قادیانی مذہب کا علمی محاسبہ
عزت مآب، عالی جناب محترم پروفیسر محمد الیاس برنی سابق صدر شعبہ معاشیات جامعہ عثمانیہ حیدرآباد دکن کی شہرۂ آفاق کتاب "قادیانی مذہب کا علمی محاسبہ" کو حق تعالیٰ شانہ نے شرف قبولیت سے نوازا، ردقادیانیت پر یہ انسائیکلوپیڈیا کا درجہ رکھتی ہے۔ ردقادیانیت کے محاذ پر کام کرنے والا ہر خوش بخت وخوش نصیب شخص اس سے استفادہ کرنے کا محتاج ہے
بسم اللہ الرحمن الرحیم
| نام کتاب: |
قادیانی مذہب کا علمی محاسبہ |
| مصنف |
پروفیسر محمد الیاس برنی رحمۃ اللہ علیہ |
| صفحات |
۶۹۶ |
| قیمت |
۳۰۰ روپے |
| اشاعت اوّل |
اگست ۱۹۹۵ء |
| اشاعت دوم |
فروری ۲۰۲۰ء |
| مطبع |
شمشاد پرنٹنگ پریس لاہور |
| ناشر |
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت حضوری باغ روڈ ملتان |
دیباچہ
اشاعت ۲۰۲۰ء
’’قادیانی مذہب کا علمی محاسبہ‘‘ محترم پروفیسر محمد الیاس برنی مرحوم سابق صدر شعبہ معاشیات جامعہ
عثمانیہ حیدرآباد دکن کی تصنیف ہے۔ ردقادیانیت پر کام کرنے والے علماء کرام اور مبلغین حضرات اس کتاب کی
اہمیت سے آگاہ ہیں۔ یوں تو ردقادیانیت پر گزشتہ ایک صدی میں ہزارہا کتابیں شائع ہوئی ہیں لیکن اس کتاب کا
انداز منفرد، اچھوتا اور اثرانگیز ہے۔ قادیانیت کے دجل وفریب کو مصنف نے جس طرح بے نقاب کیا اور لوگوں کے
سامنے اس کا اصلی چہرہ دکھایا، یہ انہی کا کارنامہ ہے۔ انہوں نے اپنی طرف سے کچھ لکھنے کے بجائے قادیانیوں
کی کتابوں، رسالوں اور اخبارات سے اقتباسات نقل کرنے پر اکتفاء کیا۔ البتہ اس پر عنوانات اپنی طرف کچھ اس
طرح قائم کئے کہ مضمون کھل کر قارئین پر واضح ہو جاتا ہے۔
یہ کتاب آج سے ۸۰سال قبل شائع ہوئی تھی لیکن اس کی افادیت اور اہمیت میں کمی نہیں آئی بلکہ روزبروز اس
کی مقبولیت، مانگ اور ضرورت میں اضافہ ہوتا رہا۔ پاک وہند میں اس کے کئی ایڈیشن مختلف اداروں نے شائع کئے۔
تقریباً ۲۵سال قبل یہ کتاب کمپیوٹر کمپوزنگ کے ذریعہ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت ملتان نے شائع کی۔ جس کا عکس
انڈیا سے بھی شائع ہوا۔ جسے ہمارے مخدوم حضرت مولانا امیر الہند سید اسعد مدنیc نے شائع کرایا تھا۔
کتاب کے حوالہ جات میں جو جدت کی گئی وہ درج ذیل ہے:
۱… مرزاغلام احمد قادیانی کی کتابوں کے پرانے حوالہ جات کے ساتھ ’’روحانی خزائن‘‘، ’’ملفوظات (یہ پہلے
دس جلدوں میں شائع تھی اور اب قادیانیوں نے پانچ جلدوں میںشائع کئے ہیں۔ دونوں کے حوالہ جات لگا دئیے)‘‘،
’’مجموعہ اشتہارات‘‘ کے ساتھ ’’تبلیغ رسالت‘‘ اور ’’مکتوبات جدید ایڈیشن‘‘ کے بھی حوالہ جات درج کر دئیے گئے
ہیں۔
۲… مرزاغلام احمد قادیانی کے الہامات پر مشتمل کتاب ’’تذکرہ طبع چہارم‘‘ کے حوالے درج کئے گئے ہیں۔
۳… مرزامحمود خلیفہ قادیانی کی کتابوں کے پرانے حوالے کے ساتھ ’’انوار العلوم‘‘، ’’خطبات محمود‘‘ سے
بھی حوالہ جات درج کئے گئے ہیں۔
۴… مرزابشیراحمد ایم۔اے کی کتاب ’’سیرت المہدی‘‘ قدیم ایڈیشن تین جلدوں والی کے حوالہ جات کے ساتھ اب
’’سیرت المہدی‘‘ جدید ایڈیشن چار جلدوں والی کے حوالے درج کر دئیے گئے ہیں۔ اسی طرح ’’سلسلہ احمدیہ‘‘ نامی
ایک کتاب سے حوالے درج کئے گئے ہیں۔
۵… قادیانی اخبارات: الحکم، البدر، الفضل قادیان، الفضل انٹرنیشنل، پیغام صلح لاہور کے حوالہ جات کو
تاریخ، جلد، شمارہ، صفحہ اور کالم نمبر بھی درج کر دیا گیا ہے۔
۶… حوالہ جات میں جہاں کہیں عبارت میں غلطیاں نظر آئیں، نیز بعض الفاظ یا جملے رہ گئے، ان کو مکمل کر
دیاگیا ہے۔
۷… بعض مقامات پر محترم عبدالرحمن یعقوب باوا صاحب نے اکتوبر ۲۰۱۴ء کے ایڈیشن میں اضافے کئے تھے وہ
بھی رہنے دئیے گئے ہیں۔
۸… جامعۃ العلوم الاسلامیہ علامہ بنوری ٹاؤن کراچی کے شعبہ تخصص فی الحدیث کے سربراہ حضرت مولانا
ڈاکٹر عبدالحلیم چشتی دامت برکاتہم نے جناب پروفیسر محمد الیاس برنی پر ایک وقیع مقدمہ تحریر فرمایا تھا جو
ماہنامہ لولاک ملتان میں شائع ہوا۔ اس ایڈیشن میں پہلی بار اسے بھی کتاب کا حصہ بنادیا گیا ہے۔
کتاب کو آپ پڑھیں گے اور دیکھیں گے تو ان شاء اللہ ! خوب سے خوب تر پائیں گے۔ دعاء ہے کہ اللہ تعالیٰ اس
خدمت کو شرف قبولیت بخشے اور آخرت میں نجات کا ذریعہ بنائے۔
ناظم نشرواشاعت عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت ملتان
35
دیباچہ
اشاعت ۱۹۹۵ء
الحمد اللہ وحدہ والصلٰوۃ والسلام علٰی من لا نبی بعدہ۔ اما بعد!
عزت مآب، عالی جناب محترم پروفیسر محمد الیاس برنی سابق صدر شعبہ معاشیات جامعہ عثمانیہ حیدرآباد دکن
کی شہرۂ آفاق کتاب ’’قادیانی مذہب کا علمی محاسبہ‘‘ کو حق تعالیٰ شانہ نے شرف قبولیت سے نوازا۔ ردقادیانیت
پر یہ انسائیکلوپیڈیا کا درجہ رکھتی ہے۔ ردقادیانیت کے محاذ پر کام کرنے والا ہر خوش بخت وخوش نصیب شخص اس
سے استفادہ کرنے کا محتاج ہے۔
اس کتاب کو طبع ہوئے تقیباً پون صدی بیت گئی، لیکن اس کی اہمیت وافادیت پہلے سے زیادہ درخشاں ہے۔
ردقادیانیت تک جتنا لٹریچر شائع ہوا، سب سے زیادہ اسے قبولیت عامہ نصیب ہوئی۔ اس کے متعدد ایڈیشن شائع ہوئے۔
فاضل مصنف ہر نئے ایڈیشن میں اضافے کرتے گئے، تاآنکہ یہ جامع وقابل قدر دستاویز بن گئی۔ آج تک اس کے جتنے
ایڈیشن شائع ہوئے سب لیتھو پر تھے۔ لیتھو کتابت ہر دفعہ نئی کرانی پڑتی ہے۔ اس لئے غلطیاں درغلطیاں ہوتی
گئیں۔ مصنف حیدرآباد دکن کے تھے۔ کتاب لاہور میں چھپتی رہی۔ تصحیح کرنے والے حضرات کو ردقادیانیت پر عبور
حاصل نہ تھا۔ اس لئے بعض غلطیاں اتنی سنگین ہوگئیں، جو کتاب کی ثقاہت کے منافی اور اس کے حسین چہرہ پر داغ
محسوس ہوتی تھیں۔ ورنہ رب کریم کا مصنف پر یہ عظیم کرم واحسان ہے کہ آج تک قادیانی اس کے کسی حوالہ کو چیلنج
نہ کر سکے تھے۔ قادیانی کتب کے ایڈیشن بدلتے رہے۔ صفحات میں فرق آتا رہا۔ آج سے پون صدی قبل کے حوالہ جات آج
کی قادیانی کتب کے ایڈیشنوں میں تلاش کرنے خاصے توجہ طلب مسئلہ تھے۔ کتابت نے ترقی کی۔ لیتھو سے وینڈائیک سے
آفسٹ اور پھر آج کمپیوٹر ان سب کی جگہ پر براجمان ہوگیا۔ سب سے پہلے عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے بزرگ رہنما
حضرت مولانا محمد یوسف لدھیانوی دامت برکاتہم نے ضرورت محسوس کی کہ اس کا جماعت کی طرف سے ایڈیشن شائع ہونا
چاہئے جو آج کی ان تمام ضرورتوں کو پورا کر سکے۔ جدید حوالہ جات لگادئیے جائیں تاکہ حوالہ تلاش کرنے میں
آسانی ہو جائے۔ چنانچہ آپ نے اپنی زیرنگرانی مولانا عزیزالرحمن صاحب مانسہروی کو اس کام پر مقرر کیا۔ مگر اس
میں مشکل یہ پیش آئی کہ کراچی میں مرزاقادیانی کی تو تمام کتابیں موجود تھیں۔ دیگر قادیانی کتب وقادیانی
اخبارات ورسائل تمام کے تمام عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے صدر دفتر ملتان کے کتب خانہ میں تھے۔ اس لئے آپ کا
ایماء وحکم پاکر فقیر نے یہ کام اپنے ذمہ لے لیا۔
۱۹۹۳ء میں ختم نبوت کانفرنس برطانیہ کے موقعہ پر حضرت شیخ الاسلام مولانا سید حسین احمد مدنی رحمۃ
اللہ علیہ کے جانشین اور جمعیۃ علمائے ہند کے سربراہ حضرت مولانا سید اسعد مدنی دامت برکاتہم، حضرت مولانا
سعید احمد پالن پوری استاذ الحدیث دارالعلوم دیوبند ناظم اعلیٰ کل ہند مجلس تحفظ ختم نبوت سے معلوم ہوا کہ
ہندوستان میں وہ حضرات اس کتاب کو شائع کرنا چاہتے ہیں۔ جدید حوالہ جات کی تخریج وتحقیق کے لئے انہوں نے بھی
حکم فرمایا۔ چنانچہ واپسی پر فقیر کو تبلیغی اسفار سے جتنا وقت ملتا رہا، اس پر کام کرتا رہا۔ لیکن اسے جتنا
جلدی ہونا چاہئے تھا، مصروفیت کے باعث اس میں اتنی تاخیر ہوتی گئی۔ بالآخر مجبور ہوکر فقیر نے عالمی مجلس کے
مرکزی ناظم اعلیٰ حضرت مولانا عزیزالرحمن صاحب جالندھری دامت برکاتہم سے استدعاء کر کے اپنے لئے دو معاون
طلب کئے۔ پہلے مولانا عبدالرزاق مجاہد (مبلغ اوکاڑہ)، مولانا عبدالستار نے معاونت فرمائی اور پھر مناظر ختم
نبوت حضرت مولانا خدابخش شجاع آبادی، حضرت مولانا بشیراحمد (مرکزی ناظم نشرواشاعت)، حضرت مولانا عبدالعزیز
(مبلغ خانیوال) نے بھرپور ساتھ دیا۔ یوں تقریباً دو سال کے بعد آج اس کتب کی تخریج وتحقیق کے کام سے سبکدوش
ہوئے ہیں۔
بحمدہٖ تعالیٰ جوں جوں کتاب کو پڑھنے کا موقعہ ملا، مصنف مرحوم کی دیانت وثقاہت پر اتنا ہی ہمارے
اعتماد میں اضافہ ہوتا گیا۔ قادیانی کتب وجرائد کا کوئی ایک بھی حوالہ ایسا نہیں جو اصل ماخذ کے دستیاب ہونے
پر اس میں نہ ملا ہو۔
36
اس کی تخریج وتحقیق میں مندرجہ ذیل اہتمام کیاگیا:
۱… قدیم قادیانی کتب کے حوالہ جات کے ساتھ جدید ایڈیشن کے حوالہ جات دئیے اور بالخصوص اس بات کا
التزام کیاگیا کہ مرزاقادیانی کی کتب کے مجموعہ ’’روحانی خزائن‘‘ مطبوعہ ربوہ ولندن کے حوالہ جات بمع قید
صفحہ وجلد لگادئیے گئے۔
۲… قادیانی اخبارات ورسائل کے حوالہ جات پر پہلے صرف جلد، شمارہ اور تاریخ درج تھی۔ اب اس پر صفحات
بھی لگا دئیے ہیں تاکہ حوالہ کی تلاش کے لئے پورے شمارہ کو پڑھنے کی بجائے متعلقہ صفحہ دیکھ لیا جائے۔
۳… جہاں کہیں کتابت کی غلطیاں تھیں، حتیٰ المقدور ان کی تصحیح کر دی گئی۔
۴… ’’سیرت المہدی‘‘ کے حوالہ جات میں صفحہ نمبر کے ساتھ روایت نمبر درج کر دی گئی۔
۵… جہاں کہیں غلطی کتابت کے باعث عبارت میں معمولی تغیر یا چھوٹ آگئی تھی، اسے درست کر دیا گیا ہے۔
۶… فاضل مصنف کئی بار بعض ناگزیر وجوہات کی بنیاد پر نئے عنوان سے ایک حوالہ کو مکرر لاتے تھے۔ چند
ایک مقامات (پانچ یا چھ) پر عدم ضرورت کے باعث ان کو حذف کر دیا گیا۔ (باقی تمام کو علیٰ حالہ باقی رکھا گیا
تاکہ مصنف کی محنت ضائع نہ ہو)
۷… فاضل مصنف نے عنوان کے ساتھ نمبرنگ کر دی ہے اور فہرست میں صرف نمبرنگ کا حوالہ دیا ہے۔ ہم نے
فہرست میں عنوانات کی نمبرنگ کو بھی علیٰ حالہ باقی رکھا۔ لیکن اس کے آگے صفحات کے نمبر بھی لگا دئیے۔
۸… فاضل مصنف نے ضمیمہ جات کے عنوانات کی فہرست جو ضمیمہ سے پہلے لگائی تھی، ہم نے ان تمام ضمیمہ جات
کے عنوانات کی فہرست کو بھی اصل فہرست کے ساتھ شامل کر دیا ہے تاکہ فہرست پڑھنے والے شخص کے سامنے پوری کتاب
بمعہ ضمیمہ جات کے عنوانات آجائیں۔
۹… مرزاقادیانی کے اشتہارات کا مجموعہ پہلے تبلیغ رسالت کے نام سے دس حصوں میں شائع ہوا تھا۔ فاضل
مصنف نے ان کے صفحات کے نمبر دئیے ہیں۔ اب ربوہ سے تبلیغ رسالت کے دس حصے ’’مجموعہ اشتہارات‘‘ کے نام سے تین
جلدوں میں شائع ہوئے ہیں۔ ہم نے ’’تبلیغ رسالت‘‘ کے حوالہ جات کے ساتھ ساتھ ’’مجموعہ اشتہارات‘‘ کے صفحات
بھی دے دئیے ہیں۔ اسی طرح مرزاقادیانی کے اقوال، جسے قادیانی ملفوظات یا کلمات طیبات کہتے ہیں، مصنف نے وہ
مختلف رسائل وجرائد کے حوالہ جات سے نقل کئے تھے۔ اب خود قادیانیوں نے ملفوظات کا دس حصوں پر مشتمل مجموعہ
شائع کر دیا ہے۔ ہم نے مصنف کے اصل مآخذ کے ساتھ ملفوظات کے بھی حوالہ جات لگادئیے ہیں۔
یہ اور اس جیسی دیگر محنت وکاوش کے بعد اللہ رب العزت کے حضور شکر گزار اورفاضل مصنف کے حضور سرخرو ہیں
کہ حق تعالیٰ شانہ نے محض اپنے فضل وکرم سے اس عظیم وضخیم کتاب کی تخریج وتحقیق کی ذمہ داری سے سرفراز
فرمایا۔ ہمارے خیال میں اب ہر لحاظ سے یہ جدید ایڈیشن کامل ومکمل ہے۔ آج ہی اس بار عظیم سے عہدہ برآ ہوئے
اور آج ہی اسے اپنے مکرم بھائی محمد متین خالد صاحب کو کمپیوٹرائزڈ کرنے کے لئے بھجوا رہے ہیں۔ خدا کرے کہ
اب کمپیوٹر کمپوزنگ، تصحیح، طباعت وجلد بندی کے تمام مراحل جلد سے جلد مکمل ہوں تاکہ اسے حضرت مولانا سید
اسعد مدنی دامت برکاتہم کی خدمت میں بھیج سکیں۔ افوض امری الٰی اللہ !
یا اللہ ! ہم سب کو اپنی رضا کی توفیق نصیب فرما۔ آمین بحرمۃ النبی الامی
الکریم!
فقیر اللہ وسایا (ورفقائے کار)
دفتر مرکزیہ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت ملتان، پاکستان
۲۵؍مارچ ۱۹۹۵ء، بمطابق ۲۳؍شوال المکرم ۱۴۱۵ھ
37
تعارف
الحمد للہ ! کتاب ’’قادیانی مذہب‘‘ کا ایڈیشن ششم شائع ہوگیا اور ایڈیشن پنجم کے مقابل اس میں جدید
اقتباسات بہ تعداد کثیر اضافہ ہوئے۔ جن سے مباحث بہت واضح اور محکم ہوگئے۔ کتاب کا حجم بھی کافی بڑھ گیا۔
بنابریں ایڈیشن ششم کا مقدمہ، جو بجائے خود ایک مختصر مگر جامع تالیف ہے، علیحدہ شائع ہوا اور خود کتاب بھی
دو حصوں میں شائع ہورہی ہے۔ حاصل کلام یہ کہ کتاب نے ایڈیشن ششم میں مستقل شکل اختیار کر لی ہے اور آئندہ
ایڈیشنوں میں مزید ردوبدل اور اضافوں کی ضروررت باقی نہیں رہی۔ تالیف ہر طرح مکمل ہوگئی۔
بنابریں ہم قادیانیت کے معلومات جو بصرف کثیر اور محنت شاقہ وسیع مطالعہ سے فراہم کئے گئے، صدہا
اقتباسات درج ہو جانے کے بعد بھی ان کا کچھ ذخیرہ باقی رہ گیا ہے۔ احباب کا خیال بلکہ اصرار ہے کہ یہ ذخیرہ
بھی محفوظ ہوجانا ضروری ہے کہ اس کا دوبارہ دستیاب ہونا محال ہے۔ چنانچہ ممکن ہے کہ آئندہ کسی موقعہ پر
مقدمہ ’’قادیانی مذہب‘‘ کی طرح ایک تتمہ قادیانی مذہب بھی جداگانہ شائع ہو، جو تقطیع اور حجم میں مقدمہ کے
مماثل ہوگا۔ ان شاء اللہ تعالیٰ!
صدہا اقتباسات جو کتاب میں شریک ہیں، اکثر وبیشتر صرف ایک ایک جگہ درج ہیں۔ بعض بعض کا کوئی جزو دوسری
جگہ بھی درج ہے اور معدودے چند اقتباسات ایسے ہیں جو موقع ومحل کی ضرورت سے مکرر بھی درج ہیں۔ چنانچہ نقل
اوّل میں ایسی چند مثالیں موجود ہیں مگر فی الجملہ بہت کم ہیں۔ حتیٰ المقدور اقتباسات کے حوالوں میں صحت کا
اہتمام رکھا گیا۔ تاہم ایک دشواری جو قادیانی کتب کے حوالوں میں پیش آتی ہے، مغالطہ کا باعث ہوسکتی ہے۔
مثلاً: خود مرزاغلام احمد قادیانی کی کتابوں کو لیجئے۔ اربعین جو ایک مشہور تالیف ہے، اس کے ایک مقام
کا حوالہ خود مرزاقادیانی نے (کتاب اربعین نمبر۴ ص۱۹) لکھا ہے۔ دیکھو (تتمہ حقیقت الوحی ص۱۴۳) جہاں
مرزاقادیانی کو حیض آنے کا ذکر ہے۔ چنانچہ ہم نے بھی وہی حوالہ ص۱۹ لکھ دیا۔ لیکن اربعین نمبر۴ کے ایڈیشن
سوم میں وہ مقام ص۹۷ پر پہنچ گیا۔ وجہ یہ کہ اربعین کے چار حصے ہیں۔ شروع کے ایڈیشنوں میں ہر حصہ کے صفحات
جداگانہ درج ہوئے اور بعد کو وہ مسلسل درج ہونے لگے۔ لامحالہ حوالہ کے صفحات میں بڑا فرق پڑ گیا۔ چنانچہ
اربعین ہی میں نمونۃً صفحات کا فرق ملاحظہ ہو۔ اربعین نمبر۳ ص۳۰، ۶۳، ص۳۸، ۶۹، علیٰ ہذا اربعین نمبر۴ ص۷،
۸۳، ص۴۱، ۹۰، ص۱۷، ۹۲، قس علیٰ ہذا۔
ایک دوسری کتاب ’’تحفہ گولڑویہ‘‘ کو لیجئے۔ اس کے صفحات کا بھی یہی حال ہے۔ پہلے اور بعد کے ایڈیشنوں
کا فرق ملاحظہ ہو۔ ص۹۴، ۱۵۲، ص۹۶، ۱۵۶، ص۹۹، ۱۶۲، علیٰ ہذا۔ تیسری کتاب ’’ازالہ اوہام‘‘ میں بھی صفحات کا
فرق نمایاں ہے۔ مثلاً ص۲۵، ۵۶، ص۳۲، ۷۵، ص۳۴، ۷۷، ص۲۱۱، ۵۰۹، ص۲۸۲، ۶۹۱ وغیرہ۔
الحاصل قادیانی کتابوں کے حوالوں میں اکثر پیچیدگی رہتی ہے کہ طباعت میں صفحات کا عملدرآمد بدلتا رہتا
ہے۔ ممکن ہے ناواقفوں کو بصورت ضرورت حوالوں کی تلاش میں حیرانی وسرگردانی پیش آئے۔ مغالطہ ہو، اس لئے صراحت
ضرورت سمجھی گئی۔ اس تالیف
38
میں جو کتابیں وغیرہ پیش نظر ہیں اور جن سے اقتباسات لئے گئے، ان کی مجموعی تعداد ڈیڑھ سو کے قریب ہے
جن میں مرزاغلام احمد قادیانی کی کتابیں چالیس سے زیادہ شامل ہیں اور جملہ قادیانی کتابوں کی تعداد سواسو کے
قریب ہوتی ہے۔ باقی کچھ کتابیں مسلمانوں کی شریک ہیں۔ چنانچہ پانچویں ضمیمہ میں حوالہ کی کتابوں کی فہرست
درج ہے۔
ایڈیشن پنجم کے مقابل ایڈیشن ششم جو دو حصوں میں شائع ہورہا ہے، اس کی مختصر صراحت ضروری معلوم ہوتی
ہے۔ وہ یہ کہ سابق کی فصل تیرھویں، فصل نویں کے بعد ہی فصل دسویں کی حیثیت سے درج ہوئی ہے۔ جس سے مباحث کی
مجانست میں اصلاح ہوگئی۔ لامحالہ دسویں فصل ایک درجہ آگے بڑھ کر گیارھویں فصل قرار پائی۔ علیٰ ہذا! گیارھویں
بارھویں اور بارھویں تیرھویں فصل کہلائی۔ حتیٰ کہ چودھویں فصل سے سلسلہ مل گیا۔ مذکورہ اصلاح ترتیب کے سوا
تقسیم کی صورت یہ کہ حصہ اوّل میں پانچ تمہیدیں اور پہلی دس فصلیں اور حصہ دوم میں آخری دس فصلیں اور پانچ
ضمیمے شامل ہیں۔ دونوں حصے تقریباً مساوی ہیں۔
غرض کہ ایڈیشن ششم میں کافی اصلاح وترقی ہوئی۔ یہ ایڈیشن مولوی محمد اشرف صاحب، تاجر کتب لاہور نے
اپنے اہتمام سے شائع کیا ہے۔ دین کی کتابوں میں ان کی حوصلہ مندی قابل نظیر ہے۔ اللہ تعالیٰ جزائے خیر عطاء
کرے۔ آمین!
معروضہ
خادم محمد الیاس برنی
بیت السلام، سیف آباد حیدرآباد دکن
۱۵؍محرم ۱۳۷۰ھ
39
پروفیسر محمدالیاس برنی رحمۃ اللہ علیہ
ڈاکٹر مولانا عبدالحلیم چشتی (کراچی)
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کو یہ اعزاز حاصل ہے کہ پروفیسر محمد الیاس برنی رحمۃ اللہ علیہ کی شہرۂ
آفاق کتاب ’’قادیانی مذہب کا علمی محاسبہ‘‘ کو شائع کیا۔ جامعۃ العلوم الاسلامیہ بنوری ٹائون کراچی کے تخصص
فی الحدیث کے سربراہ مولانا، ڈاکٹر پروفیسر عبدالحلیم چشتی دامت برکاتہم نے اس کتاب کے لیے ’’برنی مرحوم‘‘
کے حالات قلمبند کئے، جو ایک مستقل مقالہ ہے۔ اس کتاب کے ساتھ یہ پہلی بار شائع ہورہا ہے۔
(ادارہ)
برنی رحمۃ اللہ علیہ بہت محنتی، حوصلہ مند، ذہین وزیرک انسان تھے۔ انہوں نے جس میدان میں قدم رکھا اسے سرکرکے
چھوڑا۔ انہوں نے معاشیات پڑھی اور تمام عمر پڑھایا۔ جولکھا ارباب فن نے اس کی داد دی۔ اردو ادب کی خدمت کی۔
اسلام پر بھی لکھا، جو لکھا بار بار چھپا اور ہاتھوں ہاتھ نکلا۔ ان کا اصل میدان روحانیات اور تصوف تھا۔ دین
سے ان کا رشتہ پختہ تھا۔ فاروقی ہونے کے ناطے ان کی اسلامی غیرت، اخلاص اور درد مندی للہیت وخلوص ہر شعبہ
زندگی میں نمایاں وتاباں ہے۔
حق تعالیٰ شانہ نے متحدہ ہندوستان میں قادیانیت کے سلسلہ میں ان سے جو کام لیا وہ اپنی نظیر آپ ہے۔
علمی وعملی اعتبار سے اس فتنہ کی سرکوبی میں سب ہی شریک رہے ہیں۔ اکابر دیوبند کی مساعی اس باب میں بہت
درخشاں اور روشن ہیں اب بھی وہی یہ خدمات سرانجام دے رہے ہیں۔ اس کا دائرہ کار زیادہ تر اردوزباں تک محدود
ہے۔ یہ کام بین الاقوامی زبانوں میں کرنا وقت کی اہم ذمہ داری ہے۔ وسائل اور رجال کار کی کمی سب سے بڑی
رکاوٹ ہے۔ اللہ تعالیٰ یہ رکاوٹ بھی دور فرمائے۔
الیاس برنی رحمۃ اللہ علیہ نے ’’قادیانی مذہب کا علمی محاسبہ‘‘ میں اپنی طرف سے بہت کم لکھا ہے۔ میرے
بھائی محقق عصر مولانا محمد عبدالرشید نعمانی کے بقول، برنی رحمۃ اللہ علیہ نے قادیانی مذہب میں قادیانی کی
تضاد بیانیوں کو یکجا کرکے ہر شخص کی نظر میں اسے پکّاجھوٹا نبی ثابت کردیا۔ ہے جس کا جواب کسی کے پاس نہیں۔
یہ اللہ تعالیٰ کی توفیق ہے اور ان کی ماں کی دعا کا ثمرہ ہے کہ ایسا عظیم کام ان سے لیا اور انہیںرسول
ﷺ کے اس گروہ میں بلند مقام عطا کیا جس نے ارتداد کے خلاف جان کی بازی لگائی تھی اور وہ شہرت انہیں نصیب
فرمائی جو انہیں کسی تصنیف سے نہ ہوسکی۔ اس دنیا میں انسان کی اس سے بڑھ کر بھلا اور کیا سعادت ہوسکتی ہے کہ
اسے اس جماعت میں شرکت نصیب ہوجائے جس کی سربراہی امت میں افضل بشر حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کو حاصل
ہے۔
محمد الیاس برنی رحمۃ اللہ علیہ نے اپنی اور اپنے دوستوں کی سرگزشت ’’صراط الحمید‘‘ جلد اوّل ودوم اور
’’برنی نامہ‘‘ میں جس انوکھے اور دلچسپ انداز میں پیش کی ہے وہ سبق آموز اور بہت دلچسپ ہے۔ اردو زبان میں
ان کی علمی اور ادبی خدمات گوناگوں ہیں۔ ان کی مطبوعہ تصنیفات وتالیفات اور تراجم کی تعداد چالیس سے زیادہ
ہے۔ بعض تصنیفات اپنا جواب آپ ہیں۔ پاکستان میں کراچی اور لاہور کے مشہور کتب خانے۔ کراچی یونیورسٹی
لائبریر ی، لیاقت میموریل لائبریری، پنجاب یونیورسٹی لائبریری، پنجاب پبلک لائبریری میں دو چار کتابوں سے
زیادہ نہیں ہیں۔ انجمن ترقی اردو میں دس پندرہ کتابیں مل جاتی ہیں۔ اردو ادب کے شائقین اور محققین کے ذاتی
کتب خانوں میں ممکن
40
ہیں ان کی کچھ زیادہ کتابیں محفوظ ہوں لیکن ان تک رسائی اور تعاون دونوں آسان کام نہیں۔ بہرحال جہاں
سے جو مل سکا فائدہ اٹھایا اور یہ مختصر مقالہ ترتیب دیا ہے۔ میرے علم میں نہیں کہ کسی محقق نے ہندوستان اور
پاکستان کی جامعات میں برنی رحمۃ اللہ علیہ کو پی ایچ ڈی کے لئے موضوع بنایا ہو۔ برنی رحمۃ اللہ علیہ پر کئی
حیثیت سے ڈاکٹریٹ کی جاسکتی ہے۔
نام ونسب
محمد الیاس نام، صلاح الدین لقب اور برنی تخلص تھا ۱؎ باپ کا نام محمد ابراہیم
تھا۔ موصوف کا سلسلۂ نسب حضرت عمر فاروقb تک پہنچتا ہے۔ اور اس نسبت سے کبھی فاروقی لکھتے ہیں۔ مولوی نہ
تھے لیکن مولوی عبدالحق کی طرح مولوی محمد الیاس بھی کتاب پر لکھا جاتا تھا۔
ولادت
۲۸؍شعبان ۱۳۰۷ھ بمطابق ۱۹؍اپریل ۱۸۹۰ء یوم شنبہ بوقت ۹؍بجے شب اپنے ننھیال خورجہ میں پیدا ہوئے۔
(برنی نامہ حیدر آباد دکن، مطبع ابراہیمیہ۱۹۵۷ء ص۲ )
تعلیم وتربیت
ابتدائی تعلیم وتربیت گھر میں پائی چنانچہ برنی رحمۃ اللہ علیہ کا بیان ہے’’قرآن شریف گھر میں پڑھا۔
فارسی وحساب، انگریزی وغیرہ والد صاحب سے اس وقت پڑھی تھی جب وہ چند سال کے واسطے حیدرآباد سے تشریف لاکر
مکان پر مقیم رہے تھے۔ اس وقت فارسی پر توجہ زیادہ رہی عربی کو اتنا موقع نہ مل سکا جتنا ملنا چاہئے تھا۔
تاہم قرآن کریم کی برکت سے عربی سے خاصا ربط ہوگیا۔
(صراط الحمید ج۱ ص۳۳۱)
باپ حیدر آباد میں وکیل تھے اس لئے تعطیلات میں کبھی بلند شہر آتے۔ اس لئے ’’برنی رحمۃ اللہ علیہ‘‘ کی تربیت ماں
کی آغوش میں ہوئی ۔
(ایضاً ج۱ ص۳۲۰،۳۲۱)
ان کی ماں بہت دولت مند باپ کی اکلوتی بیٹی تھیں۔ ساری دولت وجائیداد سب کی وہ تنہا وارث تھیں۔ اللہ
کا دیا گھر میں سب کچھ تھا۔ لیکن ان کی طبیعت کا رنگ ڈھنگ ہی کچھ اور تھا۔ باوجود کپڑے اچھے سے اچھے موجود
تھے لیکن کبھی سادہ لباس پہنتی تھیں اور موٹا جھوٹا بھی کھاتی تھیں اور بچوں کو بھی اسی طرح رکھتی تھیں۔ دکھ
درد میں غریبوں کے کام آتیں۔ دامے، درمے، سخنے، قدمے ان کی مدد کرتی تھیں۔ اچھا کھانا دوسروں کو کھلاتی،
خود جو کی روٹی اور چٹنی پر گزارا کرتی تھیں۔ چکی پیسنے سے انہیں کبھی عار نہ تھا۔ بیٹیوں کو چکی پیسنے کی
نصیحت کرتی تھی۔ چاہتی تھیں کہ بچے عیش پسند نہ بنیں۔ کھاتے وقت غریبوں کا خیال آتا تو آب دیدہ ہوجاتی
تھیں۔ بہت نرم دل ومسکین طبع تھیں۔ بچوں کی غلطی پر سزا یہ تھی کہ انہیں اپنے ساتھ نہیں کھلاتی تھیں۔ پاس
نہیں بٹھاتی تھیں۔ عزیزوں میں ساتھ نہیں لے جاتی تھیں۔ یہ ایسی سزا تھی کہ وہ روتے آجاتے تھے غیر کی ڈانٹ
ڈپٹ کو اچھا نہیں سمجھتی تھیں۔ کہتی تھیں اس سے بچوں کی غیرت نکل جاتی ہے۔ نماز، روزے کی پابند تھیں۔
نقشبندیہ سلسلہ میں بیعت تھیں۔
(صراط الحمید ج۱ ص۳۱۸،۳۲۱)
۱؎ سنسکرت میں پہاڑی قلعہ کو ڈرن کہتے ہیں۔ برن کیا تھا؟ ایک بلند اور وسیع ٹیلے پر قلعہ تھا اس کے
آثار اب بھی باقی ہیں۔ یہ قدیم سے ایک ہندو راج دھانی تھی۔ شاید دہلی سے قریب ہونے کے سبب اس کو جنگ میں
کوئی خاص اہمیت حاصل ہو جبکہ یہاں راجہ ڈور حکمران تھا۔ سلطان شہاب الدین محمد غوری رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو ۵۸۶ھ میں فتح
کیاتھا۔ مزید تفصیل کے لئے ملاحظہ ہو ’’صراط الحمید‘‘ یعنی سفرنامہ عراق، شام، فلسطین، حجاز طبع۲۔ حیدر
آباد دکن، مطبع برقی اعظم ماہی ۱۳۵۸ھ ج۱ ص۳۱۶، ۳۱۸ (قصہ چہار درویش) تاریخی اعتبار سے برن اور عرف عام میں
بلند شہر کہلاتا ہے۔ یہ ضلع ہے موصوف کا جدی وطن ہے اور خورجہ اس کی تحصیل ہے۔ یہ ان کا ننھیال ہے۔
41
گھر میں ابتدائی تعلیم
برنی رحمۃ اللہ علیہ میٹرک تک ماں کی زیرتربیت رہے ہیں۔ برنی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: ’’فی الجملہ لڑکپن میں بھی
تربیت ذاتی طور پر والدہ صاحبہ کے زیراثر رہی حتیٰ کہ میٹرک پاس کئے تک ہم ان کی خدمت میں حاضر رہے۔‘‘
(ایضاً ج۱ ص۳۳۲) برنی رحمۃ اللہ علیہ کے باب حافظ ابراہیم حیدر آباد دکن میں وکیل تھے وہ چند سال کیلئے
چھٹی میں بلند شہر رہے۔ اپنے لڑکوں کو پڑھاتے۔ حافظ محمد اسماعیل اور محمد اسحاق کو وکالت کے امتحانات کی
تیاری کراتے تھے۔ برنی رحمۃ اللہ علیہ نے قرآن، فارسی، حساب، انگریزی وغیرہ گھر پر انہی سے پڑھی۔
خورجہ کے ہائی سکول میں داخلہ
پھر مڈل کی جماعت میں خورجہ کے ہائی سکول میں جو سیٹھ لالہ مٹھی مل نے قائم کیا تھا داخل کئے
گئے۔(ایضاً ج۱ ص۳۳۲) برنی رحمۃ اللہ علیہ کا بیان ہے: ’’ابھی میٹرک سال اول میں تھے کہ انسپکٹر سید مہدی
حسین بلگرامی تشریف لائے نویں جماعت کی انگریزی کا امتحان لیا۔ ہماری باری آئی تو ہم بڑھ چڑھ کر بولے۔
ہماری جسارت پر وہ چونکے میٹرک کا طالبعلم انگریزی لٹریچر میں دم مارتاہے۔ اللہ کے فضل سے بات رہ گئی۔ انسپکٹر
صاحب نے رپورٹ اچھی لکھی۔ سکول کا نام روشن ہوا۔ ‘‘
(صراط الحمید ج۱ ص۳۴۲)
خانگی تربیت کے سوا خدا کا فضل تھا کہ شروع سے انہیں اچھی صحبتیں ملیں جن سے ان کا دینی مزاج بن گیا۔
میٹرک میں امتیازی کامیابی
خورجہ ہائی سکول سے ۱۹۰۸ء میں میٹرک کا امتحان اوّل درجہ میں پاس کیا اور سرکار سے انعامی وظیفہ ملا۔
پھر اللہ تعالیٰ کے فضل سے انعامی وظیفوں کا سلسلہ ایم۔اے۔ تک برابر قائم رہا۔ ۱۸۹۰ء سے نہایت ۱۹۰۸ء تک زندگی
کا پہلا دور خورجہ وبلند شہر میں گزرا۔
(ایضاً)
علی گڑھ کالج میں داخلہ
۱۹۰۸ء میں علی گڑھ کالج میں داخلہ لیا۔ یہاں کا ماحول ہی کچھ اور تھا۔ برنی رحمۃ اللہ علیہ لکھتے ہیں:
’’جب ہم علی گڑھ پہنچے تو لڑکوں نے ہماری وضع قطع خیالات واعتقادات سے اندازہ لگایا کہ ایک مذہبی دیوانہ
آگیا، خوب لطف رہے گا۔ مگر اللہ کا فضل اس نے عزت وقار کے ساتھ ہوشیاروں کے ساتھ بسر کرادی۔ طالب علمی کے
دائرہ میں، انعام، تمغے، اعزازی عہدے سب کچھ دلائے۔ کالج یونین کی صدارت عطا کی، میسور مشرقی بنگال پہنچے۔‘‘
(صراط الحمید ج۱ ص۳۴۲)
جنگ طرابلس کے لئے چندہ
جنگ طرابلس وبلقان کے موقع پر اپنی ضروریات مختصر کیں جو ہوسکا خود نکالا اور چندہ کرکے پچاس ہزار کی
امداد ترکی پہنچائی۔ الزام لگایا گیا نگرانی رہی حساب میں ایک پائی کا فرق نہ آیا۔
(ایضاً)
بی۔اے میں کامیابی کا ثمرہ
۱۹۱۲ء میں ’’بی۔ اے‘‘ میں برنی رحمۃ اللہ علیہ کی کامیابی سب سے اعلیٰ رہی جس کی پوزیشن صوبہ میں ایسی
ہوتی تھی ڈپٹی کلکٹری اس کے قدم چوما کرتی تھی۔ چنانچہ بلادرخواست ایسے طالب علم کا ڈپٹی کلکٹری کے عہدہ پر
تقرر کیا جاتا تھا۔ انہیں بھی اس کا مستحق قرار دیا گیا۔
(ایضاً ج۱ ص۳۴۵،۳۴۶)
42
علی گڑھ میں استادوں کی توجہ اور شفقت
علی گڑھ میں بزرگ، خدارسیدہ استاد ملے ان سے ان کا تعلق قائم رہا۔ یہ ان کی توجہات کا مرکز بنے رہے۔
ان میں مولانا خلیل احمدc تھے۔ برنی رحمۃ اللہ علیہ، موصوف کے متعلق لکھتے ہیں:’’حضرت کی صحبت میں اسلام کی
رفعت کا کچھ اندازہ ہوتا تھا۔ یوں تو طلبہ کے ساتھ اخلاق عام تھا لیکن ہم پر عنایت ومحبت اس درجہ بڑھی کہ
ملے بغیر چین نہیں۔ گفتگو کی وہ نوبت کہ تخلیہ لابد۔ کالج میں پروفیسر بنے رہے۔ دینیات اور عربی ادب پڑھاتے
رہے۔ اپنا کام بھی کرتے رہے مگر کالج کا رنگ کچھ سے کچھ ہوگیا۔‘‘
(صراط الحمید ج۱ ص۳۲۳)
برنی رحمۃ اللہ علیہ نے ’’بی۔اے‘‘ پر بس نہیں کیا نہ ڈپٹی کلکٹری کی طرف دیکھا۔ شملہ سے پرنسپل مسٹر ٹول جوان کے
استاد بھی تھے۔ طبیعت کو جانتے تھے ان کا خط آیا اس میں لکھا تھا:’’مجھے کسی صورت پر اصرار نہیں، چاہو
ملازمت کرو چاہو تعلیم جاری رکھو۔‘‘استاد کا اشارہ ظاہر تھا کہ تعلیم بہتر ہے۔ برنی رحمۃ اللہ علیہ کی خواہش
بھی یہی تھی۔ مگر والدین کی رضامندی درکار تھی وہاں حوصلہ کی کمی نہ تھی۔ انہوں نے بھی اجازت دے دی۔ برنی
رحمۃ اللہ علیہ کی ملازمت نہ کرنے کے عذر کی خبر جب میگزین میں چھپی تو اقرباء واحباب نے شور مچایا یہ کفران
نعمت ہے کو تہ اندیشی اور غرور ہے لیکن ہم خوش، والدین خوش تو اللہ خوش۔
(ایضاً ص۳۴۶)
ایم۔اے معاشیات میں داخلہ
’’ایم اے ‘‘معاشیات میں داخلہ لیا اور ساتھ ’’ایل۔ایل۔بی‘‘ کرتے رہے۔
سوسائٹی کی عمارت میں قیام اور ایک بزرگ سے ملاقات اور دوستی
اب کالج کا بورڈنگ چھوڑ کر وہ سوسائٹی کی عمارت میں آگئے۔ یہ گویا گریجویشنوں کا بورڈنگ تھا۔
یہاںقریب ہی بنگلہ میں عبد اللہ نام کے ایک بزرگ رہتے تھے۔ ان سے ملاقات ہوئی، ملاپ بڑھا۔ برنی رحمۃ اللہ علیہ
ان کے متعلق فرماتے ہیں: ’’یہ سن رسیدہ بزرگ، مردانہ حسن کا نمونہ تھے ان کا تکیہ کلام جلّ جلالہ تھا، جرمن،
فرانسیسی، انگریزی، عربی، فارسی، اردو کئی زبانوں میں عبور تھا۔ قوم کے جرمن تھے جنّات سے بھی ربط تھا۔ باپ
ان کے ہندوستان میں ڈاک خانہ جات انسپکٹر جنرل رہ چکے تھے۔ یہ بغداد میں مسلمان ہوئے اور علی گڑھ میں وصال
ہوا۔ تعلیم یافتہ طبقہ میں ان کا خوب فیضان تھا۔ بہت پہنچے ہوئے بزرگ تھے۔ دوستی بڑھی، بے تکلفی بڑھی۔‘‘
برنی رحمۃ اللہ علیہ کہتے ہیں: ’’حضرت نے انتہائی محبت سے چاہا کہ خاص خاص شغل مفیدہ سہولت سے طے
کراکر بعض نادر کمالات سے سرفراز فرمائیں لیکن اپنا ذوق ہے۔ کمال کے اکتساب پر طبیعت آمادہ نہیں ہوئی۔ اگر
بے کمالی تحقیق ہوجائے یہی انسان کا سب سے بڑا کمال ہے۔ حضرت اصلی منشاء پاگئے اس کو عالی ہمتی قرار دے کر
بہت داد دی۔ سینہ سے لگایا کہ اب کسی کمال کے حصول کی ضرورت نہیں ہزار کمالات ہوں۔عبدیت ہی اصل اور انتہائی
مقام ہے اس میں خوف وگزند نہیں۔ حفاظت یقینی ہے۔‘‘
(صراط الحمید ج۱ ص۳۲۳، ۳۲۴)
ڈاکٹر ضیاء الدین احمد کے اعزازی پرسنل اسسٹنٹ
تعلیم کا آخری زمانہ تھا اس زم انے میں مسلم یونیورسٹی کے قیام کا کام چل رہا تھا۔ ڈاکٹر ضیاء الدین
احمد یونیورسٹی کے کانسٹی ٹیوشن کمیٹی کے معتمد تھے۔ برنی اعزازی پرسنل اسسٹنٹ کی حیثیت سے ڈاکٹر صاحب کے
ساتھ کام کرتے تھے۔ ڈاکٹر صاحب دل کھول کر کھلاتے اور کس کر کام لیتے تھے۔ ڈاکٹر صاحب طلبہ کو بہت عزیز
رکھتے تھے اور خود بہت ہر دل عزیز تھے۔ سید راس مسعود بھی یہاں آتے تھے۔ اسی زم انے میں ان سے بھی دوستی
ہوئی۔
(ایضاً ص۳۳۳)
43
نواب وقار الملک بہادر کے ساتھ اعزازی مددگار
برنی رحمۃ اللہ علیہ اس طرح نواب وقار الملک بہادر المتوفی ۱۹۱۷ء کے بھی اعزازی مددگاررہے۔ یہاں خوردونوش کہاں، مگر
صحبت ایسی نعمت تھی جس کا کوئی بدل نہ تھا۔ شام کو جب فرصت ہوتی تو راس مسعود تشریف لاتے۔ ڈاکٹر صاحب سے بہت
تعلق تھا، روزانہ یہی معمول تھا۔
(ایضاً ج۲ ص۲۰۰)
علی گڑھ میں سرآدم جی پیر بھائی کے پوتوں کی اعزازی، اتالیقی
سرآدم جی پیر بھائی وہ ہیں جنہوں نے یک مشت ایک لاکھ روپیہ نقد دیا تھا جس سے علی گڑھ کالج میں سائنس
کا شعبہ قائم کیا گیا تھا۔ سر آدم جی نے جب اپنے پوتوں کے پوتے حسن علی، محبت علی، اشرف علی کو سکول میں
داخل کیا، انہیں ان کی اخلاقی تربیت کا بہت خیال تھا۔ نواب وقار الملک نے بہت غوروخوض کے بعد برنی رحمۃ اللہ
علیہ کے سپرد کیا۔ موصوف نے اتالیقی کی خدمت بعض اختیارات وشرائط کے ساتھ قبول کی۔ چونکہ اعتناء برتنا ضروری
تھا۔ اس لئے معاوضہ قبول کرنے سے معذرت کی۔ اعزازی حیثیت سے یہ ذمہ داری قبول کی۔ ان کے تعلقات بھی قائم
رہے۔
(ایضاً ج۲ ص۲۰۰)
سر راس مسعود سے دوستی اور ان کی شادی کے انتظام کی تمام تر ذمہ داری
یوں برنی رحمۃ اللہ علیہ کی راس مسعود المتوفی ۱۹۳۷ء سے دوستی ہوگئی اور تعلقات میں اتنی ترقی ہوئی کہ
جب راس مسعود کی علی گڑھ میں شادی ہونے لگی تو ان کے قدیم دوست بہت تھے لیکن انہوں نے اس موقع پر برنی رحمۃ
اللہ علیہ کو سینہ سے لگایا اور کہا تم میرے حقیقی بھائی کے برابر ہو۔ شادی کا اہتمام تم اپنے ذمہ لے لو تو
مجھے اطمینان اور خوشی ہو۔
برنی رحمۃ اللہ علیہ کا بیان ہے: ’’یہی ہوا، لینا، دینا، نقدی، نیوتہ، بری، جہیز، کل اہتمام اپنے ہاتھ میں رہا۔ اللہ
تعالیٰ نے حسن انجام سے سرخرو فرمایا۔ اس شادی کی مصروفیت میں ایک ہفتہ ایسا گزرا کہ نہ دن کی خبر، نہ رات
کا ہوش مگر خوشی کا جوش تھا، نہ گرانی نہ تکان، جب موقعہ ملا کھالیا جب موقعہ ملا سولئے۔ ہر دم، تازہ دم،
عجب تقریب تھی۔ اس کے بعد ان سے دوستی ومحبت اور پختہ ہوگئی۔‘‘
(صراط الحمید ج۱ ص۳۳۴)
شہسواری
کالج میں ہمیشہ سے کھیلوں کا معیار میں بلند رہا۔ باقاعدہ ٹیم میں جگہ نہ پاسکے۔ کپتان وغیرہ تعلق میں
اچھے تھے۔ اپنی ٹیم بنا کر کھیلتے تھے۔ (ایضاً ص۳۴۴)گھوڑے سواری کا سکول تھا جس میں بارہ گھوڑے تھے۔ یہ
سیکھی، گرے پڑے بعض موقع پر جان پر بھی بنی۔ اللہ کا فضل رہا حادثہ سے محفوظ رہے۔ اس کا امتحان دیکر سند بھی
لی اور والدc کی ہدایت پر عمل کیا کہ بغیر وضو گھوڑے پر سوار نہ ہوں اور سواری کے وقت آیت شریفہ پڑھی۔ والد
یہ دونوں باتیں مسنون بتاتے تھے۔(صراط الحمید ج۱ ص۳۴۴) کالج میں تیراکی سیکھنے کیلئے حوض نہیں بنایا گیا تھا
اس لئے یہاں نہ سیکھ سکے۔
(ایضاً ج۱ ص۳۴۵)
قادیانیوں سے معرکہ آرائی
قادیانیوں سے معرکہ آرائی، ’’قادیانی مذہب کا علمی محاسبہ‘‘ اور ’’قادیانی قول وفعل‘‘ میں ملاحظہ
فرمائیے۔ جو ہندوپاک میں ہر جگہ دستیاب ہیں۔
44
ایم۔اے میں کامیابی اور علی گڑھ کالج میں بی۔اے کی معاشیات پڑھانے پر تقرر
برنی رحمۃ اللہ علیہ کا ایم۔اے میں داخلہ ہوجانے کے بعد علی گڑھ کالج میں بی۔اے کی کلاس کو معاشیات پڑھانے پر ان کا
تقرر عمل میں آیا اور چار برس تک علی گڑھ کالج میں پڑھایا۔ نتائج بہت اچھے رہے اور طلبہ بھی خوش رہے۔بجٹ
میں گنجائش نہ تھی۔ ڈائننگ ہال کی بچت سے سو روپے ماہوار الائونس دیا جاتا تھا۔ تین مہینے کی چھٹی میں یہ
بند رہتا تھا۔ اس حساب سے اوسط پچھتّر روپیہ ماہوار ہی ہوتا تھا۔ برنی رحمۃ اللہ علیہ کہتے ہیں: ’’ہم مگن
تھے کہ بی۔اے کی تعلیم کا موقع ملا۔‘‘ (صراط الحمید ج۱ ص۳۴۹)یہ ایسا زمانہ تھا کہ ہندوستانی پروفیسروں کو
بھی بی۔اے کلاس نہیں ملتی تھی۔ اس لحاظ سے بھی یہ ایک اعزاز تھا۔
حیدر آباد دکن سے ولایت میں مزید تعلیم کے لئے وظیفہ کی منظوری
برنی رحمۃ اللہ علیہ نے بی۔اے کی معاشیات پڑھانے کے زم انے میں ولایت میں مزید تعلیم کی غرض سے وظیفہ کی حیدرآباد
میں کوشش کی۔ چنانچہ وہاں سید مہدی حسن بلگرامی سے ملے۔ انہوں نے سکول میں معائنہ کے موقع پر جو امتحان لیا
تھا۔ یاد دلایا پھر کیا تھا وہ مدد کے لئے تیار ہوگئے۔ اور انہیں سکالر شپ کمیٹی کے ارکان کے پاس لے گئے۔ وہ
مہربانی سے پیش آئے لیکن بات فنانس کے صدر المہام مسٹر گلانسی پر ٹھہری۔ موصوف سے پہلی ملاقات ہی میں معاشی
مسائل پر طویل بحث چلی۔ وہ اتنے خوش ہوئے کہ اسی نشست میں خلاف معمول وظیفہ کا وعدہ فرمایا۔ منظورہ وظائف
میں گنجائش نہ تھی۔ ایک خاص وظیفہ منظور کراکر وعدہ پورا کیا اور کیمبرج میں داخلہ کا انتظام ہوگیا۔ روانگی
میں ایک ہفتہ باقی رہ گیا تھا کہ یورپ میں جنگ چھڑ گئی اور جانا ملتوی ہوگیا۔
(ایضاً ج۱ ص۳۳۹،۳۳۳)
دس برس تک وظیفہ برقرار آخر کار جانے سے معذرت
دس برس ۱۹۲۴ء تک یہ وظیفہ برنی رحمۃ اللہ علیہ کے نام پر باقی رہا اور پھر ولایت جانے سے معذرت پر وہ
منسوخ ہوگیا۔
(برنی نامہ ص۲)
برنی رحمۃ اللہ علیہ کی زندگی کا دوسرا دور۱۹۰۸ء تا ۱۹۱۷ء علی گڑھ میں گزرا۔
(صراط الحمید ج۱ ص۳۴۸،۳۴۷)
ماں کی دعاء کا ثمرہ
برنی رحمۃ اللہ علیہ نے اپنی والدہ کے انتقال کا سال سفرنامے میں کہیں نہیں لکھا۔ بہرحال ۱۹۱۴ء تک بقید حیات تھیں۔
برنی رحمۃ اللہ علیہ کو کیمبرج کے لئے وظیفہ اور داخلہ منظور ہوچکا تھا اور جانا یقینی تھا۔ یورپ میں جنگ
چھڑنے سے جانا ملتوی ہوگیا اور وظیفہ اُس سال تک ان کے نام محفوظ رہا۔ اس عرصہ میں بارہا سرکار کی طرف سے
تقاضا ہوتا رہا۔ ان کی والدہ نے کئی مرتبہ انہیں تنہائی میں سمجھایا کہ ترقی میں کوتاہی نہ کرو میں بخوشی تم
کو سفر کی اجازت دیتی ہوں۔ لیکن برنی رحمۃ اللہ علیہ کو احساس تھا کہ ضعف پیری میں ان کو جدائی کا صدمہ دینا
سوہان روح ہے اس لئے موصوف نے ان سے پوچھا کہ جدائی میں آپ کا کیا حال ہوگا تو فرمایا کہ اس بارے میں کوئی
وعدہ نہیں کرسکتی۔ دل پر کس کا قابو چلتا ہے۔تاہم خوشی سے اجازت ملنے کے بعد تم پر کوئی ذمہ داری نہیں آتی۔
ہم نے کہا ہم بھی دل سے مجبور ہیں اس قیمت پر ہم کو ترقی مطلوب نہیں۔ صبح کا سوہانا وقت تھا ان کی والدہ کا
یہ فقرہ سن کر دل بھر آیا۔ دوپٹہ کا پہلو پھیلا کر جو رقت سے برنی رحمۃ اللہ علیہ کے حق میں دعا کی کہ وہ
کام کرگئی اس نے برنی رحمۃ اللہ علیہ کو ترقی دلائی۔ والد بھی ان کی اس استقامت پر بہت خوش ہوئے۔ پھر تصنیف
وتالیف کا چسکا لگ گیا۔ ملازمت کا سلسلہ شروع ہوگیا تھا۔ دنیا نے گھیر لیا۔
(صراط الحمید ج۱ ص۴۸،۳۴۷)
اس سے بظاہر ایسا معلوم ہوتا ہے کہ بلاد اسلامیہ کے سفر سے پہلے وہ اللہ کو پیاری ہوگئی تھیں۔ انتقال
کا واقعہ بھی عجیب ہے۔
45
والدہ ماجدہ کا انتقال
انتقال بھی عجیب رہا۔ صرف دو تین روز علالت رہی۔ علی الصبح جب آسمان صاف تھا۔ یٰسین شریف سنتے سنتے
فرمانے لگیں۔ کیسے بادل آتے ہیں۔ کیسی خوش رنگ گھٹائیں ہیں۔ کیسی ٹھنڈی ہوا ہے کیا سہانا وقت ہے۔ حضرت والد
صاحب نے فرمایا: ’’الحمد للہ ! برزخ کھلا تو رحمت کی گھٹائیں نظر آئیں۔ منزل قریب معلوم ہوتی ہے۔ چنانچہ ادھر
ادھر دیکھا جیسے کوئی نئی جگہ غور سے دیکھتا ہے۔ کلمہ پڑھا تو منکا ڈھل گیا اور جنت کو سدھاریں۔ ‘‘
(صراط الحمید ج۱ ص۳۰۱، ۳۲۱)
انتقال کو عرصہ گزر چکا۔ لیکن والدہ صاحبہ مرحومہ کی علیحدگی کچھ علیحدگی نہیں معلوم ہوتی بلکہ ایسا
معلوم ہوتا ہے ؎
آنکھوں سے تو چھپ جانا اور دل میں رہا کرنا
جامعہ عثمانیہ میں دار الترجمہ کا قیام اور برنی رحمۃ اللہ علیہ کی واپسی
۱۹۱۷ء میں جامعہ عثمانیہ حیدر آباد دکن میں دار الترجمہ کا قیام عمل میں آیا تو اچانک ان کے مخلص
دوست سرراس مسعود جو جامعہ عثمانیہ میں ناظم تعلیمات تھے۔ انہوں نے کالج کے پرنسپل اور برنی رحمۃ اللہ علیہ
دونوں کو تار اور خط بھیجا کہ برنی کو چھوڑو تاکہ وہ یہاں آئیں۔ حیدر آباد میں باپ، بھائی سب برسرکار تھے۔
کام بھی اردو کا تھا۔ پرنسپل نے روکنا چاہا لیکن دس دن میں اجازت مل گئی اور ۱۱؍ستمبر ۱۹۱۷ء کو برنی رحمۃ
اللہ علیہ حیدر آباد آگئے۔ دار الترجمہ میں معاشیات میں ترجمہ کا کام شروع کیا پھر مختلف عہدوں پر کام
کیا۔
جامعہ عثمانیہ میں کالج کا قیام اور شعبہ معاشیات کی سربراہی
دوسال میں جامعہ عثمانیہ میں کالج کھل گیا تو معاشیات کا شعبہ انہی کے سپرد کردیا گیا۔ پھر ترجمہ
وتصنیف کا کام بھی ملتا رہا۔ (صراط الحمید ج۱ ص۵۰۔۳۴۹)اس طرح معیشت الہند اور علم المعیشت اور کئی کتابیں
تیار ہوگئیں جو دار الترجمہ سے شائع کی گئیں۔ تقریباً ۱۶؍سال، جامعہ عثمانیہ میں صدر شعبہ معاشیات کی حیثیت
سے تعلیم دی۔ ضمناً نظام کالج میں سال دو سال ہنگامی پروفیسر معاشیات بھی رہے۔ (برنی نامہ ص۲۱)پھر پانچ سال
تک دارالترجمہ میں ناظم رہے۔
(ایضاً)
بزرگوں سے فیض
برنی رحمۃ اللہ علیہ کی خوش نصیبی تھی کہ انہوں نے شروع سے خوش عقیدگی کی فضا میں پرورش پائی۔ روحانیات وتصوف سے
فطری دلچسپی رہی۔ انہیں لڑکپن سے بزرگوں کی صحبت حاصل رہی۔ فیض پہنچتا رہا۔ موصوف کا بیان ہے: ’’لڑکپن تک
خورجہ کے قیام میں حکیم سید زین العابدین ایک صاحب نسبت وصاحب کرامت بزرگ کی تعلیم سے فیض ملتا رہا۔ علی گڑھ
کالج کے دس سالہ قیام میں حضرت مولانا خلیل احمد اور حضرت عبداللہ شاہ قادری کی عنایات والتفات سے قال وحال
میں جان پڑ گئی۔ وہ سنا وہ سمجھا اور وہ دیکھا کہ اللہ کی شان نظر آنے لگی۔‘‘ (برنی نامہ ص۵) اور جب حیدر
آباد میں آنا ہوا تو لکھتے ہیں: یہاں بزرگوں کا کیا کہنا ماشاء اللہ حقائق ومعارف کے چمن کھلے ہوئے ہیں
البتہ :
ہر گلے را رنگ وبوئے دیگر است
جامعہ عثمانیہ میں عبدالقدیر صدیقی، سید ابراہیم ادیب پروفیسر شعبۂ عربی سے گفتگوئیں ہوتیں تو
ایمانیات اور تصوف کے مسائل تازہ ہوجاتے۔ ملاقاتوں میں بڑی خیروبرکت رہی۔
(ایضاً)
46
مرشد کی مانگ اور ان تک رسائی
اس کی حقیقت برنی رحمۃ اللہ علیہ کی زبانی سنئے کہتے ہیں ’’ابتدائً ۱۹۲۱۔۱۹۱۷ ء جب محلہ جام باغ ترپ
بازار میں قیام تھا۔ حسن اتفاق کہئے یامشیت الٰہی کہ کسی تحریک کے بغیر ایک دن بعد نماز فجر نادانستہ طور پر
کرایہ کے مکان کا خیال آیا۔ ایک نو تعمیر مکان پر کرایہ کے لئے خالی تختی لگی ہوئی تھی۔ دستک دی۔ ماما
آئی، پھر بحیثیت مکاندار ایک بزرگ آئے۔ تعارف ہوا یہ شاہ محمد حسین صاحب تھے جو عارف باللہ شاہ کمال، قادری
مچھلی والے کے خلیفہ تھے۔ ان سے بات طے ہوگئی پھر دینی وروحانی روابط بڑھے اور راہ حق کی تعلیم وتربیت کا
سلسلہ چلا۔
(ایضاً ص۷)
یہ وجودی بزرگ تھے۔ ماہ شوال ۱۳۴۴ھ، ۱۹۲۵ء میں موصوف کے دست حق پرست پر قادری چشتی نقشبندی سلسلوں میں
بیعت کی پھر خلافت سے سرفرازی حاصل کی اور جب موصوف ناظم عدالت ہوکر سمستانی وفیری چلے تو خط وکتابت کا
سلسلہ قائم رہا۔ چنانچہ مؤرخہ ۱۱؍خورداد ۱۳۴۳ف کو شاہ محمد حسین رحمۃ اللہ علیہ نے ایک گرامی نامہ برنی رحمۃ اللہ علیہ کو
بھیجا اس میں لکھا تھا کہ: ’’میری دعا ہے کہ آپ کے فیض ولایت سے سارا عالم فیض یاب ہو یہ قیام خانوادۂ
الیاسیہ علوم الٰہیہ کی تبلیغ مقتضائے وقت کے مطابق ہو۔ آپ کا وجود نورانی اور نور ہے کہ جس سے افراد عالم
متمتع ہوگا۔ الحمد اللہ کہ اس کے آثار مختلف اعتبارات سے نمایاں ہورہے ہیں جب کام اخلاص سے ہو تو مقبولیت
یقینی ہے۔ اللہ تعالیٰ آپ کے کاموں میں برکت اور ہر قسم کی نصرت شامل رکھے۔ آمین ثم آمین!‘‘
خلافت نامہ پر دستخط کیے اور نقل پر شاہ کمال اللہ شاہ کے دستخط کے ساتھ بطور گواہ عبدالخالق خان اور
محمود علی بیگ کے دستخط کراکر بھیجا اور برنی رحمۃ اللہ علیہ کوتاکید کی تھی کہ یہ سلسلہ جاری رکھیں۔ چنانچہ
مصروفیت کے باوجود خاص دائرہ میں اس پر عمل ہوتا رہا۔ شاہ محمد حسین رحمۃ اللہ علیہ کے وصال کے بعد مریدوں کا مطالبہ شدت
اختیار کرگیا تو ۹؍ذوالحجہ دوشنبہ ۱۳۷۶ھ، ۲۶؍جولائی ۱۹۵۷ء سے بیعت کا عمومی آغاز برنی رحمۃ اللہ علیہ کے
خاندان سے ہوا۔
(برنی نامہ ص۱۲)
سالکان طریقت کو خلافت سے سرفرازی
اس سے پہلے محدود حلقہ میں جو کام جاری تھا وہ بھی تکمیل کو پہنچا۔ چنانچہ مرزا محمود علی بیگ،
عبدالحلیم، عبدالخالق خان، غلام دستگیر رشید اور احمد حسین خان کو ۲؍ذی الحجہ مطابق ۱۹؍جولائی ۱۹۵۷ء کو
خلافت سے سرفراز کیا گیا۔
(ایضاً)
فن تجوید وقرأت کی تحصیل
برنی رحمۃ اللہ علیہ نے اس فن کو مولانا عبدالقدیر صدیقی قادری حیدرآبادی (۱۲۸۸۔۱۳۸۱ھ) سے سیکھا تھا۔ (موصوف کے
حالات کے لئے ملاحظہ ہو۔ صراط الحمید ج۱ ص۳۰۵ وتذکرہ قاریان ہند مطبوعہ ومرتبہ بسم اللہ بیگ کراچی میر محمدکتب
خانہ ق۱۲۶۱رائے دکن ص۱۸،۱۷) فرماتے ہیں: ’’حضرت کی صحبت میں ہم کو بھی قرأت کا خیال پیدا ہوا۔ اوّل تو ہم
اس کو محض زیبائش اور تکلف سمجھتے تھے مگر جب سمجھے تو معلوم ہوا کہ تلاوت قرآن میں اس کی بڑی ضرورت ہے۔
بلکہ قرأت کا حق ادا کرنا ہو تو قرأت لابد ہے۔البتہ عام طور پر اس کے نکات وتفصیلات جاننے ضروری نہیں۔
بنیادی اصول جاننے کافی ہیں۔ ان کی مشق ہوجائے تو تلاوت درست ہوجائے۔ صحت تلاوت سے قرآن کریم کا لطف آئے۔
فیض کا راستہ کھل جائے۔ یہ کام اتنا دشوار نہیں جتنا دشوار سمجھتے ہیں۔ چنانچہ چند ماہ کی توجہ اور محنت سے
ہم نے فن قرأت کو سمجھا۔ اس کی مشق کی۔ حتیٰ کہ قرأت کے قاعدہ سے حضرت کو تمام قرآن کریم از اول تا آخر
ایک ماہ میں پڑھ کر سنایا۔ حضرت نے ہمارے عبور کو پسند فرمایا اور اطمینان ہونے پر قرأت کی سند عطا کی۔
لیکن پختگی کے واسطے مزاولت کی ضرورت ہے۔ جب تک کافی مدت دور نہ رہے۔ مشق پختہ نہیں
47
ہوتی، فن قابو میں نہیں آتا۔ ہم اپنی مصروفیتوں سے ہمیشہ عاجز رہے۔ ایک سروہزار سودا۔ ہمیشہ یہی حال
رہا۔ دور باقاعدہ جاری نہ رکھ سکا۔ درمیان میں وقفے ہوتے رہے۔ نتیجہ یہ کہ عبور غائب ہوگیا۔ سرسری خاکہ ذہن
میں رہ گیا۔ پھر موقع ملے تو تجدید کی جائے۔ جس زمانہ میں عبور حاصل تھا۔ رفاہ عام کے خیال سے کہ فن قرأت
کے سمجھنے میں آسانی ودلچسپی ہو۔ جدید طرز پر ایک رسالہ بھی لکھنا شروع کردیا۔ چنانچہ تقریباً نصف بھی لکھ
لیا۔ مگر پھر جو سلسلہ ٹوٹا تو اب تک نہ جڑ سکا۔ مسودہ یوں ہی ادھورا پڑا ہے اور فی الحال عبور بھی باقی
نہیں۔ اللہ کو منظور ہو اور آئندہ موقع ملے تو امید ہے کہ منصوبہ پورا ہوجائے۔ فن پر قرأت رسالہ شائع
ہوجائے۔ ’’وما توفیقنا الّا باللہ ‘‘
(بعد میں یہ کتاب مکمل کی۔ ج۱ ص۳۰۸،۳۰۹)
کھیلوں پر تبصرہ، بنوٹ کے فن پر رسالہ اور فن پر تنقید
یوں تو ہر کام میں قوت کی ضرورت ہے۔ لیکن کشتی میں جتنی قوت درکار ہے۔ بنوٹ میں اس کی اتنی ضرورت
نہیں۔ رگ پٹھوں سے کام زیادہ لیتے ہیں حریف بآسانی زیرہوسکتا ہے۔ فن سے کام لیں تو تھوڑی قوت کافی ہوتی ہے
اور یہی بنوٹ کی بڑی خوبی ہے۔ دست بدست پکڑ کے سوا۔ خنجر تلوار سے بھی مقابلہ کرتے ہیں لیکن سب سے زیادہ
کمال چھڑی میں ظاہر ہوتا ہے اور یہی اس کا خاص ہتھیار ہے کھیل ورزش کا تو پہلے ہی شوق تھا۔ حیدر آباد میں
بنوٹ کی فضاملی۔ حضرت مولانا عبدالقدیر حیدرآبادی کی دیکھا دیکھی ہمیں بھی شوق ہوا۔ حضرت کے ہاں کام دیکھا
پھر حضرت ہی کے مشورے سے ایک مستند استاد مقرر کیا۔ اس سے کئی سال کام سیکھا۔ ان دنوں علی گڑھ جانے کا اتفاق
ہوا تو مسلم یونیورسٹی میں بریلی کے ایک استاد سید صاحب بنوٹ سکھانے پر مامور تھے۔ اچھے استاد تھے۔ انہوں نے
بھی کام دکھایا۔ پھر بنگلور میسور جانا ہوا تو وہاں بھی پرانے استاد جمع ہوئے۔ کام کا مظاہرہ ہوا۔ غرض کہ
بہت کچھ دیکھا اور خود بھی سیکھا تھا۔ کام میں فنی حیثیت سے ایک بڑی خامی نظر آئی۔ یہ کہ اصول کا فقدان تھا
عمل میں کوئی اصولی ربط نہ تھا۔ جو فن کے واسطے لابد ہے۔ بس مشق ہی مشق تھی۔ یہ کام کیا وہ کام کیا۔ دہراتے
دہراتے مشق ہوگئی۔ جیسے کوئی اقلیدس کی چند متفرق شکلیں یاد کرلے مگر یہ نہ جانے کہ نقطہ کیا ہے؟ خط کیا ہے؟
سطح کیا ہے؟ جسامت کیا ہے؟ اصول کیا ہیں؟ اشکال کیا ہیں؟ ان میں ترتیب کیا ہے؟ تعلق کیا ہے؟ ثبوت کیا ہے؟
نتیجہ کیا ہے؟ اور جب تک فن میں فن تک لوازم نہ ہوں محض رسمی تقلید پر تعلیم یافتہ نوجوان آمادہ نہیں ہوتے۔
چنانچہ یہ صورتحال دیکھ کر ہم نے کئی سال غور فکر کیا۔ تجربات کیے کہ علم وعمل کا کوئی اصولی ربط قائم
ہوجائے تو فن میں جان پڑجائے۔ جس حد تک بھی کامیابی ہوئی اللہ کا شکر ہے۔ چنانچہ اپنی تحقیقات کے مطابق اس فن
میں ایک رسالہ تصنیف کرلیا۔ البتہ طبع نہیں کرایا۔ اول تو زمانہ کی نزاکت، مگر اس کا طرز بیان، حسن اتفاق سے
ایسا بن پڑا جس کو سمجھادو۔ اس کے واسطے آئینہ، جس کو نہ سمجھا ئو تو اس کے واسطے معمہ، دوسرے خوف یہ کہ
رسالہ کی اشاعت پر تعلیم کی فرمائش بڑھی تو اپنے پاس وقت کہاں۔ خود ہم کو مزاولت کہاں۔ تاہم ممکن ہے۔ آئندہ
کوئی صورت نکل آئے اور محنت کام آئے۔ ان شاء اللہ !
(صراط الحمید ج۱ ص۱۰،۹،۳)
۱۹۲۷ء میں بلاد اسلامی کا سفر اور حج وزیارت کا شرف
برنی رحمۃ اللہ علیہ کے مرشد شاہ محمد حسین چشتی قادری نے ۱۳۴۴ھ مطابق ۱۹۲۵ء میں حج کیا تو آکر انہیں بشارت دی کہ
ان شاء اللہ قریب ہی آپ کو بھی یہ سعادت نصیب ہوگی۔
(صراط الحمید ج۱ص۱۵)
چنانچہ ایسا ہی ہوا۔ برنی رحمۃ اللہ علیہ نے ایک دن فرصت میں مولانا عبدالقدیر صاحب حیدر آباد سے
دوران گفتگو میز سے جنتری اٹھائی۔ تعطیلات پر نظر پڑی تو رخصت ملا کر دیکھا اتنی مدت ہوگئی۔ سفر بخوبی کیا
جاسکتا ہے۔عبدالقدیر صاحب! ان کے مرید سید حبیب علی اور مخلص
48
دوست لطف احمد بھی تیار ہوگئے۔ دو سید ایک صدیقی اور برنی فاروقی چاروں کا قافلہ تیار ہوگیا۔ امیر
قافلہ برنی رحمۃ اللہ علیہ صاحب کو بنایا گیا۔
( ایضاً ج۱ ص۳۱۱،۳۱۳،ایضاً ج۱ ص۳۱۳،۳۱۵)
چنانچہ موصوف فرماتے ہیں: ’’خدا کا فضل تھا ایک جان چار قالب تھے۔ ایک دل ایک زبان تھے۔‘‘ چنانچہ
ہمارے دوست سید امجد حسین امجد فرماتے ہیں:
-
اک راگ بنا ہے مختلف سر مل کر
تصدیق ہوئی چند تصور مل کر
-
برنی، حسرت، حبیب، لطف احمد
اک جسم بنا ہے چار عنصر مل کر
قرآن کریم کھولا یہ آیت شریفہ نکلی: ’’وہدوا الی الطیب من القول وہدوا الی صراط
الحمید‘‘ اس سفر نامہ کا نام ’’صراط الحمید‘‘ رکھا… جیسی نظر ویسی دید، جیسی طلب ویسی یافت۔
(ایضاً ج۱ ص۱۶)
دیتے ہیں بادہ ظرف قدح دیکھ کر
بہرحال روحانی فیوض وبرکات کی بحث بہت نازک ہے جس پر گزرے وہی جانے:
لذت نہ شناسی بخدا تانہ چشی
حج کا پہلا سفر
برنی رحمۃ اللہ علیہ اس سفر کی مدت اور اس کی برکات کا تذکرہ یوں کرتے ہیں: ’’یکم؍رمضان المبارک مطابق ۶؍مارچ ۱۹۲۷ء
کو روانہ ہوئے اور ۲۹؍ذی الحجہ مطابق ۲۰؍جون ۱۹۲۷ء کو گھر لوٹ آئے۔ چار ماہ میں اللہ تعالیٰ نے اتنی وسعت
وبرکت دی کہ عراق، شام، فلسطین اور حجاز، دور دراز ممالک کا سفر طے ہوگیا۔ بغداد شریف وملحقات شریفہ میں دو
ہفتے، دمشق میں ایک ہفتہ، بیت المقدس میں ایک ہفتہ، مدینہ منورہ میں تین ہفتے، مکہ معظمہ میں دو ہفتے غرض
قدم قدم پر اور لمحہ لمحہ پر تائید ایز دی اور لطائف غیبی کا جلوہ نظر آتا تھا جو چشم بصیرت کھولتا اور نور
ایمان بڑھاتا تھا۔‘‘
مدینہ میں معمولات
حرم نبوی میں ہر ایک کا اپنے اپنے اوقات میں اپنا اپنا معمول ہوتا ہے۔ برنی رحمۃ اللہ علیہ کا معمول
یہ تھا: ’’شب کو اڑھائی کے قریب حرم شریف کے دروازے کھلتے ہیں۔ حاضر رہتے، فرط شوق سے، بڑے ادب سے لمبے لمبے
قدم، آہستہ آہستہ رکھتے۔ گویا دبے پائوں جاتے۔ ریاض الجنت میں تلاوت کرتے، محراب النبی میں نماز پڑھتے۔
مواجھہ شریف میں درودوسلام پیش کرتے۔ پھر وظیفہ پڑھتے۔ فجر کی نماز سے فارغ ہوتے ہی تاروں کی چھائوں میں جنت
البقیع میں دوڑ جاتے۔ نور ظہور کے وقت وہاں بھی یکسوئی ہوتی۔ سب ہی مزارات پر بلاناغہ حاضر ہوتے۔ فاتحہ
پڑھتے اور حضرت سیدہ خاتون جنتt کے مزار پر دیر تک حاضر رہتے۔ مگر دل نہ بھرتا تھا۔ طلوع آفتاب کے بعد حجاج
کی آمد ہوتی۔ اس وقت فاتحہ سے فارغ ہوکر حرم شریف واپس پہنچتے۔‘‘
(صراط الحمید ج۱ ص۱۷۹)
حرم نبوی میں جاروب کشی
یہاں خدام کے ساتھ جھاڑو بہارو کے کام میں شریک ہوجاتے۔ ریاض الجنۃ میں فرش جھاڑتے، جھاڑو دیتے، خدام
میں نام شامل کراتے۔ غیر حاضری پر بازپرس ہوتی تھی۔ کام دل کھول کر کرتے اور لطف اٹھاتے تھے۔ (ایضاً
ص۱۷۹،۱۸۰)چنانچہ فرماتے ہیں: ’’اس میں ایک آدھ گھنٹہ صرف ہوتا صبح ۷،۸ بجے کے قریب فراغت ہوتی تو مکان پر
آتا، ناشتہ کرکے سوجاتا دوپہر کو اٹھتا۔‘‘
(ایضاً ص۱۷۹،۱۸۰)
49
شب حضوری
حرم نبوی میں رات کو ٹھہرنے کے لئے خصوصی اجازت درکار ہوئی۔ درخواست کی منظوری منتظمین کی صواب دید پر
موقوف ہوتی تھی۔ برنی رحمۃ اللہ علیہ اور ان کے دوستوں نے بھی اجازت مانگی تو مل گئی۔ برنی رحمۃ اللہ علیہ
اس کی داستان یوں بیان کرتے ہیں۔ ۶،۷؍ذیقعد ۱۳۴۵ھ یوم یکشنبہ دوشنبہ کی درمیانی شب حرم شریف میں بسر ہوئی۔
اس شب کا کیا کہنا ۔ زہے قسمت زہے نصیب۔عشاء کی نماز پڑھ کر ہم چاروں اغوات کے چبوترہ پر بیٹھ گئے۔ نمازی
رخصت ہوئے۔ پھر خدام رخصت ہوئے۔ شاید کوئی خادم اندر رہ گیا ہو۔ مگر نظر نہیں آیا۔ حرم شریف کے دروازے بند
ہوگئے۔ روشنی مدھم ہوگئی۔ غرض تخلیہ ہوا تو عجب شان جلالت کے آثار محسوس ہونے لگے۔ بے اختیار دل عظمت سے
بیٹھا جاتا تھا۔ ہم چاروں اندر سے اٹھ کر باہر صحن میں آبیٹھے۔ نوافل، ذکروفکر، صلوٰۃ وسلام میں ہر کوئی
اپنے اپنے ذوق کے مطابق مشغول ہوگیا۔ شاید نیند آئے مگر کیا ممکن ہے کہ پلک جھپکے، البتہ محویت ضرور تھی۔
رات ڈھلی تو ۲؍بجے کے قریب دلوں پر جمال چھاگیا۔ رئوف رحیم کا رنگ آگیا۔ صاف معلوم ہوا کہ اب حاضر ہونا
چاہئے۔
(صراط الحمید ج۱ ص۱۸۰)
الحمد للہ ! اس سے بڑھ کر زندگی میں کونسا وقت آسکتا ہے۔ اٹھے اور لڑکھڑاتے بارگاہ اقدس کی طرف چلے کسی
کے دل میں تخلیہ کی تمنا تھی۔ خدا کی قدرت تینوں رفیق نماز کے واسطے روضۃ الجنۃ میں ٹھہر گئے اور ایک دیوانہ
اپنی دھن میں افتاں وخیزاں پہنچا اور مواجہ شریف میں آستانہ معلیٰ کی جالی مبارک پکڑ کر کھڑا ہوگیا۔ اللہ
اکبر! وہ تنہائی شب کی خوشی، پیش میں صرف دو شمعیں روشن اور بارگاہ اقدس کی حضوری ؎
-
یارب کجاست محرم رازے کہ یک زماں
دل شرح آن دید کوچہ دیدہ چھا شنید
اتنے چاروں رفیق جمع ہوگئے اپنا اپنا ر بط اپنا اپنا حال:
ہم ہی ہم ہیں تری محفل کوئی اور نہیں
گھنٹے منٹوں کی طرح گزر گئے۔ وہی تین بجے حرم شریف کے دروازے کھلے اور تخلیہ برخاست ہوا۔ اپنے حق میں
یہ شب، لیلۃ القدر معلوم ہوتی تھی: الحمد للہ حمدا کثیراً وصلی اللہ علی رسول اللہ وبارک
وسلم
(صراط الحمید ج۱ ص۱۸۱،۱۸۲)
خصوصی صلوٰۃ وسلام کا القاء
برنی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: ’’مواجہ شریف میں حضور انورﷺ کے واسطے سے دعائیں خدا جانے کتنی مانگیں اللہ تعالیٰ
قبول فرمائیں لیکن ایک دعا اول ہی مانگی کہ ایک ایسی درود ذہن میں آجائے جس میں حضورﷺ کی شان مذکور ہو جو
اللہ تعالیٰ کے علم میں مسلم ہے۔ وہ درود نئی ہو کسی سے اب تک منقول نہ ہو۔ و ہی پڑھا کروں اور اس کو حضور
کافیض سمجھوں۔ اللہ تعالیٰ کی شان مجھ جیسے کم علم کے ذہن میں بلاتفکر ایک قرآنی درود شریف معاً اتر آئی اور
ہمیشہ وہی ورد رہی۔ ’’واما بنعمۃ ربک فحدث‘‘
باتباع امر اس کو یہاں ظاہر کرتا ہوں وہ یہ ہے: ’’اللّٰہم صل وسلم علی سیدنا محمد طہ
یٰسین حیم حیم خاتم النّبیین رحمۃ للعالمین بالمؤمنین رؤف رحیم وانک لعلی خلق عظیم وعلیٰ آلہ وصحبہ
اجمعین برحمتک یا ارحم الراحمین‘‘ اس ورد سے عجیب برکات محسوس ہوتے ہیں۔ امید ہے اس سے مومنین کو
فیض پہنچے گا اور خیر جاریہ کے ثواب میں اللہ تعالیٰ ہم کو بھی شریک رکھے گا۔
(ایضاً ج۱ ص۱۸۲،۱۸۳)
50
مدینہ سے روانگی
برنی رحمۃ اللہ علیہ کے دو ہفتے بہت راحت سے گزرے جب رخصت کا خیال آنے لگا تو چلتے پھرتے اٹھتے بیٹھتے بے اختیار
آنسو ٹپکنے لگے۔ اس میں ہفتہ عشرہ اور گزر گیا۔ ۲۲؍ذیقعد کو روانگی پختہ ہوئی اور احرام باندھ کر بارگاہ
اقدس میں حاضر ہوئے تو کیفیت یکسر بدل گئی۔ رخصت کے وقت دل خوشی سے بھرگیا۔ معلم الوداع یا رسول اللہ پڑھواتے
اور برنی فرماتے ہیں:’’ہماری زبان سے الوداد یا رسول اللہ نکلتا تھا۔‘‘ (صراط الحمید ج۱ ص۱۸۱،۱۸۲) جدائی کا
احساس دل سے غائب تھا۔ مدینہ سے مکہ معظمہ کیا جارہے ہیں گویا محمد رسول اللہ ﷺ کے
وسیلہ سے لاالہ الّا اللہ کی طرف بڑھ رہے ہیں۔اب تک یہ دعا تھی: ’’خدا یا از تو مے خوا ہم مصطفی را‘‘ اب یہ ورد شروع ہوا: ’ محمد
از تو مے خواہم خدارا‘‘ ’’ سبحان اللہ و الحمد للہ و لاالہ الّا اللہ و اللہ اکبر‘‘
(ایضاً ج۱ ص۱۹۲،۱۹۳)
لڑکیوں کی شادی
برنی رحمۃ اللہ علیہ کی تین لڑکیاں تھیں ان میں سے رشیدہ کی شادی اپنے مرشد حضرت مولانا شاہ محمد حسین کے فرزند
مسعود حسن سے اور فاطمہ کی مولانا عبدالقدیر صدیقی صدر شعبہ دینیات جامعہ عثمانیہ کے فرزند موسیٰ عبدالرحمن
سے اور کنیزفاطمہ کی عبدالقدیر صدیقی کے چچا زادبھائی نواب صدیق یارجنگ کے فرزند امجد اللہ صدیقی سے کی
تھی۔برنی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: ’’یہ تینوں صاحب اولاد ہیں، صاحب روزگار ہیں، اللہ تعالیٰ شادوآباد رکھے۔‘‘
(برنی نامہ ص۱۷)
برنی رحمۃ اللہ علیہ کے والد ماجد
برنی رحمۃ اللہ علیہ کے والد حافظ محمد ابراہیم ایک صحت مند شخصیت کے مالک تھے۔ ورزش کرتے تھے۔ آخر عمر تک نشست
وبرخاست میں کوئی معذوری نہ تھی۔ ۶۰؍سال کی عمر میں آنکھ میں پانی اتر آیا تھا۔ علی گڑھ میں آنکھ بنوائی۔
اچھی بنی لیکن پھر پانی اتر آیا۔ وصال سے دو سال پہلے دہلی میں آنکھ بنوائی۔ بالکل اچھی بنی۔ اپنی ضرورت
کے سب کام کرتے تھے۔ دانت آخر عمر تک مضبوط تھے۔ صرف آگے کا ایک دانت گرا تھا۔ حافظ تھے۔ بہت پرہیز گار۔
تہجد گزار، اذکارواوراد کے پابند، بزرگ تھے۔ لڑکپن میں حضرت شاہ عبدالغنی مجددیc (۱۲۳۵-۱۲۹۲) سے بیعت ہوگئے
تھے۔ ڈھلتی رات اٹھنا اور نماز کے بعد صبح تک یاد اللہ میں مصروف رہنا معمول تھا۔ عمر بھر میں وصال سے پہلے،
رمضان کے دو روزے چھوڑے تھے۔علمی ذوق :تاریخ اسلام، فقہ، تصوف، طب سے خاص دلچسپی تھی۔ حضور اکرمa کی حیات
طیبہ سلیس اردو میں لکھی تھی۔ شاہ ولی اللہ c کی بدائع کا اردو میں ترجمہ کیا تھا۔ محمد حقی نازلی کی ’’خزینۃ
الاسرار‘‘ کا اردو میں ترجمہ کیا تھا۔ یہ سب مسودات کی صورت میں محفوظ تھا۔ فن بیطاری پر ایک رسالہ لکھا
تھا۔ طبی مجربات بھی مرتب کئے تھے۔ (صراط الحمید ج۲ ص۲۴،۲۳)حیدرآباد میں بحیثیت وکیل چالیس برس بسر کئے جو
لوگ واقف حال تھے کہتے تھے کہ وکالت میں ولایت کردکھائی تھی۔ (صراط الحمید ج۲ ص۲۵)موصوف کے مکتوبات شائع کئے
جائیں تو بہت سے جوہر کھلیں۔
برنی رحمۃ اللہ علیہ کا بیان ہے: ’’وصال سے تین سال قبل حسب معمول، میں موسم سرما کی تعطیلات میں حاضر خدمت تھا۔
پوچھا تمہیں کوئی استخارہ بھی معلوم ہے۔ میں نے عرض کیا حضرت کو کئی استخارے معلوم ہیں۔ تعمیل ارشاد میں ایک
استخارہ عرض کرتا ہوں۔ مختصر ومقبول ہے: تیسرے دن حسب معمول فجر کی نماز کے بعد سلام عرض کرنے گیا تو دیکھا
کہ لحاف اوڑھے لیٹے ہیں۔ قریب بیٹھا تو محسوس ہوا کہ رقت طاری
51
ہے۔ حیرت ہوئی، خاموش بیٹھا رہا حضرت کو افاقہ ہوا تو فرمایا کہ واقعی تمہارا استخارہ بہت مقبول ہے۔
میں ادب سے خاموش رہا۔ خود بولے: لڑکپن میں حضرت شاہ عبدالغنی مجددیc کا مرید ہوگیا تھا۔ اس کے بعد بڑے بڑوں
کی صحبت وشفقت رہی لیکن کسی سے بیعت کی نوبت نہیں آئی۔ اب آخر عمر میں یہ خیال ہوتا تھا کہ وہ کم عمری کی
بیعت مسلم رہی یا پھر تجدید کی ضرورت ہے۔ تہجد میں غنودگی ہوئی تو خواجہ باقی با اللہ c کو متوجہ پایا۔ انہوں نے
فرمایا تمہاری قدیم بیعت مسلم ومقبول ہے اور کل پیران سلسلہ تم پر مہربان ہیں۔‘‘
(صراط الحمید ج۲ ص۲۵، ۲۶)
وصیت نامہ اور ورثاء میں جائیداد کی تقسیم
۲۳؍نومبر ۱۹۳۱ء میں خط بھیجا، ناسازی طبع سے آگاہ کیا اور لکھا۔ تینوں بھائیوں میں سے جو بھی بآسانی
آسکے ایک ماہ کے لئے آجائے۔ تاکہ ضروری کام نمٹائے جائیں۔ عجلت کی ضرورت نہیں۔ برنی رحمۃ اللہ علیہ موسم
سرما کی چھٹی میں آجائے تو اچھا ہے۔ ۱۴؍دسمبر سے سرما کی چھٹی شروع ہوئی۔ میں روانہ ہوا جب میں بلند شہر
پہنچا اولاً ملا تو طبیعت ٹھیک تھی۔ فرمایا تمہاری آمد کی خوشی میں سنبھل گئی۔ وصیت نامہ تیار تھا۔
۱۷؍دسمبر سہ پہر سے ملکیت وجائیداد کے کاغذات وحسابات دیکھنے اور سمجھنے شروع کردئیے اور اگلے دن کو صبح سے
شام تک یہی کام کیا۔ تیسرے دن ۱۹؍دسمبر دوپہر تک اس کام سے فارغ ہوا۔ عدالت کے کارندے منشی اوصاف علی صاحب
اس کام میں شریک رہے۔ منشی جی کو کہیں اگر کوئی پیچیدگی پیش آتی۔ حضرت اسے سلجھا دیتے تھے۔ اس کوشش کا
نتیجہ یہ ہوا کہ وصیت نامہ بعد نظرثانی مکمل ہوگیا۔ اس میں سب وارثوں کے نام ملکیت وجائیداد کی تقسیم درج
ہوگئی اور خاندانی امور کے متعلق ضروری ہدایات بھی۔ اس وصیت نامہ کے بعد خاندان میں کوئی اختلاف نمودار نہ
ہوسکا اور اتفاق رہا۔
(صراط الحمید ج۲ ص۱۷)
حج بدل کی وصیت وتاکید
۱۸؍دسمبر کو جمعہ کا دن تھا بعد نماز جمعہ اطمینان سے بیٹھے تو والد صاحب رحمۃ اللہ علیہ نے خود ہی حرمین شریفین کا
ذکر چھیڑا۔ مجھ سے حالات سننا شروع کئے جب مدینہ کا ذکر چلا تو طبیعت مچل گئی۔ رقت شروع ہوگئی۔ گھر کی بہو
بیٹیاں آبیٹھیں۔ دلوں کا جوش آنکھوں سے جاری ہوگیا۔ یقین ہورہا تھا کہ غلام اپنے آقا کی توجہ سے سرفراز
ہوئے ہیں۔
-
اثر اتنا تو ہو جذب دل ناشاد کبھی
مجھ کو بھولے سے مدینے میں کریں یاد کبھی
-
ہجر کی میری زبانی سنیں روداد کبھی
ہند میں کرنا میری خاک نہ برباد کبھی
حضرت نے اسی حالت فرمایا کہ دلوں کے حال سے اللہ تعالیٰ خوب واقف ہے مجھے عمر بھر حج وزیارت کی تمنا رہی
اور دو ایک مرتبہ تو تہیہ سفر بھی ہوگیا لیکن نہ معلوم کیا مصلحت الٰہی تھی کہ تمنا پوری نہ ہوسکی اور دل کی
دل ہی میں رہ گئی۔ تم حج سے آئے میری ہمت بڑھ گئی کہ تم کو ساتھ لیکر جائوں گا آرام رہے گا لیکن جب جسم
میں طاقت تھی تو نگاہ بے کار تھی۔ اب نگاہ درست ہوئی تو طاقت نے جواب دے دیا۔ میں تمہیں وصیت کرتا ہوں کہ
حتی الامکان خود ہی جاکر میرا حج بدل ادا کرنا اور مدینہ حاضر ہوکر صلوٰۃ وسلام عرض کرنا۔ حرم نبوی کے خدام
اور مدینہ کے حاجتمند باشندگان کی خدمت میں ایک ہزار روپیہ پیش کرنا۔ اس لئے میں اپنے اندوختہ سے دو ہزار
روپے کی وصیت کرتا ہوں۔
(صراط الحمید ج۲ ص۱۸)
والد ماجد کا انتقال
۱۱؍جنوری۱۹۳۲ء کی رات گزری تیسرے رمضان کو صبح کے وقت وفات پائی۔ قمری حساب سے اکیانوے سال اور گیارہ
یوم کی عمر پائی تھی۔
(ایضاً ج۲ ص۲۱،۲۲)
52
حیدر آباد سے حج بدل کے سفر کا آغاز اور گلبرگہ میں حضرت گیسودراز رحمۃ اللہ علیہ کے مزار پر فاتحہ
تاریخ ۹؍مارچ ۱۹۳۳ء یوم پنجشنبہ شام کو پانچ بجے حیدر آباد سے رات ۱۲؍بجے گلبرگہ پہنچے اور حضرت
خواجہ سید محمد حسینی بندہ نواز گیسودراز رحمۃ اللہ علیہ کے آستانہ معلی پر فاتحہ پڑھی پھر رخصت ہوئے۔برنی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں:
’’اوّل تو حضرت ماشاء اللہ سلطان دکن ٹھہرے، دوسرے خدا کے فضل سے اپنا چشتیہ سلسلہ راست حضرت ہی کا سلسلہ ہے۔
اس نسبت سے محمدی کہلاتے ہیں۔ یہاں ہمارے سوا راست محمدی سلسلہ کم نظر آتا ہے۔ ‘‘
(صراط الحمید ج۲ ص۴۱)
ایک دیرینہ ہم جماعت منفعت علی
بمبئی سے جہاز میں سوار ہوئے تو بیس نمبر پانچ میں جگہ ملی۔ ان کی برتھ کے مقابل برتھ پر ایک قدیم
دوست کا بستر جما۔ بیس برس کے بعد بغیر توقع جو یکایک ملاقات ہوئی تو ایک دوسرے کو دیکھ کر حیران رہ گئے۔
چند سیکنڈ پہچاننے میں لگے اس کے بعد جو گلے لگے تو کئی منٹ بغل گیر رہے:
-
اے ذوق کسی ہمدم دیرینہ کا ملنا
بہتر ہے ملاقات مسیحا و خضر سے
برنی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: ہم نے ایک ہی سال میٹرک کا امتحان درجہ اول میں پاس کیا۔ ایک ہی سال علی گڑھ میں
داخل ہوئے۔ دونوں ہونہار سمجھے جاتے تھے۔ فرق سنئے! ڈاکٹر ضیاء الدین صاحب نے ان کو بہلا پھسلا کر ریاضی
وسائنس میں کھینچا۔ ہم فنون میں جمے رہے۔ انہوں نے بی ایس کیا۔ ہم نے اکنامکس میں ایم اے کیا۔ ایل ایل بی
کی۔ سند دونوں نے حاصل کی۔ ان کا وطن مظفرنگر ہمارا بلند شہر۔ کالج میں یہ کچی بارک میں۔ ہم پکی بارک میں
رہتے تھے۔ یہ نماز کے مانیٹر اور ہم طعام کے مانیٹر تھے۔ سوٹ بوٹ سے دونوں الگ تھے۔ کالج کی رعایت سے یہ
داڑھی کی تواضع کرتے تھے۔ ہم اس سے بھی بے فکر تھے۔ اب ان کی یک مشت میں دو انگشت کی کسر ہے اور اپنی وہی
خشخشی۔ اب یہ خاصے مولوی نظر آتے ہیں بفضلہ عنقریب حاجی بھی ہوجائیں گے۔ یہ نماز کے شروع سے ہی پابند تھے،
اب ماشاء اللہ ذکرواذکار میں،اشغال میں، مراقبے میں اور کیوں نہ ہوں حضرت مولانااشرف علی تھانوی رحمۃ اللہ
علیہ کے مرید ہیں۔ ان شاء اللہ وہ دن دور نہیں جب کہ حضرت الحاج مولانا منفعت انگریزی تعلیم یافتہ جماعت میں
بڑے بزرگ شمار ہوں گے۔ اپنا تو وہی حال ہے ؎
-
گزری جہاں کے باغ میں یکساں برنگ سرو
سوکھے کبھی خزاں میں نہ پھولے بہار میں
وہی طرز، وہی روش، وہی وضع قطع، ہم نے ایل ایل بی کرتے وقت سوچ لیا تھا کہ ’’داشتہ آید بکار‘‘ البتہ
منفعت علی نے اس سنہ سے خوب کام لیا۔ سہارنپور میں چوٹی کے وکیل ہیں۔ ہم تعلیم وتصنیف میں مصروف ہیں۔
(صراط الحمید ج۲ ص۵۹)
مقامات زیارت
برنی رحمۃ اللہ علیہ فرصت کے اوقات میں آثار قدیمہ کی زیارت کے لئے بھی جاتے تھے جو سعودی حکومت نے اب ڈھا دئیے
تھے۔ جیسے مولد النبی ﷺ، مولد فاطمہt، مولد علی رضی اللہ عنہ۔ چنانچہ برنی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں:
یہ تینوں مقام اب ویران چٹیل میدان پڑے ہیں۔ لوگ پتہ بتاتے ڈرتے ہیں کوئی نہ بتائے تو گمان بھی نہیں
ہوتا کہ یہاں دنیا کی بہترین مرصع اور متبرک عمارات کھڑی تھیں۔ ظاہر وباطن کی نعمتوں سے مالا مال تھیں۔ ان
کی زیارت سے آنکھوںمیں نور، دل میں سرور آتا تھا۔ اب وہ سب خواب وخیال ہوگیا۔ البتہ جو حقیقی برکات ہیں وہ
حقداروں کے واسطے دائم قائم ہیں۔
(ایضاً ص۸۷)
53
غسل کعبہ کا معطر زم زم کا گلاس
برنی رحمۃ اللہ علیہ معلم کے چھوٹے بھائی حسین صاحب کے ساتھ ۴؍ذی الحجہ یوم پنجشنبہ صبح کے وقت شیبی صاحب سے ملاقات
کی غرض سے نکلے۔ جاتے وقت حرم شریف سے گزرے تو حسین نے کہا آج بیت اللہ کو غسل دیا گیا ہے۔ ان کا مکان اس کی
خوشبو سے معطر تھا۔ جب برنی رحمۃ اللہ علیہ پہنچے تو شیبی جلالۃ الملک سے ملنے گئے تھے۔ ذرا سی دیر بیٹھے تو
حسین نے شیبی کے صاحبزادے سے پانی مانگا۔ اس نے ٹھنڈا زم زم پیش کیا۔ برنی فرماتے ہیں: ’’مجھ سے دریافت کیا
گیا میں کیوں انکار کرتا۔ لیکن زہے قسمت ہم کو بلاطلب اور بلاتوقع غسل کا معطر زم زم ایک بڑا گلاس بھر کر
عطا ہوا۔ عطیہ الٰہی تھا۔ فوراً ادب سے پی لیا۔ خوشبو سے دماغ بس گیا۔ خوشی سے دل بھر گیا۔ سچ پوچھے تو روح
مست ہوگئی۔ اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کیا۔ حسین نے مبارکباد دی کہ ایسا تبرک بن مانگے قسمت والوں کو ملتا ہے۔
تیری نیک فالی ہے۔ شیبی صاحب کا تھوڑا انتظار کیا۔ اس کے بعد رخصت ہوئے اور جہاں کہیں جانا تھا گئے۔ سب نے
سن کر مبارک باد دی اور بتایا کہ احرام میں معطر زم زم پی لیا تو دم واجب ہے۔ ہم نے عرض کیا ہمیں تو وہم
وگمان بھی نہ تھا لیکن ؎
گر یارے پلائے تو پھر کیوں نہ پیجئے
دودم بسر وچشم حاضر ہیں سچ پوچھئے تو ایسا تبرک سودم میں بھی سستا ہے۔‘‘
(صراط الحمید ج۲ ص۸۵،۸۶)
بیت اللہ میں ایک گھنٹہ
۵؍ذی الحجہ کو فجر کی نماز کے بعد ہر شخص کو بیت اللہ میں داخلہ کی عام اجازت دی جاتی تھی۔ اس میں برنی
رحمۃ اللہ علیہ بھی اندر گئے تھے۔ اس میں بھیڑ بہت ہوتی تھی۔ اس لئے زیادہ دلجمعی سے قیام اور دعا کرنے
کاموقع کم ملتا تھا۔
دوسرا شیبی صاحب کو نذرانہ پیش کرنے پر خصوصی اجازت سے داخلہ ملتا تھا۔ اس میں یکسوئی بھی ہوتی ہے۔
برنی رحمۃ اللہ علیہ نے اس موقع سے فائدہ اٹھایا۔ ان کا بیان ہے ہم نے بھی نذر پیش کی صرف چند حجاج کا داخلہ
ہوااور تقریباً ایک گھنٹہ اندر حاضری رہی۔ جو پڑھنا تھا پڑھا۔ جو کہنا تھا کہا، جو دیکھنا تھا دیکھا، اللہ
اکبر!
اس عالم شہادت میں اس سے بڑھ کر کیا رسائی ہوگی۔ بیت اللہ شریف کے اندر حاضر ہیں۔ عالم باطن خدا پر روشن
ہے۔ کیا خوب ہوا کہ ہم بیت اللہ میں داخل ہوں۔ اللہ تعالیٰ ہمارے دل میں داخل ہو۔ ہمارا دل پھر بیت اللہ بن جائے،
ظاہر کے بیت اللہ میں باطن کابیت اللہ آجائے۔ ایک حرم میں دوسرا حرم سما جائے۔ کچھ عجب لطف ہوجائے۔
اودرمن ومن دروے چوں بو بگلاب اندر
جن کے دل بیت اللہ تھے۔ ان ہی کے ہاتھوں نے اس بیت اللہ کی بناڈالی اور انہی کی دعائوں سے یہ بیت اللہ آباد
ہے۔ سبحان اللہ وبحمدہ!
(صراط الحمید ج۲ ص۸۷)
مکہ معظمہ کے دو تبرک
برنی رحمۃ اللہ علیہ کو قدیم آثار مقدس مقامات کی تصویروں کی جستجو تھی۔ مختلف دکانوں میں دیکھا لیکن ذخیرہ مختصر
تھا۔ کوشش سے ایک غیر معروف قدیم ترکی کمپنی کے فوٹوگرافر کی دکان پر کافی تعداد میں ذخیرہ ملا۔ ان میں بعض
نادر تصویریں مل گئیں۔ اس طرح بہت مسلسل اور مکمل البم مرتب ہوگیا۔ دوستوں کے واسطے متفرق فوٹو بچ رہے۔
(صراط الحمید ج۲ ص۸۹)
54
مکہ معظمہ کے تبرکات
دوتبرک اہم ہیں ایک زم زم اور دوسرے غلاف کعبہ، زم زم ہر وقت ملتا ہے۔ خلاف کعبہ عشرہ ذی الحجہ کو نیا
غلاف چڑھتا اور پرانا اتر کر تبرک بن جاتا ہے۔ بکتا تھا امسال یہ ارزاں تھا پورا کلمہ شریف چار پانچ روپیہ
میں ملتا تھا۔ ہم نے دس بارہ خریدے۔ ان میں ایک بہت عمدہ تھا بالکل نیا معلوم ہوتا تھا۔ ایک دکان سے اکٹھے
خریدے رعایت بھی رہی۔
(ایضاً ص۹۰)
قصر شاہی میں دعوت
برنی رحمۃ اللہ علیہ آثار قدیمہ کی تصویروں کی جستجو میں ایک دکان میں تھے۔ کہ دو ہر کارے ان کے نام لفافہ لائے اور
بولے کہ ہم آپ کو تلاش کررہے ہیں۔ یہ دعوت نامے لیجئے اور قصر شاہی میں آج شام تشریف لائیے۔ ڈاکٹر خواجہ
معین الدین صاحب آپ کے انتظار میں ہیں شرکت کا ارادہ تھا لیکن ڈاکٹر خواجہ کو انتظار تھا کہ ان کے پاس
پہنچے تو کہا دونوں ساتھ چلیں گے ان کے اصرار پر قصرشاہی پہنچے۔ اسلامی ممالک کے معزز مہمان بیٹھے تھے۔ مجمع
دیکھ کر جی خوش ہوا۔ جلالۃ الملک تشریف لائے۔ مغربیوں کا لباس بہت خوب تھا۔ بعض احرام میں تھے۔ قیمتی تولئے
زیب تن کئے تھے۔ بس ہماری حالت قابل دید تھی۔ معمولی چادروں کا احرام اور وہ میلا سلا، بال پراگندہ،
گردآلود جیسے کوئی دیوانہ۔ حج کا رنگ خوب چڑھا ہوا۔ امیروں میں ایک فقیر بھی موجود تھا۔
(صراط الحمید ج۲ ص۹۱)
قصرشاہی میں برجستہ اردو میں تقریر
بہرحال جلالۃ الملک کے آنے پر قصیدہ خوانی ہوئی توحید پر تقریریں سن کر تحریک ہوئی کہ ہم بھی تقریر
کرتے لیکن عربی پر ایسی قدرت نہ تھی کہ آخر میں جلالۃ الملک نے کہا کہ اگر کوئی حاجی اپنی زبان میں تقریر
کرنا چاہے تو اس کا عربی میں ترجمہ کیا جائے گا۔ میں کھڑا ہوا۔ میں نے کہا: ’’توحید کا دہرانا چنداں کارگر
نہیں رسالت کے اعلان اور وضاحت کی ضرورت ہے اس کے بعد اس ایمانی توحید کا دہرانا ہے جو رسالت کے طفیل حاصل
ہوتی ہے اور جو اسلام کے باہر میسر نہیں آسکتی۔ وہی مطلوب ہے رسالت میں ہر کوئی سنت پر زور دیتا ہے۔ اور
زور دینا بجا ہے۔ اس لئے کہ قرآن میں اتباع کی تاکید ہے لیکن بہت سے اس راز سے بے خبر ہیں کہ محبت اور
تعظیم اتباع کی جان ہیں۔ انہی دونوں کے صحیح امتزاج سے حقیقی اتباع پیدا ہوتی ہے۔ محبت میں قوت ہے اور تعظیم
میں اعتدال۔ جس اتباع کی بنیاد محبت اور تعظیم پر نہ ہو وہ محض ایک رسمی تقلید ہے۔ اتباع نہیں ہے اور نہ
اتباع کی خیروبرکت ہے۔ اتباع کے واسطے محبت وتعظیم کس درجہ لازم ہے۔ اہل علم اس کی اہمیت سے بخوبی واقف ہیں۔
چنانچہ قرآن کریم میں توحید کے پہلو بہ پہلو حضور رحمۃ للعالمین کی محبت وتعظیم کی جو تعلیم ہے وہ دنیا میں
بے نظیر ہے کہ عبدیت میں انتہائی محبوبیت ورفعت موجود ہے۔‘‘
(صراط الحمید ج۲ ص۹۵)
عبدالحئی کتانی اور عربوں پر اس کا اثر
اس شاہی دعوت میں مغرب کے پیر طریقت سید عبدالحئی کتانی اور ملاّشوربازار بھی شریک تھے۔ کتانی اپنے
اثرواقتدار میں حضرت شیخ سنوسی رحمۃ اللہ علیہ کے ہم پلہ مانے جاتے تھے۔
(صراط الحمید ج۲ ص۹۸)
دوسرے دن ایک عرب نے موصوف کا تعارفی کارڈ دیا کہ حضرت کو ملاقات کا اشیاق ہے۔ چنانچہ بعد مغرب حرم
میں شیخ سے نیاز حاصل ہوا۔ گلے لگایا بہت دعائیں دیں اردگرد عربوں کا مجمع تھا۔ حضرت کے ساتھ ترجمان بھی
تھا۔ میرے ساتھ عبدالرحمن تھے۔ فرمایا تمہاری تقریر مؤثر اور بہت مقبول تھی۔ اسلامی جذبات کے اظہار میں تم
نے تمام اسلامی ممالک کی طرف سے وکالت ونیابت کی۔ یہ اللہ کا بڑا فضل ہے جس کو چاہئے عطا فرمائے۔
55
میں نے عرض کیا حضرت تقریر اردو میں تھی۔ اس کا عربی میں ترجمہ بھی نہیں ہوا۔ پھر عربوں پر اس کا اثر
کس طرح ہوا۔ فرمایا ایمان واخلاص میں بھی اثر ہے۔ تمہاری آواز لب ولہجہ سے حقانیت ٹپکتی تھی۔ دل لذت اندوز
ہورہے تھے اور تم نے درمیان درمیان میں جو آیات پڑھیں۔ ان آیات نے عربوں پر مقصد خوب واضح کردیا۔ جلسہ
حبرسول ﷺ سے مست ہوگیا۔ یہ بیان اختیاری نہیں فضل الٰہی ہے۔
(ایضاً ص۹۸،۹۹)
برنی رحمۃ اللہ علیہ کا مسلک ومشرب
برنی رحمۃ اللہ علیہ علی گڑھ کے تعلیم یافتہ تھے۔ وہ باقاعدہ عالم نہ تھے نہ دیوبندی علماء سے پڑھا تھا۔ نہ بریلوی
علماء کے مدرسہ کے فاضل تھے۔ گھرانہ دیندار تھا۔ اس میں میلاد ہوتا تھا جو اس زمانہ میں صوفیانہ مشرب بزرگوں
میں رائج تھا۔ ان کی والدہ نذر ونیاز (بزرگوں کی روحوں کو ایصال ثواب کیلئے خیرات) بہت احتیاط واہتمام سے
کرتی تھیں۔
(صراط الحمید ج۱ ص۳۱۹)
برنی رحمۃ اللہ علیہ صوفی مشرب تھے اور صوفیاء سے ان کا تعلق ہرزمانہ میں برابر قائم رہا ہے۔ اس لئے وہ برزنجی اور
قصیدہ بردہ پڑھتے تھے۔ سیرت اور میلاد النبی کے جلسہ میں جاتے۔ بہت عمدہ اور زوردار تقریر کرتے تھے۔ اس میں
دانشور، محققین، تعلیم یافتہ اور اہل علم بکثرت آتے تھے۔ نیز حیدر آباد کے فرمانروا میر عثمان علی خان بھی
شرکت کرتے تھے۔ کتاب ’’قادیانی مذہب‘‘ اسی جلسہ کا مظہر اور ثمرہ ہے۔ بایں ہمہ وہ ایک منصف مزاج شخصیت کے
مالک تھے۔ وہ دیوبندی علماء کی کتابیں پڑھتے اور ان سے استفادہ کرتے۔ ان کا احترام کرتے تھے۔ وہ حضرت گنگوہی
کو ’’رحمۃ اللہ علیہ‘‘ کے الفاظ سے یاد کرتے تھے۔ چنانچہ حج بدل کی بحث میں لکھتے ہیں۔
حضرت مولانا عبدالرشید(رشید احمدگنگوہی رحمۃ اللہ علیہ) نے اس (حج بدل کے) مسئلہ کو اپنی تالیف ’’زبدۃ
المناسک‘‘ میں بہت وضاحت اور تاکیدسے بیان فرمایا ہے۔ یہ تالیف دیکھنے کو تو مختصر سی ہے لیکن غوروفکر کے
بعد معلوم ہوتا ہے کہ واقعی دریا کو کوزہ میں بند کردیا ہے۔ اس سے مولانا کے تبحر علمی کا اندازہ ہوتا ہے۔
(ایضاً ج۲ ص۶۸، مطبوعہ نسخہ میں عبدالرشید چھپا ہے، یہ موصوف کی لغزش قلم ہے) دوسری جگہ لکھتے ہیں: ’’زبدۃ
المناسک دیکھنے میں گو ایک چھوٹی سی اردو کتاب ہے۔ حضرت مولانا حاجی رشید احمدگنگوہی رحمۃ اللہ علیہ نے تمام
مسائل حج اس خوبی سے یکجا کردئیے کہ دریا کوزہ میں بند نظر آتا ہے۔ غور کیجئے تو اجمال میں تفصیل موجود ہے۔
اس سے حضرت کے تبحر علمی کا اندازہ ہوتا ہے۔ ایک علمی کرامت نظر آتی ہے۔ حجاج کے لئے یہ کتاب بڑی نعمت ہے۔
مولوی یحییٰ صاحب تاجر کتب گنگوہ شریف ضلع سہارنپور نے اس کو شائع کیا ہے۔
(صراط الحمید ج۱ ص۳۰۴)
وہ شیخ الہند مولانا محمود حسن دیوبندی رحمۃ اللہ علیہ کے والد مولانا ذوالفقار علی دیوبندی رحمۃ اللہ علیہ کی کتاب قصیدہ بردہ کی
شرح ’’عطرالوردہ‘‘ کا یوں ذکر کرتے ہیں۔ ’’قصیدہ بردہ کی اردو میں کئی شرحیں موجود ہیں۔ ایک شرح ’’عطر
الوردہ‘‘ کے نام سے مطبع مجتبائی دہلی نے شائع کی ہے۔ خوب ہے۔‘‘
(ایضاً ص۱۸۳)
حضرت مولانا شفیع الدین مہاجرمکی رحمۃ اللہ علیہ جو حضرت حاجی امداد اللہ مہاجرمکی رحمۃ اللہ علیہ کے
خلیفہ ومجاز تھے اور حضرت مولانا محمد یوسف بنوری رحمۃ اللہ علیہ ان کے مرید وخلیفہ تھے۔ مناسک حج کے ماہر تھے۔ برنی رحمۃ
اللہ علیہ نے مدینہ منورہ کی آمد ورفت کے متعلق احرام کے مسائل ان سے پوچھ کر زینت کتاب کئے تھے۔ چنانچہ
لکھتے ہیں: ’’حضرت مولانا شفیع الدین نگینہ والے مدت دراز سے بحیثیت مہاجر، مکہ معظمہ میں مقیم ہیں۔ حضرت کے
علم وفضل کا کیا کہنا۔ سبحان اللہ ! خاص کر مناسک حج پر ایسا عبور بہت نادر ہے۔ اسی لئے حضرت سند مانے جاتے
ہیں۔ دوسرے حج میں تحقیق مناسک میں حضرت سے نیاز حاصل ہوا۔ اس ناچیز کے حال پر بہت عنایت وشفقت مبذول رہی۔
چنانچہ مدینہ منورہ کی آمدورفت کے متعلق احرام کے مندرجہ بالامسائل حضرت کا عطیہ ہیں جو بطور خیر جاریہ درج
کئے گئے ہیں۔‘‘
(ایضاً ص۲۵۳)
56
برنی رحمۃ اللہ علیہ نے علماء دیوبند کی تعلیمی خدمات کا اعتراف مندرجہ ذیل الفاظ میں کیا ہے:’’اس سے انکار نہیں
ہوسکتا کہ علماء دیوبند میں اشاعت تعلیم کاجو حوصلہ اور سلیقہ ہے۔ اس کی مثال ہندوستان کے دیگر علماء میں کم
نظر آتی ہے۔ البتہ عقائد کی بحث جدا ہے۔ یہ ایک قدیم بحث ہے، نئی نہیں۔‘‘ (ایضاً ج۲ ص۱۳۸)برنی رحمۃ اللہ علیہ کو مولانا
مناظراحسن گیلانی (المتوفی۱۹۵۶ء) سے زیادہ جاننے والا کون ہوگا۔ دونوں جامعہ عثمانیہ کے پروفیسر تھے۔ دوست
تھے۔ ایک پیر کے مریدوخلیفہ تھے۔ وہ برنی رحمۃ اللہ علیہ کے متعلق اپنے ایک مکتوب میں رقمطراز ہیں:
’’پروفیسر الیاس برنی میرے ہم مشرب دوست ہیں۔‘‘
(مکاتیب مناظر احسن گیلانی مرتبہ منت اللہ رحمانی، مونگیر، دارالاشاعت رحمانی ۱۹۷۳ء ج۱ ص۱۰۳)
برنی رحمۃ اللہ علیہ اس زمانے کی عظیم شخصیات میں سے تھے لیکن بعض اوقات بڑی شخصیات سے بڑی غلطی ہوجاتی ہے۔ یہ لازمہ
بشر ہے کوئی بشر اس سے خالی نہیں۔ چنانچہ تحفہ محمدی میں درود تاج با ترجمہ شامل کیا ہے۔ اس میں بعض الفاظ
قابل اعتراض موجود ہیں اور وہ صحیح احادیث سے ثابت نہیں۔ اور یہ درود، درود شریف کی کسی معتبر کتابوں میں
منقول نہیں۔ اس کے بجائے اگر وہ اپنا القائی درود اس میں شامل کرتے تو بہتر ہوتا۔ یہ بات بھی ملحوظ خاطر
رہنا چاہئے۔ معمول بہا عبادات کے اثروثواب سے زیادہ کسی عمل کا اجروثواب بتایا جائے۔ یہ بات اس روایت کے
جعلی اور بناوٹی ہونے کی نشانی ہے۔ برنی رحمۃ اللہ علیہ نے نذرونیاز کا مسئلہ درست لکھا۔ وہ لکھتے ہیں:
’’یوں تو ایصال ثواب کے لئے کوئی دن وتاریخ اور کوئی طور طریقہ معین نہیں۔ تاہم ہر کام کا ایک موقع اور
سلیقہ ہوتا ہے۔ اگر اس کو لازم نہ سمجھا جائے تو اس میں کوئی مضائقہ باقی نہیں رہتا۔ لیکن عملاً وہ سب کچھ
کرتے تھے جو عام طور پر رائج ہے۔‘‘ چنانچہ فرماتے ہیں:’’۱۲؍محرم کو ہلیم (حلیم) پر سید الشہداء کی فاتحہ
ہوئی۔ غرض محرم شریف کی فاتحہ جو اپنا معمول ہے، مدینہ منورہ میں بخیروخوبی انجام پائی۔‘‘
(صراط الحمید ج۲ ص۱۵۰،۲۶،۲۷)
ان کی مجموعی حسنات کے مقابلہ میں یہ فروگذاشتیں ایسی ہیں جن کا وزن زیادہ نہیں۔
ناظم دائرۃ المعارف اور جامعہ عثمانیہ میں رجسٹرار
نیز ناظم دائرۃ المعارف العثمانیہ بھی رہے اس کے بعد آخر دوسال جامعہ عثمانیہ میں رجسٹرار رہے۔
(برنی نامہ ص۴)
ملازمت سے سبکدوشی
اکتوبر۱۹۴۸ء میں جامعہ عثمانیہ سے سبکدوش ہوئے۔ (ایضاً)یہاں ان کی زندگی کا تیسرا دور پورا ہوا۔برنی
کی زندگی کا زیادہ تر زمانہ حیدرآباد میں گزرا۔ وہیں کوٹھی بنوائی۔ حیدرآباد میں لڑکیوں کی شادیاں کیں۔
کتابیں لکھیں اور ۱۹۱۷ء تا ۱۹۵۸ء زیادہ تک تصنیف وتالیف کا کام انجام پاتا رہا۔
وفات
اگست ۱۹۵۷ء میں اپنی کوٹھی بیت السلام سیف آباد میں جو ایک خوشنما پہاڑی پر واقع ہے۔ برنی نامہ لکھا
پھر دسمبر ۱۹۵۸ء کے آخر میں عزیزوں سے ملنے بلند شہر آئے۔ تقریباً ۸۹ سال کے تھے کہ ۲۵؍جنوری ۱۹۵۹ء میں
حرکت قلب بند ہوئی اور اللہ کو پیارے ہوگئے۔ قاضی کے قبرستان میں جہاں ان کے باپ دادا دفن ہیں، وہیںان کی قبر
ہے۔ تدفین کے وقت جب سینہ پرکافور ملاگیا تو وہ سمٹ کر لاالٰہ الّا اللہ محمد رسول اللہ
کی صورت اختیار کرگیا تھا جسے دیکھ کر ناظرین حیران وششدر رہ گئے۔ یہ انہی بزرگوں میں سے تھے جن پر یہ فقرہ
صادق آتا ہے۔
دنیا خوردوعقبیٰ برد
57
دنیا میں مزے اڑائے اور آخرت میں بھی کامیاب رہے۔ ’’ذلک فضل اللہ یوتیہ من
یشاء‘‘ اللہ تعالیٰ کا فضل ہے۔ وہ جسے چاہے عطا فرمائے۔ یہ واقعہ مجھ سے ڈاکٹر فاروق مصطفی صاحب نے
بیان کیا کہ یہ میرے والد صاحب کا چشم دید واقعہ ہے۔تلامذہ: برنی رحمۃ اللہ علیہ نے عمر بھر پڑھایا ان کے
شاگردوں کی تعداد بہت زیادہ ہے لیکن تعلقات کم ہی شاگردوں سے رہے۔ جو شاگرد ان سے رہنمائی حاصل کرتے رہے یا
جن کی تعلیم وتربیت کی سرپرستی ونگرانی ان کے سپرد رہی۔ ان سے تعلقات قائم رہے۔ چنانچہ شہزادہ نواب اعظم جاہ
بہادر ولی عہد کے دونوں شہزادے مکرم جاہ، انور مغنم جاہ شاگرد رہے اور یہ ان کی تعلیم وتربیت میں شریک رہے
کہ وہ جب ولایت سے آتے ان کی خدمت میں حاضر ہوتے تھے اور ملاقات کرتے تھے۔
(برنی نامہ ص۲۵)
تصنیفات وتالیفات… ترجمے اور بعض مشہور اور اہم کتابوں کا تعارف
برنی رحمۃ اللہ علیہ نے کتاب ’’علم المعیشت‘‘ مولوی عبدالحق معتمد انجمن ترقی اردو اورنگ آباد کی فرمائش وہمت
افزائی پر لکھنی شروع کی تھی۔ (صراط الحمید ج۱ ص۳۴۹) یہ وہ زمانہ تھا جب کہ موصوف کی ایم اے اور ایل ایل بی
کی تعلیم جاری تھی۔(ایضاً)موصوف علی گڑھ کالج میں بی اے کے طلبہ کو معاشیات بھی پڑھاتے تھے اور ان کا کاروان
عمر ابھی پچیسویں منزل طے کررہا تھا۔ اردو میں سات سو صفحات سے زیادہ کی کتاب پہلی بار ۱۹۱۷ء میں انجمن ترقی
اردو نے شائع کی تھی۔ برنی رحمۃ اللہ علیہ نے اس کی تمہید علی گڑھ کالج میں لکھی تھی۔ اس کتاب کے متعلق ایک
بالغ نظر ہوشمند ودانشور عالم مولانا عبید اللہ سندھیc (المتوفی ۱۹۴۴ء) کی رائے یہ ہے۔یورپ میں میری سیاحت کے
لئے مولوی الیاس صاحب برنی کی ’’علم المعیشت‘‘ بھی ایک محسن کتاب ہے۔ اگر یہ کتاب مجھے نہ ملتی تو میں یورپی
اقتصادی پروگرام کو سمجھنے کے قابل نہ ہوتا۔
(مشاہیر اہل علم کی محسن کتابیں، مطبوعہ معارف پریس اعظم گڑھ ص۳۵)
یہ ایک ایسی علمی شخصیت کی رائے ہے جس نے اس فن کی تحصیل کسی کالج یا یونیورسٹی میں نہیں کی تھی۔ صرف
اس کتاب کے مطالعہ سے ایسی بصیرت حاصل کی تھی کہ پورے یورپ کی علم المعیشت کو بخوبی سمجھ گئے تھے۔ موصوف نے
اسے اپنی محسن کتابوں میں شمار کیا۔ ڈاکٹر سر محمد اقبال رحمۃ اللہ علیہ (المتوفی ۱۹۳۸ء) جو خود بھی معاشیات کے بڑے عالم
اور دنیا کے نامور دانشوروں میں سے ہیں، وہ اس کتاب کے متعلق تحریر فرماتے ہیں: ’’آپ کی کتاب ’’علم
المعیشت‘‘ اردو زبان پر احسان عظیم ہے اور مجھے یہ کہنے میں ذرا بھی تامل نہیں ہے کہ اکنامکس پر اردو میں یہ
سب سے پہلی کتاب ہے اور ہر لحاظ سے مکمل۔‘‘
(فہرست کتب الیاس برنی ص۱۲ یہ فہرست صراط الحمید ج۲ کے آخر میں شائع کی گئی ہے)
کتاب کے خاتمہ پر موصوف نے جو لکھا ہے اس سے معلوم ہوتا ہے کہ کتاب اللہ سے کیسا تعلق تھا اور ان کے دل
میں کیسا ایمان راسخ تھا۔ تحریر فرماتے ہیں: ’’علم المعیشت کا بیان ختم ہوتا ہے۔ اب صرف آخری نکتہ جتانا
باقی ہے کہ اگر کل پہلوئوں پر غور کرکے بنی نوع انسان اپنی زندگی کے واسطے بہترین معاشی اصول دریافت کرنا
چاہے تو اس کی ہدایت کے واسطہ اللہ جل شانہ نے دریائے حکمت کو کوزہ میں بند کردیا ہے۔ قرآن پاک میں معاشی
زندگی کے متعلق بہت سی ہدایتیں موجود ہیں اور صدہا سال کا تجربہ بھی آج انہی ہدایات کا مؤید نظر آتا ہے۔
ہم صرف ایک آیت شریفہ پر اکتفا کرتے ہیں: ’’کلوا واشربوا ولاتسرفوا انہ لا یحب المسرفین
(الاعراف:۳۱)‘‘ {کھائو اور پیو اور بے جا خرچ نہ کرو۔ اس کو خوش نہیں آتے بے جا
خرچ کرنے والے۔}
(علم المعیشت ص۷۶۸)
اس کتاب کے سرورق کی پیشانی پر یہ آیت شریفہ ’’ومن اعرض عن ذکری فان لہ معیشۃ
ضنکا‘‘ {اور جس نے منہ پھیرا میری یاد سے تو اس کو ملنی ہے، گذران تنگی کی(طٰہٰ
آیت۱۲۴)} پھر یہ کتاب باہتمام محمد متقدی شروانی مطبع مسلم یونیورسٹی انسٹی ٹیوٹ علی گڑھ ۱۳۴۶ھ
۱۹۲۷ء میں شائع کی گئی تھی۔
58
تصنیفات وتالیفات میں تین باتوں کی پابندی
برنی رحمۃ اللہ علیہ کتاب کی تالیف وترجمہ میں حسب ذیل تین بنیادی اصول کی پابندی کرتے تھے۔سلاسیت زبان، صفائی بیان،
دلچسپی مضامین۔(ایضاً) مناسب طریقہ سے کتاب کو سہل بنانے کی کوشش کرنی چاہئے۔ لیکن صحت کو کبھی سہولت کی
خاطر قربان نہیں ہونا چاہئے۔ ان کی ہر کتاب کے قبول عام ہوجانے کا ایک اہم راز یہ بھی ہے کہ ان کی ہر تالیف
میں ان امور کی پابندی پائی جاتی ہے۔
شعروسخن
برنی رحمۃ اللہ علیہ اچھے سخن شناس تھے۔ موصوف نے ’’معارف ملت‘‘، ’’جذبات فطرت‘‘،’’مناظر قدرت‘‘ یہ قدیم وجدید اردو
شعراء کی نظموں کے گوناگوں عنوانات پر نہایت مفید اور جامع انتخاب بارہ حصوں میں پیش کیا ہے۔ جو ارباب نظر
نے بہت پسند کیا۔ بہت مقبول ہوا۔ اردو ادب میں نظموں کا ایسا جامع انتخاب مشکل سے ملے گا۔ یہ برنی رحمۃ اللہ
علیہ کی اردو ادب میں نظموں پر وسعت ودقت نظر، سخن فہمی، حسن ذوق وحسن ترتیب کا آئینہ دار ہے۔ برنی رحمۃ
اللہ علیہ کی شاعری پر انہی کا تبصرہ ’’معروضہ‘‘ میں موجود ہے۔ جس میں اشاعت کی غرض وغایت اور اپنی کمزوری
وخامی کا برملا اعتراف موجود ہے۔ اس سلسلہ میں قارئین کو معروضہ کا مقدمہ پڑھنا چاہئے۔ ۱۹۱۹ ء میں جب سلسلہ
منتخبات نظم اردو بارہ حصوں میں شائع کی گئی تو بڑے بڑے ادیب اور استاد سخن نے داد بلکہ مبارک باد دی۔
(فہرست کتب الیاس برنی ص۸)
برنی رحمۃ اللہ علیہ الہ آباد یونیورسٹی میں امتحان لینے جاتے تو اکبر الہ آبادی سے ملتے تھے وہ بھی ان پر بہت
مہربان تھے۔ انہی نے انہیں اپنا کلام چھپوانے پر زور دیا تھا۔ چنانچہ وہ ’’معروضہ‘‘ کے نام شائع کیا گیا تھا
جو ہاتھوں ہاتھ نکل گیا تھا۔ (برنی نامہ ص۲۲)مشکوٰۃ الصلوٰۃ کے متعلق برنی رحمۃ اللہ علیہ کا بیان
ہے:’’مشکوٰۃ الصلوٰۃ‘‘ کے دو سو نسخے مدینہ منورہ میں تقسیم کیے گئے۔ حرم نبوی میں اس کا ورد شروع ہوگیا۔
شیخ الدلائل جو دلائل الخیرات کی اجازت دیتے ہیں۔ حضرت ممدوح نے بھی اسے پسند فرمایا اور اجازت حاصل
کی: ’’حرمین شریفین میں بعض حجاج نے بیعت کے طریق پر اس ناچیز سے اس کے ورد کی اجازت حاصل کی۔ ہر چند عرض
کیا کہ اجازت عام ہے۔ خاص ضرورت نہیں تاہم بہت اصرار ہوا تو فرمائش کی تکمیل کردی ورنہ میری کیا حیثیت کہ
اجازت دوں۔ ’’ایاز قدر خویش بشناس‘‘
(صراط الحمید ج۲ ص۱۳۲)
’’حرم نبوی میں بعض دیوانے ہاتھ پکڑ کر مواجہ شریف میں لے جاتے اور اجازت چاہتے تو دل بے قابو ہوجاتے
تھے۔‘‘ (ایضاً)برنی کہتے ہیں: ’’تقسیم میں بھی ایک لطیفہ ہوا۔ حضرت مولانا عبدالحئی کتانی (المتوفی ۱۳۸۲ھ)
نے اپنے احباب ومریدین کے واسطے متعدد نسخے طلب فرمائے۔ ایک صحبت میں جب کہ مشکوٰۃ الصلوٰت کے نسخے سامنے
رکھے تھے اور میں بھی موجود تھا۔ حسب اتفاق سے حکومت کے بعض حکام حضرت سے ملنے آپہنچے۔ انہوں نے کتاب بھی
دیکھی۔ تعریف بھی سنی۔ پھر ایک نسخہ ہدیتہ ملا تو خود بھی تعریف کی اور جس کو بھی ملتے تھے۔ تو اخلاق سے
ملتے تھے۔ راضی معلوم ہوتے تھے۔ جب حکومت کی طرف سے اطمینان ہوگیا تو احباب کو بھی کتابیں دیں۔ اس طرح تین
سو نسخے مکہ معظمہ میں تقسیم ہوگئے۔‘‘
(صراط الحمید ج۲ ص۱۰۳)
(الف) سلسلہ دعوت صدق
۱ … اسرار حق
آیات قرآنیہ، احادیث نبویہ، ارشادات صوفیہ صافیہ کا نہایت جامع ومربوط انتخاب اور ان کے مقابل یورپ
کے جدید سائنس
59
اور فلسفہ کی انتہائی تحقیقات کا لب لباب، جن سے اسلام کی حقانیت خودبخود ظاہر ونمایاں ہوجاتی ہے۔
پہلا ایڈیشن… محمد مقتدیٰ خان شیروانی نے مطبع مسلم یونیورسٹی انسٹی ٹیوٹ علی گڑھ سے ۱۳۳۹ھ، ۱۹۲۱ء میں چار
سو صفحات پر شائع کیا تھا۔
۲ … تسہیل الترتیل
قرأت کی ضرورت واہمیت، اس کے اصول وطریق، اس کے نکات واشارات خاص ترتیب سے نہایت سہل اور عام فہم
پیرایہ میں بیان کئے گئے ہیں۔ جن سے پڑھنے میں غلطی کا احتمال باقی نہیں رہتا۔ اصول قرأت سے واقف ہونے کے
بعد تلاوت میں کچھ اور ہی لطف آتا ہے اور امر حق کا راز کھلتا ہے۔ باردوم ۱۳۶۱ھ اور بارسوم ۱۳۶۲ھ میں شائع
کی گئی تھی۔
۳ … تحفہ محمدی
یہ کتاب چار حصوں پر مشتمل ہے۔ ہر حصہ میں درودتاج باترجمہ ایک عربی سلام اور ہر حصہ میں چالیس نعتیں
شامل ہیں گویا چار حصوں میں جملہ ۱۶۰نعتیں درج ہیں یہ نعتیں قدیم وجدید ۶۰ مشہور ومقبول شاعروں کے کلام سے
انتخاب کی گئی ہیں۔ چوتھے حصے میں چالیس کے منجملہ ۲۴فارسی نعتیں شامل ہیں۔ تاج کمپنی کراچی نے اس کو بذریعہ
بلاک طبع کرکے دیدہ زیب شائع کیا ہے۔
۴ … مشکوٰۃ الصلوٰۃ
صلوٰۃ وسلام، اسلامی معارف اور عربی ادب کا بہترین سرمایہ ہیں۔ گویا ’’ورفعنا لک
ذکرک‘‘ کی الہامی تفسیریں ہیں۔ ان کے مطالعہ سے رسول اللہ ﷺ کی حقیقی عظمت ومحبت دل میں پیدا ہوتی
ہے۔ ان کے ورد سے نسبت محمدی کا فیضان ہوتا ہے اور دین کی نعمتوں کا دروازہ کھلتا ہے۔ غالباً اب تک صلوٰۃ
وسلام کا کوئی ایسا مختصر وجامع ذخیرہ شائع نہیں ہوا۔ اس کا تیسرا ایڈیشن تاج کمپنی لاہور کے زیراہتمام شائع
ہوا تھا۔ اب نایاب ہے۔
۵ … معروضہ
معروضہ جس میں حمد، نعت، منقبت ومعرفت کی نظمیں سو سے زیادہ شامل ہیں۔ تاج کمپنی کراچی نے اس کا نفیس
ایڈیشن آرٹ پیپر پر بذریعہ بلاک دیدہ زیب طبع کرکے مجلد شائع کیا ہے جو کافی مقبول ہوا ہے۔ مزید کلام (۴۰)
نظمیں ضمیمہ اول کے طور اسی سلسلہ میں پیش ہیں کہ دل کی پکار ہیں ؎
من قاش فروش دل صد پارہ خویشم
جواہر سخن کی طرح معروضہ (ضمیمہ اوّل) کے ساتھ اعظم سٹیم پریس حیدرآباد سے ۱۳۱۷ھ میں شائع کی گئی
تھی۔
۶ … قادیانی مذہب
باراوّل ۱۹۵۲ء، بار دوم شمس الاسلام پریس حیدر آباد دکن ۱۳۵۲ھ میںصفحات ۲۴۴ پر شائع کی گئی تھی۔ اس
میں قادیانیوں کے عقائد واعمال کی تفصیل خود قادیانی کتابوں سے پیش کی گئی ہے۔ یہ کتاب قادیانی تحریک کی
قاموس پائی جاتی ہے۔ چنانچہ پانچواں ایڈیشن (حجم بارہ سو صفحات تقطیع کلاں) مدت سے نایاب ہے۔ چھٹا ایڈیشن
اضافہ مضامین کے ساتھ شائع ہوا۔ محمد اشرف نے لاہور سے شائع کیا تھا۔
(نوٹ: اب تخریج وتحقیق کے بعد عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت ملتان (پاکستان) اپنے مرکزی دفتر سے شائع
کررہی ہے)
60
۷ … قادیانی قول وفعل
حصہ اول پہلا ایڈیشن نایاب ہے اور حصہ دوم ۱۹۵۸ء میں شائع کیا گیا تھا۔
(نوٹ: اسے بھی عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت ملتان نے تحقیق وتخریج کے بعد شائع کیا ہے)
صراط الحمید
جلد اوّل، عراق ، شام، فلسطین وحجاز اور یہاں کے مقدس مقامات کے گوناگوں چشم دید حالات، نہایت دلچسپ
ومفید معلومات، سیروسفر کی اس میں مفصل داستان مذکور ہے۔ مدینہ منورہ اور مکہ معظمہ کے تفصیلی مشاہدات،
ایمانی احساسات، بارگاہ اقدس کے انوار وبرکات، فیوض وانعامات، فریضہ حج کے احکام ومسائل، طور وطریق اور
ادعیہ وصلوٰت کا بیان ہے۔ اس سفر نامہ میں جابجا قرآنی معارف، ایمانی نکات، وہبی واردات، ربط قلبی کے نازک
اشارات جن سے ایمان تازہ ہوتا ہے۔ دل کو عقیدت ومحبت کا مزہ ملتا ہے۔ عبادت کی لطافت اور معاصرین کے متعلق
نادر معلومات اس پر مستزاد ہیں۔ یہ مختصراً وہ ہے جو برنی رحمۃ اللہ علیہ نے اپنی تالیفات کے تعارف میں لکھا
ہے لیکن حقیقت یہ ہے کہ یہ سفرنامہ کے ادب میں برنی رحمۃ اللہ علیہ کی آپ بیتی ہے۔ اس امر کا اعتراف
خودبرنی رحمۃ اللہ علیہ کو بھی ہے۔ چنانچہ صراط الحمید ج۱ ص۳۰۳ میں رقمطراز ہیں۔’’بلاکم وکاست آپ بیتی لکھ دی اور آپ
بیتی نہ لکھتا تو پھر کیا لکھتا۔ لکھنا لاحاصل تھا کچھ بھی نہ لکھتا۔ یہ توقع نہیں اور ممکن بھی نہیں کہ سب
ناظرین ہم خیال ہوں۔ ہم مذاق ہوں۔ ہم مشرب ہوں۔ ہم عقیدہ ہوں۔ تھوڑا بہت فرق رہنا ضرور ہے۔ تاہم خدا کے فضل
سے امید ہے کہ اپنی سرگزشت افراط وتفریظ سے محفوظ ہے۔ رہی کوئی لغزش تومیں سراپا تقصیر ہوں۔ معصوم نہیں ہوں۔
انابت ومغفرت ہی اپنا سہارا ہے۔ ان اللہ غفور الرحیم‘‘ صراط الحمید کا پہلا ایڈیشن ۱۳۴۶ھ
میں اور دوسرا ایڈیشن ۱۳۵۰ھ میں مطبع برنی اعظم جاہی حیدرآباد دکن سے شائع کیا گیا تھا۔
صراط الحمید جلد دوم
برنی رحمۃ اللہ علیہ نے اپنی تصنیفات، تالیفات اور تراجم کے تحت اس کا تعارف یوں کرایا ہے: ’’۱۳۵۱ھ
میں دوسری مرتبہ حج وزیارت کی سعادت حاصل ہوئی۔ حرمین شریفین میں حاضری نصیب ہوئی تو دوسرا سفرنامہ تحریر
میں آیا جو صراط الحمید جلد دوم میں شائع ہوا۔یہ سفرنامہ پہلے سفر نامے سے بالکل جداگانہ حیثیت رکھتا ہے۔
عنوانات جدا، بیانات جدا، اس میں مکہ معظمہ، مدینہ منورہ کے احوال بالخصوص اور حجاز کے معاملات بالعموم
تفصیل سے درج ہیں۔ ضمناً بہت سے واقعات بیان میں آگئے ہیں جو کافی دلچسپ ہیں۔ ان میں بعض خاص طورسے اہم ہیں
اور نادر ہیں۔ غرض کہ صراط الحمید جلد دوم کا بھی خاص رنگ ہے۔ جلد اول کے بعد جلد دوم پڑھنے سے لطف دوبالا
ہوجاتا ہے۔ جلد دوم میں حرمین شریفین کے فوٹو بھی شامل ہیں۔‘‘برنی نے سفرنامہ دوران سفر قلمبند کیا تھا،
فرماتے ہیں: ’’ایک ماہ اور چند یوم جو مدینہ منورہ میں حاضری رہی تو فرصت کے اوقات میں سفرنامہ لکھتا رہا
اور بیشتر حصہ وہیں تحریر میں آیا۔ صرف آخری فصل جس میں واپسی کا ذکر ہے۔ البتہ باقی رہ گئی تھی کہ وہاں
پہنچ کر لکھوں گا۔ توقع تھی کہ واپسی کے بعد ہی یہ سفرنامہ جلد شائع ہوجائے گا لیکن عجب اتفاق کہ سات سال
گزر گئے اور طباعت کی نوبت نہ آسکی۔ مسودہ یونہی پڑا رہا بلکہ ایک مرتبہ تو شبہ ہوا کہ گم ہوگیا۔ بارے خدا
تلاش کی تو دقت پر مل گیا۔‘‘
وجہ تاخیر یہ کہ واپسی کے بعد ہی گوناگوں مصروفیتوں کا ہجوم ہوگیا۔ یہ کام، وہ کام، علمی بھی انتظامی،
خانگی بھی، سرکاری بھی، پھر اس زم انے میں قادیانیوں سے معرکے ہوئے جن کی تفصیلات ہماری کتاب ’’قادیانی
مذہب‘‘ اور ’’قادیانی قول وفعل‘‘ میں درج ہیں۔ اپنی
61
تو اکثر یہی حالت رہی اور رہتی ہے۔ علمی منصوبوں میں کتنے کام ابھی شروع نہ ہوسکے۔ کتنے کام برسوں سے
ادھورے پڑے۔ ان میں جو بہت خاص ہیں ان کا اظہار واعلان بھی قبل از وقت مناسب نہیں۔ تاہم جو کام تکمیل پاچکے۔
خدا کا شکر ہے۔ پچیس ۲۵ کتابیں جو شائع ہوچکی ہیں۔ یہ اسی کا فضل ہے۔ ج۲ ص۶،۷، صراط الحمید جلد اول میں دل
کھل کھیلا جب مچلا بول اٹھا ؎
-
کہہ گزرتا ہوں پتے کی بے خودی کے جوش میں
ہوش میں ہوتا نہیں ہوتا ہوں جب میں ہوش میں
پھر بھی ضبط کی تاکید رہی۔ احتیاط کا اہتمام رہا۔ جلد دوم میں بھی دل کو کہیں کہیں موقع ملا۔ تاہم
دماغ کا دور دورہ رہا کہ توازن لازم ہے:
-
اچھا ہے دل کے ساتھ رہے پاسبان عقل
لیکن کبھی کبھی اسے تنہا بھی چھوڑ دے
گر سچ پوچھئے تو دھن بڑی چیز ہے۔ زندگی کی جان ہے۔ سب دھنوں میں اپنی دھن
-
محمد از تومے خواہم خدارا
خدایا از تو مے خواہم مصطفی را
وہی توحید توحید ہے جو رسالت کے وسیلے سے نصیب ہو۔ رسول اللہ کو مانے تو اللہ کو جانے۔ اللہ تو سبحان اللہ ،
رسول اللہ کی بھی کیا انوکھی شان ہے: صلوا علیہ وسلموا تسلیما
-
ما بلبلیم نالاں گلزار ما محمد
مانرگسیم حیراں دیدار ما محمد
-
قمری بسرونازد بلبل بگل فریبد
ماعاشقیم بے دل، دلدار ما محمد
-
از خویشتن فدانم جزاں قدر کہ دانم
ما قطرہ ام بحرز خار ما محمد
(صراط الحمید ج۲ ص۹،۱۰)
یہ پہلی بار ۱۳۵۸ھ میں مطبع برنی اعظم جاہی حیدر آباد سے شائع کی گئی تھی۔
برنی نامہ
صراط الحمید جلد اول میں چہار درویش کی سرگزشت میں۱۹۱۷ء سے ۱۹۴۰ء تک حیدر آباد میں ۲۳ سال میں جو
حالات پیش آئے تھے۔ ان کا بیان ہے اور برنی نامہ میں اس کے بعد سے ۱۹۵۷ء تک کے قابل ذکر حالات ومعاملات کا
تذکرہ کیا گیا ہے۔ چنانچہ برنی رحمۃ اللہ علیہ لکھتے ہیں: ’’میری خوش نصیبی یہ کہ حیدر آباد پہنچا۔ یہاں کے
بزرگوں کا کیا کہنا ماشاء اللہ حقائق ومعارف کے چمن کھلے ہوئے ہیں۔‘‘ البتہ: ہر گلے را رنگ
وبوئے دیگر است!
برنی رحمۃ اللہ علیہ کے اس زمانہ میں جن دانشور، اہل علم واہل قلم صوفیاء اور عہدہ داروں سے تعلقات رہے۔ انہیں نام
بنام بتایا ہے۔ فرمانروائے دکن میر عثمان خان سے موصوف کے دیرینہ مراسم تھے۔ کنگ کوٹھی میں آنا جانا ان کا
معمول تھا۔ (ایضاً ص۲۴)اس کی طرف اشارہ کیا ہے۔ ۱۹۱۷ء سے ۱۹۵۷ء تک چالیس ۴۰ برس حیدر آباد میں گزارے۔ اسی
مدت میں تصنیف وتالیف اور ترجمہ کا سلسلہ بھی جاری تھا۔ چنانچہ چھوٹی بڑی اردو، فارسی، عربی اور انگریزی میں
چالیس کے قریب کتابیں شائع ہوچکی تھیں اور کئی منصوبے تکمیل طلب باقی تھے۔
(ایضاً ص۲۶)
علم المعیشت
اردو میں اکنامکس کے موضوع پر سب سے پہلی نہایت مستند وجامع کتاب ہے۔ مشکل سے مشکل معاشی اصول ومسائل
کو ایسے
62
دلچسپ سلیس پرایہ میں بیان کیا ہے کہ کتاب کے مطالعہ سے نہ صرف نئے نئے مضامین بخوبی ذہن نشین ہوتے
ہیں۔ طلبہ واساتذہ سب اس کو شوق سے پڑھتے اور فائدہ اٹھاتے ہیں۔ بسلسلہ مطبوعات ’’انجمن ترقی اردو‘‘ (دہلی)
تیسرا ایڈیشن بنظر ثانی تقریباً ۸۰۰ صفحات میں شائع کیا گیا تھا۔
اصول معاشیات
یہ کتاب نصابی ضرورت کے تحت مرتب کی گئی ہے۔ اس لئے کسی قدر دقیق اور مشکل مباحث پر مشتمل ہے۔
دارالترجمہ جامعہ عثمانیہ حیدر آباد دکن سے شائع کی گئی تھی۔ صفحات ۶۰۰ ہیں خوشنما جلد اور تقطیع کلاں ہے۔
معیشت الہند
ہندوستان کے گوناگوں معاشی حالات جن کا جاننا ملک کی اصلاح وترقی کے لئے از حد ضروری ہے۔ کافی تحقیق
اور تنقید کے بعد بہت سلیس اور دلچسپ طرز پر علمی پیرایہ میں بیان گئے ہیں۔ اردو زبان میں اپنی قسم کی پہلی
جامع ومستند کتاب، دارالترجمہ جامعہ حیدر آباد سے شائع کی گئی تھی۔ ۸۵۰صفحات تقطیع کلاں اور جلد خوشنما ہے۔
۱۳۲۴ھ میں دوسری بار شائع کی گئی تھی۔
مقدمۃ المعاشیات
یہ مورلینڈ کی انگریزی کتاب ’’انٹروڈکشن ٹو اکنامکس‘‘ کا سلیس وبامحاورہ اردو ترجمہ ہے جس میں معاشیات
کے ابتدائی اصول ومسائل بیان کئے گئے ہیں۔ تقطیع کلاں ۳۰۰صفحات ہیں دارالترجمہ عثمانیہ حیدرآباد دکن سے شائع
کی گئی تھی۔
(’’مقدمات‘‘ یہ نام مناظر قدرت میں مذکور ہے جو فہرست دی گئی ہے اس میں مذکور ہے)
سلسلہ منتخبات: نظم اردو
غزلیات کی کثرت سے عموماً خیال کیا جاتا ہے کہ اردو شاعری کی ساری کائنات محض حسن وعشق اور گل وبلبل
کی داستان ہے۔ مگر تحقیق سے ثابت ہوتا ہے کہ اردو میں ہررنگ کی بہتر سے بہتر نظمیں موجود ہیں لیکن اب تک وہ
نظروں سے اوجھل تھیں۔ موجودہ انتخاب سے حقیقت آشکار ہوگئی کہ اردو کا دامن اس سلسلہ میں کتنا وسیع ہے۔ اردو
کے تقریباً دوسو قدیم وجدید نامور شعراء کا بہترین کلام عجیب وغریب ترتیب کے ساتھ بارہ جلدوں میں پیش کیا
گیا ہے۔ دوسری زبانوں میں اس سلسلہ کی نظیر نہیں ملتی۔ بڑے بڑے ادیب اور نقّاد سخن نے داد بلکہ مبارک باد دی
ہیں۔ یہ سلسلہ ۱۹۱۹ء سے بتدریج شائع ہوتا رہا اور ۱۹۲۴ء میں اس کی تکمیل ہوئی۔
پہلا سیٹ معارف ملت چار جلدوں پر مشتمل ہے۔
دوسرا سیٹ: جذبات فطرت
جلد اول … اردو شاعری کے قافلہ سالار میرتقی میر، رفیع سودا کے کلام کا انتخاب ہے۔
جلد دوم… مرزا غالب، ذوق، ظفر، حسرت موہانی کے کلام کا انتخاب ہے۔
جلد سوم… تقریباً بیس قدیم ومستند اور باکمال شعراء کے کلام کا انتخاب ہے۔
جلد چہارم… تقریباً ساٹھ جدید مشہور ومقبول شعراء کے کلام کا دلکش انتخاب ہے۔
63
تیسرا سیٹ: مناظر قدرت
جلد اوّل… متعلق اوقات، صبح وشام، دن رات، دھوپ، چاندنی، موسم گرما، سرما، برسات اور بہار کے دلکش
مناظر نظموں میں اس خوبی سے عکس فگن ہیں ان کو دیکھ کر طبیعت وجد کرنے لگتی ہے۔ نیچر پرستوں کے لئے یہ جلد
قدرت کی دل فریبیوں کا بہترین موقع ہے۔
جلد دوم… متعلق مقامات، آسمان، زمین، پہاڑ، جنگل، میدان، دریا، کھیت، باغات، شہر اور عمارات شاعروں نے
ان سب کی ایسی تصویر کھینچی ہیں کہ نظمیں پڑھتے وقت گویاہم آنکھوں سے ان کی سیر کررہے ہیں۔
جلد سوم… متعلق نباتات وحیوانات نے یعنی پھول، پھل، کیڑے، پتنگے، تتلیاں، پرندے، چرندے وغیرہ ان سب کے
متعلق نظمیں پڑھنے سے معلوم ہوتا ہے کہ اردو کے شاعروں نے اشیاء قدرت کا کس حد تک مطالعہ کیا ہے اور مشاہدات
میں کہاں تک جان ڈالی ہے۔
جلد چہارم… متعلق عمرانیات ہندوستان کے تمدن، رسم ورواج، عید، تہوار، شادی، میلے ٹھیلے، کھیل تماشے،
بزم ورم کے حالات دل کو بے چین کردیتے ہیں۔ شعروسخن کا یہ عجیب دلکش انتخاب ہے۔ ان تینوں سیٹ کی پہلی بار
۱۹۱۹ء میں اشاعت کا آغاز ہوا تھا۔ تیسری بار محمد مقتدی خان شیروانی کے زیراہتمام اشاعت ۱۹۲۴ء میں علی گڑھ
سے شائع کئے گئے تھے۔ عطیہ قادریہ :یہ تحفہ ربیع الثانی ۱۳۷۸ھ میں یازدہم شریف میں بلاقیمت تقسیم ہوا۔
برنی رحمۃ اللہ علیہ کی تصانیف وتراجم کی تعداد
الیاس برنی رحمۃ اللہ علیہ نے اپنی تصانیف وتراجم کی تعداد چالیس بیان کی ہے اور مولانا منت اللہ صاحب
نے برنی رحمۃ اللہ علیہ کی تصانیف کی تعداد ۴۹؍ بیان کی ہے۔ برنی رحمۃ اللہ علیہ کی حیات میں ان کی کتابوں
کے ناشر، ادارے، مکتبے اور مطابع مندرجہ ذیل تھے: ۱-انجمن ترقی اردو اورنگ آباد حیدر آباد دکن۔ ۲-دارالترجمہ
جامعہ عثمانیہ حیدر آباد دکن۔ ۳- مکتبہ ابراہیمیہ حیدر آباد دکن۔(عابد شاپ) ۴-اختر دکن پریس، افضل گنج حیدر
آباد دکن۔ ۵-محمد الیاس، جام باغ ترپ بازارحیدر آباد دکن۔ (حیدر آباد میں قیام کے ابتدائی زمانہ میں پھر بیت
السلام، سیف آباد۔) ۶-محمد مقتدی خان شیروانی، منیجر مسلم یونیورسٹی انسٹی ٹیوٹ، علی گڑھ، مکتبہ جامعہ ملیہ
دہلی۔ ۷-تاج کمپنی لاہور، کراچی۔ ۸-محمد اشرف لاہور۔
برنی رحمۃ اللہ علیہ کی فارمیسی اکسیر انسٹی ٹیوٹ حیدر آباد
جہاں برنی رحمۃ اللہ علیہ کے مجربات تیار ہوتے ہیں: ۱-اکسیر کبیر: معدہ کی شکایات میں مفید ہے۔
۲-اکسیر آئل: جسم کے درد، ورم، نزلہ، زکام، انفلوئنزا میں مفید ہے۔ ۳-اکسیر مرہم: جلدی امراض کیلئے مفید ہے۔
۴-اکسیر دندان: خوشبودار ٹوتھ پیسٹ، دانتوں کی شکایت میں مفید ہے۔ مزید برآں بعض موذی امراض جو بالعموم
لاعلاج مانے جاتے ہیں۔ بالخصوص جذام، کینسر ایسے امراض کابھی علاج بطور خاص کیا جاتا تھا۔
منتظمین: برنی رحمۃ اللہ علیہ برادران، بیت السلام سیف آباد حیدر آباد۔ اس سے معلوم ہوتا ہے یہ
فارمیسی اکسیر انسٹیٹیوٹ موصوف نے ۱۹۵۸ء میں یا اس سے کچھ عرصہ پہلے قائم کیا تھا۔
(مولانا ڈاکٹر) عبدالحلیم چشتی کراچی
64
بسم اللہ الرحمن الرحیم
’’والصلوٰۃ والسلام علٰی رسولہ الکریم خاتم النّبیین رحمۃ اللعالمین وبالمؤمنین رؤف رحیم‘‘
تمہید اوّل
اللہ جل شانہ کا فضل وکرم ہے کہ اس پر آشوب زم انے میں حیدرآباد فرخندہ بنیاد، حب نبی اور عظمت رسول کا
مسکن ومامن بنا ہوا ہے اور کیوں نہ ہو کہ جو یہاں امیرالمؤمنین ہے وہ سب سے بڑھ کر فدائے سید المرسلین ہے۔
سبحان اللہ !
-
شہ ملک رسالت صاحب تاج و سر برآمد
ضیا بار و جہاں افروز چوں مہر منیر آمد
-
امین وخازن رحمت، معین و شافع امت
وزیر و راز دارد نائب رب قدیر آمد
-
رسول ہاشمی خیر الوریٰ، صل علیٰ احمد
کریم، صادق، نور، نذیر، والبشیر آمد
-
چہ خوش چشمے کہ مازاغ البصر نازل بشان او
زقلب پر صفا وزدیدۂ حق بین بصیر آمد
-
خوشا پیغمبر برحق، کہ بہر ما گنہ گاراں!
رؤف الرحیم آمد کفیل و النصیر آمد
-
نہ ماند تا حجا بے جلوۂ روئے حقیقت را
پے کشف رموز غیب علام و خبیر آمد
-
بنام آں شہ لولاک صد جان و دلم قرباں
کہ عثماں از طفیلش بر مسلماناں امیر آمد
چنانچہ ماہ ربیع الاوّل شریف میں جس اہتمام واحترام سے میلاد مبارک کے شاندار جلسے حیدرآباد میں منعقد
ہوئے اور ہوتے ہیں، ہندوستان میں ان کی نظیر کم ترمل سکتی ہے۔ اوّل تو ماشاء اللہ خود یہاں اچھے سے اچھے علماء
ومشائخ اور واعظ موجود ہیں۔ مزید برکت یہ کہ دور دور سے نامور اور ممتاز عالم واعظ اس زم انے میں یہاں تشریف
لاتے ہیں اور اپنے علم وعقیدت کے گوہر لٹاتے ہیں۔ حاضرین اپنے دامن ایمان، گلہائے عقیدت سے بھرلے جاتے ہیں
اور سب اپنی اپنی مرادیں پاتے ہیں۔ بڑے بڑے جلسوں میں خود اعلیٰ حضرت شاہ دکن خلد اللہ ملکہ اخوت اسلامی سے
شرکت فرماتے ہیں اور عام وخاص کو عظمت رسالت کے آداب سکھاتے ہیں۔ سچ تو یہ ہے کہ ایسے تاجدار کم ترنظر آتے
ہیں۔
من جملہ بڑے مرکزی جلسوں کے ایک جلسہ میلاد مبارک کا علامہ مفتی نورالضیاء الدین نواب، ضیاء یار جنگ
بہادر کی سرکردگی اور صدارت میں بمقام بادشاہی عاشور خانہ منعقد ہوتا ہے۔ علماء اور مشائخ خصوصیت سے اس میں
جمع ہوتے ہیں۔ اس ناچیز ہیچمدان کو بھی اس جلسے میں چند سال سے بہ تعمیل فرمائش تقریر کرنے کی سعادت حاصل
ہوتی ہے۔ چنانچہ امسال بھی بتاریخ ۲۰؍ربیع الاوّل ۱۳۵۲ھ یوم جمعہ جلسہ منعقد ہوا، اور خلاف معمول اس ناچیز
کے مشورے بلکہ اطلاع کے بغیر ’’ختم نبوت‘‘ کا عنوان مقرر کر دیاگیا۔ صرف ایک روز قبل اپنے کو پتہ چلا۔
بہرحال بڑے مجمع کے روبرو شب کو تقریر ہوئی۔ اپنی بے بضاعتی تو معلوم ہے، خدا کی شان کہ تقریر کام کر گئی۔
دلوں میں اتر گئی۔ اگرچہ کوئی فرقہ خصوصیت سے مخاطب نہ تھا۔ تاہم قادیانی صاحبان کوتشویش ہوئی کہ ان پر کاری
زدپڑی۔ چنانچہ جلد از جلد ان کی
65
طرف سے ایک رسالہ ’’ختم نبوت اور جناب پروفیسر الیاس برنی‘‘ کے عنوان سے شائع ہوا اور اس میں کافی
تنقیص کے باوجود تقریر کے اثر کا اعتراف کرنا پڑا کہ مقرر کی اپنی وجدانی بے اصل تقریر اس قابل نہ تھی کہ ہم
اس پر کچھ خامہ فرسائی کرتے۔ لیکن اسلامی پبلک میں سے اکثروں نے ہم سے سوالات کی بھرمار شروع کردی جس کے
لحاظ سے مناسب معلوم ہوا کہ ہم مختصراً کچھ عام فہم دلائل ختم نبوت کی حقیقت پر لکھ دیں۔ اس رسالہ کی اشاعت
کے بعد ہی کئی جلسے بھی ہوئے۔ نامور قادیانی واعظ دوردور سے بلائے گئے۔ ختم نبوت کے مختلف پہلوؤں پر خوب
تقریریں ہوئیں، تردیدیں ہوئیں۔ پھر کچھ تبلیغی رسالے بھی قادیان سے منگا کر تقسیم کئے گئے۔ غرض کہ خوب
تلابیلی رہی۔
قادیانیوں کی یہ غیرمعلوم یورش اور سرگرمیاں دیکھ کر بالآخر مسلمانوں میں بھی توجہ اور حرکت پیدا
ہوئی۔ تحقیق کا شوق پھیلا۔ چنانچہ مذکورہ بالا رسالہ کے جواب میں ’’ختم نبوت‘‘ کے مسئلہ پر مسلمانوں کی طرف
سے بھی رسالے نکلنے شروع ہوئے۔ ایک رسالہ ’’ثبوت ختم نبوت‘‘ کے عنوان سے منجانب مجلس الواعظین سید
ابوالحسنات مولوی شجاع الدین علی صاحب صوفی قادری نے شائع کیا۔ دوسرا رسالہ جماعت کے شائع کردہ ٹریکٹ کا
مدلل جواب قاری محمد تاج الدین صاحب قادری نے شائع کیا۔ ان دونوں سے بڑھ کر مفصل جواب ’’ہدایۃ الرشید للغوی المرید‘‘ کے عنوان سے سید محمد حبیب اللہ صاحب قادری (عرف رشید
بادشاہ) نے شائع کیا۔ علیٰ ہذا ایک رسالہ ’’تکذیب مرزا صاحب بہ زبان مرزاصاحب‘‘ ان کے بھائی سید ولی اللہ صاحب
(عرف حبیب بادشاہ) نے شائع کیا۔ ختم نبوت کے اثبات میں ایک رسالہ مولوی سید درویش محی الدین صاحب قادری نے
بھی شائع کیا۔ لیکن اس سلسلے میں سب سے مدلل اور جامع رسالہ ’’آواز حق‘‘ نکلا، جو مولانا محمد بدرعالم صاحب
میرٹھی، استاذ جامعہ اسلامیہ ڈابھیل کا علمی کرشمہ ہے اور جو مولوی فخرالدین رازی صاحب کی سعی سے حیدرآباد
میں شائع ہوا۔
رسالوں کے علاوہ کچھ دو ورقے بھی نکلے، مثلاً ’’ختم نبوت کے متعلق سیکرٹری صاحب جماعت احمدیہ کا صریح
مغالطہ‘‘ اس عنوان سے عزیزم میاں سید محمود موسوی القادری سلمہ نے ایک دو ورقہ شائع کیا۔ علیٰ ہذا ’’قادیانی
جماعت کی دعوت قادیانیت پر ہمارے استفسارات‘‘ اس عنوان سے بھی ایک دو ورقہ قاری محمد تاج الدین قادری نے
شائع کیا۔ ’’مرزائیوں کے عقائد‘‘ اس عنوان سے بھی ایک دو ورقہ باجازت حضرت مولانا مولوی محمد عبدالقدیر صاحب
صدیقی القادری مسلمانان حیدرآباد کی طرف سے شائع ہواا ور بہت مقبول رہا۔ اس کے سوا اخبار اور رسالوں میں بھی
مضامین نکلے۔ چنانچہ ’’خاتم النّبیین‘‘ کے عنوان سے الحاج ابوالحسن محمد خیر اللہ صاحب سنوسی القادری نے ’’ختم
نبوت‘‘ کے عنوان سے مولانا عینی شاہ صاحب نظامی نے اور ’’خاتم الانبیاء‘‘ کے عنوان سے قاری محمد تاج الدین
صاحب قادری نے مقامی اخبار ’’رہبر دکن‘‘ اور رسالہ ’’خلیق‘‘ میں سلسلہ وار مضامین شائع کئے۔ جلسوں اور
صحبتوں میں بھی تذکرے پھیل گئے۔ غرض کہ خدا کے فضل سے بیداری پیدا ہوگئی اور غفلت میں جو نقصان پہنچ رہا تھا
اس کا اندیشہ آئندہ کے واسطے رفع ہوگیا۔ ’’فالحمد للہ علیٰ احسانہ‘‘
مذہبی بحث ومباحثہ علماء کا کام ہے۔ اپنے واسطے اپنا ایمان کافی ہے۔ و اللہ اعلم! کیا مصلحت الٰہی تھی کہ
بلااجازت، بلا مشورہ، بلا اطلاع مسلمانوں نے اس ناچیز کو اس بحث پر کھڑا کر دیا اور پھر قادیانی صاحبان نے
اس میں زبردستی گھسیٹ لیا۔ چنانچہ تقریر کی شب کو جلسہ ختم ہوتے ہی قادیانی صاحبان کے نمائندے نے آکر تبادلہ
خیالات کے نام سے مناظرے کی دعوت دی۔ لیکن عذر کر دیا کہ اپنا یہ منصب نہیں ہے۔ اس کام کے واسطے علمائے کرام
کی طرف رجوع کیا جائے تو مناسب ہے۔ واقعہ ہے کہ ہم جیسے جدید تعلیم یافتہ نوجوانوں کے اسلامی خیالات سننے کا
لوگوں کو خودبخود اشتیاق ہے۔ ورنہ علماء اور مشائخ کے مقابل ہماری معلومات کی کیا حقیقت ہے۔ لیکن یہ عذر
قبول نہیں ہوا۔
66
اوّل تو تقریر کی تردید میں رسالہ نکلا۔ جس کا ذکر اوپر آچکا ہے اور اس کے آخر میں ہم کو اعراض کا
الزام بھی دیاگیا۔ چنانچہ اس رسالہ کے ختم پر لکھتے ہیں کہ: ’’ہمارے ایک نمائندے نے جو جلسہ میلاد النبی
متذکرہ میں شریک تھا۔ پروفیسر الیاس برنی صاحب سے اسی سلسلہ پر تبادلہ خیالات کی دعوت دی تھی۔ لیکن صاحب
موصوف نے اپنی عدیم الفرصتی کا عذر کیا اور فرمایا کہ علمائے کرام سے رجوع فرمایا جائے۔ یہ جواب قابل عذر
ہے۔‘‘
اس بیان سے شاید ہماری کم ہمتی اور بیچارگی کا اعلان مقصود ہو۔ مضائقہ نہیں ؎
خدا شرے برانگیزد کہ خیرے مادراں باشد
بہرحال اس رسالے کے شائع ہونے پر خیال ہوا کہ اسی سلسلے میں علمی تحقیقات کے طور پر قادیانی مذہب کا
دوسرا رخ، جو بالعموم نظروں سے مخفی رہتا ہے، نمایاں کر دیا جائے تو خوب۔ اس کی نوعیت کا صحیح اندازہ ہو
جائے اور مغالطہ کی بھی گنجائش نہ رہے۔ واقعہ یہ ہے کہ قادیانی مذہب کا ایک بڑا اصول ہے۔ جس سے عام تو کیا،
خاص لوگ بھی بے خبر ہیں۔ وہ یہ کہ مرزاغلام احمد قادیانی کی مذہبی زندگی کے دو دور ہیں۔ پہلے دور میں تو وہ
انکسار جتاتے ہیں۔ خوب خوش اعتقاد اور عقیدت مند نظر آتے ہیں۔ انبیاء اولیاء سب کو اپنا بڑا مانتے ہیں۔ سب
کی عظمت کرتے ہیں، اتباع کا دم بھرتے ہیں۔ چنانچہ ملاحظہ ہو:
’’السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ! آپ کا والانامہ پہنچا۔ خداوند کریم آپ کو
خوش وخرم رکھے۔ آپ دقائق متصوفین میں سے سوالات پیش کرتے ہیں اور یہ عاجز مفلس ہے۔ محض حضرت ارحم الراحمین
کی ستاری نے اس ہیچ اور ناچیز کو مجلس صالحین میں فروغ دیا ہے۔ ورنہ من آنم کہ من دانم کاروبار قادر مطلع سے
سخت حیرانی ہے کہ نہ عابد نہ عالم نہ زاہد کیوںکر اخوان مؤمنین کی نظر میں بزرگی بخشتا ہے۔ اس کی عنایات کی
کیا ہی بلند شان ہے اور اس کے کام کیسے عجیب ہیں ؎
-
پسندید گانے بہ جائے رسند
زما کہتر انش چہ آمد پسند
(مرزاغلام احمد قادیانی کا مکتوب بنام میر عباس علی شاہ صاحب، مکتوبات احمدیہ ج۱ ص۱۰، مکتوب نمبر۸
جدید مکتوبات احمد ج۱ ص۵۱۹، مکتوب نمبر۹)
’’میرا کوئی دین بجز اسلام کے نہیں اور میں کوئی کتاب بجز قرآن کے نہیں رکھتا اور میرا کوئی بجز محمد
مصطفیٰ ﷺ کے نہیں جو کہ خاتم النّبیین ہے۔ جس پر خدا کی بے شمار رحمتیں اور برکتیں نازل کی ہیں اور اس کے
دشمنوں پر لعنت بھیجی ہے۔ گواہ رہ کہ میرا تمسک قرآن شریف ہے اور رسول اللہ ﷺ کی حدیث جو کہ چشمہ حق ومعرفت
ہے، میں پیروی کرتا ہوں اور تمام باتوں کو قبول کرتا ہوں جو کہ اس خیرالقرون میں باجماع صحابہ رضی اللہ عنہم صحیح قرار
پائی ہیں۔ نہ ان پر کوئی زیادتی کرتا ہوں، نہ ان میں کوئی کمی اور اسی اعتقاد پر میں زندہ رہوں گا اور اسی
پر میرا خاتمہ اور انجام ہوگا اور جو شخص ذرہ بھر بھی شریعت محمدیہ میں کمی بیشی کرے، یا کسی اجماعی عقیدے
کا انکار کرے، اس پر خدا اور فرشتوں اور تمام انسانوں کی لعنت ہو۔‘‘
(مرزاغلام احمد قادیانی کا مکتوب عربی بنام مشائخ ہند، انجام آتھم ص۱۴۳،۱۴۴، خزائن ج۱۱ ص۱۴۳،۱۴۴)
ترجمہ… ’’میں ان تمام امور کا قائل ہوں جو اسلامی عقائد میں داخل ہیں اور جیسا کہ اہل سنت جماعت کا
عقیدہ ہے۔ ان سب باتوں کو مانتا ہوں جو قرآن اور حدیث کی رو سے مسلم الثبوت ہیں اور سیدنا ومولانا حضرت محمد
مصطفیٰ ﷺ ختم المرسلین کے بعد کسی دوسرے مدعی نبوت اور رسالت کو کاذب اور کافر جانتا ہوں۔ میرا یقین ہے کہ
وحی رسالت حضرت آدم صفی اللہ سے شروع ہوئی اور جناب رسول اللہ ﷺ پر ختم ہوگئی… اس میری تحریر پر ہر ایک شخص گواہ
رہے۔‘‘
(اعلان مؤرخہ ۲؍اکتوبر ۱۸۹۱ء مندرجہ تبلیغ رسالت ج۲ ص۲۰،۲۱، مجموعہ اشتہارات ج۱ ص۲۳۰،۲۳۱، جدید
مجموعہ اشتہارات ج۱ ص۲۱۴)
67
’’ہم اس بات کے لئے بھی خدائے تعالیٰ کی طرف سے مامور ہیں کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو خدا تعالیٰ کا
سچا اور پاک اور راست باز نبی مانیں اور ان کی نبوت پر ایمان لاویں۔ سو ہماری کسی کتاب میں کوئی ایسا لفظ
بھی نہیں ہے جو ان کی شان بزرگ کے برخلاف ہو۔‘‘
(ایام صلح ٹائٹل، خزائن ج۱۴ ص۲۲۸)
’’ہم اس بات پر بھی ایمان رکھتے ہیں کہ جو راست باز اور کامل لوگ شرف صحبت آنحضرت ﷺ سے مشرف ہوکر
تکمیل منازل سلوک کر چکے ہیں۔ ان کے کمالات کی نسبت بھی ہمارے کمالات اگر ہمیں حاصل ہوں، بطور ظل کے واقع
ہیں اور ان میں بعض ایسے جزئی فضائل ہیں جو اب ہمیں کسی طرح حاصل نہیں ہوسکتے۔‘‘
(ازالہ اوہام حصہ اوّل ص۱۳۸، خزائن ج۳ ص۱۷۰)
’’میرے لئے یہ کافی فخر ہے کہ میں ان لوگوں (صحابہ رضی اللہ عنہم) کا مداح اور خاک پا ہوں، جو جزئی فضیلت خداتعالیٰ
نے انہیں بخشی ہے۔ وہ قیامت تک کوئی اور شخص نہیں پاسکتا۔ کب دوبارہ محمد ﷺ دنیا میں پیدا ہوں اور پھر کسی
کو ایسی خدمت کا موقع ملے جو جناب شیخینؓ کو ملا۔‘‘
(ملفوظات ج۱ ص۳۲۶، ملفوظات جدید ج۱ ص۲۱۷)
’’غرض وہ تمام امور جن پر سلف صالحین کو اعتقادی اور عملی طور پر اجماع تھا اور وہ امور جو اہل سنت کی
اجماعی رائے سے اسلام کہلاتے ہیں۔ ان سب کا ماننا فرض ہے اور ہم آسمان اور زمین کو اس بات پر گواہ کرتے ہیں
کہ یہی ہمارا مذہب ہے۔‘‘
(ایام الصلح ص۸۷، خزائن ج۱۴ ص۳۲۳)
لیکن دوسرے دور میں حالت بالکل برعکس ہے۔ اوّل تو علانیہ نبی بن جاتے ہیں، پھر بڑھتے بڑھتے تقریباً
تمام انبیاء ومرسلین سے صراحۃً کنایتہ بڑھ جاتے ہیں۔ بڑے سے بڑے دعوے زبان پر لاتے ہیں۔ اچھے اچھوں کو نظروں
سے گراتے ہیں اور اپنے واسطے انتہائی عقیدت کے طالب نظر آتے ہیں۔ دونوں حالتوں میں زمین وآسمان کا فرق ہے۔
قادیانی صاحبان اپنی تبلیغ میں تمام تر دور اوّل کی خوش عقیدگیاں پیش کرتے ہیں اور ان میں کافی تراوٹ ہے۔
ناواقف اور روادار مسلمان ان کی خوش عقیدگیوں سے خوش ہوکر خود ان کی عقیدت میں پھنس جاتے ہیں اور جب اچھی
طرح متأثر ہوکر قابو میں آجاتے ہیں تو وہ ان کو دور دوم کے اعتقادات پر لاتے ہیں۔ جو چاہتے ہیں، منواتے
ہیں۔ ایمان کی خوب گت بناتے ہیں۔ قادیانی تبلیغ کا یہ بڑا گر ہے۔ اچھے اچھے بے خبر ہیں۔ تحقیق کیجئے تو پتہ
چلتا ہے کہ ہاتھی کے دانت کھانے کے اور ہیں، دکھانے کے اور۔
مرزاغلام احمد قادیانی کے مذہب کے دونوں دور، خود ان کے صاحبزادے مرزامحمود احمد موجودہ خلیفہ قادیان
اپنی کتاب ’’القول الفصل‘‘ میں یوں واضح فرماتے ہیں: ’’غرض کہ مذکورہ بالا حوالہ سے ثابت ہے کہ تریاق القلوب
کی اشاعت تک (جو کہ اگست ۱۸۹۹ء سے شروع ہوئی اور اکتوبر ۱۹۰۲ء میں ختم ہوئی) آپ کا عقیدہ یہی تھا کہ آپ کو
حضرت مسیح پر جزوی فضیلت ہے اور یہ کہ آپ کو جو نبی کہا جاتا ہے تو یہ ایک قسم کی جزوی نبوت ہے اور ناقص
نبوت ہے۔ لیکن بعد میں جیسا کہ نقل کردہ عبارت کے فقرے دو اور تین سے ثابت ہے۔ آپ کو خداتعالیٰ کی طرف سے
معلوم ہوا کہ آپ ہر ایک شان میں مسیح سے افضل ہیں اور کسی جزوی نبوت کے پانے والے نہیں، بلکہ نبی ہیں۔ ہاں!
ایسے نبی جن کوآنحضرت ﷺ کے فیض سے نبوت ملی۔ پس ۱۹۰۲ء سے پہلے کسی کسی تحریر سے حجت پکڑنا بالکل جائز نہیں
ہوسکتا۔‘‘
(القول الفصل ص۲۲، انوار العلوم ج۲ ص۲۸۵)
68
بعد کو اس زمانی تقسیم میں کسی قدر ترمیم کی گئی۔ چنانچہ مرزامحمود اپنی کتاب ’’حقیقت النبوت‘‘ میں
تحریر فرماتے ہیں: ’’اس سے ثابت ہوتا ہے کہ ۱۹۰۱ء میں آپ نے اپنے عقیدے میں تبدیلی کی ہے اور ۱۹۰۰ء ایک
درمیانی عرصہ ہے جو دونوں خیالات کے درمیان برزخ کے طور پر حدفاصل ہے۔ پس… یہ بات ثابت ہے کہ ۱۹۰۱ء سے پہلے
کے وہ حوالے جن میں آپ نے نبی ہونے سے انکار کیا ہے، اب منسوخ ہیں اور ان سے حجت پکڑنی غلط ہے۔‘‘
(حقیقت النبوۃ ص۱۲۱، انوار العلوم ج۲ ص۴۴۳تا۴۴۵)
مرزاغلام احمد کی خوش عقیدگیوں کے مضامین تو مسلمانوں کو لبھانے اور پھسلانے کے واسطے قادیانی صاحبان
بڑے شدومد سے شائع کرتے ہیں۔ چنانچہ اسی قسم کا ایک رسالہ ’’عقائد احمدیہ‘‘ کے نام سے حیدرآباد میں بھی شائع
ہوچکا ہے۔ خوب سبز باغ دکھایا ہے۔ لیکن دوردوم کے اعتقادات جو قادیانی مذہب کی جان ہیں، روح رواں ہیں،
قادیانیوں کا دین وایمان ہیں، وہ غیروں اور ارادت مندوں کے سامنے بھولے سے بھی بیان میں نہیں آتے۔ وہ دراصل
پکے قادیانیوں کا حصہ ہیں۔ کچوں کے واسطے راز سربستہ ہیں۔ اگر کوئی بطور خود کتابوں کا مطالعہ کرے تو
قادیانی لٹریچر میں ایک بڑا کمال ہے۔ اس درجہ تکرار، تضاد، ابہام اور التباس ہے کہ اکثر مباحث بھول بھلیاں
نظر آتے ہیں۔ عقل حیران اور طبیعت پریشان ہو جاتی ہے۔ جب تک صبرواستقلال کے ساتھ غوروخوض نہ کیا جائے، اصل
بات ہاتھ نہیں آتی۔ اسی ضرورت کے مدنظر خود بانی مذہب مرزاغلام احمد قادیانی اور ان کی امت کے مشہورومستند
اکابر کی کتابوں میں صاف صاف اقتباسات تلاش کر کے وہ مخصوص اعتقادات جو لوگوں سے تقریباً مخفی ہیں، موزوں
عنوانات وترتیب کے تحت اس کتاب میں پیش کرتے ہیں۔ ناظرین خود انصاف فرمالیں کہ یہ مذہب قرآن واسلام سے کس حد
تک تعلق رکھتا ہے اور اس کی حقیقت کیا ہے۔
قادیانی مذہب کے مخصوص عقائد ثلاثہ مرزامحمود خلیفہ قادیان نہایت اختصار اور وضاحت سے اپنی کتاب
’’آئینہ صداقت‘‘ میں حسب ذیل بیان فرماتے ہیں۔ عاقل را اشارہ کافی ست: ’’یہ تبدیلی عقیدہ مولوی (محمد علی)
صاحب تین امور کے متعلق بیان کرتے ہیں۔ اوّل یہ کہ میں نے حضرت مسیح موعود کے متعلق یہ خیال پھیلایا ہے کہ
آپ فی الواقع نبی ہیں۔ دوم یہ کہ آپ ہی آیت: ’’اسمہ احمد‘‘ کی پیش گوئی مذکورہ قرآن
مجید کے مصداق ہے۔ سوم یہ کہ کل مسلمان جو حضرت مسیح موعود کی بیعت میں شامل نہیں ہوئے، خواہ انہوں نے حضرت
مسیح موعود کا نام بھی نہیں سنا، وہ کافر اور دائرہ اسلام سے خارج ہیں۔ میں تسلیم کرتا ہوں کہ میرے یہ عقائد
ہیں۔ لیکن اس بات کو تسلیم نہیں کرتا کہ ۱۹۱۴ء یا اس سے تین چار سال پہلے سے میں نے یہ عقائد اختیار کئے
ہیں۔‘‘
(آئینہ صداقت ص۳۵، انوار العلوم ج۲ ص۱۱۰)
قادیانی صاحبان تبلیغ اسلام کا بڑا دعویٰ کرتے ہیں اور اس کا مسلمانوں پر بڑا احسان دھرتے ہیں۔ لیکن
انصاف سے دیکھئے تو بے سروپا عقائد مسلمانوں میں پھیلا رہے ہیں۔ اسلام سے ان کو ہٹا رہے ہیں، دین وایمان
گنوا رہے ہیں۔ من مانے حاشیے چڑھا رہے ہیں۔ بچوں کا کھیل بنا رہے ہیں۔ تخریب دین کو تبلیغ دین بتارہے ہیں۔
امت محمدی میں فساد بڑھا رہے ہیں۔ قادیانی مذہب کے مخصوص اعتقادات کی مزید تفصیل آئندہ صفحات میں ملاحظہ
کیجئے تو بے ساختہ دل وزبان سے نکل جاتا ہے۔
’’نعوذ باللہ من ذلک۔ ربنا لاتزغ قلوبنا بعد اذہدیتنا وہب لنا من لدنک رحمۃ انک انت الوہاب‘‘
معروضہ: خادم محمد الیاس برنی
بیت السلام، حیدرآباد دکن، رجب شریف ۱۳۵۲ھ
69
بسم اللہ الرحمن الرحیم
تمہید دوم
کن حالات کے تحت یہ کتاب ’’قادیانی مذہب‘‘ تالیف ہوئی، اس کی مختصر کیفیت تمہید اوّل میں درج ہے۔ شائع
ہوتے ہی پہلا ایڈیشن ہاتھوں ہاتھ چلا۔ دور دور تک پھیل گیا۔ خاص کر اعلیٰ اور تعلیم یافتہ طبقوں میں اس کی
بہت مانگ ہوئی۔ گویاکہ مدت سے ایسی کتاب کی ضرورت محسوس ہورہی تھی۔ اچھے اچھے مبصرین نے اس تالیف کی متانت
اور وضاحت کا اعتراف کیا۔ پریس ریویو میں بھی بالعموم اس خصوصیت کا اعتراف ہوا۔ مثلاً:
’’جناب برنی کا یہ رسالہ (قادیانی مذہب) مولویانہ لعن طعن سے قطعاً پاک ہے۔ قادیانی اور اہل سنت
مباحثات کے متعلق ایسی متین کتاب غالباً نہیں دیکھی گئی جس کو مخالف وموافق سب ٹھنڈے دل سے پڑھ کر سکون قلب
کے ساتھ رائے قائم کر سکتے ہیں۔
جناب مؤلف نے اس رسالہ میں اپنی طرف سے بہت کم لکھا ہے۔ زیادہ تر مرزاقادیانی اور ان کے مستند متبعین
کی تحریریں ایک خاص ترتیب سے جمع کر دی ہیں اور ان پر جو کچھ اظہار رائے کیا ہے، مختصر ہے اور تہذیب ومتانت
کے ساتھ ہے۔ یہ مؤلف صاحب کے حسن نیت کی دلیل ہے کہ انہوں نے اس رسالے کو بلاقیمت شائع کیا اور کسی مالی
منفعت کا ذریعہ نہیں بنایا۔‘‘
(رسالہ بلاغ، امرتسر، بابت اپریل ۱۹۳۴ء)
کتاب کی اشاعت کے ایک ماہ بعد قادیانی صاحبان کی طرف سے بھی جواب میں ایک رسالہ شائع ہوا: ’’الیاس
برنی کا علمی محاسبہ‘‘ رسالہ کیا ہے، قادیانی ذہنیت کی پوری تصویر ہے۔ الزام واتہام کی ناکام تدبیر ہے۔
قادیانی صاحبان کا سیاسی کشف بھی عجیب وغریب ہے۔ اگر واقعی ان کے دلوں پر ایسے وساوس طاری ہیں تو حیرت ہے
اور اگر یہ ان کی طرف سے دیدہ ودانستہ افتراء وبہتان ہے تو افسوس۔ ملاحظہ ہو:
’’آپ کی دیانت نے کس طرح اجازت دی کہ حکومت برطانیہ کی یاری وفاداری کو محل اعتراض ٹھہرا کر
’’زمیندار‘‘ لاہور کے ظفر علی خان نقاش… اور ’’الجمعیۃ‘‘ دہلی کے مولوی کفایت اللہ کے نقش قدم پر چلیں اور
دیوبندی، بدایونی، خلافتی، احراری اور کانگریسی تباہ کن تحریکات میں حیدرآبادی مسلمانوں کو گھسیٹیں۔ تعجب ہے
کہ حکیم السیاست سلطان دکن تو تاج برطانیہ کا یار وفادار کہلانا باعث فخر سمجھیں مگر برنی صاحب اپنے رسالہ
کے صفحات ص۶۸،۱۰۳ پر اس اقتدار اعلیٰ سے وفاداری کی تعلیم کے نیچے خط کھینچ کر لوگوں میں حقارت وبغاوت کے
جذبات کی آگ مشتعل کریں۔‘‘
(پروفیسر الیاس برنی کا علمی محاسبہ، قادیانی رسالہ)
یہ رسالہ بنظر احتیاط حیدرآباد چھوڑ کر بنگلور سے شائع کیاگیا۔ تاہم حیدرآباد میں بہ کثرت تقسیم ہوا۔
اس کا جواب بھی ’’قادیانی جماعت‘‘ کے عنوان سے ہفتہ عشرہ کے اندر شائع ہوگیا اور بطور ضمیمہ اس کتاب کے آخر
میں شریک ہے۔ کتاب کے ساتھ ان دو رسالوں نے بھی خوب کام دیا۔ خیالات واعتقادات کے سوا معاملات بھی بخوبی بے
نقاب ہوگئے۔ بڑے بڑے نیک خیال چونک پڑے۔ عام طبقوں میں بیداری پیدا ہوگئی۔ مزید برآں ملک کے معتبر اور مقتدر
اخبارات ورسائل نے بھی ہلچل ڈال دی۔ چنانچہ خاصی زد پڑی۔ ہوا پلٹ گئی۔
70
مرزامحمود خلیفہ قادیان سے بڑھ کر قادیانی جماعت کی اندرونی حالت سے کون واقف ہوسکتا ہے۔ صاحب موصوف
نے موجودہ حالت کا جو فوٹو کھینچا ہے، واقعی قابل عبرت ہے۔ ملاحظہ ہو:
’’آج کل احمدیوں کی جس قدر مخالفت ہورہی ہے، ابتداء میں بھی شاید اتنی نہ ہوئی ہو اور یہ صحیح بھی ہے۔
مگر جماعت بوجہ ان فتوحات کے جو اللہ تعالیٰ کے فضل سے اسے نصیب ہورہی ہیں، اسے محسوس نہیں کرتی۔ اس کی حالت اس
بچے کی سی ہے جس کی ماں رات کو فوت ہوگئی۔ صبح کو جب اٹھا تو اسے پیار کرنے لگا اور ہنسنے لگا۔ پھر بھی جب
وہ اس کی طرف متوجہ نہ ہوئی تو اس نے محبت سے اس کے منہ پر چپت ماری اور یہی سمجھتا رہا کہ یوں ہی چپ ہے۔
حتیٰ کہ جب اسے دفن کرنے کے لئے لے جانے لگے، تب اسے معلوم ہوا کہ اس کی نہایت ہی محبوب چیز ہمیشہ کے لئے اس
سے چھڑا دی گئی ہے۔ اسی طرح جماعت کے وہ ناواقف دوست جو سلسلہ کے حالات سے آگاہ نہیں اور مخالفت کی شدت جن
آنکھوں کے سامنے نہیں، وہ یہی سمجھ رہے ہیں کہ کیا پرواہ ہے۔ ہمارا کوئی کیا بگاڑ سکتا ہے۔ مگر جس جماعت کو
میں یا جماعت کے دوسرے لوگ دیکھتے ہیں، وہ اس سے ناواقف ہیں۔ سب بڑے اور چھوٹے اس وقت ہماری مخالفت پر
کمربستہ ہیں۔ احمدیت کی ابتداء میں انگریز مخالف نہ تھے۔ سوائے چند ابتدائی ایام کے، کہ جب وہ مہدی کے لفظ
سے گھبراتے مگر اب تو وہ بھی مخالف ہورہے ہیں۔ بہت تھوڑے ہیں جو جماعت کی خدمات کو سمجھتے ہیں۔ باقی تو
باغیوں سے بھی زیادہ غصے سے ہمیں دیکھتے ہیں اور اگر انگریزوں کا فطری عدل مانع نہ ہو تو شاید وہ ہمیں پیس
ہی دیں۔
پھر وہ لوگ جو پہلے سیاسی کاموں کی وجہ سے ہمارے مداح تھے، ان میں سے بھی کچھ تو کھلے طور پر اور کچھ
مخفی طور پر ہماری مخالفت میں لگ گئے ہیں۔ بعض تو صاف احراریوں سے مل گئے ہیں۔ ان کی مجالس میں جاتے ہیں، ان
کے لئے چندے جمع کرتے ہیں اور چند گنتی کے لوگوں کو چھوڑ کر باقی سب نے یہی طریق اختیار کر رکھا ہے۔
پھر خود ہمارے اندر منافقوں کا ایک جال ہے جو تھوڑے تھوڑے عرصے کے بعد ظاہر ہوتے رہتے ہیں۔ وہ کبھی
جھوٹی خبریں شائع کرتے ہیں، کبھی جھوٹی باتیں بنا کر دوسروں کو گمراہ کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ قرآن کریم میں
انہیں کے متعلق آیا ہے: ’’والمرجفون فی المدینۃ‘‘ کوئی اچھا کام نہیں جس پر وہ اعتراض
نہ کریں، اور کوئی نیک آدمی نہیں جس پر الزام نہ لگائیں۔ یہ اندرونی دشمن ہیں جو باہر والوں سے زیادہ خطرناک
ہیں۔ کیونکہ ان کی باتیں سننے والا سمجھتا ہے یہ بھی آخر احمدی ہیں، مخلص ہیں اور اس وجہ سے ان کے دھوکے میں
آجاتا ہے۔ ان کی ایسی حرکات سے اپنوں کے اندر بے چینی پیدا ہوتی ہے اور دشمن دلیر ہوتے ہیں۔ ان سب چیزوں کو
دیکھ کر میں تو ایسا محسوس کرتا ہوں کہ گویا ایک چھوٹی سی جماعت کو چاروں طرف سے ایک فوج گھیرے چلی آرہی ہے
اور قریب ہے کہ اس کے نکلنے کے لئے ایک انچ بھی جگہ باقی نہ رہے۔ ایک زلزلہ ہے جو اگرچہ ظاہر تو نہیں ہوا
مگر زمین کے نیچے خوفناک آگ شعلہ زن ہے۔ یہ صحیح ہے کہ الٰہی سلسلوں کے متعلق اللہ تعالیٰ کی سنت کو مدنظر
رکھتے ہوئے یہ سب ہمارے لئے کچھ نہیں، لیکن اگر یہ فتنے جماعت کو کمزور بھی کر دیں تو امانت جو اللہ تعالیٰ کی
طرف سے ہمارے سپرد ہے، اس کے ضائع ہو جانے کا احتمال ضرور ہے اور جس طرح دودھ زمین پر گر جانے کے بعد اٹھایا
نہیں جاسکتا، اسی طرح اللہ تعالیٰ کی امانت اور اس کا نور ایک دفعہ ضائع ہو جانے کے بعد پھر اسے حاصل نہیں کیا
جاسکتا۔
71
پھر اس کے لئے نئی جماعتیں ہی قائم ہوا کرتی ہیں اور نئے نبی مبعوث ہوتے ہیں۔‘‘
(خطبہ جمعہ اخبار الفضل قادیان ج۲۱ نمبر۱۱۰، ص۷،۸، مؤرخہ ۱۵؍مارچ ۱۹۳۴ء، خطبات محمود ج۱۵ ص۶۸تا۷۰)
اوپر جو کچھ بیان ہوا، اس کا منشاء یہ ہے کہ کتاب کی اشاعت کے بعد سے اب تک اندرون سال جو حالات رونما
ہوئے، ان کی مختصر کیفیت پیش نظر ہو جائے اور آئندہ تاریخ کے سلسلے میں کام آئے۔
پہلا ایڈیشن بہت روک کر تقسیم کیا۔ پھر بھی ہاتھوں ہاتھ نکل گیا۔ ملک کے گوشے گوشے میں پھیل گیا، بلکہ
ہندوستان کے باہر تک چلا گیا۔ پھر بھی ہر طرف سے ’’ہل من مزید‘‘ کی صدائیں آتی
رہیں۔ لامحالہ دوسرے ایڈیشن کا جلد اہتمام کرنا پڑا۔ یوں بھی پہلا ایڈیشن بدرجہ مجبوری عجلت میں شائع ہوا
تھا۔ اسی لئے نسبتاً سرسری اور نامکمل تھا۔ چنانچہ خود قادیانی صاحبان کو بھی اس کے متعلق قلت تحقیق کی
شکایت تھی۔ اب دوسرے ایڈیشن میں کتاب کچھ سے کچھ ہوگئی۔ نہ صرف یہ کہ کتاب کی غلطیاں اور طباعت کی خامیاں
رفع ہوگئیں، بلکہ مضامین میں بھی بہت کافی اضافہ ہوا۔ نئے نئے عنوانات قائم ہوئے، جدید فصلیں شامل ہوئیں۔
چنانچہ پہلے صرف پانچ فصلیں تھیں، اب گیارہ ہیں اور عنوانات پچاس سے بھی کم تھے، اب ڈھائی سو کے قریب ہیں۔
ترتیب بھی بہت مسلسل اور مکمل ہوگئی۔ حوالہ جات بھی بخوبی واضح ہو گئے۔
اوّل! تو اکثر وبیشتر مضامین خود مرزاغلام احمد قادیانی کی کتابوں سے منقول ہیں۔ دوم! ان کے
صاحبزادگان مرزامحمود، خلیفہ قادیان اور میاں بشیراحمد ایم۔اے کی کتابوں سے منقول ہیں۔ سوم! مرزاغلام احمد
قادیانی کے مریدان خاص مثلاً مولوی محمد علی، امیر جماعت لاہور وغیرہ کی کتابوں سے منقول ہیں۔ غرض کہ تمام
تر اقتباسات کا مأخذ قادیانی جماعت کے بانی اور اکابر کی کتابیں ہیں۔ ان کے سوا جو اقتباسات دیگر تصانیف سے
لئے گئے ہیں، وہ بھی اکثر اسی جماعت کے متعلقین سے وابستہ ہیں۔ معدودے چند اقتباسات غیرقادیانی کتابوں سے
لئے ہیں۔ سو وہ بھی تمامتر علمی ہیں، مذہبی نہیں ہیں۔ تشریح وتوضیح بھی صرف بحالت ضرورت بغایت اختصار شریک
کی گئی۔ مقصود یہ کہ خود قادیانی صاحبان ہی کی زبان سے ان کا دین وایمان بیان ہو۔
رہا قادیانی لٹریچر، اسے دیکھئے تو طول کلام التباس وابہام، لفظی ہیر پھیر، اختلافات کے ڈھیر، کہیں
اقرار کہیں انکار، کہیں دعویٰ کہیں فرار، مباحث ناہموار، پراگندہ تکرار، سخن سازی کی بھرمار، تاویلات کے
انبار، اعلیٰ تعلیم یافتہ طبقے جو مصروف کار ہیں اس چکر میں کیوں پڑنے لگے۔ تبلیغی لٹریچر کی رنگینی پسند
آئی تو معترف ومداح بن گئے۔ کچھ عقائد سن پائے تو معترض اور مخالف بن گئے۔ مگر اصل کیفیت سے بہت کم واقف۔
چنانچہ اسی ضرورت کے مدنظر اصل کتابوں سے کافی مواد فراہم کر کے علمی پیرایہ میں یکجا ترتیب دے دی تاکہ ہر
کوئی خود ہی تصفیہ کر سکے کہ اس مذہب کی کیا اصلیت ہے، کیا نوعیت ہے۔ اس کاکیا رجحان ہے، کیاامکان ہے۔ اس کی
جماعت میں کیا علمیت ہے، کیا ذہنیت ہے۔ کیا خیالات ہیں، کیا جذبات ہیں؟ الحاصل دور حاضرہ کی مذہبی، قومی اور
ملکی تحریکات میں اس کی کیا حیثیت ہے۔ ’’وما علینا الا البلاغ‘‘
معروضہ: خادم محمد الیاس برنی
بیت السلام، حیدرآباد دکن، ربیع الاوّل شریف ۱۳۵۳ھ
72
بسم اللہ الرحمن الرحیم
تمہید سوم
یہ کتاب ’’قادیانی مذہب‘‘ سب سے اوّل رجب المرجب ۱۳۵۲ھ میں تالیف ہوئی اور کن حالات میں تالیف ہوئی اس
کی کیفیت تمہید اوّل میں موجود ہے۔ اس کا دوسرا ایڈیشن ایک سال کے اندر ہی ربیع الاوّل شریف ۱۹۵۳ء میں شائع
ہوگیا۔ اس ایڈیشن میں مضامین کا کس قدر اضافہ ہوا، تمہید دوم میں مختصر تشریح درج ہے۔ اس کی کیا خصوصیات
تسلیم کی گئیں، ذیل میں چند تبصرے ملاحظہ ہوں:
’’مولانا الیاس برنی ایم۔اے، ایل۔ایل۔بی (علیگ) مقیم حیدرآباد دکن نے کچھ عرصہ ہوا ’’قادیانی مذہب‘‘
کے نام سے ایک مختصر رسالہ شائع کیا تھا۔ اس رسالہ کو مزید مضامین کے اضافہ کے ساتھ زیربحث موضوع پر ایک
مبسوط تالیف کی صورت میں شائع کیا ہے۔
مولانا الیاس برنی نے قادیانی مذہب کی تردید کے لئے بالکل اچھوتا، مدلل اور اثرانگیز طریق اختیار کیا
ہے۔ انہوں نے قادیانی مذہب کی بہت سی کتابوں کی ورق گردانی کر کے ان میں سے ضروری اور اہم تحریریں انتخاب کر
لی ہیں اور ان کو نہایت عمدہ اور لطیف سلیقے اور پیرایہ کے ساتھ اس طرح مرتب کردیا ہے کہ مطالعہ کے بعد
قادیانی تحریک کے زیروبم، مدوجزر اور حقیقت پر خودبخود پوری روشنی پڑ جاتی ہے۔ خود مؤلف نے اپنی طرف سے بہت
کم رائے زنی کی ہے۔ بلکہ قادیانی مذہب کے چہرے کو قادیانی تصانیف وتحریرات کے آئینہ میں دکھادیا ہے اور کوئی
تعجب نہیں کہ ایک جدید تعلیم یافتہ اہل قلم کی اس تصنیف نے قادیانی حلقوں پر سراسیمگی کی کیفیت طاری کر دی
ہے۔ اس کتاب کی سب سے بڑی خصوصیت یہ ہے کہ انداز بیاں بہت ہی شریفانہ اور استدلال مخلصانہ ہے۔ قادیانی مذہب
کے عہد بہ عہد ارتقاء اور اس کی حقیقت کے متعلق یہ کتاب ایک بیش قیمت ذریعہ معلومات ہے اور ارباب ذوق اس سے
مستفید ہوکر قادیانیوں کو نہایت خوش اسلوبی کے ساتھ شکست دے سکتے ہیں۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ قادیانی مذہب
ایک گورکھ دھندہ ہے، ایک مجموعہ تضاد اور ذخیرہ اضداد ہے اور اسی لئے ’’من عند غیر
اللہ‘‘ ہے۔‘‘
(اخبار مدینہ بجنور ج۲۳ نمبر۸۲، مؤرخہ ۱۷؍نومبر ۱۹۳۴ء)
’’قادیانی مذہب، مؤلفہ جناب الیاس برنی صاحب، پروفسیر جامعہ عثمانیہ حیدرآباد دکن، تقطیع متوسط،
ضخامت ۳۴۴صفحہ، کتابت بہتر، کاغذ عمدہ، طباعت قابل تعریف۔
قادیانی مذہب کے مزعومات کی تردید یوں تو بے شمار علماء وفضلاء نے کی۔ لیکن واقعہ یہ ہے کہ خالص علمی
رنگ میں پوری تحقیق اور تدقیق کے بعد کامل سنجیدگی اور متانت سے برنی صاحب نے جس طرح یہ کتاب لکھی ہے، ان ہی
کا حق ہے۔
اس کتاب کے مطالعہ کے بعد قادیانیوں کی تدلیس وتلبیس پوری بے نقاب ہوجاتی ہے۔ دیانت تحریر کا یہ عالم
کہ کوئی بات بغیر حوالہ کے نہیں کہی۔ دلچسپی کی یہ کیفیت کہ جب تک کتاب ختم نہ کر لیجئے، کتاب چھوڑنے کو جی
ہی نہ چاہے۔ کتاب کیا ہے، قادیانی مذہب کا انسائیکلوپیڈیا ہے۔ مرزاغلام احمد قادیانی کے اباطیل کادندان شکن
جواب، قادیانیت کا مکمل مرقع، ایک ایسا آئینہ جس میں قادیانیوں کا ایک ایک خط وخال نمایاں۔
برنی صاحب اب تک ایک ماہر معاشیات کی حیثیت سے مشہور تھے۔ لیکن کتاب لکھ کر انہوں نے ثابت کر دیا کہ
مذاہب کے مطالعہ اور ان کی تحقیق وتدقیق میں بھی انہوں نے پورا وقت صرف کیا ہے اور جو کچھ کہا ہے، خوب سوچ
سمجھ کر اپنی ذمہ داریوں کا لحاظ کر کے۔
ہم اپیل کرتے ہیں کہ ہر وہ شخص جو قادیانیت سے کچھ بھی متاثر ہے، یا قادیانیوں کے راز دروں پردہ سے
واقف ہونا چاہتا ہے، ضرور
73
اس کا مطالعہ کرے۔ ضرورت ہے کہ اس کتاب کی قادیانیوں میں بھی تبلیغ کی جائے۔‘‘
(اخبار خلافت بمبئی ج۱۳ نمبر۲۲۳، مؤرخہ ۳۰؍ستمبر ۱۹۳۴ء)
’’قادیانی مذہب، مؤلفہ پروفیسر مولوی محمد الیاس برنی صاحب ایم۔اے، ایل۔ایل۔بی تقطیع ۱۸x۲۲/۸، ضخامت
۳۵۰صفحہ، لکھائی چھپائی اور کاغذ نفیس۔
یہ کتاب بھی قادیانی مذہب کے اصلی چہرے پر سے نقاب اٹھانے کے لئے لکھی گئی ہے۔ اس میں مرزاغلام احمد
قادیانی بانی مذہب کے ان احوال واقوال کو جن سے مرزاقادیانی کی نبوت کی حقیقت منکشف ہوتی ہے، خود
مرزاقادیانی اور ان کے متبعین کی خاص تحریروں اور تقریروں سے اقتباس کر کے ایک جگہ جمع کر دیا گیا ہے جن کے
پڑھنے سے ہر ایک منصف مزاج اور سمجھدار شخص اس نتیجے پر پہنچ سکتا ہے کہ مرزاقادیانی کا مذہب کس حد تک حامل
صداقت وقابل اتباع ہے۔
اس کتاب میں بھی خلاف تہذیب اور دل آزار کلمات کے استعمال نہ کرنے کا پورا اہتمام کیاگیا ہے۔ جو تعلیم
یافتہ مسلمان قادیانی غلط فہمیوں کا شکار ہوکر قادیانیت کا دم بھرنے لگے ہیں، ان کی آنکھیں کھولنے کے لئے
ایسی ہی کتابوں کی ضرورت ہے۔‘‘
(اخبار منادی، دہلی مؤرخہ ۱۸؍اکتوبر ۱۹۳۴ء)
بہرحال دوسرا ایڈیشن پہلے سے بھی زیادہ مقبول رہا اور خوب مؤثر اور کارگر ثابت ہوا۔ کچھ عرصے سے جو
قادیانی مذہب کے متعلق ملک میں عام بیداری پیدا ہورہی ہے اور قادیانی جماعت کے کارناموں سے پبلک واقف ہورہی
ہے تو اس کے آثار قادیانی صاحبان کو بہت ناخوشگوار نظر آتے ہیں۔ چنانچہ قادیانی مذہب کے موجودہ حالت کا جو
درد انگیز نقشہ خود خلیفہ قادیاں مرزامحمود نے بے تاب ہوکر کھینچا ہے، وہ تمہید دوم میں قابل ملاحظہ ہے۔
قادیانی جماعت کی اس وقت ملک میں جو حیثیت خودقادیانی صاحب کو نظر آتی ہے، وہ ذیل میں ملاحظہ ہو:
’’میں حیران ہوں کہ آخر ان حکام اور ان احراریوں کا ہم نے کیا بگاڑا ہے۔ میں نے مخلّٰی بالطبع ہوکر اس
امر پر غور کیا ہے کہ ہم نے ان کو کیا نقصان پہنچایا ہے۔ لیکن کوئی بات مجھے نظر نہیں آئی۔ ہم نے ہر ایک کی
خدمت کی ہے اور خدمت کرنے کے لئے اپنی عزت کی قربانی کی، ماریں کھائیں، گالیاں کھائیں۔ احراری اب بھی کہتے
ہیں کہ ہم مذہبی اختلاف کو برداشت کر سکتے ہیں۔ (حالانکہ وہ اختلافات ناقابل برداشت ہیں) مگر ان کی حکومت سے
وفاداری کو برداشت نہیں کر سکتے۔ ہم نے حکومت کی خاطر اس قدر تکالیف اٹھائیں۔ مگر اس سے کیا لیا… ہمیں نہ تو
ملک کی خدمت سے کچھ ملا اور نہ حکومت کی خدمت سے۔ سوائے اس کے کہ گالیاں کھائیں، ماریں کھائیں۔
ہمارے آدمی کابل میں مارے گئے۔ محض اس لئے کہ وہ جہاد کرنے کے مخالف تھے۔ اٹلی کے ایک انجینئر نے جو
حکومت افغانستان کا ملازم تھا، صاف لکھا ہے کہ امیر حبیب اللہ خاں نے صاحبزادہ سید عبداللطیف کو اس لئے مروا
دیا کہ وہ جہاد کے خلاف تعلیم دے کر مسلمانوں کے شیرازہ کو بکھیرتا ہے۔
پس ہم نے اپنی جانیں اس لئے قربان کیں کہ انگریزوں کی جانیں بچیں۔ مگر آج بعض حکام سے ہمیں یہ بدلا
ملا ہے کہ ہم سے باغی اور شورش پسند والا سلوک روا رکھا ہے… دنیا ہمیں انگریزوں کا ایجنٹ سمجھتی ہے۔ چنانچہ
جب جرمنی میں احمدیہ عمارت کے افتتاح کی تقریب میں ایک جرمن وزیر نے شمولیت اختیار کی تو حکومت نے اس سے
جواب طلب کیا کہ کیوں تم ایسی جماعت کی کسی تقریب میں شامل ہوئے ہو جو انگریزوں کی ایجنٹ ہے۔ لیکن دوسری طرف
حکومت ہم سے یہ سلوک کرتی ہے کہ کہتی ہے تم مرزامحمود احمد سول نافرمانی کرنے والے ہو اور جب یہ واقعات کسی
عقلمند کے سامنے پیش ہوں گے تو وہ تسلیم کرے گا کہ حکومت کا رویہ صحیح نہیں… ہم کو فخر تھا کہ ہم نے پوری
کوشش کر کے ملک میں امن قائم رکھا ہے اور ملک میں ایسی داغ بیل ڈال دی ہے کہ فساد مٹ جائے مگر حکومت نے
ہماری اس عمارت کو
74
گرادیا ہے اور ہمارے نازک احساسات مجروح کئے گئے ہیں۔ ہمارے دل زخمی کر دئیے گئے ہیں۔ ہم نے کسی کا
کچھ نہیں بگاڑا۔ کسی سے کچھ نہیں مانگا۔ مگر حکومت اور رعایا خواہ مخواہ ہماری مخالف ہے اور مسیح ناصری کا
قول بالکل ہمارے حسب حال ہے کہ لومڑیوں کے بھٹ ہوتے ہیں اور ہوا کے پرندوں کے گھونسلے، مگر ابن آدم کے لئے
سردھرنے کی بھی جگہ نہیں۔‘‘
(خطبہ جمعہ اخبار الفضل قادیان ج۲۲ نمبر۵۴ ص۱۲ کالم۲،۳، مؤرخہ یکم؍نومبر ۱۹۳۴ء، خطبات محمود ج۱۵
ص۳۰۹تا۳۱۱)
اس سلسلے میں ایک اور امر بھی عبرت آموز ہے، وہ یہ کہ ہماری کتاب ’’قادیانی مذہب‘‘ شائع ہونے کے بعد
ہی قادیانی صاحبان نے بڑے شدومد اور بڑی بلند آہنگی سے ہم پر سیاسی الزام لگانے کی کوشش کی تھی کہ کسی طرح
زک دیں اور نقصان پہنچائیں۔ لیکن ’’چاہ کن را چاہ درپیش‘‘ چاہتے تھے کہ حکومت کو ہم سے بدظن کریں اور خود
حکومت کی شکایتوں کا طومار باندھ رہے ہیں۔ ربیع الاوّل شریف ۱۳۵۲ھ سے ہم پر قادیانی التفات شروع ہوا اور خدا
کی قدرت کہ ٹھیک ڈیڑھ سال بعد ماہ شعبان ۱۳۵۳ھ میں مرزامحمود خلیفہ قادیان اعلان فرماتے ہیں کہ اس ڈیڑھ سال
سے ان پر کیا گزری ہے۔
کیا خوب سودا نقد ہے اس ہاتھ دے اس ہاتھ لے
اگر کہیں یہ صورت قادیانی صاحبان کے موافق ہوتی تو مرزاغلام احمد قادیانی کی نبوت کی بڑی دلیل قرار
پاتی۔ لیکن ’’کردن خویش، آمدن پیش‘‘ کا اچھا سبق ملا۔ چنانچہ ملاحظہ ہو:
’’میں نے یہ تفصیل اس لئے بتائی ہے کہ شاید بعض لوگوں کے دل میں خیال گزرتا ہو کہ حکومت سے ایک غلطی
ہوئی ہے اسے جانے دینا چاہئے۔ مگر حقیقت یہ ہے کہ ڈیڑھ سال سے ایسے واقعات متواتر ہو رہے ہیں اور میں نے
اوپر صرف چند مثالیں بیان کی ہیں، ورنہ اور بہت سے واقعات اوپر کے نتائج کی تصدیق کرتے ہیں اور یہ ایک لمبا
سلسلہ ہے جو جماعت پر مصائب اور مشکلات کے رنگ میں گزر رہا ہے۔‘‘
(خطبہ جمعہ اخبار الفضل قادیان ج۲۲ نمبر۵۸ ص۱۸ کالم۳، مؤرخہ ۱۱؍نومبر ۱۹۳۴ء، خطبات محمود ج۱۵ ص۳۵۵)
یہ تو خارجی احوال وآثار ہیں۔ اندرونی طور پر بھی جماعت متاثر ہوئے بغیر نہ رہ سکی اور نہ رہ سکتی
تھی۔ اگرچہ پردہ داری کی پوری کوشش کی جاتی ہے۔ پھر بھی اصل کیفیت گاہے گاہے بے ساختہ زبان سے نکل ہی جاتی
ہے۔ چنانچہ ملاحظہ ہو:
’’گزشتہ سال چندوں میں اسّی ہزار کی کمی تھی اور اس سال بھی باربجائے کم ہونے کے بڑھ رہا ہے۔ پس جب کہ
جماعت کے بعض افراد ماہواری چندہ بھی نہیں ادا کرتے اور اس معمولی قربانی کے کرنے کے لئے بھی تیار نہیں تو
میں کس طرح سمجھ لوں کہ وہ بڑی قربانی پر آمادہ ہیں۔‘‘
(خطبہ جمعہ اخبار الفضل قادیان ج۲۲ نمبر۶۱ ص۶ کالم۳، مؤرخہ ۱۸؍نومبر ۱۹۳۴ء، خطبات محمود ج۱۵ ص۳۶۶)
غرض کہ جماعت قادیان جو قادیانیوں کی مستند اور بڑی جماعت ہے، مسلمانوں کی عام بیداری سے پریشان نظر
آتی ہے۔ رہی دوسری جماعت لاہور، اگرچہ قادیانیوں میں اس کا اعتبار کم ہے، پھر بھی یہ انہی کی ایک چھوٹی
جماعت ہے۔ اس نے قادیانی تعلیم میں مصلحت آمیز ترمیم کر کے مسلمانوں کو ملتفت کرنے کی راہ نکالی اور اس میں
کچھ کامیابی بھی ہوئی۔ لیکن اصل حالات منکشف ہونے پر مسلمان چونک پڑے اور لامحالہ اس جماعت کے بھی قدم اکھڑ
گئے۔ چنانچہ جماعت قادیان کا مشہور اخبار ’’الفضل‘‘ اس معامہ میں رقمطراز ہے: ’’مولوی محمد علی صاحب امیرغیر
مبایعین (یعنی امیرقادیانی جماعت لاہور) جب اپنے کارنامے گنانے شروع کرتے ہیں تو سب سے پہلے اور سب سے زیادہ
زور کے ساتھ ووکنگ مشن کا ذکر کرتے ہیں… مگر اب ووکنگ مشن والوں نے کھلم کھلا اعلان کردیا ہے کہ ان کا اور
ان کے مشن کا احمدیت سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ چنانچہ انہوں نے بقول زمیندار (مؤرخہ ۹؍مارچ ۱۹۳۵ء) اپنے رسالہ
اسلامک ریویو کی مارچ کی
75
اشاعت میں صفحہ اوّل پر ’’کچھ اپنے متعلق‘‘ کے عنوان سے مندرجہ ذیل اعلان شائع کیا ہے۔
’’ارکان ووکنگ مسلم مشن اور لٹریری ٹرسٹ ووکنگ (انگلینڈ) نہ قادیانیوں سے تعلق رکھتے ہیں نہ احمدی
تحریک سے متعلق ہیں۔ ہم آقائے نامدار سرور کائناتa کو آخری نبی اور خاتم النّبیین تسلیم کرتے ہیں اور جو
کوئی شخص حضور محمد ﷺ کے بعد نبوت کا دعویٰ کرے، وہ ہمارے نزدیک دائرہ اسلام سے خارج ہے۔ ہم فرقہ حنفیہ
اسلامیہ سے تعلق رکھتے ہیں… ہم غیرمبایعین (یعنی قادیانی جماعت لاہور) سے پوچھنا چاہتے ہیں کہ جب ووکنگ مشن
والے کھلم کھلا اعلان کر رہے ہیں کہ احمدیت سے ان کا کوئی تعلق نہیں ہے اور وہ فرقہ حنفیہ اسلامیہ سے تعلق
رکھتے ہیں تو پھران کو احمدی قرار دینا صریح دھوکا دہی اور فریب کاری نہیں ہے تو اور کیا ہے۔‘‘
(الفضل قادیان ج۲۲ نمبر۱۱۲ ص۱،۲، مؤرخہ ۱۳؍مارچ ۱۹۳۵ء)
اسی سلسلے میں اخبار ’’الفضل‘‘ نے لاہوری جماعت کو طعن دیا ہے کہ: ’’خواجہ کمال الدین صاحب کے فرزند
اور ان کے رفقاء کار نے احمدیت سے ارتداد کا اعلان کر دیا ہے۔ باغیان خلافت (یعنی لاہوری جماعت) کو اس سے
عبرت حاصل کرنی چاہئے۔‘‘
(الفضل قادیان ج۲۲ نمبر۱۱۴، مؤرخہ ۱۵؍مارچ ۱۹۳۵ء)
حاصل کلام یہ کہ جماعت قادیان ہو یا جماعت لاہور، فی الجملہ قادیانی صاحبان متزلزل اور متفکر ہیں۔
رنگ بدلا نظر آتا ہے خدا خیر کرے
خدا کا لاکھ لاکھ شکر ہے کہ دو سال کے اندر ہی اندر کتاب ’’قادیانی مذہب‘‘ کا تیسرا ایڈیشن ماہ محرم
۱۳۵۴ھ میں تیار ہو گیا۔ اس کتاب کا پہلا ایڈیشن ایک مختصر سا رسالہ تھا۔ پانچ فصلوں کے تقریباً پچاس عنوانات
درج تھے۔ چھوٹی تقطیع، حجم تقریباً سو صفحے۔
دوسرا ایڈیشن البتہ ایک مستقل کتاب بن گیا ہے۔ گیارہ فصلیں، جن کے تحت تقریباً ڈھائی سو عنوانات،
متوسط تقطیع، حجم تقریباً ۳۵۰ صفحے۔ موجودہ تیسرے ایڈیشن میں جس قدر اضافہ ہوا، وہ آنکھوں کے سامنے موجود
ہے۔ تیرہ فصلوں کے تحت تقریباً چار سو عنوانات درج ہیں۔ بالفاظ دیگر ڈیڑھ سو جدید عنوانات شریک ہوئے اور ان
سب کے ساتھ بطور امتیاز علامت (ج۱؎ ) درج ہے۔ اس کے سوا تقریباً چالیس سابقہ عنوانات
کے تحت مزید اقتباسات درج ہوئے۔ ان کے سامنے بھی بطور امتیاز علامت (م) مرقوم ہے۔ خلاصہ یہی کہ تخمیناً ستر
فیصدی مضامین تیسرے ایڈیشن میں اضافہ ہوئے۔
جن کتابوں سے اقتباسات لئے گئے، ان کی مکمل فہرست آخر میں بطور ضمیمہ شامل ہے۔ اس سے واضح ہوگا کہ یہ
تالیف تمام تر قادیانی اکابر اور بالخصوص خود مرزاغلام احمد قادیانی کی کتابوں پر مبنی ہے۔ مختصر یہ کہ
منجملہ ایک سو بیس کتب ورسائل واخبارات جن سے اقتباسات لئے گئے ہیں، ایک سو پانچ خودقادیانی صاحبان کی تصنیف
وتالیف وتحریر ہیں اور ان میں بھی نصف یعنی پچاس سے زیادہ خود مرزاغلام احمد قادیانی کی کتابیں شامل ہیں۔ اس
طرح صرف پندرہ کتابیں اور رسالے مسلمانوں کے شریک ہیں اور ان میں بھی پانچ فن طب سے متعلق ہیں۔ الحاصل یہ
کتاب ’’قادیانی مذہب‘‘ کو خود بانی مذہب اور اکابر مذہب کی زبانی سے بیان کرتی ہے اور یہی طریق اسلم ہے۔ اس
کے سوا تین رسالے ’’قادیانی جماعت‘‘، ’’قادیانی حساب‘‘ اور ’’قادیانی کتاب‘‘ جو بطور جواب کے لکھے گئے ہیں،
اس ایڈیشن کے آخر میں بطور ضمیمہ شامل ہیں۔ ’’وما علینا الا البلاغ‘‘
معروضہ: خادم محمد الیاس برنی
بیت السلام، حیدرآباد دکن، ماہ محرم الحرام ۱۳۵۴ھ
۱؎ اس نئے ایڈیشن میں (ج) اور (م) حذف کر دئیے گئے۔
76
بسم اللہ الرحمن الرحیم
تمہید چہارم
یہ کتاب ’’قادیانی مذہب‘‘ کچھ ایسی مقبول ہوئی کہ تیسرے سال کے اندر ہی اس کا چوتھا ایڈیشن نکل گیا
اور تحقیق کا سلسلہ کچھ اس طرح پھیلا کہ ہر جدید ایڈیشن سابقہ ایڈیشن سے کیفیت اور کمیت میں بہت بڑھ گیا۔ اس
چوتھے ایڈیشن کی خصوصیات بیان کرنے سے قبل ضرور ہے کہ تیسرے ایڈیشن کا حساب پڑتال لیں۔ اوّل یہ کہ ملک میں
اس کے متعلق کیا رائے قائم ہوئی۔ دوم یہ کہ اس دوران میں کیا کیا آثار نمودار ہوئے۔ سابقہ ایڈیشنوں کی
تمہیدات میں بھی یہ تنقیحات شریک رہی ہیں۔ اس طرح اس کتاب کے ارتقاء کے ساتھ ساتھ قادیانی تحریک کے پلٹے بھی
پیش نظر ہوجائیں گے اور آئندہ تاریخ میں کام آئیں گے۔
بریلی، دیوبند، لکھنؤ، دہلی، لاہور اور دیگر مقامات کے سربرآوردہ علماء نے بہ یک زبان اس کتاب کی
ازحد تعریف کی اور اس کو بہترین محاسبہ تسلیم کیا۔ ان سے بڑھ کر جدید تعلیم یافتہ طبقوں نے اس کی قدر کی اور
مذہبی مباحث کے پیش نظر اس کو نفسیاتی تحقیق کا ایک علمی کارنامہ شمار کیا اور اس سے جو اخلاقی، تمدنی اور
سیاسی پہلو نمایاں ہوئے، ان کو دیکھ کر حیران رہ گئے کہ عدم توجہی میں کیا کیا ہوتا رہا اور نگہداشت کی کس
درجہ ضرورت ہے۔ چنانچہ آج علماء سے بڑھ کر قومی لیڈر اس کتاب کی اہمیت محسوس کرتے ہیں۔ منجملہ اکابر ملت
سرمحمد اقبال نے تو دوسرے ہی ایڈیشن پر یہ رائے دی تھی کہ یہ کتاب ملک میں وسیع پیمانے پر شائع ہونے کے قابل
ہے۔ اخبارات ورسائل نے تیسرے ایڈیشن پر جو تبصرے لکھے ہیں، ان میں سے چند بطور نمونہ ذیل میں درج کرتے ہیں:
’’مولانا الیاس برنی صاحب ایم۔اے ناظم دارالترجمہ جامعہ عثمانیہ حیدرآباد دکن نے قادیانی عقائد کی اصل صورت
اس فرقہ کی مستند کتابوں سے مضامین اخذ کر کے دکھادی ہے جس سے ہر شخص قادیانی دجل سے واقف ہوسکتا ہے۔ یہی
وجہ ہے کہ ہندوستان کے علمی طبقہ میں اور جدید تعلیم یافتہ گروہ میں اس کتاب کی دھوم مچ گئی ہے۔ اگرچہ یہ
کتاب مناظرہ کی نہیں ہے، لیکن مناظرے کے مقصد پر اس سے بہتر کتاب کسی نے نہ دیکھی ہو گی۔‘‘
(اخبار منادی دہلی، مؤرخہ ۲۳؍اگست ۱۹۳۵ء)
’’مولوی الیاس برنی معاشیات کے ایک مستند عالم ہیں، جن کی کتابیں اردو زبان میں اس فن پر شاید سب سے
زیادہ ہیں۔ لیکن وہ ایک معاشی ہونے کے ساتھ ساتھ ایک متکلم اور مناظر بھی ہیں اور تعجب یہ ہے کہ وہ جتنے
بلند پایہ معاشی ہیں، اتنے ہی دقیق النظر متکلم اور کامیاب مناظر بھی ہیں ان کی یہ کتاب رجب ۱۳۵۲ھ میں تالیف
ہوئی۔ ایک سال کے اندر ہی ربیع الاوّل ۱۳۵۳ھ میں اس کا دوسرا ایڈیشن شائع ہوا اور محرم ۱۳۵۴ھ میں تیسرا
ایڈیشن تیار ہوگیا۔ پہلے یہ کتاب سوصفحے کا ایک چھوٹا سا رسالہ تھا۔ دوسرے ایڈیشن میں ۳۵۰صفحے ہوئے اور اب
تقریباً ۶۰۰صفحات ہیں۔
پروفیسر الیاس برنی جیسے سنجیدہ اور متین مصنف کی تصنیف میں لہجے کی متانت وسنجیدگی، رائے کا استحکام،
نقل کی احتیاط اور ذاتیات سے علیحدگی کی جس قدر امید کی جاسکتی تھی، وہ اس کتاب میں پورے طور پر نمایاں ہے
اور قادیانی مذہب کے متعلق ہر قسم کی معلومات بلاحاشیہ آرائی جس قدر مستند مواد سے اس کتاب میں جمع ہیں، وہ
اور کتابوں میں دستیاب نہیں ہوسکتیں۔ اس کتاب کی اشاعت سے قادیانی فرقے میں اگر ہر مرتبہ ہلچل مچ گئی تو کچھ
عجب نہیں اور یہی اس کی افادیت اور کامیابی کی سب سے روشن دلیل ہے۔‘‘
(رسالہ فاران بجنور، بابت ماہ جولائی ۱۹۳۵ء)
77
’’جناب الیاس برنی صاحب پروفیسر جامعہ عثمانیہ کے نام نامی اور اسم گرامی سے کون واقف نہ ہو گا۔ آپ نے
دنیائے تالیف وتصنیف میں وہ کارہائے نمایاں کئے ہیں جن کا زمانہ مداح ہے۔ آپ نے مذہبیات میں بھی بڑی تفحص
اور تجسس کی ہے اور ’’قادیانی مذہب کا علمی محاسبہ‘‘ نامی کتاب تالیف کی ہے۔ جس کا تیسرا ایڈیشن ہمارے پیش
نظر ہے۔ قادیانی مذہب کے خلاف سینکڑوں کتابیں لکھی گئیں اور آئندہ بھی لکھی جائیں گی۔ لیکن اس بحربے کراں
میں غوطہ لگا کر جو درّمکنوں پروفیسر صاحب نے نکالا ہے،وہ کم غواصوں کو نصیب ہوگا۔ شروع سے آخر تک کتاب
مذکور پڑھ جائیے۔ آپ ایک لفظ بھی ایسا نہ پائیں گے جو پروفیسر صاحب نے اپنی طرف سے ایزاد کیا ہو۔
مرزاقادیانی آنجہانی کے خاندان اور پیدائش سے لے کر دم واپسیں تک کے واقعات بڑی کاوش اور محنت سے لکھے ہیں۔
مضمون مسلسل ہے۔ کہیں ایک لفظ بلکہ حرف کا بھی سکتہ نہ ہوگا۔ لیکن حیرت اور کمال تعجب کا مقام ہے کہ یہ تمام
الفاظ خود مرزاقادیانی اور اس کے حواریوں کی کتابوں سے اخذ کئے گئے ہیں۔ ترتیب میں جو کمال پروفیسر صاحب نے
کیا ہے، اس کی نظیر اگرناممکن نہیں تو فی زمانہ محال ضرور ہے۔
کتاب کیا ہے، قادیانی مذہب کا انسائیکلوپیڈیا ہے۔ جو چیز آپ کو ہزاروں کتب اور رسائل پڑھنے سے مہیا نہ
ہو سکے گی وہ آپ ’’قادیانی مذہب کے علمی محاسبہ‘‘ میں پائیں گے۔ ہم نے بھی قادیانی لٹریچر کا مطالعہ بہت کیا
ہے۔ لیکن جو حوالہ جات پروفیسر صاحب نے ترتیب دئیے ہیں، ان میں سے بہت سے ایسے تھے جو ہماری نظر سے نہ گزرے
تھے۔ انداز بیان نہایت ہی عالمانہ اور شریفانہ ہے۔ طرز تحریر دل پسند اور جاذب توجہ ہے۔ استدلال معقول اور
دیانت سے مملو۔ کوئی بات بغیر حوالہ نہیں لکھی۔ جو مضمون بیان کرنا چاہتے تھے، اس کے فقرات والفاظ
مرزاقادیانی آنجہانی کی کتب سے اخذ کئے ہیں تاکہ ’’عطائے شمابہ لقائے شما‘‘ کا مصداق ہوسکے۔
قادیانی مذہب کی تاریخ کا لب لباب ہے جس کی نشوونما اور ارتقاء کو بتدریج بیان کیا ہے۔ مرزاقادیانی
آنجہانی کے خیالات واعتقادات میں جو تبدیلیاں ماحول زمانہ کی روش کے ساتھ ساتھ ہوئیں، ان کا بیان نہایت خوش
اسلوبی سے کیاگیا ہے اور قادیانی مذہب کے چہرے سے نقاب اتار کر دنیاکو اس کی اصلیت سے آگاہ کر دیا ہے۔
اس مرقع میں کوئی لفظ ایسا نہیں جسے دل آزار یا خلاف تہذیب کہا جاسکے۔ دوست دشمن سب کے لئے یکساں مفید
ہے۔ بہرحال پروفیسر صاحب اس علمی کارنامے کے لئے لاکھوں مبارک باد کے مستحق ہیں۔‘‘
(رسالہ صوفی منڈی بہاؤالدین، بابت ماہ جولائی ۱۹۳۵ء)
’’قادیانیت کی تردید میں اب تک علمائے اسلام نے دفتر کے دفتر تیار کر دئیے ہیں۔ لیکن عموماً وہ
تحریریں مولویوں کے قلم سے نکلی ہوئی ہیں جو انگریزی تعلیم یافتہ طبقے کی ذہنیت سے کوئی مناسبت نہیں رکھتیں
اور اس لئے اپنے مقصد میں بھی زیادہ مؤثر نہیں ثابت ہوئی ہیں۔ حال میں سراقبال اور سرمرزا ظفر علی وغیرہم
کی تحریروں کے باعث بحث کا رخ بدلا ہے اور اب ہمارا جدید طبقہ بھی ادھر متوجہ ہوچکا ہے۔ پروفیسر الیاس برنی
صاحب اس سلسلے میں ’’السابقون الاولون‘‘ میں شامل ہونے کا شرف رکھتے ہیں اور وہ
ترتیب زمانی میں سراقبال وغیرہم سے بھی اس باب میں متقدم ہیں۔ ان کی کتاب ’’قادیانی مذہب‘‘ کا یہ جدید
ایڈیشن بلحاظ اضافہ مضامین ایک جدید اور مستقل کتاب کے حکم میں ہے اور اس میں قادیانی مذہب کے اسرار کو ایک
جدید طرز پر طشت ازبام کیاگیا ہے جو دلچسپ بھی ہے اور دلنشیں بھی۔
اس ضخیم کتاب میں مؤلف نے کمال یہ کیا ہے کہ خود بہت ہی کم لکھا ہے بلکہ خود مرزاغلام احمد قادیانی
(بانی فرقہ) کی تحریروں سے ان کے اقتباسات لے لے کر انہیں ایک خاص ترتیب اور سلیقہ مندی سے پرودیا ہے جس سے
مرزاغلام احمد قادیانی کے دعوے اور تعلیمات اور خود ان کی زندگی کے سارے خط وخال نظر آتے ہیں۔ رومی اور چینی
نقاشوں کے معرکہ کا مشہور قصہ یہ چلا آرہا ہے کہ چینی نقاشوں نے بڑی محنت سے دیوار پر نقش ونگار بنائے۔ رومی
ہنرمندوں نے اور کچھ نہ کیا، صرف یہ کیا کہ مقابل کی دیوار کو صیقل کر کے آئینہ بنادیا اور جوں
78
ہی پردہ اٹھا، ساری چینی نقاشیاں ہوبہو رومی دیوار پر منعکس ہوگئیں۔ برنی صاحب کا فن نقاشی بھی کچھ
اسی قسم کا واقع ہوا ہے۔ انہوں نے مرزاقادیانی کا چہرہ خود مرزاقادیانی کے آئینہ میں جلا کر دکھادیا ہے اور
خود الگ کھڑے ہوگئے ہیں۔
دلچسپی سے کتاب کا کوئی صفحہ خالی نہیں۔ عبارت کسی خشک علمی یا مذہبی کتاب کی نہیں، ناول یا افسانہ کی
معلوم ہوتی ہے۔ جابجا قلم کی شوخیاں اور مہذب ظرافتیں اس پر مستزاد ہیں۔‘‘
(اخبار صدق لکھنؤ، مؤرخہ ۲۱؍جون ۱۹۳۵ء)
’’الغرض پچاس سال کا ایک عظیم مغالطہ جس میں ہندوستان کے غریب تعلیم یافتہ مسلمان اور شاید حکومت
انگریزی بھی مبتلا ہوگئی تھی، اب اس کا پردہ چاک ہورہا ہے اور جس کا اس تحریک میں جہاں مقام تھا، وہ پہچانا
جارہا ہے۔
صرف یہ ہی نہیں کہ قادیانی جماعت اور حکومت کے تعلقات اسی نوبت تک پہنچ چکے ہیں۔ بلکہ یکایک قدرت کی
طرف سے یہ عجیب معاملہ ہورہا ہے کہ قادیانی بحث ومباحثہ، جسے اب تک خالص دیوبند اور فرنگی محل، بریلی اور
سہارنپور کی جبہ ودستار والے مولویوں کا ایک مذہبی مشغلہ سمجھا جارہا تھا، جدید تعلیم یافتہ گروہ کی نگاہیں
اس کی طرف اٹھ گئیں۔ ایک طرف جماعت احرار جس میں تعلیم یافتوں کی ایک معقول تعداد شریک ہے، وہ اس تحریک کے
استیصال کے لئے آستین چڑھا چکی ہے تو دوسری طرف مولوی ظفر علی خان کا شبریز خاصہ ان کے تعاقب میں سرپٹ چھٹا
ہوا ہے اور حال میں علامہ سراقبال ’’ادام اللہ فضلہ وطول اللہ عمرہ‘‘ کے اس حقیقت خیز
ولولہ انگیز مقالے نے ہمالیہ سے راس کماری تک ہلچل ڈال دی ہے جس میں انہوں نے مسئلہ ختم نبوت کے فلسفیانہ
پہلو کو قدرتی قانون پر منطبق کر کے رسول اللہ ﷺ کی خدمت گزاری کا عظیم شرف حاصل کیا ہے۔ ’’متع اللہ المسلمین بطول بقائہ‘‘
لیکن جدید طبقے کی تمام کاوشوں میں سب سے زیادہ منظم، باضابطہ وسنجیدہ شکار واقع میں وہ عظیم وخطیر
کارنامہ ہے، جس کے لئے قدرت کے ہاتھوں نے مسلم یونیورسٹی کے ایک ہونہار سپوت، عثمانیہ یونیورسٹی کے جلیل
القدر استاد پروفیسر الیاس برنی ایم۔اے، ایل۔ایل۔بی ناظم دارالترجمہ عثمانیہ یورنیورسٹی کو منتخب کیا۔ فاضل
موصوف اب تک ملک میں اپنی معاشی اور ادبی خدمت کی بنیاد پر شہرت رکھتے تھے۔ لیکن دو سال ہوئے کہ حیدرآباد
میں ایک شرپیدا ہوا، جس سے خیر کا عظیم سمندر ابل پڑا۔
پروفیسر مذکور نے ایک تقریر کی تھی جس کا قادیانیوں سے دور کا بھی تعلق نہ تھا۔ زیادہ سے زیادہ انہوں
نے اسلام کے نظریہ ختم نبوت کی عالمانہ مثال میں تشریح کی تھی۔ لیکن قادیانیوں نے برنی صاحب کو بھی بے کس،
بے زبان مولویوں پر قیاس کر کے ’’ریش بابا‘‘ کے ساتھ بھی بازی گری کا ارادہ کیا۔ حسب عادت ایک رسالہ شائع
ہوا جس میں برنی صاحب سے مطالبہ کیاگیا کہ تم نے رسول اللہ ﷺ کی ختم نبوت کا تزکرہ اپنی تقریر میں کیوں کیا؟…
ظاہر ہے کہ ایک مسلمان اس مطالبہ پر جس حد تک برہم ہوسکتا ہے، برنی صاحب بھی ہوئے، لیکن بجائے کسی لفظ زق زق
کے، خاموشی کے ساتھ انہوںنے قادیانی لٹریچر کی فراہمی کا کام شروع کر دیا اور بڑی تدبیروں سے انہوں نے جب اس
جماعت کے پیشوا اور اس کے معتبر اہل قلم مرزاقادیانی کے مقربین وخلفاء کے وثائق جمع کر لئے تو بجائے
مناظرانہ ومجادلانہ طریق کے خالص علمی رنگ میں انہوں نے ایک تحقیقی مقالہ ’’قادیانی مذہب‘‘ کتاب کی صورت میں
شائع کیا۔ برنی صاحب کی قلم سے یہ کتاب کچھ ایسے انداز میں نکل پڑی کہ ہاتھوں ہاتھ ملک میں پھیل گئی اور
ڈیڑھ سال کے عرصہ میں جدید اضافوں کے ساتھ اس کے دو ایڈیشن پیاپے نکالنے پڑے۔ بڑھتی ہوئی مانگ دیکھ کر پچھلے
چند مہینوں میں پروفیسر صاحب مذکور نے اور بھی ہمت سے کام لیا۔ وقت اور روپیہ کی ایک بڑی مقدار اس کتاب کی
ترتیب میں صرف کی۔ حال میں ۶۰۶صفحات پر اس کتاب کا تیسرا ایڈیشن بڑی آب وتاب کے ساتھ پریس سے نکلا ہے۔
79
واقعہ یہ ہے کہ اب تک قادیانی تحریک کے متعلق جتنی کتابیں، رسالے، مضامین شائع ہوئے ہیں، ان سب سے اس
کتاب کا رنگ بالکل نرالا ہے۔ بالخصوص چند خوبیاں خاص طور پر اس کے ساتھ مخصوص ہیں:
۱… سب سے بڑی خصوصیت پروفیسر ممدوح نے اپنی کتاب کی یہ لکھی ہے کہ مرزاغلام احمد یا ان کی تحریک کے
متعلق جو کچھ بھی لکھا جائے، جہاں تک ممکن ہو، خود مرزاغلام احمد قادیانی یا ان کے معتبر اصحاب وخلفاء کی
کتابوں سے خود ان ہی کے الفاظ میں ہو۔ برنی صاحب نے بڑے اہتمام اور حزم کے ساتھ اپنے ارادے کو پایہ تکمیل تک
پہنچایا ہے۔ خود ارقام فرماتے ہیں: ’’کل ایک سو بیس کتابوں سے مواد لیاگیا۔ جن میں سے ایک سو پانچ قادیانی
ہیں اور صرف پندرہ غیرقادیانی۔ ان پندرہ میں سے بھی صرف چار قادیانی مذہب کی تردید میں ہیں۔ باقی پانچ فن طب
سے متعلق ہیں۔ چند اخبارات ورسائل ہیں جن سے بعض واقعات نقل کئے گئے ہیں۔ رہیں ان میں ایک سو پانچ کتب
قادیانی، ان میں سے نصف خاص مرزاقادیانی کی تصانیف ہیں۔ باقی نصف دیگر قادیانی صاحبان کی۔‘‘
(قادیانی مذہب ص۵۹۹)
۲… برنی صاحب نے اپنی طرف سے جو کچھ کام کیا ہے، وہ عنوانات اور سرخیوں کے قائم کرنے میں کیا ہے۔
حقیقت یہ ہے کہ قوت اجتہاد، دقت رسی، ژرف نگاہی کی جوداد ان عنوان بندیوں میں انہوں نے دی ہے یہ ان کا مخصوص
حصہ ہے۔
۳… اس کے سوا ترتیب ایسی رکھی ہے کہ تم اس کو منطقی استدلال، نفسیاتی تحلیل، تاریخی تسلسل اور تدریجی
ارتقاء کی ایک سلیس اور دلچسپ کتاب جو چاہو قرار دو۔ ناظرین کی بشاشت طبع کو باقی رکھنے کے لئے سرخیوں میں
ایسی جان بھری گئی ہے کہ پڑھنے والا ایک دفعہ شروع کرنے کے بعد اس وقت تک کسی دوسرے مشغلے میں اپنے کو لگا
نہیں سکتا، جب تک اس کو ختم نہ کر لے۔
پروفیسر برنی سلمہ اللہ تعالیٰ نے بڑا کام سرانجام دیا ہے۔ ’’فجزی اللہ عنی وعن الاسلام
وعن رسول الاسلامa وعن القرآن خیر الجزاء‘‘ سچ تو یہ ہے کہ اگر علماء کی جماعت شرح صدر اور وسعت
قلب سے کام لے تو برنی صاحب کے اس کام کو ایک تجدیدی کام قرار دے سکتی ہے۔ ذلک فضل اللہ
یوتیہ من یشاء و اللہ ذوالفضل العظیم‘‘
(انگریزی نبوت کی انگریزی تنقید، مندرجہ اخبار صدق لکھنؤ، مؤرخہ یکم؍اگست ۱۹۳۵ء)
گوناگوں اسباب کی بدولت اس دوران میں جو آثار نمودار ہوئے وہ بھی قابل توجہ ہیں۔ ان کا ایک سادہ خاکہ
خود قادیانی صاحبان کے بیان سے ذیل میں پیش کرتے ہیں۔
’’پہلے لوگ یہ سمجھتے تھے کہ گورنمنٹ احمدیوں کے ساتھ ہے۔ اس خیال کی وجہ سے کئی لوگ ہم پر ظلم کرنے
سے رکے ہوئے تھے اور یہ صورت حالات اتنی واضح تھی کہ حکومت پنجاب کے ایک نہایت ہی اعلیٰ درجے کے افسر نے
چوہدری ظفر اللہ خان صاحب سے جب کہ وہ ابھی حکومت ہند میں نہیں گئے تھے، کہا کہ اگر لوگوں کو یہ معلوم ہو کہ
حکومت آپ کی حمایت یا کسی قسم کی رعایت کرنے کے لئے تیار نہیں تو آپ کو اس سے کتنا نقصان پہنچ سکتا ہے۔‘‘
(خطبہ جمعہ الفضل قادیان ج۲۳ نمبر۴۱ ص۷ کالم۱، مؤرخہ ۶؍اگست ۱۹۳۵ء، خطبات محمود ج۱۶ ص۴۶۸)
80
’’دوسری بات جو پہلے نہ تھی، وہ حکام وقت کا موجودہ رویہ ہے۔ پہلے ہمارے دشمنوں کو کبھی کبھی سرکاری
افسران کی طرف سے چشم نمائی بھی ہو جاتی تھی اور اس طرح وہ اپنی شرارتوں میں نہ حد سے گزرتے اور نہ شرارتوں
کا سلسلہ کسی نظام میں زیادہ عرصے تک قائم رہ سکتا تھا۔ لیکن اب مخالفت کی تنظیم سے گورنمنٹ بھی دب گئی
ہے۔‘‘
(ضمیمہ اخبار الفضل قادیان ج۲۳ نمبر۶۹ ص۲ کالم۳، مؤرخہ ۱۹؍ستمبر ۱۹۳۵ء)
’’گورنمنٹ نے ایک خفیہ سرکلر جاری کیا جو قریباً تمام ضلعوں کے ڈپٹی کمشنروں کے نام بھیجا گیا کہ
جماعت احمدیہ کی حالت گورنمنٹ کی نگاہ میں مشتبہ ہے۔ اس لئے اس کے افراد کا خیال رکھنا چاہئے۔ یہ سرکلر تمام
ضلعوں کے ڈپٹی کمشنروں کو یا اکثر اضلاع کے ڈپٹی کمشنروں کو بھیجا گیا۔ کیونکہ متفرق جگہوں سے اس سرکلر کی
تصدیق ہوئی ہے۔ میں نام نہیں لے سکتا۔ لیکن ایک جگہ سے تو اس سرکلر کے الفاظ تک ہمیں معلوم ہوگئے تھے۔ اب
اگر گورنمنٹ کے بعض افسروں کے خیال میں بھی تبدیلی ہوگئی ہے تو چونکہ حکومت کی طرف سے ایک سرکلر جاری ہوچکا
ہے، اس لئے بالعموم افسر اس سرکلر کا خیال رکھیں گے اور ملازمتوں اور ٹھیکوں وغیرہ میں ہماری جماعت کے افراد
کے حقوق کو پائمال کیا جائے گا۔ چنانچہ بعض جگہ ایسا ہوا بھی کہ بعض احمدی جو اچھے قابل تھے، ان کے حقوق کو
افسران بالاکی طرف سے نظرانداز کر دیا گیا۔ جو پہلے حالات کے لحاظ سے ناممکن تھا۔‘‘
(الفضل قادیان ج۲۳ نمبر۱۱۵ ص۵ کالم۴، مؤرخہ ۱۳؍نومبر ۱۹۳۵ء، خطبات محمود ج۱۶ ص۶۶۹)
’’اسی طرح مجھے شملہ سے ایک خط آیا ہے کہ ہماری جماعت کے ایک معزز رکن، ایک ذمہ دار انگریز افسر سے
ملنے گئے۔ اس افسر نے کہا آئیے، کیسے آئے۔ انہوں نے کہا کہ آپ ہمارے دوست ہیں، اس لئے ملنے آگیا۔ اس افسر نے
کہ، یہ صحیح ہے میں آپ کا دوست تھا، مگر معلوم نہیں کہ آئندہ بھی ایسا رہ سکوں گا یا نہیں… اسی طرح انگلستان
سے خطوط آئے ہیں۔ ان میں ایسی رپورٹوں کا ذکر ہے جن میں بلاوجہ ہم پر الزام تراشے گئے ہیں۔‘‘
(الفضل قادیان ج۲۳ نمبر۶۹ ص۵ کالم۱، مؤرخہ ۱۹؍ستمبر ۱۹۳۵ء، خطبات محمود ج۱۶ ص۵۵۹)
’’اس وقت اللہ تعالیٰ نے ہم پر یہ بات کھول دی کہ کسی انسان پر اعتماد نہیں کرنا چاہئے اور یہ کہ جن کی
جانیں بچانے کے لئے ہم اپنی جانیں پچاس سال تک قربان کرتے رہے، جن کی عزتیں بچانے کے لئے ہم پچاس سال تک
اپنی عزتیں قربان کرتے رہے، ان پر بھی ہمارا اعتماد کرنا سخت غلطی ہے… ہمیں یہ جو اطمینان تھا کہ پرامن
حکومت ہے اور شریف لوگوں کی حکومت ہے، گو ہمارا یہ خیال صحیح تھا اور میں اب بھی یہی سمجھتا ہوں کہ صحیح ہے۔
مگر پھر بھی ہمارا یہ اطمینان صحیح نہ تھا۔‘‘
(تقریر خلیفہ قادیان، اخبارالفضل قادیان ج۲۲ نمبر۱۸۸ ص۴،۵، مؤرخہ ۱۲؍جون ۱۹۳۵ء، انوار العلوم ج۱۴ ص۸)
-
وہ جن کو ادّعا تھا اپنے عدل اور انصاف کا
ہوا ہے راز فاش ان کی لاف اور گزاف کا
-
وہ جن کے لئے تم نے اپنے خون بھی بہا دئیے
اور جن کی تقویت کے لئے مال و زر لٹا دئیے
-
وہ آج اپنے دشمنوں کا آپ رازدار ہے
خلاف فعل اس کا ہر اک قول اور قرار ہے
(ملک عبدالرحمن خادم بی۔اے گجراتی قادیانی کی نظم، الفضل قادیان ج۲۳ نمبر۶ ص۲ کالم۱، مؤرخہ ۷؍جولائی
۱۹۳۵ء)
’’روم کی حکومت نے حضرت مسیح علیہ السلام کو صلیب پر لٹکا دیا، مگر وہ مسیحیت کو نہ مٹا سکی۔ اسی طرح
انگریز مجھے سولی پر لٹکا سکتے ہیں۔ تم میں سے ہر ایک کو لٹکا سکتے ہیں ہم کو قید کر سکتے ہیں۔ مگر انگریزوں
اور دنیا کی دوسری سب حکومتوں سے بھی یہ ممکن نہیں کہ احمدیت کو مٹا سکیں۔‘‘
(مرزامحمود خلیفہ قادیان کی تقریر، اخبار الفضل قادیان ج۲۲ نمبر۱۸۸ ص۶ کالم۳، مؤرخہ ۱۲؍جون ۱۹۳۵ء،
انوارالعلوم ج۱۴ ص۱۲)
81
قادیانی تحریک کے منصوبے اور مقاصد واضح ہوئے تو ملک میں بالعموم اور مسلمانوں میں بالخصوص بے چینی
پیدا ہوئی کہ اس کو نظرانداز کرنا خالی از خطر نہیں ہے اور انسداد کی ضرورت ہے۔ چنانچہ خود مرزامحمود خلیفہ
قادیاں نے اس بیداری کا اچھا نقشہ کھینچا ہے۔ ملاحظہ ہو:
’’ اللہ تعالیٰ اپنی مشیت کے ماتحت اور جماعت احمدیہ کے مخلصین کے اخلاص کو اور بھی زیادہ ظاہر کرنے کے
ارادے سے نئے نئے لوگوں کو ہمارے مخالفوں کی صف میں لاکھڑا کر رہا ہے۔ پہلے احراری اٹھے اور انہوں نے یہ
دعویٰ کیا کہ وہ ایک منظم صورت میں جماعت احمدیہ کو کچلنا چاہتے ہیں۔ پھر امراء ان کی جماعت میں شامل ہوگئے
اور ذاتی رسوخ اور ذاتی فوائد کے حصول کے لئے اور بعض افراد سے ذاتی بغض وعناد نکالنے کے لئے انہوں نے احرار
کی مدد کرنی شروع کر دی۔ پھر پیروں، گدی نشینوں اور اخبار نویسوں کی ایک جماعت ان کے اندر شامل ہوگئی۔ انہوں
نے اس جنگ کو اخباروں اور تقریروں کے ذریعہ سے ملک کے ایسے گوشوں اورکونوں میں پہنچانا شروع کر دیا۔ جہاں تک
اس کا پہنچنا پہلے محال نظر آتا تھا۔ اس جوش وخروش کو دیکھ کر وہ منافقین کی جماعت جو ہمیشہ سے انبیاء کی
جماعتوں کے ساتھ اسی طرح لگی رہی ہے۔ جیسے کھیتوں میں چوہے، اس نے بھی اپنا سرنکالا اور خیال کیا کہ اوہو!
آج خوب موقع ہے، آؤ ہم بھی انہیں بتائیں کہ ہم کچھ بہادری کر سکتے ہیں۔ پس وہ منافق بھی چوہوں کی طرح ادھر
ادھر بل کھودنے لگ گئے اور سرنکال کر اپنے وجود کا ثبوت دینے لگے۔
جمعیۃ العلماء اس وقت تک خاموش تھی۔ کیونکہ اس کے لیڈروں کو احراریوں کے سرکردہ لوگوں سے بغض وعناد
ہے۔ مگر جب اس نے دیکھا کہ یہ مسئلہ خاص طور پر اہمیت اختیار کرتا جارہا ہے اور مسلمانوں کی ایک خاصی تعداد
کی توجہ اس طرف ہے تو اس نے خیال کیا ایسا نہ ہو جماعت احمدیہ کے کچلنے کا سہرا احراریوں کے سر رہے۔ پس اس
نے بھی اعلان کر دیا کہ مسلمانان عالم کے سامنے اس وقت سب سے بڑا فتنہ جماعت احمدیہ کا ہے اور مسلمانوں کا
فرض ہے کہ اس کا استیصال کریں۔ جب اس زورشور سے اغیار نے جماعت احمدیہ کا مقابلہ ہوتے دیکھا تو ان میں سے
آریہ سماج کے اخبار بھلا کہاں خاموش رہ سکتے تھے۔ وہ بھی اٹھے اور ہماری جماعت کی مخالفت میں لگ گئے۔ قادیان
کے آریہ اور سکھ بھی ان میں شامل ہوگئے…
ہندوستان کے سیاسی لیڈر ابھی تک خاموش تھے بلکہ کہنا چاہئے کہ ان کا معتدبہ حصہ یہ کہہ رہا تھا کہ
ہمیں فتنہ وفساد اور آپس کے تفرقہ سے بچنا چاہئے۔ اسی طرح اعلیٰ عہدہ دار خاموش تھے یا کم ازکم ظاہر میں
خاموش تھے۔ لیکن جب انہوں نے دیکھا کہ یہ طوفان مخالفت فرو ہونے میں نہیں آتا اور بڑھتا ہی چلا جاتا ہے تو
انہوں نے کہا ہم پیچھے کیوں رہیں۔ اس خیال کا آنا تھا کہ سرمرزاظفر علی صاحب نے ایک بیان شائع کر دیا۔ پھر
ڈاکٹر سراقبال کو خیال آگیا کہ میں کیوں پیچھے رہوں اور اب آخر میں علامہ عبد اللہ یوسف علی صاحب، جو ہمیشہ ان
باتوں سے الگ رہتے تھے، بول پڑے اور سمجھا کہ اسلامیہ کالج کا پرنسپل ایسی باتوں میں کیوں دخل نہ دے اور کس
لئے جماعت احمدیہ کے خلاف اپنی رائے کا اظہار نہ کرے۔ پھر اس موقعہ سے عیسائیوں نے بھی فائدہ اٹھایا اور وہ
بھی ہمارے مخالفین کی صف میں شامل ہوگئے۔ غرض ہر قوم نے آج چاہا کہ ہمیں کچل دے۔ ایک طرف دنیا کی تمام
طاقتیں جمع ہیں، احراری بھی ہیں، پیرزادے بھی، جمعیۃ العلماء بھی ہے، اہل حدیث بھی ہیں، دیوبندی بھی ہیں،
قادیاں کے منافق بھی ہیں اور قادیان کے بعض آریہ اور سکھ بھی ہیں۔ پھر آریہ اخبارات بھی ہیں، پادری بھی ان
کے ہمنوا ہیں۔ شاعر اور فلاسفر بھی ان کے ساتھ ہیں۔ سیاستدان بھی ان کے ساتھ ہیں۔ عہدہ دار بھی ان کے ساتھ
ہیں اور حکومت بھی اپنا زور ان کی تائید میں خرچ کر رہی ہے۔ گویا دنیا اپنی تمام طاقتیں احمدیت کے کچلنے پر
صرف کرنے کے لئے آمادہ ہورہی ہے… ہمارے خیرخواہ مسلمانوں میں سے بعض اور دوسری قوموں میں سے کئی دفعہ کہلوا
چکے ہیں کہ ان شدید مخالفت کے ایام میں میں خاموش رہوں مگر مجھے مداہنت کی ضرورت نہیں۔ میں تمام مخالفوں اور
ان کے ہمنواؤں کو حضرت نوح علیہ السلام کے الفاظ ہی میں کہتا ہوں تم سارے مل جاؤ
82
اور اپنی تمام تدابیر احمدیت کو کچلنے کے لئے تیار کرو۔ قادیان کے ان منافقوں کو بھی اپنے ساتھ ملالو
جو کھلم کھلا تمہاری تائید کر رہے ہیں اور ان منافقوں کو بھی اپنے ساتھ شامل کر لو جو نمازیں پڑھتے، روزے
رکھتے اور جماعت کے دیگر کاموں میں حصہ لیتے ہیں۔ مگر اپنی پرائیویٹ مجلسوں میں (قادیانی) سلسلے کے نظام پر
ہنسی اڑاتے اور اس کی تحقیر وتذلیل کرتے ہیں۔ تم سارے مل جاؤ اور دن رات منصوبے کرو اور اپنے منصوبوں کو
کمال تک پہنچا دو اور اپنی ساری طاقتیں جمع کر کے احمدیت کو مٹانے کے لئے تل جاؤ۔ پھر بھی یاد رکھو! تم سب
کے سب ذلیل ورسوا ہوکر مٹی میں مل جاؤ گے۔‘‘
(الفضل قادیان ج۲۲ نمبر۱۷۶ ص۳تا۵، مؤرخہ ۳۰؍مئی ۱۹۳۵ء، خطبات محمود ج۱۶ ص۳۱۳تا۳۱۹)
خود قادیانی جماعت کے خوددار لوگ قادیانی استبداد سے بیزار ہو چلے تو خلیفہ قادیان نے منافقوں کے نام
سے ان پر بھی خوب لے دے کی۔ چنانچہ ملاحظہ ہو:
’’ان سب باتوں کا نتیجہ یہ ہوا کہ یہاں کے بعض منافق بھی تیس مار خاں بننے لگے ہیں۔ کچھ تو علی
الاعلان ایسی باتیں کرتے اور کچھ یہ طاقت تو نہیں رکھتے اس لئے علیحدہ علیحدہ آپس میں باتیں کرتے رہتے ہیں
کہ ہم سے کسی کو جماعت سے نکالیں تو سہی، ہم ایک جماعت ہیں… منافق دو قسم کے ہیں۔ ایک تو وہ لوگ ہیں جو
روپیہ یاعزت کی خاطر افسروں کو جا کر غلط باتیں بتاتے ہیں اور ایک وہ ہیں جو احرار سے ملتے ہیں۔ یہ بے غیرت
اور بے شرم کہلاتے تو احمدی ہیں مگر ملتے ان لوگوں سے ہیں جو حضرت مسیح موعود کو گالیاں دیتے ہیں۔ ان کے
نزدیک حضرت مسیح موعود کو گالیاں دینا کوئی بات ہی نہیں اور میری مخالفت کے لئے وہ اسے برداشت کرنے کو تیار
ہیں… مجھے ایسے لوگوں کے نام بھی معلوم ہیں لیکن جیسا کہ میرا اصول ہے میں چاہتا ہوں کہ ان کو اصلاح کا کافی
موقع دیا جائے اور دوسری وجہ یہ ہے کہ جب تک شہادت شرعی موجود نہ ہو، میں شرعی سزا نہیں دیا کرتا۔‘‘
(مرزامحمود خلیفہ قادیان کی تقریر، اخبار الفضل قادیان ج۲۲ نمبر۱۸۸ ص۶ کالم۴، مؤرخہ ۱۲؍جون ۱۹۳۵ء،
انوار العلوم ج۱۴ ص۱۳تا۱۵)
بالآخر خلیفہ قادیان نے حکومت کو، مسلمانوں کو اور خود اپنے نام نہاد منافقوں کو کھلا چیلنج دے دیا جو
اعلان جنگ سے کم نہیں ہے۔ ملاحظہ ہو:
’’حکومت سے کہہ دو کہ ہم خیرخواہ اور امن پسند ضرور ہیں مگر یہ کبھی گوارا نہیں کر سکتے کہ سلسلہ کی
عزت کو کم کیا جائے۔ ادب سے لیکن کھول کر حکومت کو یہ سنادو کہ ہم سے یہ امید نہ رکھی جائے کہ ہم سلسلہ کی
بے عزتی حکام کے ہاتھوں ہوتی دیکھیں اور پھر بھی جی ہاں، جی ہاں کہتے ہوئے سر جھکائے رکھیں۔ ہم سے یہ کبھی
نہ ہوسکے گا۔ مسلمانوں سے کہہ دو کہ تمہارے لئے ہم ہمیشہ قربانی کرتے آئے ہیں اورکرتے رہیں گے۔ لیکن یہ کبھی
نہ ہوگا کہ احمدیت میں اس وجہ سے کوئی کمزوری آنے دیں۔ جس دن تم احمدیت کے خلاف تلوار اٹھاؤ گے، اس دن بس
دو ہی صورتیں ہمیں مطمئن کرسکیں گی۔ یا تو یہ کہ تم ایمان لے آؤ اور یا پھر یہ کہ پیٹھ دکھا کر بھاگ جاؤ۔
منافقوں کو اچھی طرح سن لینا چاہئے کہ ان کے بارے میں ہم کوئی نرمی یا کمزوری اختیار نہیں کریں گے۔ ان کا ہم
سنگ دل انسان کی طرح مقابلہ کریں گے اور ان کی تباہی ہمارے لئے عید کا دن ہوگا۔‘‘
(مرزامحمود خلیفہ قادیان کی تقریر، اخبار الفضل قادیان ج۲۲ نمبر۱۸۸ ص۱۰ کالم۴، مؤرخہ ۱۲؍جون ۱۹۳۵ء،
انوارالعلوم ج۱۴ ص۲۴)
لیکن سب سے زیادہ قادیانی صاحبان جمعیۃ احرار سے ناراض ہیں۔ چنانچہ خلیفہ قادیان نے ان کو بھی چیلنج
دیا۔ پیش گوئی کے اسباب تو جلد ظاہر ہوگئے۔ لیکن پیش گوئی کا مقصد حاصل نہ ہوسکا۔ چنانچہ ملاحظہ ہو:
’’آج ہمیں احرار سے بھی یہ کہہ دینا چاہئے کہ ہم نرم طبائع رکھتے ہیں، فسادی نہیں ہیں۔ لیکن تمہاری
ایک ایک قربانی کے مقابلے
83
میں ہم دس دس پیش کر کے بھی خوش نہیں ہوں گے۔ ہم اس وقت تک آرام کا سانس نہیں لیں گے جب تک کہ تم لوگ
یا تو توبہ نہ کر لو اور یا پھر تمہارے نظام کو ہم دنیا سے فنا نہ کر دیں اور تمہاری پارٹی کو توڑ نہ دیں۔
ہمارے آرام کی اب دو ہی صورتیں ہیں۔ ایک تو یہ کہ تم مومن بن جاؤ اور دوسری یہ کہ تم پراگندہ ہو جاؤ۔‘‘
(مرزامحمود خلیفہ قادیان کی تقریر، اخبار الفضل قادیان ج۲۲ نمبر۱۸۸ ص۱۰ کالم۳، مؤرخہ ۱۲؍جون ۱۹۳۵ء،
انوارالعلوم ج۱۴ ص۲۳)
’’ابھی چند ہفتے ہوئے میں نے اسی منبر پر کھڑے ہوکر کہا تھا کہ زمین احرار کے پاؤں تلے سے نکلے جارہی
ہے اور میں ان کی شکست ان کے قریب آتے دیکھ رہا ہوں۔ اب دنیا نے دیکھ لیا کہ وہ زمین ان کے پاؤں سے نکل
گئی۔‘‘
(الفضل قادیان ج۲۳ نمبر۵۵ ص۱۰ کالم۴، مؤرخہ ۳؍ستمبر ۱۹۳۵ء، خطبات محمود ج۱۶ ص۵۵۲)
’’ہماری جماعت کے لئے بے شک پچھلے ایام میں ایسا طویل ابتلا آیا ہے کہ بہت سے لوگ یہ خیال کرنے لگ گئے
تھے کہ نہ معلوم خداتعالیٰ کی مدد کب آئے گی اور عام طور پر کہا جانے لگا تھا کہ اس حملے کا سلسلہ بہت لمبا
ہوگیا ہے مگر کسی کو کیا معلوم تھا۔ (البتہ مرزا محمود کو شاید معلوم تھا جب کہ انہوں نے کچھ دنوں پیش گوئی
کی تھی کہ زمین احرار کے پاؤں تلے سے نکلی جارہی ہے۔ للمؤلف) کہ خداتعالیٰ نے اس فتنہ کا علاج امرتسر میں
گوردوارے پر بندھک کمیٹی کے پاس رکھا ہوا ہے جو مسجد شہید گنج کے انہدام کے سلسلہ میں ظاہر ہو گیا اور جس نے
مسلمانون پر ثابت کر دیا کہ احرار جو ہماری مخالفت خدمت اسلام کے نام سے کر رہے تھے وہ جھوٹے تھے۔ اسلام کے
لئے قربانی کرنا ان کا طریق نہیں۔ وہ تو اپنی ذاتی بڑائی کے لئے کام کرتے ہیں اور جب ذاتی بڑائی حاصل نہ
ہوئی ہو تو وہ خداتعالیٰ کے گھر کے لئے بھی قربانی کرنے کے لئے تیار نہیں۔ (لاہور میں سکھوں نے جو شہید گنج
کی مسجد شہید کی تو قادیانی صاحبان متوقع اور منتظر تھے کہ احرار کٹ مریں گے اور قصہ پاک ہو جائے گا۔ لیکن
احرار نے آئینی اور قانونی تدابیر کو مقدم سمجھا اور بعد کو عام اکابر کی بھی یہی رائے قرار پائی۔ اس لئے
قادیانی صاحبان کو مایوسی ہوئی۔ للمؤلف)‘‘
(الفضل قادیان ج۲۳ نمبر۹۴ ص۶ کالم۴، مؤرخہ ۱۹؍اکتوبر ۱۹۳۵ء، خطبات محمود ج۱۶ ص۶۰۷،۶۰۸)
یوں تو خلیفہ قادیان کو دنیا جہان سے مخالفت کا شکوہ ہے۔ لیکن پھر بھی حکومت سے اور احرار سے بدگمانی
کی کوئی حد معلوم نہیں ہوتی۔ رازداری کی خبر میں بھی کافی صراحت موجود ہے۔ ملاحظہ ہو:
’’اب بھی خطرہ کچھ کم نہیں ہوا، صرف اس نے اپنی شکل بدل لی ہے۔ ورنہ خطرہ پہلے سے بڑھ گیا ہے۔ میں اس
کی تفصیلات میں نہیں پڑ سکتا۔ مگر یہ کہے بغیر نہیں رہ سکتا کہ خطرہ پہلے سے زیادہ ہوگیا ہے۔ حکومت کی طرف
سے بھی اور احرار کی طرف سے بھی۔ جب انہوں نے سمجھ لیا کہ یہ قوم (قادیانی) بے وقوف نہیں کہ یوں ہی آسانی سے
اسے پکڑا جاسکے تو ان کے حملے نے اب عقلمندانہ شکل اختیار کر لی ہے۔‘‘
(الفضل قادیان ج۲۳ نمبر۶۶ ص۹ کالم۴، مؤرخہ ۱۶؍جنوری ۱۹۳۶ء، خطبات محمود ج۱۷ ص۳۱)
لامحالہ خود قادیانی جماعت بھی عام طور پر ماحول سے متأثر ہوئے بغیر نہ رہ سکی اور ڈھیلی پڑ گئی تو
خلیفہ قادیان نے ان کی بھی خوب خبر لی اور اپنے ڈکٹیٹر بننے کا اعلان کر دیا۔ ملاحظہ ہو:
’’گزشتہ سال کے خطبات کے بعد میں سمجھا تھا کہ اب کئی سال تک جماعت کو جگانے کی ضرورت پیش نہ آئے گی۔
مگر ابھی آٹھ ماہ ہی گزرے ہیں کہ سستی پیدا ہونے لگی ہے۔ ایک دو ہی دن ہوئے میں نے ایک اور رنگ میں بات کی
تھی مگر ناظر صاحب بیت المال نے خیال کیا کہ میں نے کہا ہے کہ میں تحریک جدید کے لئے اس سال چندہ کی تحریک
نہیں کروں گا اور وہ اس بناء پر بہت خوش ہوئے کہ اس تحریک سے چندہ عام کی ادائیگی میں سستی پیدا ہو گئی ہے۔
اس سے معلوم ہوتا ہے کہ کارکن جماعت کے سستوں کا بوجھ محسوس کرنے لگے ہیں۔ لیکن
84
میں نے گزشتہ سال یہ اعلان کر دیا تھا کہ اب میں سستوں کی پرواہ نہیں کروں گا اور جو مستعد ہیں، ان
کو آگے لے جاؤں گا۔ ہم سونے والوں کو جگائیں گے مگر جو نہیں جاگیں گے، ان کو چھوڑتے جائیں گے۔
پچھلے سال میں نے بتایا تھا کہ میں نے جس قربانی کا مطالبہ کیا ہے، یہ بہت ہی کم ہے۔ آئندہ کے لئے جو
اسکیم میرے مدنظر ہے وہ بہت بڑی قربانیوں کا تقاضا کرتی ہے اور اب یہی ہوگا کہ کمزوروں کے متعلق ہم یہ ہی
کہیں گے کہ اللہ تعالیٰ ان کی مغفرت کرے اور جو باقی ہیں، ان کو آگے بڑھالے جاؤں گا اور اس صورت میں خواہ دس
آدمی بھی میرے ساتھ ہوں، انجام کار فتح ان ہی کی ہوگی۔
پس ان معاملات میں اب میں نہ ناظروں کی پروا کروں گا، نہ انجمن کی، نہ افراد کی اور نہ جماعتوں کی اور
نہ مشوروں سے کام کروں گا۔ اب تو یہی ہے کہ جو ہمارے ساتھ چل سکتا ہے چلے، اور جو نہیں چل سکتا وہ پیچھے رہ
جائے۔ اب میں اس پوزیشن میں کوئی تبدیلی کرنے کو تیار نہیں ہوں… اب قربانی کا مطالبہ زیادہ سے زیادہ ہوگا۔
جو اس کو بوجھ سمجھتا ہے وہ نہ اٹھائے۔ حتیٰ کہ جو انگلی اٹھا کر بھی کوئی اعتراض کرے گا، میں اسے جماعت سے
علیحدہ کردوں گا۔‘‘
(الفضل قادیان ج۲۳ نمبر۴۹ ص۷ کالم۲،۳، مؤرخہ ۲۷؍اگست ۱۹۳۵ء، خطبات محمود ج۱۶ ص۵۲۹،۵۳۰)
پھر خلیفہ قادیان نے اپنی جماعت کو جوش دلایا کہ موت تک کے واسطے تیار ہو جائیں۔ ملاحظہ ہو:
’’برادران کرام! گزشتہ دو سال کے عرصہ میں ہم شاید سینکڑوں مرتبہ جمع ہوئے ہوں گے۔ تااپنی مظلومیت اور
بعض سرکاری حکام کی احرار نوازی کی داستان ذمہ دار ارکان حکومت تک پہنچائیں اور پھر زور اور طاقت کے ساتھ
اسے پہنچانے کی کوشش کرتے رہے ہیں۔ لیکن معلوم ہوتا ہے کہ حکومت کے متعلق کانگرسی اصحاب کا یہ مشہور قول
بالکل درست ہے کہ وہ بہت اونچا سنتی ہے۔ ہمیں نہایت ہی افسوس ہے کہ مجلس احرار نے حکومت سے وفاداری رکھنے
والی اور مصیبت میں اس کے کام آنے والی جماعتوں (یعنی قادیانیوں) کو اس سے منقطع کرنے کے لئے جو پروگرام
تجویز کیا تھا، وہ ہمارے صوبہ کے بعض افسروں کی عاقبت نااندیشی اور کوتاہ نظری کے باعث بہت حد تک کامیاب
ہوتا جارہا ہے… آپ لوگ قریباً دو سال سے جس وقت کے لئے تیار ہو رہے ہیں اور بوقت ضرور جن قربانیوں کے لئے
تیاری کے پرجوش وعدے کرتے رہتے ہیں، ان کا وقت آن پہنچا ہے۔ اب آپ کو شاید ایسے مواقع بہت کم ملیں گے کہ کسی
جلسہ میں جمع ہوکر نعرے لگادیں اور پرزور الفاظ میں سلسلے کی خاطر ہر قربانی کا وعدہ کر کے گھروں کو چلے
جائیں۔ بلکہ اب وہ وقت آگیا ہے کہ آپ کو عملاً قربانیاں کرنی پڑیں گی اور خدا کی راہ میں ممکن ہے آپ میں سے
بعض کو جانیں دینی پڑیں۔ حکومت کی طرف سے انتہائی سزاؤں کا مورد بننا پڑے اور دشمنوں کی طرف سے ہم قسم کی
ایذاؤں کا متحمل ہونا پڑے۔‘‘
(قادیانیوں کی نیشنل لیگ قادیان کا ایک اجلاس عام، تقریر مرزا محمودالفضل قادیان ج۲۳ نمبر۴۰ ص۱
کالم۱تا۴، مؤرخہ ۱۶؍اگست ۱۹۳۵ء)
(واضح باد کہ قادیانی مذہب کا پہلا ایڈیشن رجب ۱۳۵۲ھ میں تیار ہوا۔ گویا جمادی الاوّل ۱۳۵۴ھ تک
تقریباً دو سال گزرے جس مدت کا تقریر میں ذکر ہے۔ للمؤلف برنی)
’’قادیاں ۵؍جولائی ۱۹۳۵ء آج حضور (یعنی مرزامحمود احمد خلیفہ قادیان) نے مخالفین احمدیت کے انتہائی
مظالم، ان کی ناقابل برداشت بدزبانیوں اور ایذا رسانیوں کا ذکر فرماتے ہوئے نہایت ہی دردناک جمعہ کا خطبہ
ارشاد فرمایا۔ جس کے دوران میں سامعین کی ہچکیاں بندھ گئیں اور کوئی آنکھ آنسو بہانے سے باز نہ رہ سکی۔ یہ
خطبہ ان شاء اللہ بہت جلد درج اخبار کیا جائے گا۔‘‘
(الفضل قادیان ج۲۳ نمبر۶ ص۲ کالم۱، مؤرخہ ۷؍جولائی ۱۹۳۵ء)
85
’’تم (قادیانیوں) سے اگر کوئی پوچھے کہ اسلام کی زندگی کی کیا صورت ہے تو تمہاری طرف سے اس کا ایک ہی
جواب ہونا چاہئے کہ: ’’ہماری موت، موت، موت‘‘ پس تم اس کے لئے تیار ہو جاؤ۔‘‘
(مرزامحمود کی تقریر، اخبار الفضل قادیان ج۲۲ نمبر۱۸۸ ص۱۰ کالم۳، مؤرخہ ۱۲؍جون ۱۹۳۵ء، انوارالعلوم
ج۱۴ ص۲۳)
لامحالہ اس دوران میں مالی دقتیں بھی نمودار ہوگئیں۔ اگرچہ اس قسم کی دقتیں بالعموم کم ظاہر ہونے پاتی
ہیں، تاہم بحالت مجبوری اعلان میں آگئیں:
’’احباب کرام کو معلوم ہے کہ مخالفین سلسلہ عالیہ احمدیہ کی شرارتوں کی وجہ سے کچھ عرصہ سے مرکز پر
بہت سے غیرمعمولی اخراجات کا بوجھ بڑھ رہا ہے۔ جس کے باعث صدر انجمن احمدیہ اب پھر زیربار ہوگئی ہے اور
معمولی بجٹ میں اسے اخراجات کا پورا کرنا مشکل ہورہا ہے۔ اس کا نتیجہ یہ ہے کہ اب کچھ عرصے سے انجمن کے
کارکنوں اور متعلقین کو ان کی تنخواہیں اور وظائف باقاعدگی کے ساتھ ماہ بہ ماہ ادا نہیں کئے جاسکتے اور بعض
ضروری کاموں میں رکاوٹ واقع ہوئی ہے۔ اس مشکل کو حل کرنے کے لئے حضرت امیرالمومنین ایدہ اللہ تعالیٰ نے یہ
تجویز پسند فرمائی ہے کہ اس وقت ایک نئی تحریک تیس ہزار روپیہ قرض کے لئے جماعت کے ان خاص احباب سے کی جائے،
جو حصول ثواب کی خاطر خوشی سے اس میں شریک ہونا چاہیں۔‘‘
(اعلان، الفضل قادیان ج۲۳ نمبر۶۱ ص۲ کالم۱، مؤرخہ ۱۰؍ستمبر ۱۹۳۵ء)
’’اب میں اس سوال کو لیتا ہوں کہ ہم نے اس تحریک پر گیارہ لاکھ روپیہ صرف کیا۔ اس میں قابل غور امر یہ
ہے کہ یہ روپیہ آیا کہاں سے؟… تو ہم پر ایک لاکھ چالیس ہزار قرض ہے۔ دو دو ماہ کی تنخواہیں لوگوں کو نہیں
ملیں۔ پھر یہ گیارہ لاکھ روپیہ کہاں سے آگیا۔‘‘
(الفضل قادیان ج۲۳ نمبر۶۹ ص۸ کالم۲،۳، مؤرخہ ۱۹؍ستمبر ۱۹۳۵ء، خطبات محمود ج۱۶ ص۵۶۹)
عام جماعت کے ساتھ ساتھ کارکن جماعت بھی شاید بددل ہوگئی کہ اس نے خلیفہ قادیان کے مقابل خودرائی اور
خودسری شروع کر دی۔ چنانچہ اس بارے میں خلیفہ قادیان کی شکایت قابل ہمدردی معلوم ہوتی ہے۔ ملاحظہ ہو:
’’اگر ناظروں میں تعاون نہ ہو اور وہ میری باتوں کو نہ سنیں، جو تجویز میں پیش کروں، اس کے بجائے وہ
اپنی تجاویز چلانا چاہیں، جو میں تدابیر بتاؤں ان کو چھوڑ کر وہ اپنی تدبیریں بروئے کار لائیں اور اگر
کارکنوں میں تعاون نہ ہو، مبلغوں میں تعاون نہ ہو اور میں کچھ کہتا رہوں اور وہ کچھ کرتے رہیں تو یہ وہی بات
ہوگی کہ ؎
من چہ می سرایم وطنبورۂ من چہ می سراید
مگر مجھے افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ اخلاص کی کمی کی وجہ سے نہیں، بلکہ تربیت کے نقص کی وجہ سے اب تک
میری مثال اور ناظروں اور کارکنوں کی مثال بالکل یہی ہے کہ ؎
من چہ می سرایم وطنبورۂ من چہ می سراید
میں کچھ کہتا ہوں وہ کچھ اور کرتے ہیں۔ میں کوئی اسکیم پیش کرتا ہوں وہ کوئی اور اسکیم چلاتے ہیں۔ میں
کوئی اور پالیسی بتاتا ہوں وہ اپنی پالیسی کے پیچھے چلے جاتے ہیں… ضرورت اس بات کی ہے کہ جماعت محسوس کرے کہ
خلیفہ وقت جو کچھ کہتا ہے اس پر عمل کرنا ضروری ہے۔ اگر تو وہ سمجھتی ہے کہ خلفیہ نے جو کچھ کہا، وہ غلط کہا
اور اس کا نتیجہ اچھا نہیں نکل سکتا تو جو لوگ یہ سمجھتے ہوں، ان کا فرض ہے کہ خلیفہ کو سمجھائیں اور اس سے
ادب کے ساتھ تبادلہ خیالات کریں۔‘‘
(اخبار الفضل قادیان ج۲۳ نمبر۱۷۷ ص۸ کالم۱تا۳، مؤرخہ۳۱؍جنوری ۱۹۳۶ء، خطبات محمود ج۱۷ ص۷۰،۷۱)
86
یوں تو خلیفہ قادیان نے بہت کچھ جوش وخروش دکھایا۔ لیکن ساتھ ہی بخوبی محسوس کر لیا کہ عام ناراضی کی
تاب لانا محال ہے۔ ترکیب کے ساتھ پہلو بدلنا ضرور ہے کہ یہ ظاہربات بھی بنی رہے اور رفع شکایت بھی ہو جائے۔
مرزاقادیانی کی نبوت اور مسلمانوں کی تکفیر، قادیانی جماعت کا یہ بنیادی مسلک ہے اور وہ ان دونوں پہلوؤں کو
لازم وملزوم سمجھتے ہیں۔ چنانچہ اس مسلک پر ان کو کس درجہ استقرار واصرار ہے، کتاب میں بکثرت شہادت موجود
ہے۔ مصلحت وقت کی خاطر خلیفہ قادیان نے بالآخر کفر کو کافی فرما دیا کہ نبوت بھی ضمناً ڈھیلی پڑ جائے۔ عاقل
را اشارہ کافی است۔ توقع تھی کہ یہ تسلی کام دے جائے گی اور مسلمانوں کی شکایت وناراضی کسی نہ کسی حد تک رفع
ہو جائے گی۔ مگر مسلمان چونکہ قادیانی اعتقادات وجذبات سے بخوبی واقف ہوچکے ہیں، یہ تدبیر کچھ کارگر ثابت نہ
ہوئی۔ بہرحال تکفیر کی ترمیم قابل ملاحظہ ہے:
’’ہم میں اور ان (غیراحمدیوں) میں تو کفر کی تعریف میں اختلاف بھی بہت سا پایا جاتا ہے۔ یہ لوگ کفر کے
معنی سمجھتے ہیں کہ اسلام کا انکار، حالانکہ ہم یہ معنی نہیں کرتے، نہ کفر کی یہ تعریف کرتے ہیں۔ ہم تو
سمجھتے ہیں کہ اسلام کے ایک حد تک پائے جانے کے بعد انسان مسلمان کے نام سے پکارے جانے کا مستحق سمجھا
جاسکتا ہے۔ لیکن جب وہ مقام سے گر جاتا ہے تو وہ مسلمان کہلا سکتا ہے۔ مگر کامل مسلم اسے نہیں سمجھا جاسکتا۔
یہ تعریف جو ہم کفر واسلام کی کرتے ہیں اور پھر اس تعریف کی بناء پر ہم کبھی نہیں کہتے کہ ہر کافر دائمی
جہنمی ہوتا ہے۔ ہم تو یہودیوں اور عیسائیوں کو بھی اس قسم کے کافر نہیں سمجھتے۔ بلکہ یقین رکھتے ہیں کہ دنیا
میں جس قدر بھی کفار ہیں خواہ وہ یہودی ہیں یا عیسائی، دہریہ ہندو اور سکھ وغیرہ آخر خداتعالیٰ کا فضل ان کے
شامل حال ہوگا اور خداتعالیٰ انہیں کہہ دے گا کہ جاؤ جنت میں داخل ہو جاؤ۔ پس ان کے کفر اور ہمارے کفر میں
بہت بڑا فرق ہے۔ ان کا کفر تو ایسا ہے جیسا سرمہ والا سرمہ پیستا ہے۔ وہ بھی جب کسی کو کافر کہتے ہیں تو اس
کا مطلب یہ ہوا کرتا ہے کہ اسے پیس کر رکھ دیں۔ کہتے ہیں وہ جہنمی ہے اور ابدی دوزخ میں پڑے گا۔ لیکن ہم
دوسروں کو کافر اصطلاحی طور پر کہتے ہیں۔ ورنہ بالکل ممکن ہے کہ ایک شخص کفر کی حالت میں مرے لیکن خداتعالیٰ
کسی خوبی کی وجہ سے جنت میں داخل کر دے۔‘‘
(الفضل ج۲۲ نمبر۱۵۳، مؤرخہ یکم؍مئی ۱۹۳۵ء، منقول الفضل قادیان ج۲۲ نمبر۱۸۹ ص۳ کالم۱، مؤرخہ۱۳؍جون
۱۹۳۵ء، خطبات محمود ج۱۶ ص۲۸۷،۲۸۸)
خلیفہ قادیان نے اپنے بچاؤ کی جو تدبیر نکالی، تو اس سے اپنے پرایوں کا اور شکوہ بڑھ گیا کہ اس درجہ
غلط بیانی کی کیا گنجائش تھی۔ تکفیر کے معاملے میں قادیانی مسلک کس کو معلوم نہیں۔ کتاب میں تو آئندہ بکثرت
اقتباسات موجود ہیں۔ فی الحال یہاں دو مختصر لیکن مستند حوالے ملاحظہ ہوں:
’’ایک شخص نے حضرت خلیفۃ المسیح (مولوی نورالدین) سے سوال کیا کہ حضرت مرزاصاحب کے ماننے کے بغیر نجات
ہے یا نہیں۔ فرمایا: اگر خدا کا کلام سچ ہے تو مرزاصاحب کے ماننے کے بغیر نجات نہیں ہو سکتی۔‘‘
(تشحیذ الاذہان ج۹ نمبر۱۱ ص۲۴، ماہ نومبر ۱۹۱۴ء، البدر ج۱۲ نمبر۲ ص۲ کالم۱، مؤرخہ ۱۱؍جولائی ۱۹۱۲ء)
’’اب جب کہ یہ مسئلہ بالکل صاف ہے کہ مسیح موعود (مرزاغلام احمد قادیانی) کے ماننے کے بغیر نجات نہیں
ہوسکتی تو کیوں خواہ مخواہ غیراحمدیوں کو مسلمان ثابت کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔‘‘
(کلمتہ الفصل مصنفہ بشیراحمد قادیانی، مندرجہ رسالہ ریویو اف ریلیجنز ج۱۴ نمبر۳ ص۱۲۹، بابت مارچ
۱۹۱۵ء)
قادیانی صاحبان کی لاہوری جماعت گو مختصر ہے لیکن نسبتاً زیادہ تعلیم یافتہ اور زمانہ شناس ہے۔ اس لئے
پہلے ہی تاڑ لیا کہ مرزاغلام احمد کی نبوت اور مسلمانوں کی تکفیر یہ چلنے والی بات نہیں ہے۔
چرا کارے کند عاقل کہ باز آید پشیمانی
87
چنانچہ مرزاغلام احمد قادیانی کی وفات کے بعد جلد وہ ان عقائد سے دست کش ہوگئی اور اس پر قانع رہی کہ
مرزاغلام احمد قادیانی کو مسیح موعود یا کم ازکم مجدد اسلام منوایا جائے اور ان کے مریدین ومعتقدین کی ایک
جماعت احمدی کہلائے اور اپنی صواب دید سے مرزاغلام احمد قادیانی کی تعلیم پھیلائے۔ چنانچہ لاہوری جماعت کے
امیر مولوی محمد علی کا انگریزی ترجمہ قرآن اس مسلک کا بہت نمایاں نمونہ ہے۔ بہرحال یہ جماعت فی الجملہ
مسلمانوں سے گھلی ملی رہی اور مسلمانوں سے اپنے کاموں میں بہت کافی مدد لیتی رہی۔ لیکن قادیانی منصوبے منکشف
ہوئے تو مسلمان اس جماعت سے بھی کھٹکے۔ پس جس طرح خلیفہ قادیان نے مسلمانوں کی ناراضی کے خوف سے تکفیر میں
ترمیم کرنی چاہی، امیر جماعت لاہور نے بھی کوشش کی کہ مسلمانوں کو غیراحمدی کہنا چھوڑ دیں۔ اگرچہ ’’احمدی‘‘
لقب اپنے واسطے مخصوص سمجھیں۔ چنانچہ ملاحظہ ہو:
’’ایک معزز بزرگ نے جو ہماری جماعت کے بہت بڑے معاون ہیں لیکن جماعت میں شامل نہیں، حضرت امیرایدہ اللہ
(مولوی محمد علی) کی توجہ اس امر کی طرف منعطف کرائی ہے کہ جس صورت میں یہ کہا جاتا ہے کہ حضرت مسیح موعود
(مرزاقادیانی) نے اپنی جماعت کا احمدی نام رسول اللہ ﷺ کے اسم احمد کی بنا پر رکھا ہے، اپنے نام پر نہیں اور
حقیقت بھی یہی ہے تو غیراز جماعت مسلمانوں کو ’’غیراحمدی‘‘ کے نام سے پکارنا کیونکر جائز ہوسکتا ہے۔ کیونکہ
وہ بھی تو احمد مجتبیٰ ﷺ سے ایسی ہی عقیدت ووابستگی رکھتے ہیں جیسی کہ جماعت احمدیہ۔ انہیں غیراحمدی کہنا
گویا رسول اللہ ﷺ سے ان کی غیریت ظاہر کرنا ہے۔ اس لئے غیراحمدی کے بجائے غیرازجماعت کے لفظ استعمال کئے جایا
کریں تو قرین انصاف ومصلحت ہوگا۔
اس پر حضرت امیرایدہ اللہ نے یہ ارشاد فرمایا ہے کہ اس سوال کو اخبار میں زیربحث لایا جائے اور ذیل کے
سوال پر احباب کی رائے معلوم کی جائے۔ اگر ہماری جماعت کا نام احمدی، رسول اللہ ﷺ کے اسم احمد کی طرف منسوب ہے
تو گو ایک جماعت خصوصیت سے اس اسم کی مظہر ہوسکتی ہے۔ لیکن کسی دوسری جماعت کو غیراحمدی کہنا کہاں تک درست
ہے، جس کا ظاہر مفہوم یہ ہوگا کہ گویا ایسے لوگوں کو احمد ﷺ سے کوئی نسبت نہیں ہے اور جس صورت میں ہماری
جماعت کے کسی فرد کا یہ خیال نہیں تو آیا ایسی حالت میں کہ بعض احباب کو یہ لفظ ناگوار گزرتا ہے، کیا مناسب
نہ ہوگا کہ ہم اس لفظ کے استعمال کو چھوڑ دیں۔ امید کہ احباب کرام اس بارے میں اپنی آراء اخبار میں بھیج کر
اس سوال پر روشنی ڈالیں گے۔ خاکسار دوست محمد۔‘‘
(پیغام صلح لاہور ج۲۳ نمبر۳۸ ص۵، مؤرخہ ۱۱؍جون ۱۹۳۵ء)
عام بیداری کے تحت ڈاکٹر سرمحمد اقبال کی تحریک اور مسلمانوں کی تائید پر انجمن حمایت اسلام لاہور نے
۱۹۳۶ء کے اوائل میں ایک قرارداد منظور کی جس کی رو سے قادیانی صاحبان انجمن کی رکنیت سے علیحدہ ہوگئے اور
آئندہ کے واسطے بھی ناقابل شرکت قرار پائے۔
اس موقع پر مولوی محمد علی قادیانی امیر جماعت لاہور نے اپنی بریت کے واسطے جو معذرت پیش کی وہ قابل
غور ہے۔ ملاحظہ ہو:
’’اگر آپ احمدی جماعت لاہور کے متعلق کوئی فتویٰ دینا چاہتے ہیں تو جماعت کے مطبوعہ عقائدآپ کے سامنے
ہیں۔ تیس سال قبل کی میری ذاتی تحریرات سے ان کا کوئی تعلق نہیں۔ ان عقائد کی بناء پر جو فتویٰ دینا چاہیں،
دیں۔ اگر ذاتی طور پر مجھ پر فتویٰ کا سوال ہے تو ایسا کفر کا فتویٰ، جس کو تیس سال قبل کی تحریروں سے سہارا
دینے کی ضرورت ہو، شاید ہی مفید ثابت ہو۔‘‘
(پیغام صلح لاہور ج۲۴ نمبر۸ ص۹ کالم۱، مؤرخہ ۳؍فروری ۱۹۳۶ء)
گویا کنایۃً مولوی محمد علی قادیانی تسلیم کرتے ہیں کہ تیس سال قبل خود مرزاغلام احمد قادیانی کی حیات
اور صحبت میں ان کے جو عقائد تھے اور جن کو وہ شائع بھی کرتے تھے، تکفیر کا موجب ہوسکتے ہیں۔ لیکن اس دوران
میں ان کے عقائد بالکل بدل گئے۔ گویا کہ وہ مسلمان ہوگئے۔ لیکن پھر بھی وہ مرزاقادیانی کے کامل متبع رہے اور
اب بھی قادیانی جماعت لاہور کے امیر ہیں۔
88
-
معشوق ما بہ مشرب ہر کس موافق ست
باما شراب خورد و بہ زاہد نماز کرد
ڈاکٹر سر محمد اقبال کو باربار یاد دلایا جاتا ہے کہ وہ حال تک قادیانی جماعت کے مخالف نہ تھے بلکہ
ایک گونہ موافق اور مؤید تھے۔ چنانچہ مولوی محمد علی لاہوری قادیانی بھی مذکورہ بالا معذرت میں شکایتہ
تحریر کرتے ہیں:
’’علامہ سرمحمد اقبال جیسے بلند پایہ انسان جسے (یعنی خود مولوی محمد علی قادیانی کو) آج سے چار سال
پیشتر ایک مسلمان کمیٹی کا صدر بنائیں، آج اسے کافر قرار دیں۔ مرزامحمود احمد صاحب(خلیفہ قادیان) کو کشمیر
کمیٹی کا صدر بن انے میں سرمحمداقبال پیش پیش تھے اور جس جماعت کو سولہ سترہ سال پیشتر ٹھیٹھ اسلامی سیرت کا
نمونہ بنائیں (یہ الفاظ علی گڑھ میں ڈاکٹر سر محمد اقبال نے احمدیوں کے متعلق کہے) اسے آج کافروں کی جماعت
قرار دیں۔ پس مناسب یہ ہے کہ جو کچھ فتویٰ آپ دیں، وہ آج کی تحریرات پر دیں۔‘‘
(پیغام صلح لاہور ج۲۴ نمبر۸ ص۹ کالم۱، مؤرخہ ۳؍فروری ۱۹۳۶ء)
ان ہی الجھنوں کی بدولت مدت تک مسلمان متردد رہے کہ بالآخر مرزاغلام احمد کے مذہب پر کیا حکم لگائیں۔
بالخصوص جدید تعلیم یافتہ طبقے نے حسن ظن مقدم سمجھا۔ لیکن قادیانی صاحبان نے اس حسن ظن سے دل کھول کر فائدہ
اٹھایا۔ حتیٰ کہ ان کا اصلی مسلک اور حقیقی مقصد بخوبی واضح ہوگیا اور مسلمانوں کو ان کے اقوال وافعال سے
بخوبی ثابت ہوگیا۔
-
ترسم کہ بہ کعبہ نہ رسی اے اعرابی
کیں راہ کہ تو میروی بہ ترکستان ست
چنانچہ ڈاکٹر سر محمد اقبال نے بھی جو حال میں انگریزی مضامین لکھے ہیں، ان میں افسوس کیا ہے کہ مدت
تک مسلمان دھوکے میں رہے اور حال میں ان پر قادیانی تحریک کی پوری حقیقت کھلی۔ اس صورت میں مسلمانوں کو
شکایت کا حق ہے نہ کہ قادیانی صاحبان کو کہ حسن ظن اور حسن سلوک بے محل ثابت ہوا۔ تاہم جہاں تک عقائد کا
تعلق ہے، ڈاکٹر سر محمد اقبال نے مولوی محمد علی قادیانی کی طرح کوئی رنگ نہیں بدلا۔ بلکہ آج سے ایک مدت قبل
بھی ان کا وہی عقیدہ تھا جو آج ہے۔ چنانچہ ڈاکٹر صاحب موصوف کا فتویٰ ملاحطہ ہو:
’’لمعات میں ڈاکٹر محمد اقبال صاحب پی۔ایچ۔ڈی بیرسٹر ایٹ لاء کا ایک مضمون چھپا ہے جس میں وہ لکھتے
ہیں جو شخص نبی کریم ﷺ کے بعد کسی ایسے نبی کے آنے کا قائل ہے جس کا انکار مستلزم کفر ہو، وہ خارج از دائرہ
اسلام ہے۔ اگر قادیانی جماعت کا بھی یہی عقیدہ ہے تو وہ بھی دائرہ اسلام سے خارج ہے۔‘‘
(الفضل قادیان ج۳ نمبر۱۰۵ ص۹ کالم۳، مؤرخہ ۱۱؍اپریل ۱۹۱۶ء)
رہی یہ فرمائش کہ سابقہ تحریرات کو نظرانداز کر کے جدید تحریرات پر فتویٰ دیا جائے، اس کے واسطے لازم
ہے کہ مرزاغلام احمد قادیانی کی وہ تعلیم اور وہ تصانیف جن پر سابقہ تحریرات مبنی ہیں، ان کے منسوخ ومتروک
ہونے کا اعلان کر دیا جائے تاکہ نفاق رفع ہو۔ اس کے بعد شاید فتوے کی ضرورت ہی باقی نہ رہے۔
89
اس کتاب کے تیسرے ایڈیشن پر ملک میں کیا رائے قائم ہوئی اور اس دوران میں کیا کیا آثار نمودار ہوئے،
مختصر کیفیت پیش ہوئی۔ ذیل میں چوتھے ایڈیشن کی خصوصیات بطور اجمال پیش کرتے ہیں۔
اس کتاب کے پہلے ایڈیشن میں پانچ مختصر فصلوں کے تحت تقریباً پچاس عنوانات درج تھے۔ تقطیع چھوٹی، حجم
(۱۲۰)صفحہ، دوسرے ایڈیشن میں گیارہ فصلوں کے تحت تقریباً اڑھائی سو عنوانات درج ہوئے۔ تقطیع متوسط، حجم
(۳۴۰) صفحہ۔ تیسرے ایڈیشن میں تیرہ فصلوں کے تحت چار سو عنوانات درج ہوئے۔ تقطیع متوسط، حجم (۶۲۵) صفحہ۔
خیال تھا کہ تیسرا ایڈیشن کتاب کی مستقل شکل قرار پائے گا۔ چنانچہ اس ایڈیشن میں اس کا اعلان بھی کر دیا
تھا۔ لیکن خدا کی قدرت اس دوران میں قادیانی تحریک کے متعلق مستند معلومات کا اور بہت سا ذخیرہ ہاتھ آگیا،
جس کی پہلے سے کوئی توقع نہ تھی اور جس کو نظرانداز کرنا بھی کسی طرح ممکن نہ تھا۔ لہٰذا یہ کل جدید معلومات
چوتھے ایڈیشن میں شریک کر دی گئیں۔ بعض اقتباسات، جن سے کئی کئی پہلو نکلتے ہیں۔ اپنے اپنے محل پر کئی کئی
جگہ بھی درج ہوئے ہیں۔ لیکن یہ تکرار صرف چند اقتباسات کے واسطے مخصوص ہے۔ عام طور پر ہر اقتباس اپنے محل پر
صرف ایک مرتبہ درج ہے۔ نتیجہ یہ ہوا کہ بہ تعداد کثیر، جدید عنوانات شریک ہوئے اور ان میں سے ہر ایک کے تحت
کافی اقتباسات درج ہیں۔ ان کے علاوہ جابجا قدیم عنوانات کے تحت بھی مزید اقتباسات درج ہوئے۔ ضمیمہ جات میں
بھی اسی طرح کچھ اضافہ ہوا۔ بغرض امتیاز جدید عنوانات کے ساتھ علامت (ج ۱؎ ) اور
مزید اقتباسات درج ہونے کی صورت میں قدیم عنوانات کے ساتھ علامت (م) تحریر کر دی ہے تاکہ کوئی چاہے توبہ یک
نظر معلوم کر لے کہ تیسرے ایڈیشن کے مقابل چوتھے ایڈیشن میں کیاکیا اضافہ ہوا۔ علاوہ بریں چونکہ کیفیت اور
کمیت کے لحاظ سے مضامین بہت بڑھ گئے۔ اس لئے کل کتاب کو ازسرنو بیس فصلوں میں تقسیم کردیا۔ امید ہے کہ اس
تقسیم سے تفہیم میں بہت سہولت رہے گی۔ اس طرح چوتھے ایڈیشن میں بیس فصلیں اور ان کے چار تمہیدیں اور چار
ضمیمے داخل ہیں۔ چونکہ حجم کافی بڑھ گیا ہے۔ اس لئے متوسط تقطیع کے بجائے بڑی تقطیع پر کتاب طبع ہوئی، پھر
بھی کافی ضخیم رہی۔
یہ سوال پیدا ہوسکتا ہے کہ آخر یہ اضافوں کا سلسلہ کب تک جاری رہے گا اور کتاب کی آخری شکل کب قرار
پائے گی۔ واقعہ یہ ہے کہ بظاہر تیسرا ایڈیشن مکمل شکل قرار پاچکا تھا۔ یہ محض تائید غیبی تھی کہ جس مواد کا
وہم وگمان بھی نہ تھا، وہ خود بخود میسر آ گیا۔ لیکن کتاب اس نوبت پر آگئی کہ آئندہ کسی متعدبہ اضافہ کی
گنجائش اور ضرورت باقی نہیں رہی۔ یوں معمولی کمی بیشی دوسری بات ہے۔ لہٰذا اس چوتھے ایڈیشن کے مکمل ہونے میں
کوئی شک نہیں ہوسکتا۔
سب سے اوّل عبدالخالق سلمہ اور ان کے ساتھ عبدالحلیم سلمہ، عبدالقدوس ہاشمی سلمہ، غلام دستگیر رشید
سلمہ اور برادرم کمال احمد فاروقی سلمہ۔ یہ وہ عزیز نوجوان ہیں جنہوں نے اس کتاب کی تالیف، طباعت اور اشاعت
میں ہاتھ بٹایا۔ اللہ تعالیٰ ان مخلصین کو دارین میں جزائے خیر عطاء فرمائے۔ آمین!
ملک وملت کے بہی خواہ قادیانی لٹریچر کے اس مجموعے کو مطالعہ فرماویں۔ قادیانی صاحبان کے عذرات
وتاویلات کو سماعت فرماویں اور پوری تحقیق کے بعد انصاف فرماویں کہ فی الواقع قادیانی تحریک دین وایمان،
تہذیب واخلاق، تمدن ومعاشرت اور قومیت وسیاست کے حق میں کیا حکم رکھتی ہے اور کیا انجام چاہتی ہے۔
معروضہ: خادم محمد الیاس برنی
بیت السلام، حیدرآباد دکن، ماہ شوال ۱۳۵۴ھ
۱؎ اب ان علامات (ج) اور (م) کو اس نئے ایڈیشن میں حذف کر دیا گیا۔
90
بسم اللہ الرحمن الرحیم
تمہید پنجم
اس کتاب ’’قادیانی مذہب‘‘ کا چوتھا ایڈیشن ادھر شائع ہو، ادھر ختم ہوگیا۔ نصف سے زیادہ تو ہدیتہ تقسیم
ہوا اور جو باقی بچا وہ ہاتھوں ہاتھ نکل گیا۔ بالخصوص اعلیٰ تعلیم یافتہ طبقوں میں اس کی بہت مانگ رہی۔
اکابر ملت نے زبانی اور تحریری اعتراف فرمایا کہ جو اہم معلومات اس کتاب میں شائع ہوئیں۔ خاص وعام بیشتر ان
معلومات سے بے خبر تھے اور یہ بے خبری ملک وملت کے حق میں سخت خطرناک تھی۔ اس کتاب سے قادیانی مذہب کی حقیقت
کھل گئی۔ ترتیب وتفہیم کا جو اہتمام کیاگیا، وہ سراسر جدید اور اپنی نظیر آپ ہے۔ اس سے زیادہ مستند اور تشفی
بخش طریق ممکن نہیں۔ یہ کتاب اپنی تحقیق وجامعیت کی بدولت قادیانیت کی قاموس بن گئی جو آئندہ تالیف وتصنیف
میں مخزن معلومات کا کام دے گی۔
حامی دین متین امیرالمومنین اعلیٰ حضرت نواب میرعثمان علی خاں بہادر آصف سابع سلطان العلوم شاہ دکن
خلد اللہ ملکہ کی رعایا پروری اور مذہبی رواداری تو مشہور ومسلم ہے۔ چنانچہ قادیانیوں کو بھی اس سے مستفید
ہونے کا پورا موقع ملا۔ آج سے بیس سال قبل جب کہ قادیانی جماعت حیدرآباد میں اپنے قدم جمارہی تھی، بقول خود
اس کو پوری آزادی حاصل تھی۔ ملاحظہ ہو:
’’مفتی محمد صادق صاحب اور مولوی سید سرور شاہ صاحب راستہ میں آنے والے شہروں میں فرصت کے مطابق تبلیغ
کرتے ہوئے حیدرآباد پہنچ گئے ہیں اور انہوں نے تبلیغ شروع کر دی ہے۔ مفتی صاحب نے اپنا قیام مولوی غلام اکبر
خان صاحب وکیل (بعدش نواب اکبر یار جنگ بہادر رکن عدالت عالیہ) کے مکان میں کیا ہے جس میں ایک بہت بڑا فائدہ
یہ ہے کہ مولوی صاحب موصوف کے پاس شہر کے معزز لوگ آتے جاتے ہیں۔ اس لئے ان سے گفتگو کرنے کا انہیں موقع مل
جاتا ہے۔ ۱۸؍تاریخ کے خط میں مفتی صاحب لکھتے ہیں کہ صبح سے بارہ بجے تک پانچ معزز اشخاص کو تبلیغ کی گئی
اور انہوں نے پھر ملاقات کرنے کا وعدہ کیا ہے۔ اس طرح ان شاء اللہ تبلیغ کا سلسلہ دن بدن ترقی کرتا جائے گا۔‘‘
(الفضل قادیان ج۲ نمبر۷۰ ص۸ کالم۲، مؤرخہ ۲۶؍نومبر ۱۹۱۴ء)
’’احمدی احباب اس خبر کو سن کر خوش ہوں گے کہ جس مقصد کے لئے جناب مفتی محمد صادق صاحب اور مولانا سید
سرور شاہ صاحب کو حیدرآباد دکن روانہ کیا گیا تھا۔ اس میں خدائے تعالیٰ کے فضل سے ان کو کامیابی ہوئی ہے اور
انہوں نے شاہ دکن کی خدمت میں (کتاب) ’’تحفۃ الملوک‘‘ پیش کر دی ہے اور اعلیٰ حضرت والی دکن نے بھی خوشی سے
اس تحفہ کو قبول فرمایا ہے۔‘‘
(الفضل قادیان ج۲ نمبر۸۳ ص۸ کالم۳، مؤرخہ ۲۷؍دسمبر ۱۹۱۴ء)
’’جس مقصد کے واسطے حضرت خلیفہ المسیح فضل عمر ایدہ اللہ تعالیٰ (مرزامحمود احمد) نے ہم کو یہاں
(حیدرآباد) بھیجا تھا وہ خداتعالیٰ کے فضل وکرم سے بہت کچھ پورا ہوگیا ہے اور ہورہا ہے۔ کتاب ’’تحفۃ
الملوک‘‘ باوجود بعض رکاوٹوں کے ہزہانس شاہ دکن کے حضور پہنچی، پڑھی گئی اور قبول ہوئی اور اظہار خوشنودی کا
پروانہ ہمیں ملا۔ اس کے بعد اراکین ریاست میں وہی کتاب خوب تقسیم ہوئی۔ بالمشافہ بڑے بڑے نوابوں، اور ججوں
اور اہلکاروں اور مشائخ سے گفتگو ہوئی اور پیام حق سب کو پہنچایا گیا۔ حضرت خاتم النّبیین کی پیشین گوئی کے
مطابق مسیح موعود، مہدی مسعود کے آنے کی خبر سب کو دی گئی۔ ہر جگہ کم وبیش (قادیانی) سلسلہ کے متعلق گفتگو
بھی ہوئی۔ تسیم کتب کے علاوہ کئی ایک محلوں میں بڑے بڑے شاندار جلسوں میں کئی ایک وعظ ہوئے۔ تین جگہ درس
قرآن شریف جاری ہوا۔ اتفاقی طور پر بعض علماء کے ساتھ
91
بحثیں بھی ہوئیں اور ان بحثوں کے سننے کے واسطے بعض دفعہ کئی سو آدمی کا مجمع بھی ہو جاتا رہا۔ ان سب
باتوں کے علاوہ متفرق طور پر بھی لوگوں کو تبلیغ ہوئی اور ہوتی رہتی ہے۔ کئی ایک آدمی سلسلہ بیعت میں بھی
داخل ہوئے۔ شہراور اس کے نواح میں احمدیت کا خوب چرچا پھیل گیا ہے۔ اکثروں کی بدگمانیاں دور ہورہی ہیں اور
لوگ حق کو قبول کرنے کے نزدیک آتے جاتے ہیں…
سب سے زیادہ خوشی کی بات یہ ہے کہ یہاں کے بادشاہ حضور نظام دکن ایک حد تک سلسلہ حقہ کے صحیح حالات سے
واقف ہوگئے ہیں اور ہم کو یہ امید ہوگئی ہے کہ ہمارے خلاف بے جا تعصب کی باتیں ان کے منصف مزاج قلب پر کوئی
اثر نہ کریں گی اور احمدیوں کو وہ تمام حقوق حاصل ہوں گے جو ایک عدل گستر بادشاہ کی رعایا کو حاصل ہوتے ہیں۔
خواہ وہ کسی مذہبی عقائد کے ہوں۔
پھر یہاں کے اکثر اراکین سلطنت سلسلہ حقہ (یعنی قادیانیت) کے حالات سے آگاہ ہوگئے ہیں۔ حضرت مسیح
موعود (مرزاقادیانی) کے دعویٰ ودلائل سے ایک حد تک وہ واقف ہوچلے ہیں۔ ایک معزز نواب صاحب کے مکان پر درس
قرآن شریف ہوتا ہے۔ ایک پبلک درس چوہدری نواب علی صاحب کے مکان پر ہوتا ہے۔‘‘
(قادیانی مبلغ کی رپورٹ، الفضل قادیان ج۲ نمبر۱۳۰ ص۵،۶، مؤرخہ ۲۲؍اپریل ۱۹۱۵ء)
’’حیدرآباد میں جس کام کے واسطے ہم بھیجے گئے تھے وہ اللہ تعالیٰ کے فضل وکرم سے بہت کچھ پورا ہوگیا ہے
اور اب ہم اضلاع ریاست میں دورہ کر کے کتاب ’’تحفۃ الملوک‘‘ تقسیم کر رہے ہیں اور تبلیغ کر رہے ہیں۔‘‘
(الفضل قادیان ج۲ نمبر۱۴۷ ص۷ کالم۳، مؤرخہ یکم؍جون ۱۹۱۵ء)
’’حافظ روشن علی صاحب بہ ہمراہی سید بشارت احمد صاحب (وکیل) اضلاع ریاست میں تبلیغی دورہ اور حکام
ومعززین میں کتاب ’’تحفۃ الملوک‘‘ تقسیم کر رہے ہیں۔ مفتی محمد صادق صاحب شہر (حیدرآباد) میں تبلیغی کام کر
رہے ہیں۔‘‘
(الفضل قادیان ج۳ نمبر۱ ص۶ کالم۲، مؤرخہ ۲۳؍جون ۱۹۱۵ء)
غرض کہ قادیانی جماعت کو رسنے بسنے کا پورا موقع مل گیا اور انہوں نے ترکیب سے چاروں طرف خوب پیر
پھیلائے۔ حکومت میں، ملازمت میں، تجارت میں، تمدن میں اور معاشرت میں۔ حتیٰ کہ ان کو یہ گھمنڈ ہوگیا۔ ان کا
رسوخ سب طرف حاوی ہے۔ خاص وعام ان کے موافق ومؤید ہیں۔ لہٰذا کسی کی مجال نہیں کہ ان کے مقابل دم مار سکے۔
ظرف واستعداد کم ہو تو انسان نعمت سے بھی نقصان اٹھاتا ہے۔ تمتع میں حد سے زیادہ گزر جاتا ہے۔ چنانچہ اسلامی
رواداری اور حسن سلوک سے قادیانیوں نے بھی ایسا ہی نقصان اٹھایا۔ ’’از ماست کہ برماست‘‘ یہی مثل ان پر صادق
آئی۔ چنانچہ اس کتاب کی جس طرح ابتداء ہوئی، تمہید اوّل میں تفصیل موجود ہے اور جو نتائج پیدا ہوئے وہ بخوبی
ظاہر ہیں۔
خدا شرے بر انگیزد کہ خیر مادران باشد
اعلیٰ حضرت نواب میر عثمان علی خاں بہادر سابع العلوم خلد اللہ ملکہ کی رواداری اور علم دوستی تو شہرۂ
آفاق ہے۔ قادیانی اپنا تبلیغی لٹریچر بارگاہ خسروی میں پیش کرتے تھے۔ بطریق معمول کتاب تو قادیانی مذہب بھی
پیش ہوئی اور اس کو شرف قبول عطاء ہوا۔ چوتھا ایڈیشن ملاحظہ اقدس سے گزرنے کے بعد ایک مکتوب مبارک خانگی طور
پر خواجہ حسن نظامی کو سرفراز ہوا اور چونکہ یہ مکتوب مبارک اسلامی حکومت کے مذہبی مسلک کا صحیح نقشہ تھا کہ
مذہبی آزادی کے کیا شرائط ہیں، رواداری کے کیا حدود ہیں، دینداری کی کیاذمہ داری ہے اور اسلام کی کیا تعلیم
ہے؟ خواجہ صاحب نے خانگی ہونے کے باوجود مکتوب مبارک کو بنظر ہدایت خاص وعام اپنے اخبار منادی میں شائع کرنے
کی عزت حاصل کی۔ کلام الملوک ملوک الکلام، مکتوب مبارک سے ملک وملت میں جس قدر بیداری اور ہدایت پھیلی، بڑی
بڑی تقریروں اور تحریروں سے یہ بات پیدا ہونی دشوار تھی۔ چنانچہ ہم بھی اس ہدایت مآب مکتوب مبارک سے اس کتاب
کو مزین کرنے کی سعادت حاصل کرتے ہیں۔
92
نقل مکتوب حضور نظام
| حیدرآباد دکن، مؤرخہ ۱۸؍مئی ۱۹۳۶ء |
خواجہ حسن نظامی صاحب! |
مولوی محمد الیاس برنی جو کہ یہاں پروفیسر ہیں، ان کو تو جانتے ہوں گے کہ یہ کس طرح سے اپنی حد تک
مذہبی خدمات انجام دے رہے ہیں۔ یعنی انہوں نے چند کتب قادیانی مذہب کی شرح سے متعلق لکھی ہیں تاکہ اس مذہب
کے اسرار نہاں سے پردہ اٹھایا جائے تاکہ کم فہم واستعداد کے اشخاص ان کے گمراہ کن خیالات میں مبتلا نہ ہو
جائیں۔
اس ضمن میں یہ کہہ دینا ضروری ہے کہ ہر انسان جو چاہے اپنی حد تک کوئی بھی مذہب اختیار کرے، جس کو کہ
وہ اچھا جانتا ہے اور جو چاہے اپنے عقائد رکھے۔ بشرطیکہ اس کا اثر دوسرے مذاہب کے اشخاص پر نہ پڑتا ہو اور
جب کہ معاملہ ایسا ہو تو پھر کسی کو اعتراض کا حق نہیں ہے۔ مگر معاملہ جب قابل اعتراض ہو جاتا ہے کہ دوسروں
سے مخاطب ہوکر کہا جائے کہ اگر کوئی شخص کہنے والے کے مذہب یا اعتقادات کی پیروی نہ کرے گا تو اس کے نزدیک
وہ خارج از مذہب بلکہ کافر ہو جاوے گا۔
چنانچہ یہی پوائنٹ ہے جو کہ اس وقت شاید معرض بحث میں ہے جس پر خامہ فرسائی اور ہر کتب لکھنے کی
بھرمار ہورہی ہے اور یہ کسی حد تک درست ہے۔ بہرختم نبوت ہو چکی اور یہ اسلام کا متفقہ فیصلہ ہے جو کہ اٹل
ہے۔ ورنہ بعد رسول اللہ ﷺ اگر یہ سلسلہ خدا کو باقی رکھنا منظور ہوتا تو اس کے لئے بہت سے نفوس قدسیہ اس وقت
موجود تھے۔ وہ کون؟ وہی جو کہ ’’لحمک لحمی ودمک دمی‘‘ سے مرکب ہے۔
پس ظاہر ہوا کہ جب نوبت یہاں تک نہیں پہنچی تو ماوشما کا کیا ذکر۔ الحاصل آج کل کی دنیا میں مذہب کی
وقعت بازیچہ اطفال سے زیادہ نہیں ہے۔ برخلاف اس کے مذہب اسلام کی کیا خوبیاں ہیں اور اس میں کون کون سے
اسرار وغوامض ہیں اور اس کو سمجھانے والے کس طرح سے ہم کو سمجھنے کی ہدایت فرماگئے ہیں۔ اس پر ہم عامل نہیں
رہے ورنہ اسلام کی شان اس وقت اور ہی کچھ ہوتی۔ خیراب بھی وقت باقی رہ گیا ہے کہ ہم تلافی مافات کر لیں تاکہ
اس کے ذریعہ نجات اخروی حاصل ہو۔
شاباش خواجہ صاحب کہ میرا دوسرا خط بھی شائع کر دیا۔ معلوم ہوتا ہے کہ میری خانگی تحریرات کو پبلک میں
لانا اچھی چیز خیال کر رکھا ہے۔ حالانکہ وہ میرے ٹوٹے پھوٹے خیالات کا آئینہ ہوتے ہیں جو کہ میرے احباب کی
حد سے متجاوز نہ ہونا چاہئیں۔ زیادہ والسلام!
(عثمان علی)
(اخبار منادی دہلی، بابت ۲۲؍مئی ۱۹۳۶ء)
واقعہ یہ ہے کہ یوں تو ابتداء ہی سے مسلمانوں نے قادیانی تحریک کی روک تھام کی تردید میں کتابیں
لکھیں، مناظرے کئے، اخبارات میں مضامین لکھے۔ مثلاً مولانا محمد علی صاحب مرحوم مونگیری، نواب فضیلت جنگ،
مولانا انوار اللہ خان صاحب مرحوم حیدرآبادی اور مولانا ثناء اللہ خاں صاحب امرتسری یا جدید تعلیم یافتہ
مسلمانوں میں مولوی ظفر علی خاں صاحب کرم آبادی۔ ان جیسے اکابر ملت نے قادیانی تحریک کے انسداد میں بہت کام
کیا۔ لیکن خود مرزاغلام احمد قادیانی اور ان کے متبعین نے ابہام والتباس کے زور سے اس تحریک کو ایسا چیستان
اور معمہ بناکر پیش کیا کہ لوگ الجھن سے گھبرا کر تحقیق سے بچنے لگے اور دیگر اسلامی فرقوں کی طرح اس کو بھی
ایک اسلامی فرقہ سمجھنے لگے کہ گویا یہ بھی علماء اسلام کا کوئی فروعی اختلاف ہے۔ اس کے ساتھ ہی قادیانیوں
نے تبلیغ اسلام کے نام سے کچھ تگ ودو شروع کی اور اشتہار بازی سے پورا کام کیا۔ ترکیب چل گئی۔ صحیح حالات کا
انکشاف تو نہ ہوا، حسن ظن کی بناء پر تائید دین کے خیال سے مسلمان امراء، رؤسا قادیانی جماعتوں کی
93
قدرافزائی کرنے لگے، امداد دینے لگے۔ عام مسلمانوں کو متأثر کرنے کی غرض سے قادیانی جماعتیں ان قدر
افزائیوں کی تشہیر کرتی رہیں کہ گویا مسلمانوں کے سرکردہ ان کے مداح اور مؤید ہیں تو پھر مسلمانوں کو ان سے
اختلاف اور احتراز کرنے کی کیا گنجائش ہے۔ نتیجہ یہ کہ سربرآوردہ مسلمانوں کے اس حسن ظن اور حسن سلوک کا
مسلمانوں کے دلوں پر بہت بار پڑا اور قادیانی جماعتوں نے رسوخ پھیل انے میں اس سے بہت کام لیا۔ مسلمانوں ہی
کے اثر سے مسلمانوں کو دبایا۔ جہاں مسلمانوں نے آواز اٹھانی چاہی، بڑے بڑوں کی تائیدیں شائع کرکے منہ بند کر
دیا۔ چنانچہ ایک لطیفہ ہوا۔ قادیانی جماعت لاہور کے اکابر نے ہماری کتاب کے چوتھے ایڈیشن پر اپنے اخبار
’’پیغام صلح‘‘ لاہور میں جو واویلا کیا تو حسب عادت اپنی کارگزری کے ثبوت میں ہزہائینس نواب صاحب مانگرول کی
تائیدی رائے شائع کی جو خدا جانے کن تدابیر سے کب حاصل کی گئی تھی۔ لیکن ان کو علم نہ تھا کہ عالی جناب نواب
صاحب مانگرول اس دوران میں ہماری کتب ’’قادیانی مذہب‘‘ ملاحظہ فرما کر اصل حال سے واقف ہوچکے تھے اور
قادیانیت کے متعلق صحیح رائے قائم فرماچکے تھے۔ چنانچہ ہم نے جواب میں رائے مبارک شائع کر دی تو قادیانی
صاحبان اپنا سا منہ لے کر رہ گئے۔ یہ رائے مبارک بھی مسلمانوں کے واسطے باعث ہدایت اور قابل یادگار ہے۔
’’میں نے آپ کی مرسلہ چاروں کتابیں (قادیانی مذہب) توجہ سے پڑھیں۔ نقش اوّل سے نقش ثانی اور ثانی سے
ثالث اور ثالث سے رابع کو بہت بہتر پایا۔ حقیقت میں آپ نے نہایت توجہ اور غور وخوض کے بعد اس آخری نمبر کو
تیار کیا اور اس کی اشاعت سے دین اسلام کی ایک نہایت اہم خدمت انجام دی۔ قوم مسلم کو ایک بڑے خطرے اور فتنہ
سے آگاہ کر دیا۔ اللہ تعالیٰ آپ کو ان خدمات دینی وقومی کا اجر جمیل عطاء فرماوے۔ جزاک اللہ
احسن الجزاء‘‘
(منجانب عالی جناب نواب صاحب مانگرول)
مزید برآں خواجہ نظامی صاحب نے اپنے روزنامچہ میں لکھا اور یہ روزنامچہ اخبار ’’منادی‘‘ میں بتاریخ
۳۰؍اکتوبر ۱۹۳۶ء شائع ہوا کہ انہوں نے نواب صاحب (مانگرول) کا ایک فرمان مانگرول کے شیخ الاسلام کے پاس
دیکھا جس میں نواب صاحب نے شیخ الاسلام کو لکھا تھا کہ آپ قادیانی عقائد کی تردید میں جو کچھ کہتے اور لکھتے
ہیں، میں اس کو اسلام کی ایک بڑی خدمت تصور کرتا ہوں۔
غرض کہ مسلمانوں کے اعلیٰ طبقوں میں بیداری پھیلی اور قادیانیت کی حقیقت کھلی تو لامحالہ قادیانی
جماعتوں کی ہواخیزی ہوئی۔ تارعنکبوت کی طرح تدابیر ٹوٹ گئیں اور ملمع کی طرح رسوخ اڑ گیا۔ قدرتاً یہ انقلاب
قادیانیوں کو سخت گراں گزرا۔ اپنی عادت کے مطاق سخت کلامی پر اتر آئے۔ حتیٰ کہ ان کی لاہوری جماعت جو
مسلمانوں کی خوشنودی کا خاص لحاظ رکھتی تھی اور ان سے بے تکلف امداد پاتی تھی، اس نے بھی مایوس ہوکر طعن
وتشنیع کا مشغلہ اختیار کیا۔ چنانچہ ملاحظہ ہو:
’’آج کل اس جماعت کے عبرت انگیز تماشے اکثر دیکھنے میں آتے ہیں۔ چند خود غرض، خود پرست اور دشمنان ملت
نے احمدیت کے خلاف جو طوفان مخالفت برپا کر رکھا ہے، اس کی ناپاک لہروں سے بڑے بڑے مولویوں کی عبائیں اور
عمامے اور بڑے بڑے لیڈروں، شاعروں اور اخبار نویسوں کے طرہ ہائے افتخار آلودہ ہو رہے ہیں۔ اغراض وعزت کی
قربان گاہ پر اصول بے محابا قربان کئے جارہے ہیں۔ ان لوگوں کے دلوں اور زبانوں میں کوئی مطابقت نہیں رہی اور
یہ اپنے گزشتہ اقوال اعمال کو بھی فراموش کر گئے ہیں۔ ایسی ایسی بے جوڑ اور غیرمعقول باتیں ان کی طرف سے کہی
جارہی ہیں جنہیں سن کر تعجب ہوتا ہے۔ مسلمانوں کے اعلیٰ دماغوں کی باطل سے یہ مرعوبیت بے حد افسوس ناک ہے۔
مخالفین احمدیت کا ایک گروہ ایسا بھی ہے جو سرکردہ مسلمان علماء قائدین کو احمدیت کے متعلق اظہار رائے
پر مجبور کرتا ہے۔ اگر وہ خاموش رہیں یا اپنے دلی خیالات وعقائد کا اعلان کر دیں تو ان کو طرح طرح سے بدنام
کیا جاتا ہے۔ اس لئے انہیں مجبوراً مخالفین کا ہم نوا ہونا پڑتا ہے۔ اپنے اخلاق واصول کی قربانی کرنی پڑتی
ہے۔ ان کا یہ اخلاقی افلاس واقعی قابل رحم ہے۔ لیکن اگر یہ خدا پر بھروسہ اور اپنے ضمیر
94
کا احترام کرتے اور سچی بات واضح الفاظ میں کہہ دیتے تو انہیں یہ دقت پیش نہ آتی۔ ہمیں افسوس ہے کہ
گزشتہ ماہ مولانا ابوالکلام آزاد کو بھی اس مصیبت کا سامنا کرنا پڑا۔ بعض لوگ عرصہ سے اس مصیبت میں گرفتار
کرنے کی کوشش کر رہے تھے۔ مگر مولانا سکوت وخاموشی کے قلعہ میں پناہ گزین تھے۔ لیکن ہوشیار وپرفن حیلہ سازوں
نے کچھ ایسے جال بچھائے کہ طائر آزاد اپنے نشیمن خاموشی سے نکل کر ان کے جال میں گرفتار ہوگیا۔ انا اللہ وانا الیہ راجعون!
اخبار ’’زمیندار‘‘ ۲۶؍جون ۱۹۳۶ء میں مولانا موصوف کے دو مکتوب شائع ہوئے ہیں، جن میں آپ نے احمدیت کی
مخالفت فرماتے ہوئے مجددین اور حدیث کی ضرورت سے ہی انکار فرمادیا ہے۔ ان خطوں کو رقم فرمانے کی مولانا کو
کیوں ضرورت پیش آئی… اب ذرا مولانا ابوالکلام کے ارشاد ملاحظہ فرماویں۔ پہلے مکتوب میں فرماتے ہیں:
باقی رہے مرزا (غلام احمد قادیانی) صاحب کے دعاوی تو میں نہیں سمجھتا کہ کوئی شخص جس نے اسلام کے اصول
ومبادیات کو سمجھا ہے اور عقل سلیم سے بے بہرہ نہیں، یہ دعاوی ایک لمحہ کے لئے بھی تسلیم کر سکتا ہے۔‘‘
(پیغام صلح لاہور ج۲۴ نمبر۴۲ ص۵ کالم۱، مؤرخہ ۳؍جولائی ۱۹۳۶ء)
اسی طرح دیگر اسلامی مفکرین ومصنّفین مثلاً ڈاکٹر سر محمد اقبال، مولانا سید سلیمان ندوی، مولانا
عبدالماجد دریابادی وغیرہ کے متعلق شکایات کے دفتر کھلے کہ کبھی کچھ تو معترف تھے مگر اب کیسے محترز بلکہ
مخالف ہوگئے۔ حالانکہ خود قادیانی منافقت اس انجام کی ذمہ دار ہے۔ اگر شکایت کریں تو مسلمان کر سکتے ہیں کہ
ان کے حسن ظن اور حسن سلوک سے کس درجہ بے جافائدہ اٹھایا کہ درپردہ خود ان کے دین وملت کی بیخ کنی شروع کر
دی اور پھر یہ سینہ زوری کہ ان سے الٹی شکایت ہورہی ہے۔
قادیانیوں نے یہ بھی اچھی طرح محسوس کر لیا کہ ان کے مقابل مسلمانوں میں جو بیداری پھیلی اور جنبش
پیدا ہوئی ہے، وہ رکنے والی نہیں ہے، بلکہ دور کی خبر لائے گی۔ چنانچہ ملاحظہ ہو:
’’مجھے یاد ہے ہم میں سے بعض کہا کرتے تھے کہ اب مولوی ثناء اللہ صاحب کی طاقت ٹوٹ گئی ہے۔ مگر اب میں
ان سے پوچھتا ہوں کہ ان کی طاقت زیادہ تھی یا احرار کی۔ اسی طرح اب بعض یہ خیال کر رہے ہیں کہ احرار کی طاقت
ٹوٹ گئی ہے۔ اب ہم سوجائیں مگر یاد رکھو تمہارے لئے سونا مقدر نہیں ہے۔ تم یا تو جاگو گے اور یا مرو گے۔‘‘
(ہارئے رے بے خوابی!)
-
موت کا ایک دن معین ہے
نیند کیوں رات بھر نہیں آتی
(الفضل قادیان ج۲۳ نمبر۲۷۰ ص۴ کالم۲،۳، مؤرخہ ۲۲؍مئی ۱۹۳۶ء، خطبات محمود ج۱۷ ص۳۰۶)
’’اب تو مسلم لیگ نے بھی جس کے ممبر آزاد خیال اور روادار سمجھے جاتے ہیں اور ہندوستان کی ذہنی روح
تصور کئے جاتے ہیں، ایک حلف نامہ تیار کیا ہے کہ جو ان کی طرف سے اسمبلی کے لئے امیدوار کھڑا ہو وہ یہ حلف
اٹھائے کہ میں اسمبلی میں جاکر احمدیوں کو مسلمانوں سے علیحدہ اقلیت منظور کرانے کی کوشش کروں گا۔‘‘
(پیغام صلح لاہور ج۲۴ نمبر۶۰، مؤرخہ ۱۹؍ستمبر ۱۹۳۶ء)
واقعات پر کہاں تک پردہ ڈالا جاسکتا ہے۔ بالآخر عاجز آکر خود قادیانیوں کو تسلیم کرنا پڑا کہ:
’’ایک وقت یہ تھا کہ سلسلہ (قادیانی) سب کو کھائے جارہا تھا۔ دنیا کی نگاہیں باربار اٹھتی تھیں کہ
حقیقی عامل یہ جماعت پیدا ہوگئی ہے اور آج یہ حالت ہے کہ اچھے اچھے لوگ بھی جن کے دل ادھر کھینچے ہوئے تھے،
وہ نفرت کرنے لگ گئے۔‘‘
(پیغام صلح لاہور ج۲۴ نمبر۶۳، مؤرخہ ۳؍اکتوبر ۱۹۳۶ء)
ادھر مرزاقادیانی کی نبوت کا تو پردہ ایسا چاک ہوا اور اصلیت کھلنے پر دلوں کا وہ حال ہوا کہ خود
قادیانی چلا اٹھے کہ:
95
’’وہ چمکتا ہوا ستارہ جسے خدا نے دنیا کی ہدایت کے لئے پیدا کیا، لوگوں کی آنکھوں میں نور پیدا کرنے
کی بجائے سردست تو حاسدوں کے دلوں میں ایک انگارہ بن کر جل رہا ہے۔ یعنی خدا کا مسیح دنیا کی تضحیک اور اس
کے تمسخر کا مرکز بنا ہوا ہے۔‘‘
(الفضل قادیان ج۲۴ نمبر۱۳۳ ص۷،۸، مؤرخہ ۳؍دسمبر ۱۹۳۶ء، خطبات محمود ج۱۷ ص۷۱۴)
’’قادیانی اس حقیقت سے آگاہ ہوچکے ہیں کہ ان کی خانہ ساز نبوت کچھ دنوں کی مہمان ہے۔ جماعت احمدیہ
(لاہوری جماعت) نے ان کے دعاوی کی حقیقت طشت ازبام کر رکھی ہے۔ اس وقت وہ ناکامی پر پردہ ڈالنے کے لئے ادھر
ادھر اندھیرے میں ہاتھ پاؤں مار رہے ہیں کہ شاید کسی تنکے کا سہارا ان کو ورطہ ہلاکت سے بچالے۔‘‘
(پیغام صلح لاہور ج۲۴ نمبر۶۳ ص۸ کالم۱، مؤرخہ ۳؍اکتوبر ۱۹۳۶ء)
’’قادیانیوں کی خانہ ساز نبوت کا طلسم ٹوٹ چکا ہے۔ روزبروز یہ حقیقت دنیا پر واضح ہو رہی ہے کہ نبی
کریم کے بعد اس امت کے لئے کوئی نبی نہیں آئے گا۔ نیا ہو یا پرانا۔ گزشتہ تیرہ سو سال کی مذہبی تاریخ اس بات
پر شاہد ہے کہ آنحضرت کے بعد نبوت کا دروازہ بند ہے اور آپ کے بعد جس قدر بھی متنبی ہوئے ہیں، سب کے سب ذلیل
وخوار ہوئے ہیں۔ جو اس باب کا بین ثبوت ہے کہ آپ خاتم النّبیین ہیں اور آپ کے بعد کوئی نبی نہیں آئے گا۔‘‘
(پیغام صلح لاہور ج۲۴ نمبر۶۴ ص۵ کالم۱، مؤرخہ ۷؍اکتوبر ۱۹۳۶ء)
بہرحال قادیانی مذہب اور اس کے پیروؤں کی حقیقت کھل گئی اور ایک جماعت نے اعتراف کر لیا کہ:
’’جس مذہب (قادیانی) کو ایسی کمزور بنیادوں پر بنایا جارہا ہے، یہ کبھی نہیں بن سکتا۔ یہ سمجھنا کہ
لاکھ کے قریب آدمی اس کو مانتے ہیں، محض سراب ہے۔ ان میں سے ننانوے ہزار ایسے ہوں گے جو مطلق سوچ وفکر سے
کام نہیں لیتے۔ پیرپرستی میں انسان عقل وخرد کو جواب دے دیتا ہے اور مرید عقیدت کے پیش نظر پیر کے عیوب کی
پردہ پوشی کرتے ہیں۔‘‘
(پیغام صلح لاہور ج۲۴ نمبر۶۳ ص۴ کالم۲، مؤرخہ ۳؍اکتوبر ۱۹۳۶ء)
قادیانیوں کی لاہوری جماعت مصلحت آمیزی میں بڑی ماہر تھی۔ وہ قادیانی تعلیم کو اس رنگ میں پیش کرتی
تھی کہ مسلمانوں کو کوئی شک وشبہ پیدا نہ ہوسکے بلکہ ان ہی کی امداد واعانت سے قادیانی مشن چل سکے۔ مدتوں یہ
دورنگی خوب چلی لیکن آخر تا بکے۔ راز فاش ہونا تھا، ہوگیا۔ مسلمانوں نے دست کشی اختیار کر لی تو لامحالہ اس
جماعت پر بھی زد پڑی۔ گرچہ اندرونی حالات افشا نہیں ہونے دئیے جاتے، پھر بھی کبھی کبھی جھلک نظر پڑ جاتی ہے۔
چنانچہ ملاحظہ ہو:
’’ان لوگوں کا دعویٰ ہے کہ ہم احمدیت کو چند روز میں نیست ونابود کر دیں گے۔ ان کی اس خام خیالی پر
مجھے افسوس ہے۔ لیکن اس سے زیادہ افسوس اپنے بعض ان لوگوں پر ہے جن کے دل کمزور ہوگئے ہیں۔ میں یہ تو نہیں
کہتا کہ ایمان یا حضرت مسیح موعود کے دعاوی پر یقین کے رنگ میں کمزور ہوگئے ہیں۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ آج
کل احمدیت کی مخالفت کا بہت زور ہے۔ ہمارے مخالفین احمدیت کو مٹانے پر تلے ہوئے ہیں۔‘‘
(قادیانی جماعت لاہور کے امیر مولوی محمد علی لاہوری قادیانی کا خطبہ جمعہ، پیغام صلح لاہور ج۲۴
نمبر۷۰، مؤرخہ ۳؍نومبر ۱۹۳۶ء)
’’موجودہ مشکلات کی وجہ سے ہمیں اپنے چند کارکنوں کو بھی جواب دینا پڑا۔ اس طرح انہیں تکلیف ہوئی اور
ان کی تکلیف سے ہمیں بھی تکلیف پہنچی ہے۔ یہ نہیں کہ ہم ان کی تکلیف کو محسوس نہیں کرتے۔ کسی کا یہ خیال
کرنا صحیح نہیں کہ انجمن کے چند سربرآوردہ ارکان اوپر چھریاں لے کر بیٹھے ہوئے ہیں۔ وہ کسی تکلیف کو محسوس
کئے بغیر تخفیف کر رہے ہیں۔ بلکہ حقیقت یہ ہے کہ وہ اپنی تمام ذمہ داریوں کو پوری طرح جانتے ہیں۔ ان کے ہاتھ
میں ایک امانت دی گئی ہے۔ موجودہ حالات میں وہ دیکھتے ہیں کہ ہم اس حد تک قدم اٹھا سکتے ہیں۔ اس سے آگے نہیں
جاسکتے۔ اسی وجہ سے انہوں نے نہایت افسوس کے ساتھ چند کارکنوں کو جواب دے دیا ہے۔ میں یہ بھی کہہ دینا چاہتا
ہوں کہ اس بارہ میں ہم جس حد تک پہنچے ہیں، وہ بظاہر آخری حد معلوم نہیں ہوتی… میں نہیں کہہ سکتا کہ آئندہ
کن حالات سے دوچار ہونا پڑے گا۔ آپ اتنا سوچ لیں کہ اگر آپ خلوص کے ساتھ
96
اس جماعت کے اندر آئے ہیں تو کوئی دکھ اور تکلیف ان کے قدم کو پھسلانے کا موجب نہیں ہوسکتی اور جو
بھی مشکلات آئیں، انہیں ہر حالت میں مردانہ وار برداشت کریں۔‘‘
(قادیانی جماعت لاہور کے امیر مولوی محمد علی لاہوری قادیانی کا خطبہ جمعہ، پیغام صلح لاہور ج۲۴
نمبر۷۳، مؤرخہ ۱۵؍نومبر ۱۹۳۶ء)
رہی قادیانی جماعت قادیان، جو مذہباً ٹھیٹھ قادیانی ہے، وہاں تو اندرونی معاملات میں اور بھی رازداری
ہے۔ تاہم حالت بے قراری ہو تو کبھی نہ کبھی بات منہ سے نکل ہی جاتی ہے۔ بعض تازہ ترین حالات خود مرزامحمود
خلیفہ قادیان کی زبانی سنئے۔
میاں صاحب عالم بیداری کے مقابل اپنی جماعت کو ڈھارس بندھانا چاہتے ہیں۔ لیکن اس پر جو افسردگی اور بے
حسی طاری ہوچکی ہے اس سے عاجز معلوم ہوتے ہیں۔ چنانچہ ملاحظہ ہو:
’’میں نے باربار جماعت کو توجہ دلائی کہ وہ اپنے آپ کو ان مشکلات اور ابتلاؤں کے لئے تیار کریں جو
مستقبل میں ان کا انتظار کر رہے ہیں۔ مگر مجھے افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ آرام یا آرام تو نہیں کہنا چاہئے،
آرام طلبی جو موجودہ طرز رہائش کی وجہ سے دنیا میں خصوصاً ہندوستانیوں میں پیدا ہورہی ہے، اس کی وجہ سے اکثر
دوست اس بات کی جو میں کہتا ہوں، اہمیت کو نہیں سمجھتے اور اپنے اندر تغیر پیدا کرنے کے لئے آمادہ وتیار نظر
نہیں آتے… میں نے متواتر توجہ دلائی ہے کہ آئندہ کے خطرات کو محسوس کرو، اپنے اندر تغیر پیدا کرو اور ان
قربانیوں کی طاقت اپنے اندر پیدا کرو جن کے نتیجے میں محفوظ رہ سکو۔ مگر بعینہٖ اسی طرح جس طرح ایک افیونی
کو جگایا جاتا ہے مگر وہ پھر سوجاتا ہے، پھر جگایا جاتا ہے اور پھر سو جاتا ہے۔ جماعت کے دوستوں کو جگایا
جاتا اور ہوشیار کیا جاتا ہے اور وہ قربانی کے لئے تیار ہو جاتے ہیں، مگر پھر سو جاتے ہیں۔ انہیں سوچنا
چاہئے کہ کب تک کوئی گلا پھاڑتا رہے گا۔ اگر یہی حالت رہی تو تم سمجھ سکتے ہو اس کا کیا انجام ہوگا۔‘‘
(الفضل قادیان ج۲۳ نمبر۲۷۰ ص۱،۲، مؤرخہ ۲۲؍مئی ۱۹۳۶ء، خطبات محمود ج۱۷ ص۲۹۸تا۳۰۱)
میاں صاحب کو قادیانی جماعت سے ظاہری نمائش اور بے عملی کی سخت شکایت ہے۔ چنانچہ ملاحظہ ہو:
’’پس میں اپنی جماعت کو اس امر کی طرف توجہ دلاتا ہوں کہ باتیں کرنے کا کوئی فائدہ نہیں۔ تم باتیں
کرتے ہو مگر کام نہیں کرتے۔ یہاں مجالس شوریٰ ہوتی ہیں۔ دھڑلے سے تقریریں کی جاتی ہیں۔ لوگ رو بھی پڑتے ہیں
اور یوں معلوم ہوتا ہے کہ ان کا کلیجہ باہر آنے لگا ہے۔ مگر جب یہاں سے جاتے ہیں تو سست ہو جاتے ہیں۔ لوگ
چندے لکھواتے ہیں مگر دینے کے لئے نہیں بلکہ لوگوں میں نام پیدا کرنے کے لئے۔ وہ کہتے ہیں کہ ہم احمدیت کے
لئے ہر چیز قربان کرنے کے لئے تیار ہیں۔ مگر وہ قربانی کے وقت پیچھے ہٹ جاتے ہیں۔‘‘
(مرزامحمود خلیفہ قادیان کی تقریر، اخبار الفضل قادیان ج۲۴ نمبر۲ ص۹ کالم۱، مؤرخہ ۲؍جولائی ۱۹۳۶ء،
انوار العلوم ج۱۴ ص۲۴۲)
قادیانی جماعت میں پھوٹ پڑ رہی ہے۔ بقول مرزامحمود خلیفہ قادیان ایک معتدبہ حصہ اس عام مرض میں مبتلا
ہے اور خلیفہ قادیان کی بات نہیں سنتا۔ چنانچہ ملاحظہ ہو:
’’باقی رہیں دوسری قربانیاں، ان کا بھی یہی حال ہے۔ ابھی تک میں یہی سنتا ہوں کہ فلاں کی فلاں سے
لڑائی ہے۔ حتیٰ کہ نماز بھی الگ پڑھی جاتی ہے۔ ایک دوست نے سنایا کہ ایک جگہ پانچ احمدی ہیں اور پانچوں الگ
الگ نماز پڑھتے ہیں… میں نے بارہا کہا ہے کہ خدا کی عبادت میں ایسا نہ کرو، مگر بعض لوگوں پر کوئی ایسی لعنت
برسی ہے کہ ان پر کوئی اثر ہی نہیں ہوتا… پھر میں نے توجہ دلائی ہے کہ صلح کرو اور آپس میں محبت پیدا کرو،
مگر اس کی طرف بھی پوری توجہ نہیں کی جاتی۔ غرض جماعت کا ایک معتدبہ حصہ ایسا ہے۔ یہ نہیں کہ ساری کی ساری
جماعت ایسی ہے، مگر غرباء میں بھی اور امراء میں بھی ایسے لوگ ہیں جو ہمارے ملک کے اس عام مرض میں مبتلا
ہیں۔ یہ لوگ وعظ مزے لینے کے لئے سنتے ہیں، عمل کے لئے نہیں۔ اگر عمل کے لئے سنتے تو آج تک ولایت اور سلوک
کی کئی منازل طے کر چکے ہوتے۔ (گویا واعظ
97
صاحب خود طے کر چکے ہیں۔ للمؤلف) مگر وہ مزے کے لئے سنتے یا اخبار میں پڑھتے ہیں۔ (وعظ ہوتے بھی ہیں
مزیدار۔ کیا کیا جائے اگر کسی کو بے اختیار مزہ آجائے۔ للمؤلف)‘‘
(الفضل قادیان ج۲۳ نمبر۲۷۰ ص۵تا۷، مؤرخہ ۲۲؍مئی ۱۹۳۶ء، خطبات محمود ج۱۷ ص۳۰۸تا۳۱۰)
سرد مہری کی یہ نوبت ہے کہ خلیفہ قادیان کے زیراہتمام حسب معمول قادیان میں سالانہ جلسہ ہوتا ہے تو
مقامی قادیانی امداد سے جان چراتے ہیں۔ نہ مہمانوں کو مکان دیتے ہیں، نہ کام میں ہاتھ بٹاتے ہیں۔ خلیفہ
قادیان بڑی ترکیب سے سب کو سمجھاتے مناتے ہیں۔ چنانچہ ملاحظہ ہو:
’’پس میرے لئے یہ بات ماننی ذرا مشکل ہے کہ دوست اپنے مکان خالی نہیں کرتے یا مہمانوں کے لئے اپنی
خدمات پیش نہیں کرتے۔ اس لئے میں سمجھتا ہوں شاید وہی بات ہے کہ افیونی اپنی ڈبیا بھول جاتا ہے اور مکان
لینے والے اچھی طرح تمام لوگوں کے پاس نہیں پہنچے۔ وگرنہ ایمان کے ماتحت تو اس قسم کا سوال ہی پیدا نہیں
ہوسکتا بلکہ کامل ایمان تو بڑی چیز ہے… پس میں تو منتظمین کو ہی ملامت کروں گا اور کہوں گا کہ ان کے کام میں
کچھ نقص ہے اور انہوں نے صحیح طور پر کوشش نہیں کی، ورنہ ہر مکان میں ہر سال کچھ نہ کچھ مہمان ٹھہرتے ہیں
اور ہر سال لوگ مکان دیتے اور ہر سال اپنی خدمات پیش کرتے ہیں۔ اب تو نیشنل لیگ کور بھی قائم ہوچکی ہے۔ جس
کے والنٹیئروں نے حلفیں اٹھائی ہوئی ہیں کہ وہ سلسلہ کی خدمت کریں گے۔ آخر یہ حلف انہوں نے مکھن لگالگا کر
چاٹنی تو نہیں۔ اس کی کوئی نہ کوئی غرض ہونی چاہئے اور وہ غرض یہی ہے کہ وہ سلسلہ کی خدمت کرئیں۔ غرض میں
سمجھتا ہوں اگر کسی شخص میں کوئی کمزوری ہے تو میرا اتنا کہنا ہی اس کے لئے کافی ہے اور اگر افسروں نے
کمزوری دکھائی ہے تو انہیں چستی سے کام لینا چاہئے اور یقین رکھنا چاہئے کہ یہ کام آخر ہو جائے گا۔‘‘
(الفضل قادیان ج۲۴ نمبر۱۴۲ ص۲ کالم۱،۳، مؤرخہ ۱۳؍دسمبر ۱۹۳۶ء، خطبات محمود ج۱۷ ص۷۳۱،۷۳۳)
قادیانی جماعت اب پہلا سا چندہ بھی نہیں دیتی۔ سال بہ سال کمی ہورہی ہے۔ مجبوراً خلیفہ قادیان نے بھی
کارکنوں کو تخفیف کا نوٹس دے دیا۔ چنانچہ ملاحظہ ہو:
’’اس سال چندہ کی وصولی کی رفتار نسبتاً سست ہے اور اب جو کمی پیدا ہورہی ہے اگرجاری رہی تو گزشتہ سال
سے بھی کم چندہ وصول ہوگا۔‘‘
(مرزامحمود احمد خلیفہ قادیان کا اعلان، الفضل قادیان ج۲۳ نمبر۳۰۰ ص۱ کالم۲، مؤرخہ ۲۶؍جون ۱۹۳۶ء)
’’میں قادیان کے لوگوں کو خصوصاً توجہ دلاتا ہوں کہ میرا ہرگز یہ ارادہ نہیں کہ اگر چندہ میں کمی ہو
تو ان کاموں کو جن کو شروع کیا جاچکا ہے، بند کر دیا جائے۔ میں پہلے بھی اشارۃً بیان کر چکا ہوں کہ روپیہ کی
کمی کی وجہ سے کام ہرگز بند نہیں کئے جاسکتے۔ اگر روپیہ کی آمد میں کمی ہوئی تو کارکنوں کی تنخواہیں دس
فیصدی کم کر دی جائیں گی اور اگر دس فیصدی کمی کر کے بھی گزارا نہ ہوا تو ان کی تنخواہوں میں بیس فیصدی کمی
کر دی جائے گی اور اگر بیس فیصدی کمی بھی ضروریات کو پورا نہ کر سکی تو تیس فیصدی کمی کر دی جائے گی اور اگر
تیس فیصدی کمی کافی ثابت نہ ہوئی تو چالیس بلکہ پچاس فیصدی کمی کر دی جائے گی۔ صدر انجمن احمدیہ کے جو کارکن
پہلے سے کام کر رہے ہیں یا وہ کارکن جنہوں نے اس تحریک جدید پر کام شروع کیا ہے، میں آج سے ان سب کو ہوشیار
کر دیتا ہوں کہ اگر انہیں اپنی تنخواہوں میں یہ کمی منظور نہ ہو تو وہ بے شک اپنی نوکریوں کا باہر انتظام کر
لیں۔ (اس بیروزگاری کے زمانہ میں ان لوگوں کو نوکری اور کہاں مل سکے گی۔ للمؤلف)‘‘
(خطبہ جمعہ الفضل قادیان ج۲۴ نمبر۴۳ ص۹ کالم۱،۲، مؤرخہ ۱۹؍اگست ۱۹۳۶ء، خطبات محمود ج۱۷ ص۵۱۹،۵۲۰)
لیکن قادیانیوں کی پرانی چاٹ نہیں چھوٹی۔ وہی فرمائشوں کا سلسلہ جاری ہے کہ حکومت میں ہماری سفارش کی
جائے۔ حالانکہ حکومت سے وہ سابقہ تعلقات باقی نہیں رہے اور خلیفہ قادیان ادھر سے سخت مایوس ہوچکے ہیں۔
چنانچہ ملاحظہ ہو:
’’افسوس کہ ہمارے دوستوں کی آنکھیں ابھی تک نہیں کھلیں۔ میرے باربار کے خطبات کے باوجود بعض دوست
لکھتے رہتے ہیں
98
کہ ہماری سفارش کر دو۔ حالانکہ آج کل حکومت کے بعض افسر بھی جماعت احمدیہ کے شدید دشمن ہیں… وہ ان
باتوں کو شاید مبالغہ اور مذاق سمجھتے ہیں۔ جو باتیں مجھے معلوم ہیں، وہ تو بہت بڑی ہیں مگر جتنی میں نے
بتائی ہیں، ان کا ہزاروں حصہ بھی اگر ایک شخص کے متعلق ثابت ہو تو میں موت کو اس کے پاس سفارش کرنے پر ترجیح
دوں… اس میں شبہ نہیں کہ اس قسم کی مثالیں محدود ہیں۔ نہ ہندوستان کی ساری گورنمنٹیں ایسی ہیں، نہ پنجاب
گورنمنٹ کے سارے افسر ایسے ہیں۔ مگر سوال تو یہ ہے کہ ایسے وقت میں کون کہہ سکتا ہے کہ کون کیسا ہے؟ پس ان
حالات میں مناسب یہی ہے کہ انسان غیرت سے کام لے اور کہے کہ ہم سفارش نہیں کراتے… جماعت کے بعض لوگ اس بات
کو نہیں سمجھتے۔ ہمارے ساتھ جو ہورہا ہے اور جس کا میں نے بارہا اپنے خطبات میں ذکر بھی کیا ہے، وہ ان سب
باتوں کو مبالغہ مخول (مذاق) اور کھیل ہی سمجھتے ہیں۔ میں جب یہ حالت دیکھتا ہوں تو اگرچہ لفظوں سے تو نہیں
کہتا مگر میرا دل چاہتا ہے کہ اگر جائز ہوتو خدا تعالیٰ سے کہوں کہ وہ جماعت کے ابتلاؤں کو اور بھی بڑھا
دے، تا ایسے دوستوں کے حواس درست ہوں… میں سمجھتا ہوں اللہ تعالیٰ کی طرف سے یہ حکومت کا ابتلاء اسی وجہ سے آیا
ہے۔ تا اللہ تعالیٰ ہمیں بتادے کہ انگریزی حکومت میں بھی ایسے کل پرزے آسکتے ہیں جو ہمیں نقصان پہنچائیں۔ گویہ
آج تھوڑے ہیں مگر کسی کو کیا معلوم کہ کل زیادہ ہو جائیں۔ اگر آج حکومت پنجاب میں ہیں تو کل حکومت ہند میں
بھی ہوسکتے ہیں۔‘‘
(الفضل قادیان ج۲۳ نمبر۲۷۰ ص۲،۳، مؤرخہ ۲۲؍مئی ۱۹۳۶ء، خطبات محمود ج۱۷ ص۳۰۱تا۳۰۳)
بالآخر خلیفہ قادیان نے قادیانی جماعت میں گرم جوشی پیدا کرنے کی غرض سے ’’تحریک جدید‘‘ کے نام سے تین
سال کا ایک نظام العمل شائع کیا اور اس کے تحت چندہ طلب کیا لیکن خلاف توقع قادیانیوں نے کوئی سرگرمی نہیں
دکھائی اور چندہ بھی کم دیا تو خلیفہ قادیان کو بھی تاب نہیں رہی اور غصہ میں آکر جماعت کو قطع وبرید کی
دھمکی دی۔ چنانچہ ملاحظہ ہو:
’’آج سے تقریباً پونے دو سال پہلے جب میں نے تحریک جدید کا اعلان کیا تھا، جماعت میں ایک شور تھا، ایک
غوغا تھا، ایک ہنگامہ تھا اور لوگ کہہ رہے تھے کہ ہم کو حکم دیجئے۔ ہم اپنا سب کچھ احمدیت کے لئے قربان کرنے
کے لئے تیار ہیں۔ لیکن آج جاؤ اور تحریک جدید کے مالی وعدوں کو دیکھ لو۔ رجسٹر موجود ہیں ان سے معلوم کر
لو۔ پرانے خطوط محفوظ ہیں، انہیں نکال کر پڑھ لو… میں یہ نہیں کہتا کہ وہ لوگ جنہوں نے تحریک جدید میں وعدہ
کیا اور پھر اسے پورا نہیں کیا۔ منافق ہیں مگر کئی تھے، جنہوں نے پہلے سال وعدہ کیا اور پھر وعدہ پورا بھی
کیا مگر دوسرے سال کی تحریک میں آکر رہ گئے۔ ایسے لوگ یک سالہ مومن تھے۔ ان کی دوڑ پہلے سال میں ہی ختم
ہوگئی۔ دوسرے سال کی دوڑ میں وہ شریک نہ ہوسکے… اب ان شاء اللہ ! تیسرے سال کی تحریک آنے والی ہے۔ میں سمجھتا
ہوں کہ کئی ہیں جو اس میں بھی رہ جائیں گے۔ وہ دو سالہ مومن ہوں گے جو تیسری تحریک کے وقت گرجائیں گے۔ غرض
کچھ لوگ اس سال گر گئے اور کچھ لوگ اگلے سال گر جائیں گے۔ پھر کچھ سہ سالہ مومن ہوں گے جو تین سال قربانیوں
پر صبر کر سکتے ہیں، اس سے زیادہ نہیں۔ یہ سب لوگ جھڑتے چلے جائیں گے اور گرتے چلے جائیں گے۔ یہاں تک کہ صرف
وہ مومن رہ جائیں گے جو حیاتی مومن ہوں گے… اللہ تعالیٰ خبیث اور طیب میں ضرور فرق کر کے دکھلائے گا۔ (گویا
چندہ کے حساب سے صرف حیاتی قادیانی طیب رہے باقی یک سالہ، دو سالہ، سہ سالہ قادیانی سب خبیث بن کر نکل گئے۔
للمؤلف) جو لوگ گھبرا رہے ہیں اور خیال کر رہے ہیں کہ اس ذریعہ سے میں جماعت کو چھوٹا کر رہا ہوں، وہ نادان
ہیں۔ وہ جانتے ہی نہیں کہ جماعت ترقی کس طرح کرتی ہے۔ وہ سمجھتے ہی نہیں کہ جماعت کی مضبوطی اور کمزوری کا
کیا معیار ہوا کرتا ہے۔ کیا ایک لمبی زنجیر جس کی بعض کڑیاں کمزور ہوں، وہ مضبوط ہوتی ہے یا وہ چھوٹی زنجیر
جس کی ساری کڑیاں مضبوط اور پائیدار ہوں۔‘‘
(مرزامحمود خلیفہ قادیان کا خطبہ جمعہ، الفضل قادیان ج۲۴ نمبر۴۳ ص۷،۸، مؤرخہ ۱۹؍اگست ۱۹۳۶ء، خطبات
محمود ج۱۷ ص۵۱۵تا۵۱۷)
99
’’مجھے تحریک جدید کے مالی شعبے اور امانت فنڈ دونوں کی رپورٹوں سے معلوم ہوا ہے کہ ان دونوں شعبوں کے
چندوں میں کمی آرہی ہے اور ایک سالہ اور دوسالہ مومن کمزوری دکھا رہے ہیں۔ مگر مجھے اس کی کوئی گھبراہٹ
نہیں۔ میں چاہتا ہوں کہ ایسے لوگ گرجائیں اور ہمارا ساتھ چھوڑ دیں اور صرف ایسی ہی مخلص جماعت رہ جائے جو
پورے طور پر اطاعت کرنے اور اپنی ہر چیز قربان کرنے کے لئے تیار ہو… پس جو کمزور ہیں وہ میری تحریک کی اہمیت
کو سمجھ لیں اور اس کے مطابق عمل کریں، ورنہ اس کے سوا اور کوئی چارہ نہیں کہ یا تو ایک دن مرتد ہوکر انہیں
جماعت سے خارج کرنا پڑے گا یا خود انہیں جماعت سے الگ کر دیا جائے گا… پس ایک بار پھر میں جماعت کے لوگوں کو
نصیحت کرتا ہوں کہ وہ سستی اور غفلت کو چھوڑ دیں، ورنہ اس بات کے لئے تیار رہیں کہ آج نہیںتو کل خداتعالیٰ
کی طرف سے انہیں ٹھوکر لگے گی اور ان پر ایسا ابتلاء آئے گا کہ وہ ایمان سے بالکل محروم کر دئیے جائیں گے۔‘‘
-
رکھیو غالب مجھے اس تلخ نوائی میں معاف
آج کچھ درد مرے دل میں سوا ہوتا ہے
(مرزامحمود خلیفہ قادیان کا خطبہ جمعہ، الفضل قادیان ج۲۴ نمبر۴۳ ص۹تا۱۱، مؤرخہ ۱۹؍اگست ۱۹۳۶ء، خطبات
محمود ج۱۷ ص۵۱۹تا۵۲۴)
بظاہر تو خلیفہ قادیان کا اعلان مارشل لاء معلوم ہوتا تھا اور توقع تھی کہ قادیانی مرعوب ہوکر چندہ کی
ادائی شروع کر دیں گے۔ لیکن شاید وہ اس دھمکی کے راز سے واقف تھے۔ معلوم ہوتا ہے کچھ اثر نہیں لیا۔ بالآخر
حصول چندہ کے واسطے پھر منت لجاجت کا طریق اختیار کرنا پڑا۔ چنانچہ اس بارہ میں فنانشل سیکرٹری تحریک جدید
قادیان نے جو تازہ ترین اپیل شائع کی ہے، وہ بہت سبق آموز ہے۔ اس کا عنوان ہے ’’چندہ تحریک جدید میں تاحال
حصہ نہ لینے والی جماعتوں سے متعلق اعلان‘‘ اس میں درج ہے کہ:
’’حضرت امیرالمؤمنین ایدہ اللہ تعالیٰ کا یہ ارشاد پیش کرنے کے بعد گزارش ہے کہ اس وقت چارسو سے اوپر
جماعتیں ایسی ہیں جن کے وعدے موصول نہیں ہوئے اور اس کی بڑی وجہ یہی معلوم ہوتی ہے کہ سیکرٹری اور پریذیڈنٹ
صاحبان نے (جو غالباً سمجھدار ہوں گے۔ للمؤلف) نہ خود چندہ کا وعدہ کیا ہے اور نہ دوسرے سے لکھا پائے۔
(ہرچہ برخود نہ پسندی بردیگراں مپسند۔ للمؤلف) اس لئے کام کو پیچھے ڈالتے چلے جارہے ہیں۔ ان حالات میں
دوسرے مخلصین سے درخواست ہے کہ وہ اپنی جماعت کے ہر فرد سے معمولی طور پر وعدہ چندہ تحریک جدید سال سوم کی
بابت دریافت فرمالیں اور جو وعدے ہوں فارم پر لکھ کر بھیج دیں تو وہی سیکرٹری اور وہی پریذیڈنٹ کے کام کا
ثواب حاصل کر سکیں گے۔‘‘ (چندہ کے ثواب کی کیسی ناقدری ہورہی ہے کہ کوئی آمادہ نہیں ہوتا جو یہ کام اپنے ذمے
لے۔ زوروزاری بیکار ثابت ہوئی زرنہ ہاتھ آنا تھا نہ آیا۔ للمؤلف)
(الفضل قادیان ج۲۵ نمبر۱۳ ص۴ کالم۳، مؤرخہ ۱۷؍جنوری ۱۹۳۷ء)
نتیجہ یہ کہ قادیانی جماعت خود خلافت کو خفیف سمجھنے لگی۔ خلیفہ قادیان کی بات بے اثر ہوگئی۔ گلا پھاڑ
پھاڑ کر سمجھائیں تو بھی نہیں سنتے۔ لامحالہ خلیفہ قادیان بھی ایسی جماعت سے بیزار ہوگئے اور ایک نئی جماعت
کے واسطے دعا کرنے لگے۔ چنانچہ ملاحظہ ہو:
’’میں نے ہمیشہ بتایا ہے اور اب بھی دو سال سے متواتر بتاتا چلا آرہا ہوں کہ خلافت کی غرض وغایت کچھ
نہ کچھ ضرور ہونی چاہئے اور جب کوئی شخص خلیفہ کی بیعت کرتا ہے تو اس کی بیعت کے بھی کوئی معنی ہونے چاہئیں۔
اگر تم بیعت کے بعد اور میرے ہاتھ میں اپنا ہاتھ دینے کے بعد میری سنتے ہی نہیں اور اپنی ہی کہی چلے جاتے ہو
تو ایسی بیعت کا فائدہ ہی کیا۔ اس صورت میں تو ایسی بیعت کو تہہ کر کے الگ پھینک دینا زیادہ فائدہ مند ہے۔
بہ نسبت اس کے کہ انسان دنیامیں ذلیل ہو اور خداتعالیٰ کی نظر میں بھی لعنتی بنے۔‘‘
(الفضل قادیان ج۲۵ نمبر۱۳ ص۴ کالم۱،۲، مؤرخہ ۱۷؍جنوری ۱۹۳۷ء)
’’پس سچی قربانی کرو اور فضول اور لغو باتیں چھوڑ دو کہ خداتعالیٰ فضول اور لغوباتوں سے خوش نہیں
ہوتا۔ یہ باتیں میں نے اتنی بار
100
کہی ہیں کہ اب کہتے کہتے میرا گلا بھی اس قدر متورم اور زخمی ہوچکا ہے کہ خطبہ جمعہ اور اس کے بعد
نماز میں قرأت بھی بلند آواز سے نہیں پڑھ سکتا اور گلا بیٹھ جاتا ہے۔ پس میں تو اب اللہ تعالیٰ سے یہی دعا
کرتا ہوں کہ وہ اپنے فضل سے ایسے لوگ مجھے عطاء کرے جو سچے طور پر میری باتیں سن کر ان پر عمل کرنے والے
ہوں۔ مجھے اس سے کیا فائدہ کہ لاکھوں آدمی میرے ساتھ ایسے ہوں جو میری باتوں پر عمل کرنے والے نہ ہوں۔ سچے
مومن تو میرے ساتھ اگر دس بیس ہوں تو وہی لاکھوں آدمیوں سے میرے لئے زیادہ خوشی کا موجب ہوسکتے ہیں۔‘‘
(مرزامحمود خلیفہ قادیان کا خطبہ جمعہ، اخبارالفضل قادیان ج۲۳ نمبر۲۹۹ ص۹ کالم۳،۴، مؤرخہ ۲۵؍جون
۱۹۳۶ء، خطبات محمود ج۱۷ ص۴۰۹)
یہی نہیں کہ قادیانی جماعت میں اندرونی ابتری پھیل گئی بلکہ چل چلاؤ شروع ہوگیا اور قادیانیت کو
بچانا دشوار ہوگیا۔ شدت اضطراب میں پردہ اٹھ گیا۔ ورنہ ایسے راز بہت کم ظاہر ہوتے ہیں۔ بہرحال اس ہلچل کا
ایک مختصر خاکہ ملاحظہ ہو:
’’ہمیں نظریہ آتا ہے کہ ہم دشمن کے عمل سے متاثر ہورہے ہیں اور اس کی غلطیاں باربار ہمارے اندر داخل
ہونے کی کوشش کرتی ہیں۔ ہم میں سے جو کمزور لوگ ہیں، بسااوقات وہ ان غلطیوں کا شکار ہوجاتے اور دشمن کے
بداثرات سے متاثر ہو جاتے ہیں… دشمن ہمارے گھروں میں گھس گھس کر ہماری جماعت کے نوجوانوں اور کمزور طبع
لوگوں میں نقص پیدا کرتا رہتا ہے اور ہمارا سارا وقت اس اندرونی نقص کی اصلاح ہی میں صرف ہو جاتا ہے۔‘‘
(خطبہ جمعہ الفضل قادیان ج۲۳ نمبر۲۷۹ ص۳،۴، مؤرخہ ۲؍جون ۱۹۳۶ء، خطبات محمود ج۱۷ ص۳۲۹،۳۳۰)
’’غرض عقیدے کی جنگ میں جہاں ہم نے دشمن کو ہر میدان میں شکست دی اور نہ صرف میدانوں میں اسے شکست دی
بلکہ ہم اس کے گھروں پر حملہ آور ہوئے اور ہم نے اسے ایسا لتاڑا اور ایسا لتاڑا کہ اب اس میں سراٹھانے کی
بھی تاب نہیں رہی۔ دشمن کے ہر گھر میں گھس کر ہم نے اس کے باطل عقائد کو کچلا اور اسے ایسی کھلی شکست دی کہ
دشمن کے لئے اس سے زیادہ کھلی اور ذلت کی شکست اور کوئی نہیں ہوسکتی۔ وہاں عمل کے میدان میں ہم دشمنوں میں
محصور ہوگئے اور ہمارے لئے ان سے بھاگنے کی کوئی جگہ نہ رہی۔ ایک کے بعد دوسرا اور دوسرے کے بعد تیسرا اور
تیسرے کے بعد چوتھا اور چوتھے کے بعد پانچواں آدمی وہ ہم میں سے نقائص اور عیوب میں مبتلا کرتے چلے جاتے
ہیں۔ ہم ایک جگہ سے بھاگتے ہیں اور سمجھتے ہیں کہ دوسری جگہ امن ملے گا۔ مگر وہاں بھی نقص آموجود ہوتا ہے۔
پھر وہاں سے بھاگ کر تیسری طرف جاتے ہیں تو وہاں بھی دشمن آموجود ہوتا ہے۔ تیسری جگہ سے بھاگ کر چوتھی طرف
جاتے ہیں تو اس جگہ بھی دشمن ہمارے مقابلہ کے لئے موجود ہوتا ہے۔ گویا جس طرح چاروں طرف جب آگ لگ جاتی ہے تو
انسان حیران رہ جاتا ہے اور وہ نہیں سمجھ سکتا کہ وہ کیا کرے۔ یہی اس وقت ہماری حالت ہے۔‘‘
(خطبہ جمعہ، الفضل قادیان ج۲۳ نمبر۲۷۹ ص۵ کالم۱،۲، مؤرخہ ۲؍جون ۱۹۳۶ء، خطبات محمود ج۱۷ ص۳۳۲،۳۳۳)
نتیجہ یہ کہ جو صداقت پسند تھے، حقیقت کھلنے پر وہ قادیانیت کے پھندے سے نکل نکل کر اسلام کی طرف
لوٹنے لگے۔ قادیانیوں نے بہت پیچھا کیا لیکن جب بس نہ چلا تو صبر کر لیا کہ جاتے ہیں تو جانے دو، جو بچ رہے
وہی غنیمت ہیں۔ چنانچہ ملاحظہ ہو:
’’اب تو اکثر ایسا ہوتا ہے کہ شیطان آتا ہے اور ہمارے ایک آدمی کو بہکا کر لے جاتا ہے۔ ہم سارا دن اس
کی تلاش اور جستجو میں لگے رہتے ہیں۔ لیکن جب شام ہونے کے قریب ہوتی ہے اور ہم اسے تلاش کر کے واپس لارہے
ہوتے ہیں تو ہمیں آواز آتی ہے کہ ہم میں سے دو اور آدمیوں کو شیطان بہکا کر اپنے ساتھ لے گیا ہے۔ پھر ہم ان
کی تلاش میں نکلتے ہیں تو آواز آتی ہے فلاں آدمی کو بھی شیطان پکڑ کر لے گیا ہے۔ غرض ہم میں اور شیطان میں
ایک جنگ جاری ہے اور جنگ بھی ایسی کہ جس میں ہماری مثال دشمن سے بھاگے ہوئے شکست خوردہ لوگوں کی سی ہے۔ ہم
ایک کو بچاتے ہیں تو دشمن دو کو لے جاتا ہے۔ ہم دو کو بچاتے ہیں تو وہ تین آدمی لے جاتا ہے۔ ہم تین کو بچاتے
ہیں تو وہ چار کو لے جاتا ہے۔‘‘
(خطبہ جمعہ الفضل قادیان ج۲۳ نمبر۲۷۹ ص۴،۵، مؤرخہ ۲؍جون ۱۹۳۶ء، خطبات محمود ج۱۷ ص۳۳۲)
101
’’ذاتی طور پر مجھے اس بات کا قطعاً درد محسوس نہیں ہوسکتا۔ اگر ہماری جماعت موجودہ تعداد سے گھٹ کر
آدھی رہ جائے یا چوتھا حصہ رہ جائے یا اس سے بھی زیادہ گر جائے۔ کیونکہ میں اس یقین پر قائم ہوں کہ مخلصین
وہ کچھ کر سکتے ہیں جو تعداد نہیں کر سکتی۔‘‘
(مرزامحمود خلیفہ قادیان کا خطبہ جمعہ، الفضل قادیان ج۲۴ نمبر۶۹ ص۳،۴، مؤرخہ ۱۹؍ستمبر ۱۹۳۶ء، خطبات
محمود ج۱۷ ص۵۷۳)
ہندوستان میں قادیانی تحریک نے جو کام کیا اور اس کا جو انجام ہوا، آنکھوں کے سامنے موجود ہے۔ اس
تحریک کو تھوڑا بہت جاری رکھنے کی ایک ہی صورت باقی رہ گئی، وہ یہ کہ دور دراز ممالک میں ایک ایک، دو دو
قادیانی بھیج دئیے جاویں۔ وہ وہاں سے تبلیغ کی دل خوش کن خبریں لکھ کر بھیجتے رہیں تو قادیانیوں کی کچھ
ڈھارس بندھے کہ گھر میں قدم اکھڑے تو باہر قادیانیت قدم جما رہی ہے۔ اس ترکیب سے چندہ بھی جمع ہوتا رہے گا
اور بیروزگاری کے زمانہ میں کچھ قادیانی نوجوان بھی روزی سے لگ جائیں گے۔ بیک کرشمہ دوکار۔ چنانچہ تحریک
جدید کے نام سے جو چندہ طلب کیاجارہا ہے، اس میں یہی سبز باغ دکھایا گیا ہے۔ دسمبر ۱۹۳۶ء کے سالانہ جلسہ کی
روئیداد میں تحریر ہے کہ:
’’حضور یعنی میاں محمود احمد صاحب خلیفہ قادیان نے ان تمام نئے تبلیغی مشنوں کا ذکر فرمایا جو ۱۹۳۶ء
کے دوران میں غیرممالک میں تحریک جدید کے ماتحت قائم کئے گئے ہیں۔ سب سے پہلے حضور نے جنوبی امریکہ کے مشن
کے حالات بیان فرمائے جو ارجنٹائن میں قائم کیاگیا ہے۔ پھر ہنگری، البانیہ، یوگوسلاویہ اور ہسپانیہ کے مشنوں
کا ذکر کرتے ہوئے تحریک جدید کے مجاہدین کی قربانیوں اور ارشاد کا ذکر فرمایا۔
اس کے بعد فرمایا: چین کے اس علاقہ میں جہاں چینی حکومت ہے، سابق مبلغ کے علاوہ ایک اور مبلغ بھی
بھیجا گیا ہے۔ پھر ایک اور مبلغ کو جو ڈاکٹر ہیں، تحریک جدید کے ماتحت الی سینا بھیجا گیا، جہاں سے حبشہ اور
اٹلی کی جنگ ختم ہونے پر انہیں نکلنا پڑا اور اب وہ فلسطین آگئے ہیں۔ حضور نے ان مشنوں کا ذکر کرتے ہوئے
فرمایا کہ اتنے ملکوں میں بغیر کسی ایسے بوجھ کے جو جماعت کو محسوس ہو، نہایت قلیل عرصہ میں تبلیغ کا کام
جاری ہو جانا ہماری جماعت کے لئے ایک ایسی مبارک بات ہے کہ جس پر جتنی بھی وہ خوشی کرے کم ہے۔‘‘
(الفضل قادیان ج۲۴ نمبر۱۵۴، مؤرخہ ۲۹؍دسمبر ۱۹۳۶ء)
شاید اسلامی ممالک میں بھی قادیانی بھیجے ہوں اور کسی مصلحت سے ان کا اظہار نہیں کیاگیا۔ صرف ضمناً
فلسطین کا ذکر آگیا جہاں غالباً پہلے سے قادیانی مشن قائم ہے۔ حالانکہ اسلامی ممالک پر تو شروع ہی سے توجہ
رہی ہے۔ چنانچہ خود مرزاغلام احمد قادیانی تحریر فرماتے ہیں کہ:
’’چونکہ میں نے دیکھا کہ بلاد اسلامی، روم ومصر وغیرہ کے لوگ ہمارے واقعات سے مفصل طور پر آگاہ نہیں
ہیں اور جس قدر ہم نے اس گورنمنٹ سے آرام پایا اور اس کے عدل ورحم سے فائدہ اٹھایا، وہ اس سے بے خبر ہیں۔ اس
لئے میں نے عربی اور فارسی میں بعض رسائل تالیف کر کے بلاد شام وروم اور مصر اور بخارا وغیرہ کی طرف رونہ
کئے اور ان میں اس گورنمنٹ کے تمام اوصاف حمیدہ درج کئے اور بخوبی ظاہر کر دیا کہ اس محسن گورنمنٹ کے ساتھ
جہاد قطعاً حرام ہے اور ہزارہا روپیہ خرچ کر کے وہ کتابیں مفت تقسیم کیں اور بعض شریف عربوں کو وہ کتابیں دے
کر بلاد شام اور روم کی طرف روانہ کیا اور بعض عربوں کو مکہ اور مدینہ کی طرف بھیجا اور بعض بلاد فارس کی
طرف بھیجے گئے اور اسی طرح مصر میں بھی کتابیں بھیجیں اور یہ ہزارہا روپے کا خرچ تھا جو محض نیک نیتی سے
کیاگیا۔ (نیک نیتی تو صاف ظاہر ہے۔ للمؤلف)‘‘
’’شاید اس جگہ ایک نادان سوال کرے گا کہ اس قدر خیرخواہی غیرممکن ہے کہ ہزارہا روپیہ اپنی گرہ سے خرچ
کر کے اس گورنمنٹ کی خوبیوں کو تمام ملکوں میں پھیلایا جاوے۔ لیکن ایک عقلمند جانتا ہے کہ احسان ایک ایسی
چیز ہے کہ جب ایک شریف اور ایمان دار آدمی اس سے تمتع اٹھاتا ہے تو بالطبع اس میں عشق ومحبت کے رنگ میں ایک
جوش پیدا ہوتا ہے کہ تا اس احسان کا معاوضہ دے۔ ہاں کمینہ آدمی اس طرف التفات نہیں کرتا۔ پس مجھے طبعی جوش
نے ان کارروائیوں کے لئے مجبور کیا۔‘‘
102
(اشتہار لائق توجہ گورنمنٹ جو جناب ملکہ معظمہ قیصر ہند اور جناب گورنر جنرل ہند اور لیفٹیننٹ گورنر
پنجاب اور دیگر معزز حکام کے ملاحظہ کے لئے شائع کیاگیا۔ منجانب خاکسار مرزاغلام احمد قادیانی، مؤرخہ
۱۰؍دسمبر ۱۸۹۴ء)
(مجموعہ اشتہارات ج۲ ص۱۲۶تا۱۲۸، جدید مجموعہ اشتاہرات ج۱ ص۴۶۱،۴۶۲، تبلیغ رسالت ج۳ ص۱۹۶،۱۹۷ مؤلفہ
میر قاسم علی)
دوسرے ملکوں میں گھسنے کے سوا ہندوستان میں بھی قادیانیوں نے اپنا رخ بدلنا ضروری سمجھا۔ وہ یہ کہ
کانگریس کی طرف جھکیں اور ہندوؤں کی طرف ہاتھ بڑھائیں۔ امید ہے کہ شاید حکومت کو کچھ لاج آئے یا مسلمانوں
کے مقابل کچھ امداد مل جائے۔ اس مقصد کے واسطے پنڈت جواہرلال نہرو سب سے بہتر مرجع نظر آئے۔ چنانچہ قادیانی
جماعت فرط جوش سے پنڈت جی کی طرف لپکی۔ اس انقلاب کی تفصیل تو بارھویں فصل کے آخر میں درج ہے۔ البتہ خود
قادیانیوں کی لاہوری جماعت نے اس پر جو طنز کیا ہے، وہ قابل ملاحظہ ہے:
’’موجودہ زمانہ کو انقلابات کا دور کہا جاتا ہے۔ سورج ہر روز ایک نئے انقلاب کی خبر لے کر طلوع ہوتا
ہے۔ لیکن اس کے باوجود بعض انقلابات ایسے ہوتے ہیں جو دنیا کو محو حیرت کر دیتے ہیں۔ گزشتہ ماہ لاہور میں
پنڈت جواہر لال نہرو کا ’’قادیانی استقبال‘‘ اسی قسم کا ایک حیرت انگیز انقلاب ہے… ۲۹؍مئی کو جب پنڈت
جواہرلال نہرو صدر کانگریس لاہور تشریف لائے تو قادیانی جماعت کی طرف سے ان کا شاندار استقبال ہوا۔ اخبار
’’الفضل‘‘ میں اس کی تفصیل بصد فخر نمایاں طریق پر ’’فخر وطن پنڈت جواہر لال نہرو کا لاہور میں شاندار
استقبال‘‘ کے عنوان سے شائع کی گئی۔‘‘
(پیغام صلح لاہور ج۲۴ نمبر۴۰ ص۳ کالم۱، مؤرخہ ۲۳؍جون ۱۹۳۶ء)
چنانچہ ’’الفضل‘‘ قادیان میں جو استقبال کی تفصیل شائع ہوئی، اس میں درج ہے کہ:
’’علی الصباح چھ بجے تمام باوردی (قادیانی) والنٹیئرز باقاعدہ مارچ کرتے ہوئے ریلوے اسٹیشن پر پہنچ
گئے۔ یہ نظارہ حددرجہ جاذب توجہ اور روح پرور تھا۔ ہر شخص کی آنکھیں اس طرف اٹھ رہی تھیں۔ استقبال کا
تقریباً تمام انتظام (قادیانی) کور کر رہی تھی اور کوئی آرگنائزیشن اس موقعہ پر نہ تھی، سوائے کانگریس کے
ڈیڑھ دو درجن والنٹیئروں کے اسٹیشن سے لے کر جلسہ گاہ تک اور پلیٹ فارم پر اتنظار کے لئے ہمارے والنٹیئر
موجود تھے۔ پلیٹ فارم پر جناب چوہدری اسد اللہ خان صاحب (قادیانی) بیرسٹر ایم۔ایل۔سی قائداعظم آل انڈیا نیشنل
لیگ کوربہ نفس نفیس موجود تھے اور باہر جہاں آکر پنڈت جی نے کھڑا ہونا تھا، جناب شیخ صاحب موجود تھے۔ ہجوم
بہت زیادہ تھا۔ بالخصوص پنڈت جی کی آمد کے وقت مجمع میں بے حد اضافہ ہوگیا اور لوگوں نے صفوں کو توڑنے کی
کوشش کی۔ مگر ہمارے والنٹیئروں نے قابل تعریف ضبط اور نظم سے کام لیا اور حلقہ کو قائم رکھا۔ پنڈت جی کے
اسٹیشن سے باہر آنے پر جناب شیخ بشیر احمد صاحب (قادیانی) ایڈووکیٹ صدر آل انڈیا نیشنل لیگ (قادیان) نے لیگ
کی طرف سے آپ کے گلے میں ہار ڈالا۔ (قادیانی) کور کی طرف سے حسب ذیل ماٹو جھنڈیوں پر خوبصورتی سے آویزاں
تھے:
(1) Beloved of the Nation Welcome you.
(2) We join in Civil Liberatiesunion.
(3) Long live Javahor Lal.
قادیانی کور کا مظاہرہ ایسا شاندار تھا کہ ہر شخص اس کی تعریف میں رطب اللسان تھا اور لوگ کہہ رہے تھے
کہ ایسا شاندار نظارہ لاہور میں کم دیکھنے میں آیا ہے۔ کانگریسی لیڈر (قادیانی) کور کے ضبط اور ڈسپلن سے
حددرجہ متأثر تھے اور باربار اس کا اظہار کر رہے تھے۔ حتیٰ کہ
103
ایک لیڈر نے جناب شیخ صاحب سے کہا کہ آپ لوگ ہمارے ساتھ شامل ہو جائیں تو یقینا ہماری فتح ہوگی۔‘‘
(الفضل قادیان ج۲۳ نمبر۲۷۸ ص۲ کالم۲تا۴، مؤرخہ ۳۱؍مئی ۱۹۳۶ء)
چنانچہ اس پر قادیانیوں کی لاہوری جماعت نے اعتراض کیا کہ ’’پنڈت جی کے استقبال میں قادیانی رضاکاروں
کی شرکت پر طرح طرح کی خیال آرائیاں اور چہ میگوئیاں ہورہی ہیں۔ زیادہ عرصہ نہیں گزرا کہ جناب خلیفہ قادیان
کانگریس کے اشد ترین مخالف تھے اور قادیانی حضرات نے کانگریس کے مقابلہ میں حکومت کی امداد کی اور کارخاص کی
خدمات انجام دیں۔ آج وہ کانگریس کے ایک انتہاء پسند اور اشتراکی خیالات رکھنے والے صدر کے استقبال میں حصہ
لے رہے ہیں۔ افسوس قادیانیوں نے اپنے اصلی کام تبلیغ اسلام اور خدمت دین کو پس پشت پھینک دیا اور سیاسیات
میں نہایت بھونڈے طریقے سے حصہ لینا شروع کر دیا۔‘‘
(پیغام صلح لاہور ج۲۴ نمبر۳۵، مؤرخہ ۳؍جون ۱۹۳۶ء)
اس انقلاب سے قبل قادیانی جماعت نے چاہا تھا کہ حکومت سے اپنی وفاداری کا سودا کرے۔ چنانچہ آج سے دو
سال قبل مرزامحمود خلیفہ قادیان نے حکومت کو پیام دیا تھا کہ:
’’میں اس امر کے آثار دیکھتا ہوں کہ حکومت کو جلد وفادار جماعتوں کی امداد کی پھر ضرورت پیش آئے گی۔
میں یہ کسی الہام کی بناء پر نہیں کہتا بلکہ زمانہ کے حالات کو دیکھ کر عقل کی بناء پر کہتا ہوں۔ میں نے
کانگریس کی تحریک کو خوب غور سے دیکھا ہے اور میں سمجھتا ہوں کہ اب کانگریس ایک ایسی اسکیم تیار کر رہی ہے
جس سے گو بظاہر یہ سمجھا جاتا ہے کہ وہ میدان سے ہٹ گئی۔ مگر عنقریب وہ گورنمنٹ کو ایسی مشکلات میں ڈال دے
گی جس کے لئے پھر اسے وفاداروں کی ضرورت محسوس ہوگی اور ہم پھر اپنے جھگڑے کو ایک طرف رکھ کر اس کی مدد کے
لئے تیار ہو جائیں گے۔ مگر حکومت نے ہمیں سبق دے دیا ہے کہ اس سے سودا کئے بغیر تعلق نہیں رکھنا چاہئے۔ ہم
خود بھی آئندہ حکومت سے سودا کریں گے اور دوسروں کو بھی سودا کرنے کا سبق پڑھائیں گے۔ سوائے اس صورت کے کہ
حکومت ہم پر جو ظلم ہوا ہے، اسے دور کر دے تب ہمارے تعلقات پہلے کی طرح ہو جائیں گے۔ لیکن اگر ایسا نہ ہو تو
ہماری مدد سودا کرنے کے بعدہوگی اور ہم اپنی خدمات کا معاوضہ طلب کریں گے۔‘‘
(خطبہ جمعہ الفضل قادیان ج۲۲ نمبر۵۸ ص۲۰ کالم۳، مؤرخہ ۱۱؍نومبر ۱۹۳۴ء، خطبات محمود ج۱۵ ص۳۶۰)
’’اگر پنڈت جواہرلال صاحب نہرو اعلان کردیتے کہ احمدیت کو مٹانے کے لئے وہ اپنی تمام طاقتیں خرچ کر
دیں گے جیساکہ احرار نے کیا ہوا ہے تو اس قسم کا استقبال بے غیرتی ہوتا، لیکن اگر اس کے برخلاف یہ مثال
موجود ہو کہ قریب کے زمانہ میں ہی پنڈت صاحب نے ڈاکٹر اقبال صاحب کے ان مضامین کا رد لکھا ہے جو انہوں نے
احمدیوں کو مسلمانوں سے علیحدہ قرار دئیے جانے کے لئے لکھے تھے اور نہایت عمدگی سے ثابت کیا ہے کہ ڈاکٹر
صاحب کے احمدیت پر اعتراض اور احمدیوں کو علیحدہ کرنے کا سوال بالکل نامعقول اور خود ان کے گزشتہ رویہ کے
خلاف ہے تو ایسے شخص کا جبکہ وہ صوبہ میں مہمان کی حیثیت سے آرہا ہو، ایک سیاسی انجمن (یعنی قادیانیوں کی
نیشنل لیگ۔ للمؤلف) کی طرف سے استقبال بہت اچھی بات ہے۔‘‘
(خطبہ جمعہ الفضل قادیان ج۲۳ نمبر۲۸۷ ص۴ کالم۳،۴، مؤرخہ ۱۱؍جون ۱۹۳۶ء، خطبات محمود ج۱۷ ص۳۵۸)
سوال پیدا ہوتا ہے کہ پنڈت جواہرلال نہرو کو اسلام سے کیا واقفیت۔ مسلمانوں کے مذہبی معاملات سے کیا
تعلق۔ قادیانی جماعت سے کیا دلچسپی اور ان کی طرفداری کی کیا ضرورت؟ اوّل تو خود علامہ سرمحمد اقبال نے پنڈت
جی کے اس رویہ کی توجیہہ کی ہے۔ چنانچہ ملاحظہ ہو:
’’بہرحال میں پنڈت جی یا قارئین سے یہ بات پوشیدہ رکھنا نہیں چاہتا کہ پنڈت جی کے مضامین پڑھ کر میرے
دل میں کچھ دیر
104
کے لئے بہت الجھن رہی۔ یہ جانتے ہوئے کہ پنڈت جی ایک وسیع القلب انسان ہیں اور مختلف تہذیبوں سے
ہمدردی رکھتے ہیں۔ لامحالہ میرے دل میں یہ خیال پیداہوتا ہے کہ انہوں نے جو سوالات اٹھائے ہیں انہیں وہ
بالکل خلوص سے سمجھنا چاہتے ہیں۔ تاہم جس طریقہ سے انہوں نے اپنے خیالات کا اظہار کیا ہے، اس سے کچھ اس قسم
کی ذہنیت کا مظاہرہ ہوتا ہے جسے پنڈت جی کی طرف منسوب کرنا میرے لئے دشوار۔ میں خیال کرتا ہوں کہ قادیانیت
کے متعلق میں نے جو بیان دیا تھا، جس میں جدید اصول کے مطابق صرف ایک مذہبی عقیدہ کی وضاحت کی گئی تھی۔ اس
سے پنڈت جی اور قادیانی دونوں پریشان ہیں۔ غالباً اس کی وجہ یہ ہے کہ مختلف وجوہ کی بناء پر دونوں اپنے دل
میں مسلمانوں کی مذہبی اور سیاسی وحدت کے امکانات کو بالخصوص ہندوستان میں پسند نہیں کرتے۔ یہ بات بالکل
ظاہر ہے کہ ہندوستان کے قوم پرست جن کی سیاسی تصویرات نے ان کے احساس حقائق کو مردہ کر دیا ہے۔ اس بات کو
گوارا نہیں کرتے کہ شمال مغربی ہند کے مسلمانوں کے دل میں خود اعتمادی اور خودمختاری کا خیال پیدا ہو۔ ان کا
خیال ہے اور میری رائے میں غلط خیال ہے کہ ہندوستانی قومیت تک پہنچنے کا صرف یہی راستہ ہے کہ ملک کی مختلف
تہذیبوں کو بالکل مٹادیا جائے۔ جن کے باہمی تعامل سے ہندوستان میں ایک اعلیٰ اور پائیدار تہذیب ترقی پذیر
ہوسکتی ہے۔ جس قومیت کی ان طریقوں سے تعمیر کی جائے گی۔ اس کا نتیجہ باہمی تلخی بلکہ تشدد کے سوا اور کیا
ہوگا۔ اسی طرح یہ بات بھی بدیہی ہے کہ قادیانی بھی مسلمانان ہند کی سیاسی بیداری سے گھبرائے ہوئے ہیں۔
کیونکہ وہ سمجھتے ہیں کہ مسلمانان ہند کے سیاسی وقار کے بڑھ جانے سے ان کا یہ مقصد فوت ہوجائے گا کہ رسول
عربی (فداہ امی وابی) کی امت میں سے قطع وبرید کر کے ہندوستانی نبی کے لئے ایک جدید امت تیار کریں۔ حیرت کی
بات ہے کہ میری اس کوشش سے کہ مسلمانان ہند کو یہ جتادوں کہ ہندوستان کی تاریخ میں اس وقت جب نازک دور سے وہ
گزر رہے ہیں، اس میں ان کی اندرونی یکجہتی کس قدر ضرری ہے اور نیز ان افتراق پرور اور انتشار انگیز قواء سے
محترز رہنا لازمی ہے جو اصلاحی تحریکوں کے روپ میں ظاہر ہوتے ہیں۔ پنڈت جی کو یہ موقع ملا کہ وہ اس قسم کی
تحریکوں سے ہمدردی فرمائیں۔‘‘ (ترجمہ)
(ڈاکٹر سر محمد اقبال کے مضمون ’’اسلام اور احمدیت‘‘ مندرجہ رسالہ ’’اسلام‘‘ لاہور کا اقتباس ج۱
نمبر۱۶، مؤرخہ ۲۲؍جنوری ۱۹۳۶ء)
دوم قادیانیت کی حمایت کی اس سے بڑھ کر توجیہہ ڈاکٹر شنکر داس صاحب کے مضمون سے ہوتی ہے جس میں قومی
نقطۂ نظر سے قادیانی تحریک پر بحث کی گئی ہے۔ جو اپریل ۱۹۳۲ء میں بندے ماترم اخبار میں شائع ہوا۔ چنانچہ
ڈاکٹر شنکرداس صاحب لکھتے ہیں:
’’سب سے اہم سوال جو اس وقت ملک کے سامنے درپیش ہے، وہ یہ ہے کہ ہندوستانی مسلمانوں کے اندر کس طرح
قومیت کا جذبہ پیدا کیا جائے۔ کبھی ان کے ساتھ سودے معاہدے اور پکٹ کئے جاتے ہیں۔ کبھی لالچ دے کر ساتھ
ملانے کی کوشش کی جاتی ہے۔ کبھی ان کے مذہبی معاملات کو سیاسیات کا جزو بناکر پولیٹکل اتحاد کی کوشش کی جاتی
ہے۔ مگر کوئی تدبیر کارگر نہیں ہوتی۔ ہندوستانی مسلمان اپنے آپ کو ایک الگ قوم تصور کئے بیٹھے ہیں اور وہ دن
رات عرب کے ہی گیت گاتے ہیں۔ اگر ان کا بس چلے تو وہ ہندوستان کو بھی عرب کا نام دے دیں۔
اس تاریکی میں، اس مایوسی کے عالم میں ہندوستانی قوم پرستوں اور محبان وطن کو ایک ہی امید کی شعاع
دکھائی دیتی ہے اور وہ آشا کی جھلک احمدیوں کی تحریک ہے۔ جس قدر مسلمان احمدیت کی طرف راغب ہوں گے وہ قادیان
کو اپنا مکہ تصور کرنے لگیں گے اور آخر میں محب ہند اور قوم پرست بن جائیں گے۔ مسلمانوں میں احمدیہ تحریک کی
ترقی ہی عربی تہذیب اور پان اسلام ازم کا خاتمہ کر سکتی ہے۔ آؤ ہم احمدیہ تحریک کا قومی نگاہ سے مطالعہ
کریں۔ پنجاب کی سرزمین میں ایک شخص مرزاغلام احمد قادیانی اٹھتا ہے اور مسلمانوں کو دعوت دیتا ہے کہ اے
مسلمانو! خدا نے قرآن میں جس نبی کے آنے کا ذکر کیا ہے وہ میں ہی ہوں۔ آؤ! میرے جھنڈے تلے جمع ہو جاؤ۔ اگر
نہیں آؤ گے تو خدا تمہیں قیامت کے روز نہیں بخشے گا اور تم دوزخی ہوجاؤ گے۔ میں مرزاقادیانی کے اس اعلان
کی صداقت یا بطالت پر بحث نہ کرتے ہوئے
105
صرف یہ ظاہر کرنا چاہتا ہوں کہ مرزائی مسلمان بننے سے مسلمانوں میں کیا تبدیلی پیدا ہوتی ہے۔ ایک
مرزائی مسلمان کا عقیدہ ہے کہ:
۱… خدا سمے سمے پر لوگوں کی رہبری کے لئے ایک انسان پیدا کرتاہے جو کہ اس وقت کا نبی ہوتا ہے۔
۲… خدانے عرب کے لوگوں میں ان کی اخلاقی گراوٹ کے زمانہ میں حضرت محمد ﷺ کو نبی بنا کر بھیجا۔
۳… حضرت محمد ﷺ کے بعد خدا کو ایک نبی کی ضرورت محسوس ہوئی اور اس لئے مرزاقادیانی کو بھیجا کہ وہ
مسلمانوں کی راہنمائی کریں۔
میرے قوم پرست بھائی سوال کریں گے کہ ان عقیدوں سے ہندوستانی قوم پرستی کا کیا تعلق ہے؟
اس کا جواب یہ ہے کہ جس طرح ایک ہندو کے مسلمان ہو جانے پر اس کی شردھا اور عقیدت رام، کرشن، وید،
گیتا اور رامائن سے اٹھ کر قرآن اور عرب کی بھومی میں منتقل ہو جاتی ہے، اسی طرح جب کوئی مسلمان احمدی بن
جاتا ہے تو اس کا زاویہ نگاہ بدل جاتا ہے۔ حضرت محمد ﷺ میں اس کی عقیدت کم ہوتی چلی جاتی ہے۔ علاوہ بریں
جہاں اس کی خلافت پہلے عرب اور ترکستان میں تھی، اب وہ خلافت قادیان میں آجاتی ہے اور مکہ مدینہ اس کے لئے
روایتی مقامات مقدسہ رہ جاتے ہیں۔
اور کوئی بھی احمدی چاہے عرب، ترکستان، ایران یا دنیا کے کسی بھی گوشہ میں بیٹھا ہو، وہ روحانی شکتی
کے لئے قادیان کی طرف منہ کرتا ہے۔ قادیانی کی سرزمین اس کے لئے نبیہ بھومی (سرزمین نجات) ہے اور اس میں
ہندوستان کی فضیلت کا راز پنہاں ہے۔ ہر احمدی کے دل میں ہندوستان کے لئے پریم ہوگا۔ کیونکہ قادیان ہندوستان
میں ہے۔ مرزاقادیانی بھی ہندوستانی تھے اور اب جتنے خلیفے اس فرقہ کی رہبری کر رہے ہیں وہ سب ہندوستانی ہیں۔
اعتراض ہوسکتا ہے کہ جب مرزا قرآن کو الہامی کتاب مانتے ہیں تو وہ اسلام سے الگ کیسے ہوسکتے ہیں؟
اس کا جواب ہے، سکھوں کی موجودہ ہندوؤں سے علیحدگی۔ گوروگرنتھ صاحب میں رام، کرشن، ندر، وشنو سب ہندو
دیوی دیوتاؤں کا ورنن آتا ہے۔ مگر کیا سکھوں نے رام کرشن کی مورتیوں کا کھنڈن نہیں کیا۔ گوردواروں سے
رامائن اور گیتا کا پاٹھ نہیں اٹھایا۔ کیا سکھ آپ کو ہندو کہلانے سے انکار نہیں کرتے۔ اسی طرح وہ زمانہ دور
نہیں جب کہ احمدی برملا یہ کہیں کہ صاحب ہم محمدی مسلمان نہیں، ہم تو احمدی مسلمان ہیں۔ کوئی ان سے سوال کرے
گا، کیا تم حضرت محمد ﷺ کی نبوت کو مانتے ہو تو وہ جواب دیں گے کہ ہم حضرت محمد، عیسیٰ، رام، کرشن سب کو
اپنے اپنے وقت کا نبی تصور کرتے ہیں۔ لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ ہم ہندو، عیسائی، یا محمدی ہوگئے۔
یہی ایک وجہ ہے کہ مسلمان احمدیہ تحریک کو مشکوک نگاہوں سے دیکھتے ہیں۔ وہ جانتے ہیں کہ احمدیت ہی
عربی تہذیب اور اسلام کی دشمن ہے۔ خلافت تحریک میں بھی احمدیوں نے مسلمانوں کا ساتھ نہیں دیا۔ کیونکہ وہ
خلافت کو بجائے ترکی یا عربی میں قائم کرنے کے قادیان میں قائم کرنا چاہتے ہیں۔ یہ بات عام مسلمانوں کے لئے
جوہر وقت پان اسلام ازم وپان عربی سنگھٹن کے خواب دیکھتے ہیں، کتنی ہی مایوس کن ہو مگر ایک قوم پرست کے لئے
باعث مسرت ہے۔‘‘
(مضمون ڈاکٹر شنکر داس مہرو، بی۔ایس۔سی، ایم۔بی۔بی۔ایس لاہور، ’’بندے‘‘ مؤرخہ ۲۲؍اپریل ۱۹۳۲ء، منقول
از ’’ایمان‘‘ مؤرخہ ۲۰؍اپریل ۱۹۳۵ء)
واقعہ یہ ہے کہ ادھر مسلمانوں کی بیداری اور حکومت کی سردمہری سے قادیانی مضطرب اور بددل ہوئے تو ان
کو ہندوؤں اور کانگریس کی حمایت اور سرپرستی کی ضرورت محسوس ہوئی۔ ادھر جو سیاسی جماعت، اسلامی جمعیت مٹا
کر ہندوستانی قومیت میں مسلمانوں کو جذب کرنا چاہتی ہے۔ اس کو اس کام کے واسطے قادیانی جماعت موزوں اور
مستعد نظر آئی، لہٰذا معاملہ کی بات چیت شروع ہوئی۔ ورنہ کہاں قادیانی اور کہاں پنڈت جواہرلال نہرو۔ کل کی
سی بات ہے کہ قادیانی جماعت حکومت کی ہوا خواہی کا دم بھرتی اور معاوضہ کی توقع رکھتی تھی تو
106
کانگریس کی مخالفت پر فخر کرتی تھی۔ چنانچہ خود اس جماعت کے خلیفہ قادیان مرزامحمود فرماتے ہیں:
’’میں نے پھر بھی کانگریس کی شورش کے وقت میں ایسا کام کیا ہے کہ کوئی انجمن یا کوئی فرد اس کی مثال
پیش نہیں کر سکتا۔ اگر میں اس وقت الگ رہتا تو یقینا ملک میں شورش بہت زیادہ ترقی کر جاتی اور یہ صرف میری
ہی راہنمائی تھی جس کے نتیجہ میں دوسری اقوام کو بھی جرأت ہوئی اور ان میں سے کئی کانگریس کا مقابلہ کرنے
کے لئے تیار ہوگئیں۔‘‘
(مرزامحمود خلیفہ قادیان کا گورنمنٹ اور آریوں سے خطاب مندرجہ، اخبار الفضل قادیان ج۱۸ نمبر۱۳۷،
مؤرخہ ۲۸؍مئی ۱۹۳۱ء، انوارالعلوم ج۱۲ ص۷۰)
’’اس کے بعد ہر موقع پر جب کانگریس نے شورش کی، ہم نے حکومت کی مدد کی۔ گذشتہ گاندھی موومنٹ کے موقع
پر ہم نے پچاس ہزار روپیہ خرچ کر کے ٹریکٹ اور اشتہار شائع کئے اور ہم ریکارڈ سے یہ بات ثابت کر سکتے ہیں۔
سینکڑوں تقریریں اس تحریک کے خلاف ہمارے آدمیوں نے کیں۔ اعلیٰ مشورے ہم نے دئیے۔ جنہیں اعلیٰ حکام نے
پسندیدگی کی نظر سے دیکھا۔‘‘
(مرزامحمود خلیفہ قادیان کا خطبہ جمعہ، الفضل قادیان ج۲۲ نمبر۹۱ ص۶ کالم۲،۳، مؤرخہ ۲۹؍جنوری ۱۹۳۵ء،
خطبات محمود ج۱۶ ص۵۴)
علیٰ ہذا ناظر صاحب امور خارجہ قادیان کی ایک گشتی چٹھی بصیغہ راز جاری ہوئی تھی جس میں قادیانیوں کو
ہدایت کی گئی تھی کہ:
’’اپنے علاقہ کی سیاسی تحریکات سے پوری طرح واقف رہنا چاہئے اور کانگریس کے اثر کے بڑھنے اور گھٹنے سے
مرکز کو اطلاع دیتے رہیں۔ اگر کوئی سرکاری افسر سیاسی تحریکوں میں حصہ لیتا ہو یا کانگریسی خیالات رکھتا ہو
تو اس کا بھی خیال رکھیں اور یہاں (قادیان) اطلاع دیں۔‘‘
(الفضل قادیان ج۱۸ نمبر۱۰ ص۹ کالم۱، مؤرخہ ۲۲؍جولائی ۱۹۳۰ء)
چنانچہ قادیانیوں کی لاہوری جماعت جو اپنی حریف قادیانی جماعت کا حکومت میں رسوخ پیدا کرنا پسند نہیں
کرتی تھی، اس سیاسی سرگرمی کا خاکہ اڑاتی تھی۔ چنانچہ ملاحظہ ہو:
’’آج کل کانگریس والوں کو جہاں گورنمنٹ سے مقابلہ ہے۔ وہاں قادیانیوں کا سامنا بھی ہے اور بیچارے سخت
مشکل میں آئے ہیں… گاؤں گاؤں گھوم پھر کر قادیانی مبلغین کانگریس کے پروپیگنڈے کو بے اثر بنا رہے ہیں۔
وعظوں اور لیکچروں کے ذریعہ گورنمنٹ برطانیہ کی وفاداری کا سبق دیا جارہا ہے اور ’’اولی
الامرمنکم‘‘ کی تفسیر کے دریا بہائے جارہے ہیں۔ غرض گورنمنٹ کی سختیوں اور قادیانیوں کی
بوالعجبیوں نے کانگریس والوں کا تو ان دونوں یہ حال کر رکھا ہے:
-
غم و صیاد فکر باغبان ہے
دو عملی میں ہمارا آشیاں ہے‘‘
(پیغام صلح لاہور مؤرخہ ۲۳؍جون ۱۹۳۰ء)
جب تک قادیانی جماعت کا حکومت سے میل رہا، خود سیاسی لیڈر اس جماعت سے خائف اور بیزار تھے۔ چنانچہ
پنڈت جواہرلال نہرو بھی اس جماعت کو سدراہ مانتے تھے اور ان کو کمزور کرنا مقدم سمجھتے تھے۔ چنانچہ ملاحظ
ہو:
’’پھر یہ خیال کہ جماعت احمدیہ انگریزوں کی ایجنٹ ہے۔ لوگوں کے دلوں میں اس قدر راسخ تھا کہ بعض بڑے
بڑے سیاسی لیڈروں نے مجھ سے سوال کیا کہ ہم علیحدگی میں آپ سے پوچھتے ہیںکہ کیا یہ صحیح ہے کہ آپ کا انگریزی
حکومت سے اس قسم کا تعلق ہے۔ ڈاکٹر سید محمود جو اس وقت کانگریس کے سیکرٹری ہیں، ایک دفعہ قادیان آئے اور
انہوں نے بتایا کہ پنڈت جواہرلال نہرو جب یورپ کے سفر سے واپس آئے تو انہوں نے اسٹیشن پر اتر کر جو باتیں سب
سے پہلے کہیں، ان میں سے ایک یہ تھی کہ میں نے اس سفر یورپ سے یہ سبق حاصل کیا ہے کہ اگر انگریزی حکومت کو
ہم کمزور کرنا چاہتے ہیں تو ضروری ہے کہ اس سے پہلے احمدیہ جماعت کو کمزور کیا جائے۔ جس کے معنی یہ ہیں
107
کہ ہر شخص کا یہ خیال تھا کہ احمدی جماعت انگریزوں کی نمائندہ اور ان کی ایجنٹ ہے۔‘‘
(الفضل قادیان ج۲۳ نمبر۳۱ ص۷،۸، مؤرخہ ۶؍اگست ۱۹۳۵ء، خطبات محمود ج۱۶ ص۴۷۰)
خیریوں سیاسی مصالح کی خاطر کانگریس کے لیڈر قادیانی جماعت کے سرپر ہاتھ رکھیں اور قادیانی جماعت ان
کی رفاقت کا دم بھرے۔ جس طرح کل تک حکومت کی رفاقت کا دم بھرتی تھی لیکن یہ سودا پٹتا نظر نہیں آتا تھا۔
اوّل تو مسلمانوں سے جدا ہوکر قادیانیوں کی حیثیت کیا رہ جاتی ہے جو وہ سیاسیات میں وزن پیدا کریں۔ دوسرے یہ
کہ ان کے عقائد معلوم ہونے پر ہندو بھی شاید گوارا نہ کریں کہ ان کے دھرم میں یہ اندرونی ریشہ دوانی شروع
کریں۔ ہندوؤں کو عام طور پر علم نہیں ہے کہ قادیانی تحریک کے بانی مرزاغلام احمد قادیانی اپنے آپ کو سری
کرشن مہاراج کا اوتار سمجھتے ہیں اور اوتار بھی ایسا جو قادیانیوں کے نزدیک خودسری کرشن مہاراج سے بڑھ کر
امن پسند ہے۔ مرزاغلام احمد قادیانی جس طرح مسلمانوں کو اپنی امت بنانا چاہتے ہیں، ہندوؤں کو بھی اپنی امت
میں داخل کرنا ضروری سمجھتے ہیں۔ چنانچہ بطور نمونہ ذیل میں چند قادیانی عقائد ملاحظہ ہوں:
’’اب واضح ہو کہ راجہ کرشن جیسا کہ میرے پر ظاہر کیاگیا ہے، درحقیقت ایک ایسا کامل انسان تھا جس کی
نظیر ہندوؤں کے کسی رشی اور اوتار میں نہیں پائی جاتی اور اپنے وقت کا اوتار یعنی نبی تھا۔ جس پر خدا کی
طرف سے روح القدس اترتا تھا۔ وہ خدا کی طرف سے فتح مند اور بااقبال تھا۔ جس نے آریہ ورت کی زمین کو پاپ سے
صاف کیا۔ وہ اپنے زمانہ کا درحقیقت نبی تھا، جس کی تعلیم کو پیچھے سے بہت باتوں میں بگاڑ دیا گیا۔ وہ خدا کی
محبت سے پرتھا اور نیکی سے دوستی اور شر سے دشمنی رکھتا تھا۔ خدا کا وعدہ تھا کہ آخری زمانہ میں اس کا بروز
یعنی اوتار پیدا کرے سو یہ وعدہ میرے ظہور سے پورا ہوا۔ مجھے منجملہ اور الہاموں کے اپنی نسبت ایک یہ بھی
الہام ہوا تھا کہ: ہے کرشن رودر گوپال تیری مہما گیتا میں لکھی گئی ہے۔‘‘
(مرزاغلام احمد قادیانی کا لیکچر سیالکوٹ مؤرخہ ۲؍نومبر ۱۹۰۴ء ص۳۳،۳۴، خزائن ج۲۰ ص۲۲۸،۲۲۹)
’’اخیر پر یہ بھی واضح ہو کہ میرا اس زمانہ میں خداتعالیٰ کی طرف سے آنا محض مسلمانوں کی اصلاح کے لئے
ہی نہیں ہے بلکہ مسلمانوں اور ہندوؤں اور عیسائیوں تینوں قوموں کی اصلاح منظور ہے اور جیسا کہ خدا نے مجھے
مسلمانوں اور عیسائیوں کے لئے مسیح موعود کر کے بھیجا ہے۔ ایسا ہی میں ہندوؤں کے لئے بطور اوتار کے ہوں اور
میں عرصہ بیس برس سے یا کچھ زیادہ برسوں سے اس بات کو شہرت دے رہا ہوں کہ میں ان گناہوں کے دور کرنے کے لئے
جن سے زمین پر ہوگئی ہے۔ جیسا کہ مسیح ابن مریم کے رنگ میں ہوں۔ ایسا ہی راجہ کرشن کے رنگ میں بھی ہوں جو
ہندو مذہب کے تمام اوتاروں میں سے ایک بڑا اوتار تھا یا یوں کہنا چاہئے کہ روحانی حقیقت کی رو سے میں وہی
(کرشن) ہوں۔‘‘
(مرزاغلام احمد قادیانی کا لیکچر سیالکوٹ مؤرخہ ۲؍نومبر ۱۹۰۴ء ص۳۳، خزائن ج۲۰ ص۲۲۸)
’’جیسا کہ میں ابھی بیان کر چکا ہوں مجھے اور نام بھی دئیے گئے ہیں اور ہر ایک نبی کا مجھے نام دیاگیا
ہے۔ چنانچہ جو ملک ہند میں کرشن نام ایک نبی گزرا ہے، جس کو رودرگوپال بھی کہتے ہیں (یعنی فنا کرنے والا اور
پرورش کرنے والا) اس کا نام بھی مجھے دیا گیا ہے۔ پس جیسا کہ آریہ قوم کے لوگ کرشن کے ظہور کا ان دنوں میں
انتظار کرتے ہیں، وہ کرشن میں ہی ہوں اور یہ دعویٰ صرف میری طرف سے نہیں بلکہ خداتعالیٰ نے باربار میرے پر
ظاہر کیا ہے کہ جو کرشن آخری زمانہ میں ظاہر ہونے والا تھا، وہ تو ہی ہے، آریوں کا بادشاہ۔‘‘
(حقیقت الوحی ص۸۵، خزائن ج۲۲ ص۵۲۱،۵۲۲)
’’اس سمے جب کہ ہندو قوم ناناپرکار کے پاپوں میں لین ہوچکی ہے اور سارے وزن اپنے دھرم سے گرچکے تھے،
بھگوان کرشن نے اپنے دعویٰ انوسار جو کہ آپ نے گیتا میں کیا تھا کہ میں لوگوں کی ہدایت اور پاپوں کے ناش کے
لئے اس سنسار میں جنم لیا کروں گا، قادیانی کی
108
پوترنگری میں ایک پرماتما کے اپاسک کے ہاں جنم لیا جن کا نام حضرت مرزاغلام احمد صاحب ہے۔ آپ نے
پرماتما سے گیان حاصل کر کے سارے سنسار کو سنایا کہ اے بھائیو! پرماتما نے تمہارے ادھار کے لئے مجھ کو بھیجا
ہے تاکہ میں تم کو پاپوں سے دور کر کے پرماتما کے آدر لے جاؤں اور ایشور کی کرپا سے لاکھوں انسانوں نے آپ
کی اس آواز کو سویکار کر کے آپ کے دامن کے ساتھ اپنے آپ کو وابستہ کر دیا… جماعت احمدیہ کا اعتقاد جو کہ
بھگوان کرشن کے متعلق ہے، ظاہر ہے کہ وہ صادق وراست بازتھے اور پرماتما کی طرف سے گیان لے کر آئے تھے۔
چنانچہ بھگوان کرشن قادیانی (یعنی مرزاغلام احمد قادیانی۔ للمؤلف) اپنے ایک بھاشن میں فرماتے ہیں۔ واضح ہو
کہ راجہ کرشن جیسا کہ میرے پر ظاہر کیاگیا ہے، درحقیقت ایک ایسا کامل انسان تھا جس کی نظیر ہندوؤں کے کسی
رشی اور اوتار میں نہیں پائی جاتی اور اپنے وقت کا اوتار یعنی نبی تھا… جس کی تعلیم کو پیچھے سے بہت سی
باتوں میں بگاڑ دیاگیا۔ وہ خدا کی محبت سے پر تھا اور نیکی سے دوستی اور شر سے دشمنی رکھتا تھا۔‘‘ (لیکچر
سیالکوٹ مؤرخہ ۲؍نومبر ۱۹۰۴ء ص۳۳،۳۴، خزائن ج۲۰ ص۲۲۸،۲۲۹) ’’شریمان آنند کند بھگوان کرشن قادیانی (یعنی
مرزاقادیانی۔ للمؤلف) نے اپنے اس بھاشن میں یہ بات اچھی طرح سپشٹ کر دی کہ بھگوان کرشن اپنے سمے کا اوتار
اور پرماتما کا پیارا راست باز تھا اور جماعت احمدیہ کا ایک ایک بچہ ان کے متعلق یہی وچار رکھتا ہے اور
جماعت احمدیہ جس طرح اور راست بازوں کی عزت کرتی ہے اور ان کی ہتک ہرگز برداشت نہیں کرتی، اسی طرح کرشن
بھگوان کے متعلق بھی ہمارا یہی طریق عمل ہے۔‘‘
(مہاشہ محمد عمر شرما قادیانی کا مضمون، الفضل قادیان ج۲۳ نمبر۲۳۲ ص۴ کالم۳،۴، مؤرخہ ۸؍اپریل ۱۹۳۶ء)
’’ہم خداتعالیٰ سے دعا کرتے ہیں کہ جلد وہ زمانہ آئے کہ ہمارے ہندو بھائیوں کے دلوں پر سے پردے اٹھ
جائیں اور ان کو اپنی مذہبی غلطیوں پر بصیرت اور معرفت حاصل ہو جائے اور ان کے سینے اس سچائی کو قبول کرنے
کے لئے کھل جائیں جو دین اسلام تعلیم دیتا ہے۔ ہم اس بات کو مانتے ہیں کہ آخری زمانہ میں ایک اوتار کے ظہور
کے متعلق جو وعدہ انہیں دیاگیا تھا، وہ خدا کی طرف سے تھا اور اس کو ہندوستان کے مقدس نبی مرزاغلام احمد
قادیانی کے وجود میں خداتعالیٰ نے پورا کر دکھایا ہے۔
‘‘ (مولوی محمد علی قادیانی، امیر جماعت لاہور کا مضمون، ریویو (مفہوم) ج۳ نمبر۱۱ ص۴۰۹تا۴۱۱، منقول
رسالہ ’’تبدیلی عقائد‘‘ مولوی محمد علی ص۶۳، مؤلفہ محمد اسماعیل قادیانی، بابت ماہ نومبر ۱۹۰۴ء)
’’ہندوستان کا مستقبل اس وسیع براعظم کے فرزندوں کے باہمی سمجھوتہ اور فرقہ وارانہ اختلافات کے حل پر
منحصر ہے۔ پنڈت جواہرلال نہرو کی لامذہبیت ہماری بگڑی کو نہیں بناسکتی۔ کیونکہ ہم فطرتاً مذہب پسند ہیں۔
آریہ سماج کی خشکی، ملاؤں کی خونخواری، نئی نئی بننے والی سوسائٹیوں کی صلح کن پالیسی بھارت کی قسمت کو
نہیں پلٹ سکتی۔ ہمارے دکھوں کا علاج ہماری سیاسی غلامی کی آزادی، کرشن کی مرلی کی جدید دھن پر موقوف ہے۔
ہمارے زمانہ کا کرشن (مرزاغلام احمد قادیانی۔ للمؤلف) وہ (سابق زمانہ کا کرشن۔ للمؤلف) نہیں جو ارج کو
مادی تیر چلانے اور کوروں کو خاک میں ملانے کا وعظ کرے، بلکہ مرلی کی نئی دھن، زمین پر صلح اور اہل زمین کی
طرف پیغام آشتی ہے۔ ہم نے آج سے ۳۲سال قبل (یعنی ۱۹۰۴ء میں جب کہ مرزاغلام احمد قادیانی نے کرشن ہونے کا
دعویٰ کیا۔ للمؤلف) اس جمال جہاں آرا (یعنی مرزاغلام احمد قادیانی) کو دیکھا اور درخواست کی: تنگ نجریا
کینہو ہمری اور گوپال نظر التفات ہوئی بیڑا پار ہوا جو بھکت سورما کو بلاؤ سب کو ملنا چاہئے۔ اسی لئے جی
چاہتا ہے کہ ہندو خوش ہوں کہ احمدی مسلمان (یعنی قادیانی۔ للمؤلف) سری کرشن کو اللہ کا نبی مانتا ہے اور
ہندوؤں کی محبوب ترین ہستی سے محبت رکھتا ہے (اور اس کے ساتھ مرزاغلام احمد قادیانی کو کرشن جی کا اوتار
مانتا ہے اور امن پسندی میں ان سے افضل جانتا ہے۔ للمؤلف)‘‘
(الفضل قادیان ج۲۴ نمبر۸۹ ص۷، مؤرخہ ۱۳؍اکتوبر ۱۹۳۶ء)
109
’’یاد رکھو حضرت مسیح موعود (مرزاقادیانی) مہدی اور مسیح ہی نہیں بلکہ کرشن بھی ہیں۔ یعنی آپ ہندوؤں
کے لئے بھی ہادی ہیں۔ اب ہم ان میں تبلیغ شروع کریں گے اور جب تک ہم ہندوؤں میں تبلیغ نہ کریں، حضرت مسیح
موعود کرشن کیسے ثابت ہوسکتے ہیں۔ حضرت مسیح، موعود مسیح ہیں۔ آپ کی جماعت کو مسیحیوں پر غلبہ ملے گا۔ آپ
مہدی ہیں۔ مسلمانوں کو دوبارہ ہدایت آپ کے ذریعے ملے گی۔ آپ کرشن ہیں، ہندوؤں میں آپ کی جماعت کو غلبہ اور
آپ کی قبولیت پھیلے گی۔ ہمارے لئے حق پھیلانے کی راہیں کھل رہی ہیں۔ ہم ہندوؤں میں کام کریں گے اور وحشیوں
تک میں دین پھیلائیں گے۔‘‘
(خطبہ جمعہ، الفضل قادیان ج۱۰ نمبر۷۱ ص۶، مؤرخہ ۱۵؍مارچ ۱۹۲۳ء، خطبات محمود ج۸ ص۴۰)
یوں قادیانیوں کو اختیار ہے کہ کانگریس کی طرف دوڑیں یا ہندوؤں سے رشتہ جوڑیں۔ لیکن کچھ نبھاؤ کی
صورت ادھر بھی نظر نہیں آتی۔ کہیں وہی مثل نہ ہو کہ ’’ازیں سوراندہ وازاں سودر مانداہ۔‘‘
حاصل کلام یہ کہ اس کتاب ’’قادیانی مذہب‘‘ کے چوتھے ایڈیشن کے بعد قادیانیت کے متعلق کیا کیا آثار
نمودار ہوئے، خاص وعام مسلمانوں میں، قادیانی جماعتوں میں، جماعتوں کے تعلقات میں، اندرونی طور پر آپس میں،
بیرونی طور پر مسلمانوں کے ساتھ، حکومت کے ساتھ، کانگریس کے ساتھ اور ہندوؤں کے ساتھ۔ یہ سب پہلو مختصر مگر
واضح طور پر اس تمہید میں پیش کئے گئے۔ اسی طرح ہر ایڈیشن کے متعلق اکابر ملک وملت نے جو بکثرت پسندیدگی کے
خطوط لکھے، ان کی قدر افزائی کا شکریہ واجب ہے۔ اخبار ورسائل میں بھی تبصرے شائع ہوئے۔ چنانچہ ذیل میں چند
درج کرتے ہیں تاکہ رائے عامہ کا بھی رخ پیش نظر رہ سکے:
۱… ’’آج سے تین سال قبل پروفیسر الیاس برنی ایم۔اے (اب ناظم دارالترجمہ کا سرکار عالی) کو اپنی ایک
تقریر ’’ختم نبوت‘‘ کے سلسلہ میں ’’قادیانی مذہب‘‘ کے نام سے ایک کتاب لکھنے پر مجبور ہونا پڑا تھا۔ اس کے
بعد کچھ حالات وواقعات ایسے پیش آئے کہ پروفیسر صاحب کو یہ سلسلہ دراز کرنا پڑا۔ یہ تائید غیبی سمجھنا چاہئے
کہ پروفیسر صاحب کو اس سلسلہ کے لئے اتنا مستند مواد دستیاب ہوگیا کہ آج تک اس کتاب کے چار ایڈیشن شائع
ہوئے۔ پہلا ایڈیشن چھوٹی تقطیع کے (۱۲۰) صفحات پر، دوسرا ایڈیشن (متوسط تقطیع کے) ۳۴۰صفحات پر اور تیسرا
ایڈیشن متوسط تقطیع کے ۶۰۰صفحات پر مشتمل تھا۔ اب اس کا چوتھا ایڈیشن بڑی تقطیع کے ۹۶۶صفحات پر شائع ہوا ہے۔
اس طرح سے پروفیسر صاحب نے قادیانی مذہب کی ایک انسائیکلوپیڈیا تیار کر دی ہے۔
یوں تو قادیانی مذہب سے متعلق غیرقادیانی صاحبان نے بہت سی کتابیں لکھیں۔ لیکن یہ کتاب ان سب سے مکمل
اور مستند ہے۔ پروفیسر صاحب نے کتاب کی ترتیب میں بڑا کمال دکھایا ہے۔ یعنی خود اپنی طرف سے کچھ نہیں لکھا
بلکہ قادیانی مذہب کے تمام لٹریچر کو سامنے رکھ کر بڑے سلیقہ اور عمدگی کے ساتھ ترتیب دیا ہے کہ قادیانی
مذہب کی پوری حقیقت بے نقاب ہو جاتی ہے اور قادیانی مذہب تضاد واضداد کا ایک مجموعہ معلوم ہونے لگتا ہے۔ اس
کے مطالعہ کے بعد پھر کسی کتاب کے دیکھنے کی ضرورت نہیں پڑتی۔
اس قسم کی کتابوں کی زبان بالعموم سخت اور دل آزار ہوا کرتی ہے۔ لیکن اس کتاب کا انداز بیان نہایت
شریفانہ ہے جس کے مطالعہ سے دوست، دشمن کوئی بھی متاثر ہوئے بغیر نہیں رہتا۔ علمی تحقیق کے ساتھ سنجیدگی اور
مخلصانہ استدلال نے کتاب کے اثر کو دو آتشہ کر دیا ہے۔ کتاب علمی ہونے کے باوجود جاسوسی ناول کی طرح بے حد
دلچسپ ودلفریب ہے۔
یہ جدید ایڈیشن تقریباً چار سو صفحات کے اضافہ کے ساتھ شائع ہوا ہے۔ اب یہ کتاب بڑی حد تک مکمل ہوگئی
ہے۔ اضافہ کی گنجائش باقی نہیں رہی۔ اگر رہی ہے تو بہت ہی کم۔ ہاں! یہ اور بات ہے کہ تائید غیبی سے پروفیسر
صاحب کو کوئی پراسرار قادیانی ڈائری ہاتھ لگ جائے۔
110
گزشتہ تین سال سے ’’قادیانی مذہب‘‘ کے مطالب عام ہوگئے ہیں۔ ہر شخص اسن سے اچھی طرح واقف ہے، اس لئے
زیادہ لکھنے کی ضرورت نہیں۔ اس کتاب کے پہلے دو ایڈیشن بلاقیمت تقسیم ہوئے تھے۔ تیسرے ایڈیشن کی قیمت دو
روپیہ رکھی گئی تھی۔ اب چوتھے ایڈیشن کی قیمت تین روپیہ مقرر کی گئی ہے جو تقریباً ہزار صفحہ کی اچھی اچھی
کتاب کی مناسبت سے بہت کم ہے۔‘‘
(مشیر، دکن، حیدرآباد ج۵۲ نمبر۱۲۰، مؤرخہ ۲۳؍مئی ۱۹۳۶ء)
۲… ’’قادیانی مذہب، تالیف جناب صلاح الدین محمد الیاس برنی، پروفیسر جامعہ عثمانیہ حیدرآباد دکن
باضافہ وترتیب جدید، حجم تقریباً ایک ہزار صفحات، قیمت تین روپیہ۔
یہ جناب پروفیسر الیاس برنی کے اس مختصر سے رسالہ کا چوتھا ایڈیشن ہے جو ابتداء میں قادیانی مذہب کے
نام سے شائع ہوا۔ مگر جس نے گزشتہ تین اشاعتوں میں قادیانیت کے ایک علمی محاسبہ کی حیثیت سے غیرمعمولی وسعت
اور ضخامت اختیار کر لی۔ مسلمانوں کے تعلیم یافتہ طبقوں نے ایک مدت تک احمدیت کے متعلق حسن ظن سے کام لیا
اور حتی الوسع یہی سمجھنے کی کوشش کی کہ یہ ایک فروعی اور ضمنی اختلاف ہے جس کی ذمہ داری ہمارے سیاسی،
اخلاقی اور ذہنی انحطاط پر عائد ہوتی ہے جو ان فساد انگیز حالات کے ختم ہونے پر خودبخود کافور ہو جائے گا۔
اس طرز عمل سے قادیانیوں کو جو فائدہ پہنچا، اس کی تفصیل کا یہ موقع نہیں۔ افسوس یہ ہے کہ تعلیم یافتہ
مسلمانوں کی اس بے اعتنائی سے قادیانی یا احمدی تحریک کا اصل مدعا لوگوں کی نظر سے پوشیدہ رہا۔ لیکن اب کچھ
دنوں سے اس صورت حال کے خلاف ایک ردعمل رونما ہوا ہے۔ احمدیت کے ثمرات ملک کے سامنے ہیں اور اس کے بعض نتائج
کو خود اس جماعت کا لاہوری فریق بھی قرآن پاک کے منافی سمجھتا ہے۔ حقیقت میں قادیانیت کی عمارت جس مسالے سے
تیار ہوئی ہے، اس کو اسلام کے ساتھ دور کا واسطہ نہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ارباب غور وفکر کی ایک جماعت ان عجیب
وغریب انکشافات، اعتقادات، اجتہادات وافتراقات پر انگشت بدنداں ہے جو بقول پروفیسر صاحب موصوف اس تحریک کی
بدولت وجود میں آئے اور جن کا خود انہوں نے زیرنظر تالیف میں نہایت شرح وبسط سے جائزہ لیا ہے۔
انہوں نے لفظی نزاعات اور بحث ومناظرہ کی راہ سے ہٹ کر قادیانیت کا تجزیہ جس انداز سے کیا ہے، وہ بیک
وقت اچھوتا بھی ہے اور دلچسپ بھی اور اس سے پروفیسر صاحب کی جدت طبع اور ذوق علم دونوں کا اظہار ہوتا ہے۔
سوائے چند تمہیدات وضمیمہ جات کے جہاں کتاب کی تالیف وترتیب کے متعلق بعض امور تشریح طلب تھے، ’’قادیانی
مذہب‘‘ کے تمام ابواب وفصول ان اقتباسات پر مشتمل ہیں جو مؤلف نے بکمال محنت ودیانت مرزاغلام احمد اور ان
کے نائبین ومریدین کی تصانیف، ان کے اشتہارات اور اخبارات اور رسائل سے اخذ کئے۔ پوری کتاب بیس فصلوں پر
منقسم ہے اور ان میں یکے بعد دیگرے (۱)بانی تحریک، (۲)ان کے حالات زندگی اور گوناگوں دعاوی، (۳)قادیانیت کا
تدریجی نشوونما، (۴)احمدیوں کا جماعتی افتراق، ان کے مخصوص عقائد، اجتہادات ونزاعات اور (۵)ملت کی طرف ان کا
جو طرز عمل رہا ہے، اس پر خود اس جماعت ہی کے الفاظ میں ایک مکمل اور مبسوط تبصرہ موجود ہے۔ ہماری رائے میں
پروفیسر الیاس برنی کی تصنیف قادیانیت کا ایک جامع قاموس ہے جس سے مسلمانوں کا کوئی گھر خالی نہیں ہونا
چاہئے۔ جو حضرات ادیان ومذاہب کا مطالعہ علمی نہج پر کرتے ہیں، ان کے لئے یہ کتاب خاص طور پر مفید ثابت
ہوگی۔ یہ دیکھ کر حیرت ہوتی ہے کہ باوجود اتنی ضخامت اور اعلیٰ درجہ کی طباعت وکتابت کے ’’قادیانی مذہبب‘‘
کی قیمت نہایت کم رکھی گئی ہے۔ غالباً اس لئے کہ ہر شخص اس سے افادہ حاصل کر سکے۔ پروفیسر صاحب کا یہ ایثار
قابل مبارک باد ہے۔‘‘
(طلوع اسلام لاہور بابت ماہ اگست ۱۹۳۶ء)
111
۳… ’’قادیانی مذہب، مرتبہ پروفیسر حاجی محمد الیاس برنی ایم۔اے، استاذ معاشیات جامعہ عثمانیہ، تقطیع
۲۰x۲۶/۸ حجم ۹۶۶صفحات، کاغذ سپید، کتابت وطباعت بہتر، قیمت (۳روپے)
یہ کتاب برنی صاحب کی کوئی تصنیف نہیں ہے۔ بلکہ ان کی پرانی تالیف ’’قادیانی مذہب‘‘ کی جو پہلی مرتبہ
۱۳۵۳ھ میں شائع ہوئی تھی، مکمل تر اور شاید آخری شکل ہے۔ برنی صاحب محض ایک پروفیسر معاشیات نہیں ہیں۔ بلکہ
اس سے زیادہ وہ مذہب وملت کا درد رکھنے والے خادم اسلام ہیں۔ اس سلسلہ میں انہوں نے نہایت مفید اور قابل قدر
خدمات انجام دی ہیں۔ ادھرچند برسوں سے ان کی دینی حمیت نے انہیں وقت کی ایک اہم ترین ضرورت اور مذہب کی ایک
بڑی خدمت یعنی قادیانی مذہب کے احتساب کی طرف متوجہ کر دیا ہے۔ چنانچہ انہوں نے آج سے چار سال پہلے ایک
مختصر کتاب ’’قادیانی مذہب‘‘ لکھی، جس میں مرزاغلام احمد قادیانی اور ان کی امت کے اکابر کے قلم سے ان کی
اور ان کے مذہب کی تصویر دکھائی تھی۔ اس کتاب کو اتنا حسن قبول حاصل ہوا کہ چارسال کے اندر اس کتاب کے چار
ایڈیشن شائع ہوئے، جن میں سے ہر ایک جامعیت وتکمیل میں پہلے سے بڑھ کر تھا۔ موجودہ چوتھا ایڈیشن سب میں جامع
تر اور مکمل تر ہے۔ اس کی جامعیت کا اندازہ کتاب کی ضخامت اور اس کے فصول مباحث کی کثرت سے ہوسکتا ہے۔ پوری
کتاب میں بیس فصلیں اور چند ضمیمے ہیں۔ ہر فصل میں بکثرت مباحث ہیں۔ بعض بعض فصلوں کے مباحث کی تعداد سو سے
اوپر ہے۔ پوری کتاب کے مباحث ایک ہزار سے بھی زیادہ ہیں۔ استیعاب کی یہ شان ہے کہ مرزاغلام احمد قادیانی کے
خاندانی حالات اور ان کی پیدائش سے لے کر ان کی وفات تک کا کوئی واقعہ اور قادیانی مذہب کا کوئی رخ اور کوئی
پہلو چھوٹنے نہیں پایا ہے۔ عجب نہیں کہ اس کتاب کو دیکھ کر قادیانی امت پکار اٹھی ہو: ’’مالہٰذا الکتاب لا یغادر صغیرۃ ولا کبیرۃ الا احصہا‘‘
اس کتاب کی تالیف میں برنی صاحب نے قادیانی مذہب کا سارا لٹریچر کھنگال ڈالا ہے۔ اس کی سب سے بڑی خوبی
یہ ہے کہ بعض ضروری تشریحات اور حواشی کے علاوہ مصنف نے خود اپنی طرف سے کچھ نہیں لکھا ہے، بلکہ خود
مرزاغلام احمد اور قادیانی مذہب کے اکابر کے قلم وزبان سے نبی قادیان اوران کے مذہب کی تصویر کھینچ دی ہے۔
گویا مصنف نے قادیانیوں ہی کا بنایا ہوا آئینہ لاکر ان کے سامنے کھڑا کر دیا ہے۔ جس میں ان کے تمام خط وخال
صاف نظر آتے ہیں اور بہ یک نظر ان کی پوری تاریخ نگاہوں کے سامنے آجاتی ہے۔ جہاں خود کچھ لکھنے کی ضرورت
پڑتی ہے، وہاں بھی تہذیب ومتانت کا دامن ہاتھ سے نہیں چھوٹا ہے جو مناظرانہ تحریروں میں عنقاء ہے۔ اس موضوع
پر، بلکہ شاید مناظرے کی تاریخ میں اس نوعیت کی پہلی کتاب ہے۔ یہ طریقہ نہ صرف متین وسنجیدہ، بلکہ سب سے
زیادہ مؤثر اور کامیاب بھی ہے۔ آج کل بہت سے ناواقف اور سادہ لوح مسلمانوں بلکہ بعض کوتاہ نظر تعلیم یافتہ
تک قادیانی مذہب کی حقیقت سے بے خبر ہیں اور کم ازکم ان کے تبلیغی ڈھونگ سے متأثر نظر آتے ہیں۔ ایسے لوگوں
کے لئے اس کتاب کا مطالعہ نہایت ضروری ہے۔ اس کو پڑھنے کے بعد قادیانی مذہب کی حقیقت بالکل آئینہ ہو جاتی
ہے۔ خدا مصنف کو اس عمل حسنہ کی جزائے خیر دے۔‘‘
(معارف، اعظم گڑھ، بابت ماہ اکتوبر ۱۹۳۶ء)
۴… ’’قادیانی مذہب، یہ بڑی تقطیع کے ۹۶۶ صفحات کی ایک کتاب ہے جو مولانا الیاس برنی ایم۔اے،
ایل۔ایل۔بی (علیگ) ناظم دارالترجمہ سرکار عالی، حیدرآباد دکن کی مصنفات کا شاہکار ہے۔ اس کتاب میں قادیانی
مذہب کی حقیقت کو خود اس مذہب کے اکابرین کی مستند تحریرات کے آئینہ میں اس خوش سلیقگی کے ساتھ بے نقاب کیا
ہے کہ اس کتاب کو غور اور گہری نظر سے مطالعہ کرنے والے پر اس مذہب کا پھر کوئی تبلیغی حربہ کارگر نہیں
ہوسکتا۔ مذہبی مباحث میں پروفیسر برنی صاحب کا طرز نگارش اور اسلوب اظہار مدعا اتنا دلکش اور سنجیدہ ہے کہ
اس حیثیت کی دوسری کتاب اب تک ہم نے نہیں دیکھی۔ کتاب کیا ہے، قادیانی
112
مذہب کی ایک انسائیکلوپیڈیا ہے، اور گویا پورے قادیانی لٹریچر کا عطر وخلاصہ ہے۔ پروفیسر صاحب کی قلم
سے کوئی ایک لفظ بھی ایسا نہیں نکلا، جو متانت وثقاہت سے گرا ہوا اور کسی ذوق سلیم پر بار ہو۔ انہوں نے
قادیانی مذہب کے تمام گوشوں پر روشنی ڈالی ہے اور اس مذہب کے اعتقادات واجتہادات وافتراقات کو خود اس مذہب
کے اکابرین کی مستند تحریرات کے دامن میں پیش کیا ہے۔ صرف عنوانوں کے الفاظ ان کے ہیں۔ باقی سب کچھ قادیانی
لٹریچر کے پورے حصے اور پوری عبارتیں معہ حوالہ کتاب اور صفحہ ہیں اورسب کچھ ایک دلکش نظم وترتیب کے ساتھ
پیش کیا ہے۔ عنوانات میں بھی ہمیں یہ احتیاط اور تہذیب اور رواداری نظر آئی کہ ایسا کوئی لفظ قلم سے نکلنے
نہیں دیا جس سے قادیانی مذہب والوں کی کوئی واقعی دل آزاری ہو۔ ہمارا خیال یہ ہے کہ صرف اس کتاب کو پڑھنا
قادیانی تبلیغ کے سحرسامری کو باطل کر دے گا۔
برنی صاحب نے یہ وہ خدمت اسلام انجام دی ہے اور اس قدر محنت اور جگر کاوی سے کام لیا ہے کہ بے اختیار
ان کے لئے دل سے دعا نکلتی ہے۔ تعلیم یافتہ نوجوانوں میں اس کتاب کو اگر پھیلا دیا جائے تو یقین ہے کہ دین
سے بے خبر انگریزی تعلیم یافتہ لوگ قادیانی تبلیغ کے اثر سے قطعی محفوظ ہوں گے اور اس کتاب کو پڑھ کر اقرر
کریں گے کہ اس بندۂ خدا کی کوشش نے ان کا دین بچالیا۔ اب کوئی قادیانی تبلیغی حکمت وتدابیر انہیں سواد اعظم
سے اور حضور خاتم النّبیین کے قدموں سے جدا نہ کر سکے گی۔
اے حیدرآباد! خدا تجھ پر اپنی رحمت کا وہ سایہ دیرگاہ برقرار رکھے جس کا تیرے لئے اعلیٰ حضرت آصف جاہ
ہفتم کی صورت ہمایوں میں ظہور ہوا ہے اور جس کی بدولت تیری یہ شان ہے کہ تو گویا آج مدینۃ الاسلام ہے اور
ہندوستان کے مسلمانوں کا دل ودماغ کھنچ کر تیرے دامن میں چلاگیا ہے اور دین کی کیسی کیسی خدمات ہیں کہ دور
حاضرہ میں خدا نے اے حیدرآباد! تیرا حصہ کر دی ہیں۔‘‘
(روزنامہ پیغام دہلی، مؤرخہ ۲۸؍مئی ۱۹۳۶ء)
۵… ’’قادیانی مذہب، یہ ایک کتاب کا نام ہے جو تقریباً ایک ہزار صفحہ کی ہے اور جناب مولانا الیاس برنی
صاحب ایم۔اے، ایل۔ایل۔بی، پروفیسر جامعہ عثمانیہ وناظم دارالترجمہ عثمانیہ کی شہرۂ آفاق تصنیف ہے۔ ظل
سبحانی اعلیٰ حضرت حضور نظام کے مکتوب مبارک میں بھی مولانا برنی کا ذکر تھا۔ یہ کتاب قادیانی عقائد کے جزو
کل کا ایک ایسا مکمل آئینہ ہے جو موجودہ زمانہ کے لٹریچر میں بے نظیر کہا جاسکتا ہے… اس کی قیمت تین روپیہ
بہت کم ہے۔ کیونکہ یہ قیمت لاگت سے بھی کم ہے۔ حسن نظامی۔‘‘
(اخبار منادی دہلی، مؤرخہ ۱۹؍جون ۱۹۳۶ء)
گزشتہ تین چار سال کے دوران میں قادیانیت کو جو انجام دیکھنا پڑا وہ کبھی نہ دیکھنالازم تھا۔ ایسی
تحریکات کی قلعی دیر میں کھلتی ہے مگر کھلتی ضرور ہے۔ چنانچہ اس قادیانی تحریک نے بھی پچاس سال کی مہلت
پائی۔ یوں تو اس کا تفصیلی کارنامہ کتاب میں درج ہے۔ لیکن اگر یہاں اس پر ایک طائرانہ نظر ڈالی جائے تو بے
محل نہ ہوگا۔ قادیانیت کا ایک زمانہ تھا کہ بڑا زور وشور تھا۔ بڑا گھمنڈ تھا۔ مسلمانوں کو عاجز ولاچار سمجھ
کر طعنے دئیے جاتے تھے، اپنی کامیابیوں پر شادیانے۔ چنانچہ اس رنگ میں خود مرزاغلام احمد قادیانی کے خیالات
وجذبات بہت سبق آموز ہیں کہ ابتداء میں جب ڈھیل ملتی ہے تو کتنا دھوکا ہوتا ہے۔ ملاحظہ ہو:
’’دیکھو صدہا دانشمند آدمی آپ لوگوں کی جماعت میں سے نکل کر ہماری جماعت میں ملتے جاتے ہیں۔ آسمان پر
ایک شور برپا ہے اور فرشتے پاک دلوں کو کھینچ کر اس طرف لارہے ہیں۔ اب اس آسمانی کارروائی کو کیا انسان روک
سکتا ہے۔ بھلا اگر کچھ طاقت ہے تو روکو۔‘‘
(ضمیمہ اربعین نمبر۴ ص۷، خزائن ج۱۷ ص۴۷۳)
113
’’مخالف لوگ عبث اپنے تئیں تباہ کر رہے ہیں۔ میں وہ پودا نہیں ہوں کہ ان کے ہاتھ سے اکھڑ سکوں۔ اگر ان
کے پہلے اور ان کے پچھلے، ان کے زندے اور ان کے مردے تمام جمع ہو جائیں اور میرے مارنے کے لئے دعائیں کریں
تو میرا خدا ان تمام دعاؤں کو لعنت کی شکل پر بنا کر ان کے منہ پر مارے گا۔ (مخالف لوگ مسلمان ہیں اور
مسلمانوں کے پہلے اور پچھلے، زندے اور مردے جو جو ہیں وہ بھی معلوم ہیں۔ اللہ رے بیباکی۔ للمؤلف)‘‘
(ضمیمہ اربعین نمبر۴ ص۷، خزائن ج۱۷ ص۴۷۳)
-
تجھے حمد و ثنا زیبا ہے پیارے
کہ تو نے کام سب میرے سنوارے
-
ترے احسان میرے سر پر ہیں بھارے
چمکتے ہیں وہ سب جیسے ستارے
-
گڑھے میں تو نے سب دشمن اتارے
ہمارے کر دئیے اونچے منارے
-
مقابل میں میرے یہ لوگ ہارے
کہاں مرتے تھے پر تو نے ہی مارے
-
شریروں پر پڑے ان کے شرارے
نہ ان سے رک سکے مقصد ہمارے
-
انہیں ماتم ہمارے گھر میں شادی
فسبحان الذی اخزی الاعادی
(درثمین اردو ص۴۶، منقول از اخبار الفضل قادیان ج۲۴ نمبر۵۵ ص۸ کالم۴، مؤرخہ ۳؍ستمبر ۱۹۳۶ء)
مرزامحمود خلیفہ قادیان اپنے والد بزرگوار مرزاغلام احمد قادیانی سے بھی ان خیالات وجذبات میں آگے بڑھ
گئے تھے کہ دنیا کا چارج لینا چاہتے تھے۔ دنیا کی تباہی کو اپنی کامیابی کا پیش خیمہ سمجھتے تھے اور عالمگیر
حکومت کا خواب دیکھتے تھے۔ چنانچہ کل کی سی بات ہے کہ خلیفہ قادیانی فرماتے تھے:
’’پس نہیں معلوم ہمیں کب خدا کی طرف سے دنیا کا چارج سپرد کیا جاتا ہے۔ ہمیں اپنی طرف سے تیار رہنا
چاہئے کہ دنیا کو سنبھال سکیں۔ تم نے دنیا کو ادھر نہیں لانا بلکہ لانے والا خدا ہے۔ اس لئے تمہیں آنے والوں
کے معلم بننے کے لئے ابھی سے کوشش کرنی چاہئے۔‘‘
(خطبہ جمعہ، الفضل قادیان ج۹ نمبر۶۷،۶۸، مؤرخہ ۲۷؍فروری، ۲؍مارچ ۱۹۲۲ء، خطبات محمود ج۷ ص۲۱۲)
’’غرض ہر قوم، ہر طبقہ اور ہر ملک میں گھبراہٹ اور بے چینی پائی جاتی ہے۔ اگر کوئی ایسی جماعت ہے جو
اپنے مذہب پر پکی اور امید ویقین سے پر ہے تو وہ احمدی جماعت ہے۔ وہ لوگ جو واقع میں حضرت مسیح موعود پر
ایمان لاتے ہیں، وہ سمجھتے اور یقین رکھتے ہیں کہ سب کچلے جائیں گے۔ صرف ہم باقی رہ جائیں گے۔ ہر ایک کو موت
نظر آرہی ہے اور صرف ہم کو زندہ دکھائی دے رہی ہے۔ کیونکہ ہمارے متعلق ہی کہا گیا ہے کہ ’’آسمان سے کئی تخت
اترے پر تیرا تخت سب سے اوپر بچھایا گیا۔‘‘ پس دوسری بادشاہتوں کو خطرہ ہے کہ وہ ٹوٹ جائیں گی مگر ہمیں امید
ہے کہ بادشاہت دی جائے گی۔ حکمران ڈر رہے ہیں کہ ان کی حکومت جاتی رہے گی مگر ہم خوش ہیں کہ ہمارے ہاتھ میں
دی جائے گی۔‘‘
(مرزامحمود خلیفہ قادیان کا خطبہ عید الفطر، اخبار الفضل قادیان ج۱۵ نمبر۷۸ ص۶ کالم۱،۲، مؤرخہ
۳؍اپریل ۱۹۲۸ء، خطبات محمود ج۱ ص۱۵۸)
لیکن ان خوابوں کی تعبیر کیا نکلی۔ وہی نکلی جو ایسے خوابوں کی نکلا کرتی ہے۔ تفصیل سے تو کتاب لبریز
ہے۔ مگر مختصر خلاصہ خود خلیفہ قادیان کی زبان سے سنئے۔ فرماتے ہیں:
’’ہم کو فخر تھا کہ ہم نے پوری کوشش کر کے ملک میں امن قائم رکھا ہے اور ملک میں ایسی داغ بیل ڈال دی
ہے کہ فساد مٹ جائے مگر حکومت نے ہماری اس عمارت کو گرا دیا ہے اور ہمارے نازک احساسات مجروح کئے گئے ہیں۔
ہمارے دل زخی کر دئیے گئے ہیں۔ ہم
114
نے کسی کا کچھ نہیں بگاڑا، کسی سے کچھ نہیں مانگا۔ مگر حکومت اور رعایا خواہ مخواہ ہماری مخالف ہے
اور مسیح ناصری کا قول بالکل ہمارے حسب حال ہے کہ لومڑیوں کے بھٹ ہوتے ہیں اور ہوا کے پرندوں کے گھونسلے،
مگر ابن آدم کے لئے سردھرنے کی بھی جگہ نہیں۔‘‘
(خطبہ جمعہ الفضل قادیان ج۲۲ نمبر۵۴ ص۱۲ کالم۳، مؤرخہ یکم؍نومبر ۱۹۳۴ء، خطبات محمود ج۱۵ ص۳۱۱)
’’ابھی تو ہم اس شخص کی طرح پریشان پھر رہے ہیں جو بغیر سواری اور کسی ساتھی کے ایک مہیب اور پرخطر
جنگل میں بہک جائے اور اسے اپنی منزل مقصود پر پہنچنے کا راستہ نہ ملے۔ ہم بھی حیران وپریشان ایک ایسی زمین
میں پھر رہے ہیں جس میں نہ کوئی انیس ہے نہ جلیس، نہ سواری ہے نہ ٹھہرنے کا مقام۔ ایسی حالت کے ہوتے ہوئے
خالی عقیدوں کو ہم نے کیا کرنا ہے اور ان سے دنیا میں کیا تغیر ہوسکتا ہے۔‘‘
(خطبہ جمعہ، الفضل قادیان ج۲۳ نمبر۲۷۹ ص۶ کالم۳، مؤرخہ ۲؍جون ۱۹۳۶ء، خطبات محمود ج۱۷ ص۳۳۷)
’’گویا جس طرح چاروں طرف جب آگ لگ جاتی ہے تو انسان حیران رہ جاتا ہے اور وہ نہیں سمجھ سکتا کہ وہ کیا
کرے۔ یہی اس وقت ہماری حالت ہے۔‘‘
(خطبہ جمعہ، الفضل قادیان ج۲۳ نمبر۲۷۹ ص۵ کالم۲، مؤرخہ ۲؍جون ۱۹۳۶ء، خطبات محمود ج۱۷ ص۳۳۳)
یوں تو چوتھا ایڈیشن بھی بڑی تقطیع کے ہزار صفحات پر شائع ہوا تھا اور بہت جامع تھا۔ اس میں بیس فصلوں
کے تحت نوسو سے زیادہ عنوانات اور ان کے سوا چار تمہیدیں اور چار ضمیمے درج تھے۔ گرچہ کتاب بڑی حد تک مکمل
ہوچکی تھی پھر بھی کچھ مباحث تشنہ رہ گئے تھے۔ ان کے متعلق یا تو اس وقت تک مضامین دریافت نہ ہوسکے یا ہوگئے
تو ان کے حوالے تحقیق طلب تھے۔ کچھ متعلقہ مضامین بعد کو نمودار ہوئے۔ یہ سب بڑی تحقیق سے اس دوران میں مہیا
کر لئے گئے۔ ان کی بدولت اس پانچویں ایڈیشن میں تقریباً دو سو جدید عنوانات کا اضافہ ہوا اور یہ سب عنوانات
بجائے خود بہت ضروری اور اہم تھے۔ بالخصوص قادیانیوں کا ہندوؤں کے ساتھ مذہبی تعلق پانچویں فصل میں خوب
واضح ہوگیا۔ علیٰ ہذا قادیانی جماعت لاہور کے امیر مولوی محمد علی کے عقائد ان ہی کی مفصل تحریروں سے
پندرھویں فصل میں بخوبی واقف ہوگئے کہ کسی گریز یا تاویل کی گنجائش نہیں رہی۔ قادیانی جماعت قادیان کے خلیفہ
مرزامحمود کے کارنامے بھی زیادہ نمایاں ہوگئے اور یوں بھی تقریباً تمام مباحث میں مزید عنوانات شریک ہونے سے
بہت وضاحت پیدا ہوگئی۔ ان کے سوا یہ تمہید پنجم بھی اضافہ ہوئی۔ ایک ضمیمہ بھی جدید شریک ہوا جس میں
قادیانیوں کی دونوں جماعتوں کی تفریق درج ہے۔ ان اضافوں کی وجہ سے کتاب کا حجم بھی کافی بڑھ گیا۔ اب اطمینان
ہوگیا کہ کتاب نے ایک مکمل صورت اختیار کر لی۔ آئندہ کبھی اضافے ہوئے تو شاذ ہو سکیں گے۔ کسی معتدبہ اضافہ
کی ضرورت اور گنجائش نہیں رہی۔ چارسال کے اندر اندر کام تکمیل کو پہنچ گیا اور پانچواں ایڈیشن شائع ہوگیا۔
فالحمد للہ علیٰ ذالک۔
کتاب کی موجودہ وسعت وجامعیت کا اس سے اندازہ ہوسکتا ہے کہ اس میں تقریباً ڈیڑھ سو کتب ورسائل کے
مضامین بطور اقتباس درج ہیں اور ان اقتباسات کے حوالے بھی ساتھ ساتھ اس تفصیل سے درج ہیں کہ جو کوئی چاہے
اصل مآخذ نکال کر دیکھ لے، اطمینان کر لے۔ ان تمام کتب ورسائل کی مفصل فہرست بھی بطور ضمیمہ کتاب میں شامل
کر دی گئی۔ جس سے واضح ہوگا کہ سواسو سے زیادہ قادیانی کتب ورسائل اس تالیف میں شریک ہیں جن میں سے پچاس سے
زیادہ خود مرزاغلام احمد قادیانی کی اور باقی قادیانی اکابر کی تصنیف وتالیف ہیں۔ خاص وعام کا اتفاق ہے کہ
تحقیق وتنقید میں یہ کتاب آپ ہی اپنی نظیر ہے۔
اس زمانہ میں اس کتاب کی کس درجہ ضرورت تھی اور ضرورت ہے، ملک وملت دونوں اس کا اندازہ کر چکے ہیں اور
کریں گے۔ وما علینا الالبلاغ!
