریز خود چلا گیا مگر جاتے ہوئے اسلامیانِ برصغیر کے لئے اپنی لے پالک اولاد قادیانیت کاسنگین اور زہریلا بیج بوگیا۔ قادیانی علی الاعلان اقتدار کے خواب دیکھنے لگے۔ ان پر کوئی روک ٹوک نہ تھی۔ قادیانیوں کی تعلّی اور لن ترانیاں دیکھ کر اسلامیان پاکستان کا ہردرد رکھنے والا شخص اس صورت حال سے پریشان تھا۔ قادیانی منہ زور گھوڑے کی طرح ہوا پر سوار تھے۔ ملک میں جداگانہ طرز انتخاب پر الیکشن کرانے

27

کا فیصلہ کیا گیا لیکن قادیانیوں کو مسلمانوں کا حصہ شمار کیا گیا۔ چنانچہ اس صورت حال کو دیکھ کر حضرت امیر شریعت سید عطأ اللہ شاہ بخاریؒ نے شیر اسلام حضرت مولانا غلام غوث ہزارویؒ اور مجاہد ملت حضرت مولانا محمد علی جالندھریؒ کو بریلوی مکتبہ فکر کے رہنما حضرت مولانا ابوالحسنات محمد احمد قادریؒ کے ہاں بھیجا۔ دیوبندی، بریلوی، اہلحدیث ، شیعہ مکاتب فکر اکٹھے ہوئے اور قادیانیوں کے خلاف تحریک چلی جسے تحریک ختم نبوت ۱۹۵۳ء کہا جاتا ہے۔ اس تحریک نے قادیانیوں کے منہ زور گھوڑے کو لنگڑا کردیا۔ ظفر اللہ قادیانی ملعون اپنی وزارت سے آنجہانی ہوگیا۔ قادیانیت کی اس تڑاخ سے ہڈیاں ٹوٹیں کہ وہ زمین پر رینگنے لگی۔ تحفظ عقیدئہ ختم نبوت کی ان عظیم خدمات پر عوام الناس اور اہل حق علماء کرام کو جتنا خراج تحسین پیش کیا جائے کم ہے، قبل ازیں ۱۹۴۹ء میں مجلس تحفظ ختم نبوت کے نام سے جس پلیٹ فارم کا اعلان ہوا تھا۔ ۱۹۵۳ء کی تحریک ختم نبوت کے بعد اسے مستقل جماعت کے طور پر قادیانیت کے احتساب کے لئے منظم کیا گیا۔ ایوبی دور میں مغربی پاکستان اسمبلی میں شیر اسلام مولانا غلام غوث ہزارویؒ اور قومی اسمبلی میں مفکر اسلام مولانا مفتی محمودؒ کی قیادت باسعادت میں علماء نے ’’تحفظ ختم نبوت‘‘ کے لئے جو خدمات انجام دیں وہ تاریخ کا حصہ ہیں۔ غرض مذہبی اور سیاسی اعتبار سے قادیانیت کا احتساب کیا گیا

قرارداد رابطہ عالم اسلامی مکہ مکرمہ

رابطہ عالم اسلامی کا سالانہ اجتماع اپریل ۱۹۷۴ء میں منعقد ہوا، مفکر اسلام مولانا ابوالحسن علی ندویؒ، شیخ الاسلام مولانا سید محمد یوسف بنوریؒ اور دوسرے اکابرین دیوبند اس اجتماع میں نہ صرف موجود تھے بلکہ اس قرار داد کو پاس کرانے کے داعی تھے۔ رابطہ عالم اسلامی نے متفقہ طور پر قادیانیوں کے خلاف قرارداد منظور کی جو دور رس نتائج کی حامل ہے، اس سے پوری دنیا کےعلما اسلام کا قادیانیت کے کفر پر اجماع منعقد ہوگیا۔

تحریک ختم نبوت ۱۹۷۴ء

اللہ رب العزت کے فضل و احسان کے بموجب ۱۹۷۰ء میں مفکر اسلام مولانا مفتی محمودؒ، شیر اسلام مولانا غلام غوث ہزارویؒ، شیخ الحدیث مولانا عبدالحقؒ، مولانا عبدالحکیمؒ، مولانا صدر الشہیدؒ، علامہ شاہ احمد نورانی ؒ، پروفیسر غفور احمدؒ، مولانا عبدالمصطفیٰ الازہریؒ، مولانا ظفر احمد انصاریؒ، چوہدری ظہور الٰہی ؒاور دیگر حضرات قومی اسمبلی کے ممبر منتخب ہوئے۔ جناب ذوالفقار علی بھٹو مرحوم برسر اقتدار

28

آئے، قادیانیوں نے ۱۹۷۰ء میں پیپلز پارٹی کی دامے درمے اور افرادی مدد کی تھی، قادیانیوں نے پھر پرپرزے نکالے۔ ۲۹/مئی ۱۹۷۴ء کو چناب نگر ریلوے اسٹیشن پر نشتر میڈیکل کالج ملتان کے طلبأ پر قاتلانہ حملہ کیا، اس کے نتیجہ میں تحریک چلی اسلامیان پاکستان ایک پلیٹ فارم ’’آل پارٹیز مجلس عمل تحفظ ختم نبوت پاکستان‘‘ پر جمع ہوئے جس کی قیادت مرد جلیل، محدث کبیر مولانا سید محمد یوسف بنوریؒ نے فرمائی اور قومی اسمبلی میں امت مسلمہ کی نمائندگی کا شرف حق تعالیٰ نے مفکر اسلام مولانا مفتی محمودؒ کو بخشا۔ یوں قادیانی قانونی طور پر اپنے منطقی انجام کو پہنچے اور ان کو غیر مسلم اقلیت قرار دیا گیا۔ کہاں قادیانی اقتدار کا خواب اور کہاں چوہڑوں، چماروں میں ان کا شمار، اس پوری جدوجہد میں اسلامیانِ وطن کی خدمات اللہ رب العزت کے فضل و کرم کا اظہار ہے، غرض علمائے حق کے سرپرست اول حاجی امداد اللہ مہاجر مکیؒ کی ’’الف‘‘ سے تحفظ ختم نبوت کی جو تحریک شروع ہوئی وہ شیخ الاسلام مولانا سید محمد یوسف بنوریؒ کی ’’یاء‘‘ پر کامیابی سے سرفراز ہوئی۔

قومی اسمبلی میں قادیانیوں کے کفریہ عقائد کو طشت از بام کرنے سے متعلق جو کارروائی ہوئی وہ سب ’’تاریخی قومی دستاویز‘‘ کے نام سے عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت نے شائع کردی ہے۔ قومی اسمبلی میں اکابرین ملت نے قادیانیوں کو جس طرح چاروں شانے چت کیا یہ دستاویز اس پر ’’شاہد ِ عدل‘‘ ہے۔ قادیانیوں نے اسمبلی میں ایک محضر نامہ پیش کیا تھا جس کا جواب مولانا مفتی محمودؒ اور مولانا محمد یوسف بنوریؒ کی نگرانی میں مولانا مفتی محمد تقی عثمانی اور مولانا سمیع الحق نے لکھا۔ حوالہ جات مولانا محمد حیاتؒ اور مولانا عبدالرحیم اشعرؒ نے فراہم کئے اور قومی اسمبلی میں اسے مفکر اسلام قائد جمعیت مولانا مفتی محمودؒ نے پڑھا۔ جسے عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت نے ’’ملت ِ اسلامیہ کا موقف‘‘ کے نام سے شائع کیا ہے۔

جناب ذوالفقار علی بھٹو کے بعد جنرل محمد ضیأ الحق برسراقتدار آئے، ان کے زمانہ میں پھر قادیانیوں نے پر پرزے نکالے، ایک بار ووٹنگ لسٹوں کے حلف نامہ میں تبدیلی کی گئی، اس زمانہ میں مجلس تحفظ ختم نبوت کے سیکریٹری جنرل مولانا محمد شریف جالندھریؒ بھاگم بھاگ جمعیت علمأ اسلام پاکستان کے سیکریٹری جنرل مفکر اسلام مولانا مفتی محمودؒ کے پاس راولپنڈی پہنچے۔ حضرت مفتی صاحبؒ ملٹری ہسپتال میں پائوں کے زخم کے علاج کے سلسلہ میں زیر علاج تھے۔ اس حالت میں حضرت مفتی صاحبؒ نے جنرل ضیأ الحق کو فون کیا اور یہ غلطی درست کردی گئی یہ غلطی نہ تھی بلکہ حقیقت میں قادیانیوں

29

سے متعلق قانون کو نرم کرنے کی پہلی چال تھی۔

۱۹۸۲ء میں جنرل ضیأ الحق کے زمانہ اقتدار میں پرانے قوانین کی چھانٹی کا عمل شروع ہوا (جو قانون کہ اپنا مقصد حاصل کرچکے ہوں ان کو نکال دیا جائے)۔ اس موقعہ پر ابہام پیدا ہوگیا کہ قادیانیوں سے متعلق ترمیم بھی منسوخ ہوگئی ہے، اس پر ملک کے وکلأ کی رائے لی گئی۔ اڑھائی سو وکلأ کے دستخطوں سے مجلس تحفظ ختم نبوت نے روزنامہ جنگ میں اشتہار شائع کرایا۔ مولانا قاری سعیدالرحمن صاحبؒ، مولانا سمیع الحق جنرل صاحب کو ملے، ان کی کابینہ میں محترم جناب راجہ ظفرالحق وفاقی وزیر تھے، ان کے مشورہ سے جنرل صاحب نے ایک آرڈی نینس منظور کیا اور قادیانیوں سے متعلق ترمیم کے بارے میں جو ابہام پایا جاتا تھا وہ دور ہوا اور اسلامیان پاکستان نے اطمینان کا سانس لیا۔ اس آرڈی نینس کو اس وقت بھی آئینی تحفظ حاصل ہے۔

تحریک ختم نبوت ۱۹۸۴ء

جناب بھٹو کے زمانہ میں پاس شدہ آئینی ترمیم پر قانون سازی نہ ہوسکی۔ جنرل ضیأ الحق کے زمانہ میں قادیانیوں کی خواہش تھی کہ کسی طرح یہ ترمیم منسوخ ہوجائے، اس کے لئے وہ اندرون خانہ سازشوں میں مصروف تھے۔ قادیانی سازشوں اور اشتعال انگیز کارروائیوں سے مسلمانوں کے رد عمل نے تحریک ختم نبوت ۱۹۸۴ء کی شکل اختیار کی۔ شیخ الاسلام حضرت سیّد مولانا محمد یوسف بنوریؒ اور مفکر اسلام مولانا مفتی محمودؒ اللہ کو پیارے ہوچکے تھے۔ اب اس نئی آزمائش میں زعمأ ملت خواجہ خواجگان حضرت مولانا خان محمد صاحبؒ، امام اہلِ سنت مولانا مفتی احمد الرحمنؒ، مولانا محمد اجمل خانؒ، مولانا عبیداللہ انورؒ، پیر طریقت مولانا عبدالکریم بیرشریفؒ، مولانا محمد مراد ہالیجویؒ، مولانا محمد یوسف لدھیانوی شہیدؒ، مولانا محمد شریف جالندھریؒ، مولانا میاں سراج احمد دین پوریؒ، مولانا سید محمد شاہ امروٹیؒ، مولانا عبدالواحد، مولانا منیر الدینؒ کوئٹہ، مولانا حبیب اللہ مختارشہیدؒ، مولانا محمد لقمان علی پوریؒ، مولانا ضیأ القاسمیؒ، مولانا منظور احمد چنیوٹی ؒ، مولانا سید امیر حسین گیلانی ؒ، مولانا ڈاکٹر عبدالرزاق اسکندر، مولانا عزیز الرحمن جالندھری، قائد جمعیت مولانا فضل الرحمن، مولانا سمیع الحق ایسے ہزاروں علمأ حق نے تحریک کی قیادت کی اور اس کے نتیجہ میں قادیانیوں کے متعلق پھر قانون سازی کے اس خلأ کو پُر کرنے کے لئے امتناع قادیانیت آرڈی نینس منظور ہوا۔

یہ آرڈی نینس اس وقت قانون کا حصہ ہے، اس سے یہ فوائد حاصل ہوئے:

30

۱:… قادیانی اپنی جماعت کے چیف گرو یا لاٹ پادری کو امیر المومنین نہیں کہہ سکتے۔

۲:… قادیانی اپنی جماعت کے سربراہ کو خلیفۃ المؤمنین یا خلیفۃ المسلمین نہیں کہہ سکتے۔

۳:… مرزا غلام احمد قادیانی کے کسی مرید کو معاذاللہ ’’صحابی‘‘ نہیں کہہ سکتے۔

۴:… مرزا قادیانی کے کسی مرید کے لئے ’’رضی اللہ عنہ‘‘ نہیں لکھ سکتے۔

۵:… مرزا غلام احمد قادیانی کی بیوی کے لئے ’’ام المؤمنین‘‘ کا لفظ استعمال نہیں کرسکتے۔

۶:… قادیانی اپنی عبادت گاہ کو مسجد نہیں کہہ سکتے۔

۷:… قادیانی اذان نہیں دے سکتے۔

۸:… قادیانی اپنے آپ کو مسلمان نہیں کہہ سکتے۔

۹:… قادیانی اپنے مذہب کو اسلام نہیں کہہ سکتے۔

۱۰:… قادیانی اپنے مذہب کی تبلیغ نہیں کرسکتے۔

۱۱:… قادیانی اپنے مذہب کی دعوت نہیں دے سکتے۔

۱۲:… قادیانی مسلمانوں کے مذہبی جذبات کو مجروح نہیں کرسکتے۔

۱۳:… قادیانی کسی بھی طرح اپنے آپ کو مسلمان شمار نہیں کرسکتے۔

۱۴: … غرض کہ کوئی بھی شعار اسلام استعمال نہیں کرسکتے۔

بحمدہٖ تعالیٰ اس قانون کے منظور ہونے سے قادیانی جماعت کا سالانہ جلسہ (ربوہ چناب نگر) میں ہوتا تھا، جسے وہ ظلّی حج قرار دیتے تھے، پاکستان میں اس پر پابندی لگی۔ قادیانی جماعت کے چیف گرو، لاٹ پادری مرزا طاہر کو ملک چھوڑ کر لندن جانا پڑا۔ اس تمام تر کامیابی و کامرانی کے لئے اکابرین ملتِ اسلامیہ اور عوام الناس نے جو خدمات سرانجام دیں ان کو کوئی منصف مزاج قلم کار یا خطیب و تاریخ دان نظر انداز نہیں کرسکتا۔ اس قانون کے نافذ ہوتے ہی قادیانیوں کے لئے ’’نہ پائے رفتن نہ جائے ماندن‘‘ والا قصہ ہوگیا۔

مقدمات

۱:… قادیانیوں نے وفاقی شرعی عدالت میں اس قانون کو چیلنج کردیا، عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے امیر مرکزیہ حضرت مولانا خواجہ خان محمد صاحبؒ کے حکم پر کیس کی تیاری اور پیروی کے لئے شہید مظلوم حضرت مولانا محمد یوسف لدھیانویؒ، حضرت مولانا محمد شریف جالندھریؒ، حضرت

31

مولانا عبدالرحیم اشعرؒ پر مشتمل جماعت نے لاہور ڈیرے لگادیئے۔ ملتان عالمی مجلس کے مرکزی کتب خانہ سے بیسیوں بکس کتب کے بھر کے لاہور لائے گئے، فوٹو اسٹیٹ مشین کا اہتمام کیا گیا، جامعہ اشرفیہ لاہور کی لائبریری اس کیس کی پیروی کے لئے جامعہ کے حضرات نے وقف کردی۔ ۱۵/ جولائی سے ۱۲/ اگست ۱۹۸۴ء تک اس کی سماعت جاری رہی۔ حضرت امیر مرکزیہؒاور خانقاہ رائے پور کی روایات کے امین حضرت اقدس سید نفیس الحسینیؒ اور مفکر اسلام علامہ ڈاکٹر خالد محمود (پی ایچ ڈی لندن) بھی تشریف لاتے رہے۔ لاہور کی تمام جماعتوں نے بھرپور حصہ لیا اور بالکل بہاولپور کے مقدمہ کی یاد تازہ ہوگئی۔ اللہ رب العزت نے اپنے فضل و کرم سے نہایت ہی کرم کا معاملہ فرمایا۔ ۱۲/ اگست ۱۹۸۴ء کو جب فیصلہ آیا تو قادیانیوں کی رٹ خارج کردی گئی’’ کفر ہار گیا، اسلام جیت گیا‘‘ تفصیلی فیصلہ جسٹس فخر عالم نے تحریر کیا۔

۲:… قادیانیوں نے اس فیصلہ کے خلاف وفاقی شرعی عدالت کی اپیلانٹ بینچ سپریم کورٹ میں اپیل دائر کی۔ اللہ رب العزت نے فضل فرمایا۔ ۱۲/ جنوری ۱۹۸۸ء سپریم کورٹ اپیلانٹ بینچ نے اس اپیل کو بھی مسترد کردیا۔ اسی طرح قادیانیوں نے لاہور، کوئٹہ، کراچی ہائیکورٹس میں کیس دائر کئے، تمام جگہ ان کو ذلت و رسوائی کا سامنا کرنا پڑا۔ قادیانی ان تمام مقدمات کی اپیل سپریم کورٹ آف پاکستان میں لے کر گئے۔ حق تعالیٰ شانہ نے یہاں بھی فیض یافتگان علماء اہلِ حق کو توفیق بخشی۔ اس کی پیروی کے لئے عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے بزرگ رہنما حضرت مولانا محمد یوسف لدھیانوی شہیدؒ، مولانا عزیزالرحمن جالندھری، مولانا علامہ احمد میاں حمادی،شہید اسلام مولانا محمد عبداللہؒاسلام آباد، قاری محمد امینؒ، مولانا محمد رمضان علویؒ، مولانا قاضی احسان الحق ؒراولپنڈی، مولانا عبدالرؤف جتوئی ؒ اور اسلام آباد ، راولپنڈی کے تمام ائمہ و خطبأ نے ایمانی جرأت و دینی حمیت کا مظاہرہ کیا۔ یوں ۳/ جنوری ۱۹۹۳ء کو سپریم کورٹ آف پاکستان کے پانچ جج صاحبان پر مشتمل بینچ نے قادیانیوں کے خلاف فیصلہ دیا۔ بحمدہٖ تعالیٰ ان تمام فیصلہ جات پر مشتمل کتاب ’’قادیانیت کے خلاف اعلیٰ عدالتوں کے فیصلے‘‘ شائع شدہ ہے، جس میں دیگر تفصیلات ملاحظہ کی جاسکتی ہیں۔

۳:… اسی طرح قادیانیوں نے جوہانسبرگ افریقہ میں ایک مقدمہ دائر کیا۔ حضرت مولانا مفتی محمد تقی عثمانی، حضرت مولانا مفتی زین العابدینؒ، حضرت مولانا محمد یوسف لدھیانوی

32

شہیدؒ، حضرت مولانا عبدالرحیم اشعرؒ، ڈاکٹر محمود احمد غازیؒ، علامہ ڈاکٹر خالد محمود لندن، مولانا منظور احمد چنیوٹی ؒ، مولانا منظور احمد الحسینیؒ نے اس کی پیروی کے لئے وہاں کے سفر کئے یہ فیصلہ بھی قادیانیوں کے خلاف ہوا۔

بیرون ممالک

امتناع قادیانیت قانون کے نافذ ہوتے ہی قادیانی جماعت کے بھگوڑے چیف گرو مرزا طاہر نے لندن کو اپنا مستقر بنایا۔ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے اکابرین وہاں بھی پہنچے۔ سالانہ عالمی ختم نبوت کانفرنس برطانیہ ۱۹۸۵ء سے ہر سال تسلسل کے ساتھ منعقد ہورہی ہے۔ پاکستان ، ہندوستان، عرب، افریقہ و یورپ سے علمأ کرام تشریف لاکر اس کانفرنس میں اردو، عربی اور انگریزی زبان میں خطاب کرتے ہیں، اسی طرح برطانیہ میں مستقل طور پر قادیانیت کے احتساب کے لئے عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت نے اپنا مستقل دفتر قائم کردیا ہے، جہاں سے ختم نبوت کے تحفظ کا فریضہ سرانجام دیا جارہا ہے۔ امریکہ، افریقہ، یورپ کے کئی ممالک ایسے ہیں جہاں مستقل بنیادوں پر قادیانیت کے خلاف کام ہورہا ہے اور وہ تمام ترکام بحمدہٖ تعالیٰ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے متعلقین و متوسلین اور عاشقانِ محمد صلی اللہ علیہ وسلم سرانجام دے رہے ہیں۔ ہندوستان میں دارالعلوم دیوبند کے زیر اہتمام عظیم الشان ختم نبوت کانفرنسوں کے علاوہ تربیتی کورسز کا سلسلہ شروع ہے۔ کتب، لٹریچر کی اشاعت و تقسیم ہورہی ہے اور اس کام کے لئے دارالعلوم دیوبند میں ہی ’’کل ہند مجلس تحفظ ختم نبوت‘‘ قائم کردی گئی ہے۔ فالحمد للّٰہ۔

شعبہ مکاتب و مساجد

عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت ایک تبلیغی و اصلاحی جماعت ہے، جس نے اصلاح و ارشاد کے تمام میدانوں پر نظر رکھتے ہوئے اہلیانِ اسلام کو اعدائے اسلام کے کفر و شرک سے بچانے کے لئے مکاتب و مدارس کا ایک مربوط نظام تشکیل دیا، جس میں ایک خاص اور نمایاں پہلو یہ ہے کہ یہ دینی ادارے خصوصیت کے ساتھ اس جگہ پر قائم کئے گئے ہیں، جس میں کسی نہ کسی اعتبار سے قادیانیت کا کسی حد تک زور ہوسکتا تھا الحمدللہ! مجلس کے زیر اہتمام اس وقت تقریباً ۱۲ کے قریب چھوٹے بڑے مدارس تعلیم و تعلم میں مصروف عمل ہیں اور مسلمانوں کے ایمان کی حفاظت کا فریضہ سر انجام دے رہے ہیں۔

اس کے ساتھ ساتھ ملک عزیز کے مختلف چھوٹے، بڑے شہروں میں مساجد کی کثیر تعداد ہے

33

جو جماعت کے مرکزی دفتر ملتان کے زیر اہتمام اعلائے کلمۃ اللہ اور تحفظ ناموس رسالت کے عظیم مشن کو عام کررہی ہیں، حق تعالیٰ شانہ مجلس کے اس نظم میں پہلے سے کئی گنا اضافہ فرمائے۔

مدارس و مکاتب کی تفصیل حسب ذیل ہے:

  1. ☆ مدرسہ تعلیم القرآن ختم نبوت

    ملتان

  2. ☆ مدرسہ تعلیم القرآن ختم نبوت

    مسلم کالونی چناب نگر

  3. ☆ مدرسہ تعلیم القرآن ختم نبوت

    چناب نگر ریلوے اسٹیشن

  4. ☆ مدرسہ تعلیم القرآن ختم نبوت

    چوک پرمٹ

  5. ☆ مدرسہ تعلیم القرآن ختم نبوت

    بہاول پور

  6. ☆ مدرسہ تعلیم القرآن ختم نبوت

    جابہ

  7. ☆ مدرسہ تعلیم القرآن ختم نبوت

    سرگودھا

  8. ☆ مدرسہ تعلیم القرآن ختم نبوت

    گمبٹ

  9. ☆ مدرسہ تعلیم القرآن ختم نبوت

    کنری

  10. ☆ مدرسہ تعلیم القرآن ختم نبوت

    ٹاہلی سندھ

  11. ☆ مدرسہ تعلیم القرآن ختم نبوت

    گوجرانوالہ

  12. ☆ مدرسہ تعلیم القرآن ختم نبوت

    لاہور

  13. ☆ مدرسہ تعلیم القرآن ختم نبوت بلدیہ ٹائون

    کراچی

  14. ☆ مدرسہ تعلیم القرآن ختم نبوت گرین ٹائون

    کراچی

  15. ☆ مدرسہ دارالعلوم اسلامیہ شاہ لطیف ٹائون

    کراچی

شعبہ تبلیغ

مسلمانوں کو قادیانیت کی شر انگیزیوں سے بچانے کے لئے جماعت کے اکابر نے جید علماء کرام کی ایک کثیر تعداد کو اپنے مرکزی دارالمبلغین میں ردِ قادیانیت کی خصوصی تربیت دے کر محاذ ختم نبوت پر علمی دلائل سے خوب مسلح کرکے تیار کررکھا ہے، جو ملک کے تمام چھوٹے ،بڑے شہروں میں تحفظ ختم نبوت کا فریضہ سر انجام دے رہے ہیں: ’’دن کہیں رات کہیں، صبح اِدھر شام اُدھر ‘‘کا مصداق بنے ہوئے ہیں۔ جنوں کی کیفیت میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی ختم نبوت کے

34

تحفظ کے لئے اپنے گھروں کو خیرباد کہہ کر دور دراز علاقوں میں تبلیغ کا کام سر انجام دے رہے ہیں، اس وقت جماعت کے ۴۰ مبلغین اور ۳۰ ملکیتی دفاتر ہمہ وقت حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی عزت و ناموس کے لئے اندرون و بیرون ملک کوشاں ہیں۔

شعبہ نشرواشاعت

کسی بھی کام کو عروج تک پہنچانے کے لئے نشرواشاعت ایک اساس کی حیثیت رکھتی ہے، اس کے پیش نظر جماعت نے اپنے مشن سے متعلق علمی مواد تک عوام الناس کی رسائی کو از حد آسان اور ممکن الوصول بنایا ہے۔ عربی، اردو، انگریزی، فرنچ اور دیگر ملکی و غیر ملکی زبانوں میں فری لٹریچرکی تقسیم ،یہ مجلس کا طرئہ امتیاز اور وصف خاص ہے۔ اکابرین امت نے ردِ قادیانیت اور تحفظ ناموس رسالت پر جو گرانقدر علمی خدمات پیش کی تھیں، ان تمام قلمی شہ پاروں کو احتساب قادیانیت کے عنوان سے وقت تحریر (۶۰) ضخیم جلدوں میں شائع کردیا گیا ہے، مزید اس پر کام محاسبہ قادیانیت کے نام سے جاری ہے۔ جس کی تاحال ۹ جلدیں شائع ہوچکی ہیں۔ شہید اسلام حضرت مولانا محمد یوسف لدھیانوی شہیدؒکی تحفہ قادیانیت چھ جلدوں میں شائع ہوکر تشنگانِ تحفظ ناموس رسالت کو سیراب کررہی ہیں، اسی طرح قادیانی شبہات کے جوابات جلد اول، دوم اور سوم اس کے علاوہ کئی ایک اہم ترین کتب شائع کی جاچکی ہیں، جن کی مختصر تفصیل حسب ذیل ہے:

  1. ☆تاریخی قومی دستاویز۱۹۷۴ء (۵ جلدیں)

    ☆ تحفۂ قادیانیت ۶ جلدیں

  2. ☆ مقدمہ تحریف بائبل

    ☆ قادیانی مذہب کا علمی محاسبہ

  3. ☆ اہم پیشگوئیاں

    ☆ فتاویٰ ختم نبوت ۳ جلدیں

  4. ☆ قادیانیت کا سیاسی تجزیہ

    ☆ فراقِ یاراں

  5. ☆ ثبوت حاضر ہیں

    ☆رئیس قادیان

  6. ☆اعلیٰ عدالتوں کے تاریخی فیصلے

    ☆ محبت نبوی کے تقاضے

  7. ☆ شعورِ ختم نبوت اور فتنہ مرزائیت

    ☆ تحریکِ ختم نبوت ۱۹۵۳ء

  8. ☆ تحریک ختم نبوت ۱۹۷۴ء ۳ جلدیں

    ☆ احتسابِ قادیانیت ۶۰ جلدیں

  9. ☆ تحریف بائبل

    ☆ فیصلہ کن مناظرے

  10. ☆ قادیانیت کا تعاقب (خطبات)

    ☆ خطبات ختم نبوت۵ جلدیں

35
  1. ☆ تذکرہ مجاہدین ختم نبوت

    ☆آئینہ قادیانیت ، اردو، عربی، انگریزی، سندھی۔

  2. ☆ قادیانی شبہات کے جوابات (۳ جلدیں)

    ☆ محاسبۂ قادیانیت (۹ جلدیں)

ختم نبوت خط و کتابت کورس

اسلامی تحاریک کی ترقی اور ترویج میں اسکول، کالج کے طلبا اور خواتین کا کردار ہر دور میں بہت نمایاں رہا ہے ، اس چیز کو مدنظر رکھتے ہوئے ان تمام شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے مسلمانوں کی تحفظ ختم نبوت کے شعبہ میں علمی صلاحیتوں کو اجاگر کرنے کے لئے مجلس کے زیر اہتمام ختم نبوت خط و کتابت کورس کا اجراء کیا گیا ہے ، یہ کورس چار یونٹ پر مشتمل ہے ہر ماہ ایک یونٹ ارسال کیا جاتا ہے جس کو ہر مسلمان اور علمی ذوق رکھنے والا مذکورہ ایڈریس ’’ختم نبوت خط و کتابت کورس پوسٹ بکس نمبر 1347اسلام آباد‘‘ کے پتہ سے خط لکھ کر حاصل کرسکتا ہے اور یہ کورس مکمل طور پر فری ہے جس کے تمام مصارف رفقاء جماعت ادا کرتے ہیں۔ الحمدللہ! اب اس کورس کا اجرأ مدینہ منورہ سے بھی کردیا گیا اور ہزاروں تشنگان علومِ نبوت اس سے سرفراز ہورہے ہیں۔

ختم نبوت کوئز پروگرام

نو جوان مسلمان ملک و ملت کا بیش بہا قیمتی اثاثہ ہوتے ہیں، اس اثاثہ کو اغیار کی سازشوں، کفر و شرک کے آلودہ اور گمراہ ماحول سے بچانے کے لئے، چھوٹی عمر سے ہی ان کے ذہن کو ایمان، یقین کامل اور تقویٰ میں ڈھالنے کے لئے ایک علمی اور دلچسپ مقابلہ کرایا جاتا ہے، جس میں بچوں سے سوال و جواب کی نشست کا اہتمام کیا جاتا ہے، صحیح اور درست جواب دینے والے بچوں کو قیمتی انعامات دے کر ان کی حوصلہ افزائی کی جاتی ہے تاکہ وہ ختم نبوت کے جانباز سپاہی بن سکیں اور قادیانیت کے خلاف علمی مواد سے خوب لیس ہوسکیںاور مستقبل قریب و بعید میں فتنہ قادیانیت کے خلاف ایک مکمل مبلغ کی حیثیت سے ابھرسکیں۔ الحمدللہ! سال بھر میں کئی پروگرام منعقد کئے جاتے ہیں۔

ہفت روزہ ختم نبوت ، ماہنامہ لولاک

قادیانی اپنے کفر کا پرچار کرنے کے لئے جہاں اور کئی باطل ہتھکنڈے استعمال کرتے ہیں وہاں کئی ایک رسائل بھی شائع کرتے ہیں ان کا علمی اور قلمی سطح پر مقابلہ کرنے کے لئے مجلس کے دو ترجمان رسائل: ہفت روزہ ’’ختم نبوت‘‘ کراچی اور ماہنامہ ’’لولاک‘‘ ملتان سے شائع ہوتے ہیں۔

جن میں خصوصیت کے ساتھ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت ،صحابہ کرام کی جانثاری اور قادیانی شبہات کے جوابات کا مدلل اور شافی حل موجود ہوتا ہے، جس سے اسلام کی صحیح معنوں میں ترجمانی کی جاتی ہے ۔ موجودہ دور میں فتنہ قادیانیت کو سمجھنے اور ان کے دھوکا سے بچنے کے لئے ان رسائل کا مطالعہ اکسیر سے کم نہیں ہے۔

ہفت روزہ ختم نبوت

ہفت روزہ ختم نبوت کے لئے ہفت روزہ کے نام پر ڈومین www.khatm-e-nubuwwat.info حاصل کیا گیا ، یہ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کی تیسری ویب سائٹ ہے، جس پر ہر ہفتہ باقاعدگی سے تازہ شمارہ اپلوڈ کیا جاتا ہے جبکہ گذشتہ 43سال کا مکمل ریکارڈ اوررواں سال (2025)کے 29ہفتوں کا ریکارڈ موجود ہے جو کہ آن لائن پڑہنے کے علاوہ پی ڈی ایف اور زپ فائل کی سہولت کے ساتھ موجود ہے، تاریخ اجراء سے رواں ہفتہ تک 2078رسائل جو کہ 58290صفحات پر مشتمل ہیں اور دستیاب ہیں

ماہنامہ لولاک

اللہ تعالیٰ کے فضل سے حضرت امیر مرکزیہ رحمۃ اللہ علیہ کی دعائیں رنگ لائیں اور ماہنامہ لولاک کے لئے www.laulak.info ڈومین حاصل کیاگیایہ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کی دوسری ویب سائٹ تھی، جس پر ہر ماہ باقاعدگی سے تازہ شمارہ اپلوڈ کیا جاتا ہے جبکہ گذشتہ 28سال کا مکمل ریکارڈ اوررواں سال(2025) کے 7ماہ کا ریکارڈ موجود ہے جو کہ آن لائن پڑھنے کے علاوہ پی ڈی ایف اور زپ فائل کی سہولت کے ساتھ بھی موجود ہے،ماہنامہ کی تاریخ اجراء سے ماہ رواں تک 333رسائل جو کہ 20984 صفحات پر مشتمل ہیںاور دستیاب ہیں

36

امرأ کرام ....ایک نظر میں

امیر اول: امیر شریعت، بطل حریت، حضرت مولانا سیّد عطاء اللہ شاہ بخاریؒ

دورانیہ: ۱۳؍ دسمبر ۱۹۵۶ء تا ۲۱؍ اگست ۱۹۶۱ء مطابق ۱۶؍ ربیع الثانی ۱۳۷۴ھ تا ۹؍ ربیع الثانی ۱۳۸۱ھ، مدت امارت ۶ سال ۸ ماہ اور ۹ دن۔

قائم مقام امیر مفکر ختم نبوت حضرت مولانا محمد علی جالندھری

دورانیہ: ۲۳؍ اگست ۱۹۶۱ء تا ۸؍ مارچ ۱۹۶۳ء بمطابق ۱۰؍ ربیع الثانی ۱۳۸۱ھ تا ۱۱؍ شوال ۱۳۸۳ھ۔

امیر دوم: خطیب پاکستان حضرت مولانا قاضی احسان احمد شجاع آبادی

دورانیہ: ۹؍ مارچ ۱۹۶۳ء تا ۲۳؍ نومبر ۱۹۶۶ء ، مطابق ۱۲؍ شوال ۱۳۸۳ھ تا ۹؍ شعبان المعظم ۱۳۸۶ھ، مدت امارت: ۳ سال، ۸ ماہ، ۱۴ دن۔

امیر سوم: مفکر ختم نبوت حضرت مولانا محمد علی جالندھری

دورانیہ: ۲۳؍نومبر ۱۹۶۶ء تا ۲۱؍ اپریل ۱۹۷۱ء، مطابق ۹؍ شعبان المعظم ۱۳۸۶ھ تا ۲۴؍ صفر المظفر ۱۳۹۱ھ، مدت امارت: ۴ سال ایک ماہ ۲۹ دن۔

امیر چہارم: مناظر اسلام، محافظ ختم نبوت حضرت مولانا لال حسین اختر

دورانیہ: ۲۱؍ اپریل ۱۹۷۱ء تا ۱۰؍ جون ۱۹۷۳ء مطابق: ۲۴؍ صفرالمظفر ۱۳۹۱ھ تا ۱۰؍ جمادی الاولیٰ ۱۳۹۳ھ، مدت امارت: ۲ سال ایک ماہ ،۲۰ دن۔

قائم مقام امیر: فاتح قادیان حضرت مولانا محمد حیات

دورانیہ:۱۱؍ جون ۱۹۷۳ء تا ۱۹؍ اپریل ۱۹۷۴ء، مطابق: ۱۰ جمادی الاول ۱۳۹۳ء تا ۱۵؍ ربیع الاول ۱۳۹۴ھ ، مدت امارت: ۹ ماہ، ۲۹ دن۔

37

امیر پنجم : شیخ الاسلام علوم انوری کے وارث محدث العصر حضرت مولانا سیّد محمد یوسف بنوری

دورانیہ: ۱۹؍ اپریل ۱۹۷۴ء تا ۱۷؍ اکتوبر ۱۹۷۷ء، مطابق: ۱۵؍ ربیع الاول ۱۳۹۴ھ تا ۳؍ذوالقعدہ ۱۳۹۷ھ۔

امیر ششم: خواجہ خواجگان حضرت مولانا خواجہ خان محمد

دورانیہ: ۲۷؍ دسمبر ۱۹۷۷ء تا ۵؍ مئی ۲۰۱۰ء مطابق : ۱۶؍محرم ۱۳۹۸ھ تا ۲۰؍ جمادی الاول ۱۴۳۱ھ ، مدت: ۳۲ سال ،۴ ماہ، ۹ دن۔

قائم مقام امیر: استاذ العلماء شیخ الحدیث حضرت مولانا ڈاکٹرعبدالرزاق اسکندر مدظلہ

دورانیہ: ۵؍ مئی ۲۰۱۰ء تا ۱۵؍اکتوبر ۲۰۱۰ء، مطابق: ۲۰؍ جمادی الاول ۱۴۳۱ھ تا ۶؍ذوالقعدہ ۱۴۳۱ھ۔

امیر ہفتم: قطب دوراں ولی کامل شیخ الحدیث حضرت مولانا عبدالمجید لدھیانوی

دورانیہ: ۱۶؍ ذوالقعدہ ۱۴۳۱ھ تا ۱۱؍ ربیع الثانی ۱۴۳۶ھ، مطابق: ۱۵؍ اکتوبر ۲۰۱۰ء تا یکم فروری ۲۰۱۵ء، مدت:۶ سال، ۳ ماہ، ۱۵ دن۔

قائم مقام امیر: حضرت مولانا ڈاکٹر عبدالرزاق اسکندر مدظلہ العالی، یکم؍ فروری ۲۰۱۵ء، مطابق: ۱۸؍ربیع الثانی ۱۴۳۶ھ۔

امیر ہشتم: حضرت مولانا ڈاکٹر عبدالرزاق اسکندر مدظلہ ۸؍ فروری ۲۰۱۵ء تا حال۔

آثار و نتائج

اکابرین امت کی مساعی اور ’’مجلس تحفظ ختم نبوت‘‘ کے مقاصد و خدمات کا مختصر ساخاکہ آپ کے سامنے آچکا ہے۔ اب ایک نظر ان آثار و نتائج پر بھی ڈال لینا چاہئے جو جماعت کی جہد مسلسل اور امت اسلامیہ کے اتفاق و تعاون کے نتیجہ میں وقوع پذیر ہوئے۔

۱:… پاکستان کی قومی اسمبلی نے قادیانیوں کو غیر مسلم قرار دیا۔ علاوہ ازیں قریباً تیس اسلامی ممالک قادیانیوں کو کافر‘ مرتد‘ دائرہ اسلام سے خارج اور خلاف قانون قرار دے چکے ہیں۔

۲:… ختم نبوت کی تحریک پاکستان میں کامیاب ہوئی تو پوری دنیا پر قادیانیوں کا کفر و نفاق واضح ہوگیا۔ اور دنیا کے بعید ترین ممالک کے مسلمان بھی قادیانیوں کے بدترین کفر سے

38

واقف ہوگئے۔

۳:… بہاولپور سے ماریشس جوہانسبرگ تک کی بہت سی عدالتوں نے قادیانیوں کے غیر مسلم اقلیت ہونے کے فیصلے دیئے۔

۴:… مجلس تحفظ ختم نبوت کی تحریک نے نہ صرف پاکستان کو بلکہ دیگر اسلامی ممالک کوقادیانیوں کے غلبہ اور تسلط سے محفوظ کردیا اور تمام دنیا کے مسلمان قادیانیوں کو ایک سازشی اور مرتد ٹولہ سمجھ کر ان سے محتاط اور چوکنا رہنے لگے۔

۵:… بے شمار لوگ جو قادیانیوں کے دام ہمرنگ زمین کا شکار ہوکر مرتد ہوگئے تھے۔ جب ان پر قادیانیت کا کفر واضح ہوگیا تو وہ قادیانیت کو چھوڑ کر دوبارہ دامن اسلام سے وابستہ ہوگئے۔

۶:… ایک وقت تھا کہ مسلمانوں کا ملازم پیشہ نوجوان طبقہ قادیانیوں سے بے حد مرعوب تھا۔ چونکہ قادیانی پاکستان میں اعلیٰ مناصب پر قابض تھے۔ اس لئے وہ ایک طرف اپنے ماتحت عملے میں قادیانیت کی تبلیغ کرتے اور دوسری طرف اچھے مناصب کے لئے صرف قادیانیوں کا انتخاب کرتے۔ اس سے مسلمانوں کے نوجوان طبقہ کی صریح حق تلفی ہوتی تھی اور بہت سے نوجوان اسلامی تعلیمات نہ ہونے کی وجہ سے اچھی ملازمت کے لالچ میں قادیانی گروہ کے ہمنوا ہوجاتے تھے۔ اب بھی اگرچہ کلیدی آسامیوں پر بہت سے قادیانی فائز ہیں، مگر اب قادیانیوں کے سامنے مسلمان نوجوانوں کا احساس کمتری ختم ہوگیا ہے اور نوجوانوں کی طرف سے مطالبے ہورہے ہیں کہ قادیانیوں کو ان کی حصہ رسدی سے زیادہ کسی ادارے میں نشستیں نہ دی جائیں اور الحمدللہ! جرأت و استقامت کے ساتھ ان کے مقابلہ میں کھڑا ہوتا ہے۔

۷:… قیام پاکستان سے ۱۹۷۴ء تک ’’چناب نگر‘‘ مسلمانوں کے لئے ایک ممنوعہ قصبہ تھا۔ وہاں مسلمانوں کو داخلہ کی اجازت نہیں تھی‘ حتی کہ ریلوے اور ڈاک خانہ کے سرکاری ملازموں کے لئے قادیانی ہونے کی شرط تھی۔ لیکن اب ’’چناب نگر‘‘ کی سنگینی ٹوٹ چکی ہے۔ وہاں اکثر سرکاری ملازم مسلمان ہیں۔ ۱۹۷۵ء سے مسلمانوں کی نماز باجماعت بھی ہورہی ہے اور مجلس تحفظ ختم نبوت کے مدارس و مساجد دفتر و لائبریری قائم ہیں اور تحفظ ختم نبوت کا فریضہ انجام دے رہے ہیں۔

۸:… قادیانی اپنے مردوں کو مسلمانوں کے قبرستان میں دفن کرنے پر اصرار کیا کرتے تھے‘ لیکن اب مسلمانوں کے قبرستان میں ان کا دفن کیا جانا ممنوع ہے۔

39

۹:… پاسپورٹ‘ شناختی کارڈ اور فوجی ملازمتوں کے فارموں میں قادیانیوں کو اپنے مذہب کی تصریح کرنا پڑتی ہے۔

۱۰:… پاکستان میں ختم نبوت کے خلاف کہنا یا لکھنا قانونی طور پر جرم قرار دیا جاچکا ہے۔

۱۱:… سعودی عرب اور دیگر اسلامی ممالک میں قادیانیوں کا داخلہ ممنوع ہے اور انہیں ’’عالم کفر کے جاسوس‘‘ قرار دیا جاچکا ہے۔

۱۲:… مرزا غلام احمد قادیانی کی نبوت کے خلاف لب کشائی کی پاکستان میں اجازت نہیں تھی‘ مگر اب صورت حال یہ ہے کہ قادیانی اپنے آپ کو مسلمان نہیں کہہ سکتے اور ہر خاص و عام اپنے عقیدئہ ختم نبوت کا اظہار اور قادیانیت کے کفر کو الم نشرح کرسکتا ہے۔

۱۳:…قادیانی جو بیرونی ممالک میں یہ پروپیگنڈہ کیا کرتے تھے کہ: پاکستان میں قادیانیوں کی حکومت ہے اور دارالخلافہ ’’ربوہ‘‘ ہے۔ وہ اس جھوٹ پر نہ صرف پوری دنیا میں ذلیل ہوچکے ہیں‘ بلکہ خدا کی زمین اپنی فراخی کے باوجود ان پر تنگ ہورہی ہے۔ حتیٰ کہ قادیانی سربراہ کو لندن میں بھی چین نصیب نہیں۔ ربوہ کانام مٹ کر اب ’’چناب نگر‘‘ ہے۔ آج قادیانی شہر کا نام مٹا ہے تو وہ وقت آیا چاہتا ہے جب قادیانیت کا نشان بھی مٹے گا۔ (انشاء اللہ العزیز)

ضروری وضاحت

آیئے !اس مختصر اور وقیع تعارف کے بعد اس کام کا حصہ بنئے اپنے آپ کو ختم نبوت کی فہرست کا حصہ بنایئے، اس تحریک کو قرار اور دوام بخشیں تاکہ دفاع ناموس رسالت کا فریضہ پورا ہوتا رہے۔

آیئے! اس دعوت کو قبول کیجئے اور محافظین ختم نبوت کے ہاتھ مضبوط کیجئے روزِ محشر شفاعت اور جام کوثر کے طلب گار رحمت حق تجھے آواز دے رہی ہے۔

☆☆………☆☆

40

ختم نبوت کا تحفظ

محدث العصر حضرت علامہ مولانا محمد انور شاہ کشمیری نوراللہ مرقدہ اپنے حلقۂ علمی میں بیٹھ کر یہ فرماتے تھے کہ یہ بات علیٰ وجہ البصیرت (پوری تحقیق سے) کہتا ہوں کہ :

’’حدیث کی خدمت بھی اللہ تعالی کا دین ہے، قرآن کی خدمت بھی بہت اہم خدمت ہے، تفسیر کی خدمت بھی بہت بڑی سعادت ہے، فقہ کی خدمت بھی بہت بڑی نعمت ہے، تبلیغ کرنا بھی بہت اہم کام ہے، لیکن ختم نبوت کا تحفظ سرکار دو عالم صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات کا تحفظ ہے۔ باقی چیزیں اقوال کا تحفظ ہیں، اعمال کا تحفظ ہیں، افعال کا تحفظ ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت کا تحفظ ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی صورت کا تحفظ ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے کردار کا تحفظ ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ہدایات کا تحفظ ہیں، لیکن ذات کا تحفظ ان سب سے اولیٰ اور افضل ہے۔‘‘

حضرت فرماتے تھے کہ :

’’جس شخص نے بھی ختم نبوت کے عقیدے کے لئے ایک گھنٹہ بھی کام کیا اس کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی شفاعت انشاء اللہ تعالیٰ ضرور نصیب ہوگی۔

41

تحفظ ختم نبوت کے جانباز

اور ان کا روشن کردار

قادیانیوں کو مسلمانوں کے قبرستان میں دفن کرنے کا حکم

سوال:… قادیانی مر جائے تو اس کا جنازہ پڑھیں یا نہیں، جو مسلمان اس قادیانی کا جنازہ پڑھیں ان کا کیا حکم ہے؟ قادیانی مردے کو کہاں دفن کیا جائے گا؟ کیا قادیانی مردہ مسلمانوں کے قبرستان میں دفن کیا جاسکتا ہے؟ قرآن و سنت کی روشنی میں تفصیلی جواب عنایت فرمائیں۔

(سائل: ابو سیّد محمد عمر، کراچی)

جواب:… اگر کوئی عام کافر، منافق اور مرتد مر جائے تو اس کا جنازہ پڑھنا ناجائز اور حرام ہے، چونکہ قادیانی کافروں کی تمام قسموں سے بدترین کافر ہیں اور ان کو زندیق کہا جاتا ہے، اس لئے ان کا جنازہ پڑھنا ناجائز ہے، اگر بالفرض کوئی مسلمان لا علمی میں ان کو مسلمان سمجھ کر ان کا جنازہ پڑھے تو اس کو توبہ و استغفار کرنا چاہئے اور اگر خدانخواستہ کوئی مسلمان علم ہوجانے کے بعد ان کو مسلمان سمجھ کر ان کا جنازہ پڑھے گا تو وہ بھی مرتد ہوجائے گا کیونکہ کافر و مشرک اور زندیق کو کافر نہ ماننا بھی کفر ہے۔ لہٰذا ایسے آدمی کو توبہ و استغفار کرنے کے ساتھ ساتھ تجدید ایمان اور تجدید نکاح بھی کرنا ہوگا۔

کافروں ، مرتدوں کو مسلمانوں کے قبرستان میں دفن کرنا حرام اور ناجائز ہے، اسی طرح کافروں کو مسلمانوں کے قبرستان کے قریب بھی دفن کرنے کی ممانعت ہے تاکہ کسی وقت دونوں قبرستان ایک نہ ہوجائیں، کافروں کی قبریں مسلمانوں کی قبروں سے دور ہونی چاہئیں تاکہ کافروں کے عذاب والی قبر مسلمانوں کی قبر سے دور ہو کیونکہ اس سے بھی مسلمانوں کو تکلیف پہنچے گی۔

مولانا سعید احمد جلال پوری شہیدؒ

دارالافتاء ختم نبوت

43

بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ

نحمدہ ونصلی علی رسولہ الکریم۔ اما بعد!

’’مِنَ الْمُؤمِنِیْنَ رِجَالٌ صَدَقُوْا مَاعَاہَدُوا اللّٰہَ عَلَیْہِ فَمِنْہُمْ مَّنْ قَضَیٰ نَحْبَہ‘ وَمِنْہُمْ مَنّ یَنْتَظِرُ وَمَا بَدَّلُوْا تَبْدِیْلاً لِّیَجْزِیَ اللّٰہُ الصَّادِقِیْنَ بِصِدْقِہِمْ وَیُعَذِّبَ الْمُنَافِقِیْنَ اِنْ شَآئَ اَوْیَتُوْبَ عَلَیْہِمْ اِنَّ اللّٰہَ کَانَ غَفُوْرًا رَّحِیْمًا۔‘‘ (الاحزاب:۲۳، ۲۴)

ترجمہ:’’ایمان والوں میں کتنے مرد ہیں کہ سچ کر دکھلایا جس بات کا عہد کیا تھا اللہ سے پھر کوئی تو ان میں پورا کرچکا اپنا ذمہ اور کوئی ہے ان میں راہ دیکھ رہا اور بدلہ نہیں ایک ذرہ تاکہ بدلہ دے اللہ سچوں کو ان کے سچ کا اور عذاب کرے منافقوں پر اگر چاہے یا توبہ ڈالے ان کے دل پر بے شک اللہ ہے بخشنے والا مہربان۔‘‘ (شیخ الہندؒ)

آج کی تقریر کا عنوان تحفظ ختم نبوت کے جانباز اور ان کا روشن کردار!

حق و باطل اور ہدایت و ضلالت کا باہمی ٹکراؤ ابتدأ آفرینش سے جاری ہے، حق اور ہدایت کا منبع و مرکز ہر دور میں انبیاء کرام علیہم السلام کی ذاتِ گرامی رہی ہے۔ ہر دور میں جو شخص ذاتِ نبوّت سے وابستہ ہوا وہ فلاح پاگیا۔ اور جو ذات نبوت سے وابستہ نہ ہوا وہ مردُود وناکام ہوگیا۔ اللہ رب العزت نے مقصودکائنات اور وجۂ تخلیقِ عالم حضور سروَرِ کائنات صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات بابرکات کو بنایا ہے۔

یہی وجہ ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم خاتم الانبیاء والمرسلین و رحمۃ للعالمین کے اِعزاز سے نوازے گئے۔

44

اللہ رَبّ العزّت نے قرآن کریم میں رحمتِ عالم صلی اللہ علیہ وسلم کے اس اِعزازِ خاتم النبیّین کو ثابت اور واضح کرنے کے لئے ایک سو سے زائد آیاتِ کریمہ نازل فرمائیں اور خود آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے عقیدئہ ختمِ نبوّت کی اہمیت کو اُجاگر کرنے کے لئے دو سو سے زائد احادیث ارشاد فرمائیں۔ اُمت کا سب سے پہلا اِجماع عہدِ صدیقی میں عقیدہ ختمِ نبوّت پر ہوا، چونکہ یہ عقیدہ دِین کا بنیادی اور اَساسی عقیدہ ہے، اس عقیدہ پر پورے دِین کی عمارت استوار ہے، اس عقیدہ میں اُمت ِ مسلمہ کی وحدت کا راز مضمر ہے، اس لئے چودہ سو سال سے امت اس عقیدہ کے بارے میں کبھی بھی دو رائے کا شکار نہیں ہوئی، بلکہ جس وقت بھی کسی نے اس عقیدہ کے خلاف کوئی عقیدہ گھڑا، اُمت نے اسے سرطان کی طرح اپنے جسم سے کاٹ کر پھینک دیا۔

آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے خود اپنے زمانے میں پیدا ہونے والے جھوٹے مدعیانِ نبوّت کا اِستیصال کرکے اُمتِ مسلمہ کو عملی نمونہ پیش فرمادیا۔ چنانچہ اَسوَد عنسی کے اِستیصال کے لئے رحمتِ عالم صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت فیروز دیلمی رضی اللہ عنہ کو، اور طلیحہ اسدی کے مقابلے میں حضرت ضرار بن ازور رضی اللہ عنہ کو روانہ فرمایا۔ اُمت نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے اس مبارک عمل کو اپنے لئے مشعلِ راہ بنایا خیرالقرون کے زمانے سے لے کر آج تک اُمت اس سے غافل نہیں ہوئی۔ اب آپ حضرات کے سامنے ختمِ نبوّت کے تحفظ کا اِعزازِ اَوّلیت حاصل کرنے والوں کا ایک سرسری اور اِجمالی خاکہ پیش کیا جاتا ہے۔

سب سے پہلے محافظِ ختمِ نبوّت

حضرت سیّدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ جہاں پہلے صحابیٔ رسول اور پہلے خلیفۂ رسول تھے، وہاں آپ پہلے محافظینِ ختمِ نبوّت کے امیر ہیں جنہوں نے سب سے پہلے سرکاری اور حکومتی سطح پر عقیدۂ ختمِ نبوّت کی پاسبانی کرکے منکرینِ ختمِ نبوّت کا اِستیصال کیا۔

ختمِ نبوّت کے پہلے مجاہد

حضرت ابو مسلم خولانی ؒ جن کا نام عبداللہ بن ثوب ہے، اور یہ اُمتِ محمدیہ (علیٰ صاحبہا الصلوۃ والسلام) کے وہ جلیل القدر بزرگ ہیں جن کے لئے اللہ تعالیٰ نے آگ کو اسی طرح بے اثر فرمادیا جیسے حضرت ابراہیم علیہ السلام کے لئے آتشِ نمرود کو گلزار بنادیا تھا۔ جس وقت جھوٹے مدعی نبوت اسود عنسی نے اپنی نبوت کا انکار سن کر ان کو آگ میں ڈالا اور یہ زندہ آگ سے بچ کر باہر نکل

45

آئے ، اس لحاظ سے یہ پہلے مجاہد ختم نبوت ہوئے۔

پہلے غازیٔ ختمِ نبوّت

حضرت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے آخری زمانۂ حیات میں یمن وغیرہ کے نگران حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ تھے، اَسوَد عنسی نے دعویٔ نبوّت کرکے اپنا جتھہ بنالیا تھا، حضرت فیروز دیلمی رضی اللہ عنہ کو یہ شرف حاصل ہے کہ آپ نے اَسوَد عنسی کو قتل کیا، اس لحاظ سے حضرت فیروز دیلمی رضی اللہ عنہ پہلے غازیٔ ختمِ نبوّت ہیں۔

پہلے شہیدِ ختمِ نبوّت

حضرت حبیب بن زید رضی اللہ عنہ کو مسیلمہ کذّاب کے لوگ پکڑ کر لے گئے، مسیلمہ کذّاب نے حضرت حبیب رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہ: ’’کیا آپ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو رَبّ العزّت کا رسول مانتے ہیں؟‘‘ جواب دیا: ’’ہاں مانتا ہوں!‘‘ مسیلمہ کی جھوٹی نبوت کا انکار کرنے پرمسیلمہ نے ان کو ٹکڑے ٹکڑے کراکر قتل کردیا تو اس اعتبار سے سب سے پہلے شہید ختم نبوت ہونے کا اعزاز حاصل کیا۔

سب سے پہلے اَسیرِ ختمِ نبوّت

حضرت عبداللہ بن وہب الاسلمی رضی اللہ عنہ صحابیٔ رسول ہیں، آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے وقت عمان میں تھے، آپ کی وفات کی خبر سن کر روانہ ہوئے، راستے میں مسیلمہ کذّاب نے ان کو گرفتار کرلیا، اس نے اپنی نبوّت آپ پر پیش کی تو آپ نے تسلیم کرنے سے انکار کردیا، مسیلمہ کذّاب نے اس جرم کی پاداش (ختمِ نبوّت پر ثابت قدمی) میں ان کو جیل میں ڈال دیا۔ جب حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ نے مسیلمہ کذّاب پر حملہ کیا تو حضرت عبداللہ بن وہب الاسلمیؓ جیل سے نکل کر حضرت خالد رضی اللہ عنہ کے لشکر کے اس حصے میں جاکر شاملِ جہاد ہوئے جو حضرت اُسامہ بن زید رضی اللہ عنہ کی کمان میں جنگ کر رہا تھا۔ اس لحاظ سے حضرت عبداللہ بن وہب رضی اللہ عنہ کو ختمِ نبوّت کی خاطر سب سے پہلے گرفتار ہونے کی سعادت حاصل ہے۔ (طبقاتِ ابن سعد حصہ چہارم ص:۴۴۶ اُردو)

عہدِ نبوّت میں ختمِ نبوّت کی پہلی جنگ اور پہلے لشکر کے سپہ سالار

طلیحہ اسدی نے رحمتِ دو عالم صلی اللہ علیہ وسلم کے آخری زمانۂ حیات میں نبوّت کا دعویٰ

46

کیا، ہزارہا لوگ اس کے گرد جمع ہوگئے، اس نے اپنے ایک قاصد ’’حیال‘‘ کو حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بھیج کر اپنی نبوّت منوانے کی دعوت دی، طلیحہ اسدی کے قاصد کی بات سن کر رحمتِ عالم صلی اللہ علیہ وسلم کو بہت فکر دامن گیر ہوئی، چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تحفظِ ختمِ نبوّت کی پہلی جنگ کے لئے پہلے سپہ سالار کے طور پر اپنے صحابی حضرت ضرار بن ازور رضی اللہ عنہ کا انتخاب فرمایا، اور ان قبائل و عمال کے پاس جہاد کی تحریک کے لئے روانہ فرمایا جو طلیحہ کے قریب میں واقع تھے، حضرت ضرار نے علی بن اسد، سنان بن ابو سنان اور قبیلہ قضاعہ اور قبیلہ بنو ورتا وغیرہ کے پاس پہنچ کر ان کو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا پیغام سنایا، اور طلیحہ اسدی کے خلاف فوج کشی اور جہاد کی ترغیب دی۔ انہوں نے لبیک کہا اور حضرت ضرار رضی اللہ عنہ کی قیادت میں ایک لشکر تیار ہوکر واردات کے مقام پر پہنچا، دُشمن کو پتا چلا، انہوں نے حملہ کیا جنگ شروع ہوئی، لشکرِ اسلام اور فوجِ محمدی نے ان کو ناکوں چنے چبوادئیے، مظفر و منصور واپس ہوئے، ابھی حضرت ضرار مدینہ منوّرہ کے راستے میں تھے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا وصال ہوگیا۔

(اَئمۂ تلبیس ، ص:۳۵)

عہدِ صدیقی میں تحفظِ ختمِ نبوّت کی پہلی جنگ

حضرت سیّدنا صدیقِ اکبر رضی اللہ عنہ کے عہدِ خلافت میں ختمِ نبوّت کے تحفظ کی پہلی جنگ یمامہ کے میدان میں مسیلمہ کذّاب کے خلاف لڑی گئی۔ اس جنگ میں سب سے پہلے حضرت عکرمہ رضی اللہ عنہ پھر حضرت شرحبیل بن حسنہ رضی اللہ عنہما اور آخر میں حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ نے مسلمانوں کے لشکر کی کمان فرمائی۔ اس پہلے معرکۂ ختمِ نبوّت میں بارہ سو صحابہ کرام و تابعین شہید ہوئے، جن میں سات سو قرآن مجید کے حافظ و قاری اور ستر بدری صحابہ تھے۔ مسیلمہ کذّاب کا لشکر چالیس ہزار افراد پر مشتمل تھا، جس میں سے بائیس ہزار مسیلمی میدانِ جنگ میں ڈھیر ہوئے، حضرت صدیقِ اکبر رضی اللہ عنہ نے حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ کو لکھا کہ مسیلمہ کذّاب کی پارٹی کے تمام بالغ افراد کو بجرمِ اِرتداد قتل کردیا جائے، عورتیں اور کم سن لڑکے قیدی بنائے جائیں اور ایک روایت (البدایہ والنہایہ، ج:۶، ص:۳۱۰ اور طبری تاریخ الامم والملوک ج:۲، ص:۴۸۲) کے مطابق مرتدین کے اِحراق کا بھی حضرت صدیقِ اکبر رضی اللہ عنہ نے حکم فرمایا، لیکن آپ کا فرمان پہنچنے سے قبل حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ معاہدہ کرچکے تھے۔ مسیلمہ

47

کذّاب کو حضرت وحشی رضی اللہ عنہ نے قتل کیا تھا۔ اور ’’بدایہ‘‘ کی روایت کے مطابق طلیحہ کے بعض ماننے والوں کو بزاخہ میں قیام کے دوران ایک ماہ تک تلاش کرتے رہے تاکہ آپ ان سے مسلمانوں کے قتل کا بدلہ لیں، جن کو انہوں نے اپنے اِرتداد کے زمانے میں اپنے درمیان رہتے ہوئے قتل کردیا تھا۔ ان میں سے بعض (طلیحی مرتدین) کو آپ نے آگ سے جلادیا اور بعض کو پتھروں سے کچل دیا، اور بعض کو پہاڑوں کی چوٹیوں سے نیچے گرادیا۔ یہ سب کچھ آپ نے اس لئے کیا تاکہ مرتدینِ عرب کے حالات سننے والا ان سے عبرت حاصل کرے۔

(البدایہ، ج:۶، ص:۱۱۶۶ اُردو ترجمہ مطبوعہ نفیس اکیڈمی، کراچی)

سب سے آخری خبر

جب حضرت فیروز دیلمی رضی اللہ عنہ نے اَسوَد عنسی کو قتل کیا، تو رحمتِ عالم صلی اللہ علیہ وسلم کو بذریعہ وحی حضرت فیروز دیلمی رضی اللہ عنہ کی کامیابی اور اَسوَد عنسی کے قتل کی خبر دی گئی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ خبر سن کر خوشی و انبساط کا اظہار فرمایا، اس دُنیا سے تشریف لے جاتے ہوئے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے وحی کے ذریعے سب سے آخری غیرملکی خبر جو سماعت فرمائی وہ ایک جھوٹے مدعیٔ نبوّت اَسوَد عنسی کے قتل کی تھی۔

سب سے پہلی بشارت

حضرت سیّدنا صدیقِ اکبر رضی اللہ عنہ جب مسند آرائے خلافت ہوئے تو آپ صدیق اکبرؓ حضرت اُسامہ رضی اللہ عنہ کے لشکر کو روانہ فرما رہے تھے کہ آپ کو یمن سے اَسوَد عنسی کے قتل کی تفصیلات پر مشتمل بشارت پہنچی۔ اس لحاظ سے حضرت صدیقِ اکبر رضی اللہ عنہ کو خلافت سنبھالتے ہی سب سے پہلی جو غیرملکی بشارت سنائی گئی وہ جھوٹے مدعیٔ نبوّت اَسوَد عنسی کے قتل کی تھی۔

پہلا حسنِ اِتفاق

اَسوَد عنسی کے قتل کی بذریعہ وحی رحمتِ عالم صلی اللہ علیہ وسلم نے آخری خبر سنی اور صدیقِ اکبر رضی اللہ عنہ نے یہی خبر بذریعہ قاصد خلافت سنبھالتے ہی سب سے پہلے سنی، یہ حسنِ اتفاق تھا کہ جس معاملے پر رحمتِ عالم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے کام کا اِختتام فرمایا، حضرت صدیقِ اکبر رضی اللہ عنہ نے وہاں سے اپنے کام کی ابتدا فرمائی، فالحمد ﷲ!

فضائل تحفظ ختم نبوت کے سلسلہ میں آپ کے سامنے مختصر سی بات رکھی ہے، دیکھئے کیسے

48

عظیم المرتبت انسان تھے اپنا سب کچھ تحفظ ختم نبوت پر قربان کردیا، اس مشن کی حفاظت اور پاسداری کے لئے ان کو اپنی جان دینا پڑی تو دے دی مگر ناموس رسالت کی حفاظت سے سرمو انحراف نہیں کیا۔ جسم کے ٹکڑے کروالئے پر ذات محمدی پر آنچ نہیں آنے دی، آگ میں کود گئے مگر باوفا نبی مکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے بے وفائی نہیں کی، غرضیکہ جس طرح کی قربانی کی ضرورت پیش آئی تو دے دی تاکہ ان کی مقدس زندگیاں امت کے لئے مشعل راہ بن جائیں۔

آج بھی ضرورت ہے عقیدہ ختم نبوت کے تحفظ کے لئے میدان میں آنے کی، آج بھی ضرورت ہے ناموس رسالت کے دفاع کی، آج بھی ضرورت ہے فتنہ ارتداد کے خلاف صف آرأ ہونے کی، آیئے عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے جھنڈے تلے جمع ہوکر اس مقدس مشن کا حصہ بنیں، اللہ مجھے بھی توفیق نصیب فرمائے اور آپ سب نمازی بھائیوں کو بھی اور ہمارے اہل خانہ اور بچوں کوبھی ۔ اللہ ہم سب کا حامی و ناصر ہو۔

وآخر دعوانا ان الحمد للہ رب العالمین

49

تحریک ختم نبوت

تاریخ کے آئینہ میں!

قادیانی سے میل ملاپ اور خرید و فروخت کرنا

سوال:… کیا فرماتے ہیں، علماء کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ قادیانیوں اور مرزائیوں سے تعلقات رکھنا، رشتہ ناتہ قائم کرنا، ان کی خوشی و غمی میں شریک ہونا یا ان کو اپنی کسی تقریب میں شریک کرنا وغیرہ ازروئے شریعت اس کا کیا حکم ہے؟ مزید یہ کہ ایسا شخص جو قادیانیوں سے کسی بھی قسم کے روابط رکھتا ہے، اس کا کیا حکم ہے؟ آیا یہ مسلمان ہے؟ ایسے شخص سے سلام و کلام کرنا کیسا ہے؟

(سائل: ابو سیّد محمد بلال، کراچی)

جواب:… قادیانیوں کا معاملہ دوسرے کافروں سے مختلف ہے، اس لئے کہ یہ اپنے کفریہ عقائد پر اسلام کا ملمع کرتے ہیں۔ لہٰذا ان سے مسلمانوں کے دین و ایمان غارت ہونے کا شدید اندیشہ ہے، لہٰذا ان سے سلام ،کلام، میل ملاپ، خریدو فروخت کرنا اور تعلقات رکھنا ناجائز اور حرام ہے۔

مولانا سعید احمد جلال پوری شہیدؒ

دارالافتاء ختم نبوت

51

بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ

اَلْحَمْدُلِلّٰہِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ وَالصَّلوٰۃُ وَالسَّلاَمُ عَلٰی سَیِّدِ الْمُرْسَلِیْنَ وَخَاتَمِ النَّبِیِّیْنَ اَمَّا بَعْدُ

اَعُوْذُبِاللّٰہِ مِنَ الشَّیْطَانِ الرَّجِیْمِ۔ بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ

’’قُلْ اِنْ کَانَ آبَاؤُکُمْ وَاَبْنَائُ کُمْ وَاِخْوَانُکُمْ وَاَزْوَاجُکُمْ وَعَشِیْرَتُکُمْ وَاَمْوَالُنِ قْتَرَفْتُمُوْہَا وَتِجَارَۃٌ تَخْشَوْنَ کَسَادَہَا وَمَسٰکِنُ تَرْضَوْنَہَآ اَحَبَّ اِلَیْکُمْ مِّنَ اللّٰہِ وَرَسُوْلِہٖ وَجِہَادٍ فِیْ سَبِیْلِہٖ فَتَرَبَّصُوْ حَتّٰی یَأتِیَ اللّٰہُ بِاَمْرِہٖ وَاللّٰہُُ لَایَہْدِی الْقَوْمَ الْفٰسِقِیْنَ۔‘‘

(التوبہ:۲۴)

ترجمہ: ...’’توکہہ دے اگر تمہارے باپ اور بیٹے اور بھائی اور عورتیں اور برادری اور مال جو تم نے کمائے ہیں اور سودا گری جس کے بند ہونے سے تم ڈرتے ہو اور حویلیاں جن کو پسند کرتے ہو تم کو زیادہ پیاری ہیں اللہ سے اور اس کے رسول سے اور لڑنے سے اس کی راہ میں تو انتظار کرو یہاں تک کہ بھیجے اللہ اپنا حکم اور اللہ رستہ نہیں دیتا نافرمان لوگوں کو۔‘‘

وَقَالَ النَّبِیُّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ :
’’اِنَّہ‘ سَیَکُوْنُ فِیْ اُمَّتِیْ کَذَّابُوْنَ ثَلاَثُوْنَ کُلُّہُمْ یَزْعَمُ اَنَّہ‘ نَبِیٌّ وَاَنَا خَاتَمُ النَّبِیِّیْنَ لَا نَبِیَّ بَعْدِیْ۔‘‘ (ترمذی، ج:۲، ص:۴۵)

ترجمہ:... ’’نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: عنقریب میری امت میں تیس جھوٹے پیدا ہوں گے، ہر ایک کہے گا کہ وہ نبی ہے، حالانکہ میں آخری نبی ہوں، میرے بعد کوئی (نیا) نبی نہیں آئے گا۔

صدق اللہ العظیم وصدق رسولہ النبی الکریم

52
  1. رسولِ مجتبیٰ کہئے محمد مصطفی کہئے

    خدا کے بعد بس وہ ہیں پھر اس کے بعد کیا کہئے

  2. شریعت کا ہے یہ اصرارِ ختم الانبیاء کہئے

    محبت کا تقاضا ہے کہ محبوبِ خدا کہئے

  3. جب ان کا ذکر ہو دنیا سراپا گوش ہوجائے

    جب ان کا نام آئے مرحبا صلی علیٰ کہئے

  4. محمدﷺکی نبوت دائرہ ہے نور وحدت کا

    اسی کو ابتدأ کہئے اسی کو انتہا کہئے

میرے سرکار کے نقش قدم شمع ہدایت ہیں

یہ وہ منزل ہے جس کو مغفرت کا راستہ کہئے

سامعین محترم! آج کے بیان کا عنوان اور موضوع جس پر آپ کے سامنے اظہارِ خیال کرنا ہے وہ نہایت مقدس اور اہم ہے، جس کاز اور عقیدہ کی حفاظت و پاسداری کے لئے اکابرین ملت بیضاء نے ان گنت خدمات پیش کی ہیں، وہ عنوان ہے: تحریک ختم نبوت تاریخ کے آئینہ میں، سامعین ذی وقار! آپ ﷺ کی ختم نبوت میں امت مسلمہ کی وحدت کا راز مضمر ہے۔ اس لئے اس مسئلہ میں چودہ سو سال سے کبھی بھی امت دورائے کا شکار نہیں ہوئی، بلکہ جس وقت کسی شخص نے اس مسئلہ کے خلاف رائے دی، امت مسلمہ کے صاحب اختیار حضرات نے اسے سرطان کی طرح اپنے جسم سے علیحدہ کردیا۔ ختم نبوت کا تحفظ یا باالفاظ دیگر منکرین ختم نبوت کا استیصال دین کا ایک حصہ ہے۔ دین کی نعمت کا اتمام آنحضرت ﷺکی ذات اقدس پر ہوا۔ اس لئے دین کے اس شعبہ کو بھی اللہ رب العزت نے خود آنحضرت ﷺ سے وابستہ فرمایا اور سب سے پہلے خود آنحضرت ﷺنے اپنے زمانہ میں پیدا ہونے والے جھوٹے مدعی نبوت کا استیصال کرکے امت مسلمہ کو کام کرنے کا عملی نمونہ پیش فرمادیا۔

تحفظ ختم نبوت آنحضرت ﷺ کی سنت مبارکہ :

چنانچہ اسود عنسی کے استیصال کے لئے رحمت عالمﷺ نے حضرت فیروز دیلمیؓ کو، اور طلیحہ اسدی کے مقابلہ میں حضرت ضرار بن ازورؓ کو روانہ فرمایا۔ یہ امت کے لئے خود آنحضرت ﷺ کا عملی سبق ہے، امت کے لئے خیروبرکت اور فلاح دارین اس سے وابستہ ہے کہ وہ ختم نبوت کے عقیدئہ کی حفاظت کرے اور منکرین ختم نبوت کو ان کے منطقی انجام تک پہنچائے۔

امت نے آنحضرت ﷺ کے اس مبارک عمل کو اپنے لئے ایسے طور پر مشعل راہ بنایا کہ خیرالقرون کے زمانہ سے اس وقت تک ایک لمحہ کے لئے بھی امت اس سے غافل نہیں ہوئی۔ طلیحہ

53

اسدی نے اپنے ایک قاصد عم زاد ’’حیال‘‘ کو حضور ﷺ کے پاس بھیج کر اپنی نبوت منوانے کی دعوت دی۔ طلیحہ اسدی کے قاصد کی بات سن کر رحمت عالمﷺ کو بہت فکر دامن گیر ہوئی، چنانچہ آپ ﷺ نے تحفظ ختم نبوت کی پہلی جنگ کے پہلے سپہ سالار کے لئے اپنے صحابی حضرت ضرار بن ازورؓ کا انتخاب فرمایا اور ان قبائل و عمال کے پاس جہاد کی تحریک کے لئے روانہ فرمایا جو طلیحہ کے قریب میں واقع تھے، حضرت ضرارؓ نے علی بن اسد، سنان بن ابوسنان اور قبیلہ قضاعہ اور قبیلہ بنوورتا وغیرہ کے پاس پہنچ کر ان کو آنحضرت ﷺ کا پیغام سنایا اور طلیحہ اسدی کے خلاف فوج کشی اور جہاد کی ترغیب دی۔ انہوں نے لبیک کہا اور حضرت ضرارؓ کی قیادت میں ایک لشکر تیار ہوکر اس نے واردات کے مقام پر پڑائو کیا، دشمن کو پتہ چلا، انہوں نے حملہ کیا، جنگ شروع ہوئی، لشکر اسلام اور فوج محمدی نے ان کو ناکوں چنے چبوائے، صحابہ مظفرو منصور واپس ہوئے۔ ابھی حضرت ضرارؓ مدینہ منورہ کے راستہ میں تھے کہ آنحضرت ﷺ کا وصال ہوگیا۔

عہد صدیقیؓ میں تحفظ ختم نبوت کی پہلی جنگ:

حضرت سیدنا صدیق اکبرؓ کے عہد خلافت میں ختم نبوت کے تحفظ کی پہلی جنگ یمامہ کے میدان میں مسیلمہ کذاب کے خلاف لڑی گئی۔ اس جنگ میں سب سے پہلے حضرت عکرمہؓ پھر حضرت شرحبیلؓ بن حسنہ اور آخر میں حضرت خالد بن ولیدؓ نے مسلمانوں کے لشکر کی کمان فرمائی۔

صحابہ رضی اللہ عنہم کی قربانی:

اس پہلے معرکہ ختم نبوت میں ۱۲ سو صحابہ کرامؓ و تابعینؒ شہید ہوئے۔ جن میں سات سو قرآن مجید کے حافظ و قاری اور ستر بدری صحابہؓ تھے۔

سیدنا صدیق اکبرؓ نے حضرت خالد بن ولیدؓ کو لکھا کہ مسیلمہ کذاب کی پارٹی کے تمام بالغ افراد کو بجرم ارتداد قتل کردیا جائے۔ عورتیں اور کم سن لڑکے قیدی بنائے جائیں اور ایک روایت (البدایۃ والنہایۃ ج ۶ ص ۳۱۰ اور طبری تاریخ الامم و الملوک کی جلد۲ ص ۴۸۲ ) کے مطابق مرتدین کے احراق کا بھی حضرت صدیق اکبرؓ نے حکم فرمایا، لیکن آپؓ کا فرمان پہنچنے سے قبل حضرت خالد بن ولیدؓ معاہدہ کرچکے تھے۔

مجاعہ کی گرفتاری اور اس کا دھوکا:

معاہدہ اس طرح ہوا کہ حضرت خالد بن ولیدؓ نے مسیلمہ کے ایک ساتھی مجاعہ کو گرفتار کرلیا

54

تھا۔ جنگ کے اختتام پر اسے قید سے رہا کرکے فرمایا کہ اپنی قوم کو قلعہ کھولنے پر تیار کرو۔ مجاعہ نے جاکر عورتوں اور بچوں کو پگڑیاں بندھوا کر مسلح کرکے قلعہ کی فصیل پر کھڑا کردیا اور حضرت خالدؓ کو یہ تاثر دیا کہ بہت سا لشکر قلعہ میں جنگ کے لئے موجود ہے۔ حضرت خالدؓ اور مسلمان فوج ہتھیار اتار چکے تھے۔ نئی جنگ کے بجائے انہوں نے چوتھائی مال و اسباب پر مسیلمہ کی فوج سے صلح کرلی۔ جب قلعہ کھول دیا گیا تو وہاں عورتوں اور بچوں کے سوا اور کوئی نہ تھا۔ حضرت خالدؓ نے مجاعہ سے کہا کہ تم نے دھوکہ دیا۔ اس نے کہا کہ اپنی قوم کو بچانے کی خاطر ایسا کیا۔ باوجودیکہ یہ معاہدہ دھوکہ سے ہوا، لیکن حضرت خالدؓ نے اس معاہدہ کو برقرار رکھا۔

مسیلمہ کذاب کو حضرت وحشیؓ نے قتل کیا تھا اور البدایہ والنہایہ کی روایت کے مطابق طلیحہ کے بعض ماننے والوں کی خاطر بزاخہ میں قیام کے دوران ایک ماہ تک ان کی تلاش میں پھرتے رہے، تاکہ آپ ان سے مسلمانوں کے قتل کا بدلہ لیں، جن کو انہوں نے اپنے ارتداد کے زمانہ میں اپنے درمیان رہتے ہوئے قتل کردیا تھا، ان میں سے بعض (طلیحی مرتدین) کو حضرت خالدؓ نے آگ میں جلادیا اور بعض کو پتھروں سے کچل دیا، اور بعض کو پہاڑوں کی چوٹیوں سے نیچے گرادیا، یہ سب کچھ آپ نے اس لئے کیا تاکہ مرتدین عرب کے حالات سننے والا ان سے عبرت حاصل کرے، اسی طرح جب بھی اسلامی حکومت میں کوئی جھوٹا مدعی نبوت سامنے آیا اس پر اسلامی شریعت کے مطابق فیصلہ صادر کردیا گیا اور اس کے ناپاک وجود سے اللہ کی پاک دھرتی کو صاف کردیا گیا۔

جھوٹے مدعیانِ نبوت کا سلسلہ آگے بڑھا تو متحدہ ہندوستان میں انگریز اپنے جوروستم اور استبدادی حربوں سے جب مسلمانوں کے قلوب کو مغلوب نہ کرسکا تو اس نے ایک کمیشن قائم کیا۔ جس نے پورے ہندوستان کا سروے کیا اور واپس جاکر برطانوی پارلیمنٹ میں رپورٹ پیش کی کہ مسلمانوں کے دلوں سے جذبہ جہاد مٹانے کے لئے ضروری ہے کہ کسی ایسے شخص سے نبوت کا دعویٰ کرایا جائے جو جہاد کو حرام اور انگریز کی اطاعت کو مسلمانوں پر اولولامر کی حیثیت سے فرض قرار دے۔

ان دنوں مرزا غلام احمد قادیانی سیالکوٹ ڈی سی آفس میں معمولی درجے کا کلرک تھا، اردو، عربی اور فارسی اپنے گھر پر پڑھی تھی۔ مختاری کا امتحان دیا مگر ناکام ہوگیا، غرض یہ کہ اس کی

55

تعلیم دینی و دنیاوی دونوں اعتبار سے ناقص تھی۔ چنانچہ اس مقصد کے لئے انگریز ڈپٹی کمشنر کے توسط سے مسیحی مشن کے ایک اہم اور ذمہ دار شخص نے اس سے ڈی سی آفس میں ملاقات کی۔ گویا یہ انٹرویو تھا مسیحی مشن کا۔ یہ مسیحی شخص انگلینڈ روانہ ہوگیا اور مرزا قادیانی ملازمت چھوڑ کر قادیان پہنچ گیا۔ باپ نے کہا کہ نوکری کی فکر کرو، جواب دیا کہ میں نوکر ہوگیا ہوں اور پھر بھیجنے والے کے پتے کے بغیر منی آرڈر ملنے شروع ہوگئے۔ مرزا قادیانی نے مذہبی اختلافات کو ہوا دی۔ بحث و مباحثہ اور اشتہار بازی شروع کردی، یہ تمام تر تفصیل مرزائی کتب میں موجود ہے۔

مرزا قادیانی کا انتخاب کیوں؟

سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اس کام کے لئے برطانوی سامراج نے مرزا قادیانی کا انتخاب کیوں کیا؟ اس کا جواب بھی خود مرزائی لٹریچر میں موجود ہے کہ مرزا قادیانی کا خاندان جدی پشتی انگریز کا نمک خوار، خوشامدی اور مسلمانوں کا غدار تھا، مرزا قادیانی کے والد نے ۱۸۵۷ء کی جنگ آزادی میں برطانوی سامراج کو پچاس گھوڑے مع ساز و سامان مہیا کئے اور یوں مسلمانوں کے قتل عام سے اپنے ہاتھ رنگین کرکے انگریز سے انعام میں جائیداد حاصل کی۔ مرزا غلام احمد قادیانی لکھتا ہے:

’’پھر میرے والد صاحب کی وفات کے بعد میرا بڑا بھائی مرزا غلام قادر خدمات سرکاری میں مصروف رہا۔‘‘

(کتاب البریہ، ص:۵۱۴، روحانی خزائن، ج:۱۳، ص:۴،۵)

اپنے بارے میں لکھتا ہے:

’’میری عمر کا اکثر حصہ اس سلطنت انگریزی کی تائیدو حمایت میں گزرا ہے اور میں نے ممانعت جہاد اور انگریزی اطاعت کے بارے میں اس قدر کتابیں لکھی ہیں اور اشتہار شائع کئے ہیں کہ اگر وہ رسائل اور کتابیں اکٹھی کی جائیں تو پچاس الماریاں ان سے بھر سکتی ہیں۔‘‘

(تریاق القلوب، ص:۲۷، روحانی خزائن، ج:۱۵، ص:۱۵۵)

غرض یہ کہ مرزا قادیانی کے گوشت پوست میں انگریز کی وفاداری اور مسلمانوں سے غداری رچی بسی تھی، یہی وجہ ہے کہ اس مقصد کے لئے انگریز کی نظر انتخاب مرزا قادیانی پر پڑی،

56

چنانچہ اس کی خدمات حاصل کرلی گئیں۔

سامعین گرامی قدر! جن حضرات کی مرزائیت کے لٹریچر پر نظر ہے، وہ جانتے ہیں کہ مرزا قادیانی کی ہر بات میں تضاد ہے لیکن حرمت جہاد اور فرضیت اطاعت انگریز ایک ایسا مسئلہ ہے کہ اس میں مرزا قادیانی کی کبھی دورائیں نہیں ہوئیں، کیونکہ یہ اس کا بنیادی مقصد اور غرض و غایت تھی۔ یہی وجہ ہے کہ اس نے اپنے آپ کو گورنمنٹ برطانیہ کا خودکاشتہ پودا قرار دیا۔ سر سیّد احمد خان مرحوم کی روایت جو ان کے مشہور مجلہ تہذیب الاخلاق میں چھپ چکی ہے کہ خود سرسیّد احمد خان سے انگریز وائسرائے نے مرزا قادیانی کی امداد و معاونت کرنے کا کہا، بقول ان کے انہوں نے نہ صرف رد کردیا بلکہ اس منصوبے کو بھی افشا کردیا، جس کے نتیجے میں انگریز وائسرائے ہند سر سیّد احمد خان سے ناراض ہوگئے۔

سامعین محترم، توجہ فرمائیں! اگر مرزا قادیانی کے دعاوی پر نظر ڈالیں تو اس نے بتدریج خادم اسلام، مبلغ اسلام، مجدد، مہدی، مثیل مسیح، ظلی نبی، مستقل نبی، انبیاء سے افضل حتی کہ خدائی تک کے دعاوی کئے، یہ سب کچھ ایک طے شدہ منصوبہ، گہری چال اور خطرناک سازش کے تحت کیا گیا۔

قطب العالم حاجی امداد اللہ ؒ کا کشف:

قطب عالم حضرت حاجی امداد اللہ مہاجر مکیؒ نے اپنے نورِ ایمانی اور بصیرت وجدانی سے آنجہانی مرزا قادیانی کے دعوے سے بہت پہلے پنجاب کے معروف روحانی بزرگ حضرت مولانا پیر مہر علی شاہ ؒ گولڑوی سے حجازِ مقدس میں ارشاد فرمایا:

’’پنجاب میں ایک فتنہ اٹھنے والا ہے، اللہ سبحانہ وتعالیٰ اس فتنہ کے خلاف آپ سے کام لیں گے۔‘‘

بیعت و خلافت سے سرفراز فرمایا اور اس فتنے کے خلاف کام کرنے کی تلقین فرمائی۔

اکابرین ملت کا کردار:

اللہ تعالیٰ نے ردِ قادیانیت کے سلسلے میں امت ِ محمدیہ کے جن خوش نصیب و خوش بخت حضرات سے بڑی تندہی اور جانفشانی سے کام لیا، ان میں حضرت مولانا رشید احمد گنگوہیؒ، حضرت مولانا پیر مہر علی شاہؒ، حضرت مولانا محمد علی مونگیریؒ، حضرت مولانا اشرف علی تھانویؒ، حضرت مولانا ثناء اللہ امرتسریؒ، حضرت مولانا محمد حسین بٹالویؒ، حضرت مولانا قاضی محمد سلیمان منصور پوریؒ، حضرت

57

مولانا مرتضی حسن چاند پوری ؒ، حضرت مولانا حسین احمد مدنیؒ، حضرت مولانا بدر عالم میرٹھیؒ، حضرت مولانا مفتی محمد شفیع ؒ، حضرت مولانا محمد ادریس کاندھلویؒ، پروفیسر محمد الیاس برنیؒ، علامہ محمد اقبالؒ، حضرت مولانا احمد علی لاہوریؒ، حضرت مولانا سیّد محمد یوسف بنوریؒ، حضرت علامہ شاہ احمد نورانی ؒ ، مولانا عبدالستار خان نیازیؒ، حضرت مولانا سیّد عطاء اللہ شاہ بخاریؒ، مولانا محمد علی جالندھریؒ، مولانا قاضی احسان احمد شجاع آبادیؒ، مولانا لال حسین اخترؒ، مولانا محمد حیاتؒ، حضرت مولانا محمد دائود غزنویؒ، حضرت مولانا ظفر علی خانؒ، حصرت مولانا مظہر علی اظہرؒ، حافظ کفایت حسینؒ اور حضرت مولانا پیر جماعت علی شاہؒ جیسی نابغہ روزگار ہزاروں شخصیات ہیں۔

علماء لدھیانہ کا فتویٰ:

علمائے لدھیانہ نے مرزا قادیانی کی گستاخ و بے باک طبیعت کو اس کی ابتدائی تحریروں سے دیکھ کر اس کے خلاف کفر کا فتویٰ سب سے پہلے دے دیا تھا۔ ان حضرات کا خدشہ صحیح ثابت ہوا اور آگے چل کر پوری امت نے علمائے لدھیانہ کے فتویٰ کی تصدیق و توثیق کردی۔

غرض یہ کہ پوری امت کی اجتماعی جدوجہد سے مرزائیت کے بڑھتے ہوئے سیلاب کو روکنے کی کوشش کی گئی، یہی وجہ ہے کہ مرزا قادیانی نے بھی اپنی تصانیف میں مولانا رشید احمدگنگوہیؒ، مولانا نذیر حسین دھلویؒ، مولانا ثناء اللہ امرتسریؒ مولانا پیر مہر علی شاہ گولڑویؒ، مولانا سیّد علی الحائری سمیت امت کے تمام طبقات کو اپنے سب و شتم کا نشانہ بنایا، کیونکہ یہی وہ حضرات تھے، جنہوں نے تحریر و تقریر، مناظرے اور مباہلے کے میدان میں مرزا قادیانی اور اس کے حواریوں کو چاروں شانے چت کیا اور یوں اپنے فرض کی تکمیل کرکے پوری امت کی طرف سے شکریئے کے مستحق قرار پائے۔ آیئے آگے سماعت فرمائیں۔

مقدمہ بہاول پور:

تحصیل احمد پور شرقیہ ریاست بہاول پور میں ایک شخص مسمی عبدالرزاق مرزائی ہوکر مرتد ہوگیا، اس کی منکوحہ غلام عائشہ بنت مولوی الٰہی بخش نے سن بلوغ کو پہنچ کر ۲۴/جولائی ۱۹۲۶ء کو فسخ نکاح کا دعویٰ احمد پور شرقیہ کی مقامی عدالت میں دائر کردیا جو ۱۹۳۱ء تک ابتدائی مراحل طے کرکے پھر ۱۹۳۲ء ڈسٹرکٹ جج بہاول پور کی عدالت میں بغرض شرعی تحقیق واپس ہوا۔ آخر کار ۷/فروری ۱۹۳۵ء کو فیصلہ بحق مدعیہ صادر ہوا۔ بہاول پور ایک اسلامی ریاست تھی، اس کے والی جناب نواب

58

صادق محمد خامس عباسی مرحوم ایک سچے عاشق رسول تھے، خواجہ غلام فرید بہاول پور کے معروف بزرگ تھے اور نواب صاحب ان کے عقیدت مند تھے۔ خواجہ غلام فریدؒ کے تمام خلفاء کو مقدمے میں گہری دلچسپی تھی، اس وقت جامعہ عباسیہ بہاول پور کے شیخ الجامعہ مولانا غلام محمد گھوٹوی مرحوم تھے، جو حضرت پیر مہر علی شاہ گولڑویؒ کے ارادت مند تھے، لیکن اس مقدمے کی پیروی اور امت محمدیہ کی طرف سے نمائندگی کے لئے سب کی نگاہ انتخاب شیخ الاسلام حضرت مولانا سیّد محمد انور شاہ کشمیریؒ پر پڑی۔ مولانا غلام محمد ؒ کی دعوت پر اپنے تمام تر پروگرام منسوخ کرکے مولانا سیّد محمد انور شاہ کشمیریؒ بہاول پور تشریف لائے تو فرمایا:

آقا a کا جانبدار:

’’جب یہاں سے بلاوا آیا تو میں ڈھابیل کے لئے پابہ رکاب تھا، مگر میں یہ سوچ کر یہاں چلا آیا کہ ہمارا نامۂ اعمال تو سیاہ ہے ہی، شاید یہی بات مغفرت کا سبب بن جائے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا جانبدار بن کر بہاول پور آیا تھا اور عشق رسالت کا جام پی کر فرمایا: اگر ہم ختم نبوت کا کام نہ کریں تو گلی کا کتا بھی ہم سے اچھا ہے۔‘‘