معروضہ: خادم محمد الیاس برنی
بیت السلام، حیدرآباددکن، ماہ ذی الحجہ ۱۳۵۵ھ
115
نعوذ باللہ السمیع العلیم من الشیطان الرجیم
بسم اللہ الرحمٰن الرحیم
حصہ اوّل
فصل پہلی
ذاتی حالات
(۱) مختصر سرگزشت
’’اب میرے سوانح اس طرح پر ہیں کہ میرا نام غلام احمد، میرے والد کا نام غلام مرتضیٰ اور دادا صاحب کا
نام عطاء محمد اور میرے پڑدادا کا نام گل محمد تھا اور جیسا کہ بیان کیاگیا ہے، ہماری قوم مغل برلاس ہے اور
میرے بزرگوں کے پرانے کاغذات سے، جواب تک محفوظ ہیں، معلوم ہوتا ہے کہ وہ اس ملک میں سمرقند سے آئے تھے…
سکھوں کے ابتدائی زم انے میں میرے پردادا صاحب میرزاگل محمد ایک نامور اور مشہور رئیس اس نواح کے تھے… اب
خلاصہ کلام یہ ہے کہ جب میرے پردادا صاحب فوت ہوئے تو بجائے ان کے میرے دادا صاحب یعنی مرزاعطاء محمد فرزند
رشید ان کے گدی نشین ہوئے۔ ان کے وقت میں خداتعالیٰ کی حکمت اور مصلحت سے لڑائی میں سکھ غالب آئے… اس وقت
ہمارے بزرگوں پر بڑی تباہی آئی… اور وہ پنجاب کی ایک ریاست میں پناہ گزیں ہوئے۔ تھوڑے عرصہ کے بعد ان ہی
دشمنوں کے منصوبے سے میرے دادا صاحب کو زہردی گئی۔ پھر رنجیت سنگھ کی سلطنت کے آخری زمانہ میں میرے والد
صاحب مرحوم مرزاغلام مرتضیٰ قادیان میں واپس آئے اور مرزا صاحب موصوف کو اپنے والد صاحب کے دیہات میں سے
پانچ گاؤں واپس ملے… پھر بھی بلحاظ پرانے خاندان کے میرے والد صاحب مرزاغلام مرتضیٰ اس نواح میں ایک مشہور
رئیس تھے… اب میرے ذاتی سوانح یہ ہیں کہ میری پیدائش ۱۸۳۹ء یا ۱۸۴۰ء میں سکھوں کے آخری وقت میں ہوئی ہے اور
میں ۱۸۵۷ء میں سولہ برس کا یا سترہویں برس میں تھا اور ابھی ریش وبرودت کا آغاز نہیں تھا۔ میری پیدائش سے
پہلے میرے والد صاحب نے بڑے بڑے مصائب دیکھے۔ ایک دفعہ ہندوستان کا پیادہ پاسیر بھی کیا۔ لیکن میری پیدائش
کے دنوں میں ان کی تنگی کا زمانہ فراخی کی طرف بدل گیا تھا…
بچپن کے زمانہ میں میری تعلیم اس طرح پر ہوئی کہ جب میں چھ سات سال کا تھا تو ایک فارسی خواں معلم
میرے لئے نوکر رکھاگیا۔ جنہوں نے قرآن شریف اور چند فارسی کتابیں مجھے پڑھائیں اور اس بزرگ کا نام فضل الٰہی
تھا اور جب میری عمر تقریباً دس برس کے ہوئی تو ایک عربی خواں مولوی صاحب میری تربیت کے لئے مقررکئے گئے جن
کا نام فضل احمد تھا۔ میں خیال کرتا ہوں کہ چونکہ میری تعلیم خداتعالیٰ کے فضل کی ایک ابتدائی تخم ریزی تھی،
اس لئے ان استادوں کے نام کا پہلا لفظ بھی فضل ہی تھا۔ مولوی صاحب موصوف جو ایک دیندار اور بزرگوار آدمی
تھے، وہ بہت توجہ اور محنت سے پڑھاتے رہے اور میں نے صرف کی بعض کتابیں اور کچھ قواعد نحو ان سے پڑھے اور
بعد اس کے جب میں سترہ یا اٹھارہ سال کا ہوا تو ایک اور مولوی صاحب سے چند سال پڑھنے کا اتفاق ہوا۔ ان کا
نام گل علی شاہ تھا۔ ان کو بھی میرے والد نے نوکر رکھ کر قادیان میں پڑھانے کے لئے مقرر کیا تھا اور ان
آخرالذکر مولوی صاحب سے میں نے نحو اور منطق اور حکمت
116
وغیرہ علوم مروجہ کو جہاں تک خداتعالیٰ نے چاہا، حاصل کیا اور بعض طبابت کی کتابیں میں نے اپنے والد
صاحب سے پڑھیں اور وہ فن طبابت میں بڑے حاذق طبیب تھے اور ان دنوں میں مجھے کتابوں کے دیکھنے کی طرف اس قدر
توجہ تھی کہ گویا میں دنیا میں نہ تھا۔
میرے والد صاحب مجھے باربار یہی ہدایت کرتے تھے کہ کتابوں کا مطالعہ کم کرنا چاہئے۔ کیونکہ وہ نہایت
ہمدردی سے ڈرتے تھے کہ صحت میں فرق نہ آوے اور نیز ان کا یہ بھی مطلب تھا کہ میں اس شغل سے الگ ہوکر ان کے
غموم وہموم میں شریک ہو جاؤں۔ آخر ایسا ہی ہوا۔ میرے والد صاحب اپنے بعض آباؤاجداد کے دیہات کو دوبارہ
لینے کے لئے انگریزی عدالتوں میں مقدمات کر رہے تھے۔ انہوں نے ان ہی مقدمات میں مجھے بھی لگایا اور ایک
زمانہ دراز تک میں ان کاموں میں مشغول رہا۔ مجھے افسوس ہے کہ بہت سا وقت عزیز میرا ان بیہودہ جھگڑوں میں
ضائع گیا اور اس کے ساتھ ہی والد صاحب موصوف نے زمینداری امور کی نگرانی میں مجھے لگادیا۔ میں اس طبیعت اور
فطرت کا آدمی نہیں تھا اس لئے اکثر والد صاحب کی ناراضگی کا نشانہ رہتا رہا… ایسا ہی ان کے زیرسایہ ہونے کے
ایام میں چند سال تک میری عمر کراہت طبع کے ساتھ انگریزی ملازمت میں بسر ہوئی (یعنی سیالکوٹ کی کچہری میں
پندرہ روپے ماہوار کے محرر تھے) آخر چونکہ میرا جدا رہنا میرے والد پر بہت گراں تھا، اس لئے ان کے حکم سے جو
عین میری منشاء کے موافق تھا، میں نے استعفیٰ دے کر اپنے تئیں اس نوکری سے جو میری طبیعت کے مخالف تھی،
سبکدوش کر دیا اور پھر والد صاحب کی خدمت میں حاضر ہوگیا… اور جب میں حضرت والد صاحب مرحوم کی خدمت میں پھر
حاضر ہوا تو بدستور ان ہی زمینداری کے کاموں میں مصروف ہوگیا، مگر اکثر حصہ وقت کا قرآن شریف کے تدبر اور
تفسیروں اور حدیثوں کے دیکھنے میں صرف ہوتا تھا… میری عمر قریباً چونتیس یا پینتیس برس کے ہوگی جب حضرت والد
صاحب کا انتقال ہوا۔ مجھے ایک خواب میں بتلایا گیا تھا کہ اب ان کے انتقال کا وقت قریب ہے۔ میں اس وقت لاہور
میں تھا جب مجھے یہ خواب آیا تھا۔ تب میں جلدی سے قادیان پہنچا اور ان کو مرض زحیر (پیچش) میں مبتلا پایا…
اور میرے والد صاحب اسی دن بعد غروب آفتاب فوت ہوگئے… غرض میری زندگی قریب قریب چالیس برس کے زیرسایہ والد
بزرگوار کے گزری۔ ایک طرف ان کا دنیا سے اٹھایا جانا تھا اور ایک طرف بڑے زوروشور سے سلسلہ مکالمات الٰہیہ
کا مجھ سے شروع ہوا۔‘‘
(کتاب البریہ ص۱۳۴تا۱۶۳ خلاصہ بقیہ حاشیہ، خزائن ج۱۳ ص۱۶۲تا۱۹۵)
(۲) خاندانی زوال
’’میرے والد مرزاغلام مرتضیٰ صاحب دربار گورنری میں کرسی نشین بھی تھے اور سرکار انگریزی کے ایسے
خیرخواہ اور دل کے بہادر تھے کہ مفسدہ ۱۸۵۷ء میں پچاس گھوڑے اپنی گرہ سے خرید کر اور پچاس جوان جنگ جو بہم
پہنچا کر اپنی حیثیت سے زیادہ اس گورنمنٹ عالیہ کو مدد دی تھی۔ غرض ہماری ریاست کے ایام دن بدن زوال
پذیرہوتے گئے۔ یہاں تک کہ آخری نوبت ہماری یہ تھی کہ ایک کم درجہ کے زمیندار کی طرح ہمارے خاندان کی حیثیت
ہوگئی۔‘‘
(تحفہ قیصریہ ص۱۸،۱۹، خزائن ج۱۲ ص۲۷۰،۲۷۱)
’’اس کے بعد انگریز آئے تو انہوں نے ہماری خاندانی جاگیر ضبط کر لی اور صرف سات سو روپیہ سالانہ کی
ایک اعزازی پنشن نقدی کی صورت میں مقرر کر دی جو ہمارے دادا صاحب کی وفات پر صرف ایک سو اسّی رہ گئی اور پھر
تایا صاحب کے بعد بالکل بند ہوگئی۔‘‘
(سیرت المہدی حصہ اوّل ص۳۲،۳۳، روایت نمبر۴۷، جدید ج۱ حصہ اوّل ص۳۶،۳۷، روایت نمبر۴۸)
(۳) آبائی مکانات
’’بیان کیا مجھ سے مولوی رحیم بخش صاحب ایم۔اے نے کہ مرزاسلطان احمد صاحب نے بیان کیا کہ ایک دفعہ
مسٹر میکانکی ڈپٹی
117
کمشنر گورداسپور قادیان دورہ پر آئے۔ راستے میں انہوں نے دادا صاحب (مرزاغلام مرتضیٰ) سے کہا کہ آپ
کے خیال میں سکھ حکومت اچھی تھی یا انگریزی حکومت اچھی ہے۔ دادا صاحب نے کہا کہ گاؤں چل کر جواب دوں گا۔ جب
قادیان پہنچے تو دادا صاحب نے اپنے اور اپنے بھائیوں کے مکانات دکھا کر کہا کہ یہ سکھوں کے وقت کے بنے ہوئے
ہیں۔ مجھے امید نہیں کہ آپ کے وقت میں میرے بیٹے ان کی مرمت بھی کر سکیں۔‘‘
(سیرت المہدی حصہ اوّل ص۲۰۵، روایت نمبر۲۰۲، جدید ج۱ حصہ اوّل ص۲۰۵، روایت نمبر۲۰۷)
(۴) سندھی
’’والدہ صاحبہ نے فرمایا کہ ایک دفعہ ایمہ سے چند بوڑھی عورتیں آئیں تو انہوں نے باتوں باتوں میں کہا
کہ سندھی ہمارے گاؤں میں چڑیاں پکڑا کرتا تھا۔ والدہ صاحبہ نے فرمایا کہ میں نہ سمجھ سکی کہ سندھی سے کون
مراد ہے۔ آخر معلوم ہوا کہ ان کی مراد حضرت صاحب سے ہے۔ والدہ صاحبہ فرماتی تھیں کہ دستور ہے کہ کسی منت
ماننے کے نتیجہ میں بعض لوگ خصوصاً عورتیں اپنے کسی بچہ کا عرف سندھی رکھ دیتے ہیں۔ چنانچہ اسی وجہ سے آپ کی
والدہ اور بعض عورتیں آپ کو بھی بچپن میں کبھی اس لفظ سے پکار لیتی تھیں۔‘‘ (سندھی بہ فتح س)
(سیرت المہدی حصہ اوّل ص۳۶، روایت نمبر۵۰، جدید ج۱ حصہ اوّل ص۴۰، روایت نمبر۵۱)
(۵) لطیف اشارہ
’’میں توام پیدا ہوا تھا اور میرے ساتھ ایک لڑکی تھی جس کا نام جنت تھا اور (مرزاقادیانی کا) یہ الہام
کہ ’’یا ادم اسکن انت وزوجک الجنۃ‘‘ جو آج سے بیس برس پہلے براہین احمدیہ (مصنفہ
مرزاقادیانی) کے صفحہ ۴۹۶ میں درج ہے، اس میں جو جنت کا لفظ ہے، اس میں یہ ایک لطیف اشارہ ہے کہ وہ لڑکی جو
میرے ساتھ پیدا ہوئی، اس کا نام جنت تھا اور یہ لڑکی صرف سات ماہ تک زندہ رہ کر فوت ہوگئی تھی۔‘‘
(تریاق القلوب ص۱۵۶،۱۵۷، خزائن ج۱۵ ص۴۷۹)
(۶) انثیت کا مادہ
’’حضرت مرزاصاحب توام پیدا ہوئے تھے اور آپ کے ساتھ پیدا ہونے والا دوسرا بچہ لڑکی تھی جن کا نام جنت
رکھا گیا تھا۔ وہ چند دنوں کے بعد فوت ہوگئی اور فی الواقع جنت ہی میں چلی گئی۔ مرزاصاحب نے اس معصومہ کے
فوت ہونے پر اپنا خیال یہ ظاہر کیا کہ میں خیال کرتا ہوں کہ اس طرح پر خداتعالیٰ نے انثیت کا مادہ مجھ سے بہ
کلی الگ کر دیا۔‘‘
(حیات النبی ج اوّل ص۵۰ مؤلفہ یعقوب علی قادیانی ملخص کتاب البریہ ص۱۴۶ حاشیہ در حاشیہ، خزائن ج۱۳
ص۱۷۷)
(۷) بچپن کی بات
’’بیان کیا مجھ سے والدہ نے کہ ایک دفعہ حضرت صاحب (مرزاقادیانی) سناتے تھے کہ جب میں بچہ ہوتا تھا تو
ایک دفعہ بعض بچوں نے مجھے کہا کہ جاؤ گھر سے میٹھا لاؤ۔ میں گھر میں آیا اور بغیر کسی سے پوچھنے کے ایک
برتن میں سے سفید بورا اپنی جیبوں میں بھر کر باہر لے گیا اور راستہ میں ایک مٹھی بھر کرمنہ میں ڈال لی۔ بس
پھر کیا تھا۔ میرادم رک گیا اور بڑی تکلیف ہوئی۔ کیونکہ معلوم ہوا کہ جسے میں نے سفید بورا سمجھ کر جیبوں
میں بھرا تھا، وہ بورا نہ تھا بلکہ پسا ہوا نمک تھا۔‘‘
(سیرت المہدی حصہ اوّل ص۲۲۶، روایت نمبر۲۳۹، جدید ج۱ حصہ اوّل ص۲۲۵، روایت نمبر۲۴۴)
118
(۸) ادھر ادھر
’’بیان کیا مجھ سے حضرت والدہ صاحبہ نے کہ ایک دفعہ اپنی جوانی کے زمانہ میں حضرت مسیح موعود تمہارے
دادا کی پنشن وصول کرنے گئے تو پیچھے پیچھے مرزا امام الدین بھی چلے گئے۔ جب آپ نے پنشن وصول کر لی تو وہ آپ
کو پھسلا کر اور دھوکہ دے کر بجائے قادیان لانے کے باہر لے گیا اور ادھر ادھر پھراتا رہا۔ پھر جب اس نے سارا
روپیہ اڑا کر ختم کر دیا تو آپ کو چھوڑ کر کہیں اور چلا گیا۔ حضرت مسیح موعود اس شرم سے واپس گھر نہیں آئے
اور چونکہ تمہارے دادا کا منشا رہتا تھا کہ آپ کہیں ملازم ہو جائیں۔ اس لئے آپ سیالکوٹ شہر میں ڈپٹی کمشنر
کی کچہری میں قلیل تنخواہ پر ملازم ہوگئے… والدہ صاحبہ بیان کرتی ہیں کہ حضرت صاحب فرماتے تھے کہ ہمیں چھوڑ
کر پھر مرزا امام الدین ادھر ادھر پھرتا رہا۔ آخر اس نے چائے کے ایک قافلہ پر ڈاکہ مارا اور پکڑا گیا، مگر
مقدمہ میں رہا ہوگیا۔ حضرت صاحب فرماتے تھے کہ معلوم ہوتا ہے اللہ تعالیٰ نے ہماری وجہ سے ہی اسے قید سے
بچالیا، ورنہ خواہ وہ خود کیسا ہی آدمی تھا، ہمارے مخالف یہی کہتے کہ ان کا ایک چچازاد بھائی جیل خانہ میں
رہ چکا ہے۔‘‘
(سیرت المہدی حصہ اوّل ص۳۴،۳۵، روایت نمبر۴۸، جدید ج۱ حصہ اوّل ص۳۸،۳۹، روایت نمبر۴۹)
(۹) بھئی لوگ
’’بیان کیا مجھ سے حضرت والدہ صاحبہ نے کہ ایک دفعہ میں نے سنا کہ مرزا امام الدین اپنے مکان میں کسی
کو مخاطب کر کے بلند آواز سے کہہ رہا تھا کہ بھئی (یعنی بھائی) لوگ (حضرت صاحب کی طرف اشارہ تھا) دکانیں چلا
کر نفع اٹھا رہے ہیں۔ ہم بھی کوئی دکان چلاتے ہیں۔ والدہ صاحبہ فرماتی تھیں کہ پھر اس نے چوہڑوں کی پیری کا
سلسلہ جاری کیا۔‘‘
(سیرت المہدی حصہ اوّل ص۲۵، روایت نمبر۳۸، جدید ج۱ حصہ اوّل ص۲۸، روایت نمبر۳۹)
(۱۰) لازمہ شرافت وشجاعت
’’جس زمانہ میں حضرت مسیح موعود کا بچپن جوانی کی طرف جارہا تھا، عام طور پر لوگ ہتھیارات رکھتے تھے
اور استعمال کرتے تھے اور گتکہ وغیرہ اور تلوار کے کرتب کی ورزشیں عام تھیں، لیکن حضرت مسیح موعود چونکہ یضع
الحرب کے لئے آئے تھے اور ان کے زمانہ میں امن وآسائش کی راہیں کھل جانے والی تھیں۔ آپ نے ان امور کی طرف
توجہ نہیں کی۔ بحالیکہ یہ امور لازمہ شرافت وشجاعت سمجھے جاتے تھے۔‘‘
(حیات النبی جلد اوّل حصہ دوم ص۱۳۸، مؤلفہ شیخ یعقوب علی قادیانی)
(۱۱) دایاں ہاتھ
’’بیان کیا مجھ سے مرزاسلطان احمد صاحب نے بواسطہ مولوی رحیم بخش صاحب (حال عبدالرحیم دردقادیانی)
ایم۔اے کے کہ ایک دفعہ والد صاحب (یعنی مرزاغلام احمد قادیانی) اپنے چوبارے کی کھڑکی سے گر گئے اور دائیں
بازو پر چوٹ آئی۔ چنانچہ آخر عمر تک وہ ہاتھ کمزور رہا۔ خاکسار عرض کرتا ہے کہ والدہ صاحبہ فرماتی تھیں کہ
آپ کھڑکی سے اترنے لگے تھے۔ سامنے اسٹول رکھا تھا، وہ الٹ گیا اور آپ گر گئے اور دائیں ہاتھ کی ہڈی ٹوٹ گئی
اور یہ ہاتھ آخر عمر تک کمزور رہا۔ اس ہاتھ سے آپ لقمہ تو منہ تک لے جاسکتے تھے مگر پانی کا برتن وغیرہ منہ
تک نہیں اٹھاسکتے تھے۔ خاکسار عرض کرتا ہے کہ نماز میں بھی آپ کو دایاں ہاتھ بائیں ہاتھ کے سہارے سے
سنبھالنا پڑتا تھا۔‘‘
(سیرت المہدی حصہ اوّل ص۱۹۸، روایت نمبر۱۸۲، جدید ج۱ حصہ اوّل ص۱۹۸، روایت نمبر۱۸۷)
119
(۱۲) دندان مبارک
’’دندان مبارک آپ (یعنی مرزاغلام احمد قادیانی) کے آخر عمر میں کچھ خراب ہوگئے تھے۔ یعنی کیڑا بعض
داڑھوں کو لگ گیا تھا جس سے کبھی کبھی تکلیف ہو جاتی تھی۔ چنانچہ ایک دفعہ ایک داڑھ کا سرا ایسا نوک دار
ہوگیا تھا کہ اس سے زبان میں زخم پڑ گیا تو ریتی کے ساتھ اس کو گھسوا کر برابر بھی کرایا تھا مگر کبھی کوئی
دانت نکلوایا نہیں۔ مسواک آپ اکثر فرمایا کرتے تھے۔ (شاید دیر میں شروع کی ورنہ کیڑا نہ لگتا… للمؤلف)‘‘
(سیرت المہدی حصہ اوّل ص۱۲۵، روایت نمبر۴۴۴، جدید ج۱ حصہ دوم ص۴۱۵، روایت نمبر۴۴۷)
(۱۳) توبہ توبہ
’’خاکسار (مرزابشیراحمد) کے ماموں ڈاکٹر میر محمد اسماعیل صاحب نے مجھ سے بیان کیا کہ ایک دفعہ گھر
میں ایک مرغی کے چوزہ کے ذبح کرنے کی ضرورت پیش آئی اور اس وقت گھر میں کوئی اور اس کام کو کرنے والا نہ
تھا۔ اس لئے حضرت صاحب (مرزاقادیانی) اس چوزہ کو ہاتھ میں لے کر خود ذبح کرنے لگے۔ مگر بجائے چوزہ کی گردن
پر چھری پھیرنے کے غلطی سے اپنی انگلی کاٹ ڈالی۔ جس سے بہت خون گیا اور آپ توبہ توبہ کرتے ہوئے چوزہ کو چھوڑ
کر اٹھ کھڑے ہوئے۔ پھر وہ چوزہ کسی اور نے ذبح کیا… حضرت مسیح موعودنے چونکہ کبھی جانور وغیرہ ذبح نہ کئے
تھے، اس لئے بجائے چوزہ کی گردن کے انگلی پر چھری پھیرلی۔‘‘
(سیرت المہدی حصہ دوم ص۴، جدید ج۱ حصہ دوم ص۲۸۵، روایت نمبر۳۰۷)
’’والدہ صاحبہ (مرزاقادیانی کی والدہ) نے فرمایا کہ وہاں (ایمہ) حضرت صاحب (یعنی مرزاقادیانی) بچپن
میں چڑیاں پکڑا کرتے تھے اور چاقو نہیں ملتا تھا تو سرکنڈے سے ذبح کر لیتے تھے۔‘‘
(سیرت المہدی حصہ اوّل ص۳۶، روایت نمبر۵۰، جدید ج۱ حصہ اوّل ص۴۰، روایت نمبر۵۱)
(۱۴) انگریزی دانی
’’اسی زمانہ میں (یعنی جب کہ مرزاغلام احمد سیالکوٹ کی کچہری میں ملازم تھے) مولوی الٰہی بخش صاحب کی
سعی سے جو چیف محرر مدارس تھے۔ (اب اس عہدہ کا نام ڈسٹرکٹ انسپکٹر مدارس ہے) کچہری کے ملازم منشیوں کے لئے
ایک مدرسہ قائم ہوا کہ رات کو کچہری کے ملازم منشی انگریزی پڑھا کریں۔ ڈاکٹر امیر شاہ صاحب جو اس وقت اسسٹنٹ
سرجن پنشنر ہیں، استاد مقرر ہوئے۔ مرزاصاحب نے بھی انگریزی شروع کی اور ایک دو کتابیں انگریزی کی پڑھیں۔
(مرزاقادیانی کے انگریزی الہامات سے بھی بس اسی قدر لیاقت معلوم ہوتی ہے۔ للمؤلف)‘‘
(سیرت المہدی حصہ اوّل ص۱۳۷، روایت نمبر۱۴۷، جدید ج۱ حصہ اوّل ص۱۴۱، روایت نمبر۱۵۰)
(۱۵) مختاری
’’چونکہ مرزاصاحب ملازمت کو پسند نہیں فرماتے تھے اس واسطے آپ نے مختاری کے امتحان کی تیاری شروع کر
دی اور قانونی کتابوں کا مطالعہ شروع کیا۔ پر امتحان میں کامیاب نہ ہوئے اور کیوں کر ہوتے، وہ دنیوی اشغال
کے لئے بنائے نہیں گئے تھے۔ سچ ہے: ہر کسے را بہر کارے ساختند۔‘‘
(سیرت المہدی حصہ اوّل ص۱۳۸، روایت نمبر۱۴۷، جدید ج۱ حصہ اوّل ص۱۴۲، روایت نمبر۱۵۰)
(۱۶) مدرسی
’’ان دنوں میں پنجاب یونیورسٹی نئی نئی قائم ہوئی تھی۔ اس میں عربی استاد کی ضرورت تھی۔ جس کی تنخواہ
ایک سو روپیہ ماہوار تھی۔ میں نے ان کی (یعنی مرزاقادیانی کی) خدمت میں عرض کی کہ آپ درخواست بھیج دیں۔
چونکہ آپ کی لیاقت عربی زبان دانی کی نہایت
120
کامل ہے، آپ ضرور اس عہدے پر مقرر ہو جائیں گے۔ فرمایا کہ میں مدرسی کو پسند نہیں کرتا۔ کیونکہ اکثر
لوگ پڑھ کر بعدازاں بہت شرارت کے کام کرتے ہیں۔‘‘
(سیرت المہدی حصہ اوّل ص۱۳۹، روایت نمبر۱۴۷، جدید ج۱ حصہ اوّل ص۱۴۲، روایت نمبر۱۵۰)
(۱۷) ملازمت
’’چونکہ تمہارے دادا کا منشا رہتا تھا کہ آپ (مرزاقادیانی) کہیں ملازم ہو جائیں۔ اس لئے آپ سیالکوٹ
شہر میں ڈپٹی کمشنر کی کچہری میں قلیل تنخواہ پر ملازم ہوگئے اور کچھ عرصہ تک وہاں ملازمت پر رہے۔ پھر جب
تمہاری دادی بیمار ہوئیں تو تمہارے دادا نے آدمی بھیجا کہ ملازمت چھوڑ کر آجاؤ۔ جس پر حضرت صاحب فوراً
روانہ ہوگئے… خاکسار عرض کرتا ہے کہ حضرت مسیح موعود کی سیالکوٹ کی ملازمت ۱۸۶۴ء تا ۱۸۶۸ء کا واقعہ ہے۔‘‘
(سیرت المہدی حصہ اوّل ص۳۵، روایت نمبر۴۸، جدید ج۱ حصہ اوّل ص۳۹، روایت نمبر۴۹)
(۱۸) مرزاقادیانی کی سادگی
’’حضور جب مسجد میں تشریف لاتے تو تمام لباس زیب تن فرما کر کوٹ، پگڑی اور ایک کھونڈا گویا ’’خذوا زینتکم عند کل مسجد‘‘ پر پورا عمل تھا۔ جب ایک کھڑکی سے باہر نکلتے تو وہاں
ہمارے مکرم حافظ ابراہیم صاحب نابینا علی العموم گیارہ بجے ہی سے بیٹھے ہوتے، وہ ضرور سب سے پہلے السلام
علیکم کہتے یا اس کا جواب دیتے اور پھر لباس مبارک کو مس کر کے برکت حاصل کرتے اور دعا کے لئے عرض کرلیتے۔
صرف ایک بار میں نے حضور کی زیارت ایسے لباس میں کی جب کہ شیخ رحمت اللہ صاحب وغیرہ احباب لاہور کے آنے پر
حضور مسجد مبارک میں تشریف لے آئے۔ سر پر ترکی ٹوپی تھی، جو بہت پرانی اور فرسودہ سی بغیر پھندنے کے اور
مہندی لگائے ہوئے تھے۔ غالباً اسی لئے صرف کرتا تھا، کوٹ نہ تھا۔ شیخ صاحب نے عرض کیا، حضور گھڑی تو اچھی
چلتی ہے۔ آپ نے ایک رومال کو فرش پر رکھ کر اور ایک دو گانٹھیں کھول کر اس میں سے گھڑی نکالی۔ معلوم ہوا کہ
بند ہے۔ چابی دی گئی۔ وقت درست کیا گیا۔ مولوی محمد علی صاحب نے آہستہ سے کہا، اب جس دن پھر آؤ گے چابی دے
دینا۔ حضور نے یہ معلوم کر کے مسرت ظاہر کی کہ ایک گھڑی ایسی ہے جسے سات روزہ چابی دی جاتی ہے۔‘‘
(یادایام، قاضی محمد ظہور الدین قادیانی مندرجہ اخبار الحکم قادیان ج۳۷ نمبر۱۸،۱۹، مؤرخہ ۲۱تا۲۸؍مئی
۱۹۳۴ء)
’’ڈاکٹر میر محمد اسماعیل صاحب نے مجھ سے بیان کیا کہ حضرت مسیح موعود (مرزاقادیانی) کو قرآن مجید کے
بڑے بڑے مسلسل حصے یا بڑی بڑی سورتیں یاد نہ تھیں۔ بے شک آپ قرآن کے جملہ مطالب پر حاوی تھے، مگر حفظ کے رنگ
میں قرآن شریف کا اکثر حصہ یاد نہ تھا۔‘‘
(سیرت المہدی حصہ سوم ص۴۴، جدید ج۱ حصہ سوم ص۵۴۰، روایت نمبر۵۵۳)
(قادیانی عقیدے کے مطابق محمد رسول اللہ ﷺ کا دنیا میں دوبار آنا مقدر تھا۔ پہلی بار آپ مکہ مکرمہ میں
محمد ﷺ کی شکل میں تشریف لے آئے اور دوسری بار قادیان میں مرزاقادیانی کی بروزی شکل میں آئے۔ پہلی بار جب آپ
تشریف لائے تو آپ قرآن مجید کے حافظ تھے۔ دوسری بار جب آئے تو قرآن مجید کیوں بھول گئے؟ عبدالرحمن باوا)
(۱۹) آپ حج کیوں نہیں کرتے؟
’’شیخ ابوسعید محمد حسین بٹالوی کے خط کا جواب الحکم کی گذشتہ اشاعت میں کسی قدر بسط سے شائع ہوچکا
ہے۔ لیکن اتمام حجت اور ایک نکتہ معرفت کے لئے اتنا اور عرض کرنا ضروری سمجھا ہے کہ حضرت اقدس (مرزاقادیانی)
کے حضور جب وہ خط پڑھا گیا اور یہ اعتراض پیش کیاگیا کہ آپ کیوں حج نہیں کرتے؟ تو فرمایا کہ میرا پہلا کام
خنزیروں کا قتل اور صلیب کی شکست ہے۔ ابھی تو میں خنزیروں کو قتل کر رہا ہوں۔ بہت سے
121
خنزیر مرچکے ہیں اور بہت سے سخت جان ابھی باقی ہیں۔ ان سے فرصت اور فراغت تو ہو لے۔‘‘
(ملفوظات ج۳ ص۳۷۲، جدید ملفوظات ج۲ ص۲۸۳)
(۲۰) رمضان کے روزے
’’بیان کیا مجھ سے حضرت والدہ صاحب نے کہ جب حضرت مسیح موعود (مرزاقادیانی) کو دورے پڑنے شروع ہوئے تو
آپ نے اس سال سارے رمضان کے روزے نہیں رکھے اور فدیہ ادا کر دیا۔ دوسرا رمضان آیا تو آپ نے روزے رکھنے شروع
کئے مگر آٹھ نو روزے رکھے تھے کہ پھر دورہ ہوا۔ اس لئے باقی چھوڑ دئیے اور فدیہ ادا کر دیا۔ اس کے بعد جو
رمضان آیا تو اس میں آپ نے دس گیارہ روزے رکھے تھے کہ پھر دورہ کی وجہ سے روزے ترک کرنے پڑے اور آپ نے فدیہ
ادا کر دیا۔ اس کے بعد جو رمضان آیا تو آپ کا تیرھواں روزہ تھا کہ مغرب کے قریب آپ کو دورہ پڑا اور آپ نے
روزہ توڑ دیا اور باقی روزے نہیں رکھے اور فدیہ ادا کر دیا۔ (عجیب بات ہے کہ مرزاقادیانی کو رمضان میں ہی
دورے پڑتے تھے۔ ناقل)… مگر پھر وفات سے دو تین سال قبل کمزوری کی وجہ سے روزے نہیں رکھ سکے اور فدیہ ادا
فرماتے رہے۔ خاکسار نے دریافت کیا کہ جب آپ نے ابتداً دوروں کے زمانہ میں روزے چھوڑے تو کیا پھر بعد ان کا
قضا کیا؟ والدہ صاحب نے فرمایا کہ نہیں، صرف فدیہ ادا کر دیا تھا۔ خاکسار عرض کرتا ہے کہ جب شروع شروع میں
حضرت مسیح موعود کو دوران سر اور بردا طراف کے دورے پڑنے شروع ہوئے تو اس زمانہ میں آپ بہت کمزور ہوگئے تھے
اور صحت خراب رہتی تھی۔ (خصوصاً رمضان میں۔ ناقل)‘‘
(سیرت المہدی حصہ اوّل ص۵۱،۵۲، روایت نمبر۷۹، جدید ج۱ حصہ اوّل ص۵۹، روایت نمبر۸۱)
’’ڈاکٹر میر محمد اسماعیل صاحب نے مجھ سے بیان کیا کہ ایک دفعہ لدھیانہ میں حضرت مسیح موعود نے رمضان
کا روزہ رکھا ہوا تھا کہ دل گھٹنے کا دورہ ہوا اور ہاتھ پاؤں ٹھنڈے ہوگئے۔ اس وقت غروب آفتاب کا وقت بہت
قریب تھا۔ مگر آپ نے فوراً روزہ توڑ دیا۔‘‘ (اور توڑے ہوئے روزہ کی قضا کا معمول تو تھا ہی نہیں۔ ناقل)
(سیرۃ المہدی حصہ سوم ص۱۳۱ جدید حصہ سوم ص۶۳۷، روایت نمبر۶۹۷)
’’ڈاکٹر میر محمد اسماعیل صاحب نے مجھ سے بیان کیا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے حج نہیں کیا۔ اعتکاف نہیں
کیا۔ زکوٰۃ نہیں دی۔ تسبیح نہیں رکھی۔ میرے سامنے ضب یعنی گوہ کھانے سے انکار کیا۔ صدقہ نہیں کھایا۔ زکوٰۃ
نہیں کھائی۔ صرف نذرانہ اور ہدیہ قبول فرماتے تھے… خاکسار عرض کرتا ہے کہ حج نہ کرنے کی تو خاص وجوہات تھیں
کہ شروع میں آپ کے لئے مالی لحاظ سے انتظام نہیں تھا، کیونکہ ساری جائیداد وغیرہ اوائل میں ہمارے دادا صاحب
کے ہاتھ میں تھی اور بعد میں تایا صاحب کا انتظام رہا اور اس کے بعد حالات ایسے پیدا ہوگئے کہ ایک تو آپ
جہاد کے کام میں منہمک رہے۔ (غالباً جہاد منسوخ کرنے کے کام میں۔ ناقل) دوسرے آپ کے لئے حج کا راستہ بھی
مخدوش تھا۔ (بقول قادیانی جماعت کے حرمین شریفین جانے پر جان کا خطرہ تھا) تاہم آپ کی خواہش رہتی تھی کہ حج
کریں۔ (لیکن مرتے دم تک مرزاقادیانی حج نہیں کر سکے اور یہ قدرت کی جانب سے حج سے محروم رکھنے کی ایک تدبیر
تھی۔ تاکہ مسیح کی ایک علامت بھی مرزاقادیانی میں نہ پائی جائے۔ ناقل) اعتکاف ماموریت کے زمانہ سے قبل
غالباً بیٹھے ہوں گے مگر ماموریت کے بعد بوجہ قلمی جہاد اور دیگر مصروفیت کے نہیں بیٹھ سکے۔ کیونکہ یہ
نیکیاں اعتکاف سے مقدم ہیں۔ (مگرآنحضرت ﷺ نے تو کبھی اعتکاف ترک نہیں فرمایا۔ ناقل)‘‘
(سیرت المہدی حصہ سوم ص۱۱۹، جدید ج۱ حصہ سوم ص۶۲۳، ۶۲۴، روایت نمبر۶۷۲)
(۲۱) جیبی گھڑی
’’بیان کیا مجھ سے عبد اللہ صاحب سنوری نے کہ ایک دفعہ کسی شخص نے حضرت صاحب کو ایک جیبی گھڑی تحفہ دی۔
حضرت صاحب
122
اس کو رومال میں باندھ کر جیب میں رکھتے تھے۔ زنجیر نہیں لگاتے تھے اور جب وقت دیکھنا ہوتا تھا تو
گھڑی نکال کر ایک کے ہندسہ سے یعنی عدد سے گن کر وقت کا پتہ لگاتے تھے اور انگلی رکھ رکھ کر ہندسے گنتے تھے
اور منہ سے بھی گنتے تھے اور گھڑی دیکھتے ہی وقت نہ پہنچان سکتے تھے۔ میاں عبد اللہ صاحب نے بیان کیا کہ آپ کا
جیب سے گھڑی نکال کر اس طرح وقت شمار کرنا مجھے بہت ہی پیارا معلوم ہوتا تھا۔‘‘
(سیرت المہدی حصہ اوّل ص۱۶۲، روایت نمبر۱۶۱، جدید ج۱ حصہ اوّل ص۱۶۵، روایت نمبر۱۶۵)
(۲۲) لباس
’’آپ کا لباس آخر عمر میں چند سال سے بالکل گرم وضع کا ہی رہتا تھا۔ یعنی کوٹ اور صدری اور پاجامہ
گرمیوں میں بھی گرم رکھتے تھے اور یہ علالت طبع کے باعث تھا۔ سردی آپ کو موافق نہ تھی اس لئے اکثر گرم کپڑے
رکھا کرتے تھے۔ البتہ گرمیوں میں نیچے کرتا ململ کا رہتا تھا۔ بجائے گرم کرتے کے پاجامہ آپ کا معروف شرعی
وضع کا ہوتا تھا… صدری گھر میں اکثر پہنے رہتے۔ مگر کوٹ عموماً باہر جاتے وقت ہی پہنتے اور سردی کی زیادتی
کے دنوں میں اوپر تلے دو دو کوٹ بھی پہنا کرتے بلکہ بعض اوقات پوستین بھی… جرابیں آپ سردیوں میں استعمال
فرماتے اور ان پرمسح فرماتے۔ بعض اوقات زیادہ سردی میں دو دو جرابیں اوپر تلے چڑھا لیتے۔ مگر بارہا جراب اس
طرح پہن لیتے کہ وہ پیر پر ٹھیک نہ چڑھتی۔ کبھی تو سرا آگے لٹکتا رہتا اور کبھی جراب کی ایڑی کی جگہ پیر کی
پشت پر آجاتی۔ کبھی ایک جراب سیدھی، دوسری الٹی۔‘‘
(سیرت المہدی حصہ دوم ص۱۲۶،۱۲۷، روایت نمبر۴۴۴، جدید ج۱ حصہ دوم ص۴۱۷،۴۱۸، روایت نمبر۴۴۷)
’’کپڑوں کی احتیاط کا یہ عالم تھا کہ کوٹ، صدری، ٹوپی، عمامہ رات کو اتار کر تکیہ کے نیچے ہی رکھ لیتے
اور رات بھر تمام کپڑے جنہیں محتاط لوگ شکن اور میل سے بچانے کو الگ جگہ کھونٹی پر ٹانگ دیتے ہیں وہ بستر پر
سر اور جسم کے نیچے ملے جاتے اور صبح کو ان کی ایسی حالت ہو جاتی کہ اگر کوئی فیشن کا دلدادہ اور سلوٹ کا
دشمن ان کو دیکھ لے تو سرپیٹ لے۔‘‘
(سیرت المہدی حصہ دوم ص۱۲۸، روایت نمبر۴۴۴، جدید ج۱ حصہ دوم ص۴۱۹، روایت نمبر۴۴۷)
’’صدری کی جیب میں یا بعض اوقات کوٹ کی جیب میں آپ کا رومال ہوتا تھا۔ آپ ہمیشہ بڑا رومال رکھتے تھے…
اسی کے کونوں میں آپ مشک اور ایسی ہی ضروری ادویہ جو آپ کے استعمال میں رہتی تھیں اور ضروری خطوط وغیرہ
باندھ رکھتے تھے اور اسی رومال میں نقد وغیرہ جو نذر لوگ مسجد میں پیش کر دیتے تھے، باندھ لیاکرتے تھے۔‘‘
(سیرت المہدی حصہ دوم ص۱۲۷، روایت نمبر۴۴۴، جدید ج۱ حصہ دوم ص۴۱۷، روایت نمبر۴۴۷)
خاکسار عرض کرتا ہے کہ ’’آپ (مرزاقادیانی) معمولی نقدی وغیرہ اپنے رومال میں جو بڑے سائز کا ململ کا
بنا ہوا ہوتا تھا، باندھ لیا کرتے تھے اور رومال کا دوسرا کنارہ واسکٹ کے ساتھ سلوالیتے یا کاج میں بندھوا
لیتے تھے اور چابیاں آزاربند کے ساتھ باندھتے تھے جو بوجھ سے بعض اوقات لٹک آتا تھا اور والدہ صاحبہ بیان
فرماتی ہیں کہ حضرت مسیح موعود عموماً ریشمی ازاربند استعمال فرماتے تھے۔ کیونکہ آپ کو پیشاب جلدی جلدی آتا
تھا اس لئے ریشمی ازاربند رکھتے تھے تاکہ کھلنے میں آسانی ہو اور گرہ بھی پڑ جائے تو کھولنے میں دقت نہ ہو۔
سوتی آزاربند میں آپ سے بعض دفعہ گرہ پڑ جاتی تھی تو آپ کو بڑی تکلیف ہوتی تھی۔‘‘
(سیرت المہدی حصہ اوّل ص۴۲، روایت نمبر۶۳، جدید ج۱ حصہ اوّل ص۴۹، روایت نمبر۶۵)
(۲۳) بوٹ کا تحفہ
’’ایک دفعہ کوئی شخص آپ کے لئے گرگابی (جوتے) لے آیا۔ آپ نے پہن لی۔ مگر اس کے الٹے سیدھے پاؤں کا آپ
کو پتہ
123
نہیں لگتا تھا۔ کئی دفعہ الٹی پہن لیتے تھے اور پھر تکلیف ہوتی۔ بعض دفعہ آپ کا الٹا پاؤں پڑ جاتا
تو تنگ ہوکر فرماتے ان کی کوئی چیز بھی اچھی نہیں ہے۔ والدہ صاحبہ نے فرمایا کہ میں نے آپ کی سہولت کے واسطے
الٹے سیدھے پاؤں کی شناخت کے لئے نشان لگا دئیے تھے مگر باوجود اس کے آپ الٹا سیدھا پہن لیتے تھے۔‘‘
(سیرت المہدی حصہ اوّل ص۵۳، روایت نمبر۸۱، جدید ج۱ حصہ اوّل ص۶۰، روایت نمبر۸۳)
(۲۴) خاص ادائیں
’’نئی جوتی جب پاؤں میں کاٹتی تو جھٹ ایڑی بٹھا لیا کرتے تھے اور اسی سبب سے سیر کے وقت گرد اڑاڑ کر
پنڈلیوں پر پڑ جایا کرتی تھی جس کو لوگ اپنی پگڑیوں وغیرہ سے صاف کر دیا کرتے تھے۔ چونکہ حضور (مرزاقادیانی)
کی توجہ دنیاوی امور کی طرف نہیں ہوا کرتی تھی، اس لئے آپ کی واسکٹ کے بٹن ہمیشہ اپنے چاکوں سے جدا ہی رہتے
تھے اور اسی وجہ سے اکثر حضرت مولوی عبدالکریم صاحب سے شکایت فرمایا کرتے تھے کہ ہمارے بٹن تو بڑی جلدی ٹوٹ
جایا کرتے ہیں۔
شیخ رحمت اللہ صاحب یادیگر احباب اچھے اچھے کپڑے کے کوٹ بنوا کر لایا کرتے تھے۔ حضور کبھی تیل سرمبارک
میں لگاتے تو تیل والا ہاتھ سر مبارک اور داڑھی مبارک سے ہوتا ہوا بعض اوقات سینہ تک چلا جاتا۔ جس سے قیمتی
کوٹ پر دھبے پڑ جاتے۔‘‘
(اخبار الحکم قادیان ج۳۸ نمبر۶، مؤرخہ ۲۱؍فروری ۱۹۳۵ء ملخص سیرت المہدی حصہ دوم ص۱۲۸، روایت نمبر۴۴۴،
جدید ج۱ حصہ دوم ص۴۱۸، روایت نمبر۴۴۷)
(۲۵) مرزاقادیانی کی سیر
’’میاں عبدالعزیز صاحب المعروف مغل سکنہ لاہور نے بیان کیا کہ حضور صبح کو نماز کے بعد مسجدمیں بیٹھ
کر احباب کو اپنے الہامات ورؤیا سنایا کرتے تھے اور پھر دوستوں میں سے کوئی رؤیا دیکھتا تو اسے بھی سنانے
کے لئے فرماتے۔ پھر حضور گھر تشریف لے جاتے تھے اور آٹھ بجے کے قریب گھر سے باہر نکلتے۔ پہلے چوک میں
مہمانوں کا انتظار کرتے۔ پھر حضرت مولوی نورالدین صاحب کو اطلاع بھجواتے۔ مولوی صاحب جو بھی کام کر رہے
ہوتے، اسے وہیں چھوڑ کر حاضر ہو جاتے۔ یوں معلوم ہوتا تھا کہ شاید حضور کے حکم کا انتظار ہی کر رہے تھے۔ سیر
قریباً تین میل ہوا کرتی تھی۔ ہم لوگ جب تھک جاتے تو سوچتے کہ اب واپسی کی کیا تدبیر کریں۔ عرض کرنے کی تو
جرأت ہی نہیں ہوتی تھی۔ اس لئے ہم چند نوجوان ایک دوسرے کا ہاتھ پکڑ کر چل پڑتے اور پھر تھوڑی دور چل کر
قادیان کی طرف رخ کر لیتے۔ حضور بھی پیچھے ہو لیتے۔ پھر ہم پیچھے ہو جاتے۔ راستہ میں احباب کی کثرت کی وجہ
سے اس قدر گرداڑتی کہ سر اور منہ مٹی سے بھر جاتے۔ حضور اکثر پگڑی کے شملہ کو بائیں جانب منہ کے آگے رکھ
لیتے۔ حضور کے دائیں ہاتھ میں چھڑی ہوتی تھی جو بعض اوقات لوگوں کی ٹھوکر سے گر بھی جاتی مگر حضور پیچھے مڑ
کر نہیں دیکھتے تھے۔ بلکہ جب کوئی چھڑی پکڑا دیتا تھا تو پکڑ لیتے۔ بعض اوقات حضور کے پاؤں کو بھی ٹھوکر لگ
جاتی تھی۔
اگر دوران سیر کسی وقت پیشاب کی حاجت پیش آتی تو حضور احباب سے دور نکل جاتے۔ وٹوانی حضور بیٹھ کر ہی
کیا کرتے تھے۔ ہم نے حضور کو کھڑے ہوکر وٹوانی کرتے نہیں دیکھا۔‘‘
(الفضل قادیان ج۲۷ نمبر۲۵۰، مؤرخہ ۳۱؍اکتوبر ۱۹۳۹ء)
’’اسی موقعہ پر حضور ایک مرتبہ سیر کے لئے باہر تشریف لائے۔ ساتھ بہت ہجوم تھا۔ حضور بڑکے درخت کے
قریب کھڑے ہوگئے۔ احباب چاروں طرف سینکڑوں کی تعداد میں کھڑے تھے۔ لوگوں کی کثرت کی وجہ سے گرد اڑ رہی تھی۔
حضور کی طبیعت ہجوم اور گرد کی وجہ سے نیز اس وجہ سے کہ دھوپ تھی اور گرمی کا آغاز تھا کچھ ناساز سی ہوئی۔
ایک دوست نے کہا کہ احباب جگہ کھلی چھوڑ دیں اور حضور کے نزدیک زیادہ ہجوم نہ کریں۔ اور ایک دوسرے پر نہ
گریں۔ حضرت مفتی صادق صاحب بھی قریب تھے۔ حضرت مفتی صاحب نے فرمایا کہ
124
لوگ بھی بیچارے کیا کریں۔ تیرہ سو سال کے بعد ایک نبی کا چہرہ دیکھنے کو ملا ہے۔ (سو اس کی یہ قدر
ہورہی ہے۔ للمؤلف)‘‘
(روایت قادیانی مندرجہ الفضل قادیان ج۳۴ نمبر۱۸۰ ص۳ کالم۱، مؤرخہ ۲؍اگست ۱۹۴۶ء)
’’اس طرح ابتداء میں حضرت مسیح موعود سیر کے لئے تشریف لے جاتے تو لوگ آپ کے ساتھ چلے جاتے۔ آپ کی
باتیں سنتے۔ لیکن آخری جلسہ سالانہ کے موقع پر جب آپ سیر کے لئے نکلے تو لوگوں کا اس قدر ہجوم تھا کہ لوگوں
کے پیر لگنے کی وجہ سے کبھی آپ کی چھڑی گر جاتی اور کبھی آپ کی جوتی اتر جاتی۔ (سیر کیا تھی خاصا تماشا تھا۔
للمؤلف) آپ ریتی چھلہ تک تشریف لے گئے اور آپ نے فرمایا معلوم ہوتا ہے اب ہمارا کام ختم ہوگیا۔ اب تو جماعت
اتنی بڑھ گئی ہے کہ سیر کرنابھی مشکل ہوگیا ہے۔ اس جلسہ سالانہ میں شامل ہونے والوں کی تعداد سات سو تھی۔
(تعداد تو کچھ ایسی زیادہ نہ تھی لیکن معلوم ہوتا تھا کہ اپنے مریدوں سے مرزاقادیانی کاناک میں دم آگیا تھا
کہ سیر سے دل بیزار ہوگیا اور نادانستہ طور پر موت کی آرزو دل میں آنے لگتی۔ للمؤلف)‘‘
(مرزامحمود خلیفہ قادیان کا ارشاد، الفضل قادیان ج۳۴ نمبر۳۰۰ ص۲،۳، مؤرخہ ۲۵؍دسمبر ۱۹۴۶ء)
(۲۶) مرزاقادیانی کی شکرگزاری
’’دعوے سے قبل کا واقعہ ہے کہ حضور (مرزاقادیانی) باغ میں تشریف لے گئے۔ ساتھ چند اور بھی دوست تھے۔
کسی دوست نے ایک پھل دار درخت پر حضرت اقدس کا عصا مبارک پھینکا۔ وہ عصا وہیں لٹک کر رہ گیا۔ دوستوں نے
پتھروں اور ڈھیلوں سے ہر چند کوشش کی مگر وہ عصا نیچے نہ گرا۔ میں (حافظ نبی بخش قادیانی) نوجوان لڑکا تھا۔
میں اپنا تہبند کس کر درخت کے اوپر چڑھ گیا اور عصا مبارک اتار لیا۔ حضرت اقدس کو اس سے بہت خوشی ہوئی۔
باربار فرماتے میاں نبی بخش تم نے بڑا کمال کیا۔ تم نے تو آج میرے والد صاحب کا سونٹا نیالا کر مجھے دیا ہے۔
باغ سے واپس لوٹے تو راستے میں جو ملے ان سے بھی ذکر کیا کہ میاں نبی بخش نے مجھے آج نیا سونٹا لاکر دیا ہے۔
پھر مسجد میں آکر بھی اسی شکر گزاری کا ذکر فرماتے رہے۔‘‘
(ذکر حبیب از سردار مصباح الدین احمد قادیانی، مندرجہ الحکم قادیان خاص نمبر، مؤرخہ ۲۱؍مئی ۱۹۳۴ء)
(۲۷) نامردی کا یقین
’’بخدمت اخویم مخدوم مکرم مولوی حکیم نورالدین صاحب سلمہ اللہ تعالیٰ…
جس قدر ضعف دماغ کے عارضے میں یہ عاجز مبتلا ہے، مجھے یقین نہیں کہ آپ کو ایسا ہی عارضہ ہو۔ جب میں نے
نئی شادی کی تھی تو مدت تک مجھے یقین رہا کہ میں نامرد ہوں۔ (پھر شادی کس بھروسہ کی۔ اوّل صحت درست کرنا
لازم تھا۔ ورنہ فتنہ کا اندیشہ تھا۔ للمؤلف) آخر میں نے صبر کیا (آپ سے زیادہ صبر آپ کی اہلیہ صاحبہ پر
لازم ہوتا۔ پھر بھی معلوم ہوا کہ اولاد شادی کے بعد جلد ہی شروع ہوگئی۔ للمؤلف) اور دعا کرتا رہا تو اللہ جل
شانہ نے اس دعا کو قبول فرمایا اور ضعف قلب تو اب بھی مجھے اس قدر ہے کہ میں بیان نہیں کر سکتا۔‘‘
خاکسار: غلام احمد قادیان، مؤرخہ ۲۲؍فروری ۱۸۸۷ء
(مکتوبات احمدیہ ج۵ نمبر۲ ص۲۱، مکتوب نمبر۱۴، جدید مکتوبات احمد ج۲ ص۲۷، مکتوب نمبر۱۵)
’’دوسرا بڑا نشان یہ ہے کہ جب شادی کے متعلق مجھ پر مقدس وحی نازل ہوئی تھی تو اس وقت میرا دل ودماغ
اور جسم نہایت کمزور تھا اور علاوہ ذیابیطس اور دوران سر اور تشنج قلب کے دق کی بیماری کا اثر بھی بکلی دور
نہ ہوا تھا۔ اس نہایت درجہ کے ضعف میں جب نکاح ہوا تو بعض لوگوں نے افسوس کیا۔ کیونکہ میری حالت مردمی
کالعدم تھی اور پیرانہ سالی کے رنگ میں میری زندگی تھی۔ چنانچہ مولوی محمد حسین بٹالوی
125
نے مجھے خط لکھا تھا جو اب تک موجود ہے کہ آپ کو شادی نہیں کرنی چاہئے تھی۔ ایسا نہ ہو کہ کوئی
ابتلاء پیش آوے۔ مگر باوجود ان کمزوریوں کے خدا نے مجھے پوری قوت صحت اور طاقت بخشی اور چار لڑکے عطاء
کئے۔‘‘
(نزول المسیح ص۲۰۹، خزائن ج۱۸ ص۵۸۷)
(۲۸) ایک ابتلاء
’’ایک ابتلاء مجھ کو اس (دہلی کی) شادی کے وقت یہ پیش آیا کہ بباعث اس کے کہ میرا دل اور دماغ سخت
کمزور تھا اور میں بہت سے امراض کا نشانہ رہ چکا تھا اور دو مرضیں یعنی ذیابیطس اور درد سر مع دوران سر قدیم
سے میرے شامل حال تھیں۔ جن کے ساتھ بعض اوقات تشنج قلب بھی تھا۔ اس لئے میری حالت مردمی کالعدم تھی اور
پیرانہ سالی کے رنگ میں میری زندگی تھی… غرض اس ابتلاء کے وقت میں نے جناب الٰہی میں دعا کی اور مجھے اس نے
دفع مرض کے لئے اپنے الہام کے ذریعہ سے دوائیں بتلائیں اور میں نے کشفی طور پر دیکھا کہ ایک فرشتہ وہ دوائیں
میرے منہ میں ڈال رہا ہے۔ چنانچہ وہ دوائیں میں نے تیار کیں اور اس میں خدا نے اس قدر برکت ڈال دی کہ میں نے
دلی یقین سے معلوم کیا کہ وہ پر صحت طاقت جو ایک پورے تندرست انسان کو دنیا میں مل سکتی ہے، وہ مجھے دی گئی
اور چار لڑکے مجھے عطاء کئے گئے… میں اس زمانہ میں اپنی کمزوری کی وجہ ایک بچہ کی طرح تھا اور پھر اپنے تئیں
خداداد طاقت میں پچاس مرد کے قائم مقام دیکھا۔‘‘
(تریاق القلوب ص۳۵،۳۶، خزائن ج۱۵ ص۲۰۳،۲۰۴)
(۲۹) مرزاقادیانی اور خواتین
’’رات کا پہرہ: مائی رسول بی بی صاحبہ بیوہ حافظ حامد علی مرحوم نے بواسطہ مولوی عبدالرحمن صاحب جٹ
مولوی فاضل مجھ سے بیان کیا کہ ایک زمانہ میں حضرت مسیح موعود کے وقت میں میں اور اہلیہ بابو شاہ دین رات کو
پہرہ دیتی تھیں اور حضرت صاحب نے فرمایا ہوا تھا کہ اگر میں سوتے میں کوئی بات کیا کروں تو مجھے جگا دینا۔
ایک دن کا واقعہ ہے کہ میں نے آپ کی زبان پر کوئی الفاظ جاری ہوتے سنے اور آپ کو جگا دیا۔ اس وقت رات کے
بارہ بجے تھے۔ ان ایام میں عام طورپر پہرہ پر مائی فجو، منشیانی اہلیہ منشی محمد دین گوجرانوالہ اور اہلیہ
بابو شاہ دین ہوتی تھیں۔ خاکسار عرض کرتا ہے کہ مائی رسول بی بی صاحبہ میری رضاعی ماں ہیں (اور مرزاقادیانی
کی کیا لگتی ہے؟ ناقل) اور حافظ حامد علی صاحب مرحوم کی بیوہ ہیں جو حضرت مسیح موعود کے پرانے خادم تھے۔
مولوی عبدالرحمن صاحب ان کے داماد ہیں۔‘‘
(سیرت المہدی حصہ سوم ص۲۱۳، جدید ج۱ حصہ سوم ص۷۲۵، روایت نمبر۷۸۶)
(۳۰) چھٹا سوال وجواب
’’سوال ششم: (از محمد حسین قادیانی) حضرت اقدس (مرزاقادیانی) غیر عورتوں سے ہاتھ پاؤں کیوں دبواتے
ہیں؟
جواب: (از حکیم فضل دین قادیانی) وہ نبی معصوم ہیں۔ ان سے مس کرنا اور اختلاط منع نہیں، بلکہ موجب
رحمت وبرکات ہے۔‘‘
(الحکم قادیان ج۱۱ نمبر۱۳ ص۱۳ کالم۱، مؤرخہ ۱۷؍اپریل ۱۹۰۷ء)
(۳۱) زینب بیگم
’’ڈاکٹر سید عبدالستار شاہ صاحب نے مجھ سے بذریعہ تحریر بیان کیا کہ مجھ سے میری لڑکی زینب بیگم نے
بیان کیا کہ میں تین ماہ کے قریب حضرت اقدس (مرزاقادیانی) کی خدمت میں رہی ہوں۔ گرمیوں میں پنکھا وغیرہ اور
اسی طرح کی خدمت کرتی تھی۔ بسا اوقات ایسا
126
ہوتا کہ نصف رات یا اس سے زیادہ مجھ کو پنکھا ہلاتے گزر جاتی تھی۔ مجھ کو اس اثناء میں کسی قسم کی
تھکان وتکلیف محسوس نہیں ہوتی تھی۔ بلکہ خوشی سے دل بھر جاتا تھا۔ دو دفعہ ایسا موقعہ آیا کہ عشاء کی نماز
سے لے کر صبح کی اذان تک مجھے ساری رات خدمت کرنے کا موقع ملا۔ پھر بھی اس حالت میں مجھ کو نہ نیند، نہ
غنودگی اور نہ تھکان معلوم ہوئی، بلکہ خوشی اور سرور پیدا ہوتا تھا۔ (یقینا مرزاقادیانی بھی اسی ’’سرور‘‘ سے
لطف اندوز ہوتے ہوں گے۔ ناقل)‘‘
(سیرت المہدی حصہ سوم ص۲۷۲،۲۷۳، جدید ج۱ حصہ سوم ص۷۸۹، روایت نمبر۹۱۰)
(۳۲) مسماۃ بھانو
’’ڈاکٹر میر محمد اسماعیل صاحب نے مجھ سے بیان کیا کہ حضرت ام المؤمنین (مرزاقادیانی کی بیوی نصرت
جہاں بیگم) نے ایک دن سنایا کہ حضرت صاحب (مرزاقادیانی) کے ہاں ایک بوڑھی ملازمہ مسماۃ بھانو تھی۔ وہ ایک
رات جب کہ خوب سردی پڑ رہی تھی، حضور کو دبانے بیٹھی۔ چونکہ وہ لحاف کے اوپر سے دباتی تھی۔ اس لئے اسے یہ
پتہ نہ لگا کہ جس چیز کو میں دبارہی ہوں وہ حضور کی ٹانگیں نہیں ہیں بلکہ پلنگ کی پٹی ہے۔ تھوڑی دیر بعد
حضرت صاحب نے فرمایا، بھانو آج بڑی سردی ہے۔ بھانو کہنے لگی، ’’ہاں جی تدے تے تہاڈی لتاں لکڑی وانگر ہویاں
ہویاں ایں۔‘‘ یعنی جی ہاں جبھی تو آپ کی لاتیں لکڑی کی طرح سخت ہورہی ہیں۔
خاکسار عرض کرتا ہے کہ حضرت صاحب نے جو بھانو کو سردی کی طرف توجہ دلائی تو اس میں بھی غالباً یہ
جتانا مقصود تھا کہ آج شاید سردی کی شدت کی وجہ سے تمہاری حس کمزور ہورہی ہے۔‘‘
(سیرت المہدی حصہ سوم ص۲۱۰، جدید ج۱ حصہ سوم ص۷۲۲، روایت نمبر۷۸۰)
(۳۳) عورتوں سے بیعت
’’ڈاکٹر میر محمد اسماعیل صاحب نے مجھ سے بیان کیا کہ حضرت مسیح موعود عورتوں سے بیعت صرف زبانی لیتے
تھے۔ ہاتھ میں ہاتھ نہیں لیتے تھے۔ نیز آپ بیعت ہمیشہ اردو الفاظ میں لیتے تھے… خاکسار عرض کرتا ہے کہ حدیث
سے پتہ لگتا ہے کہ آنحضرت ﷺ بھی عورتوں سے بیعت لیتے ہوئے ان کے ہاتھ کو نہیں چھوتے تھے۔ دراصل قرآن شریف
میں جو یہ آتا ہے کہ عورت کو کسی غیرمحرم پر اظہار زینت نہیں کرنا چاہئے۔ اسی کے اندر لمس کی ممانعت شامل
ہے۔ کیونکہ جسم کے چھونے سے بھی زینت کا اظہار ہو جاتا ہے۔ (لیکن مرزاقادیانی تو تنہائی میں لیٹ کر جوان
عورتوں سے بدن دبواتے تھے۔ اس لئے اس کو ’’شریف آدمی‘‘ کہنا غلط ہے، چہ جائیکہ… نعوذ باللہ ! نبی کہا جائے۔
ناقل)‘‘
(سیرت المہدی حصہ سوم ص۱۵، جدید ج۱ حصہ سوم ص۵۰۸، روایت نمبر۴۷۷)
(۳۴) منکوحہ آسمانی خواب میں
’’۲۵؍جولائی ۱۸۹۲ء مطابق ۲؍ذوالحجہ ۱۳۰۹ھ روز دوشنبہ آج میں نے بوقت صبح صادق ساڑھے چار بجے دن کے
خواب میں دیکھا کہ ایک حویلی ہے۔ اس میں میری بیوی والدہ محمود اور ایک عورت بیٹھی ہے۔ تب میں نے ایک مشک
سفید رنگ میں پانی بھرا ہے اور اس مشک کو اٹھا کر لایا ہوں اور وہ پانی لاکر ایک اپنے گھڑے میں ڈال دیا ہے۔
میں پانی کو ڈال چکا تھا کہ وہ عورت جو بیٹھی ہوئی تھی، یکایک سرخ اور خوش رنگ لباس پہنے ہوئے میرے پاس
آگئی۔ کیا دیکھتا ہوں کہ ایک جوان عورت ہے۔ پیروں سے سر تک سرخ لباس پہنے ہوئے شاید جالی کا کپڑا ہے۔ میں نے
دل میں خیال کیا کہ وہی عورت ہے جس کے لئے اشتہار دئیے تھے (یعنی آسمانی منکوحہ محمدی بیگم۔ ناقل) لیکن اس
کی صورت میری بیوی کی صورت معلوم ہوئی۔ گویا اس نے کہا، یا دل میں کہا کہ میں آ گئی ہوں۔ میں نے کہا۔ یا اللہ
آجاوے اور پھر وہ عورت مجھ سے بغلگیر ہوئی۔ اس کے بغلگیر ہوتے ہی میری آنکھ کھل گئی۔ فالحمد اللہ علیٰ ذالک (کہ بیداری میں نہ سہی تو
127
خواب میں تو آسمانی منکوحہ سے بغلگیر ہونے کی سعادت میسر آئی۔ وائے قسمت یہ خواب کبھی شرمندہ تعبیر
نہ ہوسکا۔ ناقل)
اس سے دو چار روز پہلے خواب میں دیکھا تھا کہ روشن بی بی میرے دالان کے دروازہ پر آکھڑی ہوئی ہے اور
میں دالان کے اندر بیٹھا ہوں۔ تب میں نے کہا کہ آ، روشن بی بی، اندر آجا۔‘‘
(تذکرہ ص۱۹۷، طبع چہارم)
’’۱۴؍اگست ۱۸۹۲ء بمطابق ۲۰؍محرم ۱۳۰۹ھ آج خواب میں نے دیکھا کہ محمدی (بیگم) جس کی نسبت پیش گوئی ہے۔
باہر کسی تکیہ میں (معہ) چند کس کے بیٹھی ہوئی ہے اور سر اس کا شاید منڈا ہوا ہے اور بدن سے ننگی ہے اور
نہایت مکروہ شکل ہے۔ میں نے اس کو تین مرتبہ کہا ہے کہ تیرے سر منڈی ہونے کے یہ تعبیر ہے کہ تیرا خاوند مر
جائے گا۔ (افسوس کہ یہ خوش کن تعبیر صحیح نہ نکلی۔ ناقل) اور میں نے دونوں ہاتھ اس کے سر پر اتارے ہیں… اور
اسی رات والدہ محمود نے خواب میں دیکھا کہ محمدی (بیگم) سے میرا نکاح ہوگیا ہے اور ایک کاغذ مہران کے ہاتھ
میں ہے، جس پر ہزارروپیہ مہر لکھا ہے اور شیرینی منگوائی گئی ہے اور پھر میرے پاس وہ خواب میں کھڑی ہے۔ (کیا
مضائقہ ہے بیداری میں جو دولت نصیب نہ ہو اس کا خواب میں دیکھ لینا بھی بڑی دولت ہے۔ ناقل)‘‘
(تذکرہ ص۱۹۸،۱۹۹، طبع چہارم)
’’خاکسار عرض کرتا ہے کہ خوابوں کا مسئلہ بھی بڑا نازک ہے۔ کئی خوابیں انسان کی دماغی بناوٹ کا نتیجہ
ہوتی ہیں اور اکثر لوگ ان کی حقیقت کو نہیں سمجھتے۔ (چنانچہ مرزاقادیانی کو محمدی بیگم کے خواب بھی شاید اسی
دماغی بناوٹ کی وجہ سے آتے تھے۔ ناقل)‘‘
(سیرت المہدی حصہ سوم ص۱۱۶، جدید ج۱ حصہ سوم ص۶۲۰، روایت نمبر۶۶۵)
(۳۵) نیم دیوانی کی حرکت
’’حضرت مسیح موعود کے اندرون خانہ ایک نیم دیوانی سی عورت بطور خادمہ کے رہا کرتی تھی۔ ایک دفعہ اس نے
کیا حرکت کی کہ جس کمرے میں حضرت صاحب (مرزاقادیانی) بیٹھ کر لکھنے پڑھنے کا کام کرتے تھے، وہاں ایک کونے
میں کھرا تھا جس کے پاس پانی کے گھڑے رکھے تھے۔ وہاں کپڑے اتار کر اور ننگی بیٹھ کر نہانے لگ گئی۔ حضرت صاحب
اپنے کام تحریر میں مصروف رہے اور کچھ خیال نہ کیا کہ وہ کیا کرتی ہے۔ جب وہ نہا چکی تو ایک اور خادمہ
اتفاقاً آنکلی۔ اس نے اس نیم دیوانی کو ملامت کی کہ حضرت صاحب کے کمرے میں اور موجودگی کے وقت تو نے یہ کیا
حرکت کی۔ تو اس نے ہنس کر جواب دیا۔ انہوں کجھ دیدا ہے۔ یعنی اسے کیا دکھائی دیتا ہے۔‘‘
(ذکر حبیب ص۳۸، مؤلفہ مفتی محمد صادق قادیانی)
’’حضرت اقدس (مرزاقادیانی) کی یہ عادت تھی کہ کوئی کچھ باتیں کرتا ہو، آپ دھیان نہیں کرتے۔ بلکہ آپ سے
مخاطب ہوکر کوئی بات کرتا تب بھی آپ بات تو سن لیتے اور جواب بھی دے دیتے۔ مگر سنتے بھی نہ تھے اور آپ متوجہ
بھی ہوتے اور توجہ بھی نہ کرتے اور کسی طرح دیکھتے بھی نہیں تھے۔ حالانکہ دیکھتے بھی تھے۔ پچاس ساٹھ کے قریب
عورتیں اندر زنانہ میں ہوتی تھیں اور ان کی باتوں کا ایک شوروغل رہتا تھا۔ کوئی ہنستی، کوئی کھیلتی، کوئی
لڑتی، لیکن اس طرف آپ کی توجہ نہ ہوتی اور کچھ پروا نہ کرتے۔ ایک عورت نہا کر اٹھی اور اس کا کپڑا دور رکھا
تھا۔ وہ اٹھ کر کبڑی کبڑی نیوڑہی نیوڑہی جا کر کپڑا اٹھا لائی۔ دوسرے عورت نے کہا پنجابی زبان میں، اری
فلانی مرزا جی بیٹھے ہیں تو برہنہ کپڑا اٹھا لائی۔ اس نے جواب دیا کہ مرزا جی تو اندھے ہیں یعنی کسی کی طرف
دیکھتے نہیں۔‘‘
(تذکرہ المہدی حصہ اوّل ص۲۵۵، جدید حصہ اوّل ص۱۸۱، پیر سراج الحق نعمانی)
128
(۳۶) مجرب دوائیں
’’مخدومی مکرمی اخویم مولوی (نورالدین) صاحب سلمہ اللہ تعالیٰ
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ… دوا جس میں مروارید داخل ہیں، جو کسی قدر آپ لے گئے تھے، اس کے
استعمال سے بفضلہ تعالیٰ مجھ کو بہت فائدہ ہوا۔ قوت باہ کو ایک عجیب فائدہ یہ دوا پہنچاتی ہے اور مقوی معدہ
ہے اور کاہلی اور سستی کو دور کرتی ہے اور کئی عوارض کو نافع ہے۔ آپ ضرور استعمال کر کے مجھ کو اطلاع دیں۔
مجھ کو تو یہ بہت ہی موافق آگئی۔ (فالحمد للہ علیٰ ذالک)
خاکسار: غلام احمد مؤرخہ ۳۰؍دسمبر ۱۸۸۶ء
(مکتوبات احمدیہ ج۵ نمبر۲ ص۱۲،۱۳، جدید مکتوبات احمد جلد دوم ص۱۹، مکتوب نمبر۹)
’’مخدومی مکرمی اخویم مولوی حکیم نورالدین صاحب
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ۔ عنایت نامہ پہنچا۔ مجھے نہایت تعجب ہے کہ دوا معلومہ سے آں مخدوم سے
کچھ فائدہ محسوس نہ ہوا۔ شاید کہ یہ وہی قول درست ہو کہ ادویہ کو ابدان سے مناسبت ہے۔ بعض ادویہ بعض ابدان
کے مناسب حال ہوتی ہیں اور بعض دیگر کے نہیں۔ مجھے یہ دوا بہت ہی فائدہ مند معلوم ہوئی ہے کہ چند امراض
کاہلی وسستی ورطوبات معدہ اس سے دور ہوگئے ہیں۔ ایک مرض مجھے نہایت خوفناک تھی کہ صحبت کے وقت لیٹنے کی حالت
میں نعوذ بکلی جاتا رہتا تھا۔ شاید قلت حرارت غزیزی اس کا موجب تھی۔ وہ عارضہ بالکل جاتا رہا ہے۔ معلوم ہوتا
ہے کہ یہ دوا حرارت غزیزی کو بھی مفید ہے اور منی کو بھی غلیظ کرتی ہے۔ غرض میں نے تو اس میں آثار نمایاں
پائے ہیں۔ و اللہ اعلم وعلمہ احکم۔ اگر دوا موجود ہو اور آپ دودھ اور ملائی کے ساتھ
کچھ زیادہ قدر شربت کر کے استعمال کریں تو میں خواہش مند ہوں کہ آپ کے بدن میں ان فوائد کی بشارت سنوں۔ کبھی
کبھی دوا کی چھپی چھپی تاثیر بھی ہوتی ہے کہ جو ہفتے عشرے کے بعد محسوس ہوتی ہے۔ چونکہ دوا ختم ہوچکی ہے اور
میں نے زیادہ زیادہ کھالی ہے۔ اس لئے ارادہ ہے کہ اگر خداتعالیٰ چاہے تو دوبارہ تیار کی جائے، لیکن چونکہ
گھر میں ایام امید ہونے کا کچھ گمان ہے جس کا میں نے ذکر بھی کیا تھا، ابھی تک وہ گمان پختہ ہوتا جاتا ہے۔
خداتعالیٰ اس کو راست کرے۔ اس جہت سے جلد تیار کرنے کی چنداں ضرورت میں نہیں دیکھتا، مگر میں شکرگزار ہوں کہ
خداتعالیٰ نے دوا کا بہانہ کر کے بعض خطرناک عوارض سے مجھ کو مخلصی عطاء کی۔ (فالحمد للہ علیٰ
احسانہ)‘‘
(مکتوبات احمدیہ ج۵ نمبر۲ ص۱۳،۱۴، جدید مکتوبات احمد جلد دوم ص۲۰ مکتوب نمبر۱۰)
’’محبی عزیزی اخویم نواب صاحب سلمہ تعالیٰ
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ۔ کسی قدر تریاق جدید کی گولیاں ہمدست مرزا خدا بخش صاحب آپ کی خدمت میں
ارسال ہیں اور کسی قدر اس وقت دے دوں گا جب آپ قادیان آئیں گے۔ یہ دوا تریاق الٰہی سے فوائد میں بہت بڑھ کر
ہے۔ اس میں بڑی بڑی قابل قدر دوائیں پڑی ہیں۔ جیسے مشک عنبر، نربسی، مروارید، سونے کا کشتہ، فولاد، یاقوت
احمر، کونین، فاسفورس، کہربا، مرجان، صندل، کیوڑہ، زعفران۔ یہ تمام دوائیں قریب سو کے ہیں اور بہت سافاسفورس
اس میں داخل کیاگیا ہے۔ یہ دوا علاج طاعون کے علاوہ مقوی دماغ، مقوی جگر، مقوی معدہ، مقوی باہ اور مراق کو
فائدہ کرنے والی اور مصفی خون ہے۔ مجھ کو اس کے تیار کرنے میں اوّل تامل تھا کہ بہت سے روپیہ پر اس کا تیار
کرنا موقوف تھا۔ لیکن چونکہ حفظ صحت کے لئے یہ دوا مفید ہے اس لئے اس قدر خرچ گوارا کیاگیا… خوراک اس کی
اوّل استعمال میں دورتی سے زیادہ نہیں ہونی چاہئے تاکہ گرمی نہ کرے۔ نہایت درجہ مقوی اعصاب ہے اور خارش اور
ثبورات اور جذام اور ذیابیطس اور
129
انواع واقسام کے زہرناک امراض کے لئے مفید ہے اور قوت باہ میں اس کو ایک عجیب اثر ہے۔
خاکسار: مرزاغلام احمد عفی عنہ، مؤرخہ ۲۹؍اگست ۱۸۹۹ء‘‘
(مکتوبات احمدیہ ج۵ نمبر۴ ص۱۰۴،۱۰۵، مکتوب نمبر۳۱، جدید مکتوبات احمد جلد دوم ص۲۵۰، مکتوب نمبر۴۷)
’’مخدومی مکرمی اخویم حکیم نورالدین
ایک میرے دوست سامانہ علاقہ پٹیالہ میں ہیں۔ جن کا نام مرزامحمد یوسف بیگ ہے۔ انہوں نے کئی دفعہ ایک
معجون بناکر بھیجی ہے جس میں کچلہ مدبر داخل ہوتا ہے۔ وہ معجون میرے تجربے میں آیا ہے کہ اعصاب کے لئے نہایت
مفید ہے اور امراض رعشہ اور فالج اور تقویت دماغ اور قوت باہ کے لئے اور نیز قوت معدہ کے لئے فائدہ مند ہے۔
مدت سے میرے استعمال میں ہے۔ اگر آپ اس کو استعمال کرنا قرین مصلحت سمجھیں تو میں کسی قدر جو میرے پاس ہے،
بھیج دوں۔‘‘
مؤرخہ ۲۳؍جنوری ۱۸۸۸ء
(مکتوبات احمدیہ ج۵ نمبر۲ ص۵۵، جدید مکتوبات احمد جلد دوم ص۵۶،۵۷، مکتوب نمبر۳۵)
(۳۷) خاندانی طبیب
’’خاکسار عرض کرتا ہے کہ طبابت کا علم ہمارا خاندانی علم ہے اور ہمیشہ سے ہمارا خاندان اس علم میں
ماہر رہا ہے۔ دادا صاحب نہایت ماہر اور مشہور حاذق طبیب تھے۔ تایا صاحب نے بھی طب پڑھی تھی۔ حضرت مسیح موعود
بھی علم طب میں خاصی دسترس رکھتے تھے اور گھر میں ادویہ کا ایک ذخیرہ رکھا کرتے تھے جس سے بیماروں کو دوا
دیتے تھے۔‘‘
(سیرت المہدی حصہ اوّل ص۳۵، روایت نمبر۴۹، جدید ج۱ حصہ اوّل ص۴۰، روایت نمبر۵۰)
’’آپ (مرزاغلام احمد قادیانی) خاندانی طبیب تھے۔ آپ کے والد ماجد اس علاقہ میں نامی گرامی طبیب گزر
چکے ہیں اور آپ نے بھی طب سبقاً سبقاً پڑھی ہے۔ مگر باقاعدہ مطب نہیں کیا۔ کچھ تو خود بیمار رہنے کی وجہ سے
اور کچھ چونکہ لوگ علاج پوچھنے آجاتے تھے، آپ اکثر مفید اور مشہور ادویہ اپنے گھر میں موجود رکھتے تھے۔ نہ
صرف یونانی بلکہ انگریزی بھی اور آخر میں تو آپ کی ادویات کی الماری میں زیادہ تر انگریزی ادویہ ہی رہتی
تھیں۔ مفصل ذکر طبابت کے نیچے آئے گا۔ یہاں اتنا ذکر کر دینا ضروری ہے کہ آپ کئی قسم کے مقوی دماغ ادویات کا
استعمال فرمایا کرتے تھے۔ مثلاً کوکا، کولا، مچھلی کے تیل کا مرکب، ایسٹن سیرپ، کونین، فولاد وغیرہ اور خواہ
کیسی ہی تلخ یا بدمزہ دوا ہو، آپ اس کو بے تکلف پی لیا کرتے۔‘‘
(سیرت المہدی حصہ دوم ص۱۳۷، روایت نمبر۴۴۴، جدید ج۱ حصہ دوم ص۴۲۸،۴۲۹، روایت نمبر۴۴۷)
(۳۸) توحید کا گر
’’حضرت مسیح موعود (مرزاقادیانی) کی عادت تھی کہ آپ جب کسی بیماری میں دواؤں کا استعمال کرتے تو صرف
ایک دوائی کھانے پر ہی اکتفاء نہ کرتے بلکہ بہت سی دوائیں کھا لیتے اور فرمایا کرتے کہ یہ میں اس لئے کرتا
ہوں تاجب شفاء حاصل ہو جائے تو دل میں یہ خیال پیدا نہ ہو کہ فلاں دوائی سے شفا ہوئی ہے اور اس طرح پر اس
قدر اعتماد ہو جائے کہ وہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے توجہ ہٹالے۔ یہ ایک توحید کا گر ہے جو حضرت مسیح موعود نے
سکھایا۔ آپ خدا ہی کی طرف اپنی توجہ رکھنے کے لئے صرف ایک دو نہیں بلکہ اکٹھی بہت سی دوائیوں کا استعمال
فرمایا کرتے تھے۔ (ماشاء اللہ ! بہت سے شافی مقرر کر لیا کرتے تھے، پھر بھی توحید باقی؟ ناقل)‘‘
(الفضل قادیان ج۱۹ نمبر۸۱، مؤرخہ ۷؍جنوری ۱۹۳۲ء)
130
(۳۹) پہلا دورہ
’’بیان کیا مجھ سے حضرت والدہ صاحبہ نے کہ حضرت مسیح موعود (یعنی والد صاحب) کو پہلی دفعہ دوران سر
اور ہسٹریا کا دورہ بشیر اوّل (ہمارا ایک بڑا بھائی ہوتا تھا جو ۱۸۸۸ء میں فوت ہوگیا تھا) کی وفات کے چند دن
بعد ہوا تھا۔ رات کو سوتے ہوئے آپ کو اتھوآیا اور پھر اس کے بعد طبیعت خراب ہوگئی مگر یہ دورہ خفیف تھا۔ پھر
اس کے کچھ عرصے بعد آپ ایک دفعہ نماز کے لئے باہر گئے اور جاتے ہوئے فرماگئے کہ آج کچھ طبیعت خراب ہے۔ والدہ
صاحبہ نے فرمایا کہ تھوڑی دیر کے بعد شیخ حامد علی (حضرت مسیح موعود کے ایک پرانے مخلص خادم تھے، اب فوت
ہوچکے ہیں) نے دروازہ کھٹکھٹایا کہ جلدی پانی کی ایک گاگرگرم کر دو۔ والدہ صاحبہ نے فرمایا کہ میں سمجھ گئی
کہ حضرت صاحب کی طبیعت خراب ہوگئی ہوگی۔ چنانچہ میں نے کسی ملازم عورت کو کہا کہ اس سے پوچھ، میاں کی طبیعت
کا کیا حال ہے؟ شیخ حامد علی نے کہا کہ کچھ خراب ہوگئی ہے۔ میں پردہ کراکر مسجد میں چلی گئی تو آپ لیٹے ہوئے
تھے۔ میں جب پاس گئی تو فرمایا کہ میری طبیعت بہت خراب ہوگئی تھی لیکن اب افاقہ ہے۔ میں نماز پڑھا رہا تھا
کہ میں نے دیکھا کہ کوئی کالی کالی چیز میرے سامنے سے اٹھی ہے اور آسمان تک چلی گئی۔ پھر میں چیخ مار کر
زمین پر گر گیا اور غشی کی سی حالت ہوگئی۔ والدہ صاحبہ فرماتی ہیں اس کے بعد سے آپ کو باقاعدہ دورے پڑنے
شروع ہوگئے۔ خاکسار نے پوچھا، دورہ میں کیا ہوتا تھا۔ والدہ صاحبہ نے کہا، ہاتھ پاؤں ٹھنڈے ہو جاتے تھے اور
بدن کے پٹھے کھنچ جاتے تھے۔ خصوصاً گردن کے پٹھے اور سر میں چکر ہوتا تھا اور اس حالت میں آپ اپنے بدن کو
سہار نہیں سکتے تھے۔ شروع شروع میں یہ دورے بہت سخت ہوتے تھے۔ پھر اس کے بعد کچھ تو دوروں کی ایسی سختی نہیں
رہی اور کچھ طبیعت عادی ہوگئی۔ خاکسار نے پوچھا کہ اس سے پہلے تو سر کی کوئی تکلیف نہیں تھی؟ والدہ صاحبہ نے
فرمایا، پہلے معمولی سر درد کے دورے ہوا کرتے تھے۔ خاکسار نے پوچھا، کیا پہلے حضرت صاحب خود نماز پڑھاتے
تھے؟ والدہ صاحبہ نے کہا کہ ہاں، مگر پھر دوروں کے بعد چھوڑدی۔‘‘
(سیرت المہدی حصہ اوّل ص۱۳، روایت نمبر۱۸، جدید ج۱ حصہ اوّل ص۱۴،۱۵، روایت نمبر۱۹)
(۴۰) سخت دورہ
بیان کیا مجھ سے حضرت والدہ صاحبہ نے کہ ’’اوائل میں ایک دفعہ حضرت مسیح موعود کو سخت دورہ پڑا۔ کسی
نے مرزاسلطان احمد اور مرزافضل احمد کو بھی اطلاع دے دی اور وہ دونوں آگئے۔ پھر ان کے سامنے بھی حضرت صاحب
کو دورہ پڑا۔ والدہ صاحبہ فرماتی ہیں اس وقت میں نے دیکھا کہ مرزاسلطان احمد تو آپ کی چارپائی کے پاس خاموشی
کے ساتھ بیٹھے رہے مگر مرزافضل احمد کے چہرہ پر ایک رنگ آتا تھا اور ایک جاتا تھا اور وہ کبھی ادھر بھاگتا
تھا اور کبھی ادھر۔ کبھی اپنی پگڑی اتار کر حضرت صاحب کی ٹانگوں کو باندھتا تھا اور کبھی پاؤں دبانے لگ
جاتا تھا اور گھبراہٹ میں اس کے ہاتھ کانپتے تھے۔‘‘
(سیرت المہدی حصہ اوّل ص۲۲، روایت نمبر۳۵، جدید ج۱ حصہ اوّل ص۲۵،۲۶، روایت نمبر۳۶)
(۴۱) خطرناک
’’پھر آپ (یعنی مرزاقادیانی) نے فرمایا میں کیا کروں۔ میں نے تو خدا کے سامنے پیش کیا ہے کہ میں تیرے
دین کی خاطر اپنے ہاتھ اور پاؤں میں لوہا پہننے کو تیار ہوں، مگر وہ کہتا ہے کہ نہیں میں تجھے ذلت سے
بچاؤں گا اور عزت کے ساتھ بری کروں گا۔ پھر آپ محبت الٰہی پر تقریر فرمانے لگ گئے اور قریباً نصف گھنٹے تک
جوش کے ساتھ بولتے رہے۔ لیکن پھر یک لخت بولتے بولتے آپ کو ابکائی آئی اور ساتھ ہی قے ہوئی جو خالص خون کی
تھی، جس میں کچھ خون جما ہوا تھا اور کچھ بہنے والا تھا۔ حضرت نے قے سے سر اٹھا کر رومال سے اپنا منہ پونچھا
اور آنکھیں بھی پونچھیں جو قے کی وجہ سے پانی لے آئی تھیں۔ مگر آپ کو یہ معلوم نہیں ہوا کہ قے میں کیا نکلا
ہے۔ کیونکہ آپ نے یک لخت
131
جھک کر قے کی اور پھر سر اٹھا لیا۔ مگر میں اس کے دیکھنے کے لئے جھکا تو حضور نے فرمایا کیا ہے۔ میں
نے عرض کیا، حضور قے میں خون نکلا ہے۔ تب حضور نے اس کی طرف دیکھا۔ پھر خواجہ صاحب اور مولوی محمد علی صاحب
اور دوسرے لوگ کمرے میں آگئے اور ڈاکٹر کو بلوایا گیا۔ ڈاکٹر انگریز تھا۔ وہ آیا اور قے دیکھ کر خواجہ صاحب
کے ساتھ انگریزی میں باتیں کرتا رہا۔ جس کا مطلب یہ تھا کہ اس بڑھاپے کی عمر میں اس طرح خون کی قے آنا
خطرناک ہے۔ پھر اس نے کہا کہ یہ آرام کیوں نہیں کرتے۔ خواجہ صاحب نے کہا، آرام کس طرح کریں۔ مجسٹریٹ صاحب
قریب قریب کی پیشیاں ڈال کر تنگ کرتے ہیں۔ حالانکہ معمولی مقدمہ ہے جو یوں ہی طے ہوسکتا ہے۔ اس نے کہا، اس
وقت آرام ضروری ہے۔ میں سرٹیفکیٹ لکھ دیتا ہوں۔ کتنے عرصہ کے لئے سرٹیفکیٹ چاہئے۔ پھر خود ہی کہنے لگا میرے
خیال میں دو مہینے آرام کرنا چاہئے۔ خواجہ صاحب نے کہا، فی الحال ایک مہینہ کافی ہوگا۔ اس نے فوراً ایک
مہینہ کے لئے سرٹیفکیٹ لکھ دیا اور لکھا کہ میں اس عرصہ میں ان کو کچہری میں پیش ہونے کے قابل نہیں
سمجھتا۔‘‘
(سیرت المہدی حصہ اوّل ص۸۰، روایت نمبر۱۰۴، جدید ج۱ حصہ اوّل ص۸۷، روایت نمبر۱۰۷)
(۴۲) مراق کا سلسلہ
’’مراق کا مرض حضرت مرزاصاحب میں موروثی نہ تھا، بلکہ یہ خارجی اثرات کے ماتحت پیداہوا اور اس کا باعث
سخت دماغی محنت، تفکرات، غم اور سوء ہضم تھا جس کا نتیجہ دماغی ضعف تھا اور جس کا اظہار مراق اور دیگر ضعف
کی علامات مثلاً دوران سر کے ذریعہ ہوتا تھا۔‘‘
(رسالہ ’’ریویو آف ریلیجنز‘‘ قادیان ج۲۵ نمبر۸ ص۱۰، بابت اگست ۱۹۲۶ء)
’’کبھی سیر کو جاتا ہوں اور کبھی نہیں جاتا۔ عموماً صبح کے وقت جاتا ہوں کبھی شام کو شاذ ونادر ہی
جاتا ہوں۔ میری بیوی کو مراق کی بیماری ہے۔ کبھی کبھی وہ میرے ساتھ ہوتی ہے۔ کیونکہ طبی اصول کے مطابق اس کے
لئے چہل قدمی مفید ہے۔ ان کے ساتھ چند خادم عورتیں بھی ہوتی ہیں اور پردے کا پورا التزام ہوتا ہے… ہم باغ تک
جاتے ہیں اور پھر واپس آجاتے ہیں۔‘‘
(مرزاقادیانی کا بیان عدالت، اخبار الحکم قادیان ج۵ نمبر۲۹ ص۱۴، کالم۳، مؤرخہ ۱۰؍اگست ۱۹۰۱ء، منقول
از کتاب منظور الٰہی ص۲۴۴)
’’بیان کیا مجھ سے والدہ صاحبہ نے کہ حضرت صاحب (مرزاقادیانی) کے ایک حقیقی ماموں تھے (جن کا نام مرزا
جمعیت بیگ تھا) ان کے ہاں ایک لڑکا اور ایک لڑکی ہوئے اور ان کے دماغ میں کچھ خلل آگیا تھا۔ لڑکے کا نام
مرزاعلی شیر تھا اور لڑکی کا حرمت بی بی۔ لڑکی حضرت صاحب کے نکاح میں آئی اور اسی کے بطن سے مرزاسلطان احمد
اور فضل احمد پیدا ہوئے۔‘‘
(سیرت المہدی حصہ اوّل ص۲۰۶، ۲۰۷، روایت نمبر۲۰۷، جدید ج۱ حصہ اوّل ص۲۰۷، روایت نمبر۲۱۲)
’’مراق کے اسباب میں سب سے بڑا سبب ورثہ میں ملا ہوا طبعی میلان اور عصبی کمزوری ہے۔ عصبی امراض ہمیشہ
ورثہ میں ملتے ہیں اور لمبے عرصے تک خاندان میں چلتے ہیں۔‘‘
(بیاض نورالدین جلد اوّل منقول از اخبار پیغام صلح لاہور ج۳۶ نمبر۴۷، مؤرخہ یکم؍دسمبر ۱۹۴۸ء)
’’جب خاندان میں اس کی ابتداء ہوچکی تو پھر اگلی نسل میں بے شک یہ مرض منتقل ہوا ہے۔ چنانچہ حضرت
خلیفۃ المسیح ثانی (مرزامحمود) نے فرمایا کہ مجھ کو بھی کبھی کبھی مراق کا دورہ ہوتا ہے۔‘‘
(مضمون ڈاکٹر شاہنواز قادیانی، ریویو آف ریلیجنز قادیان ج۲۵ نمبر۸ ص۱۱، بابت اگست ۱۹۲۶ء)
’’اکثر یہ مرض (مراق) تنہا رہنے یا زیادہ خوض علم میں کرنے یا محنت شدید یاریاضت شدید یا مجاہدہ نفس
سے پیدا ہوتا ہے۔‘‘
(تذکرۃ الوفاق فی العلاج المراق مصنفہ حکیم اصغر حسین خان فرخ آبادی ص۶۰)
132
(۴۳) مالیخولیا مراق
’’مالیخویا کی ایک قسم ہے جس کو مراق کہتے ہیں۔ یہ مرض تیز سودا سے جو معدہ میں جمع ہوتا ہے، پیدا
ہوتا ہے اور جس عضو میں یہ مادہ جمع ہو جاتا ہے اس سے سیاہ بخارات اٹھ کر دماغ کی طرف چڑھتے ہیں۔ اس کی
علامات یہ ہیں۔ ترش دخانی ڈکاریں آنا، ضعف معدہ کی وجہ سے کھانے کی لذت کم معلوم ہونا، ہاضمہ خراب ہو جانا،
پیٹ پھولنا، پاخانہ پتلا ہونا، دھوئیں جیسے بخارات چڑھتے ہوئے معلوم ہونا۔ (ترجمہ)‘‘
(شرح الاسباب والعلامات، امراض رأس، مالیخولیا، تصنیف برہان الدین نفیس)
’’یہ خیال کیا جاتا ہے کہ اس مرض (مراق) کی علامات کا ظہور فتور قوت حیوانی یا روح حیوانی سے ہوتا ہے
جو کہ جگر ومعدے میں ہوتی ہے۔ مگر تحقیقات جدیدہ سے معلوم ہوا ہے کہ مرض عصبی ہے اور جیسا کہ عورت میں رحم
کی مشارکت سے مرض اختناق الرحم (ہسٹریا) پیدا ہو جاتا ہے، اسی طرح اعضائے اندرونی کے فتور سے ضعف دماغ ہوکر
مردوں میں مراق ہوجاتا ہے۔
علامات مرض: مریض ہمیشہ سست ومتفکر رہتا ہے۔ اس میں خودی کے خیالات پیدا ہو جاتے ہیں۔ ہر ایک بات میں
مبالغہ کرتا ہے… بھوک نہیں لگتی، کھانا ٹھیک طور پر ہضم نہیں ہوتا۔‘‘
(مخزن حکمت، مصنفہ شمس الاطباء حکیم ڈاکٹر غلام جیلانی، طبع دوم)
’’فساد ہضم، کھٹی دخانی ڈکاریں، منہ میں زیادہ رال آئے، پیٹ پھولتا ہو، پیٹ میں قراقر، تناوٹ اور سوزش
ہو، جھوٹی بھوک معلوم ہو، تالو کی طرف دھوئیں جیسے بخارات چڑھتے ہوئے معلوم ہوں، ہاضمہ اچھا ہوتو مرض میں
تخفیف ہو۔ ہاضمے کی خرابی اور تخمنے سے مرض میں زیادتی ہو… گاہے جسم کے اوپر کے حصے میں کپکپی اور لرزہ،
ہاتھ پاؤں کی ہتھیلیوں یا تمام بدن کا ٹھنڈا ہو جانا۔ مرض کی کمی بیشی کے مطابق کمزوری لاحق ہونا۔ یہاں تک
کہ کبھی غشی کی نوبت پہنچ جائے… کبھی ایک چیز کے دو معلوم ہونا۔ کبھی آنکھوں کے سامنے بجلی سی کوندتی معلوم
ہونا۔ آنکھوں کی کرختگی، پلکوں کا بوجھل ہونا، دماغ اور سر میں سوزش وگرمی، درد سر اور نسیان، یک بیک اچھولگ
جانا… مرض مراق کے لوازم سے ہے لیکن ان سب کا ایک مریض میں پایا جانا ضروری نہیں۔ (ترجمہ)‘‘
(اکسیر اعظم مصنفہ حکیم محمد اعظم خان جلد اوّل ص۱۸۹)
’’مالیخولیا اس مرض کو کہتے ہیں جس میں حالت طبعی کے خلاف خیالات وافکار متغیر بخوف وفساد ہو جاتے
ہیں۔ اس کا سبب مزاج کا سوداوی ہو جانا ہوتا ہے۔ جس سے روح دماغی اندرونی طور پر متوحش ہوتی ہے اور مریض اس
کی ظلمت سے پراگندہ خاطر ہو جاتا ہے یا پھر یہ مرض حرارت جگر کی شدت کی وجہ سے ہوتا ہے اور یہی چیز مراق
ہوتی ہے۔ جب اس میں غذا کے فضلات اور آنتوں کے بخارات جمع ہو جاتے ہیں اور اس کے اخلاط جل کر سودا کی صورت
میں تبدیل ہو جاتے ہیں تو ان اعضاء سے سیاہ بخارات اٹھ کر سر کی طرف چڑھتے ہیں۔ اس کو نفخہ مراقیہ،
مالیخولیائے نافخ اور مالیخولیائے مراقی کہتے ہیں۔ (ترجمہ)‘‘
(قانون شیخ الرئیس حکیم بوعلی سینا، فن اوّل، از کتاب ثالث)
’’علاج: عمدہ خون پیدا کرنے والی غذائیں استعمال کرائی جائیں۔ مثلاً مچھلی، (پرندوں کا) زود ہضم گوشت
اور کبھی کبھی سفید ہلکی شراب جو تیز اور پرانی نہ ہو… اور عمدہ عمدہ خوشبوئیں جیسے مشک، عنبر، نافہ اور عود
استعمال کرائیں۔ نیز فم معدہ کے لئے مقوی جوارشات کا استعمال کرائیں۔
مریض مالیخولیا کو لازم ہے کہ دل خوش کن کام میں مشغول رہے اور اس کے پاس وہ لوگ رہیں جو اس کی تعظیم
وتکریم کرتے رہیں اور اس کو خوش رکھیں اور شراب تھوڑا تھوڑا پانی ملا کر اعتدال کے ساتھ پلائی جائے۔‘‘
(قانون شیخ الرئیس حکیم بوعلی سینا، فن اوّل، از کتاب ثالث)
133
(۴۴) مالیخولیا کے کرشمے
’’مالیخولیا خیالات وافکار کے طریق طبعی سے متغیر بخوف وفساد ہو جانے کو کہتے ہیں… بعض مریضوں میں
گاہے گاہے یہ فساد اس حد تک پہنچ جاتا ہے کہ وہ اپنے آپ کو غیب دان سمجھتا ہے اور اکثر ہونے والے امور کی
پہلے ہی خبر دے دیتا ہے… اور بعض میں یہ فساد یہاں تک ترقی کر جاتا ہے کہ اس کو اپنے متعلق یہ خیال ہوتا ہے
کہ میں فرشتہ ہوں۔‘‘
(شرح الاسباب والعلامات، امراض رأس، مالیخولیا، مصنفہ برہان الدین نفیس)
’’مریض کے اکثر اوہام اس کام سے متعلق ہوتے ہیں جس میں مریض زمانہ صحت میں مشغول رہا ہو۔ مثلاً… مریض
صاحب علم ہو تو پیغمبری اور معجزات وکرامات کا دعویٰ کر دیتا ہے۔ خدائی کی باتیں کرتا ہے اور لوگوں کو اس کی
تبلیغ کرتا ہے۔‘‘
(اکسیر اعظم، مصنفہ حکیم محمد اعظم خان جلد اوّل ص۱۸۸)
(۴۵) ہسٹریا
’’ڈاکٹر میر محمد اسماعیل صاحب نے مجھ سے بیان کیا کہ میں نے کئی دفعہ حضرت مسیح موعود سے سنا ہے کہ
مجھے ہسٹریا ہے۔ بعض اوقات آپ مراق بھی فرمایا کرتے تھے۔ لیکن دراصل بات یہ ہے کہ آپ کو دماغی محنت اور
شبانہ روز تصنیف کی مشقت کی وجہ سے بعض ایسی عصبی علامات پیدا ہو جایا کرتی تھیں جو ہسٹریا کے مریضوں میں
بھی عموماً دیکھی جاتی ہیں۔ مثلاً کام کرتے کرتے یک دم ضعف ہو جانا، چکروں کا آنا، ہاتھ پاؤں کا سرد ہو
جانا، گھبراہٹ کا دورہ ہو جانا، ایسا معلوم ہونا کہ ابھی دم نکلتا ہے یا کسی تنگ جگہ یا بعض اوقات زیادہ
آدمیوں میں گھر کر بیٹھنے سے دل کا سخت پریشان ہونے لگنا، وغیرہ ذالک۔‘‘
(سیرت المہدی حصہ دوم ص۵۵، روایت نمبر۳۶۹، جدید ج۱ حصہ دوم ص۳۴۰، روایت نمبر۳۷۲)
’’ہسٹریا کابیمار جس کو اختناق الرحم کہتے ہیں، چونکہ عام طور پر یہ مرض عورتوں میں زیادہ ہوتا ہے۔ اس
لئے اس کو رحم کی طرف منسوب کرتے ہیں۔ ورنہ مردوں میں بھی یہ مرض ہوتا ہے۔ جن مردوں کو یہ مرض ہو، ان کو
مراقی کہتے ہیں۔‘‘
(خطبہ جمعہ، الفضل قادیان ج۱۰ نمبر۸۴ ص۶ کالم۱، مؤرخہ ۳۰؍اپریل ۱۹۲۳ء، خطبات محمود ج۸ ص۷۵)
’’یہ درست ہے کہ مرگی اور ہسٹریا میں بھی مراق کی علامات پائی جاتی ہیں مگر یہ نہیں کہ ہر مراقی کو
مرگی یا ہسٹریا کا مرض ہوتا ہے۔‘‘
(بیاض نورالدین جلد اوّل منقول از اخبار پیغام صلح لاہور ج۳۶ نمبر۴۷، مؤرخہ یکم؍دسمبر ۱۹۴۸ء)
’’ایک مدعی الہام کے متعلق اگر یہ ثابت ہو جاوے کہ اس کو ہسٹریا، مالیخولیا، مرگی کا مرض تھا تو اس کے
دعوے کی تردید کے لئے پھر کسی اور ضرب کی ضرورت نہیں رہتی۔ کیونکہ یہ ایسی چوٹ ہے جو اس کی صداقت کی عمارت
کو بیخ وبن سے اکھاڑ دیتی ہے۔‘‘
(مضمون ڈاکٹر شاہ نواز قادیانی، ریویو آف ریلیجنز قادیان ج۲۵ نمبر۸ ص۶،۷، بابت ماہ اگست ۱۹۲۶ء)
(۴۶) دق اور سل
’’حضرت اقدس نے اپنی بیماری دق کا بھی ذکر کیا ہے۔ یہ بیماری آپ کو حضرت مرزاغلام مرتضیٰ صاحب مرحوم
کی زندگی میں ہوگئی تھی اور آپ قریباً چھ ماہ تک بیمار رہے۔ حضرت مرزاغلام مرتضیٰ صاحب آپ کا علاج خود کرتے
تھے اور آپ کو بکرے کے پائے کا شوربا کھلایا کرتے تھے۔ اس بیماری میں آپ کی حالت بہت نازک ہوگئی تھی۔‘‘
(حیات احمد مؤلفہ شیخ یعقوب علی عرفانی قادیانی ج۲ نمبر۱ ص۷۹ حاشیہ)
134
’’بیان کیا مجھ سے حضرت والدہ صاحبہ نے ایک دفعہ تمہارے دادا کی زندگی میں حضرت صاحب (مرزاقادیانی) کو
سل ہو گئی اور چھ ماہ تک بیمار رہے اور بڑی نازک طبیعت ہوگئی۔ حتیٰ کہ زندگی سے ناامیدی ہوگئی… والدہ صاحبہ
نے فرمایا کہ تمہارے دادا خود حضرت صاحب کا علاج کرتے تھے اور برابر چھ ماہ تک انہوں نے آپ کو بکرے کے پائے
کا شوربا کھلایا تھا۔‘‘
(سیرت المہدی حصہ اوّل ص۴۲،۴۳، روایت نمبر۶۴، جدید ج۱ حصہ اوّل ص۴۹، روایت نمبر۶۶)
(۴۷) دو چادریں
’’دیکھو میری بیماری کی نسبت بھی آنحضرت ﷺ نے پیش گوئی کی تھی جو اس طرح وقوع میں آئی۔ آپ نے فرمایا
تھا کہ مسیح آسمان پر ہے۔ جب اترے گا تو دو زردچادریں اس نے پہنی ہوئی ہوں گی تو اسی طرح مجھ کو دو بیماریاں
ہیں۔ ایک اوپر کے دھڑ کی اور ایک نیچے کے دھڑ کی، یعنی مراق اور کثرت بول۔‘‘
(ارشاد مرزاغلام احمد قادیانی مندرجہ رسالہ تشحیذ الاذہان قادیان ج۱ نمبر۲ ص۵، بابت ماہ جون ۱۹۰۶ء،
ملفوظات ج۸ ص۴۴۵، جدید ج۵ ص۳۲،۳۳)
’’دو مرض میرے لاحق حال ہیں۔ ایک بدن کے اوپر کے حصہ میں اور دوسری بدن کے نیچے کے حصہ میں۔ اوپر کے
حصہ میں ددوران سر ہے اور نیچے کے حصہ میں کثرت پیشاب ہے اور دونوں مرضیں اسی زمانہ سے ہیں جس زمانہ سے میں
نے اپنا دعویٰ مامور من اللہ ہونے کا شائع کیا ہے۔ (شاید یہ دعوے کی برکت ہو۔ للمؤلف)‘‘
(حقیقت الوحی ص۳۰۷، خزائن ج۲۲ ص۳۲۰)
’’مسیح موعود دوزرد رنگ چادروں میں اترے گا۔ ایک چادر بدن کے اوپر کے حصہ میں ہوگی اور دوسری چادر بدن
کے نیچے کے حصہ میں۔ سو میں نے کہا کہ یہ اس طرف اشارہ تھا کہ مسیح موعود دو بیماریوں کے ساتھ ظاہر ہوگا۔
کیونکہ تعبیر کے علم میں زرد کپڑے سے مراد بیماری ہے اور وہ دونوں بیماریاں مجھ میں ہیں۔ یعنی ایک سر کی
بیماری اور دوسری کثرت پیشاب اور دستوں کی بیماری۔ (عیسیٰ مسیح کا معجزہ تھا کہ بیمار کو تندرست، بلکہ مردوں
کو زندہ کرتے تھے اور مسیح موعود یعنی بزعم خود مرزاقادیانی کی نشانی خود امراض ہیں۔ خاص کر سر کی بیماری
اور پیشاب اور دستوں کی بیماری۔ لیکن کیا عجب یہ چودھویں صدی کا کمال ہو جس سے اچھے اچھوں نے پناہ مانگی۔
للمؤلف)‘‘
(تذکرہ الشہادتین ص۴۳،۴۴، خزائن ج۲۰ ص۴۶)
’’مسیح موعود کی نسبت حدیثوں میں دو زردرنگ چادروں کا ذکر ہے۔ ایسے ہی میرے لاحق حال دو بیماریاں ہیں۔
ایک بیماری بدن کے اوپر کے حصہ میں ہے جو اوپر کی چادر ہے اور وہ دوران سر ہے جس کی شدت کی وجہ سے بعض وقت
میں زمین پر گر جاتا ہوں اور دل کا دوران خون کم ہو جاتا ہے اور ہولناک صورت پیدا ہو جاتی ہے۔ (بعض دیگر
دماغی امراض خاص کر مرگی میں یہ کیفیت گزرتی ہے۔ درد سر میں تو بیشتر تکلیف رہتی ہے۔ چنانچہ مرزاقادیانی نے
اپنی خرابی صحت میں ہسٹریا کا مرض بھی ظاہر کیا۔ للمؤلف) اور دوسری بیماری بدن کے نیچے کے حصہ میں ہے جو
مجھے کثرت پیشاب کی مرض ہے جس کو ذیابیطس کہتے ہیں اور معمولی طور پر مجھے ہر روز پیشاب بکثرت آتا ہے اور
پندرہ یا بیس دفعہ تک نوبت پہنچ جاتی ہے اور بعض اوقات قریب سو دفعہ کے دن رات میں آتا ہے اور اس سے بھی ضعف
بہت ہو جاتا ہے۔‘‘
(ضمیمہ براہین احمدیہ حصہ پنجم ص۲۰۱، خزائن ج۲۱ ص۳۷۳)
(۴۸) پیشاب کا انتظام
’’اس پر مجھے یاد آیا کہ خداتعالیٰ کے فضل سے اس عاجز کو دوبار ایسی خدمت کرنے کا موقعہ نصیب ہوا۔ ایک
تو سفر جہلم۔ میری
135
عادت تھی کہ سفر میں یہ کوشش کرتا تھا کہ رات کے وقت میں بھی مجھے حضور کے پاس ہی سورہنے کی جگہ ملے۔
چنانچہ جہلم میں حضور کی چارپائی کے نزدیک ہی فرش پر لیٹنے کا مجھے موقعہ مل گیا اور جب سب لوگ سوئے ہوئے
تھے تو مجھ آہٹ ہوئی کہ حضور چارپائی سے اٹھے ہیں۔ میں نے عرض کی کہ کیا چاہئے۔ حضور نے فرمایا کہ پیشاب کی
حاجت ہے۔ سردی کا موسم تھا۔ میں جلدی سے ایک مٹی برتن لایا اور مٹی کے ڈھیلے لایا۔ حضور پیشاب سے فارغ ہوئے
تو میں برتن اٹھا کر باہر لے گیا۔ دوسری دفعہ لاہور میں جب حضور نے حضرت میاں چراغ الدین صاحب مرحوم کے مکان
پر قیام کیا تب بھی رات کے وقت حضور کو پیشاب کی حاجت ہوئی۔ میں جاگ رہا تھا۔ ایک مٹی کا برتن لایا۔ جب حضور
فارغ ہوئے تو میں نے ہاتھ بڑھایا اور مٹی کے برتن کو پکڑا کر باہر لے جاؤں۔ مگر اس دفعہ حضور نے مجھے اجازت
نہ دی کہ میں ایسا کروں اور ایک کھڑکی سے، جو اس کمرے میں تھی، خود ہی پیشاب باہر گرادیا۔‘‘
(مفتی محمد صادق کا بیان، اخبار الفضل قادیان ج۲۸ نمبر۲۷۷، مؤرخہ ۶؍دسمبر ۱۹۴۰ء)
(۴۹) دوبیماریاں
’’مجھے دو بیماریاں مدت دراز سے تھیں۔ ایک شدید دردسر، جس سے میں نہایت بے تاب ہو جاتا تھا اور ہولناک
عوارض پیدا ہو جاتے تھے اور یہ مرض قریباً پچیس برس تک دامن گیر رہی اور اس کے ساتھ دوران سر بھی لاحق ہوگیا
اور طبیبوں نے لکھا کہ ان عوارض کا آخری نتیجہ مرگی ہوتی ہے۔ چنانچہ میرے بڑے بھائی مرزاغلام قادر قریباً دو
ماہ تک اسی مرض میں مبتلا ہوکر آخر مرض صرع میں مبتلا ہوگئے اور اسی سے ان کا انتقال ہوگیا۔ لہٰذا میں دعا
کرتا رہا کہ خداتعالیٰ ان امراض سے مجھے محفوظ رکھے۔ ایک دفعہ عالم کشف میں مجھے دکھائی دیا کہ ایک بلا سیاہ
رنگ چارپائے کی شکل پر جو بھیڑ کے قد کی مانند اس کا قد تھا اور بڑے بڑے بال تھے اور بڑے بڑے پنجے تھے، میرے
پر حملہ کرنے لگی اور میرے دل میں ڈالا گیا کہ یہی صرع ہے۔ تب میں نے اپنا داہنا ہاتھ زور سے اس کے سینے پر
مارا اور کہا کہ دور ہو، تیرا مجھ میں حصہ نہیں۔ تب خداتعالیٰ جانتا ہے کہ بعد اس کے وہ خطرناک عوارض جاتے
رہے اور وہ درد شدید بالکل جاتی رہی۔ صرف دوران سر کبھی کبھی ہوتا ہے تا دوزرد رنگ چادروں کی پیش گوئی میں
خلل نہ آوے۔ دوسری مرض ذیابیطس تخمیناً بیس برس سے ہے جو مجھے لاحق ہے، جیسا کہ اس نشان کا پہلے بھی ذکر
ہوچکا ہے اور ابھی تک بیس دفعہ کے قریب ہرروز پیشاب آتا ہے اور امتحان سے بول میں شکر پائی گئی۔ ایک دن مجھے
خیال آیا کہ ڈاکٹروں کے تجربہ کی رو سے انجام ذیابیطس کا یا تو نزول الماء ہوتا ہے یا کاربنکل یعنی سرطان کا
پھوڑا نکلتا ہے جو مہلک ہوتا ہے سو اسی وقت نزول الماء کی نسبت مجھے الہام ہوا… یعنی تین عضو پر رحمت نازل
کی گئی۔ آنکھ اور دو اور عضو پر اور پھر جب کاربنکل کا خیال میرے دل میں آیا تو الہام ہوا السلام علیکم۔ سو
ایک عمر گزری کہ میں ان بلاؤں سے محفوظ ہوں۔ فالحمد للہ ‘‘
(حقیقت الوحی ص۳۶۳،۳۶۴، خزائن ج۲۲ ص۳۷۶،۳۷۷)
(۵۰) بیس برس
’’مجھے دو مرض دامن گیر ہیں۔ ایک جسم کے اوپر کے حصہ میں کہ سردرد اور دوران سر اور دوران خون کم ہوکر
ہاتھ پیر سرد ہو جانا۔ نبض کم ہو جانا اور دوسرے جسم کے نیچے کے حصہ میں کہ پیشاب کثرت سے آنا اور اکثر دست
آتے رہنا۔ یہ دونوں بیماریاں قریباً بیس برس سے ہیں۔‘‘
(نسیم دعوت ص۶۸، خزائن ج۱۹ ص۴۳۵)
’’یہ دونوں بیماریاں کبھی دعا سے ایسی رخصت ہو جاتی ہیں کہ گویا دور ہو گئیں۔ مگر پھر شروع ہو جاتی
ہیں۔ ایک دفعہ میں نے دعا کی کہ یہ بیماریاں بالکل دور کر دی جائیں تو جواب ملا کہ ایسا نہیں ہوگا… مسیح
موعود کے لئے یہ بھی ایک علامت ہے۔ کیونکہ لکھا ہے کہ وہ دوزرد چادروں میں اترے گا۔‘‘
(پیغام صلح لاہور ج۳۶ نمبر۴۷، مؤرخہ یکم؍دسمبر ۱۹۴۸ء)
136
(۵۱) دائم المرض
’’میں ایک دائم المرض آدمی ہوں… ہمیشہ سردرد اور دوران سر اور کمی خواب اور تشنج دل کی بیماری دورہ کے
ساتھ آتی ہے… وہ بیماری ذیابیطس ہے کہ ایک مدت سے دامن گیر ہے اور بسا اوقات سو سو دفعہ رات کو یا دن کو
پیشاب آتا ہے اور اس قدر کثرت پیشاب سے جس قدر عوارض ضعف وغیرہ ہوتے ہیں وہ سب میرے شامل حال رہتے ہیں۔‘‘
(ضمیمہ اربعین نمبر۴ ص۴، خزائن ج۱۷ ص۴۷۰،۴۷۱)
’’مخدومی مکرمی اخویم السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
حالت صحت اس عاجز کی بدستور ہے۔ کبھی غلبہ دوران سر اس قدر ہو جاتا ہے کہ مرض کی جنبش شدید کا اندیشہ
ہوتا ہے اور کبھی یہ دوران کم ہوتا ہے۔ لیکن کوئی وقت دوران سر سے خالی نہیں گزرتا۔ مدت ہوئی نماز تکلیف سے
بیٹھ کر پڑھی جاتی ہے۔ بعض اوقات درمیان میں توڑنی پڑتی ہے۔ اکثر بیٹھے بیٹھے رینگن ہوجاتی ہے اور زمین پر
قدم اچھی طرح نہیں جمتا۔ قریب چھ سات ماہ یا زیادہ عرصہ گزر گیا ہے کہ نماز کھڑے ہوکر نہیں پڑھی جاتی اور نہ
بیٹھ کر اس وضع پر پڑھی جاتی ہے جو مسنون ہے اور قرأت میں شاید قل ہو اللہ بہ مشکل پڑھ سکوں کیونکہ ساتھ ہی
توجہ کرنے سے تحریک بخارات کی ہوتی ہے۔‘‘
خاکسار: غلام احمد قادیان، مؤرخہ ۵؍فروری ۱۸۹۱ء‘‘
(مکتوبات احمدیہ ج۵ نمبر۲ ص۸۸، مکتوب نمبر۶۴، جدید مکتوبات احمد جلد دوم ص۱۰۱، مکتوب نمبر۶۵)
(۵۲) چشم نیم باز
’’مولوی شیر علی صاحب نے بیان کیا کہ باہر مردوں میں بھی حضرت صاحب (مرزاقادیانی) کی یہی عادت تھی کہ
آپ کی انکھیں ہمیشہ نیم بند رہتی تھیں… ایک دفعہ حضرت مرزا صاحب معہ چند خدام کے فوٹو کھنچوانے لگے تو فوٹو
گرافر آپ سے عرض کرتا تھا کہ حضور ذرا آنکھیں کھول کر رکھیں ورنہ تصویر اچھی نہیں آئے گی اور آپ نے اس کے
کہنے پر ایک دفعہ تکلف کے ساتھ آنکھوں کو کچھ زیادہ کھولا بھی مگر وہ پھر اسی طرح نیم بند ہوگئیں۔‘‘
(سیرت المہدی حصہ دوم ص۷۷، روایت نمبر۴۰۳،۴۰۴، جدید ج۱ حصہ دوم ص۳۶۴، روایت نمبر۴۰۶،۴۰۷)
(۵۳) عصبی کمزوری
’’حضرت صاحب (مرزاقادیانی) کی تمام تکالیف مثلاً دوران سر، درد سر، کمی خواب، تشنج دل، بدہضمی، اسہال،
کثرت پیشاب اور مراق وغیرہ کا صرف ایک ہی باعث تھا اور وہ عصبی کمزوری تھا۔‘‘
(رسالہ ’’ریویو آف ریلیجنز‘‘ قادیان ج۲۶ نمبر۵ ص۲۶، بابت مئی ۱۹۲۷ء)
(۵۴) مرض اعصابی
’’مخدومی مکرمی اخویم (مولوی نورالدین صاحب) السلام علیکم ورحمۃ اللہ …
یہ عاجز پیر کے دن ۹؍مارچ ۱۸۹۱ء کو معہ اپنے عیال کے لدھیانہ کی طرف جائے گا اور چونکہ سردی اور دوسرے
تیسرے روز بارش بھی ہو جاتی ہے اور اس عاجز کی مرض اعصابی ہے۔ سرد ہوا اور بارش سے بہت ضرر پہنچتا ہے۔ اس
وجہ سے یہ عاجز کسی صورت سے اس قدر تکلیف اٹھا نہیں سکتا کہ اس حالت میں لدھیانہ پہنچ کر پھر جلدی لاہور میں
آوے۔ طبیعت بیمار ہے، لاچار ہوں۔ اس لئے مناسب ہے کہ اپریل کے مہینہ میں کوئی تاریخ مقرر کی جاوے… والسلام‘‘
(مکتوبات احمدیہ ج۵ نمبر۲ ص۹۰، مکتوب نمبر۶۶، جدید مکتوبات احمد جلد دوم ص۱۰۸،۱۰۹، مکتوب نمبر۷۲)
137
(۵۵) خرابی حافظہ
’’مکرمی اخویم سلمہ میرا حافظہ بہت خراب ہے۔ اگر کئی دفعہ کسی کی ملاقات ہوتب بھی بھول جاتا ہوں۔ یاد
دہانی عمدہ طریقہ ہے۔ حافظہ کی یہ ابتری ہے کہ بیان نہیں کر سکتا۔‘‘
خاکسار: غلام احمد، از صدر انبالہ حاطہ ناگ پھنی‘‘
(مکتوبات احمدیہ ج۵ نمبر۳ ص۲۱، مکتوب نمبر۳۹، جدید مکتوبات احمد جلد دوم ص۴۸۳، مکتوب نمبر۴۱)
(۵۶) مقدمہ کی فکر
’’چوتھے وہ لمبا اور تکلیف دہ فوجداری مقدمہ جو کرم دین ساکن بھیں، ضلع جہلم کی طرف سے اوّل اوّل جہلم
اور پھر اس کے بعد گورداسپور میں چلا گیا تھا اور بالآخر بعدالت اے۔ای ہری سیشن جج امرتسر ۷؍جنوری ۱۹۰۵ء کو
فیصل ہوا اور آپ (یعنی مرزاغلام احمد قادیانی) بری کئے گئے۔‘‘
(سیرت المہدی حصہ اوّل ص۲۲۴، روایت نمبر۲۳۷، جدید ج۱ حصہ اوّل ص۲۲۳، روایت نمبر۲۴۲)
’’بیان کیامجھ سے مولوی ذوالفقار علی خان صاحب نے کہ جن دنوں میں گورداسپور میں کرم دین کا مقدمہ تھا،
ایک دن حضرت صاحب (مرزاقادیانی) کچہری کی طرف تشریف لے جانے لگے اور حسب معمول پہلے دعا کے لئے اس کمرہ میں
گئے جو اس غرض کے لئے پہلے مخصوص کر لیا تھا۔ میں اور مولوی محمد علی صاحب وغیرہ باہر انتظار میں کھڑے تھے
اور مولوی صاحب کے ہاتھ میں اس وقت حضرت صاحب کی چھڑی تھی۔ حضرت صاحب دعا کر کے باہر نکلے تومولوی صاحب نے
آپ کو چھڑی دی۔ حضرت صاحب نے چھڑی ہاتھ میں لے کر اسے دیکھا اور فرمایا، یہ کس کی چھڑی ہے۔ عرض کیاگیا کہ
حضور ہی کی ہے جو حضور اپنے ہاتھ میں رکھا کرتے ہیں۔ آپ نے فرمایا، اچھا! میں نے تو سمجھا تھا کہ یہ میری
نہیں ہے۔‘‘
(سیرت المہدی حصہ اوّل ص۲۲۷، روایت نمبر۲۴۱، جدید ج۱ حصہ اوّل ص۲۲۶، روایت نمبر۲۴۶)
(۵۷) بے توجہی
’’ڈاکٹر میر محمد اسماعیل صاحب نے مجھ سے بیان کیا کہ حضرت مسیح موعود اپنی جسمانی عادات میں ایسے
سادہ تھے کہ بعض دفعہ جب حضور جراب پہنتے تھے تو بے توجہی کے عالم میں اس کی ایڑی پاؤں کے تلے کی طرف نہیں
بلکہ اوپر کی طرف ہو جاتی تھی اور بارہا ایک کاج کا بٹن دوسرے کاج میں لگا ہوتا تھا اور بعض اوقات کوئی دوست
حضور کے لئے گرگابی (جوتہ) ہدیۃً لاتا تو آپ بسااوقات دایاں پاؤں بائیں میں ڈال لیتے تھے اور بایاں دائیں
میں۔ چنانچہ اسی تکلیف کی وجہ سے آپ دیسی جوتی پہنتے تھے۔ اسی طرح کھانا کھانے کا یہ حال تھا کہ خود فرمایا
کرتے تھے کہ ہمیں تو اس وقت پتہ لگتا ہے کہ کیا کھا رہے ہیں کہ جب کھاتے کھاتے کوئی کنکر وغیرہ کا ریزہ دانت
کے نیچے آجاتا ہے۔‘‘
(سیرت المہدی حصہ دوم ص۵۸، روایت نمبر۳۷۵، جدید ج۱ حصہ دوم ص۳۴۴، روایت نمبر۳۷۸)
(۵۸) جیب کے ڈھیلے
’’آپ (یعنی مرزاغلام احمد قادیانی) کوشیرینی سے بہت پیار ہے اور مرض بول بھی عرصہ سے آپ کو لگی ہوئی
ہے۔ اس زمانہ میں آپ مٹی کے ڈھیلے بعض وقت جیب میں ہی رکھتے تھے اور اسی جیب میں گڑ کے ڈھیلے بھی رکھ لیا
کرتے تھے۔ اسی قسم کی اور بہت سی باتیں ہیں جو اس بات پر شاہد ناطق ہیں کہ آپ کو اپنے یار ازل کی محبت میں
ایسی محویت تھی کہ جس کے باعث سے اس دنیا سے بالکل بے خبر ہورہے
138
تھے۔ (البتہ کھ انے میں مرغ، بٹیر، مقویات میں مشک، عنبر، مفرح، عنبری اور خاص مجربات اور مشاغل میں
سرکار عظمت مدار کی توصیف وتائید اور دین میں تاویلات اور نبوت کے دعوے۔ دنیا کی طرف صرف اسی قدر توجہ باقی
رہ گئی تھی اس سے زیادہ نہیں۔ للمؤلف)‘‘
(مرزاقادیانی کے حالات مرتبہ معراج الدین عمر قادیانی، تتمہ براہین احمدیہ جلد اوّل ص۶۷، طبع اوّل)
(۵۹) مصروفیت اور مراق
’’میرا تو یہ حال ہے کہ باوجود اس کے کہ دو بیماریوں میں ہمیشہ سے مبتلا رہتا ہوں پھر بھی آج کل میری
مصروفیت کا یہ حال ہے کہ رات کو مکان کے دروازے بند کر کے بڑی بڑی رات تک بیٹھا اس کام کو کرتا رہتا ہوں۔
حالانکہ زیادہ جاگنے سے مراق کی بیماری ترقی کرتی جاتی ہے اور دوران سر کا دورہ زیادہ ہو جاتا ہے۔ مگر میں
اس بات کی پرواہ نہیں کرتا اور اس کام کو کئے جاتا ہوں۔‘‘
(مندرجہ اخبار الحکم قادیان ج۵ نمبر۴۰ ص۶ کالم۱ مؤرخہ ۳۱؍اکتوبر ۱۹۰۱ء، ملفوظات ج۲ ص۳۷۶، جدید
ملفوظات ج۱ ص۵۶۵، از کتاب منظور الٰہی ص۳۴۸)
(۶۰) انہماک
’’مجھے اسہال کی بیماری ہے اور ہر روز کئی کئی دست آتے ہیں۔ مگر جب پاخانے کی حاجت بھی ہوتی ہے تو
مجھے رنج ہی ہوتا ہے کہ ابھی کیوں حاجت ہوئی اور ایسا ہی روٹی کے لئے جب کئی مرتبہ کہتے ہیں تو بڑا جبر کر
کے جلد جلد چند لقمے کھا لیتے ہوں۔ بظاہر تو میں روٹی کھاتا ہوا دکھائی دیتا ہوں مگر میں سچ کہتا ہوں کہ
مجھے پتہ نہیں ہوتا کہ وہ کہاں جاتی ہے اور کیا کھاتا ہوں۔ میری توجہ اور خیال اسی طرف لگا ہوا ہوتا ہے۔‘‘
(مندرجہ اخبار الحکم قادیان ج۵ نمبر۶۰ ص۶ کالم۱،۲، مؤرخہ ۳۱؍اکتوبر ۱۹۰۱ء، ملفوظات ج۲ ص۳۷۶،۳۷۷، جدید
ملفوظات ج۱ ص۵۶۵، منقول از کتاب منظور الٰہی ص۳۴۹، مؤلفہ منظور الٰہی قادیانی)
(۶۱) اوہو
’’ایک دفعہ کا واقعہ ہے کہ میں حضور (مرزاقادیانی) صاحب کے پاس یکہ میں بیٹھا ہوا تھا۔ آپ میری طرف
بہت جھک گئے۔ میں ذرا کھسک گیا۔ آپ اور میری طرف ہوگئے، میں اور ایک طرف ہوگیا۔ حتیٰ کہ اتنی تھوڑی سی جگہ
پر میں رہ گیا کہ ایک جگہ پر یکہ کا پہیہ جو کسی گڑھے میں پڑا اس دھکے سے میں نیچے جاپڑا اور جلدی سے اٹھ کر
پیشاب کے لئے بیٹھ گیا۔ تا حضرت صاحب محسوس نہ کریں کہ میں گرا ہوں۔ مگر آپ نے فرمایا، اوہو! مفتی صاحب آپ
گر گئے، جگہ تو بہت ہے اور آپ پیچھے ہٹ گئے، شاید یہ بھی کوئی امتحان ہی تھا۔ اللہ بہتر جانتا ہے۔‘‘
(تقریر مفتی محمد صادق قادیانی، اخبار الفضل قادیان ج۱۲ نمبر۷۷ ص۷ کالم۱، مؤرخہ ۱۷؍جنوری ۱۹۲۵ء)
(۶۲) پیر کتے مار
’’ایک دفعہ قادیان میں آوارہ کتے بہت ہوگئے اور ان کی وجہ سے شوروغل رہتا تھا۔ پیر سراج الحق
(قادیانی) صاحب نے بہت سے کتوں کو زہردے کر مار ڈالا۔ اس پر بعض لڑکوں نے پیر صاحب کو چڑانے کے واسطے ان کا
نام پیر کتے مار رکھ دیا۔ پیر صاحب حضرت مسیح موعود (مرزاقادیانی) کی خدمت میں شاکی ہوئے کہ لوگ مجھے کتے
مار کہتے ہیں۔ حضرت صاحب نے تبسم کے ساتھ فرمایا کہ اس میں کیا حرج ہے۔ دیکھئے حدیث میں میرا نام ’’سورمار‘‘
لکھا ہے۔ کیونکہ مسیح کی تعریف میں آیا ہے کہ ’’یقتل الخنزیر‘‘ پیر صاحب اس پر بہت خوش ہوکر چلے آئے۔‘‘
(ذکر حبیب ص۱۶۲، مفتی صادق قادیانی)
139
(۶۳) روٹی کے ٹکڑے
’’حضرت مسیح موعود جب کھانا کھایا کرتے تھے تو بمشکل ایک پھلکا آپ کھاتے اور جب آپ اٹھتے تو روٹی کے
ٹکڑوں کا بہت ساچورہ آپ کے سامنے سے نکلتا۔ آپ کی عادت تھی کہ روٹی توڑتے اور اس کے ٹکڑے ٹکڑے کرتے جاتے۔
پھر کوئی ٹکڑا اٹھا کر منہ میں ڈال لیتے اور باقی ٹکڑے دسترخوان پر رکھے رہتے۔ معلوم نہیں حضرت مسیح موعود
ایسا کیوں کیا کرتے تھے۔ مگر کئی دوست کہا کرتے کہ حضرت صاحب یہ تلاش کرتے ہیں کہ ان روٹی کے ٹکڑوں میں سے
کون سا تسبیح کرنے والا ہے اور کون سا نہیں۔‘‘
(ملخص سیرت المہدی جدید ج۱ حصہ دوم ص۴۲۱،۴۲۲، روایت نمبر۴۴۷، خطبہ جمعہ، اخبار الفضل قادیان ج۲۲
نمبر۱۰۵ ص۷،۸، مؤرخہ ۳؍مارچ ۱۹۳۵ء، خطبات محمود ج۱۶ ص۱۴۹)
(۶۴) دوران سر
’’پان عمدہ بیگمی اور ایک انگریزی وضع کا پاخانہ جو ایک چوکی ہوتی ہے اور اس میں ایک برتن ہوتا ہے، اس
کی قیمت معلوم نہیں آپ ساتھ لاویں۔ قیمت یہاں سے دی جاوے گی۔ مجھے دوران سر کی بہت شدت سے مرض ہوگئی ہے۔
پیروں پر بوجھ دے کر پاخانہ پھرنے سے مجھے سر کو چکر آتا ہے۔‘‘
(خطوط امام بنام غلام ص۶ کالم۲، حکیم محمد حسین قریشی قادیانی، مالک دواخانہ رفیق الصحت لاہور)
(۶۵) دماغی بیہوشی
’’پہلے بھی کئی دفعہ ایسا ہوا کہ جب حضور سخت دماغی محنت کیا کرتے تو اچانک آپ کے دماغی پر ایک کمزوری
کا حملہ ہوتا اور بے ہوش ہو جاتے۔ ایک دفعہ کا واقعہ مجھے یاد ہے جب کہ عیسائی دشمنوں نے حضور پر مقدمہ
اقدام قتل کا بنایا اور مسلمان مولوی صاحبان عیسائیوں کی تائید میں گواہیاں دینے کے لئے آئے تو جس دن بٹالہ
میں پیشی تھی، اس سے قبل رات عشاء کی نماز کے بعد حضور جواب دعویٰ لکھنے بیٹھے اور مجھے حکم فرمایا کہ میں
حضور کے مسودہ کو خوشخط لکھتا جاؤں۔ اندر کے صحن میں حضور بیٹھ گئے۔ لالٹین اور بتیاں روشن کی گئیں… حضرت
صاحب مسودہ لکھتے رہے اور میں نقل کرتا رہا۔ اسی حالت میں ساری رات گزرگئی اور صبح کی اذان ہوگئی۔ اس وقت
اچانک حضرت صاحب کو دماغ میں تکلیف محسوس ہوئی جس سے لیٹ گئے اور بیہوش ہوگئے۔ لوگ باہر سے بلائے گئے۔ بہت
دیر تک بدن کو دبانے اور ملنے کے بعد ہوش میں آئے۔‘‘
(منظر وصال، مفتی محمد صادق قادیانی، مندرجہ اخبار الحکم قادیان خاص نمبر، مؤرخہ ۲۱؍مئی ۱۹۳۴ء)
(۶۶) خرابی صحت
’’عرصہ تین چار ماہ سے میری طبیعت نہایت ضعیف ہوگئی ہے۔ بجز دو وقت ظہر وعصر کے نماز کے لئے بھی نہیں
جاسکتا اور اکثر بیٹھ کر نماز پڑھتا ہوں اور اگر ایک سطر بھی کچھ لکھوں یا فکر کروں تو خطرناک دوران سر شروع
ہو جاتا ہے اور دل ڈوبنے لگتا ہے۔ جسم بالکل بیکار ہو رہا ہے اور جسمانی قویٰ ایسے مضمحل ہوگئے ہیں کہ
خطرناک حالت ہے۔ گویا مسلوب القویٰ ہوں اور آخری وقت ہے۔ ایسا ہی میری بیوی دائم المریض ہے۔ امراض رحم وجگر
دامن گیر ہیں۔‘‘
(ارشاد مرزاقادیانی مندرجہ اخبار البدر قادیان ج۲ نمبر۲۱ ص۲ کالم۲، مؤرخہ ۲۴؍مئی ۱۹۰۶ء، آئینہ احمدیت
حصہ اوّل ص۱۸۶، جدید آئینہ احمدیت حصہ اوّل ص۳۹۱، مؤلفہ دوست محمد قادیانی)
(۶۷) سخت بیمار
’’بیان کیا مجھ سے مرزاسلطان احمد صاحب نے بواسطہ مولوی رحیم بخش صاحب (حال عبدالرحیم دردقادیانی)
ایم۔اے کہ ایک
140
دفعہ والد صاحب (یعنی مرزاغلام احمد قادیانی) سخت بیمار ہوگئے اور حالت نازک ہوگئی اور حکیموں نے
ناامیدی کا اظہار کر دیا اور نبض بھی بند ہوگئی۔ مگر زبان جاری رہی۔ والد صاحب نے کہا کہ کیچڑ لا کر میرے
اوپر اور نیچے رکھ۔ چنانچہ ایسا ہی کیاگیا اور اس سے حالت روبا صلاح ہوگئی۔ خاکسار عرض کرتا ہے کہ حضرت مسیح
موعود (مرزاقادیانی) نے لکھا ہے کہ یہ مرض قولنج زحیری کا تھا اور یہ کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو دکھایا تھا کہ
پانی اور ریت منگوا کر بدن پر ملی جاوے۔ سو ایسا کیاگیا تو حالت اچھی ہوگئی۔ مرزاسلطان احمد صاحب کو ریت کے
متعلق ذہول ہوگیا ہے۔‘‘
(سیرت المہدی حصہ اوّل ص۲۰۳، روایت نمبر۱۹۵، جدید ج۱ حصہ اوّل ص۲۰۳، روایت نمبر۲۰۰)
’’ایک مرتبہ میں قولنج زحیری سے سخت بیمار ہوا اور سولہ دن پاخانہ کی راہ سے خون آتا رہا اور سخت درد
تھا جو بیان سے باہر ہے۔‘‘
(حقیقت الوحی ص۲۳۴، خزائن ج۲۲ ص۲۴۶)
(۶۸) مرغوبات
بیان کیا مجھ سے میاں عبد اللہ صاحب سنوری نے کہ: ’’حضرت صاحب (مرزاقادیانی) جب بڑی مسجد میں جاتے تھے تو
گرمی کے موسم میں کنوئیں سے پانی نکلوا کر ڈول سے ہی منہ لگا کر پانی پیتے تھے اور مٹی کی تازہ ٹنڈیا تازہ
آبخورہ میں پانی پینا آپ کو پسند تھا اور میاں عبد اللہ صاحب نے بیان کیا کہ حضرت صاحب اچھے تلے ہوئے کرارے
پکوڑے پسند کرتے تھے۔ کبھی کبھی مجھ سے منگوا کر مسجد میں ٹہلتے ٹہلتے کھایا کرتے تھے اور سالم مرغ کا کباب
بھی پسند تھا… گوشت کی خوب بھنی ہوئی بوٹیاں بھی مرغوب تھیں… حضرت صاحب نے ایک دفعہ یہ بھی فرمایا تھا کہ
گوشت زیادہ نہیں کھانا چاہئے۔ جو شخص چالیس دن لگاتار کثرت کے ساتھ صرف گوشت ہی کھاتا رہتا ہے، اس کا دل
سیاہ ہوجاتا ہے۔ دال، سبزی، ترکاری کے ساتھ بدل بدل کر گوشت کھانا چاہئے۔‘‘
(سیرت المہدی حصہ اوّل ص۱۶۳، روایت نمبر۱۶۳، جدید ج۱ حصہ اوّل ص۱۶۵،۱۶۶، روایت نمبر۱۶۷)
’’پرندوں کا گوشت آپ کو مرغوب تھا، اس لئے بعض اوقات جب طبیعت کمزور ہوتی تو تیتر، فاختہ وغیرہ کے لئے
شیخ عبدالرحیم صاحب نومسلم کو ایسا گوشت مہیا کرنے کو فرمایا کرتے تھے۔ مرغ اور بٹیروں کا گوشت بھی آپ کو
پسند تھا۔ مگر بٹیرے جب سے کہ پنجاب میں طاعون کا زور ہوا،کھانے چھوڑ دئیے تھے بلکہ منع کیا کرتے تھے اور
فرماتے تھے کہ اس کے گوشت میں طاعون پیدا کرنے کی خاصیت ہے… مرغ کا گوشت ہر طرح کا آپ کھالیتے تھے۔ سالن ہو
یا بھنا ہوا، کباب ہو یا پلاؤ، مگر اکثر ایک ران پر ہی گزارا کر لیتے تھے اور وہی آپ کو کافی ہو جاتی تھی…
پلاؤ بھی آپ کھاتے تھے مگر ہمیشہ نرم اور گداز اور گلے گلے ہوئے چاولوں کا اور میٹھے چاول تو کبھی خود کہہ
کر پکوا لیا کرتے تھے، مگر گڑ کے اور وہی آپ کو پسند تھے۔ عمدہ کھانے یعنی کباب، مرغ پلاؤ یا انڈے اور اسی
طرح فیرنی، میٹھے چاول وغیرہ تب ہی آپ کہہ کر پکوایا کرتے تھے جب ضعف معلوم ہوتا۔ جن دنوں میں تصنیف کا کام
کم ہوتا یا صحت اچھی ہوتی تو ان دنوں میں معمولی کھانا ہی کھاتے تھے… دودھ، بالائی،مکھن یہ اشیاء بلکہ بادام
روغن تک صرف قوت کے قیام اور ضعف کے دور کرنے کو استعمال فرماتے تھے اور ہمیشہ معمولی مقدار میں۔ بعض لوگوں
نے آپ کے کھانے پر اعتراض کئے ہیں۔ مگر ان بیوقوفوں کو یہ خبر نہیں کہ ایک شخص جو عمر میں بوڑھا ہے اور اسے
کئی امراض لگے ہوئے ہیں اور باوجود ان کے وہ تمام جہاں سے مصروف پیکار ہے… وہ شخص ان مقوی غذاؤں کو صرف
بطور قوت لایموت اور سدرمق کے طور پر استعمال کرتا ہے تو کون عقل کا اندھا ایسا ہوگا کہ اس خوراک کو لذائذ
حیوانی اور حظوظ نفسانی سے تعبیر کرے۔ خداتعالیٰ ہر مؤمن کو بدظنی سے بچائے… میوہ جات آپ کو پسند تھے اور
اکثر خدام بطور تحفہ کے لایا بھی کرتے تھے۔ گاہے بگاہے خود بھی
141
منگواتے تھے۔ پسندیدہ میووں میں سے آپ کو انگور، بمبئی کا کیلا، ناگپوری سنگترے، سیب، سردے اور سرولی
آم زیادہ پسندتھے۔ باقی میوے بھی گاہے ماہے جو آتے رہتے تھے، کھالیا کرتے تھے… زمانہ موجودہ کے ایجادات
مثلاً برف اور سوڈا لیمونیڈ، جنجر وغیرہ بھی گرمی کے دنوں میں پی لیا کرتے تھے۔ بلکہ شدت گرمی میں برف بھی
امرتسر، لاہور سے خود منگوالیا کرتے تھے۔ بازاری مٹھائیوں سے بھی آپ کو کسی قسم کا پرہیز نہ تھا۔ نہ اس بات
کی پرچول تھی کہ ہندو کی ساختہ ہے یا مسلمانوں کی۔ لوگوں کی نذرانہ کے طور پر آوردہ مٹھائیوں میں سے بھی کھا
لیتے تھے اور خود بھی روپیہ دوروپیہ کی مٹھائی منگوا کر رکھا کرتے تھے۔ مٹھائی بچوں کے لئے ہوتی تھی۔‘‘
(سیرت المہدی حصہ دوم ص۱۳۲تا۱۳۵، روایت نمبر۴۴۴، جدید ج۱ حصہ دوم ص۴۲۳تا۴۲۶، روایت نمبر۴۴۷)
’’بلکہ ولایتی بسکٹوں کو بھی جائز فرماتے تھے۔ اس لئے کہ ہمیں کیا معلوم کہ اس میں چربی ہے۔ کیونکہ
بنانے والے کا ادعا تو مکھن ہے۔ پھر ہم ناحق بدگمانی اور شکوک میں کیوں پڑیں۔‘‘
(سیرت المہدی حصہ دوم ص۱۳۲، روایت نمبر۴۴۴، جدید ج۱ حصہ دوم ص۴۲۳، روایت نمبر۴۴۷)
(۶۹) شکار کی ضرورت
’’عام طور پر آپ کو (شکار سے) کوئی شوق اور دلچسپی نہ تھی۔ ہاں طیور کے گوشت کو پسند فرماتے تھے اور
دراصل حضرت صاحبزادگان میں شکار کا شوق بھی حضرت مسیح موعود کی اس خواہش کے پورا کرنے کے لئے آیا جو حضرت
والد صاحب قبلہ کی خوشنودی اور دعا کے حاصل کرنے کا ایک ذریعہ تھا۔ ان ایام میں حضرت مسیح موعود کی غذا
بالکل کم ہوگئی تھی اور کوئی چیز نہیں کھاتے تھے۔ پرند کا شوربا آپ پسند کرتے تھے۔ اس لئے عام طور پر خدام
کوشش کرتے تھے کہ کوئی پرند کا شکار کر کے لائیں۔ اسی سلسلے میں حضرت صاحبزادہ صاحب بھی سعی کرتے۔‘‘
(حیات النبی ج۱ نمبر۲ ص۱۳۹، مؤلفہ شیخ یعقوب علی عرفانی قادیانی)
(۷۰) کثرت کی آفت
’’ایک زمانہ وہ تھا کہ حضرت مسیح موعود باہر مہمانوں میں بیٹھ کر کھانا کھایا کرتے تھے اور ابتداء میں
بعض دفعہ آپ کے ساتھ ایک آدمی بعض دفعہ دو آدمی اور بعض دفعہ چھ سات آدمی ہوتے تھے۔ آخر ہوتے ہوتے یہ تعداد
پندرہ بیس تک جا پہنچے تو آپ نے کھانا باہر مہمانوں کے ساتھ کھانا چھوڑ دیا کہ اب یہ تکلیف مالایطاق ہے۔ پھر
یہ بات نہ رہی اور آپ نے گھر میں بیٹھ کر کھانا شروع کردیا۔ (تنہائی میں مرزاقادیانی کو یوں بھی کھانا حسب
دلخواہ اچھا ملتا ہوگا۔ چنانچہ ذکر ہے کہ مرزاقادیانی کو پرندوں کا گوشت بہت مرغوب تھا۔ مثلاً تیتر، مرغ،
بٹیر وغیرہ… للمؤلف)‘‘
(مرزامحمود خلیفہ قادیان کا ارشاد، اخبار الفضل قادیان ج۳۴ نمبر۳۰۰ ص۲ کالم۴، مؤرخہ ۲۵؍دسمبر ۱۹۴۶ء)
(۷۱) درستی صحت
’’مجھے دماغی کمزوری اور دوران سر کی وجہ سے بہت سی ناطاقتی ہوگئی تھی۔ یہاں تک کہ مجھے یہ اندیشہ ہوا
کہ اب میری حالت بالکل تالیف وتصنیف کے لائق نہیں رہی اور ایسی کمزوری تھی کہ گویا بدن میں روح نہیں تھی۔ اس
حالت میں مجھے الہام ہوا، ’’اترد الیک انوار الشباب‘‘ یعنی جوانی کے نور تیری طرف
واپس کئے۔ بعد اس کے چند روز میں ہی مجھے محسوس ہوا کہ میری گمشدہ قوتیں پھر واپس آتی جاتی ہیں اور تھوڑے
دنوں کے بعد مجھ میں اس قدر طاقت ہوگئی کہ میں ہرروز دودو جزو نو تالیف کتاب کو اپنے ہاتھ لکھ سکتا ہوں اور
نہ صرف لکھنا بلکہ سوچنا اور فکر کرنا جو نئی تالیف کے لئے ضروری ہے، پورے طور پر میسر آگیا۔ ہاں دو مرض
میرے لاحق حال ہیں۔ ایک بدن
142
کے اوپر کے حصہ میں اور دوسرے بدن کے نیچے کے حصہ میں۔ اوپر کے حصہ میں دوران سر ہے اور نیچے کے حصہ
میں کثرت پیشاب ہے۔ یہ دونوں مرضیں اسی زمانہ سے ہیں جس زمانہ سے میں نے اپنا دعویٰ مامور من اللہ ہونے کا
شائع کیا ہے۔ میں نے ان کے لئے بھی دعائیں کیں۔ مگر منع میں جواب پایا اور میرے دل میں القا کیاگیا کہ یہ
ابتداء سے مسیح موعود کے لئے یہ نشان مقرر ہے کہ وہ دوزرد چادروں کے ساتھ دوفرشتوں کے کاندھوں پر ہاتھ رکھے
ہوئے اترے گا۔ سو یہ وہی دو زرد چادریں ہیں جو میری جسمانی حالت کے ساتھ شامل کی گئیں۔‘‘
(حقیقت الوحی ص۳۰۶، ۳۰۷، خزائن ج۲۲ ص۳۱۹،۳۲۰)
(۷۲) روغن بادام
’’ایسی حالت میں روغن بادام سر اور پیروں کی ہتھیلیوں پر ملنا اور پینا فائدہ مند محسوس ہوتا ہے۔ اس
لئے میں مولوی یار محمد صاحب کو بھیجتا ہوں کہ آپ خاص تلاش سے ایسا روغن بادام کہ جو تازہ ہو اور کہنہ نہ ہو
اور نیز اس کے ساتھ کوئی ملونی نہ ہو، ایک بوتل خرید کر بھیج دیں۔ پانچ روپیہ قیمت اس کی ارسال ہے۔‘‘
(خطوط امام بنام غلام ص۵ کالم۲)
’’بادام روغن میری بیماری کے لئے خریدا جاوے گا۔ نیا اور تازہ ہو اور عمدہ ہو۔ یہ آپ کا خاص ذمہ ہے۔‘‘
(خطوط امام بنام غلام صً۷ کالم۲)
(۷۳) مشک
’’آپ براہ مہربانی ایک تولہ مشک خالص جس میں ریشہ جھلی اور صوف نہ ہوں اور تازہ خوشبودار ہو، بذریعہ
ویلو پے ایبل پارسل ارسال فرمادیں۔ کیونکہ پہلی مشک ختم ہوچکی ہے اور باعث دورہ مرض ضرورت رہتی ہے۔‘‘
(خطوط امام بنام غلام ص۶ کالم۱)
’’پہلی مشک ختم ہوچکی ہے۔ اس لئے پچاس روپیہ بذریعہ منی آرڈر آپ کی خدمت میں ارسال ہیں۔ آپ دوتولہ مشک
خالص دوشیشیوں میں علیحدہ علیحدہ یعنی تولہ تولہ ارسال فرمائیں۔‘‘
(خطوط امام بنام غلام ص۲ کالم۲)
’’آپ بے شک ایک تولہ مشک بقیمت (۳۶)روپے خرید کر کے بذریعہ وی پی بھیج دیں۔ ضرور بھیج دیں۔‘‘
(خطوط امام بنام غلام ص۳ کالم۱)
’’پہلی مشک جو لاہور سے آپ نے بھیجی تھی وہ اب نہیں رہی۔ آپ جاتے ہی ایک تولہ مشک خالص جس میں چھچھڑا
نہ ہو اور بخوبی جیسا کہ چاہئے خوشبودار ہو ضرور ویلوپی ایبل کراکر بھیج دیں۔ جس قدر قیمت ہو مضائقہ نہیں۔
مگر مشک اعلیٰ درجہ کی ہو۔ چھچھڑا نہ ہو اور جیسا کہ عمدہ اور تازہ مشک میں تیز خوشبو ہوتی ہے وہی اس میں
ہو۔‘‘
(خطوط امام بنام غلام ص۶ کالم۱،۲)
’’مخدومی مکرمی حضرت مولوی صاحب۔ السلام علیکم ورحمۃ اللہ برکاتہ…
اور اس عاجز کی طبیعت آج بہت علیل ہورہی ہے۔ ہاتھ پاؤں بھاری اور زبان بھی بھاری ہو رہی ہے۔ مرض کے
غلبے سے نہایت لاچاری ہے۔ مجھ کو ایک مرتبہ آن مکرم نے کسی قدر مشک دیا تھا۔ وہ نہایت خالص تھا اور مجھ کو
بہت فائدہ اس سے ہوا تھا۔ اب میں نے کچھ عرصہ ہوا، لاہور سے مشک منگوائی تھی اور استعمال بھی کی مگر بہت کم
فائدہ ہوا۔ بازاری چیزیں مغشوش ہوتی ہیں، خاص کر مشک۔ یہ تو مغشوش ہونے سے خالی نہیں ہوتی۔ چونکہ میری طبیعت
گری جاتی ہے اور ایک سخت کام کی محنت سر پر ہے۔ اس لئے تکلیف دیتا ہوں کہ ایک خاص توجہ اس طرف فرمائیں اور
مشک کو ضرور دستیاب کریں۔ بشرطیکہ وہ بازاری نہ ہو۔ کیونکہ بازاری کا تو چند دفعہ تجربہ ہو چکا ہے۔ اگرچہ
143
مشک دو ماشہ یا تین ماشہ ہو وہ بالفعل کفایت کرے گا مگر عمدہ ہو۔ اگر اصلی نافہ جو مصنوعی نہ ہو، مل
جائے تو نہایت خوب ہے مگر جلد ہو۔‘‘
خاکسار: غلام احمد از قادیان، مؤرخہ ۲۴؍اگست ۱۸۹۲ء
(مکتوبات احمدیہ ج۵ نمبر۲ ص۱۲۰،۱۲۱، مکتوب نمبر۸۷، جدید مکتوبات احمد جلد دوم ص۱۳۴، مکتوب نمبر۹۱)
’’مخدومی مکرمی اخویم سیٹھ صاحب سلمہ، السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ…
کل سے میری طبیعت علیل ہوگئی ہے۔ کل شام کے وقت مسجد میں اپنے تمام دوستوں کے روبرو جو حاضر تھے، سخت
درجہ کا عارضہ لاحق حال ہوا اور یک دفعہ تمام بدن سرد اور نبض کمزور اور طبیعت میں سخت گھبراہٹ شروع ہوگئی
اور ایسا معلوم ہوتا تھا کہ گویا زندگی میں ایک دو دم باقی ہیں۔ بہت نازک حالت ہو کر پھر صحت کی طرف عود ہوا
مگر اب تک کلی اطمینان نہیں۔ کچھ کچھ آثار عود مرض کے ہیں۔ اللہ تعالیٰ فضل ورحم فرمائے۔ ایسے وقتوں میں ہمیشہ
مشک کام آتی ہے۔ اس وقت مشک جو بمبئی سے آپ نے منگوا کر بھیجی تھی، گھر سے منگوائی گئی تھی۔ لیکن طبیعت کی
سخت سرگردانی اور دل کے اضطراب کی وجہ سے وہ مشک کھولنے کے وقت زمین پر متفرق ہوکر گر گئی اور گرمی کے سبب
سے خشک تھی اور ہوا چل رہی تھی، ضائع ہوگئی۔ اس لئے مجھے دوبارہ آپ کو تکلیف دینی پڑی۔ یہ مشک بہت عمدہ تھی۔
اس دکان سے ایک تولہ مشک لے کر جہاں تک ممکن ہو، جلد ارسال فرمائیں کہ دورہ مرض کا سخت اندیشہ اور خداتعالیٰ
کے فضل پر بھروسہ ہے۔‘‘
خاکسار: غلام احمد قادیان
(مکتوبات احمدیہ ج۵ نمبر۱ ص۲۸، مکتوب نمبر۷۱، جدید مکتوبات احمد جلد دوم ص۳۹۹، مکتوب نمبر۷۰)
’’سر کے دورے اور سردی کی تکلیف کے لئے سب سے زیادہ آپ مشک یا عنبر استعمال فرمایا کرتے تھے اور ہمیشہ
نہایت اعلیٰ قسم کا منگوایا کرتے تھے۔ یہ مشک خریدنے کی ڈیوٹی آخری ایام میں حکیم محمد حسین صاحب لاہوری
موجد مفرح عنبری کے سپرد تھی۔ عنبر اور مشک دونوں مدت تک سیٹھ عبدالرحمن صاحب مدراسی کی معرفت بھی آتے رہے۔
مشک کی تو آپ کو اس قدر ضرورت رہتی کہ بعض اوقات سامنے رومال میں باندھ رکھتے تھے کہ جس وقت ضرورت ہوئی،
فوراً نکال لیا۔‘‘
(سیرت المہدی حصہ دوم ص۱۳۷، روایت نمبر۴۴۴، جدید ج۱ حصہ دوم ص۴۲۹، روایت نمبر۴۴۷)
(۷۴) عنبر
’’مخدومی مکرمی اخویم سیٹھ صاحب سلمہ، السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ…
عنایت نامہ پہنچا۔ اب بفضلہ تعالیٰ میری طبیعت ٹھہر گئی ہے۔ دورہ مرض سے امن ہے۔ حقیقت میں یہ عمر جب
انسان ساٹھ پینسٹھ سال کا ہو جاتا ہے مرنے کے لئے ایک بہانہ چاہتی ہے۔ جیسا کہ ایک بوسیدہ دیوار۔ یہ
خداتعالیٰ کا فضل ہے کہ اس قدر سخت حملوں سے وہ بچا لیتا ہے۔ کل کی تاریخ عنبر بھی پہنچ گیا۔ میری طرف سے آپ
اس مہربان دوست کی خدمت میں شکریہ ادا کر دیں، جنہوں نے میری بیماری کا حال سن کر اپنی عنایت اور ہمدردی محض
اللہ ظاہر کی۔ خداتعالیٰ ان کو اس خدمت کا اجر بخشے اور ساتھ ہی آپ کو، آمین ثم آمین۔‘‘
(مکتوب نمبر۶۷)
’’عنبر سفید درحقیقت بہت ہی نافع معلوم ہوا۔ تھوڑی خوراک سے دل کو قوت دیتا ہے اور دوران خون تیز کر
دیتا ہے۔ یہ بھی اللہ تعالیٰ کی حکمت ہے کہ ایسی بیماری دامن گیر ہے کہ ان چیزوں کی ضرورت پڑتی ہے۔‘‘
(مکتوبات احمدیہ ج۵ نمبر۱ ص۲۶،۲۷، مکتوب نمبر۶۸، جدید مکتوبات احمد جلد دوم ص۳۹۶،۳۹۷، مکتوب
نمبر۶۷،۶۸)
144
’’عزیزی اخویم نواب صاحب سلمہ تعالیٰ۔ السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ…
میں بباعث علالت طبع چند روز جواب لکھنے سے معذور رہا۔ میری کچھ ایسی حالت ہے کہ ایک دفعہ ہاتھ پیر
سرد ہوکر اور نبض ضعیف ہوکر غشی کے قریب قریب حالت ہو جاتی ہے اور دوران خون یک دفعہ ٹھہر جاتا ہے جس میں
اگر خدائے تعالیٰ کا فضل نہ ہوتو موت کا اندیشہ ہوتا ہے۔ تھوڑے دنوں میں یہ حالت دو دفعہ ہوچکی ہے۔ آج رات
پھر اس کا سخت دورہ ہوا۔ اس حالت میں صرف عنبر یا مشک فائدہ کرتا ہے۔ رات دس خوراک کے قریب مشک کھایا۔ پھر
بھی دیر تک مرض کا جوش رہا۔ میں خیال کرتا ہوں کہ صرف خدائے تعالیٰ کے بھروسے پر زندگی ہے ورنہ دل جورئیس
بدن ہے، بہت ضعیف ہوگیا ہے۔‘‘
خاکسار: مرزاغلام احمد، مؤرخہ ۲۰؍جون ۱۸۹۹
(مکتوبات احمدیہ ج۵ نمبر۴ ص۹۸، مکتوب نمبر۲۸، جدید مکتوبات احمد جلد دوم ص۲۴۵، مکتوب نمبر۴۴)
(۷۵) مفرح عنبری
’’یاقوت، مروارید، مرجان، یشب، کہربا، کستوری، زعفران وغیرہ کا ہردلعزیز مرکب مفرح عنبری بڑی محنت سے
تیار ہوگیا ہے۔ قیمت ایک ڈبہ (۵روپے)‘‘
(خطوط امام بنام غلام، اشتہار مندرجہ سرورق ص۲)
’’میں (حکیم محمد حسین) اپنے مولا کریم کے فضل سے اس کو بھی اپنے لئے بے اندازہ فخروبرکت کا موجب
سمجھتا ہوں کہ حضور (مرزاقادیانی) اس ناچیز کی تیار کردہ مفرح عنبری کا بھی استعمال فرماتے تھے۔ حضور کو
چونکہ دورہ مرض کے وقت اکثر مشک ودیگر مقوی دل ادویات کی ضرورت رہتی تھی جو اکثر میری معرفت جایا کرتی
تھیں۔‘‘
(خطوط امام بنام غلام ص۸،۹، از حکیم محمد حسین قریشی قادیانی)
(۷۶) افیون
’’ڈاکٹر میر محمد اسماعیل نے مجھ سے بیان کیا کہ حافظ حامد علی صاحب مرحوم خادم حضرت مسیح موعود بیان
کرتے تھے کہ جب حضرت صاحب نے دوسری شادی کی تو ایک عمر تک تجرد میں رہنے اور مجاہدات کرنے کی وجہ سے آپ نے
اپنے قویٰ میں ضعف محسوس کیا۔ اس پر وہ الہامی نسخہ جو ’’زدجام عشق‘‘ کے نام سے مشہور ہے، بنوا کر استعمال
کیا۔ چنانچہ وہ نسخہ نہایت ہی بابرکت ثابت ہوا۔ حضرت خلیفہ اوّل (حکیم نورالدین) بھی فرماتے تھے کہ میں نے
یہ نسخہ ایک بے اولاد امیر کو کھلایا تو خدا کے فضل سے اس کے ہاں بیٹا پیدا ہوا۔ جس پر اس نے ہیرے کے کڑے
ہمیں نذر دئیے۔ نسخہ زدجام عشق یہ ہے۔ جس میں ہر حرف سے دوا کے نام کا پہلا حرف مراد ہے۔ زعفران، دارچینی،
جائفل، افیون، مشک، عقرقرحا، شنگرف، قرنفل یعنی لونگ، ان سب کو ہم وزن کوٹ کر گولیاں بناتے ہیں اور روغن سم
الفار میں چرب کر کے رکھتے ہیں اور روزانہ ایک گولی استعمال کرتے ہیں۔‘‘
(سیرت المہدی حصہ دوم ص۵۰،۵۱، جدید ج۱ حصہ سوم ص۵۴۸، روایت نمبر۵۶۹)
’’ڈاکٹر میر محمد اسماعیل صاحب نے مجھ سے بیان کیا کہ ایک دفعہ حضرت مسیح موعود نے سل دق کے مریض کے
لئے ایک گولی بنائی تھی۔ اس میں کونین اور کافور کے علاوہ افیون، بھنگ اور دھتورہ وغیرہ زہریلی ادویہ بھی
داخل کی تھیں اور فرمایا کرتے تھے کہ دوا کے طور پر علاج کے لئے جان بچانے کے لئے ممنوع چیز بھی جائز ہو
جاتی ہے۔ خاکسار (مرزابشیراحمد ایم۔اے) عرض کرتا ہے کہ شراب کے لئے بھی حضرت مسیح موعود کا یہی فتویٰ تھا۔‘‘
(سیرت المہدی حصہ سوم ص۱۱۱، جدید ج۱ حصہ سوم ص۶۱۵، روایت نمبر۶۵۵)
’’مجھے اس وقت اپنا سرگزشت قصہ یاد آیا ہے اور وہ یہ کہ مجھے کئی سال سے ذیابیطس کی بیماری ہے۔ پندرہ
بیس مرتبہ روز پیشاب
145
آتا ہے اور بعض وقت سوسو دفعہ ایک ایک دن میں پیشاب آیا ہے۔ بوجہ اس کے کہ پیشاب میں شکر ہے، کبھی
کبھی خارش کا عارضہ بھی ہو جاتا ہے اور کثرت پیشاب سے بہت ضعف تک نوبت پہنچتی ہے۔ ایک دفعہ مجھے ایک دوست نے
یہ صلاح دی کہ ذیابیطس کے لئے افیون مفید ہوتی ہے۔ پس علاج کی غرض سے مضائقہ نہیں کہ افیون شروع کر دی جائے۔
میں نے جواب دیا کہ یہ آپ نے بڑی مہربانی کی کہ ہمدردی فرمائی۔ لیکن اگر میں ذیابیطس کے لئے افیون کھانے کی
عادت کر لوں تو میں ڈرتا ہوں کہ لوگ ٹھٹھا کر کے یہ نہ کہیں کہ پہلا مسیح تو شرابی تھا اور دوسرا افیونی۔‘‘
(نسیم دعوت ص۶۷، خزائن ج۱۹ ص۴۳۴،۴۳۵)
’’افیون دواؤں میں اس کثرت سے استعمال ہوتی ہے کہ حضرت مسیح موعود (مرزاقادیانی) فرمایا کرتے تھے کہ
بعض اطباء کے نزدیک وہ نصف طب ہے۔ پس دواؤں کے ساتھ افیون کا استعمال بطور دوا، نہ کہ بطور نشہ کسی رنگ میں
بھی قابل اعتراض نہیں۔ ہم میں سے ہر ایک شخص نے علم کے ساتھ یا بغیرعلم کے ضرور کسی نہ کسی وقت افیون کا
استعمال کیا ہوگا… حضرت مسیح موعود نے تریاق الٰہی دوا خداتعالیٰ کی ہدایت کے ماتحت بنائی اور اس کا ایک بڑا
جزو افیون تھا اور یہ دوا کسی قدر اور افیون کی زیادتی کے بعد حضرت خلیفہ اوّل (حکیم نورالدین) کو حضور
(مرزاقادیانی) چھ ماہ سے زائد تک دیتے رہے اور خود بھی وقتاً فوقتاً مختلف امراض کے دوروں کے وقت استعمال
کرتے رہے۔‘‘
(مضمون مرزامحمود خلیفہ قادیان، الفضل قادیان ج۱۷ نمبر۶ ص۲ کالم۱، مؤرخہ ۱۹؍جولائی ۱۹۲۹ء)
’’جب آپ (یعنی مرزاقادیانی) پہلی بار میرے مطبع میں تشریف لائے تو آپ تکیہ دار موڑھے پر بیٹھ گئے اور
ایک موڑھے پر میں بیٹھ گیا اور مجھ سے کتاب کے متعلق باتیں ہوتی رہیں۔ میں نے آپ کی آنکھوں کو خوابیدہ دیکھ
کر دھوکہ کھایا کہ شاید آپ پوست یا افیون استعمال کرتے ہیں۔ جیسا کہ رئیسوں کا حال عموماً دیکھنے میں آیا
مگر جب میں حضرت کی تقریر یا گفتگو سنتا تھا اور ’’براہین احمدیہ‘‘ کے مضامین پر غور کرتا تھا تو سخت حیرت
ہوتی تھی کہ افیون وغیرہ کے استعمال کرنے والے کی تو یہ حالت نہیں ہوتی۔ ایسی تصنیف اور تحریر ایسا آدمی کب
کر سکتا ہے۔ پھر حضرت صاحب تشریف لے گئے… اب مجھے اپنی پہلی غلطی اور دھوکہ کھا جانے پر افسوس ہوا اور ندامت
ہوئی اور خوب معلوم ہوا کہ یہ نشہ معرفت الٰہی کا نشہ ہے، نہ افیون وغیرہ کا، جسے میں اس وقت سمجھا تھا۔
(مرزاقادیانی تو افیون کے اس درجہ قائل تھے کہ گویا افیون نصف طب ہے۔ یوں بھی قادیانی تحریروں میں افیون کا
تذکرہ پایا گیا۔ افیون کا عیب اور کمال یہی ہے کہ تخیل کو مضبوط اور وسیع کر دیتی ہے اور اس کے نشہ میں وہ
باتیں سوجھتی ہیں کہ عقل حیران رہ جائے۔ آدمی تیز اور طباع ہو تو پھر سونے پر سہاگہ… للمؤلف)‘‘
(شیخ نور احمد قادیانی، مالک مطبع ریاض ہند کا بیان، الفضل قادیان ج۳۴ نمبر۱۹۴، مؤرخہ ۲۰؍اگست ۱۹۴۶ء)
’’آج سے تیس سال قبل بہت سے لوگ ایسے تھے جو حضرت مسیح موعود (مرزاقادیانی) کے متعلق کہتے تھے۔ انہیں
اردو بھی نہیں آتی اور عربی دوسروں سے لکھا کر اپنے نام سے شائع کرتے ہیں۔ بعض لوگ کہتے مولوی نورالدین آپ
کو کتابیں لکھ کر دیتے ہیں۔ خود حضرت مسیح موعود کو بھی یہ دعویٰ نہ تھا کہ آپ نے ظاہری علوم کہیں پڑھے۔ آپ
فرمایا کرتے، میرا ایک استاد تھا جو افیم کھایا کرتا تھا اور حقہ لے کر بیٹھ رہتا تھا۔ کئی دفعہ پینگ میں اس
سے اس کے حقہ کی چلم ٹوٹ جاتی۔ ایسے استاد نے پڑھانا کیا تھا۔ غرض آپ کو لوگ جاہل اور بے علم سمجھتے تھے۔
کئی لوگ اس بات کے مدعی تھے کہ آپ کو کئی سال پڑھانے کی قابلیت رکھتے ہیں۔‘‘
(ارشاد مرزامحمود خلیفہ قادیان، الفضل قادیان، ج۱۶ نمبر۶۲ ص۸ کالم۳، مؤرخہ ۵؍فروری ۱۹۲۹ء)
’’مجھے بچپن میں بیماری کی وجہ سے افیون دیتے تھے۔ چھ ماہ متواتر دیتے رہے۔‘‘
(منہاج الطالبین ص۷۴، انوار العلوم ج۹ ص۲۲۰)
146
’’۲۸؍جون بروز جمعہ صبح کے وقت حضرت خلیفۃ المسیح ثانی ایدہ اللہ مجھے ڈاکٹر حشمت اللہ صاحب اور میاں ناصر
احمد صاحب کو ساتھ لے کر خواجہ (کمال الدین) صاحب کی عیادت کے لئے تشریف لے گئے۔ خواجہ صاحب نے اپنا قصہ
سنانا شروع کیا۔ جو علاج کراتے ہیں اور جو عارضے رہے ہیں، سب کا ذکر ہوتا رہا۔ خواجہ صاحب افیون بھی آج کل
کھاتے ہیں۔ ایک رتی سے شروع کی تھی۔ ابھی یہ خیال ہے کہ چھ ماہ اور کھائیں تاکہ اعصاب مضبوط ہو جائیں۔‘‘
(ڈائری مرزا محمود خلیفہ قادیان، نوشتہ عبدالرحیم درد قادیانی، الفضل قادیان ج۱۷ نمبر۲، مؤرخہ
۵؍جولائی ۱۹۲۹ء)
(۷۷) سنکھیا
’’جب مخالفت زیادہ بڑھی اور حضرت مسیح موعود کو قتل کی دھمکیوں کے خطوط موصول ہونے شروع ہوئے تو کچھ
عرصے تک آپ نے سنکھیا کے مرکبات استعمال کئے تاکہ خدانخواستہ آپ کو زہر دیا جائے تو جسم میں اس کے مقابلے کی
طاقت ہو۔‘
(ارشاد مرزا محمود خلیفہ قادیان، الفضل قادیان ج۲۲ نمبر۹۴ ص۴ کالم۳، مؤرخہ ۵؍فروری ۱۹۳۵ء)
(۷۸) دو بوتل برانڈی
’’حضور (مرزاقادیانی) نے مجھے لاہور سے بعض اشیاء لانے کے لئے ایک فہرست لکھ کر دی۔ جب میں چلنے لگا
تو پیر منظور محمد صاحب نے مجھے روپیہ دے کر کہا کہ دو بوتل برانڈی کی میری اہلیہ کے لئے پلومر کی دکان سے
لیتے آئیں۔ میں نے کہا کہ اگر فرصت ہوئی تو لیتا آؤں گا۔ پیر صاحب فوراً حضرت اقدس کی خدمت میں گئے اور کہا
کہ حضور مہدی حسین میرے لئے برانڈی کی بوتل نہیں لائیں گے۔ حضور ان کو تاکید فرمادیں۔ حقیقتاً میرا ارادہ
لانے کا نہ تھا۔ اس پر حضور اقدس (مرزاقادیانی) نے مجھے بلا کر فرمایا کہ میاں مہدی حسین! جب تک تم برانڈی
کی بوتلیں نہ لے لو، لاہور سے روانہ نہ ہونا۔ میں نے سمجھ لیا کہ اب میرے لئے لانا لازمی ہے۔ میں نے پلومر
کی دکان سے دو بوتلیں برانڈی کی غالباً چار روپیہ میں خرید کر پیر صاحب کو لادیں۔ ان کی اہلیہ کے لئے
ڈاکٹروں نے بتلائی ہوں گی۔‘‘
(اخبار الحکم قادیان ج۳۹ نمبر۲۵، مؤرخہ ۷؍نومبر ۱۹۳۶ء)
(۷۹) ٹانک وائن
’’محبی خویم حکیم محمد حسین صاحب سلمہ اللہ تعالیٰ۔ السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ…
اس وقت میاں یار محمد بھیجا جاتا ہے۔ آپ اشیاء خریدنی خود خریدیں اور ایک بوتل ٹانک وائن کی پلومر کی
دکان سے خرید دیں۔ مگر ٹانک وائن چاہئے۔ اس کا لحاظ رہے۔ باقی خیریت ہے۔ والسلام (مرزاغلام احمد)‘‘
(خطوط امام بنام غلام ص۵ کالم۱)
’’ٹانک وائن کی حقیقت لاہور میں پلومر کی دکان سے ڈاکٹر عزیز احمد صاحب کی معرفت معلوم کی گئی۔ ڈاکٹر
صاحب جواباً تحریرفرماتے ہیں، حسب ارشاد پلومر کی دکان سے دریافت کیاگیا، جواب حسب ذیل ملا:
ٹانک وائن ایک قسم کی طاقتور اور نشہ دینے والی شراب ہے جو ولایت سے سربند بوتلوں میں آتی ہے۔ اس کی
قیمت ڈیڑھ روپیہ ہے۔‘‘ (۲۱؍ستمبر ۱۹۳۳ء)
(سودائے مرزا طبع دوم ص۳۹ حاشیہ، حکیم محمد علی، پرنسپل طبیہ کالج امرتسر)
147
(۸۰) ٹانک وائن کا فتویٰ
’’پس ان حالات میں اگر حضرت مسیح موعود برانڈی اور رم کا استعمال بھی اپنے مریضوں سے کرواتے یا خود
بھی مرض کی حالت میں کر لیتے تو وہ خلاف شریعت نہ تھا۔ چہ جائیکہ ٹانک وائن جو ایک دوا ہے۔ اگر اپنے خاندان
کے کسی ممبر یا دوست کے لئے جو کسی لمبے مرض سے اٹھا ہو اور کمزور ہو یا بالفرض محال خود اپنے لئے بھی
منگوائی ہو اور استعمال بھی کی ہو تو اس میں کیا حرج ہوگیا۔ آپ کو ضعف کے دورے ایسے شدید پڑتے تھے کہ ہاتھ
پاؤں سرد ہو جاتے تھے، نبض ڈوب جاتی تھی۔ میں نے خود ایسی حالت میں آپ کو دیکھا ہے۔ نبض کا پتہ نہیں ملتا
تھا تو اطباء یا ڈاکٹروں کے مشورے سے آپ نے ٹانک وائن کا استعمال اندریں حالات کیا ہو تو عین مطابق شریعت
ہے۔ آپ تمام تمام دن تصنیفات کے کام میں لگے رہتے تھے۔ راتوں کو عبادت کرتے تھے۔ بڑھاپا بھی پڑتا تھا تو
اندریں حالات اگر ٹانک وائن بطور علاج پی بھی لیا ہو تو کیا قباحت لازم آگئی۔‘‘
(از ڈاکٹر بشارت احمد قادیانی، فریق لاہوری، پیغام صلح ج۲۳ نمبر۱۵ ص۳ کالم۲، مؤرخہ ۴؍مارچ ۱۹۳۵ء)
(۸۱) گھر کا بھیدی
’’مرزاشیر علی صاحب جو حضرت مسیح موعود کے سالے اور (ان کے فرزند) مرزافضل احمد صاحب کے خسر تھے،
انہیں لوگوں کو حضرت مسیح موعود کے پاس جانے سے روکنے کا بڑا شوق تھا۔ راستہ میں ایک بڑی لمبی تسبیح لے کر
بیٹھ جاتے۔ تسبیح کے دانے پھیرتے رہتے اور منہ سے گالیاں دیتے چلے جاتے۔ بڑا لٹیرا ہے، لوگوں کو لوٹنے کے
لئے دکان کھول رکھی ہے۔ بہشتی مقبرہ کی سڑک پر دار الضعفاء کے پاس بیٹھے رہتے… بڑی لمبی سفید داڑھی تھی۔
سفید رنگ تھا۔ تسبیح ہاتھ میں لئے بڑے شاندار آدمی معلوم ہوتے تھے اور مغلیہ خاندان کی پوری یادگار تھے۔
تسبیح لئے بیٹھے رہتے۔ جو کوئی نیا آدمی آتا، اسے اپنے پاس بلا کر بٹھا لیتے اور سمجھانا شروع کر دیتے کہ
مرزاصاحب سے میری قریبی رشتہ داری ہے۔ آخر میں نے کیوں نہ اسے مان لیا۔ اس کی وجہ یہی ہے کہ میں اس کے حالات
سے اچھی طرح واقف ہوں۔ میں جانتا ہوں کہ یہ ایک دکان ہے جو لوگوں کو لوٹنے کے لئے کھولی گئی ہے… میں مرزا کے
قریبی رشتہ داروں میں سے ہوں۔ میں اس کے حالات سے خوب واقف ہوں۔ اصل میں آمدنی کم تھی۔ بھائی نے جائیداد سے
بھی محروم کر دیا۔ اس لئے یہ دکان کھول لی ہے۔ آپ لوگوں کے پاس کتابیں اور اشتہار پہنچ جاتے ہیں۔ آپ سمجھتے
ہیں کہ پتہ نہیں کتنا بڑا بزرگ ہوگا۔ پتہ تو ہم کو ہے جو دن رات اس کے پاس رہتے ہیں۔ یہ باتیں میں نے آپ کی
خیرخواہی کے لئے آپ کو بتائیں ہیں۔‘‘
(خلیفہ قادیان کی تقریر مندرجہ اخبار الفضل قادیان ج۳۴ نمبر۹۱ ص۴ کالم۳،۴، مؤرخہ ۱۷؍اپریل ۱۹۴۶ء،
انوار العلوم ج۱۸ ص۲۳۷،۲۳۸)
(۸۲) مجاہدات
’’مخدومی مکرمی اخویم مولوی صاحب…
یہ بات مسلم اور واضح رہے کہ راست باز انسان کے لئے ایسے امور کی غرض سے کسی قدر مجاہدہ ضروری ہے۔
الکرامات ثمرۃ المجاہدات۔ علالت طبع بہت حرج انداز ہے۔ اگر یہ مقابلہ صحت اور طاقت دماغی کے ایام میں ہوتا
تو یقین تھا کہ تھوڑے دن کافی ہوتے۔ مگر اب طبیعت تحمل شدائد مجاہدات نہیں رکھتی اور ادنیٰ درجہ کی محنت اور
خوض اور توجہ سے جلد بگڑ جاتی ہے۔ خاکسار: غلام احمد، مؤرخہ ۳۱؍مارچ ۱۸۹۱ء‘‘
(مکتوبات احمدیہ ج۵ نمبر۲ ص۱۰۳، مکتوب نمبر۷۵، جدید مکتوبات احمد جلد دوم ص۱۱۶، مکتوب نمبر۷۷)
148
(۸۳) توجہات
’’مخدومی مکرمی اخویم (مولوی نورالدین) السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ…
دوروز سے میں نے شخص معلوم کے لئے توجہ کرنا شروع کیا تھا۔ مگر افسوس کہ اس عرصہ میں میرے گھر کے لوگ
یک دفعہ سخت علیل ہوگئے۔ یعنی تیزتپ ہوگیا۔ جس کی وجہ سے مجھے ان کی طرف توجہ کرنی پڑی۔ کل ارادہ ہے کہ ان
کو مسہل دوں۔ بعد ان کی صحت کے پھر توجہ میں مصروف ہوں گا… والسلام (خاکسار غلام احمد)‘‘
(مکتوبات احمدیہ ج۵ نمبر۲ ص۴۶، مکتوب نمبر۳۱، جدید مکتوبات احمد جلد دوم ص۵۰، مکتوب نمبر۳۲)
’’یہ عقد ہمت اور توجہ شمشیر تیز سے زیادہ تر اثر رکھتی ہے۔ میری رائے میں نبیوں کی تمام کامیابی کا
بڑا بھارا موجب یہی توجہ باطنی تھی۔ خاکسار: مرزاغلام احمد قادیانی از قادیان،مؤرخہ ۲۹؍فروری ۱۸۸۸ء‘‘
(مکتوبات احمدیہ ج۵ نمبر۲ ص۵۸، مکتوب نمبر۳۶، جدید مکتوبات احمد جلد دوم ص۶۲، مکتوب نمبر۳۸)
’’میری طبیعت آپ کے بعد پھر بیمار ہوگئی۔ ابھی ریزش کا نہایت زور ہے۔ دماغ بہت ضعیف ہوگیا ہے۔ آپ کے
دوست ٹھاکر رام کے لئے ایک دن بھی توجہ کرنے کے لئے مجھے نہیں ملا۔ صحت کا منتظر ہوں۔ والسلام!
خاکسار: غلام احمد، مؤرخہ یکم؍جنوری ۱۸۹۰ء‘‘
(مکتوبات احمدیہ ج۵ نمبر۲ ص۷۶، مکتوب نمبر۵۵، جدید مکتوبات احمد جلد دوم ص۹۱، مکتوب نمبر۵۷)
(۸۴) پنجابی حلق
’’بے شک یہ درست ہے کہ پنجابی حلق ہر ایک لفظ کو پوری طرح ادا نہیں کر سکتا۔ ایک دفعہ حضرت مسیح موعود
پر ایک شخص نے اعتراض کیا کہ یہ تو قرآن کا صحیح تلفظ عربی لہجہ میں ادا نہیں کر سکتا۔ ایسا شخص کہاں مسیح
ہوسکتا ہے۔ اس کی یہ بات سن کر سید عبداللطیف صاحب شہید نے اس پر ہاتھ اٹھایا۔ مگر مولوی عبدالکریم صاحب
مرحوم نے ان کا ہاتھ پکڑ لیا اور حضرت مسیح نے بھی انہیں روک دیا۔‘‘
(تقریر مرزا محمود خلیفہ قادیان، الفضل قادیان، ج۱۷ نمبر۶۲ ص۹ کالم۳، مؤرخہ ۷؍فروری ۱۹۳۰ء)
’’حضرت مسیح موعود کے پاس ایک دفعہ ایک لکھنؤ کا آدمی آیا۔ آپ نے قرآن کریم کا ذکر کیا تو کہنے لگا،
اچھے مسیح موعود بنے ہو کہ ’ق‘ اور ’ک‘ میں بھی فرق نہیں جانتے۔‘‘
(خطبہ جمعہ مرزامحمود خلیفہ قادیان، الفضل قادیان ج۱۶ نمبر۲۲ ص۷ کالم۳، مؤرخہ ۱۴؍ستمبر ۱۹۲۸ء)
(۸۵) نماز
’’اب پنجاب میں حاجی (ریاض الدین احمد) صاحب فقط وحشت دل کا علاج کرنے اور سیر سپاٹے کو گئے تھے۔ دل
میں آئی کہ چلو ذرا مرزاغلام احمد قادیانی سے بھی مل لیں۔ دیکھیں کس قماش کے بزرگ ہیں۔ لاہور سے روانہ ہوکر
قادیان میں پہنچے۔ مرزاصاحب مرحمت واخلاق سے ملے۔ اپنے کانگری گیشن کے رکن اعظم حکیم نورالدین صاحب مرحوم سے
ملایا اور پھر مرزا صاحب نے اپنے حجرے میں، جو مسجد سے ملحق تھا، اپنی خلوت خاص میں جگہ دی۔ اتنے میں نماز
کا وقت آگیا۔ حکیم نورالدین صاحب نے محراب مسجد میں کھڑے ہوکر نماز پڑھائی اور مرزاصاحب اپنے حجرے ہی میں
کھڑے ہوگئے۔ نماز کی ایک رکعت ہوئی تھی کہ کیا دیکھتے ہیں مرزاصاحب نیت توڑ کے گھر کے اندر چلے گئے اور حاجی
صاحب سخت حیران! کیا افتاد پیش آئی جو مرزا صاحب کو نماز کی نیت توڑ دینے پر مجبور ہونا پڑا۔ نماز کے بعد
حاضرین مسجد سے یہ واقعہ بیان کیا اور اس کا سبب پوچھا۔ معلوم ہوا کہ یہ کوئی غیرمعمولی بات نہیں ہے۔
مرزاصاحب پر نماز میں جب وحی نازل ہوتی ہے تو آپ بے تاب ہوکے اندر چلے جاتے ہیں۔‘‘
(دلگداز، لکھنؤ، بابت مارچ ۱۹۱۶ء)
149
بیان کیا ہے کہ: ’’حضرت ایک رکعت کے بعد نماز کی نیت توڑ کر گھر کے اندر چلے گئے۔ اگر کسی بیماری کے
غلبہ کی وجہ سے ایسا ہوا ہو تو محل اعتراض نہیں۔ حضور نبی کریم ﷺ کی پیش گوئی کے مطابق دوران سر اور
برداطراف کا مرض تھا اور یہ وہ زرد چادریں تھیں جو روز ازل سے خدا نے اپنے مسیحا کے لئے بطور خلعت خاص مقدر
فرمائی تھیں۔‘‘
(الفضل قادیان ج۳ نمبر۱۰۷ ص۳،۴ کالم۲، مؤرخہ ۱۸؍اپریل ۱۹۱۶ء)
(۸۶) زنانی نماز
’’حضور (مرزاقادیانی) کسی تکلیف کی وجہ سے جب مسجد نہ جا سکتے تھے تو اندر عورتوں میں نماز باجماعت
پڑھاتے تھے اور حضرت بیوی صاحبہ (مرزاقادیانی کی اہلیہ) صف میں نہیں کھڑی ہوتی تھیں بلکہ حضرت صاحب
(مرزاقادیانی) کے ساتھ کھڑی ہوتی تھیں۔‘‘
(تقریر مفتی محمد صادق قادیانی، الفضل قادیان ج۱۲ نمبر۷۷ ص۸ کالم۱، مؤرخہ ۱۷؍جوری ۱۹۲۵ء)
’’حضور (مرزاقادیانی) اپنی عمر کے آخری سالوں میں جب دوران سر وغیرہ تکالیف کے سبب مغرب، عشاء اور فجر
گھر پر ہی پڑھنے لگے تو حضور گھر میں عورتوں کو جماعت سے نماز پڑھایا کرتے تھے۔ کبھی کھڑے ہوکر اور کبھی
بیٹھ کر اور حضور کے پیچھے اکثر گھر کی مستورات ہوا کرتی تھیں۔ ایسے موقعوں پر میں نے بھی بڑی کثرت سے
بالخصوص ۱۹۰۵ء میں کئی ماہ تک باغ میں زلزلہ کے پیچھے نمازیں پڑھی ہیں جن میں مجھے اچھی طرح یاد ہے کہ میں
حضور کے دائیں طرف کھڑا ہوتا تھا اور مستورات پیچھے ہوتی تھیں۔‘‘
(میر محمد اسحاق قادیانی کی روایت، الفضل قادیان ج۲۴ نمبر۱۰۸، مؤرخہ ۴؍نومبر ۱۹۳۶ء)
(۸۷) اسٹیشن کی سیر
بیان کیا حضرت مولوی نورالدین صاحب خلیفہ اوّل نے کہ: ’’ایک دفعہ حضرت مسیح موعود کسی سفر میں تھے۔
اسٹیشن پر پہنچے تو ابھی گاڑی آنے میں دیر تھی۔ آپ بیوی صاحبہ کے ساتھ اسٹیشن کے پلیٹ فارم پر ٹہلنے لگ گئے۔
یہ دیکھ کر مولوی عبدالکریم صاحب، جن کی طبیعت غیور اور جوشیلی تھی، میرے پاس آئے اور کہنے لگے کہ بہت لوگ
اور پھر غیرلوگ ادھر ادھر پھرتے ہیں۔ آپ حضرت سے عرض کریں کہ بیوی صاحبہ کو کہیں الگ بٹھا دیا جاوے۔ مولوی
صاحب فرماتے ہیں میں نے کہا، میں تو نہیں کہتا، آپ کہہ کر دیکھ لیں۔ ناچار مولوی عبدالکریم خود حضرت صاحب کے
پاس گئے اور کہا کہ حضور لوگ بہت ہیں۔ بیوی کو الگ ایک جگہ بٹھا دیں۔ حضرت نے فرمایا، جاؤ جی میں ایسے پردہ
کا قائل نہیں ہوں۔ مولوی صاحب فرماتے تھے کہ اس کے بعد مولوی عبدالکریم صاحب سر نیچے ڈالے میری طرف آئے۔ میں
نے کہا، مولوی صاحب! جواب لے آئے؟‘‘
(سیرت المہدی حصہ اوّل ص۴۹، روایت نمبر۷۵، جدید ج۱ حصہ اوّل ص۵۶،۵۷، روایت نمبر۷۷)
(۸۸) مرزاقادیانی کا نسب نامہ
’’اب میرے سوانح اس طرح پر ہیں کہ میرا نام غلام احمد، میرے والد صاحب کا نام غلام مرتضیٰ اور دادا
صاحب کا نام عطاء محمد تھا… اور جیسا کہ بیان کیا گیا ہے، ہماری قوم مغل برلاس ہے اور میرے بزرگوں کے پرانے
کاغذات سے، جواب تک محفوظ ہیں، معلوم ہوتا ہے کہ وہ اس ملک میں سمرقند سے آئے تھے۔‘‘
(کتاب البریہ ص۱۳۴ حاشیہ، خزائن ج۱۳ ص۱۶۲،۱۶۳)
’’ملک ہندوستان کے صوبہ پنجاب میں لاہور سے گوشہ شمال مشرق میں ایک گاؤں قادیان نام ہے جو ضلع
گورداسپور میں واقع ہے۔ یہ ایک چھوٹا سا گمنام گاؤں تھا۔ دنیا میں اس کو کوئی بھی نہیں پہچانتا تھا۔ بجز اس
ضلع کے آدمیوں کے، جس میں وہ واقع ہے۔ یہاں
150
مرزاغلام مرتضیٰ صاحب رئیس اعظم (مرزاغلام احمد قادیانی کے والد) سکونت پذیر تھے جو قوم کے مغل گوت
کے برلاس کہلاتے تھے۔‘‘
(عسل مصفّٰی جلد دوم ص۱۲۹، مؤلفہ مرزاخدا بخش قادیانی)
’’یاد رہے کہ اس خاکسار کا خاندان بظاہر مغلیہ خاندان ہے۔ کوئی تذکرہ ہمارے خاندان کی تاریخ میں یہ
نہیں دیکھا گیا کہ وہ بنی فارس کا خاندان تھا۔ ہاں! بعض کاغذات میں یہ دیکھا گیا ہے کہ ہماری بعض دادیاں
شریف اور مشہور سادات میں سے تھیں۔ اب خدا کی کلام سے معلوم ہوا کہ دراصل ہمارا خاندان فارسی خاندان ہے۔ سو
اس پرہم پورے یقین سے ایمان لاتے ہیں۔ کیونکہ خاندانوں کی حقیقت جیسا کہ خداتعالیٰ کو معلوم ہے، کسی دوسرے
کو ہرگز معلوم نہیں۔‘‘
(اربعین نمبر۲ ص۱۸، خزائن ج۱۷ ص۳۶۵ حاشیہ)
’’میرے پاس فارسی ہونے کے بجز الہام الٰہی کے اور کچھ ثبوت نہیں۔‘‘
(تحفہ گولڑویہ ص۱۸، خزائن ج۱۷ ص۱۱۶)
’’میں نے اپنے آباؤ اجداد کی سوانح حیات کی کتابوں میں پڑھا اور اپنے والد سے سنا ہے کہ میرے
آباؤاجداد مغلوں کی نسل سے تھے۔ لیکن اللہ تعالیٰ نے میری طرف وحی کی ہے کہ وہ فارسی النسل تھے۔ اقوام ترکی سے
نہیں تھے اور اس کے ساتھ ہی میرے رب نے مجھے یہ بھی بتایا ہے کہ میری بعض نانیاں بنی فاطمہ اور اہل بیت نبوی
میں سے تھیں اور اللہ نے کمال حکمت ومصلحت سے (میرے اجداد میں) حضرت اسحاق اور حضرت اسماعیل کی نسل کو جمع کر
دیا۔‘‘
(ضمیمہ حقیقت الوحی ترجمہ الخاتمۃ ص۷۷، الاستفتاء، خزائن ج۲۲ ص۷۰۳)
’’اس پیش گوئی کو شیخ محی الدین ابن عربی نے بھی اپنی کتاب ’’فصوص‘‘ میں لکھا ہے… کہ وہ صینی الاصل
ہوگا۔ (متن)
اس سے مطلب یہ ہے کہ خاندان میں ترک کا خون ملا ہوا ہوگا۔ ہمارا خاندان، جو اپنی شہرت کے لحاظ سے
مغلیہ خاندان کہلاتا ہے، اس کی پیش گوئی کا مصداق ہے۔ کیونکہ اگرچہ سچ وہی ہے کہ جو خدا نے فرمایا کہ یہ
خاندان فارسی الاصل ہے۔ مگر یہ تو یقینی اور مشہود ومحسوس ہے کہ اکثر مائیں اور دادیاں ہماری مغلیہ خاندان
سے ہیں اور وہ صینی الاصل ہیں۔ یعنی چین کی رہنے والی۔‘‘
(حقیقت الوحی ص۲۰۱، خزائن ج۲۲ ص۲۰۹ حاشیہ)
’’ایک حدیث سے جو ’’کنزالعمال‘‘ میں موجود ہے، سمجھا جاتا ہے کہ اہل فارس یعنی بنی فارس بنی اسحاق میں
سے ہیں۔ پس اس طرح پر وہ آنے والا مسیح اسرائیلی ہوا اور بنی فاطمہ کے ساتھ امہاتی تعلق رکھنے کی وجہ سے
جیسا کہ مجھے حاصل ہے، فاطمی بھی ہوا۔ پس گویا وہ نصف اسرائیلی ہوا اور نصف فاطمی ہوا۔ جیسا کہ حدیثوں میں
آیا ہے۔ ہاں! میرے پاس فارسی ہونے کے لئے بجز الہام الٰہی کے اور کچھ ثبوت نہیں۔‘‘
(تحفہ گولڑویہ ص۱۸، خزائن ج۱۷ ص۱۱۶)
(اپنے خیال میں مرزاغلام احمد ضروری سمجھتے تھے کہ مختلف پیش گوئیاں نسل وخاندان کے لحاظ سے اپنے اوپر
منطبق کریں اور اسی سعی لاحاصل میں مرزاقادیانی کو جس درجہ تاویلات کو طول دینا پڑا، وہ کافی سبق آموز ہے۔
للمؤلف)
(۸۹) ہیضہ کا فیصلہ
’’بخدمت مولوی ثناء اللہ صاحب السلام علیٰ من اتبع الہدیٰ… اگر میں ایسا ہی کذاب اور مفتری ہوں جیسا کہ
اکثر اوقات آپ اپنے ہر ایک پرچہ میں مجھے یاد کرتے ہیں تو میں آپ کی زندگی میں ہی ہلاک ہو جاؤں گا۔ کیونکہ
میں جانتا ہوں کہ مفسد اور کذاب کی بہت عمر نہیں ہوتی اور آخر وہ ذلت اور حسرت کے ساتھ اپنے اشد دشمنوں کی
زندگی میں ہی ناکام ہلاک ہو جاتا ہے اور اس کا ہلاک ہونا ہی بہتر ہوتا ہے تاخدا کے بندوں کو تباہ نہ کرے اور
اگر میں کذاب اور مفتری نہیں ہوں اور خدا کے مکالمے ومخاطبے سے مشرف ہوں اور مسیح موعود ہوں تو
151
میں خدا کے فضل سے امید رکھتا ہوں کہ سنت اللہ کے موافق آپ مکذبین کی سزا سے نہیں بچیں گے۔ پس اگر وہ
سزا جو انسان کے ہاتھوں سے نہیں بلکہ محض خدا کے ہاتھوں سے ہے، جیسے طاعون، ہیضہ وغیرہ مہلک بیماریاں آپ پر
میری زندگی میں ہی وارد نہ ہوئیں تو میں خداتعالیٰ کی طرف سے نہیں۔ (واقعہ یہ ہے کہ خود مرزاقادیانی مرض
ہیضہ میں مبتلا ہوکر یکا یک انتقال کر گئے اور حضرت مولانا ثناء اللہ صاحب امرتسری بعد میں بھی مدت دراز تک
بخیر وعافیت قادیانیت کی سرکوبی میں مشغول رہے۔ للمؤلف)‘‘
(تبلیغ رسالت ج۱۰ ص۱۱۸، مجموعہ اشتہارات جلد سوم ص۵۷۸، جدید مجموعہ اشتہارات ج۲ ص۷۰۵)
اس اشتہار کی اشاعت کے ہفتہ عشرہ بعد ہی ۲۵؍اپرئیل ۱۹۰۷ء کو اخبار بدر قادیان میں مرزاغلام احمد کی
روزانہ ڈائری میں شائع ہوا کہ: ’’ثناء اللہ کے متعلق جو کچھ لکھا گیا یہ دراصل ہماری (یعنی مرزاقادیانی کی)
طرف سے نہیں بلکہ خداتعالیٰ ہی کی طرف سے اس کی بنیاد رکھی گئی۔ (بعد کے واقعہ سے بھی یہی ظاہر ہوا۔
للمؤلف)‘‘
(اخبار البدر قادیان ج۶ نمبر۱۷ ص۷ کالم۲، مؤرخہ ۲۵؍اپریل ۱۹۰۷ء، ملفوظات ج۹ ص۲۶۸، جدید ملفوظات ج۵
ص۲۰۶)
(۹۰) مرزاقادیانی کی وفات
’’برادران! جیسا کہ آپ سب صاحبان کو معلوم ہے کہ حضرت امامنا ومولانا مسیح موعود ومہدی موعود
(مرزاقادیانی) کو اسہال کی بیماری بہت دیر سے تھی اور جب آپ کوئی دماغی کام زور سے کرتے تو بڑھ جاتی تھی۔
حضور کو یہ بیماری بسبب کھانا نہ ہضم ہونے کے تھی اور چونکہ دل سخت کمزور تھا اور نبض ساقط ہوجایا کرتی تھی۔
اس دفعہ لاہور کے قیام میں بھی حضور کو دو تین دن پہلے یہ حالت ہوئی لیکن ۲۵؍تاریخ مئی کی شام کو جب کہ آپ
سارادن ’’پیغام صلح‘‘ کا مضمون لکھنے کے بعد سیر کو تشریف لے گئے تو واپسی پر حضور کو پھر اس بیماری کا دورہ
شروع ہوگیا اور وہی دوائی جو کہ پہلے مقوی معدہ استعمال فرماتے تھے، مجھے حکم بھیجا تو بنوا کر بھیج دی گئی۔
مگر اس سے کوئی فائدہ نہ ہوا اور قریباً گیارہ بجے ایک اور دست آنے پر طبیعت ازحد کمزور ہوگئی اور مجھے اور
حضرت خلیفہ نورالدین صاحب کو طلب فرمایا۔ مقوی ادویہ دی گئیں اور اس خیال سے کہ دماغی کام کی وجہ سے یہ مرض
شروع ہوئی، نیند آنے سے آرام آجائے گا۔ ہم واپس اپنی جگہ پر چلے گئے۔ مگر تقریباً دو اور تین بجے کے درمیان
ایک اور بڑا دست آگیا جس سے نبض بالکل بند ہوگئی اور مجھے اور حضرت مولانا خلیفۃ المسیح مولوی نورالدین صاحب
اور خواجہ کمال الدین صاحب کو بلوایا اور برادرم ڈاکٹر مرزایعقوب بیگ صاحب کو بھی گھر سے طلب کیا اور جب وہ
تشریف لائے تو مرزایعقوب بیگ صاحب کو اپنے پاس بلا کر کہا کہ مجھے سخت اسہال کا دورہ ہوگیا ہے، آپ کوئی دوا
تجویز کریں۔ علاج شروع کیاگیا۔ چونکہ حالت نازک ہوگئی تھی اس لئے ہم پاس ہی ٹھہرے رہے اور علاج باقاعدہ ہوتا
رہا، مگر نبض واپس نہ آئی۔ یہاں تک کہ سوا دس بجے ۲۶؍مئی ۱۹۰۸ء کو حضرت اقدس کی روح اپنے محبوب حقیقی سے جا
ملی۔‘‘
(اعلان منجانب ڈاکٹر سید محمد حسین شاہ قادیانی، مندرجہ ضمیمہ الحکم قادیان مؤرخہ ۲۸؍مئی ۱۹۰۸ء،
غیرمعمولی)
(۹۱) ایک سخت بیماری
’’اگر آپ احمدؐ (یعنی مرزاغلام احمد قادیانی) کی ڈائری کو (اخبار) بدر کے پرچوں سے ملاحظہ کریں تو آپ
کو معلوم ہو جائے گا کہ آپ کی موت ناگہانی ہوئی۔ آپ آخر دن تک اپنی معمولی صحت کی حالت میں رہے۔ اس شام سے
پہلے جب آپ بیمار ہوئے، آپ سارادن ایک رسالہ لکھنے میں مشغول رہے جس کا نام ’’پیغام صلح‘‘ ہے اور تاریخ مقرر
کی گئی کہ اس پیغام کو ٹاؤن ہال میں ایک بڑا مجمع کے
152
سامنے پڑھا جاوے اور اس دن کی شام کو حسب معمول سیر کے لئے باہر تشریف لے گئے اور کسی آدمی کو خبر نہ
تھی کہ یہ آپ کا آخری سیر تھا۔ رات کو وہ ایک سخت بیماری میں (یعنی دست اور قے میں۔ للمؤلف) مبتلا ہوگئے
اور صبح دس بجے کے قریب آپ کا وصال ہوگیا۔ آپ کی وفات کی خبر احمدی جماعت کے لئے بالکل ناگہانی تھی۔ چنانچہ
جس جگہ خبر پہنچی لوگوں کو اس کی صداقت پر اعتبار نہ آیا۔‘‘
(رسالہ ’’ریویو آف ریلیجنز‘‘ قادیان ج۱۳ نمبر۶ ص۲۳۱، بابت ماہ جون ۱۹۱۴ء)
’’حضرت مسیح موعود ۲۶؍اپریل ۱۹۰۸ء کو لاہور تشریف لے گئے۔ اسی روز بوقت ۴بجے صبح آپ پر یہ وحی ہوئی جو
آپ کی وفات پر دلالت کرتی تھی۔ ’’مباش ایمن از بازی روزگار‘‘ اس وحی کے بعد قادیان میں کوئی موقع نہ ملا کہ
آپ پر اللہ تعالیٰ کا کلام نازل ہو اس لئے قادیان میں یہ آخری وحی تھی۔‘‘
(الحکم قادیان خاص نمبر ج۳۷ نمبر۱۹، مؤرخہ ۲۱تا۲۸؍مئی ۱۹۳۴ء)
’’بمقام لاہور آپ کا (یعنی مرزاغلام احمد قادیانی کا) قیام قریباً ایک ماہ تک رہا اور اس عرصہ میں آپ
نے کئی تقریریں فرمائیں۔ ملنے والوں اور نئے نئے ملاقاتیوں کے ساتھ گفتگوئیں کیں اور روزمرہ نمازوں میں شامل
ہوتے رہے اور ہر روز سیر کے واسطے جاتے رہے۔ جس روز حضور کا واقعہ وصال ہوا، اس سے ایک روز پہلے حضور نے ایک
رسالہ لکھا جس کا نام ’’پیغام صلح‘‘ رکھا۔ یہ پیغام آپ نے اس غرض سے لکھا تھا کہ لاہور ٹاؤن ہال میں مختلف
مذاہب کے وکلاء کو ایک عام جلسہ میں مدعو کر کے سنایا جاوے۔ جب وہ یہ پیغام لکھ چکے تو شام کے وقت وہ سیر کے
لئے تشریف لے گئے۔مگر واپسی پر ان کی طبیعت ناساز ہوگئی۔ بیمار ہوگئے۔ (یعنی دست اور قے کی بیماری میں مبتلا
ہوگئے۔ للمؤلف) اور دوسرے دن قریباً ساڑھے دس بجے کے وقت راہی ملک بقاء ہوگئے۔‘‘
(ریویو آف ریلیجنز قادیان ج۱۳ نمبر۹ ص۳۴۱، بابت ماہ ستمبر ۱۹۱۴ء)
’’باوجود اس کے کہ زمانہ وفات کے قریب ہونے کی خبر متواتر وحیوں سے ملتی رہی مگر پھر بھی جب حضرت حجۃ
اللہ علی الارض خلیفۃ فی حلل الانبیاء حضرت احمد (مرزاقادیانی) کے حسب وعدہ الٰہیہ متوفی ہوکر حیات طیبہ سے
رفیع المرتبہ ہونے کا وقت آیا تو بالکل اچانک ہی آگیا۔ جس مشن کے پورا کرنے اور جس عظیم الشان کام کے انصرام
کے لئے آپ کی بعثت ہوئی تھی، اس کام میں وہ برابر اخیر وقت تک نہایت مستعدی سے مصروف رہے۔ یہاں تک کہ بیماری
(دست اور قے) کے شدید حملے نے عاجز کر دیا اور قریباً ۱۲گھنٹے کی بیماری کے بعد آپ کا انتقال ہوگیا۔‘‘
(ریویو آف ریلیجنز قادیان ج۱۳ نمبر۹ ص۱۴۱، بابت ماہ ستمبر ۱۹۱۴ء)
(۹۲) موت کی ہلچل
’’یوم الوصال کی صبح کو گوعلالت کی خبر مل چکی تھی مگر یہ معلوم نہ تھا کہ یہ صبح ہمارے لئے شام فراق
بننے والی ہے۔ مجھے سماچار پریس میں بھیج دیا گیا لیکن میں اپنے قلب میں کچھ اس طرح اضطراب پاتا کہ نہیں
سمجھتا تھا کہ مجھے کیا ہوگیا۔ بجائے بارہ بجے کے سوانوبجے ہی واپس چلاآیا۔ آتے ہی کیا دیکھتا ہوں کہ لوگ
سراسیمہ پریشان اور حیران پھر رہے ہیں۔ ایک دو سے پوچھا مگر کچھ جواب نہیں ملا۔ (شاید ہیضہ کے آثار میں
گومگو کا عالم ہو۔ للمؤلف) آخر معلوم ہوا کہ حضور اس وقت نازک حالت میں ہیں۔ (گویا نزع کی عام صورت نہیں۔
للمؤلف) تھوڑی دیر بعد انگریز ڈاکٹر آیا مگر آتے ہی چلا گیا۔ (آخر تک موت کی خاص صورت ظاہر ہے۔ للمؤلف)
اور ادھر ایک دوست کو (انا اللہ وانا الیہ راجعون) پڑھتے سن لیا۔ کلیجہ پکڑے دل مسوس
کر رہ گیا۔‘‘
(قاضی اکمل قادیانی کا مضمون ’’یادامام‘‘ الحکم قادیان خاص نمبر ج۳۷ نمبر۱۸،۱۹، مؤرخہ ۲۱تا۲۸؍مئی
۱۹۳۴ء)
153
(۹۳) مرض الموت
’’خاکسار مختصراً عرض کرتا ہے کہ حضرت مسیح موعود ۲۵؍مئی ۱۹۰۸ء یعنی پیر کی شام کو بالکل اچھے تھے۔
رات کو عشاء کی نماز کے بعد خاکسار باہر سے مکان میں آیا تو میں نے دیکھا کہ آپ والدہ صاحبہ کے ساتھ پلنگ پر
بیٹھے ہوئے کھانا کھا رہے تھے۔ میں اپنے بستر پر جاکر لیٹ گیا اور پھر مجھے نیند آگئی۔ رات کے پچھلے پہر صبح
کے قریب مجھے جگایا گیا یا شاید لوگوں کے چلنے پھرنے اور بولنے کی آواز سے میں خود بیدار ہوا تو کیا دیکھتا
ہوں کہ حضرت مسیح موعود (مرزاقادیانی) اسہال کی بیماری سے سخت بیمار ہیں اور حالت نازک ہے اور ادھر ادھر
معالج اور دوسرے لوگ کام میں لگے ہوئے ہیں۔ جب میں نے پہلی نظر حضرت مسیح موعود کے اوپر ڈالی تو میرا دل
بیٹھ گیا۔ کیونکہ میں نے ایسی حالت آپ کی اس سے پہلے نہ دیکھی تھی اور میرے دل پر یہی اثر پڑا کہ یہ مرض
الموت ہے۔‘‘
(سیرت المہدی حصہ اوّل ص۷،۸، روایت نمبر۱۱، جدید ج۱ حصہ اوّل ص۹، روایت نمبر۱۲)
(۹۴) وقت آخر
’’خاکسار نے والدہ صاحب کی یہ روایت جو شروع میں درج کی گئی ہے، جب دوبارہ والدہ صاحبہ کے پاس برائے
تصدیق بیان کی اور حضرت مسیح موعود کی وفات کا ذکر آیا تو والدہ صاحب نے فرمایا کہ حضرت مسیح موعود کو پہلا
دست کھانا کھانے کے وقت آیا تھا۔ مگر اس کے بعد تھوڑی دیر تک ہم لوگ آپ کے پاؤں دباتے رہے اور آپ آرام سے
لیٹ کر سو گئے اور میں بھی سو گئی۔ لیکن کچھ دیر کے بعد آپ کو پھر حاجت محسوس ہوئی اور غالباً ایک دو دفعہ
رفع حاجت کے لئے آپ پاخانہ تشریف لے گئے۔ اس کے بعد آپ نے زیادہ ضعف محسوس کیا تو آپ نے ہاتھ سے مجھے جگایا۔
میں اٹھی تو آپ کو اتنا ضعف تھا کہ آپ میری چارپائی پر لیٹ گئے اور میں آپ کے پاؤں دبانے کے لئے بیٹھ گئی۔
تھوڑی دیر کے بعد حضرت صاحب نے فرمایا، تم اب سو جاؤ۔ میں نے کہا، نہیں میں دباتی ہوں۔ اتنے میں آپ کو ایک
اور دست آیا مگر اب اس قدر ضعف تھا کہ آپ پاخانہ نہ جاسکتے تھے، اس لئے میں نے چارپائی کے پاس ہی انتظام کر
دیا اور آپ وہیں بیٹھ کر فارغ ہوئے اور پھر اٹھ کر لیٹ گئے اور میں پاؤں دباتی رہی۔ مگر ضعف بہت ہوگیا تھا۔
اس کے بعد ایک اور دست آیا اور پھر آپ کو ایک قے آئی۔ جب آپ قے سے فارغ ہوکر لیٹنے لگے تو اتنا ضعف تھا کہ
آپ لیٹتے لیٹتے پشت کے بل چارپائی پر گر گئے اور آپ کا سر چارپائی کی لکڑی سے ٹکرایا اور حالت دگرگوں ہوگئی۔
اس پر میں نے گھبرا کر کہا، ’’ اللہ یہ کیا ہونے لگا ہے‘‘ تو آپ نے فرمایا، یہ وہی ہے جو میں کہا کرتا تھا۔
خاکسار نے والدہ صاحبہ سے پوچھا کہ کیا آپ سمجھ گئیں تھیں کہ حضرت صاحب کا کیا منشاء ہے۔ والدہ صاحبہ نے
فرمایا کہ ہاں۔‘‘
(سیرت المہدی حصہ اوّل ص۹، روایت نمبر۱۱، جدید ج۱ حصہ اوّل ص۱۰،۱۱، روایت نمبر۱۲)
(۹۵) ہیضہ کا واقعہ
’’آج کل ہمارے (مرزاقادیانی) گھر کے لوگ بمقام چھاؤنی انبالہ صدر بازار اپنے والدین کے پاس یعنی اپنے
والد میر ناصر نواب صاحب نقشہ نویس دفتر نہر کے پاس بودوباش رکھتے ہیں۔‘‘
(اشتہارات مرزاقادیانی مؤرخہ ۲۱؍مارچ ۱۸۸۶ء، مندرجہ تبلیغ رسالت ج۱ ص۷۲، مجموعہ اشتہارات جلد اوّل
ص۱۱۳، جدید مجموعہ اشتہارات جلد اوّل ص۹۸)
’’ابتداء میں جب کہیں حضرت صاحب (مرزاقادیانی) باہر تشریف لے جاتے تھے تو مجھے گھر کی حفاظت اور
قادیان کی خدمت
154
کے لئے چھوڑ جاتے تھے اور آخرزمانہ میں جب کہیں سفر کرتے تھے اور گھر کے لوگ ہمراہ ہوتے تھے تو بندہ
بھی ہمرکاب ہوتا تھا۔ چنانچہ آپ لاہور تشریف لے گئے جس سفر میں آپ کو سفر آخرت پیش آیا تب بھی بندہ آپ کے
ہمراہ تھا اور اس شام کی سیر میں بھی شریک تھا جس کے دوسرے روز آپ نے قبل ازدوپہر انتقال فرمایا۔ (انا اللہ وانا الیہ راجعون)
اب بڑی اور سخت تبدیلی میرے حال میں پیدا ہوئی اور ایسی سخت مصیبت نازل ہوئی کہ جس کی تلافی بہت مشکل
ہے۔ اللہ تعالیٰ کے سوا میری تکلیف کو کوئی نہیں جان سکتا۔ حضرت صاحب (مرزاقادیانی) جس رات کو بیمار ہوئے اس
رات میں اپنے مقام پر جاکر سوچکا تھا۔ جب آپ کو بہت تکلیف ہوئی تو مجھے جگایا گیا تھا۔ جب میں حضرت صاحب
(مرزاقادیانی) کے پاس پہنچا اور آپ کا حال دیکھا تو آپ نے مجھے مخاطب کر کے فرمایا، میر صاحب مجھے وبائی
ہیضہ ہوگیا ہے۔ اس کے بعد آپ نے کوئی ایسی صاف بات میرے خیال میں نہیں فرمائی۔ یہاں تک کہ دوسرے روزدس بجے
کے بعد آپ کا انتقال ہوگیا۔‘‘
(مرزاغلام احمد قادیانی کے خسر میرناصر قادیانی کے خودنوشتہ حالات، حیات ناصر ص۱۴، مرتبہ شیخ یعقوب
علی عرفانی قادیانی)
’’ہانگ کانگ سے ایک مبلغ نے لکھا ہے کہ یہاں بعض لوگ اعتراض کرتے ہیں کہ حضرت مسیح موعود کی وفات مرض
ہیضہ سے ہوئی۔ (ہیضہ کی خبر بھی ہیضہ کی طرح دور دور تک پھیل گئی۔ للمؤلف) نیز اور باتیں بھی اعتراضی رنگ
میں وفات کے متعلق کرتے ہیں۔ (شاید یہ کہ روایت ہے کہ آخری وقت منہ کی راہ سے غلاظت خارج ہوئی۔ استغفر اللہ ۔
للمؤلف) اسی لئے کسی صحابی سے اس وقت کے حالات لکھوا کر بھیجے جائیں۔ لہٰذا ناظم صاحب تحریک جدید کے حکم کی
تعمیل میں عاجز نے مفصلہ ذیل مضمون لکھا ہے جو فائدہ عام کے واسطے درج اخبار کیا جاتا ہے۔
محمد صادق، مؤرخہ ۲۱؍نومبر ۱۹۳۷ء
وصال سے دو گھنٹہ قبل حضور بات نہ کر سکتے تھے۔ ڈاکٹر مرزایعقوب بیگ صاحب مرحوم اور ڈاکٹر سید محمد
حسین شاہ صاحب معالم تھے۔ کاغذ قلم دوات منگا کر حضور نے لکھا، خشکی بہت ہے بات نہیں کی جاتی۔ ایسے ہی کچھ
اور بھی الفاظ تھے جو پڑھے نہ گئے۔ (گویا آخر وقت کلمہ بھی زبان سے نہ نکلتا ہوگا۔ دل کا حال کسی کو کیا
معلوم، بظاہر بدحواسی معلوم ہوتی تھی کہ تحریر بھی پڑھنے میں نہ آ سکی۔ مرض ہیضہ میں بھی خشکی کی بہت شکایت
ہو جاتی ہے۔ حقیقت حال سے اللہ ہی بہتر واقف ہے۔ البتہ بظاہر بڑی عبرت معلوم ہوتی ہے۔ للمؤلف)‘‘
(مفتی محمد صادق قادیانی کا مضمون، الفضل قادیان ج۲۵ نمبر۲۷۴، مؤرخہ ۲۴؍نومبر ۱۹۳۷ء)
(۹۶) مرزاقادیانی کی وفات پر لاہوریوں کا ردعمل
’’جب حضرت مسیح موعود کی وفات کی خبر مخالفوں تک پہنچی تو ایک آن واحد میں لاہور کے ایک سرے سے لے کر
دوسرے سرے تک بجلی کی طرح پھیل گئی اور پھر ہماری آنکھوں نے مسلمان کہلانے والوں کی طرف سے وہ نظارہ دیکھا
جو ہمارے مخالفوں کے لئے قیامت تک ایک ذلت اور کمینگی کا داغ رہے گا۔ حضرت مسیح موعود کی وفات سے نصف گھنٹہ
کے اندر اندر وہ لمبی اور فراخ سڑک جو ہمارے مکان کے سامنے تھی، شہر کے بدمعاش اور کمینہ لوگوں سے بھر گئی
اور ان لوگوں نے ہمارے سامنے کھڑے ہوکر خوشی کے گیت گائے اور مسرت کے ناچ ناچے اور شادمانی کے نعرے لگائے
اور فرضی جنازے بنابنا کر نمائشی ماتم کے جلوس نکالے۔‘‘
(سلسلہ احمدیہ ج۱ ص۱۸۵ قدیم ایڈیشن، جدید ایڈیشن ج۱ص۱۷۹)
155
(۹۷) نعوذباللہ
’’چند روز ہوئے مجھے ایک قادیانی بزرگ سے، جو لاہور میں سکونت پذیر ہیں، لاہور سے باہر ایک جگہ ملاقات
کا شرف حاصل ہوا۔ اثنائے گفتگو میں میرے منہ سے یہ نکل گیا کہ خواجہ (کمال الدین) صاحب مرحوم موت کے وقت بہت
خوش تھے۔ وہ بزرگ جھٹ بول اٹھے کہ یہ کیونکر ہوسکتا ہے کہ محمود (یعنی مرزامحمود خلیفہ قادیان) کا دشمن موت
کے وقت خوش ہو۔ موت کے وقت خواجہ کے منہ سے پاخانہ نکل رہا تھا۔ میں نے اس بزرگوار سے دریافت کیا کہ آپ نے
خواجہ صاحب کو دیکھا۔ ارشاد ہوا، دیکھا تو نہیں مگر میں جو کہتا ہوں سچ ہے۔ میں نے آیہ: ’’لاتقف مالیس لک بہ علم‘‘ کی طرف توجہ دلائی۔ مگر بے سود۔ مجھے بہت تعجب ہوا۔ بالکل
ایسے ہی الفاظ (کہ موت کے وقت منہ سے پاخانہ نکل رہا تھا۔ للمؤلف) مخالفین حضرت اقدس مسیح موعود (مرزاغلام
احمد قادیانی) کے متعلق کہتے ہیں اور لاکھ تردید کرو نہیں مانتے۔ (نہاں کے ماند آں رازے کزد سازند محفلہا۔
للمؤلف)‘‘
(چوہدری محمد اسماعیل قادیانی کا بیان، پیغام صلح لاہور ج۲۷ نمبر۱۳ ص۷ کالم۱، مؤرخہ ۳؍مارچ ۱۹۳۹ء)
’’اور جو شخص کہے کہ میں خدا کی طرف سے ہوں اور اس کے الہام اور کلام سے مشرف ہوں، حالانکہ وہ نہ
خداتعالیٰ کی طرف سے ہے نہ اس کے الہام اور کلام سے مشرف ہے وہ بہت بری موت سے مرتا ہے اور اس کا انجام
نہایت ہی بد اور قابل عبرت ہوتا ہے۔‘‘
(الفضل قادیان ج۲۸ نمبر۵۰ ص۱ کالم۲، مؤرخہ ۲؍مارچ ۱۹۴۰ء)
(۹۸) عبرت ناک موت
’’محمد عاشق نائب صدر مجلس احرار قصور جو حضرت مسیح موعود کی شان میں بے حد بدزبانی کیا کرتا تھا،
۲۹؍جولائی کو ہیضہ سے نہایت عبرت ناک موت مر گیا۔ قصور کے دوسرے احرار کو عبرت حاصل کرنی چاہئے۔‘‘
(الفضل قادیان ج۲۴ نمبر۳۰ ص۲ کالم۱، مؤرخہ ۴؍اگست ۱۹۳۶ء)
(۹۹) عبرت
مرزاغلام احمد قادیانی اپنی تحریرات میں ہیضے کو قہرالٰہی کا ایک نشان قرار دیتے تھے جو سرکشوں پر
بطور عذاب نازل ہوتا ہے۔ چنانچہ بعض مسلمانوں مثلاً مولوی ثناء اللہ صاحب سے جو ان کے مقابلے ہوئے، ان میں بھی
انہوں نے یہی بددعا کی کہ جو کاذب ہو، اس پر ہیضے وغیرہ کی شکل میں موت نازل ہو اور آج قادیانی صاحبان کا
ہیضہ کے متعلق یہی عقیدہ ہے۔ خدا کی قدرت کہ اسی مرض ہیضہ میں خود مرزاغلام احمد قادیانی نے انتقال کیا اور
ہیضہ بھی ایسا تیز کہ اچھے خاصے تھے۔ تصنیف وتالیف میں مشغول تھے۔شام کو سیر وتفریح کر کے آئے۔ رات کو بیوی
صاحبہ کے ساتھ کھانا کھایا۔ یکایک دست اور قے شروع ہوئے۔ ہزار علاج کیا۔ چند گھنٹوں میں خاتمہ ہوگیا۔ مقام
عبرت ہے۔
قادیانی صاحبان اس واقعہ سے دل میں تو شرماتے ہیں۔ لیکن زبان سے جھٹلاتے ہیں کہ مرزاغلام احمد قادیانی
گویا اسہال کے مرض میں فوت ہوئے، ہیضہ سے فوت نہیں ہوئے۔ چنانچہ ہم نے اس کتاب کے پہلے ایڈیشن میں سیدھی بات
لکھ دی تھی کہ مرزاغلام احمد قادیانی ہیضہ میں مبتلا ہوکر فوت ہوئے۔ لیکن قادیانی صاحبان اس پر بہت چراغ پا
ہوئے کہ گویا مرزاغلام احمد قادیانی ہیضہ سے فوت ہوئے تو سارا مطلب فوت ہوگیا۔ چنانچہ پہلی کتاب (تصدیق
احمدیت، مصنفہ سید بشارت احمد قادیانی) میں یہ تنبیہ کی گئی کہ حضور (مرزاقادیانی)
156
کے وصال کا باعث ہیضہ قرار دینا صریح جھوٹ بلکہ قانونی جرم ہے۔ دوسری کتاب (ہمارا مذہب، مصنفہ علی
محمد قادیانی) شائع ہوئی تو اس میں الزام دیا گیا کہ جناب محقق برنی صاحب بالقابہ نے حضرت مسیح موعود کی
وفات کے متعلق لکھا ہے کہ ہیضہ سے واقع ہوئی۔ مگر یہ منجملہ آپ کی افتراؤں کے ایک نہایت ہی ناپاک افتراء
ہے۔ شاید ناپاکی ہیضہ سے پیدا ہوئی۔
چونکہ قادیانی صاحبان بوجہ معلومہ ہیضہ کے نام سے بہت چڑتے ہیں۔ بعد کے ایڈیشنوں میں ہم نے اس کی
صراحت لکھ دی کہ مرزاغلام احمد دست اور قے کے مرض میں فوت ہوئے۔ لیکن مثل مشہور ہے ’’جوئندہ یابندہ‘‘ حق کا
اظہار ہونا تھا بالآخر خود مرزاغلام احمد قادیانی کے قول سے یہ امر ثابت ہوگیا کہ ان کو مرض ہیضہ لاحق ہوا
تھا جو باعث وفات ہوا اور مرزاغلام احمد بھی کون، جو قادیانی اعتراف کے بموجب ’’قادیانی طبیب‘‘ تھے اور علم
طب میں خاصی دسترس رکھتے تھے۔ چنانچہ اس بارہ میں مرزاغلام احمد کے خسر میر ناصر نواب کی عینی شہادت اس
پانچویں ایڈیشن میں اوپر درج ہے۔ کیا اب توقع کی جاسکتی ہے کہ قادیانی صاحبان ہیضہ کے واقعہ کو تسلیم کر لیں
یا اب بھی ان کو عذر ہی رہے گا اور خدانخواستہ مرزاغلام احمد کا آخری قول جھٹل انے میں بھی دریغ نہ ہوگا۔
اس بارہ میں قادیانی صاحبان دو عذر بڑے شدومد سے پیش کرتے ہیں۔ اوّل یہ کہ تیمار دار ڈاکٹر اور اطباء
نے مرزاغلام احمد کی وفات کا سبب اسہال قرار دیا۔ دوم یہ کہ مرزاغلام احمد قادیانی کا جنازہ لاہور سے قادیان
لائے تو کچھ سفر ریل میں طے ہوا۔ گویا ہیضہ کے مرض میں ریل کے سفر کی اجازت کیسے مل سکتی تھی۔ لیکن ان عذرات
کی حقیقت بخوبی ظاہر ہے۔ یہ تیماردار ڈاکٹر اور طبیب کون تھے۔ خود مرزاغلام احمد کے مرید اور معتقد جو کسی
طرح مرزاغلام احمد قادیانی سے ہیضہ منسوب کرنا گوارہ نہیں کر سکتے۔ لہٰذا گول بات کہہ دی کہ اسہال سے موت
واقع ہوئی۔ حالانکہ اسہال تمام عمر آئے، اسہال میں تمام کام انجام پائے۔ گویا اسہال طبیعت ثانی بن چکے تھے۔
پھر یہ کس قسم کے اسہال تھے یکایک اچھی صحت میں شروع ہوئے۔ ان کے ساتھ قے بھی آئی اور آناً فاناً کام تمام
ہوگیا۔ رہا ریل میں جنازہ لے جانے کا معاملہ، ایک جماعت کا مذہبی پیشوا جو ذی اثر اور ذی استطاعت ہو، جو
خصوصیت سے حکومت کا مؤید اور مداح رہا ہو، حکومت سے روابط رکھتاہو، اگر کسی قریب مقام تک اس کا جنازہ ریل
میں لے جانے کی اجازت مل جائے اور روک ٹوک نہ ہو تو کون سی بڑی بات ہے اور ایسی رعایت میں کیا مضائقہ ہے۔
خود مرزاغلام احمد قادیانی کی وفات تو یوں ہوئی۔ اس کے سوا قادیانی اکابر اور مخلصین، جو مرزاغلام
احمد کے بڑے بڑے صحابہ شمار ہوتے تھے، مثلاً مولوی عبدالکریم، حکیم نورالدین، میاں عبد اللہ سنوری، یہ بھی جن
حالات میں اور جن امراض میں فوت ہوئے، وہ خالی از عبرت نہیں تھے۔ چنانچہ یہ واقعات آئندہ کتاب میں درج ہیں۔
قادیانی صاحبان کا یہ قدیم مسلک ہے کہ کوئی مسلمان جو ان کی آنکھ میں کھٹکتا ہو، اگر اسے کوئی معمولی
حادثہ بھی پیش آ جائے تو اس کو بڑھا چڑھا کر مشتہر کرتے ہیں اور خوشیاں مناتے ہیں کہ گویا ان کو آسمانی نصرت
حاصل ہوئی۔ چنانچہ اس ذہنیت کا اکثر مظاہرہ ہوتا رہتا ہے جو ہمیشہ مضحکہ خیز ہوتا ہے۔ قادیانی صاحبان جو
مسلمانوں کو بہت عبرت دلانا چاہتے ہیں، کبھی تو انصاف سے دل میں سوچیں کہ خود ان کو عبرت حاصل کرنے کی کس
درجہ ضرورت ہے اور کس درجہ عبرت آموز واقعات ان کو پیش آچکے ہیں اور پیش آرہے ہیں۔ ورنہ:
ہم اگر کچھ بھی کہیں گے تو شکایت ہو گی
157
فصل دوسری
نبوت کی تمہید
(۱) نبی رسول
’’انبیاء اس لئے آتے ہیں کہ تاایک دین سے دوسرے دین میں داخل کریں اور ایک قبلہ سے دوسرا قبلہ مقرر
کرادیں اور بعض احکام منسوخ کریں اور بعض نئے احکام لائیں۔‘‘
مؤرخہ ۱۰؍دسمبر ۱۸۹۳ء
(مکتوبات احمدیہ ج۵ نمبر۴ ص۳۱، مکتوب نمبر۶، جدید مکتوبات احمد جلد دوم ص۱۷۸، مکتوب نمبر۸)
’’جو شخص نبوت کا دعویٰ کرے گا اس دعویٰ میں ضرور ہے کہ وہ خداتعالیٰ کی ہستی کا اقرار کرے اور نیز یہ
بھی کہے کہ خدا تعالیٰ کی طرف سے میرے پر وحی نازل ہوتی ہے اور نیز خلق اللہ کو وہ کلام سنادے جو اس پر
خداتعالیٰ کی طرف سے نازل ہوا ہے اور ایک امت بنادے جو اس کو نبی سمجھتی ہو اور اس کی کتاب کو کتاب اللہ جانتی
ہے۔‘‘
(آئینہ کمالات اسلام ص۳۴۴، خزائن ج۵ ص۳۴۴)
(۲) ختم نبوت پر ایمان واصرار
’’کیا تو نہیں جانتا کہ پروردگار رحیم وصاحب فضل نے ہمارے نبی ﷺ کا بغیر کسی استثناء کے خاتم النّبیین
نام رکھا اور ہمارے نبی نے اہل طلب کے لئے اس کی تفسیر اپنے قول: ’’لانبی بعدی‘‘
میں واضح طور پر فرمادی اور اگر ہم اپنے نبی ﷺ کے بعد کسی نبی کا ظہور جائز قرار دیں تو گویا ہم باب وحی بند
ہو جانے کے بعد اس کا کھلنا جائز قرار دیں گے اور یہ صحیح نہیں جیسا کہ مسلمانوں پر ظاہر ہے اور ہمارے رسولؐ
کے بعد نبی کیوں کر آسکتا ہے۔ درآنحالیکہ آپ کی وفات کے بعد وحی منقطع ہو گئی اور اللہ تعالیٰ نے آپ پر نبیوں
کا خاتمہ فرمادیا۔‘‘ (ترجمہ)
(حمامتہ البشریٰ ص۲۰، خزائن ج۷ ص۲۰۰)
’’آنحضرت ﷺ نے باربار فرمادیا تھا کہ میرے بعد کوئی نبی نہیں آئے گا اور حدیث:’’لانبی بعدی‘‘ ایسی مشہور تھی کہ کسی کو اس کی صحت میں کلام نہ تھا اور قرآن شریف جس
کا لفظ لفظ قطعی ہے، اپنی آیت کریمہ:’’ولکن رسول اللہ وخاتم النّبیین‘‘ سے بھی اس بات
کی تصدیق کرتا تھا کہ فی الحقیقت ہمارے نبی ﷺ پر نبوت ختم ہوچکی ہے۔‘‘
(کتاب البریہ ص۱۸۴،۱۸۵، خزائن ج۱۳ ص۲۱۷،۲۱۸ حاشیہ)
’’ہریک دانا سمجھ سکتا ہے کہ اگر خدائے تعالیٰ صادق الوعد ہے اور جو آیت خاتم النّبیین میں وعدہ
دیاگیا ہے اور جو حدیثوں میں بتصریح بیان کیاگیا ہے کہ اب جبرئیل بعد وفات رسول اللہ ﷺ ہمیشہ کے لئے وحی نبوت
لانے سے منع کیاگیا ہے، یہ تمام باتیں سچ اور صحیح ہیں تو پھر کوئی شخص بحیثیت رسالت ہمارے نبی ﷺ کے بعد
ہرگز نہیں آسکتا۔‘‘
(ازالہ اوہام حصہ دوم ص۵۷۷، خزائن ج۳ ص۴۱۲)
’’قرآن کریم بعد خاتم النّبیین کے کسی رسول کا آنا جائز نہیں رکھتا۔ خواہ وہ نیا رسول ہو یا پرانا ہو۔
کیونکہ رسول کا علم دین بتوسط جبرئیل ملتا ہے اور باب نزول جبرئیل بہ پیرایہ وحی رسالت مسدود ہے اور یہ بات
خود ممتنع ہے کہ رسول تو آوے مگر سلسلہ وحی رسالت نہ ہو۔‘‘
(ازالہ اوہام حصہ دوم ص۷۶۱، خزائن ج۳ ص۵۱۱)
158
’’رسول کی حقیقت اور ماہیت میں یہ امر داخل ہے کہ دینی علوم کو بذریعہ جبرئیل حاصل کرے اور ابھی ثابت
ہوچکا ہے کہ اب وحی رسالت تابقیامت منقطع ہے۔‘‘
(ازالہ اوہام حصہ دوم ص۶۱۴، خزائن ج۳ ص۴۳۲)
’’حسب تصریح قرآن کریم رسول اسی کو کہتے ہیں جس نے احکام وعقائد دین جبرئیل کے ذریعے سے حاصل کئے ہوں۔
لیکن وحی نبوت پر تو تیرہ سو برس سے مہر لگ گئی ہے۔ کیا یہ مہر اس وقت ٹوٹ جائے گی؟‘‘
(ازالہ اوہام حصہ دوم ص۵۳۴، خزائن ج۳ ص۳۸۷)
’’قرآن شریف میں مسیح ابن مریم کے دوبارہ آنے کا تو کہیں بھی ذکر نہیں۔ لیکن ختم نبوت کا بکمال تصریح
ذکر ہے اور پرانے یانئے نبی کی تفریق کرنا یہ شرارت ہے نہ حدیث میں نہ قرآن میں یہ تفریق موجود ہے اور حدیث:
’’لانبی بعدی‘‘ میں بھی نفی عام ہے۔ پس یہ کس قدر جرأت اور دلیری اور گستاخی ہے کہ
خیالات رکیکہ کی پیروی کر کے نصوص صریحہ قرآن کو عمداً چھوڑ دیا جائے اور خاتم الانبیاء کے بعد ایک نبی کا
آنا مان لیا جائے اور بعد اس کے جو وحی نبوت منقطع ہوچکی تھی، پھر سلسلہ وحی نبوت کا جاری کر دیا جائے۔
کیونکہ جس میں شان نبوت باقی ہے، اس کی وحی بلاشبہ نبوت کی وحی ہوگی۔‘‘
(ایام صلح ص۱۴۶، خزائن ج۱۴ ص۳۹۲،۳۹۳)
’’اور اللہ کو شایان نہیں کہ خاتم النّبیین کے بعد نبی بھیجے اور نہیں شایان کہ سلسلہ نبوت کو دوبارہ
ازسرنو شروع کر دے۔ بعد اس کے کہ اسے قطع کرچکا ہو اور بعض احکام قرآن کریم کے منسوخ کر دے اور ان پر
بڑھادے۔‘‘ (ترجمہ)
(آئینہ کمالات اسلام ص۳۷۷، خزائن ج۵ ص۳۷۷)
’’اور ظاہر ہے کہ یہ بات مستلزم محال ہے کہ خاتم النّبیین کے بعد پھر جبرئیلm کی وحی رسالت کے ساتھ
زمین پر آمد ورفت شروع ہو جائے اور ایک نئی کتاب اللہ ، گو مضمون میں قرآن شریف سے تو ارد رکھتی ہو، پیداہو
جائے اور جو امر مستلزم محال ہو، وہ محال ہوتا ہے۔‘‘ (فتدبر)
(ازالہ اوہام حصہ دوم ص۵۸۳، خزائن ج۳ ص۴۱۴)
’’اور اللہ تعالیٰ کے اس قول: ’’ولکن رسول اللہ وخاتم النّبیین‘‘ میں بھی اشارہ
ہے۔ پس اگر ہمارے نبی ﷺ اور اللہ کی کتاب قرآن کریم کو تمام آنے والوں زمانوں اور ان زمانوں کے لوگوں کے علاج
اور دوا کی رو سے مناسب نہ ہوتی تو اس عظیم الشان نبی کریم کو ان کے علاج کے واسطے قیامت تک ہمیشہ کے لئے نہ
بھیجتا اور ہمیں محمد ﷺ کے بعد کسی نبی کی حاجت نہیں۔ کیونکہ آپ کے برکات ہر زمانہ پر محیط اور آپ کے فیض
اولیاء اور اقطاب اور محدثین کے قلوب پر، بلکہ کل مخلوقات پر وارد ہیں۔ خواہ ان کو اس کا علم بھی نہ ہو کہ
انہیں آنحضرت ﷺ کی ذات پاک سے فیض پہنچ رہا ہے۔ پس اس کا احسان تمام لوگوں پر ہے۔‘‘ (ترجمہ)
(حمامتہ البشریٰ ص۴۹، خزائن ج۷ ص۲۴۳،۲۴۴)
’’میں ایمان لاتا ہوں اس پر کہ ہمارے نبی محمد ﷺ خاتم الانبیاء ہیں اور ہماری کتاب قرآن کریم ہدایت کا
وسیلہ ہے… اور میں ایمان لاتا ہوں اس بات پر کہ ہمارے رسول آدم کے فرزندوں کے سردار اور رسولوں کے سردار ہیں
اور اللہ تعالیٰ نے آپ کے ساتھ نبیوں کو ختم کر دیا۔‘‘ (ترجمہ)
(آئینہ کمالات اسلام ص۲۱، خزائن ج۵ ص۲۱)
’’میں ان تمام امور کا قائل ہوں جو اسلامی عقائد میں داخل ہیں اور جیسا کہ اہل سنت جماعت کا عقیدہ ہے۔
ان سب باتوں کو مانتا ہوں جو قرآن اور حدیث کی رو سے مسلم الثبوت ہیں اور سیدنا ومولانا حضرت محمد ﷺ ختم
المرسلین کے بعد کسی دوسرے مدعی نبوت ورسالت کو کاذب اور کافر جانتا ہو۔ میرا یقین ہے کہ وحی رسالت حضرت آدم
صفی اللہ سے شروع ہوئی اور جناب رسول اللہ محمد مصطفی ﷺ پر ختم ہوگئی۔‘‘
(مندرجہ تبلیغ رسالت ج۲ ص۲۰، مجموعہ اشتہارات جلد اوّل ص۲۳۰، ۲۳۱، جدید مجموعہ اشتہارات جلد اوّل
ص۲۱۴)
159
’’ان تمام امور میں میرا وہی مذہب ہے جو دیگر اہل سنت وجماعت کا مذہب ہے… اب میں مفصلہ ذیل امور کا
مسلمانوں کے سامنے صاف صاف اقرار اس خانہ خدا مسجد (جامع مسجد دہلی) میں کرتا ہوں کہ میں جناب خاتم الانبیاء
ﷺ کی ختم نبوت کا قائل ہوں اور جو شخص ختم نبوت کا منکر ہو اس کو بے دین اور دائرہ اسلام سے خارج سمجھتا
ہوں۔‘‘ (مرزاغلام احمد قادیانی کا تحریری بیان جو بتاریخ ۲۳؍اکتوبر ۱۸۹۱ء جامع مسجد دہلی کے جلسے میں
دیاگیا)
(مجموعہ اشتہارات جلد اوّل ص۲۵۵، جدید مجموعہ اشتہارات جلد اوّل ص۲۳۲، تبلیغ رسالت ج۲ ص۴۴)
’’کیا ایسا بدبخت مفتری جو خود رسالت ونبوت کا دعویٰ کرتا ہے، قرآن شریف پر ایمان رکھ سکتا ہے اور کیا
ایسا وہ شخص جو قرآن شریف پر ایمان رکھتا ہے اور آیت: ’’ولکن رسول اللہ وخاتم
النّبیین‘‘ کو خدا کاکلام یقین رکھتا ہے وہ کہہ سکتا ہے کہ میں بھی آنحضرت ﷺ کے بعد رسول اور نبی
ہوں۔‘‘
(انجام آتھم ص۲۷، خزائن ج۱۱ ص۲۷ حاشیہ)
’’میں جانتا ہوں کہ ہر وہ چیز جو مخالف ہے قرآن کے، وہ کذب والحاد وزندقہ ہے۔ پھر میں کس طرح نبوت کا
دعویٰ کروں جب کہ میں مسلمانوں میں سے ہوں۔‘‘ (ترجمہ)
(حمامتہ البشری ص۷۹، خزائن ج۷ ص۲۹۷)
’’میں نہ نبوت کا مدعی ہوں اور نہ معجزات اور ملائکہ اور لیلتہ القدر وغیرہ سے منکر… اور سیدنا
ومولانا حضرت محمد مصطفی ﷺ ختم المرسلین کے بعد کسی دوسرے مدعی نبوت اور رسالت کو کاذب اور کافر جانتا
ہوں۔‘‘
(مندرجہ تبلیغ رسالت ج۲ ص۲۰، مجموعہ اشتہارات جلد اوّل ص۲۳۰، جدید مجموعہ اشتہارات جلد اوّل ص۲۱۴)
’’مجھے کب جائز ہے کہ میں نبوت کا دعویٰ کرکے اسلام سے خارج ہوجاؤں اور کافروں کی جماعت سے جا
ملوں۔‘‘ (ترجمہ)
(حمامتہ البشریٰ ص۷۹، خزائن ج۷ ص۲۹۷)
’’اے لوگو!… دشمن قرآن نہ بنو اور خاتم النّبیین کے بعد وحی نبوت کا نیا سلسلہ جاری نہ کرو۔ اس خدا سے
شرم کرو جس سے سامنے حاضر کئے جاؤ گے۔‘‘
(آسمانی فیصلہ ص۱۵، خزائن ج۴ ص۳۳۵)
(۳) ختم نبوت کے منافی
’’ظاہر ہے کہ اگرچہ ایک ہی دفعہ وحی کا نزول فرض کیا جائے اور صرف ایک ہی فقرہ حضرت جبرئیل لاویں اور
پھر چپ ہو جاویں، یہ امر بھی ختم نبوت کا منافی ہے۔ کیونکہ جب ختمیت کی مہر ہی ٹوٹ گئی اور وحی رسالت پھر
نازل ہونی شروع ہوگئی تو پھر تھوڑا یا بہت نازل ہونا برابر ہے۔ ہریک دانا سمجھ سکتا ہے کہ اگر خدائے تعالیٰ
صادق الوعد ہے اور جو آیت خاتم النّبیین میں وعدہ دیاگیا ہے اور جو حدیثوں میں بتصریح بیان کیاگیا ہے کہ اب
جبرائیل بعد وفات رسول اللہ ﷺ ہمیشہ کے لئے وحی نبوت کے لانے سے منع کیاگیا ہے، یہ تمام باتیں سچ اور صحیح ہیں
تو پھر کوئی شخص بحیثیت رسالت ہمارے نبی ﷺ کے بعد ہرگز نہیں آسکتا۔‘‘
(ازالہ اوہام حصہ دوم ص۵۷۷، خزائن ج۳ ص۴۱۱،۴۱۲)
(۴) شوکت اور کسر شان
’’اگر غور سے دیکھا جائے تو ہمارے نبی کریم کو جو آپ کے بعد کسی دوسرے کے نبی نہ کہلانے سے شوکت ہے
اور حضرت موسیٰ کے بعد اور لوگوں کے بھی نبی کہلانے سے ان کی کسر شان، کیونکہ حضرت موسیٰ بھی ایک نبی تھے
اور ان کے بعد ہزاروں اور بھی نبی آئے تو ان کی نبوت کی خصوصیت اور عظمت کوئی نہیں ثابت ہوتی، برعکس اس
کےآنحضرت ﷺ کی ایک عظمت اور آپ کی نبوت کا پاس اور ادب کیاگیا ہے کہ آپ کے بعد کسی دوسرے کو اس نام سے کسی
طرح بھی شریک نہ کیا گیا۔‘‘
(الحکم قادیان ج۷ نمبر۱۴ ص۹ کالم۲، مؤرخہ ۱۷؍اپریل
160
۹۰۳ء ملخص تشحیذ الاذہان ج۱۲ نمبر۸ ص۸، بابت ماہ اگست ۱۹۱۷ء، ملفوظات ج۵ ص۳۴۸،۳۴۹،
جدید ملفوظات ج۳ ص۲۵۲)
(۵) بنی اسرائیل کا خاتم الانبیاء
’’خداتعالیٰ نے حضرت عیسیٰ بن مریم کو بنی اسرائیل میں مبعوث فرمایا اور ان کو بنی اسرائیل کا خاتم
الانبیاء بنایا۔‘‘
(خطبہ الہامیہ ص۴۳، خزائن ج۱۶ ص۷۹)
’’خدا کے غضب نے عیسیٰ مسیح کو اسرائیلی نبوت کے لئے آخری اینٹ کر دیا ہے۔‘‘
(تشحیذ الاذہان قادیان ج۱۲ نمبر۸ ص۱۸، بابت ماہ اگست ۱۹۱۷ء)
(۶) ولایت کے مقام سے نبوت کے نام تک ترقی
’’ان پر واضح رہے کہ ہم بھی نبوت کے مدعی پر لعنت بھیجتے ہیں اور ’’لا الہ الا اللہ
محمد رسول اللہ‘‘ کے قائل ہیں اورآنحضرت ﷺ کے ختم نبوت پر ایمان رکھتے ہیں اور وحی نبوت نہیں بلکہ
وحی ولایت، جو زیر سایہ نبوت محمدیہ اور باتباع آنجنابa اولیاء اللہ کو ملتی ہے، اس کے ہم قائل ہیں اور اس سے
زیادہ جو شخص ہم پر الزام لگائے وہ تقویٰ اور دیانت کو چھوڑتا ہے… غرض نبوت کا دعویٰ اس طرف بھی نہیں صرف
ولایت اور مجددیت کا دعویٰ ہے۔‘‘
(مندرجہ تبلیغ رسالت ج۶ ص۲،۳، مجموعہ اشتہارات ج۲ ص۲۹۷،۲۹۸، جدید مجموعہ اشتہارات ج۲ ص۲)
’’اور خدا کلام اور خطاب کرتا ہے اس امت کے ولیوں کے ساتھ اور ان کو انبیاء کا رنگ دیا جاتا ہے مگر وہ
حقیقت میں نبی نہیں ہوتے۔ کیونکہ قرآن کریم نے شریعت کی تمام حاجتوں کو مکمل کر دیا ہے۔‘‘ (ترجمہ)
(مواہب الرحمن ص۶۶، خزائن ج۱۹ ص۲۸۵)
’’میرا نبوت کا کوئی دعویٰ نہیں۔ یہ آپ کی غلطی ہے یا آپ کسی خیال سے کہہ رہے ہیں۔ کیا یہ ضروری ہے کہ
جو الہام کا دعویٰ کرتا ہے وہ نبی بھی ہو جائے۔ میں تو محمدی اور کامل طور پر اللہ اور رسول کا متبع ہوں اور
ان نشانوں کا نام معجزہ رکھنا نہیں چاہتا۔ بلکہ ہمارے مذہب کی رو سے ان نشانوں کا نام کرامات ہے جو اللہ ورسول
کی پیروی سے دئیے جاتے ہیں۔‘‘
(جنگ مقدس ص۶۷، خزائن ج۶ ص۱۵۶)
’’اوّل اس عاجز کی اس بات کو یاد رکھیں کہ ہم لوگ معجزے کا لفظ اس محل پر بولا کرتے ہیں جب کوئی خوارق
عادت کسی نبی یا رسول کی طرف منسوب ہو۔ لیکن یہ عاجز نہ نبی ہے اور نہ رسول ہے۔ صرف اپنے نبی معصوم محمد
مصطفی ﷺ کا ایک ادنیٰ خادم اور پیرو ہے اور اسی رسول مقبول کی برکت اور متابعت سے یہ انواروبرکات ظاہر ہورہے
ہیں، سو اس جگہ کرامت کا لفظ موزوں ہے نہ معجزے کا۔‘‘
(مرزاغلام احمد قادیانی کا ارشاد، الحکم قادیان ج۵ نمبر۲۳ ص۵ کالم۳، مؤرخہ ۲۴؍جون ۱۹۰۱ء، منقول از
قمر الہدیٰ ص۵۷،۵۸)
’’صاحب انصاف طلب کو یاد رکھنا چاہئے کہ اس عاجز نے کبھی اور کسی وقت حقیقی طور پر نبوت یا رسالت کا
دعویٰ نہیں کیا اور غیرحقیقی طور پر کسی لفظ کو استعمال کرنا اور لغت کے عام معنوں کے لحاظ سے اس کو بول چال
میں لانا مستلزم کفر نہیں ہے مگر میں اس کو بھی پسند نہیں کرتا کہ اس میں عام مسلمانوں کو دھوکا لگ جانے کا
احتمال ہے۔‘‘
(انجام آتھم ص۲۷، خزائن ج۱۱ ص۲۷ حاشیہ)
’’یہ سچ ہے کہ وہ الہام جو خدا نے اس بندہ پر نازل فرمایا اس میں اس بندہ کی نسبت نبی اور رسول اور
مرسل کے لفظ بکثرت موجود ہیں۔ سو یہ حقیقی معنوں پر محمول نہیں ہیں۔ ’’ولکل ان
یصطلح‘‘ سو خدا کی اصطلاح ہے جو اس نے ایسے لفظ استعمال کئے۔ ہم اس بات کے قائل اور معترف ہیں کہ
نبوت کے حقیقی معنوں کی رو سے بعدآنحضرت ﷺ نہ کوئی نیا نبی آ سکتا ہے اور نہ پرانا۔ قرآن ایسے نبیوں
161
کے ظہور سے مانع ہے۔ مگر مجازی معنوں کی رو سے خدا کا اختیار ہے کہ کسی ملہم کو نبی کے لفظ سے یا
مرسل کے لفظ سے یاد کرے۔‘‘
(سراج منیر ص۳، خزائن ج۱۲ ص۵)
’’حال یہ ہے کہ اگرچہ عرصہ بیس سال سے متواتر اس عاجز کو الہام ہوا ہے۔ اکثر دفعہ ان میں رسول یا نبی
کا لفظ آگیا ہے۔ لیکن وہ شخص غلطی کرتا ہے جو ایسا سمجھتا ہے کہ اس نبوت اور رسالت سے مراد حقیقی نبوت
ورسالت ہے… چونکہ ایسے لفظوں سے جو محض استعارہ کے رنگ میں ہیں، اسلام میں فتنہ پڑتا ہے اور اس کا نتیجہ سخت
بد نکلتا ہے۔ اس لئے اپنی جماعت کی معمولی بول چال اور دن رات کے محاورات میں یہ لفظ نہیں آنے چاہئیں۔‘‘
(مرزاقادیانی کا خط، الحکم قادیان ج۳ نمبر۲۹ ص۶ کالم۱، مؤرخہ ۱۷؍اگست ۱۸۹۹ء، منقول از مسیح موعود اور
ختم نبوت، مولوی محمد علی لاہوری قادیانی ص۶)
(۷) محدثیت سے نبوت تک ترقی
’’ہمارے سید ورسول اللہ ﷺ خاتم الانبیاء ہیں اور بعدآنحضرت ﷺ کوئی نبی نہیں آسکتا۔ اس لئے اس شریعت میں
نبی کے قائم مقام محدث رکھے گئے۔‘‘
(شہادت القرآن ص۲۸، خزائن ج۶ ص۳۲۳،۳۲۴)
’’میں نبی نہیں ہوں بلکہ اللہ کی طرف سے محدث اور اللہ کا کلیم ہوں تاکہ دین مصطفی کی تجدید کروں۔‘‘
(ترجمہ)
(آئینہ کمالات اسلام ص۳۸۳، خزائن ج۵ ص۳۸۳)
’’میں نے ہر گز نبوت کا دعویٰ نہیں کیا اور نہ میں نے انہیں کہا ہے کہ میں نبی ہوں۔ لیکن ان لوگوں نے
جلدی کی اور میرے قول کے سمجھنے میں غلطی کی… میں نے لوگوں سے سوائے اس کے جو میں نے اپنی کتابوں میں لکھا
ہے اور کچھ نہیں کہا کہ میں محدث ہوں اور اللہ تعالیٰ مجھ سے اسی طرح کلام کرتا ہے جس طرح محدثین سے۔‘‘ (ترجمہ)
(حمامتہ البشریٰ ص۷۹، خزائن ج۷ ص۲۹۶،۲۹۷)
’’لوگوں نے میرے قول کو نہیں سمجھا ہے اور کہہ دیا کہ یہ شخص نبوت کا مدعی ہے اور اللہ جانتا ہے کہ ان
کا قول قطعاً جھوٹ ہے۔ جس میں سچ کا شائبہ نہیں اور نہ اس کی کوئی اصل ہے… ہاں! میں نے یہ ضرور کہا ہے کہ
محدث میں تمام اجزائے نبوت پائے جاتے ہیں لیکن بالقوۃ، بالفعل نہیں تو محدث بالقوۃ نبی ہے اور اگر نبوت کا
دروازہ بند نہ ہو جاتا تو وہ بھی نبی ہو جاتا۔‘‘
(حمامتہ البشریٰ ص۸۱، خزائن ج۷ ص۳۰۰)
’’نبوت کا دعویٰ نہیں بلکہ محدثیت کا دعویٰ ہے جو خدائے تعالیٰ کے حکم سے کیاگیا ہے اور اس میں کیا شک
ہے کہ محدثیت بھی ایک شعبہ قویہ نبوت کا اپنے اندر رکھتی ہے۔‘‘
(ازالہ اوہام حصہ اوّل ص۴۲۲، خزائن ج۳ ص۳۲۰)
’’اس (محدثیت) کو اگر ایک مجازی نبوت قرار دیا جاوے یا ایک شعبہ قویہ نبوت کا ٹھہرایا جائے تو کیا اس
سے نبوت کا دعویٰ لازم آگیا؟‘‘
(ازالہ اوہام حصہ اوّل ص۴۲۲، خزائن ج۳ ص۳۲۱)
’’محدث جو مرسلین میں سے امتی بھی ہوتا ہے اور ناقص طور پر نبی بھی۔ امتی وہ اس وجہ سے کہ وہ بکلی
تابع شریعت رسول اللہ اور مشکوٰۃ رسالت سے فیض پانے والا ہوتا ہے اور نبی اس وجہ سے کہ خداتعالیٰ نبیوں کا سا
معاملہ اس سے کرتا ہے اور محدث کا وجود انبیاء اور امم میں بطور برزخ کے اللہ تعالیٰ نے پیدا کیا ہے۔ وہ اگرچہ
کامل طور پر امتی ہے۔ مگر ایک وجہ سے نبی بھی ہوتا ہے اور محدث کے لئے ضرور ہے کہ وہ کسی نبی کا مثیل ہو اور
خدائے تعالیٰ کے نزدیک وہی نام پاوے جو اس نبی کا نام ہے۔‘‘
(ازالہ اوہام حصہ دوم ص۵۶۹،۵۷۰، خزائن ج۳ ص۴۰۷)
’’ماسوا اس کے اس میں کچھ شک نہیں کہ یہ عاجز خداتعالیٰ کی طرف سے اس امت کے لئے محدث ہوکر آیا ہے اور
محدث بھی ایک معنی سے نبی ہی ہوتا ہے۔ گو اس کے لئے نبوت تامہ نہیں مگر تاہم جزئی طور پر وہ ایک نبی ہی ہے۔
کیونکہ وہ خداتعالیٰ سے ہم کلام ہونے کا
162
ایک شرف رکھتا ہے۔ امور غیبیہ اس پر ظاہر کئے جاتے ہیں اور رسولوں اور نبیوں کی وحی کی طرح اس کی وحی
کو بھی دخل شیطان سے منزہ کیا جاتا ہے اور مغز شریعت اس پر کھولا جاتا ہے اور بعینہٖ انبیاء کی طرح مامور
ہوکر آتا ہے اور انبیاء کی طرح اس پر فرض ہوتا ہے کہ اپنے تئیں باآواز بلند ظاہر کرے اور اس سے انکار کرنے
والا ایک حد تک مستوجب سزا ٹھہرتا ہے اور نبوت کے معنی بہ جز اس کے اور کچھ نہیں کہ امور متذکرہ بالا اس میں
پائے جائیں۔‘‘
(توضیح المرام ص۱۸، خزائن ج۳ ص۶۰)
’’یہ کہنا کہ نبوت کا دعویٰ کیا ہے کس قدر جہالت، کس قدر حماقت اور کس قدر حق سے خروج ہے۔ اے نادانو!
میری مراد نبوت سے یہ نہیں کہ میں نعوذ باللہ آنحضرت ﷺ کے مقابل کھڑا ہوکر نبوت کا دعویٰ کرتا ہوں یا کوئی نئی
شریعت لایا ہوں۔ صرف مراد میری نبوت سے کثرت مکالمت ومخاطبت الٰہیہ ہے جوآنحضرت ﷺ کی اتباع سے حاصل ہے۔ سو
مکالمہ ومخاطبہ کے آپ لوگ بھی قائل ہیں۔ پس یہ صرف لفظی نزاع ہوئی۔ یعنی آپ لوگ جس امر کا نام مکالمہ
ومخاطبہ رکھتے ہیں، میں اس کی کثرت کا نام بموجب حکم الٰہی نبوت رکھتا ہوں۔ ولکل ان
یصطلح‘‘
(تتمہ حقیقت الوحی ص۶۸، خزائن ج۲۲ ص۵۰۳)
(۸) نبی اللہ
’’مسیح موعود جو آنے والا ہے، اس کی علامت یہ لکھی ہے کہ وہ نبی اللہ ہوگا۔ یعنی خداتعالیٰ سے وحی پانے
والا۔ لیکن اس جگہ نبوت تامہ کاملہ مراد نہیں۔ کیونکہ نبوت تامہ کاملہ پر مہر لگ چکی ہے بلکہ وہ نبوت مراد
ہے جو محدثیت کے مفہوم تک محدود ہے جو مشکوٰۃ نبوت محمدیہ سے نور حاصل کرتی ہے۔ سو یہ نعمت خاص طور پر اس
عاجز کو دی گئی ہے۔‘‘
(ازالہ اوہام حصہ دوم ص۷۰۱، خزائن ج۳ ص۴۷۸)
(۹) استعارہ اور مجاز
’’جاننا چاہئے کہ خداتعالیٰ نے اپنی تمام نبوتوں اور رسالتوں کو قرآن شریف اورآنحضرت ﷺ پر ختم کر دیا
ہے اور ہم محض دین کے خادم بن کر دنیا میں آئے اور دنیا میں بھیجے گئے۔ نہ اس لئے کہ اسلام کو چھوڑ کر کوئی
اور دین بنادیں۔ ہمیشہ شیاطین کی راہ زنی سے اپنے تئیں بچانا چاہئے اور اسلام سے سچی محبت رکھنی چاہئے
اورآنحضرت ﷺ کی عظمت کو پھیلانا چاہئے۔ ہم خادم دین اسلام ہیں اور یہی ہمارے آنے کی علت غائی ہے اور نبی اور
رسول کے لفظ استعارہ اور مجاز کے رنگ میں ہیں۔ رسالت لغت عرب میں بھیجے جانے کو کہتے ہیں اور نبوت یہ ہے کہ
خدا سے علم پاکر پوشیدہ باتوں یا پوشیدہ حقائق اور معارف کو بیان کرنا۔ سو اس حد تک مفہوم کو ذہن میں رکھ کر
دل میں اس کے معنے کے موافق اعتقاد کرنا مذموم نہیں ہے۔ مگر چونکہ اسلام کی اصطلاح میں نبی اور رسول کے یہ
بھی معنی ہوتے ہیں کہ وہ کامل شریعت لاتے ہیں یا بعض احکام شریعت سابقہ کو منسوخ کرتے ہیں یا نبی سابق کی
امت نہیں کہلاتے اور براہ راست بغیر استفاضہ کسی نبی کے خداتعالیٰ سے تعلق رکھتے ہیں۔ اس لئے ہوشیار رہنا
چاہئے کہ اس جگہ بھی یہی معنی نہ سمجھ لیں۔ کیونکہ ہماری کوئی کتاب بجز قرآن شریف نہیں ہے اور ہمارا کوئی
رسول بجز محمد مصطفی ﷺ کے نہیں ہے اور ہمارا کوئی دین بجز اسلام کے نہیں ہے اور ہم اس بات پر ایمان رکھتے
ہیں کہ ہمارا نبی ﷺ خاتم الانبیاء اور قرآن شریف خاتم الکتب ہے۔ سو دین کو بچوں کا کھیل نہیں بنانا چاہئے
اور یاد رکھنا چاہئے کہ ہمیں بجز خودم اسلام ہونے کے اور کوئی دعویٰ بالمقابل نہیں اور جو شخص ہماری طرف یہ
منسوب کرے، وہ ہم پر افتراء کرتا ہے۔ ہم اپنے نبی کریم کے ذریعے فیض برکات پاتے ہیں اور قرآن کے ذریعے سے
ہمیں فیض معارف ملتا ہے۔ سو نامناسب ہے کہ کوئی شخص اس ہدایت کے خلاف کچھ بھی دل میں نہ رکھے، ورنہ وہی
خداتعالیٰ کے نزدیک اس کا جواب دہ ہوگا۔ اگر ہم اسلام کے خادم نہیں ہیں تو ہمارا سب کاروبار عبث ہے اور
مردود اور قابل مواخذہ
163
ہے۔ (چنانچہ بالآخر یہی انجام ہوا۔ للمؤلف)
خاکسار: مرزاغلام احمد قادیان، مؤرخہ ۷؍اگست ۱۸۹۹ء‘‘
(مکتوبات احمدیہ ج۵ نمبر۴ ص۱۰۲،۱۰۳، مکتوب نمبر۳۰، جدید مکتوبات احمد ج۲ ص۲۴۹، مکتوب نمبر۴۶)
(۱۰) نبوت سے معذرت
’’صاحب انصاف طلب کو یاد رکھنا چاہئے کہ اس عاجز نے کبھی اور کسی وقت حقیقی طور پر نبوت یا رسالت کا
دعویٰ نہیں کیا اور غیرحقیقی طور پر کسی لفظ کو استعمال کرنا اور لغت کے عام معنوں کے لحاظ سے اس کو بول چال
میں لانا مستلزم کفر نہیں، مگر میں اس کو بھی پسند نہیں کرتا کہ اس میں عام مسلمانوں کو دھوکا لگ جانے کا
احتمال ہے۔‘‘
(انجام آتھم ص۲۷، خزائن ج۱۱ ص۲۷ حاشیہ)
(۱۱) راضی نامہ
’’جو مباحثہ لاہور میں مولوی عبدالحکیم صاحب اور مرزاغلام احمد قادیانی کے درمیان چند روز سے بابت
مسئلہ دعوائے نبوت مندرجہ کتب مرزاقادیانی کے ہورہا تھا، آج مولوی صاحب کی طرف سے تیسرا پرچہ جواب الجواب کے
جواب میں لکھا جارہا تھا۔ اثنائے تحریر میں مرزاقادیانی کی عبارت مندرجہ ذیل کے بیان کرنے پر جلسہ عام میں
فیصلہ ہوگیا جو عبارت درج ذیل ہے۔ المرقوم ۳؍فروری ۱۸۹۲ء، مطابق ۳؍رجب المرجب ۱۳۰۹ھ
| العبد |
العبد |
العبد |
العبد |
| برکت علی وکیل |
محی الدین |
خاکسار رحیم بخش |
فضل دین |
| چیف کورٹ پنجاب |
المعروف صوفی |
|
|
| العبد |
العبد |
العبد |
العبد |
| رحیم اللہ |
ابویوسف محمد مبارک علی |
حبیب اللہ |
بخط گورمکھی |
’’الحمد للہ والصلوٰۃ والسلام علیٰ رسولہ خاتم النبیین… امابعد‘‘ تمام مسلمانوں
کی خدمت میں گزارش ہے کہ اس عاجز کے رسالہ ’’فتح الاسلام‘‘ و ’’توضیح المرام‘‘ و ’’ازالہ اوہام‘‘ میں جس قدر
ایسے الفاظ موجود ہیں کہ محدث ایک معنی میں نبی ہوتا ہے یا یہ کہ محدثیت جزوی نبوت ہے یا یہ کہ محدثیت نبوت
ناقصہ ہے۔ یہ تمام الفاظ حقیقی معنوں پر محمول نہیں ہیں۔ بلکہ صرف سادگی سے ان کے لغوی معنوں کی رو سے بیان
کئے گئے ہیں۔ ورنہ حاشا وکلا مجھے نبوت حقیقی کا ہرگز دعویٰ نہیں ہے بلکہ جیسا کہ میں کتاب ’’ازالہ اوہام‘‘
ص۱۳۷ میں لکھ چکا ہوں۔ میرا اس بات پر ایمان ہے کہ ہمارے سید ومولیٰ محمد مصطفی ﷺ خاتم الانبیاء ہیں، سو میں
تمام مسلمان بھائیوں کی خدمت میں واضح کرنا چاہتا ہوں کہ اگر وہ ان لفظوں سے ناراض ہیں اور ان کے دلوں پر یہ
الفاظ شاق ہیں تو وہ ان الفاظ کو ترمیم شدہ تصور فرماکر بجائے اس کے محدث کا لفظ میری طرف سے سمجھ لیں۔
کیونکہ کسی طرح مجھ کو مسلمانوں میں تفرقہ اور نفاق ڈالنا منظور نہیں ہے۔ جس حالت میں ابتداء سے میری نیت
میں جس کو اللہ جل شانہ خوب جانتا ہے، اس لفظ نبی سے مراد نبوت حقیقی نہیں ہے۔ بلکہ صرف محدث مراد ہے جس کے
معنی آنحضرت ﷺ نے مکلم مراد لئے ہیں… تو پھر مجھے اپنے مسلمان بھائیوں کی دل جوئی کے لئے اس لفظ کو دوسرے
پیرایہ میں بیان کرنے سے کیا عذر ہوسکتا ہے۔ سو دوسرا پیرایہ یہ ہے کہ بجائے لفظ نبی کے محدث کا لفظ ہر ایک
جگہ سمجھ لیں اور اس کو یعنی لفظ نبی کو کاٹا ہوا خیال فرمالیں۔‘‘
(مندرجہ تبلیغ رسالت ج۲ ص۹۴تا۹۶، مجموعہ اشتہارات ج۱ ص۳۱۲تا۳۱۴، جدید مجموعہ اشتہارات ج۱ ص۲۵۷،۲۵۸)
164
واضح ہو کہ یہ معذرت اس زمانہ کی ہے جب کہ مرزاقادیانی ڈرتے ڈرتے نبوت کی طرف ہاتھ بڑھا رہے تھے اور
جب کوئی ٹوکتا تھا تو فوراً دست کش ہو جاتے تھے کہ گویا نبوت سے کوئی تعلق ہی نہ تھا۔ اس ترکیب سے ابتدائی
زمانہ گزار دیا اور جوں جوں ہم خیال معتقد پیدا ہوتے گئے، نبوت کے ولولے میں جان پڑتی گئی۔ حتیٰ کہ ۱۹۰۱ء
میں ایک رسالہ (غلطی کا ازالہ) لکھ کر نبوت کا اعلان کر دیا۔ گرچہ پھر بھی گرفت کے خوف سے معذرت کی گنجائش
رکھی۔ اس کے بعد جب لوگوں کو سہار ہوگئی تو دعویٰ اس درجہ بڑھا کہ مرزاقادیانی کی نبوت کے الہامات وآثار
ہزار نبی بنانے کے واسطے کافی ہوگئے۔ (للمؤلف)
(۱۲) کئی مہدی
’’رسول کریم ﷺ کی پیش گوئیوں سے پتہ چلتا ہے کہ آئندہ بھی کئی تغیرات ہوں گے۔ مہدی کے متعلق جو پیش
گوئیاں ہیں، ان سے معلوم ہوتا ہے کہ کئی مہدی ہوں گے۔ ان مہدیوں میں سے ایک مہدی تو خود حضرت مرزاصاحب ہیں
اور آئندہ بھی کئی مہدی آسکتے ہیں۔‘‘
(مکالمہ مرزامحمود خلیفہ قادیان، الفضل قادیان ج۱۴ نمبر۶۸، مؤرخہ ۲۷؍فروری ۱۹۲۷ء)
(۱۳) مسیح موعود کی اہمیت
’’اوّل تو یہ جاننا چاہئے کہ مسیح کے نزول کا عقیدہ کوئی ایسا عقیدہ نہیں ہے جو ہمارے ایمانیات کی
کوئی جزو یا ہمارے دین کے رکنوں میں سے کوئی رکن ہو۔ بلکہ صدہا پیش گوئیوں میں سے یہ ایک پیش گوئی ہے جس کو
حقیقت اسلام سے کچھ بھی تعلق نہیں۔ جس زمانہ تک یہ پیش گوئی بیان نہیں کی گئی تھی، اس زمانہ تک اسلام کچھ
ناقص نہیں تھا اور جب بیان کی گئی تو اس سے اسلام کچھ کامل نہیں ہوگیا۔‘‘
(ازالہ اوہام ص۱۴۰، خزائن ج۳ ص۱۷۱)
’’اگر یہ اعتراض پیش کیا جائے کہ مسیح کا مثل بھی نبی چاہئے، کیونکہ مسیح نبی تھا تو اس کا اوّل جواب
تو یہی ہے کہ آنے والے مسیح کے لئے ہمارے سید ومولیٰ نے نبوت شرط نہیں ٹھہرائی۔ بلکہ صاف طورپر یہی لکھا ہے
کہ وہ ایک مسلمان ہوگا اور عام مسلمانوں کے موافق شریعت فرقانی کا پابند ہوگا اور اس سے زیادہ کچھ بھی ظاہر
نہیں کرے گا میں مسلمان ہوں اور مسلمانوں کا امام ہوں۔‘‘
(توضیح المرام ص۱۷،۱۸، خزائن ج۳ ص۵۹،۶۰)
(۱۴) مثیل مسیح بننے پر قناعت
’’اور مصنف کو اس بات کا بھی علم دیاگیا ہے کہ وہ مجدد وقت ہے اور روحانی طور پر اس کے کمالات مسیح
ابن مریم کے کمالات سے مشابہ ہیں اور ایک کو دوسرے سے بشدت مناسبت ومشابہت ہے۔‘‘
(مندرجہ تبلیغ رسالت ج۱ ص۱۵، مجموعہ اشتہارات ج۱ ص۲۴، جدید مجموعہ اشتہارات ج۱ ص۲۸)
’’جس غلبہ کاملہ دین اسلام کا وعدہ دیاگیا ہے وہ غلبہ مسیح کے ذریعہ سے ظہور میں آئے گا اور جب حضرت
مسیح علیہ السلام دوبارہ اس دنیا میں تشریف لائیں گے تو ان کے ہاتھ سے دین اسلام جمیع آفاق واقطار میں پھیل
جائے گا۔ لیکن اس عاجز پر ظاہر کیا گیا ہے کہ یہ خاکسار اپنی غربت اور انکسار اور توکل اور ایثار اور آیات
اور انوار کے رو سے مسیح کی پہلی زندگی کا نمونہ ہے اور اس عاجز کی فطرت اور مسیح کی فطرت باہم نہایت ہی
متشابہ واقع ہوئی ہے۔ گویا ایک ہی جوہر کے دو ٹکڑے یا ایک ہی درخت کے دو پھل ہیں اور بحدی اتحاد ہے کہ نظر
کشفی میں نہایت ہی باریک امتیاز ہے۔‘‘
(براہین احمدیہ ص۴۹۹، خزائن ج۱ ص۵۹۳ حاشیہ در حاشیہ نمبر۳)
165
’’مجھے مسیح ابن مریم ہونے کا دعویٰ نہیں اور نہ میں تناسخ کا قائل ہوں۔ بلکہ مجھے تو فقط مثیل مسیح
ہونے کا دعویٰ ہے جس طرح محدثیت نبوت سے مشابہ ہے۔ ایسا ہی میری روحانی حالت مسیح ابن مریم کی روحانی حالت
سے اشد درجہ کی مناسبت رکھتی ہے۔‘‘
(اشتہار مرزاقادیانی مندرجہ تبلیغ رسالت ج۲ ص۲۱، مجموعہ اشتہارات ج۱ ص۲۳۱، جدید مجموعہ اشتہارات ج۱
ص۲۱۵)
’’اس عاجز نے جو مثیل موعود ہونے کا دعویٰ کیا ہے، جس کو کم فہم لوگ مسیح موعود خیال کر بیٹھے ہیں، یہ
کوئی نیا دعویٰ نہیں جو آج ہی میرے منہ سے سنا گیا ہو، بلکہ یہ وہی پرانا الہام ہے جو میں نے خدائے تعالیٰ
سے پاکر ’’براہین احمدیہ‘‘ کے کئی مقامات پر بتصریح درج کر دیا تھا۔ جس کے شائع کرنے پر سات سال سے بھی کچھ
زیادہ عرصہ گزر گیا ہوگا۔ میں نے یہ دعویٰ ہرگز نہیں کیا کہ میں مسیح ابن مریم ہوں۔ جو شخص یہ الزام میرے
پرلگاوے، وہ سراسر مفتری اور کذاب ہے۔ بلکہ میری طرف سے عرصہ سات یا آٹھ سال سے برابر یہی شائع ہورہا ہے کہ
میں مثیل مسیح ہوں۔ یعنی حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے بعض روحانی خواص طبع اور عادت اور اخلاق وغیرہ کے خدائے
تعالیٰ نے میری فطرت میں بھی رکھے ہیں۔‘‘
(ازالہ اوہام حصہ اوّل ص۱۹۰، خزائن ج۳ ص۱۹۲)
’’یہ بات سچ ہے کہ اللہ جل شانہ کی وحی اور الہام سے میں نے مثیل مسیح ہونے کا دعویٰ کیا ہے… میں اسی
الہام کی بناء پر اپنے تئیں وہ موعو مثیل سمجھتا ہوں جس کو دوسرے لوگ غلط فہمی کی وجہ سے مسیح موعود کہتے
ہیں۔ مجھے اس بات سے انکار بھی نہیں کہ میرے سوا کوئی اور مثیل مسیح بھی آنے والا ہو۔‘‘
(مجموعہ اشتہارات ج۱ ص۲۰۷، جدید مجموعہ اشتہارات ج۱ ص۱۷۶،۱۷۷)
’’میں اس سے ہرگز انکار نہیں کر سکتا اور نہ کروں گا کہ شاید مسیح موعو کوئی اور بھی ہو اور شاید یہ
پیش گوئیاں جو میرے حق میں روحانی طور پر ہیں، ظاہری طور پر اس پر جمتی ہوں اور شاید سچ مچ دمشق میں کوئی
مثیل مسیح نازل ہو۔‘‘
(مجموعہ اشتہارات ج۱ ص۲۰۸، جدید مجموعہ اشتہارات ج۱ ص۱۷۷)
’’اس عاجز کی طرف سے بھی یہ دعویٰ نہیں کہ مسیحیت کا میرے وجود پر ہی خاتمہ ہے اور آئندہ کوئی مسیح
نہیں آئے گا بلکہ میں تو مانتا ہوں اور باربار کہتا ہوں کہ ایک کیا دس ہزار سے بھی زیادہ مسیح آسکتا ہے اور
ممکن ہے کہ ظاہری جلال واقبال کے ساتھ بھی آوے اور ممکن ہے کہ اوّل وہ دمشق میں ہی نازل ہو۔‘‘
(ازالہ اوہام حصہ اوّل ص۲۹۴،۲۹۵، خزائن ج۳ ص۲۵۱)
’’میں نے صرف مثیل مسیح ہونے کا دعویٰ کیا ہے اور میرا یہ بھی دعویٰ نہیں کہ صرف مثیل ہونا میرے پر ہی
ختم ہوگیا ہے۔ بلکہ میرے نزدیک ممکن ہے کہ آئندہ زمانوں میں میرے جیسے اور دس ہزار بھی مثیل مسیح آجائیں۔
ہاں! اس زمانہ کے لئے میں مثیل مسیح ہوں اور دوسرے کی انتظار بے سود ہے… پس اس بیان کی رو سے ممکن اور بالکل
ممکن ہے کہ کسی زمانہ میں کوئی ایسا مسیح بھی آجائے جس پر حدیثوں کے بعض ظاہری الفاظ صادق آسکیں۔ کیونکہ یہ
عاجز اس دنیا کی حکومت اور بادشاہت کے ساتھ نہیں آیا۔ درویشی اور غربت کے لباس میں آیا ہے اور جب کہ یہ حال
ہے تو پھر علماء کے لئے اشکال ہی کیا ہے۔ ممکن ہے کہ کسی وقت ان کی یہ مراد بھی پوری ہو جائے۔‘‘
(ازالہ اوہام حصہ اوّل ص۱۹۹،۲۰۰، خزائن ج۳ ص۱۹۷،۱۹۸)
(۱۵) ذریت کی بشارت
’’بالآخر ہم یہ بھی ظاہر کرنا چاہتے ہیں کہ ہمیں اس سے انکار نہیں کہ ہمارے بعد کوئی اور بھی مسیح کا
مثیل بن کر آوے۔ کیونکہ نبیوں کے مثیل ہمیشہ دنیا میں ہوتے رہتے ہیں۔ بلکہ خدائے تعالیٰ نے ایک قطعی اور
یقینی پیش گوئی میں میرے پر ظاہر کر رکھا ہے کہ میری ہی ذریت سے ایک شخص پیدا ہوگا جس کو کئی باتوں میں مسیح
سے مشابہت ہوگی۔ وہ آسمان سے اترے گا اور زمین والوں کی راہ سیدھی کر دے گا۔ وہ
166
اسیروں کو رستگاری بخشے گا اور ان کو جو شبہات کی زنجیروں میں مقید ہیں، رہائی دے گا۔ فرزند دلبند،
گرامی وارجمند، مظہر الحق والعلاء، کان اللہ نزل من السماء‘‘
(ازالہ اوہام حصہ اوّل ص۱۵۵، ۱۵۶، خزائن ج۳ ص۱۷۹،۱۸۰)
(۱۶) دمشق تا قادیان
’’اب یہ بھی جاننا چاہئے کہ دمشق کا لفظ جو مسلم کی حدیث میں وارد ہے، یعنی صحیح مسلم میں یہ جو لکھا
ہے کہ حضرت مسیح دمشق کے منارہ سفید شرقی کے پاس اتریں گے۔ یہ لفظ ابتداء سے محقق لوگوں کو حیران کرتا چلا
آیا ہے… واضح ہو کہ دمشق کے لفظ کی تعبیر میں میرے پر منجانب اللہ یہ ظاہر کیاگیا ہے کہ اس جگہ ایسے قصبے کا
نام دمشق رکھاگیا ہے جس میں ایسے لوگ رہتے ہیں جو یزیدی الطبع اور یزید پلید کی عادات اور خیالات کے پیرو
ہیں، جن کے دلوں میں اللہ اور رسول کی کچھ محبت نہیں اور احکام الٰہی کی کچھ عظمت نہیں۔ جنہوں نے اپنی نفسانی
خواہشوں کو اپنا معبود بنارکھا ہے اور اپنے نفس امارہ کے حکموں کے ایسے مطیع ہیں کہ مقدسوں اور پاکوں کا خون
بھی ان کی نظر میں سہل اور آسان امر ہے اور آخرت پر ایمان نہیں رکھتے اور خدائے تعالیٰ کا موجود ہونا ان کی
نگاہوں میں ایک پیچیدہ مسئلہ ہے جو انہیں سمجھ نہیں آتا اور چونکہ طبیب کو بیماروں ہی کی طرف آنا چاہئے۔ اس
لئے ضرور تھا کہ مسیح ایسے لوگوں میں ہی نازل ہو۔ غرض مجھ پر یہ ظاہر کیاگیا ہے کہ دمشق کے لفظ سے دراصل وہ
مقام مراد ہے جس میں یہ دمشق والی مشہور خاصیت پائی جاتی ہے… خداتعالیٰ نے مجھ پر یہ ظاہر فرمادیا ہے کہ یہ
قصبہ قادیان بوجہ اس کے کہ اکثر یزیدی الطبع لوگ اس میں سکونت رکھتے ہیں، دمشق سے ایک مناسبت اور مشابہت
رکھتا ہے اور یہ ظاہر ہے کہ تشبیہات میں پوری پوری تطبیق کی ضرورت نہیں ہوتی۔ بلکہ بسا اوقات ایک ادنیٰ
مماثلت کی وجہ سے بلکہ صرف ایک جزو میں مشارکت کے باعث ایک چیز کا نام دوسری چیز پر اطلاق کر دیتے ہیں… سو
خدائے تعالیٰ نے اسی عام قاعدہ کے موافق اس قصبہ قادیان کو دمشق سے مشابہت دی اور اس بارہ میں قادیان کی
نسبت مجھے یہ بھی الہام ہوا کہ ’’اخرج منہ الیزیدیون‘‘ یعنی اس میں یزیدی لوگ پیدا
کئے گئے ہیں۔ اب اگرچہ میرا یہ دعویٰ تو نہیں اور نہ ایسی کامل تصریح سے خدائے تعالیٰ نے میرے پر کھول دیا
ہے کہ دمشق میں کوئی مثیل مسیح پیدا نہیں ہوگا۔ بلکہ میرے نزدیک ممکن ہے کہ کسی آئندہ زمانہ میں خاص کر دمشق
میں بھی کوئی مثیل مسیح پیدا ہو جائے مگر خدائے تعالیٰ خوب جانتا ہے اور وہ اس بات کا شاہد حال ہے کہ اس نے
قادیان کو دمشق سے مشابہت دی ہے۔‘‘
(ازالہ اوہام حصہ اوّل ص۶۳تا۷۳، خزائن ج۳ ص۱۳۴تا۱۳۸ حاشیہ)
(۱۷) بھید کھل گیا
’’مگر جب وقت آگیا تو وہ اسرار مجھے سمجھائے گئے۔ تب میں نے معلوم کیا کہ میرے اس دعویٰ مسیح موعود
ہونے میں کوئی نئی بات نہیں ہے۔ یہ وہی دعویٰ ہے جو ’’براہین احمدیہ‘‘ میں باربار بتصریح لکھاگیا ہے۔‘‘
(کشتی نوح ص۴۷، خزائن ج۱۹ ص۵۱)
’’اور یہی عیسیٰ ہے جس کی انتظار تھی اور الہامی عبارتوں میں مریم اور عیسیٰ سے میں ہی مراد ہوں۔ میری
نسبت ہی کہاگیا ہے کہ ہم اس کو نشان بنادیں گے اور نیز کہاگیا کہ یہ وہی عیسیٰ بن مریم ہے جو آنے والا تھا
جس میں لوگ شک کرتے ہیں۔ یہی حق ہے اور آنے والا یہی ہے اور شک محض نافہمی سے ہے۔‘‘
(کشتی نوح ص۴۸، خزائن ج۱۹ ص۵۲)
’’سو چونکہ خدا جانتا تھا کہ اس نکتہ پر علم ہونے سے یہ دلیل ضعیف ہو جائے گی۔ اس لئے گو اس نے براہین
احمدیہ کے تیسرے حصے میں میرا نام مریم رکھا۔ پھر جیسا کہ ’’براہین احمدیہ‘‘ سے ظاہر ہے دو برس تک صفت
مریمیت میں میں نے پرورش پائی اور پردہ میں نشوونما پاتا رہا۔ پھر… مریم کی طرح عیسیٰ کی روح مجھ میں نفخ کی
گئی اور استعارہ کے رنگ میں مجھے حاملہ ٹھہرایا گیا اور آخر کئی مہینے کے بعد جو دس مہینے سے
167
زیادہ نہیں بذریعہ اس الہام کے جو سب سے آخر براہین احمدیہ کے حصہ چہارم ص۵۵۶ میں درج ہے مجھے مریم
سے عیسیٰ بنایا گیا۔ پس اس طور سے میں ابن مریم ٹھہرا اور خدا نے ’’براہین احمدیہ‘‘ کے وقت میں اس سرخفی کی
مجھے خبر نہ دی۔‘‘
(کشتی نوح ص۴۶،۴۷، خزائن ج۱۹ ص۵۰)
’’حضرت مسیح موعود (مرزاقادیانی) نے لکھا ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو آسمان پر زندہ ماننا شرک
ہے۔ لیکن پہلے ’’براہین احمدیہ‘‘ میں خود یہ عقیدہ بیان کرچکے ہیں۔ اب اگر کوئی شخص کہے کہ پھر آپ بھی شرک
کے مرتکب ہوئے ہیں تو ہمارا یہی جواب ہوگا کہ ہرگز نہیں۔ آپ نے اس وقت یہ خیال ظاہر کیا تھا۔ جب قرآن کریم
اور الہام الٰہی سے وضاحت نہیں ہوئی تھی۔ شرک کے مرتکب وہ ہیں جو اس وضاحت کے بعد ایسا کرتے ہیں۔‘‘
(الفضل قادیان ج۲۶ نمبر۱۵۵ ص۹ کالم۳، مؤرخہ ۹؍جولائی ۱۹۳۸ء)
(۱۸) دعوے کی دلیل
’’مکاشفات اکابر اولیاء بالاتفاق اس بات پر شاہد ہیں کہ مسیح موعود کا ظہور چودھویں صدی سے پہلے
چودھویں صدی کے سر پر ہوگا اور اس سے تجاوز نہیں کرے گا۔ چنانچہ ہم نمونہ کے طور پر کسی قدر اس رسالہ میں
لکھ بھی آئے ہیں اور ظاہر ہے کہ اس وقت بجز اس عاجز کے اور کوئی شخص دعویدار اس منصب کا نہیں ہوا۔‘‘
(ازالہ اوہام حصہ دوم ص۶۸۵، خزائن ج۳ ص۴۶۹)
’’ہر یک شخص سمجھ سکتا ہے کہ اس وقت جو ظہور مسیح موعود کا وقت ہے کسی نے بجز اس عاجز کے دعویٰ نہیں
کیا کہ میں مسیح موعود ہوں۔ بلکہ اس مدت تیرہ سو برس میں کبھی کسی مسلمان کی طرف سے ایسا دعویٰ نہیں ہوا کہ
میں مسیح موعود ہوں۔‘‘
(ازالہ اوہام حصہ دوم ص۶۸۴، خزائن ج۳ ص۴۶۹)
’’آنے والے مسیح موعود کا نام جو صحیح مسلم وغیرہ میں زبان مقدس حضرت نبوی سے نبی اللہ نکلا ہے، وہ ان
ہی مجازی معنوں کی رو سے ہے جو صوفیاء کرام کی کتابوں میں مسلم اور ایک معمولی محاورہ مکالمات الٰہیہ کا ہے،
ورنہ خاتم الانبیاء کے بعد نبی کیسا۔‘‘
(انجام آتھم ص۲۸، خزائن ج۱۱ ص۲۸ حاشیہ)
(۱۹) مشابہت
’’ہم اپنی کتابوں میں بہت جگہ بیان کر چکے ہیں کہ یہ عاجز جو حضرت عیسیٰ بن مریم کے رنگ میں بھیجا گیا
ہے بہت سے امور میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام سے مشابہت رکھتا ہے۔ یہاں تک کہ جیسے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی
پیدائش میں ایک ندرت تھی اس عاجز کی پیدائش میں بھی ایک ندرت ہے اور وہ یہ کہ میرے ساتھ ایک لڑکی پیدا ہوئی
تھی اور یہ امر انسانی پیدائش میں نادرات سے ہے۔ کیونکہ اکثر ایک ہی بچہ پیداہوا کرتا ہے۔‘‘
(تحفہ گولڑویہ ص۶۸، خزائن ج۱۷ ص۲۰۲ حاشیہ)
’’اس امت کے مسیح موعود کے لئے ایک اور مشابہت حضرت عیسیٰ سے ہے اور وہ یہ کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام
پورے طور پر بنی اسرائیل میں سے نہ تھے بلکہ صرف ماں کی وجہ سے اسرائیلی کہلاتے تھے۔ ایسا ہی اس عاجز کی بعض
دادیاں سادات میں سے ہیں۔ گو باپ سادات میں سے نہیں اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے لئے خدا نے جو یہ پسند
کیا کہ کوئی اسرائیلی حضرت مسیح کا باپ نہ تھا۔ اس میں یہ بھید تھا کہ خداتعالیٰ بنی اسرائیل کی کثرت گناہوں
کی وجہ سے ان پر سخت ناراض تھا۔‘‘
(لیکچر سیالکوٹ ص۱۷، خزائن ج۲۰ ص۲۱۵)
’’چودھویں خصوصیت یسوع مسیح میں یہ تھی کہ وہ باپ کے نہ ہونے کی وجہ سے بنی اسرائیل میں سے نہ تھا۔
مگر بایں ہمہ موسوی
168
سلسلہ کا آخری پیغمبر تھا جو موسیٰ کے بعد چودھویں صدی میں پیدا ہوا۔ ایسا ہی میں بھی خاندان قریش
میں سے نہیں ہوں اور چودھویں صدی میں مبعوث ہوا ہوں اور سب سے آخر ہوں۔‘‘
(تذکرۃ الشہادتین ص۳۳، خزائن ج۲۰ ص۳۵)
’’سو یقینا سمجھو کہ نازل ہونے والا ابن مریم یہی ہے جس نے عیسیٰ ابن مریم کی طرح اپنے زم انے میں کسی
ایسے شیخ والد روحانی کو نہ پایا جو اس کی روحانی پیدائش کا موجب ٹھہرتا۔ تب خدائے تعالیٰ خود اس کا متولی
ہوا، اور تربیت کی کنار میں لیا اور اس اپنے بندے کا نام ابن مریم رکھا… پس مثالی صورت کے طور پر یہی عیسیٰ
بن مریم ہے جو بغیر باپ کے پیدا ہوا۔ کیا تم ثابت کر سکتے ہو کہ اس کا کوئی والد روحانی ہے۔ کیا تم ثبوت دے
سکتے ہو کہ تمہارے سلاسل اربعہ میں سے کسی سلسلے میں یہ داخل ہے۔ پھر اگر یہ ابن مریم نہیں تو کون ہے؟‘‘
(ازالہ اوہام حصہ دوم ص۲۵۹، خزائن ج۳ ص۴۵۶)
(۲۰) مسیحیت کے پردہ میں نبوت
’’مجھے اس خدا کی قسم ہے جس نے مجھے بھیجا ہے اور جس پر افتراء کرنا لعنتیوں کا کام ہے کہ اس نے مسیح
موعود بناکر مجھے بھیجا ہے۔‘‘
(ایک غلطی کا ازالہ ص۳، خزائن ج۱۸ ص۲۱۰)
’’میرا دعویٰ یہ ہے کہ میں وہ مسیح موعود ہوں جس کے بارے میں خداتعالیٰ کی تمام پاک کتابوں میں پیش
گوئیاں ہیں کہ وہ آخری زم انے میں ظاہرہوگا۔‘‘
(ضمیمہ تحفہ گولڑویہ ص۱۱۸، خزائن ج۱۷ ص۲۹۵)
’’جس آنے والے مسیح موعود کا حدیثوں سے پتہ لگتا ہے اس کا ان ہی حدیثوں سے یہ نشان دیاگیا ہے کہ وہ
نبی بھی ہوگا اور امتی بھی۔‘‘
(حقیقت الوحی ص۲۹، خزائن ج۲۲ ص۳۱)
’’اسی لحاظ سے صحیح مسلم میں بھی مسیح موعود کا نام نبی رکھا گیا۔ اگر خداتعالیٰ سے غیب کی خبریں پانے
والا نبی کا نام نہیں رکھتا تو پھر بتلاؤ کس نام سے اس کو پکارا جائے۔ اگر کہو اس کا نام محدث رکھنا چاہئے
تو میں کہتا ہوں کہ تحدیث کے معنے کسی لغت کی کتاب میں اظہار غیب نہیں ہے۔ مگر نبوت کے معنی اظہار امر غیب
ہے۔‘‘
(ایک غلطی کا ازالہ ص۳، خزائن ج۱۸ ص۲۰۹)
’’اب واضح ہو کہ احادیث نبویہ میں یہ پیش گوئی کی گئی ہے کہ آنحضرت ﷺ کی امت میں سے ایک شخص پیدا ہوگا
جو عیسیٰ اور ابن مریم کہلائے گا اور نبی کے نام سے موسوم کیا جائے گا۔ یعنی اس کثرت سے مکالمہ ومخاطبہ کا
شرف اس کو حاصل ہوگا اور اس کثرت سے امور غیبیہ اس پر ظاہر ہوں گے کہ بجز نبی کے کسی پر ظاہر نہیں ہوسکتے۔
جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے: ’’فلا یظہر علٰی غیبہ احدا الا من ارتضی من رسول‘‘
یعنی خدا اپنے غیب پر کسی کو پوری قدرت اور غلبہ نہیں بخشتا جو کثرت اور صفائی سے حاصل ہوسکتا ہے۔ بجز اس
شخص کے جو اس کا برگزیدہ رسول ہو اور یہ بات ایک ثابت شدہ امر ہے کہ جس قدر خداتعالیٰ نے مجھ سے مکالمہ
ومخاطبہ کیا ہے اور جس قدر امور غیبیہ مجھ پر ظاہر فرمائے ہیں۔ تیرہ سو برس ہجری میں کسی شخص کو آج تک بجز
میرے یہ نعمت عطاء نہیں کی گئی۔ اگر کوئی منکر ہو تو بار ثبوت اس کی گردن پرہے۔‘‘
(حقیقت الوحی ص۳۹۰،۳۹۱، خزائن ج۲۲ ص۴۰۶)
’’اسی طرح اوائل میں میرا یہی عقیدہ تھا کہ مجھ کو مسیح سے کیا نسبت ہے۔ وہ نبی ہے اور خدا کے بزرگ
مقربین میں سے ہے اور اگر کوئی امر میری فضیلت کی نسبت ظاہر ہوتا تو میں اس کو جزوی فضیلت قرار دیتا تھا۔
مگر بعد میں خداتعالیٰ کی وحی بارش کی طرح میرے پر نازل ہوئی۔ اس نے مجھے اس عقیدہ پر قائم نہ رہنے دیا اور
صریح طور پر نبی کا خطاب مجھے دیا گیا۔ مگر اس طرح سے ایک پہلو سے نبی اور ایک پہلو سے امتی۔‘‘
(حقیقت الوحی ص۱۴۹،۱۵۰، خزائن ج۲۲ ص۱۵۳،۱۵۴)
169
(۲۱) امتی نبی
’’اسی وجہ سے حضرت مسیح موعود نے اپنی کتب میں بارہا اپنے متعلق یہ ذکر فرمایاہے کہ میں امتی نبی ہوں۔
یعنی محمد ﷺ کے نقطہ نگاہ سے میں امتی ہوں۔ مگر تم لوگوں کے نقطہ نگاہ سے میں نبی ہوں۔ جہاں میرے اور تمہارے
تعلق کا سوال آئے گا، وہاں تمہیں میری حیثیت وہی تسلیم کرنی پڑے گی جو ایک نبی کی ہوتی ہے۔ جس طرح نبی پر
ایمان لانا ضروری ہوتا ہے، اسی طرح مجھ پر ایمان لانا ضروری ہوگا۔ جس طرح نبی کے احکام کی اتباع فرض ہوتی
ہے، اسی طرح میرے احکام کی اتباع تم پر فرض ہو گی۔‘‘
(خطبہ جمعہ اخبار الفضل قادیان ج۲۸ نمبر۱۷۳ ص۳ کالم۴، مؤرخہ یکم؍اگست ۱۹۴۰ء، خطبات محمود ج۲۱ ص۲۷۱)
(۲۲) گول مول بات
’’اوائل ۱۹۰۸ء کا واقعہ ہے کہ مکرمی جناب خان ذوالفقار علی خان صاحب نے جو ان دنوں رخصت پر قادیان
تشریف لائے ہوئے تھے، حضور اقدس کی خدمت میں عرض کیا کہ نواب صاحب رامپور نے جو شیعہ ہیں، حضور کے بارے میں
چند سوالات کئے جن کے یوں جواب دئیے گئے۔ منجملہ ان سوالات کے ایک یہ تھا کہ آیا ’’حضور رسالت کے مدعی
ہیں۔‘‘ خان صاحب نے جواب دیا کہ حضور کا ایک شعر ہے:
-
من نیستم رسول دنیا وردہ ام کتاب
ہاں ملہم ہستم و ز خداوند منذرم
اس کے متعلق حضور نے فرمایا کہ اس کی تشریح کر دینا تھا کہ ایسا رسول ہونے سے انکار کیاگیا ہے جو صاحب
کتاب ہو۔ دیکھو جوامور سماوی ہوتے ہیں ان کے بیان کرنے میں ڈرنا نہیں چاہئے اور کسی قسم کا خوف کرنا اہل حق
کا قاعدہ نہیں۔ امر حق کے پہنچ انے میں کسی قسم کا اخفا نہ رکھنا چاہئے۔ (البتہ گول بات کہنے میں مضائقہ
نہیں کہ حسب موقع اسے جدھر چاہیں لڑھکا سکیں۔ معلوم ہوتا ہے کہ مرزاقادیانی کے آخر وقت تک بھی غریب خان صاحب
رامپوری یہ راز نہ سمجھ سکے۔ ورنہ ایسا صاف جواب نواب صاحب کو نہ دیتے کہ میرصاحب کی ڈانٹ سنتے۔ عجب نہیں اس
وقت تک خود بھی اس مغالطہ میں مبتلا ہوں کہ نبوت کا دعویٰ نہیں ہے۔ جیسا کہ جواب سے ظاہر ہے اور بعد کو شاید
افغانی اصول ’’زرمی خورم بابا زرمی خورم‘‘ کے مطابق قادیانیت پر جم بیٹھے ہوں۔ للمؤلف)‘‘
(الفضل قادیان ج۳۳ نمبر۲۰۵ ص۶ کالم۱، مؤرخہ یکم؍ستمبر ۱۹۴۵ء، بحوالہ ملفوظات ج۱۰ ص۱۲۶،۱۲۷، جدید
ملفوظات ج۵ ص۴۴۶)
(۲۳) نبوت وولایت
’’خاتم النّبیین اور لانبی بعدی کے متعلق علمائے متقدمین ومتاخرین کا مذہب بیان کرتے ہوئے حضرت محی
الدین ابن عربی، امام شعرانی، ملا علی قاری، سید عبدالکریم جیلانی، شاہ ولی اللہ دہلوی اور بعض دوسرے علماء کے
الفاظ نقل کئے گئے ہیں جن کا ماحصل صرف اس قدر ہے کہ خاتم النّبیین اور لا نبی بعدی میں نبوت تشریعی کو
ممتنع ٹھہرایا گیا ہے اور نبوت عامہ جس میں شریعت نہ ہو، جاری قرار دی گئی ہے۔
یہ بالکل صحیح ہے۔ لیکن کاش اس کے ساتھ یہ بھی بتایا جاتا کہ وہ تمام علماء نبوت عامہ اور غیرتشریعی
نبوت کو ولایت سے بڑھ کر یقین نہ کرتے تھے بلکہ ولایت ہی کا دوسرا نام انہوں نے نبوت عامہ یا غیرتشریعی نبوت
قرار دیا تھا۔‘‘
(پیغام صلح ج۳۸ نمبر۱۱ ص۴ کالم۴، مؤرخہ ۱۵؍مارچ ۱۹۵۰ء)
170
فصل تیسری
نبوت کی تحصیل
(۱) ختم نبوت کی حقیقت
’’محمدی ختم نبوت کی اصل حقیقت کو دنیا میں کماحقہ کوئی نہیں جو سمجھ سکتا ہو، سوائے اس کے جو خود
حضرت خاتم الانبیاء کی طرح خاتم الاولیاء ہے۔ کیونکہ کسی چیز کی اصل حقیقت کا سمجھنا اس کے اہل پر موقوف
ہوتا ہے اور یہ ایک ثابت شدہ امر ہے کہ ختمیت کا اہل یا حضرت محمد رسول اللہ ﷺ ہیں یا حضرت مسیح موعود۔‘‘
(تشحیذ الاذہان ج۱۲ نمبر۸ ص۱، بابت ماہ اگست ۱۹۱۷ء، بعنوان ’’محمدی ختم نبوت کی اصل حقیقت‘‘)
’’محمدی ختم نبوت سے باب نبوت بکلی بند نہیں ہوا۔ کیونکہ باب نزول جبرئیل بہ پیرایہ وحی الٰہی بند
نہیں ہوا۔‘‘
(مفہوم تشحیذ الاذہان قادیان ج۱۲ نمبر۸ ص۲، بابت ماہ اگست ۱۹۱۷ء)
(۲) ختم نبوت کی تاویل، اپنی نبوت کی تشکیل
’’اور بالآخر یاد رہے کہ اگر ایک امتی کو جو محض پیروی آنحضرت ﷺ سے درجہ وحی اور الہام اور نبوت کا
پاتا ہے، نبی کے نام کا اعزاز دیا جائے تو اس سے مہر نبوت نہیں ٹوٹتی۔ کیونکہ وہ امتی ہے اور اس کا اپنا
وجود کچھ نہیں اور اس کا اپنا کمال نبی متبوع کا کمال ہے اور وہ صرف نبی نہیں کہلاتا ہے بلکہ نبی بھی اور
امتی بھی۔ مگر کسی ایسے نبی کا دوبارہ آنا، جو امتی نہیں ہے، ختم نبوت کے منافی ہے۔‘‘
(چشمہ مسیحی ص۶۹، خزائن ج۲۰ ص۳۸۳ حاشیہ)
’’نیز خاتم النّبیین ہونا ہمارے نبی ﷺ کا کسی دوسرے نبی کے آنے سے مانع ہے۔ ہاں!ایسا نبی جو مشکوٰۃ
نبوت محمدیہ سے نور حاصل کرتا ہے اور نبوت تامہ نہیں رکھتا، جس کو دوسرے لفظوں میں محدث بھی کہتے ہیں اور اس
تحدید سے باہر ہے کیونکہ وہ بباعث اتباع اور فنافی الرسول ہونے کے جناب ختم المرسلین کے وجود میں ہی داخل
ہے، جیسے جز کل میں داخل ہوتی ہے۔‘‘
(ازالہ اوہام ص۵۷۵، خزائن ج۳ ص۴۱۰،۴۱۱)
’’کسی حدیث صحیح سے اس بات کا پتہ نہیں ملے گا کہ آنحضرت ﷺ کے بعد کوئی ایسا نبی آنے والا ہے جو امتی
نہیں یعنی آپ کی پیروی سے فیضیاب نہیں۔‘‘
(حقیقت الوحی ص۲۸، خزائن ج۲۲ ص۳۰)
’’جو شخص نبوت کا دعویٰ کرتا ہے اور یہ اعتقاد نہیں رکھتا کہ وہ آنحضرت ﷺ کی امت سے ہے اور جو کچھ
پایا، اسی کے فیضان سے پایا… وہ لعنتی ہے اور خدا کی لعنت اس پر اور اس کے انصار پر اور اس کے پیروؤں پر
اور اس کے مددگاروں پر۔‘‘ (ترجمہ)
(مواہب الرحمن ص۶۸،۶۹، خزائن ج۱۹ ص۲۸۷)
’’پہلے زمانوں میں جو کوئی نبی ہوتا تھا وہ کسی گزشتہ نبی کی امت نہیں کہلاتا تھا۔ گو اس کے دین کی
نصرت کرتا تھا اور اس کو سچا جانتا تھا۔ مگرآنحضرت ﷺ کو یہ ایک خاص فخر دیاگیا ہے کہ وہ ان معنوں سے خاتم
الانبیاء ہیں کہ ایک تو تمام کمالات نبوت ان پر ختم ہیں اور دوسرے یہ کہ ان کے بعد کوئی نئی شریعت لانے والا
رسول نہیں اور نہ کوئی ایسا نبی ہے جو ان کی امت سے باہر ہو۔‘‘
(چشمہ معرفت ص۹، خزائن ج۲۳ ص۳۸۰)
171
’’خدا نے اس زم انے میں محسوس کیا کہ یہ ایسا فاسد زمانہ آگیا ہے جس میں ایک عظیم الشان مصلح کی ضرورت
ہے اور خدا کی مہر نے یہ کام کیا کہ آنحضرت ﷺ کی پیروی کرنے والا اس درجہ کو پہنچا کہ ایک پہلو سے وہ امتی
ہے اور ایک پہلو سے نبی۔ کیونکہ اللہ جل شانہ نےآنحضرت ﷺ کو صاحب خاتم بنایا۔ یعنی آپ کو افاضہ کمال کے لئے
مہر دی جو کسی اور نبی کو ہرگز نہیں دی گئی۔ اسی وجہ سے آپ کا نام خاتم النّبیین ٹھہرا۔ یعنی آپ کی پیروی
کمالات نبوت بخشتی ہے اور آپ کی توجہ روحانی نبی تراش ہے اور یہ قوت قدسیہ کسی اور نبی کو نہیں ملی۔‘‘
(حقیقت الوحی ص۹۶،۹۷، خزائن ج۲۲ ص۹۹،۱۰۰ حاشیہ)
’’اور سب کے بعد ہمارے نبی ﷺ سے ایسا ہم کلام ہوا کہ آپ ﷺ پر سب سے زیادہ روشن اور پاک وحی نازل کی۔
ایسا ہی اس نے مجھے بھی اپنے مکالمہ مخاطبہ کا شرف بخشا مگر یہ شرف مجھےآنحضرت ﷺ کی پیروی سے حاصل ہوا…
کیونکہ اب بجز محمدی نبوت کے سب نبوتیں بند ہیں۔ شریعت والا نبی کوئی نہیں آسکتا اور بغیر شریعت کے نبی
ہوسکتا ہے، مگر وہی جو پہلے سے امتی ہو، پس اس بناء پر میں امتی بھی ہوں اور نبی بھی۔‘‘
(تجلیات الٰہیہ ص۲۴،۲۵، خزائن ج۲۰ ص۴۱۱،۴۱۲)
’’آپ کے فیضان سے ایک ایسی نبوت ملتی ہے جو پہلے کسی نبی کی اطاعت سے نہیںملتی تھی اور اس نبوت کا
پانے والا امتی نبی کہلاتا ہے… پہلی امتوں میں محدث یا جزوی نبی تو ہوتے تھے لیکن پہلے نبیوں میں اس قدر
طاقت نہ تھی کہ ان کے فیضان سے امتی نبی ہوسکے، جس کا صاف مطلب یہ ہے کہ آنحضرت ﷺ کی امت میں صرف محدثیت ہی
جاری نہیں بلکہ اس سے اوپر نبوت کا سلسلہ بھی جاری ہے… پس یہ بات بالکل روزروشن کی طرح ثابت ہے کہ آنحضرت ﷺ
کے بعد نبوت کا دروازہ کھلا ہے۔ مگر نبوت صرف آپ کے فیضان سے مل سکتی ہے۔ براہ راست نہیں مل سکتی اور پہلے
زم انے میں نبوت براہ راست مل سکتی تھی، کسی نبی کے اتباع سے نہیں مل سکتی تھی۔ کیونکہ وہ اس قدر صاحب کمال
نہ تھے، جیسےآنحضرت ﷺ اور جب کہ نبوت کا دروازہ علاوہ محدثیت کے امت محمدیہ میں کھلا ثابت ہوگیا تو یہ بھی
ثابت ہوگیا کہ مسیح موعود بھی نبی اللہ تھے۔‘‘
(حقیقت النبوۃ ص۲۸، انوار العلوم ج۲ ص۵۴۲)
’’میرا یقین ہے کہ حضرت محمد رسول اللہ ﷺ اللہ تعالیٰ کے رسول اور خاتم الانبیاء ہیں۔ میرا یقین ہے کہ آپ
کے بعد کوئی شخص نہیں آسکتا جو آپ کی دی ہوئی شریعت میں سے ایک شوشہ بھی منسوخ کر سکے۔ میرا پیار۱ وہ محبوب
آقا سیدالانبیاء ایسی عظیم الشان شان رکھتا ہے کہ ایک شخص اس کی غلامی میں داخل ہوکر کامل اتباع اور وفاداری
کے بعد نبیوں کا رتبہ حاصل کر سکتا ہے۔ یہ سچ ہے کہ آنحضرت ﷺ ہی کی ایسی شان اور عزت ہے کہ آپ کی سچی غلامی
میں نبی پیدا ہوسکتا ہے۔ یہ میرا ایمان ہے اور پورے یقین سے کہتا ہوں۔‘‘
(تقریر مرزامحمود خلیفہ قادیان، الفضل قادیان ج۱ نمبر۴۰ ب، ص۲ کالم۱، مؤرخہ ۲۱؍مارچ ۱۹۱۴ء)
(۳) مہر کا فلسفہ
’’جس کمال انسان پر قرآن شریف نازل ہوا… اور وہ خاتم الانبیاء بنے مگر ان معنوں سے نہیں کہ آئندہ اس
سے کوئی روحانی فیض نہیں ملے گا بلکہ ان معنوں سے کہ وہ صاحب خاتم ہے، بجز اس کے مہر کے کوئی فیض کسی کو
نہیں پہنچ سکتا… اور بجز اس کے کوئی نبی صاحب خاتم نہیں۔ ایک وہی ہے جس کی مہر سے ایسی نبوت بھی مل سکتی ہے
جس کے لئے امتی ہونا لازمی ہے اور اس کی ہمت اور ہمدردی نے امت کو ناقص حال پر چھوڑنا نہیں چاہا۔ (گویا
مرزاغلام احمد نبی نہ مانے جائیں تو امت محمدیہ ناقص اور نبی کریم ﷺ کی ہمت وہمدردی بھی ناقص قرار پاتی ہے۔
للمؤلف)‘‘
(حقیقت الوحی ص۲۷،۲۸، خزائن ج۲۲ ص۲۹،۳۰)
172
’’خاتم النّبیین کے بارے میں حضرت مسیح (مرزاقادیانی) نے فرمایا کہ خاتم النّبیین کے معنی یہ ہیں کہ
آپ کی مہر کے بغیر کسی کی نبوت کی تصدیق نہیں ہوسکتی۔ جب مہر لگ جاتی ہے تو وہ کاغذ سند ہو جاتا ہے اور
مصدقہ سمجھا جاتا ہے۔ اسی طرح آنحضرت کی مہر اور تصدیق جس نبوت پر نہ ہو، وہ صحیح نہیں ہے۔‘‘
(ملفوظات احمدیہ حصہ پنجم ص۲۹۰، مرتبہ محمد منظور الٰہی قادیانی لاہوری)
’’طریق کلام کے مطابق دوسرے الفاظ میں خاتم النّبیین کے الفاظ رسول اللہ کے الفاظ کی نسبت بڑے درجے پر
دلالت کرنے والے ہونے چاہئیں اور وہ یہی معنی ہیں کہ آپ نبیوں کی مہر ہیں۔ یعنی آپ کے بعد ایسے انبیاء پیدا
ہوں گے جن کی نبوت کا معیار صرف آپ کے نقش قدم پر چلنا ہوگا اور آپ کی شریعت کو قائم کرنا ہوگا۔‘‘
(مکتوب مرزامحمود خلیفہ قادیان، الفضل قادیان ج۱۴ نمبر۸۵، مؤرخہ۲۹؍اپریل ۱۹۲۷ء)
’’پس یقینا ہمارے مخالف مولوی صاحبان نے خاتم النّبیین کے معنی سمجھنے میں سخت غلطی کی ہے۔ آپ خاتم
النّبیین ہیں مگر ان معنوں میں کہ آپ کا وجود باجود مہرنبیوں کی جو شخص آپ کے قولی اور فعلی نمونہ کو کامل
طور پر اپنے اندر پیدا کر لے گا، اور اتباع اور اطاعت میں ایسا صراط مستقیم پر چلے گا کہ ایک قدم بھی ادھر
ادھر نہ ہوگا، ایسے شخص کی نبوت پر آپ کا وجود باجود ایک مہر ہے۔ کیوں سرکاری مہروں کے لئے ضروری ہے کہ
کاغذات بھی ہوں۔ ورنہ مہروں کو بنانا ہی لغو ٹھہرے گا، پس جس صورت میں خدائے تعالیٰ نے آنحضرت کو نبیوں کی
مہر قرار دیا ہے تو ضرور ہے کہ اس رتبہ میں نبی بھی ہوں جو آپ کی اتباع اور آپ کی تصدیق سے نبوت کا درجہ
حاصل کریں۔ جیسا کہ محاورے میں ہم بولتے ہیں کہ فلاں شخص نے یہ بات کہہ کر اپنے اس قول پر مہر لگادی ہے۔
یعنی اپنے منہ سے اس کی تصدیق کر دی ہے۔ یہی مطلب اس آیۃ کریمہ کا ہے۔‘‘
(الفضل قادیان ج۳ نمبر۶۸ ص۶ کالم۱، مؤرخہ ۸؍دسمبر ۱۹۱۵ء)
’’ہمیں اس سے انکار نہیں کہ رسول کریم ﷺ خاتم النّبیین ہیں۔ مگر ’’ختم‘‘ کے معنی وہ نہیں جو ’’احسان‘‘
کا سواد اعظم سمجھتا ہے اور جو رسول کریم ﷺ کی شان اعلیٰ وارفع کے سراسر خلاف ہے کہ آپ نے نبوت کی نعمت
عظمیٰ سے اپنی امت کو محروم کر دیا بلکہ یہ ہیں کہ آپ نبیوں کی مہر ہیں۔ اب وہی نبی ہوگا جس کی آپ تصدیق
کریں گے۔ کیونکہ آپ نبیوں کے مصدق ہیں۔ گویا کسی نبی کی اس وقت تک نبوت ثابت نہیں ہوسکتی جب تک آپ کی تصدیق
اس کے ساتھ نہ ہو۔ انہی معنوں میں ہم رسول کریم ﷺ کو خاتم النّبیین سمجھتے ہیں۔‘‘
(الفضل قادیان ج۲۷ نمبر۲۱۸ ص۱،۲، مؤرخہ ۲۲؍ستمبر ۱۹۳۹ء)
’’کہا گیا ہے کہ مبایعین (قادیانی صاحبان)آنحضرت ﷺ کو خاتم النّبیین نہیں مانتے۔ لیکن مجھے افسوس آتا
ہے ان لوگوں پر جو یہ کہتے ہیں کہ آنحضرت ﷺ کے بعد کوئی نبی نہیں آسکتا اور باوجود اس کےآنحضرت ﷺ کو خاتم
النّبیین بھی کہتے ہیں۔ وہ خاتم یعنی مہر ہی کیا ہوئی جو کسی کاغذ پر نہ لگی اور اس نے کسی کاغذ کی تصدیق نہ
کی۔ اس طرح نبی کریم خاتم النّبیین کیا ہوئے جب کسی انسان پر آپ کی نبوت کی مہر نہ لگی اور آپ کے بعد کوئی
نبی نہ ہوا۔ اگر آپ کی امت میں کوئی نبی نہیں ہے تو آپ خاتم النّبیین بھی نہیں ہیں۔‘‘
(خطبہ جمعہ، الفضل قادیان ج۲ نمبر۱۵۱ ص۷ کالم۲، مؤرخہ ۱۰؍جون ۱۹۱۵ء، خطبات محمود ج۴ ص۳۶۷)
’’حضرت خلیفہ اوّل (حکیم نورالدین) کے قلم مبارک سے ایک سائل کے جوابات شائع ہوئے ہیں، ان میں حضرت
مسیح موعود علیہ السلام کی نبوت کا صریح ثبوت موجود ہے۔ وہ سوال اور جواب حسب ذیل ہے:
سوال: خاتم النّبیین رسول اللہ تھے تو پھر نبی ہونے کا دعویٰ کس طرح درست ہوسکتا ہے؟
جواب: خاتم مہر کو کہتے ہیں۔ جب نبی کریم مہر ہوئے، اگر ان کی امت میں کسی قسم کا نبی نہیں ہوگا
تو وہ مہر کس طرح ہوئے یا مہر کس پر لگے گی۔‘‘
(الحکم قادیان ج۹ نمبر۶ ص۱۱ کالم۲، مؤرخہ ۱۷؍فروری ۱۹۰۵ء، مندرجہ الفضل قادیان ج۹ نمبر۹۱ ص۹ کالم۲،
مؤرخہ ۲۲؍مئی ۱۹۲۲ء)
173
(۴) نبی بننے کی ترکیب
’’میرا اس تمام بیان سے یہ مطلب ہے کہ نبوت کوئی الگ چیز نہیں کہ وہ مل جائے تو انسان نبی ہو جاتا ہے
بلکہ اصل بات یہی ہے جیساکہ میں اوپر قرآن کریم سے ثابت کر آیا ہوں کہ انسانی ترقی کے آخری درجے کا نام نبی
ہے جو انسان محبت الٰہی میں ترقی کرتا ہوا صالحین سے شہداء میں اور شہداء سے صدیقوں میں شامل ہو جاتا ہے، وہ
آخر جب اس درجے سے بھی ترقی کرتا ہے تو صاحب سرالٰہی (نبی) بن جاتا ہے۔‘‘
(حقیقت النبوۃ ص۱۵۳،۱۵۴، انوار العلوم ج۲ ص۴۷۳)
’’پہلے نبیوں کی امت کے لوگ ایک حد تک پہلے نبی کی تربیت کے نیچے ترقی پاتے پاتے رک جاتے تھے اور
اللہتعالیٰ ان کے دلوں پر نظر فرماتا تھا اور جن کو اس قابل پاتا کہ وہ نبی بن سکیں، ان کو اپنے فضل سے بڑھاتا
اور براہ راست نبی بنادیتا تھا۔ لیکن ہمارےآنحضرت ﷺ کو اللہ تعالیٰ نے ایسے مقام بلند پر کھڑا کیا اور آپ نے
استادی کا ایسا اعلیٰ درجہ حاصل کر لیا کہ آپ اپنے شاگردوں کو اس امتحان میں کامیاب کراسکتے ہیں… ان کے
(یعنی گزشتہ انبیاء کے) مدرسہ کا آخری امتحان نبوت نہ تھا۔ بلکہ ولایت تھا۔ پھر نبوت بلاواسطہ موہبت سے ملتی
تھی۔ لیکن ہمارے آنحضرت کو ایسا درجہ استادی ملا کہ آپ کے مدرسے کو کالج تک بڑھا دیا گیا اور آپ کی شاگردی
میں انسان نبی بھی بن سکتا ہے۔‘‘
(القول الفصل ص۱۵، انوار العلوم ج۲ ص۲۷۷)
’’یہ بالکل صحیح بات ہے کہ ہر شخص ترقی کر سکتا ہے اور بڑے سے بڑا درجہ پاسکتا ہے۔ حتیٰ کہ محمد رسول
اللہ ﷺ سے بھی بڑھ سکتا ہے مگر دیکھنا یہ ہے کہ آنحضرت ﷺ اس میدان میں سب سے آگے بڑھ گئے اور خدا نے آئندہ کے
متعلق بھی گواہی دے دی کہ آپ آئندہ آنے والی نسلوں سے بھی آگے بڑھے ہوئے ہیں۔ پیغامی (فریق لاہوری) یہی کہہ
کر لوگوں کو ہمارے خلاف بھڑکاتے ہیں کہ اس لئے رسول کریم کے بعد امت محمدیہ میں نبی نہیں آسکتا… (لیکن) اگر
روحانی ترقی کی تمام راہیں ہم پر بند ہیں تو اسلام کا کچھ بھی فائدہ نہیں اور پھر اس میں کوئی خوبی بھی نہیں
کہ ایک کو بڑھا دیا جائے اور دوسرے کو بڑھنے نہ دیا جائے۔ ہاں! خوبی یہ ہے کہ موقع سب کو دیا جائے، پھر آگے
جو بڑھ جائے۔‘‘
(ارشاد مرزامحمود خلیفہ قادیان، ڈائری الفضل قادیان ج۱۰ نمبر۵ ص۵ کالم۳، مؤرخہ ۱۷؍جولائی ۱۹۲۲ء)
(۵) نبوت کا کمال
’’اگر کوئی کہنے والا یہ کہے کہ اس امت میں سے کوئی نبی کیسے ہوسکتا ہے، جب کہ اللہ نے نبوت پر مہر
لگادی ہے؟ تو جواب یہ ہے کہ اللہ عزوجل نے اس شخص کا نام نبی صرف اور صرف اس لئے رکھا تاکہ وہ ہمارے سید
ومولیٰ خیرالوریٰa کی نبوت کے کمال کو ثابت کرے۔ کیونکہ آنحضرت ﷺ کی نبوت کا کمال امت کے کمال کے ثبوت کے
بعد متحقق نہیں ہوتا۔ اس کے بغیر یہ محض دعویٰ ہے۔ جس پر اہل عقل کے نزدیک کوئی دلیل نہیں۔ کسی فرد پر نبوت
کے ختم ہونے کے اس کے سوا کوئی معنی نہیں کہ اس فرد پر نبوت کے کمالات اپنی انتہاء کو پہنچیں اور نبی کا فیض
رسانی کا کمال نبوت کے عظیم کمالات میں سے ہے اور یہ کمال امت میں موجود نمونے کے بغیر ثابت نہیں ہوسکتا۔‘‘
(ترجمہ)
(ضمیمہ حقیقت الوحی الاستفتاء ص۱۷، خزائن ج۲۲ ص۶۳۷)
(۶) ختم نبوت کی ہتک
’’تیرہ سو برس تک نبوت کے لفظ کا اطلاق تو آپ کی نبوت کی عظمت کے پاس سے نہ کیا اور اس کے بعد اب مدت
دراز کے
174
گزرنے سے لوگوں کے چونکہ اعتقاد اس امر پر پختہ ہو گئے تھے کہ آنحضرت ﷺ ہی خاتم الانبیاء ہیں اور اب
اگر کسی دوسرے کا نام نبی رکھا جاوے تو اس سےآنحضرت ﷺ کی شان میں کوئی فرق بھی نہیں آتا، اس لئے اب نبوت کا
لفظ مسیح کے لئے ظاہراً بھی بول دیا… آپ کے جانشینوں اور آپ کی امت کے خادموں پر صاف صاف نبی اللہ بولنے کے
واسطے دو امور مدنظر رکھنے ضروری تھے، اوّل عظمت آنحضرت ﷺ، دوم عظمت اسلام۔ سوآنحضرت ﷺ کی عظمت کے پاس کی
وجہ سے ان لوگوں پر تیرہ سو برس تک نبی کا لفظ نہ بولا گیا تاکہ آپ کی ختم نبوت کی ہتک نہ ہو۔ کیونکہ اگر آپ
کے بعد ہی آپ کی امت کے خلیفوں اور صلحاء لوگوں پر نبی کا لفظ بولا جانے لگتا، جیسے حضرت موسیٰ کے بعد لوگوں
پر بولا جاتا رہا تو اس میں آپ کی ختم نبوت کی ہتک تھی اور کوئی عظمت نہ تھی۔ سو خداتعالیٰ نے ایسا کیا کہ
اپنی حکمت اور لطف سے آپ کے بعد تیرہ سو برس تک اس لفظ کو آپ کی امت پر سے اٹھادیا تا آپ کی نبوت کی عظمت کا
حق ادا ہو جائے اور پھر چونکہ اسلام کی عظمت چاہتی تھی کہ اس میں بھی بعض ایسے افراد ہوں جن پرآنحضرت ﷺ کے
بعد لفظ نبی اللہ بولا جاوے اور تا پہلے سلسلے سے اس کی مماثلت پوری ہو۔ آخری زم انے میں مسیح موعود کے واسطے
آپ کی زبان سے نبی اللہ کا لفظ نکلوا دیا اور اس طرح پر نہایت حکمت اور بلاغت سے دو متضاد باتوں کو پورا کیا
اور موسوی سلسلے کی مماثلت بھی قائم رکھی اور عظمت اور نبوت آنحضرت بھی قائم رکھی۔‘‘
(مندرجہ اخبار الحکم قادیان ج۷ نمبر۱۴ ص۹ کالم۳، مؤرخہ ۱۷؍اپریل ۱۹۰۳ء، ملفوظات ج۵ ص۳۵۰،۳۵۱، جدید
ملفوظات ج۳ ص۲۵۳،۲۵۴)
(۷) نبوت کی دعا
’’افسوس کہ حال کے نادان مسلمانوں نے اپنے اس نبی مکرم کا کچھ قدر نہیں کیا اور ہر ایک بات میں ٹھوکر
کھائی۔ وہ ختم نبوت کے ایسے معنی کرتے ہیں جس سےآنحضرت ﷺ کی ہجو نکلتی ہے نہ تعریف۔ گویاآنحضرت ﷺ کے نفس پاک
میں افاضہ اور تکمیل نفوس کے لئے کوئی قوت نہ تھی اور وہ صرف خشک شریعت کو سکھلانے آئے تھے۔ حالانکہ
اللہتعالیٰ اس امت کو یہ دعا سکھلاتا ہے:’’اہدنا الصراط المستقیم صراط الذین انعمت
علیہم‘‘ پس اگر یہ امت پہلے نبیوں کی وارث نہیں اور اس انعام میں سے ان کو کچھ حصہ نہیں تو یہ
دعا کیوں سکھلائی گئی۔‘‘
(حقیقت الوحی ص۱۰۰،۱۰۱، خزائن ج۲۲ ص۱۰۴ حاشیہ)
’’یہاں نبی کا لفظ آجانے سے بعض لوگوں کو یہ ٹھوکرلگی ہے کہ خود مقام نبوت بھی اس دعا کے ذریعے سے مل
سکتا ہے اور گویا ہر مسلمان ہر روز باربار مقام نبوت کو ہی اس دعا کے ذریعے سے طلب کرتا ہے۔ یہ ایک اصولی
غلطی ہے۔ نبوت موہبت ہے اس لئے کہ نبوت محض موہبت ہے اور نبوت میں انسان کی جدوجہد اور اس کی سعی کو کوئی
دخل نہیں۔ ایک وہ چیزیں ہیں جو موہبت سے ملتی ہیں اور ایک وہ جو انسان کی جدوجہد سے ملتی ہیں۔ نبوت اوّل میں
سے ہے… پس مقام نبوت کے لئے دعا کرنا ایک بے معنی فقرہ ہے اور اسی شخص کے منہ سے نکل سکتا ہے جو اصول دین سے
ناواقف ہے۔‘‘
(مولوی محمد علی لاہوری قادیانی، امیر جماعت لاہور کی تفسیر، جدید بیان القرآن، تشریح آیت: ’’اہدنا الصراط المستقیم‘‘ ص۵،۶)
(۸) ختم نبوت پر الزام، عبرت کامقام
’’ہمارا مذہب تو یہ ہے کہ جس دین میں نبوت کا سلسلہ نہ ہو وہ مردہ ہے۔ یہودیوں، عیسائیوں، ہندوؤں کے
دین کو جو ہم مردہ کہتے ہیں تو اسی لئے کہ ان میں اب کوئی نبی نہیں ہوتا۔ اگر اسلام کا بھی یہی حال ہوتا تو
پھر ہم بھی قصہ گوٹھہرے۔ کس لئے اس کو دوسرے
175
’’ہمارا مذہب تو یہ ہے کہ جس دین میں نبوت کا سلسلہ نہ ہو وہ مردہ ہے۔ یہودیوں، عیسائیوں، ہندوؤں کے
دین کو جو ہم مردہ کہتے ہیں تو اسی لئے کہ ان میں اب کوئی نبی نہیں ہوتا۔ اگر اسلام کا بھی یہی حال ہوتا تو
پھر ہم بھی قصہ گوٹھہرے۔ کس لئے اس کو دوسرے
دینوں سے بڑھ کر کہتے ہیں۔ آخر کوئی امتیاز بھی ہونا چاہئے۔ صرف سچے خوابوں کا آنا تو کافی نہیں کہ یہ
تو چوہڑے چماروں کو بھی آجاتے ہیں۔ مکالمہ، مخاطبہ الٰہیہ ہونا چاہئے اور وہ بھی ایسا کہ جس میں پیش گوئیاں
ہوں… ہم پر کئی سالوں سے وحی نازل ہو رہی ہے اور اللہ تعالیٰ کے کئی نشان اس کے صدق کی گواہی دے چکے ہیں۔ اس
لئے ہم نبی ہیں۔ امر حق کے پہنچ انے میں کسی قسم کا اخفاء نہ رکھنا چاہئے۔‘‘
(حقیقت النبوۃ ص۲۷۲، مندرجہ اخبار البدر قادیان ج۷ نمبر۹ ص۲، مؤرخہ ۵؍مارچ ۱۹۰۸ء، ملفوظات ج۱۰
ص۱۲۷،۱۲۸، جدید ملفوظات ج۵ ص۴۴۷)
’’پس ایک امتی کو ایسا نبی قرار دینے سے کوئی مخدور لازم نہیں آتا۔ بالخصوص اس حالت میں کہ وہ امتی
اپنے اس نبی متبوع سے فیض پانے والا ہو۔ بلکہ فساد اس حالت میں لازم آتا ہے کہ اس امت کوآنحضرت ﷺ کے بعد
قیامت تک مکالمات الٰہیہ سے بے نصیب قرار دیا جائے۔ وہ دین، دین نہیں ہے اور نہ وہ نبی، نبی ہے جس کی متابعت
سے انسان خداتعالیٰ سے اس قدر نزدیک نہیں ہوسکتا کہ مکالمات الٰہیہ سے مشرف ہو سکے۔ وہ دین لعنتی اور قابل
نفرت ہے جو یہ سکھاتا ہے کہ صرف چند منقولی باتوں پر انسانی ترقیات کا احصار ہے اور وحی الٰہی آگے نہیں بلکہ
پیچھے رہ گئی ہے اور خدائے حی وقیوم کی آواز سننے اور اس کے مکالمات سے قطعی نومیدی ہے اور اگر کوئی آواز
بھی غیب سے کسی کے کان تک پہنچتی ہے تو وہ ایسی مشتبہ آواز ہے کہ نہیں کہہ سکتے کہ وہ خدا کی آواز ہے یا
شیطان کی۔ سو ایسا دین بہ نسبت اس کے کہ اس کو رحمانی کہیں، شیطانی کہلانے کا زیادہ مستحق ہوتا ہے۔ (لاحول ولا قوۃ الا باللہ ۔ للمؤلف)‘‘
(ضمیمہ براہین احمدیہ حصہ پنجم ص۱۳۸،۱۳۹، خزائن ج۲۱ ص۳۰۶)
’’اورآنحضرت ﷺ کو جو خاتم الانبیاء فرمایا گیا ہے، اس کے یہ معنی نہیں ہیں کہ آپ کے بعد دروازہ
مکالمات ومخاطبات الٰہیہ کا بند ہے۔ اگر یہ معنی ہوتے تو یہ امت ایک لعنتی امت ہوتی جو شیطان کی طرح ہمیشہ
سے خدا سے دور ومہجور ہوتی۔ بلکہ یہ معنی ہیں کہ براہ رست خداتعالیٰ سے فیض وحی پانا بند ہے اور یہ نعمت
بغیر اتباع آنحضرت ﷺ کسی کو ملنا محال اور ممتنع ہے اور یہ خودآنحضرت ﷺ کا فخر ہے کہ ان کی اتباع میں یہ
برکت ہے کہ جب ایک شخص پورے طور پر آپ کی پیروی کرنے والا ہو تو وہ خداتعالیٰ کے مکالمات ومخاطبات سے مشرف
ہو جائے… یہ کس قدر لغو اور باطل عقیدہ ہے کہ ایسا خیال کیا جائے کہ بعدآنحضرت ﷺ کے وحی الٰہی کا دروازہ
ہمیشہ کے لئے بند ہوگیا ہے اور آئندہ کو قیامت تک اس کی کوئی بھی امید نہیں۔ صرف قصوں کی پوجا کرو۔ پس کیا
ایسا مذہب کچھ مذہب ہوسکتا ہے جس میں براہ راست خداتعالیٰ کا کچھ بھی پتہ نہیں لگتا۔ جو کچھ ہیں، قصے ہی اور
کوئی اگرچہ اس کی راہ میں جان بھی فدا کرے، اس کی رضا جوئی میں فنا ہو جائے اور ہر ایک چیز پر اس کو اختیار
کر لے تب بھی وہ اس پر اپنی شناخت کا دروازہ نہیں کھولتا اور مکالمات ومخاطبات سے اس کو مشرف نہیں کرتا۔ میں
خداتعالیٰ کی قسم کھا کر کہتا ہوں کہ اس زم انے میں مجھ سے زیادہ بیزار ایسے مذہب سے اور کوئی نہ ہوگا۔
(دریں چہ شک) میں ایسے مذہب کا نام شیطانی مذہب رکھتا ہوں نہ کہ رحمانی۔‘‘
(ضمیمہ براہین احمدیہ حصہ پنجم ص۱۸۳، خزائن ج۲۱ ص۳۵۳،۳۵۴)
’’وہ نبوت چل سکے گی جس پر آپ کی مہر ہوگی۔ ورنہ اگر نبوت کا دروازہ بالکل بند سمجھا جاوے تو نعوذباللہ
اس سے تو انقطاع فیض لازم آتا ہے اور اس میں تو نحوست ہے اور نبی کی ہتک شان ہوتی ہے۔ گویا اللہ تعالیٰ نے اس
امت کو یہ جو کہا کہ: ’’کنتم خیر امۃ‘‘ یہ جھوٹ تھا۔ نعوذ باللہ اگر یہ معنی کئے
جائیں کہ آئندہ کے واسطے نبوت کا دروازہ ہرطرح سے بند ہے تو پھر ’’خیرالامۃ‘‘ کے
بجائے ’’شرالامم‘‘ ہوئی… اس طرح تو ماننا پڑے کہ نعوذ باللہ آنحضرت ﷺ کی قوت قدسی کچھ
بھی نہ تھی اور آپ حضرت موسیٰ سے مرتبے میں گرے ہوئے تھے کہ ان کے بعد تو ان کی امت میں سے سینکڑوں نبی آئے
مگر آپ کی امت سے خداتعالیٰ کو نفرت ہے کہ ان میں سے کسی ایک کے ساتھ مکالمہ بھی نہ کیا۔ کیونکہ جس کے ساتھ
محبت ہوتی ہے، آخر اس سے کلام تو کیا ہی جاتا ہے۔‘‘
176
ایک کے ساتھ مکالمہ بھی نہ کیا۔ کیونکہ جس کے ساتھ محبت ہوتی ہے، آخر اس سے کلام تو کیا ہی جاتا
ہے۔‘‘
(الحکم قادیان ج۷ نمبر۱۴ ص۸ کالم۲،۳، مؤرخہ ۱۷؍اپریل ۱۹۰۳ء، ملفوظات ج۵ ص۳۴۴، جدید ملفوظات ج۳ ص۲۴۹)
’’حضرت مسیح موعود کا یہ فرمانا کہ رسول اللہ ﷺ کے افاضہ کا کمال ثابت کرنے کے لئے اللہ تعالیٰ نے مجھے
مقام نبوت پر پہنچایا۔ ثابت کرتا ہے کہ آپ کو واقع میں نبی بنادیا گیا، ورنہ کسی اور معنے کی رو سےآنحضرت ﷺ
کے افاضہ کمال ثابت نہیں ہوتا۔‘‘
(حقیقت النبوۃ ص۱۲۲، انوارالعلوم ج۲ ص۵۳۶)
’’پس یہ ممکن نہ تھا کہ وہ قوم جس کے لئے فرمایا گیا کہ: ’’کنتم خیر امۃ اخرجت
للناس‘‘ اور جن کے لئے یہ دعا سکھائی گئی کہ: ’’اہدنا الصراط المستقیم صراط الذین
انعمت علیہم‘‘ ان کے تمام افراد اس مرتبہ عالیہ سے محروم رہتے اور کوئی ایک فرد بھی اس مرتبہ کو
نہ پاتا اور ایسی صورت میں صرف یہی خرابی نہیں تھی کہ امت محمدیہ ناقص اور ناتمام رہتی اور سب کے سب اندھوں
کی طرح رہتے۔ بلکہ یہ بھی نقص تھا کہ آنحضرت ﷺ کی قوت فیضان پر داغ لگتا تھا اور آپ کی قوت قدسیہ ناقص
ٹھہرتی تھی۔‘‘
(الوصیۃ ص۱۱، خزائن ج۲۰ ص۳۱۲)
’’یہ خدائے تعالیٰ پر بدظنی ہے کہ اس نے مسلمانوں کو یہود ونصاریٰ کی بدی کا تو حصہ دار ٹھہرا دیا ہے۔
یہاں تک کہ ان کا نام یہود بھی رکھ دیا۔ مگر ان کے رسولوں اور نبیوں کے مراتب میں سے اس امت کو کوئی حصہ نہ
دیا۔ پھر یہ امت خیرالامم کس وجہ سے ہوئی؟ بلکہ شرالامم ہوئی کہ ہر ایک نمونہ شر کا ان کو ملا مگر نیکی کا
نمونہ نہ ملا۔ کیا ضرور نہیں کہ اس امت میں بھی کوئی نبیوں اور رسولوں کے رنگ میں نظر آوے جو بنی اسرائیل کے
تمام نبیوں کا وارث اور ان کا ظل ہو؟‘‘
(کشتی نوح ص۴۷، خزائن ج۱۹ ص۴۷)
’’اور یہی محبت تو ہے جو مجھے اس بات پر مجبور کرتی ہے کہ باب نبوت کے بکلی بند ہونے کے عقیدے کو جہاں
تک ہو سکے باطل کروں کہ اس میں آنحضرت ﷺ کی ہتک ہے… کہ یہ مان لیا جائے کہ آپ کے بعد کوئی نبی ہی نہیں آئے
گا۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ آپ کا فیضان ناقص اور آپ کی تعلیم کمزور ہے کہ اس پر چل کر انسان اعلیٰ سے اعلیٰ
انعامات نہیں پاسکتا۔ دنیا میں وہی استاد لائق کہلاتا ہے جس کے شاگرد لائق ہوں اور وہی افسر معزز کہلاتا ہے
جس کے ماتحت معزز ہوں۔ یہ بات ہر گز فخرکے قابل نہیں کہ آپ کے شاگردوں میں سے کسی نے اعلیٰ مراتب نہیں پائے
بلکہ آپ کی عزت بڑھانے والی یہ بات ہے کہ آپ کے شاگردوں میں سے ایک ایسا لائق ہوگیا جو دوسرے استادوں سے بھی
بڑھ گیا۔آنحضرت ﷺ کے بعد بعثت انبیاء کو بالکل مسدود قرار دینے کا یہ مطلب ہے کہ آنحضرت ﷺ نے دنیا کو فیض
نبوت سے روک دیا اور آپ کی بعثت کے بعد اللہ تعالیٰ نے اس انعام کو بند کر دیا۔ اب بتاؤ کہ اس عقیدہ سےآنحضرت
ﷺ رحمۃ اللعالمین ثابت ہوتے ہیں یا اس کے خلاف۔ (نعوذ باللہ من ذلک) اگر اس عقیدہ کو
تسلیم کیا جائے تو اس کے یہ معنی ہوں گے کہ آپ (رسول اللہ ﷺ) نعوذ باللہ دنیا کے لئے ایک عذاب کے طور پر آئے تھے
اور جو شخص ایسا خیال کرتا ہے وہ لعنتی مردود ہے۔‘‘
(حقیقت النبوۃ ص۱۸۶،۱۸۷، انوار العلوم ج۲ ص۵۰۳،۵۰۴)
’’ہم کہتے ہیں کہ ساری امت صحابہ سے لے کر مسیح موعود تک (یا بقول مرزامحمود کے مرزاقادیانی کو الگ کر
لو پھر باقی تیرہ صدیوں کے) کل صلحاء مع صحابہ کبار، کل آئمہ محدثین یہ سب آنحضرت ﷺ کو دنیا کے لئے لعنت
خیال کرتے تھے اور کیا واقعی یہ لوگ (نعوذ باللہ من ذالک) لعنتی اور مردود تھے۔ وہ
صحابی جن کو کہا گیا: ’’انت منی بمنزلۃ ہارون من
177
موسی الا انہ لا نبی بعدی‘‘ وہ جس کو کہا گیا: ’’لوکان
بعدی نبی لکان عمر‘‘ وہ اپنے دلوں کیا یہ نہ سمجھتے تھے کہ آنحضرت ﷺ کے بعد نبی نہیں ہوسکتا۔ اگر
سمجھتے تھے تو میاں صاحب کی محک پر وہ کیا ہوئے اور پھر وہ جس نے خود یہ لفظ کہے، وہ میاں صاحب کے نزدیک کیا
ہوا۔ افسوس کہ دین کو بچوں کا کھیل بنا لیا گیا۔ ختم نبوت کا مسئلہ وہ ہے جس پر امت کا اجماع ہے۔آنحضرت ﷺ کے
بعد نبی کا آنا کسی نے نہیں مانا… اور پھر میں پوچھتا ہوں کہ جس صورت میں میاں صاحب یہ بھی مانتے ہیں کہ اس
امت میں نبی کا نام پانے کے لئے صرف مسیح موعود ہی مخصوص ہوئے تو اب ظاہر ہے کہ مسیح موعود کے بعد اگر کوئی
نبی ہو تو یہ خصوصیت جاتی رہی۔ ایسا ہی میاں صاحب آیت: ’’اخرین منہم لما یلحقوا بہم‘‘
سے بھی یہ ثابت کرنا چاہتے ہیں کہ مسیح موعود کے سوا کوئی رسول نہیں۔ جیسا کہ انہوں نے ص۲۳۱ ’’حقیقت
النبوۃ‘‘ پر لکھا ہے: ’’بلکہ بعض جگہ صاف الفاظ میں اپنی ہی جماعت کی نسبت آخرین کے لفظ پر حصر کیا ہے اور
اگر آپ سے پہلے بھی کوئی رسول اسی قسم کا مانا جائے جیسے کہ آپ تھے تو اس کی جماعت بھی ’’اخرین منہم‘‘ کے ماتحت اصحاب رسول اللہ بن جائے گی۔ لیکن چونکہ اس امت میں سوائے حضرت
مسیح موعود کی جماعت کے کسی جماعت کو آخرین نہیں قرار دیا گیا۔ معلوم ہوا کہ رسول بھی صرف مسیح موعود ہیں۔‘‘
تو اس صورت میں آخری رسول مسیح موعود ہوئے اور اس امت میں پھر سلسلہ رسالت ختم ہوا۔ کیا اب مسیح موعود نعوذ باللہ من ذلک میاں صاحب کے الفاظ میں دنیا کے لئے عذاب ہوئے یا نہیں اور آنحضرت کا
اس سے کیا بچاؤ ہوا۔ اگر ایک رسول آپ کے بعد آگیا جو اس زم انے میں جو قیامت تک ممتد ہے، نہ آنے کے برابر
ہے اور پھر کیا وہ قرآن جس کے بعد کوئی کتاب نہیں، وہ اسی اعتراض کے ماتحت نہیں جس کے ماتحت آنحضرت ﷺ آخری
نبی ہونے کی وجہ سے ہیں۔ کیا قرآن دنیا کے لئے عذاب ہے جو اس کے بعد کوئی کتاب نہیں۔‘‘
(النبوۃ فی الاسلام ص۱۰۵تا۱۰۷ حاشیہ، مصنفہ مولوی محمد علی لاہوری قادیانی)
(۹) مسلمانوں کا دھوکا
’’میرے نزدیک درود کے ذریعے دعاء سکھ انے میں بہت بڑی حکمت ہے اور وہ یہ کہ مسلمانوں کو یہ دھوکا لگنے
والا تھا کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کی امت کو جو کچھ ملا، وہ محمد ﷺ کی ذریت کو نہیں مل سکتا۔ حضرت
ابراہیم کے متعلق تو خداتعالیٰ نے فرمایا تھا کہ ہم تمہاری ذریت میں نبوت رکھتے ہیں مگر مسلمانوں نے یہ
دھوکا کھانا تھا کہ امت محمدیہ اس نعمت سے محروم کر دی گئی ہے اور اس طرح رسول کریم ﷺ کی ہتک ہوتی تھی۔ اس
لئے یہ دعا سکھائی گئی کہ جو کچھ حضرت ابراہیم علیہ السلام کی امت کو ملا، اس سے بڑھ کر رسول کریم ﷺ کی امت
کو ملے اور اس میں نبوت بھی آگئی۔ پس جب کوئی مسلمان درود کی دعا پڑھتا ہے تو گویا یہ کہتا ہے کہ: ’’واجعلنا فی ذریۃ النبوۃ‘‘ کا جو انعام حضرت ابراہیم علیہ السلام پر ہوا تھا وہ حضرت
محمد ﷺ پر بھی ہو… پس درود میں یہ دعا کی جاتی ہے کہ جو کچھ حضرت ابراہیم کی امت کو دیاگیا، اس سے بڑھ کر
ہمیں دے اور یہ اسی طرح ہو سکتا ہے کہ رسول کریم ﷺ کی امت میں جو نبی آئے وہ ابراہیمی سلسلہ کے نبیوں سے بڑھ
کر ہو۔ ہاں! ان میں یہ بھی فرق ہوگا کہ رسول کریم ﷺ کی روحانی ذریت میں نبوت رکھی اور حضرت ابراہیم علیہ
السلام کی جسمانی ذریت ہیں۔‘‘
(درود شریف کی تفسیر، از محمود خلیفہ قادیان مندرجہ درود شریف ص۱۳۲،۱۳۳، مؤلفہ محمد اسماعیل قادیانی)
(۱۰) صلائے عام ہے یاران نکتہ داں کے لئے
’’اپنے تئیں صرف ظاہری صورت اسلام سے دھوکا مت دو اور خدا کی کلام کو غور سے پڑھو کہ وہ تم سے کیا
چاہتا ہے۔ وہ وہی امرتم
178
سے چاہتا ہے جس کے بارے میں سورۂ فاتحہ میں تمہیں دعا سکھلائی گئی ہے یعنی یہ دعا کہ: ’’اہدنا الصراط المستقیم صراط الذین انعمت علیہم‘‘ پس جب کہ خدا تمہیں یہ تاکید کرتا
ہے کہ پنج وقت یہ دعا کرو کہ وہ نعمتیں جو نبیوں اور رسولوں کے پاس ہیں، وہ تمہیں بھی ملیں۔ پس تم بغیر
نبیوں رسولوں کے ذریعہ کے وہ نعمتیں کیونکر پاسکتے ہو۔ لہٰذا ضرور ہوا کہ تمہیں یقین اور محبت کے مرتبے پر
پہنچانے کے لئے خدا کے انبیاء وقتاً بعد وقت آتے رہیں جن سے تم وہ نعمتیں پاؤ۔ اب کیا تم خداتعالیٰ کا
مقابلہ کرو گے اور اس کے قدیم قانون کو توڑ دو گے۔‘‘
(لیکچر سیالکوٹ ص۳۲، خزائن ج۲۰ ص۲۲۷)
’’قرآن کریم نبوت کو رحمت بھی قرار دیتا ہے۔ چنانچہ حضرت موسیٰ علیہ السلام اپنی قوم سے فرماتے ہیں:
اے قوم! اللہ تعالیٰ کی ان نعمتوں کو یاد کرو جو اس نے تم پر کیں اور وہ یہ ہیں کہ اس نے تم میں سے نبی بنائے
اور تمہیں دنیوی سلطنت بھی عطاء کی۔ پس نبوت جب کہ رحمت الٰہی ہے اور یہ بھی ثابت ہوگیا کہ اللہ تعالیٰ اپنی
سنت میں تبدیلی نہیں کرتا تو عقلاً ونقلاً کسی شخص کے لئے یہ کہنا جائز نہیں کہ ضرورت کے وقت رسول کریم ﷺ کے
بعد کوئی نبی نہیں آسکتا۔ افسوس ہے کہ غیراحمدی علماء جن غلطیوں میں پڑ گئے، ان میں سے ایک اہم ترین غلطی یہ
ہے کہ انہوں نے خیال کر لیا کہ رسول کریم ﷺ پر سلسلہ نبوت خداتعالیٰ نے بند کر دیا اور اب خواہ کتنی ہی
ضرورت داعی ہو کوئی نبی اس کی طرف سے مبعوث نہیں کیاجاسکتا۔ نہیں کہا جاسکتا کہ وہ رسول کریم ﷺ کو رحمۃ
اللعالمین سمجھتے ہوئے کیوں اس افسوس ناک غلطی کا ارتکاب کرتے ہیں۔‘‘
(الفضل قادیان ج۲۱ نمبر۱۳۳ ص۵ کالم۱،۲، مؤرخہ ۸؍مئی ۱۹۳۴ء)
’’بہرحال یہ خیال کہ رسول کریم ﷺ کے بعد دروازۂ نبوت بند ہوچکا ہے، بالکل باطل اور لغو خیال ہے۔ قرآن
اور احادیث اور امت محمدیہ کے بہترین افراد اس عقیدے کی لغویت کا اعلان کر رہے ہیں اور درحقیقت امت محمدیہ
کی شان بھی اسی میں ہے کہ اس میں جہاں صلحاء واولیاء شہداء اور اصدقاء پیدا ہوں، وہاں ایسے بھی انسان ہوں،
جو خدا سے شرف مکالمہ ومخاطبہ حاصل کر کے نبی بن جائیں تاامت محمدیہ حقیقی معنوں میں خیرالامم کہلا سکے۔
تعجب ہے کہ ہمارے مخالف کہنے کو تو کہتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ افضل الرسل ہیں اور یہ کہ امت محمدیہ تمام امتوں
پر فوقیت رکھتی ہے مگر عقیدہ وہ رکھتے ہیں جس کے ماتحت نہ صرف امت محمدیہ خیرالامم نہیں کہلا سکتی بلکہ رسول
کریم ﷺ کی قوت قدسیہ پر بھی حرف آتا ہے۔ اگر امت موسویہ میں باوجود کمتر درجہ ہونے کے اللہ تعالیٰ کے انبیاء
آسکتے ہیں تو کیوں امت محمدیہ میں ضرورت کے وقت نبی نہیں آسکتے۔ حق یہی ہے کہ رسول کریم ﷺ کی شان اور امت
محمدیہ کی فوقیت اسی میں ہے کہ ضرورت کے وقت امت محمدیہ میں نبی پیدا ہوں جو رسول کریم ﷺ کے خادم ہوکر بنی
اسرائیل کے نبیوں سے بڑھ کر ہوں تامعلوم ہو کہ جس کے خادم ایسے ہیں، ان کا آقا کس شان کا مالک ہے۔‘‘
’’جس کا صاف مطلب یہ ہے کہ آنحضرت ﷺ کی امت میں صرف محدثیت ہی جاری نہیں بلکہ اس سے اوپر نبوت کا بھی
سلسلہ جاری ہے… پس یہ بات بالکل روزروشن کی طرح ثابت ہے کہ آنحضرت ﷺ کے بعد نبوت کا دروازہ کھلا ہے… اور جب
کہ نبوت کا دروازہ علاوہ محدثیت کے امت محمدیہ میں کھلا ثابت ہوگیا تو یہ بھی ثابت ہوگیا کہ مسیح موعود بھی
نبی اللہ تھے۔‘‘
(حقیقت النبوۃ ص۲۲۸،۲۲۹، انوار العلوم ج۲ ص۵۴۲)
’’میں مرزاقادیانی کو نبی قرار دینا نہ صرف اسلام کی ہی بیخ کنی سمجھتا ہوں بلکہ میرے نزدیک خود
مرزاقادیانی پر بھی اس سے بہت بڑی زد پڑتی ہے۔ اگر تم آنحضرت ﷺ کے بعد نبوت کا دروازہ بند نہیں مانتے تو
میرے نزدیک یہ بڑی خطرناک راہ ہے اور تم خطرناک غلطی کے مرتکب ہوتے ہو۔‘‘
(خطبہ جمعہ مولوی محمد علی، امیر جماعت لاہور، پیغام صلح لاہور ج۲ نمبر۱۱۹، مؤرخہ ۶؍اپریل ۱۹۱۵ء،
الفضل قادیان ج۲ نمبر۱۳۴ ص۴ کالم۱، مؤرخہ یکم؍مئی ۱۹۱۵ء)
179
(۱۱) پیغمبروں کا سلسلہ
’’۲۶؍فروری ۱۹۰۱ء حضرت مسیح موعود نے فرمایا: ’’اہدنا الصراط المستقیم‘‘ کی
دعا سے ثابت ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ ایک ظلی سلسلہ پیغمبروں کا اس امت میں قائم کرنا چاہتا ہے مگر جیسا کہ قرآن
کریم میں سارے انبیاء کا ذکر نہیں اور حضرت موسیٰ اور حضرت عیسیٰ کا ذکر کثرت سے ہے۔ اس سے ثابت ہوتا ہے کہ
اس امت میں بھی مثیل موسیٰ یعنی آنحضرت ﷺ اور مثیل عیسیٰ یعنی امام مہدی سب سے عظیم الشان اور خاص ذکر کے
قابل ہیں۔‘‘
(اخبار الحکم قادیان ج۵ نمبر۱۰ ص۸ کالم۲،۳، مؤرخہ ۱۷؍مارچ ۱۹۰۱ء، منقول از منظور الٰہی ص۲۳۱، ملفوظات
ج۲ ص۲۲۳، جدید ملفوظات ج۱ ص۴۵۵)
(۱۲) مسئلہ نبوت
’’ایک اور بڑی اصلاح جو حضرت مسیح موعود (مرزاقادیانی) نے مسلمانوں کے خیالات میں فرمائی وہ مسئلہ
نبوت کے متعلق تھی۔ کئی صدیوں کے تنزل کے زمانہ میں ہمتوں کے پست ہو جانے کی وجہ سے اور بعض قرآنی آیات اور
احادیث کا غلط مطلب سمجھنے کے نتیجہ میں مسلمانوں میں یہ خیال پیدا ہوگیا تھا کہ آنحضرت ﷺ کے بعد ہر قسم کی
نبوت کا دروازہ بند ہوچکا ہے اور اب کوئی شخص نبوت کے مقام پر فائز نہیں ہوسکتا… حضرت مسیح موعود نے دلائل
کے ساتھ ثابت کیا کہ یہ عقیدہ بالکل خلاف تعلیم اسلام اور خلاف عقل ہے۔‘‘
(سلسلہ احمدیہ جلد اوّل ص۲۷۱)
(۱۳) آئندہ نبی
’’اس لئے ہم اس امت میں صرف ایک ہی نبی کے قائل ہیں۔ آئندہ کا حال پردۂ غیب میں ہے… اس پر بحث کرنا
انبیاء کا کام ہے نہ ہمارا۔ پس ہمارا یہ عقیدہ ہے کہ اس وقت تک اس امت میں کوئی اور شخص نبی نہیںگزرا کیونکہ
اس وقت تک نبی کی تعریف کسی اور انسان پر صادق نہیں آتی۔‘‘
(حقیقت النبوۃ ص۱۳۸، انوارالعلوم ج۲ ص۴۶۰،۴۶۱)
’’آپ کا چوتھا سوال یہ ہے کہ مرزاقادیانی کے بعد کوئی اور نبی آئے گا یا آسکتا ہے؟ اگر کوئی اور نبی
نیا مبعوث ہو تو احمدی لوگ اس پر ایمان لائیں گے یا نہیں؟ اس کا جواب یہ ہے کہ حضرت مرزاصاحب کے بعد نبی
آسکتا ہے۔ آئے گا کے متعلق میں قطعی طور پر کچھ نہیں کہہ سکتا۔ ہاں! حضرت مسیح موعود کی کتب سے ایسا معلوم
ہوتا ہے کہ کوئی ایسا نبی آئے گا۔ جب وہ نبی آئے گا، اس پر ایمان لانا احمدیوں کے لئے ضروری ہوگا۔‘‘
(مکتوب مرزامحمود خلیفہ قادیان، الفضل قادیان ج۱۴ نمبر۸۵، مؤرخہ ۲۹؍اپریل ۱۹۲۷ء)
’’سوال: حضرت مسیح موعود (مرزاقادیانی) کے بعد بھی جب نبی آنے کا امکان ہے تو آپ کو آخری زمانے کا نبی
کہنے کا کیا مطلب ہے؟
جواب: آخری زمانے کا نبی اصطلاح ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ آپ کے توسط کے بغیر کسی کو نبوت کا درجہ حاصل
نہیں ہو سکتا۔ اب کوئی ایسا نبی نہیں آسکتا جو یہ کہے کہ رسول کریم ﷺ سے براہ راست تعلق پیدا کر کے نبی بن
سکا۔ حضرت مسیح موعود فرماتے ہیں میری اتباع کے بغیر کسی کو قرب الٰہی حاصل نہیں ہوسکتا۔ پس آئندہ خواہ کوئی
نبی ہو، اس کے لئے حضرت مسیح موعود پر ایمان لانا ضروری ہے۔‘‘
(ارشاد مرزامحمود خلیفہ قادیان، الفضل قادیان ج۲۰ نمبر۱۳۰ ص۷ کالم۱، مؤرخہ ۲؍مئی ۱۹۳۳ء)
’’کئی جاہل لوگ (قادیانی صاحبان) جب مجھ سے ملتے ہیں تو کہہ دیتے ہیں السلام یا نبی اللہ۔ میں انہیں
سمجھاتا ہوں اور بتاتا ہوں کہ میں نبی نہیں۔ میں تو نبی کا نائب ہوں۔‘‘
(خطبہ جمعہ، الفضل قادیان ج۱۶ نمبر۶۳ ص۷ کالم۲، مؤرخہ ۸؍فروری ۱۹۲۹ء، خطبات محمود ج۱۲ ص۳۳)
180
(۱۴) انبیاء عظام
’’خاتم النّبیین آنے والے نبیوں کے لئے روک نہیں ہے۔ انبیاء عظام حضرت مسیح موعود (مرزاقادیانی) کے
خادموں میں پیدا ہوں گے اور وہ ہمیشہ اسلام کے محافظ اور شائع کرنے والے ہوں گے۔ ان کا کام صرف یہی ہوگا کہ
جب اسلام کے چہرہ منور اور جسم صفاء پر نفسانیت اور تیرگی علم کے باعث علماء کجرو گردوغبار ڈال دیں گے تو وہ
اس کو صاف کر دیا کریں گے۔‘‘
(الفضل قادیان، خاتم النّبیین نمبر ج۱۵ ص۱۵ کالم۳ نمبر۹۶،۹۷، مؤرخہ ۱۲؍جون ۱۹۲۸ء)
(۱۵) ہزاروں نبی
’’انہوں نے… یہ سمجھ لیا ہے کہ خدا کے خزانے ختم ہوگئے… ان کا یہ سمجھنا خداتعالیٰ کی قدر کو ہی نہ
سمجھنے کی وجہ سے ہے۔ ورنہ ایک نبی کیا میں تو کہتا ہوں ہزاروں نبی ہوں گے۔‘‘
(انوار خلافت ص۶۲، انوار العلوم ج۳ ص۱۲۴)
’’اگر میری گردن کے دونوں طرف بھی تلوار رکھ دی جائے اور مجھے کہا جائے کہ تم یہ کہو کہ آنحضرت ﷺ کے
بعد کوئی نبی نہیں آئے گا تو میں اسے کہوں گا تو جھوٹا ہے، کذاب ہے۔ آپ کے بعد نبی آسکتے ہیں اور ضرور آسکتے
ہیں۔‘‘
(انوار خلافت ص۶۵، انوار العلوم ج۳ ص۱۲۷)
’’ہمارا یہ بھی یقین ہے کہ اس امت کی اصلاح اور درستی کے لئے ہر ضرورت کے موقع پر اللہ تعالیٰ اپنے
انبیاء بھیجتا رہے گا۔‘‘
(ارشاد مرزامحمود خلیفہ قادیان، الفضل قادیان ج۱۲ نمبر۱۲۴ ص۵ کالم۳، مؤرخہ ۱۲؍مئی ۱۹۲۵ء)
’’اب سوال یہ ہے کہ اس مسئلہ کی آنحضرت ﷺ کے بعد کیا ضرورت ہے۔ کیونکہ آپ کے بعد کوئی نبی تو آنا نہیں
مگر اس کے متعلق یہ معلوم ہونا چاہئے کہ نبی ضرور آئیں گے۔ نہ آنے کی کوئی وجہ نہیں۔ اوّل اس لئے کہ مسلمان
معصوم نہیں ہو گئے کہ ان سے غلطیاں اور بداعتقادیاں اور بدعملیاں ظاہر ہونا ناممکن ہیں۔ جب یہ ناممکن نہیں
تو نبیوں کا آنا ضروری ہے۔ دوسرے یہ کہ اگر مصلحین کی ضرورت نہ تھی تو مجددین کی کیوں پیش گوئی فرمائی
گئی۔‘‘
(تقریر حافظ روشن علی، جلسہ سالانہ قادیان، الفضل قادیان ج۱۰ نمبر۵۱ ص۵ کالم۱، مؤرخہ ۴؍جنوری ۱۹۲۳ء)
’’سوال: کیا آئندہ بھی نبیوں کا آنا ممکن ہے؟
جواب:
ہاں! قیامت تک رسول آتے رہیں گے۔ اگر یہ خیال ہے کہ دنیا میں خرابی پیدا ہوتی رہے گی تو پھر یہ ماننا
پڑے گا کہ رسول بھی آتے رہیں گے۔ جب تک بیماری ہے، تب تک ڈاکٹر کی بھی ضرورت ہے۔ اگر یہ مانیں کہ کفر تو
دنیا میں موجود ہوگا لیکن ہدایت کا سامان نہ ہوگا تو پھر بجائے رسول کریم ﷺ کا احسان ماننے کے آپ کی طرف ظلم
منسوب ہوگا کہ آپ نے ہدایت کا راستہ بند کر دیا لیکن محمد رسول اللہ ﷺ تو رحمت للعالمین ہیں۔ ان کی رحمت تمام
زمانوں اور تمام قوموں پر وسیع ہے۔ لیکن اگر یہ مانا جائے کہ آپ کے بعد کوئی نبی نہ آئے گا تو اس صورت میں
رحمۃ للعالمین نہیں ٹھہریں گے۔‘‘
(ارشاد مرزامحمود خلیفہ قادیان، الفضل قادیان ج۱۴ نمبر۶۸، مؤرخہ ۲۷؍فروری ۱۹۲۷ء)
’’خدارا غور کرو کہ اگر یہ عقیدہ میاں (مرزامحمود) صاحب کا درست ہے کہ نبی آتے رہیں گے اور ہزاروں نبی
آئیں گے جیسا کہ انہوں نے بالصراحت ’’انوار خلافت‘‘ میں لکھ دیا ہے تو یہ ہزاروں گروہ ایک دوسرے کو کافر
کہنے والے ہوں گے یا نہیں اور اسلامی وحدت کہاں ہوگی۔ یہ بھی مان لو کہ وہ سارے نبی احمدی جماعت میں ہی ہوں
گے تو پھر احمدی جماعت کے کتنے ٹکڑے ہوں گے۔ آخر گزشتہ سنتوں سے تم اتنے ناواقف نہیں ہو کہ کس طرح نبی کے
آنے پر ایک گروہ اس کے ساتھ اور ایک خلاف ہوتا ہے۔ وہ خدا جو محمد رسول اللہ ﷺ کے
181
ہاتھ پر کل دنیا کی قوموں کو ایک کرنے کا ارادہ ظاہر کر چکا ہے، کیا اب وہ مسلمانوں کو اس طرح ٹکڑے
ٹکڑے کر دے گا کہ ایک دوسرے کو کافر کہہ رہے ہوں اور آپس میں کوئی تعلقات اخوت اسلامی کے نہ رہ گئے ہوں۔ یاد
رکھو کہ اگر اسلام کو کل ادیان پر غالب کرنے کا وعدہ سچا ہے تو یہ مصیبت کا دن اسلام پر کبھی نہیں آسکتا کہ
ہزاروں ٹولیاں نبی اپنی اپنی علیحدہ علیحدہ لئے پھرتے ہوں اور ہزارہا ڈیڑھ اینٹ کی مسجدیں ہوں جن کے پجاری
اپنی اپنی جگہ ایمان اور نجات کے ٹھیکے دار بنے ہوئے ہوں اور دوسرے تمام مسلمانوں کو کافر، بے ایمان قرار دے
رہے ہوں۔‘‘
(ردتکفیر اہل قبلہ ص۴۹،۵۰، مصنفہ مولوی محمد علی لاہوری قادیانی، امیر جماعت لاہور)
’’یاد رکھو جس دن تمہارے دل میں یہ وسوسہ پیدا ہوا کہ حضرت مسیح موعود سے علیحدہ ہوکر بھی ہم کچھ کر
سکتے ہیں وہی دن تمہاری تباہی کا دن ہوگا۔ اسی لمحہ سے نئے نبی کی ضرورت محسوس ہوگی جو آکر نئی جماعت بنائے
گا اور تم برباد کئے جاؤ گے۔ وہی بات سچ ہے جو حضرت مسیح موعود (مرزاقادیانی) نے کہی اور جو آپ کے خلاف
کوئی دوسرا کہے، وہ غلط ہے۔‘‘
(خطبہ جمعہ، الفضل قادیان ج۱۲ نمبر۴ ص۹ کالم۱، مؤرخہ ۱۵؍جولائی ۱۹۲۴ء، خطبات محمود ج۸ ص۴۵۸)
(۱۶) نبوت کا ایقان واعلان
’’جس بناء پر میں اپنے تئیں نبی کہلاتا ہوں، وہ صرف اس قدر ہے کہ میں خداتعالیٰ کی ہم کلامی سے مشرف
ہوں اور وہ میرے ساتھ بکثرت بولتا اور کلام کرتا ہے اور میری باتوں کا جواب دیتا ہے اور بہت سی غیب کی باتیں
میرے پر ظاہر کرتا اور آئندہ زمانوں کے وہ راز میرے پر کھولتا ہے کہ جب تک انسان کو اس کے ساتھ خصوصیت کا
قرب نہ ہو، دوسرے پر وہ اسرار نہیں کھولتا اور ان ہی امور کی کثرت کی وجہ سے اس نے میرا نام نبی رکھا ہے۔ سو
میں خدا کے حکم کے موافق نبی ہوں اور اگر میں اس سے انکار کروں تو میرا گناہ ہوگا اور جس حالت میں خدا میرا
نام نبی رکھتا ہے، تو میں کیوں کر انکار کر سکتا ہوں۔ میں اس پر قائم ہوں۔ اس وقت تک جو اس دنیا سے گزر
جاؤں۔‘‘
(مرزاقادیانی کا خط مؤرخہ ۲۳؍مئی ۱۹۰۸ء بنام اخبار عام لاہور، حقیقت النبوۃ ص۲۷۰،۲۷۱، انوار العلوم
ج۲ ص۵۸۰،۵۸۱)
’’چند روز ہوئے ہیں کہ ایک صاحب پر ایک مخالف کی طرف سے یہ اعتراض پیش ہوا کہ جس سے تم نے بیعت کی ہے،
وہ نبی اور رسول ہونے کا دعویٰ کرتا ہے اور اس کا جواب محض انکار کے الفاظ سے دیا گیا۔ حالانکہ ایسا جواب
صحیح نہیں ہے۔ حق یہ ہے کہ خداتعالیٰ کی وہ پاک وحی جو میرے پر نازل ہوتی ہے اس میں ایسے لفظ رسول اور مرسل
اور نبی کے موجود ہیں نہ ایک دفعہ بلکہ صدہا دفعہ، پھر کیونکر یہ جواب صحیح ہوسکتا ہے کہ ایسے الفاظ موجود
نہیں ہیں۔‘‘
(ایک غلطی کا ازالہ ص۱، خزائن ج۱۸ ص۲۰۶)
’’پس میں جبکہ اس مدت تک ڈیڑھ سو پیش گوئی کے قریب خدا کی طرف سے پاکر بچشم خود دیکھ چکا ہوں کہ صاف
طور پر پوری ہوگئیں تو میں اپنی نسبت نبی یا رسول کے نام سے کیونکر انکار کر سکتا ہوں اور جب کہ خود
خداتعالیٰ نے یہ نام میرے رکھے ہیں تو میں کیونکر رد کروں یا کیونکر اس کے سوا کسی دوسرے سے ڈروں۔‘‘
(ایک غلطی کا ازالہ ص۳، خزائن ج۱۸ ص۲۱۰)
’’اور خداتعالیٰ نے اس بات کے ثابت کرنے کے لئے کہ میں اس کی طرف سے ہوں اس قدر نشان دکھلائے ہیں کہ
اگر وہ ہزارنبی پر بھی تقسیم کئے جائیں تو ان کی بھی ان سے نبوت ثابت ہو سکتی ہے… لیکن پھر بھی جو لوگ
انسانوں میں سے شیطان ہیں وہ نہیں مانتے۔‘‘
(چشمہ معرفت ص۳۱۷، خزائن ج۲۳ ص۳۳۲)
182
’’خدا نے میرے ہزارہا نشانوں سے میری وہ تائید کی ہے کہ بہت ہی کم نبی گزرے ہیں جن کی یہ تائید کی
گئی۔ لیکن پھر بھی جن کے دلوں پر مہریں ہیں، وہ خدا کے نشانوں سے کچھ بھی فائدہ نہیں اٹھاتے۔‘‘
(تتمہ حقیقت الوحی ص۱۴۹، خزائن ج۲۲ ص۵۸۷)
’’اور میں اس خدا کی قسم کھا کر کہتا ہوں جس کے ہاتھ میں میری جان ہے کہ اسی نے مجھے بھیجا ہے اور اسی
نے میرا نام نبی رکھا ہے اوراسی نے مجھے مسیح موعود کے نام سے پکارا ہے اور اس نے میری تصدیق کے لئے بڑے بڑے
نشان ظاہر کئے ہیں جو تین لاکھ تک پہنچتے ہیں۔‘‘
(تتمہ حقیقت الوحی ص۶۸، خزائن ج۲۲ ص۵۰۳)
’’تیسری بات جو اس وحی سے ثابت ہوئی ہے وہ یہ ہے کہ خداتعالیٰ بہرحال جب تک طاعون دنیا میں رہے گا، گو
ستر برس تک رہے، قادیان کو اس کی خوفناک تباہی سے محفوظ رکھے گا۔ کیونکہ یہ اس کے رسول کا تخت گاہ ہے اور یہ
تمام امتوں کے لئے نشان ہے… سچا خدا وہی خدا ہے جس نے قادیان میں اپنا رسول بھیجا۔‘‘
(دافع البلاء ص۱۰،۱۱، خزائن ج۱۸ ص۲۳۰،۲۳۱)
’’(ایک انگریز اور لیڈی جو شکاگو سے قادیان آئے) ان کے اس سوال پر کہ آپ نے جو دعویٰ کیا ہے، اس کی
سچائی کے دلائل کیا ہیں۔ (مرزاقادیانی نے جواب دیا) میں کوئی نیا نبی نہیں۔ مجھ سے پہلے سینکڑوں نبی آچکے
ہیں… جن دلائل سے کوئی سچا نبی مانا جاسکتا ہے وہی دلائل میرے صادق ہونے کے ہیں۔ میںبھی منہاج نبوت پر آیا
ہوں۔‘‘
(اخبار الحکم قادیان مؤرخہ ۱۰؍اپریل ۱۹۰۸ء، منقول از اخبار الفضل قادیان ج۲۲ نمبر۸۵ ص۶ کالم۲، مؤرخہ
۱۵؍جنوری ۱۹۳۵ء، ملفوظات ج۱۰ ص۲۱۷، جدید ملفوظات ج۵ ص۵۱۶)
’’میں کوئی نیا نبی نہیں ہوں پہلے بھی کئی نبی گزرے ہیں جنہیں تم لوگ سچا مانتے ہو۔‘‘
(الفضل قادیان ج۱۸ نمبر۷ ص۷ کالم۲، مؤرخہ ۱۵؍جولائی ۱۹۳۰ء)
’’غور کا مقام ہے کہ ہم موسیٰ کو تو صرف اس لئے نبی کہیں کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے کلام میں اس کو نبی کہا
ہے۔ عیسیٰ کو نبی اللہ صرف اس لئے جانیں کہ قرآن کریم میں اس کی نسبت نبی کا لفظ استعمال کیاگیا ہے۔ مگر جب
مسیح موعود (یعنی مرزاقادیانی) کا سوال آوے تو ہم اصول کو چھوڑ کر لفظی تاویلات میں پڑ جائیں۔ موسیٰ اور
عیسیٰ کی نبوت کا ہمارے پاس کوئی ثبوت نہیں۔ سوائے اس کے کہ اللہ تعالیٰ کے کلام نے ان کو بطور نبی کے پیش کیا
ہے۔ پس جب اسی خدا کے کلام (یعنی مرزاقادیانی کی وحی) میں مسیح موعود کوکئی دفعہ نبی کے نام سے پکارا گیا ہے
تو ہم کون ہیں کہ اس کی نبوت کا انکار کریں۔‘‘
(کلمۃ الفصل مصنفہ مرزابشیراحمد، مندرجہ رسالہ ریویو ج۱۴ نمبر۳ ص۱۱۴، بابت ماہ مارچ ۱۹۱۵ء)
’’اگر کوئی شخص مخلّٰی باالطبع ہوکر اس بات پر غور کرے گا تو سے اس خیال کی لغویت خود ہی معلوم ہو
جائے گی اور روزروشن کی طرح اس پر ظاہر ہو جائے گا کہ مسیح موعود ضرور نبی ہے۔ کیونکہ یہ ممکن ہی نہیں کہ
ایک شخص کا نام قرآن کریم نبی رکھے۔آنحضرت ﷺ نبی رکھیں، کرشن نبی رکھے، زرتشت نبی رکھے، دانیال نبی رکھے اور
ہزاروں سالوں سے اس کے آنے کی خبریں دی جارہی ہوں، لیکن باوجود ان سب شہادتوں کے وہ پھر بھی غیر نبی کا
غیرنبی ہی رہے۔‘‘
(حقیقت النبوۃ ص۱۹۸،۱۹۹، انوار العلوم ج۲ ص۵۱۴)
(۱۷) حصول نبوت کے دو طریق
’’میں حضرت مرزاصاحب کی نبوت کی نسبت لکھ آیا ہوں کہ نبوت کے حقوق کے لحاظ سے وہ ویسی ہی نبوت ہے جیسے
اور نبیوں کی۔ صرف نبوت کے حاصل کرنے کے طریقوں میں فرق ہے۔ پہلے انبیاء نے بلاواسطہ نبوت پائی اور آپ نے
بالواسطہ۔‘‘
(القول الفصل ص۳۳، انوارالعلوم ج۲ ص۲۹۳)
183
’’خلاصہ کلام یہ کہ مجازی نبی کے لفظ سے یہ بات ہرگز ثابت نہیں کہ آپ (یعنی مرزاقادیانی) شریعت اسلام
کے مطابق نبی نہ تھے بلکہ اس کے صرف یہ معنی ہیں کہ آپ نے حقیقی نبی کی جو اصطلاح مقرر فرمائی ہے اور خود
ہیا س کے معنی بتادئیے ہیں، وہ اصطلاح آپ پر صادق نہیں آتی اور اس اصطلاح کی رو سے آپ کے مجازی نبی ہونے کے
صرف یہ معنی ہیں کہ آپ کوئی نئی شریعت نہیں لائے اور نہ براہ راست نبی بنے ہیں۔ نہ یہ کہ آپ نبی ہی نہیں۔‘‘
(حقیقت النبوۃ ص۱۷۴، انوارالعلوم ج۲ ص۴۹۳)
’’پس علی وجہ الحقیقت نبوت کا مدعی حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے نزدیک وہ شخص ہے جو براہ راست نبی ہونے کا
مدعی ہو اورآنحضرت ﷺ کو چھوڑ کر کوئی الگ دین بنائے اور اس کے مقابلہ میں جو نبوتآنحضرت ﷺ کی پیروی اور
متابعت کی برکت سے حاصل ہو، وہ علی طریق المجاز ہوگی۔ پس طریق المجاز اور وجہ الحقیقت ہونا صرف طریق حصول
نبوت کے مختلف ہونے کے لحاظ سے ہے نہ اس وجہ سے کہ جس شخص کو علی طریق المجازآنحضرت ﷺ کی پیروی کی برکت سے
نبوت ملے گی، وہ نبی نہیں ہوگا۔‘‘
(منکرین خلافت کا انجام ص۱۵، مصنفہ جلال الدین شمس قادیانی)
(۱۸) گھٹیا قسم کی نبوت
’’یہ جو بعض لوگوں کا خیال ہے کہ ظلی یابروزی گھٹیا قسم کی نبوت ہے، یہ محض ایک نفس کا دھوکا ہے، جس
کی کوئی حقیقت نہیں… وہ نادان جو مسیح موعود کی ظلی نبوت کو ایک گھٹیا قسم کی نبوت سمجھتا ہے، یا اس کے معنے
ناقص نبوت کے کرتا ہے وہ ہوش میں آوے اور اپنے اسلام کی فکر کرے۔ کیونکہ اس نے اس نبوت کی شان پر حملہ کیا
ہے جو تمام نبوتوں کی سرتاج ہے۔ میں نہیں سمجھ سکتا کہ لوگوں کو کیوں حضرت مسیح موعود (مرزاقادیانی) کی نبوت
پر ٹھوکر لگتی ہے اور کیوں بعض لوگ آپ کی نبوت کو ناقص نبوت سمجھتے ہیں۔ کیونکہ میں تو یہ دیکھتا ہوں کہ آپ
آنحضرت ﷺ کے بروز ہونے کی وجہ سے ظلی نبی تھے اور اس ظلی نبوت کا پایہ بہت بلند ہے۔‘‘
(کلمتہ الفصل مصنفہ بشیر احمد، مندرجہ رسالہ ریویو ج۱۴ نمبر۳ ص۱۱۳، بابت ماہ مارچ ۱۹۱۵ء)
(۱۹) جواب اعتراض
’’اگر کوئی نادان کہے کہ وہ (مرزاقادیانی) تو مجددوں میں سے ایک مجدد تھے، خدا کے نبی کیونکر ہوسکتے
ہیں تو میں کہوں گا یوں تو تمام انبیاء مجدد ہی ہوتے ہیں۔ چنانچہ افضل الرسل محمد رسول اللہk کو بھی ہمارے
امام (مرزاغلام احمد قادیانی) نے مجدد ہی لکھا ہے۔ (دیکھو لیکچر سیالکوٹ ص۳)‘‘
(اخبار الفضل قادیان ج۲ نمبر۹۶ ص۳ کالم۲، مؤرخہ ۲۶؍جنوری ۱۹۱۵ء)
پھر حضرت مسیح موعود نےآنحضرت ﷺ کو بھی بروزی نبی قرار دیا ہے۔ چنانچہ فرمایا: ’’چونکہ تکمیل ہدایت کے
لئے آپ ﷺ نے دو بروزوں میں ظہور فرمایا تھا۔ ایک بروز موسوی، دوسرے بروز عیسوی۔‘‘
(تحفہ گولڑویہ ص۹۷، خزائن ج۱۷ ص۲۵۶)
’’اب کیا حضرت نبی کریم بروز موسوی وعیسوی ہونے کی وجہ سے معاذ اللہ نبی نہ تھے… پس حضرت مسیح موعود کا
یہ فرمانا کہ آنحضرت ﷺ بھی خود بروزی نبی تھے، یشوعا بھی خود بروزی نبی تھا، حضرت یحییٰ بھی مجازی اور بروزی
نبی تھے۔ کیا تمہارے لئے حجت ہے یا نہیں اور اگر ان نبیوں کو بوجہ بروزی ہونے کے تم لوگ واقعی نبی مانتے ہو
تو کیا وجہ ہے کہ حضرت مسیح موعود جس کے نبی اللہ ہونے کے بارے میں خدا اور رسول کی تصدیق موجود ہے بوجہ بروزی
اور ظلی ہونے کے نبی نہ ہوں۔ وہ بھی یقینا نبی تھے۔‘‘
(الفضل قادیان ج۳ نمبر۹ ص۸ کالم۱، مؤرخہ ۱۳؍جولائی ۱۹۱۵ء)
184
(۲۰) نبوت کی تقسیم
’’جس طرح حقیقی اور مستقل نبوتیں نبوت کی اقسام ہیں، اسی طرح ظلی اور بروزی نبوت بھی نبوت کی ایک قسم
ہے۔ اگر ہم حقیقی یا مستقل نبیوں کو ہمیسہ صرف نبی کے نام سے پکارتے ہیں تو کیا وجہ ہے کہ ظلی نبی کو نبی کے
نام سے نہ پکار سکیں۔ اس کی ایسی ہی مثال ہے جیسے اگر شیر تین قسم کے ہوتے ہیں۔ ایک سفید، ایک سرخ اور ایک
زرد۔ تو ہم سفید اور سرخ شیر کو تو شیر کہیں۔ مگر زرد شیر کو شیر کے نام سے نہ پکاریں۔ ظاہر ہے کہ شیر کا
زرد ہونا اسے شیر ہونے کی حیثیت سے نیچے نہیں گرادیتا۔ اسی طرح مسیح موعود (یعنی مرزاغلام احمد قادیانی) کا
ظلی نبی ہونا مسیح موعود سے نبوت کو نہیں چھینتا بلکہ صرف نبوت کی قسم ظاہر کرتا ہے اور اگر ایک چیز کی قسم
بتانے سے اس چیز کی ہستی باطل ہو جاتی ہے تو نعوذ باللہ نبی کریم کی نبوت بھی باطل ٹھہرتی ہے۔ کیونکہ آپ کی
نبوت بھی تشریعی نبوت تھی جو نبوت کی ایک قسم ہے۔ پس یہ ایک بچوں کا سا خیال ہے کہ: ’’لانفرق
بین احد من رسلہ‘‘ میں حقیقی اور مستقل نبی تو شامل ہیں مگر ظلی نبی نہیں۔ کیونکہ جس طرح حقیقی
اور مستقل نبوتیں نبوت کی قسمیں ہیں، اسی طرح ظلی نبوت بھی نبوت کی ایک قسم ہے اور جو حقیقی اور مستقل نبیوں
کو حقوق حاصل ہیں، وہی ظلی نبی کو بھی حاصل ہیں۔ کیونکہ نفس نبوت میں کوئی فرق نہیں… اس جگہ میں یہ بات بھی
بتا دینا ضروری سمجھتا ہوں کہ اس مضمون میں جہاں کہیں بھی حقیقی نبوت کا ذکر ہے، وہاں اس سے مراد ایسی نبوت
ہے جس کے ساتھ کوئی نئی شریعت ہو۔ ورنہ حقیقی کے لغوی معنوں کے لحاظ سے تو ہر ایک نبوت حقیقی ہی ہوتی ہے
جعلی یا فرضی نہیں اور مسیح موعود بھی حقیقی نبی تھا اور جہاں کہیں بھی مستقل نبوت کا ذکر ہے، وہاں ایسی
نبوت مراد ہے جو کسی کو بلاواسطہ بغیر اتباع کسی نبی سابقہ کے ملی ہو۔ ورنہ مستقل کے لغوی معنوں کے لحاظ سے
تو ہر ایک نبوت مستقل ہوتی ہے، عارضی نہیں اور مسیح موعود بھی مستقل نبی تھا۔‘‘
(کلمۃ الفصل مصنفہ بشیراحمد، مندرجہ رسالہ ریویو ج۱۴ نمبر۳ ص۱۱۷تا۱۱۹، بابت ماہ مارچ ۱۹۱۵ء)
(۲۱) اقسام نبوت
’’مولوی صاحب (نذیر احمد قادیانی) کا ارشاد ہے کہ ظلی، بروزی، امتی، مجازی وغیرہ اصطلاحات اقسام نبوت
کو سمجھانے کے لئے ہیں۔ یعنی پہلے انبیاء براہ راست انبیاء بنتے تھے اور اب متابعت سے نبی ہوں گے۔ اس کے
جواب میں گزارش ہے کہ یہ تعریف نہ قرآن شریف میں ہے، نہ حدیث میں اور نہ ہی سابقہ انبیاء نے ایسا فرمایا ہے۔
ہم نے پہلے بھی گزارش کی تھی کہ ایک وقت اگر براہ راست نبوت عطاء ہوتی تھی تو یہ تعریف یا تشریح انبیاء
سابقہ کو کرنی مناسب تھی اور پھر ان کو بھی اپنی نبوت کی کچھ اصطلاحات مقرر کرنی چاہئے تھیں۔ مگر انہوں نے
ایسا نہیں کیا اور چونکہ قرآن شریف کے بعد ایک نیا دور نبیوں کا شروع ہونے والا تھا۔ اس لئے ان اصطلاحات کو
اگر وہ خود یا نبی کریم بیان فرماتے تو نہایت انسب تھا۔ چونکہ وہاں یہ خیال پیدا نہیں ہوا، اس لئے اس کی
کوئی اصلیت نہیں پائی جاتی۔ اگر لوگوں میں غلط فہمی کا گمان تھا جیسا کہ مولوی صاحب نے لکھا ہے تو سب سے
پہلے قرآن شریف کو اس غلطی کی اصطلاح کی ضرورت تھی۔ اس کے برعکس آپ کا یہ ارشاد کہ عقلمندوں کے لئے ان
اصطلاحات کا ذکر قرآن مجید میں موجود ہے۔ یہ ایک مضحکہ خیز بیان ہے۔ اگر ان اصطلاحات کا ذکرہے تو آپ پیش
کیوں نہیں کرتے۔ آپ الفاظ پیش کر دیجئے، ہم بلابحث تسلیم کر لیں گے۔ غضب ہے کہ ایک طرف آپ لکھتے ہیں کہ
عقلمندوں کے لئے ان اصطلاحات کا ذکر قرآن مجید میں ہے اور چند سطور اس سے آگے چل کر یہ بھی لکھ دیا ہے کہ
خداتعالیٰ کے نزدیک چونکہ سب نبی نبی ہوتے ہیں اس لئے وہ نبی کی اصطلاح کو تشریح الفاظ کے اضافہ کے ساتھ
استعمال نہیں فرماتا ؎
-
الجھا ہے پاؤں یار کا زلف دراز میں
لو آپ اپنے دام میں صیاد آ گیا‘‘
(پیغام صلح لاہور ج۲۴ نمبر۶۰ ص۲ کالم۳، مؤرخہ ۱۹؍ستمبر ۱۹۳۶ء)
185
(۲۲) ظلم عظیم
’’اگر یہ کہا جاوے کہ اس آیت میں تو صرف رسولوں پر ایمان لانے کا سوال ہے۔ مسیح موعود (مرزاغلام احمد
قادیانی) کا کوئی ذکر نہیں تو ایسا کہنا ایک ظلم عظیم ہوگا۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ نے اپنے کلام میں (یعنی
مرزاقادیانی کی وحی میں۔ للمؤلف) مسیح موعود (مرزاقادیانی) کے متعلق بیسیوں جگہ نبی اور رسول کے الفاظ
استعمال فرمائے ہیں۔ جیسا کہ فرمایا: ’’دنیا میں ایک نبی آیا پر دنیا نے اس کو قبول نہ کیا۔‘‘ یا جیسے
فرمایا: ’’یاایہا النبی اطعموا الجائع والمعتر‘‘ یا جس طرح فرمایا: ’’انی مع الرسول اقوم‘‘ اور مسیح موعود (مرزاقادیانی) نے بھی اپنی کتابوں میں اپنے
دعویٰ رسالت ونبوت کو بڑی صراحت کے ساتھ بیان کیا ہے۔ جیسا کہ آپ لکھتے ہیں کہ: ’’ہمارا دعویٰ ہے کہ ہم رسول
اور نبی ہیں۔‘‘ دیکھو (بدر مؤرخہ ۵؍مارچ ۱۹۰۸ء) یا جیسا کہ آپ نے لکھا ہے کہ: ’’میں خدا کے حکم کے موافق
نبی ہوں۔ اگر میں اس سے انکار کروں تو میرا گناہ ہوگا اور جس حالت میں خدا میرا نام نبی رکھتا ہے تو میں
کیونکر اس سے انکار کر سکتا ہوں۔ میں اس پر قائم ہوں۔ اس وقت تک جو اس دنیا سے گزر جاؤں۔‘‘ (دیکھو خط حضرت
مسیح موعود، بہ طرف ایڈیٹر اخبار عام لاہور) یہ خط حضرت مسیح موعود نے اپنی وفات سے صرف تین دن پہلے یعنی
۲۳؍مئی ۱۹۰۸ء کو لکھا اور آپ کا یوم وصال ۲۶؍مئی ۱۹۰۸ء کو اخبار عام میں شائع ہوا۔ پھر اسی پر بس نہیں کہ
مسیح موعود نے نبوت کا دعویٰ کیا ہے۔ بلکہ نبیوں کے سرتاج محمد مصطفی ﷺ نے آنے والے مسیح کا نام نبی اللہ
رکھا۔ جیسا کہ صحیح مسلم سے ظاہر ہے پس ان تین عظیم الشان شہادتوں کے ہوتے ہوئے کون ہے جو مسیح موعود
(مرزاقادیانی) کی نبوت سے انکار کرے؟‘‘
(کلمۃ الفصل مصنفہ بشیراحمد، مندرجہ رسالہ ریویو آف ریلیجنز ج۱۴ نمبر۳ ص۱۱۰،۱۱۱، بابت ماہ مارچ ۱۹۱۵ء)
(۲۳) مرزاقادیانی حقیقی نبی
’’درحقیقت خدا کی طرف سے خداتعالیٰ کی مقرر کردہ اصطلاح کے مطابق قرآن کریم کے بنائے ہوئے معنوں کی رو
سے نبی ہو اور نبی کہلانے کا مستحق ہو، تمام کمالات نبوت اس میں اس حد تک پائے جاتے ہوں جس حد تک نبیوں میں
پائے جانے ضروری ہیں تو میں کہوں گا کہ ان معنوں کی رو سے حضرت مسیح موعود حقیقی نبی تھے۔‘‘
(القول الفصل ص۱۲، انوارالعلوم ج۲ ص۲۷۴)
’’پس شریعت اسلام نبی کے جو معنی کرتی ہے اس کے معنی سے حضرت صاحب (مرزاقادیانی) ہرگز مجازی نبی نہیں
ہیں۔ بلکہ حقیقی نبی ہیں۔‘‘
(حقیقت النبوۃ ص۱۷۴، انوارالعلوم ج۲ ص۴۹۳)
’’حضرت مسیح موعود (مرزاغلام احمد قادیانی) رسول اللہ اور نبی اللہ جو کہ اپنی ہر ایک شان میں اسرائیلی
مسیح سے کم نہیں اور ہر طرح بڑھ چڑھ کر ہے۔‘‘
(کشف الاختلاف ص۷، مصنفہ سرور شاہ قادیانی)
’’حضرت مسیح موعود کے زمانہ میں، میں نے اپنی کتاب ’’انوار اللہ ‘‘ میں ایک سوال کے جواب میں لکھا ہے کہ
حضرت مسیح موعود بموجب حدیث صحیح حقیقی نبی ہیں اور ایسے ہی نبی ہیں۔ جیسے حضرت موسیٰ علیہ السلام وحضرت
عیسیٰ علیہ السلام اورآنحضرت ﷺ نبی ہیں، ’’لانفرق بین احد من رسلہ‘‘ ہاں! صاحب شریعت
جدیدہ نبی نہیں۔ جیسے کہ پہلے بھی بعض صاحب شریعت نبی نہیں تھے… یہ کتاب حضرت مسیح موعود نے پڑھ کر فرمایا
کہ آپ نے ہماری طرف سے حیدرآباد دکن میں حق تبلیغ ادا کر دیا ہے۔‘‘
(الفضل قادیان ج۳ نمبر۳۸،۳۹ ص۶ کالم۲،۳، مؤرخہ ۱۹،۲۱؍ستمبر ۱۹۱۵ء)
186
’’غرضیکہ یہ ثابت شدہ امر ہے کہ مسیح موعود (مرزاغلام احمد قادیانی) اللہ تعالیٰ کا ایک رسول اور نبی تھا
اور وہی نبی تھا جس کو نبی کریم ﷺ نے نبی اللہ کے نام سے پکارا اور وہی نبی تھا جس کو خود اللہ تعالیٰ نے اپنی
وحی میں ’’یاایہا النبی‘‘ کے الفاظ سے مخاطب کیا۔‘‘
(کلمۃ الفصل ص۱۱۴، مندرجہ رسالہ ریویو آف ریلیجنز ج۱۴ نمبر۳ ص۱۱۴، بابت ماہ مارچ ۱۹۱۵ء)
’’محترم ڈاکٹر صاحب! اگر آپ حضرات (یعنی لاہوری جماعت) صرف مسئلہ خلافت کے منکر ہوتے تو مجھے رنج نہ
ہوتا۔ کیونکہ آپ سے پہلے بھی ایک گروہ خوارج کا موجود ہے مگر غضب تو یہ ہے کہ آپ حضرت اقدس (مرزاقادیانی)
کومسیح موعود، مہدی نبی نہیں مانتے۔ اگر حضرت مرزاصاحب نبی نہیں تھے تو مسیح موعود بھی نہ تھے۔ (نعوذ باللہ )
اور س لئے آپ کا ماننا نہ ماننا برابر ہوا اور ضروری حقیقی نبی تھے اور قسم خدا کی ضرور بالضرور نبی تھے اور
آپ کے مخالف حضرات کا بھی وہی حشر ہوگا جو دیگر انبیاء کے مخالفین کا۔ میں اس عقیدہ پر علی وجہ البصیرت قائم
ہوں۔‘‘
(مکتوب محمد عثمان خان قادیانی، المہدی نمبر۱ ص۵۴، حکیم محمد حسین قادیانی لاہوری)
’’میں حلفیہ بیان کرتا ہوں کہ میں حضرت مسیح موعود کے زمانے کا احمدی ہوں اور میں نے ۱۸۹۹ء میں بیعت
کی تھی۔ میں ان معنوں میں حضرت مسیح موعود کو خدا کا نبی اور رسول یقین کیا کرتا تھا جن معنوں میں رسول کریم
ﷺ نے آپ کا نام اپنی پیش گوئی میں نبی اللہ رکھا ہے اور میں اس دعویٰ نبوت حضرت مسیح موعود پر یقین رکھتا ہوں۔
میرے سامنے حضرت مولوی عبدالکریم صاحب اور مولوی محمد احسن صاحب آپس میں بحث کر رہے تھے تو دوران مباحثہ میں
آوازیں بلند ہو گئیں اور اونچا اونچابولنا شروع ہوگیا تو حضرت مسیح موعود نے فرمایا: ’’لاترفعوا اصواتکم فوق صوت النبی‘‘ اس کے بعد مولوی عبدالکریم صاحب تو بالکل خاموش
ہوگئے اور مولوی محمد احسن صاحب کچھ آہستہ آہستہ بولتے رہے۔‘‘
(حافظ محمد ابراہیم قادیانی کا حلفیہ بیان، فرقان قادیان ج۱ نمبر۱۰ ص۱۰، بابت اکتوبر ۱۹۴۲ء)
’’مجھے سیدنا حضرت مسیح موعود کے دست مبارک پر اظہار اسلام کی سعادت نصیب ہوئی۔ ۱۸۹۵ء میں بیعت کا شرف
ملا۔ فالحمد للہ ! میں حضور پرنور کو صحیح طور پر اور اصل معنوں میں اللہ کا رسول اور نبی
یقین کرتا تھا نہ کہ محض استعارہ اور مجاز کے رنگ میں۔ سیدنا حضرت اقدس مسیح موعود کی زبان مبارک سے بارہا
براہ راست اپنے کانوں سنا۔ حضور کی موجودگی میں حضور کو نبی اللہ اور خدا کا رسول کے نام سے ذکر کیاگیا۔
ذکرکرنے والوں میں سے حضرت مولوی عبدالکریم صاحب خصوصیت سے پیش پیش تھے اور بعض احباب کے استفسار پر حضور نے
مہرتصدیق ثبت فرمائی۔‘‘
(جناب بھائی عبدالرحمان قادیانی کی شہادت، فرقان قادیان ج۱ نمبر۱۰ ص۱۶، بابت اکتوبر ۱۹۴۲ء)
’’میں حلفی بیان دیتا ہوں کہ خدا ایک اور محمد رسول اللہ اس کے سچے نبی خاتم النّبیین ہیں اور حضرت
مرزاغلام احمد صاحب اسی طرح نبی اللہ ہیں جس طرح دوسرے ایک لاکھ ۲۴ہزار نبی اللہ تھے۔ ذرہ فرق نہیں۔ فقط۔‘‘
(جناب بابو غلام محمد قادیانی، ریٹائرڈ فورمین لاہور کی حلفیہ شہادت، فرقان قادیان ج۱ نمبر۱۰ ص۱۲،
بابت اکتوبر ۱۹۴۲ء)
(۲۴) حقیقی نبی اور رسول
’’اکثر لوگ دریافت کرتے ہیں کہ آیا فی الواقع میاں صاحب (مرزامحمود خلیفہ قادیان) حضرت مسیح موعود کو
حقیقی نبی مانتے ہیں اور انہوں نے ایسا کہاں لکھا ہے۔ مختصر طور پر اس کا جواب یہ ہے کہ میاں صاحب فی الواقع
حضرت مسیح موعود کو حقیقی نبی مانتے ہیں۔ کیونکہ… ’’الفضل‘‘ مؤرخہ ۱۷؍جنوری ۱۹۱۵ء میں ان کا ایک خط چھپا ہے
جس میں انہوں نے صاف طور پر آیت: ’’فمن اظلم
187
ممن افتری علی اللہ کذبا او کذب بایاتہ‘‘ پر بحث کرتے ہوئے یہ الفاظ لکھے ہیں، اس
آیت میں نبیوں اور رسولوں کے الہام کا ذکر ہے اور وہی مراد ہیں۔ حضرت مسیح موعود چونکہ اس گروہ میں شامل تھے
اس لئے ان کا انکار بھی اس آیت کے ماتحت آتا تھا۔ اب اس عبارت کا منشاء سوائے اس کے کچھ نہیں کہ حضرت مسیح
موعود فی الواقع رسل اور انبیاء میں شامل ہیں۔ مجددوں کو الگ کر دینے اور حضرت مسیح موعود کو نبیوں اور
رسولوں میں شامل کرنے سے صاف طور پر میاں صاحب کا یہ عقیدہ پایا جاتا ہے کہ وہ حضرت مسیح موعود کو حقیقی نبی
اور رسول مانتے ہیں نہ مجازی۔‘‘
(مولوی محمد علی لاہوری قادیانی، امیر جماعت لاہور کا رسالہ ’’نبوت کاملہ تامہ اور جزئی نبوت میں
فرق‘‘ ص۱۹، منقول از رسالہ تبدیلی عقائد، مولوی محمد علی ص۷۸، مؤلفہ محمد اسماعیل قادیانی)
(۲۵) اطلاع عام
’’میں پبلک اور حکام کی اطلاع کے لئے یہ بات واضح کر دینا چاہتا ہوں کہ ہم حضرت مسیح موعود
(مرزاقادیانی) کو اللہ تعالیٰ کا مقدس نبی، جری اللہ فی حلل الانبیاء اور بنی نوع انسان کا نجات دہندہ مانتے ہیں
اور تمام وہ عقیدتمندی اور محبت جو کسی ہندو کو حضرت کرشن یا حضرت رام چندرجی سے یا کسی عیسائی کو حضرت مسیح
ناصری سے یا کسی یہودی کو حضرت موسیٰ علیہ السلام سے ہوسکتی ہے، وہ اپنے پورے کمال کے ساتھ ہم حضرت مسیح
موعود کے ساتھ رکھتے ہیں۔‘‘
(چوہدری فتح محمد قادیانی ایم۔اے کی تقریر بہ مقام قادیان، بتاریخ ۸؍جولائی ۱۹۳۵ء، الفضل قادیان ج۲۳
نمبر۱۰ ص۳ کالم۳،۴، مؤرخہ ۱۲؍جولائی ۱۹۳۵ء)
(۲۶) عقیدوں کی تبدیلیاں
’’سیدنا حضرت مسیح موعود کی کتب کے مطالعہ سے معلوم ہوتا ہے کہ جس طرح حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی
زندگی اور وفات کے بارہ میں آپ کے عقیدہ میں تبدیلی ہوئی، یعنی پہلے ایک زمانہ تک حضرت مسیح موعود ان کو
زندہ سمجھتے رہے اور پھر ان کے فوت شدہ ہونے کا اعلان کیا۔ اسی طرح اپنی نبوت کے بارہ میں بھی حضور کے
خیالات میں تغیر ہوا۔ یعنی ایک زمانہ تک آپ اپنے آپ کو نبی خیال نہیں فرماتے تھے۔ لیکن پھر اپنے آپ کو نبی
یقین کرنے لگے۔ اس کا لازمی نتیجہ یہ ہے کہ حضور (مرزاقادیانی) کی پہلے زمانہ کی تحریرات یہ ظاہر کرتی ہیں
کہ آپ نبوت کے مدعی نہیں۔ لیکن آخری زمانہ کی تحریرات وتقریرات یہ ثابت کرتی ہیں۔ آپ نبوت کے دعویدار تھے…
ہماری تحقیق یہ ہے کہ حضرت مسیح موعود نے مسئلہ نبوت میں اپنے عقیدہ کو ۱۹۰۱ء کے قریب تبدیل کیا ہے اور یہ
امر اس قدر واضح ہے کہ اس میں شک کرنے کی گنجائش ہی باقی نہیں ہے۔ چنانچہ مندرجہ ذیل امور ہمارے اس دعوے کو
ثابت کرنے کے لئے کافی ہیں۔
حضرت مسیح سے افضل ہونے کا دعویٰ: اوّل، ایک زمانہ میں حضور اپنے آپ کو حضرت مسیح علیہ السلام سے افضل
نہیں سمجھتے تھے بلکہ اگر کوئی امر آپ کی فضیلت کی نسبت ظاہر ہوتا تو اسے جزئی فضیلت قرار دیتے ہوئے فرماتے
کہ ایک غیرنبی کو نبی پر جزئی فضیلت ہوسکتی ہے۔ لیکن اس کے بعد آپ پر ایسا زمانہ آیا جب آپ نے فرمایا کہ میں
ہر شان میں مسیح سے افضل ہوں اور ان دونوں باتوں میں تطبیق دیتے ہوئے فرمایا کہ پہلے میں سمجھتا تھا کہ میں
نبی نہیں۔ لیکن خداتعالیٰ کی وحی نے مجھے اس خیال پر نہ رہنے دیا اور باربار نبی کا خطاب دیا تو میں نے اپنے
آپ کو مسیح سے افضل قرار دیا۔ چنانچہ جب حضور (مرزاقادیانی) کے ان دو بیانات پر جن میں سے ایک میں آپ نے
فرمایا تھا کہ حضرت مسیح پر مجھے جزئی فضیلت ہے اور دوسرے میں فرمایا کہ میں ہر شان میں مسیح علیہ السلام سے
بڑھ کر ہوں۔ تناقض کا اعتراض ہوا تو حضرت نے اس کے
188
جواب میں تحریر فرمایا کہ: ’’اس بات کو توجہ کر کے سمجھ لو کہ یہ اسی قسم کا تناقض ہے کہ جیسے براہین
احمدیہ میں میں نے یہ لکھا تھا کہ مسیح ابن مریم آسمان سے نازل ہوگا۔ مگر بعد میں یہ لکھا کہ آنے والا مسیح
میں ہی ہوں۔ اس تناقض کا بھی یہی سبب تھا کہ اگرچہ خداتعالیٰ نے براہین احمدیہ میں میرا نام عیسیٰ رکھا اور
یہ بھی فرمایا کہ تیرے آنے کی خبر خدااوررسول نے دی تھی۔ مگر چونکہ ایک گروہ مسلمانوں کا اس عقائد پر جماہوا
تھا اور میرا بھی یہی اعتقاد تھا کہ حضرت عیسیٰ آسمان پر سے نازل ہوں گے۔ اس لئے میں نے خدا کی وحی کو ظاہر
پر حمل کرنا نہ چاہا۔ بلکہ اس وحی کی تاویل کی اور اپنا اعتقاد وہی رکھا جو عام مسلمانوں کا تھا اور اسی کو
براہین احمدیہ میں شائع کیا۔ لیکن بعد اس کے اس بارہ میں بارش کی طرح وحی نازل ہوئی کہ وہ مسیح موعود جو آنے
والا تھا تو ہی ہے اور… کہ درحقیقت مسیح ابن مریم فوت ہوگیا… اسی طرح صدہا نشانیوں اور آسمانی شہادتوں اور
قرآن شریف کی قطعیۃ الدلالت آیات اور نصوص صریحہ حدیثیہ نے مجھے اس بات کے لئے مجبور کر دیا کہ میں اپنے
تئیں مسیح موعود ہوں… اسی طرح اوائل میں میرا یہی عقیدہ تھا کہ مجھ کو مسیح ابن مریم سے کیا نسبت ہے۔ وہ نبی
ہے اور خدا کے بزرگ مقربین میں سے ہے اور اگر کوئی امر میری فضیلت کی نسبت ظاہر ہوتا تو میں اس کو جزئی
فضیلت قرار دیتا تھا۔ مگر بعد میں جو خداتعالیٰ کی وحی بارش کی طرح میرے پر نازل ہوئی اس نے مجھے اس عقیدہ
پر قائم نہ رہنے دیا اور صریح طور پر نبی کا خطاب مجھے دیا گیا۔‘‘
(حقیقت الوحی ص۱۴۸تا۱۵۰، خزائن ج۲۲ ص۱۵۲تا۱۵۴)
’’اس جگہ حضرت مسیح موعود (مرزاقادیانی) نے جس وضاحت سے نبوت کے بارہ میں اپنے عقیدہ کی تبدیلی بیان
فرمائی، اس کے متعلق کسی تشریح کی ضرورت نہیں۔‘‘
(الفضل قادیان ج۲۸ نمبر۱۳۴، مؤرخہ ۱۳؍جون ۱۹۴۰ء)
’’ہم (یعنی لاہوری جماعت) اور جماعت قادیان دونوں اس بات پر متفق ہیں کہ مرزاقادیانی نے جب ۱۸۹۱ء میں
مسیح موعود ہونے کا دعویٰ کیا تو نبی ہونے سے انکار کیا اور اپنا دعویٰ محدثیت قرار دیا اور نبوت کوآنحضرت ﷺ
پر ختم قرار دیا اور آپ کے بعد دعویٰ نبوت کرنے والے کو مفتری اور کذاب قرار دیا۔ اختلاف ہم میں اور جماعت
قادیان کے پیشوا میں یہ ہے کہ ہم کہتے ہیں حضرت مسیح موعود ۱۸۹۱ء سے لے کر اپنی وفات تک اسی عقیدے پر قائم
رہے اور جماعت قادیان کا پیشوا لکھتا ہے کہ آپ نے ۱۹۰۱ء میں اپنا عقیدہ تبدیل کر لیا تھا۔ خود نبوت کا دعویٰ
کیا اورآنحضرت ﷺ کے بعد نبوت کا دروازہ کھلا قرار دیا۔ (تعجب کی کیا بات ہے۔ اگر مرزاقادیانی جیسے موقع شناس
دس سال میں اتنی بھی تبدیلی اور ترقی نہ کرتے تو پھر دعویٰ سے کیا حاصل تھا۔ یوں لاہوری جماعت مصلحتاً تجاہل
عارفانہ سے کام لے تو دوسری بات ہے ورنہ واقعہ وہی ہے جو جماعت قادیان نے جرأت بلکہ دیانت سے ظاہر کر دیا۔
للمؤلف)‘‘
(پیغام صلح لاہور ج۳۴ نمبر۳۴ ص۲ کالم۱، مؤرخہ ۲۱؍اگست ۱۹۴۶ء)
(۲۷) تناقض کا خلاصہ
’’کسی سچیار اور عقلمند اور صاف دل انسان کے کلام میں ہرگز تناقض نہیں ہوتا۔ ہاں! اگر کوئی پاگل یا
مجنوں یا ایسا منافق ہو کہ خوشامد کے طور پر ہاں میں ہاں ملادیتا ہو، اس کا کلام بے شک متناقض ہو جاتا ہے۔‘‘
(ست بچن ص۳۰، خزائن ج۱۰ ص۱۴۲)
’’اس شخص کی حالت ایک مخبط الحواس انسان کی حالت ہے کہ ایک کھلا کھلا تناقض اپنے کلام میں رکھتا ہے۔‘‘
(حقیقت الوحی ص۱۸۴، خزائن ج۲۲ ص۱۹۱)
’’جھوٹے کے کلام میں تناقض ضرور ہوتا ہے۔‘‘
(ضمیمہ براہین احمدیہ حصہ پنجم ص۱۱۱، خزائن ج۲۱ ص۲۷۵)
189
فصل چوتھی
نبوت کی تکمیل
(۱) ختم نبوت کی تجدید
’’ان حوالوں سے یہ بات بھی ثابت ہوتی ہے کہ اس امت میں سوائے مسیح موعود کے اور کوئی نبی نہیں ہوسکتا۔
کیونکہ سوائے مسیح موعود کے اور کسی فرد کی نبوت پرآنحضرت ﷺ کی تصدیقی مہر نہیں اور اگر بغیر تصدیقی
مہرآنحضرت ﷺ کے اور کسی کو بھی نبی قرار دیا جائے تو اس کے دوسرے معنی یہ ہوں گے کہ وہ نبوت صحیح نہیں۔‘‘
(تشحیذ الاذہان قادیان ج۱۲ نمبر۸ ص۲۵، بابت ماہ اگست ۱۹۱۷ء)
’’پس اس وجہ سے (اس امت میں) نبی کا نام پانے کے لئے میں ہی مخصوص کیاگیا اور دوسرے تمام لوگ اس نام
کے مستحق نہیں… اور ضرور تھا کہ ایساہوتا… جیسا کہ احادیث صحیحہ میں آیا ہے کہ ایسا شخص ایک ہی ہوگا۔ وہ پیش
گوئی پوری ہو جائے۔‘‘
(حقیقت الوحی ص۳۹۱، خزائن ج۲۲ ص۴۰۶،۴۰۷)
’’اس جگہ یہ سوال طبعاً ہوسکتا ہے کہ حضرت موسیٰ کی امت میں بہت سے نبی گزرے ہیں۔ پس اس حالت میں
موسیٰ کا افضل ہونا لازم ہوتا ہے۔ اس کا جواب یہ ہے کہ جس قدر نبی گزرے ہیں ان سب کو خدا نے براہ راست چن
لیا تھا۔ حضرت موسیٰ کا اس میں کچھ بھی دخل نہیں تھا۔ لیکن اس امت میں آنحضرت ﷺ کی پیروی کی برکت سے ہزارہا
اولیاء ہوئے ہیں اور ایک وہ بھی ہوا جو امتی بھی ہے اور نبی بھی۔ اس کثرت فیضان کی کسی نبی میں نظیر نہیں مل
سکتی۔‘‘
(حقیقت الوحی ص۲۸، خزائن ج۲۲ ص۳۰ حاشیہ)
’’اور ہمارے نبی ﷺ پر نبوت ختم کی گئی ہے۔ اس لئے آپ کے بعد اس کے سوا کوئی نبی ہیں جسے آپ کے نور سے
منور کیاگیا ہو اور جو بارگاہ کبریائی سے آپ کا وارث بنایا گیا ہو۔ معلوم ہو کہ ختمیت ازل سے محمد ﷺ کو دی
گئی، پھر اس کو دی گئی جسے آپ کی روح نے تعلیم دی اور اپنا ظل بنایا۔ اس لئے مبارک ہے وہ جس نے تعلیم دی اور
وہ جس نے تعلیم حاصل کی، پس بلاشبہ حقیقی ختمیت مقدر تھی چھٹے ہزار میں جو رحمان کے دنوں میں سے چھٹا دن
ہے۔‘‘
(خطبہ الہامیہ ص ب، خزائن ج۱۶ ص۳۱۰)
’’اسی طرح مسیح موعود چھٹے ہزار میں پیدا کیاگیا۔‘‘
(خطبہ الہامیہ ص ج، خزائن ج۱۶ ص۳۱۷)
’’آنحضرت ﷺ کے بعد صرف ایک ہی نبی کا ہونا لازم ہے اور بہت سارے انبیاء کا ہونا خداتعالیٰ کی بہت سی
مصلحتوں اور حکمتوں میں رخنہ واقع کرتا ہے۔‘‘
(تشحیذ الاذہان قادیان ج۱۲ نمبر۸ ص۱۱، بابت ماہ اگست ۱۹۱۷ء)
’’ولکن رسول اللہ وخاتم النّبیین… اس آیت میں ایک پیش گوئی مخفی ہے اور وہ یہ کہ
اب نبوت پر قیامت تک مہر لگ گئی ہے اور بجز بروزی وجود کے، جو خودآنحضرت ﷺ کا وجود ہے، کسی میں یہ طاقت نہیں
کہ جو کھلے کھلے طور پر نبیوں کی طرح خدا سے کوئی علم غیب پاوے اور چونکہ وہ بروز محمدی جو قدیم سے موعود
تھا، وہ میں ہوں۔ اس لئے بروزی رنگ کی نبوت مجھے عطاء کی گئی اور اس نبوت کے مقابل پر اب تمام دنیا بے دست
وپا ہے۔ کیونکہ نبوت پر مہر ہے۔ ایک بروز محمدی جمیع کمالات محمدیہ کے ساتھ آخری زمانہ کے لئے مقدر تھا، سو
وہ ظاہر ہوگیا۔ اب بجز اس کھڑکی کے اور کوئی کھڑکی نبوت کے چشمہ سے پانی لینے کے لئے باقی نہیں۔‘‘
(ایک غلطی کا ازالہ ص۶، خزائن ج۱۸ ص۲۱۵، مندرجہ تبلیغ رسالت ج۱ ص۲۳،۲۴، مجموعہ اشتہارات ج۳ ص۴۴۰، جدید
مجموعہ اشتہارات ج۲ ص۵۳۰)
190
(۲) مرزاقادیانی خاتم النّبیین
’’آنحضرت ﷺ کے بعد صرف ایک ہی نبی کا ہونا لازم ہے اور بہت سارے انبیاء کا ہونا خداتعالیٰ کی بہت سی
مصلحتوں اور حکمتوں میں رخنہ واقع کرتا ہے۔‘‘
(تشحیذ الاذہان قادیان ج۱۲ نمبر۸ ص۱۱، بابت ماہ اگست ۱۹۱۷ء)
’’پس ثابت ہوا کہ امت محمدیہ میں ایک سے زیادہ نبی کسی صورت میں بھی نہیں آسکتے۔ چنانچہ نبی کریم ﷺ نے
اپنی امت میں سے صرف ایک نبی اللہ کے آنے کی خبر دی ہے جو مسیح موعود ہے اور اس کے سوا قطعاً کسی کا نام نبی
اللہ یا رسول اللہ نہیں رکھا اور نہ کسی اور نبی کے آنے کی آپ نے خبر دی ہے۔ بلکہ ’’لانبی
بعدی‘‘ فرماکر اوروں کی نفی کر دی اور کھول کر بیان فرمادیا کہ مسیح موعود کے سوا میرے بعد قطعاً
کوئی نبی یا رسول نہیں آئے گا… اس امت میں نبی صرف ایک ہی آسکتا ہے جو مسیح موعود (مرزاقادیانی) ہے اور
قطعاً کوئی نہیں آسکتا۔ جیسا کہ دیگر احادیث پر نظر کرنے سے یہ امر محقق ہوچکا ہے کہ نبی کریم ﷺ نے صرف مسیح
موعود کا نام نبی اللہ رکھا ہے اور کسی کو یہ نام ہرگز نہیں دیا۔‘‘
(تشحیذ الاذہان قادیان ج۹ نمبر۳ ص۳۱،۳۲، بابت ماہ مارچ ۱۹۱۴ء)
’’پس اس لئے امت محمدیہ میں صرف ایک شخص نے نبوت کا درجہ پایا اور باقیوں کو یہ رتبہ نصیب نہیں ہوا۔
کیونکہ ہر ایک کا کام نہیں کہ اتنی ترقی کر سکے۔ بے شک اس امت میں بہت سارے ایسے لوگ پیدا ہوئے جو علماء امتی کانبیاء بنی اسرائیل کے حکم کے ماتحت انبیائے بنی اسرائیل کے ہم پلہ تھے۔
لیکن ان میں سوائے مسیح موعود کے کسی نے بھی نبی کریم کی اتباع کا اتنا نمونہ نہیں دکھایا کہ نبی کریم کا
کامل ظل کہلا سکے۔ اس لئے نبی کہلانے کے لئے صرف مسیح موعود مخصوص کیاگیا۔‘‘
(کلمۃ الفصل مصنفہ بشیر احمد، مندرجہ رسالہ ریویو آف ریلیجنز قادیان ج۱۴ نمبر۳ ص۱۱۶، بابت ماہ مارچ
۱۹۱۵ء)
’’ہلاک ہو گئے وہ جنہوں نے ایک برگزیدہ رسول کو قبول نہ کیا۔ مبارک وہ جس نے مجھے پہچانا۔ میں خدا کی
سب راہوں میں سے آخری راہ ہوں اور اس کے سب نوروں میں سے آخری نور ہوں۔ بدقسمت ہے وہ جو مجھے چھوڑتا ہے
کیونکہ میرے بغیر سب تاریکی ہے۔‘‘
(کشتی نوح ص۵۶، خزائن ج۱۹ ص۶۱)
(۳) بروزی کمالات گویا مرزاقادیانی خود محمدرسول اللہ کی ذات
’’غرض خاتم النّبیین کا لفظ ایک الٰہی مہر ہے جوآنحضرت ﷺ کی نبوت پر لگ گئی ہے۔ اب ممکن نہیں کہ کبھی
یہ مہر ٹوٹ جائے۔ ہاں! یہ ممکن ہے کہ آنحضرت ﷺ نہ ایک دفعہ بلکہ ہزاردفعہ دنیا میں بروزی رنگ میں آجائیں اور
بروزی رنگ میں اور کمالات کے ساتھ اپنی نبوت کا بھی اظہار کریں اور یہ بروز خداتعالیٰ کی طرف سے ایک قرار
یافتہ عہد تھا، جیسا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: واخرین منہم لما یلحقوا بہم‘‘
(ایک غلطی کا ازالہ ص۶، خزائن ج۱۸ ص۲۱۴،۲۱۵، مندرجہ تبلیغ رسالت ج۱۰ ص۲۳، مجموعہ اشتہارات ج۳
ص۴۳۹،۴۴۰، جدید ج۲ ص۵۲۹)
’’ہم بارہا لکھ چکے ہیں کہ حقیقی اور واقعی طور پر تو یہ امر ہے کہ ہمارے سید ومولاآنحضرت ﷺ خاتم
الانبیاء ہیں اور آنجناب کے بعد مستقل طور پر کوئی نبوت نہیں اور نہ کوئی شریعت ہے اور اگر کوئی ایسا دعویٰ
کرے تو بلاشبہ وہ بے دین اور مردود ہے۔ لیکن خداتعالیٰ نے ابتداء سے ارادہ کیا تھا کہ آنحضرت ﷺ کے کمالات
متعدیہ کے اظہار واثبات کے لئے کسی شخص کو آنجناب کی پیروی اور متابعت کی وجہ سے وہ مرتبہ کثرت مکالمات اور
مخاطبات الٰہیہ بخشے کہ جو اس کے وجود میں عکسی طور پر نبوت کا رنگ پیداکر دے۔ سو اس طور سے خدا نے میرا نام
191
نبی رکھا۔ یعنی نبوت محمدیہ میرے آئینہ نفس میں منعکس ہوگئی اور ظلی طور پر نہ اصلی طور پر مجھے یہ
نام دیاگیا۔ تامیں آنحضرت ﷺ کے فیوض کا کامل نمونہ ٹھہروں۔‘‘
(چشمہ معرفت ص۳۲۵، خزائن ج۲۳ ص۳۴۰ حاشیہ)
’’مگر میں کہتا ہوں کہ آنحضرت ﷺ کے بعد، جو درحقیقت خاتم النّبیین تھے، مجھے رسول اور نبی کے لفظ سے
پکارے جانا کوئی اعتراض کی بات نہیں اور نہ اس سے مہر ختمیت ٹوٹتی ہے۔ کیونکہ میں بارہا بتلا چکا ہوں کہ میں
بموجب آیۃ: ’’واخرین منہم لما یلحقوا بہم‘‘ بروزی طور پر وہی نبی خاتم الانبیاء ہوں
اور خدا نے آج سے بیس برس پہلے براہین احمدیہ میں میرا نام محمد اور احمد رکھا ہے اور مجھےآنحضرت ﷺ کا وجود
قرار دیا ہے۔ پس اس طور سےآنحضرت ﷺ کے خاتم الانبیاء ہونے میںمیری نبوت سے کوئی تزلزل نہیں آیا۔ کیونکہ ظل
اپنے اصل سے علیحدہ نہیں ہوتا اور چونکہ میں ظلی طور پر محمد ہوں۔ پس اس طور سے خاتم النّبیین کی مہر نہیں
ٹوٹی۔ کیونکہ محمد ﷺ کی نبوت محمد تک ہی محدود رہی۔ یعنی بہرحال محمد ﷺ ہی نبی رہے نہ اور کوئی۔ یعنی جب کہ
میں بروزی طور پرآنحضرت ﷺ ہوں اور بروزی رنگ میں تمام کمالات محمدی مع نبوت محمدیہ کے میرے آئینہ ظلیت میں
منعکس ہیں۔ تو پھر کون سا الگ انسان ہوا جس نے علیحدہ طور پر نبوت کا دعویٰ کیا۔‘‘
(ایک غلطی کا ازالہ ص۴،۵، خزائن ج۱۸ ص۲۱۲، مندرجہ تبلیغ رسالت ج۱ ص۲۰، مجموعہ اشتہارات ج۳ ص۴۳۷، جدید
ج۲ ص۵۲۷)
’’یہ (مسلمان) کیا منہ لے کر دوسرے مذاہب کے بالمقابل اپنا دین پیش کر سکتے ہیں… تاوقتیکہ وہ مسیح
موعود کی صداقت پر ایمان نہ لائیں جو فی الحقیقت وہی ختم المرسلین تھا کہ خدائی وعدے کے مطابق دوبارہ آخرین
میں مبعوث ہوا… وہ وہی فخر اوّلین وآخرین ہے جو آج سے تیرہ سو برس پہلے رحمۃ للعالمین بن کر آیا تھا اور اب
اپنی تکمیل تبلیغ کے ذریعہ ثابت کر گیا کہ واقعی اس کی دعوت جمیع ممالک وملل عالم کے لئے تھی۔‘‘
(الفضل قادیان ج۳ نمبر۴۱ ص۳ کالم۳، مؤرخہ ۲۶؍ستمبر ۱۹۱۵ء)
’’مجھے بروزی صورت نے نبی اور رسول بنایا ہے اور اسی بناء پر خدا نے باربار میرا نام نبی اللہ اور رسول
اللہ رکھا۔ مگر بروزی صورت میں میرا نفس درمیان نہیں ہے۔ بلکہ محمد مصطفی ﷺ ہے۔ اسی لحاظ سے میرا نام محمد اور
احمد ہوا۔ پس نبوت اور رسالت کسی دوسرے کے پاس نہیں گئی۔ محمد کی چیز محمد کے پاس ہی رہی۔‘‘
(ایک غلطی کا ازالہ ص۶، خزائن ج۱۸ ص۲۱۶، مندرجہ تبلیغ رسالت ج۱۰ ص۲۵، مجموعہ اشتہارات ج۳ ص۴۴۲، جدید
مجموعہ اشتہارات ج۲ ص۵۳۱)
’’پس چونکہ میں اس کا رسول یعنی فرستادہ ہوں۔ مگر بغیر کسی نئی شریعت اور نئے دعوے اور نئے نام کے
بلکہ اسی نبی کریم خاتم الانبیاء کا نام پاکر اور اسی میں ہوکر اور اسی کا مظہر بن کر آیا ہوں۔‘‘
(نزول المسیح ص۲، خزائن ج۱۸ ص۳۸۰،۳۸۱)
’’اس نکتہ کو یاد رکھو کہ میں رسول اور نبی نہیں ہوں۔ یعنی باعتبار نئی شریعت اور نئے دعوے اور نئے
نام کے اور میں رسول اور نبی ہوں۔ یعنی باعتبار ظلیت کاملہ کے۔ میں وہ آئینہ ہوں جس میں محمدی شکل اور محمدی
نبوت کا کامل انعکاس ہے اور میں کوئی علیحدہ شخص نبوت کا دعویٰ کرنے والا ہوتا تو خداتعالیٰ میرا نام محمد
اور احمد اور مصطفی اور مجتبیٰ نہ رکھتا۔‘‘
(نزول المسیح ص۳، خزائن ج۱۸ ص۳۸۱ حاشیہ)
’’بروز کے معنی حضرت مسیح موعود نے خود لکھے ہیں کہ اصل اور بروز میں فرق نہیں ہوتا۔ یہی وجہ ہے کہ آپ
جب آنحضرت ﷺ کے ساتھ غلامی کی نسبت بیان کرتے ہیں تو فرماتے ہیں کہ من یک قطرہ آب زلال محمدم۔ لیکن جب آپ
بروز کی رنگ میں جلوہ نما ہوتے تو فرماتے:’’من فرق بینی وبین المصطفی فما عرفنی
ومارائی‘‘ کہ جو مجھ میں اورآنحضرت ﷺ میں ذرا بھی فرق کرتا ہے، اس نے نہ مجھے دیکھا اور نہ مجھے
پہچانا۔‘‘
(تقریر سرور شاہ قادیانی، الفضل قادیان ج۳ نمبر۸۳ ص۸ کالم۲، مؤرخہ ۲۶؍جنوری ۱۹۱۶ء)
192
’’تو اس صورت میں کیا اس بات میں کوئی شک رہ جاتا ہے کہ قادیان میں اللہ تعالیٰ نے پھرمحمد ﷺ کو اتارا
تاکہ اپنے وعدہ کو پورا کرے۔‘‘
(کلمۃ الفصل مصنفہ بشیراحمد، مندرجہ رسالہ ریویو آف ریلیجنز قادیان ج۱۴ نمبر۳ ص۱۰۵، بابت ماہ مارچ
۱۹۱۵ء)
’’اور یہ اس لئے ہے کہ اللہ تعالیٰ کا وعدہ تھا کہ وہ ایک دفعہ اور خاتم النّبیین کو دنیا میں مبعوث کرے
گا۔ جیسا کہ آیۃ:’’واخرین منہم‘‘ سے ظاہر ہے کہ پس مسیح موعود خود محمد رسول اللہ ہے
جو اشاعت اسلام کے لئے دوبارہ دنیا میں تشریف لائے۔‘‘
(کلمۃ الفصل مصنفہ بشیراحمد، مندرجہ رسالہ ریویو آف ریلیجنز قادیان ج۱۴ نمبر۳ ص۱۵۸، بابت ماہ مارچ
۱۹۱۵ء)
-
محمد پھر اتر آئے ہیں ہم میں
اور آگے سے ہیں بڑھ کر اپنی شان میں
-
محمد دیکھنے ہوں جس نے اکمل
غلام احمد کو دیکھے قادیان میں
(ازقاضی محمد ظہورالدین اکمل قادیانی، اخبار البدر قادیان ج۲ نمبر۴۳ ص۱۴ کالم۱، مؤرخہ ۲۵؍اکتوبر
۱۹۰۶ء)
’’اور ہمارے نزدیک تو کوئی دوسرا آیا ہی نہیں۔ نہ نیا نبی نہ پرانا۔ بلکہ خود محمد رسول اللہ ﷺ ہی کی
چادر دوسرے کو پہنائی گئی ہے اور وہ خود ہی آئے ہیں۔‘‘
(ارشاد مرزا، اخبار الحکم قادیان ج۵ نمبر۴۴ ص۲ کالم۳، مؤرخہ ۳۰؍نومبر ۱۹۰۱ء، ملفوظات ج۲ ص۴۰۴، جدید
ج۱ ص۵۸۵)
’’اب معاملہ صاف ہے۔ اگر نبی کریم کا انکار کفر ہے تو مسیح موعود کا انکار بھی کفر ہونا چاہئے۔ کیونکہ
مسیح موعود (مرزاقادیانی) نبی کریم سے کوئی الگ چیز نہیں بلکہ وہی ہے اور اگر مسیح موعود کا منکر کافر نہیں
تو نعوذ باللہ نبی کریم کا منکر بھی کافر نہیں۔ کیونکہ یہ کس طرح ممکن ہے کہ پہلی بعثت میں تو آپ کا انکار کفر
ہو مگر دوسری بعثت میں جس میں بقول حضرت مسیح موعود آپ کی روحانیت اقوی اور اکمل اور اشد ہے، آپ کا انکار
کفر نہ ہو۔‘‘
(کلمۃ الفصل مصنفہ بشیراحمد مندرجہ رسالہ ریویو آف ریلیجنز قادیان ج۱۴ نمبر۳ ص۱۴۶،۱۴۷، بابت ماہ مارچ
۱۹۱۵ء)
’’پس ان معنوں میں مسیح موعود (جو آنحضرت کے بعث ثانی کے ظہور کا ذریعہ ہے) کے احمد اور نبی اللہ ہونے
سے انکار کرنا گویا آنحضرت کے بعث ثانی اور آپ کے احمد اور نبی اللہ ہونے سے انکار کرنا ہے جو منکر کو دائرہ
اسلام سے خارج اور پکا کافر بنا دینے والا ہے۔
نیز مسیح موعود کو احمد نبی اللہ تسلیم نہ کرنا اور آپ کو امتی قرار دینا، یا امتی گروہ میں داخل سمجھنا
گویا آنحضرت کو سید المرسلین اور خاتم النّبیین ہیں، امتی قرار دینا اور امتیوں میں داخل کرنا ہے جو کفر
عظیم اور کفر بعد کفر ہے۔‘‘
(الفضل قادیان ج۳ نمبر۳ ص۷ کالم۱، مؤرخہ ۲۹؍جون ۱۹۱۵ء)
’’اور آنحضرت کی بعثت اوّل میں آپ کے منکروں کو کافر اور دائرہ اسلام سے خارج قرار دینا لیکن آپ کی
بعثت ثانی میں آپ کے منکروں کو داخل اسلام سمجھنا یہ آنحضرت کی ہتک اور آیات سے استہزاء ہے۔ حالانکہ خطبہ
الہامیہ میں حضرت مسیح موعود نے آنحضرت کی بعث اوّل وثانی کی باہمی نسبت کو ہلال اور بدر کی نسبت سے تعبیر
فرمایا ہے جس سے لازم آتا ہے کہ بعث ثانی کے کافر کفر میں بعث اوّل کے کافروں سے بہت بڑھ کر ہیں… مسیح موعود
کی جماعت ’’واخرین منہم‘‘ کی مصداق ہونے سے آنحضرت کے صحابہ میں داخل ہے۔‘‘
(الفضل قادیان ج۳ نمبر۱۰ ص۶ کالم۱، مؤرخہ ۱۵؍جولائی ۱۹۱۵ء)
(۴) فنا فی الرسول اور بروز میں فرق
’’البتہ یہ ضرور یاد رکھنا چاہئے کہ فنافی الرسول اور بروز میں بڑا فرق ہے۔ جس طرح مثیل اور بروز میں
فرق ہے۔ فنافی الرسول اس حالت کا نام ہے۔ جب کہ کسی شخص کے اندر امتی ہونے کا مفہوم اور پیروی کے معنے اکمل
اور اتم درجہ تک پائے جائیں۔ لیکن جب اس
193
حالت سے گزر کر اسے نبوت محمدیہ کی چادر پہنائی جائے اور اس کے آئینہ ظلیت میں محمدی شکل اور محمدی
نبوت کا انعکاس ہوتو اس وقت وہ حالت بروز کہلاتی ہے۔ گوفنافی الرسول ہونا صدیقیت کا مقام ہے۔ پس اسی لئے
فنافی الرسول کے مقام تک تو امت محمدیہ میں سے سینکڑوں پہنچے مگر بروز کے مقام کے لئے مسیح موعود ہی مخصوص
تھے۔ جن کو احادیث میں آنحضرت ﷺ نے اپنی زبان مبارک سے نبی اللہ کہا۔‘‘
(الفضل قادیان ج۱۹ نمبر۴۸، مؤرخہ ۲۰؍اکتوبر ۱۹۳۱ء)
(۵) بروز اور اوتار
’’پھر مثیل اور بروز میں بھی فرق ہے۔ بروز میں وجود بروزی اپنے اصل کی پوری تصویر ہوتا ہے۔ یہاں تک کہ
نام بھی ایک ہو جاتا ہے۔ لیکن مثیل میں نام کا ایک ہونا شرط نہیں۔ مثلاًآنحضرت ﷺ حضرت موسیٰ علیہ السلام کے
مثیل تھے۔ مگر بروز نہ تھے۔ کیونکہ خدا نے آپ کا نام موسیٰ نہیں رکھا لیکن حضرت مسیح موعودکو تمام انبیاء کے
نام دئیے گئے اور آپ ان کے بروز ہوکر نبوت کے مقام پر پہنچے۔ پس فنافی الرسول اور مثیل ہونا بروز سے علیحدہ
چیزیں ہیں۔ البتہ بروز اور اوتار ہم معنے ہیں۔‘‘
(الفضل قادیان ج۱۹ نمبر۴۸، مؤرخہ ۲۰؍اکتوبر ۱۹۳۱ء)
(۶) مسیح موعود محمد است وعین محمد است
(عنوان، الفضل قادیان مؤرخہ ۱۷؍اگست ۱۹۱۵ء) ’’ادھر بچہ پیداہوتا ہے اور ادھر اس کے کان میں اذان دی
جاتی ہے اور شروع ہی میں اس کو خدا اور خدا کے رسول پاک کا نام سنایا جاتا ہے۔ بعینہٖ یہ بات میرے ساتھ
ہوئی۔ میں ابھی احمدیت میں بطور بچہ ہی کے تھا جو میرے کانوں میں یہ آواز پڑی کہ ’’مسیح موعود محمد است وعین
محمد است‘‘… میں اس سے بالکل بے بہرہ تھا کہ مسیح موعود پکارپکار کر کہہ رہا ہے کہ ’’منم محمد واحمد کہ
مجتبیٰ باشد‘‘ پھر میں اس سے بالکل بے علم تھا کہ خداکا برگزیدہ نبی اپنے آپ کو بروز محمد کہتا ہے اور بڑے
زور سے دعویٰ کرتا ہے کہ ’’میں بروزی طور پر وہی نبی خاتم الانبیاء ہوں‘‘ (ایک غلطی کا ازالہ) پھر مجھے یہ
معلوم نہ تھا کہ میں خدا کے اولوالعزم نبی حضرت مسیح موعود کو ماننے سے خدا کے نزدیک صحابہ کی جماعت میں
شامل ہوگیا ہوں۔ حالانکہ وہ خداکا نبی… الہامی الفاظ میں کہہ چکا تھا کہ جو میری جماعت میں شامل ہوا درحقیقت
میرے سردار خیرالمرسلین کے صحابہ میں داخل ہوا۔ (خطبہ الہامیہ ص۱۷۱، خزائن ج۱۶ ص۲۵۸) پھر مجھے ہرگز یہ معلوم
نہ تھا کہ خداتعالیٰ اپنی وحی پاک میں مسیح موعود کو ’’محمد رسول اللہ‘‘ کر کے مخاطب کرتا ہے۔ میرے کانوں نے
یہ الفاظ سنے تھے کہ حضرت مسیح موعود کا آنا بعینہٖ محمد رسول اللہ کا دوبارہ آنا ہے۔ حالانکہ یہ بات قرآن سے
صراحۃً ثابت ہے کہ محمد رسول اللہ ﷺ دوبارہ مسیح موعود کی بروزی صورت اختیار کر کے آئیں گے۔ جیسے کہ ’’واخرین منہم‘‘ سے ثابت ہے۔ خدا کے ارادے نے میرے دل پر کسی بزرگ کے منہ سے ’’مسیح
موعود محمد است وعین محمد است‘‘ کے الفاظ کندہ کروائے۔ وہ فرد کامل تھا جس کی تعریف میں حضرت مسیح موعود نبی
اللہ نے خود بھی صفحوں کے صفحے لکھے ہیں… یعنی وہ میرا پیارا اور میری احمدیت کے عین بچپن کے زمانہ میں خضر
راہ بننے والا حضرت شاہزادہ عبداللطیف شہید کابل تھا۔ جس نے قادیان سے واپس آتے ہوئے… مسجد گمٹی والی
(لاہور) میں… دوران تقریر میں بڑے زور سے فرمایا کہ ’’مسیح موعود محمد است وعین محمد است‘‘… وہ خدا کا پیارا
(مرزاقادیانی) جو اپنے منہ سے اپنے آپ کو بروز محمد کہتا تھا اور جو کہتا تھا کہ ’’میرا وجود خدا کے نزدیک
محمد رسول اللہ کا ہی وجود قرار پایا ہے۔‘‘ (ایک غلطی کا ازالہ) اس لئے مجھ میں اور محمد مصطفی میں کوئی دوئی
یا مغائرت باقی نہیں رہی۔ (خطبہ الہامیہ)… اور جو کہتا تھا کہ میں خدا سے ہوں اورمسیح مجھ
194
سے ہے اور جو کہتا تھا کہ جمیع انبیاء کی صفات کاملہ کا مظہر بن کر آیا ہوں جس کے آگے موسیٰ اور
عیسیٰ وہی حیثیت رکھتے ہیں جوآنحضرت ﷺ کے آگے رکھتے ہیں… مسیح موعود کے عین محمد ہونے کی اوّل دلیل یہ ہے کہ
جو حضرت مسیح موعود الہامی شان کے الفاظ میں یوں تحریر فرماتے ہیں ’’اور خدا نے مجھ پر اس رسول کریم کا فیض
نازل فرمایا اور اس کو کامل بنایا اور نبی کریم کے لطف اور جود کو میری طرف کھینچا۔ یہاں تک کہ میرا وجود اس
کا وجود ہوگیا۔ پس وہ جو میری جماعت میں شامل ہوا، درحقیقت میرے سردار خیرالمرسلین کے صحابہ میں داخل ہوا
اور یہی معنی ’’واخرین منہم‘‘ کے بھی ہیں… اور جو شخص مجھ میں اور محمد مصطفی میں
تفریق کرتا ہے، اس نے مجھ کو نہیں دیکھا ہے اور نہیں پہچانا ہے۔ (خطبہ الہامیہ ص۱۷۱، خزائن ج۱۶ ص۲۵۸،۲۵۹) پس
ہمارا صحابہ کی جماعت میں شامل ہونا مسیح موعود کے عین محمد ہونے پر ایک پختہ اور بدیہی دلیل ہے۔ پھر یہ
الفاظ کہ ’’جو شخص مجھ میں اور محمد مصطفی میں تفریق کرتا ہے اس نے مجھ کو نہیں دیکھا اور نہیں پہچانا۔‘‘
صاف پکارپکار کر کہہ رہے ہیں کہ مسیح موعود کو فضائل اور نعماء حضرت احدیت کے لحاظ سے عین محمد اگر نہ مانا
جاوے تو سب کہنا باطل ہو جاتا ہے۔‘‘
(الفضل قادیان ج۳ نمبر۲۴ ص۸ کالم۲،۳، مؤرخہ ۱۷؍اگست ۱۹۱۵ء)
(۷) ایک دفعہ پھر
’’وہ جس نے مسیح موعود (یعنی مرزاغلام احمد قادیانی) اور نبی کریم میں تفریق کی، اس نے بھی مسیح موعود
کی تعلیم کے خلاف قدم مارا۔ کیونکہ مسیح موعود صاف فرماتا ہے کہ: ومن فرق بینی وبین
المصطفی فما عرفنی ومارای (دیکھو: خطبہ الہامیہ ص۱۷۱، خزائن ج۱۶ ص۲۵۹) اور وہ جس نے مسیح موعود
کی بعثت کو نبی کریم کی بعثت ثانی نہ جانا اس نے قرآن کو پس پشت ڈال دیا۔ کیونکہ قرآن پکارپکار کر کہہ رہا
ہے کہ محمد رسول اللہ ایک دفعہ پھر دنیا میں آئے گا۔‘‘
(کلمۃ الفصل مصنفہ بشیراحمد، مندرجہ رسالہ ریویو آف ریلیجنز قادیان ج۱۴ نمبر۳ ص۱۰۵، بابت ماہ مارچ
۱۹۱۵ء)
(۸) ذرہ بھر
’’حضرت مسیح موعود نام، کام اور مقام کے اعتبار سے گویاآنحضرت ﷺ کا ہی وجود ہیں اور آپ میں اورآنحضرت
ﷺ میں ایک ذرہ بھر بھی فرق نہیں۔ سوائے اس کے کہ مسیح موعود شاگرد اورآنحضرت ﷺ استاد ہیں۔ لیکن یہ فرق نام،
کام اور مقام کے اعتبار سے نہیں بلکہ ذریعہ یا وجہ حصول نبوت کے اعتبار سے ہے۔ اب میں اس مضمون میں یہ
دکھانا چاہتا ہوں کہ حضرت مسیح موعود نے بصراحت اس امر کو لکھا ہے کہ مسیح موعود درحقیقت محمدی حقیقت کا
مظہر تام اور آپ کے وجود کاآئینہ ہے اور جیسا کہ آنحضرت ﷺ اپنی قوت قدسیہ اور افاضہ روحانیہ کے ساتھ اوّلین
میں مبعوث ہوئے ہیں۔ ایسا ہی وہ آخرین میں بھی اسی قوت قدسیہ اور افاضہ روحانیہ کے ساتھ مبعوث ہوئے اور جیسا
کہ فیض آنحضرت ﷺ کا صحابہ پر جاری ہوا، ایسا ہی بغیر کسی فرق ایک ذرہ کے مسیح موعود کی جماعت پر فیض ہوگا۔
چنانچہ آپ (مرزاقادیانی) فرماتے ہیں، ’’پس جب کہ یہ امر نص صریح قرآن شریف سے ثابت ہے کہ جیسا کہ آنحضرت ﷺ
کا فیض صحابہ پر جاری ہوا۔ ایسا ہی بغیر کسی امتیاز اور تفریق کے مسیح موعود کی جماعت پر فیض ہوگا تو اس
صورت میں آنحضرت ﷺ کا ایک اور بعث ماننا پڑا جو آخری زمانہ میں مسیح موعود کے وقت میں ہزارششم میں ہوگا اور
اس تقریر سے یہ بات بپایہ ثبوت کو پہنچ گئی کہ آنحضرت ﷺ کے دوبعث ہیں یا تبدیل الفاظ یوں کہہ سکتے ہیں کہ
ایک بروزی رنگ آنحضرت ﷺ کا دوبارہ آنا دنیا میں وعدہ دیاگیا تھا جو مسیح موعود اور مہدی معہود کے ظہور سے
پورا ہوا۔‘‘ (تحفہ گولڑویہ ص۹۴، خزائن ج۱۷ ص۲۴۸،۲۴۹ حاشیہ) اس حوالہ سے معلوم ہوتا ہے کہ حضرت مسیح موعود کی
جماعت درحقیقت
195
آنحضرت ﷺ کے ہی صحابہ میں کی ایک جماعت ہے اور جیسا کہ آنحضرت ﷺ کا فیض صحابہ پر جاری ہوا، ایسا ہی
بغیر فرق ایک ذرہ کے مسیح موعود کی جماعت پر بھی آنحضرت ﷺ کا فیض ہوا۔ پس یہ امر روزروشن کی طرح ظاہر ہورہا
ہے کہ حضرت مسیح موعود کی جماعت کا عین صحابہ میں کی ایک جماعت ہونا اور آپ کی جماعت پر عین بعین وہی آنحضرت
ﷺ کا فیض جاری ہونا جو صحابہ پر ہوا تھا۔ اس امر کی پختہ دلیل ہے کہ مسیح موعود درحقیقت محمد اور عین محمد
ہیں اور آپ میں اورآنحضرت ﷺ میں باعتبار نام، کام اور مقام کے کوئی دوئی یا مغائرت نہیں۔‘‘
(الفضل قادیان ج۳ نمبر۷۶ ص۷ کالم۲،۳، مؤرخہ یکم؍جنوری ۱۹۱۶ء)
(۹) مرزاقادیانی خود محمد رسول اللہ
’’پس جب کہ مسیح موعود (مرزاقادیانی) نبی کریم کی دوسری بعث کے مورد ہیں اور آپ کی جماعت بغیر کسی فرق
ایک ذرہ کے خاص نبی کریم ہی کی فیض یافتہ ہے تو پھر حضرت مسیح موعود کا نبی اللہ اور رسول اللہ ہونا متحقق ہے۔
پس اے مسیح کو خدا کا نبی نہ یقین کرنے والو! خدارا سوچو جب حضرت مسیح موعود (مرزاغلام احمد قادیانی) بغیر
فرق ایک ذرہ کے روحانی حقیقت کی رو سے خود محمد رسول اللہ ﷺ بھی ہیں تو ایک منٹ کے لئے بھی حضرت نبی کریم کو
غیرنبی مقرر کرنا اور آپ سے نبوت کو منفک شدہ ماننا ایک صریح کفر نہیں تو اور کیا ہے اور اگر حضرت مسیح
موعود نبی کریم ﷺ کی بعث ثانی کے مورد ہیں اور یقینا ہیں اور اگر حضرت نبی کریم ﷺ خدا کے نبی ہیں اور آپ کی
نبوت کا دامن قیامت تک وسیع ہے اور یقینا ہے تو یقینا مسیح موعود کا نبی اور رسول ہونا بھی محقق ہے۔ منکران
نبوت کہتے ہیں کہ مسیح موعود کو حقیقی معنوں میں نبی ماننے سے حضرت نبی کریم ﷺ کی ہتک لازم آتی ہے۔ مگر میں
علی وجہ البصیرت کہتا ہوں کہ مسیح موعود کو حقیقی معنوں میں نبی اللہ اور رسول اللہ نہ ماننا صریح طور پر کفر کا
ارتکاب کرنا ہے اور حضرت نبی کریم ﷺ کی نبوت پر ایک خطرناک حملہ کرنا ہے۔ کیونکہ خطبہ الہامیہ میں مسیح
موعود فرماچکے ہیں:
’’اور جان کہ ہمارے نبی کریم ﷺ جیسا کہ پانچویں ہزار میں مبعوث ہوئے ایسا ہی مسیح موعود کی بروزی صورت
اختیار کر کے چھٹے ہزار کے اخیر میں مبعوث ہوئے… پس جس نے ان سے انکار کیا، اس نے حق کا اور نص قرآن کا
انکار کیا، بلکہ حق یہ ہے کہ آنحضرت ﷺ کی روحانیت چھٹے ہزار کے اخیر میں یعنی ان دونوں میں بہ نسبت ان سالوں
کی اقویٰ اور اکمل اور اشد ہے۔ بلکہ چودھویں رات کے چاند کی طرح ہے۔‘‘ تم مسلمانوں کے بچے ہو۔ تم نے قرآن کو
خدا کا کلام مانا ہے۔ تم نے حضرت نبی کریم کو افضل الانبیاء تسلیم کیا ہے۔ پھر اگر تمہارے ہی ہاتھوں سے نبی
کریم ﷺ کی یہ عزت ہو جو تم اس کو آج غیرنبی قرار دے رہے ہو تو تمہارے لئے شرم کا مقام ہے۔ وہ نبی جو آج سے
تیرہ سو سال پہلے عرب کی مبارک زمین میں مبعوث ہوچکا ہے، وہی نبی مسیح موعود کی بروزی صورت اختیار کر کے
ویسا ہی مبعوث ہوتا ہے جیسا کہ پہلے مبعوث ہوتا تھا۔ اس کو تم لوگ غیرنبی کہتے ہو۔ آؤ خدا سے ڈرجاؤ۔ پس اے
مسلمانوں کی اولاد خدارا اپنی جانوں پر ظلم نہ کرو اور محمد رسول اللہ ﷺ کی نبوت سے منکر مت ہو۔ تم سے کلمہ
طیبہ (لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ) کئی دفعہ پڑھوایا جاچکا ہے تاتم کسی وقت محمد
رسول اللہ ﷺ کی نبوت سے منکر نہ ہو جانا۔ یہ ایسا نہ سمجھنا کہ گویا کسی ایک منٹ کے لئے بھی محمد رسول اللہ،
رسول اللہ نہیں رہے۔ پھر سوچو کہ اگر محمد رسول اللہ پہلی بعث میں نبی اللہ اور رسول اللہ تھے تو دوسری بعث میں جو
اپنی شان میں بہت بڑھ کر ہوتی ہے، وہی محمد رسول اللہ کیوں نبی اور رسول نہیں رہا۔ وہ نبی اور رسول ہے اور
یقینا ہے۔ پس تم محمد رسول اللہ ﷺ کے ظل اتم اور بروز اکمل مسیح موعود کو غیرنبی کہہ کر درحقیقت اپنے کفر پر
آپ ہی مہر لگاتے ہو۔‘‘
(فاروق قادیان ج۲۱ نمبر۲۶،۲۷، مؤرخہ ۲۱؍اکتوبر ۱۹۳۶ء)
196
(۱۰) دونوں ایک
’’پس جب کہ خداتعالیٰ کے نزدیک حضرت مسیح موعود کا وجود خاص آنحضرت ﷺ کا ہی وجود ہے یعنی خدا کے دفتر
میں حضرت مسیح موعود اورآنحضرت ﷺ آپس میں کوئی دوئی یا مغائرت نہیں رکھتے بلکہ ایک ہی شان، ایک ہی مرتبہ،
ایک ہی منصب اور ایک ہی نام رکھتے ہیں۔ گویا لفظوں میں باوجود دو ہونے کے ایک ہی ہیں۔ تو یہ کس قدر حق سے
خروج ہوگا کہ حضرت مسیح موعود کے عین محمد ہونے سے انکارکریں اور چونکہ حضرت مسیح موعودآنحضرت ﷺ کا بروزی
وجود رکھتے ہیں۔ اس لئے ممکن نہیں کہ حضرت مسیح موعود کوآنحضرت ﷺ سے غیریقین کیا جائے۔ جیسے کہ حضرت مسیح
موعود (مرزاقادیانی) فرماتے ہیں۔ ’’اب نبوت پر قیامت تک مہر لگ گئی ہے اور بجز بروزی وجود کے جو خودآنحضرت ﷺ
کا وجود ہے کسی میں یہ طاقت نہیں جو کھلے کھلے طور پر نبیوں کی طرح خدا سے کوئی علم غیب پاوے اور چونکہ وہ
بروزی محمدی جو قدیم سے موعود تھا، وہ میں ہوں۔ اس لئے بروزی رنگ کی نبوت مجھے عطاء کی گئی اور اس نبوت کے
مقابل پر اب تمام دنیا بے دست وپا ہے۔‘‘ (ایک غلطی کا ازالہ ص۶، خزائن ج۱۸ ص۲۱۵، مندرجہ تبلیغ رسالت ج۱۰
ص۲۳، مجموعہ اشتہارات ج۳ ص۴۴۰، جدید مجموعہ اشتہارات ج۲ ص۵۳۰) ’’الغرض مسیح موعود کی تحریروں سے یہ بات پختہ
طور پر ثابت ہورہی ہے کہ حضرت مسیح موعود یقینا محمد تھے اور آپ کو چونکہ آنحضرت ﷺ کا بروزی وجود عطاء
کیاگیا تھا اس لئے آپ عین محمد تھے اور آپ میں جمیع کمالات محمدیہ کامل طور پر منعکس تھے۔ پس اس لئے آپ کے
عین محمد ہونے میں کوئی شک وشبہ نہیں اور ایسا ہونا قدیم سے مقدر تھا کہ آنحضرت ﷺ کے بعد ایک بروز محمد جمیع
کمالات محمدی کے ساتھ آخری زمانہ میں مبعوث ہوگا۔‘‘
(الفضل قادیان ج۳ نمبر۳۷ ص۷ کالم۲، مؤرخہ ۱۶؍ستمبر ۱۹۱۵ء)
(۱۱) کسی نے بھی
’’آج تک کے مسلمانوں میں سے کسی نے بھی یہ بات آنحضرت ﷺ کی شان کے متعلق بیان نہیں کی اور نہ ہی اس
حقیقت سے حضرت مسیح موعود (مرزاقادیانی) سے پہلے کوئی شخص واقف اور شناسا ثابت ہوتا ہے کہ آنحضرت ﷺ کی دو
بعثتیں ہیں۔ تمام دنیائے اسلام میں صرف آپ ہی کا ایک وجود ہے جس نےآنحضرت ﷺ کی شان کا اظہار آپ کی دو بعثتوں
کی حیثیت میں کیا۔ چنانچہ آپ (یعنی مرزاقادیانی) (تحفہ گولڑویہ ص۹۴) پر تحریر فرماتے ہیں: ’’آنحضرت ﷺ کے دو
بعث ہیں یا بہ تبدیل الفاظ یوں کہہ سکتے ہیں کہ ایک بروزی رنگ میں آنحضرت ﷺ کا دوبارہ آنا دنیا میں وعدہ
دیاگیا تھا جو مسیح موعود اور مہدی موعود (مرزاقادیانی) کے ظہور سے پورا ہوا۔‘‘ پھر (مرزاقادیانی) (تحفہ
گولڑیہ ص۹۶) پر فرماتے ہیں: ’’جیسا کہ مومن کے لئے دوسرے احکام الٰہی پر ایمان لانا فرض ہے ایسا ہی اس بات
پر ایمان لانا بھی فرض ہے کہ آنحضرت ﷺ کے دو بعث ہیں۔‘‘ پھر (تحفہ گولڑویہ ص۹۹) پر فرماتے ہیں: ’’غرض آنحضرت
ﷺ کے دو بعث مقرر تھے۔ ایک بعث تکمیل ہدایت کے لئے، دوسرا بعث تکمیل اشاعت ہدایت کے لئے۔‘‘
(الفضل قادیان ج۱۸ نمبر۸۶ ص۱۰ کالم۱، مؤرخہ ۲۴؍جنوری ۱۹۳۱ء)
(۱۲) وہی نبی
’’پس حضرت مسیح موعود (مرزاقادیانی) وہی نور ہیں جس کا سب نوروں کے آخر میں آنا مقدر ہوچکا تھا اور
وہی نبی ہیں جس کا آنا سب سے آخر ہوا۔ اس لئے ہو نہیں سکتا کہ وہ سوائےآنحضرت ﷺ کے بروزی وجود کے کسی اور
حیثیت میں پیش کئے جا سکیں۔ کیونکہ آخری ہونا ہمارے نبی ﷺ کی ہی شان ہے۔ پس اس لئے خدا تعالیٰ نے حضرت مسیح
موعود کو ظلی طور پرآنحضرت ﷺ ہی کا تمام کمال یعنی
197
نام، کام اور مقام عنایت کیا تااس کا آنا کسی غیر کا آنا نہ سمجھا جائے۔ بلکہ خودآنحضرت ﷺ کا ہی آنا
متصور ہو۔‘‘
(الفضل قادیان ج۳ نمبر۵۵ ص۳ کالم۲، مؤرخہ ۲۸؍اکتوبر ۱۹۱۵ء)
(۱۳) انشراح صدر
’’پس ہم نہایت ہی انشراح صدر سے اس بات پر یقین لاتے ہیں کہ حضرت مسیح موعود بروزی طور پر (نہ تناسخ
کے طور پر) وہی نبی خاتم الانبیاء ہیں جن کا آخری زمانہ میں آنا مقدر ہوچکا تھا اور یہ کہ حضرت مسیح موعود
واقعی وہی جامع جمیع کمالات محمدیہ مع نبوت ہیں جس کا آنا خدا کے مقدس نوشتوں میں ایک قرار یافتہ عہد کے طور
پر درج ہے اور آپ روحانی حقیقت کے اعتبار سے وہی حضرت خاتم الانبیاء محمد رسول اللہ ﷺ ہیں جو زمین حجاز میں اب
سے ۱۳۰۰ برس پہلے پیدا ہوئے تھے۔ پس حضرت مسیح موعود (علیہ السلام) کا اپنا کلام بھی ہم کو ان الفاظ پر پورا یقین لانے
کے لئے صراحۃً مجبور کر رہا ہے جو حضرت شاہزادہ عبداللطیف شہید کابل نے اپنی کمال معرفت حاصل کرنے کے بعد
فرمائے تھے کہ:
مسیح موعود محمد است و عین محمد است‘‘
(الفضل قادیان ج۳ نمبر۵۵ ص۴ کالم۱، مؤرخہ ۲۸؍اکتوبر ۱۹۱۵ء)
(۱۴) یایوں کہو
’’گزشتہ مضمون (مندرجہ الفضل مؤرخہ ۱۶؍ستمبر ۱۹۱۵ء) میں، میں نے محض بفضل الٰہی اس بات کو پایہ ثبوت
تک پہنچایا ہے کہ حضرت مسیح موعود باعتبار نام، کام، آمد، مقام مرتبہ کےآنحضرت ﷺ کا ہی وجود ہیں یا یوں کہو
کہ آنحضرت ﷺ جیسا کہ پانچویں ہزار میں مبعوث ہوئے تھے ایسا ہی اس وقت جمیع کمالات کے ساتھ مسیح موعود کی
بروزی صورت میں مبعوث ہوئے ہیں۔ یا یوں کہو کہ جیساآنحضرت ﷺ کو پانچویں ہزار میں محمدیت کی چادر پہنائی گئی
تھی، ویسا ہی آج مسیح موعود کو پھر بروزی طور پر وہی محمدیت کی چادر پہنائی گئی ہے یا یوں کہو کہ مسیح موعود
ایک ایسا آئینہ ہے جس میں محمدی شکل اور محمدی نبوت کا کامل انعکاس ہے یا یوں کہو کہ حضرت مسیح موعود ایک
ایسا واسطہ ہے جس کے ذریعہ سے محمدی قوت اور جلال پھر ازسرنو دنیا پر ظاہر ہوا۔ الغرض ان تمام باتوں کا لب
لباب وہی الفاظ ہیں جو کہ میرے مضمون کے لئے اصل شاہراہ کا کام دے رہے ہیں۔ یعنی یہ کہ ؎
مسیح موعود محمد است و عین محمد است‘‘
پس حضرت مسیح موعود وہی نور ہیں جس کا سب نوروں کے آخر میں آنا مقدر ہوچکا تھا اور وہی نبی ہیں جس کا
آنا سب سے آخر ہوا ہے۔ اس لئے ہو نہیں سکتا کہ وہ سوائےآنحضرت ﷺ کے بروزی وجود کے کسی اور حیثیت میں پیش کئے
جاسکیں۔ کیونکہ آخری ہونا ہمارے نبی ﷺ کی ہی شان ہے۔ پس اس لئے خداتعالیٰ نے حضرت مسیح موعود کو ظلی طور
پرآنحضرت ﷺ ہی کا تمام کمال یعنی نام، کام اور مقام عنایت کیا تااس کا آنا کسی غیر کا آنا نہ سمجھا جاوے۔
بلکہ خودآنحضرت ﷺ کا ہی آنا متصور ہو۔‘‘
(الفضل قادیان ج۳ نمبر۵۵ ص۳ کالم۱،۲، مؤرخہ ۲۸؍اکتوبر ۱۹۱۵ء)
(۱۵) محمد مصطفی
’’اس روئیت اور معرفت سے مراد وہ مرتبہ روئیت ومعرفت ہے جس کی نسبت حضرت مسیح موعود نے خطبہ الہامیہ
میں فرمایا ہے کہ: ’’من فرق بینی وبین المصطفی ما عرفنی ومارائی‘‘ یعنی جس نے میرے
اور حضرت محمد
198
مصطفی کے درمیان فرق کیا اور دونوں کو الگ الگ سمجھا اس نے نہ مجھے شناخت کیا اور پہچانا اور نہ ہی
دیکھا اور سمجھا۔ پس حضور کے اس ارشاد کے مطابق حضور کا دیکھنا اور پہچاننا ان ہی معنوں میں ہے کہ حضور
(مرزاقادیانی) کو محمد مصطفی ہی یقین کیا جائے۔‘‘
(الفضل قادیان ج۲ نمبر۱۵۶ ص۷ کالم۳، مؤرخہ ۲۱؍جون ۱۹۱۵ء)
(۱۶) مصطفی میرزا
-
صدی چودھویں کا ہوا سر مبارک
کہ جس پر وہ بدرالدجیٰ بن کے آیا
-
محمد پئے چارہ سازی امت
ہے اب احمد مجتبیٰ بن کے آیا
-
حقیقت کھلی بعث ثانی کی ہم پر
کہ جب مصطفی میرزا بن کے آیا
(الفضل قادیان ج۱۳ نمبر۱۱۴، مؤرخہ ۲۸؍مئی ۱۹۲۶ء)
(۱۷) محمد رسول اللہ
’’ہم نے میرزا کو بحیثیت مرزا نہیں مانا بلکہ اس لئے کہ خدا نے اسے محمد رسول اللہ فرمایا۔ کوئی نیا نبی
نہیں آیا نہ پرانے نبیوں میں سے بلکہ محمد کی نبوت محمد ہی کے پاس رہی۔ (a) یہی وجہ ہے کہ حضور
(مرزاقادیانی) نے اپنی نبوت کو ظلی ومجازی نبوت کہا اور حقیقی ومستقل نبوت نہ کہا۔ بعض لوگ اس نکتہ کو نہیں
سمجھتے… میرا ایمان ہے کہ اگر مرزاصاحب مستقل اور حقیقی نبی ہوتے تو ہرگز ہرگز یہ درجہ نہ پاتے اور جو محمد
رسول اللہ ﷺ ہوکر پایا… تم پر اللہ کا بڑا فضل ہے۔ کیونکہ اگر تم اپنی ساری جائیدادیں، سارے اموال اور جانیں
قربان کر دیتے تو بھی صحابہ کرام میں شامل نہ ہوسکتے۔ یہ مسلمانوں کا عقیدہ ہے کہ غوث، قطب، ولی جتنے بزرگ
امت محمدیہ میں گزرے ہیں، ان کا ایمان صحابی کے ایمان کے برابر نہیں ہوسکتا… اللہ نے تمہیں محمد رسول کا چہرہ
مبارک دکھا کر اس کی صحبت سے مستفاد کر کے صحابہ کرام کے گروہ میں شامل کر دیا۔‘‘
(تقریر سرور شاہ قادیانی، الفضل قادیان ج۲ نمبر۸۴ ص۷ کالم۲،۳، مؤرخہ ۲۹؍دسمبر ۱۹۱۴ء)
(۱۸) نبی اللہ رسول اللہ
’’حضرت مسیح موعود (مرزاقادیانی) نے اپنے آپ کو کھلے طور پر نبی اللہ اور رسول اللہ پیش کیا ہے اور اپنے
آپ کو زمرۂ انبیاء ومرسلین میں شامل فرمایا ہے اور جن آیات قرآنیہ کو اپنے دعوے میں پیش کیا ہے، ان صریح
طور پر الفاظ ’’رسول‘‘ یا ’’رسلہ‘‘ کے موجود ہیں جن کا حضور (مرزاقادیانی) نے اپنے آپ کو مصداق ٹھہرایا ہے۔
پس آیات قرآنیہ بینہ کے لفظ ’’رسول‘‘ کا اپنے آپ کو مصداق ٹھہرانا صاف اور صریح اس امر کی بیّن دلیل ہے کہ
حضرت مسیح موعود من حیث النبوت ان ہی معنوں میں نبی اللہ اور رسول اللہ تھے جن معنوں میں ان آیات سے دیگر انبیاء
سابقین مراد لئے جاتے ہیں۔‘‘
(الفضل قادیان ج۲ نمبر۳۸ ص۵ کالم۱، مؤرخہ ۱۳؍ستمبر ۱۹۱۴ء)
(۱۹) وہ ایک ہے
’’میری سمجھ میں نہیں آتا کہ اگر یہ لوگ اس زمانہ کے رسول (مرزاقادیانی) کے خیالات اور تعلیم اور وہ
کلام ربانی جو اس رسول (مرزاقادیانی)پر نازل ہوتا ہے، چھوڑدیں گے تو وہ اور کون سی باتیں ہیں جن کی اشاعت
کرنا چاہتے ہیں۔ کیا اسلام کوئی دوسری چیز ہے جو اس رسول (مرزاقادیانی) سے علیحدہ ہوکر بھی مل سکتا ہے۔ کیا
احمد (مرزاقادیانی) سے علیحدہ ہوکر محمد ﷺ کا رستہ مل سکتا ہے۔ کیا احمد
199
(مرزاقادیانی) اور محمد ﷺ میں کچھ فرق ہے۔ قسم ہے اس ذات کی جس نے مجھے پیدا کیا، جس نے محمد اور
احمد (مرزاقادیانی) میں فرق جانا اس نے ہرگز حضور (مرزاقادیانی) کو نہیں پہچانا۔ اس کا زبان سے اقرار محض
لاف زنی ہے جس نے احمد (مرزاقادیانی) کو چھوڑا اس نے محمد ﷺ کو بھی چھوڑا۔ وہ ہرگز ہرگز ’’واخرین منہم لما یلحقوا بہم‘‘ کا مصداق نہیں۔ وہی احمد (مرزاقادیانی) ہے۔ وہی محمد ﷺ
ہے جو اس وقت ہم میں (قادیان میں) موجود ہے۔ پھر جو احمد کی تعلیم کو علیحدہ کرنا چاہتا ہے وہ محمد ﷺ کی
اشاعت نہیں کرسکتا۔ کیونکہ دراصل وہ ایک ہے۔‘‘
(منشی حبیب الرحمن قادیانی کا خط، بخدمت مرزا (محمود) الفضل قادیان ج۲۳ نمبر۱۶۷ ص۴ کالم۴، مؤرخہ
۱۷؍جنوری ۱۹۳۶ء)
(۲۰) فخراوّلین وآخرین
’’اے مسلمان کہلانے والو! اگر تم واقعی اسلام کا بول بالا چاہتے اور باقی دنیا کو اپنی طرف بلاتے ہو
تو پہلے خود سچے اسلام کی طرف آجاؤ جو مسیح موعود (مرزاغلام احمد قادیانی) میں ہوکر ملتا ہے۔ اسی کے طفیل
آج بروتقویٰ کی راہیں کھلتی ہیں۔ اسی کی پیروی سے انسان فلاح ونجات کی منزل مقصود پر پہنچ سکتا ہے۔ وہ وہی
فخر اوّلین وآخرین ہے جو آج سے تیرہ سو برس پہلے رحمۃ للعالمین بن کر آیا تھا اور اب اپنی تکمیل تبلیغ کے
ذریعہ ثابت کرگیا کہ واقعی اس کی دعوت جمیع ممالک وملل عالم کے لئے تھی۔ فصلی اللہ علیہ
وسلم‘‘
(الفضل قادیان ج۳ نمبر۴۱ ص۳ کالم۳، مؤرخہ ۲۶؍ستمبر ۱۹۱۵ء)
(۲۱) قادیانی اسلام
سیدنا حضرت احمد جری اللہ پرسلام
(عنوان مندرجہ اخبار الفضل قادیان مؤرخہ ۳۰؍جون ۱۹۲۰ء)
-
اے امام الوریٰ سلام علیک
مہ بدرالدجیٰ سلام علیک
-
مہدی عہد و عیسیٰ موعود
احمد مجتبیٰ سلام علیک
-
مطلع قادیاں پہ تو چمکا
ہو کے شمس الہدیٰ سلام علیک
-
تیرے آنے سے سب نبی آئے
مظہر الانبیاء سلام علیک
-
مسقط وحی مہبط جبرائیل
سدرۃ المنتہیٰ سلام علیک
-
کفر کی شب کو کر دیا کافور
مثل شمس الضحیٰ سلام علیک
-
مانتے ہیں تری رسالت کو
اے رسول خدا سلام علیک
(الفضل قادیان ج۷ نمبر۱۰۰ ص۲ کالم۳، مؤرخہ ۳۰؍جون ۱۹۲۰ء)
(۲۲) کلمہ شریف
’’اگر ہم بفرض محال یہ بات مان بھی لیں کہ کلمہ شریف میں نبی کریم کا اسم مبارک اس لئے رکھاگیا ہے کہ
آپ آخری نبی ہیں تو تب بھی کوئی حرج واقع نہیں ہوتا اور ہم کو نئے کلمہ کی ضرورت پیش نہیں آتی۔ کیوں مسیح
موعود نبی کریم سے کوئی الگ چیز نہیں۔ جیسا کہ وہ (مرزاقادیانی) خود فرماتا ہے:’’صار وجودی
وجودہ‘‘ نیز ’’من فرق بینی وبین المصطفی
200
فما عرفنی ومارائی‘‘ اور یہ اس لئے ہے کہ اللہ تعالیٰ کا وعدہ تھا کہ وہ ایک
دفعہ اور خاتم النّبیین کو دنیا میں مبعوث کرے گا۔ جیسا کہ آیت:’’اخرین منہم‘‘ سے
ظاہر ہے۔ پس مسیح موعود (مرزاقادیانی) خود محمد رسول اللہ ہے جو اشاعت اسلام کے لئے دوبارہ دنیا میں تشریف
لائے۔ اس لئے ہم کو کسی نئے کلمہ کی ضرورت نہیں۔ ہاں! اگر محمد رسول اللہ کی جگہ کوئی اور آتا تو ضرورت پیش
آتی۔‘‘
(کلمۃ الفصل مصنفہ بشیراحمد مندرجہ رسالہ ریویو آف ریلیجنز قادیان ج۱۴ نمبر۴ ص۱۵۸، بابت ماہ اپریل
۱۹۱۵ء)
(۲۳) مرزاغلام احمد پر صلوات
’’پس آیۃ:’’یاایہا الذین امنوا صلوا علیہ وسلموا تسلیما‘‘ کی رو سے ان احادیث کی
رو سے جن میں آنحضرت ﷺ پر درود بھیجنے کی تاکید پائی جاتی ہے۔ حضرت مسیح موعود (مرزاقادیانی) پر درود بھیجنا
بھی اسی طرح ضروری ہے جس طرحآنحضرت ﷺ پر درود بھیجنا از بس ضروری ہے۔ اس کے لئے کسی مزید دلیل اور ثبوت کی
ضرورت نہیں۔ تاہم ذیل میں چند فقرات حضرت مسیح موعود (مرزاقادیانی) کی وحی الٰہی کے بطور نمونہ نقل کئے جاتے
ہیں جن میں آپ پر درود بھیجنا آپ کی جماعت کا ایک فرض قرار دیاگیا ہے۔ (رسالہ درود شریف مؤلفہ محمد اسماعیل
قادیانی ص۱۳۶) تمہیں اصحاب الصفہ (کی ایک عظیم الشان جماعت) دی جائے گی اور تمہیں کیا معلوم کہ اصحاب الصفہ
کس شان کے لوگ ہیں۔ تم ان کی آنکھوں سے بہ کثرت آنسو بہتے دیکھو گے اور وہ تم پر درود بھیجیں گے۔ (ترجمہ)
(رسالہ درود شریف، بحوالہ اربعین نمبر۲ ص۴، خزائن ج۱۷ ص۳۵۰) وہ لوگ تم پر درود بھیجیں گے جو (اس جماعت میں)
مثیل انبیاء بنی اسرائیل پیدا ہوں گے۔ (الہام مرزاغلام احمد قادیانی، مندرجہ رسالہ درود شریف ص۱۳۷، مؤلفہ
محمد اسماعیل قادیانی) خدا عرش پر تیری تعریف کرتا ہے۔ ہم تیری تعریف کرتے ہیں اور تیرے پر درود بھیجتے ہیں۔
(رسالہ درود شریف، بحوالہ اربعین نمبر۲ ص۶،۱۴ نمبر۳ ص۲۴تا۲۶) سلام علی ابراہیم۔
ابراہیم پر سلام (یعنی اس عاجز پر) (اربعین نمبر۲ ص۲۱، خزائن ج۱۷ ص۳۶۸) ازروئے سنت اسلام واحادیث نبویہ
ضروری ہے کہ تصریح سے آپ (مرزا) کی آل کو بھی درود میں شامل کیا جائے۔ اسی طرح بلکہ اس سے بدرجہا بڑھ کر یہ
بات ضروری ہے کہ حضرت مسیح موعود پر بھی تصریح سے درود بھیجا جائے اور اس اجمال درود پر اکتفانہ کیا جاوے
جوآنحضرت ﷺ پر درود بھیجنے کے وقت آپ کو بھی پہنچ جاتا ہے… چنانچہ حضرت مسیح موعود فرماتے ہیں: ’’بعض بے خبر
ایک یہ اعتراض بھی میرے پر کرتے ہیں کہ اس شخص کی جماعت اس پر فقرہ (علیہ الصلوٰۃ والسلام) اطلاق کرتے ہیں
اور ایسا کرنا حرام ہے۔ اس کا جواب یہ ہے کہ میں مسیح موعود ہوں اور دوسروں کا صلوٰۃ یا سلام کہنا تو ایک
طرف خودآنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ جو شخص اس کو پائے، میرا سلام اس کو کہے اور احادیث اور تمام شروح احادیث میں
مسیح موعود کی نسبت صدہا جگہ صلوٰۃ وسلام کا لفظ لکھا ہوا موجود ہے۔ پھر جب کہ میری نسبت نبیm نے یہ لفظ
کہا، صحابہ نے کہا، بلکہ خدا نے کہا تو میری جماعت کا میری نسبت یہ فقرہ بولنا کیوں حرام ہوگیا۔‘‘ (رسالہ
درود شریف، بحوالہ اربعین نمبر۲ ص۳، خزائن ج۱۷ ص۳۴۹) حضرت مسیح موعود (مرزاقادیانی) کے اس ارشاد سے ظاہر
ہوتا ہے کہ آپ پر درود بھیجنے کی یہی صورت نہیں کہ آنحضرت ﷺ پر اور آپ پر ملاکر ہی درود بھیجا جائے۔ بلکہ
ایسے طور پر آپ پر درود بھیجنا بھی جائز ہے کہ بظاہر اس میں تصریح کے ساتھآنحضرت ﷺ کا ذکر نہ ہو۔ جیسا کہ یہ
جائز ہے کہ جب کسی نبی کا ذکر آئے اور اس موقع پر اس نبی پر درود اور سلام بھیجا جائے تو اس میں آنحضرت ﷺ کا
ذکر نہ کیا جائے۔ نیز یاد رہے کہ کسی نبی پر اس طرح پر الگ طور پر درود وسلام بھیجنا سنت مؤمنین اور سنت
اسلام کے خلاف ہے اور یہ بات انبیاء سے مخصوص ہے کہ ان کے لئے ’’علیہ الصلوٰۃ
201
والسلام‘‘ کے الفاظ استعمال کئے جائیں۔ (رسالہ درود شریف ص۱۴۱، مؤلفہ محمد اسماعیل قادیانی) پیر
سراج الحق صاحب نے مجھے یہ بھی بتایا ہے کہ ایک دفعہ حضرت خلیفہ المسیح الاوّل (حکیم نورالدین) مسجد مبارک
میں مغرب کی نماز پڑھا رہے تھے اور میں حضرت مسیح موعود کے ساتھ صف میں حضور کی بائیں طرف کھڑا تھا۔ جب نماز
ختم ہوئی تو حضور نے میری ران پر ہاتھ رکھ کر فرمایا کہ مجھے اس وقت یہ الہام ہوا ہے ’’صلی
اللہ علیک وعلی محمد‘‘ (رسالہ درود شریف ص۱۴۳، مؤلفہ محمد اسماعیل قادیانی) حضور (مرزاقادیانی)
تحریر فرماتے ہیں کہ:
’’نہ معلوم ان لوگوں کی عقلوں پر کیا پتھر پڑے کہ جس شخص کو تمام نبی ابتدائے دنیا سےآنحضرت ﷺ تک عزت
دیتے آئے ہیں، اس کو ایک ایسا ذلیل سمجھتے ہیں کہ صلوٰۃ وسلام بھی اس پر کہنا حرام ہے۔ یہی وجہ تو ہے کہ ہم
باربار ان لوگوں کو متنبہ کرتے ہیں کہ خدا سے ڈرو اور سمجھو کہ جس شخص کو مسیح موعود کر کے بیان فرمایا گیا
ہے وہ کچھ معمولی آدمی نہیں ہے۔ بلکہ خدا کی کتابوں میں اس کی عزت انبیاء علیہم السلام کے ہم پہلو رکھی گئی
ہے۔‘‘ (اربعین نمبر۲ ص۲۲، خزائن ج۱۷ ص۳۶۹) اس اقتباس سے ظاہر ہے کہ جو لوگ حضرت مسیح موعود کے نام کے ساتھ
صلوٰۃ اور سلام کا استعمال ترک کر رہے ہیں، وہ یقینا زیرالزام ہیں اور حضرت مسیح موعود کی قدر ومنزلت ان کے
دلوں سے بالکل نکل چکی ہے۔‘‘
(الفضل قادیان ج۲۸ نمبر۱۶۸ ص۴ کالم۴، مؤرخہ ۲۶؍جولائی ۱۹۴۰ء)
(۲۴) مرزاقادیانی کی وحی والہام
-
آنچہ من بشنوم زوحی خدا
بخدا پاک دانمش ز خطا
-
ہمچو قرآں منزہ اش دانم
از خطاہا ہمیں است ایمانم
-
بخدا ہست ایں کلام مجید
ازدہان خدائے پاک و وحید
-
آں یقینے کہ بود عیسیٰ را
بر کلامے کہ شد بر و القا
-
واں یقین کلیم بر تورات
واں یقیں ہائے سید السادات
-
کہ نیم زاں ہمہ بروئے یقین
ہر کہ گوید دروغ ہست لعین
(درثمین (فارسی) ص۱۷۲، مجموعہ کلام مرزاقادیانی، نزول المسیح ص۹۹، خزائن ج۱۸ ص۴۷۷)
’’اور میں جیسا کہ قرآن شریف کی آیات پر ایمان رکھتا ہوں ایسا ہی بغیر فرق ایک ذرہ کے خدا کی اس کھلی
وحی پر ایمان لاتا ہوں جو مجھے ہوئی۔ جس کی سچائی اس کے متواتر نشانوں سے مجھ پر کھل گئی ہے اور میں بیت اللہ
میں کھڑے ہوکر یہ قسم کھا سکتا ہوں کہ وہ پاک وحی جو میرے پر نازل ہوتی ہے، وہ اسی خدا کا کلام ہے جس نے
حضرت موسیٰ علیہ السلام اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام اور حضرت محمد مصطفی ﷺ پر اپنا کلام نازل کیا تھا۔ (ایک
غلطی کا ازالہ ص۳، خزائن ج۱۸ ص۲۱۰) میں خدا تعالیٰ کی قسم کھا کر کہتا ہوں میں ان الہامات پر اسی طرح ایمان
لاتا ہوں جیسا کہ قرآن شریف اور خدا کی دوسری کتابوں پر اور جس طرح میں قرآن شریف کو یقینی اور قطعی طور پر
خدا کا کلام جانتا ہوں، اسی طرح اس کلام کو بھی جو میرے پر نازل ہوتا ہے خدا کا کلام یقین کرتا ہوں۔ (حقیقت
الوحی ص۲۱۱، خزائن ج۲۲ ص۲۲۰) میں خداتعالیٰ کے ان تمام الہامات پر، جو مجھے ہورہے ہیں، ایسا ہی ایمان رکھتا
ہوں جیسا کہ تورات اور انجیل اور قرآن مقدس پر ایمان رکھتا ہوں۔ (تبلیغ رسالت ج۸ ص۶۴، اشتہار مؤرخہ
۴؍اکتوبر ۱۸۹۹ء، مجموعہ اشتہارات ج۳ ص۱۵۴، جدید مجموعہ اشتہارات ج۲ ص۳۰۶) مجھے اپنی وحی پر ایسا ہی ایمان ہے
جیسا کہ تورات اور انجیل اور قرآن کریم پر۔ (اربعین نمبر۴ ص۱۹، خزائن ج۱۷ ص۴۵۴) ان حوالہ جات سے صاف ظاہر ہے
کہ حضرت مسیح موعود اپنے الہامات کو کلام الٰہی
202
قرار دیتے ہیں اور ان کا مرتبہ بلحاظ کلام الٰہی ہونے کے ایسا ہی ہے جیسا کہ قرآن مجید اور تورات اور
انجیل کا۔‘‘
(الفضل قادیان ج۲۲ نمبر۸۴، مؤرخہ ۱۳؍جنوری ۱۹۳۵ء، منکرین خلافت کا انجام مصنفہ جلال الدین قادیانی
ص۴۹)
(۲۵) قرآن وحدیث
’’اور ہم اس کے جواب میں خداتعالیٰ کی قسم کھا کر بیان کرتے ہیں کہ میرے اس دعویٰ کی حدیث بنیاد نہیں۔
بلکہ قرآن اور وہ وحی ہے جو میرے پر نازل ہوئی۔ ہاں! تائیدی طور پر ہم وہ حدیثیں بھی پیش کرتے ہیں جو قرآن
شریف کے مطابق ہیں اور میری وحی کے معارض نہیں اور دوسری حدیثوں کو ہم ردّی کی طرح پھینک دیتے ہیں۔‘‘
(اعجاز احمدی ص۳۰، خزائن ج۱۹ ص۱۴۰)
’’اور جو شخص حکم ہوکر آیا ہے، اس کا اختیار ہے کہ حدیثوں کے ذخیرہ میں سے جس انبار کو چاہے خدا سے
علم پاکر قبول کرے اور جس ڈھیر کو چاہے خدا سے علم پاکر رد کر دے۔‘‘
(تحفہ گولڑویہ ص۱۰، خزائن ج۱۷ ص۵۱ حاشیہ)
’’ایک شخص نے نہایت گستاخی اور بے ادبی سے لکھا ہے کہ جنہیں احادیث ہم اپنے محدود وناقص علم سے صحیح
سمجھیں، ان کے مقابلہ میں مسیح موعود کی وحی (ہاں! وہ وحی جس کے بارے میں آپ فرماتے ہیں کہ یہ وحی دوسرے
انبیاء علیہم السلام کی وحی کی طرح شبہات سے پاک ومنزہ ہے) رد کر دینے کے قابل ہے۔ اس نادان نے اتنا بھی
نہیں سوچا کہ اس طرح تو اسے مسیح موعود (مرزاقادیانی) کے دعاوی صادقہ سے بھی انکار کرنا پڑے گا۔ وہ احادیث
جن سے آپ کا دعویٰ ثابت ہوتا ہے، ’’لامہدی الا عیسیٰ بن مریم‘‘ اور ’’علماء امتی کانبیاء بنی اسرائیل‘‘ اور ’تنکسف القمر لاول لیلۃ من
رمضان‘‘ یہ سب محدثین کے نزدیک ضعیف ہیں۔ مگر خدا کے مامور نے جب اپنے دعویٰ کا صدق الہامات کے
ذریعے پیش گوئیوں اور دیگر نشانات سے ثابت کر دیا تو پھر ہم نے آپ کو حکم وعدل مان لیا اور جس حدیث کو آپ نے
صحیح کہا وہ ہم نے صحیح سمجھی اور جسے آپ نے متشابہ قرار دیا، اسے ہم نے حکم کے تابع کر لیا اور جس حدیث کے
بارے میں فرمایا یہ چھوڑ دینے کے قابل ہے، وہ چھوڑ دی۔ کیونکہ حدیث تو راویوں کے ذریعہ ہم تک پہنچی اور ہم
کو معلوم نہیںآنحضرت ﷺ نے درحقیت کیا فرمایا، مگر خدا کا زندہ رسول (مرزاقادیانی) جو ہم میں موجود تھا، اس
نے خدا سے یقینی علم پاکر ہمیں امر حق پر اطلاع دی اور جب وہ اتباع کامل نبوی سے نبی ہوا تو ہم نے مان لیا
کہ آپ کے قول وفعل کے خلاف اگر کوئی حدیث بیان کی جائے گی تو ہم اسے قابل تاویل سمجھیں گے۔ اس لئے کہ جو
باتیں ہم نے مسیح موعود سے سنیں، وہ اس راوی کی روایت سے زیادہ معتبر ہیں، جسے حدیث نبوی بتایا جاتا ہے۔‘‘
(الفضل قادیان ج۲ نمبر۱۳۳ ص۶ کالم۱،۲، مؤرخہ ۲۹؍اپریل ۱۹۱۵ء)
’’قرآن کریم اور الہامات مسیح موعود دونوں خداتعالیٰ کے کلام ہیں۔ دونوں میں اختلاف ہو ہی نہیں سکتا۔
اس لئے مقدم رکھنے کا سوال ہی نہیں پیدا ہوتا… حدیث تو بیسیوں راویوں کے پھیر سے ہمیں ملی ہے اور الہام براہ
راست۔ اس لئے (مرزاقادیانی) کا الہام مقدم ہے نہ اس لئے کہ وہ رسول اللہ ﷺ کے قول سے معتبر ہے۔ بلکہ اس لئے کہ
اس کے راویوں سے معتبر ہیں… مسیح موعود سے جو باتیں ہم نے سنی ہیں، وہ حدیث کی روایت سے معتبر ہیں۔ کیونکہ
حدیث ہم نےآنحضرت ﷺ کے منہ سے نہیں سنی۔ سچی حدیث اور مسیح موعود کا قول مخالف نہیں ہوسکتے۔‘‘
(ارشاد مرزامحمود، خلیفہ قادیان، الفضل قادیان ج۲ نمبر۱۳۳ ص۶ کالم۲،۳، مؤرخہ ۲۹؍اپریل ۱۹۱۵ء)
(۲۶) نزول جبرائیل
’’جولوگ نبیوں اور رسولوں پر حضرت جبرائیل علیہ السلام کا وحی لانا ضروری شرط نبوت قرار دیتے ہیں، ان کے واسطے یہ
امرواضح ہے
203
کہ حضرت صاحب (مرزاقادیانی) کے پاس نہ صرف ایک بارجبرائیل آیا۔ بلکہ باربار رجوع کرتا تھا اور وحی
خداوندی لاتا رہا۔ قرآن میں نزول جبرائیل بہ پیرایہ وحی صرف حضرت محمد رسول اللہ ﷺ کے واسطے ثابت ہے… ورنہ
دوسرے انبیاء کے واسطے جبرائیل کا نزول ازروئے قرآن شریف ثابت نہیں… اعلیٰ درجہ کی وحی کے ساتھ فرشتہ ضرور
آتا ہے، خواہ اس کو کوئی دوسرا فرشتہ کہو یا جبرائیل کہو اور چونکہ حضرت احمد (مرزاقادیانی) بھی نبی اور
رسول تھے اور آپ پر اعلیٰ درجہ کی وحی کا یعنی وحی رسالت کا نزول ہوتا رہا ہے۔ لہٰذا آپ کی وحی کے ساتھ
فرشتہ ضرور آتا تھا اور خداتعالیٰ نے اس فرشتہ کا نام تک بتادیا ہے کہ وہ فرشتہ جبرائیل ہی ہے۔‘‘
(رسالہ احمدی نمبر۵تا۷ ص۳۰، موسومہ النبوۃ فی الالہام، مؤلفہ قاضی محمد یوسف قادیانی پشاوری)
’’میری (مرزامحمود کی) عمر جب نویادس برس کی تھی میں اور ایک اور طالب علم ہمارے گھر میں کھیل رہے
تھے۔ وہیں ایک الماری میں ایک کتاب پڑی تھی جس پر نیلا جزدان تھا۔ وہ ہمارے دادا صاحب کے وقت کی تھی۔ نئے
نئے ہم پڑھنے لگے تھے۔ اس کتاب کو جو کھولا تو اس میں لکھا ہوا تھا کہ اب جبرئیل نازل نہیں ہوتا۔ میں نے کہا
یہ غلط ہے۔ میرے ابا پر تو نازل ہوتا ہے۔ مگر اس لڑکے نے کہا کہ جبرئیل نہیں آتا۔ کیونکہ اس کتاب میں لکھا
ہے۔ ہم میں بحث ہوگئی۔ آخر ہم دونوں مرزاصاحب کے پاس گئے اور دونوں نے اپنا اپنا بیان پیش کیا۔ آپ نے
فرمایا، کتاب میں غلط لکھا ہے۔ جبرئیل اب بھی آتا ہے۔‘‘
(تقریر مرزامحمود خلیفہ قادیان، ڈائری الفضل قادیان ج۹ نمبر۷۹، مؤرخہ ۱۰؍اپریل ۱۹۲۲ء)
’’جاء نی ائل واختار، وادار اصبعہ واشار۔ ان وعدہ اللہ اتی فطوبی لمن وجدورائی
یعنی میرے پاس ائیل آیا (اس جگہ ائیل خداتعالیٰ نے جبرئیل کا نام رکھا ہے اس لئے کہ باربار رجوع کرتا ہے۔
حاشیہ) اور اس نے مجھے چن لیا اور اپنی انگلی کو گردش دی اور اشارہ کیا کہ خدا کا وعدہ آگیا۔ پس مبارک وہ جو
اس کو پاوے اور دیکھے۔‘‘
(حقیقت الوحی ص۱۰۳، خزائن ج۲۲ ص۱۰۶، نیز تذکرہ یعنی وحی مقدس، مجموعہ الہامات ومکاشفات مرزاقادیانی
ص۴۴۹، طبع چہارم)
’’آمد نزد من جبرئیلm ومرابرگزید وگردش دادانگشت خودرا اشارت کرد۔ خداترا از دشمنان نگہ خواہد
داشت۔‘‘
(مواہب الرحمن ص۶۴، خزائن ج۱۹ ص۲۸۲)
(۲۷) وحی اللہ
’’حضرت مسیح موعود اپنی وحی اپنی جماعت کو سنانے پر مامور ہیں۔ جماعت احمدیہ کو اس وحی اللہ پر ایمان
لانا اور اس پر عمل کرنا فرض ہے۔ کیونکہ وحی اللہ اسی غرض کے واسطے سنائی جاتی ہے۔ ورنہ اس کا سنانا اور
پہنچانا ہی بے سود اور لغو فعل ہوگا۔ جب کہ اس پر ایمان لانا اور اس پر عمل کرنا مقصود بالذات نہ ہو۔ یہ شان
بھی صرف انبیاء ہی کو حاصل ہے کہ ان کی وحی پر ایمان لایا جاوے۔ حضرت محمد رسول اللہ ﷺ کو بھی قرآن شریف میں
یہی حکم ملا اور ان ہی الفاظ میں ملا اور بعدہ حضرت احمد (مرزاقادیانی) کو ملا۔ پس یہ امر بھی آپ کی
(مرزاقادیانی) کی نبوت کی دلیل ہے۔‘‘
(رسالہ احمدی نمبر۵تا۷ ص۲۸ بابت ۱۹۱۹ء، موسومہ نبوت فی الالہام مؤلفہ قاضی محمد یوسف قادیانی)
(۲۸) صاحب کتاب
’’بحث اگر کچھ ہوسکتی ہے تو وہ ’ماانزل الیہ من ربہ‘‘ پر ہوسکتی ہے۔ چنانچہ
قرآن شریف میں آیا ہے۔ ’’یاایہا
204
الرسول بلغ ما انزل الیک من ربک‘‘ اور نبی کی کتاب یہی ہوتی ہے کہ ’’ماانزل‘‘ کو جمع کر لیا جاوے۔ چونکہ حضرت مرزاصاحب سب انبیاء کے مظہر اور بروز ہیں تو
ان کا ’’ما انزل الیہ من ربہ‘‘ بہ برکت حضرت محمد ﷺ وقرآن شریف اس قدر زیادہ ہے کہ کسی
نبی کے ’’ماانزل الیہ‘‘ سے کم نہیں بلکہ اکثروں سے زیادہ ہوگا… فالحمد للہ ! کہ حضرت مرزاصاحب کا ایک لحاظ سے صاحب کتاب ہونا ثابت ہوگیا۔‘‘
(الفضل قادیان ج۶ نمبر۶۲ ص۸ کالم۲،۳، مؤرخہ ۱۵؍فروری ۱۹۱۹ء)
(۲۹) الکتاب المبین
’’خداتعالیٰ نے حضرت احمد (مرزاقادیانی) کے بہیئت مجموعہ الہامات کو الکتاب المبین فرمایا ہے اور
جداجدا الہامات کو آیات سے موسوم کیا ہے۔ حضرت صاحب (مرزاقادیانی) کو یہ الہام متعدد دفعہ ہوا ہے۔ پس آپ کی
وحی بھی جداجدا آیت کہلا سکتی ہے۔ جب کہ خداتعالیٰ نے ان کو ایسا نام دیا ہے اور مجموعہ الہامات کو الکتاب
المبین کہہ سکتے ہیں۔ پس جس شخص یا اشخاص کے نزدیک نبی اور رسول کے واسطے کتاب لانا ضروری شرط ہے خواہ وہ
کتاب شریعت کاملہ ہو یا کتاب المبشرات والمنذرات ہو تو ان کو واضح ہو کہ ان کی اس شرط کو بھی خدا نے پورا کر
دیا ہے اور حضرت صاحب (مرزاقادیانی) کے مجموعہ الہامات کو مبشرات اور منذرات ہیں الکتاب المبین کے نام سے
موسوم کیا ہے۔ پس آپ اس پہلو سے بھی نبی ثابت ہیں۔ ولو کرہ الکافرون‘‘
(رسالہ احمدی نمبر۵،۶،۷ ص۴۳،۴۴، بابت ۱۹۱۹ء، موسومہ النبوۃ فی الالہام مؤلفہ قاضی محمد یوسف قادیانی)
(۳۰) الٰہی کلام
’’حقیقی عید ہمارے لئے ہی ہے مگر ضرورت اس بات کی ہے کہ اس الٰہی کلام کو پڑھا جائے اور سمجھا جائے جو
حضرت مسیح موعود پر اترا۔ بہت کم لوگ ہیں جو اس کلام کو پڑھتے اور اس کا دودھ پیتے ہیں۔ دوسری کتابیں خواہ
کتنی پڑھی جائیں جو سرور اور یقین قرآن شریف سے پیدا ہوتا ہے، وہ کسی اور سے نہیں ہوسکتا۔ اسی طرح وہ سرور
اور لذت جو حضرت مسیح موعود کے الہاموں کے پڑھنے سے حاصل ہوتی ہے، اور کسی کتاب کو پڑھنے سے نہیں ہوسکتی۔ جو
ان الہاموں کو پڑھے گا، وہ کبھی مایوس اور ناامیدی میں نہ گرے گا۔ مگر جو پڑھتا نہیں یا پڑھ کر بھول جاتا ہے
خطرہ ہے کہ اس کا یقین اور امید جاتی رہے۔ وہ مصیبتوں اور تکلیفوں سے گھبرا جائے گا۔ کیونکہ وہ سرچشمہ امید
سے دور ہوگیا۔ اگر وہ خداتعالیٰ کا کلام پڑھتا رہتا اور دیکھتا کہ خداتعالیٰ نے کیا کیا وعدے دئیے ہیں اور
پھر ان پر دل سے یقین رکھتا تو ایسا مضبوط ہو جاتا کہ کوئی مصیبت اسے ڈرانہ سکتی۔ پس حقیقی عید سے فائدہ
اٹھانے کے لئے ضروری ہے کہ حضرت مسیح موعود کے الہامات پڑھے جائیں۔‘‘
(خطبہ عید مرزامحمود احمد مندرجہ اخبار الفضل قادیان ج۱۵ نمبر۷۸ ص۶ کالم۲،۳، مؤرخہ ۳؍اپریل ۱۹۲۸ء،
خطبات محمود ج۱ ص۱۵۹)
(۳۱) قادیان کا قرآن
’’اور خدا کا کلام اس قدر مجھ پر نازل ہوا ہے کہ اگر وہ تمام لکھا جائے تو بیس جزو سے کم نہیں ہوگا۔‘‘
(حقیقت الوحی ص۳۹۱، خزائن ج۲۲ ص۴۰۷)
’’جناب میاں محمود احمد صاحب( خلیفہ قادیان) اور ان کے حاشیہ نشین جب نبوت کی پٹری جما چکے تو اب کتاب
کی فکر ہوئی۔ کیونکہ نبی اور کتاب آخرلازم وملزوم چیزیں ہیں۔ گو عارضی طور پر طوطے کی طرح مریدوں کو یہ رٹا
بھی دیا گیا تھا کہ حضرت ہارون کو کتاب
205
نہیں دی گئی اور فلاں نبی کو کتاب نہیں دی گئی۔ لیکن اندر سے دل نہیں مانتا تھا کہ آخر وہ نبی ہی کیا
جو کتاب نہیں لایا۔ بلکہ میاں محمود احمد صاحب نے تو صاف طور پر فرمابھی دیا کہ کوئی نبی نہیں ہوسکتا جو
شریعت نہ لائے… اور مرید بھی اب تک بھٹکتے پھرتے تھے… وہ عاجز آکر کبھی براہین احمدیہ کو کتاب بتادیتے تھے
تو کبھی خطبہ الہامیہ کو اور کبھی البشریٰ کو… اس لئے اب کے سالانہ جلسہ پر جناب میاں محمود احمد صاحب خلیفہ
قادیان نے کتاب کی اہمیت کو جتاتے ہوئے خود قادیان میں حضرت مسیح موعود کے الہامات کو جمع کرنے کا حکم دیا
اور ساتھ ہی مریدوں کو اس کی تلاوت کے لئے بھی ارشاد فرمایا تاکہ ان کے قلوب طمانیت اور سکنیت حاصل کر سکیں…
اس لئے جناب میاں (محمود احمد) صاحب نے فرمایا تھا کہ ’’اب کوئی قرآن نہیں سوائے اس قرآن کے جو مسیح موعود
نے پیش کیا۔‘‘ اور یہ بالکل درست معلوم ہوتا ہے۔ اس لحاظ سے کہ مسیح موعود کی وحی جب عین قرآن ہے جس کا کوئی
محمودی انکار نہیں کر سکتا۔ تو پھر اب جو قرآن محمودی حضرات پیش کریں گے۔ ضرور ہے کہ وہ پرانے قرآن کا جو
محمد رسول اللہ ﷺ پر نازل ہوا اور نئے قرآن کا جو حضرت مسیح موعود پر یا دوسرے لفظوں میں محمد رسول اللہ ﷺ کی
بعثت ثانی میں نازل ہوا۔ دونوں کا مجموعہ ہونا چاہئے۔ گویا عیسائیوں کی طرح عہد نامہ قدیم کے ساتھ عہد نامہ
جدید بھی شامل ہوگا۔ تب یہ قدیم وجدید قرآن مل کر وہ قرآن بنے گا جس کے لئے میاں صاحب فرماتے ہیں کہ وہ
’’یہدی من یشاء‘‘ والا قرآن ہوگا… اگر حضرت مسیح موعود عین محمد ہیں اور آپ کی بعثت
رسول اللہ ﷺ ہی کی بعثت ثانی ہے تو حضرت مسیح موعود کی وحی بھی عین قرآن ہونی چاہئے اور جو وحی بھی آپ پر نازل
ہوئی، وہ قرآن جدید ہے اور قرآن کو جو خاتم الکتب کہاگیا تھا تو اس کا مطلب فقط اس قدر مانا جائے گا کہ اس
کتاب کی مہر سے آئندہ خدا کی کتابیں یا دوسرے لفظوں میں قرآن کے مزید حصے نازل ہوا کریں گے اور کوئی وجہ
نہیں کہ جو مجموعہ میاں صاحب حضرت مسیح موعود کے الہامات کا اب شائع کرائیں گے اس کا نام بجائے البشریٰ کے
قرآن جدید نہ رکھا جائے یا القرآن ہی نام رکھ دیا جائے۔ کیونکہ یہ وہی قرآن ہے جو پیرایہ جدید میں جلوہ گر
ہوا ہے۔‘‘
(اجرائے نبوت کا فتنہ عظیم، ڈاکٹر بشارت احمد قادیانی مندرجہ پیغام صلح لاہور ج۲۲ نمبر۳۵ ص۴ کالم۱،۲،
مؤرخہ ۱۱؍جون ۱۹۳۴ء)
’’یہ معلوم کر کے خوشی ہوئی کہ قادیانی احباب حضرت مسیح موعود کے الہامات کا مجموعہ شائع کرنے کا
ارادہ رکھتے ہیں جس کے لئے مولوی شیر علی صاحب نے اخبار میں اعلان بھی کیا ہے۔ اس بارہ میں اتنی گزارش ہے کہ
جیسا کہ اکثر پرانے احباب کو علم ہے کہ حضرت صاحب اپنے الہامات کو اپنی کاپی میں لکھ لیا کرتے تھے اور پھر
باہر تشریف لاکر احباب کو بھی سنادیا کرتے تھے۔ اس طرح آپ کے اکثر الہامات اخبارات سلسلہ میں آپ کی مختلف
تالیفات میں اور آپ کے خطوں میں محفوظ ہوگئے ہیں۔ ان میں سے اکثر کی تشریحات بھی آپ کی تحریروں اور تقریروں
سے مل سکتی ہیں۔ باقی اگر کوئی رہ گئے ہوں تو وہ آپ کی کاپیوں اور دیگر کاغذات سے جو غالباً آپ کے فرزندوں
کے پاس محفوظ ہوں گے، مل جائیں گے۔ آپ کے الہامات کو چھبیس سال کے بعد زبانی روایات کی بناء پر خصوصاً
موجودہ اختلاف سلسلہ کی موجودگی میں شائع کرنا ایک نامناسب اقدام ہے۔ سرمایہ کافی ہو تو آپ کے الہامات
ومکاشفات کو بہترین صورت میں شائع کیا جاسکتا ہے۔ ورنہ موجودہ حالات میں جب کہ مفت خورے بہت ہیں اور قیمتاً
لینے والے کم، ایسا کام تکمیل کو پہنچنا دشوار ہے۔‘‘
(پیغام صلح لاہور ج۲۲ نمبر۲۹ ص۷ کالم۳، مؤرخہ ۱۱؍مئی ۱۹۳۴ء)
(۳۲) قادیانی دین
’’ اللہ تعالیٰ نے اس آخری صداقت کو قادیان کے ویرانہ میں نمودار کیا اور حضرت مسیح موعود کو جو فارسی
النسل ہیں، اس اہم کام
206
کے لئے منتخب فرمایا اور فرمایا۔ میں تیرے نام کو دنیا کے کناروں تک پہنچاؤں گا۔ زورآور حملوں سے
تیری تائید کروں گا اور جو دین تولے کر آیا ہے اسے تمام دیگر ادیان پر بذریعہ دلائل وبراہین غالب کروں گا
اور اس کا غلبہ دنیا کے آخر تک قائم رکھوں گا۔‘‘
(الفضل قادیان ج۲۲ نمبر۹۳ ص۵ کالم۲، مؤرخہ ۳؍فروری ۱۹۳۵ء)
(۳۳) میری امت
’’جو شخص نبوت کا دعویٰ کرے گا اس دعویٰ میں ضرور ہے کہ وہ خداتعالیٰ کی ہستی کا اقرار کرے اور نیز یہ
بھی کہے کہ خداتعالیٰ کی طرف سے میرے پر وحی نازل ہوتی ہے اور نیز خلق اللہ کو وہ کلام سناوے۔ جو اس پر
خداتعالیٰ کی طرف سے نازل ہوا ہے اور ایک امت بناوے۔ جو اس کو نبی سمجھتی اور اس کی کتاب کو کتاب اللہ جانتی
ہے۔‘‘
(آئینہ کمالات اسلام ص۳۴۴، خزائن ج۵ ص۳۴۴)
’’(مرزاغلام احمد نے) فرمایا کہ پہلا مسیح صرف مسیح تھا۔ اس لئے اس کی امت گمراہ ہوگئی اور موسوی
سلسلہ کا خاتمہ ہوا۔ اگر میں بھی مسیح ہوتا تو ایسا ہی ہوتا لیکن میں مہدی اور محمد ( ﷺ) کا بروز بھی ہوں۔
اس لئے میری امت کے دو حصے ہوں گے۔ ایک وہ جو مسیحیت کا رنگ اختیار کریں گے اور یہ تباہ ہو جائیں گے۔ دوسرے
وہ جو مہدویت کا رنگ اختیار کریں گے۔ یہ قیامت تک رہیں گے۔‘‘
(ارشاد مرزاغلام احمد قادیانی، الفضل قادیان ج۳ نمبر۸۳ ص۱۰ کالم۲، مؤرخہ ۲۶؍جنوری ۱۹۱۶ء)
(۳۴) قادیانی صحابہ
’’پس ہر احمدی کو جس نے احمدیت کی حالت میں حضور (یعنی مرزاقادیانی) کو دیکھا یا حضور نے اسے دیکھا
صحابی کہا جائے۔ کیونکہ جب تم علی الاعلان کسی کو صحابی کہو گے تو گویا تم نے کوٹھوں پر چڑھ کر حضرت مسیح
موعود (مرزاقادیانی) کی نبوت کا اعلان کر دیا اور اگر تم منارہ پر چڑھ کر کسی کے صحابی ہونے کا اعلان کروگے
تو دوسرے لفظوں میں تم نے منارہ پر چڑھ کر حضرت مسیح موعود (مرزاقادیانی) کی نبوت کی منادی کر دی۔ کیوں جتنی
دفعہ یہ لفظ بولا جائے گا اتنی ہی دفعہ حضرت مسیح (مرزاقادیانی) کی نبوت کی دنیا میں منادی ہوگی۔‘‘
(الفضل قادیان ج۲۴ نمبر۶۴ ص۵ کالم۳، مؤرخہ ۱۳؍ستمبر ۱۹۳۶ء)
(۳۵) نبی تشریعی یا غیرتشریعی
’’جن پر خدا کا کلام نازل ہوتا ہے وہ معمولی انسان نہیں ہوتے بلکہ ان کی ہستیاں دنیا سے جدا ہوتی ہیں
اور ان کے لئے خداتعالیٰ یہاں تک کہتا ہے کہ اگر کوئی میرا قرب حاصل کرنا چاہتا ہے تو اس کے لئے ایک ہی
ذریعہ ہے اور وہ یہ کہ ان کے ذریعہ حاصل کرو اور ایسے انسان شرعی ہوں یا غیرشرعی ایک ہی مقام پر ہوتے ہیں۔
اگر کسی کو غیرشرعی کہتے ہیں تو اس کا صرف یہ مطلب ہے کہ وہ کوئی نیا حکم نہیں لایا ہے، ورنہ کوئی نبی ہو ہی
نہیں سکتا جو شریعت نہ لائے۔ ہاں! بعض نئی شریعت لاتے ہیں اور بعض پہلی شریعت ہی دوبارہ لاتے ہیں۔
پس شرعی نبی کا مطلب یہ ہے کہ وہ پہلے کلام لائے۔ رسول کریم ﷺ تشریعی نبی ہیں جس کے یہ معنی ہیں کہ آپ
قرآن پہلے لائے اور حضرت مسیح موعود غیرتشریعی نبی ہیں تو اس کے یہ معنی ہیں کہ آپ پہلے قرآن نہیں لائے۔
ورنہ قرآن آپ بھی لائے۔ اگر نہ لائے تھے تو خداتعالیٰ نے کیوں کہا کہ اسے قرآن دے کر کھڑا کیاگیا… چنانچہ
حضرت مسیح موعود بڑی وضاحت سے فرماتے ہیں۔ مولوی لوگ حدیثیں لئے پھرتے ہیں۔ مگر حدیثوں کا یہ کام نہیں کہ
میرے متعلق فیصلہ کریں۔ بلکہ میرا کام ہے کہ میں بتاؤں فلاں حدیث درست ہے اور فلاں
207
غلط… پھر یہ بھی یاد رکھنا چاہئے کہ جب کوئی نبی آجائے تو پہلے نبی کا علم بھی اسی کے ذریعہ ملتا ہے۔
یوں اپنے طور پر نہیں مل سکتا اور ہر بعد میں آنے والا نبی پہلے نبی کے لئے بمنزلہ سوراخ کے ہوتا ہے۔ پہلے
نبی کے آگے دیوار کھینچ دی جاتی ہے اور کچھ نظر نہیں آتا۔ سوائے آنے والے نبی کے ذریعہ دیکھنے کے۔ یہی وجہ
ہے کہ اب کوئی قرآن نہیں سوائے اس قرآن کے جو حضرت مسیح موعود نے پیش کیا اور کوئی حدیث نہیں سوائے اس حدیث
کے جو حضرت مسیح موعود کی روشنی میں نظر آئے اور کوئی نبی نہیں سوائے اس کے جو حضرت مسیح موعود کی روشنی میں
دکھائی دے۔ اسی طرح رسول کریم ﷺ کا وجود اسی ذریعہ سے نظر آئے گا کہ حضرت مسیح موعود کی روشنی میں دیکھا
جائے اگر کوئی چاہے کہ آپ سے آپ علیحدہ ہوکر کچھ دیکھ سکے تو اسے کچھ نظر نہ آئے گا۔ ایسی صورت میں اگر کوئی
قرآن کو بھی دیکھے گا تو وہ اس کے لئے ’’یہدی من یشاء‘‘ والا قرآن نہ ہوگا بلکہ ’’یضل من یشاء‘‘ والا قرآن ہوگا… اسی طرح اگر حدیثوں کو اپنے طور پر پڑھیں گے تو وہ
مداری کے پٹارے سے زیادہ وقعت نہ رکھیں گے۔ حضرت مسیح موعود فرمایا کرتے تھے کہ حدیثوں کی کتابوں کی مثال تو
مداری کے پٹارے کی ہے۔ جس طرح مداری جو چاہتا ہے اس میں سے نکال لیتا ہے، اسی طرح ان سے جو چاہو نکال لو۔‘‘
(خطبہ جمعہ مرزامحمود احمد قادیان، مندرجہ اخبار الفضل قادیان ج۱۲ نمبر۴ ص۷،۸، مؤرخہ ۱۵؍جولائی
۱۹۲۴ء، خطبات محمود ج۸ ص۴۵۴تا۴۵۷)
’’جناب میاں (مرزامحمود) صاحب نے اربعین کا حوالہ دے کر جو فرمایا کہ: ’’خدانے دوبارہ بعض احکام قرآن
دے کر مسیح موعود کو ایک رنگ میں تشریعی نبی قرار دیا ہے۔‘‘ یہ بھی حضرت صاحب کو صاحب شریعت نبی منوانے کی
ایک ابتداء ہے۔‘‘
(المہدی نمبر۴،۵، ص۱۴۴، حکیم محمد حسین قادیانی لاہوری)
(۳۶) مرزاقادیانی کی شریعت
’’یہ بھی تو سمجھو کہ شریعت کیا چیز ہے جس نے اپنی وحی کے ذریعہ سے چند امر اور نہی بیان کئے اور اپنی
امت کے لئے ایک قانون مقرر کیا۔ وہی صاحب شریعت ہوگیا… میری وحی میں امر بھی ہیں اور نہی بھی۔ مثلاً یہ
الہام ’’قل للمؤمنین یغضوا من ابصارہم ویحفظوا فروجہم ذلک ازکی لہم‘‘ یہ براہین
احمدیہ میں درج ہے اور اس میں امر بھی ہے اور نہی بھی اور اس پر تیئس برس کی مدت بھی گزر گئی اور ایسا ہی اب
تک میری وحی میں امر بھی ہوتے ہیں اور نہی بھی اور اگر کہو کہ شریعت سے وہ شریعت مراد ہے جس میں نئے احکام
ہوں تو یہ باطل ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ’’ان ہذا لفی الصحف الاولی صحف ابراہیم
وموسیٰ‘‘ یعنی قرآنی تعلیم تورات میں بھی موجود ہے۔‘‘
(اربعین نمبر۴ ص۶، خزائن ج۱۷ ص۴۳۵،۴۳۶)
’’چونکہ میری تعلیم میں امر بھی ہے اور نہی بھی اور شریعت کے ضروری احکام کی تجدید ہے۔ اس لئے
خداتعالیٰ نے میری تعلیم کو اور اس وحی کو جو میرے پر ہوتی ہے، فلک یعنی کشتی کے نام سے موسوم کیا… اب دیکھو
خدا نے میری وحی اور میری تعلیم اور میری بیعت کو نوح کی کشتی قرار دیا اور تمام انسانوں کے لئے اس کو مدار
نجات ٹھہرایا۔ جس کی آنکھیں ہوں دیکھے اور جس کے کان ہوں سنے۔‘‘
(اربعین نمبر۴ ص۶، خزائن ج۱۷ ص۴۳۵ حاشیہ)
(۳۷) جہاد
’’جہاد یعنی دینی لڑائیوں کی شدت کو خداتعالیٰ آہستہ آہستہ کم کرتا گیا ہے۔ حضرت موسیٰ کے وقت میں اس
قدر شدت تھی کہ ایمان
208
لانا بھی قتل سے بچانہیں سکتا تھا اور شیرخوار بچے بھی قتل کئے جاتے تھے۔ پھر ہمارے نبی ﷺ کے وقت میں
بچوں اور بڈھوں اور عورتوں کا قتل کرنا حرام کیاگیا اور پھر بعض قوموں کے لئے بجائے ایمان کے صرف جزیہ دے کر
مواخذہ سے نجات پانا قبول کیاگیا اور پھر مسیح موعود (مرزاقادیانی) کے وقت قطعاً جہاد کا حکم موقوف کر
دیاگیا۔‘‘
(اربعین نمبر۴ ص۱۳، خزائن ج۱۷ ص۴۴۳ حاشیہ)
’’آج سے انسانی جہاد جو تلوار سے کیا جاتا تھا، خدا کے حکم کے ساتھ بند کیاگیا۔ اب اس کے بعد جو شخص
کافر پر تلوار اٹھاتا اور اپنا نام غازی رکھتا ہے، وہ اس رسول کریم ﷺ کی نافرمانی کرتا ہے جس نے آج سے تیرہ
سو برس پہلے فرمادیا ہے کہ مسیح موعود کے آنے پر تمام تلوار کے جہاد ختم ہو جائیں گے۔ سو اب میرے ظہور کے
بعد تلوار کا کوئی جہاد نہیں۔ ہماری طرف سے امان اور صلح کاری کا سفید جھنڈا بلند کیاگیا۔‘‘
(تبلیغ رسالت ج۹ ص۴۷، مجموعہ اشتہارات ج۳ ص۲۹۵، جدید مجموعہ اشتہارات ج۲ ص۴۰۸)
-
’’اب چھوڑ دو جہاد کا اے دوستو خیال
دیں کے لئے حرام ہے اب جنگ اور قتال
-
اب آ گیا مسیح جو دیں کا امام ہے
دیں کے تمام جنگوں کا اب اختتام ہے
-
اب آسماں سے نور خدا کا نزول ہے
اب جنگ اور جہاد کا فتویٰ فضول ہے
-
دشمن ہے وہ خدا کا جو کرتا ہے اب جہاد
منکر نبی کا ہے جو یہ رکھتا ہے اعتقاد‘‘
(تبلیغ رسالت ج۹ ص۴۹،۵۰، مجموعہ اشتہارات ج۳ ص۲۹۷،۲۹۸، جدید مجموعہ اشتہارات ج۲ ص۴۱۰، ضمیمہ تحفہ
گولڑویہ ص۳۶، خزائن ج۱۷ ص۷۷)
(۳۸) دس نبی اور ایک بندے کا انتخاب
-
’’خدا کے راست باز نبی رامچندر پر سلامتی ہو
خدا کے راست باز نبی کرشن پر سلامتی ہو
-
خدا کے راست باز نبی بدھ پر سلامتی ہو
خدا کے راست باز نبی زرتشت پر سلامتی ہو
-
خدا کے راست باز نبی کنفیوشس پر سلامتی ہو
خدا کے راست باز نبی ابراہیم پر سلامتی ہو
-
خدا کے راست باز نبی موسیٰ پر سلامتی ہو
خدا کے راست باز نبی مسیح پر سلامتی ہو
-
خدا کے راست باز نبی محمد پر سلامتی ہو
خدا کے راست باز نبی احمد پر سلامتی ہو
-
خدا کے راست باز بندہ بابانانک پر سلامتی ہو‘‘
(چوہدری ظفر اللہ خان قادیانی کا ٹریکٹ جو مارچ ۱۹۳۳ء بتقریب یوم التبلیغ شائع ہوا، پیغام صلح لاہور ج۲۱
نمبر۲۲ ص۴ کالم۱، مؤرخہ ۱۱؍اپریل ۱۹۳۳ء)
(۳۹) معترضین کو دھمکی
’’اب کس قدر تعجب کی جگہ ہے کہ میرے مخالف میرے پر وہ اعتراض کرتے ہیں جس کی رو سے ان کو اسلام ہی سے
ہاتھ دھونا پڑتا
209
ہے۔ اگر ان کے دل میں تقویٰ ہوتی تو ایسے اعتراض کبھی نہ کرتے جن میں دوسرے نبی شریک غالب ہیں۔‘‘
(اعجاز احمدی ضمیمہ نزول المسیح ص۵، خزائن ج۱۹ ص۱۱۲)
’’میں باربار کہتا ہوں کہ اگر یہ تمام مخالف مشرق اور مغرب کے جمع ہو جائیں تو میرے پر کوئی ایسا
اعتراض نہیں کر سکتے کہ جس اعتراض میں گزشتہ نبیوں میں سے کوئی نبی شریک نہ ہو۔‘‘
(تتمہ حقیقت الوحی ص۱۳۷، خزائن ج۲۲ ص۵۷۵)
’’اگر یہی بات ہے تو ان لوگوں کا ایمان آج بھی نہیں اور کل بھی نہیں۔ کیونکہ خداتعالیٰ کا کوئی معاملہ
مجھ سے ایسا نہیں جس میں کوئی نبی شریک نہ ہو اور کوئی اعتراض میرے پر ایسا نہیں کہ کسی اور نبی پر وہی
اعتراض وارد نہ ہوتا ہو۔‘‘
(تتمہ حقیقت الوحی ص۱۲۹، خزائن ج۲۲ ص۵۶۵)
’’مخالفین احمدیت کی بھی عجیب حالت ہے۔ وہ اعتراض کرتے ہیں۔ مگر اتنا نہیں سوچتے کہ ہمارا اعتراض صرف
حضرت مرزاصاحب پر نہیں بلکہ آنحضرت ﷺ پر بھی پڑتا ہے۔ گویا حضرت مرزاصاحب کی مخالفت میں وہ آنحضور پر اعتراض
کرنے سے بھی خوف نہیں کرتے۔‘‘
(الفضل قادیان ج۱۴ نمبر۶۵ ص۹ کالم۳، مؤرخہ ۱۵؍فروری ۱۹۲۷ء)
’’اگر معترض کو حضرت مسیح موعود کے الہام ’’انت منی بمنزلۃ ولدی‘‘ اور ’’انت منی بمنزلۃ اولادی‘‘ پر اعتراض ہے اور وہ اعترض مخالفت کی وجہ سے نہیں بلکہ
انصاف کی بناء پر ہے تو اسے یہ چاہئے کہ اوّل یہ اعتراض پہلی تمام کتب مقدسہ پر کرے اور پھر قرآن اور احادیث
نبویہ پر کرے۔‘‘
(الفضل قادیان ج۲ نمبر۱۱۰ ص۴ کالم۲، مؤرخہ ۲۸؍فروری ۱۹۱۵ء)
’’میں دعویٰ سے کہتا ہوں کہ الحمد سے لیکر والناس تک سارا قرآن چھوڑنا پڑے گا۔ پھر سوچو کیا میری
تکذیب آسان امر ہے۔ یہ میں ازخود نہیں کہتا۔ خداتعالیٰ کی قسم کھا کر کہتا ہوں کہ حق یہی ہے کہ جو مجھے
چھوڑے گا اور میری تکذیب کرے گا، وہ زبان سے نہ کرے مگر اپنے عمل سے اس نے سارے قرآن کی تکذیب کر دی اور خدا
کو چھوڑ دیا۔ اسی کی طرف میرے ایک الہام میں بھی اشارہ ہے۔ ’’انت منی وانا منک‘‘ بے
شک میری تکذیب سے خدا کی تکذیب لازم آتی ہے اور میرے اقرار سے خداتعالیٰ کی تصدیق ہوتی اور اس کی ہستی پر
قوی ایمان پیدا ہوتا ہے اور پھر میری تکذیب میری تکذیب نہیں یہ رسول اللہ ﷺ کی تکذیب ہے۔ اب کوئی اس سے پہلے
کہ میری تکذیب اور انکار کے لئے جرأت کرے، ذرا اپنے دل میں سوچ اور اس سے فتویٰ طلب کرے کہ وہ کس کی تکذیب
کرتا ہے۔‘‘
(تقریر مرزاقادیانی، الفضل قادیان ج۳ نمبر۸ ص۷ کالم۲، مؤرخہ ۱۱؍جولائی ۱۹۱۵ء)
(۴۰) رسول اللہ پر اعتراض
’’آج۱۳۰۰ سال کے بعد حضرت مسیح موعود کے دشمن آپ پر وہی اعترض کرتے ہیں جو کہ رسول کریم ﷺ پر آپ کے
دشمنوں نے کئے اور ان میں اتنی مطابقت اور مشابہت ہوتی ہے کہ حیرت آتی ہے۔ حضرت مسیح موعود کے دشمن جب آپ پر
اعتراض کرتے تو آپ فرماتے۔ یہی اعتراض آج سے ۱۳۰۰ سال پہلے رسول کریم ﷺ پر آپ کے مخالفین نے کئے تھے۔ جب وہ
باتیں رسول کریم ﷺ کے لئے قابل اعتراض نہ تھیں۔ بلکہ آپ کی صداقت کی دلیل تھیں تو وہ میرے لئے کیوں قابل
اعتراض بن گئی ہیں۔ پس جو جواب رسول کریم ﷺ
210
نے ان کا دیا، وہی جواب میں تمہیں دیتا ہوں۔ جب حضرت مسیح موعود جواب میں یہ طریق اختیارفرماتے اور
لوگوں پر اس طریق سے حجت قائم کرتے تو مخالفین شور مچاتے کہ یہ رسول کریم ﷺ کی برابری کرتا ہے۔ (گویا اگر
کسی جھوٹے شخص پر وہی اعتراض کیاجائے جو کبھی کسی سچے پر کیاگیا تھا تو اس اعتراض کی بدولت جھوٹ بھی سچ ہو
جاتا ہے۔ قادیانی منطق کا یہ نکتہ قادیانی ذہنیت کا آئینہ دار ہے۔ للمؤلف)‘‘
(مرزامحمود خلیفہ کی تقریر جلسہ سالانہ ۱۹۴۵ء، مندرجہ اخبار الفضل قادیان ج۳۴ نمبر۹۱ ص۳ کالم۲،۳،
مؤرخہ ۱۷؍اپریل ۱۹۴۶ء، انوارالعلوم ج۱۸ ص۲۳۴)
(۴۱) مرزاقادیانی کے ننانوے(۹۹) نام
حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کے ۹۹؍اسماء الحسنہ، از حضرت میر محمد اسماعیل صاحب
کل بستر علالت پر لیٹے لیٹے خیال آیا کہ خدائے تعالیٰ کے ۹۹نام احادیث میں آئے ہیں اورآنحضرت ﷺ کے بھی
۹۹نام کتابوں میں موجود ہیں۔ اب دیکھنا چاہئے کہ حضرت مسیح موعود (مرزاقادیانی) کے کتنے الہامی نام ہیں جو
اللہتعالیٰ نے آپ کو دئیے ہیں۔ میں نے وہ سب جمع کئے تو ۹۹ ہی بن گئے۔ ان ناموں میں بھی ایک علم ہے۔ اس لئے
اسے احباب کے فائدہ کے لئے شائع کیا جاتا ہے۔
(۱)احمد۔ (۲)محمد۔ (۳)مہدی۔ (۴)یٰسین۔ (۵)رسول۔ (۶)مرسل۔ (۷)نبی اللہ۔ (۸)نذیر۔ (۹)مجدد وقت۔ (۱۰)محدث
اللہ۔ (۱۱)گورنر جنرل۔ (۱۲)حکم۔ (۱۳)عدل۔ (۱۴)امام۔ (۱۵)امام مبارک۔ (۱۶)غلام احمد۔ (۱۷)مرزاغلام احمد
قادیانی۔ (۱۸)مرزا۔ (۱۹)عیسیٰ۔ (۲۰)مسیح۔ (۲۱)مسیح موعود۔ (۲۲)مسیح اللہ ۔ (۲۳)مسیح الزمان۔ (۲۴)الشیخ المسیح۔
(۲۵)مسیح ابن مریم۔ (۲۶)مسیح محمدی۔ (۲۷)روح اللہ ۔ (۲۸)مریم۔ (۲۹)ابن مریم۔ (۳۰)آدم۔ (۳۱)نوح۔ (۳۲)ابراہیم۔
(۳۳)اسماعیل۔ (۳۴)یعقوب۔ (۳۵)یوسف۔ (۳۶)موسیٰ۔ (۳۷)ہارون۔ (۳۸)داؤد۔ (۳۹)سلیمان۔ (۴۰)یحییٰ۔ (۴۱)جری اللہ فی
حلل الانبیاء۔ (۴۲)عبد اللہ ۔ (۴۳)عبدالقادر۔ (۴۴)سلطان عبدالقادر۔ (۴۵)عبدالحکیم۔ (۴۶)عبدالرحمان۔
(۴۷)عبدالرافع۔ (۴۸)محمد مفلح۔ (۴۹)ذوالقرنین۔ (۵۰)سلمان۔ (۵۱)علی۔ (۵۲)منصور۔ (۵۳)حجۃ اللہ القادر۔ (۵۴)سلطان
احمد مختار۔ (۵۵)حب اللہ ۔ (۵۶)خلیل اللہ ۔ (۵۷)اسد اللہ ۔ (۵۸)شفیع اللہ ۔ (۵۹)آریوں کا بادشاہ۔ (۶۰)کرشن۔
(۶۱)رودرگوپال۔ (۶۲)امین الملک جے سنگھ بہادر۔ (۶۳)برہمن اوتار۔ (۶۴)آواہن۔ (۶۵)مبارک۔ (۶۶)سلطان القلم۔
(۶۷)مسرور۔ (۶۸)النجم الثاقب۔ (۶۹)رحی الاسلام۔ (۷۰)حمی الاسلام۔ (۷۱)غالب۔ (۷۲)مبشر۔ (۷۳)خیرالانام۔
(۷۴)اسعد۔ (۷۵)شیرخدا۔ (۷۶)شاہد۔ (۷۷)خلیفۃ اللہ السلطان۔ (۷۸)نور۔ (۷۹)امین۔ (۸۰)رجل من فارس۔ (۸۱)سراج منیر۔
(۸۲)متوکل۔ (۸۳)اشجع الناس۔ (۸۴)ولی۔ (۸۵)قمر۔ (۸۶)شمس۔ (۸۷)اوّل المؤمنین۔ (۸۸)سلامتی کا شہزادہ۔
(۸۹)مقبول۔ (۹۰)مرد سلامت۔ (۹۱)الحق۔ (۹۲)ذوالبرکات۔ (۹۳)البدر۔ (۹۴)حجراسود۔ (۹۵)مدینۃ العلم۔ (۹۶)طیب۔
(۹۷)مقبول الرحمان۔ (۹۸)کلمتہ الازل۔ (۹۹)غازی۔
(احمدیہ جنتری ۱۹۴۷ء ص۱۸،۱۹، مضمون میراسماعیل قادیانی، مرتبہ محمد یامین تاجر، مطبوعہ قادیان،
روزنامہ الفضل ج۲۵ نمبر۲۹۰ ص۴، مؤرخہ ۱۴؍دسمبر ۱۹۳۷ء)
211
فصل پانچویں
فضیلت کی تفصیل
(الف) مسلمانوں کے مقابل
(۱) تیرہ سو سال
’’جو فہم قرآن کریم کا حضرت مسیح موعود (مرزاقادیانی) کو خداتعالیٰ نے دیا اور اصولی طور پر آپ نے
ہمیں جس کی تعلیم دی ہے، وہ اتنا بڑا خزانہ ہے کہ موجودہ زمانے کی ضرورتوں کو مدنظر رکھتے ہوئے کہا جاسکتا
ہے کہ درمیان کے تیرہ سو سال کے تمام علوم اس کے سامنے ہیچ ہیں۔‘‘
(مرزامحمود خلیفہ قادیان کا خطبہ جمعہ، اخبار الفضل قادیان ج۲۶ نمبر۲۶۳ ص۳ کالم۴، مؤرخہ ۱۵؍نومبر
۱۹۳۸ء، خطبات محمود ج۱۹ ص۷۷۶)
’’یہ شرک کی بہت عمدہ تعریف ہے۔ مگر حضرت مسیح موعود نے اس سے بھی اوپر تعریف بیان کی ہے جس کی نظیر
پچھلے تیرہ سو سال میں نہیں ملتی۔‘‘
(مسیح موعود کے کارنامے، تقریر خلیفہ قادیان جلسہ سالانہ ص۳۰، طبع اوّل مطبوعہ قادیان، انوارالعلوم
ج۱۰ ص۱۲۸)
’’بلکہ میرا یہاں تک مذہب ہے کہ تیرہ سو سال میں رسول اللہ ﷺ کے زمانہ سے آج تک امت محمدیہ میں کوئی
ایسا انسان نہیں گزرا جوآنحضرت ﷺ کا ایسا فدائی، ایسا مطیع اور ایسا فرمانبردار ہو جیسا کہ حضرت مسیح موعود
تھے۔ (یعنی مرزاغلام احمد قادیانی۔ للمؤلف)‘‘
(حقیقت النبوۃ ص۵، انوارالعلوم ج۲ ص۳۴۹)
(۲) امت محمدی کے تمام اولیاء پر فضیلت
’’اسلام میں اگرچہ ہزارہا ولی اور اہل اللہ گزرے ہیں مگر ان میں کوئی موعود نہ تھا۔ لیکن وہ جو مسیح کے
نام پر آنے والا تھا، وہ موعود تھا (یعنی خود غلام احمد قادیانی)۔‘‘
(تذکرہ الشہادتین ص۲۹، خزائن ج۲۰ ص۳۱)
’’میں ولایت کے سلسلہ کو ختم کرنے والا ہوں۔ جیسا کہ ہمارے سیدآنحضرت ﷺ نبوت کے سلسلہ کو ختم کرنے
والے تھے اور وہ خاتم الانبیاء ہیں اور میں خاتم الاولیاء ہوں۔ میرے بعد کوئی ولی نہیں مگر وہ جو مجھ سے
ہوگا اور میرے عہد پر ہوگا۔‘‘
(خطبہ الہامیہ ص۳۵، خزائن ج۱۶ ص۶۹،۷۰)
’’اور یہ بات ایک ثابت شدہ امر ہے کہ جس قدر خداتعالیٰ نے مجھ سے مکالمہ اور مخاطبہ کیا ہے اور جس قدر
امور غیبیہ مجھ پر ظاہر فرمائے ہیں، تیرہ سو برس ہجری میں کسی شخص کو آج تک بجز میرے یہ نعمت عطاء نہیں کی
گئی اور اگر کوئی منکر ہو تو بارثبوت اس کی گردن پر ہے۔
غرض اس حصہ کثیر وحی الٰہی اور امورغیبیہ میں اس امت میں سے میں ہی ایک فرد مخصوص ہوں اور جس قدر مجھ
سے پہلے اولیاء اور ابدال اور اقطاب اس امت میں سے گزر چکے ہیں، ان کو یہ حصہ کثیر اس نعمت کا نہیں دیاگیا۔
پس اس وجہ سے نبی کا نام پانے کے لئے میں ہی مخصوص کیاگیا اور دوسرے تمام لوگ اس نام کے مستحق نہیں۔‘‘
(حقیقت الوحی ص۳۹۱، خزائن ج۲۲ ص۴۰۶)
’’اور خداتعالیٰ نے آج سے چھبیس (۲۶) برس پہلے میرا نام براہین احمدیہ میں محمد اور احمد رکھا ہے
اورآنحضرت ﷺ کا بروز مجھے قرار دیا ہے۔ اسی وجہ سے براہین احمدیہ میں لوگوں کو مخاطب کر کے فرمادیا ہے،
’’قل ان کنتم تحبون اللہ فاتبعونی یحببکم اللہ ‘‘ اور یہ دعویٰ امت محمدیہ میں سے آج تک کسی
اور نے ہرگز نہیں کیا کہ خداتعالیٰ نے میرا یہ نام رکھا ہے
212
اور خداتعالیٰ کی وحی سے صرف میں اس نام کا مستحق ہوں۔‘‘
(تتمہ حقیقت الوحی ص۶۷،۶۸، خزائن ج۲۲ ص۵۰۲،۵۰۳)
’’بلکہ میرا یہاں تک مذہب ہے کہ تیرہ سو سال میں رسول اللہ ﷺ کے زمانہ سے آج تک امت محمدیہ میں کوئی
ایسا انسان نہیں گزرا جوآنحضرت ﷺ کا ایسا فدائی اور مطیع اور ایسا فرمانبردار ہو جیسا کہ حضرت مسیح موعود
تھے۔‘‘
(حقیقت النبوۃ ص۵، انوارالعلوم ج۲ ص۳۴۹)
(۳) حضرت مجدد الف ثانی
’’حضرت مجدد الف ثانی اپنے مکتوب میں آپ ہی تحریر فرماتے ہیں کہ جو لوگ میرے بعد آنے والے ہیں جن پر
حضرت احدیت کی خاص خاص عنایات ہیں، ان سے افضل نہیں ہوں اور نہ وہ میرے پیرو ہیں۔ سو یہ عاجز بیان کرتا ہے
نہ فخر کے طریق پر بلکہ واقعی طور پر شکراً نعمۃ اللہ کہ اس عاجز کو خداتعالیٰ نے ان بہتوں پر افضلیت بخشی ہے
کہ جو حضرت مجدد صاحب سے بھی بہتر ہیں اور مراتب اولیاء سے بڑھ کر نبیوں سے مشابہت دی ہے۔‘‘
(حیات احمد ج۲ نمبر۲ ص۷۹، مؤلفہ شیخ یعقوب علی عرفانی قادیانی)
(۴) حضرت غوث الاعظم اور مرزاقادیانی
’’سید عبدالقادر جیلانی نے اپنے اپ کو اپنے حال کی کیفیات بیان کرنے تک رکھا۔ کیونکہ وہ مامور نہیں
تھے، مجدد تھے اور مجددیت کے مقام پر کھڑے تھے۔ اس لئے انہوں نے اپنے اندر کی کیفیت بیان کر دی کہ یہ کچھ
میرے اندر گزر رہا ہے اور میں نے یہ کچھ دیکھا ہے۔ وہ مجدد تھے۔ مخاطبہ مکالمہ الٰہیہ سے مشرف تھے اور اپنے
زمانہ میں لوگوں کے لئے رحمت تھے۔ مگر توحید کو اصولی طور پر بیان کرنا ان کے لئے نہ تھا۔ بلکہ حضرت مسیح
موعود کے لئے رکھاگیا تھا جو مامور کر کے بھیجے گئے۔ اس لئے آپ سے پہلے لوگ ایسا نہ کر سکتے تھے کہ توحید کے
اصول بھی بیان کرتے۔ توحید کا حال اور خاص کروہ حال جو ان کے ساتھ گزر رہا تھا، وہی بیان کر سکتے تھے اور یہ
حضرت مسیح موعود کا ہی کام تھا کہ توحید کی اصل اور اس کے اصول اور اس کی غرض بیان فرماتے۔ پس یہ فرق ہے جو
حضرت مسیح موعود اور گزشتہ صوفیاء حضرت سید عبدالقادر جیلانی رحمۃ اللہ علیہ وغیرہ کے درمیان توحید بیان
کرنے کے متعلق ہے۔‘‘
(خطبہ جمعہ خلیفہ قادیان الفضل قادیان ج۱۳ نمبر۴۶ ص۷ کالم۳، مؤرخہ ۲۰؍اکتوبر ۱۹۲۵ء، خطبات محمود ج۹
ص۲۸۲،۲۸۳)
(۵) توحید کی تعلیم
’’شاید کوئی کہے کہ تم اپنے قول سے آپ پکڑے گئے۔ اگر عبدالقادر جیلانی اور محی الدین ابن عربیcنے بھی
توحید کے متعلق وہ بات بیان کی جو حضرت مرزاصاحب نے بیان کی اور خدا سے علم حاصل کر کے کی تو پھر حضرت
مرزاصاحب میں ان سے بڑھ کر کون سی بات ہے۔ لیکن ہم نے کب کہا ہے کہ ان کا علم خدا سے حاصل کردہ نہ تھا۔ بے
شک ان کا علم خداسے ہی حاصل کیا ہوا تھا، لیکن نور نبوت نہ ہونے کی وجہ سے ان کا علم کامل نہ تھا۔ اس لئے
ابن عربی تو وحدت وجود کی طرف نکل گئے اور سید عبدالقادر حال کی کیفیات بیان کرنے تک محدود ہوگئے۔ اس سے آگے
ایک قدم بھی نہ اٹھا سکے اور ہرگز اصول بتانے کی طرف نہ آئے جن سے دوسرے لوگ بھی فائدہ اٹھا سکتے۔ لیکن حضرت
مسیح موعود نے اصول بیان کئے اور آپ میں اور ان میں یہی تو فرق ہے کہ حضرت مسیح موعود نے آکر توحید کے اصول
اور مقاصد بیان فرمائے۔ مگر ان لوگوں نے ایسا نہ کیا۔ پس ان میں فرق حال اور اصول کا ہے اور یہ اتنا بڑا فرق
ہے کہ اس کے ہوتے ہوئے یہ نہیں کیا جاسکتا کہ حضرت مسیح موعود نے مبعوث ہوکر توحید کو اس سے زیادہ پیش نہیں
کیا جتنا کہ سید عبدالقادر جیلانی رحمۃ اللہ علیہ اور محی الدین ابن عربیc نے کیا۔‘‘
(خطبہ جمعہ الفضل قادیان ج۱۳ نمبر۴۶ ص۷ کالم۲، مؤرخہ ۲۰؍اکتوبر ۱۹۲۵ء، خطبات محمود ج۹ ص۲۸۱)
213
(۶) مجدد اعظم
’’چنانچہ علماء امتی کا انبیاء بنی اسرائیل کے ارشاد کی رو سے آپ کی امت کے
مجددین میں سے ہر ایک مجدد کسی نہ کسی نبی کے کمالات کا وارث ہوا اور حضرت مسیح موعود (مرزاقادیانی) جو مجدد
اعظم ہیں، ’’جری اللہ فی حلل الانبیاء‘‘ کی شان کے ساتھ سب انبیاء کے کمالات کے
مجموعی طور پر وارث بنائے گئے۔ بلکہ اس لحاظ سے کہ آنحضرت ﷺ بھی آل ابراہیم سے ہیں مسیح موعود آل محمد میں
سے ہونے کی وجہ سے ’’کما صلیت‘‘ اور ’’کما بارکت علی ابراہیم
وعلیٰ ال ابراہیم‘‘ کے الفاظ سےآنحضرت ﷺ کے کمالات اور برکات کے بھی ظلی طور پر کامل وارث
ہوئے۔‘‘
(رسالہ درود شریف ص۱۲، مؤلفہ محمد اسماعیل قادیانی)
(۷) صحابہ کرام اور قادیانی صاحبان
’’حوالہ جات مندرجہ بالا ان لوگوں پر حجت ہیں جو اصحاب مسیح موعود کی عیب چینیاں کرتے ہیں اور کہتے
ہیں کہ ان کی صحابہ آنحضرت سے کیا نسبت ہے یا ان سے گھٹیا درجہ کے ہیں اور دلیل یہ دیتے ہیں کہ ان اصحاب
نےآنحضرت ﷺ سے تربیت پائی اور ان لوگوں نے مسیح موعود (مرزاقادیانی) سے۔ دونوں میں فرق بیّن ہے۔ حالانکہ
حوالہ جات مافوق الذکر سے ثابت ہے کہ مسیح موعود کو ہی خاتم الانبیاء اور محمد رسول اللہ فرمایا اور مسیح
موعود (مرزاقادیانی) ومصطفی میں تفریق کرنے سے منع کیا۔ کیونکہ مسیح موعود بھی جامع جمیع کمالات محمدیہ ہے۔
پھر صحابہ مسیح موعود کوآنحضرت ﷺ کے ہاتھ کے تربیت یافتہ اور آنحضرت کے صحابہ قرار دیا۔ پس ان دونوں گروہوں
میں تفریق کرنی یا ایک کو دوسرے سے مجموعی رنگ میں افضل قرار دینا ٹھیک نہیں۔ یہ دونوں فرقے درحقیقت ایک ہی
جماعت میں ہیں۔ صرف زمانہ کا فرق ہے۔ وہ بعثت اولیٰ کے تربیت یافتہ ہیں۔ یہ بعثت ثانی کے۔‘‘
(الفضل قادیان ج۵ نمبر۹۲ ص۵ کالم۲، مؤرخہ ۲۸؍مئی ۱۹۱۸ء)
’’ایک نبی ہم میں (قادیانی صاحبان میں) بھی خدا کی طرف سے آیا اگر اس کی اتباع کریں گے تو وہی پھل
پائیں گے جو صحابہ کرام کے لئے مقرر ہوچکے ہیں۔‘‘
(مندرجہ اخبار البدر قادیان ج۱۰ نمبر۱۲ ص۷، مؤرخہ ۱۹؍جنوری ۱۹۱۱ء، آئینہ صداقت ص۵۳، انوارالعلوم ج۶
ص۱۲۵)
(۸) خدا کا کلام
’’سب سے بڑا فضل اور انعام یہ ہے کہ خداتعالیٰ کسی سے کلام کرے۔ لیکن اس سے دوسرے درجہ پر یہ ہے کہ
خداتعالیٰ سے کلام کرنے والے انسان کے ساتھ تعلق ہو۔ کیونکہ نبیوں کو خداتعالیٰ سے بلاواسطہ تعلق ہوتا ہے
اور نبیوں کے ماننے والوں کا بالواسطہ۔ لیکن میں تو دیکھتا ہوں کہ ہماری جماعت کے بعض آدمیوں کے ساتھ
خداتعالیٰ بلاواسطہ کلام کرتا ہے۔‘‘
(خطبہ جمعہ الفضل قادیان ج۳ نمبر۱۱، مؤرخہ ۱۸؍جولائی ۱۹۱۵ء، خطبات محمود ج۴ ص۳۸۷)
’’رسول کریم ﷺ کے سامنے کچا لہسن رکھاگیا تو آپ نے نہ کھایا۔ صحابہ رضی اللہ عنہم نے پوچھا یا رسول اللہ ہم بھی نہ
کھائیں۔ فرمایا، تم سے خدا کلام نہیں کرتا، تم کھا سکتے ہو۔‘‘
(منہاج الطالبین ص۱۳، انوارالعلوم ج۹ ص۱۶۴)
(۹) حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ پر فضیلت
’’امام حسین رضی اللہ عنہ پر فضیلت کے بارہ میں فرمایا کہ ان پر میری فضیلت سن کر یوں ہی غصہ میں
آجاتے ہیں۔ قرآن کریم نے کہاں امام حسین رضی اللہ عنہ کا نام لیا ہے۔ زیدb کا ہی نام لیا ہے۔ اگر ایسی ہی
بات تھی تو چاہئے تھا کہ امام حسین کا نام بھی لے دیا جاتا اور پھر
214
’’ماکان محمد ابا احد من رجالکم‘‘ کہہ کر اور بھی ابوت کا خاتمہ کردیا۔ اگر
’’الّاحسین‘‘ اس آیت کے ساتھ کہہ دیا جاتا تو شیعہ کا ہاتھ کہیں تو پڑ جاتا۔‘‘
(ملفوظات ج۳ ص۳۲۱،۳۲۲، جدید ملفوظات ج۲ ص۲۲۴، ملفوظات احمدیہ طبع لاہور ج۴ ص۱۹۱،۱۹۲، مرتبہ منظور
الٰہی قادیانی)
’’افسوس یہ لوگ نہیں سمجھتے کہ قرآن نے تو امام حسین کو رتبہ ابنیت کا بھی نہیں دیا بلکہ نام تک مذکور
نہیں۔ ان سے تو زید ہی اچھا رہا۔ جس کا نام قرآن شریف میں موجود ہے۔ ان کوآنحضرت ﷺ کا بیٹا کہنا قرآن شریف
کے نص صریح کے برخلاف ہے۔ جیسا کہ آیت ’’ماکان محمد ابا احد من رجالکم‘‘ سے سمجھا جاتا
ہے اور ظاہر ہے کہ حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ رجال میں سے تھے، عورتوں میں سے تو نہیں تھے۔ حق تو یہ ہے کہ
اس آیت نے اس تعلق کو جو امام حسین کوآنحضرت ﷺ سے بوجہ پسر دختر ہونے کے تھا، نہایت ہی ناچیز کر دیا ہے… غرض
حسین کو نبیوں پر فضیلت دینا بیہودہ خیال ہے۔ ہاں! یہ سچ ہے کہ وہ بھی خدا کے راست بازبندوں میں سے تھے۔
لیکن ایسے بندے تو کروڑہا دنیا میں گزر چکے ہیں اور خدا جانے آگے کس قدر ہوں گے۔ پس بلاوجہ ان کو تمام
انبیاء کا سردار بنا دینا خداکے پاک رسولوں کی سخت ہتک کرنا ہے۔ ایسا ہی خداتعالیٰ نے اور اس کے پاک رسول نے
بھی مسیح موعود کا نام نبی اور رسول رکھا ہے اور تمام خداتعالیٰ کے نبیوں نے اس کی تعریف کی ہے اور اس کو
تمام انبیاء کے صفات کاملہ کا مظہر ٹھہرایا ہے۔ اب سوچنے کے لائق ہے کہ امام حسین کو اس سے کیا نسبت ہے… کیا
یہ سچ نہیں ہے کہ قرآن اور احادیث اور تمام نبیوں کی شہادت سے مسیح موعود حسین سے افضل ہے اور جامع کمالات
متفرقہ ہے۔ پھر اگر درحقیقت میں وہی مسیح موعود ہوں تو خود سوچ لو کہ حسین کے مقابل مجھے کیا درجہ دینا
چاہئے اور اگر میں وہ نہیں ہوں تو خدا نے صدہا نشان کیوں دکھلائے اور کیوں وہ ہردم میری تائید میں ہے۔‘‘
(نزول المسیح ص۴۵تا۵۰، خزائن ج۱۸ ص۴۲۳تا۴۲۸)
’’اور انہوں نے کہا کہ اس شخص نے (یعنی مرزاقادیانی نے) امام حسن اور حسین سے اپنے تئیں اچھا سمجھا۔
میں کہتا ہوں کہ ہاں (بے شک) اور میرا خدا عنقریب ظاہر کر دے گا۔‘‘
(اعجاز احمدی ضمیمہ نزول المسیح ص۵۲، خزائن ج۱۹ ص۱۶۴)
’’اور بخدا اسے (یعنی حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ کو) مجھ سے کچھ زیادت نہیں اور میرے پاس خدا کی
گواہیاں ہیں۔ پس تم دیکھ لو۔‘‘
(اعجاز احمدی ضمیمہ نزول المسیح ص۸۱، خزائن ج۱۹ ص۱۹۳)
’’اور میں خدا کا کشتہ ہوں۔ لیکن تمہارا حسین دشمنوں کا کشتہ ہے۔ پس فرق کھلا کھلا اور ظاہر ہے۔‘‘
(اعجاز احمدی ضمیمہ نزول المسیح ص۸۱، خزائن ج۱۹ ص۱۹۳)
’’مجھ میں اور تمہارے حسین میں بہت فرق ہے۔ کیونکہ مجھے تو ہر ایک وقت خدا کی تائید اور مدد مل رہی
ہے۔‘‘
(اعجاز احمدی ضمیمہ نزول المسیح ص۶۹، خزائن ج۱۹ ص۱۸۱)
’’مگر حسین (کو دیکھو تو) پس تم دشت کربلا کو یاد کر لو۔ اب تک تم روتے ہو پس سوچ لو۔‘‘
(اعجاز احمدی ضمیمہ نزول المسیح ص۶۹، خزائن ج۱۹ ص۱۸۱)
’’اور میں خدا کے فضل سے اس کے کنارہ عاطفت میں ہوں، پرورش پارہا ہوں اور ہمیشہ لئیموں کے حملہ سے جو
پلنگ صورت میں بچایا جاتا ہوں۔‘‘
(اعجاز احمدی ضمیمہ نزول المسیح ص۶۹، خزائن ج۱۹ ص۱۸۱)
’’اور اگر دشمن تلواروں اور نیزوں کے ساتھ میرے پاس آویں۔ پس بخدا میں بچایا جاؤں گا اور مجھے فتح
ملے گی۔‘‘
(اعجاز احمدی ضمیمہ نزول المسیح ص۶۹، خزائن ج۱۹ ص۱۸۱)
215
’’تم نے اس کشتہ (حسین رضی اللہ عنہ) سے نجات چاہی کہ جو نومیدی سے مرگیا۔ پس تم کو خدا نے جو غیور
ہے، ہر ایک مراد سے نومید کیا۔ وہ خدا جو ہلاک کرنے والا ہے۔‘‘
(اعجاز احمدی ضمیمہ نزول المسیح ص۸۱، خزائن ج۱۹ ص۱۹۳)
’’کیا تو اس (حسین رضی اللہ عنہ) کو تمام دنیا سے زیادہ پرہیزگار سمجھتا ہے اور یہ تو بتلاؤ کہ اس سے
تمہیں دینی فائدہ کیا پہنچا۔ اے مبالغہ کرنے والے۔‘‘
(اعجاز احمدی ضمیمہ نزول المسیح ص۶۸، خزائن ج۱۹ ص۱۸۰)
’’اور میرا مقام یہ ہے کہ میرا خدا عرش پر سے میری تعریف کرتا ہے اور عزت دیتا ہے۔‘‘
(اعجاز احمدی ضمیمہ نزول المسیح ص۶۹، خزائن ج۱۹ ص۱۸۱)
’’اور مجھے جناب الٰہی میں جو میرا خالق ہے ایک عزت ہے۔ پس خوشی ہو اس قوم کے لئے جنہوں نے میری اطاعت
کی اور مجھے اختیار کیا۔‘‘
(اعجاز احمدی ضمیمہ نزول المسیح ص۷۲، خزائن ج۱۹ ص۱۸۴)
’’اے قوم شیعہ! اس پر اصرار مت کرو کہ حسین تمہارا منجی ہے۔ کیونکہ میں سچ سچ کہتا ہوں کہ آج تم میں
ایک (مرزاقادیانی) ہے کہ اس حسین سے بڑھ کر ہے اور اگر میں اپنی طرف سے یہ باتیں کہتاہوں تو میں جھوٹا ہوں۔
لیکن اگر میں ساتھ اس کے خدا کی گواہی رکھتاہوں تو تم خدا سے مقابلہ مت کرو۔ ایسا نہ ہو کہ تم اس سے لڑنے
والے ٹھہرو۔ اب میری طرف دوڑو کہ وقت ہے۔ جو شخص اس وقت میری طرف دوڑتا ہے، میں اس کو اس سے تشبیہ دیتا ہوں
کہ جو عین طوفان کے وقت جہاز پر بیٹھ گیا۔ لیکن جو شخص مجھے نہیں مانتا، میں دیکھ رہا ہوں کہ وہ طوفان میں
اپنے تئیں ڈال رہا ہے اور کوئی بچنے کا سامان اس کے پاس نہیں۔‘‘
(دافع البلاء ص۱۳، خزائن ج۱۸ ص۲۳۳)
’’اور تو مجھے گالی دیتا ہے اور میں نہیں جانتا کہ کیوں مجھے گالیاں دیتا ہے۔ کیا امام حسین کے سبب سے
تجھے رنج پہنچا، پس تو برا فروختہ ہوا۔‘‘
(اعجاز احمدی ضمیمہ نزول المسیح ص۶۷، خزائن ج۱۹ ص۱۷۹)
(۱۰) صدحسین
’’حضرت مسیح موعود نے فرمایا ؎
-
کربلا است سیر ہر آنم
صد حسین است در گریبانم‘‘
(الفضل قادیان ج۱۳ نمبر۸۰ ص۷ کالم۲، مؤرخہ ۲۶؍جنوری ۱۹۲۶ء، خطبات محمود ج۱۰ ص۲۶، نزول المسیح ص۹۹،
خزائن ج۱۸ ص۴۷۷)
’’کہ میرے گریبان میں سو حسین ہیں۔ لوگ اس کے معنے یہ سمجھتے ہیں کہ حضرت مسیح موعود نے فرمایا۔ میں
سو حسین کے برابر ہوں لیکن میں کہتا ہوں اس سے بڑھ کر اس کا یہ مفہوم ہے کہ سو حسین کی قربانی کے برابر میری
ہر گھڑی کی قربانی ہے۔ وہ شخص جو اہل دنیا کی فکروں میں گھلا جاتا ہے جو ایسے وقت میں کھڑا ہوتا ہے جب کہ ہر
طرف تاریکی اور ظلمت پھیلی ہوئی ہے اور اسلام کا نام مٹ رہا ہے۔ وہ دن رات دنیا کا غم کھاتا ہوا اسلام کو
قائم کرنے کے لئے کھڑا ہوتا ہے۔ کون کہہ سکتا ہے کہ اس کی قربانی سوحسین کے برابر نہ تھی۔ پس یہ تو ادنیٰ
سوال ہے کہ حضرت مسیح موعود (مرزاقادیانی) امام حسین کے برابر تھے یا ادنیٰ۔ حضرت امام حسین ولی تھے مگر ان
کو وہ غم اور صدمہ کس طرح پہنچ سکتا تھا جو اسلام کو مٹتا دیکھ کر حضرت مسیح موعود کو ہوا۔‘‘
(خطبہ جمعہ الفضل قادیان ج۱۳ نمبر۸۰ ص۷ کالم۲، مؤرخہ ۲۶؍جنوری ۱۹۲۶ء، خطبات محمود ج۱۰ ص۲۶)
(۱۱) حضرت علی اور اہل بیت
(عنوان مندرجہ اخبار الفضل مؤرخہ ۱۸؍اپریل ۱۹۱۶ء)
216
’’یہ سوال کہ حضرت علی نبی کیوں نہ ہوئے اور دیگر اہل بیت نے یہ مرتبہ کیوں نہ پایا۔ اس کا جواب یہ ہے
کہ حضرت علی یا دیگر اہل بیت کامل طور پرآنحضرت ﷺ کے علوم اور معارف کے وارث ہوتے اور ضرورت زمانہ بھی
متقاضی ہوتی تو ضرور وہ بھی نبوت کا درجہ پاتے۔‘‘
(الفضل قادیان ج۳ نمبر۱۰۷ ص۷ کالم۲، مؤرخہ ۱۸؍اپریل ۱۹۱۶ء)
(۱۲) وارث رسول اللہ
’’آنحضرت ﷺ کا صرف یہ مقصود تھا کہ وہ فرزندوں کی طرح اس (نبی ﷺ) کا وارث ہوگا۔ اس کے نام کا وارث، اس
کے خلق کا وارث، اس کے علم کا وارث، اس کی روحانیت کا وارث اور ہر ایک پہلو سے اپنے اندر اس کی تصویر
دکھلائے گا اور وہ اپنی طرف سے نہیں بلکہ سب کچھ اس سے لے گا اور اس میں فنا ہوکر اس کے چہرے کو دکھائے گا۔
پس جیسا کہ ظلی طور پر اس کا نام لے گا، اس کا خلق لے گا۔ اس کا علم لے گا۔ ایسا ہی اسی کا نبی لقب بھی لے
گا۔ کیونکہ بروزی تصویر پوری نہیں ہوسکتی۔ جب تک یہ تصویر ہر ایک پہلو سے اپنے اصل کے کمال اپنے اندر نہ
رکھتی ہو۔‘‘
(ایک غلطی کا ازالہ ص۵، خزائن ج۱۸ ص۲۱۴، مندرجہ تبلیغ رسالت ج۱۰ ص۲۱،۲۲، مجموعہ اشتہارات ج۳ ص۴۳۹،
جدید مجموعہ اشتہارات ج۲ ص۵۲۸،۵۲۹)
(۱۳) اکلوتا بیٹا
’’ہاں! وہ محمد ﷺ کا اکلوتا بیٹا (مرزاغلام احمد قادیانی) جس کے زمانہ پر رسولوں نے ناز کیا تھا، جب
وہ زمین پر اترا تو امت محمدیہ کی بھیڑیں اس کے لئے بھیڑیے بن گئیں۔ اس پر پتھر برسائے گئے۔ اس کو مقدمات
میں گھسیٹا گیا۔ اس کے قتل کے منصوبے کئے گئے۔ اس پر کفر کے فتوے لگائے گئے۔ اس کو اسلام کا دشمن قرار
دیا۔‘‘
(کلمۃ الفصل مصنفہ بشیراحمد، مندرجہ رسالہ ریویو آف ریلیجنز قادیان ج۱۴ نمبر۳ ص۱۰۱، بابت ماہ مارچ
۱۹۱۵ء)
(۱۴) فی الواقع
’’حضرت مسیح موعود (مرزاقادیانی) جو فی الواقع نبی اور رسول اور جری اللہ فی حلل الانبیاء کی شان رکھنے
والے ہیں، وہ بھی آنحضرت ﷺ کے روحانی فرزند ہیں… کیونکہ مسیح موعود (مرزاقادیانی) جن کا ظہور تمام نبیوں کے
ظہور کے قائم مقام ہے اور جن کا وجود تمام نبیوں کے وجود کا مظہر ہے، ان کاآنحضرت ﷺ کے توسط سے روحانی تولد
بمنزلہ تمام انبیاء کے روحانی تولد کے ہے، جس سےآنحضرت ﷺ کا خاتم النّبیین بمعنی ابوالانبیاء ہونا ثابت
ہوجاتا ہے۔‘‘
(الفضل قادیان ج۱۷ نمبر۶۵ ص۱۱ کالم۳، مؤرخہ ۱۸؍فروری ۱۹۳۰ء)
(۱۵) بدبخت
’’بدبخت ہیں وہ لوگ جنہوں نے کہا کہ ہم مسیح موعود (مرزاقادیانی) کی روحانی اولاد ہیں اور ہمیں مسیح
موعود کی اولاد کی کیا پرواہ ہے۔ اگر وہ مسیح موعود کی روحانی اولاد ہوسکتے ہیں تو کیوں یہ بات مسیح موعود
(مرزاقادیانی) کی جسمانی اولاد کو حاصل نہیں ہو سکتی۔ ان کے لئے دو باتیں جمع ہیں اور یہ اللہ تعالیٰ کا فضل
ہے… ایک دفعہ ایسا ہوا کہ ایک خادمہ جس نے ان کو (صاحبزادہ بشیراحمد کو) اٹھایا ہوا تھا، اس کو کسی شخص نے
کوئی کام کرنے کے لئے کہا۔ اس نے کہا میں ابھی یہ کام نہیں کرسکتی۔ اس نے اس کے منہ پر تھپڑ مارا۔ حضرت مسیح
موعود کو جب اس کی خبر ہوئی تو آپ نے فرمایا، میری یہ اولاد شعائر اللہ میں داخل ہے۔ اس عورت کوجس نے بچہ کو
اٹھایا ہوا تھا، جس نے مارا ہے۔ اس نے شعائر اللہ کی ہتک کی ہے۔ پس جو خداتعالیٰ کے نشانات ہوں، ان کی تعظیم
کرنی چاہئے۔‘‘
(تقریر مفتی محمد صادق قادیانی جلسہ سالانہ اخبار الفضل قادیان ج۱۱ نمبر۵۳، مؤرخہ ۸؍جنوری ۱۹۲۴ء)
217
(۱۶) زندہ اور مردہ علی
’’پرانی خلافت کا جھگڑا چھوڑو۔ اب نئی خلافت لو۔ ایک زندہ علی (مرزاقادیانی) تم میں موجود ہے، اس کو
چھوڑتے ہو اور مردہ علی رضی اللہ عنہ کی تلاش کرتے ہو۔‘‘
(ملفوظات ج۲ ص۱۴۲، جدید ملفوظات ج۱ ص۴۰۰، ملفوظات احمدیہ طبع لاہورج۱ ص۱۳۱،مندرجہ الحکم قادیان ج۴
نمبر۴۱ ص۲، مؤرخہ ۱۰؍نومبر ۱۹۰۰ء)
(۱۷) کامل فرزند روحانی
’’بے شک جسمانی طور پر فاطمتہ الزہراءt اور حضرت علی رضی اللہ عنہ سے ایک نسل چلی لیکن کامل واکمل
روحانی وجسمانی فرزند سب سے برافرخندہ گوہر اور حضرت علی رضی اللہ عنہ اور فاطمتہ الزہراءt کے روحانی کمالات
کا اتم اور اکمل طور پر وارث ایک ہی ہوا اور وہ حضرت مسیح موعود ہیں۔‘‘
(الفضل قادیان ج۲۸ نمبر۱۲۳، مؤرخہ ۳۰؍مئی ۱۹۴۰ء)
(۱۸) مردے
’’۱۴؍مئی ۱۹۰۰ء شام کے وقت سید محمد رضوی صاحب وکیل ہائیکورٹ حیدرآباد دکن نے حضرت مسیح موعود سے عرض
کیا کہ کیا مردوں سے استعانت مانگنی جائز ہے۔ اس کے جواب میں آپ نے فرمایا، بات یہ ہے کہ مردوں سے مددمانگنے
کے طریق کو ہم نہایت نفرت کی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔ یہ ضعیف الایمان لوگوں کا کام ہے کہ مردوں کی طرف رجوع
کرتے ہیں اور زندوں سے دوربھاگتے ہیں۔ خداتعالیٰ فرماتا ہے کہ حضرت یوسف علیہ السلام کی زندگی میں لوگ ان کی
نبوت کا انکار کرتے رہے اور جس روز انتقال کرگئے تو کہا کہ آج نبوت ختم ہوگئی۔ اللہ تعالیٰ نے کہیں بھی مردوں
کے پاس جانے کی ہدایت نہیں فرمائی بلکہ ’’کونوا مع الصادقین‘‘ کا حکم دے کر زندوں
کی صحبت میں رہنے کا حکم دیا۔ یہی وجہ ہے کہ ہم اپنے دوستوں کو باربار یہاں آنے اور رہنے کی تاکید کرتے
ہیں۔‘‘
(ارشاد مرزاغلام احمد قادیانی مندرجہ منظور الٰہی ص۲۰۰،۲۰۱، مؤلفہ منظور الٰہی قادیانی، ملفوظات ج۲
ص۵۳، جدید ملفوظات ج۱ ص۳۳۹)
(۱۹) حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ پر فضیلت
’’صدیق یعنی بہت ہی سچ بولنے والا انسان شہید سے اوپر ہوتا ہے اور اپنے ہر قول کی تائید اپنے عمل سے
کرتا ہے اور اس کی فطرت نبیوں کی سی فطرت ہوتی ہے اور اس کے کام نبیوں کے سے کام ہوتے ہیں۔ لیکن کسی قدر کمی
اورنقص کی وجہ سے وہ درجہ نبوت کے پانے سے روکا جاتا ہے۔ ورنہ اسی حد تک پہنچا ہوا ہوتا ہے کہ قریب ہے کہ وہ
نبی ہو ہی جائے۔ بلکہ جزوی نبوت اسے مل جاتی ہے اور اللہ تعالیٰ اس سے تجدید دین کا کام لیتا ہے۔ چنانچہ حضرت
ابوبکر رضی اللہ عنہ کو بھی جو صدیق تھے، تجدید دین کا کام کرنا پڑا… اور یہ محدث کا آخری درجہ ہوتا ہے اور
یہ درجہ امت محمدیہ میں سینکڑوں ہزاروں لوگوں نے پایا۔‘‘
(حقیقت النبوۃ ص۱۵۲،۱۵۳، انوارالعلوم ج۲ ص۴۷۲،۴۷۳)
’’میں وہی مہدی ہوں جس کی نسبت ابن سیرین سے سوال کیاگیا کہ کیا وہ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کے درجہ
پر ہے تو انہوں نے جواب دیا کہ ابوبکر رضی اللہ عنہ کیا، وہ تو بعض انبیاء سے بہتر ہے۔‘‘
(معیار الاخیار اشتہار مرزاقادیانی، مندرجہ تبلیغ رسالت ج۹ ص۳۰، مجموعہ اشتہارات ج۳ ص۲۷۸، جدید مجموعہ
اشتہارات ج۲ ص۳۹۶)
218
(۲۰) ابوبکر وعمر
’’مجھے اہل بیت مسیح موعود سے خاص محبت اور عاشقانہ تعلق تھا۔ مجھے اس وقت بھی تمام خاندان مسیح موعود
کے ساتھ دلی ارادت ہے اور میں ان سب کی کفش برداری اپنا فخر سمجھتا ہوں۔ مجھے اس خاندان کے طفیل سے بڑے بڑے
نفع ہوئے ہیں۔ میں ان کے احسانات کا شکرادا نہیں کرسکتا۔ میرے ایک محب تھے جو اس وقت مولوی فاضل بھی ہیں اور
اہل بیت مسیح موعود کے خاص رکن رکین ہیں۔ انہوں نے مجھے ایک دفعہ فرمایا کہ سچ تو یہ ہے کہ رسول اللہ ﷺ کی بھی
اتنی پیش گوئیاں نہیں جتنی کہ مسیح موعود کی ہیں۔ پھر انہوں نے ایک اور بھی ایسا ہی دکھ دینے والا فقرہ بولا
کہ ابوبکر وعمر کیا تھے۔ وہ تو حضرت غلام احمد کی جوتیوں کے تسمہ کھولنے کے بھی لائق نہ تھے۔ ان فقروں نے
مجھے ایسا دکھ دیا اور ان کے سننے سے مجھے ایسی تکلیف ہوئی کہ میری نظر میں جو توقیر اور عزت اہل بیت مسیح
موعود میں سے ہونے کی ان کی نسبت تھی، وہ سب جاتی رہی۔‘‘
(المہدی نمبر۲،۳ ص۵۷، مؤلفہ حکیم محمد حسین قادیای لاہوری)
(۲۱) تمام انبیاء علیہم السلام پر فضیلت
-
’’انبیاء گرچہ بودہ اند بسے
من بعرفان نہ کمترم ز کسے
-
آنچہ داد ست ہر نبی را جام
داد آن جام را مرا بتمام
-
کم نیم زاں ہمہ بروئے یقیں
ہر کہ گوید دروغ ہست لعین‘‘
(درثمین (فارسی) ص۱۷۱،۱۷۲، نزول المسیح ص۹۹،۱۰۰، خزائن ج۱۸ ص۴۷۷،۴۷۸)
’’یہ ظاہر بات ہے کہ پہلے زمانوں میں جو نبی ہوتے تھے، ان کے لئے یہ ضروری نہ تھا کہ ان میں وہ تمام
کمالات رکھے جاویں جو نبی کریم ﷺ میں رکھے گئے ہیں۔ بلکہ ہر ایک نبی کو اپنی استعداد اور کام کے مطابق
کمالات عطاء ہوئے تھے۔ کسی کو بہت، کسی کو کم، مگر مسیح موعود کو تو تب نبوت ملی جب اس نے نبوت محمدیہ کے
تمام کمالات کو حاصل کر لیا اور اس قابل ہوگیا کہ ظلی نبی کہلائے۔ پس ظلی نبوت نے مسیح موعود کے قدم کو
پیچھے نہیں ہٹایا بلکہ آگے بڑھایا اور اس قدر آگے بڑھایا کہ نبی کریم کے پہلو بہ پہلو لاکھڑا کیا۔‘‘
(کلمتہ الفصل مصنفہ بشیراحمد مندرجہ رسالہ ریویو آف ریلیجنز قادیان ج۱۴ نمبر۳ ص۱۱۳، بابت ماہ مارچ
۱۹۱۵ء)
’’اس کے (یعنی آنحضرت ﷺ کے) شاگردوں میں سے علاوہ بہت سے محدثوں کے ایک نے نبوت کا بھی درجہ پایا اور
نہ صرف یہ کہ نبی بنا بلکہ اپنے مطاع کے کمالات کو ظلی طور پر حاصل کر کے بعض اولوالعزم نبیوں سے بھی آگے
نکل گیا۔‘‘
(حقیقت النبوۃ ص۲۵۷، انوارالعلوم ج۲ ص۵۶۸)
’’پس مسیح موعود کی ظلی نبوت کوئی گھٹیا نبوت نہیں۔ بلکہ خدا کی قسم اس نبوت نے جہاں آقا کے درجہ کو
بلند کیا، وہاں غلام کو بھی اس مقام پر کھڑا کر دیا، جس تک انبیاء بنی اسرائیل کی پہنچ نہیں۔ مبارک وہ جو اس
نکتہ کو سمجھے اور ہلاکت کے گڑھے میں گرنے سے اپنے آپ کو بچالے۔‘‘
(کلمۃ الفصل مصنفہ بشیراحمد مندرجہ رسالہ ریویو آف ریلیجنز قادیان ج۱۴ نمبر۳ ص۱۱۴، بابت ماہ مارچ
۱۹۱۵ء)
’’پس اب کیا یہ پرلے درجہ کی بے غیرتی نہیں کہ جہاں ہم ’’لانفرق بین احد من
رسلہ‘‘ داؤد اور سلیمان اور زکریا اور یحییٰo کو شامل کرتے ہیں، وہاں مسیح موعود جیسے عظیم
الشان نبی کو چھوڑدیا جاوے۔‘‘
(کلمۃ الفصل مصنفہ بشیراحمد، مندرجہ رسالہ ریویو آف ریلیجنز قادیان ج۱۴ نمبر۳ ص۱۱۷، بابت ماہ مارچ
۱۹۱۵ء)
219
’’حضرت مسیح موعود نبی تھے۔ آپ کا درجہ مقام کے لحاظ سے رسول کریم ﷺ کے شاگرد اور آپ کا ظل ہونے کا
تھا۔ دیگر انبیاء علیہم السلام میں سے بہتوں سے آپ بڑے تھے۔ ممکن ہے سب سے بڑے ہوں۔‘‘
(الفضل قادیان ج۱۴ نمبر۸۵، مؤرخہ ۲۹؍اپریل ۱۹۲۷ء)
انبیاء کے کمالات کے تذکرہ میں (مرزاقادیانی) فرمایا کہ: ’’کمالات متفرقہ جو تمام دیگر انبیاء میں
پائے جاتے تھے، وہ سب کے سب حضرت رسول کریم میں ان سب سے بڑھ کر موجود تھے اور اب وہ سارے کمالات حضرت رسول
کریم سے ظلی طور پر ہم کو عطاء کئے گئے اور اسی لئے ہمارا نام آدم، ابراہیم، موسیٰ، نوح، داؤد، یوسف،
سلمان، یحییٰ، عیسیٰ وغیرہ ہے… پہلے تمام انبیاء ظل تھے۔ حضرت نبی کریم کی خاص خاص صفات کے اور اب ہم
(مرزاغلام احمد) ان تمام صفات میں حضرت نبی کریم ﷺ کے ظل ہیں… نبی کریم نے گویا سب لوگوں سے چندہ وصول کیا
اور وہ لوگ تو اپنے اپنے مقامات اور حالات پر رہے۔ لیکن حضرت نبی کریم کے پاس کروڑوں روپے ہوگئے اور آپ سب
سے بڑھ کر دولت مند ہوگئے۔‘‘
(ملفوظات ج۳ ص۲۷۰، جدید ملفوظات ج۲ ص۲۰۱، ملفوظات احمدیہ طبع لاہور ج۴ ص۱۴۲، مرتبہ منظور الٰہی
قادیانی)
’’واتانی مالم یوت احد من العالمین مجھ کو وہ چیز دی گئی ہے کہ دنیا وآخرت
میں کسی ایک شخص کو بھی نہیں دی گئی۔‘‘
(ضمیمہ حقیقت الوحی الاستفتاء ص۸۷، خزائن ج۲۲ ص۷۱۵)
(۲۲) کئی نبیوں سے افضل
’’ اللہ تعالیٰ نے مسیح موعود (مرزاقادیانی) کو جو بلحاظ مدارج کئی نبیوں سے بھی افضل ہیں اور صرف محمد ﷺ
کے نائب ہوکر ایسے مقام پر پہنچے کہ نبیوں کو بھی اس مقام پر رشک ہے۔‘‘
(خطبہ جمعہ الفضل قادیان ج۲۰ نمبر۹۳ ص۷ کالم۲، مؤرخہ ۵؍فروری ۱۹۳۳ء، خطبات محمود ج۱ ص۲۱۶)
(۲۳) کچھ اور ہی رنگ
’’لاریب اسرائیلی عورتوں نے کئی ایسے بیٹے جنے جو نبی کہلائے۔ مگر خدا کی قسم آمنہ کے بطن سے جو بیٹا
پیدا ہوا اس کے مقابل اگر اسرائیل خاندان کے سارے بیٹے بھی ترازو میں رکھے جاویں تو تب بھی اسماعیلی پلڑا
ضرور جھکا رہے گا۔ اسی طرح اور ٹھیک اسی طرح بے شک تورات کو بہت سے نبی خدمت کے لئے عطاء ہوئے۔ لیکن قرآن کی
خدمت کے لئے جو نبی امت محمدیہ میں پیدا کیاگیا (یعنی مرزاغلام احمد قادیانی) وہ اپنی شان میں کچھ اور ہی
رنگ رکھتا ہے۔‘‘
(کلمۃ الفصل مصنفہ بشیراحمد مندرجہ رسالہ ریویو آف ریلیجنز قادیان ج۱۴ نمبر۳ ص۱۱۶،۱۱۷، بابت ماہ مارچ
۱۹۱۵ء)
(۲۴) تین سوال
’’آپ کا دوسرا سوال یہ ہے کہ کیا حضرت مرزاصاحب نبی تھے اور ان کا درجہ بھی رسول کریم ﷺ یا دیگر
انبیاء علیہم السلام کے برابر ہے۔ حضرت مرزاصاحب کی نبوت کے لئے قرآن شریف میں بھی کہیں ذکر ہے۔ اس سوال کا
جو درحقیقت تین سوالوں پر مشتمل ہے، یہ جواب ہے:
الف… حضرت مسیح موعود (مرزاقادیانی) نبی تھے۔
ب… آپ کا درجہ مقام کے لحاظ سے رسول کریم کا شاگرد، آپ کا ظل ہونے کا تھا۔ دیگر انبیاء علیہم السلام
میں سے بہتوں سے آپ بڑے تھے۔ ممکن ہے سب سے بڑے ہوں۔
220
ج… آپ کی نبوت کا ذکر قرآن کریم میں متعدد جگہ پر آیا ہے۔ لیکن اسی صورت میں جس طرح کہ پہلے انبیاء کا
ذکر پہلی کتب میں ہوا کرتا تھا۔‘‘
(مکتوب مرزامحمود خلیفہ قادیان، الفضل قادیان ج۱۴ نمبر۸۵، مؤرخہ ۲۹؍اپریل ۱۹۲۷ء)
(۲۵) آپ کا درجہ
’’سوال: کیا صاحب شریعت نبی کو غیرشرعی نبی پر فضیلت نہیں ہوتی۔ صاحب شریعت نبی تو معلم ہوتا ہے۔
(مرزامحمود خلیفہ قادیان نے) فرمایا، اگر صاحب شریعت نبی غیرشرعی نبی کا معلم ہوتو اسے اس پر فضیلت
ہوگی ورنہ ایک غیرشرعی نبی صاحب شریعت نبی سے بڑھ سکتا ہے۔ جب حضرت مسیح موعود فرماتے ہیں کہ پہلے سب انبیاء
بھی رسول کریم ﷺ سے فیضان حاصل کر رہے تھے۔ ادھر اپنے متعلق فرماتے ہیں کہ میں جمیع کمالات محمدیہ کا بروز
ہوں جو آخری زمانہ کے لئے مقدر تھا تو صاف ظاہر ہوگیا کہ آپ کا درجہ رسول کریم ﷺ کے سوا باقی تمام انبیاء سے
بلند ہے۔‘‘
(الفضل قادیان ج۲۰ نمبر۱۴۵، مؤرخہ ۶؍جون ۱۹۳۳ء)
(۲۶) تمام کمالات
’’اس بات سے کون انکار کر سکتا ہے کہ عیسیٰ کے لئے یہ ضروری نہ تھا کہ وہ نبی کریم کے تمام کمالات
حاصل کر لینے کے بعد نبی بنایا جاتا۔ داؤد اور سلیمان کے لئے یہ ضروری نہ تھا کہ ان کو نبی کا خطاب تب دیا
جاتا جب وہ آنحضرت ﷺ کے تمام کمالات سے پورا حصہ لے لیتے اور پھر میں تو یہ بھی کہوں گا کہ موسیٰ کے لئے بھی
یہ ضروری نہ تھا کہ اسے اس وقت تک نبوت نہ ملے جب تک وہ محمد ﷺ کی خوبیوں کو اپنے اندر جمع نہ کر لے۔ کیونکہ
ان سب لوگوں کا کام خصوصیات زمانی اور مکانی کی وجہ سے ایک تنگ دائرہ میں محدود تھا۔ لیکن مسیح موعود
(مرزاغلام احمد قادیانی) چونکہ تمام دنیا کی ہدایت کے لئے مبعوث کیاگیا تھا۔ اس لئے اللہ تعالیٰ نے اسے ہرگز
نبوت کا خلعت نہیں پہنایا۔ جب تک اس نے نبی کریم کی اتباع میں چل کر آپ کے تمام کمالات کو حاصل نہ کر لیا۔‘‘
(کلمۃ الفصل مصنفہ بشیراحمد مندرجہ رسالہ ریویو آف ریلیجنز قادیان ج۱۴ نمبر۳ ص۱۱۳،۱۱۴، بابت ماہ مارچ
۱۹۱۵ء)
(۲۷) حضرت آدم علیہ السلام پر فضیلت
’’ اللہ تعالیٰ نے آدم کو پیداکر کے انہیں تمام ذی روح انس وجن پر سردار، حاکم اور امیر بنایا۔ جیسا کہ
آیت:’’اسجدوا لادم‘‘ سے معلوم ہوتا ہے کہ پھر شیطان نے انہیں بہکایا اور جنتوں سے
نکلوادیا اور حکومت اس اژدھے کی طرف لوٹائی گئی۔ اس جنگ وجدال میں آدم کو ذلت ورسوائی نصیب ہوئی اور جنگ
کبھی اس رخ اور کبھی اس رخ ہوتی ہے اور رحمن کے ہاں پرہیزگاروں کے لئے نیک انجام ہے۔ اس لئے اللہ نے مسیح
موعود کو پیدا کیا تاکہ آخرزمانہ میں شیطان کو شکست دے اور یہ وعدہ قرآن میں لکھا تھا۔‘‘ (ترجمہ)
(ماالفرق بین آدم والمسیح الموعود ضمیمہ خطبہ الہامیہ ص ت ، خزائن ج۱۶ ص۳۱۲ حاشیہ)
’’آدم اس لئے آیا کہ نفوس کو اس دنیا کی زندگی کی طرف بھیجے اور ان میں اختلاف اور عداوت کی آگ
بھڑکائے اور مسیح امم اس لئے آیا کہ ان کو دار فنا کی طرف لوٹائے اور ان میں سے اختلاف ومخاصمت تفرقہ اور
پراگندگی کو دور کرے اور انہیں اتحاد ومحویت، نفی غیر اور باہمی اخلاص کی طرف کھینچے اور مسیح اللہ کے اسم کا
مظہر ہے جو خاتم سلسلہ مخلوقات ہے یعنی آخر جس کے بارے میں اللہ تعالیٰ کے قول ’’ہوالاخر‘‘ میں اشارہ کیاگیا ہے۔ کیونکہ وہ کائنات کے آخر ہونے کی نشانی ہے۔‘‘
(ترجمہ)
(ماالفرق بین آدم والمسیح الموعود ضمیمہ خطبہ الہامیہ ص الف، خزائن ج۱۶ ص۳۰۸)
221
(۲۸) دائرہ گول
’’لاجرم خدا نے مجھ کو آدم بنایا اور مجھ کو وہ سب چیزیں بخشیں اور مجھ کو خاتم النّبیین اور سید
المرسلین کا بروز بنایا اور بھید اس میں یہ ہے کہ خدا نے ابتداء سے ارادہ فرمایا تھا کہ اس آدم کو پیدا کرے
گا، آخری زمانہ میں خاتم الخلفاء ہوگا، جیسا کہ زمانہ کے شروع میں اس آدم کو پیدا کیا جو اس کا پہلا خلیفہ
تھا اور یہ سب کچھ اس لئے کیا کہ فطرت کا دائرہ گول ہو جائے۔‘‘
(خطبہ الہامیہ ص۱۶۷،۱۶۸، خزائن ج۱۶ ص۲۵۴،۲۵۵)
(۲۹) انوکھا عقیدہ
’’میرا اپنا عقیدہ یہ ہی ہے کہ حضرت مسیح موعود اس دور کے خاتم ہیں اور اگلے دور کے آدم بھی آپ ہی
ہیں۔ کیونکہ پہلا دور سات ہزارسال کا آپ پر ختم ہوا اور اگلا دور آپ سے شروع ہوا۔ اسی لئے آپ کے متعلق
اللہتعالیٰ نے فرمایا، ’’جری اللہ فی حلل الانبیاء‘‘ اس کے یہی معنی ہیں کہ آپ آئندہ
نبیوں کے حلوں میں آئے ہیں، جس طرح پہلے انبیاء کے ابتدائی نقطہ حضرت آدم علیہ السلام تھے، اسی طرح حضرت
مسیح موعود جو اس زمانہ کے آدم ہیں، آئندہ آنے والے انبیاء کے ابتدائی نقطہ ہیں۔‘‘
(مرزامحمود کافرمودہ درس قرآن ضمیمہ اخبار الفضل قادیان ج۱۵ نمبر۶۴ ص۴۹ کالم۲، مؤرخہ ۱۴؍فروری ۱۹۲۸ء)
(۳۰) آدم اوّل وثانی
’’فقعوا لہ ساجدین کے بھی یہی معنی ہیں کہ آدم اوّل کے متعلق فرشتوں کو حکم
ہوا کہ اس کے فرمانبردار اور غلام ہو جاؤ۔ جب آدم اوّل کے متعلق فرشتوں کو یہ حکم ہوا تو آدم ثانی (حضرت
مسیح موعود) جو آدم اوّل سے شان میں بڑھا ہوا تھا، اس کے لئے کیوں یہ نہ کہا جاتا کہ آگ تمہاری غلام بلکہ
تمہارے غلاموں کی غلام ہے۔‘‘
(ملائکۃ اللہ ص۶۵، انوارالعلوم ج۵ ص۵۲۵)
(۳۱) آدم کا جوڑا
’’خدا کے فضل کا ذکر ہوتا تو والدہ صاحبہ کہتیں میرے آنے پر ہی خدا کی یہ برکت نازل ہوئی ہے۔ اس قسم
کا فقرہ میں نے والدہ صاحبہ کے منہ سے کم ازکم سات آٹھ دفعہ سنا اور جب بھی سنتا، گراں گزرتا۔ میں اسے حضرت
مسیح موعود کی بے ادبی سمجھتا۔ لیکن اب درست معلوم ہوتا ہے اور حضرت مسیح موعود بھی اس فقرہ سے لذت پاتے
تھے۔ کیونکہ وہ برکت اسی الہام کے ماتحت ہوئی کہ ’’یاادم اسکن انت وزوجک الجنۃ‘‘ ایک
آدم تو نکاح کے بعد جنت سے نکالا گیا تھا۔ لیکن اس زمانہ کے آدم (مرزاقادیانی) کے لئے نکاح جنت کا موجب
بنایا گیا۔ چنانچہ نکاح کے بعد ہی آپ کے ماموریت کا سلسلہ جاری ہوا۔ خداتعالیٰ نے بڑی عظیم الشان پیش گوئیاں
کرائیں اور آپ کے ذریعے دنیا میں نور نازل کیا اور اس طرح آپ کی جنت وسیع ہوتی گئی۔ اس فرق کی وجہ یہ ہے کہ
پہلے آدم کے لئے جوڑا منتخب کیاگیا، وہ صرف جسمانی لحاظ سے تھا مگر اس آدم کے لئے جو چنا گیا، یہ روحانی
لحاظ سے بھی تھا۔‘‘
(خطبہ نکاح فرمودہ خلیفہ قادیان مندرجہ الفضل قادیان ج۱۷ نمبر۶۹، مؤرخہ ۷؍مارچ ۱۹۳۰ء، خطبات محمود ج۳
ص۲۷۰،۲۷۱)
’’ضرور تھا کہ مرتبہ آدمیت کی حرکت دوری زمانہ کے انتہاء پر ختم ہوتی، سو یہ زمانہ جو آخرالزمان ہے،
اس میں خداتعالیٰ نے ایک شخص کو حضرت آدم علیہ السلام کے قدم پر پیدا کیا، جو یہی راقم ہے اور اس کا نام بھی
آدم رکھا… خدا نے خود روحانی باپ بن کر اس آدم کو پیدا کیا اور ظاہری پیدائش کی رو سے اسی طرح نراور مادہ
پیدا کیا، جس طرح کہ پہلا آدم پیدا کیا تھا۔ یعنی اس نے مجھے بھی، جو آخری آدم ہوں،
222
جوڑا پیدا کیا۔ جیسا کہ الہام ’’یا ادم اسکن انت وزوجک الجنۃ‘‘ میں اس کی طرف
ایک لطیف اشارہ ہے… یعنی میں توام پیدا ہوا تھا اور میرے ساتھ ایک لڑکی تھی جس کا نام جنت تھا… اور یہ لڑکی
صرف سات ماہ تک زندہ رہ کر فوت ہوگئی تھی… چنانچہ وہ واقعات جو حضرت آدم پر گزرے، منجملہ ان کے یہ ہے کہ
حضرت آدم علیہ السلام کی پیدائش زوج کے طور پر تھی یعنی ایک مرد اور ایک عورت ساتھ تھی اور اسی طرح پر میری
پیدائش ہوئی۔‘‘
(تریاق القلوب ص۱۵۶،۱۵۷، خزائن ج۱۵ ص۴۷۶تا۴۷۹)
(۳۲) حضرت نوح علیہ السلام پر فضیلت
’’اور خداتعالیٰ میرے لئے اس کثرت سے نشان دکھلا رہا ہے کہ اگر نوح کے زمانہ میں وہ نشان دکھلائے جاتے
تو وہ لوگ غرق نہ ہوتے۔ مگر میں ان لوگوں کو کس سے مثال دوں۔ وہ اس خیرہ طبع انسان کی طرح ہیں جو روز روشن
کو دیکھ کر پھر بھی اس بات پر ضد کرتا ہے کہ رات ہے، دن نہیں۔‘‘
(تتمہ حقیقت الوحی ص۱۳۷، خزائن ج۲۲ ص۵۷۵)
(۳۳) حضرت یوسف علیہ السلام پر فضیلت
’’پس اس امت کا یوسف یعنی یہ عاجز (مرزاغلام احمد قادیانی) اسرائیلی یوسف سے بڑھ کر ہے۔ کیونکہ یہ
عاجز قید کی دعا کر کے بھی قید سے بچایا گیا۔ مگر یوسف بن یعقوب قید میں ڈالا گیا اور اس امت کے یوسف
(مرزاغلام احمد قادیانی) کی بریت کے لئے پچیس برس پہلے ہی خدا نے آپ گواہی دے دی اور، اور بھی نشان دکھلائے
مگر یوسف بن یعقوب اپنی بریت کے لئے انسانی گواہی کا محتاج ہوا۔‘‘
(براہین احمدیہ حصہ پنجم ص۷۶، خزائن ج۲۱ ص۹۹)
(۳۴) حضرت عیسیٰ پر فضیلت
’’اس جگہ کسی کو یہ وہم نہ گزرے کہ اس تقریر میں اپنے نفس کو حضرت مسیح پر فضیلت دی ہے۔ کیونکہ یہ ایک
جزوی فضیلت ہے جو غیرنبی کو نبی پر ہوسکتی ہے۔‘‘
(تریاق القلوب ص۱۵۷، خزائن ج۱۵ ص۴۸۱)
’’مجھے کہتے ہیں کہ مسیح موعود ہونے کا کیوں دعویٰ کیا۔ مگر میں سچ سچ کہتا ہوں کہ اس نبی کی کامل
پیروی سے ایک شخص عیسیٰ سے بڑھ کر بھی ہوسکتا ہے۔ اندھے کہتے ہیں یہ کفر ہے، میں کہتا ہوں کہ تم خود ایمان
سے بے نصیب ہو۔ پھر کیا جانتے ہو کہ کفر کیا چیز ہے۔ کفر خود تمہارے اندر ہے۔ اگر تم جانتے کہ اس آیت کے کیا
معنے ہیں کہ ’’اہدنا الصراط المستقیم صراط الذین انعمت علیہم‘‘ تو ایسا کفر منہ پر نہ
لاتے۔ خدا تو تمہیں یہ ترغیب دیتا ہے کہ تم اس رسول کی کامل پیروی کی برکت سے تمام رسولوں کے متفرق کمالات
اپنے اندر جمع کر سکتے ہو اور تم صرف ایک نبی کے کمالات حاصل کرنا کفر جانتے ہو۔‘‘
(چشمہ مسیحی ص۲۴،۲۵، خزائن ج۲۰ ص۳۵۴،۳۵۵)
’’خلاصہ کلام یہ کہ چونکہ میں ایک ایسے نبی کا تابع ہوں جو انسانیت کے تمام کمالات کا جامع تھا اور
اسی کی شریعت اکمل اور اتم بھی اور تمام دنیا کی اصلاح کے لئے تھی، اس لئے مجھے وہ قوتیں عنایت کی گئیں جو
تمام دنیا کی اصلاح کے لئے ضروری تھیں تو پھر اس امر میں کیا شک ہے کہ حضرت مسیح علیہ السلام کو وہ فطرتی
طاقتیں نہیں دی گئیں جو مجھے دی گئیں۔ کیونکہ وہ ایک خاص قوم کے لئے آئے تھے اور اگر وہ میری جگہ ہوتے تو
اپنی اس فطرت کی وجہ سے وہ کام انجام نہ دے سکتے جو خدا کی عنایت نے مجھے انجام دینے کو قوت دی۔ ’’وہذا تحدث نعمتہ اللہ ولا فخر‘‘ … انسانی مراتب پردہ غیب میں ہیں، اس بات میں بگڑنا
اور منہ بنانا اچھا نہیں۔ کیا جس قادر مطلق نے
223
حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو پیدا کیا، وہ ایسا ہی ایک اور انسان یا اس سے بہتر پیدانہیں کر سکتا؟‘‘
(حقیقت الوحی ص۱۵۳، خزائن ج۲۲ ص۱۵۷)
’’خدانے اس امت میں سے مسیح موعود بھیجا جو اس سے پہلے مسیح سے اپنی شان میں بہت بڑھ کر ہے۔ مجھے قسم
ہے اس ذات کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے کہ اگر مسیح ابن مریم میرے زمانہ میں ہوتا تو وہ کام جو میں کر
سکتا ہوں، وہ ہرگز نہ کر سکتا اور وہ نشان جو مجھ سے ظاہر ہورہے ہیں، وہ ہرگز دکھلا نہ سکتا۔‘‘
(حقیقت الوحی ص۱۴۸، خزائن ج۲۲ ص۱۵۲)
’’پھر جب کہ خدا نے اور اس کے رسول نے اور تمام نبیوں نے آخری زمانہ کے مسیح کو اس کے کارناموں کی وجہ
سے افضل قرار دیا ہے۔ پھر تو یہ شیطانی وسوسہ ہے کہ یہ کہا جائے کہ کیوں تم مسیح ابن مریم سے اپنے تئیں افضل
قرار دیتے ہو۔‘‘
(حقیقت الوحی ص۱۵۵، خزائن ج۲۲ ص۱۵۹)
-
اینک منم کہ حسب بشارات آمدم
عیسیٰ کجاست تا بہ نہد پابہ منبرم
(ازالہ اوہام ص۱۵۸، خزائن ج۳ ص۱۸۰)
(۳۵) خدا، مرزا، مسیح
’’ہاں! آپ کا (مرزاقادیانی کا) یہ مذہب ہے کہ مسیح ابن مریم رسول اس ناپاک الزام سے بری ہے۔ اس نے
کبھی خدائی کا دعویٰ نہیں کیا۔ میں اسے اپنا ایک بھائی سمجھتاہوں۔ اگرچہ خداتعالیٰ کا فضل مجھ پر اس سے بہت
ہی زیادہ ہے اور وہ کام جو میرے سپرد کیاگیا ہے، اس کے کام سے بہت ہی بڑھ کر ہے، تاہم میں اس کو اپنا ایک
بھائی سمجھتا ہوں اور میں نے اسے بارہا دیکھا ہے۔ چنانچہ ایک بار میں نے اور حضرت مسیح نے ایک ہی پیالہ میں
گائے کا گوشت کھایا تھا۔ اس لئے میں اور وہ ایک ہی جوہر کے دو ٹکڑے ہیں۔ غرض اس طرح پر حضرت صاحب
(مرزاقادیانی) نے بلحاظ اپنے کام اور ماموریت کے اور خداتعالیٰ کے ان فضلوں اور احسانوں کے، جو آپ کے شامل
حال ہیں، تحدیث بالنعمۃ اور تبلیغ کے طور پر ذکر فرمایا اور یہاں تک لکھ دیا کہ میں خدا سے ہوں اور مسیح مجھ
سے ہے۔‘‘
(ملفوظات احمدیہ حصہ چہارم ص۱۹۹، مرتبہ محمد منظور الٰہی قادیانی لاہوری، مفہوم مکتوبات احمدیہ ج۳
ص۱۱۸، جدید مکتوبات احمد ج۱ ص۲۶۵، مکتوب نمبر۱۴)
’’مسیح ابن مریم مجھ سے ہے اور میں خدا سے ہوں۔ مبارک وہ جو مجھے پہچانتا ہے اور بدقسمت وہ جس کی
آنکھوں سے میں پوشیدہ ہوں۔‘‘
(مرزاغلام احمد قادیانی کا مکتوب بنام ڈوئی، مندرجہ مکتوبات احمدیہ ج۳ ص۱۱۸، جدید مکتوبات احمد ج۱
ص۲۶۵، مکتوب نمبر۱۴)
(۳۶) آدم اور عیسیٰ پر فضیلت
’’خداتعالیٰ نے آپ (مرزاغلام احمد قادیانی) کا نام آدم رکھا ہے تاکہ جس طرح پہلے آدم کو شیطان نے جنت
سے نکالا تھا، آپ اس شیطان کو دنیا سے نکالیں۔ پھر خداتعالیٰ نے آپ کا نام عیسیٰ رکھا ہے تاکہ پہلے عیسیٰ کو
یہودیوں نے سولی پر لٹکادیا تھا مگر آپ اس زمانہ کے یہودی صفت لوگوں کو سولی پر لٹکائیں۔‘‘
(تقدیر الٰہی ص۲۹، خلیفہ قادیان کی تقریر برمسئلہ تقدیر، انوارالعلوم ج۴ ص۴۸۲)
(۳۷) آدم، مسیح اور نوح پر فضیلت
’’حضرت مسیح موعود (مرزاقادیانی) نے لکھا ہے: ہر نبی کی دوسری بعثت اس کی پہلی بعثت سے زیادہ شاندار
ہوتی ہے۔ آپ نے فرمایا، پہلا آدم آیا اور اسے شیطان نے جنت سے نکال دیا۔ مگر دوسرا آدم اس لئے آیا ہے تا
انسانوں کو دوبارہ جنت میں داخل کرے۔ پھر فرمایا، پہلا مسیح آیا اور اسے دشمنوں نے دکھ دیا اور صلیب پر
لٹکایا۔ مگر یہ دوسرا مسیح اس لئے نہیں آیا کہ صلیب پر لٹکایا جائے۔ بلکہ اس لئے آیا
224
ہے تاوہ صلیب کو توڑے اور اسے ٹکڑے ٹکڑے کر دے۔ پس خدا کے اس رحیمانہ سلوک کو دیکھتے ہوئے خیال آتا
تھا کہ باوجودیکہ حضرت مسیح موعود کا نام اللہ تعالیٰ نے نوح رکھا ہے۔ پھر بھی آپ سے ایسا سلوک ہوگا جو پہلے
نوح سے بڑھ کر ہو۔ چنانچہ اللہ تعالیٰ نے ایک طرف جب حضرت مسیح موعود کا نام نوح رکھا تو دوسری طرف آپ کے (سب
سے بڑے) بیٹے کو ہدایت سے محروم کر دیا۔ تا بتائے کہ یہ نوح ے ساتھ مشابہت کی وجہ سے ہے۔ مگر پھر اس بیٹے کو
ہدایت نصیب کی تاظاہر کر دے کہ پہلا نوح آیا اور اس کا بیٹا ہدایت سے محروم رہا۔ مگر یہ دوسرا نوح آیا تو اس
کا بیٹا بھی اگرچہ ایک عرصہ تک ہدایت سے دور رہا۔ مگر خدا نے اسے ہدایت میں داخل کر کے ظاہر کر دیا کہ پہلے
نوح کے ساتھ جو اللہ تعالیٰ کا سلوک تھا، اس سے بڑھ کر اس کا سلوک دوسرے نوح کے ساتھ ہے۔‘‘
(خطبہ جمعہ، الفضل قادیان ج۱۹ نمبر۵ ص۵ کالم۳، مؤرخہ ۱۱؍جولائی ۱۹۳۱ء، خطبات محمود ج۱۳ ص۲۱۰،۲۱۱)
(۳۸) موسیٰ اور عیسیٰ پر فضیلت
’’حضرت مسیح موعود کے مرتبہ کی نسبت مولانا (محمد احسن امروہی قادیانی اپنے مکتوب موسومہ میاں محمود
احمد خلیفہ قادیان میں) لکھتے ہیں کہ پہلے انبیاء اولوالعزم میں بھی اس عظمت شان کا کوئی شخص نہیں گزرا، اور
فرماتے ہیں کہ حدیث میں تو ہے کہ اگر موسیٰ وعیسیٰ زندہ ہوتے تو آنحضرت کے اتباع کے بغیر ان کو چارہ نہ
ہوتا۔ مگر میں کہتا ہوں کہ مسیح موعود کے وقت میں بھی موسیٰ وعیسیٰ ہوتے تو مسیح موعود (مرزاقادیانی) کی
ضرور اتباع کرنی پڑتی۔‘‘
(الفضل قادیان ج۳ نمبر۹۸ ص۱۳،۱۴ کالم۳، مؤرخہ ۱۸؍مارچ ۱۹۱۶ء)
(۳۹) انبیاء کی ہتک
’’تم کہتے ہو میں نے حضرت موسیٰ یا حضرت عیسیٰ کی ہتک کی ہے۔ یاد رکھو میرا (مرزاقادیانی کا) مقصد یہ
ہے کہ محمد مصطفی ﷺ کی عزت قائم کروں۔ اوّل تو یہ ہے ہی غلط کہ میں کسی نبی کی ہتک کرتا ہوں۔ ہم سب کی عزت
کرتے ہیں۔ لیکن اگر ایسا کرنے میں کسی کی ہتک ہوتی ہے تو بیشک ہو۔ میں نے جو دعوے کئے ہیں وہ اپنی عظمت وشان
کے اظہار کے لئے نہیں بلکہ رسول کریم ﷺ کی شان کی بلندی کے اظہار کے لئے کئے ہیں۔ مجھے خدا کے بعد بس وہی
پیارا ہے۔ لیکن اگر تم اسے کفر سمجھتے ہو تو مجھ جیسا کافر تم کو دنیا میں نہیں ملے گا۔
حضرت مسیح موعود کی اتباع میں، میں بھی کہتا ہوں کہ مخالف لاکھ چلّائیں کہ فلاں بات سے حضرت عیسیٰ کی
ہتک ہوتی ہے۔ اگر رسول اللہ ﷺ کی عزت قائم کرنے کے لئے حضرت عیسیٰ یا کسی اور کی ہتک ہوتی ہے تو ہمیں ہرگز اس
کی پروا نہیں ہوگی۔ بے شک آپ لوگ ہمیں سنگسار کریں یا قتل کریں۔ آپ کی دھمکیاں اور ظلم ہمیں رسول کریم ﷺ کی
عزت کے دوبارہ قائم کرنے سے نہیں روک سکتے۔‘‘
(مرزامحمود خلیفہ قادیان کی تقریر لائل پور، الفضل قادیان ج۲۱ نمبر۱۳۸ ص۱۲ کالم۳، مؤرخہ ۲۰؍مئی
۱۹۳۴ء)
(۴۰) مرزاقادیانی کا خلق
’’انک لعلی خلق عظیم راقم مضمون ہذا (سردار مصباح الدین احمد قادیانی) کے ذوق کے
مطابق حضرت اقدس (مرزاقادیانی) کے عظیم الشان معجزات میں سے ایک معجزہ حضور کے اخلاق کا بھی ہے۔ جس بلند
پایہ اخلاق کا آپ سے ظہور ہوا اس کی مثال سوائے آپ کے متبوع ومقتدیٰ حضرت محمد مصطفی ﷺ کی ذات بابرکات کے
دنیا کے کسی انسان کی زندگی میں نہیں ملتی۔‘‘
(ذکر حبیب، سردار مصباح الدین احمد قادیانی، الحکم قادیان خاص نمبر، مؤرخہ ۲۱؍مئی ۱۹۳۴ء)
225
(۴۱) محمد رسول اللہ مرزاغلام احمد
’’مسیح موعود کی جماعت ’’واخرین منہم‘‘ کی مصداق ہونے سے آنحضرت کے صحابہ میں
داخل ہے اور ظاہر ہے کہ آنحضرت کے صحابہ سے ہونے کے لئے صحابہ نے آنحضرت کا وجود نبوت پایا ہو۔ پس صحابہ
بننے کی شان ایک امتی پر ایمان لانے کا نتیجہ نہیں ہوسکتی اور احمدی بننے کا مرتبہ احمد پر ایمان لانے سے
حاصل ہوسکتا ہے۔ نہ کسی غلام احمد پر… ایک غلطی کا ازالہ (اشتہار) میں حضرت مسیح موعود نے فرمایا کہ ’’محمد رسول اللہ والذین معہ اشداء علی الکفار رحماء بینہم‘‘ کے الہام میں محمد رسول اللہ سے
مراد میں ہوں اور محمد رسول اللہ خدا نے مجھے کہا ہے۔ اب اس الہام سے دو باتیں ثابت ہوتی ہیں:
۱… یہ کہ آپ (مرزاقادیانی) محمد ہیں اور آپ کا محمد ہونا بلحاظ رسول اللہ ہونے کے ہے نہ کسی اور لحاظ
سے۔
۲… آپ کے صحابہ آپ کی اس حیثیت سے محمد رسول اللہ کے ہی صحابہ ہیں جو ’’اشداء علی
الکفار‘‘ اور ’’رحماء بینہم‘‘ کی صفت کے مصداق ہیں۔‘‘
(الفضل قادیان ج۳ نمبر۱۰ ص۶ کالم۲، مؤرخہ ۱۵؍جولائی ۱۹۱۵ء)
(۴۲) اسمہ احمد کے مصداق مرزاغلام احمد قادیانی
’’اب یہاں سوال ہوتا ہے کہ وہ کون سا رسول ہے جو حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے بعد آیا اور اس کا نام
احمد ہے۔ میرا اپنا دعویٰ ہے اور میں نے یہ دعویٰ یوں ہی نہیں کر دیا بلکہ حضرت مسیح موعود کی کتابوں میں
بھی اسی طرح لکھاہوا ہے اور حضرت خلیفۃ المسیح اوّل نے بھی یہ ہی فرمایا ہے کہ مرزاصاحب احمد ہیں۔ چنانچہ ان
کے درس کے نوٹوں میں یہی چھپا ہوا ہے اور میرا ایمان ہے کہ اس آیت ’’اسمہ احمد‘‘ کے
مصداق حضرت مسیح موعود ہی ہیں۔‘‘
(انوار خلافت ص۲۱، انوار العلوم ج۳ ص۶۶)
’’جب اس آیت ’’اسمہ احمد‘‘ میں ایک رسول کا، جس کا اسم ذات احمد ہو، ذکر ہے،
دوکا نہیں اور اس شخص کی تعیین ہم حضرت مسیح موعود پر کرتے ہیں تو اس سے خود نتیجہ نکل آیا کہ دوسرا اس کا
مصداق نہیں اور جب ہم یہ ثابت کر دیں کہ حضرت مسیح موعود اس پیش گوئی کے مصداق ہیں تو یہ بھی ثابت ہوگیا کہ
دوسرا کوئی شخص اس کا مصداق نہیں۔‘‘
(الفضل قادیان ج۴ نمبر۴۳،۴۴ ص۵ کالم۳، مؤرخہ ۲تا۵؍دسمبر ۱۹۱۶ء)
’’آپ کا یہ سوال کہ (اسمہ احمد میں) بشارت تو احمد کی ہے اور مرزاصاحب غلام
احمد ہیں۔ جواباً عرض ہے کہ… مطلق غلام احمد نہ عربی ہے۔ کیونکہ اس حالت میں غلام احمد ہوتا اور نہ یہ نام
فارسی بن سکتا ہے۔ کیونکہ اس صورت میں غلام احمد ہوتا اور نہ یہ نام اردو ہوسکتا ہے۔ کیونکہ اس صورت میں
احمد کا غلام ہونا چاہئے تھا۔ اصل بات یہ ہے کہ… چونکہ حضرت صاحب کے خاندان میں غلام کا لفظ اصل نام کے ساتھ
اضافہ کے طور پر اس ملک کے رواج کے مطابق چلا آتا تھا، اس واسطے آپ کے نام کے ساتھ بھی لگادیا گیا… احادیث
میں آتا ہے کہ مسیح جوان ہوگا اور غلام کے معنی جو ان کے ہیں، جس سے یہ بتایا گیا کہ اس کے کام نوجوانوں کے
سے ہیں۔‘‘
(الفضل قادیان ج۳ نمبر۱۰۷ ص۸ کالم۳، مؤرخہ ۱۸؍اپریل ۱۹۱۶ء)
’’پہلا مسئلہ یہ ہے کہ آیا حضرت مسیح موعود کا نام احمد تھا یاآنحضرت ﷺ کا اور کیا سورۂ صف کی آیت،
جس میں ایک رسول کی، جس کانام احمد ہوگا، بشارت دی گئی ہے۔آنحضرت ﷺ کے متعلق ہے یا حضرت مسیح موعود کے
متعلق۔
226
میرا یہ عقیدہ ہے کہ یہ آیت ’’اسمہ احمد‘‘ مسیح موعود کے متعلق ہے اور احمد
آپ ہی ہیں۔ لیکن ان کے خلاف کہا جاتا ہے کہ احمد نام رسول کریم ﷺ کا ہے اور آپ کے سوا کسی اور شخص کو احمد
کہنا آپ کی ہتک ہے۔ لیکن میں جہاں تک غور کرتا ہوں، میرا یقین بڑھتا جاتا ہے اور میں ایمان رکھتا ہوں کہ
احمد کا جو لفظ، جو قرآن کریم میں آیا ہے، وہ حضرت مسیح موعود کے متعلق ہی ہے۔‘‘
(انوار خلافت ص۱۸، انوارالعلوم ج۳ ص۸۳)
’’(خداتعالیٰ نے) اسم احمدکو تو حضرت عیسیٰ سے روایت کی اور اسم محمد کو حضرت موسیٰ سے تاکہ پڑھنے
والا جان لے کہ جلالی نبی یعنی حضرت موسیٰ نے وہ نام اختیار کیا جو اس کی مثال کے موافق تھا یعنی محمد جو
اسم جلالی ہے اور اسی طرح حضرت عیسیٰ نے اسم احمد کو اختیار کیا جو اسم جمالی ہے۔ کیونکہ وہ خود جمالی نبی
تھا اور اس کو جنگ وجدال میں سے کچھ نہ ملا تھا۔ پس خلاصہ مدعا یہ ہے کہ ان میں سے ہر ایک نے اپنے کامل مثیل
کے ظہور کی پیش گوئی کی۔ پس اس نکتہ کو خوب یاد رکھو۔ یہ بات تم کو نجات دلائے گی، ہر ایک کے شک اور وہم سے
اور جلال وجمال کی حقیقت تم پر واضح ہو جائے گی اور شکوک کے رفع ہونے کے بعد اصلیت کھل جائے گی۔ جس وقت تم
نے یہ بات مان لی تو تم ہر ایک دجال کے شر سے خدا کی پناہ ہورہو گے اور ہر ایک ضلالت سے نجات پاؤ گے۔‘‘
(ترجمہ)
(اعجاز المسیح ص۱۲۴، خزائن ج۱۸ ص۱۲۸)
’’تم خوب توجہ کر کے سن لو کہ اب اسم محمد کی تجلی ظاہر کرنے کا وقت نہیں، یعنی اب جلالی رنگ کی کوئی
خدمت باقی نہیں۔ کیونکہ مناسب حد تک وہ جلال ظاہر ہوچکا۔ سورج کی کرنوں کی اب برداشت نہیں، اب چاند کی ٹھنڈی
روشنی کی ضرورت ہے اور وہ احمد کے رنگ میں ہوکر میں ہوں۔ اب اسم احمد کا نمونہ ظاہر کرنے کا وقت ہے۔ یعنی
جمالی طور کی خدمات کے ایام ہیں اور اخلاقی کمالات کے ظاہر کرنے کا زمانہ ہے۔‘‘
(اربعین نمبر۴ ص۱۴،۱۵، خزائن ج۱۷ ص۴۴۵،۴۴۶)
(۴۳) تعریف کرو
’’میرے رب نے میرا نام احمد رکھا ہے، پس میری تعریف کرو اور مجھے دشنام مت دو اور اپنے امر کوناامیدی
کے درجہ تک مت پہنچاؤ اور جس نے میری تعریف کی اور کوئی قسم تعریف کی نہ چھوڑی تو اس نے سچ بولا اور جھوٹ
کا ارتکاب نہ کیا اور جس نے اس بیان کو جھٹلایا، پس اس نے جھوٹ بولا ہے اور اپنے خدا کے غصے کو بھڑکایا
ہے۔‘‘ (ترجمہ)
(خطبہ الہامیہ ص۲۰،۲۱، خزائن ج۱۶ ص۵۳)
’’خلاصہ کلام یہ کہ حضرت مسیح موعود (مرزاقادیانی) کا اللہ تعالیٰ نے باربار اپنے الہام میں احمد نام
رکھا ہے۔ اس لئے آپ کا منکر کافر ہے۔ کیونکہ احمد کے منکر کے لئے قرآن میں لکھا ہے: و اللہ متم
نورہ ولو کرہ الکافرون‘‘
(کلمۃ الفصل مصنفہ بشیراحمد مندرجہ رسالہ ریویو آف ریلیجنز قادیان ج۱۴ نمبر۳ ص۱۴۱، بابت ماہ مارچ
۱۹۱۵ء)
(۴۴) احمد رسول، مرزاقادیانی
’’و اللہ متم نورہ ولو کرہ الکافرون اور اللہ تعالیٰ اپنے نور کو پورا کر کے چھوڑے گا
گو کہ کفار ناپسند ہی کریں۔ یہ آیت بھی احمد رسول کی ایک علامت ہے اور اسی سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ آیت مسیح
موعود کے متعلق ہے۔ کیونکہ اس میں بتایاگیا ہے کہ احمد کا وقت اتمام نور کا وقت ہے اور گو قرآن کریم سے ہمیں
یہ تو معلوم ہوتا ہے کہ رسول کریم ﷺ کے ہاتھ پر شریعت کامل کر دی گئی، مگر اتمام نور آپ کے وقت میں معلوم
نہیں ہوتا۔ بلکہ احادیث سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ مسیح موعود کے وقت میں ہوگا اور رسول کریم ﷺ کے وقت میں اس
کی بنیاد ڈالی گئی تھی۔‘‘
(انوار خلافت ص۴۵،۴۶، انوارالعلوم ج۳ ص۱۰۹)
227
(۴۵) احمد کون ہے اور کون نہیں
’’مبشرا برسول یاتی من بعدی اسمہ احمد‘‘ آیت مرقومہ الصدر کے الفاظ میں مسیح نے
خداتعالیٰ کی طرف سے ایک پیش گوئی کی ہے کہ میں ایک ایسے رسول کی بشارت دینے والا ہوں جس کا آنا میرے بعد
ہوگا، اس کا نام احمد ہے۔ پیش گوئی میں آنے والے رسول کا اسم احمد بتلایا گیا ہے۔ جس کے مصداق آنحضرت (محمد
رسول اللہ ﷺ) اس لئے نہیں ہوسکتے کہ قرآنی وحی میں کسی مقام سے آپ کا نام نامی احمد ثابت نہیں ہوتا۔ ہاں محمد
آپ کا اسم گرامی ضرور ہے جیسا کہ آپ قبل از دعویٰ نبوت محمد کے نام سے ہی مشہور تھے اور ایسا ہی قرآنی وحی
میں بھی باربار آپ کو محمد ہی کے نام سے یاد فرمایاگیا اور تورات میں بھی آپ کی پیش گوئی میں آپ کا نام محمد
ہی بتایا گیا۔ جیسا کہ سورۂ فتح میں اس کی تصدیق موجود ہے۔ جہاں فرمایا: ’’محمد رسول اللہ
والذین معہ اشداء علی الکفار رحماء بینہم‘‘ لیکن اسم احمد کا ذکر تمام قرآن میں ایک جگہ صرف
سورۂ صف میں ہی پایا جاتا ہے اور وہ بھی حکایۃ مسیح کی پیش گوئی کے الفاظ میں جس کا مصداق حضرت مسیح موعود
کے الہامات میں باربار آپ کو ہی قرار دیا اور باربار اس بات کا اظہار کیاگیا ہے کہ آنے والا احمد رسول جس کا
ذکر مسیح کی پیش گوئی ہے وہ آپ (مرزاقادیانی) ہی ہیں اور اگر احمد والی پیش گوئی کے مصداق آنحضرت (محمد رسول
اللہ ﷺ) ہی تھے تو ضرور تھا کہ آپ کی وحی بھی آپ کو احمد ٹھہرا کر اس امر کی تصدیق کرتی۔‘‘
(الفضل قادیان ج۳ نمبر۲۵ ص۵ کالم۱، مؤرخہ ۱۹؍اگست ۱۹۱۵ء)
(۴۶) محمد اور احمد
’’پھر پیش گوئی ان الفاظ میں ہے:’’ومبشرا برسول یاتی من بعدی اسمہ احمد‘‘ کہ اس
موعود رسول کا نام احمد ہوگا۔ اب دیکھنا چاہئے کہ نبی کریم کی والدہ نے آپ کا کیا نام رکھا۔ سو ظاہر ہے کہ
محمد رکھا، احمد نہیں۔ لوگ اگر مخاطب کرتے ہیں تو محمد کے نام سے درود بھیجنا اگر بتایا گیا تو محمد پر۔
قرآن میں بھی جہاں کہیں خدا نے آپ کا نام لیا ہے تو محمد ہی لیا ہے۔ پس یہ کس طرح تسلیم کر لیا جاوے کہ آپ
کا نام احمد تھا۔ ہاں! احمدیت کی صفت آپ میں ضروری پائی جاتی تھی۔ آپ خدا کی بڑی حمد کرنے والے تھے۔ مگر اس
سے یہ ثابت نہیں ہوتا کہ آپ کا نام بھی احمد تھا۔ مثلاً میرا نام عبد اللہ نہیں لیکن معنے کے لحاظ سے میں عبد اللہ
بھی ہوں۔ پس معنی کے لحاظ سے اس پیش گوئی کے مصداق آنحضرت ﷺ ہوسکتے ہیں۔ ورنہ نام کے لحاظ سے اس کے مصداق
حضرت مرزاصاحب ہیں۔‘‘
(الفضل قادیان ج۳ نمبر۱۰۷ ص۸ کالم۲، مؤرخہ ۱۸؍اپریل ۱۹۱۶ء)
(۴۷) محمد عربی، احمد ہندی
-
یا صدق محمد عربی ہے یا احمد ہندی کی ہے وفا
باقی تو پرانے قصے ہیں زندہ ہیں یہی افسانے دو
(مرزامحمود خلیفہ قادیان کا کلام، الفضل قادیان ج۲۳ نمبر۱۲ ص۳، مؤرخہ ۱۴؍جولائی ۱۹۳۵ء)
(۴۸) محمد اور احمد کی تقسیم
’’ان تمام الہامات میں اللہ تعالیٰ نے مسیح موعود (مرزاغلام احمد قادیانی) کو احمد کے نام سے پکارا ہے۔
دوسری طرف ہم دیکھتے ہیں کہ حضرت مسیح موعود (مرزاقادیانی) بیعت لیتے وقت یہ اقرار لیا کرتے تھے کہ آج میں
احمد کے ہاتھ پر اپنے تمام گناہوں سے توبہ کرتا
228
ہوں۔ پھر اسی پر بس نہیں بلکہ آپ نے اپنی جماعت کا نام بھی احمدی جماعت رکھا۔ پس یہ بات یقینی ہے کہ
آپ احمد تھے… اس جگہ کسی کو یہ وہم نہ گزرے کہ ہم نعوذ باللہ نبی کریم ﷺ کو احمد نہیں مانتے۔ ہمارا ایمان ہے
کہ آپ احمد تھے۔ بلکہ ہمارا تو یہاں تک خیال ہے کہ آپ کے سوائے کوئی احمد نہیں ہے اور نہ کوئی احمد ہوسکتا
ہے۔ مگر سوال تو یہ ہے کہ کیا آپ اپنی پہلی بعثت میں بھی احمد تھے؟ نہیں بلکہ آپ اپنی پہلی بعثت میں محمدیت
کی جلالی صفت میں ظاہر ہوئے تھے۔ لیکن ہم دیکھتے ہیں کہ سورۂ صف میں کسی ایسے رسول کی پیش گوئی کی گئی ہے
جو احمد ہے۔ پس ثابت ہوا کہ یہ پیش گوئی نبی کریم کی پہلی بعثت کے متعلق نہیں بلکہ آپ کی دوسری بعثت یعنی
مسیح موعود (مرزاغلام احمدقادیانی) کے متعلق ہے۔ کیونکہ مسیح موعود جمالی صفت کا مظہر یعنی احمد ہے… اس
حقیقت کو حضرت مسیح موعود نے اپنی کتاب ’’اعجاز المسیح‘‘ میں بھی بڑی وضاحت کے ساتھ بیان کیا ہے اور کھول
کھول کر بتایا ہے کہ نبی کریم کے دو بعث ہیں۔ بعث اوّل میں اسم محمد کی تجلی تھی مگر بعث دوم اسم احمد کی
تجلی کے لئے ہے… ان تمام حوالہ جات سے یہ بات یقینی اور قطعی طور پر ثابت ہے کہ سورۂ صف میں جس احمد رسول
کے متعلق عیسیٰ علیہ السلام نے پیش گوئی کی ہے، وہ احمد مسیح موعود (یعنی مرزاغلام احمد قادیانی) ہی ہے جس
کی بعثت حسب وعدہ الٰہی ’’واخرین منہم‘‘ خود نبی کریم کی بعثت ہے۔‘‘
(کلمۃ الفصل مصنفہ بشیراحمد مندرجہ رسالہ ریویو آف ریلیجنز قادیان ج۱۴ نمبر۳ ص۱۳۹تا۱۴۱، بابت ماہ مارچ
۱۹۱۵ء)
(۴۹) محمد اور احمد، دو ظہور
’’سیدنا حضرت مسیح موعود نے اپنی کتب بالخصوص شہادت القرآن، تحفہ گولڑویہ اور خطبہ الہامیہ میں بیان
فرمایا ہے کہ سیدنا حضرت محمد رسول اللہ ﷺ کے دو ظہور اللہ تعالیٰ کے ہاں مقرر تھے۔ ظہور اوّل اسم محمد اور ظہور
دوم اسم احمد کے ماتحت۔ ظہور اوّل جو اسم محمد کے ماتحت تھا، وہ آج سے قریباً چودہ سو سال قبل مکہ معظمہ میں
ہوا… ظہور ثانی جو اسم احمد کے ماتحت، تیرھویں صدی ہجری میں جو حضرت احمد قادیانی کی صورت میں ہوا۔ آیت
’’واخرین منہم لما یلحقوا بہم‘‘ کے ماتحت ہے۔ چنانچہ حضرت مسیح موعودایک غلطی کے ازالہ
میں فرماتے ہیں، میں وہی خاتم الانبیاء ہوں جو بروز ثانی کی شکل میں جلوہ گر ہوا۔‘‘
(الفضل قادیان ج۲۸ نمبر۱۱۵، مؤرخہ ۲۱؍مئی ۱۹۴۰ء)
’’آنحضرت ﷺ کے دو بعث ہیں یا بہ تبدیل الفاظ یوں کہہ سکتے ہیں کہ ایک بروزی رنگ میں آنحضرت ﷺ کا
دوبارہ آنا دنیا میں وعدہ دیاگیا تھا جو مسیح موعود اور مہدی معہود (مرزاقادیانی) کے ظہور سے پورا ہوا۔‘‘
(تحفہ گولڑویہ ص۹۴، خزائن ج۱۷ ص۲۴۹ حاشیہ)
’’آنحضرت ﷺ کے لئے دو بعث مقدر تھے، (۱)ایک بعث تکمیل ہدایت کے لئے۔ (۲)دوسرا بعث تکمیل اشاعت ہدایت
کے لئے۔‘‘
(تحفہ گولڑویہ ص۹۹، خزائن ج۱۷ ص۲۶۰)
’’جیسا کہ مؤمن کے لئے دوسرے احکام الٰہی پر ایمان لانا فرض ہے ایسا ہی اس بات پر بھی ایمان فرض ہے
کہ آنحضرت ﷺ کے دو بعث ہیں۔‘‘
(تحفہ گولڑویہ ص۹۶، خزائن ج۱۷ ص۲۵۴)
’’چونکہ آنحضرت ﷺ کا حسب آیت ’’واخرین منہم‘‘ دوبارہ تشریف لانا بجز صورت بروز
غیرممکن تھا، اس لئےآنحضرت ﷺ کی روحانیت نے ایک ایسے شخص (مرزاقادیانی) کو اپنے لئے منتخب کیا جو خلق اور خو
اور ہمت اور ہمدری خلائق میں اس کے مشابہ تھا اور مجازی طور پر اپنا نام احمد اور محمد اس (مرزاقادیانی) کو
عطاء کیا، تا یہ سمجھائے کہ گویا اس (مرزاقادیانی) کا ظہور بعینہٖ آنحضرت کا ظہور تھا۔‘‘
(تحفہ گولڑویہ ص۱۰۱، خزائن ج۱۷ ص۲۶۳)
229
(۵۰) مرزاقادیانی ابراہیم اور احمد
’’اور یہ جو فرمایا کہ: ’’واتخذوا من مقام ابراہیم مصلی‘‘ یہ قرآن شریف کی آیت
ہے اور اس مقام میں اس کے یہ معنی ہیں کہ یہ ابراہیم جو بھیجا گیا ہے، تم اپنی عبادتوں اور عقیدوں کو اس کی
طرز پر بجالاؤ اور ہر ایک امر میں اس کے نمونہ پر اپنے تئیں بناؤ اور جیسا کہ آیت ’’مبشرا
برسول یاتی من بعدی اسمہ احمد‘‘ میں یہ اشارہ ہے کہ آنحضرت ﷺ کا آخر زمانہ میں ایک مظہر ظاہر
ہوگا گویا وہ اس کا ایک ہاتھ ہوگا جس کا نام آسمان پر احمد ہوگا اور وہ حضرت مسیح کے رنگ میں جمالی طور پر
دین کو پھیلائے گا۔ ایسا ہی یہ آیت ’’واتخذوا من مقام ابراہیم مصلی‘‘ اس طرف اشارہ
کرتی ہے کہ جب امت محمدیہ میں بہت فرقے ہو جائیں گے تب آخرزمانہ میں ایک ابراہیم پیدا ہوگا اور ان سب فرقوں
میں وہ فرقہ نجات پائے گا کہ اس ابراہیم کا پیرو ہوگا۔‘‘
(اربعین نمبر۳ ص۳۱،۳۲، خزائن ج۱۷ ص۴۲۰،۴۲۱)
(۵۱) بڑے سے بڑا درجہ
’’یہ بالکل صحیح بات ہے کہ ہر شخص ترقی کر سکتا ہے اور بڑے سے بڑا درجہ پاسکتا ہے۔ حتیٰ کہ محمد ﷺ سے
بڑھ بھی سکتا ہے۔‘‘
(الفضل قادیان ج۱۰ نمبر۵ ص۵ کالم۳، مؤرخہ ۱۷؍جولائی ۱۹۲۲ء)
(۵۲) پہلو بہ پہلو
’’ہر ایک نبی کو اپنی استعداد اور کام کے مطابق کمالات عطاء ہوتے تھے۔ کسی کو بہت، کسی کو کم۔ مگر
مسیح موعود کو تو تب نبوت ملی جب اس نے نبوت محمدیہ کے تمام کمالات کو حاصل کر لیا اور اس قابل ہوگیا کہ ظلی
نبی کہلائے۔ پس ظلی نبوت نے مسیح موعود کے قدم کو پیچھے نہیں ہٹایا بلکہ آگے بڑھایا اور اس قدر آگے بڑھایا
کہ نبی کریم کے پہلو بہ پہلو لاکھڑا کیا۔‘‘
(کلمۃ الفصل مصنفہ بشیراحمد مندرجہ رسالہ ریویو آف ریلیجنز قادیان ج۱۴ نمبر۳ ص۱۱۳، بابت ماہ مارچ
۱۹۱۵ء)
(۵۳) حضرت سید المرسلین پر فضیلت
’’پس میرا ایمان ہے کہ حضرت مسیح موعود اس قدر رسول کریم ﷺ کے نقش قدم پر چلے کہ وہی ہو گئے لیکن کیا
استاد اور شاگرد کا ایک مرتبہ ہوسکتا ہے۔ گوشاگرد علم کے لحاظ سے استاد کے برابر بھی ہو جائے۔ تاہم استاد کے
سامنے زانوئے ادب خم کر کے ہی بیٹھے گا۔ یہی نسبت آنحضرت ﷺ اور حضرت مسیح موعود میں ہے۔‘‘
(ذکر الٰہی ص۱۹، تقریر مرزامحمود خلیفہ قادیان، انوار العلوم ج۳ ص۴۱۶،۴۱۷)
’’آنحضرت ﷺ معلم ہیں اور مسیح موعود ایک شاگرد۔ (ہاں اس قسم کے شاگرد جس طرح رسول اللہ ﷺ کے صحابہ تھے
یا کسی اور قسم کے۔ ناقل) شاگرد خواہ استاد کے علوم کا وارث پورے طور پر بھی ہو جائے یا بعض صورتوں میں بڑھ
بھی جاوے مگر استاد بہرحال استاد ہی رہتا ہے اور شاگرد شاگرد ہی۔‘‘
(تقریر مرزامحمود خلیفہ قادیان، الحکم قادیان، مؤرخہ ۱۸؍اپریل ۱۹۱۴ء، منقول از المہدی نمبر۲،۳ ص۴۹،
حکیم محمد حسین قادیانی لاہوری)
’’لہ خسف القمر المنیر وان لی غسا القمر المشرقان اتنکر‘‘
230
’’اس (محمد ﷺ) کے لئے چاند کے خسوف کا نشان ظاہر ہوا اور میرے لئے (یعنی مرزاقادیانی کے لئے) چاند اور
سورج دونوں کا۔ اب کیا تو انکار کرے گا؟‘‘
(اعجاز احمدی ص۷۱، خزائن ج۱۹ ص۱۸۳)
’’اب معاملہ صاف ہے اگر نبی کریم کا انکار کفر ہے تو مسیح موعود (مرزاقادیانی) کا انکار بھی کفر ہونا
چاہئے۔ کیونکہ مسیح موعود نبی کریم سے کوئی الگ چیز نہیں ہے بلکہ وہی ہے اور اگر مسیح موعود کا منکر کافر
نہیں تو نعوذ باللہ نبی کریم کا منکر بھی کافر نہیں، کیونکہ یہ کس طرح ممکن ہے کہ پہلی بعثت میں تو آپ کا
انکار کفر ہو۔ مگر دوسری بعثت میں جس میں بقول حضرت مسیح موعود آپ کی روحانیت اقویٰ اور اکمل اور اشد ہے، آپ
کا انکار کفر نہ ہو۔‘‘
(کلمۃ الفصل مصنفہ بشیراحمد مندرجہ رسالہ ریویو آف ریلیجنز قادیان ج۱۴ نمبر۳ ص۱۴۶،۱۴۷، بابت ماہ مارچ
۱۹۱۵ء)
’’قرآن شریف کے لئے تین تجلیات ہیں۔ وہ سیدنا حضرت محمد مصطفی ﷺ کے ذریعہ سے نازل ہوا اور صحابہ رضی اللہ عنہم کے
ذریعہ سے اس نے زمین پر اشاعت پائی اور مسیح موعود کے ذریعہ سے بہت سے پوشیدہ اسرار اس کے کھلے…آنحضرت ﷺ کے
وقت میں اس کے تمام احکام کی تکمیل ہوئی اور صحابہ رضی اللہ عنہم کے وقت میں اس کے ہر ایک پہلو کی اشاعت کی تکمیل ہوئی
اور مسیح موعود کے وقت میں اس کے روحانی فضائل اور اسرار کے ظہور کی تکمیل ہوئی۔‘‘
(براہین احمدیہ حصہ پنجم ص۵۲، خزائن ج۲۱ ص۶۶)
’’ہمارے نبی کریم ﷺ کی روحانیت نے پانچویں ہزار میں اجمالی صفات کے ساتھ ظہور فرمایا اور وہ زمانہ اس
روحانیت کی ترقیات کا انتہا نہ تھا بلکہ اس کے کمالات کے معراج کے لئے پہلا قدم تھا۔ پھر اس روحانیت نے چھٹے
ہزار کے آخر میں یعنی اس وقت (مرزاقادیانی کے زمانہ میں) پوری طرح سے تجلی فرمائی۔‘‘
(خطبہ الہامیہ ص۱۷۷، خزائن ج۱۶ ص۲۶۶)
’’اور ظاہر ہے کہ فتح مبین کا وقت ہمارے نبی کریم کے زمانہ میں گزر گیا اور دوسری فتح باقی رہی کہ
پہلے غلبہ سے بہت بڑی اور زیادہ ظاہر ہے اور مقدر تھا کہ اس کا وقت مسیح موعود کا وقت ہو اور اسی کی طرف
خداتعالیٰ کے اس قول میں اشارہ ہے۔ سبحان الذی اسریٰ‘‘
(خطبہ الہامیہ ص۱۹۳،۱۹۴، خزائن ج۱۶ ص۲۸۸)
’’غڑض اس زمانہ کا نام جس میں (ہم) ہیں زمان البرکات ہے۔ لیکن ہمارے نبی ﷺ کا زمانہ زمان التائیدات اور دفع الافات تھا۔‘‘
(اشتہار مرزا غلام احمد قادیانی مؤرخہ ۲۸؍مئی ۱۹۰۰ء، مجموعہ اشتہارات ج۳ ص۲۹۲ حاشیہ، جدید، مجموعہ
اشتہارات ج۲ ص۴۰۶، تبلیغ رسالت ج۹ ص۴۴)
’’اسی بناء پر ہم کہہ سکتے ہیں کہ اگرآنحضرت ﷺ پر ابن مریم اور دجال کی حقیقت کاملہ بوجہ نہ موجود
ہونے کسی نمونہ کے موبمومنکشف نہ ہوئی ہو اور نہ دجال کے ستر باع کے گدھے کی اصل کیفیت کھلی ہو اور نہ یاجوج
وماجوج کی عمیق تہ تک وحی الٰہی نے اطلاع دی ہو اور نہ دابۃ الارض کی ماہیت کما ہی ظاہر فرمائی گئی۔ (گویا
یہ حقائق مرزاغلام احمد پر منکشف ہوئے۔ للمؤلف)‘‘
(ازالہ اوہام حصہ دوم ص۶۹۱، خزائن ج۳ ص۴۷۳)
-
’’محمد پھر اتر آئے ہیں ہم میں
اور آگے سے ہیں بڑھ کر اپنی شان میں
-
محمد دیکھنے ہوں جس نے اکمل
غلام احمد کو دیکھئے قادیاں میں‘‘
(از قاضی محمد ظہور الدین اکمل قادیانی، البدر قادیان ج۲ نمبر۴۳ ص۱۴ کالم۱، مؤرخہ ۲۵؍اکتوبر ۱۹۰۶ء)
231
(۵۴) بڑی شان
’’قاضی اکمل صاحب (قادیانی) کی ایک نظم ۲۵؍اکتوبر ۱۹۰۶ء کے اخبار بدر (قادیان) میں شائع ہوئی تھی۔ اس
نظم میں ایک شعر تھا ؎
-
محمد پھر اتر آئے ہیں ہم میں
اور آگے سے ہیں بڑھ کر اپنی شان میں
…قاضی (اکمل) صاحب نے یہ بھی لکھا ہے کہ یہ نظم انہوں نے حضرت مسیح موعود کے حضور پڑھی۔ حضور نے اس کو
پسند فرمایا اور حضرت اقدس کے پسند فرمانے کے بعد کسی احمدی کا کیا حق ہے کہ اس کے کسی شعر کو قابل اعتراض
ٹھہرائے۔ گو اخبار بدر کا وہ پرچہ جس میں یہ نظم شائع ہوئی ہے، قاضی صاحب کے اس بیان کے متعلق خاموش ہے،
لیکن میں قاضی صاحب کے اس بیان کو درست تسلیم نہ کرنے کی کوئی وجہ نہیں پاتا…‘‘
(مرزاقادیانی کی زندگی میں ان کے انتقال سے تقریباً دو سال پہلے محولہ نظم اور مندرجہ بالا شعر اخبار
البدر قادیان میں شائع ہوا اور خود مرزاقادیانی کے بھی مضمون اور حالات اس اخبار میں شائع ہوتے تھے۔ یعنی یہ
تمام تر قادیانی اخبار تھا۔ پھر کیا شک ہوسکتا ہے کہ قاضی اکمل قادیانی کے بیان کے مطابق مرزاقادیانی نے اس
شعر پر کوئی اعتراض نہیں کیا بلکہ پسند فرمایا۔ چنانچہ خود ان کی تحریروں میں بھی برتری کے اشارے کنائے پائے
جاتے ہیں۔ حتیٰ کہ اپنے آپ کو بدر اور رسول اللہکو ہلال قرار دیا اور اس کی تمثیل میں بھی قادیانیوں نے ہلال
اور بدر کا ایک جماعتی جھنڈا وضع کیا۔ رہی تاویل سو معذرتی تاویلوں کی قادیانیوں کے پاس کوئی کمی نہیں اور
یہ بھی قادیانی فن ہے کہ رسول اللہ ﷺ کی خوب تعریف وتوصیف کر دی جاتی ہے تاکہ وہ اپنی جسارتوں کے مقابل تلافی
کا کام دے اور ان سب ترکیبوں کا ماحصل یہ کہ ایک طرف مرزاقادیانی کی عظمت وفوقیت قادیانیوں کے دل میں بٹھاتے
جائیں اور دوسری طرف مسلمانوں کے اعتراض سے بھی بچے رہیں۔ چنانچہ یہ دورنگی بخوبی ظاہر ہوچکی ہے اور فریب
کھل گیا ہے۔ للمؤلف)
(پیغام صلح لاہور ج۳۲ نمبر۴۷ ص۷ کالم۱، مؤرخہ ۳۰؍نومبر ۱۹۴۴ء)
(۵۵) ہلال وبدر
’’اسلام ہلال کی طرح شروع ہوا اور مقدر تھا کہ انجام کار آخرزمانہ میں بدر ہو جائے۔ خداتعالیٰ کے حکم
سے پس خداتعالیٰ کی حکمت نے چاہا کہ اسلام اس صدی میں بدر کی شکل اختیار کرے جو شمار کی رو سے بدر کی طرح
مشابہ ہو۔ (یعنی چودھویں صدی) پس ان ہی معنوں کی طرف اشارہ ہے۔ خداتعالیٰ کے اس قول میں کہ لقد نصرکم اللہ ببدر‘‘
(خطبہ الہامیہ ص۱۸۴، خزائن ج۱۶ ص۲۷۵،۲۷۶)
’’آنحضرت کے بعثت اوّل میں آپ کے منکروں کو کافر اور دائرہ اسلام سے خارج قرار دینا لیکن ان کی بعثت
ثانی میں آپ کے منکروں کو داخل اسلام سمجھنا یہ آنحضرت کی ہتک اور آیات اللہ سے استہزاء ہے۔ حالانکہ خطبہ
الہامیہ میں حضرت مسیح موعود نے آنحضرت کی بعثت اوّل وثانی کی باہمی نسبت کو ہلال اور بدر کی نسبت سے تعبیر
فرمایا ہے۔ جس سے لازم آتا ہے کہ بعثت ثانی کے کافر، کفر میں بعثت اوّل کے کافروں سے بڑھ کر ہیں۔‘‘
(الفضل قادیان ج۳ نمبر۱۰ ص۶ کالم۱، مؤرخہ ۱۵؍جولائی ۱۹۱۵ء)
(۵۶) خطبہ الہامیہ
’’اسی شب حضرت اقدس کو خطبہ الہامیہ سنانے کا خداتعالیٰ کی طرف سے حکم ملا۔ صبح عید کے دن حضرت اقدس
نے یہ خطبہ سنادیا۔ اس وقت مولوی عبدالکریم صاحب اور مولوی نورالدین خلیفہ اوّل لکھتے جاتے تھے۔ جب حضرت
اقدس سنا چکے تو آپ نے ارشاد فرمایا کہ میں دڑتا تھا کہ اتنا لمبا خطبہ میں زبانی کس طرح سناسکوں گا۔ مگر
خداتعالیٰ کا شکر ہے کہ مجھے توفیق ملی اور میں خداتعالیٰ کا پیغام سناسکا۔ میں نے
232
اس خطبہ کے متعلق یہ خیال کیا تھا کہ اگر میں نے پوری طرح سے اس خطبہ کے سن انے میں کامیابی حاصل کی
تو میں سمجھوں گا کہ جن احباب کے لئے نام بنام میں نے دعائیں کی ہیں، وہ قبول ہوگئی ہیں۔ اتنا فرما کر آپ
سجدۂ شکر میں گر گئے اور بڑی دیر تک سجدہ میں دعا فرماتے رہے۔ احباب حاضرین نے بھی اس سجدۂ شکر میں جہاں
جہاں بیٹھے تھے، اس جگہ متابعت کی۔ الحمد للہ ثم الحمد للہ ! (مرزاقادیانی کا حافظہ واقعی قابل تعریف تھا۔ صاحب
موصوف کو ڈر تھا کہ اتنا لمبا خطبہ وہ زبانی کس طرح سناسکیں گے۔ مگر سنا ہی دیا، البتہ حافظہ کی خوبی سے
الہام کا دعویٰ باطل ہوگیا۔ اگرچہ اس کی تائید میں سناتے وقت خطبہ دوسروں سے قلمبند کرایا گیا۔ تو گویا پلّے
سے لکھ کر حفظ نہیں کیاگیا۔ تاہم پہلے سے پہلے لمبے خطبے کے ڈرنے سارا بھید کھول دیا۔ للمؤلف)‘‘
(الفضل قادیان ج۲۹ نمبر۲۰۹ ص۳ کالم۲، مؤرخہ ۱۲؍ستمبر ۱۹۴۱ء)
اس جگہ یہ بھی یاد رکھنا چاہئے کہ خطبہ الہامیہ وہ خطبہ ہے جو خدا کی طرف سے ایک معجزہ کے رنگ پر مسیح
موعود کو عطاء ہوا جیسا کہ اس کا نام ظاہر کرتا ہے۔ پس اس کتاب کو عام کتابوں کی طرح نہ سمجھنا چاہئے۔
کیونکہ اس کا ہر ایک فقرہ الہامی شان رکھتا ہے۔ پھر اسی کتاب کے صفحہ۱۷۱ پر حضرت اقدس (مرزاقادیانی) تحریر
فرماتے ہیں کہ ’’جو شخص مجھ میں اور مصطفی میں تفریق کرتا ہے اس نے مجھ کو نہیں دیکھا ہے اور نہیں پہچانا
ہے۔‘‘ اسی طرح ص۱۸۱ میں لکھا ہے کہ: ’’جس نے اس بات سے انکار کیا کہ نبیm کی بعثت چھٹے ہزار سے تعلق نہیں
رکھتی ہے کہ جیسا کہ پانچویں ہزار سے تعلق رکھتی تھی پس اس نے حق کا اور نص قرآن کا انکار کیا۔ بلکہ حق یہ
ہے کہ آنحضرت ﷺ کی روحانیت چھٹے ہزار کے آخر میں یعنی ان دونوں میں (بہ شکل مرزاقادیانی) بہ نسبت ان سالوں
کے اقویٰ اور اکمل اور اشد ہے۔‘‘
(کلمۃ الفصل مصنفہ بشیراحمد مندرجہ رسالہ ریویو آف ریلیجنز قادیان ج۱۴ نمبر۳ ص۱۳۰،۱۳۱، بابت ماہ مارچ
۱۹۱۵ء)
(۵۷) چودھویں کا چاند
’’اب دیکھو کہ صحابہ کو بدر میں نصرت دی گئی اور فرمایا گیا کہ یہ نصرت ایسے وقت میں دی گئی جب کہ تم
تھوڑے تھے۔ اس بدر میں کفر کا خاتمہ ہوگیا۔ بدر پر ایسے عظیم الشان نشان کے اظہار میں آئندہ کی بھی ایک خبر
رکھی گئی تھی اور وہ یہ کہ بدر چودھویں کے چاند کو بھی کہتے ہیں۔ اس سے چودھویں صدی میں اللہ تعالیٰ کی نصرت کے
اظہار کی طرف بھی ایما ہے اور یہ چودھویں صدی وہی صدی ہے جس کے لئے عورتیں تک کہتی تھیں کہ چودھویں صدی
خیروبرکت کی آئے گی۔ خدا کی باتیں پوری ہوئیں اور چودھویں صدی میں اللہ تعالیٰ کے منشاء کے موافق اسم احمد کا
بروز ہوا اور وہ میں ہوں جس کی طرف اس واقعہ بدر میں پیش گوئی تھی جس کے لئے رسول اللہ ﷺ نے سلام کہا۔ مگر
افسوس کہ جب وہ دن آیا اور چودھویں کا چاند نکلا تو اس کو دوکاندار خود غرض کہا گیا۔‘‘
(مندرجہ ملفوظات احمدیہ ج۱۶۳، طبع احمدیہ انجمن اشاعت اسلام لاہور، ملفوظات ج۲ ص۱۹۰، جدید ملفوظات ج۱
ص۴۳۱)
’’آپ نے (غلام رسول قادیانی مقرر نے) ہلال وبدر کی مثال سے یہ دقیق مسئلہ کمال خوبی کے ساتھ ہرکس
وناکس کے اچھی طرح ذہن نشین کر دیا کہ چودھویں کا چاند (مسیح موعود) وہی تو ہے جو چاند رات کے وقت تھا (یعنی
رسول کریم) پس اس کا پہلی حالت سے بڑھ چڑھ کر شاندار ہونا محل اعتراض کیونکر ہوسکتا ہے۔‘‘
(الفضل قادیان ج۳ نمبر۷۶ ص۴ کالم۱، مؤرخہ یکم؍جنوری ۱۹۱۶ء)
(۵۸) مرزاقادیانی کا خدائی عہد
’’واذ اخذ اللہ میثاق النبیین… الخ‘‘ جب اللہ تعالیٰ نے سب نبیوں سے عہد لیا
(النّبیین میں سب انبیاء علیہم السلام شریک ہیں۔ کوئی نبی بھی مستثنیٰ نہیں۔آنحضرت ﷺ بھی اس النّبیین کے لفظ
میں داخل ہیں) کہ جب کبھی تم کو کتاب اور حکمت
233
دوں (یعنی کتاب سے مراد توریت وقرآن کریم ہے اور حکمت سے مراد سنت ومنہاج نبوت وحدیث شریف ہے) پھر
تمہارے پاس ایک رسول آئے۔ مصدق ہو ان سب چیزوں کا جو تمہارے اس کتاب وحکمت سے ہیں (یعنی وہ رسول مسیح موعود
ہے جو قرآن وحدیث کی تصدیق کرنے والا ہے اور وہ صاحب شریعت جدیدہ نہیں)… یعنی اے نبیو! تم سب ضرور اس پر
ایمان لانا اور ہر ایک طرح سے اس کی مدد فرض سمجھنا۔ (’’جب تمام انبیاء علیہم السلام کو مجملاً حضرت مسیح
موعود پر ایمان لانا اور اس کی نصرت کرنا فرض ہوا تو ہم کون ہیں جو نہ مانیں۔‘‘)
(الفضل قادیان ج۳ نمبر۳۸،۳۹ ص۶ کالم۲، مؤرخہ ۱۹،۲۱؍ستمبر ۱۹۱۵ء)
’’چنانچہ الفضل (قادیان) ۱۹،۲۰؍ستمبر ۱۹۱۹ء میں اس دھڑلے سے مضمون نکلا اور پھر اس کے بعد طرح طرح سے
اس کا اعادہ کیاگیا اور کھلم کھلا ڈنکے کی چوٹ پر اس امر کا اعلان کیا جاتا رہا کہ اس پیشین گوئی میں جس
رسول کا وعدہ ہے اور جس کے متعلق اقرار کر لیاگیا ہے کہ ہر ایک نبی اس پر ایمان لائے اور اس کی نصرت کرے وہ
مسیح موعود ہے اور یہ نہ سمجھا کہ اس طرح تو پھر لازم آئے گا کہ ’’لوکان محمد حیا لما وسعہ
الا اتباع المسیح الموعود‘‘ اگر محمد رسول اللہ ﷺ زندہ ہوتے تو انہیں چارہ نہ تھا سوائے اس کے کہ
وہ مسیح موعود کی اتباع کرتے۔ یعنی مسیح موعود متبوع اور آقا ہوتے اور محمد رسول اللہﷺ نعوذ باللہ متبع اور غلام
ہوتے۔ یہ نتیجہ ایسا دقیق تو نہیں کہ انسان سمجھ نہ سکے۔ مگر جب ایک قوم اپنے نبی کو سب نبیوں سے بڑھانا
چاہتی ہو تو پھر سب کچھ حلال ہو جاتا ہے۔ محمد رسول اللہ ﷺ کو ان نبیوں کے ذیل میں شامل کر دیا۔ جس سے ایمان
لانے اور نصرت کرنے کا اقرار کر لیا گیا تھا۔ گویا محمد رسول اللہ ﷺ آج زندہ ہوتے تو مسیح موعود پر ایمان لاتے
اور آپ کے ہاتھ پر بیعت کرتے اور ہر قسم کی اتباع اور نصرت کے لئے آپ کے احکام کی پیروی کو ذریعہ نجات
سمجھتے۔ کیا اس سے بڑھ کر محمد رسول اللہ ﷺ کی ہتک متصور ہے؟ کیا اس سے صاف نظر نہیں آتا کہ محمد رسول اللہ ﷺ کے
مقابلہ میں حضرت مسیح موعود کی پوزیشن کو بدرجہا بلند کرنے اور ان کو ایک آقا کی حیثیت دے دینے میں نہایت
جرأت سے کام لیاگیا؟‘‘
(ڈاکٹر بشارت احمد قادیانی لاہوری کا مضمون، پیغام صلح لاہور ج۲۲ نمبر۳۴ ص۹ کالم۳، مؤرخہ ۷؍جون
۱۹۳۴ء)
(۵۹) عہد منظوم
-
خدا نے لیا عہد سب انبیاء سے
کہ جب تم کو دوں میں کتاب اور حکمت
-
پھر آئے تمہارا مصدق پیغمبر
تو ایمان لاؤ کرو اس کی نصرت
-
کہا گیا یہ اقرار کرتے ہو محکم
وہ بولے مقر ہے ہماری جماعت
-
کہا حق تعالیٰ نے شاہد رہو تم
یہی میں بھی دیتا رہوں گا شہادت
-
جو اس عہد کے بعد کوئی پھرے گا
بنے گا وہ فاسق اٹھائے گا ذلت
-
لیا تھا جو میثاق سب انبیاء سے
وہی عہد حق نے لیا مصطفی سے
-
وہ نوح و خلیل و کلیم و مسیحا
سبھی سے یہ پیمان محکم لیا تھا
-
مبارک وہ امت کا موعود آیا
وہ میثاق ملت کا مقصود آیا
-
کریں اہل اسلام اب عہد پورا
بنے آج ہر ایک عبداً شکوراً
(الفضل قادیان ج۱۱ نمبر۶۷ ص۱ کالم۲،۳، مؤرخہ ۲۶؍فروری ۱۹۲۴ء)
234
(۶۰) سفید بال
’’خاکسار (مرزابشیراحمد ایم۔اے) عرض کرتا ہے کہ حضرت مسیح موعود بیان فرمایا کرتے تھے کہ ابھی ہماری
عمر تیس سال ہی کی تھی کہ بال سفید ہونے شروع ہوگئے تھے اور میرا خیال ہے کہ پچپن سال کی عمر تک آپ کے سارے
بال سفید ہو چکے ہوں گے۔ اس کے مقابلہ میں آنحضرت ﷺ کے حالات زندگی کے مطالعہ سے پتہ لگتا ہے کہ وفات کے وقت
آپ کے صرف چند بال سفید تھے۔ دراصل اس زمانہ میں مطالعہ اور تصنیف کے مشاغل انسان کی دماغی طاقت پر بہت
زیادہ بوجھ ڈالتے ہیں۔‘‘
(سیرت المہدی حصہ دوم ص۱۱، روایت نمبر۳۱۶، جدید ج۱ حصہ دوم ص۲۹۳،۲۹۴، روایت نمبر۳۱۷)
(۶۱) ذہنی ارتقاء
’’حضرت مسیح موعود کا ذہنی ارتقاءآنحضرت ﷺ سے زیادہ تھا… اس زمانہ میں تمدنی ترقی زیادہ ہوئی ہے اور
یہ جزوی فضیلت ہے جو حضرت مسیح موعود کوآنحضرت ﷺ پر حاصل ہے۔ نبی کریم aکی ذہنی استعدادوں کا پورا ظہور بوجہ
تمدن کے نقص کے نہ ہوا اور نہ قابلیت تھی۔ اب تمدن کی ترقی سے حضرت مسیح موعود کے ذریعہ (بعثت ثانی) ان کا
پورا ظہور ہوا ہے۔ اس کی وجہ صرف یہ تھی کہ آپ کو موقع ملا اور ذہنی طاقتوں کی نشوونما ہوگئی۔ چنانچہ آج کل
باریک اقسام گناہ کی نکل آئی ہیں اور کئی باریک نیکیاں بھی ظاہر ہورہی ہیں۔ مقابلہ زیادہ سخت ہے۔ لوگ اعلیٰ
تربیت کی وجہ سے اعتراض کرتے ہیں جن کا جواب بغیر ذہنی ترقی کے مشکل تھا۔ تلوار کے جہاد کے بجائے قلمی جہاد
کا وقت ہے۔‘‘
(مضمون ڈاکٹر شاہنواز خاں قادیانی، ریویو آف ریلیجنز قادیان، بابت ماہ مئی ۱۹۲۹ء)
(۶۲) توہین رسول
۱… ’’سوال نمبر۵، ایسے موقع پر مسلمان معراج پیش کر دیتے ہیں۔
حضرت اقدس (مرزاقادیانی) نے فرمایا کہ معراج جس وجود سے ہوا تھا وہ یہ ہگنے موتنے والا وجود تو نہ
تھا۔‘‘
(ملفوظات ج۹ ص۴۵۹، جدید ملفوظات ج۵ ص۳۴۰)
۲… ’’آنحضرت ﷺ اور آپ کے اصحاب… عیسائیوں کے ہاتھ کاپنیر کھا لیتے تھے حالانکہ مشہور تھا کہ سور کی
چربی اس میں پڑتی ہے۔‘‘
(مرزاقادیانی کا مکتوب، الفضل قادیان ج۱۱ نمبر۶۶ ص۹ کالم۳، مؤرخہ ۲۲؍فروری ۱۹۲۴ء)
۳… ’’اس جگہ اگر کوئی اعتراض کرے کہ اگر جسم خاکی کا آشمان پر جانا محالات میں سے ہے تو پھرآنحضرت ﷺ
کا معراج اس جسم کے ساتھ کیونکر جائز ہوگا۔ تو اس کا جواب یہ ہے کہ سیر معراج اس جسم کثیف کے ساتھ نہیں تھا
بلکہ وہ نہایت اعلیٰ درجہ کا کشف تھا۔‘‘
(ازالہ اوہام حصہ اوّل ص۴۷، خزائن ج۳ ص۱۲۶ حاشیہ)
۴… ’’ایسا ہی لوگ یہ سمجھ رہے تھے کہ مسیح وفات کے بعد آنحصرت ﷺ کی قبر میں دفن کیا جائے گا۔ لیکن وہ
اس بے ادبی کو نہیں سمجھتے تھے کہ ایسے نالائق اور بے ادب کون آدمی ہوں گے جوآنحضرت ﷺ کی قبر کو کھودیں گے
اور یہ کس قدر لغو حرکت ہے کہ رسول مقبول کی قبر کھودی جاوے اور پاک نبی کی ہڈیاں لوگوں کو دکھائی جاویں۔‘‘
(ازالہ اوہام ص۷۰۱، خزائن ج۳ ص۴۷۸)
۵… ’’ہم بارہا لکھ چکے ہیں کہ حضرت مسیح کو اتنی بڑی خصوصیت آسمان پر زندہ چڑھنے اور اتنی مدت تک زندہ
رہنے اور پھر دوبارہ اترنے کی جو دی گئی ہے، اس کے ہر ایک پہلو سے ہمارے نبی ﷺ کی توہین ہوتی ہے اور
خداتعالیٰ کا ایک بڑا تعلق جس کا کچھ
235
حدوحساب نہیں، حضرت مسیح سے ہی ثابت ہوتا ہے۔ مثلاًآنحضرت ﷺ کی سو برس تک بھی عمر نہ پہنچی مگر حضرت
مسیح اب قریباً دوہزار برس سے زندہ موجود ہیں اور خداتعالیٰ نےآنحضرت ﷺ کے چھپانے کے لئے ایک ایسی ذلیل جگہ
تجویز کی جو نہایت متعفن اور تنگ اور تاریک اور حشرات الارض کی نجاست کی جگہ تھی۔ مگر حضرت مسیح کو آسمان پر
جو بہشت کی جگہ اور فرشتوں کی ہمسائیگی کا مکان ہے، بلالیا۔ اب بتاؤ محبت کس سے زیادہ کی؟ عزت کس کی زیادہ
کی؟ قرب کا مکان کس کو دیا؟ اور پھر دوبارہ آنے کا شرف کس کو بخشا؟‘‘
(تحفہ گولڑویہ ص۷۰، خزائن ج۱۷ ص۲۰۵ حاشیہ در حاشیہ)
(۶۳) دو عورتیں
’’بہرحال حضرت اقدس (مرزاقادیانی) نے ایسی شفیق اور مہربان ماں کی گود میں پرورش پائی تھی جو اپنی
صفات عالیہ کے لحاظ سے خواتین اسلام میں ایک ممتاز حیثیت رکھتی ہیں۔ اس خاتون کی عزت ووقار کا کیا کہنا جس
کے بطن مبارک سے وہ عظیم الشان انسان پیدا ہوا جو نبیوں کا موعود تھااور جس کوآنحضرت ﷺ نے اپنا سلام کہا اور
خداتعالیٰ نے جس کے مدارج اور مناقب میں فرمایا:انت منی وانا منک اس عظیم الشان
انسان (مرزاقادیانی) کی ماں دنیا میں ایک ہی عورت ہے جو آمنہ خاتون کے بعد اپنے بخت رسا پر ناز کر سکتی ہے۔
دنیا کی عورتوں میں جو ممتاز خواتین ہیں ان میں حضرت آمنہ خاتون اور حضرت چراغ بی بی صاحبہ ہی دو عورتیں ہیں
جنہوں نے ایسے عظیم الشان انسان دنیا کو دئیے جو ایک عالم کی نجات اور رستگاری کا موجب ہوئے۔‘‘
(حیات النبی جلد اوّل نمبر دوم ص۱۴۲،۱۴۳، مؤلفہ شیخ یعقوب علی عرفانی قادیانی)
(۶۴) سارے نبیوں کی بیٹی
’’آج ۷؍جون ۱۹۱۵ء مطابق ۲۳؍رجب المرجب ۱۳۳۳ھ دو شنبہ مبارک ہے۔ جب کہ خدا کے برگزیدہ نبی مسیح موعود
(مرزاقادیانی) کی صاحبزادی امتہ الحفیظ (جن کو خداتعالیٰ نے اپنے کلام پاک میں دخت کرام فرمایا ہے اور جو
خدا کے نشانوں میں ایک نشان ہیں۔ (حقیقت الوحی ص۲۱۸، خزائن ج۲۲ ص۲۲۸) کا نکاح مکرم معظم جناب خان صاحب محمد
علی خاں صاحب کے صاحبزادے میاں عبد اللہ خاں سے ہوا۔‘‘
(الفضل قادیان ج۲ نمبر۱۵۱ ص۱، مؤرخہ ۱۰؍جون ۱۹۱۵ء)
’’دخت کرام کے دوسرے لفظوں میں یہ معنی ہوئے کہ چونکہ حضرت مسیح موعود (مرزاقادیانی) پر تمام انبیاء
کا مفہوم صادق آتا ہے، اس لئے گویا عزیزہ امتہ الحفیظ (مرزاقادیانی کی صاحبزادی) سارے انبیاء کی بیٹی ہیں۔‘‘
(الفضل قادیان ج۲ نمبر۱۵۶ ص۵ کالم۲، مؤرخہ ۲۱؍جون ۱۹۱۵ء)
(۶۵) وہ، وہ، وہ
’’وہ جس کا ظہور خاص خدا کا ظہور تھا۔ وہ جس کی مسکراہٹ میں صد جلوہ طور تھا۔ وہ جس کی چشم نیم باز
میں جنت کی سو کھڑکی کھلی تھی۔ وہ جس کی صحبت قدسیہ کی ایک ایک گھڑی زاہد شب زندہ دار کی صد سالہ عبادت سے
قیمتی تھی۔ وہ جس کے وجود میں ایک لاکھ چوبیس ہزار انبیاء کی شان جلوہ گر تھی۔ وہ جس کی قوت ملکیہ دافع ہر
شوروشر تھی۔ وہ جسے خدا نے اپنے ولد کے مقام پر فرمایا بلکہ بمنزلہ توحید وتفرید بتایا جس کو آیت: ’’انت معی وانا معک‘‘ اور ’’انت منی وانا منک‘‘ سے مخاطب
فرماکر اپنا مظہر اتم بنایا۔‘‘
(الفضل قادیان ج۲ نمبر۱۴۶ ص۳ کالم۱، مؤرخہ ۳۰؍مئی ۱۹۱۵ء)
236
’’وہ جو خدا کے لئے بمنزلہ اولاد ہے۔ وہ جس کا ظہور خدا اپنا ظہور قرار دیتا ہے۔ جس نے چارپانچ لاکھ
انسانوں کو مسلمان بنادیا۔ (حالانکہ پنجاہ سالہ کوششوں کے بعد ۱۹۳۱ء کی مردم شماری میں تمام ہندوستان میں
قادیانیوں کی تعداد ۷۵ہزار سے کم نکلی اور یہ بھی تمام تر وہ مسلمان ہیں جو اس چکر میں آگئے۔ للمؤلف)‘‘
(تشحیذ الاذہان قادیان ج۶ نمبر۱۱ ص۴۰۸، بابت ماہ نومبر ۱۹۱۱ء)
(۶۶) قادیانی اعتقاد
’’پھر ہمارا اعتقاد ہے کہ حضرت مرزاصاحب کی صداقت کے لئے اس قدر نشانات ظاہر ہوئے کہ اگر وہ ہزارنبی
پر بھی تقسیم کئے جائیں تو ان کی نبوت بھی ان سے ثابت ہوسکتی ہے۔ پھر ہم کہتے کہ وہ ’’جری
اللہ فی حلل الانبیاء‘‘ تھا۔ یعنی تمام انبیاء عالم کا نمونہ آپ کی ذات قدسی صفات میں جمع تھا۔‘‘
(الفضل قادیان ج۵ نمبر۳۱ ص۱۰ کالم۲، مؤرخہ ۱۶؍اکتوبر ۱۹۱۷ء)
(۶۷) قرآن کریم میں مرزاقادیانی کی مزید بشارات
’’چنانچہ وہ مکالمات الٰہیہ جو براہین احمدیہ میں شائع ہوچکے ہیں، ان میں سے ایک یہ وحی اللہ ہے:’’ہو الذی ارسل رسول بالہدی ودین الحق لیظہرہ علی الدین کلہ‘‘ (دیکھو براہین احمدیہ
ص۴۹۸) اس میں صاف طور پر اس عاجز کو رسول کر کے پکارا گیا ہے۔ پھر… اسی کتاب میں اس مکالمہ کے قریب ہی یہ
وحی اللہ ہے:’’محمد رسول اللہ والذین معہ اشداء علی الکفار رحماء بینہم‘‘ اس وحی الٰہی میں
میرانام محمد رکھا گیا اور رسول بھی… اسی طرح براہین احمدیہ میں اور کئی جگہ رسول کے لفظ سے اس عاجز کو یاد
کیاگیا۔‘‘
(ایک غلطی کا ازالہ ص۱، خزائن ج۱۸ ص۲۰۷،مندرجہ تبلیغ رسالت ج۱۰ ص۱۴، مجموعہ اشتہارات ج۳ ص۴۳۱، جدید
مجموعہ اشتہارات ج۲ ص۵۲۳)
’’قل یا ایہا الناس انی رسول اللہ الیکم جمیعا (ای مرسل من اللہ ) کہہ (اے غلام
احمد) اے تمام لوگو! میں تم سب کی طرف اللہ تعالیٰ کی طرف سے رسول ہوکر آیا ہوں۔‘‘
(البشریٰ جلد دوم ص۵۶، مجموعہ الہامات مرزا غلام احمد قادیانی، اشتہار معیار الاخیار مجموعہ اشتہارات
ج۳ ص۲۷۰، جدید مجموعہ اشتہارات ج۲ ص۳۹۰)
’’مجھے بتلایا گیا تھا تیری خبر قرآن اور حدیث میں موجود ہے اور تو ہی اس آیت کا مصداق ہے: ہو الذی ارسل رسولہ بالہدی ودین الحق لیظہرہ علی الدین کلہ‘‘
(اعجاز احمدی ضمیمہ نزول المسیح ص۷، خزائن ج۱۹ ص۱۱۳)
’’وما ارسلنک الا رحمۃ للعالمین یعنی ہم نے تمام دنیا پر رحمت کرکے تجھے بھیجا
ہے۔‘‘
(اربعین نمبر۳ ص۳۲، خزائن ج۱۷ ص۴۲۱ حاشیہ)
’’وما ینطق عن الہوی ان ہو الا وحی یوحی اور یہ (مرزاغلام احمد) اپنی طرف سے
نہیں بولتا بلکہ جو کچھ تم سنتے ہو یہ خدا کی وحی ہے۔‘‘
(اربعین نمبر۳ ص۳۶،۳۷، خزائن ج۱۷ ص۴۲۶،۴۲۷)
’’ما رمیت اذ رمیت ولکن اللہ رمیٰ‘‘
(حقیقت الوحی ص۷۰، خزائن ج۲۲ ص۷۳)
’’الرحمن علم القرآن‘‘
(حقیقت الوحی ص۷۰، خزائن ج۲۲ ص۷۳)
’’قل انی امرت وانا اول المؤمنین‘‘
(حقیقت الوحی ص۷۰، خزائن ج۲۲ ص۷۳)
237
’’ہو الذی ارسل رسولہ بالہدی ودین الحق لیظہرہ علی الدین کلہ‘‘
(حقیقت الوحی ص۷۱، خزائن ج۲۲ ص۷۴)
’’داعیا الی اللہ وسراجا منیرا‘‘
(حقیقت الوحی ص۷۵، خزائن ج۲۲ ص۷۸)
’’دنی فتدلی فکان قاب قوسین او ادنی‘‘
(حقیقت الوحی ص۷۶، خزائن ج۲۲ ص۷۹)
’’سبحان الذی اسری بعبدہ لیلا‘‘
(حقیقت الوحی ص۷۸، خزائن ج۲۲ ص۸۱)
’’قل ان کنتم تحبون اللہ فاتبعونی یحببکم اللہ ‘‘
(حقیقت الوحی ص۷۹، خزائن ج۲۲ ص۸۲)
’’ان الذین یبایعونک انما یبایعون اللہ ید اللہ فوق ایدیہم‘‘
(حقیقت الوحی ص۸۰، خزائن ج۲۲ ص۸۳)
’’سلام علی ابراہیم‘‘
(حقیقت الوحی ص۸۷، خزائن ج۲۲ ص۹۰)
’’فاتخذوا من مقام ابراہیم مصلی‘‘
(حقیقت الوحی ص۸۸، خزائن ج۲۲ ص۹۱)
’’انا فتحنا لک فتحا مبینا لیغفرلک اللہ ماتقدم من ذنبک وما تاخر‘‘
(حقیقت الوحی ص۹۴، خزائن ج۲۲ ص۹۷)
’’انا ارسلنا الیکم رسولا شاہدا علیکم کما ارسلنا الی فرعون رسولا‘‘
(حقیقت الوحی ص۱۰۱، خزائن ج۲۲ ص۱۰۵)
’’انا اعطیناک الکوثر‘‘
(حقیقت الوحی ص۱۰۲، خزائن ج۲۲ ص۱۰۵)
’’اراد اللہ ان یبعثک مقاما محمودا‘‘
(حقیقت الوحی ص۱۰۲، خزائن ج۲۲ ص۱۰۵)
’’یٰسن انک لمن المرسلین علی صراط مستقیم‘‘
(حقیقت الوحی ص۱۰۷، خزائن ج۲۲ ص۱۱۰)
(۶۸) مرزاقادیانی کے بشارتی نام
’’صحیح بخاری اور صحیح مسلم اور انجیل اور دانی ایل اور دوسرے نبیوں کی کتابوں میں بھی جہاں میرا ذکر
کیاگیا ہے وہاں میری نسبت نبی کا لفظ بولا گیا ہے اور بعض نبیوں کی کتابوں میں میری نسبت بطور استعارہ فرشتہ
کا لفظ آگیا ہے اور دانی ایل نبی نے اپنی کتاب میں میرا نام میکائیل رکھا ہے اور عبرانی میں لفظی معنے
میکائیل کے ہیں۔ خدا کی مانند۔‘‘
(اربعین نمبر۳ ص۲۵، خزائن ج۱۷ ص۴۱۳ حاشیہ)
’’ہے کرشن جی رودر گوپال‘‘
(البشریٰ جلد اوّل ص۵۶، مجموعہ الہامات مرزاقادیانی، تذکرہ ص۳۸۱، طبع چہارم)
’’امین الملک جے سنگھ بہادر‘‘
(البشریٰ جلد دوم ص۱۱۸، مجموعہ الہامات مرزاقادیانی، تذکرہ ص۶۷۲، طبع چہارم)
(۶۹) مرزاقادیانی کے گواہ
’’میرے لئے زمین نے بھی گواہی دی اور آسمان نے بھی۔ اس طرح پر میرے لئے آسمان بھی بولا اور زمین بھی
کہ میں خلیفۃ اللہ
238
ہوں۔ مگر پیشین گوئیوں کے مطابق ضرور تھا کہ انکار بھی کیا جاتا۔ اس لئے جن کے دلوں پر پردے ہیں، وہ
قبول نہیں کرتے۔ میں جانتا ہوں کہ ضرور خدا میری تائید کرے گا جیسا کہ ہمیشہ اپنے رسولوں کی تائید کرتا رہا
ہے۔ کوئی نہیں کہ میرے مقابل پر ٹھہرسکے۔ کیونکہ خدا کی تائید ان کے ساتھ نہیں۔‘‘
(ایک غلطی کا ازالہ ص۴، خزائن ج۱۸ ص۲۱۰، مندرجہ تبلیغ رسالت ج۱۰ ص۱۸، مجموعہ اشتہارات ج۳ ص۴۳۵، جدید
مجموعہ اشتہارات ج۲ ص۵۲۶)
(۷۰) مرزاقادیانی کی جامعیت
’’دنیا میں کوئی نبی نہیں گزرا جس کا نام مجھے نہیں دیاگیا۔ سو جیسا کہ براہین احمدیہ میں خدا نے
فرمایا ہے کہ میں آدم ہوں، میں نوح ہوں، میں ابراہیم ہوں، میں اسحق ہوں، میں یعقوب ہوں، میں اسماعیل ہوں،
میں موسیٰ ہوں، میں داؤد ہوں، میں عیسیٰ ابن مریم ہوں، میں محمد ﷺ ہوں۔ یعنی بروزی طور پر جیسا کہ خدا نے
اسی کتاب میں یہ سب نام مجھے دئیے اور میری نسبت ’’جری اللہ فی حلل الانبیاء‘‘
فرمایا، یعنی خدا کا رسول نبیوں کے پیرایوں میں سو ضرور ہے کہ ہر ایک نبی کی شان مجھ میں پائی جاوے۔‘‘
(تتمہ حقیقت الوحی ص۸۴،۸۵، خزائن ج۲۲ ص۵۲۱)
’’کمالات متفرقہ جو تمام انبیاء میں پائے جاتے تھے وہ سب حضرت رسول کریم ﷺ میں ان سب سے بڑھ کر موجود
تھے اور اب وہ سارے کمالات حضرت رسول کریم ﷺ سے ظلی طور پر ہم کو عطاء کئے گئے۔ اس لئے ہمارا نام آدم،
ابراہیم، موسیٰ، نوح، داؤد، یوسف، سلیمان، یحییٰ، عیسیٰ وغیرہ ہے… پہلے تمام انبیاء ظل تھے نبی کریم کی خاص
خاص صفات میں اور اب ہم ان تمام صفات میں نبی کریم کے ظل ہیں۔‘‘
(مندرجہ اخبار الحکم قادیان ج۶ نمبر۱۵ ص۷،۸، مؤرخہ ۲۴؍اپریل ۱۹۰۲ء، ملفوظات ج۳ ص۲۷۰، جدید ملفوظات ج۲
ص۲۰۱،منقول از جماعت مبایعین کے عقائد صحیحہ ص۴۴، رسالہ منجانب قادیانی جماعت قادیان)
’’اس زمانہ میں خدا نے چاہا کہ جس قدر نیک اور راست باز مقدس نبی گزر چکے ہیں، ایک ہی شخص کے وجود میں
ان کے نمونے ظاہر کئے جائیں، سو وہ میں ہوں۔‘‘
(براہین احمدیہ حصہ پنجم ص۹۰، خزائن ج۲۱ ص۱۱۷،۱۱۸)
’’علاوہ اس کے ہمیں یہ بھی تو دیکھنا چاہئے کہ مسیح موعود تمام انبیاء کا مظہر ہے۔ جیسا کہ اس کی شان
میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: ’’جری اللہ فی حلل الانبیاء‘‘ اس لئے اس کے آنے سے گویا امت
محمدیہ میں تمام گزشتہ نبی پیدا کئے گئے۔ پس نبیوں کی تعداد کے لحاظ سے بھی محمدی سلسلہ موسوی سلسلہ سے بڑھ
کر رہا۔ کیونکہ علاوہ ان نبیوں اور رسولوں کے جو توریت کی خدمت کے لئے موسیٰ کو عطاء ہوئے تھے، اس امت میں
وہ تمام نبی بھی مبعوث کئے گئے جو موسیٰ سے پہلے گزر چکے تھے بلکہ خود موسیٰ بھی خود دوبارہ دنیا میں بھیجے
گئے اور یہ سب کچھ مسیح موعود کے وجود باجود میں پورا ہوا۔‘‘
(کلمۃ الفصل مصنفہ بشیراحمد مندرجہ رسالہ ریویو آف ریلیجنز قادیان ج۱۴ نمبر۳ ص۱۱۷، بابت ماہ مارچ
۱۹۱۵ء)
’’آخری زمانہ کے لئے خدا نے مقرر کیا ہوا تھا کہ وہ ایک عام رجعت کا زمانہ ہوگا۔ تا یہ امت مرحومہ
دوسری امتوں سے کسی بات میں کم نہ ہو۔ پس اس نے مجھے پیدا کر کے ہر ایک گزشتہ نبی سے مجھے اس نے تشبیہ دی کہ
وہی میرا نام رکھ دیا۔ چنانچہ آدم، ابراہیم، نوح، موسیٰ، داؤد، سلیمان، یوسف، یحییٰ وغیرہ یہ تمام نام
براہین احمدیہ میں میرے رکھے گئے اور اس صورت میں گویا تمام انبیاء گزشتہ اس امت میں دوبارہ پیدا ہوگئے۔
یہاں تک کہ سب کے آخر میں مسیح پیدا ہوگیا اور جو میرے مخالف تھے ان کا نام عیسائی اور یہودی اور مشرک
رکھاگیا۔‘‘
(نزول المسیح ص۴، خزائن ج۱۸ ص۳۸۲ حاشیہ)
239
(۷۱) واحد وجود
’’آنحضرت ﷺ کی امت کا ایک فرد اور واحد وجود ایسا بھی ہوگا جو آپ کی اتباع سے تمام انبیاء کا واحد
مظہر اور بروز ہوگا اور جس کے ایک ہی وجود سے سب انبیاء کا جلوہ ظاہر ہوگا اور اگر وہ حسب ذیل تمام سے اپنے
نطق حقیقت کو بیان فرمائے تو کچھ خلاف نہ ہوگا۔ یعنی ؎
-
زندہ شد ہر نبی بہ آمدنم
ہر رسولے نہاں بہ پیراہنم
اور یہ کہ ؎
-
میں کبھی آدم کبھی موسیٰ کبھی یعقوب ہوں
نیز ابراہیم ہوں، نسلیں ہیں میری بے شمار
اور یہ کہ ؎
-
منم مسیح زمان و منم کلیم خدا
منم محمد و احمد کہ مجتبیٰ باشد
(الفضل قادیان ج۱۷ نمبر۶۵ ص۱۱ کالم۲، مؤرخہ ۱۸؍فروری ۱۹۳۰ء)
(۷۲) قرضہ یکمشت
’’سائل: حضرت موسیٰ کے بعد حضرت عیسیٰ تک بہت نبی آئے۔ اگر آنحضرت کے بعد نبوت جائز ہوتی تو مرزاصاحب
سے پہلے مجدد بھی نبی ہوتے۔ اس لئے ثابت ہوا کہ مرزاصاحب بھی نبی نہیں۔
مجیب: بے شک اس امت کا حق بھی تھا کہ مسیح موعود کے زمانہ سے پہلے نبی ان میں پیدا ہوتے مگر خدا جو
عالم الغیب ہے، وہ جانتا تھا کہ اس امت مرحومہ کو دجال کے عظیم الشان فتنے کا سامنا ہونے والا ہے اور تمام
نبیوں کی امتیں گمراہی میں پڑ کر اسلام پر حملہ آور ہونے والی ہیں۔ اس واسطے مصلحت الٰہی یہی ہوئی کہ اس امت
مرحومہ کو سارا قرضہ اس عظیم الشان فتنے کے زمانہ میں یکمشت دے دیا جائے۔ چنانچہ ’’واذ الرسل
اقتت‘‘ کے ماتحت خداتعالیٰ نے ’’جری اللہ فی حلل الانبیاء‘‘ تمام نبیوں کے
قائم مقام ایک نبی مبعوث فرمایا جو یہودیوں کے لئے موسیٰ، عیسائیوں کے لئے عیسیٰ اور ہندوؤں کے لئے کرشن
اور مسلمانوں کے لئے محمد اور احمد ہے۔
اس عظیم الشان فتنے کی وجہ سے خداتعالیٰ نے مناسب سمجھا کہ امت محمدیہ کو موسیٰ کی امت کی طرح متفرق
طور پر نبی نہ دئیے جائیں بلکہ ان کے مقابلہ میں مجدد دئیے اور اس فساد کے زمانہ میں نبیوں کا قرضہ یکمشت
ادا کر دیا جیسا کہ مختلف نبیوں کی امتوں نے یکمشت اسلام پر حملہ کیا اور یہ خدا کا احسان ہے کہ اس نے ایسا
کیا۔‘‘
(الفضل قادیان ج۳ نمبر۱۱ ص۸،۹ کالم۳، مؤرخہ ۶؍مئی ۱۹۱۶ء)
(۷۳) تمام طاقتیں
’’میں نے اس مضمون کو قبل از عشاء حضرت امام ہمام خلیفۃ اللہ مسیح موعود کی خدمت میں پیش کیا۔ آپ نے
فرمایا… ان سب کی صدق اور حقیقت ثابت کرنے کے لئے آج اس زمانہ میں ایک شخص موجود ہے جس کا یہ دعویٰ ہے کہ
اسے وہ تمام طاقتیں کامل طور پر خداتعالیٰ کی طرف سے عطاء ہوئی ہیں جو انبیاء علیہم السلام کو ملی تھیں۔ جو
عجائبات خداتعالیٰ نے حضرت ابراہیم اور موسیٰn کے ہاتھ پر منکروں کو دکھائے، وہی عجائبات زندہ اور قادر خدا
آج اس کے ہاتھوں پر دکھانے کو موجود اور تیار ہے، کوئی ہے جو آزمائش کے لئے قدم اٹھائے۔‘‘
(نورالدین ص۱۲۰، حکیم نورالدین خلیفہ اوّل قادیان)
240
(۷۴) اگر حضور ملکہ معظمہ
’’اگر حضور ملکہ معظمہ میرے تصدیق دعویٰ کے لئے مجھ سے نشان دیکھنا چاہیں تو میں یقین رکھتا ہوں کہ
ابھی ایک سال پورا نہ ہو کہ وہ ظاہر ہو جاوے اور نہ صرف یہی بلکہ دعا کر سکتا ہوں کہ یہ تمام زمانہ عافیت
اور صحت سے بسر ہو۔ لیکن اگر کوئی نشان ظاہر نہ ہوا اور میں جھوٹا نکلوں تو میں اس سزا میں راضی ہوں کہ حضور
ملکہ معظمہ کے پایہ تخت کے آگے پھانسی دیا جاؤں۔ یہ سب الحاح اس لئے ہے کہ کاش ہماری محسنہ ملکہ معظمہ کو
اس آسمان کے خدا کی طرف خیال آجائے جس سے اس زمانہ میں عیسائی مذہب بے خبر ہے۔‘‘
(تحفہ قیصریہ ص۲۴، خزائن ج۱۲ ص۲۷۶ حاشیہ)
(۷۵) خواہ زندہ مر جائے
’’مخدومی مکرمی اخویم مولوی نورالدین صاحب سلمہ اللہ تعالیٰ۔ السلام علیکم ورحمۃ اللہ … ڈاکٹر صاحب کا خط
پہنچا۔ ڈاکٹر صاحب ایسے امور کے دکھلانے کے لئے مجھے مجبور کرتے ہیں جو میرا نور قلب شہادت نہیں دیتا کہ میں
ان کے لئے جناب الٰہی میں دعا کروں۔ گو یہ عاجز خداتعالیٰ کی قدرتوں کو غیرمحدود جانتا ہے مگر ساتھ ہی یہ
بھی یقین رکھتا ہے کہ ہر ایک قدرتی کام وابستہ باوقات ہے اور جب کسی امر کے ہو جانے کا وقت آتا ہے تو اس امر
کے لئے دل میں جوش پیدا ہو جاتا ہے اور امید بڑھ جاتی ہے۔ اب ایسی باتوں کی طرف جو ڈاکٹر صاحب کا منشاء ہے
کہ کوئی مردہ زندہ ہو جائے یا کوئی مادرزاد اندھا اچھا ہوجائے پیدا نہیں ہوتا۔ ہاں! اس بات کے لئے جوش پیدا
ہوتا ہے کہ کوئی امر انسانی طاقتوں سے بالاتر ہو خواہ مردہ زندہ ہو اور خواہ زندہ مر جائے۔ یہی بات پہلے بھی
میں نے ڈاکٹر صاحب کی خدمت میں لکھی تھی کہ آپ صرف یہی شرط رکھیں کہ ایسا امر ظاہر ہو جو انسانی طاقتوں سے
برتر ہو اور کچھ شک نہیں کہ جو امر انسانی طاقتوں سے برتر ہو، وہی خارق عادت ہے۔ مگر ڈاکٹر صاحب نے خواہ
مخواہ مردہ وغیرہ کی شرطیں لگادی ہیں۔ والسلام!
خاکسار: غلام احمد، لدھیانہ، مؤرخہ ۱۲؍اپریل ۱۸۹۱ء‘‘
(مکتوبات احمدیہ ج۵ نمبر۲ ص۱۰۵،۱۰۶، جدید مکتوبات احمد جلد دوم ص۱۱۸)
’’نشان، معجزہ، کرامت اور خرق عادت ایک چیز ہے۔‘‘
(براہین احمدیہ حصہ پنجم ص۵۰، خزائن ج۲۱ ص۶۳)
(۷۶) مرزاقادیانی کے معجزات ونشانات
’’بلکہ خداتعالیٰ کے فضل وکرم سے میرا جواب یہ ہے کہ اس نے میرا دعویٰ ثابت کرنے کے لئے اس قدر معجزات
دکھائے ہیں کہ بہت ہی کم نبی ایسے آئے ہیں جنہوں نے اس قدر معجزات دکھائے ہوں۔ بلکہ سچ تو یہ ہے کہ اس نے اس
قدر معجزات کا دریا رواں کر دیا ہے کہ باستثناء ہمارے نبی ﷺ کے باقی تمام انبیاء علیہم السلامہمیں ان کا
ثبوت اس کثرت کے ساتھ قطعی اور یقینی طور پر محال ہے اور خدا نے اپنی حجت پوری کر دی ہے۔ اب چاہے کوئی قبول
کرے یا نہ کرے۔‘‘
(تتمہ حقیقت الوحی ص۱۳۶، خزائن ج۲۲ ص۵۷۴)
’’ان چند سطروں میں جو (میری) پیش گوئیاں ہیں وہ اس قدر نشانوں پر مشتمل ہیں جو دس لاکھ سے زیادہ ہوں
گے اور نشان بھی کھلے کھلے ہیں۔‘‘
(براہین احمدیہ حصہ پنجم ص۵۶، خزائن ج۲۱ ص۷۲)
’’میری تائید میں اس (خدا) نے وہ نشان ظاہر فرمائے ہیں کہ… اگر میں ان کو فرداً فرداً شمار کروں تو
میں خداتعالیٰ کی قسم کھا کر کہہ سکتا ہوں کہ وہ تین لاکھ سے بھی زیادہ ہیں۔‘‘
(حقیقت الوحی ص۶۷، خزائن ج۲۲ ص۷۰)
’’تین ہزار معجزات… جو ہمارے نبی ﷺ سے ظہور میں آئے۔‘‘
(تحفہ گولڑویہ ص۴۰، خزائن ج۱۷ ص۱۵۳)
241
’’اور خداتعالیٰ نے اس بات کے ثابت کرنے کے لئے کہ میں اس کی طرف سے ہوں اس قدر نشان دکھلائے ہیں کہ
اگر وہ ہزار نبی پر بھی تقسیم کئے جائیں تو ان کی بھی ان سے نبوت ثابت ہوسکتی ہے۔ لیکن چونکہ یہ آخری زمانہ
تھا اور شیطان کا مع اپنی تمام ذریت کے آخری حملہ تھا اس لئے خدا نے شیطان کو شکست دینے کے لئے ہزار نشان
ایک جگہ جمع کر دئیے۔ لیکن پھر بھی جو لوگ انسانوں میں سے شیطان ہیں، وہ نہیں مانتے۔‘‘
(چشمہ معرفت ص۳۱۷، خزائن ج۲۳ ص۳۳۲)
’’میرے خدا نے عین صدی کے سر پر مجھے مامور فرمایا اور جس قدر دلائل میرے سچا ماننے کے لئے ضروری تھے
وہ سب دلائل تمہارے لئے مہیا کر دئیے اور آسمان سے لے کر زمین تک میرے لئے نشان ظاہر کئے اور تمام نبیوں نے
ابتداء سے آج تک میرے لئے خبریں دی ہیں۔‘‘
(تذکرۃ الشہادتین ص۶۲، خزائن ج۲۰ ص۶۴)
(۷۷) جیسا کہ
’’جیسا کہ وحی تمام انبیاء علیہم السلام کی حضرت آدم علیہ السلام سے لے کرآنحضرت ﷺ تک از قبیل اضغاث
احلام وحدیث النفس نہیں ہے ایسا ہی یہ وحی بھی ان شبہات سے پاک اور منزہ ہے اور اگر کہو کہ اس وحی کے ساتھ
جو اس سے پہلے انبیاء علیہم السلام کو ہوئی تھی معجزات اور پیش گوئیاں ہیں تو اس کا جواب یہ ہے کہ اس جگہ
اکثر گزشتہ نبیوں کی نسبت بہت زیادہ معجزات اور پیش گوئیاں موجود ہیں۔ بلکہ بعض گزشتہ انبیاء علیہم السلام
کے معجزات اور پیش گوئیوں کو ان معجزات اور پیش گوئیوں سے کچھ نسبت ہی نہیں اور نیز ان کی پیش گوئیاں اور
معجزات اس وقت محض بطور قصوں اور کہانیوں کے ہیں۔ مگر یہ معجزات اور پیش گوئیاں ہزارہا لوگوں کے لئے واقعات
چشم دید ہیں اور اس مرتبہ اور شان کے ہیں کہ اس سے بڑھ کر متصور نہیں۔‘‘
(نزول المسیح ص۸۱،۸۲، خزائن ج۱۸ ص۴۶۰)
(۷۸) مرزاقادیانی کا زمانہ
’’اے عزیزو! تم نے وہ وقت پایا ہے جس کی بشارت تمام نبیوں نے دی ہے اور اس شخص (مرزاقادیانی) کو یعنی
مسیح موعود کو تم نے دیکھ لیا جسکے دیکھنے کے لئے بہت سے پیغمبروں نے بھی خواہش کی تھی۔ اس لئے اب اپنے
ایمانوں کو خوب مضبوط کرو اور اپنی راہیں درست کرو۔‘‘
(اربعین نمبر۴ ص۱۳، خزائن ج۱۷ ص۴۴۲)
’’یہ ایک ایسا مبارک وقت ہے کہ تم میں وہ خدا کا فرستادہ موجود ہے جس کا صدہا سال سے امتیں انتظار کر
رہی تھیں اور ہر روز خداتعالیٰ کی تازہ وحی تازہ بشارتوں سے بھری ہوئی نازل ہورہی ہے۔ (الراقم خاکسار
مرزاغلام احمد)‘‘
(’’مکاشفات‘‘ کا آخری سرورق، مؤلفہ منظور الٰہی قادیانی، مجموعہ اشتہارات ج۳ ص۴۹۷، جدید مجموعہ
اشتہارات ج۲ ص۶۱۳)
’’اور میرے وقت میں فرشتوں اور شیاطین کا آخری جنگ ہے اور خدا اس وقت وہ نشان دکھائے گا جو اس نے کبھی
دکھائے نہیں، گویا خدا زمین پر خود اتر آئے گا… یعنی انسانی مظہر کے ذریعہ سے اپنا جلال ظاہر کرے گا اور
اپنا چہرہ دکھلائے گا۔‘‘
(حقیقت الوحی ص۱۵۴، خزائن ج۲۲ ص۱۵۸)
’’دیکھو تم ایسے زمانہ میںپیدا کئے گئے ہو جس کی تیرہ سو سال سے لوگ خواہش کرتے چلے آئے ہیں۔ امام
شافعی، ابن حزن، (ابن حزم) ابن حجر، ابن قیم، محی الدین ابن عربی، عبدالقادر جیلانی، شہاب الدین سہروردی، یہ
لوگ اور حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ، حضرت عمر رضی اللہ عنہ، حضرت عثمان رضی اللہ عنہ، حضرت علی رضی اللہ عنہ
جن کے متعلق مسلمانوں کا اتفاق ہے کہ آئمہ سے بڑھ کر ہیں۔ ان سب سے بڑھ کر حضرت مسیح موعود
242
(مرزاقادیانی) ہیں اور پہلے جن کا ذکر کیاگیا ہے، وہ وہ ہیں جو حسرتیں کرتے فوت ہوگئے ہیں کہ ہمیں
مسیح موعود (مرزاقادیانی) کا زمانہ میسر ہو۔‘‘
(خطبہ جمعہ الفضل قادیان ج۱۲ نمبر۴ ص۹ کالم۱،۲، مؤرخہ ۱۵؍جولائی ۱۹۲۴ء، خطبات محمود ج۸ ص۴۵۹)
’’ہمارا زمانہ اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کے حصول کا زمانہ ہے۔ رسول کریم ﷺ کے زمانہ کے بعد تیرہ سو سال تک
جو کسی کو نہیں مل سکا وہ آج حاصل ہو سکتا ہے۔ اگر کوئی حاصل نہ کرے تو اور بات ہے ورنہ جنت کی نعماء اور
اللہتعالیٰ کے قرب کی راہیں جس رنگ میں (۱۳) سو سال کے بعد آج کھلی ہیں اس طرح (۱۳)سوسال میں کسی کے لئے نہیں
کھلیں بلکہ حقیقت یہ ہے کہ رسول کریم ﷺ کے زمانہ کو چھوڑ کر آپ سید ولد آدم اور تمام نبیوں کے سردار تھے۔
آدم سے لے کر آج تک خداتعالیٰ کے قرب کی وہ راہیں کسی کے لئے نہیں کھلیں جو ہمارے لئے کھلی ہیں۔‘‘
(مرزامحمود خلیفہ قادیان کا خطبہ جمعہ، الفضل قادیان ج۳۳ نمبر۲۹۴ ص۴ کالم۲،۳، مؤرخہ ۱۷؍دسمبر ۱۹۴۵ء،
خطبات ج۲۶ ص۴۷۹،۴۸۰)
’’ان حوالوں سے پتہ لگتا ہے کہ مسیح موعود کوئی معمولی شان کا انسان نہیں ہے بلکہ امت محمدیہ میں اپنے
درجہ کے لحاظ سے سب پر فوقیت لے گیا ہے۔ یہ ہی وجہ ہے کہ نبی کا لقب پانے کے لئے صرف وہی چناگیا اور باقی
کسی کو یہ درجہ عطاء نہ ہوا۔ خدا کا لاکھ لاکھ شکر ہے کہ اس نے ہم کو وہ زمانہ دیا جس پر اللہ تعالیٰ کے تمام
نبی ناز کرتے آئے ہیں اور جس کے پانے کے کے لئے اس امت کے بڑے بڑے ابدال دعائیں کرتے کرتے اس دار فانی سے
کوچ کر گئے۔‘‘
(کلمۃ الفصل مصنفہ بشیراحمد مندرجہ رسالہ ریویو آف ریلیجنز قادیان ج۱۴ نمبر۳ ص۱۳۱، بابت ماہ مارچ
۱۹۱۵ء)
(۷۹) زندہ ہوا
’’حضرت مرزاصاحب کے ذریعہ اسلام زندہ ہوا۔ قرآن کریم زندہ ہوا۔ محمد ﷺ کا نام زندہ ہوا۔ خدا کی توحید
زندہ ہوئی۔ ہر نیکی زندہ ہوئی۔ ہر نبی زندہ ہوا۔ ہر راست باز نے دوبارہ حیات پائی۔ پس حضرت مسیح موعود
(مرزاقادیانی) کوئی معمولی انسان نہ تھے۔ آپ نے رسولوں اور ان کی تعلیموں کو زندہ کیا ہے۔ پہلے مسیح نے تو
بقول غیراحمدیاں چند ماچھیوں کو زندہ کیا تھا۔ مگر اس (مرزاقادیانی) نے نبیوں کو زندہ کیا ہے۔ پھر بھی کہتے
ہیں اس نے کیا کیا ہے۔ وہ کون سی خوبی اور کون سی صداقت ہے جوکسی نبی میں پائی جاتی ہے مگر حضرت مرزاصاحب
میں نہیں۔‘‘
(تقریر مرزامحمود، خلیفہ قادیان، الفضل قادیان ج۱۱ نمبر۸۹ ص۱۰ کالم۱، مؤرخہ ۱۶؍مئی ۱۹۲۴ء،
انوارالعلوم ج۸ ص۷۸)
(۸۰) قادیانی معروضہ
’’اگر آج قادیان کا مقدس نبی اس زمین پر زندہ ہوتا تو میں عرض کرتا پیارے احمد، سیدنا مسیح موعود! تو
خدا کا نبی، خدا کا رسول، محمد عربیa کا بروز، لشکر اسلام کا فاتح سپہ سالار اور آسمانی بادشاہت کا پرجلال
سلطان ہے۔ تیرے آنے سے ہر نبی زندہ ہوا۔ تیرے آنے سے مردوں میں جان پڑی۔‘‘
(الفضل قادیان ج۸ نمبر۲۰ ص۱ کالم۲، مؤرخہ ۱۶؍ستمبر ۱۹۲۰ء)
(۸۱) سچ پوچھو تو
’’اگر سچ پوچھو تو ہمیں قرآن کریم پر، رسول اللہ ﷺ پر بھی اسی کے ذریعہ ایمان حاصل ہوا۔ ہم قرآن کریم کو
خدا کا کلام اس لئے یقین کرتے ہیں کہ اس کے ذریعہ آپ کی نبوت ثابت ہوتی ہے۔ ہم محمد ﷺ کی نبوت پر اس لئے
ایمان لاتے ہیں کہ اس سے آپ کی نبوت کا ثبوت ملتا ہے۔ نادان ہم پر اعتراض کرتا ہے کہ ہم کیوں اس کے کلام کو
خدا کا کلام یقین کرتے ہیں۔ وہ نہیں جانتا کہ قرآن پر یقین ہمیں اس کے کلام کی وجہ سے حاصل ہوا ہے اور محمد
ﷺ کی نبوت پر یقین اس کی نبوت کی وجہ سے ہوا ہے۔‘‘
(تقریر مرزامحمود خلیفہ قادیان، الفضل قادیان ج۱۳ نمبر۳، مؤرخہ ۱۱؍جولائی ۱۹۲۵ء)
243
(۸۲) رسول قدنی
(عنوان، الفضل قادیان مؤرخہ ۱۶؍اکتوبر ۱۹۲۲ء)
-
اے میرے پیارے مری جاں رسول قدنی
تیرے صدقے ترے قربان رسول قدنی
-
انت منی وانا منک خدا فرمائے
میں بتاؤں تیری کیا شان رسول قدنی
-
عرش اعظم پر تری حمد خدا کرتا ہے
ہم ہیں ناچیز سے انسان رسول قدنی
-
دستخط قادر مطلق تری مسلوں پہ کرے
اللہ اللہ یہ تری شان رسول قدنی
-
آسماں اور زمیں تو نے بنائے ہیں نئے
تیرے کشفوں پہ ہے ایمان رسول قدنی
-
پہلی بعثت میں محمد ہے تو اب احمد ہے
تجھ پہ پھر اترا ہے قرآن رسول قدنی
-
سرمہ چشم تری خاک قدم بنواتے
غوث اعظم، شہ جیلان رسول قدنی
-
اپنے اکمل کو بچا لیجئے کہ ہے زوروں پر
اس کے عصیاں کا طغیان رسول قدنی
(الفضل قادیان ج۱۰ نمبر۳۰ ص۱،۲، مؤرخہ ۱۶؍اکتوبر ۱۹۲۲ء)
(۸۳) حضرت مسیح موعود کی شان
(عنوان الفضل قادیان مؤرخہ ۲۴؍ستمبر ۱۹۱۸ء)
’’سیدنا حضرت مسیح موعود کی زبان مبارک سے آپ کے تمام دعاوی، آپ کی وحی اور تحریرات سے منتخب کر کے
جناب قاضی محمد یوسف صاحب فاروقی احمدی سیکرٹری انجمن احمدیہ پشاور نے نہایت عمدگی کے ساتھ نظم کر دئیے ہیں
اور حوالہ جات بھی ساتھ دے دئیے ہیں۔ امید ہے احباب بہت دلچسپی سے پڑھیں گے۔ (ایڈیٹر)
-
اے امیر المنکرین ہم احمد موعود ہیں
کان دھر کر تم سنو ہم عیسیٰ معہود ہیں
-
ہم بروز آدم و نوح و خلیل اللہ ہیں
مظہر زرتشت و موسیٰ، کرشن اور داؤد ہیں
-
ہم مثیل لوط، اسحاق اور اسماعیل ہیں
ہم مثال یوسف و یعقوب و صالح ہود ہیں
-
ہم ہیں عکس ایلیا و حزقیل و دانیال
ہم ہی تصویر محمد حامد و محمود ہیں
-
ہم نبی اللہ ہیں اور مظہر جملہ رسل
جو نہ مانیں گے ہمیں وہ کافر و مردود ہیں
-
منکرین انبیاء ہوتے کبھی مومن نہیں
بلکہ ہوتے بوجہل فرعون یا نمرود ہیں
-
سب نبی دیتے رہے ہیں جن کے آنے کی خبر
وہ ہیں ہم حکم خدا سے وقت پر موجود ہیں
-
ہم سنانے آئے ہیں پیغام حق پر قوم کو
اسود و احمر ہمارے سب کے سب مقصود ہیں
-
ابن مریم مر گئے ہیں وہ خدا ہر گز نہ تھے
جھوٹ کہتے ہیں جو کہتے ہیں کہ وہ معبود ہیں
-
جاتے ہیں جو آسمان پر وہ کبھی آتے نہیں
کیوں لگے اس فکر میں منکر عبث بے سود ہیں
-
حق تعالیٰ نے بنایا ہم کو اس کا جانشین
آ گئے ہم وقت پر اور مانتے مسعود ہیں
244
-
جو ہمیں مانیں مسیح اور اپنے جھگڑوں میں حکم
وہ ہمارے متبع ہیں وہ ہمیں مودود ہیں
-
ہم جو آئے پھر ہوا تجدید حکم اسجدوا
ہو کے آدم سب ملائک کے بنے مسجود ہیں
-
حق تعالیٰ نے کیا ہے ہم پہ پس لطف وکرم
حد سے بڑھ کر اس کے ہم پر فضل ہیں اور جود ہیں
-
جب سے اللہ نے دیا ہے ہم کویہ قرب مقام
تب سے حاسد کی نگہ میں روز و شب محسود ہیں
-
وہ ہمیں دیتے ہیں دکھ ہم چاہتے ہیں ان کا سکھ
وہ خیال نقص میں ہیں ہم بفکر سود ہیں
-
جو ہمارے در پہ آئے ہو گئے مقبول حق
جو یہاں سے پھر گئے وہ اس کے ہاں مطرود ہیں
-
ہم سے پیچھے ہٹ رہے ہیں فاسق و فاجر تمام
بڑھ رہے ہیں اس طرف جو صالح و مسعود ہیں
-
وہ قلوب مسلمین جو تھے کبھی عرش خدا
کفر کے پردوں میں اب لپٹے ہوئے منصور ہیں
-
نقد ایماں کھو چکے ہیں کافر و مسلم بنام
جو نشان مومن کے ہیں وہ ہر جگہ مفقود ہیں
-
وہ خدا کے فضل جو مخصوص ہیں مومن کے ساتھ
اب ہمارے منکروں پر حشر تک مسدود ہیں
-
انبیاء ہونے ہمارے بعد ہوں یا اولیاء
اب ہمارے اتباع ہیں تا ابد محدود ہیں
-
ہم نے اپنی زندگی میں وحی حق سے دی خبر
جن امور سر و اخفی کی وہ اب مشہود ہیں
-
جانشیں اوّل اپنے ہو چکے ہیں نور دین
بعد ان کے جانشین فضل عمر محمود ہیں
-
مشرق و مغرب سے سوئے قادیان آئیں گے میر
جو شجر حق نے لگایا یا اس کے ظل معروف ہیں
-
مومنوں میں آتش فتنہ جلایا تھا ضرور
بعض ان اصحاب نے جو ساکن اخدود ہیں
-
ابتلاء میں سے مومنوں کا کچھ کبھی بگڑا نہیں
آگ میں پڑ کر وہ خوشبو دینے والے عود ہیں
-
جو مخالف تھے بڑے سب مٹ گئے ان کے نشان
صفحہ ہستی سے ان کے نقش اب مفقود ہیں
-
سعدی رڈولی پگٹ جمونی آتھم ہیں کہاں
خاک میں سب مل گئے اور ناک خاک آلود ہیں
-
فتنہ گر اعدا جو اب ہیں ان کو بھی تم دیکھنا
چند سالوں میں جہاں سے ہوتے یہ نابود ہیں
-
یہ درد جو نظم میں منظوم یوسف نے کئے
یہ ہماری وحی اور تحریر میں موجود ہیں
(مندرجہ بالا نظم میں مرزاغلام احمد کے جو دعاوی پیش کئے گئے ہیں، ان کے ثبوت میں مرزاغلام احمد کی
کتابوں کے بکثرت حوالے دئیے گئے ہیں جو اس نظم کے تحت اخبار میں درج ہیں لیکن بخوف طوالت یہاں ترک کر دئیے
گئے ہیں۔ للمؤلف)
(الفضل قادیان ج۶ نمبر۲۵ ص۹،۱۰، مؤرخہ ۲۴؍ستمبر ۱۹۱۸ء)
(۸۴) یا نبی اللہ، یا رسول اللہ
-
صدی گزری ہے فرقت میں تہائی
بھلا اتنی بھی کیا لمبی جدائی
-
مرے آقا! میری اک عرض سن لو
نہیں رکتی منہ پر بات آئی
-
ہوئے بدنام الفت میں تمہاری
رکھایا نام اپنا میرزائی
245
-
ہزاروں آفتیں اس راہ میں دیکھیں
مگر لب پہ شکایت تک نہ آئی
-
یہی بدلہ تھا کیا مہر و وفا کا؟
کہ اتنی ہو گئی بے اعتنائی
-
وہ صورت، دیکھتے تھے جس کو ہر روز
کچھ ایسی آپ نے ہم سے چھپائی
-
کہ آنا خواب تک میں بھی قسم ہے
نہ تھی گویا کبھی بھی آشنائی
-
ترحم یا نبی اللہ ترحم
دہائی یا رسول اللہ دہائی
-
درد نم خون شد دریا و جاناں
زبانم سوخت از ذکر جدائی
-
کہیں ہم کس سے یہ در نہانی
بجز تیرے مسیح قادیانی
(الفضل قادیان ج۲۷ نمبر۶۷ ص۴، مؤرخہ ۲۳؍مارچ ۱۹۳۹ء)
(۸۵) مزار پرانوار حضرت احمد مختار
(عنوان، الفضل قادیان مؤرخہ ۱۸؍دسمبر ۱۹۲۲ء)
’’جلسہ پر آنے والے بعض دوست یکوں کے اڈے ہی سے باہر دارالعلوم میں چلے جاتے ہیں جہاں ان کے قیام کا
انتظام ہوتا ہے۔ بے شک ایسا ہی ہونا چاہئے۔ لیکن ایام جلسہ میں یا اس کے بعد وطن واپس جانے سے پیش تر کچھ نہ
کچھ وقت مقبرہ بہشتی میں حضرت مسیح موعود کے مزار پرانوار پر حاضر ہونے کا ضرور نکالنا چاہئے… پھر کیا حال
ہے اس شخص کا جو قادیان دارالامان میں آئے اور دو قدم چل کر مقبرہ بہشتی میں حاضر نہ ہو… اس میں وہ روضہ
مطہرہ ہے جس میں اس خدا کے برگزیدہ کا جسم مبارک مدفون ہے جسے افضل الرسل نے اپنا سلام بھیجا اور جس کی نسبت
حضرت خاتم النّبیین نے فرمایا: ’’یدفن معی فی قبری‘‘ اس اعتبار سے مدینہ منورہ کے
گنبد خضراء کے انوار کا پورا پورا پرتو اس گنبد بیضا پر پڑ رہا ہے اور آپ گویا ان برکات سے حصہ لے سکتے ہیں
جو رسول کریم ﷺ کے مرقد منور سے مخصوص ہیں۔ کیا ہی بدقسمت ہے وہ شخص جو احمدیت کے حج اکبر میں اس تمتع سے
محروم رہے۔‘‘ (صیغہ تربیت قادیان)
(الفضل قادیان ج۱۰ نمبر۴۸ ص۶ کالم۲،۳، مؤرخہ ۱۸؍دسمبر ۱۹۲۲ء)
(ب)ہندوؤں کے مقابل
(۸۶) ہندو اور مرزاقادیانی
’’ایک بڑا تخت مربع شکل کا ہندوؤں کے درمیان بچھا ہوا ہے جس پر میں بیٹھا ہوا ہوں۔ ایک ہندو کسی کی
طرف اشارہ کر کے کہتا ہے: ’’کرشن جی کہاں ہیں؟‘‘ جس سے سوال کیاگیا وہ میری طرف اشارہ کرکے کہتا ہے کہ یہ
ہے۔ پھر تمام ہندو روپیہ وغیرہ نذر کے طور پر دینے لگے۔ اتنے میں ہجوم میں سے ایک ہندو بولا، ہے کرشن جی
رودر گوپال۔‘‘
(تذکرہ ص۳۸۱، طبع چہارم)
’’دو دفعہ ہم نے رؤیا میں دیکھا کہ بہت سے ہندو ہمارے آگے سجدہ کرنے کی طرح جھکتے ہیں اور کہتے ہیں
کہ یہ اوتار ہیں اور کرشن ہیں اور پھر ہمارے آگے نذریں دیتے ہیں اور پھر ایک دفعہ الہام ہوا: ہے کرشن رودر
گوپال تیری مہما ہو، تیری استتی گیتا میں موجود ہے۔‘‘
(ملفوظات احمدیہ حصہ چہارم ص۱۴۲، مرتبہ منظور الٰہی لاہوری، ملفوظات ج۳ ص۲۷۰،۲۷۱، جدید ملفوظات ج۲
ص۲۰۱)
246
’’برہمن اوتار سے مقابلہ کرنا اچھا نہیں۔‘‘
(تذکرہ ص۶۲۰، طبع چہارم)
(۸۷) سری کرشن اوتار
’’ہندو جو سناتن دھرمی ہیں، یعنی جو لوگ شاستر اور پورانوں کو نہیں مانتے اور ان کی پیروی کرتے ہیں،
ان کی عقیدت ومذہب میں سری کرشن مہاراج کوئی دیوتا اولیاء یا پیغمبر وغیرہ نہیں ہیں بلکہ ایشور، پرماتما کا
اوتار ہیں… ایک بڑی زبردست فلسفہ کی ان کی تصنیف کتاب بھگوت گیتا ہے۔ جس کو عام لوگ نہیں سمجھ سکتے۔ عام
فاضل سمجھتے ہیں… گیتا کی فلاسفی اتنی مقبول عام ہوئی کہ جس کا جواب کسی دوسری کتاب میں نہیں ملتا… لیکن یہ
کہیں درج نہیں ہے کہ میں ایشور کا قاصد ہوں یا تمہارے سمجھانے کو یا ایک نیا مذہب پھیلانے کو آیا ہوں۔ بلکہ
ہر جگہ یہی کہا ہے کہ میں ایشور ہوں اور دنیا سے پاپی لوگوں کا ناش کرنے آیا ہوں… ہندو اصلی سناتن دھرمی ان
کے اوتار ماننے سے ہرگز انکار نہیں کریں گے۔ خواہ کتنا ہی کسی صورت سے ثابت کیا جائے۔ فقط بھگونت کشور
کرہستی بے راگی۔‘‘
(اخبار منادی دہلی، مؤرخہ ۲۷؍مئی ۱۹۳۸ء)
(۸۸) میں نے سمجھا
’’کشفی طور پر ایک مرتبہ مجھے ایک شخص دکھایا گیا۔ گویا وہ سنسکرت کا ایک عالم آدمی ہے جو کرشن کا
نہایت درجہ معتقد ہے اور میرے سامنے کھڑا ہوا اور مجھے مخاطب کر کے بولا’’ہے رودرگوپال تیری استت گیتا میں
لکھی ہے۔‘‘ اسی وقت میں نے سمجھا کہ تمام دنیا ایک رودرگوپال کا انتظار کر رہی ہے۔ کیا ہندو کیا مسلمان اور
کیا عیسائی مگر اپنے اپنے لفظوں اور زبانوں میں اور سب نے یہی وقت ٹھہرایا ہے اور اس کی یہ دونوں صفتیں قائم
کی ہیں۔ یعنی سوروں کو مارنے والا اور گائیوں کی حفاظت کرنے والا اور وہ میں ہوںجس کی نسبت ہندوؤں میں پیش
گوئی کرنے والے قدیم سے زوردیتے آئے ہیں کہ وہ آریہ ورت میں یعنی اسی ملک ہند میں پیدا ہوگا اور انہوں نے اس
کے مسکن کے نام بھی لکھے ہیں۔ مگر وہ تمام نام استعارہ کے طور پر ہیں جن کے نیچے ایک اور حقیقت ہے اور لکھتے
ہیں کہ وہ برہمن کے گھر میں جنم لے گا۔ یعنی وہ جو برہم کو سچا اور واحد لاشریک سمجھتا ہے۔ یعنی مسلمان۔‘‘
(تحفہ گولڑویہ ص۱۳۰،۱۳۱، خزائن ج۱۷ ص۳۱۷،۳۱۸ حاشیہ)
(۸۹) راجہ کرشن
’’اب واضح ہو کہ راجہ کرشن جیسا کہ میرے پر ظاہر کیاگیا ہے، درحقیقت ایک ایسا کامل انسان تھا جس کی
نظیر ہندوؤں کے کسی رشی اور اوتار میں نہیں پائی جاتی اور اپنے وقت کا اوتار یعنی نبی تھا جس پر خدا کی طرف
سے روح القدس اترتا تھا۔ وہ خدا کی طرف سے فتح مند اور بااقبال تھا جس نے آریہ ورت کی زمین کو پاپ سے صاف
کیا۔ وہ اپنے زمانے کا درحقیقت نبی تھا جس کی تعلیم کو پیچھے سے بہت باتوں میں بگاڑ دیا گیا۔ وہ خدا کی محبت
سے پرتھا اور نیکی سے دوستی اور شر سے دشمنی رکھتا تھا۔ خداکا وعدہ تھا کہ آخری زمانہ میں اس کا بروز یعنی
اوتار پیداکرے۔ سو یہ وعدہ میرے ظہور سے پورا ہوا۔ مجھے منجملہ اور الہاموں کے اپنی نسبت ایک یہ بھی الہام
ہوا تھا کہ ہے کرشن رودرگوپال، تیری مہما گیتا میں لکھی گئی ہے۔‘‘
(لیکچر سیالکوٹ ص۳۳،۳۴، خزائن ج۲۰ ص۲۲۸،۲۲۹)
(۹۰) مرزاکرشن
’’آخر پھر یہ بھی واضح ہو کہ میرا اس زمانہ میں خداتعالیٰ کی طرف سے آنا محض مسلمانوں کی اصلاح کے لئے
ہی نہیں ہے بلکہ
247
مسلمانوں اور ہندوؤں اور عیسائیوں تینوں قوموں کی اصلاح منظور ہے اور جیسا کہ خدا نے مجھے مسلمانوں
اور عیسائیوں کے لئے مسیح موعود کر کے بھیجا ہے، ایسا ہی میں ہندوؤں کے لئے بطور اوتار کے ہوں اور میں عرصہ
بیس برس سے یا کچھ زیادہ برسوں سے اس بات کو شہرت دے رہا ہوں کہ میں ان گناہوں کے دور کرنے کے لئے جن سے
زمین پر ہوگئی ہے، جیسا کہ مسیح ابن مریم کے رنگ میں میں ہوں، ایسا ہی راجہ کرشن کے رنگ میں بھی ہوں جو ہندو
مذہب کے تمام اوتاروں میں سے ایک بڑا اوتار تھا۔ یا یوں کہنا چاہئے کہ روحانی حقیقت کی رو سے میں وہی (کرشن)
ہوں۔‘‘
(لیکچر سیالکوٹ ص۳۳، خزائن ج۲۰ ص۲۲۸)
’’جیسا کہ میں ابھی بیان کر چکا ہوں مجھے اور نام بھی دئیے گئے ہیں اور ہر ایک نبی کا مجھے نام دیاگیا
ہے۔ چنانچہ جو ملک ہند میں کرشن نام ایک نبی گزرا ہے جس کو رودرگوپال بھی کہتے ہیں، (یعنی فنا کرنے والا اور
پرورش کرنے والا) اس کا نام بھی مجھے دیا گیا ہے۔ پس جیسا کہ آریہ قوم کے لوگ کرشن کے ظہور کا ان دنوں میں
انتظار کرتے ہیں، وہ کرشن میں ہی ہوں اور یہ دعویٰ صرف میری طرف سے نہیں بلکہ خداتعالیٰ نے باربار میرے پر
ظاہر کیا ہے کہ جو کرشن آخری زمانہ میں ظاہر ہونے والا تھا، وہ تو ہی ہے، آریوں کا بادشاہ۔‘‘
(تتمہ حقیقت الوحی ص۸۵، خزائن ج۲۲ ص۵۲۱،۵۲۲)
(۹۱) وہی ہمارا کرشن
’’اے ہندو بھائیو! اس زمانہ کا اوتار کسی خاص قوم کا نہیں، وہ مہدی بھی ہے۔ کیونکہ مسلمانوں کی نجات
کا پیغام لایا ہے۔ وہ عیسیٰ بھی ہے کیونکہ عیسائیوں کی ہدایت کا سامان لایا ہے۔ وہ نہ کلنک اوتار بھی ہے
کیونکہ وہ تمہارے لئے، ہاں اے ہندو بھائیو! تمہارے لئے خداتعالیٰ کی محبت کی چادر کا تحفہ لایا ہے… اس نہ
کلنک اوتار کا نام مرزاغلام احمد ہے جو قادیان ضلع گورداسپور میں ظاہر ہوئے تھے۔ خدا نے ان کے ہاتھ پر
ہزاروں نشان دکھائے ہیں اور ان کے ذریعہ سے وہ پھر دنیا کو انصاف اور عدل سے بھرنا چاہتا ہے۔ جو لوگ ان پر
ایمان لاتے ہیں، ان کو خداتعالیٰ بڑا نور بخشتا ہے اور ان کی دعائیں سنتا ہے اور ان کی سفارش پر لوگوں کی
تکلیفوں کو دور کرتا ہے اور عزتیں بخشتا ہے۔ آپ کو چاہئے کہ ان کی تعلیم کو پڑھ کر نور حاصل کریں۔‘‘
(مرزامحمود خلیفہ قادیان کا مضمون ’’وہی ہمارا کرشن‘‘، الفضل قادیان ج۲۳ نمبر۲۲۷، مؤرخہ ۲؍اپریل
۱۹۳۶ء)
(۹۲) موجودہ زمانہ کا اوتار
’’اس سمے جب کہ ہندو قوم نانا پرکار کے پاپوں میں لین ہوچکی ہے اور سارے ورن اپنے دھرم سے گر چکے تھے،
بھگوان کرشن اپنے دعوے انوسار جو کہ آپ نے گیتا میں کیا تھا کہ میں لوگوں کی ہدایت اور پاپوں کے ناش کے لئے
اس سنسار میں جنم لیا کروں گا۔ قادیان کی پوترنگری میں ایک پرماتما کے اپاسک کے ہاں جنم لیا جن کا نام حضرت
مرزاغلام احمد ہے۔ آپ نے پرماتما سے گیان حاصل کر کے سارے سنسار کو سنایا کہ اے بھائیو پر ماتما نے تمہارے
ادھار کے لئے مجھ کو بھیجا ہے تاکہ میں تم کو پاپوں سے دور کر کے پرماتما کے آور لے جاؤں اور ایشور کی کرپا
سے لاکھوں انسانوں نے آپ کی اس آواز کو سوئیکار کر کے آپ کے دامن کے ساتھ اپنے آپ کو وابستہ کر دیا… جماعت
احمدیہ کا اعتقاد جو کہ بھگوان کرشن کے متعلق ہے، ظاہر ہے کہ ہم ان کو صادق راست باز اور پرماتما کی طرف سے
گیان لے کر آئے تھے۔ چنانچہ بھگوان کرشن قادیانی اپنے ایک بھاشن میں فرماتے ہیں: اب واضح ہو کہ راجہ کرشن
جیسا کہ میرے پر ظاہر کیاگیا ہے، درحقیقت ایک ایسا کامل انسان تھا، جس کی نظیر ہندوؤں کے کسی رشی یا اوتار
میں نہیں پائی جاتی۔ وہ اپنے زمانہ کا درحقیقت نبی تھا جس کی تعلیم کو پیچھے سے
248
بہت سی باتوں میں بگاڑ دیا گیا۔ وہ خدا کی محبت سے پر تھا اور نیکی سے دوستی اور شر سے دشمنی رکھتا
تھا۔
(لیکچر سیالکوٹ ص۳۳،۳۴، خزائن ج۲۰ ص۲۲۸،۲۲۹)
شریمان آنند بھگوان کرشن قادیانی نے اپنے اس بھاشن میں یہ بات اچھی طرح سپشٹ کر دی ہے کہ بھگوان کرشن
اپنے سمے کا اوتار اور پرماتما کا پیارا، راست باز تھا اور جماعت احمدیہ کا ایک ایک بچہ ان کے متعلق یہی
وچار رکھتا ہے اور جماعت احمدیہ جس طرح اور راست بازوں کی عزت کرتی ہے اور ان کی ہتک ہرگز برداشت نہیں کرتی،
اسی طرح کرشن بھگوان کے متعلق بھی ہمارا یہی طریق عمل ہے۔ (وجہ ظاہر ہے مرزاقادیانی خود کرشن کا اوتار ہونے
کے مدعی ہیں۔ للمؤلف)‘‘
(مہاشہ محمد عمر شرما قادیانی کا مضمون، الفضل قادیان ج۲۳ نمبر۲۳۲ ص۴ کالم۱تا۳، مؤرخہ ۸ا؍اپریل
۱۹۳۶ء)
(۹۳) یوم ولادت حضرت کرشن علیہ السلام
(عنوان، الفضل قادیان مؤرخہ ۱۳؍اگست ۱۹۳۶ء)
’’حضرت کرشن علیہ السلام کے یوم ولادت (جنم اشٹمی) کی تقریب پر جماعت احمدیہ حلقہ مزنگ لاہور نے ایک
جلسہ ۹؍اگست ۱۹۳۶ء بوقت ساڑھے آٹھ بجے شب کیا۔ جس کا اعلان بذریعہ اشتہارات کیاگیا تھا اور سناتن دھرم پرتی
مذھی سبھا سے درخواست کی گئی کہ وہ اپنا کوئی نمائندہ حضرت کرشن کے حالات سنانے کے لئے ہمارے جلسہ میں
بھیجیں… آخر میں جناب ملک عبدالرحمن صاحب خادم (قادیانی) نے اپنی صدارتی تقریر میں فرمایا: ہم نے یہ جلسہ اس
لئے منعقد کیا ہے کہ ہم اپنے عمل سے ثابت کر دیں کہ ہم واقع میں حضرت کرشن کو نبی مانتے ہیں۔ ہم حضرت کرشن
کے متعلق کوئی ایسا کلمہ نہیں سن سکتے جس سے ان کی ہتک ہوتی ہو اور یہ بحث کہ ان کے عقائد کیا تھا۔ اس کا
آسان طریق یہ ہے کہ جو عقائد معقول ثابت ہوں، وہ آپ کی طرف منسوب کئے جائیں اور جو عقائد غیرمعقول ہوں، ان
کے متعلق یقین کر لیا جائے کہ یہ بعد میں لوگوں نے ان کی طرف غلط طور پر منسوب کر دئیے ہیں۔‘‘
(الفضل قادیان ج۲۴ نمبر۳۸ ص۲ کالم۱،۲، مؤرخہ ۱۳؍اگست ۱۹۳۶ء)
(۹۴) حضرت مسیح اور کرشن علیہ السلام
(عنوان، ریویو قادیان نومبر ۱۹۰۴ء)
’’ہم خداتعالیٰ سے دعا کرتے ہیں کہ جلد وہ زمانہ آوے کہ ہمارے ہندو بھائیوں کے دلوں پر سے پردے اٹھ
جائیں اور ان کو اپنی مذہبی غلطیوں پر بصیرت اور معرفت حاصل ہو جائے اور ان کے سینے اس سچائی کو قبول کرنے
کے لئے کھل جاویں جو دین اسلام تعلیم کرتا ہے۔ ہم اس بات کو مانتے ہیں کہ آخری زمانہ میں ایک اوتار کے ظہور
کے متعلق جو وعدہ انہیں دیاگیا تھا، وہ خدا کی طرف سے تھا اور اس کو ہندوستان کے مقدس نبی مرزاغلام احمد
قادیانی کے وجود میں خداتعالیٰ نے پورا کر دکھایا۔‘‘
(مولوی محمد علی لاہوری قادیانی، امیر جماعت لاہور، ریویو آف ریلیجنز قادیان ج۳ نمبر۱۱ ص۴۱۰،۴۱۱، بابت
ماہ نومبر ۱۹۰۴ء)
(۹۵) مرلی کی نئی دھن
’’ہندوستان کا مستقبل اس وسیع براعظم کے فرزندوں کے باہمی سمجھوتہ اور فرقہ وارانہ اختلافات کے حل پر
منحصر ہے۔ پنڈت جواہرلال نہرو کی لامذہبیت ہماری بگڑی کو نہیں بناسکتی۔ کیونکہ ہم فطرتاً مذہب پسند ہیں۔
آریہ سماج کی خشکی، ملاؤں کی خونخواری، نئی نئی بننے والی سوسائٹیوں کی صلح کن پالیسی بھارت کی قسمت کونہیں
پلٹ سکتی۔ ہمارے دکھوں کا علاج، ہماری سیاسی غلامی کی آزادی، کرشن کی مرلی کی
249
جدید دھن پر موقوف ہے۔ ہمارے زمانہ کا کرشن (مرزاغلام احمد قادیانی۔ للمؤلف) وہ (سابق زمانہ کا
کرشن۔ للمؤلف) نہیں جو ارجن کو مادی تیر چلانے اور کوروں کو خاک میں ملانے کا وعظ کرے۔ بلکہ مرلی کی نئی
دھن زمین پر صلح اور اہل زمین کی طرف پیغام آشتی ہے۔ ہم نے آج سے ۳۲سال قبل (یعنی ۱۹۰۴ء میں جب کہ مرزاغلام
احمد نے کرشن ہونے کا دعویٰ کیا اور دعوے کا اعلان کیا۔ للمؤلف) اس جمال جہاں آرا (یعنی مرزاغلام احمد
قادیانی۔ للمؤلف) کو دیکھا اور درخواست کی ’’تنک نجریا کیہنو ہمرہی اور گوپال‘‘ نظر التفات ہوئی بیڑا پار
ہوا جو بھگت سوورما کو ملا، وہ سب کو ملنا چاہئے۔ اسی لئے جی چاہتا ہے کہ ہندو خوش ہوکہ احمدی مسلمان سرک
کرشن کو اللہ کا نبی مانتا ہے اور ہندوؤں کی محبوب ترین ہستی سے محبت رکھتا ہے (اور اس کے ساتھ مرزاغلام احمد
قادیانی صاحب کو کرشن جی کا اوتار مانتا ہے اور ان سے افضل جانتا ہے)‘‘
(الفضل قادیان ج۲۴ نمبر۸۹ ص۷ کالم۱، مؤرخہ ۱۳؍اکتوبر ۱۹۳۶ء)
’’اس زمانہ کے نبی حضرت مرزاغلام احمد قادیانی صاحب نے بڑے زور سے اپنی جماعت کو یہ تعلیم دی ہے کہ وہ
کرشن کو نبی مانیں۔ (مصلحت ظاہر ہے خود مرزاغلام احمد کرشن جی کا اوتار ہونے کے مدعی ہیں۔ للمؤلف)‘‘
(الفضل قادیان ج۲۴ نمبر۳۸ ص۲ کالم۱، مؤرخہ ۱۳؍اگست ۱۹۳۶ء)
(۹۶) یاد رکھو
’’یادرکھو حضرت مسیح موعود (مرزاقادیانی) مہدی اور مسیح ہی نہیں بلکہ کرشن بھی ہیں۔ یعنی آپ ہندوؤں
کے لئے بھی ہادی ہیں۔ اب ہم ان میں تبلیغ شروع کریں گے اور جب تک ہم ہندوؤں میں تبلیغ نہ کریں، حضرت مسیح
موعود کرشن کیسے ثابت ہوسکتے ہیں۔ حضرت مسیح موعود مسیح ہیں۔ آپ کی جماعت کو مسیحیوں پر غلبہ ملے گا۔ آپ
مہدی ہیں، مسلمانوں کو دوبارہ ہدایت آپ کے ذریعے ملے گی۔ آپ کرشن ہیں، ہندوؤں میں آپ کی جماعت کو غلبہ اور
آپ کی قبولیت پھیلے گی۔ ہمارے لئے حق پھیلانے کی راہیں کھل رہی ہیں۔ ہم ہندوؤں میں کام کریں گے اور وحشیوں
تک میں دین پھیلائیں گے۔‘‘
(خطبہ جمعہ الفضل قادیان ج۱۰ نمبر۷۱ ص۶ کالم۱،۲، مؤرخہ ۱۵؍مارچ ۱۹۲۳ء، خطبات محمود ج۸ ص۴۰)
(۹۷) ہندو عورتوں سے نکاح جائز
’’(مرزامحمود خلیفہ قادیان نے) فرمایا کہ ہندو اہل کتاب ہیں اور سکھ بھی۔ کیونکہ وہ مسلمانوں کا ہی
بگڑا ہوا فرقہ ہے۔‘‘
(مرزامحمود خلیفہ قادیان کی ڈائری، الفضل قادیان ج۱۰ نمبر۵ ص۵ کالم۲، مؤرخہ ۱۷؍جولائی ۱۹۲۲ء)
’’ہندوستان میں ایسی مشرکات جن سے نکاح ناجائز ہے، بہت کم ہیں۔ مجارٹی ایسے لوگوں کی ہے جن کی عورتوں
سے نکاح جائز ہے۔ اس لئے مسلمانوں کے لئے اس مسئلہ پر عمل کرنے میں زیادہ دقتیں نہیں۔ سوائے سکھوں اور
جینیوں کے۔ عیسائیوں کی عورتوں اور ان تمام لوگوں کی عورتوں سے جو وید پر ایمان رکھتے ہیں (یعنی ہندوؤں کی
عورتوں سے) نکاح جائز ہے۔‘‘
(مرزامحمود خلیفہ قادیان کا فتویٰ، الفضل قادیان ج۱۷ نمبر۶۵ ص۸ کالم۳، مؤرخہ ۱۸؍فروری ۱۹۳۰ء)
(۹۸) چو مکھی نبوت
’’خداتعالیٰ نے ’’جری اللہ فی حلل الانبیاء‘‘ تمام نبیوں کے قائم مقام ایک نبی
مبعوث فرمایا جو یہودیوں کے لئے موسیٰ، عیسائیوں کے لئے عیسیٰ اور ہندوؤں کے لئے کرشن اور مسلمانوں کے لئے
محمد اور احمد ہے۔‘‘
(الفضل قادیان ج۳ نمبر۱۱۱ ص۹ کالم۱، مؤرخہ ۶؍مئی ۱۹۱۶ء)
250
فصل چھٹی
انکشافات
(الف) متفرقات
(۱) شیطان کا فریب
’’جو شخص ایسا کلمہ منہ سے نکالے جس کی کوئی اصل صحیح شرع میں نہ ہو۔ خواہ وہ ملہم ہو یا مجتہد ہو، تو
اس کے ساتھ شیطان کھیل رہا ہے۔‘‘ (ترجمہ)
(آئینہ کمالات اسلام ص۲۱، خزائن ج۵ ص۲۱)
’’آنحضرت ﷺ کو دیکھو کہ جب آپ پر فرشتہ جبرائیل ظاہر ہوا تو آپ ﷺ نے فی الفور یقین نہ کیا کہ یہ خدا
کی طرف سے ہے بلکہ حضرت خدیجہt کے پاس ڈرتے ڈرتے آئے اور فرمایا کہ ’’خشیت علی
نفسی‘‘ یعنی مجھے اپنے نفس کی نسبت بڑا اندیشہ ہوا ہے کہ کوئی شیطانی مکر نہ ہو۔ لیکن جولوگ بغیر
تزکیہ نفس کے جلدی سے ولی بننے کی خواہش کرتے ہیں وہ جلدی سے شیطان کے فریب میں آجاتے ہیں۔‘‘
(تتمہ حقیقت الوحی ص۱۴۰، خزائن ج۲۲ ص۵۷۸)
’’کلمہ اللہ موسی علی جبل وکلمہ الشیطان عیسی علی جبل فانظر الفرق بینہما ان کنت من
الناظرین خدا ایک پہاڑ پر موسیٰ سے ہم کلام ہو اور ایک پہاڑ پر شیطان عیسیٰ سے ہم کلام ہوا۔ سو
اس دونوں قسم کے مکالمہ میں غور کر اگر غور کرنے کا مادہ ہے۔‘‘
(نور الحق حصہ اوّل ص۵۰، خزائن ج۸ ص۶۸ حاشیہ)
’’الہام رحمانی بھی ہوتا ہے شیطانی بھی اور جب انسان اپنے نفس اور خیال کو دخل دے کر کسی بات کے
استکشاف کے لئے بطور استخارہ یا استخبارہ وغیرہ کے توجہ کرتا ہے خاص کر اس حالت میں کہ جب اس کے دل میں یہ
تمنا مخفی ہوتی ہے کہ میری مرضی کے موافق کسی کی نسبت کوئی برا یا بھلا کلمہ بطور الہام مجھے معلوم ہو جائے
تو شیطان اس وقت اس کی آرزو میں دخل دیتا ہے اور کوئی کلمہ اس کی زبان پر جاری ہو جاتا ہے اور دراصل وہ
شیطانی کلمہ ہوتا ہے۔ یہ دخل کبھی انبیاء اور رسولوں کی وحی میں بھی ہو جاتا ہے۔ مگر وہ بلاتوقف نکالا جاتا
ہے… اب خیال کرنا چاہئے کہ جس حالت میں قرآن کریم کی رو سے الہام اور وحی میں دخل شیطان ممکن ہے اور پہلی
کتابیں تورات وانجیل اس دخل کی مصدق ہیں اور اسی بناء پر الہام ولایت یا الہام عامہ مومنین بجز موافقت
ومطابقت قرآن کریم کے حجت بھی نہیں۔‘‘
(ازالہ اوہام حصہ دوم ص۶۲۹، خزائن ج۳ ص۴۳۹تا۴۴۹)
’’سید عبدالقادر جیلانی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ ایک دفعہ شیطانی الہام مجھے بھی ہوا تھا۔ شیطان
نے کہا کہ اے عبدالقادر تیری عبادتیں قبول ہوئیں، اب جو کچھ دوسروں پر حرام ہے تیرے پر حلال ہے اور نماز سے
بھی اب تجھے فراغت ہے جو چاہے کر۔ تب میں نے کہا، اے شیطان دور ہو۔ وہ باتیں میرے لئے کب رواہوسکتی ہیں جو
نبی علیہ السلام پر روا نہیں ہوئیں۔ تب شیطان مع اپنے سنہری تخت کے میری آنکھوں کے سامنے سے گم ہوگیا۔ اب جب
کہ سید عبدالقادر جیسے اہل اللہ اور مرد فرد کو شیطانی الہام ہوا تو دوسرے عامتہ الناس جنہوں نے ابھی اپنا
سلوک بھی تمام نہیں کیا، وہ کیوں کر اس سے بچ سکتے ہیں اور ان کو وہ نورانی آنکھیں کہاں حاصل ہیں۔ تاسید
عبدالقادر اور حضرت مسیح علیہ السلام کی طرح شیطانی الہام کو شناخت کر لیں۔‘‘
(ضرورۃ الامام ص۱۷، خزائن ج۱۳ ص۴۸۷،۴۸۸)
251
(۲) بہت سے لوگ
’’میں نے بہت سے لوگ دیکھے ہیں جو ہر آواز کو جو انہیں آجائے الہام ہی سمجھتے ہیں۔ حالانکہ اضغاث
احلام بھی ہوتے ہیں۔ ہم یہ نہیں کہتے کہ جو آوازیں انہیں سنائی دیتی ہیں وہ بناوٹی ہیں۔ نہیں، ان کو آوازیں
آتی ہوں گی۔ مگر ہم ہر آواز کو خداتعالیٰ کی آواز قرار نہیں دے سکتے۔ جب تک اس کے ساتھ وہ انوار اور برکات
نہ ہوں جو اللہ تعالیٰ کے پاک کلام کے ساتھ ہوتے ہیں۔ اس لئے ہم کہتے ہیں کہ ان الہام کے دعوے کرنے والوں کو
اپنے الہاموں کو اس کسوٹی پر پرکھنا چاہئے اور اس بات کو بھی انہیں فراموش نہیں کرنا چاہئے کہ بعض آوازیں
نری شیطانی ہوتی ہیں۔ اس لئے ان آوازوں پر ہی فریفتہ ہو جانا دانشمند انسان کا کام نہیں، بلکہ جب تک اندرونی
نجاست اور گند دور نہ ہو اور تقویٰ کی اعلیٰ درجہ کی صفائی حاصل نہ ہو اور اس درجہ اور مقام پر انسان نہ
پہنچ جائے جو دنیا ایک مرے ہوئے کیڑے سے بھی حقیر اور ذلیل نظر آئے اور اللہ تعالیٰ ہی ہر قول وفعل میں مقصود
ہو اس مقام پر قدم نہیں پڑ سکتا۔ جہاں پہنچ کر انسان اپنے اللہ کی آواز سنتا ہے اور وہ آواز حقیقت میں اسی کی
ہوتی ہے کیونکہ اس وقت یہ تمام نجاستوں سے پاک ہوگیا ہوتا ہے۔‘‘
(الفضل قادیان ج۱۸ نمبر۱۳۰ ص۱ کالم۲،۳، مؤرخہ ۱۲؍مئی ۱۹۳۱ء)
(۳) فتنہ عظیم
’’اس زم انے میں جس طرح اور صدہا طرح کے فتنے اور بدعتیں پیدا ہوگئی ہیں، اسی طرح یہ بھی ایک بزرگ
فتنہ پیدا ہوگیا ہے کہ اکثر لوگ اس بات سے بے خبر ہیں کہ کس درجہ اور کس حالت میں کوئی خواب یا الہام قابل
اعتبار ہوسکتا ہے اور کن حالتوں میں یہ اندیشہ ہے کہ وہ شیطان کا کلام ہو نہ خدا کا اور حدیث النفس ہو نہ
حدیث الرب۔ یاد رکھنا چاہئے کہ شیطان انسان کا سخت دشمن ہے۔ وہ طرح طرح کی راہوںسے انسان کو ہلاک کرنا چاہتا
ہے اور ممکن ہے کہ ایک خواب سچی بھی ہو اور پھر بھی وہ شیطان کی طرف سے ہو اور ممکن ہے ایک الہام سچا ہو اور
پھر بھی وہ شیطان کی طرف سے ہو۔ کیونکہ اگرچہ شیطان بڑا جھوٹا ہے۔ لیکن کبھی سچی بات بتلا کر دھوکا دیتا ہے
تاایمان چھین لے… افسوس کہ اکثر لوگ ایسے ہیں کہ ابھی شیطان کے پنجہ میں گرفتار ہیں۔ مگر پھر بھی اپنی
خوابوں اور الہاموں پر بھروسہ کر کے اپنے ناراست اعتقادوں اور ناپاک مذہبوں کوان خوابوں اور الہاموں سے فروغ
دینا چاہتے ہیں، بلکہ بطور شہادت ایسی خوابوں اور الہاموں کو پیش کرتے ہیں… اور بعض ایسے بھی ہیں کہ چند
خوابیں یا الہام ان کے جوان کے نزدیک سچے ہوگئے ہیں، ان کی بناء پر وہ اپنے تئیں اماموں یا پیشواؤں یا
رسولوں کے رنگ میں پیش کرتے ہیں۔‘‘
(حقیقت الوحی ص۱،۲، خزائن ج۲۲ ص۳،۴)
’’پس یہ کمال شقاوت اور نادانی اور بدبختی ہے کہ یہ سمجھ لیا جائے کہ انسانی کمال بس اسی پر ختم ہے کہ
کسی کو کوئی سچی خواب آ جائے یا سچا الہام ہو جائے بلکہ انسانی کمال کے لئے اور بہت سے لوازم اور شرائط ہیں
اور جب تک وہ متحقق نہ ہوں تب تک یہ خوابیں اور الہام بھی مکر اللہ میں داخل ہیں۔ خدا ان کے شر سے ہر ایک سالک
کو محفوظ رکھے۔‘‘
(حقیقت الوحی ص۸، خزائن ج۲۲ ص۱۱)
’’بعض فاسق اور فاجر اور زانی اور ظالم اور غیرمتدین اور چور اور حرام خور اور خدا کے احکام کے مخالف
چلنے والے بھی ایسے دیکھے گئے ہیں کہ ان کو بھی کبھی کبھی سچی خوابیں آتی ہیں اور یہ میرا ذاتی تجربہ ہے کہ
بعض عورتیں جو قوم کی چوہڑی یعنی بھنگن تھی، جنکا پیشہ مردار کھانا اور ارتکاب جرائم کام تھا، انہوں نے
ہمارے روبرو بعض خوابیں بیان کیں اور وہ سچی نکلیں۔ اس سے بھی عجیب تر یہ کہ بعض زانیہ عورتیں اور قوم کے
کنجر، جن کا دن رات زناکاری کام تھا، ان کو دیکھا گیا کہ بعض خوابیں انہوں نے بیان کیں اور وہ پوری ہوگئیں
اور بعض ایسے ہندوؤں کو بھی دیکھا کہ نجاست شرک سے ملوث اور اسلام کے سخت دشمن ہیں۔ بعض خوابیں ان کی جیسا
کہ دیکھا تھا، ظہور میں آگئیں۔‘‘
(حقیقت الوحی ص۲،۳، خزائن ج۲۲ ص۵)
252
’’اور بقول مشہور کہ نیم ملا خطرہ ایمان۔ وہ اپنی معرفت ناقصہ کی وجہ سے خطرہ کی حالت میں ہے۔ ہاں!
ایسے لوگوں کو بھی کسی قدر کچھ معارف اور حقائق معلوم ہو جاتے ہیں۔ مگر اس دودھ کی طرح جس میں کچھ پیشاب بھی
پڑا ہو اور اس پانی کی طرح جس میں کچھ نجاست بھی ہو… چونکہ اس کی فطرت میں ابھی شیطان کا حصہ باقی ہے۔ اس
لئے شیطانی القاء سے بچ نہیں سکتا اور چونکہ نفس کے جذبات بھی دامن گیر ہیں۔ اس لئے حدیث النفس سے بھی محفوظ
نہیں رہ سکتا۔ اصل بات یہ ہے کہ وحی اور الہام کی کمال صفائی، صفائی نفس پر موقوف ہے۔ جس کے نفس میں ابھی
کچھ گند باقی ہے، ان کی وحی اور الہام میں بھی گند باقی ہے۔‘‘
(حقیقت الوحی ص۱۳، خزائن ج۲۲ ص۱۵،۱۶)
’’آسمانی نشانوں سے حصہ لینے والے تین قسم کے آدمی ہوتے ہیں۔ اوّل وہ جو کوئی ہنر اپنے اندر نہیں
رکھتے اور کوئی تعلق خداتعالیٰ سے ان کا نہیں ہوتا۔ صرف دماغی مناسبت کی وجہ سے ان کو بعض سچی خوابیں آجاتی
ہیں اور سچے کشف ظاہر ہو جاتے ہیں… پھر دوسری قسم کے خواب بین یا ملہم وہ لوگ ہیں جن کو خداتعالیٰ سے کسی
قدر تعلق ہے مگر کامل تعلق نہیں… پھر تیسری قسم کے ملہم وخواب بین وہ لوگ ہیں… جو شہوات نفسانیہ کا چولا آتش
محبت الٰہی میں جلادیتے ہیں اور خدا کے لئے تلخی کی زندگی اختیار کر لیتے ہیں۔‘‘
(حقیقت الوحی ص۲۰تا۲۲، خزائن ج۲۲ ص۲۲تا۲۴)
’’اب میں بموجب آیت کریمہ ’’واما بنعمۃ ربک فحدث‘‘ اپنی نسبت بیان کرتا ہوں کہ
خداتعالیٰ نے مجھے اس تیسرے درجہ میں داخل کر کے وہ نعمت بخشی ہے کہ جو میری کوشش سے نہیں بلکہ شکم مادر میں
ہی مجھے عطاء کی گئی ہے۔ میری تائید میں اس نے وہ نشان ظاہر فرمائے ہیں کہ آج کی تاریخ سے جو ۱۶؍جولائی
۱۹۰۶ء ہے، اگر میں ان کو فرداً فرداً شمار کروں تو میں خداتعالیٰ کی قسم کھا کر کہہ سکتا ہوں کہ وہ تین لاکھ
سے بھی زیادہ ہیں اور اگر کوئی میری قسم کا اعتبار نہ کرے تو میں اس کو ثبوت دے سکتا ہوں۔‘‘
(حقیقت الوحی ص۶۷، خزائن ج۲۲ ص۷۰)
(۴) مالیخولیا کے کرشمے
’’مالیخولیا کے بعض مریض بظاہر صحیح الدماغ معلوم ہوتے ہیں مگر جب ان کی طول طویل اور بے سروپا باتیں
سنی جائیں تو حاذق طبیب سمجھ لیتا ہے کہ وہ مالیخولیا میں مبتلا ہے۔‘‘
(بعنوان ’’حکیم نورالدین کی تحقیقات‘‘ ملخص سودائے مرزا، حکیم محمد علی ص۱۲)
’’طرح طرح کے ایسے خیال ان کے دل میں آتے ہیں جن کی کوئی حقیقت نہیں ہوتی۔‘‘
(تحقیقات ڈاکٹر شاہ نواز قادیانی اسسٹنٹ سرجن، ریویو آف ریلیجنز قادیان ج۲۶ نمبر۵ ص۲۲، بابت ماہ مئی
۱۹۲۷ء)
’’بعض مریضوں میں یہ فساد گاہے اس حد تک پہنچ جاتا ہے کہ وہ اپنے آپ کو غیب دان سمجھتا ہے اور بسا
اوقات آئندہ ہونے والے واقعات کی خبر پہلے ہی سے دے دیتا ہے اور بعض میں فساد یہاں تک ترقی کر جاتا ہے کہ اس
کو اپنے متعلق یہ خیال ہوتا ہے کہ میں فرشتہ ہوں۔‘‘
(شرح اسباب وعلامات باب امراض دماغ ص۷۰، مصنفہ حکیم برہان الدین نفیس)
’’بعض عالم اسی مرض میں مبتلا ہوکر دعوے پیغمبری کرنے لگتے ہیں اور اپنے بعض اتفاقی واقعات کو معجزات
قرار دینے لگتے ہیں۔‘‘
(مخزن حکمت طبع پنجم ج۲ ص۱۳۵۲، مصنفہ شمس الاطباء حکیم ڈاکٹر غلام جیلانی)
’’تیما پور ملک دکن کے ایک صاحب مولوی عبد اللہ (قادیانی) آج کل ایک ابتلاء میں مبتلا ہیں اور اس بات کے
مدعی ہیں کہ اصل مہدی موعود وہی ہیں اور حضرت صاحب مسیح تھے… اس میں کچھ شک نہیں کہ یہ مفتری نہیں ہیں لیکن
دماغی حالت کی وجہ سے بیمار ومعذور ہیں۔‘‘
(تشحیذ الاذہان، مرزامحمود خلیفہ قادیان ج۶ نمبر۱۱ ص۴۱۴،۴۱۵، بعنوان مولوی عبد اللہ تیماپوری)
253
(۵) مرزاقادیانی کی توجیہ
مرزاغلام احمد قادیانی کے ایک حوصلہ مند مرید چراغ دین نامی نے بھی مرزاغلام احمد قادیانی کے ماتحت
رسالت کا دعویٰ کیا تو مرزاغلام احمد قادیانی کو بہت ناگوار گزرا اور صاحب موصوف نے ارشاد فرمایا:
’’نفس امارہ کی غلطی نے اس کو (یعنی چراغ دین کو) خود ستائی پر آمادہ کیا ہے۔ پس آج کی تاریخ سے وہ
ہماری جماعت سے منقطع ہے۔ جب تک کہ مفصل طور پر اپنا توبہ نامہ شائع نہ کرے اور اس ناپاک رسالت کے دعوے سے
ہمیشہ کے لئے مستعفی نہ ہو جائے۔
المشتہر خاکسار مرزاغلام احمد قادیانی مؤرخہ ۲۳؍اپریل ۱۹۰۲ء‘‘
(دافع البلاء ص۲۲، خزائن ج۱۸ ص۲۴۲، مجموعہ اشتہارات ج۳ ص۴۷۴، جدید مجموعہ اشتہارات ج۲ ص۵۶۱)
’’اس دعوے کی نفسیات کی مرزاقادیانی نے جو تشریح فرمائی ہے وہ خاص طور پر قابل غور ہے۔ ملاحظہ ہو۔
ایسے خیالات خشک مجاہدات کا نتیجہ یا تمنا اور آرزو کے وقت القائے شیطان ہوتا ہے اور یا خشکی اور
سوداوی مواد کی وجہ سے کبھی الہامی آرزو کے وقت ایسے خیالات کا دل پر القا ہو جاتا ہے اور چونکہ ان کے نیچے
کوئی روحانیت نہیں ہوتی۔ اس لئے الٰہی اصطلاح میں ایسے خیالات کا نام جبیز ہے اور علاج توبہ اور استغفار اور
ایسے خیالات سے اعراض کلی ہے ورنہ جبیز کی کثرت سے دیوانگی کا اندیشہ ہے۔ خدا ہر ایک کو اس بلا سے محفوظ
رکھے۔ (آمین ثم آمین۔ للمؤلف)
المشتہر مرزاغلام احمد قادیانی، مؤرخہ ۲۳؍اپریل ۱۹۰۲ء‘‘
(دافع البلاء ص۲۳، خزائن ج۱۸ ص۲۴۳، حاشیہ نمبر۱)
(۶) عجیب الہام
’’رات کو ایک اور عجیب الہام ہوا اور وہ یہ ہے کہ ’’قل لضیفک انی متوفیک، قل لا خیک
انی متوفیک‘‘ یہ الہام بھی چند مرتبہ ہوا۔ اس کے معنی بھی دو ہیں، ایک تو یہ کہ جو تیرا مورد فیض
یا بھائی ہے اس کو کہہ دے کہ میں تیرے پر اتمام نعمت کروں گا۔ دوسرے معنی یہ ہیں کہ میں وفات دوں گا۔ معلوم
نہیں کہ یہ شخص کون ہے اس قسم کے تعلقات کے کم وبیش کئی لوگ ہیں اس عاجز پر اس قسم کے الہامات اور مکاشفات
اکثر وارد ہوتے رہتے ہیں۔‘‘
(مندرجہ حیات احمد ج۲ نمبر۲ ص۷۲، مرتبہ یعقوب علی قادیانی، مکتوبات احمدیہ ج۱ ص۶۷،۶۸، جدید مکتوبات
احمد جلد اوّل ص۵۸۲، مکتوب نمبر۳۵)
(۷) عالم کشف
’’آج اس موقعہ کے اثناء میں جب کہ یہ عاجز بغرض تصحیح کاپی کو دیکھ رہا تھا کہ بعالم کشف چند ورق ہاتھ
میں دئیے گئے اور ان پر لکھا ہوا تھا کہ فتح کا نقارہ بجے۔ پھر ایک نے مسکرا کر ان ورقوں کی دوسری طرف ایک
تصویر دکھلائی اور کہا کہ دیکھو کیا کہتی ہے تصویر تمہاری۔ جب اس عاجز نے دیکھا تو وہ اسی عاجز کی تصویر تھی
اور سبز پوشاک تھی مگر نہایت رعب ناک جیسے سپہ سالار مسلح فتح یاب ہوتے ہیں اور تصویر کے یمین ویسار میں۔
حجۃ اللہ القادر وسلطان احمد مختار لکھا تھا اور یہ سوم وار کا روز انیسویں ذی الحجہ سن ۱۳۰۰ھ، مؤرخہ
۲۲؍اکتوبر ۱۸۸۳ء اور ششم کا تک ۱۹۴۰ء بکرم ہے۔‘‘
(براہین احمدیہ حصہ چہارم ص۵۱۵،۵۱۶، خزائن ج۱ ص۶۱۵ حاشیہ در حاشیہ نمبر۳)
254
(۸) خیالی کرشمے
(ایک زبردست الہام اور کشف) آج ۲؍جون ۱۹۰۰ء کو بروز شنبہ بعد دوپہر دو بجے کے وقت مجھے تھوڑی سی
غنودگی کے ساتھ ایک ورق جو نہایت سفید تھا، دکھلایا گیا۔ اس کی آخری سطر میں لکھا تھا، ’’اقبال‘‘ میں خیال
کرتا ہوں کہ آخر سطر میں یہ لفظ لکھنے سے انجام کی طرف اشارہ تھا، یعنی انجام بااقبال ہے۔ پھر ساتھ ہی یہ
الہام ہوا۔
-
قادر کے کاروبار نمودار ہو گئے
کافر جو کہتے تھے وہ گرفتار ہو گئے
اس کے بعد ۲؍جون ۱۹۰۰ء کو بوقت ساڑھے گیارہ بجے یہ الہام ہوا۔
-
کافر جو کہتے تھے وہ نگوں سار ہو گئے
جتنے تھے سب کے سب ہی گرفتار ہو گئے
(مندرجہ تبلیغ رسالت ج۹ ص۵۰، مجموعہ اشتہارات جلد سوم ص۲۹۸ جدید مجموعہ اشتہارات ج۲ ص۴۱۰ حاشیہ)
(۹) غلام احمد کی جے
’’پھر دیکھا کہ میرے مقابل پر کسی آدمی نے یا چند آدمیوں نے پتنگ چڑھائی ہے اور وہ پتنگ ٹوٹ گئی اور
میں نے اس کو زمین کی طرف گرتے دیکھا۔ پھر کسی نے کہا، غلام احمد کی جے۔‘‘
(تذکرہ ص۷۲۳، طبع چہارم)
(۱۰) غلام احمد قادیانی کا کشف
’’لطیفہ۔ چند روز کا ذکر ہے کہ اس عاجز نے اس طرف توجہ کی کہ کیا اس حدیث کا جو ’’الایات بعد
المأتین‘‘ ہے، ایک یہ بھی منشاء ہے کہ تیرھویں صدی کے اواخر میں مسیح موعود کا ظہور ہوگا اور کیا اس حدیث
کے مفہوم میں بھی یہ عاجز داخل ہے تو مجھے کشفی طور پر اس مندرجہ ذیل نام کے اعداد حروف کی طرف دلائی گئی کہ
دیکھ یہی مسیح ہے کہ جو تیرھویں صدی کے پورے ہونے پر ظاہر ہونے والا تھا۔ پہلے سے یہ ہی تاریخ ہم نے نام میں
مقرر کر رکھی تھی اور وہ یہ نام ہے غلام احمد قادیانی۔ اس نام کے عدد پورے تیرہ سو ہیں اور اس قصبہ قادیان
میں بجز اس عاجز کے اور کسی شخص کا غلام احمد نام نہیں بلکہ میرے دل میں ڈالا گیا ہے کہ اس وقت بجز اس عاجز
کے تمام دنیا میں غلام احمد قادیانی کسی کا بھی نام نہیں۔‘‘
(ازالہ اوہام حصہ اوّل ص۱۸۵،۱۸۶، خزائن ج۳ ص۱۸۹)
’’لطیفہ پر لطیفہ۔ مرزاقادیانی کو کشف ہوا کہ ان کے سوا تمام دنیا میں غلام احمد قادیانی کسی کا بھی
نام نہیں اور واقعہ یہ ہے کہ ضلع گورداسپور میں تین قادیان ہیں جن میں سے ایک قادیان میں مرزاغلام احمد رہتے
تھے اور ایک قادیان میں دوسرے صاحب اسی نام کے غلام احمد رہتے جو مرزاغلام احمد کے ہم عصر تھے، لیکن سب سے
بڑھ کر تیسرا لطیفہ قادیانی صاحبان کی یہ تاویل ہے کہ دوسرے قادیان میں کوئی غلام احمد تھے تو ہوا کریں۔
مرزاغلام احمد کی طرح غلام احمد قادیانی ان کا مرکب نام تو نہ تھا۔ گویا وہ بے چارے قادیان کے غلام احمد تھے
اور مرزاغلام احمد، غلام احمد قادیانی تھے۔ چنانچہ ملاحظہ ہو:
’’پس آپ کا (یعنی مرزاقادیانی کا) منشاء اس بات کو ظاہر کرتا ہے کہ دنیا میں آپ کے (مرزاقادیانی کے)
سوا کوئی دوسرا شخص غلام احمد قادیانی کے مرکب نام سے موسوم نہیں، اس لئے اگر ضلع گورداسپور اور لدھیانہ میں
قادیان نام کے کوئی اور گاؤں بھی ہیں اور وہاں غلام احمد کے نام سے کوئی اور شخص بھی رہتا تھا تو اس سے آپ
کے دعوے کی تغلیط نہیں ہوتی۔ کیونکہ آپ نے نہ قادیان نام کے کسی اور گاؤں کی نفی کی ہے اور نہ وہاں غلام
احمد کے نام سے کسی شخص کی موجودگی کا انکار کیا ہے۔ انکار اگر ہے تو غلام احمد قادیانی کے مرکب نام رکھنے
255
والے شخص کا ہے۔‘‘
(آئینہ احمدیت ص۸، مصنفہ دوست محمد قادیانی ۱۹۳۴ء میں قادیانی جماعت لاہور نے شائع کیا، جدید آئینہ
احمدیت ص۱۶)
(۱۱) تیرہ سو کا عدد
’’جس نے دعویٰ کیا اس کا نام بھی یعنی غلام احمد قادیانی اپنے حروف کے اعداد سے اشارہ کر رہا ہے۔ یعنی
تیرہ سو کا عدد جو اس نام سے نکلتا ہے وہ بتلا رہا ہے کہ تیرھویں صدی کے ختم ہونے پر یہی مجدد آیا۔ جس کا
نام تیرہ سو کا عدد پورا کرتا ہے۔‘‘
(تریاق القلوب ص۱۶، خزائن ج۱۵ ص۱۵۷،۱۵۸)
’’آپ کے پورے نام ’’غلام احمد قادیانی‘‘ کے اعداد بہ حساب جمل (۱۳۰۰) نکلتے ہیں اور اس میں یہ بھید
تھا کہ تیرھویں صدی کے سر پر آپ نے ہی مجدد بننا ہے۔‘‘
(مضمون معراج دین عمر قادیانی، بعنوان حضرت مسیح موعود مرزاغلام احمد قادیانی کے مختصر حالات، تتمہ
براہین احمدیہ ج۱ ص۶۲، طبع اوّل)
(۱۲) تمام وکمال اصلاح
’’تخمیناً پچیس برس کے قریب عرصہ گزر گیا ہے کہ میں گورداسپور میں تھا کہ مجھے یہ خواب آئی کہ میں ایک
جگہ چارپائی پر بیٹھا ہوں اور اسی چارپائی پر بائیں طرف میرے مولوی عبد اللہ صاحب مرحوم غزنوی بیٹھے ہیں۔ جن کی
اولاد اب امرتسر میں رہتی ہے۔ اتنے میں میرے دل میں محض خداتعالیٰ کی طرف سے ایک تحریک پیدا ہوئی کہ مولوی
صاحب موصوف کو چارپائی سے نیچے اتار دوں، چنانچہ میں نے اپنی جگہ کو چھوڑ کر مولوی صاحب کی جگہ کی طرف رجوع
کیا، یعنی جس حصہ چارپائی پر وہ بائیں طرف بیٹھے ہوئے تھے اس حصہ میں، میں نے بیٹھنا چاہا۔ تب انہوں نے جگہ
چھوڑ دی اور وہاں سے کھسک کر پائنتی کی طرف چند انگلی کے فاصلے پر ہو بیٹھے۔ تب پھر میرے دل میں ڈالا گیا کہ
اس جگہ سے بھی میں ان کو اٹھادوں۔ پھر میں ان کی طرف جھکا تو وہ اس جگہ کو بھی چھوڑ کر پھر چند انگلی کی
مقدار پر پیچھے ہٹ گئے۔ پھر میرے دل میں ڈالا گیا کہ اس جگہ سے بھی ان کو اور زیادہ پائنتی کی طرف کیا جائے۔
تب پھر وہ چند انگلی پائنتی کی طرف کھسک کر ہو بیٹھے۔ القصہ میں ایسا ہی ان کی طرف کھسکتا گیا اور وہ پائنتی
کی طرف کھسکتے گئے، یہاں تک کہ ان کو آخرکار چارپائی سے اترنا پڑا اور وہ زمین پر جو محض خاک تھی اور اس پر
چٹائی وغیرہ کچھ نہ تھی، اتر کر بیٹھ گئے۔ اتنے میں تین فرشتے آسمان سے آئے۔ ایک کا نام ان میں سے خیراتی
تھا۔ وہ بھی ان کے ساتھ زمین پر بیٹھ گئے اور میں چارپائی پر بیٹھا رہا۔ تب میں نے ان فرشتوں اور مولوی
عبد اللہ صاحب کو کہا کہ آؤ میں ایک دعا کرتا ہوں تم آمین کہو۔ تب میں نے یہ دعا کی کہ ’’رب
اذہب عنی الرجس وطہرنی تطہیرا‘‘ اس کے بعد وہ تینوں فرشتے آسمان کی طرف اٹھ گئے اور مولوی عبد اللہ
صاحب بھی آسمان کی طرف اٹھ گئے اور میری آنکھ کھل گئی اور آنکھ کھلتے ہی میں نے دیکھا کہ ایک طاقت بالا مجھ
کو ارضی زندگی سے بلند تر کھینچ کر لے گئی اور وہ ایک ہی رات تھی جس میں خدا نے بتمام وکمال میری اصلاح کر
دی اور مجھ میں وہ تبدیلی واقع ہوئی کہ جو انسان کے ہاتھ سے یا انسان کے ارادہ سے نہیں ہوسکتی۔‘‘
(حیات النبی ج۱ ص۹۵،۹۶، مؤلفہ یعقوب علی ترابی قادیانی، تریاق القلوب ص۹۴، خزائن ج۱۵ ص۳۵۱،۳۵۲)
(۱۳) قرآن میں قادیان
’’اور یہ بھی مدت سے الہام ہوچکا ہے کہ ’’انا انزلناہ قریباً من القادیان‘‘
اس جگہ مجھے یاد آیا ہے کہ جس روز وہ الہام مذکورہ بالا جس میں قادیان میں نازل ہونے کا ذکر ہے ہوا تھا، اس
روز کشفی طور پر میں نے دیکھا کہ میرے بھائی صاحب مرحوم
256
مرزاغلام قادر میرے قریب بیٹھ کر باآواز بلند قرآن شریف پڑھ رہے ہیں اور پڑھتے پڑھتے انہوں نے ان
فقرات کو پڑھا ’’انا انزلناہ قریباً من القادیان‘‘ تو میں نے سن کر بہت تعجب کیا کہ
قادیان کا نام قرآن شریف میں لکھا ہوا ہے… تب میں نے اپنے دل میں کہا کہ واقعی طور پر قادیان کا نام قرآن
شریف میں درج ہے اور میں نے کہا کہ تین شہروں کا نام اعزاز کے ساتھ قرآن شریف میں درج کیا گیا ہے، مکہ اور
مدینہ اور قادیان۔ یہ کشف تھا جو کئی سال ہوئے کہ مجھے دکھلایا گیا تھا۔‘‘
(ازالہ اوہام ص۷۳تا۷۷، خزائن ج۳ ص۱۳۸تا۱۴۱ حاشیہ)
(۱۴) تینوں مقامات
’’ہم مدینہ منورہ کی عزت کر کے خانہ کعبہ کی ہتک کرنے والے نہیں ہو جاتے۔ اسی طرح ہم قادیان کی عزت کر
کے مکہ معظمہ یا مدینہ منورہ کی توہین کرنے والے نہیں ہوسکتے۔ خداتعالیٰ نے ان تینوں مقامات کو مقدس کیا اور
ان تینوں مقامات کو اپنی تجلیات کے اظہار کے لئے چنا۔‘‘
(تقریر مرزامحمود خلیفہ قادیان، الفضل قادیان ج۲۳ نمبر۵۵ ص۷ کالم۴، مؤرخہ ۳؍ستمبر ۱۹۳۵ء، خطبات محمود
ج۱۶ ص۵۴۴)
(۱۵) خدائی مشاغل
اللہ تعالیٰ نے مرزاقادیانی سے کہا: ’’میں نماز پڑھوں گا اور روزہ رکھوں گا، جاگتا ہوں اور سوتا ہوں۔‘‘
(الحکم قادیان ج۷ نمبر۵ ص۱۶ کالم۱، مؤرخہ ۱۳؍فروری ۱۹۰۳ء، منقول از البشریٰ ج۲ ص۷۹، مجموعہ الہامات
مرزاغلام احمد قادیانی، تذکرہ ص۴۶۰، طبع چہارم)
خدا نے فرمایا: ’’میں روزہ رکھوں گا اور افطار بھی کروں گا۔‘‘
(مندرجہ تبلیغ رسالت ج۱۰ ص۱۳۲، مجموعہ اشتہارات ج۳ ص۵۹۲، جدید مجموعہ اشتہارات ج۲ ص۷۲۰، تذکرہ ص۴۲۰،
طبع چہارم)
’’انی مع الاسباب اٰتیک بغتۃ انی مع الرسول اجیب اخطی واصیب انی مع الرسول
محیط میں اسباب کے ساتھ اچانک تیرے پاس آؤں گا۔ خطا کروں گا اور بھلائی کروں گا۔ میں اپنے رسول
کے ساتھ محیط ہوں۔‘‘
(البشریٰ جلد دوم ص۷۹، مجموعہ الہامات مرزا غلام احمد قادیانی، تذکرہ ص۴۶۲، طبع چہارم)
(۱۶) خدائی تعلقات
’’انت منی بمنزلۃ ولدی تو مجھے سے بمنزلہ میرے فرزند کے ہے۔‘‘
(حقیقت الوحی ص۸۶، خزائن ج۲۲ ص۸۹)
’’اسمع ولدی اے میرے بیٹے سن!‘‘
(البشریٰ جلد اوّل ص۴۹، مجموعہ الہامات مرزا غلام احمد قادیانی)
’’یاقمر یا شمس انت منی وانا منک اے چاند اے سورج! تو مجھ سے ظاہر ہوا اور
میں تجھ سے۔‘‘
(حقیقت الوحی ص۷۴، خزائن ج۲۲ ص۷۷، تذکرہ ص۳۱، طبع چہارم)
’’انت منی وانا منک، ظہورک ظہوری تو مجھ سے ہے اور میں تجھ سے ہوں، تیرا ظہور
میرا ظہور ہے۔‘‘
(تذکرہ ص۷۰۴، طبع چہارم)
’’انت منی بمنزلہ بروزی اور تو مجھ سے ایسا ہے جیسا کہ میں ہی ظاہر ہوگیا
یعنی تیرا ظہور بعینہٖ میرا ظہور ہوگیا۔‘‘
(تذکرہ ص۶۰۴، طبع چہارم)
’’انت من ماء نا وہم من فشل تو ہمارے پانی میں سے ہے اور وہ لوگ (بزدلی) فشل
سے۔‘‘
(انجام آتھم ص۵۵،۵۶، خزائن ج۱۱ ص۵۵،۵۶، تذکرہ ص۶۰۴، طبع چہارم)
257
’’یحمدک اللہ من عرشہ یحمدک اللہ ویمشی الیک خدا عرش پر سے تیری تعریف کرتا ہے۔
خدا تیری تعریف کرتا ہے اور تیری طرف چلا آتا ہے۔‘‘
(انجام آتھم ص۵۵، خزائن ج۱۱ ص۵۵، تذکرہ ص۷۹، طبع چہارم)
’’خدا قادیان میں نازل ہوگا۔‘‘
(البشریٰ جلد اوّل ص۵۶، مجموعہ الہامات مرزاغلام احمد قادیانی)
’’انا نبشرک بغلام مظہر الحق والعلی کان اللہ نزل من السماء ہم ایک لڑکے کی
تجھے بشارت دیتے ہیں جس کے ساتھ حق کا ظہور ہوگا، گویا آسمان سے خدا اترے گا۔‘‘
(حقیقت الوحی الاستفتاء ص۸۵، خزائن ج۲۲ ص۷۱۲)
(۱۷) تو مجھ سے، میں تجھ میں سے
’’میں نے تجھ سے ایک خرید وفروخت کی ہے۔ یعنی ایک چیز میری تھی جس کو تو مالک بنایا گیا اور ایک چیز
تیری تھی جس کا میں مالک بن گیا۔ تو بھی اس خرید وفروخت کا اقرار کر اور کہہ دے کہ خدا نے مجھ سے خرید
وفروخت کی، تو مجھ سے ایسا ہے جیسا کہ اولاد، تو مجھ میں سے ہے اور میں تجھ میں سے ہوں۔‘‘
(مرزاغلام احمد قادیانی کا الہام، مندرجہ دافع البلاء ص۸، خزائن ج۱۸ ص۲۲۸)
(۱۸) آواہن
’’میرا لوٹا ہوا مال تجھے ملے گا۔ میں تجھے عزت دوں گا اور تیری حفاظت کروں گا۔ یہ ہوگا، یہ ہوگا، یہ
ہوگا اور پھر انتقال ہو گا۔ تیرے پر میرے کامل انعام ہیں… آواہن (خدا تیرے اندر اتر آیا)… تو مجھ میں اور
تمام مخلوقات میں واسطہ ہے۔‘‘
(کتاب البریہ ص۷۵،۷۶، خزائن ج۱۳ ص۱۰۱،۱۰۲)
(۱۹) الہامی حمل
’’اسی طرح میری کتاب اربعین نمبر۴ ص۱۹ میں بابو الٰہی بخش صاحب کی نسبت یہ الہام ہے… یعنی بابو الٰہی
بخش چاہتا ہے کہ تیرا حیض دیکھے یا کسی پلیدی اور ناپاکی پر اطلاع پائے۔ مگر خداتعالیٰ تجھے اپنے انعام
دکھلائے گا جو متواتر ہوں گے اور تجھ میں حیض نہیں بلکہ وہ بچہ ہوگیا ہے ایسا بچہ جو بمنزلہ اطفال اللہ ہے۔‘‘
(تتمہ حقیقت الوحی ص۱۴۳، خزائن ج۲۲ ص۵۸۱)
’’حضرت مسیح موعود نے ایک موقعہ پر اپنی حالت یہ ظاہر فرمائی کہ کشف کی حالت آپ پر اس طرح طاری ہوئی
کہ گویا آپ عورت ہیں اور اللہ تعالیٰ نے رجولیت کی قوت کا اظہار فرمایا تھا سمجھنے والے کے لئے اشارہ کافی
ہے۔‘‘
(ٹریکٹ نمبر۳۴، اسلامی قربانی ص۱۲ مؤلفہ قاضی یار محمد قادیانی، ریاض الہند پریس، امرتسر)
’’مریم کی طرح عیسیٰ کی روح مجھ میں نفخ کی گئی اور استعارہ کے رنگ میں مجھے حاملہ ٹھہرایا گیا اور
آخر کئی مہینے کے بعد جو دس مہینے سے زیادہ نہیں۔ بذریعہ اس الہام کے… مجھے مریم سے عیسیٰ بنایا گیا۔ پس اس
طور سے میں ابن مریم ٹھہرا۔‘‘
(کشتی نوح ص۴۷، خزائن ج۱۹ ص۵۰)
’’اس بارہ میں قرآن شریف میں بھی ایک اشارہ ہے اور وہ میرے لئے بطور پیش گوئی کے ہے، یعنی اللہ تعالیٰ
قرآن شریف میں اس امت کے بعض افراد کو مریم سے تشبیہ دیتا ہے اور پھر کہتا ہے کہ وہ مریم عیسیٰ سے حاملہ ہو
گئی اور اب ظاہر ہے کہ اس امت میں بجز میرے کسی نے اس بات کا دعویٰ نہیں کیا کہ میرا نام خدا نے مریم رکھا
اور پھر اس مریم میں عیسیٰ کی روح پھونک دی ہے اور خدا کا کلام باطل نہیں۔ ضرور ہے کہ اس امت میں کوئی اس کا
مصداق ہو اور خود غور کر کے دیکھ لو اور دنیا میں تلاش کر لو کہ قرآن شریف کی اس آیت کا بجز میرے کوئی دنیا
میں مصداق نہیں۔ پس یہ پیش گوئی سورۂ تحریم میں خاص میرے لئے ہے اور وہ آیت یہ ہے:ومریم ابنت
عمران التی احصنت
258
فرجہا فنفخنا فیہ من روحنا (سورۂ تحریم)‘‘
(حقیقت الوحی ص۳۳۷،۳۳۸، خزائن ج۲۲ ص۳۵۰،۳۵۱ حاشیہ)
(۲۰) خط کے دستخط
’’۱۰؍جنوری ۱۹۰۶ء ایک رؤیا میں دیکھا کہ بہت سے ہندو آئے ہیں اور ایک کاغذ پیش کیا کہ اس پر دستخط
کردو۔ میں نے کہا میں نہیں کرتا۔ انہوں نے کہا کہ پبلک نے کر دئیے ہیں۔ میں نے کہا میں پبلک میں نہیں یا کہا
کہ پبلک سے باہر ہوں۔ ایک اور بات بھی کہنے کو تھا، کیا خدا نے اس پر دستخط کر دئیے ہیں۔ مگر یہ بات نہیں کی
تھی کہ بیداری ہوگئی۔‘‘
(مندرجہ مکاشفات ص۴۸، مؤلفہ منظور الٰہی قادیانی، تذکرہ ص۵۹۰،طبع چہارم)
(۲۱) خدا کی روشنائی کے دھبے
’’ایک میرے مخلص عبد اللہ نام پٹواری غوث گڈہ علاقہ ریاست پٹیالہ کے دیکھتے ہوئے اور ان کی نظر کے سامنے
یہ نشان الٰہی ظاہر ہوا کہ اوّل مجھ کو کشفی طور پر دکھلایا گیا کہ میں نے بہت سے احکام قضاء وقدر کے اہل
دنیا کی نیکی بدی کے متعلق اور نیز اپنے لئے اور اپنے دوستوں کے لئے لکھے ہیں اور پھر تمثل کے طور پر میں نے
خداتعالیٰ کو دیکھا اور وہ کاغذ جناب باری کے آگے رکھ دیا کہ وہ اس پر دستخط کر دیں۔ مطلب یہ تھا کہ یہ سب
باتیں جن کے ہونے کے لئے میں نے ارادہ کیا ہے ہو جائیں۔ سو خداتعالیٰ نے سرخی کی سیاہی سے دستخط کر دئیے اور
قلم کی نوک پر جو سرخی زیادہ تھی، اس کو جھاڑا اور معاً جھاڑنے کے ساتھ ہی اس سرخی کے قطرے میرے کپڑوں اور
عبد اللہ کے کپڑوں پر پڑے اور چونکہ کشفی حالت میں انسان بیداری سے حصہ رکھتا ہے اس لئے مجھے جب کہ ان قطروں سے
جو خداتعالیٰ کے ہاتھ سے گرنے اطلاع ہوئی۔ ساتھ ہی میں نے بہ چشم خود ان قطروں کو بھی دیکھا اور میں رقت دل
کے ساتھ اس قصے کو میاں عبد اللہ کے پاس بیان کر رہا تھا کہ اتنے میں اس نے بھی وہ تربتر قطرے کپڑوں پر پڑے
ہوئے دیکھ لئے اور کوئی ایسی چیز ہمارے پاس موجود نہ تھی جس سے اس سرخی کے گرنے کا کوئی احتمال ہوتا اور وہی
سرخی تھی جو خداتعالیٰ نے اپنی قلم سے جھاڑی تھی۔ اب تک بعض کپڑے میاں عبد اللہ کے پاس موجود ہیں جن پر وہ بہت
سی سرخی پڑی تھی۔‘‘
(تریاق القلوب ص۳۳، خزائن ج۱۵ ص۱۹۷، حقیقت الوحی ص۲۵۵، خزائن ج۲۲ ص۲۶۷، باختلاف الفاظ)
(۲۲) خدا کی انگریزی شان
’’ایک دفعہ کی حالت یاد آئی ہے کہ انگریزی میں اوّل یہ الہام ہوا ’’آئی لو یو۔‘‘ یعنی میں تم سے محبت
رکھتا ہوں۔ پھر یہ الہام ہوا ’’آئی ایم ود یو۔‘‘ یعنی میں تمہارے ساتھ ہوں۔ پھر الہام ہوا ’’آئی شیل ہیلپ
یو۔‘‘ یعنی میں تمہاری مدد کروں گا۔ (انگریزی محاورہ کی رو سے اگر آئی کے ساتھ شیل کی جگہ وِل ہوتا تو الہام
اور بھی قوی ہو جاتا۔ للمؤلف) پھر الہام ہوا ’’آئی کین ویٹ آئی وِل ڈو۔‘‘ یعنی میں کر سکتا ہوں جو چاہوں
گا۔ پھر اس کے بعد بہت ہی زور سے جس سے بدن کانپ گیا یہ الہام ہوا۔ ’’وی کین ویٹ وی وِل ڈو۔‘‘ یعنی ہم کر
سکتے ہیں جو چاہیں گے اور اس وقت ایک ایسا لہجہ اور تلفظ معلوم ہوا کہ گویا ایک انگریز ہے جو سر پر کھڑا ہو
کر بول رہا ہے۔‘‘
(براہین احمدیہ حصہ چہارم ص۴۸۰،۴۸۱، خزائن ج۱ ص۵۷۱،۵۷۲ حاشیہ در حاشیہ نمبر۳)
(۲۳) انگریزی فرشتہ
’’ایک فرشتہ کو میں نے بیس برس کے نوجوان کی شکل میں دیکھا صورت اس کی مثل انگریزوں کے تھی اور میز
کرسی لگائے ہوئے بیٹھا ہے۔ میں نے اس سے کہا کہ آپ بہت ہی خوبصورت ہیں۔ اس نے کہا کہ ہاں میں درشنی آدمی
ہوں۔‘‘
(تذکرہ ص۳۱ طبع اوّل، البدر ج۳ نمبر۲۷ ص۴ کالم۱، مؤرخہ ۱۶؍جولائی ۱۹۰۴ء، بہ تبدیلی الفاظ تذکرہ ص۲۵،
طبع چہارم، الحکم قادیان ج۸ نمبر۲۲ ص۱۲ کالم۱، مؤرخہ ۱۰؍جولائی ۱۹۰۴ء)
259
(۲۴) گویا حضرت ملکہ معظمہ
’’رویا دیکھا کہ گویا حضرت ملکہ معظمہ قیصرہ ہند سلمہا اللہ تعالیٰ ہمارے گھر میں رونق افروز ہوئی ہیں۔
اسی اثناء میں، میں نے مولوی عبدالکریم صاحب کو، جو میرے پاس بیٹھے ہیں، کہا کہ حضرت ملکہ معظمہ کمال شفقت
سے ہمارے ہاں قدم رنجہ فرما ہوئی ہیں اور دو روز قیام فرمایا ہے۔ ان کا کوئی شکریہ بھی ادا کرنا چاہئے۔‘‘
(مکاشفات ص۱۷، مرتبہ منظور الٰہی قادیانی، تذکرہ ص۳۳۷، طبع چہارم، الحکم قادیان ج۳ نمبر۲۴ ص۳ کالم۲،
مؤرخہ ۱۰؍جولائی ۱۸۹۹ء)
(۲۵) دیکھ لیجئے
’’۸؍دسمبر ۱۹۰۲ء دو شنبہ نماز عصر سے قبل حضرت مسیح موعود (مرزاغلام احمد قادیانی) نے رؤیا سنائی کہ
میں دیکھتا ہوں کہ ایک جگہ پر وضو کرنے لگا تو معلوم ہوا کہ وہ زمین پولی ہے اور اس کے نیچے ایک غار سی چلی
جاتی ہے۔ میں نے اس میں پاؤں رکھا تو دھنس گیا اور خوب یاد ہے کہ پھر میں نیچے ہی نیچے چلا گیا۔ پھر ایک
جست کر کے میں اوپر آگیا اور ایسا معلوم ہوتا ہے کہ میں ہوا میں تیر رہا ہوں اور ایک گڑھا ہے مثل دائرے کے
گول اور اس قدر بڑا جیسے یہاں سے نواب صاحب کا گھر اور میں اس پر ادھر سے ادھر اور ادھر سے ادھر تیر رہا
ہوں۔ سید محمد احسن صاحب کنارہ پر تھے۔ میں نے ان کو بلا کر کہا کہ دیکھ لیجئے کہ عیسیٰ تو پانی پر چلتے تھے
اور میں ہوا پر تیر رہا ہوں اور میرے خدا کا فضل ان سے بڑھ کر مجھ پر ہے۔ (شاید حضرت عیسیٰ بھی خواب ہی میں
پانی پر چلتے تھے؟ للمؤلف) حامد علی میرے ساتھ ہے اور اس گڑھے پر ہم نے کئی پھیرے کئے، نہ ہاتھ نہ پاؤں
ہلانے پڑتے ہیں، اور بڑی آسانی سے ادھر ادھر تیر رہے ہیں۔‘‘
(مکاشفات ص۲۵، مؤلفہ منظور الٰہی قادیانی، تذکرہ ص۴۴۵، طبع چہارم، البدر جلد اوّل نمبر۷ ص۵۵ کالم۱،
مؤرخہ ۱۲؍دسمبر ۱۹۰۲ء)
(۲۶) انشا پردازی
’’یہ بات بھی اس جگہ بیان کر دینے کے لائق ہے کہ میں خاص طور پر خدائے تعالیٰ کی اعجاز نمائی کو انشاء
پردازی کے وقت بھی اپنی نسبت دیکھتا ہوں۔ کیونکہ جب میں عربی میں یا اردو میں کوئی عبارت لکھتا ہوں تو میں
محسوس کرتا ہوں کہ کوئی اندر سے مجھے تعلیم دے رہا ہے۔‘‘
(نزول المسیح ص۵۶، خزائن ج۱۸ ص۴۳۴)
(۲۷) الہامی شعر
’’کچھ دن گزرے ہیں کہ اس عاجز کو ایک عجیب خواب آیا۔ وہ یہ ہے کہ ایک مجمع زاہدین اور عابدین ہے اور
ہر ایک شخص کھڑا ہوکر اپنے مشرب کا حال بیان کرتا ہے اور مشرب کے بیان کرنے کے وقت ایک شعر موزوں اس کے منہ
سے نکلتا ہے۔ جس کا آخر لفظ قعود اور سجود اور شہود وغیرہ آتا ہے۔ جیسے یہ مصرع: تمام شب گزرا نیم در قیام
وسجود۔
چند زاہدین اور عابدین نے ایسے ایسے شعر اپنی تعریف میں پڑھے ہیں، پھر آخر پر اس عاجز نے اپنے مناسب
حال سمجھ کر ایک شعر پڑھنا چاہا ہے۔ مگر اس وقت وہ خواب کی حالت جاتی رہی اور جو شعر اس خواب کی مجلس میں
پڑھنا تھا، وہ بہ طور الہام زبان پر جاری ہوگیا اور وہ یہ ہے:
| طریق زہد و تعبد نہ دانم اے زاہد |
خدائے من قدمم راند براہ داؤد‘‘ |
(حیات احمد ج۲ نمبر۲ ص۸۶، مؤلفہ شیخ یعقوب علی عرفانی قادیانی)
260
(۲۸) الہامات کی زبان
’’اور یہ بالکل غیرمعقول اور بیہودہ امر ہے کہ انسان کی اصل زبان و کوئی ہو اور الہام اس کو کسی اور
زبان میں ہو جس کو وہ سمجھ بھی نہیں سکتا۔ کیونکہ اس میں تکلیف مالایطاق ہے۔‘‘
(چشمہ معرفت ص۲۰۹، خزائن ج۲۳ ص۲۱۸)
’’زیادہ تر تعجب کی یہ بات ہے کہ بعض الہامات مجھے ان زبانوں میں بھی ہوتے ہیں جن سے مجھے کچھ بھی
واقفیت نہیں۔ جیسے انگریزی یا سنسکرت یا عبرانی وغیرہ۔‘‘
(نزول المسیح ص۵۷، خزائن ج۱۸ ص۴۳۵)
’’مخدومی مکرمی اخویم میر عباس علی شاہ صاحب سلمہ
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ۔ بعد ہذا چونکہ اس ہفتے میں بعض کلمات انگریزی وغیرہ الہام ہوئے ہیں
اور اگرچہ بعض ان میں سے ایک ہندو لڑکے سے دریافت کئے ہیں، مگر قابل اطمینان نہیں اور بعض من جانب اللہ بطور
ترجمہ الہام ہوا تھا اور بعض کلمات شاید عبرانی ہیں ان سب کی تحقیق تنقیح ضرور ہے۔ تابعد تنقیح جیسا کہ
مناسب ہو آخر جزو میں کہ اب تک چھپی نہیں درج کئے جائیں۔ آپ جہاں تک ممکن ہو بہت جلد دریافت کر کے صاف خط
میں جو پڑھا جاوے اطلاع بخشیں اور وہ کلمات یہ ہیں، پریشن، عمر ہراطوس با پلاطوس۔ یعنی پڑطوس لفظ ہے یا
پلاطوس لفظ ہے۔ بباعث سرعت الہام دریافت نہیں ہوا اور عمر عربی لفظ ہے۔ اس جگہ براطوس اور پریشن کے معنی
دریافت کرنے ہیں کہ کیا ہیں اور کس زبان کے یہ لفظ ہیں۔ پھر دو لفظ اور ہیں:’’ہو شعنا
نعسا‘‘ معلوم نہیں کس زبان کے ہیں اور انگریزی یہ ہیں اوّل عربی فقرہ ہے۔ ’’یاداود عامل بالناس رفقا واحساناً‘‘ یو مسٹ ڈو ہاٹ آئی ٹولڈ یو۔ تم کو وہ کرنا
چاہئے جو میں نے فرمایا ہے۔ یہ اردو عبارت بھی الہامی ہے۔ پھر بعد اس کے ایک اور انگریزی الہام ہے اور ترجمہ
اس کا الہامی نہیں بلکہ اس ہندو لڑکے نے بتلایا ہے۔ فقرات کی تقدیم تاخیر کی صحت بھی معلوم نہیں اور بعض
الہامات میں فقرات کا تقدم تاخر بھی ہو جاتا ہے۔ اس کو غور سے دیکھ لینا چاہئے اور وہ الہام یہ ہیں۔ دوآل من
شڈ بی اینگری بٹ گاڈ از ود یو ہی شیل ہیلپ یو ورڈس آف گاڈ ناٹ کین ایکسچینج۔
ترجمہ: اگر تمام آدم ناراض ہوں گے لیکن خدا تمہارے ساتھ ہوگا، وہ تمہاری مدد کرے گا۔ اللہ کے کام بدل
نہیں سکتے۔ پھر بعد اس کے ایک دو اور الہام انگریزی ہیں جن میں سے کچھ تو معلوم ہے اور وہ یہ ہے۔ آئی شیل
ہیلپ یو۔ مگر بعد اس کے یہ ہے، یو ہیوٹو گوامرتسر۔ پھر ایک فقرہ ہے جس کے معنی معلوم نہیں اور وہ یہ ہے، ہی
ہل ٹس ان دی ضلع پشاور۔ یہ فقرات ہیں، ان کی تنقیح سے لکھیں اور براہ مہربانی جلد تر جواب بھیج دیں تااگر
ممکن ہو تو اخیر جزو میں بعض فقرات بموضع مناسب درج ہو سکیں۔‘‘
(مکتوبات احمدیہ ج۱ ص۶۸،۶۹، جدید مکتوبات احمد ج۱ ص۵۸۳،۵۸۴، مکتوب نمبر۳۶)
(۲۹) نیا اسم
’’انی انا الصاعقۃ (مرزاقادیانی کا یہ الہام سن کر) مولانا مولوی عبدالکریم
صاحب نے فرمایا کہ یہ اللہ کا نیا اسم ہے، آج تک کبھی نہیں سنا۔ حضرت اقدس (مرزاقادیانی) نے فرمایا بے شک۔‘‘
(تذکرہ ص۴۴۷،۴۴۸، طبع چہارم)
’’خدا نے مجھے مخاطب کر کے فرمایا کہ یلاش خدا ہی کا نام ہے۔ یہ ایک نیا الہامی لفظ ہے کہ اب تک میں
نے اس کو اس صورت پر قرآن اور حدیث میں نہیں پایا اور نہ کسی لغت کی کتاب میں دیکھا۔ اس کے معنی میرے پر یہ
کھولے گئے کہ یالاشریک۔‘‘
(تحفہ گولڑویہ ص۶۹، خزائن ج۱۷ ص۲۰۳ حاشیہ)
261
(۳۰) انگریزی الہامات
| میں تم سے محبت کرتا ہوں۔ |
I love you. |
| میں تمہارے ساتھ ہوں۔ |
I am with you. |
| ہاں میں خوش ہوں۔ |
Yes, I am happy. |
| زندگی دکھ ہے۔ (یعنی موجودہ زندگی تمہاری تکالیف کی زندگی ہے) |
Life is pain. |
| میں تمہاری مدد کروں گا۔ |
I shall help you. |
| میں کر سکتا ہوں جو چاہوں گا۔ |
I can, what i will do. |
| ہم کر سکتے ہیں جو چاہیں گے۔ |
We cah, what will do. |
| خدا تمہاری طرف ایک لشکر کے ساتھ چلا آتا ہے۔ |
God is coming by His army. |
| وہ دشمن کو ہلاک کرنے کے لئے تمہارے ساتھ ہے۔ |
He is with you to Kill enemy. |
| وہ دن آتے ہیں کہ خدا تمہاری مدد کرے گا۔ |
The days shall come when God shall help you. |
| خدائے ذوالجلال آفرینندہ زمین وآسمان۔ |
Glory be to the Lord, God maker of earth and heaven. |
(حقیقت الوحی ص۳۰۳،۳۰۴، خزائن ج۲۲ ص۳۱۶،۳۱۷)
| تمہیں امرتسر جانا پڑے گا۔ ص۳ |
You have to go Amritsar. |
| وہ ضلع پشاور میں ٹھہرتا ہے۔ ص۴ |
He halts in the Zila Peshawar. |
| ایک اور کلام اور دو لڑکیاں۔ ص۱۰۶ |
Word and two girls. |
| معقول آدمی۔ ص۸۴ |
Fair man. |
(البشریٰ جلد دوم، مجموعہ الہامات مرزاغلام احمد قادیانی)
"Though all men should be angry, but God is with you. He shall help you, words of God can not
exchange.
اگر تمام آدمی ناراض ہوں گے مگر خداتمہارے ساتھ ہے۔ وہ تمہاری مدد کرے گا۔ خدا کی باتیں بدل نہیں
سکتیں۔‘‘
(براہین احمدیہ حصہ چہارم ص۵۵۴، خزائن ج۱ ص۶۶۰،۶۶۱ حاشیہ در حاشیہ نمبر۴)
پھر بعد اس کے دو فقرے انگریزی ہیں جن کے الفاظ کی صحت بباعث سرعت الہام ابھی تک معلوم نہیں اور وہ یہ
ہیں:
"I shall give you a large party of Islam.