علامہ انور شاہ صاحب کے تشریف لانے سے پورے ہندوستان کی توجہ اس مقدمے کی طرف مبذول ہوگئی، بہاول پور میں علم کا موسم بہار شروع ہوگیا، اس سے مرزائیت کو بڑی پریشانی لاحق ہوئی۔ قادیانیوں نے بھی ان حضرات علماء کرام کی آہنی گرفت اور احتسابی شکنجے سے بچنے کے لئے ہزاروں جتن کئے۔

مولانا غلام محمد گھوٹویؒ، مولانا محمد حسین کولو تارڑویؒ، مولانا مفتی محمد شفیعؒ، مولانا مرتضیٰ حسن چاند پوریؒ، مولانا نجم الدینؒ، مولانا ابوالوفا شاہ جہانپوریؒاور مولاناسیّد محمد انور شاہ کشمیریؒ رحمہم اللہ تعالیٰ علیہم وکثر اللہ سعیہم کے ایمان افروز اور کفر شکن بیانات ہوئے، مرزائیت بوکھلا اٹھی۔

جلال و جمال کا پرتو:

ان دنوں مولانا سیّد محمد انور شاہ کشمیریؒ پر اللہ رب العزت کے جلال اور حضور سرور کائنات صلی اللہ علیہ وسلم کے جمال کا خاص اثر تھا، وہ جلال و جمال کا حسین امتزاج تھے۔ جمال میں آکر قرآن و سنت کے دلائل دیتے تو عدالت کے درودیوار جھوم اٹھتے اور جلال میں آکر مرزائیت کو

59

للکارتے تو کفر کے ایوانوں میںز لزلہ طاری ہوجاتا، مولانا ابو الوفا شاہ جہان پوریؒ نے اس مقدمے میں مختار مدعیہ کے طور پر کام کیا۔

مولانا سیّد محمد انور شاہؒ کی للکار:

ایک دن عدالت میں مولانا سیّد محمد انور شاہ کشمیریؒ نے جلال الدین شمس مرزائی کو للکار کر فرمایا:

’’اگر چاہو تو میں عدالت میں یہیں کھڑے ہوکر دکھاسکتا ہوں کہ مرزا قادیانی جہنم میں جل رہا ہے۔‘‘

مرزائی کانپ اٹھے، مسلمانوں کے چہروں پر بشاشت چھاگئی اور اہلِ دل نے گواہی دی کہ عدالت میں سیّد محمد انور شاہ کشمیریؒ نہیں بلکہ حضور سرور کائنات صلی اللہ علیہ وسلم کا وکیل اور نمائندہ بول رہا ہے۔

عزیزان من! علمائے کرام کے بیانات مکمل ہوئے، نواب صاحب مرحوم پر گورنمنٹ برطانیہ کا دبائو بڑھا، اس سلسلے میں مجاہد ملت مولانا محمد علی جالندھری مرحوم نے شیخ المشائخ حضرت مولانا خواجہ خان محمد مدظلہ سے بیان کیا کہ خضر حیات ٹوانہ کے والد نواب سر عمر حیات ٹوانہ لندن گئے تھے، نواب آف بہاول پور مرحوم بھی گرمیاں اکثر لندن میں گزارا کرتے تھے، نواب مرحوم سر عمر حیات ٹوانہ سے لندن میں ملے اور مشورہ طلب کیا کہ انگریز گورنمنٹ کا مجھ پر دبائو ہے کہ ریاست بہاول پور سے اس مقدمے کو ختم کرادیں تو اب مجھے کیا کرنا چاہئے؟

عشق رسالت کا سودا نہیں کیا:

سر عمر حیات ٹوانہ نے کہا کہ ہم انگریز کے وفادار ضرور ہیں، مگر اپنا دین، ایمان اور عشق رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم کا تو ان سے سودا نہیں کیا، آپ ڈٹ جائیں اور ان سے کہیں کہ عدالت جو چاہے فیصلہ کرے، میں حق و انصاف کے سلسلے میں اس پر دبائو نہیں ڈالنا چاہتا۔

چنانچہ مولانا محمد علی جالندھریؒ نے یہ واقعہ بیان کرکے ارشاد فرمایا: ’’انشاء اللہ ان دونوں کی نجات کے لئے اتنی بات کافی ہے۔‘‘

جناب محمد اکبر خان جج مرحوم کو ترغیب و تحریص کے دام تزویر میں پھنسانے کی مرزائیوں نے بہت کوشش کی، لیکن ان کی تمام تدابیر غلط ثابت ہوئیں۔ مولانا سیّد محمد انور شاہ کشمیریؒ اس فیصلے کے لئے اتنے بے تاب تھے کہ بیانات کی تکمیل کے بعد جب بہاول پور سے جانے لگے تو

60

مولانا محمد صادق مرحوم سے فرمایا کہ :اگر زندہ رہا تو فیصلہ خود سن لوں گا اور اگر فوت ہوجائوں تو میری قبر پر آکر یہ فیصلہ سنادیا جائے۔ چنانچہ مولانا محمد صادق ؒ نے آپ کی وصیت کو پورا کیا، آپ نے اپنے آخری ایام علالت میں دارالعلوم دیوبند کے اساتذہ ، طلبا اور دیگر بہت سے علماء کے مجمع میں تقریر فرمائی تھی، جس میں نہایت درد مندی و دل سوزی سے فرمایا تھا:

مولانا سیّد محمد انور شاہ کشمیریؒ کی وصیت:

’’وہ تمام حضرات جن کو مجھ سے بلاواسطہ یا بالواسطہ تلمذ کا تعلق ہے اور جن پر میرا حق ہے، میں ان کو خصوصی وصیت اور تاکید کرتا ہوں کہ وہ عقیدئہ ختم نبوت کی حفاظت و پاسبانی اور فتنہ قادیانیت کے قلع و قمع کو اپنا خصوصی وظیفہ بنائیں، جو لوگ یہ جانتے ہیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ان کی شفاعت فرمائیں گے ان کو لازم ہے کہ ختم نبوت کی پاسبانی کا کام کریں۔‘‘

معرکہ حق و باطل:

یہ مقدمہ حق و باطل کا عظیم معرکہ تھا، جب ۷/ فروری ۱۹۳۵ء کو فیصلہ صادر ہوا تو مرزائیت کے صحیح خدوخال آشکارا ہوگئے۔ بلاشبہ پوری امت جناب محمد اکبر خان جج مرحوم کی مرہون منت ہے کہ انہوں نے کمال عدل و انصاف، محنت و عرق ریزی سے ایسا فیصلہ لکھا کہ اس کا ایک ایک حرف قادیانیت کے تابوت میں کیل کی طرح پیوست ہوگیا، یہ فیصلہ قادیانیت پر برق آسمان و بلائے ناگہانی ثابت ہوا، مرزائیوں نے اپنے نام نہاد خلیفہ مرزا بشیر کی سربراہی میں سر ظفراللہ مرتد سمیت جمع ہوکر اس فیصلے کے خلاف اپیل کرنے کی سوچ بچار کی لیکن آخر کار اس نتیجے پر پہنچے کہ فیصلہ اتنی مضبوط اور ٹھوس بنیادوں پر صادر ہوا ہے کہ اپیل بھی ہمارے خلاف جائے گی۔

اللہ رب العزت کی قدرت کے قربان جائیں، کفر ہار گیا، اسلام جیت گیا، ایک مرتبہ پھر ’’جاء الحق وزہق الباطل‘‘ کی عملی تفسیر اس فیصلہ کی شکل میں امت کے سامنے آگئی اور مرزائی ’’ فبہت الذی کفر‘‘ کا مصداق ہوگئے۔ اس تاریخ ساز فیصلے نے چاردانگ عالم میں تہلکہ مچادیا، مرزائیوں کی ساکھ روز بروز گرنے لگی ، ذلت و رسوائی ان کا مقدر بن گئی۔

تحریک ختم نبوت ۱۹۵۳ء:

ہندوستان تقسیم ہوا، خداداد مملکت پاکستان معرض وجود میں آئی، بدنصیبی سے اسلامی

61

مملکت پاکستان کا پہلا وزیر خارجہ چوہدری سر ظفراللہ خان قادیانی کو بنایا گیا، اس نے مرزائیت کے جنازے کو اپنی وزارت کے کندھوں پر لاد کر اندرون و بیرون ملک اسے متعارف کرانے کی کوشش تیز سے تیز تر کردی۔ ان حالات میں حضرت امیر شریعت سیّد عطاء اللہ شاہ بخاریؒ، امیر کاروانِ احرار کی رگِ حمیت اور حسینی خون نے جوش مارا، پوری امت کو ایک پلیٹ فارم پر جمع کیا۔

مولانا ابوالحسنات سے ملاقات:

مجاہد ملت حضرت مولانا محمد علی جالندھریؒ، مجاہد اسلام مولانا غلام غوث ہزارویؒ امیر شریعت سیّد عطاء اللہ شاہ بخاریؒ کا پیغام لے کر ملک عزیز کی نامور دینی شخصیت اور ممتاز عالم دین مولانا ابوالحسنات محمد احمد قادریؒ کے دروازے پر گئے اور اس تحریک کی قیادت کا فریضہ انہوں نے ادا کیا۔

مولانا احمد علی لاہوریؒ، مولانا مفتی محمد شفیعؒ، مولانا خواجہ قمر الدین سیالویؒ، مولانا پیر حضرت غلام محی الدین گولڑویؒ، مولانا عبدالحامد بدایونیؒ، مولانا پیر سرسینہ شریفؒ، مولانا سیّد محمد دائود غزنویؒ، شیخ حسام الدین، مولانا صاحبزادہ سیّد فیض الحسنؒ، مولانا صاحبزادہ افتخار الحسنؒ، اورمولانا اختر علی خاںؒ، غرضیکہ کراچی سے لے کر ڈھاکا تک کے تمام مسلمانوں نے اپنی مشترکہ آئینی جدوجہد کا آغاز کیا۔

برصغیر کی عظیم تحریک:

بلاشبہ یہ برصغیر کی عظیم ترین تحریک تھی، جس میں دس ہزار مسلمانوں نے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کیا، ایک لاکھ مسلمانوں نے قید وبند کی صعوبتیں برداشت کیں۔ دس لاکھ مسلمان اس تحریک سے متاثر ہوئے، ہر چند کہ اس تحریک کو مرزائی اور مرزائی نواز اوباشوں نے سنگینوں کی سختی سے دبانے کی کوشش کی مگر مسلمانوں نے اپنے جذبہ ایمانی سے ختم نبوت کے اس معرکے کو اس طرح سر کیا کہ مرزائیت کا کفر کھل کر سامنے آگیا، تحریک کے ضمن میں انکوائری کمیشن نے رپورٹ مرتب کرنا شروع کی، عدالتی کارروائی میں حصہ لینے کی غرض سے علماء اور وکلاء کی تیاری، مرزائیت کی کتب کے اصل حوالہ جات کو مرتب کرنا اتنا بڑا کٹھن مرحلہ تھا اور ادھر حکومت نے اتنا خوف و ہراس پھیلا رکھا تھا کہ تحریک کے رہنمائوں کو لاہور میں کوئی رہائش دینے کے لئے تیار نہ تھا۔ جناب عبدالمجید سیفی نقشبندی خلیفہ مجاز خانقاہ سراجیہ نے اپنی عمارت واقع بیڈن روڈ لاہور کو رہنمائوں کے لئے وقف کردیا، تمام تر مصلحتوں سے بالائے طاق ہوکر ختم نبوت کے عظیم مقصد

62

کے لئے ان کے ایثار کا نتیجہ تھا کہ مولانا محمد حیاتؒ، مولانا عبدالرحیم اشعرؒ اور رہائی کے بعد مولانا محمد علی جالندھریؒ، مولانا قاضی احسان احمد شجاع آبادیؒ اور دوسرے رہنمائوں نے آپ کے مکان پر انکوائری کے دوران قیام کیا اور مکمل تیاری کی۔ ان ایام میں شیخ المشائخ قبلہ حضرت ثانی مولانا محمد عبداللہؒ سجادہ نشین خانقاہ سراجیہ بھی وہیں قیام پذیر رہے اور تمام کام کی نگرانی فرماتے رہے۔ ۱۹۵۳ء کی تحریک ختم نبوت کے بعد مولانا سیّد عطاء اللہ شاہ بخاریؒ اور ان کے گرامی قدر رفقاء مولانا قاضی احسان احمد شجاع آبادیؒ، مولانا محمد علی جالندھریؒ، مولانا لال حسین اخترؒ، مولانا عبدالرحمن میانویؒ، مولانا محمد شریف بہاول پوریؒ، مولانا تاج محمودؒ، مولانا محمد شریف جالندھریؒ اور سائیں محمد حیاتؒ کا یہ عظیم کارنامہ تھا کہ انہوں نے سیاست سے کنارہ کش ہوکر خالصتاً دینی و مذہبی بنیا دپر ’’مجلس تحفظ ختم نبوت پاکستان‘‘ کی بنیاد رکھی، اس سے قبل مولانا حبیب الرحمن لدھیانویؒ، چوہدری افضل حقؒ اور خود حضرت امیر شریعتؒ اور ان کے گرامی قدر رفقاء نے مجلس احرارِ اسلام کے پلیٹ فارم سے قادیانیت کو جو چرکے لگائے وہ تاریخ کا ایک حصہ ہیں۔

۱۹۳۴ء میں قادیان میں کانفرنس کرکے چور کا اس کے گھر تک تعاقب کیا، نیز مولانا ظفر علی خانؒ اور علامہ محمد اقبالؒ نے تحریر و تقریر کے ذریعے ردِ مرزائیت میں غیر فانی کردار ادا کیا، مجلس احرارِ اسلام کی کامیاب گرفت سے مرزائیت بوکھلا اٹھی، مجلس احرارِ اسلام پر مسجد شہید گنج کا ملبہ گراکر اسے دفن کرنے کی کوشش کی گئی۔ حضرت مولانا حبیب الرحمن لدھیانوی صدر مجلس احرار نے ایک موقع پر ارشاد فرمایا:

قادیانیت کا تعاقب رکنے نہ پائے:

’’تحریک مسجد شہید گنج کے سلسلے میں پورے ملک سے دو اکابر اولیاء اللہ ایک حضرت اقدس مولانا ابو سعد احمد خان ؒ اور دوسرے حضرت اقدس شاہ عبدالقادر رائے پوریؒ نے ہماری رہنمائی فرمائی اور تحریک سے کنارہ کش رہنے کی ہدایت فرمائی۔

حضرت اقدس ابوسعداحمد خانؒ بانی خانقاہ سراجیہ نے یہ پیغام بھجوایا تھا:

’’مجلس احرارِ اسلام تحریک مسجد شہید گنج سے علیحدہ رہے اور

63

مرزائیت کی تردید کا کام رکنے نہ پائے، اسے جاری رکھا جائے، اس لئے کہ اگر اسلام باقی رہے گا تو مسجدیں باقی رہیں گی، اگر اسلام باقی نہ رہا تو مسجدوں کو کون باقی رہنے دے گا؟‘‘

مسجد شہید گنج کے ملبے کے نیچے مجلس احرار کو دفن کرنے والے انگریز اور قادیانی اپنے مقصد میں کامیاب نہ ہوسکے، اس لئے کہ انگریز کو ملک چھوڑنا پڑا، جب کہ مرزائیت کی تردید کے لئے مستقل ایک جماعت ’’مجلس تحفظ ختم نبوت پاکستان‘‘ کے نام سے تشکیل پاکر قادیانیت کو ناکوں چنے چبوا رہی ہے۔ ان حضرات نے سیاست سے علیحدگی کا محض اس لئے اعلان کیا کہ کسی کو یہ کہنے کا موقع نہ ملے کہ مرزائیت کی تردید اور ختم نبوت کی ترویج کے سلسلے میں ان کے کوئی سیاسی اغراض و مقاصد ہیں، چنانچہ ’’مجلس تحفظ ختم نبوت پاکستان‘‘ نے مرزائیت کے خلاف ایسا احتسابی شکنجہ تیار کیا کہ مرزائیت مناظرہ، مباہلہ، تحریر و تقریر اور عوامی جلسوں میں شکست کھا گئی، جگہ جگہ ختم نبوت کے دفاتر قائم ہونے لگے، مولانا لال حسین اخترؒ نے برطانیہ سے آسٹریلیا تک قادیانیت کا تعاقب کیا۔ مرزائیت نے عوامی محاذ ترک کرکے حکومتی عہدوں اور سرکاری دفاتر میں اپنا اثر و رسوخ بڑھانے کی کوشش و کاوش کی اور وہ انقلاب کے ذریعے اقتدار کے خواب دیکھنے لگے۔

تحریک ختم نبوت ۱۹۷۴ء:

۱۹۷۰ء کے الیکشن میں چند سیٹوں میں مرزائی منتخب ہوگئے، اقتدار کے نشے اور ایک سیاسی جماعت سے وابستگی نے دیوانہ کردیا، وہ حالات کو اپنے لئے سازگار پاکر انقلاب کے ذریعے اقتدار پر قبضہ کی اسکیمیں بنانے لگے، قادیانی جرنیلوں نے اپنی سرگرمیاں تیز کر دیں۔ اس نشے میں دھت ہوکر انہوں نے ۲۹/مئی ۱۹۷۴ء چناب نگر ریلوے اسٹیشن پر چناب ایکسپریس کے ذریعے سفر کرنے والے ملتان نشتر میڈیکل کالج کے طلبا پر قاتلانہ حملہ کیا، جس کے نتیجے میں تحریک چلی۔

مولانا سیّد محمد یوسف بنوریؒ ان دنوں ’’مجلس تحفظ ختم نبوت پاکستان‘‘ کے امیر تھے، ان کی دعوت پر امت کے تمام طبقات جمع ہوئے، آل پارٹیز مجلس عمل تحفظ ختم نبوت پاکستان تشکیل پائی۔ جس کے سربراہ حضرت شیخ بنوریؒ قرار پائے۔ امت محمدیہ کی خوش نصیبی کہ اس وقت قومی اسمبلی میں تمام اپوزیشن متحد تھی، چنانچہ اپوزیشن پوری کی پوری مجلس عمل تحفظ ختم نبوت پاکستان میں شریک ہوگئی۔

64

رحمۃ للعالمین صلی اللہ علیہ وسلم کی ختم نبوت کا اعجاز ملاحظہ ہو کہ تمام مذہبی و سیاسی جماعتوں نے متحد ہوکرایک ہی نعرہ لگایا کہ مرزائیت کو غیر مسلم قرار دیا جائے۔

علماء کی کاوش:

اس وقت قومی اسمبلی میں مفکر اسلام مولانا مفتی محمودؒ، مولانا غلام غوث ہزارویؒ، مولانا شاہ احمدنورانیؒ، مولانا عبدالحقؒ، پروفیسر غفور احمدؒ، مولانا عبدالمصطفٰی ازہریؒ، مولانا صدر الشہیدؒ، مولانا عبدالحکیمؒ اور ان کے رفقاء نے ختم نبوت کی وکالت کی، متفقہ طور پر اپوزیشن کی طرف سے مولانا شاہ احمد نورانیؒ نے مرزائیوں کے خلاف قرارداد پیش کی اور پیپلز پارٹی برسراقتدار طبقہ (حکومت) کی طرف سے دوسری قرارداد عبدالحفیظ پیرزادہ نے پیش کی، جو ان دنوں وزیر قانون تھے، قومی اسمبلی میں مرزائیت پر بحث شروع ہوگئی، پورے ملک میں مولانا سیّد محمد یوسف بنوریؒ، مولانا عبیداللہ انورؒ، نوابزادہ نصر اللہ خانؒ، آغا شورش کشمیریؒ، علامہ احسان الٰہی ظہیرؒ، مولانا عبدالقادر روپڑیؒ، مفتی زین العابدینؒ، مولانا تاج محمودؒ، مولانا عبدالکریمؒ بیر شریف، مولانا محمد شاہؒ امروٹی، مولانا عبدالواحدؒ، مولانا محمد شریف جالندھریؒ، مولانا عبدالستار خان نیازیؒ، مولانا صاحبزادہ فیض رسول حیدرؒ، مولانا صاحبزادہ افتخار الحسنؒ، سیّد مظفر علی شمسیؒ ،علی غضنفر کرارویؒ، غرضیکہ چاروں صوبوں کے تمام مکاتب فکر نے تحریک کے الائو کو ایندھن مہیا کیا۔

امت مسلمہ کا موقف:

اخبارات و رسائل نے تحریک کی آواز کو ملک گیر بنانے میں بھرپور کردار ادا کیا، تمام سیاسی و مذہبی جماعتوں کا دبائو بڑھتا گیا، ادھر قومی اسمبلی میں قادیانی و لاہوری گروپوں کے سربراہوں نے اپنا اپنا موقف پیش کیا، ان کا جواب اور امت مسلمہ کا موقف مولانا سیّد محمد یوسف بنوریؒ کی قیادت میں فاتح قادیان مولانا محمد حیات ؒ، مولانا محمد تقی عثمانی مدظلہ، مولانا محمد شریف جالندھریؒ، مولانا عبدالرحیم اشعرؒ، مولانا تاج محمودؒ، مولانا سمیع الحق مدظلہ اور قبلہ مولانا سیّد انور حسین نفیسؒ رقم نے مرتب کیا۔

اسے قومی اسمبلی میں پیش کرنے کے لئے چوہدری ظہور الٰہی کی تجویز اور دیگر تمام حضرات کی تائید پر قرعہ فال حضرت مولانا مفتی محمودؒ کے نام نکلا، جس وقت انہوں نے یہ محضر نامہ پڑھا، قادیانیت کی حقیقت کھل کر اسمبلی کے ارکان کے سامنے آگئی۔ مرزائیت پر اوس پڑ گئی۔

65

اسلام جیت گیا:

نوے دن کی شب و روز مسلسل محنت و کاوش کے بعد جناب ذوالفقار علی بھٹو ؒ کے عہد اقتدار میں متفقہ طور پر ۷/ستمبر ۱۹۷۴ء کو نیشنل اسمبلی آف پاکستان نے عبدالحفیظ پیرزادہ کی پیش کردہ قرارداد کو منظور کیا اور مرزائی آئینی طور پر غیر مسلم اقلیت قرار پائے۔ الحمدللّٰہ رب العالمین حمداً کثیراً طیباً مبارکا فیہ کما یحب ربنا ویرضیٰ۔

تحریک ختم نبوت ۱۹۸۴ء:

۱۷/فروری ۱۹۸۳ء کو محمد اسلم قریشی مبلغ مجلس تحفظ ختم نبوت سیالکوٹ کو مبینہ طور پر مرزائی سربراہ مرزا طاہر کے حکم پر مرزائیوں نے اغوا کیا، جس کے ردِ عمل میں پھر تحریک منظم ہوئی۔ شیخ الاسلام حضرت مولانا سیّد محمد یوسف بنوریؒ کی رحلت کے بعد سے اس وقت تک ’’مجلس تحفظ ختم نبوت پاکستان‘‘ کی امارت کا بوجھ (شیخ المشائخ حضرت مولانا خواجہ خان محمدؒ کے...مرتب) ناتواں کندھوں پر تھا، اس لئے آل پارٹیز مرکزی مجلس عمل تحفظ ختم نبوت پاکستان کی امارت بھی حضرت خواجہ صاحب ؒکے حصے میں آئی، اللہ رب العزت کا لاکھ لاکھ فضل ہے جس نے جناب محمد مصطفی، احمد مجتبیٰ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی عزت و ناموس کے تحفظ کے سلسلے میں امت محمدیہ کے تمام طبقات کو اتفاق و اتحاد نصیب کرکے ایک لڑی میں پرو دیا اور یوں ۲۶/اپریل ۱۹۸۴ء کو امتناع قادیانیت آرڈی نینس صدر مملکت جناب جنرل محمد ضیاء الحق ؒ کے ہاتھوں جاری ہوا، قادیانیت کے خلاف آئینی طور پر جتنا ہونا چاہئے تھا اتنا نہیں ہوا، لیکن جتنا ہوا اتنا آج تک کبھی نہیں ہوا تھا۔ الحمدللہ!

آج اللہ رب العزت کا فضل و کرم ہے کہ ’’مجلس تحفظ ختم نبوت پاکستان‘‘ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت بن چکی ہے اور چاردانگ عالم میں رحمۃ للعالمین صلی اللہ علیہ وسلم کی عزت و ناموس کے پھریرے کو بلند کرنے کی سعادتوں سے بہرہ ور ہورہی ہے، دنیا کے تمام براعظموں میں ختم نبوت کا کام وسیع سے وسیع تر ہورہا ہے۔

آخری گزارش:

ختم نبوت سے وحدت امت کا راز وابستہ ہے، فتنہ انکار ختم نبوت ملی وحدت کو پارہ پارہ کرنے کی ناپاک استعماری سازش ہے، آج کے تمام طبقات و مکاتب فکر مل کر ہی باہمی اتحاد و

66

اعتماد سے اس فتنہ کو ختم کرسکتے ہیں۔

اللہ رب العزت کا فضل و کرم ہے کہ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت نے اپنے اکابر کی اس سنت کو زندہ رکھنے کی حکمت عملی کو اپنایا ہوا ہے کہ مسئلہ ختم نبوت کسی ایک فرقے کا مسئلہ نہیں ہے، بلکہ پوری امت کا مشترکہ مسئلہ ہے، اس میں کوشش و کاوش اور اجتماعی طور پر بڑھ چڑھ کر حصہ لینا تمام مسلمانوں کے لئے انتہائی ضروری ہے اور رحمۃ للعالمین صلی اللہ علیہ وسلم کی شفاعت کا باعث ہے۔

کروڑوں رحمتیں ہوں ان تمام مقدس حضرات پر جن کی شب و روز کی اخلاص بھری محنت رنگ لائی، آج قادیانی پوری دنیا میں رسوا ہورہے ہیں۔

حضرت مولانا سیّد محمد انور شاہ کشمیریؒ کا ایک کشف ہے کہ:

’’ایک وقت آئے گا کہ پوری دنیا میں مرزائیت نام کی کوئی چیز تلاش کرنے کے باوجود نہیں ملے گی۔‘‘ انشاء اللہ!

وہ وقت قریب آن پہنچا ہے کہ مرزائیت کا فتنہ دنیا سے نیست و نابود ہونے والا ہے۔ اسلامیانِ عالم ہمت کریں، آگے بڑھیں، منزل قریب تر ہے، رحمت حق انتظار کررہی ہے اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی شفاعت کا مژدہ جاں فزا ملنے والا ہے، اللہ رب العزت ہماری ان حقیر محنتوں کو اخلاص کی دولت سے مالا مال فرماکر اپنی رضا کا سبب بنائے۔آمین ثم آمین۔

وآخر دعوانا ان الحمد للہ رب العالمین،

والصلوٰۃ والسلام علی رسولہ النبی الکریم وعلیٰ آلہ وصحبہ و اتباعہ اجمعین

برحمتک یا ارحم الراحمین، آمین۔

67

ختم نبوت کا معنی، مطلب

اور اس کی اہمیت

قادیانی ڈاکٹر سے علاج معالجہ کرانا

سوال:… کیا فرماتے ہیں علماء کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ کسی مرزائی دکاندار سے کوئی چیز خریدنا یا کسی مسلمان دکاندار کا کسی مرزائی کو کوئی چیز فروخت کرنا جائز ہے یا ناجائز؟ شریعت اسلامیہ کی روشنی میں اس مسئلہ کی وضاحت فرمائیں، اسی طرح یہ بتلائیں کہ کسی قادیانی ہسپتال یا قادیانی ڈاکٹر سے علاج کرانا یا کسی قادیانی و مرزائی کا علاج کرنا کیسا ہے؟

(سائل: ابو سیّدہ خدیجہ، کراچی)

جواب:… جو کافر مرتد اور باغی اسلام مسلمانوں کے خلاف ریشہ دوانیوں میں مصروف ہوں، ان سے خرید و فروخت اور لین دین ناجائز ہے، جبکہ اس سے ان کو تقویت حاصل ہوتی ہو بلکہ ان کی اقتصادی ناکہ بندی کرکے ان کی جارحانہ قوت کو مفلوج کردینا واجب ہے۔ مفسدوں سے اقتصادی مقاطعہ کرنا ظلم نہیں بلکہ شریعت اسلامیہ کا اہم ترین حکم اور اسوئہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہے۔

(بحوالہ قادیانیوں کا مکمل بائیکاٹ ص:۱۵، از حضرت مولانا مفتی ولی حسن ٹونکیؒ)

اسی طرح کسی قادیانی ہسپتال یا قادیانی ڈاکٹر سے علاج کرانا یا کسی قادیانی کا علاج کرنا بھی جائز نہیں۔ اس لئے کہ مرتد کو سخت سے سخت سزا دینا ضروری ہے، اس کی کوئی انسانی حرمت نہیں، یہاں تک کہ اگر پیاس سے جان بلب ہوکر تڑپ رہا ہو تب بھی اسے پانی نہ پلائے جائے۔

(بحوالہ قادیانیوں کا مکمل بائیکاٹ، ص:۱۵)

  1. نظر ثانی

    کتبہ

  2. مفتی ابوبکر سعید الرحمن

    محمد زکریا

  3. دارالافتاء جامعہ علوم اسلامیہ علامہ بنوری ٹائون

    دارالافتاء ختم نبوت

69

الحمدللہ وسلام علی عبادہ الذین اصطفٰی، امابعد

فاعوذ باللہ من الشیطن الرجیم ،

بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ

’’مَا کَانَ مُحَمَّدٌ اَبَآ اَحَدٍ مِّنْ رِّجَالِکُمْ وَلٰکِنْ رَّسُوْلَ اللّٰہِ وَخَاتَمَ النَّبِییِّنَ وَکَانَ اللّٰہُ بِکُلِّ شَیْئٍ عَلِیْمًاً۔‘‘ (الاحزاب:۴۰)

ترجمہ: … ’’محمد تمہارے مردوں میں سے کسی کے باپ نہیں ہیں، لیکن اللہ کے رسول ہیں اور سب نبیوں کے ختم پر ہیں، اور اللہ تعالیٰ ہر چیز کو خوب جانتاہے۔‘‘

(حضرت تھانویؒ)

عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَؓ اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَالَ فُضِّلْتُ عَلَی الْاَنْبِیاَئِ بِسِتٍّ اُعْطِیْتُ جَوَامِعَ الْکَلِمِ وَ نُصِرْتُ بِالرُّعْبِ وَاُحِلَّتْ لِیَ الْغَنَائِمُ وَجُعِلَتْ لِیَ الْاَرْضُ مَسْجِدً اوَّطُہُوْراً وَاُرْسِلْتُ اِلَی الْخَلْقِ کاَفَّۃً وَ خُتِمَ بِیَ النَّبِیُّوْنَ۔‘‘

(صحیح مسلم، ص:۱۹۹، ج:۱، و مشکوٰۃ:۵۱۲)

ترجمہ: ’’حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ مجھے چھ چیزوں میں انبیاء علیہم السلام پر فضیلت دی گئی ہے: ۱:... مجھے جامع کلمات عطا کئے گئے، ۲:...رعب سے میری مدد کی گئی ہے،۳:...مال غنیمت میرے لئے حلال کردیا گیا ہے، ۴:...روئے زمین کو میرے لئے مسجد اور پاک کرنے والی چیز بنادیا گیا

70

ہے، ۵:...مجھے تمام مخلوق کی طرف مبعوث کیا گیا ہے، ۶:...اور مجھ پر نبیوں کا سلسلہ ختم کردیا گیا ہے۔‘‘

شانِ نزول:

ختم نبوت کا معنیٰ، مطلب اور اس کی اہمیت بیان کرنے سے پہلے آیت ختم نبوت جو ابھی میں نے تلاوت کی، اس کا شانِ نزول یعنی اس آیت کے نازل ہونے کا سبب کیا ہوا، پیش کرتا ہوں، چنانچہ آفتاب نبوت aکے طلوع ہونے سے پہلے تمام عرب جن رسومات میں مبتلا تھے، ان میں سے ایک رسم یہ بھی تھی کہ اہلِ عرب متبنیٰ یعنی لے پالک بیٹے کو تمام احکام واحوال میں حقیقی اور نسبی بیٹا سمجھتے تھے، اس کو بیٹا کہہ کر پکارتے تھے اور مرنے کے بعد شریک وراثت ہونے، اور رشتے ناتے اور حلت و حرمت کے تمام احکام میں حقیقی بیٹا قرار دیتے تھے۔ جس طرح نسبی بیٹے کے مرجانے یا طلاق دینے کے بعد باپ کے لئے بیٹے کی بیوی سے نکاح حرام ہے، اسی طرح وہ لے پالک کی بیوی سے بھی اس کے مرنے اور طلاق دینے کے بعد نکاح کو حرام سمجھتے تھے۔

یہ رسم بہت سے مفاسد پر مشتمل تھی: اختلاط نسب، غیر وارث شرعی کو اپنی طرف سے وارث بنانا، ایک شرعی حلال کو اپنی طرف سے حرام قرار دینا وغیرہ وغیرہ۔

اسلام جو کہ دنیا میں اسی لئے آیا ہے کہ کفر و ضلالت کی بے ہودہ رسوم سے عالم کو پاک کردے، اس کا فرض تھا کہ وہ اس رسم کے استیصال (جڑ سے اکھاڑنے) کی فکر کرتا، چنانچہ اس نے اس کے لئے دو طریق اختیار کئے، ایک قولی اور دوسرا عملی۔

ایک طرف تو یہ اعلان فرمادیا:

’’وَ مَا جَعَلَ اَدْعِیَآئَ کُمْ اَبْنَآئَ کُمْ ذٰلِکُمْ قَوْلُکُمْ بِاَفْوَاھِکُمْ وَاللّٰہُ یَقُوْلُ الْحَقَّ وَ ھُوَ یَھْدِی السَّبِیْلَ اُدْعُوْھُمْ لِاٰبَآئِ ھِمْ ھُوَ اَقْسَطُ عِنْدَ اللّٰہِ۔‘‘ (الاحزاب:۴،۵)

ترجمہ: ’’اور نہیں کیا تمہارے لے پالکوں کو تمہارے بیٹے، یہ تمہاری بات ہے اپنے منہ کی اور اللہ کہتا ہے ٹھیک بات اور وہی سمجھاتا ہے راہ، پکارولے پالکوں کو ان کے باپ کی طرف نسبت کرکے، یہی پورا انصاف ہے اللہ کے یہاں۔‘‘

71

اصل مدعا تو یہ تھا کہ شرکت نسب اور شرکت وراثت اور احکام حلت و حرمت وغیرہ میں اس کو بیٹا نہ سمجھا جائے، لیکن اس خیال کو بالکل باطل کرنے کے لئے یہ حکم دیا کہ متبنیٰ یعنی لے پالک بنانے کی رسم ہی توڑ دی جائے، چنانچہ اس آیت میں ارشاد فرمادیا کہ لے پالک کو اس کے باپ کے نام سے پکارو۔ نزول وحی سے پہلے آنحضرت ﷺ نے حضرت زید بن حارثہؓ کو (جو کہ آپ کے غلام تھے) آزاد فرماکر متبنیٰ (لے پالک بیٹا) بنالیا تھا اور تمام لوگ یہاں تک کہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم بھی عرب کی قدیم رسم کے مطابق ان کو ’’زید بن محمد ‘‘ کہہ کر پکارتے تھے۔ حضرت عبداللہ بن عمررضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ جب آیت مذکورہ یعنی ماکان محمد ابا احد...نازل ہوئی، اس وقت سے ہم نے اس طریق کو چھوڑ کر ان کو ’’زید بن حارثہ رضی اللہ عنہ‘‘ کہنا شروع کیا۔ صحابہ کرام اس آیت کے نازل ہوتے ہی اس رسم قدیم کو خیرباد کہہ چکے تھے، لیکن چونکہ کسی رائج شدہ رسم کے خلاف کرنے میں اعزہ و اقارب اور اپنی قوم و قبیلہ کے ہزاروں طعن و تشنیع کا نشانہ بننا پڑتا ہے، جس کا تحمل ہر شخص کو دشوار ہے۔ اس لئے خداوند عالم نے چاہا کہ اس عقیدہ کو اپنے رسول ہی کے ہاتھوں عملاً توڑا جائے، چنانچہ جب حضرت زیدؓ نے اپنی بی بی زینبؓ کو باہمی ناچاقی کی وجہ سے طلاق دے دی تو خداوند عالم نے اپنے رسول a کا نکاح ان سے کردیا۔ زوجنکھاتاکہ اس رسم و عقیدہ کا کلیۃً استیصال ہوجائے۔ چنانچہ ارشاد ہوا:

’’فَلَمَّا قَضیٰ زَیْدٌ مِّنْھَا وَطَراً زَوَّجْنٰکَھَا لِکَیْ لاَ یَکُوْنَ عَلَی الْمُؤْمِنِیْنَ حَرَجٌ فِیٓ اَزْوَاجِ اَدْعِیَآئِ ھِمْ …‘‘ (الاحزاب :۳۷)

ترجمہ: ’’پس جبکہ زیدؓ زینبؓ سے طلاق دے کر فارغ ہوگئے تو ہم نے ان کا نکاح آپ ﷺ سے کردیا، تاکہ مسلمانوں پر اپنے لے پالک کی بیبیوں کے بارے میں کوئی تنگی واقع نہ ہو۔‘‘

ادھر آپ ﷺکا نکاح حضرت زینبؓ سے ہوا‘ ادھر جیسا کہ پہلے ہی خیال تھا، تمام کفار عرب میں شور مچاکہ لو، نبی علیہ السلام کو دیکھو کہ اپنے بیٹے کی بیوی سے نکاح کربیٹھے۔ ان لوگوں کے طعنوں اور اعتراضات کے جواب میں آسمان سے یہ آیت نازل ہوئی، یعنی:

’’مَا کَانَ مُحَمَّدٌ اَبَآ اَحَدٍ مِّن رِّجَالِکُمْ وَلٰکِن رَّسُوْلَ اللّٰہِ وَخَاتَمَ النَّبِیِّیْنَ۔‘‘ (سورئہ احزاب: ۴۰)

72

ترجمہ: ’’محمدﷺ باپ نہیں کسی کا تمہارے مردوں میں سے لیکن رسول ہے اللہ کا اور مہر سب نبیوں پر۔‘‘

اس آیت میں یہ بتلادیا گیا کہ آنحضرت ﷺکسی مرد کے نسبی باپ نہیں تو حضرت زیدؓ کے نسبی باپ بھی نہ ہوئے۔ لہٰذا آپ ﷺ کا زیدؓ کی مطلقہ بی بی سے نکاح کرلینا بلاشبہ جائز اور مستحسن ہے، اور اس بارے میں آپ ﷺکو مطعون کرنا سراسر نادانی اور حماقت ہے۔ ان کے دعوے کے رد کے لئے اتنا کہہ دینا کافی تھا کہ آپ ﷺ حضرت زیدؓ کے باپ نہیں، لیکن خداوند عالم نے ان کے مطاعن کو مبالغہ کے ساتھ رد کرنے اور بے اصل ثابت کرنے کے لئے اس مضمون کو اس طرح بیان فرمایا کہ یہی نہیں کہ آپ ﷺ زیدؓ کے باپ نہیں بلکہ آپ ﷺ تو کسی مرد کے بھی باپ نہیں، پس ایک ایسی ذات پر جس کا کوئی بیٹا ہی موجود نہیں یہ الزام لگانا کہ اس نے اپنے بیٹے کی بی بی سے نکاح کرلیا کس قدر ظلم اور کجروی ہے۔ آپ ﷺ کے تمام فرزند بچپن ہی میں وفات پاگئے تھے، ان کو مرد کہے جانے کی نوبت ہی نہیں آئی۔ آیت میں ’’رجالکم‘‘ کی قید اسی لئے بڑھائی گئی ہے۔ بالجملہ اس آیت کے نزول کی غرض آنحضرت ﷺ سے کفار و منافقین کے اعتراضات کا جواب دینا اور آپ ﷺ کی برأت اور عظمت شان بیان فرمانا ہے اور یہی آیت کا شان نزول ہے۔ اس کے بعد ارشاد ہوتا ہے:’’وَلٰکِن رَّسُوْلَ اللّٰہِ وَخَاتَمَ النَّبِیِّیْنَ (لیکن رسول ہے اللہ کا اور مہر سب نبیوں پر)

ختم نبوت کا معنی اور مطلب:

ختم نبوت کا معنی اور مطلب یہ ہے کہ اللہ رب العزت نے سلسلۂ نبوت کی ابتدأ سیدنا آدم علیہ السلام سے فرمائی اور اس کی انتہا محمد عربیa کی ذات اقدس پر فرمائی۔ آنحضرت ﷺ پر نبوت ختم ہوگئی۔ آپ ﷺ آخرالانبیأ ہیں، آپ ﷺکے بعد کسی کو نبی نہ بنایا جائے گا۔ اس عقیدہ کو شریعت کی اصطلاح میں عقیدئہ ختم نبوت کہا جاتا ہے۔ عقیدئہ ختم نبوت کا مطلب سمجھنے کے بعد ضروری ہے کہ ہمیں معلوم ہو کہ اس عقیدہ کی اہمیت کیا ہے؟

عقیدئہ ختم نبوت کی اہمیت:

ختم نبوت کا عقیدہ ان اجماعی عقائد میں سے ہے، جو اسلام کے اصول اور ضروریات دین میں شمار کئے گئے ہیں، اور عہد نبوت سے لے کر اس وقت تک ہر مسلمان اس پر ایمان رکھتا آیا

73

ہے کہ آنحضرت ﷺ بلا کسی تاویل اور تخصیص کے خاتم النبیین ہیں۔ عقیدہ ختم نبوت کی اہمیت و فضیلت کو اس بات سے سمجھا جاسکتا ہے کہ:

الف: … قرآن مجید کی ایک سو آیات کریمہ

ب : … رحمت عالمﷺ کی احادیث متواترہ (دو سو دس احادیث مبارکہ) سے یہ مسئلہ ثابت ہے۔

ج: … آنحضرت ﷺ کی امت کا سب سے پہلا اجماع اسی مسئلہ پر منعقد ہوا، چنانچہ امام العصر حضرت مولانا سید محمد انور شاہ کشمیری ؒ اپنی آخری کتاب ’’خاتم النبیین‘‘ میں تحریر فرماتے ہیں:

’’اور سب سے پہلا اجماع جو اس امت میں منعقد ہوا وہ مسیلمہ کذاب کے قتل پر اجماع تھا، جس کا سبب صرف اس کا دعویٰ نبوت تھا، اس کی دیگر گھنائونی حرکات کا علم صحابہ کرامؓ کو اس کے قتل کے بعد ہوا تھا، جیسا کہ ابن خلدونؒ نے نقل کیا ہے، اس کے بعد قرناً بعد قرنٍ مدعی نبوت کے کفر و ارتداد اور قتل پر ہمیشہ اجماع بلافصل رہا ہے، اور نبوت تشریعیہ یا غیر تشریعیہ کی کوئی تفصیل کبھی زیر بحث نہیں آئی۔‘‘

(خاتم النبیین ص :۶۷، ترجمہ ص :۱۹۷)

حضرت مولانا محمد ادریس کاندھلویؒ نے اپنی تصنیف ’’مسک الختام فی ختم نبوۃ سیدالانامﷺ‘‘ میں تحریر فرمایا ہے کہ:

’’امت محمدیہ میں سب سے پہلا اجماع جو ہوا، وہ اسی مسئلہ پر ہوا کہ مدعی نبوت کو قتل کیا جائے۔‘‘

(احتساب قادیانیت ج:۲، ص:۱۰)

دفاع اسلام کے لئے جنگیں:

آنحضرت ﷺ کے زمانہ حیات میں اسلام کے تحفظ و دفاع کے لئے غزوات اور جنگیں لڑی گئیں، ان میں شہید ہونے والے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی کل تعداد ۲۵۹ ہے۔

(رحمۃ للعالمین ج :۲، ص:۲۱۳ از قاضی سلمان منصور پوریؒ)

اور عقیدئہ ختم نبوت کے تحفظ و دفاع کے لئے اسلام کی تاریخ میں پہلی جنگ جو سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ عنہ کے عہد خلافت میں مسیلمہ کذاب کے خلاف یمامہ کے میدان میں لڑی گئی، اس ایک جنگ میں شہید ہونے والے صحابہؓ اور تابعین ؒکی تعداد بارہ سو ہے (جن میں سات

74

سو‘ قرآن مجید کے حافظ اور عالم اور ستر بدری صحابہؓ تھے)۔

(ختم نبوت کامل ص ۳۰۴ حصہ سوم از مفتی محمد شفیعؒ)

رحمت عالمﷺ کی زندگی کی کل کمائی اور گراں قدر اثاثہ حضرات صحابہ کرام رضی اللہ عنہم ہیں، جن کی بڑی تعداد اس عقیدہ کے تحفظ کے لئے جام شہادت نوش کرگئی۔ اس سے ختم نبوت کے عقیدہ کی عظمت کا اندازہ ہوسکتا ہے۔

حضرت سیّدنا حبیب بن زید انصاری کی شہادت:

حضرات صحابہ کرام میں سے ایک صحابی حضرت حبیب بن زید انصاری خزرجیؓ کی شہادت کا واقعہ ملاحظہ ہو:

’’حَبِیْبُ بْنُ زَیْدٍ … الْاَنْصَارِی الْخَزْرَجِیْ … ھُوَالَّذِیْ اَرْسَلَہ‘ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ اِلٰی مُسَیْلَمَۃَ الْکَذَّابِ الْحَنَفِیِّ صَاحِبُ الْیَمَامَۃِ فَکاَنَ مُسَیْلَمَۃُ اِذَا قَالَ لَہ‘ اَتَشْھَدُ اَنَّ مُحَمَّدً ا رَسُوْلُ اللّٰہِ قَالَ نَعَمْ !وَاِذَا قَالَ اَتَشْھَدُ اَنِّی رَسُوْلُ اللّٰہِ قَالَ اَنَا اَصَمُّ لاَ اَسْمَعُ فَفَعَلَ ذٰلِکَ مِرَارًا فَقَطَعَہ‘ مُسَیْلَمَۃُ عُضْوًا عُضْوًا فَمَاتَ شَہِیْدًا۔‘‘

(اسدالغابہ فی معرفۃ الصحابہ ج:۱،ص:۴۲۱ طبع بیروت)

ترجمہ: ’’حضرت حبیب بن زید انصاری رضی اللہ عنہ کو آنحضرت ﷺ نے یمامہ کے قبیلہ بنو حنیفہ کے مسیلمہ کذاب کی طرف بھیجا، مسیلمہ کذاب نے حضرت حبیب رضی اللہ عنہ سے کہا کہ کیا تم گواہی دیتے ہو کہ محمد اللہ کے رسول ہیں؟ حضرت حبیب رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ہاں! مسیلمہ نے کہا کہ کیا تم اس بات کی بھی گواہی دیتے ہو کہ میں (مسیلمہ) بھی اللہ کا رسول ہوں؟ حضرت حبیبؓ نے جواب میں فرمایا کہ میں بہرا ہوں، تیری یہ بات نہیں سن سکتا، مسیلمہ بار بار سوال کرتا رہا، وہ یہی جواب دیتے رہے اور مسیلمہ ان کا ایک ایک عضو کاٹتا رہا حتی کہ حبیب بن زید رضی اللہ عنہ کے جسم کے ٹکڑے ٹکڑے کرکے ان کو شہید کردیا گیا۔‘‘

75

اس سے اندازہ ہوسکتا ہے کہ حضرات صحابہ کرامؓ مسئلہ ختم نبوت کی عظمت و اہمیت سے کس طرح قلبی اور والہانہ تعلق رکھتے تھے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی ختم نبوت کے تحفظ کے لئے اپنی جان دے دی، جسم کے ٹکڑے کرالئے مگر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد بھی کوئی شخص نبی ہوسکتا ہے؟ یہ سننا گوارا نہیں کیا۔

حضرت ابو مسلم خولانی ؒ کا واقعہ:

اب حضرات تابعینؒ میں سے ایک تابعیؒ کا واقعہ بھی سماعت فرمائیں: ’’حضرت ابو مسلم خولانی جن کا نام عبداللہ بن ثوبؒ ہے اور یہ امت محمدیہ (علی صاحبہا السلام) کے وہ جلیل القدر بزرگ ہیں جن کے لئے اللہ تعالیٰ نے آگ کو اسی طرح ٹھنڈا فرمادیا جیسے حضرت ابراہیم علیہ السلام کے لئے آتش نمرود کو گلزار بنادیا تھا۔

ابو مسلم خولانی یمن میں پیدا ہوئے تھے اور سرکار دو عالم a کے عہد مبارک ہی میں اسلام لاچکے تھے لیکن سرکار دو عالمﷺ کی خدمت میں حاضری کا موقع نہیں ملا تھا۔ آنحضرت ﷺ کی حیات طیبہ کے آخری دور میں یمن میں نبوت کا جھوٹا دعویدار اسود عنسی ظاہر ہوا۔ جو لوگوں کو اپنی جھوٹی نبوت پر ایمان لانے کے لئے مجبور کیا کرتا تھا۔ اسی دوران اس نے حضرت ابو مسلم خولانی ؒ کو پیغام بھیج کر اپنے پاس بلایا اور اپنی نبوت پر ایمان لانے کی دعوت دی، حضرت ابو مسلمؒ نے اس کی دعوت کا انکار کیا، پھر اس نے پوچھا کہ کیا تم محمدﷺ کی رسالت پر ایمان رکھتے ہو؟ حضرت ابو مسلم نے فرمایا:ہاں! اس پر اسود عنسی نے ایک خوفناک آگ دہکائی اور حضرت ابومسلمؒ کو اس آگ میں ڈال دیا، لیکن اللہ تعالیٰ نے ان کے لئے آگ کو بے اثر فرمادیا، اور وہ اس سے صحیح سلامت نکل آئے۔ آگ کا ابو مسلم کو نہ جلانا، یہ واقعہ اتنا عجیب تھا کہ اسود عنسی اور اس کے رفقأ پر ہیبت سی طاری ہوگئی اور اسود کے ساتھیوں نے اسے مشورہ دیا کہ ان کو جلاوطن کردو، ورنہ خطرہ ہے کہ ان کی وجہ سے تمہارے ماننے والوں میں تزلزل نہ آجائے، چنانچہ حضرت ابو مسلم خولانیؒ کو یمن سے جلاوطن کردیا گیا۔

یمن سے نکل کر ایک ہی جائے پناہ تھی، یعنی مدینہ منورہ، چنانچہ یہ سرکاردو عالمﷺ کی خدمت میں حاضر ہونے کے لئے چلے، لیکن جب مدینہ منورہ پہنچے تو معلوم ہوا کہ آفتاب رسالت روپوش ہوچکا ہے۔ آنحضرت ﷺ وصال فرماچکے ہیں، اور حضرت صدیق اکبر رضی اللہ عنہ خلیفہ

76

بن چکے ہیں، انہوں نے اپنی اونٹنی مسجد نبوی کے دروازے کے پاس بٹھائی اور اندر آکر ایک ستون کے پیچھے نماز پڑھنی شروع کردی۔ وہاں حضرت عمر رضی اللہ عنہ موجود تھے ۔ انہوں نے ایک اجنبی مسافر کو نماز پڑھتے دیکھا تو ان کے پاس آئے اور جب وہ نماز سے فارغ ہوگئے تو ان سے حضرت عمرؓ نے پوچھا: آپ کہاں سے آئے ہیں؟ یمن سے! حضرت ابومسلمؒ نے جواب دیا۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فوراً پوچھا: اللہ کے دشمن (اسود عنسی) نے ہمارے ایک دوست کو آگ میں ڈال دیا تھا، اور آگ نے ان پر کوئی اثر نہیں کیا تھا، بعد میں ان صاحب کے ساتھ اسود نے کیا معاملہ کیا؟ حضرت ابو مسلمؒ نے فرمایا: ان کا نام عبداللہ بن ثوب ہے۔ اتنی دیر میں حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی فراست اپنا کام کرچکی تھی، انہوں نے فوراً فرمایا: میں آپ کو قسم دے کر پوچھتا ہوں کہ کیا آپ ہی وہ صاحب ہیں؟ حضرت ابو مسلم خولانی ؒ نے جواب دیا: ’’جی ہاں!‘‘ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے یہ سن کر فرطِ مسرت و محبت سے ان کی پیشانی کو بوسہ دیا، اور انہیں لے کر حضرت صدیق اکبر رضی اللہ عنہ کی خدمت میں پہنچے، انہیں صدیق اکبر رضی اللہ عنہ کے اور اپنے درمیان بٹھایا اور فرمایا: اللہ تعالیٰ کا شکر ہے کہ اس نے مجھے موت سے پہلے امت محمدیہ کے اس شخص کی زیارت کرادی جس کے ساتھ اللہ تعالیٰ نے ابراہیم خلیل اللہ علیہ السلام جیسا معاملہ فرمایا تھا۔‘‘

(حلیۃ الاولیأ ص ۱۲۹، ج۲، ترجمان السنۃ ص ۳۴۱ ج ۴)

سامعین محترم! ایک تابعیؒ عاشق صادق نے ختم نبوت کے تحفظ کے لئے جان کی بازی لگادی، مگر کریم رب نے اس عاشق کا ایمان بھی بچالیا اور جان بھی بچادی۔ اگر آج ہم بھی ناموس رسالت اور عقیدہ ختم نبوت کے تحفظ کے لئے کام کریں گے تو رب کی رحمت اس طرح ہماری طرف بھی متوجہ ہوگی۔

منصب ِ ختم نبوت کا اعزاز:

قرآن مجید میں ذات باری تعالیٰ نے اپنے متعلق’’رب العالمین‘‘ آنحضرت ﷺ کی ذات اقدس کے لئے ’’رحمۃ للعالمین‘‘ قرآن مجید کے لئے ’’ذکر للعالمین‘‘ اور بیت اللہ شریف کے لئے ’’ھدی للعالمین‘‘ فرمایا گیا ہے، اس سے جہاں آنحضرت ﷺکی نبوت و رسالت کی آفاقیت و عالمگیریت ثابت ہوتی ہے، وہاں آپ کے وصف ختم نبوت کا اختصاص بھی آپ کی ذات اقدس کے لئے ثابت ہوتا ہے، اس لئے کہ پہلے تمام انبیأ علیہم السلام

77

اپنے اپنے علاقہ، مخصوص قوم اور مخصوص وقت کے لئے تشریف لائے، جب آپ تشریف لائے تو حق تعالیٰ نے کل کائنات کو آپ کی نبوت و رسالت کے لئے ایک اکائی (ون یونٹ) بنادیا۔

جس طرح کل کائنات کے لئے اللہ تعالیٰ ’’رب ‘‘ ہیں، اسی طرح کل کائنات کے لئے آنحضرت ﷺ ’’نبی‘‘ ہیں۔ یہ صرف اور صرف آپ کا اعزاز و اختصاص ہے۔ آنحضرت ﷺ نے اپنے لئے جن چھ خصوصیات کا ذکر فرمایا، جو کہ حدیث میں نے خطبہ میں تلاوت کی تھی ان میں یہ بھی ہے کہ:

وَاُرْسِلْتُ اِلَی الْخَلْقِ کاَفَّۃً وَ خُتِمَ بِیَ النَّبِیُّوْنَ۔‘‘

ترجمہ: ’’میں تمام مخلوق کے لئے نبی بناکر بھیجا گیا اور مجھ پر نبوت کا سلسلہ ختم کردیا گیا۔‘‘

(مشکوٰۃ ص ۵۱۲ باب فضائل سید المرسلین‘ مسلم ج ۱ ص ۱۹۹ کتاب المساجد)

آنحضرت ﷺ آخری نبی ہیں، آپ ﷺ کی امت آخری امت ہے، آپ ﷺ کا قبلہ آخری قبلہ (بیت اللہ شریف) ہے، آپ ﷺ پر نازل شدہ کتاب آخری آسمانی کتاب ہے۔ یہ سب آپ ﷺ کی ذات کے ساتھ منصب ختم نبوت کے اختصاص کے تقاضے ہیںجو اللہ تعالیٰ نے پورے کردیئے، چنانچہ قرآن مجید کو ذکر للعالمین اور بیت اللہ کو ھدی للعالمین کا اعزاز بھی آپ ﷺ کی ختم نبوت کے صدقے میں ملا۔ آپ ﷺکی امت آخری امت قرار پائی، جیسا کہ ارشاد نبوی ہے:’’اَنَا آخِرُ الْاَنْبِیَائِ وَاَنْتُمْ آخِرُالْاُمَمِ۔‘‘ (ابن ماجہ ص ۲۹۷)

حضرت علامہ جلال الدین سیوطیؒ نے اپنی شہرئہ آفاق کتاب ’’خصائص الکبریٰ‘‘ میں آنحضرت ﷺ کا خاتم النبیین ہونا ، آپ ﷺ ہی کی خصوصیت قرار دیا ہے۔

(دیکھئے ج:۲، ص :۱۹۳،۱۹۷،۲۸۴)

اسی طرح امام العصر علامہ سید محمد انور شاہ کشمیریؒ فرماتے ہیں:

’’وخاتم بودن آنحضرت (صلی اللہ علیہ وسلم) از میان انبیأ از بعض خصائص و کمالات مخصوصہ کمال ذاتی خود است۔‘‘

(خاتم النبیین فارسی ص ۶۰)

78

ترجمہ: ’’اور انبیأ میں آنحضرت ﷺ کا خاتم ہونا، آپ ﷺ کے مخصوص فضائل و کمالات میں سے خود آپ ﷺ کا اپنا ذاتی کمال ہے۔‘‘

(خاتم النبیین اردو ص:۱۸۷)

سامعین محترم! آج کی اس نشست میں آپ حضرات کے سامنے عقیدہ ختم نبوت کا معنی، مفہوم اہمیت و عظمت بیان کی ہے۔ حضرت حبیب بن زید انصاری رضی اللہ عنہ کی شہادت، حضرت ابو مسلم خولانی رحمہ اللہ کا آگ میں ڈالا جانا یہ سب گوارا کرکے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی ختم نبوت کی گواہی دینا یہ سب ایمان کے تحفظ کے قدر و قیمت کا عملی نمونہ ہے۔ آیئے ہم بھی حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی ختم نبوت کے تحفظ کا عزم کریں اور اپنے ماحول اور گردو پیش میں بسنے والے قادیانیوں اور مرزائیوںسے اپنا، اپنے گھر والوں اور اپنے مسلمان بھائیوں کے ایمان کو بچائیں۔ اللہ تعالیٰ ہمیں اس کی توفیق نصیب فرمائے۔

79

عقیدہ ختم نبوت

اور قرآن مجید کا

اسلوب بیان

قادیانیوں کے ذبیحہ کا حکم

سوال:… کیا فرماتے ہیں علماء کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ قادیانیوں کے ذبیحہ کا کیا حکم ہے؟ اس ذبیحہ کا گوشت حلال ہوگا یا حرام؟ برائے مہربانی قرآن و حدیث کی روشنی میں راہنمائی فرمائیں، نیز یہ بھی بتائیں کہ عید قربان پر قادیانیوں کی طرف سے آنے والے گوشت یا دعوت کا کیا حکم ہے؟

(سائل: ابو سیّدہ خدیجہ، کراچی)

جواب:… کسی مرتد ،زندیق کا ذبیحہ جائز نہیں، نہ گوشت حلال ہوگا اور نہ کھانا جائز ہوگا اور قادیانی چونکہ مرتد اور زندیق ہیں، اس لئے ان کا ذبیحہ کھانے کی قطعاً گنجائش نہیں۔

  1. نظر ثانی

    کتبہ

  2. مفتی ابوبکر سعید الرحمن

    محمد زکریا

  3. دارالافتاء جامعہ علوم اسلامیہ علامہ بنوری ٹائون

    دارالافتاء ختم نبوت

81

نحمدہ ونصلی علی رسولہ الکریم امابعد

فاعوذ باللہ من الشیطن الرجیم ،

بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ

قَالَ اللّٰہُ تَعَالیٰ:’’وَالّذِیْنَ یُؤْمِنُوْنَ بِمَا اُنْزِلَ اِلَیْکَ وَمَا اُنْزِلَ مِنْ قَبْلِکَ وَبِالْآخِرَۃِ ہُمْ یُوْقِنُوْنَ۔‘‘ (البقرہ: ۴)

ترجمہ:...’’اور وہ لوگ جو ایمان لائے اس پر کہ جو کچھ نازل ہوا تیری طرف اور اس پر جو کچھ نازل ہوا تجھ سے پہلے۔‘‘ (شیخ الہندؒ)

وَقَالَ النَّبِیُّ صَلَی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ: اِنَّ الرِّسَالَۃَ وَالنُّبُوَّۃَ قَدِ انْقَطَعَتْ فَلاَ رَسُوْلَ بَعْدِیْ وَلاَ نَبِیْ، اَوْ کَمَاقَالَ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ- (مسند احمد، ج:۳، ص:۲۶۷)

ترجمہ:... ’’نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: بے شک رسالت اور نبوت کا سلسلہ منقطع ہوگیا ،میرے بعد کوئی رسول اور نبی بن کر نہیں آئے گا۔‘‘

صدق اللہ العظیم وصدق رسولہ النبی الکریم۔ اما بعد

سامعین محترم! بزرگان ملت! برادران عزیز! آج کی تقریر کا موضوع ’’عقیدہ ختم نبوت اور قرآن مجید کا اندازِ بیان‘‘ ہے۔ جس طرح ایک مسلمان کے لئے توحید، قیامت اور بعث بعد الموت پر ایمان لانا لازمی اور ضروری ہے، اسی طرح تمام انبیاء کرام علیہم السلام کی نبوت و رسالت پر ایمان لانا لازمی اور ضروری ہے۔انبیاء کرام علیہم السلام کی نبوت کو ماننا اور ان پر عقیدہ رکھنا،

82

ایسے ہی لازمی اور ضروری ہے جیسے خدا تعالیٰ کی توحید کا عقیدہ رکھنا لازمی اور ضروری ہے۔

اسلوب بیان۱:

قرآن کریم میں جہاں کہیں کسی نبی کی نبوت یا وحی کا ذکر آتا ہے، وہاں صرف اور صرف حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے پہلے جو انبیاء ہوئے ہیں انہیں کی نبوت اور وحی کا ذکر ہے۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد کسی کو نبوت ملے یا اس پر خدا کی وحی نازل ہو، اس کا ذکر کہیں نہیں ملتا، نہ اشارتًا نہ کنایتاً ، حالانکہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد اگر کسی فرد بشر کو نبوت عطا کرنا مقصود ہوتا تو پہلے انبیاء کی بہ نسبت اس کا ذکر زیادہ لازمی اور ضروری تھا، کیونکہ پہلے انبیاء کرام اور ان کی وحی تو گزر چکیں، امت مسلمہ کو تو سابقہ پڑنا تھا، آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد کی نبوتوں سے ، مگر ان کا کسی جگہ بھی نام و نشان نہیں، بلکہ ختم نبوت کو قرآن مجید میں کھلے لفظوں میں بیان فرمانا اس بات کی صاف اور روشن دلیل ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد کسی شخصیت کو نبوت یا رسالت عطا نہ کی جائے گی۔ توجہ فرمایئے رب کریم کا ارشاد ہے:

۱:… ’’وَالّذِیْنَ یُؤْمِنُوْنَ بِمَا اُنْزِلَ اِلَیْکَ وَمَا اُنْزِلَ مِنْ قَبْلِکَ وَبِالْآخِرَۃِ ہُمْ یُوْقِنُوْنَ۔‘‘ (البقرہ: ۴)

ترجمہ: ’’اور وہ لوگ جو ایمان لائے اس پر کہ جو کچھ نازل ہوا تیری طرف اور اس پر کہ جو کچھ نازل ہوا تجھ سے پہلے اور آخرت کو وہ یقینی جانتے ہیں۔‘‘

قرآن کریم میں دوسری جگہ رب کریم کا ارشاد ہے:

۲:… ’’قُلْ یَا اَہْلَ الْکِتَابِ ہَلْ تَنْقِمُوْنَ مِنَّا اِلَّا اَنْ اٰمَنَّا بِاللّٰہِ وَمَا اُنْزِلَ اِلَیْنَا وَمَا اُنْزِلَ مِنْ قَبْلُ۔‘‘ (مائدہ: ۵۹)

ترجمہ: ’’تو کہہ اے کتاب والو! کیا ضد ہے تم کو ہم سے مگر یہی کہ ہم ایمان لائے اللہ پر اور جو نازل ہوا ہم پر اور جو نازل ہوچکا ہے پہلے اور یہی کہ تم میں اکثر نافرمان ہیں۔‘‘

اسی طرح سورئہ نساء آیت ۱۶۲،سورئہ نساء ، آیت:۱۳۶، سورئہ زمر، آیت:۶۵۔ ان تمام آیات میں اللہ تعالیٰ نے ہمیں صرف ان کتابوں، الہاموں اور وحیوں کی اطلاع دی ہے اور ہم

83

سے صرف ان ہی انبیاء کو ماننے کا تقاضا کیا ہے جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے پہلے گزرچکے ہیں اور بعد میں کسی نبی کی آمد کا ذکر نہیں کیا گیا۔

اسلوب بیان ۲:

اب چند وہ آیتیں بھی سماعت فرمایئے جن میں خدا تعالیٰ نے ماضی کے صیغہ میں انبیاء کا ذکر فرمایا ہے، جس سے ثابت ہوتا ہے کہ نبوت کا منصب جن لوگوں کو حاصل ہونا تھا وہ ماضی میں حاصل ہوچکا ہے، اور انہی انبیاء کرام علیہم السلام کا ماننا داخل ایمان ہے، آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد کوئی ایسی شخصیت نہیں جس کو نبوت بخشی جائے، اور جس کے ماننے کا ذکر کیا گیا ہو۔

۱:… ’’قُوْلُوْا آمَنَّا بِاللّٰہِ وَمَا اُنْزِلَ اِلَیْنَا وَمَا اُنْزِلَ اِلٰی اِبْرٰاہِیْمَ۔‘‘ (البقرہ:۱۳۶)

ترجمہ: ’’تم کہہ دو کہ ہم ایمان لائے اللہ پر اور جو اتار اہم پر اور جو اتار ابراہیم پر۔‘‘

۲:… ’’قُلْ اٰمَنَّا بِاللّٰہِ وَمَا اُنْزِلَ عَلَیْنَا وَمَا اُنْزِلَ عَلٰی اِبْرَاہِیْمَ۔‘‘ (آلِ عمران:۸۴)

ترجمہ: ’’تو کہہ ہم ایمان لائے اللہ پر اور جو کچھ اتارا ہم پر اور جو کچھ اتارا ابراہیم پر۔‘‘

۳:… ’’اِنَّا اَوْحَیْنَا اِلَیْکَ کَمَا اَوْحَیْنَا اِلٰی نُوْحٍ وَالنَّبِیِّیْنَ مِن بَعْدِہٖ وَاَوْحَیْنَا اِلٰی اِبْرَاہِیْمَ وَاِسْمَاعِیْلَ۔‘‘

(النساء: ۱۶۳)

ترجمہ: ’’ہم نے وحی بھیجی تیری طرف جیسے وحی بھیجی نوح پر اور ان نبیوں پر جو اس کے بعد ہوئے اور وحی بھیجی ابراہیم پر اور اسماعیل پر۔‘‘

ان تینوں آیات اور ان جیسی اور آیات میں اللہ تعالیٰ نے صرف گزشتہ انبیاء کرام علیہم السلام اور ان پر وحی کا ذکر کیا ہے۔ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد کسی کی نبوت و رسالت کو کہیں صراحتاً و کنایتاً ذکر نہیں فرمایا، جس سے صاف ثابت ہوگیا کہ جن جن حضرات کو خلعت نبوت و رسالت سے نوازنا اور سرفراز کرنا مقدر تھا، پس وہ یہ اعزاز نبوت و رسالت حاصل کرچکے

84

اور گزرگئے، اب آئندہ نبوت پر اختتام کی مہر لگ گئی اور بعد میں نبوت کی راہ کو ہمیشہ کے لئے مسدود کردیا گیا ہے اور اب انبیاء کرام کے شمار میں کسی قسم کا اضافہ نہ ہوسکے گا۔

اسلوب بیان۳:

اب آیئے مزید حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی ختم نبوت پر قرآن کریم کے اسلوب کو آپ کے سامنے بیان کرتا ہوں، چنانچہ اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا ہے کہ جب دنیا پیدا ہوئی تو اس وقت حکم خداوندی حضرت آدم صفی اللہ کو ان الفاظ میں پہنچایا گیا:

۴:… ’’قُلْنَا اہْبِطُوْا مِنْہَا جَمِیْعاً فَاِمَّا یَاْتِیَنَّکُمْ مِنِّیْ ہُدًی فَمَنْ تَبِعَ ہُدَایَ فَلاَ خَوْفٌ عَلَیْہِمْ وَلاَ ہُمْ یَحْزَنُوْنَ۔‘‘ (بقرہ:۳۸)

ترجمہ: ’’ہم نے حکم دیا نیچے جائو یہاں سے تم سب، پھر اگر تم کو پہنچے میری طرف سے کوئی ہدایت تو جو چلا میری ہدایت پر، نہ خوف ہوگا ان پر اور نہ وہ غمگین ہوں گے۔‘‘

۵:… ’’قَالَ اہْبِطَا مِنْہَا جَمِیْعًا بَعْضُکُمْ لِبَعْضٍ عَدُوٌا فَاِمَّا یَاْتِیَنَّکُمْ مِنِّیْ ہُدًی فَمَنِ اتَّبَعَ ہُدَایَ فَلاَ یَضِلُّ وَلاَ یَشْقٰی۔‘‘

(طٰہٰ:۱۲۳)

ترجمہ: ’’فرمایا اترو یہاں سے ،دونوں اکٹھے، رہو ایک دوسرے کے دشمن، پھر اگر پہنچے تم کو میری طرف سے ہدایت پھر جو چلا میری بتلائی راہ پر، سو نہ وہ بہکے گا اور نہ وہ تکلیف میں پڑے گا۔‘‘

اسی مضمون کو الفاظ کی معمولی تبدیلی کے ساتھ دوسری جگہ بھی ذکر فرمایا گیا ہے، جس کو آج کل مرزائی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد نبوت کو جاری و ثابت کرنے کے لئے بالکل بے محل پیش کرتے ہیں، حالانکہ اس آیت کا تعلق حضرت آدم علیہ السلام کے زمانہ سے ہے نہ کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد کسی کو نبوت دینے سے۔ توجہ فرمایئے، و ہ آیت یہ ہے:

۶:… ’’یَا بَنِیْ آدَمَ اِمَّا یَاْتِیَنَّکُمْ رُسُلٌ مِنْکُمْ یَقُصُّوْنَ عَلَیْکُمْ اٰیٰتِیْ فَمَنِ اتَّقٰی وَ اَصْلَحَ فَلاَ خَوْفٌ عَلَیْہِمْ وَلاَ ہُمْ یَحْزَنُوْنَ۔‘‘ (اعراف:۳۵)

85

ترجمہ: ’’اے آدم کی اولاد! اگر آئیں تمہارے پاس رسول تم میں کے، کہ سنائیں تم کو میری آیتیں، تو جو کوئی ڈرے اور نیکی پکڑے تو نہ خوف ہوگا ان پر اور نہ وہ غمگین ہوں گے۔‘‘

ان آیتوں میں ابتدا آفرینش کا ذکر فرمایا جارہا ہے، اور ان کا خلاصہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل اور نوع انسان کو حکم دیا کہ میں آدم سے نبوت کا سلسلہ شروع کرنا چاہتا ہوں اور آدم کے بعد انبیاء و رسل بکثرت ہوں گے اور لوگوں کے لئے ان کا اتباع کرنا ضروری ہوگا، اس جگہ رسل جمع کے صیغہ سے بیان فرمایا ہے اور انبیاء کی تحدید و تعیین نہیں کی، جس سے ثابت ہوا کہ آدمی صفی اللہ کے بعد کافی تعداد میں انبیاء کرام مبعوث ہوں گے

بعدازاں حضرت نوح و ابراہیم علیہ الصلوٰۃ والسلام کا زمانہ آیا تو اس میں بھی یہی اعلان ہوا کہ ان کے بعد بھی بکثرت انبیاء کرام ہوں گے۔ جیسا کہ ارشاد ہے:

’’وَلَقَدْ اَرْسَلْنَا نُوْحًا وَّاِبْرَاہِیْمَ وَجَعَلْنَا فِیْ ذُرِّیَّتِہِمَا النُّبُوَّۃَ وَالْکِتٰبَ فَمِنْہُمْ مُہْتَدٍ وَّکَثِیْرٌ مِّنْہُمْ فٰسِقُوْنَ، ثُمَّ قَفَّیْنَا عَلٰی آثَارِہِمْ بِرُسُلِنَا۔‘‘ (الحدید:۲۶،۲۷)

ترجمہ: ’’اور ہم نے بھیجا نوح اور ابراہیم کو اور ٹھہرا دی دونوں کی اولاد میں پیغمبری اور کتاب، پھر کوئی ان میں راہ پر ہے اور بہت ان میں نافرمان ہیں، پھر پیچھے بھیجے ان کے قدموں پر اپنے رسول۔‘‘

اس آیت کریمہ میں صاف فرمایا کہ حضرت نوح اور حضرت ابراہیم علیہ السلام پر نبوت کا دروازہ بند نہیں ہوا، بلکہ ان کے بعد بھی کافی تعداد میں انبیاء کرام تشریف لائے اور یہاں بھی ’’رسل‘‘ کا لفظ فرمایا کوئی تحدید و تعیین نہیں فرمائی، علی ہذا القیاس یہی سنت اللہ حضرت موسیٰ علیہ السلام کے بعد بھی رہی اور بعینہٖ یہی مضمون ذیل کی آیت میں صادر ہوا:

’’وَلَقَدْ اٰتَیْنَا مُوْسَی الْکِتٰبَ وَقَفَّیْنَا مِن بَعْدِہٖ بِالرُّسُلِ۔‘‘

(بقرہ:۸۷)

ترجمہ: ’’اور بے شک دی ہم نے موسیٰ کو کتاب اور پے درپے بھیجے اس کے پیچھے رسول۔‘‘

86

معلوم ہوا کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام کے زمانہ میں بھی نبوت کا باب بند نہیں ہوا اور ان کے بعد بھی انبیاء کرام بکثرت آتے رہے جس کو اللہ تعالیٰ نے بالرسل کہہ کر بیان فرمایا ہے۔

اسلوب بیان ۴:

لیکن جب حضرت مسیح عیسیٰ بن مریم علیہ السلام کی باری آئی تو انہوں نے آکر دنیا کے سامنے یہ اعلان فرمایا کہ اب میرے بعد سلسلہ نبوت اس کثرت سے اور غیر محدود نہیں ہوگا جیسے پہلے انبیاء کرام کے بعد ہوتا چلا آیا ہے، بلکہ میرے زمانہ میں نبوت میں ایک نوع کا انقلاب ہوگیا ہے، یعنی بجائے اس کے کہ ’’الرسل‘‘ کے لفظ سے انبیاء کرام علیہم السلام کی آمد کو بیان کیا جاتا اب واحد کا لفظ ’’برسول‘‘ کہہ کر ارشاد فرمایا کہ اب صرف اور صرف ایک رسول تشریف لائیں گے، بجائے اس کے کہ حسب سابق غیر محدود اور غیر معین رسولوں کے آنے کا ذکر کیا جاتا، طریقہ بیان کو بدل کر صرف ایک رسول کے آنے کی اطلاع دی اور اس کے اسم مبارک (احمدصلی اللہ علیہ وسلم) کی بھی تعیین فرمادی کہ کوئی شقی ازلی یہ دعویٰ نہ کرنے لگے کہ اس کا مصداق میں ہوں۔ (جیسے مرزا قادیانی کی امت یہ ہانک دیا کرتی ہے کہ بشارت احمد کا مصداق مرزا قادیانی ہے)ارشاد ہوا ہے:

’’اِذْ قَالَ عِیْسَی ابْنُ مَرْیَمَ یَا بَنِی اِسْرَائِیْلَ اِنِّی رَسُوْلُ اللّٰہِ اِلَیْکُمْ مُصَدِّقاً لِّمَا بَیْنَ یَدَیَّ مِنَ التَّوْرَاۃِ وَمُبَشِّراً بِرَسُوْلٍ یَّاْتِیْ مِنْ بَعْدِیْ اسْمُہ‘ اَحْمَدُ۔‘‘ (صف:۶)

ترجمہ: ’’اور جب کہا مریم کے بیٹے عیسیٰ نے اے بنی اسرائیل میں بھیجا ہوا آیا ہوں اللہ کا تمہارے پاس، یقین کرنے والا اس پر جو مجھ سے آگے ہے توراۃ اور خوشخبری سنانے والا ایک رسول کی، جو آئے گا میرے بعد اس کا نام ہے احمد۔‘‘

آنے والے نبی کا نام بتاکر تعیین بھی کردی اور کہا کہ اب میرے بعد ایک اور صرف ایک رسول آئے گا، جس کا نام نامی، اسم گرامی احمد ہوگا، جیسا کہ حدیث شریف میں آتا ہے، حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

’’اِنَّ لِیْ اَسْمَائً، اَنَا مُحَمَّدٌ، وَاَنَا اَحْمَدُ، وَاَنَا الْمَاحِیْ
87
اَلَّذِیْ یَمْحُو اللّٰہُ بِیَ الْکُفْرَ وَاَناَ ا لْحَاشِرُ اَلَّذِیْ یُحْشَرُالناَّسُ عَلٰی قَدَمِیَّ وَاَناَ الْعَاقِبُ وَالْعَاقِبُ الَّذِیْ لَیْسَ بَعْدَہ‘ نَبِیٌّ۔‘‘

(متفق علیہ، مشکوٰۃ، ص:۱۵)

ترجمہ: ’’حضرت جبیربن مطعم رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے خود سنا ہے کہ میرے چند نام ہیں: میں محمد ہوں، میں احمد ہوں، میں ماحی (مٹانے والا) ہوں کہ میرے ذریعہ اللہ تعالیٰ کفر کو مٹائیں گے اور میں حاشر (جمع کرنے والا) ہوں کہ لوگ میرے قدموں پر اٹھائے جائیں گے اور میں عاقب (سب کے بعد آنے والا) ہوں کہ میرے بعد کوئی نبی نہیں۔‘‘

اس حدیث پاک میں موجود دو نام حاشر اور عاقب حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے خاتم النبیین ہونے پر دلالت کرتے ہیں، چنانچہ انبیاء سابقین نے تو اپنے بعد کے زمانہ میں بصیغہ جمع کئی رسولوں کی آمد کی خوشخبری دی تھی، مگر حضرت مسیح نے صرف ایک رسول احمدصلی اللہ علیہ وسلم کی ہی بشارت و خوشخبری دی اور جب وہ رسول خاتم الانبیاء والمرسلین تشریف فرما ہوئے تو خدا نے ساری دنیا کے سامنے اعلان فرمادیا کہ اب وہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم جس کی طرف نگاہیں تاک رہی تھیں وہ تشریف فرما ہوگیا ہے، وہ خاتم النبیین ہے اور اس کے بعد کوئی نیا شخص نبوت کے اعزاز سے نہیں نوازا جائے گا بلکہ وہ نبوت کی ایسی اینٹ ہے جس کے بعد نبوت کے دروازہ کو بند فرمادیا گیا ہے۔ ارشاد ربانی ہے:

’’مَا کَانَ مُحَمَّدٌ اَبَا اَحَدٍ مِّن رِّجَالِکُمْ وَلٰکِن رَّسُوْلَ اللّٰہِ وَخَاتَمَ النَّبِیِّیْنَ (احزاب: ۴۰)

ترجمہ: ... ’’محمد صلی اللہ علیہ وسلم تم مردوں میں سے کسی کے والدنہیں لیکن وہ اللہ کے رسول ہیں اور سب نبیوں کے ختم کرنے والے ہیں۔‘‘

آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم جن کی آمد کی اطلاع حضرت مسیح نے دی تھی وہ آچکے اور آکر نبوت پر مہر کردی، اب آپ کے بعد دنیا میں کوئی ایسی ہستی نہیں ہوگی جس کو نبوت کے خطاب سے نوازا جائے اور انبیاء کرام کی تعداد میں اضافہ کیا جائے، قرآن کا یہ طریقہ بیان نبوت کے سلسلہ کی

88

ان کڑیوں کا اجمالی نقشہ تھا کہ جو حضرت آدم سے شروع ہوکر حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر ختم ہوگیا۔

اسلوب۵:

مزید اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں ارشاد فرمایا ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم تمام انبیاء کرام کے بعد تشریف فرماہوئے ہیں، آپ کے بعد اب کسی کو نبوت سے نہ نوازا جائے گا، جیسا کہ ارشاد ہے:

’’وَاِذْ اَخَذَ اللّٰہُ مِیْثَاقَ النَّبِیِّیْنَ لَمَا اٰتَیْتُکُمْ مِّنْ ِکتٰبٍ وَّحِکْمَۃٍ ثُمَّ جَائَ کُمْ رَسُوْلٌ مُّصَدِّقٌ لِّمَا مَعَکُمْ لَتُؤْمِنُنَّ بِہٖ وَلَتَنْصُرُنَّہ‘۔‘‘ (آلِ عمران:۸۱)

ترجمہ: ’’او رجب لیا اللہ نے عہد نبیوں سے کہ جو کچھ میں نے تم کو دیا کتاب اور علم پھرآوے تمہارے پاس کوئی رسول کہ سچا بتاوے تمہارے پاس والی کتاب کو تو اس رسول پر ایمان لائوگے اور اس کی مدد کروگے۔‘‘

اس جگہ متعین کردیا گیا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم تمام انبیاء کے بعد آئیں گے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد کسی اور کے سر پر تاج نبوت نہیں سجایا جائے گا۔ اسی آیت کو مرزا قادیانی نے نقل کرکے اس کے بعد تحریر کیا ہے کہ اس آیت میں ’’ثم جاء کم رسول‘‘ سے مراد آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ہیں۔

(حوالہ کے لئے دیکھیں حقیقت الوحی روحانی خزائن ص:۱۳۳، ج:۲۲)

سامعین محترم! قرآن مجید کو اوّل سے آخر تک پڑھیں، آپ کو معلوم ہوگا کہ اللہ تعالیٰ نے سلسلۂ نبوت حضرت آدم صفی اللہ سے شروع کیا اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر ختم کردیا، خود مرزا قادیانی بھی اس کا اقراری ہے، چنانچہ مرزا غلام احمد قادیانی لکھتا ہے کہ:

سیّدنا و مولانا محمد صلی اللہ علیہ وسلم ختم المرسلین کے بعد کسی دوسرے مدعی نبوت اور رسالت کو کاذب اور کافر جانتا ہوں، میرا یقین ہے کہ وحی رسالت حضرت آدم صفی اللہ سے شروع ہوئی اور جناب محمد مصطفی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر ختم ہوگئی۔

(مجموعہ اشتہارات، ص۲۳۰، ج:۱)

اب تک جو آیات مبارکہ میں نے آپ کی خدمت میں پیش کی ہیں اور ان سے حضور سرور کائنات صلی اللہ علیہ و سلم کی ختم نبوت کا مسئلہ ثابت کیا ہے، اس کے علاوہ ایک ایسی آیت بھی

89

سماعت فرمائیں جو کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد نبوت کی ضرورت کو ہی سرے سے ختم کردیتی ہے، اور وہ ایسی فلاسفی بتاتی ہے کہ جس پر یقین کرکے ہر مومن مطمئن ہوجاتا ہے کہ اب آئندہ کسی کو نبوت نہیں ملے گی اور نہ ہی اس کی ضرورت باقی ہے۔

ارشاد ربانی ہے:

’’اَلْیَوْمَ اَکْمَلْتُ لَکُمْ دِیْنَکُمْ وَاَتْمَمْتُ عَلَیْکُمْ نِعْمَتِیْ وَرَضِیْتُ لَکُمُ الْاِسْلَامَ دِیْناً۔‘‘ (مائدہ:۳)

ترجمہ: ’’آج میں پورا کرچکا تمہارے لئے تمہارا دین اور پورا کیا تم پر میں نے اپنا احسان اور پسند کیا تمہارے واسطے اسلام کو دین۔‘‘

اس ارشاد خداوندی نے بتلادیا کہ دین کے تمام محاسن کامل اور مکمل ہوچکے ہیں، آج کے بعد کسی کو نبی ماننے کی بھی ضرورت نہیں رہی۔ جیسا کہ حدیث پاک میں جناب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ:

’’بے شک نبوت و رسالت منقطع ہوچکی ہے، اب میرے بعد نہ کوئی نیا نبی ہے اور نہ رسول۔‘‘

رب کریم ہم سب مسلمانوں کو تعلیمات اسلامیہ پر صدق دل سے عمل کی توفیق نصیب فرمائے اور حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ختم نبوت کی حفاظت کرنے کی توفیق نصیب فرمائے ۔آمین۔

وآخر دعوانا ان الحمدللہ رب العالمین

90

فتنہ مرزائیت کے خلاف کام کرنے والے کی پشت پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا ہاتھ ہوتا ہے

(حضرت پیر مہر علی شاہ گولڑویؒ)

اسلام کے تمام شعبوں کے لئے عقیدہ ختم نبوت محور کی حیثیت رکھتا ہے

(امیر شریعت سیّد عطاء اللہ شاہ بخاریؒ)

91

تمام عالم میں

ختم نبوت

کا تذکرہ

قادیانی بچوں کو قرآن پڑھانا کیسا ہے؟

سوال:… کیا فرماتے ہیں علماء کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ ہمارے محلے میں ایک قاری صاحب ہیں، جو بچوں کو ناظرہ قرآن کریم پڑھاتے ہیں، اس میں دو تین بچے مرزائی بھی ہیں۔ برائے کرم قرآن و حدیث کی روشنی میں بتائیں کہ ان قادیانی بچوں کو قرآن پڑھانا کیسا ہے؟ نیز یہ بھی بتائیں کہ کیا قادیانیوں کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ مسلمانوں کی مقدس کتاب کو پڑھیں؟ اور اسی طرح قاری صاحب کا قادیانیوں کے گھر میں جاکر قرآن پڑھانے کا کیا حکم ہے؟ برائے مہربانی قرآن و حدیث کی روشنی میں وضاحت فرمائیں، اسی طرح کسی قادیانی ٹیچر سے تعلیم حاصل کرنا کیسا ہے؟

(سائل: ابو فضالہ احمد خان، کراچی)

جواب:… مرزا غلام احمد قادیانی کو مسیح موعود ، مہدی اور نبی ماننے کی وجہ سے قادیانیوں کا ایمان، اسلام ، قرآن اور حدیث سے کوئی تعلق نہیں رہا۔ ایسی صورت میں انہیں قرآن کریم کی تعلیم دینا بھی درست نہیں، ہاں اگر اس بات کی امید ہے کہ قرآن کی تعلیم دینے سے وہ نبی عربی حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کے دین اسلام کو اپنالیں گے تو تعلیم دینا درست ہے۔

  1. نظر ثانی

    کتبہ

  2. مفتی ابوبکر سعید الرحمن

    محمد زکریا

  3. دارالافتاء جامعہ علوم اسلامیہ علامہ بنوری ٹائون

    دارالافتاء ختم نبوت

93

الحمدللہ الذی انزل الکتاب والحکمۃ والصلوٰۃ والسلام علیٰ رسولہٖ

نبی الرحمۃ وعلی آلہٖ واصحابہ اجمعین، اما بعد

فاعوذ باللہ من الشیطن الرجیم ،

بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ

’’وَاِذْ اَخَذَ اللّٰہُ مِیْثَاقَ النَّبِیِّیْنَ لَمَا اٰتَیْتُکُمْ مِّنْ ِکتٰبٍ وَّحِکْمَۃٍ ثُمَّ جَائَ کُمْ رَسُوْلٌ مُّصَدِّقٌ لِّمَا مَعَکُمْ لَتُؤْمِنُنَّ بِہٖ وَلَتَنْصُرُنَّہ‘۔‘‘ (آلِ عمران:۸۱)

ترجمہ: ’’او رجب لیا اللہ نے عہد نبیوں سے کہ جو کچھ میں نے تم کو دیا کتاب اور علم پھرآوے تمہارے پاس کوئی رسول کہ سچا بتاوے تمہارے پاس والی کتاب کو تو اس رسول پر ایمان لائوگے اور اس کی مدد کروگے۔‘‘

’’عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ اَنَّہ‘ سَمِعَ رَسُوْلَ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یَقُوْلُ نَحْنُ الْآخِرُوْنَ السَّابِقُوْنَ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ بَیْدَ اَنَّہُمْ اُوْتُوالْکِتَابَ مِنْ قَبْلِنَا۔‘‘

(صحیح بخاری، ج:۱، ص:۱۲۰)

ترجمہ: ’’حضرت ابی ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ سنا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہم (دنیا میں) بعد میں آئے قیامت کے دن پہلے (جنت میں جانے والے) ہوں گے، علاوہ اس کے ان انبیاء کو کتابیں ہم سے پہلے دی گئیں۔‘‘

صدق اللہ العظیم

94

قابل صد تکریم سامعین محترم! آج کی تقریر آقا دو جہاں امام الانبیاء حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کی ختم نبوت کے حوالہ سے چند اہم گزارشات پر مبنی ہوگی، جس میں اس بات کی وضاحت ہوگی کہ تمام عالموں میں حضور سرور کائنات صلی اللہ علیہ وسلم کی ختم نبوت کا چرچا رہا ہے اور رہے گا، کوئی عالَم ایسا نہیں جس میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی ختم نبوت کا تذکرہ نہ ہو، (۱) عالم ارواح، (۲)عالم دنیا، (۳)عالم برزخ، (۴)عالم آخرت، یہ چار عالم ہیں، ان تمام میں حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ختم نبوت کا تذکرہ تھا، ہے اور رہے گا۔ اس کی تفصیل آئندہ آپ کے سامنے آئے گی۔

اس کے علاوہ حجۃ الوداع، درود شریف، شب معراج، کلمہ شہادت وغیرہ یہ وہ تمام اسلام کے شعائر و ارکان اور واقعات ہیں، جن میں حضور سرور کائنات صلی اللہ علیہ وسلم کی ختم نبوت کا ذکر ہے۔ اب آیئے جو آیت مبارکہ تلاوت کی ہے، اس کا شان نزول سماعت فرمائیں۔

اس آیت کا شان نزول تفسیر عثمانی میں کچھ اس طرح ہے یعنی کوئی نبی اپنی بندگی کی تعلیم نہیں دے سکتا، بندگی صرف ایک خدا کی سکھائی جاتی ہے، البتہ انبیاء کا حق یہ ہے کہ لوگ ان پر ایمان لائیں، ان کا کہا مانیں اور ہر قسم کی مدد کریں، عام لوگوں کا تو کیا ذکر ہے، حق تعالیٰ نے خود پیغمبروں سے بھی یہ پختہ عہد لے چھوڑا ہے کہ جب تم میں سے کسی نبی کے بعد دوسرا نبی آئے (جو یقینا پہلے انبیاء اور ان کی کتابوں کی اجمالاً یا تفصیلاً تصدیق کرتا ہوا آئے گا) تو ضروری ہے کہ پہلا نبی پچھلے کی صداقت پر ایمان لائے اور اس کی مدد کرے، اگر اس کا زمانہ پائے تو بذاتِ خود بھی اور نہ پائے تو اپنی امت کو پوری طرح ہدایت و تاکید کرجائے کہ بعد میں آنے والے پیغمبر پر ایمان لاکر اس کی اعانت و نصرت کرنا، یہ وصیت کرجانا بھی اس کی مدد کرنے میں داخل ہے۔ اس عام قاعدہ سے روزِ روشن کی طرح ظاہر ہے کہ خاتم الانبیاء محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان لانے اور ان کی مدد کرنے کا عہد بلا استثناء تمام انبیائے سابقین سے لیا گیا اور انہوں نے اپنی اپنی امتوں سے یہ ہی قول و قرار لئے، کیونکہ ایک آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہی کی مخزن الکمالات ہستی تھی جو عالمِ غیب میں سب سے پہلے اور عالم شہادت میں سب انبیاء کے بعد جلوہ افروز ہونے والی تھی اور جس کے بعد کوئی نبی آنے والا نہ تھا، اور آپ ہی کا وجود مسعود تمام انبیائے سابقین اور کُتب سماویہ کی حقانیت پر مہر تصدیق ثبت کرنے والا تھا، چنانچہ حضرت علی