چونکہ اس وقت یعنی آج کے دن اس جگہ کوئی انگریزی خواں نہیں اور نہ اس کے پورے معنی کھلے ہیں۔ اس لئے
بغیر معنوں کے لکھاگیا۔‘‘
(براہین احمدیہ حصہ چہارم ص۵۵۷، خزائن ج۱ ص۶۶۴، حاشیہ در حاشیہ نمبر۴)
262
(۳۱) نرالی بشارت
’’جس دل پر درحقیقت آفتاب وحی الٰہی تجلی فرماتا ہے اس کے ساتھ ظن اور شک کی تاریکی ہرگز نہیں رہتی۔‘‘
(نزول المسیح ص۸۹، خزائن ج۱۸ ص۴۶۷)
’’لیکن اگر کوئی کلام یقین کے مرتبہ سے کم تر ہو تو وہ شیطانی کلام ہے نہ ربانی۔‘‘
(نزول المسیح ص۱۰۸، خزائن ج۱۸ ص۴۸۶)
’’(۱)بشیرالدولہ۔ (۲)عالم کباب۔ (۳)شادی خان۔ (۴)کلمتہ اللہ خاں (نوٹ از حضرت مسیح موعود) بذریعہ الہام
الٰہی معلوم ہوا کہ میاں منظور محمد صاحب کے گھر میں یعنی محمدی بیگم کا ایک لڑکا پیدا ہوگا۔ جس کے یہ نام
ہوں گے۔ یہ نام بذریعہ الہام الٰہی معلوم ہوئے۔
(نوٹ از مؤلف البشریٰ) اللہ تعالیٰ بہتر جانتا ہے کہ یہ پیش گوئی کب اور کس رنگ میں پوری ہوگی۔ گو حضرت
اقدس نے اس کا وقوعہ محمدی بیگم کے ذریعہ سے فرمایا تھا مگر چونکہ وہ فوت ہوچکی ہے اس لئے اب تخصیص نام نہ
رہی۔ بہرصورت یہ پیش گوئی متشابہات میں سے ہے۔‘‘
(البشریٰ ج۲ ص۱۱۶، بابو منظور الٰہی قادیانی لاہوری، مجموعہ الہامات مرزاغلام احمد قادیانی)
(۳۲) وحی الٰہی
’’پہلے یہ وحی الٰہی ہوئی تھی کہ وہ زلزلہ جو نمونہ قیامت ہوگا بہت جلد آنے والا ہے اور اس کے لئے یہ
نشان دیاگیا تھا کہ پیر منظور محمد لدھیانوی کی بیوی محمدی بیگم کو لڑکا پیدا ہوگا اور وہ لڑکا اس زلزلہ کے
لئے ایک نشان ہوگا۔ اس لئے اس کا نام بشیرالدولہ ہوگا۔ کیونکہ وہ ہماری ترقی سلسلہ کے لئے بشارت دے گا۔ اسی
طرح اس کا نام عالم کباب ہوگا۔ کیونکہ اگر لوگ توبہ نہیں کریں گے تو بڑی بڑی آفتیں دنیا میں آئیں گی۔ ایسا
ہی اس کا نام کلمتہ اللہ اور کلمتہ العزیز ہوگا۔ کیونکہ وہ خدا کا کلمہ ہوگا۔ جو وقت پر ظاہر ہوگا اور اس کے
لئے اور نام بھی ہوں گے۔ مگر بعد اس کے میں نے دعا کی کہ اس زلزلہ نمونہ قیامت میں کچھ تاخیر ڈال دی جائے۔
اس دعا کا اللہ تعالیٰ نے وحی میں خود ذکر فرمایا اور جواب بھی دیا ہے… یعنی خدا نے دعا قبول کر کے اس زلزلہ کو
کسی اور وقت پر ڈال دیا ہے اور یہ وحی الٰہی قریباً چار ماہ سے اخبار بدر اور الحکم میں چھپ کر شائع ہوچکی
ہے اور چونکہ زلزلہ نمونہ قیامت آنے میں تاخیر ہوگئی اس لئے ضرور تھا کہ لڑکا پیدا ہونے میں بھی تاخیر ہوتی۔
لہٰذا پیر منظور محمد کے گھر میں ۱۷؍جولائی ۱۹۰۶ء میں بروز سہ شنبہ لڑکی پیداہوئی… مگر یہ ضرور ہوگا کہ (کم)
درجہ کے زلزلے آتے رہیں گے اور ضرور ہے کہ زمین نمونہ قیامت زلزلہ سے رکی رہے۔ جب تک کہ وہ موعود لڑکا پیدا
ہو۔ یاد رہے کہ یہ خداتعالیٰ کی بڑی رحمت کی نشانی ہے کہ لڑکی پیدا کر کے آئندہ بلا یعنی زلزلہ نمونہ قیامت
کی نسبت تسلی دے دی… اور اگر ابھی لڑکا پیدا ہو جاتا تو ہر ایک زلزلہ اور ہر ایک آفت کے وقت سخت غم اور
اندیشہ دامن گیر ہوتا کہ شاید وہ وقت آگیا اور تاخیر کچھ اعتبار نہ ہوتا۔‘‘
(حقیقت الوحی ص۱۰۰،۱۰۱، خزائن ج۲۲ ص۱۰۳ حاشیہ)
(۳۳) قادیانی اسرار
’’اشتہار ۱۰؍جولائی ۱۸۸۷ء کی پیش گوئی کا انتظار کریں جس کے ساتھ یہ بھی الہام ہے… اور تجھ سے پوچھتے
ہیں کہ کیا یہ بات سچ ہے۔ کہہ ہاں مجھے اپنے رب کی قسم ہے کہ یہ سچ ہے اور تم اس بات کو وقوع میں آنے سے روک
نہیں سکتے۔ ہم نے خود اس سے تیرا عقد نکاح باندھ دیا ہے۔ میری باتوں کو کوئی بدلا نہیں سکتا اور نشان دیکھ
کر منہ پھیر لیں گے اور قبول نہیں کریں گے اور کہیں گے کہ یہ کوئی پکا فریب یا پکا جادو ہے۔
۲۸، ۲۷، ۱۴، ۲، ۲۷، ۲، ۲۶ ،۲ ،۲۸، ۱، ۲۳،۱۵،۱۱،۱،۲،۲۷،۱۴، ۱۰،۱، ۲۸،۲۷،۴۷، ۱۶، ۱۱، ۳۴، ۱۴، ۱۱، ۷، ۱، ۵، ۳۴، ۲۳، ۳۴، ۱۱، ۱۴، ۷،۲۳، ۱۴، ۱، ۱، ۱۴، ۵، ۲۸، ۷، ۳۴، ۱، ۷، ۳۴، ۱۱، ۱۶، ۱، ۱۴، ۷، ۲، ۱، ۷، ۵، ۱، ۱۴، ۱۴، ۲، ۲۸، ۱، ۷، والسلام علیٰ
263
من فہم اسرارنا وتبع الہدیٰ الناصح المشفق۔ خاکسار غلام احمد قادیانی۔
مؤرخہ ۲۷؍دسمبر ۱۸۹۱ء‘‘
(مجموعہ اشتہارات ج۱ ص۳۰۱، جدید مجموعہ اشتہارات ج۱ ص۲۴۷، مندرجہ تبلیغ رسالت ج۲ ص۸۵)
(۳۴) گپت الہام
’’۲۷؍دسمبر ۱۸۹۱ء، ۲۸، ۲۷، ۱۴،۲، ۲۷،۲، ۲۶،۲،۲۸، ۱،۲۳،۱۵،۱۱، ۱، ۲، ۲۷، ۱۴، ۱۰، ۱، ۲۸، ۲۷، ۴۷، ۱۶، ۱۱، ۳۴،
۱۴، ۱۱، ۷، ۱، ۵، ۳۴، ۲۳، ۳۴، ۱۱، ۱۴، ۷، ۲۳، ۱۴، ۱، ۱، ۱۴، ۵، ۲۸، ۷، ۳۴، ۱، ۷، ۳۴، ۱۱، ۱۶،
۱،۱۴، ۷،۲، ۱،۷ ،۵،۱ ،۱۴، ۱،۱۴، ۲،۲۸، ۱،۷‘‘
(البشریٰ ج۲ ص۱۷، مجموعہ الہامات مرزاغلام احمد قادیانی، مجموعہ اشتہارات ج۱ ص۳۰۱، جدید مجموعہ
اشتہارات ج۱ ص۲۴۷)
(۳۵) پتھر کی بھینس
’’مجھے ۲۱؍رمضان المبارک ۱۳۱۶ھ جمعہ کی رات کو جس میں انتشار روحانیت مجھے محسوس ہوتا تھا اور میرے
خیال میں تھا کہ یہ لیلتہ القدر ہے اور آسمان سے نہایت آرام اور آہستگی سے مینہ برس رہا تھا۔ ایک رؤیا ہوا۔
یہ رؤیا ان کے لئے ہے جو ہماری گورنمنٹ عالیہ کو ہمیشہ میری نسبت شک میں ڈالنے کے لئے کوشش کرتے ہیں۔ میں
نے دیکھا کہ کسی نے مجھ سے درخواست کی ہے کہ اگر تیرا خدا قادر خدا ہے تو تو اس سے درخواست کر کہ یہ پتھر جو
تیرے سر پر ہے، بھینس بن جائے۔ تب میں نے دیکھا کہ ایک وزنی پتھر میرے سر پر ہے۔ جس کو کبھی میں پتھر اور
کبھی لکڑی خیال کرتا ہوں۔ تب میں نے یہ معلوم کرتے ہی اس پتھر کو زمین پر پھینک دیا، پھر بعد اس کے میں نے
جناب الٰہی میں دعا کی کہ اس پتھر کو بھینس بنادیا جائے اور میں اس دعا میں محو ہوگیا۔ جب بعد اس کے میں نے
سراٹھا کر دیکھا تو کیا دیکھتا ہوں کہ وہ پتھر بھینس بن گیا ہے۔ سب سے پہلے میری نظر اس کی آنکھوں پر پڑی۔
اس کی بڑی روشن اور لمبی آنکھیں تھیں۔ تب میں یہ دیکھ کر کہ خدا نے پتھر کو جس کی آنکھیں نہیں تھیں۔ ایسی
خوبصورت بھینس بنادیا جس کی ایسی لمبی اور روشن آنکھیں ہیں اور خوبصورت اور مفید جان دار ہے۔ خدا کی قدرت کو
یاد کر کے وجد میں آگیا اور بلاتوقف سجدہ میں گرا۔‘‘
(حقیقت المہدی ص۱۰، خزائن ج۱۴ ص۴۴۳،۴۴۴، تذکرہ ص۳۲۸، طبع چہارم)
(۳۶) بندر اور سؤر
’’تب آپ نے (یعنی مخالف نے) ’’نزول المسیح‘‘ (روحانی خزائن ج۱۸ ص۴۱۵) میں سے حضرت مرزا صاحب کا وہ
رؤیا پڑھا جس میں حضور نے لکھا ہے کہ میں نے دیکھا کہ میں ایک جنگل میں ہوں اور میرے اردگرد بہت سے درندے
بندر اور سؤر وغیرہ ہیں اور اس سے استدلال یہ کیا کہ یہ احمدی جماعت کے لوگ ہیں۔‘‘
(پیغام صلح لاہور ج۲۲ نمبر۲۱ ص۱۵ کالم۳، مؤرخہ ۷؍اپریل ۱۹۳۴ء)
(۳۷) بندر اور سؤر ہوگئے
’’یہودی لوگ جو مورد لعنت ہوکر بندر اور سؤر ہوگئے تھے۔ ان کی نسبت بھی تو بعض تفسیروں میں لکھا ہے۔
وہ بظاہر انسان تھے۔ لیکن ان کی باطنی حالت بندروں اور سؤروں کی طرح ہوگئی تھی اور حق کے قبول کرنے کی
توفیق بکلی ان سے سلب ہوگئی تھی اور مسخ شدہ لوگوں کی یہی تو علامت ہے کہ اگر حق کھل بھی جائے تو اس کو قبول
نہیں کر سکتے۔‘‘
(مجموعہ اشتہارات ج۱ ص۳۹۷، جدید مجموعہ اشتہارات ج۱ ص۳۲۵)
(۳۸) بلی کو پھانسی
’’میں نے دیکھا کہ ایک بلی ہے اور گویا کہ ایک کبوتر ہمارے پاس ہے۔ وہ اس پر حملہ کرتی ہے۔ باربار
ہٹانے سے باز نہیں آتی تو
264
آخر میں نے اس کا ناک کاٹ دیا ہے اور خون بہہ رہا ہے۔ پھر بھی باز نہ آئی تو میں نے اسے گردن سے پکڑ
کر اس کا منہ زمین سے رگڑنا شروع کیا۔ باربار رگڑتا تھا۔ لیکن پھر بھی سراٹھاتی جاتی تھی۔ تو آخر میں نے کہا
کہ آؤ اسے پھانسی دے دیں۔‘‘
(مکاشفات ص۳۳، مؤلفہ منظور الٰہی قادیانی، تذکرہ ص۴۸۳، طبع چہارم)
(۳۹) ہندوؤں کا خواب
’’ہندوؤں کے بارے میں (مرزاقادیانی نے) فرمایا کہ معلوم ہوتا ہے کہ اس عالم گیر طوفان وبا (طاعون)
میں یہ ہندوؤں کی قوم بھی اسلام کی طرف توجہ کرے گی۔ چنانچہ جب ہم نے باہر مکان بنوانے کی تجویز کی تھی تو
ایک ہندو نے ہم کو آکر کہا تھا کہ ہم تو قوم سے علیحدہ ہوکر آپ ہی کے پاس باہر رہا کریں گے۔ دو دفعہ ہم نے
رؤیا میں دیکھا کہ بہت سے ہندو ہمارے آگے سجدہ کرنے کی طرح جھکتے ہیں اور کہتے ہیں کہ یہ اوتار ہیں اور
کرشن ہیں اور ہمارے آگے نذریں دیتے ہیں اور ایک دفعہ الہام ہوا ہے، کرشن رودرگوپال تیری مہما ہو۔ تیری استتی
گیتا میں موجود ہے۔ لفظ رودر کے معنی نذیر اور گوپال کے معنی بشیر کے ہیں۔‘‘
(ملفوظات ج۳ ص۲۷۰،۲۷۱، جدید ملفوظات ج۲ ص۲۰۱، ملفوظات احمدیہ حصہ چہارم ص۱۴۲، مرتبہ منظور الٰہی
قادیانی)
(۴۰) خواب خرگوش
’’(غالباً) نومبر ۱۹۰۶ء میں رؤیا دیکھا کہ میں گھوڑے پر سوار ہوں اور کسی طرف جارہا ہوں اور جاتے
ہوئے آگے بالکل تاریکی ہو گئی تو میں (یعنی مرزاقادیانی) واپس آگیا اور میرے ساتھ کچھ عورتیں بھی ہیں۔ واپس
آتے ہوئے بھی راستہ میں گردوغبار کے سبب بہت تاریکی ہوگئی اور گھوڑے کی باگ کو میں نے ٹٹول کر ہاتھ میں پکڑا
ہوا ہے۔ چند قدم چل کر روشنی ہوئی۔ آگے دیکھا کہ ایک بڑا چبوترہ ہے۔ اس پر اتر پڑا۔ وہاں چند ایک لڑکے ہیں،
انہوں نے شور مچایا کہ مولوی عبدالکریم آگئے۔ پھر میں نے دیکھا کہ مولوی عبدالکریم صاحب مرحوم آرہے ہیں۔ ان
کے ساتھ میں نے مصافحہ کیا اور السلام علیکم کہا۔ مولوی صاحب مرحوم نے ایک چیز نکال کر مجھے بطور تحفہ دی
اور کہا بشپ جو پادریوں کا افسر ہے، وہ بھی اسی سے کام چلاتا ہے۔ وہ چیز اس طرح سے ہے جیسے کہ خرگوش ہوتا
ہے۔ بادامی رنگ۔ اس کے آگے ایک بڑی نالی لگی ہوئی ہے اور نالی کے آگے ایک قلم لگا ہوا ہے۔ اس نالی کے اندر
ہوا بھری جاتی ہے جس سے وہ قلم بغیر محنت بہ آسانی چلنے لگتا ہے۔ میں نے کہا میں نے تو یہ قلم نہیں منگوایا۔
مولوی صاحب نے فرمایا کہ مولوی محمد علی صاحب نے منگوایا ہوگا۔ میں نے کہا کہ اچھا میں مولوی صاحب کو دے دوں
گا۔ اس کے بعد بیداری ہوگئی۔‘‘
(الفضل قادیان ج۱۶ نمبر۲۱ ص۱۰ کالم۲،۳، مؤرخہ ۱۱؍ستمبر ۱۹۲۸ء، تذکرہ ص۶۸۰،۶۸۱، طبع چہارم)
(۴۱) ہاتھی سے فرار
’’رؤیا (مرزاقادیانی نے) فرمایا ہم ایک جگہ جارہے ہیں۔ ایک ہاتھی دیکھا اس سے بھاگے اور ایک اور کوچہ
میں چلے گئے۔ لوگ بھی بھاگے جاتے ہیں۔ میں نے پوچھا کہ ہاتھی کہاں ہے۔ لوگوں نے کہا کہ وہ کسی اور کوچہ میں
چلا گیا ہے۔ ہمارے نزدیک نہیں آیا۔
پھر نظارہ بدل گیا، گویا گھر میں بیٹھے ہیں۔ قلم پر میں نے دونوک لگائے ہیں جو ولایت سے آئے ہیں۔ پھر
میں کہتا ہوں یہ بھی نامرد ہی نکلا۔ اس کے بعد الہام ہوا۔ ان شاء اللہ عزیز ذوانتقام۔‘‘
(تذکرہ ص۵۰۴، طبع چہارم)
(۴۲) شیر کا شکار
’’(مرزاصاحب نے) فرمایا میں نے دیکھا کہ زارروس کا سونٹا میرے ہاتھ آگیا ہے۔ وہ بڑا لمبا اور خوبصورت
ہے۔ پھر میں
265
نے غور سے دیکھا تو وہ بندوق ہے اور یہ معلوم نہیں ہوتا کہ وہ بندوق ہے بلکہ اس میں پوشیدہ نالیاں
بھی ہیں۔ گویا بظاہر سونٹا معلوم ہوتا ہے اور وہ بندوق بھی ہے اور پھر دیکھا کہ خوارزم بادشاہ جو بو علی
سینا کے وقت میں تھا، ان کی تیرکمان میرے ہاتھ میں ہے۔ بوعلی سینا بھی میرے پاس ہی کھڑا ہے اور اس تیرکمان
سے ایک شیر کو بھی شکار کیا۔‘‘
(تذکرہ ص۴۵۸،۴۵۰، طبع چہارم)
’’رات کو خواب میں دیکھا کہ گویا زارروس کا سوٹا میرے ہاتھ میں ہے اور اس میں پوشیدہ طور پر بندوق کی
نالی بھی ہے۔ دونوں کام نکالتا ہے اور پھر دیکھا کہ وہ بادشاہ جس کے پاس بوعلی سینا تھا اس کی کمان میرے پاس
ہے اور میں نے اس کمان سے ایک شیر کی طرف تیر چلایا اور شاید بوعلی سینا بھی میرے پاس کھڑا ہے اور وہ بادشاہ
بھی۔ (یہ مرزاقادیانی کی کشفی تاریخ ہے۔ ورنہ شیخ بو علی سینا ۴۲۸ھ میں وفات پاچکا تھا اور خوارزم شاہی
سلطنت کے ساتوں بادشاہوں کی کل مدت ۴۹۰ھ سے ۶۲۸ھ تک ہے۔ للمؤلف)‘‘
(تذکرہ ص۴۵۸،۴۵۹، طبع چہارم)
(۴۳) موسیٰ کا تخیل
’’میں مصر کے دریائے نیل پر کھڑا ہوں اور میرے ساتھ بہت سے بنی اسرائیل ہیں اور میں اپنے آپ کو موسیٰ
سمجھتا ہوں۔ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ ہم بھاگے چلے آتے ہیں۔ نظر اٹھا کر پیچھے دیکھا تو معلوم ہوا کہ فرعون
ایک لشکر کثیر کے ساتھ ہمارے تعاقب میں ہے اور اس کے ساتھ بہت سامان مثل گھوڑے وگاڑیوں ورتھوں کے ہیں اور وہ
ہمارے بہت قریب آگیا ہے۔ میرے ساتھی بنی اسرائیل بہت گھبرائے ہوئے ہیں اور اکثر ان میں سے بے دل ہوگئے ہیں
اور بلند آواز سے چلاتے ہیں کہ اے موسیٰ ہم پکڑے گئے۔ تو میں نے بلند آواز سے کہا، ’’کلا
ان معی ربی سیہدین‘‘ اتنے میں میں بیدار ہوگیا اور زبان پر یہی الفاظ جاری تھے۔‘‘
(تذکرہ ص۴۵۴، طبع چہارم)
(۴۴) خاکسار پیپرمنٹ
’’حضور (مرزاقادیانی) کی طبیعت ناسازتھی۔ حالت کشفی میں ایک شیشی دکھائی گئی جس پر لکھا ہوا تھا،
خاکسار پیپرمنٹ۔‘‘
(اخبار الحکم قادیان ج۹ نمبر۷ ص۱۲ کالم۴، مؤرخہ ۲۴؍فروری ۱۹۰۵ء، مکاشفات ص۳۸، مؤلفہ منظور الٰہی
قادیانی، تذکرہ ص۵۲۷، طبع چہارم)
(۴۵) کولاوائن
’’۵؍مئی ۱۹۰۶ء رؤیا۔ ایک شخص نے ایک دوائی کولاوائن کی ایک بوتل دی جو سرخ رنگ کی دوائی ہے اور بوتل
بند کی ہوئی ہے اور اس پر رسیاں لپٹی ہوئی ہیں۔ ظاہر دیکھنے میں تو بوتل ہی نظر آتی ہے۔ مگر جس شخص نے دی ہے
وہ یہ کہتا ہے کہ یہ کتاب دیتا ہوں۔‘‘
(مکاشفات ص۵۲، مؤلفہ منظور الٰہی قادیانی، تذکرہ ص۶۱۲، طبع چہارم)
(۴۶) درددندان
’’نشان (نبوت) ایک دفعہ مجھے دانت میں سخت درد ہوئی۔ ایک دم قرار نہ تھا۔ کسی شخص سے میں نے دریافت
کیا کہ اس کا کوئی علاج ہے۔ اس نے کہا کہ علاج دندان اخراج دندان اور دانت نکالنے سے میرادل ڈرا۔ تب اس وقت
مجھے غنودگی آگئی اور میں زمین پر بے تابی کی حالت میں بیٹھا ہوا تھا اور چارپائی پاس بچھی تھی۔ میں نے بے
تابی کی حالت میں اس چارپائی کی پانتی پر اپنا سر رکھ دیا اور تھوڑی سی
266
نیند آگئی۔ جب میں بیدار ہوا تو درد کانام ونشان نہ تھا اور زبان پر یہ الہام جاری تھا،اذا مرضت فہو یشفین‘‘
(حقیقت الوحی ص۳۵، خزائن ج۲۲ ص۲۴۶،۲۴۷)
(۴۷) عدالتی الہام
’’ایک دفعہ جب میں گورداسپور میں ایک فوجداری کے مقدمہ کی وجہ سے (جو کرم دین جہلمی نے میرے پر دائر
کیا تھا) موجود تھا۔ مجھے الہام ہوا: ’’یسئلونک عن شانک قل اللہ ثم ذرہم فی خوضہم
یلعبون‘‘ یعنی تیری شان کے بارہ میں پوچھیں گے کہ تیری کیا شان اور کیا مرتبہ ہے۔ کہہ وہ خدا ہے
جس نے مجھے یہ مرتبہ بخشا ہے۔ پھر ان کو اپنی لہو ولعب میں چھوڑ دے۔ سو میں نے یہ الہام اپنی اس جماعت کو جو
گورداسپور میں میرے ہمراہ تھی جو چالیس آدمی سے کم نہیں ہوں گے سنادیا… پھر بعد اس کے جب ہم کچہری میں گئے
تو فریق ثانی کے وکیل نے مجھ سے یہی سوال کیا کہ آپ کی شان اور آپ کا مرتبہ ایسا ہے جیسا کہ تریاق القلوب
کتاب میں لکھا ہے۔ میں نے جواب دیا کہ ہاں خدا کے فضل سے یہی مرتبہ ہے۔ اسی نے یہ مرتبہ مجھے عطاء کیا ہے۔
تب وہ الہام جوخدا کی طرف سے صبح کے وقت ہوا تھا، قریباً عصر کے وقت پورا ہوگیا اور ہماری تمام جماعت کے
زیادت ایمان کا موجب ہوا۔‘‘
(حقیقت الوحی ص۲۶۵،۲۶۶، خزائن ج۲۲ ص۲۷۷،۲۷۸)
(۴۸) بیداری اور خواب
’’خاکسار عرض کرتا ہے کہ حضرت مسیح موعود کو اپنے دشمنوں کی طرف سے چھ مقدمات پیش آئے۔ چار فوجداری،
ایک دیوانی اور ایک مالی… اور یہ مقدمات ان مقدمات کے علاوہ ہیں جو جائیداد وغیرہ کے متعلق دادا صاحب
(مرزاقادیانی کے والد) کی زندگی میں اور ان کے بعد پیش آتے رہے۔‘‘
(سیرت المہدی حصہ اوّل ص۲۲۳، روایت نمبر۲۳۷، جدید ج۱ حصہ اوّل ص۲۲۲، روایت نمبر۲۴۲)
’’۱۳؍مئی ۱۹۰۵ء خواب میں دیکھا جیسا ہم ایک عدالت میں ہیں اور ایک مقدمہ ہے۔ شبہ گزرتا ہے کہ مجسٹریٹ
ایک شخص ڈپٹی قائم علی ہے اور اس کے سررشتہ دار ہمارے بھائی غلام قادر صاحب مرحوم ہیں اور ہم تینوں ایک ہی
جگہ بیٹھے ہیں۔ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ گویا ہم مدعی ہیں اور مدعا علیہ کو بلوانا ہے۔ مجسٹریٹ نے سر رشتہ دار
کے کان میں کچھ کہا جس کو ہم نے بھی سن لیا ہے۔ وہ کہتا ہے کہ یہ پچیس روپیہ طلبا نہ داخل کر دیں اور فریق
ثانی کو بلوایا جاوے۔ ہم نے جیب سے پچیس روپیہ دے دئیے اور فریق مخالف کو طلب کیاگیا۔‘‘
(مکاشفات ص۴۰، مؤلفہ منظور الٰہی قادیانی، تذکرہ ص۵۸۴، طبع چہارم)
’’یہ خواب آئی میں نے دیکھا کہ عبد اللہ سنوری میرے پاس آیا ہے اور وہ ایک کاغذ پیش کر کے کہتا ہے کہ اس
کاغذ پر میں نے حاکم سے دستخط کرانا ہے اور جلدی جانا ہے۔ میری عورت سخت بیمار ہے اور کوئی مجھے پوچھتا
نہیں۔ دستخط نہیں ہوتے۔ اس وقت میں نے عبد اللہ کے چہرے کی طرف دیکھا تو زردرنگ اور سخت گھبراہٹ اس کے چہرے پر
ٹپک رہی ہے۔ میں نے اس کو کہا کہ یہ لوگ روکھے ہوتے ہیں۔ نہ کسی کی سفارش مانیں اور نہ کسی کی شفاعت۔ میں
تیرا کاغذ لے جاتا ہوں۔ آگے جب کاغذ لے کر گیا تو کیا دیکھتا ہوں کہ ایک شخص مٹھن لال نام جو کسی زمانہ
بٹالہ میں اکسٹرا اسسٹنٹ تھا، کرسی پر بیٹھا ہوا کچھ کام کر رہا ہے اور گرد اس کے عملہ کے لوگ ہیں۔ میں نے
جاکر کاغذ اس کو دیا اور کہا کہ یہ ایک میرا دوست ہے اور پرانا دوست ہے اور واقف ہے۔ اس پر دستخط کر دو۔ اس
نے بلاتأمل اسی وقت لے کر دستخط کر دئیے۔ پھر میں نے واپس آکر وہ کاغذ ایک شخص کو دیا اور کہا خبردار ہوش
سے پکڑو، ابھی دستخط گیلے ہیں اور پوچھا کہ عبد اللہ کہاں
267
ہے۔ انہوں نے کہا کہ کہیں باہر گیا ہے۔ بعد اس کے آنکھ کھل گئی اور ساتھ پھر غنودگی کی حالت ہوگئی۔
تب میں نے دیکھا کہ اس وقت میں کہتا ہوں مقبول کو بلاؤ۔ اس کے کاغذ پر دستخط ہوگئے ہیں۔‘‘
(مکاشفات ص۴۳، مؤلفہ منظور الٰہی قادیانی، تذکرہ ص۵۶۰،۵۶۱، طبع چہارم)
’’۱۷،۱۸؍نومبر ۱۹۰۱ء کی درمیانی شب رؤیا دیکھا کہ ایک سپاہی وارنٹ لے کر آیا ہے اور اس نے میرے ہاتھ
پر ایک رسی سی لپیٹی ہے تو میں اسے کہہ رہا ہوں کہ یہ کیا ہے۔ مجھے تو اس سے ایک لذت اور سرور آرہا ہے۔ وہ
لذت ایسی ہے کہ میں اسے بیان نہیں کر سکتا۔ پھر اسی اثناء میں میرے ہاتھ میں معاً ایک پروانہ دیا گیا ہے۔
کسی نے کہا کہ یہ اعلیٰ عدالت سے آیا ہے۔ وہ پروانہ بہت ہی خوشخط لکھا ہوا تھا اور میرے بھائی مرزاغلام قادر
صاحب مرحوم کا لکھا ہوا تھا۔ میں نے اس پروانہ کو جب پڑھا تو اس میں لکھا ہوا تھا، عدالت عالیہ نے اسے بری
کیا ہے۔‘‘
(مکاشفات ص۲۱، مؤلفہ منظور الٰہی قادیانی، تذکرہ ص۴۱۳، طبع چہارم)
’’خواب میں مجھ کو دکھلایا گیا کہ ایک دوکاندار کی طرف میں نے کسی قدر قیمت بھیجی تھی کہ وہ ایک عمدہ
اور خوشبودار چیز بھیج دے۔ اسی نے قیمت رکھ کر ایک بدبودار چیز بھیج دی۔ وہ چیز دیکھ کر مجھے غصہ آیا اور
میں نے کہا جاؤ، دوکاندار کو کہو کہ وہی چیز دے ورنہ میں اس دغا کی اس پرنالش کروں گا اور پھر عدالت سے کم
سے کم چھ ماہ کی اس کو سزا ملے گی اور امید تو زیادہ کی ہے۔ تب دوکاندار نے شاید یہ کہلا بھیجا کہ یہ
میراکام نہیں یا میرا اختیار نہیں اور ساتھ ہی یہ کہلا بھیجا کہ ایک سودائی پھرتا ہے، اس کا اثر میرے دل پر
پڑگیا اور میں بھول گیا اور اب وہی چیز دینے کو تیار ہوں۔‘‘
(مکاشفات ص۱۰، مؤلفہ منظور الٰہی قادیانی، تذکرہ ص۲۳۱، طبع چہارم)
’’۲۸؍مئی ۱۹۰۵ء رؤیا۔ شیخ رحمت اللہ صاحب کی ایک گھڑی میرے پاس ہے اور ایک ایسی چیز جیسے ترازو کے دو
پلڑے ہوتے ہیں۔ مثل جھیوروں کی بینگھی کے۔ میں ایک ڈولی میں بیٹھا ہوا ہوں۔ پھر کسی نے میاں شریف احمد کو اس
میں بٹھا دیا اور اس کو چکر دینا شروع کیا۔ اتنے میں گھڑی گر گئی اور اس جگہ قریب ہی گری ہے۔ میں کہتا ہوں
کہ اس کو تلاش کرو، ایسا نہ ہوکہ محمد حسین نالش کر دے۔‘‘
(مکاشفات ص۴۱، مؤلفہ منظور الٰہی قادیانی، تذکرہ ص۵۵۲، طبع چہارم)
(۴۹) ایک اہلکار
’’حضرت مرزاصاحب سیالکوٹ میں جاکر اہلمد متفرقات کی آسامی پر ملازم ہوئے۔ یہ ۱۸۶۸ء تک کا واقعہ ہے…
دنیا کے تمام علاقوں میں سے سیالکوٹ کے علاقہ ہی کو یہ عزت حاصل ہوئی کہ آپ نے وہاں اپنی عمر کے چند سال
بطور ایک اہلکار کے گزارے… لالہ بھیم سین صاحب وکیل جن کے نانا ڈپٹی مٹھن لال صاحب بٹالہ میں اکسٹرا اسسٹنٹ
تھے، ان کے بڑے رفیق تھے۔‘‘
(حیات النبی ج۱ ص۵۸،۵۹، مؤلفہ شیخ یعقوب علی عرفانی قادیانی)
(۵۰) محافظ دفتر
’’ایک مرتبہ اس عاجز نے خواب میں دیکھا کہ ایک عالی شان حاکم یا بادشاہ کا ایک خیمہ لگا ہوا ہے اور
لوگوں کے مقدمات فیصل ہورہے ہیں اور ایسا معلوم ہوا کہ بادشاہ کی طرف سے یہ عاجز محافظ دفتر کا عہدہ رکھتا
ہے اور جیسے دفتروں میں مثلیں ہوتی ہیں، بہت سی مثلیں پڑی ہوئی ہیں اور اس عاجز کے تحت میں ایک شخص نائب
محافظ دفتر کی طرح ہے۔ اتنے میں ایک اردلی دوڑتا ہوا آیا کہ مسلمانوں کی مثل پیش ہونے کا حکم ہے، وہ جلد
نکالو۔‘‘
(تذکرہ ص۶۰،۶۱، طبع چہارم)
268
(۵۱) مرزاحاضر ہے
’’میں ایک دفعہ کیا دیکھتا ہوں کہ میں کچہری میں گیا ہوں۔ دیکھا تو اللہ تعالیٰ ایک حاکم کی صورت پر کرسی
پر بیٹھا ہوا ہے اور ایک طرف ایک سررشتہ دار ہے کہ ہاتھ میں ایک مسل لئے ہوئے پیش کر رہا ہے۔ حاکم نے مسل
اٹھا کر کہا کہ مرزا حاضر ہے تو میں نے باریک نظر سے دیکھا کہ ایک کرسی اس کے ایک طرف خالی پڑی ہوئی معلوم
ہوئی۔ اس نے مجھے کہا کہ اس پر بیٹھو اور مسل اس کے ہاتھ میں لی ہوئی ہے۔ اتنے میں میں بیدار ہوگیا۔‘‘
(ملفوظات ج۵ ص۵۲، جدید ملفوظات ج۳ ص۵۱، مکاشفات ص۲۸،۲۹، مؤلفہ منظور الٰہی قادیانی)
(۵۲) خدائی لیڈر
’’مولوی عبدالکریم صاحب جب گھر آئے تو انہوں نے غیرت کے جوش میں اپنی بیوی کو بہت کچھ سخت سست کہا۔
حتیٰ کہ ان کی یہ غصہ کی آواز نیچے مسیح موعود نے اپنے مکان میں بھی سن لی۔ چنانچہ اس واقعہ کے متعلق اسی شب
حضرت صاحب (مرزاقادیانی) کو یہ الہام ہوا کہ یہ طریق اچھا نہیں اس سے روک دیا جائے مسلمانوں کے لیڈر
عبدالکریم کو۔ لطیفہ یہ ہوا کہ صبح مولوی صاحب مرحوم تو اپنی اس بات پر شرمندہ تھے اور لوگ انہیں مبارک
بادیں دے رہے تھے کہ اللہ تعالیٰ نے ان کا نام مسلمانوں کا لیڈر رکھا ہے۔‘‘
(سیرت المہدی حصہ دوم ص۷۸، روایت نمبر۴۰۸، جدید ج۱ حصہ دوم ص۳۶۵، روایت نمبر۴۱۱)
(۵۳) اکیس، اکیس، اکیس
’’رؤیا میں میں نے مولوی عبدالکریم صاحب کو دیکھا اور فوت شدہ خیال کر کے ان سے کہا کہ میری عمر اتنی
ہوکہ سلسلہ کی تکمیل کے واسطے کافی وقت مل جائے۔ اس کے جواب میں انہوں نے کہا کہ تحصیلدار۔ میں نے انہیں کہا
کہ آپ غیرمتعلق بات کیوں کرتے ہیں۔ جس امر کے لئے کہا ہے اس کے لئے دعا کریں تو انہوں نے سینہ تک ہاتھ
اٹھائے۔ مگر آگے نہ اٹھائے اور کہا اکیس اکیس اکیس اور یہ ہی کہتے ہوئے چلے گئے۔‘‘
(صادقوں کی روشنی ص۷،۸، انوار العلوم ج۱ ص۹۲)
(۵۴) ایک بزرگ سے کشتم کشتا
’’مرزا کو رؤیا ہوئی کہ میں ایک قبر پر بیٹھا ہوں۔ صاحب قبر میرے سامنے بیٹھا ہے۔ میرے دل میں خیال
آیا کہ آج بہت سی دعائیں امور ضروری کے متعلق مانگ لوں اور یہ شخص آمین کہتا جاوے۔ آخر میں نے دعائیں مانگنا
شروع کیں۔ جن میں سے بعض دعائیں یاد ہیں اور بعض بھول گئیں۔ ہر ایک دعا پر وہ شخص بڑی شرح صدر سے آمین کہتا
تھا۔ ایک دعایہ ہے کہ الٰہی! میرے سلسلے کو ترقی ہو اور تیری نصرت اور تائید اس کے شامل حال ہو اور بعض
دعائیں اپنے دوستوں کے حق میں تھیں۔ اتنے میں خیال آیا کہ یہ دعا بھی مانگ لوں کہ میری عمر ۹۵سال ہو جاوے۔
میں نے دعا کی اس نے آمین نہ کہی۔ میں نے وجہ پوچھی وہ خاموش ہورہا۔ پھر میں نے اس سے سخت تکرار اور اصرار
شروع کیا۔ یہاں تک کہ اس سے ہاتھا پائی کرتا تھا۔ بہت عرصہ کے بعد اس نے کہا اچھا دعا کرو میں آمین کہوں گا۔
چنانچہ میں نے دعا کی کہ میری عمر ۹۵برس کی ہو جاوے۔ اس نے آمین کہی۔ (لیکن افسوس کہ دعا قبول نہیں ہوئی۔
پانچ سال کے بعد ۱۹۰۸ء میں مرزاغلام احمد فوت ہوگئے۔ شاید بزرگ صاحب نے آمین دل سے نہ کہی ہو۔ للمؤلف)‘‘
(کشف مرزاغلام احمد قادیانی مندرجہ اخبار الحکم قادیان ج۷ نمبر۴۶،۴۷ ص۱۵ کالم۱، مؤرخہ ۱۷،۲۴؍دسمبر
۱۹۰۳ء، مکاشفات ص۳۴، مؤلفہ منظور الٰہی قادیانی، تذکرہ ص۴۹۷، طبع چہارم)
269
(۵۵) عمر کی بشارت
’’میری پیدائش ۱۸۳۹ء یا ۱۸۴۰ء میں سکھوں کے آخری وقت میں ہوئی ہے اور میں ۱۸۵۷ء میں سولہ برس یا
سترھویں برس میں تھا اور ابھی ریش وبردت کا آغاز نہیں تھا۔‘‘
(کتاب البریہ ص۱۴۶، روحانی خزائن ج۱۳ ص۱۷۷ حاشیہ)
’’بیان کیا مجھ سے مولوی شیر علی صاحب نے کہ حضرت مسیح موعود فرماتے تھے کہ جب سلطان احمد پیدا ہوا اس
وقت ہماری عمر صرف سولہ سال کی تھی۔‘‘
(سیرت المہدی حصہ اوّل ص۲۵۶، روایت نمبر۱۷۸، جدید جلد اوّل حصہ اوّل ص۲۵۵، روایت نمبر۲۸۳)
’’۱۶؍مئی ۱۹۰۱ء اللہ تعالیٰ حاضر ہے میں سچ کہوں گا۔ میری عمر ساٹھ سال کے قریب ہے۔ (مرزاغلام احمد
قادیانی کا بیان جو اس نے عدالت گورداسپور میں بطور گواہ مدعا علیہ مرزانظام الدین کے مقدمہ میں دیا)‘‘
(منقول از کتاب منظور الٰہی ص۲۴۱، منظور الٰہی قادیانی لاہوری، مندرجہ الحکم قادیان ج۵ نمبر۲۸ ص۷
کالم۱، مؤرخہ ۳۱؍جولائی ۱۹۰۱ء)
’’واراد واموتنا واشاعوا فیہ خبراً، فبشرنا ربنا بثمانین سنۃ من العمر او ہو اکثر
عدداً وموت ماخواستند ودراں پیش گوئی کردند پس خدائے مامارا بشارت ہشتاد سال عمر داد بلکہ شاید
ازیں زیادہ ومارا گرو ہے (یعنی بشارت ہوئی کہ عمر اسّی سال ہوگی یا اس سے زیادہ)‘‘
(مواہب الرحمن ص۲۱، خزائن ج۱۹ ص۲۳۹)
’’چونکہ خداتعالیٰ جانتا تھا کہ دشمن میری موت کی تمنا کریں گے تایہ نتیجہ نکالیں کہ جھوٹا تھا تب ہی
جلد مر گیا۔ اس لئے پہلے ہی اسے اس نے مجھے مخاطب کر کے فرمایا: ’’ثمانین حولا اوقریبا من
ذالک او تزید علیہ سنینا وتری نسلا بعیدا‘‘ یعنی تیری عمر اسّی برس کی ہوگی، یادوچار کم یا چند
سال زیادہ اور تو اس قدر عمر پائے گا کہ ایک دور کی نسل کو دیکھ لے گا اور یہ الہام قریباً پینتیس برس سے
ہوچکا ہے۔ (یعنی قریباً ۱۸۶۵ء میں، لیکن درحقیقت مرزاقادیانی نے صرف ۶۸سال عمر پائی۔ اندازہ غلط نکلا۔
اللہتعالیٰ کو فضول بیچ میں ڈالا۔ للمؤلف)‘‘
(اربعین نمبر۳ ص۲۹،۳۰، خزائن ج۱۷ ص۴۱۸،۴۱۹)
’’اور پھر آخر میں اردو میں فرمایا کہ میں تیری عمر کو بھی بڑھادوں گا۔ یعنی دشمن جو کہتا ہے کہ صرف
جولائی ۱۹۰۷ء سے چودہ مہینے تک تیری عمر کے دن رہ گئے ہیں۔ یا ایسا ہی جو دوسرے دشمن پیش گوئی کرتے ہیں۔ ان
سب کو میں جھوٹا کروں گا اور تیری عمر کو بڑھادوں گا۔ تامعلوم ہوکہ میں خدا ہوں اور ہر ایک امر میرے اختیار
میں ہے۔ (لیکن تعجب کہ مئی ۱۹۰۸ء میں انتقال ہوگیا اور مخالفین کی بات سچی نکلی۔ للمؤلف)‘‘
(مندرجہ تبلیغ رسالت ج۱۰ ص۱۳۱، مجموعہ اشتہارات ج۳ ص۵۹۱، جدید مجموعہ اشتہارات ج۲ ص۷۲۰)
(لیکن واقعہ یہ ہے کہ مرزاقادیانی نے مئی ۱۹۰۸ء میں وفات پائی۔ گویا فی الحقیقت صرف اڑسٹھ سال عمر
ہوئی۔ للمؤلف)
(۵۶) پیش گوئیاں
’’اگر مسیح کے اصلی کاموں کو ان حواشی سے الگ کر کے دیکھا جائے جو محض افتراء کے طور پر یا غلط فہمی
کی وجہ سے گھڑے گئے ہیں تو کوئی اعجوبہ نظر نہیں آتا۔ بلکہ مسیح کے معجزات اور پیش گوئیاں پر جس قدر اعتراض
اور شکوک پیدا ہوتے ہیں، میں نہیں سمجھ سکتا کہ کسی اور نبی کے خوارق یا پیش خبریوں میں کبھی ایسے شبہات
پیدا ہوئے ہوں۔ کیا تالاب کا قصہ مسیحی معجزات کی رونق دور نہیں کرتا؟ اور پیش گوئیوں کا حال اس سے بھی
زیادہ ترابتر ہے۔ کیا یہ بھی کچھ پیش گوئیاں ہیں کہ زلزلے آئیں گے۔ مری پڑے گی۔ لڑائیاں ہوں گی۔ قحط پڑیں
گے۔‘‘
(ازالہ اوہام حصہ اوّل ص۶،۷، خزائن ج۳ ص۱۰۵،۱۰۶)
270
’’اس درماندہ انسان (مسیح) کی پیش گوئیاں کیا تھیں۔ صرف یہی کہ زلزلے آئیں گے۔ قحط پڑیں گے۔ لڑائیاں
ہوں گی۔ پس ان دلوں پر خدا کی لعنت جنہوں نے ایسی ایسی پیش گوئیاں اس کی خدائی پر دلیل ٹھہرائیں اور ایک
مردہ کو اپنا خدا بنالیا۔ کیا ہمیشہ زلزلے نہیں آتے۔ کیا ہمیشہ قحط نہیں پڑتے۔ کیا کہیں نہ کہیں لڑائی کا
سلسلہ شروع نہیں رہتا۔ پس اس نادان اسرائیلی نے ان معمولی باتوں کا پیش گوئی کیوں نام رکھا۔‘‘
(ضمیمہ انجام آتھم ص۴، خزائن ج۱۱ ص۲۸۸ حاشیہ)
’’دنیا میں بجز انبیاء کے اور بھی ایسے لوگ بہت نظر آتے ہیں کہ ایسی ایسی خبریں پیش از وقوع بتلایا
کرتے ہیں کہ زلزلے آویں گے، وباء پڑے گی۔ لڑائیاں ہوں گی۔ قحط پڑے گا۔ ایک قوم دوسری قوم پر چڑھائی کرے گی،
یہ ہوگا، وہ ہوگا۔‘‘
(براہین احمدیہ حصہ چہارم ص۴۶۷،۴۶۸، خزائن ج۱ ص۵۵۸،۵۵۹)
’اور یہ سب خبریں ایسی ہیں جن کے ساتھ اقتدار اور قدرت الوہیت شامل ہے یہ نہیں کہ نجومیوں کی طرح صرف
ایسی ہی خبریں ہوں کہ زلزلے آویں گے۔ قحط پڑیں گے۔ قوم پر قوم چڑھائی کرے گی۔ وبائیں پھیلیں گی، مری پڑے گی۔
وغیرہ وغیرہ۔‘‘
(براہین احمدیہ حصہ سوم ص۲۴۵، خزائن ج۱ ص۲۷۱ حاشیہ)
’’میرے پر خداتعالیٰ نے ظاہر کیا تھا کہ سخت بارشیں ہوں گی اور گھروں میں ندیاں چلیں گی اور بعد اس کے
سخت زلزلے آئیں گے۔ چنانچہ ان بارشوں سے پہلے وہ وحی الٰہی اخبار بدر اور الحکم میں شائع کر دی گئی تھی۔
چنانچہ ویسا ہی ظہور میں آیا اور کثرت بارشوں سے کئی گاؤں ویران ہوگئے اور وہ پیش گوئی پوری ہوگئی۔ مگر
دوسرا حصہ اس کا یعنی سخت زلزلے ابھی ان کی انتظار ہے۔ سو منتظر رہنا چاہئے۔‘‘
(حقیقت الوحی ص۳۶۴، خزائن ج۲۲ ص۳۷۸)
(۵۷) طاعون کا حکم
’’(مرزاغلام احمد قادیانی نے) فرمایا رات کو میں نے ایک خواب دیکھی کہ ایک شخص نے مجھے ایک پروانہ دیا
ہے۔ وہ لمبا سا کاغذ ہے۔ میں نے پڑھا تو لکھا ہوا تھا کہ عدالت سے چار جگہ کے لئے طاعون کا حکم جاری کیاگیا
ہے اس پروانہ سے پایا جاتا ہے کہ اس کا اجراء میں نے کیا ہے۔ جیسے کاغذات محافظ دفتر کے پاس ہوتے ہیں ویسے
ہی وہ میرے پاس ہے۔ میں نے کہا کہ یہ حکم ایک عرصہ سے ہے اور اس کی تعمیل آج تک نہ ہوئی۔ اب میں اس کا کیا
جواب دوں گا۔ اس سے مجھے ایک خوف طاری ہوا اور تمام رات میں اسی خرخشہ میں رہا اور اس پر روشن خط میں لفظ
طاعون کا لکھا تھا۔ گویا حکم میرے نام آتا ہے اور میں جاری کرتا ہوں۔‘‘
(مکاشفات ص۳۰، مؤلفہ منظور الٰہی قادیانی، تذکرہ ص۴۶۵، طبع چہارم)
(۵۸) طاعون کی آمد
’’(نبوت کا) چھیالیسواں نشان یہ ہے کہ اس زم انے میں جب کہ بجز ایک مقام کے پنجاب کے تمام اضلاع میں
طاعون کا نام ونشان نہ تھا۔ خداتعالیٰ نے مجھے خبر دی کہ تمام پنجاب میں طاعون پھیل جائے گی اور ہر ایک مقام
طاعون سے آلودہ ہوجائے گا اور بہت مری پڑے گی اور ہزارہا لوگ طاعون کا شکار ہو جائیں گے اور کئی گاؤں ویران
ہو جائیں گے اور مجھے دکھایا گیا کہ ہر ایک جگہ اور ہر ایک ضلع میں طاعون کے سیاہ درخت لگائے گئے ہیں۔
چنانچہ یہ پیش گوئی کئی ہزار اشتہار اور رسالوں کے ذریعہ سے میں نے اس ملک میں شائع کی پھر تھوڑی مدت کے بعد
ہر ایک ضلع میں طاعون پھوٹ پڑی۔‘‘
(حقیقت الوحی ص۲۲۰، خزائن ج۲۲ ص۲۳۰)
271
(۵۹) قادیانی زلزلہ
’’مجھے خداتعالیٰ کی طرف سے خبر ملی کہ ایک زلزلہ اور آنے والا ہے جو قیامت کا نمونہ ہوگا۔ اس خبر کے
سنتے ہی میرے بدن پر لرزہ پڑ گیا…‘‘
(مندرجہ تبلیغ رسالت ج۱۰ ص۹۶، مجموعہ اشتہارات ج۳ ص۵۳۸، جدید مجموعہ اشتہارات ج۲ ص۶۴۸)
’’مجھے اب تک قطعی طور پر یہ بھی معلوم نہیں کہ اس زلزلہ سے درحقیقت ظاہری زلزلہ مراد ہے یا کوئی اور
شدید آفت ہے جو زلزلے کا رنگ اپنے اندر رکھتی ہے۔ بہرحال اس سے خوف کرنا لازم اور احتیاط کرنا ضروری سمجھ کر
میں اب تک خیموں میں باہر جنگل میں گزارہ کرتا ہوں اور خیموں کے خریدنے اور عمارتوں کے بن انے میں ایک ہزار
روپیہ کے قریب ہمارا خرچ بھی ہوچکا ہے اور اس قدر خرچ کون اٹھا سکتا ہے۔ بجز اس کے کہ جو سچے دل سے آنے والے
حادثہ پر یقین رکھتا ہے۔ مجھے بعد میں زلزلہ کی نسبت یہ بھی الہام ہوا تھا کہ پھر بہار آئی۔ خدا کی بات پھر
پوری ہوئی۔ مجھے اس پر غور کرنے سے اجتہادی طور پر خیال گزرتا ہے کہ ظاہر الفاظ وحی الٰہی کے یہ چاہتے ہیں
کہ یہ پیش گوئی بہار کے ایام میں پوری ہوگی۔ شاید ان تحریکات کے لئے بہار کے ایام کو کچھ خصوصیت ہو اور ممکن
ہے کہ اس وحی کے اور معنی ہوں اور بہار سے مراد کچھ اور ہو۔‘‘
(مرزاقادیانی کا اشتہار مؤرخہ ۱۱؍مئی ۱۹۰۵ء، مندرجہ تبلیغ رسالت ج۱۰ ص۹۷، مجموعہ اشتہارات ج۳ ص۵۳۹،
جدید مجموعہ اشتہارات ج۲ ص۶۴۸،۶۴۹ حاشیہ)
موعودہ قیامت خیز زلزلہ کا مرزاقادیانی کو آخر عمر تک انتظار رہا۔ مگر شاید بھول میں پڑ گیا۔ نہ آیا
اور مرزاغلام احمد فوت ہو گئے۔ اس کے بعد ۱۹۱۴ء میں جب یورپ کی جنگ عظیم چھڑی تو مرزامحمود خلیفہ قادیان کو
من مانا موقع مل گیا اور شدومد سے اعلان ہوا کہ:
’’اس پیش گوئی میں زلزلے کا لفظ ہے۔ لیکن اس سے مراد جنگ عظیم تھی… جب حضرت مسیح موعود نے اس پیش گوئی
کو شائع کیا تو اس وقت یہ نوٹ بھی لکھ دیا کہ گو ظاہر الفاظ زلزلے ہی کی طرف اشارہ کرتے ہیں۔ مگر ممکن ہے کہ
یہ معمولی زلزلہ نہ ہو۔ بلکہ کوئی اور شدید آفت ہو جو قیامت کا نظارہ دکھلادے۔‘‘
(دعوۃ الامیر ص۲۳۱،۲۳۲، انوارالعلوم ج۷ ص۵۴۹)
لیکن قادیانی صاحبان کی توجہات کا سلسلہ اب بھی جاری ہے۔ گزشتہ دفعہ ۱۵؍جنوری ۱۹۳۴ء کو صوبہ بہار میں
زلزلہ آیاتو وہ اسی پیش گوئی کا مصداق قرار پایا اور اب ۳۱؍مئی ۱۹۳۵ء کے کوئٹہ کے زلزلے پر بھی خوشی منائی
جارہی ہے کہ: ’’یہ ایک تازہ نشان ہے۔ حضرت مسیح موعود کی صداقت کا۔‘‘
(الفضل قادیان ج۲۲ نمبر۱۸۱ ص۱ کالم۱، مؤرخہ ۵؍جون ۱۹۳۵ء)
(۶۰) زلزلے کے معنی
’’(مرزاقادیانی کے) ایک صحابی نے خواب سنایا جس میں دیکھا کہ زلزلہ آیا ہے۔ حضرت مسیح موعود
(مرزاقادیانی) نے فرمایا، یہی طاعون زلزلہ ہے۔‘‘
(البدر جلد اوّل نمبر۹۰)
’’جب خود حضرت مسیح موعود کو ایک عظیم الشان زلزلہ یعنی جنگ عظیم کی خبر دی گئی تو اس وقت حضرت مسیح
موعود نے تحریر فرمایا، اس سے مراد ممکن ہے کہ یہ معمولی زلزلہ نہ ہو بلکہ کوئی شدید آفت ہو جو قیامت کا
نظارہ دکھلا دے۔ جس کی نظیر کبھی اس زمانے نے نہ دیکھی ہو اور جانوں اور عمارتوں پر سخت تباہی آوے۔ جس سے
معلوم ہوتا ہے زلزلہ سے مراد سخت تباہی مچانے اور ہلادینے والی آفت ہوتی ہے جیسے طاعون یا جنگ اور بعض دفعہ
ظاہری زلزلہ بھی۔‘‘
(الفضل قادیان ج۱۹ نمبر۱۴۸، مؤرخہ ۱۴؍جون ۱۹۳۲ء)
(۶۱) مرزاقادیانی کی دلیل
’’حضرت مسیح موعود (مرزاغلام احمد قادیانی) نے آیت:’’وما کنا معذبین حتی نبعث
رسولا‘‘کو
272
اپنی صداقت کی دلیل ٹھہرا کر اپنا رسول ہونا تحریر فرمایا ہے اور یورپ اور امریکہ اور اٹلی وغیرہ میں
زلازل اور طوفانوں کے آنے کا باعث بھی اپنی بعثت ٹھہرائی ہے۔ لیکن مولوی محمد علی صاحب (امیر جماعت لاہور)
اس امر کو مذہب کا کھیل بنانا قرار دیتے ہیں اور یہ لکھ کر کہ اگر یورپ اور اٹلی وغیرہ میں عذابوں کا آنا
کسی نئے رسول کے آنے کی وجہ سے ہے تو اسے (یعنی رسول کو) ہندوستان میں نہیں بلکہ یورپ واٹلی میں آنا چاہئے
تھا۔ صریح طور پر حضرت اقدس (مرزاقادیانی) کی تکذیب کی ہے اور ان کا یہ اعتراض بعینہٖ وہی ہے جوڈاکٹر
عبدالحکیم مرتد نے (یعنی ڈاکٹر عبدالحکیم صاحب نے، جو مدتوں مرزاقادیانی کے معتقد اور مرید رہے۔ لیکن بالآخر
اصلیت سمجھ کر بہ توفیق الٰہی قادیانیت سے تائب ہوکر مسلمان ہوگئے۔ للمؤلف) حضرت مسیح موعود پر کیا تھا۔
چنانچہ وہ لکھتا ہے کہ… زلزلہ سانس فرانسسکو میں آئے یا فارموسا میں یا کولمبیا میں یا اٹلی میں کہیں طاعون
ہو، کہیں کالرا پھیلے، اس کو تکذیب میں مرزا کا نتیجہ بتلایا جائے۔ کیا دنیا میں سوائے اس ایک جرم کے اور
کوئی جرم جناب خداوندی میں قابل سزا نہیں رہا۔‘‘
(منکرین خلافت کا انجام، جلال الدین شمس قادیانی ص۹۰، الذکرالحکیم نمبر۴ ص۴۸، مؤلفہ ڈاکٹر عبدالحکیم
مطبوعہ عزیزی)
’’جو لوگ ان الفاظ سے یہ مراد لیتے ہیں کہ دنیا میں کبھی کوئی عذاب نہیں آتا۔ جب تک کہ پہلے ایک رسول
اس وقت مبعوث نہ کیا جائے۔ وہ غلطی کرتے ہیں… پھر اگر رسول کی ضرورت ہے تو عین اس مقام پر ہے جہاں عذاب آئے۔
مثلاً جنگ کا عذاب یورپ میں آئے یا کوئی بھاری زلزلہ اٹلی میں آئے اور اس سے دلیل یہ لی جائے کہ ضرور ہے کہ
اس وقت کوئی رسول مبعوث ہوگیا ہو تو پھر ایسے رسول کا ہندوستان میں مبعوث ہونا خدائے حکیم کا فعل نہیں
ہوسکتا جس میں حکمت کچھ بھی نہیں۔ وہ رسول یورپ میں یا اٹلی میں آنا چاہئے تھا۔
پھر دوسری دقت یہ ہے کہ ہر رسول کے لئے ایک وقت مقرر کرنا پڑے گا کہ اگر اس کے بعد اتنے عرصے تک عذاب
آئے تو وہ اس کی بعثت کی وجہ سے ہوگا اور اگر اس میعاد کے بعد آئے تو نیا رسول چاہئے اور اب جو عذاب آرہے
ہیں اگر ان کے لئے کوئی نیا رسول پیدا ہونا ضروری ہو چکا ہے تو اب آئندہ رسول کی کب ضرورت ہوگی۔ آیا یہ
قانون تیرہ سو سال کا بن جائے گا۔ ایسی باتیں کرنا گویا لوگوں کو یہ بتانا ہے کہ مذہب علم نہیں بلکہ کھیل
ہے۔‘‘
(بیان القرآن ج۲ ص۷۸۵، طبع جدید، زیر آیت وما کنا معذبین… مصنفہ مولوی محمد علی لاہوری قادیانی)
’’اسی طرح (نبوت ورسالت کے اجراء پر) بعض وقت ’’وما کنا معذبین حتی نبعث رسولا‘‘
کو بطور دلیل پیش کیا جاتا ہے کہ چونکہ اس زمانہ میں عذاب آرہے ہیں اس لئے ضرور ہے کہ رسول مبعوث ہوا ہو تو
سوال یہ ہے کہ اس وقت تو بہرحال رسول کوئی موجود نہیں حالانکہ عذاب آج بھی آرہے ہیں۔ اگر یہ کسی گذشتہ رسول
کی وجہ سے ہیں تو پھرآنحضرت ﷺ ہی وہ رسول کیوں نہیں۔ کیاآنحضرت ﷺ کی رسالت کا زمانہ ختم ہوگیا ہے۔ یا
اللہتعالیٰ نے کوئی حد بندی کہیں لگائی ہے کہ تیرہ سو سال تک جو عذاب آئے گا وہ رسول اللہ ﷺ کے انکار کی وجہ سے
آئے گا اور اس کے بعد کسی اور رسول کے انکار کی وجہ سے آئے گا اور پھر اگر مسیح موعود رسول ہیں تو یہی معلوم
ہونا چاہئے کہ ان کی وجہ سے کتنی مدت تک عذآب آئیں گے تاکہ اس کے بعد کسی اور نبی کی تلاش کی جائے۔‘‘
(النبوۃ فی الاسلام ص۱۰۳، مصنفہ مولوی محمد علی لاہوری قادیانی)
(۶۲) آتھم کا غم
(مرزاغلام احمد قادیانی نے مسیح موعود ہونے کا دعویٰ کیا تو عیسائیوں سے بھی خوب چلی۔ مناظرے ہوئے۔
اشتہار بازی ہوئی۔ گالی گلوچ تو کوئی بات ہی نہ تھی۔ فوجداری تک نوبت پہنچی۔ مقدمے چلے۔ ان تمام معرکوں میں
سب سے زیادہ مشہور عبد اللہ آتھم کا قصہ ہے کہ اوّل مرزاقادیانی نے اس سے مناظرہ کیا۔ پھر یہ پیش گوئی کی کہ
اتنے عرصے کے اندر فلاں تاریخ تک وہ مر جائے گا۔ ضعیف اور سن
273
رسیدہ ہونے کے باوجود پیش گوئی کی تاریخ پر نہ مرا۔ بلکہ کافی عرصے تک وہ بعد کو زندہ رہا۔
مرزاقادیانی نے تاویلات کا بہت زور لگایا۔ لیکن کیا بنے بات جہاں بات بنائے نہ بنے… للمؤلف)
’’مکرمی اخویم منشی رستم علی صاحب السلام وعلیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
عنایت نامہ معہ کارڈ پہنچا۔ اب تو صرف چند روز پیش گوئی میں رہ گئے ہیں۔ دعا کرتے رہیں کہ اللہ تعالیٰ
اپنے بندوں کو امتحان سے بچادے۔ شخص معلوم فیروزپور میں ہے اور تندرست اور فربہ ہے۔ خداتعالیٰ اپنے ضعیف
بندوں کو ابتلاء سے بچاوے۔ آمین ثم آمین۔ باقی خیریت ہے۔ مولوی صاحب کو بھی لکھیں کہ اس دعا میں شریک رہیں۔
والسلام!‘‘
(خاکسار غلام احمد از قادیان، مؤرخہ ۲۲؍اگست ۱۸۹۴ء)
نوٹ (از مؤلف مکتوبات احمد) یہ آتھم کی پیش گوئی کے متعلق ہے۔ حضرت اقدس (مرزاقادیانی) کا ایمان
خداتعالیٰ کی بے نیازی اور استغناء ذاتی پر قابل رشک ہے۔ آپ کو مخلوق کے ابتلاء کا خیال ہے۔ (عرفانی)
(مکتوبات احمدیہ ج۵ نمبر۳ ص۱۲۸، مکتوب نمبر۲۱۷، جدید مکتوبات احمد ج۲ ص۶۰۵، مکتوب نمبر۲۲۱)
’’بیان کیا مجھ سے میاں عبد اللہ صاحب سنوری نے کہ جب آتھم کی میعاد میں صرف ایک دن باقی رہ گیا تو حضرت
مسیح موعود نے مجھ سے اور میاں حامد علی صاحب مرحوم سے فرمایا کہ اتنے چنے (مجھے تعداد یاد نہیں رہی کہ کتنے
چنے آپ نے بتائے تھے) لے لو اور ان پر فلاں سورت کا وظیفہ اتنی تعداد میں پڑھو۔ (مجھے وظیفے کی تعداد بھی
یاد نہیں رہی) میاں عبد اللہ صاحب بیان کرتے ہیں کہ مجھے وہ سورت یاد نہیں رہی۔ مگر اتنا یاد ہے کہ وہ کوئی
چھوٹی سی سورت تھی جیسے ’’الم ترکیف فعل ربک باصحاب الفیل… الخ‘‘ ہے اور ہم نے یہ
وظیفہ قریباً ساری رات صرف کر کے ختم کیا تھا۔ وظیفہ ختم کرنے پر ہم وہ دانے حضرت صاحب کے پاس لے گئے کیونکہ
آپ نے ارشاد فرمایا تھا کہ وظیفہ ختم ہونے پر یہ دانے میرے پاس لے آنا۔ اس کے بعد حضرت صاحب ہم دونوں کو
قادیان سے باہر غالباً شمال کی طرف لے گئے اور فرمایا، یہ دانے کسی غیرآباد کنویں میں ڈالے جائیں گے اور
فرمایا کہ جب میں دانے کنویں میں پھینک دوں تو ہم سب کو سرعت کے ساتھ منہ پھیر کر واپس لوٹ آنا چاہئے اور مڑ
کر نہیں دیکھنا چاہئے۔ چنانچہ حضرت صاحب نے ایک غیرآباد کنویں میں ان دانوں کو پھینک دیا اور پھر جلدی سے
منہ پھیر کر سرعت کے ساتھ واپس لوٹ آئے اور ہم بھی آپ کے ساتھ جلدی جلدی واپس چلے آئے اور کسی نے منہ پھیر
کر پیچھے کی طرف نہیں دیکھا۔‘‘
(سیرت المہدی حصہ اوّل ص۱۵۹،۱۶۰، روایت نمبر۱۵۶، جدید ج۱ ص۱۶۲،۱۶۳، روایت نمبر۱۶۰)
’’آتھم کی پیش گوئی کا آخری دن آگیا اور جماعت میں لوگوں کے چہرے پژمردہ ہیں اور دل سخت منقبض ہیں۔
بعض لوگ ناواقفی کے باعث مخالفین سے اس کی موت پر شرطیں لگا چکے ہیں۔ ہر طرف سے اداسی اور مایوسی کے آثار
ظاہر ہیں۔ لوگ نمازوں میں چیخ چیخ کر رو رہے ہیں کہ اے خداوند ہمیں رسوا مت کریو۔ غرض ایسا کہرام مچ رہا ہے
کہ غیروں کے رنگ بھی فق ہورہے ہیں۔‘‘
(سیرۃ مسیح موعود جلد اوّل ص۹، مؤلفہ شیخ یعقوب علی عرفان قادیانی)
’’۵؍ستمبر ۱۸۹۴ء کو جس دن عبد اللہ آتھم والی پیش گوئی کے پورا ہونے کا انتظار تھا، آپ (یعنی ماسٹر قادر
بخش) قادیان میں تھے کہ آج سورج غروب نہیں ہوگا کہ آتھم مر جائے گا۔ مگر جب سورج غروب ہوگیا تو لوگوں کے دل
ڈولنے لگے۔ آپ (یعنی ماسٹر قادر بخش) فرماتے تھے کہ اس وقت مجھے کوئی گھبراہٹ نہیں تھی، ہاں! فکر اور حیرانی
ضرور تھی۔ لیکن جس وقت حضور نے تقریر فرمائی اور ابتلاؤں کی حققیت بتلائی تو طبیعت بشاش اور انشراح صدر
پیداہوگیا اور ایمان تازہ ہوگیا۔ (ماسٹر قادر بخش) فرماتے تھے کہ میں نے امرتسر جا کر عبد اللہ آتھم کو خود
دیکھا۔ عیسائی اسے گاڑی میں بٹھائے ہوئے بڑی دھوم دھام سے بازاروں میں لئے پھرتے تھے۔ لیکن اسے دیکھ کر یہ
سمجھ گیا کہ واقع
274
میں یہ مر گیا ہے اور یہ صرف اس کا جنازہ ہے جسے لئے پھرتے ہیں، آج نہیں تو کل مرجائے گا۔‘‘
(رحیم بخش ایم۔اے ولد ماسٹر قادر بخش کا مضمون، الحکم قادیان ج۲۵، نمبر۳۴، مؤرخہ ۷؍ستمبر ۱۹۲۳ء)
’’(آتھم کا خط) میں خدا کے فضل سے تندرست ہوں اور آپ کی توجہ ص۸۱،۸۲ میرزا صاحب کی بنائی ہوئی کتاب
نزول مسیح موعود کی طرف دلاتا ہوں جو میری نسبت اور دیگر صاحبان کی موت کی نسبت پیش گوئی ہے۔ اس سے شروع کر
کے جو کچھ گزرا ہے ان کو معلوم ہے۔ اب میرزا صاحب کہتے ہیں کہ آتھم نے اپنے دل میں چونکہ اسلام قبول کر لیا
اس لئے نہیں مرا۔ خیر ان کو اختیار ہے جو چاہیں سو تاویل کریں۔ کون کسی کو روک سکتا ہے۔ میں دل سے اور
ظاہراً پہلے بھی عیسائی تھا اور اب بھی عیسائی ہوں اور خدا کا شکر کرتا ہوں۔
جب میں امرتسر جلسہ عیسائی بھائیوں میں شامل ہونے کے لئے آیا تھا، وہاں پہلے تو بعض اشخاص نے ظاہر کر
دیا تھا کہ آتھم مر گیا۔ نہیں آوے گا۔ جب مجھے ریلوے پلیٹ فارم پر دیکھا گیا تو یہ کہنے لگے کہ یہ آتھم کی
شکل کا ربڑ بنا ہوا ہے۔ انگریز حکمت والے ہیں، ربڑ کے آدمی میں کل لگادی ہے۔ ایسی ایسی باتوں کا جواب خاموشی
ہے۔ میں راضی، خوشی اور تندرست ہوں اور ویسے مرنا تو ایک دن ضرور ہے۔ زندگی اور موت صرف رب العالمین کے ہاتھ
میں ہے۔ اب میری عمر ۶۸سال سے زیادہ ہے اور جو کوئی چاہے پیش گوئی کر سکتا ہے کہ ایک سو سال کے اندر اندر جو
باشندے اس دنیا میں موجود ہیں سب مر جائیں گے۔ (ظاہر ہے کہ عام طور پر انسان کی عمر سو سال سے زیادہ نہیں
ہوتی۔ گویا مرزاغلام احمد قادیانی نے آتھم کے بڑھاپے پر نظر کر کے موت کی پیش گوئی کی اور بڑی ادّعا کے ساتھ
پیش گوئی کی مگر پیش گوئی غلط ثابت ہوئی اور ایسی صورت میں مرزاغلام احمد قادیانی نے اپنی دعا میں اپنے آپ
کو مردود ومعلون قرار دیا تھا۔ چنانچہ یہ دعا اپنی جگہ درج ہے۔ للمؤلف)‘‘
(عبد اللہ آتھم کا خط جو اخبار وفادار لاہور میں ماہ ستمبر ۱۸۹۴ء میں شائع ہوا۔ منقول از راست بیانی
برشکست قادیانی ص۵۶، مرتبہ مولوی امام الدین گجراتی)
’’حضرت مسیح موعود کے زمانہ میں جب آتھم کی پیش گوئی پر مخالفوں نے شور مچایا کہ وہ پوری نہیں ہوئی تو
ایک دن نواب صاحب بہاول پور کے دربار میں بھی، جو غالباً موجودہ نواب صاحب کے دادا تھے۔ اس موضوع پر باتیں
ہونے لگیں اور تمسخر اڑایا جانے لگا کہ پیش گوئی پوری نہیں ہوئی۔ نواب صاحب کے پیر حضرت غلام فرید صاحب
چاچڑاں والے بھی تشریف فرما تھے۔ وہ خاموش بیٹھے رہے۔ مگر کچھ عرصہ بعد نواب صاحب بھی اس گفتگو میں دخل دینے
لگے تو وہ جوش میں آگئے اور فرمانے لگے کہ تم لوگوں کو شرم نہیں آتی کہ ایک عیسائی کی تائید اور مسلمان کے
خلاف باتیں کرتے ہو۔ تم لوگ کہتے ہو کہ آتھم زندہ ہے۔ یہ بالکل غلط ہے۔ وہ مرچکا ہے اور مجھے تو وہ مردہ ہی
نظر آتا ہے۔ (اگرچہ دیکھنے میں زندہ ہے۔ للمؤلف)‘‘
(الفضل قادیان ج۲۸ نمبر۶۷، مؤرخہ ۲۳؍مارچ ۱۹۴۰ء)
’’مولانا مکرم سلمکم اللہ تعالیٰ السلام علیکم!
آج ۷؍ستمبر ہے اور پیش گوئی کی میعاد مقررہ ۵؍ستمبر ۱۸۹۴ء تھی۔ گو پیش گوئی کے الفاظ کچھ ہی ہوں۔ لیکن
آپ نے جو الہام کی تشریح کی ہے وہ یہ ہے:
’’میں اس وقت اقرار کرتا ہوں کہ اگر یہ پیش گوئی جھوٹی نکلی یعنی وہ فریق جو خداتعالیٰ کے نزدیک جھوٹ
پر ہے وہ پندرہ ماہ کے عرصہ میں آج کی تاریخ سے بہ سزائے موت ہاویہ میں نہ پڑے تو میں ہر ایک سزا اٹھانے کے
لئے تیار ہوں۔ مجھ کو ذلیل کیا جاوے۔ روسیاہ کیا جاوے۔ میرے گلے میں رسہ ڈال دیا جاوے۔ مجھ کو پھانسی دیا
جاوے۔ ہر ایک بات کے لئے تیار ہوں اور میں اللہ جل شانہ کی قسم کھا کر کہتاہوں کہ وہ ضرور ایسا ہی کرے گا۔
ضرور کرے گا۔ ضرور کرے گا۔ زمین وآسمان ٹل جائیں پر اس کی باتیں نہ ٹلیں گی۔ (جنگ مقدس ص۱۸۹، خزائن ج۶
ص۲۹۲،۲۹۳) اب کیا یہ پیش گوئی آپ کی تشریح کے موافق پوری ہوگئی۔ نہیں ہرگز نہیں۔ عبد اللہ آتھم اب تک صحیح
وسالم
275
موجود ہے اور اس کو بہ سزائے موت ہاویہ میں نہیں گرایا گیا… میرے خیال میں اب کوئی تاویل نہیں
ہوسکتی۔ دوسرے اگر کوئی تاویل ہوسکتی ہے تو بڑی مشکل بات ہے کہ ہر پیش گوئی کے سمجھنے میں غلطی ہو۔ لڑکے کی
پیش گوئی میں تفاول کے طور پر ایک لڑکے کا نام بشیر رکھا، وہ مرگیا۔ تو اس وقت بھی غلطی ہوئی۔ اب اس معرکہ
کی پیش گوئی کے اصلی مفہوم کے سمجھنے میں تو غضب ڈھایا… راقم محمد علی خاں از مالیر کوٹلہ۔‘‘
(نواب محمد علی خاں قادیانی کا خط ’’مولانا نورالدین کے نام‘‘ مندرجہ آئینہ حق نما ص۱۰۰،۱۰۱، مؤلفہ
یعقوب علی عرفانی قادیانی)
’’بعض نادان کہتے ہیں کہ آتھم اپنی میعاد میں نہیں مرا۔ لیکن وہ جانتے ہیں کہ مر تو گیا۔ (بے شک میعاد
غیرمیعاد کی بحث فضول ہے۔ بالآخر مرتو گیا۔ اگر مرزاقادیانی کی پیش گوئی نہ ہوتی تو پھر وہ کیسے مرتا۔ ہرگز
نہ مرتا۔ کبھی نہ مرتا۔ للمؤلف)‘‘
(تتمہ حقیقت الوحی ص۱۱۸، خزائن ج۲۲ ص۵۵۴)
(ب)پسر موعود کی پیش گوئی
(۶۳) پسر موعود کا الہام اور اس کا اعلان
’’پہلی پیش گوئی باالہام اللہ تعالیٰ واعلامہ عزوجل، خدائے رحیم کریم بزرگ وبرتر نے جو ہر چیز پر قادر
ہے۔ (جل شانہ عزاسمہ) مجھ کو اپنے الہام سے مخاطب کر کے فرمایا کہ میں تجھے ایک رحمت کا نشان دیتا ہوں۔ اسی
کے موافق جو تو نے مجھ سے مانگا… سو قدرت اور رحمت اور قربت کا نشان تجھے دیا جاتا ہے۔ فضل اور احسان کا
نشان تجھے عطاء ہوتا ہے… سو تجھے بشارت ہو ایک وجیہ اور ایک پاک لڑکا تجھے دیا جائے گا۔ ایک زکی غلام (لڑکا)
تجھے ملے گا۔ وہ لڑکا تیرے ہی تخم سے تیری ہی ذریت ونسل ہو گا۔ خوبصورت پاک لڑکا تمہارا مہمان آتا ہے۔ اس کا
نام عموائیل اور بشیر بھی ہے۔ اس کو مقدس روح دی گئی ہے اور وہ رجس سے پاک ہے اور وہ نور اللہ ہے۔ مبارک وہ جو
آسمان سے آتا ہے اس کے ساتھ فضل ہے جو اس کے آنے کے ساتھ آئے گا۔ وہ صاحب شکوہ اور عظمت اور دولت ہوگا۔ وہ
دنیا میں آئے گا اور اپنے مسیحی نفس اور روح الحق کی برکت سے بہتوں کو بیماریوں سے صاف کر ے گا۔ وہ کلمتہ اللہ
ہے۔ کیونکہ خدا کی رحمت وغیوری نے اسے کلمہ تمجید سے بھیجا ہے۔ وہ سخت ذہین وفہیم ہوگا اور دل کا حلیم اور
علوم ظاہری وباطنی سے پر کیا جائے گا اور وہ تین کو چار کرنے والا ہوگا۔ (اس کے معنی سمجھ میں نہیں آئے) دو
شنبہ ہے مبارک دوشنبہ۔ فرزند دل بند گرامی ارجمند ’’مظہر الاول والاخر مظہر الحق والعلاء
کان اللہ نزل من السماء‘‘ جس کا نزول بہت مبارک اور جلال الٰہی کے ظہور کا موجب ہوگا۔ نور آتا ہے
نور۔ جس کو خدا نے اپنی رضا مندی کے عطر سے ممسوح کیا۔ ہم اس میں اپنی روح ڈالیں گے اور خدا کا سایہ اس کے
سر پر ہوگا۔ وہ جلد جلد بڑھے گا اور اسیروں کی رستگاری کا موجب ہوگا اور زمین کے کناروں تک شہرت پائے گا اور
قومیں اس سے برکت پائیں گی۔ تب اپنے نفسی نقطہ آسمان کی طرف اٹھایا جائے گا۔ ’’وکان امر
مقضیا‘‘ الراقم خاکسار غلام احمد مؤلف براہین احمدیہ مؤرخہ ۲۰؍فروری ۱۸۸۶ء‘‘
(مجموعہ اشتہارات ج۱ ص۱۰۰تا۱۰۲، جدید مجموعہ اشتہارات ج۱ ص۹۵،۹۶، مندرجہ تبلیغ رسالت ج۱ ص۵۸تا۶۰)
(۶۴) عظیم الشان نشان آسمانی
’’اس جگہ آنکھیں کھول کر دیکھ لینا چاہئے کہ یہ صرف پیش گوئی ہی نہیں بلکہ ایک عظیم الشان نشان آسمانی
ہے جس کو خدائے کریم جل شانہ نے ہمارے نبی کریم رؤف ورحیم محمد مصطفی ﷺ کی صداقت وعظمت ظاہر کرنے کے لئے
ظاہر فرمایا ہے اور درحقیقت یہ نشان ایک مردہ کے زندہ کرنے سے صدہا درجہ اعلیٰ واولیٰ واکمل وافضل واتم ہے۔
کیونکہ مردہ کے زندہ کرنے کی حقیقت یہی ہے کہ جناب الٰہی میں دعا
276
کر کے ایک روح کو واپس منگوایا جائے… جس کے ثبوت میں معترضین کو بہت سی کلام ہے اور پھر… یہ بھی
منقول ہے کہ ایسا مردہ صرف چند منٹ کے لئے زندہ رہتا تھا… اور بفرض محال اگر ایسی روح کئی سال جسم میں باقی
بھی رہتی تب بھی ایک ناقص روح کسی رذیل یا دنیا پرست کی جو احد من الناس ہے، دنیا کو کیا فائدہ پہنچا سکتی
تھی۔ مگر اس جگہ بفضل تعالیٰ واحسانہ وبرکت حضرت ختم الانبیاء ﷺ خداوند کریم نے اس عاجز کی دعا قبول کر کے
ایسی بابرکت روح بھیجنے کا وعدہ فرمایا جس کی ظاہری وباطنی برکتیں تمام زمین پر پھیلیں گی۔ (یہاں
مرزاقادیانی نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام پر خوب چوٹیں کی ہیں۔ وجہ یہ کہ لوگ مرزاقادیانی کو چھیڑتے تھے کہ
مسیح ہونے کا دعویٰ ہے تو کچھ مسیحائی دکھائیے۔ کس ترکیب سے نبی کریم علیہ التحیۃ والتسلیم کی آڑ لے کر
مسلمانوں کی عقیدت ابھارنے کی کوشش کی ہے۔ یہ بھی قابل دید ہے۔ للمؤلف)‘‘
(مرزاقادیانی کا اشتہار، واجب الاظہار ۲۲؍مارچ ۱۸۸۶ء، مجموعہ اشتہارات ج۱ ص۱۱۴،۱۱۵، جدید مجموعہ
اشتہارات ج۱ ص۹۹، مندرجہ تبلیغ رسالت ج۱ ص۷۳،۷۴)
(۶۵) ایک فرزند صالح
’’چونکہ اس عاجز کے اشتہار مؤرخہ ۲۰؍فروری ۱۸۸۶ء پر جس میں ایک پیش گوئی دربارہ تولد ایک فرزند صالح
ہے، جو بہ صفات مندرجہ اشتہار پیدا ہوگا۔ دو شخص سکنہ قادیان… نے یہ دروغ بے فروغ برپا کیا ہے کہ ہماری
دانست میں عرصہ ڈیڑھ ماہ سے صاحب مشتہر کے گھر میں لڑکا پیدا ہوگیا ہے۔ حالانکہ یہ قول نام بردگان کا سراسر
افتراء اور دروغ وبمقتضائے کینہ وحسد وعناد جبلی ہے۔ جس سے وہ نہ صرف مجھ پر بلکہ تمام مسلمانوں پر حملہ
کرنا چاہتے ہیں۔ (گویا مرزاقادیانی کی بات تمام مسلمانوں کی بات ہے۔ للمؤلف) اس لئے ہم ان کے اس قول دروغ
کا رد واجب سمجھ کر عام اشتہار دیتے ہیں کہ ابھی تک جو ۲۲؍مارچ ۱۸۸۶ء ہے، ہمارے گھر میں کوئی لڑکا بجز پہلے
دو لڑکوں کے، جن کی عمر ۲۰، ۲۲سال سے زیادہ ہے، پیدا نہیں ہوا۔ لیکن ہم جانتے ہیں کہ ایسا لڑکا بموجب وعدہ
الٰہی ۹برس کے عرصہ تک ضرور پیدا ہوگا۔ خواہ دیر سے۔ بہرحال اس عرصہ کے اندر پیدا ہو جائے گا۔‘‘
(اشتہار واجب الاظہار من جانب مرزاقادیانی ۲۲؍مارچ ۱۸۸۶ء، مجموعہ اشتہارات ج۱ ص۱۱۳، جدید مجموعہ
اشتہارات ج۱ ص۹۸، مندرجہ تبلیغ رسالت ج۱ ص۷۲)
(۶۶) نکتہ چینی اور دوبارہ توجہ
’’واضح ہو کہ اس خاکسار کے اشتہار ۲۲؍مارچ ۱۸۸۶ء پر بعض صاحبوں نے… یہ نکتہ چینی کی ہے کہ ۹برس کی حد
جو پسر موعود کے لئے بیان کی گئی ہے، یہ بڑی گنجائش کی جگہ ہے۔ ایسی لمبی میعاد تک تو کوئی نہ کوئی لڑکا
پیدا ہوسکتا ہے۔ سو اوّل تو اس کے جواب میں یہ واضح ہو کہ جن صفات خاصہ کے ساتھ لڑکے کی بشارت دی گئی ہے،
کسی لمبی میعاد سے گونوبرس سے بھی دو چند ہوتی۔ اس کی عظمت اور شان میں کچھ فرق نہیں آسکتا… ماسوا اس کے اب
بعد اشاعت اشتہار مندرجہ بالا دوبارہ اس امر کے انکشاف کے لئے جناب الٰہی میں توجہ کی گئی تو آج ۸؍اپریل
۱۸۸۶ء میں اللہ جل شانہ کی طرف سے اس عاجز پر اس قدر کھل گیا کہ ایک لڑکا بہت ہی قریب ہونے والا ہے۔ جو ایک
مدت حمل سے تجاوز نہیں کر سکتا۔ اس سے ظاہر ہے کہ غالباً ایک لڑکا ابھی ہونے والا ہے۔ یا بالضرور اس کے قریب
حمل میں۔ لیکن یہ ظاہر نہیں کیاگیا کہ جواب پیدا ہوگا، یہ وہی لڑکا ہے یا وہ کسی اور وقت میں نوبرس کے عرصہ
میں پیدا ہوگا اور پھر بعد اس کے یہ بھی الہام ہوا کہ انہوں نے کہا کہ آنے والا یہی ہے یا ہم دوسرے کی راہ
تکیں۔ چونکہ یہ عاجز ایک بندہ ضعیف مولیٰ کریم جل شانہ کا ہے۔ اس لئے اسی قدر ظاہر کرتا ہے جو من جانب اللہ
ظاہر کیاگیا۔ آئندہ جو اس سے زیادہ منکشف ہوگا وہ بھی شائع کیا جاوے گا۔‘‘
(اشتہار صداقت آثار من جانب مرزاقادیانی، ۸؍اپریل ۱۸۸۶ء، مجموعہ اشتہارات ج۱ ص۱۱۶،۱۱۷، جدید مجموعہ
اشتہارات ج۱ ص۱۰۱،۱۰۲، مندرجہ تبلیغ رسالت ج۱ ص۷۵،۷۶)
277
(۶۷) لڑکی کی ولادت اور ذوالوجوہ فقرہ
’’سو واضح ہو کہ بعض مخالف ناخدا ترس جن کے دلوں کو زنگ تعصب وبخل نے سیاہ کر رکھا ہے، ہمارے اشتہار
مطبوعہ ۸؍اپریل کو یہودیوں کی طرح محرف ومبدل کر کے اور کچھ کے کچھ معنی بنا کر سادہ لوح لوگوں کو سناتے ہیں
اور نیز اپنی طرف سے اشتہارات شائع کرتے ہیں۔ تادھوکہ دے کر ان کے یہ ذہن نشین کریں کہ جو لڑکا پیدا ہونے کی
پیش گوئی تھی اس کا وقت گزر گیا اور وہ غلط نکلی۔ ہم اس کے جواب میں صرف ’’لعنۃ اللہ علی
الکاذبین‘‘ کہنا کافی سمجھتے ہیں۔‘‘
(مجموعہ اشتہارات ج۱ ص۱۲۵، جدید مجموعہ اشتہارات ج۱ ص۱۰۸،۱۰۹، مندرجہ تبلیغ رسالت ج۱ ص۸۴)
’’ایک صاحب ملازم دفتر ایگزامینر ریلوے لاہور… اپنے خط مرسلہ ۱۳؍جون ۱۸۸۶ء میں اس عاجز کو لکھتے ہیں
کہ تمہاری پیش گوئی جھوٹی نکلی اور دختر پیدا ہوئی اور تم حقیقت میں بڑے فریبی اور مکار اور دروغ گو آدمی
ہو… بھلا کوئی اس بزرگ سے پوچھے کہ وہ فقرہ یا لفظ کہاں ہے جو کسی اشتہار میں اس عاجز کے قلم سے نکلا ہے۔ جس
کا یہ مطلب ہے کہ لڑکا اسی حمل میں پیدا ہو گا۔ اس سے ہرگز تخلف نہیں کرے گا۔‘‘
(مجموعہ اشتہارات ج۱ ص۱۳۰،۱۳۱، جدید مجموعہ اشتہارات ج۱ ص۱۱۳، مندرجہ تبلیغ رسالت ج۱ ص۹۰)
ہاں! اس اشتہار (۸؍اپریل ۱۸۸۶ء) میں ایک یہ فقرہ ذوالوجوہ درج ہے کہ مدت حمل سے تجاوز نہیں کر سکتا۔
مگر کیا اسی قدر فقرہ سے یہ ثابت ہوگیا کہ مدت حمل سے ایام باقی ماندہ حمل موجودہ مراد ہیں۔ کوئی اور مدت
مراد نہیں اگر اس فقرہ کے سر پر اس کا لفظ ہوتا تو بھی اعتراض کرنے کے لئے کچھ گنجائش نکل سکتی۔ مگر جب
الہامی عبارت کے سر پر اس کا لفظ (جو مخصص وقت ہوسکتا ہے) وارد نہیں تو پھر خوامخواہ اس فقرے سے وہ معنی
نکالنا جو اس صورت میں نکالے جاتے جو اس کا لفظ فقرہ مذکور کے سر پر ہوتا۔ اگر بے ایمانی اور بددیانتی نہیں
تو اور کیا ہے۔ دانشمند آدمی جس کی عقل اور فہم میں کچھ آفت نہیں اور جس کے دل پر کسی تعصب یا شرارت کا حجاب
نہیں، وہ سمجھ سکتا ہے کہ کسی ذوالوجوہ فقرے کے معنی کرنے کے وقت سب وہ احتمالات مدنظر رکھنے چاہئیں جو اس
فقرے سے پیدا ہوسکتے ہیں۔ سو فقرہ مذکورہ بالا یعنی یہ کہ ’’مدت حمل سے تجاوز نہیں کر سکتا۔‘‘ ایک ذوالوجوہ
فقرہ ہے جس کی ٹھیک ٹھیک وہی تشریح ہے جومیر عباس علی شاہ صاحب لدھیانوی نے اپنے اشتہار ۸؍جون ۱۸۸۶ء میں کی
ہے۔ (ابھی تک میر عباس علی شاہ صاحب لدھیانوی، مرزاقادیانی کے بڑے معتقد اور خاص الخاص مرید تھے۔ مگر بعد کو
بہ توفیق الٰہی تائب ہوکر مسلمان ہوگئے۔ بلکہ سابقہ واقفیت کی بناء پر مرزاقادیانی کی تردید میں تحریریں
شائع کر کے تلافی مافات کر دی۔ للمؤلف)
(اشتہار محک اخیار واشرار مرزاقادیانی، یکم؍ستمبر ۱۸۸۶ء، مجموعہ اشتہارات ج۱ ص۱۲۵،۱۲۶، جدید مجموعہ
اشتہارات ج۱ ص۱۰۹، تبلیغ رسالت ج۱ ص۸۴،۸۵)
(۶۸) میرعباس علی شاہ صاحب کا اشتہار
’’پہلا اشتہار جس کو مرزاقادیانی نے ۲۰؍فروری ۱۸۸۶ء کو بہ مقام ہوشیار پور شائع کیا تھا، اس میں کوئی
تاریخ درج نہیں کہ وہ لڑکا جس کے صفات اشتہار میں درج ہیں، کب اور کس سال میں پیدا ہوگا۔ دوسرا اشتہار جو
۲۲؍مارچ ۱۸۸۶ء کو مرزاقادیانی کی طرف سے شائع کیاگیا یہ بہت مفید اشتہار ہے۔ اس میں بتصریح کھول دیا گیا ہے
کہ وہ لڑکا نوبرس کے اندر پیدا ہوجائے گا۔ اس میعاد سے تخلف نہیں کرے گا۔ لیکن تیسرا اشتہار جو مرزا قادیانی
کی طرف سے ۸؍اپریل ۱۸۸۶ء کو جاری ہوا، اس کی الہامی عبارت ذوالوجوہ اور کچھ گول گول ہے اور اس میں کوئی
تصریح نہیں کہ وہ (پسر موعود) کب اور کس تاریخ میں پیدا ہوگا۔ ہاں! اس میں ایک یہ فقرہ ہے کہ ایک لڑکا بہت
ہی قریب ہونے والا ہے جو مدت حمل سے تجاوز نہیں کر سکتا۔ اب ظاہر ہے کہ یہ فقرہ کہ مدت حمل سے تجاوز نہیں کر
سکتا، ایک ذوالوجوہ فقرہ ہے۔ اگر
278
الہامی عبارت کے سر پر لفظ اس کا ہونا یعنی عبارت یوں ہوتی کہ اس مدت حمل سے تجاوز نہیں کرے گا، ضرور
اس میں پیدا ہو جائے گا تو بلاشبہ مواخذہ کی جگہ تھی۔ مگر اب تو ناحق کی نکتہ چینی ہے… الہامات ربانی یا
قوانین سلطانی کی عبارتیں اس پایہ اور عزت کی ہوتی ہیں جن کے لفظ لفظ پر بحث کرنا چاہئے۔ سو الہامی عبارت
میں اس کا لفظ متروک ہونا (جس سے حمل موجودہ میں پیش گوئی محدود ہو جاتی) صریح بتلا رہا ہے کہ اس جگہ حمل
موجودہ مراد نہیں لیاگیا۔ بلکہ اس فقرہ کے دو معنے ہیں، تیسرے اور کوئی ہو ہی نہیں سکتے۔ اوّل یہ کہ مدت
موعودہ حمل سے تجاوز نہیں کر سکتا۔ یعنی نوبرس سے کیونکہ اس خاص لڑکے کے حمل کے لئے وہی مدت موعود ہے۔ (لیکن
میر صاحب کی یہ تاویل ۸؍اپریل ۱۸۸۶ء کی پیش گوئی پر ذرا بھی چسپاں نہیں ہوتی… للمؤلف) دوسرے یہ معنی کہ مدت
معہودہ حمل سے تجاوز نہیں کر سکتا۔ سو مدت معہودہ حمل کی اکثر طبیبوں کے نزدیک ڈھائی برس بلکہ بعض کے نزدیک
انتہائی مدت حمل کی تین برس تک بھی ہے۔ بہرحال ان دونوں وجوہ میں سے کسی وجہ کی رو سے پیش گوئی کی صحت پر
جرح نہیں ہوسکتی۔ اسی لئے مرزاقادیانی نے اسی اشتہار ۸؍اپریل میں قیاسی طور پر یہ بھی صاف لکھ دیا تھا کہ
غالباً وہ لڑکا اب یا اس کے بعد قریب حمل میں پیدا ہوگا اور پھر اس اشتہار کی اخیر سطر میں مرزاقادیانی نے
یہ بھی تحریر کر دیا کہ میں اسی قدر ظاہر کرتا ہوں جو مجھ پر من جانب اللہ ظاہر کیاگیا اور آئندہ جو اس سے
زیادہ منکشف ہوگا وہ بھی شائع کیا جائے گا۔ سو مرزاقادیانی نے اپنے اسی اشتہار میں بتلا بھی دیا کہ اس
اشتہار کا الہامی فقرہ مجمل اور ذوی الوجوہ ہے جس کی تشریح اگر خدا نے چاہا پیچھے سے کی جائے گی۔‘‘
(اشتہار واجب الاظہار منجانب سید عباس علی شاہ صاحب لدھیانوی، مؤرخہ ۸؍جون ۱۸۸۶ء، مجموعہ اشتہارات ج۱
ص۱۲۷تا۱۲۹ حاشیہ، جدید مجموعہ اشتہارات ج۱ ص۱۱۱،۱۱۲، مندرجہ تبلیغ رسالت ج۱ ص۸۶تا۸۸)
(۶۹) وہ لڑکا
’’اے ناظرین! میں آپ کو بشارت دیتا ہوں کہ وہ لڑکا جس کے تولد کے لئے میں نے اشتہار ۸؍اپریل ۱۸۸۶ء میں
پیش گوئی کی تھی اور خداتعالیٰ سے اطلاع پاکر اپنے کھلے کھلے بیان میں لکھا تھا کہ اگر وہ حمل موجودہ میں
پیدا نہ ہوا تو دوسرے حمل میں، جو اس کے قریب ہے، ضرور پیدا ہو جائے گا۔ آج ۱۶؍ذیقعدہ ۱۳۰۴ھ مطابق ۷؍اگست
۱۸۸۷ء میں بارہ بجے رات کے بعد ڈیڑھ بجے کے قریب وہ مولود مسعود پیداہوگیا۔ فالحمد للہ علی
ذلک‘‘(اس لڑکے کا نام بشیراحمد رکھا گیا۔ للمؤلف)
(اشتہار خوشخبری منجانب مرزاقادیانی، ۷؍اگست ۱۸۸۷ء، مجموعہ اشتہارات ج۱ ص۱۴۱، جدید مجموعہ اشتہارات ج۱
ص۱۲۲، مندرجہ تبلیغ رسالت ج۱ ص۹۹،۱۰۰)
(۷۰) مزید لڑکے کا جدید وعدہ
’’سب ضرورتوں کو خداتعالیٰ نے پورا کر دیا تھا۔ اولاد بھی عطاء کی اور ان میں سے وہ لڑکا بھی جو دین
کا چراغ ہوگا۔ (یعنی بشیر احمد۔ للمؤلف) بلکہ ایک اور لڑکا ہونے کا قریب مدت تک وعدہ دیا جس کا نام محمود
احمد ہوگا اور اپنے کاموں میں اولوالعزم نکلے گا۔‘‘
(اشتہار پانزدہم منجانب مرزاقادیانی، جولائی ۱۸۸۸ء مجموعہ اشتہارات ج۱ ص۱۶۲، جدید مجموعہ اشتہارات ج۱
ص۱۴۰، مندرجہ تبلیغ رسالت ج۱ ص۱۲۰)
(۷۱) انتقال اور مخالین وموافقین
’’مخدومی مکرمی مولوی نورالدین صاحب سلمہ تعالیٰ۔ السلام علیکم ورحمۃ اللہ
وبرکاتہ!
میرا لڑکا بشیر احمد تیئس روز بیمار رہ کر آج بقضائے رب عزوجل انتقال کر گیا۔ انا اللہ
وانا الیہ راجعون۔ اس واقعہ سے جس قدر مخالفین کی زبانیں دراز ہوں گی اور موافقین کے دلوں میں
شبہات پیدا ہوں گے، اس کا اندازہ نہیں ہوسکتا… والسلام!
279
(انتقال کے بعد یہ لڑکا بشیراوّل کے نام سے تعبیر ہونے لگا۔ للمؤلف)‘‘
(مکتوبات احمدیہ ج۵ نمبر۲ ص۱۲۷،۱۲۸، مکتوب نمبر۴۶، جدید مکتوبات احمد ج۲ ص۷۱، مکتوب نمبر۴۷)
(۷۲) کوئی ضروری امر نہیں
’’خداتعالیٰ نے بعض الہامات میں یہ ہم پر ظاہر کیا تھا کہ یہ لڑکا جو فوت ہوگیا ہے، (بشیر اوّل) ذاتی
استعدادوں میں اعلیٰ درجہ کا ہے اور دنیوی جذبات بکلی اس کی فطرت سے مسلوب اور دین کی چمک اس میں بھری ہوئی
ہے اور روشن فطرت اور عالی گوہر اور صدیقی روح اپنے اندر رکھتا ہے اور اس کا نام باران رحمت اور مبشر اور
بشیر اور ید اللہ بجلال وجمال وغیرہ اسماء بھی ہیں۔ سو جو کچھ خداتعالیٰ نے اپنے الہامات کے ذریعہ سے اس کی
صفات ظاہر کیں یہ سب اس کی صفات استعداد کے متعلق ہیں جن کے لئے ظہور فی الخارج کوئی ضروری امر نہیں۔‘‘
(سبز اشتہار ص۷،۸، خزائن ج۲ ص۴۵۳،۴۵۴)
(۷۳) لوگوں کا ابتلاء
’’خلیفہ اوّل (حکیم نورالدین) فرمایا کرتے تھے کہ ایک ہی شخص ہے جس نے مجھے شکست دی ہے اور وہ میاں
محمد خاں صاحب ہیں۔ بشیراوّل کے فوت ہونے پر لوگوں نے حضرت صاحب (مرزاقادیانی) کو بہت سے خطوط لکھے۔ مولوی
(نورالدین) نے لکھا، اگر اس وقت میرا اپنا بیٹا مر جاتا تو میں کچھ پرواہ نہ کرتا۔ مگر بشیراوّل فوت نہ ہوتا
اور لوگ اس ابتلاء سے بچ رہتے اور ساتھ ہی لکھا کہ اگر اس قسم کا کوئی اور خط بھی آیا ہو تو اس سے آگاہ
فرمادیں۔ اس پر حضرت (مرزاقادیانی) نے مولوی صاحب کو دو خط بھیجے جن میں سے ایک میاں محمد خاں صاحب کا تھا۔
انہوں نے لکھا تھا کہ اگر میرا ہزار بیٹا ہوتا اور وہ میرے سامنے قتل کر دیا جاتا تو مجھے اس کا افسوس نہ
ہوتا۔ ہاں! بشیر کی وفات سے لوگوں کو ابتلاء نہ آتا۔‘‘
(مرزامحمود خلیفہ قادیان، الفضل قادیان ج۸ نمبر۱۵ ص۲ کالم۲، مؤرخہ ۳۰؍اگست ۱۹۲۰ء)
’’اس عاجز کے لڑکے بشیراحمد کی وفات سے … جو اپنی عمر کے سولہویں مہینہ میں بوقت نماز صبح اپنے معبود
حقیقی کی طرف واپس بلایا گیا۔ عجیب طور کا شور وغوغا خام خیال لوگوں میں اٹھا۔‘‘ (یکم؍دسمبر ۱۸۸۸ء)
(مجموعہ اشتہارات ج۱ ص۱۶۳، جدید مجموعہ اشتہارات ج۱ ص۱۴۱)
(۷۴) طوفان عظیم
’’جب شروع ۱۸۸۶ء میں حضرت مسیح موعود نے خدائی حکم کے ماتحت ہوشیار پور جاکر وہاں چالیس دن خلوت کی
اور ذکر خدا میں مشغول رہے تو اللہ تعالیٰ نے اپنے فضل سے آپ کو ایک عظیم الشان بیٹے کی بشارت دی جس نے اپنے
مسیحی نفس سے مصلح عالم بن کر دنیا کے چاروں کونوں میں شہرت پانی تھی۔ یہ الہام اس قدر جلال اور شان وشوکت
کے ساتھ ہوا کہ جب حضور نے ۲۰؍فروری ۱۸۸۶ء کے اشتہار میں اس کا اعلان فرمایا تو اس کی وجہ سے ملک میں ایک
شور برپا ہوگیا اور لوگ نہایت شوق کے ساتھ اس پسر موعود کی راہ دیکھنے لگے اور سب نے اپنے اپنے خیال کے
مطابق اس پسر موعود کے متعلق امیدیں جمالیں۔ بعض نے اس پسر موعود کو مہدی معہود سمجھا، جس کا اسلام میں وعدہ
دیاگیا تھا اور جس نے دنیا میں مبعوث ہوکر اسلام کے دشمنوں کو ناپید اور مسلمانوں کو ہرمیدان میں غالب کرنا
تھا۔ بعض نے اور اسی قسم کی امیدیں قائم کیں اور بعض تماشائی کے طور پر پیش گوئی کے جلال اور شان وشوکت کو
دیکھ کر ہی حیرت میں پڑ گئے تھے اور بغیر کوئی امید قائم کئے اس انتظار میں تھے کہ دیکھئے پردہ غیب سے کیا
ظہور میں آتا ہے۔ غیرمذاہب والوں کو بھی اس خبر نے چونکا دیا تھا۔ غرض اس وحی الٰہی کی اشاعت رجوع عام کا
باعث ہوئی۔ ان دنوں حضور کے ہاں بچہ پیدا ہونے والا تھا۔ مگر اللہ نے بھی ایمان کے رستہ میں ابتلاء رکھے ہوتے
280
ہیں۔ سو قدرت خدا کہ چند ماہ کے بعد یعنی مئی ۱۸۸۶ء میں بچہ پیدا ہوا تو وہ لڑکی تھی۔ اس پر خوش
اعتقادوں میں مایوسی اور بداعتقادوں اور دشمنوں میں ہنسی اور استہزاء کی ایک ایسی لہر اٹھی کہ جس نے ملک میں
ایک زلزلہ پیدا کر دیا۔ اس وقت تک بیعت کا سلسلہ تو تھا ہی نہیں کہ مریدین الگ نظر آتے۔ پس عام لوگوں میں چہ
میگوئی ہورہی تھی کہ یہ کیا ہوا۔ کوئی کچھ کہتا تھا کوئی کچھ۔ حضور نے بذریعہ اشتہار اور خطوط اعلان فرمایا
کہ وحی الٰہی میں یہ نہیں بتایا گیا تھا کہ اس وقت جو بچہ کی امیدواری ہے تو یہی وہ پسر موعود ہوگا اور اس
طرح لوگوں کی تسلی کی کوشش کی۔ چنانچہ اس پر اکثر لوگ سنبھل گئے اور پیش گوئی کے ظہور کے منتظر رہے۔ کچھ
عرصے بعد یعنی اگست ۱۸۸۷ء میں حضرت کے ہاں ایک لڑکا پیداہوا۔ جس کا نام بشیر احمد رکھا گیا۔ اس لڑکے کی
پیدائش پر بڑی خوشی منائی گئی اور کئی لوگ جو متزلزل ہوگئے تھے پھر سنبھل گئے اور لوگوں نے سمجھا کہ یہی وہ
موعود لڑکا ہے اور خودحضرت صاحب کو بھی یہ خیال تھا۔ گو آپ نے اس کے متعلق کبھی قطعی یقین ظاہر نہیں کیا۔
مگر یہ ضرور فرماتے رہے کہ قرائن سے ایسا ہی معلوم ہوتا ہے کہ یہی وہ لڑکا ہے۔و اللہ
اعلم!
غرض بشیراوّل کی پیدائش رجوع عام کا باعث ہوئی۔ مگر قدرت خدا کہ ایک سال کے بعد یہ لڑکا اچانک فوت
ہوگیا۔ بس پھر کیا تھا، ملک میں ایک طوفان عظیم برپا ہوا اور سخت زلزلہ آیا۔ حتیٰ کہ میاں عبد اللہ صاحب سنوری
کا خیال ہے کہ ایسا زلزلہ عامۃ الناس کے لئے نہ اس سے قبل کبھی آیا تھا اور نہ اس کے بعد آیا… بہرحال یہ
یقینی بات ہے کہ اس واقعہ پر ملک میں ایک سخت شور اٹھا اور کئی خوش اعتقادوں کو ایسا دھکا لگا کہ وہ پھر نہ
سنبھل سکے۔ مگر تعجب ہے کہ مولوی محمد حسین بٹالوی اس واقعہ کے بعد بھی خوش اعتقاد رہا۔ حضرت صاحب نے لوگوں
کو سنبھالنے کے لئے اشتہاروں اور خطوط کی بھرمار کر دی اور لوگوں کو سمجھایا کہ میں نے کبھی یہ یقین ظاہر
نہیں کیا تھا کہ یہی وہ لڑکا ہے۔ ہاں!یہ میں نے کہا تھا کہ چونکہ خاص اس لڑکے کے متعلق بھی مجھے بہت سے
الہام ہوئے ہیں جن میں اس کی بڑی ذاتی فضیلت بتائی گئی تھی۔ اس لئے میرا یہ خیال تھا کہ شاید یہی وہ موعود
لڑ کا ہو۔ مگر خدا کی وحی میں جو اس معاملہ میں اصل اتباع کے قابل ہے، ہر گز کوئی تعیین نہیں کی گئی تھی۔
غرض لوگوں کو بہت سنبھالا گیا۔ چنانچہ بعض لوگ سنبھل گئے۔ لیکن اکثروں پر مایوسی کا عالم تھا اور مخالفین
میں پرلے درجے کا استہزاء کا جوش تھا۔ اس کے بعد پھر عامۃ الناس میں پسر موعود کی آمد آمد کا شدومد سے
انتظار نہیں ہوا جو اس سے قبل تھا۔ (حقیقت کھل گئی اور پھر وہ پسر موعود آیا بھی نہیں۔ البتہ تاویلات کا
سلسلہ آخر تک جاری رہا۔ للمؤلف)‘‘
(سیرت المہدی حصہ اوّل ص۸۷تا۸۹، روایت نمبر۱۱۳، جدید ج۱ ص۹۴،۹۵، روایت نمبر۱۱۶)
(۷۵) درحقیقت دو لڑکے
’’ناظرین پر منکشف ہو کہ بعض مخالفین پسر متوفی (بشیراوّل) کی وفات کا ذکر کر کے اپنے اشتہارات
واخبارات میں طنز سے لکھتے ہیں کہ یہ وہی بچہ ہے جس کی نسبت اشتہار مؤرخہ ۲۰؍فروری ۱۸۸۶ء اور ۸؍اپریل ۱۸۸۶ء
اور ۷؍اگست ۱۸۸۷ء میں یہ ظاہر کیا گیا تھا کہ وہ صاحب شکوہ اور عظمت اور دولت ہوگا اور قومیں اس سے برکت
پائیں گی۔‘‘
(مجموعہ اشتہارات ج۱ ص۱۶۳، جدید مجموعہ اشتہارات ج۱ ص۱۴۱)
’’خداتعالیٰ نے مجھ پر یہ بھی ظاہر کیا کہ ۲۰؍فروری ۱۸۸۶ء کی پیش گوئی حقیقت میں دو سعید لڑکوں کے
پیدا ہونے پر مشتمل تھی اور اس عبارت تک کہ ’’مبارک وہ جو آسمان سے آتا ہے‘‘ پہلے بشیر کی نسبت پیش گوئی ہے
(جو بتاریخ ۴؍نومبر ۱۸۸۸ء اس اعلان سے ایک ماہ قبل انتقال کر چکا۔ للمؤلف) کہ جو روحانی طور پر نزول رحمت
کا موجب ہوا اور اس کے بعد کی عبارت دوسرے بشیر کی نسبت ہے۔ (جس کے آئندہ پیدا ہونے کی امید ہے۔ للمؤلف)‘‘
(سبز اشتہار ص۱۷، خزائن ج۲ ص۴۶۳ حاشیہ، مجموعہ اشتہارات ج۱ ص۱۷۹، جدید مجموعہ اشتہارات ج۱ ص۱۵۲)
281
’’۲۰؍فروری ۱۸۸۶ء کو اشتہار میں کہ جو بظاہر ایک لڑکے کی بابت پیش گوئی سمجھی گئی تھی وہ درحقیقت دو
لڑکوں کی بابت پیش گوئی تھی۔ (ایک وہ جو فوت ہوچکا، ایک وہ جو آئندہ تولد ہوگا۔ للمؤلف)‘‘
(مرزاقادیانی کا خط مؤرخہ ۴؍دسمبر ۱۸۸۸ء، بنام حکیم نورالدین، مندرجہ رسالہ تشحیذ الاذہان ج۳ نمبر۱۰
ص۴۱۳، مکتوبات احمد ج۲ ص۷۵، مکتوب نمبر۴۸)
(۷۶) بالفعل محض تفاول
’’خدائے عزوجل نے جیسا کہ اشتہار ۱۰؍جولائی ۱۸۸۸ء، اشتہار یکم؍دسمبر ۱۸۸۸ء میں مندرج ہے۔ اپنے لطف
وکرم سے وعدہ دیاتھا کہ بشیراوّل کی وفات کے بعد ایک دوسرا بشیر دیا جائے گا۔ جس کا نام محمود بھی ہوگا اور
اس عاجز کو مخاطب کر کے فرمایا تھا کہ وہ اولوالعزم ہوگا اور حسن واحسان میں تیرا نظیر ہوگا۔ وہ قادر ہے جس
طور سے چاہتا ہے پیدا کرتا ہے۔ سو آج ۱۲؍جنوری ۱۸۸۹ء میں مطابق ۹؍جمادی الاوّل ۱۳۰۶ھ روز شنبہ اس عاجز کے
گھر میں بفضلہ تعالیٰ ایک لڑکا پیدا ہوگیا ہے۔ جس کا نام بالفعل محض تفاول کے طور پر بشیر اور محمود بھی
رکھاگیا اور کامل انکشاف کے بعد پھر اطلاع دی جائے گی۔ مگر ابھی تک مجھ پر یہ نہیں کھلا کہ یہی لڑکا مصلح
موعود اور عمر پانے والا ہے یا وہ کوئی اور ہے۔ لیکن میں جانتا ہوں اور محکم یقین سے جانتا ہوں کہ خداتعالیٰ
اپنے وعدے کے موافق مجھ سے معاملہ کرے گا اور اگر ابھی اس موعود لڑکے کے پیدا ہونے کا وقت نہیں آیا تو دوسرے
وقت میں وہ ظہور پذیر ہوگا اور اگر مدت مقررہ سے ایک دن بھی باقی رہ جائے گا۔ تو خدائے عزوجل اس دن کو ختم
نہیں کرے گا۔ جب تک اپنے وعدہ کو پورا نہ کر لے۔ مجھے ایک خواب میں اس مصلح موعود کی نسبت زبان پر شعر جاری
ہوا تھا۔
-
اے فخر رسل قرب تو معلومم شد
دیر آمدہ زراہ دور آمدہ
پس اگر حضرت باری جل شانہ کے ارادہ میں دیر سے مراد اس قدر دیر ہے کہ جو اس پسر کے پیدا ہونے میں جس
کا نام بطور تفاول بشیرالدین محمود رکھاگیا ہے۔ ظہور میں آئی تو تعجب نہیں کہ یہی لڑکا موعود ہو۔ ورنہ وہ
بفضلہ تعالیٰ دوسرے وقت پر آئے گا۔ (دودھ کا جلا چھاچھ کو پھونک پھونک کر پیتا ہے۔ مرزاقادیانی بشیراوّل کا
انجام دیکھ چکے تھے۔ اس لئے بشیر ثانی کے معاملہ کو گول مول رکھنا لازم تھا۔ للمؤلف)‘‘
(مرزاقادیانی کا اشتہار منقول از رسالہ ریویو قادیان ج۱۳ نمبر۵ ص۱۷۶، بابت ماہ مئی ۱۹۱۴ء، مجموعہ
اشتہارات ج۱ ص۱۹۱،۱۹۲ حاشیہ، جدید مجموعہ اشتہارات ج۱ ص۱۶۰،۱۶۱)
(۷۷) تین چار
’’ایک اور الہام ہے جو فروری ۱۸۹۶ء میں شائع ہوا تھا اور وہ یہ ہے کہ خدا تین کو چار کرے گا۔ اس وقت
ان تین لڑکوں کے جواب موجود ہیں۔ نام ونشان نہ تھا اور اس الہام کے معنی یہ تھے کہ تین لڑکے ہوں گے اور پھر
ایک اور ہوگا۔ جو تین کو چار کر دے گا۔ سو ایک بڑا حصہ اس کا پورا ہوگیا۔ یعنی خدا نے تین لڑکے مجھ کو اس
نکاح سے عطاء کئے جو تینوں موجود ہیں۔ صرف ایک کا انتظار ہے جو تین کو چار کرنے والا ہوگا۔‘‘
(ضمیمہ انجام آتھم ص۱۴،۱۵، خزائن ج۱۱ ص۲۹۸،۲۹۹)
(۷۸) چوتھا لڑکا
’’میرا چوتھا لڑکا جس کا نام مبارک احمد ہے، اس کی نسبت پیش گوئی اشتہار ۲۰؍فروری ۱۸۸۶ء میں کی گئی…
سو خداتعالیٰ نے میری تصدیق کے لئے اور تمام مخالفوں کی تکذیب کے لئے… اس پسر چہارم کی پیش گوئی کو ۱۴؍جون
۱۸۹۹ء میں جو مطابق ۴؍صفر ۱۳۱۷ھ
282
تھی، بروز چہار شنبہ پورا کر دیا۔ یعنی وہ مولود مسعود چوتھا لڑکا تاریخ مذکورہ میں پیدا ہوگیا۔
(۲۰؍فروری ۱۸۸۶ء کے اشتہار والی پیش گوئی ۲۲؍مارچ ۱۸۸۶ء کے اعلان کے مطابق حسب وعدہ الٰہی زیادہ سے زیادہ
۹سال کے عرصے میں پوری ہونی قرار پائی تھی۔ لیکن مرزاقادیانی کے موجودہ بیان کے مطابق ۱۸۹۹ء میں چودھویں سال
پوری ہوئی۔ صرف پانچ سال کا فرق پڑا، کچھ زیادہ نہیں۔ للمؤلف)‘‘
(تریاق القلوب ص۴۳، خزائن ج۱۵ ص۲۲۱)
(بہرحال مرزاغلام احمد قادیانی اس درجہ خوش تھے کہ نوعمری (۳۰؍اگست ۱۹۰۷ء) ہی میں اس لڑکے کا نکاح بھی
ڈاکٹر سید عبدالستار شاہ قادیانی کی دختر مریم سے کر دیا تھا۔ چنانچہ ملاحظہ ہو: (بدر قادیان ج۶ نمبر۳۶ ص۴،
مؤرخہ ۵؍ستمبر ۱۹۰۷ء) للمؤلف)
(۷۹) ولادت سے قبل کلام
’’اور اسی لڑکے (مبارک احمد) نے پیدائش سے پہلے یکم؍جنوری ۱۸۹۷ء میں بطور الہام یہ کلام مجھ سے کیا
اور مخاطب بھائی تھے کہ ’’مجھ میں اور تم میں ایک دن کی میعاد ہے۔‘‘ یعنی اے میرے بھائیو! میں پورے ایک دن
کے بعد تمہیں ملوں گا۔ ایک جگہ ایک دن سے مراد دو برس تھے اور تیسرا برس وہ ہے جس میں پیدائش ہوئی اور یہ
عجیب بات ہے کہ حضرت مسیح نے تو صرف مہد میں ہی باتیں کیں، مگر اس لڑکے نے پیٹ میں ہی دو مرتبہ باتیں کیں
اور پھر بعد اس کے ۱۴؍جون ۱۸۹۹ء کو وہ پیدا ہوا اور جیسا کہ وہ چوتھا لڑکا تھا، اسی مناسبت کے لحاظ سے اس نے
اسلامی مہینوں میں سے چوتھا مہینہ لیا۔ یعنی ماہ صفر اور ہفتہ کے دنوں میں سے چوتھا دن لیا، یعنی چہار شنبہ
اور دن کے گھنٹوں میں سے دوپہر کے بعد چوتھا گھنٹہ لیا اور پیش گوئی ۲۰؍فروری ۱۸۸۶ء کے مطابق پیر کے دن اس
کا عقیقہ ہوا اور اس کی پیدائش کے دن یعنی بروز چہار شنبہ چوتھے گھنٹے میں کئی دن کے امساک باراں کے بعد خوب
بارش ہوئی۔ (چوتھے گھنٹہ اور بارش کو تو مرزاقادیانی جانیں، لیکن تقویم اسلامی کے حساب سے نہ چہار شنبہ
چوتھا دن ہے نہ ماہ صفر چوتھا مہینہ، البتہ قادیانی تحویل ان کو چوتھا بنا لے تو دوسری بات ہے۔ للمؤلف)‘‘
(تریاق القلوب ص۴۱، خزائن ج۱۵ ص۲۱۷،۲۱۸)
(۸۰) ایک دفعہ پیش گوئی یاد آگئی
’’اور عجیب تر یہ کہ چاروں لڑکوں کے پیدا ہونے کی خبر جو سب سے پہلے اشتہار ۲۰؍فروری ۱۸۸۶ء میں دی
تھی، اس وقت ہر چہار لڑکوں میں سے ابھی ایک بھی پیدا نہیں ہوا تھا اور اشتہار مذکور میں خداتعالیٰ نے صریح
طور پر پسر چہارم کا نام مبارک رکھ دیا ہے۔ دیکھو: ص۳، اشتہار ۲۰؍فروری ۱۸۸۶ء، دوسرے کالم کی سطر ۷۔ سو جب
اس لڑکے کا نام مبارک احمد رکھاگیا تب اس نام رکھنے کے بعد یک دفعہ وہ پیش گوئی ۲۰؍فروری ۱۸۸۶ء کی یاد
آگئی۔‘‘
(تریاق القلوب ص۴۲، خزائن ج۱۵ ص۲۱۸)
(۸۱) دعاء قبول صحت کی بشارت
’’۲۷؍اگست ۱۹۰۷ء صاحبزادہ میاں مبارک صاحب جو سخت تپ سے بیمار ہیں اور بعض دفعہ بیہوشی تک نوبت پہنچ
جاتی ہے اور ابھی تک بیمار ہیں، ان کی نسبت آج الہام ہوا، قبول ہوگئی۔ نو دن کا بخار ٹوٹ گیا۔ یعنی یہ دعاء
قبول ہوگئی کہ اللہ تعالیٰ میاں صاحب موصوف کو شفا دے۔ یہ پختہ طور پر یاد نہیں رہا کہ کس دن بخار شروع ہوا
تھا۔ لیکن خداتعالیٰ نے اپنے فضل وکرم سے میاں کی صحت کی بشارت دی۔‘‘
(مرزاقادیانی کا اعلان، بدر قادیان ج۶ نمبر۳۵ ص۴ کالم۲، مؤرخہ ۲۹؍اگست ۱۹۰۷ء، تذکرہ ص۷۲۷، ۷۲۸، طبع
چہارم)
283
(۸۲) آخری وقت
’’حضرت مسیح موعود کو مبارک احمد سے بہت محبت تھی۔ جب مبارک احمد بیمار ہوا تو دوائی وغیرہ میں ہی
پلایا کرتا تھا۔ میں نے دیکھا کہ آخری وقت میں حضرت مولوی (حکیم نورالدین) صاحب جو بڑے حوصلہ اور قوی دل کے
انسان تھے اور سخت سے سخت گھبراہٹ کے موقعوں پر بھی گھبرایا نہیں کرتے تھے وہ بھی گھبرا گئے۔ انہوں نے نبض
پر ہاتھ رکھا تو چھوٹ چکی تھی۔ انہوں نے کانپتی ہوئی آواز میں کہا، حضور کستوری لائیے۔ حضرت مسیح موعود چابی
لے کر قفل کھول ہی رہے تھے کہ مبارک احمد فوت ہوگیا۔ یہ دیکھ کر حضرت مولوی صاحب یکدم گر گئے۔ میں نے دیکھا
وہ سخت گھبراہٹ میں تھے۔ انہیں زیادہ خیال یہ تھا کہ حضرت مسیح موعود کو مبارک احمد سے بہت محبت ہے۔ اس کی
وفات کی وجہ سے انہیں شدید صدمہ ہوگیا۔ لیکن حضرت مسیح موعود نے جب یہ سنا کہ مبارک فوت ہوگیا ہے تو آپ کاغذ
قلم دوات لے کر بیٹھ گئے اور چند خط لکھ کر دئیے کہ ڈاک میں ڈال دو۔ ان خطوں میں مضمون یہ تھا کہ مبارک احمد
فوت ہوگیا۔ اللہ تعالیٰ کی دین تھی، اس نے لے لی۔ رنج وفکر کی بات نہیں۔ اللہ کی رضا پر راضی رہنا چاہئے۔ غرض
دوسروں کو صبر کی تلقین کے خطوط اس وقت روانہ کئے اور یہاں کے لوگوں کو فرمایا بے شک مبارک احمد سے ہمیں بہت
محبت تھی۔ لیکن اس لئے ہمیں محبت تھی کہ ہمیں خیال تھا بعض الہامات اس کی ذات سے پورے ہونے والے ہیں۔‘‘
(خطبہ جمعہ الفضل قادیان ج۲۰ نمبر۴۷ ص۱۰ کالم۲،۳، مؤرخہ ۱۸؍اکتوبر ۱۹۳۲ء، خطبات محمود ج۱۳ ص۶۰۰)
’’۱۹۰۷ء میں ہمارا چھاٹا بھائی یعنی حضرت مسیح موعود کا چھوٹا لڑکا مبارک احمد بیمار ہوگیا اور اسی
بیماری میں بیچارہ اس جہان فانی سے رخصت ہوا۔ مبارک احمد کی بیماری میں حضرت مسیح موعود کو اس کی تیمارداری
اور علاج معالجہ میں اس قدر شغف تھا کہ گویا آپ نے اپنی ساری توجہ اس میں جمارکھی تھی اور ان ایام میں تصنیف
وغیرہ کا سلسلہ بھی عملاً بند ہوگیا تھا۔‘‘
(مرزابشیراحمد کا بیان الفضل قادیان ج۲۸ نمبر۲۴۷، مؤرخہ ۳۰؍اکتوبر ۱۹۴۰ء)
(۸۳) خوش ہونا چاہئے
’’خاکسار عرض کرتا ہے کہ جب ہمارا چھوٹا بھائی مبارک احمد بیمار ہوا تو حضرت مسیح موعود دن رات اس کی
تیمارداری میں مصروف رہتے تھے اور بڑے فکر اور توجہ کے ساتھ اس کے علاج میں مشغول رہتے تھے اور چونکہ حضرت
صاحب کو اس سے بہت محبت تھی اس لئے لوگوں کا خیال تھا کہ اگر خدانخواستہ وہ فوت ہوگیا تو حضرت صاحب کو بڑا
صدمہ گزرے گا۔ لیکن جب وہ صبح کے وقت فوت ہوا تو فوراً حضرت صاحب بڑے اطمینان کے ساتھ بیرونی احباب کو خطوط
لکھنے بیٹھ گئے کہ مبارک فوت ہوگیا ہے اور ہم کو اللہ کی قضا پر راضی ہونا چاہئے اور مجھے بعض الہاموں میں بھی
بتایا گیا تھا کہ یا یہ لڑکا بہت خدارسیدہ ہوگا یا بچپن میں فوت ہو جائے گا۔ سو ہم کو اس لحاظ سے خوش ہونا
چاہئے کہ خدا کا کلام پورا ہوا۔‘‘
(سیرت المہدی حصہ اوّل ص۱۵۸، روایت نمبر۱۵۴، جدید ج۱ حصہ اوّل ص۱۶۰،۱۶۱، روایت نمبر۱۵۸)
’’ایسے ہی صاحبزادہ مبارک احمد کا جب انتقال ہوا تو آپ نے رضا بالقضاء کا پورا نمونہ دکھلایا۔ حالانکہ
آپ ان کی خاطر کئی دن اور کئی راتیں نہ سوئے تھے اور آپ کو وہ بچہ بہت ہی عزیز تھا اور آپ اس کی صحت کے لئے
بہت ہی بے تاب رہے۔ مگر جب اس کا انتقال ہوگیا تو آپ نے مطلق جزع فزع نہ کیا۔‘‘
(ڈاکٹر مرزایعقوب بیگ قادیانی کا مضمون، پیغام صلح لاہور ج۳۶ نمبر۲۹، مؤرخہ ۲۸؍جولائی ۱۹۴۸ء)
(۸۴) پیش گوئی کا انجام
’’خود حضرت مسیح موعود (مرزاقادیانی) نے مصلح موعود کی پیش گوئی کو پہلے بشیراوّل پر لگایا۔ مگر
واقعات نے اس اجتہاد کو غلط
284
ثابت کر دیا۔ کیونکہ وہ بچہ فوت ہوگیا۔ پھر حضور نے اس پیش گوئی کو مبارک احمد پر لگایا اور باربار
مختلف کتابوں میں آپ نے اس اجتہاد کو صریح لفظوں میں لکھ کر شائع فرمایا۔ مگر واقعات نے اس اجتہاد کو بھی
غلط ثابت کر دیا کیونکہ وہ بھی فوت ہوگیا۔‘‘
(پیغام صلح ج۲۴ نمبر۵۶ ص۷،۸، مؤرخہ ۳؍ستمبر ۱۹۳۶ء)
(۸۵) شادی
’’حضرت والدہ صاحبہ نے مجھ سے بیان کیا کہ جب مبارک احمد فوت ہوگیا اور مریم بیگم جس کے ساتھ اس کی
شادی ہوئی تھی، بیوہ رہ گئی تو حضرت صاحب نے گھر میں ایک دفعہ یہ خواہش ظاہر کی تھی کہ یہ لڑکی ہمارے گھر
میں ہی آجاوے تو اچھا ہے۔ یعنی ہمارے بچوں میں سے ہی کوئی اس کے ساتھ شادی کر لے تو بہتر ہے۔ (مرزاغلام
احمد، مبارک احمد کو پسر موعود قرار دے چکے تھے۔ اسی اطمینان پر نوعمری میں اس کی شادی کر دی تھی۔
للمؤلف)‘‘
(سیرت المہدی حصہ دوم ص۶۲، روایت نمبر۳۸۱، جدید ج۱ حصہ دوم ص۳۴۸، روایت نمبر۳۸۴)
(۸۶) اے بسا آرزو کہ خاک شدہ
’’خدا کی قدرتوں پر قربان جاؤں کہ جب مبارک احمد فوت ہوا ساتھ ہی خداتعالیٰ نے یہ الہام کیا: ’’انا نبشرک بغلام حلیم ینزل منزل المبارک‘‘ یعنی ایک حلیم لڑکے کی ہم تجھے خوشخبری
دیتے ہیں جو بمنزلہ مبارک احمد کے ہوگا اور اس کا قائم مقام اور اس کا شبیہ ہوگا۔ پس خدا نے نہ چاہا کہ دشمن
خوش ہو، اس لئے اس نے بمجرد وفات مبارک احمد کے ایک دوسرے لڑکے کی بشارت دے دی تایہ سمجھا جائے کہ مبارک
احمد فوت نہیں ہوا بلکہ زندہ ہے۔ (لیکن یہ بشارت بھی خالی گئی اور بعد کو مرزاقادیانی کے گھر میں کوئی لڑکا
پیدا نہیں ہوا۔ للمؤلف)‘‘
(مجموعہ اشتہارات ج۳ ص۵۸۷، جدید مجموعہ اشتہارات ج۲ ص۷۱۷، مندرجہ تبلیغ رسالت ج۱۰ ص۱۲۷)
(۸۷) تین چار کا چکر
’’بیان کیا مجھ سے حضرت والدہ صاحبہ نے کہ حضرت مسیح موعود فرمایا کرتے تھے کہ اللہ تعالیٰ کے کاموں میں
کیسا اخفاء ہوتا ہے۔ پسر موعود کے متعلق اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ وہ تین کو چار کرنے والا ہوگا۔ مگر ہمارے
موجودہ سارے لڑکے ہی کسی نہ کسی طرح تین کو چار کرنے والے ہیں۔ چنانچہ والدہ صاحبہ فرماتی تھیں کہ میاں
(حضرت خلیفۃ المسیح ثانی) کو تو حضرت صاحب نے اس طرح تین کو چار کرنے والا قراردیا کہ مرزاسلطان احمد اور
فضل کو بھی شمار کر لیا اور بشیراوّل متوفی کو بھی… تمہیں (یعنی خاکسار راقم الحروف کو) اس طرح پر کہ صرف
زندہ لڑکے شمار کر لئے اور بشیراوّل متوفی کو چھوڑ دیا۔ شریف احمد کو اس طرح پر قرار دیا کہ اپنی پہلی بیوی
کے لڑکے مرزاسلطان احمد اور فضل احمد چھوڑ دئیے اور میرے سارے لڑکے زندہ اور متوفی شمار کر لئے اور مبارک کو
اس طرح پر کہ میرے صرف زندہ لڑکے شمار کر لئے اور بشیراوّل متوفی کو چھوڑ دیا۔‘‘
(سیرت المہدی حصہ اوّل ص۵۹، روایت نمبر۹۰، جدید ج۱ حصہ اوّل ص۶۶،۶۷، روایت نمبر۹۲)
(۸۸) ماحصل
(پسر موعود کی بشارت کی تفصیلات درج کرنے کا منشاء یہ ہے کہ مشتے نمونہ ازخروارے اندازہ ہو جائے کہ
مرزاقادیانی کی عظیم الشان پیش گوئیاں کس انداز سے پیش ہوکر کس طور سے پوری ہوتی تھیں۔ ابہام، التباس، تاویل
اور تضاد کی بہترین مثالیں ہیں اور اس لحاط سے ضرور قابل یادگار ہیں۔ للمؤلف)
285
(۸۹) گول بات
’’ایک شخص نے حضرت خلیفۃ المسیح (مرزامحمود) کی خدمت میں مندرجہ ذیل الفاظ لکھے، مسیح موعود نے جس
لڑکے کی بشارت دی تھی وہ آپ ہیں اور کیا جناب کا دعویٰ ہے۔ اس کا جواب حضور نے اپنے دست مبارک سے یہ لکھا:
مکرم السلام علیکم! حضرت مسیح موعود (مرزاغلام احمد قادیانی) نے ایک خاص لڑکے کی کئی جگہ پیش گوئی کی
ہے۔ ایک میری پیدائش سے پہلے کی ہے۔ جس میں مصلح موعود کا لفظ آتا ہے۔ ایک الوصیت میں ہے۔ پہلے اشتہارات میں
یہ نہیں لکھا کہ مصلح الہام الٰہی سے دعویٰ کرے گا۔ الوصیت والے موعود کی نسبت لکھا ہے کہ قرب وحی سے مخصوص
ہوگا۔ اگر یہ دونوں ایک ہیں تب تو مصلح موعود کے لئے وحی سے دعویٰ کرنا ضروری ہے اور اگر دو شخص ہیں یا ایک
ہی شخص کی دو مختلف وقتوں میں حالتیں ہیں۔ تب مصلح موعود کے لئے یہ تو دعویٰ وحی سے ضروری ہے اور نہ بلاوحی
کے، اور ہوسکتا ہے کہ وہ دعویٰ بھی نہ کرے۔آنحضرت ﷺ نے کئی پیش گوئیاں امت کے بڑے بڑے آدمیوں کی نسبت
فرمائیں۔ بعض نے ان کے مستحق ہونے کا دعویٰ بھی نہ کیا۔ ہاں! لوگوں نے سمجھ کر ان پر چسپاں کیں۔ مثلاً محمد
مہدی فاتح قسطنطنیہ کی نسبت پیش گوئی موجود ہے۔ اس کا دعویٰ ثابت نہیں اور بھی ہیں۔ پس میں مصلح موعود ہونے
کا دعویٰ نہیں کرتا۔ اگر میں ہوں تو الحمد للہ ! دعوے سے فائدہ نہیں۔ اگر میں نہیں تو اس احتیاط سے میں ایک غلطی
سے محفوظ ہوگیا۔ بعض لوگ مجھے وہ موعود سمجھتے ہیں۔ میں ان کو بھی نہیں روکتا۔ ہر ایک شخص کا اپنا خیال
وتحقیق ہے اور خلاف شریعت نہیں۔‘‘
(الفضل قادیان ج۳ نمبر۸۵ ص۸ کالم۳، مؤرخہ ۲؍فروری ۱۹۱۶ء)
(۹۰) تاویلوں کے چکر
(مرزاغلام احمد قادیانی اپنی پیش گوئی کو کس قدر چکر دیتے تھے، کتنی پیچ دیتے تھے۔ اگر، مگر، لگاتے
تھے، کتنے پہلو نکالتے تھے تاکہ پیش گوئی پوری نہ ہونے کی صورت میں گریز اور تاویل کی راہ ملے اور بات گرفت
میں نہ آئے۔ بلکہ خود پڑھنے والا ہی حیران اور عاجز ہو جائے۔ اس کی مثال وہ پیش گوئی ہے جو مرزاغلام احمد
قادیانی نے مصلح موعود کے تعلق سے کی ہے۔ چنانچہ یہ پیش گوئی مندرجہ ذیل کتب میں بیان ہوئی ہے۔ للمؤلف)
’’(سبز اشتہار، براہین احمدیہ حصہ پنجم، نزول المسیح ص۱۹۲،۱۹۶، فتح اسلام ص۲۰،۹۷، حقیقت الوحی ص۲۱۷،
۳۱۲، ۳۶۰، ازالہ اوہام ص۱۵۶، ۶۳۵، تذکرہ ص۱۴۹، ۱۶۵، ۴۸۵، البدر نمبر۴ ص۲،۵، تریاق القلوب ص۴۲،۶۵، تحفہ
گولڑویہ ص۵۶، درثمین ص۱۴، ۴۰، انجام آتھم ص۱۵، آئینہ کمالات اسلام ص۳۰۵، ۵۷۸، سراج منیر ص۳۴)‘‘
(فہرست الفضل قادیان ج۳۴ نمبر۳۶ ص۵ کالم۲،۳، مؤرخہ ۱۱؍فروری ۱۹۴۶ء)
(۹۱) المصلح موعود
’’الحمد للہ ! کہ حضرت امیرالمؤمنین (مرزامحمود، خلیفہ قادیان) نے ۲۸؍جنوری ۱۹۴۴ء کو روز جمعتہ المبارک
خدا سے خبر پاکر المصلح موعود ہونے کا دعویٰ کیا۔ خداتعالیٰ نے تصدیق کی۔ کیا ہی مبارک وہ لوگ ہیں جو آپ کی
غلامی کو صد فخر سمجھتے ہیں۔ (خانہ خالی رادیومی گیرد۔ مصلح موعود کی پیش گوئی مرزاقادیانی نے پہلے بشیراوّل
پر چسپاں کی۔ مگر اس کا انتقال ہوگیا اور مبارک احمد پیدا ہوا۔ اس پر بھی یہ پیش گوئی چسپاں کی گئی۔ مگر اس
کا بھی انتقال ہوگیا تو مرزاقادیانی نے سکوت اختیار کیا۔ اس طرح مدت تک المصلح الموعود کی جگہ خالی پڑی رہی۔
بالآخر میاں صاحب (مرزامحمود خلیفہ قادیان) نے اس پر قبضہ پالیا اور اللہ تعالیٰ سے تصدیق بھی حاصل کر لی۔
مبارک سلامت ہونے لگی۔ للمؤلف)‘‘
(مضمون الفضل قادیان ج۳۴ نمبر۳۶ ص۵ کالم۴، مؤرخہ ۱۱؍فروری ۱۹۴۶ء)
286
فصل ساتویں
ارشادات
حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی توہین
(۱) دوبارہ نزول
’’حضرت اقدس مسیح موعود (مرزاقادیانی) نے فرمایا یہ وجوہات جو مفسرین ومحدثین نے لکھے ہیں ممکن ہیں کہ
یہ ہوں۔ لیکن دراصل الحمد شریف کا نام ہی سبع مثانی ہے اور اس کا سبع مثانی ہونا یہ ہے کہ سورۂ فاتحہ کا
دوبارہ نزول ہوا ہے۔ ایک آنحضرت ﷺ پر اور دوسری بار مسیح موعود (مرزاقادیانی) پر۔ چنانچہ ہم پر اس کا دوبارہ
نزول ہوا اور مسیح موعود کا ثبوت اس سورۃ سے واضح تر ہے اور ہماری تحریریں اور تفسیریں اس پر گواہ ہیں۔
توریت میں بھی سات آوازیں یا سات گرج لکھی ہیں اور وہ مقفل مانا گیا ہے۔ ہمارے زم انے میں وہ قفل کھولا
گیا۔‘‘
(الفضل قادیان ج۱۹ نمبر۲۱ ص۶ کالم۳، مؤرخہ ۱۸؍اگست ۱۹۳۱ء)
(۲) قیوم العالمین کا قادیانی تخیل
’’اس بیان مذکورہ بالا کی تصویر دکھانے کے لئے تخیلی طور پر فرض کر سکتے ہیں کہ قیوم العالمین ایک
ایسا وجود اعظم ہے جس کے لئے بے شمار ہاتھ، بے شمار پیر اور ہر ایک عضو اس کثرت سے ہے کہ تعداد سے خارج اور
لاانتہاء عرض اور طول رکھتا ہے اور تیندوے کی طرح اس وجود اعظم کی تاریں بھی ہیں۔ جو صفحہ ہستی کے تمام
کناروں تک پھیل رہی ہیں اور کشش کا کام دے رہی ہے۔ یہ وہی اعضاء ہیں جن کا دوسرے لفظوں میں عالم نام ہے۔ جب
قیوم عالم کوئی حرکت جزوی یا کلی کرے گا تو اس کی حرکت کے ساتھ اس کے اعضاء میں حرکت پیدا ہوجانا ایک لازمی
امر ہوگا۔‘‘
(توضیح المراج ص۷۵، خزائن ج۳ ص۹۰)
(۳) وحدت وجود
’’(مرزاغلام احمد نے) میر عباس علی کے استفسار پر ’’وحدت وجود‘‘ کی تردید میں ایک مبسوط خط ۱۳؍فروری
۱۸۸۴ء بمطابق ۱۴؍ربیع الثانی ۱۳۰۱ھ کو لکھا جس میں وجودیوں کے اعتقادات کے پرخچے اڑا دئیے۔ وحدت وجود کے
مسئلہ پر جب آپ (مرزاقادیانی) نے قلم اٹھایا تو یوں ہی خیالی طور پر نہیں، بلکہ آپ نے ایک محقق کی حیثیت سے
اس مسئلہ کے تمام پہلوؤں پر غور کرلیا تھا اور کافی مطالعہ کر کے یہ فیصلہ کیا تھا چنانچہ آپ فرماتے ہیں
کہ: ’’اس عاجز نے ہر چند ایک مدت دراز تک غور کی اور کتاب اللہ اور احادیث نبوی کو بہ تدبر وتفکر تمام دیکھا
اور محی الدین ابن عربی وغیرہ کی تالیفات پر بھی نظر ڈالی کہ جو اس طور کے خیالات سے بھری ہوئی ہیں اور خود
عقل خداداد کی روح سے بھی خوب سوچا اور فکر کیا۔ لیکن آج تک اس دعویٰ کی بنیاد پر کوئی دلیل اور صحیح حدیث
ہاتھ نہیں آئی اور کسی نوع کی برہان اس کی صحت پر قائم نہیں ہوئی۔ بلکہ اس کے ابطال پر براہین قویہ اور حجج
قطعیہ قائم ہوئے ہیں۔ جو کسی طرح اٹھ نہیں سکتیں۔‘‘
(حیات احمد ج۲ نمبر۲ ص۹۵،۹۶، مرتبہ شیخ یعقوب علی عرفانی قادیانی)
287
(۴) عیسیٰ علیہ السلام کی حقیقت
’’وہ دو نبی ہیں۔ ایک یوحنا جس کا نام ایلیا اور ادریس بھی ہے۔ دوسرے مسیح ابن مریم جن کو عیسیٰ اور
یسوع بھی کہتے ہیں۔‘‘
(توضیح المرام ص۳، خزائن ج۳ ص۵۲)
’’( اللہ تعالیٰ نے) حضرت موسیٰ علیہ السلام کے بعد چودھویں صدی میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو (جن کو آپ
لوگ یسوع کہتے ہیں) اسی سلسلہ کا مؤید بنا کر بھیجا۔‘‘
(ملفوظات احمدیہ حصہ اوّل ص۲۸۸، مرتبہ منظور الٰہی لاہوری قادیانی، ملفوظات ج۲ ص۲۷۹، جدید ملفوظات ج۱
ص۴۹۵)
’’بعض جاہل مسلمان کسی عیسائی کی بدزبانی کے مقابل جوآنحضرت ﷺ کی شان میں کرتا ہے، حضرت عیسیٰ علیہ
السلام کی نسبت کچھ سخت الفاظ کہہ دیتے ہیں۔‘‘
(اشتہار مرزاقادیانی مؤرخہ ۸؍اکتوبر ۱۹۰۵ء، مجموعہ اشتہارات ج۳ ص۵۴۴، جدید ج۲ ص۶۵۳)
’’اگر ایک مسلمان عیسائی عقیدہ پر اعتراض کرے تو اس کو چاہئے اعتراض میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی
شان اور عظمت کا پاس رکھے۔‘‘
(اشتہار مرزاقادیانی مؤرخہ ۲۰؍ستمبر ۱۸۹۷ء، مجموعہ اشتہارات ج۲ ص۴۷۱، جدید، مجموعہ اشتہارات ج۲ ص۱۷۲،
مندرجہ تبلیغ رسالت ج۶ ص۱۶۹)
’’غرض جس ابن مریم کی قرآن شریف نے ہم کو خبر دی ہے وہ اسی ازلی ابدی ہدایت کا پابند تھا جو ابتداء سے
بنی آدم کے لئے مقرر کی گئی ہے۔ لہٰذا اس کی نبوت کے لئے قرآنی ثبوت کافی ہے۔ گو انجیل کی رو سے کتنے ہی
شکوک وشبہات اس کی نبوت کے بارے میں پیدا ہوں۔‘‘
(نورالقرآن ص۳۲، خزائن ج۹ ص۳۷۱،۳۷۲)
’’غرض قرآن شریف نے حضرت مسیح کو سچ قرار دیا ہے۔ لیکن افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ ان کی (یعنی عیسیٰ
علیہ السلام کی) پیش گوئیوں پر یہود کے سخت اعتراض ہیں جو ہم کسی طرح ان کو دفع نہیں کر سکتے۔ صرف قرآن کے
سہارے سے ہم نے مان لیا ہے اور سچے دل سے قبول کیا ہے اور بجز اس کے ان کی نبوت پر ہمارے پاس کوئی بھی دلیل
نہیں۔‘‘
(اعجاز احمدی ص۱۳،۱۴، خزائن ج۱۹ ص۱۲۱)
’’اور یہود تو حضرت عیسیٰ ( علیہ السلام ) کے معاملہ میں اور ان کی پیش گوئیوں کے بارہ میں ایسے قوی
اعتراض رکھتے ہیں کہ ہم بھی ان کا جواب دینے میں حیران ہیں، بغیر اس کے کہ یہ کہہ دیں کہ ضرور عیسیٰ نبی ہے۔
کیونکہ قرآن نے اس کو نبی قرار دیا ہے اور کوئی دلیل اس کی نبوت پر قائم نہیں ہوسکتی۔ بلکہ ابطال نبوت پر
کئی دلائل قائم ہیں۔ یہ احسان قرآن کا ان پر ہے کہ ان کو بھی نبیوں کے دفتر میں لکھ دیا۔‘‘
(اعجاز احمدی ص۱۳، خزائن ج۱۹ ص۱۲۰)
’’مفتری ہے وہ شخص جو مجھے کہتا ہے کہ میں مسیح ابن مریم کی عزت نہیں کرتا بلکہ مسیح تو مسیح میں اس
کے چاروں بھائیوں کی بھی عزت کرتا ہوں۔ کیونکہ پانچوں ایک ہی ماں کے بیٹے ہیں۔ نہ صرف اسی قدر بلکہ میں تو
حضرت مسیح کی دونوں حقیقی ہمشیروں کو بھی مقدسہ سمجھتا ہوں۔ کیونکہ یہ سب بزرگ مریم بتول کے پیٹ سے ہیں اور
مریم کی وہ شان ہے کہ جس نے ایک مدت تک اپنے تئیں نکاح سے روکا، پھر بزرگان قوم کے نہایت اصرار سے بوجہ حمل
کے نکاح کر لیا۔‘‘
(کشتی نوح ص۱۶، خزائن ج۱۹ ص۱۸)
’’آپ کا خاندان بھی نہایت پاک اور مطہر ہے۔ تین دادیاں اور نانیاں آپ کی زناکار اور کسبی عورتیں تھیں۔
جن کے خون سے آپ کا وجود ظہور پذیر ہوا۔ مگر شاید یہ بھی خدائی کے لئے ایک شرط ہوگی۔ آپ کا کنجریوں سے میلان
اور صحبت بھی شاید اس وجہ سے ہو کہ جدی مناسبت درمیان ہے۔ ورنہ کوئی پرہیزگار انسان ایک جوان کنجری کو یہ
موقع نہیں دے سکتا کہ وہ اس کے سر پر اپنے ناپاک ہاتھ لگاوے اور زناکاری کی کمائی کا پلید عطر اس کے سر پر
ملے اور اپنے بالوں کو اس کے پیروں پر ملے۔ سمجھنے والے سمجھ لیں کہ ایسا انسان کس چلن کا آدمی ہوسکتا ہے۔‘‘
(ضمیمہ انجام آتھم ص۷، خزائن ج۱۱ ص۲۹۱ حاشیہ)
288
’’کنجریوں سے تیل ملوانا کوئی معمولی بات ہے۔ یسوع کا ان سے کیا تعلق تھا۔ اگر پادری صاحبان کہیں کہ
اس کنچنی نے توبہ کر لی ہوگی تو ہم کہتے ہیں کہ کنچنی کی توبہ کا کیا اعتبار، دن کو تو توبہ کرتی ہے اور رات
کو جاکر مونڈھے پر بیٹھ کر بدکاری میں مبتلا ہو جاتی ہے۔‘‘
(ملفوظات احمدیہ حصہ ششم ص۳۷۳، مرتبہ منظور الٰہی قادیانی، ملفوظات ج۴ ص۸۸، جدید ملفوظات ج۲ ص۴۲۲،۴۲۳)
’’ہاں! آپ کو گالیاں دینے اور بدزبانی کی اکثر عادت تھی۔ ادنیٰ ادنیٰ بات میں غصہ آجاتا تھا۔ اپنے نفس
کو جذبات سے روک نہیں سکتے تھے۔ مگر میرے نزدیک آپ کی یہ حرکات جائے افسوس نہیں۔ کیونکہ آپ تو گالیاں دیتے
تھے اور یہودی ہاتھ سے کسر نکال لیا کرتے تھے۔ یہ بھی یاد رہے کہ آپ کو کسی قدر جھوٹ بولنے کی بھی عادت
تھی۔‘‘
(ضمیمہ انجام آتھم ص۵، خزائن ج۱۱ ص۲۸۹ حاشیہ)
’’کیا تمہیں خبر نہیں کہ مردمی اور رجولیت انسان کی صفات محمودہ میں سے ہے۔ ہیجڑا ہونا کوئی اچھی صفت
نہیں ہے۔ جیسے بہرا اور گونگا ہونا، کسی خوبی میں داخل نہیں۔ ہاں! یہ اعتراض بہت بڑا ہے کہ حضرت مسیح علیہ
السلام مردانہ صفات کی اعلیٰ ترین صفت سے بے نصیب محض ہونے کے باعث ازدواج سے سچی اور کامل حسن معاشرت کا
کوئی عملی نمونہ نہ دے سکے۔‘‘
(مکتوبات احمدیہ ج۳ ص۲۸، مکتوب نمبر۳، جدید مکتوبات احمد ج۱ ص۱۹۲، مکتوب نمبر۹)
(۵) مرزاقادیانی کی معذرت
’’ہم ناظرین پر ظاہر کرتے ہیں کہ ہمارا عقیدہ حضرت مسیح علیہ السلام پر نہایت نیک عقیدہ ہے اور ہم دل
سے یقین رکھتے ہیں کہ وہ خدائے تعالیٰ کے سچے نبی اور اس کے پیارے تھے اور ہمارا اس بات پر ایمان ہے کہ وہ
جیسا کہ قرآن شریف ہمیں خبر دیتا ہے، اپنی نجات کے لئے ہمارے سید ومولیٰ محمد مصطفی ﷺ پر دل وجان سے ایمان
لائے تھے اور حضرت موسیٰ علیہ السلام کی شریعت کے صدہا خادموں میں سے ایک مخلص خادم وہ بھی تھے۔ پس ہم ان کی
حیثیت کے موافق ہر طرح ان کا ادب ملحوظ رکھتے ہیں، لیکن عیسائیوں نے جو ایک ایسا یسوع پیش کیا ہے جو خدائی
کا دعویٰ کرتا تھا اور بجز اپنے نفس کے تمام اوّلین وآخرین کو لعنتی سمجھتا تھا… سو ہم نے اپنی کلام میں ہر
جگہ عیسائیوں کا فرضی یسوع مراد لیا ہے اور خدائے تعالیٰ کا ایک عاجز بندہ عیسیٰ ابن مریم جو نبی تھا جس کا
ذکر قرآن شریف میں ہے۔ وہ ہمارے درشت مخاطبات میں ہرگز مراد نہیں۔‘‘
(نورالقرآن ٹائٹل، خزائن ج۹ ص۳۷۴،۳۷۵)
(۶) نبی مارنے والا وجود
’’اصل میں ہمارا (یعنی مرزاقادیانی کا) وجود دو باتوں کے لئے ہے، ایک تو ایک نبی (یعنی حضرت عیسیٰ
علیہ السلام) کو مارنے کے لئے، دوسرا شیطان کو مارنے کے لئے۔‘‘
(ملفوظات ج۱۰ ص۶۰ حاشیہ، جدید ملفوظات ج۵ ص۳۹۸)
’’حضرت عیسیٰ مرچکے ہیں… مگر شیطان کا مرنا ابھی باقی ہے۔‘‘
(ملفوظات ج۱۰ ص۶۰، جدید ملفوظات ج۵ ص۳۹۸،۳۹۹)
(۷) مریم کی عصمت
’’مریم کی ماں نے عہد کیا تھا کہ وہ بیت المقدس کی خدمت کرے گی اور تارکہ رہے گی۔ نکاح نہ کرے گی اور
خود مریم نے بھی یہ عہد کیا تھا کہ میں ہیکل کی خدمت کروں گی۔ باوجود اس عہد کے پھر وہ کیا بلا اور آفت پڑی
کہ یہ عہد توڑا گیا اور نکاح کیاگیا۔ ان تاریخوں میں جو یہودی مصنفوں نے لکھی ہیں اور باتوں کو چھوڑ کر اگر
یہی دیکھا جاوے تو یہ لکھا ہے کہ یوسف کو مجبور کیاگیا کہ وہ نکاح کرے اور اسرائیلی بزرگوں نے اسے کہا کہ ہر
طرح تمہیں نکاح کرنا ہوگا۔ اب اس واقعہ کو مدنظر رکھ کر دیکھو کہ کس قدر اعتراض واقع ہوتے ہیں۔‘‘
289
(اخبار الحکم قادیان ج۶ نمبر۱۵ ص۵ کالم۲، مؤرخہ ۲۴؍اپریل ۱۹۰۲ء، الفضل قادیان ج۲۱ نمبر۱۲۷ ص۱ کالم۲،
مؤرخہ ۲۴؍اپریل ۱۹۳۴ء، ملفوظات ج۳ ص۱۶۸، جدید ملفوظات ج۳ ص۱۲۳)
’’غرض اس جگہ ایک معترض کا حق ہے کہ وہ یہ گمان کرے کہ اس نکاح کی یہی وجہ تھی کہ قوم کے بزرگوں کو
مریم کی نسبت ناجائز حمل کا شبہ پیدا ہوگیا تھا۔ اگرچہ ہم قرآن شریف کی تعلیم کی رو سے یہ اعتقاد رکھتے ہیں
کہ وہ حمل محض خدا کی قدرت سے تھا تاخداتعالیٰ یہودیوں کو قیامت کا نشان دے… القصہ حضرت مریم کا نکاح محض
شبہ کی وجہ سے ہوا تھا۔ ورنہ جو عورت بیت المقدس کی خدمت کرنے کے لئے نذر ہوچکی تھی اس کے نکاح کی کیا ضرورت
تھی۔ افسوس اس نکاح سے بڑے فتنے پیدا ہوئے اور یہود نابکار نے ناجائز تعلقات کے شبہات شائع کئے۔‘‘
(چشمہ مسیحی ص۲۷،۲۸، خزائن ج۲۰ ص۳۵۶)
’’اور مریم کی وہ شان ہے جس نے ایک مدت تک اپنے تئیں نکاح سے روکا پھر بزرگان قوم کے نہایت اصرار سے
بوجہ حمل کے نکاح کر لیا۔ گو لوگ اعتراض کرتے ہیں کہ برخلاف تعلیم توریت عین حمل میں کیوں کر نکاح کیاگیا
اور بتول ہونے کے عہد کو کیوں ناحق توڑا گیا اور تعدّد ازواج کی کیوں بنیاد ڈالی گئی۔ یعنی باوجود یوسف نجار
کی پہلی بیوی کے ہونے کے پھر مریم کیوں راضی ہوئی کہ یوسف نجار کے نکاح میں آوے۔ مگر میں کہتاہوں کہ یہ سب
مجبوریاں تھیں جو پیش آگئیں۔ اس صورت میں وہ لوگ قابل رحم تھے، نہ قابل اعتراض۔‘‘
(کشتی نوح ص۱۷، خزائن ج۱۹ ص۱۸)
’’حضرت مسیح ابن مریم اپنے باپ یوسف کے ساتھ بائیس برس تک نجاری کا کام بھی کرتے رہے ہیں۔‘‘
(ازالہ اوہام حصہ اوّل ص۳۰۳،۳۰۴، خزائن ج۳ ص۲۵۴،۲۵۵ حاشیہ)
(۸) لعنت، لعنت
’’فرمایا تورات کی رو سے جو زنا کا نطفہ ہو وہ ملعون ہوتا ہے اور جو صلیب دیا جائے وہ بھی ملعون ہوتا
ہے۔ تعجب ہے کہ عیسائیوں نے اپنی نجات کے واسطے کفارہ کا مسئلہ گھڑنے کے واسطے یہ تسلیم کر لیا کہ یسوع صلیب
پر جاکر ملعون ہوگیا۔ جب ایک لعنت کو انہوں نے یسوع کے واسطے روا رکھا ہے تو پھر دوسری لعنت کو بھی کیوں روا
نہیں رکھ لیتے۔ تاکہ کفارہ زیادہ پختہ ہو جائے۔ جب لعنت کا لفظ آگیا تو پھر کیا ایک اور کیا دو۔ مگر قرآن
شریف نے ان دونوں لعنتوں کا رد کیا ہے اور دونوں کا جواب دیا ہے کہ ان کی پیدائش بھی پاک تھی اور ان کا مرنا
عام لوگوں کی طرح تھا، صلیب پر نہ تھا۔‘‘
(ارشاد مرزاغلام احمد قادیانی، ملفوظات احمدیہ حصہ اوّل ص۳۲۴، مرتبہ منظور الٰہی قادیانی لاہوری)
’’آنحضرت ﷺ کے حضرت مسیح اور ان کی والدہ پر بہت بڑے احسانات ہیں کہ آپ نے انہیں ہر ایک قسم کے الزام
سے بری کیا۔ جو ان کے مخالف یہودی ان پر لگاتے تھے، ورنہ وہ خود تو جس دن سے پیدا ہوئے اسی دن سے مخالفین کی
لعنت کے مورد تھے۔ یہودیوں نے ان کے ساتھ کوئی کمی نہیں چھوڑی۔ ابتداء بھی ان کی لعنت سے ہے اور انتہاء بھی
لعنت سے۔ اگر بنظر غور دیکھا جائے تو ان کا مصدق تو کوئی بھی نظر نہیں آتا۔ یہودی لوگ تو خیر لعنت کرتے ہی
تھے، لیکن خود ان کے اپنے حواری بھی لعنت کرنے سے باز نہ رہ سکے۔ حواریوں میں سے ایک نے تین بار ان پر لعنت
کی… یہ صرف حضرت نبی کریم ہی تھے جو بڑے زور سے ان کے مصدق بنے اور مخالفین کے ہر قسم کے الزامات سے ان کی
بریت کی۔ اس سے بڑھ کر اور کیا احسان ہوسکتا ہے کہ بجائے لعنت کے رحمت کا خطاب انہیں دلا دیا اور اب ۹۵کروڑ
مسلمان ان پر رحمۃ اللہ کا لفظ بولتے ہیں۔‘‘
(ملفوظات احمدیہ ج۷ ص۴۶۱، مرتبہ منظور الٰہی قادیانی لاہوری)
290
(۹) حضرت عیسیٰ کی پیدائش
’’اخویم مکرم! السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ۔ سیدنا حضرت قبلہ مولانا مولوی حکیم نورالدین صاحب مرحوم
ومغفور نے ۱۹۱۱ء کے سالانہ جلسہ قادیان پر اخویم شیخ محمد جان صاحب سیکرٹری انجمن احمدیہ وزیرآباد کے مندرجہ
ذیل استفسار پر اپنے قلم سے مندرجہ ذیل سطور لکھ دیں، یہ نقل اس کی مطابق اصل ہے۔ اگر عکس کی ضرورت ہو تو
اصل شیخ محمد جان سے منگوا لیں۔
(راقم قمرالدین، از جہلم)
سوال: بخدمت حضرت خلیفہ المسیح، السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ۔
حضور، اگر کوئی حضور کے مریدوں میں ہوکر حضرت مسیح علیہ السلام کو بن باپ نہ مانے تو اس کے ایمان میں
کوئی نقص ہے یا نہیں۔ ایک سائل کا یہ سوال ہے اس پر کچھ فرمایا جائے۔
(خاکسار محمد جان، ۲۷؍دسمبر ۱۹۱۱ء)
اس پر آپ نے فرمایا کہ کسی کے پاس قلم ودوات ہے تو کسی نے کہا میرے پاس پنسل ہے۔ آپ نے فرمایا مجھے
قلم دوات چاہئے۔ جب قلم دوات آئی تو آپ نے فرمایا۔
جواب: منجانب حضرت خلیفہ المسیح مہدی وقت حضرت نورالدین اعظم
جہاں تک میری سمجھ ہے یہ مسئلہ کسی عقیدہ میں داخل نہیں نہ قرآن کریم نہ حدیث میں اس کے متعلق صریح
حکم موجود ہے کہ یہ عقیدہ رکھو۔ اگر کسی کی تحقیق اس کو مجبور کرے تو وہ معذور ہے۔ یہ میرا خیال ہے۔
نورالدین۔‘‘
(المہدی نمبر۲،۳ ص۶۳، مؤلفہ محمد حسین قادیانی لاہوری)
’’اور جس حالت میں برسات کے دنوںمیں ہزارہا کیڑے مکوڑے خودبخود پیدا ہو جاتے ہیں اور حضرت آدم علیہ
السلام بھی بغیر ماں باپ کے پیدا ہوئے تو پھر حضرت عیسیٰ کی اس پیدائش سے کوئی بزرگی ان کی ثابت نہیں ہوتی،
بلکہ بغیر باپ کے پیدا ہونا بعض قویٰ سے محروم ہونے پر دلالت کرتا ہے۔‘‘
(چشمہ مسیحی ص۲۷،۲۸، خزائن ج۲۰ ص۳۵۶)
’’ایک صاحب نے عرض کیا بے نظیر چیز تو دنیا میں سوائے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی پیدائش کے اور کوئی
نظر نہیں آتی۔
فرمایا! ہم تو اسے بھی بے نظیر نہیں مانتے بلکہ اور بھی کئی ایسی پیدائشوں کا علم ہے۔ دو سو مشہور
لوگوں کے نام تو انسائیکلوپیڈیا والے نے گنائے ہیں۔ ہلاکو خاں اور چین کے شاہی خاندان منچو کے ایک بادشاہ کی
پیدائش بھی اسی طرح بیان کی گئی ہے۔‘‘
(ارشاد مرزا محمود خلیفہ قادیان، الفضل قادیان ج۱۷ نمبر۱۰۵ ص۶ کالم۱، مؤرخہ ۳؍جون ۱۹۳۰ء)
(۱۰) سوال وجواب
’’بعض لوگ موحدین کے فرقہ میں سے بحوالہ آیات قرآنی یہ اعتقاد رکھتے ہیں کہ حضرت مسیح ابن مریم انواع
واقسام کے پرندے بنا کر اور ان میں پھونک مار کر زندہ کر دیا کرتے تھے۔ چنانچہ اسی بناء پر اس عاجز پر
اعتراض کیا ہے کہ جس حالت میں مثیل مسیح ہونے کا عویٰ ہے تو پھر آپ بھی کوئی مٹی کا پرندہ بنا کر پھر اس کو
زندہ کر کے دکھائیے… ان تمام اوہام باطلہ کا جواب یہ ہے کہ وہ آیات جن میں ایسا لکھا ہے متشابہات میں سے ہے…
اور موحد صاحب کا یہ عذر کہ ہم ایسا اعتقاد نہیں رکھتے کہ اپنی ذاتی طاقت سے حضرت عیسیٰ خالق طیور تھے، بلکہ
ہمارا عقیدہ یہ ہے کہ یہ طاقت خداتعالیٰ نے اپنے اذن اور ارادہ سے ان کو دے رکھی تھی… یہ سراسر مشرکانہ
باتیں ہیں اور کفر سے بدتر۔‘‘
(ازالہ اوہام حصہ اوّل ص۲۹۶،۲۹۷، خزائن ج۳ ص۲۵۱،۲۵۲)
291
(۱۱) عیسیٰ علیہ السلام کے معجزات
’’عیسائیوں نے بہت سے آپ کے معجزات لکھے ہیں، مگر حق بات یہ ہے کہ آپ سے کوئی معجزہ نہیں ہوا اور اس
دن سے کہ آپ نے معجزہ مانگنے والوں کو گندی گالیاں دیں اور ان کو حرام کار اور حرام کی اولاد ٹھہرایا۔ اسی
روز سے شریفوں نے آپ سے کنارہ کیا۔‘‘
(ضمیمہ انجام آتھم ص۶، خزائن ج۱۱ ص۲۹۰ حاشیہ)
’’وہ لوگ جو فرعون کے وقت مصر میں ایسے ایسے کام کرتے تھے، جو سانپ بنا کر دکھا دیتے تھے اور کئی قسم
کے جانور طیار کر کے ان کو زندہ جانوروں کی طرح چلادیتے تھے وہ حضرت مسیح کے وقت عام طور پر یہودیوں کے
ملکوں میں پھیل گئے تھے اور یہودیوں نے ان کے بہت سے ساحرانہ کام سیکھ لئے تھے… سو کچھ تعجب کی جگہ نہیں کہ
خداتعالیٰ نے حضرت مسیح کو عقلی طور پر ایسے طریق (یعنی سحر اور جادوگری) پر اطلاع دے دی ہو جو ایک مٹی کا
کھلونا کسی کل کے دبانے یا کسی پھونک مارنے کے طور پر ایسا پرواز کرتا ہو جیسا پرندہ پرواز کرتا ہے۔‘‘
(ازالہ اوہام حصہ اوّل ص۳۰۲،۳۰۳، خزائن ج۳ ص۲۵۴ حاشیہ)
’’یہ حضرت مسیح کا معجزہ (پرندے بنا کر ان میں پھونک مار کر اڑانا) حضرت سلیمان کے معجزہ کی طرح صرف
عقلی تھا۔ تاریخ سے ثابت ہے کہ ان دنوں میں ایسے امور کی طرف لوگوں کے خیالات جھکے ہوئے تھے کہ وہ شعبدہ
بازی کی قسم میں سے دراصل بے سود اور عوام کو فریفتہ کرنے والے تھے۔‘‘
(ازالہ اوہام حصہ اوّل ص۳۰۲، خزائن ج۳ ص۲۵۴ حاشیہ)
’’اس سے کچھ تعجب نہیں کرنا چاہئے کہ حضرت مسیح نے اپنے دادا سلیمان کی طرح اس وقت کے مخالفین کو یہ
عقلی معجزہ دکھلایا ہو اور ایسا معجزہ دکھانا عقل سے بعید بھی نہیں۔ کیونکہ حال کے زمانہ میں بھی دیکھا جاتا
ہے کہ اکثر صنّاع ایسی ایسی چڑیاں بنالیتے ہیں کہ وہ بولتی بھی ہیں اور ہلتی بھی ہیں اور دم بھی ہلاتی ہیں
اور میں نے سناہے کہ بعض چڑیاں کل کے ذریعہ سے پرواز بھی کرتی ہیں۔ بمبئی اور کلکتے میں ایسے کھلونے بہت
بنتے ہیں اور یورپ وامریکہ کے ملکوں میں بکثرت ہیں اور ہر سال نئے نئے نکلتے آتے ہیں۔‘‘
(ازالہ اوہام حصہ اوّل ص۳۰۴، خزائن ج۳ ص۲۵۵ حاشیہ)
’’ممکن ہے کہ آپ نے معمولی تدبیر کے ساتھ کسی شب کور وغیرہ اچھا کیا ہو یا کسی اور ایسی بیماری کا
علاج کیا ہو، مگر آپ کی بدقسمتی سے اسی زمانہ میں ایک تالاب بھی موجود تھا جس سے بڑے بڑے نشان ظاہر ہوتے
تھے۔ خیال ہوسکتا ہے کہ اس تالاب کی مٹی آپ بھی استعمال کرتے ہوں گے۔ اسی تالاب سے آپ کے معجزات کی پوری
حقیقت کھلتی ہے اور اسی تالاب نے فیصلہ کر دیا ہے کہ اگر آپ سے کوئی معجزہ بھی ظاہر ہوا ہو تو وہ معجزہ آپ
کا نہیں بلکہ اس تالاب کا معجزہ ہے اور آپ کے ہاتھ میں سوائے مکر اور فریب کے اور کچھ نہیں تھا۔‘‘
(ضمیمہ انجام آتھم ص۷، خزائن ج۱۱ ص۲۹۱ حاشیہ)
’’یہ اعتقاد بالکل غلط اور فاسد اور مشرکانہ خیال ہے کہ مسیح مٹی کے پرندے بنا کر اور ان میں پھونک
مار کر انہیں سچ مچ کے جانور بنادیتا تھا۔ نہیں بلکہ صرف عمل الترب (یعنی مسمریزم) تھا جو روح کی قوت سے
ترقی پذیر ہوگیا تھا۔ یہ بھی ممکن ہے کہ مسیح ایسے کام کے لئے اس تالاب کی مٹی لاتا تھا۔ جس میں روح القدس
کی تاثیر رکھی گئی تھی، بہرحال یہ معجزہ صرف ایک کھیل کی قسم میں سے تھا اور وہ مٹی درحقیقت ایک مٹی ایک مٹی
ہی رہتی تھی جیسے سامری کا گوسالہ۔‘‘
(ازالہ اوہام حصہ اوّل ص۳۲۲، خزائن ج۳ ص۲۶۳ حاشیہ)
292
’’اناجیل اربعہ کے دیکھنے سے صاف ظاہر ہے کہ مسیح جو کام اپنی قوم کو دکھلاتا تھا وہ دعا کے ذریعہ سے
ہرگز نہیں تھے اور قرآن شریف میں بھی کسی جگہ یہ ذکر نہیں کہ مسیح بیماروں کو چنگا کرنے یا پرندوں کے بنانے
کے وقت دعا کرتا تھا، بلکہ وہ اپنی روح کے ذریعہ سے جس کو روح القدس کے فیضان سے برکت بخشی گئی تھی۔ ایسے
ایسے کام اقتداری طور پر دکھاتا تھا۔ چنانچہ جس نے کبھی اپنی عمر میں غور سے انجیل پڑھی ہوگی وہ ہمارے اس
بیان کی بہ یقین تمام تصدیق کرے گا اور قرآن شریف کی آیات بھی باآواز بلند یہی پکار رہی ہیں کہ مسیح کے ایسے
عجائب کاموں میں اس کو طاقت بخشی گئی تھی اور خداتعالیٰ نے صاف فرمادیا ہے کہ وہ ایک فطرتی طاقت تھی جو ہر
یک فرد بشر کی فطرت میں مودع ہے۔ مسیح سے اس کی کچھ خصوصیت نہیں۔ چنانچہ اس بات کا تجربہ اسی زمانہ میں
ہورہا ہے۔‘‘
(ازالہ اوہام حصہ اوّل ص۲۰،۲۱، خزائن ج۲ ص۲۶۲،۲۶۳ حاشیہ)
(۱۲) حضرت عیسیٰ علیہ السلام پر افتراء
’’یہ بات بالکل غیرمعقول ہے کہ آنحضرت ﷺ کے بعد کوئی ایسا نبی آنے والا ہے کہ جب لوگ نماز کے لئے
مساجد کی طرف دوڑیں گے تو وہ کلیسا کی طرف بھاگے گا اور جب لوگ قرآن شریف پڑھیں گے تو وہ انجیل کھول بیٹھے
گا اور جب لوگ عبادت کے وقت بیت اللہ کی طرف منہ کریں گے تو وہ بیت المقدس کی طرف متوجہ ہوگا اور شراب پئے گا
اور سؤر کا گوشت کھائے گا اور اسلام کے حلال وحرام کی کچھ پرواہ نہیں رکھے گا۔ کیا کوئی عقل تجویز کر سکتی
ہے کہ اسلام کے لئے یہ مصیبت کا دن بھی باقی ہے۔‘‘
(حقیقت الوحی ص۲۹، خزائن ج۲۲ ص۳۱)
(۱۳) مرزاقادیانی کی مسیحائی
’’۳۱؍جولائی ۱۹۰۱ء صاحبزادہ مبارک احمد صاحب یکایک سخت بیمار ہوگئے اور چند بارغش آیا۔ آخری مرتبہ
ایسی غشی طاری ہوگئی کہ بدن بے حس اور سرد ہوگیا۔ سب عورتوں نے انا اللہ وانا الیہ
راجعون پڑھ دیا۔ حضرت مسیح موعود اس وقت دعا میں مصروف تھے۔ آپ کی خدمت میں عرض کی گئی کہ آپ
تکلیف نہ اٹھائیں، لڑکا فوت ہوچکا ہے۔ آپ نے فرمایا میں نے انا اللہ وانا الیہ راجعون
پڑھ دیا ہے۔ بایں ہمہ آپ نے عرق گلاب لاکر صاحبزادے کے منہ پر چھینٹے مارے۔ جس کے بعد انہیں کچھ حرکت ہوئی
اور پھر تھوڑے عرصہ کے بعد وہ ہوش میں آگئے۔ حضرت مسیح موعود نے باہر آکر بیان فرمایا کہ لڑکے کی نبض مفقود
ہوچکی تھی اور علامات موت بالکل ظاہر ہوچکی تھیں۔ آنکھیں پتھرا گئی تھیں۔ میں نے عرق گلاب چھڑکا اور دعا کی
کہ الٰہی زیادہ خوف شماتت اعداء کا ہے۔ اس سے بچ جائیں۔ پھر اللہ تعالیٰ نے لڑکے کو مردہ حالت سے زندہ کیا۔
حضرت عیسیٰ کے زمانہ میں چونکہ علمائے یہود کی برکت جاتی رہی تھی اور موٹے اور سطحی خیال کے لوگ تھے۔ کسی
مرگی والے کو شفا ہوئی ہوگی۔ انہوں نے یہی سمجھ لیا۔‘‘
(روایات الحکم قادیان ج۵ نمبر۳۰ ص۱۶ کالم۱، مؤرخہ ۱۷؍اگست ۱۹۰۱ء، کتاب منظور الٰہی ص۲۶۷، مؤلفہ
منظور الٰہی قادیانی)
(۱۴) مسیح ابن مریم اور مرزاغلام احمد قادیانی
’’میں ایسے شخص کا سخت دشمن ہوں کہ جو کسی عورت کے پیٹ سے پیدا ہوکر پھر خیال کرتا ہے کہ میں خدا ہوں۔
گو میں مسیح ابن مریم کو اس تہمت سے پاک قرار دیتا ہوں کہ اس نے کبھی خدائی کا دعویٰ کیا، تاہم میں دعویٰ
کرنے والے کو تمام گنہگاروں سے بدتر سمجھتا ہوں۔ میں جانتا ہوں اور مجھے دکھایا گیا ہے کہ مسیح ابن مریم اس
تہمت سے بری اور راست باز ہے اور اس نے کئی دفعہ مجھ سے ملاقات کی۔ لیکن ہر
293
ایک دفعہ اپنی عاجزی اور عبودیت ظاہر کی۔ ایک دفعہ میں نے اور اس نے عالم کشف میں جو گویا بیداری کا
عالم تھا، ایک جگہ بیٹھ کر ایک ہی پیالہ میں گائے کا گوشت کھایا اور اس نے اپنی فروتنی اور محبت سے میرے پر
ظاہر کیا کہ وہ میرا بھائی ہے اور میں نے بھی محسوس کیا کہ وہ میرا بھائی ہے۔ تب سے میں اس کو اپنا ایک
بھائی سمجھتا ہوں۔ سو جو کچھ میں نے دیکھا ہے اس کے موافق میرا یہی عقیدہ ہے کہ وہ میرا بھائی ہے۔ گو مجھے
حکمت اور مصلحت الٰہی نے اس کی نسبت زیادہ کام سپرد کیا ہے اور اس کی نسبت زیادہ فضل وکرم کے وعدے دئیے ہیں۔
مگر پھر بھی میں اور وہ روحانیت کی رو سے ایک ہی جوہر کے دو ٹکڑے ہیں۔ اسی بناء پر میرا آنا اسی کا آنا ہے
جو مجھ سے انکار کرتا ہے… اور مسیح ابن مریم مجھ میں سے ہے اور میں خدا سے ہوں۔ مبارک وہ جو مجھے پہچانتا ہے
اور بدقسمت وہ جس کی آنکھوں سے میں پوشیدہ ہوں۔‘‘
(مکتوبات احمدیہ ج۳ ص۱۱۸، جدید مکتوبات احمد ج۱ ص۲۶۵، مکتوب نمبر۱۴)
(۱۵) یسوع مسیح سے پیار مسیحی ملکہ کا دربار
’’جس قدر عیسائیوں کو حضرت یسوع مسیح سے محبت کرنے کا دعویٰ ہے وہی دعویٰ مسلمانوں کو بھی ہے۔ گویا
آنجناب کا وجود عیسائیوں اور مسلمانوں میں ایک مشترکہ جائیداد کی طرح ہے اور مجھے سب سے زیادہ حق ہے۔ کیونکہ
میری طبیعت یسوع میں مستغرق ہے اور یسوع کی مجھ میں۔ اسی دعویٰ کی تائید میں آسمانی نشان ظاہر ہورہے ہیں…
اور اس جگہ اس قدر لکھنے کی میں نے اس لئے جرأت کی ہے کہ حضرت یسوع مسیح کی سچی محبت اور سچی عظمت جو میرے
دل میں ہے اور نیز وہ باتیں جو میں نے یسوع مسیح کی زبان سے سنیں اور وہ پیغام جو اس نے مجھے دیا۔ ان تمام
امور نے مجھے تحریک کی کہ میں جناب ملکہ معظمہ کے حضور میں یسوع کی طرف سے ایلچی ہوکر باادب التماس کروں کہ…
کیا خوب ہو کہ جناب کو اس چھپی ہوئی توہین پر بھی نظر ڈالنے کے لئے توجہ پیدا ہو جو یسوع مسیح کی شان میں کی
جاتی ہے۔ (کم ازکم مرزاغلام احمد قادیانی کی تصانیف انجام آتھم، ازالہ اوہام اور کشتی نوح میں یسوع مسیح کی
جو گت بنائی گئی ہے ان کے اور ان کے والدہمریم علیہا السلام کے حق میں جو بدگوئی اور بدزبانی روا رکھی ہے،
اس پر ضرور توجہ ہوکہ یہ تحریرات بھی ملکہ معظمہ کی نظر سے چھپی ہوئی ہیں۔ للمؤلف)‘‘
(تحفہ قیصریہ ص۲۳، خزائن ج۱۲ ص۲۷۵)
(۱۶) مسیحی سرکار قادیانی اقرار
’’غرض مسیح موعود کا نام جو آسمان سے میرے لئے مقرر کیاگیا ہے اس کے معنی اس سے بڑھ کر اور کچھ نہیں
کہ مجھے تمام اخلاقی حالتوں میں خدائے قیوم نے حضرت مسیح علیہ السلام کا نمونہ ٹھہرایا ہے۔ تا امن اور نرمی
کے ساتھ لوگوں کو روحانی زندگی بخشوں میں نے اس نام کے معنی یعنی مسیح موعود کے صرف آج ہی اس طور سے نہیں
کئے بلکہ آج سے انیس برس پہلے کتاب براہین احمدیہ میں بھی یہ ہی معنی کئے ہیں۔‘‘
(کشف الغطاء ص۸۲، خزائن ج۱۴ ص۱۹۲،۱۹۳)
(۱۷) مسمریزم کی تشریح
’’اور یہ جو میں نے مسمریزمی طریق کا عمل الترب نام رکھا جس میں حضرت مسیح بھی کسی درجہ تک مشق رکھتے
تھے۔ یہ الہامی نام ہے اور خداتعالیٰ نے مجھ پر ظاہر کیا کہ یہ عمل الترب ہے۔‘‘
(ازالہ اوہام حصہ اوّل ص۳۱۲، خزائن ج۳ ص۲۵۹ حاشیہ)
’’اب یہ بات قطعی اور یقینی طور پر ثابت ہوچکی ہے کہ حضرت مسیح ابن مریم باذن وحکم الٰہی الیسع نبی کی
طرح اس عمل الترب (مسمریزم) میں کمال رکھتے تھے۔‘‘
(ازالہ اوہام حصہ اوّل ص۳۰۸، خزائن ج۳ ص۲۵۷ حاشیہ)
294
’’بہرحال مسیح کی یہ تربی کارروائیاں زمانہ کے مناسب حال بطور خاص مصلحت کے تھیں، مگر یاد رکھنا چاہئے
کہ یہ عمل ایسا قدر کے لائق نہیں جیسا کہ عوام الناس اس کو خیال کرتے ہیں۔ اگر یہ عاجز اس عمل کو مکروہ اور
قابل نفرت نہ سمجھتا تو خداتعالیٰ کے فضل وتوفیق سے امید قوی رکھتاتھا کہ ان عجوبہ نمائیوں میں حضرت ابن
مریم سے کم نہ رہتا۔‘‘
(ازالہ اوہام حصہ اوّل ص۳۰۹، خزائن ج۳ ص۲۵۷،۲۵۸ حاشیہ)
’’عمل مسمریزم کا یہی اصول ہے کہ توجہ ڈال کر اپنا اثر دوسرے پر ڈالا جاتا ہے، چنانچہ حضرت خلیفۃ
المسیح ثانی ایدہ اللہ تعالیٰ (یعنی مرزامحمود خلیفہ قادیان) نے فرمایا کہ مجھ کو بھی یہ علم آتا ہے۔‘‘
(الفضل قادیان ج۱۳ نمبر۱۱۲ ص۸ کالم۲، مؤرخہ ۲۱؍مئی ۱۹۲۶ء)
(۱۸) بروز اوتار
’’راجہ کرشن جیسا کہ میرے پر ظاہر کیاگیا۔ درحقیقت ایک ایسا کامل انسان تھا جس کی نظیر ہندوؤں کے کسی
رشی اور اوتار میں نہیں پائی جاتی اور اپنے وقت کا اوتار یعنی نبی تھا۔ جس پر خدا کی طرف سے روح القدس اترتا
تھا۔ خدا کا وعدہ تھا کہ آخری زمانہ میں اس کا بروز یعنی اوتار پیدا کرے۔ سو یہ وعدہ میرے ظہور سے پورا
ہوا۔‘‘
(لیکچر سیالکوٹ ص۳۳،۳۴، خزائن ج۲۰ ص۲۲۸،۲۲۹)
’’حضرت مسیح علیہ السلام کو دومرتبہ یہ موقعہ پیش آیا کہ ان کی روحانیت نے قائم مقام طلب کیا۔ اوّل جب
کہ ان کے فوت ہونے پر چھ سو برس گزر گیا اور یہودیوں نے اس بات پر حد سے زیادہ اصرار کیا کہ وہ نعوذ باللہ
مکار اور کاذب تھا اور اس کا ناجائز طور پر تولد تھا… تب ہمارے نبی ﷺ مبعوث ہوئے۔ جن کی بعثت کی اغراض کثیرہ
میں سے ایک یہ بھی غرض تھی کہ ان تمام بے جا الزاموں سے مسیح کا دامن پاک ثابت کریں اور اس کے حق میں صداقت
کی گواہی دیں۔‘‘
(آئینہ کمالات اسلام ص۳۴۲، خزائن ج۵ ص۳۴۲)
’’پھر دوسری مرتبہ مسیح کی روحانیت اس وقت جوش میں آئی کہ جب نصاریٰ میں دجالیت کی صفت اتم اور اکمل
طور پر آگئی اور جیسا کہ لکھا ہے کہ دجال نبوت کا دعویٰ بھی کرے گا اور خدائی کا بھی۔ ایسا ہی انہوں نے کیا۔
نبوت کا دعویٰ اس طرح پر کیا کہ کلام الٰہی میں اپنی طرف سے وہ دخل دئیے۔ وہ قواعد مرتب کئے اور وہ تنسیخ
ترمیم کی جو ایک نبی کا کام تھا۔‘‘
(آئینہ کمالات اسلام ص۳۴۳، خزائن ج۵ ص۳۴۳)
’’اسی جگہ یہ نکتہ بھی یاد رکھنے کے لائق ہے کہ ہمارے نبی ﷺ کی روحانیت بھی اسلام کے اندرونی مفاسد کے
غلبہ کے وقت ہمیشہ ظہور فرماتی رہتی ہے اور حقیقت محمدیہ کا حلول ہمیشہ کسی کامل متبع میں ہوکر جلوہ گر ہوتا
ہے اور جو احادیث میں آیا ہے کہ مہدی پیدا ہوگا۔ اس کا نام میرا ہی نام ہوگا۔ اس کا خلق میرا ہی خلق ہوگا۔
اگر یہ حدیثیں صحیح ہیں تو یہ اسی نزول روحانیت کی طرف اشارہ ہے۔‘‘
(آئینہ کمالات اسلام ص۳۴۶، خزائن ج۵ ص۳۴۶)
’’اور چونکہ آنحضرت ﷺ کا حسب آیت:’’واخرین منہم‘‘ دوبارہ تشریف لانا بجز صورت
بروز غیرممکن تھا۔ اس لئےآنحضرت ﷺ کی روحانیت نے ایک ایسے شخص کو (یعنی مرزاغلام احمد قادیانی کو) اپنے لئے
منتخب کیا جو خلق اور خو اور ہمت اور ہمدردی خلائق میں اس کے مشابہ تھا اور مجازی طور پر اپنا نام احمد اور
محمد اس کو عطاء کیا تایہ سمجھا جائے کہ گویا اس کا ظہور بعینہٖ آنحضرت ﷺ کا ظہور تھا۔‘‘
(تحفہ گولڑویہ ص۱۰۱، خزائن ج۱۷ ص۲۶۳)
’’پس مسیح موعود خود محمد رسول اللہ ہے۔ جو اشاعت اسلام کے لئے دوبارہ دنیا میں تشریف لائے۔‘‘
(کلمۃ الفصل مصنفہ بشیراحمد مندرجہ رسالہ ریویوآف قادیان ج۱۴ نمبر۴ ص۱۵۸)
295
-
محمد پھر اتر آئے ہیں ہم میں
اور آگے سے ہیں بڑھ کر اپنی شان میں
-
محمد دیکھنے ہوں جس نے اکمل
غلام احمد کو دیکھے قادیان میں
(ازقاضی محمد ظہور الدین اکمل قادیانی، البدر قادیان ج۲ نمبر۴۳ ص۱۴ کالم۱، مؤرخہ ۲۵؍اکتوبر۱۹۰۶ء)
’’اس ذات بابرکات (محمد) سے بھی تو تعلق پیدا کیجئے، جو اپنی پہلے زمانہ والی تلوار اور نیزہ کو بند
کر کے ایک زرق برق والی جمالی پوشاک زیب تن کر کے آپ ہی کے ملک (ہندوستان) میں تیرہ سو سال کے بعد دوبارہ
تشریف لایا ہے۔ (مرادمرزاغلام احمد قادیانی)‘‘
(الفضل قادیان ج۲۴ نمبر۱۵۰ ص۵ کالم۳، مؤرخہ ۲۴؍دسمبر ۱۹۳۶ء)
(۱۹) تین مرتبہ دنیا میں نازل
’’اور یہ بھی کھلا کہ یوں مقدر ہے کہ ایک زمانہ کے گزرنے کے بعد کہ خیر اور اصلاح اور غلبہ توحید کا
زمانہ ہوگا۔ پھر دنیا میں فساد اور شرک اور ظلم عود کرے گا اور بعض بعض کو کیڑوں کی طرح کھائیں گے اور
جاہلیت غلبہ کرے گی اور دوبارہ مسیح کی پرستش شروع ہو جائے گی اور مخلوق کو خدا بنانے کی جہالت بڑے زور سے
پھیلے گی اور یہ سب فساد عیسائی مذہب سے اس آخری زمانہ کے آخری حصہ میں دنیا میں پھیلیں گے۔ تب پھر مسیح کی
روحانیت سخت جوش میں آکر جلالی طور پر نزول چاہے گی۔ تب ایک قہری شبیہ میں اس کا نزول ہوکر اس زمانہ کا
خاتمہ ہو جائے گا۔ تب آخر ہوگا اور دنیا کی صف لپیٹ دی جائے گی۔ اس سے معلوم ہوا کہ مسیح کی امت کی نالائق
کرتوتوں کی وجہ سے مسیح کی روحانیت کے لئے یہی مقدر تھا کہ تین مرتبہ دنیا میں نازل ہو۔‘‘
(آئینہ کمالات اسلام ص۳۴۶، خزائن ج۵ ص۳۴۶)
(۲۰) مرزاقادیانی اوتار
’’اس وقت خدا نے جیسا کہ حقوق عباد کے تلف کے لحاظ سے میرا نام مسیح رکھا اور مجھے خو اور بو اور رنگ
اور روپ کے لحاظ سے حضرت عیسیٰ مسیح کا اوتار کر کے بھیجا۔ ایسا ہی اس نے حقوق خالق کے تلف کے لحاظ سے
میرانام محمد واحمد رکھا اور مجھے توحید پھیلانے کے لئے تمام خو اور بو اور رنگ اور روپ اور جامہ محمدی پہنا
کر حضرت محمد ﷺ کا اوتار بنا دیا۔ سو میں ان معنوں کر کے عیسیٰ مسیح بھی ہوں اور محمد مہدی بھی… یہ وہ طریق
ظہور ہے جس کو اسلامی اصطلاح میں بروز کہتے ہیں۔‘‘
(گورنمنٹ انگریزی اور جہاد ص۶،۷، خزائن ج۱۷ ص۲۷،۲۸)
(۲۱) قادیانی نجوم
’’ان دونوں حسابوں کی رو سےآنحضرت ﷺ کا زمانہ جس کی خداتعالیٰ نے سورۂ والعصر میں قسم کھائی الف خامس
ہے، یعنی ہزار پنجم جو مریخ کے اثر کے ماتحت ہے اور یہی سر ہے جوآنحضرت ﷺ کو ان مفسدین کے قتل اور خونریزی
کے لئے حکم فرمایا گیا۔ جنہوں نے مسلمانوں کو قتل کیا اور قتل کرنا چاہا اور ان کے استیصال کے درپے ہوئے اور
یہی خداتعالیٰ کے حکم اور اذن سے مریخ کا اثر ہے۔ غرض آنحضرت ﷺ کے بعث اوّل کا زمانہ ہزارپنجم تھا جو اسم
محمد کا مظہر تجلی تھا۔ یعنی بعث اوّل جلالی نشان ظاہر کرنے کے لئے تھا۔ مگر بعث دوم جس کی طرف آیت کریمہ
’’واخرین منہم لما یلحقوا بہم‘‘ میں اشارہ ہے۔ وہ مظہر تجلی اسم احمد ہے جو اسم جمالی
ہے۔‘‘
(تحفہ گولڑویہ ص۹۵،۹۶، خزائن ج۱۷ ص۲۵۳)
296
(۲۲) اسم احمد کا مظہر
’’یہ باریک بھید یاد رکھنے کے لائق ہے کہ آنحضرت ﷺ کی بعث دوم میں تجلی اعظم جو اکمل اور اتم ہے وہ
صرف اسم احمد کی تجلی ہے۔ کیونکہ بعث دوم آخر ہزار ششم میں ہے اور ہزار ششم کا تعلق ستارہ مشتری کے ساتھ ہے
جو کوکب ششم منجملہ خنس کنس ہے اور اس ستارہ کی یہ تاثیر ہے کہ مامورین کی خونریزی سے منع کرتا اور عقل اور
دانش اور مواد استدلال کو بڑھتا ہے۔اس وقت کے مبعوث پر توستارہ مشتری ہے۔ نہ پرتو مریخ، اسی وجہ سے باربار
اس کتاب میں لکھاگیا ہے کہ ہزار ششم فقط اسم احمد کا مظہر اتم ہے جو جمالی تجلی کو چاہتا ہے۔‘‘
(تحفہ گولڑویہ ص۹۶، خزائن ج۱۷ ص۲۵۳ حاشیہ)
(۲۳) قادیانی تعلیم
’’بعض تعلیمات سلسلہ احمدیہ کی آپ کو ایسی نظر آئیں گی جو بظاہر مسلمانوں کے عقیدہ کے خلاف ہیں اور جو
اس مشہور تعلیم کے بھی خلاف ہیں، جو قرآن کریم کی طرف منسوب کی جاتی ہیں۔ لیکن حضرت مسیح موعود نے کوئی نئی
تعلیم نہیں دی۔ صرف مسلمانوں کی غلطیوں کی اصلاح کی ہے۔ ہاں! بعض باتیں آپ نے نئی بھی بیان کی ہیں۔ لیکن وہ
بھی قرآن کریم سے باہر نہیں، بلکہ قرآن کریم سے ہی ہیں۔ لیکن چونکہ وہ اس زمانہ سے مخصوص تھیں دنیا کو اس سے
پہلے ان کی معرفت عطاء نہیں کی گئی تھی۔‘‘
(تحفہ لارڈاردن ص۲۴، مصنف میاں محمود احمد خلیفہ قادیان، انوارالعلوم ج۱۲ص۴۸)
(۲۴) ملائکہ اور شیطان
اگر کوئی کہے کہ شیطان وملائکہ دکھاؤ تو کہنا چاہئے کہ تمہارے اندر یہ خواص کہ بیٹھے بٹھائے آناً
فاناً بدی کی طرف متوجہ ہو جانا یہاں تک کہ خدائے تعالیٰ کی ذات سے بھی منکر ہو جانا اور کبھی نیکی میں ترقی
کرنا اور انتہاء درجہ کی انکساری وفروتنی وعجزونیاز میں گر جانا یہ اندرونی کشش جو تمہارے اندر موجود ہے ان
سب کے محرک جو قویٰ ہیں، وہ ان دو الفاظ ملک وشیطان کے وجود میں مجسم ہیں۔
(مندرجہ الحکم قادیان ج۷ نمبر۲۰ ص۱۳ کالم۲، مؤرخہ ۳۱؍مئی ۱۹۰۳ء، ملفوظات ج۵ ص۴۳۶، جدید ملفوظات ج۳
ص۳۱۳، منقول از اخبار الفضل ج۲۱ نمبر۱۳۴ ص۱ کالم۳)
(۲۵) جنت اور دوزخ کی حقیقت
’’حضرت مسیح موعود نے یہ تعلیم دی کہ گوجنت کے انعام دائمی ہیں اور کبھی ختم نہیں ہوگا، مگر دوزخ کا
عذاب دائمی نہیں ہے۔ بلکہ ایک لمبے زمانہ کے بعد ختم ہو جائے گا۔‘‘
(سلسلہ احمدیہ ج۱ ص۲۸۸)
(۲۶) شیطان بھی جنت میں
’’بعض لوگ اس موقع پر کہہ دیتے ہیں کہ خواہ کچھ ہو اگر اکثر لوگوں کو سزا ملنی ہے تو پھر شیطان جیتا۔
میں کہتا ہوں نہیں، پھر بھی خدا ہی جیتا اور وہ اس طرح کہ خداتعالیٰ کا ایک قانون یہ بھی ہے کہ سزا بھگت کر
سارے کے سارے انسان جنت میں چلے جائیں گے۔ چنانچہ قرآن کریم کہتا ہے… میں نے انسانوں کو اس لئے پیدا کیا ہے
کہ وہ میرے بندے بن جائیں۔ اب یہ کس طرح ممکن ہے کہ لوگ خدا کے بندے بن کر بھی سزا میں پڑے ہیں۔ پس معلوم
ہوا کہ ایک وقت سب کے سب دوزخ سے نکالے جائیں گے۔ چنانچہ دوسری آیات اور
297
احادیث سے بھی یہ معلوم ہوتا ہے کہ کسی وقت سب کے سب جنت میں چلے جائیں گے۔ اس لئے سارے خدا کے عبد
ہوگئے اور خدا ہی جیتا۔ پھر شیطان بھی کہاں بیٹھا رہے گا، وہ بھی جنت میں چلا جائے گا… اب وہ جو کہتے ہیں
شیطان جیتا، وہ شیطان کو جنت میں دیکھ کر شرمائیں گے کہ ہم تو اسے جتا رہے تھے، یہ خود بھی یہیں آگیا۔‘‘
(منہاج الطالبین ص۴۳،۴۴، مصنفہ مرزا محمود انوار العلوم ج۹ ص۱۹۲)
(۲۷) معجزہ کی تعریف
(عنوان، الحکم قادیان مؤرخہ ۷؍دسمبر ۱۹۳۴ء) ’’ایک دفعہ منشی محمد اڑوڑے خان صاحب نے حضرت اقدس سے
پوچھا کہ حضور معجزہ کسے کہتے ہیں؟ آپ نے فرمایا: معجزہ کی مثال ایسی ہے کہ گرمی شدید پڑ رہی ہو۔ ایک پیر کے
مرید ہوں وہ مرید اپنے پیر سے کہیں کہ دعا کرو کہ ٹھنڈی ہوا چل جائے۔ وہ دعا کرے اور پھر اس کے بعدٹھنڈی ہوا
بھی چل پڑے۔ اس سے مریدوں کان تو ایمان بڑھتا ہے کہ ہمارے پیر نے دعا کی اور ٹھنڈی ہوا چل گئی۔ مگر مخالف اس
پر اعتراض کرتا ہے اور کہتا ہے کہ ہوا کا کام تو چلنا ہی ہے یہ کیا معجزہ ہے؟ معجزہ کی مثال ایسی ہی ہے۔‘‘
(الحکم قادیان ج۳۷ نمبر۴۴، مؤرخہ ۷؍دسمبر ۱۹۳۴ء)
(۲۸) کمزوری پر پردہ
’’یہ باتیں قطعی طور پر اسلام اور احمدیت کے خلاف ہیں اور احمدیت کی جڑ پر تبر کا حکم رکھتی ہیں
کیونکہ اس کے یہ معنی ہیں کہ معجزات تو ایسے ہی ہوتے ہیں۔ لیکن (غلام احمد قادیانی) صاحب نے اپنی کمزوری پر
پردہ ڈالنے کے لئے اس سے انکار کردیا اور اگر ہم قرآن سے ایسے معنی کریں گے تو دشمن کو یہ کہنے کا موقع ملے
گا کہ قرآن سے تو ایسے معجزات خود ان کے نزدیک بھی ثابت ہیں۔ مرزاقادیانی نے صرف اپنی کمزوری کو چھپانے کے
لئے ان سے انکار کیا۔ پھر جماعت کے بعض لوگ جن کا علم وسیع نہیں سمجھیں گے کہ یہ ٹھیک ہے جو پیغامی (لاہوری
فریق) کہتے ہیں۔ حضرت مسیح موعود (مرزاقادیانی) نبی نہ تھے۔ کیونکہ نبی تو ایسے معجزات دکھاتے ہیں اور وہ
حضرت مسیح موعود نے نہیں دکھائے۔ کچھ تو اس ابتلاء میں پڑ جائیں گے کہ حضرت مسیح موعود نبی نہ تھے اور جو
نبوت پر یقین رکھتے ہیں ان میں سے کئی آپ کے معجزات کو بیان کرنے میں مبالغہ آرائی شروع کردیں گے اور آہستہ
آہستہ وہ معجزات وہی رنگ اختیار کرلیں گے جو پہلے انبیاء کے معجزوں کو دے دیا گیا ہے اور بوجہ جھوٹ ہونے کے
خداتعالیٰ کے نزدیک لعنت کا باعث بن جائیں گے۔‘‘
(خطبہ جمعہ مرزامحمود خلیفہ قادیان، الفضل قادیان ج۱۸ نمبر۲ ص۶، کالم۲،۳، مؤرخہ ۳؍جولائی۱۹۳۰ء، خطبات
محمودج۱۲ص۴۵۰)
(۲۹) معجزہ شق القمر کی تاویل
’’ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:’’اقتربت الساعۃ وانشق القمر وان یروا ایۃ یعرضوا ویقولوا سحر
مستمر‘‘ یعنی قیامت نزدیک آئی اور چاند پھٹ گیا اور جب یہ لوگ خداکا کوئی نشان دیکھتے ہیں تو
کہتے ہیں کہ ایک پکا جادو ہے۔ اب ظاہر ہے کہ اگر شق القمر ظہور میں نہ آیا ہوتا تو ان کا حق تھا کہ وہ کہتے
کہ ہم نے توکوئی نشان نہیں دیکھا اور نہ اس کو جادو کہا۔ اس سے ظاہر ہے کہ کوئی امر ضرور ظہور میں آیا تھا۔
جس کا نام شق القمر رکھا گیا۔ بعض نے یہ بھی لکھا ہے کہ وہ ایک عجیب قسم کا خسوف تھا جس کی قرآن شریف نے
پہلے خبر دی تھی اور یہ آیتیں بطور پیش گوئیوں کے ہیں۔ اس صورت میں شق کا لفظ محض استعارہ کے رنگ میں ہوگا،
کیونکہ خسوف کسوف میں جو حصہ پوشیدہ ہوتا ہے گویا وہ پھٹ کر علیحدہ ہو جاتا ہے ایک استعارہ ہے۔‘‘
(چشمہ معرفت ص۲۲۳، خزائن ج۲۳ ص۲۳۲)
298
’’یہ آیت یعنی ’’وان یروا ایۃ یعرضوا ویقولوا سحر مستمر‘‘ یہ سورۃ قمر کی آیت ہے
شق القمر کے معجزہ کے بیان میں۔ اس وقت کافروں نے شق القمر کے نشان کو ملاحظہ کر کے جو ایک قسم کا خسوف تھا
یہی کہا تھا کہ اس میں کیا انوکھی بات ہے۔ قدیم سے ایسا ہی ہوتا آیا ہے۔ کوئی خارق عادت امر نہیں۔‘‘
(نزول المسیح ص۱۲۸،۱۲۹، خزائن ج۱۸ ص۵۰۶،۵۰۷)
’’ایک صاحب نے (مرزاغلام احمد قادیانی سے) پوچھا شق القمر کی نسبت حضور کیا فرماتے ہیں۔ فرمایا: ہماری
رائے میں یہی ہے کہ وہ ایک قسم کا خسوف تھا۔ ہم نے اس کے متعلق اپنی کتاب چشمہ معرفت میں لکھ دیا ہے۔‘‘
(اخبار بدر قادیان ج۷ نمبر۱۹،۲۰ ص۵ کالم۳، مؤرخہ ۲۴؍مئی ۱۹۰۸ء، ملفوظات ج۱۰ ص۳۷۵،جدید ملفوظات ج۵
ص۶۳۴)
(۳۰) قادیان کی مسجد
’’دوسرا کھلا نشان خانہ کعبہ کے متعلق یہ ہے کہ: ’’من دخلہ کان امنا (القرآن)‘‘
یعنی یہ ایک امن کا مقام ہے۔ یہ بھی خصوصیت ساری دنیا میں صرف خانہ کعبہ کو ہی حاصل ہے کہ وہ امن کا مقام
ہے۔‘‘
(نکات القرآن، مولوی محمد علی لاہوری قادیانی حصہ سوم ص۲۶۷)
مرزاقادیانی الہام کی بناء پر یہی صفت اپنی قادیانی مسجد کی قراردیتے ہیں۔ چنانچہ ملاحظہ ہو: ’’بیت
الفکر سے مراد اس جگہ وہ چوبارہ ہے جس میں یہ عاجز کتاب کی تالیف کے لئے مشغول رہا ہے اور رہتا ہے اور بیت
الذکر سے مراد وہ مسجد ہے جو اس چوبارہ کے پہلو میں بنائی گئی ہے اور آخری فقرہ کو مذکورہ بالا ’’ومن دخلہ کانا امنا‘‘ اسی مسجد کی صفت میں بیان فرمایا ہے۔‘‘
(براہین احمدیہ حصہ چہارم ص۵۵۸،۵۵۹، خزائن ج۱ ص۶۶۷، حاشیہ درحاشیہ)
(۳۱) ارض حرم
’’جواحباب واقعی مجبوریوں کے سبب اس موقعہ (جلسہ سالانہ) پر قادیان نہیں آسکے وہ تو خیرمعذور ہیں…
لیکن جنہوں نے دین کو دنیا پر مقدم رکھنے کے عہد واثق کا پاس کیا اور… ارض حرم (قادیان) کے انواروبرکات سے
بہرہ اندوز ہونے، امام محترم کی زیارت کرنے اور برادران دینی سے بعد مدت ملنے کے شوق میں ہرقسم کی تکالیف
وزیرباریاں گوارا کرکے بھی دارالامان مہدی میں ٹھیک وقت پر آن ہی پہنچے ان کی للہیت ان کا اخلاص فی الواقعہ
قابل تحسین ہے۔ اقامت نماز کے وقت جب ہجوم خلائق مسجد مبارک میں نہیں سما سکتا تو گلیوں، دکانوں اور راستوں
تک میں نمازی ہی نمازی نظر آتے ہیں اور ارض حرم کے چار مصلوں کی حقیقت ظاہر کرنے والا یہ نظارہ بھی ہرسال
دیکھنے میں آتا ہے۔‘‘
(الفضل قادیان ج۳ نمبر۷۴ ص۲ کالم۲، مؤرخہ ۲۶؍دسمبر۱۹۱۵ء)
-
زمین قادیان اب محترم ہے
ہجوم خلق سے ارض حرم ہے
(درثمین اردو ص۵۲، مجموعہ کلام مرزاغلام احمد قادیانی، مرتبہ شیخ محمد اسماعیل قادیانی)
(۳۲) قادیان کا ظلی حج
’’چونکہ حج پر وہی لوگ جاسکتے ہیں جو مقدرت رکھتے اور امیر ہوں۔ حالانکہ الٰہی تحریکات پہلے غرباء میں
ہی پھیلتی اور پنپتی ہیں اور غریب کو حج سے شریعت نے معذور رکھا ہے۔ اس لئے اللہ تعالیٰ نے ایک اور ظلی حج مقرر
کیا۔ وہ قوم جس سے وہ اسلام کی ترقی کا کام لینا
299
چاہتا ہے اور تاوہ غریب یعنی ہندوستان کے مسلمان اس میں شامل ہوسکیں۔‘‘
(خطبہ جمعہ خلیفہ قادیان مندرجہ الفضل قادیان ج۲۰ نمبر۶۶ ص۵ کالم۲،۳، مؤرخہ یکم؍دسمبر ۱۹۳۲ء، خطبات
محمود ج۱۳ ص۶۲۹)
’’حضرت مسیح موعود (مرزا قادیانی) کا جو یہ الہام ہے کہ ہم مکہ میں مریں گے یا مدینہ میں۔ اس کے متعلق
ہم تو یہ کہتے ہیں کہ یہ دونوں نام قادیان کے ہیں۔ مگر غیرمبالعین (لاہوری جماعت) مدینہ لاہور کو اور مکہ
قادیان کو قرار دیتے ہیں۔ اسی بات پر وہ قائم رہیں تو قادیان کے جلسہ سالانہ میں شمولیت کو ظلی حج کہنا کوئی
ناجائز نہیں ہے۔ اگر میں یہ کہتا کہ مکہ معظمہ کا حج موقوف ہوگیا اور اس کے بجائے قادیان آنا حج کا درجہ
رکھتا ہے تب وہ اعتراض کر سکتے تھے مگر مکہ معظمہ کا حج تو قائم ہے۔‘‘
(تقریر جلسہ سالانہ خلیفہ قادیان، مندرجہ اخبار الفضل قادیان ج۲۰ نمبر۸۰ ص۴ کالم۲، مؤرخہ ۵؍جنوری
۱۹۳۳ء، انوار العلوم ج۱۲ ص۵۷۵،۵۷۶)
’’آج جلسہ کا پہلا دن ہے اور ہمارا جلسہ بھی حج کی طرح ہے۔ حج خداتعالیٰ نے مومنوں کی ترقی کے لئے
مقرر کیا تھا۔ آج احمدیوں کے لئے دینی لحاظ سے حج تو مفید ہے۔ مگر اس سے جو اصل غرض یعنی قوم کی ترقی تھی وہ
انہیں حاصل نہیں ہوسکتی۔ کیونکہ حج کا مقام ایسے لوگوں کے قبضہ میں ہے جو احمدیوں کو قتل کردینا بھی جائز
سمجھتے ہیں۔ اس لئے خدائے تعالیٰ نے قادیان کو اس کام کے لئے مقرر کیا ہے۔ ہمارے آدمیوں میں سے جن کو
خداتعالیٰ توفیق دیتا ہے حج کرتے ہیں۔ مگر وہ فائدہ جو حج سے مقصود ہے وہ سالانہ جلسہ پر ہی آکر اٹھاتے ہیں۔
جیسا کہ حج میں رفث فسوق اور جدال منع ہیں۔ ایسا ہی اس جلسہ میں بھی منع ہیں۔‘‘
(خطبہ جمعہ خلیفہ قادیان مندرجہ رسالہ ’’برکات خلافت‘‘ ص ہ،ز، مجموعہ تقاریر جلسہ سالانہ ۱۹۱۴ء، خطبات
محمود ج۴ ص۲۵۴تا۲۵۶)
’’جیسے احمدیت کے بغیر پہلا یعنی مرزاقادیانی کو چھوڑ کر جو اسلام باقی رہ جاتا ہے وہ خشک اسلام ہے۔
اس طرح اس ظلی حج کو چھوڑ کر مکہ والا حج بھی خشک رہ جاتا ہے۔ کیونکہ وہاں پر آج کل حج کے مقاصد پورے نہیں
ہوتے۔‘‘
(قادیانی جماعت کے ایک بزرگ کا ارشاد، پیغام صلح ج۲۱ نمبر۲۲ ص۵ کالم۱، مؤرخہ ۱۹؍اپریل ۱۹۳۳ء)
’’جو قادیان نہیں آتا یا کم ازکم ہجرت کی خواہش نہیں رکھتا۔ اس کی نسبت شبہ ہے کہ اس کا ایمان درست
ہو۔ قادیان کی نسبت اللہ تعالیٰ نے ’’انہ اوی القریۃ‘‘ (تذکرہ ص۳۱۴، طبع چہارم) یہ
بالکل درست ہے کہ یہاں مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ والی برکات نازل ہوتی ہیں۔ حضرت مسیح موعود (مرزاقادیانی)
فرماتے تھے:
-
زمین قادیان اب محترم ہے
ہجوم خلق سے ارض حرم ہے
(منصب خلافت ص۳۴،۳۵، انوارالعلوم ج۲ ص۴۹)
’’اس زم انے میں خداتعالیٰ نے قادیان کو تمام بستیوں کی ام قرار دیا ہے… حضرت مسیح موعود نے اس کے
متعلق بڑا زوردیا ہے اور فرمایا ہے کہ جو باربار یہاں نہیں آتے مجھے ان کے ایمان کا خطرہ ہے۔ پس جو قادیان
سے تعلق نہیں رکھے گا وہ کاٹا جائے گا۔ تم ڈرو کہ تم میں سے نہ کوئی کاٹا جائے۔ پھر یہ تازہ دودھ کب تک رہے
گا۔ آخر ماؤں کا دودھ بھی سوکھ جایا کرتا ہے۔ کیا مکہ اور مدینہ کی چھاتیوں سے یہ دودھ سوکھ گیا کہ نہیں۔‘‘
(حقیقت الرؤیا ص۴۵،۴۶، انوارالعلوم ج۴ص۱۳۵،۱۳۶)
(۳۳) حج نفل سے بڑھ کر حج
اللہ تعالیٰ کے فضل سے ہمارا وہ جلسہ سالانہ شروع ہونے والا ہے۔ جس کی بنیاد حضرت مسیح موعود
(مرزاقادیانی) نے اللہ تعالیٰ
300
کے ارشاد کے ماتحت رکھی اور جس میں شامل ہونے کی یہاں تاکید کی کہ آپ نے فرمایا: ’’اس جگہ نفلی حج سے
ثواب زیادہ ہے اور غافل رہنے میں نقصان اور خطرہ۔ کیونکہ سلسلہ آسمانی ہے اور حکم ربانی۔‘‘
(آئینہ کمالات اسلام ص۵۳۲، خزائن ج۵ ص۳۵۲)
’’شیخ یعقوب علی صاحب بھی بیان کرتے ہیں کہ حضرت مسیح موعود (مرزا قادیانی) نے یہاں (قادیان) آنے کو
حج قرار دیا ہے۔ ایک واقعہ مجھے بھی یاد ہے۔ صاحبزادہ عبداللطیف مرحوم شہید حج کے ارادہ سے کابل سے روانہ
ہوئے تھے۔ وہ جب یہاں حضرت مسیح موعود (مرزا) کی خدمت میں حاضر ہوئے تو انہوں نے حج کرنے کے متعلق اپنے
ارادہ کا اظہار کیا۔ اس پر حضرت مسیح موعود (مرزا) نے فرمایا اس وقت اسلام کی خدمت کی بے حد ضرورت ہے اور
یہی حج ہے۔ چنانچہ پھر صاحبزادہ صاحب حج کے لئے نہ گئے اور یہیں رہے۔ کیونکہ اگر وہ حج کے لئے چلے جاتے تو
احمدیت نہ سیکھ سکتے۔‘‘
(تقریر جلسہ سالانہ خلیفہ قادیان اخبار الفضل قادیان ج۲۰ نمبر۸۰ ص۴ کالم۲،۳، مؤرخہ ۵؍جنوری ۱۹۳۳ء،
انوارالعلوم ج۱۲ ص۵۷۶)
(۳۴) حج کرنے میں کیا فائدہ
’’السلام علیکم! تمہارا خط ہم کو ملا، بڑا افسوس ہے کہ تم نہیں سمجھتے ہو اس ارادہ کو جو ہم نے تمہارے
لئے کیا تھا۔ تم اسلام کا چھلکا طلب کرتے ہو اور ہم نے ارادہ کیا تھا کہ تم کو اسلام کا مغز اور اس کا روح
دیا جائے۔ اگر تم خداتعالیٰ سے ڈرتے تو جس بارے میں خدا نے مجھے بھیجا ہے اس میں فکر کرتے۔ جان لو کہ کسی کو
کوئی عمل بغیر میری شناخت اور میرے دلائل کی واقفیت کے فائدہ نہیں دیتا۔ تمہارے لئے بہتر ہے کہ عید کے بعد
(قادیان سے) جانے کے خیال سے توبہ کرو اور کچھ مدت ہمارے پاس رہو اور وہ علم حاصل کرو جو خداتعالیٰ نے ہم کو
دیا ہے۔ میں نہیں جانتا کہ تم کو صحت ایمان کے بغیر حج کرنے میں کیا فائدہ ہوگا۔‘‘
(مرزاغلام احمد قادیانی کا مکتوب موسومہ محمد قدسی، نہج المصلّٰی، مجموعہ فتاویٰ احمدیہ جلد۱ ص۲۷۰،
مؤلفہ فضل محمد قادیانی)
(۳۵) عذر حج
’’شیخ ابوسعید محمد حسین بٹالوی کے خط کا جواب الحکم کی گزشتہ اشاعت میں کسی قدر بسط سے شائع ہوچکا
ہے۔ لیکن اتمام حجت اور ایک نکتہ معرفت کے لئے اتنا اور عرض کرنا ضروری سمجھا ہے کہ حضرت اقدس (مرزاقادیانی)
کے حضور جب وہ خط پڑھا گیا اور یہ اعتراض پیش کیاگیا کہ آپ کیوں حج نہیں کرتے؟ تو فرمایا کہ میرا پہلا کام
خنزیروں کا قتل اور صلیب کی شکست ہے۔ ابھی تو میں خنزیروں کو قتل کر رہا ہوں۔ بہت سے خنزیر مرچکے ہیں اور
بہت سے سخت جان ابھی باقی ہیں۔ ان سے فرصت اور فراغت تو ہولے۔‘‘
(ملفوظات ج۳ ص۳۷۲، جدید ملفوظات ج۲ ص۲۸۳، ملخص ملفوظات احمدیہ حصہ پنجم ص۲۶۳،۲۶۴، مرتبہ منظور الٰہی
قادیانی)
’’اس حدیث کے مطابق مرزاقادیانی پر حج فرض نہ تھا۔ کیونکہ آپ کی صحت درست نہ تھی (اور یہ قدرت کی جانب
سے مرزاقادیانی کو حج سے محروم رکھنے کی پہلی تدبیر تھی۔ ناقل) ہمیشہ بیمار رہتے تھے۔ حجاز کا حاکم آپ کا
مخالف تھا کیونکہ ہندوستان کے مولویوں نے مکہ معظمہ سے مرزاقادیانی کے واجب القتل ہونے کے فتاوے منگائے تھے۔
اس لئے حکومت حجاز آپ کی مخالف ہوچکی تھی۔ (اور قدرت کی جانب سے مرزاقادیانی کو حج سے روکنے کی دوسری تدبیر
تھی۔ ناقل) وہاں جانے پر آپ کو جان کا خطرہ تھا۔ لہٰذا آپ نے قرآن شریف کے اس حکم پر عمل کیا۔ ’’لاتلقوا بایدکم الی التہلکۃ… الخ‘‘ کہ اپنی جان کو جان بوجھ کر ہلاکت میں
301
مت پھنساؤ۔ مختصر یہ کہ حج کی مقررہ شرائط آپ میں نہیں پائی گئیں۔ اس لئے آپ پر حج فرض نہ ہوا۔
(خلاصہ یہ کہ اللہ تعالیٰ نے مرزاقادیانی کو توفیق نہیں دی تاکہ مسیح کی ایک علامت بھی مرزاقادیانی میں نہ پائی
جائے۔ ناقل)‘‘
(الفضل قادیان ج۱۷ نمبر۲۱ ص۷ کالم۳، مؤرخہ ۱۰؍ستمبر۱۹۲۹ء)
(۳۶) قادیان میں مسجد اقصیٰ
’’یہ پانچواں فائدہ ہے قادیان آنے کا… یہاں (قادیان) ہی وہ مسجد اقصیٰ ہے جس کی نسبت رسول کریم ﷺ نے
فرمایا ہے کہ اس میں نماز پڑھنے کی بہت بڑی فضیلت ہے۔ پھر یہاں (قادیان) ہی وہ مسجد ہے۔ جس میں خدا کا مسیح
اترا۔ پھر یہاں (قادیان) ہی وہ مسجد ہے، جہاں راتوں رات رسول کریم ﷺ تشریف لائے اور اس تاریکی کے زمانہ میں
آکر اترے۔ اس اندھیری رات میں رسول کریم ﷺ اپنے گھر سے نکلے اور اس جگہ (یعنی قادیان) آگئے۔‘‘
(اصلاح نفس، انوار العلوم ج۵ ص۴۵۰)
’’پس اس پہلو کے رو سے جو اسلام کے انتہاء زمانہ تک آنحضرت ﷺ کا سیرکشفی ہے۔ مسجد اقصیٰ سے مراد مسیح
موعود کی مسجد ہے۔ جو قادیان میں واقع ہے… پس کچھ شک نہیں جو قرآن شریف میں قادیان کا ذکر ہے۔ جیسا کہ
اللہتعالیٰ فرماتا ہے۔‘‘
(مندرجہ تبلیغ رسالت ج۹ ص۴۰، مجموعہ اشتہارات ج۳ ص۲۸۹، جدید ج۲ ص۴۰۴، خطبہ الہامیہ ص ج، خزائن ج۱۶ ص۲۱
حاشیہ)
’’اور اسی کی طرف اشارہ کیا ہے۔ اللہ عزاسمہ نے اپنے اس قول میں ’’سبحان الذی اسری بعبدہ
لیلاً من المسجد الحرام الیٰ المسجد الاقصٰی الذی بارکنا حولہ‘‘ اور مسجد اقصیٰ وہی ہے جس کو
بنایا مسیح موعود نے۔‘‘ (ترجمہ)
(مندرجہ تبلیغ رسالت ج۹ ص۴۵، مجموعہ اشتہارات ج۳ ص۲۹۳،جدید مجموعہ اشتہارات ج۲ ص۴۰۷ حاشیہ)
’’اب اس مسجد کی تکمیل کے لئے ایک اور تجویز قرار پائی ہے اور وہ یہ ہے کہ مسجد کی شرقی طرف جیسا کہ
احادیث رسول اللہ ﷺ کا منشاء ہے۔ ایک نہایت اونچا منارہ بنایا جائے۔‘‘
(مندرجہ تبلیغ رسالت ج۹ ص۳۴، مجموعہ اشتہارات ج۳ ص۲۸۳، جدیدمجموعہ اشتہارات ج۲ ص۴۰۰، ضمیمہ خطبہ
الہامیہ ص ب، خزائن ج۱۶ ص۱۶)
’’دوسرا مطلب اس منارہ سے یہ ہوگا کہ اس منارہ کی دیوار کے کسی بہت اونچے حصہ پر ایک بڑا لالٹین نصب
کر دیا جائے گا… یہ روشنی انسانوں کی آنکھیں روشن کرنے کے لئے دوردور جائے گی۔‘‘
(مندرجہ تبلیغ رسالت ج۹ ص۳۴، مجموعہ اشتہارات ج۳ ص۲۸۳، جدید ج۲ ص۴۰۰، ضمیمہ خطبہ الہامیہ ص ب، خزائن
ج۱۶ ص۱۶)
’’تیسرے وہ گھنٹہ جو اس منارہ کے کسی حصہ دیوار میں نصب کرایا جائے گا۔ اس کے نیچے یہ حقیقت مخفی ہے
کہ تالوگ اپنے وقت کو پہچان لیں۔ یعنی سمجھ لیں کہ آسمان کے دروازوں کے کھلنے کا وقت آگیا۔ اب سے زمینی جہاد
بند ہوگیا اورلڑائیوں کا خاتمہ ہوگیا… سو آج سے دین کے لئے لڑنا حرام کیاگیا۔‘‘
(مندرجہ تبلیغ رسالت ج۹ ص۳۵،۳۶، مجموعہ اشتہارات ج۳ ص۲۸۴، جدید مجموعہ اشتہارات ج۲ ص۴۰۱، ضمیمہ خطبہ
الہامیہ ص ب،ت، خزائن ج۱۶ ص۱۷)
(۳۷) بحث سے گریز
’’کیا میں نے اس کو (یعنی مہر علی شاہ کو) اس لئے بلایا تھا کہ میں اس سے ایک منقولی بحث کر کے بیعت
کر لوں۔ جس حالت میں،
302
میں باربار کہتا ہوں کہ خدا نے مجھے مسیح موعود مقرر کر کے بھیجا ہے اور مجھے بتلادیا ہے کہ فلاں
حدیث سچی ہے اور فلاں جھوٹی ہے اور قرآن کے صحیح معنوں سے مجھے اطلاع بخشی ہے تو پھر میں کس بات میں اور کس
غرض کے لئے ان لوگوں سے منقولی بحث کروں۔ جب کہ مجھے اپنی وحی پر ایسا ہی ایمان ہے جیسا کہ توریت اور انجیل
اور قرآن مجید پر، تو کیا انہیں مجھ سے یہ توقع ہوسکتی ہے کہ میں ان کے ظنیات بلکہ موضوعات کے ذخیرہ کو سن
کر اپنے یقین کو چھوڑدوں۔ جس کی حق الیقین پر بنا ہے اور وہ لوگ بھی اپنی ضد کو چھوڑ نہیں سکتے۔ کیونکہ میرے
مقابل پر جھوٹی کتابیں شائع کر چکے ہیں اور اب ان کو رجوع اشد من الموت ہے، تو پھر ایسی حالت میں بحث سے کون
سا فائدہ مترتب ہوسکتا تھا اور جس حالت میں، میں نے اشتہار دے دیا کہ آئندہ کسی مولوی وغیرہ سے منقولی بحث
نہیں کروں گا تو انصاف اور نیک نیتی کا تقاضا یہ تھا کہ ان منقولی بحثوں کا میرے سامنے نام بھی نہ لیتے۔ کیا
میں اپنے عہد کو توڑ سکتا تھا۔ اگر مہر علی شاہ کا دل فاسد نہیں تھا تو اس نے ایسی بحث کی مجھ سے کیوں
درخواست کی۔ جس کو میں عہد مستحکم کے ساتھ ترک کر بیٹھا تھا۔‘‘
(اربعین نمبر۴ ص۱۹،۲۰، خزائن ج۱۷ ص۴۵۴،۴۵۵)
’’اور اگرچہ میں کئی سال ہوگئے کہ اپنی کتاب انجام آتھم میں شائع کرچکا ہوں کہ میں اس گروہ مخالف سے
ہرگز مباحثات نہیں کروں گا۔ کیونکہ اس کا نتیجہ بجز گندی گالیوں اور اوباشانہ کلمات سننے کے اور کچھ ظاہر
نہیں ہوا۔ مگر میں ہمیشہ طالب حق کے شبہات دور کرنے کے لئے تیار ہوں۔ اگرچہ آپ نے اس رقعہ میں دعویٰ تو
کردیا ہے کہ میں طالب حق ہوں۔ مگر مجھے تامل ہے کہ اس دعویٰ پر آپ قائم رہ سکیں۔ کیونکہ آپ لوگوں کی عادت ہے
کہ ہرایک بات کو کشاں کشاں بیہودہ اور لغو مباحثات کی طرف لے آتے اور میں خداتعالیٰ کے سامنے وعدہ کرچکا ہوں
کہ ان لوگوں سے مباحثات ہرگز نہیں کروں گا۔‘‘
(مرزاقادیانی کا مکتوب بنام مولوی ثناء اللہ صاحب امرتسری، الفضل قادیان ج۳۴ نمبر۱۷۷ ص۳ کالم۱، مؤرخہ
۳۰؍جولائی۱۹۴۶ء)
’’لاہور میں جو تقریر آپ نے سب سے آخری اور جو ۲۵؍مئی ۱۹۰۸ء کو قبل عصر فرمائی اس کے بعد آپ کو تقریر
کا کوئی موقعہ نہیں ملا۔ ’’مولوی ابراہیم صاحب سیالکوٹی نے حضرت اقدس کی خدمت میں بذریعہ اپنے کسی خاص مقصد
کے ایک خط بھیجا۔ جس میں بعض مسائل مختلفہ پر زبانی گفتگو کرنے کی اجازت چاہی اور وعدہ کیا کہ میں بہت نرمی
اور پاس ادب سے گفتگو کروں گا۔ حضرت اقدس نے قبل عصر حضرت مولانا سید محمد احسن صاحب سے ان کے متعلق دریافت
کیا کہ وہ اخلاق کے کیسے ہیں۔ مغلوب الغضب اور فوراً جوش میں آجانے والے یا بھڑک اٹھنے والی طبیعت کے تو
نہیں ہیں؟ (دراصل دل پر رعب طاری معلوم ہوتا ہے اور غالباً نہ ملنے کے عذر کی تلاش ہے۔ مگر سوء اتفاق کہ
اشارہ پھر بھی ساتھیوں نے ساتھ نہ دیا اور مطلوبہ عذر ہاتھ نہ آسکا۔ نتیجہ یہ کہ گریز نمایاں ہوگیا۔
للمؤلف) اس کے جواب میں بعض اصحاب نے عرض کیا کہ حضور ایسے تو نہیں ان کی طبیعت میں نرمی پائی جاتی ہے۔
البتہ اگر بعض عوام کا ہجوم ان کے ہمراہ ہوگا تو اندیشہ ہے۔ حضرت اقدس خود چونکہ پیغام صلح کے لکھنے میں
مصروف تھے اور فرصت نہ تھی۔ (اس عذر کی بناوت صاف ظاہر ہے۔ للمؤلف) اس لئے حضرت اقدس نے مولانا مولوی سید
محمد احسن صاحب سے فرمایا کہ آپ ان کو خط کا جواب لکھ دیں۔ اصل خط ان کا ہم بھیج دیں گے اور بے شک نرمی سے
اور آہستگی سے ان سے ان مسائل میں گفتگو کریں۔ البتہ اس بات کا خیال رکھیں کہ ان کے ہمراہ سوائے دوچار معزز
اور شریف آدمیوں کے اور زیادہ ہجوم نہ ہو اور آپ بھی علیحدگی میں بیٹھ کر گفتگو کریں۔ اس میں کوئی حرج کی
بات نہیں۔ (پہلو کی کمزوری ظاہر ہے۔ للمؤلف)‘‘
(ملفوظات ج۱۰ ص۴۵۳،۴۵۴، جدید ملفوظات ج۵ ص۶۹۱)
303
(۳۸) حیران
’’مسیح موعود کی زندگی میں ایک دفعہ ایک انگریز اور ایک لیڈی امریکہ سے ملاقات کے لئے آئے۔ مولوی محمد
علی صاحب ایم۔اے اور میں نے ترجمانی کی۔ حضرت اقدس سے اس انگریز نے سلسلہ کلام کا آغاز کرتے ہوئے پوچھا۔ کیا
آپ نبی ہونے کا دعویٰ کرتے ہیں۔ آپ نے فرمایا: ہاں! اس نے کہا کوئی نشان دکھائیے۔ آپ نے فرمایا: آپ کا آنا
بھی میری صداقت کا نشان ہے۔ اس پر وہ حیران سا ہوگیا اور اسی حیرانی کے عالم میں اس نے مجھ سے پوچھا۔ میں یہ
بات سمجھا نہیں کہ ہمارا آنا کیوں کر آپ کی نبوت کا ثبوت ہوگیا۔ اس پر حضرت مسیح موعود نے فرمایا: نبی وہ
ہوتا ہے جو خدا سے خبر پاکر کوئی بات پہلے بتائے اور وہ پوری ہو جائے۔ میں نے آج سے ایک عرصہ پہلے خدا سے
خبر پاکر یہ بیان کیا تھا کہ دور دور سے چل کر لوگ میرے پاس آئیں گے اور آج آپ امریکہ سے چل کر مجھے دیکھنے
کے لئے آئے ہیں۔ پھر کیا میں خداکا نبی نہیں ہوں۔‘‘
(تقریر مفتی محمد صادق، الفضل قادیان ج۱۳ نمبر۷۶ مؤرخہ ۱۲؍جنوری ۱۹۲۶ء، ملخص از ملفوظات ج۱۰
ص۲۱۳،۲۱۴، جدید ملفوظات ج۵ ص۵۱۳،۵۱۴)
(۳۹) علی گڑھ میں سکوت
’’بیان کیا مجھ سے میاں عبد اللہ صاحب سنوری نے کہ لدھیانہ میں پہلی دفعہ بیعت لے کر یعنی ابتداء ۱۸۸۹ء
میں حضرت صاحب (مرزاقادیانی) علی گڑھ تشریف لے گئے تھے۔ میں اور میر عباس علی اور شیخ حامد علی ساتھ تھے۔
حضرت صاحب، سید تفضل حسین صاحب تحصیلدار کے مکان پر ٹھہرے۔ علی گڑھ میں لوگوں نے حضرت صاحب سے عرض کر کے
حضور کے ایک لیکچر کا انتظام کیا تھا اور حضور نے منظور کر لیا تھا۔ جب اشتہار ہوگیا اور سب تیاری ہوگئی اور
لیکچر کا وقت قریب آیا تو حضرت صاحب نے سید تفضل حسین صاحب سے فرمایا کہ مجھے خداتعالیٰ کی طرف سے الہام ہوا
ہے کہ میں لیکچر نہ دوں۔ اس لئے میں اب لیکچر نہیں دوں گا۔ انہوں نے کہا: حضور! اب تو سب کچھ ہوچکا ہے۔
لوگوں میں بڑی ہتک ہوگی۔ حضرت صاحب نے فرمایا: خواہ کچھ ہو ہم خدا کے حکم کے مطابق کریں گے۔ پھر اور لوگوں
نے حضرت صاحب سے بڑے اصرار سے عرض کیا۔ مگر حضرت صاحب نے نہ مانا اور فرمایا کہ یہ کس طرح ہوسکتا ہے کہ میں
خدا کے حکم کو چھوڑ دوں۔ اس کے حکم کے مقابل میں میں کسی ذلت کی پرواہ نہیں کرتا۔ غرض حضرت صاحب نے لیکچر
نہیں دیا۔ خاکسار عرض کرتا ہے کہ اسی سفر میں مولوی محمد اسماعیل علی گڑھی نے حضور کی مخالفت کی اور آخر آپ
کے خلاف ایک کتاب لکھی مگر جلد ہی اس جہاں سے گزر گیا۔‘‘
(سیرت المہدی حصہ اوّل ص۶۴،۶۵، روایت نمبر۹۷، جدید ج۱ حصہ اوّل ص۷۱،۷۲، روایت نمبر۹۹)
(۴۰) حافظہ نباشد
’’ان اختلافات کے طوفان کے وقت میں حضرت مسیح موعود ظاہر ہوئے اور آپ نے ان سب غلطیوں سے مذہب کو پاک
کر دیا ہے۔ سب سے پہلے میں شرک کو لیتا ہوں۔ آپ نے شرک کو پورے طور پر رد کیا اور توحید کو اپنے پورے جلال
کے ساتھ ظاہر کیا۔ آپ سے پہلے مسلمان علماء تین قسم کا شرک مانتے تھے…(۲)علماء تسلیم کرتے تھے کہ کسی میں
خدائی صفات تسلیم کرنا بھی شرک ہے۔ مگر یہ صرف منہ سے کہتے تھے۔ بڑے سے بڑے توحید پرست وہابی بھی حضرت مسیح
کو ایسی صفات دیتے تھے جو خدا سے ہی تعلق رکھتی ہیں۔ مثلاً یہ کہتے کہ وہ آسمان پر کئی سو سال سے بیٹھے ہیں
نہ کھاتے ہیں نہ پیتے ہیں نہ ان پر کوئی تغیر آتا ہے۔‘‘
(حضرت مسیح موعود کے کارنامے ص۲۹،۳۰، انوارالعلوم ج۱۰ ص۱۲۷)
304
’’وکلمہ ربہ علی طور سینین وجعلہ من المحبوبین ہذا ہو موسی فتی اللہ الذی اشار اللہ فی
کتابہ الٰی حیاتہ وفرض علینا ان نؤمن بانہ حی فی السماء ولم یمت ولیس من المیتین اور اس (حضرت
موسیٰ) کا خدا کوہ سینا میں اس سے ہم کلام ہوا اور اس کو پیارا بنایا۔ یہ وہی موسیٰ مرد خدا ہے جس کی نسبت
قرآن میں ارشاد ہے کہ وہ زندہ ہے اور ہم پر فرض ہوگیا کہ ہم اس بات پر ایمان لاویں کہ وہ زندہ آسمان میں
موجود ہے اور مردوں میں سے نہیں۔‘‘
(نورالحق حصہ اوّل ص۵۰، خزائن ج۸ ص۶۸،۶۹)
’’کیا یہ ہوسکتا ہے کہ ایک شخص موحد کہلائے خداتعالیٰ کو ایک سمجھے اور پھر یہ بھی عقیدہ رکھے کہ
سینکڑوں سالوں سے حضرت عیسیٰ زندہ آسمان پر بغیر کسی جسمانی تغیر کے جوںکے توں بیٹھے ہیں۔‘‘
(خطبہ جمعہ خلیفہ قادیان الفضل قادیان ج۱۳ نمبر۳۹ ص۵ کالم۳، مؤرخہ ۳؍اکتوبر ۱۹۲۵ء، خطبات محمود ج۹
ص۲۶۹)
(۴۱) چنیں چناں
’’جو شخص امتی کی حقیقت پر نظر غور ڈالے گا وہ ببداہت سمجھ لے گا کہ حضرت عیسیٰ کو امتی قرار دینا ایک
کفر ہے۔‘‘
(ضمیمہ براہین احمدیہ حصہ پنجم ص۱۹۲، خزائن ج۲۱ ص۳۶۴)
’’قرآن سے ثابت ہے کہ ہر ایک نبی آنحضرت ﷺ کی امت میں داخل ہے۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:’’لنومنن بہ ولتنصرنہ‘‘ پس اس طرح تمام انبیاء علیہم السلام آنحضرت ﷺ کی امت ہوئے۔‘‘
(تشحیذ الاذہان قادیان ج۱۲ نمبر۸ ص۲۸، بابت ماہ اگست ۱۹۱۷ء)
(۴۲) معلومات کی وسعت وصحت
’’امام الزمان کو مخالفوں اور عام سائلوں کے مقابل پر اس قدر الہام کی ضرورت نہیں جس قدر علمی قوت کی
ضرورت ہے۔ کیونکہ شریعت پر ہر ایک قسم کے اعتراض کرنے والے ہوتے ہیں۔ طبابت کی رو سے بھی ہیئت کی رو سے بھی،
طبعی کی رو سے بھی جغرفیہ کی رو سے بھی اور کتب مسلمہ اسلام کے رو سے بھی اور عقلی بناء پر بھی۔‘‘
(ضرورۃ الامام ص۱۰، خزائن ج۱۳ ص۴۸۰)
۱… ’’تاریخ کو دیکھوآنحضرت ﷺ وہی ایک یتیم لڑکا تھا جس کا باپ پیدائش سے چند دن بعد ہی فوت ہوگیا۔‘‘
(پیغام صلح ص۳۸، خزائن ج۲۳ ص۴۶۵)
(تاریخ اسلام سے اتنی ناواقفیت، عام طور پر سب کو معلوم ہے کہ احادیث میں مذکورہ ہے کہ آنحضرت ﷺ کی
ولادت مبارک سے قبل ہی حضرت کے والد رحلت فرماچکے تھے۔ للمؤلف)
۲… ’’تاریخ دان لوگ جانتے ہیں کہ آپ کے (یعنی آنحضرت ﷺ کے) گھر میں گیارہ لڑکے پیدا ہوئے تھے اور سب
کے سب فوت ہوگئے تھے۔‘‘
(چشمہ معرفت ص۲۸۶، خزائن ج۲۳ ص۲۹۹)
(حالانکہ آنحضرت ﷺ کی کل اولاد بھی گیارہ نہ تھی۔ مرزاقادیانی کی تاریخ سب سے جدا معلوم ہوتی ہے۔
للمؤلف)
۳… ’’کہتے ہیں کہ امام حسین رضی اللہ عنہ کے پاس ایک نوکر چائے کی پیالی لایا۔ جب قریب آیا تو غفلت سے
وہ پیالی آپ کے سر پر گر
305
پڑی۔ آپ نے تکلیف محسوس کر کے ذرا تیز نظر سے غلام کی طرف دیکھا۔‘‘
(ملفوظات احمدیہ حصہ اول ص۳۴۶،۳۴۷ مرتبہ منظورالٰہی لاہوری قادیانی، ملفوظات ج۱ ص۱۷۹،۱۸۰، جدید
ملفوظات ج۱ ص۱۱۵)
(حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ کے زمانہ میں عرب میں ضرور چائے کا رواج ہوگا اور حضرت امام حسین رضی
اللہ عنہ بھی ضرور اس کے عادی ہوں گے؟ للمؤلف)
’’یہ عجیب بات ہے کہ حضرت مسیح نے تو صرف مہد میں ہی باتیں کیں۔ مگر اس لڑکے نے پیٹ میں ہی دو مرتبہ
باتیں کیں اور پھر بعد اس کے ۱۴؍جون ۱۸۹۹ء کو وہ پیدا ہوا اور جیسا کہ وہ چوتھا لڑکا تھا۔ اسی مناسبت کے
لحاظ سے اس نے اسلامی مہینوں میں سے چوتھا مہینہ لیا۔ یعنی ماہ صفر اور ہفتہ کے دنوں میں سے چوتھا دن لیا۔
یعنی چہار شنبہ اور دن کے گھنٹوں میں سے دوپہر کے بعد چوتھا گھنٹہ لیا۔‘‘
(تریاق القلوب ص۴۱، خزائن ج۱۵ ص۲۱۷،۲۱۸)
’’وہ چوتھا لڑکا جس کا ان کتابوں میں چار مرتبہ وعدہ دیاگیا تھا۔ صفر۱۳۱۷ھ کی چوتھی تاریخ میں بروز
چہار شنبہ پیدا ہوگیا۔ عجیب بات ہے کہ اس لڑکے کے ساتھ چار کے عدد کو ہر ایک پہلو سے تعلق ہے۔‘‘
(تریاق القلوب ص۴۳، خزائن ج۱۵ ص۲۲۳)
(سخن سازی کا جذبہ دیکھئے کہ ماہ صفر جو اسلامی مہینوں میں سے دوسرا مہینہ ہے اور چہار شنبہ جو ہفتہ
میں پانچواں دن ہے، چوتھے لڑکے سے ملانے کے لئے چوتھا مہینہ اور چوتھا دن بن گیا۔ اس کی وجہ شاید یہ بھی ہو
کہ مرزاقادیانی کے نزدیک ایسے فرق کچھ قابل شمار نہیں ہوتے ورنہ بات نہیں بنتی۔ للمؤلف)
(۴۳) سچا جھوٹ
’’مولوی محمد علی مونگیری اور ان کے اعوان وانصار جن کی غرض اس صوبہ بہار میں بالخصوص یہ ہے کہ جس طرح
ہو احمدیوں کے خلاف عوام کو بہکایا جائے۔ اپنی صحیفوں ٹریکٹوں اور نیز اپنے بیانات میں ہمیشہ عوام کو یہ
دکھلاتے ہیں کہ حضرت مسیح موعود نے اخبار بدر میں معاذ اللہ یہ جھوٹ لکھا ہے کہ جناب رسول مقبول ﷺ کے گیارہ
بیٹے فوت ہوئے۔ ہر چند ان کو اچھی طرح سمجھایا گیا کہ یہ جھوٹ نہیں ہوسکتا اور کسی طرح اس پر جھوٹ کی تعریف
صادق نہیں آتی اور نیز کہنے والے کی غرض ہرگز جھوٹ بیان کرنے کی نہیں ہے مگر عناد وتعصب نے انہیں سمجھنے کا
کبھی موقعہ نہیں دیا۔‘‘
(الفضل قادیان ج۹ نمبر۹۳،۹۴، مؤرخہ ۲۹؍مئی ۱۹۲۲ء)
(۴۴) جھوٹا سچ
’’میرا کام جس کے لئے میں اس میدان میں کھڑا ہوں یہی ہے کہ میں عیسیٰ پرستی کے ستون کو توڑدوں اور
بجائے تثلیث کے توحید کو پھیلاؤں اورآنحضرت ﷺ کی جلالت اور عظمت اور شان دنیا پر ظاہر کر دوں۔ پس اگر مجھ
سے کروڑ نشان بھی ظاہر ہوں اور یہ علت غائی ظہور میں نہ آوے تو میں جھوٹا ہوں۔ پس دنیا مجھ سے کیوں دشمنی
کرتی ہے۔ وہ میرے انجام کو کیوں نہیں دیکھتی۔ اگر میں نے اسلام کی حمایت میں وہ کام کر دکھایا، جو مسیح
موعود اور مہدی معہود کو کرنا چاہئے تھا تو پھر میں سچا ہوں اور اگر کچھ نہ ہوا اور میں مرگیا تو پھر سب لوگ
گواہ رہیں کہ میں چھوٹا ہوں۔ والسلام بقلم خود مرزاغلام احمد قادیانی۔‘‘
(اخبار البدر قادیان ج۲ نمبر۲۹ ص۴ کالم۲ مؤرخہ۱۹؍جولائی۱۹۰۶ء، مکتوبات احمد ج اوّل ص۴۹۸، مکتوب
نمبر۲۹)
306
فصل آٹھویں
تعلقات
(۱) اراکین خاندان
۱… مرزاغلام احمد قادیانی، محمدی بیگم کی خواست گار۔
۲… محمدی بیگم، ایک نو عمر لڑکی۔
۳… مرزااحمد بیگ، محمدی بیگم کے والد اور مرزاقادیانی کے ماموں زاد بھائی۔
۴… عمر النساء والدہ محمدی بیگم، مرزاقادیانی کی چچازاد ہمشیرہ اور مرزامام الدین کی حقیقی ہمشیرہ۔
۵… مرزامام الدین، مرزاقادیانی کے چچازادبھائی اور محمدی بیگم کے حقیقی ماموں۔
۶… فضل احمد اور سلطان احمد، مرزاغلام احمد قادیانی کے لڑکے۔
۷… عزت بی بی، فضل احمد کی اہلیہ (مرزااحمد بیگ کی بھانجی)
۹… والدہ عزت بی بی، مرزااحمد بیگ کی ہمشیرہ، مرزاقادیانی کی سمدھن۔
۱۰… مرزاسلطان محمد، محمدی بیگم کا شوہر، مرزاقادیانی کا کامیاب رقیب۔
۱۱… پھجے دی ماں، مرزاقادیانی کی پہلی بیوی۔
۱۲… نصرت جہاں بیگم، مرزاقادیانی کی دوسری بیوی۔
(۲) بڑی بشارت
’’خدائے تعالیٰ نے پیش گوئی کے طور پر اس عاجز (مرزاغلام احمد قادیانی) پر ظاہر فرمایا کہ مرزااحمد
بیگ ولد مرزاگاماں بیگ ہوشیارپوری کی دختر کلاں (محمدی بیگم) انجام کار تمہارے نکاح میں آئے گی اور وہ لوگ
بہت عداوت کریں گے اور بہت مانع آئیں گے اور کوشش کریں گے کہ ایسا نہ ہو۔ لیکن آخر کار ایسا ہی ہوگا اور
فرمایا کہ خداتعالیٰ ہر طرح سے اس کو تمہاری (یعنی مرزاقادیانی) کی طرف لائے گا۔ باکرہ ہونے کی حالت میں یا
بیوہ کر کے (اس کا تصفیہ بعد کو ہو جائے گا۔ للمؤلف) اور ہر ایک روک کو درمیان سے اٹھاوے گا اور اس کام کو
ضرور پورا کرے گا۔ کوئی نہیں جو اس کو روک سکے۔‘‘
(ازالہ اوہام ص۳۹۶، خزائن ج۳ ص۳۰۵)
(۳) بشارت پر بشارت
’’اس پیش گوئی کی تصدیق کے لئے جناب رسول اللہ ﷺ نے پہلے سے ایک پیش گوئی فرمائی ہے کہ ’’یتزوج ویولد
لہ‘‘ یعنی وہ مسیح موعود بیوی کرے گا اور نیز وہ صاحب اولاد ہوگا۔ اب ظاہر ہے کہ تزوج اور اولاد کا ذکر کرنا
عام طور پر مقصود نہیں۔ کیونکہ عام طور پر ہر ایک شادی کرتا ہے اور اولاد بھی ہوتی ہے۔ اس میں کچھ خوبی
نہیں، بلکہ تزوج سے مراد وہ خاص تزوج ہے جو بطور نشان ہوگا اور اولاد سے مراد وہ خاص اولاد ہے۔ جس کی نسبت
اس عاجز (مرزاقادیانی) کی پیش گوئی موجود ہے۔ (خاص اولاد کی مشہور پیش گوئی یوں ہے۔
307
فرزند دلبند گرامی ارجمند مظہر الاول والآخر مظہر الحق والعلاء کان اللہ نزل من
السماء (مندرجہ اشتہار ۲۰ فروری ۱۸۸۶ء، مجموعہ اشتہارات ج۱ ص۱۰۱) غالباً یہی خاص اولاد پیش نظر
ہے۔ للمؤلف)‘‘
’’گویا اس جگہ رسول اللہ ﷺ ان سیاہ دل منکروں کو ان کے شبہات کا جواب دے رہے ہیں اور فرمارہے ہیں کہ یہ
باتیں ضرور پوری ہوں گی۔ (گویا حدیث شریف کی رو سے مرزاغلام احمد قادیانی کا محمدی بیگم سے نکاح ہونا لازم
ہے اور یہ مسیح موعود ہونے کا خاص ثبوت ہوگا۔ للمؤلف)‘‘
(ضمیمہ انجام آتھم ص۵۳، خزائن ج۱۱ ص۳۳۷ حاشیہ)
(۴) خداداد موقع
’’(محمدی بیگم کے اعزاء) مجھ سے کوئی نشان آسمانی مانگتے تھے تو اس وجہ سے کئی دفعہ ان کے لئے دعا کی
گئی تھی۔ سو وہ دعا قبول ہوکر خداتعالیٰ نے یہ تقریب قائم کی کہ والد اس دختر کا ایک اپنے ضروری کام کے لئے
ہماری طرف ملتجی ہوا۔ تفصیل اس کی یہ ہے کہ نامبردہ (مرزااحمد بیگ) کی ایک ہمشیرہ ہماری ایک چچازاد بھائی
غلام حسین نام کو بیاہی گئی تھی۔ غلام حسین عرصہ پچیس سال سے کہیں چلاگیا اور مفقود الخبر ہے۔ اس کی زمین
ملکیت جس کا حق ہمیں پہنچتا ہے۔ نامبردہ (مرزااحمد بیگ) کی ہمشیرہ کے نام کاغذات سرکاری میں درج کرادی گئی
تھی۔ اب حال کے بندوبست میں جو ضلع گورداسپور میں جاری ہے نامبردہ یعنی ہمارے خط کے مکتوب الیہ
(مرزااحمدبیگ) نے اپنی ہمشیرہ کی اجازت سے یہ چاہا کہ وہ زمین جو چار ہزار یا پانچ ہزار روپے قیمت کی ہے،
اپنے بیٹے محمد بیگ کے نام بطور ہبہ منتقل کرادیں۔ چنانچہ ان کی ہمشیرہ کی طرف سے یہ ہبہ نامہ لکھا گیا۔
چونکہ وہ ہبہ نامہ بجز ہماری رضامندی کے بیکار تھا۔ اس لئے مکتوب الیہ (مرزااحمد بیگ) نے بہ تمام تر
عجزوانکساری ہماری طرف رجوع کیا۔ تاہم اس ہبہ پر راضی ہوکر اس ہبہ نامہ پر دستخط کر دیں اور قریب تھا کہ
دستخط کر دیتے لیکن یہ خیال آیا کہ جیسا کہ ایک مدت سے بڑے بڑے کاموں میں ہماری عادت ہے جناب الٰہی میں
استخارہ کر لینا چاہئے۔ سو یہی جواب مکتوب الیہ کو دیا گیا۔ (مرزااحمد بیگ) پھر مکتوب الیہ کے متواتر اصرار
سے استخارہ کیاگیا۔ وہ استخارہ کیا تھا گویا آسمانی نشان کی درخواست کا وقت آپہنچا تھا۔ جس کو خدائے تعالیٰ
نے اس پیرایہ میں ظاہر کر دیا۔ اس خدائے قادر وحکیم مطلق نے مجھے فرمایا کہ اس شخص (مرزااحمد بیگ) کی دختر
کلاں (محمدی بیگم) کے نکاح کے لئے سلسلہ جنبانی کر اور ان کو کہہ دے کہ تمام سلوک اور مروت تم سے اسی شرط سے
کیا جائے گا اور یہ نکاح تمہارے لئے موجب برکت اور ایک رحمت کا نشان ہوگا اور ان تمام برکتوں سے حصہ پاؤ
گے۔ جو اشتہار ۲۰؍فروری ۱۸۸۸ء میں درج ہے۔ لیکن اگر نکاح سے انحراف کیا تو اس لڑکی کا انجام نہایت ہی برا
ہوگا اور جس کسی دوسرے شخص سے بیاہی جائے گی وہ روز نکاح سے اڑھائی سال تک اور ایسا ہی والد اس دختر کا تین
سال تک فوت ہو جائے گا اور ان کے گھر پر تفرقہ اور تنگی اور مصیبت پڑے گی اور درمیانی زمانہ میں بھی اس دختر
کے لئے کئی کراہت اور غم کے امر پیش آئیں گے۔ (۱۰؍جولائی ۱۸۸۸ء)‘‘
(مندرجہ تبلیغ رسالت ج۱ ص۱۱۵،۱۱۶، مجموعہ اشتہارات ج۱ ص۱۵۷،۱۵۸، جدیدمجموعہ اشتہارات ج۱ ص۱۳۶)
(۵) لالچ اور دھمکی
’’ اللہ تعالیٰ نے مجھ پر وحی نازل کی کہ اس شخص (احمد بیگ) کی بڑی لڑکی کے نکاح کے لئے درخواست کر اور اس
سے کہہ دے کہ پہلے وہ تمہیں دامادی میں قبول کرے اور پھر تمہارے نور سے روشنی حاصل کرے اور کہہ دے کہ مجھے
اس زمین کے ہبہ کرنے کا حکم مل گیا ہے۔ جس کے تم خواہش مند ہو۔ بلکہ اس کے ساتھ اور زمین بھی دی جائے گی اور
دیگر مزید احسانات تم پر کئے جائیں گے۔ بشرطیکہ تم اپنی بڑی
308
لڑکی کا مجھ سے نکاح کردو۔ میرے اور تمہارے درمیان یہی عہد ہے۔ تم مان لو گے تو میں بھی تسلیم کر لوں
گا۔ اگر تم قبول نہ کرو گے تو خبردار رہو۔ مجھے خدا نے یہ بتلایا ہے کہ اگر کسی اور شخص سے اس لڑکی کا نکاح
ہوگا تو نہ اس لڑکی کے لئے یہ نکاح مبارک ہوگا اور نہ تمہارے لئے۔ ایسی صورت میں تم پر مصائب نازل ہوں گے،
جن کا نتیجہ موت ہوگا۔ پس تم نکاح کے بعد تین سال کے اندر مرجاؤ گے۔ بلکہ تمہاری موت قریب ہے اور ایسا اس
لڑکی کا شوہر بھی اڑھائی سال کے اندر مرجائے گا۔ یہ حکم اللہ ہے۔ پس جو کرنا ہے کر لو۔ میں نے تم کو نصیحت کر
دی ہے۔ پس وہ (مرزا احمد بیگ) تیوری چڑھا کر چلاگیا۔‘‘
(آئینہ کمالات اسلام ص۵۷۲،۵۷۳، خزائن ج۵ ص۵۷۲،۵۷۳)
’’خداتعالیٰ نے اس عاجز کے مخالف اور منکر رشتہ داروں کے حق میں نشان کے طور پر یہ پیش گوئی ظاہر کی
ہے کہ ان میں سے جو ایک شخص احمد بیگ نام ہے۔ اگر وہ اپنی بڑی لڑکی اس عاجز کو نہیں دے گا تو تین برس کے
عرصہ تک بلکہ اس سے قریب فوت ہو جائے گا اور وہ جو نکاح کرے گا، وہ روز نکاح سے اڑھائی برس کے عرصہ میں فوت
ہو گا اور آخر وہ عورت اس عاجز کی بیویوں میں داخل ہوگی۔ (۲۰؍فروری۱۸۸۶ء)‘‘
(مندرجہ تبلیغ رسالت ج۱ ص۶، مجموعہ اشتہارات ج۱ ص۱۰۲، جدیدمجموعہ اشتہارات ج۱ ص۹۶ حاشیہ)
(۶) خدا کی طرف سے حکم
’’مکرمی مخدومی اخویم مرزااحمد بیگ سلمہ اللہ تعالیٰ، السلام علیکم ورحمۃ اللہ ! ابھی ابھی مراقبہ سے فارغ
ہی ہوا تھا تو کچھ غنودگی سی ہوئی اور خدا کی طرف سے یہ حکم ہوا کہ احمد بیگ کو مطلع کردے کہ وہ بڑی لڑکی کا
رشتہ منظور کرے۔ یہ اس کے حق میں ہماری جانب سے خیروبرکت ہوگا اور ہمارے انعام واکرام بارش کی طرح اس پر
نازل ہوںگے اور تنگی اور سختی اس سے دور کردی جائے گی اور اگر انحراف کیا تو مورد عتاب ہوگا اور ہمارے قہر
سے نہ بچ سکے گا اور میں نے اس کا حکم پہنچا دیا تاکہ اس کے رحم وکرم سے حصہ پاؤ اور اس کی بے بہا نعمتوں
کے خزانے تم پر کھولے جائیں اور میں اپنی طرف سے تو صرف یہی عرض کرتا ہوں کہ میں آپ کا ہمیشہ ادب ولحاظ ہی
ملحوظ رکھتا ہوں اور آپ کو ایک دیندار اور ایماندار بزرگ تصور کرتا ہوں اور آپ کے حکم کو اپنے لئے فخر
سمجھتا ہوں اور ہبہ نامہ پر جب لکھو حاضر ہوکر دستخط کر جاؤں اور اس کے علاوہ میری املاک خدا کی اور آپ کی
ہے اور میں نے عزیز محمد بیگ کے لئے پولیس میں بھرتی کرانے کی اور عہدہ دلانے کی خاص کوشش وسفارش کر لی ہے
تاکہ وہ کام میں لگ جاوے اور اس کا رشتہ میں نے ایک بہت امیر آدمی جو میرے عقیدتمندوں میں ہے تقریباً کردیا
ہے اور اللہ کا فضل آپ کے شامل حال ہو۔ فقط
خاکسار: غلام احمد عفی عنہ لدھیانہ اقبال گنج
مؤرخہ ۲۰؍فروری۱۸۸۸ء‘‘
(نوشتہ غیب ص۱۰۰،۱۰۱، مؤلفہ ایم۔ایس خالد وزیرآبادی)
’’تب میں نے اللہ تعالیٰ کے ایما اور اشارہ سے اس کو (یعنی مرزااحمدبیگ کو) خط لکھا اور اس میں لکھا۔
بسم اللہ الرحمٰن الرحیم اے عزیز سنئے! آپ کو کیا ہوگیا ہے کہ آپ میری سنجیدہ
بات کو لغو سمجھتے ہیں اور میرے کھرے کو کھوٹا خیال کرتے ہیں۔ بخدا میرا یہ ارادہ نہیں کہ میں آپ کو تکلیف
دوں۔ ان شاء اللہ ! آپ مجھے احسان کرنے والوں میں سے پائیں گے اور میں یہ عہد استوار کے ساتھ لکھ رہا ہوں کہ
اگر آپ نے میرے خاندان کے خلاف مرضی میری بات کو مان لیا تو میں اپنی زمین اور باغ میں میں آپ کو حصہ دوں گا
اور اس رشتہ کی وجہ سے آپس کی نزاع اور اختلاف رفع ہو جائے گا اور خدا میرے کنبہ اور خاندان کے قلوب کی
اصلاح کر دے گا۔ اگر آپ نے میرا قول اور بیان مان لیا تو مجھ پر مہربانی اور احسان اور میرے ساتھ نیکی ہوگی۔
میں آپ کا شکر گزار ہوں اور آپ کی درازی عمر کے لئے ارحم الراحمین کے جناب میں دعا کروں گا اور آپ سے وعدہ
کرتا ہوں کہ آپ کی لڑکی کو اپنی زمین اور مملوکات کا
309
ایک تہائی حصہ دوں گا اور میں سچ کہتا ہوں کہ اس میں سے جو کچھ مانگیں گے میں آپ کو دوں گا۔ صلہ رحم
عزیزوں سے محبت اور رشتہ کے حقوق کے بارے میں آپ کو مجھ جیسا کوئی شخص نہیں ملے گا۔ آپ مجھے مصیبتوں میں
اپنا دستگیر اور باراٹھانے والا پائیں گے۔ اس لئے انکار میں اپنا وقت ضائع نہ کیجئے اور شک وشبہ میں نہ پڑے۔
میں اپنا یہ خط اپنے پروردگار کے حکم سے لکھ رہا ہوں، اپنی رائے سے نہیں۔ آپ میرے اس خط کو اپنے صندوق میں
محفوظ رکھئے۔ یہ خط بڑے سچے اور امین کی جانب سے ہے۔ اللہ تعالیٰ جانتا ہے کہ میں اس میں سچا ہوں اور جو کچھ
میں نے وعدہ کیا ہے، وہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہے اور میں نے جو کہا ہے وہ میں نے نہیں کہا بلکہ اللہ تعالیٰ نے
مجھ سے اپنے الہام سے کہلوایا ہے اور یہ مجھے میرے پروردگار کی وصیت تھی۔ اس لئے میں نے اسے پورا کیا۔ ورنہ
مجھے آپ کی یا آپ کی لڑکی کی کچھ حاجت نہیں تھی… اگر میعاد گزر جائے اور سچائی ظاہر نہ ہو تو میرے گلے میں
رسّی اور پاؤں میں زنجیر ڈالنا اور مجھے ایسی سزا دینا کہ تمام دنیا میں کسی کو نہ دی گئی ہو۔ یہ خط میں نے
احمد بیگ کو ۱۳۰۴ھ میں لکھا تھا۔‘‘ (ترجمہ)
(آئینہ کمالات اسلام ص۵۷۳،۵۷۴، خزائن ج۵ ص۵۷۳،۵۷۴)
(۷) اس راقم کا ایک خط
’’اخبار ’’نورافشاں‘‘ ۱۰؍مئی۱۸۸۸ء میں جو اس راقم (غلام احمد قادیانی) کا ایک خط متضمن درخواست نکاح
چھاپا گیا ہے۔ اس خط کو صاحب اخبار نے اپنے پرچہ میں درج کر کے عجیب طرح کی زبان درازی کی ہے اور ایک صفحہ
اخبار کا سخت گوئی اور دشنام دہی میں ہی سیاہ کیا ہے۔ اب یہ جاننا چاہئے کہ جس خط کو ۱۰؍مئی ۱۸۸۸ء کے
’’نورافشاں‘‘ میں فریق مخالف نے چھپوایا ہے۔ وہ خط محض ربانی اشارہ سے لکھاگیا تھا۔ پھر ان دنوں میں جو
زیادہ تصریح اور تفصیل کے لئے باربار توجہ کی گئی تو معلوم ہوا کہ خداتعالیٰ نے یہ مقرر کر رکھا ہے کہ وہ
مکتوب الیہ (مرزااحمد بیگ) کی دختر کلاں (محمدی بیگم) کو جس کی نسبت درخواست کی گئی تھی ہرا یک روک دور کرنے
کے بعد انجام کار اسی عاجز (مرزاقادیانی) کے نکاح میں لاوے گا اور بے دینوں کو مسلمان بناوے گا اور گمراہوں
میں ہدایت پھیلاوے گا۔ (گویا مرزاقادیانی کی پیش گوئی ضرور پوری ہوگی۔ حالانکہ پوری نہ ہوئی۔ للمؤلف)‘‘
(مرزاقادیانی کا اشتہار مؤرخہ ۱۰؍جولائی ۱۸۸۸ء،مندرجہ تبلیغ رسالت ج۱ ص۱۱۱تا۱۱۶، مجموعہ اشتہارات ج۱
ص۱۵۳تا۱۵۸، جدید مجموعہ اشتہارات ج۱ ص۱۳۳تا۱۳۷)
(۸) خاندانی سردمہری … پہلا خط
’’مشفقی مکرمی اخویم مرزااحمد بیگ صاحب سلمہ اللہ تعالیٰ
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ، قادیان میں جب واقعہ ہائلہ محمود فرزندآں
مکرم کی خبر سنی تھی تو بہت درد اور رنج اور غم ہوا۔ لیکن بوجہ اس کے یہ عاجز بیمار تھا اور خط نہیں لکھ
سکتا تھا، اس لئے عزا پرسی سے مجبور رہا۔ صدمہ وفات فرزندان حقیقت میں ایک ایسا صدمہ ہے کہ شاید اس کے برابر
دنیا میں اور کوئی صدمہ نہ ہوگا۔ خصوصاً بچوں کی ماؤں کے لئے تو سخت مصیبت ہوتی ہے۔ خداوند تعالیٰ آپ کو
صبر بخشے اور اس کا بدل صاحب عمر عطاء فرماوے اور عزیزی مرزامحمد بیگ کو عمردراز بخشے کہ وہ ہر چیز پر قادر
ہے۔ جو چاہتا ہے کرتا ہے۔ کوئی بات اس کے آگے انہونی نہیں۔ آپ کے دل میں گو اس عاجز کی نسبت کچھ غبار ہو،
لیکن خداوند علیم جانتا ہے اس عاجز کا دل بکلی صاف ہے اور خدائے قادر مطلق سے آپ کے لئے خیروبرکت چاہتا ہوں۔
میں نہیں جانتا کہ میں کس طریق اور کن لفظوں میں بیان کروں تامیرے دل کی محبت اور خلوص اور ہمدردی، جو آپ کی
نسبت مجھ کو ہے، آپ پر ظاہر ہوجائے۔ مسلمانوں کے ہر ایک نزاع کا آخری فیصلہ قسم پر ہوتا ہے۔ جب ایک مسلمان
خداتعالیٰ کی قسم کھا جاتا ہے تو دوسرا مسلمان اس کی نسبت فی الفور دل صاف کر لیتا ہے۔ سو مجھے خدائے
310
تعالیٰ قادر مطلق کی قسم ہے، میں اس بات میں بالکل سچا ہوں کہ مجھے خداتعالیٰ کی طرف سے الہام ہوا
تھا کہ آپ کی دختر کلاں کا رشتہ اس عاجز سے ہوگا۔ اگر دوسری جگہ ہوگا تو خداتعالیٰ کی تنبیہیں وارد ہوں گی
اور آخر اسی جگہ ہوگا کیونکہ آپ میرے عزیز اور پیارے تھے۔ اس لئے میں نے عین خیرخواہی سے آپ کو جتلایا کہ
دوسری جگہ اس رشتے کا کرنا ہرگز مبارک نہ ہوگا۔ میں نہایت ظالم طبع ہوتا جو آپ پر ظاہر نہ کرتا اور میں اب
بھی عاجزی اور ادب سے آپ کی خدمت میں ملتمس ہوں کہ اس رشتہ سے آپ انحراف نہ فرماویں کہ یہ آپ کی لڑکی کے لئے
نہایت درجہ موجب برکت ہوگا اور خداتعالیٰ ان برکتوں کا دروازہ کھولے گا جو آپ کے خیال میں نہیں۔ کوئی غم اور
فکر کی بات نہیں ہوگی۔ جیسا کہ یہ اس کا حکم ہے۔ جس کے ہاتھ میں زمین وآسمان کی کنجی ہے تو پھر کیوں اس میں
خرابی ہوگی اور آپ کو شاید معلوم ہوگا یا نہیں کہ یہ پیش گوئی اس عاجز کی ہزارہا لوگوں میں مشہور ہو چکی ہے
اور میرے خیال میں شاید دس لاکھ سے زیادہ آدمی ہوگا کہ جو اس پیش گوئی پر اطلاع رکھتا ہے اور ایک جہان کی اس
طرف نظر لگی ہوئی ہے اور ہزاروں پادری شرارت سے نہیں بلکہ حماقت سے منتظر ہیں کہ یہ پیش گوئی جھوٹی نکلے تو
ہمارا پلہ بھاری ہو۔ لیکن یقینا خداتعالیٰ ان کو رسوا کرے گا اور اپنے دین کی مدد کرے گا۔ میں نے لاہور میں
جاکر معلوم کیا کہ ہزاروں مسلمان مساجد میں نماز کے بعد اس پیش گوئی کے ظہور کے لئے بصدق دل دعا کرتے ہیں۔
سو یہ ان کی ہمدردی اور محبت ایمانی کا تقاضا ہے اور یہ عاجز جیسے لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ پر ایمان لایا
ہے، ویسے ہی خداتعالیٰ کے ان الہامات پر، جو متواتر اس عاجز پر ہوئے، ایمان لاتا ہے اور آپ سے ملتمس ہے کہ
آپ اپنے ہاتھ سے اس پیش گوئی کے پورا ہونے کے لئے معاون بنیںتاکہ خداتعالیٰ کی برکتیں آپ پر نازل ہوں۔
خداتعالیٰ سے کوئی بندہ لڑائی نہیں کرسکتا اور جو امر آسمان پر ٹھہر چکا ہے، زمین پر وہ ہرگز بدل نہیں سکتا۔
خداتعالیٰ آپ کو دین اور دنیا کی برکتیں عطاء کرے اور اب آپ کے دل میں وہ بات ڈالے جس کا اس نے آسمان پر سے
مجھے الہام کیا ہے۔ آپ کے سب غم دور ہوں اور دین ودنیا دونوں آپ کو خداتعالیٰ عطاء فرماوے۔ اگر میرے اس خط
میں کوئی ناملائم لفظ ہوتو معاف فرمادیں۔ والسلام! (خاکسار: احقر عباد اللہ غلام احمد عفی عنہ، مؤرخہ
۱۷؍جولائی ۱۸۹۰ء بروز جمعہ)‘‘
(کلمہ فصل رحمانی ص۱۲۳تا۱۲۵، مؤلفہ قاضی فضل احمد)
دوسرا خط
’’مشفقی مرزاعلی شیر بیگ صاحب سلمہ اللہ تعالیٰ
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ، اللہ تعالیٰ خوب جانتا ہے کہ مجھ کو آپ سے کسی
طرح سے فرق نہ تھا اور میں آپ کو ایک غریب طبع اور نیک خیال آدمی اور اسلام پر قائم سمجھتا ہوں۔ لیکن اب جو
آپ کو ایک خبر سناتا ہوں آپ کو اس سے بہت رنج گزرے گا۔ مگر میں محض اللہ ان لوگوں سے تعلق چھوڑنا چاہتا ہوں جو
مجھے ناچیز بتاتے ہیں اور دین کی پرواہ نہیں رکھتے۔ آپ کو معلوم ہے کہ مرزااحمد بیگ کی لڑکی کے بارے میں ان
لوگوں کے ساتھ کس قدر میری عداوت ہورہی ہے۔ اب میں نے سنا ہے کہ عید کی دوسری یا تیسری تاریخ کو اس لڑکی کا
نکاح ہونے والا ہے۔ آپ کے گھر کے لوگ اس مشورہ میں ساتھ ہیں۔ آپ سمجھ سکتے ہیں کہ اس نکاح کے شریک میرے سخت
دشمن ہیں۔ بلکہ میرے کیا دین اسلام کے دشمن ہیں۔ عیسائیوں کو ہنسانا چاہتے ہیں۔ ہندوؤں کو خوش کرنا چاہتے
ہیں اور اللہ رسول کے دین کی کچھ بھی پرواہ نہیں رکھتے اور اپنی طرف سے میری نسبت ان لوگوں نے پختہ ارادہ کر
لیا ہے کہ اس کو خوار کیا جائے، ذلیل کیا جائے، روسیاہ کیا جائے۔ یہ اپنی طرف سے ایک تلوار چلانے لگے ہیں۔
اب مجھ کو بچا لینا اللہ تعالیٰ کا کام ہے۔ اگر میں اس کا ہوں گا تو ضرور مجھے بچائے گا۔ اگر آپ کے گھر کے لوگ
سخت مقابلہ کر کے اپنے بھائی کو سمجھاتے تو کیوں نہ سمجھ سکتا۔ کیا میں چوہڑا یا چمار تھا جو مجھ کو لڑکی
دینا عار یا ننگ تھی، بلکہ وہ تو اب تک ہاں میں ہاں ملاتے رہے اور اپنے بھائی کے لئے مجھے چھوڑ دیا اور اب
اس لڑکی کے نکاح کے لئے سب ایک
311
ہوگئے۔ یوں تو مجھے کسی کی لڑکی سے کیا غرض۔ کہیں جائے، مگر یہ تو آزمایا گیا کہ جن کو میں خویش
سمجھتا تھا اور جن کی لڑکی کے لئے چاہتا تھا کہ اس کی اولاد ہو اور وہ میری وارث ہو، وہی میرے خون کے پیاسے،
وہی میری عزت کے پیاسے ہیں اور چاہتے ہیں کہ خوار ہو اور اس کا روسیاہ ہو۔ خدا بے نیاز ہے جس کو چاہے روسیاہ
کرے، مگر اب تو وہ مجھے آگ میں ڈالنا چاہتے ہیں۔ میں نے خط لکھے کہ پرانا رشتہ مت توڑو۔ خداتعالیٰ سے خوف
کرو۔ کسی نے جواب نہ دیا، بلکہ میں نے سنا ہے کہ آپ کی بیوی نے جوش میں آکر کہا کہ ہمارا کیا رشتہ ہے؟ صرف
عزت بی بی نام کے لئے فضل احمد کے گھر میں ہے۔ بے شک وہ طلاق دے دیوے، ہم راضی ہیں۔ ہم نہیں جانتے کہ یہ شخص
کیا بلا ہے۔ ہم اپنے بھائی کے خلاف مرضی نہیں کریں گے یہ شخص کہیں مرتا بھی نہیں۔ پھر میں نے رجسٹری کراکر
آپ کی بیوی صاحبہ کے نام خط بھیجا۔ مگر کوئی جواب نہ آیا اور باربار کہا کہ اس سے کیا ہمارا رشتہ باقی رہ
گیا ہے۔ جو چاہے کرے ہم اس کے لئے اپنے خویشوں سے اپنے بھائیوں سے جدا نہیں ہو سکتے۔ مرتا مرتا رہ گیا۔ ابھی
مرا ہی ہوتا۔ یہ باتیں آپ کی بیوی صاحبہ کی مجھے پہنچی ہیں۔ بے شک میں ناچیز ہوں، ذلیل ہوں، خوار ہوں مگر
خداتعالیٰ کے ہاتھ میں میری عزت ہے۔ جو چاہتا ہے کرتا ہے۔ اب جب میں ایسا ذلیل ہوں تو میرے بیٹے سے تعلق
رکھنے کی کیا حاجت ہے۔ لہٰذا میں نے ان کی خدمت میں خط لکھ دیا ہے کہ اگر آپ اپنے ارادہ سے باز نہ آویں اور
اپنے بھائی کو اس نکاح سے روک نہ دیں پھر جیسا کہ آپ کی خود منشاء ہے میرا بیٹا فضل احمد بھی آپ کی لڑکی کو
اپنے نکاح میں رکھ نہیں سکتا۔ بلکہ ایک طرف جب محمدی کا کسی شخص سے نکاح ہوگا تو دوسری طرف فضل احمد آپ کی
لڑکی کو طلاق دے دے گا۔ اگر نہیں دے گا تو میں اس کو عاق اور لاوارث کروں گا اوراگر میرے لئے احمد بیگ سے
مقابلہ کروگے اور یہ ارادہ اس کو بند کرادو گے تو میں بدل وجان حاضر ہوں اور فضل احمد کو جواب میرے قبضے میں
ہے ہر طرح سے درست کر کے آپ کی لڑکی کی آبادی کے لئے کوشش کروں گا اور میرا مال ان کا مال ہوگا۔ لہٰذا آپ کو
بھی لکھتا ہوں کہ آپ اس وقت کو سنبھال لیں اور احمد بیگ کو پورے زور سے خط لکھیں کہ باز آجائے اور اپنے گھر
کے لوگوں کو تاکید کریں کہ وہ بھائی کو لڑائی کر کے روک دیوے ورنہ مجھے خداتعالیٰ کی قسم ہے کہ اب ہمیشہ کے
لئے یہ تمام رشتے ناطے توڑدوں گا۔ اگر فضل احمد میرا فرزند اور وارث بننا چاہتا ہے تو اسی حالت میں آپ کی
لڑکی کو گھر میں رکھے گا جب آپ کی بیوی کی خوشی ثابت ہو۔ ورنہ جہاں میں رخصت ہوا ایسا ہی سب رشتے ناطے ٹوٹ
گئے۔ یہ باتیں خطوں کی معرفت مجھے معلوم ہوئی ہیں۔ میں نہیں جانتا کہ کہاں تک درست ہیں۔ و اللہ اعلم! (راقم
خاکسار: غلام احمد از لدھیانہ، اقبال گنج، ۴؍مئی ۱۸۹۱ء)‘‘
(کلمہ فضل رحمانی ص۱۲۵تا۱۲۷، مؤلفہ قاضی فضل احمد)
دوسرے خط کا جواب
’’اخویم مرزاغلام احمد زادعنایۃ
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ، گرامی نامہ پہنچا۔ غریب طبع یا نیک جو کچھ
بھی آپ تصور کریں، آپ کی مہربانی ہے۔ ہاں! مسلمان ضرور ہوں۔ مگر آپ کی خود ساختہ نبوت کا قائل نہیں ہوں اور
خدا سے دعا کرتا ہوں کہ وہ مجھے سلف صالحین کے طریقے پر ہی رکھے اور اسی پر میرا خاتمہ بالخیر کرے۔ باقی رہا
تعلق چھوڑنے کا مسئلہ، تو بہترین تعلق خدا کا ہے۔ وہ نہ چھوٹے اور باقی اس عاجز مخلوق کا ہوا تو پھر کیا، نہ
ہوا تو پھر کیا اور احمد بیگ کے متعلق میں کر ہی کیا سکتا ہوں۔ وہ ایک سیدھا سادہ مسلمان آدمی ہے۔ جو کچھ
ہوا آپ کی طرف ہی سے ہوا۔ نہ آپ فضول ایمان کو گنواتے اور الہام بافی کرتے اور نہ مرنے کی دھمکیاں دیتے اور
نہ وہ کنارہ کش ہوتا۔ یہ ٹھیک ہے کہ خویش ہونے کی حیثیت سے آپ نے رشتہ طلب کیا، مگر آپ خیال فرمائیں کہ اگر
آپ کی جگہ احمد بیگ ہو، اور احمد بیگ کی جگہ آپ ہوں تو خدا لگتی کہنا کہ تم کن کن باتوں کا خیال کر کے رشتہ
دو گے۔ اگر احمد بیگ سوال کرتا اور وہ مجمع المرائض ہونے کے علاوہ پچاس سال سے زیادہ عمر کا ہوتا اور اس پر
وہ مسیلمہ
312
کذاب کے کان بھی کترچکا ہوتا (یعنی مسیلمہ کذاب کی طرح نبوت کا جھوٹا مدعی ہوتا۔ للمؤلف) تو آپ رشتہ
دیتے؟ (انصاف تو یہ ہے کہ مرزا شیر علی بیگ کی حجت کا جواب مرزاقادیانی نہ دے سکا۔ للمؤلف) آپ کو، خط لکھتے
وقت یوں آپے سے باہر نہیں ہونا چاہئے۔ لڑکیاں سبھی کے گھروں میں ہیں اور نظام عالم ان ہی باتوں سے قائم ہے۔
کچھ حرج نہیں اگر آپ طلاق دلوائیں گے تو یہ بھی ایک پیغمبری کی نئی سنت دنیا پر قائم کر کے بدنامی کا سیاہ
داغ مول لیں گے۔ باقی روٹی تو خدا اس کو بھی کہیں سے دے ہی دے گا۔ ترنہ سہی خشک۔ مگر وہ خشک بہتر ہے جو
پسینہ کی کمائی سے پیدا کی جاتی ہے۔ (بڑا لطیف طنز ہے۔ للمؤلف) میں بھائی احمد بیگ کو لکھ رہا ہوں، بلکہ آپ
کا خط بھی اس کے ساتھ شامل کر دیا گیا ہے۔ مگر میں ان کی موجودگی میں کچھ نہیں کر سکتا اور میری بیوی کا کیا
حق ہے کہ وہ اپنی بیٹی کے لئے بھائی کی لڑکی کو ایک دائم المریض آدمی کو جو مراق سے خدائی تک پہنچ چکا ہو کس
طرح لڑے۔ ہاں! اگر وہ خود مان لیں تو میں اور میری بیوی حارج نہ ہوں گے۔ آپ خود ان کو لکھیں۔ مگر درشت اور
سخت الفاظ آپ کا قلم گرانے سے عادی ہوچکا ہے۔ اس سے جہاں تک ہو سکے احتراز کریں اور منت وسماجت سے کام لیں۔
(خاکسار: علی شیر بیگ از قادیان، مؤرخہ ۴؍مئی ۱۸۹۱ء)‘‘
(نوشتہ غیب ص۱۲۶تا۱۲۸، مؤلفہ خالد وزیرآبادی)
تیسرا خط
’’والدہ عزت بی بی کو معلوم ہو کہ مجھ کو خبر پہنچی ہے کہ چند روز تک (محمدی) مرزااحمد بیگ کی لڑکی کا
نکاح ہونے والا ہے اور میں خدا کی قسم کھاچکا ہوں کہ اس نکاح سے رشتے ناطے توڑدوں گا اور کوئی تعلق نہیں رہے
گا۔ اس لئے نصیحت کی راہ سے لکھتاہوں کہ اپنے بھائی مرزااحمد بیگ کو سمجھا کر یہ ارادہ موقوف کراؤ اور جس
طرح بھی تم سمجھا سکتے ہو اس کو سمجھا دو اور اگر ایسا نہیں ہوگا تو آج میں نے مولوی نوردین صاحب اور فضل
احمد کو خط لکھ دیا ہے کہ اگر تم اس ارادہ سے باز نہ آؤ تو فضل احمد عزت بی بی کے لئے طلاق نامہ لکھ کر
بھیج دے اور اگر فضل احمد طلاق نامہ لکھنے میں عذر کرے تو اس کو عاق کیا جائے اور اپنے بعد اس کو وارث نہ
سمجھا جائے اور ایک پیسہ وراثت کا اس کو نہ ملے۔ سو امید رکھتا ہوں کہ شرطی طور پر اس کی طرف سے طلاق نامہ
لکھا آجاوے گا۔ جس کا یہ مضمون ہوگا کہ اگر مرزاحمد بیگ محمدی کا نکاح کسی غیرکے ساتھ کرنے سے باز نہ آوے تو
پھر اسی روز سے جو محمدی کا کسی اور سے نکاح ہو جائے۔ عزت بی بی کو تین طلاق ہیں۔ سو اس طرح پر لکھنے سے اس
طرف تو محمدی کا کسی دوسرے سے نکاح ہوگا اور اس طرف عزت بی بی پر فضل احمد کی طلاق پڑ جائے گی۔ سو یہ شرطی
طلاق ہے اور مجھے اللہ تعالیٰ کی قسم ہے کہ اب بجز قبول کرنے کے کوئی راہ نہیں اور اگر فضل احمد نے نہ مانا تو
میں فی الفور اس کو عاق کردوں گا اور پھر وہ میرے وراثت سے ایک دانہ نہیں پاسکتا اور اگر آپ اس وقت اپنے
بھائی کو سمجھا لو تو آپ کے لئے بہتر ہوگا۔ مجھے افسوس ہے کہ میں نے عزت بی بی کی بہتری کے لئے ہرطرح سے
کوشش کرنا چاہا تھا اور میری کوشش سے سب نیک بات ہوجاتی۔ مگر آدمی پر تقدیر غالب ہے۔ یاد رہے کہ میں نے کوئی
کچی بات نہیں لکھی۔ مجھے قسم ہے اللہ تعالیٰ کی کہ میں ایسا ہی کروں گا اور خداتعالیٰ میرے ساتھ ہے۔ جس دن نکاح
ہوگا، اس دن عزت بی بی کا نکاح باقی نہیں رہے گا۔ (راقم: مرزاغلام احمد از لدھیانہ، اقبال گنج ۴؍مئی
۱۸۹۱ء)‘‘
(منقول از نوشتہ غیب ص۱۲۸،۱۲۹، مؤلفہ خالد وزیرآبادی، کلمہ فضل رحمانی ص۱۲۷،۱۲۸، مؤلفہ قاضی فضل
احمد)
تیسرے خط کا تتمہ
’’از طرف عزت بی بی (مرزاقادیانی کے چھوٹے فرزند مرزافصل احمد کی اہلیہ) بطرف والدہ ماجدہ۔
سلام مسنون کے بعد، اس وقت میری بربادی اور تباہی کی طرف خیال کرو۔ مرزاصاحب کسی طرح مجھ سے فرق نہیں
کرتے۔ اگر
313
تم اپنے بھائی، میرے ماموں (یعنی محمدی بیگم کے والد) کو سمجھاؤ، تو سمجھا سکتے ہو۔ اگر نہیں تو پھر
طلاق ہوگی اور ہزارطرح کی رسوائی ہوگی۔ اگر منظور نہیں تو خیر! مجھے اس جگہ سے لے جاؤ۔ پھر میرا اس جگہ
ٹھہرنا مناسب نہیں۔
اس خط پر مرزاغلام احمد قادیانی کی طرف سے یہ ریمارک ہے، جیسا کہ عزت بی بی نے تاکید سے کہا ہے۔ اگر
(مرزاسلطان محمد سے محمدی بیگم کا) نکاح رک نہیں سکتا تو پھر بلاتوقف عزت بی بی کے لئے کوئی قادیان سے آدمی
بھیج دو۔ تاکہ ان کو لے جائے۔ ( اللہ رے زور ظلم! للمؤلف) (عزت بی بی بذریعہ خاکسار غلام احمد، رئیس قادیان
مؤرخہ ۶؍مئی ۱۸۹۱ء)‘‘
(منقول از نوشتہ غیب ص۱۳۱،۱۳۲، مؤلفہ خالد وزیرآبادی، کلمہ فضل رحمانی ص۱۲۸، مؤلفہ قاضی فضل احمد)
چوتھا خط
’’مخدومی مکرمی اخویم مولوی حکیم نوردین صاحب سلمہ اللہ تعالیٰ۔
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ، … محمد بیگ کا لڑکا جو آپ کے پاس ہے آن مکرم
کو معلوم ہوگا کہ اس کا والد مرزااحمد بیگ بوجہ اپنی بے سمجھی اور حجاب کے اس عاجز سے سخت عداوت وکینہ رکھتا
ہے اور ایسا ہی اس کی والدہ بھی۔ (باایں ہمہ مرزاقادیانی صاحب ہی کی سفارش سے یہ لڑکا ایک شدید مرض کے علاج
میں حکیم نورالدین صاحب کے پاس بھیجا گیا) چونکہ خداتعالیٰ نے بوجہ اپنے بعض مصالح کے اس لڑکے کی ہمشیرہ
(محمدی بیگم) کی نسبت وہ الہام ظاہرفرمایا تھا کہ جو بذریعہ اشتہارات شائع ہوچکا ہے۔ اس وجہ سے ان لوگوں کے
دلوں میں حد سے زیادہ جوش مخالفت ہے اور مجھے معلوم نہیں کہ وہ امر جس کی نسبت مجھے اس شخص کی ہمشیرہ کی
نسبت اطلاع دی گئی ہے، کیونکر اور کس راہ سے وقوع میں آئے گا اور بظاہر یہ معلوم ہوتا ہے کہ کوئی نرمی کارگر
نہ ہوگی۔ ’’ویفعل اللہ ما یشاء‘‘ کرتا ہے جو اللہ چاہتا ہے۔ لیکن تاہم کچھ مضائقہ نہیں کہ
ان لوگوں کی سختی کے عوض میں نرمی اختیار کر کے ’’ادفع بالتی ہی احسن‘‘ کا ثواب حاصل
کیا جائے۔ اس لڑکے محمد بیگ کے کتنے خطوط اس مضمون کے پہنچے کہ مولوی (نورالدین) صاحب پولیس کے محکمہ میں
مجھ کو نوکر کرادیں۔ آپ براہ مہربانی اس کو بلا کر نرمی سے سمجھاویں کہ تیری نسبت انہوں نے (یعنی
مرزاقادیانی نے) بہت کچھ سفارش لکھی ہے اور تیرے لئے جہاں تک گنجائش اور مناسب وقت ہوکچھ فرق نہ ہوگا۔ غرض
آں مکرم میری طرف سے اس کے ذہن نشیں کر دیں کہ وہ (یعنی مرزاقادیانی) تیری نسبت بہت تاکید کرتے ہیں۔ اگر
محمد بیگ آپ کے ساتھ آنا چاہے تو ساتھ لے آویں… زیادہ خیریت ہے۔ والسلام! (اس مکتوب سے مرزاقادیانی کی ذہنیت
کا بخوبی اندازہ ہوتا ہے کہ محمدی بیگم کے بھائی کو ملازمت کا لالچ دے کر ہموار کیا جائے کہ تمہارا بہت خیال
ہے۔ مناسب وقت یعنی محمدی بیگم کی مرزاقادیانی سے شادی ہو جائے تو ضرور پوری کوشش کی جائے گی۔ اس لئے واجب
کہ مرزاقادیانی کے واسطے تم اپنی ہمشیرہ کے معاملہ میں پوری کوشش کرو۔ للمؤلف) (خاکسار: غلام احمد،
لدھیانہ، محلہ اقبال گنج، مؤرخہ ۲۱؍مارچ ۱۸۹۱ء)‘‘
(منقول از نوشتہ غیب ص۱۱۱،۱۱۲، مکتوبات احمدیہ ج۵ نمبر۲ ص۱۰۱،۱۰۲، مکتوب نمبر۷۳، جدید مکتوبات احمد ج۲
ص۱۱۳،۱۱۴، مکتوب نمبر۷۵)
(۹) ماموں کی خط وکتابت
’’ڈاکٹر میر محمد اسماعیل صاحب نے مجھ سے بیان کیا کہ لیکھ رام کے قتل کے واقعہ پر جب حضرت مسیح موعود
کے گھر کی تلاشی ہوئی تو پولیس کے افسر بعض کاغذات اپنے خیال میں مشتبہ سمجھ کر ساتھ لے گئے اور چند دن کے
بعد ان کاغذات کو واپس لے کر پھر بعض افسر قادیان آئے اور چند خطوط کی بابت جس میں کسی ایک خاص امر کا
کنایتاً ذکر تھا، حضرت صاحب (مرزاقادیانی) سے سوال کیا کہ یہ کیا معاملہ ہے۔ حضرت صاحب نے
314
فوراً بتادیا کہ یہ خطوط محمدی بیگم کے رشتے کے متعلق ہیں اور امر معلومہ سے مراد یہی امر ہے اور یہ
خط مرزامام الدین نے میرے نام بھیجے تھے۔ جو میرا چچازاد بھائی ہے اور محمدی بیگم کا حقیقی ماموں ہے۔‘‘
(سیرت المہدی حصہ دوم ص۱۴۶،۱۴۷، روایت نمبر۴۶۰ جدید ج۱ حصہ دوم ص۴۳۹، روایت نمبر۴۶۳)
’’اس معاملہ میں لڑکی کے ماموں (مرزاامام الدین) لیڈر تھے اور مرزااحمد بیگ (لڑکی کا والد) ان کا تابع
تھا اور بالکل ان کے زیراثر ہوکر ان کے اشارہ پر چلتا تھا۔‘‘
(سیرت المہدی حصہ اوّل ص۱۷۶، روایت نمبر۱۷۵، جدید ج۱ حصہ اوّل ص۱۷۸، روایت نمبر۱۷۹)
(۱۰) انعام کا وعدہ
’’بیان کیا مجھ سے میاں عبد اللہ صاحب سنوری نے کہ ایک دفعہ حضرت صاحب جالندھر جاکر قریباً ایک ماہ ٹھہرے
تھے اور ان دنوں میں محمدی بیگم کے ایک حقیقی ماموں (مرزاامام الدین) نے محمدی بیگم کا حضرت صاحب سے رشتہ
کرادینے کی کوشش کی تھی۔ مگر کامیاب نہیں ہوا۔ یہ ان دنوں کی بات ہے کہ جب محمدی بیگم کا والد مرزااحمد بیگ
ہوشیارپوری زندہ تھا اور ابھی محمدی بیگم کا مرزاسلطان احمد سے رشتہ نہیں ہوا تھا۔ محمدی بیگم کا یہ ماموں
جالندھر اور ہوشیارپور کے درمیان یکّہ میں آیا جایا کرتا تھا اور وہ حضرت صاحب سے کچھ انعام کا بھی خواہاں
تھا اور چونکہ محمدی کے نکاح کا عقدہ زیادہ تر اسی شخص کے ہاتھ میں تھا، اس لئے حضرت صاحب نے اس سے کچھ
انعام کا وعدہ بھی کر لیا تھا۔ خاکسار (مرزابشیراحمد) عرض کرتا ہے کہ یہ شخص اس معاملہ میں بدنیت تھا اور
حضرت صاحب سے فقط کچھ روپیہ اڑانا چاہتا تھا۔ کیونکہ بعد میں یہی شخص اور اس کے دوسرے ساتھی اس لڑکی کے
دوسری جگہ بیاہے جانے کا موجب ہوئے۔ مگر مجھے والدہ صاحبہ سے معلوم ہوا ہے کہ حضرت صاحب نے بھی اس شخص کو
روپیہ دینے کے متعلق بعض حکیمانہ احتیاطیں ملحوظ رکھی ہوئی تھیں۔ (ان ہی احتیاطوں نے غالباً کام بگاڑ دیا۔
للمؤلف)‘‘
(سیرت المہدی حصہ اوّل ص۱۷۴، روایت نمبر۱۷۵، جدید ج۱ حصہ اوّل ص۱۷۶،۱۷۷، روایت نمبر۱۷۹)
(۱۱) خیرخبر
’’مکرمی اخویم منشی رستم علی صاحب سلمہ تعالیٰ
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ، میں آپ سے یہ دریافت کرنا چاہتا ہوں کہ
مرزااحمد بیگ کی لڑکی کے نکاح کی نسبت جو آپ نے خبر دی تھی کہ بیس روز سے نکاح ہوگیا ہے۔ قادیان میں اس خبر
کی کچھ اصلیت معلوم نہیں ہوتی۔ یعنی نکاح ہو جانا کوئی شخص بیان نہیں کرتا۔ لہٰذا مکلف ہوں کہ دوبارہ اس امر
کی نسبت اچھی طرح تحقیقات کر کے تحریر فرماویں کہ نکاح اب تک ہوا یا نہیں۔ اگر نہیں ہوا تو کیا وجہ ہے۔ مگر
بہت جلد جواب ارسال فرماویں اور نیز سلطان احمد کے معاملہ میں ارقام فرماویں کہ اس نے کیا جواب دیا ہے۔
والسلام! (خاکسار: غلام احمد از قادیان، مؤرخہ ۲۸؍ستمبر ۱۸۹۱ء)‘‘
(مکتوبات احمدیہ ج۵ نمبر۳ ص۱۴۲،۱۴۳، ملفوف نمبر۲۴۲، جدید مکتوبات احمد ج۲ ص۵۸۲، مکتوب نمبر۱۸۷)
(۱۲) رقیب کی خودسری
’’احمد بیگ کے داماد (مرزاسلطان محمد) کا یہ قصور تھا کہ اس نے تخویف کا اشتہار دیکھ کر اس کی پرواہ
نہ کی۔ خط پر خط بھیجے گئے۔ ان سے کچھ نہ ڈرا۔ پیغام بھیج کر سمجھایا گیا۔ کسی نے اس طرف ذرا التفات نہ کی
اور احمد بیگ سے ترک تعلق نہ چاہا، بلکہ وہ سب گستاخی اور استہزاء میں شریک ہوئے۔ سو یہی قصور تھا کہ پیش
گوئی کو سن کر پھر ناطہ کرنے پر راضی ہوئے اور شیخ بٹالوی کا یہ کہنا کہ نکاح کے بعد طلاق کے لئے ان کو
فہمائش کی گئی تھی، یہ سراسر افتراء ہے بلکہ ابھی تو ان کا ناطہ بھی نہیں ہوچکا تھا۔ جب کہ ان کو حقیقت سے
اطلاع دی گئی تھی اور اشتہار تو کئی برس پہلے شائع ہوچکے تھے۔‘‘
(اشتہار مرزاقادیانی انعامی چار ہزار، مندرجہ تبلیغ رسالت ج۳ ص۱۶۶، مجموعہ اشتہارات ج۲ ص۹۵، جدید
مجموعہ اشتہارات ج۱ ص۴۳۷ حاشیہ نمبر۲)
315
(۱۳) چہ میگوئیاں
’’یہ کہنا کہ پیش گوئی کے بعد احمد بیگ کی لڑکی کے نکاح کے لئے کوشش کی گئی اور طمع دی گئی اور خط
لکھے گئے۔ یہ عجیب اعتراض ہیں۔ سچ ہے انسان شدت تعصب کی وجہ سے اندھا ہو جاتا ہے۔ (شدت غرض میں بھی یہی حال
ہو جاتا ہے۔ للمؤلف) کوئی مولوی اس بات سے بے خبر نہ ہوگا کہ اگر وحی الٰہی کوئی بات بطور پیش گوئی ظاہر
فرماوے اور ممکن ہو کہ انسان بغیر کسی فتنہ اور ناجائز طریق کے اس کو پورا کر سکے تو اپنے ہاتھ سے اس پیش
گوئی کا پورا کرنا نہ صرف جائز بلکہ مسنون ہے۔‘‘
(حقیقت الوحی ص۱۹۱، خزائن ج۲۲ ص۱۹۸)
(۱۴) خانہ بربادی
’’ناظرین کو یاد ہوگا کہ اس عاجز نے ایک دینی خصومت کے پیش آجانے کی وجہ سے ایک نشان کے مطالبے کے وقت
اپنے ایک قریبی مرزااحمد بیگ ولد مرزاگاماں بیگ ہوشیارپوری کی دختر کلاں کی نسبت بحکم والہام الٰہی یہ
اشتہار دیا تھا کہ خداتعالیٰ کی طرف سے یہی مقدر اور قرار یافتہ ہے کہ وہ لڑکی اس عاجز کے نکاح میں آئے گی۔
خواہ پہلے ہی باکرہ ہونے کی حالت میں آ جائے اور یا خداتعالیٰ بیوہ کر کے اس کو میری طرف لے آوے۔ چنانچہ
تفصیل ان کل امور مذکورہ بالا کی اس اشتہار میں درج ہے۔ اب باعث تحریر اشتہار ہذایہ ہے کہ میرا بیٹا سلطان
احمد نام، جو نائب تحصیلدار لاہور میں ہے اور اس کی تائی صاحبہ جنہوں نے اس کو بیٹا بنایا ہوا ہے، وہی اس
مخالفت پر آمادہ ہوگئے ہیں اور یہ سارا کام اپنے ہاتھ میں لے کر اس تجویز میں ہیں کہ عید کے دن یا اس کے بعد
اس لڑکی کا کسی سے نکاح کیا جائے۔ اگر یہ اوروں کی طرف سے مخالفانہ کارروائی ہوتی تو ہمیں درمیان میں دخل
دینے کی کیا ضرورت اور کیا غرض تھی۔ امر ربی تھا اور وہی اس کو اپنے فضل وکرم سے ظہور میں لاتا۔ مگر اس کام
کے مدار المہام وہ لوگ ہوگئے، جن پر اس عاجز کی اطاعت فرض تھی اور ہر چند سلطان احمد کو سمجھایا اور بہت
تاکیدی خط لکھے کہ تو اور تیری والدہ اس کام سے الگ ہو جائیں۔ ورنہ میں تم سے جدا ہو جاؤں گا اور تمہارا
کوئی حق نہیں رہے گا۔ مگر انہوں نے میرے خط کا جواب تک نہ دیا اور بکلی مجھ سے بیزاری ظاہر کی۔ اگر ان کی
طرف سے ایک تیز تلوار کا بھی مجھے زخم پہنچتا تو بخدا میں اس پر صبر کرتا۔ لیکن انہوں نے دینی مخالفت کر کے
اور دینی مقابلہ سے آزار دے کر مجھے بہت ستایا اور اس حد تک میرے دل کو توڑ دیا کہ میں بیان نہیں کر سکتا
اور عمداً چاہا کہ میں سخت ذلیل کیا جاؤں۔ سلطان احمد ان دو بڑے گناہوں کا مرتکب ہوا۔
اوّل… یہ کہ اس نے رسول اللہ ﷺ کے دین کی مخالفت کرنی چاہی اور چاہا کہ دین اسلام پر تمام مخالفوں کا
حملہ ہو اور یہ اپنی طرف سے اس نے ایک بنیاد رکھی ہے۔ اس امید پر کہ یہ جھوٹے ہو جائیں گے اور دین کی ہتک
ہوگی اور مخالفوں کی فتح۔ اس نے اپنی طرف سے مخالفانہ تلوار چل انے میں کچھ فرق نہیں کیا۔
دوم… سلطان احمد نے مجھے، جو میں اس کا باپ ہوں، سخت ناچیز قرار دیا اور میری مخالفت پر کمر باندھی
اور قولی اور فعلی طور پر اسی مخالفت کو کمال تک پہنچایا اور میرے دینی مخالفوں کو مدد دی اور اسلام کی ہتک
بہ دل وجان منظور رکھی۔
سو چونکہ اس نے دونوں طور کے گناہوں کو اپنے اندر جمع کیا، اپنے خدا کا تعلق بھی توڑ دیا اور اپنے باپ
کا بھی اور ایسا ہی اس کی دونوں والدہ نے کیا۔ سو جب کہ انہوں نے کوئی تعلق مجھ سے باقی نہ رکھا، اس لئے میں
نہیں چاہتا کہ اب ان کا کسی قسم کا تعلق مجھ سے باقی رہے اور ڈرتا ہوں کہ ایسے دینی دشمنوں سے پیوند رکھنے
میں معصیت نہ ہو۔ لہٰذا میں آج کی تاریخ کہ دوسری مئی ۱۸۹۱ء ہے۔ عوام اور خواص پر بذریعہ اشتہار ہذا ظاہر
کرتا ہوں کہ اگر یہ لوگ اس ارادہ سے باز نہ آئے اور وہ تجویز جو اس لڑکی کے ناطہ اور نکاح کرنے کی اپنے ہاتھ
سے یہ
316
لوگ کر رہے ہیں اس کو موقوف نہ کردیا اور جس شخص کو انہوں نے نکاح کے لئے تجویز کیا ہے اس کو رد نہ
کیا۔ بلکہ اسی شخص کے ساتھ نکاح ہوگیا تو اسی نکاح کے دن سے سلطان احمد عاق اور محروم الارث ہوگا اور اسی
روز سے اس کی والدہ پر میری طرف سے طلاق ہے اور اگر اس کا بھائی فضل احمد جس کے گھر میں مرزااحمد بیگ والد
لڑکی کی بھانجی ہے، اپنی اس بیوی کو اسی دن جو اس کو نکاح کی خبر ہو طلاق نہ دیوے تو پھر وہ بھی عاق اور
محروم الارث ہوگا اور آئندہ ان سب کا کوئی حق میرے پر نہیں رہے گا اور اس نکاح کے بعد تمام تعلقات خویشی
وقرابت وہمدردی دور ہو جائے گی اور کسی نیکی، بدی، رنج، راحت، شادی اور ماتم میں ان سے شراکت نہیں رہے گی۔
کیونکہ انہوں نے آپ تعلق توڑ دئیے اور توڑنے پر راضی ہوگئے۔ سو اب ان سے کچھ تعلق رکھنا قطعاً حرام اور
ایمانی غیوری کے برخلاف اور ایک دیوثی کا کام ہے۔ مؤمن دیوث نہیں ہوتا۔
-
چوں نہ بود خویش را دیانت و تقویٰ
قطع رحم بہ از مودت قربے‘‘
(مرزاغلام احمد قادیانی کا اشتہار مؤرخہ ۲؍مئی ۱۸۹۱ء، مندرجہ تبلیغ رسالت ج۲ ص۹تا۱۱، مجموعہ اشتہارات
ج۱ ص۲۱۹،تا۲۲۱، جدیدمجموعہ اشتہارات ج۱ ص۱۸۶،۱۸۷)
(۱۵) ترکی تمام شد
’’بیان کیا مجھ سے حضرت والدہ صاحبہ نے کہ جب محمدی بیگم کی شادی دوسری جگہ ہوگئی اور قادیان کے تمام
رشتہ داروں نے حضرت صاحب (مرزاقادیانی) کی سخت مخالفت کی اور خلاف کوشش کرتے رہے اور سب نے احمد بیگ والد
محمدی بیگم کا ساتھ دیا اور خود کوشش کر کے لڑکی کی شادی دوسری جگہ کرادی تو حضرت صاحب نے مرزاسلطان احمد
اور مرزافضل احمد دونوں کو الگ الگ خط لکھا کہ ان سب لوگوں نے میری سخت مخالفت کی ہے۔ اب ان کے ساتھ ہمارا
کوئی تعلق نہیں رہا اور ان کے ساتھ اب ہماری قبریں بھی اکٹھی نہیں ہوسکتیں۔ لہٰذا اب تم اپنا آخری فیصلہ
کرو۔ اگر تم نے میرے ساتھ تعلق رکھنا ہے تو پھر ان سے قطع تعلق کرنا ہوگا اور اگر ان سے تعلق رکھنا ہے تو
پھر میرے ساتھ تمہارا کوئی تعلق نہیں رہ سکتا۔ میں اس صورت میں تم کو عاق کرتا ہوں۔ والدہ صاحبہ نے فرمایا
کہ مرزاسلطان احمد کا جواب آیا کہ مجھ پر تائی صاحبہ کے احسانات ہیں ان سے قطع تعلق نہیں کر سکتا۔ (بنابراں
مرزاقادیانی نے ان کو عاق کر دیا۔ للمؤلف) مگر مرزافضل احمد نے لکھا کہ میرا تو آپ کے ساتھ ہی تعلق ہے۔ ان
کے ساتھ کوئی تعلق نہیں۔ حضرت صاحب نے مرزافضل احمد کو جواب دیا کہ اگر یہ درست ہے تو اپنی بیوی بنت مرزاعلی
شیر کو (جو سخت مخالف تھی اور مرزااحمد بیگ کی بھانجی تھی) طلاق دے دو۔ مرزا فضل احمد نے فوراً طلاق نامہ
لکھ کر حضرت صاحب کے پاس روانہ کردیا۔ والدہ صاحبہ فرماتی ہیں کہ پھر فضل احمد باہر سے آکر ہمارے پاس ہی
ٹھہرتا تھا۔ مگر اپنی دوسری بیوی کی فتنہ پردازی سے آخر آہستہ آہستہ ادھر جا ملا۔‘‘
(سیرت المہدی حصہ اوّل ص۲۲،۲۳، روایت نمبر۳۶، جدید ج۱ حصہ اوّل ص۲۶، روایت نمبر۳۷)
(۱۶) بیٹے کا جنازہ
’’مرزافضل احمد صاحب کے جنازہ کے ساتھ سید ولایت شاہ صاحب موصوف بھی قادیان میں تھے۔ یہ معلوم نہیں کہ
ساتھ گئے تھے یا پہلے ہی وہاں موجود تھے۔ وہ کہتے تھے کہ میں نے اپنی آنکھوں سے دیکھا ہے کہ مرزافضل احمد
صاحب کے دفن کرنے اور جنازہ پڑھنے سے قبل حضرت مرزاغلام احمد صاحب (یعنی مسیح موعود) نہایت کرب واضطراب کے
ساتھ باہر ٹہل رہے تھے اور ایسا معلوم ہوتا تھا کہ آپ کو اس کی وفات سے حددرجہ تکلیف ہوئی ہے۔ اسی امر سے
جرأت پکڑ کر میں خود حضور کے پاس گیا اور عرض کیا کہ حضور وہ آپ کا لڑکا تھا۔ بے شک اس نے حضور کو خوش نہیں
کیا۔ لیکن آخر آپ کا لڑکا تھا۔ آپ معاف فرمائیں اور اس کا جنازہ پڑھیں (یہ بھی تو ہوسکتا ہے کہ دوسرا فرزند
مرزاسلطان احمد صاحب نے انہیں حضرت کے حضور بھیجا ہو) اس پر حضرت صاحب نے فرمایا نہیں شاہ صاحب، وہ میرا
فرمانبردار تھا۔ اس
317
نے مجھے کبھی ناراض نہیں کیا۔ لیکن اس نے اپنے اللہ کو راضی نہیں کیا تھا۔ (یعنی وہ قادیانی نہیں بنا
تھا۔للمؤلف) اس لئے میں اس کا جنازہ نہیں پڑھتا، آپ جائیں اور پڑھیں۔ شاہ صاحب کہتے تھے کہ اس پر میں واپس
آگیا اور جنازہ میں شریک ہوا۔ (الحاصل مرزاقادیانی نے اپنے بیٹے کی نماز جنازہ اس لئے نہیں پڑھی کہ وہ ان کے
دعوؤں کو نہیں مانتا تھا۔ اللہ ہی بہتر جانتا ہے کہ مرزاقادیانی کا نماز جنازہ نہ پڑھنا اس کے حق میں باعث
زحمت ہوا یا باعث رحمت کہ مرحوم، رحمۃ للعالمین سے وابستہ رہا۔ للمؤلف)‘‘
(صاحبزادہ مرزابشیر احمد قادیانی کا مضمون اخبار الفضل قادیان ج۲۹ نمبر۹۸ ۱۴۷۹، مؤرخہ ۲۲؍اپریل،
۲؍جولائی ۱۹۴۱ء)
’’میرے قیام کے دوران مرزافضل احمد صاحب ابن حضرت مسیح موعود کا جنازہ ملتان سے قادیان لایا گیا۔
(ملتان میں آپ سب انسپکٹر پولیس تھے۔ وہیں بیمار ہوئے اور وہیں فوت ہوئے) حضرت اقدس کو مخالف رشتہ داروں نے
اطلاع دی۔ حضرت اقدس نے کہلا بھیجا کہ جاؤ دفن کر دو۔ حضور جنازہ میں شامل نہیں ہوئے اور نہ ہی جماعت کے
کسی فرد کو جنازہ میں شامل ہونے کا حکم دیا۔ جہاں تک مجھے یاد ہے مسجد مبارک میں بیٹھے ہوئے تقریر فرمائی
تھی جس کا مفہوم یہ تھا کہ جو خدا تعالیٰ کا نہیں بنتا وہ ہمارا بیٹا نہیں ہوسکتا۔ آپ سب لوگ جو اللہ تعالیٰ کے
لئے اپنا گھر بار چھوڑ کر یہاں آئے ہیں ہماری اولاد ہیں۔‘‘
(اخبار الفضل قادیان ج۳۱ نمبر۱۶۰ ص۳ کالم۳، مؤرخہ ۷؍جولائی۱۹۴۳ء)
’’آپ کا ایک بیٹا (مرزافضل احمد) فوت ہوگیا۔ جو آپ کی زبانی طور پر تصدیق بھی کرتا تھا۔ جب وہ مرا تو
مجھے یاد ہے آپ ٹہلتے جاتے اور فرماتے کہ اس نے کبھی شرارت نہ کی تھی، بلکہ میرا فرمانبردار ہی رہا ہے۔ ایک
دفعہ میں سخت بیمار ہوا اور شدت مرض میں مجھے غش آگیا۔ جب مجھے ہوش آیا تو میں نے دیکھا کہ وہ میرے پاس کھڑا
نہایت درد سے رورہا تھا۔ آپ یہ بھی فرماتے ہیں کہ یہ میری بڑی عزت کیا کرتا تھا۔ لیکن آپ نے اس کا جنازہ نہ
پڑھا۔ حالانکہ وہ اتنا فرمانبردار تھا کہ بعض احمدی بھی اتنے نہ ہوں گے۔ محمدی بیگم کے متعلق جب جھگڑا ہواتو
اس کی بیوی اور اس کے رشتہ دار بھی ان کے ساتھ شامل ہوگئے۔ حضرت صاحب نے اس کو فرمایا کہ تم اپنی بیوی کو
طلاق دے دو۔ اس نے طلاق لکھ کر حضرت صاحب کو بھیج دی کہ آپ کی جس طرح مرضی ہے اسی طرح کریں۔ لیکن باوجود اس
کے جب وہ مرا تو آپ نے اس کا جنازہ نہ پڑھا۔‘‘
(انوار خلافت ص۹۱، انوارالعلوم ج۳ ص۱۴۹)
(۱۷) یاس میں آس
’’احمد بیگ کی دختر (محمدی بیگم) کی نسبت جو پیش گوئی ہے وہ اشتہار میں درج ہے اور ایک مشہور امر ہے۔
وہ مرزا امام الدین کی ہمشیرہ زادی ہے جو خط بنام مرزااحمد بیگ کلمہ فضل رحمانی میں ہے۔ وہ میرا ہے (یہ خط
اوپر درج ہوچکا ہے۔ للمؤلف) اور سچ ہے وہ عورت (محمدی بیگم) میرے ساتھ بیاہی نہیں گئی۔ مگر میرے ساتھ اس کا
بیاہ ضرور ہوگا۔ جیسا کہ پیش گوئی میں درج ہے وہ سلطان محمد سے بیاہی گئی۔ جیسا کہ پیش گوئی میں تھا۔ میں سچ
کہتاہوں کہ اسی عدالت میں جہاں ان باتوں پر جو میری طرف سے نہیں ہیں۔ بلکہ خدا کی طرف سے ہیں۔ ہنسی کی گئی
ہے۔ ایک وقت آتا ہے کہ عجیب اثر پڑے گا اور سب کے ندامت سے سرنیچے ہوں گے… عورت اب تک زندہ ہے میرے نکاح میں
وہ عورت ضرور آئے گی۔ امید کیسی یقین کامل ہے یہ خدا کی باتیں ہیں ٹلتی نہیں، ہوکر رہیں گی۔‘‘
(مرزاغلام احمد قادیانی کا حلفیہ بیان عدالت ضلع گورداسپور میں، کتاب منظور الٰہی ص۲۴۴،۲۴۵، مرتبہ
منظور الٰہی قادیانی)
’’میں نے بڑی عاجزی سے خدا سے دعا کی تو اس نے مجھے الہام کیا کہ میں ان (تیرے خاندان کے) لوگوں کو ان
میں سے ایک نشانی دکھاؤں گا۔ خداتعالیٰ نے ایک لڑکی (محمدی بیگم) کا نام لے کر فرمایا کہ وہ بیوہ کی جاوے
گی اور اس کا خاوند اور باپ یوم نکاح سے تین سال تک فوت ہو جائیں گے اور پھر ہم اس لڑکی کو تیری طرف لائیں
گے اور کوئی اس کو روک نہ سکے گا۔ (حالانکہ یہ الہام تمام تر غلط ثابت
318
ہوا۔ للمؤلف)‘‘ (ترجمہ)
(کرامات صادقین سرورق آخر نمبر (ل)، خزائن ج۷ ص۱۶۲)
’’احمد بیگ کی بڑی لڑکی ایک جگہ بیاہی جائے گی اور خدا اس کو پھر تیری طرف واپس لائے گا۔ یعنی آخر وہ
تیرے نکاح میں آئے گی اور خدا سب روکیں درمیان سے اٹھادے گا۔ خدا کی باتیں ٹل نہیں سکتیں۔‘‘
(اشتہار مؤرخہ ۶؍ستمبر ۱۸۹۴ء،مندرجہ تبلیغ رسالت ج۳ ص۱۱۳، مجموعہ اشتہارات ج۲ ص۴۱، جدید مجموعہ
اشتہارات ج۱ ص۳۹۷)
(۱۸) دنیابامید قائم
’’پھر میں تم سے یہ نہیں کہتا کہ یہ معاملہ (محمدی بیگم کے نکاح کا) اتنے ہی پر ختم ہوگیا اور جو ظہور
میں آیا۔ یہی نتیجہ آخری ہے اور پیش گوئی کی حقیقت اسی پر ختم ہوگئی۔ بلکہ اصل معاملہ ابھی اسی طرح باقی ہے۔
اس کو کوئی بھی کسی حیلے سے رد نہیں کرسکتا اور یہ تقدیر خدائے بزرگ کی طرف سے تقدیر مبرم (قطعی اور یقینی)
ہے۔ عنقریب اس کا وقت آئے گا۔ قسم خدا کی جس نے حضرت محمد رسول اللہ کو بھیجا اور خیرالرسل اور خیرالوریٰ
بنایا کہ یہ بالکل سچ ہے۔ تم جلد ہی دیکھ لو گے اور میں اس خبر کو اپنے سچ یا جھوٹ کا معیار بناتا ہوں اور
میں نے جو کہا ہے یہ خدا سے خبر پاکر کہا ہے۔‘‘ (ترجمہ)
(انجام آتھم ص۲۲۳، خزائن ج۱۱ ص۲۲۳)
’’اشتہار ۱۰؍جولائی ۱۸۸۷ء کی پیش گوئی کا انتظار کریں جس کے ساتھ یہ بھی الہام ہے… اور تجھ سے پوچھتے
ہیں کہ کیا یہ بات سچ ہے۔ کہہ ہاں! مجھے اپنے رب کی قسم ہے کہ یہ سچ ہے اور تم اس بات کو وقوع میں آنے سے
روک نہیں سکتے۔ ہم نے خود اس سے تیرا عقد نکاح باندھ دیا ہے۔ میری باتوں کو کوئی بدلا نہیں سکتا۔‘‘
(الہام مرزاقادیانی مؤرخہ ۲۷؍ستمبر۱۸۹۱ء، مندرجہ تبلیغ رسالت ج۲ ص۸۵، مجموعہ اشتہارات ج۱ ص۳۰۱،
جدیدمجموعہ اشتہارات ج۱ ص۲۴۷)
(۱۹) رعایتی توسیع
مرزاغلام احمد قادیانی نے بڑے دعویٰ سے پیش گوئی کی تھی کہ محمدی بیگم کا خاوند مرزاسلطان محمد شادی
کے بعد اڑھائی سال کے اندر ضرور مر جائے گا۔ کافی مہلت تھی مگر نہ مرا۔ بالآخر مرزاقادیانی نے رحم کھا کر اس
کی زندگی میں بلاتعین وقت توسیع منظور کرالی۔ مگر اس شرط کے ساتھ کہ مرزاقادیانی کی زندگی ہی میں جگہ خالی
کر دے اور خیروخوبی سے مرزاقادیانی کی موعودہ شادی ہو جائے۔ (للمؤلف)
’’لیکن اب بہتیرے جاہل اس میعاد گزرنے کے بعد ہنسی کریں گے اور اپنی بدنصیبی سے صادق (یعنی
مرزاقادیانی) کا نام کاذب رکھیں گے۔ لیکن وہ دن جلد آتے جاتے ہیں کہ جب یہ لوگ شرمندہ ہوں گے اور حق ظاہر
ہوگا اور سچائی کا نور چمکے گا اور خداتعالیٰ کے غیرمتبدل وعدے پورے ہو جائیں گے۔ کیا کوئی زمین پر ہے جو ان
کو روک سکے… اے بدفطرتو! اپنی فطرتیں دکھلاؤ، لعنتیں بھیجو، ٹھٹھے کرو اور صادقوں کا نام کاذب اور دروغ
گورکھو، لیکن عنقریب دیکھو گے کہ کیا ہوتا ہے۔‘‘
(مرزاقادیانی کا اعلان مؤرخہ ۶؍ستمبر۱۸۹۴ء، مندرجہ تبلیغ رسالت ج۳ ص۱۱۶، مجموعہ اشتہارات ج۲ ص۴۴،
جدیدمجموعہ اشتہارات ج۱ ص۳۹۹)
’’عذاب کی میعاد ایک تقدیر معلق ہوتی ہے جو خوف اور رجوع سے دوسرے وقت پر جا پڑتی ہے۔ جیسا کہ تمام
قرآن اس پر شاہد ہے۔ لیکن نفس پیش گوئی یعنی اس عورت کا اس عاجز کے نکاح میں آنا، یہ تقدیر مبرم ہے۔ (یعنی
قطعی ویقینی ہے) جو کسی طرح ٹل نہیںسکتی۔ کیونکہ اس کے لئے الہام الٰہی میں یہ فقرہ موجود ہے کہ ’’لا تبدیل لکلمات اللہ ‘‘ یعنی میری یہ بات ہرگز نہیں ٹلے گی۔ پس اگر ٹل جائے تو خدا کا
کلام باطل ہوتا ہے۔‘‘
(مرزاقادیانی کا اعلان مؤرخہ ۶؍ستمبر ۱۸۹۴ء، مندرجہ تبلیغ رسالت ج۳ ص۱۱۵، مجموعہ اشتہارات ج۲ ص۴۳،
جدیدمجموعہ اشتہارات ج۱ ص۳۹۸،۳۹۹)
319
(۲۰) ناکامی کی تلخی
’’چاہئے تھا کہ ہمارے نادان مخالف (اس پیش گوئی کے) انجام کے منتظر رہتے اور پہلے ہی سے اپنی بدگوہری
ظاہر نہ کرتے۔ بھلا جس وقت یہ سب باتیں پوری ہوجائیں گی تو کیا اس دن یہ احمق مخالف جیتے ہی رہیں گے اور کیا
اس دن یہ تمام لڑنے والے سچائی کی تلوار سے ٹکڑے ٹکڑے نہیں ہوجائیں گے۔ ان بیوقوفوں کو کوئی بھاگنے کی جگہ
نہیں رہے گی اور نہایت صفائی سے ناک کٹ جائے گی اور ذلت کے سیاہ داغ ان کے منحوس چہروں کو بندروں اور سوروں
کی طرح کر دیں گے۔‘‘
(ضمیمہ انجام آتھم ص۵۴، خزائن ج۱۱ ص۳۳۷)
’’یاد رکھو اس پیش گوئی کی دوسری جزو پوری نہ ہوئی تو میں ہر ایک بد سے بدتر ٹھہروں گا۔ اے احمقو! یہ
انسان کا افتراء نہیں۔ یہ کسی خبیث مفتری کا کاروبار نہیں۔ یقینا سمجھو کہ یہ خدا کا سچا وعدہ ہے۔ وہی خدا
جس کی باتیں نہیں ٹلتیں۔‘‘
(ضمیمہ انجام آتھم ص۳۸، خزائن ج۱۱ ص۳۳۸)
’’میں (مرزاقادیانی) باربار کہتا ہوں کہ نفس پیش گوئی داماد احمد بیگ (سلطان محمد) کی تقدیر مبرم
(قطعی) ہے اس کی انتظار کرو اور اگر میں جھوٹا ہوں تو یہ پیش گوئی پوری نہیں ہوگی اور میری موت آجائے گی اور
اگر میں سچا ہوں تو خداتعالیٰ ضرور اس کو بھی ایسا ہی پورا کردے گا۔‘‘
(انجام آتھم ص۳۱، خزائن ج۱۱ ص۳۱ حاشیہ)
’’اور میں بالآخر دعا کرتا ہوں کہ اے خدائے قادر وعلیم! اگر آتھم کا عذاب مہلک میں گرفتار ہونا اور
احمد بیگ کی دختر کلاں کا آخر اس عاجز کے نکاح میں آنا یہ پیش گوئیاں تیری طرف سے ہیں تو ان کو ایسے طور سے
ظاہر فرما جو خلق اللہ پر حجت ہو اور کورباطن حاسدوں کا منہ بند ہو جائے اور اگر اے خداوندا یہ پیش گوئیاں
تیری طرف سے نہیں ہیں۔ تو مجھے نامرادی اور ذلت کے ساتھ ہلاک کر۔ اگر میں تیری نظر میں مردود اور ملعون اور
دجال ہی ہوں جیسا کہ مخالفوں نے سمجھا ہے۔‘‘
(اشتہار مرزاقادیانی ، انعامی چار ہزار روپیہ مؤرخہ ۲۷؍اکتوبر ۱۸۹۴ء، مندرجہ تبلیغ رسالت ج۳ ص۱۸۶،
مجموعہ اشتہارات ج۲ ص۱۱۵،۱۱۶، جدیدمجموعہ اشتہارات ج۱ ص۴۵۲)
(۲۱) کسی کی یاد
’’جب یہ پیش گوئی معلوم ہوئی اور ابھی پوری نہیں ہوئی تھی (جیسا کہ اب تک بھی جو ۱۶؍اپریل ۱۸۹۱ء سے
پوری نہیں ہوئی) تو اس کے بعد اس عاجز (مرزاقادیانی) کو ایک سخت بیماری آئی۔ یہاں تک کہ قریب موت کے نوبت
پہنچ گئی۔ بلکہ موت کو سامنے دیکھ کر وصیت بھی کر دی گئی۔ اس وقت گویا پیش گوئی آنکھوں کے سامنے آگئی اور یہ
معلوم ہورہا تھا کہ اب آخری دم ہے اور کل جنازہ نکلنے والا ہے۔ تب میں نے اس پیش گوئی کی نسبت خیال کیا کہ
شاید اس کے اور معنی ہوں گے جو میں سمجھ نہیں سکا۔ تب اسی حالت قریب الموت میں مجھے الہام ہوا: ’’الحق من ربک فلاتکونن من الممترین‘‘ یعنی یہ بات تیری رب کی طرف سے سچ ہے تو کیوں شک
کرتا ہے۔ اس وقت مجھ پریہ بھید کھلا کہ کیوں خداتعالیٰ نے اپنے رسول کریم کو قرآن میں کہا تو شک مت کر۔ سو
میں نے سمجھ لیا کہ درحقیقت یہ آیت ایسے ہی نازک وقت سے خاص ہے۔ جیسے یہ وقت تنگی اور نومیدی کا میرے پر ہے
اور میرے دل میں یقین ہوگیا کہ جب نبیوں پر بھی ایسا ہی وقت آجاتا ہے جو میرے پر آیا تو خداتعالیٰ تازہ یقین
دلانے کے لئے ان کو کہتا ہے کہ تو کیوں شک کرتا ہے اور مصیبت نے تجھے کیوں نوامید کردیا۔ تو ناامید مت ہو۔‘‘
(ازالہ اوہام حصہ اوّل ص۳۹۸،۳۹۹، خزائن ج۳ ص۳۰۵،۳۰۶)
(۲۲) آخری مایوسی
-
کوئی امید بر نہیں آتی
کوئی صورت نظر نہیں آتی
320
’’اور یہ امر کہ الہام میں یہ بھی تھا کہ اس عورت (محمدی بیگم) کا نکاح آسمان پر میرے ساتھ پڑھا گیا
ہے۔ یہ درست ہے مگر جیسا کہ ہم بیان کر چکے ہیں کہ اس نکاح کے ظہور کے لئے جو آسمان پر پڑھا گیا ہے۔ خدا کی
طرف سے ایک شرط بھی تھی جو اسی وقت شائع کی گئی تھی اور وہ یہ کہ ’’ایتہا المرائۃ توبی
توبی فان البلاء علی عقبک‘‘ پس جب ان لوگوں نے اس شرط کو پورا کر دیا تو نکاح فسخ ہوگیا۔ یا
تاخیر میں پڑ گیا۔‘‘ (تاہم فی الحال تاخیر کی امید بہتر ہے۔
-
بس ہجوم ناامیدی خاک میں مل جائے گی
وہ جو اک لذت ہماری سعی لاحاصل میں ہے۔ للمؤلف)
(تتمہ حقیقت الوحی ص۱۳۲،۱۳۳، خزائن ج۲۲ ص۵۷۰)
(۲۳) خاندانی ورثہ
-
ہم نے مانا کہ تغافل نہ کرو گے لیکن
خاک ہو جائیں گے ہم، تم کو خبر ہونے تک
بھلا یہ کیونکر ممکن تھا کہ جو آرزو مرزاقادیانی دنیا سے ساتھ لے گئے ان کے مخلص اس آرزو سے دست بردار
ہوجاتے۔ چنانچہ مرزاقادیانی کے رفیق مخلص اور جانشین صادق حکیم نورالدین خلیفہ اوّل قادیان نے مردہ امید میں
پھر جان ڈال دی۔ مرزاقادیانی نے بھی اس جدت طرازی کی ضرور داد دی ہوگی۔ چنانچہ غور فرمائیے۔
’’اب تمام اہل اسلام کو جو قرآن کریم پر ایمان لائے اور لاتے ہیں۔ ان آیات کا یاد دلانا مفید سمجھ کر
لکھتا ہوں کہ جب مخاطبت میں مخاطب کی اولاد، مخاطب کے جانشین اور اس کے مماثل داخل ہوسکتے ہیں تو احمد بیگ
کی لڑکی یا اس لڑکی کی لڑکی کیا داخل نہیں ہوسکتی اور کیا آپ کے علم فرائض میں بنات البنات (لڑکیوں کی
لڑکیوں) کو حکم بنات نہیں مل سکتا اور کیا مرزا کی اولاد مرزا کی عصبہ نہیں۔ میں نے بارہا عزیز میاں محمود
کو کہا کہ اگر حضرت کی وفات ہو جاوے اور یہ لڑکی نکاح میں نہ آوے تو میری عقیدت میں تزلزل نہیں آسکتا۔‘‘
(وہ عقیدت ہی کیا جس میں تزلزل آسکے۔ ایسے عقیدتمند اور نکتہ رس مرید تو قسمت ہی سے ملتے ہیں۔ لیکن
واقعات کو کیا کیجئے
کیا بنے بات جہاں بات بنائے نہ بنے ...للمؤلف)
(حکیم نورالدین کا مضمون ’’وفات مسیح موعود‘‘، ریویو آف ریلیجنز، قادیان ج۷ نمبر۶،۷ ص۲۷۹، بابت ماہ
جون، جولائی ۱۹۰۸ء)
(۲۴) اقرار ومعذرت
’’لیکن مولوی محمد علی صاحب قادیانی کی عقیدت میں ایسی جسارت نہ تھی جو بات تھی بلاتامل مان لی۔ ’’یہ
بھی سچ ہے کہ مرزاقادیانی نے کہا تھا کہ نکاح ہوگا اور یہ بھی سچ ہے کہ نکاح نہیں ہوا۔‘‘ لیکن مولوی صاحب نے
ساتھ ہی ایک معقول معذرت بھی شریک کر دی کہ ایک ہی بات کو لے کر باقی سب باتوں کو چھوڑ دینا ٹھیک نہیں۔ کسی
امر کا فیصلہ مجموعی طور پر کرنا چاہئے۔ جب تک سب کو نہ لیا جائے ہم نتیجہ پر نہیں پہنچ سکتے۔ صرف ایک پیش
گوئی کو لے کر بیٹھ جانا اور باقی پیش گوئیوں کو چھوڑ دینا۔ جن کی صداقت پر ہزاروں گواہیاں موجود ہیں۔ یہ
طریق انصار اور راہ صواب نہیں۔ صحیح نتیجہ پر پہنچنے کے لئے یہ دیکھنا چاہئے کہ تمام پیش گوئیاں پوری ہوئیں
یا نہیں۔‘‘
(اخبار پیغام صلح لاہور ج۸ نمبر۵۵ ص۵ کالم۳، مؤرخہ ۱۶؍جنوری ۱۹۲۱ء)
قادیانی معذرت یہ ہے کہ بعض پیش گوئیاں پوری ہو جانے کی صورت میں بعض پیش گوئیاں پوری نہ ہونے میں
چنداں مضائقہ نہیں۔ مگر قابل لحاظ یہ امر ہے کہ سب پیش گوئیاں اپنی قوت، اہمیت اور صراحت میں یکساں نہیں
ہوتیں۔ یہ شادی کی پیشگوئی بہرصورت
321
پوری ہو جاتی کہ اس کی تکمیل آسمان پر اور تشہیر زمین پر بخوبی ہوچکی تھی اور خود مرزاقادیانی نے اس
کو اپنے صدق وکذب کا معیار قرار دیا تھا۔ مزید برآں اس کی دھن میں گھر برباد ہوا۔ قدیم بیوی کو طلاق ملی
جوان لڑکے عاق ہوئے۔ گھر کنبے میں نفاق پڑا۔ علالت میں حالت مرگ تک پہنچی تو بھی پیش گوئی دل سے جدا نہ
ہوسکی۔ لیکن وائے قسمت پوری ہونی تھی نہ ہوئی۔
-
ہوئی مدت کہ غالب مر گیا پر یاد آتا ہے
وہ ہر اک بات پر کہنا کہ یوں ہوتا تو کیا ہوتا (للمؤلف)
(۲۵) پھجے دی ماں
’’بیان کیا مجھ سے والدہ صاحبہ نے کہ حضرت مسیح موعود کو اوائل سے ہی مرزافضل احمد کی والدہ سے جن کو
لوگ عام طور پر ’’پھجے دی ماں‘‘ کہا کرتے تھے بے تعلقی سی تھی۔ جس کی وجہ یہ تھی کہ حضرت صاحب کے رشتہ داروں
کو دین سے سخت بے رغبتی تھی۔ (غالباً مرزاقادیانی کے معتقد نہ ہوں گے۔ للمؤلف) اور ان کا ان کی طرف میلان
تھا اور وہ اسی رنگ میں رنگین تھیں۔ اس لئے حضرت مسیح موعود نے ان سے مباشرت ترک کر دی تھی۔ (بہرحال دو لڑکے
مرزاسلطان احمد اور مرزافضل احمد تو اسی بیوی سے پیداہوئے۔ للمؤلف) ہاں! آپ اخراجات وغیرہ باقاعدہ دیا کرتے
تھے۔ والدہ صاحبہ نے فرمایا کہ میری شادی کے بعد حضرت صاحب نے انہیں کہلا بھیجا کہ آج تک تو جس طرح ہوتا رہا
سو ہوتا رہا۔ اب میں نے دوسری شادی کر لی ہے۔ اس لئے اب اگر دونوں بیویوں میں برابری نہیں رکھوں گا تو میں
گنہگار ہوں گا۔ اس لئے اب دو باتیں ہیں یا تو تم مجھ سے طلاق لے لو اور یا مجھے اپنے حقوق چھوڑ دو۔ میں تم
کو خرچ دئیے جاؤں گا۔ انہوں نے کہلا بھیجا کہ اب میں بڑھاپے میں کیا طلاق لوں گی۔ بس مجھے خرچ ملتا رہے۔
میں اپنے باقی حقوق چھوڑتی ہوں۔ والدہ صاحبہ فرماتی ہیں: چنانچہ پھر ایسا ہی ہوتا رہا۔ حتیٰ کہ محمدی بیگم
کا سوال اٹھا اور آپ کے رشتہ داروں نے مخالفت کر کے محمدی بیگم کا نکاح دوسری جگہ کرادیا اور فضل احمد کی
والدہ نے ان سے قطع تعلق نہ کیا۔ بلکہ ان کے ساتھ رہیں۔ تب حضرت صاحب نے ان کو طلاق دے دی۔ خاکسار عرض کرتا
ہے کہ حضرت صاحب کا یہ طلاق دینا آپ کے اس اشتہار کے مطابق تھا جو آپ نے ۲؍مئی ۱۸۹۱ء کو شائع کیا تھا اور جس
کی سرخی تھی۔ ’’اشتہار نصرت دین وقطع تعلق از اقارب مخالف دین۔‘‘
(سیرت المہدی حصہ اوّل ص۲۶،۲۷، روایت نمبر۴۰، جدید ج۱ حصہ اوّل ص۳۰، روایت نمبر۴۱)
(۲۶) دوسری بیوی
’’خاکسار عرض کرتا ہے کہ حضرت والدہ صاحبہ کا نام نصرت جہاں بیگم ہے اور والدہ صاحبہ فرماتی ہیں کہ ان
کا مہر میرصاحب کی تجویز پر گیارہ سو روپے مقرر ہوا تھا۔ خاکسار عرض کرتا ہے کہ ہمارے نانا صاحب کا نام
میرناصر نواب ہے۔ میرصاحب خواجہ میردرد صاحب دہلوی کے خاندان سے ہیں اور پنجاب کے محکمہ نہر میں ملازم تھے
اور قریباً عرصہ پچیس سال سے پنشن پر ہیں۔ شروع شروع میں میر صاحب نے حضرت مسیح موعود کی کچھ مخالفت کی تھی۔
لیکن جلد ہی تائب ہوکر بیعت میں شامل ہوگئے۔‘‘
(سیرت المہدی حصہ اوّل ص۲۳۸، روایت نمبر۲۵۸، جدید ج۱ حصہ اوّل ص۳۳۸، روایت نمبر۲۶۳)
اس دوسری شادی کے وقت مرزاقادیانی کی عمرپچاس سال سے متجاوز تھی اور صحت کا کیا ذکر گویا دائم المریض
تھے۔ نامردی کا بھی شبہ ہوتا تھا۔ تاہم اولاد کی تعداد کافی رہی۔ یعنی دس، حالانکہ پہلی بیوی سے کل دو ہی
لڑکے پیدا ہوئے اور ان میں بھی بڑا لڑکا سلطان احمد مرزاقادیانی کی نوعمری ہی میں پیدا ہوگیا تھا۔ غرض کہ
عجیب سلسلہ رہا۔ (للمؤلف)
322
(۲۷) مہر
’’خاکسار (مرزابشیراحمد) عرض کرتا ہے کہ جب ہماری ہمشیرہ مبارکہ بیگم کا نکاح حضرت صاحب (مرزاقادیانی)
نے نواب محمد علی خاں صاحب کے ساتھ کیا تو مہر چھپن ہزار روپے مقرر کیاگیا تھا اور حضرت صاحب نے مہرنامہ کی
باقاعدہ رجسٹری کروا کے اس پر بہت سے لوگوں کو شہادتیں ثبت کروائی تھیں اور جب حضرت صاحب کی وفات کے بعد
ہماری چھوٹی ہمشیرہ امۃ الحفیظ بیگم کا نکاح خان محمد عبد اللہ خاں صاحب کے ساتھ ہوا تو مہر پندرہ ہزار مقرر
کیاگیا اور یہ مہرنامہ بھی باقاعدہ رجسٹری کرایا گیا تھا۔ لیکن ہم تینوں بھائیوں میں سے جن کی شادیاں حضرت
صاحب (مرزاقادیانی) کی زندگی میں ہوگئی تھیں۔ کسی کا مہرنامہ تحریر ہوکر رجسٹری نہیں ہوا اور مہر ایک ایک
ہزار روپیہ مقرر ہوا تھا۔‘‘
(سیرت المہدی حصہ دوم ص۵۳، روایت نمبر۳۶۷، جدید ج۱ حصہ دوم ص۳۳۸، روایت نمبر۳۶۹)
(۲۸) اولاد
’’۲۱؍ستمبر ۱۹۰۱ء… خداتعالیٰ بہتر جانتا ہے کہ مجھے کبھی اولاد کی خواہش نہیں ہوئی تھی۔ حالانکہ
خداتعالیٰ نے پندرہ یا سولہ برس کی عمر کے درمیان ہی اولاد دے دی تھی۔ یہ سلطان احمد اور فضل احمد قریباً
اسی عمر میں پیدا ہوگئے تھے۔‘‘
(ملفوظات ج۲ ص۳۷۲، جدید ملفوظات ج۱ ص۵۶۲، منقول از منظور الٰہی ص۳۴۳، مرتبہ منظور الٰہی قادیانی)
’’خاکسار (مرزابشیراحمد) عرض کرتا ہے کہ بڑی بیوی سے حضرت مسیح موعود کے دو لڑکے پیدا ہوئے۔ یعنی
مرزاسلطان احمد صاحب اور مرزافضل احمد۔ حضرت صاحب ابھی گویا بچہ ہی تھے کہ مرزاسلطان احمد پیدا ہو گئے تھے۔
(اسے مرزاقادیانی کی نبوت کا معجزہ یا حکیم نورالدین کی کرامت ہی قرار دیا جاسکتا ہے۔ للمؤلف) اور ہماری
والدہ صاحب سے حضرت مسیح موعود کی مندرجہ ذیل اولاد پیدا ہوئی۔
| شمار |
نام |
ولادت |
وفات |
| ۱ |
عصمت |
۱۸۸۶ء |
۱۸۹۱ء |
| ۲ |
بشیراحمد |
۱۸۸۷ء |
۱۸۸۸ء |
| ۳ |
مرزابشیرالدین محمود احمد |
۱۸۸۹ء |
(۱۹۶۵ء) |
| ۴ |
شوکت |
۱۸۹۱ء |
۱۸۹۲ء |
| ۵ |
خاکسار مرزابشیراحمد |
۱۸۹۳ء |
۱۹۶۳ء |
| ۶ |
مرزاشریف احمد |
۱۸۹۵ء |
(۱۹۶۱ء) |
| ۷ |
مبارکہ بیگم |
۱۸۹۷ء |
(۱۹۷۷ء) |
| ۸ |
مبارک احمد |
۱۸۹۹ء |
۱۹۰۷ء |
| ۹ |
امۃ النصیر |
۱۹۰۳ء |
۱۹۰۳ء |
| ۱۰ |
امۃ الحفیظ |
۱۹۰۴ء |
(۱۹۸۷ء) |
(سیرت المہدی حصہ اوّل ص۴۰، روایت نمبر۵۸، جدید ج۱ حصہ اوّل ص۴۷، روایت نمبر۵۹)
323
(۲۹) تیسری شادی کی آرزو
’’مخدومی مکرمی اخویم مولوی نورالدین صاحب سلمہ اللہ تعالیٰ۔ السلام علیکم ورحمۃ اللہ
وبرکاتہ، جو عنایات خداوند کریم جل شانہ کے اس عاجز کے شامل حال ہیں ان کے بارے میں ہمیشہ یہی دل
چاہتا ہے کہ جو اپنے دوستوں سے کچھ اس میں بیان کرتا رہوں اور بحکم ’’واما بنعمۃ ربک
فحدث‘‘ تحدیث نعمت کا ثواب حاصل کروں۔ سو آج آپ سے بھی جو میرے مخلص دوست ہیں ایک واقعہ پیش گوئی
کا بیان کرتاہوں۔ شاید چار ماہ کا عرصہ ہوا کہ اس عاجز پر ظاہر کیاگیا تھا کہ ایک فرزند قوی الطاقتین۔ کامل
الظاہر والباطن تم کو عطاء کیا جاوے گا۔ اس کا نام بشیر ہوگا۔ سو اب تک میرا قیاسی طور پر خیال تھا کہ شاید
وہ فرزند مبارک اسی اہلیہ سے ہوگا۔ اب زیادہ ترالہام اس بات میں ہورہے ہیں کہ عنقریب ایک اور نکاح تمہیں
کرنا پڑے گا اور جناب الٰہی میں یہ بات قرار پاچکی ہے کہ ایک پارسا طبع اور نیک سیرۃ اہلیہ تمہیں عطاء ہوگی۔
وہ صاحب اولاد ہوگی۔ اس میں تعجب کی بات یہ ہے کہ جب الہام ہوا تو ایک کشفی عالم میں چار پھل مجھ کو دئیے
گئے۔ تین ان میں سے تو آم کے پھل تھے۔ مگر ایک پھل سبز رنگ کا بہت بڑا تھا۔ وہ اس جہاں کے پھلوں سے مشابہ
نہیں تھا۔ اگرچہ ابھی یہ الہامی بات نہیں مگر میرے دل میں یہ پڑا ہے کہ وہ پھل جو اس جہان کے پھلوں میں سے
نہیں ہے وہی مبارک لڑکا ہے۔ کیونکہ کچھ شک نہیں کہ پھلوں سے مراد اولاد ہے اور جب کہ ایک پارسا طبع اہلیہ کی
بشارت دی گئی ہے اور ساتھ ہی کشفی طور پر چار پھل دئیے گئے۔ جن میں سے ایک پھل الگ وضع کا ہے سو یہی سمجھا
جاتا ہے۔ (و اللہ اعلم بالصواب)
ان دنوں میں اتفاقاً نئی شادی کے لئے دو شخصوں نے تحریک کی تھی۔ مگر جب ان کی نسبت استخارہ کیاگیا تو
ایک عورت کی نسبت جواب ملا کہ اس کی قسمت میں ذلت ومحتاجگی بے عزتی ہے اور اس لائق نہیں کہ تمہاری اہلیہ ہو
اور دوسری کی نسبت اشارہ ہوا کہ اس کی شکل اچھی نہیں۔ گویا یہ اس بات کی طرف اشارہ تھا کہ صاحب صورت وصاحب
سیرت لڑکا جس کی بشارت دی گئی ہے وہ برعایت مناسبت ظاہری اہلیہ جمیلہ وپارسا طبع سے پیدا ہوسکتا ہے۔ (و اللہ اعلم بالصواب)
اب مخالفین آنکھوں کے اندھے اعتراض کرتے ہیں کہ کیوں اب کی دفعہ لڑکا پیدا نہیں ہوا۔ ان کے ابطال میں
ایک دوست نے اشتہارات شائع کئے ہیں۔ مگر میری دانست میں اس لڑکے کے تولد سے پہلے ضروری معلوم ہوتا ہے کہ یہ
تیسری شادی ہو جاوے۔ کیونکہ اس تیسری شادی میں اولاد ہونے کے اشارات پائے جاتے ہیں۔ غالباً اس تیسری شادی کا
وقت نزدیک ہے۔ اب دیکھیں کہ کس جگہ ارادہ ازلی نے اس کا ظہور مقرر کر رکھا ہے۔ الہامات اس بارے میں کثرت سے
ہوئے ہیں اور بانی ارادہ میں کچھ جوش سا پایا جاتا ہے۔ ’’و اللہ یفعل مایشاء وہو علی کل شیٔ
قدیر ‘‘ والسلام… (خاکسار: غلام احمد عفی عنہ از قادیان، مؤرخہ ۸؍جون ۱۸۸۶ء)‘‘
(مکتوبات احمدیہ ج۵ نمبر۲ ص۵،۶، جدید مکتوبات احمد ج۲ ص۱۲،۱۳، مکتوب نمبر۴)
’’مخدومی مکرمی اخویم مولوی نورالدین صاحب سلمہ تعالیٰ۔ السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ، عنایت نامہ
پہنچا۔ اس عاجز نے جو آپ کی طرف لکھا تھا وہ صرف دوستانہ طور پر بعض اسرار الہامیہ پر مطلع کرنے کی غرض لکھا
گیا۔ کیونکہ اس عاجز کی یہ عادت ہے کہ اپنے احباب کو ان کی قوت ایمانی بڑھانے کی غرض سے کچھ کچھ امور غیبیہ
بتلادیتا ہے اور اصل حال اس عاجز کا یہ ہے کہ جب سے اس تیسرے نکاح کے لئے اشارہ غیبی ہوا ہے تب سے خود طبیعت
متفکر ومتردد ہے اور حکم الٰہی سے گریز کی جگہ نہیں مگر بالطبع کارہ ہے اور ہر چند اوّل اوّل یہ چاہا کہ یہ
امر غیبی موقوف رہے۔ لیکن متواتر الہامات وکشوف اس بات پر دلالت کر رہے ہیں کہ یہ تقدیر مبرم ہے۔ والسلام!
(خاکسار: غلام احمد عفی عنہ،
324
، مؤرخہ ۲۰؍جون ۱۸۸۶ء)‘‘
(مکتوبات احمدیہ ج۵ نمبر۲ ص۸، جدیدمکتوبات احمد ج۲ ص۱۵، مکتوب نمبر۵)
’’براہین احمدیہ میں بھی اس وقت سے سترہ برس پہلے اس پیش گوئی کی طرف اشارہ فرمایا گیا ہے جو اس وقت
میرے پر کھولا گیا ہے اور وہ یہ الہام ہے جو براہین کے ص۴۹۶ میں مذکورہ ہے۔ ’’یاادم اسکن
انت وزوجک الجنۃ یامریم اسکن انت وزوجک الجنۃ یا احمد اسکن انت وزوجک الجنۃ‘‘ اس جگہ تین جگہ زوج
کا لفظ آیا ہے اور تین نام اس عاجز کے رکھے گئے۔ پہلا نام آدم یہ وہ ابتدائی نام ہے جب کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے
ہاتھ سے اس عاجز کو روحانی وجود بخشا۔ اس وقت پہلی زوجہ کا ذکر فرمایا۔ پھر دوسری زوجہ کے وقت میں مریم نام
رکھا۔ کیونکہ اس وقت مبارک اولاد دی گئی جس کو مسیح سے مشابہت ملی… اور تیسری زوجہ جس کی انتظار ہے اس کے
ساتھ احمد کا لفظ شامل کیاگیا اور یہ لفظ احمد اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ اس وقت حمد اور تعریف ہوگی۔ یہ ایک
چھپی ہوئی پیش گوئی ہے جس کا سر اس وقت خداتعالیٰ نے مجھ پر کھول دیا۔ غرض یہ تین مرتبہ زوج کا لفظ تین
مختلف نام کے ساتھ جو بیان کیاگیا ہے وہ اسی پیش گوئی کی طرف اشارہ تھا۔ (یہ تحریر ۲۲؍جنوری ۱۸۹۷ء میں شائع
ہوئی۔ للمؤلف)‘‘
(ضمیمہ انجام آتھم ص۵۴، خزائن ج۱۱ ص۳۳۸)
(۳۰) ایک کنواری ایک بیوہ
’’ایک دفعہ جس کو قریباً اکیس برس کا عرصہ ہوا ہے مجھ کو یہ الہام ہوا… اور اس زمانہ کے قریب ہی یہ
بھی الہام ہوا تھا کہ بکروثیب یعنی ایک کنواری اور ایک بیوہ تمہارے نکاح میں آئے گی۔ (اکیس برس بعد الہام
یاد آیا اور امید تھی کہ محمدی بیگم کنواری نہیں تو بیوہ ہوکر عقد میں آئے گی۔ مگر مرزاقادیانی کی وفات تک
وہ سہاگن بنی رہی اور بیوہ نہ ہوئی۔ للمؤلف)‘‘
(تریاق القلوب ص۷۰، خزائن ج۱۵ ص۲۸۷،حاشیہ)
’’تخمیناً اٹھارہ برس کے قریب عرصہ گزرا ہے کہ مجھے کسی تقریب سے مولوی محمد حسین بٹالوی ایڈیٹر رسالہ
اشاعۃ السنہ کے مکان پر جانے کا اتفاق ہوا۔ اس نے مجھ سے دریافت کیا کہ آج کل کوئی الہام ہوا ہے۔ میں نے اس
کو یہ الہام سنایا جس کو میں کئی دفعہ اپنے مخلصوں کو سنا چکا تھا اور وہ یہ ہے کہ ’’بکروثیب‘‘ جس کے یہ معنی ان کے آگے اور نیز ہرایک کے آگے میں نے ظاہر کئے کہ
خداتعالیٰ کا ارادہ ہے کہ وہ دو عورتیں میرے نکاح میں لائے گا۔ ایک بکر ہوگی اور دوسری بیوہ۔ چنانچہ یہ
الہام جو بکر کے متعلق تھا، پورا ہوگیا اور اس وقت بفضلہ تعالیٰ چار پسر اس بیوی سے موجود ہیں اور بیوہ کے
الہام کی انتظار ہے۔‘‘
(تذکرہ ص۳۹، طبع چہارم، تریاق القلوب ص۳۴، خزائن ج۱۵ ص۲۰۱)
’’نوٹ از مرتب تذکرہ: یہ الہام الٰہی اپنے دونوں پہلوؤں سے حضرت ام المؤمنین (مرزاقادیانی کی بیوی
نصرت جہاں بیگم) کی ذات میں ہی پورا ہوا ہے جو بکر یعنی کنواری آئیں اور ثیب یعنی بیوہ رہ گئیں۔ (یہ تاویل
قادیانی تاویلات کا اچھا نمونہ ہے۔ یعنی مرزاقادیانی کی بیوی بیوہ ہوگئیں۔ تو گویا مرزاقادیانی کا بیوہ سے
نکاح ہوگیا اور اس طرح پیش گوئی پوری ہوگئی۔ مرزاقادیانی کی اکثر پیش گوئیاں اسی انداز سے پوری ہوئیں اور
اسی طرح کی تاویلات قادیانی جماعت کا ایمانی سرمایہ ہیں۔ للمؤلف)‘‘
(تذکرہ ص۳۹ حاشیہ، طبع چہارم)
(۳۱) خواتین مبارکہ
’’پھر خدائے کریم جل شانہ نے مجھے بشارت دے کر کہا کہ تیرا گھر برکت سے بھرے گا اور میں اپنی نعمتیں
تجھ پر پوری کروں گا اور خواتین مبارکہ سے جن میں سے تو بعض کو اس کے بعد پائے گا تیری نسل بہت ہوگی۔‘‘
(مرزاقادیانی کا الہام مؤرخہ ۲۰؍فروری ۱۸۸۶ء، مندرجہ تبلیغ رسالت ج۱ ص۶۰، مجموعہ اشتہارات ج۱ ص۱۰۲،
جدیدمجموعہ اشتہارات ج۱ ص۹۶)
325
’’اس عاجز نے ۲۰؍فروری ۱۸۸۶ء کے اشتہار میں یہ پیش گوئی خداتعالیٰ کی طرف سے بیان کی تھی کہ اس نے
مجھے بشارت دی ہے کہ بعض بابرکت عورتیں اس اشتہار کے بعد بھی تیرے نکاح میں آئیں گی اور ان سے اولاد پیدا
ہوگی۔‘‘
(مرزاقادیانی کا اشتہار ستمبر۱۸۸۶ء، مندرجہ تبلیغ رسالت ج۱ ص۸۹، مجموعہ اشتہارات ج۱ ص۱۳۰، جدیدمجموعہ
اشتہارات ج۱ ص۱۱۳)
واقعہ یہ ہے کہ مرزاغلام احمد قادیانی کی دو شادیاں ہوئیں۔ پہلی بیوی کو تو مندرجہ بالا الہام کے
اعلان کے کچھ عرصہ بعد طلاق مل گئی تھی اور دوسری بیوی جو آخر تک باقی رہی وہ اس اعلان کے وقت بھی موجود
تھی۔ چنانچہ ۱۸۸۶ء میں پہلی لڑکی عصمت پیدا ہوئی۔ مزید برآں مرزاقادیانی نے بہت کوشش کی کہ محمدی بیگم کے
ساتھ بھی شادی ہوجائے۔ حتیٰ کہ پہلے سے اعلان کر دیا کہ اس سے آسمان پر نکاح ہوگیا اور زمین پر بھی ضرور
ہوگا۔ چنانچہ اس کی تفصیل کتاب میں موجود ہے۔ لیکن وائے قسمت کہ نکاح ہونا تھا نہ ہوا۔ پھر نہ معلوم اور کون
’’خواتین مبارکہ‘‘ تھیں جن کے ملنے کی اور جن سے نسل بڑھنے کی مرزاقادیانی کو بشارت ملی تھی اور نہ معلوم کس
طرح ان سے نسل بڑھی۔ بظاہر تو صرف وہی ایک بیوی تھی جس سے بعد میں اولاد ہوتی رہی اور جو اعلان الہام کے وقت
موجود تھی۔ (للمؤلف)
(۳۲) نامردی کا یقین
’’بخدمت اخویم مخدوم مکرم مولوی حکیم نورالدین سلمہ اللہ تعالیٰ … السلام علیکم ورحمۃ
اللہ وبرکاتہ،
۱… جس قدر ضعف دماغ کے عارضہ میں یہ عاجز مبتلا ہے مجھے یقین نہیں کہ آپ کو ایسا ہی عارضہ ہو۔ جب میں
نے نئی شادی کی تھی تو مدت تک مجھے یقین رہا کہ میں نامرد ہوں۔ (پھر شادی کس بھروسہ پر کی۔ اوّل صحت درست
کرنا لازم تھا۔ ورنہ فتنہ کا اندیشہ تھا۔ للمؤلف) آخر میں نے صبر کیا۔ (آپ سے زیادہ صبر آپ کی اہلیہ صاحبہ
پر لازم ہوا۔ پھر بھی معلوم ہوا کہ اولاد شادی کے بعد جلد ہی شروع ہوگئی۔ للمؤلف،نورالدین کے کمالات کا
بیان۔ فقیر) اور دعا کرتا رہا تو اللہ جل شانہ نے اس دعا کو قبول فرمایا اور ضعف قلب تواب بھی مجھے اس قدر ہے
کہ میں بیان نہیں کر سکتا۔ (خاکسار: غلام احمد قادیانی، ۲۲؍فروری ۱۸۸۷ء)
(مکتوبات احمدیہ ج۵ نمبر۲ ص۲۱، مکتوب نمبر۱۴، جدیدمکتوبات احمد ج۲ ص۲۷، مکتوب نمبر۱۵)
۲… ایک میرے دوست سامانہ علاقہ پٹیالہ میں ہیں جن کا نام مرزامحمد یوسف بیگ ہے۔ انہوں نے کئی دفعہ ایک
معجون بنا کر بھیجی ہے جس میں کچلہ مدبر داخل ہوتا ہے۔ وہ معجون میرے تجربہ میں آیا ہے کہ اعصاب کے لئے
نہایت مفید ہے اور امراض رعشہ وفالج اور تقویت دماغ اور قوت باہ اور نیز تقویت معدہ کے لئے فائدہ مند ہے۔
مدت سے میرے استعمال میں ہے۔ اگر آپ اس کو استعمال کرنا قرین مصلحت سمجھیں تو میں کسی قدر جو میرے پاس ہے
بھیج دوں… (خاکسار: مرزاغلام احمد قادیانی، ۲۳؍جنوری ۱۸۸۸ء)‘‘
(مکتوبات احمدیہ ج۵ نمبر۲ ص۵۵، جدید مکتوبات احمد ج۲ ص۵۶،۵۷، مکتوب نمبر۳۵)
(۳۳) محک امتحان
’’بدخیال لوگوں کو واضح ہو کہ ہمارا صدق یا کذب جانچنے کے لئے ہماری پیش گوئی سے بڑھ کر اور کوئی محک
امتحان نہیں ہوسکتا۔‘‘
(مرزاقادیانی کا اشتہار مؤرخہ ۱۰؍جولائی ۱۸۸۸ء، مندرجہ تبلیغ رسالت ج۱ ص۱۱۸، مجموعہ اشتہارات ج۱
ص۱۵۹، جدیدمجموعہ اشتہارات ج۱ ص۱۳۸، آئینہ کمالات اسلام ص۲۸۸، خزائن ج۵ ص۲۸۸)
326
فصل نویں
معاملات
(۱) دہلی کی شادی
’’(۸۷)ستائیسواں نشان (نبوت) یہ پیش گوئی ہے کہ میری اس شادی کے بارے میں جو دہلی میں ہوئی تھی
خداتعالیٰ کی طرف سے مجھے یہ الہام ہوا تھا کہ: ’’الحمد اللہ الذی جعل لکم الصہر
والنسب‘‘ یعنی اس خدا کو تعریف ہے جس نے تمہیں دامادی اور نسب دونوں طرف سے عزت دی یعنی تمہاری
نسب کو بھی شریف بنایا اور تمہاری بیوی بھی سادات میں سے آئے گی۔ یہ الہام شادی کے لئے ایک پیش گوئی تھی۔ جس
سے مجھے یہ فکر پیدا ہوا کہ شادی کے اخراجات کو کیونکر میں انجام دوں گا کہ اس وقت میرے پاس کچھ نہیں اور
نیز کیونکر میں ہمیشہ کے لئے اس بوجھ کا متحمل ہوسکوں گا تو میں نے جناب الٰہی میں دعا کی کہ ان اخراجات کی
مجھ میں طاقت نہیں۔ تب یہ الہام ہوا کہ ؎
-
ہرچہ باید نو عروسی را ہمہ سامان کنم
وآنچہ درکار شما باشد عطائے آن کنم
یعنی جو کچھ تمہیں شادی کے لئے درکار ہوگا تمام سامان اس کا میں آپ کروں گا اور جو کچھ تمہیں وقتاً
فوقتاً حاجت ہوتی رہے گی آپ دیتا رہوں گا۔ چنانچہ ایسا ہی ظہور میں آیا۔ شادی کے لئے جو کسی قدر مجھے روپیہ
درکار تھا ان ضروری اخراجات کے لئے منشی عبدالحق صاحب اکاؤنٹنٹ لاہوری نے پانچ سو روپیہ مجھے قرضہ دیا اور
ایک اور صاحب حکیم محمد شریف نام ساکن کلانور نے جو امرتسر میں طبابت کرتے تھے دوسوروپیہ یا تین سو روپیہ
مجھے بطور قرض دیا۔ اس وقت منشی عبدالحق صاحب اکاؤنٹنٹ نے مجھے کہا کہ ہندوستان میں شادی کرنا ایسا ہے جیسا
کہ ہاتھی کو اپنے دروازہ پر باندھنا۔ میں نے ان کو جواب دیا کہ ان اخراجات کا خدا نے خود وعدہ فرمادیا ہے۔
پھر شادی کرنے کے بعد سلسلہ فتوحات کا شروع ہوگیا اور یا وہ زمانہ تھاکہ بباعث تفرقہ وجوہ معاش پانچ سات
آدمی کا خرچ بھی میرے پر ایک بوجھ تھا اور یا اب وہ وقت آگیا بحساب اوسط تین سو آدمی ہرروز مع عیال واطفال
اور ساتھ اس کے کئی غرباء اور درویش اس لنگر خانہ میں روٹی کھاتے ہیں اور یہ پیش گوئی لالہ شرمپت آریہ اور
ملاوامل آریہ ساکنان قادیان کو بھی قبل از وقت سنائی گئی تھی اور شیخ حامد علی اور چند اور واقف کاروں کو اس
سے اطلاع دی گئی تھی اور منشی عبدالحق اکاؤنٹنٹ لاہوری اگرچہ اس وقت مخالفین کے زمرہ میں ہیں۔ مگر میں امید
نہیں رکھتا کہ وہ اسی سچی شہادت کا اخفا کریں۔‘‘
(حقیقت الوحی ص۲۳۵،۲۳۶، خزائن ج۲۲ ص۲۴۷،۲۴۸)
(۲) املاک، آمدنی اور خرچ
’’اگر میری تائید میں خدا کا فیصلہ نہ ہوتو میں اپنی کل املاک منقولہ وغیرہ جو دس ہزار روپیہ کی قیمت
سے کم نہیں ہوں گی عیسائیوں کو دے دوں گا۔‘‘
(اشتہار مؤرخہ ۱۴؍ستمبر ۱۸۹۶ء، مندرجہ تبلیغ رسالت ج۵ ص۲۴، مجموعہ اشتہارات ج۲ ص۲۵۱، جدیدمجموعہ
اشتہارات ج۱ ص۵۷۵)
’’مرزاغلام احمد پر امسال ۷۲۰۰روپیہ اس کی سالانہ آمدنی قرار دے کر ایک سو ستاسی روپیہ آٹھ آنہ انکم
ٹیکس قرار دیا گیا۔ اس کی عذرداری پر اس کا اپنا بیان خاص موضع قادیان میں جب کہ کم ترین بتقریب دورہ اس طرف
گیا، لیاگیا اور تیراں کس گواہان کی شہادت قلمبند
327
کی گئی۔ مرزاغلام احمد قادیانی نے اپنے بیان حلفی میں لکھوایا کہ اس کو تعلقہ داری زمین اور باغ کی
آمدنی ہے، تعلقہ داری کی سالانہ تخمیناً بیاسی روپیہ دس آنے کی زمین کی تخمیناً تین سو روپیہ سالانہ کی اور
باغ کی سالانہ تخمیناً دوسوتین سو روپیہ، چار سو اور حد درجہ پانچ سو روپیہ کی آمدنی ہوتی ہے۔ اس کے علاوہ
اس کو کسی قسم کی اور آمدنی نہیں ہے۔ مرزاغلام احمد قادیانی نے یہ بھی بیان کیا کہ اس کو تخمیناً پانچ ہزار
دو سو روپیہ سالانہ مریدوں سے اس سال پہنچا ہے۔ ورنہ اوسط سالانہ آمدنی تقریباً چار ہزار روپیہ کے ہوتی ہے۔
وہ پانچ مدوں میں جن کا اوپر ذکر کیاگیا خرچ ہوتی ہے اور اس کے ذاتی خرچ میں نہیں آتی۔ خرچ اور آمدنی کا
حساب باضابطہ کوئی نہیں ہے۔ صرف یاداشت سے تخمیناً لکھوایا ہے۔
مرزاغلام احمد قادیانی نے یہ بھی بیان کیا کہ اس کی ذاتی آمدنی باغ زمین اور تعلقہ داری کی اس کے خرچ
کے لئے کافی ہے اور اس کو کچھ ضرورت نہیں ہے کہ وہ مریدوں کا روپیہ ذاتی خرچ میں لاوے۔‘‘
(ضرورۃ الامام ص۴۵، خزائن ج۱۳ ص۵۱۶)
’’اب ہمیں یہ دیکھنا ہے کہ مہدی مسعود (مرزاغلام احمد قادیانی) اپنی زندگی میں اپنے اہل وعیال اور
اقارب کو اسی آمد میں سے خرچ دیتے تھے جو جماعت کی طرف سے آپ کی خدمت میں پیش ہوتی تھی یا کسی اور سبیل سے۔
یہ بات ہر ایک فرد جانتا ہے کہ حضور (مرزاقادیانی) اسی آمد سے خرچ دیا کرتے تھے۔ پس آپ کے بعد انجمن (احمدیہ
قادیان) کا یہ فرض ہے کہ ان کو اسی آمد میں سے اسی انداز پر دیں جس طرح حضرت مسیح موعود دیتے تھے۔ کیونکہ
انجمن مسیح موعود سے بڑھ کر امین نہیں ہوسکتی۔‘‘
(اظہار حقیقت ص۱۳، مؤرخہ ۲۸؍نومبر ۱۹۱۳ء، جس کو قادیانیوں کی انجمن انصار اللہ قادیان نے شائع کیا)
(۳) ٹیچی
’’۱۴۷نشان۔ ایک دفعہ مارچ ۱۹۰۵ء کے مہینے میں بوقت قلت آمدنی لنگر خانہ کے مصارف میں بہت دقت ہوئی۔
کیونکہ کثرت سے مہمانوں کی آمد تھی اور اس کے مقابل پر روپیہ کی آمدنی کم۔ اس لئے دعا کی گئی۔ ۵؍مارچ ۱۹۰۵ء
کو میں نے خواب میں دیکھا کہ ایک شخص جو فرشتہ معلوم ہوتا تھا، میرے سامنے آیا اور اس نے بہت سا روپیہ میرے
دامن میں ڈال دیا۔ میں نے اس کا نام پوچھا اس نے کہا نام کچھ نہیں۔ میں نے کہا آخر کچھ تو نام ہوگا۔ اس نے
کہا میرا نام ہے ٹیچی، ٹیچی، پنجابی زبان میں وقت مقررہ کو کہتے ہیں۔ یعنی عین ضرورت کے وقت پر آنے والا تب
میری آنکھ کھل گئی۔ بعد اس کے خداتعالیٰ کی طرف سے کیا، ڈاک کے ذریعہ سے اور کیا براہ راست لوگوں کے ہاتھوں
سے اس قدر مالی فتوحات ہوئیں جن کا خیال وگمان نہ تھا اور کئی ہزار روپیہ آگیا۔ چنانچہ جو شخص اس کی تصدیق
کے لئے صرف ڈاکخانہ کے رجسٹر ہی ۵؍مارچ ۱۹۰۵ء سے اخیر سال تک دیکھے اس کو معلوم ہوگا کہ کس قدر روپیہ آیا
تھا۔‘‘
(حقیقت الوحی ص۳۳۲، خزائن ج۲۲ ص۳۴۵،۳۴۶)
(۴) رانی، درشنی
’’اس عاجز (مرزاقادیانی) کو بھی اس بات کا ذاتی تجربہ ہے کہ بعض اوقات خواب یا کشف میں روحانی امور
جسمانی شکل پر متشکل ہوکر مثل انسان نظر آجاتے ہیں۔ مجھے یاد ہے کہ جب میرے والد صاحب غفر اللہ لہ جو ایک معزز
رئیس اور اپنی نواح میں عزت کے ساتھ مشہور تھے، انتقال کر گئے تو ان کے فوت ہونے کے بعد دوسرے یا تیسرے روز
ایک عورت نہایت خوبصورت خواب میں میں نے دیکھی جس کا حلیہ ابھی تک میری آنکھوں کے سامنے ہے اور اس نے بیان
کیا کہ میرا نام رانی ہے اور مجھے اشارت سے کہا کہ میں اس گھر کی عزت اور وجاہت ہوں اور کہا کہ میں چلنے کو
تھی مگر تیرے لئے رہ گئی… انہی دنوں میں میں نے ایک نہایت خوبصورت مرد دیکھا اور میں نے اسے
328
کہا کہ تم ایک عجیب خوبصورت ہو۔ اس نے اشارہ سے میرے پر ظاہر کیا کہ میں تیرا بخت بیدار ہوں اور میرے
اس سوال کے جواب میں کہ تو عجیب خوبصورت آدمی ہے۔ اس نے یہ جواب دیا کہ ہاں میں درشنی آدمی ہوں۔‘‘
(حیات النبی ج۱ ص۸۶،۸۷، شیخ یعقوب علی عرفانی قادیانی)
(۵) منی آرڈر کی وحی
’’۱۱۶نشان۔ ایک دفعہ صبح کے وقت وحی الٰہی سے میرے زبان پر جاری ہوا عبد اللہ خاں ڈیرہ اسماعیل خاں اور
تفہیم ہوئی کہ اس نام کا ایک شخص آج کچھ روپیہ بھیجے گا۔ میں نے چند ہندوؤں کے پاس جو سلسلہ وحی کے جاری
رہنے کے منکر ہیں… اس الہام الٰہی کو ذکر کیا اور میں نے بیان کیا کہ اگر آج یہ روپیہ نہ آیا تو میں حق پر
نہیں۔ ان میں سے ایک ہندوبشن داس نام قوم کا برہمن، جو آج کل ایک جگہ کا پٹواری ہے بول اٹھا کہ میں اس بات
کا امتحان کروں گا اور میں ڈاکخانہ میں جاؤں گا۔ ان دنوں میں قادیان میں ڈاک دوپہر کے بعد دو بجے آتی تھی۔
وہ اسی وقت ڈاکخانہ میں گیا اور نہایت حیرت زدہ ہوکر جواب لایا کہ درحقیقت عبد اللہ خان نام ایک شخص نے جو ڈیرہ
اسماعیل خان میں اکسٹرااسسٹنٹ ہے کچھ روپیہ بھیجا ہے اور وہ ہندو نہایت متعجب اور حیران ہوکر باربار مجھ سے
پوچھتا تھا کہ یہ امر آپ کو کس نے بتایا اور اس کے چہرہ سے حیرانی اور مبہوت ہونے کے آثار ظاہر تھے۔‘‘
(حقیقت الوحی ص۲۶۳،۲۶۴، خزائن ج۲۲ ص۲۷۵،۲۷۶)
’’محبی عزیزی اخویم ڈاکٹر خلیفہ رشید الدین صاحب سلمہ اللہ تعالیٰ …السلام علیکم ورحمۃ
اللہ وبرکاتہ،
آج کی ڈاک میں مبلغ پچاس(۵۰) روپیہ مرسلہ آپ کے مجھ کو مل گئے۔ جزاکم اللہ خیرا۔ عجیب اتفاق ہے کہ مجھ
کو آج کل اشد ضرورت تھی۔ آج ۴؍نومبر ۱۸۹۸ء میں خواب میں مجھ کو دکھلایا گیا کہ ایک شخص روپیہ بھیجتا ہے۔
(اگر ایک شخص کے بجائے رشید صاحب ہی کو خواب میں دکھلادیا جاتا تو خواب اور بھی کرامت بن جاتا۔ بہرحال روپیہ
دیکھ لیا اور یہی کافی ہے اور شاید دن میں بھی یہ خیال دل میں آتا رہا کہ کاش کہیں سے روپیہ آجاتا۔ تاہم
مرزاقادیانی کے ایسے خواب بھی اس کی نبوت کے ہزارہا نشانوں میں شامل رہتے ہیں۔ للمؤلف) میں بہت خوش ہوا اور
یقین رکھتا تھا کہ آج (۵۰) روپیہ آئے گا۔ چنانچہ آج ہی ۴؍نومبر ۱۸۹۸ء کو آپ کا (۵۰)روپیہ آگیا۔ فالحمد للہ وجزاکم اللہ معلوم ہوتا ہے کہ یہ روپیہ بھیجنا درگاہ الٰہی میں قبول ہے۔ چنانچہ
آج جو جمعہ کا روز ہے۔ میں نے آپ کے لئے درگاہ الٰہی میں نماز جمعہ میں دعا کی امید کہ ان شاء اللہ پھر کئی
دفعہ کروں گا۔ مجھے آپ سے دلی محبت ہے۔ اب دل بہت چاہتا ہے کہ آپ نزدیک آجائیں۔ اللہ تعالیٰ اسباب پیدا کرے
باقی خیریت ہے۔ والسلام! (خاکسار: غلام احمد عفی عنہ، ۴؍نومبر ۱۸۹۸ء، بروز جمعہ)‘‘
(مرزاقادیانی کا مکتوب اخبار الفضل قادیان ج۳۴، نمبر۲۰۱، مؤرخہ ۲۸؍اگست ۱۹۴۶ء)
(۶) ایک روپیہ کی شیرینی
’’خلاصہ یہ ہے کہ ایک دفعہ مجھے الہام ہوا کہ بست ویک روپیہ آنے والے ہیں۔ چنانچہ یہ الہام بھی ان ہی
آریوں کو بتلایا گیا۔ جن کا کئی دفعہ ذکر ہوچکا ہے اور الہام میں یہ تفہیم ہوئی تھی کہ وہ روپیہ آج ہی آئے
گا۔ چنانچہ اس روز وزیرسنگھ نامی ایک بیمار نے آکر مجھے ایک روپیہ دیا اور پھر مجھے خیال آیا کہ باقی بیس
روپیہ شاید ڈاک کی معرفت آئیں گے۔ چنانچہ ڈاکخانہ میں اپنا ایک معتبر بھیجا گیا۔ وہ جواب لایا کہ ڈاک منشی
کہتا ہے کہ میرے پاس آج صرف پانچ روپیہ ڈیرہ غازیخان سے آئے ہیں جن کے ساتھ ایک کارڈ بھی ہے۔ اس خبر کے سننے
سے بہت حیرانی ہوئی کیونکہ میں آریوں کو اس پیش گوئی سے اطلاع دے چکا تھا کہ آج اکیس روپیہ آئیں گے اور ان
کو معلوم تھا کہ ایک روپیہ آچکا ہے اور مجھے ڈاک منشی کی اس خبر سے اس قدر اضطراب ہوا جس کا بیان نہیں
ہوسکتا۔ کیونکہ اس کی اس خبر سے کہ صرف پانچ روپیہ
329
ڈیرہ غازیخان سے آئے ہیں۔ زیادہ روپیہ سے قطعاً نومیدی ہوگئی اور مجھے علامات سے معلوم ہوا کہ آریہ
لوگ جن کو یہ اطلاع دی گئی تھی دل میں بہت خوش ہوئے ہیں کہ آج ہمیں تکذیب کا موقع مل گیا اور میں نہایت
اضطراب میں تھا کہ ایک دفعہ مجھے یہ الہام ہوا بست ویک آئے ہیں۔ اس میں شک نہیں۔ میں نے آریوں کو یہ الہام
سنایا وہ اور بھی زیادہ ہنسی کاموجب ہوا۔ کیونکہ ایک ملازم سرکاری نے جو سب پوسٹ ماسٹر تھا علانیہ طور پر
کہہ دیا تھا کہ صرف پانچ روپیہ آئے ہیں۔ بعد اس کے اتفاقاً ایک آریہ ان آریوں میں سے ڈاکخانہ میں گیا اور اس
کو ڈاک منشی نے اس کے استفسار سے یا خود بخود کہا کہ دراصل بیس روپیہ آئے ہیں اور پہلے یوں ہی میرے منہ سے
نکل گیا تھا کہ پانچ روپیہ آئے ہیں۔ اور ساتھ اس کے منشی الٰہی بخش صاحب اکاؤنٹنٹ کا ایک کارڈ بھی تھا اور
یہ روپیہ ۶؍ستمبر ۱۸۸۳ء کو پہنچا۔ جس دن یہ الہام ہوا پس اس مبارک دن کی یاداشت کے لئے اور نیز آریوں کو
گواہ بنانے کے لئے ایک روپیہ کی شیرینی تقسیم کی گئی جس کو ایک آریہ لایا اور آریوں کو اور نیز دوسروں کو دی
گئی۔ تااگر یوں نہیں تو شیرینی کھا کر ہی اس نشان کو یاد رکھیں۔‘‘
(حقیقت الوحی ص۳۰۵،۳۰۶، خزائن ج۲۲ ص۳۱۸،۳۱۹)
(۷) نام کے دام
’’حضرت مسیح موعود کے زمانہ میں ایک عربی سوالی یہاں آیا۔ آپ نے اسے ایک معقول رقم دے دی۔ بعض نے اس
پر اعتراض کیا تو فرمایا یہ جہاں بھی جائے گا، ہمارا ذکرکرے گا۔ خواہ دوسروں سے زیادہ وصول کرنے کے لئے ہی
کرے مگر دور دراز مقامات پر ہمارا نام پہنچا دے گا۔‘‘
(اخبار الفضل قادیان ج۲۲ نمبر۱۰۳، ص۹ کالم۱، مؤرخہ ۲۶؍فروری ۱۹۳۵ء)
(۸) پچاس ہزار خواب والہام
’’یاد رہے کہ خداتعالیٰ کی مجھ سے یہ عادت ہے کہ اکثر جو نقد روپیہ آنے والا ہو یا اور چیزیں تحائف کے
طور پر ہوں۔ ان کی خبر قبل از وقت بذریعہ الہام یا خواب کے مجھ کو دے دیتا ہے اور اس قسم کے نشان پچاس ہزار
سے کچھ زیادہ ہوں گے۔‘‘
(حقیقت الوحی ص۳۳۳، خزائن ج۲۲ ص۳۴۶)
(۹) ٹیکس کا مقدمہ
’’بتیسواں(۳۲) نشان (نبوت)۔ ٹیکس کے مقدمہ میں پیش گوئی ہے جو بعض شریر لوگوں نے سرکار انگریزی میں
میری نسبت یہ مخبری کی تھی کہ ہزارہا روپیہ کی ان کو آمدنی ہے۔ ٹیکس لگانا چاہئے اور خداتعالیٰ نے میرے پر
ظاہر کیا کہ اس میں وہ لوگ نامراد رہیں گے۔ چنانچہ ایسا ہی ظہور میں آیا۔ (غالباً مرزاغلام احمد ٹیکس سے بچ
گئے۔ للمؤلف)‘‘
(حقیقت الوحی ص۲۱۶، خزائن ج۲۲ ص۲۲۶)
(۱۰) تلی ہوئی مچھلی
’’نوے واں(۹۰) نشان (نبوت)۔ ایک دفعہ قانون ڈاک کی خلاف ورزی کا مقدمہ میرے پر چلایا گیا جس کی سزا
پانچ سو روپیہ جرمانہ یا چھ ماہ کی قید تھی اور بظاہر سبیل رہائی معلوم نہیں ہوتی تھی۔ تب بعد دعا خواب میں
خداتعالیٰ نے میرے پر ظاہر کیا کہ وہ مقدمہ رفع دفع کر دیا جائے گا۔ اس مقدمہ کا مخبر ایک عیسائی رلیا رام
نام تھا جوامرتسر میں وکیل تھا اور میں نے خواب میں یہ بھی دیکھا کہ اس نے میری طرف ایک سانپ بھیجا ہے اور
میں نے اس سانپ کو مچھلی کی طرح تل کر اس کی طرف واپس بھیج دیا ہے۔ چونکہ وہ وکیل تھا اس لئے میرے مقدمہ کی
نظیر گویا اس کے لئے کارآمد تھی اور تلی ہوئی مچھلی کا کام دیتی تھی۔ چنانچہ وہ مقدمہ پہلی پیشی میں ہی خارج
ہوگیا۔‘‘
(حقیقت الوحی ص۲۳۷، خزائن ج۲۲ ص۲۴۸)
330
(۱۱) ہاتھی کے سر پر تیل
’’۴؍نومبر ۱۹۰۲ء۔ ایک دوست نے آپ کے روبرو اپنا ایک خواب سنایا کہ اس نے رات کو خواب میں ہاتھی دیکھا
تھا اور یہ کہ حضرت صاحب (مرزاقادیانی) اس کے سر پر تیل لگارہے ہیں۔ حضرت مسیح موعود نے اس کی تعبیر فرمائی
کہ رات کے وقت خواب میں ہاتھی دیکھنا عمدہ ہوتا ہے اور تیل لگانا چونکہ زینت کا کام ہے اس لئے یہ بھی اچھا
ہے۔‘‘
(ملفوظات احمدیہ حصہ ہفتم ص۴۵۰،مرتبہ محمد منظور الٰہی لاہوری قادیانی)
(۱۲) گھر کی بات
’’۱۷۷ نشان۔ میرے مکان کے ملحق دومکان تھے جو میرے قبضہ میں نہیں تھے اور یہ بباعث تنگی مکان توسیع
مکان کی ضرورت تھی۔ ایک دفعہ مجھے کشفی طور پر دکھلایا گیا جو اس زمین پر ایک بڑا چبوترہ ہے اور مجھے خواب
میں دکھایا گیا کہ اس جگہ ایک لمبا دالان بن جائے اور مجھے دکھایا گیا کہ اس زمین کے مشرقی حصہ نے ہماری
عمارت بننے کے لئے دعا کی ہے اور مغربی حصہ کی زمین افتادہ نے آمین کہی ہے۔ چنانچہ فی الفور یہ کشف اپنی
جماعت کے صدہا آدمیوں کو سنایا گیا اور اخباروں میں درج کیاگیا۔ بعد اس کے ایسا اتفاق ہوا کہ وہ دونوں مکان
بذریعہ خریداری اور وراثت کے ہمارے حصہ میں آگئے اور ان کے بعض حصوں میں مکانات مہمانوں کے لئے بنائے گئے۔
حالانکہ ان سب کا ہمارے قبضہ میں آنا محال تھا اور کوئی خیال نہیں کر سکتا تھا کہ ایسا وقوع میں آئے گا۔‘‘
(حقیقت الوحی ص۳۷۹، خزائن ج۲۲ ص۳۹۳)
(۱۳) ریل کا سفر
’’اوائل میں حضرت صاحب (مرزاقادیانی) انٹر کلاس میں سفر کیا کرتے تھے اور اگر حضرت بیوی صاحبہ ساتھ
ہوتی تھیں تو ان کو اور دیگر مستورات کو زنانہ تھرڈ کلاس میں بٹھا دیا کرتے تھے اور حضرت صاحب کا طریق تھا
کہ زنانہ سواریوں کو خود ساتھ جاکر اپنے سامنے زنانہ گاڑی میں بٹھاتے تھے اور پھر اس کے بعد خود اپنی گاڑی
میں اپنے خدام کے ساتھ بیٹھ جاتے تھے… اور آخری سالوں میں حضور عموماً ایک سالم سیکنڈ کلاس کمرہ اپنے لئے
ریزرو کروالیا کرتے تھے اور اسی میں حضرت بیوی صاحبہ اور بچوں کے ساتھ سفر فرماتے تھے اور حضور کے اصحاب
دوسری گاڑی میں بیٹھتے تھے۔ مگر مختلف اسٹیشنوں پر اتراتر کر وہ حضور سے ملتے رہتے تھے۔‘‘
(سیرت المہدی حصہ دوم ص۱۰۱، روایت نمبر۴۲۷، جدید ج۱ حصہ دوم ص۳۸۹، روایت نمبر۴۳۰)
(۱۴) ریل کا الہام
’’ایک دفعہ ہم ریل گاڑی پر سوار تھے اور لدھیانہ کی طرف جارہے تھے کہ الہام ہوا۔ نصف ترانصف عمالیق را
اور اس کے ساتھ یہ تفہیم ہوئی کہ امام بی بی جو ہمارے جدی شرکاء میں سے ایک عورت تھی مرجائے گی اور اس کی
زمین نصف ہمیں اور نصف دیگر شرکاء کو مل جائے گی۔ یہ الہام ان دوستوں کو جو اس وقت ہمارے ساتھ تھے سنادیا
گیا تھا۔ چنانچہ بعد میں ایسا ہی ہوا کہ عورت مذکورہ مرگئی اور اس کی نصف زمین ہمیں اور نصف بعض دیگر شرکاء
کو ملی۔‘‘
(نزول المسیح ص۲۱۳،۲۱۴، خزائن ج۱۸ ص۵۹۱،۵۹۲)
(۱۵) بیعت
’’جب کبھی بیعت اور پیری مریدی کا تذکرہ ہوتا تو مرزاقادیانی فرمایا کرتے تھے کہ انسان کو خود سعی اور
محنت کرنی چاہئے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: ’’والذین جاہدوا فینا لنہدینہم سبلنا‘‘ مولوی
محبوب علی صاحب اس سے کشیدہ ہو جایا کرتے تھے اور فرمایا
331
کرتے تھے کہ بیعت کے بغیر راہ نہیں ملتی۔‘‘
(سیرت المہدی حصہ اوّل ص۲۵۳، روایت نمبر۲۷۵، جدید ج۱ حصہ اوّل ص۳۵۳، روایت نمبر۲۸۰)
’’بیان کیا مجھ سے میاں عبد اللہ سنوری نے کہ جب ابھی حضور نے سلسلہ بیعت شروع نہیں فرمایا تھا۔ میں نے
ایک دفعہ حضرت سے عرض کیا کہ حضور میری بیعت لیں۔ آپ نے فرمایا پیر کا کام بھنگی کا سا کام ہے۔ اسے اپنے
ہاتھ سے مرید کے گند نکال نکال کر دھونے پڑتے ہیں اور مجھے اس کام سے کراہت آتی ہے۔‘‘
(سیرت المہدی حصہ اوّل ص۸۲،۸۳، روایت نمبر۱۰۸، جدید ج۱ حصہ اوّل ص۸۹،۹۰، روایت نمبر۱۱۱)
’’لوگ ایک عرصہ سے آپ کو بیعت لینے کے لئے عرض کر رہے تھے۔ آپ نے ہمیشہ ایسے طالبین کو یہ کہا کہ میں
اس غرض کے لئے ابھی مامور نہیں ہوں اور آخر جب خداتعالیٰ کی وحی نے آپ کو بیعت لینے کے لئے مامور فرمایا تو
آپ نے بیعت کے لئے اعلان کر دیا۔‘‘
(حیات احمد ج۲ نمبر۲ ص۵ حاشیہ، مرتبہ شیخ یعقوب علی عرفانی قادیانی)
’’میرعنایت علی صاحب لدھیانوی نے مجھ سے بیان کیا کہ جب اللہ تعالیٰ کی طرف سے حضرت صاحب کو بیعت لینے کا
حکم آیا تو سب سے پہلی دفعہ لدھیانہ میں بیعت ہوئی۔ ایک رجسٹر بیعت کنندگان تیار کیاگیا۔ جس کی پیشانی پر
لکھا گیا بیعت توبہ برائے حصول تقویٰ وطہارت، اور نام مع ولدیت وسکونت لکھے جاتے تھے۔ اوّل نمبر حضرت مولوی
نورالدین صاحب بیعت میں داخل ہوئے۔ دوم میر عباس علی صاحب ان کے بعد شاید خاکسار (میر عنایت علی صاحب) ہی
سوئم نمبر پر جاتا۔ لیکن میرعباس علی صاحب نے مجھ کو قاضی خواجہ علی صاحب کے بلانے کے لئے بھیج دیا کہ ان کو
بلالاؤ غرض ہمارے دونوں کے آتے آتے سات آدمی بیعت میں داخل ہوگئے۔ ان کے بعد نمبر آٹھ پر قاضی صاحب بیعت
میں داخل ہوئے اور نمبر نو میں خاکسار داخل ہوا۔ پھر حضرت نے فرمایا کہ شاہ صاحب اور کسی بیعت کرنے والے کو
اندر بھیج دیں۔ چنانچہ میں نے چوہدری رستم علی صاحب کو اندر داخل کردیا اور دسویں نمبر پر وہ بیعت ہوگئے۔ اس
طرح ایک ایک آدمی باری باری بیعت کے لئے اندر جاتا تھا اور دروازہ بند کر دیا جاتا تھا۔‘‘
(سیرت المہدی حصہ دوم ص۱۰،۱۱، روایت نمبر۱۱۵، جدید ج۱ حصہ دوم ص۲۹۳، روایت نمبر۳۱۶)
’’ڈاکٹر سید عبدالستار شاہ صاحب نے مجھ سے بیان کیا کہ جب میں ۱۹۰۰ء میں پہلی دفعہ قادیان میں آیا تو
حضور (نے)… مجھے مخاطب فرماکر اپنے دعوے کی صداقت میں تقریر فرمائی۔ میں نے عرض کیا کہ مجھے آپ کی صداقت کے
متعلق تو کوئی شبہ نہیں رہا۔ لیکن اگر بیعت نہ کی جاوے اور آپ پرایمان رکھا جاوے کہ آپ صادق ہیں تو کیا حرج
ہے۔ آپ نے فرمایا کہ ایسے ایمان سے آپ مجھ سے روحانی فیض حاصل نہیں کرسکتے۔ بیعت سنت انبیاء ہے اور اس سنت
میں بہت بڑے فوائد اور حکمتیں ہیں … نیز مولوی شیر علی صاحب (قادیانی) نے مجھ سے بیان کیا کہ ایک دفعہ حضرت
صاحب (مرزاقادیانی) نے بیعت کے فوائد پر تقریر فرماتے ہوئے فرمایا کہ یہ فائدہ بیعت کا کوئی کم ہے کہ انسان
کے پہلے سارے گناہ بخشے جاتے ہیں۔‘‘
(سیرت المہدی حصہ دوم ص۶۴،۶۵، روایت نمبر۳۸۶، جدید ج۱ حصہ دوم ص۳۵۰،۳۵۱، روایت نمبر۳۸۹)
’’مولوی محمد اسماعیل صاحب مولوی فاضل نے مجھ سے بیان کیا کہ جب میں ۱۹۰۸ء میں حضرت مسیح موعود کے
ہاتھ پر بیعت کرنے کے لئے قادیان آیا تو اس وقت نماز ظہر کے قریب کا وقت تھا اور مہمان خانہ میں وضو کر کے
مسجد مبارک میں حاضر ہوا۔ اس وقت حضرت مسیح موعود مسجد میں ہی تشریف رکھتے تھے اور حضور کے بہت سے اصحاب
حضرت کے پاس بیٹھے تھے۔ میں بھی مجلس کے پیچھے ہوکر بیٹھ گیا… جب حوالہ جات کے متعلق گفتگو بند ہوئی تو میں
بیعت کی خواہش ظاہر کر کے حضرت مسیح موعود کی طرف آگے بڑھنے لگا۔ جس پر سید
332
احمد نور صاحب کابلی نے کسی قدر بلند آواز سے کہا کہ یہ شخص مسلمان ہونا چاہتا ہے۔ اسے رستہ دے دیا
جاوے۔ میں دل میں حیران ہوا کہ مسلمان ہونے کے کیا معنی ہیں۔ لیکن پھر ساتھ ہی خیال آیا کہ واقعی حضرت مسیح
موعود کی بیعت میں داخل ہونا مسلمان ہونا نہیں ہے تو اور کیا ہے۔ چنانچہ میں حضرت مسیح موعود کی بیعت سے
مشرف ہوگیا۔‘‘
(سیرت المہدی حصہ دوم ص۹۹،۱۰۰، روایت نمبر۴۲۶، جدید ج۱ حصہ دوم ص۳۸۷،۳۸۸، روایت نمبر۴۲۹)
’’۱۲؍ستمبر ۱۹۰۱ء مولوی جان محمد صاحب مدرس ڈسکہ ضلع سیالکوٹ نے حضرت مسیح موعود سے عرض کی کہ آپ کی
بیعت کرنے کے بعد پہلی بیعت اگر کسی بزرگ سے کی ہو وہ قائم رہتی ہے یا نہیں۔ اس کے جواب میں حضرت مسیح موعود
نے فرمایا۔ جب انسان میرے ہاتھ پر بیعت توبہ کرتا ہے تو پہلی ساری بیعتیں ٹوٹ جاتی ہیں۔ انسان دو کشتیوں میں
کبھی پاؤں نہیں رکھ سکتا۔ اگر کسی کا مرشد اب زندہ بھی ہو تب بھی وہ ایسے حقائق ومعارف ظاہر نہ کرے گا جو
خداتعالیٰ یہاں ظاہر کررہا ہے۔ اس وقت اللہ تعالیٰ نے ساری بیعتوں کو توڑ ڈالا ہے۔ صرف مسیح موعود ہی کی بیعت
کو قائم رکھا ہے جو خاتم الخلفاء ہوکر آیا ہے۔‘‘
(الحکم قادیان ج۶ نمبر۳۰، منقول از کتاب منظور الٰہی ص۳۲۹، مؤلفہ منظور الٰہی لاہوری قادیانی)
(۱۶) قادیانی مبالغے
’’خدا نے میری جماعت سے پنجاب اور ہندوستان کے شہروں کو بھر دیا۔ چند سال میں ایک لاکھ سے بھی زیادہ
اشخاص نے میری بیعت کی۔ ‘‘
(تحفہ الندوہ ص۸، خزائن ج۱۹ ص۱۰۱)
’’میں (مرزاغلام احمد قادیانی) حلفاً کہہ سکتا ہوں کہ کم ازکم ایک لاکھ آدمی میری جماعت میں ایسے ہیں
کہ سچے دل سے میرے پر ایمان لائے ہیں اور اعمال صالحہ بجالاتے ہیں اور باتیں سننے کے وقت اس قدر روتے ہیں کہ
ان کے گریبان تر ہو جاتے ہیں۔‘‘
(سیرت المہدی حصہ اوّل ص۱۴۶،۱۴۷، روایت نمبر۱۵۳، جدید ج۱ حصہ اوّل ص۱۵۰، روایت نمبر۱۵۷)
’’میں اپنی جماعت کے لوگوں کو جو مختلف مقامات پنجاب اور ہندوستان میں موجود ہیں جو بفضلہ تعالیٰ کئی
لاکھ تک ان کا شمار پہنچ گیا ہے۔‘‘
(اعلان مرزاغلام احمد قادیانی، مؤرخہ ۷؍مئی ۱۹۰۷ء، مندرجہ تبلیغ رسالت ج۱۰ ص۱۲۲، مجموعہ اشتہارات ج۳
ص۵۸۳، جدید ج۲ ص۷۰۸)
’’ہر ایک پہلو سے خدا نے مجھ کو بردمند کیا۔ چنانچہ ہزارہا شکر کا یہ مقام ہے کہ قریباً چار لاکھ
انسان اب تک میرے ہاتھ پر اپنے گناہوں سے اور کفر سے توبہ کر چکے ہیں۔‘‘
(تتمہ حقیقت الوحی ص۱۱۷، خزائن ج۲۲ ص۵۵۳)
۲۰؍مئی ۱۹۰۹ء کے بدر ج۸ نمبر۳۰ میں ایک ایڈیٹوریل بعنوان ’’یادایام سلف نے ہائے کیا تڑپادیا‘‘ چھپا
ہے۔ اس کے آخر میں یہ سطور ہیں: ’’(اے مسیح موعود) تیری ہمت تیرا استقلال تیرا عزم اس سے ظاہر ہے کہ اور
نبیوں کے لئے تو صرف یہ بات منوانے کی ہوتی تھی کہ میں نبی ہوں۔ مگر تیرے لئے دو مشکلیں تھیں۔ اوّل یہ کہ
کوئی نبی آسکتا ہے۔ دوم یہ کہ میں نبی ہوں۔ آخر تونے چار لاکھ انسان کے جزوایمان میں یہ بات داخل کر دی۔‘‘
(البدر قادیان ج۸ نمبر۳۰ ص۴ کالم۲، مؤرخہ ۲۰؍مئی ۱۹۰۹ء)
’’کیا اس عبارت کو پڑھ کر ذرا بھی شبہ اس بات میں رہ سکتا ہے کہ ۱۹۰۹ء میں چار لاکھ کی جماعت حضرت
مرزاغلام احمد مسیح موعود کو نبی مانتی تھی۔‘‘
(الفضل قادیان ج۱۱ نمبر۶۷ ص۴ کالم۲، مؤرخہ ۲۶؍فروری ۱۹۲۴ء)
333
’’جماعت کی تعداد اندازاً بتا سکتا ہوں۔ چار پانچ لاکھ کی جماعت ہے۔ غیر مبایعین (لاہوری جماعت) کے
ساتھ ایک ہزار آدمی ہوگا۔‘‘
(مرزامحمود خلیفہ قادیان کا بیان باجلاس سب جج عدالت گورداسپور، الفضل قادیان ج۹ نمبر۱۰۱،۱۰۲ ص۶،
مؤرخہ ۲۶،۲۹؍جون ۱۹۲۲ء)
’’ہم چار لاکھ احمدی صفائے قلب کے ساتھ آپ (ہندوؤں) کے ہاتھ میں ہاتھ دینے کو تیار ہیں۔ اگر آپ شرائط
مندرجہ ’’پیغام‘‘ پر کاربند ہونے کو تیار ہیں۔‘‘
(خواجہ کمال الدین کا اعلان، پیغام صلح ص۲، مؤرخہ ۱۵؍جون ۱۹۰۸ء)
’’خواجہ حسن نظامی صاحب کا دعویٰ ہے کہ میاں صاحب (مرزامحمود خلیفہ قادیان) بیس ہزار مریدین کی فہرست
کبھی نہیں دے سکتے۔ کیونکہ خواجہ صاحب کے نزدیک کل ہندوستان میں احمدیوں کی تعداد اٹھارہ ہزار سے زیادہ نہیں
ہے۔ معلوم نہیں خواجہ صاحب کو ایسے کون سے یقینی وجوہ ہاتھ آگئے ہیں کہ انہوں نے چار پانچ لاکھ کی جماعت
کواٹھارہ ہزار کی جماعت کہہ دیا۔ ہاں! اس میں شک نہیں کہ میاں صاحب کا یہ دعویٰ کہ وہ چار پانچ لاکھ کے امام
ہیں۔ قطعاً بے بنیاد ہے… ہم تو صرف یہی دیکھیں گے کہ میاں صاحب کا یہ دعویٰ کہ وہ چار پانچ لاکھ کی جماعت کے
امام ہیں یا یہ کہ ۹۵فیصدی جماعت میں سے ان کے ہاتھ پر بیعت کر چکے ہیں یا ان کا یہ بیان کہ اس حصہ جماعت کی
تعداد جنہوں نے ان کے ہاتھ پر بیعت نہیں کی۔ کل دوفیصدی ہے کہاں تک صحیح ہے یا کون سی بات ان میں سے سچی ہے
اور کون سی جھوٹی… کیونکہ میاں صاحب اور ان کے مریدین آئے دن یہ اعلان کرتے پھرتے ہیں کہ احمدیہ انجمن اشاعت
اسلام (لاہور) جماعت احمدیہ کے کسی بھی حصہ کے قائم مقام نہیں۔‘‘
(پیغام صلح ج۵ نمبر۵۹ ص۲ کالم۱، مؤرخہ ۶؍فروری ۱۹۱۸ء)
’’مقدمہ اخبار مباہلہ میں قادیانی گواہوں نے قادیانیوں کی تعداد دس لاکھ بیان کی تھی۔ ۱۹۳۰ء میں کوکب
وری کے قادیانی مؤلف کے قول کے مطابق بیس لاکھ قادیانی دنیا میں موجود تھے۔ ستمبر ۱۹۳۲ء میں بھیرہ (پنجاب)
کے مناظرہ میں مولوی مبارک احمد صاحب پروفیسر جامعہ احمدیہ قادیان نے قادیانیوں کی تعداد پچاس لاکھ بیان کی۔
حال ہی میں عبدالرحیم درد قادیانی مبلغ نے انگلستان میں مسٹر فلبی کے سامنے بیان کیا تھا کہ پنجاب کے
مسلمانوں میں غالب اکثریت قادیانیوں کی ہے۔ پنجاب میں قریباً ڈیڑھ کروڑ مسلمان آباد ہیں۔ اس حساب سے بقول
عبدالرحیم صاحب گویا ۷۵لاکھ سے بھی زیادہ قادیانی پنجاب میں موجود ہیں۔‘‘
(شمس الاسلام بھیرہ پنجاب ج۵ نمبر۱۰)
لیکن سرکاری مردم شماری کا خدا بھلا کرے کہ سارا بھانڈا پھوٹ گیا اور بالآخر لاچار ہوکر مرزامحمود
خلیفہ قادیان کو اصلی تعداد تسلیم کرنا پڑی۔ چنانچہ ملاحظہ ہو:
’’جس وقت ہماری تعداد آج کی تعداد سے بہت کم یعنی سرکاری مردم شماری کی رو سے اٹھارہ سو تھی۔ اس وقت
اخبار بدر کے خریداروں کے تعداد چودہ سو تھی۔ اس وقت سرکاری مردم شماری کی رو سے پنجاب میں احمدیوں کی تعداد
چھپن ہزار ہے اور اگر پہلی نسبت کا لحاظ رکھا جائے تو ہمارے اخبار کے صرف پنجاب میں چار ہزار سے زائد خریدار
ہونے چاہئیں۔‘‘
(خطبہ خلیفہ قادیان مندرجہ اخبار الفضل قادیان ج۲۲ نمبر۱۶ مؤرخہ ۵؍اگست ۱۹۳۴ء، خطبات محمود ج۱۵ ص۲۰۵)
’’ہماری جماعت مردم شماری کی رو سے پنجاب میں چھپن ہزار ہے گو یہ بالکل غلط ہے۔ (بے شک غلط ہے سرکاری
رپورٹ ۱۹۳۱ء میں مجموعی تعداد ۵۵ہزار درج ہے۔ جس میں لاہوری جماعت کے کئی ہزار لوگ بھی شامل ہیں۔ اس طرح
مرزامحمود احمد قادیانی کی جماعت کی تعداد پچاس ہزار بھی نہیں رہتی۔ للمؤلف)… مگر فرض کر لو کہ یہ تعداد
درست ہے اور فرض کر لو کہ باقی تمام ہندوستان میں ہماری جماعت کے بیس ہزار افراد رہتے ہیں۔ تب بھی یہ پچھتّر
چھہتر ہزار آدمی بن جاتے ہیں۔‘‘
(خطبہ خلیفہ قادیان مندرجہ اخبار الفضل قادیان ج۲۱ نمبر۱۵۲ مؤرخہ ۲۱؍جون ۱۹۳۴ء، خطبات محمود ج۱۵
ص۱۸۶)
334
گویا پچاس سال کی سعی اور تبلیغ کے بعد تمام ہندوستان میں خود مرزامحمود خلیفہ قادیان کے حساب سے
قادیانیوں کی فرضی تعداد زیادہ سے زیادہ پچھتّر ہزار قرار پاتی ہے، کیا مضائقہ ہے پچھتّر لاکھ اور پچھتّر
ہزار میں۔ صرف دو نقطوں کا فرق ہے۔ کچھ زیادہ فرق نہیں ہے۔ خود مرزاغلام احمد قادیانی بھی ایسے فرق کو فرق
نہیں سمجھتے تھے۔ چنانچہ براہین احمدیہ حصہ پنجم کے دیباچہ میں لکھا ہے کہ: ’’پہلے پچاس حصے لکھنے کا ارادہ
تھا مگر پچاس سے پانچ پر اکتفا کیاگیا اور چونکہ پچاس اور پانچ کے عدد میں صرف ایک نقطہ کا فرق ہے۔ اس لئے
پانچ حصوں سے وعدہ پورا ہوگیا۔‘‘ (حساب کا کیسا سچا اصول ہے۔ للمؤلف)
(۱۷) مرزاقادیانی کے مرید
’’اس گروہ میں بہت سے سرکار انگریزی کے ذی عزت عہدہ دار ہیں۔ جو ڈپٹی کلکٹر اور اکسٹرااسسٹنٹ اور
تحصیلدار وغیرہ معزز عہدوں والے آدمی ہیں۔ ایسا ہی پنجاب اور ہندوستان کے کئی رئیس اور جاگیردار اور اکثر
تعلیم یافتہ ایف۔اے، بی۔اے اور ایم۔اے اور بڑے بڑے تاجر اس جماعت میں داخل ہیں۔ غرض ایسے لوگ جو عقل اور علم
اور عزت اور اقبال رکھتے تھے یا بڑے بڑے عہدوں پر سرکار انگریزی کی طرف سے مامور تھے، یا رئیس اور جاگیردار
اور تعلق دار اور نوابوں کی اولاد تھے اور یا ہندوستان کے قطبوں اور غوثوں کی نسل تھے جن کے بزرگوں کو
لاکھوں انسان اعلیٰ درجہ کے ولی اور قطب سمجھتے تھے وہ لوگ اسی جماعت میں داخل ہوئے اور ہوتے جاتے ہیں۔‘‘
(کتاب البریہ ص۱۷۱، خزائن ج۱۳ ص۲۰۴،۲۰۵ حاشیہ)
’’خداتعالیٰ نے مجھے اس اصول پر قائم کیا ہے کہ محسن گورنمنٹ کی جیسا کہ یہ گورنمنٹ برطانیہ ہے سچی
اطاعت کی جائے اور سچی شکرگزاری کی جائے سو میں اور میری جماعت اس اصول کے پابند ہیں۔ چنانچہ میں نے اس
مسئلہ پر عمل درآمد کرانے کے لئے بہت سی کتابیں عربی اور فارسی اور اردو میں تالیف کیں اور ان میں تفصیل سے
لکھا کہ کیونکہ مسلمانان برٹش انڈیا اس گورنمنٹ برطانیہ کے نیچے آرام سے زندگی بسر کرتے ہیں اور کیونکر
آزادگی سے اپنے مذہب کی تبلیغ کرنے پر قادر ہیں اور تمام فرائض منصبی بے روک ٹوک بجالاتے ہیں، پھر اس مبارک
اور امن بخش گورنمنٹ کی نسبت کوئی خیال بھی جہاد کا دل میں لانا کس قدر ظلم اور بغاوت ہے۔ یہ کتابیں ہزارہا
روپیہ کے خرچ سے طبع کرائی گئیں اور پھر اسلامی ممالک میں شائع کی گئیں اور میں جانتا ہوں کہ یقینا ہزارہا
مسلمانوں پر ان کتابوں کا اثر پڑا ہے۔ بالخصوص وہ جماعت جو میرے ساتھ تعلق بیعت ومریدی رکھتی ہے۔ وہ ایک
ایسی سچی مخلص اور خیرخواہ اس گورنمنٹ کی بن گئی ہے کہ میں دعویٰ سے کہہ سکتا ہوں کہ اس کی نظیر دوسرے
مسلمانوں میں نہیں پائی جاتی۔ وہ گورنمنٹ کے لئے ایک وفادار فوج ہے۔ جن کا ظاہر وباطن گورنمنٹ برطانیہ کی
خیرخواہی سے بھرا ہوا ہے۔‘‘
(تحفہ قیصریہ ص۱۱،۱۲، خزائن ج۱۲ ص۲۶۳،۲۶۴)
(۱۸) فرمان واجب الاذعان
’’یہ اشتہار کوئی معمولی تحریر نہیں بلکہ ان لوگوں کے ساتھ جو مرید کہلاتے ہیں یہ آخری فیصلہ کرتا
ہوں۔ مجھے خدانے بتلایا ہے۔ میرا ان ہی سے پیوند ہے۔ یعنی وہی خدا کے دفتر میں مرید ہیں جو اعانت اور نصرت
میں مشغول ہیں۔ مگر بہتیرے ایسے ہیں کہ گویا خداتعالیٰ کو دھوکا دینا چاہتے ہیں۔ سو ہر ایک شخص کو چاہئے کہ
اس نئے انتظام کے بعد نئے سرے عہد کر کے اپنی خاص تحریر سے اطلاع دے کہ وہ ایک فرضی حتمی کے طور پر اس قدر
چندہ ماہواری بھیج سکتا ہے… اس اشتہار کے شائع ہونے سے تین ماہ تک ہر ایک بیعت کرنے والے کے جواب کا انتظار
کیا جائے گا کہ وہ کیا کچھ ماہواری چندہ اس سلسلہ کی مدد کے لئے قبول کرتا ہے اور اگر تین ماہ تک کسی کا
جواب نہ آیا تو سلسلہ بیعت سے اس
335
کا نام کاٹ دیا جائے گا اور مشتہر کردیا جائے گا۔ اگر کسی نے ماہواری چندہ کا عہد کر کے تین ماہ تک
چندہ کے بھیجنے سے لاپروائی کی تو اس کا نام بھی کاٹ دیا جائے گا اور اس کے بعد کوئی مغرور اور لاپروا جو
انصار میں داخل نہیں اس سلسلہ میں ہرگز نہیں رہے گا۔ والسلام علیٰ من اتبع الہدیٰ
(المشتہر: مرزاغلام احمد مسیح موعود از قادیان مؤرخہ ۵؍مارچ ۱۹۰۲ء)‘‘
(مجموعہ اشتہارات ج۳ ص۴۶۸،۴۶۹، جدیدمجموعہ اشتہارات ج۲ ص۵۵۵،۵۵۶)
(۱۹) گورداسپور میں مقدمہ
’’حضرت مسیح موعود کا وہ زمانہ مجھے یاد ہے جب کہ آپ پر مقدمہ گورداسپور میں ہورہا تھا اور اس میں
روپیہ کی ضرورت تھی۔ حضرت صاحب نے دوستوں میں تحریک بھیجی کہ چونکہ اخراجات بڑھ رہے ہیں، لنگر خانہ دو جگہ
پر ہوگیا ہے۔ ایک قادیان میں اور ایک یہاں گورداسپور میں۔ اس کے علاوہ اور مقدمہ پر خرچ ہورہا ہے۔ لہٰذا
دوست امداد کی طرف توجہ کریں۔‘‘
(مندرجہ الفضل قادیان ج۱۴ نمبر۵۵ ص۳ کالم۳، مؤرخہ ۱۱؍جنوری ۱۹۲۷ء، تقریر سالانہ جلسہ مؤرخہ ۲۷؍دسمبر
۱۹۲۶ء، انوارالعلوم ج۹ ص۴۰۳)
’’عنوان: حضرت مسیح موعود کی طرف سے اشتہار ہے کہ ہر ایک بیعت کنندہ حسب توفیق ماہواری یا ہرسہ ماہی
چندہ لنگر خانہ کا روانہ کرتا رہے۔ ورنہ ہر تین ماہ کے بعد اس کا نام بیعت کنندوں سے خارج ہو جائے گا۔‘‘
(البدر ج۲ نمبر۲۵ ص۲۰۰ کالم آخر، مؤرخہ ۱۰؍جولائی ۱۹۰۳ء)
(۲۰) فتوے
’’بیان کیا مجھ سے عبد اللہ سنوری نے کہ ایک دفعہ انبالہ کے ایک شخص نے حضرت صاحب سے فتویٰ دریافت کیا کہ
میری ایک بہن کنچنی تھی۔ اس نے اس حالت میں بہت سا روپیہ کمایا۔ پھر وہ مرگئی اور مجھے اس کا ترکہ ملا۔ مگر
بعد میں مجھے اللہ تعالیٰ نے توبہ اور اصلاح کی توفیق دی۔ اب میں اس مال کا کیا کروں۔ حضرت صاحب نے جواب دیا کہ
ہمارے خیال میں اس زمانہ میں ایسا مال اسلام کی خدمت میں خرچ ہوسکتا ہے۔ (اور اسلام کی خدمت خود مرزاغلام
احمد کے سپرد تھی۔ ان سے زیادہ اس مال کا مستحق اور کون ہوسکتا تھا۔ للمؤلف)‘‘
(۲۱) چندہ کا مطالبہ
’’قوم کو چاہئے کہ ہر طرح سے اس سلسلہ کی خدمت بجا لاوے۔ مالی طرح پر بھی خدمت کی بجاآوری میں کوتاہی
نہیں ہونی چاہئے۔ دیکھو دنیا میں کوئی سلسلہ بغیر چندہ کے نہیں چلتا۔ رسول کریم ﷺ، حضرت موسیٰ، حضرت عیسیٰ
سب رسولوں کے وقت چندے جمع کئے گئے۔ پس ہماری جماعت کے لوگوں کو بھی اس امر کا خیال ضروری ہے۔ اگر یہ لوگ
التزام سے ایک ایک پیسہ بھی سال بھر میں دیویں تو بھی بہت کچھ ہوسکتا ہے۔ ہاں! اگر کوئی ایک پیسہ بھی نہیں
دیتا تو اسے جماعت میں رہنے کی کیا ضرورت ہے۔‘‘
(مندرجہ اخبار الفضل قادیان ج۱۷ نمبر۶۷، مؤرخہ ۲۵؍فروری ۱۹۳۰ء، ملفوظات ج۶ ص۳۸،۳۹، جدید ملفوظات ج۳
ص۳۵۸)
(۲۲) مرزاقادیانی کے فتوحات
-
میں تھا غریب و بے کس و گمنام بے ہنر
کوئی نہ جانتا تھا کہ ہے قادیان کدھر
336
-
لوگوں کی اس طرف کو ذرا بھی نظر نہ تھی
میرے وجود کی بھی کسی کو خبر نہ تھی
-
اب دیکھتے ہو کیسا رجوع جہاں ہوا
اک مرجع خواص یہی قادیان ہوا
(درثمین اردو ص۱۰۷،۱۰۸، مرتبہ محمد اسماعیل قادیانی، براہین احمدیہ حصہ پنجم ص۱۱، خزائن ج۲۱ ص۲۰)
’’ہماری معاش اور آرام کا تمام مدار ہمارے والد صاحب کی محض ایک مختصر آمدنی پر منحصر تھا اور بیرونی
لوگوں میں سے ایک شخص بھی مجھے نہیں جانتا تھا اور میں گمنام انسان تھا جو قادیان جیسے ویران گاؤں میں
زاویہ گمنامی میں پڑا ہوا تھا۔ پھر بعد اس کے خدا نے اپنی پیش گوئی کے موافق ایک دنیا کو میری طرف رجوع دے
دیا اور ایسی متواتر فتوحات سے مالی مدد کی کہ جس کا شکریہ بیان کرنے کے لئے میرے پاس الفاظ نہیں۔ مجھے اپنی
حالت پر خیال کر کے اس قدر بھی امید نہ تھی کہ دس روپے ماہوار بھی آئیں گے۔ مگر خداتعالیٰ جو غریبوں کو خاک
میں سے اٹھاتا اور متکبروں کو خاک میں ملاتا ہے۔ اسی نے ایسی میری دست گیری کی کہ میں یقینا کہہ سکتا ہوں کہ
اب تک تین لاکھ کے قریب روپیہ آچکا ہے اور شاید اس سے زیادہ ہو… اگر اس میرے بیان کا اعتبار نہ ہو تو بیس
برس ڈاک کے سرکاری رجسٹروں کو دیکھو تا معلوم ہو کہ کس قدر آمدنی کا دروازہ اس تمام مدت میں کھولا گیا ہے۔
حالانکہ یہ آمدنی صرف ڈاک کے ذریعہ تک محدود نہیں رہی۔ بلکہ ہزارہا روپیہ کی آمدنی اس طرح ہی ہوتی ہے کہ لوگ
خود قادیان میں آکر دیتے ہیں اور نیز ایسی آمدنی جو لفافوں میں نوٹ بھیجے جاتے ہیں۔‘‘
(حقیقت الوحی ص۲۱۱،۲۱۲، خزائن ج۲۲ ص۲۲۰،۲۲۱)
’’تیسری پیش گوئی یہ تھی کہ لوگ کثرت سے آئیں گے۔ سو اس قدر کثرت سے آئے کہ اگر ہرروزہ آمدن اور خاص
وقتوں کے مجمعوں کا اندازہ لگایا جائے تو کئی لاکھ تک اس کی تعداد پہنچتی ہے… اب تک کئی لاکھ انسان قادیان
میں آچکے ہیں اور اگر خطوط بھی اس کے ساتھ شامل کئے جائیں… تو شاید یہ اندازہ کروڑ تک پہنچ جائے گا۔‘‘
(براہین احمدیہ حصہ پنجم ص۵۷،۵۸، خزائن ج۲۱ ص۷۴،۷۵)
(مرزاغلام احمد قادیانی نے ۱۸۸۰ء سے علمی اور مذہبی زندگی شروع کی جب کہ براہین احمدیہ کا اعلان کیا
اور ۱۹۰۸ء میں انتقال ہوا۔ گویا کل (۲۷)سال یہ مشغلہ رہا۔ ظاہر ہے کہ مرزاقادیانی کی تحریک نے بتدریج ترقی
شروع کی۔ ابتداء میں چند سال کام ہلکا رہا بعد کو فروغ ہوا۔ تاہم اگر کل ستائیس سال مساوی مان لئے جائیں تو
بھی مرزاقادیانی کے بیان کے مطابق خطوں اور مہمانوں کا روزانہ اوسط بلاناغہ ایک ہزار پڑتا ہے اور اگر حسب
واقعہ سال غیرمساوی مانے جائیں تو آخری سالوں کا روزانہ اوسط کئی ہزار پڑنا چاہئے۔ خوب حساب ہے۔ للمؤلف)
(۲۳) تحصیل وتشفی
’’محب یکرنگ مکرمی اخویم حاجی سیٹھ عبدالرحمن صاحب اللہ رکھا سلمہ
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ، کل کی ڈاک میں بذریعہ تار مبلغ پانچ سو روپے
مرسلہ آں مکرم مجھ کو پہنچ گیا۔ خداتعالیٰ آپ کو ان للہی خدمات کا دونوں جہان میں وہ اجر بخشے جو اپنے مخلص
اور وفادار بندوں کو بخشتا ہے۔ آمین ثم آمین! یہ بات فی الواقع سچ ہے کہ مجھ کو آپ کے روپیہ سے اس قدر دینی
کام میں مدد پہنچ رہی ہے کہ اس کی نظیر میرے پاس بہت ہی کم ہے۔ میں اللہ تعالیٰ سے چاہتا ہوں کہ آپ کو ان خدمات
کا وہ بہ رحمت پاداش بخشے کہ تمام حاجات دارین پر محیط ہو اور اپنی محبت میں ترقیات عطاء فرمائے۔ محض
اللہتعالیٰ کے لئے اس پر آشوب زمانہ میں جو دل سخت ہورہے ہیں آگے سے آگے بڑھانا کچھ تھوڑی بات نہیں ہے۔ ان شاء
اللہ القدیر آپ
337
ایک بڑے ثواب کا حصہ پانے والے ہیں۔ کچھ تھوڑے دن ہوئے کہ مجھ کو خواب آیا تھا کہ ایک جگہ میں بیٹھا
ہوں۔ یک دفعہ کیا دیکھتا ہوں کہ غیب سے کسی قدر روپیہ میرے سامنے موجود ہوگیا ہے۔ میں حیران ہوں کہ کہاں سے
آیا۔ آخر میری یہ رائے ٹھہری کہ خداتعالیٰ کے فرشتہ نے ہماری حاجات کے لئے یہاں رکھ دیا ہے۔ پھر ساتھ الہام
ہوا۔ ’’انی مرسل الیک ہدیۃ‘‘ کہ میں تمہاری طرف ہدیہ بھیجتا ہوں اور ساتھ ہی میرے
دل میں پڑا کہ اس کی یہ ہی تعبیر ہے کہ ہمارے مخلص دوست حاجی سیٹھ عبدالرحمن صاحب اس فرشتہ کے رنگ میں متمثل
کئے گئے ہوں گے اور غالباً وہ روپیہ بھیجیں گے اور میں نے اس خواب کو عربی زبان میں اپنی کتاب میں لکھ لیا۔
چنانچہ کل اس کی تصدیق ہوگئی۔ الحمد للہ ! یہ قبولیت کی نشانی ہے کہ مولیٰ کریم نے خواب اور الہام سے تصدیق
فرمائی… والسلام! (خاکسار: مرزاغلام احمد قادیانی، مؤرخہ ۱۷؍مارچ ۱۸۹۵ء)‘‘
(مکتوبات احمدیہ ج۵ نمبر۱ ص۳، جدیدمکتوبات احمد ج۲ ص۳۴۳،۳۴۴، مکتوب نمبر۵)
’’مخدومی مکرمی حبی فی اللہ حاجی سیٹھ عبدالرحمن صاحب سلمہ
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ، کل کی ڈاک میں مبلغ ایک سو روپیہ مرسلہ آں
محب مجھ کو پہنچا۔ اس کے عجائبات میں سے ایک یہ ہے کہ اس روپیہ کے پہنچنے سے تخمیناً سات گھنٹے پہلے مجھ کو
خدائے عزوجل نے اس کی اطلاع دی۔ سو آپ کی خدمت کے لئے یہ اجر کافی ہے کہ خدائے تعالیٰ آپ سے راضی ہے۔ اس کی
رضا کے بعد اگر تمام جہان ریزہ ریزہ ہو جائے تو کچھ پرواہ نہیں، یہ کشف اور الہام آپ ہی کے بارے میں مجھ کو
دو دفعہ ہوا ہے۔ فالحمد للہ … والسلام! (خاکسار: مرزاغلام احمد، مؤرخہ ۲؍اکتوبر ۱۸۹۶ء)‘‘
(مکتوبات احمدیہ ج۵ نمبر۱ ص۵، مکتوب نمبر۹، جدید، مکتوبات احمدیہ ج۲ ص۳۴۸، مکتوب نمبر۱۰)
’’مخدومی مکرمی اخویم سیٹھ صاحب سلمہ
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ، عنایت نامہ پہنچا جو کچھ آپ نے لکھا ہے۔ آپ
کے صدق واخلاص پر قوی نشانی ہے۔ میں نے جو خط لکھا تھا اس کے لکھنے کے لئے یہ تحریک پیدا ہوئی تھی جو چند
ہفتے ہوئے ہیں مجھے الہام ہوا تھا۔ ’’غثم لہ دفع البلاء من مالہ دفعۃ‘‘ اس میں
تفہیم یہ ہوئی تھی کہ کوئی شخص کسی مطلب کے حصول پر بہت سا حصہ اپنے مال میں بطور نذر بھجوائے گا۔ میں نے اس
الہام کو اپنی کتاب میں لکھ لیا تھا۔ بلکہ اپنے گھر کے قریب دیوار پر مسجد کی، نہایت خوشخط یہ الہام لکھ کر
چسپاں کر دیا۔ اس الہام میں نہ کسی مدت کا ذکر ہے کہ کب ہوگا اور نہ کسی انسان کا ذکر ہے کہ کس شخص کو ایسی
کامیابی ہوگی یا ایسی مسرت ظہور میں آئے گی۔ لیکن چونکہ میرا دل آں مکرم کی کامیابی کی طرف لگا ہوا ہے۔ اس
لئے طبیعت نے یہی چاہا کہ کسی وقت اس کے مصداق آپ ہی ہوں اور خداتعالیٰ ایسا کرے کہ اللہ جل شانہ کے نزدیک
لاکھ دو لاکھ روپیہ کچھ بڑی بات ہے۔ دعاؤں میں اثر ہوتے ہیں مگر صبر سے ان کا ظہور ضرور ہوتا ہے… میں آپ کے
شدت اخلاص کی وجہ سے اس میں لگا ہوا ہوں کہ اعلیٰ درجہ کی زندہ دعا آپ کے حق میں ہو جاوے اور جس طرح سے
شکاری ایک جگہ سے دام اٹھاتا ہے اور دوسری جگہ بچھاتا ہے تاکسی طرح شکار مارنے میں کامیاب ہو جائے۔ اسی طرح
میں ہر طرح سے دعامیں روحانی حیلوں کو استعمال میں لاتا ہوں۔ اگر میں زندہ رہا تو ان شاء اللہ القدیر والموفق
میں اس بات کو اسی قادر کے فضل وکرم اور توفیق سے دکھلاؤں گا کہ زندہ دعا اس کو کہتے ہیں۔ باقی خیریت ہے…
والسلام! (خاکسار: مرزاغلام احمدعفی عنہ، مؤرخہ ۳؍اکتوبر ۱۸۹۸ء)‘‘
(مکتوبات احمدیہ ج۵ نمبر۱ ص۲۰، جدیدمکتوبات احمد ج۲ ص۳۸۳، مکتوب نمبر۵۳)
338
’’مخدومی مکرمی اخویم سیٹھ عبدالرحمن صاحب سلمہ
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ، پہلے خط کے روانہ کرنے کے بعد آج مبلغ سو
روپیہ مرسلہ آں مکرم بذریعہ ڈاک مجھ کو ملا۔ میں آپ کے اس صدق واخلاص سے نہایت امیدوار ہوں کہ اللہ تعالیٰ آپ
کو ضائع نہیں کرے گا۔ مجھے آپ کے روپیہ سے اپنے کاروبار میں اس قدر مدد ملتی ہے کہ میں بیان نہیں کر سکتا۔
جزاکم اللہ خیر الجزاء! یہی عملی حالت ہے کہ جو خداتعالیٰ کے فضل وکرم پر بہت ہی امید دلاتی ہے۔ چونکہ مجھے
اپنے سلسلہ طبع تک میں ایسی حاجتیں پیش آتی رہتی ہیں اور مجھے اس سے زیادہ دنیا میں کوئی غم نہیں کہ جو میں
بوجہ نہ میسر آنے مالی سرمایہ کے طبع کتب دینیہ سے مجبور رہ جاؤں۔ اس لئے میں ایک یہی حکمت عملی آپ کے
متعلق دیکھتا ہوں کہ آپ دل میں ایک نذر مقرر کر چھوڑیں کہ اگر ایک عمدہ کامیابی امور تجارت میں آپ کو میسر
آئے تو آپ یک مشت نذر اس کارخانہ کے لئے ارسال فرمادیں۔ کیا تعجب ہے کہ خداتعالیٰ آپ کے اس صدق واخلاص پر
نظر کر کے وہ کامیابی آپ کے نصیب کرے کہ جو فوق العادت ہو اور اس ذریعہ سے اس اپنے سلسلہ کو بھی کافی مدد
پہنچ جاوے۔ کیونکہ اب یہ سلسلہ مشکلات میں پھنسا ہوا ہے اور شاید یہ کام طبع کتب کا آگے کو بند ہو جائے۔ آپ
کی طرف سے جو مدد آتی ہے وہ لنگرخانہ میں خرچ ہو جاتی ہے اور مجھے جس قدر آپ کے کاروبار کے لئے توجہ ہے یہ
ایک دلی خواہش ہے جو خداتعالیٰ نے مجھ میں پیدا کی ہے اور یہ یقین جانتا ہوں کہ یہ خالی نہیں جائے گا۔ کیا
تعجب کہ اس نیت کے پختہ کرنے پر خداتعالیٰ فوق العادت کے طور پر آپ سے کوئی رحمت کا معاملہ کرے۔ میں تو
جانتا ہوں، آپ نہایت خوش نصیب ہیں۔ آپ کی دنیا بھی اچھی ہے اور آخرت بھی۔ کیونکہ آپ اس طرف دل سے اور پورے
اعتقاد سے جھک گئے ہیں۔ سو اگر تمام دنیا کا کاروبار تباہی میں آجائے تب بھی میں یقین نہیں کرتا کہ آپ ضائع
کئے جائیں۔ والسلام! (خاکسار: مرزاغلام احمد، مؤرخہ ۲۱؍اکتوبر ۱۸۹۸ء)‘‘
(مکتوبات احمدیہ ج۵ نمبر۱ ص۲۱، جدیدمکتوبات احمد ج۲ ص۳۸۵، مکتوب نمبر۵۵)
’’مخدومی مکرم اخویم سیٹھ صاحب سلمہ
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ، آپ کا عنایت نامہ مع مبلغ ایک سو روپیہ آج
مجھ کو ملا۔ ’’جزاکم اللہ خیر الجزاء۔ آمین!‘‘ جس قدر یہ عاجز آپ کو تسلی اور اطمینان کے الفاظ لکھتا ہے یہ
لغو اور بیہودہ نہیں ہے، بلکہ بوجہ آپ کے نہایت درجہ کے اخلاص کے اس درجہ پر آپ کے لئے دعا ظہور میں آتی ہے
کہ دل گواہی دیتا ہے کہ یہ دعائیں خالی نہیں جائیں گی… باقی خیریت ہے۔ والسلام! مبلغ ایک سو روپیہ سیٹھ دال
جی صاحب کی طرف سے بھی پہنچ گیا تھا۔ میری طرف سے دعا اور شکران کو پہنچا دینا۔ (خاکسار: مرزاغلام احمد،
مؤرخہ ۲۲؍نومبر۱۸۹۸ء)‘‘
(مکتوبات احمدیہ ج۵ نمبر۱ ص۲۲، جدیدمکتوبات احمد ج۲ ص۳۸۸، مکتوب نمبر۵۸)
’’مخدومی مکرمی اخویم سیٹھ صاحب سلمہ
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ، عنایت نامہ آں مکرم اور نیز مبلغ ایک سو
روپیہ مجھ کو پہنچا۔ جزاکم اللہ خیرالجزاء! میں آپ کے لئے دعا میں مشغول ہوں، آپ کا
ہر ایک خط جس میں تفرقہ خاطر اور خوف وخطر کا ذکر ہوتا ہے۔ پہلی دفعہ تو میرے پر ایک دردناک اثر ہوتا ہے۔
مگر پھر بعد اس کے جب اللہ جل شانہ کی طاقت اور قدرت اور اس کے وہ الطاف کریمانہ جو میرے پر ہیں بلاتوقف یاد
آجاتے ہیں تو وہ غم دور ہوکر نہایت یقینی امیدیں دل میں پیدا ہو جاتی ہیں۔ آپ کے لئے میرے دل میں عجب جوش
تضرع اور دعا ہے۔ اگر عمیق مصالح جس کا علم بشر کو نہیں ملتا توقف کو نہ چاہتیں تو خداتعالیٰ کے فضل وکرم سے
امید تھی کہ اس قدر توقف
339
ظہور میں نہ آتا۔ بہرحال میں آپ کی بلاؤں کی دفع کے لئے ایساکھڑا ہوں جیسا کوئی شخص لڑائی میں کھڑا
ہوتا ہے۔ خداداد قوت استقلال اور ثابت قدمی اور صدق ویقین ہتھیاروں سے اور عقد ہمت کی پیش قدمی سے اسی میدان
میں خداتعالیٰ سے کامیابی چاہتا ہوں… میں پہلے اس کے اطلاع دے چکا ہوں کہ میرے پر ایک فوجداری مقدمہ سرکار
کی طرف سے دائر ہوگیا ہے… میں نے اوّل خیال کیا تھا کہ شاید آن مکرم کی تحریک سے مدراس میں کسی قدر چندہ ہو،
مگر پھر مجھے خیال آتا ہے کہ ہر ایک انسان اس ہمدردی کے لائق نہیں جب تک انسان سلسلہ میں داخل ہوکر جاں نثار
مرید نہ ہو، تب تک ایسے واقعات روح پر قوی اثر نہیں کرتے۔ دلوں کا خدا مالک ہے۔ اللہ تعالیٰ کا شکر ہے کہ اس نے
باوجود اس تفرقہ کے اور ایسی حالت کے جو قریب قریب تباہی کے ہے آپ کو وہ اخلاص بخشا ہے کہ جو وفادار جان
نثار جواں مرد میں ہوتا ہے۔ میں نے پہلے بھی لکھا تھا اور اب بھی لکھتا ہوں کہ بوجہ اس کے کہ آپ ہر وقت مالی
امداد میں مشغول ہیں، اس لئے ایسے چندہ سے آپ مستثنیٰ ہیں۔ آپ کا بہت سا چندہ پہنچ چکا ہے۔ والسلام!
(خاکسار: مرزاغلام احمد عفی عنہ، ۱۸۹۸ء)‘‘
(مکتوبات احمدیہ ج۵ نمبر۱ ص۲۳،۲۴، جدیدمکتوبات احمد ج۲ ص۳۹۱،۳۹۳، مکتوب نمبر۶۲)
’’مخدومی مکرمی اخویم سیٹھ صاحب سلمہ
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ، عنایت نامہ پہنچا مجھ کو سخت افسوس ہے جس کو
میں بھول نہیں سکتا کہ مجھ کو قبل اس حادثہ وفات، وقت اس کامل دعا کا موقع نہیں ملا جو اکثر کرشمہ قدرت
دکھلاتی ہے۔ میں دعا تو کرتا رہا مگر وہ اضطراب جو سینہ میں ایک جلن پیدا کرتی ہے اور دل کو بے چین کردیتی
ہے وہ اس کے لئے کامل طور پر پیدا نہ ہوئی کہ آپ کے عنایت نامہ جات جو حال میں آئے تھے، یہ فقرہ بھی درج
ہوتا رہا کہ اب کسی قدر آرام ہے اور آخری خط آپ کا جو نہایت اضطراب سے بھرا ہوا تھا اس تار کے بعد آیا جس
میں وفات کی خبر تھی۔ اس خانہ ویرانی سے جو دوبارہ وقوع میں آگئی رنج اور غم تو بہت ہے اور نہ معلوم آپ پر
کیا کیا قلق اور رنج گزرا ہوگا، لیکن خداوند کریم ورحیم کے اس میں کوئی بڑی حکمت ہوگی… باقی خیریت ہے۔
والسلام! (خاکسار: مرزاغلام احمد، مؤرخہ ۱۶؍ستمبر ۱۸۹۹ء)‘‘
(مکتوبات احمدیہ ج۵ نمبر۱ ص۲۹، جدیدمکتوبات احمد ج۲ ص۴۰۳، مکتوب نمبر۷۴)
’’مخدومی مکرمی اخویم سیٹھ صاحب سلمہ
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ، عنایت نامہ پہنچا۔ موجودہ حالات سے آپ دل گیر
نہ ہوں اور نہ کسی گھبراہٹ کو اپنے دل آنے دیں۔ میں اپنی دعاؤں کو دیکھ رہا ہوں کہ وہ ہرگز خطا نہیں جائیں
گی۔ اگر ایک پہاڑ اپنی جگہ سے ٹل جائے تو میں اس کو ممکن جانتا ہوں مگر وہ دعائیں جو آپ کے لئے کی گئی ہیں
وہ ٹلنے والی نہیں۔ ہاں! میرے خدائے کریم وقدیرکی یہ عادت ہے کہ وہ اپنے ارادوں کو جو دعاؤں کی قبولیت کے
بعد ظاہر کرنا چاہتا ہے۔ اکثر دیر اور آہستگی سے ظاہر کرتا ہے۔ تاجوبدبخت اور شتاب کار ہیں وہ بھاگ جائیں…
آپ کو کہتا ہوں کہ صبر سے انتظار کریں ایسا نہ ہوکہ آپ تھک جائیں اور وہ جو آپ کے لئے تخم بویا گیا ہے وہ سب
برباد ہو جائے۔ سو خلاصہ تمام نصیحتوں کا یہی ہے کہ آپ وہ قوت ایمانی دکھلادیں کہ اگر اس قدر انقلاب اور
انصاب مصائب ہوکر سررکھنے کی جگہ باقی نہ رہے تب بھی افسردہ نہ ہوں ؎
-
زکار بستہ میندیش و دل شکستہ مدار
کہ آب چشمہ حیواں دروں تاریکی است
والسلام! مرزا غلام احمد، مؤرخہ ۲۲؍مئی ۱۹۰۲ء‘‘
(مکتوبات احمدیہ ج۵ نمبر۱ ص۳۳،۳۴، مکتوب نمبر۸۲، جدیدمکتوبات احمد ج۲ ص۴۱۱،۴۱۲، مکتوب نمبر۸۳)
340
’’مخدومی مکرمی اخویم سیٹھ صاحب سلمہ
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ، عنایت نامہ پہنچا۔ یہ سچ ہے کہ بنا ہوا کام
بگڑنے سے وسائل معاش کے کم یا معدوم ہونے کی حالت میں بے شک انسان کو صدمہ پہنچتا ہے۔ مگر وہ جو بگاڑتا ہے
اور وہی بنانے پر قادر ہے۔ پس دنیا میں شکستہ دلوں کے اور تباہ شدہ لوگوں کے خوش ہونے کے لئے ایک ہی ذریعہ
ہے کہ اس خدائے ذوالجلال کو ایمانی یقین کے ساتھ یاد کریں کہ جیسا کہ وہ ایک دم میں تخت پر سے خاک مذلت میں
ڈالتا ہے۔ ایسا ہی وہ خاک پر سے ایک لحظہ میں تخت پر بٹھاتا ہے… وہ کریم ورحیم ہے۔ ان لوگوں کو ضائع نہیں
کرتا جو اس کے آستانہ پر گرتے ہیں۔ والسلام! (خاکسار: مرزاغلام احمد، مؤرخہ ۷؍جولائی ۱۹۰۲ء)‘‘
(مکتوبات احمدیہ ج۵ نمبر۱ ص۳۵، مکتوب نمبر۸۴، جدیدمکتوبات احمد ج۲ ص۴۱۴، مکتوب نمبر۸۵)
’’مخدومی مکرمی اخویم سیٹھ صاحب سلمہ
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ، عنایت نامہ پہنچا۔ غم واندوہ کی کثرت اور
بارگراں قرضہ اگرچہ (لفظ پڑھے نہیں جاسکے) ایسی حالت میں جب کہ انسان اپنی کمزوری اور بے سامانی اور عدم
موجودگی اسباب کا مطالعہ کر رہا ہو بہت آزردہ چیز ہے۔ لیکن پھر اگر دوسرے پہلو میں کہ ’’خداداری چہ غم
داری‘‘ سو چاہے تو ایسے غم کہ بہت مجبوریوں کے ساتھ لاحق ہوں تاہم ایک غفلت کا شعبہ ثابت ہوں گے۔ یعنی قادر
حقیقی کے عجائب درعجائب قدرتوں پر ایمان نہیں ہوتا جو ہونا چاہئے۔ یہ خیال درحقیقت ایک تسلی اور شکر اور
ہزارہا امیدوں کے سلسلہ کا موجب ہے کہ ہمارا خدا قادر خدا ہے… اس کے آگے کوئی بات انہونی نہیں۔ یہ ایسی
باتیں نہیں ہیں کہ محض طفل تسلی کے طور پر دل خوش کن باتیں ہوں… باقی سب طرح خیریت ہے۔ خدا آپ کا حافظ ہو
زیادہ خیریت۔ والسلام! (خاکسار: مرزاغلام احمد عفی عنہ، مؤرخہ ۳۱؍اگست ۱۹۰۲ء)‘‘
(مکتوبات احمدیہ ج۵ نمبر۱ ص۳۶،۳۷، مکتوب نمبر۸۷، جدیدمکتوبات احمد ج۲ ص۴۱۸، مکتوب نمبر۸۸)
’’مخدومی مکرمی اخویم سیٹھ صاحب سلمہ
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ، عنایت نامہ مجھ کو ملا۔ آپ بہت مضبوطی سے
اپنی استقامت پرقائم ہیں۔ کیونکہ جو آپ کے لئے کوشش کی گئی ہے وہ ضائع نہیں جائے گی۔ ضرور ہے کہ اوّل یہ
ابتلاء انتہاء تک پہنچ جائے۔ عسر کے ساتھ یسر ہوتی ہے اور غم کے بعد خوشی، ایسا نہ ہو کہ آپ بشریت کے وہم سے
مغلوب ہوکر سلسلہ امید کو ہاتھ سے چھوڑ دیں کہ ایسا کرنا دعا کی برکت کو کم کر دیتا ہے۔ میں بڑی سرگرمی سے
آپ کے لئے مشغول ہوں۔ مگر قریباً پندرہ روز سے ریزش کی شدت سے بیمار ہوں اور ضعف بہت ہے۔ اس لئے میں خط
لکھنے سے مجبور ومعذور رہتا ہوں۔ اکثر بباعث ضعف میرے دل پر ایسے عوارض کا ہجوم ہوتا ہے کہ میں بہت کمزور ہو
جاتا ہوں۔ خدا آپ کو استقامت بخشے اور آپ کے دل میں صبر ڈالے۔ صبر وہ کیمیا ہے جس کا سونا کبھی ختم ہونے میں
نہیں آتا۔ خدا ابتلاء کے طور پر آگ میں ڈالتا ہے۔ مگر صابر اور وفادار کو پھر محبت سے پکڑ لیتا ہے اور دوسری
حالت اس کی پہلی سے اچھی ہوتی ہے۔ والسلام! (خاکسار: مرزاغلام احمد عفی عنہ، مؤرخہ ۶؍دسمبر ۱۹۰۲ء)‘‘
(مکتوبات احمدیہ ج۵ نمبر۱ ص۳۷،۳۸، مکتوب نمبر۹۰، جدید ج۲ ص۴۲۲تا۴۲۴، مکتوب نمبر۹۳)
’’مخدومی مکرمی اخویم سیٹھ صاحب سلمہ
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ، مدت ہوئی آں مکرم کا کوئی خط میرے پاس نہیں
پہنچا۔ نہایت تردّد اور تفکر ہے۔ خداتعالیٰ آفات سے محفوظ رکھے۔ اس طرف طاعون کا اس قدر زور ہے کہ نمونہ
قیامت ہے۔ گرمی کے ایام میں بھی زور چلا جاتا ہے۔
341
میں آپ کے لئے برابر دعا کر رہا ہوں۔ خداتعالیٰ اپنے فضل وکرم سے آخرکار یہ پریشانی دور کرے گا۔
مناسب ہے کہ آپ ارسال خطوط میں سستی نہ کریں کہ اس سے تفکر پیدا ہوتا ہے۔ خداحافظ ہو، چند روز سے میری طبیعت
بعارضہ زحیر علیل ہے۔ ان شاء اللہ القدیر شفاء ہو جائے گی۔ والسلام! (خاکسار: مرزاغلام احمد، مؤرخہ ۲۰؍مئی
۱۹۰۲ء)‘‘
(مکتوبات احمدیہ ج۵ نمبر۱ ص۳۹، مکتوب نمبر۹۱، جدید مکتوبات احمدیہ ج۲ ص۴۱۰، مکتوب نمبر۸۱)
(۲۴) بھاری نذر
’’جنوری ۱۹۰۸ء کا واقعہ ہے کہ ضلع کانپور (یو۔پی) کے ایک رئیس ولی محمد نام جو ایک عرصہ سے احمدی
ہوچکے تھے اور اپنے بیمار بیٹے کی صحت کے واسطے حضرت مسیح موعود کی خدمت میں خطوط لکھا کرتے تھے۔ انہوں نے
حضور کو لکھا کہ میں مدت سے دعا کرارہا ہوں مگر اب تک میرے بیٹے کے حق میں دعا قبول نہیں ہوئی۔ حالانکہ آپ
کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہر دعا کی قبولیت کا وعدہ ہے۔ ولی محمد صاحب کے خط کے ساتھ ہی اسی جگہ کے ایک احمدی
یوسف علی صاحب اٹاوی کا خط بھی اسی مضمون کا آیا کہ اس رئیس کے بیٹے کو اب تک صحت نہیں ہوئی اور مخالف طعن
کرتے ہیں ہر دو خطوط کے جواب میں حضرت مسیح موعود نے فرمایا۔ جواب لکھ دیں کہ خدا کی یہ عادت نہیں کہ ہر ایک
دعا قبول کرلے جب سے دنیا پیدا ہوئی ہے، ایسا کبھی نہیں ہوا۔ ہاں! مقبولوں کی دعائیں بہ نسبت دوسروں کے بہت
قبول ہوتی ہیں۔ خدا کا مقابلہ میں کسی کا زور نہیں، اگر وہ رئیس ایسا ہی بے دل ہے تو چاہئے کہ اس سلسلہ کی
تائید میں کوئی بھاری نذر مقرر کر لے جو اس کی انتہائی طاقت کے برابر ہو اور اس سے اطلاع دے اور یاد دلاتا
رہے۔ (مفتی محمد صادق قادیان، مؤرخہ ۲۰؍اکتوبر ۱۹۳۷ء)‘‘
(الفضل قادیان ج۲۵ نمبر۲۴۶ ص۲ کالم۲، مؤرخہ ۲۲؍اکتوبر ۱۹۳۷ء)
(۲۵) خانگی زندگی
’’اور جس روز مسجد کے چندہ کے واسطے گجرات یا کڑیانوالے کی طرف جارہے تھے اور جناب نواب خاں صاحب
تحصیلدار کے ٹانگہ پر ہم تینوں سوار کوچبان اور جناب خواجہ (کمال الدین) صاحب آگے تھے۔ میں (یعنی سید سرور
شاہ) اور جناب (یعنی مولوی محمد علی) پچھلی سیٹ پر بیٹھے ہوئے تھے… تو خواجہ صاحب نے یہ فرماکر کہ راستہ
باتوں کے ساتھ طے ہوا کرتا ہے اور میرا ایک سوال ہے جس کا جواب مجھے نہیں آتا۔ میں اسے پیش کرتا ہوں۔ آپ اس
کا جواب دیں۔ سوال شروع کیا… صحیح اور یقینی مضمون اس کا یہ تھا کہ پہلے ہم اپنی عورتوں کو یہ کہہ کر کہ
انبیاء اور صحابہ والی زندگی اختیار کرنی چاہئے کہ وہ کم اور خشک کھاتے اور خشن پہنتے تھے اور باقی بچا کر
اللہ کی راہ میں دیا کرتے تھے۔ اسی طرح ہم کو بھی کرنا چاہئے۔ غرض ایسے وعظ کر کے کچھ روپیہ بچاتے تھے اور پھر
وہ قادیان بھیجتے تھے۔ لیکن جب ہماری بیبیاں خود قادیان گئیں، وہاں پر رہ کر اچھی طرح کا حال معلوم کیا تو
واپس آکر ہمارے سر چڑھ گئیں کہ تم بڑے جھوٹے ہو، ہم نے تو قادیان میں جاکر خود انبیاء اور صحابہ کی زندگی کو
دیکھ لیا ہے۔ جس قدر آرام کی زندگی اور تعیش وہاں پر عورتوں کو حاصل ہے اس کا تو عشر عشیر بھی باہر نہیں،
حالانکہ ہمارا روپیہ اپنا کمایا ہوا ہوتا ہے اور ان کے پاس جو روپیہ جاتا ہے وہ قومی اغراض کے لئے قومی
روپیہ ہوتا ہے۔ لہٰذا تم جھوٹے ہو جو جھوٹ بول کر اس عرصہ دراز تک ہم کو دھوکہ دیتے رہے ہو اور آئندہ ہم
ہرگز تمہارے دھوکہ میں نہ آویں گی۔ پس اب وہ ہم کو روپیہ نہیں دیتیں کہ ہم قادیان بھیجیں۔ اس پر خواجہ (کمال
الدین) صاحب نے خود ہی فرمایا تھا کہ ایک جواب تم لوگوں کو دیا کرتے ہو، تمہارا وہ جواب میرے آگے نہیں چل
سکتا۔ کیونکہ میں خود واقف ہوں اور پھر بعض زیورات اور بعض کپڑوں کی خرید کا مفصل ذکر کیا… ان اعتراضات کے
باعث
342
مجھے ایسا محسوس ہورہا تھا کہ غضب خدا نازل ہورہا ہے اور میں متواتر دعا میں مشغول تھا اور باربار
جناب الٰہی میں یہ عرض کرتا تھا کہ مولا کریم! میں اس قسم کی باتوں کے خلاف ہوں، میں اس مجلس سے بھی علیحدہ
ہوجاتا، مگر مجبور ہوں۔ بس تیرا غضب جو نازل ہورہا ہے۔ اس سے مجھے بچانا۔‘‘
(کشف الاختلاف ص۱۲تا۱۴، مصنفہ سرور شاہ قادیانی)
’’لدھیانہ کا ایک شخص تھا جس نے ایک دفعہ مسجد میں مولوی محمد علی صاحب خواجہ کمال الدین صاحب اور شیخ
رحمت اللہ صاحب کے سامنے کہا کہ جماعت مقروض ہوکر اور اپنے بیوی بچوں کا پیٹ کاٹ کر چندہ میں روپیہ بھیجتی ہے۔
مگر یہاں بیوی صاحبہ کے زیورات اور کپڑے بن جاتے ہیں اور ہوتا ہی کیا ہے۔ حضرت مسیح موعود کو جب اس کا علم
ہوا تو آپ نے فرمایا اس پر حرام ہے کہ وہ ایک حبہ بھی کسی سلسلے کے لئے بھیجے اور پھر دیکھے کہ خدا کے سلسلہ
کا کیا بگاڑ سکتا ہے اور آپ نے فرمایا کہ آئندہ اس سے کبھی چندہ نہ لیا جائے۔ حالانکہ وہ پرانا احمدی تھا
اور حضرت مسیح موعود کے دعویٰ سے بھی پہلے آپ سے تعلق رکھتا تھا۔ (جب ہی تو بے تکلفی کا مزا چکھا۔ للمؤلف)
(۳۱؍اگست ۱۹۳۸ء)‘‘
(خطبہ جمعہ خلیفہ قادیان، الفضل قادیان ج۲۶ نمبر۲۰۰ ص۷ کالم۱، مؤرخہ ۳۱؍اگست ۱۹۳۸ء، خطبات محمود ج۱۹
ص۵۳۷)
(۲۶) بڑا اعتراض
’’سب سے بڑا اعتراض جو اس (ڈاکٹر عبدالحکیم) نے مسیح موعود (مرزاقادیانی) پر کیا۔ وہ مال کے متعلق تھا
کہ لوگوں سے روپیہ لیتے ہیں اور جس طرح چاہتے ہیں خرچ کرتے ہیں، چنانچہ اس نے اپنی کتب میں بہت جگہ یہی
واویلا کیا ہے۔ جیسا کہ الذکر الحکیم نمبر۶ کے ص۳، ۵، ۸، ۱۰، ۱۱، ۲۵، ۴۰، ۴۳، ۸۳، ۸۴ وغیرہ میں ذکر ہے کہ
اپنی کتابوں کے شائع کرنے کے لئے چندے جمع کر لیتے ہیں اور جس طرح ہوسکتا ہے مکروفریب کر کے لوگوں سے مال
جمع کر لیتے ہیں اور اسے جس طرح چاہتے ہیں جاوبیجا صرف کرتے ہیں۔ کوئی حساب نہیں۔‘‘
(الفضل قادیان ج۸ نمبر۵۴ ص۷ کالم۳، مؤرخہ ۲۰؍جنوری ۱۹۲۱ء)
(۲۷) کنچنی کا مال
’’بیان کیا مجھ سے میاں عبد اللہ صاحب سنوری نے کہ ایک دفعہ انبالہ کے ایک شخص نے حضرت صاحب(مرزاقادیانی)
سے فتویٰ دریافت کیا کہ میری ایک بہن کنچنی تھی۔ اس نے اس حالت میں بہت سا روپیہ کمایا۔ پھر وہ مرگئی اور
مجھے اس کا ترکہ ملا۔ مگر بعد میں مجھے اللہ تعالیٰ نے توبہ اور اصلاح کی توفیق دی۔ اب میں اس مال کا کیا
کرؤں؟ حضرت صاحب نے جواب دیا کہ ہمارے خیال میں اس زمانہ میں ایسا مال اسلام کی خدمت میں خرچ ہوسکتا ہے۔
(اور اسلام کی روح خود مرزاقادیانی تھے۔ ان سے بہتر مال کا مصرف اور کون ہوسکتا تھا۔ ناقل)‘‘
(سیرت المہدی حصہ اوّل ص۲۴۳، روایت نمبر۲۶۷، جدید ج۱ حصہ اوّل ص۲۴۳، روایت نمبر۲۷۲)
(۲۸) حساب کی کھٹ پٹ
’’مولوی محمد حسین صاحب (بٹالوی) مل گئے۔ ان کا رسالہ اشاعۃ السنۃ اس زمانہ میں میرے مطبع میں چھپا
کرتا تھا۔ انہوں نے بعد سلام مسنون مجھ سے کہا کہ میرے مکان پر چلو۔ کچھ ضروری بات کرنی ہے۔ میں ان کے مکان
پر گیا تو… مولوی صاحب نے کہا تم قادیان جاتے ہو۔ میرا ایک پیغام مرزاقادیانی کو دے دینا کہ مجھے اپنی آمدنی
کا حساب دیں اور میں کئی خط لکھ چکا ہوں، جواب نہیں دیتے۔ پبلک کا روپیہ فضول خرچ ہورہا ہے۔ کہاں کہاں روپیہ
خرچ ہوتا ہے۔ (غالباً یہ وہی روپیہ ہے جو ابتداء میں مرزاقادیانی نے کتابوں کے نام سے وصول کیا اور شائع نہ
ہوئی تو چندہ دینے والوں سے خوب جھک جھک ہوئی۔ للمؤلف) میں نے کہا آپ کیوں حساب مانگتے ہیں۔ کہا،
343
اس میں آپ کی شراکت ہے۔ انہوں نے کہا میری شراکت تو نہیں لیکن میں جو رسالہ اشاعۃ السنۃ میں ان کی
تعریف لکھی ہے۔ اس کو دیکھ کر لوگ رجوع ہوگئے اور میں نے ہی ان کو یہاں تک چڑھایا ہے اور اسی سے ان کے پاس
بکثرت روپیہ کی آمد ہوگئی ہے۔ اگریہ حساب نہ دیں گے تو جیسے میں نے ان کو چڑھایا ہے ویسے ہی گراؤں گا۔
(ہاتھی کے دانت کھانے کے اور ہیں دکھانے کے اور، اور جب دکھاوے کے دانت نکل آئیں تو ان کو توڑنا بہت دشوار
ہے۔ مگر مولوی بٹالوی صاحب دانتوں کا فرق نہیں سمجھے۔ اس لئے دھوکہ کھاگئے۔ للمؤلف) میں نے کہا اگرچہ
تمہارا یہ مطالبہ فضول ہے، مگر میں تمہارا یہ پیغام حضرت کی خدمت میں عرض کردوں گا، میں قادیان پہنچا۔ مولوی
صاحب کا پیغام بھی سنادیا۔ حضرت مسیح موعود نے فرمایا کہ ہم نے مولوی صاحب کو جواب دے دیا ہے کہ ہمارے پاس
خدا کے لئے روپیہ آتا ہے اور خدا کے لئے ہی ہم خرچ کر دیتے ہیں۔ ہم نے کوئی حساب نہیں رکھا۔ نہ ہماری مولوی
صاحب یا کسی اور سے شراکت ہے۔ ان کا یہ کہنا اور لکھنا فضول ہے۔ مولوی صاحب زرپرست دنیادار ہیں۔ سوائے دنیا
اور زرپرستی کے کچھ سوجھتا ہی نہیں۔ یہ ان کے لئے خطرناک راہ ہے۔ (البتہ مرزاقادیانی نے جو راہ اختیار کی وہ
ہر طرح سے محفوظ ہے۔ للمؤلف)
(قادیانی روایات، الفضل قادیان ج۳۴ نمبر۲۰۱، مؤرخہ ۲۸؍اگست ۱۹۴۶ء)
(۲۹) لنگر کا قصہ
’’پھر جناب ( مولوی محمد علی لاہوری) کو یاد ہوگا کہ جب میں (یعنی مولوی سرور شاہ قادیانی) نے جناب کو
کہا تھا کہ آج مجھے پختہ ذریعہ سے معلوم ہوا ہے کہ حضرت مسیح موعود نے گھر میں بہت اظہار رنج فرمایا ہے کہ
باوجود میرے بتانے کے کہ خدا کا منشا یہی ہے کہ میرے وقت میں لنگر کا انتظام میرے ہی ہاتھ میں رہے اور اگر
اس کے خلاف ہوا تو لنگر بند ہو جاوے گا۔ مگر یہ خواجہ وغیرہ ایسے ہیں کہ باربار مجھے کہتے ہیں کہ لنگر کا
انتظام ہمارے سپرد کر دو اور مجھ پر بدظنی کرتے ہیں اور یہ سنا کر میں نے بوجہ محبت آپ (یعنی مولوی محمد
علی) کو یہ کہا تھا کہ آپ آئندہ کبھی اس معاملہ میں شریک نہ ہوں۔ ایسا نہ ہو کہ حضرت اقدس کی زیادہ ناراضگی
کا موجب ہو جائے اور آپ کو نقصان پہنچے۔‘‘
(کشف الاختلاف ص۱۴، مصنفہ سرور شاہ قادیانی)
’’اور خواجہ (کمال الدین) صاحب باربار تاکید کرتے تھے کہ ضرور کہنا اور یہ باتیں کر رہے تھے کہ دفعتہ
آپ (یعنی مولوی محمد علی) کی طرف متوجہ ہوکر کہنے لگے کہ مولوی صاحب اب مجھے وہ طریق معلوم ہوگیا ہے جس سے
لنگر کا انتظام فوراً حضرت صاحب (مرزا قادیانی) ہمارے سپرد کر دیں… اس پر آپ نے یہ کہا کہ خواجہ صاحب میں تو
اب ہرگز نہیں پیش کروں گا۔ تو خواجہ صاحب نے یہ سنتے ہی آنکھیں سرخ کر لیں اور غصہ والی شکل اور غضب والے
لہجہ سے کہنا شرو ع کیا کہ قومی خدمت ادا کرنے میں بڑے بڑے مشکلات پیش آیا کرتے ہیں اور کبھی حوصلہ پست نہ
کرنا چاہئے اور یہ کیسی غضب کی بات ہے کہ آپ جانتے ہیں کہ قوم کا روپیہ کس محنت سے جمع ہوتا ہے اور جن اغراض
قومی کے لئے وہ اپنا پیٹ کاٹ کر روپیہ دیتے ہیں، وہ روپیہ ان اغراض میں صرف نہیں ہوتا بلکہ بجائے اس کے شخصی
خواہشات میں صرف ہوتا ہے اور پھر روپیہ بھی اس قدر کثیر ہے کہ اس وقت جس قدر قومی کام آپ نے شروع کئے ہوئے
ہیں اور روپیہ کی کمی کی وجہ سے پورے نہیں ہوسکے اور ناقص حالت میں پڑے ہوئے ہیں۔ اگر یہ لنگر کا روپیہ اچھی
طرح سے سنبھالا جائے تو اکیلے اسی سے وہ سارے کام پورے ہوسکتے ہیں۔ آپ اچھے خادم قوم ہیں کہ یہ جانتے ہوئے
پھر ایک ذرا سی بات سے کہتے ہیں کہ میں آئندہ ہرگز پیش نہیں کروں گا۔ میں تو کہتا ہوں کہ میں ضرور پیش کروں
گا۔ اس پر آپ نے کہا کہ میں ساتھ چلا جاؤں گا، مگر بات نہیں کروں گا۔ تو خواجہ صاحب نے کہا کہ میں بھی ساتھ
ہی جانے کے لئے کہتاہوں۔ بات تو میں نہیں کراتا۔ بات تو میں خود کروں گا۔ غرض کہ اس طرح کے بہت سے واقعات
ہیں
344
جن سے اس بات کا صاف صاف پتہ چلتا ہے کہ حضرت مسیح موعود (مرزاقادیانی) کے زمانہ میں ہی مالی اعتراض
کا درس خواجہ صاحب نے شروع کر دیا تھا۔‘‘
(کشف الاختلاف ص۱۵،۱۶، مصنفہ سرور شاہ قادیانی)
(۳۰) اسراف کا طعنہ
’’جو شخص کچھ مدد دے کر مجھے اسراف کا طعنہ دیتا ہے وہ میرے پر حملہ کرتا ہے۔ ایسا حملہ قابل برداشت
نہیں۔ اصل تویہ ہے کہ مجھے کسی کی بھی پرواہ نہیں۔ اگر تمام جماعت کے لوگ متفق ہوکر چندہ بند کر دیں یا مجھ
سے منحرف ہو جائیں تو وہ جس نے مجھ سے وعدہ کیا ہوا ہے وہ اور جماعت ان سے بہتر پیدا کر دے گا جو صدق واخلاص
رکھتی ہوگی۔ (گویا اسراف کا طعنہ نہ دے گی۔ للمؤلف) جیسا کہ اللہ تعالیٰ مجھے مخاطب کر کے فرماتا ہے… یعنی خدا
تیری اپنے پاس سے مددکرے گا۔ تیری وہ مدد کریں گے جن کے دلوں میں ہم آپ وحی کریں گے اور الہام کریں گے۔ پس
اس کے بعد میں ایسے لوگوں کو ایک مرے ہوئے کیڑے کی طرح بھی نہیں سمجھتا جن کے دلوں میں بدگمانیاں پیدا ہوتی
ہیں۔ میں ایسے خشک دل لوگوں کو چندہ کے لئے مجبور نہیں کرتا جن کا ایمان ہنوز ناتمام ہے۔ مجھے وہ لوگ چندہ
دے سکتے ہیں جو اپنے سچے دل سے مجھے خلیفۃ اللہ سمجھتے ہیں اور میرے تمام کاروبار خواہ ان کو سمجھیں یا نہ
سمجھیں ان پر ایمان لاتے اور ان پر اعتراض کرنا موجب سلب ایمان سمجھتے ہیں۔ میں تاجر نہیں کہ کوئی حساب
رکھوں۔ میں کسی کمیٹی کا خزانچی نہیں کہ کسی کو حساب دوں۔ (شروع شروع میں جب براہین احمدیہ کے نام سے چندہ
آتا تھا تب تو حساب باقاعدہ رہتا تھا بلکہ شائع بھی ہوتا تھا۔ للمؤلف) میں بلند آواز سے کہتا ہوں کہ ہر ایک
شخص جو ایک ذرہ بھی میری نسبت اور میرے مصارف کی نسبت اعتراض دل میں رکھتا ہے اس پر حرام ہے کہ ایک کوڑی
میری طرف بھیجے۔ مجھے کسی کی پرواہ نہیں جب کہ خدا مجھے بکثرت کہتا ہے۔ گویا ہر روز کہتا ہے کہ میں ہی
بھیجتا ہوں جو آتا ہے اور کبھی میرے مصارف پر وہ اعتراض نہیں کرتا، تو دوسرا کون ہے جو مجھ پر اعتراض کرے۔
(شروع شروع میں جب مرزاقادیانی آریوں اور عیسائیوں سے مناظرے کرتے تھے تو مسلمانوں میں ہردل عزیز ہوگئے،
چنانچہ جب مرزاقادیانی نے ایک کتاب براہین احمدیہ شائع کرنے کا اعلان کیا تو علماء نے اور بالخصوص مولانا
محمد حسین صاحب بٹالوی نے چندہ کے واسطے پرزور تحریک وسفارش کی۔ اثر یہ ہوا کہ چندہ بافراط آنے لگا۔ اس نبوت
پر مرزاقادیانی نے مولانا ممدوح کو جھٹکا دیا۔ رقم پردائمی قبضہ کر لیا اور کتاب کو بھی لیت ولعل میں ڈال
دیا۔ صرف کچھ حصہ شائع کردیا۔ چنانچہ کیفیت دوسری جگہ درج ہے۔ للمؤلف)‘‘
(اخبار الحکم ج۹ نمبر۱۱ ص۹ کالم۱،۲، مؤرخہ ۳۱؍مارچ ۱۹۰۵ء، ملفوظات ج۷ ص۳۲۵،۳۲۶، جدیدملفوظات ج۴
ص۲۴۹،۲۵۰ حاشیہ)
(۳۱) مالی مناقشے
’’باقی آپ (یعنی مولوی حکیم نورالدین قادیانی خلیفہ اوّل) سے میں (یعنی مرزامحمود احمد ابن مرزاغلام
احمد قادیانی) یہ بھی عرض کرنا چاہتا ہوں کہ یہ ابتلاء اگر حضرت صاحب (مرزاقادیانی) زندہ رہتے تو ان کے عہد
میں بھی آتا۔ کیونکہ یہ لوگ (یعنی خواجہ کمال الدین اور مولوی محمد علی لاہوری) اندر ہی اندر تیاری کر رہے
تھے۔ چنانچہ نواب صاحب نے بتایاکہ ان سے انہوں نے کہا کہ اب وقت آگیا ہے کہ حضرت صاحب (مرزاقادیانی) سے حساب
لیا جائے۔ چنانچہ حضرت صاحب نے اپنی وفات سے پہلے جس دن وفات پائی اسی دن بیماری سے کچھ ہی پہلے کہا کہ
خواجہ (کمال الدین) اور مولوی محمد علی وغیرہ مجھ پر بدظنی کرتے ہیں کہ میں قوم کا روپیہ کھا جاتا ہے۔ (نقل
مطابق اصل) ان کو ایسا نہ کرنا چاہئے تھا۔ ورنہ انجام اچھا نہ ہوگا۔ چنانچہ آپ نے فرمایا کہ آج خواجہ صاحب
مولوی محمد علی کا ایک خط لے کر آئے اور کہا کہ مولوی محمد علی نے لکھا ہے کہ لنگر کا خرچ تو تھوڑا سا ہوتا
ہے۔ باقی ہزاروں روپیہ جو آتا ہے۔ وہ کہاں جاتا ہے اور گھر میں آکر آپ
345
نے بہت غصہ ظاہر کیا کہ کیا یہ لوگ ہم کو حرام خور سمجھتے ہیں۔ ان کو اس روپیہ سے کیا تعلق، اگر آج
میں الگ ہو جاؤں تو سب آمدن بند ہو جائے۔ پھر خواجہ صاحب نے ایک ڈیپوٹیشن کے موقعہ پر جو عمارت مدرسہ کا
چندہ لینے گیا تھا، مولوی محمد علی سے کہا کہ حضرت صاحب (مرزاقادیانی) آپ تو خوب عیش وآرام سے زندگی بسر
کرتے ہیں اور ہمیں یہ تعلیم دیتے ہیں کہ اپنے خرچ گھٹا کر بھی چندہ دو۔ جس کا جواب مولوی محمد علی نے یہ دیا
کہ ہاں اس کا انکار تو نہیں ہوسکتا مگر بشریت ہے۔ کیا ضرور… میرا ان باتوں کے لکھنے سے یہ مطلب ہے کہ یہ
ابھی بات شروع نہیں ہوئی تھی بلکہ حضرت اقدس کے زمانہ سے ہے وہ (یعنی مرزاقادیانی) لنگر کا چندہ اپنے پاس
رکھتے تھے۔ آپ نے وہ بھی ان (یعنی خواجہ کمال الدین وغیرہ) کے حوالے کیا۔ اب ان کو خیال سوجھا کہ چلو اور
بھی سب کچھ چھینو۔ باقی رہا ان کا تقویٰ وہ تو ان کے بلوں اور بجٹوں سے بہت کچھ ظاہر ہوسکتا ہے کہ جس پر شور
مچا رہے ہیں وہ کام روزمرہ خود کرتے ہیں۔‘‘
(مرزامحمود کا خط بنام مولوی نورالدین خلیفہ اوّل، مندرجہ حقیقت اختلاف ص۵۲،۵۳، مصنفہ مولوی محمد علی
لاہوری قادیان، امیر جماعت لاہور)
’’اس خط کے آخری فقرہ سے میاں صاحب کی گھبراہٹ جو ان کو اس وجہ سے پیدا ہوئی کہ سب کچھ انجمن کے ہاتھ
میں چلاگیا ہے اور جارہا ہے۔ کس قدر عیاں ہے۔ حضرت مولوی (نورالدین) صاحب مرحوم کا بھی اسے بڑا قصور قرار
دیاگیا ہے کہ انہوں نے لنگر کا چندہ بھی انجمن کے حوالہ کر دیا اور اب ان کو خیال سوجھا کہ چلو سب کچھ ہی
چھینو… مگر یہ سب کچھ چھین کر ہم کہاں لے جارہے تھے۔ کیا اپنی جائیداد بڑھا رہے تھے یا قوم پر ہی صرف کر رہے
تھے … ہاں! میاں صاحب (مرزامحمود) کی ذاتی جائیداد بہت بڑھ گئی ہے اور مریدوں کے بھی مکانات بن گئے ہیں۔‘‘
(حقیقت اختلاف ص۲۷، مصنفہ مولوی محمد علی لاہوری قادیانی)
’’میں (مولوی محمد علی لاہوری) اس سے انکار نہیں کرتا کہ میاں صاحب (مرزامحمود) نے چند مقامات پر
مبلغین بھیجنے کا اچھا کام کیا ہے، مگر حق تو یہ ہے کہ اس راہ میں بھی سابق وہی شخص ہے جسے میاں صاحب منافق
کہہ رہے ہیں اور میں اس سے بھی انکار نہیں کرتا کہ سالانہ جلسہ پر بہت سے آدمی جمع ہوجاتے ہیں اور اس سے بھی
انکار نہیں کرتا کہ قادیان میں بہت سے احمدیوں نے سکونت اختیار کر لی ہے اور مکانات بنالئے ہیں اور اس سے
بھی انکار نہیں کرتا کہ سلسلہ پیری مریدی میں میاں صاحب نے نمایاں ترقی کی ہے اور نذر ونیاز کی آمدنی بھی
بڑھ گئی ہے اور جناب میاں صاحب کی ذاتی جائیداد بھی بہت بڑھ گئی ہے۔‘‘
(حقیقت اختلاف ص۳۰،۳۱، مصنفہ مولوی محمد علی لاہوری قادیانی)
(۳۲) مجوزہ بیت المال
’’دوسرا مطالبہ جو دراصل پہلے ہی مطالبہ پر مبنی ہے میں یہ کرتا ہوں کہ جماعت کے مخلص افراد کی ایک
جماعت ایسی نکلے جو اپنی آمد کا ۵/۱ سے ۳/۱ حصہ تک سلسلہ کے مفاد کے لئے تین سال تک بیت المال میں جمع
کرائے۔ اس کی صورت یہ ہو کہ جس قدر وہ مختلف چندوں میں دیتے ہیں یا دوسرے ثواب کے کاموں پر خرج کرتے ہیں یا
دار الانوار کمیٹی کا حصہ یا حصے انہوں نے لئے ہیں۔ (اخبارات وغیرہ کی قیمتوں کے علاوہ) وہ سب رقم اس حصہ
میں سے کاٹ لیں اور باقی رقم اس تحریک کی امانت میں صدر انجمن احمدیہ کے پاس جمع کرادیں۔ مثلاً ایک شخص کی
پانچ سو روپیہ آمد ہے اور وہ موصی بھی ہے اور دارالانوار کا ایک حصہ بھی اس نے لیا ہوا ہے۔ وہ دس بارہ روپے
ماہوار اور ثواب کے کاموں میں بھی خرچ کرتا ہے۔ اس شخص نے ۵/۱ دینے کا عہد کرلیا اور یہ سورپے کی رقم ہوئی۔
وصیت ایسے شخص کی پچاس ہوئی۔ (بہشتی مقبرہ کے واسطے) دارالانوار کمیٹی کے ۲۵ہوئے۔ چندہ کشمیر اور دوسرے
کارہائے ثواب مثلاً بارہ روپے ہوئے۔ یہ کل رقم ۸۷ ہوئی۔ باقی تیرہ روپے ماہوار اس شخص کو انجمن میں اس تحریک
کی امانت میں جمع کراتے رہنے چائیں… اس مطالبے کے ماتحت جو آنا چاہئے اسے
346
چاہئے کہ جلد سے جلد مجھے اطلاع دے… مقررہ تین سال کے بعد جتنی رقم جمع ہوگی وہ یا تو نقد یا رقم کے
برابر جائیداد کی صورت میں اسے واپس دے دی جائے گی… جو کمیٹی میں اس رقم کی حفاظت کے لئے مقرر کروں گا اس کا
فرض ہوگا کہ ہر شخص پر ثابت کرے کہ اگر کسی کی جائیداد کی صورت میں روپیہ واپس کیا جارہا ہے تو وہ جائیداد
فی الواقع اس رقم میں خریدی گئی ہے۔‘‘
(خطبہ خلیفہ قادیان، الفضل قادیان ج۲۲ نمبر۶۶ ص۱۲،۱۳، مؤرخہ ۲۹؍نومبر ۱۹۳۴ء، خطبات محمود ج۱۵
ص۴۳۱،۴۳۲)
(۳۳) تحریص وترغیب
’’ہم (مرزاقادیانی) نے کشف میں دیکھا کہ قادیان ایک بڑا عظیم الشان شہر بن گیا اور انتہائی نظر سے بھی
پرے تک بازار نکل گئے۔ اونچی اونچی دومنزلی چو منزلی یا اس سے بھی زیادہ اونچے اونچے چبوتروں والی دکانیں
عمدہ عمارت کی بنی ہوئی ہیں اور موٹے موٹے سیٹھ بڑے بڑے پیٹ والے جن سے بازار کو رونق ہوتی ہے، بیٹھے ہیں
اور ان کے آگے جواہرات اور لعل اور موتیوں اور ہیروں، روپوں اور اشرفیوں کے ڈھیر لگ رہے ہیں اور قسما قسم کی
دکانیں خوبصورت اسباب سے جگمگا رہی ہیں۔ یکے، بگھیاں، ٹم ٹم، فٹن، پالکیاں، گھوڑے، شہر میں، پیدل اس قدر
بازار میں آتے جاتے ہیں کہ مونڈھے سے مونڈھا بھڑ کر چلتا ہے اور راستہ بمشکل ملتا ہے۔‘‘
(از مضمون پیر سراج الحق مندرجہ الحکم ج۶ نمبر۱۶ ص۱۲،۱۳، مؤرخہ ۳۰؍اپریل ۱۹۰۲ء، تذکرہ ص۴۱۹،۴۲۰، طبع
چہارم)
’’جو شخص سب کو چھوڑ کر اس جگہ (قادیان) آکر آباد نہیں ہوتا اور کم سے کم یہ کہ یہ تمنا دل میں نہیں
رکھتا۔ اس کی حالت کی نسبت مجھ کو بڑا اندیشہ ہے کہ وہ پاک کرنے والے تعلقات میں ناقص نہ رہے۔‘‘
(تریاق القلوب ص۶۰، خزائن ج۱۵ ص۲۶۲،۲۶۳)
’’پھر ایک اور بڑا ذریعہ تزکیہ نفوس کا ہے جو مسیح موعود (مرزاقادیانی) نے کہا ہے اور میرا یقین ہے کہ
وہ بالکل درست ہے۔ ہر ہر حرف اس کا سچا ہے اور وہ یہ ہے کہ ہر شخص جو قادیان نہیں آتا، یا کم ازکم ہجرت کی
خواہش نہیں رکھتا۔ اس کی نسبت شبہ ہے کہ اس کا ایمان درست ہو… قادیان کی نسبت اللہ تعالیٰ نے ’’انہ اوی
القریۃ‘‘ فرمایا۔ یہ بالکل درست ہے کہ یہاں مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ والی برکت نازل ہوتی ہیں۔ حضرت مسیح
موعود بھی فرماتے تھے ؎
-
زمین قادیاں اب محترم ہے
ہجوم خلق سے ارض حرم ہے‘‘
(منصب خلافت ص۳۳، انوار العلوم ج۲ ص۴۹)
(۳۴) معاملہ کی بات
’’قادیان میں اراضی خریدنے کے خواہشمند احباب مطلع رہیں کہ ہمارے انتظام میں ہر وقت ہر قسم اور ہر
موقع کی زمین موجود رہتی ہے۔ تفصیلات بذریعہ خط وکتابت معلوم کی جائیں۔ (خاکسار: (صاحبزادہ) مرزابشیراحمد
قادیان)‘‘
(الفضل قادیان ج۹ نمبر۱۰۰، مؤرخہ ۲۲؍جون ۱۹۲۲ء)
’’قادیان کی نئی آبادی کے مختلف محلہ جات میں مختلف موقعوں پر قطعات اراضی قابل فروخت موجود ہیں۔
خواہشمند احباب خاکسار کے ساتھ خط وکتابت فرمائیں۔ (خاکسار: مرزابشیراحمد)‘‘
(الفضل قادیان ج۱۳ نمبر۸۸ ص۱۰، مؤرخہ ۲۳؍فروری ۱۹۲۶ء، بعنوان قادیان میں سکنی اراضیات)
’’حضرت خلیفۃ المسیح ثانی ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کی کوٹھی واقع دارالانوار قادیان کے احاطہ کے
ساتھ بالکل ملحق جانب شمال
347
کچھ رقبہ مملوکہ مرزاعزیز احمد صاحب ومرزارشید احمد صاحب قابل فروخت موجود ہے۔ جس کے فروخت کرنے کا
مالکان کی طرف سے اختیار دیاگیا ہے… نہایت باموقع اور اعلیٰ درجہ کی زمین ہے۔ قیمت یک مشت وصول کی جائے گی۔
فقط! (خاکسار: مرزابشیراحمد قادیان)‘‘
(الفضل قادیان ج۲۲ نمبر۱۷، مؤرخہ ۷؍اگست ۱۹۳۴ء)
(۳۵) بہشتی مقبرہ
’’حضرت مسیح موعود (مرزاغلام احمد قادیانی) نے فرمایا کہ نماز سے کوئی بیس یا پچیس منٹ پیشتر میں نے
خواب میں دیکھا کہ گویا ایک زمین خریدی ہے کہ اپنی جماعت کی میتیں وہاں دفن کیا کریں تو کہا گیا کہ اس کا
نام مقبرہ بہشتی ہے یعنی جو اس میں دفن ہوگا وہ بہشتی ہوگا۔ ۱۸؍نومبر ۱۹۰۲ء‘‘
(مکاشفات ص۲۳، مرتبہ منظور الٰہی قادیانی)
’’فاوحی الی ربی واشار الیٰ ارض وقال انہا الارض تحتہا الجنۃ فمن دفن فیہا دخل الجنۃ
وانہ من الامنین میرے رب نے مجھے وحی کی اور ایک قطعہ زمین کی طرف اشارہ کر کے فرمایا۔ یہ ایسا
قطعہ زمین ہے جس کے نیچے جنت ہے جو اس میں دفن کیا جائے گا وہ جنت میں داخل ہوگا اور وہ امن دئیے جانے والوں
میں سے ہوگا۔‘‘
(ضمیمہ حقیقت الوحی، الاستفتاء ص۵۲، خزائن ج۲۲ ص۶۷۵، حاشیہ)
’’کشفی رنگ میں وہ مقبرہ مجھے دکھلایا گیا جس کا نام خدا نے بہشتی مقبرہ رکھا ہے اور پھر الہام
ہوا:’’کل مقابر الارض لا تقابل ہذہ الارض‘‘ یعنی زمین ہند کے تمام قبرستان اس زمین
سے مقابلہ نہیں کرسکتے۔‘‘
(تذکرہ ص۷۱۰، طبع چہارم، مکاشفات ص۵۹، مرتبہ منظور الٰہی لاہوری قادیانی)
’’حضرت مسیح موعود مقبرہ بہشتی کے متعلق حسب ذیل ارشادات رسالہ الوصیت میں فرماتے ہیں۔ ایک جگہ مجھے
ایک قبر دکھلائی گئی کہ وہ چاندی سے زیادہ چمکتی تھی اور اس کی تمام مٹی چاندی کی تھی۔ تب مجھے کہاگیا کہ یہ
تیری قبر ہے۔ اس قبرستان کے لئے بڑی بھاری بشارتیں مجھے ملی ہیں اور نہ صرف خدا نے یہ فرمایا کہ یہ مقبرہ
بہشتی ہے بلکہ یہ بھی فرمایا کہ:’’انزل فیہا کل رحمۃ‘‘ یعنی ہر قسم کی رحمت اس
قبرستان میں اتاری گئی ہے اور کسی قسم کی رحمت نہیں جو اس قبرستان والوں کو اس سے حصہ نہیں۔
آگے چل کر اس میں داخل ہونے کی شرائط بیان فرمائی گئی ہیں اور ان شرائط کے بعد یہ اضافہ فرمایا ہے۔
میری نسبت اور میرے اہل وعیال کی نسبت خدا نے استثناء رکھا ہے۔ باقی ہر ایک مرد یا عورت ہو ان کو ان
شرائط کی پابندی لازم ہوگی اور شکایت کرنے والا منافق ہوگا۔‘‘
(الفضل قادیان ج۲۴ نمبر۵۴ ص۴ کالم۴، مؤرخہ ۲؍ستمبر ۱۹۳۶ء)
’’ایک جگہ مجھے دکھلائی گئی اور اس کا نام بہشتی مقبرہ رکھا گیا اور ظاہر کیاگیا کہ وہ ان برگزیدہ
جماعت کے لوگوں کی قبریں ہیں جو بہشتی ہیں… چونکہ اس قبرستان کے لئے بڑی بھاری بشارتیں مجھے ملی ہیں اور نہ
صرف خدا نے یہ فرمایا کہ یہ مقبرہ بہشتی ہے۔ بلکہ یہ بھی فرمایا کہ ’’انزل فیہا کل
رحمۃ‘‘ اس لئے خدا نے میرا دل اپنی وحی خفی سے اس طرف مائل کیا کہ ایسے قبرستان کے لئے ایسے
شرائط لگادئیے جائیں کہ وہی لوگ اس میں داخل ہوسکیں جو اپنے صدق اور کامل راست بازی کی وجہ سے ان شرائط کے
پابند ہوں۔ پہلی شرط یہ ہے کہ ہر ایک شخص جو اس قبرستان میں مدفون ہونا چاہتا ہے وہ اپنی حیثیت کے لحاظ سے
ان مصارف (تکمیل احاطہ وغیرہ) کے لئے چندہ داخل کرے … دوسری شرط یہ ہے کہ تمام جماعت میں سے اس قبرستان میں
وہی مدفون ہوگا جو یہ وصیت کرے جو اس کی موت کے بعد دسواں
348
حصہ اس کے تمام ترکہ کا حسب ہدایت اس سلسلہ کے اشاعت اسلام اور تبلیغ احکام قرآن میں خرچ ہوگا اور ہر
ایک صادق کامل الایمان کو اختیار ہوگا کہ اپنی وصیت میں اس سے بھی زیادہ لکھ دے… تیسری شرط یہ ہے کہ اس
قبرستان میں دفن ہونے والا متقی ہو اور محرمات سے پرہیز کرتا ہو اور کوئی شرک اور بدعت کا کام نہ کرتا ہو۔
سچا اور صاف مسلمان ہو۔ ہر ایک میت جو قادیان کی زمین میں فوت نہیں ہوئی ان کو بجز صندوق قادیان میں لانا
جائز نہ ہوگا اور نیز ضروری ہو گا کہ کم سے کم ایک ماہ پہلے اطلاع دیں … اگر کوئی صاحب خدانخواستہ طاعون کے
مرض سے فوت ہوں… ان کی نسبت یہ ضروری حکم ہے کہ وہ دوبرس تک صندوق میں رکھ کر کسی علیحدہ مکان میں امانت کے
طور پر دفن کئے جائیں۔ اگر کوئی صاحب دسویں حصہ جائیداد کی وصیت کریں اور اتفاقاً ان کی موت ایسی ہو کہ
مثلاً کسی دریا میں غرق ہوکر ان کا انتقال ہو، یا کسی اور ملک میں وفات پاویں جہاں سے میت کو لانا متعذر
ہوتو ان کی وصیت قائم رہے گی اور خداتعالیٰ کے نزدیک ایسا ہی ہوگا کہ گویا وہ اسی قبرستان میں دفن ہوئے ہیں
اور جائز ہوگا کہ ان کی یادگار میں اسی قبرستان میں ایک کتبہ اینٹ یا پتھر پر لکھ کر نصب کیا جائے اور اس پر
واقعات لکھے جائیں… اگر خدانخواستہ کوئی ایسا شخص جو رسالہ الوصیت کی رو سے وصیت کرتا ہے مجذوم ہو، جس کی
جسمانی حالت اس لائق نہ ہو جو وہ قبرستان میں لایا جائے تو ایسا شخص حسب مصالح ظاہر مناسب نہیں ہے کہ اس
قبرستان میں لایا جائے… میری نسبت اور میرے اہل وعیال کی نسبت خدا نے استثناء رکھا ہے۔ باقی ہر ایک مرد یا
عورت ہو ان کو شرائط کی پابندی لازم ہوگی اور شکایت کرنے والا منافق ہوگا۔‘‘
(الوصیت ص۱۵تا۳۸، خزائن ج۲۰ ص۳۱۶،۳۲۷)
’’حضرت مسیح موعود نے فرمایا ہے جو وصیت نہیں کرتا وہ منافق ہے اور وصیت کا کم ازکم چندہ ۱۰/۱ حصہ مال
رکھا ہے۔‘‘
(منہاج الطالبین ص۱۶، انوارالعلوم ج۹ ص۱۶۶)
(۳۶) لوگ ترستے مرگئے
’’مقبرہ بہشتی اس سلسلہ کا ایک ایسا مرکزی نقطہ ہے اور ایسا عظیم الشان انسٹیٹیوشن یعنی محکمہ ہے جس
کی اہمیت ہر دوسرے محکمہ سے بڑھ کر ہے۔ یہ وہ نعمت ہے جس کو آدم کے وقت سے اس وقت تک کے لوگ ترستے مرگئے۔
گویا یہ معلوم ہوتا ہے کہ آدم اوّل کو جب شیطان نے ایک عارضی بہشت سے نکالا تھا تو اس کی تلافی کے لئے چھ
ہزار سال کے بعد پھر آدم ثانی کی معرفت یہ محکمہ دائمی جنت میں داخل ہونے کا اللہ تعالیٰ نے نسل انسانی کے لئے
کھولا ہے۔ اگلے زمانہ میں انبیاء اپنے بعض خاص خاص مقبروں کو بہشت میں داخل ہونے کی بشارت دیا کرتے تھے اور
یہاں تو یہ نظر آتا ہے کہ گویا بہشت کا دروازہ ہی کھل گیا ہے۔ صرف ذرا کھڑے ہونے اور قدم اٹھانے کی دیر
ہے۔‘‘
(الفضل قادیان ج۲۴ نمبر۱۵ ص۴ کالم۲،۳، مؤرخہ ۱۵؍ستمبر ۱۹۳۶ء)
(۳۷) ابوبکر کے ہم پلہ
’’آج تمہارے لئے ابوبکر وعمر سی فضیلت حاصل کرنے کا موقع ہے اور وہ بہشتی مقام موجود ہے جہاں تم وصیت
کر کے اپنے پیارے آقا المسیح الموعود کے قدموں میں دفن ہوسکتے ہو اور چونکہ حدیثوں میں آیا ہے کہ مسیح موعود
رسول کریم کی قبر میں دفن ہو گا۔ اس لئے تم اس مقبرہ میں دفن ہوکر خود رسول اکرم کے پہلو میں دفن ہوگے اور
تمہارے لئے اس خصوصیت میں ابوبکر کے ہم پلہ ہونے کا موقع ہے۔‘‘
(افسر بہشتی مقبرہ کا اعلان، الفضل قادیان ج۲ نمبر۹۹ ص۶ کالم۳، مؤرخہ ۲؍فروری ۱۹۱۵ء)
349
(۳۸) وصیتوں کے قصے
’’بقایا داران حصہ آمد کے متعلق اخبار الفضل میں متواتر کئی دفعہ اعلان ہوچکا ہے کہ یہ اعلان مساجد
میں پڑھ کر سنادیا جائے مگر معلوم ہوا ہے کہ بعض جماعتوں کے عہدہ داران نے ابھی تک ایسا نہیں کیا۔ اب مزید
توجہ کے لئے مندرجہ ذیل اعلان کیا جاتا ہے کہ اس آواز کو ہر موصی تک پہنچا دیں۔
بموجب ارشاد حضرت امیرالمؤمنین خلیفۃ المسیح الثانی ایدہ اللہ تعالیٰ فیصلہ کیاگیا ہے کہ جو موصی وصیت
کا چندہ واجب ہونے کی تاریخ کے چھ ماہ بعد تک رقم وصیت ادا نہ کرے گا نہ دفتر سے اپنی معذوری بتا کر مہلت
حاصل کرے گا۔ اس کی وصیت انجمن کارپرداز ان مصالح قبرستان کو منسوخ کرنے کا کامل اختیار اور جس قدر روپیہ وہ
وصیت میں ادا کرچکا ہے۔ اس کے واپس لینے کا موصی کو حق نہ ہوگا۔ سوائے اس شخص کے جو احمدیت سے مرتد ہو جائے
اور جو وصیتیں اس وقت تک ہوچکی ہیں ان کے لئے یہ قاعدہ مقرر کیا جاتا ہے کہ جو موصی وصیت کا چندہ واجب ہونے
کے چھے ماہ بعد تک چندہ ادا نہیں کرتا۔ اس کی وصیت منسوخ کی جائے اور آئندہ اس سے جب تک وہ توبہ نہ کر لے
کسی قسم کا چندہ وصول نہ کیا جائے۔ سوائے اس صورت کے کہ وہ اپنی معذوری ثابت کر کے خود اپنی وصیت کی ادائیگی
کے لئے انجمن سے مہلت حاصل کرچکا ہو۔ (سیکرٹری مقبرہ بہشتی قادیان)‘‘
(الفضل قادیان ج۲۴ نمبر۶۲ ص۷ کالم۴ ،مؤرخہ ۱۱؍ستمبر ۱۹۳۶ء)
’’بقایا داران موصیان حصہ آمد کے متعلق کئی دفعہ اعلان ہوچکا ہے کہ آخر اکتوبر ۱۹۳۶ء تک جن موصیان حصہ
آمد کا بقایا ادا نہ ہوگا یا ادائیگی بقایا کے متعلق نظارت ہذا سے انہوں نے مہلت حاصل نہ کر لی ہو، ان کی
وصایا بمراد منسوخی مجلس کارپرداز میں پیش کردی جائیں گی۔ مذکورہ بالا اعلانات کے بعد بعض موصیوں کی طرف سے
خطوط آئے ہیں کہ ہماری وصایا منسوخ کر دی جائیں۔ ہم بعد میں دوبارہ وصیتیں کر دیں گے۔ اس کے متعلق واضح کر
دیا جاتا ہے کہ ایسے موصیوں کی دوبارہ وصایا نہیں لی جائیں گی۔ جو بقایا کی وجہ سے منسوخ کرائیں گے۔
(سیکرٹری مقبرہ بہشتی قادیان)‘‘
(الفضل قادیان ج۲۴ نمبر۵۷ ص۹ کالم۳، مؤرخہ ۵؍ستمبر ۱۹۳۶ء)
(۳۹) عملی مثال گھناؤنی اور شرمناک
’’اگر یہ واقعہ صحیح ہے کہ ایک ایسے قادیانی احمدی کو جس پر بہشتی مقبرہ کی شرائط صادق نہ آتی تھیں،
غلطی سے ان میں دفن کر دیا گیا اور بعد میں غلطی معلوم ہونے پر اس کی نعش اکھاڑ کر پھر دوسرے قبرستان میں
دفن کی گئی تو یہ عملی مثال احرار کے فعل شنیع سے بھی (کہ انہوں نے قادیانی میت کو مسلمانوں کے قبرستان میں
دفن ہونے سے روکا۔ للمؤلف) بڑھ کر گھناؤنی اور شرمناک ہے۔‘‘
(پیغام صلح ج۲۴ نمبر۴۹ ص۲ کالم۳، مؤرخہ ۳؍اگست ۱۹۳۶ء)
(۴۰) بہشتی مقبرہ سے خارج
’’ایک غیرمبائع (لاہوری قادیانی) کے متعلق ایک صاحب نے سوال کیا کہ آیاوہ مقبرہ بہشتی میں داخل ہوسکتا
ہے یا نہیں؟ اس کے جواب میں حضرت خلیفۃ المسیح ثانی ایدہ اللہ (مرزامحمود) نے لکھوایا کہ دلوں کا حال اللہ تعالیٰ
جانتا ہے۔ ہمارا کام ظاہر کو دیکھنا ہے۔ حضرت مسیح موعود نے شرط لگائی ہے کہ وصیت کنندہ ظاہری عیوب سے پاک
ہو اور ہمارے نزدیک بیعت سے باہر رہناگناہ ہے۔ اس لئے غیرمبائع (لاہوری قادیانی) مقبرہ میں نہیں دفن
ہوسکتا۔‘‘
(مکتوب مرزامحمود خلیفہ قادیان، الفضل قادیان ج۹ نمبر۹۹ ص۷ کالم۱، مؤرخہ ۱۹؍جون ۱۹۲۲ء)
350
(۴۱) طاعون کی دعا
’’حمامۃ البشریٰ میں جو کئی سال طاعون پیدا ہونے سے پہلے شائع کی تھی میں نے یہ لکھا تھا کہ میں نے
طاعون پھیلنے کے لئے دعا کی ہے۔ سو وہ دعا قبول ہوکر ملک میں طاعون پھیل گئی۔‘‘
(حقیقت الوحی ص۲۲۴، خزائن ج۲۲ ص۲۳۵)
(۴۲) طاعون کا فلسفہ
’’۳۰؍نومبر ۱۹۰۲ء … میں (مرزاقادیانی) نے براہین احمدیہ کے آخری اوراق کو دیکھا تو ان میں الہام درج
تھا۔ دنیا میں ایک نذیر آیا اور دنیا نے اس کو قبول نہ کیا۔ پر خدا اس کو قبول کرے گا اور زورآور حملوں سے
اس کی سچائی ظاہر کرے گا۔ اس پر مجھے خیال آیا کہ اس وقت دنیا کہاں تھی اور اس وقت ہمارا دعویٰ بھی نہ تھا۔
لیکن اس الہام میں ایک پیش گوئی تھی، جو اس وقت طاعون پر صادق آرہی ہے اور زور آور حملوں سے طاعون مراد
ہے۔‘‘
(ملفوظات احمدیہ حصہ ہفتم ص۵۲۲، مرتبہ منظور الٰہی لاہوری قادیانی)
’’ہوشیارپور اور جالندھر کے اضلاع میں ابھی چند ہی وارداتیں طاعون کی ہوئی تھیں کہ میں نے اللہ تعالیٰ سے
علم پاکر پیش گوئی کی تھی کہ یہ وبا پنجاب کے دوسرے اضلاع میں بھی پھیل جائے گی۔ ۱۷؍اکتوبر ۱۹۰۲ء‘‘
(ملفوظات احمدیہ حصہ ششم ص۳۵۴، مرتبہ منظور الٰہی لاہوری قادیانی)
’’اسی طرح سے طاعون سے محفوظ رہنے کا جو نشان مجھے دیاگیا ہے، میں اس سے کیونکر انکار کرسکتا ہوں اور
میں یقین رکھتا ہوں کہ بدوں ٹیکہ طاعون مجھے اس بیماری سے بچایا گیا ہے۔ ۲۵؍نومبر۱۹۰۲ء‘‘
(ملفوظات احمدیہ حصہ ہفتم ص۵۰۸، مرتبہ منظور الٰہی لاہوری قادیانی)
’’شیخ نور احمد صاحب نے عرض کی کہ اب بھی کئی مخالف یہی کہتے ہیں کہ ان کو طاعون کیوں نہیں آتی۔ حضرت
مسیح موعود نے فرمایا کہ قرآن کریم سے بھی یہی معلوم ہوتا ہے کہ بدکار لوگ انبیاء سے خود ہی عذاب طلب کیا
کرتے تھے کہ کم بخت لوگ یہ نہیں کہتے کہ آپ دعا کریں کہ اللہ تعالیٰ انہیں نیکی کی ہدایت دے بلکہ الٹا طاعون ہی
مانگتے ہیں۔ ۲۹؍نومبر۱۹۰۲ء‘‘
(ملفوظات احمدیہ حصہ ہفتم ص۵۲۱، مرتبہ منظور الٰہی لاہوری قادیانی)
’’اگر خدانخواستہ کوئی شخص ہماری جماعت سے اس مرض سے وفات پاجائے تو گو وہ ذلت کی موت ہوئی۔ لیکن ہم
پر کوئی اعتراض نہیں ہوسکتا۔ کیونکہ ہم نے خود اشتہار دے رکھا ہے کہ اللہ تعالیٰ کا ہماری جماعت سے وعدہ ہے کہ
وہ متقی کو اس سے بچالے گا۔ اس لئے تم کو چاہئے کہ اپنے اندر پاک تبدیلی پیدا کرو تاکہ دوسروں کے طعن اور
خدا کے عذاب سے محفوظ رہو۔ ۱۶؍نومبر۱۹۰۲ء‘‘
(ملفوظات احمدیہ حصہ ہفتم ص۴۹۲، مرتبہ منظور الٰہی لاہوری قادیانی)
’’اگر ہماری جماعت کا کوئی شخص طاعون سے مر جائے اور اس وجہ سے ہماری جماعت کوملزم گردانا جائے تو ہم
کہیں گے کہ یہ محض دھوکہ اور مغالطہ ہے۔ کیونکہ طاعونی موت ثابت کرتی ہے کہ وہ فی الحقیقت جماعت سے الگ تھا
ورنہ ایک موت تو دوسری موت کا کفارہ ہو جاتی ہے۔ اگر اس کے نفسانی جذبات اور خواہشات پر موت آچکی ہوتی اور
وہ دنیا کے فریبوں اور مکاریوں سے علیحدہ ہوچکا ہوتا تو پھر کوئی وجہ نہ تھی کہ دوبارہ ہلاک کیا جاتا۔
۱۷؍اکتوبر۱۹۰۲ء‘‘
(ملفوظات احمدیہ حصہ ششم ص۳۵۸، مرتبہ منظور الٰہی لاہوری قادیانی)
’’قمیص تو ہم دے دیں گے لیکن سچی بات یہ ہے کہ جب تک اللہ تعالیٰ کے فضل ورحمت کی قمیص انسان نہ پہنے
کوئی دوسری چیز
351
حفاظت نہیں کرسکتی۔ دیکھو میں جانتا ہوں کہ گو اللہ تعالیٰ نے باربار وعدہ فرمایا ہے کہ وہ میری اور
میری جماعت کی اس ذلت کی موت سے محافظت فرمائے گا۔ لیکن اس حفاظت کے وعدہ کے ساتھ تقویٰ کی شرط ہے۔ محض رسمی
طور پر مسلمان کہلانا یا رسمی طور پر بیعت کر لینا کسی کام نہیں آسکتا۔ ۱۶؍نومبر۱۹۰۲ء‘‘
(ملفوظات احمدیہ حصہ ہفتم ص۴۹۱، مرتبہ منظور الٰہی لاہوری قادیانی)
(۴۳) ایمان واسباب
’’۲۵؍نومبر۱۹۰۲ء… ایک مومن کا جس قدر ایمان اللہ تعالیٰ کی قدرتوں پر ہوتا ہے اسی قدر وہ اسباب پرستی پر
بھروسہ کرنے سے دور رہتا ہے اور یہ ہے بھی سچ۔ کیونکہ جب انسان کا ایمان اللہ تعالیٰ پر کامل ہو جاتا ہے تو اس
کی ایمانی نظر میں اسباب کا سلسلہ بالکل معدوم ہو جاتا ہے اور اس کا سارا بھروسہ اور توکل اللہ تعالیٰ پر ہی ہو
جاتا ہے۔‘‘
(ملفوظات احمدیہ حصہ ہفتم ص۵۰۷،۵۰۸، مرتبہ منظور الٰہی لاہوری قادیانی)
’’ڈاکٹر میر محمد اسماعیل صاحب نے مجھ سے بیان کیا کہ حضرت مسیح موعود کو صفائی کا بہت خیال ہوتا تھا۔
خصوصاً طاعون کے ایام میں اتنا خیال رہتا تھا کہ فینائل لوٹے میں حل کر کے خود اپنے ہاتھ سے گھر کے پاخانوں
اور نالیوں میں جاکر ڈالتے تھے۔ خاکسار عرض کرتا ہے کہ بعض اوقات حضرت مسیح موعود گھر میں ایندھن کا بڑا
ڈھیر لگوا کر آگ بھی جلوایا کرتے تھے، تاکہ ضرر رساں جراثیم مرجائیں اور آپ نے ایک بہت بڑی آہنی انگیٹھی بھی
منگوائی ہوئی تھی جسے کوئلہ ڈال کر اور گندھک وغیرہ رکھ کر کمروں کے اندر جلایا جاتا تھا اور اس وقت دروازے
بند کردئیے جاتے تھے۔ اس کی اتنی گرمی ہوتی تھی کہ جب انگیٹھی کے ٹھنڈا ہو جانے کے ایک عرصہ بعد بھی کمرہ
کھولا جاتا تھا تو پھر بھی وہ اندر سے بھٹی کی طرح تپتا تھا۔‘‘
(سیرت المہدی حصہ دوم ص۵۹، روایت نمبر۳۷۹، جدید ج۱ حصہ دوم ص۳۴۵، روایت نمبر۳۸۲)
(۴۴) باغ میں قیام
’’مخدومی مکرم اخویم سیٹھ صاحب سلمہ
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ، عنایت نامہ پہنچا۔ بدریافت خیروعافیت خوشی
ہوئی۔ الحمد للہ اس جگہ بھی بفضلہ تعالیٰ سب طرح سے خیریت ہے۔ میں اس وقت تک معہ اپنی جماعت کے باغ میں ہوں۔
اگرچہ اب قادیان میں طاعون نہیں ہے۔ لیکن میں اس خیال سے کہ جو زلزلہ کی نسبت مجھے اطلاع دی گئی ہے، اس کی
نسبت میں توجہ کر رہا ہوں۔ اگر معلوم ہوا کہ وہ واقعہ جلد تر آنے والا ہے تو اس واقعہ کے ظہور کے بعد قادیان
میں جاؤں… بہرحال دس یا پندرہ جون تک ان شاء اللہ میں اسی جگہ باغ میں ہوں۔ آپ تشریف لے آویں۔ ان شاء اللہ
تعالیٰ اس جگہ کوئی تکلیف نہ ہوگی اور آنے سے پہلے مجھے اطلاع دیں… والسلام! (خاکسار: مرزاغلام احمد، مؤرخہ
۱۲؍مئی۱۹۰۵ء)‘‘
(مکتوبات احمدیہ ج۵ نمبر۱ ص۳۹، مکتوب نمبر۹۳، جدید مکتوبات احمدیہ ج۲ ص۴۲۴، مکتوب نمبر۹۴)
’’۴؍اپریل ۱۹۰۵ء کو جو خطرناک زلزلہ آیا اس موقع پر حضرت مسیح موعود کو زلزلہ کے متعلق کثرت سے
الہامات ہوئے۔ آپ خداتعالیٰ کے کلام کا ادب واحترام کرتے ہوئے باغ میں تشریف لے گئے۔ کئی بے وقوف کہہ
دیاکرتے ہیں کہ حضرت مسیح موعود طاعون سے ڈرکر باغ میں چلے گئے اور تعجب ہے کہ میں نے بعض احمدیوں کے منہ
بھی یہ بات سنی ہے۔ حالانکہ طاعون کے ڈر سے حضرت مسیح موعود نے کبھی اپنا گھر نہیں چھوڑا۔ اس وقت چونکہ
زلازل کے متعلق آپ کو کثرت سے الہامات ہورہے تھے۔ اس لئے آپ نے یہی مناسب خیال فرمایا کہ کچھ عرصہ باغ میں
رہیں۔‘‘
(خطبہ جمعہ مرزامحمود خلیفہ قادیان، الفضل قادیان ج۲۰ نمبر۱۳۴ ص۶ کالم۲، مؤرخہ ۱۱؍مئی ۱۹۳۳ء، خطبات
محمودج۱۴ص۱۱۳،۱۱۴)
352
(۴۵) طاعونی جہاد
’’جن لوگوں کو خدا کا خوف نہیں ہے وہ ایسی نکتہ چینیاں کرتے ہیں جن کے رو سےآنحضرت ﷺ بھی ان کے اعتراض
کے نیچے آجاتے ہیں۔ چنانچہ بعض نادان کہتے ہیں کہ جماعت احمدیہ کے بعض لوگ بھی طاعون سے ہلاک ہوگئے ہیں… ہم
ایسے متعصبوں کو یہ جواب دیتے ہیں کہ ہماری جماعت میں سے بعض لوگوں کا طاعون سے فوت ہونا بھی ایسا ہے جیسا
کہ آنحضرت ﷺ کے بعض صحابہ لڑائیوں میں شہید ہوتے تھے۔‘‘
(تتمہ حقیقت الوحی ص۱۳۱، خزائن ج۲۲ ص۵۶۸ حاشیہ)
(۴۶) طاعون کی برکت
’’اسی طرح میں کہتا ہوں اور بڑے دعوے اور زور سے کہتا ہوں کہ اگر ایک شخص ہماری جماعت میں سے طاعون سے
مرتا ہے تو بجائے اس کے سو آدمی یا زیادہ ہماری جماعت میں داخل ہوتا ہے اور یہ طاعون ہماری جماعت کو بڑھاتی
جاتی ہے اور ہمارے مخالفوں کو نابود کرتی جاتی ہے۔ ہر ایک مہینہ میں کم سے کم پانچ سو آدمی اور کبھی ہزاردو
ہزار آدمی بذریعہ طاعون ہماری جماعت میں داخل ہوتا ہے۔ پس ہمارے لئے طاعون رحمت ہے اور ہمارے مخالفوں کے لئے
زحمت اور عذاب ہے اور اگر دس پندرہ سال تک ملک میں ایسی ہی طاعون رہی تومیں یقین رکھتا ہوں کہ تمام ملک
احمدی جماعت سے بھر جائے گا… پس مبارک وہ خدا ہے جس نے دنیا میں طاعون کو بھیجا تا اس کے ذریعہ سے ہم بڑھیں
اور پھولیں اور ہمارے دشمن نیست ونابود ہوں۔‘‘
(حقیقت الوحی ص۱۳۱تا۱۳۳، خزائن ج۲۲ ص۵۶۸تا۵۷۰حاشیہ)
(۴۷) سلسلہ کی ترقی
’’چنانچہ اگر اشاعت سلسلہ کی تاریخ کا بغور مطالعہ کیا جاوے تو صاف نظر آتا ہے کہ جس سرعت کے ساتھ
طاعون کے زمانہ میں سلسلہ کی ترقی ہوئی۔ ایسی سرعت اس وقت تک اور کسی زمانہ میں نہیں ہوئی نہ طاعون کے دور
دورہ سے قبل اور نہ اس کے بعد چنانچہ حضرت خلیفۃ المسیح ثانی بیان فرماتے تھے کہ جن دونوں میں اس بیماری کا
پنجاب میں زور تھا۔ اس دنوں میں بعض اوقات پانچ پانچ سو آدمیوں کی بیعت کے خطوط ایک ایک دن میں حضرت صاحب کی
خدمت میں پہنچتے تھے۔‘‘
(سیرت المہدی حصہ دوم ص۴۷، روایت ۳۵۶، جدید ج۱ حصہ دوم ص۳۳۲، روایت نمبر۳۵۸)
(۴۸) طاعون کا مجرب علاج
’’چونکہ آئندہ اس بات کا سخت اندیشہ ہے کہ طاعون ملک میں پھیل جائے اور ہمارے گھر میں جس میں بعض حصوں
میں مرد بھی مہمان رہتے ہیں اور بعض حصوں میں عورتیں۔ سخت تنگی واقع ہے اور آپ لوگ سن چکے ہیں کہ اللہ جل شاہ
نے ان لوگوں کے لئے جو اس گھر کی چاردیوار کے اندر ہوں گے۔ حفاظت خاص کا وعدہ فرمایا ہے اور اب وہ گھر جو
غلام حیدر متوفی کا تھا۔ جس میں ہمارا حصہ ہے۔ اس کی نسبت ہمارے شریک راضی ہوگئے ہیں کہ ہمارا حصہ دیں اور
قیمت پر باقی حصہ بھی دے دیں۔ میرے دانست میں یہ حویلی جو ہماری حویلی کاایک جزو ہوسکتی ہے دوہزار تک تیار
ہوسکتی ہے۔ چونکہ خطرہ ہے کہ طاعون کا زمانہ قریب ہے اور یہ گھر وحی الٰہی کی خوشخبری کی رو سے اس طوفان
طاعون میں بطور کشتی کے ہوگا۔ نہ معلوم کس کس کو اس کی بشارت کے وعدہ سے حصہ ملے گا۔ اس لئے یہ کام بہت جلدی
کا ہے۔ خدا پر بروسہ کر کے جو خالق اور رازق ہے اور اعمال صالحہ کو دیکھتا ہے۔ کوشش کرنی چاہئے میں نے بھی
دیکھاکہ یہ ہمارا گھر بطور کشتی کے تو ہے، مگر آئندہ اس کشتی میں نہ کسی مرد کی گنجائش ہے نہ عورت کی۔ اس
لئے توسیع کی ضرورت پڑی۔‘‘
(کشتی نوح ص آخری ورق، خزائن ج۱۹ ص۸۶)
353
(۴۹) طاعون کی قادیانی قدردانی
’’میں نے جو اپنی نسبت خوابیں اور الہامات دیکھے ہیں ان سے حیران ہوں۔ دو مرتبہ میں نے خواب میں دیکھا
ہے کہ گویا مجھے مرض طاعون ہوگئی ہے اور ورم طاعون نمودار ہے اور آج بھی یہی خواب آئی ہے۔ اسی کے قریب قریب
ایک الہام بھی ہے، جو کسی رنج اور بلا پر دلالت کرتا ہے اور مبصرین نے طاعون سے مراد کبھی تو طاعون اور کبھی
خارش اور حکام کی طرف سے کوئی عذاب وتکلیف اور کبھی کوئی اور فتنہ رنج وہ مراد لیا۔ معلوم نہیں کہ اس خواب
کی کیا تعبیر ہے۔ (خواب کی تعبیر یہ ہے کہ مرض طاعون کی شدت ہے اور مرزاقادیانی نے اس کو عذاب الٰہی قرار
دیا ہے۔ اپنے منکرین کے حق میں، لیکن ممکن ہے کہ خود بھی اسی مرض میں مبتلا ہو جائے۔ لہٰذا تقاضہ احتیاط یہ
ہے کہ اس کو خواب میں شامل کر لیا جائے کہ اس صورت میں بھی کم ازکم اپنا کشف مسلم رہے اور اگر مرض نہ لگے تو
اس کی تاویل بھی موجود ہے۔ ایسی پیش بندیاں مرزاقادیانی کا بڑا کمال ہیں۔ للمؤلف)‘‘
(تذکرہ ص۳۱۵،۳۱۶، طبع چہارم)
’’جب طاعون کا سلسلہ شروع ہوا تو آپ (مرزاقادیانی) نے اس (بھیڑ) کا گوشت کھانا چھوڑ دیا۔ کیونکہ آپ
فرماتے تھے کہ اس میں طاعونی مادہ ہوتا ہے۔‘‘
(سیرت المہدی حصہ اوّل ص۳۸، روایت نمبر۵۵، جدید ج۱ حصہ اوّل ص۴۵، روایت نمبر۵۶)
’’وبائی ایام حضرت مسیح موعود اس قدر احتیاط فرمایا کرتے تھے کہ اگر کسی کارڈ کو بھی، جو وبا والے شہر
سے آتا چھوتے تو ہاتھ ضرور دھولیتے۔‘‘
(ریویو بابت ماہ اگست ۱۹۲۸ء ص۵، منقول از الفضل قادیان ج۲۵ نمبر۱۲۲ ص۵، مؤرخہ ۲۸؍مئی ۱۹۳۷ء)
’’میں چاہتا ہوں کہ کسی قدر دوائے طاعون آپ کے لئے روانہ کروں۔ کیونکہ وہ نہ صرف طاعون کے لئے بلکہ
اور بہت سے امراض کے لئے مفید ہے۔ غالباً ان شاء اللہ ! اس ہفتہ کے اندر اندر روانہ کروں گا۔ آپ ہرروز قریب چار
رتی کھا لیا کریں اور کسی قدر دودھ پی لیا کریں۔ باقی ہر طرح سے خیریت ہے۔ اس ملک میں پھر طاعون کے خطرات
معلوم ہوتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ رحم فرمائے۔ والسلام!‘‘
(مرزاقادیانی کا مکتوب مؤرخہ ۲۲؍جولائی ۱۸۹۴ء، بنام ڈاکٹر خلیفہ رشید الدین، الفضل قادیان ج۳۴
نمبر۱۹۴، مؤرخہ ۲۰؍اگست ۱۹۴۶ء)
’’جب ہندوستان میں پیش گوئی کے مطابق طاعون کا مرض پھیلا اور پنجاب میں بھی اس کے کیس ہونے لگے تو
حضرت مسیح موعود نے اس کے لئے ایک دوائی تیار کی جس میں کونین، جدوار، کافور، کستوری، مروارید اور بہت سی
قیمتی ادویہ ڈالی گئیں اور کھرل کر کے چھوٹی چھوٹی گولیاں بنالی گئیں جو سیاہ رنگ کی تھیں۔ اس کا نام تریاق
الٰہی رکھا گیا۔ جب وہ گولیاں تیار ہوگئیں تو آپ نے ان کو ایک ٹین میں بھرکر اپنی نشست گاہ کے کمرے میں رکھ
لیا۔ میرا خیال ہے کہ وہ گولیاں ایسی قیمتی تھیں کہ فی گولی ایک روپیہ سے کم خرچ نہ ہوا ہوگا۔ لیکن وہ سب کی
سب آپ نے مفت تقسیم کیں۔ میں نے دیکھا کہ اپنے دوست کیا بلکہ بعض مخالف ہندو بھی آکر مانگتے کہ حضور ہمیں
تھوڑا سا تریاق الٰہی دیں تو آپ مٹی بھر کر ان کو خندہ پیشانی کے ساتھ عطاء کر دیتے۔ (ایک ترکیب سے تھوڑی
گولیاں بھی مٹی بھر کر دی جاسکتی ہیں یا گولیاں بہت ارزاں تھیں۔ للمؤلف)‘‘
(مفتی محمد صادق قادیانی کی تقریر، الفضل قادیان ج۳۴ نمبر۸۰ ص۴ کالم۳، مؤرخہ ۴؍اپریل ۱۹۴۶ء)
(۵۰) طاعون کی تواضح
’’اس جگہ طاعون سخت تیزی پر ہے۔ ایک طرف انسان بخار میں مبتلا ہوتا ہے اور صرف چند گھنٹوں میں مر جاتا
ہے۔ خداتعالیٰ خوب جانتا ہے کہ کب تک یہ ابتلاء دور ہو… مکرر یہ کہ آتے وقت ایک بڑا بکس فینائل کا جو سولہ
یا بیس روپیہ کا آتا ہے ساتھ لے آویں۔ اس کی قیمت اس جگہ دے دی جاوے گی اور علاوہ اس کے آپ بھی اپنے گھر کے
لئے فینائل بھیج دیں اور ڈس انفیکٹ کے لئے رس کپور اس
354
قدر بھیج دیں جو چند کمروں کے لئے کافی ہو۔‘‘
(مکتوبات احمدیہ ج۵ نمبر۴ ص۱۱۲،۱۱۳، مکتوب نمبر۳۶، جدید، مکتوبات احمدیہ ج۲ ص۲۵۸، مکتوب نمبر۵۳)
’’اس وقت تک خدا کے فضل وکرم اور جودواحسان سے ہمارے گھر اور آپ کے گھر میں بالکل خیروعافیت ہے۔ بڑی
غوثان کو تپ ہوگیا تھا۔ اس کو گھر سے نکال دیا ہے۔ لیکن میری دانست میں اس کو طاعون نہیں ہے۔ احتیاطاً نکال
دیا ہے اور ماسٹر محمد دین کو تپ ہوگیا اور گلٹی بھی نکل آئی۔ اس کو بھی باہر نکال دیا ہے… آج ہمارے گھر میں
ایک مہمان عورت کو جو دہلی سے آئی تھی بخار ہوگیا ہے… میں تو دن رات دعا کر رہا ہوں اور اس قدر زور اور توجہ
سے دعائیں کی گئی ہیں کہ بعض اوقات میں ایسا بیمار ہوگیا کہ یہ وہم گزرا کہ شاید دو تین منٹ جان باقی ہے اور
خطرناک آثار ظاہر ہوگئے۔ (قبل از مرگ واویلا۔ للمؤلف) اگر آتے وقت لاہور سے ڈس انفیکٹ کے لئے کچھ رس کپور
اور کسی قدر فینائل لے آویں اور کچھ گلاب اور سرکہ لے آویں تو بہتر ہوگا۔ ۶؍اپریل ۱۹۰۴ء‘‘
(مکتوبات احمدیہ ج۵ نمبر۴ ص۱۱۵،۱۱۶، مکتوب نمبر۳۹، جدید مکتوبات احمد ج۲ ص۲۶۷، مکتوب نمبر۵۹)
(۵۱) قادیانی میت
’’جو خدانخواستہ اس بیماری (طاعون) سے مر جائے وہ شہید ہے۔ اس کے واسطے ضرورت غسل کی نہیں اور نہ نیا
کفن پہنانے کی ضرورت ہے۔ اس کے وہی کپڑے رہنے دو اور ہو سکے تو اس پر ایک سفید چادر ڈال دو اور چونکہ مرنے
کے بعد میت کے جسم میں زہر کا اثر زیادہ ترقی پکڑتا ہے۔ اس واسطے سب لوگ اس کے گرد جمع نہ ہوں۔ حسب ضرورت دو
تین آدمی اس کی چارپائی کو اٹھائیں اور باقی سب دور کھڑے ہوکر مثلاً ایک سوگز کے فاصلہ پر جنازہ پڑھیں۔
جنازہ ایک دعا ہے اور اس کے واسطے ضروری نہیں کہ انسان میت کے سر کھڑا ہو۔ جہاں قبرستان دور ہو مثلاً لاہور
میں سامان ہوسکے تو کسی گاڑی یا چھکڑے پر لاد کر میت کو لے جاویں۔‘‘
(ارشاد مرزاغلام احمد قادیانی، الفضل قادیان ج۲ نمبر۱۱۶ ص۵ کالم۲، مؤرخہ ۲۱؍مارچ ۱۹۱۵ء)
’’سوال: اگر خدانخواستہ ہمارا کوئی احمدی بھائی پلیگ سے فوت ہوجائے تو اس کے نہلانے کے متعلق کیا حکم
ہے۔ آیا حضرت صاحب (مرزاقادیانی) کا پہلا فتویٰ یعنی نہ نہلانا ہی ہے یا نہلانا چاہئے اور نیز اس کے کفن کے
متعلق کیا حکم ہے۔ اسے کفنانا چاہئے یا نہیں۔
جواب: اگر احتیاط سے نہلایا جائے یعنی نہلانے والا ہاتھ نہ لگائے اور ہاتھ پر کپڑا باندھ لے یا دستانہ
پہن لے پھر فوراً گرم پانی اور صابن سے خود نہائے تو نہلانا اچھا ہے اور اگر یہ احتیاطیں نہ ہوسکیں یا میت
کی حالت زیادہ خراب ہو تو نہ نہلانا بہتر ہے۔‘‘
(مکتوبات مرزامحمود خلیفہ قادیان، الفضل قادیان ج۹ نمبر۸۴، مؤرخہ ۲۷؍اپریل ۱۹۲۲ء)
(۵۲) قادیانی تحریک اور طاعون
’’موت ہر ایک انسان کو آنی ہے۔ لیکن چونکہ طاعون حضرت صاحب (مرزاقادیانی) کی پیش گوئی کے ماتحت آئی
ہے۔ اس لئے اگر کوئی احمدی اس میں مبتلا ہوتا ہے تو لوگوں کو ابتلاء آتا ہے۔ کیونکہ یہ مرض غیروں کے لئے
بطور عذاب کے ہے۔ اگرچہ اس میں ہمارے بعض آدمیوں کا مبتلا ہونا کوئی بات نہیں ہے۔ دیکھو صحابہ کے وقت میں
تلوار کفار کے لئے بطور عذاب کے تھی۔ مگر اس تلوار کی جنگ میں صحابہ بھی مارے جاتے تھے۔ مگر ان کے لئے عذاب
نہ تھی۔ کیونکہ اس وقت تلوار سے مرنا دشمنوں کے لئے تباہی تھی۔ صحابہ کے لئے تباہی نہ تھی۔ کیونکہ صحابہ
مرنے سے کم نہیں ہوتے تھے، بلکہ بڑھتے تھے اور دشمن مرتے تھے اور کم ہوتے چلے جاتے تھے۔ پس جب مرنے سے کوئی
قوم بڑھ جائے وہ اس کے لئے عذاب نہیں ہوسکتا۔ پھر بھی جو ناواقف لوگ ہوتے ہیں وہ ابتلاء میں پڑ جاتے ہیں کہ
جب یہ مرض بطور
355
عذاب کے ہے تو احمدی کیوں مبتلاء ہوتے ہیں۔ ان لوگوں کو ابتلاء سے بچانے کے لئے دعاؤں کی ضرورت ہے
کہ اللہ تعالیٰ جماعت کو محفوظ رکھے… طاعون خدا کا ایک عذاب ہے جو حضرت مسیح موعود (مرزاقادیانی) کی تائید کے
لئے بھیجی گئی ہے۔ اگر ہماری جماعت کی رفتار ترقی کو دیکھا جائے تو ثابت ہوگا کہ ساٹھ ستر فیصدی آدمی طاعون
کی وجہ سے سلسلہ میں داخل ہوئے ہیں۔ مجھ کو یاد ہے کہ طاعون کے دنوں میں پانچ پانچ سو، ہزار ہزار آدمی کی
بیعت کے خطوط حضرت صاحب کے پاس روزانہ آتے تھے تو چونکہ یہ احمدیت کی صداقت کا ایک نشان ہے اور جب تک جماعت
کی حفاظت نشان کے طور پر نہ ہو یہ نشان کامل تجلی کے ساتھ ظاہر نہیں ہوسکتا۔ اس لئے دعا کرنی چاہئے کہ
اللہتعالیٰ امتیازی طور پر ہماری جماعت کو اس مرض سے بچائے… پس جماعت کے لوگوں کو دعاؤں کے ساتھ ہی اس نشان
پر زور دینا چاہئے تاکہ احمدیت خوب پھیلے۔ جانتے ہو اگر گرم لوہے پر چوٹ مارو تو اس کو جس شکل میں چاہو ڈھال
لو۔ لیکن ٹھنڈے لوہے پر کچھ اثر نہیں ہوا کرتا۔ ان دنوں چونکہ دل پگھلے ہوئے ہیں اس لئے احمدیت کے سانچے میں
ڈھل جائیں گے۔ طاعون بھی خدا کی طرف سے ایک بھٹی بنائی گئی ہے جس میں دل پگھلائے جاتے ہیں۔ پس تم صداقت کے
قالبوں میں ان کو ڈھال لو۔ یہ دن تبلیغ کے دن ہیں۔ دونوں باتوں کی طرف توجہ کرنی چاہئے اور اس سے فائدہ
اٹھانا چاہئے۔‘‘
(خطبہ جمعہ خلیفہ قادیان مندرجہ اخبار الفضل قادیان ج۹ نمبر۷۲ ص۵ کالم۲،۳، مؤرخہ ۹؍مارچ ۱۹۱۸ء، خطبات
محمود ج۶ ص۵۵،۵۶)
(۵۳) مرزاقادیانی کی مخصوص گالی (ذریۃ البغایا)
’’تلک کتب ینظر الیہا کل مسلم بعین المحبۃ والمودۃ وینتفع من معارفہا ویقبلنی ویصدق
دعوتی الا ذریتہ البغایا الذین ختم اللہ علی قلوبہم فہم لا یقبلون (ترجمہ)ان کتابوں کو سب مسلمان
محبت کی آنکھ سے دیکھتے ہیں اور ان کے معارف سے فائدہ اٹھاتے ہیں اور میرے دعویٰ کی تصدیق کرتے ہیں۔ مگر
بدکار عورتوں کی اولاد نہیں مانتے کہ ان کے دلوں پر اللہ تعالیٰ نے مہر کر دی ہے۔‘‘
(آئینہ کمالات اسلام ص۵۴۷،۵۴۸، خزائن ج۵ ص۵۴۷،۵۴۸)
مرزاقادیانی نے مندرجہ بالا بیان میں ان لوگوں کو تو مسلمان قرار دیا ہے جو ان کو قبول کرتے ہیں اور
ان کے دعوے کی تصدیق کرتے ہیں، لیکن وہ مسلمان جو ایسا نہیں کرتے تو ان کو ’’ذریۃ البغایا‘‘ کا خطاب دیا ہے۔
چونکہ عربی میں ’’ذریۃ البغایا‘‘ سخت گالی مانی جاتی ہے۔ یعنی بدکار عورت کی اولاد۔ لہٰذا مسلمانوں کی
ناراضی کے خوف سے قادیانی صاحبان بالعموم اس کی دو تاویلیں کرتے ہیں اور یہ کہ ’’ذریۃ البغایا‘‘ کے معنی
گمراہ ہدایت سے دور لوگ ہیں۔ دوم یہ کہ اس کے معنی جو کچھ بھی ہوں، یہاں مخاطب غیرمسلم لوگ ہیں۔ آخری تاویل
اس لحاظ سے پیش کی جاسکتی ہے کہ اپنے عقیدے میں قادیانی لوگ اپنے آپ کو مسلمان اور مسلمانوں کو غیرمسلم
سمجھتے ہیں۔ رہی پہلی تاویل ’’ذریۃ البغایا‘‘ اور ’’بغایا‘‘ مرزاقادیانی کے خاص الفاظ ہیں۔ جن کو وہ اکثر
استعمال کرتے ہیں اور ان کے معنی بھی خود ہی لکھے ہیں۔ ذیل میں چند حوالے بطور نمونہ درج ہیں۔ ان سے واضح ہو
جائے گا کہ مرزاقادیانی ’’ذریۃ البغایا‘‘ اور بغایا سے اپنی تحریرات میں ہمیشہ کیا مراد لیتے ہیں۔ چنانچہ
ملاحظہ ہو:
’’واعلم ان کل من ہو من ولد الحلال ولیس من ذریۃ البغایا ونسل الدجال فیفعل امر امن
امرین‘‘ ’’اور جاننا چاہئے کہ ہر ایک شخص جو ولد الحلال ہے اور خراب عورتوں اور دجال کی
356
نسل میں سے نہیں ہے وہ دو باتوں میں سے ایک بات ضرور اختیار کرے گا۔‘‘
(نور الحق حصہ اوّل ص۱۲۳، خزائن ج۸ ص۱۶۳)
علیٰ ہذا مرزاقادیانی ایک دوسرے موقع پر اپنے مخالف مولوی عبدالحق صاحب غزنوی کو عربی میں گالی دے کر
خود ہی اس کا اردو ترجمہ فرماتے ہیں۔ چنانچہ ملاحظہ ہو: ’’رقصت کرقص بغیۃ فی مجالس اور تو نے بدکار عورت کی طرح رقص کیا۔‘‘
(حجۃ اللہ عربی ص۸۷، خزائن ج۱۲ ص۲۳۵)
۱… اس کے سوا ملاحظہ ہو: ’’الا ہذہ البغی۔‘‘ ہمیں زن فاحشہ اس سے چند سطریں
آگے :
۲… ’’ویتزوجون البغایا‘‘ ،’’ودر نکاح خود می ارند زنان بازاری را‘‘
(لجۃ النور ص۸۶، خزائن ج۱۶ ص۴۲۸)
۳… ’’نعم یوجد کالبغایا… ہمچو زنان بازاری‘‘
(لجۃ النور ص۸۶، خزائن ج۱۶ ص۴۲۸)
۴… ’’فلاشک ان البغایا قد خربن بلد اننا پس ہیچ شک نیست کہ زنان فاحشہ ملک
مارا خراب کردہ اند۔‘‘
(لجۃ النور ص۸۷، خزائن ج۱۶ ص۴۲۹)
۵… ’’ان البغایا حزب نجس فی الحقیقۃ زنان فاحشہ در حقیقت پلید اند۔‘‘
(لجۃ النور ص۸۹، خزائن ج۱۶ ص۴۳۱)
۶… ’’ان النساء داران کن بغایا فیکون رجالہا دیوثین دجالین اگر درخانہ زنان آن خانہ فاسقہ باشند۔ پس مردان آن خانہ دیوث ودجال مے باشند۔‘‘
(لجۃ النور ص۹۰، خزائن ج۱۶ ص۴۳۲)
۷…
-
اذیتنی خبثاً فلست بصادق
ان لم تمت بالخزی یا ابن بغایا
-
مرابخباثت خود ایذا دادی پس من صادق نیم
اگر تو اے نسل بدکاراں بذلت نمیری
(انجام آتھم ص۲۸۲، خزائن ج۱۱ ص۲۸۲)
۸… ’’والتشوق الی رقص البغایا وبوسہن وعناقہن وبعد ہذا انطاقہن اور شوق کرنا
بازاری عورتوں کے رقص کی طرف اور ان کا بوسہ اور گلے لپٹانا اور بعد اس کے ان کا جائے کمربند۔‘‘
(خطبہ الہامیہ ص۱۷، خزائن ج۱۶ ص۴۹)
۹… ’’کانہم وقفوا بدانہم وقواہم علی البغایا واثر واحبہن علی عصمۃ النفس والعرض
والملۃ گویا ان لوگوں نے اپنے بدن اور قوت کو بدکار عورتوں پر وقف کر رکھا ہے اور ان کی محبت کو
جان اور آبرو اور مال اور ملت کے بچاؤ پر مقدم کر لیا ہے۔‘‘
(الہدیٰ والتبصرۃ لمن یری ص۴۷، خزائن ج۱۸ ص۲۹۱)
(۵۴) مرزاقادیانی کی خوش کلامی
’’اب فرض کے طور پر کہتا ہوں کہ اگر ہم اپنے اجتہاد سے کسی اپنے بچہ پر یہ خیال بھی کر لیں کہ شاید یہ
وہی پسر موعود ہے اور ہمارا اجتہاد خطا جائے تو اس میں الہام الٰہی کا کیا قصور ہوگا۔ کیا نبیوں کے اجتہادات
میں اس کا کوئی نمونہ نہیں اگر ہم نے وفات یافتہ لڑکے کی نسبت کوئی قطعی الدلالت الہام کسی اپنی کتاب میں
لکھا ہے تو وہ پیش کریں۔ جھوٹ بولنا اور نجاست کھانا ایک برابر ہے۔ تعجب ہے کہ ان
357
لوگوں کو نجاست خوری کا کیوں شوق ہوگیا۔‘‘
(تبلیغ رسالت ج۲ ص۹۲، مجموعہ اشتہارات ج۱ ص۳۰۹،۳۱۰، جدیدمجموعہ اشتہارات ج۱ ص۲۵۴)
’’سو چاہئے تھا کہ ہمارے نادان مخالف انجام کے منتظر رہتے اور پہلے ہی سے اپنی بدگوہری ظاہر نہ کرتے۔
بھلا جس وقت یہ سب باتیں پوری ہو جائیں گی تو کیا اس دن یہ احمق مخالف جیتے ہی رہیں گے اور کیا اس دن یہ
تمام لڑنے والے سچائی کی تلوار سے ٹکڑے ٹکڑے نہیں ہوجائیں گے۔ ان بے وقوفوں کو کوئی بھاگنے کی جگہ نہیں رہے
گی اور نہایت صفائی سے ناک کٹ جائے گی اور ذلت کے سیاہ داغ ان کے منحوس چہروں کو بندروں اور سؤروں کی طرح
کر دیں گے۔‘‘
(ضمیمہ انجام آتھم ص۵۳، خزائن ج۱۱ ص۳۳۷)
’’اور ہماری فتح کا قائل نہیں ہوگا تو سمجھا جاوے گا کہ اس کو ولد الحرام بننے کا شوق ہے اور حلال
زادہ نہیں۔‘‘
(انوارالاسلام ص۳۰، خزائن ج۹ ص۳۱)
’’یہ جھوٹے ہیں اور کتوں کی طرح جھوٹ کا مردار کھا رہے ہیں۔‘‘
(ضمیمہ انجام آتھم ص۲۵، خزائن ج۱۱ ص۳۰۹ حاشیہ)
’’دشمن ہمارے بیابانوں کے خنزیر ہوگئے اور ان کی عورتیں کتیوں سے بڑھ گئی ہیں۔‘‘
(نجم الہدیٰ ص۱۰، خزائن ج۱۴ ص۵۳)
(۵۵) حد لگانے کا فتویٰ
’’اب جو شخص اس صاف فیصلہ کے برخلاف شرارت اور عناد کی راہ سے بکواس کرے گا اور اپنی شرارت سے باربار
کہے گا کہ عیسائیوں کی فتح ہوئی اور کچھ شرم وحیا کو کام نہیں لائے گا… اور ہماری فتح کا قائل نہیں ہوگا تو
صاف سمجھا جاوے گا کہ اس کو ولدالحرام بننے کا شوق ہے اور وہ حلال زادہ نہیں… ورنہ حرام زادہ کی یہی نشانی
ہے کہ سیدھی راہ اختیار نہ کرے اور ظلم وناانصافی کی راہوں سے پیار کرتا رہے۔‘‘
(انوارالاسلام ص۳۰، خزائن ج۹ ص۳۱،۳۲)
’’میں نے اپنے کانوں سے سنا کہ ایک شخص زورزور سے کہہ رہا تھا کہ اس حرامزدے کو میرے سامنے لاؤ جو
کہتا ہے کہ کتے کا جھوٹا کھانا جائز نہیں۔ حضرت عمر کے زمانہ میں کہاگیا تھا کہ کسی کو حرامزادہ کہنے والے
کو حدلگائی جائے گی۔ وہ شخص بازار میں کہہ رہا تھا۔ کسی کو احساس نہ تھا۔ لوگ سنتے تھے اور روکتے نہ تھے۔
گویا یہ معمولی بات ہے جو ہونی چاہئے۔‘‘
(خطبہ جمعہ خلیفہ قادیان مندرجہ الفضل قادیان ج۹ نمبر۶۳ ص۷ کالم۱،۲، مؤرخہ ۱۳؍فروری ۱۹۲۲ء، خطبات
محمود ج۷ ص۲۰۵)
(۵۶) مرزاقادیانی کا عتاب
’’قادیان میں ایک بدگو مخالف آیا ہوا تھا جس نے حضرت کے خدام میں سے ایک کو اپنے پاس بلا بھیجا جو اس
کے ساتھ گفتگو کرنے کے لئے چلا گیا۔ جب اس امر کی حضرت مسیح موعود کو خبر ملی تو آپ نے فرمایا کہ ایسے خبیث
مفسد کو اتنی عزت نہیں دینی چاہئے کہ اس کے ساتھ تم میں سے کوئی بات چیت کرے۔ ۱۸؍اپریل ۱۹۰۲ء‘‘
(ملفوظات احمدیہ حصہ چہارم ص۱۴۵، مرتبہ منظور الٰہی لاہوری قادیانی )
(۵۷) اخراج
’’بیان کیا مجھ سے حضرت خلیفہ ثانی نے کہ ایک دفعہ حضرت خلیفہ اوّل کا ایک رشتہ دار جو ایک بھنگی،
چرسی اور بدمعاش آدمی تھا، قادیان آیا اور اس کے متعلق کچھ شبہ ہوا کہ وہ کسی بدارادے سے یہاں آیا ہے اور اس
کی رپورٹ حضرت صاحب (مرزاقادیانی) تک بھی پہنچی۔ آپ نے حضرت خلیفہ اوّل کو کہلا بھیجا اسے فوراً قادیان سے
رخصت کر دیں۔ لیکن جب حضرت خلیفہ اوّل نے اسے قادیان سے چلے جانے کو کہا تو اس نے یہ موقعہ غنیمت سمجھا اور
کہا کہ اگر مجھے اتنے روپے دے دو گے تو میں چلا جاؤں گا۔ حضرت خلیفہ ثانی بیان کرتے تھے کہ
358
جتنے روپے وہ مانگتا تھا، اس وقت اتنے روپے حضرت خلیفہ اوّل کے پاس نہ تھے۔ اس لئے آپ کچھ کم دیتے
تھے۔ اسی جھگڑے میں کچھ دیر ہوگئی۔ چنانچہ اس کی اطلاع پھر حضرت صاحب تک پہنچی کہ وہ ابھی تک نہیں گیا اور
قادیان میں ہی ہے۔ اس پر حضرت صاحب نے حضرت خلیفہ اوّل کو کہلا بھیجا کہ یا تو اسے فوراً قادیان سے رخصت کر
دیں یا خود بھی چلے جاویں۔ حضرت مولوی صاحب تک یہ الفاظ پہنچے تو انہوں نے فوراً کسی سے قرض لے کر اسے رخصت
کر دیا… حضرت خلیفہ اوّل کا یہ رشتہ دار آپ کا حقیقی بھتیجا تھا اور اس کا نام عبدالرحمن تھا۔ یہ ایک نہایت
آوارہ گرد اور بدمعاش آدمی تھا۔ (شاید سخت مخالف ہو۔ للمؤلف) اور اس کے متعلق اس وقت یہ شبہ کیاگیا تھا کہ
ایسا نہ ہو کہ یہ شخص قادیان میں کسی فتنہ عظیمہ کے پیدا کرنے کا موجب ہو۔ (کوئی گہرا راز معلوم ہوتا ہے۔
للمؤلف)‘‘
(سیرت المہدی حصہ اوّل ص۲۵۶،۲۵۷، روایت نمبر۲۷۹، جدید ج۱ حصہ اوّل ص۲۵۶، روایت نمبر۲۸۴)
(۵۸) بدمزاجی کا فیصلہ
’’اوّل قوت اخلاق۔ چونکہ اماموں کو طرح طرح کے اوباشوں اور سفلوں اور بدزبان لوگوں سے واسطہ پڑتا ہے۔
اس لئے ان میں اعلیٰ درجہ کی اخلاقی قوت کا ہونا ضروری ہے تاکہ ان میں طیش نفس اور مجنونانہ جوش پیدا نہ ہو
اور لوگ ان کے فیض سے محروم نہ رہیں۔ یہ نہایت قابل شرم بات ہے کہ ایک شخص خدا کا دوست کہلا کر پھر اخلاق
رذیلہ میں گرفتار ہو اور درشت بات کا ذرہ بھی متحمل نہ ہو سکے اور جو امام زمان کہلا کر ایسی کچی طبیعت کا
آدمی ہو کہ ادنی ادنی بات میں منہ میں جھاگ آتا ہے۔ آنکھیں نیلی پیلی ہوتی ہیں۔ وہ کسی طرح امام زماں نہیں
ہوسکتا۔‘‘
(ضرورۃ الامام ص۸، خزائن ج۱۳ ص۴۷۸)
’’تجربہ بھی شہادت دیتا ہے کہ ایسے بدزبان لوگوں کا انجام اچھا نہیں ہوتا۔ خدا کی غیرت اس کے ان
پیاروں کے لئے آخر کوئی کام دکھلا دیتی ہے۔ پس اپنی زبان کی چھری سے کوئی اور بدتر چھری نہیں۔‘‘
(چشمہ معرفت ص۱۵، خزائن ج۲۳ ص۳۸۶،۳۸۷)
(۵۹) عدالت کی ہدایت
ڈاکٹر مارٹن کلارک کی طرف سے مرزاغلام احمد قادیانی صاحب پر زیردفعہ (۱۰۷) ضابطہ فوجداری، اگست ۱۸۹۷ء
میں خوب زوروشور سے فوجداری مقدمہ چلا۔ اس کی مکمل مسل مرزاقادیانی کی تالیف کتاب البریہ میں درج ہے۔ اس
مقدمہ کا جو فیصلہ ہوا، کافی عبرت آموز ہے۔ چنانچہ آخری حصہ جو کل فیصلہ کا خلاصہ ہے، ملاحظہ ہو:
’’یہ ظاہر ہے کہ پیش گوئیاں ڈیلفک (Delphic) الہاموں کی طرح دو پہلو رکھتی ہیں اور اسی میں فائدہ ہے
کہ وہ ایسی ہوں مرزاقادیانی کچھ مطلب بیان کرتے ہیں اور ڈاکٹر کلارک کی موت کی نسبت کبھی کوئی پیش گوئی نہیں
کی اور جس قدر مطبوعہ شہادت پیش کی گئی ہے۔ ہم منجملہ اس کے کسی میں بھی کوئی صاف اور صریح امر نہیں پاتے۔
جس سے مرزاقادیانی کے بیان کی تردید ہوتی ہو… جہاں تک ڈاکٹر کلارک کے مقدمہ سے تعلق ہے، ہم کوئی وجہ نہیں
دیکھتے کہ غلام احمد سے حفظ امن کے لئے ضمانت لی جائے یا یہ کہ مقدمہ پولیس کے سپرد کیا جائے۔ لہٰذا وہ بری
کئے جاتے ہیں۔ لیکن ہم اس موقع پر مرزاغلام احمد کو بذریعہ تحریری نوٹس کے جس کو انہوں نے خود پڑھ لیا اور
اس پر دستخط کر دئیے ہیں، باضابطہ طور سے متنبہ کرتے ہیں کہ ان مطبوعہ دستاویزات سے جو شہادت میں پیش ہوئی
ہیں۔ یہ ظاہر ہوتا ہے کہ اس نے اشتعال اور غصہ دلانے والے رسالے شائع کئے ہیں، جن سے ان لوگوں کی ایذا متصور
ہے جن کے مذہبی خیالات اس کے مذہبی خیالات سے مختلف ہیں۔ جو اثر کہ اس کی باتوں سے اس کے بے علم مریدوں پر
ہوگا اس کی ذمہ داری ان ہی پر ہوگی اور ہم انہیں متنبہ کرتے ہیں کہ
359
جب تک وہ زیادہ تر میانہ روی کو اختیار نہ کریں گے وہ قانون کی رو سے بچ نہیں سکتے۔ بلکہ اس کی زد کے
اندر آجاتے ہیں۔ دستخط: ایم ڈگلس ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ گورداسپور، مؤرخہ ۲۳؍اگست ۱۸۹۷ء‘‘
(کتاب البریہ ص۲۶۰،۲۶۱، خزائن ج۱۳ ص۳۰۰تا۳۰۲)
(۶۰) مرزاقادیانی کا عہد
’’میں حکام کو یقین دلاتا ہوں کہ ہرگز یہ میری عادت میں داخل نہیں کہ خودبخود کسی کو آزار دوں اور نہ
ایسی عادت کو میں پسند کرتا ہوں۔ بلکہ جو کچھ سخت الفاظ میں لکھا گیا وہ سخت الفاظ کا جواب تھا۔ مگر مخالفوں
کی سختی سے نہایت کم، تاہم یہ طریق بھی میری طبیعت اور عادت سے مخالف ہے اور جیسا کہ صاحب ڈپٹی کمشنر بہادر
نے مقدمہ کے فیصلہ پر مجھے یہ ہدایت کی ہے کہ آئندہ اشتعال کو روکنے کے لئے مباحثات میں نرم اور مناسب الفاظ
کو استعمال کیا جائے۔ میں اسی پر کاربند رہنا چاہتا ہوں اور اس اشتہار کے ذریعہ سے اپنے تمام مریدوں کو جو
پنجاب اور ہندوستان کے مختلف مقامات میں سکونت رکھتے ہیں نہایت تاکید سے سمجھاتا ہوں کہ وہ بھی اپنے مباحثات
میں اس طرز کے کاربند رہیں اور ہر ایک سخت اور فتنہ انگیز لفظ سے پرہیز کریں۔‘‘
(اشتہار مرزاغلام احمد قادیانی مؤرخہ ۲۰؍ستمبر ۱۸۹۷ء، مندرجہ تبلیغ رسالت ج۶ ص۱۶۶،۱۶۷، مجموعہ
اشتہارات ج۲ ص۴۶۸، جدیدمجموعہ اشتہارات ج۲ ص۱۷۰)
’’اور یاد رہے کہ یہ اشتہار مخالفین کے لئے بھی بطور نوٹس ہے۔ چونکہ ہم نے صاحب ڈپٹی کمشنر بہادر کے
سامنے یہ عہدکر لیا ہے کہ آئندہ ہم سخت الفاظ سے کام نہ لیں گے۔ اس لئے حفظ امن کے مقاصد کی تکمیل کے لئے ہم
چاہتے ہیں کہ ہمارے تمام مخالف بھی اس عہد کے کاربند ہوں۔‘‘
(اشتہار مرزاقادیانی مؤرخہ ۲۰؍ستمبر ۱۸۹۷ء، مندرجہ تبلیغ رسالت ج۶ ص۱۶۸، مجموعہ اشتہارات ج۲ ص۴۷۰،
جدیدمجموعہ اشتہارات ج۲ ص۱۷۱)
حضرت مسیح موعود نے اسی مقدمہ میں انذاری پیش گوئیوں کے متعلق جو بیان عدالت میں دیا۔ اس میں صفائی کے
ساتھ یہ لکھا کہ:
’’عدالت میں میری نسبت یہ الزام پیش کیاگیا ہے کہ گویا میری قدیم سے یہ عادت ہے کہ خودبخود کسی کی موت
یا ذلت کی پیش گوئی کیا کرتا ہوں اور پھر اپنی جماعت کے ذریعہ سے پوشیدہ طور پر اس کوشش میں لگا رہتا ہوں کہ
کسی طرح وہ پیش گوئی پوری ہو جائے اور گویا میں ایک قسم کا ڈاکو یا خونی رہزن ہوں اور گویا میری جماعت بھی
ایک قسم کی اوباش اور خطرناک لوگ ہیں۔ جن کا پیشہ اسی قسم کے جرائم ہیں۔ لیکن میں عدالت کو ظاہر کرتا ہوں کہ
یہ الزام سراسر افتراء سے خمیر کیاگیا ہے اور نہایت بری طرح سے میری اور میری معزز جماعت کی ازالہ حیثیت
عرفی کی گئی ہے…اس کے ساتھ ہی آپ نے یہ بھی لکھا ہے کہ ایک برس سے کچھ زیادہ عرصہ گزرتا ہے کہ میں نے اس عہد
کو چھاپ کر شائع کیا ہے کہ میں کسی کی موت وغیرہ وغیرہ کی نسبت ہرگز کوئی پیش گوئی نہ کروں گا۔‘‘
(پیغام صلح لاہور ج۳۵ نمبر۱۶، مؤرخہ ۲۳؍اپریل ۱۹۴۷ء)
(۶۱) صاحب مجسٹریٹ ضلع کی اجازت
’’بعض ہمارے مخالف جن کو افتراء اور جھوٹ بولنے کی عادت ہے۔ لوگوں کے پاس کہتے ہیں کہ ڈپٹی کمشنر نے
آئندہ پیش گوئیاں کرنے سے منع کر دیا ہے۔ خاص کر ڈرانے والی پیش گوئیوں اور عذاب کی پیش گوئیوں سے سخت
ممانعت کی ہے۔ سو واضح رہے کہ یہ باتیں سراسر جھوٹی ہیں۔ ہم کو کوئی ممانعت نہیں ہوئی اور عذابی پیش گوئیوں
میں جس طریق کو ہم نے اختیار کیا ہے، یعنی رضامندی لینے کے بعد پیش گوئی کرنا، اس طریق پر عدالت اور قانون
کا کوئی اعتراض نہیں۔‘‘
(کتاب البریہ ص۹، خزائن ج۱۳ ص۱۰ حاشیہ)
’’ہاں! یہ سچ ہے کہ میں نے بعض اشخاص کی موت وغیرہ کی نسبت پیش گوئی کی ہے۔ لیکن نہ اپنی طرف سے بلکہ
اس وقت اور اس
360
حالت میں جب کہ ان لوگوں نے اپنی رضاورغبت سے ایسی پیش گوئی کے لئے مجھے تحریری اجازت دی۔ چنانچہ ان
کے ہاتھ کی تحریریں اب تک میرے پاس موجود ہیں جن میں سے بعض ڈاکٹر کلارک کے مقدمہ میں شامل مثل کی گئی ہیں۔
مگر چونکہ باوجود اجازت دینے کے پھربھی ڈاکٹر کلارک صاحب نے ان پیش گوئیوں کا ذکر کیا اور اصل واقعات کو
چھپایا۔ اس لئے آئندہ میں یہ بھی پسند نہیں کرتا کہ ایسی درخواستوں پر کوئی انذاری (ڈراؤنی) پیش گوئی کی
جائے بلکہ آئندہ ہماری طرف سے یہ اصول رہے گا کہ اگر کوئی ایسی انذاری پیش گوئیوں کے لئے درخواست کرے تو اس
کی طرف ہرگز توجہ نہیں کی جائے گی۔ جب تک وہ ایک تحریر حکم اجازت مجسٹریٹ ضلع کی طرف سے پیش نہ کرے۔‘‘
(اشتہار مؤرخہ ۱۰؍ستمبر ۱۸۹۷ء، کتاب البریہ ص۹، خزائن ج۱۳ ص۱۰،۱۱)
’’میں (مرزاقادیانی) نے مسٹرڈوئی کے سامنے لکھ دیا تھا کہ آئندہ کسی کی نسبت موت کا الہام شائع نہیں
کروں گا۔ جب تک کہ وہ ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ سے اجازت نہ لے لیوے۔‘‘
(مرزاغلام احمد قادیانی کا حلفیہ بیان عدالت گورداسپور میں، الحکم قادیان ج۵ نمبر۲۹، منقول از کتاب
منظور الٰہی ص۲۴۵، مرتبہ منظور الٰہی لاہوری قادیانی)
(۶۲) عدالتی اقرارنامہ
اقرارنامہ مرزا غلام احمد بمقدمہ فوجداری اجلاس مسٹر جے۔ایم ڈوئی صاحب بہادر ڈپٹی کمشنر ڈسٹرکٹ
مجسٹریٹ ضلع گورداسپور مرجوعہ ۵؍جنوری ۱۸۹۹ء فیصلہ ۲۵؍فروری ۱۸۹۹ء نمبر بستہ قادیان نمبر مقدمہ ۳/۱ سرکار
دولت مدار بنام مرزاغلام احمد ساکن قادیان تحصیل بٹالہ ضلع گورداسپور ملزم۔ الزام زیردفعہ ۱۰۷ مجموعہ ضابطہ
فوجداری۔
اقرارنامہ
میں مرزاغلام احمد قادیانی بحضور خداوند تعالیٰ باقرار صالح اقرار کرتا ہوں کہ آئندہ:
۱… میں ایسی پیش گوئی شائع کرنے سے پرہیز کروں گا جس کے یہ معنی ہوں یا ایسے معنی خیال کئے جاسکیں کہ
کسی شخص کو (یعنی مسلمان ہو خواہ ہندو ہو یا عیسائی وغیرہ) ذلت پہنچے گی یا وہ مورد عتاب الٰہی ہوگا۔
۲… میں خدا کے پاس ایسی اپیل (فریاد ودرخواست) کرنے سے بھی اجتناب کروں گا کہ وہ کسی شخص کو (یعنی
مسلمان ہو خواہ ہندو یا عیسائی وغیرہ) ذلیل کرنے سے یا ایسے نشان ظاہر کرنے سے کہ وہ موردعتاب الٰہی ہے۔ یہ
ظاہر کرے کہ مذہبی مباحثہ میں کون سچا اور کون جھوٹا ہے۔
۳… میں کسی چیز کو الہام بتا کر شائع کرنے سے مجتنب رہوں گا جس کا یہ منشاء ہو یا جو ایسا منشارکھنے
کی معقول وجہ رکھتا ہو کہ فلاں شخص (یعنی مسلمان ہو خواہ ہندو یا عیسائی وغیرہ) ذلت اٹھائے گا یا مورد عتاب
الٰہی ہوگا۔
۴… میں اس امر سے بھی باز رہوں گا کہ مولوی ابوسعید محمد حسین یا ان کے کسی دوست یا پیرو کے ساتھ
مباحثہ کرنے میں کوئی دشنام آمیز فقرہ یا دل آزار لفظ استعمال کروں یا کوئی ایسی تحریر باتصویر شائع کروں جس
سے ان کو درد پہنچے۔ میں اقرار کرتا ہوں کہ ان کی ذات کی نسبت یا ان کے کسی دوست اور پیرو کی نسبت کوئی مثل
دجال، کافر، کاذب، بطالوی نہیں لکھوں گا۔ (بٹالوی کے ہجے بٹالوی کئے جانے چاہئیں۔ جب یہ لفظ بطالوی کر کے
لکھا جاتا تو اس کا اطلاق باطل پر ہوتا ہے) میں ان کی پرائیویٹ زندگی یا ان کے خاندانی تعلقات کی نسبت کچھ
شائع نہیں کروں گا جس سے ان کو تکلیف پہنچنے کا عقلاً احتمال ہو۔
361
۵… میں اس بات سے بھی پرہیز کروں گا کہ مولوی ابوسعید محمد حسین یا ان کے کسی دوست یا پیرو کو اس امر
کے مقابلہ کے لئے بلاؤں کہ وہ خدا کے پاس مباہلہ کی درخواست کریں۔ وہ ظاہر کرے کہ فلاں مباحثہ میں کون سچا
کون جھوٹا ہے۔ نہ میں ان کو، یا ان کے کسی دوست یا پیرو کو کسی شخص کی نسبت کوئی پیش گوئی کرنے کے لئے
بلاؤں گا۔
۶… جہاں تک میرے احاطہ طاقت میں ہے میں تمام اشخاص کو جن پر کچھ میرا اثر یا اختیار ہے ترغیب دوں گا
کہ وہ بھی بجائے خود اس طریق پر عمل کریں۔ جس طریق پر کاربند ہونے کا میں نے دفعہ نمبر۱تا۵ میں اقرار کیا
ہے۔
-
العبد
گواہ شد
-
مرزاغلام احمد بقلم خود
خواجہ کمال الدین، بی۔اے، ایل۔ایل۔بی
-
دستخط: جے ایم ڈوئی، ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ، مؤرخہ ۲۴؍فروری
۱۸۹۹ء
’’سو اگر مسٹر ڈوئی (ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ ضلع گورداسپور) کے روبرو میں نے اس بات کا اقرار کیا ہے کہ میں ان
کو (مولوی محمد حسین صاحب بٹالوی کو) کافر نہیں کہوں گا تو واقعی میرا یہی مذہب ہے کہ میں کسی مسلمان کو
کافر نہیں جانتا۔‘‘
(تریاق القلوب ص۱۳۱، خزائن ج۱۵ ص۴۳۳،۴۳۴)
(۶۳) اقرارنامہ کا نتیجہ
اس (مضمون، مندرجہ اخبار پیغام صلح مؤرخہ ۱۰؍اکتوبر ۱۹۱۷ء) میں جو حضرت مسیح موعود کے اس اقرارنامہ
پر ریمارکس ہوا ہے جو آپ نے گورنمنٹ سے انذاری پیش گوئیاں نہ کرنے کے متعلق کیا تھا تو… غرض صرف اتنی تھی کہ
میاں صاحب (مرزامحمود) جو آپ کو نبی بناتے ہیں تو منجملہ اور ادلہ قاطعہ کے آپ کا یہ اقرارنامہ لکھ کر دینا
بھی اس کے قطعاً خلاف ہے۔ کیونکہ نبی مکلف ہوتا ہے کہ جو کچھ اس پر نازل ہوا ہے سب کو سنائے۔ بحکم ’’یاایہا الرسول بلغ ما انزل الیک‘‘ … ۱۸۹۹ء میں آپ کو (مرزاقادیانی کو) مولوی محمد حسین
بٹالوی کے بالمقابل عدالت میں جانا پڑا اور وہاں آپ یہ بھی لکھ کر دے آئے کہ آئندہ مولوی محمد حسین کو کاذب
اور کافر اور دجال نہیں کہوں گا… اسی سال اور اسی مقدمہ میں آپ نے ایک اور اقرارنامہ بھی لکھ کر دیا جس کے
یہ لفظ ہیں:
’’میں کسی چیز کو الہام جتا کر شائع کرنے سے مجتنب رہوں گا۔ جس کا یہ منشاء ہو یا جو ایسا منشاء رکھنے
کی معقول وجہ رکھتا ہو کہ فلاں شخص (مسلمان ہو خواہ ہندو عیسائی) ذلت اٹھائے گا یا مورد عتاب الٰہی ہوگا۔
(مؤرخہ ۲۴؍فروری ۱۸۹۹ء) مرزاغلام احمد۔‘‘
(پیغام صلح لاہور ج۵ نمبر۵۱ ص۲ کالم۲، مؤرخہ ۹؍جنوری ۱۹۱۸ء)
(۶۴) من گھڑت نبی
’’تم (قادیانی صاحبان) اپنے دعویٰ راست باز نہیں کہلا سکتے۔ بلکہ ایک طرف نبی تراش نام رکھ دیا۔ دوسری
طرف نتیجہ میں صرف ایک نبی کا لفظ بول کر سراسر نبی کریم کی ہتک کر رہے ہو۔ پھر کیا وہ پہلے انبیاء بھی ایسے
ہی محکوم ہوتے تھے کہ گورنمنٹ کے خوف سے آئندہ کے لئے انذاری پیش گوئیاں موت وغیرہ کے متعلق کرنے سے رک جایا
کرتے تھے کہ آئندہ ہم موت کی پیش گوئی کسی کی نہ کیا کریں گے۔ خدا کی گورنمنٹ زبردست ہے یا انسانوں کی۔ پہلے
مسیح نے تو سولی قبول کی مگر کلمہ حق پہنچانے سے انکار نہیں کیا۔ مگر اپنے من گھڑت نبی کے حالات سے تم خود
ہی واقف ہو۔ ہمیں تشریح کرنے کی حاجت نہیں۔‘‘
(پیغام صلح لاہور مؤرخہ ۱۰؍اکتوبر ۱۹۱۷ء)
362
فصل دسویں
قادیانی صاحبان اور مسلمان دین وملت
(الف) اختلاف
(۱) مسلمانوں سے اختلاف
’’حضرت مسیح موعود کے منہ سے نکلے ہوئے الفاظ میرے کانوں میں گونج رہے ہیں۔ آپ نے فرمایا یہ غلط ہے کہ
دوسرے لوگوں سے ہمارا اختلاف صرف وفات مسیح یا اور چند مسائل میں ہے۔ آپ نے فرمایا: اللہ تعالیٰ کی ذات، رسول
کریم ﷺ، قرآن، نماز، روزہ، حج، زکوٰۃ غرض کہ آپ نے تفصیل سے بتایا کہ ایک ایک چیز میں ہمیں ان سے اختلاف
ہے۔‘‘
(الفضل قادیان ج۱۹ نمبر۱۳، مؤرخہ ۳۰؍جولائی ۱۹۳۱ء)
’’حضرت مسیح موعود (مرزاقادیانی) نے فرمایا ہے کہ ان کا (یعنی مسلمانوں کا) اسلام اور ہے اور ہمارا
(یعنی قادیانیوں کا) اور، ان کا خدا اور ہے اور ہمارا خدا اور، ہمارا حج اور ہے ان کا حج اور، اسی طرح ان سے
(مسلمانوں سے) ہر بات میں اختلاف ہے۔‘‘
(الفضل قادیان ج۵ نمبر۱۵ ص۸ کالم۱، مؤرخہ ۲۱؍اگست ۱۹۱۷ء)
’’آج جس اسلام کی اشاعت آپ کے ذمہ ہے، وہ احمدیت، ہاں! صرف احمدیت ہے اور تمہارا فرض ہے کہ ہندوؤں کو
کرشن کی آمد ثانی سے اور بدھوں کو مشیر یا بدھ کی بعثت سے مسیحیوں اور مسلمانوں کو مسیح موعود اور مہدی
معہود کی رسالت سے مطلع کرو۔‘‘
(الفضل قادیان ج۲ نمبر۸۳ ص۳ کالم۲، مؤرخہ ۲۷؍دسمبر ۱۹۱۴ء)
(۲) کون سا اسلام
’’تم اپنے امتیازی نشانوں کو کیوں چھوڑتے ہو۔ تم ایک برگزیدہ نبی (مرزاقادیانی) کو مانتے ہو اور
تمہارے مخالف اس کا انکار کرتے ہیں۔ حضرت (مرزاقادیانی) کے زمانہ میں ایک تجویز ہوئی کہ احمدی غیراحمدی مل
کر تبلیغ کریں۔ مگر حضرت (مرزاقادیانی) نے فرمایا کہ تم کون سا اسلام پیش کرو گے۔ کیا جو خدا نے تمہیں نشان
دئیے جو انعام خدا نے تم پر کیا وہ چھپاؤ گے۔‘‘
(تقریر خلیفہ قادیان مندرجہ اخبار البدر قادیان ج۱۰ نمبر۱۲، مؤرخہ ۱۹؍جنوری ۱۹۱۱ء، آئینہ صداقت ص۵۳،
انوارالعلوم ج۶ ص۱۲۵)
(۳) قادیانی اسلام
’’عبد اللہ کوئیلیم نے حضرت مسیح موعود کی زندگی میں ایک مشن قائم کیا۔ بہت سے لوگ مسلمان ہوئے۔ مسٹرویب
نے امریکہ میں ایسی اشاعت شروع کی مگر آپ نے (مرزاقادیانی نے) مطلق ان کو ایک پائی کی مدد نہ دی۔ اس کی وجہ
یہ کہ جس اسلام میں آپ پر ایمان لانے کی شرط نہ ہو اور آپ کے سلسلہ کا ذکر نہیں۔ اسے آپ اسلام ہی نہیں
سمجھتے تھے۔ یہی وجہ ہے کہ حضرت خلیفہ اوّل نے اعلان کیا تھا کہ ان کا (مسلمانوں کا) اسلام اور ہے ہمارا
(قادیانیوں کا) اسلام اور ہے۔‘‘
(الفضل قادیان ج۲ نمبر۸۵ ص۶ کالم۱، مؤرخہ ۳۱؍دسمبر ۱۹۱۴ء)
363
(۴) احمدیت
’’کہا جاتا ہے کہ حضرت مسیح موعود کا کام صرف اشاعت اسلام تھا اور اس کے لئے لوگوں کو تیار کرنا تھا
اور یہی احمدیت ہے۔ اگر یہی احمدیت تھی تو اور لوگ جو حضرت مسیح موعود کے زمانہ میں اشاعت اسلام کے لئے اٹھے
تھے، ان کے لئے حضرت مسیح موعود (مرزاقادیانی) کو خوشی کا اظہار کرنا چاہئے تھا اور… آپ ان کی انجمنوں میں
شامل ہوتے انہیں چندہ دیتے مگر آپ (مرزاقادیانی) نے کبھی اس طرح نہیں کیا۔‘‘
(خطبہ سید سرور شاہ قادیانی، الفضل قادیان ج۲ نمبر۹۷ ص۷ کالم۲، مؤرخہ ۲۸؍جنوری ۱۹۱۵ء)
(۵) میری تبلیغ
’’ہندوستان سے باہر ہر ایک ملک میں ہم اپنے واعظ بھیجیں۔ مگر میں اس بات کے کہنے سے نہیں ڈرتا کہ اس
تبلیغ سے ہماری غرض سلسلہ احمدیہ کی صورت میں اسلام کی تبلیغ ہو۔ میرا یہی مذہب ہے اور حضرت مسیح موعود کے
پاس رہ کر اندر باہر ان سے بھی یہی سنا ہے کہ آپ فرماتے تھے کہ اسلام کی تبلیغ یہی میری تبلیغ ہے۔ پس اس
اسلام کی تبلیغ کرو جو مسیح موعود لایا۔‘‘
(منصب خلافت ص۲۰، انوارالعلوم ج۲ ص۳۹)
(۶) مردہ اسلام
’’حضرت مسیح موعود (مرزاقادیانی) کی زندگی میں مولوی محمد علی صاحب اور خواجہ کمال الدین صاحب کی
تجویز پر ۱۹۰۵ء میں ایڈیٹر صاحب اخبار وطن نے ایک فنڈ اس غرض سے شروع کیا تھا کہ اس سے (رسالہ) ریویو آف
ریلیجنز (قادیان) کی کاپیاں بیرونی ممالک میں بھیجی جائیں۔ بشرطیکہ اس میں حضرت مسیح موعود کا نام نہ ہو،
مگر حضرت (مرزاقادیانی) نے اس تجویز کو اس بناء پر رد کر دیا کہ مجھ کو چھوڑ کر کیا مردہ اسلام پیش کرو گے۔
اس پر ایڈیٹر صاحب وطن نے اس چندہ کے بند کرنے کا اعلان کر دیا۔ (مثلہ: سلسلہ احمدیہ ج۱ ص۳۴۳)‘‘
(الفضل قادیان ج۱۶ نمبر۳۲ ص۱۱ کالم۲، مؤرخہ ۱۹؍اکتوبر ۱۹۲۸ء)
(۷) اسلام کی آواز
’’جب کوئی مصلح آیا تو اس کے ماننے والوں کو نہ ماننے والوں سے علیحدہ ہونا پڑا۔ اگر تمام انبیاء
ماسبق کا یہ فعل قابل ملامت نہیں اور ہرگز نہیں تو ’’مرزاغلام احمد‘‘ کو الزام دینے والے انصاف کریں کہ اس
مقدس ذات پر الزام کس لئے۔ پس جس طرح حضرت موسیٰ کے وقت میں موسیٰ کی آواز اسلام کی آواز تھی اور حضرت عیسیٰ
کے وقت میں عیسیٰ کی اور سیدنا ومولانا حضرت محمد مصطفی ﷺ کی آواز اسلام کا صور تھا۔ اسی طرح آج قادیان سے
بلند ہونے والی آواز اسلام کی آواز ہے۔‘‘
(الفضل قادیان ج۷ نمبر۹۰ ص۴ کالم۳، مؤرخہ ۲۷؍مئی ۱۹۲۰ء)
(۸) مرزاساحر
’’ساحروں کے متعلق کہا جاتا ہے کہ انسانوں کو بندر بنادیتے ہیں لیکن حضرت مرزاصاحب ایسے ساحر تھے کہ
ان لوگوں کو جو یہودی صفت ہوکر بندروں سے مشابہ ہوچکے تھے انسان بنادیتے تھے۔‘‘
(الفضل قادیان ج۷ نمبر۴۷ ص۴ کالم۲، مؤرخہ ۱۸؍دسمبر ۱۹۱۹ء)
(۹) ایک فرقہ
(براہین احمدیہ حصہ پنجم ص۸۲،۸۳، خزائن ج۲۱ ص۱۰۸،۱۰۹) میں آپ (یعنی مرزاغلام احمد قادیانی) صاحب تحریر
فرماتے ہیں کہ:
364
’’ان ہی دنوں میں آسمان سے ایک فرقہ کی بنیاد ڈالی جاوے گی اور خدا اپنے منہ سے اس فرقہ کی حمایت کے
لئے ایک کرنا بجائے گا اور اس کرنا کی آواز پر ہر ایک سعید اس فرقہ کی طرف کھینچا آئے گا۔ بجز ان لوگوں کے
جوشقی ازلی ہیں، جو دوزخ کے بھرنے کے لئے پیدا کئے گئے ہیں۔‘‘
ایسا ہی اشتہار حسین کامی سفیر سلطان روم میں آپ لکھتے ہیں:
’’خدا نے یہی ارادہ کیا ہے کہ جو مسلمانوں میں مجھ سے الگ رہے گا وہ کاٹا جائے گا۔‘‘
پھر ایک حضرت مسیح موعود کا الہام ہے جو آپ نے اشتہار معیار الاخیار مؤرخہ ۲۵؍مئی ۱۹۰۰ء ص۸ پر درج
کیاہے، اور وہ یہ ہے:
’’جو شخص تیری پیروی نہیں کرے گا اور تیری بیعت میں داخل نہیں ہوگا اور تیرا مخالف رہے گا وہ خدا اور
رسول کی نافرمانی کرنے والا جہنمی ہے۔‘‘
اختصار کے طور پر اتنے حوالے دئیے جاتے ہیں۔ ورنہ حضرت مسیح موعود (مرزاغلام احمد) نے بیسیوں جگہ اس
مضمون کو ادا کیا ہے۔ حضرت خلیفۃ المسیح اوّل (حکیم نورالدین) کا بھی یہی عقیدہ تھا۔ چنانچہ جب ایک شخص نے
آپ سے سوال کیا کہ حضرت مرزاصاحب کے ماننے کے بغیر نجات ہے یا نہیں تو آپ نے فرمایا:
’’اگر خدا کا کلام سچ ہے تو مرزاصاحب کے ماننے کے بغیر نجات نہیں ہوسکتی۔‘‘
(دیکھو اخبار البدر قادیان ج۱۲ نمبر۲ ص۲ کالم۱، مؤرخہ ۱۱؍جولائی ۱۹۱۲ء)
’’اب جب کہ یہ مسئلہ بالکل صاف ہے کہ مسیح موعود کے ماننے کے بغیر نجات نہیں ہوسکتی تو کیوں خواہ
مخواہ غیراحمدیوں کو مسلمان ثابت کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔‘‘
(کلمۃ الفصل مصنفہ بشیر احمد قادیانی مندرجہ رسالہ ریویو آف ریلیجنز قادیان ج۱۴ نمبر۳ ص۱۲۹، بابت ماہ
مارچ ۱۹۱۵ء)
(۱۰) غیروں سے الگ
’’کیا مسیح ناصری نے اپنے پیروؤں کو یہود بے بہبود سے الگ نہیں کیا۔ کیا وہ انبیاء جن کی سوانح کا
علم ہم تک پہنچا ہے اور ہمیں ان کے ساتھ جماعتیں بھی نظر آتی ہیں۔ انہوں نے اپنی ان جماعتوں کو غیروں سے الگ
نہیں کر دیا۔ ہر ایک شخص کو ماننا پڑے گا بے شک کیا ہے۔ پس اگر مرزاقادیانی بھی جو کہ نبی اور رسول ہیں اپنی
جماعت کو منہاج نبوت کے مطابق غیروں سے الگ کردیا تو نئی اور انوکھی بات کون سی کی۔‘‘
(الفضل قادیان ج۵ نمبر۶۹،۷۰ ص۳ کالم۳، مؤرخہ ۲۶؍فروری، ۲؍مارچ ۱۹۱۸ء)
(۱۱) حضرت مسیح موعود کو مسلمان کہنا مسلمان بننے کے لئے کافی نہیں
(عنوان، الفضل ۲۱؍دسمبر ۱۹۱۸ء)
’’آپ (مرزاقادیانی) کے مبعوث کئے جانے کی غرض یہ نہ تھی کہ لوگ آپ کو مسلمان سمجھ لیں اور بس۔ بلکہ یہ
تھی کہ آپ کو قبول کریں اور آپ ’’مسلمان را مسلمان باز کردند‘‘ کے مطابق مسلمان کہلانے والوں کو سچے اور
حقیقی مسلمان بنائیں۔ پس حضرت مرزاصاحب نے یہ کبھی نہیں کہا اور نہ لکھا کہ جو مجھے مسلمان کہہ لے وہ پکا
مسلمان ہو جاتا ہے۔ بلکہ یہی کہا کہ جو مجھے مانے گا اور قبول کرے گا وہی مسلمان ہوگا۔‘‘
(الفضل قادیان ج۶ نمبر۴۶ ص۹ کالم۲، مؤرخہ ۲۱؍دسمبر ۱۹۱۸ء)
365
(ب) مسلمان
(۱۲) مسلمان مسلمان نہیں
-
’’چو دور خسروی آغاز کردند
مسلمان را مسلمان باز کردند
اس الہامی شعر میں اللہ تعالیٰ نے مسئلہ کفر اسلام کو بڑی وضاحت کے ساتھ بیان کیا ہے۔ اس میں خدا نے
غیراحمدیوں کو مسلمان بھی کہا ہے اور پھر ان کے اسلام کا انکار بھی کیا ہے۔ مسلمان تو اس لئے کہا ہے کہ وہ
مسلمان کے نام سے پکارے جاتے ہیں اور جب تک یہ لفظ استعمال نہ کیا جاوے لوگوں کو پتہ نہیں چلتا کہ کون مراد
ہے۔ مگر ان کے اسلام کا اس لئے انکار کیاگیا ہے کہ وہ اب خدا کے نزدیک مسلمان نہیں ہیں، بلکہ ضرورت ہے کہ ان
کو پھر نئے سرے سے مسلمان کیا جاوے۔‘‘
(کلمۃ الفصل مصنفہ بشیراحمد قادیانی مندرجہ رسالہ ریویو آف ریلیجنز قادیان ج۱۴ نمبر۳ ص۱۴۳، بابت ماہ
مارچ ۱۹۱۵ء)
(۱۳) مسلمان کا لفظ
’’اس جگہ ایک اور شبہ بھی پڑتا ہے اور وہ یہ کہ جب حضرت مسیح موعود (مرزاغلام احمد قادیانی) اپنے
منکروں کو حسب حکم الٰہی اسلام سے خارج سمجھتے تھے تو آپ نے ان کے لئے اپنی بعض آخری کتابوں میں بھی مسلمان
کا لفظ کیوں استعمال فرمایا تو اس کا جواب یہ ہے کہ… کیا قرآن شریف میں عیسیٰ کی طرف منسوب ہونے والی قوم کو
نصاریٰ کے نام سے یاد نہیں کیاگیا۔ ضرور کیا گیا اور بہت دفعہ کیاگیا۔ مگر وہاں معترض نے اعتراض نہ کیا کہ
جب وہ عیسیٰ کی تعلیم سے دور جاپڑے ہیں تو ان کو نصاریٰ کیوں کہا جاتا ہے۔ پھر اب یہاں اعتراض کیسا۔ اصل میں
بات یہ ہے کہ عرف عام کی وجہ سے ایک نام کو اختیار کرنا پڑتا ہے۔ لیکن اس کا یہ مطلب نہیں ہوتا کہ وہ چیز
اسم بامسمّٰی ہوگئی۔ مثلاً دیکھو اگر ایک شخص سراج دین نامی مسلمان سے عیسائی ہو جاوے تو اسے پھر بھی سراج
دین ہی کہیں گے۔ حالانکہ عیسائی ہو جانے کی وجہ سے وہ اب سراج دین نہیں رہا بلکہ کچھ اور بن گیا ہے۔ لیکن
عرف عام کی وجہ سے اسے اس نام سے پکارا جاوے گا۔ معلوم ہوتا ہے حضرت مسیح موعود (مرزاغلام احمد قادیانی) کو
بھی بعض وقت اس بات کا خیال آیا کہ کہیں میری تحریروں میں غیراحمدیوں کے متعلق مسلمان کا لفظ دیکھ کر لوگ
دھوکا نہ کھائیں۔ اس لئے آپ نے کہیں کہیں بطور ازالہ کے غیراحمدیوں کے متعلق ایسے الفاظ بھی لکھ دئیے ہیں کہ
وہ لوگ جو اسلام کا دعویٰ کرتے ہیں، تاجہاں کہیں بھی مسلمان کا لفظ ہو اس سے مدعی اسلام سمجھا جاوے نہ کہ
حقیقی مسلمان… پس یہ ایک یقینی بات ہے کہ حضرت (مرزاغلام احمد قادیانی) نے جہاں کہیں بھی غیراحمدیوں کو
مسلمان کہہ کر پکارا ہے، وہاںصرف یہ مطلب ہے کہ وہ اسلام کا دعویٰ کرتے ہیں۔ ورنہ آپ حسب حکم الٰہی اپنے
منکروں کو مسلمان نہ سمجھتے تھے۔‘‘
(کلمۃ الفصل مصنفہ بشیر احمد قادیانی مندرجہ رسالہ ریویو آف ریلیجنز قادیان ج۱۴ نمبر۳ ص۱۲۶،۱۲۷، بابت
ماہ مارچ ۱۹۱۵ء)
’’یاد رکھنا چاہئے کہ ہم جہاں غیراحمدیوں کے لئے مسلمان کا لفظ استعمال کرتے ہیں تو اس سے مراد حسب
پیش گوئی نبی کریم ﷺ اسمی ورسمی ہوتی ہے۔ کیونکہ آخر وہ نہ تو ہندو ہیں نہ عیسائی، نہ بدھ۔ کلمہ پڑھتے ہیں
اور قرآن شریف پر عمل کے مدعی۔ ضرور ہے کہ ہم انہیں اسی نام سے پکاریں جس کا وہ اپنے آپ کو مستحق سمجھتے
ہیں۔ یہودیوں کے لئے ’’الذین ہادوا‘‘ قرآن مجید میں آتا ہے اور عیسائیوں کے لئے
نصاریٰ اور بعض اوقات عیسائی اور موسائی بھی کہہ لیا جاتا ہے۔ حالانکہ وہ نہ ہدایت یافتہ نہ حضرت عیسیٰ
وموسیٰ کے متبعین۔ پس مسلمان کا لفظ بہ لحاظ قوم ہے اور شرعی فتویٰ جو کسی نبی کے انکار سے لازم آتا ہے وہ
اور بات ہے۔‘‘
(الفضل قادیان ج۱۲ نمبر۱۱۳، مؤرخہ ۱۱؍اپریل ۱۹۲۵ء)
366
(۱۴) سلام مسنون
’’لیکن ہم پوچھتے ہیں اگر سلام مسنون نہ کہنے سے یہ سمجھا جاسکتا ہے کہ مخاطب کرنے والے کے نزدیک
مخاطبین مسلمان نہ تھے بلکہ کافر تھے تو کیا اگر اسی قسم کی مثال حضرت مسیح موعود کی پیش کی جائے تو پیغام
اور اس کا امیر (مولوی محمد علی لاہوری قادیانی) تسلیم کر لیں گے کہ مسیح موعود بھی ان لوگوں کو جنہیں آپ نے
بغیر سلام مسنون مخاطب کیا، مسلمان نہ سمجھتے تھے بلکہ کافر قرار دیتے تھے۔ دیکھئے حضرت مسیح موعود نے آئینہ
کمالات اسلام میں ایک مکتوب بزبان عربی لکھا… یہ عربی خط ہندوستان کے مسلمانوں کی طرف ہی نہیں لکھا گیا بلکہ
اس کے مخاطب مشائخ ہند اور زہاد اور صوفیاء مصر وشام وغیرہ اسلامی ممالک بھی ہیں۔ مگر جب ہم خط کو دیکھتے
ہیں تو وہ بغیر سلام مسنون بسم اللہ کے بعد اس طرح شروع ہوتا ہے۔
’’الی مشایخ الہند ومتصوفۃ افغانستان ومصر وغیرہا من الممالک۔
اما بعد۔ فاعلموا ایہا الفقراء والزہاد ومشائخ الہند وغیرہا من البلاد الذین وقعوا فی البدعات
والفساد‘‘
اور دیکھئے ۱۹۰۲ء میں جب علماء ندوہ کا جلسہ امرتسر میں ہوا تو اس وقت حضرت مسیح موعود کے متعلق ایک
اشتہار شائع ہوا جس کے جواب میں آپ نے (مرزاغلام احمد نے) ایک ہی دن ’’دعوۃ الندوۃ‘‘ کے نام سے ایک رسالہ
لکھا جس میں بغیر سلام مسنون کے التبلیغ کے عنوان سے علمائے ندوہ کو یوں مخاطب فرمایا۔ ’’یااہل دار الندوۃ تعالوا الیٰ کلمۃ سواء بیننا وبینکم ان لا نحکم الاالقران…‘‘ پس
اگر حضرت خلیفہ ثانی (مرزامحمود) کے سلام مسنون نہ لکھنے کا یہ مطلب ہے کہ آپ نے اس مجمع کو مسلمانوں کا
مجمع نہ سمجھا تو حضرت مسیح موعود نے جو عام مسلمانوں کے مجمعوں کو نہیں انگریزی خوانوں کے مجمع کو نہیں
ہندوؤں کے زیراثر مجمع کو نہیں بلکہ علماء اور فضلاء کے مجمعوں کو بغیر سلام مسنون مخاطب فرمایا ہے۔ اس سے
بدرجہ اولیٰ ثابت ہوا کہ آپ بھی ان کو مسلمان نہ سمجھتے تھے، بلکہ کافر قرار دیتے تھے اور جن کو حضرت مسیح
موعود کافر قرار دیں ان کو کافر سمجھنا ہرایک اس شخص کا فرض ہے جو آپ کو راست باز اور خدا کا برگزیدہ سمجھتا
ہو۔‘‘
(الفضل قادیان ج۸ نمبر۴ ص۴ کالم۱تا۳، مؤرخہ ۲۲؍جولائی ۱۹۲۰ء)
(۱۵) زبانی دعویٰ
’’لہٰذا یہ یقینی اور قطعی طور پر یقینی ہے کہ اگر اس زمانہ کے یہودی صفت مسلمان نبی کریم کے وقت میں
پیدا کئے جاتے تو آپ کے ساتھ بھی وہی سلوک کرتے جو انہوں نے اس زمانہ کے رسول (مرزاغلام احمد قادیانی) کے
ساتھ کیا اور اگر وہ موسیٰ اور عیسیٰ کا زمانہ پاتے تو ان کو بھی اسی طرح انکار کرتے۔ کیونکہ مسیح موعود
(مرزاقادیانی) اللہ تعالیٰ کا ایک نور ہے اور وہ آنکھ جو اس نور کو نہیں دیکھ سکی وہ اندھی ہے۔ کسی اور نور کو
بھی نہیں دیکھ سکتی۔ حضرت مسیح موعود نے بھی اس اصل کو بیان فرمایا ہے۔ جیسا کہ آپ مخالفوں کا ذکر کرتے ہوئے
اربعین ص۲۳ پر فرماتے ہیں کہ: ’’ایسا شخص اگرآنحضرت ﷺ کا زمانہ پاتا تو آپ کو بھی نہ مانتا اور اگر حضرت
عیسیٰ کے زم انے میں ہوتا تو ان کو بھی قبول نہ کرتا۔‘‘ پس مخالفین کا یہ دعویٰ کہ ہم مسلمان ہیں ایک زبانی
دعویٰ ہے۔‘‘
(کلمۃ الفصل مصنفہ بشیراحمد قادیانی، مندرجہ رسالہ ریویو آف ریلیجنز قادیان ج۱۴ نمبر۳ ص۱۰۳، بابت ماہ
مارچ ۱۹۱۵ء)
367
(۱۶) خبیث عقیدہ
’’حضرت مسیح موعود (مرزاغلام احمد قادیانی) کی اس تحریر سے بہت سی باتیں حل ہو جاتی ہیں۔ اوّل یہ کہ
حضرت صاحب کو اللہ تعالیٰ نے الہام کے ذریعہ اطلاع دی کہ تیرا انکار کرنے والا مسلمان نہیں اور نہ صرف یہ اطلاع
دی بلکہ حکم دیا کہ تو اپنے منکروں کو مسلمان نہ سمجھ۔ دوسرے یہ کہ حضرت صاحب نے عبدالحکیم خاں کو جماعت سے
اس واسطے خارج کیا کہ وہ غیراحمدیوں کو مسلمان کہتا تھا۔ تیسرے یہ کہ مسیح موعود کے منکروں کو مسلمان کہنے
کا عقیدہ ایک خبیث عقیدہ ہے۔ چوتھے یہ کہ جو ایسا عقیدہ رکھے، اس کے لئے رحمت الٰہی کا دروزہ بند ہے۔
پانچویں یہ کہ جو شخص مسیح موعود کی دعوت کو رد کرتا ہے۔ وہ قرآن شریف کی نصوص صریحہ کو چھوڑتا ہے اور خدا
کے کھلے نشانات سے منہ پھیرتا ہے۔ چھٹے یہ کہ جو مسیح موعود کے منکروں کو راست باز قرار دیتا ہے۔ اس کا دل
شیطان کے پنجے میں گرفتار ہے۔‘‘
(کلمۃ الفصل مصنفہ بشیراحمد قادیانی مندرجہ رسالہ ریویو آف ریلیجنز قادیان ج۱۴ نمبر۳ ص۱۲۵، بابت ماہ
مارچ ۱۹۱۵ء)
(۱۷) دجالی طلسم
’’اس تحریر سے ہم کو اتنی باتوں کا پتہ لگتا ہے۔ اوّل یہ کہ حضرت مولوی صاحب (حکیم نورالدین قادیانی
خلیفہ اوّل) کا یہ عقیدہ تھا کہ مسلمان کہلانے کے لئے ایمان بالرسل ضروری ہے۔ دوسرے یہ کہ رسل کے مفہوم میں
سارے رسول شامل ہیں۔ خواہ کوئی رسول نبی کریم ﷺ سے پہلے آئے یا بعد میں۔ ہندوستان میں ہو یا کسی اور ملک
میں۔ تیسرے یہ کہ حضرت مسیح موعود بھی اللہ تعالیٰ کے ایک رسول تھے اور ایمان بالرسل میں آپ پر ایمان لانا بھی
شامل ہے۔ چوتھے یہ کہ جو مسیح موعود کو نہیں مانتا وہ اللہ کے رسولوں میں تفرقہ کرتا ہے۔ اس لئے وہ کافر ہے۔
اب کہاں ہیں وہ لوگ جو کہتے ہیں کہ حضرت مولوی صاحب غیراحمدیوں کو مسلمان سمجھا کرتے تھے۔ وہ دیکھیں کہ
مذکورہ بالا تحریر ان کے سارے دجالی طلسم کو پاش پاش کر دیتی ہے۔‘‘
(کلمۃ الفصل مصنفہ بشیراحمد قادیانی، مندرجہ رسالہ ریویو آف ریلیجنز قادیان ج۱۴ نمبر۳ ص۱۲۲، بابت ماہ
مارچ ۱۹۱۵ء)
(۱۸) فیصلہ
’’اب مسیح موعود کے اس فیصلہ کے بعد ہم کسی ایسے شخص کی بات کو پرپشہ کے برابر وقعت نہیں دیتے جو
احمدی کہلا کر غیراحمدیوں کو مسلمان جانتا ہے۔ ہم مجبور ہیں۔ ہم نے مسیح موعود کو مصلحت وقت کے لئے نہیں
بلکہ خدا کی طرف سے اسے واقعی حکم سمجھ کر مانا ہے اور اس کی ہر ایک بات کو سچا پایا ہے۔ پس جب مسیح موعود
(مرزاغلام احمد قادیانی) کہتا ہے کہ اس کے منکروں کو خدا مسلمان نہیں جانتا تو ہم کون ہیں کہ اس بات کا
انکار کریں۔‘‘
(کلمۃ الفصل مصنفہ بشیراحمد قادیانی مندرجہ رسالہ ریویو آف ریلیجنز قادیان ج۱۴ نمبر۳ ص۱۳۲،۱۳۳، بابت
ماہ مارچ ۱۹۱۵ء)
(ج) تکفیر
(۱۹) تکفیر کی توسیع
’’ابتداء سے میرا یہی مذہب ہے کہ میرے دعوے کے انکار کی وجہ سے کوئی شخص کافر یا دجال نہیں ہوسکتا۔
ہاں! ضال اور جادہ صواب سے منحرف ضرور ہوگا اور میں اس کا نام بے ایمان نہیں رکھتا۔ (متن کتاب) یہ نکتہ یاد
رکھنے کے لائق ہے کہ اپنے دعویٰ کے انکار کرنے والے کو کافر کہنا یہ صرف ان نبیوں کی شان ہے جو خداتعالیٰ کی
طرف سے شریعت اور احکام جدیدہ لاتے ہیں۔ لیکن صاحب شریعت
368
کے ماسوا جس قدر ملہم اور محدث ہیں گو وہ کیسی ہی جناب الٰہی میں اعلیٰ شان رکھتے ہوں اور خلعت
مکالمہ الٰہیہ سے سرفراز ہوں، ان کے انکار سے کوئی کافر نہیں بن جاتا۔‘‘
(تریاق القلوب ص۱۳۰، خزائن ج۱۵ ص۴۳۲، متن وحاشیہ)
’’دیکھو جس طرح جو شخص اللہ اور اس کے رسول اور اس کی کتاب کو ماننے کا دعویٰ کر کے ان کے احکام کی
تفصیلات مثلاً نماز، روزہ، حج، زکوٰۃ، تقویٰ، طہارت کو بجا نہ لاوے اور ان احکام کو جو تزکیہ نفس ترک شر اور
حصول خیر کے متعلق نافذ ہوئے ہیں چھوڑ دے وہ مسلمان کہلانے کامستحق نہیں ہے اور اس پر ایمان کے زیور سے
آراستہ ہونے کا اطلاق صادق نہیں آسکتا۔ اسی طرح سے جو شخص مسیح موعود کو نہیں مانتا یا ماننے کی ضرورت نہیں
سمجھتا وہ بھی حقیقت اسلام اور غایت نبوت اور غرض رسالت سے بے خبر محض ہے اور وہ اس بات کا حقدار نہیں ہے کہ
اس کو سچا مسلمان، خدا اور اس کے رسول کا سچا تابع دار اور فرمانبردار کہہ سکیں۔ کیونکہ جس طرح سے اللہ تعالیٰ
نےآنحضرت ﷺ کے ذریعہ سے قرآن شریف میں اور احکام دئیے ہیں، اسی طرح سے آخری زمانہ میں ایک آخری خلیفہ کے آنے
کی پیش گوئی بھی بڑے زور سے بیان فرمائی ہے اور اس کے نہ ماننے والوں اور اس انحراف کرنے والوں کا نام فاسق
رکھا ہے۔‘‘
(حجۃ اللہ ، تقریر لاہور مرزاقادیانی، منقول از النبوۃ فی الاسلام ص۲۱۴،۲۱۵، مؤلفہ مولوی محمد علی
لاہوری قادیانی امیر جماعت لاہور)
’’میں خدا کا ظلی اور بروزی طور پر نبی ہوں اور ہر ایک مسلمان کو دینی امور میں میری اطاعت واجب ہے
اور مسیح موعود ماننا واجب ہے اور ہر ایک جس کو میری تبلیغ پہنچ گئی ہے گو وہ مسلمان ہے مگر مجھے اپنا حکم
نہیں ٹھہراتا اور نہ مجھے مسیح موعود مانتا ہے اور نہ میری وحی کو خدا کی طرف سے جانتا ہے۔ وہ آسمان پر قابل
مواخذہ ہے۔ کیونکہ جس امر کو اس نے اپنے وقت پر قبول کرنا تھا اس کو رد کردیا۔‘‘
(تحفۃ الندوہ ص۴، خزائن ج۱۹ ص۹۵)
’’علاوہ اس کے جو مجھے نہیں مانتا وہ خدا اور رسول کو بھی نہیں مانتا۔ کیونکہ میری نسبت خدا اور رسول
کی پیش گوئی موجود ہے۔ یعنی رسول اللہ ﷺ نے خبر دی تھی کہ آخری زم انے میں میری امت میں سے ہی مسیح موعود آئے
گا اورآنحضرت ﷺ نے یہ بھی خبر دی تھی کہ میں معراج کی رات میں مسیح ابن مریم کو ان نبیوں میں دیکھ آیا ہوں
جو اس دنیا سے گزر گئے ہیں اور یحییٰ شہید کے پاس دوسرے آسمان میں ان کو دیکھا ہے… اور خدا نے میری سچائی کی
گواہی کے لئے تین لاکھ سے زیادہ آسمانی نشان ظاہر کئے اور آسمان پر کسوف خسوف رمضان میں ہوا۔ اب جو شخص خدا
اور رسول کے بیان کو نہیں مانتا اور قرآن کی تکذیب کرتا ہے اور عمداً خداتعالیٰ کے نشانوں کو رد کرتا ہے اور
مجھ کو باوجود صدہا نشانوں کے مفتری ٹھہراتا ہے تو وہ مومن کیونکر ہوسکتا ہے اور اگر وہ مؤمن ہے تو میں
بوجہ افتراء کرنے کے کافر ٹھہرا۔ کیونکہ میں ان کی نظر میں مفتری ہوں۔‘‘
(حقیقت الوحی ص۱۶۳،۱۶۴، خزائن ج۲۲ ص۱۶۸)
’’کفردوقسم پر ہے۔ (اوّل) ایک یہ کفر کہ ایک شخص اسلام سے ہی انکار کرتا ہے اورآنحضرت ﷺ کو خدا کا
رسول نہیں مانتا۔ (دوم) دوسرے یہ کفر کہ مثلاً وہ مسیح موعود کو نہیں مانتا اور اس کو باوجود اتمام حجت کے
جھوٹا جانتا ہے۔ جس کے ماننے اور سچا جاننے کے بارے میں خدا اور رسول نے تاکید کی ہے اور پہلے نبیوں کی
کتابوں میں بھی تاکید پائی جاتی ہے۔ پس اس لئے کہ وہ خدا اور رسول کے فرمان کا منکر ہے کافر ہے اور اگر غور
سے دیکھا جائے تو یہ دونوں قسم کے کفر ایک ہی قسم میں داخل ہیں۔‘‘
(حقیقت الوحی ص۱۷۹، خزائن ج۲۲ ص۱۸۵)
’’خداتعالیٰ نے میرے پر ظاہر کیا ہے کہ ہر ایک شخص جس کو میری دعوت پہنچی ہے اور اس نے مجھے قبول نہیں
کیا وہ مسلمان نہیں ہے اور خدا کے نزدیک قابل مواخذہ ہے۔‘‘
(مندرجہ رسالہ الذکر الحکیم نمبر۴ ص۲۳، مرتبہ ڈاکٹر عبدالحکیم منقول از اخبار الفضل قادیان ج۲۲ نمبر۸۵
ص۸ کالم۱، مؤرخہ ۱۵؍جنوری ۱۹۳۵ء، تذکرہ ص۶۰۷، طبع چہارم)
369
’’جو شخص تیری پیروی نہیں کرے گا اور تیری بیعت میں داخل نہیں ہوگا اور تیرا مخالف رہے گا وہ خدا اور
رسول کی نافرمانی کرنے والا اور جہنمی ہے۔‘‘
(اشتہار معیار الاخیار مندرجہ تبلیغ رسالت ج۹ ص۲۷، مجموعہ اشتہارات ج۳ ص۲۷۵، جدید مجموعہ اشتہارات ج۲
ص۳۹۴، تذکرہ ص۳۳۶، طبع چہارم)
’’پس نہ صرف اس کو جو آپ (مرزاقادیانی) کو کافر تو نہیں کہتا مگر آپ کے دعویٰ کو نہیں مانتا کافر قرار
دیاگیا ہے۔ بلکہ وہ بھی جو آپ کو دل میں سچا قرار دیتا ہے اور زبانی بھی آپ کا انکار نہیں کرتا۔ لیکن ابھی
بیعت میں اسے کچھ تؤقف ہے۔ کافر قرار دیا گیا ہے۔‘‘
(ارشاد مرزامحمود خلیفہ قادیان، رسالہ تشحیذ الاذہان ج۶ نمبر۴ ص۱۴۱، بابت ماہ اپریل ۱۹۱۱ء، منقول از
عقائد احمدیہ ص۱۰۸، میر مدثر شاہ قادیانی لاہوری)
’’کل مسلمان جو حضرت مسیح موعود کی بیعت میں شامل نہیں ہوئے خواہ انہوں نے حضرت مسیح موعود کا نام بھی
نہیں سنا، وہ کافر اور دائرہ اسلام سے خارج ہیں۔‘‘
(آئینہ صداقت ص۳۵، انوارالعلوم ج۶ ص۱۱۰)
’’یہ بات تو بالکل غلط ہے کہ ہمارے اور غیراحمدیوں کے درمیان کوئی فروعی اختلاف ہے… کسی مامور من اللہ
کا انکار کفر ہوجاتا ہے۔ ہمارے مخالف حضرت مرزاصاحب کی ماموریت کے منکر ہیں۔ بتاؤ کہ یہ اختلاف فروعی
کیونکر ہوا۔ قرآن مجید میں تو لکھا ہے: ’’لانفرق بین احد من رسلہ‘‘ لیکن حضرت مسیح
موعود کے انکار میں تو تفرقہ ہوتا ہے۔‘‘
(نہج المصلی، مجموعہ فتاویٰ احمدیہ جلد اوّل ص۲۷۴،۲۷۵، مؤلفہ محمد فضل خان قادیانی)
’’ہر ایک ایسا شخص جو موسیٰ کو تو مانتا ہے مگر عیسیٰ کو نہیں مانتا یا عیسیٰ کو مانتا ہے مگر محمد کو
نہیں مانتا اور یا محمد کو مانتا ہے پر مسیح موعود (مرزاقادیانی) کو نہیں مانتا وہ نہ صرف کافر بلکہ پکا
کافر اور دائرہ اسلام سے خارج ہے۔‘‘
(کلمۃ الفصل مصنفہ بشیراحمد قادیانی، مندرجہ رسالہ ریویو آف ریلیجنز قادیان ج۱۴ نمبر۳ ص۱۱۰، بابت ماہ
مارچ ۱۹۱۵ء)
(۲۰) اصول تکفیر
’’ایک دن نماز عصر کے بعد خود جناب خلیفہ (مرزامحمود) سے اس بارہ میں میری گفتگو ہوئی کہ وہ
غیراحمدیوں کی کیوں تکفیر کرتے ہیں۔ اس گفتگو کا خلاصہ میں ذیل میں درج کرتا ہوں۔
خاکسار… کیا یہ صحیح ہے کہ آپ غیراحمدیوں کو کافر سمجھتے ہیں۔
خلیفہ صاحب… ہاں! یہ درست ہے۔
خاکسار… اس تکفیر کی بناء کیا ہے کیا وہ کلمہ گو نہیں ہیں۔
خلیفہ صاحب… بے شک وہ کلمہ گو ہیں لیکن ہمارا اور ان کا اختلاف فروعی نہیں اصولی ہے۔ مسلم کے لئے
توحید پر، تمام انبیاء پر، ملائکہ پر، کتب آسمانی پر ایمان لانا ضروری ہے اور جو ان میں سے ایک بھی نبی اللہ
کا منکر ہو جائے وہ کافر ہو جاتا ہے۔ جیسا کہ عیسائی حضرت عیسیٰ علیہ السلام تک تمام انبیاء کو مانتے ہیں،
لیکن صرف رسول اکرمa کی رسالت کے منکر ہونے کی وجہ سے کافر ہیں۔ اسی طرح قرآن کریم کے مطابق غیراحمدی
مرزاصاحب کی نبوت سے منکر ہوکر کفار میں شامل ہیں۔ اللہ کی طرف سے ایک مامور آیا۔ جس کو ہم نے مان لیا اور
انہوں نے نہ مانا۔‘‘
(مضمون: عبدالقادر متعلم جامعہ ملیہ،مندرجہ اخبار الفضل قادیان ج۱۰ نمبر۹۹ ص۸،۹، مؤرخہ ۲۱؍جون ۱۹۲۳ء)
370
(۲۱) جزو ایمان
ہمارے نزدیک مسیح موعود پر ایمان لانا جزو ایمان ہے۔ کیونکہ آپ کے انکار کو رسول اکرمa کا انکار
مستلزم ہے۔ چنانچہ خود حضرت مسیح موعود فرماتے ہیں: ’’علاوہ اس کے جو مجھے نہیں مانتا وہ خدا اور رسول کو
بھی نہیں مانتا۔‘‘
(حقیقت الوحی ص۱۶۳، خزائن ج۲۲ ص۱۶۸)
’’پس جب کہ مسیح موعود کے انکار سے خدا اور محمد رسول اللہ ﷺ کا انکار لازم ہے تو لا
الہ الا اللہ محمد رسول اللہ میں خود مسیح موعود کا اقرار آجاتا ہے۔ اس لئے جو شخص مسیح موعود کا
منکر ہو کر منہ سے لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ کہتا رہے، وہ اسی طرح مسلمان نہیں
ہوسکتا، جس طرح کوئی شخص کلمہ طیبہ کا اقرار کرتا رہے۔ مگر ساتھ ہی گزشتہ انبیاء علیہم السلام میں سے بعض یا
تمام یا دیگر ایمانیات کا منکر رہے۔‘‘
(الفضل قادیان ج۱۳ نمبر۱۲۲، مؤرخہ ۲۹؍جون ۱۹۲۶ء)
(۲۲) کیوں کافر
’’اس کی وجہ کہ غیراحمدی کیوں کافر ہیں۔ قرآن کریم نے بیان کی ہے۔ وہ اصل جو قرآن کریم نے بیان کی ہے
وہ اصل جو قرآن کریم نے بتایا ہے۔ اس سب کا انکار یا اس کے کسی ایک حصہ کے نہ ماننے سے کافر ہوجاتا ہے اور
وہ یہ ہے کہ اللہ کا انکار کفر ہے۔ سب نبیوں کا یا نبیوں میں سے ایک کا انکار کفر ہے۔ کتب الٰہی کا انکار کفر
ہے۔ ملائکہ کے انکار سے انسان کافرہوجاتا ہے وغیرہ۔ ہم چونکہ حضرت مرزاصاحب کو نبی مانتے ہیں اور غیراحمدی
آپ کو نبی نہیں مانتے اس لئے قرآن کریم کی تعلیم کے مطابق کہ کسی ایک نبی کا انکار بھی کفر ہے غیراحمدی کافر
ہیں۔‘‘
(مرزامحمود خلیفہ قادیان کا بیان بہ اجلاس سب جج عدالت گورداسپور، الفضل قادیان ج۹ نمبر۱۰۱،۱۰۲ ص۶،
مؤرخہ ۲۶-۲۹؍جون ۱۹۲۲ء)
(۲۳) دوبڑے کافر
’’اب میں یہ بتانا چاہتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے کلام میں دو شخصوں کو سب سے بڑا کافر بیان فرمایاہے۔
اوّل وہ جو اللہ تعالیٰ کی طرف کوئی جھوٹی بات منسوب کرتا ہے۔ مثلاً کہتا ہے کہ مجھے اللہ تعالیٰ نے الہام کیا ہے۔
حالانکہ درحقیقت اسے کوئی الہام نہیں ہوا۔ دوسرے وہ جو خدا کے کلام کی تکذیب کرتا ہے، جیسے فرمایا: ’’ومن اظلم ممن افتری علی اللہ کذبا اوکذب بایاتہ‘‘ اس آیت میں ظالم سے کافر مراد ہے اور
حضرت مسیح موعود (مرزاقادیانی) نے بھی ظالم کے یہی معنی کئے ہیں۔ دیکھو (حقیقت الوحی ص۱۶۳، حاشیہ) اب مسیح
موعود کا یہ دعویٰ ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ایک مامور ہے اور یہ کہ اللہ تعالیٰ اس کے ساتھ ہم کلام ہوتا
ہے۔ دو حالتوں سے خالی نہیں۔ یا تو وہ نعوذ باللہ اپنے دعویٰ میں جھوٹا ہے اور محض افتریٰ علی اللہ کے طور پر
دعویٰ کرتا ہے تو ایسی صورت میں نہ صرف وہ کافر بلکہ بڑا کافر ہے اور یا مسیح موعود اپنے دعویٰ الہام میں
سچا ہے اور خدا سچ مچ اس سے ہم کلام ہوتا تھا اور اس صورت میں بلاشبہ یہ کفر انکار کرنے والے پر پڑے گا۔
جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے اس آیت میں خود فرمایا ہے۔ پس اب تم کو اختیار ہے کہ یا مسیح موعود کے منکروں کو مسلمان
کہہ کر مسیح موعود پر کفر کا فتویٰ لگاؤ اور یا مسیح موعود کو سچا مان کر اس کے منکروں کو کافر جانو۔‘‘
(کلمۃ الفصل مصنفہ بشیراحمد قادیانی مندرجہ رسالہ ریویو آف ریلیجنز قادیان ج۱۴ نمبر۳ ص۱۲۲،۱۲۳، بابت
ماہ مارچ ۱۹۱۵ء)
(۲۴) صاف ظاہر
’’پھر (مرزاقادیانی کا) ایک اور الہام ہے جس میں انکار کی گنجائش باقی رہتی ہی نہیں سوائے اس کے کہ
الہام کا انکار کردیا جائے
371
اوروہ الہام یہ ہے: ’’قل یاایہا لکفار انی من الصادقین‘‘ (حقیقت الوحی ص۹۲)…
خدا مسیح موعود (مرزاقادیانی) کو حکم دیتا ہے کہ تو کہہ اے کافرو میں صادقین میں سے ہوں۔ یہ بات تو صاف ظاہر
ہے کہ اس الہام میں مخاطب ہر ایک ایسا شخص ہے جو حضرت مسیح موعود کو صادق نہیں سمجھتا کیونکہ فقرہ ’’انی من الصادقین‘‘ اس کی طرف صاف طور پر اشارہ کر رہا ہے۔ پس ثابت ہوا کہ ہر ایک جو
آپ کو (یعنی مرزاقادیانی کو) صادق نہیں جانتا اور آپ کے دعاوی پر ایمان نہیں لاتا، وہ کافر ہے۔‘‘
(کلمۃ الفصل مصنفہ بشیراحمد قادیانی، مندرجہ رسالہ ریویو آف ریلیجنز قادیان ج۱۴ نمبر۳ ص۱۴۳، بابت ماہ
مارچ ۱۹۱۵ء)
(۲۵) آیت کے ماتحت
’’پس اس آیت کے ماتحت ہر ایک شخص جو موسیٰ کو تومانتا ہے مگر عیسیٰ کو نہیں مانتا یا عیسیٰ کو مانتا
ہے مگر محمد کو نہیں مانتا اور محمد کو مانتا ہے پر مسیح موعود (مرزاغلام احمد قادیانی) کو نہیں مانتا۔ وہ
نہ صرف کافر بلکہ پکا کافر اور دائرہ اسلام سے خارج ہے اور یہ فتویٰ ہماری طرف سے نہیں ہے، بلکہ اس کی طرف
سے ہے، جس نے اپنے کلام میں ایسے لوگوں کے لئے ’’اولئک ہم الکافرون حقا‘‘ فرمایا ہے۔‘‘
(کلمۃ الفصل مصنفہ بشیراحمد قادیانی مندرجہ رسالہ ریویو آف ریلیجنز قادیان ج۱۴ نمبر۳ ص۱۱۰، بابت ماہ
مارچ ۱۹۱۵ء)
’’ہاں! اگر اس بات کا ثبوت چاہو کہ حضرت مسیح موعود اپنے مخالفین کو اس آیت کے ماتحت سمجھتے تھے یا
نہیں، تو الحکم نمبر۳۰ ج۴، ۱۹۰۰ء پڑھ لو، ساری حقیقت کھل جائے گی۔ وہاں حضرت مولوی عبدالکریم صاحب کا ایک
خطبہ درج ہے جومولوی صاحب مرحوم نے حضرت مسیح موعود کے سامنے پڑھا۔ مولوی صاحب موصوف نے اس خطبہ کو ’’اولئک ہم الکافرون حقا‘‘ والی آیت سے ہی شروع کیا اور احمدیوں کو مخاطب کر کے کہا کہ
اگر تم مسیح موعود کو ہر ایک امر میں حکم نہیں ٹھہراؤ گے اور اس پر ایسا ایمان نہیں لاؤ گے۔ جیسا کہ
صحابہ، نبی کریم پر لائے تو تم بھی ایک گونہ غیراحمدیوں کی طرح اللہ کے رسولوں میں تفریق کرنے والے ہوگے۔ حضرت
مولوی صاحب مرحوم نے اس خطبہ میں یہ بھی کہا کہ اگر میں اس خیال میں غلطی پر ہوں تو میں التجا کرتا ہوں کہ
حضرت مسیح موعود مجھے میری غلطی سے مطلع فرماویں۔ مگر حضرت صاحب نے ایسا نہیں کیا بلکہ جب مولوی صاحب آپ کو
نماز جمعہ کے بعد ملنے کے لئے تشریف لے گئے تو آپ (یعنی مرزاقادیانی) نے فرمایا کہ: ’’یہ بالکل میرا مذہب ہے
جو آپ نے بیان کیا۔‘‘ اور فرمایا کہ: ’’یہ خداتعالیٰ کا فضل ہے کہ آپ معارف الٰہیہ کے بیان میں بلند چٹان پر
قائم ہوگئے ہیں۔‘‘
(دیکھو اخبار الحکم قادیان ج۴ نمبر۳۰، مؤرخہ ۲۴؍اگست ۱۹۰۰ء، کلمۃ الفصل مصنفہ بشیراحمد قادیانی
مندرجہ رسالہ ریویو آف ریلیجنز قادیان ج۱۴ نمبر۴ ص۱۶۷،۱۶۸، بابت ماہ اپریل ۱۹۱۵ء)
(۲۶) خدا کی قسم
’’کیا خلیفہ اوّل (حکیم نورالدین) کو مہدی جاننے والے اپنے مہدی کی بات ماننے کو تیار ہیں، وہ سنیں کہ
میں اس خدا کی قسم کھا کر کہتا ہوں کہ جس کی جھوٹی قسم کھانا ایک لعنتی آدمی کا کام ہے کہ میں نے اپنے کانوں
سے حضرت خلیفہ المسیح خلیفہ اوّل کو ’’اولئک ہم الکافرون حقا‘‘ والی آیت کو غیراحمدیوں
پر چسپاں کرتے ہوئے اور رسل کے لفظ میں حضرت مسیح موعود (مرزاغلام احمد قادیانی) کو شامل کرتے ہوئے سنا ہے۔
مجھے ایک عرصہ گزر جانے کی وجہ سے حضرت خلیفۃ المسیح اوّل کے الفاظ یاد نہیں ہیں۔ مگر مجھے یہ اچھی طرح یاد
ہے کہ آپ نے مذکورہ بالا آیت کو غیراحمدیوں پر چسپاں کیا بلکہ سننے والوں نے اس دن تعجب بھی کیا تھا کہ حضرت
مولوی صاحب نے خلاف عادت صریح الفاظ میں مسئلہ کفر کی تصدیق فرمائی۔ ورنہ عام طور پر مولوی صاحب کی عادت تھی
کہ اگر کوئی آپ سے اس مسئلہ کے متعلق سوال
372
کرتا تو آپ یہ کہہ کر ٹال دیا کرتے تھے کہ تمہیں دوسرے کے کفر واسلام سے کیا تم اپنی فکر کرو۔‘‘
(کلمۃ الفصل مصنفہ مرزابشیراحمد قادیانی، مندرجہ رسالہ ریویو آف ریلیجنز قادیان ج۱۴ نمبر۳ ص۱۲۰،۱۲۱،
بابت ماہ مارچ ۱۹۱۵ء)
(۲۷) پھر کس طرح
’’پھر ہم کس طرح مان لیں کہ خدا تو ایک شخص کو کہے کہ ’’انت منی بمنزلہ ولدی۔ انت
منی بمنزلتہ توحیدی وتفریدی‘‘ لیکن وہ شخص ایسا معمولی ہو کہ اس کا ماننا اور نہ ماننا قریباً
قریباً برابر ہو۔ پھر ہم کس طرح مان لیں کہ ایک شخص کے انکار سے انسان یہودی بن کر مغضوب علیہم بن جاوے۔
لیکن اس کو ماننا ایمانیات میں سے نہ ہو۔ پھر ہم کس طرح مان لیں کہ ایک شخص پکار پکار کر کہے ؎
-
ابن مریم کے ذکر کو چھوڑو
اس سے بہتر غلام احمد ہے
لیکن ابن مریم کا منکر تو کافر ہو اور غلام احمد (قادیانی) کا منکر کافر نہ ہو اور پھر ہم کس طرح مان
لیں کہ ایک شخص کو اللہ تعالیٰ باربار اپنے الہام میں رسول اور نبی کہہ کر پکارے۔ لیکن وہ ’’لانفرق بین احد من رسلہ‘‘ کے لفظ رسل میں شامل نہ ہو اور اس کا منکر ’’اولئک ہم الکافرون حقا‘‘ سے باہر ہو۔‘‘
(کلمۃ الفصل مصنفہ بشیر احمد قادیانی مندرجہ رسالہ ریویو آف ریلیجنز قادیان ج۱۴ نمبر۴ ص۱۷۴،۱۷۵، بابت
ماہ اپریل ۱۹۱۵ء)
(۲۸) موٹی سی بات
’’پس اب کوئی شخص مسیح موعود (یعنی مرزاغلام احمد قادیانی) کی ظلی نبوت کا انکار کر دے تو کردے۔ مگر
آپ کو ظلی نبی مان کر پھر اس بات سے انکار نہیں کرسکتا کہ آپ کے منکرین کی نسبت وہی فتویٰ ہے جو قرآن کریم
نے انبیاء کے منکرین کے متعلق بیان فرمایا ہے۔ یہ ایک موٹی سی بات ہے کہ جب مسیح موعود (مرزاقادیانی) خدا کا
ایک رسول اور نبی ہے تو پھر اس کو وہ سارے حقوق حاصل ہیں جو اور نبیوں کو ہیں اور اس کا انکار ایسا ہی ہے
جیسے اللہ تعالیٰ کے کسی اور نبی کا انکار۔ اب ظاہر ہے کہ جو شخص مسیح موعود (مرزاقادیانی) کا انکار کرتا ہے وہ
اللہتعالیٰ کے رسولوں میں تفریق کرتا ہے۔ یعنی باقی رسولوں کو تو مانتا ہے مگر مسیح موعود (مرزاقادیانی) کو
نہیں مانتا۔ اس لئے اس کی طرف یہ قول منسوب نہیں کیا جاسکتا کہ ’’لانفرق بین احد من
رسلہ‘‘ کیونکہ اس نے مسیح موعود کے انکار سے رسولوں میں تفریق کر دی۔ پس اس لئے وہ حق نہیں رکھتا
کہ اسے مؤمن کے نام سے پکارا جاوے۔ یہی وجہ ہے کہ قرآن کریم نے دوسری جگہ ایسے لوگوں کو، جو خدا کے بعض
رسولوں کو مانتے ہیں اور بعض کو نہیں مانتے، پکا کافر کہا ہے۔‘‘
(کلمۃ الفصل مصنفہ بشیراحمد قادیانی، مندرجہ رسالہ ریویو آف ریلیجنز قادیان ج۱۴ نمبر۳ ص۱۱۹، بابت ماہ
مارچ ۱۹۱۵ء)
(۲۹) ہتک اور استہزاء
’’آنحضرت کی بعثت اوّل میں آپ کے منکروں کو کافر اور دائرہ اسلام سے خارج قرار دینا۔ لیکن آپ کی بعثت
ثانی میں آپ کے منکروں کو داخل اسلام سمجھنا یہ آنحضرت کی ہتک اور آیات اللہ سے استہزاء ہے۔ حالانکہ خطبہ
الہامیہ میں حضرت مسیح موعود (مرزاقادیانی) نے آنحضرت کی بعثت اوّل وثانی کی باہمی نسبت کو ہلال اور بدر کی
نسبت سے تعبیر فرمایا ہے۔ جس سے لازم آتا ہے کہ بعث ثانی کے کافر، کفر میں بعث اوّل کے کافروں سے بہت بڑھ کر
ہیں۔‘‘
(الفضل قادیان ج۳ نمبر۱۰ ص۶ کالم۱، مؤرخہ ۱۵؍جولائی ۱۹۱۵ء)
’’پس ان معنوں میں مسیح موعود (جو آنحضرت کے بعث ثانی کے ظہور کا ذریعہ ہے) کے احمد اور نبی اللہ ہونے
سے انکار کرنا گویا
373
آنحضرت کے بعث ثانی اور آپ کے احمد اور نبی اللہ ہونے سے انکار کرنا ہے جو منکر کو دائرہ اسلام سے خارج
اور پکا کافر بنا دینے والا ہے۔‘‘
(الفضل قادیان ج۳ نمبر۳ ص۷ کالم۱، مؤرخہ ۲۹؍جون ۱۹۱۵ء)
’’خلاصہ کلام یہ کہ حضرت مسیح موعود (یعنی مرزاقادیانی) کا اللہ تعالیٰ نے باربار اپنے الہام میں احمد
نام رکھا ہے۔ اس لئے آپ کا منکر کافر ہے۔ کیونکہ احمد کے منکر کے لئے قرآن میں لکھا ہے: و اللہ
متم نورہ ولو کرہ الکافرون‘‘
(کلمۃ الفصل مصنفہ بشیراحمد قادیانی مندرجہ رسالہ ریویو آف ریلیجنز قادیان ج۱۴ نمبر۳ ص۱۴۱، بابت ماہ
مارچ ۱۹۱۵ء)
(۳۰) برابری
’’پھر اپنے رسالہ (کفر واسلام) کے صفحہ۶ پر مولوی محمد علی صاحب (لاہوری قادیانی) لکھتے ہیں: مسیح
موعود کے نہ ماننے سے ایک شخص قابل مواخذہ ہے۔ مگر وہ دائرہ اسلام سے اس وقت تک خارج نہیں ہوتا جب تک لا الہ الا اللہ کا انکار نہ کرے۔ اگر مولوی صاحب موصوف کا واقعی یہ ہی اعتقاد ہے تو
پھر ان کے نزدیک یہ فقرہ بھی درست ہونا چاہئے کہ نبی کریم کے نہ ماننے سے ایک شخص قابل مواخذہ ہے۔ مگر وہ
دائرہ اسلام سے اس وقت تک خارج نہیں ہوتا جب تک کہ لا الہ الا اللہ کا انکار نہ
کرے۔‘‘
(کلمۃ الفصل مصنفہ بشیراحمد قادیانی، مندرجہ رسالہ ریویو آف ریلیجنز قادیان ج۱۴ نمبر۴ ص۱۸۳، بابت ماہ
اپریل ۱۹۱۵ء)
(۳۱) ایک اولوالعزم نبی
’’اگر یہودی اس لئے بیت المقدس کی تولیت کے مستحق نہیں کہ وہ جناب مسیح اور حضرت نبی کریم ﷺ کی رسالت
ونبوت کے منکر ہیں اور عیسائی اس لئے غیرمستحق ہیں کہ انہوں نے خاتم النّبیین کی رسالت ونبوت کا انکار کردیا
ہے تو یقینا غیراحمدی بھی مستحق تولیت بیت المقدس نہیں۔ کیونکہ یہ بھی اس زمانہ میں مبعوث ہونے والے خدا کے
ایک اولوالعزم نبی کے منکر اور مخالف ہیں اور اگر کہا جائے حضرت مرزاصاحب کی نبوت ثابت نہیں تو سوال ہوگا کن
کے نزدیک؟ اگر جواب یہ ہو کہ نہ ماننے والوں کے نزدیک تو اس طرح یہود کے نزدیک مسیح اورآنحضرت ﷺ کی، اور
مسیحیوں کے نزدیک آنحضرت ﷺ کی نبوت ورسالت بھی ثابت نہیں۔ اگر منکرین کے فیصلہ سے ایک غیرنبی ٹھہر جاتا ہے
تو کروڑوں عیسائیوں اور یہودیوں کا اجماع ہے کہ نعوذ باللہ آنحضرت ﷺ من جانب اللہ نبی اور رسول نہ تھے۔ پس اگر
ہمارے غیراحمدی بھائیوں کا یہ اصل درست ہے کہ بیت المقدس کی تولیت کے مستحق تمام نبیوں کے ماننے والے ہی
ہوسکتے ہیں تو ہم اعلان کرتے ہیں کہ احمدیوں کے سوا خدا کے تمام نبیوں کا مومن اور کوئی نہیں۔‘‘
(الفضل قادیان ج۹ نمبر۳۶ ص۴ کالم۳، مؤرخہ ۷؍نومبر ۱۹۲۱ء)
(۳۲) عظیم الشان نبی اللہ رسول اللہ
’’جری اللہ حلل الانبیاء سے صاف ثابت ہوتا ہے کہ حضرت احمد ایک عظیم الشان نبی
اللہ ورسول اللہ ہیں اور ان کا انکار موجب غضب الٰہی اور کفر ہے۔‘‘
(رسالہ احمدی، قاضی محمد یوسف قادیانی نمبر۵،۶،۷، بابت ۱۹۱۹ء، موسومہ النبوۃ فی الالہام ص۱۰)
(۳۳) لازمی شرط
’’خداتعالیٰ نے حضرت (مرزاقادیانی) کو فرمایا کہ جس کو میرا محبوب بننا منظور اور مقصود ہو اس کو تیری
اتباع کرنی اور تجھ پر ایمان لانا لازمی شرط ہے۔ ورنہ وہ میرا محبوب نہیں بن سکتا۔ اگر تیرے منکر اس تیرے
فرمان کو قبول نہ کریں، بلکہ شرارت اور تکذیب پر کمربستہ ہوں
374
تو ہم سزا دہی کی طرف متوجہ ہوں گے۔ ان کافروں کے واسطے ہمارے پاس جہنم موجود ہے جو قید خانہ کا کام
دے گا۔ یہاں صرف حضرت احمد کے منکر اور اطاعت وتبعیت میں نہ آنے والے گروہ کو کافر قرار دیا ہے اور جہنم ان
کے لئے بطور قیدخانہ قرار دیا ہے۔‘‘
(رسالہ احمدی، قاضی محمد یوسف قادیانی نمبر۵،۶،۷، بابت۱۹۱۹ء، موسومہ النبوۃ فی الالہام ص۴۰)
(۳۴) حیران
’’لکھنؤ میں ہم (مرزامحمود خلیفہ قادیان) ایک آدمی سے ملے جو بڑا عالم ہے۔ اس نے کہا (وہ) آپ لوگوں
کے بڑے دشمن ہیں جو یہ مشہور کرتے پھرتے ہیں کہ آپ ہم لوگوں کو کافر کہتے ہیں۔ میں یہ نہیں مان سکتا کہ آپ
ایسے وسیع حوصلہ رکھنے والے ایسا کہتے ہوں۔ اس سے شیخ یعقوب علی صاحب باتیں کر رہے تھے۔ میں نے ان کو کہا آپ
کہہ دیں کہ واقعہ میں ہم آپ لوگوں کو کافر کہتے ہیں۔ یہ سن کر وہ حیران سا ہوگیا۔‘‘
(انوار خلافت ص۹۲، انوارالعلوم ج۳ ص۱۴۹،۱۵۰)
(۳۵) تعجب کی بات
’’یہ تو احمدی غیراحمدی کا سوال ہوا۔ اب لیجئے قادیانی احمدی ایسے احمدی کو جو ان کی جماعت سے نکل کر
لاہوری جماعت میں شامل ہو جائے ’’مرتد‘‘ کہتے ہیں۔ حالانکہ اصطلاحی لحاظ سے مرتد وہ ہوتا ہے جو اسلام چھوڑ
دے۔ جب ایک ایسی جماعت کے ساتھ جو حضرت مسیح موعود کو بروزی اور ظلی نبی بھی مانتی ہے قادیانی احمدیوں کا یہ
سلوک ہے تو ان کا سلوک غیراحمدیوں یا احرار کے ساتھ تو کہیں بدتر ہوگا اور اگر اس کے جواب میں احرار،
قادیانی حضرات (وہ تو لاہوریوں کو بھی اسی لپیٹ میں لاتے ہیں) کو کافر سمجھیں اور ان سے وہی سلوک روارکھیں
جو خود احرار سے رکھا جاتا ہے تو سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا یہ کوئی تعجب کی بات ہے۔‘‘
(پیغام صلح ج۲۴ نمبر۴۹ ص۲ کالم۲، مؤرخہ ۳؍اگست ۱۹۳۶ء)
(۳۶) مفتی صاحب کا فتویٰ
اخبار بدر پرچہ ۹؍مارچ ۱۹۰۶ء میں ملک مولا بخش صاحب آف گورالی کے اس سوال کا کہ ’’کیا حضرت مرزاصاحب
کو مسیح موعود نہ ماننے والے کو کافر ماننا چاہئے۔‘‘ حضرت مفتی (محمد صادق) صاحب (قادیانی) یہ جواب لکھتے
ہیں:
’’خداتعالیٰ کے تمام رسولوں پر ایمان لانا شرائط اسلام میں داخل ہے۔ ایک شخص آدم سے لے کر نبی کریم ﷺ
تک سب پر ایمان لاتا ہے۔ درمیان میں سے ایک رسول کو (بالفرض مسیح ابن مریم ہی سہی) نہیں مانتا کہتا ہے وہ تو
کافر تھا۔ بتلاؤ وہ شخص یہودی کہلائے گا یا مسلمان؟ حضرت مرزاصاحب بھی اللہ تعالیٰ کے رسولوں میں سے ایک رسول
ہیں جو خدا کے رسولوں میں سے ایک کا انکار کرتا ہے اس کا کیا حشر ہوگا آپ ہی بتلائیے مگر انصاف شرط ہے۔‘‘
(البدر قادیان ج۲ نمبر۱۰ ص۸ کالم۱، مؤرخہ ۹؍مارچ ۱۹۰۶ء)
’’کیا اس سے بھی بڑھ کر کوئی الفاظ اس بات کے ثبوت میں ہوسکتے ہیں کہ حضرت مسیح موعود کو ان (الفاظ
کا) نویسندہ واقعی اور حقیقی معنوں میں نبی اور رسول یقین کرتا ہے۔‘‘
(محمد اسماعیل قادیانی کا رسالہ بعنوان مولوی محمد علی کے اپنی سابقہ تحریرات کے متعلق جوابات پر نظر
ص۱۴۳)
(۳۷) میرے نزدیک حق نہ تھا
’’میرے نزدیک غیراحمدی کافر ہیں۔‘‘
(مرزامحمود خلیفہ قادیان کا بیان بہ اجلاس سب جج عدالت گورداسپور، الفضل قادیان ج۹ نمبر۱۰۱ ص۶ کالم۱،
مؤرخہ ۲۶-۲۹؍جون ۱۹۲۲ء)
375
’’جن بعض لوگوں نے ہم پر کفر کا فتویٰ دیا ہے وہ فتویٰ غلط ہے۔ ان کو کوئی حق نہ تھا کہ وہ ہمیں کافر
کہتے۔‘‘
(مرزامحمود خلیفہ قادیان کا بیان بہ اجلاس سب جج عدالت گورداسپور، الفضل قادیان ج۹ نمبر۱۰۱،۱۰۲ ص۷
کالم۱، مؤرخہ ۲۶-۲۹؍جون ۱۹۲۲ء)
(۳۸) ہم اور وہ
’’چوہدری صاحب (ظفر اللہ خان قادیانی) کی بحث تو صرف یہ تھی کہ ہم احمدی مسلمان ہیں۔ ہم کو کافر قرار
دینا غلطی ہے۔ باقی غیراحمدی کافر ہیں یانہیں اس کے متعلق عدالت ماتحت میں بھی احمدیوں کا یہی جواب تھا کہ
ہم ان کو کافر کہتے ہیں اور ہائیکورٹ میں بھی چوہدری صاحب نے اسی کی تائید کی۔‘‘
(الفضل قادیان ج۱۰ نمبر۲۱ ص۷ کالم۳، مؤرخہ ۱۴؍ستمبر ۱۹۲۲ء)
’’میں نے بتادیا کہ ہم حضرت مرزاصاحب کو نبی مانتے ہیں۔ غیراحمدی نبی نہیں مانتے وہ ہمیں کافر محض جوش
نفس سے کہتے ہیں۔‘‘
(مرزامحمود خلیفہ قادیان کا بیان بہ اجلاس سب جج عدالت گورداسپور، الفضل قادیان ج۹ نمبر۱۰۱،۱۰۲ ص۷
کالم۳، مؤرخہ ۲۶-۲۹؍جون ۱۹۲۲ء )
(۳۹) چڑنے کا فلسفہ
’’اگر ہم غیراحمدیوں کے نزدیک جھوٹے ہیں اور کسی کو کافر کہتے ہیں تو اسے برا کیوں لگتا ہے۔ دیکھو
عیسائی ہمیں کافر کہتے ہیں۔ لیکن ہم ان کے اس کہنے سے نہیں چڑتے۔ کیونکہ ہم انہیں سچا نہیں سمجھتے۔ پس اگر
غیراحمدی ہمارے کافر کہنے سے چڑتے ہیں تو معلوم ہوتا ہے کہ وہ ہم کو سچا سمجھتے ہیں۔ ہم ان کو کہتے ہیں جب
وہی اسلام ہے جو ہمارے پاس ہے تو تم اسے قبول کر لو۔ پھر ہم تمہیں کافر نہیں کہیں گے، بلکہ اپنا بھائی
سمجھیں گے۔ (قادیانی صاحبان جو کافر کہلانے سے چڑتے ہیں، خود بھی مسلمانوں کی سچائی تسلیم کرتے ہیں۔
للمؤلف)‘‘
(الفضل قادیان ج۳ نمبر۸۶ ص۱۱ کالم۳، مؤرخہ ۵؍فروری ۱۹۱۶ء)
(د) نماز وحج
(۴۰) نماز کی ممانعت
’’صبر کرو اور اپنی جماعت کے غیرکے پیچھے نماز مت پڑھو۔ بہتری اور نیکی اسی میں ہے اور اسی میں تمہاری
نصرت اور فتح عظیم ہے اور یہی اس جماعت کی ترقی کا موجب ہے۔ دیکھو دنیا میں روٹھے ہوئے اور ایک دوسرے سے
ناراض ہونے والے بھی اپنے دشمن کو چار دن منہ نہیں لگاتے اور تمہاری ناراضگی اور روٹھنا تو خدا کے لئے ہے۔
تم اگر ان میں رلے ملے جارہے ہو تو خداتعالیٰ جو خاص نظر تم پر رکھتا ہے وہ نہیں رکھے گا۔ پاک جماعت جب الگ
ہوتو پھر اس میں ترقی ہوتی ہے۔‘‘
(ملفوظات ج۲ ص۳۲۱، جدید ملفوظات ج۱ ص۵۲۵، کتاب منظور الٰہی ص۲۶۵، مرتبہ منظور الٰہی لاہوری قادیانی)
’’میرا وہی مذہب ہے جو میں ہمیشہ سے ظاہر کرتا ہوں کہ کسی غیرمبائع شخص کے پیچھے خواہ وہ کیسا ہی ہو
اور لوگ اس کی کیسی ہی تعریف کریں نماز نہ پڑھو۔ اللہ تعالیٰ کا حکم ہے اور اللہ تعالیٰ ایسا ہی چاہتا ہے اگر کوئی
شخص متردد یا مذبذب ہے تو وہ بھی مکذب ہی ہے۔ خداتعالیٰ کا ارادہ ہے کہ اس طرح احمدی میں اور اس کے غیرمیں
تمحیص اور تمیز کردے۔‘‘
(ارشاد مرزاغلام احمد قادیانی، الفضل قادیان ج۵ نمبر۱۷ ص۷ کالم۱،۲، مؤرخہ ۲۸؍اگست ۱۹۱۷ء، اخبارالحکم
ج۸ نمبر۴۱،۴۲، مؤرخہ ۳۰؍نومبر، ۱۰؍دسمبر ۱۹۰۴ء)
376
(۴۱) یاد رکھو
’’پس یاد رکھو کہ جیسا کہ خدا نے مجھے اطلاع دی ہے تمہارے پر حرام ہے اور قطعی حرام ہے کہ کسی مکفر
اور مکذب یا متردد کے پیچھے نماز پڑھو، بلکہ چاہئے کہ تمہارا وہی امام ہو جو تم میں سے ہو۔ اسی کی طرف حدیث
بخاری کے ایک پہلو میں اشارہ ہے کہ ’’امامکم منکم‘‘ یعنی جب مسیح نازل ہوگا تو تمہیں دوسرے فرقوں کو جو
دعویٰ اسلام کرتے ہیں، بکلی ترک کرنا پڑے گا اور تمہارا امام تم میں سے ہوگا۔ پس تم ایسا ہی کرو، کیا تم
چاہتے ہو کہ خدا کا الزام تمہارے سر پر ہو اور تمہارے عمل حبط ہو جائیں اور تمہیں کچھ خبر نہ ہو۔‘‘
(اربعین نمبر۳ ص۲۸، خزائن ج۱۷ ص۴۱۷ حاشیہ)
(۴۲) حرام قطعی حرام
’’سیدنا حضرت مسیح موعود نے صاف اور صریح الفاظ میں لکھا ہے کہ آپ کو خدا نے بتایا ہے کہ احمدیوں پر
حرام اور قطعی حرام ہے کہ کسی مکفر مکذب اور متردد کے پیچھے نماز پڑھیں۔ اگر کوئی احمدی ان تینوں قسم کے
لوگوں میں سے کسی کے پیچھے نماز پڑھے گا تو اس کے عمل حبط ہو جائیں گے اور اس کو پتہ بھی نہیں لگے گا۔‘‘
(الفضل قادیان ج۸ نمبر۳۱ ص۳ کالم۱، مؤرخہ ۲۵؍اکتوبر ۱۹۲۰ء)
(۴۳) نہیں نہیں نہیں
’’حضرت مسیح موعود نے سختی سے تاکید فرمائی ہے کہ کسی احمدی کو غیراحمدی کے پیچھے نماز نہیں پڑھنی
چاہئے۔ باہر سے لوگ اس کے متعلق باربار پوچھتے ہیں، میں کہتا ہوں تم جتنی دفعہ بھی پوچھو گے اتنی دفعہ ہی
میں یہی جواب دوں گا کہ غیراحمدی کے پیچھے نماز پڑھنا جائز نہیں۔ جائز نہیں۔ جائز نہیں۔‘‘
(انوار خلافت ص۸۹، انوارالعلوم ج۳ ص۱۴۷)
(۴۴) ہرگز نہیں
’’بہت سے غیراحمدی لوگ ہمارے پیچھے نماز پڑھ لیتے ہیں۔ احمدی (قادیانی) ہرگز غیراحمدی کے پیچھے نماز
نہیں پڑھتے۔‘‘
(مرزامحمود خلیفہ قادیان کا بیان بہ اجلاس سب جج عدالت گورداسپور، الفضل قادیان ج۹ نمبر۱۰۱،۱۰۲ ص۷
کالم۱، مؤرخہ ۲۶-۲۹؍جون ۱۹۲۲ء)
(۴۵) سوال
’’(مرزاقادیانی سے) سوال ہوا کہ اگر کسی جگہ امام نماز حضور کے حالات سے واقف نہیں تو اس کے پیچھے
نماز پڑھ لیں یا نہ پڑھیں۔ حضرت مسیح موعود (مرزاقادیانی) نے فرمایا کہ پہلے تمہارا فرض ہے کہ اسے واقف کرو،
پھر اگر تصدیق نہ کرے، نہ تکذیب کرے تو وہ بھی منافق ہے، اس کے پیچھے نماز نہ پڑھو۔‘‘
(ملفوظات احمدیہ حصہ چہارم ص۱۴۶، مرتبہ منظور الٰہی لاہوری قادیانی، ملفوظات ج۳ ص۲۷۷، جدید ملفوظات ج۲
ص۲۰۷)
(۴۶) فرض
’’ہمارا یہ فرض ہے کہ ہم غیراحمدیوں کو مسلمان نہ سمجھیں اور ان کے پیچھے نماز نہ پڑھیں۔ کیونکہ ہمارے
نزدیک وہ خداتعالیٰ کے ایک نبی کے منکر ہیں۔ یہ دین کامعاملہ ہے۔ اس میں کسی کااپنا اختیار نہیں کہ کچھ کر
سکے۔‘‘
(انوارخلافت ص۹۰، انوارالعلوم ج۳ ص۱۴۸)
377
(۴۷) کسی قسم کے
’’ان دونوں حوالوں سے ظاہر ہے کہ کسی قسم کے غیراحمدی کے پیچھے نماز جائز نہیں۔‘‘
(منکرین خلافت کا انجام ص۸۲، مصنفہ جلال الدین شمس قادیانی)
(۴۸) دکھاوے کی نماز
’’۱۹۱۲ء میں، میں، سید عبدالحئی صاحب عرب، مصر سے ہوتے ہوئے حج کو گئے۔ قادیان سے میرے نانا صاحب
میرناصر نواب بھی براہ راست حج کو گئے۔ جدہ میں ہم مل گئے اور مکہ مکرمہ اکٹھے گئے۔ پہلے ہی دن طواف کے وقت
مغرب کی نماز کا وقت آگیا۔ میں ہٹنے لگا مگر راستے رک گئے تھے۔ نماز شروع ہوگئی تھی۔ نانا صاحب جناب میر
صاحب نے فرمایا کہ حضرت خلیفۃ المسیح (حکیم نورالدین) کا حکم ہے کہ مکہ میں ان کے پیچھے نماز پڑھ لینی
چاہئے۔ اس پر میں نے نماز شروع کر دی۔ پھر اسی جگہ ہمیں عشاء کا وقت آگیا۔ وہ نماز بھی ادا کی۔ گھر جاکر میں
نے عبدالحئی صاحب عرب سے کہا کہ وہ نماز تو حضرت خلیفہ المسیح کے حکم کی تھی۔ اب آؤ خداتعالیٰ کی نماز پڑھ
لیں۔ جو غیراحمدیوں کے پیچھے نہیں ہوتی اور ہم نے وہ دونوں نمازیں دہرالیں… اور بیس دن کے قریب جو ہم وہاں
رہے یا گھر پر نماز پڑھتے رہے یا مسجد کعبہ میں الگ اپنی جماعت کراکے اور اللہ تعالیٰ کافضل ہے کہ گو مسجد کعبہ
میں چاروں مذہبوں کے سوا دوسروں کو الگ جماعت کی عام طور پر اجازت نہیں مگر ہمیں کسی نے کچھ نہیں کہا بلکہ
پیچھے رہے ہوئے لوگوں کے ساتھ مل جانے سے بعض دفعہ اچھی خاصی جماعت ہو جاتی تھی۔ (کسی کو کیا معلوم کہ آپ
مسلمانوں سے جدا ہوکر قادیانی نماز پڑھتے تھے۔ بڑی جماعت کے بعد عام طور پر نماز کا سلسلہ جاری رہتا ہے۔
خواہ فرداً فرداً خواہ چھوٹی چھوٹی جماعتوں کے ساتھ، تاہم قادیانی اس کو بڑا فضل سمجھتے ہیں کہ وہاں کسی کو
ان کا پتہ نہ لگا۔ للمؤلف)
چونکہ جناب نانا صاحب کو خیال تھا کہ ان کے اس فعل سے (یعنی مسلمانوں کے ساتھ نماز پڑھنے سے) کوئی
فتنہ ہوگا۔ انہوں نے قادیان آکر حضرت خلیفۃ المسیح کے سامنے یہ سوال پیش کرنے کا ارادہ ظاہر کیا… ایک صاحب
حکیم محمد عمر نے یہ ذکرحضرت خلیفہ المسیح کے پاس شروع کر دیا۔ آپ نے فرمایا ہم نے ایسا کوئی فتویٰ نہیں
دیا۔ ہماری یہ اجازت تو ان لوگوں کے لئے ہے جو ڈرتے ہیں اور جن کے ابتلاء کا ڈر ہے وہ ایسا کر سکتے ہیں کہ
اگر کسی جگہ گھر گئے ہوں تو غیراحمدیوں کے پیچھے نمازیں پڑھ لیں اور پھر آکر دہرا لیں۔ سو الحمد للہ کہ میرا یہ
فعل جس طرح حضرت مسیح موعود کے فتویٰ کے مطابق ہوا اسی طرح خلیفہ وقت کے منشاء کے ماتحت ہوا۔ (مکہ معظمہ تو
کیا کہنا بعض سربرآوردہ قادیانی صاحبان کے متعلق تو معتبر روایت ہے کہ کوئی موقع پیش آئے تو وہ مکہ مسجد
(حیدرآباد) میں بھی مسلمانوں کی نماز پڑھ لیتے ہیں، واقعی خلیفۃ المسیح کا فتویٰ بہت ضروری اور کارآمد ہے۔
للمؤلف)‘‘
(آئینہ صداقت ص۹۱،۹۲، انوارالعلوم ج۶ ص۱۵۵،۱۵۶)
(۴۹) حج بطل
’’مکرمی حضرت ابوبکر یوسف جمال جدہ کے ایک مشہور تاجر اور ہماری جماعت کے ایک مخلص بزرگ ہیں۔ وہ آج کل
قادیان میں آئے ہوئے ہیں انہوں نے حضرت مولوی سید سرور شاہ صاحب مفتی جماعت احمدیہ کی خدمت میں ایک استفتاء
پیش کیا۔ اب وہ استفتاء مع فتویٰ جناب مفتی صاحب بغرض اشاعت بھیجتے ہیں۔ امید ہے کہ احباب کے علم میں اس سے
اضافہ ہوگا۔ (عرفانی)
سوال: ایک مسلمان نے حج فرض ادا کر لیا ہے پھر حضرت مسیح موعود کی بیعت کی۔ پھر دوبارہ حج کرنے کے لئے
احرام باندھتا ہے۔ یعنی بعد بیعت کے یہ دوبارہ حج کی نیت نفل کی کرے یا حج فرض کی۔
378
الجواب: سیدنا حضرت مسیح موعود کے دعویٰ سے پہلے جس نے حج فرض ادا کیا ہے اس کا فرض ادا ہوگیا اور اس
شخص کے احمدی ہونے کے بعد اس پر حج فرض لازم نہیں آتا۔ کیونکہ وہ ادا کرچکا ہے اور سیدنا حضرت مسیح موعود کے
دعوے کے بعد ایک وہ ابتدائی زمانہ ہے کہ جس میں نہ تو دعوے کی پوری اشاعت ہوئی ہے اور نہ اپنے ملک کے لوگوں
پر اتمام حجت ہوا ہے اور وہی زمانہ ہے کہ جس میں حضور نے غیراحمدیوں کے پیچھے نماز پڑھنے سے منع نہیں فرمایا
اور نہ ہی ان کو کافر قرار دیا ہے تو اگر کسی نے اس ابتدائی زمانہ میں حج فرض ادا کیا ہے تو اس کا بھی حج
فرض ادا ہوگیا۔ لیکن جس نے اس زم انے میں حج ادا کیا ہو کہ آپ کا دعویٰ پوری طرح شائع ہوچکا اور ملک کے
لوگوں پر عموماً اتمام حج کر دیا گیا اور حضور نے غیراحمدی امام کے پیچھے نماز پڑھنے سے منع فرمادیا تو پھر
اس کا حج فرض ادا نہیں ہوا۔ لہٰذا احمدی ہونے کے بعد بھی اس کی حالت ایسی ہو کہ جس وجہ سے حج فرض ہوتا ہے تو
اس کا حج ادا کرنا چاہئے۔ کیونکہ اس نے جو پہلے حج کیاہے وہ ادا نہیں ہوا۔‘‘
(الحکم قادیان ج۳۷ نمبر۱۶، مؤرخہ ۷؍مئی ۱۹۳۴ء)
(ہ) جنازہ
(۵۰) توبہ نامہ
’’میں بذریعہ توبہ نامہ ہذا اس امر کو (قادیانی اخبار) البدر میں شائع کرتا ہوں کہ میں نے غلطی سے
مرزاامام الدین کا جو کہ ۶؍جولائی (۱۹۰۳ء) کو فوت ہوا ہے اور جس نے اپنی کتابوں میں ارتداد کیا ہے۔ جنازہ
پڑھا، اس لئے میں اب اپنی غلطی کا اعتراف کر کے عام طور سے اطلاع دیتا ہوں کہ مجھ سے یہ کام کفر کا ہوا ہے
جو میں نے اس کا جنازہ پڑھا۔ پس میں بذریعہ اشتہار ہذا یہ توبہ نامہ شائع کرتا ہوں اور ظاہر کرتا ہوں کہ میں
امام الدین اور نیز ان لوگوں سے بیزار ہوں جو اس کے جنازہ میں شامل ہوئے اور بالآخر میں دعا جنازہ واپس لیتا
ہوں اور خداتعالیٰ سے اپنے گناہ کی مغفرت چاہتا ہوں۔ خاکسار محمد علی شاہ قادیانی، مؤرخہ ۸؍جولائی ۱۹۰۳ء‘‘
(البدر قادیان ج۲ نمبر۲۵ ص۱۹۷ کالم۳، مؤرخہ ۱۰؍جولائی ۱۹۰۳ء)
(۵۱) اوائل کی بات
’’حضرت رسول کریم ﷺ نے جب کسی کافر کا جنازہ پڑھا تو وہ ابتدائے زمانہ اسلام کی بات تھی جب کہ تبلیغ
پورے طور پر نہ ہوچکی تھی بعد میں مشرکین کو حرم میں آنے کی بھی اجازت نہ رہی۔ اگر حضرت مسیح موعود نےآنحضرت
ﷺ کے اس فعل کی طرف اشارہ کرتے ہوئے منکرین کے جنازہ کی اجازت دی تو وہ بھی اوائل کی بات تھی۔ بعد میں اگر
کسی نے اس فتویٰ کو جاری سمجھا تو وہ اس کی اجتہادی غلطی تھی۔ جس کو حضرت خلیفہ اوّل (حکیم نورالدین ) نے
صاف حکم کے ساتھ ادا کر دیا کہ غیراحمدی کا جنازہ ہرگز جائز نہیں۔‘‘
(الفضل قادیان ج۳ نمبر۱۱۰ ص۱۲ کالم۳ مؤرخہ ۲۹؍اپریل ۱۹۱۶ء)
(۵۲) محض اس لئے
’’حضرت مرزاصاحب نے اپنے بیٹے(فضل احمد صاحب) مرحوم کا جنازہ محض اس لئے نہیں پڑھا کہ وہ غیراحمدی
تھا۔‘‘
(الفضل قادیان ج۹ نمبر۴۷، مؤرخہ ۱۵؍دسمبر ۱۹۲۱ء)
379
(۵۳) ایسی جگہ
’’اگر یہ کہا جائے کہ کسی ایسی جگہ جہاں تک تبلیغ نہیں پہنچی کوئی مرا ہوا ہو اور اس کے مرچکنے کے بعد
وہاں کوئی احمدی پہنچے تو وہ جنازہ کے متعلق کیا کرے۔ اس کے متعلق یہ ہے کہ ہم تو ظاہر پر ہی نظر رکھتے ہیں۔
چونکہ وہ ایسی حالت میں مرا ہے کہ خداتعالیٰ کے نبی اور رسول کی پہچان اسے نصیب نہیں ہوئی۔ اس لئے ہم اس کا
جنازہ نہیں پڑھیں گے۔‘‘
(الفضل قادیان ج۲ نمبر۱۳۶ ص۸ کالم۳، مؤرخہ ۶؍مئی ۱۹۱۵ء)
(۵۴) جو لوگ
’’میرا یہ عقیدہ ہے کہ جو لوگ غیراحمدیوں کے پیچھے نماز پڑھتے ہیں۔ ان کا جنازہ جائز نہیں۔ کیونکہ
میرے نزدیک وہ احمدی نہیں ہیں۔ اسی طرح جو لوگ غیراحمدیوں کو لڑکی دے دیں اور وہ اپنے اس فعل سے توبہ کئے
بغیر فوت ہو جائیں۔ ان کا جنازہ بھی جائز نہیں۔ غیرمبایعین (لاہوری جماعت) کے گروہ میں ایسے لوگ بھی ہیں جو
کہتے ہیں حضرت مسیح موعود (مرزاقادیانی) کو کسی قسم کی بھی نبوت حاصل نہیں تھی اور وہ نبوت کے معاملہ میں
حضرت مسیح موعود کے الفاظ کو غلطی پر محمول کرتے ہیں۔ ایسے لوگ بھی احمدی نہیں ہیں۔ ایسے لوگوں کا بھی جنازہ
جائزنہیں۔‘‘
(مرزامحمود قادیانی خلیفہ قادیان کا مکتوب، الفضل قادیان ج۱۳ نمبر۱۰۲ ص۱۲ کالم۳، مؤرخہ ۱۳؍اپریل
۱۹۲۶ء)
(۵۵) دعائے مغفرت کی ممانعت
’’سوال: کیا کسی شخص کی وفات پر جو سلسلہ احمدیہ میں دخل نہ ہو یہ کہنا جائز ہے کہ خدا مرحوم کو جنت
نصیب کرے؟
جواب: غیراحمدیوں کا کفر بینات سے ثابت ہے اور کفار کے لئے دعائے مغفرت جائز نہیں۔ (روشن علی، محمد
سرور، قادیان)‘‘
(الفضل قادیان ج۸ نمبر۵۹، مؤرخہ ۷؍فروری ۱۹۲۱ء)
’’قانون یہ ہے کہ:
۱… انبیاءعلیہ السلام میں سے ایک نبی کا بھی انکار کیا جائے تو انسان دائرہ اسلام سے خارج ہوجاتا ہے۔
۲… جو شخص دائرہ اسلام سے خارج ہو بعد از موت اس کے لئے دعا استغفار جائز نہیں۔ احمدیوں کی پوزیشن یہ
ہے کہ:
۱لف… وہ مرزاغلام احمد قادیانی کو ایسا ہی نبی بہ لحاظ حقیقت نبوت مانتے ہیں جیسے حضرت محمد مصطفی ﷺ
نبی تھے۔
ب… اس لئے جو شخص حضرت مرزاصاحب کا انکار کرتا ہے، وہ دائرہ اسلام سے خارج ہے۔ اس کے لئے دعائے
استغفار جائز نہیں۔‘‘
(الفضل قادیان ج۹ نمبر۳۰ ص۳ کالم۲، مؤرخہ ۱۷؍اکتوبر ۱۹۲۱ء)
(۵۶) تین فتوے
’’ایک شخص کے خط کے جواب میں حضور میاں محمود احمد صاحب خلیفہ قادیان نے لکھوایا:
۱… تلاوت قرآن کا ثواب مردہ کی روح کو نہیں پہنچتا۔
۲… قبر پر قرآن پڑھنا بروایت وفتویٰ حضرت مسیح موعود (مرزاقادیانی) بے فائدہ بلکہ ڈر ہے کہ بدنتیجہ
پیدا کرے۔
۳… غیراحمدی بچے کا جنازہ پڑھنا درست نہیں۔‘‘
(الفضل قادیان ج۹ نمبر۸۶، مؤرخہ ۴؍مئی ۱۹۲۲ء)
380
(۵۷) معصوم بچہ
’’ایک صاحب نے عرض کیا کہ غیرمبایع (لاہوری جماعت) کہتے ہیں۔ غیراحمدی کے بچے کا جنازہ کیوں نہ پڑھا
جائے، وہ تو معصوم ہوتا ہے اور کیا یہ ممکن نہیں وہ بچہ جوان ہوکر احمدی ہوتا۔
اس کے متعلق (مرزامحمود خلیفہ قادیان نے) فرمایا جس طرح عیسائی بچے کا جنازہ نہیں پڑھا جاسکتا، اگرچہ
وہ معصوم ہی ہوتا ہے۔ اسی طرح ایک غیراحمدی کے بچے کا بھی جنازہ نہیں پڑھا جاسکتا۔‘‘
(ڈائری مرزامحمود خلیفہ قادیان، الفضل قادیان ج۱۰ نمبر۳۲ ص۶ کالم۱، مؤرخہ ۲۳؍اکتوبر ۱۹۲۲ء)
’’اب ایک اور سوال یہ رہ جاتا ہے کہ غیراحمدی تو حضرت مسیح موعود کے منکر ہوئے۔ اس لئے ان کا جنازہ
نہیں پڑھنا چاہئے۔ لیکن اگر کسی غیراحمدی کا چھوٹا بچہ مر جائے تو اس کا جنازہ کیوں نہ پڑھا جائے، وہ تو
مسیح موعود کا مکفر نہیں۔ میں یہ سوال کرنے والے سے پوچھتا ہوں کہ اگر یہ بات درست ہے تو پھر ہندوؤں اور
عیسائیوں کے بچوں کا جنازہ کیوں نہیں پڑھا جاتا۔ کتنے لوگ ہیں جو ان کا جنازہ پڑھتے ہیں۔ اصل بات یہ ہے کہ
جو ماں باپ کا مذہب ہوتا ہے، شریعت وہی مذہب ان کے بچے کا قرار دیتی ہے۔ پس غیراحمدی کا بچہ بھی غیراحمدی ہی
ہوا۔ اس لئے اس کا جنازہ بھی نہیں پڑھنا چاہئے۔ پھر میں کہتا ہوں بچہ تو گنہگار نہیں ہوتا۔ اس کو جنازے کی
ضرورت ہی کیا ہے۔ بچہ کا جنازہ تو دعا ہوتی ہے۔ اس کے پسماندگان کے لئے اور اس کے پسماندگان ہمارے نہیں بلکہ
غیراحمدی ہوتے ہیں۔ اس لئے بچے کا جنازہ بھی نہیں پڑھنا چاہئے۔ باقی رہا کوئی ایسا شخص جو حضرت
(مرزاقادیانی) کو تو سچا مانتا ہے، لیکن ابھی اس نے بیعت نہیں کی، یا احمدیت کے متعلق غور کر رہا ہے اور اسی
حالت میں مرگیا ہے، اس کو ممکن ہے خدا تعالیٰ کوئی سزا نہ دے۔ لیکن شریعت کا فتویٰ ظاہری حالات کے مطابق
ہوتا ہے۔ اس لئے ہمیں اس کے متعلق بھی یہی کرنا چاہئے کہ اس کا جنازہ نہ پڑھیں۔‘‘
(انوار خلافت ص۹۳، انوارالعلوم ج۳ ص۱۵۰،۱۵۱)
(۵۸) قبرستان کا قصہ
’’حضرت (مرزاقادیانی) نے تو کفار کے بچوں کے متعلق یہ فرمایا تھا مگر قادیانی مؤلف (یعنی محمد افضل
خان قادیانی مؤلف نہج المصلی مجموعہ فتاویٰ احمدیہ) نے عنوان میں غیراحمدی خورد سال بچے سے لے کر دوسرے
مسلمانان غیراز جماعت کے بچوں کو بھی اس میں شامل فرمالیا اور ایک لحاظ سے یہ درست بھی ہے کیونکہ غیراحمدی
جب ان کے نزدیک سب بلا استثناء کافر ہیں تو ان کے سال چھ مہینے کے بچے بھی کافر ہوئے اور جب وہ کافر ہوئے تو
ان کو اسلامی قبرستان یا احمدی قبرستان میں دفن کیسے کیا جاسکتا ہے اور اس کا دوسرا پہلو یہ ہوا کہ جب
غیراحمدی (یعنی مسلمان) جواب میں احمدیوں (یعنی قادیانیوں) کو کافر سمجھتے ہیں تو وہ احمدی بچوں کو اسلامی
قبرستان میں کیسے دفن کرنے دیں گے… قادیانی بے شک تمام مسلمانوں کو کافر سمجھتے ہیں۔ ان کے بچوں کا جنازہ تک
ناجائز قرار دیتے ہیں۔ اگرچہ اس کی کوئی مثال اس وقت تک سامنے نہیں، تاہم وہ بھی اپنے قبرستان میں کسی
مسلمان بچے کی نعش دفن کرنے کی اجازت دینے کے لئے تیار نہ ہوں گے۔‘‘
(پیغام صلح ج۲۴ نمبر۴۹ ص۲ کالم۳، مؤرخہ ۳؍اگست ۱۹۳۶ء)
(۵۹) فکر پیدا ہوئی
’’برادرم نیاز محمد احمدی سیکرٹری انجمن احمدیہ منٹگمری لکھتے ہیں:
میں نے اپنی ہمشیرہ سے کہا مسلمان بن جاؤ خلیفہ ثانی (مرزامحمود) کے ہاتھ پر، ورنہ میں تو جنازہ بھی
نہیں پڑھوں گا۔ تب اسے فکر
381
پیدا ہوئی۔ وہ سمجھانے پر سمجھ گئی اور اب وہ حضرت مرزاصاحب کو اس زمانے کا نبی اور رسول مانتی ہے
اور بیعت کی درخواست کرتی ہے۔‘‘
(الفضل قادیان ج۲ نمبر۱۲۹ ص۱،۲، مؤرخہ ۲۰؍اپریل ۱۹۱۵ء)
(۶۰) احکام شرعی کا پاس
(عنوان، الفضل مؤرخہ ۶؍اکتوبر ۱۹۱۷ء)
’’مجھے قادیان کی طرف آتے ہوئے چند دن بٹالہ میں بھائی فضل حق خاں صاحب رئیس بٹالہ کے ہاں ٹھہرنے کا
اتفاق ہوا۔ اتفاقاً ان ہی دنوں ان کے والد جو غیراحمدی تھے، اسہال کبدی سے بیمار ہوکر فوت ہوگئے۔ بھائی فضل
حق خان صاحب نے احمدی احباب کو ایسے موقع پر نہ بلایا تاہم ہم چار پانچ آدمی جنازہ کے موقع پر موجود تھے اور
تنہاء ایک جگہ بیٹھے ہوئے تھے۔ غیراحمدیوں کی اچھی خاصی تعداد جنازہ کے لئے جمع ہوگئی تھی۔ اس مجمع میں سے
بھائی فضل حق خان صاحب کے چچا جو ان کے خسر بھی تھے ان کے پاس آئے اور جنازہ پڑھنے کے لئے کہا۔ مگر انہوں نے
صاف انکار کیا۔ پھر چند اور اشخاص آئے۔ انہوں نے کہا کہ آپ ہمارے ساتھ جنازہ نہ پڑھیں، علیحدہ ہی پڑھ لیں۔
اس پر انہوں نے جواب دیاکہ… میں امام الوقت کے احکام کو بجالاؤں گا اور جنازہ نہیں پڑھوں گا۔ میں نے ان کی
زندگی میں ہی کہہ دیا تھا کہ اگر آپ احمدی نہ ہوں گے تو آپ کا جنازہ ہم میں سے تو کوئی بھی نہیں پڑھے گا۔
پھر فاتحہ خوانی کی رسم کو آپ نے بالکل ادا نہیں کیا بلکہ جو آیا اسے متانت سے سمجھاتے ہوئے منع کر دیا… میں
امید کرتا ہوں کہ اس قابل رشک نمونہ پر ہر ایک احمدی دوست عمل کر کے ثواب دارین حاصل کرے گا۔‘‘
(ایک قادیانی کی مراسلت، الفضل قادیان ج۵ نمبر۲۸ ص۱۲ کالم۱ وحاشیہ، مؤرخہ ۶؍اکتوبر ۱۹۱۷ء)
(۶۱) زندہ باش
’’تعلیم الاسلام ہائی سکول (قادیان) میں لڑکا پڑھتا ہے، چراغ الدین نام حال میں جب وہ اپنے وطن
سیالکوٹ گیا تو اس کی والدہ صاحبہ فوت ہوگئیں۔ متوفیہ کو اپنے نوجوان بچے سے بہت محبت تھی، مگر سلسلے میں
داخل نہ تھیں۔ اس لئے عزیز چراغ الدین نے (باوجودیکہ اس کی آنکھیں اشکبار تھیں اور دل غمگین اور وہ تن تنہا
غیراحمدیوں میں گھرا ہوا) اس کا جنازہ نہ پڑھا۔ اپنے اصول اور مذہب پر قائم رہا۔ شاباش اے تعلیم الاسلام کے
غیور فرزند کہ (قادیانی) قوم کو اس وقت تجھ سے غیور بچوں کی ضرورت ہے۔ زندہ باش۔‘‘
(الفضل قادیان ج۲ نمبر۱۲۹ ص۱ کالم۲، مؤرخہ ۲۰؍اپریل ۱۹۱۵ء)
(و) نکاح
(۶۲) اعلان
’’یہ اعلان بغرض آگاہی عام شائع کیا جاتا ہے کہ احمدی لڑکیوں کے نکاح غیراحمدی مردوں سے کرنے ناجائز
ہیں۔ آئندہ احتیاط کی جایا کرے۔ (ناظر امور عامہ قادیان)‘‘
(الفضل قادیان ج۲۰ نمبر۹۷ ص۸ کالم۲، مؤرخہ ۱۴؍فروری ۱۹۳۳ء)
(۶۳) زبردست حکم
’’حضرت مسیح موعود کا حکم اور زبردست حکم ہے کہ کوئی احمدی غیراحمدی کو اپنی لڑکی نہ دے۔ اس کی تعمیل
کرنا بھی ہر ایک احمدی کا فرض ہے۔‘‘
(برکات خلافت ص۷۵، انوارالعلوم ج۲ ص۲۱۱)
382
(۶۴) سخت ناراضگی
’’حضرت مسیح موعود نے اس احمدی پر سخت ناراضگی کا اظہار کیا ہے جو اپنی لڑکی غیراحمدی کو دے۔ آپ سے
ایک شخص نے باربار پوچھا اور کئی قسم کی مجبوریوں کو پیش کیا، لیکن آپ نے اس کو یہی فرمایا کہ لڑکی کو
بٹھائے رکھو لیکن غیراحمدیوں میں نہ دو۔ آپ کی وفات کے بعد اس نے غیراحمدیوں کو لڑکی دے دی تو حضرت خلیفہ
اوّل (حکیم نورالدین) نے اس کو احمدیوں کی امامت سے ہٹا دیا اور جماعت سے خارج کردیا اور اپنی خلافت کے چھ
سالوںمیں اس کی توبہ قبول نہ کی باوجودیکہ وہ باربار توبہ کرتا رہا۔‘‘
(انوارخلافت ص۹۳، انوارالعلوم ج۳ ص۱۵۱)
(۶۵) ممانعت
غیراحمدی کو لڑکی دینے کی ممانعت حضرت خلیفۃ المسیح (مرزامحمود) نے نہیں کی بلکہ حضرت مسیح موعود نے
کی ہے اور حضرت خلیفۃ المسیح اسی کی پابندی کرانا چاہتے ہیں۔ اس لئے پیغام کا یہ الزام کہ آپ نے یہ نیا
عقیدہ بنالیا ہے۔ بالکل غلط ہے، دیکھئے حضرت مسیح موعود کیسے صاف اور واضح الفاظ میں فرماتے ہیں:
’’اپنی لڑکی کسی غیراحمدی کو نہ دینی چاہئے۔ اگر ملے تو بے شک لو، لینے میں حرج نہیں اور دینے میں
گناہ ہے۔‘‘
(الحکم قادیان ج۱۲ نمبر۲۷ ص۲ کالم۳، مؤرخہ ۱۴؍اپریل ۱۹۰۸ء)
’’ان الفاظ کو پڑھ کر کیا کوئی کہہ سکتا ہے کہ غیراحمدیوں کو لڑکی نہ دینے کا عقیدہ حضرت خلیفہ ثانی
(مرزامحمود) نے ایجاد کیا ہے۔‘‘
(الفضل قادیان ج۹ نمبر۹۳،۹۴، مؤرخہ ۲۹؍مئی، یکم؍جون ۱۹۲۲ء)
(۶۶) سوال جواب
’’ایک شخص کے سوالات کے… حضرت (مرزامحمود خلیفہ قادیان) نے مندرجہ ذیل جوابات لکھے:
سوال: کیا جو شخص احمدی کہلاتا ہے، چندہ بھی دیتا ہے، تبلیغ بھی کرتا ہے لیکن حضرت مسیح موعود کے حکم
صریحی کے خلاف کہ غیراحمدی کو اپنی لڑکی نکاح میں دینا جائز نہیں، اپنی لڑکی کا نکاح کر دیتا ہے وہ ایک ہی
حکم کے توڑنے سے مسیح موعود کے منکروں سے ہوسکتا ہے؟
جواب: جو شخص اپنی لڑکی کا رشتہ غیراحمدی لڑکے کو دیتا ہے، میرے نزدیک وہ احمدی نہیں۔ کوئی شخص کسی کو
غیرمسلم سمجھتے ہوئے اپنی لڑکی اس کے نکاح میں نہیں دے سکتا…
سوال: جو نکاح خواں ایسا نکاح پڑھاوے اس کے متعلق کیا حکم ہے؟
جواب: ایسے نکاح خواں کے متعلق ہم وہی فتویٰ دیں گے جو اس شخص کی نسبت دیا جاسکتا ہے جس نے ایک مسلمان
لڑکی کا نکاح ایک عیسائی یا ہندو لڑکے سے پڑھ دیا ہو۔
سوال: کیا ایسا شخص جس نے غیراحمدیوں سے اپنی لڑکی کا رشتہ کیا ہے، دوسرے احمدیوں کو شادی میں مدعو کر
سکتا ہے؟
جواب: ایسی شادی میں شریک ہونا بھی جائز نہیں۔‘‘
(ڈائری مرزامحمود خلیفہ قادیان، الفضل قادیان ج۸ نمبر۸۸، مؤرخہ ۲۲؍مئی ۱۹۲۱ء)
(۶۷) تعلیم قرآن
’’غیراحمدی لڑکی کا نکاح احمدی (قادیانی) لڑکے سے تعلیم قرآن کے مطابق جائز ہے۔ جن بعض لوگوں نے ہم پر
کفر کا فتویٰ دیا
383
ہے وہ فتویٰ غلط ہے۔ ان کو کوئی حق نہ تھا کہ وہ ہمیں کافر کہتے۔ احمدی (قادیانی) مردوں سے غیراحمدی
عورتوں کا نکاح ہوا ہے۔ ہزاروں غیراحمدی عورتیں احمدیوں کے گھروں میں موجود ہیں۔ اس کی بہت سی مثالیں موجود
ہیں کہ غیراحمدی عورتوں کا اس حال میں نکاح ہوا کہ مرد احمدی (قادیانی) تھا اور عورت غیراحمدی۔
کسی احمدی نے احمدیت (قادیانیت) کی حالت میں غیراحمدی سے احمدی (قادیانی) لڑکی کا نکاح نہیں کیا۔ اس
سے مراد وہی ہے جو حدیث میں آتا ہے۔ ’’لایزنی زان حین یزنی وہو مومن‘‘ بعض احکام
ایسے ہوتے ہیں کہ جن کو کرتے وقت انسان ایمان سے نکل جاتا ہے۔ اسی طرح یہ ممکن نہیں کہ کوئی شخص احمدیت کو
صحیح تسلیم کرتا ہو اور پھر غیراحمدی کو اپنی لڑکی دے دے۔‘‘
(مرزامحمود خلیفہ قادیان کا بیان بہ اجلاس سب جج عدالت گورداسپور، الفضل قادیان ج۹ نمبر۱۰۱،۱۰۲ ص۷
کالم۱، مؤرخہ ۲۶-۲۹؍جون ۱۹۲۲ء)
(۶۸) اہل کتاب
’’غیراحمدیوں کی ہمارے مقابلہ میں وہی حیثیت ہے جو قرآن کریم ایک مومن کے مقابلہ میں اہل کتاب کی
قراردے کر یہ تعلیم دیتا ہے کہ ایک مومن اہل کتاب عورت کو بیاہ لاسکتا ہے مگر مومنہ عورت کو اہل کتاب سے
نہیں بیاہ سکتا۔ اسی طرح ایک احمدی غیراحمدی عورت کو اپنے حبالہ نکاح میں لاسکتا ہے، مگر احمدی عورت شریعت
اسلام کے مطابق غیراحمدی مرد کے نکاح میں نہیں دی جا سکتی… حضور (مرزاقادیانی) فرماتے ہیں:
’’غیراحمدی کی لڑکی لے لینے میں حرج نہیں ہے۔ کیونکہ اہل کتاب عورتوں سے بھی نکاح جائز ہے، بلکہ اس
میں فائدہ ہے کہ ایک اور انسان ہدایت پاتا ہے۔ اپنی لڑکی کسی غیراحمدی کو نہ دینی چاہئے۔ اگر ملے تو لے بے
شک لو، لینے میں حرج نہیں اور دینے میں گناہ ہے۔ (الحکم مؤرخہ۱۴؍اپریل ۱۹۲۰ء)‘‘
(الفضل قادیان ج۸ نمبر۴۵ ص۳،۴، مؤرخہ ۱۶؍دسمبر ۱۹۲۰ء)
(۶۹) نکاح جائز
’’حضور (مرزامحمود خلیفہ قادیان) نے جواب میں لکھوایا:
آپ پروفیسر صاحب سے یہ کہیں کہ ہندوستان میں ایسی مشرکات جن سے نکاح ناجائز ہے بہت کم ہیں۔ میجارٹی
ایسے لوگوں کی ہے جن کی عورتوں سے نکاح جائز ہے۔ اس لئے مسلمانوں کے لئے اس مسئلہ پر عمل کرنے میں زیادہ
دقتیں نہیں سوائے سکھوں اور جینیوں کے عیسائیوں کی عورتوں اور ان تمام لوگوں کی عورتوں سے جو وید پر ایمان
رکھتے ہیں نکاح جائز ہے۔‘‘
(الفضل قادیان ج۱۷ نمبر۶۵ ص۸ کالم۳، مؤرخہ ۱۸؍فروری ۱۹۳۰ء)
’’(مرزامحمود خلیفہ قادیان نے) فرمایا: ہندو اہل کتاب ہیں اور سکھ بھی کیونکہ وہ مسلمانوں ہی کا بگڑا
ہوا فرقہ ہیں۔‘‘
(ڈائری مرزامحمود خلیفہ قادیان، الفضل قادیان ج۱۰ نمبر۵ ص۵ کالم۲، مؤرخہ ۱۷؍جولائی ۱۹۲۲ء)
(۷۰) سادات کی قدر
’’حضرت مسیح موعود کو خداتعالیٰ نے بڑی شان دی ہے اور موجودہ سادات کو آپ کی غلامی بلکہ آپ کی خاک
پاکوسرمہ بنانا بھی بہت بڑا فخر ہے اور ہم یوں کہہ سکتے ہیں کہ جو آپ کی غلامی میں داخل نہیں ہوں گے وہ کٹ
جائیں گے اور سید نہ رہیں گے۔ مگر وہ عظمت اور وہ شان جو رسول کریم ﷺ کی آپ کے دل میں تھی، اس کو مدنظر
رکھتے ہوئے آپ نے سادات سے تعلق کو بڑا افضل قرار دیا ہے اور اس میں
384
کیا شک ہے کہ جو زمین اچھی ہوگی اس میں پھل بھی اچھے ہی پیدا ہوں گے۔ اگر خراب بھی ہو جائیں تو بھی
نیک اور خدارسیدہ انسان کے ساتھ تعلق ہوجائے تو وہ زیادہ ترقی کرسکتے ہیں۔ کیوں خدا نے انہیں رسول کریم ﷺ کے
تعلق کی وجہ سے فطرت اچھی دی ہوئی ہے۔‘‘
(خطبہ نکاح، مولوی سید محمد سرور شاہ، الفضل قادیان ج۸ نمبر۶۱، مؤرخہ ۱۴؍فروری ۱۹۲۱ء)
(۷۱) کفر کا فتویٰ
’’ایک خط کے جواب میں (مرزامحمود خلیفہ قادیان نے) لکھوایا جو شخص اپنے آپ کو احمدی کہتا ہے اور ایسے
کام جن کی وجہ سے انسان احمدیت سے خارج ہو جاتا ہے وہ نہیں کرتا تو اس کا جنازہ پڑھ لینے میں حرج نہیں ہے۔
خارج از احمدیت ہونے سے میری مراد ایسی امورات ہیں کہ جس کی وجہ سے کفر کا فتویٰ لگ سکتا ہے۔ چنانچہ
غیراحمدی کو لڑکی کا رشتہ دینا بھی اس قسم میں سے ہے۔‘‘
(ڈائری مرزامحمود خلیفہ قادیان، الفضل قادیان ج۹ نمبر۸۶، مؤرخہ ۴؍مئی ۱۹۲۲ء)
(۷۲) فیصلہ کی تخصیص
’’اگر کوئی احمدی، غیراحمدی کا جنازہ غیراحمدی امام کے پیچھے پڑھتا ہے اور غیراحمدی کو لڑکی دیتا ہے
تو اس کے متعلق کیا حکم ہے؟ حضور (مرزامحمود) نے لکھوایا اس کی رپورٹ ہمارے پاس کرنی چاہئے۔ فتویٰ یہ ہے کہ
ایسا شخص احمدی نہیں ہوسکتا لیکن یہ فیصلہ کرنا ہمارا کام ہے آپ کا کام نہیں۔‘‘
(مکتوب مرزامحمود خلیفہ قادیان، الفضل قادیان ج۹ نمبر۸۱،۸۲، مؤرخہ ۱۷-۲۰؍اپریل ۱۹۲۲ء)
’’ناظرین کرام ملاحظہ فرمائیں حضرت خلیفۃ المسیح (مرزامحمود خلیفہ قادیان) ایک مکتوب میں لکھاتے ہیں:
اگر کوئی احمدی غیراحمدی کا جنازہ غیراحمدی امام کے پیچھے پڑھتا ہے اور غیراحمدی کو لڑکی دیتا ہے تو
اس کی رپورٹ ہمارے پاس کرنی چاہئے۔ فتویٰ یہ ہے کہ ایسا شخص احمدی نہیں ہوسکتا۔ لیکن یہ فیصلہ کرنا ہمارا
کام ہے آپ کا کام نہیں۔ اس پر جناب مدیر پیغام صلح (لاہور) رقمطراز ہیں:
ہاں! بے شک مریدوں کا کام نہیں کہ وہ جناب خلافت مآب کے فتوے پر خود ہی عمل درآمد شروع کریں۔ انہیں
کیا معلوم کہ جس شخص پر یہ فتویٰ عائد ہوتا ہے اس نے پیر صاحب کی جیب کو سیم وزر سے بھر دیا ہے اور اس لئے
اس کے متعلق فیصلہ کرنا قرین مصلحت نہ ہو۔‘‘
(الفضل قادیان ج۹ نمبر۹۵ ص۷ کالم۲، مؤرخہ ۵؍جون ۱۹۲۲ء)
(۷۳) فیصلہ کی بات
جیسا کہ ۲؍مئی ۱۹۲۲ء کے (اخبار) پیغام (صلح) سے ظاہر ہے اس میں ’’یادش بخیر‘‘ کے عنوان سے ایک نوٹ
شائع ہوا ہے جس میں غیراحمدیوں کو احمدی لڑکی دینے کی ممانعت کو پیش کیا ہے اور اس کے متعلق یہ بہتان باندھا
ہے کہ اس کی خلاف ورزی کرنے پر حضرت خلیفۃ المسیح نے ایک شخص کو جماعت سے خارج کر دیا اور دوسرے کو ایسا ہی
کرنے پر اس لئے کچھ نہ کہا کہ اس نے پانچ سو روپے کی رقم آپ کو دے دی۔ چنانچہ لکھا ہے:
’’اسی عقیدہ (یعنی غیراحمدی کو لڑکی نہیں دینی چاہئے) پر زور دیتے ہوئے جناب میاں صاحب نے ایک دفعہ
اعلان کیا تھا کہ ان کے ایک غریب مرید نے ایک غیرازجماعت کے ساتھ اپنی لڑکی کی شادی کی تھی تو ہم نے اس کو
جماعت سے خارج کر دیا اور اس کی توبہ تک بھی قبول نہ کی۔ انہی دنوں میں اتفاق سے میاں صاحب کے ایک لاہوری
مرید میاں شمس الدین صاحب تاجر چرم نے اپنی لڑکی کا نکاح
385
ایک غیرازجماعت مسلمان سے کیا اور ساتھ ہی قادیان جاکر پانچ سو روپے بھی خلافت مآب کے آگے دھر دیا۔‘‘
اگرچہ بغیر کسی ثبوت کے اس قسم کا روپیہ دینے کا ذکر کرنا بھی کوئی شریفانہ فعل نہیں لیکن خیراسے چھوڑ
کر آگے جو کچھ لکھا گیا ہے اسے ملاحظہ کیجئے اور ایڈیٹر صاحب پیغام کی تہذیب کی داد دیجئے۔ لکھا ہے:
’’ہم نے اسی وقت میاں صاحب کو یاددہانی کرائی اور ان کا سابقہ عمل یاد دلاتے ہوئے استدعا کی کہ ان
لاہوری مرید صاحب کو بھی جماعت سے خارج کیجئے۔ اس مضمون کے خطوط ہم نے رجسٹری کراکر میاں صاحب کو روانہ کئے۔
لیکن ہمیں خبر نہ تھی کہ پانچ سو روپیہ کا نشہ بھی آخر کچھ چیز ہے۔ جو آپ جیسے پیران پارسا پر بھی اس قدر
اثر رکھتا ہے کہ آپ کے اپنے بنائے ہوئے اصول بھی اس سے ٹوٹ جاتے ہیں۔ آپ بھی سچے ہیں۔ ایک غریب مرد اگر اس
قدر روپیہ فراہم نہیں کر سکا تو اس کی خشک توبہ کو کوئی کیا کرے اور اگر کسی نے پیر کے علی الرغم کارروائی
کر کے حضرت زر کی شکل اس کو دکھا دی تو اس پر غصہ آئے تو کیوں؟‘‘
یہ بالکل غلط اور جھوٹ بات ہے۔ حضرت خلیفۃ المسیح (مرزامحمود خلیفہ قادیان) نے فرمایا ہے کہ میاں شمس
الدین نے کوئی پانچ سو روپیہ مجھے نہیں دیا۔‘‘
(الفضل قادیان ج۹ نمبر۹۳،۹۴، مؤرخہ ۲۹؍مئی، یکم؍جون ۱۹۲۲ء)
(۷۴) اخراج
’’چونکہ مندرجہ ذیل اصحاب نے اپنی اپنی لڑکیوں کے رشتے غیراحمدیوں کو دے دئیے ہیں۔ اس لئے ان کو حضرت
امیرالمؤمنین خلیفۃ المسیح ثانی ایدہ اللہ بنصرہ کی منظوری سے جماعت سے خارج کیا جاتا ہے اور وہاں کی جماعتوں
کو ہدایت کی جاتی ہے کہ ان سے قطع تعلق رکھیں۔
۱… چوہدری محمد دین صاحب ولد مراد قوم ارائیں سکنہ سیدوالہ ضلع شیخوپورہ۔
۲… چوہدری جھنڈا صاحب ولد چوہدری جلال الدین صاحب ساکناں چندر کے مگونے ضلع سیالکوٹ۔
۳… میاں جیون صاحب علاقہ انبہ ضلع شیخوپورہ۔
۴… میاں غلام نبی صاحب سکنہ چک نمبر۱۱ ضلع شیخوپورہ۔
۵… چوہدری علی بخش صاحب تلونڈی جھنگلاں ضلع گورداسپور۔‘‘
(الفضل قادیان ج۲۲ نمبر۶۹ ص۸ کالم۲، مؤرخہ ۶؍دسمبر ۱۹۳۴ء، ناظر امور عامہ قادیان)
(ز) میل جول
(۷۵) صلح کل کا انجام
’’جو شخص ظاہر کرتا ہے کہ میں نہ ادھر کا ہوں نہ ادھر کا ہوں۔ اصل میں وہ بھی ہمارا مکذب ہے اور جو
ہمارا مصدق نہیں اور کہتا ہے کہ میں ان کو اچھا جانتا ہوں وہ بھی مخالف ہے۔ ایسے لوگ اصل میں منافق طبع ہوتے
ہیں۔‘‘
(ارشاد مرزاقادیانی، البدر قادیان ج۲ نمبر۱۴ ص۱ کالم۲، مؤرخہ ۲۴؍اپریل ۱۹۰۳ء، منقول از منکرین خلافت
کا انجام ص۸۲، مصنفہ جلال الدین شمس قادیانی)
’’یہ جو کہتے ہیں کہ ہم مرزاصاحب کو نیک مانتے ہیں لیکن وہ اپنے دعویٰ میں جھوٹے تھے۔ یہ لوگ بڑے
جھوٹے ہیں۔ خداتعالیٰ
386
فرماتا ہے: ’’ومن اظلم ممن افتری علی اللہ کذبا اوکذب بالحق لما جاء‘‘ دنیا میں
سب سے بڑھ کر ظالم دو ہی ہیں۔ ایک جو اللہ پر افتراء کرے۔ دوم جو حق کی تکذیب کرے۔ پس یہ کہنا کہ مرزانیک ہے
اور دعاوی میں جھوٹا۔ گویا نور وظلمت کو جمع کرنا ہے جو ناممکن ہے۔‘‘
(حکیم نورالدین قادیانی خلیفہ اوّل کا مضمون، البدر قادیان ج۱۰ نمبر۱۹ ص۱ کالم۲، مؤرخہ ۹؍مارچ ۱۹۱۱ء)
’’ایک دوست کا خط حضرت (حکیم نورالدین قادیانی خلیفہ اوّل) کی خدمت میں پیش ہوا کہ بعض غیراحمدی یہ
لکھ دینے کو تیار ہیں کہ ہم مرزا (غلام احمد قادیانی) کو مسلمان مانتے ہیں۔ فرمایا پھر وہ مرزاصاحب کے دعوے
اور الہام کے متعلق کیا کہیں گے۔ مدعی وحی والہام کے معاملہ میں دو ہی گروہ ہوسکتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
’’ومن اظلم ممن افتری علی اللہ کذبا او کذب بالحق لما جاء الیس فی جہنم مثوی للکافرین‘‘
اس سے بڑھ کر ظالم کون ہے جو خدا پر افتراء کرے، اسے خدا کی طرف سے الہام نہ ہوا ہو اور کہے کہ مجھے ہوا ہے
ایسا ہی اس سے بڑھ کر کون ظالم ہے جو اس حق کی تکذیب کرے، یا تو مرزاصاحب اپنے دعوے میں سچے تھے، ان کو
ماننا چاہئے یا جھوٹے تھے ان کا انکار کرنا چاہئے۔ اگر مرزاصاحب مسلمان تھے تو انہوں نے سچ بولا اور وہ فی
الواقع مامور تھے اور اگر ان کا دعویٰ جھوٹا ہے تو پھر مسلمانی کیسی۔‘‘
(البدر قادیان ج۱۰ نمبر۲۴ ص۲ کالم۱، مؤرخہ ۱۳؍اپریل ۱۹۱۱ء)
’’ایک احمدی کا خط پیش ہوا کہ مجھے آپ کے میموریل جمعہ کے ساتھ اتفاق ہے۔ میں اپنے خیال کے مطابق کسی
مسیح کی آمد کا منتظر نہیں ہوں اور نہ کسی کی ضرورت ہے اور نہ خلیفۃ المسیح کی ضرورت ہے۔ البتہ نیکو کار خدا
پرست رہبروں کی ہرزمانہ میں ضرورت ہے اور مرزا (غلام احمد قادیانی) صاحب مرحوم اور جناب (یعنی حکیم نورالدین
قادیانی خلیفہ اوّل) کی مثال جتنے بزرگ دنیا میں پیدا ہوں کم ہیں۔ (حکیم نورالدین نے) فرمایا یہ مسئلہ میری
سمجھ میں نہیں آتا کہ ایسے فقرات بولنے والے لوگ کیا مطلب اپنے الفاظ کا رکھتے ہیں۔ مرزاصاحب کا دعویٰ تھا
کہ میں مسیح ہوں، مہدی ہوں، خدا مجھ سے ہم کلام ہوتا ہے۔ وہ برابر اپنے الہام سناتے رہے۔ اب یا تو ایسا شخص
اپنے دعوے میں سچا ہے اور اس قابل ہے کہ اسے مسیح مان لیا جائے اور یا وہ خدا پر افتراء کرتا ہے اورقرآن
شریف میں لکھا ہے کہ مفتری سے بڑھ کر کوئی ظالم نہیں۔ راہیں تو دو ہی ہیں۔ معلوم نہیں کہ یہ تیسری راہ لوگوں
نے کہاں سے فرض کر لی ہے۔‘‘
(البدر قادیان ج۱۰ نمبر۴۴ ص۹ کالم۳، مؤرخہ ۵؍اکتوبر ۱۹۱۱ء)
’’ایک دوست نے خلیفہ ثانی (مرزامحمود) کی خدمت میں لکھا کہ جو شخص حضرت مسیح موعود (مرزاقادیانی) کے
سب دعاوی کا مصدق ہو مگر بیعت نہ کی ہو اس کے پیچھے نماز جائز ہے یا نہیں۔ جواب میں حضور (مرزامحمود) نے
لکھوایا غیراحمدی کے پیچھے جس نے اب تک سلسلہ میں باقاعدہ بیعت نہ کی ہو خواہ حضرت (مرزاقادیانی) کے سب
دعاوی کو بھی مانتا ہو نماز جائز نہیں اور ایسا شخص سب دعاوی کو مان بھی کس طرح سکتا ہے جو حضرت صاحب بلکہ
خدا کا صریح حکم ہوتے ہوئے آپ کی بیعت نہیں کرتا۔‘‘
(الفضل قادیان ج۳ نمبر۱۹ ص۲ کالم۲، مؤرخہ ۵؍اگست ۱۹۱۵ء)
(۷۶) قطع تعلق
’’غالباً منکرین خلافت کے لیڈروں کو یہ بات بھی بھولی نہیں ہوگی کہ جب ۱۹۰۶ء کے آغاز میں ایک مشہور
غیراحمدی جرنلسٹ نے ان تبلیغی اور علمی مضامین سے متأثر ہوکر جو ریویو آف ریلیجنز میں شائع ہورہے تھے، یہ
تجویز پیش کی کہ ریویو کو عام اسلامی مضامین کے لئے وقف کر دیا جاوے اور سلسلہ احمدیہ کے مخصوص عقائد کا اس
میں ذکر نہ ہوا کرے اور اس صورت میں اس کی خریداری کی توسیع کے متعلق بڑی
387
بڑی امیدیں دلائی تھیں تو حضرت مسیح موعود نے اس تجویز کو سختی کے ساتھ ٹھکرا دیا اور فرمایا کہ ہم
احمدیت کے ذکر کو الگ کر کے لوگوں کے سامنے مردہ اسلام پیش کریں گے؟ اور جب ایک دوسرے موقعہ پر اس بات کا
ذکر تھا کہ بعض غیراحمدی مسلمانوں کی خواہش ہے کہ احمدی ان کے ساتھ مل جائیں اور سب کام مل کر کریں تو آپ نے
فرمایا کہ خدا نے میرے ذریعہ پاک اور صاف دودھ اتارا ہے تو کیا اب میں اپنے پاک وصاف دودھ کو پھر بگڑے ہوئے
اور ناصاف دودھ کے ساتھ ملادوں۔‘‘
(سلسلہ احمدیہ ج۱ ص۳۴۳، مرزابشیراحمد ایم۔اے)
’’یہ جو ہم نے دوسرے مدعیان اسلام سے قطع تعلق کیا ہے، اوّل تو یہ خداتعالیٰ کے حکم سے تھا نہ اپنی
طرف سے اور دوسرے وہ لوگ ریاپرستی اور طرح طرح کی خرابیوں میں حد سے بڑھ گئے ہیں اور ان کو ان کی ایسی حالت
کے ساتھ اپنی جماعت کے ساتھ ملانا یا ان سے تعلق رکھنا ایسا ہی ہے جیسا کہ عمدہ اور تازہ دودھ میں بگڑا ہوا
دودھ ڈال دیں جو سڑ گیا ہے اور اس میں کیڑے پڑ گئے ہیں۔ اسی وجہ سے ہماری جماعت کسی طرح ان سے تعلق نہیں رکھ
سکتی اور نہ ہمیں ایسے تعلق کی حاجت ہے۔‘‘
(ارشاد مرزاغلام احمد قادیانی، تشحیذ الاذہان قادیان ج۶ نمبر۸ ص۳۱۱، بابت ماہ اگست ۱۹۱۱ء)
(۷۷) صاف حکم
’’اس کے بعد حضرت مسیح موعود (مرزاقادیانی) نے صاف حکم دیا کہ غیراحمدیوں کے ساتھ ہمارے کوئی تعلقات
ان کی غمی اور شادی کے معاملات میں نہ ہوں، جب کہ ان کے غم میں ہم نے شامل ہی نہیں ہونا تو پھر جنازہ
کیسا؟‘‘
(الفضل قادیان ج۳ نمبر۱۲۰ ص۱۹ کالم۲، مؤرخہ ۱۸؍جون ۱۹۱۶ء)
(۷۸) دونوں حرام
’’غیراحمدیوں سے ہماری نمازیں الگ کی گئیں۔ ان کو لڑکیاں دینا حرام قرار دیا گیا۔ ان کے جنازے پڑھنے
سے روکا گیا۔ اب باقی کیا رہ گیا ہے جو ہم ان کے ساتھ مل کر کر سکتے ہیں۔ دو قسم کے تعلقات ہوتے ہیں، ایک
دینی دوسرے دنیوی۔ دینی تعلق کا سب سے بڑا ذریعہ عبادت کا اکٹھا ہونا ہے اور دنیوی تعلقات کا بھاری ذریعہ
رشتہ وناطہ ہے۔ سو یہ دونوں ہمارے لئے حرام قرار دئیے گئے۔ اگر کہو کہ ہم کو ان کی لڑکیاں لینے کی اجازت ہے
تو میں کہتا ہوں نصاریٰ کی لڑکیاں لینے کی بھی اجازت ہے اور اگر یہ کہو کہ غیراحمدیوں کو سلام کیوں کہا جاتا
ہے، تو اس کا جواب یہ ہے کہ حدیث سے ثابت ہے کہ بعض اوقات نبی کریم نے یہود تک کو سلام کا جواب دیا ہے۔ ہاں!
اشد مخالفین کو حضرت مسیح موعود (مرزاقادیانی) نے کبھی سلام نہیں کہا اور نہ ان کو سلام کہنا جائز ہے۔ غرض
ہر ایک طریقہ سے ہم کو حضرت مسیح موعود نے غیروں سے الگ کیا ہے اور ایسا کوئی تعلق نہیں جو اسلام نے
مسلمانوں کے ساتھ خاص کیا ہو اور پھر ہم کو اس سے نہ روکا گیا ہو۔‘‘
(کلمۃ الفصل مصنفہ بشیراحمد قادیانی، مندرجہ رسالہ ریویو آف ریلیجنز قادیان ج۱۴ نمبر۴ ص۱۶۹،۱۷۰، بابت
ماہ اپریل ۱۹۱۵ء)
(۷۹) تین امور
’’حضرت امام حکم وعدل (مرزاقادیانی) نے خصوصیات احمدیت میں ہر احمدی کے واسطے تین امور بطور فرمان
عملی رکھے ہیں جن کی اتباع اور اطاعت ہر احمدی پر فرض ہے اور جو حضرت مسیح موعود کے حکم اور فیصلے کے خلاف
کرتا ہے وہ احمدی ہی نہیں خواہ کوئی کیوں نہ ہو۔
حضرت امام ہمام (مرزاقادیانی) نے اوّل خصوصیت حرمت صلوٰۃ خلف المنکرین المسیح الموعود قائم کی ہے۔ دوم
خصوصیت حرمت
388
صلوٰۃ الجنازۃ علی المنکرین المسیح ہے۔ سوم خصوصیت حرمت ازدواج النساء المومنین بالمنکرین ہے۔ یہ
عملی فرق ہے مابین احمدی اور غیراحمدی گروہ کے…
(ص۵ کالم۲)
بعض لوگ دیدہ ودانستہ اپنی لڑکی غیراحمدیوں کو دیتے ہیں، مگر وہ اس وبال سے بے خبر ہیں جو حضرت صاحب
کے حکم کی خلاف ورزی میں لوگوں نے بھگتا ہے یا بھگتنا پڑے گا اور حضرت نورالدین اعظم نے تو ایسے لوگوں کو
جماعت سے خارج کیا ہے اور صاف فرمایا کہ وہ احمدی ہی نہیں ہیں اور حضرت خلیفہ اوّل نے ان کے خلف میں منع
صلوٰۃ کردی ہے۔‘‘
(الفضل قادیان ج۷ نمبر۳۴، ص۵،۸، کالم۲، مؤرخہ ۲۸؍اکتوبر ۱۹۱۹ء)
’’جری اللہ فی حلل الانبیاء احمد نبی اللہ مسیح موعود علیہ التحیات والثنا (فداہ امی
وابی) اپنے متبعین کو فرماتے ہیں کہ غیراحمدی کا جنازہ نہ پڑھو۔ غیراحمدی کے پیچھے نماز نہ پڑھو۔
خواہ وہ تمہارا ماں باپ بہن بھائی کتنا ہی حقیقی رشتہ دار ہو اس کو لڑکی نہ دو۔‘‘
(الفضل قادیان ج۳ نمبر۱۰۹ ص۱۲ کالم۲، مؤرخہ ۲۵؍اپریل ۱۹۱۶ء)
(۸۰) تنبیہ
’’حضرت مسیح موعود نے اپنے مکفر یا مکذب یا متردد کی اقتداء میں نماز پڑھنے سے منع فرمایا ہے اور
ارشاد ہے کہ تم پر حرام اور قطعی حرام ہے جو کسی مکفر یا مکذب یا متردد کے پیچھے نماز پڑھو۔ اسی طرح آپ کا
صاف اور صریح حکم ہے کہ کسی احمدی کے لئے جائز نہیں جو اپنی لڑکی کا رشتہ کسی غیراحمدی سے کرے۔ حضور کے قائم
کردہ ابدی مرکز (قادیان) سے روگردانی اختیار کرنے والے (لاہوری فریق) جہاں غیراحمدیوں کی اقتداء میں نماز
پڑھنے کے لئے بے قرار ہے اور اس کے لئے قسم قسم کے حیلے تراش کر اپنے انقلاب علی عقبیہ کا ثبوت مہیا کرتے
رہے ہیں وہاں اس فعل حرام یعنی غیراحمدیوں کو رشتہ بنات دینے کے واسطے بھی میں دیکھتا ہوں کہ ان کی مسخ شدہ
روحیں تڑپ رہی ہیں اور وہ کچھ نہ کچھ اس کے متعلق شائع کرنا اپنے پیپ آلودہ زخموں اور نہ اچھے ہونے والے
ناسوروں کے لئے موجب اندمال سمجھتے ہیں۔ اے کاش! وہ اپنے ہادی، اپنے راہنما (مرزاقادیانی) کی الہدیٰ اور
لائے ہوئے دین الحق کو اتنی جلدی نہ بھول جاتے۔‘‘
(الفضل قادیان ج۱۱ نمبر۶۴، مؤرخہ ۱۵؍فروری ۱۹۲۴ء)
(۸۱) اسلامی سلوک
’’آپ نے یہ کس طرح سمجھ لیا کہ ہم آپ ایسے لوگوں سے کسی اسلامی سلوک کی امید رکھتے ہیں۔ ہمارے تو وہم
وخیال میں بھی نہیں آسکتا کہ آپ لوگ اسلامی سلوک کرنے کے قابل ہیں یا کرسکتے ہیں۔ کیونکہ ہمارے نزدیک وہ لوگ
جو ایک نبی وقت (مرزاقادیانی) کے منکر ہیں، مسلمان ہی نہیں اور جب ہم انہیں مسلمان ہی نہیں سمجھتے تو پھر ان
سے اسلامی سلوک کی توقع کیا۔ یہ آپ کو محض غلط فہمی ہوئی ہے کہ ہم اسلامی سلوک کے امیدوار ہیں۔‘‘
(الفضل قادیان ج۵ نمبر۶۹،۷۰ ص۴ کالم۱، مؤرخہ ۲۶؍فروری، ۲؍مارچ ۱۹۱۸ء)
(۸۲) قادیانی چندہ
’’آپ لوگوں میں سے بہت سے احباب نے دیکھا ہوا ہے کہ حضرت مسیح موعود کا اپنی زندگی میں غیراحمدیوں سے
کیا تعلق تھا۔ کیا کوئی اس وقت حلفاً کہہ سکتا ہے کہ کبھی آپ نے غیراحمدیوں سے چندہ مانگا، ہرگز نہیں، میں
تو حلفاً کہتا ہوں اور اس خدا کی قسم کھا کر کہتا ہوں
389
جس کے قبضہ میں میری جان ہے کہ نہ میرے کانوں نے روایتاً کسی سے سنا اور نہ میری آنکھوں نے کبھی
دیکھا… اور نہ یہ کہہ کر چندہ کی ان کو ترغیب دی کہ میرا کام تو فقط اشاعت اسلام ہے جو کہ ہمارا اور تمہارا
مشترک فرض ہے۔‘‘
(خطبہ سید سرور شاہ قادیانی، الفضل قادیان ج۲ نمبر۹۷ ص۶،۷، کالم۳، مؤرخہ ۲۸؍جنوری ۱۹۱۵ء)
(۸۳) کبھی نہیں
’’کہا جاتا ہے کہ حضرت مسیح موعود کا کام صرف اشاعت اسلام تھا اور اس کے لئے لوگوں کو تیار کرنا تھا
اور یہی احمدیت ہے۔ اگر یہی احمدیت تھی تو اور لوگ جو حضرت مسیح موعود کے زمانہ میں اشاعت اسلام کے لئے اٹھے
تھے، ان کے لئے حضرت مسیح موعود (مرزاقادیانی) کو خوشی کا اظہارکرنا چاہئے تھا اور… آپ ان کی انجمنوں میں
شامل ہوتے، انہیں چندہ دیتے مگر آپ نے (مرزاقادیانی نے) کبھی اس طرح نہیں کیا۔‘‘
(خطبہ سید سرور شاہ قادیانی، الفضل قادیان ج۲ نمبر۹۷ ص۷ کالم۲، مؤرخہ ۲۸؍جنوری ۱۹۱۵ء)
(۸۴) ضرورت نہیں
’’ایک دوست نے دریافت کیا کہ موپلہ یتیم اور بیواؤں کے لئے لوگ چندہ مانگتے ہیں۔ اس امر میں مجھے کیا
کرنا چاہئے۔ (مرزامحمود خلیفہ قادیان نے) فرمایا، دوسرے لوگوں (مسلمانوں) کے ساتھ مل کر چندہ دینے کی ضرورت
نہیں ہے۔ یہ چندہ نہیں ہے، اپنا رسوخ بڑھانے کی کوشش کرنا ہے۔ اس قسم کی امداد اپنے طور پر دی جاوے تو مفید
ہوتی ہے۔‘‘
(الفضل قادیان ج۱۰ نمبر۴۵ ص۸ کالم۳، مؤرخہ ۷؍دسمبر ۱۹۲۲ء)
(۸۵) چندہ قبول
’’مرزامحمد افضل بیگ تحریر فرماتے ہیں کہ اس وقت تک قصور میں احمدیوں کی کوئی مسجد نہ تھی، لیکن حضرت
خلیفۃ المسیح ثانی ایدہ اللہ نے جو ششماہی رپورٹ کا نقشہ تجویز فرمایا ہے اس میں ایک یہ بھی سوال درج ہے کہ
آیا مسجد احمدیہ ہے یا نہیں اس کو پورا کرنے کے لئے ہماری انجمن نے غور کیا اور ایک پرانی شکستہ اور غیرآباد
بوسیدہ مسجد کو پاکر اسے آباد کرنا چاہا۔ چونکہ مسجد بہت ہی خستہ حالت میں تھی، اس لئے اس کی مرمت کا ارادہ
کیاگیا اور اس غرض کے لئے اپنی جماعت سے چندہ جمع کر کے کام شروع کرادیا جب مرمت کا کام شروع ہوگیا تو ایک
غیراحمدی صاحب نے آکر دریافت کیا کہ کیا آپ ہم سے بھی چندہ لے سکتے ہیں۔ جواب دیا گیا کہ بڑی خوشی سے آپ کا
چندہ قبول کیا جاتا ہے۔ اس پر انہوں نے دس روپے دئیے اور مجھے ساتھ لے کر تحصیل چندہ کے لئے بازار میں چلے
آئے۔ ہماری تین چار گھنٹہ کی کوشش سے اڑھائی سو روپیہ کے قریب چندہ ہوگیا۔‘‘
(الفضل قادیان ج۳ نمبر۱۲۲ ص۳،۴ کالم۳، مؤرخہ یکم؍جولائی ۱۹۱۶ء)
’’سردست میں ایک اور معاملہ کی طرف تمام بہنوں کی توجہ دلانا چاہتا ہوں اور وہ یہ ہے کہ (لندن میں) اس
مسجد کے بن جانے کے سبب سے انگلستان میں تبلیغ کا کام بہت بڑھ گیا ہے اور اب خداتعالیٰ کے فضل سے کام
دوآدمیوں کی طاقت سے زیادہ ہے۔ اس کے متعلق مجھے پہلے شیخ یعقوب علی صاحب نے ولایت سے توجہ دلائی تھی… اس کے
بعد اور چند دوستوں نے بھی اس طرف توجہ دلائی اب خان صاحب منشی فرزند علی صاحب نے بھی خط لکھا ہے کہ کام
زیادہ معلوم ہوتا ہے اور عملہ بڑھانے کی ضرورت ہے…
میں یہ بھی ظاہر کر دینا چاہتا ہوں کہ مسجد برلن کی تحریک کے وقت بعض غیراحمدی عورتیں بھی چندہ میں
شامل ہونا چاہتی تھیں، لیکن
390
چونکہ اس وقت شرط تھی کہ صرف احمدی عورتوں کا چندہ ہو اس لئے اس کی اجازت نہ دی گئی تھی… لیکن اس وقت
چونکہ عام تبلیغی اغراض کے لئے چندہ ہورہا ہے۔ اس لئے اس شرط کی ضرورت نہیں۔ اگر کوئی بہن اپنی خوشی سے اس
چندہ میں حصہ لینا چاہیں تو ان کا چندہ بھی خوشی کے ساتھ قبول کر لینا چاہئے۔‘‘
(مرزامحمود خلیفہ قادیان، الفضل قادیان ج۱۶ نمبر۳۳ ص۳ کالم۱تا۳، مؤرخہ ۲۳؍اکتوبر ۱۹۲۸ء)
(۸۶) مسلمانوں سے بیزار
’’کیا غیراحمدیوں کے ساتھ سیدنا حضرت مسیح موعود (مرزاغلام احمد) کا عملدرآمد کسی پر مخفی ہے۔ آپ اپنی
ساری زندگی میں نہ غیروں کی کسی انجمن کے ممبر ہوئے اور نہ ان میں سے کسی کو کسی اپنی انجمن کا ممبر بنایا
اور نہ کبھی ان کو چندہ دیا اور نہ کبھی ان سے چندہ مانگا۔ (ابتداء میں تو مدت تک مرزاغلام احمد قادیانی نے
مسلمانوں سے خوب چندہ مانگا اور خوب وصول کیا بلکہ اسی سے بنیاد جمی۔ البتہ یہ سچ ہے کہ مسلمانوں کی رفاہ
میں مرزاغلام احمد قادیانی نے کبھی پیسہ بھی نہیں دیا۔ للمؤلف) حتیٰ کہ ایک دفعہ علی گڑھ میں قرآن مجید کی
اشاعت کی غرض سے ایک انجمن بنائی گئی اور وہاں کے جناب سیکرٹری صاحب نے ایک خاص خط بھیجا کہ چونکہ آپ لوگ
خادم اور ماہر قرآن مجید ہو، لہٰذا ہم چاہتے ہیں کہ ہماری اس انجمن میں آپ صاحبان میں سے بھی کچھ شریک ہوں
مگر باوجود جناب مولانا مولوی عبدالکریم مرحوم کی کوشش کے حضور نے انکار ہی فرمایا۔ پھر سرسید صاحب کے چندہ
مدرسہ مانگنے کا واقعہ تو مشہور ہی ہے۔ یہاں تک کہ وہ ایک روپیہ تک بھی مانگتے رہے۔ لیکن حضور (مرزاقادیانی)
نے شرکت سے انکار ہی فرمایا۔ حالانکہ اپنا خود مدرسہ انگریزی جاری کیا ہوا تھا۔‘‘
(کشف الاختلاف ص۴۲، مصنفہ سرور شاہ قادیانی)
(۸۷) سکھوں سے پیار
’’حضرت امیرالمومنین خلیفہ المسیح الثانی ایدہ اللہ بنصرہ العزیز کی طرف سے ایک وفد نے جو جناب سردار
محمد یوسف صاحب ایڈیٹر اخبار نور اور مولانا جلال الدین صاحب شمس پر مشتمل تھا۔ ۲۲؍فروری ۱۹۳۵ء کو کرنل
سردار گھبیر سنگھ صاحب سردار ڈیوڑھی وسیکرٹری گوردوارہ پٹنہ صاحب کمیٹی کو مبلغ پانچ سو روپیہ کی رقم
گوردوارہ پٹنہ صاحب کی تعمیر کے لئے پیش کی… یہ وفد ہزہائینس مہاراجہ ادھیراج پٹیالہ کی خدمت میں بھی حاضر
ہوا جو گوردوارہ پٹنہ صاحب کی تعمیر کی کمیٹی کے صدر ہیں، ہزہائینس نے جماعت احمدیہ کے اس طریق عمل کی بہت
تعریف کی۔‘‘
(الفضل قادیان ج۲۲ نمبر۱۰۸ ص۲ کالم۱، مؤرخہ ۸؍مارچ ۱۹۳۵ء)
(۸۸) مسلمانوں سے مقابلہ
’’قرآن کریم سے معلوم ہوتا ہے کہ ایک عام مومن دو مخالفوں پر بھاری ہوتا ہے اور اگر اس سے ترقی کرے تو
ایک مومن دس پر بھاری ہوجاتا ہے اور اگر اس سے بھی ترقی کرے تو صحابہ کے طرز عمل سے تو یہ معلوم ہوتا ہے کہ
ان میں سے ایک ایک نے ہزار کا مقابلہ کیا ہے۔ ہماری جماعت مردم شماری کی رو سے پنجاب میں چھپن ہزار ہے گو یہ
بالکل غلط ہے اور صرف اسی ضلع گورداسپور میں تیس ہزار احمدی ہیں۔ مگر فرض کرلو یہ تعداد درست ہے اور فرض کر
لو کہ باقی تمام ہندوستان میں ہماری جماعت کے بیس ہزار افراد رہتے ہیں، تب بھی یہ پچھتّر چھہتر ہزار آدمی بن
جاتے ہیں اور اگر ایک احمدی سو کے مقابلہ میں رکھا جائے تو ہم پچھتّر لاکھ کا مقابلہ کر سکتے ہیں اور اگر
ایک ہزار کے مقابل پر ہمارا ایک آدمی ہو تو ہم ساڑھے سات کروڑ کا مقابلہ کر سکتے ہیں۔ اتنی ہی تعداد دنیا کے
تمام مسلمانوں کی ہے۔ (کیسے صحیح اور وسیع معلومات
391
ہیں۔ للمؤلف) پس سارے مسلمان مل کر بھی جسمانی طور پر ہمیں نقصان نہیں پہنچا سکتے اور اللہ تعالیٰ کے
فضل سے ہم ان پر بھاری ہیں۔ پھر آج کل تو جسمانی مقابلہ ہے ہی نہیں۔ اس لئے اس لحاظ سے بھی ہمیں فکر کرنے کی
ضرورت نہیں۔‘‘
(خطبہ جمعہ خلیفہ قادیان مندرجہ الفضل قادیان ج۲۱ نمبر۱۵۲ ص۷ کالم۳، مؤرخہ ۲۱؍جون ۱۹۳۴ء، خطبات محمود
ج۱۵ ص۱۸۶)
(۸۹) ایک ایک ہزار
’’ایک ایسی عظیم الشان پاک شخصیت کا ذکر کیاگیا ہے جس نے مذہبی دنیا میں ایک انقلاب پیدا کر دیا ہے
اور جو رسول اللہ ﷺ کے نمونہ پر وصال باری تعالیٰ کے وقت چار لاکھ سے زیادہ اپنا پیروچھوڑ کر گیا ہے کہ ہر ایک
ان میں سے ایک ایک ہزار دشمن اسلام ومخالف احمدیت پر بھاری ہے۔‘‘
(الفضل قادیان ج۳ نمبر۱۰۷ ص۳ کالم۳، مؤرخہ ۱۸؍اپریل ۱۹۱۶ء)
(۹۰) خواجہ (حسن نظامی) کا الٹی میٹم
’’اہل قادیان سے میری خانہ جنگی نہیں، بلکہ جہانہ جنگی ہے۔ سارے جہان کو جس قوت مریبہ دفنائیہ کا خوف
لگا ہوا ہے۔ میں اس کو ختم کرنا چاہتا ہوں۔ پیروشیا (جرمنی) کے قوائے حربیہ کا خاتمہ ہوجائے تو دنیا کو امن
نہیں ملے گا جتنا کہ قادیان کی طاقت زیروزبر ہونے سے مل سکتا ہے۔‘‘
(خواجہ حسن نظامی کا ارشاد، رسالہ درویش، بابت ۲۴؍جنوری ۱۹۱۸ء، منقول: الفضل قادیان ج۶ نمبر۷۰تا۷۲ ص۱۴
کالم۲، مؤرخہ ۱۵-۲۲؍مارچ ۱۹۱۹ء)
(۹۱) ہتھیار بندی
’’حالات کی نزاکت اور بدامنی کی بڑھتی ہوئی رو کو دیکھتے ہوئے حضرت خلیفۃ المسیح ثانی ایدہ اللہ تعالیٰ
نے مجلس مشاورت کے موقع پر اپنی جماعت کو جو ارشاد فرمایا ہے ہر احمدی کا فرض ہے کہ اس پر پوری طرح عمل کرے۔
حضور نے فرمایا جو اصحاب بندوق کا لائسنس حاصل کر سکتے ہیں وہ بندوق کا لائسنس حاصل کریں اور جہاں جہاں
تلوار رکھنے کی اجازت ہے، وہاں تلوار رکھیں، لیکن جہاں اس کی اجازت نہ ہو، وہاں لاٹھی ضرور رکھنی چاہئے۔ جو
لوگ اس قسم کی کوئی چیز اپنے پاس رکھیں گے وہ نہ صرف ضرورت کے موقع پر گورنمنٹ کے لئے بہت مفید اور کارآمد
ثابت ہوسکیں گے اور نہ صرف ملک میں بدامنی کا انسداد کرنے میں حصہ لے سکیں گے، بلکہ اپنی جان ومال کی بھی
حفاظت کر سکیں گے اور یہ ایسے شریفانہ مقاصد ہیں کہ کوئی عقلمند اور دوراندیش انسان انہیں ناجائز اور ناروا
قرار نہیں دے سکتا اور ان کی خاطر کسی قسم کا سامان رکھنا غیرضروری نہیں سمجھا جاسکتا۔ پس ہر ایک احمدی کو
چاہئے کہ ضروریات زمانہ اور حالات پیش آمدہ کا لحاظ رکھتے ہوئے ضروری سامان مہیا کرے اور اس سے کام لینا
سیکھے۔‘‘
(الفضل قادیان ج۱۷ نمبر۹۰، مؤرخہ ۲؍مئی ۱۹۳۰ء)
(ہ) حمیت
(۹۲) قادیانی اصول
’’میں (مرزاغلام احمد قادیانی) ہرگز نہیں چاہتا کہ مذہبی امور میں اس قدر غصہ بڑھایا جائے کہ مخالفوں
کے حملوں کو قانونی جرائم کے نیچے لاکر گورنمنٹ سے ان کو سزا دلائی جائے… بلکہ میرا اصول یہ ہے کہ مذہبی
مباحثات میں صبر اور اخلاق سے کام لینا چاہئے۔ اسی وجہ
392
سے جب عام مسلمانوں نے مصنف کتاب ’’امہات المؤمنین‘‘ کے سزادلانے کے لئے انجمن حمایت اسلام کے ذریعہ
سے گورنمنٹ میموریل بھیجے تو میں نے ان سے اتفاق نہیں کیا، بلکہ ان کے برخلاف میموریل بھیجا اور صاف طور پر
لکھا کہ مذہبی امور میں اگر کوئی رنج دہ امر پیش آوے تو اسلام کا اصول عفو اور درگزر ہے۔ قرآن ہمیں صاف
ہدایت کرتا ہے کہ اگر مذہبی گفتگو میں سخت لفظوں سے تمہیں تکلیف دی جائے تو تنگ ظرف لوگوں کی طرح عدالتوں تک
مت پہنچو اور صبر اور اخلاق سے کام لو۔‘‘
(کشف الغطاء ص۷، خزائن ج۱۴ ص۱۸۶،۱۸۷)
(۹۳) قادیانی میموریل
’’بحضور نواب لیفٹیننٹ گورنر صاحب بہادر بالقابہ۔
یہ میموریل اس غرض سے بھیجا جاتا ہے کہ ایک کتاب ’’امہات المؤمنین‘‘ نام ڈاکٹر احمد شاہ صاحب عیسائی
کی طرف سے مطبع آرپی مشن پریس گوجرانوالہ میں چھپ کر ماہ اپریل ۱۸۹۸ء میں شائع ہوئی تھی… چونکہ اس کتاب میں
ہمارے نبی کریم ﷺ کی نسبت سخت الفاظ استعمال کئے ہیں جن کو کوئی مسلمان سن کر رنج سے رک نہیں سکتا۔ اس لئے
لاہور کی انجمن حمایت اسلام نے اس بارے میں حضور گورنمنٹ میں میموریل روانہ کیا تاگورنمنٹ ایسی تحریر کی
نسبت جس طرح مناسب سمجھے کارروائی کرے اور جس طرح چاہے کوئی تدبیر امن عمل میں لائے۔ مگر میں مع اپنی جماعت
کثیر اور مع معزز مسلمانوں کے اس میموریل کا سخت مخالف ہوں اور ہم سب لوگ اس بات پر افسوس کرتے ہیں کہ کیوں
اس انجمن کے ممبروں نے محض شتاب کاری سے یہ کارروائی کی۔ اگرچہ یہ سچ ہے کہ کتاب ’’امہات المؤمنین‘‘ کے
مؤلف نے نہایت دل دکھانے والے الفاظ سے کام لیا ہے اور زیادہ افسوس یہ ہے کہ باوجود ایسی سختی اور بدگوئی
کے اپنے اعتراضات میں اسلام کی معتبر کتابوں کا حوالہ بھی نہیں دے سکا۔ مگر ہمیں ہرگز نہیں چاہئے کہ بجائے
اس کے کہ ایک خطا کار کو نرمی اور آہستگی سے سمجھا دیں اور معقولیت کے ساتھ اس کتاب کا جواب لکھیں۔ یہ حیلہ
سوچیں کہ گورنمنٹ اس کتاب کو شائع ہونے سے روک لے تا اس طرح پر ہم فتح پالیں۔ کیونکہ یہ فتح واقعی فتح نہیں
ہے، بلکہ ایسے حیلوں کی طرف دوڑنا ہمارے عجزاور درماندگی کی نشانی ہوگی اور ایک طور سے ہم جبر سے منہ بند
کرنے والے ٹھہریں گے اور گو گورنمنٹ اس کتاب کو جلادے تلف کرے کچھ کرے مگر ہم ہمیشہ کے لئے اس الزام کے نیچے
آجائیں گے کہ عاجز آکر گورنمنٹ کی حکومت سے چارہ جوئی چاہی اور وہ کام کیا جو مغلوب الغضب اور جواب سے عاجز
آجانے والے لوگ کیا کرتے ہیں… مذہبی آزادی کا دروازہ کسی حد تک کھلا رہنا ضروری ہے تامذہبی علوم اور معارف
میں لوگ ترقی کریں اور چونکہ اس عالم کے بعد ایک اور عالم بھی ہے جس کے لئے ابھی سے سامان چاہئے۔ اس لئے ہر
ایک حق رکھتا ہے کہ نیک نیتی کے ساتھ ہر ایک مذہب پر بحث کرے اور اس طرح اپنے تئیں اور نیز بنی نوع کو نجات
آخروی کے متعلق جہاں تک سمجھ سکتا ہے اپنی عقل کے مطابق فائدہ پہنچاوے۔ لہٰذا گورنمنٹ عالیہ میں اس وقت
ہماری یہ التماس ہے کہ جو انجمن حمایت اسلام لاہور نے میموریل گورنمنٹ میں اس بارہ میں روانہ کیا ہے، وہ
ہمارے مشورہ اور اجازت سے نہیں لکھا گیا، بلکہ چند شتاب کاروں نے جلدی سے یہ جرأت کی ہے جو درحقیقت قابل
اعتراض ہے۔ ہم ہرگز نہیں چاہتے کہ ہم تو جواب نہ دیں اور گورنمنٹ ہمارے لئے عیسائی صاحبوں سے کوئی بازپرس
کرے، یا ان کتابوں کو تلف کرے بلکہ جب ہماری طرف سے آہستگی اور نرمی کے ساتھ اس کتاب کا ردشائع ہوگا تو خود
وہ کتاب اپنی قبولیت اور وقعت سے گرجائے گی اور اس طرح پر وہ خود تلف ہو جائے گی۔ اس لئے ہم بادب ملتمس ہیں
کہ اس میموریل کی طرف جو انجمن مذکور کی طرف سے بھیجا گیا ہے گورنمنٹ عالیہ ابھی کچھ توجہ نہ فرماوے۔
393
کیونکہ اگر ہم گورنمنٹ عالیہ سے یہ فائدہ اٹھاویں کہ وہ کتابیں تلف کی جائیں یا اور کوئی انتظام ہو،
تو اس کے ساتھ ایک نقصان بھی ہمیں اٹھانا پڑتا ہے کہ ہم اس صورت میں دین اسلام کو ایک عاجز اور فروماندہ دین
قرار دیں گے کہ جو معقولیت سے حملہ کرنے والوں کا جواب نہیں دے سکتا اور نیز یہ ایک بڑا نقصان ہوگا کہ اکثر
لوگوں کے نزدیک یہ امر مکروہ اور نامناسب سمجھا جائے گا کہ ہم گورنمنٹ کے ذریعہ سے اپنے انصاف کو پہنچ کر
پھر کبھی اس کتاب کا رد لکھنا بھی شروع کر دیں اور درحالت نہ لکھنے جواب کے، اس کے فضول اعتراضات ناواقفوں
کی نظر میں فیصلہ ناطق کی طرح سمجھے جائیں گے اور خیال کیا جائے گا کہ ہماری طاقت میں یہی تھا جو ہم نے کر
لیا۔ سو اس سے ہماری دینی عزت کو اس سے بھی زیادہ ضرر پہنچتا ہے جو مخالف نے گالیوں سے پہنچانا چاہا ہے اور
ظاہر ہے کہ جس کتاب کو ہم نے عمداً تلف کرایا یا روکا پھر اسی کو مخاطب ٹھہرا کر اپنی کتاب کے ذریعہ سے پھر
شائع کرنا نہایت نامعقول اور بیہودہ طریق ہوگا اور ہم گورنمنٹ عالیہ کو یقین دلاتے ہیں کہ ہم دردناک دل سے
ان تمام گندے اور سخت الفاظ پر صبر کرتے ہیں، جو صاحب امہات المؤمنین نے استعمال کئے ہیں اور ہم اس مؤلف
اور اس کے گروہ کو ہرگز کسی قانونی مواخذہ کا نشانہ بنانا نہیں چاہتے کہ یہ امر ان لوگوں سے بہت ہی بعید ہے
کہ جو واقعی نوع انسان کی ہمدردی اور سچی اصلاح کے جوش کا دعویٰ رکھتے ہیں… یہ طریق کہ ہم گورنمنٹ کی مدد سے
یا نعوذ باللہ خود اشتعال ظاہر کریں ہرگز ہمارے اصل مقصد کو مفید نہیں ہے، یہ دنیاوی جنگ وجدل کے نمونے ہیں
اور سچے مسلمان اور اسلامی طریقوں کے عارف ہرگز ان کو پسند نہیں کرتے، کیونکہ ان سے وہ نتائج جو ہدایت بنی
نوع کے لئے مفید ہیں پیدا نہیں ہوسکتے… یہ دوسرے پیرایہ میں اپنے مذہب کی کمزوری کا اعتراف ہے۔ (الراقم:
مرزاغلام احمد قادیانی ضلع گورداسپور، مؤرخہ ۴؍مئی ۱۸۹۸ء)‘‘
(مندرجہ تبلیغ رسالت ج۷ ص۳۶تا۳۹، مجموعہ اشتہارات ج۳ ص۴۰تا۴۳، جدید مجموعہ اشتہارات ج۲ ص۲۱۵تا۲۱۷)
(۹۴) گورنمنٹ کی پاسداریاں
’’غرض ان تمام لوگوں نے بے قیدی اور آزادی کی گنجائش پاکر افتراؤں کو انتہاء تک پہنچا دیا اور ناحق
بے وجہ اہل اسلام کا دل دکھایا اور بہتوں نے اپنی بدذاتی اور مادری بدگوہری سے ہمارے نبی ﷺ پر بہتان لگائے۔
یہاں تک کہ کمال خباثت اور اس پلیدی سے جوان کے اصل میں تھیں، اس سید المعصومین پر سراسر دروغ گوئی کی راہ
سے زنا کی تہمت لگائی۔ اگر غیرت مند مسلمانوں کو اپنی محسن گورنمنٹ کا پاس نہ ہوتا تو ایسے شریروں کو جن کے
افتراء میں یہاں تک نوبت پہنچی وہ جواب دیتے جو ان کی بداصلی کے مناسب حال ہوتا۔ مگر شریف انسانوں کو
گورنمنٹ کی پاسداریاں ہروقت روکتی ہیں اور وہ طمانچہ جو ایک گال کے بعد دوسرے گال پر عیسائیوں کو کھانا
چاہئے تھا، ہم لوگ گورنمنٹ کی اطاعت میں محو ہوکر پادریوں اور ان کے ہاتھ کے اکسائے ہوئے آریوں سے کھا رہے
ہیں۔ یہ سب بردباریاں ہم اپنے محسن گورنمنٹ کے لحاظ سے کرتے ہیں اور کریں گے۔ کیونکہ ان کے احسانات کا ہم پر
شکر کرنا واجب ہے… بلاشبہ ہمارا جان ومال گورنمنٹ انگریزی کی خیرخواہی میں فدا ہے اور ہوگا۔ ہم غائبانہ اس
کے اقبال کے لئے دعاگو ہیں۔‘‘
(آریہ دھرم ص۵۸،۵۹، خزائن ج۱۰ ص۸۰،۸۱)
(۹۵) مسلمانوں کو نصیحت
’’مسٹر لائیڈ جارج نے جن الفاظ میں مسلمانوں کو ان کی وفاداری اور گورنمنٹ کی ہمدردی کا بدلہ دیا ہے
اس سے زیادہ بدتر بدلہ اور کوئی نہیں ہوسکتا۔ لیکن مسلمان گورنمنٹ برطانیہ کے وفادار ہیں اور بہرحال رہیں
گے۔ ان کو کسی خاص وزیر سے ہرگز کوئی تعلق نہیں اور ہمیں یقین ہے کہ خود مسٹر لائیڈ جارج (وزیرخزانہ) کے
ساتھیوں نے انہیں اس تقریر پر ملامت کی ہوگی کہ آپ دشمن پر وار کرتے ہوئے خود
394
اپنے ہی پاؤں پر کلہاڑی مارنے لگے بلکہ یہ بات بھی بعید از قیاس نہیں کہ بعد میں خود مسٹر لائیڈ
جارج بھی شرمندہ ہوئے ہوں کہ میں کیا کہہ بیٹھا… ہم کل مسلمانوں کو عموماً اور احمدیوں کو خصوصاً نصیحت کرتے
ہیں کہ انہیں اس حملہ پر جوآنحضرت ﷺ پر کیاگیا ہے برافروختہ ہونے کی کوئی ضرورت نہیں۔ کیونکہ ہم جس نبی کے
ماننے والے ہیں وہ خداتعالیٰ کا پیارا ہے اور جو شخص اس پر حملہ کرتا ہے وہ ہمارے جواب کا محتاج نہیں۔ اسے
جواب اللہ تعالیٰ کی طرف سے دیا جاتا ہے اور اللہ تعالیٰ سے بہتر جوب دینے والا اور کون ہوسکتا ہے۔‘‘
(الفضل قادیان ج۲ نمبر۶۰ ص۳ کالم۳، مؤرخہ ۳؍نومبر ۱۹۱۴ء)
(۹۶) مسجد کانپور
’’میرے عدل! (مرزاقادیانی) تو نے فیصلہ کیا تھا کہ تم (قادیانی جماعت) پولٹیکل جماعت نہیں ہو، تم کسی
شورش میں حصہ نہ لینا۔ گورنمنٹ انگریزی کے کامل وفادار اور پورے وفادار بنے رہنا۔ مگر اے میرے قرۃ العین
تیرے پیچھے ۱۸۵۷ء کے غدر کی طرح ۱۹۱۳ء میں پھر کانپور سے (مسجد کے سلسلہ میں) ایک چھوٹا سا غدر اٹھا اور
بغاوت کی لہریں ہندوستان کے ایک سرے سے دوسرے سرے تک دوڑ گئیں۔ ایسے وقت میں ان لوگوں (لاہوری جماعت) نے
باوجود تیرے خلیفہ (حکیم نورالدین) کی مخالفت کے گورنمنٹ پر اعتراض کئے۔ مقتول باغیوں کو شہید کا لقب دیا۔
عوام الناس کو بھڑک انے میں حصہ لیا۔ غداروں اور مفسدوں کی تحسین کی اور ان کی حمایت میں ان تیرے نام کے
غلاموں (لاہوری جماعت) نے دامے درمے قدمے سخنے کسی قسم کی مدد سے کوتاہی نہیں کی۔ اب تو ہی اے امن اور صلح
کے شہزادے (مرزاقادیانی) ہمیں بتا کہ یہ کام تیری تعلیم کے مطابق انہوں نے کیا؟ یا ہم (قادیانی جماعت ) ہی
جو ان سے اس معاملہ میں الگ رہے غلطی پر تھے؟‘‘
(الفضل قادیان ج۲ نمبر۷ ص۹ کالم۱، مؤرخہ ۲؍جولائی ۱۹۱۴ء)
(۹۷) مجرم قوم کا دشمن
’’قاتل، ڈاکو اور وہ خبیث الفطرت اور گندے لوگ جو انبیاء کو گالیاں دیتے ہیں، ہرگز اس قابل نہیں کہ ان
کی تعریف کی جائے۔ ان کی قوم اگر اپنے اندر دین داری، تقویٰ اور اخلاق رکھنے کی مدعی ہے تو اس کا فرض ہے۔
ایسے افعال کی پورے زور کے ساتھ مذمت کرے، اسی طرح اس قوم کا جس کے جوشیلے آدمی قتل کرتے ہیں، خواہ انبیاء
کی توہین کی وجہ سے ہی وہ ایسا کریں فرض ہے کہ پورے زور کے ساتھ ایسے لوگوں کو دبائے اور ان سے اظہار برأت
کرے۔ انبیاء کی عزت کی حفاظت قانون شکنی سے نہیں ہو سکتی۔ وہ نبی بھی کیسا نبی ہے جس کی عزت کو بچانے کے لئے
خون سے ہاتھ رنگنے پڑیں۔ جس کے بچانے کے لئے اپنا دین تباہ کرنا پڑے۔ یہ سمجھنا کہ محمد رسول اللہ ﷺ کی عزت کے
لئے قتل کرنا جائز ہے سخت نادانی ہے… وہ لوگ جو قانون کو ہاتھ میں لیتے ہیں وہ بھی مجرم ہیں اور اپنی قوم کے
دشمن ہیں اور جو ان کی پیٹھ ٹھونکتا ہے وہ بھی قوم کا دشمن ہے۔ میرے نزدیک تو اگر یہی شخص (راج پال کا) قاتل
ہے جو گرفتار ہوا ہے تو اس کا سب سے بڑا خیرخواہ وہی ہوسکتا ہے جو اس کے پاس جائے اور اسے سمجھائے کہ دنیاوی
سزا تو تمہیں اب ملے گی ہی لیکن قبل اس کے کہ وہ ملے تمہیں چاہئے خدا سے صلح کر لو۔ اس کی خیرخواہی اسی میں
ہے کہ اسے بتادیا جائے کہ تم سے غلطی ہوئی۔‘‘
(خطبہ جمعہ خلیفہ قادیان اخبار الفضل قادیان ج۱۶ نمبر۸۲ ص۷،۸، مؤرخہ ۱۹؍اپریل ۱۹۲۹ء، خطبات محمود ج۱۲
ص۹۷تا۹۹)
(۹۸) مباہلہ کا معاملہ
’’جماعت احمدیہ کی امداد اور سہارے سے نہ صرف اس کے (اہل اخبار مباہلہ کے) بچوں نے تعلیم حاصل کی بلکہ
وہ نسبتی طور پر
395
ایک آسودہ حال خاندان ہوگیا… ان لوگوں نے بعض ذاتی مفاد کے حاصل نہ ہونے پر یہ غیرشریفانہ رویہ
اختیار کیا کہ ہمارے مطاع سیدنا حضرت خلیفۃ المسیح ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ پر نہایت گندے اور مفتریانہ اتہامات
لگانے شروع کئے… عدالت میں انہوں نے حلفی بیان یہ دیا کہ وہ خود آخر وقت تک مخلص تھے لیکن بعض دوسرے لوگوں
سے بعض الزامات انہوں نے سنے اور تحقیق کر کے انہیں سچا پایا اور اس وجہ سے الگ ہوگئے۔ ہم (قادیانی جماعت)
یہ بھی اعلان کرنا چاہتے ہیں کہ ہم لوگ اس امر سے خوب واقف ہیں کہ اخبار مباہلہ والوں نے حضرت امام اور حضور
کے خاندان کی مستورات پراتہام لگ انے میں جھوٹ اور افتراء سے کام لیا ہے۔‘‘
(الفضل قادیان ج۱۷ نمبر۹۰، مؤرخہ ۲؍مئی ۱۹۳۰ء)
’’قادیان سے ایک اخبار مباہلہ نکلتا ہے جو مرزا (غلام احمد قادیانی) کے سابقہ مریدین مخلصین کی جماعت
نے جاری کر رکھا ہے جو موجودہ خلیفہ قادیان (مرزامحمود) کی زندگی اور اخلاق پر نکتہ چینی کرتا ہے۔ اس دفعہ
اس نے خلیفہ قادیان کے حق میں ایک سخت اخلاقی الزام لگایا تھا جس کے ثبوت میں اس نے ایک مدعیہ کی تحریر شائع
کی، ہم بحکم شریعت اس کی بابت کچھ نہیں کہہ سکتے۔ ہاں! ہمارے نوٹ لکھنے کا باعث یہ ہے کہ اس الزام کے جواب
میں قادیانیوں کی فریاد پر صاحب ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ گورداسپور نے ایڈیٹر مباہلہ کو دفعہ ۱۴۴ ضابطہ فوجداری کے
ماتحت خلیفہ قادیان کے برخلاف کچھ لکھنے سے منع کر دیا۔‘‘
(اہل حدیث امرتسر، مؤرخہ ۲۱؍جون ۱۹۲۹ء)
’’مسٹر مارسڈن کے اس حکم میں تحریر ہے:
ہر گاہ مجھے توجہ دلائی گئی ہے کہ اخبار مباہلہ اور چند پوسٹروں میں جو مباہلہ کے نام سے شائع ہوئے
ہیں، امام جماعت احمدیہ کا نام بھی آتا ہے جس سے امن عامہ میں خلل پڑنے کا اندیشہ ہے۔ میں زیر دفعہ ۱۴۴
ضابطہ فوجداری حکم دیتا ہوں کہ تم ایڈیٹر اخبار مباہلہ آئندہ کسی اخبار یا پوسٹر میں امام جماعت احمدیہ کے
چلن کے متعلق کوئی ریمارک نہ چھاپو نہ چھاپنے میں مدد دو۔ کوئی چھپا ہوا کاغذ نہ چسپاں کرو نہ تقسیم کرو۔ جس
میں اس قسم کے ریمارک درج ہوں اور اس قسم کے جس قدر کاغذات تمہاری تحویل میں ہوں ان کو تلف کر دو۔‘‘
(مباہلہ ص۱۵، بابت ماہ جولائی ۱۹۲۹ء)
(۹۹) مقدم چیز
’’سب سے پہلی اور مقدم چیز جس کے لئے ہر احمدی کو اپنے خون کا آخری قطرہ تک بہادینے سے دریغ نہیں کرنا
چاہئے وہ حضرت مسیح موعود اور سلسلہ کی ہتک ہے۔‘‘
(مرزامحمود خلیفہ قادیان کی تقریر، الفضل قادیان ج۲۳ نمبر۴۳ ص۵ کالم۳، مؤرخہ ۲۰؍اگست ۱۹۳۵ء)
(۱۰۰) قتل وخونریزی
’’اپنے دینی اور روحانی پیشوا کی معمولی ہتک کوئی برداشت نہیں کرسکتا۔ پھر کس طرح خیال کیاجاسکتا ہے
کہ جماعت احمدیہ کے امام ان کے خاندان کی خواتین، جماعت کے معزز کارکنوں اور معزز خواتین کے خلاف اس درجہ
شرمناک اور حیاسوز جھوٹے اور بناوٹی الزامات لگائے جائیں اور باربار لگائے جائیں، لیکن کوئی فتنہ نہ پیدا
ہو۔ ہر شخص جانتا کہ اس قسم کی شرارتوں کا نتیجہ لڑائی جھگڑا فتنہ فساد حتیٰ کہ قتل وخونریزی معمولی بات
ہے۔‘‘
(الفضل قادیان ج۱۷ نمبر۹۱ ص۱ کالم۳، مؤرخہ ۴؍مئی ۱۹۳۰ء)
’’صرف اور صرف عورت کی عزت کا سوال یہ وہ مسئلہ ہے جس میں قدیم اور جدید مہذب اور غیرمہذب قومیں یکساں
غیرت اور حمیت کا ثبوت دیتی رہی ہیں اور جب تک انسانیت باقی ہے ثبوت دیتی رہیں گی… عرب کے زمانہ جاہلیت کے
دور پر نگاہ کرو، جب ایک عورت نے اپنی معمولی سی بے عزتی پر نعرہ یا الذل بلند کیا تو اس کی قوم کے ہزارہا
جوان مرد اور غیور انسانوں کی خون آشام شمشیریں نیاموں
396
سے باہرآگئیں… تاریخ ہند پر نگاہ ڈالو، جہاں ہزاروں واقعات نظر آئیں گے کہ ہندوستان کے ہونہار سپوت
اپنی بہنوں اور بیٹیوں کے ناموس کے لئے خون کے سمندر میں غوطہ زن ہوئے اور انہوں نے عورت کی عزت کی خاطر موت
کو ترجیح دی… کارپردازان (اخبار) مباہلہ اور زمیندار نے ہماری سب سے عزیز متاع اور مذہبی نقطہ نگاہ سے
موجودہ وقت میں سب سے مقدس وجود حضرت امام جماعت احمدیہ (مرزامحمود خلیفہ قادیان) پر گندے اور بے باکانہ
حملے جاری رکھے اور پھر حضور کے خاندان کی باعصمت خواتین پر نہایت فحش اور ناقابل برداشت اتہام لگائے اور
جماعت احمدیہ کے زخموں پر نمک پاشی کی… انہیں یقین کرنا چاہئے، زندہ قوموں کی غیرت جب بھڑک اٹھتی ہے تو وہ
آتش فشاں پہاڑ کی طرح ہو جاتی ہے اور ان کی کمی تعداد ان کے راستہ میں روک نہیں بن سکتی۔ اس لئے بہتر یہی ہے
کہ اب بھی جلد سے جلد حالات پر قابو پالیا جائے اور اس ناپاک اور اشتعال انگیز رویہ کی روک تھام کی جائے۔‘‘
(الفضل قادیان ج۱۷ نمبر۸۹ ص۳،۴، مؤرخہ ۳۰؍اپریل ۱۹۳۰ء)
(۱۰۱) قادیانی جوش
’’گورنمنٹ کی خاموشی احمدی جماعت کے صبر کی آزمائش ہے اور وہ دیکھ رہی ہے کہ احمدیہ جماعت اپنا یہ حق
چھوڑتی ہے یا لے کر رہتی ہے۔ پس یہ سوال ایک فرد کا سوال نہیں بلکہ جماعت کی عزت اور خلافت کے درجہ کے وقار
کا سوال ہے۔ پس یا تو جماعت اپنے اس حق کو چھوڑ کر ہمیشہ کے لئے اس تذلیل پر خوش ہو جائے یا پھر تیار ہو
جائے کہ خواہ کوئی قربانی کرنی پڑے اس حق کو لے کر رہے گی… ضمانت کیا چیز ہے اگر کسی کو پھانسی کی سزا بھی
دی جائے اور وہ بزدلی دکھائے تو ہم اسے ہرگز منہ نہیں لگائیں گے، بلکہ میں تو اس کا جنازہ بھی نہیں پڑھوں
گا۔ لیکن اگر کسی سے برداشت نہ ہوسکے اور وہ دوسرے کے جوش دلانے پر وہ ضبط نہ کر سکے تو وہ ہرگز جھوٹ نہ
بولے اور صاف کہہ دے کہ میں نے مارا ہے۔ ایسا کرنے والا بے شک ہمارا بھائی ہے… اور اس کا اعتراف قصور ہی اس
کے لئے کفارہ ہو جائے گا۔ لیکن اگر کوئی پھانسی سے ڈر کر بھی بزدلی کا اظہار کرتا ہے تو اس سے ہمارا قطعاً
کوئی تعلق نہ ہوگا… احمدی کسی گورنمنٹ سے ہرگز نہیں ڈرتے وہ محض احمدیت سے ڈرتے ہیں۔ کم ازکم میں تو کسی
گورنمنٹ کے قانون سے شمہ بھر بھی نہیں ڈرتا۔‘‘
(خطبہ جمعہ خلیفہ قادیان الفضل قادیان ج۱۷ نمبر۷۹ ص۷تا۹، مؤرخہ ۱۱؍اپریل ۱۹۳۰ء، خطبات محمود ج۱۲
ص۳۴۵تا۳۵۴)
’’جماعت احمدیہ کو اس کے مخالفین خواہ کتنا ہی غلطی خوردہ سمجھیں گمراہ اور بے دین قرار دیں لیکن اس
سے کوئی انکار نہیں کرسکتا کہ یہ جماعت حضرت مسیح موعود کو خداتعالیٰ کا سچا رسول اور نبی یقین کرتی ہے اور
اس کا ہر ایک فرد سب سے اوّل دین کو دنیا پر مقدم کرنے کا اعلان کرتا ہوا جہاں یہ اقرار کرتا ہے کہ آپ کی
تعلیم اور آپ کے احکام کے مقابلہ میں وہ ساری دنیا کی کوئی پرواہ نہیں کرے گا۔ وہاں یہ بھی عہد کرتا ہے کہ
آپ کی حرمت اور آپ کی تقدیس کے لئے اگر اپنی جان بھی دینا پڑے گی تو دریغ نہیں کرے گا۔ ہراحمدی اپنا عہد
پورے کرے گا۔
جس جماعت کا سب سے پہلا عہد یہ ہوا اور جو اس عہد کی پابندی کرنا دین ودنیا کی کامیابی سمجھتی ہو۔
ظاہر ہے اگر دنیا کی کوئی بڑی سے بڑی ظالم اور جفا جو طاقت بھی اس کے اس عہد کا امتحان لینا چاہے گی تو
احمدی کہلانے والا کوئی انسان بھی اس سے منہ نہیں موڑے گا اور مردانہ وار خوف وخطر کے سمندر کو عبور کر جائے
گا۔ خواہ اسے اپنے خون میں سے تیر کر جانا پڑے۔ خواہ غازی بن کر سلامتی کے کنارے پہنچنے کی سعادت حاصل ہو…
ہم نے اپنے خون کے رشتوں سے قطع تعلق کر کے اپنے جگر گوشوں کو چھوڑ کر اپنے پیارے وطنوں کو خیرباد کہہ کر
اپنی
397
جائیدادوں اور اموال سے ہاتھ دھو کر اور ہر قسم کی تکالیف اور مشکلات برداشت کر کے اگر کچھ حاصل کیا
ہے تو وہ احمدیت ہے۔ وہ حضرت مسیح موعود سے تعلق ہے وہ آپ کے جانشینوں اور ان کے اہل بیت سے اخلاص ہے اور
ہمارے لئے یہ تمام دنیا کی متاع سے زیادہ گراں قیمت چیز ہے۔ اگر اس پر بھی کوئی ڈاکہ ڈالتا ہے۔ یہ ہمارے
ہاتھ سے چھیننا چاہتا ہے اس کی تحقیر وتذلیل کی کوشش کرتا ہے تو خواہ وہ کوئی ہو اور اس کی پشت وپناہ کتنی
زبردست طاقت ہو وہ اس وقت تک ایسا نہیں کر سکتا جب تک ہمارے جسم میں جان اور بدن میں تواں ہے اور دنیا میں
ایک بھی احمدی موجود ہے۔ اس ارادہ اور اس نیت کو لے کر کھڑے ہونے والے کو پہلے ہماری لاشوں پر سے گزرنا ہوگا
اور ہمارے خون میں سے تیرنا پڑے گا۔ اگر کسی میں اتنی ہمت اور ایسی جرأت ہے، کسی کا یہ دل گردہ ہے تو وہ
کھڑارہے اور دیکھ لے کہ کیا نتیجہ نکلتا ہے۔‘‘
(الفضل قادیان ج۱۷ نمبر۸۰ ص۳،۴، مؤرخہ ۱۵؍اپریل ۱۹۳۰ء)
(۱۰۲) گورنمنٹ کو تنبیہ
’’یہ جلسہ گورنمنٹ کو متنبہ کرتا ہے کہ جو قوم سید عبداللطیف اور نعمت اللہ خان جیسے بہادر شہید اور
مظلوم پیدا کرسکتی ہے وہ کبھی اپنی بے عزتی برداشت نہیں کرسکتی اور اپنے مقدس امام کی خفیف سے خفیف ہتک بھی
برداشت نہیں کرے گی اور اس کے لئے جان ومال وآبرو اور اعزہ تک کو قربان کر دے گی۔ یہ جلسہ گورنمنٹ پنجاب سے
اس امر کا پرزور مطالبہ کرتا ہے کہ وہ مفسدہ پرداز (اخبار) مباہلہ والوں اور ان کے حامیوں کی خباثت سے فضا
کو پاک کریں اور فوری تدابیر اختیار کریں ورنہ احمدی نوجوان خود اپنے امام اور سلسلہ کی عزت اور ناموس کے
تحفظ کے لئے عملی تدابیر اختیار کرنے پر مجبور ہوں گے۔‘‘
(الفضل قادیان ج۱۷ نمبر۷۸ ص۲ کالم۲، مؤرخہ ۸؍اپریل ۱۹۳۰ء)
’’جو شرارت (اخبار) مباہلہ کے ذریعہ پھیلائی جارہی ہے اس کا انسداد کیا جائے اور اگر نہیں تو ہم ہر
قیمت پر اس شرارت کا سدباب کرنے پر مجبور ہوں گے اور اس کی ذمہ داری حکومت پر ہوگی۔ میں مقامی پولیس افسروں
کو صاف صاف کہہ دینا چاہتا ہوں کہ وہ اس معاملہ پر پوری توجہ سے غور کریں اور اگر اس نے ان مشتعل کرنے والی
حرکات اور جذبات کو مجروح کرنے والے طریقوں کے انسداد کی کوشش نہ کی تو نتائج کی ذمہ داری سراسر اس پر
ہوگی۔‘‘
(صدر جلسہ منعقدہ قادیان کی تقریر، الفضل قادیان ج۱۷ نمبر۷۸ ص۱۴ کالم۳، مؤرخہ ۸؍اپریل ۱۹۳۰ء)
(۱۰۳) جسمانی موت
’’مباہلہ کا نشان پوراگیا۔ اللہ تعالیٰ نے انہیں (اخبار مباہلہ والوں کو) ایمانی موت دے دی۔ جسمانی باقی
ہے وہ بھی ان شاء اللہ آسمانی عذابوں کے ساتھ ہوگی۔‘‘
(خطبہ جمعہ خلیفہ قادیان مندرجہ اخبار الفضل قادیان ج۱۷ نمبر۷۶ ص۱۴ کالم۲ مؤرخہ یکم؍اپریل ۱۹۳۰ء،
خطبات محمود ج۱۲ ص۳۴۰)
’’یکم؍نومبر ۱۹۳۰ء مدت سے اخبار مباہلہ کا مشہور مقدمہ قتل عدالت میں دائر تھا جس میں خلیفہ قادیان کا
ایک سرحدی مرید مسمی محمد علی ماخوذ تھا۔ ملزم کا چالان زیردفعہ ۳۰۲ (قتل حاجی محمد حسین صاحب مرحوم رفیق
مولوی عبدالکریم صاحب) اور دفعہ ۳۰۷ (مولوی عبدالکریم صاحب ایڈیٹر مباہلہ پر قاتلانہ حملہ تھا) ابتدائی
عدالت نے ملزم کو ہر دو دفعات کے تحت مجرم قرار دیتے ہوئے مقدمہ سیشن سپرد کردیا۔ بتاریخ ۲۸تا۳۰؍اکتوبر
۱۹۳۰ء بمقام گورداسپور عدالت سیشن میں مقدمہ کی سماعت ہوئی۔ شہادت استغاثہ ۳۰ تاریخ کو ختم ہوگئی۔ ملزم نے
بغرض پیش کرنے صفائی کے گواہ طلب کرائے تھے، مگر شہادت استغاثہ کے ختم ہونے پر اس نے صفائی پیش کرنے سے
انکار کر دیا۔
398
استغاثہ کی طرف سے سرکاری وکیل لالہ دینا ناتھ صاحب تھے۔ ملزم کی طرف سے پیر اکبر علی (مرید خلیفہ
قادیان) مرزاعبدالحق (قادیانی) وکیل اور مولوی فضل الدین (مشیرقانونی خلیفہ قادیان) پیروکار تھے۔ ۳۱تاریخ کو
وکلاء کی بحث کے بعد عدالت نے اسیر صاحبان کی رائے دریافت کی جنہوں نے بالاتفاق ملزم کو ہردو جرموں کا مرتکب
قرار دیا۔ بعدازان عدالت نے ملزم کو زیردفعہ ۳۰۲ سزائے موت اور زیردفعہ ۳۰۷ عبوردریائے شور کی سزا کا حکم
سنایا۔
نوٹ: مذکورہ بالاقتل (اور قاتلانہ حملہ) بتاریخ ۲۳؍اپریل ۱۹۳۰ء بٹالہ (ضلع گورداسپور) کے قریب ہوا
تھا، جب کہ یہ لوگ گورداسپور سے مقدمہ اخبار مباہلہ کی پیشی بھگت کر گھر واپس آرہے تھے۔‘‘
(مباہلہ ج۳ نمبر۱۱ ص۲، مؤرخہ یکم؍نومبر ۱۹۳۰ء)
’’۱۲؍جنوری ۱۹۳۱ء قادیانیوں نے جو اپیل عدالت سیشن گورداسپور کے فیصلہ کے خلاف ہائیکورٹ میں دائر کی
تھی، خارج ہوگئی۔ ہائیکورٹ نے بھی حکم سزائے پھانسی کو بحال رکھا۔‘‘
(مباہلہ مؤرخہ ۱۵؍جنوری ۱۹۳۱ء)
’’ناظرین کو معلوم ہے کہ خلیفہ قادیان کے مرید محمد علی کو عدالت سیشن گورداسپور سے سزائے موت کا حکم
صادر ہوا تھا جس میں قادیانیوں نے ہائیکورٹ میں اپیل کی۔ ہائیکورٹ نے اپیل خارج کرتے ہوئے سزا کو بحال رکھا۔
ازاں بعد پریوی کونسل میں اپیل کی گئی۔ اب اطلاع موصول ہوئی کہ پریوی کونسل سے بھی اپیل خارج ہوگئی۔ تاریخ
پھانسی ۱۶؍مئی ۱۹۳۱ء مقرر ہوئی۔‘‘
(مباہلہ مؤرخہ ۱۵؍مئی ۱۹۳۱ء)
’’خلیفہ قادیان کا مرید مسمی محمد علی جس نے ۲۳؍اپریل ۱۹۳۰ء کی شام کو مولوی عبدالکریم صاحب ایڈیٹر
مباہلہ پر قاتلانہ حملہ کیا اور ان کے رفیق حاجی محمد حسین مرحوم کو قتل کر دیا تھا۔ گورداسپور جیل میں
بتاریخ ۱۶؍مئی ۱۹۳۱ء ٹھیک ۶بجے صبح پھانسی دیا گیا۔‘‘
(مباہلہ مؤرخہ یکم؍جون ۱۹۳۱ء)
(۱۰۴) ایمانی غیرت
’’ہمارے بھائی قاضی محمد علی صاحب کا حق جو ہمارے ذمہ تھا اور جو یہ تھا کہ قانونی پہلو سے ہم ان کے
لئے کوشش کرتے۔ خدا کا شکر ہے کہ ہم نے وہ ادا کیا جہاں تک قانون اجازت دیتا تھا۔ انتہائی طور پر ادا کیا
باقی جو مقدر تھا وہ خدا کی مصلحت کے ماتحت پورا ہوا اور خداتعالیٰ اپنی مصلحتیں خوب جانتا ہے۔ میں اس کے
متعلق چند باتیں بیان کرنا چاہتا ہوں جو قاضی صاحب مرحوم کی چند خوبیاں ہیں۔ پہلی خوبی ان کی جو نمایاں طور
پر ظاہر کرتا ہے جو دل پر گہرا اثر کرتی ہے، وہ ان کی ایمانی غیرت ہے، جو کچھ ان سے سرزد ہوا خواہ اس کے
متعلق کیا رائے ظاہر کریں۔ مگر یہ ضرور کہا جائے گا کہ اس کی محرک اعلیٰ درجہ کی ایمانی غیرت تھی۔ مختلف قسم
کے درجات لوگوں کے ہوتے ہیں۔ بعض میں ایک حد تک غیرت ہوتی ہے۔ بعض میں نہیں ہوتی اور بعض میں زیادہ ہوتی ہے۔
جیسا جیسا ایمان ہواسی درجہ کی غیرت پیدا ہوتی ہے۔ قاضی صاحب مرحوم کے حالات سے جو بات واضح طور پر معلوم
ہوتی ہے وہ ان کی ایمانی غیرت ہے۔ جو اس فعل کی محرک ہوئی ان کے فعل پر ایسے لوگوں کو اعتراض کرنے کا حق
نہیں جن میں غیرت نہیں پیدا ہوتی یا اگر پیدا ہوئی تو اس حد تک پیدا نہیں ہوئی جس حد تک قاضی صاحب مرحوم کے
دل میں پیدا ہوئی۔‘‘
(خطبہ مرزامحمود خلیفہ قادیان، الفضل قادیان ج۱۸ نمبر۱۴۱، مؤرخہ ۶؍جون ۱۹۳۱ء)
(۱۰۵) محترم بھائی
’’ہمارے محترم بھائی قاضی محمد علی صاحب نوشہروی کی پھانسی کے لئے ۱۶؍مئی ۱۹۳۱ء کی تاریخ مقرر ہوچکی
تھی… ۱۶کی صبح کو ٹھیک چھ بجے آپ نے ہمیشہ کے لئے دنیا کو خیرباد کہہ دیا۔ چار اصحاب قادیان سے لاش لینے کے
لئے گئے ہوئے تھے۔ افسران جیل نے ساڑھے
399
چھ بجے لاش ان کے حوالہ کر دی۔ اسی جگہ غسل دینے اور کفن پہنانے کے بعد سوااٹھ بجے لاری روانہ ہوئی
اور گیارہ بجے کے قریب قادیان احمدیہ چوک میں پہنچ گئی… اس مقام پر تابوت لاری سے اتارا گیا اور چارپائی پر
رکھ کر مقبرہ بہشتی کے قریب باغ میں لے جایا گیا۔ جہاں حضرت خلیفۃ المسیح ثانی (مرزامحمود) نے خود پھر کر
صفیں درست کیں اور قریباً پانچ ہزار کے مجمع کے ساتھ نماز جنازہ پڑھائی اور لمبی دعا کی۔ اس کے بعد لاش اٹھا
کر حضرت مسیح موعود کے باغ کے اس مکان میں لے جائی گئی جس میں وصال کے بعد حضرت مسیح موعود کا جنازہ رکھا
گیا تھا اور جہاں آخری زیارت کی گئی تھی۔ اس مکان تک لاش کو حضرت خلیفۃ المسیح الثانی ایدہ اللہ بنصرہ العزیز
(مرزامحمود) نے بھی کندھا دیا۔ اسی مکان میں ایک ایک کر کے تمام مجمع کو قاضی صاحب مرحوم کا چہرہ دکھایا گیا
اور پھر فوٹو لیاگیا۔‘‘
(الفضل قادیان ج۱۸ نمبر۱۳۳ ص۱،۲، مؤرخہ ۱۹؍مئی ۱۹۳۱ء)
’’صندوق سے لاش نکال کر چارپائی پر رکھی گئی اور ڈاکٹر محمد شاہنواز خان صاحب اسسٹنٹ سرجن نے اس کا
فوٹو لیا۔ اس کے بعد پھر لاش کو صندوق میں رکھ دیا گیا اور مقبرہ بہشتی میں حضرت مسیح موعود کے مزار کے مشرق
کی طرف دفن کی گئی۔ قبر مکمل ہوجانے کے بعد حضرت خلیفہ المسیح ثانی ایدہ اللہ نے دعا فرمائی اور واپس تشریف لے
آئے… غرض مرحوم کی موت ایک شاندار موت تھی اور جس استقامت اور اخلاص کا ثبوت اس نے مرتے دم تک دیا۔ اس کی
وجہ سے اسے اعزاز واکرام حاصل ہوا جو کسی خوش قسمت کو ہی حاصل ہوسکتا ہے۔ احباب درد دل کے ساتھ دعا کریں کہ
خداتعالیٰ مرحوم کو اپنی آغوش شفقت میں جگہ دے۔ بلند سے بلند درجات عطاء کرے اور اس کی بہترین یاد ہماری
جماعت میں قائم رکھے۔ اپنے رؤیا اور کشوف سنا کر یہی کہتے رہے کہ میرے متعلق کسی قسم کا غم نہ کیا جائے۔
مجھے اپنے متعلق خداتعالیٰ کی طرف سے اس قدر بشارتیں مل چکی ہیں کہ مجھے اپنی کامیابی اور فلاح میں کسی قسم
کا شک وشبہ نہیں رہا اور میں خداتعالیٰ کی راہ میں نہایت اطمینان کے ساتھ جان دینے کے لئے تیار ہوں اور اسے
اپنی خوش قسمتی سمجھتا ہوں۔‘‘
(الفضل قادیان ج۱۸ نمبر۱۳۴، مؤرخہ ۲۱؍مئی ۱۹۳۱ء)
(۱۰۶) تصویر کی تقسیم
’’اکثر ناظرین الفضل ’’قاضی محمد علی صاحب‘‘ کی تصویر دیکھنے کا اشتیاق ظاہر فرمارہے تھے۔ ان کے ارشاد
کی تعمیل میں بہ صرف زرکثیر وجدوجہد کبیر تصویر چھپوائی جارہی ہے جو تمام خریداران الفضل کو اخبار میں
بھجوادی جائے گی اور ان اصحاب کو مفت نذر ہوگی جو الفضل کا وی۔پی انکار کر کے واپس نہ کریں گے بلکہ وصول
فرمائیں گے۔ یا یکم؍جولائی سے نئے خریدار بنیں گے۔ کچھ تصویریں اعلیٰ درجہ کے آرٹ پیپر پر چھپوائی گئی ہیں۔
تصویر کی قیمت ایک آنہ ہوگی۔ احباب کو جس قدر تصاویر کی ضرورت ہو ٹکٹ بھجوا کر یا بذریعہ وی۔پی منگوالیں۔‘‘
(الفضل قادیان ج۱۷ نمبر۱۱۶ ص۲ کالم۳، مؤرخہ ۲۶؍جون ۱۹۳۰ء)
(ط) مرزاقادیانی اور مسلمان
(۱۰۷) غلام احمد اور سرسید
’’ایسے لوگ بھی بستے ہیں جن کا خیال ہے کہ حضرت مسیح موعود نے آکر کوئی ایسا کام نہیں کیا جس سے ان کی
صداقت ثابت ہوسکے، جو کچھ انہوں نے کیا ہے ان سے بہت پہلے سرسید وہی کچھ کر گئے ہیں۔ اس لئے مرزاقادیانی
دعاوی کو قبول کرنے کی ہمیں کیا ضرورت ہے اور ہم کیوں کریں۔ اس کے متعلق میں صرف یہی کہوں گا کہ اگر ایسے
لوگ آنکھیں، کان اور دل رکھتے تو کبھی اپنے لئے یہ فیصلہ
400
نہ کرتے۔ لیکن افسوس کہ وہ دیکھتے ہوئے نہیں دیکھتے، سنتے ہوئے نہیں سنتے اور سمجھتے ہوئے نہیں
سمجھتے۔ میں یہاں نہایت اختصار کے ساتھ حضرت مسیح موعود کی وہ خصوصیات بتاؤں گا جن کا حامل سرسید کیاآنحضرت
ﷺ کے بعد اس زمانہ تک کا کوئی انسان بھی پیش نہیں کیاجاسکتا اور جن کو دیکھ کر ایک حق پسند اور صداقت شعار
انسان نہایت آسانی سے فیصلہ کر سکے گا کہ حضرت مسیح موعود کی کیا شان ہے۔ سب سے بڑا مسئلہ جس کے متعلق کہا
جاتا ہے کہ حضرت مسیح موعود نے سرسید کی تقلید میں بیان کیا ہے وہ وفات مسیح کا مسئلہ ہے۔ لوگ کہتے ہیں کہ
سب سے پہلے سرسید نے اس کا اعلان کیا اور بعد میں مرزا صاحب نے اسی کو پیش کر دیا۔ لیکن اگر غوروفکر سے کام
لیا جائے تو صاف معلوم ہو جاتا ہے کہ سرسید نے جس رنگ اور جس طرز سے اس مسئلہ کا اقرار کیا ہے اس میں اور جس
رنگ میں حضرت مسیح موعود نے اس کو صاف کیا ہے اس میں زمین وآسمان کا فرق ہے۔‘‘
(الفضل قادیان ج۳ نمبر۱۱۵ ص۳ کالم۲،۳، مؤرخہ ۲۰؍مئی ۱۹۱۶ء)
’’اگر فرض کے طور پر ہی یہ مان لیں کہ سرسید نے اسلام کی خدمت کی ہے تو پھر ہم کہتے ہیں کہ اس نے حضرت
مسیح موعود کے مقابلہ میں کچھ نہیں کیا۔ کیونکہ اس کی تمام کوشش اور سعی جو اس نے اپنے خیال میں اسلام کے
متعلق کی وہ اس کے ساتھ ہی اس کی قبر میں دفن ہوگئی۔ اس کو فروغ دینے والا آگے کوئی پیدا نہ ہوا۔ لیکن حضرت
مسیح موعود کو دیکھو کہ آپ کی جماعت دن بدن زورشور سے اس کام کو چلا رہی ہے جو ان کا آقا اپنے ہاتھ سے چلا
گیا تھا اور دنیا میں پھرپھر کرغافل لوگوں کو جگا رہی ہے۔ کیا یہ اس بات کا ثبوت نہیں ہے کہ خدائے تعالیٰ کے
نزدیک بھی وہی طریق اسلام کی اشاعت کا پسند ہے جو اس کے مسیح نے استعمال کیا ہے۔ کیونکہ اسی کو دن بدن فروغ
دے رہا ہے اور سرسید کی کوششیں اگر ہوئی تھیں تو اس کے ساتھ ہی چل بسی ہیں۔‘‘
(الفضل قادیان ج۳ نمبر۱۱۶ ص۵ کالم۱، مؤرخہ ۲۳؍مئی ۱۹۱۶ء)
(۱۰۸) سرسید کا فتویٰ
’’مرزاغلام احمد قادیانی کے پیچھے لوگ کیوں پڑے ہوئے ہیں۔ اگر ان کے نزدیک ان کو الہام ہوتا ہے بہتر،
ہم کو اس سے کیا فائدہ۔ نہ ہمارے دین کے کام کا ہے نہ دنیا کے، ان کا الہام ان کو مبارک رہے۔ اگر نہیں ہوتا
اور صرف ان کے توہمات اور خلل دماغ کا نتیجہ ہے تو ہم کو اس سے نقصان نہیں ہے۔ وہ جو ہوں سو ہوں۔ اپنے لئے
ہیں… ان کی تصانیف میں نے دیکھیں۔ وہ اسی قسم کی ہیں جیسا ان کا الہام۔ یعنی نہ دین کے کام کی اور نہ دنیا
کے کام کی۔‘‘
(سرسید کا خط بنام شمس العلماء سید میرحسن صاحب مرحوم، مندرجہ خطوط سرسید ص۲۵۶،مرتبہ سید رأس مسعود)
’’ایک شخص نے مجھ سے بیان کیا کہ سرسید احمد خان صاحب سے جب ایک دفعہ میری کتابوں کے بارے میں دریافت
کیا گیا تو اس نے کہا کہ ان میں ذرہ خیر نہیں۔‘‘
(ارشاد مرزاغلام احمد قادیانی، ملفوظات احمدیہ حصہ ششم ص۳۶۹، مؤلفہ محمد منظور الٰہی لاہوری قادیانی)
(۱۰۹) جمال الدین افغانی
’’جمال الدین افغانی نے مصر میں ایک روح پیدا کی اور جس کے ساتھ مذہبی رنگ بھی تھا، لیکن وہ اس ملک کا
باشندہ نہیں تھا، بلکہ اس ملک میں جا ٹھہرا تھا۔ قدرت سے افغانی کا لفظ اس کے ساتھ رہ گیا۔ وہ دراصل وہاں کا
باشندہ نہیں تھا بلکہ افغانستان سے وہاں جابسا تھا اگر افغانی کا لفظ اس کے نام کے ساتھ قائم نہ رہ گیا ہوتا
تو ممکن تھا کہ لوگ اسے مصری سمجھتے، مگر مصریوں کی قسمت سے افغانی کا لفظ اس کے نام کے ساتھ باقی رہ گیا۔
ساری تحریکیں جو کبھی کبھی اس ملک میں اٹھتی رہی ہیں وہ جمال الدین افغانی کی ہی ایجاد ہیں۔ مفتی عبدہ اس کا
شاگرد تھا۔ اس کے بعد اس نے ان کو قائم کیا اور اس لحاظ سے کہ ساری تحریکیں جمال الدین افغانی کی ہی ایجاد
ہیں۔ یہ کہا جاسکتا ہے کہ وہ
401
سبھی ہندوستان ہی سے گئی ہیں اور مصر سے نہیں اٹھیں۔ غرض ان تحریکوں کے موجد جمال الدین افغانی کا
مولد یہی ملک ہے اور اگر اس قسم کی تحریکوں کی وجہ سے ہی کسی ملک کو گہوارہ علوم وفنون کہا جاتا ہے تو کوئی
وجہ نہیں کہ ان تحریکوں کی بناء پر مصر کو گہوارہ علوم وفنون کہا جائے۔ کیونکہ یہ سب تحریکیں مصر کے کسی
آدمی کی طرف سے پیدا نہیں کی گئیں، بلکہ ایک دوسرے ملک کے باشندہ نے ان کو پیدا کیا۔ پس اگر انہیں تحریکوں
ہی سے اسے گہوارہ علوم وفنون کہنا ہے تو کیوں نہ افغانستان کو گہوارہ علوم وفنون کہا جائے کہ جہاں کا جمال
الدین افغانی رہنے والا ہے۔‘‘
(تقریر مرزامحمود خلیفہ قادیان، الفضل قادیان ج۱۳ نمبر۱۰۸ ص۹ کالم۳، مؤرخہ ۷؍مئی ۱۹۲۶ء)
(۱۱۰) مجدد کا دعویٰ
’’میاں محمود احمد صاحب (خلیفہ قادیان) نے فرمایا مجدد کا دعویٰ کوئی علیحدہ دعویٰ نہیں بلکہ اس کے
لئے بعض لکھتے ہیں: دعوے کی بھی ضرورت نہیں اور اس کے کام سے دوسرے اس کو مجدد قرار دیتے ہیں۔ ہاں! جو مجدد
مامور ہوتا ہے وہ ضرور دعویٰ کرتا ہے۔‘‘
(ڈائری مرزامحمود خلیفہ قادیان، الفضل قادیان ج۸ نمبر۶۱، مؤرخہ ۱۴؍فروری ۱۹۲۱ء)
’’آنحضرت ﷺ نے کئی پیش گوئیاں امت کے بڑے بڑے آدمیوں کی نسبت فرمائیں۔ بعض نے ان کے مستحق ہونے کا
دعویٰ بھی نہ کیا۔ ہاں! لوگوں نے سمجھ کران پر چسپاں کیں۔ مثلاً محمد مہدی فاتح قسطنطنیہ کی نسبت پیش گوئی
موجود ہے۔ اس کا دعویٰ ثابت نہیں اور بھی ہیں۔ (بالخصوص حضرت سید جمال الدین افغانی رحمۃ اللہ علیہ جن کے
عظیم الشان اسلامی کارنامے ان کے مجدد اسلام ہونے پر شاہد ہیں۔ للمؤلف)‘‘
(الفضل قادیان ج۳ نمبر۸۵ ص۸ کالم۳، مؤرخہ ۲؍فروری ۱۹۱۶ء)
(۱۱۱) مولانا ابوالکلام آزاد
’’چند روز ہوئے ایک دوست نے حضرت خلیفۃ المسیح ثانی (مرزامحمود خلیفہ قادیان) کی خدمت میں لکھا تھا کہ
ابوالکلام آزاد صاحب کلکتہ میں درس قرآن دیتے ہیں کیا میں اس میں شریک ہوا کروں۔ اس کے جواب میں حضور نے
لکھوایا تھا کہ اگر غیراحمدی قرآن جانتے تو پھر مسیح موعود کے آنے کی کیا ضرورت تھی۔ ممکن ہے کہ ان الفاظ کو
غیراحمدی پبلک نے ناپسندیدگی کی نظر سے دیکھا ہو۔ کیونکہ ان کے نزدیک ابوالکلام صاحب ایک ماہر قرآن کی حیثیت
رکھتے ہیں۔ لیکن یہ ایک حقیقت تھی جسے مبرہن کیاگیا۔‘‘
(الفضل قادیان ج۳ نمبر۸۷ ص۳ کالم۱، مؤرخہ ۸؍فروری ۱۹۱۶ء)
(۱۱۲) خواجہ حسن نظامی
’’اس زمانہ میں بھی اس کی مثال موجود ہے کہ باربار چیلنج دیاگیا۔ مباہلہ کر لو مگر کوئی سامنے کھڑا نہ
ہوسکا۔ ابھی صوفیت کا دعویٰ کرنے والے ایک صاحب حسن نظامی نامی اٹھے اور انہوں نے لکھا کہ آؤ میں ایک گھنٹہ
میں جان نکال لوں گا۔ آخر اتنے ذلیل ہوئے کہ بالکل خاموش ہوگئے۔‘‘
(ملائکۃ اللہ تقریر مرزامحمود خلیفہ قادیان ص۳۴، طبع قادیان، انوار العلوم ج۵ ص۵۰۰،۵۰۱)
’’حسن نظامی کو یا تو یہ دعویٰ تھا کہ میں سات کروڑ مسلمانوں کا قائم مقام ہوں اور کئی نواب اور راجے
میرے مرید ہیں اور میں بڑا انشا پرداز ہوں یا خدا کے مقرر کردہ خلیفہ (مرزامحمود) کے مقابل میں آکر یہاں تک
بے بس ہوا کہ پانچ سو آدمی بھی اپنے ساتھ لاہور نہ لاسکا اور نہ خود معہ اہل وعیال قادیان میں کرایہ ہم سے
لے کر آنے کا حوصلہ پڑا اور نہ ہی جواب میں کوئی پرزور مضمون لکھ سکا… ایسا دم بخود ہوا کہ ایک سطر بھی
لکھنی دشوار ہوگئی۔‘‘
(الفضل قادیان ج۶ نمبر۲۱ ص۹ کالم۱، مؤرخہ ۱۰؍ستمبر ۱۹۱۸ء)
402
’’ اللہ اکبر! وہ حسن نظامی جو مچھر کا جنازہ بھی نکالے تو اس شان وشوکت سے کہ اچھے اچھے انشاء پردازوں
سے منہ مانگی داد لے۔ اب خدا کے اولوالعزم خلیفہ کے مقابل آکر ایسا عاجز ہوا ہے کہ دو صفحے لکھنے سے رہ گیا
اور خود اپنی کوتاہ قلمی کامعترف ہے۔ حیلے سے بہانے سے اپنی جان بچانا چاہتا ہے مگر اعلان (باطنی) جہاد کرنے
سے پہلے اپنی طاقت کا اندازہ کر لینا چاہئے تھا۔‘‘
(الفضل قادیان ج۵ نمبر۵۸ ص۱ کالم۲، مؤرخہ ۱۹؍جنوری ۱۹۱۸ء)
’’آخر بیچارے حسن نظامی کو قادیان کی طاقت کے زیروزبر کرنے کی بجائے خود ہی بری طرح نیچا دیکھنا پڑا
اور وہ ندامت کا داغ اپنی پیشانی پر آپ ہی لگا کر کانوں پر ہاتھ رکھ کر مفرور ہوگیا۔‘‘
(الفضل قادیان ج۶ نمبر۷۰تا۷۲ ص۱۴ کالم۲، مؤرخہ ۱۵تا۲۲؍مارچ ۱۹۱۹ء)
نہایت بے غیرت
’’بے حمیتی اور بے غیرتی ان صفات رویہ اور خصائل رذیلہ میں سے ہیں کہ جن لوگوں میں پائی جائیں وہ
بدترین مخلوق کہلانے کے مستحق ہوتے ہیں۔ اس وقت تک ایک بار نہیں بلکہ متعدد بار وہ لوگ جنہوں نے سلسلہ
احمدیہ سے الگ ہوکر لاہور میں اپنا اڈا جمایا ہوا ہے اپنے قول اور فعل سے اس بات کا ثبوت بہم پہنچا چکے ہیں
کہ ان میں مذہبی غیرت اور دینی حمیت کا نام ونشان تک باقی نہیں ہے اور سچ پوچھو تو ان کے سلسلہ احمدیہ سے
علیحدہ ہونے کے اسباب میں سے ایک بہت بڑا سبب یہ بھی ہے۔ کیونکہ وہ نہایت بے غیرتی سے کام لے کر ان لوگوں کے
ساتھ اپنے تعلقات قائم کرنے ضروری سمجھتے تھے جو سلسلہ احمدیہ کے مخالف اور حضرت مسیح موعود کو خدا کا
برگزیدہ اور راست باز انسان نہیں سمجھتے۔ چونکہ جماعت احمدیہ میں رہ کر وہ ایسا نہیں کر سکتے تھے اس لئے طرح
طرح کے حیلوں بہانوں سے علیحدہ ہوگئے اور اب جو جی میں آتا ہے کر رہے ہیں۔ اس لحاظ سے ان لوگوں کی بے غیرتی
اور بے حمیتی کوئی نئی بات نہیں… کیا اس سے بڑھ کر بے غیرتی اور بے حمیتی کو کوئی اور مثال مل سکتی ہے کہ
وہی پیغام جو آج سے ایک آدھ سال قبل خواجہ حسن نظامی کے متعلق یہ شکایت کرتا تھا کہ اس نے حضرت مسیح موعود
کے خلاف ناپاک الفاظ میں دریدہ دہنی سے کام لیا ہے اور اس تنگ دلی تعصب اور عناد کا ثبوت دیا ہے جو ایک صادق
اور راست باز انسان سے دنیاداروں کو ہوا کرتا ہے۔ اب اسی پیغام صلح کے ایڈیٹوریل کالموں میں بڑے فخر سے
خواجہ حسن نظامی کو اپنا معزز دوست اور قابل قدر بزرگ کہا جاتا ہے۔ کیا پیغام کا ہمہ داں ایڈیٹر بتلائے گا
کہ خواجہ حسن نظامی کی دوستی کا اعزاز اسے اور اس کے دوسرے ساتھیوں کو کب سے اور کس طرح حاصل ہوا اور خواجہ
صاحب کے تقدس اور بزرگی کا اسے کیوں کر پتہ لگا ہے۔ کیا اس کا ذریعہ وہی مضامین ہیں جو آج تک خواجہ حسن
نظامی کی طرف سے حضرت مسیح موعود اور سلسلہ احمدیہ کے خلاف مختلف اخباروں اور رسالوں میں شائع ہوتے رہے ہیں
اور جن سے پیغام کا ایڈیٹر بھی ناواقف نہیں… کیا خواجہ حسن نظامی نے اپنے ان مضامین کے متعلق ندامت اور
افسوس کا اظہار کیا ہے… اور اب حضرت مسیح موعود کو صادق اور راست باز انسان سمجھنے لگ گیا ہے۔ اگر نہیں اور
یقینا نہیں تو ایڈیٹر پیغام کا اس کو اپنا معزز دوست اور قابل قدر بزرگ کہنا حددرجہ کی بے غیرتی اور بے
حمیتی نہیں تو اور کیا ہے۔‘‘
(الفضل قادیان ج۷ نمبر۲۶ ص۳،۴، مؤرخہ ۳۰؍ستمبر ۱۹۱۹ء)
’’پیغام کے ایڈیٹر نے خواجہ حسن نظامی کو اپنا معزز دوست اور قابل قدر بزرگ قرار دے کر جس بے غیرتی
اور بے حمیتی کا ثبوت دیا ہے اس کے خلاف اگر غیرمبایعین (لاہوری جماعت) کے حلقہ میں نفرت اور حقارت کا اظہار
کیاگیا تو ہم سمجھیں گے وہ سب کے سب ایڈیٹر ’’پیغام‘‘ کی قماش اور فطرت کے انسان نہیں ہیں لیکن اگر ایسا نہ
کیاگیا تو ہم سب کے متعلق وہی رائے قائم کرنے پر مجبور ہوں گے جو
403
ایڈیٹر پیغام کے متعلق ظاہر کی گئی ہے کہ اس میں حضرت مسیح موعود کے متعلق غیرت اور حمیت کا ایک ذرہ
بھی نہیں پایا جاتا۔ ورنہ حسن نظامی کو وہ اپنا معزز دوست اور قابل قدر بزرگ نہ لکھتا۔‘‘
(الفضل قادیان ج۷ نمبر۲۶ ص۴ کالم۲، مؤرخہ ۳۰؍ستمبر ۱۹۱۹ء)
(۱۱۳) میاں سرفضل حسین
’’غرض اللہ تعالیٰ نے ان پر وفات نہ آنے دی۔ جب تک کہ انہیں ایسے مقام پر نہ پہنچا دیا کہ لوگوں نے سمجھا
وہی اس وقت ہندوستان پر حکومت کر رہے ہیں۔ یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے جواب تھا ان لوگوں کو جو کہتے تھے کہ میاں
سرفضل حسین نے چونکہ گورنمنٹ ہند میں ایک احمدی (یعنی چوہدری سرمحمد ظفر اللہ خاں قادیانی) کو وزارت پر مقرر
کرایا اور وہ مرزائیت نواز ہیں۔ اس لئے ہم انہیں ذلیل کریں گے۔ اللہ تعالیٰ نے انہیں بتادیا کہ جو شخص احمدیت
کی خاطر اپنے نفس پر کوئی تکلیف برداشت کرے گا وہ گو احمدی نہ ہو ہم اسے بھی ذلیل نہیں ہونے دیں گے۔
پس گوسرفضل حسین صاحب احمدی نہ تھے، مگر چونکہ احمدیت کی وجہ سے لوگوں کی طرف سے ان پر اعتراض کیاگیا
اور انہیں ذلیل کرنے کی کوشش کی گئی تھی۔ اس لئے اللہ تعالیٰ نے ان کے حق میں اپنی غیرت کا مظاہرہ کیا اور
انہیں غیرمعمولی طور پر عزت کے ایک مقام پر پہنچا کر بتا دیا کہ جو شخص احمدیت کے لئے اپنی عزت کو خطرہ میں
ڈالنے کے لئے تیار ہو جائے، اللہ تعالیٰ اس کے لئے بھی اپنی غیرت کا اظہار کیا کرتا ہے۔ ( اللہ رے شیخی اور احسان
فراموشی! الٹا احسان دھرا جارہا ہے کہ قادیانیت کے طفیل میں میاں صاحب مرحوم کو اللہ تعالیٰ نے دوبارہ عزت عطاء
کی۔ حالانکہ خود قادیانی اکابر میاں صاحب مرحوم کے طفیل میں عزت پاتے رہے۔ للمؤلف)‘‘
(الفضل قادیان ج۲۴ نمبر۱۱ ص۲ کالم۳،۴، مؤرخہ ۱۲؍جولائی ۱۹۳۶ء)
’’عام مسلمانوں اور اسلامی اخبارات کی رائے ہے کہ قادیانیوں کو غیرمسلم اقلیت قرار دیا جائے کیونکہ ان
کو اسلام سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ اس دعویٰ کا تازہ ثبوت خود قادیانیوں نے بھی بہم پہنچا دیا۔ سر فضل حسین
مرحوم کا انتقال ہوا جو قادیانیوں کے محسن اعظم تھے۔ جن کی بدولت سرظفر اللہ خاں قادیانی وائسرائے کی ایگزیکٹو
کونسل کے ممبر ہوئے اور قادیانیوں کو ان کی ذات سے فوائد عظیمہ حاصل ہوئے، لیکن ان قادیانیوں کی محسن کشی
اور شقاوت کا یہ حال ہے کہ مرحوم سرفضل حسین کی نماز جنازہ میں انہوں نے شرکت نہیں کی اور جنازہ کے ساتھ جو
غیرمسلم ہند وسکھ عیسائی شریک تھے، نماز جنازہ کے وقت قادیانی بھی ان کے ساتھ مسلمانوں سے علیحدہ جاکھڑے
ہوئے۔ اس سے معلوم ہوگیا کہ قادیانیوں کی جگہ مسلمانوں میں نہیں ہے بلکہ غیرمسلموں میں ہے۔
حکومت پنجاب اور حکومت ہند کو بھی یہ واقعہ معلوم ہوگیا ہوگا۔ اس لئے ان کو چاہئے کہ مسلمانوں کے جو
مطالبات قادیانیوں کو غیرمسلم اقلیت قرار دینے کے متعلق ہیں، ان کو عملی جامہ پہنائیں۔‘‘
(نقیب، پھلواری شریف ج۴ نمبر۹، مؤرخہ ۲۵؍جولائی ۱۹۳۶ء)
(ی) تبلیغ
(۱۱۴) مکہ مکرمہ
’’بچپن سے میرا یہ خیال ہے اور جس کا میں نے دوستوں سے بارہا ذکر بھی کیا ہے کہ میرے نزدیک احمدیت کے
پھیلنے کے لئے اگر کوئی بڑا مضبوط قلعہ ہے تو مکہ مکرمہ ہے اور دوسرے درجے پر پورٹ سعید۔ اگر کوئی شخص وہاں
چلا جائے تو ساری دنیا میں احمدیت کو پہنچا سکتا ہے۔ وہاں سے ہر ملک کا جہاز گزرتا ہے۔ ٹریکٹ تقسیم کئے
جائیں۔ اس طرح ایسے ایسے علاقوں میں حضرت صاحب (مرزاقادیانی) کا
404
نام پہنچ جائے جہاں ہم مدتوں نہیں پہنچ سکتے مگر مکہ مکرمہ سب سے بڑا مقام ہے وہاں کے لوگ ہمارے بہت
کام آسکتے ہیں۔‘‘
(خطبہ جمعہ خلیفہ قادیان، مندرجہ الفضل قادیان ج۹ نمبر۴ ص۸ کالم۱، مؤرخہ ۱۴؍جولائی ۱۹۲۱ء، خطبات
محمود ج۷ ص۶۸)
(۱۱۵) مکہ میں مشن
’’یہ اللہ کی طرف سے ذرائع ہیں۔ مکہ میں (قادیانی) مشن کی تجویز ہے۔ ایک دوست نے وعدہ کیا ہے کہ اگر مکہ
میں مکان لیا جائے تو وہ پچیس ہزار روپیہ مکان کے لئے دیں گے۔ پس شیطان کے مقابلہ میں پوری طاقت سے کام لیں
اور میری اس نصیحت کو خوب یاد رکھیں۔‘‘
(تقریر مرزامحمود خلیفہ قادیان، جلسہ سالانہ، الفضل قادیان ج۷ نمبر۵۰ ص۷ کالم۲، مؤرخہ ۸؍جنوری ۱۹۲۰ء)
(۱۱۶) حج کے راز
’’مولانا میر محمد سعید صاحب ساکن حیدرآباد دکن نے (مرزامحمود خلیفہ قادیان سے) ملاقات کی۔ مولانا کا
عزم امسال حج بیت اللہ کا ہے اور اس سفر پر جانے سے پہلے آپ یہاں آئے ہیں… سفر حج کے ذکر پر مولوی (میر محمد
سعید) صاحب نے کہا کہ عرب کی سرزمین اب تک احمدیت سے خالی ہے۔ شاید خداتعالیٰ یہ کام مجھ سے کرائے۔ اس پر
حضرت خلیفۃ المسیح (مرزامحمود) نے فرمایا میرا مدت سے خیال ہے کہ اگر عرب میں احمدیت پھیل جائے تو تمام
اسلامی دنیا میں بہت جلد پھیل جائے گی۔ مولانا (میر محمد سعید نے) نماز کے متعلق دریافت کیا کہ وہاں کس طور
پر پڑھیں۔ فرمایا میں (میاں محمود احمد) جب گیا تھا اپنے طور پر جماعت کراکر مسجد حرام میں نماز پڑھتا تھا۔
مولانا نے عرض کیا کہ عرب میں تبلیغ کا کیا طریق ہونا چاہئے۔ (مرزامحمود نے) فرمایا ان سے بحث کا طریق مضر
ہے۔ کیونکہ وہ لوگ حکومت کے زیادہ زیراثر نہیں۔ جلد اشتعال میں آجاتے ہیں اور جو جی چاہے کر گزرتے ہیں۔
مولانا نے عرض کیا میرا خود بھی خیال ہے کہ ان کا استاد بن کر نہیں شاگرد بن کر ان کو تبلیغ کی جائے۔
(مرزامحمود نے) فرمایا۔ میں نے وہاں تبلیغ شروع کی اور خدا نے اپنے خاص فضل سے میری حفاظت کی۔ اس وقت حکومت
ترکی کا وہاں چنداں اثر نہ تھا۔ اب تو شاہ حجاز کے گورنمنٹ انگریزی کے زیراثر ہونے کے باعث ہندوستان سے
بدسلوکی نہیں ہوسکتی، مگر اس وقت یہ حالت نہ تھی۔ اس وقت تو وہاں جس کو چاہتے گرفتار کر سکتے تھے۔ مگر میں
نے تبلیغ کی اور کھلے طور پر کی، لیکن جب ہم وہ مکان چھوڑ کر واپس ہوئے تو دوسرے دن اس مکان پر چھاپہ مارا
گیا اور مالک مکان کو پکڑ لیا گیا کہ اس قسم کا کوئی شخص یہاں تھا۔‘‘
(مرزامحمود خلیفہ قادیان کی ڈائری، الفضل قادیان ج۸ نمبر۶۷، مؤرخہ ۷؍مارچ ۱۹۲۱ء)
’’حضرت مولانا میر محمد سعید صاحب قادری امیر جماعت ہائے احمدیہ حیدرآباد دکن بعد حصول اجازت حضرت
اقدس خلیفۃ المسیح (مرزامحمود) ایدہ اللہ بنصرہ سلسلہ عالیہ احمدیہ کی تبلیغ کا مبارک مقصد لے کر ۳۰؍اپریل
۱۹۲۱ء کو بمبئی سے ہمایوں نامی جہاز میں مدینہ شریف روانہ ہوگئے۔ آپ کا خیال ایک دراز مدت تک مدینہ شریف کو
مرکز تبلیغ بنا کر ملک عرب میں تبلیغ کرنے کا ہے۔ ان شاء اللہ اس مبارک دور خلافت ثانیہ میں طفیل حضرت
اولوالعزم ضل عمر (مرزامحمود) سلمہ اللہ تعالیٰ یورپ وامریکہ میں جب کہ اسلام کا بول بالا ہورہا ہے۔ ضرور تھا
کہ وہ مقدس سرزمین عرب کہ جس کے انوار نورانی سے سارا جہان منور ہوگیا تھا۔ دوبارہ اس سرزمین کی منور چوٹیوں
سے وہ نور چمک اٹھے تاکہ سیدنا مسیح موعود کا یہ الہام پوری آب وتاب کے ساتھ دنیا پر ظاہر ہو جائے کہ ؎
مسلمان را مسلمان باز کردند
(الفضل قادیان ج۸ ص۸۵، مؤرخہ ۱۲؍مئی ۱۹۲۱ء)
405
(۱۱۷) مثیل مدینہ
’’ہمیں ابھی ایک مرکز اشاعت کی ضرورت ہے اور خداتعالیٰ چاہتا ہے کہ ہم اس زم انے میں احمدیت کے لئے
ایک مدینہ کے مثیل کی تلاش کریں۔ ایسا ملک ہمیں میسر آئے جو احمدیت کے لئے اپنے ہاتھ کھول دے اور خداتعالیٰ
کے دین کے لئے اس کے دل کی کھڑکیاں کھلی ہوں اور وہ اس نور کے حاصل کرنے کے لئے بے تاب ہو جو اس زم انے میں
خداتعالیٰ نے ظلمت کے دور کرنے کے لئے نازل فرمایا ہے اور یہ نوجوانوں کا کام ہے کہ وہ نکلیں اور تلاش کریں
کہ کون سا ملک ہمارے لئے مدینہ کا مثیل ثابت ہوتا ہے۔‘‘
(خطبہ جمعہ خلیفہ قادیان، مندرجہ الفضل قادیان ج۲۲ نمبر۱۲۵ ص۶ کالم۲، مؤرخہ ۲۹؍مارچ ۱۹۳۵ء، خطبات
محمود ج۱۶ ص۲۰۴)
(۱۱۸) بڑا فائدہ
’’ایمان کے لحاظ سے تو تمام انسان برابر ہیں۔ کوئی چھوٹا بڑا نہیں مگر سیاسی لحاظ سے جو شخص کسی قسم
کا اثر رکھتا ہے اس کے احمدی ہونے سے بہت بڑا فائدہ پہنچتا ہے۔ کیونکہ اس کا دوسروں پر اثر پڑتا ہے اور اس
کے ذریعے اس کے حلقہ اثر میں احمدیت پھیل سکتی ہے۔ پس ہر شخص اپنے طبقہ کو لے اور اس میں سے احمدی بنائے
تاکہ جماعت کی ترقی ہرطبقہ میں یکساں طور پر ہو۔ زمیندار زمینداروں کو احمدی بنائیں۔ افسر افسروں کو احمدی
بنائیں۔ مزدور مزدوروں کو احمدی بنائیں۔ عالم عالموں کو احمدی بنائیں۔‘‘
(خطبہ جمعہ خلیفہ قادیان، مندرجہ الفضل قادیان ج۱۶ نمبر۶۵ ص۷،۸، مؤرخہ ۱۵؍فروری ۱۹۲۹ء، خطبات محمود
ج۱۲ ص۴۵)
(۱۱۹) طوفان نوح
’’پس ضرورت اس بات کی ہے کہ ہر احمدی اقرار کرے کہ وہ سال میں دوگنا ہونے کی کوشش کرے گا۔ اسی لئے میں
نے تجویز کی تھی کہ ایسے لوگ کھڑے ہوں جو یہ اقرار کرریں اور اپنا نام لکھا دیں۔ جس طرح چندہ دینے کے لئے
نام لکھاتے ہیں کہ ہم اتنا اتنا چندہ دیں گے۔ اسی طرح تبلیغ کے متعلق اقرار کریں کہ کم ازکم ایک آدمی کو سال
میں احمدی بنائیں گے اور جو زیادہ بناسکیں وہ زیادہ کے لئے اقرار کریں۔ مگر شرط یہ ہے کہ اپنے پایہ اور اپنے
طبقہ کے لوگوں کو احمدی بنائیں۔ زمیندار زمینداروں کو احمدی بنائیں، وکیل وکیلوں کو، ڈاکٹر ڈاکٹروں کو،
انجینئر انجینئروں کو، پلیڈر پلیڈروں کو، اسی طرح چند سالوں میں ایسا عظیم الشان تغیر پیدا کیا جاسکتا ہے کہ
طوفان نوح بھی اس کے سامنے مات ہوجائے۔‘‘
(خطبہ جمعہ خلیفہ قادیان، مندرجہ اخبار الفضل قادیان ج۱۶ نمبر۶۵ ص۷ کالم۳، مؤرخہ ۱۵؍فروری ۱۹۲۹ء،
خطبات محمود ج۱۲ ص۴۴)
(۱۲۰) کلمۃ الفصل
(عنوان، الفضل مؤرخہ ۱۸-۲۰؍مئی ۱۹۱۵ء)
’’حضرت صاحبزادہ بشیراحمد صاحب نے مسئلہ کفر واسلام پر ایک مبسوط مضمون لکھ کر مبلغین کی اعلیٰ کلاس
اور دارالامان والوں کے سامنے سنایا تھا۔ اب ریویو آف ریلیجنز میں چھپ کر شائع ہوا ہے۔ یہ مضمون اس مسئلہ پر
ایک فیصلہ کن تحریر ہے، جس میں حضرت اقدس کے مرتبہ کو بھی خوب واضح کیاگیا ہے۔ ضروری ہے کہ یہ رسالہ عام طور
پر تقسیم ہو، تا احمدی جماعت میں اس اہم مسئلہ پر کوئی اختلاف نہ رہے اور حق ظاہر ہو۔‘‘
(الفضل قادیان ج۲ نمبر۱۴۱،۱۴۲ ص۷ کالم۳، مؤرخہ ۱۷-۲۰؍مئی ۱۹۱۵ء)
406
نعوذ باللہ السمیع العلیم من الشیطان الرجیم
بسم اللہ الرحمٰن الرحیم
حصہ دوم
فصل گیارہویں
سیاسیات، دورِ اوّل
(۱) اپنا تعارف
’’چونکہ میں جس کا نام غلام احمد اور باپ کا نام مرزاغلام مرتضیٰ قادیان ضلع گورداسپور پنجاب کا رہنے
والا ایک مشہور فرقہ کا پیشوا ہوں جو پنجاب کے اکثر مقامات میں پایا جاتا ہے اور نیز ہندوستان کے اکثر اضلاع
اور حیدرآباد اور بمبئی اور مدارس اور ملک عرب اور شام اور بخارا میں بھی میری جماعت کے لوگ موجود ہیں۔
لہٰذا میں قریب مصلحت سمجھتا ہوں کہ یہ مختصر رسالہ اس غرض سے لکھوں کہ اس محسن گورنمنٹ کے اعلیٰ افسر میرے
حالات اور میری جماعت کے خیالات سے واقفیت پیدا کر لیں۔‘‘
(کشف الغطاء ص۱، خزائن ج۱۴ ص۱۷۹)
’’اور یہ مؤلف تاج عزت جناب ملکہ معظمہ قیصرہ ہند دام اقبالہا کا واسطہ ڈال کر بخدمت گورنمنٹ عالیہ
انگلشیہ کے اعلیٰ افسروں اور معزز حکام کے بادب گزارش کرتا ہے کہ براہ غریب پروری وکرم گستری اس رسالہ کو
اوّل سے آخر تک پڑھا جائے یا سن لیا جائے۔‘‘
(کشف الغطاء ص ٹائٹل، خزائن ج۱۴ ص۱۷۷)
’’میں تاج عزت عالی جناب حضرت مکرمہ ملکہ معظمہ قیصرہ ہند دام اقبالہا کا واسطہ ڈالتا ہوں کہ اس رسالہ
کو ہمارے عالی مرتبہ حکام توجہ سے اوّل سے آخر تک پڑھیں۔‘‘
(کشف الغطاء ص۱، خزائن ج۱۴ ص۱۷۹)
(۲) روح کا جوش
’’سب سے پہلے میں یہ اطلاع دینا چاہتا ہو کہ میں ایک ایسے خاندان میں سے ہوں جس کی نسبت گورنمنٹ نے
ایک مدت دراز سے قبول کیا ہوا ہے کہ وہ خاندان اوّل درجہ پر سرکار دولت مدار انگریزی کا خیرخواہ ہے… ان تمام
تحریرات سے ثابت ہے کہ میرے والد صاحب اور میرا خاندان ابتداء سے سرکار انگریزی کے بدل وجان ہوا خواہ اور
وفادار رہے ہیں اور گورنمنٹ عالیہ انگریزی کے معزز افسروں نے مان لیا ہے کہ یہ خاندان کمال درجہ پر خیرخواہ
سرکار انگریزی ہے… ہمارے پاس تو وہ الفاظ نہیں جن کے ذریعہ سے ہم اس آرام اور راحت کا ذکر کر سکیں جو اس
گورنمنٹ سے ہم کو حاصل ہوئی۔ ہماری تو یہی دعا ہے کہ خدا اس گورنمنٹ محسنہ کو جزائے خیردے اور اس سے نیکی
کرے۔ جیسا کہ اس نے ہم سے نیکی کی۔ یہی وجہ ہے کہ میرا باپ اور میرا بھائی اور خود میں بھی روح کے جوش سے اس
بات میں مصروف رہے کہ اس گورنمنٹ کے فوائد اور احسانات کو عام لوگوں پر ظاہر کریں اور اس کی اطاعت کی فرضیت
کو دلوں میں جمادیں۔‘‘
(درخواست بحضور نواب لیفٹیننٹ گورنر بہادر دام اقبالہ منجانب خاکسار مرزاغلام احمد از قادیان، مؤرخہ
۲۴؍فروری ۱۸۹۸ء، مندرجہ تبلیغ رسالت ج۷ ص۸تا۱۱، مجموعہ اشتہارات ج۳ ص۹تا۱۲، جدید مجموعہ اشتہارات ج۲
ص۱۸۸تا۱۹۱، ملحقہ کتاب البریہ ص۱تا۵، خزائن ج۱۳ ص۳۳۷تا۳۴۱)
407
(۳) خاندانی خدمات
’’میں ایک ایسے خاندان سے ہوں کہ جو اس گورنمنٹ کا پکا خیرخواہ ہے۔ میرا والد مرزاغلام مرتضیٰ گورنمنٹ
کی نظر میں ایک وفادار اور خیرخواہ آدمی تھا۔ جن کو دربار گورنری میں کرسی ملتی تھی اور جن کا ذکر مسٹر
گریفن صاحب کی تاریخ رئیسان پنجاب میں ہے اور ۱۸۵۷ء میں انہوں نے اپنی طاقت سے بڑھ کر سرکار انگریزی کو مدد
دی تھی یعنی پچاس سوار اور گھوڑے بہم پہنچا کر عین زمانہ غدر کے وقت سرکار انگریزی کی امداد میں دئیے تھے۔
ان خدمات کی وجہ سے جو چٹھیات خوشنودی حکام ان کو ملی تھیں مجھے افسوس ہے کہ بہت سی ان میں سے گم ہو گئیں۔
مگر تین چٹھیات جو مدت سے چھپ چکی ہیں ان کی نقلیں حاشیہ میں درج کی گئی ہیں۔ پھر میرے والد صاحب کی وفات کے
بعد میرا بڑا بھائی مرزاغلام قادر خدمات سرکاری میں مصروف رہا اور جب تموں کی گزر پر مفسدوں کا سرکار
انگریزی کی فوج سے مقابلہ ہوا تو وہ سرکار انگریزی کی طرف سے لڑائی میں شریک تھا۔‘‘
(اشتہار مؤرخہ ۲۰؍ستمبر ۱۸۹۷ء، کتاب البریہ ص۳تا۵، خزائن ج۱۳ ص۴تا۶)
(۴) میرا باپ بھائی اور میں
’’اور میرا باپ اسی طرح خدمات میں مشغول رہا یہاں تک کہ پیرانہ سالی تک پہنچ گیا اور سفر آخرت کا وقت
آگیا اور اگر ہم اس کی تمام خدمات لکھنا چاہیں تو اس جگہ سمانہ سکیں اور ہم لکھنے سے عاجز رہ جائیں۔ پس
خلاصہ کلام یہ ہے کہ میرا باپ سرکار انگریزی کے مراحم کا ہمیشہ امیدوار رہا اور عند الضرورت خدمتیں بجالاتا
رہا۔ یہاں تک کہ سرکار انگریزی نے اپنی خوشنودی کی چٹھیات سے اس کو معزز کیا اور ہر ایک وقت اپنے عطاؤں کے
ساتھ اس کو خاص فرمایا اور اس کی غمخواری فرمائی اور اس کی رعایت رکھی اور اس کو اپنے خیرخواہوں اور مخلصوں
میں سے سمجھا۔ پھر جب میرا باپ وفات پاگیا، تب ان خصلتوں میں اس کا قائم مقام میرا بھائی ہوا جس کا نام مرزا
غلام قادر تھا اور سرکاری انگریزی کی عنایات ایسی ہی اس کے شامل حال ہوگئیں جیسی کہ میرے باپ کے شامل حال
تھیں اور میرا بھائی چند سال بعد اپنے والد کے فوت ہوگیا۔ پھر ان دونوں کی وفات کے بعد میں ان کے نقش قدم پر
چلا اور ان کی سیرتوں کی پیروی کی اور ان کے زمانہ کو یاد کیا۔ لیکن میں صاحب مال اور صاحب املاک نہیں تھا…
سو میں اس کی مدد کے لئے اپنے قلم اور ہاتھ سے اٹھا اور خدا میری مدد پر تھا اور میں نے اسی زمانہ سے
خداتعالیٰ سے یہ عہد کیا کہ کوئی مبسوط کتاب بغیر اس کے تالیف نہیں کروں گا جو اس میں احسانات قیصرہ ہند کا
ذکر نہ ہو اور نیز اس کے ان تمام احسانوں کا ذکر ہو جن کا شکر مسلمانوں پر واجب ہے۔‘‘
(نورالحق حصہ اوّل ص۲۷تا۲۹، خزائن ج۸ ص۳۷تا۳۹)
(۵) حق واجب
’’میں ایک گوشہ نشین آدمی تھا جس کے دنیوی طریق پر زندگی نہیں تھی اور نہ اس کے کامل اسباب مہیا تھے۔
تاہم میں نے برابر ۱۶برس سے یہ اپنے پرحق واجب ٹھہرالیا کہ اپنی قوم کو اس گورنمنٹ کی خیرخواہی کی طرف
بلاؤں اور ان کو سچی اطاعت کی طرف ترغیب دوں۔ چنانچہ میں نے اس مقصد کے انجام کے لئے اپنی ہر یک تالیف میں
یہ لکھنا شروع کیا۔ (مثلاً دیکھو، براہین احمدیہ، شہادۃ القرآن، سرمہ چشم آریہ، آئینہ کمالات اسلام، حمامۃ
البشریٰ، نور الحق وغیرہ حاشیہ پر) کہ اس گورنمنٹ کے ساتھ کسی طرح مسلمانوں کو جہاد درست نہیں اور نہ صرف اس
قدر بلکہ باربار اس بات پر زور دیا کہ چونکہ گورنمنٹ برطانیہ برٹش انڈیا کی رعایا کی محسن ہے۔ اس لئے
مسلمانان ہند پر لازم ہے کہ نہ صرف اتنا ہی کریں کہ گورنمنٹ برطانیہ کے مقابل بدارادوں سے رکیں بلکہ اپنی
سچی شکرگزاری اور ہمدردی کے نمونے بھی گورنمنٹ کو دکھلادیں۔‘‘ (اشتہار لائق توجہ گورنمنٹ جو جناب ملکہ معظمہ
قیصرہ ہند اور جناب گورنر جنرل ہند اور لیفٹیننٹ گورنر پنجاب اور دیگر
408
معزز حکام کے ملاحظہ کے لئے شائع کیاگیا۔ منجانب خاکسار غلام احمد قادیانی، مؤرخہ ۱۰؍دسمبر ۱۸۹۴ء)
(مندرجہ تبلیغ رسالت ج۳ ص۱۹۳،۱۹۴، مجموعہ اشتہارات ج۲ ص۱۲۴، جدید، مجموعہ اشتہارات ج۱ ص۴۵۹)
(۶) قابل گزارش
’’دوسرا امر قابل گزارش یہ ہے کہ میں ابتدائی عمر سے اس وقت تک جو قریباً ساٹھ برس کی عمر تک پہنچا
ہوں اپنی زبان اور قلم سے اس اہم کام میں مشغول ہوں کہ تامسلمانوں کے دلوں کو گورنمنٹ انگلشیہ کی سچی محبت
اور خیرخواہی اور ہمدردی کی طرف پھیروں اور ان کے بعض کم فہموں کے دلوں سے غلط خیال جہاد وغیرہ کے دور کروں
جو ان کو دلی صفائی اور مخلصانہ تعلقات سے روکتے ہیں… اور میں دیکھتا ہوں کہ مسلمانوں کے دلوں پر میری
تحریروں کا بہت ہی اثر ہوا ہے اور لاکھوں انسانوں میں تبدیلی پیدا ہوگئی اور میں نے صرف اسی قدر کام کیا کہ
برٹش انڈیا کے مسلمانوں کو گورنمنٹ انگلشیہ کی سچی اطاعت کی طرف جھکایا بلکہ بہت سی کتابیں عربی اور فارسی
اور اردو میں تالیف کر کے ممالک اسلامیہ کے لوگوں کو بھی مطلع کیا کہ ہم لوگ کیونکر امن وامان اور آرام اور
آزادی سے گورنمنٹ انگلشیہ کے سایہ عاطفت میں زندگی بسر کر رہے ہیں اور ایسی کتابوں کے چھاپنے اور شائع کرنے
میں ہزارہا روپیہ خرچ کیاگیا۔ مگر بایں ہمہ میری طبیعت نے کبھی نہیں چاہا کہ ان متواتر خدمات کا اپنے حکام
کے پاس ذکر بھی کروں۔ کیونکہ میں نے کسی صلہ اور انعام کی خواہش سے نہیں بلکہ ایک حق بات کو ظاہر کرنا اپنا
فرض سمجھا۔‘‘
(درخواست بحضور نواب لیفٹیننٹ گورنر بہادر دام اقبالہ منجانب خاکسار مرزاغلام احمد از قادیان مؤرخہ
۲۴؍فروری ۱۸۹۸ء، مندرجہ تبلیغ رسالت ج۷ ص۱۰، مجموعہ اشتہارات ج۳ ص۱۱، جدید مجموعہ اشتہارات ج۲ ص۱۹۰،۱۹۱،
ملحقہ کتاب البریہ ص۳،۴، خزائن ج۱۳ ص۳۳۹،۳۴۰)
(۷) پچاس الماریاں
’’میری عمر کا اکثر حصہ اس سلطنت انگریزی کی تائید اور حمایت میں گزرا ہے اور میں نے ممانعت جہاد اور
انگریزی اطاعت کے بارے میں اس قدر کتابیں لکھی ہیں اور اشتہار شائع کئے ہیں کہ اگر وہ رسائل اور کتابیں
اکٹھی کی جائیں تو پچاس الماریاں ان سے بھر سکتی ہیں میں نے ایسی کتابوں کو تمام ممالک عرب اور مصر اور شام
اور کابل اور روم تک پہنچا دیا ہے۔ میری ہمیشہ کوشش رہی ہے کہ مسلمان اس سلطنت کے سچے خیرخواہ ہو جائیں اور
مہدی خونی اور مسیح خونی کی بے اصل روایتیں اور جہاد کے جوش دلانے والے مسائل جو احمقوں کے دلوں کو خراب
کرتے ہیں ان کے دلوں سے معدوم ہوجائیں۔‘‘
(تریاق القلوب ص۱۵، خزائن ج۱۵ ص۱۵۵،۱۵۶)
(۸) بزرگوں سے زیادہ
’’میں بذات خود سترہ برس سے سرکار انگریزی کی ایک ایسی خدمت میں مشغول ہوں کہ درحقیقت وہ ایک ایسی
خیرخواہی گورنمنٹ عالیہ کی مجھ سے ظہور میں آئی ہے کہ میرے بزرگوں سے زیادہ ہے اور وہ یہ کہ میں نے بیسیوں
کتابیں عربی اور فارسی اور اردو میں اس غرض سے تالیف کی ہیں کہ اس گورنمنٹ محسنہ سے ہرگز جہاد درست نہیں
بلکہ سچے دل سے اطاعت کرنا ہرایک مسلمان کا فرض ہے۔ چنانچہ میں نے یہ کتابیں بصرف زرکثیر چھاپ کر بلاد اسلام
میں پہنچائی ہیں اور میں جانتا ہوں کہ ان کتابوں کا بہت سا اثر اس ملک پر بھی پڑا ہے اور جو لوگ میرے ساتھ
مریدی کا تعلق رکھتے ہیں وہ ایک ایسی جماعت تیار ہوتی جاتی ہے کہ جن کے دل اس گورنمنٹ کی سچی خیرخواہی سے
لبالب ہیں۔ ان کی اخلاقی حالت اعلیٰ درجہ پر ہے اور میں خیال کرتا ہوں کہ وہ تمام اس ملک کے لئے بڑی برکت
ہیں اور گورنمنٹ کے لئے دلی جانثار۔‘‘
(عریضہ بعالی خدمت گورنمنٹ عالیہ انگریزی مرزاقادیانی، مندرجہ تبلیغ رسالت ج۶ ص۶۵، مجموعہ اشتہارات ج۲
ص۳۶۶،۳۶۷، جدید مجموعہ اشتہارات ج۲ ص۶۶،۶۷)
409
(۹) بے نظیر کارگزاری
’’پھر میں پوچھتا ہوں کہ جو کچھ میں نے سرکار انگریزی کی امداد اور حفظ امن اور جہادی خیالات کے روکنے
کے لئے برابر سترہ سال تک پورے جوش سے پوری استقامت سے کام لیا۔ کیا اس کام کی اور اس خدمت نمایاں کی اور اس
مدت دراز کی دوسری مسلمانوں میں جو میرے مخالف ہیں کوئی نظیر ہے؟ (کوئی نہیں ایں کار از توآید و مرداں چنیں کنند‘‘للمؤلف)
(اشتہار مؤرخہ ۲۰؍ستمبر ۱۸۹۷ء، مجموعہ اشتہارات ج۲ ص۴۶۳، جدید ج۲ ص۱۶۶، کتاب البریہ ص۷، خزائن ج۱۳
ص۸)
(۱۰) اسلام کے دو حصے
’’میں سچ سچ کہتا ہوں کہ محسن کی بدخواہی کرنا ایک حرامی اور بدکار آدمی کا کام ہے۔ سو میرا مذہب جس
کو میں باربار ظاہر کرتا ہوں یہ ہی ہے کہ اسلام کے دو حصے ہیں۔ ایک یہ کہ خداتعالیٰ کی اطاعت کریں دوسرے اس
سلطنت کی جس نے امن قائم کیا ہو۔ جس نے ظالموں کے ہاتھ سے اپنے سایہ میں ہمیں پناہ دی ہو سو وہ سلطنت حکومت
برطانیہ ہے… سو اگر ہم گورنمنٹ برطانیہ سے سرکشی کریں تو گویا اسلام اور خدا اور رسول سے سرکشی کرتے ہیں۔‘‘
(ارشاد مرزاقادیانی، گورنمنٹ کی توجہ کے لائق، ملحقہ شہادۃ القرآن ج/۳،د/۴، خزائن ج۶ ص۳۸۰،۳۸۱)
(۱۱) گویا اللہ اور رسول
’’آپ (مرزاقادیانی) نے بڑے زور سے بڑی کثرت کے ساتھ توجہ دلائی ہے اور لکھا ہے کہ میں نے کوئی کتاب یا
اشتہار ایسا نہیں لکھا جس میں گورنمنٹ کی وفاداری اور اطاعت کی طرف اپنی جماعت کو متوجہ نہیں کیا۔ پس حضرت
(مرزاقادیانی) کا اس طرف توجہ دلانا اور اس زور کے ساتھ توجہ دلانا اس آیت کے ماتحت ہونے کی وجہ سے گویا اللہ
اور اس کے رسول کا ہی توجہ دلانا ہے۔ اس سے سمجھ لو کہ اس طرف توجہ کرنے کی کس قدر ضرورت ہے۔‘‘
(تقریر مرزامحمود احمد خلیفہ قادیان، الفضل قادیان ج۵ نمبر۱۳ ص۴ کالم۲، مؤرخہ ۱۴؍اگست ۱۹۱۷ء)
(۱۲) ہمارے مقاصد
’’جسمانی سلطنت میں بھی یہ ہی خداتعالیٰ نے ارادہ فرمایا ہے کہ ایک قوم میں ایک امیر اور بادشاہ ہو
اور خدا کی لعنت ان لوگوں پر ہے جو تفرقہ پسند کرتے ہیں اور ایک امیر کے تحت حکم نہیں چلتے۔ حالانکہ اللہ جل
شانہ فرماتا ہے:اطیعوا اللہ واطیعوا الرسول واولی الامرمنکم‘‘ سے مراد جسمانی طور پر
بادشاہ اور روحانی طور پر امام الزماں ہے اور جسمانی طور پر جو شخص ہمارے مقاصد (مرزاقادیانی کے مقاصد) کا
مخالف نہ ہو اور اس سے مذہبی فائدہ ہمیں حاصل ہو سکے وہ ہم میں سے ہے اسی لئے میری نصیحت اپنی جماعت کو یہی
ہے کہ وہ انگریزوں کی بادشاہت کو اپنے اولی الامر میں داخل کریں اور دل کی سچائی سے ان کے مطیع رہیں۔‘‘
(ضرورۃ الامام ص۲۳، خزائن ج۱۳ ص۴۹۳)
(۱۳) سب سے زیادہ
’’سو اس نے مجھے بھیجا اور میں اس کا شکر کرتا ہوں کہ اس نے مجھے ایک ایسی گورنمنٹ کے سایہ رحمت کے
نیچے جگہ دی جس کے زیرسایہ میں بڑی آزادی سے اپنا کام نصیحت اور وعظ کا ادا کر رہا ہوں۔ اگرچہ اس محسن
گورنمنٹ کا ہر ایک پر رعایا میں سے شکرواجب ہے مگر
410
میں خیال کرتا ہوں کہ مجھ پر سب سے زیادہ واجب ہے کیونکہ یہ میرے اعلیٰ مقاصد جو جناب قیصر ہند کی
حکومت کے سایہ کے نیچے انجام پذیر ہورہے ہیں۔ ہرگز ممکن نہ تھا کہ وہ کسی اور گورنمنٹ کے زیرسایہ انجام پذیر
ہوسکتے۔ اگرچہ وہ کوئی اسلامی گورنمنٹ ہی ہوتی۔‘‘
(تحفہ قیصریہ ص۳۱،۳۲، خزائن ج۱۲ ص۲۸۳،۲۸۴)
(۱۴) خدا کی طرف مشغول
’’ان (والد) کے انتقال کے بعد یہ عاجز (مرزاقادیانی) دنیا کے شغلوں سے بکلی علیحدہ ہوکر خداتعالیٰ کی
طرف مشغول ہوا اور مجھ سے سرکار انگریزی کے حق میں جو خدمت ہوئی وہ یہ تھی کہ میں نے پچاس ہزار کے قریب
کتابیں اور رسائل اور اشتہارات چھپوا کر اس ملک اور نیز دوسرے بلاد اسلامیہ میں اس مضمون کے شائع کئے کہ
گورنمنٹ انگریزی ہم مسلمانوں کی محسن ہے۔ لہٰذا ہر ایک مسلمان کا یہ فرض ہونا چاہئے کہ اس گورنمنٹ کی سچی
اطاعت کرے اور دل سے اس دولت کا شکر گزار اور دعاگو رہے اور یہ کتابیں میں نے مختلف زبانوں یعنی اردو،
فارسی، عربی میں تالیف کر کے اسلام کے تمام ملکوں میں پھیلا دیں۔ یہاں تک کہ اسلام کے دو مقدس شہروں مکہ اور
مدینہ میں بھی بخوبی شائع کردیں اور روم کے پایہ تخت قسطنطنیہ اور بلاد شام اور مصر اور کابل اور افغانستان
کے متفرق شہروں میں جہاں تک ممکن تھا اشاعت کر دی گئی۔ جس کا یہ نتیجہ ہوا کہ لاکھوں انسانوں نے جہاد کے وہ
غلط خیالات چھوڑ دئیے جو نافہم ملاؤں کی تعلیم سے ان کے دلوں میں تھے۔ یہ ایک ایسی خدمت مجھ سے ظہور میں
آئی کہ مجھے اس بات پر فخر ہے کہ برٹش انڈیا کے تمام مسلمانوں میں سے اس کی نظیر کوئی مسلمان دکھلا نہیں
سکا۔‘‘
(ستارہ قیصریہ ص۳،۴، خزائن ج۱۵ ص۱۱۴)
(۱۵) فقیرانہ زندگی
’’اور چونکہ میری زندگی فقیرانہ اور درویشانہ طور پر ہے اس لئے میں اسی درویشانہ طرز سے گورنمنٹ
انگریزی کی خیرخواہی اور امداد میں مشغول رہا ہوں۔ قریباً انیس برس سے ایسی کتابوں کے شائع کرنے میں میں نے
اپنا وقت بسر کیا ہے جن میں یہ ذکر ہے کہ مسلمانوں کو سچے دل سے اس گورنمنٹ کی خدمت کرنی چاہئے اور اپنی
فرمانبرداری اور وفاداری کو دوسری قوموں سے بڑھ کر دکھلانا چاہئے اور میں نے اسی غرض سے بعض کتابیں عربی
زبان میں لکھیں اور بعض فارسی زبان میں اور ان کو دوردور ملکوں تک شائع کیا اور ان سب میں مسلمانوں کو
باربار تاکید کی اور معقول وجوہ سے ان کو اس طرف جھکایا کہ وہ گورنمنٹ کی اطاعت بدل وجان اختیار کریں اور یہ
کتابیں عرب اور بلاد شام اور کابل اور بخارا میں پہنچائی گئیں۔‘‘
(کشف الغطاء ص۳تا۶، خزائن ج۱۴ ص۱۸۵)
(۱۶) گورنمنٹ کو اطلاع
’’جو ہدایتیں اس فرقہ کے لئے میں نے مرتب کی ہیں جن کو میں نے اپنے ہاتھ سے لکھ کر اور چھاپ کر ہر ایک
مرید کو دیا ہے کہ ان کو اپنا دستور العمل رکھے وہ ہدایتیں میرے اس رسالہ میں مندرج ہیں جو ۱۲؍جنوری ۱۸۸۹ء
میں چھپ کر عام مریدوں میں شائع ہوا ہے۔ جس کا نام تکمیل تبلیغ مع شرائط بیعت ہے۔ جس کی ایک کاپی اسی زمانہ
میں گورنمنٹ میں بھی بھیجی گئی تھی ان ہدایتوں کو پڑھ کر اور ایسا ہی دوسری ہدایتوں کو دیکھ کر جو وقتاً
فوقتاً چھپ کر مریدوں میں شائع ہوتی ہیں۔ گورنمنٹ کو معلوم ہوگا کہ کیسے امن بخش اصولوں کی اس جماعت کو
تعلیم دی جاتی ہے اور کس طرح ان کو باربار تاکیدیں کی گئی ہیں کہ وہ گورنمنٹ برطانیہ کے سچے خیرخواہ اور
مطیع رہیں۔‘‘
(درخواست بحضور نواب لیفٹیننٹ گورنر بہادر دام اقبالہ منجانب خاکسار مرزاقادیانی، مؤرخہ ۲۴؍فروری
۱۸۹۸ء، مندرجہ تبلیغ رسالت ج۷ ص۱۶، مجموعہ اشتہارات ج۳ ص۱۸،۱۹، جدید
411
مجموعہ اشتہارات ج۲ ص۱۹۵،۱۹۶، کتاب البریہ ص۱۰،۱۱، خزائن ج۱۳ ص۳۴۶،۳۴۷)
(۱۷) بیعت کی شرط
’’اب اس تمام تقریر سے جس کے ساتھ میں نے اپنی سترہ سالہ مسلسل تقریروں سے ثبوت پیش کئے ہیں۔ صاف ظاہر
ہے کہ میں سرکار انگریزی کا بدل وجان خیرخواہ ہوں اور میں ایک شخص امن دوست ہوں اور اطاعت گورنمنٹ اور
ہمدردی بندگان خدا کی میرا اصول ہے اور یہ وہی اصول ہے جو میرے مریدوں کی شرائط بیعت میں داخل ہے۔ چنانچہ
پرچہ شرائط بیعت جو ہمیشہ مریدوں میں تقسیم کیاجاتا ہے۔ اس کی دفعہ چہارم میں ان ہی باتوں کی تصریح ہے۔‘‘
(کتاب البریہ ص۹، خزائن ج۱۳ ص۱۰)
’’اس عام اصلاح کے علاوہ میں ایک خاص امر کو اس جگہ ضرور بیان کردینا چاہتا ہوں اور وہ حضرت مسیح
موعود کا اپنی بیعت کی شرائط میں وفاداری حکومت کا شامل کرنا ہے۔ آپ نے قریباً اپنی کل کتب میں اپنی جماعت
کو نصیحت فرمائی ہے کہ وہ جس گورنمنٹ کے ماتحت رہیں اس کی پورے طور پر فرمانبرداری کریں اور یہاں تک لکھا کہ
جو شخص اپنی گورنمنٹ کی فرمانبرداری نہیں کرتا اور کسی طرح بھی اپنے حکام کے خلاف شورش کرتا اور ان کے احکام
کے نفاذ میں روڑے اٹکاتا ہے وہ میری جماعت میں سے نہیں… یہ سبق آپ نے جماعت کو ایسا پڑھایا کہ ہرموقع پر
جماعت احمدیہ نے گورنمنٹ ہند کی فرمانبرداری کا اظہار کیا ہے اور کبھی خفیف سے خفیف شورش میں بھی حصہ نہیں
لیا۔‘‘
(تحفۃ الملوک ص۱۲۴،۱۲۵، انوارالعلوم ج۲ ص۱۴۲،۱۴۳)
(۱۸) خیرخواہ اور دعاگو
’’اس جماعت کے نیک اثر سے جیسے عامہ خلائق منتفع ہوں گی ایسا ہی اس پاک باطن جماعت کے وجود سے گورنمنٹ
برطانیہ کے لئے انواع اقسام کے فوائد متصور ہوں گے جن سے اس گورنمنٹ کو خداوند عزوجل کا شکرگزار ہونا چاہئے۔
ازاں جملہ ایک یہ کہ یہ لوگ سچے جوش اور دلی خلوص سے اس گورنمنٹ کے خیرخواہ اور دعاگو ہوں گے کیونکہ بموجب
تعلیم اسلام (جس کی پیروی اس گروہ کا عین مدعا ہے) حقوق عباد کے متعلق اس سے بڑھ کر کوئی گناہ کی بات اور
خبث اور ظلم اور پلید راہ نہیں کہ انسان جس سلطنت کے زیرسایہ بامن وعافیت زندگی بسر کرے اور اس کی حمایت سے
اپنے دینی ودنیوی مقاصد میں باآزادی کوشش کر سکے اسی کا بدخواہ وبداندیش ہو۔ بلکہ جب تک ایسی گورنمنٹ کا شکر
گزار نہ ہو تب تک خدائے تعالیٰ کا بھی شکرگزار نہیں۔ پھر دوسرا فائدہ اس بابرکت گروہ کی ترقی سے گورنمنٹ کو
یہ ہے کہ ان کا عملی طریق موجب انسداد جرائم ہے۔ فتفکروا وتأملوا‘‘
(ازالہ اوہام حصہ دوم ص۸۴۹، خزائن ج۳ ص۵۶۱ حاشیہ)
(۱۹) یاجوج وماجوج
’’ایسا ہی یاجوج وماجوج کا حال بھی سمجھ لیجئے۔ یہ دونوں پرانی قومیں ہیں جو پہلے زمانوں میں دوسروں
پر کھلے طور پر غالب نہیں ہوسکیں اور ان کی حالت میں ضعف رہا۔ لیکن خداتعالیٰ فرماتا ہے کہ آخری زمانہ میں
یہ دونوں قومیں خروج کریں گی۔ یعنی اپنی جلالی قوت کے ساتھ ظاہر ہوں گے… یہ دونوں قومیں دوسروں کو مغلوب کر
کے پھر ایک دوسرے پر حملہ کریں گی اور جس کو خداتعالیٰ چاہے گا فتح دے گا۔ چونکہ ان دونوں قوموں سے مراد
انگریز اور روس ہیں۔ اس لئے ہر یک سعادت مند مسلمان کو دعا کرنی چاہئے کہ اس وقت انگریزوں کی فتح ہو کیونکہ
یہ لوگ ہمارے محسن ہیں اور سلطنت برطانیہ کے ہمارے سر پر بہت احسان ہیں۔ سخت جاہل اور سخت نادان اور سخت
نالائق وہ مسلمان ہیں جو اس گورنمنٹ سے کینہ رکھے۔ اگر ہم ان کا شکر نہ کریں تو پھر ہم خداتعالیٰ کے بھی
ناشکرگزار ہیں۔ کیونکہ ہم نے جو اس گورنمنٹ کے
412
زیرسایہ آرام پایا اور پارہے ہیں وہ آرام ہم کسی اسلامی گورنمنٹ میں بھی نہیں پاسکتے ہرگز نہیں
پاسکتے۔‘‘
(ازالہ اوہام حصہ دوم ص۵۰۸،۵۰۹، خزائن ج۳ ص۳۷۳)
(۲۰) اسلامی ممالک پر توجہ
’’میں نے مناسب سمجھا کہ اس رسالہ کو بلاد عرب یعنی حرمین اور شام اور مصر وغیرہ میں بھی بھیج دوں۔
کیونکہ اس کتاب کے ص۱۵۲ میں جہاد کی مخالفت میں ایک مضمون لکھاگیا ہے اور میں نے بائیس برس سے اپنے ذمہ یہ
فرض کر رکھا ہے کہ ایسی کتابیں جن میں جہاد کی ممانعت ہو اسلامی ممالک میں ضرور بھیج دیا کرتا ہوں۔ اسی وجہ
سے میری عربی کتابیں عرب کے ملک میں بھی بہت شہرت پاگئی ہیں۔‘‘
(تحریر مرزاقادیانی، مؤرخہ ۱۸؍نومبر ۱۹۰۱ء، مندرجہ تبلیغ رسالت ج۱۰ ص۲۶، مجموعہ اشتہارات ج۳ ص۴۴۳،
جدید مجموعہ اشتہارات ج۲ ص۵۳۳)
(۲۱) جہاد کی بیہودہ رسم
’’یہ وہ فرقہ ہے جو فرقہ احمدیہ کے نام سے مشہور ہے اور پنجاب اور ہندوستان اور دیگر متفرق مقامات میں
پھیلا ہواہے۔ یہی وہ فرقہ ہے جو دن رات کوشش کر رہا ہے کہ مسلمانوں کے خیالات میں سے جہاد کی بیہودہ رسم کو
اٹھا دے۔ (کیا عجب ہے کہ یہ بیہودہ کوشش خود ہی بیٹھ جائے کہ اس کی شرمندگی سے قادیانی آئندہ نظر نہ اٹھا
سکیں۔ للمؤلف) چنانچہ اب تک ساٹھ کے قریب میں نے ایسی کتابیں عربی اور فارسی اور اردو میں انگریزی میں
تالیف کر کے شائع کی ہیں جن کا یہی مقصد ہے کہ یہ غلط خیالات مسلمانوں کے دلوں سے محو ہو جائیں۔ اس قوم میں
یہ خرابی اکثر نادان مولویوں نے ڈال رکھی ہے۔ لیکن اگر خدا نے چاہا تو امید رکھتا ہوں کہ عنقریب اس کی اصلاح
ہو جائے گی۔
گورنمنٹ کی اعلیٰ حکام کی طرف سے ایسی کارروائیوں کا ہونا ضرور ہے جن سے مسلمانوں کے دلوں میں منقوش
ہو جائے کہ یہ سلطنت اسلام کے لئے درحقیقت چشمہ فیض ہے۔ (کم ازکم قادیانیوں کے حقوق میں چشمہ فیض بننا لازم
ہے کہ یہ جماعت سرکار کا خودکاشتہ پودا مانی جاتی ہے۔ للمؤلف)‘‘
(ریویو قادیان ج۱ نمبر۱۲ ص۴۹۵، بابت ماہ دسمبر ۱۹۰۲ء، اقتباس معروضہ جو مرزاغلام احمد قادیانی نے
حکومت میں پیش کیا)
(۲۲) جہاد حرام قطعاً حرام
’’گورنمنٹ کا یہ اپنا فرض ہے کہ اس فرقہ احمدیہ کی نسبت اپنے تئیں تردد اور شک میں نہ رکھے اور ہر ایک
حیلہ اور ہر ایک تدبیر سے اس کے اندرونی حالات دریافت کرے۔ بعض نادان کہتے ہیں کہ یہ باتیں محض گورنمنٹ کی
خوشامد کے لئے ہیں۔ مگر میں ان کو کس سے مشابہت دوں وہ اس اندھے سے مشابہ ہیں جو سورج کی گرمی محسوس کرتا ہے
اور ہزار شہادتیں سنتا ہے اور پھر سورج کے وجود سے انکار کرتا ہے۔ ظاہر ہے کہ جس حالت میں ہمارے امام
(مرزاقادیانی) نے ایک بڑا حصہ عمر کا جو بائیس برس ہیں اسی تعلیم میں گزارا ہے کہ جہاد حرام اور قطعاً حرام
ہے۔ یہاں تک کہ بہت سی عربی کتابیں بھی مضمون ممانعت جہاد لکھ کر ان کو بلاد اسلام، عرب، شام، کابل وغیرہ
میں تقسیم کیا ہے جن سے گورنمنٹ بے خبر نہیں ہے۔ (گورنمنٹ کیوں بے خبر ہوگی جب کہ خود اس کے منشاء پر کام
ہوا ہو۔ للمؤلف) تو کیا گمان ہوسکتا ہے کہ اتنا لمبا حصہ زندگی کا جس نے پیرانہ سالی تک پہنچا دیا وہ نفاق
میں بسر کیا ہے۔ (سرکار انگریزی سے توحد درجہ خلوص واخلاص رہا پھر نفاق کا شبہ کون کرسکتا ہے۔ للمؤلف)…
ہاں! آپ (مرزاقادیانی) نے ہمارے لئے یہ دروازہ کھول دیا ہے کہ ہم سچائی کو دلائل کے ساتھ پیش کریں اور
گورنمنٹ برطانیہ کی حکومت کو غنیمت سمجھیں کیونکہ کوئی دوسری اسلامی سلطنت اپنے مخالفانہ جوش کی وجہ سے کبھی
ہماری برداشت نہیں کرے گی۔‘‘
(ریویو آف ریلیجنز قادیان ج۱ نمبر۲ ص۴۰، بابت ماہ فروری ۱۹۰۲ء، مضمون ایڈیٹر رسالہ مولوی محمد علی
لاہوری)
413
(۲۳) حکومتوں کا فرق
’’ہمیں اس گورنمنٹ کے آنے سے وہ دینی فائدہ پہنچا کہ سلطان روم کے کارناموں میں اس کی تلاش کرنا عبث
ہے۔‘‘
(اشتہار مرزاقادیانی،مندرجہ تبلیغ رسالت ج۸ ص۵، مجموعہ اشتہارات ج۳ ص۹۵، جدید مجموعہ اشتہارات ج۲
ص۲۶۹)
’’بلکہ اس گورنمنٹ کے ہم پر اس قدر احسان ہیں کہ اگر ہم یہاں سے نکل جائیں تو نہ ہمارا مکہ میں گزارہ
ہوسکتا ہے اور نہ قسطنطنیہ میں تو پھر کس طرح سے ہوسکتا ہے کہ ہم اس کے برخلاف کوئی خیال اپنے دل میں
رکھیں۔‘‘
(ملفوظات احمدیہ ج۱ ص۴۶، احمدیہ انجمن اشاعت اسلام لاہور، ملفوظات ج۱ ص۳۱۲، جدید ملفوظات ج۲ ص۲۰۸)
’’میں اپنے کام کو نہ مکہ میں اچھی طرح چلا سکتا ہوں نہ مدینہ میں۔ نہ روم میں، نہ شام، نہ ایران میں
نہ کابل میں مگر اس گورنمنٹ میں جس کے اقبال کے لئے دعا کرتا ہوں۔ لہٰذا وہ اس الہام میں اشارہ فرماتا ہے کہ
اس گورنمنٹ کے اقبال اور شوکت میں تیرے وجود اور تیری دعا کا اثر ہے اور اس کی فتوحات تیرے سبب سے ہیں
کیونکہ جدھر تیرامنہ ادھر خدا کا منہ ہے۔‘‘
(اشتہار مرزاغلام احمد قادیانی، مندرجہ تبلیغ رسالت ج۶ ص۶۹، مجموعہ اشتہارات ج۲ ص۳۷۰،۳۷۱، جدید مجموعہ
اشتہارات ج۲ ص۶۹ حاشیہ)
’’میرا یہ دعویٰ ہے کہ تمام دنیا میں گورنمنٹ برطانیہ کی طرح کوئی دوسری ایسی گورنمنٹ نہیں جس نے زمین
پر ایسا امن قائم کیا ہو۔ میں سچ سچ کہتا ہوں کہ جو کچھ ہم پوری آزادی سے اس گورنمنٹ کے تحت میں اشاعت حق کر
سکتے ہیں۔ یہ خدمت ہم مکہ معظمہ یا مدینہ منورہ میں بیٹھ کر بھی ہرگز بجا نہیں لاسکتے۔ اگر یہ امن اور آزادی
اور بے تعصبی آنحضرت ﷺ کے ظہور کے وقت عرب میں ہوتی تو وہ لوگ ہرگز تلوار سے ہلاک نہ کئے جاتے۔ اگر یہ امن
اور آزادی اور بے تعصبی اس وقت کے قیصر اور کسریٰ کی گورنمنٹوں میں ہوتی تو وہ بادشاہتیں اب تک قائم
رہتیں۔‘‘
(ازالہ اوہام حصہ اوّل ص۵۴،۵۵، خزائن ج۳ ص۱۳۰ حاشیہ)
(۲۴) توجہ کی آرزو
’’بارہا بے اختیار دل میں یہ بھی خیال گزرتا ہے کہ جس گورنمنٹ کی اطاعت اور خدمت گزاری کی نیت سے ہم
نے کئی کتابیں مخالفت جہاد اور گورنمنٹ کی اطاعت میں لکھ کر دنیا میں شائع کیں اور کافر وغیرہ اپنے نام
رکھوائے اسی گورنمنٹ کو اب تک معلوم نہیں کہ ہم دن رات کیا خدمت کر رہے ہیں ہم نے قبول کیا کہ ہماری اردو کی
کتابیں جو ہندوستان میں شائع ہوئیں ان کے دیکھنے سے گورنمنٹ عالیہ کو یہ خیال گزرا ہوگا کہ ہماری خوشامد کے
لئے ایسی تحریریں لکھی گئی ہیں… لیکن یہ دانشمند گورنمنٹ ادنیٰ توجہ سے سمجھ سکتی ہے کہ عرب کے ملکوں میں جو
ہم نے ایسی کتابیں بھیجیں جن میں بڑے بڑے مضمون اس گورنمنٹ کی شکرگزاری اور جہاد کی مخالفت کے بارے میں تھے۔
ان میں گورنمنٹ کی خوشامد کا کون سا موقع تھا۔ کیا گورنمنٹ نے مجھ کو مجبور کیا تھا کہ میں ایسی کتابیں
تالیف کر کے ان ملکوں میں روانہ کروں اور ان سے گالیاں سنوں میں یقین رکھتا ہوں ایک دن یہ گورنمنٹ عالیہ
ضرور میری ان خدمات کا قدر کرے گی۔‘‘
(اشتہار مرزاغلام احمد قادیانی مؤرخہ ۱۸؍نومبر ۱۹۰۱ء، مندرجہ تبلیغ رسالت ج۱۰ ص۲۸، مجموعہ اشتہارات
ج۳ ص۴۴۵،۴۴۶، جدید مجموعہ اشتہارات ج۲ ص۵۳۵)
(۲۵) جشن جوبلی
’’ہم بڑی خوشی سے اس بات کو ظاہر کرتے ہیں کہ جناب ملکہ معظمہ قیصرہ ہند دام ظلہا کے جشن جوبلی کی
خوشی اور شکریہ کے ادا کرنے کے لئے میری جماعت کے اکثر احباب دور دور کی مسافت قطع کر کے ۱۹؍جون ۱۸۹۷ء کو ہی
قادیان میں تشریف لائے اور یہ سب
414
(۲۲۵) آدمی تھے اور اس جگہ کے ہمارے مرید اور مخلص بھی ان کے ساتھ شامل ہوئے جن سے ایک گروہ کثیر
ہوگیا اور وہ سب ۲۰؍جون ۱۸۹۷ء کو اس مبارک تقریب میں باہم مل کر دعا، اور شکرباری تعالیٰ میں مصروف ہوئے…
اسی تقریب پر ایک کتاب شکرگزاری جناب قیصرہ ہند کے لئے تالیف کر کے اور چھاپ کر اس کا نام تحفہ قیصریہ رکھا
گیا اور چند جلدیں اس کی نہایت خوبصورت مجلد کراکے ان میں سے ایک حضرت قیصرہ ہند کے حضور میں بھیجنے کے لئے
بخدمت صاحب ڈپٹی کمشنر بھیجی گئی اور ایک کتاب بحضور وائسرائے گورنر جنرل کشور ہند روانہ ہوئی اور ایک بحضور
جناب نواب لیفٹیننٹ گورنر پنجاب بھیج دی گئی۔ اب وہ دعائیں جو چھ زبانوں میں کی گئی ذیل میں لکھی جاتی ہیں
اور بعد اس کے ان تمام دوستوں کے نام درج کئے جائیں گے جو تکالیف سفر اٹھا کر اس جلسہ کے لئے قادیان میں
تشریف لائے۔‘‘
(اعلان مرزاغلام احمد قادیانی، مندرجہ تبلیغ رسالت ج۶ ص۱۲۸تا۱۳۰، مجموعہ اشتہارات ج۲ ص۴۲۵تا۴۲۷، جدید
مجموعہ اشتہارات ج۲ ص۱۱۳تا۱۱۵)
(۲۶) جواب کی استدعا
’’اعلیٰ درجہ کا اخلاص اور محبت اور جوش اطاعت حضور ملکہ معظمہ اور اس کے معزز افسروں کی نسبت حاصل ہے
جو میں ایسے الفاظ نہیں پاتا جن میں اس اخلاص کا اندازہ بیان کر سکوں۔ اس سچی محبت اور اخلاص کی تحریک سے
جشن شصت سالہ جوبلی کی تقریب پر میں نے ایک رسالہ حضرت قیصرہ ہند دام اقبالہا کے نام سے تالیف کر کے اور اس
کا نام تحفہ قیصریہ رکھ کر جناب ممدوحہ کی خدمت میں بطور درویشانہ تحفہ کے ارسال کیا تھا اور مجھے قوی یقین
تھا کہ اس کے جواب سے مجھے عزت دی جائے گی اور امید سے بڑھ کر میری سرفرازی کا موجب ہوگا… مگر مجھے نہایت
تعجب ہے کہ ایک کلمہ شاہانہ سے بھی میں ممنون نہیں کیاگیا اور میرا کاشنس ہرگز اس بات کو قبول نہیں کرتا کہ
وہ ہدیہ عاجزانہ یعنی رسالہ تحفہ قیصریہ حضور ملکہ معظمہ پیش ہوا ہو اور پھر میں اس کے جواب سے ممنون نہ کیا
جاؤں۔ یقینا کوئی اور باعث ہے جس میں جناب ملکہ معظمہ قیصرہ ہند دام اقبالہا کے ارادہ اور مرضی اور علم کو
کچھ دخل نہیں لہٰذا اس حسن ظن نے جو میں نے حضور ملکہ معظمہ دام اقبالہا کی خدمت میں رکھتا ہوں دوبارہ مجھے
مجبور کیا کہ میں اس تحفہ یعنی رسالہ قیصریہ کی طرف جناب ممدوحہ کو توجہ دلاؤں اور شاہانہ منظوری کے چند
الفاط سے خوشی حاصل کروں۔ اسی غرض سے یہ عریضہ روانہ کرتاہوں۔‘‘
(ستارہ قیصرہ ص۱،۲، خزائن ج۱۵ ص۱۱۲)
’’میں (یعنی مرزاقادیانی) نے تحفہ قیصریہ میں جو حضور قیصرہند کی خدمت میں بھیجا گیا یہی حالات اور
خدمات اور دعوات گزارش کئے تھے اور میں اپنی جناب ملکہ معظمہ کے اخلاق وسیعہ پر نظر رکھ کر ہرروز جواب کا
امیدوار تھا اور اب بھی ہوں۔ میرے خیال میں یہ غیرممکن ہے کہ میرے جیسے دعاگو کا وہ عاجزانہ تحفہ جو بوجہ
کمال اخلاص خون دل سے لکھا گیا تھا اگر وہ حضور ملکہ معظمہ قیصرہ ہند دام اقبالہا کی خدمت میں پیش ہوتا تو
اس کا جواب نہ آتا بلکہ ضرور آتا ضرور آتا۔ اس لئے مجھے بوجہ اس یقین کے کہ جناب قیصرہ ہند کے پر رحمت اخلاق
پر کمال وثوق سے حاصل ہے۔ اس یاددہانی کے عریضہ کو لکھنا پڑا اور اس عریضہ کو نہ صرف میرے ہاتھوں نے لکھا ہے
بلکہ میرے دل نے یقین کا بھرا ہوا زور ڈال کر ہاتھوں کو اس پر ارادت خط کے لکھنے کے لئے چلایا ہے۔ میں دعا
کرتاہوں کہ خیروعافیت اور خوشی کے وقت میں خداتعالیٰ اس خط کو حضور قیصرہ ہند دام اقبالہا کی خدمت میں
پہنچاوے اور پھر جناب ممدوحہ کے دل میں الہام کرے کہ وہ اس سچی محبت اور سچے اخلاص کو جو حضرت موصوفہ کی
نسبت میرے دل میں ہے اپنی پاک فراست سے شناخت کر لیں اور رعیت پروری کے رو سے مجھے پررحمت جواب سے ممنون
فرماویں۔‘‘
(ستارہ قیصریہ ص۴، خزائن ج۱۵ ص۱۱۵)
415
(۲۷) مگر افسوس
’’میں اٹھارہ برس سے ایسی کتابوں کی تالیف میں مشغول ہوں کہ جو مسلمانوں کے دلوں کو گورنمنٹ انگلشیہ
کی محبت اور اطاعت کی طرف مائل کر رہے ہیں گو اکثر جاہل مولوی ہماری اس طرز اور رفتار اور ان خیالات سے سخت
ناراض ہیں اور اندر ہی اندر جلتے اور دانت پیستے ہیں مگر میں جانتا ہوں کہ وہ اسلام کی اس اخلاقی تعلیم سے
بھی بے خبر ہیں جس میں یہ لکھا ہے کہ جو شخص انسان کا شکر نہ کرے وہ خدا کا شکر بھی نہیں کرتا۔ یعنی اپنے
محسن کا شکر کرنا ایسا فرض ہے جیسا کہ خدا کا۔
یہ تو ہمارا عقیدہ ہے۔ مگر افسوس کہ مجھے معلوم ہوتا ہے کہ اس لمبے سلسلہ اٹھارہ برس کی تالیفات کو جن
میں بہت سی پرزور تقریریں اطاعت گورنمنٹ کے بارے میں ہیں۔ کبھی ہماری گورنمنٹ محسنہ نے توجہ سے نہیں دیکھا
اور کئی مرتبہ میں نے یاد دلایا مگر اس کا اثر محسوس نہیں ہوا۔ لہٰذا میں پھر یاد دلاتا ہوں کہ مفصلہ ذیل
کتابوں اور اشتہاروں کو توجہ سے دیکھا جائے اور وہ مقامات پڑھے جائیں جن کے نمبر صفحات میں نے ذیل میں لکھ
دئیے ہیں۔ (اس کے ذیل میں ۱۸۸۲ء لغایت ۱۸۹۴ء کل ۲۴کتابوں اور اشتہاروں کا حوالہ درج ہے۔ ص۱۲ للمؤلف) ان
کتابوں کے دیکھنے کے بعد ہر ایک شخص اس نتیجہ تک پہنچ سکتا ہے کہ جو شخص برابر اٹھارہ برس سے ایسے جوش سے کہ
جس سے زیادہ ممکن نہیں گورنمنٹ انگلشیہ کی تائید میں ایسے پرزور مضمون لکھ رہا ہے اور ان مضمونوں کو نہ صرف
انگریزی عملداری میں بلکہ دوسرے ممالک میں بھی شائع کر رہا ہے کیا اس کے حق میں یہ گمان ہوسکتا ہے کہ وہ اس
گورنمنٹ محسنہ کا خیرخواہ نہیں۔ گورنمنٹ متوجہ ہو کر سوچے کہ یہ مسلسل کارروائی جو مسلمانوں کو اطاعت
گورنمنٹ برطانیہ پر آمادہ کرنے کے لئے برابر اٹھارہ برس سے ہورہی ہے اور غیرملکوں کے لوگوں کو بھی آگاہ کیا
گیا ہے کہ ہم کیسے آمن اور آزادی سے زیرسایہ گورنمنٹ برطانیہ زندگی بسر کرتے ہیں۔ یہ کارروائی کیوں اور کس
غرض سے ہے اور غیرملک کے لوگوں تک ایسی کتابیں اور ایسے اشتہارات کے پہنچانے سے کیا مدعا تھا؟ (ع۔گراس پر
بھی نہ سمجھے وہ تو اس بت کو خدا سمجھے۔ للمؤلف)‘‘
(درخواست بحضور نواب لیفٹیننٹ گورنر بہادر اقبالہ منجانب خاکسار مرزاغلام احمد قادیان مؤرخہ ۲۴؍فروری
۱۸۹۸ء، مندرجہ تبلیغ رسالت ج۷ ص۱۱تا۱۳، مجموعہ اشتہارات ج۳ ص۱۲تا۱۴، جدید مجموعہ اشتہارات ج۲ ص۱۹۱تا۱۹۳،
ملحقہ کتاب البریہ ص۵تا۷، خزائن ج۱۳ ص۳۴۱تا۳۴۳)
(۲۸) شدت تمنا
’’(۱)قیصرہند کی طرف سے شکریہ (تشریح) یہ الہام متشابہات میں سے ہے اور یہ ایسا لفظ ہے کہ حیرت میں
ڈالتا ہے۔ کیونکہ میں ایک گوشہ نشین آدمی ہوں اور ہر ایک قابل پسند خدمت سے عاری قبل ازموت اپنے تئیں مردہ
سمجھتا ہوں۔ میرا شکریہ کیسا۔‘‘
(البشریٰ ج۲ ص۵۷، ضمیمہ تریاق القلوب نمبر۴ ص۲، خزائن ج۱۵ ص۵۰۴ حاشیہ، مجموعہ الہامات مرزاغلام
احمدقادیانی تذکرہ ص۳۴۱ طبع چہارم)
’’(۲)مبشروں کا زوال نہیں ہوتا۔ گورنر جنرل کی پیش گوئیوں کے پورا ہونے کا وقت آگیا۔‘‘
(البشریٰ ج۲ ص۵۷، مندرجہ اخبار الحکم قادیان ج۳ نمبر۴۰ ص۶ کالم۲، مؤرخہ ۴؍اکتوبر ۱۸۹۹ء، مجموعہ
الہامات مرزاغلام احمد قادیانی، تذکرہ ص۳۴۲ طبع چہارم)
(۲۹) تبلیغی معروضہ
’’اے ملکہ معظمہ قیصرہ ہند ہم (مرزاقادیانی اور قادیانی صاحبان۔ للمؤلف) عاجزانہ ادب کے ساتھ تیری
حضور میں کھڑے ہوکر عرض کرتے ہیں کہ تو اس خوشی کے وقت میں جو شصت سالہ جوبلی کا وقت ہے یسوع کے چھوڑنے کے
لئے کوشش کر۔‘‘
(تحفہ قیصریہ ص۲۵، خزائن ج۱۲ ص۲۷۷)
416
(۳۰) دعاء
’’اب میں اس دعا پر ختم کرتا ہوں کہ خداتعالیٰ ہماری محسنہ ملکہ معظمہ قیصرہ ہند کو عمردراز کر کے ہر
ایک اقبال سے بہرہ ور کرے اور وہ تمام دعائیں جو میں نے اپنے رسالہ ستارہ قیصرہ اور تحفہ قیصریہ میں ملکہ
موصوفہ کو دی ہیں قبول فرماوے اور میں امید رکھتا ہوں کہ گورنمنٹ محسنہ اس کے جواب سے مجھے مشرف فرماوے گی۔
والدعا۔‘‘
(حضور گورنمنٹ عالیہ میں ایک عاجزانہ درخواست عریضہ خاکسار غلام احمد از قادیان، ۲۷؍ستمبر ۱۸۹۹ء،
تبلیغ رسالت ج۸ ص۶۱، مجموعہ اشتہارات ج۳ ص۱۵۰، جدید مجموعہ اشتہارات ج۲ ص۳۶۲، تریاق القلوب ص (ص)، خزائن ج۱۵
ص۵۰۰)
(۳۱) سیاسی خلوت
’’ایک دفعہ صوبہ کے بڑے افسر سے حضور (مرزاقادیانی) ملنے کے لئے تشریف لے گئے۔ یوں تو آپ کسی کے پاس
نہ جایا کرتے تھے لیکن انہیں اپنا مہمان سمجھ کر چلے گئے۔ ان دنوں گورنمنٹ کا یہ خیال تھا کہ مسلم لیگ سے
گورنمنٹ کو فائدہ پہنچے گا۔ ان افسر صاحب نے حضرت (مرزاقادیانی) سے پوچھا کہ آپ کا مسلم لیگ کے متعلق کیا
خیال ہے۔ آپ نے فرمایا کہ میں اسے نہیں جانتا۔ خواجہ (کمال الدین) چونکہ اس کے ممبر تھے۔ انہوں نے اس کے
حالات عجیب پیرائے میں آپ کو بتائے۔ فرمایا کہ میں پسند نہیں کرتا کہ لوگ سیاست میں دخل دیں۔ صاحب بہادر نے
کہا کہ مرزاصاحب مسلم لیگ کوئی بری چیز نہیں ہے بلکہ بہت مفید ہے۔ آپ نے فرمایا بری کیوں نہیں ایک دن یہ بھی
بڑھتے بڑھتے بڑھ جائے گی۔ صاحب بہادر نے کہا مرزاصاحب شاید آپ نے کانگریس کا خیال کیا ہوگا۔ لیگ کا حال
کانگریس کی طرح نہیں۔ کیونکہ کسی کام کی جیسی بنیاد رکھی جاتی ہے ویسا ہی اس کا نتیجہ نکلتا ہے۔ کانگریس کی
بنیاد چونکہ خراب رکھی گئی تھی اس لئے وہ مضر ثابت ہوئی۔ لیکن مسلم لیگ کے تو ایسے قواعد بنائے گئے ہیں کہ
اس میں باغیانہ عنصر پیدا ہی نہیں ہوسکتا۔ حضرت صاحب نے فرمایا آج آپ کا یہ خیال ہے تھوڑے دنوں کے بعد لیگ
بھی وہی کام کرے گی جو آج کانگریس کر رہی ہے۔‘‘
(خلیفہ قادیان کی ۲۷؍دسمبر ۱۹۱۴ء ۲والی تقریر، مندرجہ ریویو قادیان بابت ماہ جنوری ۱۹۲۰ء، منقول از
برکات خلافت ص۵۶،۵۷، انوارالعلوم ج۲ ص۱۹۷)
(۳۲) تاکیدی نصیحت
’’چونکہ میں دیکھتا ہوں کہ ان دنوں میں بعض جاہل اور شریر لوگ اکثر ہندوؤں میں سے اور کچھ مسلمانوں
میں سے گورنمنٹ کے مقابل پر ایسی ایسی حرکتیں ظاہر کرتے ہیں جن سے بغاوت کی بو آتی ہے۔ بلکہ مجھے شک ہوتا ہے
کہ کسی وقت باغیانہ رنگ ان کی طبائع میں پیدا ہو جائے گا۔ اس لئے میں اپنی جماعت کے لوگوں کو جو مختلف
مقامات پنجاب اور ہندوستان میں موجود ہیں جو بفضلہ تعالیٰ کئی لاکھ تک ان کا شمار پہنچ گیا ہے نہایت تاکید
سے نصیحت کرتا ہوں کہ وہ میری اس تعلیم کو خوب یاد رکھیں جو قریباً ۲۶برس سے تقریری اور تحریری طور پر ان کے
ذہن نشین کرتا آیا ہوں۔ یعنی یہ کہ اس گورنمنٹ انگریزی کی پوری اطاعت کریں۔ کیونکہ وہ ہماری محسن گورنمنٹ
ہے۔ ان کے ظل حمایت میں ہمارا فرقہ احمدیہ چند سال میں لاکھوں تک پہنچ گیا ہے اور اس گورنمنٹ کا احسان ہے کہ
اس کے زیرسایہ ہم ظالموں کے پنجہ سے محفوظ ہیں۔‘‘
(مرزاقادیانی کی جماعت کے لئے ضروری نصیحت، ۷؍مئی ۱۹۰۷ء، تبلیغ رسالت ج۱۰ ص۱۲۲، مجموعہ اشتہارات ج۳
ص۵۸۲،۵۸۳، جدید ج۲ ص۷۰۸)
(۳۳) بے نظیر خیرخواہی
’’میرے اس دعوے پر کہ میں گورنمنٹ برطانیہ کا سچا خیرخواہ ہوں دو ایسے شاہد ہیں کہ اگر سول ملٹری ایسا
لاکھ پرچہ بھی ان کے
417
مقابلہ پر کھڑا ہو تب بھی وہ دروغ گو ثابت ہوگا۔ اوّل یہ کہ علاوہ اپنے والد مرحوم کی خدمت کے میں
سولہ برس سے برابر اپنی تالیفات میں اس بات پر زور دے رہا ہوں کہ مسلمانان ہند پر اطاعت گورنمنٹ برطانیہ فرض
اور جہاد حرام ہے۔ دوسری یہ کہ میں نے کئی کتابیں عربی، فارسی تالیف کر کے غیرملکوں میں بھیجی ہیں جن میں
برابر یہی تاکید اور یہی مضمون ہے۔ پس اگر کوئی نااندیش یہ خیال کرے کہ سولہ برس کی کارروائی میری کسی نفاق
پر مبنی ہے تو اس بات کا اس کے پاس کیا جواب ہے کہ جو کتابیں عربی وفارسی روم اور شام اور مصر اور مکہ اور
مدینہ وغیرہ ممالک میں بھیجی گئیں اور ان میں نہایت تاکید سے گورنمنٹ انگریزی کی خوبیاں کی گئی ہیں وہ
کارروائی کیونکر نفاق پر محمول ہوسکتی ہے۔ کیا ان ملکوں کے باشندے سے بجز کافر کہنے کے کسی اور انعام کی
توقع تھی۔ کیا سول ملٹری گزٹ کے پاس کسی ایسے خیرخواہ گورنمنٹ کی کوئی اور بھی نظیر ہے۔ اگر ہے تو پیش کرے
لیکن میں دعویٰ سے کہتا ہوں کہ جس قدر میں نے کارروائی گورنمنٹ کی خیرخواہی کے لئے کی ہے اس کی نظیر نہیں
ملے گی۔‘‘
(اشتہار لائق توجہ گورنمنٹ جو جناب ملکہ معظمہ قیصرہ ہند اور جناب گورنر جنرل ہند اور لیفٹیننٹ گورنر
پنجاب اور دیگر معزز حکام منجانب خاکسار غلام احمد قادیانی مؤرخہ ۱۰؍دسمبر ۱۸۹۴ء، تبلیغ رسالت ج۳ ص۱۹۷،
مجموعہ اشتہارات ج۲ ص۱۲۸،۱۲۹، جدید مجموعہ اشتہارات ج۱ ص۴۶۲)
(۳۴) ہماری پرورش
’’اگر انگریزی سلطنت کی تلوار کا خوف نہ ہوتا تو ہمیں ٹکڑے ٹکڑے کر دیتے۔ لیکن یہ دولت برطانیہ غالب
اور باسیاست جو ہمارے لئے مبارک ہے خدا اس کو ہماری طرف سے جزائے خیر دے۔ کمزوروں کو اپنی مہربانی اور شفقت
کے بازو کے نیچے پناہ دیتی ہے۔ پس ایک کمزور پر زبردست کچھ تعدی نہیں کر سکتا ہم اس سلطنت کے سایہ کے نیچے
بڑے آرام اور امن سے زندگی بسر کر رہے ہیں اور شکرگزار ہیں اور یہ خدا کا فضل ہے اور احسان ہے کہ اسے ہمیں
کسی ایسے ظالم بادشاہ کے حوالے نہیں کیا جو ہمیں پیروں کے نیچے کچل ڈالتا اور کچھ رحم نہ کرتا بلکہ اس نے
ہمیں ایک ایسی ملکہ عطاء کی ہے، جو ہم پر رحم کرتی ہے اور احسان کی بارش سے اور مہربانی کے مینہ سے ہماری
پرورش فرماتی ہے اور ہمیں ذلت اور کمزوری کی پستی سے اوپر کی طرف اٹھاتی ہے۔ سو خدا اس کو وہ جزائے خیردے جو
ایک عادل بادشاہ کو اس کی رعیت پروری کی وجہ سے ملتی ہے۔‘‘
(نورالحق حصہ اوّل ص۴، خزائن ج۸ ص۶)
(۳۵) حرز سلطنت
’’اطلاع: براہین احمدیہ کے ص۲۴۱ میں ایک پیش گوئی گورنمنٹ برطانیہ کے متعلق ہے اور وہ یہ ہے کہ:’’وما کان اللہ لیعذبہم وانت فیہم اینما تولوا فثم وجہ اللہ ‘‘ یعنی خدا ایسا نہیں ہے کہ
اس گورنمنٹ کو کچھ تکالیف پہنچائے۔ حالانکہ تو ان کی عملداری میں رہتا ہو۔ جدھر تیرا منہ خدا کا اسی طرف منہ
ہے۔ چونکہ خداتعالیٰ جانتا تھا کہ مجھے اس گورنمنٹ کی پرامن سلطنت اور ظل حمایت میں دل خوش ہے اور اس کے لئے
میں دعا میں مشغول ہوں کیونکہ میں اپنے اس کام کو نہ مکہ میں اچھی طرح چلا سکتا ہوں نہ مدینہ میں، نہ روم
میں نہ شام میں، نہ ایران میں نہ کابل میں۔ مگر اس گورنمنٹ میں جس کے اقبال کے لئے دعا کرتا ہوں لہٰذا وہ اس
الہام میں اشارہ فرماتا ہے کہ اس گورنمنٹ کے اقبال اور شوکت میں تیرے وجود اور تیری دعا کا اثر ہے اور اس کی
فتوحات تیرے سبب سے ہیں۔ کیونکہ جدھر تیرا منہ ادھر خدا کا منہ۔ اب گورنمنٹ شہادت دے سکتی ہے کہ اس کو میرے
زمانہ میں کیا کیا فتوحات نصیب ہوئیں۔ یہ الہام سترہ برس کا ہے۔ کیا یہ انسان کا فعل ہوسکتا ہے غرض میں
گورنمنٹ کے لئے بمنزلہ حرز سلطنت ہوں۔‘‘
(عریضہ بعالی خدمت گورنمنٹ عالیہ انگریزی منجانب مرزاقادیانی، تبلیغ رسالت ج۶ ص۶۹، مجموعہ اشتہارات ج۲
ص۳۷۰،۳۷۱، جدید ج۲ ص۶۹ حاشیہ)
418
(۳۶) سرکاری تصدیق
’’خاکسار عرض کرتا ہے کہ کتاب پنجاب چیفس یعنی تذکرہ روسائے پنجاب میں جسے اوّلاً سرلیپل گریفن نے
زیرہدایت پنجاب گورنمنٹ تالیف کرنا شروع کیا اور بعد میں مسٹر میسی اور مسٹر کریک نے (جواب بوقت ایڈیشن ثانی
کتاب ہذا سرہنری کریک کی صورت میں گورنمنٹ آف انڈیا کے ہوم ممبر ہیں) علی الترتیب گورنمنٹ پنجاب کے حکم سے
اسے مکمل کیا اور اس پر نظرثانی کی۔ ہمارے خاندان کے متعلق مندرجہ ذیل نوٹ درج ہے۔‘‘
(سیرت المہدی حصہ اوّل ص۱۱۰، روایت نمبر۱۲۹، جدید ج۱ حصہ اوّل ص۱۱۷، روایت نمبر۱۳۲)
’’اس جگہ یہ بیان کرنا ضروری ہے کہ مرزاغلام احمد جو غلام مرتضیٰ کا چھوٹا بیٹا تھا۔ مسلمانوں کے ایک
بڑے مشہور مذہبی سلسلہ کا بانی ہوا جو احمدیہ سلسلہ کے نام سے مشہور ہے۔ مرزاغلام احمد ۱۸۳۹ء میں پیدا ہوا
تھا اور اس کو بہت اچھی تعلیم ملی۔ ۱۸۹۱ء میں اس نے بموجب مذہب اسلام مہدی یا مسیح موعود ہونے کا دعویٰ کیا۔
چونکہ مرزا ایک قابل مذہبی عالم اور مناظر تھا۔ اس لئے جلد ہی بہت سے لوگوں کو اس نے اپنا معتقد بنالیا اور
اب احمدیہ جماعت کی تعداد پنجاب اور ہندوستان کے دوسرے حصوں میں تین لاکھ کے قریب بیان کی جاتی ہے۔ (حالانکہ
مدتوں بعد ۱۹۳۰ء کی تازہ ترین مردم شماری میں خاص اپنے مرکز پنجاب میں قادیانیوں کی تعداد ۵۵ہزار نکلی اور
خود قادیانی صاحبان بقیہ ہندوستان میں اپنی تعداد بیس ہزار تخمینہ کرتے ہیں۔ اس طرح بھی مجموعی تعداد کل
ہندوستان میں زیادہ سے زیادہ ۷۵ ہزار بنتی ہے اور یہ پچاس برس کی کوشش کا ماحصل ہے۔ للمؤلف) مرزا عربی،
فارسی اور اردو کی بہت سی کتابوں کا مصنف تھا جس میں اس نے مسئلہ جہاد کی تردید کی اور یقین کیا جاتا ہے کہ
ان کتابوں نے مسلمانوں پر متعدبہ اثر کیا ہے۔‘‘
(سیرت المہدی حصہ اوّل ص۱۱۷، روایت نمبر۱۳۱، جدید ج۱ حصہ اوّل ص۱۲۳، روایت نمبر۱۳۴)
(۳۷) مرزاقادیانی کی چٹھیاں
’’اسی طرح مختلف مواقع پر حضرت (مرزاقادیانی) نے (گورنمنٹ کو) چٹھیاں لکھیں ہیں مثلاً جنگ ٹرانسوال کے
موقعہ پر، جوبلی کے موقعہ پر، طاعون کے پھیلنے پر، جن میں گورنمنٹ کی وفاداری اور اس کے کام میں مدد دینے کی
خواہش ظاہر کی ہے۔‘‘
(ارشاد مرزامحمود خلیفہ قادیان، الفضل قادیان ج۲ نمبر۱۰۷ ص۴، مؤرخہ ۲۱؍فروری ۱۹۱۵ء)
(۳۸) فنانشل کمشنر صاحب کی آؤ بھگت
’’جب فنانشل کمشنر صاحب بہادر دورہ پر قادیان تشریف لائے تھے تو آپ (مرزاقادیانی) نے اس خبر کو سن کر
تمام جماعت کے ذی حیثیت آدمیوں کو خطوط لکھ کر قادیان بلوایا اور ان کے قادیان آنے سے پہلے زمین مدرسہ میں
ایک بڑا دروازہ لگوایا گیا تھا اور ان کے خیمہ تک ایک عارضی سڑک بنادی گئی تھی اور جس وقت ان کی آمد کی امید
تھی تمام جماعت کو جس میں حضرت خلیفہ المسیح خلیفہ اوّل (حکیم نورالدین) اور مولوی محمد علی صاحب بھی شامل
تھے، حکم دیا تھا کہ اس دروازہ کے دونوں طرف دورویہ کھڑے رہیں اور پھر مجھے اپنا قائم مقام کر کے آپ کے
استقبال کے لئے آگے بھیجا تھا اور خواجہ کمال الدین صاحب کو میرے ساتھ کیا تھا کہ جہاں آپ ملیں ان سے یہ بھی
عرض کر دیں کہ میں بسبب ضعف اور بڑھاپے کے آگے نہیں آسکتا۔ اس لئے اپنے بڑے بیٹے کو آپ کے استقبال کے لئے
بھیجتا ہوں جس پر اس وقت چہ میگوئیاں بھی ہوئی تھیں کہ آپ نے بڑا بیٹا کیوں فرمایا۔ غرض کہ خواجہ صاحب میرے
ساتھ گئے تھے اور قادیان سے ایک میل کے فاصلہ پر جناب فنانشل کمشنر صاحب سے ملاقات ہوئی تھی اور پھر ہم سب
ان کے ساتھ ہی ان کے مقام تک آئے تھے۔ جہاں دروازہ پر تمام جماعت دورویہ کھڑی تھی اور بڑے بڑے آدمیوں کو آپ
کے سامنے پیش کیاگیا تھا پھر دوسرے دن خود حضرت مسیح موعود آپ سے ملنے کے
419
لئے تشریف لے گئے تھے… پس پہلے آپ حضرت مسیح موعود پر اعتراض کریں کہ اظہار وفاداری تو ہم سب کا شعار
ہے اور احمدی جماعت کی وفاداری ایک مسلمہ امر ہے۔‘‘
(ارشاد مرزامحمود خلیفہ قادیان، الفضل قادیان ج۲ نمبر۱۰۷ ص۳،۴، مؤرخہ ۲۱؍فروری ۱۹۱۵ء)
’’۱۹۰۸ء میں اس خاکسار کو تکمیل تعلیم کے لئے لاہور جانا پڑا۔ اسی سال فنانشل کمشنر سرجیمس ولسن اپنے
دورے کے موقع پر قادیان آئے اور قادیان میں اپنا مقام رکھا۔ حضرت مسیح موعود کی طرف سے بہت سی جماعتوں میں
چٹھیاں لکھی گئیں کہ دوست اس موقع پر قادیان آئیں۔ چنانچہ پنجاب اور ہندوستان کی بہت سی جماعتوں سے کئی سو
کی تعداد میں احباب قادیان پہنچے۔ خاکسار کو بھی اس موقع پر حاضر ہونے کا موقع ملا۔ حضرت مسیح موعود کی
ہدایت کے ماتحت سب احباب نے کمشنر صاحب کا استقبال کیا۔ کمشنر صاحب نے حضور (مرزاقادیانی) سے ملاقات بھی
فرمائی۔ حضور نے ان کو دعوت طعام بھی دی۔ (اس تقریب سے مرزاقادیانی اور ان کی جماعت کی خوشامد گری اور احساس
کمتری بخوبی ظاہر ہوتی ہے کہ دیوتا کی طرح انگریز کی پوجا ہوتی تھی اور اس میں شک نہیں کہ یہ پوجا ابتداء
میں قادیانیوں کے بہت کام آئی۔ للمؤلف)‘‘
(روایات قادیانی، الفضل قادیان ج۳۴ نمبر۱۸۰ ص۳ کالم۱، مؤرخہ ۲؍اگست ۱۹۴۶ء)
’’دارالفتوح (ریتی چھلہ) کے بڑوالے میدان میں پہلے طلباء کی قطاریں تھیں جن کے ساتھ ان کے اساتذہ اور
ہیڈ ماسٹر صاحب تھے۔ دروازہ کے پاس جماعت احمدیہ کے مقامی اور بیرون جات کے شرفاء اور معززین کھڑے تھے مگر
اس موقع پر بھی سیدنا حضرت اقدس مسیح موعود موجود نہ تھے۔ گیارہ بجے کے قریب صاحب بہادر اپنے کیمپ پر پہنچے
اور صاحب بہادر کی خواہش پر عصر کے بعد حضور نے اپنے معزز مہمان کو شرف ملاقات بخشا تھا۔ حضور جب تشریف لے
گئے تو صاحب بہادر نے خیمہ کے دروازے پر حضور کا استقبال کیا اور حضور کی واپسی پر بھی خیمہ سے باہر تک حضور
کو رخصت کرنے آئے۔ ان واقعات کا میں بھی چشم دید گواہ ہوں۔‘‘
(عبدالرحمان قادیانی کا بیان، الفضل قادیان ج۳۴ نمبر۲۷، مؤرخہ ۴؍فروری ۱۹۴۱ء)
(مندرجہ بالا ادوار جو بغرض تصحیح روایت لکھی گئی اس سے بھی صاف ظاہر ہے کہ مرزاقادیانی جو انگریزوں
کی آؤ بھگت، خوشامد کی حد تک کرتے تھے، اس سے خود قادیانی لوگ بھی خفت محسوس کرنے لگے اور لامحالہ انہوں نے
ترمیم اور تاویل کا راستہ نکالا۔ مگر خود ترمیم اور تاویل سے بھی وہی خفت ظاہرہوتی ہے جس کا چھپانا مقصود
ہے۔ للمؤلف)
(۳۹) فخر اور شرم
’’حضرت مسیح موعود نے فخریہ لکھا ہے کہ میری کوئی کتاب ایسی نہیں جس میں، میں نے گورنمنٹ کی تائید نہ
کی ہو۔ مگر مجھے افسوس ہے کہ میں نے غیروں سے نہیں بلکہ احمدیوں کو یہ کہتے سنا ہے۔ میں انہیں احمدی ہی کہوں
گا کیونکہ نابینا بھی آخر انسان ہی کہلاتا ہے کہ ہمیں مسیح موعود کی ایسی تحریریں پڑھ کر شرم آجاتی ہے۔
انہیں شرم کیوں آتی ہے۔ اس لئے کہ ان کی اندر کی آنکھ نہیں کھلی۔‘‘
(خطبہ جمعہ خلیفہ قادیان مندرجہ الفضل قادیان ج۲۰ نمبر۳، مؤرخہ ۷؍جولائی ۱۹۳۲ء، خطبات محمود ج۱۳
ص۵۰۰)
(۴۰) پرانا اعتراض
’’ہمارے مخالفوں کا یہ ایک پرانا اعتراض ہے جو وہ حضرت مسیح موعود کے خلاف پیش کرتے رہے ہیں کہ آپ
نعوذ باللہ گورنمنٹ کے خوشامدی تھے اور اس وقت ہم سے جدا ہونے والا احمدیوں کا گروہ بھی ہم پر یہ اعتراض کرتا
ہے کہ تم گورنمنٹ برطانیہ کے خوشامدی ہو… اسی طرح غیراحمدی بھی اعتراض کرتے ہیں۔ حضرت مسیح موعود نے نہ ان
اعتراضوں کی پروا کی اور نہ ہم پروا کرتے ہیں۔‘‘
(الفضل قادیان ج۳ نمبر۵۱ ص۳ کالم۱، مؤرخہ ۱۹؍اکتوبر ۱۹۱۵ء)
420
فصل بارہویں
سیاسیات، دورِ ثانی
(۱) پولٹیکل مرکز
’’اب تو قادیان، ہاں وہ قادیان جہاں سے کبھی علوم دینیہ کے چشمے پھوٹتے تھے۔ ایک اچھا خاصہ پولٹیکل
مرکز بن چکا ہے۔ ہندوستان کے ہر حصہ کے لوگوں سے وہاں پولٹیکل امور کے متعلق خط وکتابت ہوتی رہتی ہے۔ لوگ
وہاں آتے ہیں تو کوئی دین سیکھنے کے لئے نہیں بلکہ محض سیاسی امور کے متعلق جناب خلافت مآب سے مشورہ لینے
اور ان سے گفتگو کرنے کے لئے۔ صرف ہندوستان کے لوگ ہی نہیں بلکہ بہت سے دیگر ممالک (افغانستان وغیرہ) سے بھی
لوگ اسی غرض کو لے کر آتے ہیں۔ حالانکہ ہندوستان کے پولٹیکل معاملات ان سے بالکل علیحدہ ہیں لیکن میاں صاحب
ہیںکہ برطانوی حکومت کے مفاد کو مدنظر نہ رکھتے ہوئے ان لوگوں سے ان باہر کے آئے ہوئے لوگوں کے ساتھ ان
پولٹیکل معاملات پر گفتگو کرتے ہیں۔ ان سے خط وکتابت جاری رکھتے ہیں اور لوگ چل کر ان سے ملنے آتے ہیں تاکہ
قادیان کے اندر بیٹھ کر ان سے ان معاملات پر بات چیت کریں۔ کیا ان حالات، ان خودفرمودہ واقعات کے ہوتے ہوئے
یہ کہنا بعید از انصاف ہوگا کہ دین کی آڑ میں میاں (مرزامحمود) جو کچھ کرتے ہیں وہ بڑے بڑے پولٹیکل سازشیوں
سے بھی ناممکن ہے… تعجب ہے کہ خود خلافت مآب پولٹیکل امور میں اس قدر سرگرم ہوں کہ ہر وقت ہر چہار حصص
ہندوستان بلکہ بیرونی ممالک (افغانستان وغیرہ) سے بھی ملکی امور پر ان کی خط وکتابت ہوتی رہتی ہو۔ لوگ ان کے
پاس ملکی مشورہ کرنے کے لئے آئیں اور قادیان کو دین سے تواب خیر چنداں واسطہ ہی نہیں ایک اچھا خاصہ پولٹیکل
مرکز بنایا جائے۔‘‘
(پیغام صلح ج۵ نمبر۴۳ ص۲ کالم۲، مؤرخہ ۵؍دسمبر ۱۹۱۷ء)
(۲) سیاسیات ہی سیاسیات
’’سیاسی مسائل میں ان لوگوں (قادیانی صاحبان) کا انہماک یہاں تک ترقی کرچکا ہے کہ اب قادیان میں بھی
بقول میاں (مرزامحمود) اگر کوئی بات چیت ہوتی ہے تو وہ سیاسی مسائل پر ہی ہوتی ہے۔ باہر سے خط وکتابت بھی سب
کی سب مسائل سیاسیہ ہی کے متعلق کی جاتی ہے۔ قادیان آنے والے لوگ بھی ان ہی مسائل سیاسی میں ہی غوروفکر کرنے
کے لئے آتے اور میاں صاحب کے آگے زانوئے ادب تہ کرتے ہیں۔ غرض جو کچھ ہوتا ہے محض سیاست ہی سیاست ہے اور دین
کا نام ونشان تک نہیں۔‘‘
(پیغام صلح ج۵ نمبر۶۳، مؤرخہ ۲۰؍فروری ۱۹۱۸ء)
(۳) سیاسیات میں برتری
’’یہ اللہ تعالیٰ کا فضل ہے کہ اس نے ہمیں سیاسیات میں بھی ایسی ہی برتری عطاء کی ہے جیسی دوسرے امور میں
اور یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ ہمیں جو کچھ ملتا ہے اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہی ملتا ہے۔ ہماری اپنی قابلیتوں کا اس
میں کوئی دخل نہیں۔ اب بیسیوں بڑے بڑے سیاست دان یورپ اور ہندوستان کے لوگوں کی تحریریں موجود ہیں جن میں
تسلیم کیاگیا ہے کہ ہم نے ہندوستان کے نظم ونسق کے متعلق جورائے پیش کی ہے وہ بہت صائب ہے۔‘‘
(تقریر مرزامحمود خلیفہ قادیان جلسہ سالانہ، الفضل قادیان ج۱۸ نمبر۸۲ ص۵ کالم۲، مؤرخہ ۱۳؍جنوری
۱۹۳۱ء)
421
(۴) پرفریب نام
’’چند ماہ سے قادیانی جماعت اور اس کے امام محترم سیاسیات میں خاصی دلچسپی لے رہے ہیں اور ان کی طرف
سے تحفظ حقوق مسلمین کے پرفریب نام سے نہایت مشتبہ کارروائیاں کی جارہی ہیں اور اس سلسلہ میں بعض نہایت عجیب
وغریب باتیں معلوم ہوئیں اور جستجو پر بہت سے خوفناک اور رنجیدہ انکشافات بھی ہوئے۔‘‘
(پیغام صلح لاہور، مؤرخہ ۱۵؍جولائی ۱۹۳۰ء)
(۵) تخم ریزی
’’اسی سلسلہ میں (بمقام شملہ) خود حرم حضرت اقدس (مرزامحمود خلیفہ قادیان) نے ایک پردہ پارٹی دی۔ جس
میں انگریز، ہندو، پارسی، سکھ اور مسلم خواتین کثیر تعداد میں شریک ہوئیں۔ ہمارے لاہور کے کمشنر صاحب مسٹر
مایلز ارونگ کی خاتون بھی شریک پارٹی تھیں۔ سروجنی نائیڈو، کپورتھلہ کے شاہی خاندان کی خواتین، آنریبل مسٹر
جناح کی بیگم صاحبہ اور بہت سی معزز اور سربرآوردہ بیگمات اس موقع پر موجود تھیں اور قریباً اڑھائی گھنٹہ تک
یہ جلسہ شملہ کی مشہور فرم ڈیوی کو کے ہال میں رہا، جہاں پردہ کا پورا اہتمام تھا اور نفیس ماکولات ومشروبات
کا انتظام تھا۔ اس پارٹی میں حضرت ام المؤمنین (مرزاغلام احمد قادیانی کی اہلیہ) کا وجود باجود بھی موجود
تھا اور پارٹی کو معزز میزبان کی طرف سے کامیاب بن انے میں حضرت نواب مبارکہ بیگم صاحبہ (مرزاقادیانی کی
صاحبزادی) نے جس دلچسپی اور قابلیت کا اظہار فرمایا وہ ہر طرح سے شکریہ کے قابل ہے۔ میں ان واقعات کو سرسری
نظر سے نہیں دیکھ رہا ہوں۔ یہ واقعات ایک تخم ریزی ہیں۔ آئندہ سلسلہ کی شاندار ترقیات کی۔‘‘
(الفضل قادیان ج۱۵ نمبر۲۶،۲۷، مؤرخہ ۳۰؍ستمبر ۱۹۲۷ء)
(۶) بڑے احسان
’’گورنمنٹ برطانیہ کے ہم پر بڑے احسان ہیں اور ہم بڑے آرام اور اطمینان سے زندگی بسر کرتے اور اپنے
مقاصد کو پورا کرتے ہیں… اور اگر دوسرے ممالک میں تبلیغ کے لئے جائیں تو وہاں بھی برٹش گورنمنٹ ہماری مدد
کرتی ہے۔‘‘
(برکات خلافت ص۶۵، انوارالعلوم ج۲ ص۲۰۴)
’’چند دنوں کا ہی ذکر ہے کہ ہمارے مالابار کے احمدیوں کی حالت بہت تشویشناک ہوگئی تھی۔ ان کے لڑکوں کو
سکولوں میں آنے سے بند کر دیا گیا۔ ان کے مردے دفن کرنے سے روک دئیے گئے۔ چنانچہ ایک مردہ کئی دن تک پڑا
رہا۔ مسجدوں سے روک دیا گیا… گورنمنٹ نے احمدیوں کی تکلیف دیکھ کر اپنے پاس سے زمین دی ہے کہ اس میں مسجد
اور قبرستان بنالو… ڈپٹی کمشنر نے یہ حکم دیا کہ اگر اب احمدیوں کو کوئی تکلیف ہوئی تو مسلمان کے جتنے لیڈر
ہیں ان سب کو نئے قانون کے ماتحت ملک بدر کر دیا جائے گا۔‘‘
(انوار خلافت ص۹۵،۹۶، انوارالعلوم ج۳ ص۱۵۲،۱۵۳)
(۷) ایسا ہی
’’حضرت مسیح موعود کے وقت ایک جنگ ہوئی تھی اور اب بھی ایک جنگ شروع ہے مگر وہ جنگ اس کے مقابلہ میں
بہت چھوٹی تھی۔ اس وقت کی حضرت مسیح موعود کی تحریریں موجود ہیں۔ اس وقت گورنمنٹ کے لئے چندے کئے گئے۔ مدد
دینے کی تحریکیں کی گئیں، دعائیں کرائی گئیں۔ آج بھی ہمارا فرض ہے کہ ایسا ہی کریں۔‘‘
(تقریر مرزامحمود خلیفہ قادیان، الفضل قادیان ج۵ نمبر۱۳ ص۷ کالم۳، مؤرخہ ۱۴؍اگست ۱۹۱۷ء)
422
(۸) قادیانی رنگروٹ
’’جو گورنمنٹ ایسی مہربان ہو اس کی جس قدر بھی فرمانبرداری کی جائے تھوڑی ہے۔ ایک دفعہ حضرت عمر رضی
اللہ عنہ نے فرمایا کہ اگر مجھ پر خلافت کا بوجھ نہ ہوتا تو میں موذن بنتا۔ اسی طرح میں کہتا ہوں کہ اگر میں
خلیفہ نہ ہوتا تو والینٹر ہوکر جنگ (یورپ) میں چلا جاتا۔‘‘
(انوارخلافت ص۹۶، انوارالعلوم ج۳ ص۱۵۳)
’’لارڈ چیمسفورڈ نے میرے نام اپنی چٹھی میں اس کا ذکر کیا کہ حکومت نے ایک کمیونک شائع کیا ہے کہ آپ
کی جماعت نے بہت مدد دی ہے، پھر کابل کی لڑائی ہوئی اور اس موقع پر بھی میں نے فوراً حکومت کی مدد کی اپنے
چھوٹے بھائی کو فوج میں بھیجا، جہاں انہوں نے بغیر تنخواہ کے چھ ماہ کام کیا۔‘‘
(خطبہ جمعہ خلیفہ قادیان مندرجہ الفضل قادیان ج۲۲ نمبر۹۱ ص۶ کالم۲، مؤرخہ ۲۹؍جنوری ۱۹۳۵ء، خطبات
محمود ج۱۶ ص۵۴)
(۹) دعائیہ جلسہ
’’موجودہ جنگ کی تیسری سالگرہ ۴؍اگست ۱۹۱۷ء کو تھی جس کے متعلق تقدس مآب حضرت خلیفۃ المسیح نے قادیان
میں ایک خاص دعائیہ جلسہ منعقد فرمایا جس میں تمام قادیان کے احمدی دکاندار، اہلکاران اور طلباء ہائی سکول
ومدرسہ احمدیہ بلوائے گئے۔ بعد نماز عصر ایک تقریر فرمائی جس میں برٹش راج کے احسانات اور برکات کو واضح طور
پر سامعین کے ذہن نشین کروایا اور برٹش راج سے پہلے مسلمانوں کی ذلیل حالت کا نقشہ کھینچ کر بتلایا کہ سکھوں
کے وقت میں ان کے مذہب کی کیا حالت تھی۔ بالخصوص حضور ممدوح نے حضرت مسیح موعود (مرزاقادیانی) کی وہ ہدایات
یاد دلائیں جن میں حضرت اقدس نے اپنی شرائط بیعت میں حاکموں کی فرمانبرداری کو بھی داخل فرمایا ہے اور
تاکیداً حکم دیا ہے اور فرمایا کہ صرف حضرت مسیح موعود کا ہی حکم نہیں ہے بلکہ خداتعالیٰ کا بھی مسلمانوں کو
حکم ہے کہ جو تم پر حاکم ہوں۔ ان کی فرمانبرداری کرو تو گویا گورنمنٹ کے برخلاف کسی امر میں حصہ لینے والا
خدا کا نافرمان ہے اور مثالیں دیں کہ حضرت مسیح موعود نے بعض کالج کے طلباء سے بھی جب انہوں نے اسٹرائیک
کرنے والوں کو حامی بھری تھی۔ قطع تعلق کر لیا تھا تو خوب سوچو کہ جو محسن گورنمنٹ کا باغی ہو اس کا حضرت
مسیح موعود کے ساتھ کیا تعلق ہوسکتا ہے… حضرت مسیح موعود نے بھی تم پر بھروسہ کیا ہے کہ احمدی کبھی اپنی
مہربان گورنمنٹ کے برخلاف نہیں ہوں گے اور خدا کے فضل سے احمدیوں نے موجودہ جنگ میں جس کو آج پورے تین سال
ہوگئے ہیں اپنی بساط سے بہت بڑھ کر تن من دھن سے حصہ لیا ہے۔‘‘
(الفضل قادیان ج۵ نمبر۱۲ ص۱ کالم۲،۳، مؤرخہ ۱۱؍اگست ۱۹۱۷ء)
(۱۰) کانگریس اور قادیانی جماعت
’’آج کل کانگریس والوں کو جہاں گورنمنٹ سے مقابلہ ہے وہاں قادیانیوں کا سامنا بھی ہے اور بیچارے سخت
مشکل میں آئے ہیں… گاوں گاؤں گھوم پھر کر قادیانی مبلغین کانگریس کے پروپیگنڈے کو بے اثر بنا رہے ہیں۔
وعظوں اور لیکچروں کے ذریعہ گورنمنٹ برطانیہ کی وفاداری کا سبق دیا جارہا ہے اور ’’اولی الامر
منکم‘‘ کی تفسیر کے دریا بہائے جارہے ہیں۔ غرض گورنمنٹ کی سختیوں اور قادیانیوں کی بوالعجبیوں نے
کانگریس والوں کا تو ان دنوں یہ حال کر رکھا ہے ؎
-
غم صیاد فکر باغبان ہے
دو عملی میں ہمارا آشیاں ہے‘‘
(پیغام صلح مؤرخہ ۲۳؍جون ۱۹۳۰ء)
423
’’میں نے پھر بھی کانگریس کی شورش کے وقت میں ایسا کام کیا ہے کہ کوئی انجمن یافرد اس کی مثال پیش
نہیں کر سکتا۔ اگر میں اس وقت الگ رہتا تو یقینا ملک میں شورش بہت زیادہ ترقی کر جاتی اور یہ صرف میری ہی
راہنمائی تھی جس کے نتیجہ میں دوسری اقوام کو بھی جرأت ہوئی اور ان میں سے کئی کانگریس کا مقابلہ کرنے کے
لے تیار ہوگئیں۔‘‘
(خطبہ جمعہ مرزامحمود خلیفہ قادیان، الفضل قادیان ج۱۸ نمبر۱۳۷، مؤرخہ ۲۸؍مئی ۱۹۳۱ء)
(۱۱) شرمناک الزام
’’پیغام صلح نے جماعت احمدیہ پر یہ شرمناک الزام لگایا تھا کہ وہ کار خاص پر متعین ہے اور اس کے ثبوت
میں ناظر صاحب امور خارجہ قادیان کی ایک چٹھی کا اقتباس شائع کیا تھا جو انہوں نے بیرونی جماعتوں کو ارسال
کی تھی… اس چٹھی کے خاص فقرات یہ ہیں۔
اپنے علاقہ کی سیاسی تحریکات سے پوری طرح واقف رہنا چاہئے اور کانگریس کے اثر کے بڑھنے اور گھٹنے سے
مرکز کو اطلاع دیتے رہیں۔ اگر کوئی سرکاری افسر سیاسی تحریکوں میں حصہ لیتا ہو یا کانگریسی خیالات رکھتا ہو
تو اس کا بھی خیال رکھیں اور یہاں (قادیان) اطلاع دیں۔‘‘
(الفضل قادیان ج۱۸ نمبر۱۰ ص۹ کالم۱، مؤرخہ ۲۲؍جولائی ۱۹۳۰ء)
(۱۲) سیاسی مشورے
’’غرض جو کام اب کیا جائے گا جماعت پہلے بھی یہ کام کرتی رہی ہے جیسے گورنمنٹ کی طرف سے جب کانگریس کے
جتھوں پر مارپیٹ شروع ہوئی اور بعض جگہ ظلم ہونے لگا تو میں نے بحیثیت امام جماعت احمدیہ حکومت کو توجہ
دلائی کہ یہ امر گورنمنٹ کو بدنام کرنے والا اور کانگریس سے لوگوں کو ہمدردی پیدا کر دینے والا ہے۔ میرے اس
تووجہ دلانے پر لارڈ ارون نے مجھے لکھا کہ آپ اپنی جماعت کا ایک وفد اس امر کے متعلق تفصیلی مشورہ دینے کے
لئے بھیجیں اور انہوں نے سرجا فری سابق گورنر پنجاب کو تاکید کی کہ ان کی باتوں کو غور سے سنا جائے اور ان
پر عمل کیا جائے۔ چنانچہ ہمارا وفد گیا اور انہوں نے نہایت خوشی سے ہماری باتوں کو سنا اور اس کے بعد
سرجافری نے مجھے شکریہ کی ایک لمبی چٹھی اپنے ہاتھ سے لکھ کر بھیجی۔ میں نے اس وقت انہیں یہی بتایا تھا کہ
آپ بغیر بدنام ہوئے۔ کانگریس کے اثر سے لوگوں کو بچاسکتے ہیں۔ یہ ایک سیاسی بات تھی مگر ہم نے اس وقت اس میں
دخل دیا، پس سیاسی کاموں میں ہم پہلے بھی حصہ لیتے رہے ہیں۔‘‘
(خطبہ جمعہ خلیفہ قادیان مندرجہ الفضل قادیان ج۲۲ نمبر۹۴ ص۷ کالم۲، مؤرخہ ۵؍فروری ۱۹۳۵ء، خطبات محمود
ج۱۶ ص۷۳)
’’انگریزوں کا اصل یہ ہے کہ ملک میں ایجی ٹیشن ہونی چاہئے۔ میں نے حکام سے کئی دفعہ اس امر پر بحث کی
ہے کہ یہ غلط پالیسی ہے۔ میں نے سراڈوائر پر اس کے متعلق زور دیا۔ سرمیکلیگن پر زوردیا اور انہیں سمجھایا کہ
جب تک یہ پالیسی ترک نہ کی جائے گی نہ امن قائم ہوسکتا ہے نہ انصاف۔‘‘
(ارشاد مرزامحمود خلیفہ قادیان، الفضل قادیان ج۲۲ نمبر۹۳، مؤرخہ ۳؍فروری ۱۹۳۵ء)
’’مجھے ایک کانگریسی لیڈر نے بتایا کہ ایک ہندوسانی جج اپنی تنخواہ کا بیشتر حصہ کانگریس کو بطور چندہ
دیتا ہے۔ تا اس سے ان مسلمان مولویوں کو تنخواہیں دی جائیں جو مسلمانوں کو ورغلانے کے لئے کانگریس نے رکھے
ہوئے ہیں۔ میں نے اس امر کے متعلق ایک دفعہ دوران گفتگو میں سابق گورنر پنجاب سرجافری سے ذکر کیا کہ سرکاری
ملازم اس طرح کی بددیانتیاں کرتے ہیں تو انہوں نے ایک جج کا نام لیا اور مجھ سے دریافت کیا کہ یہ تو نہیں ہے
اور کہا کہ ہمیں بھی اس کے متعلق شکایات پہنچی ہیں، مگر چونکہ ہمارا طریق جاسوسی اور شکایت کرنے کا نہیں اس
لئے میں نے نام تو نہ بتایا مگر جس کا نام انہوں نے لیا وہ نہیں تھا جس کا مجھ سے ذکر کیاگیا تھا۔‘‘
(خطبہ جمعہ خلیفہ قادیان مندرجہ اخبار الفضل قادیان ج۲۲ نمبر۹۱ ص۳ کالم۳، مؤرخہ ۲۹؍جنوری ۱۹۳۵ء،
خطبات محمود ج۱۶ ص۴۷،۴۸)
424
(۱۳) پچاس ہزار روپیہ
’’اس کے بعد ہر موقع پر جب کانگریس نے شورش کی ہم نے حکومت کی مدد کی۔ گزشتہ گاندھی موومنٹ کے موقع پر
ہم نے پچاس ہزار روپیہ خرچ کر کے ٹریکٹ اور اشتہار شائع کئے اور ہم ریکارڈ سے یہ بات ثابت کر سکتے ہیں۔
سینکڑوں تقریریں اس تحریک کے خلاف ہمارے آدمیوں نے کیں، اعلیٰ مشورے ہم نے دئیے جنہیں اعلیٰ حکام نے
پسندیدگی کی نظر سے دیکھا۔‘‘
(خطبہ جمعہ خلیفہ قادیان مندرجہ الفضل قادیان ج۲۲ نمبر۹۱ ص۶ کالم۲،۳، مؤرخہ ۲۹؍جنوری ۱۹۳۵ء، خطبات
محمود ج۱۶ ص۵۴)
(۱۴) آگ کا انگارہ
’’سیلف گورنمنٹ یا حکومت خود اختیاری کوئی بچوں کا کھیل نہیں کہ ہر کس وناکس اس کے حصول کے لئے تیار
ہو جائے بلکہ کانٹوں کی مالا ہے جسے گلے میں ڈالنے کے لئے خاص دل گردہ اور قابلیت کی ضرورت ہے اور جب تک
قابلیت پیدا نہ ہو لے، اس وقت تک اس کا مطالبہ کرنا اسی طرح کا ہے جس طرح ایک چھوٹا بچہ آگ کے انگارہ کو
چمکتا ہوا دیکھ کر اس کے پکڑنے کی کوشش کرے۔ اس وقت جس طرح اس کے دانا اور عقلمند محافظ کا فرض ہے کہ اسے
انگارہ نہ پکڑنے دے۔ اسی طرح اس وقت گورنمنٹ برطانیہ کا فرض ہے کہ ایسے لوگوں کو حکمت سے تدبیر سے اور اگر
وہ نہ ہی مانیں تو اثر حکومت سے باز رکھے۔‘‘
(الفضل قادیان ج۵ نمبر۸ ص۳ کالم۲، مؤرخہ ۲۸؍جولائی ۱۹۱۷ء)
(۱۵) خوشی کی بات
’’پچھلے دنوں کی شورش میں جماعت احمدیہ نے گورنمنٹ کے متعلق جس وفاداری اور امن پسندی کا ثبوت دیا وہ
کسی صلہ یا انعام حاصل کرنے کی غرض سے نہیں تھا بلکہ اپنا مذہبی فرض سمجھ کر بانی سلسلہ عالیہ احمدیہ اور
موجودہ امام جماعت احمدیہ کی تعلیم کے مطابق دیا تھا لیکن خوشی کی بات ہے کہ گورنمنٹ پنجاب کے خاص اعلان کے
علاوہ اور کئی مقامات کے ذمہ دار افسروں نے بھی جماعت احمدیہ کے افراد کے رویہ پر نہایت مسرت کا اظہار کیا
اور اپنی خوشنودی کے سرٹیفکیٹ عطاء کئے ہیں۔‘‘
(الفضل قادیان ج۶ نمبر۹۰ ص۸ کالم۲، مؤرخہ ۲۷؍مئی ۱۹۱۹ء)
(۱۶) نواب لیفٹیننٹ گورنر بہادر پنجاب سے خط وکتابت
’’پرائیویٹ سیکرٹری نواب لیفٹیننٹ گورنر بہادر تحریر فرماتے ہیں:
جناب من! آپ نے جو خط ہزآنرلیفٹیننٹ گورنر بہادر پنجاب کے نام ارسال فرمایا تھا، اس کے متعلق مجھے یہ
کہنے کی ہدایت ہوئی ہے کہ نواب لیفٹیننٹ گورنر بہادر نے آپ کی تحریر کو بڑی توجہ سے ملاحظہ فرمایا اور آپ کے
اظہار وفاداری نیز اس نازک موقع پر اپنے پیروؤں کو ملک معظم اور ملک کے ساتھ دینے کی گران بہا نصیحت کو
استحسان اور قدر کی نظر سے دیکھا ہے۔ چند ہفتہ قبل ضلع گورداسپور کا دورہ کرتے وقت ہزآنر احمدی جماعت کے ایک
وفد سے مل کر خوش ہوئے اور جو کچھ حضور نے اس وقت فرمایا تھا اب پھر اس کا اعادہ فرماتے ہیں وہ یہ کہ
گورنمنٹ عالیہ نے جو وسیع مذہبی آزادی اپنی رعایا کو دے رکھی ہے۔ اس کی بناء پر احمدی جماعت گورنمنٹ کی
حفاظت پر بھروسہ کر سکتی ہے اور گورنمنٹ عالیہ کو بھی احمدی جماعت اور اس کے امام کی طرف سے نہ صرف
وفادارانہ امداد کی امید بلکہ یقین ہے۔ دستخط پرائیویٹ سیکرٹری ہزآنرلیفٹیننٹ گورنر پنجاب‘‘
(الفضل قادیان ج۲ نمبر۷۱ ص۷ کالم۱، مؤرخہ ۲۹؍نومبر ۱۹۱۴ء)
425
(۱۷) قادیانی اڈریس بحضور نواب لیفٹیننٹ گورنر بہادر پنجاب
’’آئندہ مشکلات اور آنے والے واقعات کی نسبت سوائے خدائے تعالیٰ کے اور کوئی کچھ نہیں کہہ سکتا اور ہم
نہیں جانتے کہ جناب کے عرصہ کارگزاری میں واقعات کس رنگ میں ظہور پذیر ہوں گے مگر ہم خداتعالیٰ کے فضل سے یہ
کہہ سکتے ہیں کہ جو کچھ بھی ہو جناب جماعت احمدیہ کو ملک معظم کا نہایت وفادار اور سچا خادم پائیں گے۔
کیونکہ وفاداری گورنمنٹ جماعت احمدیہ کی شرائط بیعت میں سے ایک شرط رکھی گئی ہے اور بانی سلسلہ نے اپنی
جماعت کو وفاداری حکومت کی اس طرح باربار تاکید کی ہے کہ اس کی اسی کتابوں میں کوئی کتاب بھی نہیں جس میں اس
کا ذکر نہ کیاگیا ہو اور اس کی وفات کے بعد اس کے اوّل جانشین (حکیم نورالدین) نے اپنے زمانہ میں اور دوسرے
جانشین ہمارے موجودہ امام (مرزامحمود) نے بھی بانی سلسلہ کی تعلیم کی۔ اتباع میں جماعت کو تعلیم دیتے وقت اس
امر کو خاص طور پر مدنظر رکھاہے۔ پس جناب اور جناب کی گورنمنٹ ہروقت ہماری جماعت کی عملی ہمدردی پر بھروسہ
رکھ سکتی ہے اور ان شاء اللہ تعالیٰ اس کا یہ بھروسہ خطا نہیں کرے گا… ہم خداتعالیٰ کا شکر کرتے ہیں کہ اس نے
ہماری جماعت کو بھی اس نازک وقت میں جب کہ برٹش گورنمنٹ چاروں طرف سے دشمنوں کے نرغہ میں گھری ہوئی تھی اور
اس کے بعد جب کہ اسی جنگ کے نتائج کے طور پر اسے خود اندرون ملک اور سرحد پر بعض خطرات کا سامنا ہوا اپنی
طاقت اور اپنے ذرائع سے بڑھ کر خدمات کا موقع دیا اور اس جماعت کی روزافزوں ترقی کو دیکھ کر جو نہ صرف پنجاب
ہی میں ہورہی ہے بلکہ تمام علاقہ جات ہندوستان کے علاوہ انگلستان، مصر، نائیجیریا، سیرالیون، روسی ترکستان،
ایران، افغانستان، ماریشس، سیلون وغیرہ دوسرے ممالک میں بھی ہورہی ہے اور ان وعدوں پر ایمان لاتے ہوئے جو
بانی سلسلہ سے خدائے کون ومکان نے فرمائے ہیں، امید کرتے ہی کہ برٹش گورنمنٹ کی قیام امن اور اشاعت تہذیب کی
کوششوں میں ہم آئندہ اور بھی زیادہ مدد کریں گے۔‘‘
(قادیانی جماعت کا ایڈریس بخدمت سرایڈورڈ میکلیگن لیفٹیننٹ گورنر پنجاب، الفضل قادیان ج۷ نمبر۴۸
ص۱۲،۱۳ کالم۱، مؤرخہ ۲۲؍دسمبر ۱۹۱۹ء)
(۱۸) ممبران پارلیمنٹ میں ایڈریس کی تقسیم
’’جماعت احمدیہ جس نے اپنا صدر مقام ایجویر روڈ میں قائم کیا ہے ممبران پارلیمنٹ کے نام ایک گشتی
مراسلہ ایک ایڈریس کی کاپی کے ساتھ جو سرایڈورڈ میکلیگن کو پیش کیاگیا تھا، روانہ کیا ہے۔ خط منسلکہ میں
لکھا گیا ہے کہ جماعت احمدیہ اسلام کی ایک نئی تحریک ہے جو تیزی سے مختلف حصص سلطنت میں پھیل رہی ہے۔
بنابریں ہم ان پر آشوب ایام میں اپنا فرض سمجھتے ہیں کہ آپ کو اس جماعت کے سیاسی خیالات سے آگاہ کریں۔ اپنی
حکومت کا وفادار رہنا اور ان پر خدا کی رحمت چاہنا اس کے اصولوں میں سے ایک ہے۔‘‘
(الفضل قادیان ج۷ نمبر۷۷ ص۱ کالم۳، مؤرخہ ۱۲؍اپریل ۱۹۲۰ء)
(۱۹) نواب لیفٹیننٹ گورنر بہادر پنجاب کو قادیان کی دعوت
’’جماعت احمدیہ جس نے کہ مہذب دنیا میں بہت بڑا انقلاب پیدا کر دیا ہے۔ اس بات کی حقدار ہے کہ گورنمنٹ
کا اعلیٰ افسر گورنمنٹ کے مفاد کو مدنظر رکھتے ہوئے اس جماعت کے مرکز (قادیان) کا گاہے بگاہے ملاحظہ کرتا
رہے اور بدیں وجہ ہم نے جناب سے قادیان آنے کی درخواست کی ہے اور گو جناب اس وقت کثرت مشغولیت کی وجہ سے
ہماری درخواست کو منظور نہیں کر سکیں گے لیکن ہم امید رکھتے ہیں کہ حضور اس صوبہ کی حکومت کے سبکدوش ہونے سے
پہلے کوئی وقت قادیان میں تشریف آوری کے لئے ضرور نکالیں گے اور آپ
426
کے جانشین بھی گاہے بگاہے بخوشی قادیان میں تشریف لے جاکر ہماری جماعت کے حالات کو ملاحظہ فرمایا
کریں گے۔ ہم حضور کی تشریف آوری پر حضور سے کسی قسم کے پولٹیکل حقوق ومراعات لینے کے خواہشمند نہیں۔ صوبہ کے
حاکم اعلیٰ کی تشریف آوری سے اخلاقی فوائد کا مترتب ہونا کچھ مستعبد نہیں۔‘‘
(قادیانی وفد کا ایڈریس بخدمت ہزایکسی لنسی سرایڈورڈ میکلیگن گورنر پنجاب، الفضل قادیان ج۱۱ نمبر۳۹
ص۱۱ کالم۱،۲،مؤرخہ ۱۶؍نومبر ۱۹۲۳ء)
(۲۰) وزیرہند سے ملاقات
’’اسی دن ۶بجے شام کا وقت حضرت خلیفۃ المسیح ثانی ایدہ اللہ تعالیٰ (مرزامحمود) کے لئے وزیرہند صاحب کے
ساتھ انٹرویو (ملاقات) کا مقرر تھا۔ ٹھیک وقت پر حضرت خلیفۃ المسیح وہاں پہنچ گئے۔ ایک یورپین صاحب احاطہ کے
دروازہ تک آپ کے استقبال کے لئے آئے جن کے ساتھ حضرت خلیفۃ المسیح معہ جناب چوہدری ظفر اللہ خاں صاحب بی۔اے
بیرسٹر ایٹ لاء جو بطور ترجمان مقرر ہوچکے تھے اندر تشریف لائے اور ساتھ وزیر ہند کے خیمہ کی طرف لے گئے جو
انتظار کے خیمہ سے سوگز سے زیادہ فاصلہ پر تھا۔ وزیر ہند صاحب نے نہایت خوش اخلاقی سے ملاقات کی اور ۳۵منٹ
تک نہایت اہم اور ضروری امور پر آپ نے اور مسٹر رابرٹ ممبر پارلیمنٹ نے گفتگو فرمائی جو نہایت کامیابی اور
عمدگی کے ساتھ ہوئی اور مندرجہ بالا جلیل القدر اصحاب نے پوری توجہ سے سنی… امید ہے کہ یہ گفتگو ہماری جماعت
کے لئے نہایت مفید اور بابرکت نتائج پیدا کرنے کا موجب ہوگی۔‘‘
(الفضل قادیان ج۵ نمبر۴۱ ص۲ کالم۱، مؤرخہ ۲۰؍نومبر ۱۹۱۷ء)
(۲۱) ۱۹۲۱ء کا قادیانی وفد بحضور وائسرائے ہند
’’حضور وائسرائے ہند لارڈ ریڈنگ کے خیرمقدم کا وفد جماعت احمدیہ کی طرف سے بمقام شملہ ۲۳؍جون ۱۹۲۱ء کو
گیارہ بجے وائسریگل لاج میں پیش ہوا۔ حاضر ممبران وفد کی تعداد تیس تھی جو ہندوستان کے مختلف صوبہ جات سے
آئے تھے اور اپنے اپنے علاقے کے لباس پہن کر گئے تھے۔ چار فوجی افسران بھی اپنی وردیوں اور تمغوں میں موجود
تھے۔ تمام جماعت فرود گاہ سے رکشوں میں بیٹھ کر وائسریگل لاج کی طرف روانہ ہوئی۔ رکشوں کی لائن قریباً ایک
فرلانگ لمبی تھی۔ اس کا شہروالوں پر خاص اثر ہوا۔ یعنی یہ بھی گویا ایک ذریعہ تبلیغ ہوگیا۔ کیونکہ سب دیکھ
دیکھ کر پوچھتے تھے کہ یہ کون لوگ ہیں اورکیا بات ہے۔ دروازہ پر استقبال کے لئے حضور وائسرائے کا ایڈی کانگ
حاضر تھا۔ جب سب ممبران وفد اپنی اپنی جگہ بٹھادئیے گئے تو حضور وائسرائے تشریف لائے اور ان کے پرائیویٹ
سیکرٹری نے سب سے پہلے چوہدری ظفر اللہ خاں صاحب بیرسٹر لاہور سیکرٹری وفد کو انٹروڈیوس کرایا، پھر چوہدری
صاحب نے ممبران وفد کا ایک ایک کر کے انٹروڈیوس کرایا۔ حضور وائسرائے صاحب سب سے ہاتھ ملاتے ہوئے اپنی کرسی
پر تشریف لے گئے۔ اس کے بعد چوہدری صاحب موصوف نے ایڈریس پڑھ کر سنایا جس میں حضور وائسرائے کا سلسلہ احمدیہ
کی طرف سے خیرمقدم کیاگیا تھا اور حضرت مسیح موعود کے خاندان اور آپ کی تعلیم کا ذکر تھا۔ نیز مختصر طور پر
سلسلہ کی خدمات برائے قیام امن کا تذکرہ تھا۔ اس کے بعد ہندوستان کی موجودہ حالات اور بے چینی کا ذکر تھا
اور اسی ضمن میں بعض باتوں کی طرف گورنمنٹ کو توجہ دلائی گئی تھی۔ ایڈریس ختم ہونے کے بعد حضرت نواب محمد
علی خان صاحب نے ایک کاسٹک میں ایڈریس پیش کیا اس کے بعد حضور وائسرائے نے ایڈریس کا جواب دیا اور قریباً
بیس پچیس منٹ تک تقریر فرمائی اور سلسلہ کی خدامت کا اعتراف اور ان پر گورنمنٹ کی طرف سے اظہار خوشی کرتے
ہوئے فرمایا کہ ہم جانتے ہیں کہ تمام حالات کے ماتحت گورنمنٹ آپ کی
427
جماعت کی مدد پر بھروسہ کر سکتی ہے اور جن امور کی طرف حضور وائسرائے کو توجہ دلائی گئی تھی ان کا
بھی… اپنے نقطہ خیال سے مفصل جواب دیا۔‘‘
(الفضل قادیان ج۸ نمبر۹۹، مؤرخہ ۲۷؍جون ۱۹۲۱ء)
(۲۲) مختصر خاکہ
’’جناب عالیٰ! یہ ایک نہایت ہی مختصر خاکہ ہے۔ ان خدمات کا جو ہمارا سلسلہ قیام امن کے لئے بادشاہ
معظم کی وفاداری میں کرتا رہا ہے اور اس کے بیان کرنے کی یہ ضرورت پیش آئی ہے کہ ہم جناب کو بتائیں کہ اسی
روح کو لے کر ہم آج جناب کی خدمت میں حاضر ہوئے ہیں اور اسی روح کے ساتھ ہم جناب کو ہندوستان میں ملک معظم
کا سب سے بڑا قائم مقام سمجھ کر یہ یقین دلاتے ہیں کہ ہم ہر ممکن اور جائز طریقے سے جناب کے ارادوں اور
تجویزوں کو کامیاب بنانے کی کوشش کریں گے اور ہندوستان میں قیام امن کی کوشش اور اس کی ترقی کے لئے سعی میں
اپنے دوسرے بھائیوں کے ساتھ مل کر آپ کا ہاتھ بٹائیں گے اور مخالفوں کی مخالفت اور دشمنوں کی دشمنی ان شاء
اللہ ہمیں اس مقصد سے پھیر نہ سکے گی۔‘‘
(قادیانی جماعت کا ایڈریس بخدمت ہزایکسی لنسی لارڈ ریڈنگ وائسرائے، الفضل قادیان ج۹ نمبر۱، مؤرخہ
۴؍جولائی ۱۹۲۱ء)
(۲۳) امام کی تعلیم
’’جناب عالی! جیسا کہ ہم پہلے بتاچکے ہیں ہمیں اپنے امام کی طرف سے یہ تعلیم دی گئی ہے کہ جس گورنمنٹ
کے ماتحت بھی ہم رہیں۔ اس کے پورے طور پر فرمانبردار رہیں اور امن میں خلل کبھی نہ ڈالیں اور یہ تعلیم ہمارے
ہمیشہ مدنظر رہی ہے۔ ہم نے ہر مشکل کے وقت اور بے امنی کے زمانہ میں برطانیہ کی گورنمنٹ کی وفاداری کی ہے
اور جناب کے پیشرو کے ان الفاظ سے بھی اس پر روشنی پڑتی ہے جو انہوں نے اپنے ایک خط میں ہماری جماعت کے
موجودہ امام کے نام لکھے تھے، چنانچہ ان کے پرائیویٹ سیکرٹری لکھتے ہیں۔ میں حضور وائسرائے کی خواہش کے
مطابق حضوروائسرائے کی طرف سے جناب کی چٹھی مؤرخہ ۴؍مئی کاجس میں آپ نے تفصیل کے ساتھ اپنی جماعت کی ان
کوششوں کا ذکر کیا ہے جو انہوں نے فسادات پنجاب کے دوران میں قیام امن کے لئے کیں، شکریہ ادا کرتا ہوں۔ گو
اس سے پہلے بھی حضور وائسرائے کو پنجاب گورنمنٹ کے ذریعہ آپ کی خدمات کا (جن کا اعتراف گورنمنٹ پنجاب ایک
سرکاری اعلان کے ذریعہ کر چکی ہے) علم ہوچکا ہے۔ مگر وہ آپ کے کام کی تفصیل کو دیکھ کر بہت خوش ہوئے ہیں اور
انہوں نے مجھ سے خواہش کی ہے کہ میں ان کی طرف سے آپ کو ایسے مشکلات کے مقابلہ میں گورنمنٹ سے اظہار وفاداری
کی مبارک باد دوں۔‘‘
(قادیانی جماعت کا ایڈریس بخدمت ہزایکسی لنسی لارڈ ریڈنگ وائسرائے ہند، الفضل قادیان ج۹ نمبر۱، مؤرخہ
۴؍جولائی ۱۹۲۱ء)
(۲۴) ہزایکسی لنسی وائسرائے ہند کی تقریر
’’آپ صاحبان سے جو جماعت احمدیہ کے نمائندہ ہیں۔ آج مجھے مل کر بہت خوشی ہوئی اور آپ نے جو اپنے
سیکرٹری صاحب کے ذریعے سے میرے وائسرائے ہند بننے پر مبارک باد دی ہے۔ اس کے لئے آپ کا شکریہ ادا کرتا ہوں۔
میں نے آپ کے سلسلہ کی ابتداء اور ترقی کے بیان کو نہایت دلچسپی سے سنا ہے اور آپ کی جماعت نے جو خدمات
شہنشاہ معظم کی کی ہیں ان کو سن کر مجھے اطمینان ہوا ہے۔ آپ صاحبان میں مختلف طبقوں اور پیشوں کے قائم مقام
ہیں جنہیں دیکھ کر میں متاثر ہوا ہوں اور خاص کر یہ دیکھ کر کہ اس وفد میں آپ کے سلسلہ کے مقدس بانی کے
دوفرزند بھی شامل ہیں، مجھے کمال خوشی ہوئی ہے اور یہ بات اور بھی اطمینان کا موجب ہے کہ آپ میں سے بہت
428
سے آدمی ایسے ہیں جو اپنے لباس اپنی وردی اور اپنے سینوں پر کے تمغوں سے یہ ظاہر کر رہے ہیں کہ وہ اس
وفاداری کو برقرار رکھنے کے لئے جو انہیں حضور ملک معظم سے ہے اپنی جانیں قربان کرنے کے لئے آئندہ بھی اسی
طرح تیار ہوں گے جیسے کہ وہ پہلے تیار تھے۔ میں آپ کو یقین دلاتا ہوں کہ میں آپ کی جماعت کی خدامت کا اپنے
پیشترو سے کم قدرداں نہیں ہوں۔ آپ نے جو وفاداری کی روح بعض دفعہ بڑی بڑی مشکلات کا سامنا کر کے ظاہر کی ہے
نیز وہ امداد جو آپ کی طرف سے گورنمنٹ کو پہنچی ہے وہ قابل مبارک باد ہے۔‘‘
(ہزایکسی لنسی لارڈ ریڈنگ وائسرائے ہند کا جواب، الفضل قادیان ج۹ نمبر۱، مؤرخہ ۴؍جولائی ۱۹۲۱ء)
(۲۵) قادیانی ایڈریس بخدمت ہزرائل ہائینس پرنس آف ویلز
’’ہمارے تجربہ نے ہمیں بتادیا ہے کہ تخت برطانیہ کے زیرسایہ ہمیں ہرقسم کی مذہبی آزادی حاصل ہے۔ حتیٰ
کہ اکثر اسلامی کہلانے والے ملکوں میں ہم اپنے مذہب کی تبلیغ نہیں کر سکتے۔ مگر تاج برطانیہ کے زیرسایہ ہم
خود اس مذہب کے خلاف جو ہمارے ملک معظم کا ہے تبلیغ کرتے ہیں اور ان کی اپنی قوم کے لوگوں میں، ان کے اپنے
ملک میں جاکر اسلام کی اشاعت کرتے ہیں اور کوئی ہمیں کچھ نہیں کہتا اور ہم یقین کرتے ہیں کہ اس سلسلہ کی اس
قدر جلد اشاعت میں حکومت برطانیہ کے غیرجانبدار رویہ کا بھی بہت کچھ دخل ہے سو حضور عالی! ہماری فرمانبرداری
مذہبی امور پر ہے۔ اس لئے گوہم حکومت وقت کی پالیسی سے کسی قدر ہی اختلاف کریں کبھی اس کے خلاف کھڑے نہیں
ہوسکتے۔ کیونکہ اس صورت میں ہم خود اپنے عقیدہ کی رو سے مجرم ہوں گے اور ہمارا ایمان خود ہم پر حجت قائم کرے
گا۔ حضور ملک معظم کی فرمانبرداری ہمارے لئے ایک مذہبی فرض ہے جس میں سیاسی حقوق کے ملنے یا نہ ملنے کا کچھ
دخل نہیں۔ جب تک ہمیں مذہبی آزادی حاصل ہے، ہم اپنی ہر ایک چیز تاج برطانیہ پر نثار کرنے کے لئے تیار ہیں
اور لوگوں کی دشمنی اور عداوت ہمیں اس سے باز نہیں رکھ سکتی ہم نے بارہا سخت سے سخت سوشل بائیکاٹ کی تکالیف
برداشت کر کے اس امر کو ثابت کر دیا ہے اور اگر ہزارہا دفعہ پھر ایسا ہی موقع پیش آئے تو پھر ثابت کرنے کے
لئے تیار ہیں۔‘‘
(قادیانی جماعت کا ایڈریس بخدمت ہزرائل ہائینس پرنس آف ویلز، الفضل قادیان ج۹ نمبر۷۲ ص۳،۴، مؤرخہ
۱۶؍مارچ ۱۹۲۲ء)
(۲۶) ایڈریس کا شکریہ
’’منجانب چیف سیکرٹری ہزرائل ہائینس شہزادہ ویلز، بخدمت ذوالفقار علی خان ایڈیشنل سیکرٹری جماعت
احمدیہ قادیان پنجاب مؤرخہ یکم؍مارچ ۱۹۲۲ء جناب من! حسب الحکم ہزرائل ہائینس شہزادہ ویلز میں ممبران جماعت
احمدیہ کے اس خیرمقدم کے ایڈریس کا شکریہ ادا کرتا ہوں جو گورنمنٹ پنجاب کی وساطت سے حضور شہزادہ ویلز کو
پہنچا ہے۔ ہزرائل ہائینس شہزادہ ویلز نے شوق ودلچسپی کے ساتھ سلسلہ احمدیہ کی ابتداء اور تاریخ کے حالات کا
آپ کے ایڈریس میں مطالعہ کیا ہے اور حضور شہزادہ ویلز اس وقت کا انتظار کر رہے ہیں جب وہ اس نہایت خوبصورت
کتاب میں جو کہ ممبران جماعت احمدیہ کے چندہ سے بطور تحفہ پیش کی گئی ہے سلسلہ کی تفصیل تاریخ کا مطالعہ
فرمائیں گے۔ ہزرائل ہائینس نہایت گرم جوشی کے ساتھ اس وفادارانہ جذبہ کو قدرومنزلت کی نگاہ سے دیکھتے ہیں جس
نے آپ کے ہزارہا ہم عقیدہ اصحاب کو اس تحفہ کے پیش کرنے پر آمادہ کیا ہے اور حضور شہزادہ ویلز کی خوشی اس
فغان وفاداری کے قبول کرنے میں اور بھی زیادہ بڑھ گئی ہے۔ کیونکہ آپ کو ہزایکسی لنسی گورنمنٹ پنجاب کی طرف
سے یہ علم دیاگیا ہے کہ جنگ عظیم کے دوران میں اور نیز اس کے بعد آنے والے سخت ایام میں جماعت احمدیہ نے تاج
وسلطنت برطانیہ کی وفاداری میں غیرمتزلزل ثبات دکھایا ہے۔ مجھے حضور شہزادہ ویلز کی طرف سے حکم ملا ہے کہ
میں آپ کو یقین دلاؤں کہ نظربایں حالات جماعت احمدیہ کو حضور شہزادہ ویلز کے التفات محبت آمیز کا ہمیشہ
پورا یقین رکھنا چاہئے۔
429
میں ہوں جناب کا نیازمند خادم۔ جی۔ایف۔ڈی مانٹ مورنسی چیف سیکرٹری ہزرائل ہائینس پرنس آف ویلز‘‘
(الفضل قادیان ج۹ نمبر۲۹، مؤرخہ ۶؍مارچ ۱۹۲۲ء)
(۲۷) ۱۹۲۷ء کا قادیانی وفد بحضور وائسرائے ہند
’’۲۵؍فروری ۱۹۲۷ء بروز جمعہ اڑھائی بجے جماعت احمدیہ کا وفد جو مشتمل بر۲۹اشخاص تھا، بحضور ہزایکسی
لنسی وائسرائے ہند لارڈ ارون، وائسریگل لاج دہلی میں پیش ہوا۔ جب ممبران وفد کرسیوں پر بیٹھ گئے تو حضور
وائسرائے تشریف لائے اور وفد کے ہیڈ چوہدری ظفر اللہ خاں صاحب سے ہاتھ ملا کر اپنی کرسی پر بیٹھ گئے۔ وائسرائے
کے ساتھ ان کے پرائیویٹ سیکرٹری اور ایڈڈی کانگ بھی اپنی اپنی کرسیوں پر بیٹھ گئے۔ چوہدری ظفر اللہ خاں صاحب
نے ایڈریس پڑھا۔ ایڈریس ایک چاندی کے کاسکٹ میں رکھ کر حضرت صاحبزادہ مرزاشریف احمد صاحب نے پیش کیا اور
مفتی محمد صادق صاحب نے سلسلہ کی چند کتابیں جو مخملی خریطے میں تھیں ایک ایک کر کے پیش کیں اور ہر ایک کتاب
پیش کرنے کے وقت اس کتاب کا مختصر ذکر کیا۔ مثلاً یہ وہ لیکچر ہے جو حضرت خلیفۃ المسیح ثانی ایدہ اللہ نے
ولایت میں پڑھے جانے کے واسطے لکھا تھا۔ وائسرائے بہادر نے کتابوں کو شکریہ کے ساتھ قبول کیا اور فرمایا کہ
میں ان کو پڑھوں گا۔ اس کے بعد وائسرائے نے کھڑے ہوکر ایڈریس کا جواب دیا۔ اس کے بعد چوہدری صاحب نے ایک ایک
ممبر کو الگ الگ پیش کیا۔ وائسرائے بہادر نے سب کے ساتھ ہاتھ ملایا اور فوجی ممبران وفد سے جنگی حالات
دریافت کرتے رہے اور بعض کے تمغنے دیکھے۔‘‘
(الفضل قادیان ج۱۴ نمبر۷۱ ص۸ کالم۳، مؤرخہ ۸؍مارچ ۱۹۲۷ء)
(۲۸) نازونیاز
’’ہم اس موقع پر گورنمنٹ برطانیہ کا شکریہ کئے بغیر نہیں رہ سکتے کہ اس نے ہرحالت میں ہماری حفاظت کی
ہے اور پچھلے دنوں میں ہی جناب کے زمانہ وائسرائلٹی میں ہمارے ایک مبلغ مولوی ظہور حسین صاحب کو جنہیں روسی
گورنمنٹ نے قید کر لیا ہوا تھا جناب کی گورنمنٹ نے نہایت سخت قید سے جس کا گہرا اثر ان کی صحت پر پڑا ہے
نکال کر بحفاظت تمام مرکز سلسلہ میں پہنچایا ہے جس کا ہم ایک دفعہ پھر اس موقعہ پر بھی شکریہ ادا کرتے ہیں…
پس یہ خیال کرنا کہ چونکہ مرکز سلسلہ گورنمنٹ برطانیہ کے زیرسایہ ہے اور اپنے مذہبی اصول کے ماتحت اس سے
تعاون کرتا اور اس کی خوبیوں کے اظہار سے کسی ذاتی مصلحت کی وجہ سے باز نہیں رہتا۔ اس لئے سلسلہ احمدیہ
گورنمنٹ برطانیہ سے کوئی خفیہ سازباز رکھتا ہے، حقیقت سے بالکل دور ہے… ہماری نسبت یہ شک کیا جاتا ہے کہ ہم
گورنمنٹ سے سازباز رکھتے ہیں اور اس کا بدنتیجہ ہمیں ہندوستان میں بھی اور ہندوستان سے باہر بھی پہنچ رہا ہے
اور ہمارے آدمی نہ صرف ہندوستان میں بلکہ بعض دوسری گورنمٹوں کے ماتحت بھی اس شبہ کی وجہ سے سخت اذیتیں
پارہے ہیں۔ لیکن چونکہ یہ اصول کا سوال ہے ہم ان اذیتوں کو بہادری سے برداشت کرتے ہیں… ہم ضمناً اس جگہ یہ
بات کہنے سے بھی نہیں رک سکتے کہ گورنمنٹ کی دیرینہ بدظنی جو اسے ہمارے سلسلہ کے متعلق تھی وہ تو ایک حد تک
دور ہوچکی ہے اور سلسلہ احمدیہ کی غیرمتزلزل وفاداری کے غیرمعمولی کارناموں نے حکام حکومت برطانیہ کو اس امر
کے تسلیم کرنے پر مجبور کر دیا ہے کہ یہ سلسلہ سچی وفاداری کا ایک بے نظیر نمونہ ہے۔ لیکن باوجود اس کے ہم
دیکھتے ہیں کہ ہماری جماعت کے حقوق پوری طرح محفوظ نہیں ہیں۔‘‘
(قادیانی جماعت کا ایڈریس بخدمت لارڈ ارون وائسرائے ہند، الفضل قادیان ج۱۴ نمبر۷۱ ص۳،۴، مؤرخہ ۸؍مارچ
۱۹۲۷ء)
430
(۲۹) ہزایکسی لنسی وائسرائے ہند کا خط
’’لارڈ ارون کا جواب مرزامحمود خلیفہ قادیان کے نام، جناب محترم!