95

رضی اللہ عنہ اور ابن عباس رضی اللہ عنہ وغیرہ سے منقول ہے کہ اس قسم کا عہد انبیاء سے لیا گیا، اور خود آپ نے ارشاد فرمایا کہ :اگر آج موسیٰ زندہ ہوتے تو ان کو میری اتباع کے بدون چارہ نہ ہوتا، اور فرمایا کہ عیسیٰ علیہ السلام جب نازل ہوں گے تو کتاب اللہ (قرآنِ کریم) اور تمہارے نبی کی سنت پر فیصلے کریں گے۔ محشر میں شفاعت کبریٰ کے لئے پیش قدمی کرنا اور تمام بنی آدم کا آپ کے جھنڈے تلے جمع ہونا اور شبِ معراج میں بیت المقدس کے اندر تمام انبیاء کی امامت کرانا حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی اسی سیادتِ عامہ اور امامت ِ عظمیٰ کے آثار میں سے ہے: ’’اللہم صل علی سیّدنا محمد وعلیٰ آلِ سیّدنا محمدو بارک وسلم‘‘ یہ الفاظ محض عہد کی تاکید و اہتمام کے لئے فرمائے کیونکہ جس عہد نامہ پر خدا تعالیٰ اور پیغمبروں کی گواہی ہو، اس سے زیادہ پکی دستاویز کہاں ہوسکتی ہے۔ جس چیز کا عہد خدا نے تمام انبیاء سے لیا اور انبیاء نے اپنی اپنی امتوں سے، اب اگر دنیا میں کوئی شخص اس سے روگردانی کرے تو بلاشبہ پرلے درجہ کا بدعہد اور نافرمان ہوگا۔

عالم ارواح میں ختم نبوت کا تذکرہ:

اس آیت میں اللہ رب العزت نے عہد و میثاق کا ذکر فرمایا ہے، جو ازل میں تمام انبیاء علیہم السلام سے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں لیا گیا، جو ایک جملہ شرطیہ کی صورت میں تھا کہ اگر آپ میں سے کسی کی حیات میں محمد صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائیں تو آپ اس پر ایمان لائیں اور ان کی مدد کریں، یہ عہد خاص اگرچہ جملہ شرطیہ کے طور پر تھا، تاہم اس سے تمام انبیاء علیہم السلام پر آپ کی امتیازی جلالت شان واضح ہوگئی۔

جملہ شرطیہ کا وقوع ضابطہ میں ضروری نہیں، تاہم مختلف مواقع میں خاص شان کی جلالت واضح بھی ہوئی:

مختصر یہ کہ:

۱:… لیلۃ المعراج میں تمام انبیاء کا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی اقتدأ کرنا۔

۲:… یومِ آخرت میں سب انبیاء علیہم السلام کا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے جھنڈے تلے جمع ہونا۔

۳:… حضرت آدم علیہ السلام سے لے کر حضرت عیسیٰ علیہ السلام تک تمام انبیاء کا اپنے

96

اپنے ادوار میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی آمد کی خبر دینا۔

۴:… حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو اب تک زندہ رکھا گیا، وہ تشریف لاکر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی امت اور آپ کے دین کی مدد فرمائیں گے وغیرہ۔

اس آیت میں ’’ثُمَّ‘‘ کا لفظ ’’النبیین‘‘ کے بعد قابل توجہ ہے، یعنی تمام انبیاء کے سب سے آخر میں وہ نبی تشریف لائیں گے۔ سبحان اللہ! ختم نبوت کی شان دیکھئے کہ عالم ارواح میں اس کا تذکرہ اللہ رب العزت انبیاء علیہم السلام کی ارواح سے فرمارہے ہیں۔

آپ ﷺ نے فرمایا:’’کُنْتُ اَوَّلُ النَّبِیِّیْنَ فِی الْخَلْقِ وَآخِرُہُمْ فِی الْبَعْثِ‘‘ تخلیق میں سب انبیاء سے پہلے ہوں اور بعثت میں تمام انبیاء کے بعد ہوں۔

(ابن کثیر، ص:۴۸، ج:۸، کنزالعمال، ص:۴۱۸، ج:۱۱، حدیث: ۳۲۱۲۶)

عالم دنیا میں ختم نبوت کا تذکرہ:

اب آیئے دیکھتے ہیں عالم دنیا میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی ختم نبوت کا تذکرہ کن الفاظ میں کیا گیا ہے :

۱:… عالم دنیا میں اللہ رب العزت نے جس نبی کو بھیجا تو ان کے سامنے آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان لانے کا یوں تذکرہ فرمایا:

’’لَمْ یَبْعَثِ اللّٰہُ نَبِیًّا آدَمَ وَمَنْ بَعْدَہ‘ اِلاَّ اَخَذَ اللّٰہُ عَلَیْہِ الْعَہْدَ لَئِنْ بُعِثَ مُحَمَّدٌﷺ وَھُوَ حَیٌّ لَیُؤْمِنُنَّ بِہٖ وَلَیَنْصُرُنَّہ‘۔‘‘

ترجمہ: ’’حق تعالیٰ نے انبیاء علیہم السلام میں سے جس کسی کو معبوث فرمایا تو یہ عہد ان سے ضرور لیا کہ اگر ان کی زندگی میں حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم مبعوث ہوں تو وہ ان پر ایمان لائیں اور ان کی مدد کریں۔‘‘

(ابن جریر، ص:۲۳۲، ج:۳، ابن کثیر، تاریخ ابن عساکر، فتح الباری باب کتاب الانبیاء، شرح مواہب زرقانی، ص:۲۴۳، ج:۵)

۲:… تخلیق باری کا پہلا شاہکار سیّدنا آدم علیہ السلام ہیں، مگر اللہ رب العزت کی کرم فرمائیوں کے قربان جائیں، پہلے شاہکار قدرت (آدم علیہ السلام) پر بھی اللہ رب العزت نے رحمت دو عالم صلی اللہ علیہ وسلم کی ختم نبوت کو یوں واضح کیا کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:’’بَیْنَ

97

کَتِفَیْ آدَمَ مَکْتُوْبٌ مُحَمَّدٌ رَسُوْلُ اللّٰہِ خاَتَمُ النَّبِیِّیْنَ‘‘ ...آدم علیہ السلام کے دونوں کندھوں کے درمیان محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم خاتم النبیین لکھا ہوا تھا...۔

(خصائص الکبریٰ، ص:۱۹، ج:۱، بحوالہ ابن عساکر)

۳:…حضرت علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ: ’’بَیْنَ کَتِفَیْہِ خَاتَمُ النَّبُوَّۃِ وَھُوَ خَاتَمُ النَّبِیِّیْنَ۔‘‘ ...آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے دونوں کندھوں کے درمیان مہر نبوت ہے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم انبیاء کے ختم کرنے والے ہیں...‘‘ (شمائل ترمذی، ص:۲)

اللہ! اللہ! سب سے پہلے نبی آدم آئے تو بھی حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی ختم نبوت کا اعلان و نشان لے کر آئے اور جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے تو سراپا ختم نبوت بن کر آئے، جیسا کہ حدیث میں ہے:

۴:… ’’عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِa لَمَّا نَزَلَ آدَمُ بِالْہِنْدِ وَاسْتَوْحَشَ فَنَزَلَ جِبْرَائِیْلُ فَنَادٰی بِالْاَذَانِ اَللّٰہُ اَکْبَرُ مَرَّتَیْنِ اَشْہَدُ اَن لَّا اِلٰہَ اِلِاَّ اللّٰہُ مَرَّتَیْنِ اَشْہَدُ اَنَّ مُحَمَّداً رَسُوْلُ اللّٰہِ مَرَّتَیْنِ قَالَ آدَمُ مَنْ مُحَمَّدٌ فَقَالَ ھُوَ آخِرُ وُلْدِکَ مِنَ الْاَنْبِیَائِ۔‘‘

(ابن عساکر و کنزالعمال، ص:۴۵۵، ج:۱۱، حدیث نمبر ۳۲۱۳۹)

ترجمہ: …’’حضرت ابو ہریرہ ؓراوی ہیں کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا: جب آدم علیہ السلام ہند میں نازل ہوئے (تو بوجہ تنہائی) ان کو وحشت ہوئی تو جبرئیل نازل ہوئے اور اذان پڑھی اللہ اکبر دوبار، اشہد ان لا الٰہ الا اللہ دوبار، اشہد ان محمد رسول اللہ دو بار، حضرت آدم علیہ السلام نے جبرئیل سے پوچھا کہ محمد کون ہیں؟ جبرائیل علیہ السلام نے فرمایا کہ :انبیاء کرام کی جماعت میں سے آپ کے آخری بیٹے ہیں۔ ‘‘

عالم برزخ میں ختم نبوت کا تذکرہ:

ابن ابی الدنیا و ابو یعلیٰ نے حضرت تمیم داری رضی اللہ عنہ سے ایک طویل حدیث کے ذیل میں روایت کیا ہے کہ جب فرشتے منکر نکیر قبر میں مردہ سے سوال کریں گے کہ تیرا رب کون

98

ہے اور تیرا دین کیا ہے تو وہ کہے گا:

’’رَبِّیَ اللّٰہُ وَحْدَہ‘ لاَ شَرِیْکَ لَہ‘ اَلْاِسْلاَمُ دِیْنِیْ وَ مُحَمَّدٌ نَبِیِّیْ وَھُوَ خَاتَمُ النَّبِیِّیْنَ فَیَقُوْلاَنِِِِ لَہ‘ صَدَقْتَ‘‘

(تفسیر درمنثور، ص:۱۶۵، ج:۶)

ترجمہ: ’’میرا پروردگار وحدہ لاشریک ہے، اسلام میرا دین ہے اور (محمد میرے نبی ہیں اور وہ آخری نبی ہیں) یہ سن کر فرشتے کہیں گے کہ تو نے سچ کہا۔‘‘

عالم آخرت میں ختم نبوت کا تذکرہ:

’’عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ فِیْ حَدِیْثِ الشَّفَاعَۃِ فَیَقُوْلُ لَہُمْ عِیْسیٰ عَلَیْہِ السَّلاَمُ ...اِذْہَبُوْا اِلیٰ غَیْرِیْ اِذْہَبُوْا اِلیٰ مُحَمَّدٍﷺ فَیَأْتُوْنَ مُحَمَّداًﷺ فَیَقُوْلُوْنَ یَا مُحَمَّدٌ اَنْتَ رَسُوْلُ اللّٰہِ وَخَاتَمُ الْاَنْبِیَائِ۔‘‘ (بخاری، ص:۶۸۵، ج:۲، مسلم، ص:۱۱۱، ج:۱)

ترجمہ: ’’حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی حدیث شفاعت میں ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب لوگ حضرت عیسیٰ علیہ السلام سے قیامت کے روز شفاعت کے لئے عرض کریں گے تو وہ کہیں گے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس جائو، لوگ میرے پاس آئیں گے اور کہیں گے: اے محمدآپ اللہ کے رسول اور انبیاء کے خاتم ہیں۔‘‘

ایک اور روایت میں ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام فرمائیں گے کہ آج محمد خاتم النبیین تشریف فرما ہیں، ان کے ہوتے ہوئے کون شفاعت میں پہل کرسکتا ہے، بہرکیف! معلوم ہوا کہ عالم آخرت میں بھی حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی ختم نبوت کا تذکرہ ہوگا، آیئے مزید سماعت فرمائیں۔

حجۃ الوداع میں ختم نبوت کا تذکرہ:

ایک حدیث میں ہے:

’’عَنْ اَبِیْ اُمَامَۃَ ؓ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِﷺ فِیْ خُطْبَتِہٖ
99

یَوْمَ حَجَّۃِ الْوَدَاعِ اَیُّہَا النَّاسُ اِنَّہ‘ لاَ نَبِیَّ بَعْدِیْ وَلَا اُمَّۃَ بَعْدَ کُمْ اَلاَ فَاعْبُدُوْا رَبَّکُمْ وَصَلُّوْا خَمْسَکُمْ وَصُوْمُوْا شَہْرَکُمْ وَاَدُّوْا زَکوٰۃَ اَمْوَالِکُمْ طَیِّبَۃً بِہَا اَنْفُسَکُمْ وَاَطِیْعُوْا وُلاَۃَ اُمُوْرِکُمْ تَدْخُلُوْا جَنَّۃَ رَبِّکُمْ۔‘‘ (منتخب کنزالعمال برحاشیہ مسند احمد، ص:۳۹۱، ج:۲)

ترجمہ: حضرت ابو امامہؓ فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے حجۃ الوداع کے خطبہ میں فرمایا: اے لوگو! نہ میرے بعد کوئی نبی ہوگا اور نہ تمہارے بعد کوئی امت، خبردار! اپنے رب کی عبادت کرتے رہو اور پانچ نمازیں پڑھتے رہو اور رمضان کے روزے رکھتے رہو اور اپنے مالوں کی خوشدلی سے زکوٰۃ دیتے رہو اور اپنے خلفاء کی اطاعت کرتے رہو، تم اپنے رب کی جنت میں داخل ہوجائوگے۔

درود شریف اور ختم نبوت کا تذکرہ:

حدیث میں ہے:

’’عَنْ عَلِیٍّ ؓ فِیْ صِیَغِ الصَّلوٰۃِ النَّبِیِّ ﷺ خَاتَمِ النَّبِیِّیْنَ وَاِمَامِ الْمُرْسَلِیْنَ الحدیث۔‘‘ (رواہ عیاض فی الشفاء)

حضرت علی رضی اللہ عنہ سے درود شریف کے صیغے جو روایت کئے گئے ہیں، ان میں: ’’اللہم صل علی محمد خاتم النبیین وامام المرسلین‘‘ بھی آیا ہے، قاضی عیاض نے اپنی کتاب شفاء میں اس کو نقل کیا ہے۔

شب معراج اور ختم نبوت کا تذکرہ:

حدیث میں ہے:

’’عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ ؓمَرْفُوْعاً قَالُوْا یَا جِبْرَائِیْلُ مَنْ ہٰذَا مَعَکَ قَالَ ہٰذَا مُحَمَّدٌ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ وَخَاتَمُ النَّبِیِّیْنَ (اِلیٰ اَنْ قَالَ) قَالَ اللّٰہُ رَبُّہ‘ تَبَارَکَ وَ تَعَالیٰ قَدْ اَخَذْ ُتَک حَبِیْبًا، وَھُوَ مَکْتُوْبٌ فِی التَّوْرَاۃِ مُحَمَّدٌ حَبِیْبُ الرَّحْمٰنِ، وَاَرْسَلْنَاکَ لِلنَّاسِ کَافَّۃً، وَجَعَلْتُ اُمَّتَکَ ہُمُ الْاَوَّلُوْنَ وَہُمُ
100

الآخِرُوْنَ، وَجَعَلْتُ اُمَّتَکَ لَا تَجُوْزُلَہُمْ خُطْبَۃً حَتّٰی یَشْہَدُوْا اَنَّکَ عَبْدِیْ وَرَسُوْلِیْ، وَجَعَلْنَاکَ اَوَّلَ النَّبِیِّیْنَ خَلْقاً وَآخِرَہُمْ بَعْثاً، وَاَتَیْتُکَ سَبْعاً مِّنَ الْمَثَانِیْ وَلَمْ اَعْطَاہَا نَبِیًّا قَبْلَکَ، وَاَتَیْتُکَ خَوَاتِیْمَ سُوْرَۃَ الْبَقَرَۃِ مِنْ کَنْزِ تَحْتَ الْعَرْشِ لَمْ اَعْطِہَا قَبْلَکَ وَجَعَلْتُکَ فَاتِحًا وَخَاتِمًا۔‘‘

(رواہ البزاز کذا فی مجمع الزوائد، ص:۲۷، بحوالہ ختم نبوت کامل، ص:۲۶۸)

ترجمہ: حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نے (شب اسراء کے واقعہ کو مفصل ایک طویل حدیث میں) مرفوعاً بیان کیا ہے (جس کے چند جملے حسب ضرورت ذکر کئے جاتے ہیں) فرشتوں نے حضرت جبرئیل سے کہا کہ یہ تمہارے ساتھ کون ہیں؟ جبرئیل علیہ السلام نے جواب دیا کہ یہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم جو اللہ کے رسول اور خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم (اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا) اللہ تعالیٰ کی جانب سے مجھے ارشاد ہوا کہ میں نے تمہیں اپنا محبوب بنایا ہے اور توریت میں بھی لکھا ہوا ہے کہ محمد اللہ کے محبوب ہیں اور ہم نے تمہیں تمام مخلوق کی طرف نبی بناکر بھیجا ہے اور آپ کی امت کو اولین اور آخرین بنایا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی امت کو اس طرح رکھا کہ ان کے لئے کوئی خطبہ جائز نہیں جب تک کہ وہ خالص دل سے گواہی نہ دیں کہ آپ میرے بندے اور میرے رسول ہیں اور میں نے آپ کو باعتبار اصل خلقت کے سب سے اول اور باعتبار بعثت کے سب سے آخر بنایا ہے۔

کلمہ شہادت کی طرح عقیدہ ختم نبوت بھی ایمان کا جزو ہے:

حضرت زید بن حارثہؓ کے ایمان لانے کا واقعہ:

حضرت زید بن حارثہ رضی اللہ عنہ اپنے ایمان لانے کا ایک طویل اور دلچسپ واقعہ بیان فرماتے ہیں، آخر میں فرماتے ہیں کہ جب میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں آکر مسلمان ہوگیا تو میرا قبیلہ مجھے تلاش کرتا ہوا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں پہنچا اور مجھے

101

آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس دیکھ کر کہا کہ: اے زید! اٹھو اور ہمارے ساتھ چلو، میں نے جواب دیا کہ: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بدلہ میں ساری دنیا کو کچھ نہیں سمجھتا اور نہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سوا کسی اور کا ارادہ رکھتا ہوں، پھر انہوں نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے خطاب کرکے کہا کہ: اے محمدصلی اللہ علیہ وسلم ! ہم آپ کو اس لڑکے کے بدلہ میں بہت سے اموال دینے کے لئے تیار ہیں جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم چاہیں طلب فرمائیں، ہم ادا کردیں گے (مگر اس لڑکے کو ہمارے ساتھ بھیج دیجئے) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

’’اَسْئَلُکُمْ اَنْ تَشْہَدُوْا اَنْ لَّا اِلٰہَ اِلاَّ اللّٰہُ وَاَنِّی خَاتِمُ الْاَنْبِیَائِ وَرُسُلِہٖ وَاُرْسِلُہَ مَعَکُمْ‘‘ ... میں تم سے صرف ایک چیز مانگتا ہوں، وہ یہ ہے کہ شہادت دو اس کی کہ اللہ کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں اور میں انبیاء و رسل کا ختم کرنے والا ہوں (اس اقرار و ایمان کے بدلہ میں) زید کو تمہارے ساتھ کردوں گا۔ (مستدرک حاکم، ص:۲۱۴، ج:۳)

اس حدیث میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے عقیدہ ختم نبوت کو کلمہ شہادت کی طرح ایمان کی بنیاد اور اساس قرار دیا ہے، اس لئے الاشباہ والنظائر، ص:۲۰۱، میں امام زین بن نجیم متوفی ۹۷۱ لکھتے ہیں کہ:

’’اِذَالَمْ یَعْرِفِ الرَّجُلُ اَنَّ مُحَمَّدًاﷺ آخِرُالْاَنْبِیَائِ فَلَیْسَ بِمُسْلِمٍ لِاَنَّہ‘ مِنَ الضَّرُوْرِیَاتِ۔‘‘

ترجمہ: ’’جس شخص کو یہ معلوم نہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم آخری نبی ہیں تو وہ مسلمان نہیں، غرض ایمان کے لئے کلمہ کی طرح ختم نبوت کا اقرار بھی ضروری ہے۔‘‘

مسلمانوں کی مساجد اور ختم نبوت:

رحمت دو عالم کی امت سے قبل حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی امت عیسائی لوگ ہیں، جن کی عبادت گاہوں یعنی گرجا گھروں میں صبح و شام تبدیلی ہوتی رہتی ہے، گرجا گھر بناتے ہیں اور جب عبادت کے لئے مسیحی وہاں نہیں آتے تو گرجا گھر سے پلازہ حمام، سبزی کی دکان، شراب خانہ جوا گھر، ناچ ڈانس غرض اس (گرجاگھر، چرچ) کو کسی بھی مصرف میں لے آئیں، ان کی شریعت

102

ان کو اس امر سے منع نہیں کرتی، بخلاف اہلِ اسلام کے کہ اگر وہ کہیںکسی جگہ بھی مسجد بنادیں تو قیامت کی صبح تک اس مسجد کی جگہ کو کسی اور مصرف میں نہیں لاسکتے، کبھی آپ نے سوچا کہ یہ کیوں ہے؟ پہلے انبیاء علیہم السلام کی شریعت محدود وقت کے لئے تھی، ان کی عبادت گاہیں بھی محدود وقت کے لئے ہیں اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی شریعت قیامت تک کے لئے ہے اور مسلمانوں کی مساجد بھی قیامت تک کے لئے ہیں، اس لئے جہاں کہیں آپ کی امت کا کوئی فرد مسجد بنائے گا، وہ اس جگہ کو کسی اور مصرف میں نہیں لاسکتا، اس اعتبار سے دیکھا جائے تو پوری دنیا کی ہر مسجد ختم نبوت کی دلیل ہے۔

حفاظ کرام اور ختم نبوت:

پہلی آسمانی کتابوں میں سے کوئی کتاب اپنی اصل حیثیت میں جوں کی توں محفوظ نہیں، ان کتب میں سے کسی ایک کا بھی حافظ دنیا میں موجود نہیں، جبکہ قرآن مجید جیسے نازل ہوا تھا، ویسا ہی قرن اوَل سے اس وقت تک محفوظ اور موجود ہے اور قیامت تک محفوظ رہے گا، دنیا کا کوئی ملک ایسا نہیں جہاں قرآن مجید کے حفاظ و قاری نہ ہوں، اسلامی اور غیر اسلامی ممالک میں، ایک ایک شہر میں ہزاروں حفاظ کا موجود ہونا کسی پر مخفی نہیں، آپ نے توجہ فرمائی کہ یہ کیوں ہے؟ اس کی وجہ یہی ہے کہ وہ تمام سابقہ کتب اور وحی محدود وقت کے لئے تھیں، اس لئے قدرت نے ان کے محفوظ کرنے کا کوئی اہتمام نہیں فرمایا، مگر قرآن مجید آخری وحی اور آخری کتاب ہے تو قدرت نے اس کی حفاظت کا ذمہ خود اٹھایا، لاکھوں علماء اور مفسرین، اس کے ترجمہ اور معانی کی حفاظت کے لئے، لاکھوں قرأ اس کے تلفظ اور لہجہ کی حفاظت کے لئے، لاکھوں حفاظ اس کے متن کی حفاظت کے لئے اللہ تعالیٰ نے ہر دور میں پیدا فرمائے اور قیامت تک یوں حفاظت قرآن کا سلسلہ چلتا رہے گا، اس اعتبار سے دیکھا جائے تو مسجد نبوی کے اصحاب صفہ سے لے کر دنیا بھر کا ہر مدرسہ اور ہر حافظ ختم نبوت کی دلیل ہے۔

تبلیغ اسلام اور ختم نبوت:

پہلے ادیان کی نشرواشاعت ترویج و تشریح کے لئے انبیاء علیہم السلام تشریف لاتے تھے، تبلیغ دین کا کام انبیاء کے ذمہ تھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات پر اللہ رب العزت نے نبوت کا سلسلہ ختم فرمادیا تو اب دین کی اشاعت کا جو کام انبیاء کو کرنا تھا وہ امت کے ذمہ لگادیا، ختم نبوت

103

کے صدقہ میں امت کو تبلیغ دین اور اشاعت اسلام کا کام ملا، اس نقطہ نظر سے دیکھا جائے تو دنیا میں ہر تبلیغی بھائی ختم نبوت کی دلیل ہے۔

سامعین کرام! عالم ارواح ہو یا عالم دنیا، عالم برزخ ہو یا عالم آخرت، سیّدنا آدم علیہ السلام کی خلقت یا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت، معراج مبارک کا سفر ہو یا حجۃ الوداع، مساجد ہوں یا مدارس، تبلیغ دین ہو یا تعلیم قرآن، غرض اوّل سے اخیر تک آفاق سے افلاک تک ہر دور میں ختم نبوت کی صداقتیں اور بہاریں نظر آتی ہیں۔

اللہ تبارک وتعالیٰ ہمیں بھی حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی عزت و ناموس اور ختم نبوت کے تذکرہ کو بلند کرنے کی توفیق نصیب فرمائے۔آمین۔

وآخر دعوانا ان الحمدللہ رب العالمین

104

ختم نبوت کی حفاظت ہی دنیاو آخرت میں کامیابی کا سب سے بڑا وظیفہ ہے

(حضرت مولانا شاہ عبدالقادر رائے پوریؒ)

105

فتنہ قادیانیت

کوپہچانئے

قادیانیوں کے عقائد جاننے کے باوجود

رشتہ ناتہ کرنے والے کا حکم

سوال:… کیا فرماتے ہیں علماء کرام اس شخص کے بارے میں جو کسی قادیانی کو اپنے سے بہتر سمجھتا ہے یا مسلمان سمجھ کر اس سے رشتہ ناتہ طے کرتا ہے، اسلام میں ایسے شخص کا کیا حکم ہے؟ برائے مہربانی تفصیل سے وضاحت فرمائیں۔

(سائل: ابو فضیل احمد خان، کراچی)

جواب:… اگر کوئی شخص قادیانیوں کے عقائد جاننے کے بعد بھی کسی قادیانی کو اپنے سے بہتر سمجھتا ہے یا مسلمان سمجھ کر ان سے رشتہ ناتہ جوڑتا ہے تو ایسا شخص خود مرتد ہوجاتا ہے۔ لہٰذا ایسے شخص کو توبہ و استغفار کے ساتھ ساتھ تجدید ایمان و تجدید نکاح بھی کرنا ضروری ہوگا۔ جب تک وہ اس سے توبہ نہیں کرلیتا اس وقت تک اس کے ساتھ مسلمانوں کا سا برتائو کرنا جائز نہیں۔

  1. نظر ثانی

    کتبہ

  2. مفتی ابوبکر سعید الرحمن

    محمد زکریا

  3. دارالافتاء جامعہ علوم اسلامیہ علامہ بنوری ٹائون

    دارالافتاء ختم نبوت

107

الحمد للّٰہ وسلام علی عبادہ الذین اصطفی!

اما بعد فاعوذباللّٰہ من الشیطان الرجیم

بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ

قَالَ اللّٰہُ تَبَارَکَ وَ تَعَالیٰ:

’’اِذَا جَائَ کَ الْمُنَافِقُوْنَ قَالُوْا نَشْہَدُ اِنَّکَ لَرَسُوْلُ اللّٰہِ، وَاللّٰہُ یَعْلَمُ اِنَّکَ لَرَسُوْلُہ‘ وَاللّٰہُ یَشْہَدُ اِنَّ الْمُنَافِقِیْنَ لَکَاذِبُوْنَ۔‘‘ (المنافقون: ۱)

ترجمہ: ’’جب آئیں آپ کے پاس منافق کہیں ہم قائل ہیں تو رسول ہے اللہ کا اور اللہ جانتا ہے کہ آپ اللہ کے رسول ہیں اور اللہ گواہی دیتا ہے یہ منافق جھوٹے ہیں۔‘‘

قاَلَ النَّبِیُّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ:
’’اَیُّہَا النَّاسُ! اَنَا آخِرُاْلاَْنْبِیَائِ وَاَنْتُمْ آخِرُ الْاُمَمِ۔‘‘

(ابن ماجہ: )

ترجمہ:’’اے لوگو! میں آخری نبی ہوں اور تم آخری امت ہو۔‘‘

قابل صد تکریم سامعین ذی وقار توجہ فرمائیں:

اک یوں بھی عبادت ہوتی ہے، ہم یوں بھی عبادت کرتے ہیں

ناموس رسول اکرم کی، جان دے کر حفاظت کرتے ہیں

اپنا نہ سمجھے کوئی ان کو، دشمن ہیں یہ دین اور ملت کے

یہ ختم نبوت کے منکر، توہین نبوت کرتے ہیں

108

حضرات محترم! اس وقت مجھے بہت اختصار کے ساتھ چند باتیں عرض کرنی ہیں، وہ یہ کہ: ’’قادیانیوں اور دوسرے کافروں کے درمیان کیا فرق ہے؟‘‘ سب سے پہلے مجھے اس سوال کا جواب دینا ہے‘ او ر یہ سوال ہمارے بہت سے بھائیوں کے ذہن کا کانٹا بنا ہوا ہے‘ وہ سوال یہ ہے کہ مان لیا جائے کہ قادیانی غیر مسلم ہیں لیکن دنیا میں غیر مسلم تو اور بھی بہت ہیں‘ مثلاً: یہودی‘ عیسائی‘ ہندو‘ سکھ، فلاں ہیں‘ فلاں ہیں… لیکن یہ کیا بات ہے کہ قادیانیوں کا مقابلہ کرنے کے لئے ایک مستقل تنظیم اور مستقل جماعت موجود ہے جس کا نام ’’عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت‘‘ہے‘ جس نے یہ فرض اپنے ذمہ لے رکھا ہے، کہ جہاں جہاں قادیانی پہنچے ہیں‘ یہ بھی اللہ تعالیٰ کی نصرت و مدد سے اپنے مسلمان بھائیوں کے تعاون کے ساتھ وہاں پہنچتے ہیں اور قادیانیوں کو بے نقاب کرتے ہیں، کسی اور کافر فرقہ کے مقابلے میں ایسی مستقل اور عالمی تنظیم موجود نہیں‘ تو آخر کیا بات ہے کہ امام العصر مولانا محمد انور شاہ کشمیریؒ سے لے کر شیخ الاسلام مولانا محمد یوسف بنوریؒ تک اور امیر شریعت سیّد عطاء اللہ شاہ بخاریؒ سے لے کر حضرت اقدس مولانا خواجہ خان محمد ؒ تک سب اکابر نے قادیانی کفر کو اتنی اہمیت دی اور اس کے تعاقب کے لئے عالمی سطح کی تنظیم ’’عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت‘‘ قائم کی۔

سوال کا خلاصہ یہ ہے کہ قادیانیوں اور دوسرے غیر مسلموں میں کیا فرق ہے؟

اس کا جواب عرض کرنے سے پہلے ایک مثال پیش کرتا ہوں: آپ کو معلوم ہے کہ شریعت میں شراب ممنوع ہے‘ شراب کا پینا‘ اس کا بنانا اور اس کا بیچنا تینوں حرام ہیں‘ اور یہ بھی معلوم ہے کہ شریعت میں خنزیر حرام اور نجس العین ہے‘ اس کا گوشت‘ کھانا‘ فروخت کرنا‘ لینا دینا قطعی حرام ہے‘ یہ مسئلہ سب کو معلوم ہے‘ اب ایک آدمی وہ ہے جو شراب کو شراب کہہ کر فروخت کرتا ہے‘ بلاشبہ یہ جرم ہے‘ لیکن اگر کوئی آدمی شراب کو زمزم کہہ کر بیچتا ہے‘ مجرم دونوں ہیں‘ لیکن ان دونوں مجرموں کے درمیان کیا فرق ہے؟ وہ آپ خوب سمجھتے ہیں‘ اسی طرح ایک آدمی خنزیر فروخت کرتا ہے مگر اس کو خنزیر کہہ کر فروخت کرتا ہے‘ وہ صاف صاف کہتا ہے کہ یہ خنزیر کا گوشت ہے جس کو لینا ہے‘ لے جائے اور جو نہیں لینا چاہتا نہ لے‘ یہ شخص خنزیر بیچنے کا مجرم ہے‘ لیکن اس کے مقابلے میں ایک اور شخص ہے جو خنزیر اور کتے کے گوشت کو بکری‘ کا گوشت کہہ کر فروخت کرتا ہے‘ مجرم وہ بھی ہے اور مجرم یہ بھی ‘ مجرم دونوں ہیں لیکن ان دونوں کے جرم کی نوعیت میں زمین و آسمان

109

کا فرق ہے‘ ایک حرام کو بیچتا ہے‘ حرام کے نام سے‘ جس کے نام سے بھی مسلمان کو گھن آتی ہے‘ اور دوسرا حرام کو بیچتا ہے حلال کے نام سے‘ جس سے ہر شخص کو دھوکا ہوسکتا ہے اور وہ اس کے ہاتھ سے خنزیر کا گوشت خرید کر اور اسے حلال اور پاک سمجھ کر کھاسکتا ہے، پس جو فرق خنزیر کو خنزیر کہہ کر بیچنے والے اور خنزیر کو بکری یا دنبہ کہہ کر بیچنے والے کے درمیان ہے‘ ٹھیک وہی فرق یہودیوں‘ عیسائیوں‘ ہندوئوں‘ سکھوں کے درمیان اور قادیانیوں کے درمیان ہے۔اب آپ توجہ فرمائیں انشاء اللہ مسئلہ واضح اور آسان ہوجائے گا۔

کفر کیا ہے؟ کفر کی مختلف نوعیتیںہیں:

کفر ہر حال میں کفر ہے‘ اسلام کی ضد ہے لیکن دنیا کے دوسرے کافر اپنے کفر پر اسلام کا لیبل نہیں لگاتے اور لوگوں کے سامنے اپنے کفر کو اسلام کے نام سے پیش نہیں کرتے مگر قادیانی اپنے کفر پر اسلام کا لیبل لگاتے ہیں اور مسلمانوں کو دھوکا دیتے ہیں کہ (قادیانیت ہی) اسلام ہے۔

یہ میں نے عام فہم انداز میں بات سمجھائی ہے‘ اب علمی انداز میں اس بات کو سمجھاتا ہوں‘ یوں تو کفر کی بہت سی قسمیں ہیں مگر کفر کی تین قسمیں بالکل ظاہر ہیں‘ ایک کافر وہ ہے جو اعلانیہ کافر ہو‘ ایک کافر وہ ہے جو اندر سے کافر ہو اور اوپر سے اپنے آپ کو مسلمان کہے اور ایک کافر وہ ہے جو اپنے کفر کو اسلام ثابت کرنے کی کوشش کرے‘ پہلی قسم کے کافر کو مطلق کافر کہتے ہیں‘ اس میں یہودی‘ عیسائی اور ہندو وغیرہ سب داخل ہیں‘ مشرکین مکہ بھی اسی میں داخل تھے‘ یہ کھلے کافر ہیں‘ دوسری قسم والے کو منافق کہتے ہیں جو زبان سے ’’لا الہ الا اللہ‘‘ کہتا ہے مگر دل کے اندر کفر چھپاتا ہے‘ ان کے بارے میں اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:

اِذَا جَائَ کَ الْمُنَافِقُوْنَ قَالُوْا نَشْہَدُ اِنَّکَ لَرَسُوْلُ اللّٰہِ،۔‘‘ ‘ ’’منافق جب آپ کے پاس آتے ہیں‘ تو کہتے ہیں کہ ہم گواہی دیتے ہیں کہ آپ اللہ کے رسول ہیں۔‘‘ ’’وَاللّٰہُ یَعْلَمُ اِنَّکَ لَرَسُوْلُہ‘‘ اللہ تعالیٰ جانتے ہیں کہ آپ واقعی اللہ کے رسول ہیں:’’ وَاللّٰہُ یَشْہَدُ اِنَّ الْمُنَافِقِیْنَ لَکَاذِبُوْنَ۔‘‘ ’’اور اللہ گواہی دیتا ہے کہ منافق قطعاً جھوٹے ہیں۔‘‘

110

منافقوں کاکفر عام کافروں سے بڑھ کر ہے ‘کیونکہ انہوں نے کفر اور جھوٹ کو جمع کیا‘ پھر یہ کہ انہوں نے کلمہ طیبہ ’’لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ‘‘ پڑھ کر کفر اور جھوٹ کا ارتکاب کیا۔

حضرت امام شافعیؒ فرمایا کرتے تھے کہ میں ابراہیم بن علیہ کا ہر چیز میں مخالف ہوں‘ حتی کہ اگر وہ ’’لا الٰہ الا اللہ محمد رسول اللہ‘‘ پڑھے‘ اس میں بھی اس کا مخالف ہوں‘ مطلب یہ کہ بعض لوگ جھوٹ میں اس حد تک بڑھ جاتے ہیں کہ وہ کلمہ طیبہ میں بھی جھوٹ بولتے ہیں‘ اگر وہ ’’لا الٰہ الا اللہ محمد رسول اللہ‘‘ پڑھیں‘ تب بھی وہ جھوٹے ہیں اور ان کا کلمہ پڑھنا بھی جھوٹ کے اظہار کا ایک ذریعہ ہے‘ جیسا کہ آج کل کے قادیانی اور مرزائی بھی ایسے ہی کرتے ہیں، ان منافقوں سے بڑھ کر تیسری قسم والوں کا جرم ہے کہ وہ کافر ہیں مگر اپنے کفر کو اسلام کہتے ہیں‘ ہے خالص کفر‘ لیکن اس کو اسلام کے نام سے پیش کرتے ہیں بلکہ قرآن کریم کی آیات، احادیث طیبہ، صحابہ کرام کے ارشادات سے اور بزرگان دین کے اقوال سے من مانی تفسیر کر کے اپنے کفر کو اسلام ثابت کرنے کی کوشش کرتے ہیں‘ ایسے لوگوں کو شریعت کی اصطلاح میں ’’زندیق‘‘ کہا جاتا ہے‘ پس یہ کل تین ہوئے‘ ایک کھلا کافر‘ دوسرا منافق‘ تیسرا زندیق… حاصل یہ ہوا کہ کافر وہ ہے جو ظاہر و باطن سے خدا اور رسول کا منکر یا اعلانیہ کفر کا مرتکب ہو۔

منافق: جو اپنے دل کے اندر کفر چھپائے ہوئے ہو اور زبان سے جھوٹ موٹ کلمہ پڑھتا ہو۔

زندیق: جو اپنے کفر پر اسلام کا ملمع کرے اور اپنے کفر کو عین اسلام ثابت کرنے کی کوشش کرے۔

ائمہ اربعہ ؒکے نزدیک مرتد کی سزا:

اب ایک مسئلہ اور سمجھئے‘ ہماری کتابوں میں مسئلہ لکھا ہے اور چاروں فقہاء کا اتفاق ہے کہ جو شخص اسلام میں داخل ہو کر مرتد ہوجائے‘ نعوذباللہ ثم نعوذباللہ! اسلام سے پھر جائے‘ اس کے بارے میں حکم یہ ہے کہ اس کو تین دن کی مہلت دی جائے‘ اس کے شبہات دور کرنے کی کوشش کی جائے‘ اسے سمجھایا جائے اگر بات اس کی سمجھ میں آجائے اور وہ دوبارہ اسلام میں داخل ہوجائے تو بہت اچھا ہے ورنہ اللہ تعالیٰ کی زمین کو اس کے وجود سے پاک کردیا جائے‘ یہ مسئلہ قتل مرتد کا مسئلہ کہلاتا ہے اور اس میں ہمارے ائمہ دین میں سے کسی کا اختلاف نہیں ہے‘ تمام مہذب ملکوں‘ حکومتوں اور مہذب قوانین میں باغی کی سزا موت ہے اور اسلام کا باغی وہ ہے جو اسلام سے مرتد ہوجائے! اس لئے اسلام میں مرتد کی سزا موت ہے‘ لیکن اس میں بھی اسلام نے رعایت دی ہے

111

دوسرے لوگ باغیوں کو کوئی رعایت نہیں دیتے‘گرفتار ہونے کے بعد اگر اس پر بغاوت کا جرم ثابت ہوجائے تو سزائے موت نافذ کردیتے ہیں‘ وہ ہزار معافی مانگے‘ توبہ کرے اور قسمیں کھائے کہ آئندہ بغاوت کا جرم نہیں کروں گا‘ اس کی ایک نہیں سنی جاتی اور اس کی معافی ناقابل قبول سمجھی جاتی ہے‘ اسلام میں بھی باغی یعنی مرتد کی سزا قتل ہے‘ مگر پھر بھی اتنی رعایت ہے کہ تین دن کی مہلت دی جاتی ہے‘ اس کو تلقین کی جاتی ہے کہ توبہ کرلے‘ معافی مانگ لے تو سزا سے بچ جائے گا‘ افسوس ہے کہ پھر بھی اسلام میں مرتد کی سزا پر اعتراض کیا جاتا ہے‘ اگر امریکا کے صدر کا باغی حکومت کا تختہ الٹنے کی کوشش کرے اور وہ اس سازش میں پکڑا جائے تو اس کی سزا موت ہے ‘ اس پر کسی کو اعتراض نہیں‘ روس کی حکومت کا تختہ الٹنے والا پکڑا جائے یا کسی بھی حکومت کے خلاف بغاوت کرنے والا پکڑا جائے تو اس کی سزا موت ہے اور اس پر دنیا کے کسی مہذب قانون اور کسی مہذب عدالت کو کوئی اعتراض نہیں‘ لیکن تعجب ہے کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے باغی پر اگر سزائے موت جاری کی جائے تو لوگ کہتے ہیں کہ یہ سزا نہیں ہونی چاہئے‘ اسلام تو مرتد کو پھربھی رعایت دیتا ہے کہ اسے تین دن کی مہلت دی جائے‘ اس کے شبہات دور کئے جائیں اور کوشش کی جائے کہ وہ دوبارہ مسلمان ہوجائے معافی مانگ لے تو کوئی بات نہیں،اس کو معاف کردیا جائے گا لیکن اگر تین دن کی مہلت اور کوشش کے بعد بھی وہ اپنے ارتداد پر اڑا رہے توبہ نہ کرے تو اللہ تعالیٰ کی زمین کو اس کے وجود سے پاک کردیا جاتا ہے‘ کیونکہ یہ ناسور ہے‘ خدا نہ کرے کسی کے ہاتھ میں ناسور ہوجائے تو ڈاکٹر اس کا ہاتھ کاٹ دیتے ہیں‘ اگر انگلی میں ناسور ہوجائے تو انگلی کاٹ دیتے ہیں اور سب دنیا جانتی ہے کہ یہ ظلم نہیں بلکہ شفقت ہے کیونکہ اگر ناسور کو نہ کاٹا گیا تو اس کا زہر پورے بدن میں سرایت کرجائے گا‘ جس سے موت یقینی ہے‘ پس جس طرح پورے بدن کو ناسور کے زہر سے بچانے کے لئے ناسور کو کاٹ دینا دانائی اور عقلمندی ہے ‘ اسی طرح ارتداد بھی ملت اسلامیہ کے لئے ایک ناسور ہے‘ جب مرتد کوتوبہ کی تلقین کی گئی‘ اس کے باوجود اس نے اسلام میں دوبارہ آنے کو پسند نہیں کیا تو اس کا وجود ختم کردینا ضروری ہے‘ ورنہ اس کا زہر رفتہ رفتہ ملت اسلامیہ کے پورے بدن میں سرائیت کرجائے گا۔ الغرض مرتد کا حکم ائمہ اربعہ کے نزدیک اور پوری امت کے علماء کرام اورفقہاء عظام کے نزدیک یہی ہے جو میں عرض کرچکا ہوں‘ اسی میں امت کی سلامتی ہے۔یہ تو مرتد کا حکم تھا اب سنیں زندیق کا کیا حکم۔

112

زندیق کا حکم:

زندیق اسے کہتے ہیں جو اپنے کفر کو اسلام ثابت کرے، اس کا معاملہ مرتد سے بھی زیادہ سنگین ہے‘ امام شافعیؒ اور مشہور روایت میں امام احمدؒ فرماتے ہیں کہ اس کا حکم بھی مرتد کا ہے‘ یعنی اس کو موقع دیا جائے کہ وہ توبہ کرلے‘ اگر تین دن میں اس نے توبہ کرلی تو اس کو چھوڑ دیا جائے گا اور اگر اس نے توبہ نہ کی تو یہ واجب القتل ہے‘ پس ان حضرات کے نزدیک تو مرتد اور زندیق دونوں کا ایک ہی حکم ہے‘ لیکن امام مالکؒ فرماتے ہیں: ’’لا اقبل توبۃ الزندیق‘‘ میں زندیق کی توبہ نہیں قبول کروں گا‘ مطلب یہ ہے کہ کسی شخص کے بارے میں اگر پتا چل جائے کہ یہ زندیق ہے‘ اپنے کفر کو اسلام ثابت کرتا ہے اور پکڑا جائے‘ پھر کہے کہ جی! میں توبہ کرتا ہوں‘ آئندہ میں ایسی حرکت نہیں کروں گا‘ تو اس کی توبہ کا قبول کرنا‘ نہ کرنا اللہ تعالیٰ کا کام ہے‘ ہم تو اس پر قانونی سزا نافذ کریں گے‘ اس کے وجود کو باقی نہیں رکھیں گے‘ جیسے زناکی سزا توبہ سے معاف نہیں ہوتی‘ بہرحال اس پر سزا جاری کی جاتی ہے چاہے آدمی توبہ ہی کرلے‘ یا جیسا کہ چوری کرنے پر ہاتھ کاٹنے کی سزا ملتی ہے اور یہ سزا توبہ سے معاف نہیں ہوتی‘ کوئی شخص چوری کرنے اور پکڑے جانے کے بعد توبہ کرلے تب بھی اس کا ہاتھ کاٹا جائے گا‘ اسی طرح امام مالکؒ فرماتے ہیں: ’’لا اقبل توبۃ الزندیق‘‘کہ میں زندیق کی توبہ قبول نہیں کرتا‘ یعنی زندیق کی سزا توبہ سے معاف نہیں ہوگی‘ اس پر سزائے موت لازماً جاری کی جائے گی‘ خواہ ہزاربار توبہ کرلے اور اس طرح کی ایک روایت ہمارے امام ابو حنیفہؒ سے اور امام احمد بن حنبلؒ سے بھی منقول ہے‘ لیکن درمختار‘ شامی اور فقہ کی دوسری کتابوں میں ہے کہ اگر کوئی زندیق از خود آکر توبہ کرلے‘ مثلاً کسی کو پتا نہیں تھا کہ یہ زندیق ہے‘ اس نے خود ہی اپنے زندقہ کا اظہار کیا اور اس نے توبہ بھی کی تو اس کی توبہ قبول کی جائے گی‘ اسی طرح اگر یہ تو معلوم تھا کہ یہ زندیق ہے مگر اس کو گرفتار نہیں کیا گیا بلکہ اللہ تعالیٰ نے اس کو ہدایت دے دی اور وہ اپنے آپ آکر تائب ہوگیا اور اپنے زندقہ سے توبہ کرلی‘ جیسے کوئی مرزائی آئے اور کہے کہ جی! میں مرزائیت سے توبہ کرتا ہوں تو اس کی توبہ قبول کی جائے گی اور اس پر سزائے ارتداد جاری نہیں کی جائے گی‘ لیکن اگر گرفتاری کے بعد توبہ کرتا ہے تو توبہ قبول نہیں کی جائے گی‘ چاہے سو مرتبہ توبہ کرے‘ سزائے ارتداد اس پر نافذ کی جائے گی۔

113

کفر کو اسلام ثابت کرنا زندقہ ہے:

تو مرتد کے لئے توبہ کی تلقین کا حکم ہے‘ اگر وہ توبہ کرلے تو سزا سے بچ جائے گا لیکن زندیق کے بارے میں امام مالکؒ‘ امام ابو حنیفہؒ اور ایک روایت میں امام احمدؒ فرماتے ہیں کہ اس کی توبہ قبول نہیں‘ کیونکہ اس نے زندقہ کے جرم کا ارتکاب کیا ہے‘ یعنی کفر کو اسلام ثابت کرنے کی کوشش کی ہے‘ کتے کا گوشت بکری کے نام سے فروخت کیا ہے‘ شراب پر زمزم کا لیبل چپکایا ہے‘ یہ جرم ناقابل معافی ہے‘ اس پر قتل کی سزا ضرور جاری ہوگی‘ تو یہ بات اچھی طرح سمجھ لیجئے کہ مرزائی زندیق ہیں‘ کیونکہ اس میں کوئی شک نہیں کہ وہ کافر ہیں‘ قطعاً کافر ہیں‘ جیسے کلمہ طیبہ : ’’لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ‘‘ میں شک نہیں کہ یہ ہمارا کلمہ ہے اور جو اس میں شک کرے وہ مسلمان نہیں‘ اسی طرح مرزا غلام احمد قادیانی اور اس کی ذریت کے کافر ہونے میں بھی کوئی شبہ نہیں‘ کوئی شک نہیں اور جو ان کے کفر میں شک کرے وہ بھی مسلمان نہیں ‘ اس وقت مجھے یہ نہیں بتانا ہے کہ وہ کیوں کافر ہیں؟ ان کے کافر ہونے کی وجوہات کیا ہیں؟ مجھے تو یہ بتانا ہے کہ وہ کافر اور پکے کافر ہونے کے باوجود اپنے کفر کو اسلام کے نام سے پیش کرتے ہیں‘ کہتے ہیں کہ جی ! ہم تو ’’جماعت احمدیہ‘‘ ہیں‘ ہم تو مسلمان ہیں‘ لندن میں اپنی بستی کا نام رکھا ہے:’’اسلام آباد‘‘ اور کہتے ہیں کہ جی ہم تو اسلام کی تبلیغ کرتے ہیں‘ جب بھی کسی مسلمان سے بات کرتے ہیں تو یہ کہہ کر دھوکا دیتے ہیں کہ جی! مولوی تو ویسے باتیں کرتے ہیں‘ دیکھو ہم نماز پڑھتے ہیں‘ روزے رکھتے ہیں‘ یہ کرتے ہیں وہ کرتے ہیں اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو خاتم النبییّن سمجھتے ہیں‘ جی! ہمارے تو شرائط بیعت میں لکھا ہوا ہے‘ اس میں لکھا ہوا ہے کہ میں صدق دل سے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو خاتم لنبییّن مانتا ہوں۔

مرزائی کیوں زندیق ہیں؟

تو مرزائی زندیق ہیں کیونکہ وہ اپنے کفر پر اسلام کو ڈھالتے ہیں‘ وہ شراب اور پیشاب پر نعوذباللہ زمزم کا لیبل چپکاتے ہیں‘ وہ کتے کا گوشت حلال ذبیحہ کے نام پر فروخت کرتے ہیں‘ ساری دنیا جانتی ہے کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آخری نبی ہیں اور یہ مسلمانوں کا وہ عقیدہ ہے‘ جس میں شک و شبہ کی کوئی گنجائش نہیں‘ حجۃ الوداع کے موقع پر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا:

’’اَیُّہَا النَّاسُ! اَنَا آخِرُاْلاَْنْبِیَائِ وَاَنْتُمْ آخِرُ الْاُمَمِ۔‘‘

’’لوگو! میں آخری نبی ہوں اور تم آخری امت ہو۔‘‘

114

دو سو سے زائد احادیث ایسی ہیں‘ جن میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مختلف عنوانات سے‘ مختلف طریقوں سے‘ مختلف اسلوبوں سے‘ مختلف انداز سے ختم نبوت کا مسئلہ سمجھایا کہ حضور ﷺ کے بعد کوئی نیا نبی نہیں‘ حضور ﷺکے بعد کسی کو نبوت نہیں دی جائے گی۔

ختم نبوت کا مفہوم:

ختم نبوت کا یہ مطلب نہیں کہ پہلے کا کوئی نبی زندہ نہیں رہا‘ اگر بالفرض پہلے کے سارے نبی آجائیں‘ حضور کے زمانے میں اور آکر حضور ﷺکے خادم بن جائیں‘ حضور ﷺپھر بھی آخری نبی ہیں‘ کیونکہ آپ ﷺکے بعد کسی کو نبوت نہیں دی گئی‘ انبیاء کرام کے ناموں کی جو فہرست اللہ تعالیٰ کے علم میں تھی‘ اس میں آخری نام آپ ﷺکا تھا‘ آپ ﷺکی تشریف آوری سے انبیاء کرام کی وہ فہرست مکمل ہوگئی۔

آخری نبی اور آخری اولاد کا مفہوم:

جس بچے کو ماں باپ کی آخری اولاد کہا جائے‘ اس کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ وہ اپنے ماں باپ کے ہاں سب اولاد کے بعد پیدا ہوا‘ اس کے بعد کوئی بچہ ان ماں باپ کے ہاں پیدا نہیں ہوا‘ آخری اولاد کا یہ مطلب نہیں ہوتا کہ وہ سب اولاد کے بعد تک زندہ بھی رہے‘ کبھی ایسا ہوتا ہے کہ پیدا بعد میں ہوتا ہے لیکن انتقال اس کا پہلے ہوجاتا ہے‘ اس کے باوجود آخری اولاد کہلاتا ہے‘ آپ نے کہتے ہوئے سنا ہوگا کہ میری آخری اولاد وہ بچہ تھا جو انتقال کرگیا۔

آخری نبی یا خاتم النبییّن کے معنی یہ ہیں کہ حضور ﷺ کے بعد کسی شخص کے سر پر تاج نبوت نہیں رکھا جائے گا‘ اب کوئی شخص نبوت کی مسند پر قدم نہیں رکھے گا‘ جو پہلے نبی بنادیئے گئے ان پر تو ہمارا پہلے سے ایمان ہے‘ وہ ہمارے ایمان میں پہلے سے داخل ہیں‘ حضور ﷺ آخری نبی ہیں کہ آپ کے بعد کوئی شخص خلعت نبوت سے سرفراز نہیں ہوگا اور نہ امت کو ایسے نبی پر ایمان لانا ہوگا۔

خاتم النبیّین کے مفہوم میں قادیانیوں کا دجل:

لیکن قادیانی /مرزائی کہتے ہیں کہ خاتم النبییّن کا یہ مطلب نہیں کہ آپ آخری نبی ہیں‘ نہ یہ کہ آپ کے بعد نبوت کا دروازہ بند ہے‘ بلکہ مطلب یہ ہے کہ آئندہ حضور ﷺ کی مہر سے نبی بناکریں گے‘ ٹھپا لگتا ہے اور نبی بنتا ہے (حماقت تو دیکھئے کہ حضور ﷺ کے ٹھپے سے چودہ سو سال کی امت میں نبی بنا بھی تو صرف ایک اور وہ بھی بھینگا اور کانا… حضور ﷺ کی مہر نے صرف

115

ایک نبی بنایا اور وہ بھی صرف قادیانی اعور دجال نعوذباللہ! )

الغرض خاتم النبیّین کے معنی یہ تھے کہ حضور ﷺ آخری نبی ہیں‘ آپ کی آمد سے نئے نبیوں کی آمد بند ہوگئی‘ ان پر مہر لگ گئی‘ اب کوئی نیا نبی نہیں بنے گا‘ لفافہ بند کرکے لفافے پر مہر لگادیتے ہیں‘ جس کو ’’سیل کرنا‘‘(To Seal Something)کہتے ہیں‘ ختم کے معنی ’’سیل کردینا‘‘ خاتم النبیّین کے معنی یہ ہیں کہ آپ کی آمد سے نبیوں کی فہرست سربمہر کردی گئی‘ اب نہ تو اس فہرست سے کسی کو نکالا جاسکتا ہے‘ اور نہ اس میں کسی اور کا نام داخل کیا جاسکتا ہے‘ لیکن مرزائیوں نے اس میں یہ تحریف کی کہ خاتم النبییّن کے معنی ہیں‘ نبوت کے پروانوں کی تصدیق کرنے والا‘ یہ کہتے ہیں کہ وہ جو کاغذ پر دستخط کرکے محکمے والے مہر لگادیا کرتے ہیں کہ کاغذ کی تصدیق ہوگئی‘ حضور ﷺ بھی انہی معنوں میں خاتم النبیّین ہیں‘ یعنی نبیوں کے پروانوں پر مہر لگالگا کر نبی بناتے ہیں‘ پہلے نبوت اللہ تعالیٰ خود دیا کرتے تھے‘ لیکن اب یہ محکمہ اللہ تعالیٰ نے حضور ﷺ کے سپرد کردیا کہ حضور ﷺ مہریں لگائیں اور نبی بنائیں۔

یہ ہے ’’زندقہ‘‘ کہ نام اسلام کا لیتے ہیں‘ لیکن اپنے کفریہ عقائد پر قرآن کریم کی آیات کو ڈھالتے ہیں‘ اسی طرح ان کے بہت سے کفریہ عقائد ہیں‘ جن کو یہ اسلام کے نام سے پیش کرتے ہیں‘ کہنا یہ ہے کہ مرزائی ’’زندیق‘‘ ہیں کہ عقائد ایسے رکھتے ہیں‘ جو اسلام کی رو سے خالص کفر ہیں‘ لیکن یہ اپنے کفریہ عقائد کو اسلام کا نام دیتے ہیں‘ اور قرآن و حدیث کو اپنے کفریہ عقائد پر ڈھالنے کے لئے ان کی تحریف کرتے ہیں‘ اگر یہ لوگ اپنے دین و مذہب کو اسلام کا نام نہ دیتے بلکہ صاف صاف کہہ دیتے کہ ہمارا اسلام سے کوئی تعلق نہیں تو واللہ العظیم ہمیں ان کے بارے میں اس قدر متفکر ہونے کی ضرورت نہ ہوتی۔

بہائی مذہب:

دنیا میںبہائی ٹولہ بھی موجود ہے‘ وہ ایران کے بہاء اللہ کو رسول مانتا ہے‘ ہم ان کو بھی کافر سمجھتے ہیں‘ لیکن انہوں نے صاف صاف کہہ دیا کہ اسلام کے ساتھ ہمارا کوئی واسطہ نہیں‘ ہمارا دین اسلام سے الگ ہے‘ سو بات ختم ہوگئی‘ جھگڑا ختم ہوگیا‘ لیکن قادیانی اپنے تمام کفریات کو اسلام کے نام سے پیش کرکے مسلمانوں کو دھوکا دیتے ہیں‘ اس لئے یہ صرف کافر اور غیر مسلم ہی نہیں بلکہ مرتد اور زندیق ہیں‘ مسلمانوں کی غیر مسلموں کے ساتھ صلح ہوسکتی ہے مگر کسی مرتد اور زندیق سے کبھی

116

صلح نہیں ہوسکتی۔

قادیانیوں کو مسلمان کہلانے کا کیا حق ہے؟

قادیانیوں کو یہ حق آخر کس نے دیا ہے کہ وہ مرزا غلام احمد قادیانی کو نبی اور رسول مانیں اور پھر اسلام کا دعویٰ بھی کریں؟ حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے کلمہ کو منسوخ کرکے آپ ﷺ کی جگہ مرزا غلام احمد قادیانی ملعون کو محمد رسول اللہ کی حیثیت سے دنیا کے سامنے پیش کریں‘ اس کا کلمہ جاری کریں‘ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی وحی (قرآن کریم) کے بجائے مرزا کی وحی کو واجب الاتباع اور مدارِ نجات قرار دیں اور پھر ڈھٹائی کے ساتھ یہ بھی کہیں کہ ہم مسلمان ہیں اور غیر احمدی کافر ہیں‘ مرزا بشیر احمد قادیانی لکھتا ہے:

’’ہر ایک ایسا شخص جو موسیٰ کو تو مانتا ہے مگر عیسیٰ کو نہیںمانتا یا عیسیٰ کو مانتا ہے مگر محمد کو نہیں مانتا یا محمد کو مانتا ہے پر مسیح موعود (مرزا قادیانی) کو نہیں مانتا وہ نہ صرف کافر بلکہ پکا کافر اور دائرہ اسلام سے خارج ہے۔‘‘

(کلمۃ الفصل ص:۱۱۰)

قادیانیوں کا کلمہ:

قادیانی دعویٰ کرتے ہیں کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا دو مرتبہ دنیا میں آنا مقدر تھا‘ پہلی مرتبہ آپ ﷺ مکہ مکرمہ میں آئے اور آپ کی یہ بعثت تیرہ سو سال تک رہی‘ چودھویں صدی کے شروع میں آپ مرزا قادیانی کے روپ میں قادیان میں دوبارہ مبعوث ہوئے‘ اس لئے ان کے نزدیک غلام احمد قادیانی خود محمد رسول اللہ ہے اور کلمہ طیبہ میں ’’محمد رسول اللہ‘‘ سے مراد ’’مرزا قادیانی ‘‘ لیتے ہیں‘ چنانچہ مرزا بشیر احمد لکھتا ہے:

’’مسیح موعود (مرزا قادیانی) خود محمد رسول اللہ ہیں ‘جو اشاعت اسلام کے لئے دوبارہ دنیا میں تشریف لائے‘ اس لئے ہم کو کسی نئے کلمہ کی ضرورت نہیں‘ ہاں! اگر محمد رسول اللہ کی جگہ کوئی اور آتا تو ضرورت پیش آتی۔‘‘

(کلمۃ الفصل: ۱۵۸)

گویا ’’لا الٰہ الا اللہ محمد رسول اللہ‘‘ کے معنی ان کے نزدیک ہیں: ’’لاالٰہ الا اللہ مرزا رسول اللہ‘‘ (نعوذباللہ) جو دوبارہ قادیان میں آیا ہے۔

117

مرزا بشیر احمد قادیانی لکھتا ہے:

’’ہمارے نزدیک مرزا خود محمد رسول اللہ ہے اور ہم مرزا کو محمد رسول اللہ مان کر اس کا کلمہ پڑھتے ہیں‘ اس لئے ہمیں نیا کلمہ بنانے کی ضرورت نہیں۔‘‘

قادیانی محمد رسول اللہ ﷺ کے دین کو کفر کہتے ہیں:

کہنا یہ ہے کہ انہوں نے نبی الگ بنایا‘ قرآن الگ بنایا (جس کا نام تذکرہ ہے اور جس کی حیثیت مرزائیوں کے نزدیک وہی ہے جو مسلمانوں کے نزدیک توراۃ‘ انجیل‘ زبور اور قرآن کریم کی ہے)امت الگ بنائی‘ شریعت الگ بنائی کلمہ الگ بنایا وہ اپنے دین کا نام اسلام رکھتے ہیں… اور ہمارے دین کا نام کفر رکھتے ہیں‘ حضور محمدﷺ کا لایا ہوا دین قادیانیوں کے نزدیک (نعوذباللہ) کفر ہوگیا اور مرزا کا دین ان کے نزدیک اسلام ہے‘ ہم قادیانیوں سے پوچھتے ہیں کہ تم ہمیں جو کافر کہتے ہو‘ ہم نے محمدﷺ کے دین کی کس بات کا انکار کیا ہے؟ کیا مرزا کے آنے سے محمدﷺ کا دین کفر بن گیا؟ مرزا سے پہلے تو رسول اللہ کا دین اسلام کہلاتا تھا اور اس کو ماننے والے مسلمان کہلاتے تھے‘ لیکن مرزا آیا اور اس کی سبز قدمی سے محمد رسول اللہ کا دین کفر بن گیا اور اس کے ماننے والے کافر کہلائے۔ (العیاذ باللہ)

اس سے بڑھ کر غضب کیا ہوسکتا ہے؟ مرزا کے دو جرم ہوئے: ایک یہ کہ نبوت کا دعویٰ کرکے ایک نیا دین ایجاد کیا اور اس کا نام اسلام رکھا‘ دوسرا جرم یہ کہ محمد رسول اللہ ﷺ کے لائے ہوئے دین کو کفر کہا‘ مرزا کے دین کے ماننے والے مسلمان اور محمد رسول اللہ ﷺ کے ماننے والے ان کے نزدیک کافر…

مجھے بتایئے!کہ کیا کسی یہودی‘ عیسائی‘ ہندو‘ سکھ یا کسی چوہڑے چمار نے‘ کسی پارسی مجوسی نے اس جرم کا ارتکاب کیا ہے؟ اب تو آپکی سمجھ میں آگیا ہوگا کہ مرزا قادیانی اور مرزائیوں کا کفر کس قدر بدترین ہے‘ اور یہ دنیا بھر کے کافروں سے بدتر کافر ہیں۔

مسلمانوں کا قادیانیوں سے رعایتی سلوک:

یہ زندیق ہیں جو اسلام کو کفر اور کفر کو اسلام کہتے ہیں اور شریعت کے مطابق زندیق واجب القتل ہوتا ہے‘ یہ قادیانیوں کے ساتھ ہماری رعایت ہے کہ ان کو زندہ رہنے کا حق دیا ہے‘ یہ دنیا میں

118

شور مچاتے ہیں کہ پاکستان میں ہم پر ظلم ہورہا ہے‘ یہ حکومت پاکستان کی شرافت سے ناجائز فائدہ اٹھارہے ہیں‘ حکومت نے ان پر کوئی پابندی نہیں لگائی‘ ان کو صرف یہ کہا کہ تم محمد رسول اللہ کے دین کو کفر اور اپنے باطل نظریہ کو اسلام نہ کہو‘ قادیانیوں پر اس سے زیادہ اور کوئی پابندی نہیں لگائی۔

مرزائیو! فتویٰ کی رو سے تم واجب القتل ہو‘ حکومت پاکستان نے تمہیں رعایت دے رکھی ہے‘ تم حکومت پاکستان کے بڑے بڑے عہدوں پر فائز ہو‘ اس کے باوجود کبھی اقوام متحدہ میں‘ کبھی یہودیوں اور عیسائیوں اور نہ معلوم کن کن لوگوں کی عدالتوں میں تم فریاد کرتے ہو کہ حکومت پاکستان نے ہمارے حقوق غصب کرلئے ہیں‘ حکومت پاکستان نے تمہارے کیا حقوق غصب کئے ہیں؟ ہم نے تمہارا کیا قصور کیا ہے؟ پاکستان کی حکومت نے تمہارا کیا بگاڑا ہے؟ تم سے صرف یہ کہا گیا ہے کہ کلمہ طیبہ ’’لا الٰہ الا اللہ محمد رسول اللہ ‘‘ ہمارا ہے اور مسلمانوں کا حق ہے، ہم کیسے اجازت دیں کہ اس کو تم اپنا کہو یہ ممکن ہی نہیں؟ ہم کیسے اجازت دے سکتے ہیں کہ تم دین محمدی کے باغی ہوکر اس کو اپنا باور کرائو یہ ہرگز نہیں ہوسکتا؟ ہم کیسے اجازت دے سکتے ہیں کہ تم اپنے کفر اور زندقہ کو اسلام کے نام سے پھیلائو؟

تمہارے منہ سے ’’لا الٰہ الا اللہ محمد رسول اللہ‘‘ کے منافقانہ الفاظ ادا ہونا ہمارے کلمہ طیبہ کی توہین ہے‘ ہمارے نبی کی توہین ہے‘ ہمارے اسلام کی توہین ہے‘ ہم تمہیں اس توہین کی اجازت کس طرح دیں؟ تم کلمہ پڑھ کر مسلمانوں کو دھوکا دیتے ہو اور ہم اس کے جواب میں وہی کہتے ہیں جو اللہ تعالیٰ نے منافقین کے بارے میں ارشاد فرمایا:

’’واللہ یشہد ان المنافقین لکاذبون‘‘

ترجمہ: ’’اور اللہ گواہی دیتا ہے کہ وہ جھوٹے ہیں۔‘‘

خلاصہ گفتگو:

اب تک میں ایک ہی سوال کا جواب دے سکا ہوں کہ قادیانیوں اور دوسرے غیر مسلموں میں کیا فرق ہے؟ جواب کا خلاصہ یہ ہے کہ دوسرے کافر سادے کافر ہیں اور قادیانی صرف کافر اور غیر مسلم نہیں بلکہ وہ مرتد اور زندیق ہیں۔

مرتد اور اس کی نسل کا حکم:

اب میں ایک اور مسئلہ کا ذکر کرتا ہوں:

119

اصول یہ ہے کہ مرتد کو تین دن کی مہلت کے بعد قتل کردیا جاتا ہے‘ لیکن مرتدوں کی ایک جماعت بن جائے‘ ایک پارٹی بن جائے اور اسلامی حکومت ان پر قابو نہ پاسکے‘ اس لئے وہ قتل نہ کئے جاسکیں اور رفتہ رفتہ اصل مرتد مرکھپ جائیں اور ان مرتدوں کی نسل جاری ہوجائے مثال کے طور پر کسی بستی کے لوگوں نے متفقہ طور پر عیسائیت قبول کرلی (نعوذباللہ) اور عیسائی بن گئے‘ اب کسی نے ان کو پکڑ کر قتل نہیں کیا یا وہ پکڑ میں نہیں آئے‘ اس کے بعد یہ لوگ جو خود عیسائی بنے تھے مرکر ختم ہوگئے‘ پیچھے ان کی نسل رہ گئی جو خود مسلمان سے عیسائی نہیں ہوئی تھی بلکہ انہوں نے اپنے آبائو اجداد سے عیسائی مذہب لیا تھا‘ تو مرتد کی صلبی اولاد تو تبعاً مرتد ہے‘ اصالتاً مرتد نہیں ہے‘ اس لئے اس کو حبس و ضرب کے ساتھ اسلام لانے پر مجبور کیا جائے گا‘ مگر قتل نہیں کیا جائے گا اور مرتد کی اولاد کی اولاد نہ اصالتاً مرتد ہے اور نہ تبعاً بلکہ وہ اصلی کافر کہلائے گی‘ اور ان پر سزائے ارتداد جاری نہیں ہوگی‘ کیونکہ اولاد کی اولاد مرتد نہیں وہ سادہ کافر ہے‘ اس لئے اس کا حکم مرتد کا نہیں۔

خلاصہ یہ کہ:

۱:… جس شخص نے ارتداد اختیار کیا وہ واجب القتل ہے۔

۲:… مرتد کی صلبی اولاد تبعاً مرتد ہے اصالتاً مرتد نہیں‘ اس لئے اگر وہ اسلام کو قبول نہ کرے تو واجب الحبسہے‘ یعنی اس کو قید کرنا لازم ہے۔

۳:… اور تیسری پشت میں مرتد کی اولاد کی اولاد سادہ کافر ہے‘ اس پر مرتد کے احکام جاری نہیں ہوں گے۔

زندیق مرزائی کی نسل کا حکم:

لیکن قادیانیوں کی سو نسلیں بھی بدل جائیں تو ان کا حکم زندیق اور مرتد کا رہے گا‘ عام کافر کا حکم نہیں ہوگا… کیوں؟ اس لئے کہ ان کا جو جرم ہے یعنی کفر کو ہی اسلام اور اسلام کو کفر کہنا‘ یہ جرم ان کی آئندہ نسلوں میں بھی پایا جاتا ہے۔

الغرض قادیانی جتنے بھی ہیں خواہ وہ اسلام کو چھوڑ کر مرتد ہوئے ہوں‘ قادیانی زندیق بنے ہوں یا وہ ان کے بقول ’’پیدائشی احمدی‘‘ ہوں‘ قادیانیوں کے گھر میں پیدا ہوئے ہوں اور یہ کفر ان کو ورثے میں ملا ہو‘ ان سب کا ایک ہی حکم ہے یعنی مرتد اور زندیق کا… کیونکہ ان کا جرم صرف یہ نہیں کہ وہ اسلام کو چھوڑ کر کافر بنے ہیں بلکہ ان کا جرم یہ ہے کہ دین اسلام کو کفر کہتے

120

ہیں‘ اور اپنے کفر کو اسلام کا نام دیتے ہیں اور یہ جرم ہر قادیانی میں پایا جاتا ہے خواہ وہ اسلام کو چھوڑ کر قادیانی بنا ہو یا پیدائشی قادیانی ہو‘ اس مسئلہ کو خوب سمجھ لیجئے بہت سے لوگوں کو قادیانیوں کی صحیح حقیقت معلوم نہیں۔

قادیانیوں کے بارے میں مسلمانوں کو غیرت سے کام لینا چاہئے:

قادیانیوں کے جرم کی پوری وضاحت میں نے آپ حضرات کے سامنے کردی‘ اب مجھے آپ حضرات سے ایک بات کہنی ہے‘ پہلے ایک مثال دوں گا‘ مثال تو بھدی سی ہے مگر سمجھانے کے لئے مثال سے کام لینا پڑتا ہے۔

ایک باپ کے دس بیٹے تھے‘ جو اس کے گھر پیدا ہوئے وہ ساری زندگی ان کو اپنا بیٹا کہتا رہا‘ باپ مر گیا‘ اس کے انتقال کے بعد ایک غیر معروف شخص اٹھا اور یہ دعویٰ کرنے لگا کہ میں مرحوم کا صحیح بیٹا ہوں‘ یہ دسوں کے دس لڑکے اس کی ناجائز اولاد ہیں۔

میں یہ مثال فرض کررہا ہوں اور اس سلسلے میں آپ سے دو باتیں پوچھنا چاہتا ہوں‘ ایک یہ کہ دنیا کا کوئی صحیح العقل آدمی اس شخص کے دعوے کو قبول کرے گا‘ یہ غیر معروف مدعی جس نے مرحوم کی زندگی میں کبھی دعویٰ نہیں کیا کہ میں فلاں شخص کا بیٹا ہوں‘ نہ مرحوم نے اپنی زندگی میں کبھی یہ دعویٰ کیا کہ یہ میرا بیٹا ہے‘ کیا دنیا کی کوئی عدالت اس شخص کے دعویٰ کو سن کر یہ فیصلہ دے گی کہ یہ شخص مرحوم کا حقیقی بیٹا ہے اور باقی دس لڑکے مرحوم کے بیٹے نہیں؟

دوسری بات مجھے آپ سے یہ پوچھنی ہے کہ یہ شخص جو باپ کے دس بیٹوں کو حرام زادہ کہتا ہے وہ ان کو ان کے باپ کی جائز اولاد تسلیم نہیں کرتا‘ ان دس لڑکوں کا ردِ عمل اس شخص کے بارے میں کیا ہوگا؟

ان دونوں باتوں کو ذہن میں رکھ کر سنئے! ہم بحمدللہ! حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے امتی ہیں‘ آپ ﷺکے لائے ہوئے پورے دین کو مانتے ہیں‘ الحمدللہ! ہم آنحضرت ﷺ کی روحانی اولاد ہیں‘ یہ بات میں اپنی طرف سے نہیں کہہ رہا بلکہ قرآن کریم کا ارشاد ہے:

’’اَلنَّبِیُّ اَوْلیٰ بِالْمُؤْمِنِیْنَ مِنْ اَنْفُسِہِمْ‘‘ (الاحزاب: ۶)

’’نبی مومنوں کے ساتھ خود ان کے نفس سے بھی زیادہ تعلق رکھتے ہیں۔‘‘

121

آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے کسی امتی کو اپنی ذات سے اتنا تعلق نہیں جتنا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو ہر امتی کی ذات سے تعلق ہے:

’’وَاَزْوَاجُہ‘ اُمَّہَاتُہُمْ‘‘

’’اور آپ ﷺ کی بیویاں ان کی مائیں ہیں۔‘‘

اور حدیث میں ہے:

’’وَھُوَ اَبٌ لَہُمْ‘‘

’’نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ان کے باپ ہیں۔‘‘

ظاہر بات ہے کہ جب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی ازواج مطہرات ہماری مائیں بنیں‘ چنانچہ ہم سب ان کو ’’امہات المومنین‘‘ کہتے ہیں‘ ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہؓ‘ ام المومنین خدیجۃ الکبریٰ ؓ ‘ ام المومنین میمونہؓ ‘ ام المومنین ام سلمہؓ ہم تمام ازواج مطہرات کے ساتھ ام المومنین کہتے ہیں تو جب یہ ہماری مائیں ہوئیں تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے روحانی باپ ہوئے‘ اولاد میں کوئی ماں باپ کا زیادہ فرمانبردار ہوتا ہے کوئی کم‘ کوئی زیادہ خدمت گزار ہوتا ہے‘ کوئی کم‘ کوئی زیادہ ہنرمند ہوتا ہے کوئی کم‘ کوئی زیادہ سمجھدار اور عقلمند ہوتا ہے کوئی کم… اولاد ساری ایک جیسی نہیں ہوتی‘ ان میں فرق ضرور ہوتا ہے‘ لیکن ساری کی ساری باپ ہی کی اولاد کہلاتی ہے۔

تیرہ صدیوں کے مسلمان حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی روحانی اولاد تھے‘ چودھویں صدی کے شروع میں مرزا غلام احمد قادیانی کھڑا ہوا‘ اس نے کہا کہ حضور ﷺکی روحانی اولاد صرف میں ہوں باقی سارے مسلمان کافر ہیں‘ جس کا مطلب یہ ہے کہ پوری امت کے مسلمان حضور کی روحانی اولاد نہیں بلکہ نعوذباللہ ناجائز اولاد ہیں‘ حرام زادے ہیں۔

مجھے معاف کیجئے! میں مرزا غلام احمد قادیانی کے صاف صاف الفاظ نقل کررہا ہوں‘ ہم پوری دنیا کی مہذب عدالتوں میں اپنا مقدمہ پیش کرکے کہتے ہیں کہ اگر کسی مجہول النسب کا یہ دعویٰ لائق سماعت نہیں کہ میں مرحوم کا حقیقی بیٹا ہوں‘ باقی دس کے دس بیٹے ناجائز اولاد ہیں‘ تو غلام احمد کا یہ ہذیانی دعویٰ کیونکر لائق سماعت ہے کہ وہ (مجہول النسب ہونے کے باوجود) آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا روحانی بیٹا ہے اور آنحضرت کی ساری کی ساری امت کافر ہے‘ ناجائز اولاد ہے‘ آخر کس جرم میں پوری امت کا رشتہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے کاٹ کر ان کو کافر اور ناجائز اولاد

122

قرار دیا جارہا ہے‘ ہم آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے پورے دین کو الف سے لے کر یاء تک مانتے ہیں‘ ہم نے اس دین میںکوئی تبدیلی نہیں کی ہم نے کوئی عقیدہ نہیں بدلا‘ عقیدے غلام احمد نے بدلے اور کافر اور حرام زادے پوری امت کو کہا۔

حضرت مولانا محمد یوسف لدھیانوی شہیدؒ فرماتے ہیں کہ ایک قادیانی سے میری گفتگو ہوئی‘ میں نے اس سے کہا کہ تیرہ صدیوں سے مسلمان چلے آتے تھے‘ مرزا غلام احمد قادیانی کے دعوی پر ہمارا تمہارا اختلاف ہوا اور چودھویں صدی سے یہ اختلاف شروع ہوا‘ اب میں آپ سے انصاف کی بات کہتا ہوں کہ اگر ہمارے عقیدے تیرہ صدیوں کے مسلمان کے مطابق ہیں تو تم ان کو مان لو اور غلام احمد کو چھوڑو اور اگر تمہارے عقیدے تیرہ صدیوں کے مسلمانوں کے مطابق ہیں تو ہم تم کو سچا مان لیں گے‘ لیجئے ہمارا اختلاف فوراً ختم ہوسکتا ہے‘ یہ انصاف کی بات ہے اور دونوں فریقوں کے لئے برابر کی بات ہے‘ وہ قادیانی سیالکوٹ کا پنجابی تھا‘ میری بات سن کر کہنے لگا ’’جی سچی بات یہ ہے کہ اسی تاں مرزا صاحب توں سوا باقی ساریاں نوں جھوٹے سمجھنے آں‘‘یعنی سچی بات تو یہ ہے کہ ہم تو مرزا صاحب کے سوا باقی سب کو جھوٹا سمجھتے ہیں‘ اب آپ سمجھ گئے ہوں گے‘ مرزا یہ جھوٹا دعویٰ کرتا ہے کہ صرف میں حضور ﷺکا روحانی بیٹا ہوں‘ باقی سب مسلمان ناجائز اولاد ہیں اور یہ شخص اپنے آپ کو روحانی بیٹا کہہ کر پوری دنیا کو گمراہ کررہا ہے۔

میں آپ سے پوچھتا ہوں کہ اگر ان دس بیٹوں کا حرام زادہ ہونا کوئی شخص تسلیم نہیں کرے گا جو اس کے گھر پیدا ہوئے‘ اس کی بیوی سے پیدا ہوئے اور ایک غیر معروف اور مجہول النسب آدمی‘ جس کے بارے میں کچھ پتا نہیں کہ وہ کس میراثی کی اولاد ہے‘ اگر وہ آکر ایسا دعویٰ کرے گا تو کوئی اس کے دعویٰ کو نہیں سنے گا‘ میں کہتا ہوں کہ کیا آپ لوگوں میں ان ’’دس بیٹوں‘‘ جتنی بھی غیرت نہیں‘ آپ قادیانیوں کی یہ بات کیسے سن لیتے ہیں اور مرزائی مسلمان ہیں؟ وہ تمہیں یہ سبق پڑھانے کے لئے تمہاری مجلسوں میں آتے ہیں‘ اور آپ بڑے اطمینان سے ان کی باتیں سن لیتے ہیں‘ میں کہتا ہوں کہ دنیا کا کوئی عقلمند ایسا نہیں ہوگا جس کی عدالت میں یہ مقدمہ لے جایا جائے اور وہ ایک مجہول النسب شخص کے دعویٰ پر دس بیٹوں کے حرام زادے ہونے کا فیصلہ کردے اور ان دس بیٹوں میں کوئی ایسا بے غیرت نہیں ہوگا جو اس مجہول النسب شخص کے دعوے کو سننا بھی گوارا کرے ‘ لیکن کتنے تعجب کی بات ہے کہ ہمارے بُدھو بھائی قادیانیوں کے اس دعوے

123

کو سن لیتے ہیں اور انہیں ذرا بھی غیرت نہیں آتی۔

میرا اور آپ کا فرض:

میرا ‘آپ کا اور ہر مسلمان کا فرض کیا ہونا چاہئے؟ قادیانیت نے ہمارا رشتہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کاٹنے کی کوشش کی ہے‘ وہ ہمیں کافر کہتے ہیں‘ حالانکہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے دین کو مانتے ہیں‘ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا دین جس کو ہم مانتے ہیں‘ وہ تو کفر نہیں ہوسکتا‘ جو شخص ہمیں کافر کہتا ہے‘ وہ ہمارے دین کو کفر کہتا ہے وہ ہمارا رشتہ محمد عربی صلی اللہ علیہ وسلم سے کاٹتا ہے۔

مسلمانوں کی غیرت کا تقاضا:

اب مسلمانوں کی غیرت کا تقاضا کیا ہونا چاہئے؟ ہماری غیرت کا اصل تقاضا تو یہ ہے کہ دنیا میں ایک قادیانی بھی زندہ نہ بچے‘ پکڑ پکڑ کر خبیثوں کو مار دیں‘ یہ میں جذباتی بات نہیں کہہ رہا بلکہ حقیقت یہی ہے‘ اسلام کا فتویٰ یہی ہے‘ مرتد اور زندیق کے بارے میں اسلام کا قانون یہی ہے‘ مگر یہ داروگیر اس ناسور کو ختم کرنا حکومت کا کام ہے‘ ہم انفرادی طور پر اس پر قادر نہیں‘ اس لئے کم از کم اتنا تو ہونا چاہئے کہ ہم قادیانیوں سے مکمل قطع تعلق کریں‘ ان کی مصنوعات شیزان وغیرہ کا بائیکاٹ کریں، ان کو اپنی کسی مجلس میں‘ کسی محفل میں برداشت نہ کریں‘ ہر سطح پر ان کا مقابلہ کریں اور جھوٹے کو اس کی ماں کے گھر تک پہنچاکر آئیں۔

الحمدللہ! ہم نے جھوٹے کو اس کی ماں کے گھر تک پہنچادیا ہے‘ برطانیہ قادیانیوں کی ماں ہے‘ جس نے ان کو جنم دیا‘ اب ان کا گرو اپنی ماں کی گود میں جا بیٹھا ہے اور وہاں سے دنیا بھر کے مسلمانوں کو للکار رہا ہے۔ یورپ‘ امریکا‘ افریقہ کے وہ بھولے بھالے مسلمان جو نہ پوری طرح اسلام کو سمجھتے ہیں‘ نہ ان کو قادیانیت کی حقیقت کا علم ہے‘ وہ قادیانیت کو نہیں جانتے کہ یہ کیا ہے؟ ان کو اہل علم کے پاس بیٹھنے کا موقع بھی نہیں ملتا‘ ہمارے ان بھولے بھالے بھائیوں کو قادیانی‘ مرتد بنانے کا فیصلہ کرچکے ہیں اور وہ اس کا اعلان کررہے ہیں‘ اس کے لئے اربوں ‘کھربوں کے میزانیئے بنارہے ہیں‘ لیکن اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم سے ’’عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت‘‘نے بھی حضرت ختمی مآب aکا جھنڈا پوری دنیا میں بلند کرنے کا فیصلہ کرلیا ہے‘ جس طرح پاکستان میں قادیانیوں کی حقیقت کھل چکی ہے اور وہ مسلمانوں سے کاٹے جاچکے ہیں انشاء اللہ العزیز پوری

124

دنیا میں قادیانیوں کے کفر کی قلعی کھل کر رہے گی‘ ایک وقت آئے گا کہ پوری دنیا اس حقیقت کو تسلیم کرے گی کہ مرزائی مسلمان نہیں‘ بلکہ یہ اسلام کے غدار ہیں‘ محمد عربی صلی اللہ علیہ وسلم کے غدار ہیں‘ پوری انسانیت کے غدار ہیں... انشاء اللہ پوری دنیا میں قادیانیت کے خلاف تحریک چلے گی اور آخری فتح محمد عربی صلی اللہ علیہ وسلم کی اور آپ ﷺکے غلاموں کی ہوگی... پاکستان میں بھی یہ لوگ ایک عرصے تک مسلمان کہلاتے رہے ہیں‘ محمد عربی صلی اللہ علیہ وسلم کے غلاموں کی قربانیاں رنگ لائیں اور قادیانی ناسور کو جسد ملت سے کاٹ کر الگ کردیا گیا‘ انشاء اللہ پوری دنیا میں آج نہیں تو کل یہی ہوگا کہ قادیانیت کو ناسور کی طرح ملت اسلامیہ سے الگ کردیا جائے گا۔

تمام مسلمانوں سے اپیل:

الحمدللہ! عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت نے عالمی سطح پر کام شروع کررکھا ہے‘ میں ہر اس مسلمان سے جو محمد عربی صلی اللہ علیہ وسلم کی شفاعت کا خواستگار ہے‘ یہ اپیل کرتا ہوں کہ وہ ختم نبوت کے جھنڈے کو پورے عالم میں بلند کرنے کے لئے عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت سے بھرپور تعاون کرے اور تمام مسلمان قادیانیوں‘ مرزائیوں کے بارے میں ایمانی و دینی غیرت کا مظاہرہ کریں... ہر مسلمان اس سلسلے میں جو قربانیاں پیش کرسکتا ہے وہ پیش کرے‘ وہ اپنے شہر میں واقع عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے دفتر سے رابطہ قائم کرے۔ جس کا مرکزی دفتر ملتان میں موجود ہے، جہاں سے آپ فری لٹریچر اور رسائل حاصل کرسکتے ہیں۔حق تعالیٰ ہم سب کا حامی و ناصر ہو۔

وآخر دعوانا ان الحمدللہ رب العالمین

125

قادیانیت

کیا ہے؟

قادیانی عورت سے نکاح

سوال: کیا فرماتے ہیں علماء کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ اگر کوئی مسلمان کسی قادیانی عورت سے نکاح کرتا ہے اور اس کو معلوم ہے کہ یہ عورت قادیانی ہے تو کیا اس کا نکاح ہوجائے گا؟ اور اس شخص کا ایمان باقی رہے گا یا نہیں؟ برائے مہربانی قرآن و حدیث کی روشنی میں وضاحت فرمائیں۔

(سائل: ابو عفیرہ خان، کراچی)

جواب: … کسی قادیانی مرد یا عورت کا نکاح کسی مسلمان کے ساتھ نہیں ہوسکتا، اگر کوئی مسلمان قادیانیوں کے عقائد جاننے کے باوجود قادیانی عورت سے نکاح کو جائز سمجھتا ہے تو حرام کو حلال سمجھنے کی وجہ سے اس کا ایمان جاتا رہا۔ لہٰذا یہ نکاح نہیں ہوگا اور ایسے شخص کو توبہ و استغفار کرتے ہوئے اپنے ایمان کی بھی تجدید کرنا ضروری ہوگا۔

  1. نظر ثانی

    کتبہ

  2. مفتی ابوبکر سعید الرحمن

    محمد زکریا

  3. دارالافتاء جامعہ علوم اسلامیہ علامہ بنوری ٹائون

    دارالافتاء ختم نبوت

127

بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ

اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ الَّذِیْ اَنْزَلَ الْفُرْقَانَ عَلٰی عَبْدِہٖ لِیَکُوْنَ لِلْعَالَمِیْنَ نَذِیْرًا،

وَالصَّلوٰۃُ وَالسَّلَامُ عَلٰی رَسُوْلِہٖ الْمُجْتَبیٰ وَخَاتَمِ الْاَنْبِیَائِ وَالْمُرْسَلِیْنَ وَعَلیٰ آلِہٖ

وَاَصْحَابِہٖ وَاَزْوَاجِہٖ وَعَلٰی کُلِّ مُتَّبِعِہِمْ بِاِحْسَانٍ اِلٰیٰ یَوْمِ الْبَعْثِ اَمَّا بَعْدُ

فاعوذباللّٰہ من الشیطان الرجیم

بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ

قَالَ اللّٰہُ تَبَارَکَ وَ تَعَالٰی:

ٰ’’وَدُّوْا لَوْ تَکْفُرُوْنَ کَمَا کَفَرُوْا فَتَکُوْنُوْنَ سَوَائً فَلاَ تَتَّخِذُوْا مِنْہُمْ اَوْلِیَائَ حَتّٰی یُہَا جِرُوْا فِیْ سَبِیْلِ اللّٰہِ۔‘‘ (النساء:۸۹)

وقال تعالیٰ:

’’یَااَ یُّہَا الَّذِیْنَ آمَنُوْا لَاتَتَّخِذُوْاالْکٰفِرِیْنَ اَوْلِیَائَ مِنْ دُوْنِ الْمُؤْمِنِیْنَ۔‘‘ (النساء: ۱۴۴)

پہلی آیت کا ترجمہ:

’’ چاہتے ہیں کہ تم بھی کافر ہوجائو جیسے وہ کافر ہوئے تو پھر تم سب برابر ہوجائو، سو تم ان میں سے کسی کو دوست مت بنائو یہاں تک کہ وطن چھوڑ آئیں اللہ کی راہ میں۔‘‘ (شیخ الہندؒ)

اس آیت مبارکہ کی تفسیر میں حضرت مولانا شبیر احمد عثمانیؒ فرماتے ہیں:

128

’’یعنی یہ منافق لوگ تو کفر پر ایسے جمے ہوئے ہیں کہ خود تو اسلام کیا قبول کریں گے (جیسے قادیانی ملعون خود کافر مرتد ہیں اور مسلمانوں کو کافر مرتد بنانے کی فکر میں ہیں: مرتب) وہ تو یہ چاہتے ہیں کہ تم بھی ان کی مثل کافر ہوکر ان کے برابر ہوجائو، سو اب تم کو چاہئے کہ وہ جب تک ایمان قبول کرکے اپنا وطن چھوڑ کر تمہارے پاس نہ چلے آئیں (یعنی شہادتین کی گواہی دینا ضروری ہے: مرتب) اس وقت تک کسی مسلمان کے لئے جائز نہیں کہ ان کو دوست بنائے اور اپنے کسی کام میں ان کو دخل دے...‘‘

اللہ پاک ہمیں بھی سمجھ نصیب فرمائے کہ ہم بھی قادیانیوں سے ان کے اسلام لانے کی غرض سے سوشل بائیکاٹ کریں، تاکہ ان کو احساس پیدا ہو کہ ہمارا بائیکاٹ کیوں کیا جارہا ہے؟ قادیانیوں کا بائیکاٹ درحقیقت ان کی بھلائی کے لئے ہے۔