آپ نے نہایت مہربانی سے مجھے جو کتاب بھجوائی ہے اور جو یورہولینس کے نمائندہ وفد نے کل مجھے دی اس کے
نیز اس خوبصورت کاسکٹ کے لئے جس میں کتاب رکھی ہوئی تھی میں آپ کا تہہ دل سے شکریہ ادا کرتا ہوں۔ یہ ان تمام
کاسکٹوں سے جو میں نے آج تک دیکھے ہیں بے نظیر ہے اور جماعت احمدیہ کے ممبروں کے ساتھ مختلف مواقع پر میری
جو ملاقاتیں ہوتی رہی ہیں یہ کاسکٹ ان کے لئے ایک خوشگوار یادگار کا کام دے گا۔ یہ امر میرے لئے بے حد
دلچسپی کا باعث ہے کہ آپ کے قریباً دس ہزار پیروؤں نے اس خوبصورت تحفہ کی تیاری میں حصہ لیا ہے۔ اس موقع سے
فائدہ اٹھاتے ہوئے میں آپ کو خدا حافظ کہتا ہوں۔ آپ یقین رکھیں کہ ہندوستان سے جانے کے بعد آپ کی جماعت سے
میری دلچسپی اور ہمدردی کا سلسلہ منقطع نہ ہوگا بلکہ بدستور جاری رہے گا اور میری ہمیشہ یہی آرزو رہے گی کہ
مسرت وخوشحالی پوری طرح آپ، نیز آپ کے متبعین کے شامل حال رہے۔‘‘
(تحفہ لارڈ ارون آخری ٹائٹل ورق، انوارالعلوم ج۱۲ ص۶۲)
(۳۰) ہزایکسی لنسی وائسرائے ہند سے ملاقات
’’یکم؍ستمبر ۱۹۲۷ء تین بجے کے وقت ہزایکسی لنسی وائسرائے ہند نے ملاقات کے لئے حضرت خلیفۃ المسیح ایدہ
اللہ بنصرہ کو دیا تھا۔ چنانچہ حضرت اقدس مع مفتی محمد صادق صاحب کے جو بحیثیت ترجمان ہمراہ گئے تھے وائسریگل
لاج میں پہنچے۔ حضرت (مرزامحمود) کے پہنچنے پر وائسرائے نے آگے بڑھ کر حضور سے ہاتھ ملایا۔ مزاج پرسی کے بعد
تقریباً نصف گھنٹہ حضرت کے ساتھ موجودہ واقعات پر گفتگو کی اور فرمایا کہ آپ بھی کوشش فرمائیں کہ ہندو
مسلمانوں میں صلح ہو جائے۔ بہت تفصیلی گفتگو واقعات حاضرہ پرہوتی رہی۔ کل ۳؍ستمبر کو اسسٹنٹ پرائیویٹ
سیکرٹری وائسرائے مسٹر ایجرٹن کو حضرت نے چائے کی دعوت دی۔ ایک گھنٹہ تک مختلف امور پر گفتگو رہی۔‘‘
(الفضل قادیان ج۱۵ نمبر۲۲، مؤرخہ ۱۳؍ستمبر ۱۹۲۷ء)
’’یہ ہمارا ہی خیال نہیں ہے بلکہ یہ وجہ خود حضور وائسرائے ہند نے حضرت امام جماعت ایدہ اللہ تعالیٰ کے
سامنے پیش کی۔ جب کہ آپ نے اپنی ایک ملاقات میں ان سے ذکر کیا کہ سنٹرل کمیٹی کی نمائندگی نہ ہونے پر لوگ
معترض ہیں اور اس وجہ کے معقول ہونے میں کوئی شبہ نہیں۔‘‘
(الفضل قادیان ج۱۵ نمبر۲۲، مؤرخہ ۱۳؍ستمبر ۱۹۲۷ء)
(۳۱) خط کا جواب
’’میں حسب ایما ہزایکسی لنسی وائسرائے ہند جناب کے خط مؤرخہ ۳؍مئی ۱۹۳۰ء کا بہت بہت شکریہ ادا کرتا
ہوں اور اطلاع دیتا ہوں کہ ہزایکسی لنسی نے جناب کے خط کا بہت غور سے مطالعہ فرمایا ہے۔ آپ نے جو بحیثیت
امام جماعت احمدیہ اپنی قوم کی طرف سے حکومت کے ساتھ وفاداری اور تعاون کا یقین دلایا ہے وہ ہزایکسی لنسی کی
دلی مسرت کا موجب ہوا ہے۔ یہ اظہار تعلق جماعت احمدیہ کی دیرینہ روایات اور گزشتہ شاندار ریکارڈ کے عین
مطابق ہے۔‘‘
(اقتباس جواب منجانب ہزایکسی لنسی وائسرائے ہند، الفضل قادیان ج۱۷نمبر۱۰۷ ص۵ کالم۱، مؤرخہ ۵؍جون
۱۹۳۰ء)
431
(۳۲) ہزایکسی لنسی وائسرائے ہند کا جواب
’’ہزایکسی لنسی (لارڈ ولنگڈن) وائسرائے ہند نے ہمارے (یعنی قادیانی) ایڈریس کا جو جواب دیا ہے اس کا
خلاصہ یہ ہے:
مجھے آپ کا ایڈریس سن کر بہت خوشی ہوئی اور سلسلہ احمدیہ کی تاریخ سے واقفیت حاصل ہوئی اور معلوم ہوا
کہ باوجود مخالفت کے اس سلسلہ نے اس قدرترقی حاصل کی ہے مجھے اس سے پہلے معلوم نہ تھا کہ جماعت احمدیہ اس
قدر دور دراز ممالک میں پھیلی ہوئی ہے۔ آپ کی وفاداری کے اظہار کو میں ملک معظم کے حضور پہنچادوں گا۔ میرے
اور لیڈی ولنگڈن کے متعلق جن جذبات کا اظہارکیاگیا ہے ان کا شکریہ ادا کرتا ہوں۔ ہم ہر ایک فرقہ اور جماعت
کے ساتھ انصاف کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ اگر حکومت سے کسی غلطی کا ارتکاب ہوتو میں امید رکھتا ہوں کہ آپ مجھے
اطلاع دیں گے۔ آپ کا اصول حکومت سے تعاون کرنے کا اور حکومت سے غلطی ہو تو اس سے اطلاع کر دینے کا قابل
تعریف ہے۔ میں امید کرتا ہوں کہ آپ کی وفاداری ہمیشہ قائم رہے گی اور یہ امر حکومت کے واسطے بہت ہی حوصلہ
افزا ہے۔ میں آپ کے کام میں ترقی اور کامیابی کی دعا کرتا ہوں۔‘‘
(الفضل قادیان ج۲۱ نمبر۱۱۸ ص۶ کالم۳، مؤرخہ ۳؍اپریل ۱۹۳۴ء)
(۳۳) بے بنیاد الزام
’’جناب عالی! جماعت احمدیہ کا سیاسی مسلک ایک مقررہ شاہراہ ہے جس سے وہ کبھی ادھر ادھر نہیں ہوسکتے
اور وہ حکومت وقت کی فرمانبرداری اور امن پسندی ہے۔ اگر خداتعالیٰ کے رسول دنیا کو امن دینے کے لئے نہیں آتے
تو وہ یقینا دنیا کے لئے رحمت نہیں کہلا سکتے بعض لوگوں نے سلسلہ احمدیہ کی اس تعلیم سے یہ دھوکا کھایا ہے
کہ شاید جماعت احمدیہ حکومت ہند سے سازباز رکھتی ہے۔ لیکن جناب سے زیادہ کوئی اس امر کی حقیقت سے واقف نہیں
ہوسکتا کہ جس قدر شدت سے یہ الزام لگایا جاتا ہے اتنا ہی یہ الزام بے بنیاد ہے۔
جناب کو یہ سن کر تعجب ہوگا کہ یہ الزام نہ صرف ہندوستان میں لگایا جاتا ہے بلکہ بیرون ہند میں بھی،
چنانچہ چند سال ہوئے ایک احمدی عمارت کی بنیاد کے موقع پر جرمن وزیر تعلیم نے شمولیت کی تو اس کے خلاف لوگوں
نے یہ الزام لگایا کہ حکومت برطانیہ کی جاسوس جماعت کے ساتھ اس نے اظہار تعلق کیا ہے اور مجلس وزارت نے اس
سے اس فعل پر جواب طلبی کی۔‘‘ (قادیانی جماعت کا ایڈریس جس کو قادیانی اکابر کے وفد نے بتاریخ ۲۶؍مارچ ۱۹۳۴ء
ہزایکسی لنسی لارڈ ولنگڈن وائسرائے ہند کی خدمت میں بمقام دہلی پیش کیا)
(الفضل قادیان ج۲۱ نمبر۱۱۸ ص۳،۴، مؤرخہ ۳؍اپریل ۱۹۳۴ء)
(۳۴) سیاسی شبہات
’’جناب عالی! گو بعض وجوہ سے جن کی تفصیل میں ہم نہیں پڑنا چاہتے بعض برطانوی حکام یہ شبہ ظاہر کرتے
ہیں کہ جماعت احمدیہ سیاسیات میں خلاف اپنی سابقہ روایات کے حصہ لینے لگ گئی ہے لیکن چونکہ ہماری وفاداری
مذہبی جذبات پر مبنی ہے۔ ہم ان شبہات کی پروا نہیں کرتے ہم نے جب بھی کوئی کام کیا ہے۔ دیانتداری سے کیا ہے
اور قانون کے اندر رہ کر کیا ہے ہمارا یہ دستور رہا ہے کہ جب کسی امر میں حکومت برطانیہ کو غلطی پر سمجھیں
تو ادب سے اور قانون کے اندر رہ کر اس کا اظہار کردیا کرتے ہیں۔ ہم یقین کرتے ہیں کہ صحیح برطانوی روح اس کو
پسندیدگی کی نگاہ سے دیکھتی ہے۔ پس بعض افراد کے شکوک یا مخالفت ہم کو برطانیہ کی وفاداری سے منحرف نہیں کر
سکی۔‘‘ (قادیانی جماعت کا ایڈریس جس کو قادیانی اکابر کے وفد نے بتاریخ ۲۶؍مارچ ۱۹۳۴ء ہزایکسی لنسی لارڈ
ولنگڈن وائسرائے ہند کی خدمت میں بمقام دہلی پیش کیا)
(الفضل قادیان ج۲۱ نمبر۱۱۸ ص۶ کالم۱، مؤرخہ ۳؍اپریل ۱۹۳۴ء)
432
فصل تیرہویں
سیاسیات، دورِ ثالث
(۱) سرکاری بے اعتباری
’’احمدیت کی ابتداء میں انگریز مخالف نہ تھے۔ سوائے چند ابتدائی ایام کے جب کہ وہ مہدی کے لفظ سے
گھبراتے تھے مگر اب تو وہ بھی مخالف ہورہے ہیں۔ بہت تھوڑے ہیں جو جماعت کی خدمات کو سمجھتے ہیں۔ باقی تو
باغیوں سے بھی زیادہ غصہ سے ہمیں دیکھتے ہیں اور اگر انگریزوں کا فطری عدل مانع نہ ہو تو شاید وہ ہمیں پیس
ہی دیں… انگریز شاید خیال کرنے لگے ہیں کہ اتنی بڑی منظم جماعت اگر مخالف ہوگئی تو ہمارے لئے بہت پریشانیوں
کا موجب ہوگی اور وہ اتنا نہیں سوچتے کہ جماعت احمدیہ کی مذہبی تعلیم یہ ہے کہ حکومت کی فرمانبرداری کی جائے
تو پھر جماعت احمدیہ گورنمنٹ کی مخالف ہوکس طرح سکتی ہے لیکن شاید وہ گربہ کشتن روز اوّل کے مطابق ہمیں دبا
دینا ضروری سمجھتے ہیں۔‘‘
(خطبہ جمعہ خلیفہ قادیان مندرجہ الفضل قادیان ج۲۱ نمبر۱۱۰ ص۷ کالم۳، مؤرخہ ۱۵؍مارچ ۱۹۳۴ء، خطبات
محمود ج۱۵ ص۶۹)
(۲) پتہ کی بات
’’پھر یہ بات ضلع کے حکام تک ہی محدود نہیں۔ اوپر کے بعض افسر بھی ایسا ہی سلوک کر رہے ہیں اور ان کو
بھی ہم نظرانداز نہیں کر سکتے۔ جب بھی کوئی شکایت ان کے پاس کی جاتی ہے وہ کہہ دیتے ہیں احمدی مبالغہ کرتے
ہیں۔ اخبار ’’الفضل‘‘ میں جھوٹی خبریں شائع ہوتی ہیں بلکہ ہمارے ایک دوست نے جب ایک سرکاری افسر سے ذکر کیا
کہ حضرت خلیفۃ المسیح (یعنی مرزامحمود) نے گزشتہ خطبہ میں برطانوی قوم کی تعریف کی ہے اس نے کہا کہ پھر کیا۔
اگلے خطبہ میں کہہ دیں گے کہ بعض افسر غدار ہیں۔ یہ ایک ذمہ دار افسر کا بیان ہے جس کے متعلق کسی کو امید نہ
ہوسکتی تھی کہ وہ ایسا بے قابو ہو جائے گا۔‘‘
(مرزامحمود خلیفہ قادیان کا خطبہ جمعہ، الفضل قادیان ج۲۳ نمبر۲۶ ص۶ کالم۲، مؤرخہ ۳۱؍جولائی ۱۹۳۵ء،
خطبات محمود ج۱۶ ص۴۴۴)
(۳) اصل میں
’’پھر اس کے بعد ۱۹۲۷ء میں مسلمانوں کی لاہور اور مختلف علاقوں میں جو حالت ہوئی، اس وقت کون تھے، جو
آگے آئے۔ ہم نے ہی اس وقت مسلمانوں کے لئے روپیہ خرچ کیا۔ تنظیم کی اور اس وقت ہر جگہ یہ چرچہ تھا کہ احمدی
بڑی خدمت کر رہے ہیں۔ حتیٰ کہ سرمیلکم ہیلی نے جو اس وقت گورنر تھے، مسٹر لنگے سے جو اس وقت کمشنر تھے، مجھے
خط لکھوایا کہ آپ تو ہمیشہ حکومت کا ساتھ دیتے رہے ہیں آج کیوں اس ایجی ٹیشن میں حصہ لیتے ہیں اور میں نے
انہیں جواب دیا کہ حکومت کی وفاداری سے یہ مراد نہیں کہ مسلمانوں کا غدار ہوں اور مسلمانوں کی خدمت سے یہ
مراد نہیں کہ حکومت کا غدار ہوں۔ میں تو دونوں کا بھلا چاہتا ہوں۔ مجھے اگر سمجھا دیا جائے کہ مسلمان مظلوم
نہیں تو اب اس طریق کو چھوڑنے کو تیار ہوں۔ انہوں نے تحریراً تو اس کا جواب نہ دیا مگر شملہ میں، میں گیا تو
چیف سیکرٹری نے جو غالباً ہمارے موجودہ گورنر تھے، مجھے لکھا کہ لاٹ صاحب آپ سے ملنا چاہتے ہیں اور جب میں
ان سے ملا تو زبانی گفتگو اس پر خوب تفصیلی کی مگر اس کا کیا نتیجہ نکلا۔ یہی کہ مسلمانوں میں سے ایک اثر
رکھنے والے گروہ نے کہا کہ احمدیوں کا بائیکاٹ کرو۔ یہ اصل میں ہمارے دشمن ہیں۔‘‘
(خطبہ جمعہ مرزامحمود الفضل قادیان ج۲۲ نمبر۹۱ ص۵ کالم۱، مؤرخہ ۲۹؍جنوری ۱۹۳۵ء، خطبات محمود ج۱۶
ص۵۰،۵۱)
433
(۴) قادیانی کہانی
’’ہماری جماعت وہ جماعت ہے جسے شروع سے ہی لوگ یہ کہتے چلے آئے کہ یہ خوشامدی اور گونمنٹ کی پٹھو ہے۔
بعض لوگ ہم پر یہ الزام لگاتے ہیں کہ ہم گورنمنٹ کے جاسوس ہیں۔ پنجابی محاورہ کے مطابق ہمیں جھولی چک اور
نئے ’’زمینداری‘‘ محاورہ کے مطابق ہمیں ٹوڈی کہا جاتا ہے… دراصل ان اعتراضات کی وجہ سے ہمیں رنج نہیں بلکہ
ہمیں رنج دووجہ سے ہے۔ ایک وجہ تو یہ ہے کہ ہم نے گورنمنٹ کے ساتھ دوستی کی۔ ظاہر وباطن دوستی کی مگر
گورنمنٹ نے اس کے صلہ میں بغیر تحقیق کئے ہم پر ایک خطرناک الزام لگادیا…
ہم نے ابتدائے سلسلہ سے گورنمنٹ کی وفاداری کی۔ ہم ہمیشہ یہ فخر کرتے رہے کہ ہم ملک معظم کی وفادار
رعایا ہیں۔ کئی ٹوکرے خطوط کے ہمارے پاس ایسے ہیں جو میرے نام یا میری جماعت کے سیکرٹریوں یا افراد جماعت کے
نام ہیں جن میں گورنمنٹ نے ہماری جماعت کی وفاداری کی تعریف کی۔ اسی طرح ہماری جماعت کے پاس کئی ٹوکرے تمغوں
کے ہوں گے۔ ان لوگوں کے تمغوں کے جنہوں نے اپنی جانیں گورنمنٹ کے لئے فدا کیں۔ یہ اتنے ٹوکرے ہیں کہ ایک
افسر کے وزن سے بھی ان کا وزن زیادہ ہے مگر ان تمام خدمات کے بعد، اس تمام ادّعائے وفاداری کے بعد اور اس
تمام ثبوت وفاداری کے بعد گورنمنٹ نے بلاوجہ اور بغیر کسی حق کے بغیر اس کے کہ وہ انصاف اور عدل کے ماتحت
فیصلہ کرتی، اندھا دھند اپنا قلم اٹھایا اور ہمیں باغی اور سلطنت کا تختہ الٹ دینے والا اور سول ڈس اوبیڈینس
کا مرتکب قرار دے دیا۔ پھر دوسری وجہ ہمارے شکوہ کی یہ ہے کہ گورنمنٹ نے ایسا راستہ اختیار کیا ہے جس پر
چلنے سے فساد برپا ہوتا اور ملک کا امن برباد ہوتا ہے۔‘‘
(خطبہ جمعہ خلیفہ قادیان مندرجہ اخبار الفضل قادیان ج۲۲ نمبر۵۸ ص۲،۳، مؤرخہ ۱۱؍نومبر ۱۹۳۴ء، خطبات
محمود ج۱۵ ص۳۱۴تا۳۱۶)
(۵) قادیانی اسناد
’’ہم نے پچاس سال سے دنیا میں امن قائم کر رکھا ہے۔ ہم نے لاکھوں روپیہ گورنمنٹ کی بہبودی کے لئے
قربان کیا ہے اور کوئی شخص بتا نہیں سکتا کہ اس کے بدلے ایک پیسہ بھی ہم نے گورنمنٹ سے کبھی لیا ہو۔ ہمارے
پاس وہ کاغذات موجود ہیں جس میں گورنمنٹ نے ہمارے خاندان کی خدمات کا اعتراف کیا ہے اور یہ وعدہ کیا ہوا ہے
کہ اس خاندان کو وہی اعزاز دیا جائے گا جو اسے پہلے حاصل تھا۔ ہمارے پردادا کو ہفت ہزاری کا درجہ ملا ہوا
تھا جو مغلیہ سلطنت میں صرف شہزادوں کو ملا کرتا تھا۔ پھر عضدالدولہ کا خطاب حاصل تھا یعنی حکومت کا مغلیہ
بازو۔ (تو گویا سیاسی اولوالعزمیاں خاندانی ورثہ ہے۔ للمؤلف) مگر ہم نے کبھی گورنمنٹ کے سامنے ان کاغذات کو
پیش نہیں کیا۔ (غنیمت ہے کہ ان کا ذکر آگیا… ایسا بھی کیا انکسار اور استتار ہے کم ازکم ہفت ہزاری کی سند تو
شائع کر دینی چاہئے۔ للمؤلف) اور نہ اپنی وفادارانہ خدمات کی کمی کی، بلکہ ہرروز زیادتی کرتے چلے گئے۔ ہم
نے کانگریس کا مقابلہ کیا۔ ہم نے احرار موومنٹ کا مقابلہ کیا اور اس مقابلہ میں لاکھوں روپیہ صرف کیا۔ (اپنی
خاطر یاسرکار کی خاطر۔ للمؤلف) جانیں قربان کیں۔ جنگ کے موقع پر اپنی جماعت کے بہترین آدمی پیش کئے۔
سراوڈوائر۔ لارڈ چیمسفورڈ اور لارڈ ارون، سرمیلکم ہیلی، سرجفرے ڈی مانٹ مورنسی اور دوسرے اعلیٰ حکام کی
تحریریں، جن میں سے بعض ان کی دستخطی ہیں اور بعض ان کے نائبین کی ہیں، میرے پاس موجود ہیں جن میں وہ ہماری
جماعت کی وفاداری اور انتہائی قربانی کا اعتراف کرتے ہیں مگر آج گورنمنٹ کے حکام ہمیں یہ سناتے ہیں کہ تم
امن کو برباد کرنے والے ہو۔‘‘
(خطبہ جمعہ خلیفہ قادیان مندرجہ اخبار الفضل قادیان ج۲۲ نمبر۵۰ ص۳ کالم۲،۳، مؤرخہ ۲۳؍اکتوبر۱۹۳۴ء،
خطبات محمود ج۱۵ ص۲۸۰،۲۸۱)
434
(۶) خدمت بلامعاوضہ
’’بحیثیت قوم ہم نے جو خدمت حکومت کی کی، اس کے بدلہ میں بحیثیت قوم ہم نے کبھی اس سے بدلہ نہیں لیا
اور اپنے خاندان کے متعلق تو اس شرط کو بھی میں اڑا دیتا ہوں۔ گورنمنٹ بتائے کہ ہم نے کبھی ذاتی طور پر اس
سے کوئی فائدہ اٹھایا ہے۔ لوگ ہمیں کہتے رہے کہ یہ گورنمنٹ کے خوشامدی ہیں، لوگ ہمیں کہتے رہے کہ یہ گورنمنٹ
سے نفعوں کی امید رکھتے ہیں۔ لوگ ہمیں کہتے رہے کہ گورنمنٹ ان کے خزانے آپ بھرتی ہے مگر گورنمنٹ تو جانتی ہے
کہ ہم نے اس سے کوئی فائدہ نہیں اٹھایا اور اگر اٹھایا ہو تو اسے چاہئے کہ وہ پیش کرے۔ ساری عمر میں صرف ایک
کام حکومت نے ایسا ہمارے بعض آدمیوں کے سپرد کیا تھا جس کے متعلق اس نے کہا تھا کہ ہم اس میں دوہزار روپیہ
تک خرچ کر سکتے ہیں۔ لیکن جب وہ معاملہ میرے پاس آیا تو میں نے روپیہ کے معاملہ کو نظرانداز کرادیا۔ میں نے
اپنے دوستوں سے کہا کہ اگر یہ دوہزار روپیہ لے لیاگیا تو گویہ گورنمنٹ ہی کا کام ہے۔ مگر بعد میں جب کبھی
کوئی ذکر ہوا، یہ دوہزار روپیہ تمہارے منہ پر مارا جائے گا اور کہا جائے گا کہ انہوں نے حکومت سے اتنا روپیہ
لے کر فلاں کام کیا۔ چنانچہ جو کام کرنے والے تھے، انہیں میں نے حکومت سے کسی قسم کی مالی مدد لینے سے روک
دیا۔ اس کے سوا کبھی گورنمنٹ کی طرف سے کوئی چیز پیش کرنے کی خواہش بھی نہیں کی گئی۔ صرف یہ ایک واقعہ ہے جو
پنجاب گورنمنٹ کا بھی نہیں بلکہ حکومت ہند کا ہے۔ اس ایک معاملہ میں بھی ہم نے روپیہ لینے سے انکار کر دیا۔
مگر مخالف کہتے ہیں احمدیوں کے خزانے گورنمنٹ بھرتی ہے۔ اگر واقع میں یہ بات درست ہے تو اب گورنمنٹ کے لئے
خواب اچھا موقع ہے۔ وہ اعلان کردے کہ فلاں موقع پر ہم نے احمدیوں کو اتنا روپیہ دیا۔ (لیکن ’’حساب دوستاں
دردل‘‘ مکرر غور فرمایا جائے تو عجب نہیں کسی نہ کسی شکل میں معاوضہ یاد آجائے اور شکوہ رفع ہو جائے۔
للمؤلف)‘‘
(خطبہ جمعہ خلیفہ قادیان مندرجہ الفضل قادیان ج۲۳ نمبر۳۱ ص۴ کالم۲، مؤرخہ ۶؍اگست ۱۹۳۵ء، خطبات محمود
ج۱۶ ص۴۵۹،۴۶۰)
(۷) پچاس سالہ خدمات
’’تمہاری پچاس سالہ خدمات کا حکومت پر ایک بوجھ تھا۔ اس پر بوجھ تھا کہ تم نے جنگ یورپ میں آدمیوں اور
روپوؤں سے مدد کی۔ اس پر بوجھ تھا کہ تم نے رولٹ ایکٹ کی شورش کا مقابلہ کیا۔ اس پر بوجھ تھا کہ تم لوگوں
نے ہجرت کی تحریک کا مقابلہ کیا اور اس نے تم کو کوئی بدلہ نہیں دیا۔ اس پر بوجھ تھا کہ تم نے نان کو آپریشن
کا مقابلہ مفت لٹریچر تقسیم کر کے اور جلسوں اور لیکچراروں کے ذریعہ کیا اور حکومت اس کا بدلہ دینے سے عاجز
رہی۔ اس پر بوجھ تھا کہ تم نے سول ڈس اوبیڈینس کا مقابلہ کیا، ریڈشرٹس کا مقابلہ کیا، بنگال میں ٹیررازم کا
مقابلہ کیا اور اس نے کوئی قدردانی نہ کی۔‘‘
(خطبہ جمعہ خلیفہ قادیان مندرجہ الفضل قادیان ج۲۲ نمبر۵۴ ص۱۲ کالم۱، مؤرخہ یکم؍نومبر۱۹۳۴ء، خطبات
محمود ج۱۵ ص۳۰۹)
’’ہم حکومت کی ایسی خدمت کرتے ہیں کہ اس کے پانچ پانچ ہزار روپیہ ماہوار تنخواہ پانے والے ملازم بھی
کیا کریں گے۔‘‘
(خطبہ جمعہ خلیفہ قادیان مندرجہ الفضل قادیان ج۱۷ نمبر۷۶ ص۱۴ کالم۳، مؤرخہ یکم؍اپریل ۱۹۳۰ء، خطبات
محمود ج۱۲ ص۳۴۱)
(۸) رولٹ ایکٹ
’’مجھے تو باربار وہ وقت یاد آتا ہے جب حضور (مرزامحمود) نے رولٹ ایکٹ کے زمانہ میں ضلع گورداسپور کے
لوگوں کو سمجھانے اور امن قائم رکھنے کے لئے ہرایک تحصیل میں وفد روانہ کئے تھے اور میں پٹھان کوٹ کی تحصیل
میں وفد کے ساتھ گیا تھا۔ حضور نے تقریباً
435
ساڑھے پانچ بجے شام حکم دیا کہ وفود پیدل چلے جائیں اور رات جہاں آئے، وہاں گزاریں۔ حضور نے یہ بھی
فرمایا تھا کہ یہ گورنمنٹ اور لوگوں کے ساتھ عملی ہمدردی دکھلانے کا وقت ہے۔ ہم بغیر اس کے کہ شام کا کھانا
کھا کے نکلتے، اسی وقت چل پڑے تھے۔ لوگوں کو نصیحت کرتے اور پیدل چلتے رہے۔ خدا گواہ ہے ہمارے پاؤں سخت
زخمی ہوگئے۔ گورداسپور کے ڈپٹی کمشنر اور سپرنٹنڈنٹ صاحب پولیس سے ہم ملے۔ وہ ہمارے دورہ کا مقصد سن کر
حیران ہوگئے اور کہنے لگے کہ آپ لوگوں کو جان کا خطرہ ہے۔ کیونکہ امرتسر کے جلیانوالے باغ کے تازہ حادثہ سے
عام لوگوں میں گورنمنٹ کے خلاف سخت جوش ہے۔ ہم آپ کو پولیس کی مدد دیں۔ ہم نے کہا خداتعالیٰ ہمارا محافظ ہے
اور ہم حکومت کی وفاداری اور امن کا پیغام حضرت خلیفۃ المسیح الثانی ایدہ اللہ کی طرف سے لے جارہے ہیں۔ ہم اگر
اس راہ میں قتل بھی کئے گئے تو پرواہ نہیں۔ خدا کے فضل سے ہم اس سفر میں کامیابی سے واپس آئے اور ضلع
گورداسپور سارے کا سارا حضور کے ذریعہ امن میں رہا۔ ہم نے لوگوں سے کہا کہ رولٹ ایکٹ کا استعمال مفسد لوگوں
کے لئے ہے، نہ کہ شریفوں کے لئے۔ کجا وہ وقت اور کجا یہ کہ گورنمنٹ پنجاب ہر ایک معاملہ میں احراریوں کی پشت
پناہ بنی ہوئی ہے اور جماعت احمدیہ مظالم کا نشانہ بنائی جارہی ہے۔ ہم پر کھلے کھلے ظلم کئے جارہے ہیں مگر
گورنمنٹ پنجاب خاموش ہے۔ میں سچ کہتا ہوں کہ یہ گورنمنٹ ناشکری کر رہی ہے۔ ہم گورنمنٹ کے سچے ہمدرد تھے۔ ہم
بزدل نہیں، ہم بے غیرت نہیں ہم ڈرپوک نہیں۔ ہماری جان ہتھیلی پر ہے۔ ہم بہادر ہیں اور صحیح معنوں میں بہادر
ہیں۔ حضرت مسیح موعود نے ہم میں بہادری کی روح پھونک دی ہے مگر ساتھ ہی حکومت کے قوانین کی پابندی سکھائی
ہے۔ تاہم گورنمنٹ پنجاب کی موجودہ روش کی وجہ سے ہماری دلی ہمدردی جارہی ہے۔ گورنمنٹ خدا کے آگے ناشکری کی
مرتکب ہورہی ہے۔ لیکن اے خدا تو جلد اپنی قدرت دکھا اور ہماری مدد فرما۔ حضور انور (مرزامحمود) ہماری جانیں
حضور کے قدموں پر نثار ہونے کے لئے ہروقت حاضر ہے۔ اس (متذکرہ بالا) خط میں ان ہولناک ایام کا ذکر کیاگیا ہے
جب پنجاب میں حکومت کے خلاف خطرناک جوش پھیل گیا تھا۔ کئی ایک انگریز قتل کر دئیے گئے تھے۔ کئی جگہ سرکاری
عمارت جلادی گئی تھیں اور ایک عام بدامنی پھیلی ہوئی تھی۔ اس وقت حضرت امیرالمؤمنین ایدہ اللہ تعالیٰ
(مرزامحمود) نے انگریزوں کی جانیں بچانے کے لئے اور لوگوں کو حکومت کے وفادار بنائے رکھنے کے لئے اپنے خدام
کو اس کام میں لگادیا اور حکم دے دیا کہ وہ اپنے آرام وآسائش کی قطعاً پروانہ کریں۔ حتیٰ کہ اپنی جانوں کو
خطرہ میں ڈال کر حکومت کی خدمات بجالائیں۔ وہ وقت گزر گیا۔ احمدیوں نے اس نازک وقت میں ہرجگہ بڑی بڑی خدمات
سرانجام دیں اور سخت تکالیف اٹھا کر دیں۔ خاص کر ضلع گورداسپور بدامنی سے بالکل محفوظ رہا۔ اس وقت حکومت نے
ان خدمات کا کھلے الفاظ میں اعتراف بھی کیا مگر آج اس کا جو بدلہ مل رہا ہے، وہ ظاہر ہے اور واقعات بتارہے
ہیں کہ جماعت احمدیہ کے ساتھ کیا سلوک کیا جارہا ہے۔‘‘
(الفضل قادیان ج۲۳ نمبر۲۷ ص۳ کالم۱،۲، مؤرخہ یکم؍اگست ۱۹۳۵ء)
(۹) شکوہ وشکایات
’’حکومت نے بے انصافی اور ظلم کیا، جب اس نے ہمارے لئے اس قانون کو استعمال کیا جو باغیوں اور
انارکسٹوں کے لئے بنایا گیا ہے اور جسے پاس کرتے وقت حکومت نے ملک کے نمائندوں کو یقین دلایا تھا کہ اسے بڑی
احتیاط سے استعمال کیا جائے گا… کیا کوئی معقول انسان سمجھ سکتا ہے کہ یہ صحیح استعمال ہے۔ اس قانون کا اس
کے لئے (یعنی خلیفہ قادیان کے لئے) جس نے خود اس کے بنانے والوں سے بھی زیادہ قیام امن کی کوشش کی ہے، جس نے
اور جس کی جماعت نے اس وقت سول نافرمانی اور اس قسم کی دوسری موومنٹوں کا مقابلہ کیا۔ جب یہ افسر جو آج ہمیں
باغی قرار دے رہے ہیں، آرام سے اپنے بیوی بچوں میں بیٹھے ہوا کرتے تھے۔ پھر یہ لوگ تنخواہیں لے کر کام
436
کرتے تھے اور میں نے اور میری جماعت نے لاکھوں روپیہ اپنے پاس سے خرچ کر کے بدامنی پیدا کرنے والی
تحریکات کا مقابلہ کیا۔ پھر کس قدر ظلم ہے کہ جو قانون ان تحریکات کے انسداد کے لئے وضع کیاگیا وہ سب سے
پہلے ہمیں پر استعمال کیا جاتا ہے… (ہم نے) ملک معظم کی حکومت کو قائم کرنے کے لئے ملک کو اپنا دشمن بنالیا
ہے۔ احرار کی تقریریں پڑھو۔ ان کو زیادہ غصہ اسی بات پر ہے کہ ہم حکومت کے جھولی چک ہیں۔ وہ صاف کہہ رہے ہیں
کہ ہم اسی وجہ سے ان کے مخالف ہیں… کیا عجیب بات ہے کہ جب حکومت پر مصیبت آئے تو وہ ہم سے استمداد کرتی ہے۔
اس کی مصیبت کے وقت ہمارے لیکچرار جاتے اور مخالف تحریکوں کا مقابلہ کرتے ہیں۔ جنگ میں ہم نے تین ہزار
والنٹیئرز دئیے۔ روپیہ ہم خرچ کرتے تھے مگر آج احراریوں کی حفاظت کے لئے وہ ہمیں باغی بتارہی ہے… ابھی مئی
کاواقعہ ہے کہ وائسرائے ہند کی طرف میں نے ایک خط لکھا تھا کہ جماعت احمدیہ کے ایڈریس کے جواب میں جو کچھ آپ
نے فرمایا تھا، اس سے شبہ ہوتا ہے کہ شاید حکومت کا خیال ہے کہ ہم بعض مواقع پر اس سے تعاون نہیں کرتے۔ اس
کے جواب میں ان کے پرائیویٹ سیکرٹری نے لکھا ہے کہ ہزایکسی لنسی کو یہ خیال ہرگز نہیں بلکہ حضور وائسرائے اس
کے برعکس ہمیشہ سے جماعت احمدیہ کو سب سے زیادہ قانون کی پابند اور وفادار جماعتوں میں سے ایک جماعت سمجھتے
چلے آتے ہیں… کانگریس سے ہمیشہ سے ہماری یہی جنگ رہی ہے کہ وہ کہتے ہیں ہم غلام ہیں۔ مگر ہم کہتے ہیں ہم
ہرگز غلام نہیں ہیں۔ اب ہم انہیں کیا منہ دکھائیں گے۔ کیونکہ اب تو پنجاب گورنمنٹ نے اپنے عمل سے ثابت کر
دیا ہے کہ وہ ہندوستانیوں کو (حتیٰ کہ قادیانیوں کو) غلام سمجھتی ہے اور ان کی عزت کی قیمت اس کی نظر میں
ایک کوڑی کی بھی نہیں ہے۔ اس حکم کے جاری کرنے والے افسروں نے یہ خطرناک غلطی کی ہے کہ ہم پر اس کام کا
الزام لگایا ہے۔ جسے ہم حرام سمجھتے ہیں اور جس کے لئے ہم باوجود اس کے کہ اس نے ہماری عزت کا پاس نہیں کیا،
تیار نہیں ہیں۔ وگرنہ غالب کی طرح ہم بھی کہہ سکتے تھے کہ بے وفا تو بے وفا ہی سہی، مگر نہیں۔ ہمارے مذہب نے
ہمیں یہ سکھایا ہے کہ حکومت کے وفادار ہیں، اس لئے وہ اگر ہمیں قید کردے، پھانسی دے دے تب بھی ہم وفادار ہی
رہیں گے۔‘‘
(خطبہ جمعہ خلیفہ قادیان، مندرجہ اخبار الفضل قادیان ج۲۲ نمبر۵۴ ص۱۰،۱۱، مؤرخہ یکم؍نومبر ۱۹۳۴ء،
خطبات محمود ج۱۵ ص۳۰۵تا۳۰۷)
(۱۰) پرانے قدردان مہربان
’’پھر اسی پنجاب میں سرایڈوائر جیسا آدمی بھی گزرا ہے۔ ان کے زمانہ میں ایک انگریز ڈپٹی کمشنر نے میرے
ساتھ سخت لہجہ میں گفتگو کی اور سرموصوف کو اس کی اطلاع ہوئی تو آپ نے اسے پہلے بدل دیا اور پھر اس کا تنزل
کردیا اور آخر اسے ریٹائر ہوکر واپس جانا پڑا۔ وہ فخر سے کہا کرتے تھے کہ میں پہلا شخص ہوں جس نے ایک
ہندوستانی کے مقابل پر ایک انگریز افسر کو سزا دی… پھر اسی صوبہ میں سرجیفری ڈی مونٹ مورنسی جیسے انسان بھی
گزرے ہیں۔ آج بھی یہ لوگ ہمارے ساتھ ہمدردی رکھتے ہیں۔ مسٹر تھامسن چیف کمشنر دہلی کے متعلق مجھے یاد نہیں
کہ ہم نے انہیں کوئی پیغام بھیجا ہو اور انہوں نے فوراً خنداں پیشانی سے ہمارا کام نہ کر دیا ہو۔ حالانکہ
بعض اوقات ان کا اس سے کوئی تعلق نہ ہوتا۔ پھر اسی ضلع میں مصنف افسر رہے ہیں۔ (اخبار) ’’مباہلہ‘‘ والوں کی
شورش کے ایام میں بھی انگریز ڈپٹی کمشنر تھے جو اچھی طرح انصاف کرتے رہے۔ ان سے پہلے یہاں ایک ڈپٹی کمشنر
مسٹر واٹسن گزرے ہیں۔ میں جب انگلستان گیا تو وہ لندن میں مجھ سے ملنے آئے۔ حالانکہ وہ کہیں باہر رہتے تھے…
میں سرہادل کا نام پہلے لے چلا ہوں۔ میرا ذاتی تجربہ ہے کہ وہ اوّل درجہ کے نیک اور شریف افسر تھے۔ میرے
ساتھ ان کو جیسی عقیدت تھی وہ اس سے ظاہر ہے کہ میرے ایک عزیزی کے خلاف ان کے انگریز افسر نے بالا افسروں کے
پاس شکایت کی۔ مجھے پہلے تو علم نہ ہوا مگر جب علم ہوا تو میں نے سرہادل کو کہا بھیجا کہ درست واقعات یوں
ہیں۔ انہوں نے کہا
437
کہ میرا تعلق تو نہیں لیکن میں کوشش کروں گا۔ اس کے متعلق انہوں نے اس صیغہ کے افسر کو جو چٹھی لکھی،
اس کی ایک نقل مجھے بھی مل گئی۔ انہوں نے اس میں لکھا کہ گوشکایت کرنے والا انگریز ہے مگر مجھے جماعت احمدیہ
کے امام کی طرف سے ان کے سیکرٹری نے بتایا کہ واقعات یوں ہیں اور اگرچہ واقعات ان کے چشم دید نہیں لیکن مجھے
ان پر اس قدر یقین ہے کہ میں سمجھتا ہوں کہ وہ کوئی بات بغیر تصدیق کے پیش نہیں کرسکتے۔ اس لئے ان کی بات
ضرور سچی ہے۔ پس آپ اس معاملہ کی بذات خود تحقیق کریں۔ صرف رپورٹ پر انحصار نہ کریں۔ ابھی ابھی (عبدالرحیم)
درد صاحب (قادیانی) ان سے (ولایت میں) ملے تھے اور انہیں موجودہ حالات سنائے تھے۔ انہوں نے سن کر کہا کہ آپ
کی جماعت تو مذہبی جماعت ہے۔ آپ خوب جانتے ہیں کہ اس حکومت کے اوپر ایک اور حکومت ہے اس لئے جو افسر
ناانصافی کر رہے ہیں۔ وہ سزا سے ہرگز نہیں بج سکیں گے اور میں امید کرتا ہوں کہ ایسے لوگوں کی وجہ سے آپ
ہماری دوستی کو نہیں توڑیں گے۔‘‘
(خطبہ جمعہ خلیفہ قادیان مندرجہ اخبار الفضل قادیان ج۲۳ نمبر۲۶ ص۹ کالم۲،۳، مؤرخہ ۳۱؍جولائی ۱۹۳۵ء،
خطبات محمود ج۱۶ ص۴۵۳،۴۵۴)
(۱۱) یادرفتگان
’’بہت سے افسر ایسے گزرے ہیں جو فخر سے کہہ سکتے ہیں کہ ہم نے اپنے حسن سلوک سے پچاس ہزار یا لاکھ
بلکہ کئی لاکھ کی ایک ایسی جماعت (قادیانی) ہندوستان میں چھوڑی ہے جو اپنی جانیں قربان کر کے بھی برطانیہ سے
تعاون کرے گی۔ مگر موجودہ افسر جاکر کیا کہہ سکتے ہیں۔ سوائے اس کے کہ صاحب! فخر نہ کریں ہم اسی جماعت کے
دلوں کو توڑ کر آئے ہیں۔ کیا یہ بات ان کی اپنی یا ان کی حکومت کی شہرت کا موجب ہوگی۔‘‘
(خطبہ جمعہ خلیفہ قادیان مندرجہ اخبار الفضل قادیان ج۲۳ نمبر۲۶ ص۶ کالم۲،۳، مؤرخہ ۳۱؍جولائی ۱۹۳۵ء،
خطبات محمود ج۱۶ ص۴۴۵)
(۱۲) عہدوں کی تقسیم
’’ان الفاظ کے معنی یہ ہیں کہ ہم جماعت احمدیہ کی وفاداری کے بدلے اسے عہدے نہیں دے سکتے۔ یہ ایسی
غلطی ہے جو کئی انگریزوں کو لگی ہوئی ہے۔ وہ ایسے وقت جب کہ انہیں کسی وفادار جماعت کی ضرورت ہو، جماعت
احمدیہ کو مدد کے لئے بلاتے ہیں مگر جب عہدے دینے کا سوال ہوتو کانگریسیوں کو دے دیتے ہیں مگر اس کا خمیازہ
بھی گورنمنٹ بھگت رہی ہے اور اب حالت یہ ہے کہ حکومت کے اپنے راز بھی محفوظ نہیں… ایک دفعہ گورنمنٹ کے ایک
سیکرٹری شملہ میں چائے پر میرے پاس آئے۔ میں نے انہیں کہا کہ آپ کی ہر بات کانگریس کے پاس پہنچتی رہتی ہے۔
آپ کو بھی کوئی ایسا انتظام کرنا چاہئے کہ ان کی باتیں آپ کو پہنچتی رہیں… یہ حالت اس لئے ہوتی ہے کہ
گورنمنٹ خیال نہیں رکھتی کہ وفادار جماعتوں کو اعلیٰ عہدوں پر پہنچائے۔ اگر اعلیٰ عہدوں پر اس کی وفادار
جماعت کے ارکان ہوں تو اس کے راز مخفی رہیں اور کبھی بھی وہ حالت نہ ہو جو آج کل ہے۔‘‘
(خطبہ جمعہ خلیفہ قادیان، الفضل قادیان ج۲۲ نمبر۶۳ ص۴،۵، مؤرخہ ۲۲؍نومبر۱۹۳۴ء، خطبات محمود ج۱۵
ص۳۸۰تا۳۸۲)
(۱۳) ایک خط
’’اس دوران میں مجھے ایک خط ملا… اس کے لحاظ سے ممکن ہے کہ اس قسم کے خیالات رکھنے والے لوگ بھی ہماری
جماعت میں ہوں… جس خط کا میں نے ذکر کیا ہے، اس کا مضمون یہ ہے کہ ہم دیر سے محسوس کر رہے ہیں کہ انگریز لوگ
بغیر شورش اور فساد کے کوئی بات نہیں مانا کرتے اور یہ کہ اس دوست کے نزدیک اب وقت آگیا ہے کہ ہم گورنمنٹ کے
متعلق اس وفاداری کی تعلیم پر جو ہمارے سلسلہ میں موجود ہے، دوبارہ غور کریں اور سوچیں کہ کیا اس کی تشریح
حد سے بڑھی ہوئی تو نہیں اور کیا وفاداری کا جو مفہوم ہم سمجھتے چلے آئے ہیں، وہ
438
خوشامد اور نکما پن تو نہیں… اس دوست نے اپنے خط میں ایک اور واقعہ بھی پیش کیا ہے اور لکھا ہے کہ وہ
ایک دفعہ پبلک پراسیکیوٹر کے سلسلہ میں سب انسپکٹر کے لئے بطور امیدوار پیش تھے۔ لاہور کے سینئر سپرنٹنڈنٹ
مسٹر ہارڈنگ کے سامنے جب انہوں نے اپنے آپ کو پیش کرتے ہوئے کہا کہ میں احمدیہ جماعت میں سے ہوں اور احمدیہ
جماعت وہ ہے جو حکومت برطانیہ کی ہمیشہ وفادار رہی ہے۔ تو مسٹر ہارڈنگ نے کہا کہ میں احمدیہ جماعت کی
وفاداری کی کوئی حیثیت نہیں سمجھتا۔ وہ دوست لکھتے ہیں کہ جب ہماری جماعت کی وفاداری کے کوئی معنی ہی نہیں
تو کوئی وجہ نہیں کہ ہم لاکھوں روپیہ حکومت کی بہبودی کے لئے خرچ کریں اور اپنی سینکڑوں قیمتی جانوں کو
خطرات میں ڈالیں اور حکومت کی وفاداری ان معنوں میں کرتے چلے جائیں کہ نازک اور مشکل مواقع پر اس کی حمایت
کریں۔‘‘
(خطبہ جمعہ خلیفہ قادیان مندرجہ اخبار الفضل قادیان ج۲۲ نمبر۶۳ ص۲،۳، مؤرخہ ۲۲؍نومبر ۱۹۳۴ء، خطبات
محمود ج۱۵ ص۳۷۷،۳۷۸)
(۱۴) قادیانی مشین
’’بعض حکام کے افعال نے جماعت احمدیہ کو ایک مشین بنادیا ہے جو قانون کی پابندی کرتی ہے اور کرے گی۔
لیکن مشین اپنا رستہ چھوڑ کر آقا کی خدمت نہیں کر سکتی۔ ایک پانچ روپیہ کا نوکر اپنا رستہ چھوڑ کر بھی دیکھے
گا کہ مالک کا نقصان نہ ہو مگر دس لاکھ کی مشین اس کا کوئی خیال نہیں رکھ سکتی۔ بلکہ وہ اپنے رستہ پر چلی
جائے گی تو ان حکام نے جماعت کو ایک مشین بنادیا ہے۔ پہلے وہ اپنا رستہ چھوڑ کر بھی اس امر کا خیال رکھتی
تھی کہ حکومت برطانیہ پر کوئی حرف نہ آئے مگر اب وہ ایسا کہاں کرے گی جب تک کہ حکومت کی طرف سے اس ہتک کا
ازالہ نہ کیا جائے اور ان حالات کے ذمہ دار حکام کو سزا نہ دی جائے۔‘‘
(خطبہ جمعہ خلیفہ قادیان مندرجہ اخبار الفضل قادیان ج۲۳ نمبر۲۶ ص۶ کالم۳، مؤرخہ ۳۱؍جولائی ۱۹۳۵ء،
خطبات محمود ج۱۶ ص۴۴۵)
(۱۵) ناقدری کا راز
’’میں نے پہلے ہی لکھا تھا کہ جس وقت سے ملک میں حکومت خوداختیاری کا سوال پیدا ہوا ہے، حکومت ہمیشہ
زبردست کا ساتھ دینے کی کوشش کرتی ہے۔ کیونکہ کوئی خواہ کتنا بھی دیانتدار ہو اگر اس میں دینداری اور
روحانیت نہیں تو وہ قومی مفاد کے مقابلہ میں دیانتداری کی کوئی زیادہ پرواہ نہیں کرتا۔ جس کے اخلاق کسبی
ہوں، وہ جہاں بھی قومی سوال پیدا ہوگا، انہیں خیرباد کہہ دے گا۔ اسی لئے میں نے پہلے بھی کئی بار کہا ہے اور
اب بھی کہتا ہوں کہ جوں جوں ہندوستان میں حکومت خود اختیاری کا سوال زور پکڑتا جائے گا۔ انگریز زبردست کی
طرف جھکتے جائیں گے۔ کیونکہ وہ سمجھتے ہیں زبردست کی حمایت کے بغیر ہم یہاں نہیں رہ سکتے۔ آئرلینڈ میں دیکھ
لو کیا ہوا۔ جن لوگوں نے اپنی جانوں کو خطرہ میں ڈال کر حکومت کا ساتھ دیا، حکومت نے جب دیکھا کہ ملک میں
مخالفت بڑھ گئی ہے تو اس نے ان جانبازوں کا ساتھ چھوڑ دیا اور ایسے ایسے قوانین پاس کر دئیے جنہیں ان
بہادروں نے اپنی حق تلفی سمجھا۔ وہ لوگ ان کے ہم مذہب، ہم قوم اور وفادار تھے۔ لیکن ان تعلقات کے ہوتے ہوئے
جب زبردست کے مقابلہ میں ان کی پرواہ نہ کی گئی تو صرف وفاداروں (مثلاً قادیانیوں) کا جو نہ ان کے ہم مذہب
ہیں اور نہ ہم قوم۔ ساتھ چھوڑ دینا کوئی سی اچنبھے کی بات ہے۔‘‘
(خطبہ جمعہ خلیفہ قادیان مندرجہ اخبار الفضل قادیان ج۱۷ نمبر۳۰ ص۶ کالم۳، مؤرخہ ۱۱؍اکتوبر ۱۹۲۹ء،
خطبات محمود ج۱۲ ص۱۷۸،۱۷۹)
(۱۶) وفاداری کا سودا
’’افسروں نے یہ ثابت کرنا چاہا کہ ہم نے کانگریس کو دبالیا ہے۔ باغی جماعتوں کو توڑدیا ہے اور اب ہم
تمہیں بتاتے ہیں کہ ہمیں
439
وفاداروں کی بھی ضرورت نہیں اور جب یہ بات دنیا کے سامنے آئے گی تو ہر وہ شخص جس کے دماغ میں عقل ہے،
یہی سمجھنے پر مجبور ہوگا کہ اس حکومت کے پاس جانا خطرناک ہے۔ یہ نہ دوست کو چھوڑتی ہے نہ دشمن کو، سب کو
مارتی ہے۔‘‘
(خطبہ جمعہ خلیفہ قادیان، مندرجہ اخبار الفضل قادیان ج۲۲ نمبر۵۴ ص۱۲ کالم۲، مؤرخہ یکم؍نومبر ۱۹۳۴ء،
خطبات محمود ج۱۵ ص۳۰۹)
’’میں امر کے آثار دیکھتا ہوں کہ حکومت کو جلد وفادار جماعتوں کی امداد کی پھر ضرورت پیش آئے گی۔ میں
یہ کسی الہام کی بناء پر نہیں کہتا بلکہ زمانہ کے حالات کو دیکھ کر عقل کی بناء پر کہتا ہوں۔ میں نے کانگریس
کی تحریک کو خوب غور سے دیکھا ہے اور میں سمجھتا ہوں کہ اب کانگریس ایک ایسی اسکیم تیار کر رہی ہے جس سے
گوبظاہر یہ سمجھاجاتا ہے کہ وہ میدان سے ہٹ گئی۔ مگر عنقریب وہ گورنمنٹ کو ایسی مشکلات میں ڈال دے گی جس کے
لئے پھر اسے وفاداروں کی ضرورت محسوس ہوگی اور ہم پھر اپنے جھگڑے کو ایک طرف رکھ کر اس کی مدد کے لئے تیار
ہو جائیں گے مگر حکومت نے ہمیں سبق دے دیا ہے کہ اس سے سودا کئے بغیر تعلق نہیں رکھنا چاہئے۔ ہم خود بھی
آئندہ حکومت سے سودا کریں گے اور دوسروں کو بھی سودا کرنے کا سبق پڑھائیں گے۔ سوائے اس صورت کے کہ حکومت ہم
پر جو ظلم ہوا ہے، اسے دور کر دے۔ تب ہمارے تعلقات پہلے کی طرح ہو جائیں گے لیکن اگر ایسا نہ ہوا تو ہماری
مدد سودا کرنے کے بعد ہوگی اور ہم اپنی خدمات کا معاوضہ طلب کریں گے۔‘‘
(خطبہ جمعہ خلیفہ قادیان، الفضل قادیان ج۲۲ نمبر۵۸ ص۲۰ کالم۳، مؤرخہ ۱۱؍نومبر ۱۹۳۴ء، خطبات محمود ج۱۵
ص۳۶۰)
(۱۷) قادیان تا انگلستان پرانے قدردان
’’جوں جوں انگلستان کے لوگ ان کارروائیوں سے اطلاع پارہے ہیں جو احرار اور ان کے بعض دوست حکام کی طرف
سے احمدیوں کے خلاف ہورہی ہیں وہاں کے سنجیدہ طبقہ میں اس پر حیرت کا اظہار کیا جارہا ہے۔ ایک سابق گورنر نے
حالات سن کر کہا کہ آخر میرے زمانہ میں بھی تو احرار موجود تھے۔ اس وقت کیوں ان لوگوں کو یہ جرأت نہ ہوئی۔
میں ہمیشہ اپنے افسروں سے کہا کرتا تھا کہ یہ خطرناک لوگ ہیں۔ ان کے فریب میں نہ آنا۔ اخبار ’’آبزرور‘‘
لکھتا ہے کہ ۱۵؍جولائی کو پیر کے دن امپائر ورکرز کونسل کے ان ممبروں کے جلسہ میں جو مغربی لندن سے تعلق
رکھنے والے ہیں، میٹنگ کے ختم ہونے پر کونسل کے سیکرٹری مسٹر چارلس فلز نے کہا کہ اس قوم (یعنی قادیانی
جماعت) کا صرف یہ قصور ہے کہ وہ قانون شکنی کے مخالف ہیں اور حکومت کی اطاعت کو ضروری قرار دیتے ہیں۔ یہ
حملہ کرنے والے لوگ چند ہندو اور جماعت احرار کے لوگ ہیں جوانتہاء پسند کانگریسی ہیں۔ جلسہ کے اختتام پر
بغیر کسی مخالف کے بالاتفاق یہ ریزولیوشن پاس ہوا۔ ’’ان مظالم کے خلاف جو احمدیہ جماعت قادیان پر بعض
ہندوؤں اور جماعت احرار کی طرف سے (جو کہ ایک پیشہ ورایجی ٹیٹروں اور سڈیشن پھیلانے والوں کی جماعت ہے)
ہورہے ہیں امپائر ورکرز کونسل کے ممبروں کا یہ جلسہ بڑے شدومد سے احتجاج کرتا ہے۔ اسی سلسلہ میں معلوم ہوا
ہے کہ پارلیمنٹ کے ایک پارٹی کے بعض ذمہ دار افسر ایک نوٹ تیار کروارہے ہیں جو غور کرنے کے لئے پارٹی کے
لیڈروں کے سامنے پیش ہوگا۔ امید کی جاتی ہے کہ حالات کا پورا مطالعہ کرنے کے بعد پارلیمنٹ کی ایک بااثر
پارٹی اس سوال کو خاص طور پر اپنے ہاتھ میں لے لے گی۔‘‘
(الفضل قادیان ج۲۳ نمبر۲۵ ص۴ کالم۱،۲، مؤرخہ ۳۰؍جولائی ۱۹۳۵ء)
(۱۸) ولایت کی تحریریں
’’پھر چونکہ ہماری جماعت انگلستان میں بھی موجود ہے اس لئے جب پنجاب کی خبریں انگلستان جاتی ہیں اور
وہ ہمارے آدمیوں کو دیکھتے ہیں تو وہاں کے افسر حیران ہوتے ہیں کہ یہ تو ہمارے دوست ہیں۔ ہم سے ملنے جلنے
والے ہیں۔ ہم جانتے ہیں کہ یہ گورنمنٹ کے
440
بدخواہ نہیں بلکہ وفادار ہیں۔ پھر پنجاب کے بعض افسروں کو کیا ہوگیا ہے کہ وہ ایک پرامن اور اطاعت
شعار جماعت کے خلاف رپورٹیں کرنے لگ گئے ہیں… مگر ہم تجربہ سے کہہ سکتے ہیں کہ صرف دشمن اس جماعت کو بدنام
کرنے کی کوشش کرتا تھا۔ (اور اب دوستوں کا یہ برتاؤ ہے مقام حیرت ہے… للمؤلف)‘‘
(خطبہ جمعہ خلیفہ قادیان، مندرجہ اخبار الفضل قادیان ج۲۳ نمبر۱۶۶ ص۱۰ کالم۱،۲، مؤرخہ ۱۶؍جنوری ۱۹۳۶ء،
خطبات محمود ج۱۷ ص۳۲،۳۳)
(۱۹) سوال وجواب
’’پچھلے دنوں جب حکومت کے بعض افسروں نے ہمارے متعلق یہ کہنا شروع کیا کہ یہ حکومت کے غدار ہیں تو ہم
نے اس کے متعلق ولایت میں ان پرانے افسروں کے پاس ذکر کیا جو ہمیں جانتے اور ہم سے اچھی طرح واقف ہیں۔ اس پر
پارلیمنٹ کے بعض ممبروں نے وزراء سے سوال کئے اور انہوں نے یہاں سے دریافت کرایا تو انہوں نے جواب دیا کہ
نہیں ہم تو انہیں بڑا وفادار سمجھتے ہیں۔ (غداری اور وفاداری کے نشیب وفراز قابل عبرت ہیں۔ للمؤلف)‘‘
(خطبہ جمعہ خلیفہ قادیان، الفضل قادیان ج۲۶ نمبر۹۶ ص۱۱ کالم۱، مؤرخہ ۲۷؍اپریل ۱۹۳۸ء، خطبات محمود ج۱۹
ص۲۷۱،۲۷۲)
(۲۰) سلطنت برطانیہ کا زوال
’’مرزاقادیانی نے وہ کام تو کردیا ہے جو آنے والے مسیح کے لئے مقرر تھا۔ اب آنے والے کے لئے کوئی اور
کام باقی نہیں اور اس لئے کسی اور کے آنے کی ضرورت بھی باقی نہیں رہی۔ یہ بات بالکل عقل کے خلاف ہے کہ کسی
کے لئے خداتعالیٰ نے کوئی کام مقرر کیا ہو اور اسے دوسرا آکر کر جائے… عیسائیت میں بھی تنزل کے آثار شروع ہو
چکے ہیں اور عیسائیوں کا غلبہ مٹ رہا ہے۔ آج سے پچاس سال قبل کسی کو یہ خیال بھی نہیں ہوسکتا تھا کہ انگریز
کبھی ہندوستان کو حقوق دے دیں گے۔ لیکن اب وہ آہستہ دے رہے ہیں۔ پھر ان کی تجارتی طاقت بھی ٹوٹ رہی ہے۔ کوئی
زمانہ تھا کہ انگریز کہتے تھے ہم یورپ کی دو بڑی سے بڑی طاقتوں سے دوگنا بحری بیڑا رکھیں گے۔ اس زمانہ میں
مرزاقادیانی نے پیش گوئی فرمائی ؎
-
سلطنت برطانیہ تا ہشت سال
بعد ازاں آثار ضعف و اختلال
اس کے کچھ عرصہ بعد جب ملکہ وکٹوریہ فوت ہوئیں تو اس سلطنت میں آثار ضعف شروع ہوگئے۔ ہندوستان میں جو
روآج نظر آرہی ہے، یہ دراصل جنگ ٹرانسوال کے زمانہ ہی میں شروع ہوگئی تھی۔ اس وقت ہندوستانیوں نے خیال کیا
کہ اگر یہ تیس لاکھ انسان انگریزوں کو تنگ کر سکتے ہیں تو ہم کیوں نہیں کرسکتے۔ چنانچہ اسی وقت یہ کشمکش
شروع ہوئی اور پھر روزبروز ضعف زیادہ ہی ہوتا چلا گیا۔‘‘
(ارشاد مرزامحمود خلیفہ قادیان، الفضل قادیان ج۱۷ نمبر۶۹، مؤرخہ ۷؍مارچ ۱۹۳۰ء)
’’خاکسار عرض کرتا ہے کہ اس مجلس میں جس میں حاجی عبدالمجید صاحب نے یہ روایت بیان کی، میاں عبد اللہ
صاحب سنوری نے بیان کیا کہ میرے خیال میں یہ الہام اس زمانہ سے بھی پرانا ہے۔ حضرت صاحب نے خود مجھے اور
حافظ حامد علی کو یہ الہام سنایا تھا اور مجھے الہام اس طرح پر یاد ہے ؎
-
سلطنت برطانیہ تا ہشت سال
بعد ازاں آثار ضعف و اختلال
میاں عبد اللہ صاحب بیان کرتے تھے کہ دوسرا مصرع تو مجھے پتھر کی لکیر کی طرح یاد ہے کہ یہی تھا اور ہفت
کا لفظ بھی یاد ہے۔ جب
441
یہ الہام ہمیں حضرت (مرزاقادیانی) نے سنایا تو اس وقت مولوی محمد حسین بٹالوی مخالف نہیں تھا۔ شیخ
حامد علی نے اسے بھی جاسنایا۔ پھر جب وہ مخالف ہوا تو اس نے حضرت کے خلاف گورنمنٹ کو بدظن کرنے کے لئے اپنے
رسالہ میں شائع کیا کہ مرزاقادیانی نے یہ الہام شائع کیا ہے… خاکسار عرض کرتا ہے کہ اس الہام کے مختلف معنی
کئے گئے ہیں۔ بعضوں نے تاریخ الہام سے میعاد شمار کی ہے۔ بعضوں نے کہا ہے کہ ملکہ وکٹوریہ کی وفات کے بعد سے
اس کی میعاد شروع ہوتی ہے۔ کیونکہ ملکہ کے لئے حضرت نے بہت دعائیں کی تھیں۔ بعض اور معنی کرتے ہیں۔ میاں
عبد اللہ صاحب کہتے تھے کہ میرے نزدیک آغاز صدی بیسویں سے اس کی میعاد شروع ہوتی ہے۔ چنانچہ وہ کہتے تھے کہ
واقعات اس کی تصدیق کرتے ہیں اور واقعات کے ظہور کے بعد ہی میں نے اس کے یہ معنے سمجھے ہیں۔ خاکسار عرض کرتا
ہے کہ میرے نزدیک یہ معنی بھی ہوسکتے ہیں کہ حضرت صاحب کی وفات سے اس کی میعاد شمار کی جاوے۔ کیونکہ حضرت نے
اپنی ذات کو گورنمنٹ برطانیہ کے لئے بطور حرز کے بیان کیا ہے۔ پس حرز کی موجودگی میں میعاد کا شمار کرنے
میرے خیال میں درست نہیں۔ اس طرح جنگ عظیم کی ابتداء اور ہفت یا ہشت سالہ میعاد کا اختتام آپس میں مل جاتے
ہیں۔ و اللہ اعلم! خاکسار عرض کرتا ہے کہ گورنمنٹ برطانیہ کے ہم لوگوں پر بڑے احسانات
ہیں۔ ہمیں دعا کرنی چاہئے کہ اللہ تعالیٰ اسے فتنوں سے محفوظ رکھے۔‘‘
(سیرت المہدی حصہ اوّل ص۶۱،۶۲، روایت نمبر۹۴، جدید ج۱ حصہ اوّل ص۶۸،۶۹، روایت نمبر۹۶)
(۲۱) نیشنل لیگ قادیان
’’اس زمانہ میں کامیابی کا رستہ حضرت مسیح علیہ السلام کی طرح سولی پر چڑھنے کا رستہ ہے لیکن سوال یہ
ہے کہ ہم میں سے جو لوگ دعویٰ کرتے ہیں، کیا وہ سولی پر چڑھنے کو تیار بھی ہوسکتے ہیں… قیدوبند کے مصائب
جھیل سکتے ہیں۔ ماریں اور جوتیاں کھاسکتے ہیں۔ گالیاں سن سکتے ہیں۔ لٹھ کھانے کے لئے تیار ہیں یا اور کسی
رنگ کے مصائب جو ان کے لئے مقدر ہیں، اٹھانے کو تیار ہیں۔ اگر تیار ہیں تو ان کے لئے کامیابی بھی یقینی ہے
ورنہ اللہ تعالیٰ کسی اور جماعت کو کھڑا کردے گا۔ تم میں سے ہرایک کو چاہئے کہ اپنے وطن اور اپنی جان ومال کی
قربانی کے لئے ہروقت تیار رہے۔ کیونکہ یہی وہ چیز ہے جس سے اللہ تعالیٰ کامیابی کا رستہ کھولتا ہے اور اگر
جماعت ان چیزوں کے لئے تیار نہیں تو وہ کبھی بھی کامیابی کا منہ نہیں دیکھ سکتی۔ خواہ لاکھ سال ریزولیوشنز
پاس کرتی رہے۔ ریزولیوشنز سے نہ خدا خوش ہوسکتا ہے اور نہ اسکے بندے اور نہ کوئی معقول انسان انہیں مفید
سمجھ سکتا ہے۔ اسی لئے میں نے توجہ دلائی تھی کہ دھواں دھار تقریروں کی بجائے اپنے آپ کو منظم کریں۔ میں نے
ایک رستہ بتایا تھا اور وہ نیشنل لیگ کا رستہ ہے… جن لوگوں کو قانونی لحاظ سے نیشنل لیگ میں شامل ہونے میں
کوئی رکاوٹ نہیں، وہ اپنے نام لکھوادیں۔ اس کے بعد اپنے اپنے ہاں سیاسی انجمنیں بنائیں اور مرکزی جماعت سے
ان کا الحاق کریں اور اس کے بعد وہ باتیں جو میں پہلے بیان کر چکا ہوں ان پر عمل کریں۔‘‘
(مرزامحمود خلیفہ قادیان کی تقریر، الفضل قادیان ج۲۳ نمبر۴۵ ص۴ کالم۱تا۳، مؤرخہ ۱۶؍اگست ۱۹۳۵ء، خطبات
محمود ج۱۶ ص۴۸۴تا۴۸۶)
(۲۲) کابلی کارنامہ
’’گورنمنٹ بھی اچھی طرح جانتی ہے کہ ہم بزدل نہیں ہیں۔ اسے خوب معلوم ہے کہ کس طرح ہمارے آدمیوں نے
کابل میں جانیں دیں۔ کیا ان واقعات کے بعد کوئی کہہ سکتا ہے کہ ہم موت سے ڈرتے ہیں۔ (سچ ہے، ڈرتے تو ایسے
کام کیوں کرتے۔ للمؤلف) ایک پورپین کتاب میں لکھا ہے جو اس زمانہ میں وہاں (افغانستان میں) اٹلی کا انجینئر
تھا کہ صاحبزادہ عبداللطیف صاحب کو صرف اس لئے سنگسار کیاگیا تھا کہ وہ جہاد کے مخالف ہیں اور اس طرح گویا
انگریزی حکومت کو طاقت پہنچاتے ہیں۔ پس جس قوم کے افراد انگریزوں کے
442
لئے جانیں دے سکتے ہیں، کیا وہ دین کی خاطر نہیں دے سکتے۔ (سخن دریں است۔ للمؤلف)‘‘
(مرزامحمود خلیفہ قادیان کی تقریر، الفضل قادیان ج۲۳ نمبر۱۷ ص۷ کالم۱،۲، مؤرخہ ۲۰؍جولائی ۱۹۳۵ء،
خطبات محمود ج۱۶ ص۴۱۱،۴۱۲)
’’ہمارے آدمی کابل میں مارے گئے۔ محض اس لئے کہ وہ جہاد کرنے کے مخالف تھے۔ اٹلی کے ایک انجینئر نے جو
حکومت افغانستان کا ملازم تھا۔ صاف لکھا ہے کہ امیرحبیب اللہ خان نے صاحبزادہ عبداللطیف کو اس لئے مروادیا کہ
وہ جہاد کے خلاف تعلیم دے کر مسلمانوں کے شیرازہ کو بکھیرتا ہے۔ پس ہم نے اپنی جانیں اس لئے قربان کیں کہ
انگریزوں کی جانیں بچیں مگر آج بعض حکام سے ہمیں یہ بدلا ملا ہے کہ ہم سے باغی اور شورش پسند والا سلوک
روارکھا ہے۔‘‘
(خطبہ جمعہ خلیفہ قادیان، مندرجہ اخبار الفضل قادیان ج۲۲ نمبر۵۴ ص۱۲ کالم۲، مؤرخہ یکم؍نومبر ۱۹۳۴ء،
خطبات محمود ج۱۵ ص۳۱۰)
’’جماعت احمدیہ کلکتہ نے یہ خبر نہایت دکھ اور تکلیف سے سنی ہے کہ دو اور احمدی دربار کابل میں محض
مذہبی اختلاف کی وجہ سے سنگسار کر دئیے گئے ہیں۔ تیس اور زیرحراست ہیں جو کہ اپنی بے رحم موت کا انتظار کر
رہے ہیں۔ ہم حضور (وائسرائے) سے اپیل کرتے ہیں کہ آپ افغانستان کے اس وحشیانہ فعل پر مداخلت فرمائیں۔ اسلام
ہرگز ایسی خلاف انسانیت باتوں کی اجازت نہیں دیتا۔ اگر انسانی ضمیر کی آزادی کی حفاظت افغانستان میں نہ کی
گئی تو یقینا ایسے ہی ظالمانہ، وحشیانہ افعال کا اس کے ہمسایہ ملک ہندوستان میں ہونے کا ڈر ہے۔‘‘
(الفضل قادیان ج۱۲ نمبر۹۷ ص۶ کالم۳، مؤرخہ ۵؍مارچ ۱۹۲۵ء)
(۲۳) قدرتی بات
’’یہ قدرتی بات ہے کہ ہمارے وعظوں، لیکچروں، کتابوں، اخباروں اور رسالوں میں چونکہ باربار یہ ذکر آتا
ہے کہ انگریز عادل ومنصف ہیں اور وہ اپنی رعایا کے تمام فرقوں سے حسن سلوک کرتے ہیں اور امن کو قائم رکھتے
ہیں۔ اس لئے غیرممالک کے احمدی بھی ہمارے لٹریچر سے متاثر ہوکر کہتے ہیں کہ گو ہم انگریزوں کے ماتحت نہیں
لیکن چونکہ ہمارا مرکز ان کی تعریف کرتا ہے۔ اس لئے وہ برے نہیں بلکہ منصف مزاج حکمران ہیں۔ اس ذریعہ سے
ہزاروں آدمی امریکہ میں، ہزاروں آدمی ڈچ انڈیز میں اور ہزاروں آدمی باقی غیرممالک میں ایسے تھے جو گو اپنی
اپنی حکومتوں کے وفادار تھے۔ مگر انگریزوں کے متعلق بھی کلمہ خیر کہا کرتے تھے۔ امریکہ جسے کسی وقت جرمن
ایجنٹوں نے انگریزی گورنمنٹ کے خلاف کرنے کے لئے اپنی تمام کوششیں صرف کر دی تھیں، وہاں احمدی ہی تھے جو
اپنی جماعت کا لٹریچر پڑھنے سے جس میں انگریزوں کی تعریف ہوتی، آپ ہی آپ ان خیالات کا ازالہ کرتے تھے۔‘‘
(خطبہ جمعہ خلیفہ قادیان، مندرجہ اخبار الفضل قادیان ج۲۳ نمبر۳۱ ص۵ کالم۳، مؤرخہ ۶؍اگست ۱۹۳۵ء، خطبات
محمود ج۱۶ ص۴۶۳)
(۲۴) ایجنٹ
’’ایسی حالت میں جب لوگوں پر یہ اثر تھا کہ احمدی انگریزی قوم کے ایجنٹ ہیں تو تعلیم یافتہ طبقہ کی
اکثریت ہماری باتیں سننے کے لئے تیار نہیں تھی۔ وہ سمجھتے تھے کہ گویہ مذہب کے نام سے تبلیغ کرتے ہیں مگر
دراصل انگریزوں کے ایجنٹ ہیں۔‘‘
(خطبہ جمعہ خلیفہ قادیان مندرجہ الفضل قادیان ج۲۳ نمبر۳۱ ص۷ کالم۴، مؤرخہ ۶؍اگست ۱۹۳۵ء، خطبات محمود
ج۱۶ ص۴۷۰)
’’دنیاہمیں انگریزوں کا ایجنٹ سمجھتی ہے۔ چنانچہ جب جرمنی میں احمدیہ عمارت کے افتتاح کی تقریب میں
ایک جرمن وزیر نے شمولیت کی تو حکومت نے اس سے جواب طلب کیا کہ کیوں تم ایسی جماعت کی کسی تقریب میں شامل
ہوئے جو انگریزوں کی ایجنٹ ہے۔ لیکن
443
دوسری طرف حکومت ہم سے یہ سلوک کرتی ہے کہ کہتی ہے تم مرزامحمود احمد سول نافرمانی کرنے والے ہو اور
جب یہ واقعات کسی عقلمند کے سامنے پیش ہوں گے تو وہ تسلیم کرے گا کہ حکومت کا یہ رویہ صحیح نہیں۔‘‘
(خطبہ جمعہ خلیفہ قادیان، مندرجہ اخبار الفضل قادیان ج۲۲ نمبر۵۴ ص۱۲ کالم۳، مؤرخہ یکم؍نومبر ۱۹۳۴ء،
خطبات محمود ج۱۵ ص۳۱۰،۳۱۱)
(۲۵) پنڈت جواہر لال نہرو
’’پھر یہ خیال کہ جماعت احمدیہ انگریزوں کی ایجنٹ ہے۔ لوگوں کے دلوں میں اس قدر راسخ تھا کہ بعض بڑے
بڑے سیاسی لیڈروں نے مجھ سے سوال کی کہ ہم علیحدگی میں آپ سے پوچھتے ہیں کیا یہ صحیح ہے کہ آپ کا انگریزی
حکومت سے اس قسم کا تعلق ہے۔ ڈاکٹر سید محمود جو اس وقت کانگریس کے سیکرٹری ہیں، ایک دفعہ قادیان آئے اور
انہوں نے بتایا کہ پنڈت جواہر لعل صاحب نہرو جو یورپ کے سفر سے واپس آئے توانہوں نے اسٹیشن پر اتر کر جو
باتیں سب سے پہلے کیں، ان میں سے ایک یہ تھی کہ میں نے اس سفر یورپ سے یہ سبق حاصل کیا ہے کہ اگر انگریزی
حکومت کو ہم کمزور کرنا چاہتے ہیں تو ضروری ہے کہ اس سے پہلے احمدیہ جماعت کو کمزور کیا جائے جس کے معنی یہ
ہیں کہ ہر شخص کا یہ خیال تھا کہ احمدی جماعت انگریزوں کی نمائندہ اور ان کی ایجنٹ ہے۔‘‘
(خطبہ جمعہ خلیفہ قادیان، مندرجہ اخبار الفضل قادیان ج۲۳ نمبر۳۱ ص۷،۸ کالم۱تا۴، مؤرخہ ۶؍اگست ۱۹۳۵ء،
خطبات محمود ج۱۶ ص۴۷۰،۴۷۱)
(۲۶) انقلاب
’’موجودہ زمانہ کو انقلاب کا دور کہا جاتا ہے۔ سورج ہر روز ایک نئے انقلاب کی خبر لے کر طلوع ہوتا ہے۔
لیکن اس کے باوجود بعض انقلابات ایسے ہوتے ہیں جو دنیا کو محو حیرت کر دیتے ہیں۔ گزشتہ ماہ لاہور میں پنڈت
جواہرلال نہرو کا قادیانی استقبال اسی قسم کا ایک حیرت انگیز انقلاب ہے… ۲۹؍مئی کو جب پنڈت جواہرلال نہرو
صدر کانگریس لاہور تشریف لائے تو قادیانی جماعت کی طرف سے ان کا شاندار استقبال ہوا۔ ’’الفضل‘‘ میں اس کی
تفصیل بصد فخر نمایاں طریق پر ’’فخروطن پنڈت جواہر لال نہرو کا لاہور میں شاندار استقبال‘‘ کے عنوان سے شائع
کی گئی۔‘‘
(پیغام صلح لاہور ج۲۴ نمبر۴۰ ص۳ کالم۱، مؤرخہ ۲۳؍جون ۱۹۳۶ء)
(۲۷) فخروطن پنڈت جواہر لال نہرو کا لاہور میں شاندار استقبال آل انڈیا نیشنل لیگ کی طرف سے
’’(الفضل کے خاص رپورٹر کے قلم سے) لاہور ۲۹؍اپریل آج حسب پروگرام پنڈت جواہر لال صاحب نہرو لاہور
تشریف لائے۔ پنجاب پراونشل کانگریس کمیٹی کی خواہش پر (قادیانی جماعت کی) آل انڈیا نیشنل لیگ کورز کی طرف سے
آپ کے استقبال کا انتظام کیاگیا تھا۔ چونکہ کانگریس نے صرف پانچ صدوالنٹیئروں کی خواہش کی تھی۔ اس لئے
قادیان سے تین صد اور سیالکوٹ سے دوصد کے قریب والنٹیئر ۲۸؍مئی کو لاہور پہنچ گئے۔ قادیان کی کور دس بجے شام
یہاں پہنچی۔ گاڑی کے آنے پر جناب صدر آل انڈیا نیشنل لیگ اور قائداعظم آل انڈیا نیشنل لیگ کورز موجود تھے۔
پولیس کا بھی زبردست مظاہرہ تھا۔ کانسٹیبلوں کی بہت بڑی تعداد کے علاوہ پولیس کے بڑے بڑے افسر بھی موجود
تھے۔ قادیان سے کارخاص کے سپاہی ساتھ آئے اور عصر تک ساتھ رہے۔ احمدیہ ہوسٹل میں جہاں قیام کا انتظام تھا،
جناب شیخ بشیراحمد صاحب (قادیانی) ایڈووکیٹ لاہور صدر آل انڈیا نیشنل لیگ نے ایک مختصر مگر برمحل اور برجستہ
تقریر کی جس میں بتایا کہ آج ہم اپنے عمل سے یہ ثابت کرنے کے لئے آئے ہیں کہ آزادی وطن کی خواہش میں ہم کسی
سے پیچھے نہیں ہیں اور ہم نے نہ صرف ہندوستان بلکہ تمام دنیا سے ظلم اور
444
ناانصافی کو مٹانا ہے اور صحیح سیاسیات کی بنیاد رکھنی ہے۔ آپ لوگ اس موقع پر کسی صورت میں کوئی ایسی
حرکت نہ کریں جو سلسلہ کے لئے کسی طرح کی بدنامی کا موجب ہو۔ علی الصبح ۶؍بجے تمام باوردی والٹیئرز باقاعدہ
مارچ کرتے ہوئے ریلوے اسٹیشن پر پہنچ گئے۔ یہ نظارہ حددرجہ جاذب توجہ اور روح پرور تھا۔ ہر شخص کی آنکھیں اس
طرف اٹھ رہی تھیں۔ استقبال کا تقریباً تمام انتظام کو رہی کر رہی تھی اور کوئی آرگنائزیشن اس موقع پر نہ
تھی۔ سوائے کانگریس کے ڈیڑھ دودرجن والنٹیئروں کے اسٹیشن سے لے کر جلسہ گاہ تک اور پلیٹ فارم پر انتظام کے
لئے ہمارے والنٹیئرز موجود رہے۔ پلیٹ فارم پر جناب چوہدری اسد اللہ خان صاحب (قادیانی) بیرسٹر ایم۔ایل۔سی
قائداعظم آل انڈیا نیشنل لیگ کورزبہ نفس نفیس موجود تھے اور باہر جہاں آکر پنڈت جی نے کھڑا ہونا تھا، شیخ
صاحب موجود تھے۔ ہجوم بہت زیادہ تھا۔ بالخصوص پنڈت جی کی آمد کے وقت مجمع میں بے حد اضافہ ہوگیا اور لوگوں
نے صفوں کو توڑنے کی کوشش کی مگر ہمارے والنٹیئروں نے قابل تعریف ضبط اور نظم سے کام لیا اور حلقہ کو قائم
رکھا۔ پنڈت جی کے اسٹیشن سے باہر آنے پر جناب شیخ بشیراحمد صاحب (قادیانی) ایڈووکیٹ صدر آل انڈیا نیشنل لیگ
نے لیگ کی طرف سے آپ کے گلے میں ہار ڈالا۔ کور کی طرف سے حسب ذیل ماٹو جھنڈیوں پر خوبصورت سے آویزاں تھے:
1- Beloved of the nation welcome you.
2- We join in Civil Liberties Union.
3- Long live Jawaher Lal.
کور کا مظاہرہ ایسا شاندار تھا کہ ہر شخص اس کی تعریف میں رطب اللسان تھا اور لوگ کہہ رہے تھے کہ ایسا
شاندار نظارہ لاہور میں کم دیکھنے میں آیا ہے۔ کانگریسی لیڈر کور کے ضبط اور ڈسپلن سے حددرجہ متاثر تھے اور
باربار اس کا اظہار کر رہے تھے۔ حتیٰ کہ ایک لیڈر نے جناب شیخ صاحب سے کہا کہ اگر آپ لوگ ہمارے ساتھ شامل ہو
جائیں تو یقینا ہماری فتح ہوگی۔ پنڈت جی کے قیام گاہ کی طرف تشریف لے جانے پر کورز باقاعدہ مارچ کرتے ہوئے
احمدیہ ہوسٹل میں آئیں اور وہاں جناب شیخ صاحب نے پھر ایک تقریر کی جس میں کوروالوں کو ان کی ذمہ داریوں کی
طرف متوجہ کیا اور بتایا کہ آپ لوگ ہمیشہ اس بات کو پیش نظر رکھیں کہ دنیا میں انصاف قائم کرنے اور ظلم
وناانصافی کو مٹانے کے لئے ہر قربانی کرنا آپ کا فرض ہے۔ احمدیہ ہوسٹل میں کھانے کا بہت اچھا انتظام تھا۔ جس
کے مہتمم بابو غلام محمد صاحب تھے۔ ماسٹر نذیر احمد صاحب سپرنٹنڈنٹ احمدیہ ہوسٹل نے بھی مہمانوں کی آسائش کے
لئے بہت کوشش کی۔ قادیان کی کورز ۲۹ کو ۹بجے کی گاڑی سے واپس پہنچ گئیں۔‘‘
(الفضل قادیان ج۲۳ نمبر۲۷۸ ص۲ کالم۱تا۴، مؤرخہ ۳۱؍مئی ۱۹۳۶ء)
(۲۸) استقبال کی وجہ
’’اگر پنڈت جواہرلال صاحب نہرو اعلان کردیتے کہ احمدیت کو مٹانے کے لئے وہ اپنی تمام طاقت خرچ کر دیں
گے جیسا کہ احرار نے کیا ہوا ہے تو اس قسم کا استقبال بے غیرتی ہوتا۔ لیکن اگر اس کے برخلاف یہ مثال موجود
ہوکہ قریب کے زمانہ میں ہی پنڈت صاحب نے ڈاکٹر اقبال صاحب کے ان مضامین کا رد لکھا ہے جو انہوں نے احمدیوں
کو مسلمانوں سے علیحدہ قرار دئیے جانے کے لئے لکھے تھے اور نہایت عمدگی سے ثابت کیا ہے کہ ڈاکٹر صاحب کے
احمدیت پر اعتراض اور احمدیوں کو علیحدہ کرنے کا سوال بالکل نامعقول اور خود ان کے گزشتہ رویہ کے خلاف ہے تو
ایسے شخص کا جب کہ وہ صوبے میں مہمان کی حیثیت سے آرہا ہو، ایک سیاسی انجمن کی طرف سے استقبال بہت اچھی بات
ہے۔‘‘
(خطبہ جمعہ خلیفہ قادیان، مندرجہ اخبار الفضل قادیان ج۲۳ نمبر۲۸۷ ص۴ کالم۳،۴، مؤرخہ ۱۱؍جون ۱۹۳۶ء،
خطبات محمود ج۱۷ ص۳۵۸)
445
(۲۹) قادیانی جماعت کی بے راہ روی
(عنوان، پیغام صلح لاہور)
’’۲۹؍مئی ۱۹۳۶ء کو پنڈت جواہر لال نہرو صاحب صدر کانگریس لاہور تشریف لائے تو مختلف حلقوں کی طرف سے
اسٹیشن پر آپ کا شاندار استقبال کیاگیا۔ اس استقبال کی نمایاں اور حیرت انگیز خصوصیت تقریباً پانچ سو
قادیانی رضاکاروں کی موجودگی تھی جو قادیان سے زیرقیادت چوہدری اسد اللہ خان صاحب (قادیانی) ممبر پنجاب کونسل
(برادر چوہدری سرظفر اللہ خاں صاحب) لائے گئے تھے۔ اخبارات کے بیان کے مطابق یہ رضاکار خاکی وردی میں ملبوس
تھے۔ ان کے ہاتھوں میں پولیس والوں کی طرح لمبی لمبی لاٹھیاں تھیں اور ان کو مجمع پر کنٹرول رکھنے کے لئے
کانگریسی رضاکاروں کے پہلو بہ پہلو قطاریں باندھ کر کھڑا کیاگیا تھا تو انہوں نے اس انتظام میں غیرمعمولی
جوش اور دلچسپی سے حصہ لیا۔ پنڈت جی کے استقبال میں قادیانی رضاکاروں کی شرکت پر طرح طرح کی خیال آرائیاں
اور چہ میگوئیاں ہورہی ہیں۔زیادہ عرصہ نہیں گزرا کہ جناب خلیفہ قادیان کانگریس کے اشد ترین مخالف تھے اور
قادیانی حضرات نے کانگریس کے مقابلہ میں حکومت کی امداد کی اور کارخاص کی خدمات انجام دیں۔ آج وہ کانگریس کے
ایک انتہاء پسند اور اشتراکی خیالات رکھنے والے صدر کے استقبال میں حصہ لے رہے ہیں۔ افسوس قادیانیوں نے اپنے
اصل کام تبلیغ اسلام وخدمت دین کو پس پشت پھینک دیا اور سیاسیات میں نہایت بھونڈے طریق سے حصہ لینا شروع
کردیا جس کا نتیجہ موجودہ بے راہ روی ہے۔‘‘
(پیغام صلح لاہور ج۲۴ نمبر۳۵، مؤرخہ ۳؍جون ۱۹۳۶ء)
(۳۰) قادیانی بے وقعتی
’’معزز معاصر پارس (۲۷؍ستمبر ۱۹۴۱ء لاہور) ڈلہوزی کے اس واقعہ کے متعلق جس میں مسلح پولیس نے حضرت
امیرالمؤمنین خلیفۃ المسیح الثانی ایدہ اللہ تعالیٰ کی کوٹھی پر کئی گھنٹے تک قبضہ کئے رکھا، لکھتا ہے:
مرزابشیرالدین محمود صاحب امیرجماعت احمدیہ تبدیل آب وہوا کے لئے ڈلہوزی میں تشریف فرما تھے کہ پچھلے دنوں
ان کے ساتھ ایک حد درجہ رنج دہ اور افسوسناک واقعہ پیش آیا۔ مرزا محمود قادیانی موصوف نے اپنے خطبہ جمعہ
فرمودۂ ۱۲؍ستمبر ۱۹۴۱ء میں واقعہ مذکور کی جو تفصیل بیان کی ہے، اس کے مطالعہ سے ظاہر ہوتا ہے کہ ڈلہوزی کی
پولیس نے انتہائی غیرذمہ داری کا ثبوت دیتے ہوئے تقریباً سات گھنٹے تک خلیفہ صاحب کے بنگلہ کا نہ صرف خلاف
قانون محاصرہ کئے رکھا، بلکہ چند سپاہی ان کے مکان کے اندر داخل ہوکر ڈرائنگ روم اور برآمدے میں ڈیرہ ڈالے
پڑے رہے۔ حتیٰ کہ مرزا (محمود) قادیانی کے بیان کے مطابق ایک سپاہی نے زن انے میں گھسنے کی کوشش کی لیکن
پولیس کے اشتعال انگیز رویہ کے باوجود مرزاقادیانی کے ذاتی اثر کی بدولت کوئی ناخوشگوار واقعہ پیش نہیں آیا…
ایک مذہبی پیشوا کی حیثیت سے مرزابشیرالدین محمود احمد صاحب کو ملک میں جو قابل رشک پوزیشن حاصل ہے۔ اس سے
ہر شخص واقف ہے۔ جماعت احمدیہ کے ہرفرد کے لئے ان کا لفظ حکم کا درجہ رکھتا ہے۔ وہ ایک ایسی جماعت کے امیر
ہیں، جس کے بانی نے (یعنی مرزاغلام احمد قادیانی نے) بادشاہ وقت کی اطاعت کو ایک اصول کادرجہ دیا۔ حکومت
برطانیہ کی وفاداری اور اس سے دوستی کو جماعت مذکور نے اپنا فرض قرار دیا جس کے لئے اسے اپنے ہم وطنوں کے
طعن وتشنیع برداشت کرنے پڑے۔ (ایں ہم اندر عاشقی بالائے غم ہائے دگر… للمؤلف) گزشتہ اور موجودہ جنگ میں
مرزاقادیانی اور ان کے پیروکاروں نے حکومت کی مالی اور بھرتی کے سلسلے میں جو مدد کی، وہ کسی سے پوشیدہ
نہیں۔ ان کے ساتھ حکومت کے کارندوں کی طرف سے جو نامناسب سلوک روا رکھا گیا ہے، وہ اس قابل نہیں کہ جسے
آسانی سے نظرانداز کیا جاسکے۔ (نیازمند جو ممنون احسان ہوں ان کو شکوہ شکایت کا حق کم رہتا ہے۔ للمؤلف)‘‘
(الفضل قادیان ج۲۹ نمبر۲۲۴، مؤرخہ یکم؍اکتوبر ۱۹۴۱ء)
446
فصل چودھویں
قادیانی صاحبان اور مسلمان سیاست ومملکت
(الف) قادیانی فرقہ
(۱) نیا فرقہ
’’چونکہ مسلمانوں کا ایک نیا فرقہ جس کا پیشوا اور امام اور پیریہ راقم ہے، پنجاب اور ہندوستان کے
اکثر شہروں میں زور سے پھیلتا جاتا ہے اور بڑے بڑے تعلیم یافتہ مہذب اور معزز عہدہ دار اور نیک نام رئیس اور
تاجر پنجاب اور ہندوستان کے اس فرقہ میں داخل ہوتے جاتے ہیں اور عموماً پنجاب کے شریف مسلمانوں کے نوتعلیم
یاب جیسے بی۔اے اور ایم۔اے اس فرقہ میں داخل ہیں اور داخل ہورہے ہیں اور یہ ایک گروہ کثیر ہوگیا ہے… اس لئے
میں نے قرین مصلحت سمجھا کہ اس فرقہ جدیدہ اور نیز اپنے تمام حالات سے جو اس فرقہ کا پیشوا ہوں، حضور
لیفٹیننٹ گورنر بہادر کو آگاہ کروں۔‘‘
(درخواست بحضور نواب لیفٹیننٹ گورنر بہادر دام اقبالہ مندرجہ تبلیغ رسالت ج۷ ص۷، مجموعہ اشتہارات ج۳
ص۸، جدید مجموعہ اشتہارات ج۲ ص۱۸۸، ملحقہ کتاب البریہ ص۱، خزائن ج۱۳ ص۳۳۷)
’’میں زور سے کہتا ہوں اور میں دعوے سے گورنمنٹ کی خدمت میں اعلان دیتا ہوں کہ باعتبار مذہبی اصول کے
مسلمانوں کے تمام فرقوں میں سے گورنمنٹ کا اوّل درجہ کا وفادار اور جانثار یہی نیا فرقہ ہے جس کے اصولوں میں
سے کوئی اصول گورنمنٹ کے لئے خطرناک نہیں۔‘‘
(تبلیغ رسالت ج۷ ص۱۳، مجموعہ اشتہارات ج۳ ص۱۵، جدید مجموعہ اشتہارات ج۲ ص۱۹۳، کتاب البریہ ص۷، خزائن
ج۱۳ ص۳۴۳)
’’میں گورنمنٹ عالیہ کو یقین دلاتا ہوں کہ یہ فرقہ جدیدہ جو برٹش انڈیا کے اکثر مقامات میں پھیل گیا
ہے، جس کا پیشوا اور امام ہوں، گورنمنٹ کے لئے ہر گز خطرناک نہیں ہے اور اس کے اصول ایسے پاک اور صاف اور
امن بخش اور صلح کاری کے ہیں کہ تمام اسلام کے موجودہ فرقوں میں اس کی نظیر گورنمنٹ کو نہیں ملے گی… میرے
اصولوں اور اعتقادوں اور ہدایتوں میں کوئی امر جنگ جوئی اور فساد کا نہیں اور میں یقین رکھتا ہوں کہ جیسے
جیسے میرے مرید بڑھیں گے، ویسے ویسے مسئلہ جہاد کے معتقد کم ہوتے جائیں گے۔ کیونکہ مجھے مسیح اور مہدی مان
لینا ہی مسئلہ جہاد کا انکار کرنا ہے۔‘‘
(تبلیغ رسالت ج۷ ص۱۶،۱۷، مجموعہ اشتہارات ج۳ ص۱۸،۱۹، جدید مجموعہ اشتہارات ج۲ ص۱۹۵،۱۹۶، کتاب البریہ
ص۱۰،۱۱، خزائن ج۱۳ ص۳۴۶،۳۴۷)
’’چوتھی گزارش یہ ہے کہ جس قدر لوگ میری جماعت میں داخل ہیں، اکثر ان میں سے سرکار انگریزی کے معزز
عہدوں پر ممتاز اور یا اس ملک کے نیک نام رئیس اور ان کے خدام اور احباب اور یا تاجر اور وکلاء اور یا
نوتعلیم یافتہ انگریزی خواں اور یا ایسے نیک نام علماء اور فضلاء اور دیگر شرفاء ہیں جو کسی وقت سرکار
انگریزی کی نوکری کر چکے ہیں یا اب نوکری پر ہیں یا ان کے اقارب اور رشتہ دار اور دوست ہیں جو اپنے بزرگ
مخدوموں سے اثر پذیر ہیں اور یا سجادہ نشینان غریب طبع۔ غرض یہ ایک ایسی جماعت ہے جو سرکار انگریزی کی نمک
پروردہ اور نیک نامی حاصل کردہ اور مورد مراحم گورنمنٹ ہیں اور یا وہ لوگ جو میرے اقارب یا خدام میں سے ہیں
ان کے علاوہ ایک بڑی تعداد علماء
447
کی ہے جنہوں نے میری اتباع میں اپنے وعظوں سے ہزاروں دلوں میں گورنمنٹ کے احسانات جمادئیے ہیں اور
میں مناسب دیکھتا ہوں کہ ان میں سے اپنے چند مریدوں کے نام بطور نمونہ آپ کے ملاحظہ کے لئے ذیل میں لکھ
دوں۔‘‘
(تبلیغ رسالت ج۷ ص۱۸، مجموعہ اشتہارات ج۳ ص۲۰، جدید مجموعہ اشتہارات ج۲ ص۱۹۷، کتاب البریہ ص۱۲، خزائن
ج۱۳ ص۳۴۸،۳۴۹)
(۲) خودکاشتہ پودا
’’میرا اس درخواست سے جو حضور کی خدمت میں مع اسماء مریدین روانہ کرتا ہوں، مدعا یہ ہے کہ اگرچہ میں
ان خدمات خاصہ کے لحاظ سے جو میں نے اور میرے بزرگوں نے محض صدق دل اور اخلاص اور جوش وفاداری سے سرکار
انگریزی کی خوشنودی کے لئے کی ہیں، عنایت خاص کا مستحق ہوں… صرف یہ التماس ہے کہ سرکار دولت مدار ایسے
خاندان کی نسبت جس کو پچاس برس کے متواتر تجربہ سے ایک وفادار جاں نثار خاندان ثابت کر چکی ہے اور جس کی
نسبت گورنمنٹ عالیہ کے معزز حکام نے ہمیشہ مستحکم رائے سے اپنی چٹھیات میں یہ گواہی دی ہے کہ وہ قدیم سے
سرکار انگریزی کے پکے خیرخواہ اور خدمت گزار ہیں۔ اس خود کاشتہ پودا کی نسبت نہایت حزم اور احتیاط اور تحقیق
اور توجہ سے کام لے اور اپنے ماتحت حکام کو اشارہ فرمائے کہ وہ بھی اس خاندان کی ثابت شدہ وفاداری اور اخلاص
کا لحاظ رکھ کر مجھے اور میری جماعت کو ایک خاص عنایت اور مہربانی کی نظر سے دیکھیں۔ ہمارے خاندان نے سرکار
انگریزی کی راہ میں اپنے خون بہانے اور جان دینے سے فرق نہیں کیا اور نہ اب فرق ہے۔ لہٰذا ہمارا حق ہے کہ ہم
خدمات گزشتہ کے لحاظ سے سرکار دولت مدار کی پوری عنایات اور خصوصیت توجہ کی درخواست کریں تاہر ایک شخص بے
وجہ ہماری آبروریزی کے لئے دلیری نہ کر سکے۔
اب کسی قدر اپنی جماعت کے نام ذیل میں لکھتا ہوں:
۱… خاں صاحب نواب محمد علی خان صاحب رئیس مالیر کوٹلہ جن کے خاندان کی خدمات گورنمنٹ عالیہ کو معلوم
ہیں، وغیرہ۔ (اس فہرست میں ۳۱۶مریدوں کے نام درج ہیں۔ للمؤلف)‘‘
(تبلیغ رسالت ج۷ ص۱۹،۲۰، مجموعہ اشتہارات ج۳ ص۲۰تا۲۲، جدید مجموعہ اشتہارات ج۲ ص۱۹۷،۱۹۸، کتاب البریہ
ص۱۲،۱۳، خزائن ج۱۳ ص۳۴۹،۳۵۰)
(۳) یاد رہے
’’یاد رہے کہ مسلمانوں کے فرقوں میں سے یہ فرقہ جس کا خدا نے مجھے امام اور پیشوا اور رہبر مقرر
فرمایا ہے، ایک بڑا امتیازی نشان اپنے ساتھ رکھتا ہے اور وہ یہ کہ اس فرقہ میں تلوار کا جہاد بالکل نہیں اور
نہ اس کی انتظار ہے۔ بلکہ یہ مبارک فرقہ نہ ظاہر طور پر اور نہ پوشیدہ طور پر جہاد کی تعلیم کو ہرگز جائز
نہیں سمجھتا اور قطعاً اس بات کو حرام جانتا ہے۔‘‘
(تبلیغ رسالت ج۹ ص۸۲، مجموعہ اشتہارات ج۳ ص۳۵۷، جدید مجموعہ اشتہارات ج۲ ص۴۶۷، تریاق القلوب ص۱، خزائن
ج۱۵ ص۵۱۷،۵۱۸)
’’اس جہاد کے برخلاف نہایت سرگرمی سے میرے پیروفاضل مولویوں نے ہزاروں آدمیوں میں تعلیم کی ہے اور کر
رہے ہیں جس کا بہت بڑا اثر ہوا ہے۔‘‘
(تبلیغ رسالت ج۷ ص۱۸، مجموعہ اشتہارات ج۳ ص۱۹، جدید مجموعہ اشتہارات ج۲ ص۱۹۶، کتاب البریہ ص۱۲، خزائن
ج۱۳ ص۳۴۸ حاشیہ)
’’میں نے صدہا کتابیں جہاد کے مخالف تحریر کر کے عرب اور مصر اور بلاد شام اور افغانستان میں گورنمنٹ
کی تائید میں شائع کیں
448
ہیں۔ کیا آپ نے بھی ان ملکوں میں کوئی ایسی کتاب شائع کی۔ باوجود اس کے میری یہ خواہش نہیں کہ اس
خدمت گزاری کی گورنمنٹ کو اطلاع کروں یااس سے کچھ صلہ مانگوں جو انصاف کی رو سے اعتقاد تھا، وہ ظاہر
کردیا۔‘‘
(تبلیغ رسالت ج۴ ص۴۶، مجموعہ اشتہارات ج۲ ص۱۸۰، جدید مجموعہ اشتہارات ج۱ ص۵۱۸ حاشیہ)
(۴) یہ تو سوچو
’’میں اس گورنمنٹ کی کوئی خوشامد نہیں کرتا جیسا کہ نادان لوگ خیال کرتے ہیں۔ نہ اس سے کوئی صلہ چاہتا
ہوں بلکہ میں انصاف اور ایمان کی رو سے اپنا فرض دیکھتا ہوں کہ اس گورنمنٹ کی شکرگزاری کروں اور اپنی جماعت
کو اطاعت کے لئے نصیحت کرتا رہوں۔ سویاد رکھو اور خوب یاد رکھو کہ ایسا شخص میری جماعت میں داخل نہیں رہ
سکتا جو اس گورنمنٹ کے مقابلہ پر کوئی باغیانہ خیال دل میں رکھے اور میرے نزدیک یہ سخت بدذاتی ہے کہ جس
گورنمنٹ کے ذریعہ سے ہم ظالموں کے پنجے سے بچائے جاتے ہیں اور اس کے زیرسایہ ہماری جماعت ترقی کررہی ہے۔ اس
کے احسان کے ہم شکرگزار نہ ہوں… یہ تو سوچو کہ اگر تم اس گورنمنٹ کے سایہ سے باہر نکل جاؤ تو پھر تمہارا
ٹھکانا کہاں ہے۔ ایسی سلطنت کا بھلا نام تو لو جو تمہیں اپنی پناہ میں لے لے گی۔ ہر ایک اسلامی سلطنت تمہارے
قتل کرنے کے لئے دانت پیس رہی ہے۔ کیونکہ ان کی نگاہ میں تم کافر اور مرتد ٹھہر چکے ہو۔ سو تم اس خداداد
نعمت کی قدر کرو اور تم یقینا سمجھ لو کہ خداتعالیٰ نے سلطنت انگریزی تمہاری بھلائی کے لئے ہی اس ملک میں
قائم کی ہے اور اگر اس سلطنت پر کوئی آفت آئے تو وہ آفت تمہیں بھی نابود کر دے گی۔ یہ مسلمان لوگ جو اس فرقہ
احمدیہ کے مخالف ہیں، تم ان کے علماء کے فتوے سن چکے ہو۔ یعنی یہ کہ تم ان کے نزدیک واجب القتل ہو اور ان کی
آنکھ میں ایک کتا بھی رحم کے لائق ہے مگر تم نہیں ہو۔ تمام پنجاب اور ہندوستان کے فتوے بلکہ تمام ممالک
اسلامیہ کے فتویٰ تمہاری نسبت یہ ہیں کہ تم واجب القتل ہو… سو یہی انگریز ہیں جن کو لوگ کافر کہتے ہیں جو
تمہیں ان خونخوار دشمنوں سے بچاتے ہیں اور ان کی تلوار کے خوف سے تم قتل کئے جانے سے بچے ہوئے ہو۔ ذرا کسی
اور سلطنت کے زیرسایہ رہ کر دیکھ لو کہ تم سے کیا سلوک کیا جاتا ہے۔ سو انگریزی سلطنت تمہارے لئے ایک رحمت
ہے۔ تمہارے لئے ایک برکت ہے اور خدا کی طرف سے تمہاری وہ سپر ہے۔ پس تم دل وجان سے اس سپر کی قدر کرو اور
تمہارے مخالف جو مسلمان ہیں، ہزارہا درجہ ان سے انگریز بہتر ہیں۔ کیونکہ وہ تمہیں واجب القتل نہیں سمجھتے۔
وہ تمہیں بے عزت کرنا نہیں چاہتے۔‘‘
(’’اپنی جماعت کے لئے ضروری نصیحت‘‘ از مرزاقادیانی مندرجہ تبلیغ رسالت ج۱۰ ص۱۲۳،۱۲۴، مجموعہ اشتہارات
ج۳ ص۵۸۳،۵۸۴، جدید مجموعہ اشتہارات ج۲ ص۷۰۹)
(۵) زمانہ کی نزاکت
’’اس کے علاوہ حضرت خلیفۃ المسیح الثانی کے اس ارشاد پر بھی خاص طور پر دھیان دیا جائے جو حضور نے
زمانہ کی نزاکت اور حالات کی رو کو دیکھتے ہوئے مجلس مشاورت پر فرمایا تھا۔ یعنی یہ کہ جو احباب بندق کا
لائسنس حاصل کر سکتے ہیں، وہ لائسنس حاصل کریں اور جہاں جہاں تلوار رکھنے کی اجازت ہے، وہ تلوار رکھیں۔ لیکن
جہاں اس کی اجازت نہ ہو، وہاں لاٹھی ضرور رکھی جائے اور پھر جہاں تک ممکن ہو ان ہتھیاروں کا استعمال بھی
سیکھنا چاہئے اور اس کے علاوہ دیگر فنون جنگ بھی جو قانوناً ممنوع نہ ہوں، پوری توجہ اور دلی انہماک سے
سیکھنے چاہئیں۔‘‘
(الفضل قادیان ج۱۸ نمبر۱۰ ص۳ کالم۳، مؤرخہ ۲۲؍جولائی ۱۹۳۰ء)
449
(ب) ہندوستان
(۶) خیرخواہی
’’چونکہ قرین مصلحت ہے کہ سرکار انگریزی کی خیرخواہی کے لئے ایسے نافہم مسلمانوں کے نام بھی نقشہ جات
میں درج کئے جائیں جو درپردہ اپنے دلوں میں برٹش انڈیا کو دارالحرب قرار دیتے ہیں… لہٰذا یہ نقشہ اسی غرض کے
لئے تجویز کیاگیا کہ تااس میں ان ناحق شناس لوگوں کے نام محفوظ رہیں جو ایسی باغیانہ سرشت کے آدمی ہیں۔
اگرچہ گورنمنٹ کی خوش قسمتی سے برٹش انڈیا میں مسلمانوں میں ایسے بہت ہی تھوڑے ہیں جو ایسے مفسدانہ عقیدہ کو
اپنے دل میں پوشیدہ رکھتے ہوں۔ لیکن چونکہ اس امتحان کے وقت بڑی آسانی سے ایسے لوگ معلوم ہوسکتے ہیں جن کے
نہایت مخفی ارادے گورنمنٹ کے برخلاف ہیں۔ اس لئے ہم نے اپنے محسن گورنمٹ کی پولٹیکل خیرخواہی کی نیت سے اس
مبارک تقریب پر یہ چاہا کہ جہاں تک ممکن ہو، ان شریر لوگوں کے نام ضبط کئے جائیں جو اپنے عقیدہ سے اپنی
مفسدانہ حالت کو ثابت کرتے ہیں… لیکن ہم گورنمنٹ میں بادب اطلاع کرتے ہیں کہ ایسے نقشے ایک پولٹیکل راز کی
طرح اس وقت تک ہمارے پاس محفوظ رہیں گے جب تک گورنمنٹ ہم سے طلب کرے اور ہم امید رکھتے ہیں کہ ہمارے گورنمنٹ
حکیم مزاج بھی ان نقشوں کو ایک ملکی راز کی طرح اپنے کسی دفتر میں محفوظ رکھے گی… ایسے لوگوں کے نام معہ پتہ
ونشان یہ ہیں۔‘‘
(از مرزاقادیانی بعنوان ’’قابل توجہ گورنمنٹ‘‘ مندرجہ تبلیغ رسالت ج۵ ص۱۱،۱۲، مجموعہ اشتہارات ج۲
ص۲۲۷،۲۲۸، جدید، مجموعہ اشتہارات ج۲ ص۵۵۵)
(۷) شکایت وعنایت
’’اب میں اس گورنمنٹ محسنہ کے زیرسایہ ہر طرح سے خوش ہوں صرف ایک رنج اور درد وغم ہر وقت مجھے لاحق
حال ہے جس کا استغاثہ پیش کرنے کے لئے اپنی محسن گورنمنٹ کی خدمت میں حاضر ہوا ہوں اور وہ یہ ہے کہ اس ملک
کے مولوی مسلمان اور ان کی جماعتوں کے لوگ حد سے زیادہ مجھے ستاتے اور دکھ دیتے ہیں۔ میرے قتل کے لئے ان
لوگوں نے فتوے دئیے ہیں۔ مجھے کافر اور بے ایمان ٹھہرایا ہے اور بعض ان میں سے حیا اور شرم کو ترک کر کے اس
قسم کے اشتہار میرے مقابل پر شائع کرتے ہیں کہ یہ شخص اس وجہ سے بھی کافر ہے کہ اس نے انگریزی سلطنت کو
سلطنت روم پر ترجیح دی ہے اور ہمیشہ سلطنت انگریزی کی تعریف کرتا ہے۔‘‘
(’’حضور گورنمنٹ عالیہ میں ایک عاجزانہ درخواست‘‘ مندرجہ تبلیغ رسالت ج۸ ص۵۳، مجموعہ اشتہارات ج۳
ص۱۴۳،جدید مجموعہ اشتہارات ج۲ ص۳۵۷)
(۸) مسلمان اور قادیانی صاحبان
’’آج سے کچھ سال پہلے مسلمانوں میں سے وہ طبقہ جو علماء کے قبضہ میں تھا گووہ عملاً امن پسند تھا اور
گورنمنٹ کے راستہ میں کسی قسم کی رکاوٹیں نہ ڈالتا تھا، مگر علماء کی تعلیم کے ماتحت وہ اس امر کو بالکل
پسند نہیں کرتا تھا کہ کوئی شخص عقیدۃً اس امر کو تسلیم کرے کہ کسی غیرمذہب کی حکومت کے نیچے مسلمان اطاعت
وفرمانبرداری کے ساتھ رہ سکتے ہیں اور چونکہ یہ جماعت (قادیانی) نہ صرف عملاً ہر قسم کے فساد کے طریقوں سے
دور رہتی تھی، بلکہ عقیدۃً بھی حکومت وقت کی فرمانبرداری کو ضروری جانتی تھی اور دوسروں کو بھی یہی تعلیم
تعلیم دیتی تھی۔ ‘‘
(تحفہ شہزادہ ویلز ص۵، انوارالعلوم ج۶ ص۴۶۲)
450
(۹) جذبات محبت
’’سلسلہ عالیہ احمدیہ کی امن پسند تعلیم اور احمدیوں کا عملاً برطانیہ کے ساتھ اظہار خلوص اور وفاداری
کرنا بعض حکام کے دلوں میں جذبات محبت پیدا کر رہا ہے اور یہ حالت ہندوستان تک ہی محدود نہیں بلکہ ہندوستان
کے باہر بھی یہی حالت ہے۔ چنانچہ ایک دوست لکھتے ہیں کہ ایک شخص جو کچھ مدت ایک احمدی کے پاس رہتا تھا،
ملازمت کے لئے ایک برطانوی افسر کے پاس گیا۔ جب افسر مذکور نے درخواست کنندہ کے حالات دریافت کئے اور پوچھا
کہ کہاں رہتے ہو تو اس نے جواب دیا کہ فلاں احمدی کے پاس۔ اس پر ذیل کا مکالمہ ہوا:
افسر: کیا تم بھی احمدی ہو؟
امیدوار: (ڈرکر کہ احمدی کے نام سے ناراض نہ ہو) نہیں صاحب۔
افسر: افسوس تم اتنی دیر احمدی کے پاس رہا مگر سچائی کو اختیار نہیں کیا۔ جاؤ پہلے احمدی بنو، پھر
فلاں تاریخ کو آنا۔
ہم خدا کا شکر کرتے ہیں کہ بعض حکام احمدیوں کی دیانت، امانت اور جذبات وفاداری کا احساس کرتے ہیں۔‘‘
(الفضل قادیان ج۶ نمبر۹۲،۹۳ ص۱ کالم۲،۳، مؤرخہ ۳-۷؍جون ۱۹۱۹ء)
(۱۰) تازہ ترمثال
’’پس کیوں ہم اس گورنمنٹ کے شکرگزار نہ ہوں۔ ہمارے فوائد اس گورنمنٹ سے متحد ہوگئے ہیں اور اس گورنمنٹ
کی تباہی ہماری تباہی ہے اور اس گورنمنٹ کی ترقی ہماری ترقی۔ جہاں جہاں اس گورنمنٹ کی حکومت پھیلتی جاتی ہے،
ہمارے لئے تبلیغ کا ایک اور میدان نکلتا آتا ہے۔ پس کسی مخالف کا اعتراض ہم کو اس گورنمنٹ کی وفاداری سے
پھیر نہیں سکتا کہ نادان سے نادان انسان بھی اپنی جان کا آپ دشمن نہیں ہوتا۔ تازہ ترمثال جس نے احمدی جماعت
کو برٹش گورنمنٹ کے اور بھی قریب کر دیا ہے، وہ احمدیان مالابار کی مصیبت میں اس کا مدد کرنا ہے۔ ہم مختلف
موقعوں پر احمدیان مالابار کی تکالیف سے جماعت کو آگاہ کر چکے ہیں اور اس بات کی بھی اطلاع دے چکے ہیں کہ
گورنمنٹ برطانیہ کے مقامی حکام نے فوراً احمدیوں کی تکالیف دور کرنے کی طرف توجہ کی اور ان کو ایک زمین
مقبرہ اور مسجدکے لئے دے دی ہے۔ اس کے بعد جو تازہ حالات ہمیں معلوم ہوئے ہیں، ان سے پتہ لگتا ہے کہ میونسپل
کمیٹی کے ایک خاص جلسہ میں ڈویژنل مجسٹریٹ نے احمدیوں کے سپرد وہ جگہ کردی ہے اور یہ بھی فرمایا کہ ’’گو یہ
جگہ شہر سے کسی قدر دور ہے لیکن اس وقت اس کا انتظام ہوسکتا ہے اور آئندہ پھر توجہ کی جائے گی۔‘‘ اور
چیئرمین کمیٹی نے احمدیوں سے کہا کہ جب تم لوگوں کی زیادہ تعداد ہو جائے گی تو پھر اس کے ساتھ کی زمین بھی
احمدیوں کو دے دی جائے گی تا وہ اپنی مسجد کو وسیع کر لیں۔ یہ جو کچھ سلوک احمدیان مالابار سے گورنمنٹ
برطانیہ نے کیا، اس کا شکریہ ہمارے الفاظ ادا نہیں کر سکتے۔ ہمارے دل اس کا شکریہ دعاؤں کے ذریعہ سے کرتے
ہیں اور ہم امید کرتے ہیں کہ خداتعالیٰ جس کے محتاج امیر وغریب سب ہیں، اس محسن گورنمنٹ کو ان احسانات کا
بدلہ اپنے وسیع خزانہ سے دے اور اس کی شان وشوکت کو بڑھائے۔‘‘
(الفضل قادیان ج۳ نمبر۵۱ ص۳ کالم۲، مؤرخہ ۱۹؍اکتوبر ۱۹۱۵ء)
(ج) اسلامی ممالک
(۱۱) سترہ برس
’’پھر میں اپنے والد اور بھائی کی وفات کے بعد ایک گوشہ نشین آدمی تھا۔ تاہم سترہ برس سے سرکار
انگریزی کی امداد اور تائید میں
451
اپنی قلم سے کام لیتا ہوں۔ اس سترہ برس کی مدت میں جس قدر میں نے کتابیں تالیف کیں، ان سب میں سرکار
انگریزی کی اطاعت اور ہمدردی کے لئے لوگوں کو ترغیب دی اور جہاد کی ممانعت کے بارے میں نہایت مؤثر تقریریں
لکھیں اور پھر میں نے قرین مصلحت سمجھ کر اسی امر ممانعت جہاد کو عام ملکوں میں پھیلانے کے لئے عربی اور
فارسی میں کتابیں تالیف کیں، جن کی چھپوائی اور اشاعت پر ہزارہا روپیہ خرچ ہوئے اور وہ تمام کتابیں عرب اور
بلاد شام اور روم اور مصر اور بغداد اور افغانستان میں شائع کی گئیں۔ میں یقین رکھتا ہوں کہ کسی نہ کسی وقت
ان کا اثر ہوگا… یہ سلسلہ ایک دو دن کا نہیں بلکہ برابر سترہ سال کا ہے اور اپنی کتابوں اور رسالوں کے جن
مقامات میں، میں نے یہ تحریریں لکھی ہیں، ان کتابوں کے نام معہ ان کے نمبر صفحوں کے یہ ہیں جن میں سرکار
انگریزی کی خیرخواہی اور اطاعت کا ذکر ہے۔ (اس کے ذیل میں مرزاقادیانی نے اپنی (۲۴)کتابوں اور رسالوں کی
فہرست درج کی ہے۔ للمؤلف)‘‘
(اشتہار ’’واجب الاظہار‘‘ بعض گورنمنٹ عالمیہ قیصر ہند توجہ سے اس کو ملاحظہ فرمائے مندرجہ تبلیغ
رسالت ج۶ ص۱۶۰تا۱۶۲، مجموعہ اشتہارات ج۲ ص۴۶۱تا۴۶۳، جدید مجموعہ اشتہارات ج۲ ص۱۶۴تا۱۶۶، کتاب البریہ ص۶،۷،
خزائن ج۱۳ ص۶تا۸)
(۱۲) مخفی سبب
’’گورنمنٹ تحقیق کرے کہ کیا یہ سچ نہیں کہ ہزاروں مسلمانوں نے جو مجھے کافر قرار دیا اور مجھے اور
میری جماعت کو جو ایک گروہ کثیر پنجاب اور ہندوستان میں موجود ہے، ہر ایک طور کی بدگوئی اور بداندیشی سے
ایذا دینا اپنا فرض سمجھا۔ اس تکفیر اور ایذا کا ایک مخفی سبب یہ ہے کہ ان نادان مسلمانوں کے پوشیدہ خیالات
کے برخلاف دل وجان سے گورنمنٹ انگلشیہ کی شکرگزاری کے لئے ہزارہا اشتہار شائع کئے گئے اور ایسی کتابیں بلاد
عرب وشام وغیرہ تک پہنچائی گئیں۔ یہ باتیں بے ثبوت نہیں۔ اگر گورنمنٹ توجہ فرماوے تو نہایت بدیہی ثبوت میرے
پاس ہیں۔‘‘
(’’بحضور نواب لیفٹیننٹ گورنر بہادر دام اقبالہ‘‘ مندرجہ تبلیغ رسالت ج۷ ص۱۳، مجموعہ اشتہارات ج۳
ص۱۴،۱۵، جدید مجموعہ اشتہارات ج۲ ص۱۹۳، کتاب البریہ ص۷، خزائن ج۱۳ ص۳۴۳)
(۱۳) حکمت ومصلحت
’’خداتعالیٰ کی حکمت ومصلحت ہے کہ اس نے اس گورنمنٹ کو اس بات کے لئے چن لیا تاکہ یہ فرقہ احمدیہ اس
کے زیرسایہ ہوکر ظالموں کے خونخوار حملوں سے اپنے تئیں بچاوے اور ترقی کرے۔ کیا تم یہ خیال کر سکتے ہو کہ تم
سلطان روم کی عملداری میں رہ کر یا مکہ اور مدینہ ہی میں اپنا گھر بنا کر شریر لوگوں کے حملوں سے بچ سکتے
ہو۔ نہیں، ہرگزنہیں۔ بلکہ ایک ہفتہ میں ہی تم تلوار سے ٹکڑے ٹکڑے کئے جاؤ گے۔ تم سن چکے ہو کہ کس طرح
صاحبزادہ مولوی عبداللطیف جو ریاست کابل کے ایک معزز اور بزرگوار اور نامور رئیس تھے، جن کے مرید پچاس ہزار
کے قریب تھے، وہ جب میری جماعت میں داخل ہوئے تو محض اسی قصور سے کہ میری تعلیم کے موافق جہاد کے مخالف
ہوگئے تھے، امیر حبیب اللہ خان نے نہایت بے رحمی سے ان کو سنگسار کرادیا۔ پس کیا تمہیں کچھ توقع ہے کہ تمہیں
اسلامی سلاطین کے ماتحت کوئی خوشحالی میسر آئے گی بلکہ تم تمام اسلامی مخالف علماء کے فتوؤں کی رو سے واجب
القتل ٹھہر چکے ہو۔‘‘
(تبلیغ رسالت ج۱۰ ص۱۲۳، مجموعہ اشتہارات ج۳ ص۵۸۳، جدید مجموعہ اشتہارات ج۲ ص۷۰۸)
(۱۴) قادیانی مقاصد
’’چونکہ میں نے دیکھا کہ بلاد اسلامی روم ومصر وغیرہ کے لوگ ہمارے واقعات سے مفصل طور پر آگاہ نہیں
ہیں اور جس قدر ہم
452
نے اس گورنمنٹ سے آرام پایا اور اس کے عدل ورحم سے فائدہ اٹھایا۔ وہ اس سے بے خبر ہیں (ورنہ غالباً
وہ بھی اس کے خواہش مند ہوتے۔ للمؤلف) اس لئے میں نے عربی اور فارسی میں بعض رسائل تالیف کر کے بلاد شام
وروم اور مصر اور بخارا وغیرہ کی طرف روانہ کئے اور ان میں اس گورنمنٹ کے تمام اوصاف حمیدہ درج کئے اور
بخوبی ظآہر کردیا کہ اس محسن گورنمنٹ کے ساتھ جہاد قطعاً حرام ہے اور ہزارہا روپیہ خرچ کر کے وہ کتابیں مفت
تقسیم کیں اور بعض شریف عربوں کو وہ کتابیں دے کر بلاد شام وروم کی طرف روانہ کیا اور بعض عربوں کو مکہ اور
مدینہ کی طرف بھیجا اور بعض بلاد فارس کی طرف بھیجے گئے اور اسی طرح مصر میں بھی کتابیں بھیجیں اور یہ
ہزارہا روپیہ کا خرچ تھا جو محض نیک نیتی سے کیاگیا۔ (نیک نیتی تو صاف ظاہر ہے، جتانے کی کیا ضرورت ہے۔
للمؤلف) شاید اس جگہ ایک نادان سوال کرے گا کہ اس قدر خیرخواہی غیرممکن ہے کہ ہزارہا روپیہ اپنی گرہ سے خرچ
کر کے اس گورنمنٹ کی خوبیوں کو تمام ملکوں میں پھیلا دیا جاوے۔ لیکن ایک عقلمند جانتا ہے کہ احسان ایک ایسی
چیز ہے کہ جب ایک شریف اور ایماندار آدمی اس سے تمتع اٹھاتا ہے تو بالطبع اس میں عشق ومحبت کے رنگ میں ایک
جوش پیدا ہوتا ہے کہ تااس احسان کا معاوضہ دے۔ ہاں! کمینہ آدمی اس طرف التفات نہیں کرتا۔ پس مجھے طبعی جوش
نے ان کارروائیوں کے لئے مجبور کیا۔‘‘
(تبلیغ رسالت ج۳ ص۱۹۶،۱۹۷، مجموعہ اشتہارات ج۲ ص۱۲۶تا۱۲۸، جدید مجموعہ اشتہارات ج۱ ص۴۶۱،۴۶۲)
(۱۵) یہ کام کیوں کئے
’’سو میں نے اس مضمون کی کتابوں کو شائع کیا ہے اور تمام لوگوں میں ان کو شہرت دی ہے اور ان کتابوں کو
میں نے دوردور کی ولایتوں میں بھیجا ہے جن میں سے عرب اور عجم اور دوسرے ملک ہیں تاکہ کج طبیعتیں ان نصیحتوں
سے براہ راست آجائیں اور تاکہ وہ طبیعتیں اس گورنمنٹ کا شکر کرنے اور اس کی فرمانبرداری کے لئے صلاحیت پیدا
کریں اور مفسدوں کی بلائیں کم ہو جائیں اور تاکہ وہ لوگ جانیں کہ یہ گورنمنٹ ان کی محسن ہے اور محبت سے ان
کی اطاعت کریں… میں نے اس گورنمنٹ کاشکریہ کیا اور جہاں تک بن پڑا، اس کی مدد کی اور اس کے احسانوں کو ملک
ہند سے بلاد عرب اور روم تک شائع کیا اور لوگوں کو اٹھایا کہ تا اس کی فرمانبرداری کریں اور جس کو شک ہو وہ
میری کتاب ’’براہین احمدیہ‘‘ کی طرف رجوع کرے اور اگر وہ اس شک کے دور کرنے کے لئے کافی نہ ہو تو پھر میری
کتاب ’’تبلیغ‘‘ کا مطالعہ کرے اور اگر اس سے بھی مطمئن نہ ہو تو پھر میری کتاب ’’حمامۃ البشریٰ‘‘ کو پڑھے
اور اگر پھر بھی کچھ شک رہ جائے تو پھر میری کتاب ’’شہادۃ القرآن‘‘ میں غور کرے اور اس پر حرام نہیں ہے جو
اس رسالہ کو بھی دیکھے تاکہ اس پر کھل جائے کہ میں نے کیونکر بلند آواز سے کہہ دیا ہے کہ اس گورنمنٹ سے جہاد
حرام ہے اور جو لوگ ایسا خیال رکھتے ہیں، وہ خطا پر ہیں… پس اے آنکھوں والو! تم سوچو کہ میں نے یہ کام کیوں
کئے اور کیوں یہ کتابیں، جن میں جہاد کی سخت ممانعت لکھی ہے، ملک عرب اور دوسرے اسلامی ملکوں میں بھیجیں۔
کیا میں ان تحریروں سے ان لوگوں کے انعام کی امید رکھتا تھا… سو اس کے بعد کس غرض نے مجھے کو اس کام پر
آمادہ کیا۔ کیا میرے لئے ان کتابوں کی ایسی ملکوں میں بھیجنے میں جو حکومت انگریزی میں داخل نہیں تھے بلکہ
وہ اسلامی ملک تھے اور ان کے خیال بھی اور تھے کچھ اور فائدہ تھا… اور میرا عربی کتابوں کا تالیف کرنا تو
انہیں عظیم الشان غرضوں کے لئے تھا اور میری کتابیں عرب کے لوگوں کو برابر پے درپے پہنچتی رہیں۔ یہاں تک کہ
میں نے ان میں تاثیر کے نشان پائے اور بعض عرب میرے پاس آئے اور بعضوں نے خط وکتابت کی اور بعضوں نے بدگوئی
کی اور بعض صلاحیت پر آگئے اور موافق ہوگئے۔ جیسا کہ حق کے طالبوں کا کام ہے اور میں نے ان امدادوں میں ایک
زمانہ طویل صرف کیا ہے۔ یہاں تک کہ گیارہ برس ان ہی اشاعتوں میں گزر گئے اور میں نے کچھ کوتاہی نہیں کی۔‘‘
(نورالحق حصہ اوّل ص۳۰تا۳۲، خزائن ج۸ ص۴۱تا۴۴)
453
(۱۶) یکتا ویگانہ
’’پس میں یہ دعویٰ کرسکتا ہوں کہ میں ان خدمات میں یکتا ہوں اور میں یہ کہہ سکتا ہوں کہ میں ان
تائیدات میں یگانہ ہوں اور میں کہہ سکتا ہوں کہ میں اس گورنمنٹ کے لئے بطور ایک تعویذ کے ہوں اور بطور ایک
پناہ کے ہوںجو آفتوں سے بچاوے اور خدا نے مجھے بشارت دی اور کہا کہ خدا ایسا نہیں کہ ان کو دکھ پہنچاوے اور
تو ان میں ہو۔ پس اس گورنمنٹ کی خیرخواہی اور مدد میں کوئی دوسرا شخص میری نظیر اور مثیل نہیں اور عنقریب یہ
گورنمنٹ جان لے گی اگر مردم شناسی کا اس میں مادہ ہے۔‘‘
(نورالحق حصہ اوّل ص۳۲،۳۳، خزائن ج۸ ص۴۵)
(۱۷) غیرمعمولی اعانت
’’جناب عالی دنیا کی اس مذہبی خدمت کے ذکر کرنے کا یہ موقعہ نہیں جو ہمارے سلسلہ کے بانی (مرزاغلام
احمد قادیانی) نے کی ہے۔ مگر ہم سمجھتے ہیں کہ جناب اس خدمت کو معلوم کر کے خوش ہوں گے جو انہوں نے دنیا کے
امن کے قیام کے لئے کی ہے۔ جس وقت آپ نے دعویٰ کیا ہے، اس وقت تمام عالم اسلامی جہاد کے خیالات سے گونج رہا
تھا اور عالم اسلامی کی ایسی حالت تھی کہ وہ پیٹرول کے پیپے کی طرح بھڑکنے کے لئے صرف ایک دیا سلائی کا
محتاج تھا۔ مگر بانی سلسلہ نے اس خیال کی لغویت اور خلاف اسلام اور خلاف امن ہونے کے خلاف اس قدر زور سے
تحریک شروع کی کہ ابھی چند سال نہیں گزرے تھے کہ گورنمنٹ کو اپنے دل میں اقرار کرنا پڑا کہ وہ سلسلہ جسے وہ
امن کے لئے خطرہ کا موجب خیال کر رہی تھی، اس کے لئے ایک غیرمعمولی اعانت کا موجب تھا۔‘‘
(قادیانی جماعت کا ایڈریس، بخدمت ہزایکسی لنسی لارڈ ریڈنگ وائسرائے ہند، الفضل قادیان ج۹ نمبر۱،
مؤرخہ ۴؍جولائی ۱۹۲۱ء)
(۱۸) قادیانی مشن
’’حضرت مسیح موعود (مرزاقادیانی) نے سلطنت برطانیہ کی بے انتہاء خوبیوں اور بے شمار مہربانیوں کے
شکریہ میں بڑی کثرت کے ساتھ کتابیں، رسالہ جات، اشتہارات، بزبان عربی، انگریزی، فارسی، اردو تالیف کر کے
مصر، روم، ایران، افغانستان، یورپ وغیرہ ممالک میں بھیجے اور آپ نے اس مبارک گورنمنٹ کو تمام جہان کی دیگر
سلطنتوں پر ترجیح دے کر یہ صاف لکھ دیا کہ عرب اور روم اور مصر اور افغانستان میں مذہبی اشاعت کے لئے ہرگز
ہرگز ایسی آزادی حاصل نہیں جیسی کہ اس انصاف مجسم گورنمنٹ میں ہم کو میسر ہے اور جیسی امن اور آسائش کہ
سلطنت انگلشیہ کی بدولت نصیب ہورہی ہے۔ اس کی نظیر کسی جگہ بھی پائی نہیں جاتی۔ آپ نے اس زمانہ کے مولویوں
اور عام مسلمانوں کی ذرا بھی پرواہ نہ کر کے بڑی مدلل اور پرزور تحریروں سے اس بات کا ثبوت دے دیا ہے کہ
ایسی محسن گورنمنٹ کی نسبت بغاوت کا خیال رکھنا اور اس سے جہاد کرنا سخت بے ایمانی ہے۔ چنانچہ آپ کی پاک
تعلیم کے اثر سے آپ کے تمام مرید جو ہزاروں بندگان خدا ہندوستان میں ہیں، اپنی محسن گورنمنٹ کی نسبت سچی
خیرخواہی کا جوش اپنے اندر رکھتے ہیں اور اس گورنمنٹ عالیہ کی نمک حلالی اور اطاعت کا مادہ ان کے رگ وریشہ
میں سرایت کرگیا ہے اور وہ دن جلد آنے والے ہیں، کہ گورنمنٹ لاکھوں اور کروڑوں ایسے انسانوں کو اپنی رعایا
میں پاوے گی جو محض حضرت مسیح موعود (مرزاقادیانی) کے مرید ہو جانے کے سبب سے گورنمنٹ کے باوفا اور دلی جان
نثار ہوگئے ہیں۔‘‘
(مہربان گورنمنٹ قدردان گورنمنٹ کو خدا ہمیشہ کے لئے سلامت رکھے، انوار احمدی سرورق ص۲، مؤلفہ شہزادہ
حاجی عبدالمجید قادیانی)
454
(۱۹) تمام سچے احمدی
’’ایرانی گورنمنٹ نے جو سلوک مرزاعلی محمد باب بانی فرقہ بابیہ اور اس کے بے کس مریدوں کے ساتھ محض
مذہبی اختلاف کی وجہ سے کیا اور جو ستم اس فرقہ پر توڑے گئے، وہ ان دانشمند لوگوں پر مخفی نہیں ہیں جو قوموں
کی تاریخ پڑھنے کے عادی ہیں اور پھر سلطنت ٹرکی نے جو ایک یورپ کی سلطنت کہلاتی ہے جو برتاؤ بہاء اللہ بانی
فرقہ بابیہ بہائیہ اور اس کے جلاوطن شدہ پیروؤں سے ۱۸۶۳ء سے لے کر ۱۸۹۲ء تک پہلے قسطنطنیہ پھر ایڈریانوپل
اور بعدازاں عکہّ کے جیل خانہ میں کیا۔ وہ بھی دنیا کے اہم واقعات پر اطلاع رکھنے والوں پر پوشیدہ نہیں ہے۔
دنیا میں تین ہی بڑی اسلامی سلطنتیں کہلاتی ہیں اور تینوں نے جو تنگ دلی اور تعصب کا نمونہ اور شائستگی کے
زمانہ میں دکھایا، وہ احمدی قوم کو یہ یقین دلائے بغیر نہیں رہ سکتا کہ احمدیوں کی آزادی تاج برطانیہ کے
ساتھ وابستہ ہے اور چونکہ خدا نے برٹش راج میں سلامتی کے شہزادہ (مرزاقادیانی) کو دنیا کی رہنمائی کے لئے
بھیجا گویا خدا نے تمام دنیا کی حکومتوں پر بلحاظ فیاضی فراغ دلی اور بے تعصبی کے برٹش گورنمنٹ کو ترجیح دی۔
لہٰذا تمام سچے احمدی جو مرزاقادیانی کو مامور من اللہ اور ایک مقدس انسان تصور کرتے ہیں، بدوں کسی خوشامد اور
چاپلوسی کے دل سے یقین کرتے ہیں کہ برٹش گورنمنٹ ان کے لئے فضل ایزدی اور سایہ رحمت ہے اور اس کی ہستی کو وہ
اپنی ہستی خیال کرتے ہیں۔‘‘
(الفضل قادیان ج۲ نمبر۳۸ ص۴ کالم۲، مؤرخہ ۱۳؍ستمبر ۱۹۱۴ء)
(۲۰) سیاسی فلسفہ
’’ہم نے مصطفی کمال پاشا کی بغاوت کو بھی بغاوت قرار دیا۔ رضاخاں کی بغاوت کو بھی بغاوت قرار دیا اور
اب بچہ سقہ کی بغاوت کو بھی بغاوت ہی کہتے ہیں۔ ہم ان تینوں کو غلطی پر سمجھتے ہیں۔ انہوں نے اپنے اپنے
زمانہ میں غلطی کی۔ اپنے اپنے زمانہ سے میری یہ مراد ہے کہ بعض اوقات بغاوت کرنے والا ہی بادشاہ ہو جاتا ہے
اور اس وقت اس کی اطاعت ضروری ہوتی ہے۔ جب بغاوت کرنے والا ملک پر پوری طرح قابض اور متسلط ہوجائے تو پھر اس
کی اطاعت کرنی چاہئے۔ اس وقت اس کی اطاعت اسی طرح فرض ہو جاتی ہے جیسے پہلے بادشاہ کی۔ مثلاً اگر بچہ سقہ
افغانستان پر اسی طرح قابض ہو جائے جیسے مصطفی کمال پاشا ٹرکی پر قابض ہو گئے تھے یا رضا شاہ ایران پر تو
پھر اس کے خلاف اٹھنے کو بھی ہم بغاوت ہی قرار دیں گے۔ یہی حال ہندوستان کا ہے۔ اگر کوئی قوم انگریزوں کے
خلاف جنگ کرے گی تو اس جنگ کو ہم بغاوت قرار دیں گے لیکن اگر انگریز ہتھیار ڈال دیں اور اطاعت قبول کر لیں
تو پھر جو قوم حکمران ہوگی، اس کی اطاعت ضروری سمجھیں گے۔‘‘
(خطبہ خلیفہ قادیان، مندرجہ اخبار الفضل قادیان ج۱۶ نمبر۶۱ ص۹ کالم۳، مؤرخہ یکم؍فروری ۱۹۲۹ء، خطبات
محمود ج۱۲ ص۲۱)
(د) سرحد
(۲۱) سرحدی قبائل کی اصلاح
سرحدی قبائل کی شورشیں اور ان کا سبب اور علاج (عنوان، الفضل ۱۴؍اکتوبر ۱۹۱۵ء)
’’لہٰذا ہماری رائے میں خواہ ہم عصر پایونیر ہویادیگر امن دوست ملکی وقومی اخبارات یا خود عمال سلطنت
ہوں۔ جس کسی کی بھی آج یہ خواہش ہو کہ ابنائے ملک وملت میں صلح کاری ونیک کرداری پھیلے اور وہ مفسدہ پردازی
کے خطرناک خیالات سے پاک رہیں، اس کا فرض
455
اوّلین یہ ہے کہ مہدی موعود کے متعلق جو غلط عقیدہ لوگوں کے دلوں میں جما ہوا ہے، اس کی اصلاح میں
سلسلہ احمدیہ کا ہاتھ بٹائے جس کے بنیادی اصولوں میں سے ہے کہ اسلام ایسے مہدی کی کہیں توقع نہیں دلاتا جس
کا مشن امن شکن ہو۔ نیز یہ کہ فرماں روائے وقت کی خیرخواہی واطاعت رعایا کا فرض ہے۔‘‘
(الفضل قادیان ج۳ نمبر۴۹ ص۴ کالم۱، مؤرخہ ۱۴؍اکتوبر ۱۹۱۵ء)
’’یہ صورت حالات دیکھ کر حکومت صوبہ سرحد نے نہایت ہوش مندی سے کام لیا اور ایسے لوگ جو صوبہ کے امن
کو برباد کرنے کی کوشش کر رہے تھے اور قلیل التعداد احمدیوں پر طرح طرح کے ظلم کرنے کے لئے عوام کو اشتعال
دلارہے تھے، ان کے متعلق اپنے فرض کو محسوس کرتے ہوئے حفظ امن کے انتظامات کرنے کی طرف توجہ کی جس کا نتیجہ
ہوا کہ اس قسم کے مظالم سے، جو پنجاب میں احرار کی طرف سے احمدیوں پر کئے جارہے ہیں، صوبہ سرحد بڑی حد تک
پاک رہا۔‘‘
(الفضل قادیان ج۲۳ نمبر۱۸۶ ص۳ کالم۲، مؤرخہ ۱۱؍فروری ۱۹۳۶ء)
(ھ) افغانستان
(۲۲) شہادت کی وجہ
’’ہمیں یہ معلوم نہ تھا کہ حضرت صاحبزادہ عبداللطیف صاحب شہید کی شہادت کی وجہ کیا تھی۔ اس کے متعلق
ہم نے مختلف افواہیں سنیں مگر کوئی یقینی اطلاع نہ ملی تھی۔ ایک عرصہ دراز کے بعد اتفاقاً ایک لائبریری میں
ایک کتاب ملی جو چھپ کرنایاب بھی ہوگئی تھی۔ اس کتاب کا مصنف ایک اطالوی انجینئر ہے جو افغانستان میں ایک
ذمہ دار عہدہ پر فائز تھا۔ وہ لکھتا ہے کہ صاحبزادہ عبداللطیف صاحب کو اس لئے شہید کیاگیا کہ وہ جہاد کے
خلاف تعلیم دیتے تھے اور حکومت افغانستان کو خطرہ لاحق ہوگیا تھا کہ اس سے افغانوں کا جذبہ حریت کمزور ہو
جائے گا اور ان پرانگریزوں کا اقتدار چھا جائے گا… اس کتاب کے مصنف کی یہ بات اس لئے بھی یقینی ہے کہ وہ شاہ
افغانستان کا درباری تھا اور اس لئے بھی کہ وہ اکثر باتیں خود وزراء اور شہزادوں سے سن کر لکھتا ہے۔ ایسے
معتبر راوی کی روایت سے یہ امر پایہ ثبوت تک پہنچتا ہے کہ اگر صاحبزادہ عبداللطیف صاحب شہید خاموشی سے بیٹھے
رہتے اور جہاد کے خلاف کوئی لفظ بھی نہ کہتے تو حکومت افغانستان کو انہیں شہید کرنے کی ضرورت محسوس نہ
ہوتی۔‘‘
(خطبہ جمعہ خلیفہ قادیان، مندرجہ الفضل قادیان ج۲۳ نمبر۳۱ ص۴ کالم۲،۳، مؤرخہ ۶؍اگست ۱۹۳۵ء، خطبات
محمود ج۱۶ ص۴۶۰،۴۶۱)
’’اگر ہمارے آدمی افغانستان میں خاموش رہتے اور وہ جہاد کے باب میں جماعت احمدیہ کے مسلک کو بیان نہ
کرتے تو شرعی طور پر ان پر کوئی اعتراض نہ تھا مگر وہ اس بڑھے ہوئے جوش کا شکار ہوگئے جو انہیں حکومت
برطانیہ کے متعلق تھا اور وہ اس ہمدردی کی وجہ سے مستحق سزا سمجھے گئے جو قادیان سے لے کر گئے تھے۔‘‘
(خطبہ جمعہ خلیفہ قادیان، مندرجہ الفضل قادیان ج۲۳ نمبر۳۱ ص۴ کالم۳،مؤرخہ ۶؍اگست ۱۹۳۵ء، خطبات محمود
ج۱۶ ص۴۶۱)
(۲۳) سازشی خطوط
’’افغان گورنمنٹ کے وزیرداخلہ نے مندرجہ ذیل اعلان شائع کیا ہے:
کابل کے دو اشخاص ملا عبدالحلیم چہار آسیانی وملانور علی دکاندار قادیانی عقائد کے گرویدہ ہوچکے تھے
اور لوگوں کو اس عقیدہ کی تلقین کر کے انہیں اصلاح کی راہ سے بھٹکا رہے تھے۔ جمہوریہ نے ان کی اس حرکت سے
مشتعل ہوکر ان کے خلاف دعویٰ دائر کر دیا جس کا
456
نتیجہ یہ ہوا کہ مجرم ثابت ہوکر عوام کے ہاتھوں پنجشنبہ ۱۱؍رجب کو عدم آباد پہنچائے گئے۔ ان کے خلاف
مدت سے ایک اور دعویٰ دائر ہوچکا تھا اور مملکت افغانیہ کے مصالح کے خلاف غیرملکی لوگوں کے سازشی خطوط ان کے
قبضے سے پائے گئے جن سے پایا جاتا ہے کہ وہ افغانستان کے دشمنوں کے ہاتھ بک چکے تھے۔ اس واقعہ کی تفصیل مزید
تفتیش کے بعد شائع کی جائے گی۔ (اخبار ’’امان‘‘، افغان)‘‘
(الفضل قادیان ج۱۲ نمبر۹۶ ص۱۲ کالم۲، مؤرخہ ۳؍مارچ ۱۹۲۵ء)
(۲۴) مداخلت اور بازپرسی
’’معزز ہمعصر اخبار ’’تیج‘‘ ۲۶؍فروری ۱۹۲۵ء کے اشو میں رقمطراز ہے جنیوا کی اطلاع مظہر ہے کہ احمدیہ
فرقہ کے امیر مرزابشیرالدین محمود احمد نے لیگ آف نیشنز سے درخواست کی ہے کہ وہ کابل میں دو احمدیوں کی
سنگساری کے بارے میں افغانستان کی گورنمنٹ سے بازپرس کرے۔‘‘
(الفضل قادیان ج۱۲ نمبر۹۷ ص۶ کالم۱، مؤرخہ ۵؍مارچ ۱۹۲۵ء)
(۲۵) دیکھ لو
’’دیکھ لو حضرت مسیح موعود کے رستہ میں جو سلطنتیں آئیں اور انہوں نے احمدیت کی اشاعت میں کسی نہ کسی
طرح کی روک پیدا کی، وہ کس طرح تباہ کر دی گئیں… پھر کابل کی حکومت بھی مسیح موعود کے رستہ میں روک تھی اور
وہاں پر نہ صرف یہ کہ احمدیت کی تبلیع منع تھی بلکہ احمدیت کا اظہار بھی ممنوع تھا اور مسیح موعود کو وہاں
جانے کا ڈراوا دیا جاتا تھا۔ خدا نے اس کو تباہ کرنے کے بھی سامان پیدا کرد ئیے۔‘‘
(خطبہ جمعہ خلیفہ قادیان، مندرجہ الفضل قادیان ج۶ نمبر۹۴ ص۹ کالم۱،۲، مؤرخہ ۱۰؍جون ۱۹۱۹ء، خطبات
محمود ج۶ ص۲۲۷،۲۲۸)
(۲۶) کابل
’’حضرت مسیح موعود کے مخالف آپ کو اکثر کہا کرتے تھے کابل میں چلو تو پھر دیکھو تمہارے ساتھ کیا سلوک
ہوتا ہے۔ اب ایسے سامان پیداہورہے ہیں کہ عنقریب ان شاء اللہ ہم کابل میں جائیں گے اور ان کو دکھادیں گے کہ جس
کو وہ قتل کرانا چاہتے تھے، اس کے (مرزاقادیانی کے) خدام خدا کے فضل سے صحیح سلامت رہیں گے… اس وقت (بعہد
شاہ امان اللہ خاں) جو کابل نے گورنمنٹ انگریزی سے نادانی سے جنگ شروع کر دی ہے، احمدیوں کا فرض ہے کہ گورنمنٹ
کی خدمت کریں۔ کیونکہ گورنمنٹ کی اطاعت ہمارا فرض ہے۔ لیکن افغانستان کی جنگ احمدیوں کے لئے ایک نئی حیثیت
رکھتی ہے۔ کیونکہ کابل وہ زمین ہے جہاں ہمارے نہایت ہی قیمتی وجود مارے گئے اور ظلم سے مارے گئے اور بے سبب
اور بلاوجہ مارے گئے۔ پس کابل وہ جگہ ہے جہاں احمدیت کی تبلیغ منع ہے اور اس پر صداقت کے دروازے بند ہیں۔ اس
لئے صداقت کے قیام کے لئے گورنمنٹ کی فوج میں شامل ہوکر ان ظالمانہ روکوں کو دفع کرنے کے لئے گورنمنٹ کی مدد
کرنا احمدیوں کا مذہبی فرض ہے۔ پس کوشش کرو تاتمہارے ذریعہ وہ شاخیں پیدا ہوں جن کی حضرت مسیح موعود نے
اطلاع دی ہے۔‘‘
(خطبہ جمعہ خلیفہ قادیان، مندرجہ الفضل قادیان ج۶ نمبر۹۰ ص۷،۸، مؤرخہ ۲۷؍مئی ۱۹۱۹ء، خطبات محمود ج۶
ص۲۱۶تا۲۱۹)
(۲۷) جنگ کابل
’’جب کابل کے ساتھ جنگ ہوئی ہے تب بھی ہماری جماعت نے اپنی طاقت سے بڑھ کر مدد دی اور علاوہ اور کئی
قسم کی خدمات کے ایک ڈبل کمپنی پیش کی ہے جس کی بھرتی بوجہ جنگ کے بند ہو جانے کے رک گئی۔ ورنہ ایک ہزار سے
زائد آدمی اس کے لئے نام لکھوا چکے
457
تھے اور خود ہمارے سلسلہ کے بانی کے چھوٹے صاحبزادہ اور ہمارے موجودہ امام کے چھوٹے بھائی نے اپنی
خدمات پیش کیں اور چھ ماہ تک ٹرانسپورٹ کور میں آنریری طور پر کام کرتے رہے۔‘‘
(قادیانی جماعت کا ایڈریس، بخدمت ہزایکسی لنسی لارڈریڈنگ وائسرائے ہند، الفضل قادیان ج۹ نمبر۱، مؤرخہ
۴؍جولائی ۱۹۲۱ء)
(۲۸) دنیا کا چارج
’’وہی افغانستان جہاں سید عبداللطیف صاحب (قادیانی) شہید ہوئے تھے، وہاں اب امیر نے کہا ہے کہ کسی
احمدی کو مذہب کی خاطر قید نہیں کرنا چاہئے… دیکھو ہم نہیں جانتے کہ وہاں کے لئے ہمیں کیا طریق عمل اختیار
کرنا پڑتا۔ شاید کابل کے لئے کسی وقت جہاد ہی کرنا پڑجاتا مگر اب دیکھو کتنا تغیر آگیا۔ وہاں کے بادشاہ نے
کہہ دیا کہ قیدی احمدیوں کو چھوڑ دو۔ پس نہیں معلوم ہمیں کب خدا کی طرف سے دنیا کا چارج سپرد کیا جاتا ہے۔
ہمیں اپنی طرف سے تیار ہورہنا چاہئے کہ دنیا کو سنبھال سکیں۔ تم نے دنیا کو ادھر نہیں لانا بلکہ لانے والا
خدا ہے۔ اس لئے تمہیں آنے والوں کے معلم بننے کے لئے ابھی سے کوشش کرنی چاہئے۔ ‘‘
(خطبہ جمعہ خلیفہ قادیان، مندرجہ الفضل قادیان ج۹ نمبر۶۷،۶۸، مؤرخہ ۲۷؍فروری، ۲؍مارچ ۱۹۲۲ء، خطبات
محمود ج۷ ص۲۱۱،۲۱۲)
(۲۹) اس لئے
’’ہمارے آدمی کابل میں مارے گئے۔ محض اس لئے کہ وہ جہاد کرنے کے مخالف تھے۔ اٹلی کے ایک انجینئر نے جو
حکومت افغانستان کا ملازم تھا۔ صاف لکھا ہے کہ امیر حبیب اللہ خاں نے صاحبزدہ سید عبداللطیف کو اسی لئے
مروادیا ہے وہ جہاد کے خلاف تعلیم دے کر مسلمانوں کے شیرازہ کو بکھیرتا ہے۔ پس ہم نے اپنی جانیں اس لئے
قربان کیں کہ انگریزوں کی جانیں بچیں مگر آج بعض حکام سے ہمیں یہ بدلہ ملا ہے کہ ہم سے باغی اور شورش پسندوں
والا سلوک روارکھا ہے۔‘‘
(خطبہ جمعہ خلیفہ قادیان، مندرجہ اخبار الفضل قادیان ج۲۲ نمبر۵۴ ص۱۲ کالم۲، مؤرخہ یکم؍نومبر ۱۹۳۴ء،
خطبات محمود ج۱۵ ص۳۱۰)
(و) عراق
(۳۰) عمدہ نتائج
’’لارڈ ہارڈنگ کا یہ سفر (سفر عراق) سابق وائسرائے لارڈ کرزن کے سفر خلیج فارس سے زیادہ اہم اور زیادہ
اچھے نتائج کی امیددلاتا ہے۔ ہم اس وقت اس سفر کے نتائج اس کی اہمیت کا صحیح اندازہ ناظرین پر چھوڑتے ہیں…
یقینا اس نیک دل افسر (لارڈ ہارڈنگ) کا عرق میں جانا عمدہ نتائج پیدا کرے گا۔ ہم ان نتائج پر خوش ہیں۔
کیونکہ… خدا ملک گیری اور جہاں بانی اسی کے سپرد کرتا ہے جو اس کی مخلوق کی بہتری چاہتا ہے اور اسی کو زمین
پر حکمران بناتا ہے جو اس کا اہل ہوتا ہے، پس ہم پھر کہتے ہیں کہ ہم خوش ہیں۔ کیونکہ ہمارے خدا کی بات پوری
ہوتی ہے اور ہمیں امید ہے کہ برٹش حکومت کی توسیع کے ساتھ ہمارے لئے اشاعت اسلام کا میدان بھی وسیع ہو جائے
گا اور غیرمسلم کو مسلم بنانے کے ساتھ ہم مسلمانوں کو پھر مسلمان کریں گے۔‘‘
(الفضل قادیان ج۲ نمبر۱۰۳ ص۳ کالم۳، مؤرخہ ۱۱؍فروری ۱۹۱۵ء)
(۳۱) فتح بغداد
’’حضرت مسیح موعود (مرزاقادیانی) فرماتے ہیں کہ میں وہ مہدی معہود ہوں اور گورنمنٹ برطانیہ میری وہ
تلوار ہے جس کے
458
مقابلہ میں ان علماء کی کچھ پیش نہیں جاتی۔ اب غور کرنے کا مقام ہے کہ پھر ہم احمدیوں کو اس فتح (فتح
عراق) سے کیوں خوشی نہ ہو۔ عراق، عرب ہو یا شام ہم ہر جگہ اپنی تلوار کی چمک دیکھنا چاہتے ہیں… فتح بغداد کے
وقت ہماری فوجیں مشرق سے داخل ہوئیں۔ دیکھئے کس زمانہ میں اس فتح کی خبر دی گئی۔ ہماری گورنمنٹ برطانیہ نے
جو بصرہ کی طرف چڑھائی کی اور تمام اقوام سے لوگوں کو جمع کر کے اس کی طرف بھیجا، دراصل اس کے محرک
خداتعالیٰ کے وہ فرشتے تھے، جن کو اس گورنمنٹ کی مدد کے لئے اس نے اپنے وقت پر اتارا تاکہ وہ لوگوں کے دلوں
کو اس طرف مائل کر کے ہر قسم کی مدد کے لئے تیار کریں۔‘‘
(الفضل قادیان ج۲ نمبر۴۲ ص۹ کالم۲،۳، مؤرخہ ۷؍دسمبر ۱۹۱۸ء)
(۳۲) عراق کی فتح
’’عراق کے فتح کرنے میں احمدیوں نے خون بہائے اور میری تحریک پر سینکڑوں آدمی بھرتی ہوکر چلے گئے۔
لیکن جب وہاں حکومت قائم ہوگئی تو گورنمنٹ نے یہ شرط تو کروائی کہ پادریوں کو عیسائیت کی اشاعت کرنے میں روک
نہ ہوگی مگر احمدیوں کے لئے نہ صرف اس قسم کی کوئی شرط نہ رکھی بلکہ احمدی اگر اپنی تکالیف پیش کرتے ہیں تو
بھی عراق کے ہائی کمشنر اس میں دخل دینے کو اپنی شان سے بالا سمجھتے ہیں۔‘‘
(خطبہ جمعہ خلیفہ قادیان، مندرجہ الفضل قادیان ج۱۱ نمبر۱۷ ص۸، مؤرخہ ۳۱؍اگست ۱۹۲۳ء، خطبات محمود ج۸
ص۱۷۳،۱۷۴)
(۳۳) عراق کی آزادی
’’انگریزی افواج کی کوچ کا اثر انگیز نظارۂ بغداد سے ایک سرکاری پیغام شائع کیاگیا ہے جس میں یہ
تصریح کی گئی ہے۔ ۱۹۳۰ء کے معاہدہ کے ماتحت عراق مکمل طور پر آزاد ہوگیا ہے۔ وہ نظارہ بہت ہی اثر انگیز تھا
جب آخری عراقی چھاؤنی سے مارشل کارنٹی (افسر اعلیٰ برطانوی شاہی افواج) نے اپنی عراقی فوج کے آخری دستہ کو
کوچ کا حکم دیا۔ گوروں نے عراق کے نخلستانوں پر حیرت کی نظر ڈالی۔ انگریزی فوج تیز قدمی کے ساتھ عراق میں
داخل ہوئی تھی مگر آخری دستہ کے فوجی ہلکی رفتار سے رخصت ہورہے تھے۔ جب فوجوں نے انگلستان کا رخ کر کے ایک
ساتھ قدم اٹھائے تو پھر انہوں نے مڑ کر اس منظر کو نہیں دیکھا جو ان کے جانے سے رونما ہورہا تھا تو اس وقت
امین پاشا امیرالملواء افواج عراق وہاں موجود تھے۔ مارشل کارنٹی نے اعلان کیا:
’’ہم یہ فوجی علاقہ جوہمارے قبضہ میں تھا حکومت برطانیہ کی طرف سے عراق کو واپس کرتے ہیں۔‘‘
امین پاشا نے فوراً ہاتھ بڑھایا اور مارشل کے ہاتھ سے فوجی بارکوں کے تمام نقشے اپنے قبضے میں لے لئے۔
صلیبی علم چھاؤنی کی بلند عمارتوں سے اتاردیا گیا اور مارشل کارنٹی کی آنکھوں کے سامنے اسلامی علم لہرادیا
گیا۔ اس علم پر ایک ہلال اور ایک ستارہ موجود ہے جو عراق کے مستقبل کی باتیں آسمان سے کر رہا ہے۔ (قادیانیوں
کو کیسی عبرت اور ندامت ہوئی ہوگی کہ ان کے سرپرست انگریز آنکھوں دیکھتے رفوچکر ہوگئے۔ للمؤلف)‘‘
(رونامہ پیام حیدرآباد دکن مؤرخہ ۷؍محرم ۱۳۰۷ھ، مطابق ۱۰؍مارچ ۱۹۳۸ء)
(ز) عرب
(۳۴) کیافائدہ
’’آج سے کئی سال پہلے جب لارڈ چیمسفورڈ ہندوستان کے وائسرائے تھے، مسلمانوں میں شور پیدا ہوا کہ
انگریز بعض عرب رؤسا
459
کو مالی مدد دے کر انہیں اپنے زیراثر لانا چاہتے ہیں۔ یہ شور جب زیادہ بلند ہوا تو حکومت ہند کی طرف
سے اعلان کیاگیا کہ ہم عرب رؤسا کو کوئی مالی مدد نہیں دیتے۔ مسلمان اس پر خوش ہوگئے کہ چلو خبر کی تردید
ہوگئی۔ لیکن میں نے واقعات کی تحقیقات کی تو مجھے معلوم ہوا کہ گو ہندوستان کی حکومت بعض رؤسا کو مالی مدد
نہیں دیتی مگر حکومت برطانیہ اس قسم کی مدد ضرور دیتی ہے۔ چنانچہ ساٹھ ہزار پونڈ ابن سعود کو ملا کرتے تھے
اور کچھ رقم شریف حسین کو ملتی تھی۔ جب مجھے اس کا علم ہوا تو میں نے لارڈ چیمسفورڈ کو لکھا کہ گو لفظی طور
پر آپ کا اعلان صحیح ہے مگر حقیقی طور پر صحیح نہیں۔ کیونکہ حکومت برطانیہ کی طرف سے ابن سعود اور شریف حسین
کو اس اس قدر مالی مدد ملتی ہے اور اس میں ذرہ بھر بھی شبہ کی گنجائش نہیں کہ مسلمان عرب پر انگریزی حکومت
کا تسلط کسی رنگ میں بھی پسند نہیں کرتے۔ ان کا جواب میں مجھے خط آیا (وہ بہت ہی شریف طبیعت رکھتے تھے) کہ
یہ واقعہ صحیح ہے مگر اس کا کیا فائدہ کہ اس قسم کا اعلان کر کے فساد پھیلایا جائے۔ ہاں! ہم آپ کو یقین
دلاتے ہیں کہ گورنمنٹ انگریزی کا یہ ہرگز منشاء نہیں کہ عرب کو اپنے زیراثر لائے۔‘‘
(خطبہ جمعہ خلیفہ قادیان، مندرجہ الفضل قادیان ج۲۳ نمبر۵۵ ص۹ کالم۱، مؤرخہ ۳؍ستمبر ۱۹۳۵ء، خطبات
محمود ج۱۶ ص۵۴۹)
(ح) فلسطین
(۳۵) قادیانی مضمون کا شکریہ
’’بیت المقدس کے داخلہ پر اس ملک (انگلستان) میں بہت خوشیاں منائی جارہی ہیں۔ میں نے ایک یہاں کے
اخبار میں اس پر ایک آرٹیکل دیا ہے جس کا خلاصہ یہ ہے کہ یہ وعدے کی زمین ہے جو یہود کو عطاء کی گئی تھی مگر
نبیوں کے انکار اور بالآخر مسیح کی عداوت نے یہود کو ہمیشہ کے واسطے وہاں کی حکومت سے محروم کردیا اور یہود
کو سزا کے طور پر حکومت رومیوں کو دی گئی جو بت پرست قوم تھی۔ بعد میں عیسائیوں کو ملی۔ پھر مسلمانوں کوجن
کے پاس ایک لمبے عرصہ تک رہی اب اگر مسلمانوں کے ہاتھ سے وہ زمین نکلی ہے تو پھر اس کا سبب تلاش کرنا چاہئے۔
کیا مسلمانوں نے بھی کسی نبی کا انکار تو نہیں کیا… سلطنت برطانیہ کے انصاف اور امن اور آزادی مذہب کو ہم
دیکھ چکے، آزما چکے ہیں اور آرام پا رہے ہیں۔ اس سے بہتر کوئی حکومت مسلمانوں کے لئے نہیں ہے۔ اس زمانہ میں
کوئی مذہبی جنگ نہیں۔ ہاں! ہم اپنے نیک نمونے اور روحانی کشش سے یورپ کو مسلمان بنالیں تو پھر ساری حکومتیں
ہماری ہی ہیں اور اس میں اسلام کی آئندہ بہتری کی امیدیں ہیں… بیت المقدس کے متعلق جو میرا مضمون یہاں
(انگلستان) کے اخبار میں شائع ہوا ہے، اس کا ذکر میں اوپر کر چکا ہوں۔ اس کے متعلق وزیراعظم برطانیہ کی طرف
سے ان کے سیکرٹری نے شکریہ کا خط لکھا ہے۔ فرماتے ہیں کہ مسٹر لائڈ جارج اس مضمون کی بہت قدر کرتے ہیں۔‘‘
(قادیانی مبلغ کا خط، الفضل قادیان ج۵ نمبر۷۵ ص۸،۹ کالم۲، مؤرخہ ۱۹؍مارچ ۱۹۱۸ء)
(۳۶) درخواست دعاء
’’اخبار بیں اصحاب جانتے ہیں کہ آج کل فلسطین میں سخت شورش بپا ہے۔ حکومت اور یہود عربوں پر تشدد کر
رہے ہیں بلکہ خود عرب ایک دوسرے کی جان کے دشمن ہورہے ہیں۔ اسی سرزمین میں حضرت مسیح موعود (مرزاقادیانی) کے
نام لیواؤں کی بھی ایک جماعت ہے۔ تازہ خطوط سے معلوم ہوا ہے کہ احباب جماعت کے لئے بھی یہ دن سخت مشکلات کے
ہیں۔ مالی تنگی کے علاوہ خطرہ جان بھی
460
ہے۔ اس لئے میں تمام احباب سے دردمند دل کے ساتھ درخواست کرتا ہوں کہ اپنے ان دور افتادہ بھائیوں کے
لئے دعا فرمائیں کہ اللہ تعالیٰ ان پر فضل نازل کرے اور انہیں ترقی دے کر احمدیت کے سچے خادم بنائے۔ آمین!
مولوی محمد صدیق صاحب مجاہد تحریک جدید ان دنوں وہاں ہیں۔ ان کے لئے بھی دعا فرمائی جائے۔ خاکسار: ابوالعطاء
جالندھری، قادیان‘‘
(الفضل قادیان ج۲۶ نمبر۱۸۰ ص۶ کالم۲، مؤرخہ ۷؍اگست ۱۹۳۸ء)
(ط) ترکی
(۳۷) ترک
’’ہم یہ بتادینا چاہتے ہیں کہ مذہباً ہمارا ترکوں سے کوئی تعلق نہیں۔ ہم اپنے مذہبی نقطہ خیال سے اس
امر کے پابند ہیں کہ اس شخص کو اپنا مذہبی پیشوا سمجھیں جو حضرت مسیح موعود کا جانشین ہو اور دنیاوی لحاظ سے
اسی کو اپنا سلطان وبادشاہ یقین کریں جس کی حکومت کے نیچے ہم رہتے ہوں۔ پس ہمارے خلیفہ حضرت مسیح موعود
(مرزاقادیانی) کے خلیفہ ثانی ہیں اور ہمارے سلطان اور بادشاہ حضور ملک معظم۔‘‘
(قادیانی جماعت کا ایڈریس، بخدمت سرایڈورڈ میکلیگن لیفٹیننٹ گورنر پنجاب، الفضل قادیان ج۷ نمبر۴۸ ص۱۳
کالم۱،۲،مؤرخہ ۲۲؍دسمبر ۱۹۱۹ء)
(۳۸) سلطان اور خلیفہ
’’حضرت خلیفۃ المسیح (مرزامحمود) ایدہ اللہ نے اپنے مضمون معاہدہ ٹرکی میں جو یہ تحریر فرمایا ہے کہ:
جماعت احمدیہ کے نزدیک ہمارے سلطان ملک معظم جارج خامس فرماں روائے حکومت برطانیہ ہیں اور خلیفہ وقت
حضرت مسیح موعود (مرزاقادیانی) کا صحیح جانشین یعنی یہ عاجز (مرزامحمود خلیفہ قادیان) مگر باوجود اس کے
جماعت احمدیہ اس وقت جب کہ برطانیہ کے مفاد اور اس کی عزت کے خلاف کوئی امر نہ ہو ترکوں کی سلطنت سے ہر طرح
ہمدردی رکھتی ہے۔
اس پر کوڑمغز ایڈیٹر پیغام نے جو درافشانی کی ہے، وہ حسب ذیل ہے کہ:
’’کوئی سمجھے خلافت ان کے (مرزامحمود خلیفہ قادیان کے) نام عرش معلی پر رجسٹرڈ ہوچکی ہے کہ اب ان کے
مقابل کوئی کسی قسم کا بھی خلیفہ کہلانے کا مستحق نہیں۔‘‘
آپ (حضرت امام جماعت احمدیہ) کی محولہ بالا عبارت سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ آپ سلطان المعظم جارج پنجم
کی خلافت کے قائل ہیں اور اسی لئے آپ کی سلطنت برطانیہ کے مفاد اور اس کی عزت کو ترکوں کے مفاد اور ان کی
عزت پر مقدم رکھا ہے اور اس پر حاشیہ چڑھایا ہے۔ تف ہے ایسی مسلمانی اور بے غیرتی پر۔‘‘
(پیغام صلح لاہور، اخبار الفضل قادیان ج۸ نمبر۵ ص۳ کالم۱، مؤرخہ ۲۶؍جولائی ۱۹۲۰ء)
(۳۹) سلطان ٹرکی
’’اخبار ’’لیڈر‘‘ الٰہ آباد، مجریہ ۲۱؍جنوری ۱۹۲۰ء میں خلافت کانفرنس کا ایڈریس بخدمت جناب وائسرائے
شائع کیاگیا ہے۔ فہرست دستخط کنندگان میں مولوی ثناء اللہ امرتسری کے نام سے پہلے کسی شخص مولوی محمد علی
قادیانی کا نام درج ہے۔ مولوی محمد علی کے نام کے ساتھ قادیانی کا لفظ محض لوگوں کو دھوکا دینے کے لئے
لکھاگیا ہے۔ ورنہ قادیان یا قادیان سے کوئی تعلق رکھنے والا احمدی نہیں ہے جو سلطان
461
ٹرکی کو خلیفۃ المسلمین تسلیم کرتا ہو۔ معلوم ہوتا ہے کہ یہ مولوی محمد علی صاحب لاہوری سرگروہ
غیرمبائع ہیں۔ لیکن وہ لفظ قادیانی کے ساتھ لکھنے کے ہرگز مستحق نہیں ہیں۔ نہ اس لئے کہ وہ قادیان کے باشندے
ہیں اور نہ اس لئے کہ وہ مرکز قادیان سے تعلق رکھتے ہیں۔ اگر ان کے عقیدہ کے مطابق سلطان ٹرکی خلیفۃ
المسلمین ہے تو اس عقیدہ کو ظاہر کرنے کے لئے قادیان کی آڑکیوں لیتے ہیں۔ لہٰذا بذریعہ اس اعلان کے پبلک کو
مطلع کیاجاتا ہے کہ قادیان سے تعلق رکھنے والے کسی احمدی کا یہ عقیدہ نہیں ہے کہ سلطان ٹرکی خلیفۃ المسلمین
ہے۔‘‘
(صیغہ امور عامہ قادیان کا اعلان، مندرجہ اخبار الفضل قادیان ج۷ نمبر۶۱ ص۹ کالم۱، مؤرخہ ۱۶؍فروری
۱۹۲۰ء)
(۴۰) قادیانی خلافت
’’ہمارے نزدیک اگر ترکوں کے بادشاہ خلیفہ تھے بھی تو جس وقت مسیح موعود کو خداتعالیٰ نے مامور کیا،
اسی وقت سے ان کی خلافت باطل ہوگئی۔ جب کوئی انسان مامور ہوکر آئے تو پھر وہی خلیفہ ہوتا ہے نہ کہ کوئی اور۔
اس کی خلافت کے مقابلہ میں اور کسی انسان کی خلافت نہیں چل سکتی۔ اسی طرح حضرت مسیح موعود کے بعد خلیفہ وہی
ہوسکتا ہے جو آپ کے پیرواں میں سے ہو اور دوسرے مسیح موعود کی آمد کے ساتھ ہی خلافت کے طریق میں بھی فرق
آگیا۔ کیونکہ مسیح موعود صرف روحانی خلیفہ تھا، باشاہ نہ تھا۔ پس اس کے خلفاء کا رنگ بھی وہی ہوگا، جو خود
اس کا رنگ تھا۔‘‘
(الفضل قادیان ج۲ نمبر۶۹ ص۳ کالم۲،۳، مؤرخہ ۲۴؍نومبر ۱۹۱۴ء)
(۴۱) مٹنے دو
’’ان حالات کو دیکھ کر کون کہہ سکتا ہے کہ آل عثمان کی سلطنت زندہ یا زندہ رہنے کے قابل ہے۔ پس یہ
سمجھنا غلطی ہے کہ ہم ترکوں کے دشمن ہیں۔ ہم جو کچھ لکھتے ہیں، واقعات کی بناء پر اور مسلمانوں کی ہمدردی کے
لئے لکھتے ہیں۔ کیونکہ ہمیں معلوم ہے کہ موجودہ ترکی حکومت اسلام کے لئے مفید ثابت ہونے کی بجائے مضر ثابت
ہوئی ہے۔ اگر وہ اپنی بداعمالی اور بدکرداری کے باعث مٹتی ہے تو مٹنے دو اور یاد رکھو کہ ترک اسلام نہیں۔
اسلام وہ طاقت ہے جس نے فاتح ترک کو مغلوب کیا تھا اور اب بھی تاریخ اپنا اعادہ کر سکتی اور اسلام فاتح کو
مفتوح بناسکتا ہے۔ مگر اس کے لئے اندرونی حالت میں تغیر ضروری ہے۔‘‘
(الفضل قادیان ج۲ نمبر۱۱۷ ص۳ کالم۳، مؤرخہ ۲۳؍مارچ ۱۹۱۵ء)
(۴۲) قادیانی خواہش
’’بہرحال واقعات اب بتلاتے ہیں کہ (ترکان) آل عثمان کا ستارہ اقبال اب غروب ہونے کے وقت ہے۔ اسلامیوں
پر اب کوئی نیا تغیر آنے والا ہے… ہاں! ہماری خواہش ہے کہ اگر بہادر عثمانی (ترک) ایا صوفیہ کی متبرک عبادت
گاہ ایوب انصاری کی قابل احترام زمین خوابگاہ یا اسلامی آثار قدیمہ کی حفاظت سے دست بردار ہونے پر مجبور
ہوتو پھر یہ منصب برطانیہ کے حیرت پسند صداقت شعار فرزندوں کے ہاتھ آئے اور خداکرے وہ دین میں بھی ترک سے
ایک قدم بڑھ کر اسلام کے خادم ہو جاویں اور قسطنطنیہ پھر بھی اسلام ہی رہے۔‘‘
(الفضل قادیان ج۲ نمبر۱۱۴ ص۳ کالم۳، مؤرخہ ۱۶؍مارچ ۱۹۱۵ء)
(۴۳) قادیانی رضامندی
’’تازہ آمدہ خبروں سے معلوم ہوتا ہے کہ روسی برابر ترکی علاقہ میں گھستے جاتے ہیں اور ترک برابر شکست
کھا رہے ہیں۔ چاروں طرف سے مسلمان ان کے متعلق نفرت کے خیالات کا اظہار کر رہے ہیں اور ترکوں کی بداعمالی
اور دین سے بے توجہی آج ان کے لئے وبال
462
جان ہورہی ہے… انگلستان کے وزیراعظم مسٹر ائسکوئتھ نے ایک تقریر کے دوران میں صاف کہہ دیا ہے کہ اب
ترکی کی حکومت دنیا میں قائم نہیں رکھی جاسکتی۔ جنگ کے بعد اس کے حصص کو بالکل ٹکڑے ٹکڑے کر دیا جائے گا اور
تقسیم کر دی جائے گی۔ یہ ایک فتویٰ ہے جو انگلستان کے ایک نہایت ذمہ دار انسان کے منہ سے نکالا ہے اور اس
میں کوئی شک نہیں کہ وزیراعظم ایسی بات اس وقت تک منہ سے نہیں نکال سکتے تھے جب تک کوئی قطعی فیصلہ نہ ہو
جاتا اور جب انہوں نے عام جلسہ میں ایسے خیالات کا اظہار کیا ہے تو معلوم ہوتا ہے کہ قطعی فیصلہ ہوچکا ہے…
اللہتعالیٰ ظالم نہیں۔ اس کا فیصلہ بالکل درست ہے اور راست ہے اور ہم اس کے فیصلہ پر رضامند ہیں۔ افسوس ترکوں
نے اسلام کو چھوڑ کر کامیاب ہونا چاہا تھا۔ آخر یہ دن دیکھا۔‘‘
(الفضل قادیان ج۲ نمبر۶۶ ص۵ کالم۲،۳، مؤرخہ ۱۷؍نومبر ۱۹۱۴ء)
(۴۴) قادیان میں چراغاں
’’گورنمنٹ برطانیہ کی شاندار عظیم الشان فتح کی خوشی میں… نماز مغرب کے بعد دارالعلوم اور اندرون قصبہ
میں روشنی اور چراغاں کیا گیا جو بہت خوبصورت اور دلکش تھا۔ اندرون قصبہ میں احمدیہ بازار کے دونوں طرف
مدرسہ احمدیہ اور بورڈنگ مدرسہ احمدیہ کی عمارتوں پر بے شمار چراغ جلائے گئے اور منارۃ المسیح پر گیس کی
روشنی کی گئی جس کا نظارہ بہت دلفریب تھا۔ حضرت خلیفہ المسیح ثانی اور خاندان مسیح موعود کے مکانات پر بھی
چراغ روشن کئے گئے۔ اس کے علاوہ تمام احمدی اصحاب نے اپنے اپنے مکانات پر خوب روشنی کی جس سے محلوں میں خاص
رونق اور خوشنمائی پیدا ہوگئی۔ دارالعلوم میں بورڈنگ ہاؤس اور ہائی سکول کی شاندار عمارت کے بلند ترین پیش
طاق کو چراغوں سے نہایت عمدگی سے سجایا گیا اور ساری عمارت کے طول اور عرض کو بہت خوبی کے ساتھ روشن کیاگیا۔
دوسرے مکانات پر بھی روشنی کا عمدہ انتظام تھا… غرض کہ احمدیوں کو کوئی مکان اور کوئی عمارت ایسی نہ تھی جس
پر روشنی نہ کی گئی۔ یہ پرلطف اور مسرت انگیز نظارہ بہت مؤثر اور خوشنما تھا اور اس سے احمدیہ پبلک کی اس
عقیدت پر خوب روشنی پڑتی تھی جو اسے گورنمنٹ برطانیہ کے ساتھ ہے۔ کیونکہ روشنی کے ذریعہ خوشی کا اظہار کرنے
میں ایسے لوگوں نے بھی بخوشی حصہ لیا جو موجودہ گرانی اور قحط سالی کے موسم میں نہایت تنگ دستی سے گزر اوقات
کرتے ہیں۔ روشنی رات کے ایک بڑے حصہ تک ہوتی رہی جس کی رونق لوگوں کی چہل پہل سے دوبالا تھی۔‘‘
(الفضل قادیان ج۶ نمبر۴۱ ص۱،۲، مؤرخہ ۳؍دسمبر ۱۹۱۸ء)
’’ایک دوست نے دریافت کیا کہ ترکوں کی (یونانیوں کے مقابلہ میں) فتح کی خوشی میں روشنی وغیرہ کے لئے
چندہ دینے کے متعلق کیا حکم ہے۔ (مرزامحمود خلیفہ قادیان نے) فرمایا روشنی وغیرہ کی کوئی ضرورت نہیں۔‘‘
(ڈائری مرزامحمود، الفضل قادیان ج۱۰ نمبر۴۵ ص۸ کالم۳، مؤرخہ ۷؍دسمبر ۱۹۲۲ء)
’’اب بھی اگر بادشاہ یا حکومت کی کوئی تقریب ہو اور وہ کہے کہ چراغاں کرو تو ہم کریں گے۔ کیونکہ حکومت
کی عزت ہم پر خداتعالیٰ کی طرف سے واجب ہے اور ایسا کردینے سے ہمارا خدا بھی خوش ہوگا اور حکومت بھی۔‘‘
(الفضل قادیان ج۲۷ نمبر۲۸۶، مؤرخہ ۱۴؍دسمبر ۱۹۳۹ء)
(ی) دیگر ممالک
(۴۵) بے شک
’’بے شک ہمارا یہ فرض ہے کہ ہم اس گورنمنٹ محسنہ کے سچے دل سے خیرخواہ ہوں اور ضرورت کے وقت جان فدا
کرنے کو بھی
463
تیار ہوں۔ لیکن ہم اس طرح پر بھی غیرقوموں اور غیرملکوں میں اپنی محسن گورنمنٹ کی نیک نامی پھیلانی
چاہتے ہیں کہ کس طرح اس عادل گورنمنٹ نے دینی امور میں ہمیں پوری آزادی دی ہے۔ عملی نمونے ہزاروں کوسوں تک
چلے جاتے ہیں اور دلوں پر ایک عجیب اثر ڈالتے ہیں اور صدہا نادانوں کے ان سے وسوسے دور ہو جاتے ہیں۔ یہ
مذہبی آزادی ایک ایسی پیاری چیز ہے کہ اس کی خبر پاکر بہت سے اور ملک بھی چاہتے ہیں کہ اس مبارک گورنمنٹ کا
ہم تک قدم پہنچے… کیونکہ جس طرح اچھے دکاندار کا نام سن کر اسی طرف خریدار دوڑتے ہیں، اسی طرح جس گورنمنٹ کے
ایسے بے تعصب اور آزادانہ اصول ہوں وہ گورنمنٹ خواہ مخواہ پیاری اور ہر دلعزیز معلوم ہوتی ہے اور بہت سے
غیرملکوں کے لوگ حسرت کرتے ہیں کہ کاش ہم بھی اس کے ماتحت ہوتے۔ پس کیا آپ لوگ چاہتے نہیں کہ اس محسن
گورنمنٹ کا ان تمام تعریفوں کے ساتھ دنیا میں نام پھیلے اور اس کی محبت دور دور تک دلوں میں جاگزیں ہو۔‘‘
(البلاغ مسمی بہ فریاد درد ص۳۲،۳۳، خزائن ج۱۳ ص۴۰۰،۴۰۱)
(۴۶) قادیانی مجاہد
’’چونکہ برادرم محمد امین خان صاحب (قادیانی) کے پاس پاسپورٹ نہ تھا۔ اس لئے وہ روسی علاقہ میں داخل
ہوتے ہی روس کے پہلے ریلوے اسٹیشن قہضہ پر انگریزی جاسوس قرار دئیے جاکر گرفتار کئے گئے۔ کپڑے اور کتابیں
اور جو کچھ پاس تھا، وہ ضبط کر لیا گیا اور ایک مہینہ تک آپ کو وہاں قید رکھا گیا۔ اس کے بعد آپ کو عشق آباد
کے قیدخانہ میں تبدیل کیاگیا۔ وہاں سے مسلم روسی پولیس کی حراست میں آپ کو براستہ سمرقند تاشقند بھیجا گیا
اور وہاں دوماہ تک قید رکھاگیا اور باربار آپ سے بیانات لئے گئے تایہ ثابت ہو جائے کہ آپ انگریزی حکومت کے
جاسوس ہیں اور جب بیانات سے کام نہ چلا تو قسم قسم کی لالچوں اور دھمکیوں سے کام لیا گیا اور فوٹو لئے گئے
تاعکس محفوظ رہے اور آئندہ گرفتاری میں آسانی ہو اور اس کے بعد گوشگی سرحد افغانستان پر لے جایا گیا اور
وہاں سے ہرات افغانستان کی طرف اخراج کا حکم دیاگیا۔ مگر چونکہ یہ مجاہد گھر سے اس امر کا عزم کر کے نکلا
تھا کہ میں نے اس علاقہ میں حق کی تبلیغ کرنی ہے۔ اس نے واپس آنے کو اپنے لئے موت سمجھا اور روسی پولیس کی
حراست سے بھاگ نکلا اور بھاگ کر بخارا جا پہنچا۔ دو ماہ تک آپ وہاں آزاد رہے لیکن دو ماہ کے بعد پھر انگریزی
جاسوس کے شبہ میں گرفتار کئے گئے اور تین ماہ تک نہایت سخت اور دل ہلادینے والے مظالم آپ پر کئے گئے اور قید
میں رکھاگیا اور اس کے بعد پھر روس سے نکلے کا حکم دیاگیا اور بخارا سے مسلم روسی پولیس کی حراست میں سرحد
ایران کی طرف واپس بھیجا گیا۔ اللہ تعالیٰ اس مجاہد کی ہمت اور اخلاص اور تقویٰ میں برکت دے۔ چونکہ ابھی اس کی
پیاس نہ بجھی تھی اس لئے پھر کاکان کے ریلوے اسٹیشن سے روسی مسلم پولیس کی حراست سے بھاگ نکلا اور پاپیادہ
بخارا پہنچا۔ بخارا میں ایک ہفتہ کے بعد پھر ان کو گرفتار کیاگیا اور بدستور سابق پھر کاکان کی طرف لایاگیا
اور وہاں سے سمرقند پہنچایا گیا۔ وہاں سے آپ پھر چھوٹ کر بھاگے اور بخارا پہنچے۔‘‘
(اعلان مرزامحمود خلیفہ قادیان، الفضل قادیان ج۱۱ نمبر۱۲ ص۵،۶، مؤرخہ ۱۴؍اگست ۱۹۲۳ء)
(۴۷) تبلیغ اسلام
’’ہمارے برادر محترم خان محمد امین صاحب جنہیں روس کے علاقہ میں حضرت امیر جماعت احمدیہ نے تبلیغ
اسلام کے لئے بھیجا تھا، بغیر کسی اطلاع کے آج ۲۵؍جون وارد قادیان ہوئے جنہیں اچانک اپنے اندر دیکھ کر اہل
قادیان خوشی اور مسرت کے جذبات سے بھرپور ہوگئے۔‘‘
(الفضل قادیان ج۱۴ نمبر۱۰۱ ص۲ کالم۱، مؤرخہ ۲۸؍جون ۱۹۲۷ء)
464
(۴۸) تبلیغ احمدیت
’’روسیہ میں اگرچہ تبلیغ احمدیت کے لئے گیا تھا لیکن چونکہ سلسلہ احمدیہ اور برٹش حکومت کے باہمی مفاد
ایک دوسرے سے وابستہ ہیں۔ اس لئے جہاں میں اپنے سلسلہ کی تبلیغ کرتا تھا، وہاں لازماً مجھے گورنمنٹ انگریزی
کی خدمت گزاری کرنی پڑتی تھی۔ کیونکہ ہمارے سلسلہ کا مرکز ہندوستان میں ہے تو ساتھ ہی ہندوستانی حکومت کے
احسانات اور مذہبی آزادی کا ذکر لوگوں کے سامنے کرنا پڑتا تھا۔‘‘
(محمد امین قادیانی مبلغ کا مکتوب، الفضل قادیان ج۱۱ نمبر۲۵ ص۱۱ کالم۳، مؤرخہ ۲۸؍ستمبر ۱۹۲۳ء)
(ک) خلاصہ
(۴۹) سیاست زہر
’’چونکہ ایک طرف تو سیاست ایک ایسی چیز ہے جو اور سب کچھ بھلا دیتی ہے حتیٰ کہ جان تک کی بھی ہوش نہیں
رہنے دیتی اور اپنی طرف ہی کھینچتی جاتی ہے اور دوسری طرف آج کل اسلام پر جو نازک وقت آیا ہوا ہے، اس سے
پہلے اس پر کبھی نہیں آیا۔ اس لئے اس وقت اسلام کو جتنے بھی ہاتھ کام کے لئے مل جائیں اور جس قدر بھی سپاہی
اسلام کی حفاظت کے لئے مہیا ہوسکیں اتنے ہی کم ہیں۔ اس لئے آج مسلمانوں کے لئے سیاست کی طرف متوجہ ہونا ایک
ایسا زہر ہے جسے کھا کر ان کا بچنا محال بلکہ ناممکن ہے۔‘‘
(تقریر مرزامحمود خلیفہ قادیان، الفضل قادیان ج۵ نمبر۸ ص۴ کالم۱، مؤرخہ ۲۸؍جولائی ۱۹۱۷ء)
(۵۰) سیاسیات سے پرہیز
’’احمدی مبلغ کا فرض ہے کہ وہ اس مرض سے اپنے تئیں بچائے جو سیاست کے نام سے موسوم ہے اور جس کا مریض
بہ مشکل اپنی اصل صحت کی طرف عود کرتا ہے۔ اس خوفناک مرض کا نتیجہ ابتداً قانون حکومت سے اور بعد میں قانون
شریعت سے سرکشی کی صورت میں ظاہر ہوتا ہے… پس احمدی مبلغ اپنے امام پاک اس کے خلفائے صادق کی ہدایت کے ماتحت
سیاسیات سے کلیتہً پرہیز کرے اس سے اگر ہوسکے تو محض رضائے مولیٰ کے لئے ایسے غلط خوردہ لوگوں کو وعظ کرے جو
برائے نام مسلمان کہلا کر سیاسیات میں دخل دیتے یا دینے میں کوئی ہرج نہیں سمجھتے… خلیفہ ثانی کے ہاتھ پر
بیعت کرنے والے اور قادیان سے حقیقی تعلق رکھنے والے احمدی کا فرض ہے کہ وہ سیاسیات سے بعینہٖ اسی طرح بچے،
جس طرح خدا کے مسیح نے فرمایا ہے۔ چونکہ ہم غیرمبایعین لوگوں (لاہوری جماعت) کے افعال وخیالات سے اسی طرح
بری الذمہ ہیں جس طرح ہم غیراحمدی مسلمانوں کے سیاسی گروہ کے سیاسی دستور العمل سے بے تعلق ہیں۔‘‘
(الفضل قادیان ج۲ نمبر۱۴۹ ص۳ کالم۳، مؤرخہ ۶؍جون ۱۹۱۵ء)
(۵۱) مسلم لیگ
’’ہمیں یاد ہے کہ مسلمانوں کے مصلح حقیقی اور دنیا کے سچے ہادی حضرت مسیح موعود ومہدی آخرالزمان کے
حضور جب اس مسلم لیگ کا ذکر آیا تو حضور (مرزاقادیانی) نے اس کی نسبت ناپسندیدگی ظاہر فرمائی تھی۔ پس کیا
کوئی ایسا کام جسے خدا کا برگزیدہ مامور ناپسند فرمائے، مسلمانوں کے حق میں سازگار وبابرکت ہوسکتا ہے؟ ہرگز
نہیں۔ اب بھی اگر مسلمانوں کو اپنے حقیقی نفع وضرر کی کچھ فکر ہے تو ایسے فضول مشاغل سے بازرہیں جن کے نتائج
نہ ان کو دنیا کا فائدہ دے سکتے ہیں، نہ دین کا۔ ہم یہ پوچھتے ہیں کہ کئی سال سے یہ نیشنل کانگریس کی نقل
ہوتی ہے۔
465
آخر اب تک اس سے مسلمانوں نے کیا کچھ حاصل کیا؟‘‘
(الفضل قادیان ج۳ نمبر۷۸ ص۵ کالم۳، مؤرخہ ۸؍جنوری ۱۹۱۶ء)
(۵۲) خوشی اور مسرت
’’یہ خبر نہایت خوشی اور مسرت سے سنی جائے گی کہ ہماری جماعت کے نہایت قابل اور متقی نوجوان جناب
چوہدری ظفر اللہ خان صاحب بی۔اے بیرسٹر ایٹ لاء امیرجماعت احمدیہ لاہور حضرت خلیفۃ المسیح الثانی ایدہ اللہ
تعالیٰ (مرزامحمود) کے ارشاد کی تعمیل میں ضلع لاہور، امرتسر، گورداسپور اور فیروزپور کی طرف سے اسمبلی کے
امیدوار کے طور پر کھڑے ہوں گے… اس وقت تک جناب موصوف نے جس ایثار اور اخلاص سے جماعت احمدیہ کے بعض نہایت
اہم مقدمات کی پیروی کی اور ان میں کامیابی حاصل کی۔ وہ ان کی قانونی قابلیت کا کافی ثبوت ہے۔‘‘
(الفضل قادیان ج۱۱ نمبر۳۱ ص۱ کالم۲،۳، مؤرخہ ۱۹؍اکتوبر ۱۹۲۳ء)
(۵۳) مفاد ملحق
’’اس بات کا بھی خیال ہے کہ حضور سیکرٹری آف سٹیٹ کے ہندوستان میں تشریف لانے پر اس بات کو پیش کیا
جاوے کہ احمدیہ جماعت اور گورنمنٹ برطانیہ کے مفاد ایک دوسرے سے ملحق ہیں اور ہوم رول کے متعلق تحریک کرنے
والے اور ان کے ساتھی سب احمدیہ جماعت کے جہاد اور سلطان ٹرکی کی خلافت کے انکار کے باعث دشمن ہوگئے ہیں۔
لہٰذا جماعت احمدیہ کی وفاداری کا خیال رکھتے ہوئے قبل اس کے کہ سیلف گورنمنٹ کے متعلق کوئی کارروائی کی
جاوے، جماعت احمدیہ کی حفاظت کے متعلق مناسب انتظام فرمایا جاوے۔‘‘
(الفضل قادیان ج۵ نمبر۲۵ ص۱ کالم۳، مؤرخہ ۲۵؍ستمبر ۱۹۱۷ء)
(۵۴) ظل حمایت
’’ہمارا مذہب ہے اور ہمارے سید ومولیٰ حضرت مسیح موعود کی کتب میں اس کا نہایت وضاحت کے ساتھ ذکر ہے۔
نیز اس مسلک سے تمام دنیا خوب واقف ہے کہ ہم گورنمنٹ کے سچے دل سے وفادار اور خیرخواہ ہیں۔ کیونکہ یہ
گورنمنٹ ہماری خاص محسن ہے اور اس کے ہم پر اس قدر احسانات ہیں کہ جن کا شمار کرنا آسان نہیں۔ نیز ہمارے
خیال میں یہ حکومت تمام دنیا کی حکومتوں سے اعلیٰ اور افضل ہے اور ہمارے نزدیک اس کی افضلیت اور برتری کی سب
سے بڑی اور زبردست دلیل یہ ہے کہ خداوند تعالیٰ نے امن کے شہزادے اور اپنے بزرگ نبی حضرت مسیح موعود کو اسی
سلطنت کے زیرسایہ مبعوث فرمایا تا وہ اپنے صلح وآشتی کے مشن کو دنیا کے سامنے پیش کرے اور صلح وآشتی سے دنیا
کے دلوں میں حقیقی معرفت اور سچے خدا کی محبت پیدا کر کے سچے اور خدائی مذہب کی طرف دنیا کو دعوت دے۔ اگر یہ
سلطنت واقعی طور پر عمدہ اور ساری دنیا کی سلطنتوں سے افضل وبرتر نہ ہوتی تو یقینا یقینا خداتعالیٰ اپنے اس
نبی کو اس سلطنت کے حدود میں پیدا نہ کرتا، بلکہ کسی اور ایسی حکومت کے زیرسایہ پیدا کرتا جو دنیا میں سب سے
اعلیٰ حکومت ہوتی مگر خداتعالیٰ کا تمام سلطنتوں کو چھوڑ کر انگریزی سلطنت کے ظل حمایت کو اپنے نبی کے لئے
منتخب کرنا دلیل ہے۔ اس بات کی کہ وہ حقیقی نور جو مدتوں سے غائب تھا، اس کے لانے والے نبی کی بعثت کے لئے
یہی سلطنت موزوں ومناسب تھی۔‘‘
(الفضل قادیان ج۶ نمبر۳۸ ص۳ کالم۲،۳،مؤرخہ ۱۹؍نومبر ۱۹۱۸ء)
(۵۵) قادیانی ڈھال
’’یہ بات روزروشن کی طرح ظاہر ہوتی جاتی ہے کہ فی الواقع گورنمنٹ برطانیہ ایک ڈھال ہے جس کے نیچے
احمدی جماعت آگے
466
ہی آگے بڑھتی جاتی ہے۔ اس ڈھال کو ذرہ ایک طرف کردو اور دیکھو کہ زہریلے تیروں کی کیسی خطرناک بارش
تمہارے سروں پر ہوتی ہے۔ ہمارے مخالف اس بات کے انتظار میں رہتے ہیں کہ ذرہ ان کو موقعہ ملے اور وہ زمین سے
ہماری جڑ اکھاڑ کر پھینک دیں… پس کیوں ہم اس گورنمنٹ کے شکرگزار نہ ہوں۔ ہمارے فوائد اس گورنمنٹ سے متحد
ہوگئے ہیں اور اس گورنمنٹ کی تباہی ہماری تباہی ہے اور اس گورنمنٹ کی ترقی ہماری ترقی۔ جہاں جہاں اس گورنمنٹ
کی حکومت پھیلتی جاتی ہے، ہمارے لئے تبلیغ کا ایک اور میدان نکلتا آتا ہے۔ پس کسی مخالف کا اعتراض ہم کو اس
گورنمنٹ کی وفاداری سے پھیر نہیں سکتا کہ نادان سے نادان انسان بھی اپنی جان کا آپ دشمن نہیں ہوتا۔‘‘
(الفضل قادیان ج۳ نمبر۵۱ ص۳ کالم۱،۲، مؤرخہ ۱۹؍اکتوبر ۱۹۱۵ء)
(۵۶) نرالا تعلق
’’ایک بات جس کا فوراً آپ لوگوں تک پہنچانا ضروری ہے، اس وقت کہنی چاہتا ہوں اور وہ یہ کہ سلسلہ
احمدیہ کا گورنمنٹ برطانیہ سے جو تعلق ہے وہ باقی تمام جماعتوں سے نرالا ہے۔ ہمارے حالات ہی اس قسم کے ہیں
کہ گورنمنٹ اور ہمارے فوائد ایک ہوئے ہوئے ہیں۔ گورنمنٹ برطانیہ کی ترقی کے ساتھ ساتھ ہمیں بھی آگے قدم
بڑھانے کا موقع ہے اور اس کو خدانخواستہ اگر کوئی نقصان پہنچے تو اس صدمے سے ہم بھی محفوظ نہیں رہ سکتے۔ اس
لئے شریعت اسلام حضرت مسیح موعود کے احکام کے ماتحت اور خود اپنے فوائد کی حفاظت کے لئے اس وقت جب کہ جنگ
وجدال کی گرم بازاری ہے۔ ہماری جماعت کا فرض ہے کہ وہ ہر ممکن طریق سے گورنمنٹ کی مدد کرے۔‘‘
(اعلان مرزامحمود خلیفہ قادیان، الفضل قادیان ج۶ نمبر۸ ص۱ کالم۲، مؤرخہ ۲۷؍جولائی ۱۹۱۸ء)
(۵۷) نیک ثمرات
’’ہمارے امام مسیح موعود نے جس نے اس جنگ کی پہلے سے خبر دی تھی ہم کو تعلیم دی ہے کہ ہم سرکار
برطانیہ کے دکھ کو اپنا دکھ سمجھیں۔ لہٰذا ہمارے وہ احمدی سپاہی جو آج سرزمین فرانس میں برطانیہ کے دشمنوں
سے لڑ رہے ہیں، وہ اپنے دلوں میں اپنے پیارے امام کے ارشاد کو محفوظ رکھ کر اس یقین سے تلوار اٹھا رہے ہیں
کہ مسیح موعود کے حکم کی اطاعت محمد رسول اللہ ﷺ کے حکم کی اطاعت ہے اور اطاعت میں اٹھائی ہوئی تلوار کے سایہ
میں بہشت ہے۔ پس یہ جنگ اہل اسلام کے لئے ان شاء اللہ مبارک اور نتیجہ خیز ہوگی اور ہماری وفاداری ضرور نیک
ثمرات پیدا کرے گی۔‘‘
(الفضل قادیان ج۲ نمبر۵۷ ص۵ کالم۳، مؤرخہ ۲۷؍اکتوبر ۱۹۱۴ء)
(۵۸) تہنیت فتح کا جشن قادیان میں
(عنوان، الفضل قادیان، مؤرخہ ۳؍دسمبر ۱۹۱۴ء)
’’۲۷؍نومبر ۱۹۱۸ء کو ’’انجمن احمدیہ برائے امداد جنگ‘‘ کے زیرانتظام حسب ہدایات حضرت خلیفۃ المسیح
ثانی ایدہ اللہ تعالیٰ (مرزامحمود) گورنمنٹ برطانیہ کی شاندار اور عظیم الشان فتح کی خوشی میں ایک قابل یاد
جشن منایا گیا۔‘‘
(الفضل قادیان ج۶ نمبر۴۱ ص۱ کالم۲، مؤرخہ۳؍دسمبر ۱۹۱۸ء )
(۵۹) نہایت فائدہ بخش
’’۱۳تاریخ جس وقت جرمنی کے شرائط منظور کر لینے اور التوائے جنگ کے کاغذ پر دستخط ہو جانے کی اطلاع
قادیان میں پہنچی تو
467
خوشی اور انبساط کی ایک لہر برقی سرعت کے ساتھ تمام لوگوں کے قلوب میں سرایت کر گئی اور جس نے اس خبر
کوسنا، نہایت شاداں وفرحاں ہوا۔ دونوں سکولوں، انجمن ترقی اسلام اور صدر انجمن احمدیہ کے دفاتر میں تعطیل
کردی گئی۔ بعد نماز عصر مسجد مبارک میں ایک جلسہ ہوا جس میں مولانا مولوی سید محمد سرور شاہ صاحب نے تقریر
کرتے ہوئے جماعت احمدیہ کی طرف سے گورنمنٹ برطانیہ کی فتح ونصرت پر دلی خوشی کا اظہار کیا اور اس فتح کو
جماعت احمدیہ کے اغراض و مقاصد کے لئے نہایت فائدہ بخش بتایا۔ حضرت خلیفۃ المسیح الثانی ایدہ اللہ کی طرف سے
مبارک باد کے تار بھیجے گئے اور حضور نے پانچ سو روپیہ اظہار مسرت کے طور پر جناب ڈپٹی کمشنر صاحب بہادر
گورداسپور کی خدمت میں بھجوایا۔ آپ جہاں پسند فرمائیں، خرچ کریں۔ پیشتر ازیں چند ہی روز ہوئے کہ ٹرکی اور
آسٹریا کے ہتھیار ڈالنے کی خوشی میں حضور (مرزامحمود) نے پانچ ہزار روپیہ جنگی اغراض کے لئے صاحب ڈپٹی کمشنر
صاحب کی خدمت میں بھجوایا تھا۔ فتح کی خوشی میں مولوی عبدالغنی صاحب نے بحیثیت سیکرٹری ’’انجمن احمدیہ برائے
امداد جنگ‘‘ اور جناب شیخ یعقوب علی صاحب نے بلحاظ ایڈیٹر ’’الحکم‘‘ ہزآنرلیفٹیننٹ گورنر پنجاب کی خدمت میں
مبارک باد کا تار بھیجا۔‘‘
(الفضل قادیان ج۶ نمبر۳۷ ص۱ کالم۱تا۳، مؤرخہ ۱۶؍نومبر ۱۹۱۸ء)
(۶۰) فتح کی خوشی
(عنوان، الفضل قادیان مؤرخہ ۲۳؍نومبر ۱۹۱۸ء)
’’خدا کا ہزارہزار شکر ہے کہ وہ جنگ جس کا ناگوار اثر دنیا کے ہر حصہ میں عذاب عظیم بن کر چھا رہا
تھا۔ اب گورنمنٹ برطانیہ کی عظیم الشان فتح کے ساتھ ختم ہوئی ہے جو کہ ہماری جماعت کے لئے کئی قسم کی خوشیوں
کا موجب ہے۔ سب سے بڑی خوشی تو ہمارے لئے یہ ہے کہ حضور اقدس نے جنگ کی پیش گوئی فرماکر اپنی جماعت کو سلطنت
برطانیہ کی فتح کے لئے دعا کرنے کی ہدایت فرمائی تھی اور خود بھی برطانیہ کی فتح کے لئے خاص دعا کی تھی۔ اب
اللہتعالیٰ نے اس موقع پر حضور کی قبولیت دعا کو تمام عالم پر روز روشن کی طرح چمکا دیا اور اس قدر ایسے نشان
ظاہر فرمائے ہیں کہ جن کو احمدی ہر ملک وملت کے سامنے بہت آسانی سے بطور حجت پیش کر سکتے ہیں۔ پھر خدا کا
ایک بہت بڑا فضل یہ ہوا ہے کہ حکومت برطانیہ کا اقتدار واثر اور بھی زیادہ بڑھنے سے وہ ممالک بھی احمدیت کی
تبلیغ کے لئے کھل گئے ہیں جو اب تک بالکل بند تھے جہاں بالخصوص احمدیت کی تبلیغ کی بڑی ضرورت تھی۔‘‘
(الفضل قادیان ج۶ نمبر۳۹ ص۱۱ کالم۳، مؤرخہ ۲۳؍نومبر ۱۹۱۸ء)
(۶۱) روحانی عافیت
’’اگر ایک طرف وہ لوگ جن کو اس جنگ عظیم کے نتیجہ میں سلطنت برطانیہ کا ظل حمایت نصیب ہوا ہے۔ روحانی
عافیت حاصل کریں گے اور خدا کے نبی (مرزاقادیانی) کا پیغام سنیں گے اور حقیقی اسلام جیسی نعمت غیرمترقبہ سے
بہروہ ور ہوں گے تو دوسری طرف وہ دنیوی انعامات اور آرام وامن سے بھی حصہ وافی پائیں گے اور آگاہ ہوں گے کہ
دنیا میں آرام اور آسائش کی زندگی بھی کوئی چیز ہے… غرض گورنمنٹ برطانیہ کا فتح یاب ہونا دنیا کے ایک بڑے
حصہ کے لئے بہت امن وآرام کا باعث ہوگا اور ہمارے لئے تبلیغ اسلام کا میدان بہت زیادہ صاف اور وسیع ہو جائے
گا۔‘‘
(الفضل قادیان ج۶ نمبر۳۸ ص۴ کالم۱،۲، مؤرخہ ۱۹؍نومبر ۱۹۱۸ء)
(۶۲) قادیانی تلوار
’’حضرت مسیح موعود (مرزاقادیانی) فرماتے ہیں کہ میں وہ مہدی معہود ہوں اور گورنمنٹ برطانیہ میری وہ
تلوار ہے جس کے
468
مقابلے میں ان علماء کی کچھ پیش نہیں جاتی۔ اب غور کرنے کا مقام ہے کہ پھر ہم احمدیوں کو اس فتح سے
کیوں خوشی نہ ہو۔ عراق، عرب ہو یا شام، ہم ہر جگہ اپنی تلوار کی چمک دیکھنا چاہتے ہیں۔‘‘
(الفضل قادیان ج۶ نمبر۴۲ ص۹ کالم۲، مؤرخہ ۷؍دسمبر ۱۹۱۸ء)
(۶۳) چوہڑے چمار
’’حضرت خلیفۃ المسیح الثانی ایدہ اللہ بنصرہ العزیز نے جلسہ سالانہ ۱۹۳۲ء کی افتتاحی تقریر میں فرمایا
تھا کہ:
اللہ تعالیٰ کے فضل سے وہ بنیاد جو اس وقت بہت کمزور نظر آتی ہے اس پر عظیم الشان عمارت تعمیر ہوگی۔ ایسی
عظیم الشان کہ ساری دنیا اس کے اندر آجائے گی اور جو لوگ باہر رہیں گے ان کی کوئی حیثیت نہ ہوگی۔ جیسا کہ
خداتعالیٰ سے خبرپاکر حضرت مسیح موعود نے فرمایا ہے کہ ایسے لوگوں کی حیثیت چوہڑے چماروں کی ہوگی…‘‘
(الفضل قادیان ج۲۰ نمبر۹۰ ص۵ کالم۳، مؤرخہ ۲۹؍جنوری ۱۹۳۳ء، انوارالعلوم ج۱۲ ص۵۴۸)
اس عبارت کا مطلب تو یہ ہے کہ احمدیت کا پودا جو اس وقت بالکل کمزور نظر آتا ہے، اللہ تعالیٰ کے فضل سے
ایک دن ایسا تناور درخت بن جائے گا کہ اقوام عالم اس کے سایہ میں آرام پائیں گی اور جماعت احمدیہ جو اس وقت
بالکل معمولی اور بے حیثیت سی نظر آتی ہے، اس قدر اہمیت اور طاقت حاصل کرے گی کہ دنیا کے مذہب تہذیب وتمدن
اور سیاست کی باگ اس کے ہاتھ میں ہوگی۔ ہرقسم کا اقتدار اسے حاصل ہوگا اور اپنے اثرورسوخ کے لحاظ سے یہ دنیا
کی معزز ترین جماعت ہوگی۔ دنیا کا کثیر حصہ اس میں شامل ہو جائے گا۔ ہاں! جو اپنی بدقسمتی سے علیحدہ رہیں گے
وہ بالکل بے حیثیت سمجھے جائیں گے۔ سوسائٹی کے اندر ان کی کوئی قدروقیمت نہ ہوگی۔ دنیا کے مذہبی، تمدنی، یا
سیاسی دائرے کے اندر ان کی آواز ایسی ہی غیرمؤثر اور ناقابل التفات ہوگی جیسی کہ موجودہ زمانہ میں چوہڑے
چماروں کی ہے۔ (تو گویا قانونی حکومت کے مجوزہ دستور وآئین میں مرزاقادیانی کی پیشین گوئی کے بموجب
غیرقادیانیوں کی یہ حیثیت ہوگی۔ للمؤلف)
(الفضل قادیان ج۲۰ نمبر۹۰ ص۶ کالم۱، مؤرخہ ۲۹؍جنوری ۱۹۳۳ء، انوارالعلوم ج۱۲ ص۵۴۹)
(۶۴) قادیانی حکومت
’’حکومت ہمارے پاس نہیں کہ ہم جبر کے ساتھ لوگوں کی اصلاح کریں اور ہٹلر یا مسولینی کی طرح جو شخص
ہمارے حکموں کی تعمیل نہ کرے، اسے ملک سے نکال دیں اور جو ہماری باتیں سننے اور ان پر عمل کرنے پر تیار نہ
ہو اسے عبرتناک سزا دیں۔ اگر حکومت ہمارے پاس ہوتی تو ہم ایک دن کے اندر اندر یہ کام کر لیتے۔‘‘
(الفضل قادیان ج۲۳ نمبر۲۷۹ ص۶ کالم۳،۴، مؤرخہ ۲؍جون ۱۹۳۶ء، خطبات محمود ج۱۷ ص۳۳۷)
(۶۵) بلی کے خواب میں چھیچھڑے
’’روس کے ملک کے متعلق ان پیش گوئیوں کے علاوہ جو پہلے بیان ہوچکی ہیں اور جو پوری بھی ہوچکی ہیں، آپ
کی یہ بھی پیش گوئی ہے کہ اس ملک کی حکومت آخر احمدیوں کے ہاتھ میں آجاوے گی اور یہ بھی کہ اللہ تعالیٰ بخارا
کے ملک میں خاص طور پر اس سلسلے (یعنی قادیانیت) کو قریب زمانہ میں ہی پھیلادے گا اور یہ بھی کہ یورپ کا
اکثر حصہ آخر اسلام (یعنی قادیانیت) کو قبول کرے گا اور آپ (یعنی مرزاقادیانی) پر ایمان لاوے گا اور یہ بھی
کہ دنیا کے تمام مذاہب اسلام اور سلسلہ احمدیہ کے سامنے شکست کھا کر مٹتے جائیں گے اور آخر قریباً نیست
ونابود ہو جائیں گے اور دنیا میں آپ پر ایمان لانے والے لوگ رہ جائیں گے۔‘‘
(تحفہ شہزادہ ویلز ص۸۴، انوارالعلوم ج۶ ص۵۲۴)
469
فصل پندرھویں
قادیانی اکابر
(الف) حکیم نورالدین خلیفہ اوّل قادیان
(۱) بہت متاثر
’’حضرت مولوی نورالدین صاحب خلیفہ اوّل بھی اوائل میں سرسید کے خیالات اور طریق سے بہت متاثر تھے مگر
حضرت صاحب (مرزاقادیانی) کی صحبت سے یہ اثر آہستہ آہستہ دھلتا گیا۔‘‘
(سیرت المہدی حصہ اوّل ص۱۴۱، روایت نمبر۱۴۷، جدید ج۱ حصہ اوّل ص۱۴۵، روایت نمبر۱۵۰)
’’حضرت مولوی نورالدین صاحب خلیفہ اوّل چونکہ حضرت مسیح موعود (مرزاقادیانی) کی بیعت سے مشرف ہونے سے
پہلے سرسید احمد خان مرحوم کے خیالات اور ان کے طریق استدلال کی طرف مائل تھے۔ اس لئے بسا اوقات معجزات اور
اس قسم کے روحانی تصرفات کی تاویل فرمایا کرتے تھے اور ان کی تفسیر میں اس میلان کی جھلک احمدیت کے ابتدائی
ایام میں بھی نظر آتی ہے۔ لیکن حضرت مسیح موعود کی صحبت میں آہستہ آہستہ یہ اثر دھلتا گیا اور خالص پرتو
نبوت سے طبیعت متایثر ہوتی گئی۔‘‘
(سیرت المہدی حصہ دوم ص۵۷، روایت نمبر۳۷۲، جدید ج۱ حصہ دوم ص۳۴۲،۳۴۳، روایت نمبر۳۷۵)
(۲) دو آدمی
’’مولانا حافظ روشن علی صاحب نے اخبار الحکم کے فائل میں سے حضرت حجۃ اللہ (مرزاقادیانی) کا ایک خط بنام
حضرت مولوی عبدالکریم مرحوم پیش کیا جس میں حضرت جری اللہ (مرزاقادیانی) نے لکھا ہے کہ دو آدمی مجھے ملے ہیں۔
ایک حضرت مولوی نورالدین صاحب اور ایک مولوی عبدالکریم صاحب اور تیسرا آدمی پیدا نہیں ہوا۔ اس پر فرمایا کہ
مجھے یاد ہے کہ ایک دفعہ گھر میں عورتوں میں بحث چلی۔ حضرت مولوی عبدالرحیم صاحب کی بیوی کہتی تھی کہ مولوی
عبدالکریم صاحب حضرت صاحب کو پیارے ہیں اور والدہ (حضرت ام المؤمنین) فرماتی تھیں کہ حضرت مولوی صاحب (حضرت
خلیفہ اوّل) یہ معاملہ حضرت اقدس پیش کیاگیا۔ آپ نے ہنس کر فرمایا کہ حدیث میں جو آتا ہے عملاً دونوں دائیں
بائیں ہیں۔ حضرت مولوی صاحب دائیں طرف رہتے تھے اور حضرت مولوی عبدالکریم مرحوم بائیں طرف۔‘‘
(مرزامحمود خلیفہ قادیان کی ڈائری، الفضل قادیان ج۹ نمبر۶۵، مؤرخہ ۲۰؍فروری ۱۹۲۲ء)
(۳) بطور نمونہ
’’اب میں حضرت خلیفۃ المسیح اوّل (حکیم نورالدین قادیانی) کے چند اور حوالے محض بطور نمونہ پیش کرتا
ہوں۔ جن سے صاف طور پر ثابت ہوتا ہے کہ حضرت ممدوح کا مسئلہ نبوت کے متعلق وہی عقیدہ تھا جس پر جماعت احمدیہ
(قادیانی) بفضلہ تعالیٰ قائم ہے۔ ایک دفعہ حضرت ممدوح کے سامنے کسی نے ذکر کیا کہ مولوی محمد حسین صاحب
بٹالوی نے لکھا ہے کہ اگر احمدی مرزاصاحب کو نبی کہنا چھوڑ دیں تو ہم
470
کفر کا فتویٰ واپس لے لیں گے۔ آپ نے فرمایا ہمیں ان فتوؤں کی کیا پروا ہے اور وہ حقیقت ہی کیا رکھتے
ہیں جب سے مولوی محمد حسین نے فتویٰ دیا وہ دیکھے کہ اس کے بعد اس کی عزت کہاں تک پہنچ گئی ہے اور مرزاصاحب
کی عزت نے کس قدر ترقی کی ہے۔ دیکھو:
(البدر ج۱۰ نمبر۲۴ ص۲ کالم۲، مؤرخہ ۱۳؍اپریل ۱۹۱۱ء)
پھر آپ نے جو لاہور احمدیہ بلڈنگ میں تقریر فرمائی تھی اس میں آپ نے بیان کیا کہ حضرت مرزاصاحب خدا کے
مرسل ہیں۔ اگر وہ نبی کا لفظ اپنی نسبت نہ بولتے تو بخاری کی حدیث کو نعوذ باللہ غلط قرار دیتے جس میں آنے
والے کا نام نبی اللہ رکھا ہے۔ پس وہ نبی کا لفظ بولنے پر مجبور ہیں… پھر آپ نے فرمایا کہ میں تو اپنے اور
غیراحمدیوں کے درمیان اصولی فرق سمجھتا ہوں، پھر اسی تقریر میں آپ نے کہا کہ کسی مامور من اللہ کا انکار کفر
ہوجاتا ہے۔ ہمارے مخالف حضرت مرزاصاحب کی ماموریت کے منکر ہیں۔ اب بتاؤ یہ اختلاف فروعی کیونکر ہوا۔ قرآن
مجید میں تو لکھا ہے:’’لانفرق بین احد من رسلہ‘‘ لیکن حضرت مرزاصاحب کے انکار میں تو
تفرقہ ہوتا ہے۔ دیکھو:
(الحکم ج۱۵ نمبر۷،۸ ص۴ کالم۲، مؤرخہ ۲۱-۲۸؍فروری ۱۹۱۱ء)
پھر آپ نے ایک دفعہ فرمایا کہ اگر اسرائیلی مسیح رسول کا منکر کافر ہے تو محمدی مسیح رسول کا منکر
کیوں کافر نہیں۔ دیکھو:
(الفضل ج۱ ص۴ کالم۳، مؤرخہ ۲۷؍مئی ۱۹۱۴ء)
پھر ایک شخص نے حضرت خلیفۃ المسیح اوّل سے سوال کیا کہ حضرت مرزاصاحب کے ماننے کے بغیر نجات ہے یا
نہیں۔ فرمایا اگر خدا کا کلام سچ ہے تو مرزاصاحب کے ماننے کے بغیر نجات نہیں ہوسکتی۔
ان حوالہ جات سے صاف طور پر یہ لگتا ہے کہ حضرت خلیفۃ المسیح اوّل حضرت مسیح موعود کے منکر کو کافر
اور غیرناجی یقین کرتے تھے اور آپ کو واقعی معنوں میں نبی مانتے تھے۔‘‘
(محمد اسماعیل قادیانی کا رسالہ بعنوان مولوی محمد علی لاہوری کے اپنی سابقہ تحریرات کے متعلق جوابات
پر نظر ص۱۳۱،۱۳۲)
(۴) احمد رسول
’’حضرت ممدوح (حکیم نورالدین قادیانی) فرماتے ہیں کہ میں ’’مبشرا برسول یاتی من بعدی
اسمہ احمد‘‘ کی پیش گوئی حضرت مسیح موعود کے متعلق مانتا ہوں کہ یہ صرف حضرت مسیح موعودکے متعلق
ہے اور وہی احمد رسول ہیں۔ دیکھو:
(الحکم قادیان ج۱۵ نمبر۲۳، بابت ستمبر ۱۹۱۱ء)
ان حوالہ جات سے پتہ لگتا ہے کہ حضرت خلیفۃ المسیح اوّل کے نزدیک اسمہ احمد والی پیش گوئی مسیح موعود
کے متعلق ہے۔‘‘
(محمد اسماعیل قادیانی کا رسالہ بعنوان مولوی محمد علی لاہوری کے اپنی سابقہ تحریرات کے متعلق جوابات
پر نظر ص۱۳۲،۱۳۳)
(۵) میرزائے قادیان
-
اسم او اسم مبارک ابن مریم می نہند
آں غلام احمد است و میرزائے قادیان
-
گر کسے آرشکے در شان او آں کافرست
جائے او باشد جہنم بے شک و ریب و گماں
(از حکیم نورالدین خلیفہ اوّل، الحکم مؤرخہ ۱۷؍اگست ۱۹۰۸ء)
471
(۶) نجات
’’ایک شخص نے حضرت خلیفۃ المسیح (مولوی حکیم نورالدین) سے سوال کیا کہ حضرت مرزاصاحب کے ماننے کے بغیر
نجات ہے یا نہیں۔ فرمایا اگر خدا کا کلام سچا ہے تو مرزاصاحب کے ماننے کے بغیر نجات نہیں ہوسکتی۔‘‘
(تشحیذ الاذہان قادیان ج۹ نمبر۱۱ ص۲۴، بابت ماہ نومبر ۱۹۱۴ء، البدر ج۱۲ نمبر۲ ص۲ کالم۱، مؤرخہ
۱۱؍جولائی ۱۹۱۲ء)
(۷) میراتوایمان ہے
’’خاکسار عرض کرتا ہے کہ حضرت خلیفہ اوّل فرماتے تھے کہ جب فتح اسلام توضیح مرام شائع ہوئیں تو ابھی
میرے پاس نہ پہنچی تھی اور ایک مخالف شخص کے پاس پہنچ گئیں تھیں اس نے اپنے ساتھیوں سے کہا۔ دیکھو، اب میں
مولوی صاحب کو یعنی مجھے مرزاصاحب سے علیحدہ کئے دیتا ہوں، چنانچہ وہ میرے پاس آیا اور کہنے لگا کہ مولوی
صاحب کیا نبی کریم ﷺ کے بعد بھی کوئی نبی ہوسکتا ہے۔ میں نے کہا نہیں۔ اس نے کہا اگر کوئی نبوت کا دعویٰ کرے
تو پھر میں نے کہا تو پھر ہم یہ دیکھیں گے کہ کیا وہ صادق اور راست باز ہے یا نہیں۔ اگر صادق ہے تو بہرحال
اس کی بات کو قبول کریں گے۔ میرا یہ جواب سن کر وہ بولا، واہ! مولوی صاحب آپ قابو نہ ہی آئے۔ یہ قصہ سنا کر
مولوی صاحب فرمایا کرتے تھے کہ یہ تو صاف نبوت کی بات ہے، میرا تو ایمان ہے کہ اگر حضرت مسیح موعود صاحب
شریعت نبی ہونے کا دعویٰ کریں اور قرآنی شریعت کو منسوخ قرار دیں تو بھی مجھے انکار نہ ہو۔ کیونکہ جب ہم نے
آپ کو واقعی صادق اور منجانب اللہ پایا ہے تو اب جو بھی آپ فرمائیں گے وہی حق ہو گا اور ہم سمجھ لیں گے کہ آیت
خاتم النّبیین کے کوئی اور معنی ہوں گے۔ خاکسار عرض کرتا ہے کہ واقعی جب ایک شخص کا اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہونا
یقینی دلائل کے ساتھ ثابت ہو جائے تو پھر اس کے کسی دعویٰ میں چون وچرا کرنا باری تعالیٰ کا مقابلہ کرنا
ٹھہرتا ہے۔‘‘
(سیرت المہدی حصہ اوّل ص۸۱، روایت نمبر۱۰۶، جدید ج۱ حصہ اوّل ص۸۸، روایت نمبر۱۰۹)
(۸) رعایتی نماز
’’حضرت خلیفہ اوّل (حکیم نورالدین قادیانی) نے ایک دفعہ پنجاب میں ایک شخص کے دریافت کرنے پر اسے
اجازت دی کہ غیراحمدی امام کے پیچھے نماز پڑھ لیا کرے۔ جب کسی نے تعجب سے دریافت کیا کہ یہ فتویٰ تو حضرت
مسیح موعود (مرزاقادیانی) کے فرمانے کے خلاف ہے تو آپ نے جواب دیا کہ وہ شخص اور کون سے حکم مسیح موعود پر
عمل کررہا ہے یہ بھی سہی۔‘‘
(الفضل قادیان ج۳ نمبر۱۰۵ ص۸ کالم۳ مؤرخہ ۱۱؍اپریل ۱۹۱۶ء)
(۹) خدا کی قسم
’’میں (حکیم نورالدین) خدا کی قسم کھا کر کہتا ہوں کہ مجھے خدا ہی نے خلیفہ بنایا۔ سواب کس میں طاقت
ہے کہ وہ اس خلافت کی ردا کو مجھ سے چین لے۔ اللہ تعالیٰ کی مشیت نے چاہا اور مصالح سے چاہا مجھے تمہارا امام
وخلیفہ بنادیا۔ ہزارنالائقیاں مجھ پر تھوپو۔ مجھ پر نہیں، خدا پر لگیں گی جس نے مجھے خلیفہ بنایا۔‘‘
(ارشاد حکیم نورالدین خلیفہ اوّل قادیان، ریویو قادیان ج۱۴ نمبر۶ ص۲۳۴)
(۱۰) نادر شاہی
’’مجھے (مولوی نورالدین کو) خدا نے خلیفہ بنادیا ہے اور اب نہ تمہارے کہنے سے معزول ہوسکتا ہوں اور نہ
کسی میں طاقت ہے کہ
472
معزول کرے۔ اگر تم زیادہ زور دو گے تو یاد رکھو میرے پاس ایسے خالد بن ولید ہیں جو تمہیں مرتدوں کی
طرح سزادیں گے۔‘‘
(تشحیذ الاذہان قادیان ج۹ نمبر۱۱ ص۱۴، بابت ماہ نومبر ۱۹۱۴ء)
(۱۱) سخت حماقت
’’تم کو بھی اللہ تعالیٰ نے اپنے فضل سے ہمارے بادشاہ حضرت مسیح موعود (مرزاقادیانی) صاحب کے ذریعہ
محمدرسول ﷺ کے بعد ایک کیا۔ پھر اس کے مرنے کے بعد میرے ہاتھ پر تم کو تفرقہ سے بچایا۔ اس نعمت کی قدر کرو
اور نکمی بحثوں میں نہ پڑو۔ میں نے دیکھا ہے کہ آج بھی کسی نے کہا ہے کہ خلافت کے متعلق بڑا اختلاف ہے… میں
نہیں سمجھتا کہ اس قسم کی بحثوں سے تمہیں کیا اخلاقی وروحانی فائدہ پہنچتا ہے جس کو اللہ تعالیٰ نے چاہا خلیفہ
بنادیا اور تمہاری (قادیانی صاحبان کی) گردنیں اس کے آگے جھکا دیں۔ خداتعالیٰ کے اس فعل کے بعد بھی تم اس پر
بحث کرو تو سخت حماقت ہے میں نے تمہیں بارہا کہا ہے اور قرآن مجید سے دکھایا ہے کہ خلیفہ بنانا انسان کا کام
نہیں بلکہ خداتعالیٰ کا کام ہے۔ آدم کو خلیفہ بنایا۔ کس نے؟ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ’’جاعل فی
الارض خلیفۃ‘‘ اس خلافت آدم پر فرشتوں نے اعتراض کیا… مگر انہوںنے اعتراض کر کے کیا پھل پایا تم
قرآن مجید میں پڑھ لو کہ آخر انہیں آدم کے لئے سجدہ کرنا پڑا۔ پس اگر کوئی مجھ پر اعتراض کرے اور وہ اعتراض
کرنے والا فرشتہ بھی ہو تو میں اسے کہہ دوں گا کہ آدم کی خلافت کے سامنے مسجود ہو جاؤ تو بہتر ہے اور اگر
وہ ’’ابی واستکبار‘‘ کو اپنا شعار بنا کر ابلیس بنتا ہے تو پھر یاد رکھے کہ ابلیس کو
آدم کی مخالفت نے کیا پھل دیا میں پھر کہتا ہوں کہ اگر کوئی فرشتہ بن کر بھی میری خلافت پر اعتراض کرتا ہے
تو سعادت مند فطرت اسے ’’اسجد والادم‘‘ کی طرف لے آئے گی اور اگر ابلیس ہے تو وہ اس
دربار سے نکل جائے گا۔‘‘
(تقریر حکیم نورالدین خلیفہ اوّل قادیان، الفضل قادیان ج۱۴ نمبر۱۳، مؤرخہ ۱۳؍اگست ۱۹۲۶ء)
(۱۲) خدا کا بنایا ہوا خلیفہ
’’ اللہ تعالیٰ نے نورالدین کو خلیفہ مقرر کیا جن کے متعلق یہ کہا جاتا تھا کہ وہ لکھنا اور بولنا نہیں
جانتے۔ اس وقت تو لوگوں نے بیعت کر لی، مگر زیادہ عرصہ نہیں گزرا تھا کہ بعض نے کہا۔ یہ سترا بہترا ہے لائی
لگ ہے۔ کمزور طبیعت ہے اور اگر اس مسئلہ کا تصفیہ اس کے زمانہ میں نہ کر دیا گیا تو پھر نہ ہوسکے گا کیونکہ
یہ توڈر جاتا ہے… آپ (خلیفہ نورالدین) نے فرمایا کہ کہا جاتا ہے تمہارا کام صرف نمازیں پڑھانا، درس دینا اور
نکاح پڑھانا ہے۔ مگر میں نے کسی کو نہیں کہا تھا کہ میری بیعت کرو۔ تم خود اس کی ضرورت سمجھ کر میرے پاس
آئے۔ مجھے خلافت کی ضرورت نہ تھی، لیکن جب دیکھا کہ میرا خدا مجھے بلا رہا ہے تو میں نے انکار کا سبب نہ
سمجھا۔ اب تم کہتے ہو کہ میری اطاعت تمہیں منظور نہیں، لیکن یاد رکھو اب میں خدا کا بنایا ہوا خلیفہ ہوں۔ اب
تمہاری یہ باتیں مجھ پر کوئی اثر نہیں کرسکتیں۔‘‘
(الفضل قادیان ج۲۵ نمبر۷۷، مؤرخہ ۳؍اپریل ۱۹۳۷ء)
’’۱۲؍جنوری ۱۹۱۲ء کو تقریر کرتے ہوئے حضرت خلیفۃ المسیح اوّل نے فرمایا:
مجھے اگر خلیفہ بنایا ہے تو خدا نے بنایا ہے اور اپنے مصالح سے بنایا ہے۔ خداتعالیٰ کے بنائے ہوئے
خلیفہ کو کوئی طاقت معزول نہیں کرسکتی۔ اس لئے تم میں سے کوئی مجھے معزول کرنے کی قدرت اور طاقت نہیں رکھتا۔
اگر اللہ تعالیٰ نے مجھے معزول کرنا ہو گا تو وہ مجھے موت دے دے گا۔ تم اس معاملہ کو خدا کے حوالہ کر دو۔ تم
معزول کرنے کی طاقت نہیں رکھتے۔ میں تم میں سے کسی کا بھی شکرگزار نہیں ہوں۔ جھوٹا ہے وہ شخص جو کہتا ہے کہ
ہم نے خلیفہ بنایا ہے۔‘‘
(مندرجہ الحکم قادیان مؤرخہ ۲۱؍جنوری ۱۹۱۲ء، منقول از الفضل قادیان ج۲۵ نمبر۱۲۷ ص۵ کالم۴، مؤرخہ
۳؍جون ۱۹۳۷ء)
473
(۱۳) مخالف کا خط
’’۶؍اپریل ۱۹۱۱ء کو حضرت خلیفۃ المسیح (حکیم نورالدین) بعض خطوط کا جواب لکھوارہے تھے۔ ڈاک میں ایک
مخالف کا خط بھی تھا۔ آپ نے محرر ڈاک کو فرمایا اس کا سرنامہ لکھو جناب من! دوبارہ فرمایا صرف جناب رہنے دو
اور سلام نہ لکھو۔ کیونکہ یہ لوگ خدا کے فضل سے دور ہیں اور ہم سے ایک طرف ہیں۔‘‘
(البدر قادیان ج۱۰ نمبر۲۴ ص۲ کالم۱، مؤرخہ ۱۳؍اپریل ۱۹۱۱ء، الفضل قادیان ج۲ نمبر۱۲۲،۱۲۳ ص۷ کالم۳،
مؤرخہ ۴-۶؍اپریل ۱۹۱۵ء)
(۱۴) نہانے کا ذکر
’’حضرت خلیفۃ المسیح ثانی ایدہ اللہ بنصرہ (یعنی مرزامحمود خلیفہ قادیان) نے بیان فرمایا کہ جب میں حضرت
مسیح موعود کی زندگی میں حضرت مولوی نورالدین صاحب خلیفہ اوّل سے حدیث پڑھتا تھا تو ایک دفعہ گھر میں مجھ سے
حضرت (مرزاقادیانی) صاحب نے دریافت فرمایا کہ میاں تم آج کل مولوی صاحب سے کیا پڑھا کرتے ہو۔ میں نے کہا
بخاری پڑھتا ہوں۔ آپ نے مسکراتے ہوئے فرمایا کہ مولوی صاحب سے یہ پوچھنا کہ بخاری میں نہانے کا ذکر بھی کہیں
آتا ہے، یا نہیں۔ خاکسار عرض کرتاہے کہ حضرت مولوی (نورالدین) صاحب نہانے وغیرہ کے معاملہ میں کچھ بے پروائی
فرماتے تھے اور کپڑوں کے صاف رکھنے اور جلدی جلدی بدلنے کا بھی چنداں خیال نہ رکھتے تھے۔ اس لئے ان کو متوجہ
کرنے کے لئے حضرت صاحب نے یہ الفاظ فرمائے ہوں گے۔‘‘
(سیرت المہدی حصہ دوم ص۲۰،۲۱، روایت ۳۲۷ جدید ج۱ حصہ دوم ص۳۰۳،۳۰۴، روایت نمبر۳۲۸)
(۱۵) دوعورتیں
’’میں ایک مرتبہ ایک عیسائی عورت سے شادی کرنے لگا تھا لیکن صرف پردہ کے مشکلات کے باعث بازرہا۔
(۱۷؍دسمبر ۱۹۱۱ء)‘‘
(حکیم نورالدین قادیانی خلیفہ اوّل کا قول، مندرجہ مرقاۃ الیقین فی حیوٰۃ نورالدین، اکبر نجیب آبادی
قادیانی ص۱۸۴، جدید ایڈیشن ص۲۱۰)
’’میں جموں میں تھا۔ ایک ہندو عورت میرے ساتھ بڑا اخلاص رکھتی تھی۔ میرے دو لڑکے تھے، ایک فضل الٰہی،
دوسرا حفیظ الرحمن، ان دونوں کا انتقال ہوگیا۔ اس ہندنی نے مجھ سے کہا میں دو لڑکے آپ کے واسطے خرید کر
لاؤں گی جو ایسے ایسے ہوں گے۔ میں نے اس سے کہا کہ نادان، وہ لڑکے ہمارے کیسے ہوسکتے ہیں اور اس طرح کہاں
تلافی ہوسکتی ہے۔ (۲؍جون ۱۹۰۹ء)‘‘
(حکیم نورالدین قادیانی خلیفہ اوّل کا قول، مندرجہ مرقات الیقین فی حیوۃ نورالدین ص۱۹۹،۲۰۰، جدید
ایڈیشن ص۲۲۸)
(۱۶) عبرت انگیز
’’کہاں مولوی نورالدین صاحب کا حضرت مسیح موعود (مرزاقادیانی) کو نبی اللہ اور رسول اللہ اور اسمہ احمد کا
مصداق یقین کرنا اور کہاں وہ حالت کہ وصیت کے وقت مسیح موعود کی رسالت کا اشارہ تک نہ کرنا… استقامت میں فرق
آنا اور پھر بطور سزا کے گھوڑے سے گر کر بری طرح زخمی ہونا۔ آخر مرنے سے پہلے کئی دنوں تک بولنے سے بھی
لاچار ہوجانا اور نہایت مفلسی میں مرنا اور آئندہ جہاد میں بھی کچھ سزا اٹھانا اور اس کے بعد اس کے جوان
فرزند عبدالحئی کا عنفوان شباب میں مرنا اور اس کی بیوی کا تباہ کن طریق پر کسی اور جگہ نکاح کر لینا وغیرہ
یہ باتیں کچھ کم عبرت انگیز نہیں تھیں۔‘‘
(نامہ نگار پیغام صلح کے اشتہار گنجینہ صداقت کا اقتباس، الفضل قادیان ج۹ نمبر۱۹، مؤرخہ ۲۳؍فروری
۱۹۲۲ء)
474
(۱۷) وہ مہینہ
’’فروری ۱۹۱۴ء کا مہینہ وہ مہینہ ہے جب حضرت مولانا نورالدین صاحب بستر علالت پر تھے اور آپ کی حالت
دن بدن تشویشناک تھی۔ جس کے تھوڑے ہی دن بعد ۱۳؍مارچ ۱۹۱۴ء کو آپ رحلت فرمائے عالم جاودانی ہوئے۔‘‘
(پیغام صلح ج۴ نمبر۱۱۴ ص۲ کالم۲، مؤرخہ ۲۳؍مئی ۱۹۱۷ء)
(۱۸) محبت کا انجام نافرجام
’’صاحبزادہ عبدالحئی صاحب نے اس مقدس باپ (حکیم نورالدین) کی گود میں تربیت پائی تھی جو حضرت خلیفۃ
المسیح الثانی (مرزامحمود) ایدہ اللہ بنصرہ العزیز کو جگہ چھوڑ کر اپنی جگہ بٹھایا کرتا تھا جو حضور کی تقریر
سن کر خوشی سے ان کا ماتھا چوم لیا کرتا تھا۔ (شاید ادب مانع ہوتا ہوگا کہ میاں صاحب ان کے نبی زادہ تھے۔
ورنہ قرائن سے معلوم ہوتا ہے کہ لڑکپن ہی میں میاں صاحب کی باتیں حکیم صاحب کو محبت میں ایسی پیاری معلوم
ہوتی تھیں کہ کوئی منہ چوم لے چنانچہ یہی اردو محاورہ بھی ہے۔ للمؤلف) مولوی عبدالحئی صاحب نے حضرت خلیفۃ
المسیح الثانی (مرزامحمود) ایدہ اللہ بنصرہ العزیز کی محبت کا سبق اپنے مقدس باپ سے سیکھا تھا۔ (اور واقعی وہ
محبت بہت سبق آموز تھی۔ للمؤلف) مولوی عبدالحئی صاحب یقینا اپنے محترم باپ کے سعادت مند فرزند تھے۔ اس لئے
یہ کہنا کہ وہ حضرت خلیفۃ المسیح الثانی ایدہ اللہ کے مخالف تھے اس لئے حضور نے ان کو زہردے کر مروادیا۔ ایک
ناپاک جھوٹ ہے جس کے تصور سے بھی گھن آتی ہے۔ (اور اگر بالفرض واقعہ ہو تو پھر کتنی قے آنی چاہئے قادیانی
صاحبان کو۔ للمؤلف) حضرت خلیفۃ المسیح اوّل (حکیم نورالدین قادیانی) کی وفات کے بعد جب (ان کی لڑکی) سیدہ
امتہ الحئی صاحبہ کا حضرت خلیفۃ المسیح الثانی ایدہ اللہ تعالیٰ (مرزابشیرالدین محمود) سے عقد ہونے لگا تو
مولوی عبدالحئی صاحب ولی تھے… ان لوگوں نے جو الزام صاحبزادہ عبدالحئی صاحب مرحوم پر لگایا ہے وہی افتراء
سیدہ امتہ الحئی مرحومہ پر بھی کیاگیا ہے یعنی یہ کہ وہ بھی دراصل حضرت خلیفۃ المسیح الثانی (میاں بشیرالدین
محمود احمد) ایدہ اللہ کی مخالف تھیں… اور محمد امین خاں اور مستری محمد حسین مقتولوں کی صف میں ان کو شامل
کرنا اور یہ کہنا کہ سیدہ امتہ الحئی کی روح حضرت امیرالمؤمنین ایدہ اللہ تعالیٰ (میاں بشیرالدین محمود احمد)
کو نصیحت کر رہی ہے کہ اپنے افعال سے باز آجاؤ نہایت شرمناک اور کمینہ جھوٹ ہے۔ (بحث سے کیا حاصل ؎
-
قریب ہے چار روز محشر چھپے گا کشتوں کا خوں کیونکر
جو چپ رہے گی زبان خنجر لہو پکارے گا آستیں کا " للمؤلف)
(الفضل قادیان ج۲۵ نمبر۱۷۹ ص۴تا۶، مؤرخہ ۴؍اگست ۱۹۳۷ء)
(ب) مولوی عبدالکریم قادیانی
(۱۹) ابتداء
’’سالنامہ جامعہ احمدیہ (قادیان) ۱۹۳۰ء میں مذکور ہے کہ مولوی عبدالکریم (قادیانی) سیالکوٹ میں پیدا
ہوئے۔ ابتدائی تعلیم مڈل تک تھی اور اس میں بھی کمی حساب کی وجہ سے فیل ہوگئے۔ پھر عربی کی پرائیویٹ تیاری
کر کے وہیں مشن سکول میں مدرس فارسی مقرر ہوگئے۔ ایک رو پادری سے الجھ کر مستعفی ہوگئے۔ اس وقت آپ نیچری
خیال رکھتے تھے مگر مولوی نورالدین صاحب کی وساطت سے مرزائی
475
ہوگئے اور خطیب اور امام مسجد قادیان بنے رہے اور سب سے پہلے بہشتی مقبرہ میں داخل ہوئے۔‘‘
(الکاویۃ علیٰ الغاویہ حصہ دوم ص۳۸۷،۳۸۸، مصنفہ مولوی محمد عالم آسی، امرتسر، احتساب قادیانیت ج۲۶
ص۴۱۶)
(۲۰) دوفرشتے
’’ان دونوں میں بحثیں خوب ہواکرتی تھی کہ حضرت مسیح موعود (مرزاقادیانی) کادایاں فرشتہ کون سا ہے اور
بایاں کون سا ہے؟ بعض کہتے مولوی عبدالکریم صاحب دائیں ہیں۔ بعض حضرت استاذی المکرم خلیفہ اوّل (حکیم
نورالدین) کی نسبت کہتے کہ وہ دائیں فرشتے ہیں۔‘‘
(خلیفہ قادیان کا مضمون یاد ایام، مندرجہ اخبار الفضل قادیان ج۱۲ نمبر۱ ص۴ کالم۱، مؤرخہ ۴؍جولائی
۱۹۲۴ء، انوارالعلوم ج۸ ص۳۶۷)
(۲۱) سرسید کے دلدادہ
’’مولوی عبدالکریم صاحب مرحوم ومغفور بھی ابتداء میں سرسید کے بہت دلدادہ تھے۔ چنانچہ حضرت
(مرزاقادیانی) صاحب نے بھی اپنے ایک شعر میں ان کے متعلق اس کا ذکر فرمایا ہے ؎
-
مدتے آتش نیچر فرد افتادہ بود
ایں کرامت بیں کہ از آتش بروں آمد سلیم‘‘
(سیرت المہدی حصہ اوّل ص۱۴۱، روایت نمبر۱۴۷، جدید ج۱ حصہ اوّل ص۱۴۵، روایت نمبر۱۵۰)
(۲۲) بہت عشق
’’مولوی عبدالکریم صاحب مرحوم ومغفور کو حضرت مسیح موعود (مرزاقادیانی) سے بہت عشق تھا۔ اگر مسیح
موعود پر کوئی اعتراض کرتا تو آپ برداشت نہیں کرسکتے تھے۔ ایک دفعہ ان کو ایک عیسائی کہنے لگا کہ مولوی صاحب
میں آپ سے ایک بات پوچھتا ہوں کیا آپ براتو نہیں منائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ کیا میں پاگل ہوں کہ تم مجھ سے
اچھی بات پوچھو تو میں برامناؤں۔ اگر بری بات کہو تب تو برامناؤں گا۔ اس نے کہا کہ میں نے سنا ہے کہ
مرزاصاحب دس پندرہ روپیہ کے ملازم رہ چکے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ میں نے سنا ہے کہ مسیح گلیوں میں کہتا پھرتا
تھا کہ کسی نے چارپائی ٹھکوانی ہو تو ٹھکوالے۔ یہ بات سن کر عیسائی نے کہا کہ مولوی صاحب آپ تو ناراض ہوگئے
ہیں۔ انہوں نے کہا کہ نہیں میں تو ناراض نہیں ہوا تم ناراض ہوگئے۔‘‘
(مرزامحمود کا درس قرآن، الفضل قادیان ج۲ نمبر۳۱ ص۵ کالم۲، مؤرخہ ۲۷؍اگست ۱۹۱۴ء)
(۲۳) عاشقانہ رنگ
’’ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ مولوی عبدالکریم صاحب نماز پڑھا رہے تھے وہ جب (دوسری رکعت کے بعد) تیسری
رکعت کے لئے قعدہ سے اٹھے تو حضرت (مرزاقادیانی) صاحب کو پتہ نہ لگا۔ حضور التحیات میں ہی بیٹھے رہے۔ جب
مولوی صاحب نے رکوع کے لئے تکبیر کہی تو حضور (مرزاقادیانی) کو پتہ لگا اور حضور اٹھ کر رکوع میں شریک ہوئے۔
نماز سے فارغ ہونے کے بعد حضور نے مولوی نورالدین صاحب اور مولوی محمد احسن صاحب کو بلوایا اور مسئلہ کی
صورت پیش کی اور فرمایا میں بغیر فاتحہ پڑھے رکوع میں شامل ہوا ہوں۔ اس کے متعلق شریعت کا کیا حکم ہے۔ مولوی
محمد احسن صاحب نے مختلف شقیں بیان کیں کہ یوں بھی آیا ہے اور یوں بھی ہوسکتا ہے۔ کوئی فیصلہ کن بات نہ
بتائی۔ مولوی عبدالکریم صاحب مرحوم کے آخری ایام بالکل عاشقانہ رنگ پکڑ گئے تھے وہ فرمانے لگے مسئلہ وغیرہ
کچھ نہیں جو حضور نے کیا بس وہی درست ہے۔‘‘
(تقریر مفتی محمد صادق قادیانی، الفضل قادیان ج۱۲ نمبر۷۷ ص۷ کالم۳، مؤرخہ ۱۷؍جنوری ۱۹۲۵ء)
476
(۲۴) دوخطبے
’’خدا کے کلام میں جس شخص کو نبی کے لفظ سے خطاب کیا جائے مثلاً ’’یایہا
النبی‘‘ وغیرہ کہا جائے تو ہر ایک مسلم کا فرض ہے کہ اس کو نبی مانے اور حضرت مسیح موعود
(مرزاقادیانی) کے متعلق براہین احمدیہ ہی میں یہ الفاظ موجود ہیں۔ آپ کو ان ہی الفاظ سے خطاب کیاگیا ہے۔ جن
الفاظ سے آدم علیہ السلام سے لے کر حضرت محمد رسول اللہ ﷺ تک کے انبیاء مرسلین سے خطاب کیا گیا ہے۔ ایک زمانہ
میں میرے دل میں ایک کھٹکا تھا اور وہ یہ کہ الفاظ تو وہی ہیں مگر حضرت (مرزاقادیانی) صاحب ان کے ساتھ قیود
لگاتے ہیں۔ جب میں یہاں قادیان میں آیا تو یہاں پر مولوی عبد اللہ کشمیری جو میرے دوست اور شاگرد تھے۔ میں نے
ان سے کہ اتو انہوں نے کہا کہ چونکہ لوگ سمجھتے نہیں اس لئے ان کو سمجھانے کے لئے یہ الفاظ ہیں۔ والا حضرت
مسیح موعود نبی ہیں اور پھر مولوی عبدالکریم صاحب سے ملاقات کی۔ ان سے عرض کیا تو انہوں نے کہا میں تو آپ کو
مولوی خیال کرتا تھا۔ آپ بھی عوام کی سی باتیں کرتے ہیں۔ حضرت (مرزاقادیانی) صاحب نبی ہیں۔ یہ محض لوگوں کو
سمجھانے کے لئے الفاظ استعمال کرتے ہیں۔ اس کے بعد مولوی عبدالکریم صاحب نے ایک خطبہ جمعہ پڑھا اور اس میں
حضرت صاحب کے لئے نبی اور رسول کے الفاظ استعمال کئے یہ خطبہ چھپ کر شائع ہوچکا ہے۔ اس خطبہ کو سن کر سید
محمد احسن صاحب امروہی (قادیانی) نے بہت پیچ وتاب کھائے۔ جب یہ بات مولوی عبدالکریم صاحب کو معلوم ہوئی تو
پھر انہوں نے ایک خطبہ پڑھا اور اس میں حضرت مسیح موعود کو مخاطب کر کے کہا کہ اگر میں غلطی کرتا ہوں تو
حضور مجھے بتلائیں۔ میں حضور کو نبی اور رسول مانتا ہوں۔ جب جمعہ ہوچکا اور حضرت (مرزاقادیانی) صاحب جانے
لگے تومولوی صاحب نے پیچھے سے حضرت صاحب کا کپڑا پکڑ لیا اور درخواست کی کہ اگر میرے اس اعتقاد میں غلطی ہے
تو حضور درست فرمائیں۔ میں اس وقت موجود تھا۔ حضرت صاحب مڑ کر کھڑے ہوگئے اور فرمایا مولوی صاحب ہمارا بھی
یہی مذہب اور دعویٰ ہے جو آپ نے بیان کیا۔ یہ خطبہ سن کر مولوی محمد احسن صاحب غصہ میں بھرکر واپس آئے اور
مسجد مبارک کے اوپر ٹہلنے لگے اور جب مولوی عبدالکریم (قادیانی) واپس آئے تومولوی محمد احسن صاحب (قادیانی)
ان سے لڑنے لگ گئے۔ آواز بہت بلند ہوگئی تو حضرت مسیح موعود (مرزاقادیانی) مکان سے نکلے اور آپ نے یہ آیت
پڑھی: یاایہا الذین امنوا لا ترفعوا اصواتکم فوق صوت النبی‘‘
(تقریر سرور شاہ قادیانی، جلسہ سالانہ قادیان، الفضل قادیان ج۱۰ نمبر۵۱ ص۳ کالم۲،۳، مؤرخہ ۴؍جنوری
۱۹۲۳ء)
(۲۵) مارپکار
’’گرمی کا موسم تھا۔ مسجد مبارک ابھی چھوٹی ہی تھی۔ شہ نشین پر حضرت خلیفۃ المسیح اوّل حضرت مولوی
عبدالکریم، حضرت حکیم فضل الدین وغیرہ احباب بیٹھے تھے۔ مغرب کا وقت تھا۔ اس دن میاں الٰہ دین فلاسفر سے کچھ
گستاخی ہوئی تھی اور مولوی عبدالکریم صاحب نے انہیں مارا تھا اور فلاسفر صاحب کے رونے چلانے کی آواز اندرون
خانہ حضرت مسیح موعود (مرزاقادیانی) تک پہنچی تھی۔ حضور (مرزاقادیانی) کے لب ولہجہ سے اظہار ناراضگی ہورہا
تھا۔ فرمایا: ’’خدا کا رسول تمہارے درمیان ہے اور تم ایسی حرکتیں کرتے ہو۔‘‘ ان الفاظ سے ہم سب سہم گئے اور
خوفزدہ ہوگئے۔ مولوی عبدالکریم صاحب مرحوم روپڑے، معافی چاہی اور دعا کی درخواست کی۔ حضور (مرزاقادیانی) نے
دعا کے واسطے ہاتھ اٹھائے۔ اکثر احباب چشم پر آب تھے۔ دعا سے سب کی تشفی اور تسکین ہوئی۔ انجام بخیر ہوا۔
الحمد للہ !‘‘
(مفتی محمد صادق قادیانی کی روایت، الفضل قادیان ج۲۴ نمبر۵۱ ص۲ کالم۱، مؤرخہ ۲۸؍اگست ۱۹۳۶ء)
477
(۲۶) دوچیزیں
’’حضرت مسیح موعود (مرزاقادیانی) سے مولوی عبدالکریم صاحب کو خاص عشق تھا اور ایسا عشق تھا کہ اسے وہی
لوگ سمجھ سکتے ہیں جنہوں نے اس زمانہ کودیکھا۔ دوسرے لوگ اس کا قیاس بھی نہیں کرسکتے۔ وہ ایسے وقت میں فوت
ہوئے جب میری عمر سولہ سترہ سال تھی اور جس زمانہ سے میں نے ان کی محبت کو شناخت کیا ہے اس وقت میری عمر
بارہ تیرہ سال کی ہوگی۔ یعنی بچپن کی عمر تھی لیکن باوجود اس کے مجھ پر ایک ایسا گہرا نقش ہے کہ مولوی صاحب
کی دو چیزیں مجھے کبھی نہیں بھولتیں۔ ایک تو ان کا پانی پینا اور ایک حضرت مسیح موعود (مرزاقادیانی) سے ان
کی محبت۔ آپ ٹھنڈا پانی بہت پسند کرتے تھے اور اسے بڑے شوق سے پیتے تھے اور پیتے وقت غٹ غٹ کی ایسی آواز آیا
کرتی تھی کہ گویا اللہ تعالیٰ نے ان کے لئے جنت کی نعمتوں کو جمع کر کے بھیج دیا۔‘‘
(اخبار الفضل قادیان ج۲۰ نمبر۱۴۳ ص۶ کالم۲، مؤرخہ یکم؍جون ۱۹۳۳ء، خطبات محمود ج۱۴ ص۱۲۱،۱۲۲)
(۲۷) مولوی عبدالکریم کا انجام
’’بیان کیا مجھ سے بیوہ مرحومہ عبدالکریم صاحب مرحوم نے کہ جب مولوی عبدالکریم صاحب بیمار ہوئے اور ان
کی تکلیف بڑھ گئی تو بعض اوقات شدت تکلیف کے وقت نیم غشی کی سی حالت میں وہ کہا کرتے تھے کہ سواری کا انتظام
کرو۔ میں حضرت (مرزاقادیانی) صاحب سے ملنے کے لئے جاؤں گا۔ گویا وہ سمجھتے تھے کہ میں کہیں باہر ہوں اور
حضرت صاحب قادیان میں ہیں اور بعض اوقات کہتے تھے اور ساتھ ہی زارزار روپڑتے تھے کہ دیکھو میں نے اتنے عرصہ
سے حضرت (مرزاقادیانی) صاحب کا چہرہ نہیں دیکھا تم مجھے حضرت صاحب کے پاس کیوں نہیں لے جاتے۔ ابھی سواری
منگاؤ اور مجھے لے چلو۔ ایک دن جب ہوش تھی کہنے لگے جاؤ حضرت صاحب سے کہو کہ میں مرچلا ہوں۔ مجھے صرف دور
سے کھڑے ہوکر اپنی زیارت کراجائیں اور بڑے روئے اور اصرار کے ساتھ کہا کہ ابھی جاؤ۔ میں نیچے حضرت صاحب کے
پاس آئی کہ مولوی صاحب اس طرح کہتے ہیں۔ حضرت صاحب فرمانے لگے کہ آپ سمجھ سکتے ہیں کہ کیا میرا دل مولوی
صاحب کے ملنے کو نہیں چاہتا۔ مگر بات یہ ہے کہ میں ان کی تکلیف کو دیکھنے کی طاقت نہیں رکھتا۔ مولویانی
مرحومہ کہتی تھیں کہ اس وقت تمہاری والدہ پاس تھیں۔ انہوں نے حضرت صاحب سے کہا کہ جب وہ اتنی خواہش رکھتے
ہیں تو آپ کھڑے کھڑے ہو آئیں۔ حضرت صاحب نے فرمایا کہ اچھا میں جاتا ہوں۔ مگر تم دیکھ لینا کہ ان کی تکلیف
کو دیکھ کر مجھے دورہ ہو جائے گا… خاکسار عرض کرتا ہے کہ حضرت صاحب کو مولوی عبدالکریم صاحب مرحوم سے بہت
محبت تھی اور یہ اس محبت کا تقاضا تھا کہ آپ مولوی صاحب کی تکلیف کو نہ دیکھ سکتے تھے۔ چنانچہ باہر مسجد میں
کئی دفعہ فرماتے تھے کہ مولوی صاحب کی ملاقات کا بہت دل چاہتا ہے مگر ان کی تکلیف نہیں دیکھ سکتا۔ چنانچہ
آخر مولوی صاحب اس مرض میں فوت ہوگئے۔ مگر حضرت صاحب ان کے پاس نہیں جاسکے۔ بلکہ حضرت صاحب نے مولوی صاحب کی
بیماری میں اپنی رہائش کا کمرہ بھی بدل لیا تھا، کیونکہ جس کمرہ میں آپ رہتے تھے وہ چونکہ مولوی صاحب کے
مکان کے بالکل نیچے تھا۔ اس لئے وہاں مولوی صاحب کے کراہنے کی آواز پہنچ جاتی تھی۔ جو آپ کو بے تاب کر دیتی
تھی اور مولوی صاحب مرحوم چونکہ مرض کاربنکل میں مبتلا تھے۔ اسی لئے ان کا بدن ڈاکٹروں کی چیراپھاڑی سے
چھلنی ہوگیا تھا اور وہ اس کے درد میں بے تاب ہوکر کراہتے تھے۔‘‘
(سیرت المہدی حصہ اوّل ص۲۷۱،۲۷۲، روایت نمبر۲۹۶، جدید ج۱ حصہ اوّل ص۲۷۱،۲۷۲، روایت نمبر۳۰۱)
478
’’حضرت مولانا عبدالکریم صاحب (مرحوم) کاربنکل کے مرض میں ڈیڑھ دو ماہ بیمار رہے۔ ان کا معالج خاکسار
اور ڈاکٹر خلیفہ رشید الدین تھے۔ ان کے لئے آپ (یعنی مرزاقادیانی) نے ہر ایک قسم کا سامان علاج معالجہ کے
لئے مہیا کیا۔ یہاں تک کہ جب آپ (مولوی عبدالکریم) فوت ہوئے تو قادیان جیسی جگہ میں ایک ڈھیر برف کا ان کے
کمرہ میں موجود تھا۔‘‘
(ڈاکٹر مرزایعقوب بیگ قادیانی کا مضمون، پیغام صلح لاہور ج۳۶ نمبر۲۱، مؤرخہ ۲۸؍جولائی ۱۹۴۸ء)
(۲۸) منہ دیکھا نہیں جاتا
’’جب حضرت مولوی عبدالکریم صاحب مرحوم… کی لاش نماز جنازہ کے واسطے میدان میں رکھی گئی اور آپ کا منہ
کھولا گیا تاکہ لوگ دیکھ لیں اور حضرت مسیح موعود جنازہ پڑھانے کے واسطے تشریف لائے تو حضور نے فرمایا، منہ
ڈھانک دو، دیکھا نہیں جاتا۔ (شاید نمونۂ عبرت بن گیا۔ ناقل) چنانچہ منہ ڈھانکا گیا اور حضور نے جنازہ
پڑھایا۔‘‘
(ذکر حبیب ص۱۲۵،۱۲۶)
(۲۹) بہت تکلیف
’’غرض مولوی عبدالکریم صاحب سے کوئی زیادہ تعلق مجھے نہیں تھا سوائے اس کے کہ میں ان کے پرزور خطبوں
کا مداح تھا اور ان کی محبت مسیح موعود (مرزاقادیانی) کا معتقد تھا مگر جوں ہی آپ کی وفات کی خبر میں نے سنی
میری حالت میں ایک تغیر پیدا ہوا… اور میری آنکھوں سے آنسو رواں ہوگئے۔ وہ آنسو نہ تھے ایک دریا تھا۔ دنیا
کی بے ثباتی، مولوی صاحب کی محبت مسیح اور خدمت مسیح کے نظارے آنکھوں کے سامنے پھرتے تھے۔ دل میں باربار
خیال آتا تھا کہ حضرت مسیح موعود کے کاموں میں یہ بہت سا ہاتھ بٹاتے تھے۔ اب آپ کو بہت تکلیف ہوگی۔‘‘
(مضمون مرزامحمود خلیفہ قادیان، الفضل قادیان ج۱۲ نمبر۱ ص۴ کالم۱، مؤرخہ ۴؍جولائی ۱۹۲۴ء)
(ج) مرزامحمود خلیفہ ثانی قادیان
(۳۰) تعلیم کی خوبی
’’حضرت مسیح موعود (مرزاقادیانی) بھی کسی کے شاگرد نہ تھے۔ اسی طرح آپ (یعنی مرزامحمود خلیفہ قادیان)
بھی کسی کے شاگرد نہیں ہیں۔ بے شک آپ سکول میں پڑھتے رہے ہیں۔ مجھ سے بھی پڑھتے رہے ہیں۔ اس زمانہ میں، میں
ہیڈ ماسٹر تھا یا مولوی شیر علی صاحب تھے۔ آپ (مرزامحمود) سکول میں پڑھتے تھے مگر ہر جماعت میں فیل ہوتے
تھے۔ لیکن ہم پھر بھی اگلی جماعت میں چڑھادیتے تھے۔ اس لئے کہ آپ حضرت مسیح موعود (مرزاقادیانی) کے فرزند
ہیں۔ آپ نے مڈل کا امتحان دیا اور میں ساتھ گیا۔ اس میں بھی آپ فیل ہوئے۔ (شاید یہ آپ ہی کا فیض صحبت ہو۔
للمؤلف) پھر انٹرنس کا دیا، اس میں بھی آپ فیل ہوئے۔ (گویا وضعداری برقرار رہی۔ للمؤلف)‘‘
(مفتی صادق قادیانی کا خطبہ جو مرزامحمود خلیفہ قادیان کے نکاح کی تقریب میں بمقام قادیان پڑھا گیا،
الفضل قادیان ج۲۳ نمبر۷۹ ص۲ کالم۱، مؤرخہ ۲؍اکتوبر ۱۹۳۵ء)
(۳۱) بچپن کے دو استاد
’’بچپن میں جب ہائی سکول میں پڑھا کرتا تھا تو دو استاد تھے۔ انہیں دیکھ کر مجھے اتنی گھن اور نفرت
آتی جو بیان سے باہر ہے۔ وہ جب بھی ایک دوسرے کی شکل دیکھتے، کہیں پاخانے کا مذاق شروع ہو جاتا، کہیں ہوا
خارج ہونے کے متعلق ہنسی کرنے لگ جاتے اور مجھے ان کی باتیں سن سن کر اتنی گھن اور نفرت آتی کہ میں چاہتا
وہاں سے بھاگ جاؤں۔ (ایسی باتوں کے وقت ہٹ ج انے میں کیامضائقہ تھا۔
479
للمؤلف) یہ چھچھورا پن، یہ کمینگی، یہ رذالت، یہ بیہودگی اور یہ گندہ مذاق کیوں ہے؟ کوئی نہ کوئی
بکواس شروع کر دیتا ہے۔‘‘
(اخبار الفضل قادیان ج۲۳ نمبر۱۷۷ ص۶ کالم۴، مؤرخہ ۳۱؍جنوری ۱۹۳۶ء، خطبات محمود ج۱۷ ص۶۶)
(۳۲) تعلیمی حالت
’’میری تعلیمی حالت نہایت معمولی تھی۔ سستی کہو یا صحت کی کمزوری کا خیال کر لو۔ میں سکول میں کبھی
اچھے نمبروں پر کامیاب نہیں ہوا تھا۔ دینی تعلیم ایسی تھی کہ میرے گلے اور آنکھوں کی تکلیف کو مدنظر رکھتے
ہوئے حضرت خلیفۃ المسیح اوّل کتاب خود پڑھا کرتے تھے۔ آپ خود کمزور اور بوڑھے تھے۔ مگر میری صحت کو اس قدر
کمزور خیال فرمایا کرتے تھے کہ بخاری اور مثنوی رومی خود پڑھتے اور میں سنتا جاتا۔ عربی ادب کی کتابیں بھی
خود ہی پڑھتے اور جب میں پڑھنا چاہتا تو فرمایا کرتے میاں تمہارے گلے کو تکلیف ہوگی۔ مجھے یاد ہے بخاری کے
ابتدائی چار پانچ سپارے تو ترجمہ سے پڑھائے مگر بعد میں آدھ آدھ پارہ روزانہ بغیر ترجمہ کئے پڑھ جاتے۔ صرف
کہیں کہیں ترجمہ کر دیتے اور اگر میں پوچھتا تو فرماتے جانے دو۔ خدا خود ہی سمجھا دے گا۔‘‘
(مرزامحمود خلیفہ قادیان کی تقریر، الفضل قادیان ج۲۰ نمبر۱۳۳، مؤرخہ ۹؍مئی ۱۹۳۳ء، انوارالعلوم ج۱۳
ص۱۵۲)
(۳۳) آپس کی بات
’’میں نے حضرت خلیفۃ المسیح (حکیم نورالدین) سے جس طرح پڑھا ہے اور کوئی شخص نہیں پڑھ سکتا۔ آدھ آدھ
پارہ بخاری کا آپ پڑھتے تھے اور کہیں کہیں خودبخود ہی کچھ بتادیتے تھے اور بعض وقت سبق کے انتظار میں سارا
سادا دن گزارنا پڑتا تھا اور کھانا بھی بے وقت کھایا جاتا تھا۔ اسی وقت سے میرا معدہ خراب ہوا ہے۔ ایک دفعہ
میرے سر میں درد تھا اور میں پڑھ کر آیا تھا۔ والدہ نے پوچھا کیا پڑھتے ہو۔ میں نے کہا میں تو پڑھتا نہیں۔
مولوی صاحب ہی پڑھتے ہیں۔ آپ نے جاکر مولوی (نورالدین) صاحب سے کہا۔ آپ کیا پڑھاتے ہیں؟ محمودیوں کہتا ہے۔
حضرت مولوی صاحب نے مجھے فرمایا۔ میاں تم ہمیں کہتے، بیوی صاحبہ کو کہنے کی کیا ضرورت تھی۔‘‘
(ارشاد مرزامحمود خلیفہ قادیان ڈائری، الفضل قادیان ج۱۰ نمبر۱ ص۷ کالم۱، مؤرخہ ۳؍جولائی ۱۹۲۲ء)
(۳۴) ہتھکنڈے
’’مجھے بچپن میں شوق تھا کہ تماشاگر جو ہتھکنڈے وغیرہ کرتے ہیں انہیں سیکھوں۔ ایک دفعہ ہمارے ایک
احمدی دوست یہاں آئے اور انہوں نے بہت سے تماشے دکھائے میں اس وقت چھوٹا بچہ تھا۔ حضرت مسیح موعود کے پیچھے
پڑ گیا کہ آپ مجھے بھی سکھا دیں۔ آپ پہلے تو انکار کرتے رہے۔ مگر پھر میرے اصرار پر آپ نے اس احمدی دوست کو
رقعہ لکھا کہ اگر آپ کے اوقات میں حرج نہ ہو تو میرے بچے کو یہ کھیلیں سکھا دیں۔ انہوں نے مجھے کئی باتیں
سکھادیں۔ پھر حضرت خلیفۃ المسیح اوّل ایک د فعہ لاہور گئے تو میرے شوق کو دیکھ کر شعبدہ کی چار پانچ کتابیں
میرے لئے لے آئے۔ اس طرح میں سینکڑوں شعبدے جانتا ہوں۔ مگر میں نے دیکھا ہے کہ جب کوئی شعبدہ دکھایا جائے
توبڑے بڑے سمجھدار آدمی پاگلوں کی طرح حیران ہوکر رہ جاتے ہیں۔ مگر بچے بات کی تہ کو باآسانی پہنچ جاتے ہیں۔
ایک دفعہ میں نے گھرمیں کوئی ایسا ہی شعبدہ دکھایا تو سب حیران ہوگئے مگر میرا چھوٹا بھتیجا جو ابھی آداب سے
ناواقف تھا اور جو میرے پاس ہی بیٹھا تھا کہنے لگا: ’’چچا ابا جان بھی دیہو۔ میں جانداہان تھاڈی چلاکیاں
نوں۔‘‘ تو بعض دفعہ سادہ لوح بچ جاتا ہے مگر چالاک پھنس جاتا ہے۔‘‘
(ارشاد مرزامحمود خلیفہ قادیان، الفضل قادیان ج۲۲ نمبر۹۰ ص۷،۸ کالم۱تا۳، مؤرخہ ۲۷؍جنوری ۱۹۳۵ء)
480
(۳۵) طالب علم
’’جس وقت حضرت مسیح موعود کو یہ الہام ہوا۔ اس وقت میں طالب علم تھا اور طالب علم بھی ایسا جو ہمیشہ
فیل ہوتا تھا اور میں سمجھتا ہوں اس میں بھی اللہ تعالیٰ کی کوئی حکمت ہوگی وگرنہ اگر کچھ پاس کر لیتا تو ممکن
ہے مجھے خیال ہوتا کہ میں یہ ہوں، وہ ہوں لیکن اب تو اس حقیقت کا انکار نہیں ہوسکتا کہ جو کچھ مجھے آتا ہے
یہ اللہ ہی کا فضل ہے۔ میری اس میں کوئی خوبی نہیں۔ کچھ عرصہ ہوا لاہور میں دو مولوی صاحبان مجھ سے ملنے آئے
اور بطور تمسخر ایک نے پوچھا کہ آپ کی تعلیم کہاں تک ہے۔ میں سمجھ گیا کہ ان کا مقصد کیا ہے۔ میں نے کہا،
کچھ بھی نہیں کہنے لگے۔ آخر کچھ تو ہوگی میں نے کہا صرف قرآن جانتا ہوں کہنے لگے بس قرآن۔ مجھے ان پر تعجب
کہ ان کے نزدیک قرآن جاننا کوئی چیز ہی نہیں اور انہیں اس پر خوشی کہ ان کی تعلیم کچھ نہیں، پھر ایک نے
پوچھا۔ انگریزی پڑھی ہوگی۔ میں نے کہا پڑھتا تو تھا مگر ہر جماعت میں فیل ہوتا تھا۔ کہنے لگے تو پھر انگریزی
بھی نہ ہوئی۔ اس کے بعد پوچھنے لگے پرائیویٹ طور پر تو کچھ تعلیم حاصل کی ہوگی۔ میں نے کہا وہ بھی قرآن ہی
پڑھا ہے اور واقعی یہ امر واقعہ ہے میں ہر جماعت میں فیل ہوتا تھا۔ میری صحت کمزور تھی اور اطباء نے کہا تھا
کہ اس کی تعلیم پر زور نہ دیا جائے وگرنہ اسے سل ہو جائے گی۔‘‘
(مرزامحمود کی تقریر لائل پور، الفضل قادیان ج۲۱ نمبر۱۳۸ ص۳ کالم۳، مؤرخہ ۲۰؍مئی ۱۹۳۴ء)
(۳۶) کتابوں کا کیڑا
’’میں کتابوں کے پڑھنے کا بہت شائق ہوں اور اتنا کہ کتابوں کا کیڑا کہنا چاہئے۔ میں ہر فن ہر مذاق اور
ہر رنگ کی کتابیں پڑھتا رہتا ہوں۔‘‘
(مندرجہ اخبار الفضل قادیان ج۹ نمبر۴۱، مؤرخہ ۲۴؍نومبر ۱۹۲۱ء، خطبات محمود ج۷ ص۱۲۶)
(۳۷) گندی فطرت
’’آپ لوگ جانتے ہیں کہ ہم میں سے ہر ایک شخص سمجھتا ہے کہ جب صحت اچھی نہ ہو تو ایک شادی کرنا بھی
مشکل کام ہوتا ہے۔ چہ جائیکہ ایک ایسا شخص (مرزامحمود) جسے دوشادیوں کے بوجھ کا تجربہ ہو وہ ایک اور کرے
حضرت خلیفۃ المسیح ثانی نے کئی بار فرمایا کہ میری صحت اچھی نہیں مجھ پر بہت بڑی ذمہ داریاں ہیں۔ اس لئے میں
اس رشتہ کو کرتے ہوئے بہت ڈرتا ہوں۔ مگر خدا کی طرف سے جو بات مقدر ہو وہ ہوکر رہتی ہے۔ اس لئے آپ ہی کو یہ
رشتہ (ڈاکٹر سید عبدالستار شاہ کی صاحبزدی مریم سے نکاح) کرنا پڑا۔ ان سب باتوں کے بعد آپ سمجھ سکتے ہیں کہ
کسی دنیوی غرض اور خواہش سے نہیں بلکہ محض حضرت مسیح موعود کی اس بات کو پورا کرنے کے لئے جو آپ نے فرمائی
اور جس کا پورا کرنا بلحاظ وصی اور جانشین کے آپ کا فرض تھا۔ اب اگر کوئی بدقسمتی اور بدبختی سے اعتراض کرے
تو جیسا کہ میں نے بتایا ہے وہ اپنی حالت پر قیاس کر کے کرے گا اور اس طرح اپنی گندی فطرت کو ظاہر کرے گا۔‘‘
(خطبہ نکاح مرزامحمود خلیفہ قادیان، از مولوی سرور شاہ قادیانی، الفضل قادیان ج۸ نمبر۶۱، مؤرخہ
۱۴؍فروری ۱۹۲۱ء)
(۳۸) میری صحت
’’باقی رہا میری صحت کا معاملہ تم (لاہوری فریق) کہتے ہو میری صحت اجازت نہیں دیتی کہ میں (پانچواں)
نکاح (جو عزیزہ خاتون بنت سیٹھ ابوبکر یوسف جمال کے ساتھ ہوا تھا) کروں۔ میری صحت تو بچپن سے ہی خراب ہے۔ اس
لحاظ سے تو میری پہلی شادی بھی
481
نہیں ہونی چاہئے تھی۔ بچپن میں میری صحت خراب تھی اسی وجہ سے حضرت (مرزاقادیانی) صاحب نے حساب کی
تعلیم مجھ سے چھڑا دی تھی۔ پھر محض شادی سے صحت نہیں بگڑ جایا کرتی۔ اگر انسان صحت کے اصول کا خیال رکھے اور
احتیاط کرے تو دس شادیوں کے ساتھ بھی صحت نہیں بگڑتی لیکن سوال تو یہ ہے کہ میری صحت کے متعلق آپ لوگوں کو
کب سے فکر پیدا ہوا ہے۔ اس رنگ میں اعتراض کرنا اس بات پر دلالت کرتا ہے کہ یہی محض ایک بہانہ ہے اور اصل
مقصد اعتراض کرنا ہے۔‘‘
(مندرجہ الفضل قادیان ج۱۳ نمبر۹۶ ص۷ کالم۳، مؤرخہ ۲۳؍مارچ ۱۹۲۶ء، خطبات محمود ج۱۰ ص۹۷)
’’کنجی (سندھ) سے ۲۲؍اپریل ۱۹۴۱ء کو جناب مولوی عبدالرحیم صاحب دردایم۔اے پرائیویٹ سیکرٹری نے بذریعہ
تار اطلاع دی ہے کہ حضرت امیرالمؤمنین ایدہ اللہ تعالیٰ کو بواسیر کی شکایت ہے اور انتڑیوں میں سوزش کی تکلیف
ہے۔ احباب حضور کی صحت کے لئے دعا فرمائیں۔‘‘
(اطلاع، الفضل قادیان ج۲۹ نمبر۹۲، مؤرخہ ۲۵؍اپریل ۱۹۴۱ء)
’’سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا کہ مجھے پروں سے نقرس کا دورہ ہے اور پاؤں کے علاوہ گھٹنے میں
بھی درد شروع ہو گیا ہے۔ اس درد کے ازالہ کی تدبیر تو کی جارہی ہے اور میں دوائی استعمال کر رہا ہوں۔ لیکن
اس دوا کے استعمال کے ساتھ ڈاکٹروں نے پچھلے دورے کے وقت سے یہ ہدایت کی ہوئی ہے کہ مجھے چلنا پھرنا نہیں
چاہئے، بلکہ لیٹے رہنا چاہئے۔ یوں بھی وہ دوا بہت مضعف ہے اور چلنے پھرنے سے خطرہ ہوتا ہے کہ کہیں دل پر
بارنہ پڑ جائے مگر میں نے جمعہ کی خاطر یہی پسند کیا کہ میں یہاں آجاؤں اور خطبہ جمعہ اور نماز پڑھاؤں۔‘‘
(مرزامحمود خلیفہ قادیان کا خطبہ جمعہ، الفضل قادیان ج۳۴ نمبر۱۲۹ ص۱ کالم۱، مؤرخہ ۳؍جون ۱۹۴۶ء، خطبات
محمود ج۲۷ ص۲۴۴)
(۳۹) دودھ
’’ اللہ تعالیٰ نے اس کے اندر انسان کے لئے بہت فوائد رکھے ہیں۔ قرآن کریم میں اس کی یہ تعریف کی گئی ہے
کہ سب سے زیادہ ہضم ہونے والی اور نہایت عمدگی سے جذب ہونے والی غذا ہے لیکن یہی دودھ کسی بیماری اور جسمانی
نقص کی وجہ سے مضر ہو جاتا ہے۔ میرا یہی ذاتی تجربہ ہے مجھے دودھ کسی صورت میں نہیں پچ سکتا۔ چند دن اگر
طبیعت کو مجبور کر کے استعمال کروں تو بخار ہو جاتا ہے اورحضرت مسیح موعود کی وفات سے ایک سال پہلے سے میری
یہی حالت چلی آتی ہے۔‘‘
(مرزامحمود خلیفہ قادیان، الفضل قادیان ج۱۳ نمبر۱۱۵، مؤرخہ ۲۷؍اپریل ۱۹۲۵ء)
(۴۰) دوباتیں
’’حضرت خلیفۃ المسیح (مرزامحمود) نے فرمایا۔ دو باتیں تو مجھ میں بھی پائی جاتی ہیں۔ ایک یہ کہ پالک
کا نام سن کر میرے پٹھوں میں تشنج شروع ہوجاتا ہے اور جسم پر کپکپی سی ہونے لگتی ہے۔ آج ہی کھ انے میں ساگ
تھا۔ جب میں نے اس کے متعلق پوچھا اور بتایا گیا کہ پالک کا ساگ ہے تو یہی حالت ہوئی۔ میں نے اس کے اٹھالینے
کے لئے کہا اور پھر پندرہ بیس منٹ کے بعد میری حالت برقرار ہوئی۔ دوسری بات یہ ہے کہ جب میں کسی بیمار کے
پاس جاؤں۔ خود بیمار ہو جاتا ہوں اور بخار ہو جاتا ہے۔‘‘
(ڈائری مرزامحمود خلیفہ قادیان، الفضل قادیان ج۹ نمبر۳۳ ص۵ کالم۱، مؤرخہ ۲۷؍اکتوبر ۱۹۲۱ء)
(۴۱) سیدنا محمود، مصلح موعود
(عنوان،الفضل قادیان مؤرخہ ۱۴؍مارچ ۱۹۱۶ء)
482
’’آج ۱۴؍مارچ ۱۹۱۶ء وہ مبارک دن ہے جب خداتعالیٰ اپنی عزت وجلال کے ساتھ نئی تجلی سے ہم پر ظاہر ہوا
اور وہ کلمتہ اللہ مجسم ہوکر قدرت ثانی کی صورت میں ہمارے سامنے آیا اور جیسا کہ اس نے پیشتر سے ہمیں اپنے
برگزیدہ رسول (مرزاقادیانی) کے ذریعہ بشارت دی تھی وہ فرزند دلبند گرامی ارجمند مظہرالاوّل والآخر مظہر الحق
والعلا کان اللہ نزل من السماء جلال الٰہی کے ظہور کا موجب ہوا۔ ہم نے اپنی ان آنکھوں سے دیکھا کہ خدا کا نور
آیا جس کو خدا نے اپنی رضامندی کے عطر سے ممسوح کیا ہے۔خدا نے اس میں اپنی روح ڈالی وہ جلد جلد بڑھا اور
اسیروں کی رستگاری کا موجب ہوا۔ زمین کے کناروں تک اس نے شہرت پائی اور قومیں اس سے برکت پارہی ہیں۔‘‘
(الفضل قادیان ج۳ نمبر۹۷ ص۳ کالم۱، مؤرخہ ۱۴؍مارچ ۱۹۱۶ء)
(۴۲) حضرت محمود کی شان
حضرت محمود کی شان اگر معلوم کرنا چاہو تو آؤ اس الٰہی وحی کا مطالعہ کرو جو مسیح پاک پر نازل ہوئی۔
اس میں خدا نے اپنے برگزیدہ رسول کو بشارت دیتے ہوئے فرمایا:
’’اس کو مقدس روح دی گئی اور وہ رجس سے پاک ہے اور وہ نور اللہ ہے مبارک وہ جو آسمان سے آتا ہے۔ اس کے
ساتھ فضل ہے جو اس کے آنے کے ساتھ آئے گا۔ وہ صاحب شکوہ اور عظمت اور دولت ہوگا۔ وہ دنیا میں آئے گا اور
اپنے مسیحی نفس اور روح الحق کی برکت سے بہتوں کو بیماریوں سے صاف کرے گا وہ کلمۃ اللہ ہے۔ کیونکہ خدا کی رحمت
وغیوری نے اسے کلمہ تمجید سے بھیجا ہے۔ وہ سخت ذہین اور فہیم ہوگا اور دل کا حلیم اور علوم ظاہری وباطنی سے
پرکیا جائے گا اور وہ تین کو چار کرنے والا ہوگا… دو شنبہ ہے مبارک دو شنبہ فرزند دلبند گرامی ارجمند مظہر
الاوّل والآخر مظہر الحق والعلا کان اللہ نزل من السماء جس کا نزول بہت مبارک اور جلال الٰہی کے ظہور کا موجب
ہوگا۔ نور آتا ہے نور۔ جس کو خدا نے اپنی رضامندی کے عطر سے ممسوح کیا۔ ہم اس میں اپنی روح ڈالیں گے اور خدا
کا سایہ اس کے سر پر ہوگا۔ وہ جلد جلد بڑھے گا اور اسیروں کی رستگاری کا موجب ہوگا اور زمین کے کناروں تک
شہرت پائے گا اور قومیں اس سے برکت پائیں گی۔‘‘
(مندرجہ تبلیغ رسالت ج۱ ص۵۹،۶۰، مجموعہ اشتہارات ج۱ ص۱۰۱، جدید مجموعہ اشتہارات ج۱ ص۹۶)
’’یہ وہ خدا کا کلام ہے جو اس کے پیارے مسیح پر نازل ہوا۔ اس میں خدائے قدوس حضرت خلیفۃ المسیح کو رجس
سے پاک ٹھہراتا ہے۔ نور اللہ اور کلمۃ اللہ قرار دیتا ہے۔ اپنی رضامندی کے عطر سے ممسوح قرار دے کر اپنی روح آپ
میں ڈالتا اور اسیروں کی رستگاری کا کام آپ کے سپرد فرماتا ہے۔ کیا ممکن ہے جسے خدا ایسا کہہ رہا ہو۔ وہ
نعوذ باللہ ویسا ہو جیسے چند آوارہ گرد اور بدکردار انسان دنیا میں مشہور کر رہے ہیں؟ اگر آج دنیا کے تمام
شیاطین بھی اکٹھے ہو جائیں اور وہ ہر گلی اور کوچہ میں یہ شور مچائیں اور کہیں نعوذ باللہ ! آپ ایسے ہیں ویسے
ہیں تو ہر وہ انسان جس نے مسیح پاک کا دامن پکڑا ہے اپنے صمیم قلب سے اس شیطنت کا ارتکاب کرنے والے اشخاص کو
جھوٹا اور مفتری قرار دے گا اور کہے گا ایسا ہر گز نہیں سچ وہی ہے جو خدا نے کہا اور کون ہے جو خدا سے بھی
بڑھ کر سچا ہو۔‘‘
(الفضل قادیان ج۱۷ نمبر۹۲ ص۵،۶ کالم۱تا۳، مؤرخہ ۶؍مئی ۱۹۳۰ء)
(۴۳) فخر رسل
’’محمود جو میرا بڑا بیٹا ہے… ۱۲؍جنوری ۱۸۸۹ء کو مطابق ۹؍جمادی الاوّل ۱۳۰۶ھ بروز شنبہ محمود پیدا ہوا
اور اس کے پیدا ہونے
483
کی میں نے اس اشتہار میں خبر دی ہے جس کے عنوان پر تکمیل تبلیغ موٹی قلم سے لکھا ہوا ہے۔ جس میں بیعت
کی دس شرائط مندرج ہیں اور اس کے صفحہ۴ میں یہ الہام پسرموعود کی نسبت ہے ؎
-
اے فخر رسل قرب تو معلومم شد
دیر آمدہ زراہ دور آمدہ
(تریاق القلوب ص۴۲، خزائن ج۱۵ ص۲۱۹)
’’آخر میں ہم پھر ایک دفعہ خوش آمدید اور اہلاً وسہلاً مرحبا عرض کرتے ہیں اور اس شعر کو جو حضور
(مرزامحمود) کے لئے ہی ہے اور موجودہ موقعہ کے بہت موزوں ہے دہراتے ہیں ؎
-
اے فخر رسل قرب تو معلومم شد
دیر آمدہ زراہ دور آمدہ
(سفر انگلستان سے واپسی پر مرزامحمود کی خدمت میں قادیانی جماعت کا ایڈریس، الفضل قادیان ج۱۲ نمبر۵۹،
مؤرخہ ۲۵؍اکتوبر ۱۹۲۴ء)
(۴۴) وہ بیٹا
’’میں وہ بیٹا ہوں جس کی خبر انبیاء بنی اسرائیل نے دی، میں وہ بیٹا ہوں جس کی خبر رسول اللہ نے دی، میں
وہ بیٹا ہوں جس کے محمود ہونے کی مسیح موعود نے خبردی اور جس کو موعود بیٹا ٹھہرایا۔ ہاں! میں ابھی نہیں کہہ
سکتا کہ آیا میں مصلح موعود ہوں۔ کیونکہ مجھے خدا نے اس کی خبر نہیں دی۔ اگر مجھے خبر دی گئی تو کسی سوال کی
ضرورت نہ ہوگی میں خود اعلان کردوں گا۔‘‘
(تقریر مرزامحمود خلیفہ قادیان، الفضل قادیان ج۵ نمبر۲۴ ص۲ کالم۳، مؤرخہ ۲۲؍ستمبر ۱۹۱۷ء)
(۴۵) میرا انکار
’’جس طرح مسیح موعود کا انکار تمام انبیاء کا انکار ہے، اسی طرح میرا انکار انبیاء بنی اسرائیل کا
انکار ہے جنہوں نے میری خبر دی۔ میرا انکار رسول اللہ کا انکار ہے جنہوں نے میری خبر دی۔ میرا انکار شاہ نعمت
اللہ ولی کا انکار ہے جنہوں نے میری خبر دی۔ میرا انکار مسیح موعود کا انکار ہے جنہوں نے میرا نام محمود رکھا
اور مجھے موعود بیٹا ٹھہرا کر میری تعیین کی۔‘‘
(تقریر مرزامحمود خلیفہ قادیان، الفضل قادیان ج۵ نمبر۲۴ ص۲ کالم۳، مؤرخہ ۲۳؍ستمبر ۱۹۱۷ء)
(۴۶) میرا جوا
’’جو حضرت مسیح موعود کے ایک لفظ کو بھی جھوٹا سمجھتا ہے وہ خدا کی درگاہ سے مردود ہے۔ کیونکہ خدا
اپنے نبی کو وفات تک غلطی میں نہیں رکھتا۔‘‘
(آئینہ صداقت ص۵۳، انوارالعلوم ج۶ ص۱۲۴)
’’جو میرا جوا اپنی گردن سے اتارتا ہے وہ حضرت مسیح موعود (مرزاقادیانی) کا جوا اتارتا ہے اور جوان کا
جوا اتارتا ہے وہ رسول کریم ﷺ کا جوا اتارتا ہے اور جوآنحضرت ﷺ کا جوا اتارتا ہے وہ خداتعالیٰ کا جوا اتارتا
ہے۔ میں بے شک انسان ہوں۔ خدا نہیں ہوں مگر یہ کہنے سے نہیں رہ سکتا کہ میری اطاعت اور فرمانبرداری میں
خداتعالیٰ کی اطاعت اور فرمانبرداری ہے۔‘‘
(الفضل قادیان ج۲۵ نمبر۲۰۶ ص۸ کالم۱، مؤرخہ ۴؍ستمبر ۱۹۳۷ء، خطبات محمود ج۱۸ ص۳۷۷)
484
(۴۷) بہمہ صفت موصوف انسان
(عنوان، الفضل قادیان مؤرخہ ۲۸؍فروری ۱۹۲۵ء)
’’تاریخ عالم سے پتہ لگتا ہے کہ آدم کے فرزندوں میں سے جو ممتاز سمجھے گئے ہیں ان کو صرف ایک یا چند
ایک خوبیوں اور نعمتوں سے خاص حصہ ملا ہے جس کی وجہ سے ان کے نام صفحہ دہر پر خاص طور پر مشہور ہیں۔ مثلاً
کوئی حسب ونسب کی وجہ سے فائق سمجھا گیا اور کوئی مال ودولت کی وجہ سے مشہور ہوا۔ کسی کو حکومت ملی اور کوئی
علوم کا حامل ہوا۔ کسی کو خلافت عطاء ہوئی کوئی حکمت ودانائی کی وجہ سے لقمان بنا اور کوئی معاملہ فہمی کی
وجہ سے مراتب پایا گیا۔ الغرض جس قدر بھی کمالات ظاہری وباطنی ہیں وہ ہزاروں اور لاکھوں انسانوں میں انفرادی
صورت میں منقسم پائے جاتے ہیں لیکن حیرت انگیز امر یہ ہے کہ آج دنیا میں آدم کا ایک فرزند موجود ہے جس کی
۳۵سالہ زندگی میں وہ تمام کمالات مجموعی طور پر پائے جاتے ہیں جو مختلف اوقات میں مختلف افراد میں فرداً
فرداً پائے گئے وہ بے مثل انسان امام جماعت احمدیہ (مرزامحمود خلیفہ قادیان) ہے۔‘‘
حضرات انبیاء کرام کی ذات ستودہ صفات اس سے اعلیٰ وارفع ہے کہ اس مقابلہ میں شامل ہو۔ (حاشیہ)
پس اے سوانح اور وقائع نویسو اور اے تاریخ عالم کے رازدارو بتلاؤ کہ کیا یہی وہ چند مشہور کمالات
انسانی نہیں جن میں سے کسی کو ایک اور کسی کو دو ملنے کی وجہ سے ناز ہوتا رہا اور تم لوگوں نے اس کی تعریف
وتوصیف کے راگ الاپے۔ کیا ہی لطف کی بات ہے کہ اب تمہارے ذوق کے لئے خدا نے آج ایک ایسا انسان پیدا کیا ہے
جس کے اکیلے وجود کے اندر سب کمالات مجتمع کر دئیے گئے ہیں۔
(الفضل قادیان ج۱۲ نمبر۹۵، مؤرخہ ۲۸؍فروری ۱۹۲۵ء)
(۴۸) خلیفہ قادیان
’’اس کے بعد میں ایک ایسی پیش گوئی کو لیتا ہوں جو آپ سے مجھ سے بلکہ ساری دنیا سے تعلق رکھتی ہے۔
حضرت مسیح موعود (مرزاقادیانی) کا الہام ہے:’’انی معک یا ابن رسول اللہ‘‘ سب مسلمانوں
کو جو روئے زمین پر ہیں جمع کرو۔ ’’علی دین واحد‘‘ (۲۰؍نومبر ۱۹۰۵ء) یعنی اے اللہ کے
رسول (غلام احمد قادیانی) کے بیٹے (محمود احمد قادیانی) میں تیرے ساتھ ہوں۔ تم سب دنیا کے مسلمانوں کو ایک
سلسلہ میں جمع کرو اور ایک دین کا پابند بناؤ۔‘‘
(مرزامحمود خلیفہ قادیان کی تقریر لائل پور، الفضل قادیان ج۲۱ نمبر۱۳۸ ص۳ کالم۳، مؤرخہ ۲۰؍مئی ۱۹۳۴ء)
(۴۹) اسلام کی ترقی
’’آپ لوگ اس بات کو سمجھیں یا نہ سمجھیں اسی طرح دنیا اس بات کو سمجھے یا نہ سمجھے مگر امر واقعہ یہ
ہے کہ اس وقت اسلام کی ترقی خداتعالیٰ نے میرے ساتھ وابستہ کر دی ہے جیسا کہ وہ ہمیشہ اپنے دین کی ترقی
خلفاء کے ساتھ وابستہ کیا کرتا ہے۔ پس جو میری سنے گا وہ جیتے گا اور جو میری نہیں سنے گا وہ ہارے گا۔ جو
میرے پیچھے چلے گا خداتعالیٰ کی رحمت کے دروازے اس پر کھولے جائیں گے اور جو میرے راستے سے الگ ہوجائے گا
خدا تعالیٰ کی رحمت کے دروازے اس پر بند کردئیے جائیں گے۔‘‘
(اخبار الفضل قادیان ج۲۳ نمبر۲۹۹ ص۴ کالم۲، مؤرخہ ۲۵؍جون ۱۹۳۶ء، خطبات محمود ج۱۷ ص۳۹۶)
485
(۵۰) سلسلہ خلافت
’’ایک شخص نے سوال کیا کہ کیا حضور کے بعد بھی خلیفہ آسکتا ہے یا آئے گا۔ حضور (مرزامحمود) نے
لکھوایا۔ ہم تو خلافت کے قرآن مجید کی تعلیم کے مطابق قائل ہیں۔ اگر جماعت مستحق ہو گی تو خلیفہ ہوگا۔ اگر
اس قابل نہ ہوئی تو خلیفہ نہیں ہوگا۔‘‘
(الفضل قادیان ج۹ نمبر۸۷ ص۷ کالم۲، مؤرخہ ۸؍مئی ۱۹۲۲ء)
(۵۱) دنیا بامیدقائم
’’ہماری جماعت میں سے اس وقت تک کوئی حضرت ہارون سے بڑا درجہ نہیں رکھتا اور بڑا کیا، مساوی درجہ بھی
نہیں رکھتا۔ کیونکہ وہ خداتعالیٰ کے نبی تھے اور تم میں سے اس وقت تک کوئی نبی نہیں ہے۔ آئندہ اگر خداتعالیٰ
کسی کو نبی بنادے تو اس کا علم اسی کو ہے۔‘‘
(ارشاد مرزامحمود خلیفہ قادیان، الفضل قادیان ج۸ نمبر۲۷ ص۳ کالم۳، مؤرخہ ۱۱؍اکتوبر ۱۹۲۰ء)
(۵۲) یوسف اور عثمان
’’خداتعالیٰ ہررنگ میں اور ہر طرح میری تائید فرمارہا ہے اور ان کی کچھ تائید نہیں کرتا یہی ان کے بے
راہ ہونے کی خدائی شہادت ہے۔ وہ یاد رکھیں یہ زمانہ بدلہ لینے کا ہے۔ پہلے یوسف کو یوسف کے بھائیوں نے کنعان
سے نکالا تھا لیکن خدا نے اس یوسف (مرزامحمود) کو اس لئے بھیجا ہے کہ یہ اپنے دشمن بھائیوں (لاہوری جماعت)
کے قادیان سے نکلنے کا موجب ہوجائے۔ مجھ کو کہتے ہیں کہ عثمان ہے۔ میں کہتا ہوں ہاں عثمان ہوں۔ مگر وہ عثمان
تو دشمنوں کے ہاتھوں شہید ہوا اور میں وہ عثمان ہوں کہ میرے مخالف ناکام رہیں گے اور ناکام رہے ہیں۔‘‘
(مرزامحمود خلیفہ قادیان کی تقریر، الفضل قادیان ج۶ نمبر۷۵ ص۹ کالم۱، مؤرخہ یکم؍اپریل ۱۹۱۹ء)
(۵۳) حضرت امام حسن رضی اللہ عنہ کی ناشکری
’’سالانہ جلسہ (قادیان) کے موقعہ پر مرزا (محمود) صاحب (خلیفہ قادیان) نے فرمایا کہ میں اتفاق کی خاطر
اس خلافت سے دست کش ہو جاتا مگر میرے سامنے حضرت امام حسن صاحب کا ایک واقعہ ہے کہ جب انہوں نے خدا کی دی
ہوئی نعمت سلطنت کو ترک کر کے امیرمعاویہ کے سپرد کر دیا تو ان کی ناشکری کے طفیل خداتعالیٰ نے ہمیشہ کے لئے
ان کے خاندان سے سلطنت چھین لی۔ یہی وجہ ہے کہ پھر آج تک ان کے خاندان میں کوئی بھی بادشاہ نہ ہوا۔‘‘
(المہدی نمبر۲،۳ ص۳۴، حکیم محمد حسین قادیانی لاہوری)
’’ساری دنیا میری دشمن اور جان کی پیاسی ہو جاتی جو کہ زیادہ سے زیادہ یہی کرتی کہ میری جان نکال لیتی
تو بھی میں آخری دم تک اس بات پر قائم رہتا اور کبھی خداتعالیٰ کی نعمت کے رد کرنے کاخیال بھی میرے دل میں
نہ آتا کیونکہ یہ غلطی بڑے بڑے خطرناک نتائج پیدا کرتی ہے… ایک دفعہ انہوں نے خدا کی نعمت کو چھوڑا۔
خداتعالیٰ نے کہا اچھا اگر تم اس نعمت کو قبول نہیں کرتے تو پھر تم میں سے کسی کو یہ نہ دی جائے گی۔ چنانچہ
پھرکوئی سید کبھی بادشاہ نہیں ہوا۔ سوائے چھوٹی چھوٹی حکومتوں کے سیدوں کو حقیقی بادشاہت اور خلافت کبھی
نہیں ملی۔ امام حسن رضی اللہ عنہ نے خدا کی دی ہوئی نعمت واپس کر دی۔ جس کا نتیجہ بہت تلخ نکلا تو خداتعالیٰ کی دی ہوئی
نعمت کو رد کرنا کوئی معمولی بات نہیں ہے۔‘‘
(برکات خلافت ص۲۱،۲۲، انوارالعلوم ج۲ ص۱۷۰)
486
(۵۴) نڈر
’’ اللہ تعالیٰ بہتر جانتا ہے کہ میں نے خلافت کسی شخص کی مدد سے حاصل نہیں کی اس لئے میں کسی شخص سے کبھی
ڈرا نہیں۔ نہ ڈرتا ہوں اور نہ کبھی ڈروں گا۔ ابھی ایک صاحب کہہ رہے تھے کہ اس قدر شورش ہورہی ہے کہ ڈر ہے
بغاوت نہ ہو جائے کیا امان اللہ خان کی حالت آپ کو بھول گئی ہے۔ میں نے انہیں کہا۔ اگر امان اللہ خان سے بدتر
حالت ہو جائے جب بھی میں نہیں ڈرتا کیونکہ میں جانتا ہوں چونکہ میرے کام اللہ تعالیٰ کے ارادہ کے ماتحت ہیں۔ اس
لئے فرشتے میرے مددگار ہیں۔ پس کوئی بھی میری ایسی مخالفت نہیں کر سکتا جس سے میں تباہ ہو جاؤں باقی شورش
وغیرہ سے تو وہی ڈر سکتا ہے جس کے نزدیک کامیابی کا معیار آدمیوں کی تعداد ہو۔ میں اس کا قائل نہیں ہوں رسول
کریم ﷺ نے فرمایا کہ بعض انبیاء ایسے گزرے ہیں جن کی وفات پر صرف ایک شخص ان پر ایمان لانے والا تھا۔ پس اگر
میرے ساتھ دو آدمی بھی رہے جائیں گے جب میں ان انبیاء سے زیادہ کامیابی حاصل کرنے والا ہوں گا۔‘‘
(اخبار الفضل قادیان ج۱۷ نمبر۵۶، مؤرخہ ۱۷؍جنوری ۱۹۳۰ء، خطبات محمود ج۱۲ ص۲۵۲،۲۵۳)
(۵۵) میرا ہی کام
’’الغرض نبی کا کام بیان فرمایا تبلیغ کرنا، کافروں کو مومن کرنا، مومنوں کو شریعت پر قائم کرنا، پھر
باریک درباریک راہوں کا بنانا، پھر تزکیہ نفس کرنا، یہی کام خلیفہ کے ہوتے ہیں۔ اب یاد رکھو کہ اللہ تعالیٰ نے
یہی کام اس وقت میرے رکھے ہیں۔‘‘
(منصب خلافت ص۹، انوارالعلوم ج۲ ص۳۰)
’’پس آپ (قادیانی) وہ قوم ہیں جس کو خدا نے چن لیا اور یہ میری دعاؤں کا ایک ثمرہ ہے جو اس نے مجھے
دکھایا۔ اس کو دیکھ کر میں یقین رکھتا ہوں کہ باقی ضروری سامان بھی وہ آپ ہی کرے گا اور ان بشارتوں کو عملی
رنگ میں دکھادے گا اور اب میں یقین رکھتا ہوں کہ دنیا کو ہدایت میرے ہی ذریعہ ہوگی اور قیامت تک کوئی زمانہ
ایسا نہ گزرے گا جس میں میرے شاگرد نہ ہوں گے۔ کیونکہ آپ لوگ جو کام کریں گے، وہ میرا ہی کام ہوگا۔‘‘
(منصب خلافت ص۱۷، انوارالعلوم ج۲ ص۳۶)
(۵۶) بیعت کا مفہوم
’’ہر شخص جو سلسلہ میں داخل ہے جس نے میرے ذریعہ حضرت مسیح موعود (مرزاقادیانی) آپ کے ذریعہ آنحضرت ﷺ
کی اور ان کے ذریعہ خدا کی بیعت کی ہے۔ وہ اپنی جان، مال، عزت، آبرو، اولاد، جائیداد غرض کہ ہر چیز خدا رسول
اور اس کے نمائندوں کے لئے قربان کرچکا ہے اور اب کوئی چیز اس کی اپنی نہیں۔ میں یہ کھول کر بتادینا چاہتا
ہوں کہ جس کے دل میں بیعت کے اس مفہوم کے متعلق ذرہ بھی شبہ ہے وہ اگر منافق کہلانا نہیں چاہتا تو وہ اب بھی
بیعت کو چھوڑ دے۔ جس بیعت میں نفاق ہو وہ کسی فائدہ کا موجب نہیں ہوسکتی۔ بلکہ وہ ایک لعنت ہے جو اس کے گلے
میں پڑی ہوئی ہے۔ پس جو شخص یہ سمجھتا ہے کہ اس نے میری بیعت کسی شرط کے ساتھ کی ہوئی ہے اور کوئی چیز اس کی
اپنی باقی ہے اور اس کے لئے میری اطاعت مشروط ہے۔ وہ میری بیعت میں نہیں۔‘‘
(اخبار الفضل قادیان ج۲۲ نمبر۵۴ ص۳ کالم۳، مؤرخہ یکم؍نومبر۱۹۳۴ء، خطبات محمود ج۱۵ ص۲۸۵،۲۸۶)
487
(۵۷) جگت خلیفہ
’’میں صرف ہندوستان کے لوگوں کا ہی خلیفہ نہیں۔ میں خلیفہ ہوں حضرت مسیح موعود (مرزاقادیانی) کا اور
اس لئے خلیفہ ہوں افغانستان کے لوگوں کے لئے۔ عرب، ایران، چین، جاپان، یورپ، امریکہ، افریقہ، سماٹرا، جاوا
اور خود انگلستان کے لئے غرضیکہ کل جہاں کے لوگوں کے لئے میں خلیفہ ہوں۔ اس بارے میں اہل انگلستان بھی میرے
تابع ہیں۔ دنیا کا کوئی ملک نہیں جس پر میری مذہبی حکومت نہیں۔ سب کے لئے یہی حکم ہے کہ میری بیعت کر کے
حضرت مسیح موعود (مرزاقادیانی) کی جماعت میں داخل ہوں۔ لیکن دوسرا حکم وقتی ہے اور حالات کے ماتحت بدلتا
رہتا ہے۔ آج یہاں انگریزوں کی حکومت ہے اور ہم اس کے وفادار ہیں۔ لیکن کل یہ بدل گئی تو ہم اس نئی حکومت کے
وفادار ہوں گے۔ اس کے بالمقابل خلافت نہیں بدل سکتی۔ اس وقت میں خلیفہ ہوں اور میری موت سے پہلے کوئی دوسرا
خلیفہ نہیں ہوسکتا اور تمام دنیا کے احمدیوںکے لئے میری ہی اطاعت فرض ہے… اس میں جو تفرقہ کرتا ہے وہ فاسق
ہے اور جماعت کا ممبر نہیں۔‘‘
(اخبار الفضل قادیان ج۲۲ نمبر۵۴ ص۴ کالم۲،۳، مؤرخہ یکم؍نومبر ۱۹۳۴ء، خطبات محمود ج۱۵ ص۲۸۸)
’’حضور ایدہ اللہ تعالیٰ (مرزامسرور قادیانی خلیفہ) نے فرمایا،آنحضرت ﷺ کی امت میں آپ پر سچا ایمان
لاکر، آپ کا سچا متبع ہوکر، نبی ہوسکتا۔ حضرت اقدس مسیح موعود (مرزاقادیانی) کے بعد جو خلافت کا سلسلہ جاری
ہے یہ خلافت صرف احمدیہ کمیونٹی کے لئے نہیں، بلکہ مسلمانوں کے لئے ہے۔ مسلمانوں میں سے بھی لوگ جماعت
احمدیہ میں داخل ہورہے ہیں۔ ہم صرف غیرمسلموں کو ہی تبلیغ نہیں کرتے بلکہ ہر مذہب اور ہرفرقہ کو، خواہ وہ
مسلمانوں کا ہو، تبلیغ کرتے ہیں۔ پس خلافت احمدیہ پہلے مسلم امہ (مسلم امہ نے تو قادیانی خلافت کو تو قبول
ہی نہیں کیا۔ ناقل) کے لئے اور پھر باقی دنیا کے لئے ہے۔‘‘
(الفضل انٹرنیشنل لندن ج۱۷ نمبر۳۷ ص۱۲ کالم۱، مؤرخہ ۱۰تا۱۶ستمبر ۲۰۱۰ء)
(۵۸) ایک ہی
’’اس وقت روئے زمین پر ایک ہی سچا روحانی خلیفہ ہے جس کا نام ہے مرزابشیرالدین محمود احمد ایدہ اللہ
بنصرہ۔ وہ اپنے ساتھ ایک جماعت مخلصین رکھتا ہے۔ جو خدا کے مرسل خدا کے نبی (مرزاقادیانی) کے ہاتھ پر تیار
کئے گئے ہیں۔ وہ مشرق ومغرب میں دین اسلام کا ڈنکا بجارہا ہے وہ اپنے اندر وہ برکات رکھتا ہے جو انبیاء سے
ورثہ میں ملتے ہیں اس کو مقدس روح دی گئی ہے اور وہ رجس سے پاک ہے وہ نور اللہ ہے۔ اس کے ساتھ فضل ہے۔ وہ صاحب
شکوہ اور عظمت اور دولت ہے وہ دنیا میں آیا تا اپنے مسیحی نفس اور روح الحق کی برکت سے بہتوں کو بیماریوں سے
صاف کرے۔ وہ کلمۃ اللہ ہے کیونکہ خدا کی رحمت وغیوری نے اسے کلمہ تمجید سے بھیجا ہے۔ وہ سخت ذہین وفہیم ہے اور
دل کا حلیم۔ علوم ظاہری وباطنی سے پرکیاگیا ہے۔ وہ مظہر الحق والعلاء ہے۔ اس کانزول بہت مبارک اور جلال
الٰہی کے ظہور کا موجب ہے وہ نور ہے۔ نور جس کو خداتعالیٰ نے اپنی رضامندی کے عطر سے ممسوح کیا۔ اس میں خدا
کی روح ڈالی گئی اور خدا کا سایہ اس کے سر پر ہے۔ وہ جلد جلد بڑھا اور اسیروں کی رست گاری کا موجب ہوا وہ
زمین کے کناروں تک شہرت پائے گا اور قومیں اس سے برکت پائیں گی اور مبارک وہ جو اس کے آستانہ اقدس پر
سرتسلیم رکھتے ہیں۔‘‘
(الفضل قادیان ج۱۱ نمبر۷۸، مؤرخہ ۴؍اپریل ۱۹۲۴ء)
(۵۹) شخصیت پرستی
’’میاں محمود احمد صاحب صاف طور پر خطبوں میں اعلان کر رہے ہیں کہ جو میں کہوں گا۔ وہ ماننا پرے گا۔
خواہ سمجھ میں نہ آوے اور
488
عقل اسے قبول نہ کرے۔ کیونکہ بیعت کا منشاء ہی یہی ہے کہ نامعقول باتیں بھی مانی جائیں۔ ورنہ معقول
باتوں کو ماننے کے لئے بیعت کی ضرورت ہی کیا ہے میاں صاحب نے خدا اوررسول ﷺ کے احکام کو پہلے برائے نام مقدم
بنایا۔ پھر ساتھ ہی چٹکی میں مسل کر رکھ دیا کہ خدا اور رسول کے احکام میں اجتہاد وہی مقبول ہوگا جو میں
کروں گا۔ جس کے صاف معنی یہ ہیں کہ جو خلیفہ حکم دے وہی کرو۔ قرآن اس کے خلاف ہو تو ہوا کرے کیونکہ خلیفہ نے
خواہ کتنا ہی غلط سمجھا ہو وہ سب ٹھیک ہے۔ شخصیت پرستی کی اس سے بدترمثال اور نہیں مل سکتی۔ قرآن وحدیث پر
غور کرنے اور اسے سمجھ کر کسی استنباط اور اجتہاد کرنے کا دروازہ جب تمام قوم پر بند کر دیا گیا تو قرآن
وحدیث کو مقدم کرنے کا نام لینا محض ایک ڈھونگ ہے جس کے نیچے کوئی حقیقت نہیں۔ خلیفہ بجائے خود خدا اور رسول
کا قائم مقام بن گیا۔ یہ شرک ہے اور خدا اور رسول کی سخت بے ادبی ہے۔ جس کے دماغ میں تھوڑی سی بھی عقل ہوگی
وہ ان امور کو سمجھ سکتا ہے لیکن ساری قوم کی آنکھیں بند ہیں۔ کیوں؟ محض اس لئے کہ بیٹا ہے اور بخشا ہوا ہے۔
کیا بیٹا کے سوا کوئی اور یہ باتیں کرتا تو قوم مان لیتی؟ ہرگز نہیں محض بیٹا ہوتا اس ساری اسکیم کو چلائے
جارہا ہے۔ بیٹا ہے۔ اس کے لئے دعائیں ہوچکی ہیں بخشا ہوا ہے۔ اس لئے سچا ہے اور اب کی دفعہ تو سنا ہے خود
میاں محمود احمد صاحب نے بھی سالانہ جلسہ پر اعلان کیا ہے کہ وہ اور ان کے بھائی صاحبان سب بخشے ہوئے جنتی
ہیں۔ انہیں جنت کے لئے کسی عمل کی ضرورت نہیں۔ ان کے اعمال فقط شکریہ کے طور پر ہیں اور قوم سن سن کر
سردھنتی رہی۔ یہ کیوں؟ اس لئے کہ وہ حضرت مسیح موعود کے وہ بیٹے۔‘‘
(پیغام صلح لاہور ج۲۳ نمبر۸ ص۴ کالم۲، مؤرخہ ۳؍فروری ۱۹۳۵ء، ازڈاکٹر بشارت احمد قادیانی لاہوری)
(۶۰) قادیان کی گدی
’’قدرت ثانیہ کا وہ نظارہ ہمیں نظر نہیں آیا جب تک کہ ۱۹۱۴ء کو جماعت دو حصوں میں منقسم نہیں ہوگئی۔
حضرت مولانا نور الدین کے زمانہ میں بنابنایا کام چلتا رہا اور ترقی کرتا رہا اور آج میاں محمود صاحب کی گدی
کے زمانہ میں جو کچھ ترقی اس فریق کو ہے وہ محض اس وجہ سے ہے کہ بنابنایا کام۔ بنی بنائی جماعت۔ بنی بنائی
قومی جائیدادیں، اسکول، بورڈنگ، روپیہ، خزانہ سبھی کچھ بنابنایا مل گیا۔ قادیان کا مرکز اور مسیح موعود کا
بیٹا ہونا کام بناگیا۔ قادیان کی گدی نہ ہوتی۔ مسیح موعود کا بیٹا نہ ہوتے اور کہیں باہر جاکر میاں محمود
احمد صاحب اپنے عقیدہ تکفیر ونبوت کو پھیلا کر دکھاتے اور پھر نئے سرے سے جماعت بنتی اور ترقی کرتی تو کچھ
بات ہوتی۔ شکرکریں کہ قادیان ویسے بھی آباؤاجداد کی میراث تھا اور پھر مسیح موعود کی مل گئی گدی۔ اشتہاروں
میں سے مل گئیں کچھ مبہم اور متشابہ پیش گوئیاں۔ اس طرح لوگوں پر رعب جما کر اور پسر موعود کا مبہم ساچولا
پہن کر لوگوں پر خلافت کا وہ رعب جمایا کہ پوپ روبا گرد ہوکر رہ گیا۔ اس کا نام نصرت الٰہیہ نہیں اس کا نام
ہے دنیا اور اس کے اسباب سیاست۔ اس کی چالیں۔ پیری اور اس کے کرشمے۔ ورنہ اس طرح تو پھر دنیا بھر کے پیروں
کی گدیاں قدرت ثانیہ کا مظہر بن جائیں گی۔‘‘
(پیغام صلح لاہور ج۲۲ نمبر۷۸ ص۱۹ کالم۳، مؤرخہ ۱۵؍دسمبر ۱۹۳۴ء، از ڈاکٹر بشارت احمد قادیانی لاہوری)
(۶۱) میاں صاحب کی اصلاحات
’’میں کہتا ہوں میاں محمود احمد صاحب اگر مصلح موعود ہیں تو کیا یہ ضروری نہیں کہ وہ اس کا بڑے زور سے
دعویٰ کرتے اور ان اصلاحات کو پیش کرتے جو ان کے ذریعے ظہور میں آئی ہیں۔ لیکن بات اصل یہ ہے کہ اپنے خالی
مریدوں کا دل رکھنے کے لئے اگرچہ انہوں نے کہہ تو دیا کہ ہاں ہاں تسلی رکھو میں ہی مصلح موعود ہوں۔ مگر وہ
اس دعویٰ پر زور نہیں دے سکتے۔ کیونکہ واقعات اس کے مخالف ہیں۔ وہ کیا
489
اصلاحات پیش کریں گے۔ یہی کہ محمد رسول اللہ ﷺ کی ختم نبوت کو تباہ کردیا۔ آپ کے بعد ایسے نبیوں کی
بعثت کو جاری مان کر جن پر ایمان لانا شرائط ایمان میں سے ہے، شریعت اسلام کے حصہ ایمانیات کو ناقص قرار دے
دیا اور وحدت اسلامی کو فنا کر دیا۔ پھر ایسی نبوت کے اجراء کا لازمی نتیجہ یہ ہوا کہ تمام دنیا کے کلمہ گو
مسلمانوں کو کافر خارج از اسلام قرار دے کر کلمہ طیبہ لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ کو عملاً منسوخ کر دیا۔
گویا ایک دین کے بعد دوسرا دین شروع کر دیا۔ جن میں کفر اور اسلام کا فرق ہے۔ پھر پوپوں کی تقلیدکرتے ہوئے
خلافت کو شوریٰ سے نکال کر استبدادیت کاایسا زبردست جامہ اسے پہنایا کہ خلیفہ پر سچے اعتراضات کرنے والا بھی
مستوجب عذاب ٹھہر گیا۔ گویا دوبارہ انسان پرستی کے بت کو کھڑا کر دیا۔ آخر واقعات، واقعات ہیں اور ان سے
آنکھیں کس طرح بندکی جاسکتی ہیں۔ اگر یہی وہ اصلاحات ہیں جو جناب میاں محمود احمد صاحب سے ظہور پذیر ہوئی
ہیں تو فرمائیے کہ عقل انسانی یا فطرت سلیم ایسے شخص کو کس طرح مصلعح موعود مان سکتی ہے۔‘‘
(پیغام صلح لاہور ج۲۴ نمبر۵۶ ص۹ کالم۱، مؤرخہ ۳؍ستمبر ۱۹۳۶ء)
(۶۲) دنیا حیران
’’میں نے قرآن کو قرآن سمجھ کر پڑھا اور اس سے فائدہ اٹھایا اور اب اس قابل ہوا کہ میں تمام مخالف
علماء کو چیلنج دیتا ہوں کہ کوئی آیت لے کر مجھ سے تفسیر کلام الٰہی میں مقابلہ کر لیں۔ میں ان شاء اللہ تائید
الٰہی سے اس کے ایسے معنی بیان کروں گا کہ دنیا حیران رہ جائے گی۔‘‘
(ارشاد مرزامحمود خلیفہ قادیان، مصباح قادیان مؤرخہ ۱۵؍جنوری ۱۹۳۰ء، الفضل قادیان ج۱۷ نمبر۹۹ ص۷
کالم۲، مؤرخہ ۲۰؍مئی ۱۹۳۰ء)
(۶۳) بڑے بڑے علوم
’’قرآن کریم جبرائیل نے نازل کیا ہے اور حضرت (مرزاقادیانی) کی کتب بھی جبرائیلی تائید سے لکھی گئی
ہیں جو شخص خاص ترکیب سے ان کو پڑھے گا وہ ان سے بڑے بڑے علوم پائے گا۔‘‘
(تقریر مرزامحمود خلیفہ قادیان، الفضل قادیان ج۸ نمبر۵۱، مؤرخہ ۱۰؍جنوری ۱۹۲۱ء)
(۶۴) حقائق
’’اسی سلسلہ میں حضور (مرزامحمود) نے بیان کیا۔ حضرت مسیح موعود کو خداتعالیٰ نے قرآن کریم کا جو علم
دیا وہ اور کسی کو حاصل نہ تھا۔ حالانکہ اور لوگ ظاہری علوم کے لحاظ سے بہت بڑھ چڑھ کر تھے۔ نیز حضور
(مرزامحمود) نے یہ بھی فرمایا مجھے بھی خداتعالیٰ نے قرآن کریم کے ایسے معارف سمجھائے ہیں کہ خواہ کوئی
ظاہری علوم میں کتنا بڑھا ہوا ہو۔ اگر قرآن کریم کے حقائق بیان کرنے میں مقابلہ کرے گا تو ناکام رہے گا۔‘‘
(الفضل قادیان ج۱۶ نمبر۵۸، مؤرخہ ۲۲؍جنوری ۱۹۲۸ء)
(۶۵) سیدنا محمود کا ذکر قرآن میں
(عنوان، الفضل قادیان مؤرخہ ۱۲؍مارچ ۱۹۲۳ء)
’’ابتداء میں حضور (مرزامحمود) کی تقریر کا جو حصہ بیان کیاگیا ہے اس کے بعد حضور نے فرمایا۔ یہ تو اس
وقت کا ذکر ہے لیکن اس حالت میں بھی اس رکوع کا مجھ سے خاص تعلق ہے… اس رکوع میں ایک لقمان کا ذکر ہے وہ
لقمان کون ہے۔ اگر کوئی ذرا غور وفکر سے کام لے اور سیاق وسباق کو دیکھے تو معلوم ہوسکتا ہے کہ یہ لقمان
حضرت مسیح موعود (مرزاقادیانی) ہیں… یہ تو اس تقریر کا خلاصہ درخلاصہ بلکہ مفہوم بھی مناسب الفاظ میں نہیں
جو حضور (مرزامحمود) نے درس القرآن میں فرمائی اور بتایا کہ ان آیات میں مسیح موعود (مرزاقادیانی) اور
490
اس کے موعود بیٹے (مرزامحمود) کا ذکر ہے۔‘‘
(الفضل قادیان ج۱۰ نمبر۷۰ ص۲ کالم۲، مؤرخہ ۱۲؍مارچ ۱۹۲۳ء)
(۶۶) مرزامحمود کے سفریورپ کا ذکرقرآن کریم میں
’’یورپ کی طرف مسیح موعود (مرزاقادیانی) یا آپ کے کسی جانشین کا اس غرض سے (یعنی یورپ کے لوگوں کی نقل
وحرکت پر نظر رکھنے کے لئے) سفر کرنا۔ جس غرض سے میں (مرزامحمود) نے ۱۹۲۴ء میں سفر یورپ کیا ہے۔ قرآن کریم
میں مذکور ہے… پس خلیفہ مسیح موعود کا (یورپ) جانا ایسا ہی ہے جیسے کہ خود مسیح موعود کا جانا (ہے)… غرض اے
بھائیو! مسیح موعود یا ان کے کسی جانشین کا مغربی ممالک میں جانے اور وہاں جاکر ان کے متعلق آئندہ تبلیغ کے
متعلق رائے قائم کرنے کی خبر قرآن کریم میں دی گئی ہے اور گویا تمام سفر کا نقشہ کھینچ دیا گیا ہے۔‘‘
(سفر یورپ مندرجہ اخبار الفضل قادیان ج۱۲ نمبر۱۶ ص۷،۸، مؤرخہ ۱۶؍اگست ۱۹۲۴ء، انوارالعلوم ج۸
ص۴۳۴،۴۳۵)
(۶۷) خدائے قادیان
’’خداتعالیٰ بھی اس وقت ہمارے سامنے جلوہ گر ہے اور وہ بھی عریاں ہوکر اپنی تمام صفات کے ساتھ دنیا کے
سامنے رونما ہوگیا ہے اور حضرت مسیح موعود (مرزاقادیانی) کے ذریعہ وہ اپنے سارے حسن کے ساتھ جلوہ نما ہے۔
ایسی حالت میں اگر ہمارے واعظ اور مبلغ خشک دلائل دینے میں لگے رہتے ہیں تو ان جیسا احمق اور بیوقوف کون
ہوسکتا ہے۔ ایسی صورت میں تو ایک ہی علاج ہوسکتا ہے اور وہ یہ کہ لوگوں کے کلے پکڑ کر ان کی آنکھیں اوپر کو
اٹھا دی جائیں اور کہا جائے کہ دیکھ لو وہ خدا ہے جس نے اپنے تازہ نشانات سے دنیا پر اپنے وجود کو ثابت
کیا۔‘‘
(اخبار الفضل قادیان ج۱۴ نمبر۱۷ ص۱۱ کالم۲، مؤرخہ ۱۹؍جولائی ۱۹۳۶ء، خطبات محمود ج۱۷ ص۴۵۷)
(۶۸) اللہ تعالیٰ کے حضور
’’تیسری دفعہ آج مجھے خداتعالیٰ کی روئیت ہوئی ہے جس سے مجھے یقین ہے کہ یہ کام مقبول ہے۔ جہاں تک
مجھے یاد ہے وہ یہی ہے کہ میں مسجد لندن کا معاملہ خداتعالیٰ کے حضور پیش کر رہا تھا۔ میں اللہ تعالیٰ کے حضور
دوزانو بیٹھا تھا کہ خداتعالیٰ نے فرمایا کہ جماعت کو چاہئے کہ ’’جد‘‘ سے کام لیں اور ’’ہزل‘‘ سے کام نہ
لیں۔ ’’جد‘‘ کا لفظ مجھے اچھی طرح یاد ہے اور اس کے مقابلہ میں دوسرا لفظ ’’ہزل‘‘ اسی حالت میں معاً میرے دل
میں آیا تھا۔ اس کے معنی یہ ہیں کہ جماعت کو چاہئے کہ اس کام میں سنجیدگی اور نیک نیتی سے کام لے ہنسی اور
محض واہ واہ کے لئے کوشش نہ کرے۔‘‘
(اخبار الفضل قادیان ج۱۴ نمبر۳۰ ص۳ کالم۳، مؤرخہ ۱۲؍اکتوبر ۱۹۲۶ء، خطبات محمود ج۶ ص۳۷۵)
’’فرشتوں کا آنا کوئی خیالی بات نہیں بلکہ یقینی ہے۔ میں نے (مرزامحمود نے) خود فرشتوں کو دیکھا ہے
اور ایک دفعہ تو بہت بے تکلفی سے باتیں بھی کی ہیں تو ذکر کرنے والے کے پاس ملائکہ آتے ہیں۔‘‘
(ذکر الٰہی ص۹۴، انوارالعلوم ج۳ ص۴۸۷)
(۶۹) بدیہی مسئلہ
’’ختم نبوت ایک ایسا بدیہی مسئلہ ہے کہ کسی مسلمان کو اس سے انکار کرنے کی گنجائش نہیں۔ کیونکہ اس پر
قرآن مجید اور حدیث شریف اور ائمہ مجتہدین رحمہم اللہ تعالیٰ اور دیگر مؤمنین وصالحین کا اتفاق ہوچکا ہے۔ مگر
یہ مسئلہ متفق علیہ ہونے کے باوجود بھی ایک ایسا فرقہ ہے جو اجرائے نبوت کا قائل یا دوسرے لفظوں میں ختم
نبوت کا منکر ہے۔ اس فرقہ کو محمودیہ کہا جاسکتا ہے۔ کیونکہ میاں محمود احمد صاحب (خلیفہ
491
قادیان) ہی اس کے بانی مبانی ہیں اور وہ یہ عقیدہ رکھتے ہیں کہ حضرت مسیح موعود (مرزاغلام احمد
قادیانی) نے نبوت کا دعویٰ کیا ہے۔‘‘
(ختم نبوت اور اسلام (مضمون)، پیغام صلح لاہور ج۲۲ نمبر۲۰ ص۷ کالم۱، مؤرخہ ۳۱؍مارچ ۱۹۳۴ء)
(۷۰) اقرار وانکار
’’انہوں (لاہوری جماعت) نے مخالفت شروع کر دی اور اس رنگ میں مخالفت شروع کر دی کہ گویا ہم احمدی خاتم
النّبیین ﷺ کے منکر ہیں۔ حالانکہ دنیا جاتی ہے کہ ہم منکر نہیں اور ہم رسول کریم ﷺ کو خاتم النّبیین سمجھتے
ہیں اور جب تک ہم رسول کریم ﷺ کو خاتم النّبیین سمجھتے ہیں کسی کا حق نہیں ہے کہ وہ کہے کہ ہم خاتم النّبیین
کے منکر ہیں۔ کوئی انسان یہ تو کہہ سکتا ہے کہ میں خاتم النّبیین کے جو معنی کرتا ہوں وہ صحیح ہیں اور جو تم
معنی کرتے ہو، غلط ہیں۔ وہ یہ بھی کہہ سکتا ہے کہ جو معنی تم کرتے ہو ان کی رو سے خاتم النّبیین کا انکار
ہوجاتا ہے۔ مگر وہ یہ نہیں کہہ سکتا کہ خاتم النّبیین کے منکر ہو۔ جب ہم کہتے ہیں کہ ہم اس کے قائل ہیں تو
پھر اس کا منکر کیونکر کہا جاسکتا ہے۔‘‘
(مندرجہ الفضل قادیان ج۱۶ نمبر۲۳ ص۷ کالم۲،۳، مؤرخہ ۱۸؍ستمبر ۱۹۲۸ء، خطبات محمود ج۱۱ ص۴۴۵)
(۷۱) من مانے معنے
’’حضرت عمر اللہ تعالیٰ کے کتنے مقرب تھے۔ رسول کریم ﷺ فرماتے ہیں کہ اگر میرے بعد کوئی نبی ہونا ہوتا تو
عمر رضی اللہ عنہ ہوتا۔ یہاں میرے بعد سے مراد معاً بعد ہے۔‘‘
(اخبار الفضل قادیان ج۲۴ نمبر۲۹ ص۳ کالم۴، مؤرخہ ۲؍اگست ۱۹۳۶ء، خطبات محمود ج۱۷ ص۴۷۴)
’’بعض لوگآنحضرت ﷺ کے اسم ذات احمد ہونے پر یہ دلیل پیش کیا کرتے ہیں کہ اس آیت میں اللہ تعالیٰ فرماتا
ہے کہ حضرت مسیح نے کہا تھا کہ وہ رسول ’’یاتی من بعدی‘‘ میرے بعد آئے گا۔ پیش گوئی
سے کوئی ایسا ہی شخص مراد ہونا چاہئے جو آپ کے بعد سب سے پہلے آئے اور حضرت مسیح کے بعدآنحضرت ﷺ ہی آئے تھے
نہ کہ حضرت مسیح موعود (مرزاقادیانی) آپ تو آنحضرت کے بعد آئے تھے۔ پسآنحضرت ﷺ کے سوا کوئی اور شخص احمد
کیونکر ہوسکتا ہے۔ اس کا جواب یہ ہے کہ اس قسم کے معترضین بوجہ عربی زبان کی ناواقفی کے اس قسم کے اعتراض
کرتے ہیں۔ کیونکہ وہ نہیں جانتے کہ بعد کے معنی پیچھے کے ہیں نہ کہ فوراً پیچھے کے۔ ایک چیز جو کسی کے پیچھے
ہو خواہ دس چیزیں چھوڑ کر ہو یا فوراً پیچھے ہو وہ بعد ہی کہلائے گی۔‘‘
(انوار خلافت ص۳۱،۳۲، انوارالعلوم ج۳ ص۹۶)
(۷۲) حقیقی نبی اور رسول
’’اکثر لوگ دریافت کرتے ہیں کہ آیا فی الواقع میاں صاحب (مرزامحمود خلیفہ قادیان) حضرت مسیح موعود کو
حقیقی نبی مانتے اور انہوں نے ایسا کہاں لکھا ہے مختصر طور پر اس کا جواب یہ ہے کہ میاںصاحب فی الواقع حضرت
مسیح موعود کو حقیقی نبی مانتے ہیں۔ کیونکہ الفضل مؤرخہ ۱۷؍جنوری ۱۹۱۵ء میں ان کا ایک خط چھپا ہے جس میں
انہوں نے صاف طور پر آیت: ’’فمن اظلم ممن افتری علی اللہ کذبا او کذب بایتہ‘‘ پر بحث
کرتے ہوئے یہ لفظ لکھے ہیں۔ (اس آیت میں نبیوں اور رسولوں کے الہام کا ذکر ہے اور وہی مراد ہیں۔ حضرت مسیح
موعود چونکہ اس گروہ میں شامل تھے اس لئے ان کا انکار بھی اس آیت کے ماتحت آتا تھا) اس عبارت کا منشاء سوائے
اس کے کچھ نہیں کہ… حضرت مسیح موعود کو نبیوں اور رسولوں میں شامل کرنے سے صاف طور پر میاں صاحب کا یہ عقیدہ
پایا جاتا ہے کہ وہ حضرت مسیح موعود کو حقیقی نبی اور رسول مانتے ہیں نہ مجازی۔‘‘
(تبدیلی عقائد مولوی محمد علی ص۷۸، مؤلفہ محمد اسماعیل قادیانی)
492
(۷۳) عظیم الشان نبی
’’اب جو جناب میاں (مرزامحمود) صاحب ان سب بینات کے خلاف مسیح موعود (مرزاقادیانی) کو نبی مان رہے ہیں
اور آپ کو کامل نبی اور عظیم الشان نبی لکھ رہے ہیں، ان کا اختیار ہے۔ حضرت (مرزاقادیانی) صاحب کو وہ جو
چاہیں مانا کریں۔ خداکا نبی مانیں، عظیم الشان نبی مانیں، کامل نبی مانیں، محمد رسول اللہ سے افضل نبی مانیں،
کچھ مانیں کون روک سکتا ہے۔ آخر دنیا میں مسیحی اسرائیلی کو خدا ماننے والے بھی تو موجود ہیں۔ وہاں مسیحی
اسرائیلی کو نبوت کے درجے سے بڑھا کر خدا بنایا گیا۔ یہاں مسیح محمدی کو بھی امامت کے درجہ سے بڑھا کر نبی
بنایا گیا۔‘‘
(المہدی نمبر۴،۵ ص۷، مؤلفہ حکیم محمد حسین قادیانی لاہوری)
(۷۴) میاں صاحب کا عقیدہ
’’قادیانی (مرزامحمود) عقیدہ جس کی رو سے تمام اہل قبلہ سوائے احمدیوں کے کافر قرار دئیے گئے ہیں ایک
مشہور اور مسلم امر ہے۔ تاہم بطور نمونہ چند ایک حوالہ جات پیش کرتا ہوں۔ یہ مذہب اپریل ۱۹۱۱ء سے مروج ہوا
جب میاں صاحب نے رسالہ تشہیذ الاذہان میں ایک مضمون بعنوان ’’مسلمان وہی ہے جو خدا کے سب ماموروں کو مانے‘‘