دوسری آیت کا ترجمہ:

’’اے ایمان والو! نہ بنائو کافروں کو اپنا رفیق، مسلمانوں کو چھوڑ کر۔‘‘ (شیخ الہندؒ)

مسلمان کا دوست مسلمان ہی ہوسکتا ہے کافر نہیں ہوسکتا، اگر ان کفار سے کسی کی دوستیاں ہیں تو سمجھ لو کہ اس کے دل میں نفاق کی بیماری ہے جو ایک مسلمان کے شایان شان نہیں، لہٰذا کوئی مسلمان آج کے بعد کسی قادیانی، مرزائی سے دوستی نہ رکھے اور نہ ہی ان سے میل جول کرے، اس لئے کہ یہ دشمن رسول ہیں۔

آیات کا ترجمہ اور مختصر تشریح آپ نے سنی، آج کی تقریر کا عنوان ہے: قادیانیت کیا ہے؟ حضرات محترم! حقیقت یہ ہے کہ اللہ تبارک و تعالیٰ جو حاکمِ مطلق اور مختارِ کل ہیں، انہوں نے اپنی قدرتِ کاملہ اور لازوال طاقت کے ذریعہ ’’متنبی قادیان‘‘ مرزا غلام احمد قادیانی کی زبان و قلم سے وہ کچھ کہلوایا اور لکھوایا جس سے مرزا کی حقیقت الم نشرح ہوکر رہ گئی۔ مرزا قادیانی کی تحریرات کو ایک خاص نظم و ترتیب سے سامنے رکھا جائے مرزا قادیانی کے پاگل پن، مراقی طبیعت اور حماقت کی حقیقت سامنے آجاتی ہے اور ہر شریف آدمی یہ سمجھنے پر مجبور ہوجاتا ہے کہ مرزا قادیانی منصب نبوت کے لائق تو کجا عام انسانی اخلاق سے بھی عاری اور محروم ہے ۔نبوت اللہ تعالیٰ کی نعمتوں میں

129

انسانیت کے لئے سب سے بڑی نعمت ہے، ایسی نعمت جس کی تکمیل اللہ رب العزت نے حضرت محمد کریم صلی اللہ علیہ وسلم وعلیٰ آلہٖ واصحابہٖ وسلم پر کردی ....سیّد وُلَدِ آدم محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد اس منصب کے بہت سے ڈاکو اس جہانِ رنگ و بُو میں نمودار ہوئے لیکن آقائے مدنی کے خادموں نے ان کی چلنے نہ دی اور اکثر تو ’’ارتداد‘‘ کے سنگین جرم کے سبب سزایاب ہوئے۔

شیاطین انسانوں کی شکل میں:

یوں تو قرب قیامت میں بہت سے فتنے اٹھیں گے، مگر ان میں سب سے بڑا فتنہ دجال کا فتنہ ہوگا، جو انسانیت کو اپنی شعبدہ بازیوں سے گمراہ کرے گا۔

دجال اکبر تو ایک ہوگا، جس کو حضرت عیسیٰ علیہ السلام آسمان سے نازل ہوکر مقام ’’لُدّ‘‘ میں قتل کریں گے، مگر ایسا لگتا ہے کہ اس کے علاوہ بھی چھوٹے چھوٹے دجال پیدا ہوں گے، جو امت کو گمراہ کرنے میں دجال اکبر کی نمائندگی کی خدمت انجام دیں گے۔

اسی لئے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے امت کو اس بات کی طرف متوجہ فرمایا ہے کہ وہ ایسے ایمان کُش راہزنوں اور دجالوں سے ہوشیار رہے، کیونکہ قرب قیامت میں شیاطین انسانوں کی شکل میں آکر مسلمانوں کو گمراہ کرنے کی کوشش کریں گے اور وہ اس کامیابی سے اپنی تحریک کو اٹھائیں گے کہ کسی کو ان کے شیطان، دجال یا جھوٹے ہونے کا وہم و گمان بھی نہ ہوگا۔

چنانچہ علامہ علأ الدین علی متقی ؒ نے اپنی شہرہ آفاق تصنیف کنزالعمال میں حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے ان انسان نما شیاطین کے دجل و اضلال ،فتنہ پرور سازشوں اوردجالی طریقہ کار کا تذکرہ کرتے ہوئے نقل فرمایا ہے کہ:

’’اُنْظُرُوْا مَنْ تُجَالِسُوْنَ وَعَمَّنْ تَأْخُذُوْنَ دِیْنَکُمْ، فَاِنَّ الشَّیَاطِیْنَ یَتَصَوَّرُوْنَ فِیْ آخِرِ الزَّمَانِ فِیْ صُوَرِ الرِّجَالِ، فَیَقُوْلُوْنَ:حَدَثَّنَا، وَاَخْبَرَنَا۔ وَاِذَا جَلَسْتُمْ اِلٰی رَجُلٍ فَاسْئَلُوْہ‘ عَنْ اِسْمِہٖ وَ اِسْمِ اَبِیْہِ وَعَشِیْرَتِہٖ، فَتَفَقَّدُوْنَہ‘ اِذَا غَابَ۔‘‘

(کنزالعمال، ص:۲۱۴، ج:۱۰)

ترجمہ: ....’’حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ...تم لوگ یہ دیکھ لیا کرو کہ کن لوگوں کے ساتھ بیٹھتے ہو؟ اور کن لوگوں

130

سے دین حاصل کررہے ہو؟ کیونکہ آخری زمانہ میں شیاطین انسانوں کی شکل اختیار کرکے ...انسانوں کو گمراہ کرنے ...آئیں گے... اور اپنی جھوٹی باتوں کو سچا باور کرانے کے لئے من گھڑت سندیں بیان کرکے محدثین کی طرز پر...کہیں گے: حدثنا واخبرنا...مجھے فلاں نے بیان کیا، مجھے فلاں نے خبر دی... وغیرہ وغیرہ۔ لہٰذا جب تم کسی آدمی کے پاس دین سیکھنے کے لئے بیٹھا کرو، تو اس سے اس کا، اس کے باپ کا اور اس کے قبیلہ کا نام پوچھ لیا کرو، اس لئے کہ جب وہ غائب ہوجائے گا تو تم اس کو تلاش کرسکوگے۔‘‘

قطع نظر اس روایت کی سند کے اس کا نفس مضمون صحیح ہے۔بہرحال اس روایت میں چند اہم باتوں کی طرف متوجہ فرمایا گیا ہے، مثلاً:

۱:… مسلمانوں کو ہر ایرے غیرے اور مجہول انسان کے حلقہ درس میں نہیں بیٹھنا چاہئے بلکہ کسی سے علمی استفادہ کرنے سے قبل اس کی پوری تحقیق کرلینا ضروری ہے کہ یہ آدمی کون ہے؟کیسا ہے؟ کس خاندان اور قبیلہ سے تعلق رکھتا ہے، اور اس کا خاندانی پس منظر کیا ہے؟

۲:… اس کے اساتذہ کون سے ہیں؟ کس درس گاہ سے اس نے علم حاصل کیا ہے؟

۳:… اس کا علم خودرو اور ذاتی مطالعہ کی پیداوار تو نہیں؟ کسی گمراہ، بے دین، ملحد اور مستشرق اساتذہ کا شاگرد تو نہیں؟

۴:… اس شخص کے اعمال و اخلاق کیسے ہیں؟ اس کے ذاتی اور نجی معاملات کیسے ہیں؟ کہیں یہ شعبدہ باز اور دین کے نام پر دنیا کمانے والا تو نہیں؟

۵:… اس کا سلسلہ سند کیا ہے؟ یہ جھوٹا اور مکار تو نہیں؟ یہ جھوٹی اور من گھڑت سندیں تو بیان نہیں کرتا؟ کیونکہ محض سندیں نقل کرنے اور ’’اخبرنا‘‘ و’’ حدثنا‘‘ کہنے سے کوئی آدمی صحیح عالم ربانی نہیں کہلاسکتا، اس لئے کہ بعض اوقات مسلمانوں کا اعتماد حاصل کرنے کے لئے کافر و ملحد بھی اس طرح کی اصطلاحات استعمال کیا کرتے ہیں۔

لہٰذا مسلمانوں کو چاہئے کہ ہر مقرر و مدرس ،واعظ یا ’’وسیع معلومات‘‘ رکھنے والے ’’اسکالر‘‘وڈاکٹر کی بات پر کان نہ دھریں، بلکہ اس کے بارہ میں پہلے مکمل تحقیق کرلیا کریں کہ یہ

131

صاحب کون ہیں؟ اور ان کے علم و تحقیق کا حدود اربعہ کیا ہے؟ کہیں یہ منکر حدیث، منکر دین،منکر صحابہ،منکر معجزات، مدعی نبوت یا ان کا چیلہ چانٹا تو نہیں؟

اب اس تمہید کی روشنی میں مرزا غلام احمد قادیانی ملعون کا جائزہ لیتے ہیں کہ وہ کیا تھا؟

حق تعالیٰ جل شانہ کی شان اقدس میں مرزا کی ہرزہ سرائی:

اللہ تبارک و تعالیٰ اس جہان کے خالق و مالک، حاکم مطلق ہیں، ہر قسم کے نقص و عیب سے پاک، خاندان، کنبہ برادری، عزیز و اقارب، اولاد اور جملہ انسانی اوصاف و تعلقات سے مبرا ہیں، ان کی شانِ حمید خود ان کی نازل کردہ آخری کتاب قرآن مجید میں یہ بیان ہوئی: ’’لیس کمثلہ شی‘‘

قرآن و حدیث کے علاوہ اکابر علمائے متقدمین و متاخرین کی کتابیں حق تعالیٰ کی عظمت و جلالت کے موضوعات سے پُر ہیں، لیکن اتنا کچھ کہنے سننے کے بعد بھی اس کی عظمت و کبریائی اور اس کی حقیقت کا ادارک انسانی فہم سے ماوراء ہے، حتی کہ پیغمبر اعظم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں، جس کا مفہوم ہے کہ :’’ہم تیری معرفت کا حق ادا نہیں کرسکے۔‘‘

لیکن متنبی قادیان نے جس دیدہ دلیری سے مسلمہ عقائد کا مذاق اڑایا ہے اور گلی میں گُلی ڈنڈا کھیلنے والے بچوں کے باہمی ذوق کے انداز میں اللہ تعالیٰ کا ذکر کیا ہے اور اپنی خود ساختہ نبوت کے ثبوت کے لئے اللہ تعالیٰ کے متعلق خرافات کا پلندہ گھڑا ہے وہ مرزا کی نامرادی کا سب سے بڑا ثبوت ہے...دل پر ہاتھ رکھ کر ان خرافات کو سُنیں:

مرزا قادیانی نے کہا کہ نبوت اور وحی کا دروازہ بند مانا جائے تو پھر لازم آئے گا کہ:

٭… ’’کیا کوئی عقل مند اس بات کو قبول کرسکتا ہے کہ اس زمانہ میں خدا سنتا تو ہے مگر بولتا نہیں (یعنی وحی نہیں بھیجتا) پھر بعد اس کے یہ سوال ہوگا کہ کیوں نہیں بولتا کیا زبان پر کوئی مرض لاحق ہوگئی ہے۔‘‘

(ضمیمہ براہین احمدیہ حصہ پنجم، ص:۱۴۴، روحانی خزائن، ج:۲۱، ص:۳۱۲)

٭… ’’میں (مرزا قادیانی) نے خواب میں دیکھا کہ میں خود خدا ہوں، میں نے یقین کرلیا کہ میں وہی ہوں۔‘‘

(آئینہ کمالاتِ اسلام، ص:۵۶۴، روحانی خزائن، ج:۵، ص:۵۶۴)

132

٭… ’’جو لوگ تجھ سے بیعت کرتے ہیں، وہ مجھ سے بیعت کرتے ہیں، یہ تیرا ہاتھ نہیں بلکہ میرا ہاتھ ہے۔‘‘

(دافع البلاء، ص:۶، روحانی خزائن، ج:۱۸، ص:۲۲۶)

آپ نے سماعت فرمایا، دیکھئے کیسے مرزا غلام احمد قادیانی کا کفر ننگا ناچ رہا ہے اور کس قدر رب کریم کی توہین کی ہے، اس مردود ِ ازلی نے۔

حضور نبی کریم علیہ الصلوٰۃ والتسلیم

حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم اللہ تعالیٰ کے آخری نبی اور اس کی جملہ مخلوقات میں سب سے اعلیٰ، افضل اور رب العزت کے مقرب خاص ہیں:

’’بعد از خدا بزرگ توئی قصہ مختصر‘‘

آپ کے لئے کہا گیا اور سچ یہ ہے کہ اس سے بڑھ کر آپ کے مقامِ رفیع کا بیان ممکن نہیں۔

اللہ تعالیٰ نے اپنے آخری کلام قرآن مجید میں مختلف حوالوں سے اپنے اس ’’عبد کامل‘‘ اور ’’رسول خاتم‘‘ کا ذکر کیا اور اتنے پیار اور محبت سے کہ:

’’کرشمہ دامن می کشد کہ جا اینجا است‘‘

لیکن ایک مرزا غلام احمد قادیانی ہے جس کے بے لگام اور گستاخِ قلم سے اس انسانِ اعظم، رسول اکرم اور نبی مکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے متعلق وہ وہ دلخراش عبارتیں نکلیں کہ الامان والحفیظ۔

ایسی جسارت تو ابلیس اعظم علیہ ماعلیہ بھی نہ کرسکا، اس نے بھی محض اپنی بڑائی کے اظہار کے لئے ’’انا خیر منہ‘‘ کی بات کہی، لیکن تیرھویں صدی کے دمِ آخرانگریزی استبداد کے زیر سایہ نبوت کا ڈھونگ رچانے والے اس ابلیس مجسم نے اس امام الانبیاء کا کس طرح ذکر کیا وہ بڑی ہی اندوہناک داستان ہے:

’’افسوس کہ گوری اقلیت کے زیر سایہ یہ سب گند اچھالا جاتا رہا اور اب تک بعض بدقسمت اس مردود ازلی سے اپنی عقیدتوں کا رشتہ جوڑے بیٹھے ہیں۔‘‘

میں اس کفر کو دل پر پتھر رکھ کر نقل کررہا ہوں، آپ بھی ان ملعون و گستاخ تحریرات کو سُن کر مرزائی اور مرزائی نوازوں کو آئینہ دکھایئے۔

133

میں اس کفر کو دل پر پتھر رکھ کر نقل کررہا ہوں، آپ بھی ان ملعون و گستاخ تحریرات کو سُن کر مرزائی اور مرزائی نوازوں کو آئینہ دکھایئے۔

(حقیقت النبوۃ، ص:۲۲۸، حصہ اوّل)

٭… ’’آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے تین ہزار معجزات ہیں۔‘‘

(تحفہ گولڑویہ، ص:۶۷، روحانی خزائن، ج:۱۷، ص:۱۵۲)

٭… ’’میرے نشانات کی تعداد دس لاکھ ہے۔‘‘

(براہین احمدیہ حصہ پنجم، ص:۷۲، روحانی خزائن، ج:۲۱، ج:۷۲)

٭… ’’یہ بالکل صحیح بات ہے کہ ہر شخص ترقی کرسکتا ہے اور بڑے سے بڑا درجہ پاسکتا ہے، حتی کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بھی بڑھ سکتا ہے۔‘‘

(اخبار الفضل، ۱۷/جولائی ۱۹۲۲ء)

  1. محمد پھر اتر آئے ہیں ہم میں

    اور آگے سے ہیں بڑھ کر اپنی شان میں

  2. محمد دیکھنے ہوں جس نے اکمل

    غلام احمد کو دیکھے قادیان میں

(اخبار بدر قادیان، ۲۵/اکتوبر ۱۹۰۶ء)

مرزا غلام احمد قادیانی کا دعویٰ ہے کہ وہ (نعوذباللہ) محمد رسول اللہ ہے، چنانچہ ملاحظہ ہو:

٭… ’’محمد رسول اللّٰہ والذین معہ اشداء علی الکفار رحماء بینہم۔‘‘ ...اس وحی الٰہی میں میرا نام محمد رکھا گیا اور رسول بھی...۔

(ایک غلطی کا ازالہ، ص:۳،روحانی خزائن، ج:۱۸، ص:۲۰۷)

مرزا بعینہٖ محمد رسول اللہ :

چونکہ قادیانی عقیدہ کے مطابق محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے تمام کمالات کے ساتھ مرزا کی بروزی شکل میں قادیان میں دوبارہ مبعوث ہوئے ہیں، اس لئے مرزا قادیانی کا وجود (نعوذباللہ) بعینہٖ محمد رسول اللہ کا وجود ہے، چنانچہ ملاحظہ ہو:

٭… ’’اور خدا نے مجھ پر اس رسول کریم کا فیض نازل فرمایا اور اس کو کامل بنایا اور اس نبی کریم کے لطف اور جود کو میری طرف کھینچا، یہاں

134

تک کہ میرا وجود اس کا وجود ہوگیا، پس وہ جو میری جماعت میں داخل ہوا، درحقیقت میرے سردار خیرالمرسلین کے صحابہ میں داخل ہوا اور یہی معنی ’’آخرین منہم‘‘ کے لفظ کے بھی ہیں، جیسا کہ سوچنے والوں پر پوشیدہ نہیں اور جو شخص مجھ میں اور مصطفی میں تفریق کرتا ہے، اس نے مجھ کو نہیں دیکھا ہے اور نہیں پہنچانا ہے۔‘‘

(خطبہ الہامیہ، ص:۲۵۸،۲۵۹)

محمد رسول اللہ کے تمام کمالات مرزا قادیانی میں :

جب یہ عقیدہ ٹھہرا کہ مرزا کا وجود بعینہٖ محمد رسول اللہ کا وجود ہے اور یہ کہ مرزے کے روپ میں خود محمدرسول اللہ ہی دوبارہ قادیان میں آئے ہیں، تو یہ عقیدہ بھی ضروری ہوا کہ محمد رسول اللہ کے تمام کمالات و امتیازات بھی مرزا کی طرف منتقل ہوگئے ہیں، چنانچہ ملاحظہ ہو:

٭… ’’جب کہ میں بروزی طور پر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ہوں اور بروزی رنگ میں تمام کمالات محمدی مع نبوت محمدیہ کے میرے آئینہ ظلیت میں منعکس ہیں تو پھر کون سا الگ انسان ہوا جس نے علیحدہ طور پر نبوت کا دعویٰ کیا؟۔‘‘

(ایک غلطی کا ازالہ، ص:۸، روحانی خزائن، ج:۱۸، ص:۲۱۲)

سامعین محترم! آپ نے توجہ فرمائی مرزا غلام احمد قادیانی کی تحریرات میں کس قدر کفر پایا جارہا ہے۔ امام العصر حضرت علامہ سیّد محمد انور شاہ کشمیریؒ فرمایا کرتے تھے مرزا غلام احمد قادیانی کا کفر شیطان اور فرعون کے کفر سے بڑا کفر ہے اور یہ ایک کھلی حقیقت ہے جس سے انکار کرنا ممکن ہی نہیں۔

کیا محمد رسول اللہ ہونے کا دعویٰ کرنا کفر نہیں؟

کیا اپنے آپ کو محمد رسول اللہ سے افضل کہنا کفر نہیں؟

کیا اپنے ناپاک وجود کو محمد رسول اللہ کا وجود قرار دینا کفر نہیں؟

کیا حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی جگہ اپنی اتباع کو لازمی قرار دینا کفر نہیں؟

نہ جانے کتنے اور کفریہ عقائد ہیں جو قادیانی دجل و فریب کو آشکارا کرتے ہیں؟

اے مسلمانو! اب بھی نہیں جاگو گے تو کب ہوش میں آئوگے؟ کیا ابھی بھی وقت نہیں آیا کہ تم فتنۂ مرزائیت کو سمجھو اور اس کے خلاف امت مسلمہ کی رہنمائی کرو۔

مزید سماعت فرمائیں اور فتنہ قادیانیت کی سنگینی کا احساس کریں۔

135

حضرات انبیاء کرام علیہم السلام

اللہ کی رنگارنگ مخلوقات میں انسان سب سے اعلیٰ و اشرف ہے، جسے اشرف المخلوقات ہونے کا شرف حاصل ہے۔

گروہِ انسانیت میں وہ سعادت مند پھر بڑی عظمتوں کے حامل ہیں جنہیں وحی ربانی کی تسلیم و اطاعت کا شرف حاصل ہوا اور اس گروہ مسلمین میں سے لاتعداد عظمتوں کے امین و حامل وہ ہیں، جنہیں نبوت و رسالت کا تاج پہنایا گیا، جنہیں اللہ تعالیٰ نے اپنی سب سے بڑی امانت کا امین قرار دیا اور سب سے بڑی نعمت سے نوازا، یہ گروہ پاک باز انسان ہوکر بھی اتنا عظیم المرتبت ہے کہ معصومیت ان کے لوازم میں سے ہے، وہ معصوم اور اللہ تعالیٰ کی اس حفاظت میں ہوتے ہیں کہ گناہ ان کے گھر کا رخ نہیں کرسکتا۔ وہ اللہ تعالیٰ کی وحی کے حامل اور اس کے مبلغ ہوتے ہیں، اپنی جان جوکھوں میں ڈال کر اس کی تبلیغ کرتے اور اُف تک نہیں کرتے، چاہے اس راستہ میں ان کا جسم آرے سے چیرا جائے۔

لیکن قادیان کے اس شیطان مجسم نے اس گروہِ پاک باز کو جس طرح یاد کیا، ان کی توہین کی اور اپنے ناپاک وجود کو ان سے برتر قرار دیا وہ اس دھرتی کا سب سے گھنائونا کاروبار ہے، ان شیطنت آمیز تحریرات کی نقل و سماعت کسی شریف انسان کے بس کا روگ نہیں، لیکن ضرورت و مجبوری سے انہیں نقل کیا جارہا ہے۔ جیسے ایک ڈاکٹر کینسر کے مریض کی چیر پھاڑ خوشی سے نہیں بلکہ اس کی زندگی بچانے کے لئے کرتا ہے ہم یہ کفریہ عقائد صرف آپ کے سامنے اپنے مسلمان بھائیوں کا ایمان بچانے کے لئے بیان کرتے ہیں۔ چنانچہ مرزا غلام احمد قادیانی لکھتا ہے:

٭… ’’خدا تعالیٰ نے مجھے تمام انبیاء علیہم السلام کا مظہر ٹھہرایا ہے اور تمام نبیوں کے نام میری طرف منسوب کئے گئے ہیں، میں آدم ہوں ، میں شیث ہوں، میں نوح ہوں، میں ابراہیم ہوں، میں اسحاق ہوں، میں اسمٰعیل ہوں، میں یعقوب ہوں، میں یوسف ہوں، میں موسیٰ ہوں، میں دائود ہوں، میں عیسیٰ ہوں اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے نام کا میں مظہر ہوں، یعنی ظلی طور پر محمد اور احمد ہوں۔‘‘

(حاشیہ حقیقۃ الوحی، ص:۷۲، روحانی خزائن، ج:۲۲، ص:۷۶)

136

معاذ اللہ استغفرا اللہ، اللہ رب العزت مرزائیت اور قادیانیت کے کفریہ عقائد و عزائم سے امت مسلمہ کی حفاظت فرمائے، دیکھئے کس قدر حضرات انبیاء کی توہین کا مرتکب ہے، یہ شخص:

حضرت مسیح علیہ السلام

حضرات انبیاء کرام علیہم السلام میں سے سیّدنا مسیح علیہ الصلوٰۃ والتسلیم اپنی بعض خصوصیات کے پیش نظر امتیازی مقام کے حامل ہیں۔ اللہ تعالیٰ کی قدرتِ کاملہ سے بن باپ پیدا ہونا، ایک خاص موقع پر زندہ آسمان پر اٹھایا جانا اور قربِ قیامت میںد وبارہ دنیا میں واپسی، ایسی امتیازی خصوصیات ہیں جن میں ان کا کوئی دوسرا شریک نہیں۔

دنیا کی سب سے بڑی مغضوب و مردود قوم یہود نے سب سے بڑھ کر سیّدنا مسیح علیہ الصلوٰۃ والتسلیم اور ان کی پاک دامن و عفت مآب والدہ محترمہ سیّدتنا مریم صدیقہ طاہرہ سلام اللہ تعالیٰ علیہا ورضوانہ، پر طرح طرح کے الزامات لگائے...انہیں اذیت پہنچائی، سیّدنا مسیح علیہ السلام کے قتل کے منصوبے بنائے اور تکلیف و اذیت کے حوالہ سے جو ہوسکا انہوں نے کیا۔

صدیوں بعد اس روایت کو قادیانی دہقان مرزا غلام احمد نے دھرایا اور اپنے گستاخ و بے لگام قلم سے سیّدنا مسیح علیہ السلام اور ان کی عظیم المرتبت والدہ کے خلاف وہ وہ بہتان طرازیاں کیں کہ یہود کی روح بھی شاید شرما اٹھی ہو۔

آئیں سماعت فرمائیں اس حوالہ سے کہ اس بدزبان ، شقی القلب نے کیا لکھا:

٭… ’’آپ (حضرت عیسیٰ علیہ السلام) کا خاندان بھی نہایت پاک اور مطہر ہے تین دادیاں اور نانیاں آپ کی زناکار اور کسبی عورتیں تھیں جن کے خون سے آپ کا وجود ظہور پذیر ہوا۔‘‘

(ضمیمہ انجام آتھم حاشیہ، ص:۷، روحانی خزائن، ج:۱۱، ص:۲۹۱)

٭… ’’مسیح (علیہ السلام) کا چال چلن کیا تھا؟ ایک کھائو، پیو، نہ زاہد، نہ عابد، نہ حق کا پرستار، متکبر، خود بین، خدائی کا دعویٰ کرنے والا۔‘‘

(مکتوباتِ احمدیہ، ص:۲۱ تا ۲۴، ج:۳)

٭… ’’یورپ کے لوگوں کو جس قدر شراب نے نقصان پہنچایا ہے اس کا سبب تو یہ تھا کہ عیسیٰ علیہ السلام شراب پیا کرتے تھے، شاید کسی

137

بیماری کی وجہ سے یا پُرانی عادت کی وجہ سے۔‘‘

(کشتی نوح حاشیہ، ص:۷۳، روحانی خزائن، ج:۱۹، ص:۷۱)

٭… ’’یہ بھی یاد رہے کہ آپ (عیسیٰ علیہ السلام) کو کسی قدر جھوٹ بولنے کی بھی عادت تھی۔‘‘

(ضمیمہ انجام آتھم، ص:۵، روحانی خزائن، ج:۱۱، ص:۲۸۹)

٭… ’’عیسائیوں نے بہت سے آپ کے معجزات لکھے ہیں مگر حق بات یہ ہے کہ آپ سے کوئی معجزہ نہیں ہوا۔‘‘

(ضمیمہ انجام آتھم ، ص:۶، حاشیہ، روحانی خزائن، ج:۱۱، ص:۲۹۰)

اللہ تعالیٰ کے سچے نبی کی شان میں ذرا سی گستاخی انسان کو دائرہ اسلام سے نکال دیتی ہے، کیا یہ دلخراش لغو یات، کفریہ باتیں کسی شریف انسان کو زیب دیتی ہیں؟ ہرگز نہیں!!

اسلام اور مرزا قادیانی

اسلام اللہ تعالیٰ کا آخری، سچا اور سدا بہار دین ہے جس کی تکمیل و اتمام کا اعلان خود اللہ رب العزت نے اپنی آخری وحی میں حجۃ الوداع کے موقع پر فرمایا، ساتھ ہی قرآنِ عزیز میں خالقِ کائنات نے واضح کیا کہ اس اسلام سے روگردانی کرکے دوسرے طریقے اور دھرم کے رسیا لوگوں کے لئے ذلت و نقصان کے سوا کچھ نہیں۔

لیکن مرزا قادیانی کس دیدہ دلیری اور ڈھٹائی و بے حیائی سے اسلام کی نفی کرتا ہے، محض اس لئے کہ اصل اسلام میں ان کا حصہ نہیں اور دوسری طرف وہ اپنے لایعنی، لغو اور بے ہودہ طریق اور خرافات کو اسلام قرار دیتا ہے۔ اسلام کی سچی ، صحیح اور سدا بہار تصویر کے علی الرغم مرزا قادیانی کی خرافات کا ایک انبار ہے، چند ایک سماعت فرمائیں:

٭… ’’پس جس طرح حضرت موسیٰ کے وقت میں موسیٰ (علیہ السلام) کی آواز اسلام کی آواز تھی اور حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے وقت میں عیسیٰ کی اور سیّدنا و مولٰنا حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی آواز اسلام کا صور تھا، اسی طرح آج قادیان سے بلند ہونے والی آواز اسلام کی آواز ہے۔‘‘

(اخبار الفضل قادیان، ج:۷، ش:۹، مورخہ ۲۷/ مئی ۱۹۲۰ء)

138

٭… ’’(مسلمان) خدا کے نزدیک مسلمان نہیں ہیں، بلکہ ضرورت ہے کہ ان کو نئے سرے سے مسلمان کیا جاوے۔‘‘

(کلمۃ الفصل ص:۱۴۳ از بشیر احمد)

٭… ’’مسیح موعود (مرزا) کے منکروں کو مسلمان کہنا خبیث عقیدہ ہے، جو ایسا عقیدہ رکھے اس کے لئے رحمت ربی کا دروازہ بند ہے۔‘‘

(کلمۃ الفصل، ص:۱۲۵)

حضرات صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اجمعین

حضرات انبیأ علیہم الصلوٰۃ والسلام جیسے پاک باز و پاک طینت گروہ کے بعد اس دھرتی پر انسانی آبادی میں جو طبقہ سب سے بڑھ کر اللہ تعالیٰ کی رحمتوں کا مورد بنا، وہ حضرات صحابہ کرام رضوان اللہ عنہم اجمعین کا ہے۔ قرآن کریم اس گروہ پاک باز کو ’’اللہ تعالیٰ کی جماعت‘‘ قرار دیتا ہے۔ ایسی جماعت کہ کامیابی اس کا مقدر ہے اور وہ ہر حال میں کامیاب ہوکر رہے گی۔ اللہ تعالیٰ نے اس جماعت راشدہ صادقہ کو اپنی رضا کے سرٹیفکیّٹ سے نوازا اور حضور نبی مکرم، رسولِ رحمت، خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم نے اس جماعت راشدہ کو آسمانِ ہدایت کے ستارے قرار دیا اور فرمایا: خبردار! ان کو اذیت پہنچانا، مجھے اذیت پہنچانا ہے اور مجھے اذیت پہنچانا، اللہ رب العزت کے غضب کو دعوت دینے کے مترادف ہے۔

حضور نبی مکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس گروہ صفا پر طعن و تشنیع کرنے والوں کو اللہ تعالیٰ، اس کے فرشتوں اور تمام انسانوں کی لعنت کا مستحق قرار دیا، لیکن اس دنیا میں ایسے بدبختوں اور نامرادوں کی کمی نہیں جو درسگاہِ نبوت کے ان تربیت یافتہ رجال کار کے خلاف اپنی گز بھر لمبی زبانیں کھولتے ہیں، ایسے ہی نامرادوں میں ایک ’’مرزا غلام احمد قادیانی‘‘ ہے جس کی سوقیانہ زبان اور بدبختی کے چند نمونے پیش نظر ہیں:

٭… ’’پرانی خلافت کا جھگڑا چھوڑو، اب نئی خلافت لو، ایک زندہ علی تم میں موجود ہے، اُس کو چھوڑتے ہو اور مُردہ علی کی تلاش کرتے ہو۔‘‘

(ملفوظات، ج:۲، ص:۱۴۲)

٭… ’’ابوبکر و عمر ( رضی اللہ عنہ) کیا تھے وہ تو حضرت غلام احمد (ملعون) کی جوتیوں کے تسمے کھولنے کے بھی لائق نہ تھے۔‘‘

139

(ماہنامہ المہدی بابت جنوری، فروری ۱۹۱۵ء ۲/۳ ص:۵۷، احمدیہ انجمن اشاعت لاہور)

٭… ’’پس وہ جو میری جماعت میں داخل ہوا در حقیقت میرے سردار خیرالمرسلین کے صحابہ میں داخل ہوگیا۔‘‘

(خطبہ الہامیہ ، ص:۲۵۸)

قابل قدر سامعین محترم! آپ نے مرزا غلام احمد قادیانی کی حضرات صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اجمعین کی شان میں گستاخی کی ایک جھلک سماعت فرمائی، حالانکہ حضرات صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین تو کاملین کی جماعت تھی، چنانچہ شاعر کہتا ہے:

  1. یا الٰہی آج تو صدیق سا ایمان پیدا کر

    عمر فاروق سا کوئی جری انسان پیدا کر

  2. جہاں سے گم حیا ہو وہاں عثمان پیدا کر

    علی المرتضیٰ شیر خدا کی آن پیدا کر

  3. پروانے کو شمع بلبل کو پھول بس

    صدیق کے لئے ہے خدا کا رسول بس

  4. تڑپنے پھڑکنے کی توفیق دے

    دل مرتضیٰ کو سوز صدیق دے

قرآن و سنت سے متعلق مرزا قادیانی کی ہرزہ سرائی

اللہ تعالیٰ نے انسانیت کی ہدایت کے لئے جہاں سلسلۂ نبوت قائم فرمایا اور اس کا اختتام حضرت محمد کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر کردیا، وہاں مختلف اوقات میں کتابیں بھی نازل فرمائیں، اس سلسلۂ کتب کی آخری کڑی قرآن مجید، فرقان حمید ہے جو اللہ تعالیٰ کی طرف سے اس کے بندوں کے لئے رحمت، ہدایت اور شفا ہے۔

جس کی حفاظت و صیانت کا وعدہ خود حضرتِ جل و علیٰ مجدہ نے کیا جس کی آیات کے سامنے بڑے بڑے زبان آوردم بخودرہ گئے اور اس کی ایک آیت کا مقابلہ کرنے کی تاب نہ لاسکے۔

یہ عظیم کتاب صدیوں سے اپنی عظمت کا لوہا منوارہی ہے، مرزا قادیانی کی سرپرست (درحقیقت شرپرست: مرتب) برطانوی سرکار نے اسے مٹانے کی عجیب احمقانہ تدابیرکیں لیکن منہ کی کھائی۔

’’عربی زبان مبین‘‘ میں نازل ہونے والی اس کتاب کے بالمقابل قادیانی گنوارنے اپنی نام نہاد وحی و الہام کا جس طرح ڈھونگ رچایا اور اسے قرآن سے برتر و بالا قرار دیا اور جابجا فخریہ اس کا اظہار کیا وہ ایسی ناروا جسارت ہے جس پر آسمان ٹوٹ پڑے اور زمین پھٹ جائے تو عجب نہیں۔

قرآن کے بالمقابل مرزا کی تحریرات گوش گزار کریں اور سوچیں کہ آیا یہ شخص صحیح الدماغ

140

تھا یا اس کا ذہنی توازن خراب تھا؟ یا ان میں سے کچھ بھی نہیں تھا، مگر یہ سب کچھ اس سے کرایا جارہا تھا اور حقیقت یہ ہے کہ یہ ساری باتیں شیطانی نبی کو پڑھائی جاتی تھی۔

٭… ’’جو کچھ میں اللہ کی وحی سے سنتا ہوں، خدا کی قسم اسے ہر قسم کی خطا سے پاک سمجھتا ہوں، قرآن کی طرح میری وحی خطائوں سے پاک ہے، یہ میرا ایمان ہے، خدا کی قسم یہ کلامِ مجید ہے، خدائے پاک وحدہ کے منہ سے۔‘‘

(نزول المسیح، ص:۹۹، روحانی خزائن، ج:۱۸، ص:۴۷۷)

٭… ’’میرے اس دعویٰ کی حدیث بنیاد نہیں بلکہ قرآن اور وہ وحی ہے جو میرے پر نازل ہوئی، ہاں تائیدی طور پر ہم وہ حدیثیں بھی پیش کرتے ہیں جو قرآنِ شریف کے مطابق ہیں اور میری وحی کے معارض نہیں اور دوسری حدیثوں کو ہم ردی کی طرح پھینک دیتے ہیں۔‘‘

(اعجاز احمدی، ص:۳۰، روحانی خزائن، ج:۱۹، ص:۱۴۰)

٭… ’’ہم کہتے ہیں کہ قرآن کہاں موجود ہے، اگر قرآن موجود ہوتا تو کسی کے آنے کی کیا ضرورت تھی؟ مشکل تو یہی ہے کہ قرآن دنیا سے اٹھ گیا ہے، اسی لئے تو ضرورت پیش آئی کہ محمد رسول اللہ کو بروزی طور پر دوبارہ دنیا میں مبعوث کرکے آپ پر قرآن شریف اتارا جاوے۔‘‘

(کلمۃ الفصل، ص:۱۷۳، مرزا بشیر احمد ایم اے)

٭… ’’میں خدا کی قسم کھاکر کہتا ہوں کہ میں ان الہامات پر اسی طرح ایمان لاتا ہوں جیسا کہ قرآن شریف پر اور خدا کی دوسری کتابوں پر اور جس طرح میں قرآن شریف کو یقینی اور قطعی طور پر خدا کا کلام جانتا ہوں، اسی طرح اس کلام کو بھی جو میرے پر نازل ہوتا ہے خدا کا کلام یقین کرتا ہوں۔‘‘

(حقیقۃ الوحی، ص:۲۲۰، روحانی خزائن، ج:۲۲، ص:۲۲۰)

حرمین شریفین زادہما اللہ شرفاً و تعظیما

امت ِ مسلمہ اس حقیقت کو بدل و جان تسلیم کرتی ہے کہ حرمین شریفین (مکہ مکرمہ اور مدینہ طیبہ) زادہما اللہ شرفاً و تعظیما... کائنات ارضی کے سب سے محترم، مبارک اور مقدس قطعات ہیں۔

141

رب العزت کی تجلیات کا مرکز ارضِ حرم ہے تو اس کی رحمتوں کے نزول کی جگہ ارضِ مدینہ، جہاں کائنات کا سب سے عظیم انسان محو استراحت ہے۔

حج بیت اللہ...اسلام کے ارکانِ خمسہ میں سے ایک ہے، جو عشق و جنون کا سفر ہے اور جس میں حق تعالیٰ شانہ کے بندے اپنی نیاز مندی کا بھرپور مظاہرہ کرتے ہیں۔

محمد عربی علیہ الصلوٰۃ السلام کے سچے امتیوں کے لئے ارضِ مدینہ کی زیارت بھی گویا اس مبارک سفر کا ایک حصہ ہے۔

لیکن دیکھیں کہ مرزا جیسے شاطر، فریبی اور دولت ِ انگلشیہ کے ایجنٹ نے کس طرح ان پاک شہروں کی توہین کی، اپنی جنم بھومی قادیان کا ان سے کس طرح جوڑ جوڑا بلکہ اسے قرآن میں مندرج قرار دے کر اسے مکہ و مدینہ سے بھی بہتر و افضل قرار دیا اور قادیان ہی کی زیارت کو حج سے تعبیر کرکے بیت اللہ اور مناسک حج کی توہین کی:

’’آسماں راحق بود گر خوں یارد برزمیں‘‘

  1. زمین قادیان اب محترم ہے

    ہجومِ خلق سے ارض حرم ہے

(درثمین اردو کلام مرزا، ص:۵۲)

٭… ’’تین شہروں کا نام اعزاز کے ساتھ قرآن شریف میں درج کیا گیا ہے، مکہ اور مدینہ اور قادیان۔‘‘

(ازالہ اوہام ص:۷۷،روحانی خزائن، ج:۳، ص:۱۴۰)

٭… ’’میں تمہیں سچ سچ کہتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ نے مجھے بتادیا ہے کہ قادیان کی زمین بابرکت ہے، یہاں مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ والی برکات نازل ہوتی ہیں۔‘‘

( الفضل، ۱۱/دسمبر ۱۹۳۲ء)

٭… ’’ومن دخلہ کان امنا۔‘‘ ... قادیان کی مبارک مسجد جائے امن ہے...۔

(تذکرہ، ص:۱۰۶، طبع چہارم)

علماء اور اولیاء امت

حضرات علماء کرام اور اولیاء عظام اللہ تعالیٰ کی انسانی مخلوق کا نہایت بیش قیمت حصہ ہے،

142

ایسا حصہ جسے اللہ رب العزت نے خود اپنا دوست قرار دیا، انہیں ایمان و تقویٰ کا علمبردار بتلایا اور واضح فرمایا کہ دنیا و آخرت میں ہر قسم کی بشارتیں ان کے لئے ہیں۔ اہلِ علم کے لئے قرآن و سنت میں جابجا تعریف آمیز کلمات ہیں اور کیوں نہ ہوں کہ علم نور ہے، اللہ تعالیٰ کی صفت ہے، اس سے کسی کو حصہ ملنا بڑی ہی سعادت ہے۔

علماء کی توہین و تذلیل کو حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بدترین جرم قرار دیا اور ایسے لوگوں کے متعلق واضح کیا کہ ان لوگوں کا مجھ سے کوئی تعلق نہیں۔

لیکن صد ہزار حیف اس قادیانی مردود پر کہ اس نے قریب العہد اور قریب العصر نامور علماء اور صلحاء کا نام لے لے کر انہیں مغلظات سنائیں اور بُر ابھلا کہا۔ بھلا ایسا آدمی اس قابل ہے کہ اسے کوئی منہ لگائے؟

حیرت ہے ان لوگوں پر جو اس مرزا قادیانی کو نبی بناکر بیٹھے ہیں:

  1. کار شیطان می کند نامش ’’نبی‘‘

    گر ’’نبی‘‘ ایں است لعنت بر ’’نبی‘‘

سیّدنا پیر مہر علی شاہ گولڑوی ؒکے متعلق لکھا:

’’مجھے (مرزا) ایک کتاب کذاب کی طرف سے پہنچی ہے وہ خبیث کتاب اور بچھو کی طرح نیش زن ہے، پس میں نے کہا کہ اے گولڑہ کی زمین تجھ پر لعنت ہو تو ملعون (پیر صاحب) کے سبب سے ملعون ہوگی، پس تو قیامت کو ہلاکت میں پڑے گی۔‘‘

(اعجاز احمدی، ص:۷۵، روحانی خزائن، ج:۱۹، ص:۱۷۸)

اہل حدیث رہنما مولانا محمد حسین بٹالوی کے متعلق لکھا کہ:

’’کذاب، متکبر، سربراہ گمراہان، جاہل، شیخ احمقان، عقل کا دشمن، بدبخت، طالع، منحوس، لاف زن، شیطان، گمراہ شیخ، مفتری۔‘‘

(انجام آتہم ص:۲۴۱ تا ۲۴۴، روحانی خزائن، ج:۱۱، ص:۲۴۱ تا ۲۴۴)

’’مولانا ثناء اللہ امرتسری کو عورتوں کی عار کہا۔‘‘

(اعجاز احمدی، ص:۸۳ ، روحانی خزائن ، ج:۱۹، ص:۱۹۶)

143

مولانا رشید احمد گنگوہیؒ کے متعلق لکھا ہے: اندھا شیطان، گمراہ دیو، شقی، ملعون۔

(انجام آتھم، ص:۲۵۲، روحانی خزائن، ج:۱۱، ص:۲۵۲)

حضرات سامعین ذی وقار توجہ فرمائیں! مرزا غلام احمد قادیانی نے کس قدر غلط زبان استعمال کی ہے، جو کوئی شریف آدمی کبھی بھی استعمال نہیں کرتا، اب آیئے مزید سماعت فرمائیں مرزا غلام احمد قادیانی اور دیگر قادیانیوں کا تمام مسلمانوں کے متعلق کیا خیال اور جذبات تھے، چنانچہ:

تمام مسلمانوں کے لئے فتویٰ کفر:

٭… ’’کل مسلمان جو حضرت مسیح موعود (مرزا) کی بیعت میں شامل نہیںہوئے، خواہ انہوں نے حضرت مسیح موعود (مرزا) کا نام بھی نہیں سنا وہ کافر ہیں اور دائرہ اسلام سے خارج ہیں۔‘‘

(آئینہ صداقت، ص:۳۵، مصنفہ مرزا محمود احمد قادیانی)

٭… ’’ایسا شخص جو موسیٰ کو مانتا ہے، مگر عیسیٰ کو نہیں مانتا یا عیسیٰ کو مانتا ہے مگر محمد (صلی اللہ علیہ وسلم کو نہیں مانتا یا محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) کو مانتا ہے مگر مسیح موعود (مرزا) کو نہیں مانتا وہ نہ صرف کافر بلکہ پکا کافر اور دائرہ اسلام سے خارج ہے۔‘‘

(کلمۃ الفصل ص:۱۱۰، مرزا بشیر احمد قادیانی)

٭… ’’میرے مخالف جنگلوں کے سُور ہوگئے اور ان کی عورتیں کتیوں سے بڑھ گئیں۔‘‘

(نجم الہدیٰ، ص:۵۳، روحانی خزائن، ج:۱۴، ص:۵۳)

٭… ’’میری ان کتابوں کو ہر مسلمان محبت کی نظر سے دیکھتا ہے اور اس کے معارف سے فائدہ اٹھاتا ہے اور میری دعوت کی تصدیق کرتا ہے اور اسے قبول کرتا ہے مگر رنڈیوں (بدکارعورتوں) کی اولاد نے میری تصدیق نہیں کی۔‘‘

(آئینہ کمالات اسلام، ص:۵۴۷، روحانی خزائن، ج:۵، ص:۵۴۷)

٭… ’’خدا تعالیٰ نے میرے پر ظاہر کیا ہے کہ ہر ایک شخص جس کو میری دعوت پہنچی ہے اور اس نے مجھے قبول نہیں کیا وہ مسلمان نہیں ہے۔‘‘

(تذکرہ، ص:۶۰۰، مارچ ۱۹۰۶ء)

کیا ان مرزائی عبارات کو سماعت فرمانے کے بعد بھی کوئی مسلمان قادیانیوں سے محبت

144

بھرے تعلقات رکھے گا؟ کیا ان کفریہ اور نازیبا نظریات کے حاملین کو اپنی خوشی غمی میں شریک کرے گا؟ کیا ان مفسدین اسلام کو اسلام کا حصہ شمار کرے گا؟

مسلمانوں سے معاشرتی بائیکاٹ

مرزائیوں کا عجیب معاملہ ہے کہ وہ ایک طرف تو مسلمانوں سے یہ تقاضا کرتے ہیں کہ مسلمان انہیں اپنا حصہ سمجھیں، انہیں برابر کے حقوق دیں اور مسلمان معاشرتی زندگی میں ان سے مل جل کر رہیں، اس کو آپ حقیقت کا نام د یں گے یا منافقت، کہ ان کی یہ جملہ خواہشیں اور جملہ تقاضے ان کے گرو اور ان کے پسماندگان کی تعلیمات کے خلاف ہے۔

مرزائی دنیا کی تحریرات میں شادی بیاہ سے لے کر جنازہ اور تدفین تک جملہ معاملات میں بائیکاٹ اور انقطاع کی تعلیم ہے اور اس پر بھرپور زور دیا گیا ہے کہ مسلمانوں سے کسی قسم کا معاملہ نہ رکھیں حتیٰ کہ ان کے معصوم بچوں کا جنازہ تک نہ پڑھیں۔

سوال یہ ہے کہ جب مرزا غلام احمد قادیانی اور اس کے نام نہاد ’’خلفاء‘‘ کی تعلیمات یہ ہیں تو پھر وہ مسلمانوں سے باہمی روابط کا کیوں مطالبہ اور تقاضا کرتے ہیں۔

اس دوغلے اور منافقانہ رول کا اندازہ کرنے کے لئے توجہ فرمائیں سب سے بڑا ثبوت یہ ہے کہ:

٭… ’’حضرت مسیح موعود کا حکم اور زبردست حکم ہے کہ کوئی احمدی غیر احمدی کو اپنی لڑکی نہ دے، اس کی تعمیل کرنا بھی ہر احمدی کا فرض ہے۔‘‘

(برکاتِ خلافت، مجموعہ تقاریر محمود، ص:۲۵)

٭… ’’پانچویں بات جو کہ اس زمانہ میں ہماری جماعت کے لئے نہایت ضروری ہے وہ غیر احمدی کو رشتہ دینا ہے، جو شخص غیر احمدی کو رشتہ دیتا ہے وہ یقینا حضرت مسیح موعود کو نہیں سمجھتا اور نہ یہ جانتا ہے کہ احمدیت کیا چیز ہے؟ کیا کوئی غیر احمدیوں میں ایسا بے دین ہے جو کسی ہندو یا عیسائی کو اپنی لڑکی دے دے، ان لوگوں کو تم کافر سمجھتے ہو مگر اس معاملہ میں وہ تم سے اچھے رہے کہ کافر ہوکر بھی کسی کافر کو لڑکی نہیں دیتے مگر احمدی کہلاکر کافر کو دے دیتے ہو۔‘‘

(ملائکۃ اللہ ،ص:۴۶، مصنفہ محمود)

٭… ’’صبر کرو اور اپنی جماعت کے غیر کے پیچھے نماز مت

145

پڑھو۔‘‘

(قول مرزا غلام احمد مندرجہ اخبار ’’الحکم‘‘ قادیان ۱۰/اگست ۱۹۰۱ء)

٭… ’’خدا نے مجھے اطلاع دی ہے، تمہارے پر حرام ہے اور قطعی حرام ہے کہ کسی مکفر اور مکذب یا متردد کے پیچھے نماز پڑھو، بلکہ چاہئے کہ تمہارا وہی امام ہو جو تم میں سے ہو۔‘‘

(ضمیمہ تحفۂ گولڑویہ، ص:۲۸، روحانی خزائن، ج:۱۷، ص:۶۴)

٭… ’’ہمارا یہ فرض ہے کہ غیر احمدیوں کو مسلمان نہ سمجھیں اور نہ ان کے پیچھے نماز پڑھیں، کیونکہ ہمارے نزدیک وہ خدا تعالیٰ کے ایک نبی کے منکر ہیں۔‘‘

(انوارِ خلافت ص:۹۰، از مرزا محمود بن مرزا قادیانی)

٭… ’’غیر احمدی مسلمانوں کا جنازہ پڑھنا جائز نہیں، حتی کہ غیر احمدی معصوم بچے کا بھی جائز نہیں۔‘‘

(انوارِ خلافت ۹۳، از مرزا محمود ، نیز الفضل مورخہ ۲۱/اگست ۱۹۱۷ء الفضل ۳۰/ جولائی ۱۹۳۱ء)

نیز یہ عام بات ہے کہ چودھری ظفر اللہ خان وزیر خارجہ پاکستان، قائد اعظم محمد علی جناح کی نماز جنازہ میں شریک نہیں ہوا اور الگ بیٹھا رہا۔

جب اسلامی اخبارات اور مسلمان اس چیز کو منظر عام پر لائے تو جماعت ِ احمدیہ کی طرف سے جواب دیا گیا کہ:

’’جناب چودھری محمد ظفر اللہ خان صاحب پر ایک اعتراض یہ کیا جاتا ہے کہ آپ نے قائد اعظم کا جنازہ نہیں پڑھا، تمام دنیا جانتی ہے کہ قائد اعظم احمدی نہ تھے، لہٰذا جماعت ِ احمدیہ کے کسی فرد کا ان کا جنازہ نہ پڑھنا کوئی قابلِ اعتراض بات نہیں۔‘‘

(ٹریکٹ: ۲۲، عنوان احراری علماء کی راست گوئی کا نمونہ، النا شر مہتمم نشرواشاعت نظارت دعوت و تبلیغ، صدر انجمن احمدیہ ربوہ ضلع جھنگ)

’’الگ دین، الگ امت‘‘

مرزا غلام احمد قادیانی کے سلسلہ کے تمام لوازم اور مناسبات کو دیکھتے ہوئے اس امر کا فیصلہ کرنے میں کوئی دقت نہیں ہوگی کہ وہ اپنے پیروئوں کو تمام مسلمانوں سے ایک الگ امت

146

بنانے میں کس درجہ ساعی و کوشاں ہیں، سنیئے:

٭… ’’حضرت مسیح موعود (مرزا) کے منہ سے نکلے ہوئے الفاظ میرے کانوں میں گونج رہے ہیں آپ نے فرمایا ہے کہ یہ غلط ہے کہ دوسرے لوگوں سے ہمارا اختلاف صرف وفات مسیح اور چند مسائل میں ہے۔ آپ نے فرمایا: اللہ تعالیٰ کی ذات، رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم، قرآن، نماز، روزہ،حج، زکوٰۃ غرض یہ کہ آپ نے تفصیل سے بتایا کہ ایک ایک چیز میں ان سے اختلاف ہے۔

(خطبہ مرزا محمود احمد الفضل، قادیانی، ج:۱۹، ص:۱۳)

وضاحت:

عام قادیانی مسلمانوں کو دھوکا دینے کے لئے اس بات کا اظہار کرتے ہیں کہ ہمارا مسلمانوں سے کوئی اختلاف نہیں ہے، صرف اور صرف امام مہدی سے متعلق بات ہے ہم کہتے ہیں کہ امام مہدی آگیا ہے اور مسلمان کہتے ہیں ابھی نہیں آئے، بس مگر اس مذکورہ حوالہ سے آپ سمجھ سکتے ہیں کہ قادیانی کس قدر بڑے دجال اور فریبی ہیں۔

٭… ’’مگر جس دن سے کہ تم احمدی ہوئے، تمہاری قوم تو احمدیت ہوگئی، شناخت اور امتیاز کے لئے اگر کوئی پوچھے تو اپنی ذات یا قوم بتاسکتے ہو، ورنہ اب تو تمہاری گوت، تمہاری ذات احمدی ہی ہے، پھر احمدیوں کو چھوڑ کر غیر احمدیوں میں کیوں قوم تلاش کرتے ہو؟۔‘‘

(ملائکۃ اللہ ص:۴۶/۴۷، از مرزا محمود قادیانی)

مرزائیوں کے قبرستان میں مسلمانوں کا بچہ بھی دفن نہیں ہوسکتا

٭… ’’کیونکہ غیر احمدی جب بلااستثناء کافر ہیں تو ان کے چھ ماہ کے بچے بھی کافر ہوئے اور جب وہ کافر ہوئے تو احمدی قبرستان میں ان کو کیسے دفن کیا جاسکتا ہے۔‘‘

(اخبار پیغام صلح،ج:۲۴، نمبر ۴۹، مورخہ ۳/اگست ۱۹۳۶ء)

٭… ’’کیا کوئی شیعہ راضی ہوسکتا ہے کہ اس کی پاک دامن

147

ماں ایک زانیہ کنجری کے ساتھ دفن کردی جائے اور کافر تو زنا کار سے بھی بدتر ہے (مسلمان چونکہ مرزائیوں کے نزدیک کافر ہیں، اس لئے وہ مرزائیوں کے قبرستان میں دفن نہیں ہوسکتے: مرتب)۔‘‘

(نزول المسیح، ص:۴۷، روحانی خزائن، ج:۱۸، ص:۴۲۵)

مرزا غلام احمد قادیانی اور اس کے بعض نہایت معتمد اور جماعت کے ذمہ دار لوگ از قسم مرزا بشیرالدین محمود (فرزند مرزا غلام احمد اور جماعت کے دوسرے کرتا دھرتا) کی تحریرات جو بالکل بنیادی مسائل سے تعلق رکھتی ہیں۔ بندہ نے نہایت درجہ دیانت داری کے ساتھ ان کی اصل کتابوں سے آپ کے سامنے نقل کی ہیں، اس طرح میرے آج کے بیان کی مثال یہ ہے کہ:

’’زبان میری ہے بات اُن کی‘‘

اور اس پورے بیان میں محض چند باتیں ہماری جو متفرق موضوعات کی ابتدا میں بطور تمہید کہی گئیں تاکہ برادرانِ دینی کو بات سمجھنے میں آسانی ہو۔ ہمارے بس میں ہوتا تو ہم اپنے طور پر اتنا بھی نہ کہتے لیکن اتنی جسارت محض ناگزیر ضرورت کی بنا پر کی گئی۔ اس بیان سے مقصد کسی کی دل آزاری نہیں، دل آزاری تب ہوتی ہے جب کسی پر الزام یا بہتان باندھا جائے، ہم نے تو مرزائی جماعت کے بانی اور ذمہ دار حضرات کی تحریرات کی روشنی میں یہ تمام گفتگو کی ہے۔ ظاہر ہے کہ یہ دل آزاری کے ضمن میں نہیں آتیں بلکہ اس سے دل آزاری تو خود ہماری اور ہم جیسے کروڑوں غلامانِ محمد عربی صلی اللہ علیہ وسلم کی ہوتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ان کے نقل کے وقت بھی ہمارے دل کی حالت ناگفتہ بہ تھی۔

بہرکیف آپ تمام مسلمانوں سے درخواست ہے کہ فتنہ قادیانیت سے خود بھی بچیں اور اہل علاقہ کے دین و ایمان کی حفاظت کریں۔ روزِ قیامت شفاعت محمدی کے حصول کے لئے ضروری ہے کہ آقا صلی اللہ علیہ وسلم کی ختم نبوت کا تحفظ کیا جائے۔ بات بہت لمبی ہوگئی۔ اللہ پاک ہم سب کو عمل صالح کی توفیق نصیب فرمائے۔ آمین

وآخر دعوانا ان الحمدللہ رب العالمین

148

’’عقیدہ ختم نبوت کے بیان

میں مرزائیوں سے ڈرنا ،ختم نبوت پر

ایمان نہ لانے کے مترادف ہے۔‘‘

(امیر شریعت سیّد عطاء اللہ شاہ بخاریؒ)

149

سیّدنا عیسیٰ علیہ السلام

کے متعلق موجود

نظریات اور ان کیتنقیح

150

قادیانی اور تعمیر مسجد

سوال: کیا قادیانی گروہ اپنے عبادت خانہ کو مسجد کا نام دے سکتا ہے؟ نیز یہ بھی بتائیں کہ کیا کسی قادیانی کی کمائی مسجد کی تعمیر میں لگائی جاسکتی ہے یا نہیں؟ کیا قادیانیوں کو مسجد تعمیر کرنے کا حق ہے یا نہیں؟

(سائل: ابو عمیرہ خان، کراچی)

جواب:… مسجد کی معروف ترین علامت یہ ہے کہ اس میں قبلہ رخ محراب ہو، منبر ہو ،مینار ہو ،وہاں اذان ہوتی ہو، اس لئے کسی غیر مسلم کی عبادت گاہ میں ان چیزوں کا پایا جانا اسلامی شعار کی توہین ہے۔ اس لئے ان کی عبادت گاہ کو مسجد کہنا صحیح نہیں اور جب قادیانیوں کو آئینی طور پر غیر مسلم تسلیم کیا جاچکا ہے اور ان کے اپنے آپ کو مسلمان ظاہر کرنے پر پابندی عائد کردی گئی ہے تو انہیں مسجد یا مسجد نما عبادت گاہ بنانے اور وہاں اذان و اقامت کہنے کی اجازت دینا قطعاً جائز نہیں۔

(بحوالہ آپ کے مسائل اور ان کا حل، ج:۲، ص:۱۳۳)

مسجدکی تعمیر میں رقم لگانا باعث اجرو ثواب ہے اور قادیانی مرتد و زندیق اس کے اہل نہیں، کیونکہ ان کے تمام اعمال عنداللہ غارت ہیں، اس لئے کسی قادیانی کی رقم تعمیر مسجد میں استعمال کرنا درست نہیں۔

  1. نظر ثانی

    کتبہ

  2. مفتی ابوبکر سعید الرحمن

    محمد زکریا

  3. دارالافتاء جامعہ علوم اسلامیہ علامہ بنوری ٹائون

    دارالافتاء ختم نبوت

151

بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ

اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ الَّذِیْ نَوَّرَ قُلُوْبَ الْعَارِفِیْنَ بِنُوْرِ الْاِیْمَانِ وَنَشْہُد اَنْ لَّا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ

وَحْدَہ‘ لَاشَرِیْکَ لَہ‘ وَنَشْہَدُ اَنَّ مُحَمَّداً عَبْدُہ‘ وَرَسُوْلُہ‘ ، اَمَّا بَعْدُ

فاعوذباللّٰہ من الشیطان الرجیم

بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ

’’فَبِمَا نَقْضِہِمْ مِیْثَاقَہُمْ وَکُفْرِہِمْ بِاٰیٰتِ اللّٰہِ وَقَتْلِہِمِ الْاَنْبِیَائَ بِغَیْرِ حَقٍّ وَّقَوْلِہِمْ قُلُوْبُنَا غُلْفٌ، بَلْ طَبَعَ اللّٰہُ عَلَیْہَا بِکُفْرِہِمْ فَلاَ یُؤْمِنُوْنَ اِلَّا قَلِیلْاًO وَّبِکُفْرِہِمْ وَقَوْلِہِمْ عَلٰی مَرْیَمَ بُہْتَانًا عَظِیْمًاO وَقَوْلِہِمْ اِنَّا قَتَلْنَا الْمَسِیْحَ عِیْسیٰ ابْنَ مَرْیَمَ رَسُوْلَ اللّٰہِ، وَمَا قَتَلُوْہُ وَمَا صَلَبُوْہُ وَلٰکِنْ ُشبِّہَ لَہُمْ، وَاِنَّ الَّذِیْنَ اخْتَلَفُوْا فِیْہِ لَفِیْ شَکٍّ مِّنْہُ، مَالَہُمْ بِہٖ مِنْ عِلْمٍ اِلَّااتِّبَاعَ الظَّنِّ، وَمَا قَتَلُوْہُ یَقِیْنًاO بَل رَّفَعَہُ اللّٰہُ اِلَیْہِ ، وَکَانَ اللّٰہُ عَزِیْزاً حَکِیْمًاO وَاِنْ مِّنْ اَہْلِ الْکِتٰبِ اِلَّا لَیُؤْمِنَنَّ بِہٖ قَبْلَ مَوْتِہٖ وَیَوْمَ الْقِیٰمَۃِ یَکُوْنُ عَلَیْہِمْ شَہِیْدًا O (النساء: ۱۵۵تا ۱۵۹)

عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ رَضِیَ اللّٰہَ عَنْہُ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ۔وَالَّذِیْ نَفْسِیْ بِیَدِہٖ لَیُوْشِکَنَّ اَنْ یَّنْزِلَ فِیْکُمْ اِبْنُ مَرْیَمَ حَکَماً عَدَلًا فَیَکْسِرُ الصَّلِیْبَ وَیَقْتُلُ الْخِنْزِیْرَ وَیَضَعُ الْجِزْیَۃَ وَیَفِیْضُ الْمَالَ حَتّٰی لَا یَقْبَلَہ‘ اَحَدٌ حَتّٰی تَکُوْنَ
152

السَّجْدَۃُ الْوَاحِدَۃُ خَیْراً مِّنَ الدُّنْیَا وَمَافِیْہَا ثُمَّ یَقُوْلُ اَبُوْ ھُرَیْرَۃَ فَاقْرَؤُوْا اِنْ شِئْتُمْ: وَاِنْ مِّنْ اَہْلِ الْکِتَابِ اِلَّا لَیُؤْمِنَنَّ بِہٖ قَبْلَ مَوْتِہٖ الایۃ: متفق علیہ۔ (مشکوٰۃ ،ص:۴۷۹، باب نزول عیسیٰ علیہ السلام)

صدق اللّٰہ العظیم وصدق رسولہ النبی الکریم

  1. کچھ اہل ستم کچھ اہل ہشم اسلام کو ڈھانے آئے تھے

    دہلیز کو چوم کے چھوڑ گئے سوچا کہ یہ پتھر بھاری ہے

  2. زخموں سے بدن چور سہی تم اپنے شکستہ تیر گنو

    خود ترکش والے کہہ دیں گے یہ بازی کس نے ہاری ہے

اربابِ علم و دانش، بزرگان ملت، نوجوانانِ اسلام آپ کی خدمت میں اس وقت سورئہ نساء کی چند آیات مبارکہ اور پاک پیغمبر حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشادات گرامی میں سے ایک حدیث پاک تلاوت کی ہے، آج کی تقریر کا عنوان سیّدنا عیسیٰ علیہ السلام سے متعلق پائے جانے والے نظریات کی وضاحت اور اسلامی نقطہ نظر کی تشریح کرنا ہے، آیت مبارکہ کا ترجمہ اور مختصر سی تشریح سماعت فرمائیں۔

ترجمہ آیت: ’’ان کو (یہود و نصاریٰ) جو سزا ملی سو ان کی عہد شکنی پر اور منکر ہونے پر اللہ کی آیات سے اور خون کرنے پر پیغمبروں کا ناحق اور اس کہنے پر کہ ہمارے دل پر غلاف ہے سو یہ نہیں بلکہ اللہ نے مہر کردی ان کے دل پر کفر کے سبب سو ایمان نہیں لائے مگر کم اور ان کے کفر پر اور مریم پر بڑا طوفان باندھنے پر، اور ان کے اس کہنے پر کہ ہم نے قتل کیا مسیح عیسیٰ مریم کے بیٹے کو جو رسول تھا اللہ کا اور انہوں نے نہ اس کو مارا اور نہ سولی پر چڑھایا لیکن وہی صورت بن گئی اور ان کے آگے اور جو لوگ اس میں مختلف باتیں کرتے ہیں تو وہ لوگ اس جگہ شبہ میں پڑے ہوئے ہیں کچھ نہیں ان کو اس کی خبر صرف اٹکل پر چل رہے ہیں اور اس کو قتل نہیں کیا بے شک بلکہ اس کو اٹھالیا اللہ نے اپنی طرف اور اللہ ہے زبردست حکمت والا۔‘‘

اور جتنے فرقے ہیں اہل کتاب کے سو عیسیٰ پر یقین لاویں گے اس کی موت سے پہلے اور

153

قیامت کے دن ہوگا ان پر گواہ۔

یعنی یہود نے اس عہد کو توڑ دیا تو حق تعالیٰ نے ان کو اس عہد شکنی پر اور آیاتِ الٰہی سے منکر ہونے پر اور انبیاء علیہم السلام کے ناحق قتل کرنے پر اور ان کے اس کہنے پر کہ ہمارے دل تو غلاف میں ہیں، ان پر سخت سے سخت عذاب مسلط فرمائے۔ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہودیوں کو ہدایت کی تو کہنے لگے ہمارے دل پردہ میں ہیں تمہاری بات وہاں تک پہنچ نہیں سکتی۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ یہ بات نہیں بلکہ کفر کے سبب ان کے دلوں پر اللہ نے مہر لگادی ہے جس کے باعث ان کو ایمان نصیب نہیں ہوسکتا مگر تھوڑے لوگ اس سے مستثنیٰ ہیں، جیسے حضرت عبداللہ بن سلام اور ان کے ساتھی۔

نیز اس وجہ سے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام سے منکر ہوکر دوسرا کفر کمایا اور حضرت مریم پر طوفان عظیم باندھا اور ان کے اس قول پر کہ فخر سے کہتے تھے ہم نے مار ڈالا عیسیٰ مریم کے بیٹے کو جو رسول اللہ تھا، ان تمام وجوہ سے یہود پر عذاب اور مصیبتیں نازل ہوئیں۔

اللہ تعالیٰ ان کے قول کی تکذیب فرماتا ہے کہ یہودیوں نے نہ عیسیٰ علیہ السلام کو قتل کیا نہ سولی پر چڑھایا، یہود جو مختلف باتیں اس بارہ میں کہتے ہیں، اپنی اپنی اٹکل سے کہتے ہیں، اللہ نے ان کو شبہ میں ڈال دیا، خبر کسی کو بھی نہیں، واقعی بات یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ سب چیزوں پر قادر ہے اور اس کے ہر کام میں حکمت ہے۔

قصہ یہ ہوا کہ جب یہودیوں نے حضرت مسیح کے قتل کا عزم کیا تو پہلے ایک آدمی ان کے گھر میں داخل ہوا، حق تعالیٰ نے ان کو تو آسمان پر اٹھالیا اور اس شخص کی صورت حضرت مسیح علیہ السلام کی صورت کے مشابہ کردی، جب باقی لوگ گھر میں گھسے تو اس کو مسیح سمجھ کر قتل کردیا، پھر خیال آیا تو کہنے لگے کہ اس کا چہرہ تو مسیح کے چہرہ کے مشابہ ہے اور باقی بدن ہمارے ساتھی کا معلوم ہوتا ہے، کسی نے کہا یہ مقتول مسیح ہے تو ہمارا آدمی کہاں گیا اور ہمارا آدمی ہے تو مسیح کہاں ہے، اب صرف اٹکل سے کسی نے کچھ کہا، کسی نے کچھ کہا۔ علم کسی کو بھی نہیں، حق یہی ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام ہرگز مقتول نہیں ہوئے، بلکہ آسمان پر اللہ نے اٹھالیا اور یہود کو شبہ میں ڈال دیا۔

حضرت عیسیٰ علیہ السلام زندہ موجود ہیں آسمان پر، جب دجال پیدا ہوگا تب اس جہان میں تشریف لاکر اسے قتل کریں گے اور یہود و نصاریٰ ان پر ایمان لائیں گے کہ بے شک عیسیٰ زندہ

154

ہیں، مرے نہ تھے اور قیامت کے دن حضرت عیسیٰ علیہ السلام ان کے حالات اور اعمال کو ظاہر کریں گے کہ یہود نے میری تکذیب اور مخالفت کی اور نصاریٰ نے مجھ کو خدا کا بیٹاکہا۔

آیت کی مختصر تشریح سماعت فرمانے کے بعد حدیث پاک کا ترجمہ سنئے، جناب سیّدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ ارشاد فرماتے ہیں، حضور سرور کائنات خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: قسم ہے مجھے اس ذات کی جس کے قبضہ میں میری جان ہے۔ بے شک عنقریب تم میں عیسیٰ بن مریم نازل ہوں گے، اس حال میں کہ وہ فیصلہ کرنے والے اور انصاف کرنے والے ہوں گے، صلیب کو توڑیں گے اور خنزیر کو قتل کریں گے اور جزیہ کو ختم کردیں گے، مال کو بہادیں گے، یہاں تک کہ مال کو قبول کرنے والا کوئی نہ ملے گا اور ایک سجدہ دنیا اور مافیہا سے بہتر ہوگا، پھر حضرت ابو ہریرہؓ یہ فرماتے ہیں کہ اگر تم چاہو تو اس حدیث کی تصدیق کے لئے یہ آیت پڑھو: ’’وان من اہل الکتاب الا لیومنن بہٖ قبل موتہٖ ویوم القیامۃ یکون علیہم شہیدا۔‘‘

  1. تم ایسا کرنا کوئی جگنو کوئی ستارہ سنبھال کر رکھنا

    میرے اندھیروں کی فکر چھوڑو بس اپنے گھر کا خیال رکھنا

سامعین محترم! آیات و احادیث کا ترجمہ اور مختصر تشریح سماعت فرمانے کے بعد عرض ہے کہ جیسے ایک مسلمان کے لئے باری تعالیٰ کی توحید پر ایمان لانا، اسلام کے بنیادی اور اساسی عقائد میں سے ہے، اسی طرح عقیدئہ ختم نبوت اور باقی وہ تمام عقائد جو ضروریات دین کے زمرہ میں آتے ہیں، ان سب کو جاننا، ماننا قلب و جان سے تسلیم کرنا ضروری ہے، اسی طرح حیات عیسیٰ علیہ السلام اور ان کے رفع و نزول کا عقیدہ بھی اسلام کے بنیادی عقائد اور ضروریات دین میں شامل ہے جو قرآن کریم کی نصوص قطعیہ، احادیث متواترہ اور اجماع امت سے ثابت ہے اور جس کو علمأ امت نے کتب تفسیر، شروح احادیث اور کتب علم کلام میں مکمل توضیحات و تشریحات کے ساتھ منقح فرمادیا ہے۔ آج کی اس نشست میں جناب سیّدنا عیسیٰ علیہ السلام سے متعلق اس وقت کتنے قسم کے نظریات پائے جاتے ہیں ، وہ عرض کرکے اسلام کا نقطہ نظر جو قرآن و سنت اور اجماع امت کے اعتبار سے مکمل طور پر درست ہے، وہ عرض کرنا ہے، چنانچہ :

155

حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے بارے میں اسلامی عقیدہ:

حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے متعلق اسلامی عقیدہ یہ ہے کہ وہ حضرت مریم سلام اللہ علیہا کے بطن مبارک سے محض نفخہ جبرائیل سے پیدا ہوئے، پھر بنی اسرائیل کے آخری نبی بن کر مبعوث ہوئے، یہود نے ان سے بغض و عداوت کا معاملہ کیا، آخر کار جب ایک موقع پر ان کے قتل کی مذموم کوشش کی تو بحکم خداوندی، فرشتے ان کو اٹھاکر زندہ سلامت آسمان پر لے گئے اور اللہ تعالیٰ نے ان کو طویل عمر عطا فرمادی اور قرب قیامت میں جب دجال کا ظہور ہوگا اور وہ دنیا میں فتنہ وفساد پھیلائے گا، تو حضرت عیسیٰ علیہ السلام دوبارہ قیامت کی ایک بڑی علامت کے طور پر نازل ہوں گے اور دجال کو قتل کریں گے۔ دنیا میں آپ کا نزول ایک امام عادل کی حیثیت سے ہوگا اور اس امت میں آپ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے خلیفہ ہوں گے، اور قرآن و حدیث (اسلامی شریعت) پر خود بھی عمل کریں گے اور لوگوں کو بھی اس پر چلائیں گے۔ ان کے زمانہ میں (جو اس امت کا آخری دور ہوگا) اسلام کے سوا دنیا کے تمام مذاہب مٹ جائیں گے اور دنیا میں کوئی کافر نہیں رہے گا، اس لئے جہاد کا حکم موقوف ہوجائے گا، نہ خراج وصول کیا جائے گا اور نہ جزیہ، مال و زر اتنا عام ہوگا کہ کوئی دوسرے سے قبول نہیں کرے گا۔ نزول کے بعد حضرت عیسیٰ علیہ السلام نکاح بھی فرمائیں گے اور ان کی اولاد بھی ہوگی‘ پھر حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی وفات ہوجائے گی اور مسلمان آپ کی نماز جنازہ پڑھ کر حضور اقد س صلی اللہ علیہ وسلم کے روضہ اقدس میں دفن کردیں گے۔ یہ تمام امور احادیث صحیحہ متواترہ میں پوری وضاحت کے ساتھ بیان کئے گئے ہیں، جن کی تعداد ایک سو سے متجاوز ہے ۔ اگر آپ علمی اور مناظرانہ ذوق رکھتے ہوں تو مزید تفصیلات دیکھنے کے لئے حضرت مولانا سیّد محمد انور شاہ کشمیریؒ کی کتاب ’’التصریح بما تواتر فی نزول المسیح‘‘ کا مطالعہ فرمائیں انشاء اللہ نفع ہوگا۔

اسلامی عقیدہ کے اہم اجزأ یہ ہیں:

۱:… حضرت عیسیٰ علیہ السلام اللہ تعالیٰ کے بندے اور اس کے رسول ہیں اور وہی مسیح ہدایت ہیں، جن کی بشارت کتب سابقہ میں دی گئی ہے، وہ سچے نبی کی حیثیت سے ایک مرتبہ دنیا میں مبعوث ہوچکے ہیں۔

۲:… یہود بے بہبود کے ناپاک اور گندے ہاتھوں سے ہر طرح محفوظ رہے۔

156

۳:… زندہ بجسد عنصری آسمان پر اٹھالئے گئے۔

۴:… وہاں بقید حیات موجود ہیں۔

۵:… قیامت سے پہلے اس کی ایک بڑی علامت کے طور پر بعینہٖ وہی مسیح ہدایت (حضرت عیسیٰ بن مریمؑ) نزول فرماکر مسیح ضلالت (دجال) کو قتل کریں گے، ان سے الگ کوئی اور شخص ان کی جگہ مسیح کے نام سے دنیا میں نہیں آئے گا۔اسلامی نقطۂ نظر سماعت فرمانے کے بعد اب آیئے دیکھتے ہیں کہ:

سیدنا عیسیٰ علیہ السلام کے متعلق یہودیوں کا نقطہ نظر کیا ہے؟:

یہودیوں کا عقیدہ یہ ہے کہ مسیح ہدایت ابھی نہیں آیا، اور عیسیٰ بن مریم ؑ نامی جس شخص نے اپنے آپ کو مسیح اور رسول اللہ کہا ہے (نعوذباللہ) وہ جادو گر اور جھوٹا دعویٰ نبوت کرنے والا تھا، اسی لئے یہودیوں نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام سے بغض و عداوت کا معاملہ کیا اور ان کو قتل کرنے اور سولی پر چڑھانے کا منصوبہ بنایا، بلکہ ان کے بقول یہ منصوبہ پایہ تکمیل کو پہنچادیا، جیسا کہ ارشاد ہے:

’’وَقَوْلِہِمْ اِنَّا قَتَلْنَا الْمَسِیْحَ عِیْسیٰ ابْنَ مَرْیَمَ رَسُوْلَ اللّٰہ‘‘

(النساء: ۱۵۷)

ترجمہ: ’’اور ان کے اس کہنے پر کہ ہم نے قتل کیا مسیح عیسیٰ مریم کے بیٹے کو جو رسول تھا اللہ کا۔‘‘ (ترجمہ شیخ الہندؒ)

توجہ فرمایئے! دعویٰ قتل عیسیٰ بن مریم میں تو تمام یہود متفق ہیں، البتہ ان میں ایک فرقہ یہ کہتا ہے کہ قتل کئے جانے کے بعد اہانت اور تشہیر کے لئے عیسیٰ علیہ السلام کو سولی پر لٹکایا گیا، اور دوسرا فریق کہتا ہے کہ سولی پر چار میخ کئے جانے کے بعد عیسیٰ علیہ السلام کو قتل کیا گیا۔

سیدنا عیسیٰ علیہ السلام کے متعلق مسیحی نقطئہ نظر کیا ہے سماعت فرمائیں:

اور نصاریٰ کا متفقہ عقیدہ ہے کہ مسیح ہدایت آچکے ہیں اور وہ حضرت عیسیٰ بن مریمؑ ہیں، اس کے بعد ان میں دو فرقے بن گئے:

۱:… ایک بڑا فرقہ یہ کہتا ہے کہ ان کو یہود نے قتل کیا، سولی پر چڑھایا ، پھر اللہ تعالیٰ نے زندہ کرکے ان کو آسمان پر اٹھالیا، اور سولی پر چڑھایا جانا عیسائیوں کے گناہوں کا کفارہ ہوگیا، اسی لئے

157

عیسائی صلیب کی پوجا کرتے ہیں۔

۲:… دوسرا فرقہ یہ کہتا ہے کہ بغیر قتل و صلب کے اللہ تعالیٰ نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو آسمان پر اٹھالیا۔

پھر یہ دونوں فرقے بالاتفاق اس بات کے قائل ہیں کہ مسیح ہدایت عین قیامت کے دن جسم ناسوتی یا جسم لاہوتی میں، خدا بن کر آئیں گے، اور مخلوق کا حساب لیں گے۔

حاصل یہ کہ تمام یہود اور نصاریٰ کی بڑی اکثریت حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی موت الصلیب کی قائل ہے، اور یہود و تمام نصاریٰ کو ایک مسیح ہدایت کا انتظار ہے، یہود کو تو اس وجہ سے کہ ابھی یہ پیشنگوئی پوری نہیں ہوئی، اور نصاریٰ کو اس لئے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام قیامت کے دن برائے فیصلہ خلائق خدا کی شکل میں آنے والے ہیں۔

(محاضرہ علمیہ نمبر ۴ ص ۴)

اب میں آپ کے سامنے امت مسلمہ کے اجماعی اور اتفاقی عقیدہ میں بگاڑ ڈالنے والے اور امت مسلمہ کو سیّدنا عیسیٰ علیہ السلام سے متعلق شکوک و شبہات میںمبتلا کرنے والے مرزا غلام احمد قادیانی کا نظریہ بتانا چاہوں گا کہ اس نے چودہ صدیوں کے اکابر، مجددین ملت کو چھوڑ کر ایک نیا اور من گھڑت نظریہ ایجاد کیا اور امت کو راہ استقامت سے راہ ضلالت پر ڈال دیا، چنانچہ:

حضرت عیسیٰ ؑ کے متعلق قادیانی عقائد:

مرزا قادیانی نے کتب ’’ازالہ اوہام، تحفہ گولڑویہ، نزول مسیح اور حقیقت الوحی‘‘ وغیرہ میں جو کچھ لکھا ہے، اس کا خلاصہ مرزا بشیر احمد ایم اے قادیانی نے اپنی کتاب ’’حقیقی اسلام‘‘ میں تحریر کیا ہے، چنانچہ وہ لکھتا ہے کہ:

’’اس بحث کے دوران میں (مرزا قادیانی) نے مندرجہ ذیل اہم مسائل پر نہایت زبردست روشنی ڈالی۔

۱:… یہ کہ حضرت مسیح ناصری دوسرے انسانوں کی طرح ایک انسان تھے جو دشمنوں کی شرارت سے صلیب پر ضرور چڑھائے گئے مگر اللہ تعالیٰ نے ان کو اس لعنتی موت سے بچالیا، اس کے بعد وہ خفیہ خفیہ اپنے ملک سے ہجرت کرگئے۔

۲:… اپنے ملک سے نکل کر حضرت مسیح آہستہ آہستہ سفر کرتے

158

ہوئے کشمیر میں پہنچے اور وہیں ان کی وفات ہوئی (۸۷ برس کے بعد) اور وہیں ان کی قبر (سری نگر کے محلہ خانیار میں، ناقل) موجود ہے۔

۳:… کوئی فرد بشر اس جسم عنصری کے ساتھ آسمان پر نہیں جاسکتا، اس لئے مسیح کے زندہ آسمان پر چلے جانے کا خیال بھی باطل ہے۔

۴:… بے شک مسیح کی آمدِ ثانی کا وعدہ تھا مگر اس سے مراد ایک مثیل مسیح کا آنا تھا نہ کہ خود مسیح کا۔

۵:… یہ کہ مثیل مسیح کی بعثت کا وعدہ خود آپ (مرزا قادیانی) کے وجود میںپورا کیا گیا، اور آپ ہی وہ مسیح موعود ہیں جس کے ہاتھ پر دنیا میں حق صداقت کی آخری فتح مقدر ہے ، خود مرزا غلام احمد قادیانی نے قسم کھاکر لکھا ہے:

’’میں وہی مسیح موعود ہوں جس کی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان احادیث صحیحہ میں خبردی ہے جو صحیح بخاری اور مسلم اور دوسری صحاح میں درج ہیں۔ وکفیٰ باللہ شھیداً۔‘‘

(حقیقی اسلام ص:۲۹،۳۰)

حاصل گفتگو اور خلاصۂ کلام یہ ہے کہ سیّدنا عیسیٰ علیہ السلام سے متعلق پائے جانے والے چار نظریات میں سے تین نظریات یہودی نظریہ، عیسائی نظریہ، قادیانی نظریہ ، قرآن و سنت اور اجماع امت کے آئینہ میں بالکل غلط، باطل اور کفر پر مبنی ہیں، صرف اور صرف اسلام کا نقطۂ نظر اور عقیدہ کامل طور پر حقائق اور دلائل و براہین پر مبنی ہے۔

رب کریم ہم سب مسلمانوں کی فتنہ قادیانیت سے حفاظت فرمائے اور عقائد اسلامی پر مضبوطی سے کاربند ہونے کی توفیق نصیب فرمائے۔آمین۔

  1. حق پر رہ ثابت قدم باطل کا شیدائی نہ بن

    گر تجھے ایمان پیارا ہے تو مرزائی نہ بن

واٰخر دعوانا ان الحمدللّٰہ رب العالمین

159

حضرت مہدی علیہ الرضوان

کی شناخت

قادیانیوں کے ساتھ تعلق رکھنا اور ان کے ساتھ کھانا پینا کیوں ناجائز ہے؟

س:…مجھے قادیانیوں کے بارے میں پتا نہیں ہے‘ اس لئے میں یہ پوچھنا چاہتی ہوں کہ ایسی کون سی بات ہے‘ جس کی وجہ سے آپ نے انہیں غیرمسلموں سے زیادہ بُرا قرار دیا ہے؟ کیونکہ میں نے جہاں تک سنا ہے کہ قادیانی کلمہ گو ہوتے ہیں‘ آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے دور میں غیرمسلموں کے ساتھ آپؐ اچھے طریقے سے برتائو کرتے تھے‘ ان کے مسائل حل کرتے تھے‘پھر یہ فرق کیسا؟

ج:… میری بیٹی! آپ نے بہت اچھا سوال کیا ہے‘ اور اچھا کیا کہ قادیانیوں کے بارہ میں پوچھ لیا۔ میری بیٹی! قادیانی اور دوسرے کافروں میں فرق ہے اور اسی فرق کی بنا پر دوسرے کافروں کے ساتھ میل ملاپ اور ضروری تعلقات کی اجازت ہے اور قادیانیوں کے ساتھ ایسے کسی تعلق کی اجازت نہیں ہے۔ میری بیٹی! قادیانی کلمہ گو نہیں ہیں‘ بلکہ یہ مرتد و زندیق ہیں‘ مرتد وہ ہوتا ہے جو اسلام کو ترک کرکے کوئی دوسرا مذہب اختیار کرلے اور زندیق وہ ہوتا ہے جو اپنے کفریہ عقائد کو اسلام کا نام دے‘ لہٰذا یہ لوگ اسلام کے باغی ہیں‘ اور جس طرح کسی ملک کا باغی کسی رو رعایت کا مستحق نہیں ہوتا بلکہ جو لوگ ان باغیوں کے ساتھ میل جول رکھیں وہ بھی قابل گرفت ہوتے ہیں‘ ٹھیک اسی طرح چونکہ قادیانی بھی زندیق و مرتد ہیں تو اسلامی تعلیمات کی رو سے کسی رو رعایت اور میل ملاپ کے مستحق نہیں‘ چنانچہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یہود و نصاریٰ کے ساتھ تعلق رکھا اور معاہدہ بھی کیا‘ مگر مدعیانِ نبوت اسود عنسی اور مسیلمہ کذاب کے ساتھ نہ صرف تعلقات کو ناجائز قرار دیا‘ بلکہ حضرت فیروز دیلمیؓ کے ذریعہ اسود عنسی کا کام تمام کرایا اور مسیلمہ کذاب کو حضرت صدیق اکبر رضی اللہ عنہ نے ٹھکانے لگایا۔ اس لئے کہ دوسرے کافر اپنے کفر کا اعتراف کرتے ہیں اور اپنے آپ کو غیرمسلم اور مسلمانوں سے الگ قرار دیتے ہیں‘ جبکہ قادیانی اپنے عقائد پر ملمع سازی کرکے مسلمانوں کو دھوکا دیتے ہیں اور ان ہر دو کی مثال ایسی ہے جیسے ایک شخص خنزیر کا گوشت سور کا گوشت کہہ کر بیچتا ہے اور دوسرا خنزیر کے گوشت کو بکری کا گوشت کہہ کر بیچتا ہے‘ تو آپ ہی بتلائیں کہ خنزیر کے گوشت کو بکری کا گوشت کہہ کر بیچنے والا دھوکا باز ہے؟ اس سے مسلمان متاثر ہوں گے‘ لہٰذا اگر قادیانی بھی اپنے آپ کو یہودیوں اور عیسائیوں کی طرح مسلمانوں سے الگ کاسٹ کیا کریں تو مسلمان ان سے تعرض نہیں کریں گے‘ لیکن جب تک وہ مسلمانوں کو دھوکا دیتے رہیں گے‘ مسلمان ان کی منافقت کو طشت ازبام کرتے رہیں گے۔

مولانا سعید احمد جلال پوری شہید

161

اَلْحَمْدُلِلّٰہِ کَفٰی وَسَلاَمٌ عَلٰی عِبَادِہٖ الَّذِیٰنَ اصْطَفٰی خُصُوْصاً عَلٰی سَیِّدِ الرُّسُلِ

وَخَاتَمِ الْاَنْبِیَائِ اَلَّذِیْ لَا رَسُوْلَ بَعْدَہ‘ وَلَا نَبِیَّ وَمَنْ ادَّعیٰ فَقَدْ شَقٰی وَغَویٰ اَمَّابَعْدُ

فاعوذباللّٰہ من الشیطان الرجیم

بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ

قَالَ اللّٰہُ تَبَارَکَ وَتَعَالیٰ:

’’یَا اَیُُّہَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا اَطِیْعُوْا اللّٰہَ وَاَطِیْعُوْا الرَّسُوْلَ وَاُولِی الْاَمْرِمِنْکُمْ فَاِنْ تَنَازَعْتُمْ فِیْ شَیٍْٔ فَرُدُّوْہُ اِلَی اللّٰہِ وَالرَّسُوْلِ‘‘ (النساء:۵۹)

’’عَنْ عَلِیٍّؓ اَنَّ النَّبِیَّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَالَ لَوْلَمْ یَبْْقَ مِنَ الدَّھْرِ اِلاَّ یَوْمٌ لَبَعَثَ اللّٰہُ رَجُلاً مِّنْ اَہْلِ بَیْتِیْ یَمْلَأ ہَا عَدَلاًکَمَا مُلِئَتْ جَوْراً۔‘‘ (ابو دائود، ص:۲۳۲، ج:۲ کتاب المہدی)
قَالَ النَّبِیُّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ:
’’فَاعْقِلُوْا اَیُّہَا النَّاسُ قَوْلِیْ فَاِنِّیْ قَدْ بَلَّغْتُ وَقَدْ تَرَکْتُ فِیْکُمْ، اَیُّہَا النَّاسُ! مَا اِنْ اعْتَصَمْتُمْ بِہٖ فَلَنْ تَضِلُّوْا اَبَداً کِتَابُ اللّٰہِ وَسُنَّۃُ نَبِیِّہٖ۔‘‘ (کتاب السنہ لحمد بن نصرالمروزی، ص:۲۱)

صَدَقَ اللّٰہُ الْعَظِیْمُ وَصَدَقَ رَسُوْلُہ‘ النَّبِیُّ الْکَرِیْمُ

حاضرین مجلس، قابل صد عزو شرف، سامعین گرامی!آج کی تقریر کا عنوان امام مہدی علیہ الرضوان کے متعلق اسلامی نقطہ نظر کی وضاحت کرنا ہے۔

حضرت مہدی علیہ الرضوان کے ظہور کا عقیدہ اسلامی عقائد و نظریات میں سے ایک اہم

162

اور بنیادی عقیدہ ہے، جس پر ایمان اور یقین رکھنا ایک مسلمان کے لئے لازمی اور ضروری ہے، چنانچہ اللہ تبارک و تعالیٰ کلام مجید فرقان حمید میں ارشاد فرماتے ہیں:

’’یَا اَیُُّہَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا اَطِیْعُوْا اللّٰہَ وَاَطِیْعُوْا الرَّسُوْلَ وَاُولِی الْاَمْرِمِنْکُمْ فَاِنْ تَنَازَعْتُمْ فِیْ شَیٍْٔ فَرُدُّوْہُ اِلَی اللّٰہِ وَالرَّسُوْلِ۔‘‘ (سورئہ نساء:۵۹)

ترجمہ:’’ اے ایمان والو! حکم مانو اللہ کا اور حکم مانو رسول کا اور حاکموں کا جو تم میں سے ہوں، پھر اگر جھگڑ پڑو کسی چیز میں تو اس کو رجوع کرو طرف اللہ کے اور رسول کے۔‘‘ (شیخ الہندؒ)

جو احادیث تلاوت کی گئی ہیں، ان میں سے ایک حدیث پاک میں آقا دو جہاں امام الانبیاء حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ :اگر زمانہ کا ایک دن بھی باقی ہوگا تو اللہ تعالیٰ ایک آدمی میرے اہل بیت سے پیدا فرمائیں گے جو زمین کو عدل و انصاف سے بھردے گا، جس طرح کہ وہ پہلے ظلم سے بھرچکی ہوگی۔

دوسری حدیث پاک میں حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:’’اے لوگو! میری بات کو سمجھو میں نے تمہیں دین کی باتیں پہنچادی ہیں اور ایسی چیزیں تمہارے اندر چھوڑی ہیں کہ اگر تم ان کو مضبوطی سے پکڑوگے تو گمراہ نہیں ہوگے۔ ایک کتاب اللہ اور دوسری اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت ۔‘‘

حضرات گرامی قدر! قرآن کریم کی اس آیت اور حدیث پاک کی روشنی میں یہ بات واضح ہوتی ہے کہ کامیابی و کامرانی اور بارگاہ الٰہی میں سرخ رو ہونے کے لئے قرآن کریم اور سنت رسول کو مضبوطی سے تھامنا ضروری ہے، اس کے بغیر بات نہیں بنے گی، چنانچہ اگر کسی مسئلہ میں حدود شرعیہ میں رہتے ہوئے اختلاف رائے ہو جائے تو قرآن کریم اور سنت رسول سے اس مسئلہ میں رائے اور مدد لی جائے، نہ یہ کہ اپنی ذاتی رائے کو حکم اور دلیل بنایا جائے، قرآن کریم اور سنت نبوی دونوں سرچشمے راہِ ہدایت پر گامزن کریں گے۔

163

حاصل کلام یہ ہوا کہ حضرت مہدی علیہ الرضوان کے تعارف کے لئے احادیث طیبہ کی روشنی میں جو معلومات حاصل ہوں گی وہ صحیح اور اسلامی ہوں گی۔ چنانچہ احادیث کی روشنی میں سیدنا مہدی علیہ الرضوان کے ظہور کی مندرجہ ذیل شناخت اور علامات بیان کی گئی ہیں:

۱:…حضرت فاطمہؓ کی اولاد سے ہوں گے، ۲:…مدینہ طیبہ کے اندر پیدا ہوں گے، ۳:… والد کا نام عبداللہ ہوگا، ۴:… ان کا اپنا نام محمد ہوگا اور لقب مہدی، ۵:…چالیس سال کی عمر میں ان کو مکہ مکرمہ حرم کعبہ میں شام کے چالیس ابدالوں کی جماعت پہچانے گی، ۶:… وہ کئی لڑائیوں میں مسلمان فوجوں کی قیادت کریں گے، ۷:… شام جامع مسجد دمشق میں پہنچیں گے، تو وہاں سیدنا عیسیٰ علیہ السلام کا نزول ہوگا، ۸:…حضرت عیسیٰ علیہ السلام نزول کے بعد پہلی نماز حضرت مہدی علیہ الرضوان کے پیچھے ادا کریں گے، ۹:… حضرت مہدی علیہ الرضوان کی کل عمر ۴۹ سال ہوگی، ۱۰:…چالیس سال کی عمر کے بعد خلیفہ بنیں گے ،۱۱:… سات سال خلیفہ رہیں گے، ۱۲:…دو سال حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی نیابت میں رہیں گے، ۴۹ سال کی عمر میں وفات پائیں گے، ۱۳:… ثم یموت ویصلی علیہ المسلمون (مشکوٰۃ:۴۱۷) پھر ان کی وفات ہوگی اور مسلمان ان کی نماز جنازہ ادا کریں گے۔ تدفین کے مقام کے متعلق احادیث میں صراحت نہیں، البتہ بعض حضرات نے بیت المقدس میں تدفین لکھی ہے۔

تفصیلات کے لئے شیخ الاسلام حضرت مولانا سید حسین احمد مدنی ؒ کا رسالہ ’’الخلیفۃ المہدی فی الاحادیث الصحیحہ‘‘ اور محدث کبیر مولانا بدر عالم میرٹھی ؒ کا رسالہ ’’الامام المہدی‘‘ ترجمان السنۃ ج ۴ مشمولہ احتساب قادیانیت جلد چہارم ، اسی طرح حضرت مولانا مفتی نظام الدین شامزیؒ کی کتاب عقیدہ ظہور مہدی علیہ الرضوان قابل دید ہیں۔

اور محدث کبیر مولانا بدر عالم میرٹھی ؒ کا رسالہ ’’الامام المہدی‘‘ ترجمان السنۃ ج ۴ مشمولہ احتساب قادیانیت جلد چہارم ، اسی طرح حضرت مولانا مفتی نظام الدین شامزیؒ کی کتاب عقیدہ ظہور مہدی علیہ الرضوان قابل دید ہیں۔

جیسے علامات قیامت میں حضرت سیّدنا عیسیٰ علیہ السلام کا آسمان سے دوبارہ نازل ہونا، امام مہدی علیہ الرضوان کا ظہور یہ علامتیں ہیں، اسی طرح دجال کے فتنہ کا خروج بھی قیامت کی بڑی علامتوں میں سے ایک علامت ہے، اس لئے فتنہ دجال سے متعلق بھی آپ کو معلومات ہونا

164

ضروری ہیں ، اس لئے کہ حضور سرور کائنات صلی اللہ علیہ وسلم نے احادیث طیبہ میں جہاں اور دعائیں سکھانے کا اہتمام کیا، وہاں پر دجال کے فتنے سے پناہ مانگنے کی بھی واضح الفاظ میں تاکید کی ہے، لہٰذا حضور سرور دو عالم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:’’الہم انی اعوذبک من فتنۃ المسیح الدجال‘‘ ...رب کریم میں آپ سے دجال کے فتنہ عظمیٰ سے پناہ مانگتا ہوں، مجھے اس فتنے سے محفوظ فرما...