لکھا اور اس میں تمام ان لوگوں کو جو حضرت مسیح موعود کے دعوے کو نہ مانیں خواہ وہ آپ کو برا کہیں اور کافر
جانیں یا اچھا کہیں اور راست باز انسان تسلیم کریں خواہ ان کو دعویٰ سے واقفیت ہو یا نہ ہو اور تبلیغ پہنچی
ہو یا نہ پہنچی ہو کافر قرار دیا۔ چنانچہ رسالہ مذکور کے ص۱۳۹ پر اس گروہ کو جن کو تبلیغ بھی نہیں پہنچی
کافر قرار دے کر جملہ مسلمانان عالم پر کفر کا فتویٰ لگایا ہے۔ ’’تیسری بات یہ معلوم ہوتی ہے کہ جن پر تبلیغ
نہیں ہوئی ان کا حساب خدا کے ساتھ ہے ہم نہیں جانتے کہ تبلیغ ان کو ہوچکی ہے یا نہیں۔ کیونکہ کسی کے دلی
خیالات پر آگاہ نہیں اس لئے چونکہ شریعت کی بناء ظاہر پر ہے۔ ہم ان کو کافر کہیں گے۔‘‘ اور ص۱۴۱ پر ہے:
’’پس نہ صرف اس کوجو آپ کو کافر تو نہیں کہتا مگر آپ کے دعویٰ کو نہیں مانتا کافر قرار دیاگیا ہے۔
بلکہ وہ بھی جو آپ کو دل سے سچا قرار دیتاہے اور زبانی بھی آپ کا انکار نہیں کرتا لیکن ابھی بیعت میں اسے
کچھ توقف ہے کافر قرار دیا گیا ہے۔‘‘
انوار خلافت میں جو۱۹۱۶ء کی کتاب ہے اور اس میں جلسہ سالانہ ۱۹۱۵ء کی تقریر میاں صاحب کی نظرثانی سے
قلمبند ہوئی ہے لکھا ہے: ’’ہمارا فرض ہے کہ ہم غیراحمدیوں کو مسلمان نہ سمجھیں۔‘‘ مگر یہی تقریر اخبار فاروق
مؤرخہ ۱۶؍جنوری ۱۹۱۶ء کے ص۱۰ پر بالفاظ ذیل منقول ہے۔ ’’جیسے ایک غیراحمدی کا فرض ہے کہ جب تک وہ بیعت میں
داخل نہ ہو مسیح موعود اور اس کے متبعین کو مسلمان نہ سمجھے۔ ایسے ہی ایک احمدی کا فرض ہے کہ مسیح موعود کی
بیعت میں نہیں اسے مسلمان نہ سمجھے۔‘‘
کتاب آئینہ صداقت کے ص۳۵ پر لکھتے ہیں:
’’یہ تبدیلی عقیدہ مولوی (محمد علی) صاحب تین امور کے متعلق بیان کرتے ہیں۔ اوّل یہ کہ میں نے حضرت
مسیح موعود کے متعلق یہ خیال پھیلایا ہے کہ آپ فی الواقع نبی ہیں۔ دوم یہ کہ آپ ہی اسمہ احمد کی پیش گوئی
مذکورہ قرآن کریم (سورۂ صف آیت:۶) کے مصداق ہیں۔ سوم یہ کہ کل مسلمان جو حضرت مسیح موعود کی بیعت میں شامل
نہیں ہوئے خواہ انہوں نے حضرت مسیح موعود کا نام بھی نہ سنا ہو وہ کافر اور دائرہ اسلام سے خارج ہیں۔ میں
تسلیم کرتا ہوں کہ میرے یہ عقائد ہیں۔‘‘
(مولوی محمد علی لاہوری قادیانی، امیر جماعت لاہور کا رسالہ، ردتکفیر اہل قبلہ ص۱۲تا۱۴)
493
(۷۵) واقع میں
’’لکھنؤ میں ہم (یعنی مرزامحمود خلیفہ قادیان) ایک آدمی سے ملے جو بڑا عالم ہے اس نے کہا کہ (وہ) آپ
لوگوں کے بڑے دشمن ہیں جو یہ مشہورکرتے پھرتے ہیں کہ آپ ہم لوگوں کو کافر کہتے ہیں۔ میں نہیں مان سکتا کہ آپ
ایسے وسیع حوصلہ رکھنے والے ایسے کہتے ہیں۔ اس سے شیخ یعقوب علی باتیں کر رہے تھے میں نے ان کو کہا آپ کہہ
دیں کہ واقعہ میں ہم آپ لوگوں کو کافر کہتے ہیں۔ یہ سن کر وہ حیران سا ہوگیا۔‘‘
(انوار خلافت ص۹۲، انوارالعلوم ج۳ ص۱۴۹،۱۵۰)
(۷۶) گورکھ دھندہ
’’جناب میاں (مرزامحمود) صاحب لاکھ کوشش کریں اورلاکھوں صفحوں کی کتابیں نبوت مسیح موعود ثابت کرنے کے
لئے لکھا کریں۔ مسیح موعود (مرزاقادیانی) کا واقعی نبی ہونا یا کامل نبی ہونا… تو کہاں سے ثابت ہوگا اخیر
نتیجہ ان تحریرات کا یہ ضرور ہوگا کہ فرقہ محمودیہ اس گورکھ دھندے میں پڑ کر آخر قرآن اور حدیث کو خیرباد
کہہ دے گا اور مسیح موعود کی نبوت کا مسئلہ بھی تثلیث کی طرح ایک لاینحل عقدہ ہوجائے گا۔‘‘
(المہدی نمبر۴،۵ ص۶، مؤلفہ حکیم محمد حسین قادیانی لاہوری)
(۷۷) ضلالت اور فساد کے موجد
’’وہ قادیانی لوگ جو میاں محمود احمد صاحب کو نبوت اور تکفیر مسلمین کے عقیدوں میں غلطی پر سمجھتے ہیں
اور پھر انہیں مصلح موعود بھی مانتے ہیں۔ ان کی دماغی حالت واقعی قابل رحم ہے۔ ان کی کھوپڑی کا کسی ڈاکٹر سے
امتحان کروانا چاہئے۔ جیسا کہ ایک دفعہ حضرت مولانا نورالدین مرحوم نے ایک عیسائی کے سرکو پکڑ کر ادھر ادھر
سے دیکھنا شروع کیا۔ عیسائی گھبرا کر بولا کہ آپ یہ کیا کر رہے ہیں۔ فرمانے لگے ہیں تمہاری کھوپڑی کی بناوٹ
کو دیکھ رہا ہوں۔ جس کے اندر ایسا عجیب وغریب مسئلہ سما گیا کہ تین برابر ایک کے اور ایک برابر تین کے۔ اسی
طرح جو قادیانی یہ مانتے ہیں کہ میاں محمود احمد صاحب مسئلہ نبوت اور عقیدہ تکفیر جمیع المسلمین میں غلطی پر
ہیں تو اس کے یہ معنی ہیں کہ وہ یہ مانتے ہیں کہ میاں محمود احمد صاحب نے اجرائے نبوت جیسا ضلالت کا عقیدہ
ایجاد کر کے اسلام کے مسلمہ عقیدہ ختم نبوت کو فنا کر کے رکھ دیا ہے اور تمام جہاں کے کلمہ گو مسلمانوں کو
خدا اور رسول کے حکم کے خلاف ناحق کافر ٹھہرایا ہے اور یہ دونوں عقیدے پرلے درجے کی ضلالت کے مترادف ہیں تو
فرمائیے اس قدر ضلالت اور فساد کے موجد کو پھر مصلح موعود بھی ماننا دماغ کی خرابی نہیں ہے تو اور کیا ہے۔‘‘
(پیغام صلح لاہور ج۲۴ نمبر۵۶، مؤرخہ ۳؍ستمبر ۱۹۳۶ء)
(۷۸) عقائد خصوصیہ محمودیہ
’’آخر دنیا میں کوئی اصول ہونا چاہئے اور دیکھنا تو یہ ہے کہ آنحضرت ﷺ کے بعد کسی نبی کی بعثت کو
ماننا اور اس پر ایمان لانے کو شرائط ایمان میں سے مان کر تمام دنیا کے مسلمانوں کو کافر خارج از اسلام قرار
دے دینا یہ اصلاح ہے یا فساد ہے۔ اگر اسے اصلاح سمجھتے ہو تو پھر میاں محمود احمد کو مصلح موعود ضرور مان
لو۔ کیونکہ یہ ان غلطیوں کی جو بانی اسلام سے شروع ہوکر حضرت مسیح موعود تک برابر چلی آئیں ایسی عظیم الشان
اصلاح ہے۔ جس کی نظیر تاریخ اسلام میں تو ملتی نہیں البتہ بابیوں اور بہائیوں میں ملتی ہے۔ پس اتنی بڑی
ضلالت وفساد کی جس
494
شخص نے اصلاح کی اسے نہ مصلح موعود کہو گے تو اور کیسے کہوگے اگر یہ عقائد خصوصیہ محمودیہ بجائے خود
ضلالت وفساد ہیں اور اسلام کے لئے بڑا بھاری فتنہ ہیں تو پھر اتنی بڑی ضلالت وفساد کے موجد کو مصلح موعود
کہنا اپنی عقل پر ماتم کرنا۔‘‘
(پیغام صلح لاہور ج۴۲ نمبر۵۶، مؤرخہ ۳؍ستمبر ۱۹۳۶ء)
(۷۹) تقریباً
’’وقت آئے گ بلکہ تقریباً آگیا ہے کہ میاں (محمود احمد) صاحب اپنے عقائد خصوصی کی تبلیغ بابیوں اور
بہائیوں کی طرح سینہ بہ سینہ کیا کریں گے اور حسن بن صباح کے فدائیوں کی طرح جو فدائی جتنا زیادہ اپنے اخلاص
اور فدائیت کا ثبوت دیتا جائے گا اتنا ہی صحیح عقائد کا انکشاف اس پر بیش ازبیش ہوتا جائے گا۔‘‘
(پیغام صلح لاہور مؤرخہ ۱۵؍فروری ۱۹۳۳ء)
(۸۰) ابلیس
’’ابلیس اور شیطان نہ تو فاعل بالارادہ ہستیاں ہیں اور نہ انسانی حالات کو مدنظر رکھتے ہوئے مکلف ہیں۔
بلکہ وہ بدی کے محرکات ہیں۔ جیسے ملائکہ نیکی کے محرکات۔ پس ان کے متعلق رحمت اور غضب کے الفاظ بولنے ہی غلط
ہیں۔ غضب ہمیشہ فاعل بالارادہ چیزوں سے تعلق رکھتا ہے۔ یہ چیزیں اللہ تعالیٰ کی حکمت کے ماتحت انسان کی ترقی کے
ذرائع میں سے ایک ذریعہ ہیں۔‘‘
(مکتوب مرزامحمود خلیفہ قادیان، الفضل قادیان ج۱۷ نمبر۷۱ ص۸ کالم۲، مؤرخہ ۱۴؍مارچ ۱۹۳۰ء)
(۸۱) تحقیقات
’’ہماری تحقیقات تو یہ ہے کہ سب کے سب برش سور کے بالوں کے نہیں ہوتے۔ باقی رہا سور کے بالوں کا
استعمال یہ شرعی لحاظ سے جائز ہے۔ کیونکہ سور کا گوشت حرام کیاگیا جو کھانے کی چیز ہے اور بال کوئی کھاتا
نہیں۔‘‘
(ارشاد مرزامحمود خلیفہ قادیان، الفضل قادیان ج۱۶ نمبر۵ ص۷ کالم۲، مؤرخہ ۱۷؍جولائی ۱۹۲۸ء)
(۸۲) ہندو اور سکھ
’’حضور (مرزامحمود) نے جواب میں لکھوایا: آپ پروفیسر صاحب سے یہ کہیں کہ ہندوستان میں ایسی مشرکات جن
سے نکاح ناجائز ہے۔ بہت کم ہیں میجارٹی ایسے لوگوں کی ہے جن کی عورتوں سے نکاح جائز ہے۔ اس لئے مسلمانوں کے
لئے اس مسئلہ پرعمل کرنے میں زیادہ دقتیں نہیں۔ سوائے سکھوں اور جینیوں کے۔ عیسائیوں کی عورتوں اور ان لوگوں
کی عورتوں سے جو وید پر ایمان رکھتے ہیں نکاح جائز ہے۔‘‘
(الفضل قادیان ج۱۷ نمبر۶۵ ص۸ کالم۳، مؤرخہ ۱۸؍فروری ۱۹۳۰ء)
’’(مرزامحمود احمد خلیفہ قادیان نے) فرمایا، ہندو اہل کتاب ہیں اور سکھ بھی کیونکہ وہ مسلمانوں ہی کا
بگڑا ہوا فرقہ ہیں۔‘‘
(ڈائری مرزامحمود خلیفہ قادیان مندرجہ اخبار الفضل ج۱۰ نمبر۵ ص۵ کالم۲، مؤرخہ ۱۷؍جولائی ۱۹۲۲ء)
(۸۳) اس کے معنی ہاتھی
’’دیکھو اس شخص کی اولاد کو جس کے ساٹھ یا اسی تصنیفات غیرمذاہب کے مقابلہ میں ہوں جو سلطان القلم ہو…
آج ولایت کے اخبارات میں چھپتا ہے کہ میاں (مرزامحمود) صاحب نے کہا کہ عیسائی کافر نہیں۔ یہ ولایت کے
اخباروں نے ان کی طرف منسوب کیا ہے کہ عیسائیوں کے متعلق انہوں نے کہا… وہ (عیسائی) کافر نہیں مجھے افسوس ہے
کہ انہوں نے اس کی تردید نہیں کی۔ اگر حالت یہاں تک پہنچ گئی
495
ہے تو تم نے گویا عیسائیوں کی ہاں میں ہاں ملادی۔ ان کا مقابلہ کیا کرنا ہے۔‘‘
(تقریر مولوی محمد علی لاہوری قادیانی، پیغام صلح لاہور ج۱۳ نمبر۱۹ ص۳ کالم۲، مؤرخہ ۷؍جنوری ۱۹۲۵ء)
’’آپ کا یہ اعتراض پڑھ کر مجھے پہلے سے بھی زیادہ تعجب ہوا۔ اوّل اس لئے کہ کیا INFIDELS قرآن وحدیث
کا لفظ ہے یا کوئی شرعی اصطلاح ہے جو کہ اسلام کے منکرین کے حق میں بطور تمیز کے استعمال ہوئی ہے اور حضرت
اقدس (مرزامحمود) نے اس امتیاز کو اب اٹھادیا ہے۔ نہیں اور ہرگز نہیں تو پھر غصہ کیسا۔ یہ ایک انگریزی کا
لفظ ہے۔ ہوسکتا ہے کہ اس کے معنی ہاتھی کے ہوں۔ پس اگر حضرت (مرزامحمود) عیسائیوں کو ہاتھی کہنے سے انکار
کریں تو اس سے کون سا شریعت پر حرف آگیا۔‘‘
(الفضل قادیان ج۱۲ نمبر۸۰ ص۴ کالم۲، مؤرخہ ۲۴؍جنوری ۱۹۲۵ء)
(۸۴) قادیانی تفسیر
’’آخر اس افواہ کی تصدیق ہوگئی جو ہم سال بھر سے سن رہے تھے کہ خلیفہ صاحب قادیان جناب میاں محمود
احمد صاحب نے کوئی اردو تفسیر لکھی ہے۔ جس کی اشاعت اندر ہی اندر مخفی طور پر ان کے مریدان خاص میں ہورہی ہے
اور اس غضب کی پردہ داری ہے اور رازداری کا یہ عالم ہے کہ خلیفہ صاحب کا حکم ہے۔ صرف خریدنے والا پڑھے۔ ایک
ہی گھر کے رہنے والے ایک ہی خاندان کے مختلف ممبر خواہ وہ محمودی ہی کیوں نہ ہوں اس تفسیر پرنظر نہیں ڈال
سکتے۔ یہاں تک تاکید ہے کہ اگر کوئی خریدار اس حد سے تجاوز کرے گا یعنی وہ تفسیر کسی اور کو دکھائے گا تو
فوراً خلیفہ صاحب کے زیرعتاب آکر آئندہ کے لئے بائیکاٹ اور راندہ دربار خلافت ہوجائے گا… بہت سے دوستوں نے
تو یہ نتیجہ نکالا کہ مدنظر فقط تجارت ہے۔ جب خریدار کے سوا کسی دوسرے کو اس تفسیر کا پڑھنا حرام اور موجب
خذلان ہے تو لازمی بات ہے کہ ایک ایک محمودی بلکہ ہر ایک محمودی خاندان کا ایک ایک فرد اس آسمانی آب حیات سے
مستفیض ہونے کے لئے اسے خریدے گا اور کتاب کثرت سے بکے گی… لیکن فقط اتنی سی بات سے معمہ حل نہیں ہوتا۔ کیا
وجہ ہے کہ وہ اپنی جماعت سے باہر تاحال اس تفسیر کی اشاعت کی جرأت نہ کر سکے۔ اس کے حل کرنے کے لئے ذرا
بابیوں اور بہائیوں کے حالات پر جن سے اس فرقہ محمودیہ کو ایک رنگ میں شدید مماثلت ہے۔ نظر ڈالو۔ تم دیکھو
گے کہ بابی اپنی آسمانی کتاب ’’البیان‘‘ اور بہائی اپنی آسمانی کتاب ’’کتاب اقدس‘‘ کی اشاعت ہمیشہ مخفی طریق
پر کرتے ہیں اور جب تک کسی کے ایمان واخلاص پر پورا پورا یقین نہ ہو وہ ان کتابوں کو قطعاً کسی کو نہیں
دکھاتے۔ ہر ایک عقلمند اسے ان کی کمزوری کا ایک بدیہی نشان سمجھتا ہے۔ کیونکہ اگر وہ کتابیں اپنے اندر کوئی
علم وحکمت، توحید ومعرفت کا خزانہ رکھتی ہوتیں تو قرآن کریم کی طرح دھڑلے سے میدان میں آتیں… لیکن جب اندر
خالی محض ڈھول کا پول ہو اور منہ سے لاف وگزاف بہت ہو تو خیریت اور عزت اسی میں نظر آتی ہے کہ اصل چیز کو
دکھانے سے احتراز کیا جائے تارونق بخستیں بجائے مانند۔ اسی طرح ہمارے میاں محمود احمد صاحب خلیفہ قادیان نے
بھی تفسیر نویسی کے متعلق لاف وگزاف میں کچھ کمی نہیں کی ہے۔ جب دیکھو مریدوں کے مجمع میں تحدی ہورہی ہے کہ
دنیا کا کوئی عالم میرے مقابلہ میں تفسیر نہیں لکھ سکتا اور میں بڑے سے بڑے عالم کو اپنے مقابلہ پر بلاتا
ہوں اور کوئی نہیں آتا۔ نہ معلوم ان کی تہدی کو ان کے منافق مرید کیا سمجھتے ہیں جن کا جال بقول خلیفہ صاحب
قادیان خدا جانے کیوں تمام قادیان میں بری طرح بچھا ہوا ہے۔ چاہئے تھا کہ خلیفہ صاحب کے قرب سے قادیان میں
ایمان اور اخلاص پھیلتا۔ یہ منافقت کا روزبروز ترقی پذیر ہونا کیا معنی رکھتا ہے۔‘‘
(پیغام صلح لاہور ج۲۲ نمبر۲۷ ص۵ کالم۱، مؤرخہ ۳؍مئی ۱۹۳۴ء)
496
’’کیا آپ کو علم نہیں جناب میاں (مرزامحمود) صاحب نے تمام دنیا کو ازراہ لاف زنی اپنے مقابل تفسیر
نویسی کے لئے بلایا اور کہا کہ خداتعالیٰ مجھے تمام معارف خود بتائے گا اور سب کے سب معارف ایسے ہوں گے جو
پہلی تفسیر میں موجود نہ ہوں گے۔ مگر جب مولوی ثناء اللہ بالمقابل ڈٹ گیا اور یہاں تک میاں صاحب کو اجازت دی
کہ آپ مقابلہ کے وقت جو کتاب چاہیں ساتھ رکھ لیں میں سادہ کاغذ اور قلم لے کر مقابل ہوں گے۔ تو بھی جناب
میاں صاحب خاموش ہی رہے اور اب تک مولوی ثناء اللہ شرمندہ کر رہا ہے۔‘‘
(مضمون از مولوی عمرالدین شملوی قادیانی لاہوری، پیغام صلح لاہور ج۲۲ نمبر۳۷ ص۷ کالم۳، مؤرخہ ۱۹؍جون
۱۹۳۴ء)
(۸۵) دعا کے رقعے
’’میں نے پہلے بھی توجہ دلائی ہے کہ دعا کے لئے رقعے قبل از وقت مجھے دے دینے چاہئیں۔ اکثر رقعے تو
مجھے جمعہ تک مل گئے تھے اور ان کو میں نے جمعہ سے عصر تک پڑھ بھی لیا ہے اور ساتھ ساتھ دعا بھی کرتا گیا
ہوں ان میں سے بعض کے نام بھی مجھے یاد ہیں۔ ایک دفعہ ان کے لئے دعا ہوچکی ہے اور پھر بھی مجموعی دعا میں ان
کو شامل کروں گا۔ لیکن بعض رقعے مجھے عصر کے بعد ملے ہیں۔ انہیں میں اس وقت پڑھ نہیں سکتا۔ لیکن پھر بھی
اجمالی طور پر ان کے لئے دعا کروں گا۔ رقعے مجھے ایسے وقت میں مل جانے چاہئے کہ میں درمیانی عرصہ میں انہیں
پڑھ سکوں اور یاد رکھ سکوں۔‘‘
(تقریر مرزامحمود خلیفہ قادیان، الفضل قادیان ج۱۷ نمبر۷۱ ص۱۱ کالم۳، مؤرخہ ۱۴؍مارچ ۱۹۳۰ء)
(۸۶) نماز کا وقت
’’مجھے بعض مؤذنوں سے شکایت ہوتی ہے کہ جب نماز کا وقت آتا ہے اور وہ مجھے اطلاع دینے آتے ہیں تو
زورزور سے کہنا شروع کر دیتے ہیں۔ السلام علیکم! نماز کا وقت ہوگیا۔ جی نماز کا وقت ہوگیا۔ جی نماز کا وقت
ہوگیا۔ ایک بج گیا۔ اب ڈیڑھ بج گیا۔ میں اطلاع دینے آیا ہوں اور ان کلمات کا وہ اس قدر تکرار کرتے ہیں اور
ان پر اتنا زور دیتے ہیں کہ میری بات سنتے ہی نہیں۔ آخر وہ چپ کریں تو میری آواز سنیں۔ جب وہ چپ ہی نہیں
کرتے تو میری آواز کس طرح سن سکتے ہیں۔ نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ بسا اوقات میں اپنی جگہ پر بیٹھا ہوا آواز دیتا
ہوں اور وہ نہیں سنتے پھر میں اٹھ کر جواب دیتا ہوں تو پھر بھی نہیں سنتے۔ پھر قریب کے کمرہ میں آکر جواب
دیتا ہوں تو بھی نہیں سنتے۔ پھر برآمدہ میں آکر جواب دیتا ہوں پھر بھی میری آواز نہیں سنتے اور مسجد میں آکر
کہہ دیتے ہیں کہ اطلاع دینے گیا تھا۔ مگر کوئی جواب نہیں ملا جس سے معلوم ہوتا ہے کہ انہیں پتہ نہیں لگا۔ یہ
حالت اس وجہ سے پیدا ہوتی ہے کہ وہ خود شور مچارہے ہوتے ہیں اور میری آواز سننے کی کوشش نہیں کرتے ہیں ہمیشہ
انہیں نصیحت کیا کرتا ہوں کہ جب وہ مجھے آواز دیں تو پھر میرے جواب کو بھی متوجہ ہوکر سنا کریں۔ (پابندی سے
وقت پر نماز پڑھی جائے تو موذنوں کے شوروشغب کی نوبت ہی نہ آئے۔ للمؤلف)‘‘
(مندرجہ اخبار الفضل قادیان ج۲۳ نمبر۲۹۹ ص۳ کالم۳،۴، مؤرخہ ۲۵؍جون ۱۹۳۶ء، خطبات محمود ج۱۷ ص۳۹۵)
(۸۷) خط وکتابت
’’کئی لوگ ہیں جو اس قسم کے خطوط بھیجتے ہیں کہ لوگ یوں کہتے ہیں یا یوں ہورہا ہے اور پھر کہتے ہیں۔
ان کے خط پر توجہ نہیں کی گئی۔ حالانکہ جب وہ کسی کا نام ہی نہیں لکھتے تو توجہ کس طرح کی جائے۔ اگر انہوں
نے واقعہ میں کسی سے وہ بات سنی تھی تو سنانے والے کا نام
497
کیوں نہ یاد رکھا۔ یا اگر کسی کو وہ بات کرتے دیکھا تھا تو اس کا نام کیوں نہ لکھا۔ پس اس قسم کی
رپورٹ کرتے وقت ضروری ہے کہ لکھا جائے فلاں کو یہ بات میں نے کرتے دیکھا یا فلاں نے مجھے یہ بات سنائی۔ اگر
یہ ڈر ہو کہ اس کا خط کسی اور کے ہاتھ میں نہ جا پڑے تو میں ایسے لوگوں کو تسلی دیتا ہوں کہ کوئی خط میرے
پڑھے بغیر اور میرے خود بھیجے بغیر دفتر میں نہیں جاتا… کوئی خط خواہ اس میں کوئی راز کی بات ہو یا نہ ہو۔
دعا کے متعلق ہو یا کسی اور امر کے متعلق بغیر میری نظر سے گزرے اور بغیر میری مرضی کے دفتر میں نہیں جاتا۔
اس کی وجہ یہی ہے کہ بعض دفعہ بعض خطوط میں ایسی باتیں ہوتی ہیں کہ اگر وہ دفتر میں چلی جائیں تو موجب
ابتلاء ہوسکتی ہیں۔ پس اوّل تو میں یہ تسلی دلاتا ہوں کہ کوئی خط کسی اور کے ہاتھ میں نہیں جاتا۔ جب تک کہ
میں اس کا جانا مناسب نہ سمجھوں لیکن اس کے علاوہ اس بارے میں ایک اور گر بھی بتاتا ہوں اور وہ یہ لکھنے
والا یوں لکھ سکتا ہے کہ بعض لوگوں کو میں نے یہ بات کرتے یا بات کہتے سنا ہے۔ لیکن چونکہ مجھے اندیشہ ہے کہ
میرا خط کسی اور کے ہاتھ میں نہ جا پڑے۔ اس لئے اگر آپ نام پوچھیں گے تو بتا دئیے جائیں گے۔ ایسی صورت میں
اگر بھولے سے کوئی خط دفتر میں چلا بھی جائے گو جیسا کہ میں نے بتایا ہے ممکن ہر ممکن احتیاط کی جاتی ہے
تاہم اگر فرض کر لیا جائے ہزاروں میں سے کوئی ایک مثال ایسی بھی ہوسکتی ہے اور کوئی اطلاع دینے والا اس سے
ڈرتا ہے تو وہ یوں لکھے کہ مجھ سے اس بارے میں جو کچھ پوچھا جائے گا تو میں بتادوں گا تو اس طرح لکھنے سے
اطمینان ہو جائے گا کہ اس نے یونہی گپ نہیں لکھی بلکہ واقعہ لکھا ہے۔‘‘
(مندرجہ اخبار الفضل قادیان ج۱۷ نمبر۶۶، مؤرخہ ۲۱؍فروری ۱۹۳۰ء، خطبات محمود ج۱۲ ص۲۵۹،۲۶۰)
(۸۸) سچائی کی تلوار
’’خداتعالیٰ نے میری پیدائش سے پہلے میرا نام مظہر الحق رکھا ہے اور یہی سچائی کی تلوار ہے جو
خداتعالیٰ نے مجھے دی… نہ اس تلوار سے جو خداتعالیٰ نے مجھے نہیں دی۔ مجھے خداتعالیٰ نے لوہے کی تلوار نہیں
دی بلکہ لوہے کی تلوار والا جسم بھی نہیں دیا۔ ہمیشہ بیمار رہتا ہوں۔ مجھے جو تلوار دی گئی ہے وہ سچائی اور
صداقت کی تلوار ہے۔‘‘
(مندرجہ الفضل قادیان ج۲۲ نمبر۱۹۸ ص۷ کالم۴، مؤرخہ ۲۴؍جون ۱۹۳۵ء، خطبات محمود ج۱۶ ص۳۶۴)
’’اصل واقعہ صرف یہ ہے کہ لڑائی ہوئی اور معلوم نہیں۔ کس کے ہاتھ سے ایک آدمی مارا گیا اور ہمیں افسوس
ہے کہ مارا گیا۔ کیونکہ بظاہر اس کا کوئی اتنا قصور معلوم نہیں ہوتا۔ سوائے اس کے کہ اس (محمد حسین صاحب) نے
مستریوں (یعنی مولوی عبدالکریم صاحب وغیرہ) کی ضمانت دی ہوئی تھی… پس ہمیں اس کے (یعنی محمد حسین صاحب کے)
مارے جانے پر افسوس ہے۔‘‘
(مندرجہ الفضل قادیان ج۱۹ نمبر۸ ص۷ کالم۳، مؤرخہ ۱۸؍جولائی۱۹۳۱ء، خطبات محمود ج۱۳ ص۱۷۰)
’’سوال: محمد حسین جو قتل ہوا۔ کیا وہ عبدالکریم مباہلہ والے کا ضامن تھا۔
جواب: مجھے معلوم نہیں۔‘‘
(عدالت اسپیشل مجسٹریٹ ضلع گورداسپور میں ۲۳؍مارچ ۱۹۳۵ء کو مرزامحمود خلیفہ قادیان کا حلفی بیان،
مندرجہ اخبار الفضل قادیان ج۲۲ نمبر۱۲۲ ص۳ کالم۱، مؤرخہ ۲۶؍مارچ ۱۹۳۵ء، انوارالعلوم ج۱۳ ص۵۵۰)
’’جب عدالت میں مرزا (محمود خلیفہ قادیان) کا اس معاملہ کے متعلق بیان لیاگیا تو اس نے بالکل مختلف
کہانی بیان کی… لیکن دستاویز ڈی۔زیڈ نمبر۴۰، اس کی تردید کرتی ہے اور مرزا (محمود خلیفہ قادیان) کی نیت اور
اس کے رویہ کا پتہ اس اظہار خیالات سے بالکل
498
عیاں ہے جو اس نے (دستاویز) ڈی۔زیڈ نمبر۴۰، میں کیا ہے۔‘‘
(عطاء اللہ شاہ بخاری کے مقدمہ میں سیشن جج گورداسپور کا فیصلہ واقع ۶؍جون ۱۹۳۵ء، مندرجہ اخبار الفضل
قادیان ج۲۲ نمبر۱۹۱ ص۴ کالم۱، مؤرخہ ۱۵؍جون ۱۹۳۵ء)
’’ہر ایک مخلص احمدی اور سچے مسلم کو اس بات کے سننے سے نہایت رنج ہوگا کہ جناب میاں (محمود احمد)
صاحب نے سچائی کو چھپانے کے لئے کیا کیا غلط باتوں سے کام لیا ہے اور کس طرح دلیری کے ساتھ اس بے بنیاد جھوٹ
کو پیش کیا ہے کہ براہین (احمدیہ کی تصنیف) کے وقت میں وہ (یعنی مرزاقادیانی) نبی اور مسیح موعود تو تھے پر
براہین کے دس بارہ برس کے بعد ان کو اپنا مسیح موعود ہونا معلوم ہوا اور مسیح موعود ہونے کے پندرہ سال بعد
ان کو اپنا نبی ہونا معلوم ہوا اور اتنے لمبے عرصہ تک باوجودیکہ باربار وحی الٰہی ان کو نبی بتاتی تھی۔ مگر
اپنی وحی سمجھنے میں ان کو غلطی لگی پورا فہم حاصل نہیں ہوا ٹھوکر کھائی۔‘‘
(المہدی نمبر۴،۵ ص۴۳، مؤلفہ حکیم محمد حسین قادیانی لاہوری)
’’مجھے ہرگز یہ امید نہ تھی کہ الفضل کی نوبت یہاں تک پہنچ جائے گی کہ وہ ان جھوٹے ہتھیاروں پر اتر
آئے گا کہ واقعات کو توڑ مروڑ کر صریح آیات قرآنی کے خلاف لوگوں کے سامنے پیش کرے گا… الفضل کا احمدی ہوکر
پھر ایوان خلافت کا سرکاری اخبار ہوکر واقعات کو غلط رنگ میں دنیا کے سامنے پیش کرنا ایسا امر ہے جس سے
احمدیت کی پیشانی عرق ندامت سے تر ہو جاتی ہے اور حق پرستی کی آنکھ سے لہو ٹپکتا ہے۔‘‘
(مضمون، ڈاکٹر بشارت احمد قادیانی لاہوری، منقول از المہدی نمبر۲،۳ ص۲۹، مؤلفہ حکیم محمد حسین
قادیانی لاہوری)
(۸۹) انجام خراب
’’حضرت مسیح موعود فرماتے ہیں کہ گورنمنٹ ایک حد تک سیاسی امور کی طرف توجہ رکھنے کی اجازت دیتی ہے۔
لیکن میں دیکھتا ہوں کہ اس کام کا انجام خراب ہوگا اس لئے میں اپنی جماعت کو اس کی اجازت نہیں دیتا۔‘‘
(برکات خلافت ص۵۶، انوار العلوم ج۲ ص۱۹۷)
(۹۰) چپراسی کا عہدہ
’’(مسلمان) اللہ تعالیٰ کا شکر کریں کہ اس کے فضل سے انگریزوں کی معرفت ان کا بہت کچھ کھویا ہوا واپس
ملا۔ ان کا دین بھی جاچکا تھا اور دنیا بھی۔ دونوں قسم کی آزادیاں اور دونوں قسم کے حقوق ضائع ہوچکے تھے۔
انگریزوں نے دین میں تو ان کو کامل طور سے آزاد کردیا اور دنیا میں بھی ان کو بہت کچھ آزادی دی۔ پس ان کو تو
چاہئے تھا کہ ان کے ممنون ہوتے نہ کہ نکتہ چین بنتے جو لوگ دین کی قدر جانتے ہیں ان کے نزدیک تو انگریز
مذہبی آزادی دے کر اگر دنیاوی عہدوں میں سے ایک چپراسی کا عہدہ بھی ہندوستانیوں کو نہ دیتے تو پھر بھی انہیں
وجہ شکایت نہ ہوتی۔ کیونکہ محسن ہرحال میں شکریہ کا مستحق ہوتا ہے اور انگریز ہمارے محسن ہیں۔‘‘
(برکات خلافت ص۶۶، انوارالعلوم ج۲ ص۲۰۴،۲۰۵)
(۹۱) دینی مقاصد
’’غرض سیاسیات میں مداخلت کوئی غیردینی عمل نہیں بلکہ یہ بھی ان دینی مقاصد میں شامل ہے جس کی طرف
توجہ کرنا وقتی ضرورت اور حالات کے مطابق لیڈران قوم کا فرض ہے… پس قوم کے تمام پیش آمدہ حالات کو مدنظر
رکھنا اور اس کی تکالیف کو دور کرنے کی تدابیر اختیار کرنا اور ملکی سیاسیات میں رہنمائی کرنا خلیفہ وقت سے
بہتر اور کوئی نہیں کر سکتا۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ کی نصرت اور تائید اس کے شامل حال ہوتی ہے اور اس زمانہ میں
گزشتہ پندرہ سال کے تاریخی واقعات ہمارے اس بیان کی صداقت پر مہر لگارہے ہیں۔ مبارک ہیں وہ جو سمجھیں اور
فلاح پائیں۔‘‘
(الفضل قادیان ج۲۰ نمبر۷۶ ص۸ کالم۲،۳، مؤرخہ ۲۵؍دسمبر ۱۹۳۲ء)
499
(۹۲) مسجد کی بات
’’اسی لئے جب کانپور کی مسجد کا واقعہ ہوا تو میں نے حکومت کی تائید کی اور اس پر مخالفوں کی طرف سے
بہت گالیاں کھائیں۔ لاہوری فریق نے بھی مجھے اس زمانہ میں بہت گالیاں دیں۔ اس وجہ سے کہ میں نے کہا تھا کہ
غسل خانہ مسجد کا حصہ نہیں اور آج بھی میرا یہ ہی عقیدہ ہے۔ آج بھی اگر کانپور کی مسجد جیسا کوئی واقعہ ہوتا
تو میں حکومت کا ساتھ دیتا۔ لیکن یہاں (مسجد شہید گنج لاہور کے سلسلہ میں) بالکل مختلف معاملہ ہے۔ یہاں مسجد
گرائی گئی ہے ایسی جگہ گرائی ہے جہاں خواہ مخواہ مسلمانوں میں اشتعال پیدا ہوا اور ایسی صورت میں گرائی گئی
ہے کہ اس کا علاج ممکن تھا۔ پس میری یہی رائے ہے کہ اس معاملہ میں حکومت نے سخت غلطی کی ہے اور یہ بھی میں
نے اس وجہ سے کہا کہ حکومت نے بلاوجہ حملہ کر کے اور جھوٹے اتہام لگا کر مجھے مجبور کر دیا ہے۔ حکومت سے
میری مراد وہی چند ایک افسر ہیں جو بلاوجہ ہمیں دق کر رہے ہیں۔ ورنہ حکومت میں اب بھی ایسے افراد ہیں جو ان
باتوں کو برامناتے ہیں۔‘‘
(مندرجہ اخبار الفضل قادیان ج۲۳ نمبر۶۹ ص۷ کالم۱،مؤرخہ ۱۹؍ستمبر ۱۹۳۵ء، خطبات محمود ج۱۶ ص۵۶۵)
(۹۳) سرکاری اعزاز
’’ہزرائل ہائنس پرنس آف ویلز کی آمد لاہور پر گورنمنٹ ہاؤس لاہور میں شہزادہ موصوف کا استقبال کرنے
کے لئے جو چند معزز روسا ہزایکسی لنسی گورنر پنجاب نے خاص طور پر منتخب فرمائے ہیں اور بذریعہ اپنے مراسلہ
خاص کے ان کو لاہور میں دعوت دی ہے۔ ان میں سیدنا حضرت خلیفہ المسیح ثانی ایدہ اللہ (مرزامحمود) کا بھی اسم
گرامی ہے۔ اس لئے گو حضور عام پبلک مواقع پر تو شامل نہیں ہوا کرتے مگر تاج برطانیہ کے ساتھ جماعت حقہ
احمدیہ کے دلی خلوص اور وفاداری اور موجودہ فتنہ ترک موالات کو ملحوظ رکھتے ہوئے حضور گورنمنٹ عالیہ کے
منشاء کے مطابق ان شاء اللہ العزیز ۲۳؍فروری ۱۹۲۲ء کو لاہور تشریف لے جائیں گے اور غالباً تین چار یوم تک وہاں
قیام فرمائیں گے۔‘‘
(الفضل قادیان ج۹ نمبر۶۵، مؤرخہ ۲۰؍فروری ۱۹۲۲ء)
(۹۴) اعزاز کی مستحق
’’ایک صاحب نے حضرت خلیفہ المسیح ثانی (مرزامحمود) کو لکھا کہ:
ایک اطلاع شائع ہوئی کہ پرنس ویلز ولایت پہنچنے کے بعد ان لوگوں کو جنہوں نے خدمات کی ہیں خطابات عطاء
فرمائیں گے۔ آپ نے ایک موقع پر فرمایا ہے کہ گورنمنٹ اگر مجھ کو کوئی خطاب دے گی تو وہ میری ہتک کرے گی۔ اس
موقعہ پر اگر گورنمنٹ آپ کو ان خدمات کے صلہ میں جو آپ نے فرمائی ہیں کوئی خطاب عطاء فرمائے تو کیا آپ قبول
فرمائیں گے… حضور (مرزامحمود) نے اس کا حسب ذیل جواب لکھایا۔ کسی کا مقولہ ہے کہ آب ندیدم موزہ از پاکشیدم۔
مومن کو اس قسم کی دور کی باتیں نہیں سوچنی چاہئیں۔ ہم نے گورنمنٹ کی کون سی ایسی خدمت کی ہے کہ جس کے بدلہ
میں گورنمنٹ ہمیں خطاب دینے کا ارادہ کرے خدمات کرنے والے تو وہ شیروں کی کچھار میں پڑے ہوئے احمدی ہیں جو
وفاداری کے لئے ہر طرح کی تکلیف اٹھا رہے ہیں۔ پس خدمات جماعت کی ہیں نہ کہ میری اور اعزاز کی مستحق تمام
جماعت ہے نہ کہ میں۔‘‘
(الفضل قادیان ج۱۰ نمبر۲۲ ص۶ کالم۲،۳، مؤرخہ ۱۸؍ستمبر ۱۹۲۲ء)
500
(۹۵) فرق مراتب
’’میں چھوٹا تھا کہ میں نے رؤیا دیکھا۔ ایک مصلیٰ ہے جس پر میں نماز پڑھ کر بیٹھا ہوں اور میرے ہاتھ
میں ایک کتاب ہے جس کے متعلق مجھے بتایا گیا کہ وہ شیخ عبدالقادر صاحب جیلانی (یعنی حضرت غوث الاعظمc۔
للمؤلف) کی ہے اور اس کا نام منہاج الطالبین ہے۔ یعنی خداتعالیٰ تک پہنچنے والوں کا رستہ۔ میں اس کتاب کو
پڑھ کر رکھ دیا۔ پھر یک دم خیال آیا کہ یہ کتاب حضرت خلیفہ المسیح اوّل کو (یعنی حکیم نورالدین قادیانی کو۔
للمؤلف) دینی ہے اس لئے میں اسے ڈھونڈھنے لگا۔ مگر وہ ملتی نہیں۔‘‘
(مندرجہ اخبار الفضل قادیان ج۲۳ نمبر۵۵ نمبر۸ کالم۱، مؤرخہ ۳؍ستمبر ۱۹۳۵ء، خطبات محمود ج۱۶ ص۵۴۴)
(۹۶) حیرت ہے
’’ہمیں کہا جاتا ہے کہ ہم اس گورنمنٹ کے خوشامدی ہیں۔ مگر حیرت ہے کہ وہ لوگ خیال نہیں کرتے کہ اس
گورنمنٹ سے ہمیں کون سا زائد فائدہ ملتا ہے۔ جتنا کہ باوجود مخالف کے مسٹر گاندھی اور مسٹرز محمد علی وشوکت
علی اٹھارہے ہیں وہی میں بھی لے رہا ہوں۔ اس لئے میں کیوں خوشامد کرتا بلکہ اگر دیکھا جائے تو میں بعض اوقات
نقصان اٹھاتا ہوں اور مسٹرز محمد علی وشوکت علی نہیں اٹھاتے اس لئے کہ گورنمنٹ میرے متعلق خیال کرتی ہے کہ
اس کے ساتھ تھوڑے آدمی ہیں اور محمد علی وشوکت علی کے ساتھ زیادہ ہیں۔ وہ ان سے ڈرجاتی ہے۔ لیکن ہمارے حقوق
کو بعض اوقات پائمال کردیتی ہے۔ پس ہمیں کوئی زائد فائدہ نہیں مل رہا ہے جس کے لئے ہم خوشامد کریں۔ ہمیں
گورنمنٹ کے حکام سے بھی بعض اوقات نقصان اٹھانا پڑتا ہے۔ کیونکہ وہ لوگ آخر ہندو یا مسلمان ہی ہوتے ہیں اور
چونکہ ہمارے خیالات ان کو نئے معلوم ہوتے ہیں۔ طبعاً وہ ان سے نفرت کرتے ہیں۔‘‘
(تقریر مرزامحمود، خلیفہ قادیان، الفضل قادیان ج۸ نمبر۷۶،۷۷، مؤرخہ ۱۱تا۱۴؍اپریل ۱۹۲۱ء)
(۹۷) جب یا آج
’’جب یورپ میں جنگ جاری تھی اور توپیں چلتی تھیں اور سرنگیں اڑتی تھیں اس وقت میاں (محمود احمد) صاحب
نے ارشاد فرمایا تھا کہ میرے کندھوں پر اگر خلافت کا بارگراں نہ ہوتا تو میں خود جاکر جنگ میں شامل ہوتا مگر
کیا کروں۔ خلافت کا بوجھ ہلنے نہیں دیتا۔ یا آج جب ویمبلے کی نمائش اپنی تمام شان وشوکت کے ساتھ نظر کے
سامنے ہے اور پیرس وفرانس کی آرائش وحسن سوئٹزر لینڈ کے قدرتی مناظر، اٹلی کی تاریخی سیرگاہیں وینس ونیپلز
بندرگاہیں نگاہوں میں بسی ہوئی ہیں اور اہرام مصری نظر آرہے ہیں تو وہی خلافت کا بوجھ اس قدر ہلکا ہوگیا کہ
میاں صاحب مع اسٹاف خلافت کے یورپ کے امڈے چلے جارہے ہیں۔‘‘
(پیغام صلح لاہور، مؤرخہ ۱۶؍جولائی ۱۹۲۴ء)
(۹۸) دمشق ویورپ
’’آج فضل عمر (مرزامحمود خلیفہ قادیان) بھی دمشق ویورپ جارہے ہیں درجن بھر تو اسٹاف ہے۔ ضرورت یا عدم
ضرورت کا کوئی سوال ہی نہیں۔ ان اخراجات سفر وقیام یورپ کا خیال ہی نہیں۔ خیال ہے تو یہ ہے کہ نمود ونمائش
مکمل ہو۔ کسی سے ہیٹے نہ رہیں۔ آرام وآسائش کے کل سامان مہیا ہوں۔ قوم کا روپیہ تباہ ہوتا ہے تو ہو۔
(مرزامحمود) ولیم فاتح انگلستان ہونے کے مدعی ہیں۔ انگلستان فتح ہوگا یا نہیں یہ اللہ کا علم ہے بیج بوئے
جارہے ہیں۔ ہزارہا روپے تصدق ہورہے ہیں۔ یورپ اس خلافت کی شان وشوکت کو دیکھ کر متحر ومتاثر ہوگا۔
501
کیا جناب فضل عمر کی اس نمائش وکبریائی کا حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی فروتنی وبے نفسی سے کوئی مقابلہ
ہوسکتا ہے، ہرگز نہیں۔‘‘
(پیغام صلح لاہور ج۱۲ نمبر۷۲ ص۵ کالم۱، مؤرخہ ۲۰؍جولائی ۱۹۲۴ء)
(۹۹) جماعت احمدیہ کی فوجیں
’’رؤیا میں میں (مرزامحمود) نے دیکھا کہ میں لنڈن میں ہوں اور ایک ایسے جلسہ میں ہوں جس میں پارلیمنٹ
کے بڑے بڑے ممبر اور نواب اور وزراء اور دوسرے بڑے آدمی ہیں۔ ایک دعوت قسم کا جلسہ ہے۔ اس میں میں بھی شامل
ہوں۔ مسٹر لائیڈ جارج سابق وزیراعظم اس میں تقریر کر رہے ہیں۔ تقریر کرتے کرتے ان کی حالت بدل گئی اور انہوں
نے ہال میں ٹہلنا شروع کر دیا اور ایسی گھبراہٹ ان کی حرکات سے ظاہر ہوئی کہ سب لوگوں نے یہ سمجھا کہ ان کو
جنون ہوگیا ہے۔ سب لوگ قطاریں باندھ کھڑے ہوگئے ہیں اورجلد جلد ادھر سے ادھر ٹہلتے ہیں۔ اتنے میں لارڈ کرزن
صاحب نے آگے بڑھ کر ان کے کان میں کچھ کہا اور وہ ٹھہر گئے اور آہستہ سے لارڈ کرزن صاحب کو کچھ کہا۔ انہوں
نے باقی لوگوں سے جو ان کے گرد تھے، وہی بات کہی اور سب لوگ دوڑ کر ہال کے دروازے کی طرف چلے گئے اور باہر
سڑک کی مشرقی جانب جھانکنا شروع کیا۔ ان کے اس طریق پر مجھے اور بھی حیرت ہوئی۔ قاضی عبد اللہ صاحب میرے پاس
کھڑے ہیں۔ میں نے ان سے پوچھا کہ انہوں نے کیا کہا ہے اور یہ لوگ دروازے کی طرف کیوں دوڑے اور کیا دیکھتے
ہیں؟ قاضی صاحب نے مجھے جواب دیا کہ مسٹر لائیڈ جارج نے لارڈ کرزن سے یہ کہا کہ میں پاگل نہیں ہوں بلکہ میں
اس وجہ سے ٹہل رہا ہوں کہ مجھے ابھی خبر آئی ہے کہ مرزامحمود احمد امام جماعت احمدیہ کی فوجیں عیسائی لشکر
کو دباتی چلی آتی ہیں اور مسیحی لشکر شکست کھا رہا ہے اور وہ ہٹتے ہٹتے اس جگہ کے قریب آگیا ہے اور یہ لوگ
اس بات کو سن کر دروازے کی طرف اس لئے دوڑے تھے کہ تادیکھیں کہ لڑائی کا کیا حال ہے۔ جب میں نے یہ بات ان سے
سنی تو دل میں کہتا ہوں کہ ان کو اس قدر گھبراہٹ ہے، اگر ان کو معلوم ہو کہ میں خود ان کے اندر موجود ہوں تو
یہ مجھے گرفتار کرنے کی کوشش کریں گے۔ یہ خیال کر کے میں بھی دروازے کی طرف اس طرح بڑھا جس طرح وہ لوگ
دیکھنے کے لئے گئے تھے اور وہاں سے خاموشی سے سڑک کی طرف نکل گیا۔ اس پر میری آنکھ کھل گئی۔‘‘
(دورۂ یورپ مندرجہ اخبار الفضل قادیان ج۱۱ نمبر۱۰۰، مؤرخہ ۲۴؍جون ۱۹۲۴ء، انوار العلوم ج۸ ص۳۸۳،۳۸۴)
(۱۰۰) ولیم دی کنکر
’’میں (مرزامحمود) نے دیکھا کہ میں انگلستان کے ساحل سمندر پر کھڑا ہوں جس طرح کہ کوئی شخص تازہ وارد
ہوتا ہے اور میرا لباس جنگی ہے۔ میں ایک جرنیل کی حیثیت میں ہوں اور میرے پاس ایک اور شخص کھڑا ہے۔ اس وقت
میں یہ خیال کرتا ہوں کہ کوئی جنگ ہوئی ہے اور اس میں مجھے فتح ہوئی ہے اور میں اس کے بعد میدان کو ایک مدبر
جرنیل کی طرح اس نظر سے دیکھ رہا ہوں کہ اب مجھے اس فتح سے زیادہ سے زیادہ فائدہ کس طرح حاصل کرنا چاہئے۔
ایک لکڑی کا موٹا شہتیر زمیں پر کٹا ہوا پڑا ہے۔ ایک پاؤں میں نے اس پر رکھا ہوا ہے اور ایک پاؤں زمین پر
ہے۔ جس طرح کوئی شخص کسی دور کی چیز کو دیکھتا ہے تو ایک پاؤں کسی اونچی چیز پر رکھ کر اونچا ہوکر دیکھتا
ہے۔ اسی طرح میری حالت ہے اور جسم میں عجیب چستی اور سبکی پاتا ہوں۔ جس طرح کہ غیرمعمولی کامیابی کے وقت ہوا
کرتا ہے اور چاروں طرف نگاہ ڈالتا ہوں کہ کیا کوئی جگہ ایسی ہے جس طرف مجھے توجہ کرنی چاہئے کہ اتنے میں ایک
آواز آئی جو ایک ایسے شخص کے منہ سے نکل رہی ہے جو مجھے نظر نہیں آتا۔ مگر میں اسے پاس ہی کھڑا ہوا سمجھتا
ہوں اور یہ بھی خیال کرتاہوں کہ یہ میری روح ہے۔ گویا میں اور وہ ایک ہی وجود ہیں اور
502
وہ آواز کہتی ہے ’’ولیم دی کنکرر‘‘ یعنی ولیم فاتح۔ ولیم ایک پرانا بادشاہ ہے جس نے انگلستان کو فتح
کیا۔ اس امر کے بعد میری آنکھ کھل گئی۔‘‘
(دورۂ یورپ مندرجہ اخبار الفضل قادیان ج۱۱ نمبر۱۰۰، مؤرخہ ۲۴؍جون ۱۹۲۴ء، انوارالعلوم ج۸ ص۳۸۴،۳۸۵)
(۱۰۱) قادیان کے پیرجی
’’ہمارے قادیان کے پیرجی ہر ادا میں یہی کچھ ظاہر کرتے ہیں۔ سیروسیاحت کو دل چاہا تو مذہب کو آڑ
بنالیا اور بے چارے مریدوں کو طرح طرح کی طفل تسلیاں دیں۔ کہیں کہا کہ دیکھو شاہ جہاں کی بیوی کا جب مقبرہ
بننے لگا تو محض یہ دیکھنے کے لئے کہ بادشاہ اس طرح زرکثیر کے لئے تیار بھی ہے۔ انجینئر نے انہیں ایک لاکھ
روپیہ کے ساتھ کشتی میں بٹھایا اور چلتے چلتے سارا روپیہ دریا میں بکھیردیا۔ پیر جی کو بھول گیا کہ نہ وہ
شاہ جہاں ہیں نہ وہ بے چاری عورتیں جنہوں نے زیورات بیچ بیچ کر برلن مسجد کے لئے چندہ دیا تھا جسے آپ اب بیچ
کر روپیہ اس شاہ جہانی طریق سے سمندر کی نذر کر رہے ہیں۔ پھر اس رقم چالیس ہزار کی قدروقیمت مریدوں کو نظر
میں گھٹانے کے لئے یوں گوہر افشانی فرمائی کہ انگلستان کا ایک امیر جہاں آپ جارہے ہیں بیس بیس ہزارمیں کتا
خریدتا ہے اور تیس تیس ہزار میں گھوڑا۔ گویا چالیس ہزار جو آپ لے چلے ہیں کوئی بات ہی نہیں اور یہ خیال نہیں
آیا کہ یہ بے چارے ہندوستانیوں کے گاڑھے پسینے کی کمائی ہے۔ جسے یوں ضائع کرنا ایک ایسا اخلاقی جرم ہے جسے
خود مریدوں کو آنکھ سے بھی پیرجی کو چھپانا مشکل ہی ہوا۔‘‘
(پیغام صلح لاہور، مؤرخہ ۲۳؍جولائی ۱۹۲۴ء)
(۱۰۲) اگر پدرنتو اند پسر تمام کند
’’حضرت خلیفہ المسیح ثانی ایدہ اللہ بنصرہ العزیز (مرزامحمود خلیفہ قادیان) ۱۹۲۴ء میں دمشق تشریف لائے
اور منارۃ البیضاء کے پاس دمشق کے دروازہ میں آپ نے نزول فرمایا تا وہ حدیث پوری ہو جس میں رسول اللہ ﷺ نے
فرمایا ہے کہ مسیح دمشق کے دروازہ میں منارہ کے پاس نزول کرے گا۔ چنانچہ سنترال ہوٹل جس میں آپ نے قیام
فرمایا وہ دمشق کا دروازہ ہی ہے اور مسجد منجقدار کے منارہ کے شرقی جانب ہے اور آپ تین دن تک جوتنزیل کی
احادیث میں مدت بیان ہوئی ہے وہاں ٹھہرے۔‘‘
(الفضل قادیان ج۱۵ نمبر۸۳، مؤرخہ ۲۰؍اپریل ۱۹۲۸ء)
’’سیدنا حضرت مصلح موعود (مرزامحمود خلیفہ قادیان) اگست ۱۹۲۴ء کے سفر یورپ کے دوران دمشق کے منارہ
بیضا کے ٹھیک مشرق میں واقع ہوٹل میں قیام فرما ہوئے۔ ہوٹل میں حضور کی زیارت کرنے والوں کا تانتا بندھا
رہا۔ اکثر لوگ نہایت احترام کا اظہار کرتے اور آپ کو ’’ابن المہدی‘‘ کہہ کر سلام کہتے تھے۔ ازاں بعد ۱۹۵۵ء
میں آپ کو اپنے اختیار سے نہیں۔ بلکہ ملک بھر کے مشہور ڈاکٹروں کے اصرار پر بغرض علاج دوسری بار یورپ جانا
پڑا۔ اس ۳۰؍اپریل کو آپ دمشق پر بذریعہ ہوائی جہاز اترے علم التعبیر کی اصطلاح کے مطابق اس وقت آپ دوزرد
چادروں میں ملبوس یعنی بیمار تھے۔ الغرض حدیث نبوی کی صداقت پر گویا دن چڑھ گیا اور ’’نزول دمشق‘‘ کا نشان
معنوی اور ظاہری دونوں اعتبار سے پورا ہوگیا ؎
-
صاف دل کو کثرت اعجاز کی حاجت نہیں
اک نشان کافی ہے گر دل ہے خوف کردگار‘‘
(الفضل ربوہ صد سالہ خلافت جوبلی نمبر ص۳۳ کالم۱،۲، مؤرخہ ۳؍دسمبر ۲۰۰۸ء)
(۱۰۳) پیرپرستی
’’ہمیں یقین نہ آتا تھا کہ ایک طرف تو میاں (مرزامحمود) صاحب کو یورپ کی سیر کے شوق میں اپنے نفس پر
اتنا قابو نہ رہے گا کہ
503
قوم کے ہزارہا روپے کو اس طرح برباد کر دیا جائے اور ان غریب عورتوں پر رحم نہ آئے گا۔ جنہوں نے اپنے
زیور تک اتار کر میاں (مرزامحمود) صاحب کے نذر کر دئیے تھے کہ برلن میں مسجد بنائی جائے آخر وہ ناتمام حالت
میں ہی تھی کہ اس کے فروخت کر دینے کا حکم صادر ہو اور اس کا نام مسجد سے اب مکان رکھا گیا وہ مکان یعنی
مسجد کے فروخت کا روپیہ آئے گا تو ان قرض خواہوں کا روپیہ ادا ہوگا جن سے قرض لے کر میاں صاحب مع اسٹاف
انگلستان جارہے۔ دوسری طرف یہ بھی یقین نہ آتا تھا کہ وہ قوم جس نے مسیح موعود (مرزاقادیانی) اور مولانا
نورالدین جیسی بے نفس اور پاک ہستیوں کی آنکھیں دیکھی ہوئی تھیں۔ اس قدر پیرپرستی کے گڑھے میں گر جائے گی کہ
اس میں قطعاً اس بات کی سکت نہ رہے گی کہ وہ اس اسراف پر آواز اٹھائے اور خلیفہ کو اس اسراف اور اتباع
ہواوہوس سے روکے۔‘‘
(پیغام صلح لاہور، مؤرخہ ۱۶؍جولائی ۱۹۲۴ء)
(۱۰۴) قتل کا فتویٰ
’’اور فرمایا (یعنی رسول کریم ﷺ نے فرمایا) کہ خلیفہ ہو تو جو پہلا ہو اس کی بیعت کرو جو بعد میں
دوسرا پہلے کے مقابل پر کھڑا ہو جائے جیسے لاہور میں ہے تو اسے قتل کردو۔ مگر یہ قتل کا حکم تب ہے جب سلطنت
اپنی ہو۔ اب اس حکومت میں ہم ایسا نہیں کر سکتے۔‘‘
(ارشاد مرزا محمود خلیفہ قادیان، تشحیذ الاذہان، قادیان بابت ماہ جون ۱۹۱۹ء، منقول از اخبار الفضل
قادیان ج۷ نمبر۸ ص۳ کالم۱، مؤرخہ ۲۶؍جولائی ۱۹۱۹ء)
’’جیسے لاہور میں ہے‘‘ کا فقرہ اس طالب علم کا سمجھا جائے جس نے اس درس کے نوٹ ۱۹۱۴ء میں لئے تھے۔
(ارشاد مرزا محمود خلیفہ قادیان، تشحیذ الاذہان قادیان بابت ماہ جولائی ۱۹۱۹ء منقول از اخبار الفضل
قادیان ج۷ نمبر۸ ص۳ کالم۱، مؤرخہ ۲۶؍جولائی ۱۹۱۹ء)
(۱۰۵) کیا
’’کیا یہ بتایا جاسکتا ہے کہ جس قدر زرعی جائیداد حضرت مسیح موعود اپنی وفات پر چھوڑ گئے تھے کیا وہ
اس قدر کافی تھی کہ میاں (مرزامحمود) صاحب کا موجودہ شاہانہ خرچ کا کوئی حصہ بھی اس سے چل سکتا ہے۔ اگر کہو
کہ بعد میں میاں (مرزامحمود) صاحب نے زمین خریدی تو سوال یہ ہے کہ خریدنے کے لئے روپیہ کہاں سے آیا۔ کیا قوم
کے روپوں کے سوا کوئی اور ذریعہ بھی آمد کا تھا۔‘‘
(پیغام صلح لاہور، مؤرخہ ۱۶؍جولائی ۱۹۲۴ء)
(۱۰۶) چوکی پہرہ
’’پہرے کے متعلق بھی دوستوں نے عجیب، عجیب قسم کی تحریکیں کی ہیں بعض نے لکھا ہے کہ رات کو جب آپ
سوئیں تو کسی کو یہ معلوم نہیں ہونا چاہئے کہ آپ کس کمرہ میں ہیں۔ حتیٰ کہ بیویوں کو بھی یہ علم نہیں ہونا
چاہئے۔ بعضوں نے لکھا ہے کہ خیر بیویوں کو علم ہوتو کوئی حرج نہیں۔ کسی اور کو معلوم نہیں ہونا چاہئے۔ یہ
تمام باتیں جماعت کے اخلاص اور محبت کا نہایت اچھی طرح اظہار کرتی ہیں گو ان پر عمل نہیں ہوسکتا۔ کیونکہ اگر
ایسا کیا جائے تو زندگی دوبھر ہو جائے۔‘‘
(خطبہ جمعہ خلیفہ قادیان مندرجہ اخبار الفضل قادیان ج۲۲ نمبر۹۴ ص۳،۴ کالم۱تا۳، مؤرخہ ۵؍فروری ۱۹۳۵ء،
خطبات محمود ج۱۶ ص۶۵)
(۱۰۷) کتوں کی ضرورت
’’الفضل، ۲؍اکتوبر میں ’’پہرہ کے لئے کتوں کی ضرورت‘‘ کے عنوان سے مندرجہ ذیل اعلان شائع ہوا ہے۔
504
’’اچھی نسل کے کچھ کتوں کی ضرورت ہے۔ جن سے حضرت خلیفہ المسیح الثانی ایدہ اللہ کی کوٹھی دارالحمد کے
لئے پہرہ کا کام لیا جائے گا۔ اگر کسی دوست کے پاس ہوں یا وہ مہیا کر سکتے ہوں تو ایڈیٹر ’’الفضل‘‘ کو اطلاع
دیں تاکہ ان کے منگوانے کا انتظام کیا جائے۔‘‘
اس اعلان پر خدا جانے کیوں عوام میں طرح، طرح کی چہ میگوئیاں ہورہی ہیں۔ مثلاً کیا وجہ کہ جناب خلیفہ
قادیان نے اپنے نئے قصر خلافت پر آدمیوں کے بجائے کتوں کا پہرہ لگانا پسند کیا ہے۔ کیا کوئی بھروسہ کا
چوکیدار نہ ملتا تھا؟ یا یہ کہ ان کو قادیان میں کوئی کتانہ ملا کہ اس اعلان کی ضرورت پیش آئی؟ یا یہ کہ
جناب خلیفہ صاحب کے مرید یہ کس طرح گوارا کریں گے کہ قصر خلافت کے پہرے کی سعادت ان کی بجائے کتوں کے حصہ
میں چلی جائے۔‘‘
(پیغام صلح لاہور ج۲۲ نمبر۶۳ ص۵ کالم۳، مؤرخہ ۱۱؍اکتوبر ۱۹۳۴ء)
(۱۰۸) تازہ خواب
’’میں نے ایک دن خاص طور پر دعا کی تو میں نے دیکھا کہ چوہدری ظفر اللہ خاں صاحب آئے ہیں (وہ اس وقت تک
انگلستان سے واپس نہیں آئے تھے) اور میں قادیان سے باہر پرانی سڑک پر ان سے ملا ہوں۔ وہ ملتے ہی پہلے مجھ سے
بغلگیر ہوگئے ہیں اور اس کے بعد نہایت جوش سے انہوں نے میرے کندھوں اور سینہ کے اوپر کے حصہ پر بوسے دینے
شروع کئے ہیں اور نہایت رقت کی حالت ان پر طاری ہے اور وہ بوسے بھی دیتے جاتے ہیں اور یہ بھی کہتے جاتے ہیں
کہ میرے آقا میرا جسم اور روح آپ پر قربان ہوں، کیا آپ نے خاص میری ذات سے قربانی چاہی ہے… اور میں نے دیکھا
کہ ان کے چہرے پر اخلاص اور رنج دونوں قسم کے جذبات کا اظہار ہورہا ہے۔‘‘
(خطبہ جمعہ خلیفہ قادیان مندرجہ اخبار الفضل قادیان ج۲۲ نمبر۶۲ ص۵ کالم۲، مؤرخہ ۱۸؍نومبر ۱۹۳۴ء،
خطبات محمود ج۱۵ ص۳۶۳)
(۱۰۹) کشف حقیقت
’’غالباً گیارہ بجے کا وقت ہوگا جب مجھ پر ایک خفیف سی غنودگی طاری ہوئی میں نے دیکھا میرے خیمہ کے
مغربی دروازہ سے دو شخص داخل ہوئے ایک جوان دوسرا معمر۔ اوّل الذکر تو جناب مرزابشیرالدین محمود تھے۔ جن کو
میں نے فوراً پہچان لیا لیکن ان کے رفیق کو کبھی میں نے ایسی حالت میں نہ دیکھا تھا۔ اسی لئے میں ان کو
پہچان نہ سکا ان کا لباس لٹھہ یا کھادی کا تھا اور وہ بھی کسی قدر کثیف۔ سرپر بغیر کلاہ کے ململ کی پگڑی گلے
میں پرانی وضع کا کرتہ نیچے ایک تہ بند۔ لیکن جب یہ دونوں میری چارپائی کے نزدیک کرسیوں پر بیٹھ گئے تو میں
نے پہچان لیا کہ یہ حضرت اقدس (مرزاقادیانی) ہیں۔ آپ کا چہرہ غمگین تھا۔ آپ کی اس حالت نے مجھے غمناک کر دیا
اور میں نے روتے ہوئے آپ سے دریافت کیا کہ یہ کیا حالت ہے۔ آپ نے خشمناک حالت میں میاں محمود کی طرح دیکھا
اور فرمایا کہ یہ سب اس کا کیا ہوا ہے۔ یہ نوجوان کسی کی نہیں مانتا جو اس کے دل میں آتا ہے، کرتا ہے۔‘‘
(مجدد کامل ص۱۲۳ ضمیمہ نمبر۲، مصنفہ خواجہ کمال الدین لاہوری قادیانی)
(۱۱۰) میاں صاحب کا مباہلہ سے فرار
’’قادیان میں جناب خلیفہ صاحب (خلیفہ قادیان مرزامحمود) کے مرید، ان کو ایسے امور کے متعلق مباہلہ کے
چیلنج دیتے رہے ہیں۔ جن کی تفصیل ہی ناگفتہ بہ ہے اور اس کے جواب میں خلیفہ صاحب ممدوح نے ہمیشہ سکوت ہی
فرمایا۔ جب زیادہ عاجز آئے تو چیلنج دینے والوں کو ’’منافق‘‘ قرار دے کر جماعت سے خارج کردیا اگر ان باتوں
کے باوجود جناب خلیفہ صاحب کی وقعت اپنے مریدوں میں کم نہ ہوئی تو بمبئی کے چند مسلمانوں کے چیلنج کو جماعت
لاہور کی بے وقعتی کس طرح قرار دیا جارہا ہے۔‘‘
(اخبار پیغام صلح لاہور ج۲۲ نمبر۶۵ ص۳ کالم۲، مؤرخہ ۱۹؍اکتوبر ۱۹۳۴ء)
505
’’پھر جب جناب میاں (مرزامحمود) صاحب کو (اخبار) مباہلہ (امرتسر) والوں نے للکارا کہ اگر آپ کا چال
چلن واقعی درست ہے تو آؤ مسیح موعود کے فرمان کے مطابق ہم سے مباہلہ کر لو تو بھی میاں صاحب نے اس چیلنج کو
محض جھوٹے بہانہ سے رد کر دیا اور جب میں نے منصوری پرجاکر کہا کہ آپ مجھے یہ بتائیں کہ دو مسلمانوں میں جب
کہ وہ ایک دوسرے پر زنا کا الزام لگاتے ہوں مباہلہ کیوں جائز نہیں ہے جب کہ مسیح موعود صاف لکھتے ہیں کہ
ایسی صورت میں مباہلہ جائز ہے تو خدا کے مقرر کردہ خلیفہ محمود ایدہ اللہ بنصرہ العزیز نے فرمایا کہ مباہلہ تو
جائز ہے۔ مگر میں نے پہلے مسیح موعود کا فتویٰ دیکھا نہ تھا۔ مگر کیا اس کے بعد بھی جرأت ہوئی کہ اپنے چال
چلن کے پاکیزہ ہونے پر مباہلہ کریں۔ مباہلہ تو ایک طرف رہا پبلک میں اپنی پہلی غلطی اور مباہلہ کے جواز کا
اعتراف بھی آج تک نہیں کر سکے۔‘‘
(مضمون از مولوی عمرالدین شملوی قادیانی لاہوری، مندرجہ اخبار پیغام صلح لاہور ج۲۲ نمبر۳۷ ص۷ کالم۲،
مؤرخہ ۱۹؍جون ۱۹۳۴ء)
(۱۱۱) سخت افسوس
’’مجھے اس بات سے سخت افسوس ہوا کہ میرا ایک خط اخبار زمیندار میں شائع کرانے اور کرنے والوںنے سخت
غلطی کی ہے۔ میری بہو نے حضرت خلیفہ المسیح ثانی (مرزامحمود) پر ناپاک الزام لگایا تھا مگر اس وقت اس کے
الزام کو غلط سمجھ کر اس کو طلاق دے کر آزاد کر دیا گیا تھا۔ گزشتہ سال بعض لوگوں نے مجھ سے ایسی باتیں کیں
جن سے میں نے دھوکہ کھا کر حضرت (مرزامحمود) صاحب سے حلف کا مطالبہ کیا۔ مگر جہاں تک میں نے تحقیقات کی ان
واقعات کو سراسر غلط اور بے بنیاد پایا اور میری بیوی اور بچوں نے بھی قسم کھا کر حضرت صاحب کی پاکیزدگی کی
شہادت دی۔ میں پہلے مباہلہ اور حلف کو ہرامر میں جائز سمجھتا تھا مگر اس کے متعلق جب غور کیا تو میرا خیال
غلط ثابت ہوا۔ مباہلہ اور حلف کے متعلق مولوی محمد علی صاحب امیرجماعت احمدیہ لاہور اور مولوی ثناء اللہ صاحب،
ایڈیٹر اخبار اہل حدیث سے بھی دریافت کیاگیا۔ مگر ان کے جوابات سے یہی پایا گیا کہ زنا کے الزام میں مباہلہ
اور حلف کا مطالبہ شرعاً جائز نہیں ہے۔ اس لئے میں نے جلسہ سالانہ ۱۹۲۹ء سے قبل ہی اس قسم کے شبہات اور
مطالبہ حلف سے رجوع کر لیا تھا۔ اب میں بذریعہ اخبار الفضل اعلان کرتا ہوں کہ مجھ کو حضرت خلیفہ المسیح ثانی
کے متعلق کوئی شبہ نہیں میں تمام الزامات کو جو حضور کی طرف لوگوں نے منسوب کئے۔ سراسر افتراء اور بہتان
یقین کرتا ہوں۔‘‘
(بیان احمد دین خان قادیانی، الفضل قادیان ج۱۷ نمبر۱۰۵، مؤرخہ ۳؍جون ۱۹۳۰ء)
(۱۱۲) میاں صاحب کا ارشاد
’’اسی طرح حضرت مسیح موعود (مرزاقادیانی) کے قریباً ہم عمر مولوی محمد حسین صاحب بٹالوی بھی تھے۔ ان
کے والد کا جس وقت نکاح ہوا ان کو اگر حضرت اقدس مسیح موعود (مرزاقادیانی) کی حیثیت معلوم ہوتی اور وہ جانتے
کہ میرا ہونے والا بیٹا محمد رسول اللہ ﷺ کے ظل اور بروز کے مقابلہ میں وہی کام کرے گا جوآنحضرت ﷺ کے مقابلہ
میں ابوجہل نے کیا تھا تو وہ اپنے آلہ تناسل کو کاٹ دیتا اور اپنی بیوی کے پاس نہ جاتا۔‘‘
(خطبہ نکاح مندرجہ اخبار الفضل قادیان ج۱۰ نمبر۳۵ ص۶ کالم۳، مؤرخہ ۲؍نومبر ۱۹۲۳ء، خطبات محمود ج۳
ص۱۶۵)
(۱۱۳) دس جوتے
’’۱… مرزاصاحب قادیان۔ میاں محمود احمد صاحب خلیفہ قادیان۔
506
۲… ابوبکر صدیق۔ عزیزہ بیگم اور مسماۃ سلمیٰ کے والد۔
۳… عزیزہ بیگم۔ میاں محمود احمد صاحب خلیفہ قادیان کی بیوی۔
۴… مسماۃ سلمیٰ۔ ابوبکر صدیق کی لڑکی جس کا عدالتی بیان ذیل میں درج ہے۔
۴… مسماۃ سلمیٰ۔ ابوبکر صدیق کی لڑکی جس کا عدالتی بیان ذیل میں درج ہے۔
۵… احسان علی۔ ایک قادیانی دوافروش قادیان میں۔
میرے باپ کا نام ابوبکر صدیق ہے۔ وہ مرزاصاحب قادیان کا خسر ہے۔ میں بھی مرزاصاحب قادیان کے گھر میں
تقریباً (۵)سال رہی ہوں۔ میں مستغیث احسان علی کو جانتی ہوں۔ چارسال ہوئے میں مرزاصاحب کے لڑکے کی دوائی
لینے احسان علی کی دوکان پر گئی تھی۔ میں نسخہ لے کر اس کی دوکان پر گئی تھی۔ اوّل احسان علی نے میرے ساتھ
مخول کرنا شروع کیا اور پھر مجھ سے کہا کہ میں مضروبوں کے کمرہ میں جاؤں۔ اس دوسرے کمرہ میں اس نے مجھے لٹا
دیا اور میرے ساتھ بدفعلی کرنے کی کوشش کری۔ لوگ میرے رولا کرنے پر اکھٹھے ہوگئے اور دروازہ کھلایا اور
احسان علی کولعنت اور ملامت کری تھی۔ احسان علی نے میرے ساتھ بدفعلی کرنی شروع کری تھی۔میں نے گھر میں جاکر
عزیزہ بیگم کے پاس شکایت کری تھی اور اس وقت مرزاصاحب وہاں موجود تھے ان ایام میں، میں عزیزہ بیگم کے پاس
رہتی تھی۔ مرزاصاحب نے احسان علی کو بلایا اور لعنت ملامت کری اور احسان علی کو کہا کہ قادیان سے نکل جاؤ۔
احسان علی نے معافی مانگی اور مرزاصاحب نے حکم دیا کہ اگر احسان علی دس جوتے کھالیوے تب اس کو معاف کیا جاتا
ہے اور ٹھہر سکتا ہے۔ چنانچہ احسان علی نے اس کو قبول کیا اور میں نے اس کو دس جوتے لگائے تھے۔ یہ جوتیاں
مرزاصاحب کے سامنے ماری تھیں… جب کہ میں نے احسان علی کو جوتیاں ماری تھیں تو تین چار آدمی اکٹھے ہوگئے تھے۔
ان ایام میں، میں بغیر پردہ کے باہر پھرا کرتی تھی… اس کے بعد میں سودا لینے بازار نہیں گئی۔‘‘
(مسماۃ سلمیٰ کی حلفی شہادت جو اس نے بتاریخ ۱۰؍جولائی ۱۹۳۵ء ایڈیشنل ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ ضلع امرتسر کی
عدالت میں ادا کی۔ بمقدمہ ازالہ حیثیت عرفی زیردفعہ نمبر۵۰۰، احسان علی بنام محمد اسماعیل نمبری ۸۶، ۲،
مرجوعہ ۱۷؍جولائی ۱۹۳۵ء، منفصلہ ۲۱؍ستمبر ۱۹۳۵ء)
(۱۱۴) ہتک
’’کہاں ملک عبدالرحمن خادم صاحب (قادیانی) کے میاں (مرزامحمود) جو حضرت مسیح موعود (مرزاقادیانی) کی
طرح بلند آہنگی سے دنیا کو مختلف اوقات میں مقابلہ کے لئے چیلنج تو کرتے ہیں۔ لیکن جب کبھی کوئی مباہلہ کے
لئے مقابلہ پر نکلا یا تفسیر نویسی کے لئے مقابلہ پر آیا تو میاں صاحب کا یہ حال ہوا کہ گویا وہ اس دنیا میں
ہی نہیں ہیں۔ مرید اور بعض مخلصین کہتے ہیں اور باربار کہتے ہیں کہ حضرت آپ کی اس خاموشی سے تو احمدیت پر
بھی دھبہ لگتا ہے۔ براہ کرم مقابلہ کے لئے ضرور نکلیں مگر کیا ہوا۔ یہی کہ ؎
کچھ ایسے سوئے کہ پھر نہ جاگے تھکے ہم ان کو جگا جگا کر
…اس لئے ہم تو (لاہوری جماعت کے قادیانی) میاں صاحب (خلیفہ قادیان) کو ان حالات میں مسیح موعود
(مرزاقادیانی) کا نظیر کہنا بھی حضرت مسیح موعود کی ہتک سمجھتے ہیں اور جوں جوں میاں صاحب کی حقیقت لوگوں پر
کھلے گی یقینا ایسی جماعت پیدا ہوتی چلی جائے گی۔ جو قادیان میں رہتی ہوئی میاں صاحب کی مخالفت کرے گی اور
ان پر جائز اور صحیح اعتراضات کرنے سے کبھی باز نہیں رہے گی۔‘‘
(اخبار پیغام صلح لاہور ج۲۴ نمبر۷۸ ص۵ کالم۱، مؤرخہ ۷؍دسمبر ۱۹۳۶ء)
507
(۱۱۵) الزاموں کی بھرمار
’’جناب خلیفہ صاحب پر جوناگفتہ بہ الزامات لگائے جارہے ہیں اور عرصہ سے لگتے چلے آرہے ہیں۔ ان کے
اسباب قصر خلافت کے زیرسایہ اور گردوپیش ہی موجود ہیں کیونکہ ان الزامات کو لگانے والے۔ ان کو شہرت دینے
والے اور خلیفہ کو معزول کرنے کا مطالبہ کرنے والے جناب میاں صاحب کے اپنے ہی مرید ہیں۔‘‘
(اخبار پیغام صلح لاہور ج۲۸ نمبر۱۲، مؤرخہ ۲۷؍فروری ۱۹۴۰ء)
’’اسی طرح جب شیخ عبدالرحمن مصری صاحب قادیانی نے اپنے ایک پرائیویٹ خط میں حضرت خلیفۃ المسیح (خلیفہ
قادیان) ایدہ اللہ کو حضور کے بعض ایسے ذاتی امور اور واقعات کی طرف توجہ دلائی جو بوجہ لحاظ وشرم کے اور
سلسلہ کی بدنامی کے خوف کے اعلانیہ نہیں کہے جاسکتے اور ملاقات کے لئے وقت مانگا یا بصورت دیگر جماعت میں سے
ایک آزاد کمیشن کا مطالبہ کیا تو اس کے جواب میں پورے تیرہ روز تک خاموشی ہی اختیار کی گئی مگر جب چودہویں
روز مصری صاحب کی طرف سے بصورت عدم جواب وتسلی فسخ بیعت کے لئے جو بیس گھنٹے کا نوٹس دیا گیا تو بجائے جواب
دینے کے لئے اعلان اخراج کر دیا گیا اور اس میں عام ذہنیت کو مدنظر رکھتے ہوئے اشتعال انگیزی کی خاطر بعض
ایسے الفاظ مصری صاحب کی طرف منسوب کر کے رکھ دیے جو مصری صاحب کے کسی خط اور تحریر میں نہیں تھے۔‘‘
(فخرالدین ملتانی قادیانی کا اعلان، بعنوان مظلومین قادیان پر گالیوں کی بوچھاڑ)
’’حضرت میاں صاحب (سیدنا حضرت امیرالمومنین خلیفۃ المسیح الثانی ایدہ اللہ بنصرہ) کے متعلق مختلف آدمی
(شیخ عبدالرحمن مصری، مستری عبدالکریم وحکیم عبدالعزیز وغیرہ) الزام لگاتے رہے ہیں۔ ایسے الزامات کے متعلق
حضرت مولانا محمد علی صاحب کی زبان سے میں نے کبھی نہیں سنا کہ وہ یہ سمجھتے ہوں کہ یہ الزامات ضرور سچے ہی
ہیں۔ جب کبھی ایسی گفتگو ہوتی ہے تو وہ ایسے معاملات کو ٹال دیتے ہیں اور حوالہ بخدا کرتے ہیں اور کہتے ہیں
کہ خدا بہتر جانتا ہے کہ کیا ہے۔ میرے سامنے کبھی یہ نہیں کہا کہ یہ الزامات ضرور سچے ہیں۔ میں حضرت میاں
صاحب کی بہت بڑی عزت کرتا ہوں اور میرے دل میں ان کے لئے بہت بڑی محبت اور احترام ہے یہ الزامات جو ہیں تمام
ظاہری حالات کے لحاظ سے یعنی ان کے مسیح موعود کی اولاد ہونے کی وجہ سے اور ایسے مقام پر رہنے کی وجہ سے
جہاں حضرت مسیح موعودرہے۔ پھر چار بیویوں کا خاوند ہونے کی وجہ سے اور ایک بڑی جماعت کا خلیفہ ہونے کی وجہ
سے میرے نزدیک غلط ہیں۔ و اللہ اعلم بالصواب! (چار بیویوں کا خاوند ہونے کی وجہ سے جو الزام غلط خیال کئے
جائیں، ان الزامات کی نوعیت ظاہر ہے۔ للمؤلف)‘‘
(چوہدری محمد اسماعیل قادیانی کا بیان مع دستخط گواہان منقول از رسالہ فرقان قادیان ج۱ نمبر۷ ص۲۶،
بابت ماہ جولائی ۱۹۴۲ء)
’’بایں ہمہ مجھے خلیفہ صاحب قادیان کی ذات سے کوئی پرخاش نہیں ہے اور چونکہ وہ میرے مرشد کے لخت جگر
ہیں مجھے ان کی تعظیم واجب ہے۔ مجھے جس بات کا صدمہ ہے وہ یہ ہے کہ میرے مرشد کے فرزند کو گمراہ کرنے والے
زیادہ تر یہی نمک حلال تنخواہ دار ملازم ہیں اور پبلک میں جس قدر شرمناک الزام ان پر لگائے جاتے ہیں ان کا
منبع بھی دارالامان قادیان ہے جو اسی قماش کے لوگوں سے بھرا پڑا ہے۔ یہ لوگ اہل اسلام اور جماعت لاہور پر ہر
وقت نیش زنی کرنا اپنا دین ومذہب سمجھتے ہیں مگر ان کو کبھی اتنی ہمت اور غیرت نصیب نہیں ہوئی کہ سلسلہ
عالیہ احمدیہ اور خلیفہ صاحب کی ذات اور پوزیشن پر جو حملے دن رات ہوتے ہیں ان کی رد کی کچھ فکر کریں احباب
قادیان کو خود اس بات کا احساس ہوتا ہے۔ غلطی خواہ جماعت قادیان کی طرف سے ہو یا جماعت لاہور کے کسی فرد کی
طرف سے۔ اس کی زد اسلام اور احمدیت
508
پر پڑتی ہے۔ (قادیانیوں کی غلطیوں اور بدنمائیوں کی زد اسلام پر تو نہیں پڑتی البتہ قادیانیت پر ضرور
پڑتی ہے اور بھید کھل جانے پر کسی پروپیگنڈہ سے اس کی تلافی نہیں ہوسکتی۔ للمؤلف)‘‘
(خان بہادر میاں محمد صادق قادیانی کا مضمون مندرجہ اخبار پیغام صلح لاہور ج۲۸ نمبر۶۰ ص۷ کالم۱،
مؤرخہ ۲۶؍ستمبر ۱۹۴۰ء)
’’اب یہ ظاہر ہے کہ جو باتیں اب جماعت قادیان کے اکابر کی نسبت زبان زدعام ہیں وہ کوئی ایسے الزام
نہیں جو دشمن ان پر لگاتے ہوں بلکہ ایسے الزام ہیں جو ان کے اپنے مخلص مرید ان پر لگاتے ہیں وہ مرید جو دنیا
کو چھوڑ کر ہجرتیں کر کے قادیان آئے وہ مرید جنہوں نے اپنے مال اور اپنی جانیں اس سلسلہ کی خدمت کے لئے وقف
کر دیں۔ پھر وہ ایک دو نہیں۔ ۱۹۲۵ء سے لے کر یا اس سے بھی بہت پہلے سے یہ الزامات برابر لگتے چلے آئے اور
شاید ایسے لوگوں کی تعداد بیسیوں سے زیادہ ہے۔ جنہوں نے ایسے الزامات لگائے اور آج ۱۹۴۹ء تک برابر یہ سلسلہ
جاری ہے اور ایک سے بڑھ کر دوسرا اور دوسرے سے بڑھ کر تیسرا اور تیسرے سے بڑھ کر چوتھا الزام لگاتا چلا جاتا
ہے… اور میں تو یہ مشورہ بھی دوں گا کہ ان ناپاک باتوں کو جو اس وقت جماعت میں پھیل کر اس کی بدنامی کا موجب
ہورہی ہیں۔ اگر اب بھی خلیفہ صاحب دور کرنا چاہیں تو وہ آسانی سے دور کر سکتے ہیں ان کو خوب علم ہے کہ کون
کون لوگ ان کے متعلق ناگفتنی باتیں منسوب کر رہے ہیں اور میں یقین دلاتا ہوں کہ وہ حد سے زیادہ ناگفتنی ہیں۔
وہ معمولی لغزشیں نہیں جو انسان سے ہو جاتی ہیں بلکہ ان کی باتوںسے ایسا معلوم ہوتا ہے کہ اباحت کا دروازہ
کھول دیا گیا ہے تو وہ نام لے کر ایک اعلان شائع کر دیں کہ فلاں، فلاں شخص جو ان پر یہ الزام لگاتے ہیں۔ وہ
سب جھوٹے ہیں اور اگر انہوں نے ایسا کہنے میں جھوٹ کہا ہے تو ان پر اللہ کی لعنت ہو اس سے کم ازکم زبانیں رک
جائیں گی۔‘‘
(مولوی محمد علی لاہوری قادیانی امیرجماعت لاہور کا مضمون، مندرجہ اخبار پیغام صلح لاہور مؤرخہ
۱۶؍نومبر ۱۹۴۹ء ج۳۷ نمبر۴۴)
(۱۱۶) مرزامحمود، پردے کے حکم سے مستثنیٰ
’’سوال ہفتم: حضرت (مرزاقادیانی) کے صاحبزادے (مرزامحمود وغیرہ) غیرعورتوں میں بلاتکلف اندر کیوں جاتے
ہیں؟ کیا ان سے پردہ درست نہیں؟ (سائل محمد حسین قادیانی)
جواب: ضرورت حجاب صرف احتمال زنا کے لئے ہے، جہاں ان کے وقوع کا احتمال کم ہو۔ ان کو اللہ تعالیٰ نے
مستثنیٰ کردیا ہے۔ اسی واسطے انبیاء اتقیاء لوگ مستثنیٰ بلکہ بطریق اولیٰ مستثنیٰ ہیں۔ پس حضرت کے صاحبزادے
اللہ کے فضل سے متقی ہیں، ان سے اگر حجاب نہ کریں تو اعتراض کی بات نہیں۔ حکیم فضل دین ازقادیان۔‘‘
(الحکم قادیان ج۱۱ نمبر۱۳ ص۱۳ کالم۲، مؤرخہ ۱۷؍اپریل ۱۹۰۷ء)
(۱۱۷) عیب والا حصہ
’’جب میں ولایت گیا تو مجھے خصوصیت سے خیال تھا کہ یورپین سوسائٹی کا عیب والا حصہ بھی دیکھوں۔ قیام
انگلستان کے دوران مجھے اس کا موقع نہ ملا۔ واپسی پر جب ہم فرانس آئے تو میں نے (یعنی مرزامحمود) چوہدری ظفر
اللہ صاحب سے، جو میرے ساتھ تھے کہا کہ مجھے کوئی ایسی جگہ دکھائیں جہاں یورپین سوسائٹی عریاں نظر آسکے۔ وہ
بھی فرانس سے واقف تو نہ تھے مگر مجھے ایک اوپیرا میں لے گئے جس کا نام مجھے یاد نہیں رہا۔ چوہدری صاحب نے
بتایا، یہ وہی سوسائٹی کی جگہ ہے اسے دیکھ کر آپ اندازہ لگاسکتے ہیں، میری نظر چونکہ کمزور ہے۔ اس لئے دور
کی چیز اچھی طرح نہیں دیکھ سکتا۔ تھوڑی دیر کے بعد میں نے جو دیکھا تو ایسا معلوم ہوا کہ سینکڑوں عورتیں
بیٹھی ہیں۔ میں نے چوہدری صاحب سے کہا کہ یہ ننگی ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ یہ ننگی نہیں بلکہ کپڑے پہنے ہوئے
ہیں۔ مگر باوجود اس کے ننگی معلوم
509
ہوتی ہیں۔ (اور اسی منظر کو دیکھنے کا اشتیاق تھا۔ ناقل)‘‘
(خطبہ عیدالفطر مندرجہ الفضل قادیان ج۲۱ نمبر۹۰ ص۵ کالم۲، مؤرخہ ۲۸؍جنوری ۱۹۳۴ء، خطبات محمودیہ ج۱
ص۲۲۶،۲۲۷)
(د) خواجہ کمال الدین قادیانی
(۱۱۸) پتہ کی بات
’’پیر سراج الحق صاحب نے ’’تذکرۃ المہدی‘‘ حصہ دوم میں لکھا ہے کہ ایک دفعہ قادیان میں بہت سے دوست
بیرون جات سے آئے ہوئے حضرت (مرزاقادیانی) صاحب کی خدمت میں حاضر تھے اور منجملہ ان کے حضرت خلیفہ اوّل
(حکیم نورالدین) اور مولوی عبدالکریم صاحب اور مولوی محمد احسن صاحب اور منشی ظفر احمد صاحب… اور خواجہ کمال
الدین صاحب اور مولوی محمد علی صاحب اور شیخ غلام احمد صاحب اور ڈاکٹر مرزایعقوب بیگ صاحب وغیرہم بھی تھے۔
مجلس میں اس بات کا ذکر شروع ہوا کہ اولیاء کو مکاشفات میں بہت کچھ حالات منکشف ہوجاتے ہیں۔ اس پر حضرت اقدس
تقریر فرماتے رہے اور پھر فرمایا کہ آج ہمیں دکھایا گیا ہے کہ ان حاضر الوقت لوگوں میں سے بعض ہم سے پیٹھ
دئیے ہوئے بیٹھے ہیں اور ہم سے روگرداں ہیں۔ یہ بات سن کر سب لوگ ڈر گئے اور استغفار پڑھنے لگ گئے۔‘‘
(سیرت المہدی حصہ دوم ص۸۱،۸۲، روایت نمبر۴۱۴، جدید ج۱ حصہ دوم ص۳۶۹، روایت نمبر۴۱۷)
(۱۱۹) ضعف ایمان
’’آپ نے (یعنی مولوی محمد علی لاہوری نے) باربار حضرت مسیح موعود (مرزاقادیانی) سے خواجہ کمال الدین
کے ضعف ایمان کی شکایت سنی ہوئی تھی۔ چنانچہ آپ کو یاد ہوگا کہ جس دن حضرت اقدس نے (اخبار) وطن والے معاملہ
میں تقریر فرمائی تھی، اس تقریر کے بعد ہی آپ کو مخاطب ہوکر فرمایا تھا کہ خواجہ (کمال الدین) صاحب کو لکھ
دو کہ وہ بہت استغفار کریں اور قربانی دیں کہ میں نے ان کی نسبت بہت سی خطرناک خوابیں دیکھی ہیں۔ پھر حضرت
صاحب نے یہ خواب بھی سنائی تھی اور امید کہ آپ کو یاد ہوگی کہ میں نے دیکھا ہے کہ خواجہ پاگل ہوگیا ہے اور
مجھ پر اور مولوی صاحب پر، جو کہ مسجد کی چھت پر ایک تخت پر بیٹھے ہوئے تھے، حملہ کرنا چاہتا ہے تو میں نے
کسی کو کہا کہ اس کو مسجد سے باہر نکال دو تو وہ گیا پر اس کے نکالنے سے پہلے خود سیڑھیوں سے نیچے اتر گیا۔
پھر آپ کو یہ بھی معلوم ہوگا کہ مسجد کی تعبیر خود حضرت (مرزاقادیانی) صاحب نے جماعت کی ہے۔ پھر جس خواجہ کی
نسبت میں نے یہ کچھ لکھا ہے، اس نے حضرت مسیح موعود کی نسبت مالی اعتراض شروع کئے اور پہلے آپ مخالفت کرتے
رہے مگر بالآخر خود بھی اس اعتراض میں شریک ہوئے۔‘‘
(کشف الاختلاف ص۱۲، مصنفہ سرور شاہ قادیانی)
(۱۲۰) خواجہ کمال الدین کے قدیم عقائد
’’وہ (مسیح موعود) ایک نبی اللہ ہے اور مخبر صادق احمد مرسل صلوٰۃ اللہ علیہ کا خاتم النّبیین ہونا چاہتا
ہے کہ اس جلیل خدا، احمد کے غلام انبیاء اور نبی اللہ ہوں۔‘‘
(الحکم قادیان ج۹ نمبر۳۴ ص۹ کالم۴، مؤرخہ ۳۰؍ستمبر ۱۹۰۵ء)
’’ہمیں اس کے غلام، نبی ہند (مرزاقادیانی) کو بھی نبی انہی کمالات کے باعث ماننا پڑے گا اور اگر ہم
احمد کے غلام (جناب مرزاغلام احمد قادیانی) کو نبی اس لئے تسلیم کرتے کہ اس میں بعض پائی جاتی ہیں جنہیں
ہمارا محاکمہ نقص ٹھہراتا ہے اور واقعہ یہ ہے کہ وہی
510
باتیں بعینہٖ احمد مختار میں بھی موجود ہیں تو ہم جہاں غلام احمد کو چھوڑیں گے، ساتھ ہی اس کے سردار
کو بھی جواب دیں گے۔‘‘
(الحکم قادیان ج۹ نمبر۳۴ ص۱۰ کالم۳، مؤرخہ ۳۰؍ستمبر ۱۹۰۵ء)
(۱۲۱) حق الیقین
’’غرض حضرت (مرزاقادیانی) صاحب کی صداقت جس چیز نے مجھے منوائی اور جس نے مجھے حق الیقین کے درجہ پر
پہنچایا کہ وہ خدا کا رسول اور خدا کا مسیح تھا، وہ یہی آپ کا ایثار تھا… دوستو ابوبکر رضی اللہ عنہ کا واقعہ
بھی ایک قصہ کہانی کے رنگ میں ہوتا اگر آج میں مثل ابوبکر رضی اللہ عنہ کو اپنی انکھوں سے نہ دیکھتا… آپ (حکیم
نورالدین) ریاست جموں سے آتے ہیں۔ آپ کے دل میں کیا کیا عزم ہوں گے کہ میں بھیرہ کو ایک دار الشفاء بنادوں۔
مگر خداتعالیٰ نے فرمایا، تو نہ صرف جسمانی امراض کے لئے بلکہ روحانی امراض کے واسطے بھی… حکیم مقرر ہوگا،
جو خدا کے حکم سے مکہ میں قرار پاچکا ہے۔‘‘
(تقریر خواجہ کمال الدین، البدر قادیان مؤرخہ ۷-۱۴؍اپریل ۱۹۱۰ء)
(۱۲۲) اے کمال دین
’’اے کمال دین، دین کے زوال میں ساعی نہ ہو۔ کیا تو وہی نہیں جو حضرت اقدس مسیح موعود کی نبوت کے راگ
گاکر سامعین سے خراج تحسین وصول کیا کرتا تھا۔ افسوس تیرے دماغ میں کیا فتور آیا کہ جس چیز کو قند مکرر
سمجھتا تھا، آج اسے زہر ہلاہل قرار دیتاہے۔ کیا تجھے یاد نہیں رہا کہ تو نے اس عظیم الشان نبی کی نبوت
منوانے کے لئے ایک رسالہ بنام ’’بنگال کی دلجوئی‘‘ لکھ کر کثرت سے شائع کیا تھا۔ دیکھ اس بیس صفحہ کے رسالے
میں تو نے مسیح موعود کی نبوت اور رسالت کو کس زور سے پیش کیا ہے۔ اگر تجھے بھول گیا ہے تو میں اس کے جستہ
جستہ مقامات تجھے یاد دلاتا ہوں… اے خواجہ، کیا یہ تیرے اپنے الفاظ نہیں ہیں؟ تو کس زور سے حضور
(مرزاقادیانی) کی نبوت منواتا تھا۔ آج خود ہی اس نبوت سے انکاری ہے۔ ہاں! یہ ضرور ہونا تھا کیونکہ تو نے
میرے روبرو اس عظیم الشان نبی (مرزاقادیانی) کی خدمت میں ایک دفعہ اپنا خواب سنایا تھا کہ میرے منہ سے بہت
سے چوہے نکلے ہیں۔ آج تو اپنی تحریروں اور تقریروں سے اس خواب کو پورا کر رہا ہے جب کہ تو مکان احمدیت کو،
جو تیرا ملجا وماویٰ تھا، متواتر سوراخ نکال کر اور رخنے ڈال کر ضعیف البنیان بن انے میں ساعی وسرگرم ہے۔‘‘
(الفضل قادیان ج۳ نمبر۳۱ ص۵،۶ کالم۳، مؤرخہ ۲؍ستمبر ۱۹۱۵ء)
(۱۲۳) خدا لگتی
’’اب ناظرین انصاف سے خدا لگتی کہیں کہ اس سے بڑھ کر اور کیا تحریف ہوگی۔ یہ ہے خواجہ (کمال الدین)
صاحب کی ابلہ فریبی اور علمی قابلیت جس پر آپ کو مجددیت اور امامت کا شوق چرایا ہے اور یہاں تک کہنے کی
جرأت ہوگئی ہے کہ جو کچھ مرزا صاحب کرتے تھے، وہی کام میں بھی کرتا ہوں۔ خواجہ صاحب! اوروں کو ہوش کی کہتے
ہو، اپنے ہوش سنبھالو اور دیکھو تم کیا سے کیا ہو گئے اور کہاں سے کہاں پہنچے ہو۔ کیا احمدیت اسی کا نام ہے
کہ جس کے نام کے ساتھ وابستہ ہونا ایمان سمجھتے ہو، جس کی تعریف وتوصیف میں تمہارے اپنے لکھے ہوئے حروف بھی
ابھی نہ سوکھے ہوں۔ اسی کے خلاف آج زہر اگلتے ہو۔ خواجہ! میرے میرزا نے تو تمہارے ساتھ کوئی بدسلوکی نہیں کی
تھی بلکہ اس کی کفش برداری سے آج تم تمام دنیا میں شہرت پاگئے۔ ایسے محسن سے یہ سلوک! اور پھر دعویٰ احمدیت۔
کچھ شرم کرو اور اپنے گریبان میں منہ ڈال کر دیکھو تو تمہارے قلب کی اب کیا حالت ہے۔ پھر کہتے ہو کہ (آپ
جیسے) احمدیوں کے متعلق ایسا لٹریچر استعمال کیا جاتا ہے۔ خدارا خواجہ صاحب، انصاف سے کہیں کہ چور کو چور،
زانی کو زانی کہیں تو کیا جرم ہے؟ یازانی کو شریف اور کاذب کو صادق کہیں تو کیا سعادت ہے ؎
511
-
مثال علم تو آمد بہ قرآن
کتابے چند بر پشت حمارے‘‘
(الفضل قادیان ج۳ نمبر۴۷ ص۷ کالم۲،۳، مؤرخہ ۱۰؍اکتوبر ۱۹۱۵ء)
(۱۲۴) محسن آقا
’’ولایت کے ایک رسالہ کے یہ صاحب (خواجہ کمال الدین) ایڈیٹر ہیں اور احمد کا غلام ہونے کی وجہ سے ان
کا فرض تھا کہ وہ مغربی قوموں کے سامنے اسلام کے وہ زندہ اور تازہ نشانات پیش کرتے جو اللہ تعالیٰ نے اپنی ہستی
اور تمام انبیاء کی صداقت اور اسلام کو زندہ مذہب ثابت کرنے کے لئے احمد (مرزاقادیانی) کے ذریعے اس زمانہ
میں دکھائے اور دکھا رہا ہے۔ مگر خواجہ صاحب نے صرف غیراحمدیوں کے روپے کی خاطر اپنے آپ پر حرام کردیا کہ
احمد (مرزاقادیانی) کے نشانات کو پیش کرنا تو کجا، احمد کا نام بھی زبان پر لائیں۔ غرض خواجہ صاحب نے اپنے
پرانے محسن اور آقا (مرزاقادیانی) کے نام کو اسی طرح اس کے مخالفوں کے روپیہ کے بدلے فروخت کر دیا ہے، جس
طرح حضرت مسیح کے ایک بدقسمت شاگرد نے جس پر حضرت مسیح علیہ السلام نے بہت احسان کئے تھے۔ اپنے آقا کے
دشمنوں یعنی یہود کے روپیہ کی خاطر اپنے محسن آقا کو بیچ دیا۔ پس کیا ایسے شخص سے، جو چند روپیوں کے بدلے
اپنے محسن آقا کے نام کو فروخت کرنے والا ہے۔ یہ امید ہوسکتی ہے کہ وہ احمدی جماعت کو کچھ نفع پہنچائے گا۔‘‘
(الفضل قادیان ج۳ نمبر۲۰ ص۳ کالم۳، مؤرخہ ۸؍اگست ۱۹۱۵ء)
(۱۲۵) ہرگز نہیں
’’خواجہ (کمال الدین) صاحب! یہ تو ہوسکتا ہے کہ آپ کہہ دیں کہ مرزاصاحب آنے والے وہی مسیح موعود نہیں
ہیں، جس کا ذکر بقول آپ کے بخاری شریف میں ہے۔ مگر یہ ہرگز نہیں ہوسکتا کہ آپ مرزاصاحب کو مسیح موعود بھی
مانیں اور ان کے نبی اللہ ہونے سے انکار بھی کریں۔ اگر آپ حضرت مرزاصاحب کو مسیح موعود مان کر ان کی نبوت سے
انکار کریں گے تو آپ پر بھی وہی الفاظ ڈانٹ کے عائد ہوں گے جو آپ نے ۱۹۱۲ء میں ایک شمس العلماء کے لئے
روارکھے تھے۔ کیونکہ آخر اس کا استفسار بھی یہی تھا کہ حضرت مرزاصاحب مسیح موعود ہیں یا کہ نبی، اور آپ کی
جانب سے جو جواب شائع ہوا تھا (اخبار بدر مؤرخہ ۱۵؍فروری ۱۹۱۲ء) اس میں آپ نے حضرت مسیح موعود کی دونوں
حیثیتوں کو قائم رکھ کر جواب دیا تھا اور کسی حیثیت سے اور کسی نہج سے بھی انکار نہ کیا تھا بلکہ آپ نے اس
شمس العلماء کے معلومات کی پردہ دری کی تھی کہ اسے یہ بھی معلوم نہیں کہ جو آنے والا مسیح ہے اور جس کے
مسلمان منتظر ہیں وہ نبی اللہ ہے۔‘‘
(الفضل قادیان ج۳ نمبر۲۴ ص۵ کالم۳، مؤرخہ ۱۷؍اگست ۱۹۱۵ء)
(۱۲۶) خواجہ کی تدبیر
’’مولانا (محمد علی لاہوری قادیانی) جب ان منذرات کے وقوع کا زمانہ آیا تو آپ کے مکرم دوست (خواجہ
کمال الدین) نے سوچا کہ اگر میں کھلا کھلا غیروں میں جا ملا تو احمدی دوست اور احمدی لوگ تو ہاتھ سے گئے، جن
سے میں نے بہت سا کام لینا ہے اور غیروں میں متلون مزاج قرار پاکرناقابل اعتماد ہو جاؤں گا۔ لہٰذا مجھے
ایسا کرنا چاہئے کہ احمدی کہلاتے ہوئے غیروں میں جاملوں تاکہ میری کامیابی کے لئے احمدی اور غیراحمدی دونوں
میدان ہوں۔ تب آپ نے ایک سکیم تیار کی لیکن اس کے اجرار میں کچھ موانع تھے، جن کے رفع کرنے کی اشد ضرورت تھی
اور کچھ بااثر احمدیوں کی ضرورت تھی، جن کو اس اسکیم کے اجراء کا آلہ بنایا جاسکے۔ اس اسکیم کا نہایت مختصر
خاکہ تو یہ ہے کہ احمدیوں میں تو اعتبار حاصل ہی ہے، اب غیروں میں تحریر وتقریر کے ذریعے لائق مبلغ اسلام
ہونے کا اعتبار پیدا کیا جائے اور یہ اعتبار
512
حاصل کرتے ہی یورپ میں تبلیغ اسلام شروع کر دی جائے، پھر تو دونوں کی دولت پر تمہارے ہاتھ ہوں گے۔
لیکن اس کے لئے پہلا مانع خلیفہ تھا اور دوسرا مانع فتویٰ کفر اور نمازوں کی علیحدگی اور نماز جنازہ
میں شریک نہ ہونا وغیرہ تھا۔ مگر ان دونوں کے رفع کرنے میں اور احمدیوں کو ساتھ وابستہ رکھنے کے لئے ایک
مضبوط اور بااثر جتھے کی ضرورت تھی اور اس کی نظر میں وہ بجز آپ کے حاصل نہیں ہوسکتا تھا اور آپ (یعنی مولوی
محمدعلی) اس وقت اس کی بہت سی باتوں اور اصولوں کے خلاف تھے۔ پس پہلا کام اس (خواجہ کمال الدین) نے یہ کیا
کہ آپ کو اپنا موافق بنائے اور پھر آپ کو ان مقاصد کے حصول کے لئے آلہ بنائے۔ مولانا مجھے اکثر وہ مجالس یاد
ہیں جن میںان اصول پر مباحثات ہوا کرتے تھے۔ یہاں تک کہ بعض اوقات کیا بلکہ اکثر آپ اس (خواجہ کمال الدین)
کو دوستانہ لہجہ میں اس جماعت کا پولوس کہا کرتے تھے۔‘‘
(کشف الاختلافات ص۱۷،۱۸، مصنفہ سرور شاہ قادیانی)
(۱۲۷) علمیت کے دعوے
’’سنا ہے کہ خواجہ (کمال الدین) صاحب نے اپنی علمیت کے بڑے بڑے دعوے کئے ہیں اور یہ بھی لکھا ہے کہ
(میاں محمود احمد) صاحب (خلیفہ قادیان) نے اپنی تصنیفوں میں علمی غلطیاں کی ہیں چونکہ خواجہ صاحب سے میں
واقف ہوں، اس لئے خوب جانتا ہوں کہ انہیں کتنا علم ہے اور کتنا فلسفہ اور منطق جانتے ہیں۔ خیر منطق اور
فلسفہ نہیں جانتے تو نہ سہی لیکن کسی کی عربی دانی پر کس منہ سے اعتراض کرتے ہیں۔ حالانکہ خواجہ صاحب علم
عربی سے ایسے ہی دور ہیں جیسے کہ گدھے کے سر سے سینگ۔ علم عربی کا جاننا تو الگ رہا، خواجہ صاحب تو قرآن بھی
نہیں جانتے۔ اگر جانتے ہیں تو ہم قرآن کا ایک رکوع رکھ دیتے ہیں، اس کا صحیح ترجمہ کر دیں۔ ہم یہ نہیں کہتے
کہ وہ عربی عبارت لکھیں یا کوئی منطقی مسئلہ حل کریں، بلکہ یہ کہ وہ قرآن کے ایک رکوع کا صحیح ترجمہ کر دیں۔
اس سے ان کا علم ظاہر ہو جائے گا اور پتہ لگ جائے گا کہ وہ کیسے عالم ہیں۔ لیکن وہ اس طرف نہیں آئیں گے۔‘‘
(احمدیہ ینگ مین ایسوسی ایشن لاہور کا ماہواری ہینڈ بل نمبر۲۱،۲۲، مشمول التبلیغ حصہ اوّل ص۴)
(۱۲۸) ووکنگ مشن کا راز
’’جب سے پیسہ اخبار میں ووکنگ مشن کا یہ راز ظاہر ہوا ہے کہ خواجہ کمال الدین صاحب کے منجملہ اور
کارناموں کے ایک یہ بھی ہے کہ جہاں کہیں کوئی پرانا نومسلم انگریز، جو سالہا سال سے مسلمان چلا آتا ہے،
اتفاقاً کہیں ووکنگ چلا گیا۔ خواجہ صاحب نے جھٹ اس ماہ کی رپورٹ میں اپنے نومسلموں کے درمیان اس کا نام لکھ
کر اپنی کارروائی کو فروغ دے دیا۔ شکر ہے کہ اخبار ’’پیغام صلح‘‘ صرف اردو میں ہے اور اس ملک کے (انگلستان
کے) لوگوں کے پاس نہ وہ آتا ہے اور نہ وہ اسے پڑھ سکتے ہیں۔ ورنہ اسلامی مشنریوں کی جو بدنامی اس ملک میں
ہوتی، وہ ظاہر ہے۔ لیکن جب سے یہ راز پیسہ اخبار میں انتشار (افشا) کیاگیا ہے، تب سے خواجہ صاحب نے کمال
ہوشیاری کے ساتھ ایک نیا طرز اختیار کیا ہے کہ عموماً اپنی رپورٹ میں نومسلم کا نام نہیں لکھتے۔ انگریزی
رسالہ میں تو بالکل ہی نہیں لکھتے۔ کیونکہ وہ اس ملک انگلستان میں شائع ہوتا ہے اور نام لکھنے سے رپورٹ کا
غلط ہونا جلد ثابت ہوسکتا ہے۔ مگر اخبار ’’پیغام‘‘ میں بھی عموماً نام نہیں دئیے جاتے۔ چنانچہ اخبار ’’پیغام
صلح‘‘ ۹؍جون ۱۹۱۸ء میں کامیاب اسلامی تحریک کے زیرعنوان رپورٹ کی گئی ہے کہ خدا کے فضل سے گزشتہ ماہ بھی
قبولیت اسلام سے خالی نہیں گیا۔ ایک بزرگ داخل اسلام ہوئے۔ ان کے ہمراہ ان کی دختر نیک اختر کا بھی دائرہ
اسلام میں آئی ہے اور ایک نوجوان فوجی افسر بھی زمرہ مسلمین میں آگئے ہیں۔ نہ بزرگ کا نام ونشان، نہ ان کی
دختر کا اور نہ کپتان صاحب کا۔ کیا اس سے بڑھ کر مہمل رپورٹ دنیا میں ہوسکتی ہے۔‘‘
(الفضل قادیان ج۶ نمبر۳۸ ص۷ کالم۳، مؤرخہ ۱۹؍نومبر ۱۹۱۸ء)
513
(۱۲۹) لاکھوں روپے
’’خواجہ کمال الدین صاحب یورپ میں اشاعت اسلام کے نام سے جو لاکھوں روپیہ مسلمانوں سے لے چکے ہیں، ایک
عرصہ سے اس کے حساب کا مطالبہ کیا جارہا تھا۔ آخر بڑی دیر اور باربار کے اصرار کے بعد خواجہ صاحب بولے،
انہوں نے بعض رقوم کو ذاتی بنا کر ان کا حساب دینے سے قطعاً انکار کر دیا اور بعض کے متعلق کہا کہ ان کا
حساب کتاب انجمن اشاعت اسلام لاہور کے سپرد کر دیا گیا ہے۔ انجمن اس کی ذمہ دار ہے۔
اگرچہ خواجہ صاحب کا یہ بیان بھی کوئی تسلی بخش نہ تھا۔ لیکن انجمن اشاعت اسلام لاہور نے اس کی تردید
میں جو اعلان اخبارات میں شائع کرایا ہے، اس نے معاملہ اور بھی الجھن میں ڈال دیا ہے۔ اس اعلان میں فنانشل
سیکرٹری انجمن اشاعت اسلام نے لکھا ہے۔ اس وقت اخبارات میں ووکنگ مشن پر اعتراصات کے سلسلہ میں یہ بحث بھی
ہورہی ہے کہ ووکنگ مشن کا آمدوخرچ کس حد تک احمدیہ انجمن اشاعت اسلام لاہور کی زیرنگرانی ہے، سو اس کے متعلق
واقعات یہ ہیں کہ آخری مرتبہ دسمبر ۱۹۲۲ء کے آخری ایام میں خواجہ کمال الدین صاحب نے یہ حساب کتاب انجمن کی
نگرانی میں دینے کا فیصلہ کیا تھا اور اس کے مطابق ایک تحریر بھی لکھ دی تھی۔ اس پر کوئی چھ سات ماہ کا عرصہ
گزر جانے کے بعد ووکنگ کے بل دفتر انجمن میں آنے شروع ہوئے مگر ابھی تک کل امور کا تصفیہ نہیں ہوا (اتنی
جلدی تصفیہ کی کیا ضرورت ہے) اور نہ ہی انجمن کی پوری نگرانی کے ماتحت سارا حساب کتاب آیا ہے۔ (اخبار مدینہ
مؤرخہ ۹؍اگست ۱۹۲۸ء)‘‘
(الفضل قادیان ج۱۶ نمبر۱۴ ص۳،۴ کالم۱تا۳، مؤرخہ ۱۷؍اگست ۱۹۲۸ء)
(۱۳۰) وفات کا تار
’’جب خواجہ کمال الدین صاحب کی وفات کا تار قادیان پہنچا تو انہوں (جناب خلیفہ قادیان) نے ہاتھ اٹھا
کر دعا تک نہ کی۔ چلئے جنازہ نہ سہی، دعائے مغفرت ہی کر لیتے بلکہ اس کی بجائے بہت ہی تکلیف دہ کلمات مرحوم
کے متعلق کہے اور یہ نہ سوچا کہ خواجہ صاحب نے ہندوستان اور یورپ کے اندر دین کی خدمت کا کس قدر بلند اور
قیمتی کام کیا ہے۔‘‘
(پیغام صلح لاہور ج۲۷ نمبر۳۴ ص۴ کالم۱، مؤرخہ ۸؍جون ۱۹۳۹ء)
(ھ) مولوی محمد علی لاہوری قادیانی امیرجماعت لاہور
(۱۳۱) امر واقعہ
’’مولانا (محمد علی لاہوری) میں خوشامد سے نہیں کہتا بلکہ ایک امرواقعہ کے طور پر کہتا ہوں کہ آپ کی
طبیعت بہت اچھی تھی۔ آپ کے خیالات بھی بہت اچھے تھے مگر ان سب خوبیوں کے مقابلہ میں دو نقص بھی موجود تھے۔
اوّل یہ کہ آپ بہت زودرنج اور مغلوب الغضب تھے۔ آپ کئی بار معمولی معمولی باتوں پر اس قدر جوش میں آئے کہ
قادیان اور اپنے دارہجرت کے چھوڑنے پر اور حضرت مسیح موعود (یعنی مرزاقادیانی) اور خلیفۃ المسیح (یعنی حکیم
نورالدین) کی بابرکت صحبت سے جدا ہونے پر تیار ہوگئے تھے اور اس کا یہ اثر تھا کہ حضرت خلیفۃ المسیح سے
مدرسہ کی کمیٹی کے زمانہ میں رنج ہوئے تو آخر وقت تک اس رنج کو نہ چھوڑا۔ اسی طرح اہل بیت مسیح کا حال۔
دوسرا یہ نقص تھا کہ آپ دوست (یعنی خواجہ کمال الدین) کی بات سے بہت ہی متاثر ہونے والے تھے، خواہ وہ غلط ہی
کیوں نہ کہے۔‘‘
(کشف الاختلاف ص۱۲، مصنفہ سرور شاہ قادیانی)
(۱۳۲) تصدیق
’’پھر اس کے بعد مسیح موعود (مرزاقادیانی) کی خدمت میں ہر قسم کا اعتراض کرنے کا ذکر جو آپ (مولوی
محمد علی) فرماتے ہیں
514
’’تو کیا اپنا اور خواجہ کمال الدین صاحب اور میاں محمد لدھیانوی ہی کا واقعہ یاد نہیں دلاتے کہ لوگ
اس قدر مصیبت سے بال بچوں کا پیٹ کاٹ کاٹ کر روپیہ بھجواتے ہیں اور یہاں بیوی صاحبہ (مرزاقادیانی کی اہلیہ)
کے زیور بن جاتے ہیں یا قسم قسم کے لباس آتے ہیں اور پھر لنگر خانہ کا خرچ اس قدر لاپرواہی اور اسراف سے
ہوتا ہے کہ خون کے آنسو بہانے کو جی چاہتا ہے۔‘‘ یہ اعتراض آپ کے مشہور ہیں اور میں اس کی تصدیق کرتا ہوں کہ
واقعی آپ لوگوں نے یہ اعتراض کر دئیے۔‘‘
(الفضل قادیان ج۱۲ نمبر۱۴ ص۳ کالم۳، مؤرخہ ۱۲؍اگست ۱۹۲۴ء)
(۱۳۳) رسالہ ’’ریویو آف ریلیجنز‘‘
’’رسالہ ’’ریویو آف ریلیجنز‘‘ ایک ماہوار رسالہ ہے جو حضرت اقدس (مرزاقادیانی) کی زندگی میں جاری ہوا۔
بلکہ خود حضرت اقدس نے اپنی طرف سے جاری کرایا اور اس کے اجراء کی اصل غرض ہی حضور کی تعلیم کو دنیا میں
شائع کرنا تھی… اس کے ایڈیٹر شروع سے مولوی محمد علی صاحب تھے، جو ۱۹۰۹ء تک اس کام پر متعین رہے۔‘‘
(محمد اسماعیل صاحب قادیانی کا رسالہ بعنوان مولوی محمد علی صاحب کے اپنی سابقہ تحریرات کے متعلق
جوابات پر نظر ص۶۴)
’’وہ (یعنی مولوی محمد علی لاہوری قادیانی) ایڈیٹر رسالہ (ریویو آف ریلیجنز) تھے… اگرچہ ان کے قرآن
شریف کے ترجمہ میں مصروف ہونے کی وجہ سے مضامین میں ہی لکھا کرتا تھا مگر چونکہ ایڈیٹر ہر طرح مضامین کا ذمہ
دار ہوتا ہے۔ اس لئے ان کی طرف سے ہدایت تھی کہ چھپنے سے پہلے رسالہ کے پروف ان کو دکھا لئے جایا کریں۔ اس
ہدایت کی تعمیل میں، میں نے فروری ۱۹۱۴ء کے پروف بھی ان کے پاس بھیجے۔‘‘
(شیرعلی قادیانی کا رسالہ مولوی محمد علی لاہوری کے سابقہ عقائد پر تبصرہ ص۲۴)
(۱۳۴) ہندوستان کا مقدس نبی
’’ہم خداتعالیٰ سے دعا کرتے ہیں کہ جلد وہ زمانہ آوے کہ جب ہمارے ہندو بھائیوں کے دلوں پر سے پردے اٹھ
جائیں اور ان کو اپنی مذہبی غلطیوں پر بصیرت اور معرفت حاصل ہو جاوے اور ان کے سینے اس سچائی کو قبول کرنے
کے لئے کھل جاویں جو دین اسلام تعلیم دیتا ہے۔ ہم اس بات کو مانتے ہیں کہ آخری زمانہ میں ایک اوتار کے ظہور
کے متعلق جو وعدہ انہیں دیا گیا تھا، وہ خدا کی طرف سے تھا اور اس کو ہندوستان کے مقدس نبی میرزا غلام احمد
قادیانی کے وجود میں خداتعالیٰ نے پورا کر دکھایا۔‘‘
(ریویو آف ریلیجنز ج۳ نمبر۱۱ ص۴۱۱، بابت ماہ نومبر ۱۹۰۴ء)
(۱۳۵) ہمارا احمد
’’اس زمانہ میں جس قدرلوگ اصلاح کے لئے اٹھے ہیں، ان میں سے ایک احمد (مرزاقادیانی) ہی ہے جو ایک نبی
کے لباس میں اور نبوت کے منہاج پر ظاہر ہوا۔ تمام وہ خصوصیتیں جو صرف انبیاء میں پائی جاتی ہیں، وہ ہمارے
زمانہ کے احمد(مرزاقادیانی) میں کامل طور پر پائی جاتی ہیں۔ اگر انبیاء کی ایک الگ جماعت ہے، جو دنیا کے
دوسرے لوگوں سے ممتاز ہے تو یقینا ہمارا احمد (مرزاقادیانی) اسی جماعت کا ایک ممتاز فرد ہے۔ اگر زردشت ایک
نبی تھا، اگر بدھ اور کرشن نبی تھے، اگر حضرت موسیٰ اور حضرت مسیح خداتعالیٰ کی طرف سے نبی ہوکر دنیا میں
آئے تو یقینا یقینا احمد (مرزاقادیانی) بھی ایک نبی ہے۔ کیونکہ جن علامتوں کے ذریعے زردشت اور دیگر انبیاء
علیہم السلام کا نبی ہونا ہمیں معلوم ہوا۔ وہ تمام علامتیں حضرت مرزاغلام احمد قادیانی فداہ ابی وامی میں
موجود ہیں۔‘‘
(شیرعلی قادیانی مددگار ایڈیٹر کا مضمون بعنوان ’’انبیاء عالم‘‘ رسالہ ریویو آف ریلیجنز ج۹ نمبر۷
ص۲۴۸، بابت ماہ جولائی ۱۹۱۰ء)
’’الغرض جو شخص ذرا بھی تدبیر سے کام لے گا، اس کو اس امر کے تسلیم کرنے میں ذرا بھی تامل نہ ہوگا کہ
حضرت مرزاغلام احمد اسی
515
پاک گروہ میں سے ایک عظیم الشان فرد ہے جو انبیاء کے نام سے ممتاز ہے… حضرت اقدس (مرزاقادیانی)
درحقیقت ایک سچے نبی ہیں اور اسی زمرہ میں سے ہیں جن کو انبیاء ورسل کے نام سے پکارا جاتا ہے۔‘‘
(شیرعلی قادیانی، مددگار ایڈیٹر کا مضمون بعنوان ’’انبیاء عالم‘‘ ریویو آف ریلیجنز ج۹ نمبر۷ ص۲۵۲،
بابت جولائی ۱۹۱۰ء)
’’میں یہ بھی ظاہر کردیناچاہتا ہوں کہ نہ صرف مولوی محمد علی (لاہوری قادیانی) بحیثیت ایڈیٹر رسالہ اس
مضمون کے ذمہ دار ہیں بلکہ خود حضرت خلیفۃ المسیح اوّل نے اس مضمون کو پڑھا اور اس میں کسی فقرہ پر اعتراض
نہیں فرمایا۔‘‘
(شیرعلی قادیانی کا مضمون الفضل قادیان ج۴ نمبر۹۹ ص۸ کالم۳، مؤرخہ ۱۶؍جون ۱۹۱۷ء)
(۱۳۶) کسی نبی کو
’’کبھی دنیا میں سخت ایمانی ضعف چھا جاتا ہے اور دنیا کے مذہبوں میں ایسی طاقت وتاثیر اور قوت جذب اور
اعجاز ومعجزہ نمائی اور زوردار براہین نہیں رہتیں تو اس وقت خداتعالیٰ کمال فضل اور رحم سے کسی نبی کو مبعوث
فرماتا ہے کہ جس کے مقدم خیر سے مذہب حقہ میں نئی زندگی کی روح نفوذ پاتی ہے اور مرجھائے ہوئے نخل ایمان پھر
تروتازہ ہو جاتے ہیں۔ اسی قانون کے مطابق اللہ تعالیٰ مختلف زمانوں کے اندر مختلف ممالک میں انبیاء نازل فرماتا
رہا ہے۔ پھر جب مسیح سے چھ سو برس بعد عیسائی دین پر اسی قسم کی موت وارد ہوئی۔ جس کو تیرہ سو برس کا عرصہ
گزر چکا ہے تو اس وقت خداتعالیٰ نے حضرت سرور کائنات خاتم الانبیاء محمد مصطفی ﷺ کو مبعوث فرمایا۔ پھر اسی
قانون اور ان تمام پیش گوئیوں کے مطابق، جو قریباً ہر مذہب میں پائی جاتی ہیں، اللہ تعالیٰ نے اس زمانہ میں
اپنے موعود مسیح کو قادیان میں نازل فرمایا ہے، جن کا نام نامی حضرت مرزاغلام احمد صاحب ہے۔‘‘
(ریویو آف ریلیجنز ج۶ نمبر۵ ص۱۹۱، بابت ماہ مئی ۱۹۰۷ء)
(۱۳۷) ایک نبی
’’جو شخص تاریخ انبیاء پر نظر غائر ڈالے گا، وہ دیکھ لے گا کہ ہمیشہ سے یونہی تجدید دین ہوتی چلی آئی
ہے اور یہ کام ہمیشہ سے انبیاء کرتے چلے آئے ہیں۔ انسانوں کو حقیقی نیکی اور پاکیزگی کی راہوں پر چلانا، یہ
فخر اسی قوم کو حاصل رہا ہے۔ اس آخیر زمانہ کے لئے تجدید دین کے واسطے بھی اللہ تعالیٰ نے یہ وعدہ کیا تھا کہ
وہ ایک عظیم الشان ضلالت کے وقت میں جو آخیر زمانہ میں ظہور میں آنے والی ہے، اپنے ایک نبی کو دنیا کی اصلاح
کے لئے مامور کرے گا اور اس کا نام مسیح موعود ہوگا۔ سو ایسا ہی ہوا۔‘‘
(مولوی محمد علی لاہوری قادیانی، امیر جماعت لاہور کا مضمون ریویو آف ریلیجنز ج۵ نمبر۶ ص۲۱۴، بابت ماہ
جون ۱۹۰۶ء)
(۱۳۸) ہر ایک نبی
’’ہر ایک نبی نے، جو خدا کی طرف آیا ہے، دو باتوں پر زور دیا ہے۔ اوّل یہ کہ لوگ خدا پر ایمان لائیں
اور دوسرا یہ کہ اس کی نبوت کو اور اس کے منجانب اللہ ہونے کو تسلیم کر لیں… بعینہٖ اسی قدیم سنت الٰہی کے
مطابق اللہ تعالیٰ نے حضرت مرزا صاحب کو بھی مبعوث فرمایا۔‘‘
(مولوی محمد علی لاہوری قادیانی کا مضمون، ریویو آف ریلیجنز ج۴ نمبر۱۲ ص۴۶۵،۴۶۶، بابت ماہ دسمبر
۱۹۰۵ء)
(۱۳۹) انبیاءعلیہ السلام
’’انبیاء علیہ السلام شہرت پسند نہیں ہوتے… چنانچہ یہی حالت ہمارے نبی کریم ﷺ کی تھی… اور آج ہم اپنی آنکھوں سے
دیکھتے
516
ہیں کہ جس شخص کو اللہ تعالیٰ نے اس زمانہ میں دنیا کی اصلاح کے لئے مامور اور نبی کر کے بھیجا ہے، وہ
بھی شہرت پسند نہیں… یہی سنت قدیم سے انبیاء کی چلی آئی ہے۔‘‘
(مولوی محمد علی لاہوری قادیانی کا مضمون، ریویو آف ریلیجنز ج۵ نمبر۴ ص۱۳۱،۱۳۲، بابت ماہ اپریل ۱۹۰۶ء)
(۱۴۰) یہ سلسلہ
’’یہ سلسلہ سچے معنوں میں آنحضرت ﷺ کو خاتم النّبیین مانتا ہے اور یہ اعتقاد رکھتا ہے کہ کوئی نبی،
خواہ وہ پرانا نبی ہو یا نیا۔ آپ کے بعد ایسا نہیں آسکتا جس کو نبوت بدوں آپ کے واسطے کے مل سکتی ہو۔آنحضرت
ﷺ کے بعد خدائے تعالیٰ نے تمام نبوتوں اور رسالتوں کے دروازے بند کردئیے مگر آپ کے متبعین کامل کے لئے، جو
آپ کے رنگ میں رنگین ہو کر آپ کے اخلاق کاملہ سے ہی نور حاصل کرتے ہیں، ان کے لئے یہ دروازہ بند نہیں
ہوا…آنحضرت ﷺ کی ختم نبوت آپ کے کسی بروز کو آنے سے نہیں روکتی البتہ آپ کے بعد شریعت کوئی نئی نہیں
آسکتی۔‘‘
(مولوی محمد علی لاہوری قادیانی کا مضمون، ریویو آف ریلیجنز ج۵ نمبر۵ ص۱۸۶، بابت ماہ ۱۹۰۶ء)
(۱۴۱) دوبعثتیں
’’قرآن شریف اور حدیث نبوی پر غور کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ آنحضرت ﷺ کی دو بعثتیں یا دو ظہور ہیں اور
آپ کے دو ناموں محمد اور احمد ﷺ میں ان ہی دوبعثتوں کی طرف اشارہ ہے۔‘‘
(مولوی محمد علی لاہوری قادیانی کا مضمون، ریویو آف ریلیجنز ج۸ نمبر۵ ص۱۷۴، بابت ماہ مئی ۱۹۰۹ء)
(۱۴۲) رسول اور نبی
’’میرزا خدا بخش صاحب اپنی کتاب ’’عسل مصفی‘‘ کی پہلی جلد کے ص۲۹۵ پر لکھتے ہیں: ’’ماکان محمد ابا احد من رجالکم ولکن رسول اللہ وخاتم النّبیین‘‘ یعنی محمد ﷺ تم میں سے
کسی آدمی کا باپ نہیں۔ لیکن وہ اللہ تعالیٰ کا رسول ہے اور نبیوں کی مہر ہے۔
اس سے صاف ظاہر ہے کہ اللہ تعالیٰ نے کفار کے اس اعتراض کا کہ محمدرسول اللہ ﷺ کی اولاد نرینہ نہیں ہے۔ جواب
دیا کہ بیشک ان کی اولاد نرینہ تو نہیں ہے۔ لیکن چونکہ وہ اللہ کے رسول اور نبیوں کی مہر ہیں۔ اس واسطے ان کی
روحانی اولاد، جن سے مراد رسول اور انبیاء ہیں۔ وہ ضرور اس کی امت میں ہوتے رہیں گے اور جو غرض رسولوں اور
نبیوں کے مبعوث کرنے کی ہوتی ہے، وہ اس رسول کے بعد ہی اسی رسول کی مہر کے نیچے پوری ہوتی رہے گی۔ یعنی
انبیاء ہوا کریں گے پھر ان معترضین کا اولاد نرینہ کا اعتراض کرنا فضول ہے۔ کیونکہ رسول اللہ ﷺ کا آنا ان کو
برالگتا تھا اور اس امر سے ان کو خوشی تھی کہ اب ان کے بعد اولاد نرینہ نہیں تو اس سلسلہ کا خاتمہ ہو جائے
گا مگر خداتعالیٰ نے ان کو بھی یہ جواب دے کر شرمندہ اور لاجواب کیا اور ان کی امیدوں پر پانی پھیر دیا کہ
اس کے بعد تو برابر قیامت تک نبی اور رسول آئیں گے اور اس غرض کو علی رغم دشمن پورا کرتے رہیں گے۔ کیونکہ وہ
اس رسول کی مہر کے ساتھ آئیں گے۔
اس کی تصدیق مولوی محمد علی صاحب (لاہوری قادیانی) اپنے ریویو میں یوں کرتے ہیں:
اس کتاب کے مصنف نے جزاہ اللہ خیرا جس قدر محنت اس کتاب کے تیار کرنے میں اٹھائی ہے، کتاب کے مطالعہ ہی
سے پتہ لگ سکتا ہے… گویا حضرت مسیح (مرزاقادیانی) کی کتابوں کا ایک خلاصہ ہے اس کتاب کو ہاتھ میں لے کر
مخالف پر فتح یقینی ہے… آج کل حضرت اقدس (مرزاقادیانی) نماز مغرب کے بعد اس کے مضامین کو سنتے اور اکثر پسند
فرماتے ہیں۔‘‘
(الفضل قادیان ج۹ نمبر۷۴، مؤرخہ ۲۳؍مارچ ۱۹۲۲ء)
517
(۱۴۳) جولائی ۱۹۱۰ء
’’اس بت کا ایک ثبوت یہ بھی ہے کہ باوجودیکہ اس عرصہ میں بھی رسالہ ’’ریویو آف ریلیجنز‘‘ کے ذمہ دار
ایڈیٹر وہی (مولوی محمد علی لاہوری قادیانی) تھے اور اس رسالہ میں بڑی شدومد کے ساتھ حضرت مسیح موعود
(مرزاقادیانی) کو نبی اور رسول اور زمرۂ انبیاء کا ایک فرد بتایا جاتا تھا۔ ان ایام میں وہ ایسے مضامین میں
کبھی معترض نہ ہوئے اور اس طرح سے ان کے ساتھ اپنا پورا پورا اتفاق ثابت کرتے رہے۔ مثال کے طور پر میں اس
جگہ مضمون انبیاء عالم کا ایک فقرہ نقل کرتا ہوں، جو ان ہی ایام میں جولائی ۱۹۱۰ء ج۹ نمبر۷ ص۲۴۸ کے پرچہ
’’ریویو آف ریلیجنز‘‘ میں شائع ہوا تھا اور وہ فقرہ یہ ہے۔
اس زمانہ میں جس قدر لوگ اصلاح کے لئے اٹھے ہیں، ان میں سے ایک احمد ہی ہے جو ایک نبی کے لباس میں اور
نبوت کے منہاج پر ظاہر ہوا۔ تمام وہ خصوصیتیں جو صرف انبیاء میں پائی جاتی ہیں، وہ ہمارے زمانہ کے احمد
(مرزاقادیانی) میں کامل طور پر پائی جاتی ہیں۔ اگر انبیاء کی ایک الگ جماعت ہے، جو دنیا کے دوسرے لوگوں سے
ممتاز ہے تو یقینا ہمارا احمد(مرزاقادیانی) اسی جماعت کا ایک ممتاز فرد ہے۔ اگر زرتشت علیہ السلام ایک نبی
تھا، اگر بدھ اور کرشن نبی تھے، اگر حضرت موسیٰ اور حضرت مسیح خدائے تعالیٰ کی طرف سے نبی ہوکر دنیا میں آئے
تو یقینا یقینا احمد بھی ایک نبی ہے۔ کیونکہ جن علامتوں کے ذریعے زرتشت اور دیگر انبیاء علیہم السلام کا نبی
ہونا ہمیں معلوم ہوا، وہ تمام علامتیں حضرت مرزاغلام احمد فداہ امی وابی علیہ الصلوٰۃ والسلام میں موجود
ہیں… الغرض جو شخص ذرا بھی تدبر سے کام لے گا، اس کو اس امر کے تسلیم کرنے میں ذرا بھی تامل نہیں ہوگا کہ
حضرت مرزاغلام احمد اسی پاک گروہ میں سے ایک عظیم الشان فرد ہے جو انبیاء کے نام سے ممتاز ہے۔ حضرت اقدس
درحقیقت ایک سچے نبی ہیں اور اسی زمرہ میں سے ہیں جن کو انبیاء اور رسل کے نام سے پکارا جاتا ہے… اب آئندہ
کوئی نئی شریعت نازل نہ ہوگی اور کوئی ایسا نبی دنیا میں نہیں آئے گا جو قرآن شریف کی شریعت کو منسوخ کرنے
کے لئے آئے۔ اب اس کے بعد کوئی نئی شریعت نہیں آئے گی اورآنحضرت ﷺ کے بعد کوئی نیا صاحب شریعت نبی نہیں آئے
گا… آپ خاتم النّبیین یعنی انبیاء کے لئے مہر ہیں، اب کوئی ایسا نبی نہیں ہوسکتا جوآنحضرت ﷺ کی غلامی کی مہر
اپنے ساتھ نہ رکھتا ہو۔ اس تحریر کی نہ کوئی تاویل ہوسکتی ہے اور نہ اس کے متعلق کسی قسم کا کوئی عذر کیا
جاسکتا ہے۔ اس مضمون کو دیکھ کر حضرت خلیفۃ المسیح اوّل نے اس کے متعلق پسندیدگی اور خوشنودی کا اظہار
فرمایا تھا… اس کے بعد بھی ہمیشہ اس رسالہ میں حضرت مسیح موعود (مرزاقادیانی) کو نبی اور رسول بتایا جاتا
رہا اور ٹھیک ان ہی معنوں میں بتایا جاتا رہا ہے، جن میں اس مضمون میں بتایا گیا ہے۔ اس پر مولوی محمد علی
صاحب کو یا کسی اور فرد یا جماعت کو اعتراض نہیں ہوا۔‘‘
(محمد اسماعیل قادیانی کا رسالہ تبدیلی عقائد مولوی محمد علی لاہوری ص۹۰تا۹۲)
(۱۴۴) فروری ۱۹۱۴ء
’’اس سے پہلے میں کھلے الفاظ میں حضرت مسیح موعود کو نبی اور حقیقی معنوں میں نبی لکھ چکا تھا۔ مگر
انہوں نے (یعنی مولوی محمد علی لاہوری قادیانی نے) اس پر اعتراض نہیں کیا تھا اور اعتراض کیوں کرتے؟ جب کہ
ان کا اپنا یہی عقیدہ تھا جیسا کہ ان کے مضامین سے ظاہر ہے مگر فروری ۱۹۱۴ء میں ان کی توجہ اس طرف منعطف
ہوئی کہ مسیح موعود کے منکروں کو مسلم ثابت کریں لیکن وہ مسلم ثابت نہیں ہوسکتے تھے جب تک حضرت مسیح موعود
کی نبوت سے انکار نہ کیا جائے۔ اس لئے وہ مسیح موعود کے منکرین کو مسلم ثابت کرنے کی خاطر خودحضرت اقدس کی
نبوت ہی کواڑانے کے درپے ہوگئے جنہیں خود خدا نے نبی اور رسول کہا اور جن کوآنحضرت ﷺ نے نبی اللہ کا خطاب دیا
اور جنہوں نے خود
518
یہ دعویٰ کیا کہ میں اسلام کی اصطلاح میں نبی ہوں۔ اس اثناء میں جب ’’ریویو‘‘ فروری ۱۹۱۴ء کے پروف ان
کے پاس پہنچے تو ان میں ایک مضمون کا یہ عنوان دیکھ کر "Ahmad as a Prophet 2" (احمد بحیثیت ایک نبی کے
نمبر۲) انہوں نے نیچے اپنے قلم سے ایک فٹ نوٹ دے دیا کہ یہاںنبی کا لفظ حقیقی اصطلاحی معنوں میں استعمال
نہیں ہوا ہے۔ مجھے یہ نوٹ سخت ناگوار گزرا۔ مگر چونکہ بحیثیت ایڈیٹر ان کو اس نوٹ کے لکھنے کا حق حاصل تھا۔
بلکہ وہ میرے اصل مضمون میں بھی جیسی چاہتے، تبدیلی کر سکتے تھے۔ کیونکہ وہی ان مضامین کے ہر طرح ذمہ دار
تھے، اس لئے مجھے مجبوراً خاموش رہنا پڑا۔‘‘
(شیرعلی قادیانی، مددگار ایڈیٹر ریویو کا مضمون، الفضل قادیان ج۴ نمبر۹۹ ص۷،۸ کالم۱تا۳، مؤرخہ ۱۶؍جون
۱۹۱۷ء)
(۱۴۵) نبوت کا دروازہ
’’ایک تو وہ زمانہ تھا جب کہ مولوی (محمد علی) صاحب (لاہوری قادیانی) کی بات بات سے یہ ظاہر ہوتا تھا
کہ نبوت کے تمام دروازے بند نہیں ہوئے بلکہ امت محمدیہ کے کامل افراد کو یہ درجہ حاصل ہوسکتا ہے اور اب
مولوی صاحب پر ایک وقت ایسا آگیا ہے جب کہ وہ کہتے ہیں: ’’اگر تم آنحضرت ﷺ کے بعد نبوت کا دروازہ بند نہیں
مانتے تومیرے نزدیک یہ بڑی خطرناک راہ ہے اور تم خطرناک غلطی کے مرتکب ہوئے ہو۔‘‘
(پیغام صلح ج۲ نمبر۱۱۹، مؤرخہ ۶؍اپریل ۱۹۱۵ء)
مگر مولوی صاحب اگر یہ خطرناک راہ تھی تو آپ کیوں باربار حضرت مسیح موعود کو نبی اور رسول لکھتے رہے
اور کیوں آپ نے حضرت مسیح موعود کو انبیاء اور رسل کے گروہ میں شامل کیا۔ جناب مولوی صاحب سچ فرمائیے، کیا
آپ نے حضرت مسیح موعود کی زبان سے اپنے کانوں سے بارہا یہ نہیں سنا کہ نبوت کی تمام کھڑکیاں بند ہیں۔ مگر
ایک کھڑکی اب بھی کھلی ہے اور وہ آنحضرت ﷺ کی کھڑکی ہے۔ یعنی اب صرف آنحضرت ﷺ کی وساطت سے نبوت مل سکتی ہے
اور کوئی ذریعہ نہیں۔ میں امید نہیں کرتا کہ آپ کا حافظہ ایسا کمزور ہوگیا ہو کہ ایک بات جو آپ نے بارہا خود
حضرت مسیح موعود کی زبان سے سنی، آپ اسے ایسی جلدی بھول گئے کہ اب آپ تمام دروازے نبوت کے بند قرار دیتے
ہیں۔ لیکن اگر آپ کا حافظہ فی الواقعہ ایسا ہی کمزور ہوگیا ہے کہ ایسی باتیں بھی آپ کے ذہن سے قطعی طور پر
نسیاً منسیاً ہوگئیں، جو آپ نے کئی بار حضرت مسیح موعود کی زبان مبارک سے، اپنے کانوں سے سنیں، تو آؤ میں
آپ کے سامنے آپ کا ایک تحریری اقرار پیش کرتا ہوں۔ اس کے دیکھنے سے تو آپ کو یاد آجائے گا کہ واقعی حضرت
مسیح موعود کی یہی تعلیم تھی کہ نبوت کا دروازہ امت محمدیہ کے لئے بند نہیں ہوا بلکہ کھلا ہے۔ اگر آپ کو اس
میں شک ہو تو آپ اپنے اس مضمون کا مطالعہ فرمائیں جو آپ نے ’’سلسلہ احمدیہ کے مختصر حالات وعقائد‘‘ کے عنوان
کے تحت (ریویو ج۵ نمبر۵، بابت مئی ۱۹۰۶ء) میں لکھا… آپ ص۱۸۶ پر سلسلہ احمدیہ کا عقیدہ اس طرح بیان فرماتے
ہیں:
’’یہ سلسلہ سچے معنوں میں آنحضرت ﷺ کو خاتم النّبیین مانتا ہے اور یہ اعتقاد رکھتا ہے کہ کوئی نبی،
خواہ پرانا نبی ہو یانیا، آپ کے بعد ایسا نہیں آسکتا جس کو نبوت بدوں آپ کے واسطہ کے مل سکتی ہو۔آنحضرت ﷺ کے
بعد خداتعالیٰ نے تمام نبوتوں اور رسالتوں کے دروازے بند کر دئیے مگر آپ کے متبعین کامل کے لئے، جو آپ کے
رنگ میں رنگین ہوکر آپ کے اخلاق کاملہ سے ہی نور حاصل کرتے ہیں، ان کے لئے یہ دروازہ بند نہیں ہوا۔‘‘ مولوی
صاحب آپ نے یہاں کیا لکھا اور اب آپ کیا فرماتے ہیں۔
(مولوی محمد علی صاحب کے سابقہ عقائد پر تبصرہ ص۱۱،۱۲، شیر علی قادیانی)
519
(۱۴۶) ایک ماہ بعد
’’جناب مولوی محمد علی صاحب (امیرجماعت لاہور) نے ۲۱؍جون ۱۹۰۸ء، گویا حضرت اقدس مسیح موعود کے وصال کے
قریباً ایک ماہ بعد، بمقام لاہور بتقریب جلسہ ’’پیغام صلح‘‘ ایک تقریر فرمائی تھی، جو (الحکم قادیان ج۱۲
نمبر۴۲، مؤرخہ ۱۸؍جولائی ۱۹۰۸ء) میں شائع ہوئی ہے، جس میں ذیل کا اقتباس دیا جاتا ہے:
ہمیں بھی اسی وسیع دعا کے کرنے کا حکم ہے:’’اہدنا الصراط المستقیم‘‘ اور اس
کی قبولیت بھی یقینی ہے کیونکہ اگر خدا وہ مدارج جو منعم علیہ لوگوں کو ملے، کسی دوسرے کو دے سکتا ہی نہ تھا
تو پھر ہمیں یہ دعا سکھلانے کے کیا معنی۔ مخالف خواہ کوئی ہی معنی کرے مگر ہم تو اسی پر قائم ہیں کہ خدا نبی
پیدا کر سکتا ہے، صدیق بناسکتا ہے اور شہید اور صالح کا مرتبہ عطاء کر سکتا ہے مگر چاہئے مانگنے والا۔
اسی تقریر میں یہ بھی فرمایا: ہم نے جس کے ہاتھ میں ہاتھ دیا، وہ صادق تھا، خدا کا برگزیدہ اور مقدس
رسول تھا۔ پاکیزگی کی روح اس میں اپنے کمال تک پہنچی ہوئی تھی۔ اس کے اثر نے جوش کیا اور اس کا اثر دنیا میں
پھیلا۔ اس میں قوت قدسی اور قوت جذب تھی۔‘‘
(مندرجہ اخبار الفضل قادیان ج۱۲ نمبر۲۹ ص۸ کالم۲، مؤرخہ ۱۶؍ستمبر ۱۹۲۴ء، رسالہ فرقان قادیان ج۱ نمبر۵
ص۳، بابت ماہ مئی ۱۹۴۲ء)
(۱۴۷) اختلاف کے بعد
’’اہدنا الصراط المستقیم۔ صراط الذین انعمت علیہم حضرت مسیح موعود (یعنی
مرزاقادیانی) اس آیت کی تفسیر میں فرماتے ہیں: لہٰذا ضرور ہوا کہ تمہیں یقین اور محبت کے مرتبہ پر پہنچانے
کے لئے خدا کے انبیاء وقتاً بعد وقت آتے رہیں، جن سے تم وہ نعمتیں پاؤ۔‘‘
(لیکچر سیالکوٹ ص۳۲، خزائن ج۲۰ ص۲۲۷)
’’قبل از اختلاف مولوی محمد علی صاحب بھی اس آیت سے یہی سمجھتے تھے کہ نبی آسکتے ہیں۔ چنانچہ اپنی
تقریر میں انہوں نے بیان کیا جو ۲۱؍جون ۱۹۰۸ء یورنیورسٹی ہال میں ہوئی کہ ہمیں بھی اس وسیع دعا کرنے کا حکم
ہے… اختلاف کے بعد کہتے ہیں کہ ’’اہدنا الصراب المستقیم‘‘ کو حصول نبوت کی دعا مانا
جائے تو مانا پڑے گا کہ تیرہ سو سال میں کسی مسلمان کی دعا قبول نہ ہوئی۔ پس مقام نبوت کے لئے دعا کرنا ایک
بے معنی فقرہ ہے اور اسی شخص کے منہ سے نکل سکتا ہے جو اصول دین سے ناواقف ہے۔‘‘
(بیان القرآن ج۱ ص۱۰، منکرین خلافت کا انجام ص۹۷، جلال الدین شمس قادیانی)
(۱۴۸) زمین وآسمان کا فرق
’’مولوی محمد علی صاحب کی وہ تحریریں، جن میں انہوں نے حضرت مسیح موعود کو نبی، عظیم الشان نبی، موعود
نبی، آخر الزمان نبی لکھا ہے اور نہ صرف لکھا بلکہ اس کے ثبوت میں دلائل بھی پیش کئے اور مخالفین کے
اعتراضات کو رد کیا، کیسی صاف اور واضح ہیں لیکن ان کے بالمقابل خلافت ثانیہ کا انکار کرنے کے وقت سے لے کر
اب تک ان کی زبان وقلم سے جو کچھ نکلا ہے، اسے سامنے رکھ کر دیکھنے سے زمین وآسمان کا فرق معلوم ہوتا ہے۔ اس
کے لئے ہم صرف دو تحریریں پیش کرتے ہیں، ایک انکار خلافت ثانیہ سے پہلے کی اور دوسری بعد کی، جو ایک دوسری
کے قطعاً خلاف ہیں۔
مولوی صاحب پورے زور قلم کے ساتھ (’’ریویو آف ریلیجنز‘‘ ج۷ ص۲۹۴،۲۹۵ نمبر۶،۷، بابت ماہ جون، جولائی
۱۹۰۸ء) پر تحریر فرماتے ہیں:
’’جھوٹے مدعی نبوت کو نصرت نہیں دی جاتی بلکہ اسے ہلاک کر کے نیست ونابود کردیا جاتا ہے… اس طرح
مرزاصاحب کے
520
ساتھ کامیابیوں اور نصرتوں کے وعدے قبل از وقت نہیں کئے اور پھر اسی طرح ان کو آپ کی زندگی میں بلکہ
آپ کی وفات کے بعد بھی پورا کر کے نہیں دکھایا۔ جس طرح وہ اپنے صادق بندوں کے ساتھ وعدے کیا کرتا اور پھر ان
کو پورا کر کے دکھایا کرتا ہے اور جس طرح وہ جھوٹے کو جلدی ہی ہلاک کر کے نیست ونابود کر دیا کرتا ہے۔ اس
طرح مرزاصاحب کے ساتھ نہیں کیا۔ پس جس شخص کے ساتھ خداتعالیٰ اپنی کتاب کے مقرر کردہ قوانین کی رو سے جھوٹوں
والا سلوک نہیں کرتا بلکہ صادقوں اور سچے رسولوں والا سلوک کرتا ہے، اس کی صداقت پر شبہ کرنا خداتعالیٰ سے
جنگ کرنا اور اس کی کلام کی خلاف ورزی کرنا ہے۔ اس سے بڑھ کر اور کوئی ثبوت کسی کی صداقت کا نہیں ہوسکتا اور
اگر یہ ثبوت کافی نہیں تو پھر کسی نبی کی نبوت ثابت نہیں ہوسکے گی۔‘‘
یہ تحریر نبوت مسیح موعود کے متعلق ان کے پہلے عقیدہ کی آئینہ ہے اور ان کے بعد کے عقائد کا پتہ حسب
ذیل سطور سے لگ سکتا ہے۔ لکھتے ہیں:
’’میں مرزاصاحب کو نبی قرار دینا نہ صرف اسلام کی ہی بیخ کنی سمجھتا ہوں بلکہ میرے نزدیک خود مرزاصاحب
پر بھی اس سے بہت بڑی زد پڑتی ہے۔ اگر تم آنحضرت ﷺ کے بعد نبوت کا دروازہ بند نہیں مانتے تو میرے نزدیک یہ
بڑی خطرناک راہ ہے اور تم خطرناک غلطی کے مرتکب ہوتے ہو۔‘‘
(پیغام صلح لاہور مؤرخہ ۶؍اپریل ۱۹۱۵ء)
کون کہہ سکتا ہے کہ ان دونوں تحرریوں میں بعد المشرقین نہیں اور ان کا محرر دوسری تحریر لکھتے وقت
اپنے ان عقائد پر قائم تھا جو پہلی تحریر لکھتے وقت اس کے بعد لیکن باوجود اس کے مولوی محمد علی صاحب تبدیلی
عقائد کا الزام ہم پر لگاتے ہیں اور اپنے متعلق ان کا یہ دعویٰ ہے کہ انہوں نے اپنے عقائد میں کوئی تبدیلی
نہیں کی۔‘‘
(الفضل قادیان ج۹ نمبر۸۴، مؤرخہ ۲۷؍اپریل ۱۹۲۲ء)
(۱۴۹) اختلاف
’’قبل از اختلاف مولوی محمد علی صاحب (ریویو آف ریلیجنز ج۵ نمبر۵ ص۱۸۶، بابت ماہ مئی ۱۹۰۶ء) میں سلسلہ
احمدیہ کے امتیازی عقائد کا ذکر کرتے ہوئے لکھتے ہیں:
’’یہ سلسلہ سچے معنوں میں آنحضرت ﷺ کو خاتم النّبیین مانتا ہے اور یہ اعتقاد رکھتا ہے کہ کوئی نبی
خواہ وہ پرانا نبی ہو یا نیا آپ کے بعد ایسا نہیں آسکتا جس کو نبوت بدوں آپ کے واسطہ کے مل سکتی ہو۔آنحضرت ﷺ
کے بعد خدائے تعالیٰ نے تمام نبوتوں اور رسالتوں کے دروازے بند کردئیے مگر آپ کے متبعین کامل کے لئے جو آپ
کے رنگ میں رنگین ہوکر آپ کے اخلاق کاملہ سے ہی نور حاصل کرتے ہیں ان کے لئے یہ دروازہ بند نہیں ہوا۔‘‘
اور (ریویو آف ریلیجنز ج۹ نمبر۷ ص۲۲۱، بابت ماہ جولائی ۱۹۱۰ء) میں لکھا ہے:
’’اگر آج نبوت کے برکات کسی پاک انسان کو حاصل ہوسکتے ہیں تو وہ قرآن شریف ہی کے ذریعہ سے اورآنحضرت ﷺ
کی وساطت سے ہی ہو سکتے ہیں کیونکہ آپ خاتم النّبیین یعنی انبیاء کے لئے مہر ہیں۔ اب کوئی ایسا نبی نہیں
آسکتا جوآنحضرت ﷺ کی غلامی کی مہر اپنے ساتھ نہ رکھتا ہو، غرض نبوت کے برکات بند نہیں ہوئے، بلکہ اب بھی
ایسے ہی حاصل ہوسکتے ہیں جیسے کہ پہلے حاصل ہوتے تھے۔ مگر اب کوئی صاحب شریعت نبی نہیں آسکتا کیونکہ شریعت
قرآن کے ذریعہ کامل ہوچکی ہے اور نہ اب کوئی ایسا نبی پیدا ہوسکتا ہے جو خاتم النّبیین کی اتباع کا سرٹیفکیٹ
اپنے ساتھ نہ رکھتا ہو۔‘‘
521
بعد از اختلاف مولوی محمد علی صاحب (آیت خاتم النّبیین کے تحت) لکھتے ہیں:
’’انبیاء علیہ السلام ایک قوم ہیں اور کسی قوم کا خاتم یا خاتم ہونا صرف ایک ہی معنی رکھتا ہے یعنی ان میں سے
آخری ہونا۔ پس نبیوں کے خاتم کے معنی نبیوں کی مہر نہیں بلکہ آخری نبی ہیں۔‘‘
(بیان القرآن ص۱۵۱۵)
مذکورہ بالا تحریروں سے واضح ہو کہ حضرت مسیح موعود خاتم النّبیین کے معنی نبیوں کی مہر لیتے ہیں اور
فرماتے ہیں آپ کے بعد آپ کا امتی نبوت کو حاصل کر سکتا ہے اور خود مولوی صاحب قبل از اختلاف یہی معنی کرتے
تھے لیکن اختلاف کے بعد کہتے ہیں کہ خاتم کے معنی مہر کرنا بالکل غلط ہیں۔ وہ ایک ہی معنی رکھتا ہے۔ یعنی ان
میں سے آخری ہونا۔ کیا یہ معنی صریح طور پر اس خصوصیت اور امتیاز کو باطل نہیں کرتے جو سلسلہ احمدیہ کو حاصل
تھی اور جیسے خود مولوی صاحب بھی اختلاف سے پہلے مانتے تھے۔‘‘
(الفضل قادیان ج۲۲ نمبر۹۲ ص۷،۸ کالم۱تا۳، مؤرخہ ۳۱؍جنوری ۱۹۳۵ء)
(۱۵۰) تیئسواں جواب
’’مولوی محمد علی صاحب (قادیانی امیر جماعت لاہور) نے یہ دیا ہے کہ جو حوالہ جات مسئلہ نبوت کے متعلق
رسالہ ریویو آف ریلیجنز کے میری طرف منسوب کئے گئے ہیں وہ سب میرے نہیں ہیں، بلکہ ان میں سے بعض دوسرے لوگوں
کے بھی ہیں۔ جیسا کہ ذیل کے الفاظ میں انہوں نے ظاہر کیا ہے۔ مولوی محمد اسماعیل صاحب نے ایک رسالہ بنام
’’میرا عقیدہ دربارہ نبوت مسیح موعود‘‘ ریویو آف ریلیجنز کے میری اور کچھ دوسروں کی تحریروں سے مرتب کیا
ہے۔‘‘
(پیغام صلح لاہور ج۱۹ نمبر۲۵، مؤرخہ ۲۳؍اپریل ۱۹۳۱ء)
’’مولوی صاحب کو چاہئے تھا کہ اگر ان کے اس بیان میں کچھ بھی سچائی کی آمیزش تھی تو ایسے حوالہ جات کی
نشاندہی کرتے اور بتاتے کہ وہ کن لوگوں کے ہیں اور کیا ایسے مضامین انہوں نے خود اپنے ہاتھ سے ریویو میں
شائع نہیں کئے اور ان کی کاپیاں اور پروف خود ان ہی نے نہیں دیکھے تھے اور اگر وہ ان کے اپنے عقیدہ کے مطابق
نہیں تھے تو انہیں کیا مجبوری درپیش تھی کہ ایسے مضامین کو اس رسالہ میں درج ہی نہیں کیا بلکہ خود اپنی طرف
منسوب کیا کیونکہ انہوں نے عصمت انبیاء کے مضمون میں ایک موقع پر بتایا ہے کہ اس رسالہ میں جو مضامین کسی
نامہ نگار کے نام پر نہیں بلکہ مضمون نگار کے نام کی تصریح کے بغیر شائع ہوتے ہیں وہ سب ایڈیٹر کے ہوتے ہیں۔
پس یا تو آپ ان مضامین کے ساتھ نامہ نگاروں کے نام رسالہ ریویو آف ریلیجنز میں دکھائیں ورنہ کوئی وجہ نہیں
کہ انہیں کسی اور کی طرف منسوب کیا جائے اور اگر اس بات کو تسلیم بھی کر لیا جائے کہ وہ دوسروں کے لکھے ہوئے
ہیں اور آپ نے ان میں کوئی تصرف نہیں کیا تاہم ان کے متعلق آپ کی ذمہ داری آپ کے اپنے مسلمات کے مطابق کم
نہیں ہوتی۔ کیونکہ آپ اپنے رسالہ (تبدیلی عقیدہ کا الزام) کے ص۱۹ پر اخبار بدر کے حوالہ سے کسی شخص کے خط کا
ایک فقرہ نقل کر کے اس کے نیچے لکھتے ہیں، شاید ہمارے مکرم مفتی صاحب یہ عذر کر دیںکہ یہ لوگوں کے خطوط ہیں
اور ایڈیٹر نامہ نگاروں کی رائے کے ذمہ دار نہیں ہوا کرتے۔ مگر میں کہتا ہوں کہ جب تمہارے مذہب کے خلاف ایک
بات کہی جاتی ہے تو کیاتمہارا فرض نہ تھا کہ اگر اس کو درج بھی کر دیا ہے تو اس کی تردید ساتھ چھاپ دیتے یا
بعد میں ہی چھاپ دیتے کہ نامہ نگار جو یہ مذہب مسیح موعود کی طرف منسوب کرتا ہے غلط ہے۔ پس ان کا (یعنی
مولوی محمد علی لاہوری قادیانی کا) یہ عذر سراسر بے حقیقت ہے کہ ان میں سے بعض حوالے دوسرے لوگوں کے بھی ہیں
اور اصل حقیقت یہ ہی ہے کہ جہاں انہوں نے اپنے بیسیوں جواب میں مغالطہ دہی کے طریق پر حضرت مسیح موعود کی
تحریرات کو اپنی طرف منسوب کرلیا ہے۔ اس کے مقابل پر اس جواب میں انہوں نے بعض اپنی تحریرات کو دوسروں کی
طرف منسوب کر دیا
522
ہے اور کم ازکم یہ کہ اپنی ذمہ داری کو مغالطہ دہی کے ذریعہ دوسروں پر ڈالنا چاہا ہے لیکن ان کی یہ
تمام کوششیں بے سود ہیں اور آج جو چاہیں حلف اٹھانے کے لئے تیار ہو جائیں یا اس زہر کے پیالے کے حیلوں
حوالوں سے ٹالتے رہیں ان کے ہاتھ (ریویو آف ریلیجنز میں) کٹ چکے ہیں۔‘‘
(مولوی محمد علی لاہوری کے اپنی سابقہ تحریرات کے متعلق جوابات پر نظر ص۱۲۰تا۱۲۲، از محمد اسماعیل
قادیانی)
(۱۵۱) چوبیسواں جواب
’’مولوی محمد علی صاحب (لاہوری قادیانی) نے اپنی سابقہ تحریرات کا جواب یہ دیا ہے کہ اگر میری اس
کارروائی کو (کہ میں سالہا سال تک رسالہ ریویو آف ریلیجنز میں مرزاصاحب کو زمرہ انبیاء ورسل میں سے ایک عظیم
الشان نبی اور رسول بتاتا اور ثابت کرتا رہا ہوں اور اب اس کے خلاف یہ اعلان کر رہا ہوں کہ مرزاصاحب ہرگز
ہرگز نبی نہیں ہیں) میری ایک غلطی قرار دیا جائے تو بھی اس کی وجہ سے میرے تقدس میں فرق نہیں آسکتا کیونکہ
میں تو مرزاصاحب کا صرف ایک انگریزی خواں مرید ہوں اور میری اس غلطی کے مقابل پر مرزاصاحب کو جنہیں ایک
مامور ہی نہیں بلکہ مسیح موعود اور حکم اور عدل بھی مانا جاتا ہے۔ جماعت احمدیہ کے مسلمات کی رو سے بارہ سال
تک اس لفظ کے معنی سمجھنے میں غلطی لگی رہی۔ پس اگر ان کی اس غلطی سے ان کے تقدس میں فرق نہیں آتا تو میری
اس غلطی سے میرے تقدس کو کیا نقصان پہنچ سکتا ہے۔ مولوی محمد علی صاحب کے اصل الفاظ اس بارہ میں یہ ہیں۔
قادیانی جماعت یہاں تک کہتی ہے کہ بارہ سال تک مامور کو اور مامور بھی مسیح موعود جو حکم اور عدل ہو، لفظ
نبی کے معنی سمجھ نہ آئے۔ نہ لفظ محدث کے معنی سمجھ آئے اور وہ غلط معنی کر کے مدعی نبوت پر لعنت بھیجتا رہا
تو اس کا ایک انگریزی خواں مرید (یعنی مولوی محمد علی لاہوری قادیانی) اگر لفظ نبی کو غلط استعمال کرے تو
کیا اندھیر آگیا۔‘‘
(اخبار پیغام صلح، مؤرخہ ۴؍مارچ ۱۹۳۵ء، از خطبہ جمعہ مؤرخہ ۲۲؍فروری ۱۹۳۵ء، مولوی محمد علی لاہوری
کے اپنی سابقہ تحریرات کے متعلق جوابات پر نظر ص۱۲۲، از محمد اسماعیل قادیانی)
(۱۵۲) دورنگی چال
’’ہر شخص حق رکھتا ہے کہ اگر اسے اپنے سابقہ عقیدہ میں کوئی غلطی معلوم ہو تو وہ اپنے عقیدہ میں
تبدیلی کرے لیکن جو شخص تبدیلی عقیدہ کے باوجود کہتا جائے کہ میں نے کوئی تبدیلی نہیں کی وہ اہل علم کی نظر
میں اپنی بددیانتی کی وجہ سے بالکل گر جاتا ہے ایسا شخص اپنی دورنگی چال کی وجہ سے چونکہ نہ ادھر ہوتا ہے،
نہ ادھر اس لئے وہ اہل عقل کے نزدیک قطعاً عزت کے قابل نہیں ہوتا اور مومن ایسے لوگوں سے بیزار ہوتے ہیں۔ اس
کی ایک مثال مولوی محمد علی صاحب ایم۔اے بھی ہیں۔ مولوی صاحب ۱۲سال کے قریب (رسالہ) ریویو آف ریلیجنز کے
ذریعہ بڑے زور وشور سے دنیا کو بتاتے رہے کہ حضرت مرزاصاحب مسیح موعود نبی ہیں۔ پیغمبر ہیں، رسول ہیں اور
وہی عظیم الشان نبی آخرزمان ہیں جن کے آنے کا وعدہ رسول اللہ ﷺ نے دیا تھا اور اس لمبے عرصہ میں کبھی ایک دفعہ
بھی مولوی (محمد علی) صاحب نے یہ نہ لکھا کہ حضرت مرزاصاحب نبی نہیں ہیں، صرف محدث ہیں، لیکن آج وہی مولوی
صاحب کہتے ہیں کہ میں تو حضرت مرزاصاحب کو ہمیشہ سے محدث ہی مانتا رہا ہوں۔ میں نے کبھی مرزاصاحب کو نبی
نہیں مانا، کیونکہ نبوت ختم ہوچکی، حالانکہ نہ صرف مولوی صاحب بلکہ ان کے تمام ساتھی متفقہ طور سے بڑے زور
سے اعلان کر چکے ہیں کہ: ہم خدا کو شاہد کر کے اعلان کرتے ہیں کہ… ہمارا ایمان یہ ہے کہ حضرت مسیح موعود
مہدی معہود اللہ تعالیٰ کے سچے رسول تھے اور اس زمانہ کی ہدایت کے لئے دنیا میں نازل ہوئے اور آج آپ کی متابعت
میں ہی دنیا کی نجات ہے اور ہم اس امر کا اظہار ہر میدان میں کرتے ہی اور کسی کی خاطر ان عقائد کو بفضلہ
نہیں چھوڑ سکتے۔
(پیغام صلح لاہور ج۱ نمبر۳۵ ص۳ کالم۲، مؤرخہ ۷؍ستمبر ۱۹۱۳ء)
523
معلوم ہوا ہے کہ بعض احباب کو کسی نے غلط فہمی میں ڈال دیا ہے کہ اخبار ہذا کے ساتھ تعلق رکھنے والے
احباب یا ان میں سے کوئی ایک سیدنا وہادینا حضرت مرزاغلام احمد صاحب مسیح موعود مہدی معہود کے مدارج عالیہ
کو اصلیت سے کم یا استخفاف کی نظر سے دیکھتا ہم تمام احمدی جن کا کسی نہ کسی صورت سے اخبار پیغام صلح کے
ساتھ تعلق ہے۔ خداتعالیٰ کو جو دلوں کا بھید جاننے والا ہے حاضر وناظر جان کر علی الاعلان کہتے ہیں کہ ہماری
نسبت اس قسم کی غلط فہمی محض بہتان ہے۔ ہم حضرت مسیح موعود ومہدی معہود کو اس زمانہ کا نبی رسول اور نجات
دہندہ مانتے ہیں جو درجہ حضرت مسیح موعود نے اپنا بیان فرمایا ہے۔ اس سے کم وبیش کرنا موجب سلب ایمان سمجھتے
ہیں۔
(پیغام صلح لاہور ج۱ نمبر۴۲ ص۲ کالم۳، مؤرخہ ۱۶؍اکتوبر ۱۹۱۳ء)
’’… ان ہر دو اعلانوں میں خدا کو شاہد کرکے حضرت مسیح موعود کو نہ صرف نبی اور رسول ہی مانا ہے بلکہ
اس درجہ سے کم کرنے کو موجب سلب ایمان بھی قرار دیا ہے اور دنیا کی نجات کو آپ کی تابعیداری ہی میں ظاہر
کیاگیا اور یہ اعلان پیغام صلح کے تمام متعلقین کی طرف سے شائع کیاگیا۔ کیا مولوی محمد علی صاحب اور ان کے
رفقاء کو ختم نبوت کے یہ معنی کہ اب کوئی نبی نہیں آسکتا۔ آج معلوم ہوئے ہیں یا کیا حدیث نبوی لا نبی بعدی
کے معنی اس وقت معلوم نہیں تھے۔ معلوم تھے لیکن اس وقت مولوی محمد علی صاحب ان معنوں کو غلط قرار دیتے تھے
اور ختم نبوت کے صحیح معنی اس طرح بیان فرماتے تھے… (انگریزی عبارت)
(ترجمہ) سلسلہ احمدیہ مانتا ہے کہ آنحضرت ﷺ نبیوں کی مہر ہیں اور آپ کے بعد کوئی نبی نہیں آسکتا۔
سوائے اس ایک کے جو روحانی طور پر آپ کا شاگرد ہے اور انعام نبوت آپ کے ذریعہ سے پاتا ہے۔ یہ صرف ایک سچا
مسلم ہی ہے جو نبی مقدس کی پیروی کر کے نبی بن سکتا ہے۔ (انگریزی رسالہ احمد مسیح موعود مؤلفہ محمد علی
ایم۔اے)‘‘
(الفضل قادیان ج۸ نمبر۲۵ ص۷،۸ کالم۳، مؤرخہ ۴؍اکتوبر ۱۹۲۰ء)
(۱۵۳) گزشتہ تاریخ
’’گزشتہ تاریخ اس بات کی شاہد ہے کہ ہمیشہ بہت سے آدمی ایسے گزرے ہیں جو ایک وقت میں ایک نیک عقیدہ
رکھتے تھے اور بڑی مضبوطی کے ساتھ اس عقیدہ پر قائم تھے بلکہ اس عقیدہ کو دوسرے لوگوں کے سامنے پیش کرتے اور
حتی الوسع اس کی تبلیغ کرتے مگر بعد میں ایک ایسا وقت بھی ان پر آگیا کہ وہ خود اس عقیدہ سے منحرف ہوگئے اور
پھر جیسا کہ وہ اس عقیدہ کی تبلیغ میں کوشش کرتے تھے۔ دوسرے وقت میں اسی عقیدہ کی تردید میں زور لگانا شروع
کر دیا ایسی مثالوں کی تلاش کے لئے تاریخ کے صفحات کی طرف رجوع کرنے کی ضرورت نہیں۔ اسی زمانہ میں ایسی
مثالیں کافی تعداد میں مل سکتی ہیں بلکہ میں سخت افسوس اور رنج کے ساتھ اس بات کا اظہار کرتا ہوں کہ ایسے
واقعات کی ایک افسوس ناک مثال مولوی محمد علی ایم۔اے نے اپنی ذات میں دنیا کے سامنے پیش کی ہے۔
یہ وہ صاحب ہیں جو کئی سال تک رسالہ ریویو آف ریلیجنز کے ایڈیٹر رہے اور اس رسالہ میں انہوں نے حضرت
مسیح موعود کو بطور نبی کے پیش کیا ان کو نبی، رسول، پیغمبر کے ناموں سے برابر پکارتے رہے۔ قرآن شریف کی
آیات کی رو سے ان کی نبوت ورسالت کو ثابت کیا۔ کھلے الفاظ میں کہا کہ اس امت کے کسی اور فرد سے ان کو مشابہت
دینا سخت نادانی اور جہالت ہے، بلکہ یہاں تک کہا کہ حضرت ابوبکر وعمر سے مشابہت دینا بھی شخت غلطی ہے۔
کیونکہ یہ بزرگ نبی نہیں تھے اور حضرت مرزا صاحب نبی ہیں۔ وہ حضرت مرزا صاحب کو اس امت کے دیگر بزرگوں سے
الگ کر کے ان کو انبیاء ورسل کے گروہ میں شامل کرتے رہے بلکہ یہاں تک بیان کیا کہ قرآن شریف آخر زمانہ میں
امت محمدیہ میں ایک نبی کے آنے کی خبر دیتا ہے اور حضرت مرزاصاحب وہی موعود نبی ہیں۔ انہوں نے لکھا کہ گزشتہ
انبیاء نے آخری زمانہ
524
میں ایک نبی کے ظہور کی خبر دی اور وہ نبی آخرالزمان یہی حضرت مرزاصاحب ہیں۔ انہوں نے لکھا کہ حضرت
مرزاصاحب نبی ہونے کے مدعی ہیں اور قرآن سے ان کا نبی اور رسول ہونا ثابت ہے۔ ریویو کے صفحات کو اوّل سے آخر
تک پڑھا جائے تو تم یہ لکھا ہوا پاؤ گے کہ حضرت مرزاصاحب مدعی نبوت ہیں، نبی ہیں، رسول ہیں، پیغمبر ہیں اور
ایسا انہوں نے اپنے دوستوں کو نہیں بلکہ مخالفوں کو بتایا کہ حضرت مرزاصاحب نبی ہونے کے مدعی ہیں اور ان کی
نبوت ورسالت قرآن شریف سے ثابت ہے اور کہ وہ فی الواقع اور فی الحقیقت ایسے ہی نبی اور رسول اور پیغمبر ہیں
جیسا کہ انبیاء نبی اور رسول اور پیغمبر تھے۔ انہوں نے ایک لفظ پر اکتفاء نہیں کیا بلکہ وہ تمام الفاظ جو
انبیاء کے متعلق استعمال ہوتے ہیں لکھتے ہیں اور ان کے کلام کے پڑھنے سے پڑھنے والے کو ذرا بھی شک باقی نہیں
رہتا کہ ان مضامین کا لکھنے والا حضرت مسیح موعود کو ایسا ہی نبی قرار دیتا ہے جیسا کہ دوسرے انبیاء نبی
ہیں۔ کھلے الفاظ اور صریح عبارات میں انہوں نے ناظرین کے سامنے حضرت مسیح موعود کو بطور نبی کے پیش کیا ہے
کسی قسم کی شرط یا توجیہہ ساتھ نہیں لگائی اور ایک لفظ بھی ایسا نہیں جس سے یہ سمجھا جائے کہ حضرت مسیح
موعود کی نبوت ایسی نبوت نہ تھی جیسے دوسرے انبیاء کی، بلکہ ان کا لفظ لفظ یہ بتاتا اور ظاہر کرتا ہے کہ
حضرت مسیح موعود کی نبوت بعینہٖ وہی نبوت ہے جو حضرت عیسیٰ علیہ السلام اور دیگر انبیاء علیہم السلام کو ملی
بلکہ انہوں نے تو یہاں تک ظاہر کیا ہے کہ حضرت مرزاصاحب کی نبوت ایسی ہی ہے جیسی آنحضرت ﷺ کی نبوت۔‘‘
(مولوی محمد علی لاہوری کے سابقہ عقائد پر تبصرہ ص۱تا۳، از شیر علی قادیانی)
(۱۵۴) بری بات
’’محض عقیدہ کی تبدیلی کوئی بری بات نہیں۔ بری بات یہ ہے کہ عقیدہ میں تبدیلی کرنے کے باوجود کہا جائے
اور اصرار کیا جائے کہ تبدیلی نہیں کی گئی۔ مولوی محمد علی صاحب اسی پوزیشن میں ہیں۔ ان کا دعویٰ ہے کہ وہ
جو عقائد حضرت مسیح موعود (مرزاقادیانی) کے زمانہ میں رکھتے تھے وہی اب تک رکھتے ہیں۔ ان میں انہوں نے
سرموفرق نہیں کیا لیکن ہم کہتے ہیں حضرت خلیفہ اوّل (حکیم نورالدین) کے زمانہ میں اندر ہی اندر اور خلافت
ثانیہ کے دور میں کھلم کھلا انہوں نے اپنے عقائد بدل لئے اور ان میں زمین وآسمان کا فرق آگیا۔ اس کے ثبوت
میں متعدد مثالیں دی جاچکی ہیں لیکن مولوی (محمد علی) صاحب کو چونکہ ہماری ہر بات سے ضد ہے اس لئے ابھی تک
اپنی ہی بات پر اڑے ہوئے ہیں۔‘‘
(الفضل قادیان ج۱۶ نمبر۶۶ ص۷ کالم۱، مؤرخہ ۱۹؍فروری ۱۹۲۹ء)
(۱۵۵) قادیانی اور لاہوری اختلاف کا فیصلہ
’’اس کے مقابلہ میں حضور نے (یعنی مرزامحمود نے) ایک ایسا طریق پیش فرمایا ہے جس میں کسی فرد کو دینی
عقائد میں جج بنانے کی ضرورت پیش نہیں آتی، چنانچہ حضور نے تجویز فرمایا کہ ہم میں سے ہر دو کے صحیح عقائد
وہی ہوسکتے ہیں جن کو ہم حضرت مسیح موعود کے زم انے میں پیش کرتے رہے ہیں، پس اس زم انے میں مولوی محمد علی
صاحب (امیر جماعت لاہور) جن عقائد کو پیش کیا کرتے تھے، میں انہیں ان کی تحریرات سے نکال کر ان کے سامنے پیش
کر دیتا ہوں۔ وہ ان کے نیچے یہ لکھ دیں کہ آج بھی میرے یہی عقائد ہیں، اسی طرح وہ میری اس وقت کی تحریرات
نکال کر میرے سامنے رکھ دیں اور میں ان کے نیچے لکھ دوں گا کہ آج بھی میرے یہی عقائد ہیں، پھر دونوں کے
عقائد کتابی صورت میں شائع کر دئیے جائیں، جن کے ساتھ ہی ہماری یہ تحریریں بھی شامل ہوں کہ ہمارے عقائد آج
بھی یہی ہیں۔
ہاں! ایک امر کا ہر فریق کو حق ہوگا کہ اگر اس کی تحریر کا کوئی اقتباس ناقص ہو تو وہ اس وقت کی اپنی
کسی تحریر سے اسے مکمل کر دے، یہ تشریحی عبارتیں بھی ہردو کی حضرت مسیح موعود کے زمانے کی ہی ہوں گی۔ پس
فیصلہ کا آسان طریق یہی ہے۔ (واقعی مرزامحمود خلیفہ قادیان
525
کی تجویز نہایت معقول ہے، لیکن مولوی محمد علی لاہوری غالباً اس طریق پر راضی نہ ہوں گے۔ کیونکہ اس
طرح قادیانیت کے معاملہ میں ان کا نفاق سراسر عیاں ہو جائے گا اور میاں صاحب کا اخلاص تو قادیانیت کے ساتھ
بہرصورت ظاہر ہے۔ للمؤلف)‘‘
(مرزامحمود کے جواب کا خلاصہ، الفضل قادیان ج۲۸ نمبر۱۸۰، مؤرخہ ۹؍اگست ۱۹۴۰ء)
(۱۵۶) اظہر من الشمس
’’حضرت مسیح موعود (مرزاقادیانی) کی نبوت اظہر من الشمس ہے اور آپ لوگوں پر کافی حجت ہوچکی ہے۔ لیکن
اگر کوئی ڈھٹائی سے انکار کرتا جائے تو اس کا علاج ہمارے پاس کچھ نہیں۔ مثال کے طور پر ایک ذاتی واقعہ عرض
ہے۔ اگست ۱۹۲۰ء شملہ کا ذکر ہے کہ مولوی محمد علی صاحب کی خدمت میں بندہ نے حضرت اقدس (مرزاقادیانی) کی چند
عبارتیں دعویٰ نبوت کے متعلق پیش کیں اور ایک مجمع کی موجودگی میں پیش کیں اور ان کا حل چاہا۔ کچھ دیر تو
مولوی (محمد علی) صاحب محکمات اور متشابہات کے طور پر ان عبارتوں کو حل کرنے کی کوشش کرتے رہے لیکن جب دیکھا
کہ یہ اس طرح حل نہیں ہوتیں تو جلال میں آکر فرمانے لگے اگر حضرت (مرزاقادیانی) صاحب کی تحریروں سے یہ ثابت
ہو جائے کہ وہ نبی اللہ ہیں تو میں ان کو چھوڑ دوں گا اور مسیح موعود یا مجدد بھی نہیں مانوں گا۔ سبحان اللہ !
کیا عمدہ ایمان ہے بجائے اس کے کہ فرماتے۔ اگر ثابت ہو جائے تو میں مان لوں گا۔ فرماتے ہیں، نبوت ثابت ہونے
پر مسیح موعود اور مجدد ماننے سے بھی انکار کردوں گا۔ پس آپ ان لوگوں میں سے ہیں جو کسی بات کے ثابت ہونے پر
بھی ایمان کی نسبت کفر کو ترجیح دیتے ہیں۔‘‘
(الفضل قادیان ج۱۸ نمبر۳ ص۶ کالم۳، مؤرخہ ۵؍جولائی ۱۹۳۰ء)
(۱۵۷) محسن کش
’’اسی قسم کے لوگ ہمارے اندر سے پیدا ہوگئے ہیں اور محسن کشوں کی جماعت ایسے رنگ میں ظاہر ہوئی ہے کہ
اس نے خود ہی محسن کشی نہیں کی اور اپنے محسن کے کام کو خود ہی ترک نہیں کیا بلکہ یہ بھی کوشش کی ہے کہ اس
کی تعلیم کو دنیا کے پردہ سے مٹادیں۔ چنانچہ آج ہی ایک خط ماریشس سے آیا ہے جو ایک احمدی نے بھیجا ہے۔ مسٹر
نور دیا ان کا نام ہے۔ ان کو مولوی محمد علی صاحب نے ایک خط بھیجا جس میں لکھا کہ مجھے مولوی غلام محمد کے
ماریشس جانے کی خوشی ہے، لیکن آپ ان کو یہ سمجھا دیں کہ وہاں یہ عقائد نہ پھیلائیں کہ مسیح موعود مجدد نہیں
بلکہ نبی تھے اور اسی لئے (ان کے منکر) تمام مسلمانان عالم کافر ہیں۔ یہاں ہندوستان میں ان دو عقیدوں سے
سلسلہ کو نقصان عظیم پہنچا ہے۔ پس وہاں ان کو شروع ہی سے ملیا میٹ کرنا چاہئے۔‘‘
(احمدیہ ینگ مین ایسوسی ایشن لاہور کا ماہواری ہینڈ بل نمبر۲۱،۲۲ مشمولہ التبلیغ ص۲)
(۱۵۸) عجب رنگ کے انسان
’’مولوی محمد علی صاحب (امیر جماعت لاہور) بھی عجیب رنگ کے انسان ہیں نہ تو انہیں اپنے کسی قول کی
پرواہ ہے اور نہ اپنے کسی فعل کی جیسا موقع دیکھتے ہیں ویسا ہی رنگ اختیار کر لیتے ہیں اور جدھر ضرورت
سمجھتے ہیں ادھر ہی ڈھل جاتے ہیں۔ ان کے سابقہ اور موجودہ مذہبی عقائد میں جس قدر اختلاف اور تضاد پایا جاتا
ہے اس کی حقیقت تو کئی بار ظاہر کی جاچکی ہے اور ایسی صفائی کے ساتھ ظاہر کی جاچکی ہے کہ خود مولوی صاحب
موصوف کو بھی کہنا پڑا کہ میری یازید بکر کی تحریر کوئی حجت شرعی نہیں۔‘‘
(الفضل قادیان ج۷ نمبر۲۷ ص۵ کالم۱، مؤرخہ ۴؍اکتوبر ۱۹۱۹ء)
526
(۱۵۹) ناحق ناروا
’’ناظرین کرام کو معلوم ہوگا کہ مولوی محمد علی صاحب یہاں سے (قادیان سے) جاتے وقت جہاں کئی ہزار کی
لاگت کا ترجمہ قرآن اور صدہا روپے کا کتب خانہ بالکل ناحق ناروا لے گئے اور باوجود ادھر کے واجبی مطالبات کے
بالکل چپ لگا بیٹھے۔ ان کے ساتھ ہی ساڑھے تین پونے چار سو روپے کا نیا ٹائپ رائٹر بھی انہوں نے تاحال ناجائز
طور پر اپنے قبضہ میں رکھا ہوا ہے۔ جس کی عدم موجودگی میں سلسلہ عالیہ کے بعض ضروری کاموں کا حرج ہوتا تھا۔
مگر اب جماعت کو مشکور ہونا چاہئے کہ حضرت نواب محمد علی صاحب دام اقبالہ نے اپنا ٹائپ رائٹر صدر انجمن کو
مرحمت فرمایا ہے۔‘‘
(الفضل قادیان ج۳ نمبر۴ ص۴ کالم۳، مؤرخہ یکم؍جولائی ۱۹۱۵ء)
(۱۶۰) خائن اور بددیانت
’’حضرت خلیفۃ المسیح اوّل (حکیم نورالدین) نے تادم وفات جناب مولوی محمد علی کو ترجمۃ القرآن لکھوایا
اور مولوی صاحب بحیثیت ملازم صدر انجمن مبلغ دو صد روپے ماہوار خزانہ انجمن سے بطور تنخواہ وصول کر کے اس کا
انگریزی ترجمہ کرتے رہے مگر جونہی حضرت نورالدین اعظم نے وفات پائی، جناب مولوی صاحب نے ایبٹ آباد میں تکمیل
ترجمہ کے بہانے پر صدر انجمن احمدیہ (قادیان) کے خزانہ سے ایک ہزار روپیہ پیشگی وصول کیا۔ ہزاروں روپے کی
قیمتی کتب قومی لائبریری سے لیں اور صدر انجمن کا ٹائپ رائٹر ساتھ لے کر لاہور پہنچ کر وہاں اعلان کر دیا کہ
یہ سب کچھ میرا ہے اور پھر حضرت نورالدین کے ترجمۃ القرآن میں تصرف کر کے احمدیت کے مخصوص مسائل نکال دئیے
اور بددیانتی وخیانت پر مہر کر دی اور ’’ولا تخونوا اللہ والرسول وتخنوا اماناتکم وانتم
تعلمون‘‘ کی پرواہ نہ کی۔ پس خداتعالیٰ فرماتا ہے: ’’ان اللہ لا یحب
الخائنین‘‘ یعنی خائن اور بددیانت خدا کا محبوب نہیں بن سکتا۔‘‘
(الفضل قادیان ج۱۸ نمبر۱۳۹، مؤرخہ ۲؍جون ۱۹۳۱ء)
(۱۶۱) ذلیل سے ذلیل
’’ایسی کارروائی یوں اعلانیہ طور پر اور علیٰ رؤس الاشہاد تو ایک ذلیل سے ذلیل اور رذیل سے رذیل طبقہ
اور اخلاق کا انسان بھی کرنے کی جرأت نہیں کر سکتا چہ جائیکہ احمدیہ انجمن اشاعت اسلام کا پریذیڈنٹ (مولوی
محمد علی لاہوری قادیانی) جو امیر قوم بھی کہلاتا ہے اس کا مرتکب ہو اور اس میں قطعاً شرم محسوس نہ کرے۔‘‘
(مولوی محمد علی لاہوری کے اپنی سابقہ تحریرات کے متعلق جوابات پر نظر ص۲۵، از محمد اسماعیل قادیانی)
(۱۶۲) عبرتناک حالت
’’جناب مولوی محمد علی صاحب کا یہ طریق خطاب وجواب، یہ طرز کلام، گالیاں تمسخر اور استہزاء ان کی
موجودہ دینی یا اخلاقی حالت کا جو نقشہ پیش کرتا ہے میں اس کی بحث میں پڑنا نہیں چاہتا، لیکن میں یہ ضرور
کہوں گا کہ اگر مولوی صاحب کے پاس اصل سوال کا ایک ذرہ بھر بھی جواب موجود ہوتا تو ممکن نہ تھا کہ وہ اس
نہایت گندے، نہایت کمینے اور پرلے درجہ کے رذیل اور ذلیل طریق سے کام لیتے۔ پس ان کا اس گند کی طرف جھکنا
انہیں درحقیقت مضطر اور مجبور ثابت کر رہا ہے اور ان کی یہ اضطراری حالت اور بے چارگی ایک طرح سے انہیں
معذور ثابت کرتی ہے اور ان کی موجودہ حد درجہ کی خطرناک حالت کا نقشہ پیش کر کے عبرت دلاتی ہے۔ پس بجائے اس
کے کہ ہم انہیں انکی گالیوں کا جواب دین ان کے لئے دعا کرتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ انہیں اس گندی ناپاک اور
عبرتناک حالت سے اور ان ظلمات سے نکالے اور ازسرنو انہیں آنکھیں بخشے۔‘‘
(مولوی محمد علی لاہوری کے اپنی سابقہ تحریرات کے متعلق جوابات پر نظر ص۷، از محمد اسماعیل قادیانی)
527
(۱۶۳) روحانی حلاوت
’’اب ہم دوسرے حصہ تفسیر کو لیتے ہیں اس میں جہاں جہاں روحانی حلاوت پائی جاتی ہے، وہ صرف وہی حصہ ہے
جہاں مولوی (محمد علی) صاحب نے حضرت مسیح موعود (مرزاقادیانی) کے بیان فرمودہ معانی اور تفسیر کو نقل کر دیا
ہے اور اگر وہ ایسا نہ کرتے تو بلاریب تفسیر زیربحث دیگر عام تفاسیر کی مانند محض روکھی پھیکی اور نکمی
باتوں کا مجموعہ بن کر رہ جاتی، لیکن ان تمام مقامات میں بھی مولوی صاحب نے حضرت مسیح موعود کی کتب وغیرہ کا
کوئی حوالہ نہیں دیا۔ ان کا ایسا کرنا دوحال سے خالی نہیں یا تو وہ رائے عامہ کے مخالف ہو جانے سے ڈر گئے یا
پھر دنیا میں اپنی فضیلت وعلمیت کا سکہ بٹھانے اور خراج تحسین حاصل کرنے کے لئے اس سرقہ کے مرتکب ہوئے۔
بہرکیف جو بھی وجہ ہو اس سے مولوی صاحب کی پرلے درجہ کی علمی بددیانتی اور ایمانی کمزوری ظاہر ہے۔ حیف کہ
ذاتی نمود یا چند سکوں کی خاطر کہ مبادا حضرت مسیح موعود کو دنیا میں پیش نہ کیا۔‘‘
(الفضل قادیان ج۱۸ نمبر۱۴۷، مؤرخہ ۲۱؍جون ۱۹۳۱ء)
(۱۶۴) ایک طرف دوسری طرف
’’ایک طرف تو خطبوں میں، تقریروں میں تحریروں میں آئے دن یہ رونا رویا جاتا ہے کہ آمد کم ہوگئی۔ کام
چلانا مشکل ہو گیا۔ ترقی کے بجائے تنزل ہورہا ہے جو کچھ دے سکتے ہو دے دو اور ایک سوالی کو اپنی دروازہ سے
خالی ہاتھ نہ پھیرو۔ لیکن دوسری طرف اسی عرصہ میں ڈلہوزی جیسے خوش نما مقام پر عالی شان کوٹھی تیار کی جاتی
ہے جس پر ہزارہا روپیہ پانی کی طرح بہا دیا جاتا ہے اور جب روپیہ کے متعلق سوال ہوتا ہے تو کہہ دیا جاتا ہے۔
یہ میری تصانیف کی آمدنی ہے اور اپنی دیدہ ریزی سے میں نے جو کچھ کمایا وہ اس پر صرف کیا… معلوم ہوتا ہے
مولوی (محمد علی) صاحب ایک طرف تو روزبروز ترقی کی بجائے تنزل کی طرف قدم اٹھنے کی وجہ سے اور دوسری طرف
اپنے دوستوں کی طرف سے اس تنزل کا سارا الزام اپنے اوپر عائد ہونے کے باعث گھبرا گئے ہیں اور ان کی گھبراہٹ
اس حد تک پہنچ چکی ہے کہ وہ امارت سے دست بردار ہونے کے لئے تیار بیٹھے ہیں۔ چنانچہ اسی خطبہ جمعہ میں انہوں
نے اعلان کر دیا ہے کہ: اگر جماعت اس پر خوش نہیں تو وہ اپنے لئے کسی اور امیر کا انتخاب کر سکتی ہے اور میں
خوشی سے اس منصب سے علیحدہ ہونے کے لئے تیار ہوں۔‘‘
(الفضل قادیان ج۱۸ نمبر۶۶، مؤرخہ ۲؍دسمبر ۱۹۳۰ء)
(و) مفتی محمد صادق قادیانی
(۱۶۵) مفتی محمد صادق کا عقیدہ
’’میں حضرت مسیح موعود کو ان کی زندگی میں ہی ایسا نبی اور رسول مانتا تھا جیسا کہ پہلے انبیاء مذکورہ
تورات، انجیل وقرآن شریف ہے۔ صرف فرق اتنا ہے کہ حضرت مسیح موعود لازماًآنحضرت ﷺ کے امتی اورآنحضرت ﷺ کے
فیضان سے مقام نبوت کو حاصل کرنے والے تھے۔ میں یہ نہیں کہہ سکتا کہ تدریجاً کب میں نے اس عقیدہ کو حاصل
کیا۔ لیکن بعض واقعات ایسے مجھے یاد ہیں۔ جن سے ظاہر ہے کہ حضرت مسیح موعود کی زندگی میں میرایہ عقیدہ ہوگیا
تھا، مثلاً ایک دفعہ حضرت مسیح موعود صبح کی سیر سے واپس آکر احمدیہ چوک میں کھڑے ہوگئے۔ بہت سے احباب آپ کے
اردگرد حلقہ کئے ہوئے تھے۔ میں اور چند دوست حلقہ کے باہر کھڑے تھے۔ ہم نے دیکھا کہ ایک دہقانی آدمی بڑے شوق
سے حلقہ کے آدمیوں کو چیرتا ہوا اندر گھستا چلا جاتا تھا تاکہ حضرت مسیح موعود کے قریب ہوجائے۔ کسی دوست نے
اس کی
528
اس حرکت کو ناپسندیدگی سے دیکھ کر کہا۔ دیکھو کس طرح لوگوں کو ہٹا کر گھسا جاتا ہے۔ اس وقت بے اختیار
میرے منہ سے اس طرح کے الفاظ نکلے کہ لوگ بھی کیا کریں۔ تیرہ سو سال کے بعد اللہ تعالیٰ نے ایک نبی بھیجا ہے۔
اس نظارے اور اس گفتگو کو میں نے انہی ایام میں اخبار بدر میں چھاپ دیا تھا۔ اس سے ظاہر ہے کہ حضرت مسیح
موعود کی زندگی میں ہی عاجز راقم آپ کو صرف مجدد مانتا تھا، بلکہ نبی، کیونکہ مجدد تو ہرصدی پر آتے رہے۔‘‘
(مفتی محمد صادق قادیانی سابق ایڈیٹر بدر کا حلفیہ بیان، فرقان قادیان ج۱ نمبر۱۰ ص۱۳،۱۴، بابت اکتوبر
۱۹۴۲ء)
(۱۶۶) تیرہ سو سال کے بعد ایک نبی
’’۲۶؍دسمبر ۱۹۰۷ء کی صبح کو حضرت اقدس باہر سیر کے واسطے تشریف لے چلے۔ احباب جوق درجوق ساتھ ہوئے۔
عاشق پروانہ کی طرح زیارت کے واسطے آگے بڑھتے تھے۔ اس قدر ہجوم تھا کہ سیر کو جانا مشکل ہوگیا تاکہ نوواردین
مصافحہ کر لیں۔ قریباً دو گھنٹہ تک آپ کھڑے رہے اور عشاق آگے بڑھ بڑھ کر آپ کا ہاتھ چومتے رہے۔ اس وقت کا
نظارہ قابل دید تھا۔ ہر ایک یہی چاہتا تھا کہ سب سے پہلے میں آگے بڑھوں اور زیارت کروں۔ ایک دیہاتی دوسرے کو
کہہ رہا تھا کہ اس بھیڑ میں سے زور کے ساتھ اندر جا اور زیارت کر اور ایسے موقع پر بدن کی بوٹیاں بھی اڑ
جاویں تو پرواہ نہ کر۔ ایک صاحب بولے کہ لوگوں کو بہت تکلیف ہے اور خود حضرت ایسے گردوغبار میں اتنے عرصہ سے
تکلیف کے ساتھ کھڑے ہیں۔ میں (مفتی محمد صادق) نے کہا۔ لوگ بیچارے سچے ہیں۔ کیا کریں تیرہ سو سال کے بعد ایک
نبی کا چہرہ دنیا میں نظر آیا ہے۔ پروانے نہ بنیں تو کیا کریں۔ اس وقت خداتعالیٰ کی وہ وحی یاد آکر غالب اور
سچے خدا کے آگے سرجھک جاتا تھا جس میں آج سے پچیس سال پہلے کہا گیا تھا کہ لوگ دور دور سے تیرے پاس آویں گے۔
یہی بازار یہی میدان تھے۔ جن میں سے حضرت اکیلے گزر جاتے تھے اور کوئی خیال نہ کرتا تھا کہ کون گیا ہے اور
یہی میدان ان ہزاروں آدمیوں سے بھر گئے ہیں۔ جو صرف اس کی پیاری صورت دیکھنے کے عاشق ہیں۔ کاش کہ اب بھی
مخالفین سوچیں اور غور کریں کہ کیا یہ انسان کا کام ہے کہ وہ ایسی بات اپنے پاس سے بنائے اور پھر وہ ایسے
زور سے باوجود مخالفت کے پوری بھی ہو جائے۔
نوٹ: یہ رپورٹ انہی دنوں اخبار بدر ۱۹؍جنوری ۱۹۰۷ء میں چھپی تھی۔‘‘
(ذکر حبیب ص۱۵۴،۱۵۵، مصنفہ مفتی محمد صادق قادیانی)
(۱۶۷) قادیان کی شادیاں
’’پچھلے دنوں قادیان سے بعض بزرگوں کی نئی شادیوں کی اطلاع موصول ہوئی تھی جن کو صرف تھوڑے تھوڑے دنوں
کے وقفہ سے نکاح کا شوق چرایا اور ان ارباب عزیمت نے اس شوق کو پورا کر کے چھوڑا۔ (مثلاً مفتی محمد صادق،
میر قاسم علی اور مولانا عبدالرحیم) جن کی عمریں ہرگز ستر ستر سال سے کم نہیں ہیں۔ انہوں نے حال ہی میں
نوجوان عورتوں سے نکاح کئے ہیں۔ (مزید برآں مفتی صاحب تو یوں بھی شدید قسم کے امراض مثانہ میں مبتلا ہیں،
چنانچہ ان امراض کی کیفیت اپنے محل پر دوسری جگہ درج ہے۔ للمؤلف) مفتی محمد صادق صاحب نے چند سال پیشتر ایک
جرمن خاتون سے نکاح کیا تھا۔ لیکن وہ مکتفی نہ ہوئیں۔ لہٰذا اب ایک اور کر لی اور اس کے متعلق آپ کو اتنا
اضطراب تھا کہ کراچی میں بیمار پڑے تھے۔ منسوبہ (لڑکی) قادیان میں تھی۔ مفتی صاحب نے واپسی کا انتظار بھی
نہیں کیا اور ایک صاحب کو اپنا نمائندہ بنا کر بطریق نیابت نکاح فرمالیا۔ (اس زمانہ میں نمائندگی نیابت ہر
شعبہ زندگی میں رواج پارہی ہے۔ چنانچہ مفتی صاحب نے بھی نکاح میں اس کو گوارا کر لیا۔ حالانکہ اس کی کوئی
شرعی ضرورت اس موقعہ پر نظر نہیں آتی۔ للمؤلف) مولانا عبدالرحیم قادیانی ایک نوجوان دوشیزہ کو پڑھایا کرتے
تھے۔ ایک دم معلوم ہوا کہ استاد شاگرد نے نکاح کر لیا اور اس نکاح کی مصلحت یہ بتائی کہ مردوں اور عورتوں
میں بیک
529
وقت تبلیغ اسلام کے لئے یہی طریقہ بہتر ہے کہ جن ہستیوں میں تبلیغ کی تڑپ ہو وہ آپس نکاح کا تعلق
پیدا کر کے ’’بلغ ما انزل اللہ الیک‘‘ پر عمل کریں۔ (شادیوں کی ضرورتیں اور مصلحتیں
ہوتی ہیں جن کا قیاس میں آنا آسان نہیں ہوتا خاص کر جب کہ بڈھے دولہا جو ان دلہنوں سے شادی کریں حتیٰ کہ
نائب مقرر کر کے بطریق نمائندگی یہ کام پورا کرائیں۔ للمؤلف)‘‘
(مضمون مندرجہ اخبار پیغام صلح لاہور ج۲۸ نمبر۶۷، مؤرخہ ۲۸؍اکتوبر ۱۹۴۰ء)
(۱۶۸) خرابی صحت
’’حضرت مفتی محمد صادق صاحب کے متعلق ساڑھے نو بجے شب کی اطلاع مظہر ہے کہ آپ کو آج دن بھر بندش پیشاب
کی شدید تکلیف رہی جواب بھی ہے، ساتھ ہی بخار اور کھانسی کی بھی شکایت ہے۔ احباب صحت کے لئے خاص طور پر دعا
کریں۔‘‘
(اطلاع مندرجہ اخبار الفضل قادیان ج۲۸ نمبر۱۸۷ ص۲ کالم۳، مؤرخہ ۱۸؍اگست ۱۹۴۰ء)
’’حضرت مفتی محمد صادق صاحب کی طبیعت بے حد علیل ہے۔ غدہ قدامیہ کی سوزش بہت بڑھ گئی ہے، چند دن سے
خون آرہا ہے۔ رات آدھ سیر کے قریب خون خارج ہوا مثانہ میں زخم ہوگئے ہیں۔ پیشاب کا ایک قطرہ بھی پیدا ہوتا
ہے تو سازش شروع ہو جاتی ہے۔ رات بھر پانچ پانچ دس دس منٹ کے وقفہ سے سوزش کے تکلیف دہ دورے ہوتے رہے۔ سیدنا
حضرت امیرالمؤمنین ایدہ اللہ تعالیٰ نے علاج کے لئے حضرت میر محمد اسماعیل صاحب کو ارشاد فرمایا اور حضرت میر
صاحب نے پنسلین کے ٹیکے تجویز فرمائے…‘‘
(اعلان مندرجہ اخبار الفضل قادیان ج۳۴ نمبر۸ ص۲ کالم۱، مؤرخہ ۹؍جنوری ۱۹۴۶ء)
’’جناب ڈاکٹر حشمت اللہ صاحب نے حضرت مفتی محمد صادق صاحب کے متعلق اطلاع دی کہ آپ کے مثانہ میں جو ورم
اور جریان خون تھا اس کی وجہ سے مثانہ کو اپریشن کے ذریعہ شگاف کر کے کھولا گیا اور جریان خون بند کیاگیا اب
عام طبیعت خدا کے فضل سے اچھی ہے۔‘‘
(ڈاکٹری رپورٹ مندرجہ اخبار الفضل قادیان ج۳۴ نمبر۱۰ ص۱ کالم۱، مؤرخہ ۱۱؍جنوری ۱۹۴۶ء)
’’حضرت مفتی محمد صادق صاحب پچھلے دنوں بہت بیمار رہے۔ آپ کی عمر قریباً ۷۵سال کی ہے… حضرت مفتی صاحب
حضرت مسیح موعود کے عاشق صادق ہیں۔ (اور قادیانی اصطلاح میں وہ میرزا قادیانی کے خاص صحابہ میں شمار ہوتے
ہیں۔ للمؤلف)‘‘
(کیفیت مندرجہ اخبار الفضل قادیان ج۳۴ نمبر۶۶ ص۹ کالم۱، مؤرخہ ۱۹؍مارچ ۱۹۴۶ء)
(۱۶۹) مفتی صاحب تھیٹر میں
’’حضرت مسیح موعود (مرزاقادیانی) کے امرتسر جانے کی خبر سے بعض اور احباب بھی مختلف شہروں سے وہاں
آگئے۔ چنانچہ کپورتھلہ سے محمد خان صاحب مرحوم اور منشی ظفر احمد صاحب بہت دنوں وہاں ٹھہرے رہے۔ گرمی کا
موسم تھا اور منشی صاحب اور میں ہردو نحیف البدن اور چھوٹے قد کے آدمی ہونے کے سبب ایک ہی چارپائی پر دونوں
لیٹ جاتے تھے۔ ایک شب دس بجے کے قریب میں (مفتی صادق قادیانی) تھیٹر چلا گیا جو مکان کے قریب ہی تھا اور
تماشہ ختم ہونے پر دو بجے رات کو واپس آیا۔ صبح منشی ظفر احمد صاحب نے میری عدم موجودگی میں حضرت صاحب
(مرزاقادیانی) کے پاس میری شکایت کی کہ مفتی صاحب رات تھیٹر چلے گئے تھے۔ حضرت صاحب نے فرمایا، ایک دفعہ ہم
بھی گئے تھے تاکہ معلوم ہو کہ وہاں کیا ہوتا ہے۔‘‘
(ذکر حبیب ص۱۸، مصنفہ مفتی محمد صادق قادیانی)
530
فصل سولہویں
قادیانیوں کی جماعت قادیان
(۱) قادیان
’’قادیان کیا ہے؟ وہ خدا کے جلال اور اس کی قدرت کا چمکتا ہوا نشان ہے اور حضرت مسیح موعود کے فرمودہ
کے مطابق خدا کے رسول کا تخت گاہ ہے… قادیان خدا کے مسیح کا مولد مسکن اور مدفن ہے۔ اس بستی میں وہ مکان ہے
جس میں دنیا کا نجات دہندہ، دجال کا قاتل، صلیب کو پاش پاش کرنے والا اور اسلام کو تمام ادیان پر غالب کرنے
والا پیدا ہوا۔ اس میں اس نے نشوونما پائی اور اسی جگہ اس کی زندگی گزری۔‘‘
(الفضل قادیان ج۱۷ نمبر۴۸، مؤرخہ ۱۳؍دسمبر ۱۹۲۹ء)
’’قادیان کی بستی خدا کے انوار کے نازل ہونے کی جگہ ہوئی۔ اس کی گلیوں میں برکت رکھی گئی، اس کے
مکانوں میں برکت رکھی گئی ایک ایک اینٹ آیت اللہ بنائی گئی۔ اس کی مساجد پر نور، موذن کی اذان پرنور، اسلام کے
غلبہ کی تصویر بشکل منارہ اسی جگہ بنائی گئی۔ جہاں خدا کا مسیح نازل ہوا۔ اس منارہ سے وہی ’’لا الہ اللہ ‘‘ کی آواز پھر بلند کی گئی جو آج سے تیرہ صدیاں قبل عرب میں بلند کی گئی
تھی۔‘‘
(الفضل قادیان ج۱۶ نمبر۵۲ ص۴ کالم۱، مؤرخہ یکم؍جنوری ۱۹۲۹ء)
’’وہ بستی قادیان ہے جس کا نام اب زبان زدخلائق ہورہا ہے اور مکہ کی طرح اس کے شرف کو بھی قائم کرنے
کے لئے اس کے ایک ایسے مکین کو منتخب کیا کہ جس کے نام سے دنیا ناواقف تھی… وہ حضرت مرزاغلام احمد صاحب جری
اللہ فی حلل الانبیاء ہیں۔ اس کا پاک وجود ہے۔ جس نے حضرت نبی کریم ﷺ کے زمانہ کی یاد کو تازہ کر دیا ؎
-
زمین قادیان اب محترم ہے
ہجوم خلق سے ارض حرم ہے
(الفضل قادیان ج۱۲ نمبر۶۶، مؤرخہ ۱۶؍دسمبر ۱۹۲۴ء)
’’یہ مقام (قادیان) وہ مقام ہے جس کو خداتعالیٰ نے تمام دنیا کے لئے ناف کے طور پر بنایا ہے اور اس کو
تمام جہاں کے لئے ام قرار دیا ہے اور ہر ایک فیض کو اسی مقدس مقام سے حاصل ہوسکتا ہے۔ اس لئے یہ مقام خاص
اہمیت رکھنے والا مقام ہے۔‘‘
(خطبہ جمعہ خلیفہ قادیان، مندرجہ اخبار الفضل قادیان ج۱۲ نمبر۷۱ ص۱۰ کالم۲، مؤرخہ ۳؍جنوری ۱۹۲۵ء،
خطبات محمود ج۸ ص۵۵۵)
’’میں تمہیں سچ سچ کہتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ نے مجھے بتادیا ہے کہ قادیان کی زمین بابرکت ہے۔ یہاں مکہ
مکرمہ اور مدینہ منورہ والی برکات نازل ہوتی ہیں۔‘‘
(ارشاد مرزا محمود خلیفہ قادیان، مندرجہ اخبار الفضل قادیان ج۲۰ نمبر۷۰ ص۱ کالم۲، مؤرخہ ۱۱؍دسمبر
۱۹۳۲ء)
’’قادیان میں ہمارے مقدس مقامات ہیں اور ہمارے لئے قادیان کے بعض مقامات ویسے ہی مقدس ہیں جیسا کہ
ہمارے نزدیک اور دوسرے انبیاء کے ماننے والوں کے نزدیک ان انبیاء کے مقامات مقدس ہیں۔‘‘
(تقریر مرزامحمود خلیفہ قادیان، الفضل قادیان ج۸ نمبر۷۶،۷۷، مؤرخہ ۱۱-۱۴؍اپریل ۱۹۲۱ء)
’’یہ تو وہ مقام ہے جو حضرت مسیح موعود کو کشفی طور پر قرآن کریم میں دائیں طرف لکھا ہوا دکھایا گیا،
پھر یہ وہ مقام ہے جس کی شان
531
خدا کا مسیح اس طرح بیان فرماتا ہے کہ: ’’قادیان یہ اس کے رسول کا تخت گاہ ہے اور یہ تمام امتوں کے
لئے نشان ہے۔‘‘ (دافع البلاء ص۱۰، خزائن ج۱۸ ص۲۳۰)‘‘
(الفضل قادیان ج۸ نمبر۶ ص۴ کالم۳، مؤرخہ ۲۹؍جولائی ۱۹۲۰ء)
-
عرب نازاں ہے گر ارض حرم پر
تو ارض قادیاں فخر عجم ہے
(الفضل قادیان ج۲۰ نمبر۷۶ ص۹ کالم۱، مؤرخہ ۲۵؍دسمبر ۱۹۳۲ء)
-
اے قادیاں اے قادیاں
تیری فضائے نور کو
-
دیتی ہے ہر دم روشنی
جو دیدہ ہائے حور کو
-
میں قبلہ و کعبہ کہوں
یا سجدہ گاہ قدسیاں
-
اے تخت گاہ مرسلاں
اے قادیاں اے قادیان
(الفضل قادیان ج۲۰ نمبر۲۱ ص۲ کالم۲، مؤرخہ ۱۸؍اگست ۱۹۳۲ء)
-
سنو میرے یارو چلو قادیان کو
تساہل کو چھوڑو چلو قادیان کو
-
بہت سوئے اٹھو چلو قادیان کو
نبی آ گیا لو چلو قادیان کو
چلو قادیان کو چلو قادیان کو
(الفضل قادیان ج۱۸ نمبر۱۴۴، مؤرخہ ۱۳؍جون ۱۹۳۱ء)
(۲) شعائر اللہ
’’پھر شعائر اللہ کی زیارت بھی ضروری ہے یہاں (قادیان میں) کئی ایک شعائر اللہ ہیں۔ مثلاً یہی علاقہ ہے
جہاں جلسہ ہو رہا ہے… اسی طرح شعائر اللہ میں مسجد مبارک، مسجد اقصیٰ، منارۃ المسیح شامل ہیں۔ ان مقامات میں
سیر کے طور پر نہیں بلکہ ان کو شعائر اللہ سمجھ کر جانا چاہئے تاکہ خداتعالیٰ ان کے برکات سے مستفیض کرے۔‘‘
(تقریر جلسہ سالانہ مرزا محمود خلیفہ قادیان، الفضل قادیان ج۲۰ نمبر۸۱ ص۳ کالم۳، مؤرخہ ۸؍جنوری
۱۹۳۳ء، انوارالعلوم ج۱۲ ص۵۷۸)
’’اسی طرح ایک زندہ نشان حضرت ام المؤمنین (مرزاغلام احمد قادیانی کی اہلیہ) ہیں۔ صحابہ کا یہ طریق
تھا کہ جب آتے تو حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا اور باقی امہات المؤمنین کی خدمت میں حاضر ہوکر سلام کرتے اور ان
کی دعاؤں کے مستحق بنتے۔ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام (مرزاقادیانی) کے زمانہ میں اور پھر بعد میں
بھی کئی لوگ حضرت ام المؤمنین (مرزاقادیانی کی اہلیہ) کی خدمت میں حاصر ہوتے اور دعا کی درخواست کرتے۔ نئے
آنے والے لوگوں کو چونکہ اس قسم کی باتیں معلوم نہیں ہوتیں۔ پھر اتنے ہجوم میں یہ بھی خیال ہوسکتا ہے کہ
شاید حاضر ہونے کا موقعہ نہ مل سکے۔ اس لئے میں نے یہ بات یاد دلادی ہے۔‘‘
(تقریر جلسہ سالانہ مرزا محمود خلیفہ قادیان، الفضل قادیان ج۲۰ نمبر ۸۱ ص۳ کالم۳، مؤرخہ ۸؍جنوری
۱۹۳۳ء، انوارالعلوم ج۱۲ ص۵۷۹)
(۳) حرم میں شعائر اللہ
’’ہمارے جلسہ سالانہ کے متعلق حضرت مسیح موعود نے پہلے ہی سے بتادیا تھا کہ دینی اغراض کے لئے قادیان
میں اس موقعہ پر اس کثرت سے لوگ آیا کریں گے کہ ان کے اس ہجوم سے جو صرف دین کی خاطر ہوگا۔ قادیان کی زمین
حرم کا نام پائے گی… پس ہمارا جلسہ
532
شعائر اللہ ہے بلکہ ہر آنے والا شعائر اللہ ہے اور ’’من یعظم شعائر اللہ فانہا من تقوی
القلوب‘‘ کے مطابق جو اللہ تعالیٰ کے نشانوں کی عظمت کرتا ہے وہ اپنے تقویٰ کا ثبوت دیتا ہے۔‘‘
(خطبہ جمعہ مندرجہ الفضل قادیان ج۱۳ نمبر۷۲، مؤرخہ ۲۵؍دسمبر ۱۹۲۵ء، خطبات محمود ج۹ ص۳۹۱تا۳۹۷)
(۴) وہاں
’’ہاں ہاں مجھے وہاں جانا ہے جہاں وہ مسجد مبارک مسجد ہے جس کے بارے میں خداوند عالم نے ’’مبارک مبارک کل امر یجعل فیہا مبارک‘‘ فرمایا۔ پھر وہ مسجد ہے جو منارۃ المسیح کی
حامل اور اپنی عظمت وبرکت کے لحاظ سے بیت المقدس وبیعت العتیق کی مساجد میں شامل ہے۔ جہاں وہ مقبرہ بہشتی ہے
جس کے بارے میں ارشاد بانی ہے کہ:’’انزل فیہا کل رحمۃ‘‘ مر کے تو خداجانے کہاں دفن
ہوں گا، مجھے جیتے جی ایک بار اس بہشت بریں سے ہو آنے دو جو خدا کے مسیح کا شہر، خدا کے مسیح کا مرکز، خدا
کے مسیح کا آرام گاہ ہے۔ میں جاؤں گا اور ضرور جاؤں گا۔ کیونکہ خدا، ابراہیم کے خدا، یعقوب کے خدا، موسیٰ
کے خدا، عیسیٰ کے خدا، محمد کے خدا، میرے مرزا کے خدا نے اس مقام کو برکت دی۔ برکت ہی نہیں دی بلکہ ہمیشہ کے
لئے اسے دارالامان ٹھہرایا۔ اسے بیت المقدس کا قائم مقام بنایا۔‘‘
(الفضل قادیان ج۲ نمبر۸۲ ص۳ کالم۱، مؤرخہ ۲۴؍دسمبر ۱۹۱۴ء)
(۵) دعوت قادیان
’’اس زمانہ کے مرسل ومامور حضرت مسیح موعود (مرزاقادیانی) نے اپنی جماعت کے لوگوں کو قادیان باربار
آنے کی تاکید فرمائی ہے۔ کیونکہ یہ وہ مقام ہے جہاں آکر انسان ہر آن خداتعالیٰ کے زندہ نشانات کا مشاہدہ کر
کے اپنے ایمان کو تازہ کر سکتا ہے۔ بعض مقامات خداتعالیٰ کے جلال وجمال کی تجلی گاہ ہونے کی وجہ سے اپنے
اندر ایسی ایمان پرور اور بصیرت افروز تاثیرات رکھتے ہیں جن کی وجہ سے انہیں دنیا کی دیگر بستیوں پر ایک
نمایاں فضیلت اور شرف حاصل ہو جاتا ہے۔ کوہ طور مادی طور پر دنیا کے دوسرے پہاڑوں سے کسی طرح بھی افضل نہیں۔
بیت المقدس دنیا کے دیگر مقامات کی طرح ایک مقام ہے۔ مکہ ایک غیرآباد خطہ میں پتھر کی چند ایک عمارتوں کا
مجموعہ ہے، مگر اس سے کون انکار کر سکتا ہے کہ ان مقامات کو خداتعالیٰ کے محبوب اور برگزیدہ انسانوں سے
انتساب کی وجہ سے ایک خاص شرف اور بزرگی حاصل ہے۔ اسی طرح قادیان بھی خداتعالیٰ کی تازہ تجلیات کی مورد اور
اس کے مقدس رسول کا تخت گاہ ہے۔ قادیان وہ مقام ہے جسے اس دہریت اور مادہ پرستی کے زمانہ میں حفاظت واشاعت
اسلام کے لئے اللہ تعالیٰ نے دنیا کا مرکز قرار دیا۔ وہ مبارک ایام اور وہ یمن وسعادت سے لبریز گھڑیاں جو
خداتعالیٰ کے فرستادہ نے منشائے ایزدی کے ماتحت اپنی جماعت کی روحانی تربیت اور روحانی ترقی کے لئے مقرر
فرمائی تھیں، بالکل سر پر ہیں۔ حضرت مسیح موعود نے ایمان کی سلامتی اور خداتعالیٰ کی رضا جوئی کے لئے باربار
قادیان آنا ضروری قرار دیاہے اور اس کے لئے بتاکید ارشاد فرمایا ہے لیکن وہ لوگ جو بشری کمزوریوں اور
مجبوریوں کے باعث دوران سال میں اس سعادت سے محروم رہتے ہیں۔ انہیں جلسہ سالانہ کے موقع کو ایک نعمت
غیرمترقبہ خیال کرنا چاہئے اور اگر ان کے نزدیک ایمان وروحانیت کی کوئی بھی قدروقیمت ہے تو انہیں ہرقیمت پر
ادا کر کے جلسہ میں شامل ہونا چاہئے۔‘‘
(الفضل قادیان ج۱۸ نمبر۷۱، مؤرخہ ۱۳؍دسمبر ۱۹۳۰ء)
(۶) قادیان کا قیام
’’خداتعالیٰ نے قادیان کو مرکز بنایا ہے اس لئے خداتعالیٰ کے جو برکات اور فیوض یہاں نازل ہوتے ہیں
اور کسی جگہ نہیں ہیں۔
533
پھر جس کثرت سے حضرت مسیح موعود کے صحابہ یہاں موجود ہیں اور کسی جگہ نہیں ہیں، اس لئے یہاں کے لوگوں
کے ساتھ ملنے سے انسان کا دل جس طرح صیقل ہوتا ہے اور جس طرح اسے تزکیہ نفس حاصل ہوتا ہے اس طرح کسی جگہ کے
لوگوں کے ساتھ ملنے سے نہیں ہوتا۔ حضرت مسیح موعود (مرزاقادیانی) نے فرمایا ہے کہ جو لوگ قادیان نہیں آتے
مجھے ان کے ایمان کا خطرہ ہی رہتا ہے۔‘‘
(انوار خلافت ص۱۱۷، انوارالعلوم ج۳ ص۱۷۲)
’’ اللہ تعالیٰ نے قادیان کی بستی کو اپنے نبی کی زبان پر دارالامان کا خطاب بخشا ہے۔ چنانچہ فرمایا
ہے:’’من دخلہ کان امنا‘‘ حضرت مسیح موعود (مرزاقادیانی) کے ہاتھ پر اللہ تعالیٰ نے جو
نیا آسمان اور نئی زمین بنانے کا وعدہ فرمایا ہے، قادیان دارالامان اس نئی دنیا کا تقدیر الٰہی میں مرکز
قرار پاچکا ہے۔ اس لئے مخلص احمدیوں کو چاہئے کہ اس کی برکات روحانی وجسمانی سے متمتع ہونے کے لئے اور اپنی
اولاد کو ان میں شریک کرنے کے لئے قادیان کی طرف خدمت دین اور روحانی علاج کی نیت سے ہجرت کریں۔‘‘
(ناظر اعلیٰ قادیان کا مضمون ’’تحریک ہجرت‘‘ مندرجہ اخبار الفضل قادیان ج۱۸ نمبر۱۲۸ ص۳ کالم۱، مؤرخہ
۷؍مئی ۱۹۳۱ء)
’’ایک نصیحت میں یہ کرنا چاہتا ہوں کہ جلسہ کے بغیر بھی دوستوں کو قادیان آتے رہنا چاہئے۔ حضرت مسیح
موعود (مرزاقادیانی) نے فرمایا ہے جو باربار قادیان نہیں آتا اس کے ایمان کے متعلق مجھے خطرہ ہے۔ ادھر یہاں
کی بودوباش کو آپ نے ضروری قرار دیا ہے۔ پس احباب کو چاہئے کہ قادیان کو زندگی میں وطن بنانے اور مرکر مدفن
بنانے کی کوشش کریں۔ اسی کے ماتحت میں نے ایک تحریک کی ہے کہ مکانات بنوانے کے لئے ایک کمیٹی بنائی جائے جس
میں شامل ہونے والوں کے لئے پچیس روپیہ کا ایک حصہ رکھا گیا ہے۔ دوست اس کمیٹی میں شریک ہوں۔ حصہ ڈالیں اور
یہاں مکان بنوائیں۔‘‘
(تقریر جلسہ سالانہ مرزامحمود خلیفہ قادیان، مندرجہ اخبار الفضل قادیان ج۲۰ نمبر۸۱ ص۴ کالم۲، مؤرخہ
۸؍جنوری ۱۹۳۳ء، انوارالعلوم ج۱۲ ص۵۸۰)
(۷) بلااجازت
’’خدا کے مسیح (مرزاقادیانی) نے قادیان کو مرکز قرار دیا اور بابرکت مقام اور مرجع الخلائق قرار دیا
اور فرمایا ؎
-
زمین قادیان اب محترم ہے
ہجوم خلق سے ارض حرم ہے
پھر یہاں تک فرمایا کہ جو ہجرت کر کے قادیان آنے کی نیت نہیں رکھتا مجھے اس کے ایمان میں شبہ ہے۔‘‘
(مندرجہ اخبار الفضل قادیان ج۱۶ نمبر۵۱ ص۸ کالم۳، مؤرخہ ۲۵؍دسمبر ۱۹۲۸ء)
’’سیدنا حضرت امیرالمومنین خلیفۃ المسیح الثانی ایدہ اللہ بنصرہ العزیز (مرزامحمود) کا فیصلہ ہے کہ باہر
کی جماعتوں میں سے کوئی احمدی دوست بلااجازت مرکز ہجرت کی غرض سے قادیان نہ آئے۔ اس اعلان کے ذریعہ سے عہدہ
داران جماعت کو تاکید کی جاتی ہے کہ حضور کی اس ہدایت کی پورے طور پر اشاعت کریں کہ کوئی دوست بغیر مقامی
عہدہ داران کی وساطت کے مرکز سے اجازت حاصل کرنے کے بغیر قادیان میں ہجرت کر کے نہ آئے۔ (ناظر امور عامہ
قادیان)‘‘
(الفضل قادیان ج۲۴ نمبر۴۲ ص۴ کالم۴، مؤرخہ ۱۸؍اگست ۱۹۳۶ء)
’’سیدنا حضرت امیرالمؤمنین خلیفۃ المسیح الثانی ایدہ اللہ بنصرہ العزیز کا فیصلہ ہے کہ باہر کی جماعتوں
میں سے کوئی احمدی دوست بلااجازت مرکز، ہجرت کی غرض سے قادیان نہ آئے۔ معلوم ہوتا ہے کہ مقامی جماعتوں نے
حضور کی اس ہدایت کی اشاعت پورے طور پر احباب کے اندر نہیں کی ورنہ کوئی وجہ نہ تھی کہ بہت سے دوست بغیر
اجازت مختلف جگہوں سے مرکز میں ہجرت کی غرض سے آتے۔ اب اس
534
اعلان کے ذریعہ پھر عہدہ داران جماعت کو تاکید کی جاتی ہے کہ حضور کی اس ہدایت کو پورے طور پر اشاعت
کریں کہ کوئی دوست مقامی عہدہ داران کی وساطت سے مرکز سے اجازت حاصل کرنے کے بغیر قادیان میں ہجرت کر کے نہ
آئے۔ (ناظر امور عامہ قادیان)‘‘
(الفضل قادیان ج۲۴ نمبر۶۶ ص۲ کالم۱، مؤرخہ ۱۶؍ستمبر ۱۹۳۶ء)
’’ہر احمدی کو نوٹ کر لینا چاہئے کہ سیدنا امیرالمؤمنین خلیفۃ المسیح الثانی ایدہ اللہ بنصرہ العزیز کا
یہ فیصلہ ہے کہ کوئی دوست مرکز کی اجازت کے بغیر قادیان میں ہجرت نہ کریں۔ اس لئے جو صاحب ہجرت کی نیت رکھتے
ہوں وہ اپنے مقامی عہدہ داروں کی وساطت سے مرکز سے اجازت حاصل کر لیں۔ اگر کوئی دوست اس کی خلاف ورزی کریں
گے تو اغلب ہے کہ ان کو ان کی منشاء کے خلاف مرکز سے واپس جانے کے لئے کہا جائے جس سے مالی نقصان کے علاوہ
ان کے احساسات کو بھی ٹھیس لگے گی اس لئے میں ہر دوست سے توقع رکھتا ہوں کہ وہ اس امر کی پوری پابندی کر کے
مرکز کے لئے آسانی پیدا کرے گا۔ (ناظر امور عامہ)‘‘
(الفضل قادیان ج۲۴ نمبر۷۲ ص۱۰ کالم۳، مؤرخہ ۲۳؍ستمبر ۱۹۳۶ء)
(۸) مرزاقادیانی کے صحابہ
’’پھر حضرت مسیح موعود (مرزاقادیانی) کے صحابہ سے ملنا چاہئے۔ کئی ایسے ہوں گے جو پھٹے پرانے کپڑوں
میں ہوں گے اور ان کے پاس سے کہنی مار کر لوگ گزر جاتے ہوں گے۔ مگر وہ ان میں سے ہیں جن کی تعریف خود
خداتعالیٰ نے کی ہے۔ ان سے خاص طور پر ملنا چاہئے۔‘‘
(تقریر جلسہ سالانہ مرزامحمود خلیفہ قادیان، مندرجہ اخبار الفضل قادیان ج۲۰ نمبر۸۱ ص۳ کالم۳، مؤرخہ
۸؍جنوری ۱۹۳۳ء، انوارالعلوم ج۱۲ ص۵۷۹)
(۹) انبیاء کے خاص اصحاب
’’خاکسار عرض کرتا ہے کہ میاں عبد اللہ صاحب (سنوری) مرحوم سابقون اولون میں سے تھے اور حضرت مسیح
موعودکے ساتھ ان کو ایک غیرمعمولی عشق تھا… جب وہ پہلے پہل حضرت (مرزاقادیانی) صاحب کی خدمت میں حاضر ہوئے
تو ان کی عمر صرف اٹھارہ سال کی تھی اور اس کے بعد آخری لمحہ تک ایسے روز افزوں اخلاص اور وفاداری کے ساتھ
مرحوم نے اس تعلق کو نبھایا کہ جو صرف انبیاء کے خاص اصحاب ہی کی شان ہے۔ ایسے لوگ جماعت کے لئے موجب برکت
اور رحمت ہوتے ہیں اور ان کی وفات ایک ایسا قومی نقصان ہوتی ہے جس کی تلافی ممکن نہیں ہوتی… وفات مرض فالج
سے ہوئی جس میں مرحوم نے تیرہ دن بہت تکلیف سے کاٹے۔ فالج کا اثر زبان پر بھی تھا اور طاقت گویائی نہیں رہی
تھی مگر ہوش قائم تھے۔‘‘
(سیرت المہدی حصہ دوم ص۱۰۸، روایت نمبر۴۳۶، جدید ج۱ حصہ دوم ص۳۹۷، روایت نمبر۴۳۹)
(۱۰) ابوہریرہ اور حسان
’’بعداذان مغرب حضور (مرزامحمود) نے باتوں باتوں میں فرمایا لوگوں کو کیا علم ہوسکتا ہے کہ حافظ معین
الدین (مرحوم)، حافظ حامد علی (مرحوم)، باباروڑا (مرحوم) وغیرہ دنیا میں کیا کام کر گئے اور ہمارے سلسلہ کی
کس قدر انہوں نے خدمت کی ہے۔ دنیا کو ان کی کچھ خبر نہیں وجہ یہ کہ اخباروں میں ان کا کچھ ذکر نہیں آیا۔ اسی
طرح اگر ابوہریرہ اور حسان بھی اس زمانہ میں ہوتے تو ان کا بھی یہی حال ہوتا… (باباروڑا) حضرت (مرزاقادیانی)
صاحب سے اکثر درخواست کیا کرتے تھے کہ حضور کبھی کپورتھلہ تشریف لائیں۔ ایک دفعہ حضرت (مرزاقادیانی) صاحب
یوں ہی بغیر اطلاع کپورتھلہ کو چل پڑے۔ حضور (مرزاقادیانی) کے ساتھ یکہ میں ایک سخت مخالف بیٹھا ہوا تھا۔ اس
نے بابا روڈا سے جاکر کہا جا تیرا مرزا آرہا ہے۔ اب بابا مرحوم کو اس کا اعتبار نہ آئے کہ اس قدر عظیم الشان
شخص کس طرح کپورتھلہ آسکتا
535
ہے۔ دوسری، طرف محبت ان کو کھینچے لئے جائے کہ شاید حضور تشریف لے آئے ہوں، چنانچہ انہوں نے اس مخالف
کو سخت گالیاں نکالنی شروع کر دیں کہ تو جھوٹ بکتا ہے اور ننگے سر اور ننگے پیر بھاگ پڑے کہ شاید تشریف لائے
ہوں، مگر تھوڑی دور جاکر پھر کھڑے ہوگئے اور اس کو گالیاں نکالنی شروع کر دیں۔ مگر پھر محبت نے کھینچا اور
یکہ خانہ کی طرف بھاگے۔‘‘
(ارشاد مرزامحمود خلیفہ قادیان، الفضل قادیان ج۸ نمبر۱۵ ص۱،۲ کالم۱تا۳، مؤرخہ ۳۰؍اگست ۱۹۲۰ء)
(۱۱) جناب الٰہی سے پکوڑے کھانے کی ممانعت
’’جب ہم بٹالہ (ضلع گورداسپور) پہنچے تو مولوی (شیر علی) صاحب نے فرمایا کہ بازار سے پکوڑے روٹی کے
ساتھ کھانے کے لئے لے لیں۔ میں نے عرض کی کہ مجھے تو ضرورت نہیں (میں چنے یعنی نخود کی چیز نہیں کھایا کرتا
تھا۔ اب تک بھی نہیں کھاتا) مولوی صاحب کے لئے ایک پیسہ کے پکوڑے کے لئے۔ میں اور مولوی صاحب یکہ پر ہی سوار
تھے۔ اس وقت ایک شخص نے مجھے تین روپے دئیے کہ فلاں شخص کو لاہور میں دے دینا۔ میں اس وقت یکہ پر ہی سوار
روٹی کھاتا رہا۔ مولوی صاحب نے بھی وہی روٹی کھائی، مگر ایک روٹی اور ایک پکوڑا میری طرف کیا کہ یہ آپ
کھالیں۔ میں نے مولوی صاحب کو فرشتہ سمجھ کر آپ کا دیا ہوا پکوڑا اور روٹی لے لی اور کھانا شروع کیا۔ میں نے
سوچا کہ روٹی کھالوں اور پکوڑا پھینک دوں کیونکہ مجھے اسکی جناب الٰہی سے ممانعت تھی مگر میں نے سمجھا کہ
مولوی صاحب نے پکوڑے کھائے ہیں۔ ان کی تقلید میں اور تبرک بنا کر کھا لیتا ہوں۔ پکوڑے کا کھانا تھا کہ میرے
حواس خطا ہوگئے اور وہ تین روپے جوکسی شخص نے بٹالہ میں لاہور کے لئے دئیے تھے وہ اس یکہ پر ہی گر گئے… جب
میں سونے لگا تو یہ شعر میری زبان سے جاری ہوا ؎
-
مہمان کو وہ اپنے ساتھ لایا
پر جیتے جی کچھ نہ اس کو سمجھایا
اس سے بھی میں نے طرز کلام سے سمجھا کہ اللہ تعالیٰ بوجہ اس پکوڑے کھونے کے مجھ سے ناراض ہوگیا ہے۔‘‘
(میر مہدی حسین قادیانی کی روایت، الحکم قادیان ج۳۹ نمبر۲۵، مؤرخہ ۷؍نومبر ۱۹۳۶ء)
(۱۲) مسیح قدنی اور قادیان
-
میرے پیارے مسیح قدنی جہاں میں تو اک نشان رہے گا
مٹیں گے تجھ کو مٹانے والے تو نقش حق جاوداں رہے گا
-
یہ قادیان ہے نبی کی بستی یہ تخت گاہ رسول حق ہے
خدائے قادر کا ہے یہ وعدہ یہ بلدہ دارالامان رہے گا
-
ہزاروں آئیں عذاب دنیا میں لاکھوں برباد شہر بھی ہوں
مگر یقینا یہ شہر احمد نبی بہ حفظ اماں رہے گا
(غلام رسول قادیانی کی نظم، مندرجہ اخبار الفضل قادیان ج۲۳ نمبر۹ ص۵، مؤرخہ ۱۱؍جولائی ۱۹۳۵ء)
(۱۳) اینٹوں میں فرق
’’پس قادیان اور باہر کی اینٹوں میں فرق ہے۔ اس مقام کے متعلق اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ میں اسے عزت
دیتا ہوں جس طرح بیت الحرم، بیت المقدس یا مدینہ منورہ ومکہ کو برکت دی ہے اور اب اگر ہماری غفلت کی وجہ سے
اس کی تقدیر میں فرق آئے تو یہ امانت میں خیانت ہوگی۔ اس لئے یہاں کی اینٹیں بھی انسانی جانوں سے زیادہ
قیمتی ہیں اور یہاں کے مقدس مقامات کی حفاظت کے لئے اگر ہزاروں احمدیوں کی جانیں بھی چلی جائیں تو پھر بھی
ان کی اتنی حیثیت بھی نہ ہوگی، جتنی ایک کروڑ پتی کے لئے ایک پیسہ کی ہوتی ہے۔ پس قادیان اور
536
قادیان کے وقار کی حفاظت زیادہ سے زیادہ ذرائع سے کرنا ہمارا فرض ہے۔‘‘
(خطبہ جمعہ خلیفہ قادیان مندرجہ اخبار الفصل قادیان ج۲۲ نمبر۷۲ ص۸ کالم۱، مؤرخہ ۱۳؍دسمبر ۱۹۳۴ء،
خطبات محمود ج۱۵ ص۴۸۹)
(۱۴) احمدی محلے
’’میں ہاتھ سے کام کرنے کی عادت ڈالنے کا جو مطالبہ کر رہا ہوں اس کے لئے پہلے قادیان والوں کو لیتا
ہوں۔ یہاں کے احمدی محلوں میں جو اونچے نیچے گڑھے پائے جاتے ہیں، گلیاں صاف نہیں، نالیاں گندی رہتی ہیں،
بلکہ بعض جگہ نالیاں موجود ہی نہیں ان کا انتظام کریں، وہ جو اوورسیر ہیں وہ سروے کریں اور جہاں جہاں گندہ
پانی جمع رہتا ہے اور جو اردگرد بسنے والے دس بیس کو بیمار کرنے کا موجب بنتا ہے۔ اسے نکالنے کی کوشش کریں
اور ایک ایک دن مقرر کر کے سب مل کر محلوں کو درست کر لیں۔‘‘
(خطبہ جمعہ خلیفہ قادیان مندرجہ الفضل قادیان ج۲۲ نمبر۷۰ ص۱۱ کالم۲، مؤرخہ ۹؍دسمبر ۱۹۳۴ء، خطبات
محمود ج۱۵ ص۴۶۶،۴۶۷)
(۱۵) قادیان کی زندگی
’’بعض لوگ پانچوں وقت مسجد میں نماز پڑھتے ہیں اور پانچوں وقت ہی قطار باندھ کر مصافحہ کے لئے کھڑے ہو
جاتے ہیں، حالانکہ مصافحہ کے معنی ہم تو یہی سمجھتے ہیں کہ جب کوئی شخص باہر سے آئے یا باہر جائے، یا دیر سے
ملے تو مصافحہ کر لیا جائے لیکن روزانہ ہی پانچ بار بے تحاشہ مصافحہ کرتے چلے جانا بے معنی بات ہے۔ یہ طریقہ
نہ سنت سے ثابت ہے اور نہ عقل سے یہ محض وقت ضائع کرنے والی بات ہے… منہ سے السلام علیکم کہنا تو مسنون ہے،
مگر یہ مصافحہ سوائے ضائع وقت کے کوئی فائدہ نہیں دے سکتا پھر اس میں بعض دفعہ روشناس کرنے والی بات بھی
نہیں ہوتی۔ بعض دفعہ بغل کے نیچے سے کوئی ہاتھ نمودار ہورہا ہوتا ہے اور بعض دفعہ میں آگے ہوتا ہوں اور کوئی
پیچھے سے میرے ہاتھ کو مروڑ رہا ہوتا ہے اور میں قیاس سے سمجھتا ہوں کہ کوئی مصافحہ کرنا چاہتا ہے، پھر میں
نے کئی بار دیکھا ہے۔ بعض لوگ میری پیٹھ پر ہاتھ پھیرتے ہیں۔ ہم نے تو بزرگوں سے یہ سنا ہے بڑے چھوٹوں کی
پیٹھ پر ہاتھ پھیرتے ہیں۔ اس کی غرض برکت دینا ہوتی ہے لیکن بچوں کا باپ کی پیٹھ پر ہاتھ پھیرنا یا مریدوں
کا امام کی پیٹھ پر ہاتھ پھیرنا بالکل عجیب بات ہے۔ اسی طرح میں نے کئی دوستوں کو دیکھا ہے اور توجہ بھی
دلائی ہے کہ وہ دبانے بیٹھ جاتے ہیں۔ حالانکہ دیگر فنون کی طرح دبانا بھی ایک فن ہے اور ہر شخص اسے نہیں
جانتا… جتنے لوگ دماغی کام کرنے والے ہوتے ہیں ان کی اعصابی حس بہت تیز ہوتی ہے… پھر میری یہ حالت ہے کہ اگر
میرے بدن پر ہاتھ رکھ دیا جائے تو میری حالت ناقابل برداشت ہو جاتی ہے اور دم گھٹنے لگتا ہے… تو برکت حاصل
کرنے کے لئے ایسا کرتے ہیں۔ مگر مجھے ایسی گدگدی اور کھجلی ہوتی ہے کہ طبیعت میں سخت انقباض پیدا ہوتا ہے،
پھر کئی لوگ ہیں کہ وہ دبانے لگتے ہیں۔ مگر دوچار بار دبا کر پھر کمر پر ہاتھ رکھ کر بیٹھ جاتے ہیں، حالانکہ
یہ تو برابر کے دوست کے لئے بھی معیوب بات ہے۔ چہ جائیکہ امام جماعت کے لئے ہماری مجالس میں باہر سے
غیراحمدی بلکہ غیرمسلم بھی آکر بیٹھتے ہیں اور عام طور پر ہماری جماعت کو مہذیب اور شائستہ سمجھا جاتا ہے۔
ایسی حالت دیکھ کر ان لوگوں پر کیا اثر ہوگا… بعض اوقات میں نے دیکھا ہے۔ بیعت ہونی لگتی ہے… قران کریم میں
صراحت ہے کہ بیعت ہاتھ سے کی جاتی ہے، لیکن بعض لوگ بیعت کے وقت پاؤں پر ہاتھ رکھ دیتے ہیں… پھر بیعت کے
وقت بعض دوست پیٹھ کی طرف آکر بیٹھ جاتے ہیں اور بغل کے نیچے سے یا اوپر کی طرف سے ہاتھ نکالتے ہیں۔ اس وقت
کا نظارہ بیعت کا نظارہ نہیں معلوم ہوتا بلکہ یوں معلوم ہوتا ہے کہ جیسے ایک ماہی گیر جال کے اندر ہاتھ ڈال
کر مچھلی نکال رہا ہے… پھر میں یہ بھی نہیں سمجھ سکتا کہ کوئی شخص اتنی عقل نہ رکھتا ہو کہ وہ خیال کر سکے
جب میں رقعہ بھیجوں گا تو ممکن ہے کوئی
537
ضروری کام کر رہے ہوں اور اس میں حرج ہو۔ جو بھی رقعہ لے کر آئے گا مجھے کام چھوڑ کر اس کی طرف
دیکھنا پڑے گا۔ رقعہ لینا پڑے گا اور اس طرح کام کا حرج ہوگا اور وقت ضائع ہوگا اگر یہ کیفیت کبھی کبھی پیش
آئے تو خیر، لیکن یہاں تو یہ حالت ہے کہ سارا سارا دن بچوں کے ہاتھ رقعوں پر رقعے چلے آتے ہیں… رقعے لینے کے
لئے مجھے ۲۰،۳۰ بار اٹھنا پڑتا ہے۔ میں نے دیکھاہے کچھ لکھنے بیٹھتا ہوں دوسطریں لکھی ہیں کہ کھٹ کھٹ ہوئی۔
اٹھ کر دروازہ کھولا تو ایک بچہ نے رقعہ دے دیا کہ فلاں صاحب نے دیا ہے۔ پھر دروازہ بند کر کے بیٹھا اور دو
سطریں لکھیں کہ پھر کسی نے آکر کھٹ کھٹانا شروع کر دیا اور لاکر رقعہ دے دیا۔ ایسے رقعوں کے متعلق میرا
تجربہ ہے کہ ان میں سے ۹۹فیصدی ایسے ہوتے ہیں کہ ان کے فوری طور پر بھیجنے کی کوئی ضرورت نہیں ہوتی… ۹۹
فیصدی بھی نہیں ہزار میں سے ۹۹۹ایسے ہوتے ہیں اور ان میں سے شاید ایک ایسا ہو جس کے متعلق کہا جاسکے کہ جائز
طور پر بھیجا گیا ہے… ان میں فی ہزار ۹۹۹ایسے ہوتے ہیں جن میں دعا کی تحریک ہوتی ہے۔ ان کو بھلا بکس میں
کیوں نہیں ڈالا جاسکتا… مشایعت یا استقبال صحابہ سے ثابت ہے یہ چیزیں محبت اور بعض حالات میں قومی وقار کو
بڑھانے والی ہیں، لیکن جب کوئی مبلغ آتا جاتا یا باہر جاتا آتا ہو تو ہمیشہ ایسے موقع پر ایسی غلطیاں ہوتی
ہیں جن کی اصلاح کی طرف منتظم توجہ نہیں کرتے۔ رستہ ایسا تنگ بناتے ہیں کہ دھکے پر دھکے پڑتے ہیں۔ مثلاً کل
ہی جب میں آیا تو ہزار کے قریب لوگ ہوں گے اور یہاں کون سا ایسا خطرہ ہے کہ کوئی شخص بم یا گولی چلا دے مگر
پھر بھی انتظامی لحاظ سے ایسی گھبراہٹ ٹپکتی تھی جو مضحکہ خیز تھی۔ میں نے دیکھا کہ انتظام کرنے والے لوگوں
کے ساتھ درشتی سے پیش آتے تھے۔ جس طرح مجسٹریٹ مجرم سے پیش آتا ہے وہ سینہ سے سینہ ملا کر کھڑے تھے۔ رستہ
کسی کو دیتے نہیں تھے جس کا نتیجہ یہ تھا کہ دھکے پڑتے تھے اور مجھے بھی ساتھ ہی تکلیف ہوتی تھی۔ میں نہیں
سمجھ سکتا کہ اتنی گھبراہٹ کی کیا ضرورت ہے… مثلاً کل میں نے دیکھا کہ بعض تنگ گلی میں سے گزرتے ہوئے مجھ سے
بھی آگے بڑھ جاتے اور پھر یہی منتظم ان پر ہنستے۔ حالانکہ اس کی وجہ جگہ کی تنگی ہے… پھر مجبور کیا جاتا کہ
ایک ایک کر کے گزرو… اگر تین تین چار چار آتے جائیں تو کوئی حرج نہیں۔ ان میں کون سے ایسے لوگ آجائیں گے جو
پہچانے نہ جاسکیں۔‘‘
(خطبہ جمعہ خلیفہ قادیان مندرجہ اخبار الفضل قادیان ج۲۱ نمبر۱۴۹ ص۵تا۷، مؤرخہ ۱۴؍جون ۱۹۳۴ء، خطبات
محمود ج۱۵ ص۱۷۰تا۱۷۵)
(۱۶) قادیانی خواب بینی
’’مجھے افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ ہماری جماعت میں بعض خواب بینوں نے اپنی خوابوں اور دعاؤں کو آمد کا
ذریعہ بنایا ہوا ہے اور وہ آنوں بانوں سے لوگوں سے سوال بھی کرتے رہتے ہیں۔ جس شخص کو اللہ تعالیٰ بندوں سے
مانگنے پر مقرر کر دیتا ہے وہ تو ایک عذاب ہے۔ ایسے شخص کی خوابیں بھی یقینا ابتلاء کے ماتحت ہوسکتی ہیں
انعام کے طور پر نہیں۔‘‘
(خطبہ جمعہ خلیفہ قادیان مندرجہ اخبار الفضل قادیان ج۲۷ نمبر۲۵۷، مؤرخہ ۸؍نومبر ۱۹۳۹ء، خطبات محمود
ج۲۰ ص۵۱۳)
(۱۷) نفسانفسی
’’پس جو لوگ دنیامیں نفسا نفسی میں ہی پڑے رہتے ہیں قیامت کے روز ان سے بھی نفسی نفسی کا معاملہ ہوگا۔
میں دیکھتا ہوں کہ اس کی تازہ مثال ہم میں موجود ہے۔ ایک شخص کی لڑکی فوت ہوگئی وہ اکیلا اس کا جنازہ لے کر
گیا اور راستہ میں دو ایک آدمی اور مل گئے۔ یہ کیوں ہوا۔ اس لئے کہ میں بوجہ بیماری کے اس جنازے کے ساتھ نہ
جاسکا۔‘‘
(خطبہ جمعہ خلیفہ قادیان مندرجہ اخبار الفضل قادیان ج۸ نمبر۱۰ ص۸ کالم۳، مؤرخہ ۱۲؍اگست ۱۹۲۰ء، خطبات
محمود ج۶ ص۴۹۲)
538
(۱۸) افسوس کی بات
’’کس قدر افسوس کی بات ہے کہ جب میں درس دیتا ہوں اس وقت کو تو شرم کے مارے لوگ (قادیانی صاحبان) آ
جاتے ہیں لیکن جب کوئی دوسرا دے تو استاد طلباء کو روکتے ہیں کہ چلو کھیلو جس سے معلوم ہوا کہ میرے درس میں
بھی وہ خدا کے لئے نہیں بلکہ میرے منہ کے لئے آتے ہیں، لیکن ایسے عمل سے فائدہ کیا ہوسکتا ہے۔‘‘
(خطبہ جمعہ خلیفہ قادیان مندرجہ اخبار الفضل قادیان ج۱۷ نمبر۵۶، مؤرخہ ۱۷؍جنوری ۱۹۳۰ء، خطبات محمود
ج۱۲ ص۲۵۳)
(۱۹) ولیمہ کا لطیفہ
’’جناب خلیفہ قادیان کے بڑے صاحبزادہ مرزاناصر احمد صاحب کی شادی خانہ آبادی کی خبر سے قارئین کرام
واقف ہوں گے۔ ماہ رواں کے پہلے ہفتہ میں رخصتی عمل میں آئی۔ بارات نہایت دھوم دھام سے مالیر کوٹلہ گئی۔
واپسی پر دولہا دولہن کا قادیان میں شاہانہ استقبال ہوا اور بہت بڑا جشن منایا گیا۔ اس کے دو تین روز بعد
جناب خلیفہ صاحب نے دعوت ولیمہ دی جس میں صرف منتخب اصحاب مدعو تھے۔ موصوف کے دوسرے ’’مریدان باصفا‘‘ کو یہ
بات پسند نہ آئی۔ انہوں نے سوچا کہ پیر صاحب تو کیا بلائیں گے ہم خود ہی چلیں۔ چنانچہ عین اس وقت جب کہ
خلیفہ صاحب کے نئے ’’قصر خلافت‘‘ یعنی کوٹھی دارالحمد میں دسترخوان بچھنے والا تھا سینکڑوں بن بلائے مہمان
آدھمکے۔ اس طرح خلیفہ صاحب اور ان کے مصاحبین کو نہایت پریشانی اور بے لطفی ہوئی اور ان بن بلائے مہمانوں کی
بدتمیزی کا ذکر جناب خلیفہ صاحب نے ۱۰؍اگست (مذکورہ خطبہ، خطبات محمود ج۱۵ ص۲۲۰تا۲۲۹ ملاحظہ فرمائیں) کے
خطبہ جمعہ میں نہایت تفصیل سے کیا ہے جس سے قادیانیوں کے اخلاق، خودداری اور تنظیم پر کافی روشنی پڑتی ہے
اگر کبھی فرصت ملی تو اس کے متعلق کچھ عرض کیا جائے گا۔‘‘
(اخبار پیغام صلح لاہور ج۲۲ نمبر۵۳ ص۴ کالم۱، مؤرخہ ۲۸؍اگست ۱۹۳۴ء)
’’لیکن خلیفہ صاحب نے اس خطبہ میں ایک نہایت قابل قدر بات ارشاد فرمائی جس کا ذکر ہم ضروری سمجھتے
ہیں۔ ارشاد ہوا کہ بعض لوگ طبعی طور پر محبت کے جذبات کے ماتحت یہ برداشت نہیں کر سکتے کہ وہ ہماری دعوت
کھانے سے محروم رہیں۔ ان کی محبت کی قدر کرتا ہوں لیکن ہر محبت عقل کے ماتحت ہونی چاہئے۔ جب عقل کا قبضہ اٹھ
جاتا ہے تو محبت بے وقوفی کا رنگ اختیار کر لیتی ہے۔ یہ کہنا تو مشکل ہے کہ ان بن بلائے مہمانوں کا نزول
محبت کی وجہ سے تھا یا پلاؤ زردے اور روغن جوش کی اشتہاء انگیز خوشبوئیں انہیں ’’دارالحمد‘‘ کی طرف لے
آئیں۔ البتہ خلیفہ صاحب کا یہ فرمانا بالکل صحیح ہے کہ ہر محبت عقل کے ماتحت ہونی چاہئے۔ جب عقل کا قبضہ اٹھ
جاتا ہے تو محبت بے وقوفی کا رنگ اختیار کر لیتی ہے۔ کاش پیر پرست قادیانی اس نصیحت کو گوش ہوش سے سنیں اور
اس پر عمل کریں۔ لیکن گزارش ہے کہ پیرپرستی اور عقل دو متضاد چیزیں ہیں۔ مریدوں کی اندھی عقیدت وتقلید تو
ایک طرف رہی، جناب خلیفہ صاحب کے وضع کردہ اکثر عقائد اور احکام بھی ایسے ہی ہوتے ہیں جن کو عقل سلیم قبول
نہیںکرتی۔ مسئلہ نبوت ہی کو لے لیجئے یا خلافت مآب کے اس جلالی فرمان پر غور کریں کہ مجھ پر سچے اعتراض کرنے
والا بھی تباہ ہو جائے گا۔ اگر قادیانی جماعت عقل سے کام لینے لگ جائے تو اس سے زیادہ خوشی کی بات اور کیا
ہوسکتی ہے۔ مگر اس کی امید بہت کم ہے۔ بہرحال کچھ ہو تو ہو، جناب خلیفہ صاحب نے بات عقل کی کہی جس کی ہم
تعریف وتائیدکرتے ہیں۔‘‘
(اخبار پیغام صلح لاہور ج۲۲ نمبر۵۳ ص۴ کالم۱، مؤرخہ ۲۸؍اگست ۱۹۳۴ء)
539
(۲۰) قادیانی اسٹور
’’جیسا کہ سب کو معلوم ہے یہاں (قادیان میں) ایک اسٹور قائم کیاگیا تھا۔ جماعت کے کچھ افراد نے اس میں
روپیہ دیا تھا… میرے نام ایک خط آیا ہے… یہ بات کہ یہ کسی احمدی کہلانے والے کا ہے۔ اس سے معلوم ہوتی ہے کہ
میرا نام خلیفۃ المسیح لکھا ہے… وہ یہ ہے کہ یہ قادیانیوں کی دیانت کا حال ہے جو دنیا میں بڑے بڑے دینداری
کے دعویدار ہیں۔ اس کے بعد اس نے پہلے میری (یعنی مرزامحمود کی) اسٹور کے متعلق سفارش نقل کی ہے کہ جہاں تک
میرا علم ہے اسٹور کے کارکن دیانتدار ہیں۔ اس کو نقل کر کے (خط میں) کہا ہے کہ یہ ایک پھندا تھا، جب روپیہ
لوگوں نے دیا تو پھر روپیہ کھانا شروع کر دیا اور کھاتے کھاتے یہاں تک پہنچایا کہ ساٹھ ہزار میں سے صرف
اٹھارہ ہزار باقی رہ گیا۔ یہ بالکل غلط ہے۔ نقصان کم ہے اور سرمایہ زیادہ ہے جو زمین اسٹور کی باقی ہے وہ
ایسی ہے کہ اس میں سیلاب آتا ہے یہ اس لئے کہ حصہ داران اس میں ڈوب مریں، پھر اس قسم کے اور لطائف لکھے ہیں
اور لکھا ہے کہ کیوں نہ گھاٹا ہوتا۔ یہ لوگ اس میں سے روپیہ کھاتے رہے اور اپنے مال اور دکانیں تیار کرتے
رہے پھر لکھا ہے کہ گھاٹا آنے کی کوئی وجہ نہ تھی کیونکہ جس نرخ پر اشیاء خریدتے تھے اس سے زیادہ نرخ پر
بیچتے تھے۔‘‘
(خطبہ جمعہ خلیفہ قادیان، الفضل قادیان ج۱۰ نمبر۴۱،۴۲ ص۶ کالم۲،۳، مؤرخہ ۲۳تا۲۷؍نومبر ۱۹۲۲ء)
(۲۱) سوروں والا حملہ
’’مجھے نہایت افسوس سے معلوم ہوا کہ ’’جامعہ احمدیہ‘‘ میں جو طلباء تعلیم پاتے ہیں انہیں کنوؤں کے
مینڈکوں کی طرح رکھا گیا ہے۔ ان میں کوئی وسعت خیال نہ تھی۔ ان میں کوئی شاندار امنگیں نہ تھیں اور ان میں
کوئی روشن دماغی نہ تھی۔ میں نے کرید کرید کر ان کے دماغ میں داخل ہوجانا چاہا مگر چاروں طرف سے ان کے دماغ
کا رستہ بند نظر آیا اور مجھے معلوم ہوا کہ سوائے اس کے کہ انہیں کہا جاتا ہے کہ وفات مسیح کی یہ یہ آیتیں
رٹ لو یا نبوت کے مسئلہ کی یہ دلیلیں یاد کر لو انہیں اور کوئی بات سکھائی جاتی… میں نے جس سے بھی سوال کیا
معلوم ہوا کہ اس نے اخبار کبھی نہیں پڑھا اور جب بھی میں نے ان سے امنگ پوچھی تو انہوں نے جواب دیا کہ ہم
تبلیغ کریں گے اور جب سوال کیا کہ کس طرح تبلیغ کرو گے تو یہ جواب دیا کہ جس طرح بھی ہوگا تبلیغ کریں گے۔ یہ
الفاظ کہنے والوں کی ہمت تو بتاتے ہیں مگر عقل تو نہیں بتاتے۔ الفاظ سے تو یہ ظاہر ہوتا ہے کہ کہنے والا ہمت
رکھتا ہے مگر یہ بھی ظاہر ہو جاتا ہے کہ کہنے والے میں عقل نہیں اور نہ وسعت خیال ہے۔ ’’جس طرح ہوگا‘‘ تو
سور کیا کرتا ہے۔ اگر سور کی زبان ہوتی اور اس سے پوچھا جاتا کہ تو کس طرح حملہ کرے گا۔ وہ یہی کہتا کہ جس
طرح ہوگا کروں گا۔ پس سور کا یہ کام ہوتا ہے کہ وہ سیدھا چل پڑتا ہے۔ آگے نیزہ لے کر بیٹھو تو وہ نیزہ پر
حملہ کر دے گا۔ بندوق لے کر بیٹھو تو بندوق کی گولی کی طرف دوڑتا چلا آئے گا۔ پس یہ تو سوروں والا حملہ ہے
کہ سیدھے چلے گئے اور عواقب کا کوئی خیال نہ کیا۔‘‘
(خطبہ جمعہ مندرجہ اخبار الفضل قادیان ج۲۲ نمبر۸۹ ص۸ کالم۱،۲، مؤرخہ ۲۴؍جنوری ۱۹۳۵ء، خطبات محمود ج۱۶
ص۳۶،۳۷)
(۲۲) مریدوں کی روک تھام
’’چنانچہ حضرت مسیح موعود کے زمانہ میں جب حکیم الامتہ (حکیم نورالدین قادیانی) نے کوئی ایسی بات کی
تو بعض ایسے احباب نے اس کو اپنی شان کے خلاف خیال کر کے منہ پر کہہ دیا کہ ہم ایسا درس نہیں سن سکتے پھر
سالہا سال وہ درس قرآن میں نہ آئے۔ اسی طرح بعض اوقات ایسی باتوں سے وہ مسیح موعود (مرزاغلام احمد قادیانی)
کی صحبت اور خلیفۃ المسیح (حکیم نورالدین) کی صحبت اور دار ہجرت (قادیان) کو چھوڑنے پر آمادہ ہوگئے اور پھر
ذی وجاہت احباب وحضرات کی کوشش سے رکے۔‘‘
(کشف الاختلاف ص۱،۲، مصنفہ سرور شاہ قادیانی)
540
(۲۳) اصحاب قادیانی خود اپنی زبانی
’’پس وہ جو میری جماعت میں داخل ہوا درحقیقت میرے سردار خیرالمرسلین کے صحابہ میں داخل ہوا۔‘‘
(خطبہ الہامیہ ص۱۷۱، خزائن ج۱۶ ص۲۵۸،۲۵۹)
’’مسیح موعود کی جماعت واخرین منہم کی مصداق ہونے سے آنحضرت کے صحابہ میں داخل ہے۔‘‘
(الفضل قادیان ج۳ نمبر۱۰ ص۶ کالم۲، مؤرخہ ۱۵؍جولائی ۱۹۱۵ء)
’’اخی مکرم حضرت مولوی نورالدین صاحب سلمہ اللہ تعالیٰ بارہا مجھ سے یہ تذکرہ کر چکے ہیں کہ ہماری جماعت
کے اکثر لوگوں نے اب تک کوئی خاص اہلیت اور تہذیب اور پاک دلی اور پرہیزگاری اور للّٰہی محبت باہم پیدا نہیں
کی۔ سو میں دیکھتا ہوں کہ مولوی صاحب موصوف کا یہ مقولہ بالکل صحیح ہے، مجھے معلوم ہوا کہ بعض حضرات جماعت
میں داخل ہوکر اور اس عاجز سے بیعت کر کے اور عہد توبہ نصوح کر کے پھر بھی ویسے کج دل ہیں کہ اپنی جماعت کے
غریبوں کو بھیڑیوں کی طرح دیکھتے ہیں۔ وہ مارے تکبر کے سیدھے منہ سے السلام علیک نہیں کر سکتے چہ جائیکہ خوش
خلقی اور ہمدردی سے پیش آویں اور انہیں سفلہ اور خود غرض اس قدر دیکھتا ہوں کہ وہ ادنیٰ ادنیٰ خود غرضی کی
بناء پر لڑتے اور ایک دوسرے سے دست بدامن ہوتے ہیں اور ناکارہ باتوں کی وجہ سے ایک دوسرے پر حملہ ہوتا ہے
بلکہ بسا اوقات گالیوں تک نوبت پہنچتی ہے اور دلوں میں کینے پیدا کر لیتے ہیں اور کھانے پینے کی قسموں پر
نفسانی بحثیں ہوتی ہیں اور اگر نجیب اور سعید بھی ہماری جماعت میں بہت بلکہ یقینا دو سو سے زیادہ ہی ہیں جن
پر خداتعالیٰ کا فضل ہے جو نصیحتوں کو سن کر روتے اور عاقبت کو مقدم رکھتے ہیں اور ان کے دلوں پر نصیحتوں کا
عجیب اثر ہوتا ہے لیکن میں اس وقت کج دل لوگوں کا ذکر کرتا ہوں اور میں حیران ہوتا ہوں کہ خدایا یہ کیا حال
ہے یہ کون سی جماعت ہے جو میرے ساتھ ہے… بدی کا نیکی کے ساتھ جواب دینا سعادت کے آثار ہیں اور غصہ کو کھا
لینا اور تلخ بات کو پی جانا نہایت درجہ کی جوانمردی ہے مگر میں دیکھتا ہوں کہ یہ باتیں ہماری جماعت کے بعض
لوگوں میں نہیں بلکہ بعض میں ایسی بے تہذیبی ہے کہ اگر ایک بھائی ضد سے اس کی چارپائی پر بیٹھا ہے تو وہ اس
کو سختی سے اٹھانا چاہتا ہے اور اگر نہیں اٹھتا تو چارپائی کو الٹا دیتا ہے اور اس کو نیچے گراتا ہے۔ پھر
دوسرا بھی فرق نہیں کرتا اور وہ اس کو گندی گالیاں دیتا ہے اور تمام بخارات نکالتا ہے۔ یہ حالات ہیں جو اس
مجمع میں مشاہدہ کرتا ہوں۔ تب دل کباب ہوتا اور جلتا ہے اور بے اختیار دل میں یہ خواہش پیدا ہوتی ہے کہ اگر
درندوں میں رہوں تو ان بنی آدم سے اچھا ہے۔‘‘
(شہادۃ القرآن ص۲،۳، خزائن ج۶ ص۳۹۵،۳۹۶)
(۲۴) کتا مردار کی طرف
’’میں دیکھتا ہوں کہ ابھی تک ظاہری بیعت کرنے والے بہت ایسے ہیں کہ نیک ظنی کا مادہ بھی ہنوز ان میں
کامل نہیں اور ایک کمزور بچہ کی طرح ہر ایک ابتلاء کے وقت ٹھوکر کھاتے ہیں اور بعض بدقسمت ایسے ہیں کہ شریر
لوگوں کی باتوں سے جلد متاثر ہوجاتے ہیں اور بدگمانی کی طرف ایسے دوڑتے ہیں جیسے کتا مردار کی طرف۔ پس میں
کیونکر کہوں کہ وہ حقیقی طور پر بیعت میں داخل ہیں۔‘‘
(براہین احمدیہ حصہ پنجم ص۸۷، خزائن ج۲۱ ص۱۱۴)
(۲۵) نابالغ جماعت
’’میں ابھی جماعت کی کمزوری پر زیادہ کلام نہیں کرتا کیونکہ میں سمجھتا ہوں کہ ابھی جماعت میں وہ
بلوغت نہیں آئی جب کہ عقل
541
پختہ ہوتی ہے۔ ابھی یہی حالت ہے اگر کوئی عیب بیان کیا جائے تو قطع نظر اس سے کہ وہ کہاں تک ہے اور
کس حد تک ہے لوگ سمجھنے لگ جاتے ہیں کہ جس میں یہ عیب پایا جاتا ہے۔ اس سے زیادہ ذلیل چیز اور کوئی نہیں اور
اسے جس قدر جلد ممکن ہو مٹا دینا چاہئے اور اگر کوئی خوبی بیان کی جائے تو بجائے اس کے کہ غور کریں کہ وہ
خوبی کتنی اہمیت رکھتی ہے کہنے لگ جائیں گے کہ اس سے زیادہ مفید اور اچھی چیز کوئی نہیں۔ اس وقت ہماری جماعت
کے دوستوں کی مثال اس جھولے کی سی ہے جو میلوں پر لگایا جاتا ہے۔ جب اس کا ایک سرا نیچے جاتا ہے تو دوسرا
اوپر کو اٹھ جاتا ہے۔ ہماری جماعت کے لوگ وسطی مقام قبول کرنے کو کبھی تیار نہیں ہوتے اور بسا اوقات میں کسی
چیز کے متعلق اپنی رائے اس لئے بیان نہیں کرتا کہ جماعت کی حالت ابھی بچوں کی سی ہے اگر کوئی نقص بیان کیا
جائے تو کہہ اٹھیں گے کہ یوں ہی مال برباد ہورہا ہے اور اگر کوئی خوبی بیان کردوں تو کہیں گے بھلا کوئی عیب
ہوسکتا ہے۔ کوئی کالا داغ تک نہیں اور اس لئے کہ بعض کے لئے اس رنگ میں ٹھوکر کا موجب نہ ہو جاؤں۔ بسا
اوقات میں اپنی رائے کو مخفی رکھتاہوں اور میں سمجھتا ہوں ہر عقلمند خلیفہ جس نے ربانی ہونے کا مقام حاصل
کیا ہو ایسی ہی احتیاط کرے گا۔ جب تک جماعت میں بلوغت نہ آ جائے اپنے ایسے خیالات کو اپنے تک ہی محدود رکھے
گا۔ اس جذبہ کے ماتحت بہت دفعہ میں اپنی رائے کو چھپائے رکھتا ہوں۔‘‘
(خطبہ جمعہ خلیفہ قادیان مندرجہ اخبار الفضل قادیان ج۱۹ نمبر۱۴۶ ص۶ کالم۱،۲، مؤرخہ ۹؍جون ۱۹۳۲ء،
خطبات محمود ج۱۳ ص۴۸۱،۴۸۲)
(۲۶) مطالعہ کی روک ٹوک
’’مولوی (محمد علی لاہوری) صاحب! آپ شکایت فرماتے ہیں کہ میں (مرزامحمود خلیفہ قادیان) نے اپنے مریدوں
کو منع کیا ہوا ہے کہ وہ آپ لوگوں کی کتابیں پڑھا کریں اور اب چاہتے ہیں کہ میں اعلان کروں بلکہ حکم دوں کہ
وہ ضرور آپ لوگوں کی کتابیں پڑھا کریں مگر میرے نزدیک یہ شکایت بے جا ہے میں نے بارہا اپنی جماعت کو نصیحت
کی ہے کہ وہ ہر ایک عقیدہ کو سوچ سمجھ کر قبول کریں، بلکہ بارہا یہ کہا ہے کہ اگر وہ بات کو زید اور بکر کے
کہنے سے مانتے ہیں تو گو وہ حق پر بھی ہوں تب بھی ان سے سوال ہوگا کہ بلاسوچے انہوں نے ان باتوں پر کیونکر
یقین کر لیا اور میرے خطبات اس پر شاہد ہیں۔ ہاں! ہر شخص اس بات کا اہل نہیں ہوتا کہ وہ مخالف کی کتب کا
مطالعہ کرے۔ کیونکہ جب تک کوئی شخص اپنی کتاب سے واقف نہیں اگر مخالف کی کتب کا مطالعہ کرے گا توخطرہ ہے کہ
ابتلاء میں پڑے۔‘‘
(حقیقت الامر ص۵، انوارالعلوم ج۴ ص۲۰۷)
(۲۷) قادیانی اخبار بینی
’’مکرمی منیجر اخبار پیام صلح۔ السلام علیکم! آپ کا اخبار پیغام صلح… عرصہ ایک ماہ کا ہوا پہنچا تھا۔
دوسری دفعہ دو پرچہ مؤرخہ ۷؍اپریل ۱۹۱۸ء پے درپے پہنچے۔ خاکسار کو یہ سبز باغ کیوں دکھلایا جارہا ہے… میں
آپ کی اخباروں کو بڑی عزت سے حسب نسخہ مجوزہ قبلہ میر صاحب ایڈیٹر (اخبار) فاروق (قادیان) ویگدان کی نذر
کرکے پانی وضو کے لئے گرم کر لیا کرتا ہوں۔ آئندہ میرے نام کوئی اخبار بدشعار جس سے نفاق کی بو آتی ہے روانہ
نہ فرمایا کریں۔‘‘
(محمد احسن قادیانی کا خط، پیغام صلح لاہور ج۵ نمبر۷۸،۷۹ ص۳ کالم۲، مؤرخہ ۱۴-۱۷؍اپریل ۱۹۱۸ء)
(۲۸) مرزامحمود کے مریدین
’’میاں (مرزامحمود) صاحب کے مریدین میں ایک حیرت انگیز بات جو میں نے دیکھی ہے وہ یہ ہے کہ ان کو کبھی
بھی اس بات کی
542
پرواہ نہیں ہوتی کہ ہم کوئی متناقض باتیں کہہ رہے ہیں یا ایسی باتیں کہہ رہے ہیں جو واقعات کے خلاف
ہے۔ بلکہ انہیں صرف اس قدر پتہ ہونا چاہئے کہ یہ بات میاں صاحب نے لکھ دی ہے۔ پھر اس کے حسن وقبح سے اس کے
موافق یا خلاف قرآن وحدیث ہونے سے اس کے مطابق یا خلاف واقعات وعقل ہونے سے کوئی بحث نہیں ہوتی۔ وہ اسے اسی
طرح مانتے چلے جاتے ہیں جس طرح میاں صاحب فرمائیں۔‘‘
(النبوۃ فی الاسلام ص۲۶۵، مصنفہ مولوی محمد علی لاہوری قادیانی)
(۲۹) نئے خوجے
’’اگر مسلمان ان تعلیموں کے پابند ہو جائیں تو میں قسم کھا کر کہہ سکتا ہوں کہ وہ فرشتے بن جائیں اور
اگر وہ اس گورنمنٹ کے سب قوموں سے بڑھ کر خیرخواہ ہو جائیں تو تمام قوموں سے زیادہ خوش قسمت ہو جائیں۔ اگر
وہ مجھے قبول کر لیں اور مخالفت نہ کریں تو یہ سب کچھ انہیں حاصل ہوگا اور ایک نیکی اور پاکیزگی کی روح ان
میں پیدا ہو جائے گی اور جس طرح ایک انسان خوجہ ہو کر گندے شہوات کے جذبات سے الگ ہو جاتا ہے۔ اسی طرح میری
تعلیم سے ان میں تبدیلی پیدا ہوگی۔ مگر میں نہیں کہتا کہ گورنمنٹ عالیہ جبراً ان کو میری جماعت میں داخل
کرے۔ (جبر کی کیا ضرورت ہے۔ عاقل را اشارہ کافی است۔ للمؤلف)‘‘
(گورنمنٹ عالیہ میں ایک عاجزانہ درخواست عریضہ خاکسار مرزا قادیانی المرقوم مؤرخہ ۲۷؍ستمبر ۱۸۹۹ء،
مندرجہ تبلیغ رسالت ج۸ ص۵۴، مجموعہ اشتہارات ج۳ ص۱۴۴، جدید مجموعہ اشتہارات ج۲ ص۳۵۷،۳۵۸، تریاق القلوب ص د،
خزائن ج۱۵ ص۴۹۳)
(۳۰) خصی جماعت
’’میں سمجھتا ہوں کہ اس قسم کی اشتعال انگیزی بھی ہم پر اثر نہیں کر سکتتی کیونکہ ہمیں ایسی تعلیم دی
گئی ہے جس نے ہمیں کلیتہً جکڑ رکھا ہے۔ حضرت مسیح موعود (مرزاقادیانی) فرمایا کرتے تھے: ’’سچا مومن خصی ہو
جاتا ہے۔‘‘ پس حکومت کے افسروں کو پولیس اور سول کے حکام کواور احراریوں کو معلوم ہونا چاہئے کہ باوجود
اشتعال انگیزیوں کے جو وہ کر رہے ہیں ہم بالکل پرامن ہیں۔ کیونکہ ہم سچے مومن ہیں اور مومن خصی ہو جاتا ہے۔
ہمیں جوش آتا ہے اور آئے گا مگر وہ دل ہی دل میں رہے گا۔ ہمیں غیرت آئے گی مگر وہ ظاہر نہ ہوگی۔ ہمارے قلوب
ٹکڑے ٹکڑے ہوں گے مگر زبانیں خاموش رہیں گی۔‘‘
(ارشاد مرزاخلیفہ قادیان، الفضل قادیان ج۲۲ نمبر۸۷ ص۵ کالم۳، مؤرخہ ۲۰؍جنوری ۱۹۳۵ء)
’’ہمیں حضرت مسیح موعود (مرزاقادیانی) نے خصی کر دیا ہے۔ (مرزاقادیانی نے اچھی ڈیوٹی سنبھالی تھی۔
ناقل) مگر ساری دنیا تو خصی نہیں۔ (خدانخواستہ… للمؤلف) ایسے لوگ بھی ہیں جو حکومت سے مقابلہ کرنے کے لئے
کھڑے ہو جائیں۔ اس وقت حکومت کو ہماری مدد کی ضرورت ہوگی۔ ہم خواہ اس وقت اس کی مدد کریں لیکن حکومت کو
اخلاقی طور پر اس وقت کس قدر شرمندگی اٹھانی پڑے گی کہ جن کی عزتوں پر حملہ ہوتا دیکھ کر خاموش رہے۔ آج ان
ہی کی مدد کا طالب ہونا پڑا۔ (لیکن بقول خود خصی جماعت خود معذور ہے۔ للمؤلف)‘‘
(ارشاد مرزامحمود خلیفہ قادیان، الفضل قادیان ج۲۲ نمبر۸۷ ص۷ کالم۳، مؤرخہ ۲۰؍جنوری ۱۹۳۵ء)
(۳۱) قادیانی نوجوان
’’چونکہ ہماری جماعت کے نوجوان نے اس امر کی طرف توجہ نہیں کی تھی۔ اس لئے آج باوجود اس بات کے کہ ان
میں جوش ہے۔ ان میں اخلاص ہے، ان میں ولولہ اور ہمت ہے، جب وہ آگے آتے اور فوجی ٹریننگ کے لئے اپنے آپ کو
پیش کرتے ہیں تو ڈاکٹری معائنہ کے بعد انہیں کہہ دیا جاتا ہے کہ تم فوجی خدمت کے قابل نہیں۔ صحت کا یہ معیار
اس قدر گرا ہوا ہے کہ ہماری جماعت کے سونوجوان پیش
543
ہوتے ہیں اور ان سو افسران متعلقہ صرف دس کا انتخاب کرتے ہیں۔ اسی طرح کچھ عرصہ ہوا کئی سونوجوان میں
سے بھی افسروں نے بائیس نوجوانوں کو چنا اور ان بائیس میں سے بھی صرف پانچ منظور ہوئے۔ یہ حالات جو ظاہر
ہوئے ہیں انہوں نے ہماری آنکھیں کھول دی ہیں۔‘‘
(اخبار الفضل قادیان ج۲۷ نمبر۲۴۲، مؤرخہ ۳۱؍اکتوبر ۱۹۳۹ء)
(۳۲) بہادری کی تمنا
’’جو لوگ بہادر ہوں ان سے لوگ ہمیشہ ڈرا کرتے ہیں۔ ہمارے صوبہ میں کبھی کوئی پٹھان آجائے اور اس کا
کسی سے جھگڑا ہو جائے تو زمیندار اسے دیکھ کر جھٹ کہنے لگ جاتا ہے کہ پٹھان ہے جانے بھی دو کہیں خون نہ کر
دے۔ حالانکہ ہمارے بعض پنجابی ایسے، ایسے مضبوط ہوتے ہیں کہ اگر ان میں سے ایک بھی پٹھان کو پکڑ لے تو اسے
ہلنے نہ دے۔ مگر اس کا رعب ہی ایسا ہوتا ہے کہ پنجابی کہنے لگ جاتے ہیں۔ خان صاحب آگئے اور ان کی ساری
شیخیاں کافور ہو جاتی ہیں۔ پس جو قوم مرنے کے لئے تیار ہو اس سے ہر قوم ڈرا کرتی ہے۔ اسی طرح ہم بھی اگر
اپنی جانیں دینے پر آمادہ ہو جائیں تو لوگ ہم سے بھی ڈرنے لگ جائیں گے۔‘‘
(خطبہ جمعہ خلیفہ قادیان مندرجہ اخبار الفضل قادیان ج۲۲ نمبر۸۹ ص۷ کالم۳، مؤرخہ ۲۴؍جنوری ۱۹۳۵ء،
خطبات محمود ج۱۶ ص۳۵)
(۳۳) قادیانی بزدلی ودوں ہمتی
’’میں تمہیں سچ سچ کہتا ہوں کہ وہ گندی گالیاں جو دو سال سے قادیان میں حضرت مسیح موعود (مرزاقادیانی)
کو دی جارہی ہیں اگر ان میں سے ایک گالی بھی لندن میں مسیح ناصری کو دی جائے تو گالی دینے والا انگریزوں کے
ہاتھ سے نہ بچ سکے اور باوجود تہذیب وشائستگی کے دعووں کے ان میں سے کئی ایسے اٹھ کھڑے ہوں جو اسے ہلاک
کردیں۔ مگر خداتعالیٰ نے یہ ہمیں ہی توفیق دی ہوئی ہے کہ ہم گالیاں سنتے ہیں۔ مگر اس کے حکم کے ماتحت پرامن
رہتے ہیں۔‘‘
(خطبہ جمعہ خلیفہ قادیان مندرجہ اخبار الفضل قادیان ج۲۳ نمبر۷ ص۸ کالم۳، مؤرخہ ۹؍جولائی ۱۹۳۵ء، خطبات
محمود ج۱۶ ص۳۹۶)
’’میں نے پچھلے جمعہ اپنی جماعت کے احباب کو اس امر کی طرف توجہ دلائی تھی کہ مومن کو باغیرت ہونا
چاہئے لیکن ساتھ ہی میں نے یہ بھی کہا تھا جسے پھر دھراتا ہوں کہ کوئی ایسا فعل نہیں کرنا چاہئے جس کی وجہ
سے کسی موقعہ پر شرمندگی اٹھانی پڑے… ایسا کوئی فعل جو کہ قبل از وقت سوچا ہوا نہ ہو وہ انسان کو زیر الزام
لاسکتا ہے۔ انسانی غیرت کے تقاضا سے اور ایک وقتی حالت میں اگر کوئی فعل کیا جائے تو وہ معذوری کے قابل
ہوسکتا ہے۔ لیکن بے احتیاطی اور منصوبہ بازی انسان کو بدنام کر دیتی ہے۔‘‘
(ارشاد مرزامحمود خلیفہ قادیان، الفضل قادیان ج۱۷ نمبر۸۲ ص۱ کالم۲،۳، مؤرخہ ۱۸؍اپریل ۱۹۳۰ء)
’’کیا تمہیں شرم نہیں آتی کہ تم ایک سخت بدلگام دشمن کا جواب دے کر اسی سے حضرت مسیح موعود
(مرزاقادیانی) کو گالیاں دلواتے ہو اور پھر خاموشی سے گھروں میں بیٹھ رہتے ہو۔ اگر تم میں ایک رائی کے دانہ
کے برابر بھی حیا ہے اور تمہارا یہ سچ مچ عقیدہ ہے کہ دشمن کو سزا دینی چاہئے تو پھر تم دنیا سے مٹ جاؤ یا
گالیاں دینے والوں کو مٹا ڈالو۔ مگر ایک طرف تم جوش اور بہادری کا دعویٰ کرتے ہو اور دوسری طرف بزدلی اور،
دوں ہمتی کا مظاہرہ کرتے ہو… اگر کوئی انسان سمجھتا ہے کہ اس میں مارنے کی طاقت ہے تو میں اسے کہوں گا کہ اے
بے شرم تو آگے کیوں نہیں جاتا اور اس منہ کو کیوں توڑ نہیں دیتا۔ جس منہ سے تو نے حضرت مسیح موعود
(مرزاقادیانی) کو گالیاں دلوائی ہیں۔ گندے سے گندے الفاظ حضرت مسیح موعود کے متعلق کہے جاتے ہیں تم خود دشمن
سے وہ الفاظ کہلواتے ہو اور پھر تمہاری تگ ودو یہیں تک آکر ختم ہوجاتی
544
ہے۔ گورنمنٹ سے کہتے ہو وہ تمہاری مدد کرے گورنمنٹ کو کیا ضرورت ہے کہ وہ تمہاری مدد کرے۔‘‘
(خطبہ جمعہ خلیفہ قادیان مندرجہ اخبار الفضل قادیان ج۱ نمبر۱۲۹ ص۶ کالم۲تا۴، مؤرخہ ۵؍جون ۱۹۳۷ء،
خطبات محمود ج۱۸ ص۱۵۴تا۱۵۶)
(۳۴) قادیان مقدمے
’’گذشتہ دو سال میں تم نے دیکھ لیا کہ وہ لوگ جو بڑھ بڑھ کر باتیں کرنے والے تھے۔ جب ان پر مقدمے ہوئے
تو انہوں نے ایسی بزدلی اور دون ہمتی دکھائی۔ جماعت کا ان مقدموں اور سیاسی شرارتوں کے مقابلے کے لئے تیس
چالیس ہزار بلکہ اس سے بھی زیادہ روپیہ خرچ ہوچکا ہے۔ حالانکہ ان لوگوں کو سوچنا چاہئے تھا کہ ہماری حرکات
سے اگر سلسلہ کے لئے مشکلات پیش آئیں گی اور سلسلہ کا روپیہ خرچ ہوگا تو اس کا کون ذمہ دار ہوگا اور پھر جب
بعض حالات میں مقدمات چلائے گئے تو کیوں یہ لوگ گھبرا گھبرا کر اچھے سے اچھے وکیلوں اور اچھے سے اچھے
سامانوں کے طالب ہوئے جن لوگوں کے افعال کی وجہ سے یہ صورت حالات پیدا ہوئی تھی۔ انہیں چاہئے تھا کہ یا وہ
خود مقدمہ چلاتے یا کانگریس والوں کی طرح ڈیفنس پیش کرنے سے انکار کر دیتے اور قید ہو جاتے مگر انہیں شرم
نہیں آتی کہ کہتے تو وہ یہ تھے کہ ہم سلسلہ کے لئے اپنی جانیں قربان کر دیں گے مگر جماعت کا پندرہ بیس ہزار
روپیہ انہوں نے مقدمات پر خرچ کرادیا اور پھر مخلص کے مخلص بنے ہوئے ہیں۔ ان میں سے بعض کے کھانوں اور سفر
خرچ کے بل جاکر دیکھو تو تم کو تعجب ہوگا یہ کیا ہوا ہے۔‘‘
(خطبہ جمعہ خلیفہ قادیان مندرجہ اخبار الفضل قادیان ج۲۵ نمبر۱۲۹ ص۴،۵ کالم۱تا۴، مؤرخہ ۵؍جون ۱۹۳۷ء،
خطبات محمود ج۱۸ ص۱۵۱)
(۳۵) گناہ اور منافقت
’’اس گناہ اور منافقت کی وجہ اصل میں یہ ہے کہ لوگ سمجھتے ہیں جو ناظر ہے وہ بیوقوف ہے۔ میں نے دیکھا
ہے قادیان کی لوکل جماعت کے پریذیڈنٹ چونکہ بدلتے رہتے ہیں، اس لئے ان کے متعلق یہ بات خوب نظر آتی ہے ایک
وقت جب ایک شخص پریزیڈنٹ ہوتا ہے تو دوسرا آکر کہتا ہے۔ دیکھئے کیا اندھیر نگری ہے۔ کوئی سننے والا ہی نہیں۔
ہر کوئی اپنی حکومت جتاتا ہے۔ لیکن جب دوسرے وقت وہی شخص خود پریذیڈنٹ ہوجاتا ہے تو شکایت کرتا ہے۔ پبلک
بالکل جاہل اور احمق ہے وہ تو کام کرنے ہی نہیں دیتی گویا جب خود پریزیڈنٹ ہوتا ہے تو پبلک کو احمق قرار
دیتا ہے اور جب پبلک میں شامل ہوجاتا ہے تو پریزیڈنٹ کو احمق کہنے لگ جاتا ہے۔‘‘
(خطبہ جمعہ خلیفہ قادیان مندرجہ اخبار الفضل قادیان ج۲۰ نمبر۱۴۶ ص۷ کالم۳، مؤرخہ ۸؍جون ۱۹۳۳ء، خطبات
محمود ج۱۴ ص۱۴۹)
(۳۶) قادیانی منافق
’’میں نے متواتر جماعت کو توجہ دلائی ہے کہ جب بھی کوئی فتنہ اٹھتا ہے منافقوں کے ذریعہ اٹھتا ہے اور
میں نے ہمیشہ جماعت سے کہا ہے کہ منافقوں کو ظاہر کرو اور ان کی پوشیدہ کارروائیوں کو کھولو۔ مگر جماعت اس
طرف توجہ نہیں کرتی۔ مجھے اچھی طرح معلوم ہے ایک درجن سے زائد آدمی قادیان میں ایسے رہتے ہیں جن کی مجالس
میں فتنہ انگیزی کی گفتگوئیں ہوتی رہتی ہیں اور جو باہر سے آنے والوں کو ورغلاتے رہتے ہیں۔ (خدا جانے کیا
کیا کہتے ہیں۔ للمؤلف) مجھے شریعت اجازت نہیں دیتی کہ میں بغیر ثبوت قائم کئے انہیں سزادوں۔ اس لئے میں
خاموش رہتا ہوں۔ مگر میں جمات کو توجہ دلاتا ہوں کہ وہ ایسے منافقوں کا پتہ لگا کر ان کی منافقت کا میرے
سامنے ثبوت مہیا کرے تاکہ میں ان اختیارات کو استعمال کروں جو خداتعالیٰ نے مجھے دئیے ہیں۔ بعض دفعہ بغیر
کسی عدالتی ثبوت کے یوں ہی میرے پاس ایک بات بیان کر دی جاتی ہے۔ میں سمجھ رہا ہوتا ہوں کہ شکایت کرنے والا
سچ کہہ رہا ہے مگر جب میں اسے کہتا ہوں کہ اس کا ثبوت مہیا کرو تو وہ شکوہ کر
545
کے چلا جاتا ہے کہ میری بات پر توجہ نہیں کی جاتی۔ حالانکہ جب تک شرعی اور عدالتی طور پر میرے پاس
ثبوت مہیا نہ کیا جائے میں سزا دینے کا مجاز نہیں۔ چاہے مجھے یقین ہو کہ فلاں آدمی میرے اور جماعت کے خلاف
فتنہ انگیزی کرتے رہتے ہیں۔ باقی اگر ذرا بھی کوشش کی جائے تو اس قسم کے ثبوت مہیا کرنے مشکل نہیں ہوتے… مگر
لوگ کوشش نہیں کرتے… تھوڑے ہی دن ہوئے احراریوں کے ایک لیڈر نے قادیان کے ایک شخص کے متعلق بتایا کہ اس کے
ذریعہ قادیان کی خبریں انہیں ملتی رہتی ہیں۔ اس شخص کے متعلق اپنی جماعت کی طرف سے اگر کوئی اطلاع مجھے
پہنچتی ہے تو وہ خبر احاد ہے۔ جس پر گرفت نہیں کی جاسکتی۔ سالہا سال میں نے اس شخص کے متعلق عفو سے کام لیا
ہے۔ مگر اب ضرورت ہے کہ ایسے لوگوں کو الگ کیا جائے… پس میں جماعت کو توجہ دلاتا ہوں کہ یہاں یقینی طور پر
چند منافق موجود ہیں اور مجھے ان کا پتہ ہے۔ مگر تم انہیں ظاہر کرو۔ یعنی ان کے متعلق ثبوت قائم کرو۔ میرا
یہ طریق نہیں ہے کہ ان کی طرف اشارہ کروں… ان منافقوں کو صرف میں ہی نہیں جانتا اور بھی بیسیوں لوگ جانتے
ہیں۔ کسی کو ایک منافق کا علم ہوگا۔ کسی کو دو کا، کسی کو زیادہ کا۔ ایک دفعہ ایک مجلس میں ذکر ہوا کہ فلاں
شخص نے آپ کی بہت تعریف کی ہے… مگر اس مجلس کے بعد نہ تو اس دوست نے اور نہ کسی اور نے اس بارہ میں میری مدد
کی کہ اس کی خلافت ثبوت بہم پہنچاتے… کیونکہ ایک دوست سے علیحدگی طبعاً ناگوار گزرتی ہے۔ اس لئے انسان یہ
نہیں چاہتا کہ اپنے واقف کے خلاف کوئی ثبوت مہیا کر کے اس سے بگاڑ پیدا کرے… جب تک تم منافقین کے اخراج کے
لئے عملی رنگ میں جدوجہد نہیں کرو گے اس وقت اندرونی فتن سے محفوظ نہیں رہ سکتے اور جب تک اندرونی فتن سے
محفوظ نہیں ہوگے اس وقت تک مرض کی جڑ موجود رہے گی اور جب تک جڑ رہے گی حقیقی شفا حاصل نہیں ہوسکے گی۔ بلکہ
اندر بیماری کا رہنا زیادہ خطرناک ہوتا ہے۔ باہر کا تپ اگر ٹوٹ جائے اور اندر رہنے لگے تو وہ سل کا رنگ
اختیار کر لیتا ہے۔ پس بیرونی مخالفت کو چھوڑ دو۔ وہ خودبخود مٹ جائے گی تم اندرونی مخالفت مٹانے کی طرف
توجہ کرو… اگر اب بھی آپ لوگ توجہ نہیں کریں گے تو میں خداتعالیٰ کے حضور بری الذمہ ہوں گا اور اس صورت میں
اگر آپ پر کوئی عذاب یا تکلیف آئے تو اس کی ذمہ داری مجھ پر نہیں بلکہ آپ لوگوں پر ہی ہوگی۔ کیونکہ میں نے
تو جو کچھ کہنا تھا کہہ دیا۔ عہد کو آپ لوگوں نے توڑا ہوگا اور اسی نقض عہد کی وجہ سے دکھ اور تکلیف میں
مبتلا ہوں گے۔‘‘
(خطبہ جمعہ خلیفہ قادیان مندرجہ اخبار الفضل قادیان ج۲۲ نمبر۱۶، مؤرخہ ۵؍اگست ۱۹۳۴ء، خطبات محمود ج۱۵
ص۲۰۸تا۲۱۱)
(۳۷) دماغی کلیں
’’میں یہ بھی بتا دینا چاہتا ہوں کہ یہ تینوں شخص جنہوں نے اعتراض کئے، مخلص ہیں منافق ہرگز نہیں مگر
ان تینوں کے دماغ کی کل بگڑی ہوئی ہے۔ میں انہیں منافق قرار نہیں دیتا بلکہ مخلص سمجھتا ہوں۔ مگر میں یہ بھی
یقین رکھتا ہوں کہ ان تینوں کی دماغی کلیں بگڑی ہوئی ہیں۔ ان ہی میں سے ایک کی مجلس میں ہمیشہ نظام سلسلہ کے
خلاف باتیں ہوتی رہتی ہیں اور ہمیشہ میرے پاس رپورٹیں پہنچتی رہتی ہیں۔ مگر اس خیال سے میں رکا رہتا ہوں کہ
یہ مخلص شخص ہے صرف دماغی بناوٹ کی وجہ سے معذور ہے۔‘‘
(ارشاد خلیفہ قادیان، مندرجہ الفضل قادیان ج۲۲ نمبر۹۴ ص۸ کالم۳، مؤرخہ ۵؍فروری ۱۹۳۵ء، خطبات محمود
ج۱۶ ص۷۷)
’’مجھے ان لوگوں کو ڈھیل دیتے دیتے ایک لمبا عرصہ ہوگیا ہے اور اب بھی میں انہیں کچھ نہیں کہتا۔ مگر
میں انہیں نصیحت کرتا ہوں کہ وہ سوچیں ان کا اپنا طریق عمل کیا ہے۔ ان کی اپنی تو یہ حالت ہے کہ وہ اس بات
پر لڑتے جھگڑتے رہتے ہیں کہ ہمیں فلاں عہدہ کیوں نہیں دیا گیا۔ فلاں کیوں دیاگیا۔ فلاں کے ماتحت ہم رہنا
نہیں چاہتے۔ کبھی تنخواہ پر جھگڑا شروع کر دیتے ہیں۔ یہ تمام باتیں بتلاتی ہیں کہ ان کے
546
دماغ کی کل بگڑی ہوئی ہے ورنہ کیا وجہ ہے کہ حضرت مسیح موعود (مرزاقادیانی) کو اگر برابھلا کہا جائے
تو انہیں غصہ نہیں آتا۔ لیکن اپنی کوئی بات ہو تو جھگڑے بغیر رہ نہیں سکتے۔ میں متکبر نہیں اور نہ مجھے
ظاہری علوم کے حاصل ہونے کا دعویٰ ہے مگر جو علم خداتعالیٰ نے مجھے دیا ہے اس کے ماتحت میں کہتا ہوں کہ یہ
تینوں اپنی نجات کا دروازہ اپنے ہاتھ سے بند کر رہے ہیں اور اگر یہ توبہ نہیں کریں گے تو کسی دن کوئی ایسی
ٹھوکر انہیں لگے گی جس کے نتیجہ میں ان کا اخلاص جاتا رہے گا۔ آخر وجہ کیا ہے کہ دنیا جہاں کے تمام اعتراض
ان ہی پر کھولے جاتے ہیں اور جو بات ان کے ذہن میں آتی ہے وہ کسی اور کے ذہن میں نہیں آتی۔ لیکن کسی شعبہ
میں کسی پائیدار خدمت کا موقعہ انہیں نہیں ملتا۔ انہیں سوچنا چاہئے کہ یہ کس طرح ہوسکتا ہے کہ سلسلہ کے تمام
کام تو خداتعالیٰ مجھ سے لے لیکن میری غلطیوں سے ہمیشہ انہیں آگاہ کرے۔ اللہ تعالیٰ اس قسم کی تقسیمیں نہیں کیا
کرتا۔ پس میں ان کو نصیحت کرتا ہوں کہ وہ توبہ کریں ورنہ میرے ہاتھوں یا خداتعالیٰ کے ہاتھوں کسی دن ان پر
ایسی گرفت ہوگی کہ رہا سہا ایمان ان کے ہاتھوں سے بالکل جائے گا۔‘‘
(ارشاد خلیفہ قادیان، مندرجہ اخبار الفضل قادیان ج۲۲ نمبر۹۴ ص۹ کالم۲،۳، مؤرخہ ۵؍فروری ۱۹۳۵ء، خطبات
محمود ج۱۶ ص۷۸،۷۹)
(۳۸) قادیانیوں کی برائیاں
’’اس طرح گورنمنٹ آف انڈیا کے ایک بڑے افسر چوہدری ظفر اللہ خاں کے تعلق کی وجہ سے ایک دفعہ قادیان آئے۔
واپس جانے کے بعد وہ ایک دن مذاقاً چوہدری ظفر اللہ خاں صاحب سے کہنے لگے کہ آپ لوگوں کو چاہئے کہ مجھے تنخواہ
دیا کریں۔ چوہدری صاحب نے پوچھا کس وجہ سے انہوں نے جواب دیا کہ میں بھی آپ کی تبلیغ کیا کرتا ہوں۔ اس کے
بعد انہوں نے سنجیدگی سے کہا کہ مذاق برطرف، اصل بات یہ ہے کہ جب سے میں قادیان سے واپس آیا ہوں میرے پاس
مسلمان، ہندو، سکھ اور عیسائی ہر مذہب وملت کے لوگ کثرت سے آئے ہیں اور ہر ایک نے مجھے یہی کہا ہے کہ آپ
قادیاں کیوں گئے۔ احمدی تو بہت برے ہوتے ہیں۔ یہ صاحب جن کا ذکر اوپر ہوا ہے ایک بنگالی ہندو ہیں اور
گورنمنٹ آف انڈیا کے ایک بہت بڑے عہدے پر متمکن ہیں۔ مگر انہوںنے بھی یہی کہا کہ میں حیران ہوں کوئی قوم
نہیں جس کے افراد آپ لوگوں کی برائی بیان نہ کرتے ہوں۔‘‘
(خطبہ جمعہ مرزامحمود خلیفہ قادیان، اخبار الفضل قادیان ج۳۱ نمبر۲۱ ص۴ کالم۳، مؤرخہ ۲۴؍جنوری ۱۹۴۳ء،
خطبات محمود ج۲۳ ص۵۸۰،۵۸۱)
(۳۹) قادیان میں مخالفت
’’قادیان میں قادیانیت کے مخالفوں نے ایک جلسہ عام میں جو مخالفانہ تقریریں کیں ان کے چند مختصر
اقتباسات اخبار الفضل میں شائع کئے گئے جو درج ذیل ہیں: ’’قادیان کی فضا پھر چاہتی ہے کہ قتل وغارت کا بازار
گرم کیا جائے۔‘‘… ’’یہاں فرعونیت برسراقتدار ہے۔‘‘… ’’یہاں پر ریشہ دوانیاں اور منصوبہ بازیاں ہوتی ہیں۔‘‘…
’’قادیاں کی زمین پھر خون کی پیاسی ہے۔‘‘… ’’حسن بن صباح کی طرح سکیمیں بنتی ہیں۔‘‘… ’’ہم تو چاہتے ہیں کہ
احرار کا کوئی والینٹر مارا جائے۔‘‘… ’’تم جواہر لال کے بوٹ چومتے ہو۔‘‘… ’’محمود تجھ کو فرعونی فوجوں پر
ناز ہے۔ مگر آخر فرعون غرق ہوا اور نمرود کا کیا انجام ہوا۔ تجھ کو بھی زیادہ دیر ڈھیل نہیں دی جاسکتی۔‘‘…
’’ہر مقتول کا قاتل محمود ہے۔‘‘… ’’میاں محمود نے باغیانہ طور پر اپنے مریدوں کو قتل کی تعلیم دی ہے۔‘‘…
’’یزید کی طرح خلیفہ محمود برسرتسلط ہے۔‘‘… ’’اگر خلیفہ محمود اور اس کے اوباش مزاج کارکن اس تحریک کو قائم
کرنا چاہتے ہیں تو قادیان کا کوئی میرزائی نہ بچے گا۔‘‘… ’’یہاں زنا سے لے کر خون ناحق تک گریز نہیں کیا
جاتا ہے۔‘‘… ’’خلیفہ محمود نے خود قتل کی اسکیمیں پیش کیں۔‘‘ (اگرچہ اقتباست بہت مختصر اور منتشر پیش
547
کئے گئے ہیں تاہم ان سے اندازہ ہوتا ہے کہ گردوپیش کے مخالفین میں قادیانیوں کو کیا سمجھا جاتا ہے۔
للمؤلف)‘‘
(اخبار الفضل قادیان ج۳۴ نمبر۲۰۳ ص۱ کالم۲،۳، مؤرخہ ۳۱؍اگست ۱۹۴۶ء)
(۴۰) قادیانی پروپیگنڈا
’’لاہوری احمدیوں کے خلاف دھڑے بازی اور انہیں بدنام کرنے کے لئے ناپاک پروپیگنڈا، خلیفہ صاحب (یعنی
مرزامحمود خلیفہ قادیان) سے لے کر ادنیٰ مخلص محمودی تک اس معاملہ میں ایک رنگ میں رنگے ہوئے ہیں کہ جس طرح
بھی ہو مولوی محمد علی صاحب اور لاہوری احمدیوں کو بدنام کیا جائے۔ ان کی طرف سے نفرت وبیزاری کے جذبات اپنی
جماعت کے زن ومرد بلکہ بچوں تک کے دلوں میں پیدا کرنا یہ لوگ اپنا فرض اور ایمان سمجھتے ہیں کیونکہ موجود
بدعتی خلافت کی سلامتی انہیں اسی میں نظر آتی ہے۔ حضرت مسیح موعود کی نبوت اور مولوی محمد علی صاحب پر تبرا
اپنے بچوں کی معتقدات کے رنگ میں زبانی یاد کراتے ہیں۔ تاان معصوم بچوں کے دلوں میں محمد رسول اللہ ﷺ کی ختم
نبوت کا بیج مارا جائے اور حضرت مسیح موعود کی نبوت اور حضرت مولوی محمد علی صاحب سے نفرت اور بیزاری کا بیج
اچھی طرح نشوونما پائے جو محمودی اس ناپاک پروپیگنڈا میں شامل نہیں ہوتا وہ مخلص مومن گروہ محمودیاں میں
’’منافق‘‘ کے لقب سے یاد کیا جاتا ہے۔ گویا ان کے ہاں ایمان واخلاص کا ثبوت ہی یہ ہے کہ دن رات رافضیوں کی
طرح مولوی محمد علی صاحب اور لاہوری احمدی جماعت کی خواہ مخواہ عیب شماری کی جائے اور انہیں طرح، طرح سے
ناحق بدنام کیا جائے ان کے خلیفہ میاں محمود احمد صاحب بے شک حضرت مسیح موعود کو نعوذ باللہ نادانی اور جہل
مرکب کا چولا بارہ برس تک پہنائے رکھیں تو وہ عین راہ صواب اور رضامندی الٰہی کا موجب ہے اور مولوی محمد علی
صاحب بالفرض محال اگر ذرا کسی فروعی مسئلہ یا طریق استدلال میں اختلاف کریں تو اس کے لئے سارا محمودی ٹولا
طوفان بے تمیزی مچانے کو تیار ہو جاتا ہے۔‘‘
(اخبار پیغام صلح لاہور ج۲۲ نمبر۲۷ ص۷ کالم۱،۲، مؤرخہ ۳؍مئی ۱۹۳۴ء)
(۴۱) سخت کلامی
’’جناب خلیفہ قادیان اور ان کے مریدوں کا جماعت لاہور اور اس کے اکابر کے متعلق جو رویہ ہے وہ محتاج
بیان نہیں۔ قادیانی عوام کو چھوڑئیے خود جناب خلیفہ صاحب اور ان کے سرکردہ مریدوں کا طرز عمل ہمیشہ اس قسم
کا رہا ہے جو آئین اخلاق وشرافت کے مطابق نہیں اور جس پر کوئی شریف وبااصول آدمی یا جماعت فخر نہیں کر سکتی۔
یہ لوگ دنیا کے سامنے ہمیشہ تقدس وخلاق اور رواداری وخوش گفتاری کے پیکروں کی شکل میں نمودار ہوکر لمبے چوڑے
وعظ کہنے کے عادی ہیں۔ ان کا دعویٰ ہے کہ ہم اختلاف رائے کو بغیر کسی قسم کی تلخی کے برداشت کرتے ہیں۔ ہم
اپنے مخالفوں کی گالیاں سن کر بھی درگزر کرتے ہیں اور ہر ایک کو ایسا ہی کرنا چاہئے۔ لیکن جماعت لاہور کا
ذکر آتے ہی ان کے یہ وعظ اور درس سخت کلامی اور گالیوں کے جواز کا فتویٰ بن جاتے ہیں۔ جمعہ کے خطبوں، جلسہ
سالانہ عرف ’’ظلی حج‘‘ کی تقریروں اور اخبارات کے صفحات ہیں۔ ہمارے متعلق وہ، وہ باتیں کہی جاتی ہیں جن پر
قادیانیوں کی آئندہ نسلیں ندامت محسوس کریں گی۔‘‘
(پیغام صلح لاہور ج۲۳ نمبر۹ ص۳ کالم۱، مؤرخہ ۷؍فروری ۱۹۳۵ء)
(۴۲) گالیاں
’’شاید بعض زبردستوں کے مقابلہ میں قادیانی جماعت گالیاں کھا کر چپ رہتی ہو۔ لیکن ہم نیازمندوں کو تو
اس نے ہمیشہ بلاقصور بری سے بری گالیاں دیں۔ اگر خلیفہ صاحب کو گوبھی شلجم کے چھلکوں والا خطبہ یاد نہ رہا
ہو تو اپنے ایک خاص الخاص مرید فخرالدین ملتانی تاجر
548
کتب قادیان کی ان گالیوں کو ملاحظہ فرمالیں، جو انہوں نے غالباً آپ (خلیفہ قادیان) کے ایماء سے
۲۸؍فروری ۱۹۳۵ء کے (اخبار) فاروق (قادیان) میں ہمیں دی ہیں۔‘‘
(پیغام صلح لاہور ج۲۳ نمبر۱۶ ص۳ کالم۳، مؤرخہ ۷؍مارچ ۱۹۳۵ء)
(۴۳) کیاکیا
’’جناب خلیفہ قادیان ایک شخص کے سوالات کا جواب دیتے ہوئے الفضل مؤرخہ ۵؍جون ۱۹۳۴ء میں تحریر فرماتے
ہیں:
چونکہ ظاہری طور پر ارکان اسلام کے یہ لوگ (جماعت لاہور) معتقد ہیں۔ اس لئے ہم ان کے پیچھے نماز پڑھنا
جائز سمجھتے ہیں۔ لیکن جس طرح سڑا ہوا اور باسی سالن کوئی شوق سے نہیں کھاتا۔ ہاں! بھوک سے پریشان ہو اور
اچھا کھانا نہ ملے تو وہ کھا لیتا ہے۔ حالانکہ وہ حرام نہیں۔ اسی طرح جب تک دو مبائع احمدی (یعنی قادیانی
جماعت والے) ہوں۔ ان کے پیچھے نماز نہیں پڑھتے۔ اس سے قبل جناب میاں (مرزامحمود) صاحب ہمیں منافق، دنیا کی
بدترین قوم، چلتی پھرتی جہنم، کوڑے پر پڑے ہوئے گوبھی شلجم کے چھلکے اور خدا جانے کیا، کیا کہہ چکے ہیں۔ اب
سڑا ہوا اور باسی سالن قرار دیا ہے۔ ہمیں آئین اخلاق وشرافت کا پاس ہے۔ اس لئے ہم موصوف کی اس تازہ نوازش پر
ان کا شکریہ ادا کرنے کے سوا اور کیا کہہ سکتے ہیں۔ جو لوگ قادیانیوں کی گالیوں اور غیرشریفانہ روش پر اظہار
حیرت وافسوس کیا کرتے ہیں انہیں معلوم ہونا چاہئے کہ جب پیر کی یہ حالت ہو تو مرید جو کچھ کہیں اور کریں
تھوڑا ہے۔ اللہ تعالیٰ انہیں ہدایت دے۔‘‘
(اخبار پیغام صلح لاہور ج۲۲ نمبر۳۴ ص۳ کالم۳،۴، مؤرخہ ۷؍جون ۱۹۳۴ء)
(۴۴) بالکل جھوٹی رپورٹ
’’قادیانی جماعت کا ہمارے (یعنی لاہوری جماعت کے) ساتھ جو طرز عمل ہے وہ ساری دنیا جانتی ہے۔ مگر
معلوم ہوتا ہے کہ آج کل پشاور کے قادیانی اس غیرشریفانہ روش میں تمام ملت محمودیہ سے بازی لے جانے کی کوشش
کررہے ہیں۔ ہماری جماعت پشاور کے جلسہ سالانہ پر ان لوگوں نے جو خلاق سوز اور سوقیانہ حرکتیں کیں احباب کو
ان کا کسی قدر علم جلسہ کی روئیداد سے ہوگیا ہو گا… اس پر ڈھٹائی ملاحظہ ہو کہ اخبار ’’الفضل‘‘ اور
’’فاروق‘‘ میں بالکل جھوٹی رپورٹ شائع کرائی ان کی مراسلوں کی طرز تحریر اس قدر گھناؤنی اور غیرشریفانہ ہے
کہ کوئی شریف آدمی اس پر اظہار نفرت کئے بغیر نہیں رہ سکتا۔ ہم جانتے ہیں کہ اس قسم کی بیہودی حرکات تمام
قادیانی حلقوں میں پسند کی جاتی ہیں اور ان کی داد دی جاتی ہے کہ جناب خلیفہ صاحب بھی ان پر اظہار خوشنودی
فرماتے ہوں گے۔ لیکن اسلامی اخلاق وشرافت ان پر ہمیشہ ماتم ہی کرتے رہیں گے۔‘‘
(اخبار پیغام صلح لاہور، ج۲۲ نمبر۳۵ ص۳ کالم۲، مؤرخہ ۱۱؍جون ۱۹۳۴ء)
(۴۵) اخبار الفضل قادیان
’’الفضل جسے میں نے اپنی بیوی کے زیورات فروخت کر کے حضرت ام المؤمنین (مرزاقادیانی کی اہلیہ) نے
اپنی زمین فروخت کر کے اور برادرم مکرم نواب محمد علی خان صاحب حفظ اللہ نے بھی کچھ نقد دے کر اور کچھ زمین
فروخت کر کے ہفتہ وار جاری کیا تھا۔ ہفتہ وار سے سہ روزہ ہوا۔ سہ روزہ سے دوروزہ اور اب روزانہ شائع ہوتا
ہے۔‘‘
(اعلان مرزامحمود خلیفہ قادیان، اخبار الفضل قادیان ج۲۲ نمبر۱۰۸ ص۱ کالم۱، مؤرخہ ۸؍مارچ ۱۹۳۵ء)
’’اخبار الفضل ہفتہ میں دوبار میرے سامنے آتا رہا ہے اور میں اس لحاظ سے کہ سلسلہ کا آرگن سمجھا جاتا
ہے اور اس لحاظ سے کہ چونکہ اس کے مضامین ہماری طرف سے سمجھے جاتے ہیں اور ہماری طرف منسوب کئے جاتے ہیں اس
لئے یہ دیکھنے کے لئے کہ اگر کوئی غلطی ہو۔
549
یوں تو انسان سے غلطیاں ہوجاتی ہیں۔ لیکن اگر کوئی ایسی غلطی ہو جس سے سلسلہ پر حرف آتا ہو تو اس کی
اصلاح کرادی جائے۔ اخبار الفضل سارا پڑھتا ہوں اور ہمیشہ پڑھتا ہوں۔‘‘
(خطبہ جمعہ خلیفہ قادیان، مندرجہ الفضل قادیان ج۱۱ نمبر۲، مؤرخہ ۶؍جولائی ۱۹۲۳ء، خطبات محمود ج۸
ص۱۱۷)
(۴۶) غلط بیان اعلان
’’جناب چوہدری ظفر اللہ خان صاحب کے ولایت سے تشریف لانے پر جن معززین نے ان کا لاہور کے اسٹیشن پر
استقبال کیا ان کا ذکر ہمارے نامہ نگار لاہور نے اپنی مراسلت میں کیا تھا جو ایک گزشتہ پرچہ میں شائع ہوچکی
ہے۔ مگر معلوم ہوا کثرت ہجوم میں اپنی ناواقفیت کی وجہ سے اس نے بعض ایسے نام بھی لکھ دئیے جو اس موقع پر
موجود نہ تھے۔ (اوّل تو کثرت ہجوم میں قدرتاً ایسے مشہور ومعروف لوگ نظر آہی جاتے ہیں جو موجود نہ ہوں۔
دوسرے نظر بھی نامہ نگار کی جو ناواقفیت کے عذر پر ہر طرح مبالغہ کا مجاز ہو۔ للمؤلف) اور جو یہ ہیں: جسٹس
کنور دلیپ سنگھ صاحب، جسٹس رنگلی لال صاحب، جسٹس آغا حیدر صاحب، جسٹس دین محمد صاحب، جسٹس کری صاحب، مسٹر
کاربٹ چیف سیکرٹری، سر محمد اقبال صاحب، مسٹر جگن ناتھ صاحب اگروال۔ ہمیں افسوس ہے کہ نامہ نگار کی بے
احتیاطی اور اپنے فرض کی ادائیگی میں غفلت کی وجہ سے یہ نام شائع ہوگئے۔ (یہ تو قادیانی خبروں کی عام خصوصیت
ہے۔ اصل سے کہیں بڑھ چڑھ کر شائع ہوتی ہیں۔ البتہ افسوس ہے تو یہ کہ اسی عادت کی رد میں معززین کے نام شائع
کر کے تردید کرنے کی نوبت آئی۔ للمؤلف)‘‘
(اخبار الفضل قادیان ج۲۲ نمبر۵۷ ص۲ کالم۳، مؤرخہ ۸؍نومبر ۱۹۳۴ء)
(۴۷) قادیانی مناظرہ کی رپورٹ
’’سنگردر میں جو مناظرہ قادیانی اور احمدی جماعت میں۱۵؍نومبر کو ہوا۔ اس میں قادیانی مبلغ ملک
عبدالرحمن صاحب خادم گجراتی کو بمقابلہ احمدی مبلغ (عمرالدین قادیانی لاہوری) جو شکست ہوئی اس کو قادیانی
کبھی نہ بھولیں گے مگر اپنی ندامت کو چھپانے کے لئے خادم صاحب نے جو رپورٹ ۲۰،۲۱،۲۲؍نومبر کے الفضل کی
اشاعتوں میں درج کرائی ہے وہ بالکل خلاف واقعہ امور پر مبنی ہے اور اس قدر غلط بیانی سے کام لیاگیا ہے کہ
کبھی کوئی دیندار انسان اس کو گوارا نہیں کرسکتا۔‘‘
(اخبار پیغام صلح لاہور ج۲۴ نمبر۷۸ ص۷ کالم۲، مؤرخہ ۷؍دسمبر ۱۹۳۶ء)
(۴۸) قادیانی جماعت کا اندوختہ عمل
’’ادھر قادیان میں اتنی بڑی جماعت نے کیا خدمت اسلام کی۔ ظاہر ہے کہ اس قدر قلیل کہ نہ ہونے کے برابر۔
البتہ اجرائے نبوت اور تکفیر مسلمانان کا مسئلہ نکال کر اسلام کا تختہ پلٹ دیا اور مطاع الکل خلیفہ بناکر
احمدیت کا بیڑا غرق کردیا۔ ہاں! جماعت کو سیاست کے خوب سبق پڑھائے گئے۔ کبھی سرکار انگریزی کا ہاتھ بٹایا
گیا۔ کبھی اسے دھمکایا گیا۔ قادیان کو ایک دارالسلطنت کے رنگ میں دیکھنے کے خواب آنے لگے۔ مگر خدمت دین کیا
کوئی؟ کچھ بھی نہیں اور ہوتی کس طرح جب شب وروز یہ کوشش ہو کہ دنیا ہماری خادم بنے اور ہم مخدوم اور مطاع
الکل بنیں۔ پھر خدمت دین کی توفیق کا چھن جانا لازمی امر تھا۔‘‘
(اخبار پیغام صلح لاہور ج۲۴ نمبر۷۷ ص۵ کالم۳،مؤرخہ ۳؍دسمبر ۱۹۳۶ء)
(۴۹) شغل سیاست
’’قادیانی محمودی لوگ مذہب کے نام پر سیاست میں حصہ لینا ضروری سمجھتے ہیں۔ وہ گورنمنٹ میں رسوخ بڑھا
کر لوگوں کی توجہ کو اپنی طرف منعطف کرنا چاہتے ہیں۔ وہ جانتے ہیں کہ اس طریق سے بہت سے دنیوی عزوجاہ کے
طالب اور ملازمت کے خواہاں خودبخود
550
ہماری طرف کھچے چلے آئیں گے۔ اس طرح ہمارا جتھا بھی زبردست ہوتا جائے گا۔ جس سے گورنمنٹ پر بھی مزید
اثر پڑے گا اور ہماری آمدنی بھی بڑھے گی اور ریاست کی بنیاد بھی پڑ جائے گی۔ اس لئے وہ گورنمنٹ کے مرکزی
دفاتر کا طواف کرنا اور سیاسی کاموں میں ظاہر اور خفیہ طور پر گورنمنٹ کے دست وباز بننا اپنا شعار بناتے اور
اس کے بدلہ میں گورنمنٹ میں رسوخ بڑھانا اور نفع اٹھانا ضروری سمجھتے ہیں اور اس لئے مذہب کے نام سے لاکھوں
روپیہ قوم سے لے کر سیاسی خفیہ کارروائیوں میں صرف کر دینے سے بھی دریغ نہیں کرتے۔ چونکہ ان کے عقائد ہی
ایسے باطل ہیں کہ کسی عقلمند کو اپیل نہیں کر سکتے۔ اس لئے سیاسی رنگ میں جتھے بندی کے سوا ان کا مقصد کسی
اور طریق سے حاصل ہونا انہیں مشکل نظر آتا ہے۔ بدیں وجہ وہ سیاسی میدان میں کارنمایاں دکھا، دکھا کر اپنا
جتھا بڑھانے کا کام کرتے رہتے ہیں۔‘‘
(اخبار پیغام صلح ج۲۳ نمبر۲ ص۲ کالم۱، مؤرخہ ۵؍جنوری ۱۹۳۵ء)
(۵۰) قادیانی مغالطہ
’’تیسری دقت میں سمجھتا ہوں یہ ہے کہ ہماری جماعت میں امنگ بڑھانے کی جو تحریک کی جاتی ہے اور کہا
جاتا ہے کہ تم دنیا کے راہنما ہو۔ مصلح ہو، ہادی ہو۔ معلوم ہوا دنیا کی تمام بادشاہتیں تمہارے قبضے میں آئیں
گی اس سے جو تو دیندار ہوتے ہیں اور روحانیت ان میں غالب ہوتی ہے وہ اس کے مطلب یہ لیتے ہیں کہ ہمیں
قربانیاں زیادہ کرنی چاہئیں لیکن جن لوگوں کو روحانیت کا اعلیٰ مقام حاصل نہیں ہوتا وہ ان باتوں کو سن کر
کبر کی روح لیتے ہیں اور سمجھتے ہیں کہ جب ہ اتنے بڑے ہیں تو وہ بھی بڑے لوگوں کے ساتھ رشتے داریاں کر کے
اپنے آپ کو اور بھی بڑا بنانا چاہتے ہیں۔‘‘
(خطبہ جمعہ خلیفہ قادیان، مندرجہ اخبار الفضل قادیان ج۲۵ نمبر۸۵، مؤرخہ ۱۳؍اپریل ۱۹۳۷ء، خطبات محمود
ج۱۸ ص۹۱)
(۵۱) گول میز کانفرنس
’’مکرمی چوہدری ظفر اللہ خان صاحب نے یہ تحریر فرمایا ہے کہ مجھے (ناظر امور خارجہ قادیان کو) جناب
گورنر جنرل وائسرائے ہند کو یہ لکھنے کی کیا ضرورت تھی کہ جناب چوہدری صاحب کو راؤنڈ ٹیبل کانفرنس میں ضرور
بھیجا جائے کیونکہ جب تک وہ خود انکار نہ کریں ان کا جانا لازمی ہے اور یہ کہ اس کے لئے مجھے چاہئے تھا کہ
میں افواہ کی پہلی تحقیقات کرلیتا اور پھر اس قسم کا خط لکھتا۔ اس کے متعلق میں یہ کہنا ضروری سمجھتا ہوں کہ
جس علم کی بناء پر میں نے وائسرائے ہند کو خط لکھا ہے اس میں اس امر کے متعلق کافی شبہ کی گنجائش ہے کہ
چوہدری صاحب گول میز کانفرنس میں شریک نہ کئے جائیں گے۔ البتہ یہ ممکن ہے کہ میری یہ رائے جن حالات پر قائم
ہوئی ہے ان کا علم چوہدری صاحب کو نہ ہو یا ان کا علم ہوتے ہوئے وہ ان سے وہ نتیجہ نہ نکالتے ہوں جو میں نے
نکالا ہے۔ میرا شبہ اس جواب سے اور بھی قوی ہوگیا ہے جو ہزایکسی لینسی دی گورنر جنرل کے پرائیویٹ سیکرٹری کی
طرف سے وصول ہوا ہے… اس (جواب) سے ظاہر ہے کہ اگر مندوبین کا جانا بہرحال لازمی ہوتا تو ضرور مجھے یہ جواب
دیا جاتا کہ چوہدری صاحب کے جانے یا نہ جانے کا سوال ہی پیدا نہ ہوسکتا۔ خصوصاً جب کہ میں نے اس امر پر اپنے
خط میں خاص زور بھی دیا تھا کہ چوہدری صاحب کو ضرور بھیجا جائے لیکن یہ جواب نہیں دیا گیا۔ پس مجھے اس امر
پر اصرار ہے کہ اپنے علم کی بناء پر میرے لئے یہ ضروری تھا کہ میں وہ خط بھیجتا جو میں نے ہزایکسی لینسی
(وائسرائے ہند) کو بھیجا اور وائسرائے صاحب بہادر کے خط سے یہ ثابت ہے کہ میری تحریک عین وقت پر تھی۔‘‘
(عبدالرحیم درد ناظر امور خارجہ قادیان مؤرخہ ۶؍جون ۱۹۳۱ء)
(۵۲) افسوس اور خوشی
’’حال کی شورش میں جو مفسد اور شریر لوگوں نے گورنمنٹ کے خلاف برپا کی تھی غیرمبایعین (لاہوری جماعت)
کے شامل ہوکر
551
حصہ لینے سے جہاں ہمیں اس بات کا سخت افسوس اور رنج ہوا کہ ان لوگوں نے باوجود حضرت مسیح موعود کو
امام اور پیشوا سمجھنے کا دعویٰ کرنے کے آپ کی اس تعلیم کو پس پشت ڈال دیا جو آپ نے گورنمنٹ برطانیہ کی
اطاعت اور فرمانبرداری کے متعلق دی ہے اور جس سے آپ کی تصنیفات بھری پڑی ہیں وہاں ہمیں اس بات سے خوشی اور
مسرت بھی ہوئی کہ انہوں نے اپنے اس رویہ سے ثابت کر دیا ہے کہ حضرت مسیح موعود (مرزاقادیانی) کی قائم کردہ
جماعت احمدیہ وہی ہے جو سلسلہ کے مرکز قادیان سے تعلق رکھتی ہے۔ کیونکہ حضرت مسیح موعود نے اپنی جماعت کے
لئے گورنمنٹ انگریزی کے سچے دل کے ساتھ اطاعت اور فرمانبرداری کرنا نہایت ضروری اور اہم فرض رکھا ہے اور
ضرورت اور حاجت کے وقت حتی الامکان مدد کرنا ضروری قرار دیا ہے۔‘‘
(اخبار الفضل قادیان ج۶ نمبر۸۹ ص۳ کالم۱، مؤرخہ ۲۴؍مئی ۱۹۱۹ء)
(۵۳) انگلستان میں قادیانی مشن
’’میری ناقص رائے میں مغرب میں رسوخ حاصل کرنے کے لئے لٹریری پہلو پر زور دینا اشد ضروری ہے۔ یہاں کے
لوگ تعلیم یافتہ ہیں۔ برطانوی پریس نہ صرف دنیا میں سب سے زیادہ بااثر بلکہ سب سے زیادہ ترقی یافتہ پریس ہے۔
اس کا معیار غیرمعمولی طور پر بلند ہے اور برطانوی لوگوں کو ایسی سہولتیں میسر ہیں جن کا ہم خیال تک نہیں کر
سکتے… یہاں ہر مضمون کے ماہرین موجود ہیں۔ جنہوں نے کسی خاص مسئلہ کی چھان بین میں اپنی عمریں صرف کر دی ہیں
اور یہاں پبلک میں جو مسائل زیربحث ہوں ان کے متعلق تمام ماہرین کے علم اور تجربہ کی رو سے ان پر فوراً
روشنی پڑسکتی ہے۔ اس کے برعکس ہمارے لئے یہ قریباً ناممکن ہے کہ تحریراً یا تقریراً یہاں کے لوگوں کے لئے
کوئی قابل غور چیز پیش کر سکیں۔ ہمارے یہاں کوئی لائبریری نہیں ہے اور کسی لائبریری میں کسی بات کی تحقیق
کرنے کے لئے جانے پر دو تین گھنٹے کا سفر کرنا پڑتا ہے۔ پھر ہمارے پاس کوئی چیز شائع کرنے کے لئے قطعاً کوئی
فنڈ نہیں۔ مناسب اور موزوں لٹریچر پیداکئے بغیر اور عصر حاضرہ کے اہم مسائل کا گہرا مطالعہ کئے بغیر میری
ناقص رائے میں اس جگہ ہمارا کام کم وبیش سطحی ہے۔ لیکن مشکل یہ ہے کہ دوسری مصروفتیں جو وقتی ضروریات کے
لحاظ سے کم اہمیت نہیں رکھتیں۔ کسی لٹریری کام کے کرنے یا مطالعہ کرنے کے لئے فرصت نہیں ہونے دیتیں۔ چہ
جائیکہ کوئی ایسا کام کیا جائے جو مغربی دنیا کو اپیل کر سکے۔ یورپ اس وقت کئی مصائب میں مبتلا ہے۔ اس کو
سوشل، اقتصادی، اخلاقی اور روحانی اصطلاحات کی اشد ضرورت ہے اور اسلام ان کا واحد علاج ہے مگر یورپین لوگ
اسے محسوس نہیں کر سکتے۔ تاوقتیکہ اسلامی تعلیم کی فضیلت اور عمدگی موزوں طریق پر ان مسائل کے حوالہ سے جو
اس وقت دنیا میں ناقابل حل صورت اختیار کر چکے ہیں۔ ان کے سامنے پیش نہ کی جائے ایسا کرنے کے لئے بہت مطالعہ
اور سکون کی ضرورت ہے۔ اس لئے ہمیں لٹریری کام کی طرف متوجہ ہونا چاہئے یہ قلم کا زمانہ ہے اور حضرت مسیح
موعود (مرزاقادیانی) سلطان القلم ہیں،اس لئے اگر اس طرف فوری اور کافی توجہ نہ دی گئی تو ہماری ترقی بہت حد
تک رک جائے گی۔‘‘
(احمدیہ مشن لندن کی سالانہ رپورٹ، اخبار الفضل قادیان ج۲۱ نمبر۱۴۰ ص۶ کالم۲،۳، مؤرخہ ۲۴؍مئی ۱۹۳۴ء)
(۵۴) قادیانی مبلغ
’’بلغراڈ سے روانہ ہوکر میں بڈاپیسٹ پہنچا… وہاں ایک صاحب مسٹر محمد فیاض صاحب بی۔اے، ایل۔ایل۔بی سے
ملاقات ہوئی۔ آپ کا سبز عمامہ دیکھ کر دریافت کرنے پر معلوم ہوا آپ قادیانی ہیں اور تبلیغ کی غرض سے تشریف
لائے ہیں اور قادیانی عقائد ودعاوی پیش کرتے ہیں۔ پروفیسر جرمانوس نے ان سے دریافت کیا کہ آپ غیراحمدی
جومکفر نہ ہو، اس کے پیچھے نماز کیوں نہیں پڑھتے۔ انہوں نے کہا کہ ہم پاک اور مقدس مسلمان ہیں۔ لہٰذا یہ
کیسے ہوسکتا ہے کہ ہم کسی غیراحمدی کے پیچھے نماز پڑھیں۔ انا اللہ وانا الیہ راجعون!