دجال کا خروج:

۱:… اسلامی تعلیمات اور احادیث کی روشنی میں دجال ایک شخص (متعین) کا نام ہے، جس کی فتنہ پردازیوں سے تمام انبیأ علیہم السلام اپنی امتوں کو ڈراتے آئے ہیں۔ گویا دجال ایک ایسا خطرناک فتنہ پرور ہوگا جس کی خوفناک خدا دشمنی پر تمام انبیأ علیہم السلام کا اجماع ہے۔

۲:…وہ عراق و شام کے درمیانی راستہ سے خروج کرے گا۔

۳:…تمام دنیا کو فتنہ و فساد میں مبتلا کردے گا۔

۴:…خدائی کا دعویٰ کرے گا۔

۵:…ممسوح العین ہوگا، یعنی ایک آنکھ چٹیل ہوگی (کانا ہوگا)۔

۶:…مکہ مدینہ جانے کا ارادہ کرے گا، حرمین کی حفاظت پر ماموراللہ تعالیٰ کے فرشتے اس کا منہ موڑ دیں گے، وہ مکہ، مدینہ میں داخل نہیں ہوسکے گا۔

۷:…اس کے متبعین زیادہ تر یہودی ہوں گے۔

۸:… ستر ہزار یہودیوں کی جماعت اس کی فوج میں شامل ہوگی۔

۹:… مقام لد پر سیدنا عیسیٰ علیہ السلام کے ہاتھوں قتل ہوگا۔

۱۰ :…وہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے حربہ (ہتھیار) سے قتل ہوگا۔

اسلامی نقطئہ نظر سے سیدنا عیسیٰ علیہ السلام اور حضرت مہدی علیہ الرضوان کی قریباً ایک سو اسی

165

علامات آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول ہیں۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام اور مہدی علیہ الرضوان کی تشریف آوری تواتر سے ثابت ہے۔ چنانچہ علامہ شوکانی لکھتے ہیں جس کا مفہوم یہ ہے کہ:

’’یہ بات ثابت ہوگئی ہے کہ مہدی منتظر کے بارے میں وارد شدہ احادیث بھی متواتر ہیں اور حضرت عیسیٰ بن مریم کے بارے میں وارد شدہ احادیث بھی متواتر ہیں۔‘‘

(الاذاعہ ص ۷۷)

اور اسی طرح حافظ عسقلانی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں:

’’ابوالحسن خسعی ابدیؒ نے مناقب شافعی میں لکھا ہے کہ احادیث اس بارے میں متواتر ہیں کہ مہدی اسی امت میں سے ہوں گے اور یہ کہ عیسیٰ علیہ السلام مہدی کے پیچھے نماز پڑھیں گے۔ ‘‘

(فتح الباری ص ۳۵۸ ج۶)

چنانچہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:

’’عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِاللّٰہِ قَالَ قَالَ سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یَقُوْلُ لَا تَزَالُ طَائِفَۃٌ مِّن اُمَّتِیْ یُقَاتِلُوْنَ عَلَی الْحَقِّ ظَاھِرِیْنَ اِلٰی یَوْمِ الْقِیَامَۃِ قَالِ فَیَنْزِلُ عِیْسیٰ بْنُ مَرْیَمَ فَیَقُوْلُ اَمِیْرُھُمْ تَعَالْ صَلِّ لَنَا فَیَقُوْلُ لاَ: اِنَّ بَعْضَکُمْ عَلٰی بَعْضٍ اُمَرَائُ تَکْرِمَۃَ اللّٰہِ ھٰذِہٖ الْاُمَّۃِ۔‘‘

(مسلم ج ۱ ص ۸۷ باب نزول عیسیٰ ابن مریم و احمد ص ۳۴۵ ج۳)

ترجمہ: ’’حضرت جابربن عبداللہؓ بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ میری امت میں ایک جماعت ہمیشہ حق کے مقابلہ میںجنگ کرتی رہے گی، دشمنوں پر غالب رہے گی، اس کے بعد آپ نے فرمایا آخر میں عیسیٰ ابن مریم اتریں گے (نماز کا وقت ہوگا) مسلمانوں کا امیر ان (عیسیٰ علیہ السلام) سے عرض کرے گا تشریف لایئے اور نماز پڑھادیجئے وہ فرمائیں گے: یہ نہیں ہوسکتا، اس امت کا اللہ تعالیٰ کی طرف سے یہ اکرام و اعزاز ہے کہ تم خود ہی ایک دوسرے کے امام و امیر ہو۔‘‘

166

اس حدیث سے جہاں ایک جانب یہ ثابت ہوا کہ حضرت امام مہدی علیہ الرضوان اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام الگ الگ مقدس ہستیاں ہیں۔

امت محمدیہ کی فضیلت:

دوسری جانب اس سے امت محمدیہ کی کرامت و شرافت عظمیٰ بھی ثابت ہوتی ہے کہ قرب قیامت تک اس امت میں ایسے برگزیدہ افراد موجود رہیں گے کہ اسرائیلی سلسلہ کے ایک مقدس رسول آکر بھی اس کی امامت کی حیثیت کو برقرار رکھ کر ان کے پیچھے نماز ادا فرمائیں گے جو اس بات کا صاف اعلان ہے کہ جس شرافت اور کرامت کے مقام پر تم پہلے فائز تھے آج بھی ہو۔ یہ واقعہ بالکل اس قسم کا ہے جیسا کہ مرض الوفات میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک وقت کی نماز حضرت ابوبکر صدیقؓ کی اقتداء میں ادا فرماکر امت کو گویا صریح ہدایت دے دی کہ میرے بعد امامت و اقتداء کی پوری صلاحیت ابوبکر صدیقؓ میں موجود ہے۔

حضرت مسیح علیہ السلام، حضرت مہدی علیہ الرضوان اور دجال لعین کے متعلق مرزا قادیانی خود تسلیم کرتا ہے کہ یہ تین شخصیات ہیں:

’’اس لئے ماننا پڑا کہ مسیح موعود اور مہدی اور دجال تینوںمشرق میں ہی ظاہر ہوں گے۔‘‘

(تحفہ گولڑویہ ص ۴۷، خزائن ص ۱۶۷ ج۱۷)

تینوں مشرق میں ہوں گے، یہ تو قادیانی دجل کا شاہکار ہے، البتہ اتنی بات مرزا قادیانی کے اس حوالہ سے ثابت ہے کہ یہ تین شخصیات علیحدہ علیحدہ ہیں۔

قادیانی مؤقف:

لیکن قادیانی جماعت کی بدنصیبی اور ایمان سے محرومی دیکھئے‘ ان کا مؤقف ہے کہ مسیح علیہ السلام اور مہدی ایک ہی شخصیت ہے، اور وہ مرزا قادیانی ہے۔ حالانکہ مسیح علیہ السلام اور مہدی علیہ الرضوان دو علیحدہ علیحدہ شخصیات ہیں، ان کے نام، کام، جائے پیدائش، جائے نزول، وقت ظہور، مدت قیام، عمرسب کچھ علیحدہ تفصیلات کے ساتھ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول ہیں۔ لیکن قادیانی دجال اور اس کی جماعت کے دجل کو دیکھو سینکڑوں احادیث صحیحہ و متواترہ کو چھوڑ کر ایک جھوٹی اور وضعی روایت سے اپنا باطل عقیدہ ثابت کرنے کے لئے ہاتھ پائوں مارتے ہیں۔ دیکھئے مرزا نے کہا:

167
’’ایھا الناس انی انا المسیح المحمدی وانی انا احمد المھدی۔‘‘

(خطبہ الہامیہ خزائن ص ۶۱ ج۱۶)

ترجمہ: ’’اے لوگو! میں وہ مسیح ہوں کہ جو محمدی سلسلہ میں ہے اور میں احمد مہدی ہوں۔‘‘

قاضی محمد نذیر قادیانی یہ قادیانیوں کا نام نہاد مربی اور شریر قسم کا مناظر بھی شمار ہوتا تھا، لکھتا ہے:

’’امام مہدی اور مسیح موعود ایک ہی شخص ہے۔‘‘

(امام مہدی کا ظہور ص ۱۶)

قادیانی مغالطہ:

قادیانیوں نے یہ باطل نظریہ کہاں سے لیا؟ اس کے ثبوت کے لئے وہ کیا دجل کرتے ہیں؟

قادیانی گروہ دلیل میں ابن ماجہ کی روایت پیش کرتا ہے کہ:

’’لا المہدی الا عیسیٰ بن مریم‘‘۔

(ابن ماجہ ص ۲۹۲ باب شدۃ الزمان)

یہی قاضی محمد نذیر اس حدیث کے متعلق لکھتا ہے:

’’اس حدیث نے ناطق فیصلہ دے دیا ہے کہ عیسیٰ بن مریم ہی المہدی ہے اور اس کے علاوہ کوئی ’’المہدی ‘‘نہیں ہے۔‘‘

آپ کو یہ معلوم ہونا چاہئے کہ باطل عقیدہ اور نظریہ رکھنے والا میرے آپ کے سامنے جو کہہ دے ہم اس کو مان لیں، نہیں میرے اور آپ کے ذمہ اس کی تحقیق کرنا ہے کہ واقعہ کیا ہے؟ صحیح کیا ہے؟ اور غلط کیا ہے، چنانچہ یہ حدیث جو قادیانی اپنے استدلال میں پیش کرتے ہیں، اولاً تو ضعیف ہے، قابل استدلال نہیں۔ اس لئے اس ضعیف و ناقابل استدلال حدیث سے عقیدہ اور نظریہ ثابت نہیں کیا جاسکتا، ثانیاً اس کا مطلب وہ نہیں جو قادیانی سمجھاتے ہیں۔ ملا علی قاریؒ اس حدیث کے متعلق فرماتے ہیں:

’’حدیث لا مہدی الا عیسی بن مریم ضعیف باتفاق المحدثین کما صرح بہ الجزری علی انہ من باب لافتیٰ الا علیؓ۔‘‘ (مرقاۃ ص۱۸۳ ج۱۰)
168

ترجمہ: ’’حدیث لامہدی الا عیسیٰ بن مریم باتفاق محدثین ضعیف ہے جیسا کہ ابن جزریؒ نے اس کی صراحت کی ہے، علاوہ ازیں یہ ’’لا فتی الاعلی ؓ‘‘ کے قبیل سے ہے‘‘۔

مطلب یہ ہے کہ اگر کسی درجہ میں حدیث کو صحیح مان لیا جائے تو اس کا وہی مطلب ہے جو لافتی الاعلیؓ کا ہے۔ یعنی مہدی صفت کا صیغہ ہے اور اس کے لغوی معنی مراد ہیں اور یہ بتایا گیا ہے کہ اعلیٰ درجہ کے ہدایت یافتہ عیسیٰ بن مریم ہی ہیں۔ بطور حصر اضافی جیسے ’’لافتی الاعلیؓ‘‘ کے معنی اعلیٰ درجہ کے جوان اور بہادر حضرت علیؓ ہی ہیں، لہٰذا معلوم ہوا کہ قادیانیوں کا اس حدیث سے مراد لینا کہ عیسیٰ اور مہدی ایک ہی ہیں، یہ سرے سے غلط اور دجل پر مبنی ہے۔

اب آیئے حضرت امام مہدی علیہ الرضوان کے بارے میں چند احادیث سماعت فرمائیں۔

چنانچہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:

۱: … عَنْ اُمِّ سَلِمَۃَ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہَا قَالَتْ’’ سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یَقُوْلُ: اَلْمَہْدِیُّ مِنْ عِتْرَتِیْ مِنْ وُلْدِ فَاطِمَۃَ۔‘‘ (ابوداؤد ص ۱۳۱ ج۲ کتاب المھدی)

ترجمہ: ’’حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ مہدی میری عترت سے ہوگا یعنی حضرت فاطمہؓ کی اولاد سے۔‘‘

۲:… ’’یُوَاطِیْ اِسْمُہ‘ اِسْمِیْ وَاِسْمُ اَبِیْہِ اِسْمُ اَبِیْ۔‘‘

(ابوداؤد: ص۱۳۱ج۲ کتاب المہدی)

ترجمہ: ’’جو میرا نام ہے وہی اس کا نام ہوگا، جو میرے باپ کا نام ہے، وہی اس کے باپ کا نام ہوگا۔‘‘

اور حدیث مندرجہ ذیل نے معاملہ بالکل منقح کردیا ہے۔

۳:… ’’کَیْفَ تَھْلِکُ اُمَّۃٌ اَنَا اَوَّلُھَا وَالْمَھْدِیُّ وَسْطُھَا وَالْمَسِیْحُ اٰخِرُھَا۔‘‘ (مشکوٰۃ ص ۵۸۳ باب ثواب ھذہ الامۃ)

ترجمہ: ’’وہ امت کیسے ہلاک ہوسکتی ہے جس کی ابتداء میں،

169

میں(آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم )ہوں‘ درمیان میں مہدی، اور آخر میں مسیح علیہ السلام ہیں۔‘‘

یہ حدیث اس مسئلہ میں ببانگ دہل اعلان کررہی ہے کہ مرزا قادیانی کا مؤقف صراحتاً دجل و کذب کا شاہکار ہے لیکن بے بصیرت و بے بصارت قادیانی گروہ کو یہ صاف صاف روایتیں بھی نظر نہیں آتیں اور پوری بے شرمی کے ساتھ مسیح و مہدی کے ایک ہونے کی رٹ لگاتا رہتا ہے۔ حالانکہ دونوں کے بارے میں روایات الگ الگ اور متواتر آئی ہیں۔

دجال:

۱:… رہا دجال کے متعلق قادیانی مؤقف، تو وہ گرگٹ کی طرح رنگ بدلتا رہتا ہے۔ پہلے کہا کہ اس سے مراد پادری ہیں۔ اس پر سوال ہوا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے حضرت عائشہ ؓ کی روایت ہے کہ ایک دن آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے، میں رو رہی تھی، آپ نے رونے کی وجہ دریافت فرمائی، میں نے عرض کیا کہ دجال کے بارہ میں آپ نے تفصیلات بیان فرمائی: میں سن کر پریشان ہوگئی، اب خیال آتے ہی فوراً رونا آگیا ، آپ نے فرمایا کہ :میں موجود ہوا اور وہ آگیا تو تمہاری طرف سے میں کافی ہوں۔ اگر میری زندگی میں نہ آیا تو جو شخص سورئہ کہف کی پہلی دس آیات پڑھتا رہے وہ اس سے محفوظ رہے گا۔ اگر پادری ہی دجال تھے، وہ تو حضور علیہ السلام کے زمانہ میں بھی موجود تھے۔ پھر حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمان کا کیا مطلب ہوا؟

۲:… پھر مرزا نے کہا کہ اس سے مراد انگریز قوم ہے۔ اس سے کہا گیا کہ اگر انگریز ہیں تو دجال کو حضرت مسیح علیہ السلام قتل کریں گے تم تو ’’انگریز کے خود کاشتہ پودا‘‘ ہو۔

۳:… پھر مرزا نے کہا کہ اس سے مراد روس ہے، تو اس سے کہا گیاکہ دجال تو شخص واحد ہے، قوم مراد نہیں، اس نے کہا کہ دجال نہیں حدیث میں ’’رجال‘‘ ہے۔ یہ اس کی جہالت کی دلیل ہے۔ اس کی تردید کے لئے اتنی بات کافی ہے کہ ابن صیاد کے مسئلہ پر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے حضرت عمرؓ نے اجازت مانگی کہ میں اسے قتل کردوں؟ تو آپ نے فرمایا کہ اگر یہ وہی (دجال) ہے تو ’’لست صاحبہ‘‘ تم اس کو قتل نہیں کرسکتے، اس کو حضرت عیسیٰ علیہ السلام ہی قتل کریں گے۔

170

ابن صیاد کی بابت کتب احادیث میں تفصیل سے روایات موجود ہیں۔ نیز اس سے یہ بھی معلوم ہوا کہ دجال تلوار سے قتل ہوگا، نہ کہ قلم سے جیسا کہ قادیانیوں کا مؤقف ہے۔

خلاصہ:

یہ کہ مرزا قادیانی اور اس کی ذریت کا مؤقف اسلام کے چودہ سوسالہ مؤقف کے خلاف ہے۔لہٰذا اس وقت ضرورت اس امر کی ہے کہ سیّدنا عیسیٰ علیہ السلام، مہدی علیہ الرضوان اور دجال کے متعلق ہماری نوجوان نسل قادیانیوں کے ان باطل نظریات اور گمراہ کن عقائد سے اپنے آپ کو بچائے اور وہ احباب جو حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے دین کی صحیح ترجمانی اور اس کا حق ادا کررہے ہیں ان سے اپنا تعلق قائم کریں، خصوصاً عقیدئہ ختم نبوت، رفع و نزول مسیح علیہ السلام، ظہور مہدی جیسے اہم عقائد کا دفاع کرنے والی بین الاقوامی جماعت عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت جو شیخ الحدیث حضرت مولانا ڈاکٹر عبدالرزاق اسکندر دامت برکاتہم کی امارت باسعادت میں یہ فرائض انجام دے رہی ہے، اس سے منسلک ہوں، اپنے ایمان کی حفاظت کریں، اپنے اہل و عیال اور اہلیانِ ملت اسلامیہ کے ایمان کی حفاظت کا فریضہ سر انجام دیں۔ اللہ رب العزت ہمیں عمل کی توفیق نصیب فرمائے اور سعادت دارین نصیب فرمائے۔آمین۔

واٰخر دعوانا ان الحمدللّٰہ رب العالمین

171

منکرینِ ختم نبوت

سے بغض، ایمان کا حصہ

قادیانی رشتہ داروں سے تعلقات رکھنے والے کا معاملہ مشکوک ہے

سوال:… کیا فرماتے ہیں کہ مفتیان کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ عام طور سے دیکھنے میں آیا ہے کہ ایک قادیانی لڑکا مسلمان لڑکی سے شادی کرنے کے لئے مسلمان ہوتا ہے یا اس کے برعکس ایک قادیانی لڑکی مسلمان لڑکے سے شادی کرنے کے لئے مسلمان ہوتی ہے۔ اس صورت حال میں یہ بتائیں کہ ان کے اسلام کا کیا حکم ہے؟ فرض کریں کہ ہم ان کے اسلام کو درست تسلیم کرلیں تو ان جیسے لوگوں سے متعلق کیا حکمت عملی اختیار کی جائے، کیا ان کو آپس میں نکاح کرنے کا مشورہ دیں یا قادیانیت سے تائب ہونے والے لڑکے یا لڑکی کو یہ کہیں کہ وہ اپنے خاندان سے کسی اور کو مسلمان کرے تو ہم ان کا نکاح کروادیں گے؟

(سائل: ابو طلحہ جالندھری، کراچی)

جواب:… کسی قادیانی کا مسلمان ہوجانے میں تو کوئی حرج نہیں، مگر اسلام کسی لالچ، غرض یا ذاتی مفاد کے لئے نہیں لایا جاتا بلکہ حق کو اپنانے اور آخرت کی کامیابی کے لئے ہونا چاہئے۔ اگر کوئی واقعی قادیانیت سے تائب ہوکر اسلام لے آتا ہے اور اپنی پچھلی زندگی سے تائب ہوجاتا ہے اور پھر مسلمان ہونے کے بعد اپنے قادیانی عزیز و اقارب سے قطع تعلق کرلیتا ہے اور مسلمانوں کی سی زندگی گزارتا ہے تو اس کو صحیح مسلمان سمجھا جائے گا اور اس کے ساتھ رشتہ ناتہ کرنا بھی صحیح ہوگا اور اگر کوئی ایسا نہیں کرتا بلکہ اسلام لانے کے بعد بھی اپنے قادیانی رشتہ داروں سے تعلق جوڑے رکھتا ہے اور ان کے ہاں آتا جاتا ہے، میل ملاقات رکھتا ہے تو ایسے آدمی کا معاملہ مشکوک ہے، اس سے اجتناب کیا جائے۔

  1. نظر ثانی

    کتبہ

  2. مفتی ابوبکر سعید الرحمن

    محمد زکریا

  3. دارالافتاء جامعہ علوم اسلامیہ علامہ بنوری ٹائون

    دارالافتاء ختم نبوت

173

اَلْحَمْدُلِلّٰہِ رَبِّ الْعَالَمِیْنَ وَالصَّلوٰۃُ وَالسَّلاَمُ عَلٰی خَاتَمِ الْاَنْبِیَائِ

وَالْمُرْسَلِیْنَ مُحَمَّدٍ نَبِیِّ الرَّحْمَۃِ

الَّذِیْ اَنْزَلَ اللّٰہُ عَلَیْہِ الْقُرْآنَ وَالْحِکْمَۃَ وَعَلٰی آلِہٖ وَاَصْْحَابِہٖ وَاَتْبَاعِہٖ اِلٰی

یَوْمِ الدِّیْنِ اَمَّابَعْدُ

فاعوذباللّٰہ من الشیطان الرجیم

بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ

قَالَ اللّٰہُ تَبَارَکَ وَتَعَالیٰ:

لَاتَجِدُ قَوْمًا یُّؤْمِنُوْنَ بِاللّٰہِ وَالْیَوْمِ الْاٰخِرِ یُوَادُّوْنَ مَنْ حَادَّ اللّٰہَ وَرَسُوْلَہ‘ وَلَوْ کاَنُوْا آبَائَہُمْ اَوْاَبْنَائَہُمْ اَوْاِخْوَانَہُمْ اَوْ عَشِیْرَتَہُمْ.... (مجادلہ: ۲۲)

ترجمہ: …’’تو نہ پائے گاکسی قوم کوجویقین رکھتے ہوں اللہ پر اور پچھلے دن پر کہ دوستی کریں ایسوں سے جومخالف ہوئے اللہ کے اوراس کے رسول کے، خواہ وہ اپنے باپ ہوں یااپنے بیٹے یااپنے بھائی یااپنے گھرانے کے۔‘‘ (ترجمہ شیخ الہندؒ)

وَقَالَ النَّبِیُّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ :
’’اَحَبُّ الْاَعْمَالِ اِلَی اللّٰہِ: اَلْحُبُّ فِی اللّٰہِ وَالْبُغْضُ فِی اللّٰہِ....اَوْکَمَا قَالَ ۔

ترجمہ: ’’حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: سب سے محبوب عمل اللہ کے نزدیک اللہ کی رضا جوئی کے لئے کسی سے محبت کرنا اورکسی

174

سے بعض رکھنا‘‘

  1. محبت ہے عین راحت اگر ہو عاشق صادق

    کوئی پروانے سے پوچھے جلنے میں مزا کیا ہے

  2. درد دل کی مختصر سی داستان سن لیجئے

    خود تڑپتا ہوں زمانے بھر کو تڑپاتا ہوں میں

حاضرین محترم! آج کے بیان کا عنوان منکرینِ ختم نبوت سے بغض رکھنا ایمان کا حصہ ہے، اس موقع پر آپ کی خدمت میں چند ضروری باتیں عرض کرنی ہیں، پہلے آیت اور حدیث کا ترجمہ سماعت فرمائیں:

حق تعالیٰ شانہ سورئہ مجادلہ کی اس آیت میں ارشاد فرماتے ہیں جس کا مفہوم اور ترجمہ یہ ہے کہ:

’’تم نہ پائوگے کسی قوم کو جو یقین رکھتے ہوں اللہ پر اور آخرت پر کہ دوستی کریں ایسوں سے جو مخالف ہیں اللہ اور اس کے رسول کے خواہ ان کے باپ ہوں،بیٹے ہوں، بھائی ہوں یا خاندان والے ہوں۔ ‘‘

حاصل یہ ہے کہ ایسا ہونا ناممکن ہے کہ اللہ اور اس کے رسول پر کامل ایمان ہو اور اس کے باوجود دشمنانِ رب اور رسول سے دوستی ہو، یہ نہیں ہوسکتا، اگر دوستی ہے تو ایمان کی جانچ پڑتال کرلینا ضروری ہے۔

حدیث پاک میں پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، یعنی رب کریم کو سب سے محبوب عمل اللہ تعالیٰ کی خاطر کسی سے محبت کرنا اور اللہ ہی کی خاطر کسی سے بغض رکھنا ہے۔

انسان میں پسند و ناپسند کا جذبہ:

انسان میں اللہ تعالیٰ نے دو جذبے رکھے ہیں، ایک پسند کا، اور ایک نفرت و ناپسندیدگی کا۔ پسند کے جذبہ کے ذریعہ اُسے جو چیز پسند آئے وہ اس کی چاہت کرتا ہے، آپ میں سے بھی ہر ایک آدمی اپنی پسندیدہ چیز کی چاہت رکھتا ہوگا۔ اور اس کے بالمقابل اللہ تعالیٰ نے انسان میں ایک جذبہ ایسا پیدا فرمایا ہے کہ جس چیز سے اسے نفرت ہو، وہ اس سے بھاگتا ہے، اور اس سے ایک درجہ کی عداوت رکھتا ہے، یہ انسان کی فطرت ہے، جس انسان میں یہ دو جذبے نہ ہوں، آپ

175

اس کے بارے میں بے تکلف کہہ سکتے ہیں کہ وہ حقیقت میں انسان ہی نہیں ہے۔

پسندیدہ سے محبت اور ناپسندیدہ سے نفرت:

اسی کے ساتھ یہ بھی کہ جس درجے کی جو چیز ناپسندیدہ ہو، آدمی کو اس سے اتنی ہی نفرت ہوتی ہے، ہماری شریعت کی زبان میں اسی جذبہ کا نام ہے:

’’اَلْحُبُّ فِی اللّٰہِ وَالْبُغْضُ فِی اللّٰہ‘‘

ترجمہ:… ’’اللہ کی خاطر کسی سے محبت رکھنا، اور اللہ کی خاطر کسی سے بغض رکھنا۔‘‘

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشادِ گرامی:

’’اَحَبُّ الْاَعْمَالِ اِلَی اللّٰہِ: اَلْحُبُّ فِی اللّٰہِ وَالْبُغْضُ فِی اللّٰہ‘‘

یعنی اللہ تعالیٰ کو سب سے زیادہ محبوب عمل، اللہ کی خاطر کسی سے محبت رکھنا اور اللہ کی خاطر کسی سے بغض رکھنا ہے۔

اللہ کے لئے محبت کرنے والوں کا اعزاز:

حدیث شریف میں آتا ہے کہ ایک منادی اللہ تعالیٰ کی طرف سے ندا دے گا اور اعلان کرے گا: ’’أین المتحآبُّون فیّ؟‘‘ یعنی وہ لوگ کہاں ہیں؟ کھڑے ہوجائیں وہ لوگ جو صرف میری خاطر ایک دوسرے سے محبت کرتے تھے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ: اعلان سن کر کچھ لوگ کھڑے ہوجائیں گے ان کے بارے میں حکم ہوگا کہ جنت میں چلے جاؤ، اس کے بعد باقیوں کا حساب و کتاب ہوگا۔

کسی سے اللہ کی خاطر محبت رکھنے کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ’’أحب الأعمال‘‘ فرماتے ہیں، یعنی سب سے محبوب ترین عمل، اس سے بڑھ کر کوئی دوسرا عمل نہیں۔

دُشمنانِ خدا سے بغض کی تلقین:

اور اسی کا دوسرا پہلو ہوگا اللہ کی خاطر کسی سے بغض رکھنا، چنانچہ فرمایا:

’’قَدْ کَانَتْ لَکُمْ أُسْوَۃٌ حَسَنَۃٌ فِیٓ اِبْرَاھِـیْـمَ وَالَّذِیْنَ مَعَہٗ، اِذْ قَالُوْا لِقَوْمِھِمْ اِنَّا بُرَآٰ ؤُا مِنْکُمْ وَمِمِّا تَعْبُدُوْنَ مِنْ دُوْنِ اﷲ
176

ِ کَفَرْنَا بِکُمْ وَبَدَا بَیْنَنَا وَبَیْنَکُمُ الْعَدَاوَۃُ وَالْبَغْضَآئُ أَبَدًا حَتّٰی تُؤْمِنُوْا بِاﷲِ وَحْدَہٗ …۔‘‘ (الممتحنہ:۴)

ترجمہ:… ’’تم کو چال چلنی چاہئے اچھی ابراہیم کی، اور جو اس کے ساتھ تھے، جب انہوں نے کہا اپنی قوم کو: ہم الگ ہیں تم سے اور ان سے کہ جن کو تم پوجتے ہو اللہ کے سوا، ہم منکر ہوئے تم سے اور کھل پڑی ہم میں تم میں دُشمنی اور بیر ہمیشہ کو، یہاں تک کہ تم یقین (ایمان) لاؤ اللہ اکیلے پر۔‘‘ (ترجمہ حضرت شیخ الہندؒ)

یعنی اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ تمہارے لئے بہت اچھا نمونہ ہے حضرت ابراہیم علیہ السلام کی ذات میں اور ان کے ساتھ ایمان والوں میں کہ انہوں نے اپنی قوم سے کہا کہ بے شک ہم بری ہیں تم سے اور ان چیزوں سے جن کی تم پوجا کرتے ہو اللہ کے سوا، ہم تمہارے ساتھ کفر کرتے ہیں، یعنی انکار کرتے ہیں، اور ہمارے درمیان اور تمہارے درمیان دُشمنی اور بغض کا مظاہرہ ہوگا، اور یہ دُشمنی جب تک رہے گی؟ جب تک کہ تم ایک اللہ پر ایمان نہیں لاؤگے…! ایسا ہی ارشاد اس آیت میں ہے جو خطبہ میں تلاوت کی گئی کہ ایمان والوں کی نشانی یہ ہے کہ وہ اللہ اور اس کے رسول کی محبت میں سب کچھ کرسکتے ہیں، اگرچہ بغض و عداوت رکھنے میں ان کے باپ ہوں یا بیٹے ہوں یا بھائی ہوں یا خاندان کے دیگر اقربا ہوں ایمان والے ان سب رشتوں کی قربانی اللہ اور اس کے رسول کی محبت میں دے دیں گے۔

کسی کو برا نہ کہنے کا نظریہ غلط ہے!

تو یہ نظریہ کہ کسی کو بُرا نہ کہو، نہایت غلط ہے، اور یہ حقیقت میں سچ اور جھوٹ، حق اور باطل، اسلام اور کفر اِن کی لکیروں کو مٹادینے کا نام ہے کہ کفر و اسلام میں امتیاز تک نہ رہے، گویا نہ اسلام، اسلام رہے، نہ کفر، کفر رہے، نہ حق، حق رہے، اور نہ باطل، باطل رہے۔

ذاتِ نبوی سے محبت و عداوت ہمارے تعلق کی بنیاد:

جس شخص کو جتنا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے تعلق ہوگا، ہماری اس کے ساتھ اتنی ہی محبت ہوگی، اور جس شخص کو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ جتنی دُشمنی ہوگی یا اس کے دِل میں آپؐ کی جتنی مخالفت ہوگی، ہمیں بھی اس کے ساتھ اتنی ہی دُشمنی ہوگی، یہ ہے صحیح بات۔

177

صحابہ کرامؓ سے محبت و تعلق بھی ذاتِ نبوی کی وجہ سے:

حضرت ابوبکر صدیق، حضرت عمر، حضرت عثمان اور حضرت علی اور دیگر اکابر صحابہ رضوان اللہ علیہم اجمعین سے ہمارا تعلق رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نسبت سے ہے، اگر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ذاتِ گرامی نہ ہوتی تو نہ ہم ابوبکرؓ کو جانتے، نہ عمرؓ کو جانتے، نہ عثمانؓ کو جانتے، نہ علیؓ کو جانتے، نہ طلحہؓ، زبیرؓ کو اور نہ کسی دوسرے صحابی کو۔

کفار سے عداوت کی وجہ بھی ذاتِ نبوی:

دوسری طرف ہمیں ابوجہل، ابولہب، عتبہ، شیبہ اور بڑے اور موٹے موٹے کافروں کے ساتھ بغض و عداوت اور دُشمنی ہے صرف اس لئے کہ ان کو حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے دُشمنی تھی۔

ذاتِ نبوی سے ادنیٰ بغض بھی زندقہ ہے:

یہاں اس سلسلہ کے دو واقعات ذکر کردیتا ہوں، ایک یہ کہ ایک صاحب اکثر نماز میں سورۃ ’’تَبَّتْ یَدَا أَبِیْ لَھَبٍ وَّتَبَّ‘‘ پڑھا کرتے تھے، ایک بزرگ نے فتویٰ دیا کہ یہ زندیق ہے، اور فرمایا کہ: دراصل اس کے اس سورۃ پڑھنے کا منشأ یہ ہے کہ وہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے چچا ابولہب کی برائی بیان کرنا چاہتا ہے، اور ابولہب کی برائی اس لئے نہیں کرنا چاہتا کہ وہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا دُشمن تھا، بلکہ اس لئے کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا چچا تھا۔ اس واقعہ سے یہ واضح ہوگیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے کسی عزیز کی محض اس لئے برائی کرنا کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا عزیز ہے، یہ درحقیقت آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے دُشمنی ہے، اس لئے اس نظریہ سے’’تَبَّتْ یَدَا أَبِیْ لَھَبٍ‘‘ پڑھنے والا زندیق ہے، کیونکہ اس کا مقصد اور اس کا منشأ …نعوذ باللہ… رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ذاتِ عالی پر عیب لگانا ہے۔

ذاتِ نبوی سے عداوت کی وجہ سے ابولہب سے عداوت عین ایمان ہے:

اسی طرح ایک ایوبؔ صاحب ہیں، ان کے نعتیہ کلام کا مجموعہ مولانا محمد یوسف لدھیانوی شہیدؒ کے پاس آیا، اس کے دیباچے میں لکھتے ہیں کہ یوں تو مجھے اللہ تعالیٰ کا سارا کلام ہی محبوب ہے، مگر سب سے زیادہ مجھے’’تَبَّتْ یَدَا أَبِیْ لَھَبٍ‘‘ محبوب ہے، اس لئے کہ اس میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے دُشمن کی برائی ہے۔ دیکھئے! یہاں بھی وہی بات ہے، مگر یہ بات خالص ایمان کی ہے، کیونکہ ’’تَبَّتْ یَدَا أَبِیْ لَھَبٍ‘‘ میں کسی کافر کا تذکرہ نہیں کیا گیا، صرف ابولہب کا

178

تذکرہ کیا گیا ہے، اس لئے کہ یہ اور اس کی بیوی اُمِّ جمیل، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو حد سے زیادہ ایذأ پہنچاتے تھے، باوجود اس کے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا قریب ترین عزیز اور سگا چچا تھا، مگر جہاں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم دعوت کے لئے پہنچتے، یہ بدبخت بھی وہاں پیچھے چلا جاتا اور کہتا: یہ میرا بھتیجا ہے، اور پاگل ہوگیا ہے۔ …نعوذ باللہ… اور اس کی بیوی اُمِّ جمیل، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے راستے میں کانٹے بچھایا کرتی تھی۔ تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی ذاتِ عالی سے عداوت کی وجہ سے اللہ تعالیٰ نے ابولہب کی اور اس کی بیوی کی مذمت بیان فرمائی اور پوری سورۃ، سورۂ لہب کو نازل کیا۔

ایمان کی علامت!

تو ایمان کی علامت یہ ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے دوستوں سے دوستی رکھنا، اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے دُشمنوں سے دُشمنی رکھنا۔

اچھے کو اچھا اور برے کو برا کہو!

بس میں نے ساری بات کا اتنا خلاصہ نکالا ہے کہ یہ نظریہ غلط ہے کہ کسی کو بُرا نہ کہو، یہ نظریہ صحیح نہیں۔ صحیح نظریہ یہ ہے کہ اچھے کو اچھا کہو، اور برے کو بُرا کہو، اور جس درجے کا بُرا ہو اس کو اس درجے کا بُرا سمجھو۔

اب کسی کو نبوت نہیں دی جائے گی:

دوسری بات یہ کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آخری نبی ہیں، یعنی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد کسی کو نبوت عطا نہیں کی جائے گی، جب کسی نبی کی ضرورت پڑے گی تو پہلے نبیوں میں سے کسی کو لایا جائے گا، جیسا کہ سیّدنا عیسیٰ علیہ السلام قربِ قیامت میں دوبارہ نازل ہوں گے۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد اب عالمِ انسانیت میں ایسی کوئی شخصیت باقی نہیں رہی، جس کے سر پر تاجِ نبوت رکھا جائے۔

قتلِ دجال کے لئے حضرت عیسیٰ ؑنازل ہوں گے:

چنانچہ جب دجال کے مقابلے کے لئے ایک نبی کی ضرورت پیش آئے گی تو اللہ تعالیٰ حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے پہلے کے ایک نبی یعنی حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو دجال کے قتل کرنے کے واسطے آسمان سے نازل فرمائیں گے، کیوں بھائی! ٹھیک ہے ناں! یہ تو آپ سب لوگوں کو معلوم ہی

179

ہے کہ قربِ قیامت میں دجال نکلے گا، اور اس کو قتل کرنے اور تہ تیغ کرنے کے لئے حضرت عیسیٰ علیہ السلام آسمان سے نازل ہوں گے، یہ مسلمانوں کا عقیدہ ہے، اور اس عقیدہ نزول عیسیٰ اور حیات عیسیٰ علیہ السلام کو پکا کرو۔

دجال کے خروج سے پہلے…:

ایک حدیث میں آتا ہے کہ دجال کا خروج اس وقت ہوگا جب منبر پر علمأ دجال کا تذکرہ کرنا چھوڑ دیں گے، اور میں دیکھ رہا ہوں کہ ابھی علمأ نے تو خروجِ دجال کا انکار نہیں کیا، لیکن عوام میں بہت بڑی تعداد ایسے پڑھے لکھے جاہلوں کی پیدا ہوچکی ہے، جو دجال کے آنے اور عیسیٰ علیہ السلام کے نازل ہونے کا انکار کرتی ہے، بلکہ یوں کہتے ہیں کہ کانا دجال تو افسانہ ہے۔

نزولِ عیسیٰ ختم نبوت کے منافی نہیں:

حضرت عیسیٰ علیہ السلام آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے پہلے کے نبی ہیں، حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے دوبارہ آنے سے ختم نبوت کی خلاف ورزی نہیں ہوتی، بلکہ ختم نبوت اور پکی ہوجاتی ہے کہ اگر حضور صلی اللہ علیہ وسلم ’’خاتم النبیین‘‘ اور آخری نبی نہ ہوتے تو اللہ تعالیٰ آپ کے بعد کسی کو نبی بنادیتا، آسمان سے پہلے والے نبی کے اُتارنے کی ضرورت پیش نہ آتی۔

آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد دعویٔ نبوت کرنے والا دجال ہے:

جناب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:

’’اِنَّہ‘ سَیَکُوْنُ فِیْ اُمَّتِیْ کَذَّابُوْنَ ثَلاَثُوْنَ وَفِیْ رِوَایَۃٍ دَجَّالُوْنَ کُلُّہُمْ یَزْعَمُ اَنَّہ‘ نَبِیٌّ وَاَنَا خَاتَمُ النَّبِیِّیْنَ لاَ نَبِیَّ بَعْدِیْ۔‘‘ (ابودائود، ج:۲، ص:۲۲۸)

ترجمہ: ’’آقا دو جہاں حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں عنقریب میری امت میں تیس کذاب اور ایک روایت میں فرمایا: دجال پیدا ہوں گے ان میں سے ہر ایک دعویٰ نبوت کرے گا، میں اللہ کا آخری نبی ہوں، میرے بعدکوئی نبی نہیں آئے گا۔ ‘‘

ختم نبوت کا اعلان میدانِ عرفات میں!

آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے حجۃ الوداع میں عرفات کے میدان میں فرمایا تھا:

180
’’أَنَا اٰخِرُ الْاَنْبِیَائِ وَأَنْتُمْ اٰخِرُ الْأُمَمِ۔‘‘ (ابنِ ماجہ ص:۲۹۷)

ترجمہ:… ’’میں آخری نبی ہوں، اور تم آخری اُمت ہو۔‘‘

اور ’’مجمع الزوائد‘‘ میں ہے:

’’یَا أَیُّھَا النَّاسُ! اِنَّہ‘ لَا نَبِیَّ بَعْدِیْ وَلاَ اُمَّۃَ بَعْدِکُمْ …۔۔‘‘(ج:۸ ص:۲۶۳)

ترجمہ:… ’’اے لوگو! بے شک میرے بعد کوئی نبی نہیں ہے اور تمہارے بعد کوئی اُمت نہیں ہے ۔‘‘

مدعیٔ نبوت سے بڑا جھوٹا کوئی نہیں:

میرے بعد کوئی نبی نہیں اور تمہارے بعد کوئی اُمت نہیں، لہٰذا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد جو شخص منصبِ نبوت کا دعویٰ کرتا ہے اور کہتا ہے کہ مجھے اللہ نے نبی بنایا ہے، وہ دُنیا کا سب سے بڑا جھوٹا، سب سے بڑا دجال و کذّاب ہے۔

منصبِ نبوت سے بڑا کوئی منصب نہیں:

اس لئے کہ عالمِ اِمکان میں نبوت سے بڑھ کر کوئی منصب نہیں ہے، سب سے بڑا منصب نبوت ہے، نبوت سے بڑھ کر کوئی مقام نہیں، اور جو شخص جھوٹے طور پر نبوت کا دعویٰ کرتا ہے، وہ سب سے بڑا جھوٹا ہے، دُنیا میں اس سے بڑا کوئی جھوٹا نہیں ہوسکتا۔ اسی بنا پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو ’’کذّابون‘‘ فرمایا۔

مدعیٔ نبوت منصب چھیننا چاہتا ہے:

جو شخص نبوت کا دعویٰ کرتا ہے، وہ حقیقت میں یہ کہنا چاہتا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت تمہارے لئے کافی نہیں، میرے پاس آؤ! گویا وہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے منصب کو چھیننا چاہتا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا تاجِ رسالت اپنے سر پر رکھنا چاہتا ہے، اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی مسندِ نبوت پر وہ خود بیٹھنا چاہتا ہے۔

آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے زیادہ کوئی محبوب نہیں:

آپ حضرات جانتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے زیادہ کوئی محبوب شخص نہیں ہے، حتیٰ کہ ماں باپ، بہن بھائی، اعزہ و اقربا اور دُنیا کا کوئی رشتہ بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے زیادہ محبوب نہیں، جیسا کہ حدیث شریف میں ہے:

181
’’لَا یُؤْمِنُ أَحَدُکُمْ حَتّٰی أَکُوْنَ أَحَبَّ اِلَیْہِ مِنْ وَّالِدِہٖ وَوَلِدِہٖ وَالنَّاسِ أَجْمَعِیْنَ۔‘‘ (صحیح بخاری ،ج:۱، ص:۷)

ترجمہ:…’’کوئی شخص مؤمن نہیں ہوسکتا جب تک کہ میں اس کے نزدیک محبوب نہ بن جاؤں، اس کے والد سے، اس کی اولاد سے اور تمام انسانوں سے۔‘‘

عشق رسول کا ایک عجیب واقعہ:

ہمارے بزرگ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے مرکزی رہنما تھے، حضرت مولانا تاج محمودؒ ان کے استاد محترم تھے، مولانا مفتی محمد یونسؒ یہ حج پر تشریف لے گئے، یہ اس زمانہ کی بات ہے جب سعودی عرب میں تیل نہ نکلا تھا اور وہاں کے پہاڑوں نے ابھی سونا چاندی نہ اُگلا تھا، غربت و افلاس کے بھیانک سائے دنیا عرب پر چھائے ہوئے تھے، یہ واقعہ حضرت مفتی صاحب نے خود بیان کیا اور فرمایا ایک روز ہم کھانا کھارہے تھے جونہی ہم نے ہڈی پھینکی ایک معصوم عربی بچے نے آگے بڑھ کر اس ہڈی کو اٹھالیا اور کھانا شروع کردیا۔ مفتی صاحب کا دل بہت دکھا، جی بھر آیا، آنکھوں میں آنسو تیرنے لگے، فرمایا: بیٹا! تم کون ہو؟ اس بچے نے کہا: میں یتیم ہوں، مفتی صاحب خدا ترس انسان تھے ، ان کی طبیعت پر اور زیادہ اثر ہوا، حضرت مفتی صاحب نے بچے سے کہا: بیٹا تم ہمارے ساتھ پاکستان چلو، پاکستان بہت اچھا ملک ہے، وہاں ہم ہر طرح سے تمہاری خاطر مدارت کریں گے، اچھے کپڑے پہننے کو دیں گے، جب تم جوان ہوجائوگے تمہاری شادی کرائیں گے، عربی بچہ پاکستان آنے کے لئے تیار ہوگیا، اگلے روز بچہ آیا، اس نے عربی زبان میں گنبد خضریٰ کی طرف اشارہ کرکے مفتی صاحب سے پوچھا چچا جی کیا یہ روضہ رسول پاکستان میں بھی ہے؟ سوال سن کر مفتی صاحب کی ہچکیاں بندھ گئی ،فرمایا: بیٹا! یہ دولت تو صرف اسی شہر کو نصیب ہے، بچے نے کہا مجھے آپ لوگوں (حجاج) کے کھانے کی بچی ہوئی ہڈیاں منظور ہیں، لیکن مجھے اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا روضہ چھوڑنا منظور نہیں۔

محبتِ نبوی کے مقابلہ میں سب محبتیں ہیچ ہیں، ایک قصہ:

ہمارے حضرت حکیم الاُمتؒ کی خدمت میں ایک آدمی آیا، کہنے لگا کہ: حدیث میں تو یہ آتا ہے کہ تم میں سے کوئی مؤمن نہیں ہوگا جب تک کہ میری محبت سب سے بڑھ کر نہ ہو، لیکن مجھے

182

جتنی اپنے والد سے محبت ہے اتنی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے نہیں ہے۔ حضرتؒ نے فرمایا: خان صاحب! تمہیں غلط فہمی ہے، اپنے باپ سے تمہیں محبت ہوگی! اور ہوتی ہے، اپنے والد سے کس کو محبت نہیں ہوتی؟ لیکن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت کے سامنے یہ سب ہیچ ہے اور کچھ نہیں۔ خان صاحب اصرار کرنے لگے کہ نہیں مجھے جتنی اپنے باپ سے محبت ہے، اتنی کسی سے نہیں۔ حضرتؒ خاموش ہوگئے، اب اس سے کیا مناظرہ کریں، اب آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم کا ذکرِ خیر ہونے لگا، یعنی حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی باتیں سن کر خان صاحب جھوم رہے ہیں اور عش عش کر رہے ہیں اور خان صاحب کا دِل اس جمال کے تذکرہ سے اُڑا جارہا تھا، حضرتؒ نے اچانک رُک کر فرمایا کہ: خیر! اس بات کو تو چھوڑئیے، آپ کے والد بہت اچھے تھے۔ خان صاحب کہنے لگے: حضرت! یہ آپ نے کیا غضب ڈھایا؟ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا ذکر ہو رہا تھا، آپ میرے باپ کا تذکرہ لے بیٹھے! حضرتؒ نے فرمایا: کیوں خان صاحب؟ آپ تو کہتے تھے کہ باپ کی محبت حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے زیادہ ہے، جس سے زیادہ محبت ہوتی ہے، اس کا تذکرہ بھی دِل کو محبوب ہوتا ہے، اور جی چاہتا ہے کہ ذکر چلتا رہے۔

گناہ گار سے گناہ گار مسلمان کا دِل محبتِ نبوی سے لبریز!

تو مجھے آپ کو یہ بات سنانا تھی کہ ادنیٰ سے ادنیٰ مسلمان، بلکہ میرا یہ عقیدہ ہے کہ کتنا ہی گناہگار سے گناہگار مسلمان کیوں نہ ہو، لیکن اگر اس کے قلب کو اور اس کے دِل کے دریچہ کو کھول کر دیکھو، تو وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت سے بھرا ہوا ہوگا۔

محبتِ نبویؐ کا ایک عجیب قصہ!

اب اس پر بھی ایک اور بات سنادوں! شاہ ولی اللہ محدث دہلوی رحمۃ اللہ علیہ کے اُستاذ شیخ ابوطاہر مکی رحمہ اللہ کی اپنے ایک ہم عصر یعنی ہم زمانہ بزرگ سے مخالفت چل رہی تھی، اس دوران شیخ ابوطاہرؒ کو ایک دفعہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زیارت ہوئی، تو ایسا لگا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم رنجیدہ ہیں اور التفات نہیں فرمایا، انہوں نے ہاتھ جوڑ کر عرض کیا کہ: حضور! میری غلطی معلوم ہو جائے تو میں اس کی اصلاح کرلوں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس بزرگ کا نام لے کر ارشاد فرمایا: تم اس سے دُشمنی کیوں رکھتے ہو؟ انہوں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! وہ فلاں بزرگ کو …جو کہ فوت ہوچکے ہیں… بُرا بھلا کہتے ہیں۔

183

مولانا محمد یوسف لدھیانوی شہیدؒ کی حضرت مدنی ؒ سے دِلی محبت کا قصہ!

جیسے کوئی آدمی ہمارے حضرت شیخ الاسلام مولانا سیّد حسین احمد مدنی قدس سرہٗ کو بُرا بھلا کہے … اور ہمیں بُرا لگتا ہے، اسی طرح شیخ ابوطاہر مکیؒ کو بھی یہ بات بُری لگتی تھی، اس لئے وہ ان سے دُشمنی رکھتے تھے۔

حضرت شہیدؒ فرماتے ہیں کہ: میرے سامنے میرے والد کا انتقال ہوا، اور میرے مشائخ کا بھی انتقال ہوا، لیکن میں جتنا دو بزرگوں کی وفات پر رویا ہوں، مجھے زندگی میں یاد نہیں ہے کہ کسی کی وفات پر اتنا رویا ہوں، ایک شیخ الاسلام حضرت مولانا سیّد حسین احمد مدنی قدس سرہٗ … جس وقت حضرتؒ کے وصال کی خبر مجھے ملی ہے، آپ یقین جانیں مجھے بالکل ایسا معلوم ہوتا تھا، جیسے جہان تاریک ہوگیا، اور میں بے اختیار روتا تھا، حالانکہ صرف ایک دفعہ زیارت کی تھی، میں کوئی ان کا شاگرد بھی نہیں تھا، ان کا مرید بھی نہیں تھا، کوئی خاص تعلق بھی نہیں تھا، لیکن بس وہ قلبی تعلق جو شروع سے تھا، اس کی وجہ سے بے اختیار روتا تھا، اور دوسرے حضرت جی مولانا محمد یوسف دہلوی رحمۃ اللہ علیہ، تبلیغی جماعت والے، ان کے وصال پر بھی میں جتنا رویا ہوں، اتنا کبھی نہیں رویا۔

خیر! تو شیخ ابوطاہرؒ نے کہا کہ: حضور! میں اس شخص سے دُشمنی اس لئے رکھتا ہوں کہ فلاں بزرگ جو فوت ہوچکے ہیں، یہ آدمی اس سے عداوت رکھتا ہے، اس کو بُرا بھلا کہتا ہے۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اچھا! وہ مجھ سے محبت رکھتا ہے یا نہیں؟ یعنی جس کو تم بُرا سمجھتے ہو، وہ مجھ سے محبت رکھتا ہے یا نہیں؟ انہوں نے ہاتھ جوڑ کر کہا کہ: حضور! آپ کے کسی اُمتی کے بارے میں میں کیسے کہہ سکتا ہوں کہ اُسے حضور سے محبت نہیں ہے؟ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اچھا! تو اس کے معنی ہوئے کہ میری محبت کی وجہ سے تم نے محبت نہیں رکھی، بلکہ فلاں بزرگ کی دُشمنی کی وجہ سے تم نے اس سے دُشمنی رکھی؟ شیخ ابوطاہرؒ نے کہا کہ: حضور! میں توبہ کرتا ہوں، آج سے دُشمنی ختم، آپ کی محبت کی وجہ سے محبت کرتا ہوں۔ صبح ہوئی تو ایک طباق میں دراہم …سمجھ لو روپے… رکھے اور اس کے اُوپر ایک نفیس جوڑا رکھا، اور خود لے کر اس بزرگ کے پاس پہنچے، جس کو بُرا بھلا کہا کرتے تھے، وہ طنزیہ انداز میں کہنے لگے کہ: آج کیسے آنا ہوگیا؟ شیخ ابو طاہرؒ نے خواب میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی زیارت کا ذکر کیا، اور کہا کہ: میں نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی بارگاہِ عالی میں توبہ کرلی ہے، آئندہ آپ سے میری دُشمنی ختم۔ وہ بزرگ فرمانے

184

لگے: آپ مجھ سے دُشمنی رکھتے کیوں تھے؟ فرمایا: بس اس کو چھوڑدیں! فرمایا: پھر بھی! کہا: اس کی وجہ یہ ہے کہ فلاں بزرگ تھے جن کو میں جانتا ہوں کہ وہ اللہ کے مقبول بندے تھے، اور تم اس کو بُرا بھلا کہتے تھے، اور مجھ سے یہ برداشت نہیں ہوتا تھا۔ وہ بزرگ کہنے لگے: اچھا! اگر وہ اللہ کے مقبول بندے تھے تو میں بھی آئندہ ان کو بُرا بھلا کہنے سے توبہ کرتا ہوں، مجھے غلط فہمی ہوئی تھی۔

تو غرضیکہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت کی وجہ سے محبت رکھنا، اور بغض کی وجہ سے بغض رکھنا، یہ ایمان کا حصہ ہے۔

پھر سب سے بدتر شخص وہ ہے جو دعویٔ نبوت کرے، اس لئے مدعیٔ نبوت سے عداوت رکھنا بھی اللہ اور رسول سے محبت کی وجہ سے ہونی چاہئے، اور یہ بھی ایمان کا حصہ ہے۔

آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا مسیلمہ کو ’’کذّاب‘‘ لکھوانا:

مسیلمہ کذّاب نے جب حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں خط بھیجا تو اس خبیث نے لکھا:

’’مِنْ مُسَیْلَمَۃَ رَسُوْلِ اﷲِ الٰی مُحَمَّدٍ رَّسُوْلِ اﷲِ۔‘‘

یعنی مسیلمہ رسول اللہ کی طرف سے یہ خط محمد رسول اللہ کے نام ہے۔ گویا وہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو ’’محمد رسول اللہ‘‘ مانتا تھا، اور وہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت کا منکر بھی نہیں تھا، لیکن رسالت کو اپنے لئے بھی ثابت کرتا تھا، اس لئے جواب میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے لکھوایا:

’’مِنْ مُحَمَّدٍ رَّسُوْلِ اﷲِ اِلٰی مُسَیْلَمَۃَ الْکَذَّابِ‘‘

(محمد رسول اللہ کی جانب سے مسیلمہ کذّاب کے نام)

سب سے بڑا جھوٹا، چنانچہ وہ دن اور آج کا دن ہے کہ مسلمان جب بھی مسیلمہ کا نام لیتے ہیں ’’مسیلمہ کذّاب‘‘ کہتے ہیں۔

غلام احمد قادیانی، مسیلمہ کذّاب سے ایک قدم آگے:

مسیلمہ کذّاب نے یہ دعویٰ کیا تھا کہ: ’’آپ بھی رسول اللہ ہیں اور میں بھی اللہ کا رسول ہوں‘‘ لیکن غلام احمد قادیانی نے ایک قدم آگے بڑھ کر یہ دعویٰ کیا کہ میں ہی ’’محمد رسول اللہ‘‘ ہوں۔

اب میں اس مسئلہ کی زیادہ تفصیل نہیں کرتا، وقت زیادہ ہوگیا۔

185

ہماری دُشمنی کا سب سے بڑا مظہر مرزا قادیانی:

تو دنیا میں ہماری دُشمنی کا سب سے بڑا مظہر اگر ہوسکتا ہے تو وہ غلام احمد قادیانی ملعون دجال ہے، تو جس کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے جتنی محبت ہوگی، اس کو غلام احمد سے اتنا ہی بغض ہوگا۔

مرزا قادیانی کے مقابلہ میں کام کرنے والے حضور ﷺ کے محبوب ہیں:

آخر میں اب ایک اور بات کہہ کر اپنی گزارشات ختم کرتا ہوں، وہ یہ کہ: جو لوگ اس ملعون و دجال کے مقابلے میں کام کر رہے ہیں، خواہ کسی درجے میں بھی کام کرنے والے ہوں، وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے محبوب ہیں، تمہیں معلوم ہوگا کہ امیرِ شریعت حضرت مولانا سیّد عطأ اللہ شاہ بخاری نوّر اللہ مرقدہٗ جن کے ہاتھ پر امام العصر حضرت مولانا محمد انور شاہ کشمیری قدس سرہٗ نے قادیانی مسئلہ پر کام کرنے کی بنا پر بیعت کی تھی، انجمن خدام الدین کے جلسے میں پانچ ہزار کا مجمع تھا، اور حضرت شاہ صاحبؒ کی وجہ سے ہندوستان کے چیدہ چیدہ علمأ جمع تھے، شاہ صاحبؒ نے اُٹھ کر اعلان فرمایا کہ قادیانی فتنہ کا مقابلہ کرنے کے لئے ایک امیر منتخب کرنا چاہئے، اور عطأ اللہ شاہ بخاری نوجوان ہیں، صالح ہیں، کیونکہ حضرت شاہ صاحبؒ اس وقت نوجوان تھے۔ لہٰذا میں اس مسئلے کے لئے ان کو امیر مقرر کرتا ہوں اور ان کے ہاتھ پر بیعت کرتا ہوں، پھر بھرے جلسے میں آپؒ نے امیرِ شریعتؒ کے ہاتھ پر بیعت کی تھی، اور حضرت کشمیریؒ کتنے اُونچے درجے کے آدمی تھے؟ دیکھنے والے ہی اس کا اندازہ لگاسکتے ہیں۔ میرے اُستاذ شیخ الحدیث حضرت مولانا محمد عبداللہ صاحبؒ بیان فرماتے تھے کہ اس وقت امیرِ شریعت حضرت مولانا سیّد عطأ اللہ شاہ صاحب رحمۃ اللہ علیہ پر کپکپی طاری تھی، اتنا بڑا خطیب اور ہندوستان کا خطیبِ اعظم، صرف اتنے الفاظ بول سکا کہ: بھائیو! یہ نہ سمجھو کہ حضرت شاہ صاحبؒ میرے ہاتھ پر بیعت فرما رہے ہیں، بلکہ میری بیعت کو قبول فرما رہے ہیں۔ لاہور میں علماء کرام نے آپؒ کے ہاتھ پر بیعت کی اور پھر گورداسپور ایک اجتماع میں عید کے روز آپ کو امیرِ شریعت مقرر کیا گیا۔

امیرِشریعتؒ کو بارگاہِ نبوی ﷺسے سلام:

حضرت مولانا محمد عبداللہ درخواستی حج پر گئے، وہاں ان کو مکاشفہ ہوا، حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی زیارت ہوئی، یہ وہاں ٹھہرنے کی نیت سے گئے تھے، فرمایا: ٹھہرو نہیں، واپس جاؤ! اور

186

میرے بیٹے سیّد عطأ اللہ شاہ بخاری کو میرا سلام کہہ دو۔ چنانچہ حضرت درخواستی ، خانپور اترنے کی بجائے سیدھے ملتان امیر شریعت کے گھر آئے اور ان کو جناب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے سلام پیش کیا، تو حضرت شاہ صاحبؒ ، حضرت درخواستی صاحبؒ سے کہتے تھے کہ حضرت سائیں یعنی حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم نے میرا نام لے کر سلام دیا ہے؟ یہ تھا ختم نبوت کے تحفظ کرنے والوں کا انعام خود حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے سلام آتے تھے۔

حاجی مانکؒ کو روزانہ زیارتِ نبوی ﷺکا اعزاز:

سندھ میں ہوتے تھے حاجی مانکؒ، انہوں نے ایک خنزیر قادیانی کو قتل کیا، اس لئے کہ اس ملعون نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی شان میں ایسی کوئی بات کی جو حاجی مانکؒ سے برداشت نہ ہوئی، تو کلہاڑی لے کر مار دی، اور قتل کرکے بمع کلہاڑی کے تھانے پہنچ گئے، اور کہا کہ: میں اس خنزیر کو مار کے آیا ہوں، مجھے گرفتار کرو۔

عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے امیر سوم ہمارے حضرت مولانا محمد علی جالندھریؒ اس کے مقدمہ کی پیروی کے لئے جماعت کی طرف سے ہمیشہ تشریف لاتے تھے، کیونکہ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت نے ہی حاجی مانکؒ کا مقدمہ لڑا تھا، اور اللہ نے اپنے فضل سے ان کو رہائی عطا فرمائی تھی، چند سال کی سزا ہوئی تھی، حالانکہ وہ خود اقرار کر رہے تھے کہ میں نے مارا ہے، وکلأ نے کہا بھی کہ: حاجی صاحب! آپ کے اس کیس کا کوئی گواہ نہیں ہے کہ آپ نے مارا ہے …حالانکہ تھانہ میں خود کلہاڑی پہنچائی تھی… آپ یہ کہہ دیں کہ یہ تھانے والے غلط کہتے ہیں، میں نے نہیں مارا، بس عدالت میں مکر جائیں۔ اس پر حاجی صاحبؒ فرمانے لگے: تمہارا دماغ تو خراب نہیں ہے کہ مجھے یہ مشورہ دیتے ہو؟ فرمانے لگے: جس دن سے مجھے جیل میں بند کیا گیا ہے، اس دن سے روزانہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زیارت ہوتی ہے، جبکہ زندگی میں کبھی بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی باوجود تمنا کے خواب میں زیارت نہیں ہوئی تھی، کیا میں مکر کر اس نعمت سے محروم ہوجاؤں؟

جج کا محبتِ نبوی ﷺ سے مجبور ہونا:

اسی کا ایک جز اور بھی رہ گیا ہے، وہ یہ کہ قاتل خود اقرار کرتا ہے اور قانون اس کو پھانسی کی سزا دیتا ہے، لیکن جج نے فیصلہ لکھا کہ: مجھے معلوم نہیں کہ کون سی طاقت ہے جو مجھے حاجی صاحب کو سزائے موت دینے سے منع کرتی ہے، بہرحال قانون کا احترام ضروری ہے، اس لئے

187

میں اتنے سال کی سزا ان کو دیتا ہوں۔ اس لئے کہ حاجی مانک نے جس غیرت میں آکر اس مردار اور خنزیر کو قتل کیا ہے، کوئی مسلمان ایسا نہیں جو اس کی بنیاد پر کسی کو قتل نہیں کرتا، میں چونکہ جج ہوں عدالت کی کرسی پر ہوں، قانون کا احترام میرا فرض ہے، اس لئے میں اتنے عرصہ کی علامتی سزا حاجی مانک کو دیتا ہوں، اگر میرے بس میں ہوتا تو میں ان کو بری کردیتا۔

اسی طرح کے اور بھی بے شمار واقعات تاریخ کے اوراق میں محفوظ ہیں، اس وقت صرف یہ دو باتیں میں نے آپ کی خدمت میں عرض کردیں۔ مزید عشق رسول اور محبت نبوی سے لبریز ہونے کے لئے تذکرہ مجاہدین ختم نبوت، تحریک ختم نبوت ۱۹۵۳ء، قومی تاریخی دستاویز، محبت نبوی کے تقاضے کا مطالعہ کریں۔ ختم نبوت کے لئے کام کروگے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے محبوب بن جاؤگے، اس لئے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ختم نبوت کے لئے کام کرنا حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے محبت کی اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے دُشمنوں اور بدترین دُشمن غلام احمد قادیانی سے بغض کی علامت ہے۔ اللہ پاک عمل کی توفیق نصیب فرمائے۔

  1. ہم نے تو دل جلا کے سرِ راہ رکھ دیا

    اب جس کے جی میں آئے، پائے روشنی

واٰخر دعوانا ان الحمدللّٰہ رب العالمین

188

’’میرے ذہن میں کوئی

شک و شبہ نہیں کہ قادیانی اسلام اور

ملک دونوں کے غدار ہیں۔‘‘

(علامہ ڈاکٹر محمد اقبالؒ)

189

فتنہ ارتداد کا مقابلہ

اور اس دور میں

اس کا مصداق

189

قادیانیوں کو دعوتِ اسلام

سوال:… کیا فرماتے ہیں علماء کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ کوئی عالم یا مبلغ یا کوئی عام آدمی کسی قادیانی کو اسلام کی تبلیغ کرسکتا ہے، حالانکہ دعوت عام و خاص سب قادیانیوں کو پہنچ چکی ہے، برائے مہربانی شریعت کی روشنی میں بتائیں کہ اس تبلیغ کا کیا حکم ہے اور قادیانیوں کو دعوتِ اسلام دینے کا کیا معیار ہے؟

(سائل: ابو ہارون جالندھری، کراچی)

جواب:… دین اسلام کی دعوت و تبلیغ غیر مسلموں کو بھی کی جاسکتی ہے، اگر دعوت و تبلیغ سے قادیانیوں کے راہِ راست پر آنے کی امید ہو تو انہیں اسلام کی دعوت ضرور دی جائے۔

  1. نظر ثانی

    کتبہ

  2. مفتی ابوبکر سعید الرحمن

    محمد زکریا

  3. دارالافتاء جامعہ علوم اسلامیہ علامہ بنوری ٹائون

    دارالافتاء ختم نبوت

190

بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ

الحمدﷲ وسلام علی عبادہ الذین اصطفی!

اما بعد فاعوذ باللّٰہ من الشیطان الرجیم، بسم اللّٰہ الرحمن الرحیم

’’یَآ اَیُّھَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا مَنْ یَّرْتَدَّ مِنْکُمْ عَنْ دِیْنِہٖ فَسَوْفَ یَأْتِی اﷲُ بِقَوْمٍ یُّحِبُّھُمْ وَیُحِبُّوْنَہٗ اَذِلَّۃٍ عَلَی الْمُؤْمِنِیْنَ اَعِزَّۃٍ عَلَی الْکَافِرِیْنَ یُجَاھِدُوْنَ فِیْ سَبِیْلِ اﷲِ وَلَا یَخَافُوْنَ لَوْمَۃَ لَآئِمٍ، ذَالِکَ فَضْلُ اﷲِ یُؤْتِیْہِ مَنْ یَّشَآئُ وَاﷲُ وَاسِعٌ عَلِیْمٌ۔‘‘

(المائدہ:۵۴)

ترجمہ:… ’’اے ایمان والو! جو کوئی تم میں سے پھرے گا اپنے دین سے، تو اللہ تعالیٰ عنقریب لاوے گا ایسی قوم کو کہ اللہ تعالیٰ ان کو چاہتا ہے اور وہ اس کو چاہتے ہیں، نرم دل ہیں مسلمانوں پر، زبردست ہیں کافروں پر، لڑتے ہیں اللہ کی راہ میں اور ڈرتے نہیں کسی کے الزام سے، یہ فضل ہے اللہ کا دے گا جس کو چاہے اور اللہ کشائش والا ہے خبردار۔‘‘

(ترجمہ حضرت شیخ الہندؒ)

حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے:

’’مَنْ بَدَّلَ دِیْنَہ‘ فَاقْتُلُوْہُ۔‘‘

ترجمہ:… ’’(اے حکام) جو دین اسلام سے پھر جائے اس کو قتل کردو۔‘‘

192

پیش گوئی اور وعدہ:

یہ آیت شریفہ سورۃ المائدہ کی ہے، جس میں اللہ تعالیٰ نے ایک پیش گوئی فرمائی ہے اس اُمت میں فتنۂ ارتداد کے ظاہر ہونے کی۔ صرف پیش گوئی ہی نہیں فرمائی بلکہ حق تعالیٰ شانہ نے ان مرتدین کے مقابلہ میں ایک جماعت کو لانے کا وعدہ بھی کیا ہے۔

گویا ایک پیش گوئی ہے کہ اس اُمت میں مرتدین ظاہر ہوں گے، اور دوسری پیش گوئی اور وعدہ ہے کہ ان مرتدین کی سرکوبی اور ان کے مقابلے کے لئے اللہ تعالیٰ ایک جماعت کو کھڑا کرے گا۔ پھر مرتدین کا مقابلہ کرنے والی اس جماعت کے اوصاف بیان فرمائے، چنانچہ حق تعالیٰ شانہ نے اس جماعت کی چھ صفات ذکر فرمائی ہیں:

مرتدین کا مقابلہ کرنے والی جماعت کے اوصاف

اول:… ان کی پہلی صفت یہ ہے کہ: ’’یُحِبُّھُمْ‘‘ اللہ تعالیٰ ان سے محبت فرماتے ہوں گے۔ یعنی وہ اللہ تعالیٰ کے محبوب بندے ہوں گے۔

دوم:… ان کی دوسری صفت یہ ذکر فرمائی کہ:’’وَیُحِبُّوْنَہٗ‘‘ کہ وہ لوگ اللہ تعالیٰ سے محبت کرتے ہوں گے۔ یعنی اللہ تعالیٰ کے محب اور عاشق ہوں گے۔

سوم:… ان کی تیسری صفت یہ ہوگی کہ:’’اَذِلَّۃٍ عَلَی الْمُؤْمِنِیْنَ‘‘ ، مؤمنوں کے مقابلے میں اپنا سر نیچا کرکے رہیں گے۔ یعنی مؤمنوں کے مقابلے میں ذلیل (نرم، رقیق القلب) بن کر رہیں گے۔

چہارم:… ان کی چوتھی صفت یہ ہوگی کہ:’’اَعِزَّۃٍ عَلَی الْکَافِـرِیْنَ‘‘ ، کافروں کے مقابلے میں معزز اور سربلند ہوکر رہیں گے۔ یعنی ان کے سر نیچے کریں گے۔

پنجم:… ان کی پانچویں صفت یہ ہوگی کہ:’’یُجَاھِدُوْنَ فِیْ سَبِیْلِ اﷲِ‘‘ ، وہ اللہ کے راستے میں جہاد کریں گے۔

ششم:… ان کی چھٹی صفت یہ ہے کہ: ’’وَلَا یَخَافُوْنَ لَوْمَۃَ لَآئِمٍ‘‘ ، وہ کسی ملامت کرنے والے کی ملامت کی پرواہ نہیں کریں گے۔

سب سے آخر میں فرمایا: ’’ذَالِکَ فَضْلُ اﷲِ یُؤْتِیْہِ مَنْ یَّشَآئُ وَاﷲُ وَاسِعٌ عَلِیْمٌ۔‘‘ یہ اللہ کا فضل ہے، وہ یہ فضل عطا فرمادیتا ہے جس کو چاہتا ہے، اللہ تعالیٰ بڑی وسعت والا

193

ہے کہ اس کے لئے عطا کرنا مشکل نہیں، اور ساتھ ہی ساتھ علیم ہے، وہ جانتا ہے کہ کس کو کون سی چیز دی جائے؟ یہ خلاصہ ہے اس آیت کا۔

حضرت علیؓ کی فضیلت:

یہاں پہلے ایک بات اور بھی سمجھ لیجئے! وہ یہ کہ جنگِ خیبر کے موقع پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا تھا:

’’لَاُعْطِیَنَّ ھٰذِہِ الرَّایَۃَ غَدًا رَجُـلًا یَّفْتَح اﷲُ عَلٰی یَدَیْہِ، یُحِبُّ اﷲَ وَرَسُوْلَہٗ، وَیُحِبُّہُ اﷲُ وَرَسُوْلُہٗ، فَلَمَّا اَصْبَحَ النَّاسُ غَدَوْا عَلٰی رَسُوْلِ اﷲِ صَلَّی اﷲُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ کُلُّھُمْ یَرْجُوْنَ …۔ الخ۔‘‘ (مشکوٰۃ ص:۵۶۳، باب مناقب علی بن ابی طالب)

یعنی میں کل جھنڈا ایک ایسے آدمی کے ہاتھ میں دوں گا جو اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے محبت رکھتا ہوگا، اور اللہ تعالیٰ اور اس کا رسول اس سے محبت رکھتے ہوں گے، اللہ تعالیٰ اس کے ہاتھ پر قلعہ کو فتح کرے گا۔

چنانچہ اگلے دن آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے یکایک فرمایا: ’’علیؓ کہاں ہیں؟‘‘ عرض کیا گیا: یا رسول اللہ! وہ اپنے ڈیرے یعنی اپنے خیمے میں ہیں، ان کی آنکھوں میں آشوب ہے، ان کی آنکھیں دکھتی ہیں، پھولی ہوئی ہیں۔ گویا ان کی آنکھیں بند ہیں اور انہیں کچھ نظر نہیں آرہا۔ فرمایا کہ: ان کو بلاؤ! جس طرح نابینا کا ہاتھ پکڑ کر لایا جاتا ہے، اس طرح حضرت علیؓ کا ہاتھ پکڑ کر لایا گیا اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں بٹھادیا گیا۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا لعابِ مبارک ان کی آنکھوں پر لگایا، تو اسی وقت ان کی ساری تکلیف دور ہوگئی۔ چنانچہ بعد میں حضرت علی رضی اللہ عنہ فرماتے تھے کہ: اللہ کی قسم! اس کے بعد مجھے کبھی بھی آنکھوں کی تکلیف نہیں ہوئی۔ جب ان کی آنکھوں کو لعاب لگادیا گیا اور وہ ٹھیک ہوگئیں، تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے جھنڈا ان کے ہاتھ میں دیا اور فرمایا: جاؤ اللہ کے نام سے جہاد کرو! اور اللہ تعالیٰ کے دشمنوں سے مقابلہ کرو! حضرت علیؓ تعمیلِ حکم میں چل پڑے، معلوم ہوا اس حدیث پاک کا مصداق پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم کی زبان نبوت نے حضرت علیؓ کو بنایا۔

194

حضرت صدیق اکبرؓ کا اعزاز:

تو جس طرح حضرت علیؓ کے ہاتھوں میں جب تک جھنڈا نہیں دے دیا گیا، اس وقت تک کسی کو معلوم نہیں تھا کہ اس ارشادِ نبویؐ:’’یُحِبُّ اﷲَ وَرَسُوْلَہٗ، وَیُحِبُّہُ اﷲُ وَرَسُوْلُہٗ‘‘ (وہ اللہ سے اور اس کے رسول سے محبت رکھتا ہے، اور اللہ اور اس کا رسول اس سے محبت رکھتے ہیں) کے مصداق کا اعزاز و فضیلت کس کے حصے میں آتی ہے؟ بلکہ ہر ایک منتظر تھا کہ شاید مجھے مل جائے، لیکن جب آپ ﷺ نے حضرت علیؓ کے ہاتھ میں جھنڈا دے دیا تو معلوم ہوا کہ آیتِ مذکورہ کا مصداق حضرت علیؓ ہیں۔ ٹھیک اسی طرح جس وقت آیتِ شریفہ:’’یَآ اَیُّھَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا مَنْ یَّرْتَدَّ مِنْکُمْ عَنْ دِیْنِہٖ فَسَوْفَ یَأْتِی اﷲُ بِقَوْمٍ یُّحُبُّھُمْ وَیُحِبُّوْنَہٗ‘‘ ازل ہوئی، تو اس وقت بھی کسی کو معلوم نہیں تھا کہ یہ فضیلت اور یہ سعادت کس کے حصے میں آنے والی ہے؟ یہ تاج کس کے سر پر سجایا جائے گا؟ اور محبت اور محبوبیت کا تمغہ کس کو عطا کیا جائے گا؟ لیکن جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بعد فتنۂ ارتداد پھیلا، لوگ مرتد ہوئے اور انہی مرتدوں میں جھوٹے مدعیانِ نبوت بھی تھے، جن میں سرِ فہرست مسیلمہ کذاب تھا، جس نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے نام خط لکھا تھا کہ:

’’مِنْ مُسَیْلَمَۃَ رَسُوْلِ اﷲِ اِلٰی مُحَمَّدٍ رَّسُوْلِ اﷲِ، سَلَامٌ عَلَیْکَ، اَمَّا بَعْدُ! فَاِنِّیْ قَدْ اُشْرِکْتُ فِی الْأَمْرِ وَاِنَّ لَنَا نِصْفُ الْأَمْرِ وَلِقُرَیْشٍ نِصْفُ الْأمْرِ، لٰـکِنْ قُرَیْشٌ قَوْمٌ یَّعْتَدُوْنَ۔‘‘ (دلائل النبوۃ ج:۵ ،ص:۳۳۱)

ترجمہ:… ’’یہ خط ہے مسیلمہ رسول اللہ کی طرف سے محمد رسول اللہ کے نام، بعد اس کے اللہ تعالیٰ نے تمہاری نبوت میں مجھے بھی شریک کردیا، اس لئے آدھی زمین تمہاری آدھی میری (مل کر کھائیں گے)، لیکن قریش زیادتی کرتے ہیں (کہ مجھے اس میں شریک نہیں کرتے)۔‘‘

مسیلمہ کے خط کے جواب میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے لکھا:

’’مِنْ مُحَمَّدٍ رَّسُوْلِ اﷲِ اِلیٰ مُسَیْلَمَۃَ الْکَذَّابِ، سَلَامٌ عَلیٰ مَنِ اتَّبَعَ الْھُدیٰ، اَمَّا بَعْدُ! فَاِنَّ الْأرْضَ ِﷲِ یُوْرِثُھَا مَنْ یَّشَائُ
195

مِنْ عِبَادِہٖ وَالْعَاقِبَۃُ لِلْمُتَّقِیْنَ۔‘‘

(دلائل النـبوۃ ج:۵ ص:۳۳۱، کنز العمال ج:۱۴ ص:۲۰۱ حدیث:۳۸۳۸۶)

ترجمہ:… ’’محمد رسول اللہ ﷺ کی جانب سے مسیلمہ کذاب کے نام، اما بعد! زمین اللہ کی ہے، اللہ جس کو چاہتا ہے، اس کا وارث بنادیتا ہے، اور اچھا انجام متقیوں کے لئے ہے۔‘‘

دراصل مسیلمہ کذاب نے دعویٔ نبوت تو کیا تھا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی میں، مگر اتنے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا وصال ہوگیا، نجد اور یمامہ پورا علاقہ مسیلمہ کذاب کے قبضے میں تھا، اسی طرح سجاح نام کی ایک خاتون تھی، اس نے بھی دعویٔ نبوت کیا تھا، جس نے بعد میں مسیلمہ کے ساتھ شادی کرلی تھی، مسیلمہ نے اس سے پوچھا کہ: تمہیں مہر کیا دیں؟ تو کہنے لگی: دو نمازیں معاف کردو! چنانچہ مسیلمہ کذاب نے دو نمازیں معاف کردیں۔

مسیلمہ کے مقابلہ میں لشکرِ اسلام:

مختصر یہ کہ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کی خلافت میں سب سے پہلے جو لشکر بھیجا گیا، وہ مسیلمہ کذاب کے مقابلے میں تھا، حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ (اللہ کی تلواروں میں سے ایک) اس لشکر کے سپہ سالار تھے، جب مسیلمہ سے مقابلہ ہوا تو بڑے بڑے قرأ صحابہ کرامؓ اس جہاد میں شہید ہوئے، حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کے بھائی حضرت زید بن خطابؓ بھی شہید ہوئے۔

مسیلمہ کذاب اور اس کی قوم نے مسلمانوں کا اس طرح ڈٹ کر مقابلہ کیا کہ ایک دفعہ تو مسلمانوں کے پاؤں اُکھڑ گئے، حضرت خالد بن ولیدؓ نے صحابہ کرامؓ کو پھر سے جمع اور مرتب کیا اور ان پر دوبارہ حملہ کیا، حضرت سالمؓ، حضرت علیؓ، حضرت حذیفہؓ اور ایک دوسرے صحابی نے لوگوں سے کہا کہ: لوگو! ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں اس طرح نہیں لڑا کرتے تھے۔ پھر انہوں نے اپنے آپ کو سنگلوں سے باندھ لیا تاکہ پیچھے نہ ہٹ پائیں، مختصر یہ کہ مسلمانوں کی فوج نے بے جگری سے ان کا مقابلہ کیا، چنانچہ مسلمان، مسیلمہ کذاب اور ان کے ایک لاکھ کے لشکر کو پیچھے دھکیلتے ہوئے ایک باغ میں لے گئے، تو مسیلمہ کذاب اور اس کی جماعت نے اپنے آپ کو ایک بہت بڑے باغ میں، جس کی چاردیواری اور دروازہ تھا، قلعہ بند کرلیا اور محفوظ ہوگئے۔

196

قلعہ حدیقۃ الموت کا دروازہ کھولنے کی انوکھی ترکیب!

ایک صحابیؓ نے کہا: اندر سے تو دروازہ اور کنڈا بند ہے، میں تمہیں اس کی تدبیر بتادیتا ہوں، اگر تم اس پر عمل کرو تو یہ مشکل حل ہوسکتی ہے، وہ یہ ہے کہ مجھے نیزوں پر اُٹھاکر دیوار کے اُوپر سے اندر پھینک دو تو میں کنڈا کھول دوں گا، اگر انہوں نے مجھے شہید بھی کردیا تو کوئی بات نہیں، اور اگر میں شہید ہونے سے پہلے دروازہ کھولنے میں کامیاب ہوگیا تو تم اندر داخل ہوجانا، اور اگر میں شہید ہوجاؤں تو میری جگہ ایک اور آدمی کو اندر پھینک دو، ایک اور کو پھینک دو، ایک اور کو پھینک دو، یہاں تک کہ مسلمان اس قلعہ کا دروازہ کھولنے میں کامیاب ہوجائیں۔

صحابہ کرامؓ نے ان کی رائے سے اتفاق کیا اور ان کو اندر قلعہ میں پھینک دیا، چونکہ ان کا نیزہ اور تلوار ان کے ساتھ تھی اس لئے وہ ان سے لڑتے بھڑتے دروازہ تک پہنچ گئے اور دروازہ کھول دیا، تو مسلمان یلغار کرکے اس کے اندر داخل ہوگئے اور مسیلمہ کے لشکر کو ٹھکانے لگانے میں کامیاب ہوگئے، مسیلمہ کذاب کو حضرت وحشی بن حربؓ …جو حضرت حمزہؓ کے قاتل تھے… نے قتل کیا تھا، جس کی صورت یہ ہوئی کہ ان کے پاس ایک حربہ یعنی چھوٹا سا نیزہ تھا، اس کو انہوں نے اس طرح پھینک کر مارا کہ مسیلمہ کذاب کے جاکر لگا اور وہ وہیں مردار ہوگیا، اس جنگ میں مسیلمہ کذاب کے بیس ہزار آدمی قتل ہوئے، تو بارہ سو کے قریب حضراتِ صحابہ کرامؓ نے بھی جامِ شہادت نوش کیا۔

جب حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ اور ان کے بھیجے ہوئے لشکر نے ان مرتدین سے مقابلہ کیا تب پتہ چلا کہ یہ جھنڈا حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے ہاتھ میں دیا جانا تھا، اور ارشادِ الٰہی: ’’یُّحِبُّھُمْ وَیُحِبُّوْنَہٗ اَذِلَّۃٍ عَلَی الْمُؤْمِنِیْنَ اَعِزَّۃٍ عَلَی الْکَافِرِیْنَ یُجَاھِدُوْنَ فِیْ سَبِیْلِ اﷲِ وَلَا یَخَافُوْنَ لَوْمَۃَ لَآئِمٍ‘‘ میں جو چھ صفات ذکر کی گئی تھیں، اس کا مصداق حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ اور ان کے ساتھی ہیں۔ اسی طرح یہ تمغہ جو اللہ تعالیٰ نے عطا فرمایا، یہ بھی انہیں کے حصہ میں آیا۔

ایک نکتہ:

یہاں ایک نکتہ ذکر کرتا ہوں، وہ یہ کہ میں نے حضرت علیؓ کے بارے میں غزوۂ خیبر کی حدیث ذکر کی تھی، اس میں یہ فرمایا گیا تھا کہ:’’یُحِبُّ اﷲَ وَرَسُوْلَہٗ، وَیُحِبُّہُ اﷲُ وَرَسُوْلُہٗ‘‘ یعنی جس شخص کو میں جھنڈا دوں گا، وہ اللہ تعالیٰ سے اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے محبت

197

رکھتا ہوگا، اور اللہ تعالیٰ اور اس کا رسول ﷺ، اس سے محبت رکھتے ہوں گے۔ مگر یہاں مرتدین سے مقابلہ کرنے والے حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ اور ان کی جماعت کے بارہ میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ’’یُحِبُّھُمْ وَیُحِبُّوْنَہٗ‘‘ اللہ ان سے محبت رکھے گا اور وہ اللہ سے محبت رکھیں گے۔ کیا آپ حضرات کو ان دونوں کا فرق سمجھ میں آیا؟ اگر نہیں آیا تو میں سمجھاتا ہوں، وہ یہ کہ:

حضرت علی رضی اللہ عنہ کے بارے میں فرمایا تھا کہ ’’یُحِبُّ اﷲَ وَرَسُوْلَہٗ‘‘ کہ وہ آدمی اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے محبت رکھتا ہوگا، اور اللہ تعالیٰ اور اس کا رسول صلی اللہ علیہ وسلم اس سے محبت رکھتے ہوں گے۔

حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کی فضیلت:

دوسری طرف مرتدوں کے مقابلے میں اللہ تعالیٰ نے جس قوم کو لانے کا وعدہ فرمایا، اس کے بارے میں فرمایا: ’’یُحِبُّھُمْ وَیُحِبُّوْنَہٗ‘‘ یعنی اللہ کو ان سے محبت ہے، اور ان کو اللہ سے محبت ہے۔ یہاں رسول اللہ کا ذکر نہیں کیا، بلکہ صرف اللہ تعالیٰ کا ذکر کیا، اس لئے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت بھی اللہ ہی کی محبت ہے، اور جس کو اللہ سے محبت ہوگی اس کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بھی محبت ہوگی، یہ لازم و ملزوم ہیں، اور کبھی ایسا بھی کردیا جاتا ہے کہ دونوں میں سے کسی ایک کو ذکر کردیا جاتا ہے۔ ’’یُحِبُّ اﷲَ وَرَسُوْلَہٗ‘‘ لیکن یہاں ترتیب الٹی ہے، یہاں اللہ کا ان سے محبت رکھنا پہلے ذکر کیا گیا کہ اللہ تعالیٰ ان سے محبت رکھتا ہے، گویا یہ اللہ تعالیٰ کے محبوب ہیں: ’’وَیُحِبُّوْنَہٗ‘‘ اور وہ لوگ بھی اللہ تعالیٰ سے محبت رکھتے ہیں۔ یعنی اللہ تعالیٰ کے عاشق اور محبِ صادق بھی ہیں۔

ایک اور نکتہ:

مرتدین کے مقابلہ میں آنے والی جماعت کی تیسری اور چوتھی صفت یہ ذکر فرمائی گئی تھی کہ:’’اَذِلَّۃٍ عَلَی الْمُؤْمِنِیْنَ، اَعِزَّۃٍ عَلَی الْکَافِرِیْنَ‘‘ اہل علم اور اربابِ مدارس علمأ جانتے ہیں کہ ’’عزیز‘‘ کا لفظ اُوپر کے لئے آتا ہے اور ’’ذلیل‘‘ کا لفظ نیچے کے لئے آتا ہے، چنانچہ ان کی

198

صفت یہ ہوگی کہ ’’وہ مؤمنوں کے لئے ذلیل ہوں گے‘‘ ظاہر ہے کہ ذلیل اُوپر تو نہیں ہوتا نیچے ہی ہوتا ہے، مطلب یہ ہے کہ وہ اُوپر ہونے کے باوجود مؤمنوں کے سامنے سر جھکا کر رہیں گے، یعنی ان کی تواضع کا یہ عالم ہوگا کہ سب کچھ ہونے کے باوجود، علم و فضل کے باوجود، اپنی محبوبیت اور محبت کے باوجود وہ ادنیٰ سے ادنیٰ مسلمان کے ساتھ بھی نیچا ہوکر یعنی تواضع کرکے رہیں گے اور اپنے آپ کو اُونچا نہیں کہیں گے۔

حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کا پہلا خطبہ:

سیدنا ابوبکر صدیقؓ نے خلیفۂ رسول بننے کے بعد جو پہلا خطبہ دیا تھا، اس میں انہوں نے فرمایا تھا: لوگو! مجھے تمہارے معاملات کا والی بنادیا گیا ہے، میں تم سے اچھا نہیں ہوں، میں تم سے اچھا نہیں ہوں، اگر میں سیدھا چلوں تو میری مدد کرو اور اگر میں ٹیڑھا چلوں تو مجھے سیدھا کرو۔

اور یہ بھی پہلے خطبے میں فرمایا تھا: سنو! تم میں سے جو زیادہ طاقتور ہے وہ میرے نزدیک کمزور ہے، جب تک کہ میں اس سے کمزور کا حق وصول نہ کرلوں اور جو تم میں سے کمزور ہے وہ میرے نزدیک طاقتور ہے جب تک کہ اس کا حق ادا نہ کردوں۔

بلاشبہ یہ حضرات مؤمنوں کے سامنے اپنے آپ کو اتنا نیچا کرنے والے اور اتنا پست کرنے والے تھے، ایسا لگتا تھا کہ ان کا اپنا کوئی وجود ہی نہیں ہے، ان کی پوری زندگیوں میں ایسا کوئی ایک واقعہ بھی پیش نہیں آیا کہ کبھی حضرت ابوبکر صدیقؓ، حضرت عمر فاروقؓ، حضرت عثمانؓ یا سیدنا امیرالمؤمنین حضرت علیؓ نے کسی مسلمان کے سامنے اپنی بڑائی کا اظہار کیا ہو، اور اپنے آپ کو بڑا ظاہر کیا ہو، مؤمنوں کے لئے تو اتنا متواضع تھے، لیکن:’’اَعِزَّۃٍ عَلَی الْکَـافِـرِیْـنَ‘‘ کافروں کے مقابلہ میں عزیز و سربلند ہوکر کے رہے، کبھی سر نیچا نہیں کیا۔

حضرت عمر رضی اللہ عنہ کا دبدبہ اور رومی قاصد:

حضرت رومیؒ نے ایک واقعہ لکھا ہے کہ امیرالمؤمنین حضرت عمر ابن الخطابؓ کی خدمت میں شاہِ روم کا قاصد اور سفیر آیا، مدینے میں آکر پوچھنے لگا کہ مسلمانوں کے خلیفہ کا محل کونسا ہے؟ یعنی ’’قصرِ خلافت‘‘ کون سا ہے؟ تو لوگوں نے کہا کہ: امیرالمؤمنین کا کوئی محل نہیں، آپ مسجد میں رہتے ہیں، وہیں جاکر دیکھ لو، وہ مسجد میں گیا وہاں نہیں ملے، وہاں کوئی آدمی موجود تھا اس سے پوچھا کہ: امیرالمؤمنین کہاں ہیں؟ کہنے لگا کہ: صدقے کا اونٹ گم ہوگیا ہے، اس کو تلاش کرنے

199

کے لئے جنگل کی طرف گئے ہیں۔

ہیبتِ فاروقی ؓ:

حضرت عمرؓ صدقہ کا اُونٹ ڈھونڈتے ڈھونڈتے تھک گئے، مگر اُونٹ نہیں ملا، دوپہر کا وقت ہوگیا، تو ایک درخت کے سائے میں پتھر سر کے نیچے رکھ کر سوگئے، رومی سفیر بھی انہیں ڈھونڈتا ڈھونڈتا وہاں پہنچا، دیکھا تو امیرالمؤمنین اس وقت سو رہے ہیں، نہ کوئی ہتھیار پاس ہے اور نہ کوئی پہرے دار! مگر جیسے ہی سفیر وہاں پہنچا اور آپؓ پر نظر پڑی تو تھرتھر کانپنے لگا، مولانا رومیؒ اس مقام پر فرماتے ہیں:

’’ہیبتِ حق است ایں از خلق نیست‘‘

یہ اللہ تعالیٰ کی جانب سے ہے، بندۂ مخلوق کی طرف سے نہیں، گودڑی پہنا فقیر جو ایک درخت کے نیچے بغیر کسی چادر کے لیٹا ہوا ہے، یہ اس کی ہیبت نہیں بلکہ یہ ہیبتِ ربانی ہے!

کافروں کے مقابلے میں ایسے سخت اور ایسے سربلند کہ کبھی کسی کافر کے مقابلے میں سر نیچا کرنا سیکھا ہی نہیں، سَر کٹ سکتا ہے مگر جھک نہیں سکتا۔ چنانچہ فتنہ قادیانیت اور مرزائیت سے متعلق ہمارے اکابرین امت نے یک جان ہوکر محنت کی اور قادیانیت کا مقابلہ کیا۔

تحریک ۱۹۵۳ء کے اغراض و مقاصد:

حیف! صد حیف ہے! اُن لوگوں پر جو یہ کہتے ہیں کہ ۱۹۵۳ء کی تحریک سیاسی اغراض کے لئے چلائی گئی تھی، اللہ تعالیٰ کی قسم! یہ تحریک ان لوگوں نے چلائی تھی جن کی شکل دیکھنا جنت میں داخل ہونے کی ضمانت تھی، یعنی جن کی شکل دیکھنے سے جنت ملتی تھی، ایسے اللہ کے مخلص بندوں نے یہ تحریک چلائی تھی۔ یہ اللہ کے وہ مخلص بندے تھے جنہوں نے اپنے نام سے نمود، نمائش اور تمام چیزوں کا پتہ کاٹ دیا تھا، ان کے ہاں یہ چیزیں تھیں ہی نہیں، تم جانتے ہو! امیرِ شریعت سید عطأ اللہ شاہ بخاریؒ، مجاہدِ ملت مولانا محمد علی جالندھریؒ اور اس سطح کے دوسرے ان اکابرؒ نے یہ تحریک چلائی تھی کہ خدا کی قسم! اگر ان کی جوتیاں سر پر رکھ لیں تو ہمیں جنت نصیب ہوجائے۔ تم کہتے ہو کہ یہ سیاسی اغراض کے لئے تھی، میں واشگاف الفاظ میں کہنا چاہتا ہوں کہ مرزائیوں نے تمہیں لقمہ دیا ہے، اور تم نے ان کی بولی بولنا شروع کردی ہے، عقل و دماغ اللہ نے تمہیں بھی دیا ہے، ذرا بتلاؤ کون سا سیاسی مقصد تھا؟ جس کے لئے یہ تحریک چلائی گئی تھی؟ مجھے ذرا بتائو تو سہی؟ میرے سوال کا

200

جواب دو! سیاسی تجزیہ کرکے بتلاؤ کہ کیا اغراض تھیں؟

میںیہ کہنا چاہ رہا تھا کہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:’’یجاہدون فی سبیل اﷲ‘‘ وہ جہاد کریں گے اللہ کے راستے میں: ’’ولا یخافون لومۃ لائم‘‘ اور کسی ملامت کرنے والے کی ملامت کی پرواہ نہیں کریں گے، چاہے نذیر ناجی ہو یا جاوید اقبال ہو یا کوئی اور، شوکت حیات ہو یا دولتانہ، ناظم الدین ہو یا صدر محمد اسحق خان، نواز شریف ہو یا بے نظیر، امریکہ بہادر ہو یا ملکہ برطانیہ، الحمدللہ! ہمیں کسی ملامت کرنے والے کی ملامت کی پروا نہیں ہے، صرف ایک ذات پر نگاہ ہے، اور وہ ہے اللہ تعالیٰ کی ذات! صرف اور صرف یہی غرض ہے کہ وہ راضی ہوجائے اور بس! تم نے سمجھا ہی نہیں، تم نے جانا ہی نہیں کہ اللہ تعالیٰ کے بندے کیسے ہوتے ہیں؟ ارے تم نے اللہ کے بندے دیکھے ہی نہیں:

  1. گل کو ناز ہے اپنی نزاکت پر چمن میں اے ذوق

    اس نے دیکھے ہی نہیں ناز و نزاکت والے!

تم نے آدمی دیکھے ہی نہیں، تمہیں معلوم ہی نہیں کہ آدمی کون ہوتے ہیں؟ تم نے تو اس بھیڑ کو جو بازاروں میں پھر رہی ہے اور یہ جو اسمبلیوں میں بیٹھتی ہے، جو امریکہ اور برطانیہ کے طواف کرتی ہے، اس بھیڑ کو انسان سمجھ لیا ہے۔ میرے بھائی! یہ آدمی نہیں ہیں، یہ آدمیوں کی شکلیں ہیں بلکہ گستاخی معاف! یہ بھیڑئیے ہیں جو انسانوں کے لباس میں ہیں۔

تم نے آدمی نہیں دیکھے، کبھی آؤ اور آکر آدمیوں کے پاس بیٹھو، لیکن تمہیں اپنی انا چھوڑ کر مسجد کی چٹائی پہ آنا ہوگا، چٹائی پر بیٹھنا ہوگا، پھر تمہیں پتہ چلے گا کہ آدمی کون ہیں؟ اور سکونِ قلب کی دولت کس کے پاس سے ملتی ہے؟:

  1. تمنا دردِ دل کی ہے تو کر خدمت فقیروں کی

    نہیں ملتا یہ گوہر بادشاہوں کے خزینوں میں

  2. جلا سکتی ہے شمع کشتہ کو موج نفس ان کی

    الٰہی کیا چھپا ہوتا ہے اہلِ دل کے سینوں میں

خیر بات دوسری طرف چلی گئی، میں یہ کہنا چاہ رہا تھا کہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں وہ اللہ

201

کے راستے میں جہاد کریں گے۔

جہاد کی قسمیں:

یاد رکھو! جہاد تین قسم کا ہوتا ہے:

اول:… مال کے ساتھ جہاد ہوتا ہے، جیسا کہ ارشاد ہے:’’وَجَاھِدُوْا بِأَمْوَالِکُمْ وَاَنْفُسِکُمْ فِیْ سَبِیْلِ اﷲِ۔‘‘ قرآن کریم میں بار بار آتا ہے کہ مال کے ساتھ جہاد ہوتا ہے اور صحابہ کرامؓ نے مالی قربانیوں کے ایسے ریکارڈ قائم کئے اور ایسی مثالیں پیش کیں کہ کوئی ان کو نہیں دُہرا سکتا، میں یہاں ان تفصیلات کو ذکر نہیں کرنا چاہتا۔

دوم:… زبان و قلم سے جہاد ہوتا ہے، جیسا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے:

’’یُوْزَنْ یَومَ الْقِیَامَۃِ مِدَادُ الْعُلَمٰائِ بِدَمِ الشُہَدَائِ!‘‘

(احیأ العلوم ج:۱ ص:۶، طبع بیروت)

ترجمہ:… ’’قیامت کے دن علمأ کے قلم کی سیاہی شہدأ کے خون سے تولی جائے گی۔‘‘

یعنی علمأ کے قلم کی روشنائی شہیدوں کے خون سے تولی جائے گی، باطل کے مقابلہ میں قلم اور زبان کے ساتھ جہاد کرنا اور کبھی باطل کے ساتھ مصالحت نہ کرنا۔

سوم:… تیسرا درجہ یہ ہے کہ اگر ضرورت ہو تو بارگاہِ الٰہی میں نذرانۂ سر پیش کردینا اور جان کی قربانی پیش کردینا۔

اللہ کا شکر ہے کہ اللہ کے بندے تینوں قسم کے جہاد کے لئے تیارہیں، اور ملامت کرنے والوں کی ملامت کی پرواہ نہیں کرتے۔ اگرچہ انہیں کوئی: سر پھرا کہے، کوئی: مذہبی جنونی کہے، اور کوئی: سیاسی اغراض و مقاصد کا طعنہ دے، کوئی کچھ کہے، کوئی کچھ کہے، بلکہ جس کے منہ میں جو آئے کہے، مگر وہ: ’’وَلَا یَخَافُوْنَ لَوْمَۃَ لَآئِمٍ‘‘ کے مصداق کسی ملامت کرنے والے کی ملامت کی پرواہ نہیں کرتے، اور یہ ان کا کمال نہیں بلکہ:’’ذَالِکَ فَضْلُ اﷲِ یُؤْتِیْہِ مَنْ یَّشَآئُ‘‘ یہ اللہ کا فضل ہے دیتے ہیں جس کو چاہتے ہیں۔ ہاں! یہ ہر ایک کو نہیں ملتا، یہ دولتِ عظمیٰ ہر ایک کو تھوڑی دیتے ہیں؟ ’’وَاﷲُ وَاسِعٌ عَلِیْمٌ۔‘‘ اللہ بڑی وسعت والا اور بڑے علم والا ہے۔

اس آیت کریمہ کے سب سے پہلے مصداق حضرت ابوبکرصدیق رضی اللہ عنہ اور ان کی

202

جماعت کے حضرات تھے، اس لئے کہ جب پورے عرب میں ارتداد کی آگ پھیل گئی تھی اور گیارہ قسم کے قبائل مرتد ہوگئے تھے تو اس وقت حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کی فراست اور حضرت خالد رضی اللہ عنہ کی تلوار کے ذریعہ اس ارتداد کا قلع قمع کیا گیا، دوسال بعد جب حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ ، آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے جاکر ملتے ہیں اور ان کی بارگاہ میں سلام کرتے ہیں، تو گویا دوسال کے بعد غلام اپنے آقا کی خدمت میں اس طرح سرخرو ہوکر حاضر ہوتا ہے کہ پورا عرب دوبارہ اسلام کے زیر نگیں تھا اور صدیقی فوجیں فارس اور روم کا مقابلہ کررہی تھیں۔

خلاصہ یہ کہ آپ ہی پہلے مصداق تھے اور وہ چھ کی چھ صفات اللہ تعالیٰ نے آپ کی ذات میں جمع کردی تھیں۔

اس کے بعد بھی مختلف زمانوں میں ارتداد کے فتنے ظاہر ہوتے رہے، اللہ تعالیٰ اپنے اس وعدے اور پیش گوئی کے مطابق ان مرتدین کے مقابلے میں بھی ایک ایک قوم کو لاتا رہا، مگر ان سب کے پہلے قائد، پیشوا اور امام حضرت ابوبکر صدیقؓ تھے، بعد میں آنے والے سب کے سب ان کے پیچھے نیت باندھ کرکے کھڑے نظر آتے ہیں۔

اس دور میں اس آیت کا مصداق:

حضرت امیرِ شریعت مولانا سیّد عطأ اللہ شاہ بخاریؒ کا جلسہ تھا اور شیخ الاسلام مولانا شبیر احمد عثمانی ؒ کی تقریر تھی، مولانا شبیر احمد عثمانی ؒ نے یہی آیتِ کریمہ پڑھی اور بھرے جلسے میں اعلان کیا کہ: ’’میں گواہی دیتا ہوں کہ آج اس آیت کا مصداق عطأ اللہ شاہ بخاریؒ کی جماعت ہے…!‘‘

  1. زندہ ہیں زمانہ میں ثنا خوانانِ محمد

    تابندہ ہی رہے گا یونہی گلستانِ محمد

زندگی کے دومیدان:

ایک بات کہنا چاہتا ہوں توجہ سے سنو! وہ یہ کہ زندگی کے دو میدان ہیں، یا یوں کہو کہ آدمی اپنی زندگی میں جو محنت کرتا ہے، اس کے دومیدان ہیں۔

اول:… دنیا میں دنیا کے لئے محنت کرنا، مثلاً: کسی کی پچاس، ساٹھ سال کی عمر تھی یا جتنی بھی مقدر تھی، وہ اس پوری کی پوری عمر میں دنیا کے لئے محنت کرتا رہا، لیکن جب وہ اس دنیا سے گیا تو سب کچھ یہاں چھوڑ گیا، اور خود خالی ہاتھ چلاگیا، ملازمتیں حاصل کیں، بڑے بڑے

203

عہدے حاصل کئے، اُونچے اُونچے منصب حاصل کئے، اور اُونچی اُونچی پروازیں کیں، لیکن جاتے ہوئے کوئی چیز بھی ساتھ نہیں گئی، یہ ہے دنیا کی محنت دنیا کے لئے، جس کو قرآن کریم نے خسارہ کی محنت اور گھاٹے کا عمل قرار دیتے ہوئے فرمایا:’’قُلْ ہَلْ اُنَبِّئُکُمْ بِالْاَخْسَرِیْنَ اَعْمَالًا‘‘ (میں تمہیں بتائوں کہ سب سے زیادہ خسارے کے عمل والے کون سے ہیں؟ ’’اَلَّذِیْنَ ضَلَّ سَعْیُہُمْ فِی الْحَیٰوۃِ الدُّنْیَا۔‘‘ وہ لوگ جن کی ساری محنت دنیا میں برباد ہوگئی اور وہ شریف آدمی یہ سمجھتے ہیں کہ ہم بڑا اچھا کام کررہے ہیں۔ تو زندگی کا ایک رُخ تو یہ ہے کہ دنیا کی زندگی میں دنیا کے لئے محنت کی جائے، چونکہ یہ نقد ہے اور ادھار نہیں ہے، اور چونکہ یہ آنکھوں سے نظر آنے والی ہے کوئی غیب کی چیز نہیں، اس لئے میں اور آپ بلکہ ساری دنیا کا رُخ اس طرف ہے، اس لئے اس کو بیان کرنے کی ضرورت نہیں۔

دوم:… دوسری محنت اور محنت کا میدان یہ ہے کہ دنیا میں آخرت کے لئے محنت کی جائے، پھر آخرت میں بہت سی چیزیں ہیں، لیکن سب سے بڑی چیز یہی ہے کہ: ’’یُحِبُّہُمْ وَیُحِبُّوْنَہٗ‘‘ کا اعزازا حاصل ہوجائے، یعنی اللہ راضی ہوجائے اور ہم اللہ سے راضی ہوجائیں، جیسا کہ صحابہ کرام کے بارہ میں فرمایا: ’’رَضِیَ اﷲُ عَنْہُمْ وَرَضُوْا عَنْہُ‘‘ اللہ ان سے راضی، اور وہ اللہ سے راضی، محنت کے لئے اللہ نے بہت سے راستے رکھے ہیں، یعنی دنیا کی محنت کے لئے بہت سے راستے ہیں، مثلاً: محنت کا راستہ تجارت بھی ہے، اگرچہ ناجائز اور غلط ہے مگر پھر بھی تعلیم بھی ہے، اور فلاں اور فلاں بھی ہے، حد تو یہ ہے کہ ہیروئن کی خرید و فروخت بھی ایک راستہ ہے، چاہے پکڑے ہی کیوں نہ جائیں۔

اسی طرح آخرت کی محنت کے لئے بھی اللہ تعالیٰ نے بہت سے شعبے رکھے ہیں اور میں یہ سمجھتا ہوں اور میری بات کو یاد رکھو، دین کے جس شعبے میں جو آدمی کام کررہا ہے، وہ اللہ تعالیٰ کے لشکر کا سپاہی ہے اور قابلِ احترام ہے۔ یہ معمولی سپاہی اور کانسٹیبل جو سرکاری وردی میں ہوتا ہے، اگر کوئی اس کی یا اس کی وردی کی توہین کرے، اس وردی کی توہین کرنے والا سرکاری مجرم کہلائے گا۔ اس لئے جتنے بھی اہل ایمان ہیں اور دین کے کسی بھی شعبے میں کام کررہے ہوں ان کو لائق احترام سمجھو۔یہ بات دوسری ہے کہ جس طرح تجارت کے بعض شعبے زیادہ نفع بخش ہوتے ہیں اور بعض کم، اسی طرح ان کے بعض شعبے بعض سے اہم ہوتے ہیں اور بعض میں دوسرے کی نسبت

204

منفعت زیادہ ہوتی ہے۔

قادیانیوں سے مقابلہ کا اجرو ثواب:

قادیانیوں سے مقابلہ کرنا، قرآن کریم کی اس آیت کی رو سے ان چھ انعامات کے ملنے کی سند اور ضمانت ہے، جو شخص چاہے وہ سرکاری افسر ہو یا عام آدمی، تاجر ہو یا مزدور، وکیل ہو یا جج، مولوی ہو یا مسٹر، غرض جو شخص بھی یہ چاہے کہ وہ اس آیت کا مصداق بن جائے یا حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کی معیت اور ان کی اقتدأ میں اس آیتِ شریفہ کی بشارت کا مستحق بن جائے، اس کے لئے ضروری ہے کہ وہ اس زمانے میں غلام احمد قادیانی کی جھوٹی نبوت اور اس کی ذریتِ خبیثہ قادیانیت اور مرزائیت کا مقابلہ کرے، مقابلے کی کیا کیا شکلیں ہیں؟ علماء مہینہ کا ایک جمعہ ختم نبوت کے لئے وقف کریں، عوام قادیانیوں کا بائیکاٹ کریں، تمام مسلمان قادیانی فتنہ پر نظر رکھے، اس کے لئے کم از کم دفتر عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت سے رابطہ قائم کریں اور محاذ تحفظ ختم نبوت کے لئے اپنی خدمات پیش کریں۔ اللہ تعالیٰ عمل کی توفیق نصیب فرمائے۔آمین۔

وما علینا الاالبلاغ

205

عشق مصطفی اور

ہماری ذمہ داری

قادیانی نواز مسلمان کا حکم

سوال:… کیا فرماتے ہیں علماء اسلام دین حنیف کی روشنی میں کہ اس شخص کے بارے میں جو خود کو مسلمان کہتا ہے لیکن نشست و برخاست قادیانیوں سے رکھتا ہے اور مختلف مواقع پر ان کی حمایت بھی کرتا ہے یعنی اس قادیانی نواز مسلمان کا کیا حکم ہے، جو قادیانیت نوازی کرتا ہے؟ آیا اس کے ساتھ سلام و کلام کرنا جائز ہے؟ اس کی دعوت قبول کی جائے؟ اس سے تعلق رکھا جائے یا توڑ دیا جائے؟

(سائل: ابو زکریا جالندھری، کراچی)

جواب:… قادیانیوں اور مرزائیوں سے میل جول، دوستی اور تعلق رکھنا حرام ہے، ان سے کسی بھی قسم کا تعلق جائز نہیں۔ اگر کوئی مسلمان ان سے میل جول رکھتا ہے اور تنبیہ کرنے کے بعد بھی باز نہیں آتا تو ایسے شخص سے دیگر مسلمانوں کا قطع تعلق کرلینا جائز ہے، جب تک کہ وہ اپنے فعل سے باز نہ آجائے۔

  1. نظر ثانی

    کتبہ

  2. مفتی ابوبکر سعید الرحمن

    محمد زکریا

  3. دارالافتاء جامعہ علوم اسلامیہ علامہ بنوری ٹائون

    دارالافتاء ختم نبوت

207

الحمدﷲ وسلام علی عبادہ الذین اصطفی!

اما بعد فاعوذ باللّٰہ من الشیطان الرجیم،

بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ

’’یَا اَیُّہَا الَّذِیْنَ آمَنُوْا آمِنُوْا بِاللّٰہِ وَرَسُوْلِہٖ وَالْکِتَابِ الَّذِیْ نَزَّلَ عَلٰی رَسُوْلِہٖ وَالْکِتَابِ الَّذِیْ اَنْزَلَ مِنْ قَبْلُ۔‘‘

(النساء: ۱۳۶)

ترجمہ: ’’اے ایمان والو! یقین لائو اللہ پر اور اس کے رسول پر اور اس کتاب پر جو نازل کی ہے اپنے رسول پر اور اس کتاب پر جو نازل کی تھی پہلے۔‘‘ (تفسیر عثمانی)

’’عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَالَ مَثَلِیْ وَمَثَلُ الْانْبِیَائِ مِنْ قَبْلِیْ کَمَثَلِ رَجُلٍ بَنٰی بُنْیَانًا فَاَحْسَنَہ‘ وَاَجْمَلَہ‘ اِلَّا مَوْضِعَ لَبِنَۃٍ مِنْ زَاوِیَۃٍ مِنْ زَوَایَاہُ فَجَعَلَ النَّاسُ یَطُوْفُوْنَ بِہٖ وَیُعْجِبُوْنَ لَہ‘ وَیَقُوْلُوْنَ ہَلَّا وُضِعَتْ ہٰذِہٖ الَّلبِنَۃُ قَالَ: فَأَناَ الَّلبِنَۃُ، وَاَنَا خَاتِمُ النَّبِیِّیْنَ۔‘‘

(صحیح بخاری، ص:۵۰۱، ج:۱)

ترجمہ: ’’حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ :میری اور مجھ سے پہلے انبیاء کی مثال ایسی ہے کہ ایک شخص نے بہت ہی حسین و جمیل محل بنایا، مگر اس کے کسی کونے میں ایک اینٹ کی جگہ چھوڑ دی لوگ اس کے گرد گھومتے اور

208

عش عش کرنے لگے اور یہ کہنے لگے کہ یہ ایک اینٹ بھی کیوں نہ لگادی گئی؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :میں وہی (کونے کی آخری) اینٹ ہوں اور میں نبیوں کو ختم کرنے والا ہوں۔ ‘‘

گرامی قدر سامعین محترم ، الحمدللہ! ہم مسلمان ہیں‘ ختم نبوت پر ہمارا کامل ایمان ہے‘ عقیدئہ ختم نبوت ہر مسلمان کی پہچان ہے‘ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے آخری نبی ہیں‘ اس عقیدہ پر امت مسلمہ کے تمام افراد متفق ہیں‘ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد جو بھی دعویٰ نبوت کرے‘ وہ: کذاب‘ دجال اور مفتری ہے۔ اس عقیدے پر ایک سو آیاتِ قرآنی اور دو سو سے زائد احادیث مبارکہ دلالت کرتی ہیں۔

حضور صلی اللہ علیہ وسلم پر نازل ہونے والی کتاب‘ خاتم الکتب‘ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا دین‘ خاتم الادیان‘ حضورصلی اللہ علیہ وسلم کی شریعت‘ خاتم الشرائع‘ حضورصلی اللہ علیہ وسلم خاتم الانبیاء حضورصلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت آخری نبوت اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی امت آخری امت ہے۔ جناب خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم کی آمد مبارکہ کے بعد نبوت و رسالت کا دروازہ ہمیشہ ہمیشہ کے لئے بند ہوگیا‘ خود محسنِ انسانیت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

’’میں (قصرِ نبوت کی) آخری اینٹ ہوں اور میرے آنے کے بعد قصرِ نبوت اپنی تکمیل کو پہنچ گیا اور میں آخری نبی ہوں۔‘‘

(صحیح بخاری’’ باب خاتم النبیین‘‘ ج:۱‘ ص:۵۰۱)

عہدِ رسالت سے لے کر آج تک کئی بدعقل بدحواس اور بدنصیب لوگوں نے نبوت کے دعوے کئے‘ لیکن تاریخ اسلام شاہد ہے کہ جب بھی کسی بدباطن نے تاجِ ختم نبوت کی طرف للچائی ہوئی نظروں سے دیکھا‘ تو اسلامی مملکت کے ذمہ داران نے ایسے بدبخت کو اللہ کی زمین پر گوارا نہیں کیا۔

سرزمین ِ ہندوستان میں جب انگریزوں کے تاریک دور میں کفر و الحاد کا سمندر ٹھاٹھیں مار رہا تھا اور اسلام کو صفحۂ ہستی سے مٹانے کے لئے سرتوڑ کوششیں کی جارہی تھیں‘ اس ملحدانہ دور میں اسلام پر کاری ضرب لگانے کے لئے جعلی نبوت کی بھیانک سازش تیار کی گئی اور اشارئہ فرنگی پر ایک ضمیر فروش مرزا غلام احمد قادیانی جہنم مکانی نے ۱۹۰۱ء میں نبوت کا جھوٹا دعویٰ کیا‘ چنانچہ مرزا قادیانی دعویٰ نبوت کرتے ہوئے اپنی کتاب میں لکھتا ہے :

209

’’سچا خدا وہی خدا ہے ‘جس نے قادیان میں اپنا رسول بھیجا۔‘‘

(دافع البلاء ص ۱۱‘ روحانی خزائن ج:۱۸‘ ص:۲۳۱)

مرزا قادیانی نے اپنے آپ کو خدا کا نبی اور رسول کہا‘ اپنے ماننے والوں (مرتدوں کی جماعت) کو ’’صحابۂ رسول‘‘ کے نام سے پکارا‘ اپنی کافرہ بیویوں کو ’’امہات المومنین‘‘ قرار دیا‘ اپنے گھر والوں کو ’’اہل بیت‘‘ کا نام دیا‘ تین سو تیرہ بدری صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اجمعین کے مقابلے میں مرزا قادیانی نے اپنے تین سو تیرہ چیلوں کی فہرست تیار کی‘ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ناموں کی طرح اپنے ننانوے صفاتی نام رکھے‘ اپنے بیٹے کو ’’قمر الانبیاء‘‘ کے نام سے پکارا‘ قادیان آنے کو ’’ظلی حج‘‘ قرار دیا‘ جنت البقیع کے مقابلے میں قادیان میں ایک ’’بہشتی مقبرہ‘‘ تیار کروایا‘ قرآن پاک میں تحریفات کیں‘ احادیث ِرسول کو بگاڑا‘ اقوالِ صحابہ کو مسخ کیا‘ بزرگانِ دین کی توہین و تذلیل کی‘ جہاد کو حرام اور انگریز کی اطاعت کو فرض قرار دیا۔

مرزا قادیانی نے صرف اسی پر بس نہیں کیا‘ بلکہ اس نے اپنی انگریزی نبوت کو چلانے کے لئے دین اسلام‘ پیغمبر اسلام اور مقدس ہستیوں پر رکیک حملے کئے‘ مرزا قادیانی اور اس کے شیطانی چیلوں نے جس دریدہ دہنی کا مظاہرہ کیا‘ اس کو تحریر میں لاتے ہوئے قلم کانپتا ہے‘ ہاتھ پر رعشہ طاری ہوتا ہے‘ قلب و جگر زخمی ہوتے ہیں‘ آنکھیں خون کے آنسو روتی ہیں اور روح تڑپتی ہے‘ لیکن دوسری طرف وقت کی پکار ہے کہ : آمنہ کے لال کے دیوانو اور پروانو! خواب غفلت سے جاگو اور امت ِ مسلمہ کو بتائو کہ سرور کونین صلی اللہ علیہ وسلم کی عزت و ناموس پر قادیانی گستاخ کس طرح حملہ آور ہورہے ہیں‘ بغض و عناد کے زہر میں ڈوبے ہوئے ان کے زہریلے قلم‘ کملی والے آقا کی شان میں کیا کیا گستاخیاں کررہے ہیں اور ان کے منہ میں بچھو نما زبانیں سرور کونینِ صلی اللہ علیہ وسلم کے لائے ہوئے دین ِحنیف کو کس طرح ڈس رہی ہیں۔

مسلمان بھائیو! ذہن و ضمیر پر بارگراں محسوس کرنے کے باوجود‘ اہلِ ایمان کے دین و ایمان کے تحفظ کی غرض سے قادیانی مذہب کے بانی مرزا غلام احمد قادیانی کی دل آزار اور روح فرسا تحریروں کو دیکھیں‘ جن کے ہر ہر حرف سے کفر و الحاد کا ایک طوفان اٹھتا ہے۔

{اللہ تعالیٰ کی توہین}

’’کیا کوئی عقلمند اس بات کو قبول کرسکتا ہے کہ اس زمانہ میں خدا

210

سنتا تو ہے مگر بولتا نہیں پھر بعد اس کے یہ سوال ہوگا کہ کیوں نہیں بولتا؟ کیا زبان پر کوئی مرض لاحق ہوگئی ہے؟‘‘

(ضمیمہ براہین احمدیہ ، حصہ پنجم، ص:۱۴۴، روحانی خزائن، ج:ا۲، ص:۳۱۲)

{میں خود خدا ہوں}

’’ورأیتنی فی المنام عین اللّٰہ وتیقنت أننی ہو۔‘‘

ترجمہ: ’’میں (مرزا قادیانی) نے خواب میںد یکھا کہ میں خود خدا ہوں، میں نے یقین کرلیا کہ میں وہی ہوں۔‘‘

(آئینہ کمالات اسلام، ص: ۵۶۴، روحانی خزائن، ج:۵، ص:۵۶۴)

{حضور نبی کریم ا کی توہین}

مرزا قادیانی کا بیٹا قادیانی جماعت کا دوسرا نام نہاد خلیفہ موسیو بشیر کہتا ہے:

’’یہ بالکل صحیح بات ہے کہ ہر شخص ترقی کرسکتا ہے اور بڑے سے بڑا درجہ پاسکتا ہے حتی کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بھی بڑھ سکتا ہے۔‘‘ (نعوذباللہ)

(اخبار الفضل قادیان ج: ۱۰‘ نمبر: ۵‘ ص:۵ ‘ مورخہ ۱۷/جولائی ۱۹۲۲ء)

{نبی کریم سور کی چربی استعمال کرتے تھے}

’’آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے اصحاب... عیسائیوں کے ہاتھ کا پنیر کھالیتے تھے، حالانکہ مشہور تھا کہ سور کی چربی اس میں پڑتی ہے۔‘‘

(اخبار الفضل قادیان، ۲۲/فروری ۱۹۲۴)

{آنحضرت تکمیل اشاعت نہ کرسکے}

’’دوسرا فرض منصبی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا یعنی تکمیل اشاعت ہدایت دین جو آپ کے ہاتھ سے پورا ہونا چاہئے تھا اس وقت بباعث عدم وسائل پورا نہیں ہوا۔‘‘

(حاشیہ تحفہ گولڑویہ ص:۱۷۷‘ روحانی خزائن ج:۱۷ ص:۲۶۳)

211

{قرآن کریم کی توہین}

قرآن شریف، مرزا کی باتیں:

’’قرآن شریف خدا کی کتاب اور میرے منہ کی باتیں ہیں۔‘‘

(تذکرہ مجموعہ الہامات، ص:۶۳۵، طبع دوم)

{قرآن میں سخت زبانی}

’’قرآن شریف جس آواز بلند سے سخت زبانی کے طریق کو استعمال کررہا ہے ایک غایت درجہ کا غبی اور سخت درجہ کا نادان بھی اس سے ...بے خبر نہیں رہ سکتا۔‘‘

(ازالہ اوہام، ص:۲۵، روحانی خزائن، ج:۳، ص:۱۱۵ حاشیہ)

{گندی گالیاں}

’’خدا تعالیٰ نے قرآن شریف میں ...نہایت درجہ کے سخت الفاظ جو بصورت ظاہری گندی گالیاں معلوم ہوتی ہیں استعمال کئے ہیں۔‘‘

(ازالہ اوہام، ص:۲۸، روحانی خزائن، ج:۳، ص:۱۱۶، حاشیہ)

{حدیث رسول کی توہین}

’’تائیدی طور پر ہم وہ حدیثیں بھی پیش کرتے ہیں جو قرآن شریف کے مطابق ہیں اور میری وحی کے معارض نہیں اور دوسری حدیثوں کو ہم ردی کی طرح پھینک دیتے ہیں۔‘‘

(اعجاز احمدی، ص:۳۰، روحانی خزائن، ج:۱۹، ص:۱۴۰)

{صحابۂ کرامؓ کی توہین}

’’بعض نادان صحابی جن کو درایت سے کچھ حصہ نہ تھا۔‘‘ (نعوذباللہ)

(ضمیمہ براہین احمدیہ حصہ پنجم ص:۱۲۰‘ روحانی خزائن‘ ج:۲۱‘ ص:۲۸۵)

{حضرت ابوبکرؓ و عمرؓ کی توہین}

ایک قادیانی نے دوسرے قادیانی کے سامنے دریدہ دہنی کرتے ہوئے کہا:

’’ابوبکر و عمر کیا تھے‘ وہ حضرت غلام احمد (قادیانی) کی جوتیوں کے تسمے کھولنے کے لائق بھی نہ تھے۔‘‘ (نعوذباللہ)

212

(ماہنامہ المہدی‘ جنوری/فروری ۱۹۱۵ء نمبر ۲/۳ صفحہ ۵۷ از حکیم محمد حسین لاہوری قادیانی)

{حضرت علی ؓ کی توہین}

’’پرانی خلافت کا جھگڑا چھوڑو‘ اب نئی خلافت لو۔ ایک زندہ علی (مرزا قادیانی) تم میں موجود ہے‘ اس کو چھوڑتے ہو اور مردہ علی (حضرت علیؓ) کی تلاش کرتے ہو۔‘‘ (معاذاللہ)

(ملفوظات ج:۲‘ ص:۱۴۲)

{حضرت امام ِحسینؓ کی توہین}

’’کربلا میرے روز کی سیرگاہ ہے‘ حسین جیسے سینکڑوں میرے گریبان میں ہیں۔‘‘ (معاذاللہ)

(نزول المسیح‘ ص:۹۹‘ روحانی خزائن‘ ج:۱۸، ص:۴۷۷)

{حضرت فاطمۃ الزہرہؓ کی توہین}

سیدۃ النساء کی ذات پاک کے بارے میں مرزا قادیانی نے جو بکواس کی ہے‘ میری زبان اسے بیان کرنے سے قاصر ہے‘ اگر یہ بکواس دیکھنی ہو تو (ایک غلطی کا ازالہ ص:۹‘ روحانی خزائن ج:۱۸‘ ص : ۲۱۳ حاشیہ) پر دیکھ لیجئے۔

{حضرت ابو ہریرہؓ کی توہین}

’’ابو ہریرہؓ فہم قرآن میں ناقص ہے… ابو ہریرہؓ کے قول کو ایک ردی متاع کی طرح پھینک دے۔‘‘ (معاذ اللہ)

(ضمیمہ براہین احمدیہ حصہ پنجم‘ ص:۲۳۵، روحانی خزائن‘ ج:۲۱‘ ص:۴۱۰)

{غارثور کی توہین}

’’نہایت متعفن اور تنگ اور تاریک اور حشرات الارض کی نجاست کی جگہ تھی۔‘‘

(حاشیہ تحفہ گولڑویہ ص:۷۰‘ روحانی خزائن‘ ج:۱۷‘ص: ۲۰۵)

{مسلمانوں کی توہین}

’’جو شخص تیری پیروی نہیں کرے گا اور تیری بیعت میں داخل نہیں ہوگا اور تیرا مخالف رہے گا‘ وہ خدا اور رسول کی نافرمانی کرنے والا اور جہنمی ہے۔‘‘ (معاذ اللہ)

(مجموعہ اشتہارات ج:۳‘ ص:۲۷۵)

213

’’دشمن ہمارے بیابانوں کے خنزیر ہوگئے اور ان کی عورتیں کتیوں سے بڑھ گئی ہیں۔‘‘

(نجم الہدیٰ ‘ ص:۵۳‘ روحانی خزائن‘ ج:۱۴‘ ص:۵۳)

{قادیانیوں کا درود}

’’اللہم صلی علی محمد وآل محمد واصحاب محمد وعلی عبدک المسیح الموعود وبارک وسلم۔‘‘ (نعوذباللہ)

(قادیانی رسالہ درود شریف ص:۱۴۳، طبع دوم)

{قادیانیوں کا کلمہ طیبہ پڑھنا}

اگر کوئی قادیانی یہ کہے کہ ہم وہی کلمہ پڑھتے ہیں جو مسلمان پڑھتے ہیں تو اس کا جواب یہ ہے کہ قادیانی عام لوگوں بالخصوص مسلمانوں کو دھوکا دینے کے لئے مسلمانوں کا کلمہ بھی پڑھ کر سنادیتے ہیں‘ مگر اس کلمہ میں ’’محمد رسول اللہ‘‘ سے ان کی مراد مرزا غلام احمد قادیانی ہے‘ جسے وہ ’’مسیح موعود‘‘ کے نام سے یاد کرتے ہیں۔ مرزا غلام احمد قادیانی کا بیٹا مرزا بشیر احمد ایم اے اپنی کتاب ’’کلمۃ الفصل‘‘ میں لکھتا ہے:

’’پس مسیح موعود خود محمد رسول اللہ ہے جو اشاعت اسلام کے لئے دوبارہ دنیا میں تشریف لائے۔ اس لئے ہم کو کسی نئے کلمہ کی ضرورت نہیں۔ ہاں اگر محمد رسول اللہ کی جگہ کوئی اور آتا تو ضرورت پیش آتی۔‘‘

(کلمۃ الفصل‘ ص:۱۵۸)

سامعین کرام! مرزا غلام احمد قادیانی کو ’’محمد رسول اللہ‘‘ قرار دینا حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بدترین توہین ہے۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی ذاتِ عالی تو کجا‘ مرزا غلام احمد قادیانی تو کسی شریف انسان کی برابری کا بھی اہل نہیں تھا۔

لیکن صد افسوس! اُن مسلمانوں پر جو نبوت کے ان لٹیروں کے ساتھ اب بھی برادرانہ اور دوستانہ تعلقات رکھے ہوئے ہیں۔

گستاخانِ نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ ذلیل گروہ‘ مسلمانوں کے ساتھ ہی کھاتا پیتا ہے‘ یہ باغیانِ محمد صلی اللہ علیہ وسلم‘ مسلمانوں کی شادیوں اور دیگر تقریبات میں شریک ہوتے ہیں‘ لیکن مسلمان ان کے سامنے لبوں پر مہر سکوت لگاکر خاموش بیٹھے ہوتے ہیں‘ کیا کبھی غور کیا! کہ یہ سب

214

کچھ کیوں ہورہا ہے؟ اس کے اسباب اور محرکات کیا ہیں؟ وجہ صرف یہی سمجھ میں آتی ہے کہ شاید آج سرور کائنات صلی اللہ علیہ وسلم سے ہمارا الفت و محبت کا جو مضبوط رشتہ تھا وہ کمزور پڑچکا ہے؟

کیا ہمارے قلوب میں عشق مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کا نور مدہم پڑچکا ہے؟ کیا ہم میں جوہر صدیقیت موجود نہیں‘ کیا ہم میں غیرت فاروقیت موجود نہیں؟ کیا نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم کی عزت و ناموس پر مرمٹنے کے جذبۂ عظیم سے ہم محروم ہوچکے ہیں؟ کیا جذبۂ اویسی ہمارے دلوں سے اٹھ چکا ہے؟

مسلمانو! ہم بھی غصہ میں آتے ہیں‘ ہمارے جذبات بھی بھڑکتے ہیں‘ ہم بھی کشت و خون کے لئے تیار ہوجاتے ہیں۔

لیکن کب؟ جب کوئی ہماری ماں کو گالی دیتا ہے‘ جب کوئی ہمارے باپ کی توہین کرتا ہے‘ جب کوئی ہمارے بزرگوں کی توہین کرتا ہے‘ جب کوئی ہمارے دوست کے بارے میں نازیبا کلمات کہتا ہے‘ جب کوئی ہمارے خاندان کے بارے میں ناشائستہ زبان استعمال کرتا ہے۔

اے مسلمان ذرا غور تو کر:

مسلمانو! عقل و فکر کے چراغ روشن کرکے‘ دل و دماغ کی گہرائیوں میں اتر کر سوچو! کیا فاطمہؓ ہماری ماں نہیں؟ کیا نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم امت کے وہ روحانی باپ نہیں‘ جن کی جوتیوں کی خاک پر ہمارے ماں باپ قربان؟ کیا ابوبکرؓ و عمرؓ ہمارے مقتدأ و راہ نما نہیں؟ کیا علی المرتضیٰؓ و ابوہریرہؓ سرورِ کائنات صلی اللہ علیہ وسلم کے محب و محبوب نہیں؟ کیا اس جہانِ رنگ و بو میں نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم کا مقدس خاندان ‘دنیا جہان کے خاندانوں سے اعلیٰ و ارفع نہیں؟

قادیانیوں کے ساتھ محبت بھرے تعلقات رکھنے والو! قادیانیوں کی تقریبات میں بڑھ چڑھ کر حصہ لینے والو! یاد رکھو‘ جب تم قادیانیوں سے ملتے ہو تو گنبد خضرأ میں دلِ مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم دُکھتا ہے۔

مسلمانوں سوچو تو سہی:

مسلمانو! ہماری زندگی کے چند روز ساون کے بادلوں کی طرح گزر جائیں گے اور بالآخر وہ وقت آن پہنچے گا‘ جب خدا کے فرشتے ہمارا چراغِ زندگی بجھانے کے لئے آجائیں گے‘ جب ہمارا یہ جسم ڈھیلا پڑ جائے گا‘ آنکھیں الٹ جائیں گی‘ نتھنے پھیل جائیں گے‘ سانس اکھڑ جائے گی‘ جب

215

گردن ایک طرف لڑھک جائے گی‘ جب موت کی ہچکیاں لگیں گی‘ جب روح جسم سے پرواز کرجائے گی اور ہمارا ناز و نعم سے پلا ہوا یہ جسم بے جان پتھر کی طرح پڑا ہوگا اور اس وقت ہم اپنے چہرے سے مکھی اڑانے سے بھی عاجز ہوں گے‘ اور پھر ہر مرنے والے کی طرح ہمیں بھی پیوند خاک کردیا جائے گا‘ قیامت کی صبح کو دوبارہ زندہ کیا جائے گا‘ پھر حشر کا میدان ہوگا‘ سو رج انگارے اگل رہا ہو گا‘ تپتی ہوئی زمین ہوگی‘ گرمی کی ہولناکیاں اور سفاکیاں ہوںگی‘ ہر کوئی اپنے اعمال کے مطابق پسینے میں ڈوبا ہوا ہوگا‘ بھوک کی شدت سے انسان اپنے کو کاٹ کھارہے ہوں گے‘ شدتِ پیاس سے زبان ماہیٔ بے آب کی طرح تڑپ رہی ہوگی‘ دیگر انسانوں کی طرح ہم بھی نفسی نفسی پکارہے ہوں گے‘ اس روز ہمارے یار‘ دوست‘ سب ساتھ چھوڑ جائیں گے‘ ہماری اولاد‘ ہمارے سائے سے بھاگے گی‘ ہمارے نوکر اور خدمت گار ہم سے چھین لئے جائیں گے‘ ہماری دولت و ثروت اس روز ہمارے کام نہ آئے گی‘ غرضیکہ اس روز ہم بے بس و بے کس ہوں گے‘ اس کسمپرسی میں ہم شافع محشر‘ ساقی کوثر صلی اللہ علیہ وسلم کے دربار میں حاضر ہوں گے اور اگر سرورِ کائنات صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم سے یہ سوال کرلیا کہ تمہارے سامنے میری نبوت و رسالت پر ڈاکا زنی ہوتی رہی‘ تم نے کیا کیا؟ مجھ پر نازل ہونے والی کتاب مبین میں تحریف و تبدل کے طوفان برپا ہوتے رہے‘ تم نے کیا کیا؟ میری ازواج مطہراتؓ‘ میرے اہل بیتؓ‘ میرے صحابہؓ اور میری امت کے اولیأ ؒ کے بارے میں قادیانی بازاری اور گندی زبان استعمال کرتے رہے‘ تم نے کیا کیا؟ تمہاری زندگی میں تمہارے سامنے جھوٹے مدعی نبوت مرزا قادیانی کی تشہیر و تبلیغ ہوتی رہی اور لوگ مرتد ہوتے رہے‘ اس وقت تم نے کیا کیا؟

سرور کائنات ا کے امتیو! ذرا سوچو!

کیا ہمارے پاس ان سوالات کے جوابات ہیں؟ کیا ہم نے ان سوالات کے جوابات کی تیاری کررکھی ہے؟ مسلمان بھائیو! وقت کے ہر لمحے کو غنیمت جانئے‘ موت کے بعد کوئی مہلت نہیں ملے گی اور ذرا سوچیں! اگر حشر کے میدان میں شافع محشر صلی اللہ علیہ وسلم نے ہی ہم سے اپنا رخ انور پھیرلیا تو پھر ہم کس کے پاس جاکر شفاعت کی بھیک مانگیں گے؟ اگر رحمۃ اللعالمین صلی اللہ علیہ وسلم ہی ہم سے روٹھ گئے تو پھر کس کے دامنِ رحمت میں ہمیں پناہ ملے گی؟ اگر ساقیٔ کوثر صلی اللہ علیہ وسلم ہی ہم سے خفا ہوگئے تو پھر کہاں جاکر ہم اپنی پیاس کے انگارے بجھائیں گے؟

محسن ِانسانیت صلی اللہ علیہ وسلم کے امتیو! آج محبت رسول صلی اللہ علیہ وسلم ہم سے تقاضا

216

کرتی ہے کہ ہم تاج و تخت ختم نبوت کی پاسبانی و نگہبانی کے لئے اپنی زندگیاں وقف کردیں۔

ملت اسلامیہ کے مشائخ عظام! اپنے مریدین اور عقیدت مندوں کو قادیانیوں کے خلاف ’’سربکف ہونے‘‘ کا حکم دیجئے‘ حضرت شاہ عبدالقادر رائے پوریؒ اور حضرت پیر مہر علی شاہ گولڑویؒ کی یاد تازہ کیجئے۔

ملت اسلامیہ کے نوجوانو! اپنی مہکتی جوانیاں تحفظ ناموسِ رسالت (صلی اللہ علیہ وسلم) کے لئے وقف کردو۔

اہل ِدولت و ثروت! آپ کا فرض ہے کہ اپنے مال کا ایک حصہ تحفظ ختم نبوت کے لئے وقف کریں۔

اہل قلم حضرات! آپ فتنۂ قادیانیت کی سرکوبی کے لئے قلم سے تلوار کا کام لیں۔

مقررین حضرات! اپنی شعلہ نوائیاں‘ اپنی فصاحت و بلاغت‘ اپنا علم و عرفان تحفظ ختم نبوت کے لئے مختص کردیں۔

طلباء کو چاہئے کہ نئی نسل کو قادیانیت کے زہر سے محفوظ رکھنے کے لئے کالجوں اور یونیورسٹیوں میں ختم نبوت کے موضوع پر لیکچرز کا اہتمام کریں‘ تاکہ ہماری نئی نسل زیورِ تعلیم کے ساتھ ساتھ مسئلہ ختم نبوت سے بھی آراستہ ہوسکے اور مجاہدین ختم نبوت کی ایک فوج ان اداروں سے بھی تیار ہوکر نکلے۔

علماء کا فرض ہے کہ ہمیشہ کی طرح ملّتِ اسلامیہ میں اتحاد و اتفاق کی فضا ہموار کرتے رہیں‘ تاکہ ’’قادیانی‘‘ امت ِ مسلمہ کی صفوں میں کوئی رخنہ یا انتشار پیدا کرکے کسی قسم کا فائدہ حاصل نہ کرسکیں۔

عوام الناس کا یہ فرض ہے کہ قادیانیوں سے معاشرتی‘ معاشی اور سماجی بائیکاٹ کرکے دینی غیرت و حمیت کا ثبوت دیں‘ تاکہ حشر کے میدان میں آقائے دو عالم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے ہم سرخرو اور شفاعت محمدی کے مستحق ہوسکیں۔

تحفظ ناموسِ رسالت صلی اللہ علیہ وسلم کے پاکیزہ مشن سے وابستہ ہونے کے لئے عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے مرکزی دفتر ملتان یا علاقائی دفاتر سے رابطہ کریں۔

وصلی اللّّّّّٰہ تعالیٰ علیٰ خیر خلقہٖ محمد وآلہ واصحابہ اجمعین۔

217

قادیانیوں کا مقابلہ

مسلمانوں سے نہیں،

محمد عربی ﷺ سے ہے

218

قادیانی کو مسلمانوں کا نمائندہ بنانا

س:… ہمارے ڈسٹرکٹ بار ایسوسی ایشن کے الیکشن میں ایک نائب صدر کے لئے قادیانی امیدوار چُنا گیا ہے، اس سلسلہ میں آپ اس کی شرعی حیثیت کی وضاحت کریں؟ کیا کوئی مسلمان کسی قادیانی کو ووٹ دے سکتا ہے، تو پھر اس کی شرعی حیثیت کیا ہوگی؟ کسی قادیانی کو ووٹ دینا جائز ہے یا حرام؟

ج:… قادیانی مرتد اور زندیق ہیں اور مرتد و زندیق مسلمانوں کا نمائندہ نہیں بن سکتا، لہٰذا کسی قادیانی کو اپنا نمائندہ بنانا یا اس کو مسلمان وکلاء کا سربراہ بنانا اور اس کو مسلمانوں پر مسلط کرنا ناجائز اور حرام ہے۔ لہٰذا جو لوگ کسی قادیانی کو صدارت کے لئے منتخب کررہے ہیں، جس طرح وہ مجرم و گناہگار ہیں، اسی طرح جو لوگ اس کو ووٹ دیں گے وہ بھی مجرم و گناہگار ہوں گے، اور کسی باغی ٔ رسالت مآب کے لئے ووٹ اور انتخاب کے ذریعے یہ گواہی دینا کہ یہ اچھا آدمی ہے دراصل آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی بجائے آپ کے باغیوں سے دلی وابستگی کی علامت ہے اور جو محروم القسمت آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو چھوڑ کر آپؐ کے دشمنوں سے تعلقات استوار کرے کل قیامت کے دن اس کو نہ صرف یہ کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی شفاعت نصیب نہیں ہوگی بلکہ اندیشہ ہے کہ اس کا حشر حضورؐ کے باغیوں کے ساتھ نہ ہو، اس کے علاوہ اگر بالفرض وہ قادیانی مسلمان وکلاء کے ووٹ سے اس عہدہ پر فائز ہوگیا اور اس عہدہ سے فائد اٹھاکر اس نے اپنے باطل مذہب کی تبلیغ کی یا اس سے قادیانیوں کو فائدہ پہنچایا یا مسلمانوں کو دینی اور مذہبی اعتبار سے نقصان پہنچایا تو اس کی ان تمام بدعملیوںمیں وہ تمام وکلاء برابر کے شریک تصور ہوں گے جن کے ووٹوں سے یہ ملعون منتخب ہوا ہوگا۔

اس تفصیل کے بعد اب مسلمان وکلاء کو سوچ لینا چاہئے کہ اگر ان کو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی شفاعت کی ضرورت ہے یا وہ کل قیامت کے دن قادیانیوں کے کیمپ میں نہیں اٹھنا چاہتے اور وہ چاہتے ہیں کہ قادیانی وکیل کی ارتدادی سرگرمیوں میں حصہ دار نہ بنیں، تو ان کو اس قادیانی وکیل کو ووٹ نہیں دینا چاہئے۔

اس سب سے ہٹ کر اللہ، رسول اور پوری امت کا اجماع اور متفقہ فیصلہ ہے کہ جو شخص شعائر اسلام کی توہین و تنقیص کرے یا حضرات انبیاء کرام علیہم السلام کی اہانت کرے یا اپنے کفریہ عقائد کو اسلام باور کرائے اس سے کسی قسم کا لین دین اور تعلق رکھنا حرام اور ناجائز ہے چہ جائیکہ ایسے شخص کو اپنی جماعت کا نائب صدر بنایا جائے۔

دین دار اور مسلمان وکلاء کو چاہئے کہ اپنی دنیا آخرت کو برباد کرنے کے بجائے اس وکیل کی بھرپور مخالفت کریں اور اس کی جگہ کسی اچھے دین دار مسلمان کا انتخاب کریں ورنہ دنیا آخرت میں ذلت ان کا مقدر ہوگی۔

مولانا سعید احمد جلال پوری شہید

219

َالْحَمْدُلِلّٰہِ الَّذِیْ جَعَلَ الْحَقَّ یَعْلُوْ وَلَا یُعْلٰی

وَالصَّلوٰۃُ وَالسَّلاَمُ عَلٰی نَبِیِّہٖ وَرَسُوْلِہٖ نَبِیِّ الرَّحْمَۃِ مُحَمَّدٍﷺ خَاتَمِ الرُّسُلِ

وَالْاَنْبِیَائِ الَّذِیْ اِنْقَطَعَتْ بَعْدَہ‘ الرِّسَالَۃُ وَالنُّبُوَّۃُ وَعَلٰی آلِہٖ وَاَصْحَابِہٖ وَالتَّابِعِیْنَ

وَمَنْ تَبِعَہُمْ بِاِحْسَانٍ اِلٰی یَوْمِ الدِّیْنَ کُلَّ صَبَاحٍ وَمَسَائٍ اِلٰی یَوْمِ الْجَزَائِ اَمَّا بَعْدُ

اَعُوْذُبِاللّٰہِ مِنَ الشَّیْطَانِ الرَّجِیْمِ

بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ

قَالَ اللّٰہُ تَبَارَکَ وَتَعَالیٰ:

اِنَّ الَّذِیْنَ یُؤْذُوْنَ اللّٰہَ وَرَسُوْلَہ‘ لَعَنَہُمُ اللّٰہُ فِی الدُّنْیَاوَالْاٰخِرَۃِ وَاَعَدَّلَہُمْ عَذَاباً مُّہِینا۔ (الاحزاب:۵۷)

ترجمہ:…’’جولوگ ستاتے ہیں اللہ کو اور اس کے رسول کو ان کوپھٹکارااللہ نے دنیامیں اور آخرت میں اور تیار رکھا ہے ان کے واسطے ذلت کاعذاب‘‘

قَالَ النَّبِیُّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ
’’مَنْ اٰذٰی شَعْرَۃً مِّنِّی فَقَدْاٰذَانِیْ وَمَنْ اٰذَانِیْ فَقَدْاٰذٰی اللّٰہَ،وَمَنْ اٰذٰی اللّٰہَ لَعَنَہُ اللّٰہُ مِلْئَ السَّمٰوَاتِ وَمِلْئَ الْاَرْضِ،لَایَقْبَلُ اللّٰہُ مِنْہُ صَرْفًا وَلاَعَدْلاً ۔‘‘

(کنزالعمال ج:۱۲،ص:۳۴۹)

ترجمہ: ’’جس نے میرے بال کو ایذا دی، اس نے مجھے ایذا دی اور جس نے مجھے ایذا دی، اس نے اللہ کو ایذا دی اور جس نے اللہ کو ایذا دی

220

اس پر اللہ تعالیٰ آسمان و زمین کے برابر لعنت کرتا ہے، نہ ایسے آدمی کے حق میں شفاعت قبول ہے اور نہ کوئی فدیہ قبول ہوگا۔ ‘‘

صَدَقَ اللّٰہُ الْعَظِیْمُ وَصَدَقَ رَسُوْلُہُ النَّبِیُّ الْکَرِیْمُ

برادران اسلام، بزرگان ملت، قابل صد ستائش میرے نوجوان دوستو بھائیو! آج کے خطبہ جمعہ کا عنوان ہے کہ قادیانیوں کا مقابلہ کس سے ہے؟ آیا مسلمانوں سے یا بذات خود آقا حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کی ذاتِ بابرکات سے ہے؟

یاد رکھئے تاریخ اس پر گواہ ہے کہ حق اور باطل ازل سے ایک دوسرے کے مد مقابل رہے ہیں اور ہر دور میں ان کی آپس میں ٹکر رہی ہے، لیکن یہ امر بھی فیصلہ کن ہے کہ مجموعی طور پر ہمیشہ حق غالب رہا ، اگرچہ وقتی طور پر حق اور حق والوں پر مشکلات کے پہاڑ ٹوٹے ہوں۔ باطل قوتوں اور طاقتوں میں سے ایک باطل اور کفریہ طاقت ختم نبوت کا انکار کرنے والے قادیانیوں اور مرزائیوں کا ٹولہ بھی ہے۔ اس فتنہ کو سمجھنے اور اس سے محفوظ رہنے کے لئے گاہے گاہے آپ کے سامنے باتیں آتی رہی ہیں، آج کی مجلس میں ایک خاص نکتہ کی طرف آپ کی توجہ مبذول کرانی ہے اور وہ یہ کہ قادیانی ہمارے مقابل ہیں یا پیغمبر اسلام امام الانبیاء کی ذات کے تو یاد رکھئے:

قادیانیوں کا ہم سے نہیں محمد رسول اللہ سے مقابلہ ہے:

عام طور پر لوگ یہی کہتے ہیں کہ ہمارا مقابلہ قادیانیوں کے ساتھ ہے، کیوں بھائی! ہمارا مقابلہ کس سے ہے؟ اور قادیانیوں کا کس سے مقابلہ ہے؟ ہمارا مقابلہ قادیانیوں سے نہیں، اور قادیانیوں کا ہم سے نہیں، دراصل قادیانیوں کا مقابلہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ہے، بلاشبہ قادیانیوں کا مقابلہ براہِ راست محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ہے، ہم تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سپاہی ہیں، اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے لڑ رہے ہیں۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے لڑنا اور قادیانیوں کو منہ توڑ جواب دینا ہمارا فرض ہے، ہماری ایمانی غیرت اور عشق رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا تقاضا ہے، باقی مقابلہ ہمارا قادیانیوں کے ساتھ نہیں ہے، نہ قادیانیوں کا ہمارے ساتھ ہے، قادیانیوں کا مقابلہ ہمارے آقا حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ہے، اس لئے کہ انہوں نے …نعوذ باللہ ثم نعوذ باللہ… آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے تاجِ نبوت پر ہاتھ ڈالا ہے اور ان کے منصب ِ نبوت پر غلیظ مرزا غلام احمد قادیانی کو بٹھانے کی ناپاک

221

اور ناکام کوشش کی ہے۔

حق کو بگاڑا اور باطل کو سنوارا نہیں جاسکتا:

حق اور باطل ہمیشہ سے متصادم چلے آئے ہیں۔ حق، حق ہے، باطل، باطل ہے۔ حق کو ہزار پردوں میں چھپاکر بگاڑنے کی کوشش کی جائے، تب بھی حق، حق ہی رہتا ہے، جب بھی وہ پردہ ہٹے گا، حق کا حسین چہرہ سامنے آجائے گا۔ اسی طرح باطل، باطل ہے، ہزاروں چالوں، فریب کاریوں اور سرخی پوڈر کے ساتھ اس کو اور اس کے مکروہ چہرے کو چھپانے کی کوشش کی جائے لیکن جوں ہی وہ نقاب نوچی جائے گی فوراً اس کا چڑیل جیسا مکروہ چہرہ سامنے آجائے گا۔

قادیانی اپنے مکروہ چہرے کو چھپانے کی ہزار کوشش اور ہزار جتن کریں، مگر واللہ! وہ چھپائے چھپ نہیں سکتا، اس لئے کہ باطل، باطل ہے، اور باطل بھی وہ جو حق کے مقابلے میں، اور باطل بھی وہ جو محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے مقابلے میں۔

باطل کے بطلان کے دلائل کی اقسام:

کسی باطل کے باطل ہونے کے لئے دلائل دو قسم کے ہوتے ہیں، ایک عقلی جن کو دانش مند سمجھ سکتے ہیں، اور ایک بدیہی یعنی بالکل واضح، ایسے جیسے دو اور دو چار، جو شخص ’’دو اور دو چار‘‘ کے مفہوم سے واقف ہے، وہ کبھی یہ حماقت نہیں کرسکتا کہ وہ دو اور دو کو تین کہے، اور جو دو اور دو کے مفہوم سے واقف ہے اور دو کے ہندسے کو جانتا ہے، اور جمع کا طریقہ … جیسے بچے جانتے ہیں … اس کو آتا ہے، وہ کبھی دو اور دو کو پانچ نہیں کہہ سکتا، دو اور دو ہمیشہ چار ہی رہیں گے، ہزار دلائل سے ثابت کرنے کی کوشش کرو کہ دو اور دو پانچ ہوتے ہیں، وہ پانچ نہیں بنیں گے۔

قادیانیت کے بطلان کے دسیوں دلائل:

قادیانیت کے باطل ہونے پر اور غلام احمد کے جھوٹا ہونے پر اللہ تعالیٰ نے اتنے دلائل جمع کردئیے کہ جن کا شمار نہیں، بغیر مبالغہ کے کہتا ہوں کہ گن کر دسیوں دلائل اسی مجلس میں پیش کرسکتا ہوں، اور ایسے واضح جیسے دو اور دو چار۔ شعر:

  1. نغمۂ توحید گاتا ہوں کچھ اس انداز سے

    خرمن باطل پہ گویا آگ برساتا ہوں میں

222
  1. لرزہ براندام ہوتا ہے نظام کائنات

    بزم کو جب اپنے سوز دل سے گرماتا ہوں میں

کذبِ مرزا کی عقلی دلیل:

مثال کے طور پر ایک عقلی دلیل جو اہلِ فہم کو سمجھ میں آئے گی، بے چارے عام لوگ اُسے نہیں سمجھیں گے، وہ یہ کہ حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے آقا و مولا، دُنیا سے تشریف لے گئے، آپ کے بعد کون خلیفہ ہوا؟ …حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ… ان کے بعد؟ …حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ… ان کے بعد؟ …حضرت عثمان رضی اللہ عنہ … اور ان کے بعد؟ …حضرت حیدرِ کرّار علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ… یہ چار خلفأ ہوئے، تاریخ اُٹھاکر دیکھو اور انساب، نسب نامے بھی دیکھو، حضرت علی رضی اللہ عنہ کا نسب نامہ حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے سب سے زیادہ قریب ہے، حضرت علی رضی اللہ عنہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے دادے میں شریک ہیں، اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سگے چچا کے لڑکے ہیں، ان سے اُوپر جاؤ تو حضرت عثمان رضی اللہ عنہ تیسرے دادے میں شریک ہیں، اس سے اُوپر آؤ تو اگلے دادے میں کہیں جاکر حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم سے جاکر ملتے ہیں، اور سب سے دور نسب نامہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کا جاکر ملتا ہے، تو جو سب سے دُور تھے وہ تقویٰ کی بنیاد پر سب سے قریب آئے، اور جو سب سے قریب تھے اپنے نمبر کے اعتبار سے سب سے بعد میں آئے۔

نیابتِ نبوت کی بنیاد:

معلوم ہوا کہ نیابتِ نبوت کی بنیاد قرابت پر نہیں ہے، گویا نبوت کی اور خلافتِ نبوت کی بنیاد قرابت پر نہیں ہے، قرابت جس کی جتنی دُور تھی وہ پہلے آیا، اور جس کی جتنی نزدیک تھی وہ بعد میں آیا۔

غلام احمد کے خلفأ کی ترتیب:

اور یہاں غلام احمد کے بھی چار نام نہاد خلیفہ ہوئے ہیں، اس کا پہلا خلیفہ نورالدین تھا، نورالدین کو جانتے ہو کون تھا؟ وہ ویسے بھی ’’خلیفہ‘‘ تھا، ’’خلیفہ‘‘ ہماری زبان میں ’’نائی‘‘ کو کہتے ہیں، اور نورالدین واقعی قوم کا ’’نائی‘‘ تھا، تو خلیفہ نورالدین کو ایک مجبوری کی بنا پر مرزا کا خلیفہ اور

223

جانشین بنانا پڑا، کیونکہ اس وقت مرزے کے لڑکوں میں کوئی ایسا لائق نہیں تھا، جو اس کی جگہ لیتا۔ خیر! نورالدین گیا تو اس کی جگہ محمود آگیا، یعنی بشیرالدین محمود، میرے دوست بھی کہتے ہیں ’’بشیرالدین محمود‘‘ مت کہا کرو، کیونکہ وہ ’’بشیرالدین‘‘ نہیں تھا، اس کو ’’بشیرالدین‘‘ کہنا غلط ہے، یہ لقب قادیانیوں نے بعد میں استعمال کیا ہے، ورنہ اس کے ابّا نے اس کا نام ’’بشیرالدین‘‘ نہیں رکھا، اس کا نام صرف ’’محمود‘‘ ہے، یہ ’’بشیر‘‘ کی کوئی پیش گوئی فٹ کرنے کے لئے جھوٹے طور پر اس کا نام بشیرالدین رکھا گیا۔ خیر! بشیرالدین اس کا لقب بنالیا گیا، اور وہ خلیفۂ دوم بن گیا۔ اس کے بعد کون آیا؟ مرزا محمود کا لڑکا …مرزا ناصر… وہ مرا تو کون آیا؟ مرزا محمود کا دوسرا لڑکا …مرزا طاہر… اور اب مرزا مسرور خلیفہ ہے تمہاری زندگی رہی تو دیکھتے رہو گے، جب تک قادیانی زندہ ہیں یہ خلافت کی گدی اس نسل سے نہیں نکلے گی، … اللہ تعالیٰ نے تو اپنے آخری اور سچے نبی کا کوئی لڑکا ہی باقی نہ رکھا، جو اس کا جانشین بنے، ادھر جھوٹے نبی نے ایک گدی ایجاد کی، اولاد پر اولاد، اولاد پر اولاد، اس کی وارث چلی آرہی ہے اور لوگوں سے مال لوٹتے جارہے ہیں، تاکہ خاندان کا خاندان کھاتا رہے، گویا یہ ایک شاہی گدی بن گئی ہے، مگر لوگ اس پکھنڈ کو نبوت سمجھتے ہیں، اگر یہی بات سمجھ لی جائے تو سمجھنے والوں کے لئے صرف یہی کافی ہے۔

انبیائے کرام علیہم السلام گدیاں قائم نہیں کرتے:

انبیائے کرام علیہم الصلوٰۃ والسلام گدیاں قائم کرنے کے لئے نہیں آتے، ہدایت کے لئے آتے ہیں، ہمارے آقا کا اُسوۂ حسنہ سب کے سامنے ہے۔ یہ تو وہ بات تھی جن کو اہلِ عقل سمجھ سکتے ہیں، اور دانا غور و فکر کرسکتے ہیں، باقی میرے جیسے اُجڈ لوگوں کے لئے بھی دو اور دو چار کی طرح، ایک دو باتیں عرض کرتا ہوں۔

کذبِ مرزا کی بدیہی دلیل:

نبی کے لئے ضروری ہے کہ وہ امانت دار ہو، ٹھیک ہے ناں بھائی؟ حضرت جبریل علیہ السلام کے ساتھ کیا لقب لگاتے ہیں؟ ’’جبریلِ امین‘‘ اس لئے کہ وہ اللہ کی وحی پر امین ہے، جیسا کہ قرآن میں ہے: ’’ثَمَّ اَمِیْنٌ‘‘ پھر وہ وحی جبریل کے واسطے سے نبی پر آتی ہے، پھر نبی بھی درمیان میں امین ہوتا ہے، اگر نبی امین نہ ہو تو وحی کا کیا اعتبار؟ بھائی! امانت سب سے پہلی صفت ہے جو کسی پر اعتماد دلاتی ہے۔ حفیظ جالندھری مرحوم کا ایک شعر مجھے بہت ہی پسند آتا ہے، جس کو شاہِ ابیات کہنا

224

چاہئے، وہ کہتا ہے:

  1. محمدﷺ جس کو دنیا صادق الوعد الامین کہہ دے

    وہ بندہ جس کو رحمن رحمۃ للعالمین کہہ دے

غلام احمد کی خیانت کا قصہ:

غلام احمد کا لڑکا بشیر احمد ’’سیرت المہدی‘‘ (ج:اول، ص:۴۳،۴۴) میں اپنی اماں کی روایت سے لکھتا ہے: ’’بسم اللہ الرحمن الرحیم، بیان کیا مجھ سے والدہ صاحبہ نے‘‘ (گویا وہ بھی روایت کو اسی طرح نقل کرتا ہے جس طرح محدثین سند سے روایت نقل کرتے ہیں، چنانچہ محدثین جیسے: ’’عن أبی ھریرۃ، عن أمّ المؤمنین عائشۃ‘‘ وغیرہ سے روایت لاتے ہیں، یہ خبیث بھی اپنے جھوٹے نبی اور باپ کی سوانح عمری کو روایتوں کی شکل میں نقل کرتا ہے، تو راوی ہے غلام احمد کا لڑکا جو یقینا قادیانیوں کے ہاں ثقہ ہوگا، اور ان کے نزدیک قابلِ اعتماد ہونا چاہئے، چنانچہ وہ اپنی اماں سے روایت کرتا ہے) کہ ایک دفعہ حضرت مسیحِ موعود …(مردود) لفظ بولتے ہوئے بھی شرم نہیں آتی… ایک دفعہ مسیحِ موعود تمہارے دادا کی زندگی میں اپنے ابا (یعنی غلام احمد کے ابا، غلام مرتضیٰ) کی زندگی میں امرتسر تمہارے دادا کی پنشن وصول کرنے کے لئے گئے، وہ پنشن اس زمانہ میں سات سو روپے تھی، آج کے سات سو کو دیکھ لو کہ اس کی کیا قیمت بنتی ہے؟ خیر تو وہ تمہارے دادا کی پنشن وصول کرنے کے لئے گئے جو سات سو روپے تھی، پیچھے امام دین چلا گیا (امام دین غلام احمد کا چچازاد بھائی تھا …مرتب) جب حضرت صاحب نے پنشن وصول کرلی، تو امام دین اس کے پیچھے لگ گیا اور اِدھر اُدھر گھماتا رہا، ذرا سوچو! …’’اِدھر اُدھر گھماتا رہا‘‘… اور چند دنوں میں وہ پنشن ختم کردی، تو حضرت صاحب شرمندگی کی وجہ سے گھر نہیں آئے بلکہ سیالکوٹ میں ڈپٹی کمشنر کی کچہری میں محرر کے عہدے پر دس روپے ماہانہ تنخواہ پر لگ گئے، گویا حضرت صاحب کی دس روپیہ تنخواہ تھی۔

جو باپ کی پنشن پر امین نہیں، وہ وحی پر کیسے؟

میں قادیانیوں سے پوچھتا ہوں، کوئی مجھے اس کا جواب دے کہ جو شخص اپنے باپ کی سات سو کی پنشن پر امین نہیں ہوسکتا، وہ خدا کی وحی پر کیسے امین ہوسکتا ہے؟

سامعین گرامی قدر!آپ نے مرزا غلام قادیانی کی امانت و دیانت کا واقعہ سماعت فرمایا، آیئے اب ایک اور مرزا غلام احمد قادیانی کی دیانت اور حق گوئی کا قصہ سماعت فرمائیں۔

225

پچاس اور پانچ کا قادیانی فرق:

مرزا غلام احمد قادیانی نے ابتدائی طور پر اپنے آپ کو مبلغ اسلام، مناظر اسلام کے روپ میں پیش کیا، غیر منقسم ہندوستان تھا، انگریز حکومت تھی، عیسائیت کی تبلیغ عروج پر تھی، ہر چوک چوراہے پر عیسائی پادری عیسائیت کی تبلیغ کرتے، مسلمان چاہتے تھے کہ کوئی ایسا عالم ہو جو ان کے مقابلے میں آکر اسلام، پیغمبر اسلام کے تشخص کو مزید اجاگر کرے، چنانچہ مرزا غلام احمد قادیانی نے اعلان کیا کہ وہ ایک کتاب لکھے گا، جس میں اسلام کی حقانیت اور مذاہب باطلہ کا رد ہوگا، یہ کتاب پچاس جلدوں پر مشتمل ہوگی، مرزا قادیانی نے اعلان کیا کہ تمام مخیر حضرات اس کتاب کی طباعت کے لئے پیشگی رقوم ارسال کریں۔ مرزا قادیانی کے اعلان کے مطابق لوگوں نے پچاس جلدوں کی رقم پیشگی بھجوائی، مرزا غلام احمد قادیانی نے براہین احمدیہ کے نام سے ایک کتاب لکھی جس کی پانچ جلد شائع کیں مختلف اوقات میں اور کتاب کی آمد کا سلسلہ بند ہوگیا اب لوگوں نے شور کیا کہ پچاس جلدوں کے پیسے ہیں اور صرف پانچ ہیں تو مرزا قادیانی نے ان لوگوں سے کئے ہوئے وعدہ کو یوں پورا کیا، چنانچہ ملاحظہ فرمائیں:

’’پہلے پچاس حصے لکھنے کا ارادہ تھا مگر پچاس سے پانچ پر اکتفا کیا گیا اور چونکہ پچاس اور پانچ کے عدد میں صرف ایک نقطہ کا فرق ہے، اس لئے پانچ حصوں سے وہ وعدہ پورا ہوگیا۔‘‘

(کتاب براہین احمدیہ حصہ پنجم ،ص:۷، روحانی خزائن، ص:۹،ج:۲۱)

دیکھا آپ نے قادیانیوں کے تراشیدہ، نبی کا حال، کیسے وعدہ خلافی کی، کیسے حرام کھایا، کیسے مسلمانوں کو دھوکا دیا، کیا وعدہ خلاف نبی ہوسکتا ہے؟ ہرگز نہیں، کیا حرام کھانے والا نبی ہوسکتا ہے؟، کبھی بھی نہیں، کیا مسلمانوں کو دین کے نام پر دھوکا دینے والا نبی ہوسکتا؟ ممکن ہی نہیں۔

اب ایک کام اگر آپ چاہیں تو اور کرلیں کسی قادیانی سے پانچ سو روپے لے کر اس کو پچاس واپس کردیں اور کہہ دیں کہ آپ کے پانچ سو روپے و اپس کردیئے، وہ کہے گا کہ نہیں آپ نے پچاس روپے دیئے ہیں، آپ فرمائیں نقطہ خود لگالو پانچ سو بن جائیں گے ۔

قادیانی دھوکا اور اس کا جواب:

اب آخری بات! قادیانی، مسلمانوں کو دھوکا دیتے ہیں اور کہتے ہیں کہ جی ہم کلمہ

226

پڑھتے ہیں، قرآن پڑھتے ہیں، نماز پڑھتے ہیں، یہ کرتے ہیں اور وہ کرتے ہیں، تم ہمیں کافر کیوں کہتے ہو؟ کسی کلمہ گو کو کافر نہیں کہنا چاہئے، اور جو اپنے آپ کو مسلمان کہتا ہے، اس کو کافر کہنے کا کسی کو حق نہیں۔ میں کہتا ہوں کہ آپ ان سے پلٹ کر پوچھیں کہ تم اور تمہارے ابا، مسلمانوں کو کافر کیوں کہتے ہیں؟ ’’لا الٰہ الا اللہ محمد رسول اللہ‘‘ یعنی میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لائے ہوئے دین پر اَوّل سے آخر تک، الف سے یا تک، خدا شاہد ہے، آپ لوگوں کے سامنے بہ صمیمِ قلب اس کی گواہی دیتا ہوں، ایمان رکھتا ہوں، کیوں جی! میں مسلمان ہوں یا کافر؟ سوال یہ ہے کہ قادیانیو! حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو ماننے والے دُنیا کے ڈیڑھ ارب مسلمان، جو ’’لا الٰہ الا اللہ محمد رسول اللہ‘‘ پڑھ کر حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے دین کی ایک، ایک بات کو مانتے ہیں، تم ان کو کافر کیوں کہتے ہو؟ اس سوال کا جواب دے دو، پھر ہم تم کو بتلائیں گے کہ تم کیوں کافر ہو؟ تم دُنیا میں مظلومیت کا ڈھنڈورا پیٹتے ہو کہ ہم پر ظلم ہو رہا ہے، ہمیں زبردستی غیرمسلم بنایا جارہا ہے، مہربانِ من! تم ہمیں کیوں غیرمسلم بتاتے ہو؟ باقی رہی یہ بات کہ مسلمان قادیانیوں کو کافر سمجھتے، مانتے اور کہتے ہیں تو وہ اس وجہ سے نہیں کہ قادیانی نماز پڑھتے ہیں، روزہ رکھتے ہیں، کلمہ پڑھتے ہیں، مسلمان جو قادیانیوں کو کافر سمجھتے ہیں، وہ اس وجہ سے کہ مرزا قادیانی خود مدعی مہدویت، اور خود محمد رسول اللہ ہونے کا مدعی ہے اور نہ جانے کتنے کفریہ عقائد رکھتا ہے ،جس کی بنا پر امت مسلمہ ان کو کافر، مرتد اور دائرہ اسلام سے خارج سمجھتی ہے۔

ظالم تم یا ہم؟

مرزائیو! تم مسلمانوں کو اور پوری اُمتِ مسلمہ کو کافر کہتے ہو، اس لئے کہ وہ مرزا کو نبی نہیں مانتی، جیسے میں غلام احمد کی نبوت پر ایمان نہیں رکھتا … ہاں، ہاں نہیں رکھتا …نہیں رکھتا …ٹھیک ہے ناں … کہو: ہم بھی … غلام احمد کی جھوٹی نبوت پر ایمان نہیں رکھتے… اس لئے کہ ’’کَفَرْنَا بِکُمْ‘‘ ‘ ہم نے تمہارا انکار کیا ہے، چنانچہ حضرت ابراہیم علیہ السلام نے بھی یہی کہا تھا کہ:

’’…۔۔کَفَرْنَا بِکُمْ وَبَدَا بَیْنَنَا وَبَیْنَکُمُ الْعَدَاوَۃُ وَالْبَغْضَآئُ أَبَدًا حَتّٰی تُؤْمِنُوْا بِاﷲِ وَحْدَہٗ…۔۔‘‘ (الممتحنہ:۴)

یعنی ہماری اور تمہاری ہمیشہ کے لئے لڑائی اور دُشمنی ہے یہاں تک کہ تم اللہ پر ایمان لے آؤ، ہم تمہارا انکار کرتے ہیں، ابراہیم علیہ الصلوٰۃ والسلام نے بھی یہی کہا تھا کہ ہم تمہارا انکار کرتے

227

ہیں۔ میں غلام احمد کی جھوٹی نبوت پر ایمان نہیں رکھتا اور آپ بھی ایمان نہیں رکھتے، اسی طرح اس وقت کے ڈیڑھ یا سوا اَرب انسان غلام احمد کی نبوت پر ایمان نہیں رکھتے تو تمہارے نزدیک کافر ہیں۔ میں کہتا ہوں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد سب سے افضل اُمتی ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ ہیں، ان سے لے کر ہمارے شیخ و مرشد، ہمارے سابق امیر حضرت مولانا خواجہ خان محمد صاحبؒ اور موجودہ امیر شیخ الحدیث حضرت مولانا ڈاکٹر عبدالرزاق اسکندر مدظلہ تک پوری اُمتِ مسلمہ، غلام احمد قادیانی کی نبوت کی منکر ہے، کیوں بھائی! سچ کہتا ہوں یا جھوٹ کہتا ہوں؟ گویا غلام احمد قادیانی کی نبوت کی پوری اُمت منکر ہے، ابوبکر صدیقؓ سے لے کر ہم تک اور انشأ اللہ قیامت تک مسلمان جو بھی حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت پر ایمان رکھیں گے، وہ غلام احمد کی نبوت کے منکر ہوں گے، اور تمہارے مرزائیوں کے نزدیک غلام احمد کی نبوت کا منکر کافر ہے، اس کے یہ معنی ہوئے کہ تم ساری کی ساری اُمت کو کافر کہتے ہو، اب تم ہی بتلاؤ کہ تم ظالم ہو یا ہم؟ تم ہمیں کہتے ہو کہ ہم تم پر ظلم کرتے ہیں، حالانکہ تم ہم پر حکومت کرتے ہو، مگر پھر بھی تم کہتے ہو کہ ہم تم پر ظلم کرتے ہیں…!

قادیانی، کفر میں بھی مخلص نہیں:

ہم مرزائیوں اور قادیانیوں سے کہنا چاہتے ہیں کہ:

’’در کفر مخلص نہی زنار را رُسوا مکن!‘‘

اگر تم کفر میں بھی مخلص نہیں ہو تو زنار کو رُسوا مت کرو، اگر واقعتا تم غلام احمد قادیانی کی نبوت پر ایمان رکھتے ہو تو مسلمانوں کے ساتھ مل کر رہنے کی کوشش نہ کرو، ایک طرف پوری اُمت کو کافر کہتے ہو، اور دوسری طرف یہ ڈھنڈورا پیٹتے ہو کہ ہمیں کافر کہا جاتا ہے، گویا یہ کہنا چاہتے ہو کہ ہم کافر نہیں ہیں بلکہ ہمیں کافر کہا جاتا ہے۔

مرزائیت کی موت کا وقت:

چنانچہ یہ جو کیڑے مکوڑے ہوتے ہیں ناں! یعنی تاریکی کے فرزند یہ پتنگے وغیرہ، یہ رات کی تاریکی میں نکلتے ہیں، وہ دن کو کبھی نظر نہیں آتے، ٹھیک اسی طرح جہاں علم کی روشنی ہو، ...جہاں علمائے کرام موجود ہوں، جہاں دین کا درد رکھنے والے موجود ہوں ...، جہاں غلامانِ مصطفی موجود ہوں ...، جہاں ختم نبوت کے پروانے موجود ہوں ...، وہاں تم سر نہیں اُٹھاؤگے، اور جہاں جہالت کا اندھیرا ہو، جہاں غفلت اور بے حسی چھائی ہوگی، وہاں تم لوگوں کو گمراہ

228

کروگے۔ ہم جانتے ہیں کہ انگلینڈ، امریکہ اور دوسرے مغربی ممالک جہالت کی تاریکیوں میں ڈوبے ہوئے ہیں اور تمہیں وہاں کھیل کھیلنے کا موقع مل رہا ہے، جو چاہو کہو، جو چاہو کرو، یہاں تمہاری زبان کو پکڑ کر کوئی کھینچنے والا نہیں، اس لئے تم ہوا میں پرواز کر رہے ہو، لیکن ہم تمہیں بتادینا چاہتے ہیں کہ چیونٹی کے جب پَر لگتے ہیں تو اس کی موت کا وقت قریب آجاتا ہے، ہماری زبان میں کہتے ہیں: چیونٹی کی جب موت آتی ہے تو اس کو پَر لگ جاتے ہیں۔ تمہاری تباہی و بربادی کا وقت منجانب اللہ مقدر ہوچکا ہے، تم پرواز کرلو، یہ اُڑانیں بھرلو، تمہیں آج کل جو پَر لگے ہوئے ہیں، یہ حقیقت میں تمہاری موت کا انتظام ہے، اور تمہاری ہلاکت کی گھنٹی ہے، انشأ اللہ حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی یہ ٹوٹی پھوٹی اور کمزور اُمت جس کے نبی کی تشریف آوری کو چودہ سو سال ہوگئے اور اس نے اپنے نبی کو دیکھا تک نہیں، بلاشبہ ہم بہت پیچھے رہ گئے اور ہم بچھڑ گئے، اور بہت ہی خستہ حال ضرور ہیں، مگر انشأ اللہ یہ اُمت اپنی تمام تر کمزوریوں کے باوجود چلتی رہے گی اور اُمت ِ محمدیہ کا یہ قافلہ رواں دواں رہے گا، ہاں! تم بلبلے کی طرح اُٹھے تھے اور انشأ اللہ بلبلے کے طور پر بیٹھ جاؤ گے۔ انشأ اللہ تعالیٰ! ثم انشأ اللہ!

گرامی قدر سامعین! اس فتنہ قادیانیت نے ہر صورت میں ختم تو ہونا ہی ہے...کیا خوش قسمت ہوگا وہ مسلم نوجوان جو اپنا نام ناموسِ رسالت کے محافظین میں لکھوائے، کتنا بڑا اعزاز ہے اس انسان کا جو ختم نبوت کا سپاہی بن جائے، آیئے ! آج عہد کریں کہ ہم حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ختم نبوت کے تحفظ کے لئے ہر ممکن کوشش اور تعاون کریں گے۔

وآخر دعوانا ان الحمدﷲ رب العالمین

229

قادیانی

مصنوعات اور ان کے

اداروں کا بائیکاٹ

230

قادیانیوں سے تعلقات رکھنا حرام

ان کا مکمل بائیکاٹ اور قطع تعلق واجب ہے

س:…کیا قادیانیوں سے تعلقات جائز ہیں یا نہیں؟ یعنی ان کے ساتھ کھانا پینا اور اٹھنا بیٹھنا وغیرہ۔

ج:… جو لوگ اپنے آپ کو احمدی کہتے ہیں‘ یہ دراصل مرزا غلام احمد قادیانی مدعی نبوت کے پیروکار ہیں اور یہ مرزائی اور قادیانی کہلاتے ہیں‘ یہ نہ صرف غیر مسلم ہیں‘ بلکہ زندیق ہیں‘ اس لئے کہ یہ اپنے غیر اسلامی عقائد کو اسلام باور کراتے ہیں اور اپنے کفر پر اسلام کا ملمع کرتے ہیں‘ ایسے لوگ اسلام اور پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کے باغی ہیں‘ اور ان کا وجود اسلامی معاشرہ میں کسی کینسر سے کم نہیں‘ اس لئے اسلامی شریعت اور قانون کی رو سے ان سے مکمل بائیکاٹ اور قطع تعلق واجب ہے‘ ان کے ساتھ میل جول‘ تعلقات رکھنا‘ ان کے ساتھ لین دین اور کھانا پینا قطعاً حرام ہے‘ جو لوگ ان کے ساتھ میل ملاپ کا تعلق رکھتے ہیں‘ وہ آقائے دو عالم صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے ایذا کا باعث بنتے ہیں‘ ایسے لوگوں کو کل قیامت کے دن حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی شفاعت نصیب نہیں ہوگی۔

ذرا دیکھئے کہ اگر کوئی شخص اپنے باپ کے دشمن کے ساتھ بیٹھ کر کھانے پینے کا روادار نہیں ہے تو وہ آقائے دو عالم صلی اللہ علیہ وسلم کے باغیوں اور تمام انبیائے کرام علیہم السلام کی توہین کرنے والے بدقماشوں کے ساتھ کیونکر میل ملاپ رکھ سکتا ہے؟

مولانا سعید احمد جلال پوری شہید

231

اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ الَّذِیْ نَوَّرَ قُلُوْبَ الْعَارِفِیْنَ بِنُوْرِ الْاِیْمَانِ وَنَشْہُد اَنْ

لَّا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ وَحْدَہ‘ لَاشَرِیْکَ لَہ‘ وَنَشْہَدُ اَنَّ مُحَمَّداً عَبْدُہ‘

وَرَسُوْلُہ‘، اَمَّا بَعْدُ

فَاَعُوْذُبِاللّٰہِ مِنَ الشَّیْطَانِ الرَّجِیْمِ

بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ

قَالَ اللّٰہُ تَبَارَکَ وَ تَعَالٰی:

’’اِذَا سَمِعْتُمْ آیَاتِ اللّٰہِ یُکْفَرُ بِہَا وَیُسْتَہْزَأُ بِہَا فَلَا تَقْعُدُوْامَعَہُمْ‘‘ (النساء:۱۴۰)

ترجمہ: ’’جب سنو اللہ کی آیتوں پر انکار ہوتے اور ہنسی ہوتے تو نہ بیٹھ ان کے ساتھ ۔‘‘ (ترجمہ شیخ الہندؒ)

قَالَ اللّٰہُ تَبَارَکَ وَ تَعَالٰی:

’’وَاِذَا رَأَیْتَ الَّذِیْنَ یَخُوْضُوْنَ فِیْ آیَاتِنَا فَاَعْرِضْ عَنْہُمْ‘‘ (الانعام: ۶۸)

ترجمہ:’’اور جب تو دیکھے ان لوگوں کو کہ جھگڑتے ہیں ہماری آیتوں میں تو ان سے کنارہ کر۔‘‘ (ترجمہ شیخ الہندؒ)

وَقَالَ النَّبِیُّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ:
’’عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ : اَلْقَدْرِیَّۃُ مَجُوْسُ ہٰذِہٖ الْاُمَّۃِ اِنْ مَرِضُوْا فَلاَ تَعُوْدُوْہُمْ
232

وَاِنْ مَاتُوْا فَلاَ تَشْہَدُوْہُمْ۔‘‘ (مشکوٰۃ: ۲۲)

ترجمہ: ...’’حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: تقدیر کا انکار کرنے والے اس امت کے مجوسی ہیں اگر وہ بیمار ہوں تو ان کے عیادت نہ کرو، اور اگر وہ مر جائیں تو ان کے جنازہ میں شرکت نہ کرو۔ ‘‘

صدق اللّٰہ العظیم وصدق رسولہ النبی الکریم

  1. میں تو کیا میرا سارا مال و منال

    میرا گھر بار میرے اہل و عیال

  2. میرے ان ولولوں کا جاہ و جلال

    میری عمرِ رواں کے ماہ و سال

میرا سب کچھ میرے نبی کا ہے

  1. دیوانے گزر جائیں گے ہر منزل غم سے

    زمانہ انہیں حیرت سے تکتا رہے گا

قابل تکریم حاضرین مجلس، سامعین گرامی قدر، سرمایہ ملت اسلامیہ اس وقت آپ حضرات کے سامنے قرآن مجید فرقانِ حمید میں سے دو آیات طیبہ اور آقائے دو جہاں امام الانبیاء، آفتاب نبوت کے نیر اعظم، ساقی کوثر، شفیع المذنبیین، سیّدالاولین والآخرین امام المجاہدین والصدیقین حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشادات طیبہ میں سے ایک حدیث تلاوت کی ہے۔ حق تعالیٰ شانہ اپنے فضل و کرم سے بندہ کو تعلیمات اسلامیہ صحیح معنوں میںآپ احباب کی خدمت میں پیش کرنے کی سعادت نصیب فرمائے اور اس کے بعد رب کریم عمل کے زیور سے آراستہ فرمائے۔ آمین۔

سب سے پہلے آیات مبارکہ کا ترجمہ سماعت فرمائیں ارشاد ربانی ہے:’’اِذَا سَمِعْتُمْ آیَاتِ اللّٰہِ یُکْفَرُ بِہَا وَیُسْتَہْزَأُ بِہَا فَلَا تَقْعُدُوْامَعَہُمْ‘‘ یہ آیتِ مبارکہ سورئہ نساء کی آیت :۱۴۰ ہے، اس میں باری تعالیٰ نے ارشاد فرمایا ہے:

’’اور جب سنو تم کہ اللہ تعالیٰ کی آیات کا انکار کیا جارہا ہے اور ان کا مذاق اڑایا جارہا ہے تو ان (مذاق و استہزاء) کرنے والوں کے ساتھ نشست و برخاست ترک کردو۔‘‘

233

دوسری آیت مبارکہ سورئہ انعام کی ہے، ارشاد خداوندی ہے:’’وَاِذَا رَأَیْتَ الَّذِیْنَ یَخُوْضُوْنَ فِیْ آیَاتِنَا فَاَعْرِضْ عَنْہُمْ‘‘ ...اور جب تم دیکھو ان لوگوں کو جو مذاق اڑاتے ہیں ہماری آیتوں کا تو ان سے کنارہ کشی اختیار کرو...۔‘‘

اس آیت کی تشریح و تفسیر میں امام ابوبکر الجصاص الرازیؒ لکھتے ہیں: جس کا مفہوم یہ ہے کہ یہ آیت اس امر پر دلالت کرتی ہے کہ ہم مسلمانوں پر یہ بات لازم اور ضروری ہے کہ ملحدوں اور سارے کافروں سے ان کے کفر و شرک اور اللہ تعالیٰ پر ناجائز باتیں کہنے کی روک نہ کرسکیں تو ان سے نشست و برخاست، میل جول، تعلقات ترک کردیں۔

اب آیئے ان دو آیات کے تناظر میں مسئلہ کو سمجھنے کی کوشش کریں کہ میرا، آپ کا اور پوری امت مسلمہ کا اس بات پر ایمان و یقین ہے کہ حضور نبی مکرم صلی اللہ علیہ وسلم خالق کائنات کے آخری نبی اور رسول ہیں، ان کے بعد کوئی اور نیا نبی اور رسول، دنیا میں نبوت و رسالت کا تاج پہن کر نہیں آئے گا، اصطلاح شریعت میں اس عقیدہ کو عقیدئہ ختم نبوت کہا جاتا ہے۔

چنانچہ ہمارے قریبی دور ۱۹۰۱ء میں ہندوستان کی سرزمین پر ارتداد کا فتنہ رونما ہوا، جس کا بانی مرزا غلام احمد قادیانی تھا۔ جس نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد جھوٹا دعویٰ نبوت کرکے ایک مرتبہ پھر وحدت ملّی کو پارہ پارہ کرنے کی ناکام کوشش کی۔ آج بھی ہمارے معاشرہ میں باغیانِ محمد کا یہ گروہ پایا جاتا ہے جو نہ صرف مرزا غلام احمد قادیانی کو نبی مانتا ہے، بلکہ اس ملعون کو حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے بھی افضل سمجھتا ہے۔

اس مرزائی اور قادیانی گروہ کا سب سے بڑا ہتھیار ان کے کاروباری ادارے، ان کی بڑی بڑی فیکٹریاں، دکانیں ہیں، جس کے بل بوتے پر نادار مسلمانوں کے ایمان اور عشق رسالت پر شب خون مارتے ہیں اور مسلمانوں کو مرتد اور کافر بنانے کے لئے اپنے ان اداروں سے حاصل ہونے والی رقم پانی کی طرح بہاتے ہیں، قرآن و سنت کی روشنی میں ان مرتدین اور دشمنانِ اسلام کا اقتصادی و معاشرتی بائیکاٹ کرنا اپنے دین و ایمان اور جذبہ عشق رسالت کو بچانے کے لئے نہ صرف جائز بلکہ اسلامی عدل و انصاف کے عین مطابق ہے۔

گرامی قدر سامعین غور تو کریں…؟ ’’شیزان‘‘ قادیانیوں کی مشروب ساز فیکٹری ہے‘ اقتصادی لحاظ سے یہ کمپنی قادیانیت کے لئے ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتی ہے‘ تاجدارِ ختم نبوت

234

سرکارِ مدینہ محمد عربی صلی اللہ علیہ وسلم کی سچی نبوت کو چھوڑ کر مرزا قادیانی کے جھوٹے دعویٰ نبوت کی تشہیر کے لئے شیزان اور دیگر قادیانی کمپنیاں اپنا سرمایہ بے دریغ خرچ کررہی ہیں‘ پاکستان میں قادیانیوں کے سالانہ جلسہ پر پابندی لگنے کی وجہ سے یہ جلسہ لندن میں منعقد ہوا‘ جس پر ایک زر کثیر خرچ ہوا‘ جس کا نصف صرف شیزان فیکٹری نے ادا کیا۔ شیزان ہی وہ اسلام دشمن کمپنی ہے جو قادیانیت کے شائع ہونے والے رسائل و جرائد کو اپنے اشتہارات دے کر انہیں مالی طور پر مضبوط کرتی ہے‘ بطور ثبوت آج بھی قادیانی بچوں کا ماہنامہ‘ رسالہ تشحیذ الاذہان دسمبر ۲۰۰۵ء ملاحظہ کیا جاسکتا ہے‘ جس پر ’’شیزان‘‘ کا اشتہار آویزاں ہے۔

جب ’’شیزان‘‘ کمپنی کا مالک چوہدری شاہنواز فوت ہوا تو اس کی موت پر قادیانی جماعت کے ترجمان ’’الفضل‘‘ نے جو تعریفی کلمات لکھے‘ وہ ان بھولے بھالے مسلمانوں کی آنکھیں کھولنے اور دماغوں کے دریچے وا کرنے کے لئے کافی ہیں‘ جو یہ کہتے نہیں تھکتے کہ: ’’شیزان فیکٹری قادیانیوں کی نہیں یا شیزان فیکٹری پہلے قادیانیوں کی تھی اور اب مسلمانوں نے خرید لی ہے۔‘‘

’’آپ پاکستان کے نمایاں صنعت کاروں میں سے تھے‘ آپ نے نہایت کامیاب تجارتی ادارے قائم کئے‘ ان میں شاہنواز لمیٹڈ‘ شیزان انٹرنیشنل‘ شاہ تاج شوگر ملز اور شاہنواز ٹیکسٹائل ملز شامل ہیں۔‘‘

(الفضل ربوہ ،۲۶/مارچ ۱۹۹۰ء)

سامعین محترم! ایشیا میں قادیانیوں نے اپنا ترجمہ شدہ قرآن مجید تقسیم کرنا چاہا، اس کے تمام مصارف شیزان نے برداشت کئے۔ قادیانیوں کا شائع کیا ہوا یہ ترجمہ قرآن کیا ہے؟ یہ جھوٹی نبوت کے سفاک لٹیروں کے ایمان کُش تیروں سے مسلح ہوکر قرآن پر یلغار اور قرآنی مطالب و معانی کا قتل عام ہے۔

اے سادہ لوح مسلمانو!کیا آپ کو معلوم ہے کہ قادیانی مرزا غلام احمد قادیانی کا غلط کیا ہوا ترجمہ قرآن پر کروڑوں روپے کیوں صرف کررہے ہیں؟ پوری دنیا میں اس زہریلے ترجمے کو کیوں پھیلارہے ہیں؟ اور شیزان کمپنی اس فوج ابلیس کا ہر اول دستہ کیوں بنی ہوئی ہے؟ صرف اس لئے کہ وہ اسی ترجمہ قرآن کی مدد سے ’’عقیدئہ ختم نبوت‘‘ کو جھٹلاتے اور سلسلہ نبوت کو جاری ثابت کرکے مرزا قادیانی کی نبوت کا جواز نکالتے ہیں اور اسے مسند نبوت و رسالت پر بٹھاتے ہیں‘ اسی غلط ترجمہ

235

قرآن کے ذریعہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی وفات اور مرزا قادیانی کو مسیح ثابت کیا جاتا ہے۔

قادیانیوں کے نزدیک دین کی تکمیل مرزا قادیانی کی ذات پر ہوتی ہے‘ قرآن کا اس کی ذات پر دوبارہ نازل ہونا ثابت کیا جاتا ہے‘ قرآن کریم کی وہ آیات جن میں اللہ رب العزت نے اپنے محبوب محمد عربی صلی اللہ علیہ وسلم کو مخاطب کیا ہے‘ اُن آیاتِ مقدسہ کو مرزا قادیانی پر چسپاں کیا جاتا ہے‘ اس کے ماننے والوں کی جماعت کو ’’صحابہ رسول‘‘ کے نام سے پکارا جاتا ہے‘ اس کی بیویوں کو ’’امہات المومنین‘‘ کا نام دیا جاتا ہے‘ اس کے گھر والوں کے لئے ’’اہل بیت‘‘ کی مقدس اصطلاح استعمال کی جاتی ہے‘ عقیدئہ توحید کی بنیادوں کو منہدم کیا جاتا ہے‘ منصبِ نبوت و رسالت کی توہین کی جاتی ہے‘ انبیاء کرام علیہم السلام کا مذاق اڑایا جاتا ہے‘ حضرت مریم مقدسہ پر بہتان لگائے جاتے ہیں اور شعائر اسلامی کی بری طرح تحقیر کی جاتی ہے۔

حضرات محترم توجہ فرمائیں! قادیانی اس خطرناک منصوبہ پر اس لئے عمل پیرا ہیں کہ وہ مسلمانوں کا ناتہ قرآن اور صاحبِ قرآن صلی اللہ علیہ وسلم سے توڑ کر مرزا قادیانی سے جوڑنا چاہتے ہیں‘ ملت بیضا کی عقیدتوں کے دھاروں کا رخ مکہ اور مدینہ کے روحانی مراکز سے موڑ کر سوئے مرکز نبوت افرنگ ’’قادیان‘‘ لے جانا چاہتے ہیں‘ نبوت محمدی کا پرچم سرنگوں کرکے عالم کی فضائوں میں قادیانی نبوت کا پرچم لہرانا چاہتے ہیں اور انسانیت کو قادیانیت و مرزائیت کے پرچم تلے جمع کرکے مرزا قادیانی کے سر پر محسن انسانیت کا تاج رکھنا چاہتے ہیں۔ (نعوذباللہ)

اے مسلمان! جب تو ’’شیزان‘‘ کی مصنوعات خریدتا ہے تو تیری جیب سے ایک خطیر رقم نکل کر مالکان شیزان کی تجوریوں میں جا پہنچتی ہے اور پھر نبوت کاذبہ کا یہ کاروباری ادارہ تیری رقم کا دسواں حصہ قادیانیوں کے مرکزی فنڈ میں پہنچادیتا ہے‘ اب اگر تیری رقم کسی قادیانی عبادت گاہ کی تعمیر پر خرچ ہوئی تو اس بیت الشیطان کی تعمیر میں تو کتنا معاون و مددگار ہوگا؟

اے شیزان خریدنے والے مسلمان بھائی ! سوچنے کی بات یہ ہے کہ اگر تیری رقم سے کسی قادیانی مربی کو تنخواہ ملی اور اس نے کسی مسلمان کو قادیانیت کے دام میں پھنسا کر قادیانی بنالیا تو اس کا ایمان لوٹنے میں تو کتنا ملوث ہوگا؟

اگر تیری رقم سے تحریف شدہ قرآن اور مسخ کردہ احادیث شائع ہوئیں تو اسلام کے خلاف اس گھنائونی سازش میں تیرا کتنا حصہ ہوگا؟ تیری رقم سے مرزائی قیادت مقوی اشیاء کھاکر اپنے

236

قلب و جگر کو تقویت دے اور پھر سے تیرے رسول صلی اللہ علیہ وسلم اور تیرے دین کے بارے میں بدزبانی کرے تو اس کی آواز میں تیری آواز کی کتنی آمیزش ہوگی؟

رسولِ رحمت کے امتیو! مصنوعات شیزان خریدنا اور دیگر قادیانی اداروں سے کاروبار کرنا مثلاً OCSکوریئر ‘ ذائقہ گھی‘ شاہ تاج شوگر‘ شاہ نواز ٹیکسٹائل، یونیورسل اسٹیبلائزر وغیرہ‘ گویا قادیانیوں کے فنڈ میں پیسہ جمع کروانا ہے‘ ختم نبوت کے لٹیروں کی کمر مضبوط کرنا ہے‘ ناموس رسالت کے ڈاکوئوں کے ہاتھ دراز کرنا ہے۔

تو اس صورت میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر غم و غصہ اور افسوس و ندامت کی جو کیفیات طاری ہوں گی‘ الفاظ انہیں بیان کرنے سے قاصر ہیں‘ آپ اس دکاندار سے جس طرح کا برتائو کریں گے‘ قانون اور طاقت کے ذریعہ جس شدت سے اس کا محاسبہ کریں گے‘ یہ آپ کی غیرت اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے محبت کا اظہار ہوگا اور یقینا محبت و غیرت کا یہ اظہار ایک روشن مثال ہوگی۔

لیکن اگر ہم یوں ہی قادیانی کاروباری اداروں کو مضبوط کرتے رہے‘ ’’شیزان‘‘ کی مصنوعات خریدیں اور لاکھوں روپے قادیانی فنڈ میں جمع کراتے اور ہمارے سرمائے کے ذریعہ قادیانی خطرناک ہتھیاروں سے لیس ہوکر سرور کائنات صلی اللہ علیہ وسلم کی عزت و ناموس پر حملہ آور ہوں اور ہمیں پرواہ تک نہ ہو‘ بلکہ بار بار شیزان خرید کر ناموس رسالت صلی اللہ علیہ وسلم کے ان قزاقوں کی جھولیاں سیم و زر سے بھرتے رہیں اور اس گناہ عظیم کا ارتکاب کرتے رہے تو پھر ہماری دینی غیرت اور اسلامی حمیت کا معیار کیا ہوا؟

ہائے افسوس! ہمارے جسمانی باپ کو کوئی گالی دے یا بُرا بھلا کہے اس پر ہمیں غم و غصہ اور افسوس و ندامت ہوتی ہے، لیکن روحانی باپ حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات اقدس کے معاملہ پر خاموشی و بے اعتنائی! برتی جاتی ہے، جن کے قدموں کی خاک پر ہم اور ہمارے ماں باپ قربان ہوجائیں تب بھی آپ کی محبت کا حق ادا نہ ہوگا۔

جب کسی دکاندار سے شیزان کی مصنوعات کا بائیکاٹ کرنے کو کہا جاتا ہے‘ تو وہ مسلمان دکاندار عموماً ایک سوال کرتا ہے اور کہتا ہے کہ جناب! شیزان کے بائیکاٹ کرنے کو کہا جاتا ہے‘ اس کے علاوہ اور کتنی چیزیں ہیں جو یہودیوں اور عیسائیوں کی بنی ہوئی ہیں ہم اس کو بھی تو استعمال کرتے ہیں تو ایسے احباب سے گزارش ہے کہ فتنہ قادیانیت کے کفر کو سمجھیں یہ ایسے کافر ہیں کہ خود

237

بھی جھوٹے ہیں ان کا نبی مرزا قادیانی بھی جھوٹا تھا، دوسری بات یہ ہے کہ یہودی، عیسائی برملا اس بات کا اظہار کرتے ہیں کہ ہم یہودی، عیسائی ہیں ہمارا اسلام کے ساتھ کوئی تعلق نہیں ہے، مگر قادیانی ایسے کافر ہیں کہ خود کو مسلمان اور مسلمانوں کو کافر کہتے ہیں، یہ صرف کافر نہیں بلکہ زندیق اور مرتد ہیں، شریعت اسلامی میں عام اور سادہ کافر سے تو کسی حد تک لین دین کی گنجائش ہے، مگر زندیق اور مرتد سے کسی قیمت پر کاروبار کی اجازت نہیں ہے اور مزید یہ کہا جاتا ہے کہ بائیکاٹ تو ظلم ہے‘ کیونکہ شیزان فیکٹری میں سینکڑوں مسلمان کام کرتے ہیں‘ اگر شیزان کا بائیکاٹ کردیا جائے تو بے چارے ملازمین بے روزگار ہوجائیں گے۔

قادیانی اس ہتھیار کو کمال عیاری سے استعمال کرتے ہیں۔ شیزان کمپنی اور دیگر قادیانی اداروں میں کلیدی آسامیوں پر قادیانی قابض ہیں۔ مسلمان ملازمین تو معمولی تنخواہوں پر محنت مزدوری کرتے ہیں‘ مثلاً: ٹرک ڈرائیور‘ کنڈیکٹر اور بوجھ اتارنے چڑھانے والے مزدور وغیرہ‘ جب کسی علاقہ میں شیزان کے بائیکاٹ کی تحریک اٹھتی ہے اور مسلمان دکاندار دینی غیرت سے سرشار ہوکر شیزان کا بائیکاٹ کردیتے ہیں تو ان حالات میں شیزان کے مالکان اپنے مسلمان ملازمین کو تنگ اور پریشان کرنے کا ہتھیار استعمال کرتے ہیں اور ان ملازمین کو علاقہ کے دکانداروں کے پاس بھیج دیتے ہیں‘ وہاں جاکر یہ ملازمین منت سماجت کرتے ہیں اور ہاتھ جوڑ کر انہیں کہتے ہیں کہ خدارا! ہمارے حال پر رحم کھائو‘ اگر تم نے مال لینا بند کردیا تو ہماری نوکریاں ختم کردی جائیں گی اور ہمارے بیوی بچے روٹی کو ترسیں گے‘ بات شیزان کی نہیں‘ بات ہمارے مالی تحفظ کی ہے‘ بات بچوں کی دو وقت کی روٹی کی ہے‘ ہم تمہارے کلمہ گو مسلمان بھائی ہیں‘ ہمارے لئے شیزان کی مصنوعات رکھ لو‘ ان کی درد بھری باتیں سن کر اکثر دکاندار ان پر ترس کھاتے ہیں او ر دکانوں پر شیزان کا کاروبار پھر شروع ہوجاتا ہے اور قادیانی اپنے اس خطرناک دائو میں کامیاب ہوجاتے ہیں‘ عیار قادیانی‘ مسلمان دکانداروں کا شکار کرنے کے لئے ان مسلمان ملازمین کو اسی طرح استعمال کرتے ہیں جس طرح مچھیرا گوشت کا ٹکڑا کانٹے پر لگاکر دوسری مچھلیوں کا شکار کرتا ہے۔

رزاق اللہ ہے:

شیزان فیکٹری میں کام کرنے والے اے مسلمان! اللہ کی زمین بڑی وسیع ہے‘ اس کے رزق کے خزانے بڑے وسیع ہیں‘ مرتدوں کے ہاں تیری ملازمت دنیا و آخرت میں باعث ندامت اور

238

تیری غیرت کے ماتھے پر کلنک کا ٹیکا ہے‘ رحمن و رحیم خدا پر بھروسہ کر‘ شیزان کی ایمان سوز نوکری کو لات مار۔ یقینا اللہ بہتر رزق دینے والا ہے۔

اے شیزان پینے والے! شیزان پی کر اللہ کے عذاب کو دعوت نہ دے… مرتدین کا یہ موذی مشروب تجھے کسی موذی مرض میں مبتلا نہ کردے… اور کہیں زندگی کی ساری رعنائیاں تجھے داغ مفارقت نہ دے جائیں۔

اے شیزان بیچنے والے! شیزان بیچ کر اپنی غیرت اور عشق رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو مت بیچ‘ دشمنانِ رسول کا کاروباری ایجنٹ بن کر قادیانیت کو نہ پال‘ یہ کاروبار کرنے سے جو چند ٹکے تیرے گھر آئیں گے وہ اپنے ساتھ نحوستوں کے انبار بھی لائیں گے‘ اللہ اور اس کے رسول کے لئے اس ذلیل کاروبار پر تھوک دے ورنہ کہیں تیری زندگی دوسروں کے لئے نشانِ عبرت نہ بن جائے:

  1. ناموس دین حق کے نگہباں کو کیا ہوا

    اے رب ذوالجلال مسلماں کو کیا ہوا

اے افراد ملت اسلامیہ! آج ہمارے معاشرے میں ڈاکٹر‘ شوگرکے مریض کو میٹھی اشیاء استعمال کرنے سے روکے تو وہ فوراً رک جاتا ہے‘ اگر بلڈ پریشر کے مریض کو نمک استعمال کرنے سے منع کرے تو وہ فوراً رک جاتا ہے‘ اگر معالج دل کے مریض کو سخت کام کاج سے روکے تو وہ فوراً اس کی نصیحت پر کان دھرے گا‘ لیکن اگر منبر و محراب سے شیزان کے بائیکاٹ کی صدائیں بلند ہوں اور دینی رسائل و جرائد مسلمانوں کی غیرت کو جھنجھوڑتے ہوئے شیزان کے خلاف بائیکاٹ کی مہم چلائیں تو کسی کے کانوں پر جوں تک نہیں رینگتی‘ جان کی حفاظت کے لئے تو ڈاکٹر کی ہدایت کے مطابق سب کچھ چھوڑا جاسکتا ہے‘ لیکن کیا ایمان کی حفاظت کے لئے شیزان نہیں چھوڑا جاسکتا؟

  1. وائے ناکامی متاع کارواں جاتا رہا

    کارواں کے دل سے احساس زیاں جاتا رہا

اے مسلمان! اپنے دشمن کے گھر کی چیز تو‘ تو نہیں کھاتا لیکن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے دشمن کے گھر کا مشروب غٹاغٹ پی جاتا ہے۔ جو تیری توہین کرے اس کے لئے تو تیرے گھر کا دروازہ بند ہے‘ لیکن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی توہین کرنے والوں کے مشروب شیزان کے لئے تیرے گھر کے دروازے کھلے ہیں‘ جو تجھے ضرر پہنچائے وہ تیری دعوت میں نہیں آسکتا‘ لیکن اسلام دشمن‘ گستاخانِ رسول قادیانیوں کی ’’شیزان‘‘ کی تیری دعوتوں میںا جارہ داری ہے‘ تیرے اسلاف نے اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت میں وطن چھوڑ دیئے‘ ماں باپ چھوڑ

239

دیئے‘ بیٹے چھوڑ دیئے‘ اور ایک تو ہے کہ شیزان نہیں چھوڑ سکتا‘ اور شاید علامہ اقبال مرحوم نے ایسے ہی لوگوں کے لئے کہا تھا:

’’یہ مسلماں ہیں جنہیں دیکھ کر شرمائیں یہود‘‘

اے آغوش دنیا میں مست مسلمان:

موت ہر دم ہمارے تعاقب میں ہے‘ عنقریب یہ ہمیں اپنے پنجوں میں جکڑ لے گی اور ہم اپنے اعمال کی جواب دہی کے لئے اس جہان فانی سے اس جہان باقی میں پہنچ جائیں گے‘ ذرا سوچو! کہ اگر ہم نے صبح شیزان کی بوتل پی اور دوپہر کو مر گئے یا دوپہر کو شیزان کی چٹنی کھائی اور شام کو جان کی بازی ہار گئے یا شام کو شیزان کا اچار کھایا اور رات کو لقمۂ اجل بن گئے یا رات کو شیزان کی جیلی کھائی اور آدھی رات کو انتقال کرگئے‘ تو ان تمام صورتوں میں شیزان ہمارے پیٹ میں ہوگی اور ہم قبر کے پیٹ میں جانے کے لئے تیار ہوں گے‘ جب ہمیں قبر کے پیٹ میں اتارا جائے گا اور منکر نکیر ہم سے سوال و جواب کے لئے آئیں گے تو ہمارے منہ سے ’’شیزان‘‘ کی بدبو آرہی ہوگی‘ قبر سے اٹھاکر جب میدانِ حشر میں لایا جائے گا‘ تو وہاں بھی ہمارا منہ یہ بدبو اگل رہا ہوگا‘ ساقی ٔ کوثر صلی اللہ علیہ وسلم کے حضور جب جام کوثر مانگنے جائیں گے تو وہاں بھی اس بدبو کے بارِ خجالت سے ہمارا سر نہیں اٹھے گا‘ جب ہمارے منہ سے دشمن رسول ’’شیزان‘‘ کی بدبو اٹھ رہی ہو گی تو پھر ہم کس منہ سے شافع محشر صلی اللہ علیہ وسلم سے شفاعت کا سوال کریں گے؟ کس منہ سے جامِ کوثر طلب کریں گے؟ وقت کسی کا انتظار نہیں کرتا اور موت کسی کو مہلت نہیں دیتی‘ زندگی کی چند مستعار گھڑیوں کو غنیمت جانیں‘ خوب غور و فکر کریں‘ کیونکہ آمد عزرائیل کے بعد نہ سوچ سے کچھ حاصل ہوگا اور نہ فکر کا کچھ فائدہ‘ اے مسلمان! ابھی بھی وقت ہے وگرنہ گیا وقت دوبارہ نہیں آئے گا آج کے بعد یہاں بیٹھنے والے بات سننے والے سب پکا ارادہ کریں کہ شیزان اور دیگر قادیانی اداروں سے ہمارا (عشق مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کے پیش نظر )کسی قسم کا کاروباری لین دین اور تعلق باقی نہیں رہے گا…؟

  1. چوکھٹے قبروں کے خالی ہیں انہیں مت بھولو

    جانے کب کون سی تصویر سجادی جائے

240

توہین رسالت ایکٹ کسی

اقلیت کے خلاف نہیں، بلکہ ناموس

رسالت کے تحفظ کا ضامن ہے

(عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت)

241

کذبِ مرزا

قادیانی پلازہ کی مسجد میں امامت

س: … ایک شخص جو ایسی مسجد میں امامت کراتا ہے جو قادیانیوں کے پلازہ میںہے اور وہ مسجد بھی قادیانیوں نے بنوائی ہے، لیکن نماز پڑھنے والے مسلمان ہیں اور اس امام صاحب کو وظیفہ اور تنخواہ بھی قادیانی ہی دیتے ہیں جو اس پلازہ کے مالک ہیں، صورت مسئلہ کے بعد چند امور زیر طلب ہیں:

۱: کیا قادیانی اس طرح مسجد بناسکتے ہیں؟

۲: کیا کوئی مسلمان وہاںپر امامت کرواسکتا ہے؟

۳: کیا مسلمان امام امامت کروانے پر قادیانیوں سے وظیفہ اور تنخواہ لے سکتا ہے؟

۴: کیا ایسے امام کی اقتدأ میں نماز درست ہوگی؟

۵: کیا اس امام کی امامت پر کوئی تاویل کرنا درست ہے ؟جبکہ وہ امام جانتا بھی ہے کہ اس مسجد کے اخراجات قادیانی ہی ادا کرتے ہیں۔

ج:… مسجد شعائر اسلام میں سے ہے، کوئی غیر مسلم اپنی عبادت گاہ کو مسجد کا نام نہیں دے سکتا، آپ کی صورت مسئولہ میں اگرچہ وہ پلازہ قادیانیوں کا ہے، مگر مسجد مسلمانوں کی ہے، کیونکہ وہ مسجد ہے پھر دوسری بات یہ ہے کہ اس میں نماز پڑھنے والے مسلمان ہیں۔ اس لئے اس میں امامت کرنا اور اس مسجد کو قادیانیوں کی دست برد سے بچانا اہلِ محلہ کا فرض ہے، لہٰذا جو مولوی صاحب وہاں مسلمانوں کی امامت کرارہے ہیں ان کا امامت کرانا اور مسجد کی حفاظت کرنا بالکل صحیح درست اور جائز ہے، البتہ قادیانیوں سے امامت کی تنخواہ لینا درست نہیں، بلکہ امام صاحب کی ملی غیرت کا تقاضا ہے کہ چاہے کچھ نہ ملے اور امام صاحب بھوکے رہیں مگر قادیانیوں سے تعاون نہ لیں، اسی طرح نمازیوں کو بھی شرم آنی چاہئے کہ وہ ایک امام کی تنخواہ کا انتظام نہیں کرسکتے کہ قادیانی مسلمان امام کو تنخواہ دے کر ہر ماہ مسلمان نمازیوں کے منہ پر طمانچہ مارتے ہیں؟ لہٰذا مسلمان نمازیوں کو چاہئے کہ اس مسجد کا مکمل انتظام سنبھال لیں، اس کی دوسری ضروریات کے علاوہ امام ، موذن وغیرہ کی تنخواہ کا بندوبست کریں اور قادیانیوں کو اس مسجد سے مکمل طور پر بے دخل کردیں۔واللہ اعلم

مولانا سعید احمد جلال پوری شہید

243

بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ

اَلْحَمْدُلِلّٰہِ رَبِّ الْعَالَمِیْنَ

وَالصَّلوٰۃُ وَالسَّلاَمُ عَلٰی خَاتَمِ الْاَنْبِیَائِ وَالْمُرْسَلِیْنَ مُحَمَّدٍ نَبِیِّ الرَّحْمَۃِ

الَّذِیْ اَنْزَلَ اللّٰہُ عَلَیْہِ الْقُرْآنَ وَالْحِکْمَۃَ وَعَلٰی آلِہٖ وَاَصْْحَابِہٖ وَاَتْبَاعِہٖ اِلٰی

یَوْمِ الدِّیْنِ اَمَّابَعْدُ

اَعُوْذُبِاللّٰہِ مِنَ الشَّیْطَانِ الرَّجِیْمِ

بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ

قَالَ اللّٰہُ تَبَارَکَ وَتَعَالیٰ: ’’فَاسْئَلُوْا اَھْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُم لاتعلمون....‘‘ (الانبیاء:۷)

ترجمہ: ...’’سو پوچھ لو یاد رکھنے والوں سے اگر تم نہیں جانتے۔‘‘

امام غزالی ؒ ارشاد فرماتے ہیں:

’’وَاِنَّمَا حَقُّ الْعَوَامِ اَنْ یُّؤْمِنُوْا وَیُسْلِمُوْا وَیَشْتَغِلُوْا بِعِبَادَتِہِمْ وَمَعَایِشِہِمْ وَیَتْرُکُوْا الْعِلْمَ لِلْعُلَمَائِ، فَالْعَامِیْ لَوْ یَزْنِیْ وَیَسْرِقْ کَانَ خَیْراً لََّہ‘ مِنْ اَنْ یَّتَکَلَّمَ فِیْ الْعِلْمِ، فَاِنَّہ‘ مَنْ تَکَلَّمَ فِی اللّٰہِ وَفِیْ دِیْنِہٖ مِنْ غَیْرِ اِتِّقَانِ الْعِلْمِ وَقَعَ فِی الْکُفْرِ مِنْ حَیْثُ لَایَدْرِیْ کَمَنْ یَّرْکَبُ لُجَّۃَ الْبَحْرِ وَھُوَ لَایَعْرِفُ السِّیَاحَۃَ۔‘‘

ترجمہ: ... ’’یعنی عوام کا فرض ہے کہ ایمان اور اسلام لاکر اپنی عبادتوں اور روزگار میں مشغول رہیں ،علم کی باتوں میں مداخلت نہ کریں۔

244

اس کو علماء کے حوالے کردیں۔عامی شخص کا علمی سلسلہ میں حجت کرنا زنا اور چوری سے بھی زیادہ نقصان دہ اور خطرناک ہے، کیونکہ جو شخص دینی علوم میں بصیرت اور پختگی نہیںر کھتا وہ اگر اللہ تعالیٰ اور اس کے دین کے مسائل میں بحث کرتا ہے تو بہت ممکن ہے کہ وہ ایسی رائے قائم کرے جو کفر ہو اور اس کو اس کا احساس بھی نہ ہو کہ جو اس نے سمجھا ہے وہ کفر ہے، اس کی مثال اس شخص کی سی ہے جو تیرنا نہ جانتا ہو اور سمندر میں کود پڑے۔‘‘

(احیاء العلوم، ص:۳۶، ج:۳)

گرامی قدر سامعین ِ محترم! حق تعالیٰ کے نازل کردہ احکامات کی روشنی میں پیارے آقا مدنی صلی اللہ علیہ وسلم نے انسان کی کامل رشد و ہدایت کے لئے تمام شعبہ ہائے زندگی میں اس کی رہنمائی کی ہے، جہاں پاک پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم نے اعمال، اخلاق، معاشرت، عبادات اور تمدن کی تعلیم دی ہے وہاں پر سب سے زیادہ زور ایمان اور عقیدہ کے تحفظ پر دیا ہے، اس لئے کہ اعمال، اخلاق، معاشرت، عبادت، تمدن اور بھلائی وغیرہ یہ تمام چیزیں اعمال خیر ضرور ہیں مگر رب کریم کے ہاں ان پر جزا اور نتیجہ اس وقت مرتب ہوگا جب ایمان کی دولت سے یہ اعمال خیر آراستہ و پیراستہ ہوں گے، اسی ایمان کے تحفظ کے متعلق پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشاد کا مفہوم ہے کہ ایک وقت آئے گا بندہ صبح مومن ہوگا شام کو کافر ہوچکا ہوگا یا شام کو مومن ہوگا اور صبح تک کفر میں گھر چکا ہوگا، قربِ قیامت میں ایسے زوردار فتنے برپا ہوں گے، فتنوں کے اس طلاطم میں ایمان کے لٹیرے اور ڈاکو ایک مسلمان کی متاع ایمان کو لوٹنے کے درپے ہوں گے۔

انہی فتنوں میں سے ایک فتنہ جھوٹے مدعیانِ نبوت کا ہے، چنانچہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:

’’اِنَّہ‘ سَیَکُوْنُ فِیْ اُمَّتِیْ کَذَّابُوْنَ ثَلاَثُوْنَ کُلُّہُمْ یَزْعَمُ اَنَّہ‘ نَبِیٌّ وَاَنَا خَاتَمُ النَّبِیِّیْنَ لَا نَبِیَّ بَعْدِیْ۔‘‘ (ترمذی، ج:۲، ص:۴۵)

یعنی عنقریب اس امت میں تیس کذاب، پیدا ہوں گے ان میں سے ہر ایک مدعی نبوت ہوگا، حالانکہ میں اللہ کا آخری نبی ہوں میرے بعد کوئی نیا نبی نہیں آئے گا۔

245

انہی جھوٹے مدعیانِ نبوت میں مسلیمہ کذاب، اسود عنسی، طلیحہ اسدی،سجاح بنت حارث نامی عورت بھی گزری ہے، آج کی نشست میں اس قریبی دور کے دجال، کذاب، قادیان کے لعین مرزا غلام احمد قادیانی کے متعلق چند گزارشات پیش کرنی ہیں، تاکہ ہمیں معلوم ہو کہ جھوٹا مدعی نبوت مرزا غلام احمد قادیانی کون تھا؟ اس کے اخلاق و اوصاف کیا تھے؟ توجہ فرمایئے:

نام و نسب :

مرزا غلام احمد قادیانی خود اپنا تعارف کراتے ہوئے لکھتا ہے:

’’میرا نام غلام احمد میرے والد صاحب کا نام غلام مرتضیٰ اور دادا صاحب کا نام عطا محمد اور میرے پر دادا صاحب کا نام گل محمد تھا، اور جیسا کہ بیان کیا گیا ہے ہماری قوم مغل برلاس ہے، اور میرے بزرگوں کے پرانے کاغذات سے جواب تک محفوظ ہیں معلوم ہوتا ہے کہ وہ اس ملک میں سمرقند سے آئے تھے۔‘‘

(کتاب البریہ حاشیہ ص ۱۳۴ روحانی خزائن ص ۱۶۲، ۱۶۳ ج۱۳)

تاریخ و مقام پیدائش:

مرزا غلام احمد قادیانی کا آبائی وطن قصبہ قادیان تحصیل بٹالہ ضلع گورداسپور پنجاب ہندوستان ہے اور تاریخ پیدائش کے سلسلہ میں اس نے یہ وضاحت کی ہے:

’’میری پیدائش ۱۸۳۹ء یا ۱۸۴۰ء میں سکھوں کے آخری وقت میں ہوئی ہے اور میں ۱۸۵۷ء میں سولہ برس کا یا ستر ہویں برس میں تھا۔‘‘

(کتاب البریہ ص ۱۴۶ حاشیہ، روحانی خزائن ص ۱۷۷ ج۱۳)

تعلیم اور اساتذہ کا ادب:

مرزا غلام احمد قادیانی نے قادیان میں ہی رہ کر متعدد اساتذہ سے تعلیم حاصل کی، جبکہ اللہ کا سچا نبی دنیا میں کسی انسان اور بندے کا شاگرد نہیں ہوتا، اس لئے کہ شاگرد جتنا بھی بڑا کیوں نہ بن جائے مگر استاد ہرحال میں استاد ہوتا ہے اور اس کا مرتبہ اور عظمت بلند اور زیادہ ہوتی ہے، جس کا خلاصہ کچھ یوں ہے، تفصیل کے لئے ملاحظہ کیجئے کتاب البریہ حاشیہ ص:۱۶۱ تا ۱۶۳۔

خلاصہ:

اس مذکورہ حوالہ میں مرزا غلام احمد قادیانی کے تین اساتذہ کے نام ملتے ہیں:

246

۱:...فضل الٰہی، ۲:...فضل احمد، ۳:...گل علی شاہ۔

معلوم ہوا کہ مرزا غلام احمد قادیانی نے ان تین اساتذہ سے دینی تعلیم حاصل کی مگر دوسری جگہ مرزا غلام احمد قادیانی لکھتا ہے: میرا کوئی استاد نہیں، چنانچہ ملاحظہ فرمایئے، لکھتا ہے:

’’کوئی ثابت نہیں کرسکتا کہ میں نے کسی انسان سے قرآن یا حدیث یا تفسیر کا ایک سبق بھی پڑھا ہے یا کسی مفسر یا محدث کی شاگردی اختیار کی ہے۔‘‘

(ایام الصلح، ص:۱۴۷، روحانی خزائن، ج:۱۴، ص:۳۹۴)

دیکھا آپ نے کہ مرزا غلام احمد قادیانی کیسے جھوٹ بول رہا ہے اور یاد رکھئے! اللہ پاک کا سچا نبی جھوٹ نہیں بول سکتا اور جو جھوٹ بولے وہ اللہ کا نبی نہیں ہوسکتا۔

آیئے مزید سماعت فرمائیں اور دیکھیں کہ مرزا غلام احمد قادیانی کیسا انسان تھا:

جوانی کی رنگ رلیاں اور ملازمت:

مرزا غلام احمد قادیانی نے جب کچھ شعور حاصل کیا اور جوانی میں قدم رکھا تو نادان دوستوں اور احباب کی بدولت آوارہ گردی میں مبتلا ہوگیا، اس کا کچھ اندازہ حسب ذیل واقعہ سے لگایا جاسکتا ہے، چنانچہ مرزا کا اپنا بیٹا بشیر احمد لکھتا ہے:

’’بیان کیا مجھ سے حضرت والدہ صاحبہ نے کہ ایک دفعہ اپنی جوانی کے زمانہ میں حضرت مسیح موعود (مرزا) تمہارے دادا کی پنشن وصول کرنے گئے توپیچھے پیچھے مرزا امام الدین بھی چلا گیا، جب آپ نے پنشن وصول کرلی تو وہ آپ کو پھسلاکر اور دھوکہ دے کر بجائے قادیان لانے کے باہر لے گیا اور اِدھر ُادھر پھراتا رہا، جب اس نے سارا روپیہ اڑا کر ختم کردیا تو آپ کو چھوڑ کر کہیں اور چلا گیا، حضرت مسیح موعود اس شرم سے واپس نہیں آئے اور چونکہ تمہارے دادا کا منشأ رہتا تھا کہ آپ کہیں ملازم ہوجائیں، اس لئے آپ سیالکوٹ شہر میں ڈپٹی کمشنر کی کچہری میں قلیل تنخواہ پر ملازم ہوگئے۔ ‘‘

(سیرۃ المہدی حصہ اول ص ۴۳ روایت ۴۹مصنفہ صاحبزادہ بشیر احمد قادیانی)

مرزا غلام احمد قادیانی کو بہلا کر لے جانے والا مرزا امام الدین کس قماش کا تھا، اس کے لئے درج ذیل تصریح ملاحظہ ہو:

247

’’مرزا نظام الدین و مرزا امام الدین وغیرہ پر لے درجہ کے بے دین اور دہریہ طبع لوگ تھے۔‘‘

(سیرت المہدی حصہ اول ص ۱۱۴ روایت ۱۲۷)

یہ تو مرزا کا اپنا ذاتی عمل تھا، اب دیکھئے کہ مرزا غلام احمد قادیانی حکومت برطانیہ سے متعلق کیا کہتا تھا:

حکومت برطانیہ کا منظورِ نظر:

سیالکوٹ میں ملازمت کے دوران مرزا غلام احمد نے یورپین مشنریوں اور بعض انگریز افسروں سے پینگیں بڑھانی شروع کیں اور مذہبی بحث کی آڑ میں عیسائی پادریوں سے طویل خفیہ ملاقاتیں کیں اور انہیں اپنی حمایت و تعاون کا پورا یقین دلایا، چنانچہ سیرت مسیح موعودمصنفہ مرزا محمود صفحہ ۱۵ میں برطانوی انٹیلی جنس سیالکوٹ مشن کے انچارج مسٹر ریورنڈ بٹلر کی مرزا سے ملاقات کا ذکر موجود ہے۔ یہ ۱۸۶۸ء کی بات ہے۔ اس کے چند ہی دن بعد مرزا غلام احمد قادیانی نے سیالکوٹ کچہری کی ملازمت ترک کرکے قادیان میں مستقل سکونت اختیار کرلی اور تصنیف و تالیف کا کام شروع کردیا۔ مرزا صاحب ’’ڈپٹی کمشنر سیالکوٹ کی کچہری میں ۱۸۶۴ء سے ۱۸۶۸ء تک چار سال ملازم رہے۔‘‘

(سیرت المہدی حصہ اول ص ۱۵۴ تا ۱۵۸ ملخصاً)

چونکہ مرزا غلام احمد قادیانی کی زندگی کا مشن اسلام کی تبلیغ نہیں تھا، بلکہ اس کو تباہ و برباد کرنا تھا، چنانچہ:

صداقت ِ اسلام کے نعرہ سے اسلام کی بیخ کنی کا آغاز:

قادیان پہنچ کر پہلے تو عام مسلمانوں کی توجہ اپنی طرف مبذول کرنے کے لئے مرزا غلام احمد قادیانی نے عیسائیوں، ہندوئوں اور آریوں سے کچھ نامکمل مناظرے کئے، اس کے بعد ۱۸۸۰ء سے (براہین احمدیہ) نامی کتاب لکھنی شروع کی، جس میں اکثر مضامین عام مسلمانوں کے عقائد کے مطابق تھے، لیکن ساتھ ہی اس میں مرزا نے اپنے بعض الہامات داخل کردیئے اور طرفہ تماشہ یہ کہ صداقت اسلام کے دعویٰ پر لکھی جانے والی اس کتاب میں انگریزوں کی مکمل اطاعت اور جہاد کی حرمت کا اعلان شد و مد کے ساتھ کیا۔ مرزا غلام احمد قادیانی نے ۱۸۸۰ء سے۱۸۸۴ء تک براہین احمدیہ کے ۴ حصے لکھے‘ جب کہ پانچواں حصہ ۱۹۰۵ء میں لکھ کر شائع کیا۔ اب آگے چل کر مرزا غلام احمد قادیانی نے مختلف قسم کے دعاوی کرنا شروع کئے۔

248

دعاوی مرزا:

۱۸۸۰ء سے مرزا نے مختلف دعاوی کا سلسلہ شروع کیا‘ اس کے چند اہم دعاوی یہ ہیں:

۱:… ۱۸۸۰ء میں ملہم من اللہ ہونے کا دعویٰ کیا۔

۲:… ۱۸۸۲ء میں مجدد ہونے کا دعویٰ کیا۔

۳:… ۱۸۹۱ء میں مسیح موعود ہونے کا دعویٰ کیا۔

۴:… ۱۸۹۹ء میں ظلّی بروزی نبوت کا دعویٰ کیا۔

۵:… ۱۹۰۱ء میں مستقل صاحب شریعت نبی ہونے کا دعویٰ کیا۔

ان کے علاوہ بھی اس نے عجیب و غریب قسم کے دعوے کئے۔

بیت اللہ ہونے کا دعویٰ:

’’خدا نے اپنے الہام میںمیرا نام بیت اللہ بھی رکھا ہے۔‘‘

(اربعین ۴ ص ۱۵ حاشیہ روحانی خزائن ج ۱۷ ص ۴۴۵)

۱۸۸۲ء مجدد ہونے کا دعویٰ:

’’جب تیرہویں صدی کا اخیر ہوا اور چودھویں کا ظہور ہونے لگاتو خدا تعالیٰ نے الہام کے ذریعہ سے مجھے خبر دی کہ تو اس صدی کا مجدد ہے۔‘‘

(کتاب البریہ ص ۱۸۳ حاشیہ، روحانی خزائن ج ۱۳ ص ۲۰۱)

۱۸۸۲ء مامور ہونے کا دعویٰ:

’’میں خدا تعالیٰ کی طرف سے مامور ہوکر آیا ہوں۔‘‘

(نصرۃ الحق براہین احمدیہ حصہ پنجم ص: ۵۲، روحانی خزائن ج: ۲۱، ص: ۶۶ و کتاب البریہ، ص: ۱۸۴ حاشیہ روحانی خزائن ج ۱۳ ص ۲۰۲)

۱۸۸۲ء نذیر ہونے کا دعویٰ:

’’الرحمن علم القرآن لتنذر قوما ما انذر اباؤہم‘‘ (خدا نے تجھے قرآن سکھلایا تاکہ تو ان لوگوں کو ڈرائے جن کے باپ دادے ڈرائے نہیں گئے)

(تذکرہ ص ۴۴، ضرورۃ الامام ص ۳۱ ،روحانی خزائن ص ۵۰۲ جلد ۱۳، براہین احمدیہ حصہ پنجم ص ۵۲ روحانی خزائن ج۲۱ص ۶۶)

249

۱۸۸۳ء آدم، مریم اور احمد ہونے کا دعویٰ:

’’یا ادم اسکن انت وزوجک الجنۃ یامریم اسکن انت وزوجک الجنۃ یا احمد اسکن انت وزوجک الجنۃ نفخت فیک من لدنی روح الصدق‘‘

ترجمہ: ’’اے آدم، اے مریم، اے احمد! تو اور جو شخص تیرا تابع اور رفیق ہے، جنت میں یعنی نجات حقیقی کے وسائل میں داخل ہوجائو میں نے اپنی طرف سے سچائی کی روح تجھ میں پھونک دی ہے۔‘‘

(تذکرہ ص۷۰، براہین احمدیہ ص ۴۹۷ روحانی خزائن ج۱ ص ۵۹۰ حاشیہ)

تشریح:

’’مریم سے مریم ام عیسیٰ مراد نہیں اور نہ آدم سے آدم ابوالبشر مراد ہے اور نہ احمد سے اس جگہ حضرت خاتم الانبیأ صلی اللہ علیہ وسلم مراد ہیں اور ایسا ہی ان الہامات کے تمام مقامات میں کہ جو موسیٰ اور عیسیٰ اور دائود وغیرہ نام بیان کئے گئے ہیں، ان ناموں سے بھی وہ انبیأ مراد نہیں ہیں بلکہ ہر ایک جگہ یہی عاجز (مرزا قادیانی) مراد ہے۔ ‘‘

(مکتوبات احمدیہ جلد اول ص ۸۲ مکتوب بنام میر عباس علی بحوالہ تذکرہ ص ۷۱،۷۲ حاشیہ)

۱۸۸۴ء رسالت کا دعویٰ:

الہام: ’’انی فضلتک علی العالمین قل ارسلت الیکم جمیعا‘‘ ۔ (میں نے تجھ کو تمام جہانوں پر فضیلت دی کہ میں تم سب کی طرف بھیجا گیا ہوں)

(تذکرہ ص ۱۲۹ مکتوب حضرت مسیح موعود مرزا مورخہ ۳۰/دسمبر ۱۸۸۴ء اربعین نمبر ۲ ص۷ روحانی خزائن ج۱۷ ص ۳۵۳)

۱۸۸۶ء توحید و تفرید کا دعویٰ:

الہام:… ’’تو مجھ سے ایسا ہے جیسی میری توحید اور تفرید۔‘‘

(تذکرہ ص ۳۸۱ طبع دوم)

’’ تو مجھ سے اور میں تجھ سے ہوں۔‘‘

(تذکرہ ص ۴۳۶ طبع دوم)

250

۱۸۹۱ء مثیل مسیح ہونے کا دعویٰ:

’’اللہ جل شانہ کی وحی اور الہام سے میں نے مثیل مسیح ہونے کا دعویٰ کیا ہے اور یہ بھی میرے پر ظاہر کیا گیا ہے کہ میرے بارے میں پہلے سے قرآن شریف اور احادیث نبویہ میں خبر دی گئی ہے اور وعدہ دیا گیا ہے۔‘‘

(تذکرہ ص۱۷۲ طبع سوم تبلیغ رسالت ج۱ ص ۱۵۹ مجموعہ اشتہارات ج ۱ ص ۲۰۷)

۱۸۹۱ء مسیح ابن مریم ہونے کا دعویٰ:

الہام:… ’’جعلناک المسیح بن مریم‘‘ (ہم نے تجھ کو مسیح ابن مریم بنایا) ان کو کہہ دے کہ میں عیسیٰ کے قدم پر آیا ہوں۔‘‘

(تذکرہ ص ۱۸۶ طبع سوم ازالہ اوہام ص ۴۳۴، روحانی خزائن ص ۴۴۲ جلد۳)

  1. ابن مریم کے ذکر کو چھوڑو

    اس سے بہتر غلام احمد ہے

(دافع البلأ ص ۲۰،روحانی خزائن ص ۲۴۰ جلد۱۸)

۱۸۹۲ء صاحب کن فیکون ہونے کا دعویٰ:

الہام:… ’’انما امرک اذا اردت شیائً ان تقول لہ کن فیکون۔‘‘

’’یعنی تیری یہ بات ہے کہ جب تو کسی چیز کا ارادہ کرے تو اسے کہے کہ ہوجا تو وہ ہوجائے گی۔‘‘

(تذکرہ ،ص:۲۰۳، طبع سوم براہین احمدیہ حصہ پنجم ص ۹۵ روحانی خزائن ص ۱۲۴ ج۲۱)

۱۸۹۸ء مسیح اور مہدی ہونے کا دعویٰ:

’’بشرنی وقال ان المسیح الموعود الذی یرقبونہ والمھدی المسعود الذی ینتظرونہ ھوانت۔‘‘

ترجمہ: ’’خدا نے مجھے بشارت دی اور کہا کہ وہ مسیح موعود اور مہدی مسعود جس کا انتظار کرتے ہیں وہ تو ہے۔‘‘

(تذکرہ ص ۲۵۷ طبع سوم اتمام الحجۃ ص ۳، روحانی خزائن ج۸ ص ۲۷۵)

251

۱۸۹۸ء امام زماں ہونے کا دعوی:

’’سو میں اس وقت بے دھڑک کہتا ہوں کہ خدا تعالیٰ کے فضل اور عنایت سے وہ امام زماں میں ہوں۔‘‘

(ضرورۃ الامام ص ۲۴، روحانی خزائن ج۱۳ ص ۴۹۵)

۱۹۰۰ء تا ۱۹۰۸ء ظلی نبی ہونے کا دعویٰ:

’’جب کہ میں بروزی طور پر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ہوں اور بروزی رنگ میں تمام کمالات محمدی مع نبوت محمدیہ کے میرے آئینہ ظلیت میں منعکس ہیں تو پھر کونسا الگ انسان ہوا، جس نے علیحدہ طور پر نبوت کا دعویٰ کیا۔‘‘

(ایک غلطی کا ازالہ ص ۸، دروحانی خزائن ج۱۸ ص ۲۱۲)

نبوت و رسالت کا دعویٰ:

۱:… انا انزلناہ قریباً من القادیان … الخ

ترجمہ: ’’ہم نے اس کو قادیان کے قریب اتارا ہے۔‘‘

(براہین احمدیہ حاشیہ ص ۴۹۹، روحانی خزائن ج۱ ص ۵۹۳)

۲:… ’’سچا خدا وہی خدا ہے جس نے قادیان میں اپنا رسول بھیجا۔‘‘

(دافع البلاء ص ۱۱ روحانی خزائن ج۱۸ ص۲۳۱)

۳:… ’’میں رسول بھی ہوں اور نبی بھی ہوں یعنی بھیجا گیا بھی اور خدا سے غیب کی خبریں پانے والا بھی۔‘‘

(ایک غلطی کا ازالہ ص ۷، روحانی خزائن ۱۸ ص۲۱۱)

۴:… ’’خدا وہ خدا ہے جس نے اپنے رسول کو یعنی اس عاجز کو ہدایت اور دین حق اور تہذیب اخلاق کے ساتھ بھیجا۔‘‘

(اربعین نمبر۳، ص:۳۶، روحانی خزائن ج۱۷ ص ۴۲۶ و ضمیمہ تحفہ گولڑویہ ص ۲۴ روحانی ج۱۷ص۷۳)

مستقل صاحب شریعت نبی اور رسول ہونے کا دعویٰ:

۱:… ’’قل یایھا الناس انی رسول اللّٰہ الیکم جمیعا ای
252
مرسل من اللّٰہ‘‘

ترجمہ: ’’اور کہہ کہ اے لوگو! میں تم سب کی طرف خدا تعالیٰ کا رسول ہوکر آیا ہوں۔‘‘

(اشتہار معیار الاخیار ص ۳ مجموعہ اشتہارات ج ۳ ص ۲۷۰ منقول از تذکرہ ص ۳۵۲ طبع سوم)

۲:… ’’انا ارسلنا الیکم رسولاً شاھداً علیکم کما ارسلنا الی فرعون رسولاً۔‘‘

ترجمہ: ’’ہم نے تمہاری طرف ایک رسول بھیجا ہے، اسی رسول کی مانند جو فرعون کی طرف بھیجا گیا تھا۔‘‘

(حقیقۃ الوحی ص ۱۰۱، روحانی خزائن ج۲۲ ص ۱۰۵)

حضرات محترم، سامعین گرامی! آپ کے سامنے میں نے تفصیل سے مرزا غلام احمد قادیانی کے کفریہ عقائد اور دعاوی کا ذکر کیا آپ غور فرمائیں ایسے سینکڑوں کفریہ عقائد اور دعاوی رکھنے والا انسان مسلمان تو کجا ایک شریف انسان بھی نہیں کہلاسکتا۔

حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی توہین، آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے افضل ہونا، نئی شریعت کو لانے والا، یہ سب کفریہ عقائد ہیں جو مرزا غلام قادیانی میں پائے جاتے ہیں۔

آپ حضرات سے درخواست ہے کہ آپ کو یہاں سے جو اہم دینی معلومات ملی ہیں، آپ ان کو آگے لوگوں تک پہنچائیں تاکہ ہمارا، ہمارے خاندان اور تمام مسلمانوں کا ایمان بچ جائے۔ قادیانی جھوٹے ہونے کے باوجود اپنے ملحدانہ اور کفریہ عقائد کی تشہیر کررہے ہیں، ہماری بھی ذمہ داری ہے کہ ہم ناموس رسالت کی حفاظت کے لئے اپنا کردار ادا کریں، امید ہے کہ آپ تمام احباب توجہ فرمائیں گے انشاء اللہ خود بھی کام کرنے کی فکر کریں گے اور اپنی اولاد کو بھی حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی عزت و ناموس سے متعلق متعارف کرائیں گے۔ اللہ کریم عمل کی توفیق نصیب فرمائے۔ آمین۔

وصلی اللہ تعالیٰ علیٰ خیر خلقہٖ محمد وآلہ واصحابہٖ اجمعین

253

الاربعین فی

خاتم النبییّن ﷺ

254

بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ

ابتدائیہ

نحمدہ ونصلی علیٰ رسولہ الکریم … اما بعد!

علم نافع وہی علم ہے جس کا منبع ومنشاء قرآن حکیم کی آیات مبارکہ اور امام الانبیاء قائد المرسلین، حضور خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم کی احادیث طیبہ ہو۔ یہ دونوں الہّ شرعیہ میں سب سے مقدم بھی ہیں اور سب سے محکم بھی۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشادات عالیہ قرآن پاک کی تشریح وتبیین ہیں۔ قرآن پاک میں عقیدۂ ختم نبوت اور مسئلہ حیات عیسیٰ ابن مریم علیہ السلام کا بیان ہے۔ احادیث مبارکہ میں اس کی توضیح وتشریح موجود ہے اور ایسی کہ ان پڑھ بھی سمجھ سکے۔ اس لئے بجائے عقل کی پیروی کے قرآن وحدیث کی اتباع لازمی ہے اور جہاں قرآن پاک پڑھنے پڑھانے، سمجھنے سمجھانے اور عمل کرنے کے فضائل آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے سنائے۔ وہاں احادیث مبارکہ پڑھنے پڑھانے اور یاد کرکے آگے پہنچانے کے بھی فضائل ارشاد فرمائے ہیں۔ چنانچہ فرمایا:

’’نَضَّرَاﷲ ُعَبْداً سَمِعَ مَقَالَتِیْ فَحَفِظَہَا وَوَعَاہَا وَاَدَّاھَا۔‘‘ (مشکوٰۃ: ص۳۵)

ترجمہ مع تشریح:... ’’خداتعالیٰ اس بندے کو خوش وخرم رکھے۔ (یعنی اس کی قدرومنزلت بہت کافی ہو اور اسے دین ودنیا کی مسرت نصیب ہو) جس نے میری کوئی بات سنی اور اسے یاد رکھا اور ہمیشہ یاد رکھا اور جیسا سنا ہو بہو آگے لوگوں تک پہنچادیا۔‘‘

دیکھئے! یہ تو ایک بات سننے، یاد کر کے آگے پہنچانے کی بشارت ہے اور جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی جمیع باتیں یا اکثر باتیں یاد کر کے آگے پہنچائے گا اس کا کیا مقام وکیا ٹھکانا ہوگا۔ یہ تو اﷲہی جانتے ہیں اور چالیس کے عدد کو تو خاص اہمیت حاصل ہے۔ اس لئے دوسری حدیث میں فرمایا:

255
’’مَنْ حَفِظَ عَلیٰ اُمَّتِیْ اَرْبَعِیْنَ حَدِیْثِاً فِیْ اَمْرِدِیْنِہَا بَعَثَہُ اﷲ ُفَقِیْہاً وَکُنْتُ لَہٗ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ شَافِعاً وَشَہیْدًا۔‘‘(مشکوٰۃ: ص۳۶)

ترجمہ:... ’’کہ جو شخص میری امت کو فائدہ پہنچانے کے لئے امر دین کی چالیس حدیثیں یاد کرلے تو اﷲتعالیٰ اس کو قیامت کے دن فقیہ اٹھائے گا اور میں قیامت کے دن اس کا شفاعت کرنے والا اور (اس کی اطاعت پر) گواہ بنوںگا۔‘‘

اربعین یعنی چالیس احادیث یاد کرنے اور یاد کرانے کا امت مسلمہ میں ہمیشہ ذوق رہا ہے۔ بیسیوں موضوعات پر چالیس احادیث کے مجموعے مرتب ہوئے۔ ’’عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت‘‘ کے مرکزی دفتر ملتان میں ہر سال علماء کرام کے لئے سہ ماہی تربیتی کلاس کا انعقاد ہوتا ہے۔ جہاں شریک علماء کرام کو دیگر نصاب پڑھایا جاتا ہے۔ وہاں ختم نبوت، حیات ونزول مسیح علیہ السلام، سیدنا مہدی علیہ الرضوان کی آمد، دجال کے خروج اور علامات قیامت پر چالیس احادیث یاد کرائی جاتی ہیں۔ ذخیرۂ احادیث سے ان موضوعات پر خود تلاش کر کے چالیس احادیث کا انتخاب اور انہیں یاد کرنے پر عمل تو ہوتا رہا۔ لیکن اس پر کوئی مجموعہ مرتب نہ کیا گیا۔

گزشتہ سال سے ’’عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت‘‘ نے ہر ماہ کا ایک جمعہ ’’عقیدۂ ختم نبوت‘‘ کے لئے وقف کرنے کی خاطر علماء کرام وخطباء حضرات کو متوجہ کرنا شروع کیا تو ملک بھر سے تقاضہ ہوا کہ ہمیں اس عنوان پر بیان کے لئے مرتب شدہ کوئی رسالہ یا کتاب بھی ملنی چاہئے۔ یہ مجموعہ اس سلسلہ کی ایک کڑی ہے۔ اس کے آخر میں ’’خطبۂ جمعہ‘‘ ملاحظہ فرمائیںگے۔ حضرت مولانا غلام رسول دین پوری جو مدرسہ عربیہ ختم نبوت مسلم کالونی چناب نگر میں صدرالمدرسین ہیں۔ انہوں نے یہ مجموعہ اور خطبہ تیار کیا ہے۔ حق تعالیٰ اسے نافع خلائق فرمائیں۔ ملک بھر کے خطباء حضرات سے درخواست ہے کہ وہ خطبۂ جمعہ کے لئے ان احادیث مبارکہ سے استفادہ فرمائیں۔ اس سے جہاں قادیانی فتنہ پر کاری ضرب پڑے گی وہاں عقیدہ ختم نبوت کی پاسبانی کے باعث شفاعت کبریٰ ودیدار نبوی صلی اللہ علیہ وسلم کے بھی حق دار ٹھہریں گے۔

فقیر! اﷲ وسایا

ختم نبوت، انبیاء علیہم السلام میں صرف آپؐ کی خصوصیت ہے:

حدیث نمبر۱…’’عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃؓ اَنَّ رَسُوْلَ اﷲِﷺ
256
قَالَ: فُضِّلْتُ عَلَی الْاَمنْبِیَائِ بِسِتٍّ اُعْطِیْتُ جَوَامِعُ الْکَلِمِ وَنُصِرْتُ بِالرُّعْبِ وَاُحِلَّتْ لِیَ الْغَنَائِمُ وَجُعِلَتْ لِیَ الْاَرْضُ مَسْجِدًا وَّطَہُوْرًا۰ وَاُرْسِلْتُ اِلَی الْخَلْقِ کَافَّۃً وَّخُتِمَ بِیَ النَّبِیُّوْنَ۔‘‘ (مسلم ،ج:۱، ص:۱۹۹، مشکوٰۃ، ص:۵۱۲)

ترجمہ:... ’’حضرت ابوہریرہؓ فرماتے ہیں کہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا مجھے انبیاء علیہم السلام پر چھ باتوں میں فضیلت دی گئی ہے۔ (۱)مجھے مختصر کلمات (معانی کثیرہ کے حامل) دئیے گئے ہیں۔ (۲)رعب سے میری مدد کی گئی (یعنی مخالفین پر میرا رعب پڑ کر ان کو مغلوب کردیتا ہے)۔ (۳)میرے لئے مال غنیمت حلال کر دیا گیا۔ (۴)میرے لئے تمام زمین نماز پڑھنے کی جگہ اور اس کی مٹی پاک کرنے والی بنادی گئی۔ (۵)تمام مخلوق کی طرف نبی بناکر بھیجا گیا ہوں۔ (۶)انبیاء علیہم السلام کا سلسلہ میری ذات پر ختم کردیا گیا ہے۔‘‘

فائدہ… آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی چند خصوصیات اس حدیث پاک میں شمار کی گئی ہیں۔ یہ خصوصیات صرف چھ تک محدود نہیں بلکہ بہت سی ہیں۔ امام جلال الدین سیوطیؒ نے اس موضوع پر ’’خصائص الکبریٰ‘‘ کے نام سے دو ضخیم جلدوں میں کتاب لکھی ہے۔ تفصیل وہاں ملاحظہ ہو۔ یہاں خصوصیت نمبر۵،۶ قابل غور ہیں۔ اس کا مطلب محدثین حضرات نے یہ بیان فرمایا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ مبارک سے لے کر قیامت تک کے لئے ہے۔اس حدیث سے معلوم ہوا کہ ’’خاتم النبیین‘‘ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ایک خصوصیت ہے جو دیگر انبیاء علیہم السلام کے بالمقابل آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو مرحمت ہوئی۔ صرف تعریفی لقب نہیں جس کا اطلاق مجازاً دوسروں پر بھی ہو سکے۔ بلکہ بحیثیت عقیدہ ایک عقیدہ ہے اور نہ خاتم المحدثین، خاتم المفسرین، خاتم الشعراء کی طرح ایک محاورہ ہے۔

آنحضرت ﷺکے بعد جو نبوت کا دعویٰ کرے وہ دجال اور کذاب ہے:

حدیث نمبر۲…’’عَنْ ثَوْبَانَؓ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اﷲِﷺ اِنَّہٗ سَیَکُوْنُ فِیْ اُمَّتِیْ کَذَّابُوْنَ ثَلَاثُوْنَ کُلُّہُمْ یَزْعَمُ اَنَّہٗ نَبِیُّ ٗ وَاَنَا
257
خَاتَمُ النَّبِیِّیْنَ لَا نَبِیَّ بَعْدِیْ۔‘‘(ابوداؤد، ج:۲، ص:۱۲۷، ترمذی، ج:۲، ص:۴۵)

ترجمہ:... ’’حضرت ثوبانؓ سے روایت ہے کہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔ آئندہ میری امت میں تیس سخت جھوٹے پیدا ہوں گے۔ جن میں سے ہر ایک (اپنے متعلق) یہی کہے گا کہ میں نبی ہوں۔ حالانکہ میں خاتم النبیین ہوں۔ میرے بعد کوئی نبی نہیں ہوسکتا۔‘‘

فائدہ… دیکھئے! یہ حدیث متواتر ہے۔ دس سے زائد صحابہؓ اس کے راوی ہیں۔ اس حدیث مبارک میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہر قسم کی نبوت کی نفی فرماکر ہر مدعی نبوت کو کذاب ودجال فرمایا ہے۔ اس پیش گوئی کا ظہور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے عہد مبارک سے ہی شروع ہوچکا تھا۔ اسود عنسی اور مسیلمۃ الکذاب آپؐ کے زمانہ ہی میں ظاہر ہوئے۔ آپؐ کے ارشاد کے مطابق صحابہؓ نے انہیں کاذب بلکہ کذاب ودجال سمجھا اور جو برتاؤ دجالین کے ساتھ ہونا چاہئے تھا۔ وہی ان کے ساتھ کیا۔ اسی طرح بعد کے امتیوں نے بھی کسی ایسے مدعی نبوت کی تصدیق کبھی نہیں کی۔ کیا اس قسم کے صاف ارشادات نبویہ کے بعد بھی مسئلہ ختم نبوت کے کسی پہلو میں خفاء باقی ہے اور کیا امت مرزائیہ کے لئے وقت نہیں آیا کہ وہ اپنے خیالات باطلہ ومزعومات فاسدہ سے تائب ہوں؟

امت کا انتظام اور ان کے دینی تحریفات کی اصلاح کرنا بھی نبوت نہیں:

حدیث نمبر۳… ’’عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃؓ یُحَدِّثُ عَنِ النَّبِیِّﷺ قَالَ کَانَتْ بَنُوْ اِسْرَائِیْلَ تَسُوْسُہُمُ الْاَنْبِیَائُ کُلَّمَا ہَلَکَ نَبِیُّ ٗ خَلَفَہٗ نَبِیُّ ٗ وَاِنَّہٗ لاَ نَبِیَّ بَعْدِیْ وَسَیَکُوْنُ خُلَفَائُ فَیَکْثُرُوْنَ۔‘‘

(بخاری، ج:۱، ص:۴۹۱، مسلم، ج:۲ ،ص:۱۶۲)

ترجمہ:... ’’حضرت ابوہریرہؓ بیان کرتے ہیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا بنی اسرائیل کی قیادت وسیاست خود ان کے انبیاء علیہم السلام کیا کرتے تھے۔ جب کسی ایک نبی کی وفات ہو جاتی تو دوسرا نبی اس کی جگہ آجاتا۔ لیکن میرے بعد کوئی نبی نہیں۔ البتہ خلفاء ہوں گے اور بہت ہوں گے۔‘‘

فائدہ… حافظ ابن حجر عسقلانیؒ لکھتے ہیں کہ: ’’بنی اسرائیل میں جب کوئی فساد رونما ہوتا

258

تو اﷲتعالیٰ کسی نبی کو ان میں بھیج دیتا جو ان کی اصلاح کرتا اور شریعت تورات میں ان کی تحریفات کو دور کر دیتا۔‘‘ امت محمدیہ (علی صاحبہا الصلوٰۃ والسلام) میں یہ خدمات خلفاء کے سپرد کر دی گئی ہیں۔ اس سے امت محمدیہ کے کمالات وعظمت کا اندازہ کرنا چاہئے کہ جن خدمات کے لئے پہلے انبیاء علیہم السلام مبعوث ہوتے تھے۔ اب ان خدمات کو اس امت کے علماء وخلفاء انجام دیا کریں گے۔

اس حدیث پاک سے یہ بھی معلوم ہوگیا کہ انبیاء بنی اسرائیل شریعت مستقلہ لے کر نہ آتے تھے۔ بلکہ شریعت موسویہ کے اتباع میں تبلیغ احکام کرتے اور لوگوں کو صحیح احکام تورات کا پابند بناتے تھے۔ اس قسم کے انبیاء کو مرزاقادیانی نے غیر تشریعی نبی کہا ہے۔ تو حدیث مذکور کا حاصل صاف طور پر یہ ہوا کہ اب اس امت محمدیہ میں غیر تشریعی (یعنی شریعت سابقہ کے متبع) انبیاء علیہم السلام بھی پیدا نہیں ہوں گے۔ بالفاظ دیگر ظلی بروزی نبی بھی پیدا نہیں ہوں گے۔

ختم نبوت کو حسی چیز کی مثال سے واضح کرنا:

حدیث نمبر۴… ’’عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃؓ اَنَّ رَسُوْلَ اﷲِﷺ قَالَ: اِنَّ مَثَلِیْ وَمَثَلَ الْاَنْبِیَائِ مِنْ قَبْلِیْ کَمَثَلِ رَجُلٍ بَنٰی بَیْتًا فَاَحْسَنَہٗ وَاَجْمَلَہُ اِلَّا مَوْضِعَ لَبِنَۃٍ مِّنْ زَاوِیَۃٍ فَجَعَلَ النَّاسُ یَطُوْفُوْنَ بِہٖ وَیَعْجَبُوْنَ لَہٗ وَیَقُوْلُوْنَ ہَلَّا وُضِعَتْ ہٰذِہِ اللَّبِنَۃُ قَالَ فَاَنَا اللَّبِنَۃُ وَاَنَا خَاتَمُ النَّبِیِّیْنَ۔‘‘

(بخاری، ج:۱، ص:۵۰۱، مسلم، ج:۲، ص:۲۴۸)

ترجمہ:... ’’حضرت ابوہریرہؓ روایت فرماتے ہیں کہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ میری اور مجھ سے پہلے انبیاء علیہم السلام کی مثال ایسی ہے جیسے ایک شخص نے گھر بنایا اور اسے بہت عمدہ اور آراستہ وپیراستہ بنایا۔ مگر اس کے ایک گوشہ میں ایک اینٹ کی جگہ چھوڑ دی۔ لوگ آآکر اس کے اردگرد گھومنے لگے اور عش عش کرنے لگے اور کہنے لگے کہ یہ ایک اینٹ بھی کیوں نہ رکھ دی گئی۔ (تاکہ مکان کی تعمیر مکمل ہوجاتی) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میں وہی اینٹ ہوں اور میں خاتم النبیین ہوں۔‘‘

فائدہ… ذرا اس حدیث مبارک کے مضمون پر غور فرمائیں کس طرح آپ صلی اللہ

259

علیہ وسلم نے بلیغ مثال سے مسئلہ ختم نبوت سمجھایا اور اوہام باطلہ کا استیصال فرمایا ہے۔ جس کا حاصل یہ ہے کہ نبوت ایک عالیشان محل کی طرح ہے۔ جس کے ارکان حضرات انبیاء علیہم السلام ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اس عالم میں تشریف لانے سے پہلے یہ محل بالکل تیار ہوچکا تھا اور اس میں ایک اینٹ کے سوا اور کسی قسم کی گنجائش تعمیر میں باقی نہیں تھی۔ جسے آپ نے پورا فرماکر قصر نبوت کی تکمیل فرمادی۔ اب اس میں نہ نبوت تشریعیہ کی اینٹ کی گنجائش ہے اور نہ غیر تشریعیہ (ظلیہ وبروزیہ) کی۔

آنحضرت ﷺ کے بعد غیر تشریعی نبی بھی نہیں:

حدیث نمبر۵… ’’عَنْ سَعْدِ بْنِ اَبِیْ وَقَّاصٍؓ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اﷲِﷺ لِعَلِیٍؓ اَنْتَ مِنِّیْ بِمَنْزِلَۃِ ہَارُوْنَ مِنْ مُّوْسَیٰ اِلَّا اَنَّہٗ لاَ نَبِیَّ بَعْدِیْ۔‘‘ (بخاری، ج:۲، ص:۶۳۳، مسلم، ج:۲، ص:۲۷۸)

ترجمہ:... ’’حضرت سعد بن ابی وقاصؓ روایت فرماتے ہیں کہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت علیؓ سے فرمایا۔ تمہیں مجھ سے وہی نسبت ہے جو حضرت ہارون (علیہ السلام) کو حضرت موسیٰ (علیہ السلام) سے تھی۔ مگر (اتنا فرق ہے کہ حضرت ہارون علیہ السلام نبی تھے) میرے بعد کوئی نبی نہیں ہوسکتا۔ (اسی لئے تم بھی نبی نہیں ہو)۔‘‘

فائدہ… آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے جب غزوۂ تبوک میں جانے کا ارادہ فرمایا تو چاہا کہ حضرت علیؓ کو مکان پر چھوڑ جاؤں تو حضرت علیؓ نے عرض کیا۔ اگر آپ مجھے چھوڑ جائیںگے تو لوگ کیا کہیںگے کہ جہاد چھوڑ کر بیٹھ گئے۔ تو آپؐ نے فرمایا کیا تم اس پر راضی نہیں کہ تمہارا مرتبہ میرے ساتھ ایسا ہوجیسا کہ ہارون علیہ السلام کو موسیٰ علیہ السلام کے ساتھ ہے کہ جیسے موسیٰ علیہ السلام کوہ طور پر جاتے وقت ہارون علیہ السلام کو اپنے پیچھے قوم کی نگرانی کے لئے منتخب فرمایا تھا۔ اسی طرح میں بھی اپنی غیبت میں تمہارا انتخاب کرتا ہوں۔ مگر اتنا فرق ضرور ہے کہ وہ نبی تھے تم نبی نہیں ہو۔ اس سے معلوم ہوا کہ حضرت علیؓ کی خلافت (حضرت ہارون علیہ السلام کی خلافت نبوت کی طرح) خلافت نبوت نہیں تھی اور یہ بھی معلوم ہوا کہ حضرت علیؓ کو نبوت ملتی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اتباع ہی کی بدولت ملتی۔ مگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تو اس احتمال کی کلی طور پر نفی

260

فرمادی۔ رحمت عالم صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد سیدنا علی المرتضیٰؓ نبی نہیں بن سکتے تو قادیان کا دہقان غلام احمد قادیانی کیسے نبی بن سکتا ہے۔

نیز یہ بھی ظاہر ہے کہ حضرت ہارون علیہ السلام کی نبوت، شریعت مستقلہ کے ساتھ نہیں تھی بلکہ شریعت موسویہ کے تابع اور احکام تورات کی تبلیغ کے لئے تھی۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد اب غیر تشریعی بھی کوئی نبی نہیں ہوسکتا۔ مرزاقادیانی غیر تشریعی نبوت کو جاری قرار دے کر اپنی خودساختہ نبوت کی بنیاد اس پر رکھنا چاہتا ہے کہ وہ بھی ازروئے اس حدیث کے ختم اور منقطع ہوچکی ہے۔

آنحضرت ﷺ کے بعد کوئی نبی ہوتا تو حضرت عمرؓ ہوتے:

حدیث نمبر۶… ’’عَنْ عُقْبَۃَ بْنِ عَامِرٍؓ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اﷲِﷺ لَوْکَانَ بَعْدِیْ نَبِیُّ ٗ لَکَانَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِؓ۔‘‘

(ترمذی، ج:۲، ص:۲۰۹، کنزالعمال، ج:۱۱، ص:۵۷۸)

ترجمہ:...’’حضرت عقبہ بن عامرؓ فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، اگر میرے بعد کوئی نبی ہوتا تو وہ عمر بن الخطابؓ ہوتے۔‘‘

فائدہ… اس حدیث پاک سے معلوم ہوتا ہے کہ حضرت عمرؓ کی فطرت کو نبوت سے بہت زیادہ مناسبت تھی اور بلسان نبویؐ آپؓ میں کمالات نبوت، استعداد وصلاحیت نبوت موجود تھی۔ مگر بایں ہمہ انہیں عہدۂ نبوت نہیں دیاگیا۔ کیونکہ سلسلۂ نبوت ختم کر دیا گیا ہے۔ نیز حدیث میں ’’لوکان‘‘ ہے جو عربی زبان میں اسی غرض کے لئے آتا ہے کہ شرط موجود نہ ہونے کی وجہ سے مشروط بھی موجود نہیں کہ جب سلسلۂ نبوت منقطع ہے تو عہدۂ نبوت کسی کو نہیں ملے گا۔ سیدنا عمرؓ میں بالقوۃ نبی بننے کے اوصاف موجود ہیں۔ مگر بالفعل اس لئے نبی نہیں بن سکتے کہ آپؐ آخری نبی ہیں۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد اگر سیدنا عمرؓ نبی نہیں ہوسکتے تو دجال قادیانی کیسے نبی ہوسکتا ہے۔

آدمؑ سے جبرائیل ؑ کا ارشاد کہ محمدﷺآپ کی اولاد انبیاء میں آخری بیٹے ہیں:

حدیث نمبر۷… ’’عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃؓ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اﷲِﷺ لَمَّا نَزَلَ اٰدَمُ بِالْہِنْدِ وَاسْتَوْحَشَ فَنَزَلَ جِبْرِیْلُ فَنَادٰی بِالْآذَانِ اَﷲ ُاَکْبَرُ اَﷲ ُاَکْبَرُ مَرَّتَیْنِ، اَشْہَدُ اَنْ لاَّ اِلٰہَ اِلَّا اﷲ ُمَرَّتَیْنِ، اَشْہَدُ اَنَّ مُحَمَّدًا رَّسُوْلُ اﷲِ مَرَّتَیْنِ، قَالَ اٰدَمُ: مَنْ مُحَمَّدٌ؟ قَالَ اٰخِرُ
261
وُلْدِکَ مِنَ الْاَنْبِیَائِ ۔‘‘ (کنزالعمال، ج:۱۱، ص:۴۵۵)

ترجمہ:... ’’حضرت ابوہریرہؓ سے روایت ہے کہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: آدم علیہ السلام جب ہندوستان میں نازل ہوئے تو (بوجہ تنہائی) ان کو وحشت ہوئی تو جبرائیل علیہ السلام تشریف لائے اور اذان پڑھی۔ اﷲ اکبر، اﷲ اکبر دو مرتبہ۔ اشہد ان لا الہ الا اﷲ دو مرتبہ۔ اشہد ان محمد ارسول اﷲ دو مرتبہ۔ آدم علیہ السلام نے جبرائیل علیہ السلام سے پوچھا محمد صلی اللہ علیہ وسلم کون ہیں؟ جبرائیل علیہ السلام نے کہا انبیاء کرام علیہم السلام میں سے آپ کے سب سے آخری بیٹے ہیں۔‘‘

ترجمہ:... ’’حضرت ابوہریرہؓ سے روایت ہے کہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: آدم علیہ السلام جب ہندوستان میں نازل ہوئے تو (بوجہ تنہائی) ان کو وحشت ہوئی تو جبرائیل علیہ السلام تشریف لائے اور اذان پڑھی۔ اﷲ اکبر، اﷲ اکبر دو مرتبہ۔ اشہد ان لا الہ الا اﷲ دو مرتبہ۔ اشہد ان محمد ارسول اﷲ دو مرتبہ۔ آدم علیہ السلام نے جبرائیل علیہ السلام سے پوچھا محمد صلی اللہ علیہ وسلم کون ہیں؟ جبرائیل علیہ السلام نے کہا انبیاء کرام علیہم السلام میں سے آپ کے سب سے آخری بیٹے ہیں۔‘‘

حجۃ الوداع کے موقع پر اعلان ختم نبوت:

حدیث نمبر۸… ’’عَنْ اَبِیْ اُمَامَۃؓ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اﷲِﷺ فِیْ خُطْبَتِہٖ یَوْمَ حَجَّۃِ الْوَدَاع اَیُّہَا النَّاسُ! اَنَّہٗ لَا نَبِیَّ بَعْدِیْ وَلَا اُمَّۃَ بَعْدَکُمْ اَلَا فَاعْبُدُوْا رَبَّکُمْ، وَصَلُّوْا خَمْسَکُمْ، وَصُوْمُوْا شَہْرَکُمْ، وَاَدُّوْا زَکوٰۃَ اَمْوَالِکُمْ طَیِّبَۃًم بِہَا اَنْفُسُکُمْ وَاَطِیْعُوْا وُلَاۃَ اُمُوْرِکُمْ تَدْخُلُوْا جَنَّۃَ رَبِّکُمْ۔‘‘

(کنزالعمال ،ج:۵، ص:۲۹۴)

ترجمہ:...’’حضرت ابو امامہؓ روایت فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حجۃ الوداع کے دن اپنے خطبہ میں ارشاد فرمایا۔ اے لوگو! نہ تو میرے بعد اب کوئی نبی ہوگا اور نہ تمہارے بعد کوئی دوسری امت، خبردار!

262

اپنے رب کی عبادت کرتے رہو اور پانچ نمازیں پڑھتے رہو اور رمضان کے روزے رکھتے رہو اور اپنے اموال کی زکوٰۃ خوش دلی کے ساتھ دیتے رہو اور اپنے امور میں اپنے خلفاء وحکام کی اطاعت کرتے رہو تو (اس کے صلہ میں) تم اپنے پروردگار کی جنت میں داخل ہو جاؤگے۔‘‘

فائدہ… اس حدیث سے معلوم ہوا کہ آپؐ کے بعد کوئی نبی کسی قسم کا بھی نہیں ہوسکتا۔ نہ تشریعی، نہ غیرتشریعی، اور نہ مرزاقادیانی ملعون کا ایجادہ کردہ بروزی، ظلی، لغوی، جزوی وغیرہ۔ کیونکہ اگر کوئی نبی بعد میں آنے والا ہوتا تو ضروری تھا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اس کی اطاعت امت کے لئے اولوالامر کی اطاعت سے زیادہ ضروری قرار دیتے اور اس کی تاکید کو مقدم فرماتے، جب کہ حدیث مذکور میں صرف اولوالامر کی اطاعت کے حکم پر اکتفا فرمایا ہے۔

رسالت اور نبوت اب دونوں منقطع ہیں:

حدیث نمبر۹… ’’عَنْ اَنَسِ بْنِ مَالِکٍؓ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اﷲِﷺ اِنَّ النُّبُّوَۃَ وَالرِّسَاَلَۃَ قَدِ انْقَطَعَتْ فَلَا رَسُوْلَ بَعْدِیْ وَلَا نَبِیَّ۔‘‘ (کنزالعمال، ج:۱۵، ص:۳۶۷، ترمذی، ج:۲، ص:۵۳)

ترجمہ:...’’حضرت انس بن مالکؓ روایت فرماتے ہیں کہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔ بلاشبہ نبوت اور رسالت منقطع ہوچکی ہے۔ سو میرے بعد نہ کوئی رسول آئے گا اور نہ نبی۔‘‘

فائدہ… اس حدیث مبارک میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے لفظ رسول اور نبی کو علیحدہ علیحدہ بیان کر کے یہ بتلادیا ہے کہ اب نہ کوئی تشریعی نبی آئے گا نہ غیر تشریعی۔ یاد رہے! رسول صاحب شریعت نبی کو کہا جاتا ہے۔ جب کہ نبی عام ہے۔ صاحب شریعت جدیدہ ہو یا سابقہ شریعت کا متبع۔ اب دیکھئے کہ حضور علیہ السلام فرماتے ہیں۔ نبوت ورسالت منقطع ہوئی۔ میرے بعد نبی ورسول کوئی نہیں بن سکتا۔ مگر مرزاقادیانی کا ڈھیٹ پن اور کفر ملاحظہ ہو کہ وہ کہتا ہے کہ: ’’ہمارا دعویٰ ہے کہ ہم نبی اور رسول ہیں۔‘‘ (ملفوظات ج۱۰ ص۱۲۷، از مرزاقادیانی) تو مرزا ملعون کا دعویٰ نبوت صراحۃً اس حدیث رسول اﷲ کی مخالفت وعناد کی واضح دلیل ہے۔ (معاذ اﷲ)

263

آنحضرت ﷺکی بعثت علامات قیامت میں سے ہے:

حدیث نمبر۱۰… ’’عَنْ اَنَسٍؓ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اﷲِﷺ بُعِثْتُ اَنَا وَالسَّاعَۃُ کَہَاتَیْنِ۔‘‘(بخاری، ج:۲، ص:۹۶۳، مسلم، ج:۲، ص:۴۰۶)

ترجمہ:...’’حضرت انسؓ روایت فرماتے ہیں کہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔ میں اور قیامت دونوں اس طرح (شہادت کی انگلی اور بیچ کی انگلی کو ملا کر فرمایا) بھیجے گئے ہیں۔ (جس طرح یہ دونوں انگلیاں ملی ہوئی ہیں)۔‘‘

فائدہ…محدثین حضرات اس پر متفق ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اور قیامت کے درمیان کوئی جدید نبی پیدا نہ ہوگا۔ قیامت کے آپؐ کے ساتھ ملی ہوئی آنے سے یہی مراد ہے۔ ایک روایت میں ابوزمل کا طویل خواب اور اس کی تعبیر مذکور ہے۔ منجملہ بہت سے واقعات کے یہ بھی دیکھا کہ ایک ناقہ (اونٹنی) ہے جسے آپ صلی اللہ علیہ وسلم چلا رہے ہیں تو آپؐ نے اس کی تعبیر میں ارشاد فرمایا:

’’اَمَّا النَّاقَۃُ الَّتِیْ رَأَیْتَہَا وَرَأَیْتَنِیْ اَبْعَثُہَا فَہِیَ السَّاعَۃُ عَلَیْنَا تَقُوْمُ لاَ نَبِیَّ بَعْدِیْ وَلاَ اُمَّۃَ بَعْدَ اُمَّتِیْ۔‘‘

ترجمہ:...’’وہ ناقہ جس کو تم نے دیکھا اور یہ دیکھا کہ میں اس کو چلا رہا ہوں وہ قیامت ہے۔ جو ہم پر قائم ہوگی۔ نہ میرے بعد کوئی نبی ہے اور نہ میری امت کے بعد کوئی امت۔‘‘

نیز علامہ سندھیؒ نے نسائی شریف کے حاشیہ میں لکھا ہے کہ: ’’تشبیہ دونوں کے درمیان اتصال میں ہے۔ یعنی جس طرح ان دونوں انگلیوں کے درمیان کوئی اور انگلی نہیں اسی طرح آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اور قیامت کے درمیان کوئی اور نبی نہیں۔‘‘

(نسائی شریف، ج:۱، ص:۲۳۴)

آنحضرت ﷺ کے اسماء مبارکہ:

حدیث نمبر۱۱… ’’عَنْ جُبَیْرِ بْنِ مُطْعِمٍؓ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ
264
اﷲِﷺ اِنَّ لِیْ اَسْمَائً اَنَا مُحَمَّدُ ٗ وَاَنَا اَحْمَدُ وَاَنَا الْمَاحِی الَّذِیْ یَمْحُو اﷲ ُبِیَ الْکُفْرَ وَاَنَا الْحَاشِرُ الَّذِیْ یُحْشَرُ النَّاسُ عَلیٰ قَدَمَیَّ وَاَنَا الْعَاقِبُ الَّذِیْ لَیْسَ بَعْدِیْ نَبِیّٗ ُ۔‘‘

(ترمذی، ج:۲، ص:۱۱۱، باب اسماء النبی صلی اللہ علیہ وسلم)

ترجمہ:...’’حضرت جبیر بن مطعمؓ روایت فرماتے ہیں کہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میرے کئی نام ہیں۔ میں محمدؐ ہوں، میں احمدؐ ہوں، میں ماحی (مٹانے والا) ہوں۔ جس کے ذریعہ اﷲتعالیٰ کفر کو مٹائے گا اور میں حاشر (جمع کرنے والا) ہوں جس کے بعد قیامت میں اور لوگوں کا حشر ہوگا اور میں عاقب ہوں۔ یعنی میرے بعد کوئی نبی نہیں۔‘‘

فائدہ… حافظ ابن قیمؒ فرماتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا ہر نام آپ کی کسی نہ کسی صفت کا جلوہ گاہ ہے۔ صرف ایک نام نہیں جس سے مقصد کسی ذات کا تعارف ہوتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ آپؐ کے اسماء بہت ہیں اور عرب میں اسماء، کنیتوں اور القاب کے تعدد کا کچھ دستور بھی تھا۔ مگر یاد رہے کہ یہ سب نام حقائق واسرار کا ایک مجموعہ ہیں۔ اگر محبت کی نظر سے دیکھیں گے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے کمالات چھنتے نظر آئیںگے۔ یہی وجہ ہے کہ بعض اسماء کی حقیقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسی حدیث میں بیان فرمادی ہے۔ مثلاً میں ماحی ہوں، ماحی کا معنی مٹانے والا، چونکہ میری وجہ سے اﷲتعالیٰ کفر کو مٹادیںگے۔اس لئے میرا نام ماحی ہے اور میں حاشر ہوں، حاشر کا معنی جمع کرنے والا، چونکہ میرے بعد ہی قیامت آجائے گی اور حشر برپا ہوجائے گا اور کوئی نبی میرے اور قیامت کے درمیان نہ ہوگا۔ اس لئے میں حاشر ہوں، یہی حاصل ہے۔ حافظ ابن حجر عسقلانیؒ کے کلام کا جو انہوں نے (فتح الباری ج۶ ص۴۰۶) میں کیا ہے اور فرمایا کہ میں عاقب ہوں، عاقب اسے کہا جاتا ہے جس کے بعد اور کوئی نبی نہ ہو۔ چونکہ میرے بعد بھی کوئی نبی نہیں۔ اس لئے میرا نام عاقب ہے۔ اسی طرح دوسرے اسماء مبارکہ کو سمجھنا چاہئے کہ ہر اسم مبارک پر ازاسرار وحقیقت ہے۔ خلاصہ یہ کہ حدیث مذکور بھی ہر قسم کی نبوت کے انقطاع کی خبر دے رہی ہے اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی ختم نبوت کو واضح طور پر بیان کر رہی ہے۔ اﷲتعالیٰ سمجھنے کی توفیق عطاء فرمائیں ؎

265
  1. بار خاطر ہو تو قرآن وحدیث کا ارشاد برا

    دل کو بھا جائے تو مرزا کی خرافات اچھی

آپ ﷺنبوت سے اس وقت سرفراز تھے جبکہ آدم ؑ میں نفخ روح بھی نہ ہوا تھا:

حدیث نمبر۱۲… ’’عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃؓ قَالَ: قَالُوْا یَا رَسُوْلَ اﷲِ مَتٰی! وَجَبَتْ لَکَ النُّبُوَّۃُ قَالَ وَاٰدَمُ بَیْنَ الرُّوْح وَالْجَسَدِ۔‘‘

(ترمذی، ج:۲، ص:۲۰۲)

ترجمہ:... ’’حضرت ابوہریرہؓ روایت فرماتے ہیں کہ صحابہؓ نے دریافت کیا یا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو نبوت کب دی گئی؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب کہ آدم علیہ السلام ابھی روح وجسم کے درمیان تھے۔ (یعنی ان میں روح نہیں پھونکی گئی تھی)۔‘‘

فائدہ… اس حدیث سے چند باتیں معلوم ہوئیں:

۱… آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا عالم ارواح میں نبوت سے حقیقتاً سرفراز ہونا۔ جس کی صراحت قرآن پاک کی اس آیت میں بھی ہے جس سے انبیاء علیہم السلام سے عہدومیثاق لینے کا تذکرہ ہے۔

۲… جس طرح صفت وجود میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات سب سے مقدم تھی۔ اسی طرح صفت نبوت میں بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا سب سے مقدم ہونا۔

۳… قدرت کی طرف سے کمال کے افاضہ کی دو صورتیں ہوتی ہیں۔ (۱)کبھی وہ عالم وجود میں آنے کے بعد کمال کا افاضہ کرتی ہے۔ (۲)اور کبھی وجود سے پہلے عالم ارواح ہی میں اس کمال سے نواز دیتی ہے۔ دونوں صورتوں میں اس کمال کا علم اﷲتعالیٰ کی ذات پاک کو یکساں ہوتا ہے۔ البتہ مخلوق کو پہلی صورت کا علم اس وقت حاصل ہوتا ہے۔ جب کہ وہ کمال اس کے مشاہدہ میں آجائے اور دوسرے کمال کے علم کی اس کے سوا کوئی صورت نہیں کہ مخبر صادق(صلی اللہ علیہ وسلم) اس کی خبر دے۔ یہاں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشاد سے ہمیں اس بات کا علم ہوگیا کہ کمال نبوت آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس وقت حاصل ہوچکا تھا۔ جبکہ حضرت آدم علیہ السلام انسانی صورت پر استوار بھی نہ ہونے پائے تھے اور اسی وقت انبیاء علیہم السلام سے آپؐ کے لئے ایمان ونصرت کا عہد بھی لے لیا گیا تھا۔ تاکہ معلوم ہو جائے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی رسالت عامہ ان کو بھی شامل ہے۔ اس لحاظ سے سب سے پہلے نبی

266

آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہوئے۔ مگر چونکہ جسد عنصری کے لحاظ سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا ظہور انبیاء میں سے سب سے آخر میں ہوا ہے۔ اس لئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم آخر الانبیاء بھی کہلائے۔ لیکن اس معنی سے نہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو نبوت سب سے آخر میں ملی ہے۔ بلکہ اس معنی سے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا ظہور سب کے آخر میں ہوا ہے۔ ورنہ منصب نبوت کے لحاظ سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ولادت سے قبل اور ولادت کے بعد چالیس سال کی عمر سے پہلے اور اس کے بعد کے زمانہ میں کوئی فرق نہیں۔

حاصل یہ کہ یہ حدیث بھی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی ختم نبوت کو واضح کر رہی ہے۔

آنحضرت ﷺ کی مسجد انبیاء علیہم السلام کی مساجد میں آخری مسجد ہے:

حدیث نمبر۱۳… ’’عَنْ عَائِشَۃؓ قَالَتْ: قَالَ رَسُوْلُ اﷲِﷺ اَنَا خَاتَمُ الْاَنْبِیَائِ وَمَسْجِدِیْ خَاتَمُ مَسَاجِدِ الْاَنْبِیَائِ۔‘‘

(کنزالعمال، ج:۱۲، ص:۲۷۰)

ترجمہ:...’’حضرت عائشہؓ روایت فرماتی ہیں کہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا۔ میں انبیاء علیہم السلام میں آخری نبی ہوں اور میری مسجد انبیاء علیہ السلام کی مسجدوں میں آخری مسجد ہے۔‘‘

فائدہ… اس حدیث سے آپؐ کا مطلب یہ ہے کہ جس طرح پہلے انبیاء علیہم السلام کے ناموں سے دنیا میں مسجدیں تعمیر ہوئیں۔ اب آئندہ چونکہ کوئی نیا نبی آنے والا نہیں ہے۔ اس لئے کوئی نئی مسجد بھی کسی رسول کے نام سے تعمیر نہ ہوگی۔ بلکہ یہ مسجد نبوی ہی انبیاء علیہم السلام کی مسجدوں میں آخری مسجد رہے گی۔ الحمدﷲ! آج بھی مسجد نبوی پورے عالم کو واضح طور پر مسئلہ ختم نبوت سمجھا رہی ہے۔ زہے مقدر…!

آنحضرت ﷺ قائد المرسلین اور خاتم النبیین ہیں:

حدیث نمبر۱۴… ’’عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِاﷲِ ؓ اَنَّ النَّبِیَّﷺ قَالَ:اَنَا قَائِدُ الْمُرْسَلِیْنَ وَلَا فَخْرَ، وَاَنَا خَاتَمُ النَّبِیِّیْنَ وَلاَ فَخْرَ، وَاَنَا اَوَّلُ شَافِع وَمُشَفَّع وَلاَ فَخْرَ۔‘‘ (مشکوٰۃ، ص:۵۱۴)

ترجمہ:...’’حضرت جابر بن عبداﷲؓ روایت فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا (روزقیامت) میں تمام رسولوں کا قائد

267

ہوں گا اور میں یہ بات فخر کے طور پر نہیں کہتا اور میں خاتم النبیین ہوں۔ یہ بات میں فخر کے طور پر نہیں کہتا اور میں قیامت کے روز سب سے پہلا شفاعت کرنے والا ہوںگا اور سب سے پہلے میری شفاعت قبول ہوگی اور میں یہ بات فخر کے طور پر نہیں کہتا۔‘‘

فائدہ… اس حدیث میں جہاں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے القاب وخصوصیات ارشاد فرمائی ہیں وہاں اپنی تواضع وانکساری کا اظہار بھی فرمایا ہے۔ اس حدیث کو امام جلال الدین سیوطیؒ نے ’’خصائص الکبریٰ‘‘ میں نقل فرمایا ہے۔ اس حدیث پاک میں قابل غور دوسرا لقب ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ’’خاتم النبیین‘‘ فرمایا ’’خاتم المرسلین‘‘ نہیں۔ اس لئے کہ ’’خاتم النبیین‘‘ میں خاتمیت کی نسبت اتم ہے کہ نبی کی جتنی قسمیں ہوسکتی ہیں وہ سب مجھ پر ختم ہیں۔ جب نبوت ختم ہے تو رسالت بدرجۂ اولیٰ ختم ہے۔ لہٰذا یہ حدیث بھی واضح طور پر ختم نبوت کی دلیل ہے۔

مہر نبوت خود آپ ﷺکے خاتم النبیین ہونے کی دلیل تھی:

حدیث نمبر۱۵… ’’عَنْ عَلِیٍؓ قَالَ: بَیْنَ کَتِفَیْہِ خَاتَمُ النُّبُوَّۃِ وَھُوَ خَاتَمُ النَّبِیِّیْنَ۔‘‘ (شمائل ترمذی، ص:۳، باب خاتم النبوۃ)

ترجمہ: ’’حضرت علیؓ روایت فرماتے ہیں کہ آپؐ کے دونوں شانوں کے درمیان مہر نبوت تھی، کیونکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم خاتم النبیین ہیں۔‘‘

فائدہ… اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی معنوی خصوصیت کو حسی شکل میں بھی ظاہر کردیا گیا تھا۔ کتب سابقہ میں بھی مہر نبوت آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی علامت بتلائی گئی تھی۔ اسی لئے بعض طالبین حق نے منجملہ اور علامات کے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی مہر نبوت کو بھی تلاش کیا۔ جیسے حضرت سلمان فارسیؓ وغیرہ اور اس حدیث سے یہ بھی ظاہر ہوتا ہے کہ خاتم النبیین ہونا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا شاعرانہ لقب نہ تھا بلکہ مہر نبوت اور آخری نبی ہونے کی وجہ سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو خاتم النبیین کہا جاتا تھا اور کہا جاتا ہے۔

مسئلہ حیات ونزول مسیح ابن مریم علیہ السلام

حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا نزول یقینی مسئلہ ہے:

حدیث نمبر۱۶… ’’عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃؓ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ
268
اﷲِﷺ وَالَّذِیْ نَفْسِیْ بِیَدِہٖ لَیُوْشِکَنَّ اَنْ یَّنْزِلَ فِیْکُمْ اِبْنُ مَرْیَمَ حَکَمًا عَدْلًا، فَیَکْسِرُ الصَّلِیْبَ، وَیَقْتُلُ الْخِنْزِیْرَ، وَیَضَعُ الْحَرْبَ، وَیَفِیْضُ الْمَالَ حَتّٰی لاَ یَقْبَلَہٗ اَحَدُ ٗ حَتّٰی تَکُوْنَ السَّجْدَۃُ الْوَاحِدَۃُ خَیْرًا مِّنَ الدُّنْیَا وَمَا فِیْہَا ثُمَّ یَقُوْلُ اَبُوْھُرَیْرَۃَ وَاقْرَئُ وْا اِنْ شِئْتُمْ: وَاِنْ مِّنْ اَہْلِ الْکِتَابِ اِلاَّ لَیُؤْمِنَنَّ بِہٖ قَبْلَ مَوْتِہٖ وَیَوْمَ الْقِیَامَۃِ یَکُوْنُ عَلَیْہِمْ شَہِیْدًا۔‘‘

(بخاری، ج:۱ ،ص:۴۹۰، مسلم ،ج:۱، ص:۸۷)

ترجمہ:... ’’حضرت ابوہریرہؓ روایت فرماتے ہیں کہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا قسم ہے اس ذات کی جس کے قبضہ میں میری جان ہے۔ یقینا وہ زمانہ قریب ہے جب تم میں ابن مریم علیہ السلام حاکم عادل ہونے کی حیثیت سے نازل ہوں گے۔ صلیب کو توڑ ڈالیںگے۔ خنزیر (سور) کو قتل کریں گے۔ جنگ کا خاتمہ کریں گے۔ مال ودولت کی ایسی فراوانی ہوگی کہ اسے کوئی قبول نہ کرے گا اور لوگوں کی نظر میں ایک سجدہ کی قدروقیمت دنیا ومافیہا سے زیادہ ہوگی۔ پھر حضرت ابوہریرہؓ فرمانے لگے اگر تم چاہو تو بطور تائید کے قرآن پاک کی یہ آیت پڑھ لو: ’’ وَاِنْ مِّنْ اَہْلِ الْکِتَابِ اِلاَّ لَیُؤْمِنَنَّ بِہٖ قَبْلَ مَوْتِہٖ وَیَوْمَ الْقِیَامَۃِ یَکُوْنُ عَلَیْہِمْ شَہِیْدًا‘‘ اہل کتاب میں کوئی ایسا نہیں ہوگا جو حضرت عیسیٰ علیہ السلام پر ان کی وفات سے پہلے ایمان نہ لے آئے اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام ان پر قیامت کے دن گواہ ہوں گے۔‘‘

فائدہ…اس حدیث پاک سے چند باتیں معلوم ہوئیں۔ (۱)حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا نزول عام عادت کے خلاف ہے۔ تبھی تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے قسم کھا کھا کر بیان فرمایا ہے۔ (۲)کسی انسان کی ولادت مراد نہیں۔ کیونکہ ولادت میں کوئی ایسی جدید بات نہیں جس پر قسم کھانے کی ضرورت ہو۔ (۳)حضرت عیسیٰ علیہ السلام شریعت محمدیہ کے حاکم بن کر نازل ہوں گے اور اس امت کے حاکم عادل ہوں گے۔ معلوم ہوا شریعت محمدیہ باقی ہے۔ منسوخ نہیں

269

ہوئی۔ (۴)حکم وہی ہوسکتا ہے جو فریقین کے نزدیک مسلم ہو۔ اس لئے ماننا پڑے گا کہ نازل ہونے والے وہی اسرائیلی عیسیٰ بن مریم علیہ السلام ہیں۔ کیونکہ ان ہی کی شخصیت اہل کتاب اور امت محمدیہ کے نزدیک مسلم ہوسکتی ہے۔ اگر اس پیش گوئی کا مصداق کوئی دوسرا شخص (مرزا قادیانی) ہو جو اسی امت میں پیدا ہوا وہ حکم نہیں ہوسکتا۔ کیونکہ اہل کتاب وامت محمدیہ دونوں کے نزدیک وہ مسلم نہیں۔ (۵)شعائر نصرانیت میں سب سے بڑا شعار صلیب کو نیست ونابود (یعنی صلیب پرستی کو ختم) کردیںگے اور خنزیر کو قتل کر کے نصاریٰ کی تردید کردیںگے جو خنزیر کو حلال سمجھ کر کھاتے ہیں اور اس سے غایت درجہ محبت رکھتے ہیں۔ (۶)جملہ ادیان مٹ کر دین واحد بن جائے گا۔ اہل کتاب واہل قرآن کا باہمی اختلاف ختم ہو جائے گا۔ جہاد کی ضرورت باقی نہ رہے گی۔ (۷)اخروی برکات کے ساتھ ساتھ دنیوی برکات کا بھی ظہور ہوگا۔ (۸)آیت مبارکہ سے معلوم ہوتا ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو ابھی موت نہیں آئی۔ بلکہ آئندہ زمانہ میں آنے والی ہے اور یہ ظاہر ہے کہ موت دنیا میں نازل ہونے کے بعد ہی آئے گی۔ اس لئے کہ سورۂ طہ میں ارشاد خداوندی ہے:

’’مِنْہَا خَلَقْنَاکُمْ وَفِیْہَا نُعِیْدُکُمْ وَمِنْہَا نُخْرِجُکُمْ تَارَۃً اُخْرٰی۔‘‘

ترجمہ: ...’’کہ ہم نے تم سب کو اسی زمین سے پیدا کیا اور اسی میں ہم تم کو (موت کے بعد) لوٹائیںگے اور حشر کے وقت اسی سے پھر دوبارہ ہم تم کو نکال لیںگے۔‘‘

لہٰذا آیت کا ضابطہ ابھی پورا ہونا ہے۔

اس سے اندازہ کر لینا چاہئے کہ جو پیش گوئی حدیثوں میں قسم کے ساتھ اور قرآن پاک میں بھی موجود ہو وہ جزم ویقین کے کس درجہ میں ہوگی۔

عیسیٰ ؑ آسمان سے اتریںگے زمین کے کسی خطہ میں پیدا نہیں ہوں گے:

حدیث نمبر۱۷… ’’عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃؓ اَنَّ رَسُوْلَ اﷲِﷺ قَالَ: کَیْفَ اَنْتُمْ اِذَا نَزَلَ اِبْنُ مَرْیَمَ فِیْکُمْ وَاِمَامُکُمْ مِنْکُمْ۔‘‘

(بخاری، ج:۱، ص:۴۹۰، مسلم، ج:۱، ص:۸۷)

270

ترجمہ:...’’حضرت ابوہریرہؓ سے روایت ہے کہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔ تمہارا اس وقت کیا حال ہوگا۔ (یعنی خوشی سے) جب کہ عیسیٰ ابن مریم علیہ السلام (آسمان سے) تم میں نازل ہوں گے اور تمہارا امام خود تم (امت محمدیہ) ہی میں سے ہوگا۔‘‘

فائدہ… امام بیہقی ؒنے اپنی کتاب ’’الاسماء والصفات‘‘ میں اس روایت کے الفاظ یوں نقل فرمائے ہیں: ’’اِذَا نَزَلَ اِبْنُ مَرْیَمَ مِنَ السَّمَائِ فِیْکُمْ وَاِمَامُکُمْ مِنْکُمْ‘‘ ...’’جب عیسیٰ ابن مریم علیہ السلام آسمان سے تمہارے درمیان نازل ہوں گے اور تمہارا امام تم سے ہوگا...۔‘‘

حدیث مذکور میں صراحت کے ساتھ موجود ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام آسمان سے اتریںگے۔ زمین پر کسی شخص کا پیدا ہونا مذکور نہیں۔ نیز حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے لئے’’ینزل فیکم‘‘ اور امام مہدی علیہ الرضوان کے لئے ’’امامکم منکم‘‘ کی صراحت سے ثابت ہوا کہ مسیح ومہدی (علیہما السلام) دو علیحدہ علیحدہ شخصیات ہیں۔ شخص واحد(مرزا قادیانی) مراد نہیں۔

حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا نزول حق تعالیٰ کا ایک وعدہ ہے:

حدیث نمبر۱۸… ’’عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَیْنٍؓ اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِﷺ قَالَ: لَا تَزَالُ طَائِفَۃُٗ مِّنْ اُمَّتِیْ عَلَی الْحَقِّ ظَاہِرِیْنَ عَلیٰ مَنْ نَاوَاہُمْ حَتّٰی یَأْتِیَ اَمْرُ اللّٰہِ تَبَارَکَ وَتَعَالیٰ وَیَنْزِلَ عِیْسَی ابْنُ مَرْیَمَ عَلَیْہِ السَّلَامُ۔ ‘‘ (مسند احمد، ج:۴، ص:۴۲۹)

ترجمہ:...’’حضرت عمران بن حصینؓ روایت فرماتے ہیں کہ رسول اﷲصلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میری امت میں ایک جماعت ہمیشہ حق پر رہے گی۔ جو اپنے دشمنوں کے مقابلہ پر غالب رہے گی۔ یہاں تک کہ اﷲتعالیٰ کا وعدہ پورا ہو اور حضرت عیسیٰ ابن مریم علیہ السلام اتریں۔‘‘

فائدہ… چونکہ قیامت سے قبل سیدنا عیسیٰ علیہ السلام کا نزول قیامت کی طرح ایک یقینی مسئلہ ہے۔ اس لئے جب اور جہاں کہیں بھی قیامت کا تذکرہ آتا ہے اور وہاں کلام میں ذرا کوئی مناسبت نکل آتی ہے تو دیگر مسلمات کی طرح فوراً حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے آسمان سے

271

نزول کا تذکرہ بھی آجاتا ہے۔

عیسیٰ علیہ السلام کا حلیہ مبارک اور ان کے زمانہ میں امن وفراوانی رزق

حدیث نمبر۱۹… ’’عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَؓ عَنِ النَّبِیِّﷺ قَالَ: اَلْاَنْبِیَائُ اِخْوَۃُٗ لِعَلَّاتٍ، دِیْنُہُمْ وَاحِدُٗ وَاُمَّہَاتُہُمْ شَتّٰی، وَاَنَا اُوْلَی النَّاسِ بِعِیْسَی ابْنِ مَرْیَمَ لِاَنَّہٗ لَمْ یَکُنْم بَیْنِیْ وَبَیْنَہٗ نَبِیُّٗ، وَاِنَّہٗ نَازِلُٗ فَاِذَا رَأَیْتُمُوْہُ فَاَعْرِفُوْہُ فَاِنَّہٗ رَجُلُٗ مَرْبُوْعُٗ اِلَی الْحُمْرَۃِ وَالْبَیَاضِ سَبِطُٗ کَأَنَّ رَأْسَہٗ یَقْطُرُوَاِنْ لَّمْ یُصِبْہُ بَلَلُٗ بَیْنَ مُمَصَّرَتَیْنِ فَیَکْسِرُ الصَّلِیْبَ وَیَقُتُلُ الْخِنْزِیْرَ، وَیَضَعُ الْجِزْیَۃَ، وَیُعَطِّلُ الْمِلَلَ حَتّٰی یُہْلِکَ اللّٰہُ فِیْ زَمَانِہِ الْمِلَلَ کُلَّہَا غَیْرَ الْاِسْلَامِ وَیُہْلِکُ اللّٰہُ فِیْ زَمَانِہِ الْمَسِیْحَ الدَّجَّالَ الْکَذَّابَ وَتَقَعُ الْاَمَنَۃُ فِیْ الْاَرْضِ حَتّٰی تَرْتَعَ الْاِبِلُ مَعَ الْاَسَدِ جَمِیْعًا وَالنُّمُوْرُ مَعَ الْبَقَرِ وَالذِّئَابُ مَعَ الْغَنَمِ وَیَلْعَبَ الصِّبْیَانُ وَالْغِلْمَانُ بِالْحَیَّاتِ لَا یَضُرُّ بَعْضُہُمْ بَعْضًا فَیَمْکُثُ مَاشَائَ اللّٰہُ اَنْ یَّمْکُثَ ثُمَّ یُتَوَفّٰی فَیُصَلِّیْ عَلَیْہِ الْمُسْلِمُوْنَ وَیَدْ فِنُوْنَہٗ۔‘‘

(مسند احمد، ج:۲، ص:۴۳۷، تفسیر ابن جریر ،ج:۶، ص:۲۲)

ترجمہ:...’’حضرت ابوہریرہؓ روایت فرماتے ہیں کہ نبی نے فرمایا کہ سب انبیاء علیہم السلام باپ شریک بھائیوں کی طرح ہیں کہ ان سب کا دین ایک اور مائیں (شریعتیں) جدا جدا ہیں اور میں عیسیٰ ابن مریمؑ کے سب سے زیادہ قریب ہوں۔ کیونکہ میرے اور ان کے درمیان کوئی نبی نہیں ہوا۔ وہ نازل ہوں گے۔ جب تم انہیں دیکھو تو فوراً پہچان لینا۔ (ان کی پہچان یہ ہے) وہ درمیانہ قد وقامت کے ہوں گے۔ رنگ سرخ وسفید ہوگا۔ بال سیدھے اور ایسے (صاف اور چمکدار) ہوں گے کہ وہ اگرچہ بھیگے نہ ہوں تب بھی یوں معلوم ہوگا۔ جیسے ابھی ان سے پانی ٹپک رہا ہو۔ ہلکے زرد رنگ کے دو کپڑوں میں ہوں گے۔ (وہ اتر کر) صلیب کو توڑ

272

ڈالیںگے۔ خنزیر کو قتل کریں گے۔ جزیہ ختم کردیںگے۔ تمام ملتوں کو معطل کر دیںگے۔ حتیٰ کہ اﷲتعالیٰ ان کے زمانہ میں اسلام کے سوا تمام ادیان ومذاہب کا خاتمہ کر دے گا اور اﷲتعالیٰ ان کے زمانہ میں کذاب مسیح دجال کو ہلاک کر دے گا اور زمین پر امن وامان کا دور دورہ ہوگا۔ حتیٰ کہ اونٹ شیروں کے ساتھ، چیتے گایوں کے ساتھ اور بھیڑیے بکریوں کے ساتھ ایک جگہ چرا کریں گے۔ بچے اور لڑکے سانپوں کے ساتھ کھیلیں گے۔ کوئی کسی کو نقصان نہ پہنچائے گا۔ پس عیسیٰ علیہ السلام جب تک اﷲتعالیٰ چاہے گا دنیا میں رہیںگے۔ پھر ان کی وفات ہوگی اور مسلمان ان کی نماز جنازہ پڑھ کر انہیں دفن کردیںگے۔‘‘

فائدہ… دیکھئے! اس حدیث پاک میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کس طرح سیدنا مسیح عیسیٰ ابن مریم علیہ السلام کا تعارف کرایا ہے۔ آپ کی طہارت وپاکیزگی اور حلیہ مبارک بتایا ہے اور صرف ماضی کی سوانح کے بیان پر اکتفا نہیں فرمایا بلکہ ان کے مستقبل کے ایسے کارنامے اور ایسی روشن برکات کا بھی تذکرہ فرمایا ہے جن کے بعد کسی مجنون ودیوانے کے لئے ان کی شناخت میں کوئی ادنیٰ سا تردد واشتباہ باقی نہیں رہتا۔ آئیے! آپ کے اس واضح فرمان پر ایمان لائیے اور اپنے خیالات کی پیروی چھوڑ دیجئے۔

حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی ابھی وفات نہیں ہوئی:

حدیث نمبر۲۰… ’’عَنِ الْحَسَنِ الْبَصَرِیِّؒ مُرْسَلاً یَرْفَعُہٗ اِلیٰ رَسُوْلِ اللّٰہِﷺ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِﷺ لِلْیَہُوْدِ: اِنَّ عِیْسٰی لَمْ یَمُتْ وَاِنَّہٗ رَاجِعُٗ اِلَیْکُمْ قَبْلَ یَوْمِ الْقِیَامَۃِ۔‘‘

(تفسیر ابن کثیر، ج:۱، ص:۳۶۶، ابن جریر، ج:۳، ص:۲۸۹)

ترجمہ:...’’حضرت حسن بصریؒ روایت فرماتے ہیں کہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہودیوں سے فرمایا کہ عیسیٰ علیہ السلام کو (ابھی) موت نہیں آئی۔ وہ قیامت سے پہلے تمہاری طرف واپس آئیںگے۔‘‘

فائدہ… یہود اور نصاریٰ دونوں کا تصور حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے متعلق جدا جدا

273

ہے۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے دونوں کو علیحدہ علیحدہ خطاب فرمایا ہے۔ یہود حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو مردہ تصور کرتے ہیں۔ (یہی نظریہ قادیانیوں کا بھی ہے) اس لئے آپٍ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس فرمان میں ان کی موت کی نفی فرماکر ان کی دوبارہ تشریف آوری پر زور دیا ہے اور لفظ ’’رجوع‘‘ استعمال فرمایا ہے۔

نصاریٰ انہیں خدا مانتے ہیں۔ گویا ان کے نزدیک ان پر فنا نہیں آئے گی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلمنے انہیں سمجھایا کہ خدا وہ ہے جس کو کبھی فنا نہ ہو اور عیسیٰ علیہ السلام کو بعد از نزول موت آنی ہے پھر وہ خدا کیسے ہوسکتا ہے۔

آنحضرت ﷺ کی سیدنا عیسیٰ علیہ السلام کے متعلق سلام کی وصیت:

حدیث نمبر۲۱… ’’عَنْ اَنَسٍؓ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِﷺ مَنْ اَدْرَکَ مِنْکُمْ عِیْسٰی ابْنَ مَرْیَمَ فَلْیُقْرِئْہُ مِنِّی السَّلَامَ۔‘‘

(درمنثور، ج:۲، ص:۲۴۵)

ترجمہ:...’’حضرت انسؓ روایت فرماتے ہیں کہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔ تم میں سے جس شخص کی بھی عیسیٰ ابن مریم سے ملاقات ہو وہ ان کو میری جانب سے سلام پہنچا دے۔‘‘

فائدہ… اس حدیث سے بھی حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا نزول یقینی معلوم ہورہا ہے اور حدیث کے راویوں کو ان کی آمد کا انتظار لگ رہا ہے۔ نیز یہ بھی ثابت ہورہا ہے کہ امت پر فرض ہے کہ وہ اس پیش گوئی کو یاد رکھے اور جس خوش نصیب انسان کو وہ زمانہ ہاتھ آجائے تو اس پر لازم ہے کہ وہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا سلام پہنچا کر آپؐ کی وصیت کو پورا کرنے کی سعادت حاصل کرے۔

حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا نزول اس امت کے لئے رحمت ہے:

حدیث نمبر۲۲… ’’عَنْ عَبْدِاللّٰہِ بْنِ عُمَرَؓ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِﷺ کَیْفَ تَہْلِکُ اُمَّۃُٗ اَنَا اَوَّلُہَا، وَعِیْسٰی ابْنُ مَرْیَمَ اٰخِرُہَا۔‘‘ (کنزالعمال ج۱۴ ص۲۶۹)

ترجمہ:... ’’حضرت عبداﷲ بن عمرؓ روایت فرماتے ہیں کہ رسول

274

اﷲصلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔ بھلا وہ امت کیسے ہلاک ہوسکتی ہے جس کے اوّل میں، میں ہوں اور آخر میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام ہوں۔‘‘

فائدہ… ہرگزشتہ امت دو رسولوں کے درمیان ہوتی چلی آئی ہے۔ یہ امت بھی دورسولوں کے درمیان میں ہے۔ ابتداء میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے اور آخر میں سیدنا عیسیٰ علیہ السلام نازل ہوں گے۔ لیکن یاد رہے کہ اس امت کا معاملہ دوسری امتوں سے مختلف ہے۔ اس امت کے رسول تو صرف آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ہیں۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی تشریف آوری اس امت میں بحیثیت رسالت مستقلہ نہ ہوگی۔ بلکہ آپ کے نائب وخلیفہ ہونے کی حیثیت سے ہوگی۔ اسی لئے ان کی امت بھی کوئی جدید امت نہ ہوگی۔ خلاصہ یہ کہ ان کا اس امت کے آخر میں تشریف لانا باعث رحمت بھی ہے اور دیگر انبیاء علیہم السلام کی بنسبت ان کی یہ خصوصیت بھی ہے۔

حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے آگ پر پکی ہوئی چیز نہیں کھائی:

حدیث نمبر۲۳… ’’عَنْ اَنَسِ بْنِ مَالِکٍؓ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِﷺ کَانَ طَعَامُ عِیْسٰی عَلَیْہِ السَّلَامُ اَلْبَاقِلَّائَ حَتّٰی رُفِعَ وَلَمْ یَکُنْ یَأْکُلُ شَیْئًا غَیَّرَتْہُ النَّارُ حَتّٰی رُفِعَ۔‘‘ (کنزالعمال ج۶ ص۱۲۶)

ترجمہ:... ’’حضرت انس بن مالکؓ روایت فرماتے ہیں کہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی خوراک لوبیا تھی۔ یہاں تک کہ انہیں (آسمان پر) اٹھا لیا گیا اور انہوں نے کوئی ایسی چیز نہیں کھائی جو آگ پر پکائی گئی ہو۔ یہاں تک کہ انہیں (آسمان پر) اٹھا لیا گیا۔‘‘

فائدہ… اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ جس شخص کے آسمان پر جانے اور قرب قیامت میں نزول کی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے پیش گوئی فرمائی ہے وہ اسرائیلی پیغمبر عیسیٰ بن مریم علیہ السلام ہیں۔ کوئی دوسرا شخص جو مٹھائیاں، پیسٹریاں، اور نفیس سے نفیس چیزیں کھانے کا عادی ہو مراد نہیں۔

حضرت عیسیٰ علیہ السلام حج وعمرہ ادا فرمائیںگے:

حدیث نمبر۲۴… ’’عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃ َؓ اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِﷺ
275
قَالَ: وَالَّذِیْ نَفْسِیْ بِیَدِہٖ: لَیُہِلَّنَّ عِیْسَی ابْنُ مَرْیَمَ بِفَجِّ الرَّؤْحَائِ حَاجًّا اَوْ مُعْتَمِرًا اَوْلِیُثَنِّیَنَّہُمَا۔‘‘

(مسلم، ج:۱، ص:،۴۰۸، مسند احمد، ج:۲، ص:۵۱۳)

ترجمہ:...’’حضرت ابوہریرہؓ روایت فرماتے ہیں کہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا۔ قسم ہے اس ذات کی جس کے قبضہ میں میری جان ہے۔ عیسیٰ ابن مریم علیہ السلام ضرور مقام فج روحاء پر حج یا عمرہ یا دونوں کا احرام باندھیںگے۔ (اور تلبیہ پڑھیںگے)۔‘‘

فائدہ… یہ حدیث حاکم نے بھی روایت کر کے اسے صحیح قرار دیا ہے اور اس میں مزید تفصیل یہ ہے کہ ابن مریم علیہ السلام حاکم عادل اور امام منصف ہونے کی حیثیت سے نازل ہوں گے اور حج یا عمرہ کو جاتے ہوئے مقام فج روحاء سے گزریںگے اور میری (آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی) قبر پر بھی ضرور آئیں گے۔ حتیٰ کہ مجھے سلام کریں گے اور میں ان کو جواب دوں گا۔ یہ حدیث سنا کر حضرت ابوہریرہؓ نے فرمایا اے میرے بھتیجو! (عربی محاورے میں چھوٹے کو بطور شفقت بھتیجا کہہ دیتے ہیں۔ اگرچہ اس سے کوئی رشتہ داری نہ ہو) اگر تم ان کو دیکھو تو ان سے کہنا کہ ابوہریرہؓ نے آپ کو سلام کہا ہے۔ یاد رہے! مدینہ طیبہ اور مقام بدر کے درمیان ایک مقام جو مدینہ منورہ سے چھ میل کے فاصلہ پر واقع ہے۔ اسے ’’فج اور صرف الروحاء‘‘ بھی کہتے ہیں:

مسیح موعود مرزا مردود کو زندگی بھر یہ سعادت نصیب نہ ہوئی۔ ’’فعلیہ اللعنۃ الیٰ یوم الدین‘‘

دجال کو تو صرف حضرت عیسیٰ علیہ السلام ہی قتل کریں گے:

حدیث نمبر۲۵… ’’عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَؓ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِﷺ لَمْ یُسَلَّطْ عَلٰی قَتْلِ الدَّجَّالِ اِلَّا عِیْسَی ابْنُ مَرْیَمَ۔‘‘

(سراج المنیر، ج:۳، ص:۱۹۴)

ترجمہ:...’’حضرت ابوہریرہؓ روایت فرماتے ہیں کہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔ دجال کو قتل کرنے کی قدرت سوائے عیسیٰ ابن مریم علیہ السلام کے کسی (اور) کو نہیں دی گئی۔‘‘

فائدہ… اس حدیث کو امام جلال الدین سیوطیؒ نے ’’جامع صغیر‘‘ میں نقل فرماکر اسے

276

حسن کہا ہے اور ’’عقیدۃ اہل الاسلام‘‘ میں شیخ غماری نے اسے صحیح کہا ہے۔

عیسیٰ ؑ نزول کے بعد نکاح کریں گے، اولاد ہوگی پھر وفات اور مقام دفن:

حدیث نمبر۲۶… ’’عَنْ عَبْدِاللّٰہِ بْنِ عُمَرَؓ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِﷺ یَنْزِلُ عِیْسَی ابْنُ مَرْیَمَ اِلَی الْاَرْضِ فَیَتَزَوَّجُ وَیُوْلَدُلَہٗ وَیَمْکُثُ خَمْسًا وَّاَرْبَعِیْنَ سَنَۃً ثُمَّ یَمُوْتُ فَیُدْفَنُ مَعِیْ فِیْ قَبْرِیْ فَاَقُوْمُ اَنَا وَعِیْسَی ابْنُ مَرْیَمَ مِنْ قَبَرٍ وَّاحِدٍ بَیْنَ اَبِیْ بَکْرٍ وَ عُمَرَ ۔‘‘ (مشکوٰۃ، ص:۴۸۰)

ترجمہ:... ’’حضرت عبداﷲ بن عمرؓ روایت فرماتے ہیں کہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام زمین پر نازل ہوں گے۔ شادی کریں گے اور ان کی اولاد ہوگی اور پینتالیس سال کا عرصہ ٹھہر کر وفات پائیںگے۔ پھر میرے ساتھ میرے روضۂ اطہر میں دفن ہوں گے۔ پس میں اور عیسیٰ علیہ السلام دونوں ایک مقبرہ سے ابوبکرؓ وعمرؓ کے درمیان اٹھیںگے۔‘‘

فائدہ…عجیب بات ہے کہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے حق میں ’’اَوْلَی النَّاس‘‘ کا لفظ فرمایا تھا۔ اس کا تصور یوں ہوا کہ اوّل تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم اور ان کے درمیان کوئی اور نبی نہیں گذرا۔ گویا دونوں کے زمانے متصل رہے۔ پھر اسی مناسبت کی وجہ سے ہی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی امت میں تشریف لائیں گے اور یوں بھی ہوا کہ دفن بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ہی آکر ہوں گے۔ خلاصہ یہ کہ زمانی، مکانی اور موت کی یہ خصوصیات ان کے سوا کسی اور نبی کو میسر نہیں آئیں۔

حدیث نمبر۲۷… ’’عَنْ عَبْدِاللّٰہِ بْنِ سَلَامٍؓ قَالَ: مَکْتُوْبُٗ فِیْ التَّوْرَاۃِ: صِفَۃُ مُحَمَّدٍ وَعِیْسَی ابْنُ مَرْیَمَ یُدْفَنُ مَعَہٗ۔‘‘

(درمنثور، ج:۲، ص:۲۴۵)

ترجمہ:... ’’حضرت عبداﷲ بن سلامؓ بیان فرماتے تھے کہ تورات میں حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی صفات میں سے ایک صفت یہ بھی لکھی

277

ہوئی ہے کہ عیسیٰ علیہ السلام آپ کے پاس دفن ہوں گے۔‘‘

فائدہ… درمنثور میں حضرت عبداﷲ بن سلامؓ سے یہ الفاظ بھی منقول ہیں: ’’یُدْفَنُ عِیْسَیٰ ابْنُ مَرْیَمَ مَعَ رَسُوْلِ اﷲِﷺ وَصَاحِبَیْہِ فَیَکُوْنُ قَبَرُہٗ رَابِعًا‘‘ ...کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام آکر رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے دوجاںنثار حضرت ابوبکرؓ اور حضرت عمرؓ کے پاس دفن ہوں گے اور اس لحاظ سے ان کی قبر چوتھی ہوگی...۔

حضرت عیسیٰ علیہ السلام دمشق کے مشرقی مینار پر نازل ہوں گے:

حدیث نمبر۲۸… ’’عَنْ اَوْسِ بْنِ اَوْسِ ن الثَّقَفِیِّؓ عَنِ النَّبِیِّﷺ قَالَ: یَنْزِلُ عِیْسَی ابْنُ مَرْیَمَ عِنْدَ الْمَنَارَۃِ الْبَیْضَائِ شَرْقِیَّ دِمَشْقَ۔‘‘ (درمنثور، ج:۲، ص:،۲۴۵، کنزالعمال، ج:۷، ص:۲۰۲)

ترجمہ:...’’حضرت اوس بن اوس ثقفیؓ سے روایت ہے کہ رسول اﷲصلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ عیسیٰ بن مریم علیہ السلام دمشق کی جانب مشرق میں سفید منارے کے پاس نازل ہوں گے۔‘‘

عیسیٰ علیہ السلام کا امام مہدی کے پیچھے نماز پڑھنا اس امت کا اعزاز ہے:

حدیث نمبر۲۹… ’’عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِاللّٰہِؓ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِﷺ یَنْزِلُ عِیْسَی ابْنُ مَرْیَمَ فَیَقُوْلُ اَمِیْرُہُمُ الْمَہْدِیُّ تَعَالَ صَلِّ بِنَا فَیَقُوْلُ لَا: اِنَّ بَعْضَکُمْ عَلیٰ بَعْضٍ اُمَرَائُ تَکْرِمَۃَ اللّٰہِ لِہٰذِہِ الْاُمَّۃِ۔‘‘ (الحاوی للفتاویٰ، ج:۲، ص:۶۴)

ترجمہ: ...’’حضرت جابر بن عبداﷲؓ روایت فرماتے ہیں کہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔ عیسیٰ بن مریم علیہ السلام نازل ہوں گے تو مسلمانوں کے امیر امام مہدی علیہ الرضوان کہیںگے۔ آئیے ہمیں نماز پڑھائیے۔ عیسیٰ علیہ السلام فرمائیںگے نہیں تم امت محمدیہ میں سے بعض بعض کے امیر ہیں جو اﷲ کی طرف سے اس امت کا اعزاز ہے۔‘‘

حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا نزول قیامت کی بڑی دس علامات میں سے ہے:

حدیث نمبر۳۰… ’’عَنْ حُذَیْفَۃَ بْنِ أَسِیْدِ الْغِفَارِیِّؓ قَالَ: اِطَّلَعَ
278
النَّبِیُّﷺ عَلَیْْنَا وَنَحْنُ نَتَذَاکَرُ فَقَالَ مَاتَذَاکَرُوْنَ؟ قَالُوْا نَذْکُرُ السَّاعَۃَ قَالَ اِنَّہَا لَنْ تَقُوْمَ حَتّٰی تَرَوْا قَبْلَہَا عَشْرَ اٰیَاتٍ فَذَکَرَ الدُّخَانَ وَالدَّجَّالَ وَالدَّابَۃَ وَطُلُوْعَ الشَّمْسِ مِنْ مَّغْرِبِہَا وَنُزُوْلَ عِیْسَی ابْنَ مَرْیَمَ وَیَأْجُوْجَ وَمَأْجُوْجَ، وَثَلَاثَۃَ خُسُوْفٍ خَسْفٍ بِالْمَشْرِقِ وَخَسْفٍ بِالْمَغْرِبِ وَخَسْفٍ بِجَزِیْرَۃِ الْعَرَبِ وَاٰخِرُ ذَالِکَ نَارُٗ تَخْرُجُ مِنَ الْیَمَنِ تَطْرُدُ النَّاسَ اِلیٰ مَحْشَرِہِمْ۔‘‘

(مسلم، ج:۲، ص:۳۹۳)

ترجمہ:...’’حضرت حذیفہ بن اسید غفاریؓ فرماتے ہیں کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے پاس تشریف لائے تو ہم آپس میں مذاکرہ کر رہے تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا کیا باتیں کر رہے ہو؟۔ حاضرین نے کہا قیامت کی باتیں کر رہے ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب تک تم دس علامات نہ دیکھ لو قیامت نہیں آئے گی۔ پس آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ دس علامات بیان فرمائیں: (۱)دخان (دھواں)۔ (۲)دجال۔ (۳)دابۃ الارض (جو نہایت عجیب وغریب جانور ہوگا)۔ (۴)آفتاب کا مغرب کی جانب سے طلوع۔ (۵)عیسیٰ بن مریم علیہ السلام کا نزول۔ (۶)یاجوج وماجوج کا ظہور۔ (۷)تین بڑے بڑے زمین میں دھنس جانے کے واقعات ایک مشرق میں۔ (۸)ایک مغرب میں۔ (۹)ایک جزیرۂ عرب میں۔ (۱۰)سب سے آخر میں ایک آگ یمن سے نکلے گی جو لوگوں کو ان کے محشر کی طرف ہانک کر لے جائے گی۔‘‘

فائدہ… حدیث مذکور سے ثابت ہوتا ہے کہ قیامت کا آنا یقینی ہے مگر اس سے پہلے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا نزول چند اور علامات کے ساتھ بھی اتنا ہی یقینی ہے۔ یہاں تک کہ ان کی تشریف آوری سے قبل قیامت کا تصور کرنا گویا بے حقیقت بات ہے۔ شاہ رفیع الدینؒ نے اپنے رسالہ ’’علامات قیامت‘‘ میں علامات قیامت کی دو قسمیں قرار دی ہیں۔ (۱)صغریٰ (چھوٹی)۔

279

(۲)کبریٰ (بڑی) اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا نزول علامات کبریٰ میں شامل فرمایا ہے۔

سیدنا امام مہدی علیہ الرضوان … نام ونسب اور حلیہ مبارک:

حدیث نمبر۳۱… ’’عَنْ عَبْدِاللّٰہِ ؓ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِﷺ لَا تَذْھَبُ الدُّنْیَا حَتّٰی یَمْلِکَ الْعَرَبَ رَجُلُٗ مِّنْ اَہْلِ بَیْتِیْ یُوَاطِیُٔ اِسْمُہٗ اِسْمِیْ۔‘‘ (ترمذی، ج:۲، ص:۴۷)

ترجمہ:... ’’حضرت عبداﷲ بن مسعودؓ روایت فرماتے ہیں کہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: دنیا کا اس وقت تک خاتمہ نہیں ہوگا جب تک کہ میرے اہل بیت سے ایک شخص عرب پر حاکم نہ ہو۔ جو میرے ہم نام ہوگا۔‘‘

فائدہ… ابوداؤد میں ہے کہ حضرت علیؓ نے اپنے فرزند حضرت حسنؓ کی طرف دیکھ کر فرمایا۔ میرا یہ فرزند سید ہوگا۔ جیسا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلمنے اس کے متعلق فرمایا ہے اور اس کی نسل سے ایک شخص پیدا ہوگا جس کا نام تمہارے نبی کے نام پر ہوگا وہ عادات میں آپصلی اللہ علیہ وسلم کے مشابہ ہوگا۔ لیکن صورت میں مشابہ نہ ہوگا۔

حدیث نمبر۳۲… ’’عَنْ اُمِّ سَلَمَۃَؓ قَالَتْ سَمِعَتُ رَسُوْلَ اللّٰہِﷺ یَقُوْلُ: اَلْمَہْدِیُّ مِنْ وُّلْدِ فَاطِمَۃَ۔‘‘ (ابن ماجہ، ص:۳۰۰)

ترجمہ:...’’حضرت ام سلمہؓ فرماتی ہیں کہ میں نے رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ امام مہدی علیہ الرضوان حضرت فاطمہؓ کی اولاد میں سے ہوں گے۔‘‘

حدیث نمبر۳۳… ’’عَنْ اَبِیْ سَعِیْدِنِ الْخُدْرِیِّؓ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِﷺ اَلْمَہْدِیُّ مِنِّیْ اَجْلَی الْجَبْہَۃِ اَقْنَی الْاَنْفِ یَمْلَأُ الْاَرْضَ قِسْطًا وَّعَدْلًا کَمَا مُلِئَتْ ظُلْمًا وَّجَوْرًا وَیَمْلِکُ سَبْعَ سِنِیْنَ۔‘‘ (ابوداؤد، ج:۲، ص:۱۳۱)

ترجمہ:...’’حضرت ابو سعید خدریؓ روایت فرماتے ہیں کہ رسول اﷲصلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مہدی (علیہ الرضوان) میری اولاد میں سے

280

ہوگا۔ جس کی پیشانی کشادہ اور ناک بلند ہوگی۔ دنیا کو عدل وانصاف سے پھر بھردے گا۔ جب کہ اس وقت وہ ظلم وستم سے بھرچکی ہوگی۔ ان کی حکومت سات سال تک رہے گی۔‘‘

حدیث نمبر۳۴… ’’عَنْ اَبِیْ سَعِیْدِنِ الْخُدْرِیِّؓ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِﷺ مِنَّا الَّذِیْ یُصَلِّیْ عِیْسَی ابْنُ مَرْیَمَ خَلْفَہٗ۔‘‘

(الحاوی، ج:۲، ص:۶۴)

ترجمہ:... ’’حضرت ابو سعید خدریؓ روایت کرتے ہیں کہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔ ہم میں سے ایک شخص ایسا ہوگا جس کے پیچھے عیسیٰ ابن مریم علیہ السلام اقتداء فرمائیںگے۔‘‘

حدیث نمبر۳۵… ’’عَنْ جَابِرٍؓ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِﷺ یَکُوْنُ فِیْ اٰخِرِ اُمَّتِیْ خَلِیْفَۃُٗ یَحْثِی الْمَالَ حَثْیًا وَلَا یَعُدُّہٗ عَدٍّا۔‘‘ (مسلم ،ج:۲، ص:۳۹۵)

ترجمہ:...’’حضرت جابرؓ روایت فرماتے ہیں کہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔ میری امت کے آخر میں ایک خلیفہ ہوگا جو مال دونوں ہاتھ سے بھر بھر کر دے گا اور اس کو شمار نہیں کرے گا۔‘‘

احادیث مبارکہ دربارہ دجال اکبر

حدیث نمبر۳۶… ’’عَنْ عِمْرَانَ بْنَ حُصَیْنِؓ قَالَ سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِﷺ یَقُوْلُ: مَا بَیْنَ خَلْقِ اٰدَمَ اِلیٰ قِیَامِ السَّاعَۃِ اَمْرُٗ اَکْبَرُ مِنَ الدَّجَّالِ۔‘‘ (مسلم، ج:۲، ص:۴۰۵)

ترجمہ:...’’حضرت عمران بن حصینؓ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ آدم ؑ کی پیدائش سے لے کر قیامت آنے تک دجال سے زیادہ بڑا اور کوئی فتنہ نہیں ہے۔‘‘

حدیث نمبر۳۷… ’’عَنْ حُذَیْفَۃَؓ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِﷺ اَلدَّجَّالُ اَعْوَرُالْعَیْنِ الْیُسْرٰی، جُفَالُ الشَّعْرِ، مَعَہٗ
281
جَنَّتُہٗ وَنَارُہٗ، فَنَارُہٗ جَنَّۃُٗ وَجنَّتُہٗ نَارُٗ۔‘‘ (مسلم، ج:۲، ص:۴۰۰)

ترجمہ:... ’’حضرت حذیفہؓ روایت فرماتے ہیں کہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔ دجال بائیں آنکھ سے کانا ہوگا۔ اس کے جسم پر بہت گھنے بال ہوں گے اور اس کے ساتھ اس کی جنت اور دوزخ بھی ہوگی۔ لیکن جو اس کی جنت نظر آئے گی دراصل وہ دوزخ ہوگی اور جو دوزخ نظر آئے گی وہ اصل میں جنت ہوگی۔ (لہٰذا جس کو وہ جنت بخشے گا وہ دوزخی ہوگا اور جس کو اپنی دوزخ میں ڈالے گا وہ جنتی ہوگا)۔‘‘

حدیث نمبر۳۸… ’’عَنْ اَبِیْ عُبَیْدَۃ ابْنِ الْجَرَّاحِؓ قَالَ سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِﷺ یِقُوْلُ: اِنَّہٗ لَمْ یَکُنْ نَبِیُّٗ بَعْدَ نُوْحٍ اِلَّاوَقَدْ اَنْذَرَ قَوْمَہٗ اَلدَّجَّالَ وَاِنِّیْ اُنْذِرُ کُمُوْہُ۔‘‘

(ترمذی، ج:۲، ص:۴۷)

ترجمہ:...’’حضرت ابوعبیدہ بن جراحؓ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے خود سنا ہے کہ حضرت نوح علیہ السلام کے بعد جو نبی آیا ہے۔ اس نے اپنی قوم کو دجال سے ضرور ڈرایا ہے اور میں بھی تم کو اس سے ڈراتا ہوں۔‘‘

حدیث نمبر۳۹… ’’عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَؓ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِﷺ: اَلَا اُخْبِرُکُمْ عَنِ الدَّجَّالِ حَدِیْثًا مَاحَدَّثَہٗ نَبِیُّٗ قَوْمَہٗ اِنَّہٗ اَعْوَرُ وَاِنَّہٗ یَجیِْیُٔ مَعَہٗ مِثْلَ الْجَنَّۃِ وَالنَّارِ فَالَّتِی یَقُوْلُ اِنَّہَا الْجَنَّۃُ ہِیَ النَّارُ وَاِنِّیْ اُنْذِرْتُکُمْ بِہٖ کَمَا اَنْذَرَ بِہٖ نُوْحُٗ قَوْمَہٗ۔‘‘

(مسلم، ج:۲، ص:۴۰۰)

ترجمہ:...’’حضرت ابوہریرہؓ روایت فرماتے ہیں کہ رسول اﷲصلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا میں تم کو دجال کے متعلق ایسی بات نہ بتاؤں جو آج تک کسی نبی نے اپنی امت کو نہ بتائی ہو۔ دیکھو وہ کانا ہوگا اور اس کے ساتھ جنت اور دوزخ کے نام سے دو شعبدے بھی ہوں گے۔ تو جس کو وہ

282

جنت کہے گا وہ درحقیقت دوزخ ہوگی۔ دیکھو دجال سے میں بھی تم کو اسی طرح ڈراتا ہوں۔ جیسا کہ نوح علیہ السلام نے اپنی قوم کو ڈرایا تھا۔

حدیث نمبر۴۰… ’’عَنْ عِمْرَانَ ابْنِ حُصَیْنٍؓ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِﷺ مَنْ سَمِعَ بِالدَّجَّالِ فَلْیَنَائُ مِنْہُ فَوَاللّٰہِ اِنَّ الرَّجُلَ لَیَأْتِیْہِ وَھُوَ یَحْسَبُ اَنَّہٗ مُؤْمِنُٗ فَیَتَّبِعُہٗ مِمَّا یُبْعَثُ مَعَہٗ مِنَ الشُّبْہَاتِ۔‘‘ (ابوداؤد ج۲ ص۱۳۴)

ترجمہ:...’’حضرت عمران ابن حصینؓ روایت فرماتے ہیں کہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔ دیکھو جو شخص دجال کی خبر سنے اس کو چاہئے کہ وہ اس سے دور ہی دور رہے۔ بخدا! ایک شخص کو اپنے دل میں یہ خیال ہوگا کہ وہ مؤمن آدمی ہے۔ لیکن ان عجائبات کو دیکھ کر جو اس کے ساتھ ہوں گے وہ بھی اس کے پیچھے لگ جائے گا۔‘‘

اللہم انا نعوذ بک من فتنۃ المسیح الدجال!

  1. واٰخرد عوانا ان الحمد للذی

    لنصرۃ دین الحق کان ہدانی

  2. وصلی علی خاتم النبیین دائما

    وسلم ما دام اعتلی القمران

283

قیامت اور علامات قیامت

قیامت حضرت اسرافیل علیہ السلام کی اس خوفناک چیخ کا نام ہے۔ جس سے پوری کائنات زلزلہ میں آجائے گی۔ اس ہمہ گیر زلزلہ کے ابتدائی جھٹکوں ہی سے دہشت زدہ ہوکر دودھ پلانے والی مائیں اپنے دودھ پیتے بچوں کو بھول جائیںگی۔ حاملہ عورتوں کے حمل ساقط ہو جائیںگے۔ اس چیخ اور زلزلہ کی شدت دم بدم بڑھتی جائے گی۔ جس سے تمام انسان اور جانور مرنے شروع ہو جائیںگے۔ یہاں تک کہ زمین وآسمان میں کوئی جاندار زندہ نہ بچے گا۔ زمین پھٹ پڑے گی۔ پہاڑ دھنی ہوئی روئی کی طرح اڑتے پھریںگے۔ ستارے اور سیارے ٹوٹ ٹوٹ کر گر پڑیںگے۔ آفتاب کی روشنی فنا اور پورا عالم تیرہ وتار ہو جائے گا۔ آسمانوں کے پرخچے اڑ جائیںگے اور پوری کائنات موت کی آغوش میں چلی جائے گی۔ اس عظیم دن کی خبر تمام انبیاء کرام علیہم السلام اپنی اپنی امتوں کو دیتے چلے آئے تھے۔ مگر رسول خدا، محمد مصطفی، احمد مجتبیٰ صلی اللہ علیہ وسلم نے آکر بتایا کہ قیامت قریب آپہنچی اور میں اس دنیا میں اﷲ کا آخری پیغمبر اور رسول ہوں۔

قرآن حکیم نے بھی اعلان کیا:

’’اِقْتَرَبَتِ السَّاعَۃُ وَانْشَقَّ الْقَمَرُ‘‘

ترجمہ: ’’قیامت نزدیک آپہنچی اور چاند شق ہوگیا۔‘‘

اور یہ کہہ کر سب لوگوں کو چونکایا:

’’فَہَلْ یَنْظُرُوْنَ اِلاَّ السَّاعَۃَ اَنْ تَأْتِیَہُمْ بَغْتَۃً فَقَدْ جَآئَ اَشْرَاطُہَا فَانّٰی لَہُمْ اِذَا جَآئَ تْہُمْ ذِکْرَاہُمْ۔‘‘

ترجمہ: ’’سو کیا یہ لوگ بس قیامت کے منتظر ہیں کہ وہ ان پر دفعتہ آپڑے؟ سو یاد رکھو کہ اس کی متعدد علامات آچکی ۔ پس جب قیامت ان کے سامنے آکھڑی ہوگی۔ اس وقت ان کو سمجھنا کہاں میسر ہوگا۔‘‘

لیکن قیامت کب آئے گی۔ اس کی ٹھیک ٹھیک تاریخ تو کجا، سال اور صدی تک اﷲ کے سوا کسی کو معلوم نہیں۔ یہ ایسا راز ہے جو خالق کائنات نے کسی فرشتہ یا نبی کو بھی نہیں بتایا۔ جبریل علیہ السلام نے رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا تو ان کو بھی یہی جواب ملا کہ: ’’مَا الْمَسْئُوْلُ عَنْہَا بِاَعْلَمَ مِنَ السَّائِلِ‘‘ {جس سے پوچھا جارہا ہے وہ سائل سے زیادہ نہیں جانتا۔}

284

قرآن حکیم نے بھی بتادیا کہ قیامت کے مقررہ وقت کا علم اﷲ کے سوا کسی کو نہیں: ’’اِنَّ اﷲ َعِنْدَہٗ عِلْمُ السَّاعَۃِ‘‘ {بے شک قیامت کی خبر اﷲ ہی کو ہے۔}’’اِلیٰ رَبِّکَ مُنْتَہٰہَا‘‘ {اس کے علم کی تعیین کا مدار صرف آپ کے رب کی طرف ہے۔}

اہمیت علامات قیامت:

البتہ قیامت کی علامات انبیاء سابقین علیہم السلام نے بھی اپنی اپنی امتوں کو بتلائی تھیں۔ چونکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد کوئی نیا نبی آنے والا نہ تھا۔ اس لئے آپ نے اس کی علامات سب سے زیادہ تفصیل سے ارشاد فرمائیں۔ تاکہ لوگ یوم آخرت کی تیاری کریں۔ اعمال کی اصلاح کرلیں اور نفسانی خواہشات ولذات میں انہماک سے باز آئیں اور آنے والے جمیع فتنوں سے بچ کر اپنے ایمان محفوظ کر سکیں۔

آپ صحابہ کرامؓ کو انفراداً واجتماعاً کبھی اجمال اور کبھی تفصیل سے ان علامات کی تعلیم فرماتے رہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی تبلیغ کا کتنا اہتمام فرمایا اس کا اندازہ صحیح مسلم کی ان دو روایتوں سے کریں۔

۱… حضرت ابوزیدؓ فرماتے ہیں کہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں فجر کی نماز پڑھائی اور منبر پر چڑھ کر ہمارے سامنے خطبہ دیا۔ یہاں تک کہ ظہر کی نماز کا وقت ہوگیا۔ پس آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اتر کر نماز پڑھائی۔ پھر منبر پر تشریف لے گئے اور ہمیں خطبہ دیتے رہے۔ یہاں تک کہ عصر کا وقت ہوگیا۔ پھر اتر کر نماز پڑھائی۔ پھر منبر پر تشریف لے گئے اور ہمیں خطبہ دیتے رہے۔ یہاں تک کہ آفتاب غروب ہوگیا۔ پس آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں اس خطبہ میں ان اہم واقعات کی خبر دی جو ہوچکے اور جو آئندہ ہونے والے ہیں۔ ہم میں سے جس کا حافظہ زیادہ قوی تھا وہی ان واقعات کو زیادہ جاننے والا ہے۔

(صحیح مسلم ،ج:۲، ص:۳۹۰)

۲… حضرت حذیفہؓ فرماتے ہیں کہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے درمیان کھڑے ہوئے۔ اس قیام میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے قیامت تک ہونے والا کوئی اہم واقعہ نہیں چھوڑا جو ہمیں نہ بتلایا ہو۔ جس نے یاد رکھا، یاد رکھا۔ جو بھول گیا، بھول گیا۔ میرے یہ ساتھی بھی یہ بات جانتے ہیں اور آپ نے ہمیں جن واقعات کی خبر دی ان میں سے جو میں بھول گیا ہوں وہ بھی جب رونما ہوتا ہے تو مجھے یاد آجاتا ہے۔ جیسے کوئی آدمی جب غائب ہوتو آدمی اس کا چہرہ بھول

285

جاتا ہے۔ پھر جب وہ نظر پڑتا ہے تو یاد آجاتا ہے۔

(صحیح مسلم، ج:۲، ص:۳۹۰)

امت نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی دیگر احادیث کی طرح علامات قیامت کی حدیثیں بھی محفوظ رکھنے اور آئندہ نسلوں تک پہنچانے کا بڑا اہتمام کیا۔ حتیٰ کہ بچوں کو ابتدائے عمر ہی سے یہ احادیث یاد کرائی جاتی تھیں۔ کتب حدیث میں اس باب کی احادیث کا ایک عظیم ذخیرہ محفوظ ہے۔ جو نسلاً بعد نسلٍ حفظ وروایت کے ذریعہ ہم تک پہنچا ہے۔

کیفیت علامات:

علامات قیامت میں بعض واقعات کی تو اتنی تفصیلات ملتی ہیں کہ بہت چھوٹی چھوٹی چیزوں کی نشاندہی بھی موجود ہے۔ مثلاً فتنۂ دجال اور نزول مسیح عیسیٰ بن مریم علیہ السلام کے دور کی اتنی تفصیلات بیان فرمادی گئیں کہ کسی دوسری علامت میں اس کی نظیر نہیں ملتی۔ وجہ یہ ہے کہ فتنۂ دجال مؤمنین کے ایمان کی نہایت کڑی آزمائش ہوگا۔ اگر اس کی تفصیلات لوگوں کے سامنے نہ ہوں تو دجال کے دام فریب میں پھنس جانے کا قوی اندیشہ ہے اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا حلیہ مبارک اور دیگر تفصیلات بھی اس لئے ضروری تھیں کہ کوئی بوالہوس اگر مسیح موعود ہونے کا دعویٰ کر بیٹھے (جیسا کہ مرزاقادیانی ملعون) تو اس کے مکروفریب کا پردہ چاک کیا جاسکے اور جب وہ تشریف لائیں تو ان کو بآسانی پہچان کر مسلمان ان کے جھنڈے تلے آکر دجال سے جہاد کر سکیں۔ یہی حال امام مہدی علیہ الرضوان کی تفصیلات کا ہے۔

اتنی کثیر علامات اور ان کی تفصیلات سے بعض اوقات قاری (پڑھنے والا) یہ توقع بھی کرنے لگتا ہے کہ واقعات کی کڑیاں ملاکر وہ قیامت کا ٹھیک ٹھیک زمانہ متعین کرنے میں کامیاب ہو جائے گا۔ لیکن نہ ایسا ہوا ہے اور نہ ہوسکے گا۔ کیونکہ قرآن کریم کا واضح ارشاد ہے۔ ’’لَا تَأْتِیْکُمْ اِلَّا بَغْتَۃً‘‘ {کہ قیامت تم پر اچانک آپڑے گی۔} وجہ یہ ہے کہ اوّل تو بہت سی علامات میں ترتیب کا ادراک نہیں ہوتا کہ کون سا واقعہ پہلے اور کون سا بعد میں ہوگا اور جن واقعات کی ترتیب احادیث مبارکہ میں بیان کر دی گئی ہے۔ ان میں بھی متعدد مقامات پر یہ پتہ نہیں چلتا کہ دونوں واقعوں کے درمیان کتنے زمانہ کا فاصلہ ہے۔ پھر بہت سی احادیث میں ایسا اجمال ہے کہ ان کی مراد یقینی طور پر متعین نہیں ہوتی۔ حتیٰ کہ بعض مقامات پر پڑھنے والے کو تعارض کا شبہ ہونے لگتا ہے۔ حالانکہ وہاں اجمال ہے تعارض نہیں۔ (یہ اصول یاد رکھا جائے تو انشاء اﷲ بے شمار

286

اشکالات وشبہات خصوصاً آج کل کی اخبارات ومیڈیا سے اٹھنے والوں کا حل مل جائے گا)۔

علامات قیامت کی تین قسمیں:

قرآن پاک میں جو علامات قیامت ارشاد فرمائی گئی ہیں۔ وہ زیادہ تر ایسی علامات ہیں جو بالکل قرب قیامت میں ظاہر ہوںگی اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے احادیث مبارکہ میں قریب اور دور کی چھوٹی بڑی ہر قسم کی علامات بیان فرمائی ہیں۔ علامہ محمد بن عبدالرسول برزنجیؒ (متوفی۱۰۴۰ھ) نے اپنی کتاب ’’الاشاعۃ لا شراط الساعۃ‘‘ میں علامات قیامت کی تین قسمیں بیان کی ہیں۔ (۱)علامات بعیدہ۔ (۲)علامات متوسطہ جن کو علامات صغریٰ بھی کہا جاتا ہے۔ (۳)علامات قریبہ جن کو علامات کبریٰ بھی کہا جاتا ہے۔

قسم اوّل (علامات بعیدہ):

علامات بعیدہ وہ ہیں جن کا ظہور کافی پہلے ہوچکا ہے۔ ان کو بعیدہ اس لئے کہا جاتا ہے کہ ان کے اور قیامت کے درمیان نسبتاً زیادہ فاصلہ ہے۔ مثلاً رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت، شق القمر کا واقعہ، رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات، جنگ صفین وغیرہ۔ یہ واقعات ازروئے قرآن وحدیث علامات قیامت میں سے ہیں اور ظہور پذیر ہوچکے ہیں۔

قسم دوم (علامات متوسطہ):

قیامت کی علامات متوسطہ وہ ہیں جو ظاہر تو ہوگئی ہیں۔ مگر ابھی انتہاء کو نہیں پہنچیں۔ ان میں روز افزوں اضافہ ہو رہا ہے اور ہوتا جائے گا۔ یہاں تک کہ تیسری قسم کی علامات ظاہر ہونے لگیں گی۔علامات متوسطہ کی فہرست بھی بہت طویل ہے۔ مثلاً رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا کہ

۱…لوگوں پر ایک زمانہ ایسا آئے گا کہ دین پر قائم رہنے والے کی حالت اس شخص کی طرح ہوگی جس نے انگارے کو اپنی مٹھی میں پکڑ رکھا ہو۔

۲…دنیاوی اعتبار سے سب سے زیادہ نصیبہ ور وہ شخص ہوگا جو خود بھی کمینہ ہو اور اس کا باپ بھی کمینہ ہو۔

۳…لیڈر بہت اور امانت دار کم ہوں گے۔

۴…قبیلوں اور قوموں کے لیڈر منافق، رذیل ترین اور فاسق ہوں گے۔

۵…بازاروں کے رئیس فاجر ہوں گے۔

287

۶…پولیس کی کثرت ہوگی جو ظالموں کی پشت پناہی کرے گی۔

۷…بڑے عہدے نااہلوں کو ملیںگے۔

۸…لڑکے حکومت کرنے لگیںگے۔

۹…تجارت بہت پھیل جائے گی، یہاں تک کہ تجارت میں عورت اپنے شوہر کا ہاتھ بٹائے گی۔ مگر کساد بازی ایسی ہوگی کہ نفع حاصل نہ ہوگا۔

۱۰…ناپ تول میں کمی کی جائے گی۔

۱۱…لکھنے کا رواج بہت بڑھ جائے گا۔ مگر تعلیم محض دنیا کے لئے حاصل کی جائے گی۔

۱۲…قرآن کو گانے بجانے کا آلہ بنالیا جائے گا۔

۱۳…ریاشہرت اور مالی منفعت کے لئے گاگا کر قرآن پڑھنے والوں کی کثرت ہوگی اور فقہاء کی قلت ہوگی۔

۱۴…علماء کو قتل کیا جائے گا اور ان پر ایسا سخت وقت آئے گا کہ وہ سرخ سونے سے زیادہ اپنی موت کو پسند کریں گے۔

۱۵…اس امت کے آخری لوگ پہلے لوگوں پر لعنت کریں گے۔

۱۶…امانتدار کو خائن اور خائن کو امانتدار کہا جائے گا۔

۱۷…جھوٹے کو سچا اور سچے کو جھوٹا کہا جائے گا۔

۱۸…اچھائی کو برا اور برائی کو اچھا سمجھا جائے گا۔

۱۹…اجنبی لوگوں سے حسن سلوک کیا جائے گا اور رشتہ داروں کے حقوق پامال کئے جائیںگے۔

۲۰…بیوی کی اطاعت اور ماں باپ کی نافرمانی ہوگی۔

۲۱…مسجدوں میں شوروشغب اور دنیا کی باتیں ہوںگی۔

۲۲…سلام صرف جان پہچان کے لوگوں کو کیا جائے گا۔ (حالانکہ دوسری احادیث میں ہے کہ سلام ہر مسلمان کو کرنا چاہئے۔ خواہ اس سے جان پہچان ہو یا نہ ہو)

۲۳…طلاقوں کی کثرت ہوگی۔

۲۴…نیک لوگ چھپتے پھریںگے اور کمینے لوگوں کا دور دورہ ہوگا۔

۲۵…لوگ فخر اور ریا کے طور پر اونچی اونچی عمارتیں بنانے میں ایک دوسرے کا مقابلہ کریں گے۔

288

۲۶…شراب کا نام نبیذ، سود کا نام بیع اور رشوت کا نام ہدیہ رکھ کر انہیں حلال سمجھا جائے گا۔

۲۷…سود، جوا، گانے باجے کے آلات، شراب خوری اور زناء کی کثرت ہوگی۔

۲۸…بے حیائی اور حرامی اولاد کی کثرت ہوگی۔

۲۹…دعوت میں کھانے پینے کے علاوہ عورتیں بھی پیش کی جائیںگی۔

۳۰…ناگہانی اور اچانک اموات کی کثرت ہوگی۔

۳۱…لوگ موٹی موٹی گدیوں (سواریوں) پر سواری کر کے مسجدوں کے دروازے تک آئیںگے۔

۳۲…ان کی عورتیں کپڑے پہنتی ہوںگی مگر لباس باریک اور چست ہونے کے باعث وہ ننگی ہوںگی۔ ان کے سر بختی اونٹ کے کوہان کی طرح ہوں گے۔ لچک لچک کر چلیںگی اور لوگوں کو اپنی طرف مائل کریںگی۔ یہ لوگ نہ جنت میں داخل ہوں گے، نہ اس کی خوشبو پائیںگے۔

۳۳…مؤمن آدمی ان کے نزدیک باندی سے بھی زیادہ رذیل ہوگا۔

۳۴…مؤمن ان برائیوں کو دیکھے گا۔ مگر انہیں روک نہ سکے گا۔ جس کے باعث اس کا دل اندر ہی اندر گھلتا رہے گا۔

علامات متوسطہ میں اور بھی بہت سی علامات ہیں۔ ان سب کی خبر رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسے دور میں دی تھی جب کہ ان کا تصور بھی مشکل تھا۔ مگر آج ہم ان سب کا مشاہدہ اپنی آنکھوں سے کر رہے ہیں۔ کوئی علامت اپنی انتہاء کو پہنچی ہوئی ہے اور کوئی ابتدائی مراحل سے گذر رہی ہے۔ جب یہ سب علامات اپنی انتہاء کو پہنچیں گی تو قیامت کی بڑی اور قریبی علامات کا سلسلہ شروع ہوگا۔ اﷲ عزوجل ہمیں ہر فتنہ کے شر سے محفوظ رکھے اور سلامتی ایمان کے ساتھ قبر تک پہنچا دے۔آمین!

قسم سوم (علامات قریبہ):

یہ علامات بالکل قرب قیامت میں یکے بعد دیگرے ظاہر ہوںگی۔ یہ بڑے بڑے عالمگیر واقعات ہوں گے۔ لہٰذا ان کو علامات کبریٰ بھی کہا جاتا ہے۔ مثلاً ظہور مہدی علیہ الرضوان، خروج دجال، نزول عیسیٰ علیہ السلام، خروج یاجوج ماجوج، آفتاب کا مغرب سے طلوع اور دابۃ الارض کا نکلنا اور یمن سے نکلنے والی آگ وغیرہ۔ جب اس قسم کی تمام علامات ظاہر ہو چکیں گی تو کسی وقت بھی اچانک قیامت آجائے گی۔

289

خطبہ جمعتہ المبارک

خطبۂ اولیٰ

’’اَلْحَمْدُلِلّٰہِ الَّذِیْ نَوَّرَ قُلُوْبَ الْعَارِفِیْنَ بِنُوْرِ الْاِیْمَانِ، وَشَرَحَ صُدُوْرَ الصَّادِقِیْنَ بِالتَّوْحِیْدِ وَالْاِیْقَانِ، وَصَلَّی اللّٰہُ تَعَالیٰ عَلیٰ خَیْرِ خَلْقِہٖ مُحَمَّدٍ وَّعَلیٰ اٰلِہٖ وَاَصْحَابِہٖ اَجْمَعِیْنَ۰ اَمَّا بَعْدُ! فَاَعُوْذُ بِاللّٰہِ مِنَ الشَّیْطٰنِ الرَّجِیْمِ۰ بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ۰ مَاکَانَ مُحَمَّدُٗ اَبَا اَحَدٍ مِّنْ رِّجَالِکُمْ وَلٰکِنْ رَّسُوْلَ اللّٰہِ وَخَاتَمَ النَّبِیِّیْنَ، وَکَانَ اللّٰہُ بِکُلِّ شَیْئٍ عَلِیْمًا۰ قَالَ النَّبِیُّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ: اِنَّہٗ سَیَکُوْنُ فِیْ اُمَّتِیْ کَذَّابُوْنَ ثَلَاثُوْنَ، کُلُّہُمْ یَزْعَمُ اَنَّہٗ نَبِیُّٗ وَاَنَاخَاتَمُ النَّبِیِّیْنَ لَا نَبِیَّ بَعْدِیْ۰ وَقَاَل رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ: اِنَّ النُّبُوَّۃَ وَالرِّسَالَۃَ قَدِ انْقَطَعَتْ، فَلَا رَسُوْلَ بَعْدِیْ وَلَا نَبِیَّ۰ وَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ: اَنَا خَاتَمُ الْاَنْبِیَائِ وَمَسْجِدِیْ خَاتَمُ مَسَاجِدِ الْاَنْبِیَائِ۰ اَلَا اَیُّہَا النَّاسُ! اِنَّ دَعْوَی النُّبُوَّۃِ بَعْدَ نَبِیِّنَا صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ کُفْرُٗ بِالْاِجْمَاعِ، وَمَنِ اعْتَقَدَ وَحْیًا بَعْدَ مُحَمَّدٍ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ کَفَرَ بِاِجْمَاعِ الْمُسْلِمِیْنَ۰ اَلَا اَیُّہَا النَّاسُ! صَارَ الْاِجْمَاعُ مِنَ الْقَرْنِ الْاَوَّلِ اِلیٰ یَوْمِنٰا ہٰذَا عَلیٰ اَنَّہٗ مَنِ ادَّعَی النُّبُوَّۃَ مِنْ مُسَیْلَمَۃِ الْکَذَّابِ اِلیٰ مُسَیْلَمَۃِ الْفَنْجَابِ فَھُوَ کَذَّابُٗ، دَجَّالُٗ، کَاِفرُٗ، مُرْتَدُّٗ وَخَارِجُٗ عَنْ دَائِرَۃِ الْاِسْلَامِ بِلَارَیْبٍ، وَہٰکَذَا کُلُّ مَنْ یَّتَّبِعُ اَحَدًا مِّنْہُمْ، اَلَا اَیُّہَا النَّاسُ! وَحِّدُوا اللّٰہَ تَعَالیٰ! فَاِنَّ التَّوْحِیْدَ رَأْسُ الطَّاعَاتِ وَالْعِبَادَاتِ، وَاتَّقُوا اللّٰہَ! فَاِنَّ التَّقْوٰی مِلَاکُ الْحَسَنَاتِ، وَعَلَیْکُمْ بِالسُّنَّۃِ! فَاِنَّ السُّنَّۃَ تَہْدِیْ اِلَی الْاِطَاعَۃِ وَمَنْ اَطَاعَ اللّٰہَ وَرَسُوْلَہٗ فَقَدْ رَشَدَ وَاہْتَدٰی، وَاِیَّاکُمْ وَالْبِدْعَۃَ! فَاِنَّ الْبِدْعَۃَ تَہْدِیْ اِلَی الْمَعْصِیَۃِ وَمَنْ یَّعْصِ اللّٰہَ وَرَسُوْلَہٗ فَقَدْ ضَلَّ وَغَوٰی، وَعَلَیْکُمْ بِالْاِحْسَانِ! فَاِنَّ اللّٰہَ یُحِبُّ الْمُحْسِنِیْنَ بَارَکَ اللّٰہُ لَنَا وَلَکُمْ فِیْ الْقُرْاٰنِ الْعَظِیْمِ، وَنَفَعَنَا وَاِیَّاکُمْ بِالْاٰیَاتِ وَالذِّکْرِ الْحَکِیْمِ، اِنَّہٗ تَعَالیٰ جَوَّادُٗ کَرِیْمُٗ، مَلِکُٗ، بَرُّٗ، رَوٗٔفُٗ، رَحِیْمُٗ‘‘
290

خطبۂ ثانیہ

’’اَلْحَمْدُلِلّٰہِ نَحْمَدُہٗ وَنَسْتَعِیْنُہٗ وَنَسْتَغْفِرُہٗ وَنُؤْمِنُ بِہٖ وَنَتَوَکَّلُ عَلَیْہِ وَنَعُوْذُ بِاللّٰہِ مِنْ شُرُوْرِ اَنْفُسِنَا وَمِنْ سَیِّئَاتِ اَعْمَالِنَا۰ مَنْ یَہْدِہِ اللّٰہُ فَلَا مُضِلَّ لَہٗ وَمَنْ یُّضْلِلْہُ فَلَا ہَادِیَ لَہٗ۰ وَنَشْہَدُ اَنْ لَّا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ وَحْدَہٗ لَا شَرِیْکَ لَہٗ وَنَشْہَدُ اَنَّ سَیِّدَنَا وَمَوْلَانَا مُحَمَّدًا عَبْدُہٗ وَرَسُوْلُہٗ۰ اَمَّا بَعْدُ! فَاَعُوْذُ بِاللّٰہِ مِنَ الشَّیْطٰنِ الرَّجِیْمِ۰ بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ۰ وَمَا قَتَلُوْہٗ یَقِیْنًا۰ بَلْ رَّفَعَہُ اللّٰہُ اِلَیْہِ ط وَکَانَ اللّٰہُ عَزِیْزًا حَکِیْمًا۰ َوقَال تَعَالیٰ: وَاِنَّہٗ لَعِلْمُٗ لِّلسَّاعَۃِ فَلَا تَمْتَرُنَّ بِہَا وَاتَّبِعُوْنِ۰ ہٰذَا صِرَاطُٗ مُّسْتَقِیْمُٗ۰ وَلَا یَصُدَّنَّکُمُ الشَّیْطَانُ، اِنَّہٗ لَکُمْ عَدُوُّ مُّبِیْنُٗ۰ قَالَ النَّبِیُّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ: وَالَّذِیْ نَفْسِیْ بِیَدِہٖ لَیُوْشِکَنَّ اَنْ یَّنْزِلَ فِیْکُمْ اِبْنُ مَرْیَمَ حَکَمًا عَدْلًا، فَیَکْسِرُ الصَّلِیْبَ، وَیَقْتُلُ الْخِنْزِیْرَ، وَیَضَعُ الْحَرْبَ، وَیَفِیْضُ الْمَالَ، حَتّٰی لَا یَقْبَلَہٗ اَحَدُٗ، وَتَکُوْنَ السَّجْدَۃُ الْوَاحِدَۃُ خَیْرًا مِّنَ الدُّنْیَا وَمَا فِیْہَا، ثُمَّ یَقُوْلُ اَبُوْھُرَیْرَۃَ: وَاقْرَؤُا اِنْ شِئْتُمْ، وَاِنْ مِّنْ اَہْلِ الْکِتَابِ اِلَّا لَیُؤْمِنَنَّ بِہٖ قَبْلَ مَوْتِہٖ وَیَوْمَ الْقِیَامَۃِ یَکُوْنُ عَلَیْہِمْ شَہِیْدًا۰ وَقَالَ النَّبِیُّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ: لَنْ تَہْلِکَ اُمَّۃُٗ، اَنَا فِیْ اَوَّلِہَا، وَعِیْسَی ابْنُ مَرْیَمْ فِیْ اٰخِرِہَا، وَالْمَہْدِیُّ فِیْ وَسْطِہَا۰اَلَا اَیُّہَا النَّاسُ! صَارَ الْاِجْمَاُع عَلیٰ اَنَّ عِیْسٰی عَلَیْہِ السَّلَامُ حَیُّٗ فِی السَّمَائِ وَسَیَنْزِلُ فِیْ اٰخِرِالزَّمَاِن اِلَی الْاَرْضِ، فَیَکْسِرُ الصَّلِیْبَ، وَیَقْتُلُ الدَّجَّالَ وَالْخِنْزِیْرَ، وَیُؤَیِّدُ دِیْنَنَا بِحَیْثُ یَحْکُمُ بِشَرْعِنَا لَا بِشَرْعِہٖ، فَلِذَا وَجَبَ الْاِعْتِقَادُ عَلَیْہِ وَالْبَیَانُ بِہٖ، وَیُکْفَرُ مُنْکِرُہٗ کَالْفَلَا سَفَۃِ وَالْمِیْرزَائِیّۃِ وَغَیْرِہِمَا مَنِ ادَّعَی الْمَسِیْحِیَّۃَ مِنَ الْفِرَقِ الْبَاطِلَۃِ، اَلّٰلہُمَّ صَلِّ عَلیٰ مُحَمَّدٍم بِعَدَدِ مَنْ صَلّٰی وَصَامَ، وَصَلِّ عَلیٰ مُحَمَّدٍم بِعَدَدِ مَنْ قَعَدَ وَقَامَ، وَصَلِّ کَذَالِکَ عَلیٰ جَمِیْعِ الْاَنْبِیَائِ وَالْمُرْسَلِیْنَ، وَعَلَی الْمَلَائِکَۃِ الْمُقِرَّبِیْنَ، وَعَلیٰ عِبَادِ اللّٰہِ الصَّالِحِیْنَ، خُصُوْصًا عَلیٰ اَفْضَلِ الصَّحَابَۃِ بِالتَّحْقِیْقِ، اَمِیْرِ الْمُؤْمِنِیْنَ سَیِّدِنَا اَبِیْ بَکْرِنِ الصِّدِّیْقِ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالیٰ عَنْہٗ، وَعَلیٰ
291
النَّاطِقِ بِالصَّوَابِ، اَمِیْرِ الْمُؤْمِنِیْنَ سَیِّدِنَا عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالیٰ عَنْہٗ، وَعَلیٰ جَامِعِ الْقُرْاٰنِ، اَمِیْرِ الْمُؤْمِنِیْنَ سَیِّدِنَا عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ، رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالیٰ عَنْہٗ، وَعَلیٰ اَسَدِ اللّٰہِ الْغَالِبِ، اَمِیْرِ الْمُؤْمِنِیْنَ سَیِّدِنَا عَلِیِّ بْنِ اَبِیْ طَالِبٍ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالیٰ عَنْہٗ، وَعَلَی السِّتَّۃِ الْبَاقِیَۃِ مِنَ الْعَشَرَۃِ الْمُبَشَّرَۃِ، وَعَلیٰ اَہْلِ الْبَیْتِ وَجَمِیْعِ الصَّحَابَۃِ وَالتَّابِعِیْنَ، ِرضْوَانُ اللّٰہِ تَعَالیٰ عَلَیْہِمْ اَجْمَعِیْنَ۰ اَلّٰلہُمَّ انْصُرِالْاِسْلَامَ وَالْمُسْلِمِیْنَ۰ وَاَہْلِکِ الْکَفَرَۃَ وَالْفَجَرَۃَ وَالْمِرْزَائِیِّیْنَ وَدَمِّرْاَعْدَائَ نَا، اَعْدَائَ کَ، اَعْدَائَ الدِّیْنِ، اَلّٰلہُمَّ انْصُرْ مَنْ نَّصَرَ دِیْنَ مُحَمَّدٍ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ وَاجْعَلْنَا مِنْہُمْ، وَاخْذُلْ مَنْ خَذَلَ دِیْنَ مُحَمَّدٍ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ وَلَا تَجْعَلْنَا مِنْہُمْ، تَعَادَلُوْا عِبَادَ اللّٰہِ! رَحِمَکُمُ اللّٰہُ! اِنَّ اللّٰہَ یَأْمُرُ بِالْعَدْلِ وَالْاِحْسَانِ وَاِیْتَائِ ذِی الْقُرْبٰی، وَیَنْہٰی عَنِ الْفَحْشَائِ وَالْمُنْکَرِ وَالْبَغْیِ۰ یَعِظُکُمْ لَعَلَّکُمْ تَذَکَّرُوْنَ۰ اُذْکُرُوا اللّٰہَ یَذْکُرْکُمْ وَادْعُوْہُ یَسْتَجِبْ لَکُمْ وَلَذِکْرُ اللّٰہِ تَعَالیٰ، اَعْلیٰ، وَاَوْلیٰ، وَاَکْبَرُ، وَاللّٰہُ یَعْلَمُ مَا تَصْنَعُوْنَ‘‘
292

عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت

کی الیکٹرانک میڈیا پر خدمات

اولاً فری ہوسٹنگ اور فری ڈومین سے 1996ء میں کام کی ابتداء کی گئی، بعد ازاں خواجۂ خواجگان حضرت مولانا خواجہ خان محمد صاحب نور اللہ مرقدہٗ کے دور امارت ہی میں ان کی خصوصی اجازت، دعا اور شفقت سے www.khatm-e-nubuwwat.com کے نام سے 29اپریل2003ء کو ڈومین حاصل کیا گیا اور عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کی تاریخ میں پہلی مرتبہ آفیشل ویب سائٹ کا اجراء ہوا، جس میں ہفت روزہ ختم نبوت اور ماہنامہ لولاک سکین کرکے شائع کئے گئے، یوں حضرت خواجہ صاحب کے فیضان اور شفقت کے زیر سایہ بذریعہ ویب سائٹ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کا پیغام جاری کردیاگیا تھا

بعد ازاں اللہ تعالیٰ کے فضل سے حضرت امیر مرکزیہ رحمۃ اللہ علیہ کی دعائیں رنگ لائیں اور ماہنامہ لولاک کے لئے www.laulak.info ڈومین حاصل کیاگیایہ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کی دوسری ویب سائٹ تھی، جس پر ہر ماہ باقاعدگی سے تازہ شمارہ اپلوڈ کیا جاتا ہے جبکہ گذشتہ 28سال کا مکمل ریکارڈ اوررواں سال (2025)کے 7ماہ کا ریکارڈ موجود ہے جو کہ آن لائن پڑھنے کے علاوہ پی ڈی ایف اور زپ فائل کی سہولت کے ساتھ بھی موجود ہے،ماہنامہ کی تاریخ اجراء سے ماہ رواں تک 333رسائل جو کہ 20984 صفحات پر مشتمل ہیںاور دستیاب ہیں

اسی طرح ہفت روزہ ختم نبوت کے لئے ہفت روزہ کے نام پر ڈومین www.khatm-e-nubuwwat.info حاصل کیا گیا ، یہ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کی تیسری ویب سائٹ ہے، جس پر ہر ہفتہ باقاعدگی سے تازہ شمارہ اپلوڈ کیا جاتا ہے جبکہ گذشتہ 43سال کا مکمل ریکارڈ اوررواں سال (2025)کے 29ہفتوں کا ریکارڈ موجود ہے جو کہ آن لائن پڑہنے کے علاوہ پی ڈی ایف اور زپ فائل کی سہولت کے ساتھ موجود ہے، تاریخ اجراء سے رواں ہفتہ تک 2078رسائل جو کہ 58290صفحات پر مشتمل ہیں اور دستیاب ہیں

علاوہ ازیں عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کی مطبوعہ کتب بھی انٹرنٹ پر مہیاکرنے کے لئے www.emaktaba.info ڈومین حاصل کیا گیاجس پر تحفہ قادیانیت کی 6 جلدیں، تحریک ختم نبوت کی10جلدیں، احتساب قادیانیت کی 60جلدیں(جن کی کمپیوٹر پر سرچ کی سہولت بھی مہیا کی گئی ہے)، محاسبہ قادیانیت کی 30 جلدیں، مصدقہ رپورٹ کی 5 جلدیں، چمنستان ختم نبوت کے گلہائے رنگارنگ کی 5 جلدیں، آئینہ قادیانیت، قادیانی شبہات کے جوابات، قادیانی مذہب کا علمی محاسبہ، أئمہ تلبیس، خطبات شاہین 2جلدیں، قادیانیوں سے فیصلہ کن مناظرے، تذکرہ مجاہدین ختم نبوت، مقدمہ بہاولپور 3جلدیں، گلستان ختم نبوت کے گلہائے رنگارنگ، فراق یاراں، یاد دلبراں، ایک ہفتہ شیخ الہند کے دیس میں، قادیانیوں کے بارے میں وفاقی شرعی عدالت کا فیصلہ، تذکرہ حکیم العصرؒ، تذکرہ خواجہ خواجگانؒ، قادیانی تفاسیر کا تحقیقی و تنقیدی جائزہ، جدید افکار و نظریات، سیدہ فاطمہؓ اور فتاویٰ ختم نبو ت کی 3جلدیں،مذکورہ بالا جملہ کتب کوئی بھی صارف بلا معاوضہ اپنے کمپیوٹر میں پڑھ سکتا ہے اور پی ڈی ایف و زپ فائل اپنے کمپیوٹر میں محفوظ بھی کرسکتا ہے

اور صارفین کی سہولت کے لئے جملہ ویب سائٹس کو ایک پیج پر اکٹھا کردیا گیا ہے اس پیج کا ایڈریس www.amtkn.com ہے جس پر جملہ ویب سائٹس کے لنکس موجود ہیں

علاوہ ازیں بذریعہ ای میل ameer@khatm-e-nubuwwat.com پر رابطہ کرنے والے کو سوالات کا جواب دیا جاتا ہے اور ان جوابات کے لئے اکابر مجلس کی کتب سے استفادہ کرکے انہی کے الفاظ میں جواب دیا جاتا ہے تاکہ برکت بھی شامل حال رہے اور اگر کسی بھی رابطہ کرنے والے کو قادیانی کتب سے حوالے کی ضرورت ہو تو اس کا عکسی ثبوت بذریعہ ای میل مہیا کیا جاتا ہے

الحمد للہ ریڈ اور زپ فائلز کے 3,09,420 صفحات اس وقت نیٹ پر مہیا ہیںجوکہ کسی بھی محقق یا ریسرچ سکالر کے لئے مثل دریا کوزہ میں بند ہے

اورفیس بک پر عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے آفیشل پیج (www.facebook.com/amtkn313)کا اجراء شب برأت 1434 ہجری کو کیا گیا جس پر مجلس کی ترجمانی کی جاتی ہے

293