552
ان لوگوں کو اپنی پاکیزگی اور تقدس کا اس قدر گھمنڈ ہے کہ اپنے سوا تمام کلمہ گوؤں کو خارج از اسلام
سمجھتے ہیں اور ان کے پیچھے نماز نہیں پڑھتے… اب ذرا قادیانی مبلغ کا طریقہ تبلیغ بھی ملاحظہ ہو۔ کسی دوست
سے ملے۔ کہیں چائے پر چلے گئے۔ کسی اور اجتماع میں چند آدمیوں سے ملاقات ہوگئی۔ بس قادیان، رپورٹ لکھ دی کہ
ہم نے تین سو آدمیوں کو اسلام یا احمدیت کا پیام پہنچا دیا اور لطف یہ کہ آپ ہنگری کی زبان سے بھی بالکل
ناواقف ہیں۔‘‘
(لاہوری جماعت کے مبلغ محمد عبد اللہ قادیانی کا مکتوب، پیغام صلح لاہور ج۲۴ نمبر۳۵، مؤرخہ ۳؍جون ۱۹۳۶ء)
(۵۵) قادیانی مبلغ کے مضامین
’’جنگ کے متعلق حضرت مسیح موعود (مرزاقادیانی) کی پیش گوئی اور ہندوستان کی وفاداری اور حکومت برطانیہ
کے سچے دل سے امداد اور اس کے متعلق مسیح موعود کے تائیدی حکم اطاعت اور شکرگزاری گورنمنٹ کے متعلق میرے جو
مضامین انگلینڈ کے اخبارات… میں چھپے تھے۔ ان کے کٹنگس ہندوستان میں بھی بھیجے گئے تھے۔ اس پر ہز آنر نواب
لیفٹیننٹ گورنر بہادر پنجاب اور صاحب کمشنر بہادر لاہور کی طرف سے عاجز کو شکریہ کے خطوط موصول ہوئے ہیں۔‘‘
(قادیانی مبلغ انگلستان کا خط، الفضل قادیان ج۵ نمبر۹۹ ص۲ کالم۱، مؤرخہ ۲۲؍جون ۱۹۱۸ء)
(۵۶) قادیانی پتھر
’’انگریزوں کو بالخصوص جن سے کل تک یہ درخواستیں کی جاتی تھیں کہ ہمیں (مرزامحمود خلیفہ قادیان کو)
خلیفہ المسلمین بنادیا جائے اور جن کے بغداد فتح کرنے پر قادیان میں چراغاں کیاگیا اور غیراحمدیوں
(مسلمانوں) ہندوؤں اور سکھوں وغیرہ ہم کو بالعموم یہی دھمکی ضرور دی گئی ہے کہ: ہم (قادیانی) کونے کا پتھر
ہیں۔ جس پر ہم گرے وہ بھی ٹوٹ جائے گا اور جو ہم پر گرا وہ بھی سلامت نہیں رہے گا۔‘‘
(اخبار پیغام صلح لاہور ج۲۲ نمبر۷۷ ص۴ کالم۳، مؤرخہ ۲۴؍اکتوبر ۱۹۳۴ء)
(۵۷) قادیانی چکر
’’قادیانی جماعت اصل مقصد سے ہٹ گئی ہے۔ اس کہنے سے میرا مطلب یہ ہے کہ اس بات سے کبھی مرعوب نہیں
ہونا چاہئے کہ وہاں کثرت تعداد ہے اور ہماری قلت ہے جیسا کہ میں کہہ چکا ہوں کہ آج کثرت تعداد کے باوجود
قادیان میں کام اور علم کی قلت ہے۔ قادیانی جماعت کی توجہ اصل کام سے ہٹ گئی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ وہ اپنے اپ
کو ایک مشکل میں پھنسے ہوئے محسوس کر رہے ہیں۔ دوتین ماہ سے میاں صاحب جو خطبات دے رہے ہیں ان سے صاف ظاہر
ہوتا ہے کہ وہ ایک چکر میں پڑے ہوئے ہیں۔ ہم نے گورنمنٹ سے یہ کیا۔ اس کی یہ یہ خدمات انجام دیں۔ اس نے ہم
سے یہ یہ سلوک روا رکھا۔ ترقی کہاں ملے گی۔ اس کو تلاش کرو۔ یہ کرو وہ کرو۔ غرض کہ ایک چکر ہے جو چل رہا ہے۔
اگر کوئی اصل کام سے غرض رکھے تو پھر گورنمنٹ اس کے کام میں دخل نہیں دیتی۔ اگر دخل دے بھی تو اس کی پرواہ
نہ کرنی چاہئے۔‘‘
(پیغام صلح لاہور ج۲۳ نمبر۶ ص۳ کالم۳، مؤرخہ ۲۳؍جنوری ۱۹۳۵ء)
(۵۸) قادیانی علاقہ
’’احمدیوں کے پاس ایک چھوٹے سے چھوٹا ٹکڑا بھی نہیں جہاں احمدی ہی احمدی ہوں۔ کم ازکم ایک علاقہ کو
مرکز بنالو اور جب تک ایک ایسا مرکز نہ ہو جس میں کوئی غیرنہ ہو۔ اس وقت تک تم مطلب کے مطابق امور جاری نہیں
کر سکتے اور نہ اخلاق کی تعلیم ہوسکتی ہے نہ
553
پورے طور پر تربیت کی جاسکتی ہے۔ اس لئے نبی کریم ﷺ نے حکم دیا تھا کہ اور حجاز سے مشرکوں کو نکال
دو۔ ایسا علاقہ اس وقت تک ہمیں نصیب نہیں۔ جو خواہ چھوٹے سے چھوٹا ہو مگر اس میں غیر نہ ہوں جب تک یہ نہ ہو
اس وقت تک ہمارا کام بہت مشکل ہے اگر یہ نہ ہوا تو کام اور مشکل ہو جائے گا۔‘‘
(خطبہ جمعہ خلیفہ قادیان، مندرجہ اخبار الفضل قادیان ج۹ نمبر۹۷، مؤرخہ ۱۲؍مارچ ۱۹۲۲ء، خطبات محمود ج۷
ص۲۹۲)
(۵۹) مکہ مدینہ
’’جماعت سے قربانی کا چوتھا مطالبہ یہ ہے کہ قوم کو مصیبت کے وقت پھیلنے کی ضرورت ہوتی ہے۔ قرآن کریم
میں اللہ تعالیٰ مسلمانوں کو کہتا ہے کہ مکہ میں اگر تمہارے خلاف جوش ہے توکیوں باہر نکل کر دوسرے ملکوں میں
نہیں پھیل جاتے۔ اگر باہر نکلو گے تو اللہ تعالیٰ تمہاری ترقی کے بہت سے راستے کھول دے گا۔ اس وقت ہم دیکھتے
ہیں کہ حکومت میںبھی ایک حصہ ایسا ہے جو ہمیں کچلنا چاہتا ہے اور رعایا میں بھی۔ ہمیں کیا معلوم کہ ہماری
مدنی زندگی کی ابتداء کہاں سے ہوتی ہے۔ قادیان بے شک ہمارا مذہبی مرکز ہے مگر ہمیں کیا معلوم کہ ہماری شوکت
وطاقت کا مرکز کہاں ہے۔ یہ ہندوستان کے کسی اور شہر میں بھی ہوسکتا ہے اور چین، جاپان، فلپائن، سماٹرا،
جاوا، روس، امریکہ غرض کہ دنیا کے کسی ملک میں ہوسکتا ہے اس لئے جب ہمیں یہ معلوم ہو کہ لوگ بلاوجہ جماعت کو
ذلیل کرنا چاہتے ہیں۔ کچلنا چاہتے ہیں تو ہمارا ضروری فرض ہو جاتا ہے کہ باہر جائیں اور تلاش کریں کہ ہماری
مدنی زندگی کہاں شروع ہوتی ہے۔ ہمیں کیا معلوم کہ کون سی جگہ کے لوگ ایسے ہیں کہ وہ فوراً احمدیت کو قبول کر
لیں گے اور ہمیں کیا معلوم ہے کہ جماعت کو ایسی طاقت کہاں سے حاصل ہو جائے گی اس کے بعد دشمن شرارت نہ کر
سکے گا۔‘‘
(خطبہ جمعہ خلیفہ قادیان، مندرجہ اخبار الفضل قادیان ج۲۲ نمبر۶۶ ص۱۳ کالم۳، مؤرخہ ۲۹؍نومبر ۱۹۳۴ء،
خطبات محمود ج۱۵ ص۴۳۳،۴۳۴)
(۶۰) ہمارے لئے
’’دنیا میں جس قدر تغیرات ہو رہے ہیں یہ سب اسلام اور حضرت مسیح موعود کی صداقت کے لئے ہیں۔ ہوائیں
چلتی ہیں تو ہمارے لئے، بارش ہوتی ہے تو ہمارے لئے، جنگیں ہوتی ہیں تو ہمارے فائدے کے لئے۔‘‘
(تقریر چوہدری فتح محمد قادیانی ناظر دعوت وتبلیغ قادیان، الفضل قادیان ج۱۴ نمبر۴۱، مؤرخہ ۱۹؍نومبر
۱۹۲۶ء)
(۶۱) یہ سمجھ کر
’’ان کی سستی کو دیکھ کر اللہ تعالیٰ نے ہماری جماعت کے لئے چند ایک ابتلاء پیدا کئے ہیں تاکہ اگر جماعت
کے دوست دوسروں کی ہدایت کے لئے احمدیت کو نہیں پھیلاتے تو یہ سمجھ کر کہ ساری دنیا ہماری دشمن ہے اور جب تک
ہم ساری دنیا کو احمدیت میں داخل نہ کر لیں ہماراکوئی ٹھکانا نہیں اور کبھی چین سے زندگی بسر نہیں کرسکتے۔
تبلیغ کی طرف متوجہ ہوں۔‘‘
(خطبہ جمعہ خلیفہ قادیان، مندرجہ اخبار الفضل قادیان ج۱۷ نمبر۸۶، مؤرخہ ۲۵؍اپریل ۱۹۳۰ء، خطبات محمود
ج۱۲ ص۳۷۱)
(۶۲) بھلائی کی صورت
’’ہمیں جن کا اعتقاد ہے کہ کسی وقت بدلہ لینا بھی ضروری ہوتا ہے۔ اس خیال سے مطمئن نہیں ہوجانا چاہئے
کہ ہم کسی کا کچھ نہیں بگاڑتے۔ اس لئے ہمیں بھی کوئی نقصان نہیں پہنچائے گا۔ ہماری بھلائی کی صرف ایک ہی
صورت ہے اور وہ یہ کہ تمام دنیا کو اپنا دشمن سمجھیں۔
554
تا ان پر غالب آنے کی کوشش کریں۔ کیونکہ جب تک مخالفت نہ ہو ترقی بھی نہیں ہوسکتی۔ تمام انبیاء کی
جماعتیں ایک ہی جیسی ہوتی ہیں۔ پہلوں میں ہم سے زیادہ ایمان نہ تھا۔‘‘
(خطبہ جمعہ خلیفہ قادیان، مندرجہ اخبار الفضل قادیان ج۱۷ نمبر۸۶، مؤرخہ ۲۵؍اپریل ۱۹۳۰ء، خطبات محمود
ج۱۲ ص۳۷۲،۳۷۳)
(۶۳) اللہ کے پیارے
’’دوسرے لوگ جب دیکھتے ہیں کہ ہم سے انہیں فائدہ پہنچ رہا ہے تو وہ شاباش اور آفرین کہنے لگ جاتے ہیں
اور ہمارے بعض سیدھے سادھے بھائی (قادیانی صاحبان) اس وہم میں مبتلا ہو جاتے ہیں کہ اب تو ساری دنیا ہم سے
خوش ہے… جب کسی مشکل کے وقت انہیں منظم جماعت کی خدمات کی ضرورت ہوتی ہے تو وہ ہمیں تھپکی دیتے ہیں اور
شاباش کہتے ہیں اور اس سے بعض احمدی خیال کر لیتے ہیں کہ وہ ہمارے دوست ہیں۔ حالانکہ جب تک ایک انسان احمدیت
کا جامہ زیب تن نہیں کر لیتا خواہ وہ ہم سے کتنا بھی ہمدردی کا دعویٰ کرنے والا کیوں نہ ہو وہ آج نہیں تو کل
ضرور ہم سے دشمنی کرے گا۔ پس ان ابتلاؤں کے ذریعہ اللہ تعالیٰ ہمیں متوجہ کرتا ہے کہ اگر اس کے لئے اسلام کے
لئے اور احمدیت کی محبت کے لئے ہم احمدیت کو نہیں پھیلاتے تو یہی سمجھ کر اسے پھیل انے میں لگ جائیں کہ
ہمارا اور ہماری اولاد کا امن وامان اور آسائش احمدیت کی اشاعت سے وابستہ ہے۔ ہندوستان میں انقلاب پیدا ہونے
والا ہے اور ہندوستانیوں میں اس وقت جو جذبہ حریت پیدا ہورہا ہے۔ گورنمنٹ زیادہ دیر تک اس کا مقابلہ نہیں کر
سکتی۔ بے شک وہ مقابلہ تو کرے گی لیکن آہستہ آہستہ وہ خود بخود ہندوستانیوں میں حقوق دینے پر آمادہ ہو جائے
گی اور وہ نادان احمدی جو ایک حد تک تحریک حریت کو ہندوستان کے لئے مفید سمجھتے ہیں اس وقت دیکھیں گے کہ وہ
لوگ جن کی ظاہرداری کو دیکھ کر وہ انہیں اپنا ہمدرد سمجھتے ہیں۔ ان کی مثال بعینہٖ اس بلی کی طرح ہے جس کا
جسم نہایت ملائم اور پشم بہت نرم لیکن ناخن خوفناک ہوتے ہیں اور وہ دیکھیں گے کہ کس طرح ان کی آنکھوں کو
نکالنے اور چہرہ کو نوچنے کی کوشش کرتے ہیں… اگر تم بھی اللہ کے پیارے ہو تو اس وقت تک کہ تمہاری بادشاہت نہ
قائم ہو جائے۔ تمہارے راستہ میں یہ کانٹے ہرگز دور نہیں ہوسکتے اور تمہیں کبھی بھی امن وامان حاصل نہیں
ہوسکتا اور اگر آج کسی وجہ سے سکھ ہے تو کل یقینا پھر دکھ کی حالت ہو جائے گی۔‘‘
(خطبہ جمعہ خلیفہ قادیان، مندرجہ اخبار الفضل قادیان ج۱۷ نمبر۸۶، مؤرخہ ۲۵؍اپریل ۱۹۳۰ء، خطبات محمود
ج۱۲ ص۳۷۱،۳۷۲)
(۶۴) بے ایمانی اور بیوقوفی
’’تعجب ہے کہ (قادیانی) جماعت کے لوگوں کو کیوں یہ خیال نہیں آتا کہ چونکہ اللہ تعالیٰ نے ہمیں چنا ہے۔
اس لئے ہم ضرور کامیاب ہوں گے۔ ہم میں سے کتنے ہیں جو مایوس ہیں۔ کتنے ہیں جن کو خیال ہے کہ ہمارے اندر کچھ
قابلیت نہیں۔ مگر اس سے زیادہ بے ادبی اور گستاخی کیا ہوسکتی ہے کہ خدا کہتا ہے تم دنیا کو فتح کرو گے۔ لیکن
تم کہتے ہو نہیں ہم نہیں کر سکتے۔ غور تو کرو کب خدا نے کسی قوم کو اس لئے چنا کہ وہ دنیا کو فتح کرے گی اور
اس نے نئی زمین اور نیا آسمان نہ پیدا کردیا۔ کیا اب خداتعالیٰ (نعوذ باللہ ) بوڑھا ہوگیا ہے کہ اس کی قوت
انتخاب کمزور ہوگئی ہے۔ اس نے حضرت نوح علیہ السلام، حضرت ابراہیم علیہ السلام، حضرت کرشن، حضرت رام چندر،
حضرت بدھ، حضرت موسیٰ علیہ السلام ، حضرت عیسیٰ اور حضرت محمد ﷺ کے ذریعہ قوموں کو چنا اور وہ کامیاب ہوئیں۔
پھر کیا اب خدا کی عقل کمزور ہوگئی ہے کہ اس نے ہم کو چنا اور ہم ناکام رہ جائیں گے۔ یہ انتہاء درجہ کی بے
ایمانی اور بے وقوفی ہے۔‘‘
(خطبہ جمعہ خلیفہ قادیان، مندرجہ اخبار الفضل قادیان ج۱۸ نمبر۷۳ ص۷ کالم۳، مؤرخہ ۱۸؍دسمبر ۱۹۳۰ء،
خطبات محمود ج۱۲ ص۵۳۶)
555
(۶۵) موت اور زندگی
’’غرض ہر قوم ہر طبقہ اور ہر ملک میں گھبراہٹ اور بے چینی پائی جاتی ہے۔ اگر کوئی ایسی جماعت ہے جو
اپنے مذہب پر پکے اور امید ویقین سے پر ہے تو وہ احمدی جماعت ہے۔ وہ لوگ جو واقعہ میں حضرت مسیح موعود
(مرزاقادیانی) پر ایمان لاتے ہیں۔ وہ سمجھتے اور یقین رکھتے ہیں کہ سب کچلے جائیں گے۔ صرف ہم باقی رہیں گے۔
ہر ایک کو موت نظر آرہی ہے اور صرف ہم کو زندگی دکھائی دے رہی ہے۔ کیونکہ ہمارے متعلق ہی کہا گیا ہے آسمان
سے کئی تخت اترے، پر تیرا تخت سب سے اوپر بچھایا گیا۔ پس دوسری بادشاہتوں کو خطرہ ہے کہ وہ ٹوٹ جائیں گی۔
مگر ہمیں امید ہے کہ بادشاہت دی جائے گی۔ حکمران ڈر رہے ہیں کہ ان کی حکومت جاتی رہے گی مگر ہم خوش ہیں کہ
ہمارے ہاتھ میں دی جائے گی۔ لوگ ڈر رہے ہیں کہ تباہ ہو جائیں گے۔ مگر ہم خوش ہیں کہ خداتعالیٰ کا ہم سے وعدہ
ہے کہ کوئی تمہیں تباہ نہیں کر سکتا۔ حضرت مسیح موعود (مرزاقادیانی) کو بتایا گیا ہے کہ آگ ہماری غلام بلکہ
غلاموں کی غلام ہے۔ آگ سے مراد وہ مصیبتیں اور تباہیاں ہیں جو کچل دینے والی ہوتی ہیں۔ پس وہ بلائیں اور
مصیبتیں دنیا پر نازل ہورہی ہیں جو بھسم کر دینے والی ہیں۔ مگر خداتعالیٰ کا کلام جو حضرت مسیح موعود
(مرزاقادیانی) پر نازل ہوا۔ اس میں بتایا گیا کہ کہو آگ سے نہ ڈراؤ۔ آگ ہماری غلام بلکہ غلاموں کی غلام ہے۔
پس یہ مصیبتیں تو ہماری ترقی کے لئے ہیں۔ ہمیں کس طرح کچل سکتی ہیں۔‘‘
(خطبہ عید الفطر خلیفہ قادیان، مندرجہ اخبار الفضل قادیان ج۱۵ نمبر۷۸ ص۶ کالم۱،۲، مؤرخہ ۳؍اپریل
۱۹۲۸ء، خطبات محمود ج۱ ص۱۵۸)
(۶۶) دور کی بات
’’سو میرا یہ اصول ہے کہ دنیا کے بادشاہوں کو اپنی بادشاہیاں مبارک ہوں۔ ہمیں ان کی سلطنت اور دولت سے
کچھ غرض نہیں۔ ہمارے لئے آسمانی بادشاہی ہے۔ ہاں! نیک نیتی سے اور سچی خیرخواہی سے باشاہوں کو بھی آسمانی
پیغام پہنچانا ضروری ہے۔‘‘
(تحفہ قیصریہ ص۱۳، خزائن ج۱۲ ص۲۶۵)
’’حکومت والوں کو حکومتیں مبارک ہوں۔ ہم ان کو آسمانی پیغام پہنچا کر دین واحد پر جمع کریں گے اور
ظاہر ہے کہ ان کے دین واحد پر جمع ہونے کے یہی معنی ہیں کہ دنیا میں اسلام کی حکومت قائم ہو جائے اور سلسلہ
احمدیہ کے افراد اس حکومت کے چلانے والے ہوں۔‘‘
(اخبار الفضل قادیان ج۲۴ نمبر۲۹، مؤرخہ ۲؍اگست ۱۹۳۶ء)
’’پس ضرور ہے کہ یہ سب وعدے پورے ہوں۔ نہ صرف ہندوستان کی سلطنت حکمران احمدی جماعت کے ممبر ہوں گے،
بلکہ جیسا کہ وعدہ دیاگیا ہے زارروس کا عصا بھی ان ہی کے ہاتھوں میں ہوگا۔ وہ دنیا میں عالمگیر حکومت قائم
کریں گے۔ بادشاہوں کو مسلمان بنائیں گے اور بغیر اس کے کہ وہ اپنی طرف سے کسی فتنہ یا فساد کا موجب ہوں۔ صلح
وآشتی سے آسمانی بادشاہت کو زمین کے چپہ چپہ پر قائم کر دکھائیں گے۔ مبارک وہ جو آخر تک صبر کریں۔ لیکن ہر
چیز کا وقت مقرر ہے۔‘‘
(اخبار الفضل قادیان ج۲۴ نمبر۳۰ ص۵ کالم۴، مؤرخہ ۴؍اگست ۱۹۳۶ء)
(۶۷) دنیا میں تہلکہ
’’میں ایک دفعہ بمبئی گیا تو خوجوں کا شادی خانہ دیکھا۔ وہاں چونکہ رہائشی مکان اتنے بڑے نہیں ہوتے کہ
بیاہ شادیوں میں جو مہمان آئیں وہ ٹھہر سکیں۔ اس لئے ایسے موقعوں کے لئے علیحدہ طور پر انہوں نے مکان بنایا
ہوا ہے تاکہ جس کے ہاں شادی ہو وہ اپنے مہمانوں کو وہاں ٹھہرا سکے۔ وہ مکان اس قدر سامان سے آراستہ تھا کہ
دیکھ کر حیرت ہوتی تھی۔ ایک بجلی کی روشنی کا ہی ایسا انتظام تھا کہ انسان
556
رات کو دن سمجھتا تھا۔ اس میں ہر قسم کی آرائش اور زیب وزینت کا سامان موجود تھا۔ لیکن انسب باتوں کے
باوجود ان قوموں کے حوصلے، ان کی امنگیں اور ان کے ارادے کوئی ایسے بلند نہیں ہیں۔ خوجہ قوم بے شک بہت
مالدار قوم ہے مگر یہ امنگ کبھی ان کے دل میں پیدا نہیں ہوسکتی کہ ساری دنیا پر چھا جائیں۔ بے شک میمن اور
بوہرے بہت مالدار ہیں۔ مگر ان کے دماغ کے کسی گوشہ میں بھی کبھی یہ بات نہیں آسکتی کہ ہم دنیا کے بادشاہ ہو
جائیں گے اور نظام عالم میں تبدیلی پیدا کر دیں گے۔ ان کی دولتیں اتنی زیادہ ہیں کہ ان میں سے کئی ایسے ہیں
جو اس زمانہ میں بھی جب کہ مال دولت کی کثرت ہے۔ اس قدر مالدار ہیں کہ انفرادی طور پر مدینہ کو خریدنے کی
طاقت رکھتے ہیں۔ مگر ان کے دماغ کو کسی گوشہ میں بھی کبھی نہ یہ خیال آیا اور نہ آسکتا ہے کہ ہم نے دنیا کو
فتح کرنا ہے اور دنیا کے موجودہ نظام کو درہم برہم کر کے ایک نیا نظام جاری کرنا ہے۔ مگر اس کے مقابلہ میں
ایک اور قوم ہے جو اپنے مال اپنی دولت اپنی عزت اپنی تعداد اور اپنے اثرورسوخ کے لحاظ سے دنیا کی شائد تمام
منظم جماعتوں سے کمزور اور تھوڑی ہے۔ مگر باوجود اس کے اس کے دل میں یہ امنگ ہے اور اس کے ارادے اس قدر پختہ
اور بلند ہیں کہ اس کا دعویٰ ہے کہ وہ تمام کمزوریوں کے باوجود اور سامان کی کمی کے باوجود ساری دنیا میں
تہلکہ مچادے گی اور موجودہ نظام کو توڑ کر اور موجودہ دستور کو تہ وبالا کر کے نیا نظام اور نیا کام جاری
کرے گی اور وہ جماعت احمدیہ ہے۔‘‘
(خطبہ جمعہ خلیفہ قادیان، مندرجہ اخبار الفضل قادیان ج۱۵ نمبر۸۲ ص۵ کالم۲،۳، مؤرخہ ۱۷؍اپریل ۱۹۲۸ء،
خطبات محمود ج۱۱ ص۳۴۸)
(۶۸) دنیا کو کھا جانا
’’ہماری جماعت ظاہری حالت کے لحاظ سے کمزور ترین نہیں، بلکہ ایک ہی کمزور جماعت ہے۔ دنیا میں کوئی ایک
بھی منظم جماعت جو کام کر رہی ہو ہم سے کمزور نہیں ہے مگر باوجود اس کے کسی کے ارادے ایسے بلند اور وسیع
نہیں ہیں اور ان میں سے کوئی بھی یہ امید نہیں رکھتی کہ وہ دنیا کے موجودہ نظام کو توڑ کر ایک نیا نام جاری
کرے گی۔ سوائے ہماری جماعت کے… اس وقت ایک ہی جماعت ایسی ہے جو کمزوری کے لحاظ سے دنیا میں سب سے گری ہوئی
ہے۔ مگر ارادہ کے لحاظ سے سب سے بڑھی ہوئی ہے۔ پھر وہ منہ سے دعویٰ ہی نہیں کرتی۔ اس کی بنیاد ہی اس پر ہے
کہ دنیا کو کھا جانا ہے کیونکہ اس کی بنیاد یہ ہے کہ ہم کو خداتعالیٰ نے حضرت مسیح موعود (مرزاقادیانی) کے
متعلق فرمایا ہے۔ دنیا میں ایک نذیر آیا پر دنیا نے اس کو قبول نہ کیا۔ لیکن خدا اس کو قبول کرے گا اور بڑے
زور آور حملوں سے اس کی سچائی دنیا پر ظاہر کر دے گا۔‘‘
(خطبہ جمعہ خلیفہ قادیان، مندرجہ اخبار الفضل قادیان ج۱۵ نمبر۸۲ ص۶ کالم۲،۳، مؤرخہ ۱۷؍اپریل ۱۹۲۸ء،
خطبات محمود ج۱۱ ص۳۵۰،۳۵۱)
(۶۹) جہنم کی آگ
’’میں چاہتا ہوں کہ جو جو مظالم تم پر کئے جاتے ہیں وہ تمہارے دلوں میں انگارے بن کر جمع ہوتے چلے
جائیں۔ لیکن ان کا دھواں باہر نہ نکلے۔ یہاں تک کہ تم ان انگاروں سے جل کر اندر ہی اندر راکھ راکھ ہو کر
بھسم ہو جاؤ۔ وہ ویسی ہی بند آگ ہو جیسی دوزخ کی آگ کے متعلق حدیثوں میں آتا ہے کہ وہ بند ہوگی میں بھی
چاہتا ہوں کہ تمہارے اندر ایک آگ ہو جو جہنم کی آگ کی طرح بند ہو کہ جب اسے باہر نکلنے کا اذن ملے تو دنیا
کی کوئی طاقت تمہارے سامنے نہ ٹھہر سکے۔ رسول کریم ﷺ نے فرمایا ہے کہ جہنم کی آگ میں سے اگر ایک رائی کے
برابر آگ بھی ساری دنیا پر ڈال دی جائے تو دنیا جل کر راکھ ہو جائے۔ میری کوشش یہ ہے کہ میں وہ جہنم کی آگ
تمہارے اندر پیدا کروں جو پہاڑوں کے برابر ہو۔ اگر جہنم کی رائی بھر آگ ساری دنیا کو جلانے کے لئے کافی ہے
تو جو آگ میں تمہارے دلوں میں پیدا کرنا
557
چاہتا ہوں۔ اگر پیدا ہو جائے تو ایک دنیا نہیں ہزاروں دنیاؤں کو تم جلانے کے قابل ہو جاؤ۔‘‘
(خطبہ جمعہ خلیفہ قادیان، مندرجہ اخبار الفضل قادیان ج۲۳ نمبر۱۳۹ ص۸ کالم۳، مؤرخہ ۱۲؍دسمبر ۱۹۳۵ء،
خطبات محمود ج۱۶ ص۷۸۷،۷۸۸)
(۷۰) اچھا کیا
’’گورنمنٹ کالج کے طالب علم میاں بدرالدین صاحب حضرت اقدس (مرزامحمود خلیفہ قادیان) کی خدمت میں لکھتے
ہیں کہ ہمارے کالج میں بعض طلباء نے یہ ارادہ کیا کہ بارہ وفات پر کچھ چندہ کر کے خیرات کی جائے اور جشن
میلاد بھی کیا جائے۔ مجھ سے بھی چندہ مانگا مگر میں نے دینے سے انکار کیا کہ میں تمہارے ساتھ کسی دینی کام
میں شامل نہیں ہوسکتا۔ حضرت (مرزامحمود) نے لکھوایا کہ بارہ وفات یا میلاد کا جلسہ ایک بدعت ہے اس میں تم
شامل نہیں ہوئے تو اچھا کیا۔‘‘
(الفضل قادیان ج۳ نمبر۸۳ ص۱ کالم۳، مؤرخہ ۲۶؍جنوری ۱۹۱۶ء)
(۷۱) دعوتی خطوط
’’جلسہ سالانہ کے موقعہ پر ہر سال غیراحمدی احباب کو دفتر ہذا کی طرف سے دعوتی خطوط بھیجے جاتے ہیں جن
کا بھجوانا ازحد مفید پڑتا ہے۔ اس لئے میں بذریعہ اعلان جماعتوں سے درخواست کرتا ہوں کہ وہ اپنے زیرتبلیع
غیراحمدی معززین کے پتے مجھے بہت جلد ارسال فرمائیں تاکہ ان کے نام دعوتی خطوط بھجوائے جائیں۔ (ناظر دعوت
وتبلیغ قادیان)‘‘
(اخبار الفضل قادیان ج۲۰ نمبر۶۵، مؤرخہ ۲۹؍نومبر ۱۹۳۲ء)
(۷۲) ذریعہ تبلیغ
’’جماعت احمدیہ کو حضرت مسیح موعود (مرزاقادیانی) نے دنیا میں اعلائے کلمۃ الحق اور خدمت اسلام کے لئے
قائم کیا ہے اور ظاہر ہے کہ غیراحمدی لوگوں کو جلسہ کے مبارک ایام میں قادیان میں لانا زبردست ذریعہ تبلیغ
ہے اور قادیان کی یہ شان وشوکت اور اس میں اس قدر اہم اور ضروری کاموں کی ترتیب وتجویز بذات خود ایک حق بیں
اور معقول پسند انسان کے لئے اپنے اندر زبردست نشان رکھتی ہے۔ کیونکہ ابھی تک ہزاروں بلکہ لاکھوں انسان ایسے
موجود ہیں جو یہ شہادت دے سکتے ہیں کہ آج سے چند سال قبل قادیان کا نام ونشان تک بھی وہ نہ جانتے تھے۔ پس اس
ادنیٰ حالت سے اس مقام کا اس قدر عروج اور کمال پر پہنچ جانا یقینا خشیت اللہ رکھنے والے دل پر اثر کئے بغیر
نہیں رہ سکتا۔ اس لئے وہ احمدی دوست جو اپنے اعزہ واقربا اور دوست واحباب کے جماعت احمدیہ میں داخل نہ ہونے
پر دل ہی دل میں ملول اور پریشان خاطر رہتے ہیں۔ انہیں اپنے ساتھ قادیان لائیں اور اگر اس کے لئے انہیں کچھ
قربانی بھی کرنی پڑے تو بھی دریغ نہ کریں کیونکہ انجام کار وہ یقینا فائدہ میں رہیں گے۔ یاد رہے کہ قادیان
ہی وہ مقام ہے جس کے متعلق حضرت مسیح موعود (مرزاقادیانی) خود فرماچکے ہیں:
-
آؤ لوگو کہ یہیں نور خدا پاؤ گے
لو تمہیں طور تسلی کا بتایا ہم نے
(اخبار الفضل قادیان ج۱۶ نمبر۵۰ ص۳ کالم۲،۳، مؤرخہ ۲۱؍دسمبر ۱۹۲۸ء)
(۷۳) سیرت کے جلسے
’’اس وقت میں یہ بھی کہنا چاہتا ہوں کہ بعض مقامات کے متعلق شکایت آئی ہے کہ رسول کریم ﷺ کی سیرت کے
متعلق جلسوں کے انعقاد میں چونکہ غیراحمدیوں سے کالم لینا پڑا۔ اس لئے بعض لوگوں میں مداہنت پیدا ہوگئی ہے۔
میں کسی کا نام نہیں لیتا مگر ایسے لوگ خود اپنے نفس میں غور کر لیں۔ اگر اصل چیز (یعنی قادیانیت کی تبلیغ)
ہی مٹ جائے تو پھر ایسے جلسوں اور ان تقریروں کا کیا فائدہ۔ ایسے جلسوں
558
کے لئے مسلمانوں کے پاس جاؤ اور انہیں کہو آؤ یہ ہمارا متحدہ کام ہے تم بھی اس میں شامل ہو جاؤ۔
اگر وہ شامل ہوں تو بہتر ورنہ ان کی منتیں اور خوشامدیں نہ کرو۔ اگر وہ رسول کریم ﷺ کی تعریف اور شان کے
اظہار کے جلسوں میں شامل ہوں گے تو برکات حاصل کریں گے اور اس کا فائدہ خود انہیں پہنچے گا۔ ہمارا ان کے
شامل ہونے سے کوئی فائدہ نہیں۔ لیکن یاد رکھو ان کی بے جا رضامندی کے لئے اپنا دین (یعنی قادیانیت) تباہ نہ
کرو۔ خداتعالیٰ فرماتا ہے کہ اگر تمہاری ہدایت میں کسی کے گمراہ ہونے کی وجہ سے فرق آتا ہے تو گمراہ ہونے
والے کی پرواہ نہ کرو۔ تم میں اگر کسی جگہ کوئی اکیلا ہی ہو اور اس کے ساتھ کوئی شامل نہ ہو تو وہ جنگل کے
درختوں کے سامنے جاکر محمد ﷺ کی تعریف کرنا شروع کردے۔ اللہ تعالیٰ کے نزدیک وہ اپنی ذمہ داری سے بری سمجھا
جائے گا اور اس کا نتیجہ بھی نکلے گا۔ لیکن کسی صورت اور کسی حالت میں بھی مداہنت اختیار نہیں کرنی چاہئے
بلکہ احمدیت کی تبلیغ کھلے بندوں کرنی چاہئے۔‘‘
(تقریر جلسہ سالانہ مرزامحمود خلیفہ قادیان، اخبار الفضل قادیان ج۱۷ نمبر۵۳ ص۷ کالم۳، مؤرخہ ۷؍جنوری
۱۹۳۰ء، انوارالعلوم ج۱۱ ص۸۶)
’’پھر ان جلسوں میں مولوی ثناء اللہ صاحب امرتسری، حیدرآباد دکن کے صدر الصدور مولانا شروانی، علماء
فرنگی محل، مولانا ابوالکلام آزاد کا کسی نہ کسی رنگ میں حصہ لینا بھی اس بات کا ثبوت ہے کہ انہیں ایسے
جلسوں میں احمدیت کی تبلیغ کرنے کا کوئی احتمال نہ تھا۔‘‘
(اخبار الفضل قادیان ج۱۶ نمبر۷ ص۵ کالم۳، مؤرخہ۲۴؍جولائی ۱۹۲۸ء)
(۷۴) قادیانی فرقہ
’’جناب خواجہ (حسن نظامی) صاحب اپنے روزنامچہ مندرجہ ’’منادی‘‘ مؤرخہ ۴؍اپریل کے ص۱۸ پر تحریر فرماتے
ہیں:
چند قادیانی اصحاب ملنے آئے۔ میں نے پوچھا آپ لوگ غیرقادیانی لوگوں سے رشتہ داری کیوں نہیں کرتے اور
ان کے پیچھے نماز کیوں نہیں پڑھتے۔ انہوں نے کہا اس لئے کہ غیرقادیانی لوگ ہم کو کافر کہتے ہیں۔ میں نے کہا
میں قادیانیوں کو کافر نہیں کہتا بلکہ ان کے تبلیغی کاموں کی بہت تعریف کرتا ہوں تو کیا آپ میرے پیچھے نماز
پڑھ لیں گے۔ انہوں نے انکار کیا میں نے کہا یہی دو چیزیں ایسی ہیں جن کی وجہ سے میرے دل پر یہ اثر ہوتا ہے
کہ قادیانی فرقہ مسلمانوں کی اخوت میں تفریق پیدا کرنے والا ہے اور جو شخص مسلمانوں کی تفریق کا باعث ہو میں
اس کو سیاسی اور مذہبی مجرم سمجھتا ہوں۔ میں جانتا ہوں کہ آپ لوگ اپنے فرقہ کو سب سے نمایاں اور الگ رکھنے
کے لئے یہ کام کرتے ہیں۔ ورنہ آپ کے دل میں مذہبی جذبہ کوئی نہیں ہے۔ قادیانی لوگ کوئی جواب نہیں دے سکے۔
واحدی صاحب نے کہا آج پہلا موقع ہے کہ میں نے دو قادیانیوں کو گفتگو میں کمزور دیکھا۔‘‘
(اخبار الفضل قادیان ج۱۷ نمبر۹۹ ص۳ کالم۲،۳، مؤرخہ ۲۰؍مئی ۱۹۳۰ء)
(۷۵) خاتم النّبیین نمبر
’’الحمد اللہ ثم الحمد اللہ کہ (اخبار) ’’الفضل‘ کا خاتم النّبیین نمبر نہایت شاندار تیار ہوگیا جس کا کسی
قدر پتہ تو اس فہرست مضامین سے لگ سکتا ہے جو اسی پرچہ کے دوسرے اور آخری صفحہ پر شائع کی جارہی ہے۔ مگر
پوری آگاہی پرچہ کو دیکھنے سے ہوگی جو ان شاء اللہ بہت جلد احباب کرام کی خدمت میں پہنچ جائے گا۔‘‘‘
(الفضل قادیان ج۱۶ نمبر۹۱ ص۱ کالم۲، مؤرخہ ۲۱؍مئی ۱۹۲۹ء)
’’(اخبار) پیغام صلح (لاہور) کی قسمت میں جو ازلی شقاوت لکھی جاچکی ہے اس نے اسے اس موقعہ پر بھی
خاموش نہ رہنے دیا۔ جب کہ ’’الفضل‘‘ نے دنیا میں سرور دوعالمa کی شان اقدس ظاہر کرنے کے لئے بلند پایہ مسلم
وغیر اہل قلم اصحاب کے نہایت قیمتی مضماین کا مجموعہ خاتم النّبیین نمبر کے نام سے شائع کرنے کی سعادت حاصل
کی ہے۔ چنانچہ اس نے ۲۴؍مئی کے پرچہ میں مخالفت کا طوق
559
گلے میں ڈال کر لکھا ہے۔ ’’خاتم النّبیین کا نام صرف عوام الناس کو اس غلط فہمی میں مبتلا کرنے کے
لئے اختیار کیاگیا ہے کہ وہ قادیانی اصحاب کو ختم نبوت کا قائل سمجھ لیں۔‘‘
(الفضل قادیان ج۱۶ نمبر۹۲ ص۲ کالم۳، مؤرخہ ۲۸؍مئی ۱۹۲۹ء)
(۷۶) خاتم النّبیین کا قادیانی مفہوم
’’ایمان بالرسل اگر نہ ہو تو کوئی شخص مومن مسلمان نہیں ہوسکتا اور اس ایمان بالرسل میں کوئی تخصیص
نہیں۔ عام ہے خواہ وہ نبی پہلے آئے یا بعد میں آئے۔ ہندوستان میں ہوں یا کسی اور ملک میں۔ کسی مامور من اللہ
کا انکار کفر ہو جاتا ہے۔ ہمارے مخالف حضرت مرزاصاحب کی ماموریت کے منکر ہیں۔ بتاؤ کہ یہ اختلاف فروعی
کیونکر ہوا۔ قرآن مجید میں تو لکھا ہے: ’’لانفرق بین احد من رسلہ‘‘ لیکن حضرت مسیح
موعود کے انکار میں تو تفرقہ ہوتا ہے۔ رہی یہ بات کہ آنحضرت ﷺ کو قرآن مجید میں خاتم النّبیین فرمایا۔ ہم اس
پر ایمان لاتے ہیں اور ہمارا یہ مذہب ہے کہ اگر کوئی شخص آنحضرت ﷺ کو خاتم النّبیین یقین نہ کرے تو بالاتفاق
کافر ہے۔ یہ جدا امر ہے کہ ہم اس کے کیا معنی کرتے ہیں اور ہمارے مخالف کیا۔‘‘
(ارشاد حکیم نورالدین قادیانی، مندرجہ نہج المصلٰی ص۲۷۵، مؤلفہ محمد فضل قادیانی، الحکم قادیان ج۱۵
نمبر۷،۸ ص۴ کالم۲، مؤرخہ ۲۸؍فروری ۱۹۱۱ء)
’’آخر بیس برس کی لگاتار محنت اور تگ ودو کے بعد جناب میاں محمود احمد صاحب خلیفہ قادیان اور ان کے
حاشیہ نشین علماء اس امر میں کامیاب ہو گئے ہیں کہ اپنی محمودی جماعت کے دلوں میں حضرت محمد رسول اللہ ﷺ کی
نبوت کے بعد اجرائے نبوت کے عقیدے کو مستحکم کر دیں۔ اب جدھر دیکھو ملت محمودیہ دن رات خاتم النّبیین کا
مفہوم اجرائے نبوت لے رہی ہے اور خاتم النّبیین کے لفظ خاتم اور لا نبی بعدی کے لفظ کے بعد کی جس جس قسم کی
رکیک اور مضحکہ انگیز اور بودی تاولیں آئے دن کی جاتی ہیں وہ محتاج بیان نہیں ہیں۔ ایک عدالت میں جب میاں
صاحب کے ایک عالم مرید سے سوال ہوتا ہے کہ آپ ختم نبوت کے قائل ہیں تو وہ کہتا ہے ختم نبوت کیا بلا ہوتی ہے۔
یہ مسلمانوں کا غلط مفہوم ہے جو خاتم النّبیین سے لیاگیا ہے۔ بے شک خاتم النّبیین کے الفاظ قرآن میں ہیں اور
ہم محمد رسول اللہ ﷺ کو خاتم النّبیین ضرور مانتے ہیں مگر اس کا مفہوم نبوت کا ختم کرنے والا نہیں بلکہ نبوت
کا اپنی مہر سے جاری کرنے والا ہے۔‘‘
(لاہوری جماعت کے ڈاکٹر بشارت احمد قادیانی کا مضمون، مندرجہ اخبار پیغام صلح لاہور ج۲۲ نمبر۳۴ ص۷
کالم۱، مؤرخہ ۷؍جون ۱۹۳۴ء)
’’ہم تو جیسے پہلےآنحضرت ﷺ کی ختم نبوت کے قائل تھے۔ ویسے ہی اب بھی ہیں اور ختم نبوت کے ساتھ ہی حضرت
مرزاصاحب کی نبوت بھی قائم ہے۔ اگرآنحضرت ﷺ خاتم النّبیین ہیں تو حضرت مرزاصاحب بھی نبی ہیں۔ گویا ختم نبوت
اور مسیح موعود (مرزاقادیانی) کی نبوت لازم وملزوم ہیں۔ ہمارے جلسوں تحریروں اور تقریروں یہاں تک کہ سیدنا
حضرت خلیفۃ المسیح الثانی ایدہ اللہ بنصرہ سے بیعت کی اقراری الفاظ میں بھی خاتم النّبیین کا اقرار مقدم
رکھاگیا ہے۔‘‘
(قادیانی اخبار فاروق قادیان ج۱۹ نمبر۴۴، مؤرخہ ۲۸؍فروری ۱۹۳۴ء)
(۷۷) قادیانیوں کی فریب کاری
(عنوان، پیغام صلح لاہور مؤرخہ ۷؍جون ۱۹۳۴ء)
’’گویا خاتم النّبیین جب ایک محمودی (مرزامحمود خلیفہ قادیان کا مرید) کہتا ہے یا کسی اخبار یا اشتہار
یا اعلان میں لکھتا ہے تو اس کا مفہوم اجراء نبوت کا ہوتا ہے۔ ختم نبوت کا نہیں ہوتا۔ اس لئے جب یہ قوم
آنحضرت ﷺ کے متعلق بڑے بڑے پوسٹر لگاتی اور
560
آنحضرت ﷺ کو ان میں خاتم النّبیین لکھتی ہے تو ظاہر ہے کہ اس سے مقصد فقط پبلک کو دھوکا دینا ہوتا
ہے۔ کیونکہ پبلک تو حضرت مسیح موعود کی طرح خاتم النّبیین کے معنی، نبیوں کو ختم کرنے والی سمجھتی ہے اور یہ
قوم اس سے مراد نبوت کو جاری کرنے والا لیتی ہے… اس قوم سے کیا گلہ ہے جب ان کے خلیفہ آسمانی جناب میاں
محمود احمد صاحب سنا ہے بیعت کے وقت مرید سےآنحضرت ﷺ کے خاتم النّبیین ہونے کا اقرار لیتے ہیں تو گرفتار
مرید اپنی سادگی سے سمجھتا ہے کہ خاتم النّبیین سے مراد آخری نبی ہے اور پیر صاحب دل میں ہنستے ہیں کہ احمق
میں تجھ سے اجراء نبوت کے عقیدوں کا اقرار لے رہا ہوں۔ اگر یہ کہو کہ نہیں مرید کو بیعت کے وقت خاتم
النّبیین کے محمودی مفہوم کا پتہ ہوتا ہے تو پھر اس کے یہ معنی ہوئے کہ اجراء نبوت کا عقیدہ ملت محمودیہ کی
فہرست ایمانیات میں اس قدر اہم ہے کہ بیعت کے وقت جناب میاں صاحب اپنے مرید سے اجراء نبوت کے عقیدہ کا عہد
لینا ضروری سمجھتے ہیں۔‘‘
(لاہوری جماعت کے ڈاکٹر بشارت احمد قادیانی کا مضمون، پیغام صلح لاہور ج۲۲ نمبر۳۴ ص۷ کالم۱، مؤرخہ
۷؍جون ۱۹۳۴ء)
(۷۸) قادیانی چیلنج
’’ہم نے محض خداتعالیٰ کے فضل اور توفیق سے جمیع فرق اسلامیہ کے علماء اور مشائخ کی بالعموم اور جناب
محمد علی صاحب اور ان کے مخصوص رفقاء جناب خواجہ (کمال الدین) صاحب اور جناب مولوی غلام حسن خان صاحب کو
بالخصوص چیلنج دیا گیا تھا کہ وہ ثابت کریں کہ قرآن کریم ان کے اس عقیدہ باطلہ کا مؤید مصدق ہے کہ سیدنا
حضرت محمد رسول خاتم النّبیین ﷺ کے بعد باب نبوت ابداً مسدود ہے۔‘‘
(الفضل قادیان ج۸ نمبر۱۲ ص۸ کالم۲، مؤرخہ ۱۹؍اگست ۱۹۲۰ء)
(۷۹) سنو
’’سنو ہم مرزاغلام صاحب کو وہ امام مہدی اور وہ مسیح مانتے ہیں جس کی خبر تمام انبیاء سابقین نے اور
بالآخر محمد رسول اللہ ﷺ خاتم النّبیین نے دی، ہم بغیر اس فرق کے بہ لحاظ نبوت کے انہیں ایسا ہی رسول مانتے
ہیں جیسے کہ پہلے رسول مبعوث ہوتے رہے۔‘‘
(اخبار الفضل قادیان ج۵ نمبر۳۱ ص۱۰ کالم۱، مؤرخہ ۱۶؍اکتوبر ۱۹۱۷ء)
(۸۰) اپنے اوپر چسپاں کیا
’’یہ عجیب بات ہے کہ ان تمام حوالہ جات کو جو (ملک عبدالرحمن) خادم صاحب (قادیانی) نے پیش کئے تھے جس
میں حضرت مسیح موعود (مرزاقادیانی) نے اسلامی اصطلاح، خدا کی اصطلاح، شریعت کی اصطلاح، انبیاء کی اصطلاح اور
خود اپنی اصطلاح کی رو سے نبوت کی تعریف کرتے ہوئے اس کو اپنے اور چسپاں کیا ہے۔ غیرمبائع مناظر (عمرالدین
قادیانی لاہوری) نے مس تک نہ کیا اور اس کا جواب دینے کا خیال بھی اس کے ذہن میں نہیں آیا۔‘‘
(اخبار الفضل قادیان ج۲۴ نمبر۱۲۳ ص۱۲ کالم۱، مؤرخہ ۲۱؍نومبر ۱۹۳۶ء)
(۸۱) نبوت کا غیرمشروط دعویٰ
’’(ملک عبدالرحمن) خادم صاحب (قادیانی) نے حضرت مسیح موعود (مرزاقادیانی) کی کتب سے چالیس حوالے پڑھ
کر سنائے جن میں حضرت مسیح موعود (مرزاقادیانی) نے اپنے آپ کو نبی قرار دیا ہے اور نبوت کا غیرمشروط دعویٰ
کیا ہے۔‘‘
(اخبار الفضل قادیان ج۲۴ نمبر۱۲۳ ص۱۱ کالم۱،۲، مؤرخہ ۲۱؍نومبر ۱۹۳۶ء)
561
(۸۲) نبی ہے نبی
’’غیرمبائع دوستو! (لاہوری فریق) اگر افراط جائز نہیں تو آپ نے تفریط کا جواز کہاں سے نکال لیا۔ یاد
رکھو نہ افراط جائز ہے اور نہ ہی تفریط۔ ایک برگزیدہ انسان (مرزاقادیانی) خداتعالیٰ کی اصطلاح کے مطابق نبی
ہے۔ قرآن کریم کی اصطلاح کے مطابق نبی ہے۔ تمام انبیاء کی اصطلاح کے مطابق نبی ہے اور پھر وہ اپنی اصطلاح
میں بھی اپنے کو دوسرے محدثین سے علیحدہ کر کے نبی قرار دیتا ہے۔ اسے غیرنبی قرار دینا خداتعالیٰ، قرآن
کریم، تمام انبیاء اور خود اس کے منشاء کے خلاف نہیںتو اور کیا ہے اور اگر اس کا نام تفریط نہیں تو بتاؤ کہ
تفریط اور کس بلا کا نام ہے۔‘‘
(اخبار الفضل قادیان ج۲۳ نمبر۳۰۰ ص۴ کالم۳، مؤرخہ ۲۶؍جون ۱۹۳۶ء)
(۸۳) کلام الٰہی
’’ان حوالہ جات سے صاف ظاہر ہے کہ حضرت مسیح موعود اپنے الہامات کو کلام الٰہی قرار دیتے ہیں اور ان
کا مرتبہ بلحاظ کلام الٰہی ہونے کے ایسا ہی ہے جیسا کہ قرآن مجید اور تورات اور انجیل کا اور بہرحال حدیث پر
مقدم ہے۔‘‘
(منکرین خلافت کا انجام ص۴۹، مصنفہ جلال الدین شمس قادیانی)
(۸۴) صلح حدیبیہ
’’تو پھر مجھے اپنے مسلمان بھائیوں کی دلجوئی کے لئے اس لفظ کو دوسرے پیرایہ میں بیان کرنے سے کیا عذر
ہوسکتا ہے۔ سو دوسرا پیرایہ یہ ہے کہ بجائے لفظ نبی کے محدث کا لفظ ہر ایک جگہ سمجھ لیں اور اس کو (یعنی لفظ
نبی کو) کاٹا ہوا خیال فرمالیں۔‘‘
(مندرجہ تبلیغ رسالت ج۲ ص۹۵، مجموعہ اشتہارات ج۱ ص۳۱۴، جدید، مجموعہ اشتہارات ج۱ ص۲۵۸)
’’یہ اعلان تو بالکل اس طرح کا ہے جس طرح صلح حدیبیہ کے معاہدہ میں آنحضرت ﷺ نے مخالفین کی دلجوئی کی
خاطر ان کے اصرار پر رسول اللہ کا لفظ خود اپنے ہاتھ سے کاٹ دیا تھا۔ اس کاٹنے سے یہ مراد ہرگز نہ تھی کہ اس
کے بعد آپ ﷺ یا آپ ﷺ کے صحابہb آپ ﷺ کو رسول اللہ نہ سمجھیں گے۔‘‘
(اخبار فاروق قادیان ج۱۹ نمبر۴۴ مؤرخہ ۲۸؍فروری ۱۹۳۵ء)
’’حضرت صاحب کے جس منسوخ درمنسوخ معاہدہ کا غلط سہارا لینا چاہتے ہیں وہ فروری ۱۸۹۲ء کا ہے اور اس میں
بھی مسلمان بھائیوں کی دلجوئی کی خاطر یہی الفاظ لکھے گئے تھے کہ وہ کاٹا ہوا خیال کر لیں، مگر اس کے بعد جب
حضرت اقدس کو باربار بارش کی طرح وحی میں نبی اور رسول کہاگیا تو پھر آپ نے مسلمان بھائیوں کی دلجوئی کی
پرواہ اتنی بھی نہیں کی کہ اپنے سابقہ اعلان کا عملی طور پر اعادہ فرمادیں۔ بلکہ کثرت سے نبی اور رسول کے
الفاظ کا استعمال فرمایا۔‘‘
(اخبار فاروق قادیان ج۱۹ نمبر۴۴، مؤرخہ ۲۸؍فروری ۱۹۳۵ء)
(۸۵) حقیقی نبی
’’پس گو حضرت مسیح موعود (مرزاقادیانی) عام مسلمانوں کی اصطلاح کے مطابق نبی نہ کہلائے لیکن خداتعالیٰ
کی اصطلاح، تمام انبیاء کی اصطلاح، قرآن کریم کی اصطلاح اور خود اپنی اصطلاح کے مطابق آپ یقینا حقیقی نبی
ہیں۔‘‘
(اخبار الفضل قادیان ج۲۳ نمبر۳۰۰ ص۳ کالم۴، مؤرخہ ۲۶؍جون ۱۹۳۶ء)
562
(۸۶) عظیم الشان نبی
’’خلافت ثانیہ (مرزامحمود کی خلافت) کے بے شمار فیوض وبرکات میں سے ایک بہت بڑا فیض یہ بھی دنیا کو
حاصل ہورہا ہے کہ خلق اللہ کو دین حق کی دعوت دینے والے کئی مبلغین دوردراز ممالک میں خداتعالیٰ کے عظیم الشان
نبی حضرت مسیح موعود مہدی مسعود کے ظہور سے لوگوں کو آگاہ کرنے کے لئے بھیجے گئے ہیں۔‘‘
(اخبار الفضل قادیان ج۳ نمبر۳۳ ص۳ کالم۲، مؤرخہ ۷؍ستمبر ۱۹۱۵ء)
(۸۷) رسول کی آواز
’’بیان کیا مجھ سے میاں عبد اللہ صاحب سنوری نے کہ ایک دفعہ میں مسجد مبارک میں ظہر کی نماز سے پہلے
سنتیں پڑھ رہا تھا کہ حضرت مسیح موعود نے بیت الفکر کے اندر سے مجھے آواز دی۔ میں نماز توڑ کر حضرت کے پاس
چلا گیا اور حضرت سے عرض کیا۔ حضور میں نماز توڑ کر حاضر ہوا ہوں۔ آپ نے فرمایا اچھا کیا… خاکسار عرض کرتا
ہے کہ رسول کی آواز پر نماز توڑ کر حاضر ہونا شرعی مسئلہ ہے دراصل بات یہ ہے کہ عمل صالح کسی خاص عمل کا نام
نہیں بلکہ اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کا نام ہے۔‘‘
(سیرت المہدی حصہ اوّل ص۶۰، روایت نمبر۱۵۷، جدید ج۱ حصہ اوّل ص۱۶۳، روایت نمبر۱۶۱)
(۸۸) ایک مذہب
’’جماعت احمدیہ کی وحدت اور اس کی ضرورت لوگوں پر آشکارا کریں۔ اسلام اور احمدیت کو جو اس زمانہ میں
دو مترادف الفاظ ہیں، صفائی کے ساتھ پیش کریں اور ایک مذہب کے طور پر پیش کریں اورلوگوں کے دل سے یہ خیال
مٹائیں کہ یہ بھی ایک سوسائٹی ہے۔‘‘
(مرزامحمود کے نصائح ایک مبلغ کو، اخبار الفضل قادیان ج۳ نمبر۳۶ ص۵ کالم۲، مؤرخہ ۱۴؍ستمبر ۱۹۱۵ء)
(۸۹) عقیدہ اجرائے نبوت
’’عقیدہ اجرائے نبوت انیسویں صدی عیسوی کی ایجاد واختراع ہے اور ایران کے بعد ہمارے ملک میں اس ایجاد
کا سہرا قادیانی جماعت اور ان کے خلیفہ کے سرپر ہے۔ اگرچہ اس سے پیشتر اسلام میں مدعیان نبوت پیدا ہوتے رہے
مگر انہوں نے یا ان کے پیروؤں نے کبھی عقیدے کے رنگ میں اس مسئلہ کو فروغ نہیں دیا۔ ان کے دعاوی سیاسی
اغراض یا ذاتی تفوق کی بناء پر ہوتے تھے جو ان کی زندگی کے ساتھ ہی ختم ہو جاتے تھے، مگر ۱۹۱۴ء کے قریب
عقیدے کی صورت میں یہ مسئلہ اختیار کیاگیا اور اس کی ترویج وتبلیغ اور نشرواشاعت میں مالی قالی اور حالی رنگ
میں ایک منظم کوشش شروع کی گئی… احمدی جماعت حضرت مرزاصاحب کی وفات سے چھ سال بعد تک آپس میں متحد اور متفق
رہی ہے اور صاحبزادہ (مرزامحمود) صاحب کے سریر آرائے خلافت ہونے پر یہ جماعت دو فریقوں میں منقسم ہوئی ہے۔
ایک فریق نے مرزاصاحب کی طرف دعویٰ نبوت منسوب کیا اور دوسرے گروہ نے انہیں مجدد اور محدث مانا ظاہر ہے اگر
یہ اختلاف اس سے قبل ہوتا تو فرقہ بندی بھی پیشتر ہی ہوتی۔ خود صاحبزادے صاحب نے آج تک حضرت مرزاصاحب کے
دعوے نبوت کی صحیح تاریخ معین نہیں فرمائی بلکہ ان کی تحریروں میں اس کے متعلق تضاد ہے۔ چنانچہ ’’القول
الفصل‘‘ ص۲۴ میں دعویٰ نبوت کی تقسیم کا زمانہ ۱۹۰۲ء تحریر فرمایا اور اس کے بعد اپنی کتاب حقیقت النبوۃ کے
ص۱۲۱ پر تفہیم نبوت کا زمانہ ۱۹۰۱ء قرار دیا۔‘‘
(اخبار پیغام صلح لاہور ج۲۳ نمبر۷۸ ص۲ کالم۱،مؤرخہ ۷؍دسمبر ۱۹۳۵ء)
563
(۹۰) قادیانی جماعت کے عقائد
’’ختم نبوت کا انکار کردیا۔ تکمیل دین کا جواب دیا۔ مسلمانوں کی تکفیر کا دروازہ ایساکھول دیا کہ کروڑ
دو کروڑ بے خبر مسلمان جو نماز پڑھتے، روزے رکھتے، قرآن کریم کو اپنا ہادی اور رہنما اور خدا کا آخری پیغام
مانتے ہیں، وہ سب کے سب دائرہ اسلام سے خارج ہوگئے۔ لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ
منسوخ ہوگیا۔ کیونکہ آج اس کو پڑھ کر کوئی مسلمان نہیں ہوسکتا، نبوت کا دروازہ ایسا کھولا کہ زیدوبکر ہر شخص
نبی بن سکتا ہے اور نبوت موہبت نہ رہی بلکہ جس نے کوشش کی اسے نبوت مل گئی۔‘‘
(پیغام صلح لاہور ج۲۴ نمبر۴۹، مؤرخہ ۳؍اگست ۱۹۳۶ء)
(۹۱) بہائی اور قادیانی
’’بعض ختم نبوت کے منکر اس (آیت ’’اما یاتینکم رسل‘‘ ) سے یہ نتیجہ نکالنا
چاہتے ہیں کہ اس کے ماتحت آنحضرت ﷺ کے بعد بھی رسول آتے رہنے چاہئیں۔ اس آیت سے رسولوں کےآنحضرت ﷺ کے بعد
آنے کا نتیجہ اوّل بہاء اللہ نے اور بعد میں ان کی نقل کر کے میاں محمود احمد قادیانی کے مریدوں نے نکالا ہے۔
حالانکہ اس آیت کو نہ حضرت مرزاغلام احمد قادیانی صاحب نے خود اور نہ ان کی زندگی میں ان کے مریدوں نے کبھی
پیش کیا ایک شرطیہ جملہ سے یہ نتیجہ نکالنا کمال نادانی ہے۔‘‘
(بیان القرآن ج۱ ص۵۱۰، مؤلفہ مولوی محمد علی لاہوری قادیانی امیر جماعت لاہور)
’’قادیان کے کچھ لائق آدمی مرزاصاحب سے پھر گئے ہیں۔ انہوں نے بہائی مذہب اختیار کر لیا ہے اور آگرہ
جاکر کوکب ہند کے نام سے ایک ہفتہ وار اخبار جاری کیا ہے۔ اس واقعہ نے تمام قادیانی جماعت میں ہلچل ڈال دی
ہے۔ جناب مرزامحمود احمد صاحب خلیفہ قادیان سے لے کر ادنیٰ قادیانی تک ان دو چار باغی بہائیوں کے خوف سے
تھرائے جاتے ہیں۔ کوکب ہند اور اس کی جماعت یہ راز کھولنا چاہتی ہے کہ جناب مرزاصاحب قادیانی کے نئے مذہب کا
تمام سرمایہ بابیہ اور بہائیہ فرقہ کے عقائد سے سرقہ کیا ہوا ہے۔ اگر کوکب ہند کی یہ تبلیغ استقلال سے اپنا
کام کرتی رہی تو اہل قادیان کی دھجیاں بکھر جائیں گی۔‘‘
(اقتباس مضمون خواجہ حسن نظامی، الفضل قادیان ج۱۴ نمبر۵۶ ص۷ کالم۳، مؤرخہ ۱۴؍جنوری ۱۹۲۷ء)
’’قادیانی فرقہ کے مخالف کہتے ہیں کہ قادیانی فرقہ کے عقائد بھی بابی فرقہ کے عقائد سے ماخوذ ہیں۔ مگر
میرا یہ خیال ہے کہ بابی فرقہ کا لٹریچر بڑا ادبی ہے اور قادیانی لٹریچر شعریت اور ادبیت سے قطعی محروم ہے۔
شاعر طبیعت کی نفاست اور موزونیت کو کہتے ہیں… میں شاعر ہوں غزل لکھنے والا نہیں بلکہ ہر چیز کو شوشنما
بنانے کی صلاحیت رکھنے والا۔‘‘
(خواجہ حسن نظامی صاحب کا روزنامچہ، اخبار منادی، دہلی مؤرخہ ۲۹؍مئی ۱۹۳۶ء)
’’مجھے معلوم ہوا ہے یہاں (سری نگر میں) ایک شخص کی طرف سے حضرت مسیح موعود (مرزاقادیانی) کے مقابلہ
میں بہاء اللہ کو پیش کیا جاتا ہے اور بتایا جاتا ہے کہ ان کے ماننے والے بہت ترقی کر رہے ہیں اور بڑی طاقت
حاصل کر رہے ہیں اور بہت تھوڑے عرصہ میں احمدیت کے مقابلہ میں وہ کامیاب ہو جائیں گے۔ حتیٰ کہ کہاگیا ہے
بہائی احمدیوں سے مباہلہ کے لئے تیار ہیں اور ان کا دعویٰ ہے کہ قادیانیت بہائیت کے مقابلہ میں تباہ ہو جائے
گی۔ حالانکہ احمدیت کے مقابلہ میں بہائیت کی حقیقت نہایت آسانی کے ساتھ معلوم کی جاسکتی ہے۔‘‘
(خطبہ جمعہ خلیفہ قادیان، مندرجہ اخبار الفضل قادیان ج۱۷ نمبر۱۹ ص۷ کالم۱، مؤرخہ ۳؍ستمبر ۱۹۲۹ء،
خطبات محمود ج۱۲ ص۱۶۳)
564
(۹۲) محمودی اور بہائی
’’چنانچہ محمودی اور بہائیوں میں اگر فرق ہے تو یہ ہے کہ محمودی تو حضرت مرزاغلام احمد صاحب کو نبی
اور رسول مانتے ہیں اور بہائی بہاء اللہ کو مظہر اللہ سمجھتے ہیں، لیکن محمد رسول اللہ ﷺ کی رسالت کو نسخ کرنے میں
دونوں آپس میں متفق ہیں۔ گویا محمد رسول اللہ ﷺ کی رسالت کی عمارت کو مسمار کرنے ہی میں دونوں نے اپنی اپنی
بنیادیں اٹھائی ہوئی ہیں۔ گو نئی تعمیر ان کی جدا جدا قسم کی ہو مگر تخریب میں دونوں متحد ہیں۔ البتہ بہائی
زیادہ اخلاقی جرأت رکھتے ہیں کہ وہ زبان سے بھی رسالت محمدیہ کی منسوخی کا اعلان کرتے ہیں اور محمودی اس
امر میں بزدلی دکھاتے ہیں کہ منہ سے اس کا انکار کرتے ہیں۔ لیکن عملاً وہ رسالت محمدیہ کو منسوخ سمجھتے ہیں۔
چنانچہ اسی لئے رسالت محمدیہ پر ایمان لانے والے کو وہ مسلمان نہیں سمجھتے، کیونکہ ان کے نزدیک رسول زمانہ
اب حضرت محمد ﷺ نہیں رہے بلکہ حضرت مرزاغلام احمد ہیں۔ اسی طرح بہائی صاف طور پر، شریعت محمدیہ کو منسوخ
ٹھہراتے ہیں۔ محمودی منہ سے ایسا نہیں کہتے لیکن ایمانیات کی فہرست میں ایک مومن بہ نبی کا اضافہ کر کے
’’الیوم اکملت لکم دینکم‘‘ کے خلاف محمدی اسلام کے نقص پر ایمان رکھتے اور اقرار کرتے
ہیں کیا ایمانیات دین اور شریعت کا ایک اہم جزو نہیں؟ پھر ایمانیات میں ایک نبی کا اضافہ دین اور شریعت میں
کیا صریح اضافہ نہیں ہے؟ شریعت میں اسی صریح اضافہ کی طرف سے آنکھیں بند کر لینا اپنے نفس کو دھوکا دینا ہے۔
(اخبار پیغام صلح لاہور ج۲۳ نمبر۸، مؤرخہ ۳؍فروری ۱۹۳۴ء)
(۹۳) خاتم الانبیاء
’’ہمیں تو ان احمدیوں مبلغوں پر اسی وجہ سے رونا آتا ہے کہ اعتراض کرتے وقت کچھ تدبیر نہیں کرتے اور
خاتم النّبیین کا نام سن کر ہی انہیں جنون کی طرح ایک جوش پیدا ہو جاتا ہے کہ جس طرح بھی وہ خاتم النّبیین
کے اصل مفہوم کی تردید کی جائے یا اس کا صحیح مفہوم بدلا جائے اور اس کے معنی افضل لے کر حضرت (مرزاقادیانی)
کو بھی خاتم الانبیاء کہا جائے، چنانچہ جامعہ احمدیہ کا رسالہ جو قادیان سے نکلتا ہے۔ اس کے دسمبر ۱۹۳۲ء کے
پرچہ میں جو بتقریب جلسہ سالانہ ۱۹۳۲ء شائع ہوا ص۵ پر خصوصیات حضرت مسیح موعود کے عنوان کے تحت تیسری خصوصیت
یہ بتائی گئی ہے کہ آپ خاتم الانبیاء والخلفاء ہیں، یعنی حضرت مرزاصاحب خاتم الانبیاء والخلفاء ہیں۔ گویا
مطلب یہ ہے کہ اس میں بھی حضرت نبی کریم ﷺ کی کوئی خصوصیت باقی نہ رہے۔ لیکن سوال یہ ہے کہ خاتم الانبیاء کے
معنی اگر افضل الانبیاء کے ہیں تو کیا جامعہ احمدیہ کے لکھنے والوں کا منشاء ہے کہ اب حضرت مرزاصاحب کو تمام
انبیاء سے افضل سمجھا جائے۔ جن میں محمد رسول اللہ ﷺ بھی شامل ہیں۔‘‘
(اخبار پیغام صلح لاہور ج۲۳ نمبر۱۵ ص۵ کالم۲، مؤرخہ ۴؍مارچ ۱۹۳۵ء)
(۹۴) مسئلہ نبوت
’’قادیانی محمودی خاتم النّبیین کے معنی نبیوں کو ختم کرنے والے نہیں کرتے بلکہ اس سے اجراء نبوت نکال
کر حضرت مسیح موعود کو زمانہ کا نبی قرار دیتے ہیں اور آپ کی بیعت نہ کرنے والے کو خواہ اس نے آپ کا نام بھی
نہ سنا ہو کافر خارج از اسلام قرار دیتے ہیں اور خاتم النّبیین اور ظلی نبوت کے الفاظ استعمال کر کے اسلامی
دنیا کو مغالطے میں ڈالنے کی کوشش کرتے ہیں۔ کیونکہ خاتم النّبیین کا مفہوم برخلاف تمام امت کے ان کے ہاں
اپنی مہر سے نبوت کو جاری کرنے والے کے ہیں اور ظلی نبی سے مراد اصلی نبی ہے۔ ظلی کا لفظ فقط طریق حصول نبوت
کے فرق کو ظاہر کرنے کے لئے یا لوگوں کو مغالطہ میں ڈالنے کے لئے وہ استعمال کرتے ہیں۔ ورنہ ان کے ہاں ظلی
نبی بنی ہوتا ہے۔
565
غرض کہ مسئلہ نبوت میں نبوت کا دروازہ چوپٹ کھول کر وہ آنحضرت ﷺ کی ختم نبوت کا بیڑا غرق کر کے دم
لیتے ہیں۔‘‘
(اخبار پیغام صلح لاہور ج۲۳ نمبر۲ ص۲ کالم۱، مؤرخہ ۵؍جنوری ۱۹۳۵ء)
(۹۵) نبی ہوسکتا ہے
’’ہمارا عقیدہ یہ ہے کہ امت محمدیہ میں ایسا نبی آسکتا ہے جو نفس نبوت کے لحاظ سے ویسا ہی نبی ہو جیسے
پہلے انبیاء گزر چکے ہیں۔ ہاں! ان نفس نبوت کے حصول میں پہلے انبیاء اور امت محمدیہ میں آنے والے انبیاء میں
فرق ہوگا۔ پہلے نبی جس قدر آئے ہیں انہوں نے منصب نبوت براہ راست خداتعالیٰ کی طرف سے پایا ہے، مگر اب جو
شخص بھی نبی ہوسکتا ہے اس کو یہ منصب اور مقام صرف اسی صورت میں مل سکتا ہے کہ وہ آنحضرت ﷺ کا کامل امتی ہو
اور اسے یہ منصبآنحضرت ﷺ کے فیضان سے بالواسطہ حاصل ہو۔‘‘
(اخبار الفضل قادیان ج۱۵ نمبر۸۸، مؤرخہ ۸؍مئی ۱۹۲۸ء)
(۹۶) نبوت کی ڈگری
’’اوّل تو جہاں جہاں بھی اللہ تعالیٰ نے حضرت مسیح موعود کو نبی اور رسول کر کے پکارا ہے بعینہٖ اسی طرح
پکارا ہے جس طرح حضرت موسیٰ علیہ السلام اور عیسیٰ علیہ السلام کو قرآن کریم میں پکارا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے ان
الہامات میں جس میں مسیح موعود کو باربار نبی اور رسول کے نام سے پکارا کہیں کسی قسم کی توجیہ بیان نہیں
فرمائی۔ کیونکہ ’’خداتعالیٰ کی یہ اصطلاح ہے جو کثرت مکالمات ومخاطبات کا نام اس نے نبوت رکھا ہے۔ یعنی ایسے
مکالمات جن میں اکثر غیب کی خبریں دی گئی ہوں۔‘‘ (چشمہ معرفت ص۳۲۵، خزائن ج۲۳ ص۳۴۱) اور نبی کی یہ تعریف جس
طرح دوسرے انبیاء پر صادق آتی ہے ویسے ہی حضرت مسیح موعود پر بھی صادق آتی ہے۔ پس آپ کی نبوت اور دیگر
انبیاء کی نبوت میں کوئی فرق نہیں۔ ہاں! خصوصیات نبوت میں ایک دوسرے سے الگ ہونا نبوت میں کوئی نقص پیدا
نہیں کرتا۔ ایک شخص جو باقاعدہ سکول میں تعلیم حاصل کر کے ایم۔اے کی ڈگری حاصل کرتا ہے۔ اس کی ڈگری اس شخص
سے کم نہیں ہوگی جو اپنے طور پر پرائیویٹ تیاری کر کے یہی ڈگری حاصل کرے۔ کیونکہ ڈگری ایک ہی ہے۔ خواہ ذرائع
تعلیم علیحدہ علیحدہ ہیں۔‘‘
(اخبار الفضل قادیان ج۲۴ نمبر۱۶ ص۸ کالم۱، مؤرخہ ۱۸؍جولائی ۱۹۳۶ء)
(۹۷) پاک اور ناپاک
’’مخالفین کی طرف سے ہمارے خلاف جو بڑے زور کے ساتھ پیش کی جائیں اور جن کے ذریعہ عوام کے جذبات کو
بھڑکایا جاتا ہے ان میں سے ایک یہ ہے کہ حضرت مرزا صاحب نے آکر مسلمانوں میں تفرقہ ڈال دیا۔ تھوڑا ہی عرصہ
ہوا اخبار وکیل نے حضرت مسیح موعود کے متعلق لکھا تھا کہ ’’انہوں نے شیرازہ قومی کی پراگندگی میں خاص طور پر
مدد دی۔‘‘ اس کے متعلق (اخبار) وکیل کو بتادیا گیا تھا کہ چونکہ کسی نبی کے آنے کا لازمی نتیجہ یہ ہوتا ہے
کہ پاک اور ناپاک الگ الگ ہو جائیں اور ہر نبی کے وقت ایسا ہی ہوتا رہا ہے۔ اس لئے یہ کوئی نیا اعتراض نہیں
بلکہ نادانی اور جہالت سے پہلے انبیاء پر بھی کیا جاتا رہا ہے۔‘‘
(اخبار الفضل قادیان ج۸ نمبر۶۰، مؤرخہ ۱۰؍فروری ۱۹۲۱ء)
(۹۸) مسئلہ تکفیر
’’قادیانی محمودی تمام دنیا کے کلمہ گو مسلمانوں کو جنہوں نے حضرت مسیح موعود کی بیعت نہیں کی کافر
اور خارج از دائرہ اسلام سمجھتے ہیں اور اس طرح محمد ﷺ کے کلمہ کو منسوخ ٹھہراتے ہیں۔ کیونکہ اس کو پڑھ کر
اب کوئی اسلام میں داخل نہیں ہوتا اور چالیس کروڑ مسلمانوں کو
566
کافر اور اسلام سے خارج کر کے تیرہ سو برس کی آنحضرت ﷺ اور آپ کے صحابہ اور تمام امت کی محنت کو خاک
میں ملادیتے ہیں۔‘‘
(اخبار پیغام صلح لاہور ج۲۳ نمبر۲ ص۲ کالم۱، مؤرخہ ۵؍جنوری ۱۹۳۵ء)
’’قادیانی مسلمانوں کو کافر سمجھتے ہیں لیکن ان کے سامنے اپنے اس عقیدہ کو ظاہر کرنے کے خیال سے ہی ان
پر لرزہ طاری ہو جاتا ہے۔ ان کو اپنے عقیدہ تکفیر کی تائید کے لئے کہیں سے کوئی معقول دلیل نہیں ملتی۔ جب ان
پر ان کے مخصوص عقائد کے متعلق کوئی اعتراص کیا جاتا ہے تو وہ جواب نہیں دے سکتے ان کی عملی کیفیت یہ ہے کہ
قرآن دانی کے بڑے بڑے دعوے کرتے ہیں۔ لیکن قرآن کی اشاعت کے لئے ایک قدم بھی نہیں اٹھا سکتے۔ لے دے کے ان کے
خلیفہ نے ایک تفسیر لکھی جسے عیب کی طرح چھپا رکھا ہے۔ یہ باتیں یقینا سبکی اور تذلیل کا باعث ہیں۔‘‘
(اخبار پیغام صلح لاہور ج۲۲ نمبر۶۵ ص۳ کالم۲،مؤرخہ ۱۹؍اکتوبر ۱۹۳۴ء)
(۹۹) معمہ
’’میاں محمود احمد صاحب کے نزدیک ’’کل مسلمان جو حضرت مسیح موعود کی بیعت میں شامل نہیں ہوئے خواہ
انہوں نے حضرت مسیح موعود کا نام بھی نہ سنا ہو وہ کافر اور دائرہ اسلام سے خارج ہیں۔‘‘ (آئینہ صداقت ص۳۵،
انوارالعلوم ج۶ ص۱۱۰) لیکن جماعت احمدیہ لاہور ایسے لوگوں کو مسلمان قرار دیتی ہے گویا ہم نے قادیانیوں کے
عقائد کے مطابق کافروں کو مومن قرار دیا ہے۔ اب حضرت مسیح موعود(قادیانی) فرماتے ہیں: ’’کافر کو مومن قرار
دینے سے انسان کافر ہو جاتا ہے۔‘‘ (حقیقت الوحی ص۱۶۵، خزائن ج۲۲ ص۱۶۹) تو اس لحاظ سے جماعت احمدیہ لاہور بھی
نعوذ باللہ کافر ہوگئی۔ اب جو شخص جماعت احمدیہ لاہور کو مسلمان قرار دے گا وہ بھی کافر ہو جائے گا۔ جماعت
قادیان اور میاں محمود احمد صاحب ہم سب کو مسلمان بلکہ احمدی تسلیم کرتے ہیں۔ نتیجہ یہ ہوا کہ وہ سب خود بھی
کافر ہوگئے تو سوال یہ ہے کہ ’’کیا دنیا میں کوئی مسلمان بھی ہے؟‘‘ اب میں تمام قادیانی جماعت اور جناب
خلیفہ قادیان کو چیلنج کرتا ہوں کہ وہ اس معمہ کو حل کریں اور اپنے عقائد کی رو سے ذرا اپنی جماعت کو ہی
مسلمان کر دکھائیں، لیکن مجھے یقین ہے کہ اگر تمام کے تمام فضلائے قادیان ایڑی سے لے کر چوٹی تک کا زور بھی
صرف کریں تو اس معمہ کو ہرگز حل نہیں کر سکتے۔ ’’فان لم تفعلوا ولن تفعلوا فاتقوا النار التی
وقودھا الناس والحجارۃ‘‘ لیکن اگر قادیانی حضرات اس چیلنج کا جواب بھی نہ دے سکیں اور پھر اپنے
عقائد غالیہ کو بھی نہ چھوڑیں تو ان پر حیف ہے۔ اللہ تعالیٰ اس قوم کو ہدایت دے! ایسے غلط اصول پر اپنے عقائد
کی بنیاد رکھی ہے کہ آج اپنے آپ کو بھی اس اصول کی بناء پر مسلمان ثابت نہیں کر سکتے۔ سچ ہے ؎
-
خشت اوّل چونہد معمار کج
تا ثریا می رود دیوار کج‘‘
(اخبار پیغام صلح لاہور ج۲۲ نمبر۶۶ ص۵ کالم۲،۳، مؤرخہ ۲۴؍اکتوبر ۱۹۳۴ء)
(۱۰۰) لاہوری فتویٰ
’’غیرمبایعین (یعنی لاہوری جماعت) کے سرکردہ اصحاب نے خلافت ثانیہ کے انکار اور اس کے اختلاف کی جو
وجوہات پیش کیں اور جن پر بڑا زور دیا، وہ نبوت مسیح موعود اور مسئلہ کفر واسلام ہے۔ ان ہی مسائل کو بنیاد
قرار دے کر انہوں نے مخالفت کی عمارت کھڑی کی اور اسے اس قدر بلند کیا ہے کہ جس کی کوئی حد نہیں۔ کوئی سخت
سے سخت لفظ نہیں جو انہوں نے ہم قائلین نبوت مسیح موعود کے متعلق استعمال نہیں کیا اور کوئی خطرناک سے
خطرناک فتویٰ نہیں جو ہم پر انہوں نے نہیں لگایا۔ اسلام کو تباہ وبرباد کرنے والے ہمیں کہاگیا۔ اسلام میں
تفرقہ
567
اور انشقاق پیدا کرنے والے ہمیں قرار دیا گیا۔ رسول کریم ﷺ کی ہتک کرنے کا الزام ہمارے سرتھوپا گیا۔
حضرت مسیح موعود کے متعلق غلو کرنے کا فتویٰ لگا کر ضالین ہم کو بنایا گیا اور سب سے بڑا فتنہ ہمارے
اعتقادات کو کہاگیا۔ غرض جو کچھ بھی وہ کہہ سکتے تھے، انہوں نے کہا اور اب تک کہہ رہے ہیں۔‘‘
(اخبار الفضل قادیان ج۹ نمبر۸۴، مؤرخہ ۲۷؍اپریل ۱۹۲۲ء)
(۱۰۱) لاہوریوں سے تعلقات
’’ایک صاحب نے حضرت (مرزامحمود) کو لکھا کہ غیرمبائع (لاہوری قادیانی) کی برأت میں جانے کے لئے کیا
ارشاد ہے؟ جواب میں حضور نے یہ لکھوایا کہ ایسے دنیاوی تعلقات رکھنے میں جن کا دین پر کچھ برا اثر نہ ہو،
کوئی حرج نہیں۔ عیسائیوں اور ہندوؤں سے بھی ایسے تعلقات رکھنے جائز ہیں، یہ تو احمدی مسلمان ہیں۔‘‘
(اخبار الفضل قادیان ج۳ نمبر۴۹ ص۲ کالم۲، مؤرخہ ۱۲؍اکتوبر ۱۹۱۵ء)
(۱۰۲) قادیانی غلو
’’گذشتہ بیس پچیس سال میں قادیانی غلو کے بہت سے شاہکار منظر عام پر آچکے ہیں۔ جناب خلیفہ قادیان اور
ان کے مریدوں نے اپنی جدت پسندیوں اور عالی حوصلگیوں کے وہ وہ نمونے پیش کئے ہیں کہ دیکھ کر دل کانپ اٹھتا
ہے۔ اجرائے نبوت کا عقیدہ گھڑا۔ حضرت مسیح موعود کو حضرت نبی کریم ﷺ سے افضل کہا۔ قادیان کے سالانہ جلسہ کو
ظلی حج کا نام دیا۔ چالیس کروڑ مسلمانوں کو یک دم دائرہ اسلام سے خارج قرار دیا۔ لیکن قادیانیوں کی ترقی
پسند طبیعت ان کارناموں پر قناعت نہ کر سکی۔ چنانچہ اب وہ قادیان کو ’’ارض حرم‘‘ کہہ رہے ہیں۔ معاصر الفضل
نے اپنی ۲۷؍دسمبر کی اشاعت کے صفحہ اوّل پر جلی قلم سے چند سطریں شائع کی ہیں، جن میں قادیان کے جلسہ سالانہ
میں شریک ہونے والوں کا خیرمقدم کیا ہے۔ ان سطور کا عنوان ہے ’’ارض حرم‘‘ میں تشریف لانے والوں کو مبارک،
مبارک، مبارک کچھ عرصہ ہوا کہ جناب خلیفہ قادیان نے اپنے ایک خطبہ میں قادیان کے شعائر اللہ کی فہرست گنوائی
تھی۔ اب الفضل نے واضح الفاظ میں اس کو ارض حرم کہہ دیا ہے۔ دیکھئے اب اسے قبلہ کب قرار دیا جاتا ہے۔ (انا اللہ وانا الیہ راجعون) کیا یہ ناقابل برداشت جسارتیں قصر اسلام کی تخریب اور ایک
نئے مذہب کے اجراء کی کوشش نہیں ہے؟ جناب خلیفہ قادیان فتنہ اجرائے نبوت کے بانی مبانی ہیں اور ان کا ارشاد
ہے کہ ہر ایک شخص کوشش سے نبی بن سکتا ہے۔ بہتر ہوتا وہ ذرا کوشش کر کے نبی بن جاتے اور پھر اپنے اس نئے
مذہب کی بنیاد رکھتے ایک امتی اور اس کے مریدوں کے لئے یہ جسارت کسی طرح مناسب نہیں۔‘‘
(اخبار پیغام صلح لاہور ج۲۳ نمبر۱ ص۳ کالم۲، مؤرخہ ۳؍جنوری ۱۹۳۵ء)
(۱۰۳) ملت محمودیہ میں غلورچ گیا ہے
(عنوان، پیغام صلح)
’’حقیقت یہ ہے کہ یہ غلو اب جماعت محمودیہ میں اس قدر رچ گیا ہے کہ کسی مسئلہ میں ان کے خلیفہ صاحب
اگر ایک قدم اٹھاتے ہیں تو ان کی جماعت ایک اشارہ آگے بڑھنے کا سمجھ کر دس قدم اٹھاتی ہے۔ پچھلے دنوں خلیفہ
صاحب نے ظلی حج کا اعلان کیا اور بتایا کہ مکہ کا حج چونکہ اپنے مقصد حقیقی کو کھو چکا ہے اور ایک رسمی
عبارت کی شکل میں رہ گیا ہے۔ اس لئے اللہ تعالیٰ نے قادیان میں ایک اور ظلی حج مقرر کیاہے۔ اس پر میں نے لکھا
تھا کہ جس طرح ظلی نبی بنی ہوتا ہے۔ اسی طرح ظلی حج حج ہوا لیکن بغیر قبلہ کے حج نامکمل رہ جاتا ہے۔ لہٰذا
ظلی قبلہ کا بھی اعلان ہو جانا چاہئے تاکہ یہ ظلی حج اپنی تکمیل کو پہنچ جائے اور اس میں کسی شک کی گنجائش
ہی نہیں کہ مرید اس دن نوروز منائیں گے کیونکہ غلو میں وہ اپنے پیر سے بھی اب گوئے سبقت لے جانے کے آرزومند
ہیں۔
568
-
بہ نیم بیضہ چوں سلطان ستم روادارد
زنند لشکر یانس ہزار مرغ بہ سیخ‘‘
(اخبار پیغام صلح لاہور ج۲۱ نمبر۲۲ ص۴ کالم۲، مؤرخہ ۱۹؍اپریل ۱۹۳۳ء)
(۱۰۴) غلو کے نتائج
دیکھ لیا آپ نے غلو کے نتائج، غلو کی یہ تیز رفتار گاڑی اب تک خدا جانے کہاں کی کہاں پہنچ گئی ہوتی
اگر لاہوری احمدی تنقید کر کے ہمیشہ اس کی بریک نہ باندھتے رہتے۔ لیکن تب بھی غلو کے جن اسٹیشنوں پر اس کا
ورود ہوچکا ہے۔ ان کی فہرست ملاحظہ ہو۔
۱… ایمانیات کی فہرست میں ایک نئے نبی کا اضافہ۔
۲… ایمانیات کی فہرست میں ایک نئی کتاب یعنی وحی نبوت کا اضافہ جس کا نام البشریٰ ہے اور جو بقول
مولوی فاضل محمد نذیر لائل پوری ’’ظلی قرآن‘‘ یعنی قرآن ہے۔
۳… شریعت کے ارکان کی فہرست میں ظلی حج یعنی حج کا اضافہ۔
۴… شریعت کے ارکان کی فہرست میں ظلی قبلہ یا نئے قبلہ کا اضافہ۔
۵… رومن کیتھولک عیسائی مذہب کے پوپوں یا اسماعیلیوں کے مطاع بالکل اماموں کی طرح ایک عجیب وغریب مطاع
الکل خلیفہ کا اضافہ۔
۶… محمد رسول اللہ ﷺ کی رسالت کی منسوخی جس پر ایمان لانے سے اب کوئی اسلام میں داخل نہیں ہوتا، لہٰذا
ایک نئے مذہب کی پیدائش جس میں داخل ہوئے بغیر انسان اسلام میں داخل نہیں ہوسکتا اور وہ ہے رسول زمانہ، احمد
نبی اللہ، یعنی حضرت مرزاصاحب کی نبوت ورسالت اور وحی نبوت پر ایمان لانا، گویا عملی طور پر کلمہ لا الہ الا محمد رسول اللہ منسوخ۔ جس کے پڑھنے سے اب کوئی اسلام میں داخل نہیں ہوتا۔
(۱۰۵) نیا مذہب اور کسے کہتے ہیں
’’فرمائیے نئے مذہب کے سرپر اور کیا سینگ ہوا کرتے ہیں۔ ایمانیات میں نئے نبی اور نئی کتاب کا اضافہ۔
ارکان شریعت میں ایک حج کا اضافہ۔ ایک نئے قبلہ کا اضافہ۔ خلافت مطاع الکل کا اضافہ، پرانی رسالت محمدیہ اور
پرانے اسلام یعنی کلمہ سابق کی منسوخی اور نئی رسالت احمدیہ اور نئے اسلام (یعنی عملی طور پر نئے کلمہ کی
پیدائش) کا اضافہ اور ابھی ظلی کا لفظ سلامت رہے خدا جانے کس کس چیز کا اضافہ ہوتا جائے گا۔ نیا مذہب صاف
بنتا نظر آرہا ہے۔ مجھے اندیشہ ہے جس طرح عیسویت کے غلو نے اپنے آپ کو یہودیت یعنی موسویت سے الگ کر کے ایک
نیا مذہب بنا لیا، اسی طرح یہ محمودیت جو درحقیقت عیسوی غلو کا ایک رنگ میں مظہر ہے اپنے آپ کو پرانے اسلام
سے علیحدہ ایک نیا مذہب بنا کر ہمیشہ کے لئے الگ نہ ہو جائے۔‘‘
(اخبار پیغام صلح لاہور ج۲۱ نمبر۲۲ ص۵ کالم۳، مؤرخہ ۱۹؍اپریل ۱۹۳۳ء)
(۱۰۶) قادیانی مضحکے
’’الفضل کا ایک مضمون نگار اپنے ایک مخالف تحریر کا ذکر کرتے ہوئے ۲۳؍دسمبر ۱۹۳۴ء کے پرچہ میں رقمطراز
ہے کہ:
’’یہ ثابت کرنے کی مضحکہ خیز کوشش کی گئی ہے کہ آنحضرت ﷺ کے بعد کوئی نبی نہیں آسکتا۔‘‘
سچ ہے کہ غلو بہت ہی نامراد اور خطرناک مرض ہے۔ اس سے ذہنیتوں میں کچھ ایسا افسوس ناک اور نقصان رساں
انقلاب ہوجاتا
569
ہے۔ جن میں معقولیت کے لئے کوئی جگہ نہیں ہوتی۔ اس مرض کا شکار سفید کو سیاہ اور سیاہ کو سفید سمجھنے
لگتا ہے۔ اچھے برے کی تمیز سے وہ یکسر محروم ہو جاتا ہے۔ قادیانیوں کی بھی بالکل یہی کیفیت ہے کہ پہلے انہوں
نے قرآن وحدیث اور حضرت مسیح موعود کی تعلیمات کے بالکل خلاف محض چند اغراض کی بناء پر اجرائے نبوت کا مضحکہ
انگیز عقیدہ ایجاد کیا اور اس پر اس قدر غیرعقلمندانہ اصرار کیا کہ حد ہوگئی۔ اب رفتہ رفتہ نوبت یہاں تک
پہنچ گئی ہے کہ وہ ختم نبوت کے صحیح اور طے شدہ مسئلہ کو مضحکہ انگیز قرار دے رہے ہیں اور نہیں محسوس کرتے
کہ غلو کے نامراد مرض کی وجہ سے خود ان کی ذہنیت مضحکہ خیز ہوگئی ہے اور آئے دن ان سے طرح طرح کی مضحکہ
انگیزیاں سرزد ہوتی رہتی ہیں۔‘‘
(اخبار پیغام صلح لاہور ج۲۳ نمبر۲ ص۴ کالم۲، مؤرخہ ۵؍جنوری ۱۹۳۵ء)
(۱۰۷) غالی قادیانی
’’بے شک حضرت مرزا (غلام احمد قادیانی) صاحب کی نبوت قرآن کی ایک ایک آیت سے نکالو خواہ وہ کیسے ہی
بھونڈے اور لچر طریق سے نکالی جائے اور خواہ وہ خود حضرت مرزاصاحب کی تفاسیر سے کتنی ہی مختلف کیوں نہ ہو۔
یہ قوم خوشی سے بغلیں بجاتی رہے گی۔ نعرہ تحسین وآفرین بلند کرتی رہے گی۔ ان تمام پیش گوئیوں کو جن کے مصداق
حضرت محمد ﷺ ہیں۔ آپ بے شک حضرت مرزاصاحب پر چسپاں کرتے جائیں یہ غالی قوم خوشی سے تالیاں بجاتی اور ناچتی
رہے گی، لیکن اگر آپ کسی پیش گوئی کے متعلق یہ کہہ دیں کہ حضرت محمد مصطفی ﷺ کے لئے ہے اور حضرت مرزاصاحب اس
کے مصداق حقیقی نہیں بلکہ بوجہ امتی اور خلیفہ ہونے کے صرف ظلی یا بروزی رنگ میں اس کے ماتحت آتے ہیں تو ان
کے سینے میں یوں لگے گا جیسے تیر لگتا ہے۔ محمد رسول اللہ ﷺ کی چیزیں چھین چھین کر حضرت مرزاصاحب کو دیتے
جاؤ۔ یہ خوشی سے پھولے نہ سمائیں گے۔ کیونکہ اس میں درپردہ ان کے نفس کو یہ خوشی ہوتی ہے کہ ہمارا نبی مسیح
موعود محمد رسول اللہ ﷺ سے بڑھ کر یا کم سے کم مدمقابل تو ضرور ہے لیکن اگر کوئی چیز جو انہوں نے محمد رسول اللہ
ﷺ سے چھین کر حضرت مرزاصاحب کو دی ہوئی ہے تو آپ واپس محمد رسول اللہ ﷺ کو دیں تو یہ بلبلا بلبلا کر اور چلا
چلا کر ایک حشر برپا کر دیں گے۔ دوسرے لفظوں میں یہ کہ ان لوگوں نے محمد رسول اللہ ﷺ اور حضرت مرزاصاحب میں
ایک قسم کا باہمی شرکت اور رقابت کا رنگ پیدا کر دیا ہے۔ مثلاً جب تک ’’مبشراً برسول یأتی
من بعدی اسمہ احمد‘‘ کا مصداق حضرت مرزاصاحب کو کہتے رہو بہت خوش رہیں گے، لیکن جہاں اس کا مصداق
حقیقی محمد رسول اللہ ﷺ کو بتایا اور تمام محمودی ٹولے سے صدائے واویلا بلند ہوئی کہ ہائے ہائے حضرت مسیح
موعود کی توہین کی گئی اور آپ سے اختلاف کیاگیا، حالانکہ اختلاف خود ان کے غالیانہ عقائد سے ہوتا ہے نہ کہ
حضرت مسیح موعود سے۔‘‘
(اخبار پیغام صلح لاہور ج۲۲ نمبر۲۷ ص۷ کالم۲،۳،مؤرخہ ۳؍مئی ۱۹۳۴ء)
’’قرآن کریم سے ہرگز ثابت نہیں کہ خداتعالیٰ نے سیدنا حضرت محمد رسول اللہ سے فرمایا کہ اسمہ احمد کے
مصداق آپ ہیں۔ احادیث صحیحہ سے ہرگز ثابت نہیں کر سیدنا حضرت محمد ﷺ نے خود دعویٰ کیا ہے کہ یہ آیت اسمہ
احمد میرے حق میں ہے یا صحابہ کبار میں سے کسی مشہور ومعروف صحابی نے فرمایا ہو کہ میں نے آیت اسمہ احمد کو
پڑھتے وقت یہی یقین کیا تھا کہ یہ آیت نبوت حضرت محمد کے حق میں ہے۔ (پس قادیانی صاحبان کے نزدیک ثابت ہوگیا
کہ یہ آیت اسمہ احمد جناب مرزاغلام احمد قادیانی کے حق میں نازل ہوئی نہ کہ رسول کریم محمد مصطفی ﷺ کے حق
میں نعوذ باللہ من ذلک۔ للمؤلف)‘‘
(اخبار الفضل قادیان ج۲۲ نمبر۷، مؤرخہ ۱۵؍جولائی ۱۹۳۴ء)
’’قرآن کریم کے جس قدر نسخے تیرہ سو سال کے اندر طبع ہوئے یا تحریر ہوئے۔ سب میں خاتم النّبیین کی
تابالفتح ہے اور خاتم (تابالفتح) اسم آلہ ہے اور اس کے معنی صرف مہر ہیں۔ یعنی آنحضرت ﷺ نبیوں کی مہر ہیں جس
سے مدعا نبیوں کی صداقت کی تصدیق ہے،
570
مگر آپ لوگ جو خاتم النّبیین کی تاکوباالکسر قرار دے کر اس کو اسم فاعل کے معنوں پر اور اس کے معنی
نبیوں کا خاتمہ کرنے والا قرار دیتے ہیں۔ کیا آپ بتا سکتے ہیں کہ ایسا قرآن کہاں اور کس ملک میں ملتا ہے۔ جس
میں خاتم النّبیین بالکسر طبع شدہ موجود ہو۔ (یہ الگ بات ہے کہ خاتم ہو تو بھی اس کے معنی یہ نہیں کہ آپ کے
بعد کوئی نہیں ہوگا۔ اللہ رے ضد اور مخالفت۔ للمؤلف)‘‘
(اخبار الفضل قادیان ج۲۲ نمبر۷، مؤرخہ ۱۵؍جولائی ۱۹۳۴ء)
’’اگر کوئی لاہور والے جا کر قادیان کی جماعت کو حضرت مرزاصاحب کے کتب سے حوالے پیش کر کے معقول طور
پر سمجھائیں تو یہ جواب ملنے لگا کہ اب جائیے لوگوں کو دھوکا دیجئے۔ اگر اب مرزاصاحب بھی اپنی قبر سے اٹھ کر
آئیں اور کہیں کہ میں نبی نہیں ہوں۔ اس وقت بھی ہم یہی کہیں گے کہ ہم آپ کو نبی مان چکے ہیں۔ ہم کو اطمینان
ہوگیا ہے۔ اب ہم بدلنے والے نہیں یہ من گھڑت قصے نہیں ہیں، بلکہ یہ واقعہ ہے۔ حیدرآباد والے حافظ عبدالعلی
صاحب (وکیل) نے خودمجھ کو یہ جواب دیا تھا، ممکن ہے بہت سے ایسے ہوں۔ (اور بھی سربرآوردہ قادیانی صاحبان کے
متعلق ایسی روایتیں منقول ہیں۔ و اللہ اعلم بالصواب۔ للمؤلف)‘‘
(خادم خاتم النّبیین ص۵، صدیق دیندار چن بسویشور قادیانی)
(۱۰۸) حیدرآبادی قادیانی
سکندر آباد دکن سے محمودیوں نے بہت سے ٹریکٹ چھپوا کر شائع کئے ہیں جن میں بزعم خود یہ ثابت کیاگیا ہے
کہ حضرت مسیح موعود نبی تھے۔ حیدرآباد دکن کے کسی محمودی تاجر نے سینکڑوں روپے اس ٹریکٹ کی مفت اشاعت کے لئے
دئیے ہیں۔ (انا اللہ وانا الیہ راجعون) حضرت مسیح موعود کو بدنام کرنے اور احمدیت کو
لوگوں کی نظروں میں نامعقول اور مردود کرنے کے لئے اسی کوشش کی کثر باقی تھی سو پوری کر لی گئی۔ نہ صرف
بمبئی میں بلکہ ہندوستان سے باہر وہ ٹریکٹ پہنچے ہیں جنہوں نے احمدیت سے نفرت کو خوب ترقی دی ہے۔
(از ڈاکٹر بشارت احمد قادیانی لاہوری، اخبار پیغام صلح لاہور ج۲۳ نمبر۸ ص۴ کالم۳، مؤرخہ ۳؍فروری
۱۹۳۵ء)
(۱۰۹) قادیانی عقائد پر لاہوری تبصرہ
’’ اللہ تعالیٰ کا حکم ہے: ’’تعاونوا علی البر والتقویٰ ولا تعاونوا علی الاثم
والعدوان‘‘ کہ نیکی اور تقویٰ کے کاموں میں ایک دوسرے کی مدد کرو اور گناہ اور سرکشی کے کاموں
میں ایک دوسرے کی مدد نہ کرو۔ اگر جماعت قادیان رسول اللہ ﷺ کے بعد ایسی نبوت کی قائل ہے جس سے محمد رسول اللہ ﷺ
کی نبوت عملاً منسوخ ہو جاتی ہے اور اسی لئے کوئی محمد رسول اللہ ﷺ کا کلمہ پڑھ کر خدا کی توحید اور آپ ﷺ کی
رسالت کا اقرار کرتے ہوئے بھی اسلام میں داخل نہیں سمجھا جاتا تو پھر دانستہ ایسے خطرناک عقیدہ کی جس سے
محمد رسول اللہ ﷺ کی رسالت کی جڑیں کٹتی ہیں۔ اشاعت کرنے والی جماعت کے ساتھ تعاون کرنا کس قدر خطرناک غلطی
اور گناہ کا ارتکاب ہے۔ یاد رہے کہ یہاں میرے مخاطب وہ لوگ نہیں ہیں جو دل سے ان عقائد باطلہ کو سچا سمجھتے
ہیں اور حضرت مسیح موعود کی نبوت اور جملہ مسلمانان عالم کی تکفیر کے قائل ہیں اور گومنہ سے تو محمد رسول اللہ
ﷺ کا کلمہ پڑھتے ہیں مگر کلی طور پر انہوں نے بابیوں اور بہائیوں کی طرحآنحضرت ﷺ کی رسالت کو منسوخ گردانا
ہوا ہے۔ کیونکہ ان کے نزدیک خدا کی توحید کے ساتھ آپ ﷺ کی رسالت کا اقرار کر کے اب کوئی شخص مسلمان نہیں
ہوسکتا۔‘‘
(لاہوری جماعت کے ڈاکٹر بشارت احمد قادیانی کا مضمون، اخبار پیغام صلح لاہور ج۲۳ نمبر۸، مؤرخہ
۳؍فروری ۱۹۳۴ء)
571
(۱۱۰) عقیدۂ باطل
’’کہاں حضرت اقدس مسیح موعود کی وہ تعلیم جو آپ کی کتابوں میں پائی جاتی ہے اور کہاں یہ عقیدۂ باطل
-
پس جو نبی رسول نہیں مانتا اسے
ایسا نبی کہ جیسے محمد خدائگاں
-
ایمان اس کا حضرت مرزا یہ کچھ نہیں
منہ سے اگر کہے تو ہے دل منکربیاں
(تشحیذ الاذہان ج۹ نمبر۱۲، بابت دسمبر۱۹۱۴ء)
’’اب میں اپنے دوستوں سے پوچھتاہوں کہ وہ ذرا ہمیں بتلائیں تو سہی کہ اگر احمدی اس تعلیم پر چلے جو اس
وقت قادیان میں دی جاتی ہے اور حضرت مرزاصاحب کو ایسا نبی کہ جیسے محمد ﷺ ہیں کہا اور تسلیم کیا جانے لگا تو
پھر ان احمدیوں میں اسلام کا ذکر اور قرآن کا ادب محض خیالی اور رسمی رہ جائے گا یا حقیقی اور شرعی؟… اور
پھر بتلاؤ کہ آخر ان احمدیوں کا حضرت محمد رسول اللہ ﷺ سے نسبت کرنا بھی اٹھ جائے گا یا نہ۔ دور کیوں جاتے ہو
ابھی سے ہی اس عقیدہ کے آثار برے نظر آرہے ہیں۔ پھر آخر کی کیا امیدیں جب ابتداء یہی ہے۔ ذیل میں منشی
ظہیرالدین کی ایک چشم دید شہادت جو انہوں نے سالانہ جلسہ قادیاں کے حالات کی لکھ کر دفتر ’’پیغام صلح‘‘ میں
بھیجی ہے وہ حصہ جو عقائد کے متعلق ہے ناظرین کی آگاہی کے لئے یہاں لکھ دیتا ہوں۔ وہو ہذا: چوتھی بات جو میں
نے جلسہ میں دیکھی تھی وہ اختلاف عقائد تھا اور میں حیران رہ گیا۔ جب بعض احباب نے لاالہ
الا اللہ احمد جری اللہ کو درست اور صحیح قرار دیتے ہوئے اس کو پڑھنے اور بطور احمدی عقائد کے خلاصہ
کے تسلیم کرنے کا اقرار کیا بلکہ بعض سے میں نے یہ بھی سنا کہ لا الہ الا اللہ محمد رسول
اللہ محمدی کلمہ ہے اور احمدی کلمہ لا الہ الا اللہ احمد جری اللہ ہے۔ بہت سے
احباب میں نے دیکھے جو حضرت مرزاصاحب مسیح موعود کے حق میں صاحب شریعت نبی کہنے سے بھی نہ جھینپتے تھے…
بعضوں نے تو حضرت مسیح موعود کے الہام ’’واتخذوا من مقام ابراہیم مصلی‘‘ سے اسی
استدلال کو قبول کر لیا کہ اب احمدیوں کا قبلہ نماز قادیان ہونا چاہئے۔ اس جلسہ میں مجھے ایک بھی ایسا فرد
قادیان میں نہیں ملا جو حضرت مسیح موعود کو اسی طرح کا رسول اللہ اور نبی اللہ نہ مانتا ہو۔ جس طرح کہ خدا کے
فرستادہ حضرت موسیٰ حضرت عیسیٰ اور حضرت محمد مصطفی خاتم الانبیاء تھے۔‘‘
(المہدی نمبر۲،۳ ص۴۷،۴۸، مؤلفہ حکیم محمد حسین قادیانی)
(۱۱۱) قادیانی نشان
’’غور فرمائیے ہر احمدی ایک نشان ہے۔ ہر اینٹ قادیان کے مکانات کی ایک نشان ہے۔ ہر دانہ غلہ کا جو
حضور کے لنگر میں پکتا ہے ایک نشان ہے۔ ہر شخص جو سلسلہ میں نیا داخل ہوتا ہے اور ہر نیابچہ جو پیدا ہوتا
ہے، ایک نشان ہے۔ ہر مخالف جو ذلیل ہوتا ہے یا خاموش ہوتا ہے یا مرید ہو جاتا ہے یا مرجاتا ہے، ایک نشان ہے۔
ہر کتاب اور اس کا ہرایک لفظ جو سلسلہ کی حمایت میں لکھا جاتا ہے اور چھپتا ہے، ایک نشان ہے۔ ہر تحفہ یا چیز
جو قادیان میں باہر سے آتی ہے، ایک نشان ہے۔ ہر شخص دوست یا دشمن جو اس مبارک بستی میں داخل ہوتا ہے، ایک
نشان ہے۔ ہر خط یا تار جو یہاں بذریعہ ڈاک خانہ یا اور طرح سے آتا ہے، ایک نشان ہے۔ ہر ایک پیسہ جو چندہ میں
یا وصیت میں یا صدقہ میں یا اشاعت اسلام کی مد میں یا کسی شخص کی تنخواہ کے طور پر یا کسی طرح بھی یہاں خرچ
ہونے کے لئے آتا ہے، وہ نشان ہے۔ ہر نعش جو مقبرہ بہشتی میں لائی جاتی ہے، وہ ایک نشان ہے۔ ہر درخت جو یہاں
کسی مکان یا باغ میں لگایا جاتا ہے، ایک نشان ہے۔ ہر لفظ سچے وحی
572
والہام کا جو یہاں یا دنیا میں کہیں بھی نازل ہوتا ہے، یہاں کا ایک نشان ہے۔ ہر لفظ جو علم ومعرفت یا
حقائق ومعارف یا دعوۃ تبلیغ یا تعلیم وتربیت کا جو لوگوں کو اس سلسلہ کی طرف بلاتا ہے، وہ ایک نشان ہے۔ ہر
عذاب، ہر وباء، ہر زلزلہ، ہر جنگ، ہر انکشاف سائنس کا اور ہر صداقت جو دنیا میں ظاہر ہو اور عالمگیر ہو، وہ
نشان ہے۔ اس سلسلہ کا ہر سچا خواب جو دنیا میں کسی کی ہدایت اور رہنمائی کا موجب ہو، وہ ایک نشان ہے۔ ہر
ایجاد جو دین اسلام اور اس کی اشاعت کو کسی طرح بھی فائدہ پہنچا سکتی ہو، مثلاً ریل، تار، چھاپہ خانہ، موٹر،
وائرلیس، ہوائی جہاز، فوٹوگراف، توپیں، اسلحہ، مشینیں وغیرہ وغیرہ اور ان کے سب متعلقات بمعہ ان کے موجدوں
اور کام کرنے والوں اور بیچنے والوں اور استعمال کرنے والوں کے، سب نشان ہیں۔ حضرت مسیح موعود (مرزاقادیانی)
کی صداقت کا اور ان کی خدمت کے لئے پیدا کئے گئے ہیں۔ اسی طرح موسموں کے تغیر، ملکوں کے تنازعات، عقائد کی
تبدیلیاں، تہذیب وتمدن کے تغیرات، آسمانی اور زمینی انقلابات اور جملہ حوادثات عالم سب کے سب نشان ہیں۔ اس
وقت سلسلہ احمدیہ کی صداقت پر ذرا ٹوٹل تو لگائیے یہ سب کتنے ہوں گے؟ ’’وان تعدو نعمۃ اللہ لا
تحصوہا ان الانسان لظلوم کفار‘‘ ان کے علاوہ وہ تمام ان گنت اور بے شمار نشانات جو ازل سے اس
سلسلہ کی صداقت کے لئے چلے تھے اور ابد تک چلے جائیں گے اور مخفی تھے اور مخفی ہیں اور مخفی رہیں گے اور اللہ
ہی ان کو جانتا ہے مگر ان کی وجہ سے اندر ہی اندر اس سلسلہ کی ترقی ہوتی جارہی ہے۔ (کوئی اور نشان ہو یا نہ
ہو لیکن جو دماغی حالت اس مضمون سے ظاہر ہوتی ہے وہ قادیانیت کا مسلمہ نشان ہے اور اسی نشان سے قادیانی
باآسانی پہچان میں آتے ہیں۔ للمؤلف)‘‘
(اخبار الفضل قادیان ج۲۴ نمبر۱۵۰ ص۶ کالم۳،۴، مؤرخہ ۲۴؍دسمبر ۱۹۳۶ء)
(۱۱۲) قادیانی جھنڈا، ۱۹۳۹ء کی ایجات
’’یہ جھنڈا سیاہ رنگ کے کپڑے کا تھا، جس کے درمیان منارۃ المسیح، ایک طرف بدر اور دوسری طرف ہلال کی
شکل، سفید رنگ میں بنائی گئی تھی۔ کپڑے کا طول ۱۸فٹ اور عرض ۹فٹ تھا۔‘‘
(اخبار الفضل قادیان ج۲۸ نمبر۱، مؤرخہ ۳؍جنوری ۱۹۴۰ء، تاریخ احمدیت ج۷ ص۷۲۸)
’’اس کے لئے بھی سٹیج کے شمال مغربی کونہ کے ساتھ لکڑی کا پول چبوترہ بنا کر کھڑا کیاگیا تھا۔ یہ
جھنڈا بھی سیاہ رنگ کے کپڑے کا ہے جس پر چھ سفید دھاریاں تھیں۔ درمیان میں منارۃ المسیح ایک طرف بدر اور
دوسری طرف ہلال کا نشان تھا۔‘‘
(اخبار الفضل قادیان ج۲۸ نمبر۱، مؤرخہ ۳؍جنوری ۱۹۴۰ء، تاریخ احمدیت ج۷ ص۷۲۹)
’’میں اقرار کرتاہوں کہ جہاں تک میری طاقت اور سمجھ ہے، اسلام اور احمدیت کے قیام، اس کی مضبوطی اور
اس کی اشاعت کے لئے آخری دم تک کوشش کرتا ہوں گا اور اللہ تعالیٰ کی مدد سے اس امر کے لئے ہر ممکن قربانی پیش
کروں گا کہ احمدیت یعنی حقیقی اسلام دوسرے سب دینوں اور سلسلوں پر غالب رہے اور اس کا جھنڈا کبھی سرنگوں نہ
ہو، بلکہ دوسرے سب جھنڈوں سے اونچا اڑتا رہے۔ اللہم امین۔ اللہم امین۔ اللہم امین۔ ربنا
تقبل منا انک وانت السمیع العلیم‘‘
(اخبار الفضل قادیان ج۲۸ نمبر۱، مؤرخہ ۳؍جنوری ۱۹۴۰ء، تاریخ احمدیت ج۸ ص۹۷)
’’اور اس طرح مختلف ممالک اور مختلف تمدن کے لوگوں کا حضرت احمد قادیانی (مرزاقادیانی) کے جھنڈے تلے
جمع ہوکر حضور کے خلیفہ (مرزامحمود خلیفہ قادیان) کے حضور نذر عقیدت پیش کرنا نہایت ہی روح پرور نظارہ
تھا۔‘‘
(الفضل قادیان ج۲۸ نمبر۱، مؤرخہ ۳؍جنوری ۱۹۴۰ء)
573
فصل سترہویں
قادیانیوں کی جماعت لاہور
(۱) ایک پارٹی
’’حضرت مسیح موعود (مرزاقادیانی) کے وصال کے بعد جلد ہی جناب مولوی محمد علی صاحب کو پہلے اپنی بیوی
کی علالت اور وفات کے وقت اور پھر حضرت کے مکان سے علیحدہ کئے جانے کے سبب اور ساتھ ہی حضرت میرناصر نواب
صاحب قبلہ! (مرزاقادیانی کے خسر) کے بعض اعتراضات کے سبب جو مولوی (محمد علی) صاحب کے عمارتی کام پر ہوئے
تھے دن بدن رنج بڑھتا گیا اور جب خواجہ کمال الدین صاحب نے اپنے لیکچروں میں احمدیت کے ذکر کو چھوڑا اور
غیراحمدیوں کی تعریفوں سے خوش ہوکر ان کے پیچھے نماز کے جواز کی اجازت حضرت خلیفۃ المسیح الاوّل سے چاہی اور
غیراحمدیوں کے اسلام کا اعلان واشتہار دیا تو حضرت اولوالعزم میاں محمود احمد صاحب ایدہ اللہ نے خواجہ صاحب کے
اس طرز کو ناپسند کیا اور حضرت خلیفۃ المسیح (حکیم نورالدین) کی اجازت سے ان کے خلاف بدر میں مضمون لکھا تو
مولوی محمد علی صاحب نے اپنی رنجش کے سبب جو انہیں اہل بیت کے ساتھ تھی خواجہ صاحب کی رفاقت کا سہارا تلاش
کرتے ہوئے ان کی حمایت کی۔ ڈاکٹرین اور شیخ صاحب اپنی سادگی کے سبب خواجہ (کمال الدین) صاحب کی مدح سرائی
وخوشامد میں بہک گئے اور نتیجہ یہ ہوا کہ یہ ایک پارٹی بن گئی اور انہوں نے حضرت صاحبزادہ (مرزامحمود) ایدہ
اللہ کی مخالفت کا اپنا نصب العین بنالیا اور صدر انجمن میں جس کے حضرت صاحبزادہ صاحب پریذیڈنٹ تھے ان کی بے
ادبی شروع کر دی۔‘‘
(اخبار الفضل قادیان ج۳ نمبر۳۸،۳۹ ص۴ کالم۱، مؤرخہ ۱۹-۲۱؍ستمبر ۱۹۱۵ء)
(۲) بڑا ابتلاء
’’ایسا خطرناک واقعہ جس سے قریب تھا کہ زمین پھٹ جائے اور پہاڑ ٹکڑے ٹکڑے ہو جائیں۔ آج سے کئی سال
پہلے ظاہر ہوچکا ہے اور وہ غیرمبایعین (لاہوری جماعت) کی علیحدگی ہے۔ اس پارٹی کے سرگروہوں نے حضرت مسیح
موعود (مرزاقادیانی) کے ہاتھ پر بیعت کی اور جماعت کے بڑے آدمیوں میں سے شمار کئے جانے لگے۔ مگر نہ معلوم
بیعت میں کوئی نقص رہ جانے کی وجہ سے یا کسی اور وجہ سے ان پر کئی دفعہ ابتلاآئے اور وہ کئی موقعوں پر حضرت
مسیح موعود (مرزاقادیانی) پر بیہودہ اعتراضات کرنے سے باز نہ رہے۔ جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ ان کے دلوں سے
ایمان کی روح نکل گئی اور باوجود اس کے کہ وہ حضرت مسیح موعود (مرزاقادیانی) کو نبی آخرزماں مانتے تھے۔ پھر
بھی جب انہوں نے دیکھا کہ مخالف تعداد میں ہم سے بڑھ کر ہیں۔ طاقت میں ہم سے زیادہ ہیں۔ دنیا کے مال ان کے
پاس بہت ہیں تو مرعوب ہوگئے اور چاہا کہ کسی طرح ان سے صلح کر لی جائے تا کہ ان کے حملوں سے بھی محفوظ رہیں
اور دنیاوی مال ودولت بھی کچھ حاصل کر لیں۔ اس طرح یہ (لاہوری جماعت) ایک بڑے ابتلاء میں پھنس گئے۔‘‘
(اخبار الفضل قادیان ج۱۶ نمبر۲۱ ص۹ کالم۳، مؤرخہ ۱۱؍ستمبر ۱۹۲۸ء)
(۳) لاہوری جماعت کی علیحدگی
’’چنانچہ اسی بناء پر (کہ مرزاقادیانی مدعی نبوت ہیں یا نہیں) مارچ ۱۹۱۴ء میں جماعت احمدیہ کے دو گروہ
ہوگئے۔ فریق اوّل
574
یعنی اس فریق کا جو مسلمانوں کی تکفیر کرتا ہے اورآنحضرت ﷺ کے بعد دروازہ نبوت کو کھلا مانتا ہے۔ ہیڈ
کوارٹر قادیان رہا اور دوسرے فریق نے اپنا ہیڈ کوارٹر لاہور میں قائم کیا۔ فریق قادیان کی قیادت اس وقت
مرزابشیرالدین محمود احمد صاحب کے ہاتھ میں ہے اور فریق لاہور کی مصنف کتاب ہذا کے ہاتھ میں ہے اور اب یہ
دونوں جماعتیں اپنے اپنے طور پر الگ الگ کام کر رہی ہیں اور گو بلحاظ تعداد کثرت فریق قادیان کو حاصل ہے۔
لیکن اثر اور رسوخ کے لحاظ سے عام مسلمانوں میں فریق لاہور غالب ہے۔‘‘
(تحریک احمدیت ص۳۰، مصنفہ مولوی محمد علی لاہوری قادیانی)
مولوی محمد علی لاہوری نے جو ایک رسالہ ’’مسیح موعود اور ختم نبوت‘‘ ص۱،۲ کے عنوان سے شائع کیا ہے، اس
کے شروع میں دونوں فریقوں کا اصل فرق حسب ذیل قرار دیا ہے۔ ’’حضرت مسیح موعود کی جماعت کے دو فریق ہیں۔ ایک
احمدی جن کے کام کا مرکز لاہور ہے اور دوسرے قادیانی جن کا مرکز قادیان ہے۔ فریق قادیان اور فریق لاہور کا
اصل اختلاف صرف دو امور میں ہے۔ اوّل یہ کہ حضرت مسیح موعود مجدد تھے یا نبی۔ فریق قادیان کے پیشوا کا خیال
ہے کہ آپ نبی تھے۔ فریق لاہور آپ کو صرف مجدد مانتا ہے۔ دوم یہ کہ جو مسلمان آپ کی بیعت میں داخل نہیں وہ
دائرہ اسلام کے اندر ہیں یا نہیں۔ فریق قادیان کے پیشوا کا خیال ہے کہ روئے زمین کے تمام مسلمان جو حضرت
مسیح موعود کی بیعت میں داخل نہیں ہوئے وہ کافر اور دائرہ اسلام سے خارج ہیں۔ خواہ انہوں نے حضرت مرزاصاحب
کا کبھی نام بھی نہ سنا ہو اور خواہ وہ حضرت مرزاصاحب کودل سے بھی سچا مانتے ہوں اور منہ سے بھی انکار نہ
کرتے ہوں۔ (البتہ مرزاقادیانی کی بیعت میں داخل نہ ہوں۔ للمؤلف) اور فریق لاہور کا یہ عقیدہ ہے کہ ہر کلمہ
گو مسلمان ہے۔ ہاں! مجدد اور مسیح امت کو رد کرنا یا اس کی مخالفت کرنا قابل مواخذہ ضرور ہے۔ بلکہ اس کا
ساتھ نہ دینا اور خاموشی سے الگ بیٹھا رہنا بھی اسلام کی موجودہ حالت میں عند اللہ قابل مواخذہ ہے۔‘‘ (دونوں
قادیانی جماعتوں میں ایک کا رنگ گہرا عنابی اور دوسری کا رنگ ہلکا گلابی ہے۔ لیکن مبصرین کا قول ہے ؎
-
بہر رنگے کہ خواہی جامہ می پوشی
من انداز قدت رامے شناسم للمؤلف)
(۴) لاہوری جماعت کا قدیم ایمان
’’اخبار پیغام صلح ۱۹۱۳ء میں پیغام صلح سوسائٹی نے جاری کیا۔ اس سوسائٹی کے ممبروں پر اعتراض ہوا کہ
وہ منافق ہیں اور دل سے حضرت مسیح موعود کو نہیں مانتے۔ اس پر اس سوسائٹی کے اکابر ممبروں نے ’’و اللہ علی مانقول وکیل‘‘ کے عنوان سے حلفیہ اعلان کیا کہ: ہم حضرت مسیح موعود کے
خادمین لاوّلین میں سے ہیں۔ ہمارے ہاتھوں میں حضرت اقدس ہم سے رخصت ہوئے۔ ہمارا ایمان ہے کہ حضرت مسیح موعود
ومہدی معہود اللہ تعالیٰ کے سچے رسول تھے اور اس زمانے کی ہدایت کے لئے دنیا میں نازل ہوئے اور آج آپ کی متابعت
میں ہی دنیا کی نجات ہے اور ہم اس امر کا اظہار ہر میدان میں کرتے ہیں اور کسی کی خاطر ان عقائد کو بفضلہ
تعالیٰ نہیں چھوڑ سکتے۔‘‘
(اخبار پیغام صلح لاہور ج۱ نمبر۲۵ ص۳ کالم۲، مؤرخہ ۷؍ستمبر ۱۹۱۳ء)
’’اس حلفیہ بیان کے آخر پر اعلان کیاگیا ہے کہ اخبار پیغام صلح کے متعلق ہم یہ ظاہر کر دینا چاہتے ہیں
کہ یہ ایڈیٹر یا کسی خاص شخص کا ذاتی اخبار نہیں ہے۔ یہ کل احمدیہ جماعت کا اخبار ہے۔ اگر ہماری رائے سے کسی
دینی مسئلہ میں جماعت کے کسی فرد کو اختلاف ہو تو اس کے لئے ہمارے کالم کھلے ہیں اور تنقید کے بعد جو رائے
قائم ہوگی وہی رائے ہے یا اگر کسی معاملہ میں حضرت خلیفۃ المسیح ہم کو خاص نصیحت
575
فرماویں تو اس کی تعمیل کرنے سے ہم ہروقت تیار ہیں۔ (۷؍ستمبر۱۹۱۳ء)‘‘
مندرجہ بالااعلان کے چالیس دن بعد پیغام صلح سوسائٹی نے دوسرا حلفیہ اعلان ’’ایک غلط فہمی کا ازالہ‘‘
کے عنوان سے حسب ذیل شائع کیا:
’’معلوم ہوا ہے کہ بعض احباب کو کسی نے غلط فہمی میں ڈال دیا ہے کہ اخبار ہذا کے ساتھ تعلق رکھنے والے
احباب یا ان میں سے کوئی ایک سیدنا وہادینا حضرت میرزا غلام احمد صاحب مسیح موعود ومہدی معہود کے مدارج
عالیہ کو اصلیت سے کم یا استحقاف کی نظر سے دیکھتا ہے۔ ہم تمام احمدی جن کا کسی نہ کسی صورت سے اخبار پیغام
صلح کے ساتھ تعلق ہے۔ خداتعالیٰ کو جو دلوں کے بھید جاننے والا ہے حاضر وناظر جان کر علی الاعلان کہتے ہیں
کہ ہماری نسبت اس قسم کی غلط فہمی پھلانا محض بہتان ہے۔ ہم حضرت مسیح موعود ومہدی معہود کو اس زمانہ کا نبی
رسول اور نجات دہندہ مانتے ہیں اور جو درجہ حضرت مسیح موعود نے اپنا بیان فرمایا۔ اس سے کم وبیش کرناموجب
سلب ایمان سمجھتے ہیں۔ ہمارا ایمان ہے کہ دنیا کی نجات حضرت نبی کریم ﷺ اور آپ کے غلام حضرت مسیح موعود پر
ایمان لائے بغیر نہیں ہوسکتی۔‘‘
(اخبار پیغام صلح لاہور ج۱ نمبر۴۲ ص۲ کالم۳، مؤرخہ ۱۶؍اکتوبر ۱۹۱۳ء)
’’ان دونوں بیانوں سے روز روشن کی طرح ثابت ہے کہ ۱۹۱۳ء تک یقینی طور پر جملہ پیغامی پارٹی حضرت مسیح
موعود کو نبی اور رسول مانتی رہی ہے۔ ۱۹۱۴ء میں جب خلافت کا جھگڑا پیدا ہوا تو مولوی محمد علی صاحب اور ان
کے ساتھی اس عقیدے سے منکر ہوگئے۔
اگر یہ حلفیہ بیانات اس قدر زوردار بیانات محض ایڈیٹر کے خیالات ہوتے اور ممبران پیغام صلح سوسائٹی کی
رضامندی سے شائع نہ ہوئے ہوتے تو وہ فی الفور اس کی تردید کر دیتے۔ مگر ۱۹۱۳ء میں بلکہ حضرت خلیفہ اوّل کی
زندگی کے آخر تک پیغام صلح سوسائٹی نے یا اس کے کسی ممبر نے ان کی تردید نہیں کی۔ ناظرین کرام! ذرا اصل
بیانات کو ملاحظہ فرمائیے اور آج اس غلط بیانی کو دیکھئے کہ یہ تو ہمارے بیانات ہی نہیں۔ انصاف، انصاف۔
(قادیانی جماعت قادیان کی یہ شکایت بالکل بجا اور درست ہے کہ قادیانی جماعت لاہور جلد منافقت میں مبتلا
ہوگئی اور ساتھ ہی اپنی منافقت پر فضول تاویلات کا پردہ ڈالنے لگی جس کا سلسلہ اب تک جاری ہے۔ ایک طرف اپنے
آپ کو مرزاقادیانی صاحب کا متبع بتاتے ہیں اور ان کو مسیح موعود اور مہدی معہود مانتے ہیں اور دوسری طرف ان
کے دعوؤں سے انکار کرتے ہیں اور لایعنی تاویلات کی آڑ لیتے ہیں۔ اس دورنگی کا منشاء ظاہر ہے۔ ایک طرف وہ
قادیانیوں سے وابستہ ہیں اور دوسری طرف وہ مسلمانوں سے بھی وابستہ رہنا چاہتے ہیں۔ نتیجہ یہ کہ نفاق کی بے
چینی میں کروٹیں بدلتے رہتے ہیں۔ یہی سبب ہے کہ قادیانی حلقہ میں جماعت قادیان کے مقابل جماعت لاہور کی
عقیدت اور تعداد گر رہی ہے۔ للمؤلف)
(مضمون مندرجہ اخبار الفضل قادیان ج۲۹ ص۲۵۹، مؤرخہ ۱۴؍نومبر ۱۹۴۱ء)
(۵) لاہوری جماعت کا جدید ابہام
’’ہم بھی حضرت اقدس مرزاغلام احمد کو مسیح موعود، مہدی معہود، مامور من اللہ ، ملہم، مجدد، محدث، امام
زماں یقین کرتے ہیں اور آپ کو ظلی بروزی طور پر جزوی نبی بھی یقین کرتے ہیں۔ مگر حقیقی مستقل شرعی یا
غیرشرعی کامل نبی آپ کو کہنا آپ کی تعلیم کے خلاف جانتے ہیں۔‘‘
(مکتوب ڈاکٹر یعقوب بیگ قادیانی لاہوری، المہدی نمبر۱ ص۵۵،۵۶، مؤلفہ حکیم محمد حسین قادیانی لاہوری)
(۶) سب میں بڑے
’’جب کہ نبوت محمدیہ تاقیامت زندہ ہے اور فیضان محمدی جاری ہے تو سلسلہ نبوت کے بند ہونے سے ہمیں کوئی
نقصان نہیں ہے۔ بلکہ
576
ہمارے پاس تو خاتم النّبیین کی زندہ نبوت ہر آن موجود ہے اور اسی نبوت کاملہ کی ایک جھلک نے مسیح
ناصری (عیسیٰ علیہ السلام) جیسے ہزاروں کاملین کو پیدا کیا اور مسیح موعود (یعنی مرزاقادیانی) انہیں میں سے ایک ہیں اور
میرے ایمان میں ان سب سے بڑے بھی ہیں۔ مگر ہم اصل کو چھوڑ کر یعنی ختم نبوت کا انکار کر کے کسی اور نبوت کو
کیا کریں۔ (اور اس کی ضرورت بھی کیا ہے۔ جب کہ یوں ہی مرزاقادیانی آپ کے نزدیک مسیح ناصری جیسے ہزارں کاملین
میں سب سے بڑھ گئے۔ مقصود حاصل ہوگیا۔ قادیانی جماعت لاہور بنظر مصلحت بالعموم ایسے ہی ابہام سے کام لیتی ہے
صاف، صاف کہتے جھجکتی ہے۔ جماعت قادیان صاف گوئی سے کام لیتی ہے۔ مرزاقادیانی کی نبوت مانتی ہے۔ لیکن مافی
الضمیر دونوں جماعتوں کا ایک ہی ہے۔ صرف نفاق اور اخلاق کا فرق ہے۔ للمؤلف)‘‘
(مولوی عمرالدین قادیانی مبلغ جماعت لاہور کا بیان، اخبار پیغام صلح لاہور ج۲۴ نمبر۷۸ ص۵ کالم۲،
مؤرخہ ۷؍دسمبر ۱۹۳۶ء)
(۷) لاہوری عقیدہ نبوت
’’یہ تو احمدی غیراحمدی کا سوال ہے۔ اب لیجئے قادیانی احمدی ایسے احمدی کو جو ان کی جماعت سے نکل کر
لاہوری جماعت میں شامل ہو جائے، مرتد کہتے ہیں۔ حالانکہ اصطلاحی لحاظ سے مرتد وہ ہوتا ہے، جو اسلام چھوڑ دے۔
جب ایک ایسی جماعت کے ساتھ جو حضرت مسیح موعود کو بروزی اور ظلی نبی بھی مانتی ہے۔ قادیانی احمدیوں کا یہ
سلوک ہے تو ان کا سلوک غیراحمدیوں یا احرار کے ساتھ تو کہیں بدتر ہوگا۔‘‘
(اخبار پیغام صلح لاہور ج۲۴ نمبر۴۹ ص۲ کالم۲، مؤرخہ ۳؍اگست ۱۹۳۶ء)
(۸) خدا کی آواز
’’حضرت مسیح موعود نے مسیح ناصری کی وفات کی خبر اللہ تعالیٰ سے اطلاع پانے کے بعد دی اور قرآن مجید سے
اس پر دلائل دئیے۔ آئمہ اسلام اور علمائے متقدمین نے صرف اپنے اجتہادات اور تدبر سے کام لیا۔ بعض نے عیسیٰ
کو فوت شدہ تسلیم کیا اور بعض نے اسے زندہ آسمان پر یقین کیا۔ لیکن بفرض محال اگر یہ بھی تسلیم کر لیا جائے
کہ تمام ائمہ اسلام اور بزرگان سلف نے مسیح علیہ السلام کی حیات پر ہی اتفاق کیا ہے تو بھی ایک شخص جب خدا
سے اطلاع پاکر یہ اعلان کرے کہ اللہ تعالیٰ نے اسے بذریعہ الہام اور وحی یہ اطلاع دی ہے کہ مسیح علیہ السلام
وفات پاگئے تو ہمیں الہام الٰہی کے آگے سرجھکانے کے سوا کوئی چارہ نہیں۔ ہم بے شک آئمہ سلف اور بزرگان امت
کی عزت کریں اور ان کی محنت اور خدمت پر صدائے تحسین بلند کریں۔ لیکن ان کے اجتہاد اور ان کی آواز کو خدا کی
آواز پر ترجیح نہیں دی جاسکتی۔‘‘
(اخبار پیغام صلح لاہور ج۲۳ نمبر۵۸ ص۳ کالم۱، مؤرخہ ۱۱؍ستمبر ۱۹۳۵ء)
(۹) جرأت وجسارت
’’پیغامیوں (لاہوری فریق) کی جرأت وجسارت دیکھئے ایک طرف تو حضرت مسیح موعود (مرزاقادیانی) سے غایت
درجہ کی عقیدت ونیاز مندی کا اظہار کرتے ہیں۔ حضور کی علمی وراثت کے دعویدار ہیں اور نہایت آہنگی سے آپ کی
تعلیم کا صحیح مفہوم سمجھنے کے مدعی ہیں۔ مگر دوسری طرف یہ حال ہے کہ آپ کے پیش کردہ عقائد پر نہایت ہی
بیہودہ اور لغو اعتراض کرتے رہتے ہیں اور ایسے ایسے حملے ان کی تحریرات میں بکثرت پائے جاتے ہیں جن سے یہ
معلوم ہوتا ہے کہ ان کے قلوب میں حضرت مسیح موعود کی کچھ بھی وقعت نہیں ہے۔‘‘
(اخبار الفضل قادیان ج۱۸ نمبر۶۵، مؤرخہ ۲۹؍نومبر ۱۹۳۰ء)
577
(۱۰) ایک افتراء
’’مولوی محمد علی صاحب (امیرجماعت لاہور) نے اپنے تازہ رسالہ شناخت مامورین کے صفحہ۲۰ میں لکھا ہے۔
’’خود حضرت (مرزاقادیانی) صاحب نے لکھا ہے کہ میں اپنے الہامات کو کتاب اللہ اور حدیث پر عرض کرتا ہوں
اور کسی الہام کو کتاب اللہ اور حدیث کے مخالف پاؤں تو اسے کھنگار کی طرح پھنک دیتا ہوں۔‘‘ جس کا مفہوم یہ ہے
کہ حضرت مسیح موعود کے نزدیک آپ کے لئے الہام کتاب اللہ اور حدیث رسول اللہ کے مخالف ہوتے تھے جن کو حضرت مسیح
موعود کھنگار کی طرح پھینک دیتے تھے۔ حالانکہ حضرت مسیح موعود کا کوئی الہام بھی ایسا نہیں جو کتاب اللہ اور
حدیث رسول کے مخالف ہو اور جسے کتاب اللہ یا حدیث رسول اللہ کے مخالف پاکر حضرت مسیح موعود نے رد کیا ہو۔ کیونکہ
حضرت مسیح موعود اپنے جملہ الہامات کو قطعی اور یقینی طور پر خداتعالیٰ کا کلام جانتے تھے اور فرماتے تھے۔
جیسے مسیح پر خدا کا کلام نازل ہوا ایسا ہی مجھ پر ہوا جیسے دوسرے نبیوں سے خدا نے مکالمہ مخاطبہ کیا۔ اس نے
مجھے بھی ایسا ہی شرف بخشا۔ پس یہ مولوی محمد علی کا ایک افتراء ہے جو اس نے حضرت مسیح موعود پر باندھا ہے
کہ حضور نے کہیں ایسا لکھا ہے کہ میں اپنے الہامات کو کتاب اللہ اور حدیث رسول اللہ کے مخالف پاکر پھینک دیتا
ہوں۔‘‘
(اخبار الفضل قادیان ج۷ نمبر۱ ص۳ کالم۱، مؤرخہ یکم؍جولائی ۱۹۱۹ء)
(۱۱) عملی قدم
’’غیرمبایعین (لاہوری فریق) احمدیت سے ظاہر تعلق بھی منقطع کرنے کے لئے جو طریق عمل اختیار کر رہے ہیں
اس کا کسی قدر پتہ اس سے لگ سکتا ہے کہ مولوی محمد علی صاحب (امیر جماعت لاہور) نے اپنی کتاب النبوۃ فی
الاسلام میں غیراحمدیوں کو فاسق قرار دیا تھا۔ لیکن اب النبوۃ فی الاسلام مطبوعہ باردوم سے وہ صفحہ ہی حذف
کر دیا گیا ہے۔ جس میں غیراحمدیوں کے فاسق ہونے کا ذکر تھا۔ اب اس سے آگے انہوں نے عملی طور پر یہ قدم
بڑھایا ہے کہ یسے لوگوں کو جن کی ساری زندگی حضرت مسیح موعود (مرزاقادیانی) کی شدید مخالفت میں گزری ہے اور
اس وقت بھی وہ احمدیت کے سخت دشمن ہیں۔ ان سے اپنے جلسوں میں تقریریں کراتے ہیں اور تقریریں بھی ایسی جو کسی
متحدہ مسئلہ پر نہیں بلکہ حضرت مسیح موعود (مرزاقادیانی) کے صریحاً خلاف ہوتی ہیں۔‘‘
(اخبار الفضل قادیان ج۱۸ نمبر۷۷ ص۶ کالم۲، مؤرخہ یکم؍جنوری ۱۹۳۱ء)
(۱۲) علی الاعلان
’’مولوی عبد اللہ صاحب مذکور نے جو غیرمبایعین (لاہوری جماعت) کی مقامی (سری نگر کی) انجمن کے پریسیڈنٹ
بھی ہیں اپنے مکان پر اچھے خاصے مجمع کے روبرو اور غیرمبایعین کے مبلغین کی موجودگی میں علی الاعلان کہا کہ
مرزاصاحب کے وجود سے اسلام کو اتنا فائدہ نہیں پہنچتا جتنا کہ نقصان پہنچا ہے۔ ان کی وجہ سے مسلمانوں میں
تفرقہ بڑھ گیا ہے۔ ان کے بیانات واقوال میں ہزارہا غلطیاں ہیں۔ ان کے الہامات مشتبہ ہیں۔ ان کی بہت سی پیش
گوئیاں جھوٹی نکلی ہیں اور بعض پیش گوئیوں کا تصریح کے ساتھ ذکر کر کے ان کی تکذیب کی اور ایک پیش گوئی کے
متعلق تو یہاں تک کہا کہ اس کے جھوٹا ہونے پر زمین وآسمان گواہ ہیں اور کہا کہ مرزاصاحب کے جھوٹا ثابت ہونے
میں نہ صرف کوئی نقصان نہیں بلکہ اس میں فائدہ ہے۔ کیونکہ اس طرح سے ان کا نام درمیان سے مٹ کر صرف خالص
اسلام اور محمد رسول اللہ ﷺ کا نام باقی رہ جائے گا۔ ان باتوں کو سن کر غیرمبایعین اور ان کے مبلغین نے نہ صرف
ان کے خلاف کوئی لفظ نہ کہا۔ بلکہ ان کے مبلغ
578
مرزامظفربیگ صاحب نے مولوی عبد اللہ صاحب کی تائید میں حضرت مسیح موعود (مرزاقادیانی) کے الہامات کا ذکر
تمسخر اور استہزاء کے طریق پر کرتے ہوئے کہا کہ مرزاصاحب کے الہامات کا نمونہ سنئے۔ کمترین کا بیڑا غرق
ہوگیا۔ ’’خاکسار پیپرمنٹ‘‘۔ ’’مرغی بولتی ہے‘‘ اور جب اس مؤخر الذکر فقرہ کا حوالہ پوچھا گیا تو کہا کہ اگر
میں دکھادوں تو اس کا نتیجہ کیا ہوگا۔ میں نے کہا کہ اس صورت میں ہم اسے حضور کا الہام تسلیم کر لیں گے۔ اس
پر ان کو استہزاء کا ایک اور زریں موقع مل گیا اور خوب دل کھول کر حضور کے الہامات پر تمسخر کیا۔‘‘
(الفضل قادیان ج۱۷ نمبر۲۴ ص۱۰ کالم۱، مؤرخہ ۲۰؍ستمبر ۱۹۲۹ء)
(۱۳) درمیان، درمیان
’’اسی اثناء میں آوازیں آگے لگیں کہ لاہوری لوگ یا قادیانیوں کے ساتھ مل جائیں جو مرزاصاحب کی تعلیم
پر قائم ہیں یا پھر ہمارے ساتھ مل جائیں۔ درمیان درمیان کی حالت ٹھیک نہیں۔ چنانچہ اسی کا نتیجہ تھا کہ
دوسرے روز آپ نے (لاہوری فریق کے مناظر نے) باربار حضرت مسیح موعود کی توہین کی اور مرزا،مرزا کے خطاب کے
علاوہ یہاں تک کہہ دیا کہ مرزاصاحب صحابہ کی جوتیوں کے برابر نہ تھے۔ نعوذ باللہ ! جس پر غیراحمدیوں کو خوشی کا
موقع مل گیا اور انہوں نے کہا آپ تو ہمارے ساتھ مل گئے۔ اب جمعہ بھی ہمارے پیچھے پڑھیں۔ مگر ہاتھی کے دانت
دکھانے کے اور، اور کھانے کے اور ہوتے ہیں۔ آپ نے عملاً اس کا انکار کر دیا۔‘‘
(الفضل قادیان ج۱۷ نمبر۳۱ ص۶ کالم۲، مؤرخہ ۱۵؍اکتوبر ۱۹۲۹ء)
(۱۴) منافقت
’’غیرمبایعین نے مرکز احمدیت یعنی قادیان سے قطع تعلق کرتے ہوئے سمجھا تھا کہ جماعت کا سواداعظم ان کے
ساتھ ہے۔ مگر جلدی ہی انہیں معلوم ہوگیا کہ ان کا یہ خیال غلط ہے۔ اسی دوسران میں وہ حضرت مسیح موعود کی
تعلیم سے منہ موڑ کر غیراحمدیوں کی طرف متوجہ ہوئے کہ شاید وہی ان کا ساتھ دیں گے۔ مگر ان میں بھی دال نہ
گلی۔ وہ انہیں منافقت سے کام لینے والے قرار دے کر نفرت کا اظہار کرتے رہتے ہیں۔ غرض جن لوگوں کا اپنے ساتھ
ملانے کے لئے غیرمبایعین نے حضرت مسیح موعود کی تعلیم کو چھوڑا۔ وہ انہیں جواب دے بیٹھے ہیں۔‘‘
(الفضل قادیان ج۲۱ نمبر۱۳۱ ص۸، مؤرخہ ۳؍مئی ۱۹۳۴ء)
(۱۵) لاہوری عقائد پر قادیانی تبصرہ
’’غیرمبایعین (یعنی لاہوری جماعت) نے جب مرکز احمدیت (یعنی قادیان) کو چھوڑا ان کے اعتقادات کا
انتہائی تنزل نمایاں ہونا شروع ہوگیا۔ اگرچہ یہ کمزوری ان کے اندر پہلے سے موجود تھی۔ جس کی وجہ سے خلافت
اولیٰ کے زمانہ میں کئی خطبات ان کو مدنظر رکھ کر حکیم الامت حضرت خلیفۃ المسیح اوّل (حکیم نورالدین) کو
فرمانے پڑے اور ان میں سے بعض کو بیعت کی بھی تجدید کرنی پڑی۔ اس وقت بھی ان کے عقائد مشتبہ تھے۔ تب ہی تو
ان کو یہ اعلان کرنا پڑا کہ: معلوم ہوا ہے کہ بعض احباب کو غلط فہمی میں ڈال دیا ہے کہ اخبار ہذا کے ساتھ
تعلق رکھنے والے احباب یا ان میں سے کوئی ایک سیدنا وہادینا حضرت مرزاغلام احمد صاحب مسیح موعود ومہدی معہود
کے مدارج عالیہ کو اصلیت سے کم یا استخفاف کی نظر سے دیکھتا ہے۔ ہم تمام احمدی جن کا کسی نہ کسی صورت میں
اخبار پیغام صلح کے ساتھ تعلق ہے۔ خداتعالیٰ کو جو دلوں کے بھید
579
جاننے والا ہے حاضر ناظر جان کر اعلان کرتے ہیں کہ ہماری نسبت اس قسم کی غلط فہمی پھیلانا محض بہتان
ہے۔ ہم حضرت مسیح موعود ومہدی معہود (مرزاقادیانی) کو اس زمانہ کا نبی، رسول اور نجات دہندہ مانتے ہیں۔‘‘
(پیغام صلح لاہور ج۱ نمبر۴۲ ص۲ کالم۳، مؤرخہ ۱۶؍اکتوبر ۱۹۱۳ء)
’’مگر آہستہ آہستہ ان کے عقائد میں تغیر شروع ہوا۔ نبی اور رسول اور نجات دہندہ کو محض مجدد صدی
چہاردہم قرار دینے لگے اور ظلی نبی کی ایسی تشریح کرنے لگے جو حضرت مسیح موعود (مرزاقادیانی) کے اس ارشاد کے
بالکل خلاف ہے کہ ’’ظلی نبوت‘‘ جس کے معنی ہیں کہ محض فیض محمدی سے وحی پانا۔‘‘
(حقیقت الوحی ص۲۸، خزائن ج۲۲ ص۳۰)
’’نیز بروزی نبی کہنا شروع کیا اور اس کی یہ تشریح کی جانے لگی جیسا کہ حال میں غیرمبایعین کے
راولپنڈی کے جلسہ میں میر مدثر شاہ صاحب نے کہا کہ بروز سے مراد ایسا ہی ہے جیسا کہ بعض گذشتہ اولیاء نے
اپنے آپ کو کہا کہ من خدایم یا انا الحق وغیرہ۔ نہ وہ خدا بن گئے اور نہ حضرت مرزاصاحب نبی بن گئے… اب
غیرمبایعین کی حالت یہاں تک پہنچ گئی ہے کہ جب انہوں نے اپنا جلسہ ۲۲،۲۳؍اپریل کو راولپنڈی میں کیا تو ان کے
مقررین نے سارا زور اس بات پر صرف کردیا کہ ہم مرزاصاحب کو نبی نہیں مانتے اور جو ان کو نبی کہے اس کو کاذب
اور ملحد اور کافر جانتے ہیں… میں نے ان کی اس شرط کو مان کر حضرت مسیح موعود (مرزاقادیانی) کا دعویٰ نبوت
آپ کی کتابوں سے واضح کیا اور ایک غلطی کا ازالہ سے آپ کی نبوت کی تشریح پیش کی۔ آخر میں ۱۶؍اکتوبر ۱۹۱۳ء
والی تحریر پیغام صلح بھی پڑھ کر سنادی گئی اور ثابت کیاگیا کہ یہ لوگ بھی حضرت مسیح موعود (مرزاقادیانی) کو
نبی مانتے ہیں۔ مگر ان کے دانت کھانے کے اور ہیں اور دکھانے کے اور… غیرمبایعین کی اس روش کو دیکھ کر حضرت
مسیح موعود (مرزاقادیانی) کے اس فرمودہ کی حقیقت واضح ہو جاتی ہے کہ جو آپ نے (تریاق القلوب ص۳۲، خزائن ج۱۵
ص۴۳۲ حاشیہ) میں فرمایا ہے کہ جو شخص خدا کے مامور سے انکار کرتا ہے۔ آخر اس کا ایمان سلب ہو جاتا ہے۔‘‘
(الفضل قادیان ج۲۱ نمبر۱۳۱ ص۸، مؤرخہ ۳؍مئی ۱۹۳۴ء)
(۱۶) قادیانی طعن
’’اے غیروں کی خاطر اپنوں پر حملہ کرنے والا اور اپنی جماعت سے بچھڑے ہوئے بھائیو (لاہوری جماعت) اگر
تم حضرت مسیح موعود کی تعلیم پر عمل کرتے۔ اگر تم نورالدین اعظم کے اس فقرے کو ذہن میں رکھتے کہ غیراحمدیوں
کا اسلام اور ہے اور ہمارا اور، اور تم اس خودداری اور غیرت کو ملحوظ رکھتے جو مومن کی شایان شان ہے تو
تمہیں یہ دن دیکھنے نصیب نہ ہوتے اور تمہارے خداوندان رزق اور تمہارے حلال العقود مسجودین کہ جن کی خاطر تم
نے اپنی خصوصیات کو یکے بعد دیگرے بیدردی سے مٹ جانے دیا۔ آج اس دریوزہ گری کے باعث تم پر لعنت ملامت نہ
کرتے۔ دیکھو غیروں (مسلمانوں) سے ملنے کا یہی نتیجہ ہوتا ہے کہ پہلے وہ چند درہم ودینار دکھاتے ہیں اور تم
سے سادہ لوحوں کو خوش کرتے ہیں۔ جب تم ان کی خاطر اپنوں (قادیانیوں) سے الجھ پڑتے ہو اپنوں پر وار کرتے ہو
تو وہ صاف صاف کہنے لگتے ہیں کہ اوسادہ لوحو اور شیخی خورے ریاکارو ہم تمہیں چندہ دیتے ہیں اور نہ صرف خود
ہی چندہ دیتے ہیں بلکہ اوروں کو بھی ترغیب دیتے ہیں۔ تم ہمیں کیا طعن دے سکتے ہو۔ ہمارے چندوں کے گواہ
تمہارے سیکرٹری ڈاکٹر محمد حسین ہیں۔ اس کا جواب تمہارے پاس کچھ نہیں۔ کیونکہ واقعی تمہارا ہاتھ اور دامن
ہمیشہ ان کے سامنے پھیلا رہتا ہے۔ پھر تم کیسے احمدی کہلا کر احمد پر اعتراض کرنے والے ظالموں کا مقابلہ کر
سکتے ہو۔ تم پر افسوس کہ تمہاری کوتاہ اندیشیوں نے تم کو تباہ کر دیا۔‘‘
(الفضل قادیان ج۷ نمبر۶۲ ص۶ کالم۱، مؤرخہ ۱۹؍فروری ۱۹۲۰ء)
580
(۱۷) چال باز
’’غیرمبایعین (لاہوری فریق) بہ خیال خویش ہمارے خلاف سب سے زیادہ زبردست جو اعتراض پیش کیا کرتے ہیں
وہ یہ ہے کہ ہم حضرت مرزاصاحب کے ماننے والوں کے سوا کسی کو مسلمان نہیں سمجھتے۔ اگرچہ یہ فیصلہ ہمارا نہیں
بلکہ اسی انسان کا ہے جو خداتعالیٰ کی طرف سے دنیا کے لئے حکم اور عدل ہوکر آیا۔ لیکن چونکہ عوام الناس اس
بات سے ہمارے خلاف مشتعل ہوسکتے ہیں۔ اس لئے غیرمبایعین اس بات پر بہت زور دیا کرتے ہیں اور اس کے مقابلہ
میں اپنا یہ عقیدہ بیان کرتے ہیں کہ ہم کسی کلمہ گو کو کافر نہیں کہتے۔ ہر ایک وہ شخص جو کلمہ پڑھتا ہے
مسلمان ہے۔ ہاں! جو دوسرے مسلمان کو کافر کہتا ہے وہ خود کافر ہو جاتا ہے۔ یہ ایچ پیچ وہ اس لئے کیا کرتے
ہیں کہ اگر ایک طرف عام مسلمانوں سے کاسہ گدائی بھروا سکیں تو دوسری طرف جماعت احمدیہ سے یہ کہہ کر عوام کو
متنفر کردیں کہ یہ چند لاکھ آدمیوں کے سوا باقی سب دنیا کے مسلمانوں کو کافر سمجھتے ہیں۔ لیکن اب ان دونوں
باتوں میں ناکامی اور نامرادی دیکھ کر وہ اپنا رنگ بدل رہے ہیں۔ کیونکہ مسلمان بجائے اس کے کہ ان کی طرف
مائل ہوتے انہیں منافق طبع اور چال باز سمجھ کر دھتکار رہے ہیں۔‘‘
(الفضل قادیان ج۲۲ نمبر۱۰، مؤرخہ ۲؍اگست ۱۹۳۴ء)
(۱۸) لاہوری پیچ
’’غیرمبایعین (لاہوری جماعت) غیراحمدیوں کو ہمارے خلاف اشتعال دلانے کے لے شروع سے یہ حربہ چلاتے آرہے
ہیں کہ ہم ان کو مسلمان نہیں سمجھتے۔ ہم تو جو کچھ سمجھتے ہیں اسے چھپاتے نہیں اور نہ غیراحمدی اس سے ناواقف
ہیں۔ لیکن حیرت یہ ہے کہ خود غیرمبایعین جب کاسہ لیسی کرتے، کرتے تھک جاتے ہیں تو غصہ میں آکر غیراحمدیوں کو
نہ صرف اسلام سے خارج کر دیتے ہیں۔ بلکہ ان کو ذلیل بندر کہنے سے بھی دریغ نہیں کرتے۔ چنانچہ ۲۷؍جون ۱۹۲۰ء
میں (پیغام صلح ج۷ نمبر۹۷ ص۳ کالم۲) میں چند کھری کھری باتیں کے عنوان سے جو مضمون درج کیاگیا ہے اس میں ایک
طرف تو مفسرین کے متعلق یہ بیان کیا ہے کہ انہوں نے مغضوب سے مراد قوم یہود کو لیا ہے جنہوں نے تفریط کی راہ
اختیار کی اور ’’کونوا قردۃ خاسئین‘‘ (ہو جاؤ ذلیل بندر) کے مصداق ٹھہرے۔ اور اس
کے ساتھ ہی غیراحمدیوں کو تفریط کی راہ اختیار کرنے والے قرار دیتے ہوئے لکھا ہے۔ غیراحمدی صاحبان ہیں جنہیں
سوائے معدودے چند روشن خیال اشخاص کے باقی سب تفریط کے پہلو کو اختیار کئے ہوئے ہیں۔ اس سے صاف ظاہر ہے کہ
غیرمبایعین (لاہوری جماعت) خود غیراحمدیوں کو مسلمان نہیں سمجھتے بلکہ تفریط کی راہ اختیارکر کے ’’کونوا قردۃ خاسئین‘‘ کا مصداق بن جانے والے قرار دیتے ہیں۔‘‘
(الفضل قادیان ج۸ نمبر۴ ص۴ کالم۳،مؤرخہ ۲۲؍جولائی ۱۹۲۰ء)
(۱۹) لاہوری تفسیر
’’اگرچہ قادیانی جماعت کو دعویٰ ہے کہ مولوی محمد علی صاحب لاہوری نے قرآن کا جو انگریزی ترجمہ کیا ہے
وہ ان کی ملک ہے نہ کہ مولوی صاحب کی۔ چنانچہ قادیانی اخبار (الفضل ج۲۱ نمبر۱۲۹، مؤرخہ ۲۹؍اپریل ۱۹۳۴ء) میں
شکایت لکھتا ہے کہ:
’’یہ ترجمہ قرآن جسے انہوں نے صدر انجمن احمدیہ قادیان کی ملازمت میں نہایت معقول ماہوار تنخواہ وصول
کر کے کیا تھا مگر جب وہ مکمل ہوگیا تو دھوکہ دے کر اپنے ساتھ ہی لے گئے اور پھر اپنی ذاتی جائیداد قرار دے
کر اسے اپنی آمدنی کا ذریعہ بنالیا۔‘‘
581
تاہم اس جماعت کو بھی اس ترجمہ کی صحت پر کافی اعتراض ہے۔ مثلاً اخبار (الفضل قادیان ج۲۱ نمبر۱۲۱،
مؤرخہ ۱۰؍اپریل ۱۹۳۴ء) میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی ولادت کے تحت تفسیر کی غلطی کا حسب ذیل نمونہ پیش
کرتا ہے۔
’’حضرت مریم کی والدہ کی اس دعا سے معلوم ہوتا ہے کہ مریم کو باوجود ہیکل کی خدمت کے لئے وقف کرنے کے
ان کا یہ منشاء نہ تھا کہ وہ کنواری رہے گی۔ بلکہ وہ جانتی تھیں کہ وہ جوان ہوکر بیاہی جائے گی اور صاحب
اولاد ہوگی۔ اس لئے انہوں نے نہ صرف مریم کے لئے دعا کی بلکہ مریم کی اولاد کے لئے بھی۔ رہبانیت یا تارک
دنیا ہونے کا طریق عیسائیوں کی ایجاد ہے۔‘‘
(بیان القرآن ص۲۹۵، جدید بیان القرآن ج۱ ص۲۰۰، مؤلفہ محمد علی لاہوری قادیانی)
بعض مفسرین نے اس مصیبت کو یوں ٹالنا چاہا کہ وہ کہتے ہیں کہ یہ یوسف کی پہلی بیوی کی اولاد تھی اور
حضرت مریم ان کی دوسری بیوی تھیں۔ مگر ایک طرف تعلق زوجیت کا حضرت مریم اور یوسف میں موجود ہونا خود اناجیل
سے ظاہر ہے۔ دوسری طرف ماں کے ساتھ بھائیوں کا آنا صاف بتاتا ہے کہ یہ اسی ماں کی اولاد تھے۔ سوتیلے بھائی
ہوتے تو مریم سے ان کا کیا تعلق تھا۔ تیسرے کہیں بھی سوتیلے بھائی کا لفظ استعمال نہیں کیاگیا۔ جب لفظ بھائی
مطلقاً استعمال کیا جائے گا تو اس سے مراد حقیقی بھائی لیا جائے گا۔ پس یہ انجیلی شہادت صاف بتاتی ہے کہ
حضرت مریم کا تعلق زوجیت تو یوسف کے ساتھ ضرور ہوا اور اس تعلق سے اولاد بھی پیدا ہوئی اور اگر ایک طرف
’’لم یمسسنی بشر‘‘ اس وقت کے بعد مس بشر سے مانع نہیں تو دوسری طرف تاریخی ثبوت
کھلا، کھلا موجود ہے کہ واقعی میاں بیوی کے تعلقات حضرت مریم اور آپ کے شوہر کے رہے۔
(بیان القرآن ص۳۱۲، جدید بیان القرآن ج۱ ص۲۱۴، مؤلفہ محمد علی لاہوری قادیانی)
یہ ہے مولوی محمد علی صاحب کی قرآن دانی اور تفسیر القرآن جس پر وہ پھولے نہیں سماتے اور اسے اپنا
کارنامہ قرار دے کر اپنے عقائد کو حضرت مسیح موعود (مرزاقادیانی) کی تعلیم کے مطابق قرار دیتے ہوئے ذرا نہیں
شرماتے۔‘‘
(اخبار الفضل قادیان ج۲۱ نمبر۱۲۱ ص۷ کالم۲،۳، مؤرخہ ۱۰؍اپریل ۱۹۳۴ء)
علیٰ ہذا اخبار الفضل قادیان کا دوسرا اعتراض بھی قابل غور ہے، ملاحظہ ہو:
’’حضرت ابراہیم علیہ السلام کے متعلق قرآن کریم میں آتا ہے:’’فما کان جواب قومہ الا ان
قالوا اقتلوہ اوحرقوہ فانجاہ اللہ من النار ان فی ذلک لایت للقوم یومنون‘‘ اس آیت کے متعلق حضرت
مسیح موعود کا یہ عقیدہ ہے کہ جب مخالفین نے حضرت ابراہیم علیہ السلام کو آگ میں ڈالا تو اللہ تعالیٰ نے ان کو
آگ کے اثر سے محفوظ رکھا۔ حضرت مسیح موعود نے حضرت ابراہیم علیہ السلام کو آگ میں ہی ڈالنا قرار دیا ہے۔
حتیٰ کہ اس ذکر میں فرمایا کہ اگر کوئی دشمن مجھے آگ میں ڈالے تو خداتعالیٰ مجھے بھی آگ کے اثر سے بچالے گا۔
لیکن مولوی محمد علی صاحب نے حضرت مسیح موعودکے اس اعتقاد، اس تحدی اور اس تصریح کے باوجود حضرت ابراہیم
علیہ السلام کے آگ میں ڈالے جانے سے انکار کیا ہے۔‘‘
(اخبار الفضل قادیان ج۲۱ نمبر۷۴،۱۲۱، مؤرخہ ۱۹؍دسمبر ۱۹۳۳ء، ۱۹؍اپریل ۱۹۳۴ء)
قادیانی جماعت کو شکایت ہے کہ مولوی محمد علی نے جو قرآن کریم کا انگریزی ترجمہ مع حواشی شائع کیا ہے،
اس میں مرزاغلام احمد قادیانی کے دو عقائد سے اختلاف کیا ہے۔ گویا مولوی محمد علی کو اس ترجمہ میں قادیانی
عقائد سے سرموتجاوز نہ کرنا چاہئے تھا۔ حالانکہ مولوی محمد علی لاہوری نے اس میں قادیانی تحریک کو بہت خوبی
سے پیوست کیا ہے کہ سرسری طور پر کسی کو تعرض نہ ہو اور بات دل نشین ہو جائے۔
582
مثلاً تمہید میں کھلے دل سے مرزاغلام احمد قادیانی سے فیضان کا بحیثیت مرید اعتراف کرتے ہوئے
مرزاقادیانی کے مہدی اسلام ہونے کا اعلان کیا ہے۔ پھر سورہ فاتحہ کی آخری آیات کی تفسیر میں دعویٰ کیا ہے کہ
جو وحی انبیاء علیہم السلام پر نازل ہوتی تھی وہی اب دوسروں پر بھی نازل ہو سکتی ہے۔ پھر سورۂ جمعہ کے پہلے
ہی رکوع میں تفسیر کرتے ہوئے واضح کیا ہے۔ مرزاقادیانی ہی مسیح موعود ہیں نہ کہ اور کوئی۔ علیٰ ہذا سورہ آل
عمران کے پانچویں رکوع میں جو عیسیٰ علیہ السلام کے معجزات مذکور ہیں، جس طرح مرزاغلام احمد قادیانی نے
انکار کی حد تک ان کی تاویل کی ہے، مولوی محمد علی لاہوری نے انہیں تاویلات کی انگریزی تفسیر میں پوری
ترجمانی کی ہے۔ ذرا بھی فرق نہیں۔ اسی طرح مرزاقادیانی نے شق القمر کو چاند گرہن تجویز کر کے معجزہ کی حیثیت
تقریباً غائب کر دی تو مولوی محمد علی لاہوری نے بھی سورہ قمر کی تفسیر میں اسی پہلو پر زور دیا ہے۔ بلکہ
یہاں تک لکھ دیا ہے کہ اس واقعہ کی مذمت میں کوئی اہمیت نہیں ہے۔ اگر معجزہ ہے تو یہ کہ پیش گوئی پوری
ہوگئی۔ مرزاقادیانی نے ملائکہ کی جو تاویل کی ہے وہی تاویل مولوی محمد علی لاہوری کی تمہید میں موجود ہے۔
غرض کہ مولوی محمد علی لاہوری نے اپنی انگریزی تفسیر میں قادیانی تحریک کا پورا حق ادا کیا ہے اور بڑی خوبی
سے ادا کیا ہے کہ کام بن جائے اور الزام نہ آئے۔ پھر قادیانی جماعت کو شکوہ ہے کہ مولوی محمد علی لاہوری نے
کوتاہی کی۔ مرزاقادیانی کے عقائد کی پوری تبلیغ نہ کی۔ انصاف کیجئے تو مسلمانوں کو شکایت کا حق ہے کہ محض
اعتقاد کی بناء پر انہوں نے بھی اس ترجمہ کی تیاری میں خاصی مالی امداد دی اور پھر ترجمہ کے ساتھ اس رنگ کی
تفسیر نکلی۔ مزید خرابی یہ کہ عام تعلیم یافتہ مسلمان جو اسلامی تعلیمات سے کم واقف ہیں، اسی اعتماد کی بناء
پر اب تک اس تفسیر کو مستند سمجھتے ہیں کہ ایک مسلمان کے نام سے شائع ہوئی ہے۔ کسی غیرمسلم کا نام ہوتا تو
پھر بھی محتاط رہتے۔ یوں تو اس انگریزی تفسیر میں بہت سے امور قابل اصلاح ہیں۔ یہاں نمونتاً چند پر اکتفاء
کیاگیا۔ پس بڑی خوبی ہے تو یہ ہی کہ سب سے اوّل ایک مسلمان کے نام سے شائع ہوئی اور نسبتاً عیسائیوں کے
حواشی سے غنیمت ہے۔ محمد پکھتال صاحب نے جو قرآن شریف کا انگریزی ترجمہ کیا ہے، وہ بھی شائع ہوگیا ہے۔ انجیل
کے طرز پر اس کی زبان بہت مؤثر اور دل پذیر ہے۔ علامہ عبد اللہ یوسف علی صاحب نے بھی قرآن شریف کا انگریزی
ترجمہ کیا ہے۔ مختصر تفسیر بھی لکھی ہے۔ خاص علمی رنگ نظر آتا ہے۔ شیخ محمد اشرف صاحب تاجر کتب کشمیری بازار
لاہور نے اس کو طبع کرایا ہے۔ قابل دید ہے۔
(۲۰) یہودی، عیسائی اور مسلمان کون ہیں
’’احمدی فریق لاہور حضرت مرزاصاحب کو نہ ماننے والوں کو نہ صرف معمولی کافر ہی یقین رکھتا ہے۔ بلکہ وہ
ان سب مسلمانوں کو جو حضرت مرزاصاحب کو نہیں مانتے یہودی قرار دیتا ہے۔ جیسا کہ مولوی محمد علی صاحب امیر
احمدی فریق لاہور رقم فرماتے ہیں کہ:
سلسلہ احمدیہ اسلام کے ساتھ وہی تعلق رکھتا ہے جو عیسائیت کو یہودیت کے ساتھ تھا۔‘‘ (ترجمہ)
(رسالہ ریویو آف ریلیجنز قادیان ج۵ نمبر۵ ص۱۶۳، بابت ماہ مئی ۱۹۰۶ء، اقتباس مباحثہ راولپنڈی ص۲۴۰)
’’اب یہ حوالہ کسی مزید تشریح کا محتاج نہیں۔ عیسائی اور مسلمان یہودیوں کو کافر بلکہ اکثر تاقیامت
مغضوب اور ملعون یقین رکھتے ہیں۔ قرآن کریم نے یہودیوں کے حق میں بالخصوص بیسیوں مقامات پرجو کچھ لعنت
ونفرین اور غضب کے فتویٰ لگائے ہیں، وہ عیسائیوں اور مسلمانوں سے مخفی نہیں۔ پس بالفاظ دیگر حضرت مرزاصاحب
کے نہ ماننے والوں کو یہودی قرار دینا نہ صرف معمولی کافر قرار دینا ہے، بلکہ مغضوب علیہم کافر گرداننا ہے۔
چنانچہ قبلہ محمدعلی صاحب موصوف نے نہایت صفائی اور جرأت سے کام لے کر اپنے دلی عقیدے کا اس مختصر سے
583
فقرے میں اظہار فرمایا ہے کہ سلسلہ احمدیہ اسلام کے ساتھ وہی تعلق رکھتا ہے جو عیسائیت کو یہودیت کے
ساتھ ہے۔
’’کیا احمدی فریق لاہور کے نزدیک حضرت مرزاغلام احمد صاحب قادیانی کو نہ ماننے والے مسلمان ہیں۔‘‘
(رسالہ مرتبہ فخرالدین ملتانی قادیانی)
میں نے کہا سورۂ فاتحہ تو بقول مسیح موعود ان کے صدق دعویٰ پر ایک الٰہی مہر ہے۔ مولانا (اسعد اللہ
صاحب) نے پوچھا کہ آپ ہمیں کیا سمجھتے ہیں۔ میں نے کہا سورۂ فاتحہ سے ہی اب میں جواب دیتاہوں سنئے۔ اس
سورۂ شریف میں پانچ وقت ہم منعم علیہ بننے کی اور مغضوب اور ضال ہونے سے بچنے کی دعا کرتے ہیں۔ یہ آپ کو
علم ہی ہے کہ مغضوب اور ضال یہود ونصاریٰ ہیں اور منعم علیہ مسلمان ہیں۔ کیونکہ یہود نے مسیح پر کفر کا
فتویٰ لگا کر قتل کرنے کی پوری کوشش کی۔ اس لئے وہ مغضوب ہوئے۔ اب نصاریٰ مجازاً ابن اللہ کے لفظ کو حقیقی ابن
اللہ اور اللہ بنا کر ضال ہوگئے اورآنحضرت ﷺ اور آپ کے ساتھی حضرت عیسیٰ کو نبی اللہ مان کر منعم علیہ ہوگئے۔
بالکل یہی واقعہ مسیح محمدی کے زمانہ میں پیش آیا ہے۔آ پ لوگوں (مسلمانوں) نے فتویٰ کفر ناحق لگا کر قتل کی
پوری کوشش کی اور قادیانی جماعت مجازی نبی کو حقیقی نبی مان کر ضال ہوگئی اور ہم لوگ (لاہوری جماعت) حضرت
مرزاصاحب کو اصل مقام پر مانتے ہیں۔ یعنی مجدد ومسیح ومعود جو اولیاء امت محمدیہ کا سرتاج ہے۔ پس ہم منعم
علیہ ہوئے اور سورۂ فاتحہ سے یوں صداقت مسیح موعود ثابت ہوگئی۔‘‘
(دہلی میں عظیم الشان مناظرہ اور احمدیت کی فتح، اعلان منجانب مولوی عمرالدین شملوی قادیانی لاہوری،
مندرجہ اخبار پیغام صلح لاہور ج۲۲ نمبر۲۱ ص۱۵ کالم۲، مؤرخہ ۷؍اپریل ۱۹۳۴ء)
یہی نکتہ کہ مسلمان مغضوب علیہم کے تحت یہودی ہیں۔ قادیانی جماعت ضالین کے تحت عیسائی ہے اور چشم بدور
لاہوری جماعت انعمت علیہم کے تحت مسلمان ہے۔ مولوی محمد علی صاحب قادیانی امیر جماعت لاہور نے بھی اپنے
انگریزی ترجمہ قرآن میں سورۂ فاتحہ کے تحت بطور تفسیر پیش فرمایا ہے۔ مگر حسب معمول نہایت لطیف پیرایہ میں
گویا عاقل را اشارہ کافی ست۔ اوّل تو یہ کہ وحی الٰہی جو انبیاء میں نازل ہوتی تھی اب بھی دوسروں پر نازل
ہوسکتی ہے۔ گویا اس طرح جناب مرزاغلام احمد قادیانی صاحب کے مسیح موعود ہونے میں کوئی شک نہیں رہا اور
لاہوری جماعت کا عقیدہ ثابت ہوگیا۔ دوسرے یہ کہ مغضوبین وضالین میں یہودی اور عیسائیوں کی تخصیص نہیں بلکہ
جو شدت سے مخالفت کرے وہ گویا یہودی ہے اور جو شدت سے محبت کرے وہ گویا عیسائی ہے اور جو بین، بین رہے وہ
مسلمان ہے۔ جب کہ لاہوری عقیدہ کی رو سے مرزاغلام احمد قادیانی کا مسیح موعود ہونا مسلم ہے تو مسلمان جو
مرزاغلام احمد کے مخالف ہیں صریحاً مغضوب علیہم کے مصداق بنے۔ قادیانی جماعت جو مرزاغلام احمد کو نہ صرف
مسیح موعود بلکہ اس سے بڑھ کر نبی اور رسول مانتی ہے ضالین میں جاگری اور لاہوری جماعت اپنے اعتدال اور اپنی
احتیاط کی بدولت چودھویں صدی کے سچے اور پکے مسلمان بنے اور اللہ تعالیٰ کی نعمتیں ان کے واسطے مخصوص ہوگئیں۔
یہی وہ جماعت ہے جو اسلام کی بڑی حامی اور مسلمانوں کی بڑی ہمدرد مشہور ہے۔ (للمؤلف)
(۲۱) لاہوری جماعت کی حکمت عملی
لاہوری جماعت کو فی الواقع دورنگی پسند ہے۔ قادیانیوں میں بھی شامل رہیں اور مسلمانوں میں بھی شمار
ہوں۔ اس واسطے مرزاقادیانی کی مسیحیت کا اقرار کافی سمجھا گیا اور نبوت کا انکار ضروری معلوم ہوا تاکہ اس
سمجھوتہ سے مسلمان بھی راضی رہیں اور مرزا قادیانی کی تبلیغ بھی جاری رہے۔ اس میں ان کو کامیابی نظر آتی ہے۔
چنانچہ ان کو قلق ہے کہ:
584
’’کاش قادیانی جماعت کی طرف سے بھی حضرت مسیح موعود کو اصلی شان میں پیش کیا جاتا۔ جیسا کہ میاں
(مرزامحمود) صاحب کی خلافت سے پہلے ہوتا رہا تھا تو آج احمدیت دنیا کے گوشہ، گوشہ میں داخل ہو چکی ہوتی۔‘‘
(اخبار پیغام صلح لاہور ج۲۲ نمبر۲۱ ص۱۱ کالم۲، مؤرخہ ۷؍اپریل ۱۹۳۴ء)
چنانچہ چندہ کی اپیلوں میں وہ اکثر مسلمانوں کو یقین دلاتے ہیں کہ بلا لحاظ فرقہ وہ اسلام کی تبلیغ
کرتے ہیں اور اسی بناء پر مسلمانوں سے کافی مالی امداد پاتے ہیں۔ لیکن فی الحقیقت اپنی جماعت کا لٹریچر
تقسیم کرتے ہیں اور اپنی جماعت کی طرف نہ صرف پورپ میں غیرمسلموں کو بلکہ اسلامی ممالک میں خود مسلمان کی
دعوت دیتے ہیں۔ کامیابی پر خوشی مناتے ہیں۔ پھر بھی تفصیل صیغہ راز میں رہتی ہے۔ چنانچہ ایک تازہ کامیابی
ملاحظہ ہو۔
’’کسی گذشتہ اشاعت میں قارئین کرام یہ مسرت انگیز وایمان افروز خبر ملاحظہ فرماچکے ہوں گے کہ ہندوستان
سے باہر ایک مقام پر دو سو پچیس اصحاب شامل سلسلہ ہوئے ہیں۔ الحمد للہ ! کارساز حقیقی کی کرشتہ سازیاں ملاحظہ
ہوں کہ ایک طرف دشمنان سلسلہ کا بپا کیا ہوا افسوسناک طوفان مخالفت ہمیں تباہ وبرباد کرنے کی دھمکیاں دے رہا
ہے۔ دوسری طرف رحمت خداوندی مصروف کرم ہے۔ لیکن یاد رہے کہ مخالفت کے طوفان چند روزہ ہیں۔ اللہ تعالیٰ کی رحمت
ہمیشہ مصروف کرم رہے گی۔ ہمارے جس باہمت کارکن کی مساعی سے یہ کامیابی حاصل ہوئی ہے ہم تہہ دل سے انہیں
مبارکباد دیتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ انہیں اس سے بھی زیادہ خدمت دین کی توفیق دے۔ ساری جماعت کی دلی دعائیں ان کے
ساتھ ہیں۔‘‘
(اخبار پیغام صلح لاہور ج۲۲ نمبر۲۲ ص۸ کالم۱، مؤرخہ ۱۱؍اپریل ۱۹۳۴ء)
بہرحال لاہوری جماعت اپنے فرقہ کی توسیع کو تبلیغ اسلام قرار دے کر مسلمانوں کی عقیدت حاصل کرتے ہیں
اور پھر اسی کو مرزاقادیانی کی صداقت کا معیار پیش کرتے ہیں۔ کیسا عجیب چکر ہے۔ مثلاً ملاحظہ ہو:
’’خدا کا شکر ہے کہ یہ میرٹھ میں بعض سعید طبع ہمدردان اسلام میں سے کچھ لوگوں نے ہمارا پورا ساتھ
دینے کا تہیہ کر لیا ہے اور وہاں ایک چھوٹی سی احمدی جماعت قائم ہوگئی ہے اور امید ہے کہ خداتعالیٰ اپنے فضل
سے اس چھوٹی سی جماعت میں جلد ترقی دے گا۔ خداتعالیٰ نے مولانا محمد علی صاحب امیر جماعت کی خدمت دینی اور
اخلاص کی وجہ سے لوگوں کے دلوں کو قائل کر دیا ہے۔ اکثر ان میں سے معترف ہیں کہ بلاشبہ خدمت واشاعت اسلام کا
جو بیش بہا کام مولانا موصوف کر رہے ہیں وہ بے نظیر ہے جو دوسرے لفظوں میں حضرت مسیح موعود کی صداقت کا
اقرار ہے اور یہ بالکل سچ ہے۔
دل ہمارے ساتھ ہیں گو منہ کریں بک، بک ہزار‘‘
(اخبار پیغام صلح لاہور ج۲۲ نمبر۲۱ ص۱۱ کالم۳، مؤرخہ ۷؍اپریل ۱۹۳۴ء)
بہرحال چندہ اور امداد کے وقت لاہوری جماعت مسلمانوں کی ایک جماعت بن جاتی ہے۔ مگر اپنی کارگذاری،
کامیابی اور تفاخر میں اپنے آپ کو قصداً اسلامی اداروں کے مقابل پیش کرتی ہے تاکہ اس کی جداگانہ شخصیت واضح
ہو جائے۔ مثلاً ملاحظہ ہو:
’’پولینڈ کا ایک یہودی فاضل پولش اور عبرانی زبان میں قرآن کریم کے ترجمہ کا ارادہ کرتا ہے اور اس کی
اطلاع مسلمانان ایشیاء کے سب سے بڑے تعلیمی مرکز مسلم یونیورسٹی علی گڑھ میں دیتا ہے۔ لیکن رجسٹرار مسلم
یونیورسٹی اس خط کو کہاں بھیجتے ہیں؟ جامعہ اسلامیہ دہلی
585
میں؟ نہیں، ندوۃ العلماء لکھنؤ میں؟ نہیں۔ دارالمصنّفین اعظم گڑھ میں؟ نہیں۔ دارالعلوم دیوبند میں؟
نہیں۔ بلکہ احمدیہ انجمن اشاعت اسلام لاہور میں۔‘‘
(اخبار پیغام صلح لاہور ج۲۲ نمبر۲۲ ص۳ کالم۲، مؤرخہ ۱۱؍اپریل ۱۹۳۴ء)
منشاء یہ ہے کہ مسلمانوں کے بڑے بڑے ادارے شاید بیکار ومعطل ہیں اور اسلام کا بیڑا لاہوری جماعت کے
ہاتھ۔ افتخار کے پردے میں افتراق کے جذبات اور اسلام کے پردے میں اپنے فرقہ کی تبلیغ واشاعت۔ سمجھدار طبقوں
پر یہ راز بخوبی منکشف ہو گیا ہے اور ہورہا ہے۔ چنانچہ خود لاہوری جماعت کو بھی تشویش ہے کہ:
’’ہمارے بعض دوستوں کے دل میں بھی یہ وہم پیدا ہوگیا ہے کہ علیحدہ جماعت کا قیام کوئی فرقہ بندی کا
خیال ہے اور اس وہم کے زیراثر وہ جماعت سے تقریباً علیحدہ ہو چکے ہیں یا ہورہے ہیں۔‘‘
(خطبہ جمعہ فرمودہ مولوی محمد علی لاہوری قادیانی امیر جماعت لاہور، اخبار پیغام صلح لاہور ج۲۲ نمبر۳۲
ص۲ کالم۲، مؤرخہ ۲۳؍مئی ۱۹۳۴ء)
(۲۲) ہزاروں روپیہ
’’قادیانی دوستو! غور کرو۔ اپنے دشمن (مسلمان) سے تمہارے خلیفہ (مرزامحمود قادیانی) کو اگر ایک روپیہ
مل جائے تو وہ ایک بڑا بھاری نشان بن جائے کہ خدا نے اپنے لاڈلے خلیفہ کے ناز کو پورا کیا اور خلیفہ صاحب کے
ساتھی بادلوں کی طرح گرج، گرج کر تسبیح وتحمید کرنے لگ جائیں۔ لیکن اگر ہم کو (یعنی قادیانی جماعت لاہور کو)
خدا غیراحمدیوں سے (مسلمانوں سے) ہزاروں، روپیہ ہرسال دلادے تو تمہارے نزدیک نہ اس میں کوئی نشان ہے اور نہ
خدا کا اتنا بڑا فضل قابل تسبیح وتحمید ہے۔‘‘
(اخبار پیغام صلح لاہور ج۲۵ نمبر۵۸ ص۹ کالم۳، مؤرخہ ۱۷؍ستمبر ۱۹۳۷ء)
(۲۳) قادیانی جماعت لاہور کا مقصد
’’اس میں کچھ شک نہیں کہ جماعت احمدیہ لاہور نے اپنے نظام کے انصرام کے لئے ایک منتخبہ کمیٹی مقرر کی
ہوئی ہے جس کا نام انجمن ہے اور بلاشبہ یہ وہ انتظام ہے جو اس جماعت نے اپنے روحانی پیشوا اور امام حضرت
مسیح موعود کی سچی متابعت میں اختیار کیا ہے۔ کیونکہ آپ نے اپنی زندگی کے آخری ایام میں چودہ منتخب ممبروں
کی ایک کمیٹی مقرر کر کے اس کے سپرد جماعت کا مالی انتظام کر دیا تھا۔ لیکن اگر آپ نے یہ خیال کر لیا ہے کہ
حضرت مسیح موعود نے اشاعت اسلام کے عالی مقاصد کے لئے باقی انجمنوں کی مانند ایک انجمن قائم کی تھی تو آپ کو
بڑی بھاری غلطی لگی ہے۔ جماعت کے انتظامی امور کو ایک واحد ہاتھ میں دینے کے بجائے چیدہ چیدہ اصحاب کے سپرد
کر دینا اس بات کے مترادف نہیں کہ گویا آپ نے اشاعت کی خاطر ایک انجمن بنائی ہے اور گویا آپ کی تمام جدوجہد
کا مدعا یہی تھا کہ اشاعت اسلام کے مقصد کے لئے لوگوں کی ظاہری ہمدردی حاصل کر کے انہیں اس کا ممبر بنالیا
جائے۔ جس کا مطلب جیسا کہ آپ نے خود واضح کر دیا صرف یہ ہو کہ ممبروں سے صرف اس قدر تعلق ہو کہ اشاعت کے
راستہ میں وہ کچھ چندہ دے دیا کریں ورنہ ان کے اعمال واعتقادات سے کچھ تعلق نہ ہو۔ آپ کو یاد رہے کہ حضرت
مسیح موعود ایک سچے مصلح ربانی کے مانند دنیاداروں کے طریقوں پر دین کی خدمت کرنے نہیں آئے تھے۔ دنیاداروں
اور عام انجمنوں کا طریق بے شک یہ ہی ہے کہ مقصد کے لئے چندہ وصول کر لیا جائے اور اس سے آگے اور کچھ غرض نہ
ہو۔ لیکن کیا آپ یہ سمجھتے ہیں کہ یہ وہ طریق ہے جو خداتعالیٰ کے نبی اور مامور اختیار کیا کرتے ہیں۔ ہرگز
نہیں۔ اس لئے کہ محض ایک انجمن کا قائم
586
کر لینا جس سے مقصود ایک عمدہ مقصد کی خدمت ہو مگر جس میں اپنی اصلاح کا کوئی خیال نہ ہو وہ حقیقی
اور سچا طریق تبدیلی کا نہیں۔ جس سے دنیا کے قلوب خداتعالیٰ کی رضا کے طالب بن جائیں۔ اصل مطلب جو حقیقی
رہنماؤں کے پیش نظر ہوا کرتا ہے وہ تو اندرونی تبدیلی اور قلبی انقلاب کے مدعا اندرونی پاکیزگی اور دلی
صفائی اور منتہائے نظر خدائے تعالیٰ کی رضا اور اس کے احکامات کی تابعداری ہے۔ کیا یہ عظیم الشان مقصد اس
صورت میں حاصل ہوسکتے ہیں کہ دنیادارانہ طرز پر نمود ونمائش کے لئے ایک انجمن قائم کردی جائے جس کا ممبروں
سے چندہ لینا اصل غرض ہو اور ان کے اعتقادات واعمال سے کچھ واسطہ نہ ہو۔ (اس ادعا کے باوجود لاہوری جماعت نے
غیر قادیانیوں سے چندہ وصول کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی۔ للمؤلف)‘‘
(اخبار پیغام صلح لاہور ج۲۴ نمبر۴۹ ص۳ کالم۱، مؤرخہ ۳؍اگست ۱۹۳۶ء)
(۲۴) احمدیہ انجمن اشاعت اسلام
’’عنقریب ان شاء اللہ ایک نہایت زبردست مضمون احمدیہ انجمن اشاعت اسلام لاہور کے ایک معزز ممبر کا شائع
کیا جائے گا جس میں اس انجمن کی بہت سے رازہائے سربستہ کا انکشاف کیاگیا ہے اور بتایا گیا ہے کہ وہ لوگ جو
اس انجمن پر قابض ہیں کیا کیا چالیں چل رہے ہیں اور کس طرح قوم کا روپیہ صرف کر رہے ہیں۔‘‘
(الفضل قادیان ج۱۶ نمبر۱۹، مؤرخہ ۴؍ستمبر ۱۹۲۸ء)
’’انجمن (اشاعت اسلام لاہور) اس وقت مولوی محمد علی صاحب کی ہے بلکہ یہ کہنا درست ہوگا کہ وہ خود
انجمن ہیں۔ امیرقوم، پریذیڈنٹ اور انچارج تصنیفات وہ خود ہیں۔ انجمن کا امین ان کا بھتیجا ہے۔ منیجر بک ڈپو
ان کا بھانجا ہے۔ مہمان خانہ انجمن کا مہتمم بھی ان کا رشتہ دار ہے۔ ایک وقت میں سیکرٹری ان کا بڑا بھائی
تھا۔ پھر ان کا ہم زلف چوہدری ظہور احمد صاحب بہت مدت تک رہا۔ جس کے عہد حکومت میں بہت گڑبڑ مچی۔ شعبہ
اخبارات کے انچارج ان کے ایک دوسرے ہم زلف یعنی محمد یعقوب خاں صاحب ہیں۔ گویا قریباً سب کے سب عہدیدار ان
کے رشتہ دار ہیں جو کہ بڑی بڑی رقوم تنخواہ میں وصول کرتے ہیں۔ چنانچہ چوہدری ظہور صاحب کا گریڈ اڑھائی صد
روپیہ کا تھا۔ محمد یعقوب خاں صاحب ساڑھے تین صد روپیہ ماہوار لیتے ہیں۔ مولوی (محمد علی) صاحب کا ذکر میں
آگے چل کر کروں گا۔ چوہدری ظہور احمد صاحب کی ایک زمین احمدیہ بلڈنگس میں تھی۔ انجمن کا فیصلہ تھا کہ مسلم
ہائی سکول احمدیہ بستی میں بنے۔ مولوی صاحب نے اپنے اختیارات برت کر اس کو کالعدم کیا اور اپنے ہم زلف کی
زمین کو بہت ہی گراں قیمت پر انجمن کے ہاتھوں بکوا کر اسے بیوپاریوں کے قرض کے پنجے سے بچا لیا۔ اب سکول
کسمپرسی کی حالت میں ایک گندی جگہ پر واقع ہے جس کے بالمقابل گائے اور بھینسوں کے اصطبل ہیں اور تنور بھی
موجود ہیں۔ لاکھوں روپیہ سے قوم کے بچوں کے لئے مسلم ہائی سکول تیار ہوتا ہے لیکن مولوی صاحب کے دل میں قومی
ایثار اس قدر جوش زن ہے کہ ان کا اپنا لڑکا ایک عیسائی انگریزی سکول میں پڑھتا ہے۔ کیا مولوی صاحب ان تمام
باتوں سے انکار کر سکتے ہیں؟ ہرگز نہیں۔‘‘
(انجمن اشاعت اسلام لاہور (لاہوری فریق کی انجمن) کے ایک ممبر کا مضمون، اخبار الفضل قادیان ج۱۶
نمبر۲۰، مؤرخہ ۷؍ستمبر ۱۹۲۸ء)
(۲۵) مدرسہ اور مسجد
’’اب میں مولوی صدرالدین صاحب کا جو مولوی محمد علی صاحب کے دست راست ہیں، حال بیان کرتا ہوں۔ انہوں
نے مسلم ہائی سکول کھلوایا جو کہ چند سال کے بعد چوہدری ظہور احمد صاحب کی زمین پر بنایا گیا۔ اس میں مولوی
صدرالدین صاحب نے اپنے ایک رشتہ دار کو دکان کھلوا دی جس میں ان کا حصہ تھا۔ پھر بورڈوں کے روپیہ سے گندم
ارزاں خرید کر گراں نرخ پر سکول کو فروخت کی۔ برلن مسجد پر
587
قوم کا روپیہ تو لگا لیکن مولوی صدرالدین صاحب نے اس کو اپنی ذاتی ملکیت ٹھہرایا ہوا ہے۔ کیا زمین کی
رجسٹری آج تک ان کے ذاتی نام میں نہیں۔ انہوں نے انجمن کے مطالبوں کے باوجود اس رجسٹری کو انجمن کے نام
منتقل کیوں نہیں کیا۔ مولوی صدرالدین صاحب قوم کے روپیہ پر بطور ملازم انجمن جرمنی گئے۔ انہوں نے قوم کے
روپیہ سے وہاں ذاتی تجارت شروع کی اور کیوں قومی روپیہ سے مال خرید کر اپنے عزیزوں کو سیالکوٹ بھیجا اور نصف
نفع رکھ کر رقم واپس کی۔ علاوہ ازیں قوم کے روپیہ سے ذاتی نفع کے لئے کیوں علیحدہ حمائل شریف چھپوائی۔‘‘
(انجمن اشاعت اسلام لاہور (لاہوری فریق کی انجمن) کے ایک ممبر کا مضمون، اخبار الفضل قادیان ج۱۶
نمبر۲۰، مؤرخہ ۷؍ستمبر ۱۹۲۸ء)
(۲۶) تبلیغ کی تعلّی
’’جو جو چوٹی کے انگریز مسلمان ہوئے ہیں ان میں سے ایک بھی ایسا نہیں جس نے ووکنگ مشن کی ہدایت سے
قبول اسلام کیاہو۔ لارڈ ہیڈلے نے خود اعلان کیا تھا کہ میں اسلام کا بطور خود مطالعہ کر کے اس مذہب میں داخل
ہوا ہوں اور مجھے قبول اسلام سے صرف پندرہ دن پہلے خواجہ کمال الدین سے تعارف ہوا۔ مسٹر مارماڈیوک پکھتال
مصر میں مسلمان ہوئے اور زیادہ تر ترکی اور مصری اثر کی وجہ سے ہوئے۔ سرآرچیسالڈ ہملٹن نے غالباً ایک خانگی
ضرورت سے مجبور ہوکر اسلام کا اعلان کیا۔ اگر ایک، ایک کے حالات دریافت کرو اور ان سے پوچھو کہ تم نے کس طرح
اسلام قبول کیا تو معلوم ہو جائے گا کہ اثرات کچھ اور ہی تھے۔ ووکنگ مشن کا قبول اسلام سے کوئی واسطہ نہ
تھا۔‘‘
(فضل کریم خاں درانی بی۔اے لاہوری مشنری کا مضمون بعنوان ’’مغرب میں تبلیغ اسلام‘‘ مندرجہ حقیقت اسلام
لاہور بابت جنوی ۱۹۳۴ء)
’’انہیں ایام میں خواجہ کمال الدین صاحب کو ایک پرانے مسلمان لارڈ ہیڈ لے مل گئے وہ قریباً چالیس سال
سے مسلمان تھے۔ مگر بوجہ مسلمانوں کی مجلس نہ ملنے کے اظہار اسلام کے طریق سے ناواقف تھے۔ خواجہ صاحب کے
ملنے پر انہوں نے اسلام کا اظہار کیا اور بتایا کہ وہ چالیس سال سے مسلمان ہیں۔ خواجہ صاحب نے فوراً تمام
دنیا میں شور مچا دیا کہ ان کی کوششوں سے ایک لارڈ مسلمان ہوگیا۔ اس خبر کا شائع ہونا تھا کہ خواجہ صاحب ایک
بت بن گئے اور چاروں طرف سے ان کی خدمات کا اعتراف ہونے لگا۔ مگر وہ لوگ جن کو معلوم تھا کہ لارڈ ہیڈ لے
چالیس سال سے مسلمان ہے۔ اس خبر پر نہایت حیران تھے کہ خواجہ صاحب صداقت کو اس حد تک کیوں چھوڑ بیٹھے ہیں۔
مگر خواجہ صاحب کے مدنظر صرف اپنے مشن کی کامیابی تھی۔ جائز یا ناجائز ذرائع سے وہ اپنے مشن کو کامیاب بنانے
کی فکرمیں تھے… بعض لوگ ان کی ان خیالی کامیابیوں کو دیکھ کر یقین کرنے لگے تھے کہ یہ الٰہی تائید بتارہی ہے
کہ خواجہ صاحب حق پر ہیں۔ حالانکہ یہ تائید الٰہی نہ تھی بلکہ خواجہ صاحب کی اخلاقی موت تھی اور جب تک سلسلہ
احمدیہ باقی رہے گا… خواجہ صاحب کی یہ خلاف بیانی اور چالاکی بھی دنیا کو یاد رہے گی اور وہ اسے دیکھ دیکھ
کر انگشت بدنداں ہوتے رہیں گے۔‘‘
(آئینہ صداقت ص۱۵۸، انوارالعلوم ج۶ ص۲۱۷،۲۱۸)
’’میں ۱۴؍جولائی ۱۹۰۳ء کو یعنی مرزاغلام احمد صاحب کے پیروؤں نے جب سے انگلستان میں اپنا پروپیگنڈا
شروع کیا اس کے دس برس قبل ذاتی غوروفکر کے بعد خود ہی مسلمان ہوا۔ گویا میں ان کی تحریک کی وجہ سے اسلام
نہیں لایا بلکہ مغرب میں ان کے مشن کے قیام کے بہت پہلے سے میں نے تبلیغ اسلام شروع کر دی تھی۔ متعدد انگریز
مردوں اور عورتوں کو حلقہ بگوش دین اسلام بنا چکا تھا۔ ہندوستان کے اخبارت میں مجھے یہ لکھا گیا ہے کہ میں
احمدیوں کا بنایا ہوا مسلمان ہوں۔ حالانکہ یہ بالکل غلط ہے۔‘‘
(ڈاکٹر خالد شیلڈریک کے ایک اعلان کا ترجمہ النجم لکھنؤ، مؤرخہ ۲۸؍ستمبر ۱۹۳۴ء)
588
’’اسکاٹ لینڈ کے مشہور نومسلم سرعلم ہیوبرٹ اسٹوراٹ رینکن کے متعلق بعض احمدی اخبارات نے یہ خبر شائع
کی تھی کہ ان کا احمدی جماعت سے تعلق ہے اور اپنے ایک پمفلٹ میں لاہوری جماعت نے سرعمر کی تصویر بھی شائع کی
تھی… چنانچہ آپ نے اس خبر کی تردید میں ڈاکٹر خالد شیلڈریک کو ایک خط ہندوستان کے اخباروں میں شائع کرانے کو
بھیجا ہے۔ جس کا ترجمہ حسب ذیل ہے:
میرے عزیز اسلامی بھائی! امید کہ آپ اپنے اخبار میں مجھے اس غلط بیانی کی تردید کرنے کا موقع دیں گے
جو میرے متعلق احمدی اخبارات نے تمام ہندوستان میں پھیلائی ہے۔ مجھے حال ہی میں یہ معلوم ہوا ہے کہ ہندوستان
کے بعض اخبارات نے میرے بارے میں یہ شائع کیا ہے کہ میں احمدی ہوں اور اس سلسلہ میں میرے فوٹو بھی شائع کئے
جارہے ہیں۔ واقعہ یہ ہے کہ میں نے کسی احمدی اخبار کو اپنا فوٹو شائع کرنے کی اجازت نہیں دی اور اس خبر کی
کہ میں احمدی ہوں پرزور تردید کرتا ہوں۔ میں ہرگز احمدی نہیں ہوں۔ بلکہ میرا تعلق ایسٹرن اسلامک ایسوسی ایشن
سے ہے جس کا میں سینئر وائس پریذیڈنٹ بھی ہوں۔ آپ کا اسلامی بھائی عمر۔ایچ اسٹورات رینکن۔‘‘
(اخبار مدینہ، مؤرخہ ۲۱؍ستمبر ۱۹۳۴ء)
(۲۷) ووکنگ مشن کی حقیقت
’’مجھے معلوم نہیں یہ غلط خیال ہندوستان میں کس طرح پھیل گیا کہ ووکنگ کی مسجد لاہوری احمدیوں کی
تعمیر کردہ ہے۔ یہ مسجد سرکار بھوپال کے روپیہ سے تعمیر ہوئی تھی اور مسجد کے ساتھ رہائشی مکان سرسالار جنگ
(حیدرآباد) کی یادگار ہے اور دونوں کی تعمیر ڈاکٹر لائٹرز کے اہتمام میں ہوئی تھی۔ ڈاکٹر لائٹر ایک جرمن
عالم تھے جن کو اسلام سے بہت انس تھا اور بعض کا خیال ہے کہ وہ دل سے مسلمان تھے۔ ہندوستان میں سررشتہ تعلیم
میں کام کرتے تھے۔ پہلے انسپکٹر آف اسکولز اور پھر کچھ عرصہ کے لئے پنجاب یونیورسٹی کے رجسٹرار رہے تھے۔ ان
کی خواہش تھی کہ ولایت میں ہندوستان کا ایک نشان بھی قائم کر دیا جائے۔ چنانچہ انہوں نے ایک اورینٹل
انسٹیٹیوٹ کی بنیاد رکھی۔ ایک طرف مسجد تھی اور اس کے ساتھ ہندوؤں کے لئے ایک مندر بنوادیا گیا۔ ڈاکٹر صاحب
کی وفات کے بعد ان کے بیٹے نے مندر کا حصہ فروخت کر دیا۔ لیکن مسجد کا حصہ سیدامیر علی مرحوم کے طفیل محفوظ
رہ گیا اور سید امیر علی نے ہی خواجہ کمال الدین صاحب کو مسجد میں آباد کیا۔‘‘
(فضل کریم خاں درانی بی۔اے لاہوری مشنری کا مضمون، ’’مغرب میں تبلیغ اسلام‘‘ مندرجہ حقیقت اسلام
لاہور، بابت ماہ جنوری ۱۹۳۴ء)
(۲۸) روزمرہ زندگی
’’۱۹۲۰ء کے آغاز میں یورپ گیا اور ۱۹۲۸ء کے اواخر میں ہندوستان واپس آیا۔ تقریباً نو سال کا درمیانی
عرصہ کچھ انگلستان کچھ غرب الہند کے ایک جزیرہ ٹرینیڈاڈ اور کچھ ممالک متحدہ امریکہ میں گزرا اور آخری پونے
چار سال جرمنی میں بسر ہوئے۔ سفر کی غرض تبلیغ اسلام تھی اور دوسالوں کے سوا باقی ساری مدت اس کام میں صرف
ہوئی۔ میں نے جو کچھ اپنی آنکھوں سے دیکھا اور جو کچھ میرے ذاتی تجربہ میں آیا اس مضمون میں وہی کچھ بیان
کروں گا۔ ووکنگ مشن کو ۱۹۲۰ء میں پہلے پہل میں نے دیکھا۔ اسی زمانہ میں اس کا انحطاط شروع ہوا اور انحطاط کی
ابتدائی منزلیں میں نے خود اپنی آنکھوں سے دیکھیں۔ خواجہ (کمال الدین) علالت کے باعث ہندوستان بیٹھے تھے۔
مولوی صدرالدین صاحب ان کی جگہ کام کرنے کو گئے۔ لیکن دس مہینہ کے بعد واپس آگئے۔ ان کی جگہ مولوی مصطفی خاں
امام مسجد ووکنگ مقرر ہوئے۔ مصطفی خاں نے مشن کو ایسے عمیق گڑھے میں پھینکا۔ جس سے وہ آج تک نکل نہیں سکا۔
حقیقت یہ ہے کہ اس کو نکالنے کی کوشش بھی نہیں کی گئی: مولوی مصطفی خاں کا طریق کار میں نے بہت اچھی طرح
دیکھا۔ کیونکہ میں خود بھی مسجد ہی میں رہتا تھا۔ مصطفی خاں تبلیغ کے کام
589
کے لئے نہایت غیرموزوں اور احساس فرض سے قطعاً بیگانہ شخص تھے۔ انگریزی آداب سے ناواقف تھے اور
سیکھنے کے لئے کبھی کوشش بھی نہ کی۔ انگریزی میں گفتگو کرتے تھے تو ایسا نظر آتا تھا کہ دماغ میں پہلے اردو
فقرے بناتے ہیں۔ پھر اسی کا ترجمہ کرتے ہیں۔ پھر اس ترجمہ کو ایسی بلند آواز کے ساتھ ادا کرتے تھے جیسے سکول
کا طالب علم استاد کے کہنے پر ترجمہ کا فقرہ پڑھتا ہے۔ لیاقت کا تو یہ حال تھا لیکن اپنے آپ پر گھمنڈ اتنا
تھا کہ لیکچر یا خطبہ کے لئے کبھی تیاری نہیں کرتے تھے۔ نتیجہ نہایت نامعقول بکواس ہوتی تھی جس پر نوجوان
بعد میں قہقہے لگایا کرتے تھے۔
مولوی مصطفی خاں صاحب بہت اولوالعزم انسان واقع ہوئے ہیں۔ صبح ناشتہ سے فارغ ہوکر آپ روزانہ ڈاک کی
طرف متوجہ ہوتے تھے۔ اس سے فارغ ہوئے تو تھوڑی دیر کرسی پر بیٹھے بیٹھے سو گئے۔ دوپہر کا کھانا کھایا اور
چار بجے تک پھر سو گئے۔ کبھی کبھی ٹینس کھیلنے کو جی چاہتا تو آرام کرسی پر لیٹ جاتے۔ ریکٹ ہاتھ میں لیتے
اور فرماتے کہ گیند آہستہ آہستہ میری طرف پھینکو۔ اگر گیند اتفاقاً زور سے آتا اور دو نکل جاتاتو بے حد
رنجیدہ ہوتے اور کھیلنا بند کر دیتے۔ جب ولایت تشریف لے گئے تو بہت دبلے پتلے تھے۔ واپس آئے تو اتنے موٹے ہو
کر آئے کہ جھکنا مشکل تھا۔ قیام کے آخری دنوں میں بوٹ کے تسمے باندھنے کے لئے ایک نوکر رکھنا پڑا تھا۔ مصطفی
خاں صاحب کو اچھے اچھے کھانے کھانے کا بہت شوق تھا اور ان کی بدولت ہم نے بھی کباب اور مرغ پلاؤ خوب ہی
اڑائے۔ ہمار لئے ہر روز عید تھی۔ حقیقت یہ ہے کہ ووکنگ مشن میں سوائے کھانے پینے اور کھیلنے کودنے کے کام ہی
کچھ نہ تھا۔ بڑے اہم افکار تھے۔ حسابات کے دو پونڈ تفریح پر خرچ کر آئے ہیں۔ ان کو کس مد میں ڈالیں۔ چلو ڈال
دو ڈاک خرچ میں۔ بارہ پونڈ کا سوٹ بنوالیا ہے۔ اس کو کس مد میں ڈالیں۔ چلو ڈال دو خاطر تواضع میں۔ یہ مباحث
روزمرہ کے معمول تھے۔ ٹرینیڈاڈ کا ایک مسلمان سوداگر سیر کے لے انگلستان گیا اور ووکنگ مسجد میں قیام کیا۔
کوئی دو ہفتہ وہاں ٹھہرے ہوں گے۔ واپسی پر میں نے ان سے حالات پوچھے۔ کہنے لگے ووکنگ مسجد بے حد دولت مند
معلوم ہوتا ہے۔ کھانا بے حد ضائع ہوتا ہے۔ جو کھانا میرے کنبے کے لئے (بہت دولت مند تاجر تھے اور کنبہ بڑا
تھا) دو وقت کے لئے کافی ہو۔ وہ ایک وقت زائد بچتا ہے اور پھینک دیا جاتا ہے۔ مصطفی خاں ہفتہ میں صرف ایک
دفعہ پندرہ منٹ کے لئے منہ کھولتا ہے۔ (یہ ان کے الفاظ ہیں۔ مراد تھی کہ تقریر کرتا ہے) اور ایسا اناپ شناپ
بکتا ہے کہ کچھ سمجھ میں نہیں آتا۔ یہ سوداگر اور ان کا بھانجا دونوں اکٹھے گئے تھے۔ تبلیغ اسلام کا بہت جوش
رکھتے تھے۔ واپس آئے تو بہت بددل ہوئے اور بھانجا تو سرے سے تبلیغ مشنوں کا ہی مخالف ہوگیا۔ یہ تھا مصطفی
خاں کی مثال کا نتیجہ۔ مسجد کے علاوہ لندن شہر میں بھی ایک مکان کرایہ پر لیا ہوا تھا جو عموماً خالی رہتا
تھا اور صرف اتوار اور جمعہ کے دن کام میں آتا تھا۔ نماز جمعہ یہیں ہوتی تھی۔ نماز جمعہ کا وقت عموماً ایک
بجے ہوتا ہے۔ بہت دیر ہوئی تو دو بج گئے۔ یورپ میں لوگ بے حد مصروف رہتے ہیں۔ شہر بہت بڑا ہے اور جمعہ کی
نماز کے لئے پہنچنا بڑی قربانی چاہتا ہے۔ چند انگریز نومسلم پھر بھی پہنچ ہی جاتے تھے اور اپنے ساتھ ایک آدھ
دوست کو بھی لے آتے تھے تاکہ اس کو تعلیمات اسلام سننے کا موقع ملے۔ لیکن مصطفی خاں صاحب کو سب سے زیادہ
اپنے پیٹ کی فکر ہوتی تھی۔ ووکنگ میں اچھا باورچی تھا۔ اگر نماز جمعہ کے لئے بروقت پہنچنے کی کوشش کرتے ہیں
تو کھانا رہ جاتا ہے۔ اگر کھانے کے لئے ٹھہرتے ہیں تو نماز کو دیر ہوجاتی ہے۔ ابتداء میں یہ دستور تھا کہ
امام ہلکا سا کھانا کھا کر نماز جمعہ کے لئے لندن چلا آیا اور نماز سے فارغ ہوکر کسی ہوٹل میں کھانا کھا لیا
یا وہیں مکان میں بنوالیا۔ لیکن مصطفی خاں کو اپنے اچھے باورچی کے پکائے ہوئے کھانے چھوڑنا بہت دشوار تھا۔
اس لئے آخر کار یہی فیصلہ ہوا کہ نماز رہتی ہے تو رہ جائے لیکن کھانا نہ رہے۔ چنانچہ آپ نماز جمعہ کے لئے
تین بجے آنے لگے۔ لوگ ایک بجے سے انتظار میں بیٹھے ہوتے تھے۔ آپ تین بجے پہنچتے تھے۔ پانچ چھ منٹ کا خطبہ
دیا۔ جلد جلد نماز ادا کی اور چل دئیے۔ بعض اوقات فرماتے تھے۔ آج میری فلاں دوست مسز… نے
590
دعوت کی ہے۔ اس لئے میں زیادہ دیر نہیں ٹھہر سکتا اور خطبہ مختصر کردوں گا۔ غرض مسز… کی ضیافت پر
تبلیغ اسلام کے مقاصد اکثر قربان ہو جاتے تھے۔ انگریز جیسی فرض شناس قوم پر ان باتوں کا جو اثر ہوگا قارئین
اس کا اندازہ لگاسکتے ہیں۔ نومسلم ایک ایک کر کے جماعت سے علیحدہ ہوگئے۔ مصطفی خاں نے قطعاً پرواہ نہیں کی۔
حقیقت یہ ہے کہ مصطفی خاں نے ووکنگ مشن کو بنیادوں سے ایسا ہلایا کہ پھر وہ اپنی پہلی حالت پر نہیں آسکا۔
قوم کا روپیہ پانی کی طرح بہا دیا اور اس کے صہ میں قوم کا کام تباہ کر دیا۔ میرے متعلق یہ حکم تھا کہ خواجہ
صاحب کی واپسی تک میں ووکنگ میں ٹھہروں۔ لیکن ووکنگ میں کوئی کام کرنے کو نہیں تھا۔ قطعاً بیکاری تھی۔ صبح
سے شام تک کھانے پینے اور کھیلنے اور کودنے کے سوا اور کوئی کام نہیں تھا۔ اخراجات کی فراوانی اور اس کے عوض
قطعاً بیکاری۔ یہ حالت دیکھ کر مجھے تو اپنے آپ سے شرم آنے لگی۔ چنانچہ میں نے انجمن کو لکھا کہ یہاں کرنے
کو کوئی کام نہیں، بہتر ہے مجھے اجازت دی جائے۔ میں ٹرینیڈاڈ چلا جاؤں۔ ادھر سے جواب بذریعہ تار آگیا اور
میں ٹرینیڈاڈ روانہ ہوگیا۔ دوسال کے بعد یعنی ۱۹۲۲ء میں پھر مجھے لندن آنا پڑا اور ووکنگ مشن کے حالات بچشم
خود دیکھئے۔ اس وقت خواجہ صاحب برسرکار تھے ماتحت عملہ بہت بڑا تھا۔ متعدد مبلغ بڑی بڑی تنخواہوں پر مقرر
تھے۔ لیکن سب کے سب بیکار ہی تھے۔ کام کرنے کو کچھ نہیں تھا جو کچھ کام تھا وہ ایک دو آدمی بوجہ احسن انجام
دے سکتے تھے۔ بظاہر اتنا بڑا عملہ محض دکھاوے کی غرض سے تھا تاکہ چندے دینے والوں کو جو ہزاروں کوس کے فاصلے
پر تھے۔ عملے کے فوٹو دیکھ کر نظرآجائے کہ کام کس قدر زیادہ ہے۔ مشن کس قدر مصروف کار رہتا ہے اور اس کے
اخراجات کے لئے کس قدر روپیہ کی ضرورت ہوگی۔ پرانی محفل جو ایک دفعہ بکھر چکی تھی دوبارہ مجتمع نہ ہوسکی اور
میرا خیال ہے کہ اس کو دوبارہ جمع کرنے کی کوشش ہی نہیں کی گئی۔ اس کے چھ سال بعد ۱۹۲۸ء میں پھر لندن گیا۔
لندن مسلم ہاؤس کے قریب ہی میں نے اقامت اختیار کی تھی۔ اس لئے ایک اتوار کے دن وہاں بھی جانکلا تاکہ
دیکھوں کہ اب مشن کی کیا حالت ہے۔ ووکنگ مشن ۱۹۲۵ء سے مسٹر عبدالمجید کے چارج میں ہے اور وہ اب بھی مسجد کے
امام ہیں۔ میں پہنچا تو مسٹر عبدالمجید کا لیکچر جاری تھا۔ پہلے تو ان کی صورت دیکھ کر تعجب ہوا مجھ سے کوئی
تین چار برس چھوٹے ہیں۔ لڑکپن میں بہت حسین معلوم ہوتے تھے اور ماشاء اللہ بدن بہت اچھا تھا۔ اب جو دیکھا تو
ایک معمر بزرگ نظر آئے۔ ایسے نحیف کہ نقاہت کے باعث جھکے جاتے تھے۔ میں حیران تھا کہ انگلستان کی آب وہوا
میں جہاں سوکھے بھی ہرے ہو جاتے ہیں ان کو کیا بنی۔ آپ مجرد ہیں۔ اس وقت ان کی عمر چالیس برس کے قریب پہنچ
رہی ہوگی۔ لیکن شادی ابھی تک نہیں کی۔ میں بھی ان کا لیکچر سننے بیٹھ گیا۔ حاضرین کا شمار کیا۔ حضرت واعظ
اور میرے سمیت سولہ آدمی تھے دو انگریز مرد اور دو انگریز عورتیں تھیں۔ باقی سب ہمارے ہندوستانی یا ہندوستان
سے گئے ہوئے جنوبی افریقہ کے رہنے والے تھے۔ انگریز نہایت رذیل طبقہ کے تھے۔ ان میں سے ایک ان کا نوکر تھا۔
عورتیں کمترین طبقہ کی معلوم ہوتی تھیں۔ بہت بوڑھی تھیں اور لیکچر کے دوران میں بڑے آرام سے سورہی تھیں۔
چوتھا انگریز اپنے ایک ہندوستانی دوست کے ساتھ اخبار بینی میں مصروف تھا۔ امام صاحب سہج، سہج بولنے والے
آدمی ہیں۔ ایک ایک منٹ بعد ایک، ایک لفظ ان کے منہ سے نکلتا تھا اور آواز ایسی تھی گویا کسی عمیق لحد سے آ
رہی ہے۔‘‘
(فضل کریم خاں صاحب درانی بی۔اے مشنری کا مضمون، مغرب میں تبلیغ اسلام، مندرجہ حقیقت اسلام لاہور،
بابت ماہ جنوری ۱۹۳۴ء)
عجب اتفاق کہ حال میں لندن سے ایک خط مؤرخہ ۵؍جولائی ۱۹۳۴ء وصول ہوا۔ ایک تعلیم یافتہ معزز ترک نے یہ
خط بھیجا ہے۔ اس میں منجملہ دیگر حالات کے ووکنگ کی مسجد کا بھی ذکر آگیا ہے۔ اصل خط انگریزی میں لکھا ہے۔
متعلقہ حصہ کا ترجمہ ذیل میں درج ہے۔ تازہ ترین مشاہدہ ملاحظہ ہو۔ ’’ایک بات یہ بھی قابل ذکر ہے کہ گذشتہ
جمعہ کو میں ووکنگ گیا تھا۔ جہاں مسجد واقع ہے لیکن مجھے یہ کہتے ہوئے
591
افسوس ہوتا ہے کہ مجھے بڑی مایوسی ہوئی۔ امام صاحب کے رہنے کا جو مکان ہے وہ خاصا وسیع ہے۔ اس میں
باغیچہ بھی لگا ہوا ہے۔ لیکن خود مسجد میں بمشکل پچاس نمازیوں کی گنجائش نظر آتی ہے۔ شاہراہ سے جو چھوٹی سڑک
مسجد کو گئی ہے اس کی حالت بھی خراب ہے۔ شکستہ گرد آباد۔ بے داشت۔ کیسے افسوس کی بات ہے۔ اس سے نہ صرف
ہندوستانی بلکہ تمام مسلمانوں کے نام کو بٹہ لگتا ہے۔ اس سے بڑھ کر یہ شاق گزرا کہ مسجد خالی سنسان پڑی تھی
نہ امام نہ موذن نہ کوئی مصلیٰ۔ حالانکہ نماز کا وقت آچکا تھا اور احتیاطاً میں ذرا پہلے پہنچ گیا تھا کہ
کہیں نماز ہاتھ سے نہ جائے۔ جب مسجد میں کوئی نظر نہیں آیا تو میں امام صاحب کے مکان پر پہنچا جو بالکل قریب
واقع ہے۔ وہاں لوگ تو ضرور موجود تھے۔ کیونکہ اس وقت ریڈیو پر گانا چل رہا تھا۔ لیکن دروازہ پر کچھ انتظار
کیا تو اندر سے ایک نوعمر طالب علم آیا اور تعجب یہ کہ پان چبا رہا تھا۔ میں نے کہا السلام علیکم! لیکن وہ
حیران ہوکر منہ تکنے لگا۔ اسلامی اخلاقی کے مطابق اتنا بھی نہ کہا کہ آئیے تشریف لائیے بلکہ وہیں کھڑے، کھڑے
جواب دے کر مجھے رخصت کردیا اور دروازہ بند کر کے چلا گیا۔ اس نے کہا کہ امام صاحب لندن گئے ہیں۔ وہیں نماز
پڑھاتے ہیں۔ یہ مسجد لندن سے دور بہت ہے۔ لوگوں کو آنے میں دقت ہوتی ہے۔ میں نے دل میں کہا کہ اگر یہ صورت
ہے تو پھر یہاں مسجد بنانے سے کیا فائدہ۔ دوسری غیراسلامی بات جو نظر آئی وہ یہ کہ مسجد میں کرسیاں جمع ہوئی
تھیں اور ایک کتاب پڑی تھی کہ جو کوئی آئے اس میں اپنا نام لکھ جائے۔ مسجد میں کرسیاں، خیال تو کیجئے اگر یہ
صورت ترکی میں کسی مسجد میں نظر آتی توتمام دنیا کے مسلمان کیا کچھ نہ کہتے۔ پھر یہ دیکھ کر بھی تعجب ہوا کہ
وضو کے واسطے پانی کا کوئی انتظام نہیں۔ حتیٰ کہ مسجد کے صحن میں جو مختصر حوض ہے وہ بھی خشک پڑا تھا بلکہ
اس کی حالت سے ایسا معلوم ہوتا تھا کہ اس میں بہت کم پانی رہتا ہے۔ جمعہ کا دن اور نماز ندارد۔ مسجد دیکھو
تو گردآلودہ، ویران۔ اس سے بڑھ کر مسلمانوں کی کیا بدنمائی ہوگی۔ کتاب کھول کر دیکھی تو کثرت سے یورپین
لوگوں کے دستخط تھے جو سیروسیاحت کی غرض سے پھرتے رہتے ہیں۔ جب یہ حال ہو کہ جمعہ کو بھی کوئی وہاں نہ آئے
تو پھر کیا حاصل اور وہاں اسلام کی کیا تبلیغ ہوسکتی ہے۔‘‘
(ترجمہ انگریزی خط جو لندن سے وصول ہوا)
(اوپر جو کچھ حالات بطور نمونہ درج ہوئے، وہ ووکنگ مشن کے روزمرہ زندگی کا نقشہ ہیں ورنہ خاص، خاص
تقاریب کے موقع پر جب کہ نامی گرامی مسلمان تشریف لاتے ہیں، ایسا شاندار انتظام ہوتا ہے کہ صرف جلسوں کے
فوٹو دیکھ کر اور اخبارات میں رپورٹ پڑھ کر مسلمان خوشی سے پھولے نہیں سماتے کہ کیا کام ہورہا ہے۔ کیا نام
ہورہا ہے۔ چندہ کی جو اپیلیں شائع ہوتی ہیں ان میں بھی بہت دلفریب سبز باغ نظر آتے ہیں۔ لیکن بالآخر اصلی
حالات بھی کھل جاتے ہیں۔ گرچہ متعلقین بہت جھنجھلاتے ہیں۔ مخبروں کو جھٹلاتے ہیں۔ للمؤلف)
(۲۹) دواتوار
’’دودفعہ دو اتوار میں ووکنگ مولوی صدرالدین (قادیانی لاہوری) کے زمانہ میں جاچکا ہوں۔ کوئی سنجیدہ
مرد یا عورت میں نے نہیں دیکھے۔ ہاں بیس پچیس لڑکیوں کا مجمع چاء پر ضرور موجود تھا۔ جن میں سے دو ایک مولوی
صاحب کی بغل میں بیٹھی ہوئی تھیں۔ ایک سوٹی سے مولوی صاحب کی پگڑی کو اچھال رہی تھی دوسری مولوی صاحب کی
آنکھوںکو بند کر رہی تھی اور باقی ہندوستانی لڑکوں کے ساتھ پھر رہی تھیں۔ ان کو اگر نومسلموں میں شمار کیا
جاتا ہے تو میں کہوں گا اس کامیابی سے بہتر تو ناکامی ہے۔ مجھے ووکنگ کی ایسی خرابیوں کا تفصیلاً علم ہے جن
کو ایک شریف انسان تحریر میں نہیں لاسکتا۔‘‘
(مکتوب عبدالرحیم خان خلف نواب محمد علی خان قادیانی رئیس مالیر کوٹلہ، الفضل قادیان ج۸ نمبر۳۳ ص۹
کالم۲، مؤرخہ یکم؍نومبر ۱۹۲۰ء)
(۳۰) حرام خوریاں
’’مولانا! (محمد علی امیر جماعت لاہور) آپ سے تو آپ کے احباب نے ضرور ان حرام خوریوں کا ذکر کیا ہوگا
جو ولایت میں
592
دانستہ اور نادانستہ وقوع میں آتی رہتی ہیں۔ میرے ایک بہت معزز غیراحمدی دوست نے بیان کیا کہ میں
ولایت میں ایک ہوٹل میں کھانا کھا رہا تھا جو وہیں ایک بھاری بھرکم لاہور کے رہنے والے لیکچرار اور پریچر
بھی تشریف لائے اور کھ انے میں مصروف ہو گئے۔ کھانے کے دوران میں انہوں نے ہوٹل والے سے فرمایا کہ کل والی
چیز لاؤ وہ بہت مزیدار تھی۔ اس پر اس نے ایک قسم کا گوشت لاکر ان کے سامنے رکھ دیا۔ جسے انہوں نے خوب لطف
لے لے کر کھایا۔ جب وہ تناول فرماکر تشریف لے گئے تو میں نے بصد شوق ہوٹل والے سے پوچھا کہ وہ کیسا گوشت تھا
جو مسٹر پال نے تم سے منگوا کر کھایا تھا۔ ہوٹل والے بیچارے نے بڑی سادگی سے جواب دیا کہ فائی نسٹ بیکن
(یعنی نہایت نفیس سورکا گوشت)‘‘
(الفضل قادیان ج۱۲ نمبر۱۸ ص۳ کالم۳، مؤرخہ ۲۱؍اگست ۱۹۲۴ء)
(۳۱) قائم مقام
’’گزشتہ ایام میں چند ان لوگوں نے جو اپنی بدقسمتی سے سلسلہ احمدیہ اور مرکز سلسلہ سے اپنا قطع تعلق
کر کے لاہور میں اڈا جمائے بیٹھے اور غیرمبایعین (لاہوری جماعت) کے نام سے مشہور ہیں بحضور جناب وائسرائے
ہند بالقابہ وصاحب وزیر ہند بہادر بالقابہ ایڈریس پیش کرتے ہوئے اپنے آپ کو جماعت احمدیہ کا قائم مقام قرار
دیا تھا جو بالکل غلط اور محض دھوکہ تھا اس کے خلاف صدر انجمن احمدیہ کی ان شاخوں نے جو ہندوستان کے تمام
حصوں میں پھیلی ہوئی ہیں، ریزولیوشن پاس کر کے حضور وائسرائے ہند بالقابہ کی خدمت میں بھیجے اور اردو
انگریزی اخبارات میں بھی شائع کرائے تاکہ غیرمبایعین (لاہوری جماعت) نے جو جماعت احمدیہ کا قائم مقام ہونے
کا دعویٰ کیا ہے اس کی پرزور تردید کی جائے۔ اس پر غیرمبایعین نے اپنی غلط بیانی اور دھوکہ دہی کا راز افشاء
ہوتا دیکھ کر ۲۳؍دسمبر ۱۹۱۷ء (ص۳ کالم۱) کے پیغام صلح میں لکھ دیا کہ ہم نے کب کہا تھا کہ ہماری انجمن
محمودی خیالات کی ترجمان ہے۔‘‘
(الفضل قادیان ج۵ نمبر۶۶ ص۵ کالم۲، مؤرخہ ۱۶؍فروری ۱۹۱۸ء)
(۳۲) گورنمنٹ کی جاسوسی
’’پچھلے دنوں غیرمبایعین (لاہوری جماعت) کے آرگن پیغام صلح میں ان کے چھوٹے بڑوں نے جماعت احمدیہ کے
خلاف یہ طوفان بے تمیزی برپا کر رکھا تھا کہ جماعت قادیان گورنمنٹ کی جاسوسی ہے اور کارخاص پر لگی ہوئی ہے۔
اس بے بنیاد اتہام کے متعلق ہماری طرف سے نہایت کھلے اور واضح الفاظ میں چیلنج دیاگیا اور باربار ثبوت طلب
کیاگیا۔ مگر وہ کوئی بات پیش نہ کر سکے اور پیش کرتے بھی وہ کیا جب کہ سوائے جھوٹ کے ان کے پاس کچھ ہے ہی
نہیں۔ اس افتراء پردازی سے دراصل ان کی غرض یہ تھی کہ جن افعال کے وہ خود مرتکب ہورہے ہیں۔ ان کی طرف سے لوگ
کی توجہ ہٹ کر دوسری طرف پھیردیں اور خود اپنے کارہائے خاص کے صلہ میں حکومت کے انعام واکرام سے مستفید ہوتے
رہیں۔ لیکن انہیں یاد رکھنا چاہئے چوری اور اس پر سینہ زوری زیادہ دیر تک قائم نہیں رہ سکتی اور اب کسی کے
لئے یہ سمجھنے میں کچھ بھی مشکل باقی نہیں رہی کہ جماعت احمدیہ پر جاسوسی اور گورنمنٹ کے لئے کارخاص کا
الزام لگانے والے دراصل خود ان افعال کے مرتکب ہیں اور آج جن (۴۱) مربعہ زمین کو وہ بڑے فخر کے ساتھ اپنی
انجمن کی جائیداد قرار دے رہے ہیں وہ کارہائے خاص کا ہی صلہ ہے۔ کیا عجیب بات نہیں کہ بقول غیرمبایعین
گورنمنٹ کے لئے کارخاص اور جاسوسی کے مرتکب تو جماعت احمدیہ کے افراد ہوں۔ لیکن گورنمنٹ انعام دیتے وقت
انہیں قطعاً بھول جائے اور اپنا دست کرم غیرمبایعین کی طرف دراز کردے۔ پھر غیرمبایعین بھی اس انعام پر پھولے
نہ سمائیں۔ اگر یہ ان خاص خدمات کا صلہ نہیں، جن کا اظہار غیرمبایعین نے آج تک کبھی نہیں کیا اور جن کی وجہ
سے وہ حکام سے خاص تعلقات پیدا کر کے اتنا بڑا انعام حاصل کرنے میں کامیاب ہوگئے ہیں تو بتایا جائے وہ اور
کون سی خدمات ہیں جن کے معاوضہ میں
593
انہیں اتنے مرتبے حاصل ہوئے ہیں۔‘‘
(الفضل قادیان ج۱۸ نمبر۷۶ ص۴ کالم۱، مؤرخہ ۲۵؍دسمبر ۱۹۳۰ء)
(۳۳) کمینگی
’’دراصل مولوی محمد علی صاحب کی اس قدر خفگی اور برہمی کی وجہ ان ہی کے الفاظ میں یہ ہے کہ الفضل نے
میری بیوی پر جاسوسی کا اتہام باندھا ہے۔ میں سمجھتا ہوں کہ ایک پردہ نشین خاتون پر جاسوسی کا الزام کوئی کم
ناپاک الزام نہیں… اور پھر نہ خود میاں (محمود احمد) صاحب کو میرے لئے اتنی غیرت پیدا ہوئی کہ اس کمینہ
تحریر پردو حروف ہی اسے کہتے۔ نہ جماعت میں سے کوئی شخص بولا۔‘‘
(اخبار پیغام صلح لاہور ج۱۹ نمبر۱۳ ص۴،۵ کالم۳، مؤرخہ ۳؍مارچ ۱۹۳۱ء)
’’مولوی محمد علی صاحب یقینا اس امر سے انکار نہیں کرسکتے کہ اگر پردہ نشین خاتون پر جاسوسی کا الزام
لگانا ناپاک فعل ہے جو کمینگی کی حد میں آتا ہے تو پردہ نشین خواتین کی عصمت وعفت پر حرف دھرنا یقینا بدترین
قسم کی کمینگی ہے۔ مگر کیا یہ حقیقت نہیں کہ وہ لوگ جن کے امیر ہونے کا مولوی صاحب کا دعویٰ ہے۔ ان پست فطرت
اور بدباطن لوگوں کی جنہوں نے حضرت مسیح موعود کے خاندان کی مقدس ومطہر خواتین پر طرح طرح کے ناپاک کمینہ
بہتان باندھ اور ناپاک حملے کئے نہ صرف بالواسطہ بلکہ براہ راست امداد کرتے رہے ہیں۔ حتیٰ کہ خود مولوی
(محمد علی) صاحب ان کو صلاح ومشورے دیتے رہے۔‘‘
(اخبار الفضل قادیان ج۱۸ نمبر۱۰۹، مؤرخہ ۲۱؍مارچ ۱۹۳۱ء)
(۳۴) ناگفتنی
’’اے ظالمو! (لاہوری فریق) تمہارے دل کیوں اس قدر سیاہ اور کیوں اتنے تاریک ہوگئے کہ تم معمولی باتوں
میں بھی امتیاز نہیں کرسکتے۔ اے محسن کشوتم کیوں اتنے پتھر دل اور سردمہر ہوگئے کہ جس انسان کو اپنا ہادی
اور راہنماء تسلیم کرتے ہو جس سے روحانی زندگی پانے کا دعویٰ رکھتے ہو اس کے دل سے نکلی ہوئی اور قبول شدہ
دعاؤں سے پیدا ہونے والے وجود (مرزامحمود خلیفہ قادیان) کے متعلق ناگفتنی الفاظ استعمال کرتے ہو۔ قریب ہے
کہ اس جفا کاری کے بدلے تم خدا کے عذاب میں مبتلا ہو جاؤ اور جو جھوٹے الزام تم حضرت مسیح موعود کی پاک
اولاد پر لگارہے ہو، وہ تم پر اور تمہاری اولاد پر سچے ہوکر لگیں ذرا اپنے گریبانوں میں منہ ڈال کر دیکھو کہ
تمہاری اولادوں کی پہلے ہی کیا حالت ہے۔‘‘
(الفضل قادیان ج۱۲ نمبر۸ ص۵ کالم۱، مؤرخہ ۲۹؍جولائی ۱۹۲۴ء)
(۳۵) سنڈاس کی بو
’’خود جناب میاں محمود احمد صاحب نے مسجد میں جمعہ کے روز خطبہ کے اندر ہمیں دوزخ کی چلتی پھرتی آگ،
دنیا کی بدترین قوم اور سنڈاس پر پڑے ہوئے چھلکے کہا۔ یہ الفاظ اس قدر تکلیف دہ ہیں کہ ان کو سن کر ہی سنڈاس
کی بومحسوس ہونے لگتی ہے۔‘‘
(مولوی محمد علی لاہوری قادیانی امیر جماعت لاہور کا خطبہ جمعہ، پیغام صلح لاہور ج۲۲ نمبر۳۳ ص۷ کالم۲،
مؤرخہ ۳؍جون ۱۹۳۴ء، خطبات محمود ج۱۳ ص۱۳)
(۳۶) بدزبانی کی شکایت
’’مولوی محمد علی صاحب (لاہوری)… کا خطبہ جمعہ ۱۹؍اکتوبر (۱۹۴۵ء) ہمارے سامنے ہے۔ یہ خطبہ بھی حسب
معمول جماعت احمدیہ اور حضرت امیرالمؤمنین ایدہ اللہ تعالیٰ کے خلاف الزامات اور گالیوں سے پر ہے۔ جناب مولوی
صاحب کی گالیوں کی شکایت کہاں
594
تک کی جائے ان کا جوش غیض وغضب ٹھنڈا ہونے میں ہی نہیں آتا۔ ہم ان کی گالیاں سنتے سنتے تھک گئے ہیں
مگر وہ گالیاں دیتے دیتے نہیں تھکے۔ ہر خطبہ گزشتہ خطبہ سے زیادہ تلخ اور طعن آمیز ہوتا ہے۔ بدگوئی اور
بدزبانی اب جناب مولوی صاحب کی عادت ثانیہ بن چکی ہے۔ کوئی بات طعن وتشنیع اور گالی گلوچ کی آمیزش کے سوا کر
ہی نہیں سکتے۔ (لیکن گالی گلوچ کی بوچھاڑ تو دونوں جماعتوں کی عادت ہے۔ کبھی ایک سبقت لے جاتی ہے کبھی
دوسری۔ اس فن کی بنیاد خود مرزاقادیانی کی کتابوں میں رکھی گئی ہے۔ پس اتباع لازم ہے۔ للمؤلف)‘‘
(اخبار الفضل قادیان ج۳۳ نمبر۲۷۳ ص۴ کالم۳،مؤرخہ ۲۲؍نومبر ۱۹۴۵ء)
(۳۷) آپس کی باتیں
’’فاروق، جناب خلیفہ قادیان کے ایک خاص مرید کا اخبار ہے۔ جناب خلیفہ صاحب کئی مرتبہ اس کی خدمات کے
پیش نظر اس کی توسیع اشاعت کی تحریک فرماچکے ہیں۔ سوقیانہ تحریریں شائع کرنے اور گالیاں دینے کے لحاظ سے اس
اخبار کو قادیانی پریس میں بہت اونچا درجہ حاصل ہے۔ جماعت لاہور اور اس کے اکابر کو گالیاں دینا اس اخبار کی
سب سے بڑی خصوصیت ہے۔ اس کی ۲۸؍فروری ۱۹۳۵ء کی اشاعت میں ہمارے خلاف چند مضامین شائع ہوئے ہیں۔ ان میں بے
شمار گالیاں دی گئی ہیں۔ جن میں سے چند بطور نمونہ درج ذیل کی جاتی ہیں۔
(اخبار پیغام صلح لاہور ج۲۳ نمبر۱۷ ص۲، مؤرخہ ۱۱؍مارچ ۱۹۳۵ء)
(۱)لاہوری اصحاب الفیل۔ (۲)اہل پیغام کی یہودیانہ قلابازیاں۔ (۳)ظلمت کے فرزند اور زہریلے سانپ۔
(۴)لاہوری اصحاب الاخدود۔ (۵)خباثت اور شرارت اور رذالت کا مظاہرہ۔ (۶)دشمنان سلسلہ کی بھڑکی ہوئی آگ میں یہ
پیغامی (لاہوری فریق) عباد الدنیا وقود النار بن گئے۔ (۷)نہایت ہی کمینہ سے کمینہ اور رذیل سے رذیل فطرت
والا اور احمق سے احمق انسان۔ (۸)اصحاب اخدود پیامی۔ (۹)دوغلے اور نیمے بروں عقائد۔ (۱۰)بدلگام پیغامیو۔
(۱۱)حرکات دنیہ اور افعال شنیعہ۔ (۱۲)محسن کشانہ اور غدارانہ اور نمک حرامانہ حرکات۔ (۱۳)دورخے سانپ کی
کھوپڑی کچلنے۔ (۱۴)تم نے اپنے فریب کارانہ پوسٹر میں… تک انگیخت اور اشتعال کا زور لگا لیا۔ (۱۵)فوراً کپڑے
پھاڑ کر بالکل عریانی پر کمر باندھ لی۔ (۱۶)ایسی کھجلی اٹھی تھی۔ (۱۷)رذیل اور احمقانہ فعل۔ (۱۸)کبوتر نما
جانور۔ (۱۹)احمدیہ بلڈنگ (لاہوری جماعت کے مرکز) کے؟ کرمک۔ (۲۰)اے سترے بہترے بڈھے کھوسٹ ۔ (۲۱)اے بدلگام
تہذیب ومتانت کے اجارہ دار پیامیو (فریق لاہور) (۲۲)برخوردار پیامیو۔ (۲۳)جیسا منہ ویسی چپیڑ۔ (۲۴)کوئی آلو،
ترکاری یا لہسن پیاز بیچنے بونے والا نہیں۔ (۲۵)جھوٹ بول کر اور دھوکے دے کر اور فریب کارانہ بھیگی بلی بن
کر۔ (۲۶)لہسن پیاز اور گوبھی ترکاری کا بھاؤ معلوم ہوجاتا۔ (۲۷)آخرت کی لعنت کا سیاہ داغ ماتھے پر لگے۔
(۲۸)اگر شرم ہو تو وہیں… چلو بھر پانی لے کر ڈبکی لگالو۔ (۲۹)یہ کسی قدر دجالیت اور خباثت اور کمینگی۔
(۳۰)علی بابا اور چالیس چور بھی اپنی مٹھی بھر جماعت لے کر بلوں میں سے نکل آئے ہیں۔ (۳۱)بھلا کوئی ان پیامی
ایروں غیروں سے اتنا تو پوچھے۔ (۳۲)سادہ لوح پیامی نادان دشمن۔ (۳۳)پیامیو عقل کے ناخن لو۔ (۳۴)نامعقول ترین
اور مجہول ترین تجویز۔ (۳۵)سادہ لوح اور احمق۔ (۳۶)اے سادہ لوح یا ابلہ فریب امیر پیغام۔ (۳۷)پیغام بلڈنگ کے
اڑھائی ٹوٹرو۔ (۳۸)احمق اور عقل وشرافت سے عاری اور خالی۔ (۳۹)اہل پیغام (لاہوری فریق) نے جس عیاری اور
مکاری اور فریب کاری سے اپنے دجل بھرے پوسٹروں میں۔ (۴۰)چاپلوسی اور پابوسی کا مظاہرہ۔ (۴۱)اہل پیغام کے دو
تازہ گندے پوسٹر۔‘‘
(منقول از اخبار فاروق قادیان پیامی نمبر، مؤرخہ ۲۸؍فروری ۱۹۳۵ء)
595
فصل اٹھارہویں
دعوؤں کا داخلی نقشہ
(۱) ابتداء وانتہاء
’’مرزاغلام احمد قادیانی کی علمی اور مذہبی زندگی باقاعدہ طور پر ۱۸۸۰ء میں شروع ہوئی جب کہ
مرزاقادیانی نے اپنی سب سے پہلی مشہور تصنیف ’’براہین احمدیہ‘‘ لکھنی شروع کی۔ اس کے بعد مرزاقادیانی نے
ستائیس سال کے دوران میں بہت کچھ لکھا جس کا ضروری خلاصہ اس کتاب میں مناسب ترتیب سے پیش کیاگیا، لیکن
مرزاغلام احمد قادیانی کی آخری تصنیف میں بھی براہین احمدیہ، حصہ پنجم رہی جو مرزاقادیانی کی وفات کے چار
ماہ بعد اکتوبر ۱۹۰۸ء میں شائع ہوئی۔
براہین احمدیہ کے پہلے چار حصے مسلسل ۱۸۸۰ء لغاتیہ ۱۸۸۴ء شائع ہوگئے اور پانچواں حصہ تیئس سال بعد
۱۹۰۸ء میں شائع ہوا۔ پہلے، چوتھے اور پانچویں حصہ میں مرزاغلام احمد قادیانی نے جن خیالات کا اظہار فرمایا
ہے ان سے مرزاقادیانی کے نفسیاتی ارتقاء کا دلچسپ نقشہ پیش نظر ہوجاتا ہے۔ چنانچہ براہین احمدیہ، حصہ اوّل
کی ابتداء میں التماس ضروری کے تحت مرزاغلام احمد قادیانی کی تحریک ملاحظہ ہو:
’’اب میں اس جگہ بخدمت عالی دیگر امرائے اور اکابر کے بھی کہ جن کو اب تک اس کتب سے کچھ اطلاع نہیں اس
قدر گزارش کرنا ضروری سمجھتا ہوں کہ وہ بھی اگر اشاعت اس کتاب کی غرض سے کچھ مدد فرمادیں گے تو ان کی ادنیٰ
توجہ سے پھیلنا اور شائع ہونا اس کتاب کا جو دلی مقصد اور قلبی تمنا ہے نہایت آسانی سے ظہور میں آجائے گا۔
اے بزرگان وچراغان اسلام آپ سب صاحب خوب جانتے ہوں گے کہ آج کل اشاعت دلائل حقیقت اسلام کی نہایت ضرورت ہے…
جس قدر ان دنوں میں لوگوں کے عقائد میں برہمی درہمی ہورہی ہے اور خیالات اکثر طبائع کے حالت خرابی اور ابتری
میں پڑے ہوئے ہیں کسی پر پوشیدہ نہ ہوگا۔ کیا کیا رائیں ہیں جو نکل رہی ہیں۔ کیا کیا ہوائیں ہیں جو چل رہی
ہیں۔ کیا کیا بخارات ہیں جو اٹھ رہے ہیں… اور جو جو فساد طبائع میں واقع ہورہے ہیں اور جس طرح پر لوگ بباعث
اغوا اور اضلال اور وسوسہ اندازوں کے بگڑتے جاتے ہیں آپ پر پوشیدہ نہ ہوگا… پس ایسے وقت میں دلائل ’’حقیقت
اسلام‘‘ کی اشاعت میں بدل مشغول رہنا حقیقت میں اپنی ہی اولاد اور اپنی ہی نسل پر رحم کرنا ہے۔‘‘
(براہین احمدیہ حصہ اوّل ص الف،ب، خزائن ج۱ ص۶تا۸)
براہین احمدیہ، حصہ اوّل میں مرزاغلام احمد کے جو خیالات تھے وہ اوپر درج ہوئے۔ گویا مقصد فتنہ کا
انسداد تھا کہ تازہ فتنہ کھڑا ہو جائے گا، چنانچہ حصہ چہارم کے ختم تک خیالات نے جو پلٹا کھایا اس کا نمونہ
ملاحظہ ہو۔ عاقل را اشارہ کافی است۔
’’بعض صاحبوں نے اس کتاب کو محض خریدوفروخت کا ایک معاملہ سمجھا ہے اور بعض کے سینوں کو خدا نے کھول
دیا اور صدق اور ارادت کو ان کے دلوں میں قائم کردیا ہے۔ لیکن موخر الذکر ہنوز وہی لوگ ہیں کہ جو استطاعت
مالی بہت کم رکھتے ہیں اور سنۃ اللہ اپنے پاک نبیوں سے بھی یہی رہی ہے کہ اوّل اوّل ضعفا ومساکین ہی رجوع کرتے
رہے ہیں۔‘‘
(مرزاقادیانی کااشتہار ہم اور ہماری کتاب، براہین احمدیہ حصہ چہارم آخری ٹائٹل، خزائن ج۱ ص۶۷۳)
حصہ پنجم میں منشاء کھل گیا، چنانچہ ملاحظ ہو:
596
’’بالآخر یہ بھی یاد رہے کہ جو براہین احمدیہ کے بقیہ حصہ (پنجم) کے چھاپنے میں تیئس برس تک التوار
رہا یہ التوا بے معنی اور فضول نہ تھا بلکہ اس میں یہ حکمت تھی کہ اس وقت تک حصہ پنجم دنیا میں شائع نہ ہو
جب تک کہ وہ تمام امور ظاہر ہو جائیں جن کی نسبت براہین احمدیہ کے پہلے حصوں میں پیش گوئیاں ہیں۔ کیونکہ
براہین احمدیہ کے پہلے حصے عظیم الشان پیش گوئیوں سے بھرے ہوئے ہیں اور پنجم حصہ کا عظیم الشان مقصد یہی تھا
کہ وہ موعودہ پیش گوئیاں ظہور میں آجائیں۔‘‘
(دیباچہ براہین احمدیہ حصہ پنجم ص۷، خزائن ج۲۱ ص۸)
’’براہین احمدیہ کے ہر چہار حصے کہ جو شائع ہوچکے تھے وہ ایسے امور پر مشتمل تھے کہ جب تک وہ امور
ظہور میں نہ آجاتے تب تک براہین احمدیہ کے ہر چہار حصے کے دلائل مخفی اور مستور رہتے اور ضرور تھا کہ براہین
احمدیہ کا لکھنا اس وقت تک ملتوی رہے کہ جب تک کہ امتداد زمانہ سے وہ سربستہ امور کھل جائیں اور جو دلائل ان
حصوں میں درج ہیں وہ ظاہر ہو جائیں۔ کیونکہ براہین احمدیہ کے ہر چہار حصوں میں جو خدا کا کلام یعنی اس کا
الہام جابجا مستور ہے جو اس عاجز پر ہوا وہ اس بات کا محتاج تھا جو اس کی تشریح کی جائے اور نیز اس بات کا
محتاج تھا کہ جو پیش گوئیاں اس میں درج ہیں، ان کی سچائی لوگوں پر ظاہر ہو جائے۔ پس اس لئے خدائے حکیم وعلیم
نے اس وقت تک براہین احمدیہ کا چھپنا ملتوی رکھا کہ جب تک وہ تمام پیش گوئیاں ظہور میں آگئیں۔‘‘
(دیباچہ براہین احمدیہ حصہ پنجم ص۲، خزائن ج۲۱ ص۳)
مرزاقادیانی تسلیم کرتے ہیں کہ یہ بھید شروع میں کسی پر نہ کھلا اور یہ رمز کسی کی سمجھ میں نہیں آیا
اور اسی دھوکہ میں ابتداً لوگ مؤید اور معتقد ہوگئے۔ چنانچہ ملاحظہ ہو۔
پیچ میں پھنس گئے
’’اور یہ الہامات اگر میری طرف سے اس موقع پر ظاہر ہوتے جب کہ علماء مخالف ہوگئے تھے تو وہ لوگ ہزارہا
اعتراض کرتے۔ لیکن وہ ایسے موقع پر شائع کئے گئے جب کہ یہ علماء میرے موافق تھے۔ یہی سبب ہے کہ باوجود اس
قدر جوشوں کے ان الہامات پر انہوں نے اعتراض نہیں کیا، کیونکہ وہ ایک دفعہ ان کو قبول کر چکے تھے اور سوچنے
سے ظاہر ہوگا کہ میرے دعویٰ مسیح موعود ہونے کی بنیاد انہیں الہامات سے پڑی ہے اور انہیں میں خدا نے میرا
نام عیسیٰ رکھا اور جو مسیح موعود کے حق میں آیتیں تھیں وہ میرے حق میں بیان کر دیں۔ اگر علماء کو خبر ہوتی
کہ ان الہامات سے تو اس شخص کا مسیح ہونا ثابت ہوتا ہے تو وہ کبھی ان کو قبول نہ کرتے۔ یہ خدا کی قدرت ہے کہ
انہوں نے قبول کر لیا اور اس پیچ میں پھنس گئے۔‘‘
(اربعین نمبر۲ ص۲۱، خزائن ج۱۷ ص۳۶۹)
مرزاقادیانی کی کتابوں کے مطالعہ سے بخوبی واضح ہوتا ہے کہ صاحب موصوف نے ایسے ابہام سے بہت کچھ فائدہ
اٹھایا ہے اور بہت سے نیک خیال لوگ اسی طرح پیچ میں پھنس گئے اور بعد کو پیچ سے نکل کر تائب ہوئے۔ اکثر
دیندار موئیدین کو یہی صورت پیش آئی۔ لیکن قدم جم جانے کے بعد مرزاقادیانی نے صاف ظاہر فرمادیا کہ:
’’بعض امور اس دعوت میں ایسے تھے کہ ہرگز امید نہ تھی کہ قوم ان کو قبول کر سکے اور قوم پر تو اس قدر
بھی امید نہ تھی کہ وہ اس امر کو بھی تسلیم کر سکیں کہ بعد زمانہ نبوت وحی غیرتشریعی کا سلسلہ منقطع نہیں
ہوا اور قیامت تک باقی ہے بلکہ صریح معلوم ہوتا تھا کہ ان کی طرف سے وحی کے دعویٰ پر تکفیر کا انعام ملے
گا۔‘‘
(براہین احمدیہ حصہ پنجم ص۵۳، خزائن ج۲۱ ص۶۷،۶۸)
’’میری دعوت کے مشکلات میں سے ایک رسالت اور وحی الٰہی اور مسیح موعود ہونے کا دعویٰ تھا۔‘‘
(براہین احمدیہ حصہ پنجم ص۵۳، خزائن ج۲۱ ص۶۸ حاشیہ)
597
غرض کہ ابتداء میں خود مرزاقادیانی کو اندیشہ تھا کہ اس کا دعویٰ چل نہ سکے گا۔ اسی خوف سے کچھ عرصے
اشارہ وابہام سے کام لیا لیکن بتدریج جب کام چل نکلا تو زبان اور قلم بھی چل نکلے اور چلے تو خوب چلے، حد
کردی، کتابیں شاہد ہیں۔
(۲) تین دور
مرزاقادیانی کی علمی اور مذہبی زندگی کے تین نمایاں دور نظر آتے ہیں۔ پہلا دور! وہ امت محمدی کے مبلغ
کی حیثیت سے ۱۸۸۰ء میں شروع کرتے ہیں جب کہ براہین احمدیہ کے سلسلہ میں وہ اپنی دینی خدمت گزاری کا اعلان
کرتے ہیں لیکن خیالات میں ترقی کرتے کرتے دس سال کے بعد ۱۸۹۱ء میں وہ مسیح موعود ہونے کا باضابطہ اعلان کرتے
ہیں اور یہاں سے دوسرا دور شروع ہوتا ہے۔ اسی طرح مزید ترقی کرتے کرتے دس سال بعد ۱۹۰۱ء میں وہ باقاعدہ نبی
کے مرتبہ کو پہنچ جاتے ہیں اور یہاں سے تیسرا دور شروع ہوتا ہے جو آٹھ سال میں ترقی کرتے کرتے نبوت کے
انتہائی مقام تک پہنچ جاتا ہے۔ قادیانی صاحبان بالعموم صرف آخری دو دور پر زور دیتے ہیں لیکن فی الجملہ پہلا
دور بھی بنظر تکمیل قابل شمار ہے۔ پہلے دور کے اختتام اور دوسرے دور کے آغاز کا مرزاقادیانی خود یوں اعلان
فرماتے ہیں۔
’’پھر میں قریباً بارہ برس تک جو ایک زمانہ دراز ہے بالکل اس سے بے خبر اور غافل رہا کہ خدا نے مجھے
بڑی شدومد سے براہین میں مسیح موعود قرار دیا ہے اور میں حضرت عیسیٰ کی آمد ثانی کے رسمی عقیدہ پر جما رہا
جب بارہ برس گزر گئے تب وہ وقت آگیا کہ میرے پر اصل حقیقت کھول دی جائے تب تواتر سے اس بارے میں الہامات
شروع ہوئے کہ تو ہی مسیح موعود ہے۔‘‘
(اعجاز احمدی، ضمیمہ نزول المسیح ص۷، خزائن ج۱۹ ص۱۱۳)
تیسرا دور جس میں مرزاقادیانی بخیروخوبی نبی بن جاتے ہیں، اس کی تصریح مرزاقادیانی کے صاحبزادے
مرزامحمود خلیفہ قادیان یوں فرماتے ہیں:
’’غرض کہ مذکورہ بالا حوالہ سے ثابت ہے کہ تریاق القلوب کی اشاعت تک (جو کہ اگست ۱۸۹۹ء سے شروع ہوئی
اور ۲۵؍اکتوبر ۱۹۰۲ء میں ختم ہوئی) آپ کا عقیدہ یہی تھا کہ آپ کو حضرت مسیح پر جزوی فضیلت ہے اور یہ کہ آپ
کو جو نبی کہا جاتا ہے تو یہ ایک قسم کی جزوی نبوت ہے اور ناقص نبوت ہے۔ لیکن بعد میں جیسا کہ نقل کردہ
عبارت کے فقرہ دو اور تین سے ثابت ہے۔ آپ کو خداتعالیٰ کی طرف سے معلوم ہوا کہ آپ ہر ایک شان میں مسیح سے
افضل ہیں اور کسی جزوی نبوت کے پانے والے نہیں بلکہ نبی ہیں۔ ہاں! ایسے نبی جن کوآنحضرت ﷺ کے فیض سے نبوت
ملی پس ۱۹۰۲ء سے پہلے کسی تحریر سے حجت پکڑنا بالکل جائز نہیں ہوسکتا۔‘‘
(القول الفصل ص۲۴، انوارالعلوم ج۲ ص۲۸۵)
بعد کو پتہ چلا کہ ۱۹۰۱ء ہی میں مرزاقادیانی کی نبوت کا دور شروع ہوچکا تھا۔ چنانچہ پھر مرزامحمود
احمد خلیفہ قادیان تصحیح فرماتے ہیں:
’’اس سے ثابت ہوتا ہے کہ ۱۹۰۱ء میں آپ نے اپنے عقیدے میں تبدیلی کی ہے اور ۱۹۰۰ء ایک درمیانی عرصہ ہے
جو دونوں خیالات کے درمیان برزخ کے طور پر حد فاصل ہے… یہ بات ثابت ہے کہ ۱۹۰۱ء کے پہلے کے وہ حوالے جن میں
آپ نے نبی ہونے سے انکار کیا ہے، اب منسوخ ہیں اور ان سے حجت پکڑنی غلط ہے۔‘‘
(حقیقت النبوۃ ص۱۲۱، انوارالعلوم ج۲ ص۴۴۴،۴۴۵)
حاصل کلام یہ کہ مرزاقادیانی کی مذہبی زندگی کے تین مستقل دور ہیں۔ پہلے دور میں ہمدرد اسلام، دیندار
مسلمان، دوسرے میں مہدی معہود اور مسیح موعود اور تیسرے میں کھلم کھلا نبی اور رسول اللہ، تاہم مرزاغلام احمد
کی تحریرات میں دور کی پوری پابندی نہیں رہتی، بلکہ
598
ایک دور میں دوسرے دور کی باتیں بھی قلم سے نکل جاتی ہیں۔ حتیٰ کہ کہیں کہیں دور سوم میں دور اوّل کی
باتیں نظر آتی ہیں۔ غرض کہ مرزاقادیانی کے اقوال میں ترتیب زمانی کا کوئی کامل لزوم نہیں ہے اور ہونا دشوار
بھی تھا، مختلف مواقع پیش آتے تھے اور بات موقع کے مطابق کہی جاتی تھی۔ تاہم اس سے انکار نہیں ہوسکتا کہ ہر
دور کی تحریرات کا عام رجحان وہی ہے جو اس دور کے مناسب ہے۔ اس لئے جیسا کہ قادیانی صاحبان بالخصوص لاہوری
جماعت کا دستور ہے، دو چار اختلافی حوالے پیش کرنے سے کسی دور کے عام رجحان اور مجموعی لٹریچر کا بطلان نہیں
ہوسکتا۔
واضح ہو کہ پہلے دور سے دوسرے دور تک مرزاغلام احمد کو صرف چار منازل پیش آئے۔ یعنی اوّل حضرت مسیح سے
ایک فطری مناسبت محسوس ہوئی۔ اس کے بعد مرزاقادیانی مثیل مسیح بنے۔ پھر مریم بنے، پھر ابن مریم بن کر مسیح
موعود ہوگئے۔ لیکن تیسرے دور تک پہنچنے میں بہت مراحل طے کرنے پڑے۔ یعنی ولایت، مجددیت، محدثیت، لغوی نبوت،
اعزازی نبوت، اصطلاحی نبوت، جزوی نبوت، ظلی نبوت، بروزی نبوت، امتی نبوت، بالآخر خالص نبوت کی اس کی وحی
قرآن کریم کے مساوی اور ہم پلہ قرار پائے پھر مکمل نبوت کہ اس کے بغیر نبوت محمدی ناقص رہ جائے اورلازمی
نبوت کہ انکار یا تردد سے ہر مسلمان کافر بن جائے بلکہ تمام ناواقف اور بے خبر مسلمان بھی اس کی برکت سے خود
بخود کافر ہو جائیں۔ ختم نبوت کی کیسی انوکھی تفسیر اور ارتقاء نبوت کی کیسی صاف تصویر ہے۔
تیسرے مقام پر فضائل کا کیا کہنا، اولیاء تو کجا انبیاء بھی نظر میں نہیں آتے اور خاص کر عیسیٰ علیہ
السلام جو مدمقابل واقع ہوئے ہیں، بے حقیقت قرار پاتے ہیں۔ خود نبی کریم ﷺ پر مرزاقادیانی اوّل جزوی فضیلت
پاتے ہیں، پھر بذات خود قرآنی بشارت اسمہ احمد کے حقیقی مصداق بن جاتے ہیں اور اکثر عظیم الشان قرآنی مبشرات
کو خاص اپنے سے منسوب بتاتے ہیں۔ غرض عجب فضیلت جتاتے ہیں، بے لگام گھوڑا دوڑاتے ہیں۔ ذیل میں مزید تفصیلات
ملاحظہ ہوں۔
(۳) کتابوں کا مطالعہ
’’ان دنوں مجھے کتابوں کے دیکھنے کی طرف اس قدر توجہ تھی کہ گویا میں دنیا میں نہ تھا۔ میرے والد صاحب
مجھے باربار یہی ہدایت کرتے تھے کہ کتابوں کا مطالعہ کم کرنا چاہئے۔ کیونکہ وہ نہایت ہمدردی سے ڈرتے تھے کہ
صحت میں فرق نہ آوے… اکثر حصہ وقت کا قرآن شریف کے تدبر اور تفسیروں اور حدیثوں کے دیکھنے میں صرف ہوتا
تھا۔‘‘
(کتاب البریہ ص۱۵۰تا۱۵۵، خزائن ج۱۳ ص۱۸۱تا۱۸۷ حاشیہ)
(۴) کتابوں کا ڈھیر، نوکر ہوگیا ہوں
’’بیان کیا مجھ سے مرزاسلطان احمد صاحب نے بواسطہ مولوی رحیم بخش صاحب ایم۔اے کہ والد صاحب (یعنی
مرزاغلام احمد قادیانی) کا دستور تھا کہ سارا دن الگ بیٹھے پڑھتے رہتے تھے اور اردگرد کتابوں کا ایک ڈھیرلگا
رہتا تھا۔‘‘
(سیرت المہدی حصہ اوّل ص۱۹۹، روایت نمبر۱۸۸، جدید ج۱ حصہ اوّل ص۲۰۰، روایت نمبر۱۹۳)
’’بیان کیا مجھ سے جھنڈا سنگھ ساکن کالہوان نے کہ میں بڑے مرزاصاحب (مرزاغلام احمد قادیانی کے والد)
کے پاس بہت آیا جایا کرتا تھا۔ ایک دفعہ مجھے بڑے مرزاصاحب نے کہا کہ جاؤ غلام احمد کو بلالاؤ۔ ایک انگریز
حاکم میرا واقف ضلع میں آیا ہے اس کا منشاء ہو تو کسی اچھے عہدہ پر نوکر کرادوں۔ جھنڈا سنگھ کہتا تھا کہ میں
مرزاصاحب کے پاس گیا تو دیکھا کہ چاروں طرف کتابوں کا ڈھیر لگا کر اس کے اندر بیٹھے ہوئے کچھ مطالعہ کر رہے
ہیں۔ میں نے بڑے مرزاصاحب کاپیغام پہنچا دیا۔ مرزاصاحب آئے اور جواب دیا میں تو نوکر ہوگیا
599
ہوں۔ بڑے مرزاصاحب کہنے لگے کہ اچھا کیا واقعی نوکر ہوگئے ہو؟ مرزاصاحب نے کہا ہاں نوکر ہوگیا ہوں۔
اس پر بڑے مرزاصاحب نے کہا اچھا اگر نوکر ہوگئے ہو تو خیر ہے۔‘‘
(سیرت المہدی حصہ اوّل ص۳۶، روایت نمبر۵۱، جدید ج۱ حصہ اوّل ص۴۳، روایت نمبر۵۲)
(۵) انٹروڈکشن
’’خاکسار عرض کرتا ہے کہ گو براہین احمدیہ کی تالیف اور اس کے متعلق مواد جمع کرنے کا کام پہلے سے
ہورہا تھا مگر براہین احمدیہ کی اصل تصنیف اور اس کی اشاعت کی تجویز ۱۸۷۹ء سے شروع ہوئی اور آخری حصہ چہارم
۱۸۸۴ء میں شائع ہوا۔ براہین کی تصنیف سے پہلے حضرت مسیح موعود ایک گمنامی کی زندگی بسر کرتے تھے اور گوشہ
نشینی میں درویشانہ حالت تھی۔ گو براہین سے قبل بعض اخباروں میں مضامین شائع کرنے کا سلسلہ آپ نے شروع
فرمادیا تھا اور اس قسم کے اشتہارات سے آپ کا نام ایک گونہ پبلک میں بھی آگیا تھا۔ مگر بہت کم، ہاں! اپنے
ملنے والوں میں آپ کی تبلیغ وتعلیم کا دائرہ عالم شباب سے ہی شروع نظر آتا ہے… پبلک میں آپ نے تصنیف براہین
سے صرف کچھ قبل یعنی ۷۸-۱۸۷۷ء میں آنا شروع کیا اور مضامین شائع کرنے شروع فرمائے اور تبلیغی خطوط کا دائرہ
بھی وسیع کیا۔ مگر دراصل مستقل طور پر براہین احمدیہ کے اشتہار نے ہی سب سے پہلے آپ کو ملک کے سامنے کھڑا
کیا اور اس طرح علم دوست اور مذہبی امور سے لگاؤ رکھنے والے طبقہ میں آپ کا انٹروڈکشن ہوا۔‘‘
(سیرت المہدی حصہ اوّل ص۸۶، روایت نمبر۱۱۳، جدید ج۱ حصہ اوّل ص۹۳، روایت نمبر۱۱۶)
(۶) علمی امداد
’’آپ کا افتخار نامہ محبت آموز عزورودلایا۔ اگرچہ مجھ کو پہلے سے بہ نیت الزام خصم اجتماع براہین قطبہ
واثبات نبوت وحقیقت قرآن شریف میں ایک عرصہ سے سرگرمی تھی، مگر جناب کا ارشاد ہو جب گرم جوشی وباعث اشتعال
شعلہ حمیت اسلام ہوا اور موجب تقویت وتوسیع حوصلہ خیال کیاگیا کہ جب آپ سا اولوالعزم صاحب فضیلت دینی ودنیوی
تہہ دل سے حامی ہو اور تائید دین حق میں دلی گرمی کا اظہار فرمادے تو بلاشتہ ریب اس کو تائید میں خیال کرنا
چاہئے۔ جزاکم اللہ نعم الجزاء! ماسوا اس کے اگر اب تک کچھ دلائل یا مضامین آپ نے نتائج طبع عالی سے جمع فرمائے
ہوں تو وہ بھی مرحمت فرمادیں۔‘‘
(مرزاغلام احمد قادیانی کا مکتوب بنام مولوی چراغ علی مرحوم، منقول از سیر المصنّفین، مؤلفہ محمد
یحییٰ تنہا)
’’آپ کے مضمون اثبات نبوت کی اب تک میں نے انتظار کی۔ پر اب تک نہ کوئی عنایت نامہ اور نہ کوئی مضمون
بھیجا۔ اس لئے آج مکرر تکلیف دیتا ہوں کہ براہ عنایت بزرگانہ بہت جلد مضمون اثبات حقانیت فرقان مجید تیار کر
کے میرے پاس بھیج دیں اور میں نے ایک کتاب جو دس حصے پر مشتمل ہے تصنیف کی ہے اور نام اس کا براہین احمدیہ
علیٰ حقانیت کتاب اللہ القرآن والنبوۃ الحمدیہ رکھا ہے اور صلاح یہ ہے کہ آپ کے فوائد بھی اس میں درج کروں اور
اپنے مختصر کلام کو اس سے زیب وزینت بخشوں۔ سو اس امر میں آپ توقف نہ فرمائیں اور جہاں تک جلد ہو سکے مجھ کو
مضمون مبارک اپنے سے ممنون فرمادیں۔‘‘
(مرزاغلام احمد قادیانی کا مکتوب بنام مولوی چراغ علی مرحوم، منقول از سیر المصنّفین، مؤلفہ محمد
یحییٰ تنہا)
(۷) پہلا سودا
’’اخوان دیندار ومؤمنین غیرت شعار وحامیان دین اسلام ومتبعین سنت خیرالانام پر روشن ہو کہ اس خاکسار
نے ایک کتاب متضمن اثبات حقانیت قرآن وصداقت دین اسلام ایسی تالیف کی ہے جس کے مطالعہ کے بعد طالب حق سے بجز
قبولیت اسلام اور کچھ نہ بن
600
پڑے اور اس کے جواب میں قلم اٹھانے کی کسی کو جرأت نہ ہو سکے… پہلے ہم نے اس کتاب کا ایک حصہ پندرہ
جزو میں تصنیف کیا بغرض تکمیل تمام ضروری امروں کے نو حصے اور زیادہ کردئیے جن کے سبب سے تعداد کتاب ڈیڑھ سو
جزو ہوگئی۔ ہر ایک حصہ اس کاایک ایک ہزار نسخہ چھپے تو چورانوے روپے صرف ہوتے ہیں۔ پس کل حصص کتاب نوسوچالیس
روپیہ سے کم میں چھپ نہیں سکتے۔ ازاں جا کہ ایسی بڑی کتاب کا چھپ کر شائع ہونا بجز معاونت مسلمان بھائیوں کے
بڑا مشکل امر ہے اور ایسے اہم کام میں اعانت کرنے میں جس قدر ثواب ہے وہ ادنیٰ اہل اسلام پر بھی مخفی نہیں
لہٰذا اخوان مومنین سے درخواست ہے کہ اس کارخیر میں شریک ہوں اور اس کے مصارف طبع میں معاونت کریں۔ اغنیاء
لوگ اگر اپنے مطبخ کے ایک دن کا خرچ بھی عنایت فرمائیں تو یہ کتاب بہ سہولت چھپ جائے گی۔ ورنہ یہ مہردرخشاں
چھپا رہے گا، یا یوں کریں کہ ہرایک اہل وسعت بہ نیت خریداری کتاب پانچ پانچ روپیہ مع اپنی درخواستوں کے راقم
کے پاس بھیج دیں۔ جیسی جیسی کتاب چھپتی جائے گی ان کی خدمت میں ارسال ہوتی رہے گی۔ غرض انصار اللہ بن کر اس
نہایت ضروری کام کو جلد تر بسر انجام پہنچا دیں اور نام اس کتاب کا ’’البراہین الاحمدیہ
علی حقیقۃ کتاب اللہ القرآن والنبوۃ لمحمدیہ‘‘ رکھا گیا ہے۔ خدا اس کو مبارک کرے اور گمراہوں کو اس
کے ذریعہ سے اپنی سیدھی راہ پر چلاوے۔ (آمین)‘‘
(مرزاقادیانی کا اشتہار بابت ماہ اپریل۱۸۷۹ء، مندرجہ تبلیغ رسالت ج۱ ص۸ (ب،ج)، مجموعہ اشتہارات ج۱
ص۱۰تا۱۲، جدید مجموعہ اشتہارات ج۱ ص۱۶،۱۷)
’’ہم نے صدہا طرح کا فتور اور فساد دیکھ کر کتاب براہین احمدیہ کو تالیف کیا تھا اور کتاب موصوف میں
تین سو مضبوط اور محکم عقلی دلیل سے صداقت اسلام کو فی الحقیقت آفتاب سے بھی زیادہ تر روشن دکھلایا گیا۔‘‘
(براہین احمدیہ حصہ دوم ص(ب)، خزائن ج۱ ص۶۲)
’’اب ہریک مومن کے لئے خیال کرنے کا مقام ہے کہ جس کتاب کے ذریعہ سے تین سو دلائل عقلی حقیقت قرآن
شریف پر شائع ہوں گے اور تمام مخالفین کے شبہات کو دفع اور دور کیا جائے گا وہ کتاب کیا کچھ بندگان خداکو
فائدہ پہنچائے گی اور کیسا فروغ اور جاہ وجلال اسلام کا اس کی اشاعت سے چمکے گا۔‘‘
(براہین احمدیہ حصہ دوم ص (د،ہ)، خزائن ج۱ ص۶۷)
’’اس کتاب میں ایسی دھوم دھام سے حقانیت اسلام کا ثبوت دکھلایا گیا ہے کہ جس سے ہمیشہ کے مجادلات کا
خاتمہ فتح عظیم کے ساتھ ہو جائے گا۔ اس کتاب کی اعانت طبع کے لئے جس قدر ہم نے لکھا ہے وہ محض مسلمانوں کی
ہمدردی سے لکھا گیا ہے۔ کیونکہ ایسی کتاب کے مصارف جو ہزارہا روپیہ کا معاملہ ہے اور جس کی حقیقت بھی بہ نیت
عام فائدہ مسلمانوں کے نصف سے بھی کم کر دی گئی ہے۔ یعنی پچیس روپیہ میں سے صرف دس روپیہ رکھے گئے ہیں۔ وہ
کیونکر بغیر اعانت عالی ہمت مسلمانوں کے انجام پذیر ہو۔‘‘
(براہین احمدیہ حصہ دوم ص(و)، خزائن ج۱ ص۶۹)
’’اس جگہ یہ امر بھی واجب الاطلاع ہے کہ پہلے یہ کتاب صرف تیس پینتیس جزو تک تالیف ہوئی تھی اور پھر
سوجزو تک بڑھادی گئی اور دس روپیہ عام مسلمانوں کے لئے اور پچیس روپیہ دوسری قوموں اور خواص کے لئے مقرر
ہوئی، مگر اب یہ کتاب بوجہ احاطہ جمیع ضروریات تحقیق وتدقیق اور اتمام حجت کے لئے تین سو جزو تک پہنچ گئی
ہے۔ جس کے مصارف پر نظر کر کے یہ واجب معلوم ہوتا تھا کہ آئندہ قیمت کتاب سو روپیہ رکھی جائے۔ مگر بباعث پست
ہمتی اکثر لوگوں کے یہی قرین مصلحت معلوم ہوا کہ اب وہی قیمت مقررہ سابقہ کہ گویا کچھ بھی نہیں۔ ایک دوامی
قیمت قرار پاوے اور لوگوں کو ان کے حوصلہ سے زیادہ تکلیف دے کر پریشان خاطر نہ کیا جائے۔ لیکن خریداروں کو
یہ استحقاق نہیں ہوگا کہ جو بطور حق واجب کے اس قدر اجزاء کا مطالبہ کریں بلکہ جو اجزاء زائد از حق واجب ان
کو پہنچیں گے وہ محض اللہ فی اللہ
601
ہوں گے اور ان کا ثواب ان لوگوں کو پہنچے گا کہ جو خالصاً اللہ اس کام کے انجام کے لئے مدد کریں گے اور
واضح رہے کہ اب یہ کام صرف ان لوگوں کی ہمت سے انجام پذیر نہیں ہوسکتا جو مجرد خریدار ہونے کی وجہ سے ایک
عارضی جوش رکھتے ہیں بلکہ اس وقت کئی ایک ایسی عالی ہمتوں کی توجہات کی حاجت ہے کہ جن کے دلوں میں ایمانی
غیوری کے باعث سے حقیقی اور واقعی جوش ہے اور جن کے بے بہا ایمان صرف خرید وفروخت کے تنگ ظرف میں نہیں سما
سکتا بلکہ اپنے مالوں کے عوض میں بہشت جاودانی خریدنا چاہتے ہیں۔‘‘
(مرزاقادیانی کا اشتہار براہین احمدیہ حصہ سوم ابتدائی ٹائٹل، خزائن ج۱ ص۱۳۴،۱۳۵)
’’چونکہ کتاب اب تین سو جزو تک بڑھ گئی ہے، لہٰذا ان خریداروں کی خدمت میں جنہوں نے اب تک کچھ قیمت
نہیں بھیجی یا پوری قیمت نہیں بھیجی التماس ہے کہ اگر کچھ نہیں تو صرف اتنی مہربانی کریں کہ بقیہ قیمت
بلاتوقف بھیج دیں، کیونکہ جس حالت میں اب اصلی قیمت کتاب کی سو روپیہ ہے اور اس کے عوض دس یا پچیس روپیہ
قیمت قرار پائی پس اگر یہ ناچیز قیمت بھی مسلمان لوگ بطور پیشگی ادا نہ کریں تو پھر گویا وہ کام کے انجام سے
آپ مانع ہوں گے۔‘‘
(اشتہار ۱۸۸۲ء، براہین احمدیہ حصہ سوم، ابتدائی ٹائٹل، خزائن ج۱ ص۱۳۶، مندرجہ تبلیغ رسالت ج۱ ص۲۵،
مجموعہ اشتہارات ج۱ ص۳۴، جدید مجموعہ اشتہارات ج۱ ص۶۴)
’’بعد ماوجب گزارش ضروری یہ ہے کہ عاجز مؤلف براہین احمدیہ حضرت قادر مطلق جل شانہ کی طرف سے مامور
ہوا ہے کہ نبی ناصری اسرائیل (مسیح) کے طرز کمال مسکینی، فروتنی، غربت وتذلل وتواضع سے اصلاح خلق کے لئے
کوشش کرے اور ان لوگوں کو جو راہ راست سے بے خبر ہیں صراط مستقیم… دکھادے۔ اسی غرض سے کتاب براہین احمدیہ
تالیف پائی ہے جس کی ۳۷جز چھپ کر شائع ہوچکی ہیں اور اس کا خلاصہ مطلب اشتہار ہمراہی خط ہذا میں مندرج ہے۔
لیکن چونکہ پوری کتاب کا شائع ہونا ایک طویل مدت پر موقوف ہے۔ اس لئے یہ قرار پایا ہے کہ بالفعل بغرض اتمام
حجت یہ خط (جس کی ۲۴۰کاپی چھپوائی گئی ہے معہ اشتہار انگریزی) جس کی آٹھ ہزار کاپی چھپوائی گئی ہے۔ شائع کیا
جائے… بالآخر یہ عاجز حضرت خداوند کریم جل شانہ کا شکرادا کرتا ہے کہ جس نے اپنے سچے دین کے براہین ہم پر
ظاہر کئے اور پھر ان کی اشاعت کے لئے ایک آزاد سلطنت کی حمایت میں جو گورنمنٹ انگلشیہ ہے ہم کو جگہ دی۔ اس
گورنمنٹ کا بھی حق شناسی کی رو سے یہ عاجز شکریہ ادا کرتا ہے۔‘‘
(اشتہار مندرجہ تبلیغ رسالت ج۱ ص۱۱تا۱۳، مجموعہ اشتہارات ج۱ ص۲۰تا۲۲، جدید مجموعہ اشتہارات ج۱ ص۲۵،۲۶)
’’مصنف کو اس بات کا بھی علم دیاگیا ہے کہ وہ مجدد وقت ہے اور روحانی طور پر اس کے کمالات مسیح بن
مریم کے کمالات سے مشابہ ہیں اور ایک کو دوسرے سے بہ شدت مناسبت ومشابہت ہے اور اس کو خواص انبیاء ورسل کے
نمونے پر محض بہ برکت متابعت حضرت خیرالبشر وافضل الرسل ﷺ ان بہتوں پر اکابر اولیاء سے فضیلت دی گئی ہے کہ
جو اس سے پہلے گزر چکے ہیں اور اس کے قدم پر چلنا موجب نجات وسعادت وبرکت اور اس کے برخلاف چلنا موجب بعد
وحرماں ہے۔ یہ سب ثبوت کتاب براہین احمدیہ کے پڑھنے سے کہ جو منجملہ تین سو جزو کے قریب ۳۷جزو کے چھپ چکی ہے
ظاہر ہوتے ہیں اور طالب حق کے لئے خود مصنف پوری پوری تسلی وتشفی کرنے کو ہر وقت مستعد اور حاضر ہے… اے
خداوند کریم تمام قوموں کے مستعد دلوں کو ہدایت بخش… بالخصوص قوم انگریز جنہوں نے ابھی تک اس آفتاب صداقت سے
کچھ روشنی حاصل نہیں کی اور جس کی شائستہ اور مہذب اور بارحم گورنمنٹ نے ہم کو اپنے احسانات اور دوستانہ
معاونت سے ممنون کر کے اس بات کے لئے دلی جوش بخشا ہے کہ ہم ان کے دنیا ودین کے لئے دلی جوش سے بہبودی
وسلامتی چاہیں۔‘‘
(مرزاقادیانی کا اشتہار مندرجہ تبلیغ رسالت ج۱ ص۱۵،۱۶، مجموعہ اشتہارات ج۱ ص۲۴،۲۵، جدید مجموعہ
اشتہارات ج۱ ص۲۸)
602
’’تھوڑا عرصہ گزرا ہے کہ بعض صاحبوں نے مسلمانوں میں سے اس مضمون کی بابت کہ جو حصہ سوم کے ساتھ
گورنمنٹ انگریزی کے شکر کے بارے میں شامل ہے اعتراض کیا اور بعض نے خطوط بھی بھیجے اور بعض نے سخت اور درشت
لفظ بھی لکھے کہ انگریزی عملداری کو دوسری عملداریوں پر کیوں ترجیح دی لیکن ظاہر ہے کہ جس سلطنت کو اپنی
شائستگی اور حسن انتظام کے رو سے ترجیح ہو اس کو کیونکر چھپا سکتے ہیں… سو اس عاجز نے جس قدر حصہ سوم کے
پرچہ مشمولہ میں انگریزی گورنمنٹ کا شکر ادا کیا ہے۔ وہ صرف اپنے ذاتی خیال سے ادا نہیں کیابلکہ قرآن شریف
اور احادیث نبوی کی ان بزرگ تاکیدوں نے جو اس عاجز کے پیش نظر ہیں مجھ کو اس شکرادا کرنے پرمجبور کیا۔‘‘
(مرزاقادیانی کا اشتہار ۱۸۸۴ء، مندرجہ براہین احمدیہ حصہ چہارم ص(الف)، خزائن ج۱ ص۳۱۶)
’’ابتداء میں جب یہ کتاب تالیف کی گئی تھی اس وقت اس کی کوئی اور صورت تھی، پھر بعد اس کے قدرت الٰہیہ
کی ناگہانی تجلی نے اس احقر عباد کو موسیٰ کی طرح ایک ایسے عالم سے خبر دی جس سے پہلے خبر نہ تھی، یعنی یہ
عاجز بھی حضرت ابن عمران کی طرح اپنے خیالات کی شب تاریک میں سفر کر رہا تھا کہ یک دفعہ پردہ غیب سے ’’انی انا ربک‘‘ کی آواز آئی اور ایسے اسرار ظاہر ہوئے کہ جن تک عقل اور خیال کی
رسائی نہ تھی۔ سو اب اس کتاب کا متولی اور مہتمم ظاہراً اور باطناً حضرت رب العالمین ہے اور کچھ معلوم نہیں
کہ کس اندازہ اور مقدار تک اس کو پہنچانے کا ارادہ ہے اور سچ تو یہ ہے کہ جس قدر اس نے جلد چہارم تک
انوارحقیقت اسلام کے ظاہر کئے ہیں یہ بھی اتمام حجت کے لئے کافی ہیں… اس جگہ ان نیک دل ایمانداروں کا شکر
کرنا لازم ہے جنہوں نے اس کتاب کے طبع ہونے کے لئے آج تک مدد دی ہے۔ خداتعالیٰ ان سب پر رحم کرے… بعض صاحبوں
نے اس کتاب کو محض خریدوفروخت کا ایک معاملہ سمجھا ہے اور بعض کے سینوں کو خدا نے کھول دیا اور صدق اور
ارادت کو ان کے دلوں میں قائم کردیا ہے۔ لیکن مؤخرالذکر ہنوز وہی لوگ ہیں کہ جو استطاعت مالی بہت کم رکھتے
ہیں اور سنت اللہ اپنے پاک نبیوں سے بھی یہی رہی ہے کہ اوّل اوّل ضعفاء اور مساکین ہی رجوع کرتے رہے ہیں۔‘‘
(مرزاقادیانی کااشتہار ’’ہم اور ہماری کتاب‘‘ براہین احمدیہ حصہ چہارم آخری ٹائٹل، خزائن ج۱ ص۶۷۳)
’’اس خداوند عالم کا کیا کیا شکرادا کیا جائے کہ جس نے اوّل مجھ ناچیز کو محض اپنے فضل اور کرم اور
عنایت غیبی سے اس کتاب کی تالیف اور تصنیف کی توفیق بخشی اور پھر اس تصنیف کے شائع کرنے اور پھیلانے اور
چھپوانے کے لئے اسلام کے عمائد اور بزرگوں اور اکابر اور امیروں اور دیگر بھائیوں اور مومنوں اور مسلمانوں
کو شائق اور راغب اور متوجہ کردیا۔ پس اس جگہ ان تمام حضرات معاونین کا شکر کرنا بھی واجبات سے ہے کہ جن کی
کریمانہ توجہات سے میرے مقاصد دینی ضائع ہونے سے سلامت رہے اور میری محنتیں برباد جانے سے بچ رہیں۔ میں ان
صاحبوں کی اعانتوں سے ایسا ممنون ہوں کہ میرے پاس وہ الفاظ نہیں کہ جن سے میں ان کا شکر ادا کر سکوں۔
بالخصوص جب میں دیکھتا ہوں کہ بعض صاحبوں نے اس کارخیر کی تائید میں بڑھ بڑھ کے قدم رکھے ہیں اور بعض نے
زائد اعانتوں کے لئے اور بھی مواعید فرمائے ہیں تو یہ میری ممنونی اور احسان مندی اور بھی زیادہ ہوجاتی
ہے۔‘‘
(التماس ضروری از مؤلف کتاب براہین احمدیہ حصہ اوّل ص(الف)، خزائن ج۱ ص۵)
(۸) براہین احمدیہ میں ترتیب مضامین
(۱) حصہ اوّل ص۱تاص۸۲
(۲) دیباچہ ونظم وغیرہ ص۱تاص۱۶
603
(ب) اشتہار بہ خط جلی ص۱۷تاص۵۲
(ج) مرزاصاحب کے حالات از معراج الدین عمرقادیانی ص۵۳ ص۸۲ (اتاش)
(۲) حصہ دوم ص۸۳تاص۱۳۸
(۲) مقدمہ
’’صاحبو اگر آپ لوگوں کے نزدیک انصاف بھی کچھ چیز ہے اور عقل بھی کوئی شے قابل لحاظ ہے تو یا تو ایسی
دلائل صدق اور راستی کی کہ جن پر قرآن شریف مشتمل ہے جن کو ہر فصل اوّل سے لکھنا شروع کریں گے۔ کسی اپنی
کتاب سے نکال کر دکھلاؤ اور یا حیا اور شرم کی صفت کو عمل میں لاکر زبان درازی چھوڑو اور اگر خدا کا کچھ
خوف ہے اور نجات کی کچھ خواہش ہے تو ایمان لاؤ۔ اب یہ مقدمہ ختم ہوگیا اور جس قدر ہم نے مطالب بالائی لکھنے
تھے سب لکھ چکے۔ بعد اس کے اصل مطلب کتاب کا شروع ہوگا اور دلائل حقیقت قرآن شریف اور صدق نبوت آنحضرت کی
بسط اور تفصیل سے بیان کی جائیں گی۔‘‘
(براہین احمدیہ حصہ دوم ص۱۲۸، خزائن ج۱ ص۱۲۱،۱۲۲)
(۳) حصہ سوم ص۱۳۹تاص۲۷۸
(۲) پہلی فصل
’’ان براہین کے بیان میں جو قرآن شریف کی حقیقت اور افضلیت پر بیرونی اور اندرونی شہادتیں ہیں، قبل از
تحریر براہین فصل ہذا کے چند ایسے امور کا بطور تمہید بیان کرنا ضروری ہے جو دلائل آتیہ کے اکثر مطالب
دریافت کرنے اور ان کی کیفیت اور ماہیت سمجھنے کے لئے قواعد کلیہ ہیں۔ چنانچہ ذیل میں وہ سب تمہیدیں لکھی
جاتی ہیں۔‘‘
(براہین احمدیہ حصہ سوم ص۱۳۹، خزائن ج۱ ص۱۴۳)
(۱) تمہید اوّل ص۱۳۹
(۲) تمہید دوم ص۱۳۹تاص۱۴۵
(۳) تمہید سوم، مع حاشیہ وحاشیہ در حاشیہ ص۱۴۵تا۲۷۸
(۴) حصہ چہارم، ص۲۷۹تا۵۶۲
(۱) تمہید سوم مسلسل مع حاشیہ وحاشیہ درحاشیہ ص۲۷۹تا۳۸۱
(۲) تمہید چہارم مع حاشیہ وحاشیہ در حاشیہ ص۳۸۱تا۴۲۷
(۳) تمہید پنجم مع حاشیہ وحاشیہ درحاشیہ ص۴۲۸تا۴۶۶
(۴) تمہید ششم مع حاشیہ وحاشیہ درحاشیہ ص۴۶۷تا۴۶۹
(۵) تمہید ہفتم مع حاشیہ وحاشیہ درحاشیہ ص۴۷۰تا۴۹۸
(۶) تمہید ہشتم مع حاشیہ وحاشیہ درحاشیہ ص۴۹۹تا۵۱۲
اب ان تمہیدات کے بعد دلائل حقیقت قرآن شریف کے لکھے جاتے ہیں۔
(براہین احمدیہ حصہ چہارم ص۵۱۲، خزائن ج۱ ص۶۱۱)
(ب) باب اوّل
ان براہین کے بیان میں جو قرآن شریف کی حقیقت اور افضلیت پر بیرونی شہادتیں متن مع حاشیہ وحاشیہ در
حاشیہ ص۵۱۳ تا ص۵۶۲
604
(اوّل حصہ اوّل تا حصہ چہارم ختم)
(۵) حصہ پنجم ص۱ تا ص۱۳۱، ص۱تاص۲۳۱
(الف) براہین احمدیہ ص۱تاص۱۳۱
(ب) ضمیمہ براہین احمدیہ ص۱تاص۲۳۱
’’بالآخر یہ بھی یاد رہے کہ جو براہین احمدیہ کے بقیہ حصہ (پنجم) کے چھاپنے میں تیئس برس تک التوا رہا
یہ التوا بے معنی اور فضول نہ تھا، بلکہ اس میں یہ حکمت تھی کہ تا اس وقت تک پنجم حصہ دنیا میں شائع نہ ہو
جب تک کہ وہ تمام امور ظاہر ہو جائیں جن کی نسبت براہین احمدیہ کے پہلے حصوں میں پیش گوئیاں ہیں۔ کیونکہ
براہین احمدیہ کے پہلے (چار) حصے عظیم الشان پیش گوئیوں سے بھرے ہوئے ہیں اور پنجم حصہ کا عظیم الشان مقصد
یہی تھا کہ وہ موعودہ پیش گوئیاں ظہور میں آجائیں۔‘‘
(دیباچہ براہین احمدیہ حصہ پنجم ص۷، خزائن ج۲۱ ص۸)
(۹) حصہ پنجم کا قصہ
-
’’بحمد اللہ آخر ایں کتابم
مکمل شد بفضل آں جنابم
اما بعد واضح ہو کہ یہ براہین احمدیہ کا پانچواں حصہ ہے کہ جو اس دیباچہ کے بعد لکھا جائے گا۔
خداتعالیٰ کی حکمت ومصلحت سے ایسا اتفاق ہوا کہ چار حصے اس کتاب کے چھپ کر پھر تخمیناً تیئس برس تک اس کتاب
کا چھپنا ملتوی رہا اور عجیب تر یہ کہ اسّی(۸۰) کے قریب اس مدت میں، میں نے کتابیں تالیف کیں جن میں سے بعض
بڑے بڑے حجم کی تھیں۔ لیکن اس کتاب کی تکمیل کے لئے توجہ پیدا نہ ہوئی اور کئی مرتبہ دل میں یہ درد پیدا بھی
ہوا کہ براہین احمدیہ کے ملتوی رہنے پر ایک زمانہ دراز گزر گیا، مگر باوجود کوشش بلیغ اور باوجود اس کے
خریداروں کی طرف سے بھی کتاب کے مطالبہ کے لئے سخت الحاح ہوا اور اس مدت مدید اور اس قدر زمانہ التواء میں
مخالفوں کی طرف سے بھی وہ اعتراض مجھ پر ہوئے کہ جو بدظنی وبدزبانی کے گند سے حد سے زیادہ آلودہ تھے اور
بوجہ امتداد مدت درحقیقت وہ دلوں میں پیدا ہوسکتے تھے، مگر پھر بھی قضا قدر کے مصالح نے مجھے یہ توفیق نہ دی
کہ میں اس کتاب کو پورا کر سکتا۔‘‘
(دیباچہ براہین احمدیہ حصہ پنجم ص۱، خزائن ج۲۱ ص۲)
’’میں نے پہلے ارادہ کیا تھا کہ اثبات حقیقت اسلام کے لئے تین سو دلیل براہین احمدیہ میں لکھوں۔ لیکن
جب میں نے غور سے دیکھا تو معلوم ہوا کہ یہ دو قسم کے دلائل ہزارہا نشانوں کے قائم مقام ہیں۔ پس خدا نے میرے
دل کو اس ارادہ سے پھیر دیا اور مذکورہ بالا دلائل کے لکھنے کے لئے مجھے شرح صدر عنایت کیا… سو میں ان شاء
اللہ تعالیٰ یہی دونوں قسم کے دلائل اس کتاب میں لکھ کر اس کتاب کو پورا کروں گا۔‘‘
(دیباچہ براہین احمدیہ حصہ پنجم ص۵، خزائن ج۲۱ ص۶،۷)
’’پہلے پچاس حصے لکھنے کا ارادہ تھا مگر پچاس سے پانچ پر اکتفاء کیاگیا اور چونکہ پچاس اور پانچ کے
عدد میں صرف ایک نقطہ کا فرق ہے اس لئے پانچ حصوں سے وہ وعدہ پوراہوگیا۔‘‘
(دیباچہ براہین احمدیہ حصہ پنجم ص۷، خزائن ج۲۱ ص۹)
(۱۰) کلام الٰہی میں توقف
’’اس توقف کو بطور اعتراض پیش کرنا محض لغو ہے۔ قرآن شریف بھی باوجود کلام الٰہی ہونے کے تیئس برس میں
نازل ہوا، پھر اگر خداتعالیٰ کی حکمت نے بعض مصالح کی غرض سے براہین احمدیہ کی تکمیل میں توقف ڈال دی تو اس
میں کون سا حرج ہوا اور اگر یہ خیال ہے کہ بطور پیشگی خریداروں سے روپیہ لیا گیا تھا تو ایسا خیال کرنا بھی
حمق اور ناواقفی کے باعث ہوگا۔ کیونکہ اکثر براہین احمدیہ کا حصہ مفت تقسیم کیاگیا
605
ہے اور بعض سے پانچ روپیہ لئے گئے وہ صرف چند آدمی ہیں اور پھر باوجود اس قیمت کے جوان حصص براہین
احمدیہ کے مقابل پر جومنطبع ہوکر خریداروں کو دئیے گئے ہیں کچھ بہت نہیں ہے بلکہ عین موزوں ہے۔ اعتراض کرنا
سراسر کمینگی اور سفاہت ہے۔ لیکن پھر بھی ہم نے بعض جاہلوں کے ناحق شوروغوغا کا خیال کر کے دومرتبہ اشتہار
دے دیا کہ جو شخص براہین احمدیہ کی قیمت واپس لینا جاہے وہ ہماری کتابیں ہمارے حوالے کرے اور اپنی قیمت لے
لے، چنانچہ وہ تمام لوگ جو اس قسم کی جہالت اپنے اندر رکھتے تھے انہوں نے کتابیں بھیج دیں اور قیمت واپس لے
لی اور بعض نے کتابوں کو بہت خراب کر کے بھیجا مگر پھر بھی ہم نے قیمت دے دی اور کئی دفعہ ہم لکھ چکے ہیں کہ
ہم ایسے کمینہ طبعوں کی نازبرداری کرنا نہیں چاہتے اور ہر ایک وقت قیمت واپس دینے پر تیار ہیں۔ چنانچہ
خداتعالیٰ کا شکر ہے کہ ایسے دنی الطبع لوگوں سے خدا نے ہم کو فراغت بخشی۔‘‘
(ایام صلح ص۱۷۳، خزائن ج۱۴ ص۴۲۱،۴۲۲)
(۱۱) وعدہ سے گریز
’’اب یہ سلسلہ تالیف (براہین احمدیہ) کتاب بوجہ الہامات الٰہیہ دوسرا رنگ پکڑ گیا ہے اور اب ہماری طرف
سے کوئی ایسی شرط نہیں کہ کتاب تین سو جز تک ضرور پہنچے بلکہ جس طور سے خدائے تعالیٰ مناسب سمجھے گا کم یا
زیادہ بغیر لحاظ پہلی شرائط کے اس کو انجام دے گا کہ یہ سب کام اسی کے ہاتھ میں اور اسی کے امر سے ہے۔‘‘
(اشتہار واجب الاظہار سرمہ چشم آریہ ابتدائی ٹائٹل، خزائن ج۲ ص۴۸)
(۱۲) کتابی کاروبار
’’چونکہ طبع کتاب ازالہ اوہام میں معمول سے زیادہ مصارف ہوگئے ہیں اور مالک مطبع اور کاتب کا حساب
بیباق کرنے کے لئے روپیہ کی ضرورت ہے۔ لہٰذا بخدمت جمیع مخلص دوستوں کے التماس ہے کہ حتی الوسع اس کتاب کی
خریداری سے بہت جلد مدد دیں جو صاحب چند نسخے خرید سکتے ہیں وہ بجائے ایک کے اس قدر نسخنے خرید لیں جس قدر
ان کو خریدنے کی خداداد مقدرت حاصل ہے اور اس جگہ اخویم مکرم مولوی حکیم نورالدین صاحب معالج ریاست جموں کی
نئی امداد جو انہوں نے کئی نوٹ اس وقت بھیجے قابل اظہار ہے۔ خداتعالیٰ ان کو جزائے خیر بخشے۔‘‘
(مرزاقادیانی کا اشتہار مندرجہ تبلیغ رسالت ج۲ ص۷۳، مجموعہ اشتہارات ج۱ ص۲۸۷، جدید مجموعہ اشتہارات ج۱
ص۲۰۸)
’’ہمارے پاس کچھ جلدیں رسالہ فتح اسلام وتوضیح مرام موجود ہیں جن کی قیمت ایک روپیہ ہے اور کچھ جلدیں
کتاب ازالہ اوہام موجود ہیں جن کی قیمت فی جلد تین روپیہ ہے۔ محصول ڈاک علاوہ ہے جو صاحب خرید کرنا چاہیں
منگوالیں پتہ یہ ہے۔ قادیان ضلع گورداسپور، بنام راقم رسالہ ہذا (یعنی مرزاغلام احمد قادیانی) یا اگر چاہیں
تو بمقام پٹیالہ میرناصر نواب صاحب نقشہ نویس دفتر نہر (یعنی مرزاقادیانی کے خسر) سے لے سکتے ہیں اور نیز یہ
کتابیں پنجاب پریس سیالکوٹ میں مولوی غلام قادر صاحب فصیح مالک مطبع کے پاس بھی موجود ہیں۔ وہاں سے بھی
منگوا سکتے ہیں۔‘‘
(مرزاقادیانی کا اعلان تبلیغ رسالت ج۲ ص۸۷، مجموعہ اشتہارات ج۱ ص۳۰۴، جدید مجموعہ اشتہارات ج۱ ص۲۴۸)
(۱۳) باہمی تعاون
’’حضرت مسیح موعود (مرزاقادیانی) تبلیغ لکھ رہے تھے جو کتاب آئینہ کمالات اسلام میں شامل ہے۔ یہ عربی
زبان میں پہلی مستقل کتاب ہے جو آپ نے لکھی تھی۔ اس کا مسودہ لکھ کر آپ حضرت حکیم الامتہ (حکیم نورالدین) کو
بھیج دیا کرتے کہ وہ پڑھ لیں اور پھر حضرت مولوی عبدالکریم کو فارسی ترجمہ کے لئے بھیج دیا جاتا تھا۔‘‘
(الفضل قادیان ج۱۶ نمبر۵۶ ص۵ کالم۳، مؤرخہ ۱۵؍جنوری ۱۹۲۹ء)
606
’’نیز مولوی صاحب موصوف (شیر علی) بیان کرتے ہیں کہ حضرت (مرزاقادیانی) عربی کتابوں کی کاپیاں اور
پروف حضرت خلیفہ اوّل (نورالدین) اور مولوی محمد احسن صاحب صاحب کے پاس بھی بھیجا کرتے تھے اور فرماتے تھے
کہ اگر کسی جگہ اصلاح ہو سکے تو کر دیں۔ حضرت خلیفہ اوّل تو پڑھ کر اسی طرح واپس فرمادیتے تھے، لیکن مولوی
محمد احسن صاحب بڑی محنت کر کے اس میں بعض جگہ اصلاح کے طریق پر لفظ بدل دیتے تھے۔ مولوی شیرعلی صاحب بیان
کرتے ہیں کہ حضرت مسیح موعود نے ایک وقت فرمایا کہ مولوی محمد احسن صاحب اپنی طرف سے تو اصلاح کرتے ہیں، مگر
میں دیکھتا ہوں کہ میرا لکھا ہوالفظ زیادہ برمحل اور فصیح ہوتا ہے اور مولوی صاحب کا کمزور ہوتا ہے۔ لیکن
میں کہیں کہیں ان کا لکھا ہوا لفظ بھی رہنے دیتا ہوں تا ان کی دل شکنی نہ ہو کہ ان کے لکھے ہوئے سب الفاظ
کاٹ دئیے۔‘‘
(سیرت المہدی حصہ اوّل ص۷۵، روایت نمبر۱۰۱، جدید ج۱ حصہ اوّل ص۸۲،۸۳، رایت نمبر۱۰۴)
’’حضرت جری اللہ فی حلل الانبیاء باوجودیکہ مسیح موعود، مہدی معہود تھے علوم ظاہر میں خاکسار سے استفسار
اور استشارہ فرمایا کرتے تھے۔‘‘ (مولوی محمداحسن امروہی قادیانی)
(الفضل قادیان ج۴ نمبر۴۸،۴۹ ص۷ کالم۳، مؤرخہ ۱۹-۲۲؍دسمبر ۱۹۱۶ء)
(۱۴) شیخ فانی
’’حضرت مخدومنا شیخ عبدالقادر رضی اللہ عنہ اس مقام میں یہ تعلیم فرماتے ہیں کہ سالک میں حقیقت فنا کی
تب محقق ہوتی ہے اور تب ہی وہ اس لائق ہوتا ہے کہ مورد معارف اللہ ہو جب تین طور کا انقطاع حاصل ہو جائے اوّل
انقطاع خلق اللہ سے، اور وہ اس طرح پر حاصل ہوتا ہے کہ حکم الٰہی کو جو قضا وقدر ہے تمام مخلوقات پر نافذ
سمجھے اور ہر ایک بندے کو پنجہ تقدیر کے نیچے مقہور اور مغلوب یقین کرے۔ لیکن اس جگہ یہ عاجز صرف اس قدر
کہنا چاہتا ہے کہ… اگرچہ علوم لدنیہ اور کشوف صادقہ وتائیدات خاصۃ اللہ وتوجہات جلیلہ صمدیہ غیرفانی گوذاتی
طور پر حاصل نہیں ہوسکتے لیکن بہ توسط صحبت شیخ فانی حاصل ہوسکتے ہیں۔ یعنی اگرچہ براہ راست نہیں لیکن سالک
اپنے شیخ کامل میں ان تمام تائیدات سماویہ کو معائنہ ومشاہدہ کرتا ہے۔ پس یہی مشاہدہ اس کے یقین کی کمالیت
کا موجب ہوجاتا ہے۔ اگر جلدی نہیں تو ایک زمانہ دراز کی صحبت سے ضرور شکوک وشبہات کی تاریکی دل پر سے اٹھ
جاتی ہے۔ اسی جہت سے فانیوں کی صحبت کے لئے قرآن شریف میں سخت تاکید ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتاہے: ’’کونوا مع الصادقین ای کونوا مع الفانین والصادقون ہم الفانون لا غیرہم‘‘ اور جو شخص
نہ فانی ہے اور نہ فانیوں سے اس کو کچھ تعلق اور محبت ہے وہ محض ہلاکت میں ہے اور اس کے سوء خاتمہ کا سخت
اندیشہ ہے اور اس کے ایمان کا کچھ ٹھکانا نہیں۔ انسان کا کام بغیر صحبت صادقین کے سراسر خام ہے اور بغیر
طریق فنایا صحبت فانیوں کے ایمان کا سلامت لے جانا نہایت مشکل ہے۔ پس سعید وہی ہے جو سب سے پہلے ایمان کی
سلامتی کا فکر کرے اور ناحق کے ظاہری جھگڑوں اور بے فائدہ خرخشوں سے دست کش ہوکر اس جماعت کی رفاقت اختیار
کرے جن کو خدا نے اپنا درد عطاء کیا ہے۔‘‘
(مرزاغلام احمد قادیانی کا مضمون، محررہ ۶؍ستمبر ۱۸۸۳ء، الحکم قادیان ج۲ نمبر۳۶ ص۳ کالم۱، مؤرخہ
۲۲؍نومبر ۱۸۹۸ء، الفضل قادیان ج۱۸ نمبر۳۰، مؤرخہ ۶؍ستمبر ۱۹۳۰ء)
(۱۵) والد روحانی
’’سویقینا سمجھو کہ نازل ہونے والا ابن مریم یہی (مرزاقادیانی) ہے جس نے عیسیٰ ابن مریم کی طرح اپنے
زمانہ میں کسی ایسے شیخ والد روحانی کو نہ پایا جو اس کی روحانی پیدائش کا موجب ٹھہرتا تب خدائے تعالیٰ خود
اس کا متولی ہوا اور تربیت کے کنار میں لیا اور اس اپنے بندے کا نام ابن مریم رکھا۔ کیونکہ اس نے مخلوق میں
سے اپنی روحانی والدہ کا تو منہ دیکھا جس کے ذریعہ سے اس نے قالب اسلام کا پایا۔
607
لیکن حقیقت اسلام کی اس کو بغیرانسانوں کے ذریعہ کے حاصل ہوئی تب وہ وجود روحانی پاکر خدائے تعالیٰ
کی طرف اٹھایا گیا۔ کیونکہ خداتعالیٰ نے اپنے ماسوا سے اس کو موت دے کر اپنی طرف اٹھالیا اور پھر ایمان اور
عرفان کے ذخیرہ کے ساتھ خلق اللہ کی طرف نازل کیا سو وہ ایمان اور عرفان کا ثریا سے دنیا تحفہ لایا اور زمین
جو سنسان پڑی تھی اور تاریک تھی، اس کے روشن اور آباد کرنے کی فکر میں لگ گیا۔ پس مثالی صورت کے طور پر یہی
عیسیٰ بن مریم (مرزاقادیانی) ہے جو بغیر باپ کے پیدا ہوا۔ کیا تم ثابت کر سکتے ہو کہ اس کا کوئی والد روحانی
ہے کیا تم ثبوت دے سکتے ہو کہ تمہارے سلاسل اربعہ (قادریہ، چشتیہ، نقشبندیہ، سہروردیہ) میں سے کسی سلسلے میں
یہ داخل ہے پھر اگر یہ ابن مریم نہیں تو کون ہے؟‘‘
(ازالہ اوہام حصہ دوم ص۶۵۹، خزائن ج۳ ص۴۵۶)
(۱۶) چلہ کشی
’’بیان کیا مجھ سے میاں عبد اللہ صاحب سنوری نے کہ حضرت (مرزاقادیانی) نے ۱۸۸۴ء میں ارادہ فرمایا تھا کہ
قادیان سے باہر جاکر کہی چلّہ کشی فرمائیں گے اور ہندوستان کی سیر بھی کریں گے۔ چنانچہ آپ نے ارادہ فرمایا
کہ سوجان پور ضلع گورداسپور میں جاکر خلوت میں رہیں… مگر پھر حضور کو سفر سوجان پور کے متعلق الہام ہوا کہ
تمہاری عقدہ کشائی ہوشیار پور میں ہوگی۔ چنانچہ آپ نے سوجان پور جانے کا ارادہ ترک کر دیا اور ہوشیار پور
جانے کا ارادہ کر لیا۔ جب آپ ماہ جنوری ۱۸۸۶ء میں ہوشیار پور جانے لگے تو مجھے خط لکھ کرحضور نے قادیان
بلالیا اور شیخ مہرعلی رئیس ہوشیارپور کو خط لکھا کہ میں دوماہ کے واسطے ہوشیارپور آنا چاہتا ہوں کسی ایسے
مکان کا انتظام کردیں جو شہر کے ایک کنارہ پر ہو اور اس میں بالاخانہ بھی ہو۔ شیخ مہر علی نے اپنا ایک مکان
جو طویلہ کے نام سے مشہور تھا خالی کروادیا۔ حضور بہلی میں بیٹھ کر دریا بیاس کے راستہ تشریف لے گئے۔ میں
اور شیخ حامد علی اور فتح خاں ساتھ تھے۔ میاں عبد اللہ صاحب کہتے تھے کہ فتح خاں… حضور (مرزاقادیانی) کا بہت
بڑا معتقد تھا، مگر بعد میں مولوی محمد حسین بٹالوی کے اثر کے نیچے مرتد ہوگیا… دوسرے دن ہوشیارپور پہنچے۔
وہاں جاتے ہی حضرت صاحب نے طویلہ کے بالاخانہ میں قیام فرمایا… اس کے بعد حضرت مسیح موعود نے بذریعہ دستی
اشتہارات اعلان کردیا کہ چالیس دن تک مجھے کوئی صاحب ملنے نہ آویں اور نہ کوئی صاحب مجھے دعوت کے لئے بلائیں
ان چالیس دن گزرنے کے بعد میں یہاں بیس دن اور ٹھہروں گا۔ ان بیس دنوں میں ملنے والے ملیں۔ دعوت کا ارادہ
رکھنے والے دعوت کر سکتے ہیں اور سوال جواب کرنے والے سوال جواب کر لیں… میاں عبد اللہ صاحب بیان کرتے تھے کہ
میں کھانا چھوڑنے اوپر جایا کرتا تھا اور حضور سے کوئی بات نہیں کرتا تھا مگر کبھی حضور مجھ سے خود کوئی بات
کرتے تھے تو جواب دے دیتا تھا۔ ایک دفعہ حضرت صاحب نے مجھ سے فرمایا میاں عبد اللہ ان دنوں میں مجھ پر بڑے بڑے
خداتعالیٰ کے فضل کے دروازے کھلے ہیں اور بعض اوقات دیر دیر تک خداتعالیٰ مجھ سے باتیں کرتا رہتا ہے۔ اگر ان
کو لکھا جاوے تو کئی ورق ہو جاویں۔ چنانچہ میاں عبد اللہ صاحب کہتے ہیں کہ پسر موعود کے متعلق الہامات بھی اسی
چلّہ میں ہوئے تھے اور بعد چلّہ کے ہوشیارپور سے آپ نے اس پیش گوئی کا اعلان فرمایا تھا… (اس پیش گوئی کی
عبرت آموز تاویلات اور حسرتناک انجام چھٹی فصل میں تفصیل سے درج ہیں۔ للمؤلف)
میاں عبد اللہ صاحب بیان کرتے تھے کہ فتح خاں ان دنوں میں اتنا معتقد تھا کہ ہمارے ساتھ بات کرتے ہوئے
کہا کرتا تھا کہ حضرت (مرزاقادیانی) صاحب کو تو میں نبی سمجھتا ہوں اور میں اس کی اس بات پر پرانے معروف
عقیدہ کی بناء پر گھبراتا تھا۔ میاں عبد اللہ صاحب نے یہ بھی بیان کیا کہ ایک دفعہ میں کھانا چھوڑنے گیا تو
حضور نے فرمایا مجھے خدا اس طرح مخاطب کرتا ہے اور مجھ سے اس طرح باتیں
608
کرتا ہے کہ اگر میں ان میں سے کچھ تھوڑا سا بھی ظاہر کروں تو یہ جتنے معتقد نظر آتے ہیں سب پھر
جاویں۔‘‘
(سیرت المہدی حصہ اوّل ص۵۵تا۵۸، روایت نمبر۸۶، جدید ج۱ حصہ اوّل ص۶۲تا۶۴، روایت نمبر۸۸)
(۱۷) ابتدائی بیعت
’’خاکسار عرض کرتا ہے کہ ابتدائی بیعت کے وقت حضرت مسیح موعود کو مسیحیت اور مہدویت کا دعویٰ نہ تھا
بلکہ عام مجددانہ طریق پر آپ بیعت لیتے تھے… جب حضرت مسیح موعود دعویٰ مسیحیت شائع کرنے لگے تو اس وقت آپ
قادیان میں تھے۔ آپ نے اس کے متعلق ابتدائی رسالے یہیں لکھے، پھرآپ لدھیانہ تشریف لے گئے اور وہاں سے دعویٰ
شائع کیا۔… والدہ صاحبہ نے فرمایا کہ اس اعلان پر بعض ابتدائی بیعت کرنے والوں کو بھی ٹھوکر لگ گئی۔‘‘
(سیرت المہدی حصہ اوّل ص۱۴، روایت نمبر۱۹،۲۰، جدید ج۱ حصہ اوّل ص۱۶،۱۷، روایت نمبر۲۰،۲۱)
(۱۸) زلزلہ عظیم
’’یکم؍دسمبر ۱۸۸۸ء کو حضور نے خدا کے اس حکم کے مطابق جو اس سے قریباً دس ماہ پہلے ہوچکا تھا سلسلہ
بیعت کا اعلان فرمایا اور سب سے پہلے شروع ۱۸۸۹ء میں لدھیانہ میں بیعت لی مگر اس وقت تک بھی مسلمانوں کا عام
طور پر حضرت مسیح موعود کی ذات کے متعلق خیال عموماً بہت اچھا تھا اور اکثر لوگ آپ کو ایک بے نظیر خادم
اسلام سمجھتے تھے۔ صرف اتنا اثر ہوا تھا کہ لوگوں میں جو پسر موعود کی پیش گوئی پر ایک عام رجوع ہوا تھا اس
کا جوش ان دو لگاتار مایوسیوں نے مدہم کر دیا تھا اور عامۃ الناس پیچھے ہٹ گئے تھے۔ ہاں! کہیں کہیں عملی
مخالفت کی لہر بھی پیدا ہونے لگی تھی۔ اس کے بعد آخر ۱۸۹۰ء میں حضرت مسیح موعود نے خدا سے حکم پاکر رسالہ
فتح اسلام تصنیف فرمایا جو ابتداء ۱۸۹۱ء میں شائع ہوا۔ اس میں آپ نے حضرت مسیح ناصری کی وفات اور اپنے مسیح
موعود ہونے کا اعلان فرمایا۔ اس پر ملک میں ایک زلزلہ عظیم آیا جو پہلے سب زلزلوں سے بڑا تھا… بعض بیعت
کنندے بھی متزلزل ہوگئے۔‘‘
(سیرت المہدی حصہ اوّل ص۸۹، روایت نمبر۱۱۳، جدید ج۱ حصہ اوّل ص۹۵،۹۶، روایت نمبر۱۱۶)
(۱۹) ڈپٹی کمشنر کی عنایت
’’چنانچہ ڈپٹی صاحب وغیرہ نے حضرت (مرزاقادیانی) صاحب کے ساتھ کوئی آدھ گھنٹہ ملاقات کی اور پھر واپس
چلے گئے۔ ہم نے اندر جاکر حضرت صاحب سے دریافت کیا کہ یہ لوگ کیوں آئے تھے۔ جس پر حضرت صاحب نے فرمایا کہ وہ
ڈپٹی کمشنر کا ایک پیغام لائے تھے کہ لدھیانہ میں فساد کا اندیشہ ہے بہتر ہے کہ آپ کچھ عرصہ کے لئے یہاں سے
تشریف لے جائیں۔ حضرت صاحب نے جواب میں فرمایا کہ اب یہاں ہمارا کوئی کام نہیں ہے اور ہم جانے کو تیار ہیں،
لیکن سردست ہم سفر نہیں کرسکتے۔ کیونکہ بچوں کی طبیعت اچھی نہیں ہے۔ انہوں نے کہا خیرکوئی بات نہیں، ہم ڈپٹی
کمشنر سے کہہ دیں گے اور ہمیں آپ کی ملاقات کا بہت شوق تھا سو شکر ہے کہ اس بہانہ سے زیارت ہوگئی۔ اس کے بعد
حضرت صاحب اندرون خانہ تشریف لے گئے اور ایک چٹھی ڈپٹی کمشنر کے نام لکھ کر لائے جس میں اپنے خاندانی حالات
اور اپنی تعلیم وغیرہ کا ذکر فرمایا اور بعض خاندانی چٹھیات کی نقل بھی ساتھ لگادی۔ اس چٹھی کا غلام قادر
صاحب فصیح نے انگریزی میں ترجمہ کیا اور پھر اسے ڈپٹی کمشنر کے نام ارسال کر دیا گیا۔ وہاں سے جواب آیا کہ
آپ کے لئے کوئی ایسا حکم نہیں ہے۔ آپ بے شک لدھیانہ میں ٹھہر سکتے ہیں۔ جس پر مولوی محمد حسین نے لاہور جاکر
بڑا شور برپا کیاکہ مجھے تو نکال دیا گیااور مرزاصاحب کو اجازت دی گئی ہے۔ مگر کسی
609
حاکم کے پاس اس کی شنوائی نہیں ہوئی۔ اس کے بعد دیر تک حضرت صاحب لدھیانہ میں رہے۔ (مرزاقادیانی کا
خط کیا تھا۔ جادو تھا کہ ڈپٹی کمشنر اس کو دیکھتے ہی موم ہوگیا اور غنیمت ہے کہ مرزاقادیانی خاندانی چٹھیاں
بھی ہر وقت سفر وحضر میں ساتھ رکھتے تھے جو عین وقت پر کام آگئیں۔ غالباً یہ وہی چٹھیاں ہیں جو جابجا
مرزاصاحب کی تحریرات میں نقل ہیں۔ یہ دراصل انگریزی حکام کے پروانہ جات خوشنودی ہیں جو وفاداری اور خدمت
گزاری کے صلے میں باپ دادا کو ملے تھے۔ للمؤلف)‘‘
(سیرت المہدی حصہ دوم ص۱۴۵،۱۴۶، روایت نمبر۴۵۸، جدید ج۱ حصہ دوم ص۴۳۸، روایت نمبر۴۶۱)
(۲۰) دعوؤں کا سلسلہ
’’خاکسار عرض کرتا ہے کہ حضرت مسیح موعود کو یوں تو الہامات کا سلسلہ بہت پہلے سے شروع ہوچکا تھا لیکن
وہ الہام جس میں آپ کو خداتعالیٰ کی طرف سے اصلاح خلق کے لئے صریح طور پر مامور کیاگیا۔ مارچ ۱۸۸۲ء میں ہوا
جب کہ آپ براہین احمدیہ حصہ سوم تصنیف فرمارہے تھے۔ (دیکھو براہین احمدیہ حصہ سوم ص۲۳۸) لیکن اس وقت آپ نے
سلسلہ بیعت شروع نہیں فرمایا، بلکہ اس کے لئے مزید حکم تک توقف کیا، چنانچہ جب فرمان الٰہی نازل ہوا تو آپ
نے بیعت کے لئے دسمبر ۱۸۸۸ء میں اعلان فرمایا اور بذریعہ اشتہار لوگوں کو دعوت دی اور شروع ۱۸۸۹ء میں بیعت
لینا شروع فرمادی۔ لیکن اس وقت تک بھی آپ کو صرف مجدد مامور ہونے کا دعویٰ تھا اور گوشروع دعویٰ ماموریت سے
ہی آپ کے الہامات میں آپ کے مسیح موعود ہونے کی طرف صریح اشارات تھے۔ لیکن قدرت الٰہی، ایک مدت تک آپ نے
مسیح موعود ہونے کا دعویٰ نہیں کیا بلکہ صرف یہ فرماتے رہے کہ مجھے اصلاح خلق کے لئے مسیح ناصری کے رنگ میں
قائم کیاگیا ہے اور مجھے مسیح سے مماثلت ہے۔ اس کے بعد شروع ۱۸۹۱ء میں آپ نے حضرت مسیح ناصری کی موت کے
عقیدے کا اعلان فرمایا اور یہ دعویٰ فرمایا کہ جس مسیح کا اس امت کے لئے وعدہ تھا وہ میں ہوں۔ آپ کی عام
مخالفت کا اصل سلسلہ اس دعوے سے شروع ہوتا ہے۔ آپ کے نبی اور رسول ہونے کے متعلق بھی ابتدائی الہامات میں
صریح اشارے پائے جاتے ہیں، مگر اس دعوے سے بھی مشیت ایزدی نے آپ کو روکے رکھا، حتیٰ کہ بیسویں صدی کا ظہور
ہوگیا۔ تب جاکر آپ نے اپنے متعلق نبی اور رسول کے الفاظ صراحۃً استعمال فرمانے شروع کئے اور خاص طور پر مثیل
کرشن علیہ السلام ہونے کا دعویٰ تو آپ نے اس کے بھی بہت بعد یعنی ۱۹۰۴ء میں شائع کیا۔‘‘
(سیرت المہدی حصہ اوّل ص۳۵، روایت نمبر۴۶، جدید ج۱ حصہ اوّل ص۳۵، روایت نمبر۴۷)
(۲۱) بیعت کے مدارج
’’جب کبھی بیعت اور پیری مریدی کا تذکرہ ہوتا تو مرزاصاحب فرمایا کرتے تھے کہ انسان کو خود سعی اور
محنت کرنی چاہئے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: ’’والذین جاہدوا فینا لنہدینہم سبلنا‘‘ مولوی
محبوب علی صاحب اس سے کشیدہ ہو جایا کرتے تھے اور فرمایا کرتے تھے کہ بیعت کے بغیر راہ نہیں ملتی۔‘‘
(سیرت المہدی حصہ اوّل ص۲۵۳، روایت نمبر۲۷۵، جدید ج۱ حصہ اوّل ص۲۵۳، روایت نمبر۲۸۰)
’’بیان کیا مجھ سے میاں عبد اللہ سنوری نے کہ جب ابھی حضور نے سلسلہ بیعت شروع نہیں فرمایا تھا میں نے
ایک دفعہ حضرت سے عرض کیا کہ حضور میری بیعت لیں۔ آپ نے فرمایا پیر کا کام بھنگی کا سا کام ہے۔ اسے اپنے
ہاتھ سے مرید کے گند نکال نکال کر دھونے پڑتے ہیں اور مجھے اس کام سے کراہت آتی ہے۔‘‘
(سیرت المہدی حصہ اوّل ص۸۲، روایت نمبر۱۰۸، جدید ج۱ حصہ اوّل ص۸۹،۹۰، روایت نمبر۱۱۱)
610
’’لوگ ایک عرصہ سے آپ کو بیعت لینے کے لئے عرض کر رہے تھے آپ نے ہمیشہ ایسے طالبین کو یہ کہا کہ میں
اس غرض کے لئے ابھی مامور نہیں ہوں اور آخر جب خداتعالیٰ کی وحی نے آپ کو بیعت لینے کے لئے مامور فرمایا تو
آپ نے بیعت کے لئے اعلان کر دیا۔‘‘
(حیات احمد ج۲ نمبر۲ ص۵ حاشیہ، شیخ یعقوب علی عرفانی قادیانی)
’’میر عنایت علی صاحب لدھیانوی نے مجھ سے بیان کیا کہ جب اللہ تعالیٰ کی طرف سے حضرت صاحب کو بیعت لینے
کا حکم آیا تو سب سے پہلی دفعہ لدھیانہ میں بیعت ہوئی۔ ایک رجسٹر بیعت کنندگان تیار کیاگیا جس کی پیشانی پر
لکھا گیا ’’بیعت توبہ برائے حصول تقویٰ وطہارت‘‘ اور نام معہ ولدیت وسکونت لکھے جاتے تھے۔ اوّل نمبر حضرت
مولوی نورالدین صاحب بیعت میں داخل ہوئے۔ دوم میرعباس علی صاحب، ان کے بعد شاید خاکسار (میر عنایت علی) ہی
سوئم نمبر پر جاتا لیکن میرعباس علی صاحب نے مجھ کو قاضی خواجہ علی صاحب کے بلانے کے لئے بھیج دیا کہ ان کو
بلالاؤ۔ غرض ہمارے دونوں کے آتے آتے سات آدمی بیعت میں داخل ہوگئے۔ ان کے بعد نمبرآٹھ پر قاضی صاحب بیعت
میں داخل ہوئے اور نمبر نو میں خاکسار داخل ہوا۔ پھر حضرت نے فرمایا کہ شاہ صاحب اور کسی بیعت کرنے والے کو
اندر بھیج دیں۔ چنانچہ میں نے چوہدری رستم علی صاحب کو اندر داخل کر دیا اور دسویں نمبر پر وہ بیعت ہوگئے۔
اس طرح ایک ایک آدمی باری باری بیعت کے لئے اندر جاتا تھا اور دروازہ بند کردیا جاتا تھا۔‘‘
(سیرت المہدی حصہ اوّل ص۱۰، روایت نمبر۳۱۵، جدید ج۱ حصہ دوم ص۲۹۳، روایت نمبر۳۱۶)
’’ڈاکٹر سید عبدالستار شاہ صاحب نے مجھ سے بیان کیا کہ جب میں ۱۹۰۰ء میں پہلی دفعہ قادیان آیا… مجھے
مخاطب فرماکر اپنے دعوے کی صداقت میں تقریر فرمائی۔ میں نے عرض کیا کہ مجھے آپ کی صداقت کے متعلق تو کوئی
شبہ نہیں رہا۔ لیکن اگر بیعت نہ کی جائے اور آپ پرایمان رکھا جاوے کہ آپ صادق ہیں تو کیا حرج ہے۔ آپ نے
فرمایا کہ ایسے ایمان سے آپ مجھ سے روحانی فیض حاصل نہیں کرسکتے۔ بیعت سنت انبیاء ہے اور اس سنت میں بہت بڑے
فوائد اور حکمتیں ہیں… نیز مولوی شیر علی صاحب (قادیانی) نے مجھ سے بیان کیا کہ ایک دفعہ حضرت (مرزاقادیانی)
نے بیعت کے فوائد پر تقریر فرماتے ہوئے فرمایا کہ کیا یہ فائدہ بیعت کا کوئی کم ہے کہ انسان کے پہلے سارے
گناہ بخشے جاتے ہیں۔‘‘
(سیرت المہدی حصہ دوم ص۶۴، روایت نمبر۳۸۶، جدید ج۱ حصہ دوم ص۳۵۰،۳۵۱، روایت نمبر۳۸۹)
’’۱۲؍سمبر ۱۹۰۱ء میں مولوی جان محمد صاحب مدرس ڈسکہ ضلع سیالکوٹ نے حضرت مسیح موعود سے عرض کی کہ آپ
کی بیعت کرنے کے بعد پہلی بیعت اگر کسی بزرگ سے کی ہو وہ قائم رہتی ہے یا نہیں۔ اس کے جواب میں حضرت مسیح
موعودنے فرمایا، جب انسان میرے ہاتھ پر بیعت توبہ کرتا ہے تو پہلی ساری بیعتیں ٹوٹ جاتی ہیں۔ انسان دوکشتیوں
میں کبھی پاؤں نہیں رکھ سکتا۔ اگر کسی کا مرشد اب زندہ بھی ہو تب بھی وہ ایسے حقائق ومعارف ظاہر نہ کرے گا
جو خداتعالیٰ یہاں ظاہر کر رہا ہے۔ اس وقت اللہ تعالیٰ نے ساری بیعتوں کو توڑ ڈالا ہے۔ صرف مسیح موعود ہی کی
بیعت کو قائم رکھا ہے جو خاتم الخلفاء ہوکر آیا ہے۔‘‘
(الحکم قادیان ج۶ نمبر۳۰ ص۷ کالم۲، مؤرخہ ۲۴؍اگست ۱۹۰۲ء، منقول از کتاب منظور الٰہی ص۳۲۹، مؤلفہ
منظور الٰہی لاہوری قادیانی)
’’مولوی محمد اسماعیل صاحب مولوی فاضل نے مجھ سے بیان کیا کہ جب میں ۱۹۰۸ء میں حضرت مسیح موعود کے
ہاتھ پر بیعت کرنے کے لئے قادیان آیا تو اس وقت نماز ظہر کے قریب کا وقت تھا اور میں مہمان خانہ میں وضو کر
کے مسجد مبارک میں حاضر ہوا۔ اس وقت حضرت مسیح موعود مسجد ہی میں تشریف رکھتے تھے اور حضور کے بہت سے احباب
حضرت کے پاس بیٹھے تھے۔ میں بھی مجلس کے پیچھے ہوکر بیٹھ گیا… جب
611
حوالہ جات کے متعلق گفتگو بند ہوئی تو میں بیعت کی خواہش ظاہر کر کے حضرت مسیح موعود کی طرف آگے
بڑھنے لگا۔ جس پر سید احمد نور صاحب کابلی نے کسی قدر بلند آواز سے کہا کہ یہ شخص مسلمان ہونا چاہتا ہے۔ اسے
رستہ دے دیا جاوے۔ میں دل میں حیران ہوا کہ مسلمان ہونے کے کیا معنی ہیں۔ لیکن پھر ساتھ ہی خیال آیا کہ
واقعی حضرت مسیح موعود کی بیعت میں داخل ہونا مسلمان ہونا نہیں تو اور کیا ہے۔ چنانچہ میں حضرت مسیح موعود
کی بیعت سے مشرف ہوگیا۔‘‘
(سیرت المہدی حصہ دوم ص۹۹، روایت نمبر۴۲۶، جدید ج۱ حصہ دوم ص۳۸۷،۳۸۸، روایت نمبر۴۲۹)
(۲۲) بے خبر اور غافل
’’باوجودیکہ براہین احمدیہ میں صاف اور روشن طور پر مسیح موعود ٹھہرایا گیا تھامگر پھر بھی میں نے
بوجہ اس ذہول کے جو میرے دل پر ڈالا گیا حضرت عیسیٰ کی آمد ثانی کا عقیدہ براہین احمدیہ میں لکھ دیا۔ پس
میری کمال سادگی اور ذہول پر یہ دلیل ہے کہ وحی الٰہی مندرجہ براہین احمدیہ تو مجھے مسیح موعود بناتی تھی
مگر میں نے اس رسمی عقیدے کو براہین (احمدیہ) میں لکھ دیا۔ میں خود تعجب کرتا ہوں کہ میں نے باجود کھلی کھلی
وحی کے جو براہین احمدیہ میں مجھے مسیح موعود بناتی تھی کیونکر اسی کتاب میں یہ رسمی عقیدہ لکھ دیا۔ پھر میں
قریباً بارہ برس تک جو ایک زمانہ دراز ہے، بالکل اس سے بے خبر اور غافل رہا کہ خدا نے مجھے بڑی شدومد سے
براہین (احمدیہ) میں مسیح موعود قرار دیا ہے اور میں حضرت عیسیٰ کی آمد ثانی کے رسمی عقیدہ پر جما رہا۔ جب
بارہ برس گزر گئے تب وہ وقت آگیا کہ میرے پر اصل حقیقت کھول دی جائے۔ تب تواتر سے اس بارہ میں الہامات شروع
ہوئے کہ تو ہی مسیح موعود ہے… خدا نے میری نظر کو پھیر دیا۔ میں براہین (احمدیہ) کی اس وحی کو نہ سمجھ سکا
کہ وہ مجھے مسیح موعود بناتی ہے۔ یہ میری سادگی تھی جو میری سچائی پر ایک عظیم الشان دلیل تھی ورنہ میرے
مخالف مجھے بتلادیں کہ میں نے باوجودیکہ براہین احمدیہ میں مسیح موعود بنایا گیا تھا۔ بارہ برس تک یہ دعویٰ
کیوں نہ کیا اور کیوں براہین (احمدیہ) میں خدا کی وحی کے مخالف لکھ دیا۔‘‘
(اعجاز احمدی ضمیمہ نزول المسیح ص۷، خزائن ج۱۹ ص۱۱۳،۱۱۴)
(۲۳) اسی قسم کا تناقض
’’اس بات کو توجہ کر کے سمجھ لو کہ یہ اسی قسم کا تناقض ہے کہ جیسے براہین احمدیہ میں میں نے یہ لکھا
تھا کہ مسیح ابن مریم آسمان سے نازل ہوگیا۔ مگر بعد میں یہ لکھا کہ آنے والا مسیح میں ہی ہوں۔ اس تناقض کا
بھی یہی سبب تھا کہ اگرچہ خداتعالیٰ نے براہین احمدیہ میں میرا نام عیسیٰ رکھا اور یہ بھی مجھے فرمایا کہ
تیرے آنے کی خبر خدا اور رسول نے دی تھی۔ مگر چونکہ ایک گروہ مسلمانوں کا اس اعتقاد پر جما ہوا تھا اور میرا
بھی یہی اعتقاد تھا کہ حضرت عیسیٰ آسمان پر سے نازل ہوں گے اس لئے میں نے خدا کی وحی کو ظاہر پر حمل کرنا نہ
چاہا بلکہ اس وحی کی تاویل کی اور اپنا اعتقاد وہی رکھا جو عام مسلمانوں کا تھا اور اسی کوبراہین احمدیہ میں
شائع کیا۔ لیکن بعد اس کے اس بارہ میں بارش کی طرح وحی الٰہی نازل ہوئی کہ وہ مسیح موعود جو آنے والا تھا،
تو ہی ہے۔‘‘
(حقیقت الوحی ص۱۴۸،۱۴۹، خزائن ج۲۲ ص۱۵۲،۱۵۳)
(۲۴) ۱۹۰۱ء سے پہلے
’’۱۹۰۱ء سے پہلے کی بعض تحریرات میں حضرت اقدس نے اپنے نبی ہونے سے انکار کیا اور لکھا کہ آپ نبی
نہیں۔ بلکہ محدث ہیں۔ لیکن ۱۹۰۱ء کے بعد کی تحریرات میں آپ نے اپنی نبوت کو نہ جزئی قرار دیا نہ ناقص۔ نہ
محدثیت والی نبوت بلکہ صاف الفاظ میں اپنے آپ کو نبی لکھتے رہے۔‘‘
(منکرین خلافت کا انجام ص۱۸،۱۹، مصنفہ جلال الدین شمس قادیانی)
612
(۲۵) ۵؍نومبر ۱۹۰۱ء
’’حضرت خلیفہ المسیح (مرزامحمود) کی تصانیف اور تالیفات میں آپ کا مختصر مگر صحیح مدعا صرف یہ ہے کہ
حضرت احمد (مرزاقادیانی) ۵؍نومبر ۱۹۰۱ء سے قبل وحی الٰہی میں جو لفظ نبی اور رسول آتا، اس کے معنی اور تعریف
جو اپنی ذات پر چسپاں کرتے، ان کو محدث یا جزوی اور ناقص نبی کے معنوں میں تعبیر یا موسوم کرتے مگر ۵؍نومبر
۱۹۰۱ء کے بعد آپ نے نبی اور رسول کو اپنی صحیح اور قرآنی اصطلاح میں استعمال کیا اور لفظ محدث جو صحیح حقیقت
کو ظاہر نہ کرتا تھا ترک کر دیا اور اس اعلان کے بعد آپ نے تاوفات پھر اپنے حق میں لفظ محدث یا جزوی اور
ناقص نبی استعمال نہ کیا۔‘‘
(مضمون حجۃ اللہ مندرجہ اخبار الفضل قادیان ج۹ نمبر۸۶، مؤرخہ ۴؍مئی ۱۹۲۲ء)
(۲۶) ساری حقیقت
’’ہاں اگر اس بات کا ثبوت چاہو کہ حضرت مسیح موعود (مرزاقادیانی) اپنے مخالفین کو اس آیت کے ماتحت
سمجھتے تھے یا نہیں تو اخبار الحکم نمبر۳۰ ج۴، ۱۹۰۰ء پڑھ لو۔ ساری حقیقت کھل جائے گی۔ وہاں حضرت مولوی
عبدالکریم صاحب کا ایک خطبہ درج ہے جو مولوی صاحب مرحوم نے حضرت مسیح موعود کے سامنے پڑھا۔ مولوی صاحب موصوف
نے اس خطبہ کو ’’اولئک ہم الکافرون حقا‘‘ والی آیت سے ہی شروع کیا اور احمدیوں کو مخاطب کر کے کہا کہ اگر تم
مسیح موعود کو ہر ایک امر میں حکم نہیں ٹھہراؤ گے اور اس پر ایسا ایمان نہیں لاؤ گے جیسا صحابہ نبی کریم
پر لائے تو تم بھی ایک گونہ غیراحمدیوں کی طرح اللہ کے رسولوں میں تفریق کرنے والے ہوگے۔ حضرت مولوی صاحب
مرحوم نے اس خطبہ میں یہ بھی کہا کہ اگر میں اس خیال میں غلطی پر ہوں تو میں التجا کرتا ہوں کہ حضرت مسیح
موعود مجھے میری غلطی سے مطلع فرماویں۔ مگر حضرت (مرزاقادیانی) صاحب نے ایسا نہیں کیا بلکہ جب مولوی صاحب آپ
کو نماز جمعہ کے بعد ملنے کے لئے تشریف لے گئے تو آپ (یعنی مرزاقادیانی) نے فرمایا کہ یہ بالکل میرا مذہب ہے
جو آپ نے بیان کیا اور فرمایا، یہ خداتعالیٰ کا فضل ہے کہ آپ معارف الٰہیہ کے بیان میں بلند چٹان پر قائم
ہوگئے ہیں۔‘‘
(دیکھو اخبار الحکم قادیان نمبر۳۰ ج۴ ص۲۰،مؤرخہ ۲۴؍اگست ۱۹۰۰ء)
(کلمۃ الفصل مصنفہ بشیراحمد قادیانی مندرجہ رسالہ ریویو آف ریلیجنز ج۱۴ نمبر۴ ص۱۶۷، بابت ماہ اپریل
۱۹۱۵ء)
(۲۷) معارف الٰہیہ
’’اوّل تو یہ خطبہ ہی ایک ایسے انسان کا ہے جو اپنے تقویٰ وطہارت کے لحاظ سے جماعت احمدیہ میں خاص شان
رکھتا ہے اور جس کی فضیلت اور بزرگی کے غیرمبایعین (لاہوری جماعت) بھی معترف ہیں۔ لیکن اس لحاظ سے یہ بہت ہی
زیادہ اہمیت اور وقعت رکھتا ہے کہ حضرت مسیح موعود (مرزاقادیانی) کی موجودگی میں اور آپ کے روبرو پڑھا گیا۔
علاوہ ازیں خطبہ کے اخیر میں حضور سے حضرت خطیب نے حسب ذیل درخواست کی کہ: میں اس وقت حضرت امام
(مرزاقادیانی) کی خدمت میں عرض کرتا ہوں کہ اگر میں غلو کر رہا ہوں اور میری زبان حق کے بیان میں کجی اور
ناانصافی کی طرف جارہی ہے تو میرے بیان کی اس وقت اصلاح کر دیں اور سامعین خطبہ پر اس وقت کھول دیں کہ میں
نے غلط بیان کیا ہے۔ مگر میں خداتعالیٰ کے فضل سے بصیرت کے ساتھ کہتا ہوں کہ میں حق بیان کر رہا ہوں اور
میری روح امام کے علوم کی لے سے سرشار ہوکر یہ پاک ندیاں بہارہی ہے اور میں یقینا جانتا ہوں کہ میں اس وقت
خود حضرت امام (مرزاقادیانی) کی زبان ہوں۔ پھر اس سے بھی بڑھ کر یہ کہ اس خطبہ پر حضرت مسیح موعود کی اپنی
تصدیق موجود ہے۔ چنانچہ حضرت مولوی عبدالکریم صاحب جمعہ کی
613
نماز کے بعد حضرت مسیح موعود کی خدمت میں حاضر ہوئے اور خطبہ کے متعلق پوچھا تو حضور نے فرمایا، یہ
بالکل میرا مذہب ہے جو آپ نے بیان کیا۔ اس کے ساتھ ہی یہ بھی فرمایا کہ یہ خداتعالیٰ کا فضل ہے کہ آپ معارف
الٰہیہ کے بیان میں بلند چٹان پر قائم ہوگئے ہیں۔‘‘
(الفضل قادیان ج۷ نمبر۱۵ ص۴ کالم۲، مؤرخہ ۱۹؍اگست ۱۹۱۹ء)
(۲۸) درد دل
’’اس خطبہ جمعہ کو ختم کرنے سے قبل حضرت مولانا (عبدالکریم قادیانی) نے اپنے درددل کا اظہار اس طرح
فرمایا:
آہ! اس وقت مجھے کتنا درد ہے کہ لوگ ہنوز اس خدائی نعمت سے کم واقف ہوئے ہیں۔ آہ! اس فضل خداوندی کا
کتنا کفران کیاگیا ہے۔ میرا دل درد میں اور میری روح جوش میں ہے کہ میں کہاں سے وہ الفاظ لاؤں جو لوگوں کو
یقین دلاسکوں کہ یہ وہی نور ہے جو شروع میں کل نبیوں کی زبان سے اور آخر میں خاتم النّبیین ﷺ کی زبان مبارک
سے بطور وعدہ دیاگیا تھا۔ یہ یقینا وہی ہے جس پر رسول کریم ﷺ نے سلام بھیجا۔ اے میری قوم چھوڑ مکذبوں
متکبروں اور خدا اور سنن انبیاء سے جاہل لوگوں کو چھوڑ دے، انہیں کہہ ان کا تکبر اور ان کی بدزبانی اور
کفران نعمت اور ان کی کورباطنی اپنا رنگ لاوے تو اٹھ اور اس کی قدر کر جو حق قدر کرنے کا ہے تو اپنے پاک
ایمان اور قوی عرفان کے ساتھ اس کی ذات پاک کی نسبت اپنے اقوال اور افعال سے وہی نمونے دکھا جو صحابہ نے
دکھائے تو کہہ تو ان تمام نعمتوں کی وارث ہو جو انہیں ملیں۔ ناعاقبت اندیشوں، جلدبازوں اور شکوک کے ورطوں
میں غوطہ کھانے والوں سے تیرا کیا کام۔ تجھے وہ ایمان مبارک ہو جو حکیم کتاب کی اس آیت نے حضور سرور عالم ﷺ
کی نسبت عطاء فرمایا۔‘‘
(الفضل قادیان ج۷ نمبر۱۵ ص۶ کالم۲، مؤرخہ ۱۹؍اگست ۱۹۱۹ء)
(۲۹) دو خطبے
’’خدا کے کلام میں جس شخص کو نبی کے لفظ سے خطاب کیا جائے، مثلاً: ’’یاایہا
النبی‘‘ وغیرہ کہا جائے تو ہر ایک مسلم کا فرض ہے کہ اس کو نبی مانے اور حضرت مسیح موعود
(مرزاقادیانی) کے متعلق براہین احمدیہ ہی میں یہ الفاظ موجود ہیں۔ آپ کو ان ہی الفاظ سے خطاب کیاگیا ہے جن
الفاظ سے آدم علیہ السلام سے لے کر حضرت محمد رسول اللہ ﷺ تک کے انبیاء ومرسلین سے خطاب کیا گیا ہے۔ ایک زمانہ
میں میرے دل میں اک کھٹکا تھا اور وہ یہ کہ الفاظ تو وہی ہیں مگر حضرت (مرزاقادیانی) ان کے ساتھ قیود لگاتے
ہیں۔ جب میں یہاں قادیان میں آیا تو یہاں پر مولوی عبد اللہ (صاحب) کشمیری جو میرے دوست اور شاگرد تھے، میں نے
ان سے کہا تو انہوں نے کہا کہ چونکہ لوگ سمجھتے نہیں اس لئے ان کے سمجھانے کے لئے یہ الفاظ ہیں، والاّ حضرت
مسیح موعود نبی ہیں اور پھر مولوی عبدالکریم صاحب سے ملاقات کی۔ ان سے عرض کیا تو انہوں نے کہا میں تو آپ کو
مولوی خیال کرتا تھا۔ آپ بھی عوام کی سی باتیں کرتے ہیں۔ حضرت (مرزاقادیانی) صاحب نبی ہیں یہ محض لوگوں کو
سمجھانے کے لئے الفاظ استعمال کرتے ہیں۔ اس کے بعد مولوی عبدالکریم صاحب نے ایک خطبہ جمعہ پڑھا اور اس میں
حضرت صاحب کے لئے نبی اور رسول کے الفاظ استعمال کئے۔ یہ خطبہ چھپ کر شائع ہوچکا ہے۔ اس خطبہ کو سن کر سید
محمد احسن صاحب امروہی (قادیانی) نے بہت پیچ وتاب کھائے۔ جب یہ بات مولوی عبدالکریم صاحب کو معلوم ہوئی تو
پھر انہوں نے ایک خطبہ پڑھا اور اس میں حضرت مسیح موعود کو مخاطب کر کے کہا کہ اگر میں غلطی کرتا ہوں تو
حضور مجھے بتلائیں۔ میں حضور کو نبی اور رسول مانتا ہوں۔ جب جمعہ ہوچکا اور حضرت (مرزاقادیانی) صاحب جانے
لگے تو مولوی صاحب نے پیچھے سے حضرت صاحب کا کپڑا پکڑ لیا اور درخواست کی کہ
614
اگر میرے اس اعتقاد میں غلطی ہے تو حضور درست فرمائیں۔ میں اس وقت موجود تھا۔ حضرت صاحب مڑ کر کھڑے
ہوگئے اور فرمایا مولوی صاحب ہمارا بھی یہی مذہب اور دعویٰ ہے جو آپ نے بیان کیا۔ یہ خطبہ سن کر مولوی محمد
احسن صاحب غصے میں بھر کر واپس آئے اور مسجد مبارک کے اوپر ٹہلنے لگے اور جب مولوی عبدالکریم صاحب (قادیانی)
واپس آئے تو مولوی محمد احسن صاحب (قادیانی) ان سے لڑنے لگ گئے۔ آواز بہت بلند ہوگئی تو حضرت مسیح موعود
(مرزاقادیانی) مکان سے نکلے اور آپ نے یہ آیت پڑھی: یاایہا الذین امنوا لا ترفعوا اصواتکم فوق
صوت النبی‘‘
(تقریر سرور شاہ قادیانی،جلسہ سالانہ قادیان، مندرجہ اخبار الفضل قادیان ج۱۰ نمبر۵۱ ص۳ کالم۲،۳،
مؤرخہ ۴؍جنوری ۱۹۲۳ء)
(۳۰) ہمارا دعویٰ
’’اس حوالہ سے نہایت صفائی کے ساتھ ظاہر ہے کہ اگرچہ حضرت اقدس اوائل میں اپنے متعلق نبی اور رسول کے
الفاظ کی تاویل اور توجیہ فرماتے رہے۔ مگر صرف اسی لئے کہ آپ عام رائج الوقت عقیدہ کی بناء پر نبی کا شارع
ہونا یا اس کا براہ راست یعنی بغیر کسی دوسرے نبی کی اتباع کے نبوت پانا ضروری سمجھتے تھے۔ لیکن جب کثرت اور
صراحت کے ساتھ خدا نے آپ کو نبی اور رسول کہا اور آپ پر کھلے طور پر ظاہر کر دیا کہ نبوت کی سابقہ تعریف غلط
ہے تو تاویل اور توجیہ، مجاز اور استعارہ کی قطعاً کوئی گنجائش نہ رہی۔ تب صراحۃً (مرزاقادیانی نے) اپنے آپ
کو نبی اور رسول قرار دیا اور فرمایا: ’’ہمارا دعویٰ ہے کہ ہم رسول اور نبی ہیں۔‘‘
(البدر قادیان ج۷ نمبر۹ ص۲ کالم۱، مؤرخہ ۵؍مارچ ۱۹۰۸ء)
(میں) ’’وہی ہوں جس کا نام سرور انبیاء نے نبی اللہ رکھا ہے۔‘‘
(نزول المسیح ص۴۸، خزائن ج۱۸ ص۴۲۷، مندرجہ اخبار الفضل قادیان ج۱۸ نمبر۵ ص۶ کالم۲، مؤرخہ ۱۰؍جولائی
۱۹۳۰ء)
(۳۱) نبوت کی دعوے کی سرگزشت
’’اور چونکہ ’’ایک غلطی کا ازالہ‘‘ (اشتہار) ۱۹۰۱ء میں شائع ہوا ہے جس میں آپ (یعنی مرزاقادیانی) نے
اپنی نبوت کا اعلان بڑے زور سے کیا ہے۔ اس سے ثابت ہوتا ہے کہ ۱۹۰۱ء میں آپ نے اپنے عقیدے میں تبدیلی کی ہے
اور ۱۹۰۰ء ایک درمیانی عرصہ ہے جو دونوں خیالات کے درمیان برزخ کے طور پر حد فاصل ہے… یہ بات ثابت ہے کہ
۱۹۰۱ء سے پہلے کے وہ حوالے جن میں آپ نے نبی ہونے سے انکار کیا ہے، اب منسوخ ہیں اور ان سے حجت پکڑنی غلط
ہے۔‘‘
(حقیقت النبوۃ ص۱۲۱، انوارالعلوم ج۲ ص۴۴۴،۴۴۵)
’’اس عقیدے کے بدلنے کا پہلا ثبوت اشتہار ’’ایک غلطی کا ازالہ‘‘ سے معلوم ہوتا ہے، جو پہلا تحریری
ثبوت ہے۔ ورنہ مولوی عبدالکریم صاحب کے خطبات جمعہ سے معلوم ہوتا ہے کہ ۱۹۰۰ء سے اس خیال کا اظہار شروع
ہوگیا تھا۔ گو پورے زور اور پوری صفائی سے نہ تھا۔ چنانچہ اسی سال میں مولوی صاحب نے اپنے ایک خطبہ میں حضرت
مسیح موعود کو مرسل الٰہی ثابت کیا اور ’’لانفرق بین احد من رسلہ‘‘ والی آیت کو آپ
پر چسپاں کیا اور حضرت مسیح موعود نے اس خطبہ کو پسند بھی فرمایا اور یہ خطبہ اسی سال کے اخبار (الحکم
قادیان ج۴ نمبر۳۰ ص۱۲ کالم۳، مؤرخہ ۲۴؍اگست ۱۹۰۰ء) میں چھپ چکا ہے۔ لیکن معلوم ہوتا ہے پورا فیصلہ اس عقیدے
کا ۱۹۰۱ء میں ہوا۔‘‘
(حقیقت النبوۃ ص۱۲۴، انوارالعلوم ج۲ ص۴۴۷)
’’۱۷؍اگست ۱۹۰۰ء کے خطبہ جمعہ کی نسبت جو مولوی عبدالکریم صاحب نے پڑھا تھا، حضرت مسیح موعود نے
فرمایا کہ یہ بالکل میر
615
مذہب ہے جو آپ نے بیان کیا۔ یہ خداتعالیٰ کا فضل ہے کہ آپ معارف الٰہیہ کے بیان میں بلند چٹان پر
قائم ہوگئے ہیں۔‘‘
(الحکم قادیان ج۴ نمبر۳۰ ص۱۲ کالم۳، مؤرخہ ۲۴؍اگست ۱۹۰۰ء، منقول از کتاب منظور الٰہی ص۲۱۴، مؤلفہ
منظور الٰہی لاہوری قادیانی)
’’کسی شخص نے مجلس میں آکر کہا نبی بخش بٹالوی کہتا ہے کہ مولوی کہتا ہے کہ مولوی عبدالکریم صاحب اپنے
خطبوں میں مرزاصاحب کے متعلق بڑا غلو کرتے ہیں اور اسی پر مرزاصاحب نے یہ سمجھ لیا کہ ان کا درجہ بڑا ہے۔ اس
پر حضرت مسیح موعود نے فرمایا، براہین احمدیہ کے زمانہ میں مولوی عبدالکریم صاحب کہاں تھے۔ اس میں جو کچھ
اللہتعالیٰ نے فرمایا ہے… ’’اور تیرا مخالف جہنم میں گرے گا۔‘‘ وغیرہ۔ مولوی عبدالکریم صاحب اس کے مقابل میں
کیاکہہ سکتے ہیں جو خداتعالیٰ نے فرمایا ہے۔‘‘
(روایت، الحکم ج۵ نمبر۳۴ ص۱۱ کالم۱، مؤرخہ ۱۷؍ستمبر ۱۹۰۱ء، منقول از کتاب منظور الٰہی ص۳۱۷، مؤلفہ
منظور الٰہی لاہوری قادیانی)
’’یہی حال حضرت مسیح موعود کے صحابہ کا ہے۔ ان پر چند لوگ اس وقت ایمان لائے جب آپ کا ساتھ دینا ہلاکت
تھا۔ ایسے ہی لوگ ابوبکر رضی اللہ عنہ، عمر رضی اللہ عنہ، عثمان رضی اللہ عنہ، علی رضی اللہ عنہ کے مثیل
تھے… پہلے آنے والے لوگوں میں سے ایک سید قاضی امیر حسن بھی تھے۔ وہ ان لوگوں میں سے تھے جو اس وقت جب کہ
حضرت مسیح موعود ابھی الفاظ نبی اور محدث وغیرہ کی تشریح کر رہے تھے، کہتے تھے کہ حضرت مسیح موعود نبی ہیں۔
دوسرے لوگوں سے بھی اور خود حضرت مسیح موعود سے بھی کہتے تھے۔‘‘
(اخبار الفضل قادیان ج۲۲ نمبر۱۱، مؤرخہ ۲۴؍جولائی ۱۹۳۴ء)
’’باربار کی وحی نے آپ کی توجہ کو اس طرف پھیر دیا کہ ۲۳سال سے جو مجھ کو نبی کہا جارہا ہے تو یہ محدث
کا دوسرا نام نہیں بلکہ اس سے نبی ہی مراد ہے اور یہ زمانہ ’’تریاق القلوب‘‘ کے بعد کا زمانہ تھا۔‘‘
(حقیقت النبوۃ ص۱۲۴، انوارالعلوم ج۲ ص۴۴۷)
’’۱۹۰۱ء سے پہلے آپ نبی کی اور تعریف کرتے تھے اور بعد میں آپ نے جب اللہ تعالیٰ کی متواتر وحی پر غور
فرمایا اور قرآن کریم کو دیکھا تو اس سے نبی کی تعریف اور معلوم ہوئی۔‘‘
(حقیقت النبوۃ ص۱۲۲، انوارالعلوم ج۲ ص۴۴۵)
’’مگر افسوس ہے جناب میاں صاحب کے اس اعلان کے مطابق حضرت مسیح موعود کی یہ کم علمی اور نادانی ایسی
نادانی کے ذیل میں آتی ہے جسے توبہ توبہ نقل کفر کفر نہ باشد۔ نعوذ باللہ ! جہل مرکب کہتے ہیں کہ باوجود اس بات
کے کہ آپ نبی کی تعریف تو نہ جانتے تھے مگر حالت یہ تھی کہ جہاں کسی نے آپ (یعنی مرزاقادیانی) کی طرف دعویٰ،
نبوت منسوب کیا اور آپ لگے مدعی نبوت پر لعنتیں کرنے۔ جو شخص ایک بات کو نہیں جانتا اور پھر اس کے علم پر اس
قدر اصرار کرے کہ لعنتوں اور مباہلوں پر اتر آئے اس سے بڑھ کر دنیا میں جہل مرکب کا وارث کون ہوسکتا ہے؟ خود
نبی ہیں اور خیر سے پتہ نہیں کہ میں نبی ہوں اور باوجود اس لاعلمی اور جہل کے آپ مدعی نبوت پر یا دوسرے
لفظوں میں خود اپنے آپ پر لعنتیں بھیجنے میں ذرا تامل نہیں کرتے۔ یہ بھونڈی اور قابل شرم تصویر جو جناب میاں
(مرزامحمود) صاحب نے حضرت مسیح موعود کی کھینچی ہے، کیا اس قابل ہے کہ کسی عقلمند آدمی کے سامنے پیش کی
جاسکے؟‘‘
(پیغام صلح لاہور ج۲۲ نمبر۲۶ ص۶ کالم۱، مؤرخہ ۲۷؍اپریل ۱۹۳۴ء)
’’اب اس عبارت پر غور کرو کہ میاں (مرزامحمود) صاحب اس دعویٰ کرنے والے کو کس قسم کا آدمی بتاتے ہیں۔
بارہ برس سے ایک دعویٰ کر رہا ہے، ایک عقیدہ پیش کر رہا ہے۔ شب وروز اسی کے دلائل دے رہا ہے۔ اسی عقیدہ کی
بناء پر مخالفوں کو مباہلہ کے لئے بلارہا ہے۔ حالانکہ میاں صاحب کے نزدیک صحیح وہ تھا جو مخالف کہتے تھے۔
بارہ سال کے بعد پھر کچھ اور سوچتا ہے اور دو سال اسی فکر میں لگا دیتا ہے کہ نبوت کا دعویٰ کرے یا نہ کرے…
حتیٰ کہ ایک مرید اپنے ایک خطبہ میں اسے رسول ثابت کردیتا ہے اور اس سے اس کو ذات قوت ملتی ہے کہ اب مرید
مجھے رسول بنانے لگے۔ اب خطرہ کی کیا بات باقی رہ گئی۔ شک تونعوذ باللہ من ذالک یہی
تھا کہ رسالت کا
616
دعویٰ کردوں تو شاید مرید نہ بھاگ جائیں۔ اب جب یہ خود ہی ایسے بے وقوف بن رہے ہیں تو چلو اب رسالت
کا دعویٰ کرو۔ تب دعویٰ رسالت ہوتا ہے۔ گویا میاں صاحب کے نزدیک پیراں نمی پرند، مریداں می پرانند کے علاوہ
چال بازی کا بھی کمال ہے۔ فانا اللہ وانا الیہ راجعون… اب میاں صاحب ہی انصاف کریں کہ
یہ کیسا نبی ہے نبوت سے پہلے تو اخلاق کی ضرورت ہے۔ دوسرے مجددین کی وہ ہتک کی گئی کہ مرزاصاحب کے مقابلہ
میں ان کو عوام الناس کی طرح ٹھہرایا گیا اور مرزاصاحب کی اپنی یہ عزت ہورہی ہے کہنعوذ باللہ
من ذالک انہیں چالباز ٹھہرایا جارہا ہے۔فانا اللہ وانا الیہ راجعون اسلام
کا باقی کیا رہ گیا…‘‘
(النبوۃ فی الاسلام ص۱۹۲تا۱۹۴، مصنفہ محمد علی لاہوری قادیانی)
(۳۲) خلاصہ کلام
’’خلاصہ کلام یہ کہ حضرت مسیح موعود چونکہ ابتداً نبی کی تریف یہ خیال فرماتے تھے کہ نبی وہ ہے جو نئی
شریعت لائے یا بعض حکم منسوخ کرے یا بلاواسطہ نبی ہو۔ اس لئے باوجود اس کے کہ وہ سب شرائط جو نبی کے لئے
واقع میں ضروری ہیں، آپ میں پائی جاتی تھیں۔ آپ نبی کا نام اختیار کرنے سے انکار کرتے رہے اور گو ان ساری
باتوں کا دعویٰ کرتے رہے جن کے پائے جانے سے کوئی شخص نبی ہو جاتا ہے۔ لیکن چونکہ آپ ان شرائط کو نبی کی
شرائط نہیں خیال کرتے تھے بلکہ محدث کی شرائط سمجھتے تھے۔ اس لئے اپنے آپ کو محدث کہتے رہے اور نہیں جانتے
تھے کہ میں دعویٰ کی کیفیت تو وہ بیان کرتا ہوں جو نبیوں کے سوا اور کسی میں پائی نہیں جاتی اور نبی ہونے سے
انکار کرتا ہوں۔ لیکن جب آپ کو معلوم ہوا کہ جو کیفیت اپنے دعویٰ کی آپ شروع دعویٰ سے بیان کرتے چلے آئے ہیں
وہ کیفیت نبوت ہے نہ کہ کیفیت محدثیت تو آپ نے اپنے نبی ہونے کا اعلان کیا اور جس شخص نے آپ کے نبی ہونے سے
انکار کیا تھا اس کو ڈانٹا کہ جب ہم نبی ہیں تو تم نے کیوں ہماری نبوت کا انکار کیا۔‘‘
(حقیقت النبوۃ ص۱۲۴، انوارالعلوم ج۲ ص۴۴۷،۴۴۸)
(۳۳) اٹھارہ سال
’’بھلا ایک شخص مرزاصاحب کو کب مسیح موعود قبول کر سکتا ہے۔ اگر اسے کہا جائے کہ وہ اپنے دعوے سے ہی
اٹھارہ سال تک بے خبر رہے اور قرآن وحدیث واقوال علمائے سلف سے غلط دلائل دیتے چلے گئے اور پھر جب اٹھارہ
سال بعد ایک مرید نے بتلا دیا کہ آپ تو نبی ہیں تو پھر ہوش آیا اور ایک گہری سوچ میں پڑ گئے۔ مگر پھر بھی
اپنی غلطی کا تو اعتراف نہیں کیا بلکہ نہایت ہوشیاری سے ایک مرید کو ڈانٹنا شروع کیا کہ تمہیں ہمارے دعوے کی
خبر نہیں، تم نے ہماری کتابوں کو نہیں پڑھا۔ تمہیں ہمیں نبی سمجھنا چاہئے تھا۔ خواہ ہمیں خبر تھی یا نہ تھی
اور اگر ہم نے اپنی پہلی کتابوں میں نبوت سے انکار کیا ہے تو کثرت مکالمہ مخاطبہ سے تو انکار نہیں کیا۔ اگر
ہمیں سمجھ نہیں آتی تھی کہ کثرت مکالمہ مخاطبہ ہی حقیقت نبوت ہے۔ کیونکہ ہمیں تو خدا غلط حکم اور غلط علم
دیتا چلا گیا۔ تمہیں تو الہام نہیں ہوتا تھا۔ تم اپنی فراست سے سمجھ لیتے کہ یہ شخص قرآن واحادیث کا علم نہ
ہونے کی وجہ سے اپنی نبوت سے منکر ہے۔ ورنہ اسے کثرت سے مکالمہ مخاطبہ ہوتا ہے۔‘‘
(اخبار پیغام صلح لاہور ج۵ نمبر۷۰، مؤرخہ ۱۷؍مارچ ۱۹۱۸ء)
(۳۴) نبوت میں ترقی اور تکمیل
’’حضرت اقدس کی دو حیثیتیں الگ الگ ہیں۔ ایک امتی کی، دوسری نبی کی۔ امتی کی حیثیت ابتدائی ہے اور نبی
کی شان انتہائی۔ حضرت صاحب نے امتی بن کر جو زمانہ گزارا ہے، غلام احمد اور مریم بن کر گزارا ہے۔ اس سے ترقی
پاکر آپ غلام احمد سے احمد اور مریم سے
617
ابن مریم بنے ہیں۔ جس زم انے میں آپ غلام احمد تھے اس وقت احمد نہ تھے اور جب آپ مریم تھے تب تک ابن
مریم نہ تھے۔ ایسا ہی جب آپ احمد بن گئے تو غلام احمد نہ رہے اور جب آپ ابن مریم بن گئے تب آپ مریم نہ رہے۔
یہ ایک دقیق نکتہ ہے جو خدا نے مجھے سمجھایا ہے۔‘‘
(ازہاق الباطل ص۳۰، مؤلفہ قاسم علی قادیانی)
’’پس امتی کے درجہ سے ترقی پاکر نبی بن جانے پر بھی آپ کو نبی نہ کہنا یا مریم سے ابن مریم ہو جانے پر
بھی عیسیٰ نہ کہنا یا غلام احمد سے احمد نام پانے پر بھی احمد نہ کہنا۔ ایسا ہے جیسے کسی پٹواری کو ڈپٹی
کلکٹر ہو جانے پر پٹواری یا لغوی ڈپٹی کلکٹر کہنا جو دراصل اب اس کی توہین اور گستاخی ہے۔‘‘
(ازہاق الباطل ص۳۴، مؤلفہ قاسم علی قادیانی)
’’خداتعالیٰ نے صاف لفظوں میں آپ کا نام نبی اور رسول رکھا اور کہیں بروزی اور ظلی نبی نہ کہا۔ پس ہم
خدا کے حکم کو مقدم کریں گے اور آپ (مرزاقادیانی) کی تحریریں جن میں انکساری اور فروتنی کا غلبہ ہے اور جو
نبیوں کی شان ہے ان کو ان الہامات کے ماتحت کریں گے۔‘‘
(اخبارالحکم قادیان مؤرخہ ۲۱؍اپریل ۱۹۱۴ء)
’’ہم جیسے خداتعالیٰ کی دوسری وحیوں میں حضرت اسماعیل، حضرت عیسیٰ، حضرت ادریس علیہم السلام کو نبی
پڑھتے ہیں۔ ایسے خدا کی آخری وحی میں مسیح موعود کو بھی یا نبی اللہ کے خطاب سے مخاطب دیکھتے ہیں اور اس نبی
کے ساتھ کوئی لغوی یا ظلی یا جزوی کا لفظ نہیں پڑھتے کہ اپنے آپ کو خود بخود ایک مجرم فرض کر کے اپنی بریت
کرنے لگ جائیں بلکہ جیسے اور نبیوں کی نبوت کا ثبوت ہم دیتے ہیں۔ ایسے ہی بلکہ اس سے بڑھ کر کیونکہ ہم چشم
دید گواہ ہیں۔ مسیح موعود کی نبوت کا ثبوت دے سکتے ہیں۔‘‘
(الفضل قادیان ج۱ نمبر۲۴ ص۸ کالم۱، مؤرخہ ۲۶؍نومبر ۱۹۱۳ء)
’’سنو! ہم مرزاغلام احمد صاحب کو وہ امام مہدی اور وہ مسیح مانتے ہیں جن کی خبر تمام انبیاء سابقین نے
اور بالآخر حضرت محمد رسول اللہ خاتم النّبیین نے دی۔ ہم بغیر کسی فرق کے بلحاظ نبوت کے انہیں ایسا ہی رسول
مانتے ہیں جیسے کہ پہلے رسول مبعوث ہوتے رہے۔‘‘
(الفضل قادیان ج۵ نمبر۳۱ ص۱۰ کالم۱، مؤرخہ ۱۶؍اکتوبر ۱۹۱۷ء)
(۳۵) نبی کا چہرہ
’’۲۶؍دسمبر ۱۹۰۷ء صبح کو حضرت اقدس باہر سیر کے واسطے تشریف لے چلے۔ احباب جوق درجوق ساتھ ہوئے… ایک
دیہاتی دوسرے کو کہہ رہا تھا کہ اس بھیڑ میں سے زور کے ساتھ اندر جا اور زیارت کر اور ایسے موقع پر بدن کی
بوٹیاں بھی اڑجائیں تو پروانہ کرے۔ ایک صاحب بولے لوگوں کو بہت تکلیف ہے اور خود حضرت ایسے گردوغبار میں
اتنے عرصہ سے تکلیف کے ساتھ کھڑے ہیں۔ میں نے کہا، لوگ بیچارے سچے ہیں کیا کریں۔ تیرہ سو سال کے بعد ایک نبی
کا چہرہ دنیا میں نظر آیا ہے۔ پروانے نہ بنیں تو کیا کریں۔‘‘
(اخبار البدر ج۷ نمبر۱، مؤرخہ ۹؍جنوری ۱۹۰۸ء، اخبار الفضل قادیان ج۹ نمبر۴۲، مؤرخہ ۲۸؍نومبر ۱۹۲۱ء)
(۳۶) قادیان میں آخری وحی
’’حضرت مسیح موعود ۲۶؍اپریل ۱۹۰۸ء کو لاہور تشریف لے گئے۔ اسی روز بوقت۴؍بجے صبح آپ پر یہ وحی ہوئی۔
’’مباش ایمن از بازی روزگار۔‘‘
(تذکرہ ص۷۵۴، طبع چہارم)
’’اس کے بعد قادیان میں کوئی موقع نہ ملا کہ آپ پر اللہ تعالیٰ کا کلام نازل ہو اس لئے یہ قادیان میں
آخری وحی تھی۔‘‘
(شیخ محمود احمد عرفانی، اخبار الحکم قادیان ج۱۲ نمبر۳۰ ص۱مؤرخہ ۲۶؍اپریل ۱۹۰۸ء، خاص نمبر، مؤرخہ
۲۱؍مئی۱۹۳۴ء)
618
(۳۷) نبوت کا قادیانی تصور
’’ایک شخص جو قوم کا چوہڑا یعنی بھنگی ہے اور ایک گاؤں کے شریف مسلمانوں کی تیس چالیس سال سے یہ خدمت
کرتا ہے کہ دو وقت ان کے گھروں کی گندی نالیوں کو صاف کرنے آتا ہے اور ان کے پاخانوں کی نجاست اٹھاتا ہے اور
ایک دو دفعہ چوری میں پکڑا گیا ہے اور چند دفعہ زنا میں بھی گرفتار ہوکر اس کی رسوائی ہوچکی ہے اور چند سال
جیل خانہ میں قید بھی رہ چکا ہے اور چند دفعہ ایسے برے کاموں پر گاؤں کے نمبرداروں نے اس کو جوتے بھی مارے
ہیں اور اس کی ماں اور دادیاں اور نانیاں ہمیشہ سے ایسے ہی نجس کام میں مشغول رہی ہیں اور سب مردار کھاتے
اور گوہ اٹھاتے ہیں۔ اب خداتعالیٰ کی قدرت پر خیال کر کے ممکن تو ہے کہ وہ اپنے کاموں سے تائب ہوکر مسلمان
ہو جائے اور پھر یہ بھی ممکن ہے کہ خداتعالیٰ کا ایسا فضل اس پر ہو کہ وہ رسول اور نبی بھی بن جائے۔‘‘
(تریاق القلوب ص۶۷، خزائن ج۱۵ ص۲۷۹،۲۸۰)
(۳۸) سادہ خاکہ
۳۹-۱۸۴۰ء مرزاغلام احمد قادیانی کی ولادت۔ مرزاقادیانی ایک لڑکی کے ساتھ توام پیدا ہوا۔ وہ لڑکی چند
ماہ بعد مر گئی۔ اس کا نام جنت تھا۔
۶۴-۱۸۶۸ء سیالکوٹ کی کچہری میں مرزاقادیانی کی قلیل تنخواہ پر ملازمت۔ نیز مختاری کے امتحان میں شرکت
اور ناکامی۔ بالآخر ملازمت سے علیحدگی۔
۱۸۶۸ء الہامات کی ابتداء۔
۱۸۷۷ء محکمہ ڈاک کی طرف سے مرزاقادیانی پر فوجداری مقدمہ اور بریت۔
۱۸۸۰ء براہین احمدیہ حصہ اوّل وحصہ دوم کی اشاعت۔ ۱۸۸۲ء میں تیسری جلد اور ۱۸۸۴ء میں چوتھی جلد شائع
ہوئی۔
۱۸۸۵ء مجدد ہونے کا دعویٰ اور اس کا اشتہار واعلان۔
یکم؍دسمبر ۱۸۸۸ء بیعت لینے کا اشتہار واعلان۔ پیری مریدی کی ابتداء۔
۱۸۹۱ء مسیح موعود اور مہدی معہود ہونے کا دعویٰ اور اس کا اشتہار واعلان۔
۱۸۹۷ء عریضہ بعالی خدمت گورنمنٹ عالیہ انگریزی۔ الملتمس خاکسار مرزاغلام احمد قادیانی۔
جلسہ احباب برتقریب جشن جوبلی۔ بغرض دعا وشکرگزاری جناب ملکہ معظمہ قیصرہ ہند دام ظلہا منجانب
مرزاغلام احمد قادیانی۔
۳… مرزاقادیانی پر انکم ٹیکس کا مقدمہ اور بالآخر ٹیکس سے معافی۔
۴… پنڈت لیکھ رام کے قتل کے شبہ میں مرزاقادیانی کی خانہ تلاشی۔
۵… مارٹن کلارک کی طرف سے مرزاقادیانی پر اقدام قتل کا فوجداری مقدمہ اور مرزاقادیانی کی بریت۔
۱۸۹۸ء درخواست بحضور نواب لیفٹیننٹ گورنر بہادر دام اقبالہ۔ راقم خاکسار مرزاغلام احمد از قادیان۔
۱۸۹۹ء حضور گورنمنٹ عالیہ میں ایک عاجزانہ درخواست۔ عریضہ خاکسار مرزاغلام احمد از قادیان۔
۲… حفظ امن کا مرزاقادیانی پر فوجداری مقدمہ اور بریت۔
619
۱۹۰۰ء دینی جہاد کی ممانعت کا فتویٰ کہ دینی جہاد جو تلوار سے کیا جاتا تھا، خدا کے حکم کے ساتھ بند
کر دیا گیا اور دین کے لئے لڑنا حرام ہوگیا۔
-
اب چھوڑ دو جہاد کا اے دوستو خیال
دین کے لئے حرام ہے اب جنگ اور قتال
(ضمیمہ تحفہ گولڑویہ ص۲۶، خزائن ج۱۷ ص۷۷)
اپنی جماعت کا نام احمدی رکھنے کا اشتہار واعلان اور سرکار سے استدعا کہ مردم شماری میں اسی نام سے اس
فرقہ کو درج کیا جائے۔
۱۹۰۱ء اپنے نبی ہونے کا دعویٰ اور اس کا اشتہار واعلان۔
۱۹۰۳ء قادیان میں منارۃ المسیح کی تعمیر کا اعلان۔
۱۹۰۴ء اپنے کرشن ہونے کا دعویٰ اور اس کا اشتہار واعلان۔
۱۹۰۵ء قادیان میں بہشتی مقبرہ قائم ہونے کا اشتہار واعلان۔
۱۹۰۸ء (۱)فنانشن کمشنر پنجاب کا دورہ۔ قادیان میں مرزاقادیانی کی طرف سے دعوت اور شاندار استقبال۔
۲۶؍مئی ۱۹۰۸ء کو بمقام لاہور وبائی ہیضہ سے چند گھنٹوں میں مرزاغلام احمد قادیانی کا ناگہانی انتقال۔
(۳۹) سیرت المہدی
’’حضرت صاحبزادہ (مرزابشیراحمد) صاحب نے نہایت محنت اور جاں فشانی سے کتاب ’’مستطاب سیرۃ المہدی‘‘
تیار فرمائی جس میں آپ نے حجۃ اللہ علی الارض وجری اللہ فی حلل الانبیاء حضرت مسیح موعود کے مبارک خصائل اور پاک
شمائل وسیرت کے متعلق کافی چھان بین اور غوروپرداخت کے بعد نہایت ثقہ روایات درج فرما کر وابستگان دامن نبی
الزمان اور عاشقان مہدی دوراں کی آرزوؤں کو پورا کر کے بڑا احسان فرمایا۔ اس عظیم الشان احسان کا اجر آپ
کومولا کریم ہی دے سکتا ہے۔ ہم اس احسان کا کچھ معاوضہ ادا نہیں کرسکتے بجز اس کے کہ آپ کے حق میں دعائے خیر
کریں۔‘‘
(الفضل قادیان ج۱۴ نمبر۲۲، مؤرخہ ۱۴؍ستمبر ۱۹۲۹ء)
’’حضرت والا مرتبت صاحبزادہ بشیراحمد صاحب ایم۔اے نے اس کتاب کی تصنیف سے جماعت احمدیہ بلکہ تمام طالب
حق دنیا پر ایک عظیم الشان احسان فرمایا ہے گو حضرت مہدی ومسیح مہدی (مرزاقادیانی) کی سوانح حیات پر اب تک
مختلف پیرایوں میں چند کتابیں شائع ہوئی ہیں۔ لیکن کتاب سیرۃ المہدی اپنی شان میں ایک نرالی کتاب ہے۔ اس
کتاب میں نہایت کوشش کے ساتھ حالات جمع کئے گئے ہیں۔ بہت سے ایسے عجیب وغریب واقعات اس کتاب میں ملتے ہیں جو
کہ پہلے کسی کتاب میں شائع نہیں ہوئے۔ کتب حدیث کی طرز پر روایت بیان کی گئی ہے۔ ہر روایت کو پڑھنے سے قلب
پر ایسی کیفیت طاری ہوتی ہے کہ گویا کوئی حدیث شریف کی کتاب پڑھی جارہی ہے۔ ہر احمدی کے پاس اس کتاب کا
ہونالازم ہے۔ (مرزاقادیانی کے ذاتی حالات اکثر وبیشتر اس کتاب سے لے کر ’’قادیانی مذہب‘‘ میں درج کئے گئے۔
حال میں جو دوسرا ایڈیشن نکلا ہے، اس میں اصلاح وترمیم کے نام سے کافی رنگ آمیزی کی گئی ہے۔ لیکن ؎
کیا بنے بات جہاں بات بنائے نہ بنے للمؤلف)
(اخبار الفضل قادیان ج۱۱ نمبر۶۵ ص۹ کالم۳، مؤرخہ ۱۹؍فروری ۱۹۲۴ء)
نوٹ:
قادیانی جماعت نے فروری ۲۰۰۸ء میں ’’سیرت المہدی‘‘ کو کمپیوٹرائز طرز پر دو جلدوں میں دوبارہ ’’نظارت
اشاعت ربوہ‘‘ کے زیراہتمام شائع کیا ہے۔ (عبدالرحمن باوا)
620
فصل انیسویں
پچرنگ
(۱) پانچ جماعتیں
جناب مرزاغلام احمد قادیانی کو اپنی زندگی کے تینوں دور میں فی الجملہ پانچ جماعتوں سے سابقہ پڑا۔
پہلی جماعت وہ جو شروع سے تاڑ گئی اور مخالف رہی۔ دوسری وہ جو شروع میں معتقد رہی لیکن مسیح موعود کے دعویٰ
پر بھڑک گئی اور منحرف ہوگئی۔ تیسری وہ جس نے مسیح موعود ہونے کا دعویٰ تو قبول کر لیا۔ لیکن نبوت کے دعویٰ
کو ٹال دیا۔ چوتھی وہ جس نے مرزاقادیانی کے دعویٰ نبوت کو بھی بخوشی تسلیم کر لیا بلکہ زوروشور سے اس کی
اشاعت کی۔ پانچویں جماعت وہ جس نے مرزاقادیانی کے دعویٰ نبوت کو مان کر خود بھی فائدہ اٹھایا اور ان کی
ماتحتی میں اپنی نبوت کا دعویٰ کیا۔ گویا مرزاقادیانی کا مسلک ومذہب حد کو پہنچا دیا۔ واضح ہو کہ تیسری اور
چوتھی جماعت جو بالعموم قادیانی اور لاہوری کہلاتی ہیں اور یہی دو جماعتیں فی الحقیقت مرزاغلام احمد قادیانی
کے دو ہاتھ ہیں۔ ان کا مفصل کارنامہ سولہویں اور سترہویں فصلوں میں درج ہوچکا ہے۔ ذیل میں بنظر تکمیل پانچوں
جماعتوں کی مختصر کیفیت پیش کرتے ہیں کہ ہر ایک کو مرزاقادیانی کے ساتھ کیا صورت پیش آئی۔ ہر عنوان کے تحت
متعلقہ جماعت کا حوالہ درج ہے۔
(الف) جماعت اوّل … مرزاقادیانی سے مقابلہ
(۲) مرزاقادیانی کی فریاد
’’اے میرے قادر خدا! تو جانتا ہے کہ اکثر لوگوں نے مجھے منظور نہیں کیا اور مجھے مفتری سمجھا اور میرا
نام کافر اور کذاب اور دجال رکھا گیا۔ مجھے گالیاں دی گئیں اور طرح طرح کی دل آزار باتوں سے مجھے ستایا گیا
اور میری نسبت یہ بھی کہا گیا کہ حرام خور، لوگوں کا مال کھانے والا، وعدوں کا تخلف کرنے والا، حقوق کو تلف
کرنے والا، لوگوں کو گالیاں دینے والا، عہدوں کو توڑنے والا، اپنے نفس کے لئے مال کو جمع کرنے والا اور شریر
اور خونی ہے۔ یہ وہ باتیں ہیں جو خود ان لوگوں نے میری نسبت کہیں جو مسلمان کہلاتے اور اپنے تئیں اچھے اور
اہل عقل اور پرہیزگار جانتے ہیں اور ان کا نفس اس بات کی طرف مائل ہے کہ درحقیقت جو کچھ وہ میری نسبت کہتے
ہیں، سچ کہتے ہیں۔‘‘
(مؤرخہ ۵؍نومبر ۱۸۹۹ء، مندرجہ تبلیغ رسالت ج۸ ص۸۴، مجموعہ اشتہارات ج۳ ص۱۷۵، جدید مجموعہ اشتہارات ج۲
ص۳۲۲، ۳۲۳)
(۳) مرزاقادیانی کا آخری فیصلہ
بسم اللہ الرحمٰن الرحیم، نحمدہ ونصی علیٰ رسولہ الکریم
یستنبؤنک احق ہو۔ قل ای وربی انہ لحق
بخدمت مولوی ثناء اللہ صاحب!السلام علی من اتبع الہدیٰ مدت سے آپ کے پرچہ
’’اہلحدیث‘‘ میں میری تکذیب اور تنسیق کا سلسلہ جاری ہے۔ ہمیشہ مجھے آپ اپنے اس پرچہ میں مردود، کذاب، دجال،
مفسد کے نام سے منسوب کرتے ہیں اور دنیا میں میری نسبت شہرت دیتے ہیں کہ یہ شخص مفتری اور کذاب اور دجال ہے
اور اس شخص کا دعویٰ مسیح موعود ہونے کا سراسر افتراء ہے۔
621
میں نے آپ سے بہت دکھ اٹھایا اور صبر کرتا رہا مگر چونکہ میں دیکھتا ہوں کہ میں حق کے پھیلانے کے لئے
مامور ہوں اور آپ بہت سے افتراء میرے پر کر کے دنیا کو میری طرف آنے سے روکتے ہیں… اگر میں ایسا ہی کذاب اور
مفتری ہوں جیسا کہ اکثر اوقات آپ اپنے ہر ایک پرچہ میں مجھے یاد کرتے ہیں تو میں آپ کی زندگی میں ہی ہلاک ہو
جاؤں گا کیونکہ میں جانتا ہوں کہ مفسد اور کذاب کی بہت عمر نہیں ہوتی اور آخر وہ ذلت اور حسرت کے ساتھ اپنے
اشد دشمنوں کی زندگی میں ہی ناکام ہلاک ہو جاتا ہے اور اس کا ہلاک ہونا ہی بہتر ہوتا ہے۔ تاخدا کے بندوں کو
تباہ نہ کرے اور اگر میں کذاب اور مفتری نہیں ہوں اور خدا کے مکالمہ اور مخاطبہ سے مشرف ہوں اور مسیح موعود
ہوں تو میں خدا کے فضل سے امید رکھتاہوں کہ سنت اللہ کے موافق آپ مکذبین کی سزا سے نہیں بچیں گے۔ پس اگر وہ
سزا جو انسان کے ہاتھوں سے نہیں بلکہ محض خدا کے ہاتھوں سے ہے جیسے طاعون، ہیضہ وغیرہ مہلک بیماریاں آپ پر
میری زندگی میں ہی وارد نہ ہوئی تو میں خداتعالیٰ کی طرف سے نہیں۔ یہ کسی الہام یا وحی کی بناء پر پیش گوئی
نہیں محض دعا کے طور پر میں نے خدا سے فیصلہ چاہا ہے اور میں خدا سے دعا کرتا ہوں کہ اے میرے مالک! اگر یہ
دعویٰ مسیح موعود ہونے کا محض میرے نفس کا افتراء ہے اور میں تیری نظر میں مفسد اور کذاب ہوں اور دن رات
افتراء کرنا میرا کام ہے، تو اے میرے پیارے مالک! میں عاجزی سے تیرے جناب میں دعا کرتا ہوں کہ مولوی ثناء اللہ
صاحب کی زندگی میں مجھے ہلاک کر اور میری موت سے ان کو اور ان کی جماعت کو خوش کر دے۔ آمین!
مگر اے میرے کامل اور صادق خدا! اگر مولوی ثناء اللہ ان تہمتوں میں جو مجھ پر لگاتا ہے حق پر نہیں تو
میں عاجزی سے تیری جناب میں دعا کرتا ہوں کہ میری زندگی ہی میں ان کو نابود کر۔ مگر نہ انسانی ہاتھوں سے
بلکہ طاعون وہیضہ وغیرہ امراض مہلکہ سے۔ بجز اس صورت کے کہ وہ کھلے کھلے طور پر میرے روبرو اور میری جماعت
کے سامنے ان تمام گالیوں اور بدزبانیوں سے توبہ کرے جن کو وہ فرض منصبی سمجھ کر ہمیشہ مجھے دکھ دیتا ہے۔
آمین یا رب العالمین!
میں ان کے ہاتھ سے بہت ستایا گیا اور صبر کرتا رہا۔ مگر اب میں دیکھتا ہوں کہ ان کی بدزبانی حد سے گزر
گئی۔ وہ مجھے ان چوروں اور ڈاکوؤں سے بھی بدتر جانتے ہیں جن کا وجود دنیا کے لئے سخت نقصان رساں ہوتا ہے
اورانہوں نے… تمام دنیا سے مجھے بدتر سمجھ لیا اور دور دور ملکوں تک میری نسبت یہ پھیلا دیا کہ یہ شخص
(مرزاقادیانی) درحقیقت مفسد اور ٹھگ اور دوکاندار اور کذاب اور مفتری اور نہایت درجہ کا بدآدمی ہے… میں
دیکھتا ہوں مولوی ثناء اللہ ان ہی تہمتوں کے ذریعہ سے میرے سلسلہ کو نابود کرنا چاہتا ہے اور اس عمارت کو
منہدم کرنا چاہتا ہے جو تو نے اے میرے آقا اور میرے بھیجنے والے اپنے ہاتھ سے بنائی ہے۔ اس لئے اب میں تیرے
ہی تقدس اور رحمت کا دامن پکڑ کر تیری جناب میں ملتجی ہوں کہ مجھ میں اور ثناء اللہ میں سچا فیصلہ فرما اور وہ
جو تیری نگاہ میں درحقیقت مفسد اور کذاب ہے، اس کو صادق کی زندگی میں ہی دنیا سے اٹھالے یا کسی اور نہایت
سخت آفت میں جو موت کے برابر ہو مبتلا کر۔ اے میرے پیارے مالک، تو ایسا ہی کر۔ آمین ثم آمین! ربنا افتح بیننا وبین قومنا بالحق وانت خیر الفاتحین۔ آمین!
بالآخر مولوی صاحب سے التماس ہے کہ وہ میرے اس تمام مضمون کو اپنے پرچہ میں چھاپ دیں اور جو چاہیں اس
کے نیچے لکھ دیں۔ اب فیصلہ خدا کے ہاتھ میں ہے۔‘‘
(اشتہار مؤرخہ ۱۵؍اپریل ۱۹۰۷ء، مندرجہ تبلیغ رسالت ج۱۰ ص۱۱۸تا۱۲۰، مجموعہ اشتہارات ج۳ ص۵۷۸،۵۷۹، جدید
مجموعہ اشتہارات ج۲ ص۷۰۵،۷۰۶)
اس اشتہار کی اشاعت کے ہفتہ عشرہ بعد ہی (البدر قادیان ج۶ نمبر۱۷ ص۷ کالم۲، مؤرخہ ۲۵؍اپریل ۱۹۰۷ء)
میں مرزاغلام احمد کی روازانہ ڈائری میں شائع ہوا کہ:
622
’’ثناء اللہ کے متعلق جو کچھ لکھا گیا یہ دراصل ہماری (یعنی مرزاقادیانی کی) طرف سے نہیں بلکہ خدا ہی کی
طرف سے اس کی بنیاد رکھی گئی ہے۔‘‘
خدا کی قدرت اور مقام عبرت ہے کہ مولوی ثناء اللہ صاحب تو ما شاء اللہ ابھی ۱۹۳۹ء تک کبرسنی میں بھی
قادیانیت کی تردید میں زندہ کرامات بنے ہوئے ہیں۔ (مولانا نے مرزاقادیانی کی ہلاکت کے چالیس سال بعد تقسیم
ملک کے بعد سرگودھا، پاکستان میں انتقال فرمایا) اور جناب مرزاغلام احمد اس اشتہار کے ایک ہی سال بعد ۲۶؍مئی
۱۹۰۸ء کو وبائی ہیضہ میں مبتلا ہوکر فوت ہوگئے۔ اچھے اچھے واقف کار دم بخود رہ گئے کہ خود مرزاغلام احمد
قادیانی کی دعا پر حق نے عجب فیصلہ کیا۔ ’’فاعتبروا یااولی الابصار‘‘ لیکن قادیانی فرقہ کا عذر ہے کہ مولوی
ثناء اللہ صاحب نے مرزاقادیانی کا یہ چیلنج قبول نہیں کیا تھا۔ اس لئے مرزاقادیانی پر اس کی پابندی عائد نہیں
ہوئی۔ تاہم قدرت نے پابندی عائد کردی کہ ہیضہ میں ہی مرزاقادیانی کا انتقال ہوا۔ (للمؤلف)
(ب) جماعت دوم … مرزاقادیانی سے انحراف
(۴) ایک سید
’’مجھے یاد آیا کہ بٹالہ میں فضل شاہ یا مہر شاہ نام ایک سید تھے جو میرے والد صاحب سے بہت محبت رکھتے
تھے اور بہت تعلق تھا۔ جب میرے دعویٰ مسیح موعود ہونے کی کسی نے ان کو خبر دی تو وہ بہت روئے اور کہا کہ ان
کے والد صاحب بہت اچھے آدمی تھے۔ یعنی یہ شخص کس پر پیدا ہوا۔‘‘
(کشتی نوح ص۴۸، خزائن ج۱۹ ص۵۱،۵۲ حاشیہ)
(۵) مولوی محمد حسین صاحب بٹالوی
’’مولوی محمد حسین صاحب بٹالوی کا نام آپ نے سنا ہوگا۔ یہ ابتدائی زمانہ میں حضرت اقدس (مرزاقادیانی)
سے اخلاص رکھتے تھے اور براہین احمدیہ کی اشاعت پر انہوں نے ایک زبردست ریویو بھی لکھا تھا۔ حضرت صاحب
(مرزاقادیانی) کو خود وضو کرانا اپنی سعادت سمجھتے تھے۔ مگر مسیح موعود کے دعویٰ پر وہ بگڑے اور بہت بری طرح
بگڑے۔ یہاں تک کہ انہوں نے بہت بڑا بول بولا کہ میں نے ہی ان کو اونچا کیا ہے اور میں ہی گراؤں گا۔‘‘
(مندرجہ اخبار الفضل قادیان ج۱۶ نمبر۵۶ ص۶ کالم۱، مؤرخہ ۱۵؍جنوری ۱۹۲۹ء)
(۶) میرعباس علی صاحب
’’حبی فی اللہ میر عباس علی لدھیانوی۔ یہ میرے وہ اوّل دوست ہیں جن کے دل میں خدائے تعالیٰ نے سب سے
پہلے میری محبت ڈالی اور جو سب سے پہلے تکلیف سفر اٹھا کر ابرار اخیارکی سنت پر بقدم تجرید محض اللہ قادیان میں
میرے ملنے کے لئے آئے۔ وہ یہی برزگ ہیں۔ میں اس بات کو کبھی نہیں بھول سکتا کہ بڑے سچے جوشوں کے ساتھ انہوں
نے وفاداری دکھلائی اور میرے لئے ہر یک قسم کی تکلیفیں اٹھائیں اور قوم کے منہ سے ہرایک قسم کی باتیں سنیں۔
میر صاحب نہایت عمدہ حالات کے آدمی اور اس عاجز سے روحانی تعلق رکھنے والے ہیں اور ان کے مرتبہ اخلاص کے
ثابت کرنے کے لئے یہ کافی ہے کہ ایک مرتبہ اس عاجز کو ان کے حق میں الہام ہوا تھا۔ اصلہ
ثابت وفرعہا فی السماء‘‘
(ازالہ اوہام ص۷۹۰،۷۹۱، خزائن ج۳ ص۵۲۷،۵۲۸)
’’یہ میرصاحب وہی حضرت ہیں جن کا ذکر بالخیر میں نے ازالہ اوہام کے صفحہ نمبر۷۹۰ میں بیعت کرنے والوں
کی جماعت میں لکھا
623
ہے۔ افسوس کہ وہ بعض موسوسین کے وسوسہ اندازی سے سخت لغزش میں آگئے بلکہ جماعت اعداء میں داخل ہوگئے…
اس میں کچھ شک نہیں کہ میر صاحب موصوف عرصہ دس سال تک بڑے اخلاص اور محبت اور ثابت قدمی سے اس عاجز کے
مخلصوں میں شامل رہے اور خلوص کے جوش کی وجہ سے بیعت کرنے کے وقت نہ صرف آپ انہوں نے بیعت کی بلکہ اپنے
دوسرے عزیزوں اور رفیقوں اور دوستوں اور متعلقوں کو بھی اسی سلسلہ میں داخل کیا اور اس دس سال کے عرصہ میں
جس قدر انہوںنے اخلاص اور ارادت سے بھرے ہوئے خط بھیجے ان کا اس وقت میں اندازہ بیان نہیں کرسکتا… بالآخر ہم
ناظرین پر ظاہر کرتے ہیں کہ میرعباس علی صاحب نے ۱۲؍دسمبر ۱۸۹۱ء میں مخالفانہ طور پر ایک اشتہار بھی شائع
کیا ہے جو ترک ادب اور تحقیر کے الفاظ سے بھرا ہوا ہے… میر صاحب کے دل میں سراسر فاش غلطی سے یہ بات بیٹھ
گئی ہے کہ گویا میں ایک نیچری آدمی ہوں کہ معجزات کا منکر اور لیلۃ القدر سے انکاری اور نبوت کا مدعی اور
انبیاء علیہم السلام کی اہانت کرنے والا اور عقائد اسلام سے منہ پھیرنے والا ہوں۔‘‘
(مندرجہ تبلیغ رسالت ج۲ ص۷۸تا۸۲، مجموعہ اشتہارات ج۱ ص۲۹۳تا۲۹۸، جدید ج۱ ص۲۴۲تا۲۴۵)
(۷) شرعی قسم
’’میں (حکیم مولوی ملک نظیر احسن بہاری) حلفاً شرعی قسم کھا کر کہتا ہوں کہ میں زمانہ دراز تک
مرزاصاحب کے فریب کا نیک نیتی سے دلدادہ رہا ہوں اور میں ان کا قدیم مزاج شناس ہوں۔ مرزاصاحب کے تمام راز
باطنی کا میں محرم راز ہوں اور قادیان کی خوب ہوا کھائے ہوئے ہوں۔ ذرا ذرا حال حضرت جی کا میرے سینہ بے کینہ
میں بھرا ہے۔
الغرض جب مرزا (غلام احمد) نے حد سے گزر کر نبوت کے دروازے کو کھٹکھٹانا شروع کیا تو سب سے پہلے منشی
الٰہی بخش صاحب اکاؤنٹینٹ لاہور، ڈاکٹر عبدالحکیم خاں صاحب اسسٹنٹ سرجن پٹیالہ، حکیم مولوی مظہر حسین صاحب
لدھیانہ، سید عباس علی صاحب رئیس، صوبہ دار میجر سید امیر شاہ صاحب وغیرہم سینکڑوں اہل علم اور واقف کار
صحبت دیدہ اشخاص اور اس کے بعد اس راقم نے بھی مرزا (قادیانی) کے دام تزویر سے علیحدہ ہوکر مرزاصاحب کو ملحد
ومرتد اسلام سمجھ کر ان کے مذہب جدیدہ پر لعنت بھیج کر الحمد للہ علیٰ احسانہ ان کے فریب سے نجات پائی۔
یہ وہ لوگ ہیں کہ مرزا (غلام احمد) کی ابتدائی حالت ناداری میں ہزاروں ہزار ماہوار حضرت جی کے صرف کے
لئے خرچ کرتے رہے۔ مگر جب مرزاجی بہکنے لگے تو پہلے سب لوگوں نے مل کر خوب سمجھایا مگر دکانداری خوب چل نکلی
تھی۔ حکیم نورالدین اور چند جاہل حاشیہ نشینوں نے اپنی دلالی کی رقموں میں سدباب خیال کر کے مرزا (غلام
احمد) کو سبز باغ دکھایا کہ حضرت جی اس وقت پچیس تیس ہزار کے معنی آرڈر براہین اور سراج المنیر کے آچکے ہیں۔
اگر یہ لوگ آپ سے منحرف ہوگئے تو بلاسے۔ میں دل وجان سے اس کو ایسے ہی چلاتا رہوں گا۔ بس ڈٹے رہیے۔ بقول شیخ
سعدی …
بدوز طمع دیدہ ہوشمند‘‘
(مسیح دجال کا سربستہ راز ص۲، مصنفہ حکیم مولوی نظیر احسن)
(۸) الٹی منطق
’’اب یہ صاف امر ہے کہ خداتعالیٰ نے مجھے مامور اور مسیح موعود کے نام سے دنیا میں بھیجا ہے جو شخص
میری مخالفت کرنے والے ہیں وہ میری نہیں خداتعالیٰ کی مخالفت کرتے ہیں۔ کیونکہ جب تک میں نے دعویٰ نہ کیا
تھا بہت سے ان میں سے مجھے عزت کی نگاہ سے دیکھتے تھے اور اپنے ہاتھ سے لوٹا لے کر وضو کرانے کو ثواب اور
فخر جانتے تھے اور بہت سے ایسے بھی تھے جو میری بیعت میں آنے کے لئے زوردیتے
624
تھے۔ لیکن جب خداتعالیٰ کے نام اور اعلام سے یہ سلسلہ شروع ہوا تو وہی مخالفت کے لئے اٹھے۔ اس سے صاف
پایا جاتا ہے کہ ان کی ذاتی عداوت میرے ساتھ نہ تھی بلکہ عداوت ان کو خداتعالیٰ سے ہی تھی۔ اگر خداتعالیٰ کے
ساتھ ان کو سچا تعلق تھا تو ان کی دینداری، اتقاء اور خداترسی کا تقاضا یہ ہونا چاہئے تھا کہ سب سے اوّل وہ
میرے اس اعلان پر لبیک کہتے اور سجدات شکر کرتے ہوئے میرے ساتھ مصافحہ کرتے، مگر نہیں۔ وہ اپنے ہتھیاروں کو
لے کر نکل کھڑے ہوئے اور انہوں نے مخالفت کو یہاں تک پہنچایا کہ مجھے کافر کہا اور بے دین کہا اور دجال
کہا۔‘‘
(ملفوظات احمدیہ ج۱ ص۳۵۵، احمدیہ انجمن اشاعت اسلام لاہور، ملفوظات ج۱ ص۱۸۹،۱۹۰، جدید ملفوظات ج۱
ص۱۲۲)
(۹) منحرف سے مقابلہ
’’اس امر سے اکثر لوگ واقف ہوں گے کہ ڈاکٹر عبدالحکیم خان صاحب جو تخمیناً بیس برس تک میرے مریدوں میں
داخل رہے۔ چند دنوں سے مجھ سے برگشتہ ہوکر سخت مخالف ہو گئے ہیں اور اپنے رسالہ ’’المسیح الدجال‘‘ میں میرا
نام کذاب، مکار، شیطان، دجال، شریر، حرام خور رکھا ہے اور مجھے خائن اور شکم پرست اور نفس پرست اور مفسد اور
مفتری اور خدا پر افتراء کرنے والا قرار دیا ہے اور کوئی ایسا عیب نہیں ہے جو میرے ذمہ نہیں لگایا… غرض ہم
نے اس کے ہاتھ سے وہ دکھ اٹھایا جس کے بیان کی حاجت نہیں۔ میاں عبدالحکیم صاحب نے اسی پر بس نہیں کی بلکہ ہر
ایک لیکچر کے ساتھ یہ پیش گوئی بھی صدہا آدمیوں میں شائع کی کہ مجھے خدا نے الہام کیا ہے کہ یہ شخص
(مرزاقادیانی) تین سال کے عرصہ میں فنا ہو جائے گا اور اس کی زندگی کا خاتمہ ہو جائے گا۔ کیونکہ کذاب اور
مفتری ہے۔ میں نے اس کی ان پیش گوئیوں پر صبر کیا مگر آج جو ۱۴؍اگست ۱۹۰۶ء ہے پھر اس کا ایک خط ہمارے دوست
فاضل جلیل مولوی نورالدین صاحب کے نام آیا۔ اس میں بھی میری نسبت کئی قسم کی عیب شماری اور گالیوں کے بعد
لکھا ہے کہ ۱۲؍جولائی ۱۹۰۶ء کو خداتعالیٰ نے اس شخص (مرزاقادیانی) کے ہلاک ہونے کی خبر مجھے دی ہے کہ اس
تاریخ سے تین برس تک ہلاک ہو جائے گا۔ جب اس حد تک نوبت پہنچ گئی تو اب میں (مرزاقادیانی) بھی اس بات میں
کچھ مضائقہ نہیں دیکھتا کہ جو کچھ خدا نے اس کی (یعنی ڈاکٹر عبدالحکیم خان کی) نسبت میرے پر ظاہر فرمایا ہے،
میں بھی شائع کردوں اور درحقیقت اس میں قوم کی بھلائی ہے۔ کیونکہ اگر درحقیقت میں خداتعالیٰ کے نزدیک کذاب
ہوں اور پچیس برس سے دن رات خدا پر افتراء کر رہا ہوں اور اس کی عظمت جلال سے بے خوف ہوکر اس پر جھوٹ
باندھتا ہوں اور اس کی مخلوق کے ساتھ بھی میرا یہ معاملہ ہے کہ میں لوگوں کا مال بددیانتی اور حرام خوری کے
طریق سے کھاتا ہوں اور خدا کی مخلوق کو اپنی بدکرداری اور نفس پرستی کے جوش سے دکھ دیتا ہوں تو اس صورت میں
تمام بدکرداروں سے بڑھ کر سزا کے لائق ہوں تالوگ میرے فتنہ سے نجات پاویں اور اگر میں ایسا نہ ہوں جیسا کہ
میاں عبدالحکیم خان نے سمجھا ہے تو میں امید رکھتا ہوں کہ خدا مجھ کو ایسی ذلت کی موت نہیں دے گا کہ میرے
آگے بھی لعنت ہو اور میرے پیچھے بھی۔ میں خدا کی آنکھ سے مخفی نہیں۔ مجھے کون جانتا ہے مگر وہی۔ اس لئے میں
اس وقت دونوں پیش گوئیاں یعنی میاں عبدالحکیم خاں کی میری نسبت پیش گوئی اور اس کے مقابل پر جو خدا نے میرے
پر ظاہر کیا، ذیل میں لکھتا ہوں اور اس کا انصاف خدائے قادر پر چھوڑتا ہوں اور وہ یہ ہیں:
الف… میاں عبدالحکیم خاں صاحب اسسٹنٹ سرجن پٹیالہ کی میری نسبت پیش گوئی جو اخویم مولوی نورالدین صاحب
کی طرف اپنے خط میں لکھتے ہیں۔ ان کے الفاظ یہ ہیں: ’’مرزاکے خلاف ۱۲؍جولائی ۱۹۰۶ء کو یہ الہامات ہوئے ہیں۔
مرزامسرف، کذاب اور عیار ہے۔ صادق کے سامنے شریر فنا ہو جائے گا اور اس کی میعاد تین سال بتائی گئی ہے۔‘‘
(کانا دجال ص۵۰)
ب… اس کے مقابل پر وہ پیش گوئی ہے جو خداتعالیٰ کی طرف سے میاں عبدالحکیم خاں صاحب اسسٹنٹ سرجن پٹیالہ
کی نسبت مجھے (یعنی مرزاقادیانی کو) معلوم ہوئی جس کے الفاظ یہ ہیں: خدا کے مقبولوں میں قبولیت کے نمونے اور
علامتیں ہوتی ہیں اور وہ سلامتی کے
625
شہزادے کہلاتے ہیں۔ ان پر کوئی غالب نہیں آسکتا۔ فرشتوں کی کھنچی ہوئی تلوار تیرے آگے ہے۔ پرتو نے
وقت کو نہ پہچانا نہ دیکھا نہ جانا۔ ’’رب فرق بین صادق وکاذب انت تری کل مصلح
وصادق‘‘ (یعنی اے میرے خدا، صادق اور کاذب میں فرق کر کے دکھلا تو جانتا ہے کہ صادق اور مصلح کون
ہے)‘‘
(اشتہار مرزا قادیانی بعنوان خدا سچے کا حامی ہو مؤرخہ ۱۶؍اگست ۱۹۰۶ء، مندرجہ تبلیغ رسالت ج۱۰
ص۱۱۳تا۱۱۶، مجموعہ اشتہارات ج۳ ص۵۵۷تا۵۶۰، جدید مجموعہ اشتہارات ج۲ ص۶۷۲،۶۷۳)
’’چنانچہ عبدالحکیم نے حضرت مسیح موعود (مرزاقادیانی) کے اس اشتہار کے جواب میں اپنی پہلی پیش گوئی کو
منسوخ قرار دیتے ہوئے لکھا: اللہ نے مرزا کی شوخیوں اور نافرمانیوں کی سزا میں سہ سالہ میعاد میں سے جو
۱۱؍جولائی ۱۹۰۹ء کو پوری ہونی تھی ۱۰مہینے اور ۱۱دن اور کم کر دئیے اور مجھے یکم؍جولائی ۱۹۰۷ء کو الہاماً
فرمایا کہ مرزا آج سے ۱۴ماہ تک بسزائے موت ہاویہ میں گرایا جائے گا۔ اس کے جواب میں حضرت مسیح موعود
(مرزاقادیانی) نے ۵؍نومبر ۱۹۰۷ء کو ایک اشتہار بعنوان ’’تبصرہ‘‘ شائع فرمایا جس میں خداتعالیٰ کا یہ کلام
درج فرمایا: اپنے دشمن سے کہہ دے کہ خدا تجھ سے مواخذہ کرے گا اور تیری عمر کو بھی بڑھاؤں گا۔ یعنی دشمن جو
کہتا ہے کہ صرف جولائی ۱۹۰۷ء سے ۱۴؍مہینے تک تیری عمر کے دن رہ گئے ہیں یا ایسا ہی دوسرے دشمن جو پیش گوئی
کرتے ہیں ان سب کو میں جھوٹا کروں گا۔‘‘
(اخبار الفضل قادیان ج۱۸ نمبر۱۳۵ ص۵ کالم۲،۳، مؤرخہ ۲۳؍مئی ۱۹۳۱ء، البدر قادیان ج۶ نمبر۴۶ ص۶، مؤرخہ
۱۰؍نومبر ۱۹۰۷ء)
’’اردو میں فرمایا کہ میں تیری عمر کو بھی بڑھا دوں گا یعنی دشمن (ڈاکٹر عبدالحکیم صاحب) جو کہتا ہے
کہ صرف جولائی ۱۹۰۷ء سے چودہ مہینے تک تیری عمر کے دن رہ گئے ہیں۔ یا ایسا ہی جو دوسرے دشمن پیش گوئی کرتے
ہیں ان سب کو میں جھوٹا کروں گا اور تیری عمر کو بڑھادوں گا تامعلوم ہو کہ میں خدا ہوں اور ہر ایک امر میرے
اختیار میں ہے۔‘‘
(اشتہار مؤرخہ ۵؍نومبر ۱۹۰۷ء، مندرجہ تبلیغ رسالت ج۱۰ ص۱۳۱، مجموعہ اشتہارات ج۳ ص۵۹۱، جدید مجموعہ
اشتہارات ج۲ ص۷۲۰)
’’آخری دشمن اب ایک اور پیدا ہوا ہے جس کا نام عبدالحکیم خاں ہے اور وہ ڈاکٹر ہے اور ریاست پٹیالہ کا
رہنے والا ہے جس کا دعویٰ ہے کہ میں اس کی زندگی میں ہی ۴؍اگست ۱۹۰۸ء تک ہلاک ہو جاؤں گا… مگر خدا نے اس کی
پیش گوئی کے مقابل پر مجھے خبر دی کہ وہ خود عذاب میں مبتلا کیا جائے گا اور خدا اس کو ہلاک کرے گا اور میں
اس کے شر سے محفوظ رہوں گا۔ سو یہ وہ مقدمہ ہے جس کا فیصلہ خدا کے ہاتھ میں ہے۔ بلاشبہ یہ سچ بات ہے کہ جو
شخص خداتعالیٰ کی نظر میں صادق ہے، خدا اس کی مدد کرے گا۔‘‘
(چشمہ معرفت ص۳۲۱،۳۲۲، خزائن ج۲۳ ص۳۳۶،۳۳۷)
خدا کی قدرت اور مقام عبرت کہ مرزاغلام احمد قادیانی ڈاکٹر صاحب کی پیش گوئی کے مطابق میعاد مقررہ کے
اندر ہی ۲۶؍مئی ۱۹۰۸ء کو وبائی ہیضہ میں مبتلا ہوکر فوت ہوگئے اور ما شاء اللہ ڈاکٹر صاحب بعد کو برسوں زندہ
اور خوش وخرم رہے۔ (للمؤلف)
(ج) جماعت سوم … مسیحیت کا اقرار، نبوت کا انکار
(۱۰) لاہوری محضر نامہ
’’ہم دستخط کنندگان ذیل حلفی شہادت ادا کرتے ہیں کہ بانی سلسلہ احمدیہ حضرت مرزاغلام احمد صاحب
قادیانی نے جب ۱۸۹۱ء میں یہ اعلان کیا کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا وفات پاجانا قرآن کریم سے ثابت ہے اور
حدیثوں میں جس ابن مریم کے امت محمدیہ میں آنے کا ذکر ہے، وہ میں ہوں تو اس وقت آپ نے نبوت کا دعویٰ نہیں
کیا۔ ہاں بعض علماء نے لوگوں کو غلط فہمی میں ڈالا اور ان کو مدعی نبوت قرار دے
626
کر آپ پر کفر کا فتویٰ لگایا جس کے بعد حضرت موصوف نے صاف طور پر کئی مرتبہ یہ اعلان کیا جیسا کہ آپ
کی تحریروں سے ظاہر ہے کہ آپ کی طرف دعویٰ نبوت منسوب کرنا محض افتراء ہے اور آپ نبوت کوآنحضرت ﷺ پر ختم
سمجھتے ہیں اورآنحضرت ﷺ کے بعد مدعی نبوت کو کاذب اور کافر یقین کرتے ہیں اور آپ کے بعض الہامات میں جو مرسل
یا رسول یا نبی آیا ہے یا حدیث میں آنے والے مسیح کی نسبت جو لفظ نبی کا آیا ہے تو اس سے مراد فی الحقیقت
نبی نہیں بلکہ مجازی، جزوی، ظلی نبی ہے جسے محدث کہا جاتا ہے اور خاتم النّبیین کے بعد کوئی نبی نہیں آسکتا۔
نہ نیا نہ پرانا۔ ہم یہ بھی حلفی شہادت ادا کرتے ہیں کہ ہم نے نومبر ۱۹۰۱ء سے پہلے حضرت مسیح موعود کی بیعت
کی اور میاں محمود احمد صاحب سرکردہ احمدی فریق قادیان نے جو یہ لکھا ہے کہ حضرت مرزاصاحب کا دعویٰ ابتداء
میں نبوت کا نہ تھا، مگر نومبر ۱۹۰۱ء میں آپ نے دعویٰ تبدیل کیا اور نبوت کے مدعی بن گئے اور انکار نبوت کی
دس گیارہ سال کی لگاتار تحریریں منسوخ ہیں۔ یہ محض غلط اور سراسر خلاف واقعات ہے۔ ہم اللہ جل شانہ کی قسم کھا
کر کہتے ہیں کہ کبھی ہمارے وہم وگمان میں یہ بات نہیں آئی کہ ۱۹۰۱ء میں حضرت مسیح موعود نے اپنے دعویٰ میں
تبدیلی کی، یا آپ کی سابقہ تحریریں جو انکار دعوائے نبوت سے بھری پڑی ہیں منسوخ ہوگئیں۔ نہ ہم نے اپنے علم
میں کبھی ایسے لفظ کسی ایک شخص کے بھی منہ سے سنے جب تک کہ میاں محمود احمد صاحب نے ان کا اعلان نہیں کیا۔
’’و اللہ علی ما نقول شہید‘‘ دستخط مولوی سید محمد احسن امروہی وغیرہ وغیرہ (اس محضر
نامہ پرستر معزز اور معتبر قادیانی صاحبان کے دستخط ثبت ہیں)‘‘
(النبوۃ فی الاسلام ص۲۶۶،۲۶۷، مولوی محمد علی لاہوری قادیانی امیر جماعت لاہور)
(د) جماعت چہارم … مرزاقادیانی کی نبوت کے قائل
(۱۱) مولوی محمد احسن امروہی قادیانی
’’حضرت مولوی محمد احسن صاحب امروہی جو ایک فاضل جلیل اور امین اور متقی اور محبت اسلام میں بدل وجان
فدا شدہ ہیں۔‘‘
(ضروری اشتہار از مرزاقادیانی مندرجہ تبلیغ رسالت ج۲ ص۱۰۳، مجموعہ اشتہارات ج۱ ص۳۲۳، جدید مجموعہ
اشتہارات ج۱ ص۲۶۵)
’’یہ وہ امور ہیں جن پر آپ لوگوں کو غور کرنا چاہئے۔ ان میں فیصلہ اس طرح پر ہو کہ مولوی سید محمد
احسن صاحب یہاں تشریف رکھتے ہیں۔ حضرت مسیح موعود اور حضرت خلیفۃ المسیح (یعنی حکیم نورالدین خلیفہ اوّل)
بھی آپ کا اعزاز فرماتے تھے اور وہ اپنے علم وفضل اور سلسلہ کی خدمات کی وجہ سے اس قابل ہیں کہ ہم ان کی عزت
کریں۔ وہ اس جلسہ شوریٰ کے پریذیڈنٹ ہوں۔ میں اس جلسہ میں نہ ہوں گا تاکہ ہر شخص آزادی سے بات کر سکے جو بات
باہمی مشورہ اور بحث کے بعد طے ہو وہ لکھ لی جائے اور پھر مجھے اطلاع دو… پھر میں کہتا ہوں کہ مولوی (سید
محمد احسن) صاحب کا جو درجہ ان کے علم اور رتبہ کے لحاظ سے ہے وہ تم جانتے ہو۔ حضرت (مرزاقادیانی) صاحب بھی
ان کا ادب کرتے تھے۔‘‘
(منصب خلافت ص۵۳، انوارالعلوم ج۲ ص۶۵)
’’اسی طرح مولوی محمد احسن صاحب ہیں کہ ایک وقت تو آپ حضرت مسیح موعود کے دعوے کی تائید میں تمام قرآن
سے استدلال کیا کرتے تھے یا اب وہ زمانہ ہے کہ خدا جانے کن اغراض کے ماتحت اس آخری عمر میں اپنی تمام عمر کے
اعمال کے خلاف ان باتوں سے بھی منکر ہورہے ہیں جو حضرت مسیح موعود نے خود لکھی ہیں اور جن سے حضور کی تمام
کتب بھری پڑی ہیں۔‘‘
(اخبار الفضل قادیان ج۵ نمبر۲۷ ص۳ کالم۱، مؤرخہ ۲؍اکتوبر ۱۹۱۷ء)
627
’’مولوی محمد احسن صاحب نے غیرمبایعین کی رفاقت اختیار کر کے انہیں خوش کرنے کے لئے جو جو کوششیں کی
ہیں اور کر رہے ہیں ان سے اکثر لوگ آگاہ ہوچکے ہیں۔ حضرت خلیفۃ المسیح ایدہ اللہ کی شان میں جن کے متعلق ایک
وقت انہوں نے لکھا تھا کہ ’’میں یقین کامل سے کہتا ہوں کہ حقیقتاً آپ کی خلافت کی ثابت شدہ صداقت ہے اور
منکرین اس کے بڑے خطاکار ہیں۔‘‘ مگر اب خود اس ثابت شدہ صداقت کا انکار کر کے بڑے خطا کاروں میں شامل ہوگئے
ہیں اور ایسے ایسے نازیبا اور گندے الفاظ سے آپ کو مخاطب کرتے ہیں کہ الامان۔‘‘
(اخبار الفضل قادیان ج۵ نمبر۶۳ ص۳ کالم۱، مؤرخہ ۵؍فروری ۱۹۱۸ء)
(۱۲) سامری اور جالوت
’’۲۵؍ستمبر ۱۹۱۸ء ج۶ نمبر۱۹ ص۴ کالم۲ کے پیام (پیغام صلح) میں مولوی محمد احسن (قادیانی لاہوری) کی
طرف سے حضرت مسیح موعود (مرزاقادیانی) کے ایک الہام کے متعلق مولوی محمد احسن صاحب کا ایک مضمون شائع ہوا ہے
جس میں انہوں نے سیدنا ومولانا حضرت فضل عمر خلیفہ ثانی (یعنی مرزامحمود) کو سامری قرار دینے کی ناپاک کوشش
کی ہے۔ مولوی صاحب کی طرف سے ایسی ناروا باتوں کا پیش ہونا جو ان کے علم اور عقل کے سلب ہونے پر کافی دلیل
اور بقول ان کے ان کی ارذل عمر کا صریح نتیجہ ہے۔ بجز اس کے نہیں کہ مولوی صاحب موصوف مغلوب الغضب اور مسلوب
الحواس ہوکر مبایعین کے دلوں کو بے وجہ دکھانا چاہتے ہیں۔ کچھ عرصہ ہوا ان ہی مولوی صاحب نے حضرت خلیفۃ
المسیح (مرزا محمود قادیانی) کو جالوت قرار دینے کے لئے ایک مضمون لکھ کر شائع کیا تھا، جس کے جواب میں
بفضلہ تعالیٰ مدلل ثابت کیاگیا تھا کہ مولوی صاحب خود ہی جالوت کے بروز ہیں۔ اب مولوی صاحب کی کوشش ہے اور
محض بے سود کوشش کہ حضرت ممدوح کو سامری کی مماثلت میں پیش کریں اور اس سے اپنی شقاوت اور قساوت قلبی کا
اظہار کریں۔‘‘
(اخبار الفضل قادیان ج۶ نمبر۳۵ ص۵ کالم۱، مؤرخہ ۹؍نومبر ۱۹۱۸ء)
(۱۳) فتویٰ
’’صاحبزادہ بشیرالدین محمود احمد صاحب بوجہ اپنے عقائد فاسدہ پر مصر ہونے کے میرے نزدیک ہرگز اب اس
بات کے اہل نہیں ہیں کہ وہ حضرت مسیح موعود مرزاصاحب کی جماعت کے خلیفہ یا امیر ہوں اور اس لئے میں اس خلافت
سے، جو محض ارادی ہے سیاسی نہیں، صاحبزادہ صاحب کا اپنی طرف سے عزل کر کے عند اللہ اور عند الناس اس ذمہ داری
سے بری ہوتا ہوں جو میرے سر پر تھی… اور حسب ارشاد الٰہی ’’قال ومن ذریتی قال لا ینال عہدی
الظلمین‘‘ اپنی بریت کا اعلان کرتا ہوں اور جماعت احمدیہ کو یہ اطلاع پہنچاتا ہوں کہ صاحبزادہ
صاحب کے یہ عقائد (۱)سب اہل قبلہ کلمہ گو کافر اور خارج از اسلام ہیں۔ (۲)حضرت مسیح موعود کامل حقیقی نبی
ہیں، جزوی نبی یعنی محدث نہیں۔ (۳)اسمہ احمد کی پیش گوئی جناب مرزاصاحب کے لئے اور محمد رسول اللہ ﷺ کے واسطے
نہیں اور اس کو ایمانیات سے قرار دینا ایسے عقائد اسلام میں موجب ایک خطرناک فتنہ کے ہیں جس کے دور کرنے کے
لئے کھڑا ہوجانا ہر ایک احمدی کا فرض اوّلین ہے۔ یہ اختلاف عقائد معمولی اختلاف نہیں بلکہ اسلام پاک کے اصول
پر حملہ ہے اور مسیح موعود کی بھی تعلیم کو ترک کردینا ہے۔ میں یہ بھی اپنے احباب کو اطلاع دیتاہوں کہ ان
عقائد کے باطل ہونے پر حضرت مسیح موعود کے مقرر کردہ معتمدین کی بھی کثرت رائے ہے۔ یعنی اب جو بارہ ممبر
حضرت کے مقرر کردہ زندہ ہیں ان میں سے سات ممبر علی الاعلان ان عقائد سے بیزاری کا اظہار کر چکے ہیں اور
باقی پانچ میں بھی اغلب ہے کہ ایک صاحب ان عقائد میں صاحبزادہ کے شامل نہیں۔‘‘ (اعلان منجانب مولوی سید محمد
احسن قادیانی معتمد خاص مرزاغلام احمد قادیانی ورفیق فریق لاہوری)
(آئینہ کمالات مرزا ص۴۹،۵۰، منجانب جناب ناظم صاحب دارالاشاعت رحمانی مونگیر شریف)
628
(ھ) جماعت پنجم … قادیانی انبیاء
(۱۴) بادصبا
سابقہ اقتباسات سے واضح ہوا کہ چار جماعتیں چار فریق پر رہیں۔ ایک جماعت تو شروع سے محتاط اور محترز
رہی۔ دوسری جماعت پھنسی مگر پھرتی سے نکل گئی۔ تیسری جماعت نے ایک حد تک ساتھ دیا مگر آگے بڑھنے سے عذر
کردیا۔ چوتھی جماعت بے تکان ساتھ گئی مگر پانچویں جماعت جو سب پر سبقت لے گئی وہ ہے جس نے اتباع کے سوا خود
اپنا بھی جھنڈا بلند کیا۔ مرزاغلام احمد قادیانی کی نبوت پر ایمان لاکر خود بھی نبوت کا درجہ حاصل کیا۔ گویا
مرزاقادیانی کی تعلیم کا پورا فیض پایا۔ لیکن تعجب اور افسوس ہے کہ مرزاقادیانی نے ان کی کچھ قدر نہ کی بلکہ
ان کو مفسد اور گمراہ قرار دیا۔ حالانکہ
اے باد صبا ایں ہمہ آوردۂ تست
بہرحال مرزاغلام احمد کے جو حوصلہ مند مرید نبوت کے دعویدار بنے، ان میں سے سات مختصراً ذیل میں پیش
ہیں۔ قادیانی امت میں نبوت کی کیسی برکت ہے۔
سالے کہ نکوست از بہارش پیداست
(۱۵) مدعی نبوت
’’دیکھو! ہماری جماعت میں ہی کتنے مدعی نبوت کھڑے ہوگئے ہیں۔ ان میں سے سوائے ایک کے سب کے متعلق یہ
خیال رکھتا ہوں کہ وہ اپنے نزدیک جھوٹ نہیں بولتے۔ واقعہ میں ابتداء میں انہیں الہام ہوئے اور کوئی تعجب
نہیں اب بھی ہوتے ہوں۔ مگر نقص یہ ہوا ہے کہ انہوں نے اپنے الہاموں کو سمجھنے میں غلطی کھائی ہے۔ ان میں سے
بعض سے مجھے ذاتی واقفیت ہے اور میں گواہی دے سکتا ہوں کہ ان مین اخلاص پایا جاتا تھا، خشیت اللہ پائی جاتی
تھی۔ آگے خداتعالیٰ ہی جانتا ہے کہ میرا یہ خیال کہاں تک درست ہے۔ مگر ابتداء میں ان کی حالت مخلصانہ تھی۔
ان کے الہاموں کا ایک حصہ خدائی الہاموں کا تھا مگر نقص یہ ہوگیا کہ انہوں نے الہاموں کی حکمت کو نہ سمجھا
اور ٹھوکر کھاگئے۔ حضرت مسیح موعود (مرزاقادیانی) کے زمانہ میں آیک آدمی یہاں آیا جو احمدی تھا۔ کہنے لگا،
مجھے الہام ہوتے ہیں کہ تو موسیٰ ہے، ابراہیم ہے، محمد ہے۔ حضرت مسیح موعود (مرزاقادیانی) نے فرمایا، یہ
بتاؤ جب تمہیں موسیٰ کہا جاتا ہے تو اس قسم کے نشان بھی دئیے جاتے ہیں جیسے موسیٰ علیہ السلام کو دئیے گئے
تھے۔ یا جب ابراہیم کہا جاتا ہے تو کیا حضرت ابراہیم کی طرز کاکلام اور برکات بھی دئیے جاتے ہیں؟ وہ کہنے
لگا، دیا تو کچھ نہیں جاتا صرف کہا ہی جاتا ہے۔ حضرت مسیح موعود (مرزاقادیانی) نے فرمایا، دیکھو خدا کسی سے
مخول نہیں کیا کرتا۔ وہ جب کسی کو کوئی نام دیتا ہے تو اس کے برکات بھی ساتھ دیتا ہے۔ تمہیں جو الہام ہوتے
ہیں ان کی دو صورتیں ہیں یا تو یہ کہ وہ کلام کسی اور کے لئے نازل ہوتا ہے جسے تم بھی سن لیتے ہو اور غلطی
سے اس کا مخاطب اپنے آپ کو سمجھ لیتے ہو۔ یا پھر یہ خدا کا کلام نہیں، شیطان کا کلام ہے جو تمہیں دھوکا دے
رہا ہے۔ دیتا تو کچھ نہیں مگر کہتا ہے تم یہ بن گئے وہ بن گئے۔ گویا وہ تمہیں وہ بات کہتا ہے جو تم میں پائی
نہیں جاتی۔‘‘
(تقریر مرزامحمود خلیفہ قادیان، اخبار الفضل قادیان ج۱۵ نمبر۷۶،۷۷ ص۵،۶ کالم۱تا۳، مؤرخہ ۲۷-۳۰مار
۱۹۲۸ء)
(۱۶) مولوی یارمحمد قادیانی کی نبوت
’’ایک میرے استاد تھے جو سکول میں پڑھایا کرتے تھے۔ بعد میں وہ نبوت کے مدعی بن گئے۔ ان کا نام مولوی
یار محمد صاحب تھا۔
629
انہیں حضرت مسیح موعود (مرزاقادیانی) سے ایسی محبت تھی کہ اس کے نتیجہ میں ہی ان پر جنون کا رنگ غالب
آگیا۔ ممکن ہے پہلے بھی ان کے دماغ میں کوئی نقص ہومگر ہم نے یہی دیکھا کہ حضرت مسیح موعود (مرزاقادیانی) کی
محبت بڑھتے بڑھتے انہیں جنون ہوگیا اور وہ حضرت مسیح موعود (مرزاقادیانی) کی ہر پیش گوئی کو اپنی طرف منسوب
کرنے لگے۔‘‘
(ارشاد مرزامحمود خلیفہ قادیان، اخبار الفضل قادیان ج۲۲ نمبر۷۹ ص۶ کالم۳، مؤرخہ یکم؍جنوری ۱۹۳۵ء)
(۱۷) احمد نور کابلی قادیانی کی نبوت
’’لا الہ الا اللہ احمد نور رسول اللہ اے لوگو! میں اللہ کا رسول ہوں۔ اب آسمان کے
نیچے اللہ کا دین میری تابعداری ہے اور اللہ کا مخاطب رسول زندہ موجود دنیا پر میں ہوں۔ میرا مان لینا اللہ کا دین
ہے اور میرے خلاف اور نہ مان لینا اللہ کے دین سے اخراج ہے اور دنیا پر میرا وقت رسالت کا ہے اور اللہ کے دین کی
رسی صرف میرے اور رحمن کے ہاتھ میں ہے۔ میری وحی اللہ کی طرف سے ہے جیسا کہ تمام انبیاء کی وحی اللہ سے ہے۔ میں
اللہ کی طرف سے رحمۃ للعالمین ہوں۔ میں تمام انبیاء کا مظہر ہوں اور قرآن کو ستاروں سے لایا ہوں۔‘‘
(لکل امتہ اجل ص۱،۲، مصنفہ احمد نور کابلی قادیانی)
’’سید احمد نور صاحب کابلی (قادیانی)… ہر شخص جانتا ہے کہ وہ خود مدعی نبوت ہیں اور معذور اور بیمار
آدمی ہیں۔ پس ان کا کام ہماری طرف سے کس طرح منسوب کیا جاسکتا ہے۔‘‘
(خطبہ مرزامحمود خلیفہ قادیان، اخبار الفضل قادیان ج۲۲ نمبر۵۸ ص۱۷ کالم۳، مؤرخہ ۱۱؍نومبر ۱۹۳۴ء،
خطبات محمود ج۱۵ ص۳۵۲)
(۱۸) عبداللطیف قادیانی کی نبوت
’’چونکہ خداتعالیٰ نے نوسال سے مجھے کل دنیا کی ہدایت کے لئے اور اسلام کو ہررنگ میں تمام ادیان پر
غالب کرنے کے لئے اپنا نبی اور رسول اور امام مہدی بنا کر مبعوث کیا ہے اور میرے دعویٰ کے دلائل کتاب چشمہ
نبوت کے ذریعہ پانچ سال سے شائع ہوچکے ہیں۔ لیکن میاں محمود احمد صاحب قادیانی اور ان کی جماعت نے میرے
دعاوی قبول کرنے سے انکار کردیا ہے۔ اس لئے خدائے تعالیٰ نے مجھے اپنی وحی کے ذریعہ اطلاع دی ہے کہ وہ ان کو
سزا دے گا اور ان کے اسی انکار اور سرکشی کی پاداش میں خدا کا غضب میاں محمود احمد قادیانی پر اور ان کے
ساتھیوں پر اور ان کی بستی پر کسی سخت مصیبت اور عذاب شدید عبرت ناک کی صورت میں عنقریب نازل ہونے والا ہے
اور اس عذاب شدید کے بعد جماعت احمدیہ کے بقیہ اور منتشر لوگ پھر خدا کے حکم سے میرے ہاتھ پر جمع ہوں گے۔ اس
عذاب کے ٹلنے کی صرف ایک ہی صورت ہے کہ جماعت احمدیہ قادیان قوم یونس کی طرح میرے دعاوی پر ایمان لاکر مجھے
قبول کریں۔ اس کے سوا اور کوئی صورت اس عذاب کے ٹلنے کی نہیں۔‘‘
(۵؍مارچ ۱۹۳۰ء، عبداللطیف، خدا کا نبی اور رسول اور امام مہدی گناچور، ضلع جالندھر)
(۱۹) چراغ دین جموی قادیانی کی نبوت
’’چراغ دین جمونی کے متعلق حضرت مسیح موعود (مرزاقادیانی) کو الہام ہوا تھا ’’نزل بہ
الجبیز‘‘ کہ یہ کتے کی طرح آبیٹھا تو اسے ٹکڑا ڈال دیا گیا۔ اس میں بتایا کہ یہ الہام کے قابل نہ
تھے مگر ہمارے دروازہ پر آبیٹھا۔ اس لئے اس پر الہام تو نازل کردیا مگر وہ ایسا ہی تھا جیسے کتے کو ٹکڑا ڈال
دیا جائے۔ چراغ دین تو مرتد ہوگیا۔ کیونکہ چبیز کو اس نے اعلیٰ چیز سمجھ لیا اور اس پر اترانے لگا۔ لیکن اگر
پیچھے پڑنے سے پہلے جبیز ہی نازل ہو اور انسان اس پر متکبر نہ ہو بلکہ دعاؤں میں لگا رہے تو اس کے لئے
اعلیٰ چیز بھی نازل ہوگی۔ کئی لوگ
630
ایسے ہوتے ہیں جنہیں پہلے پہل معمولی چیز ملتی ہے۔ لیکن جب تعلقات بڑھ جاتے ہیں اور دوستی ترقی کر
جاتی ہے تو دعوتیں ہونے لگتی ہیں۔ پس اگر کسی کو خداتعالیٰ خوان نعمت پر نہیں بلاتا اور دعوت نہیں دیتا تو
بھی اسے کوشش جاری رکھنی چاہئے خواہ جبیز ہی مل جائے۔‘‘
(مرزامحمود خلیفہ قادیان کی قادیانی مبلغین کو نصائح مندرجہ اخبار الفضل قادیان ج۱۸ نمبر۵۹ ص۶ کالم۳،
مؤرخہ ۱۵؍نومبر ۱۹۳۰ء)
’’چونکہ اس شخص (چراغ دین) نے ہمارے سلسلہ کی تائید کا دعویٰ کر کے اور اس بات کا اظہار کر کے کہ میں
فرقہ احمدیہ میں سے ہوں جو بیعت کر چکا ہوں۔ طاعون کے بارہ میں شاید ایک یا دو اشتہار شائع کئے ہیں اور میں
نے سرسری طور پر کچھ حصہ ان کا سنا تھا اور قابل اعتراض حصہ ابھی سنا نہیں گیا تھا۔ اس لئے میں نے اجازت دی
تھی کہ اس کے چھپنے میں کچھ مضائقہ نہیں مگر افسوس کہ بعض خطرناک لفظ اور بیہودہ دعویٰ جو اس کے حاشیہ میں
تھے اس کو میں کثرت لوگوں اور دوسرے خیالات کی وجہ سے سن نہ سکا اور محض نیک ظنی سے ان کے چھپنے کے لئے
اجازت دی گئی۔ اب جو رات اسی شخص چراغ دین کا ایک اور مضمون پڑھا گیا تو معلوم ہوا کہ وہ مضمون بڑا خطرناک
اور زہریلا اور اسلام کے لئے مضر ہے اور سر سے پیر تک لغو اور باطل باتوں سے بھرا ہوا ہے۔ چنانچہ اس میں
لکھا ہے کہ میں رسول ہوں اور رسول بھی اولوالعزم اور اپنا کام یہ لکھا ہے کہ تاعیسائیوں اور مسلمانوں میں
صلح کرادے اور قرآن وانجیل کا تفرقہ باہمی دور کر دے اور ابن مریم (غالباً مرزاقادیانی) کا ایک حواری بن کر
یہ خدمت کرے اور رسول کہلاوے… یہ بھی کہنا کہ میں رسول اللہ ہوں کس قدر خدا کے پاک سلسلہ کی ہتک عزت ہے، گویا
رسالت اور نبوت بازیچہ اطفال ہے۔ نادانی سے یہ نہیں سمجھتا کہ گو پہلے زمانوں میں بعض رسولوں کی تائید میں
اور رسول بھی ان کے زمانہ میں ہوئے تھے۔ جیسا کہ حضرت موسیٰ کے ساتھ ہارون۔ لیکن خاتم الانبیاء اور خاتم
الاولیاء اس طریق سے مستثنیٰ ہیں اور جیسا کہ آنحضرت کے ساتھ کوئی دوسرا مامور اور رسول نہیں تھا اور تمام
صحابہ ایک ہی ہادی کے پیرو تھے۔ اسی طرح اس جگہ بھی (یعنی قادیان میں) ایک ہی ہادی کے سب پیرو ہیں۔ کسی کو
دعویٰ نہیں پہنچتا کہ وہ نعوذ باللہ رسول کہلاوے… نفس امارہ کی غلطی نے اس (چراغ دین) کو خودستائی پر آمادہ
کیا ہے۔ پس آج کی تاریخ سے وہ ہماری جماعت سے منقطع ہے جب تک کہ مفصل طور پر اپنا توبہ نامہ شائع نہ کرے اور
اس ناپاک رسالت کے دعویٰ سے ہمیشہ کے لئے مستعفی نہ ہوجائے۔ ہماری جماعت کو چاہئے کہ ایسے انسان سے قطعاً
پرہیز کریں۔ اس کی تحریروں سے ہمیں پوری واقفیت نہیں تھی اس لئے اجازت طبع دی تھی۔ اب ایسی تحریروںکو چاک
کرنا چاہئے۔‘‘
(المشتہر مرزاغلام احمد قادیانی مؤرخہ ۲۳؍اپریل ۱۹۰۲ء، مندرجہ رافع البلاء ص۱۹تا۲۲، خزائن ج۱۸
ص۲۳۹تا۲۴۲، مجموعہ اشتہارات ج۳ ص۲۷۰تا۲۷۴، جدید مجموعہ اشتہارات ج۳ ص۵۵۸تا۵۶۱)
(۲۰) غلام محمد قادیانی کی نبوت
’’جس طرح تمام نبی ماموریت سے پہلے بالکل خاموش گمشدہ معمولی اور بے علم محض ہوتے ہیں، ایسا ہی میرا
حال تھا۔ میری زبان اور قلم وعظ کے لئے بہت کم اٹھی۔ میری تمام توجہ اپنے ذاتی فرئض منصبی کی تکمیل، اپنی
ذاتی تکمیل اصلاح اور تلاش محبوب میں منہمک رہی اور جونہی کہ میں مراد کو پہنچ گیا تو ایک ہی لیلۃ القدر کی
مشہور رات کے بعد میں بڑے شوروغل کے ساتھ غار حرا یا غار ثور سے باہر نکل آیا جس کی کوئی مثال موجودہ دنیا
پیش نہیں کرسکتی۔ ایک ہی رات میں وہ عظیم الشان تبدیلی مجھ میں ظہور میں آگئی کہ میں عالم بھی ہوگیا، مصنف
بھی ہوگیا، مقرر بھی ہوگیا، امام بھی ہوگیا اور مصلح بھی ہوگیا اور یہ سب کچھ علم وعمل کے اتحاد کے ساتھ
ظہور میں آیا۔ مجھے جس انجمن نے اپنی تجارت میں بطور کارندہ ملازم رکھا ہوا تھا وہ انجمن حضرت خدیجۃ الکبریٰ
کی طرح عنقریب میری زوجیت میں بخوشی آنے والی ہے(ص۷)۔
اس کے بعد میں خدائے واحد اسلام کی جس کے قبضہ قدرت میں میری جان ہے اور جو تمام زمین وآسمان کا واحد
مالک اور خالق ہے۔ اس کے نام عزت وجلال کی قسم کھا کر بیان کرتا ہوں کہ (مرزاقادیانی کے) مندرجہ بالا تمام
الہامات ومکاشفات میں تمام شاہانہ تصویر
631
اور اس کے متعلقہ کاروبار میری ذات سے تعلق رکھتے ہیں اور صرف میں ہی ان سب کا مصداق اور مدعی صادق
ہوں… میں خدا کے فضل سے (مرزاقادیانی کے) ۳۰؍مئی ۱۹۰۶ء کے الہام کا بھی مصداق ہوں جو حسب ذیل ہے:
’’خدا کے مقبولوں میں قبولیت کے نمونے اور علامتیں ہوتی ہیں اور وہ سلامتی کے شہزادے کہلاتے ہیں۔ ان
پر کوئی غالب نہیں آسکتا۔ فرشتوں کی کھنچی ہوئی تلوار تیرے آگے ہے پرتو نے قوت کو نہ پہچانا نہ دیکھا نہ
جانا۔ برہمن اوتار سے مقابلہ اچھا نہیں۔‘‘
(۳۰؍مئی ۱۹۰۶ء، تذکرہ ص۶۱۹تا۶۲۰، طبع چہارم)
’’خلیفہ جماعت قادیان (مرزامحمود) کے نام مخصوص آسمانی چٹھی آپ کو معلوم ہوگا کہ مجھے حضرت مسیح موعود
کی روحانی فرزندیت میں آسمانی بابرکت مصلح موعود قدرت ثانی کی آسمانی خلافت وماموریت کا دعویٰ ہے جس کے
مقابل آپ کو حضور کے جسمانی فرزند ہونے اور زمینی مصلح موعود وزمینی خلافت کا بغیر مخصوص وحی اور روح کے
دعویٰ ہے… لیکن آپ نے معلوم ہوتا ہے مجھے کوئی معمولی انسان خیال کر کے تکبر سے منہ پھیر لیا ہوا ہے۔ جس میں
آپ نے مجھے ہی نہیں ٹھکرایا اور جواب دیا بلکہ اپنے محسن باپ کو ٹھکرایا اور جواب دے دیا جس کی شاہی گدی پر
آپ زبردستی بیٹھ کر ہزاروں آرام کے دن دیکھ چکے ہیں… میری طرف سے اس لاپرواہی کی سزا میں آپ کو سردست طرح
طرح کی ہلکی سزاؤں میں مبتلا کیا جارہا ہے… جن سب کا تعلق صرف میری ذات سے ہے جس کی اطاعت سے الگ رہنے کی
صورت میں آپ کے کام کو ٹھنڈا کر دیا جانے والا ہے۔ (ص۱۷) پس میں ہی بشیرالدولہ اور قطعی بہشتی ہوں جس نے
اپنے آپ کو گزشتہ دوشنبہ کی ۲۷؍رجب ۱۳۵۳ھ میں شب معراج میں شجرۃ المنتہیٰ پر شدید القویٰ کی مخصوص وحی وقرب
کے ساتھ آسمان روحانیت کی جنت پر دیکھا ہے۔ (ص۱۰)‘‘
(رسالہ نمبرہشتم منجانب شیخ غلام محمد بشیرالدولہ روحانی فرزند ارجمند مسیح موعود ومہدی مسعود سلطان
القلم ممبر مجلس معتمدین احمدیہ انجمن اشاعت اسلام احمدیہ بلڈنگس مدینہ المسیح لاہور)
(۲۱) عبد اللہ تیماپوری قادیانی کی نبوت
’’فی زمانہ حضرت غلام احمد مجدد چودھویں صدی نے علوم ظاہری سے تمام ادیان باطلہ پر دین حق کا غلبہ
ظاہر کر کے راز تصوف میں مرتبہ شہود کا سبق پڑھایا۔ دین کو دنیا پر مقدم کرنے کی تعلیم دی۔ انہیں کے خادم اس
عاجز مامور من اللہ کے ذریعہ سے تعلیم میں ترقی کرتے ہوئے دنیا کو دین کے رنگ میں لانے کی تعلیم دی جاتی ہے۔‘‘
(ام العرفان ص۹، مصنفہ عبد اللہ تیماپوری قادیانی)
’’ اللہ پاک نے اس عاجز پر اپنے صحیفہ آسمانی کا نزول فرماکر سلسلہ آسمانی کی طرف مخلوق کو دعوت دینے کی
تاکید کی ہے۔ بائیس سال کا عرصہ گزرتا ہے خاکسار خدا سے وحی پاکر اس کام کو انجام دے رہا ہے۔‘‘
(ام العرفان ص۹، مصنفہ عبد اللہ تیماپوری قادیانی)
’’ناظرین! یہ وہی تفسیر کبیر ہے (یعنی تیمارپوری قادیانی کی تصنیف) جس کو حضرت اقدس مسیح موعود
مرزاغلام احمد نے اپنے ایک رؤیا (خواب) میں دیکھا ہے۔ آپ کے ملفوظات کے سنہری چوغہ کو شیطان لوگوں کی نظروں
سے غائب کرنے کے لئے لے بھاگا تھا۔ یہ خاکسار شیطان سے چھین کر واپس لایا۔ اس کی تعبیر خود حضرت
(مرزاقادیانی) صاحب نے یہ کی ہے کہ وہ تفسیر ہمارے (مرزاقادیانی کے) لئے موجب عزت وزینت ہوگی۔ الحمد للہ ! اس
تفسیر مبارک سے حضور کی رویائے صادقہ روحانی وجسمانی طریق میں مجسم بن کر پوری ہوئی۔ یہ خاکپائے غلامان رسول
اللہ آپ ہی کے اتباع کی برکت سے مردگی سے زندہ ہوکر ایک قاش عرفان الٰہی اور عشق ونبوت محمدی کی آپ ہی کے
ہاتھوں سے کھایا ہے، جس کی خوشخبری براہین کے حاشیہ درحاشیہ ص۲۴۸ میں دی گئی ہے اور اس عاجز کی زندگی کے
ساتھ دین اسلام کی
632
تروتازگی وترقی منظور الٰہی ہے۔ میرے ذریعہ سے حضرت مسیح موعود (مرزاقادیانی) کی صداقت زورآور حملوں
کے ساتھ دوبارہ ظاہر ہوگی۔ (اتنی عجلت! شاباش۔ للمؤلف)‘‘
(تفسیر آسمانی سبعا من المثانی ص الف، مصنفہ عبد اللہ تیماپوری قادیانی)
’’اسی تفسیر کے سلسلہ میں تیمارپوری صاحب قادیانی الرحمن الرحیم سے نکتے پیدا کرتے ہیں جس کی مرزاصاحب
داد دئیے بغیر نہ رہ سکتے۔ کردن خویش آمدن پیش بغور ملاحظہ ہو:
رحمن ورحیم۔ یا باسم محمد واحمد۔ یہ ایک تخم کی دو پھانک ہیں۔ یہ دونوں شقوں کے درمیان سے نور اللہ کا
موڑ بذریعہ عشق نکلا۔ پھر نیاز کی زمین سے نازکا درخت بلند ہوا۔ اس کی شاخیں آسمان سے جالگیں۔ اس کی ایک شاخ
وڈالی میں توحید کے خوشنما پھول لگے۔ یوں وحدت کثرت میں آکر اپنا جلوہ دکھاتی اور استعداد زمانہ کی وجہ سے
وحدت الوہیت کا تاج کثرت کے سر پر رکھا جاتا ہے تو خدا کا جلال ظاہر ہوتا ہے۔ چونکہ اللہ آیاکرتے ہیں۔ چنانچہ
فی زمانہ حضرت مسیح ناصری کو خدا کے نادان بندوں نے اس کی خدائی میں شریک گردانا، ہمیشہ کے لئے مسیح کو زندہ
مانا۔ حقیقی پرندوں کے پیدا کرنے والے، مردوں جلانے والے یقین کر لیا۔ اس مشرکانہ عقیدت کو مٹانے کے لئے اللہ
پاک نے اپنے ایک برگزیدہ غلام احمد کو مسیح احمد بنا کر بھیجا۔ پھر دنیا نے اس کو قبول نہ کیا۔ پھر وہی
بادشاہ زمین وآسمان نے اس عاجز کو چن لیا تاکہ زورآور حملوں سے غلام احمد کی سچائی کو ظاہر کرے اور اس کے
ذریعہ سے بذریعہ الہام ایک نور حق کے آنے کی پیش گوئی بھی سنائی جو اس عاجز کے وجود سے پوری ہوئی۔ وہ یہ ہے:
وجائک النور وہم افضل منک (یعنی آئے گا تیرے پاس ایک نور اور وہ تجھ سے بھی
افضل ہوگا) اس نور کی بزرگی میں بطور استعارہ یہ الہام نازل ہوا۔ ’’کأن اللہ نزل من
السماء‘‘ یہ مرتبہ خاتم ولایت محمدی کی طرف اشارہ ہے اور الہام ’’پائے محمدیاں برمنار بلند
ترمحکم افتاد‘‘ میں ظاہر ہونے والے راز کو کھولا۔ غرض ایک وجہ سے مرتبہ احمدیت مرتبہ محمدیت کا ظل ہے اور
ایک وجہ سے مرتبہ محمدیت مرتبہ احمدیت کا ظل ہے… لہٰذا آپ (مرزاقادیانی) خاتم ولایت احمدی ہوئے اور اس عاجز
کے وجود سے یہ کشف مرتبہ ناز روحانی میں ظل رحمانی کے درجہ پر یوں پورا ہوا کہ حضرت اقدس مسیح احمد ازروئے
تولد روحانی مظہر جمال تھے۔ آپ کے وجود میں جمال کا غلبہ زیادہ تھا اور جلال اس میں پوشیدہ تھا۔ اس معنی کو
جمالی رنگ میں آپ کا تولد ہوا اور یہ عاجز آپ کے پیچھے اور ساتھ میں مرتبہ جلال وجمال پر تولد پاکر خاتم
ولایت محمدی ہوا ہے۔ ’’اوّل باخبر نسبت دارد‘‘ کا دورہ پورا ہو کر قدرت ثانی کا دوسرا دور دور محمدی کا آغاز
ہوا۔ یہ مرتبہ ظل رحمانی ہے۔ مرتبہ راز اللہ ہی اللہ ہے۔ خدا ہی جانے کیا سے کیا ہونے والا ہے۔
(مولوی تیماپوری کا مرزاقادیانی سے غالباً مرتبہ بلند ہونے والا ہے اور اس میں بھی مرزاقادیانی ہی کا
نام روشن ہونے والا ہے۔ جیسا کہ خود مرزاقادیانی کے صاحبزادے مرزامحمود خلیفہ قادیان نے فیصلہ فرمادیا ہے کہ
دنیا میں وہی استاد لائق کہلاتا ہے جس کے شاگرد لائق ہوں اور جس کے شاگرد استاد سے بازی لے جائیں۔ اس کی
استادی کا کیا کہنا۔ استادوں کا استاد نکلا۔ بہرحال تیماپوری بھی مرزاقادیانی سے کچھ کم حوصلہ مند نہیں ہیں۔
کامیابی ناکامیابی قسمت کی بات ہے۔ للمؤلف)‘‘
(تفسیر آسمانی سبعاً من المثانی حصہ اوّل ص۶۷تا۶۹، مصنفہ عبد اللہ تیماپوری قادیانی)
عبد اللہ صاحب پر قادیانی فیضان کا واقعی خوب سیلاب آیا۔ آپ کی تصانیف بھی کثیر ہیں۔ منتخب ذیل میں درج
ہیں:
۱…امر العرفان۔ ۲…ارشادات آسمانی۔ ۳…طوفان کفر۔ میزان حشر۔ ۴…شان نور خداوندی۔ ۵…تفسیر آسمانی (حصہ اوّل،دوم) ۶…صحیفہ آسمانی، الہامات الٰہی مہدی موعود۔
633
۷…توحید آسمانی۔ ۸…حقیقت وحی اللہ ، صداقت کلام اللہ ۔ ۹…قدرت ثانی، مرسل یزدانی۔ ۱۰…تقدیر آسمانی، تدابیر انسانی۔ ۱۱…شناخت آسمانی۔ ۱۲…انجیل قدسی۔ ۱۳…رحمت آسمانی۔ ۱۴…راز آسمانی۔ ۱۵…محاکمہ آسمانی۔ ۱۶…خلافت آسمانی۔ ۱۷…تبلیغ آسمانی۔ ۱۸…نہج المصلی۔ ۱۹…فرامین اسلام۔ ۲۰…انجیل وقرآن کا مقابلہ۔
(۲۲) گل تازہ شگفت
’’اگر میں احمدیوں کا مامور موعود نہیں ہوں تو دوسرا کوئی بتائے جو عین وقت میں یعنی ۱۹۲۴ء میں آیا۔
اگر میاں (مرزامحمود) صاحب کے مامور ہونے کا انتظار ہے تو وہ بالبداہتہ غلط ہے۔ پہلے تو اسی بناء پر غلط ہے
کہ مامور کبھی ایک زبردست جماعت کا خلیفہ نہیں ہوا کرتا۔ کیونکہ مامور کے ساتھ ہونے والوں کو ایمان بالغیب
اور امتحانات میں سے گزرنا پڑتا ہے اور سوائے اس کے حضرت (مرزاقادیانی) نے یوسف موعود کے لئے نطفہ اور علقہ
لکھا ہے کہ وہ معمولی انسان ہوگا۔ تمہاری نظریں دھوکا کھاجائیں گی اور یہی سنت اللہ ہے… ایسی صورت میں نہ
خواجہ کمال الدین صاحب کھڑے ہوسکتے ہیں اور نہ مولانا محمد علی صاحب اور نہ میاں (محمود احمد) صاحب۔ یہ کل
مشہور انسان ہیں۔ اگر یہ لوگ اس کام کے لئے مامور ہوجائیں تو خدا کی سنت میں فرق آتا ہے۔ اسی وجہ سے اللہ جل
شانہ اپنی سنت کے مطابق جماعت احمدیہ کے ابتداء کے زمانہ میں صدیق کا انتخاب کریں۔ ’’دیرآمدۂ زار دور
آمدۂ‘‘ کا وعدہ پورا کیا۔ اس کا تفصیل وارذکر آئندہ آئے گا۔
ہر لفظ پیش گوئی کا فقیر پر چسپاں ہوتا ہے۔ پہلے تو یہ نشان کہ وہ نطفہ علقہ کی طرح ہے، اس کو دیکھ کر
لوگوں کی نظر دھوکا کھائے گی۔ وہ اس طرح کہ پیدائش کے لحاظ سے بھی میرا یہ حال ہے کہ حددرجہ کا کمزور پیدا
ہوا تھا۔ رونے کی آواز تک نہیں نکلتی تھی۔ والد نے کہا کہ یہ بچہ کیاجیتا ہے۔ کوڑے پر پھینک دو۔ والدہ نے
کہا کہ ابھی جان ہے۔ ذرا ٹھہرو… اللہ جماعت احمدیہ سے کام لینا چاہتا ہے۔ ان میں مخلص لوگ کثرت سے ہیں… اللہ اس
جماعت کو چھوڑنا نہیں چاہتا۔ پھر دوبارہ فضل ہوا ہے۔ حضرت صاحب نے لکھا ہے کہ جب تک کوئی روح حق پاکر کھڑا
نہ ہو سب مل کر کام کرو۔ اس روح حق والے کی طرف ہو جاؤ اور وہ صدیقی رنگ میں ہے۔ نطفہ اور علقہ کی طرح بے
حقیقت نظر آئے گا۔ دھوکا نہ کھانا۔ غرض اس وجہ جو کچھ ہورہا ہے وہ خدا کے وعدے پورے ہو رہے ہیں۔‘‘
(خادم خاتم النّبیین، صدیق دیندار چن بسویشور ص۱۸)
’’اسی طرح حضرت صاحب نے جو پیش گوئی کی وہ بھی بلاتاویل ہے اور اس وقت اس پیش گوئی کے سنے ہوئے لوگ
کافی موجود ہیں اور صاف الفاظ میں ہے۔ ایک مدت حمل میں ظاہر ہوگا جس کے دوسرے الفاظ میں یہ معنی ہوئی کہ
۱۹۲۴ء مطابق ۱۳۴۳ھ میں ظاہر ہوگا۔ ایسی صورت میں احمدیوں پر حجت ہے۔ اگر میں نہیں ہوں تو دوسراکوئی بتائے۔
یہ قطعی فیصلہ ہے۔ اس سے بھاگنا اور بے بنیاد اعتراض کرنا ایمانداری نہیں اور کوئی کج طبع آدمی اس کی مخالفت
بھی کرے گا تو وہ ان شاء اللہ چند روز میں پکڑا جائے گا۔‘‘
(خادم خاتم النّبیین ص۲۰)
(۲۳) مرزاقادیانی کی پیش گوئی
’’حضرت مرزا (غلام احمد قادیانی) صاحب نے ۸؍اپریل ۱۸۸۶ء میں یہ اعلان کیا کہ ایک مامور قریب میں پیدا
ہونے والا ہے۔ یعنی آج سے ایک مدت حمل میں دنیا میں آئے گا۔ وہ روح حق سے بولے گا۔ اس کا نزول گویا خدا کا
آنا ہے۔ وہ ایک عظیم الشان انسان ہے۔ وغیرہ وغیرہ۔ حضرت مرزاصاحب نے جب یہ اعلان کیا تھا، رجب کا مہینہ تھا۔
۱۳۰۳ھ مطابق ۱۸۸۶ء تھی۔ گویا انہوں نے
634
فقیر کی پیدائش کی تاریخ ۱۳۰۳ھ مطابق ۱۸۸۶ء بتائی تھی۔ ان کل بشارتوں کے مطابق میری پیدائش ۴؍رمضان
بروز دوشنبہ ۱۳۰۳ھ مطابق ۷؍جون ۱۸۸۶ء ہے۔ یہ تاریخ سکولوں اور دفاتر میں بھی لکھی ہوئی ہے… کوئی آج کی بنائی
ہوئی تاریخ نہیں ہے اور رشد کا زمانہ چالیسویں سال میں آتا ہے۔ اسی لحاظ سے مرزاصاحب نے میرے ظہور کی تاریخ
۱۳۴۳ھ مطابق ۱۹۲۴ء بتائی ہے۔ ویسا ہی ہوا ہے۔‘‘
(خادم خاتم النّبیین ص۱۶)
’’اب حق آگیا۔ اس کی طرف حضرت (مرزاقادیانی) صاحب نے اشارہ کیا تھا کہ جب تک روح القدس سے تائید پاکر
کوئی کھڑا نہ ہو تم سب مل کر کام کرو۔ اس کے بعد اس کی اتباع کرنا۔ اسی میں نجات ہے۔ اس کام کے ظہور کے لئے
اپنی جماعت میں رات دن دعا کرنے کے لئے کہا تھا۔
-
عید منائیو اے احمدیو سب مل کر
منتظر جس کے تھے تم آج وہ موعود آیا
(خادم خاتم النّبیین ص۹)
’’میری اس ماموریت کے انکار کی صورت میں ایک سوال پیدا ہوتا ہے۔ اگر وہ موعود میں نہیں ہوں تو دوسرا
کوئی پیش کرے۔‘‘
(خادم خاتم النّبیین ص۵۹)
(۲۴) تین کو چار کرنے والا
’’(۱)میں بھائیوں کے لحاظ سے بھی چوتھا ہوں اور بہنوں کے لحاظ سے بھی چوتھا ہوں۔ چھوٹوں میں بھی چوتھا
ہوں اور بڑوں میں بھی چوتھا ہوں۔
(۲)پیدائش کی گھڑی چوتھی ہے۔ دن چوتھا ہے۔ تاریخ چوتھی ہے۔ صدی بعد ہزار کے چوتھی ہے۔ سال چوتھا ہے۔
یعنی ۴؍رمضان پیر کا دن ۱۳۰۳ھ میں پیدا ہوا۔‘‘
(خادم خاتم النّبیین ص۵۹)
(۲۵) قادیانی نشان
’’۱۹۲۵ء جولائی کے ماہ میں جب میں قادیان گیا ہوا تھا وہاں بھی اللہ تبارک وتعالیٰ نے بطور نشان بے موسم
بارش بھیجا۔ (جولائی میں بارش تو واقعی سراسر بے موسم تھی۔ للمؤلف) وہ اس طرح کہ ایک رات کے اندر اطراف
قادیان کے تالاب ہوگیا۔ ٹم ٹم اور ٹانگے بند ہوگئے اور کم سے کم پانی راستہ پر ران برابر ٹھہرا تھا۔ لوگوں
کی زبانی سنا گیا کہ شاید ہی کسی زمانہ میں ایک رات میں اتنی بارش آئی ہو اور اس بارش میں مزید نشان یہ ہوا
کہ قادیان کا مشہور کتب خانہ جس میں ہزارہا روپیہ کی نایاب کتب ہیں ایک حصہ دیوار مع چھت گر گیا اور رات کا
وقت تھا بارش زور کی تھی۔ کوئی شخص خبر نہ لے سکا۔ آخر صبح تک تمام الماریاں کیچڑ میں لدی ہوئی۔ تمام کتابیں
بری طرح بھیگی ہوئیں۔ صبح یہ نظارہ اپنے زبان حال سے پکار کر کہہ رہا تھا کہ جو کتب خانہ قادیان کی علمیت کے
فخرکا باعث تھا چن بسویشور کے تصرفات نے اس علم پر پانی پھیر دیا۔ لطف یہ کہ وہ کل کتب دوپہر کے وقت جب دھوپ
میں کھول کر ڈالی گئیں تو وہیں ڈالی گئیں جہاں فقیر نے تکیہ لگایا تھا۔ فقیر بیٹھا ہوا یہ نظارہ دیکھ رہا
تھا اور خدائے قدیر کے احسان کا مزہ اٹھا رہا تھا۔ ایسا معلوم ہوتا تھا کہ یہ کتب زبان حال سے یہ پکار کر
کہہ رہی ہیں، اے صدیق! قادیان والوں نے ہمارے الفاظ کے غلط معنی کر کے دنیا میں دھوم مچائی ہے۔ ہم آپ کے پاس
فریاد لائے ہیں۔ فاعتبروا یا اولی الابصار لہم البشری فی الحیوۃ الدنیا والاخرہ‘‘
(خادم خاتم النّبیین ص۳۵)
635
(۲۶) ایک قادیانی یوسف
’’حضرت مرزا (غلام احمد قادیانی) صاحب کی بشارت میں جتنی صفتیں یوسف موعود کی آئی ہیں وہ کل کمال درجہ
پر مجھ پر صادق آتی ہیں… دوسرا نکتہ یہ کہ حضرت مرزاصاحب کی بشارت میں مجھے باربار یوسف کیوں کہاگیا۔ یہ قصہ
طول ہے مگر بہت دلچسپ اور بڑی حقیقت ہے۔ خدا کے الفاظ کس طرح پورے ہوتے ہیں۔ صاحب دل جانتے ہیں یوسف علیہ
السلام کی خصوصیات میں سے پہلی خصوصیت زلیخا کے مقابلہ میں آپ کی عصمت ہے، دوسرا آپ کا حلم ہے، تیسرا آپ کا
عفو کا مادہ ہے۔
اللہ تعالیٰ نے محض اپنے فضل سے علم یوسف اس کمال کا دیا ہے کہ اگر واقعات بیان کروں تو ایک دفتر ہو
جائے… اب رہا عصمت کا معاملہ۔ ایسے تو کئی موقعے ہوئے ہیں (جن سے یوسف موعود ہی واقف ہیں۔ للمؤلف) مگر ایک
واقعہ جو ہمارے خاندان میں مشہور ہے بہت عجیب ہے۔ یوسف زلیخا کے قصہ سے بھی اہم ہے۔ اس کو مختصر طور پر بیان
کرتا ہوں۔ اس میں اس بات کی ضرور احتیاط کروں گا کہ یہ راز اس وقت کھلنے پر فساد کا باعث نہ ہو جائے۔ کیونکہ
وہ عورت جس سے میرے نفس کی آزمائش کی گئی، وہ اب غیرکے قبضہ میں ہے۔ ایک وقت آئے گا کہ یہ قصہ عام ہو جائے
گا۔ تب اس کا جواب دار میں نہیں ہوں۔ اب یہ بات صرف ہمارے خاندان تک ہی محدود ہے… غرض وہ لڑکی بہتر سے بہتر
لباس پہنے ہوئے، پھول اور عطر میں بسی ہوئی رات کے دو بجے میری چادر میں گھس کر لپٹ گئی اور منہ پر منہ
رکھا۔ ساتھ ہی آنکھ کھل گئی۔ میں فوراً سمجھ گیا کہ وہی لڑکی ہے۔ شیطان کے پورے قبضے ہوچکے تھے۔ صرف اس غفور
الرحیم خدا نے مجھ پر رحم کیا کہ میں نے اس کو دور کرنے کی کوشش کی۔ وہ اور بھی نزدیک ہوئی۔ میں نے اٹھ کر
اس کو دھکیل دیا اور وہ لڑکی اپنے حجرہ میں چلی گئی… جب رات کے دس بجے میں کھانا کھا کر دیوان خانہ میں سونے
کے لئے گیا۔ وہاں اس لڑکی کے چچا نے مجھے بلایا اور سڑک پر لے گئے۔ وہاں ان کے والد کھڑے تھے۔ میں حیران تھا
کہ کیا سوال ہوگا۔ جب دونوں ملے تو چچا نے کہا کہ یہ واقعہ صرف آپ کے لئے ہوا۔ مجھے خبر نہیں تھی کہ میرا خط
ملا ہوا ہے۔ میں نے کہا واقعی بات ٹھیک ہے۔ بی بی کہتی تھی کہ میں زہر کھا کر مرجاؤں گی۔ تب انہوں نے کہا
کہ آپ کی مراسلت ہم کومل گئی۔ اس وجہ سے زہر کھایا ہے۔ جب میں نے یہ بات سنی فوراً ہی اپنی بریت کی کوشش
کرنا چاہا۔ وہ یہ نہ سمجھیں کہ میری نیت بری ہے۔ میں نے کہا کہ واقعہ یہ ہے کہ پنج شنبہ کی رات کو بی بی دو
بجے میری گود میں آکر سوگئی۔ مگر خدا نے رحم کیا کہ مجھے بچایا۔ یہ بھی میں نے آپ سے اس وجہ سے کہا کہ میں
کنواری لڑکی کی طرح حیادار ہوں۔ میری عصمت پر دھبہ آتا ہے، اس وجہ سے میں نے اظہار کیا ہے۔ غرض دوسرے دن
وہاں سے نکل گیا۔ رفتہ رفتہ پھر یہ واقعہ عام ہونے لگا۔ اسی مماثلت کے لحاظ سے حضرت مرزاصاحب کے الہام میں
’’وکذالک مننا علی یوسف نصرف عنہ السوء والفحشاء‘‘ آیا ہے اور آپ نے آخر زمانہ میں
یہ لکھا ہے:
-
باغ میں ملت کے ہے کوئی گل رعنا کھلا
آئی ہے باد صبا گلزار سے مستانہ وار
-
آ رہی ہے اب تو خوشبو اپنے یوسف کی مجھے
گو کہو دیوانہ میں کرتا ہوں اس کا انتظار
غرض اللہ تعالیٰ نے سورۂ یوسف میں صرف یوسف علیہ السلام کا ذکر رہنے کی وجہ سے اس کو احسن القصص کہا ہے…
اور اللہ تعالیٰ نے یوسف علیہ السلام کو اس خوبی کے باعث مراتب دئیے… جس وقت فقیر کے نفس کی آزمائش کی جارہی
تھی اس وقت اس عورت کی عمر (۱۷)سال اور میری عمر (۳۰) سالہ تھی۔ یہ واقعہ بعض وجوہات سے یوسف زلیخا والے
واقعہ سے اہمیت زیادہ رکھتا ہے۔ وہ اس طرح کہ:
636
-
زلیخا بوڑھی
یہاں جوان
-
یوسف غلام
یہاں آزاد
-
عزیز مصر کا خوف
یہاں کوئی خوف نہیں
-
زلیخا بجائے والدہ پردرش کے تھی
یہاں مقابلہ کی زندگی
-
زلیخا غیر کی منکوحہ
یہاں غیر کی منسوبہ درحقیقت اپنے نام کی
-
وہاں دن کا وقت
یہاں رات کا وقت
اس واقعہ کے بعد پھر میرے دل میں نفس کے جذبات بکلی ٹھنڈے ہوگئے۔ دوستوں نے اور عزیزوں نے جب یہ واقعہ
سنا، میری ہمت پر آفرین کہا۔‘‘
(خادم خاتم النّبیین ص۵۸، لغایۃ ص۶۸)
(۲۷) ویربسنت اور چن بسویشور
’’مختصر حال یہ ہے کہ یوں تو فقیر ۱۹۱۰ء میں بھی قادیان گیا تھا۔ اس وقت اس سلسلہ کی طرف زیادہ توجہ
نہ ہوئی۔‘‘
(خادم خاتم النّبیین ص۵)
’’میری نیک نیتی اور خلوص دیکھو۔ میں نے تلاش حق میں خود میاں (محمود احمد) صاحب (خلیفہ قادیان) کی
خلافت مان کر ان کے ہاتھ پر بیعت کی تھی اور قادیان پہنچا اور نیک نیتی سے تحقیقات کرتا رہا اور ان کا عقائد
میں غلو کرنا پسند نہ آیا۔ دعائیں کیں۔ آخر اللہ تعالیٰ اپنے بندہ کو بچانا چاہتا تھا۔ وہاں سے نکلا۔ بیعت فسخ
کر دی اور لگاتار اس عقیدے کی تردید میں ۱۲سال کام کیا اور بڑے شدومد سے کام کیا۔
آخر اللہ تعالیٰ نے فقیر کی دعا کو سنا اور ان کی (یعنی قادیانیوں کی) جماعت کو منتظر موعود بنادیا۔ اس
سے وہی کام محض اپنے رحمانی تقاضا کے ماتحت لے رہا ہے جو اس سے پیشتر بزرگان دین سے کام لیا تھا اور کثرت سے
نشانات ظاہر کئے اور قدرت کو کمال درجہ پر ہمارے ساتھ کر دیا۔‘‘
(خادم خاتم النّبیین ص۲۵)
’’میں اس فاضل اجل کی ہر لعنت ملامت کو اطمینان سے سنتا رہا۔ جب وہ مجھے دنیادار سمجھ کر ریاست کا بت
سامنے لائے، میں فوراً سیدھا ہوگیا اور کہا کہ دوات قلم لاؤ، میں ابھی لکھ دیتا ہوں۔ ہزار دفعہ لکھ دیتا
ہوں کہ میں پکا قادیانی ہوں۔ کاغذ لے کر ذیل کی تحریر لکھ دی:
صدیق دیندار چن بسویشور پکا احمدی ہے۔ قادیانی سلسلہ قادیان سے میاں محمود نے جو جاری کیا ہے، اس کا
سخت دشمن ہوں اور عقائد جو میاں محمودنے جاری کئے، ان کی بیخ کنی کرتا رہا اور کرتا رہوں گا۔ صدیق دیندار چن
بسویشور۔‘‘
(خادم خاتم النّبیین ص۲۹)
’’اس بات کی گواہ تقریباً تمام دکن کی اقوام ہیں۔ ان کی عبارتوں میں یہ بات چلی آرہی ہے کہ پہلے
دیربسنت (اولوالعزم محمود) ظاہر ہوگا۔ اس کے خیالات سے عالم میں پریشانی ہوگی۔ لوگ گمراہ ہو جائیں گے۔ اس کے
دور کرنے کے لئے چن بسویشور (دیق دیندار) ظاہر ہوگا۔ ان بزرگوں نے ان دونوں وجود کی جو تاریخ ظہور ونشانات
بتائے ہیں اس کی کوئی تردید کردے تو میں ہرشرط منظور کرنے کو تیار ہوں۔ گویا پیش گوئی نے ہم دونوں کے ہاتھ
پکڑ کے بتادیا ہے کہ یہ چن بسویشور ہے اور یہ ویر بسنت۔ چن بسویشور کے حالات سے آپ لوگوں کو ایک حد تک علم
ہوا ہے۔ صرف اب ویربسنت کے نشانات بطور حجت دوبارہ پیش کر کے چیلنج دیتا ہوں کہ اگر ان نشانات والا ویربسنت
میاں محمود احمد صاحب خلیفہ قادیان کے سوا دوسرا کوئی ہے تو ثابت کر دے تو ایسی صورت میں ہر شرط منظور۔
637
ویربسنت (اولوالعزم محمود) والی ایک علیحدہ کتاب تیار ہے۔ اس میں تفصیل وار بیان ہے… ان نشانات کے
علاوہ اور بھی بہت سے نشان ہیں۔ مگر اب میں جماعت قادیان اور تمام عالم سے سوال کرتا ہوں کہ ادھر قدیم کتب
اولیاء میں یہ پیش گوئیاں موجود اور ادھر موعود انسان (یعنی مرزامحمود خلیفہ قادیان) موجود ہے۔ پھر آپ کو شک
میں ڈالنے والی وہ کون سی چیز ہے ان پیش گوئیوں کے ساتھ ہی لکھا ہے، یہ ویر بسنت مسلمانوں کو قرآن کریم کے
الفاظ کے غلط معنی کر کے بتائے گا اور ایشور اوتار جس کو رحمۃ للعالمین کہتے ہیں، ان کی ہتک کرے گا۔‘‘
(خادم خاتم النّبیین ص۸)
’’اور ساتھ یہ ہی لکھا ہے کہ ایسا شخص عقائد میں غلطی پر رہے گا۔ اس کی اصلاح صدیق دیندار چن بسویشور
سے ہوگی اور صاف لکھا ہے کہ ویربسنت (اولوالعزم) قرآن کے الفاظ کے غلط معنی بیان کرے گا… اور لکھا ہے کہ چن
بسویشور کے عقائد درست رہیں گے اور چن بسویشور کے ذریعہ سے ویربسنت کے عقائد کی اصلاح ہوگی۔‘‘
(خادم خاتم النّبیین ص۱۰)
’’فقیر (صدیق دیندار چن بسویشور) جانتا ہے کہ وہ (مرزامحمود احمد ویربسنت خلیفہ قادیان) ایک متقی مرد
ہے اور بڑے بشارتیں والا ہے۔ ان سے ہمارا جھگڑا صرف مذہبی چند فروعات میں ہے۔ جس کی غفلت سے اصولی ہو جانے
کا اندیشہ ہے۔ اسی وجہ سے میں نے مخالفت کی۔ اب کوئی مخالفت نہیں ہے کیونکہ مجھے اللہ تعالیٰ نے علم دیا ہے کہ
وہ قریب میں ہمارے عقیدے کے ساتھ ہو جائیں گے جس کے آثار گزشتہ چند ماہ سے ظاہر ہورہے ہیں۔‘‘
(خادم خاتم النّبیین دیباچہ ص(ز)، یکم؍جون ۱۹۲۷ء)
’’اے جماعت احمدیہ کے فریس اور دانشمند لوگو! اللہ تعالیٰ نے آپ کو بہ نسبت دوسرے فرقوںکے بہت بڑی ذمہ
داری دی ہے۔ اس امانت کو ضائع مت کرو۔ ’’وما یاتیہم من رسول اللہ کانوا بہ یستہزؤن‘‘
میں داخل مت ہو۔ چن بسویشور اور ویر بسنت کو اللہ تعالیٰ نے صرف خدمت خاتم النّبیین کے لئے انتخاب کیا ہے۔
چونکہ میاں صاحب مامور نہیں ہیں، اس وجہ سے اس کا علم ان کو نہیں۔ وہ میرے ہونا ضرور ہے۔ ان کا انتظار دکن
میں ویسا ہی جیسا میرا انتظار تھا۔ ہم دونوں کا وجود ہی دکن کی اقوام پر حجت ہے۔‘‘
(خادم خاتم النّبیین ص۶۸)
’’میں میاں محمود احمد صاحب کو دکن کی بشارتوں کی بناء پر خلیفہ جماعت احمدیہ مانتا ہوں۔ گو لاہور کی
جماعت مخالف ہی کیوں نہ ہو میری سمجھ میں نہیں آتا۔ جس کا ظہور ہوچکا اس کا انکار کیسا۔‘‘
(خادم خاتم النّبیین ص۷۳)
’’حضرت مولانا محمد علی صاحب امیر جماعت احمدیہ نے ایک خط سے مجھے اطلاع دی ہے کہ آپ سے ہماری جماعت
کا ہر فرد خوش ہے اور حال میں ایک خط قادیان سے آیا ہے، وہ حسب ذیل ہے:
مکرمی! السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
عرض یہ ہے کہ مجلس مشاورت کے بعد آئندہ سال کے پروگرام میں دکن کی طرف وفد بھیجنے اور آپ کے کام میں
دلچسپی پیدا کرنے کی خاص کوشش کی جائے گی۔ دہلی میں دیوان میسور سے ملاقات کرنے پر معلوم ہوا… بہرحال آپ کام
کرتے جاویں۔ اللہ تعالیٰ کے وعدے سے اپنے وقت پر ضرور پوری ہوں گے۔ مزید برآں یہ عرض ہے کہ بوجہ مالی تنگی اس
علاقہ کی طرف توجہ نہیں ہوسکی۔ اللہ تعالیٰ آپ کے ساتھ ہو۔ کام کی رپورٹ براہ کرم ضرور بھیج دیا کریں اور
مشکلات سے اور نتائج سے آگاہ فرماتے رہا کریں۔ والتسلیم!
دستخط عبدالرحیم نیر
نائب ناظر دعوۃ وتبلیغ قادیان، مہرقادیان‘‘ (خادم خاتم النّبیین ص۷۸)
638
فصل بیسویں
خاتمہ
(۱) ابتلاء کی حقیقت
قرآن کریم کی تو ماشاء اللہ یہ شان ہے کہ:’’فلا اقسم بما تبصرون۔ وما لا تبصرون۔ انہ لقول
رسول کریم۔ وما ہو بقول شاعر قلیلاً ما تؤمنون ولا بقول کاہن قلیلاً ماتذکرون۔ تنزیل من رب
العلمین‘‘ ترجمہ: ’’جو چیز تم کو دکھائی دیتی ہے اور جو چیز تم کو نہیں دکھائی
دیتی، ہم سب کی قسم کھاتے ہیں کہ یہ (قرآن) بلاشبہ کلام (الٰہی) ہے، ایک معزز فرشتے کا (لایا ہوا) اور
یہ کسی شاعر کی (بنائی ہوئی) بات نہیں ہے۔ (مگر) تم لوگ بہت ہی کم یقین کرتے ہو اور نہ یہ کسی حاضراتی
عامل کے تکئے ہیں (مگر) تم لوگ بہت ہی کم غور کرتے ہو (یہ) پروردگار عالم کا اتارا ہوا (کلام)
ہے۔‘‘
(پارہ۲۹، رکوع۶)
قرآن کریم میں کلام الٰہی اس درجہ خالص اور اس درجہ اخلص ہے کہ کسی التباس کا امکان نہیں۔ یہ خصوصیت
کس شان سے واضح کی جاتی ہے۔ اللہ اکبر:’’ولو تقول علینا بعض الاقاویل۔ لا خذنا منہ بالیمین۔ ثم
لقطعنا منہ الوتین۔ فما منکم من احد عنہ حاجزین‘‘ ترجمہ: ’’اور اگر (پیغمبر اپنی
طرف سے) ہم پر کوئی بات بنا لاتا تو ہم اس کا داہنا ہاتھ پکڑ کر اس کی گردن اڑادیتے اور تم میں سے کوئی
بھی ہم کو اس (بات) سے نہ روک سکتا۔‘‘
(پارہ۲۹، رکوع۶)
غرض کہ قرآن کریم وحی محض ہے۔ ایک نقطہ بھی زائد نہیں ہے اور کس طرح ہوسکتا ہے جب کہ خاتم النّبیین،
رحمۃ للعالمین، بالمومنین رؤف رحیم جیسے نبی کو یہ تنبیہ ہوکہ جبروت وکبریائی سے دل کانپ اٹھے اور اس کے
سوا کس کا حوصلہ ہے جو اس خطاب کا متحمل ہو۔ وہی ہے جو صاحب معراج ہے، صاحب کوثر ہے۔ اس پر عرش سے فرش تک
صلوٰۃ وسلام جاری ہے اور اسی کی شان ہے۔ ’’ورفعنا لک ذکرک (۳۰/۱۹) وانک لعلی خلق عظیم (۲۹/۳)
صلی اللہ علیہ وسلم‘‘
لیکن کچھ لوگ ایسے ظالم ضرور ہوئے اور ہوں گے جو اللہ تعالیٰ پر افتراء کرتے ہیں۔ چنانچہ قرآن کریم میں
ان کی خبر دی گئی ہے: ’’ومن اظلم ممن افتری علی اللہ کذبا او قال اوحی الیّ ولم یوح الیہ شیٔ
ومن قال سانزل مثل ما انزل اللہ ‘‘ ترجمہ: ’’اس سے بڑھ کر ظالم اور کون ہوگا جو اللہ پر
جھوٹ باندھے یا کہے کہ میری طرف وحی آئی ہے۔ حالانکہ اس کی طرف کچھ بھی وحی نہ آئی ہو اور نیز جو کہے کہ
میں اتارتا ہوں مثل اس کے جو اللہ نے اتارا۔‘‘
(پارہ۷، رکوع۱۷)
اس آیت میں ظلم کے تین مدارج بیان ہوئے ہیں۔ اوّل یہ کہ اللہ پر جھوٹ لگائے یعنی اللہ کے کلام سے ایسی
باتیں نکالے جو اصل حقیقت کے بالکل خلاف ہوں۔ دوسرے یہ کہ وحی کا اعلان کرے۔ حالانکہ وحی کی اس کو ہوا بھی
نہ لگے۔ نہ معلوم کس مغالطہ میں مبتلا
639
ہوکر ایسا دعوے کرے اور سب سے بڑھ کر آخری ظلم یہ کہ اپنے کلام کو قرآن کے مساوی اور ہم پلہ سمجھے۔
مثلاً فصاحت میں، بلاغت میں، اعجاز میں اور اس کو قرآن کی طرح قطعی حجت قرار دے۔ اپنے واسطے اپنے متبعین کے
واسطے۔
جیتے جی تو ان گمراہوں کو کچھ پتہ نہ چلے کا کہ کس حال میں مبتلا ہیں۔ لیکن مرتے وقت سب حقیقت کھل
جائے گی اور عجب مار پڑے گی، نعوذ باللہ ! چنانچہ مذکورہ بالا آیت کے سلسلہ میں مندرجہ ذیل آیت بہت عبرت آموز
ہے: ’’ولو تری اذا لظلمون فی غمرات الموت والملٰئکۃ باسطوا ایدیہم اخرجوا انفسکم الیوم تجزون
عذاب الہون بما کنتم تقولون علی اللہ غیر الحق وکنتم عن ایاتہ تستکبرون‘‘ ترجمہ:
’’کاش تم ان ظالموں کو اس وقت دیکھو کہ موت کی بیہوشیوں میں پڑے ہیں اور فرشتے (ان کی جان نکالنے کے لئے
ان پر طرح طرح کی) دست درازیاں کر رہے ہیں (اور کہتے جاتے ہیں کہ) اپنی جانیں نکالو۔ اب تم کو کس ذلت کے
عذاب کی سزا دی جائے گی۔ اس لئے کہ تم خدا پر ناحق (ناروا) جھوٹ بولتے تھے اور اس کی آیتوں (کو سن کر
ان) سے اکڑا کرتے تھے۔‘‘
(پارہ۷، رکوع۱۷)
دراصل یہ شدید ابتلاء ہے جس سے جیتے جی نکلنا بہت دشوار ہے۔ کیونکہ دنیوی زندگی میں تو الٹا عروج نظر
آتا ہے، تعظیم ہوتی ہے، تکریم ہوتی ہے، نعمتیں ملتی ہیں، عزت بڑھتی ہے، شہرت بڑھتی ہے۔ یہ آثار بظاہر تائید
الٰہی نظر آتے ہیں۔ صداقت کی دلیل مانے جاتے ہیں۔ چنانچہ اس باب میں قرآنی تنبیہ ملاحظہ ہو: ’’فاما الانسان اذا ما ابتلہ ربہ فاکرمہ ونعمہ فیقول ربی اکرمن‘‘ ترجمہ:
’’لیکن انسان (کا حال یہ ہے) کہ جب اس کا پروردگار (اس طرح پر) اس (کے ایمان) کو آزماتا ہے کہ اس کو عزت
اور نعمت دیتا ہے تو وہ (خوش ہوکر) کہتا ہے کہ میرا پروردگار میری تکریم کرتا ہے۔ (حالانکہ وہ اس کو
ابتلاء میں ڈالتا ہے)‘‘
(پارہ۳۰، رکوع۱۴)
یہ نکتہ کہ اصل مدار ایمان پر ہے۔ محض آثار سے مطمئن نہ ہونا چاہئے۔ بہت نازک تعلیم ہے۔ علم ناقص ہو
تو آثار میں بہت فریب اور گمراہی کا امکان ہے۔ بڑی تباہی کا اندیشہ ہے۔ خیر کی شکل میں جو ایمان کی آزمائش
ہوتی ہے وہ شر سے کہیں زیادہ خطرناک ہے کہ اس کی فہم اور اس کی شناخت کے واسطے اعلیٰ بصیرت درکار ہے، ورنہ
ضلالت ہے، ادبار ہے۔ چنانچہ اس فتنہ کی بھی تنبیہ قرآن کریم میں مذکور ہے۔
’’ونبلوکم بالشرو الخیر فتنۃ والینا ترجعون‘‘ ترجمہ: ’’اور ہم تم
کو بری اور بھلی حالتوں میں (رکھ کر) آزماتے ہیں اور (آخرکار) تم (سب) کو ہماری طرف لوٹ کر آنا
ہے۔‘‘
(پارہ۱۷، رکوع۳)
پس کیسا ابتلاء ہے، کیسا فتن ہے کہ کوئی آیات الٰہی کی تکذیب کرتا رہے اور ترقی کرتا رہے۔ فریب کھاتا
رہے۔ مہلت پاتا رہے۔ اسی پر اتراتا رہے۔ کیسا سخت جال ہے۔ ٹوٹنا محال ہے
’’والذین کذبوا بایتنا سنستدرجہم من حیث لا یعلمون۔ واملی لہم ان کیدی متین‘‘
ترجمہ: ’’اور جن لوگوں نے ہماری آیتوں کی تکذیب کی ہم ان کو سہج سہج پکڑیں گے۔ ایسے محل پر کہ
ان کو علم بھی نہ ہو۔ ہم ان کو مہلت دیتے ہیں بیشک ہمارا داؤ بہت پکا ہے۔‘‘
(پارہ۹، رکوع۱۳)
اللہ تعالیٰ ابتلاء اور فتنہ سے محفوظ رکھے۔ خاص کر جب کہ وہ تکریم وتنعیم کی شان میں نمودار ہو۔ خیر کی
شکل میں ظہور کرے۔ خوب مہلت پائے۔ مخلوق کو پھنسائے۔ سب کی عافیت گنوائے۔ کیسا سخت وبال ہے۔
640
ہدایت سب سے بڑی نعمت ہے اور ضلالت سے ہر آن پناہ مانگنے کی ضرورت ہے۔ حتیٰ کہ اس دنیا سے باایمان
رخصت ہو۔ ’’ربنا لا تزغ قلوبنا بعد اذہدیتنا وہب لنا من لدنک رحمتہ انک انت الوہاب‘‘
(۲) قرآنی احکام
قادیانی صاحبان کو قرآن شریف میں اپنے لئے بہت سے مبشرات نظر آتے ہیں اور وہ بڑے شدومد سے کتابوں میں
درج کئے جاتے ہیں۔ یہ دعویٰ دیکھ کر ہم نے بھی ایک خاص وقت نبی کریم ﷺ کا واسطہ دے کر اس بارے میں قرآن کریم
سے حقیقت حال دریافت کی تو عجب پتہ کا جواب ملا۔ سبحان اللہ ! ناظرین اس کے محل وموقع پر غور فرمائیں۔
کیفیت یہ ہے کہ قادیانی صاحبان اپنی کارگزاریاں دکھاتے ہیں۔ کارنامے سناتے ہیں۔ کاموں پر اتراتے ہیں۔
ان میں دو جماعتیں ہیں، لاہوری اپنے عقائد میں نسبتاً نرم ہیں، اور قادیانی خوب سخت۔ حتیٰ کہ وہ اسلام کو
صرف اپنا حق بتاتے ہیں۔ تمام مسلمانوں کو کافر بتاتے ہیں۔ رشتے ناطے، غمی، شادی کے تعلقات چھڑاتے ہیں۔ خوب
تفرقہ پھیلاتے ہیں۔ یہ لوگ مرزاغلام احمد قادیانی کی امت کہلاتے ہیں۔ مرزاقادیانی اپنے کو مسیح موعود اور
مہدی معہود بتاتے ہیں۔ نبوت ورسالت تک جاتے ہیں۔ بڑے بڑے دعوے زبان پر لاتے ہیں، جن سے ایمان لڑ جاتے ہیں۔
یہ لوگ ان کے مذہب کی تبلیغ کراتے ہیں مگر ٹوکئے تو قسمیں کھاتے ہیں کہ ہم تو اسلام کی خیر مناتے ہیں۔ گویا
الٹی خیرخواہی جتاتے ہیں۔
معروضہ یہ تھا کہ قادیانی دعوؤں کا قرآن شریف سے ایسا جواب ملے کہ ان کی اصلی حقیقت عیاں ہو جائے۔ سو
بہ طفیل نبی کریم ﷺ اس بارے میں جو ایماء ہوا وہ سراسر قرآن شریف کا معجزہ ہے۔ گویا کہ قادیانی تحریک کا
نقشہ کھینچ دیا۔ چنانچہ قادیانی دعوؤں کا قرآنی جواب ملاحظہ ہو:’’وقل اعملوا فسیری اللہ عملکم
ورسولہ والمؤمنون وستردون الیٰ عالم الغیب والشہادۃ فینبئکم بما کنتم تعملون۔ واخرون مرجون لامر اللہ اما
یعذبہم واما یتوب علیہم و اللہ علیم حکیم۔ والذین اتخذوا مسجدا ضرارا وکفر اوتفریقا بین المؤمنین وارصادا
لم حارب اللہ ورسولہ من قبل ولیحلفن ان اردنا الی الحسنی و اللہ یشہد انہم لکذبون‘‘ ترجمہ: ’’کہہ دو کہ عمل کئے جاؤ۔ پھر آگے دیکھے گا اللہ تمہارے عمل کو اور اس کا رسول اور مسلمان
اور جلد لوٹائے جاؤ گے ایسے کی جانب جو چھپے اور کھلے کا واقف ہے تو وہ تم کو جتادے گا کہ جو تم کر رہے
تھے اور کچھ لوگ وہ ہیں جن کا معاملہ ملتوی ہے اللہ کے حکم پر۔ یا ان کو عذاب دے یا ان کی توبہ قبول
فرماوے اور اللہ جاننے والا اور حکمت والا ہے اور دوسرے وہ لوگ جنہوں نے بنا کھڑی کی ہے ایک جدا مسجد، ضرر
پہنچانے اور کفر کرنے اور پھوٹ ڈالنے کو مسلمانوں میں اور پناہ دینے کو اس شخص کو جو لڑ رہا ہے اللہ اور
اس کے رسول سے پہلے سے اور اب قسمیں کھانے لگیں گے کہ بجز بھلائی کے ہمیں کچھ مقصود نہ تھا اور اللہ گواہ
ہے کہ وہ بالکل کاذب اور جھوٹے ہیں۔‘‘
(سورۂ توبہ رکوع۱۳)
کیا دعوے ہیں، کیا حقیقت ہے۔ کون کاذب ہے۔ گویا تصویر کھینچ کر آنکھوں کے سامنے آگئی۔
’’نعوذ باللہ من ذلک، فاعتبرو یا اولی الابصار (۴۸/۴)‘‘
تمت بالخیر
641
بسم اللہ الرحمٰن الرحیم
الصلوٰۃ والسلام علیٰ رسولہ الکریم خاتم النّبیین رحمۃ للعالمین بالمؤمنین رؤف الرحیم
ضمیمہ اوّل
قادیانی مذہب کی کاوش ونالش
-
تھی خبر گرم کہ غالب کے اڑیں گے پرزے
دیکھنے ہم بھی گئے تھے پر تماشہ نہ ہوا
(۱) تمہید
کچھ عرصہ سے قادیانی صاحبان اس ناچیز پر خاص توجہ فرمارہے ہیں۔ چنانچہ چند ماہ قبل ختم نبوت اور جناب
پروفیسر الیاس برنی کے عنوان سے ایک رسالہ شائع کیا تھا، حال میں ’’الیاس برنی کا علمی محاسبہ‘‘ اس عنوان سے
دوسرا رسالہ نکالا ہے۔ معلوم ہوتا ہے کہ خدانخواستہ طبیعت بدمزہ اور مزاج بہت برہم ہے۔ اس ناچیز پر عتاب خوب
گرم ہے، لیکن ؎
-
آپ ہی اپنے ذرا جور و ستم کو دیکھیں
میں اگر کچھ بھی کہوں گا تو شکایت ہو گی
قادیانی صاحبان کو نہایت افسوس اور رنج ہے کہ اس ناچیز کو قرآن وحدیث اور تصوف سے مس نہیں۔ (گویا کہ
خود ان کو بڑا عبور ہے) اسے اپنی بے بضاعتی کا بھی اعتراف ہے۔ (حالانکہ ان کو اپنی علمیت کا بڑا دعویٰ ہے)
اس نے قادیانی کتابیں بھی نہیں پڑھیں۔ (اگرچہ وہ مسلمانوں کے ہاتھ ناقابل فروخت ہوں) اس کی تقریر بالکل بے
اصل تھی۔ (اگرچہ اس نے ہلچل ڈال دی) اور اس کی تالیف ناقص ہے۔ (اگرچہ وہ جناب مرزاقادیانی کے ارشادات کا
مرقع ہے) اور اس نے فساد پھیلا دیا۔ (حالانکہ اشتعال کا سلسلہ ان کی طرف سے قائم ہے) اور اس نے حیدرآباد دکن
کو بدنام کر دیا۔ (حالانکہ ماشاء اللہ حیدر آباد کا نام دور دور تک روشن ہے) پھر بھی اس ناچیز کو قادیانی
صاحبان سے شکوہ نہیں کیونکہ وہ بھی فی الحال معذور معلوم ہوتے ہیں ؎
-
| رکھیو غالب مجھے اس تلخ نوائی میں معاف |
آج کچھ درد مرے دل میں سوا ہوتا ہے |
پہلے رسالے نے اس ناچیز کو ’’قادیانی مذہب‘‘ تالیف کرنے پر مجبور کیا اور دوسرے رسالے نے یہ رسالہ
لکھوایا، چہرے کی پوڈر دھل گئی، حقیقت کھل گئی۔
خدا شرے بر انگیزد کہ خیر مادراں باشد
قادیانی صاحبان اس ناچیز سے جس قدر ناراض ہوں معذور ہیں، یوں بھی ان کو اپنی تنظیم، اپنے پروپیگنڈے
اور اپنے فنڈ پر گھمنڈ ہے۔ لیکن:
دشمن اگر قوی ست نگہبان قوی ترست
(۲) قادیانی تحریک کی آمد
قصہ یہ ہے کہ ابتداء میں قادیانی تحریک حیدرآباد پہنچی تو حضرت شیخ الاسلام مولوی انوار اللہ خاں صاحب
نور اللہ مرقدہ کا زمانہ تھا۔
642
اوّل تو حضرت محترم علیہ الرحمۃ کی بڑی شخصیت تھی۔ دوسرے حضرت علیہ الرحمۃ نے کتاب لاجواب ’’افادۃ
الافہام‘‘ تصنیف فرما کر قادیانی مذہب کی پوری قلعی کھول دی۔ غرض کہ فی الوقت اس تحریک کا سدباب ہوگیا اور
کچھ عرصہ تک حیدرآباد میں اس سے امن رہا۔
(۳) قادیانی تحریک کا قیام
لیکن قادیانی صاحبان صرف موقع کے منتظر تھے۔ حضرت علیہ الرحمۃ کے وصال کے بعد پھر انہوں نے ہاتھ پیر
نکالے، مگر اس مرتبہ بھیس بدل دیا۔ مسلمانوں سے گویا محبت ورفاقت کا سلسلہ شروع کیا اور خوب میل جول بڑھایا،
حیدرآباد کا خلق ومروت تو مشہور ہے، قادیانی صاحبان کو موقع مل گیا۔ تبلیغ شروع کر دی۔ بظاہر تو مسلمانوں کو
اتفاق واتحاد کی تاکید کرتے رہے اور فی الحقیقت اپنے لوگوں کے دل میں نفاق ومنافرت بھرتے رہے کہ مسلمانوں
میں باپ سے بیٹا اور بیٹے سے باپ جدا ہوگیا، بیاہ شادی کا رشتہ ٹوٹ گیا، موت غمی کا ساتھ چھوٹ گیا۔ تمام
کلمہ گو مسلمان جو ان کی جماعت میں شریک نہ ہوں، کافر بن گئے۔
ببیں تفاوت راہ از کجاست تا بہ کجا
(۴) قادیانی تحریک کی اشاعت
قادیانی جماعت نے حیدرآباد کو اپنا خاص مرکز قرار دے کر اپنے مذہب کی اشاعت میں جو تدابیر اختیار کیں،
ان میں سے بعض بطور نمونہ ملاحظہ ہوں۔
’’مفتی محمد صادق صاحب اور مولوی سید سرور شاہ صاحب راستہ میں آنے والے شہروں میں فرصت کے مطابق تبلیغ
کرتے ہوئے حیدرآباد پہنچ گئے اور انہوں نے تبلیغ شروع کر دی ہے۔ مفتی صاحب نے اپنا قیام مولوی غلام اکبر
صاحب وکیل (حال نواب اکبر یار جنگ بہادر رکن عدالت العالیہ) کے مکان میں کیا ہے، جس میں ایک بہت بڑا فائدہ
یہ ہے کہ مولوی صاحب موصوف کے پاس شہر کے معزز لوگ آتے جاتے ہیں۔ اس لئے ان سے گفتگو کرنے کا انہیں موقع مل
جاتا ہے۔ ۱۸؍تاریخ کے خط میں مفتی صاحب لکھتے ہیں کہ صبح سے بارہ بجے تک پانچ معزز اشخاص کو تبلیغ کی گئی
اور انہوں نے پھر ملاقات کا وعدہ کیا ہے۔ اس طرح ان شاء اللہ تبلیغ کا سلسلہ دن بدن ترقی کرتا جائے گا۔‘‘
(الفضل قادیان ج۲ نمبر۷۰ ص۸ کالم۲، مؤرخہ ۲۶؍نومبر ۱۹۱۴ء)
’’یہاں (حیدرآباد میں) ہم نے درس قرآن اور لیکچروں کے واسطے ایک ہال کرایہ پر لیا ہے۔ اس میں بھی کسی
نے رکاوٹ کی کوشش کی تھی مگر اللہ تعالیٰ نے اس شر سے محفوظ رکھا۔ میں اسسٹنٹ ریذیڈنٹ بہادر سے جا کر ملا۔ تمام
سلسلہ کے حالات ان کو سنائے، ریویو انگریزی کے بعض پرچے دکھائے، ٹیچنگ آف اسلام دی، حضرت مسیح موعود کے
دعویٰ اور دلائل پر گفتگو کی۔ بہت توجہ سے سب باتوں کو سنا اور تحریری اجازت دی کہ ہم روزانہ وعظ اور لیکچر
کر سکتے ہیں۔ اب وہاں لیکچروں کا سلسلہ شروع ہوا۔ ایک دن میں نے سلسلہ احمدیہ کی صداقت پر ایک مختصر تقریر
کی، چند نوجوان طلباء بھی سامعین میں تھے۔‘‘
(قادیانی مبلغ کی رپورٹ، الفضل قادیان ج۲ نمبر۱۴۱،۱۴۲ ص۱۱ کالم۲،۳، مؤرخہ ۱۷-۲۰؍مئی ۱۹۱۵ء)
(۵) سرکاری عہدہ داروں پر خاص توجہ
تبلیغ کی ایک آسان اور کارگر تدبیر یہ ہے کہ قادیانی صاحبان پوری آزادی اور بے باکی سے اپنی کتابیں
خاص اہتمام کے ساتھ سرکاری عہدہ داروں میں تقسیم کریں۔ اگر (خدانخواستہ) پڑھ کر چکر میں پڑ گئے، معتقد یا
مرید ہوگئے تو کیا کہنا، دلی مراد پوری ہوئی اور اگر
643
رواداری یا آزاد خیالی کے بہانے مروتاً کتابیں قبول کر لیں تو بھی رعایا برایا کو مرعوب کرنے کا کافی
موقع مل سکتا ہے کہ جب بڑے بڑے عہدہ دار کتابیں قبول کریں، تو پھر عامۃ الناس ان کو کیوں نہ پڑھیں، البتہ
اگر کوئی عہدہ دار غیرت مند اور مآل اندیش واقع ہو، تقسیم کی چال سمجھ جائے اور کتابیں لینے سے انکار کردے
تو پھر خموشی اولیٰ ہے۔ دبے پاؤں سے چل دینا چاہئے کہ خواہ مخواہ ہوا خیزی نہ ہو، بہرحال سرکاری عہدہ داروں
پرقادیانی صاحبان کا التفات ملاحظہ ہو۔ مشتے نمونہ از خروارے۔
’’حافظ روشن علی صاحب بہ ہمراہی سید بشارت احمد صاحب اضلاع ریاست میں تبلیغ دورہ اور حکام ومعززین میں
کتاب ’’تحفۃ الملوک‘‘ تقسیم کر رہے ہیں۔ مفتی محمد صادق صاحب شہر (حیدرآباد دکن) میں تبلیع کام کر رہے
ہیں۔‘‘
(قادیانی مبلغ حیدرآباد دکن کی رپورٹ اخبار الفضل قادیان ج۳ نمبر۱ ص۶ کالم۲،مؤرخہ ۲۳؍جون ۱۹۱۵ء)
’’حیدرآباد جس کام کے واسطے ہم بھیجے گئے تھے وہ اللہ تعالیٰ کے فضل وکرم سے بہت کچھ پورا ہوگیا ہے اور
اب ہم اضلاع ریاست میں دورہ کر کے کتاب تحفۃ الملوک تقسیم کر رہے ہیں اور تبلیغ کر رہے ہیں۔ آج جب کہ میں یہ
رپورٹ لکھ رہا ہوں، ہم شہر گلبرگہ میں ہیں، جو ریاست کے ایک صوبہ کا صدر مقام ہے۔ یہاں کے اعلیٰ افسر صوبہ
دار (گورنر) ہیں، جن کے مکان پر جاکر کتاب پہنچائی گئی اور یہاں کے صاحب ڈپٹی کمشنر (تعلق دار) اور ڈویژنل
جج اور لیفٹیننٹ افواج ودیگر عہدہ داران سے ملاقات کی گئی اور کتابیں دی گئیں اور انگریزی ترجمہ قرآن شریف
کے واسطے خریدار بنائے گئے۔‘‘
(اخبار الفضل قادیان ج۲ نمبر۱۴۷ ص۷ کالم۳، مؤرخہ یکم؍جون و ۱۳؍جون ۱۹۱۵ء، مسافر بنگلہ نظام آباد،
ریاست حیدرآباد دکن)
’’حضور والا ایدکم اللہ تعالیٰ السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
آج ساڑھے چھ بجے صبح کے عاجز اور حضرت حافظ (روشن علی) صاحب صوبہ اورنگ آباد کے دورہ پر روانہ ہوگئے۔
چنانچہ آج ضلع نظام آباد میں ایک بجے پہنچ کر چار سے آٹھ بجے شب حکام مقامی میں بعد ملاقات چار کتابیں تقسیم
کی گئیں۔ (۱)جائنٹ مجسٹریٹ ضلع۔ (۲)سپرنٹنڈنٹ پولیس۔ (۳)تحصیلدار صاحب۔ (۴)سپرنٹنڈنٹ جیل۔‘‘
(۱۶جون مسافر بنگلہ جالنہ۔ حیدرآباد دکن)
’’(۲)نظام آباد سے ضلع ناندیر روانہ ہوئے۔ یہاں بھی ڈپٹی کمشنری ہے۔ اوّل تعلق دار صاحب کے پاس جب
پہنچے ہیں تو اکثر حکام ضلع وہاں موجود تھے۔ تھوڑی دیر کے بعد تعلق دار صاحب سے گفتگو ہوئی۔ آخر میں انہوں
نے عدیم الفرصتی کے عذر سے کتاب لینے سے انکار کر دیا۔ چونکہ اکثر حاضر الوقت حکام کو تعلق دار صاحب کے
انکار کی اطلاع ہوگئی تھی اور پھر رات کے آٹھ بھی بج گئے تھے اور حکام کو کتابیں نہ دی گئیں…‘‘
(۱۹؍جون ۱۹۱۵ء، اورنگ آباد)
’’جمعہ کے روز اکثر حکام وغیرہ کو کتابیں دی گئیں اور صوبہ دار سے بھی ملاقات کی گئی۔ عدم اردودانی کی
وجہ سے انہوں نے تحفۃ الملوک نہ لیا۔ لہٰذا انگلش کی ایک کتاب انہیں دی گئی۔‘‘
(بشارت احمد قادیانی کی مراسلت، الفضل قادیان ج۳ نمبر۲ ص۶ کالم۲، مؤرخہ ۲۶؍جون ۱۹۱۵ء)
(۶) قادیانی تحریک کا عروج
اس دوران میں قادیانی صاحبان کے قدم خوب جم گئے۔ جماعت بھی بڑھ گئی۔ چندہ تو فرض مقدم ہے۔ آمدنی بھی
بڑھ گئی۔ بخوبی تنظیم ہوگئی۔ اب رسوخ کے راستے تلاش ہونے لگے۔ سو اس کی عمدہ سبیل یہ نکلی کہ کوئی صاحب
جہاندیدہ مبلغ خاص مامور کر دئیے جائیں کہ وہ امراء اور حکام میں معززین متمولین میں چکر لگاتے رہیں، میل
جول بڑھاتے رہیں، مسلمانوں کی غمگساری جتاتے رہیں، مصالح ملکی
644
سمجھاتے رہیں، جلسوں میں بلاتے رہیں، تقاریر کراتے رہیں، تبلیغی رسالے پہنچاتے رہیں، اثر پھیلاتے
رہیں، حرف مطلب سناتے رہیں، چندہ اگھاتے رہیں، غرض کہ اعلیٰ طبقوں کے خلق ومروت، فیاضی اور رواداری سے پورا
پورا فائدہ اٹھاتے رہیں اور باہر جائیں تومسلمانوں پر رعب جماتے رہیں کہ اسلامی دارالسلطنت کے اعلیٰ طبقہ کے
بالعموم ان کے ساتھ ہیں، باقاعدہ مرید نہیں تو دل سے معتقد ہیں ؎
-
سیکھے ہیں مہ رخوں کے لئے ہم مصوری
تقریب کچھ تو بہر ملاقات چاہئے
(۷) زبان بندی
غرض کہ قادیانی تحریک زوروں پر تھی اور کامیابی کے شادیانے بجتے تھے۔ لیکن:
چوں بہ شہرت برسی مست نہ گری مردی
آزمائش کا وقت بھی آن پہنچا، خدا کی قدرت قدیم معمول کے مطابق ۲۰؍ربیع الاوّل ۱۳۵۱ھ یوم جمعہ شب کو
میلاد النبی کے جلسہ میں بمقام بادشاہی عاشور خانہ اس ناچیز کی تقریر ہوتی ہے۔ ختم نبوت اس کا مبحث قرار
پاتا ہے۔ اہل سنت والجماعت کی طرف سے جلسہ منعقد ہوتا ہے۔ اہل سنت والجماعت کا ایک معزز عالم اس کی صدارت
کرتا ہے۔ اہل سنت والجماعت کی حاضرین میں کثرت ہے۔ اہل سنت والجماعت بلکہ جمہور امت کے عقیدے کے مطابق قرآن
سے بیان ہوتا ہے۔ عام وخاص سب کی تشفی ہوتی ہے، کسی جدید مخالف فرقہ کا نام تک نہیں آتا، کسی غیر کی طرف
اشارہ تک نہیں ہوتا، لیکن سلسلہ ختم ہوتے ہی قادیانی نمائندے صاحب موجود ہیں، تبادلہ خیالات کے نام سے
مناظرہ کی دعوت دیتے ہیں، عذر کیا جاتا ہے کہ مناظرہ اپنا مقصد نہیں، منصب نہیں، لیکن قادیانی صاحبان کو یہ
برداشت کہاں کہ کوئی مسلمان اپنے جلسہ میں بھی اپنے عقائد بیان کرے اور ان کی طرف سے باز پرس نہ ہو ؎
-
بات پر واں زبان کٹتی ہے
وہ کہیں اور سنا کرے کوئی
چنانچہ عذر قبول نہیں ہوتا بلکہ جلد ازجلد اس عاجز کے نام پر ایک رسالہ شائع کیا جاتا ہے اور اس میں
اس عاجز کا نام لے لے کر تقریر کی تضحیک ہوتی ہے، تردید ہوتی ہے اور مناظرہ سے پہلو تہی کرنے کا اعلان کیا
جاتا ہے تاکہ کچھ نہ کچھ خیزی ہو جائے۔ اس سے قادیانی ذہنیت کا اندازہ ہوسکتا ہے کہ کس درجہ عناد وفساد پر
مائل ہے۔ لیکن اس پر بھی صبر نہیں آتا۔ اسی زمانہ میں دور دور سے مشہور قادیانی واعظ اور مناظر آتے ہیں،
دھوم سے جلسے ہوتے ہیں، مسلمانوں کے عقائد کے خلاف خوب دل کھول کر تقریریں ہوتی ہیں، وہاں بھی یہ ناچیز معرض
بحث میں رہتا ہے۔ مزید برآں بکثرت تبلیغی لٹریچر تقسیم ہوتا ہے مگر اہل اسلام کا ضبط وتحمل دیکھئے کہ نہ
کوئی حجت نہ تعرض، یہ تجربہ کس قدر سبق آموز ہے کہ کیا ہونا چاہئے اور کیا ہورہا ہے ؎
-
ہم آہ بھی کرتے ہیں تو ہو جاتے ہیں بدنام
وہ قتل بھی کرتے ہیں تو چرچا نہیں ہوتا
(۸) جواب طلبی
بہرحال جب قادیانی صاحبان نے معاملہ کو بہت طول دیا تو لامحالہ مسلمانوں میں بھی ناگواری اور بیداری
پیدا ہوئی، چونکہ یہ ناچیز قادیانی صاحبان کا آماجگاہ بنا ہوا تھا، اظہار حق واجب ہوگیا۔ چنانچہ علمی
تحقیقات کے طور پر ’’قادیانی مذہب‘‘ کے نام سے ایک کتاب تالیف کر دی گئی جس میں اس مذہب کے اصول وعقائد کی
مختصر کیفیت خود قادیانی کتب سے اخذ کر کے ترتیب دے دی۔ الحمد للہ ! کہ اس سے بہت کچھ مغالطے رفع ہوگئے اور
مسلمانوں کو تسکین حاصل ہوئی۔ انصاف پسند لوگوں نے اس کی متانت اور جامعیت کی داد دی۔ لیکن قادیانی
645
صاحبان اس پر اور بگڑ گئے، پہلے بے التفاتی کا شکوہ تھا اب توجہ کی شکایت شروع ہوئی۔
گویم مشکل وگرنہ گویم مشکل
ناراضی کی یہ کیفیت کہ ’’الیاس برنی کا علمی محاسبہ‘‘ اس نام سے جودوسرا قادیانی رسالہ شائع ہوا تو اس
میں قانونی انداز سے اس ناچیز پر خاصی فرد جرم لگادی اور جواب طلب کیا۔ گویا کہ خدانخواستہ عدالت ان کے گھر
میں آگئی۔ معلوم ہوا کہ کتاب ان کو زہر معلوم ہوئی۔ حالانکہ اس کی حیثیت مشتے نمونہ ازخروارے ہے۔ اس سے تیز
تر مواد بہت کچھ باقی ہے ؎
-
رگ و پے میں جب اترے زہر غم تب دیکھئے کیا ہو
ابھی تو تلخی کام و دہن کی آزمائش ہے
(۹) صدائے بازگشت
پہلا قادیانی رسالہ تو علانیہ یہیں سے شائع ہوا لیکن دوسرے رسالے میں خاص نکتہ یہ بھی ہے کہ معاملات
ومعلومات تو حیدرآباد کے درج ہیں لیکن طباعت واشاعت بنگلور سے ہوئی ہے۔ شاید اس میں قانونی مصلحت مدنظر ہو۔
خاص کر جب کہ رسالہ میں بعض غیرمعتدل مباحث بھی درج ہیں، یا ممکن ہے کہ اس میں کوئی روحانی نکتہ مضمر ہو،
جناب مرزاقادیانی کو بروز سے بہت قوی ربط تھا، عجب نہیں اس نسبت کی برکت سے حیدرآباد، بنگلور کی بروزی شکل
میں نمودار ہوا ہو، بہرحال اس مرتبہ کسی قدر فاصلہ سے فیر ہوا ہے، حفظ ماتقدم لازم ہے۔
(۱۰) سرکاری عہدہ داری
جواب طلب ہوا ہے کہ جب ہم سرکاری عہدہ دار ہیں تو پھر ہم اس بحث میں کیوں پڑے۔ مگر ہماری خصوصیت
قادیانی صاحبان کو اس وقت بالکل فراموش ہوگئی جب کہ ہم کو خواہ مخواہ مناظرہ کی دعوت دی گئی۔ ہمارے نام پر
رسالہ شائع کیاگیا اور اس میں ہم کو مناظرہ سے پہلو تہی کرنے کا الزام دیا گیا اور بعد کے جلسوں میں ہمارا
ذکر خیر کیاگیا۔ تعجب ہے کہ قادیانی جماعت کے کسی سمجھدار عہدہ دار نے بھی تنبیہ نہ کی کہ اس طرح کسی عہدہ
دار کا پیچھا کرنا درست نہیں۔ اس سے انہیں پر الٹی ذمہ داری عائد ہوتی ہے بلکہ غالباً یہ پہلے سے سوچ لیا
تھا کہ تین صورتیں ممکن ہیں اور تینوں میں اپنی جیت ہے، یعنی ہم خاموش رہیں گے تو وہ مسلمانوں کو شرمائیں
گے۔ ہماری طرف سے دوسرے لوگ جواب شائع کریں گے تو وہ بے دیانتی کا الزام دیں گے اور اگر ہم جرأت سے اظہار
حقیقت کردیں گے تو پھر قانونی دھمکی ان کا آخری ہتھیار ہے۔ چنانچہ یہی آخری صورت پیش آئی جس کی غالباً ان کو
کم توقع تھی۔
اس ضمن میں ہم قادیانی صاحبان سے ایک سوال کرنے کی اجازت دیتے ہیں۔ انصاف سے غور فرمائیں تو ہمارے
جواب کی ضرورت باقی نہ رہے گی۔ فرض کیجئے ہم اس طرح سرکاری عہدہ دار ہوتے بلکہ اس سے بڑھ کر بااثر اور ذی
اقتدار ہوتے، لیکن قادیانی صاحبان کے نزدیک دیندار ہوتے، یعنی قادیانی مذہب کے طرفدار ہوتے، معین ومددگار
ہوتے، حامی کارہوتے، پھر بھی الگ الگ گویا انجام ہوتے، تو کیا قادیانی صاحبان واقعی ہم سے اتنے ہی بیزار
ہوتے یا ان کی طرف سے ہماری دیانت داری کے اشتہار ہوتے۔
مزید برآں ہم عام تبلیغی جلسوں میں تقریر نہ کرتے، البتہ اپنے حلقہ اثر میں بطریق مناسب تبلیغ کرتے۔
اپنے نام سے کوئی تبلیغ رسالہ شائع نہ کرتے۔ البتہ موقع محل کے لحاظ سے قادیانی رسالے تقسیم کرتے، تو کیا اس
صورت میں ہماری غیرجانبداری پر قادیانی صاحبان حرف لاتے، یا دل میں خوشی مناتے، ممکن ہے قادیانی صاحبان
ہمارے اس سوال پرالزام دیں، ممکن ہے اس کی داد دیں ؎
-
دیکھنا تقریر کی لذت کی جو اس نے کہا
میں نے یہ جانا کہ گویا یہ بھی میرے دل میں ہے
646
(۱۱) تعلیمات کی بات
ہمارا جرم یوں بھی سنگین ہوگیا کہ ہم تعلیمات کے ملازم ہیں۔ ہم پر غیرجانب داری لازم ہے لیکن اس کا
کیا علاج کہ قادیانی صاحبان کی توجہات تعلیمات کی طرف روزافزوں ہیں۔ نوبت یہ پہنچی ہے کہ اس کو تبلیغ واشاعت
کے لئے یا چھیڑچھاڑ اور شرارت، کہ جامعہ عثمانیہ کے دیندار اور اعلیٰ تعلیم یافتہ پروفیسروں کے پاس باقاعدہ
قادیانی وفد جاتے ہیں، کہ گویا ان کو اسلام کی تبلیغ کریں اور اپنے مذہب کی دعوت دیں، جب پروفیسر پر یہ
حوصلے ہوں تو طلباء کا کیا حشر ہوتا ہے۔ تبلیغی لٹریچر تو آئے دن ہر کہیں تقسیم ہوتا ہے۔ اس کی کیا روک ٹوک
ہے، بہتر ہو کہ کسی ترکیب سے کلیہ کے طلبہ احمدیہ جوبلی حال کی آمدورفت شروع کر دیں اور قادیانی مبلغ صاحب
کے درس قرآن میں شریک ہونے لگیں، تو سادہ دلوں پر کیسے صاف قادیانی نقش پڑیں، اگر طلباء کچھ خوف اور تامل
کریں تو ان کے دینیات کے پروفیسر کو ہموار کیا جائے کہ وہ ان کو ترغیب یا کم ازکم اجازت دے۔ اگر پروفیسر نیک
خیال اور روادار ہو، تو اس کو سمجھا بجھا کر راضی کر لیں اور تنگ خیال اور متعصب ہوتو کوئی اور تدبیر سوچیں
؎
-
مصلحت نیست کہ از پردہ بروں افتد راز
ورنہ در مجلس رنداں خبرے نیست کہ نیست
(۱۲) سیاسی دھمکی
سب سے بڑا جرم یہ تجویز ہوا ہے کہ ہم نے سرکار عالی کی رعایا میں تنفر پھیلایا بلکہ امن کو خطرہ میں
ڈال دیا اور نیز یاروفادار اقتدار اعلیٰ کے خلاف جذبات پیدا کئے۔ گویا بغاوت پھیلا دی۔ بطور تشریح اس سلسلہ
میں مولوی ظفر علی خان صاحب، مولانا کفایت اللہ صاحب بالخصوص اور دیوبندی، بدایونی، خلافتی اور احراری جماعتیں
بالعموم پیش کی گئی ہیں۔ گویا یہ سب اسلامی جماعتیں قادیانی صاحبان کے خیال میں تباہ کن تحریکات کی حامل ہیں
اور شاید بروزی یا ظلی حیثیت سے حیدرآباد میں ہماری ذات ان سب کی مظہر بن گئی ہے۔ قادیانی صاحبان کا یہ حسن
ظن ہے تو شکریہ، سوء ظن ہے تو شکوہ نہیں۔ بہرحال جو کچھ بھی ہے اس درجہ بے اصل ہے کہ قادیانی تخیل کا اعلیٰ
کمال نظر آتا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ معاملہ برعکس ہے۔
اے باد صبا ایں ہمہ آوردۂ تست
جو کچھ ہوا اور ہورہا ہے، وہ قادیانی صاحبان کی حسن تدبیر کا نتیجہ ہے۔ غالباً قادیانی صاحبان کو یہ
خوف دامنگیر ہے کہ ان کے بنیادی عقیدے کا عام اعلان کیوں نہ ہوگیا کہ مرزاغلام احمد قادیانی نبی اللہ اور رسول
اللہ اور تمام کلمہ گو مسلمان یا تو قادیانی مذہب قبول کریں یا وہ سراسر کافر ہیں۔ قادیانی صاحبان کا یہ عقیدہ
بے شک مسلمانوں کے واسطے بہت صبر آزما ہے، پھر بھی اس قدر گھبرانے کی کیا بات ہے کہ خدانخواستہ حیدرآباد کا
امن خطرہ میں پڑ گیا۔ یہاں قادیانی صاحبان کو جس قدر امن حاصل ہے اتنا تو ہندوستان بلکہ خود ان کے مرکز
قادیان میں بھی میسر نہیں۔ البتہ قادیانی صاحبان بات بڑھانے اور اشتعال دینے میں اتنی بداحتیاطی نہ کریں کہ
مسلمانوں کے صبر کا پیمانہ لبریز ہو جائے۔
رہا بغاوت کا الزام، عناد اور مخالفت میں کوئی اتنا بھی ناانصاف نہ ہو جائے کہ مضحکہ بن جائے، جن
اقتباسات پر الزام عائد کیاگیا ہے ہم کو تو ان پر انعام یا کم ازکم داد ملنے کی توقع تھی، واقعہ یہ ہے کہ
ایک طرف تو جناب مرزاقادیانی اہل برطانیہ کے نبی کو خوب کھری کھری گالیاں سناتے ہیں اور دوسری طرف صاحب
موصوف سرکار برطانیہ کے ساتھ اعلیٰ درجہ کی عقیدت اور وفاداری شد ومد سے جتاتے ہیں۔ ہم کو دونوں پہلو پیش
کرنے لازم ہوئے، مبادا قادیانی صاحبان الزام دیں کہ جناب مرزاقادیانی کی بیزاری تو دکھائی اور وفاداری غائب
کر دی۔
647
عیبش گفتی ہنرش نیز بگو
بہرحال سرکار برطانیہ کی وفاداری پر کسی نے بھی اعتراض نہیں کیا۔ البتہ اس کو ظاہر کر دیا اور خط
کھینچنے کا بھی یہ منشاء ہے کہ وفاداری زیادہ واضح ہو جائے تاکہ خود مرزاقادیانی کا مقصد پورا ہو، انصاف شرط
ہے۔
(۱۳) بدگوئی
البتہ ایک امر قابل افسوس اور قابل شکایت ہے، وہ یہ کہ اپنی وفاداری کی تائید میں مسلمانوں کی وفاداری
کو مشتبہ قرار دینے کی جو بدنما کوشش کی جاتی ہے، وہ مسلمانوں پر بڑا ظلم ہے۔ چنانچہ ’’قادیانی مذہب‘‘ میں
مرزاقادیانی کے جو اقتباسات درج ہیں، ان میں بھی یہ مخالفانہ جھلک صاف نظر آرہی ہے اور صاحبزادہ میاں محمود
احمد خلیفہ قادیان نے ہزہائینس پرنس آف ویلز کی خدمت میں قادیانی صاحبان کی طرف سے جو ایڈریس فروری ۱۹۲۲ء
میں بمقام لاہور پیش کیاتھا، اس میں صاحب موصوف نے مسلمانوں کی وفاداری پر کھلا وار کیا، اور صاف صاف لکھ
دیا کہ:
’’آج سے کچھ سال پہلے مسلمانوں میں سے وہ طبقہ جو علماء کے قبضہ میں تھا، گو وہ عملاً امن پسند تھا
اور گورنمنٹ کے راستے میں کسی قسم کی رکاوٹیں نہ ڈالتا تھا، مگر علماء کی تعلیم کے ماتحت وہ اس امر کو بالکل
پسند نہیں کرتا تھا کہ کوئی شخص عقیدتاً اس امر کو تسلیم کرے کہ کسی غیرمذہب کی حکومت کے نیچے مسلمان اطاعت
اور فرمانبرداری کے ساتھ رہ سکتے ہیں اور یہ جماعت (قادیانی) نہ صرف عملاً ہر قسم کے فساد کے طریقوں سے دور
رہتی ہے بلکہ عقیدتاً بھی حکومت وقت کی فرمانبرداری کو ضروری جانتی ہے اور دوسروں کو بھی یہی تعلیم دیتی
ہے۔‘‘
تاہم سرکار برطانیہ اصل حال سے خوب واقف ہے۔ وہ کسی کے ورغل انے میں نہیں آتی، اس کو مسلمان پر کامل
اعتماد ہے، بلکہ وہ یہ بھی خوب سمجھتی ہے کہ ؎
جو گرجتے ہیں زیادہ وہ برستے نہیں یاں
(۱۴) بہتان عظیم
مخالفت اور عناد جب حد سے گزر جائے تو پھر جاوبے جا کی تمیز باقی نہیں رہتی ؎
-
کہہ رہے ہیں جنوں میں کیا کیا کچھ
کچھ نہ سمجھے خدا کرے کوئی
ایک طرف تو ہمارے سلسلہ میں مولوی ظفر علی خاں صاحب، مولانا کفایت اللہ صاحب اور دیوبندی، بدایونی،
خلافتی اور احراری جیسی اسلامی جماعتوں کا حوالہ دیاگیا کہ یہ سب تباہ کن تحریکات کے حامل ہیں اور ہم ان کے
نقش قدم پر چل کر ان تحریکات میں حیدرآبادی مسلمانوں کو گھسیٹنا چاہتے ہیں اور دوسری طرف خلاف ادب اعلیٰ
حضرت بندگان عالی، متعالی، مدظلہ العالی کو تاج برطانیہ کا یاروفادار ہونا یاد دلا کر تعجب کیا جاتا ہے،
استغفر اللہ ! یہ جرأت یہ بہتان، اگر یہ حرکت دانستہ ہے تو خوفناک ہے اور نادانستہ ہے تو شرمناک، تجربہ کار
مبلغین اور قادیانی عہدہ داروں کو اپنی ذمہ داری معلوم ہونی چاہئے۔ رہا یہ عذر کہ رسالہ بنگلور سے چھپ کر
آیا ہے، اس سے تو اور اشتباہ بڑھتا ہے۔
عذر گناہ بدتر از گناہ
کیا قادیانی تنظیم سے لوگ ناواقف ہیں، کیا ایسے نازک مباحث کسی عامی کی انفرادی رائے کا نتیجہ ہوسکتے
ہیں یا ہونے چاہئیں۔
کیا بنے بات جہاں بات بنائے نہ بنے
648
(۱۵) چند حوالے
قادیانی صاحبان نے بڑی چھان بین کر کے چند حوالے غلط ثابت کرنے کی کوشش کی ہے کہ فلاں مقام پر صفحہ کا
نمبر غلط ہے، فلاں لفظ کے نقطے چھوٹ گئے، فلاں جملہ کے اعراب رہ گئے اور فلاں لفظ کا املاء بدل گیا۔ اگر
قادیانی صاحبان انصاف پسند ہوتے تو ہم کو داد دیتے کہ بروقت کتابیں نہ ملنے پر بھی تھوڑے عرصہ میں ہم نے
اتنے صحیح اقتباسات حاصل کر لئے کہ پوری کتاب میں بڑی تلاش کے بعد صرف چند سرسری غلطیاں مخالفین کو مل سکیں،
اگر وہ خود بھی تالیف وطباعت کا کچھ ذاتی تجربہ رکھتے تو ایسے خفیف اعتراض تحریر میں نہ لاتے۔ اگر کتابیں
ملنے میں وقت نہ ہوتی تو ایسی تکلیف فرمائی کہ نوبت نہ آتی، تاہم تصحیح کا شکریہ۔
عمرت دراز باد کہ ایں ہم غنیمت ست
(۱۶) کتابوں کا معاملہ
’’خوشی کی بات ہے کہ قادیانی صاحبان کو بھی یہ امر قابل عار محسوس ہونے لگا کہ مسلمانوں کے ہاتھ کام
کی کتابیں فروخت نہ کی جائیں۔ چنانچہ بڑے شدومد سے انہوں نے ہماری شکایت کی تردید کی ہے لیکن لفظی تردید
کافی نہیں ہے۔ اگر ان کو ہماری شکایت واقعی رفع کرنا مقصود ہے تو کوئی مشکل نہیں، قیمت حاضر ہے لیجئے اور
مطلوبہ کتابیں عنایت کیجئے۔ فرمائش کے ساتھ ہی رقم بذریعہ منی آرڈر پیشگی ارسال خدمت کر دی جائے گی اور
کتابیں وصول ہوں تو شکریہ کا اعلان کر دیا جائے گا۔ بسم اللہ !
درکارے خیر حاجت ہیچ استخارہ نیست
جب کہ ہم کو اپنے مطالعہ کے واسطے قادیانی کتابوں کی سخت ضرورت تھی اور ضرورت ہے، تو ہم نے ان کے
خریدنے میں ضروری کوشش کی اور وہ کوشش اب بھی جاری ہے، خدا کرے کوئی نتیجہ نکلے، بصورت ضرورت پوری کیفیت ایک
ساتھ پیش کی جائے گی۔
رہے قادیانی صاحب کے نیک مشورے، سو ان کا بہت بہت شکریہ کہ گویا ہم قادیانی ذہنیت کے کافی تجربہ کے
بعد بھی اپنی تالیف کے واسطے ان کے مقامی کتب خانوں سے کتابیں مستعار طلب کرتے یا قادیانی کارکنوں کی توجہ
طلب کرتے، پھر اس میں کیا مضائقہ تھا کہ کتاب بھی ان کے مشورے سے لکھتے اور قبل طباعت ہی ان سے تصحیح
کرالیتے تو بعد کو یہ مراحل کیوں پیش آتے۔ وہیں فیصلہ ہو جاتا ؎
-
سر چشمہ باید گرفستن بہ میل
چو پر شد نشاید گرفتن بہ پیل‘‘
(۱۷) معذرت
ہم کو ان مباحث میں پڑنے کا کبھی وہم وگمان بھی نہ تھا اور جب کچھ صورتیں پیدا ہوئیں تو حتی الوسع ہم
بچنے کی کوشش کرتے رہے۔ لیکن قادیانی صاحبان نے اس کا پیچھا کیا اور ایسا گھیرا کہ ہم کو بادل خواستہ بقدر
ضرورت صورتحال ظاہر کرنا پڑی۔ دوسرے قادیانی رسالہ میں نفس کتاب کے متعلق بھی دو ایک اعتراض درج ہیں۔ نیز
اطلاع دی گئی ہے کہ کتاب کا جواب تیار ہورہا ہے۔ ادھر بھی انتظار ہے۔ ان شاء اللہ کل حساب ایک ساتھ بے باق کر
دیا جائے گا۔ امید کہ قادیانی صاحبان ہماری معذرت قبول فرمائیں گے۔
وما علینا الا البلاغ
بیت الاسلام حیدرآباد دکن، ۲۷؍شوال ۱۳۵۲ھ
الیاس برنی
649
بسم اللہ الرحمٰن الرحیم
ضمیمہ دوم
قادیانی حساب
(۱) تمہید
سال گزشتہ قادیانی صاحبان نے سیکرٹری دعوت وتبلیغ جماعت عالیہ احمدیہ حیدرآباد دکن کے نام پر ایک
رسالہ حیدرآباد سے شائع کیا: ’’ختم نبوت اور پروفیسر الیاس برنی‘‘ اس کے جواب میں ہماری ایک کتاب شائع ہوئی:
’’قادیانی مذہب‘‘ پھر قادیانی صاحبان نے غلام قادر شرق صاحب جنرل سیکرٹری جماعت احمدیہ بنگلور کے نام پر
دوسرا رسالہ شائع کیا: ’’الیاس برنی کا علمی محاسبہ‘‘ اس رسالہ کے مضامین بہت غیرمعتدل تھے۔ ان کو پڑھ کر
بھید کھلا کہ حیدرآباد چھوڑ کر اس کو بنگلور سے کیوں شائع کیاگیا، تاہم یہ رسالہ حیدرآباد میں بکثرت تقسیم
ہوا۔ اس کے جواب میں بھی ایک رسالہ ’’قادیانی جماعت‘‘ ہم نے شائع کر دیا کہ جو الزام دئیے گئے اور مغالطے
پیدا کئے گئے، ان کا ازالہ ہو جائے۔
امسال قادیانی صاحبان نے پھر ایک رسالہ ’’احمدی جماعت‘‘ ان ہی غلام قادر شرق صاحب جنرل سیکرٹری جماعت
احمدیہ بنگلور کے نام پر شائع کیا اور حسب سابق اس کو بھی حیدرآباد میں خوب تقسیم کیا۔ مضامین اس کے بھی بہت
غیرمعتدل ہیں مگر اس میں اور پہلے رسالہ میں ایک نمایاں فرق ہے، وہ یہ کہ پہلے رسالہ کا لہجہ بہت جارحانہ
تھا اور اس کا لہجہ نہایت مظلومانہ ہے۔ پہلا رسالہ رجز تھا اور یہ نوحہ ہے مگر الزام اور مغالطوں کی اس میں
بھی کمی نہیں۔ حسب سابق حکومت اور حکام تک لپیٹا ہے۔
دراز دستی ایں کوتہ آستیناں بیں
اس رسالہ میں یہ اعلان بھی کیاگیا کہ:
’’ہم نے پبلک کو برنی صاحب کے جواب کا وعدہ دیا تھا اور انتظار کی درخواست کی تھی۔ اب ان شاء اللہ پہلا
جواب جماعت احمدیہ حیدرآباد کی طرف سے ان سطور کے ساتھ دویا چار روز بعد پبلک کے ہاتھوں میں پہنچ جائے گا۔‘‘
چنانچہ ایسا ہی ہوا کہ دوچار روز بعد قادیانی صاحبان کی طرف سے ایک کتاب ’’تصدیق احمدیت‘‘ حیدرآباد
میں تقسیم اور فروخت ہونے لگی۔ یہ ہماری کتاب ’’قادیانی مذہب‘‘ کا جواب ہے۔ سید بشارت احمد صاحب جنرل
سیکرٹری جماعت احمدیہ حیدرآباد دکن کے نام سے شائع ہوئی ہے۔ قادیان سے طبع ہوکر آئی ہے۔ حیدرآباد، بنگلور
اور قادیان کے اتحاد عمل سے کام میں کیسی سہولت ہوگئی۔
’تصدیق احمدیت‘‘ کی دلچسپ خصوصیت اس کی ہیئت ترکیبی ہے۔ عبارت کو دیکھئے کہیں چست، کہیں سست، کہیں
پختہ، کہیں خام۔ اکثر مضامین بھی بے ربط وناتمام۔ اشتراک ناقص کا لازمی انجام، بہرطور ہوگیا جیسا ہوا کام۔
بڑی خوبی یہ کہ جنرل سیکرٹری صاحب کے نام سے کتاب شائع ہوئی۔ کسی کی دیانت پر دھبہ نہ آیا۔ سیکرٹری صاحب کو
ہر طرح حق نیابت حاصل ہے، خاص کر جب کہ سندوکالت بھی حاصل ہو، تاہم:
نہاں کہ ماند آں رازے کزد سازند محفلہا
650
ہماری پہلی کتاب ’’قادیانی مذہب کا علمی محاسبہ‘‘ یوں تو قادیانی صاحبان کو سخت ناگوار گزری تاہم جس
حد تک بھی انہوں نے اس کی قدر فرمائی، اس کا شکریہ واجب ہے۔ چنانچہ فرماتے ہیں:
’’برنی صاحب کے نام نہاد علمی محاسبہ سے اور کچھ نہیں تو کم ازکم اس قدر فائدہ تو ہوچکا ہے کہ بعض
طبایع میں اس ذریعہ سے تحقیق حق کی خواہش پیدا ہوگئی ہے اور ہم بھی خدا سے یہی چاہتے تھے کہ لوگوں میں
احمدیت کے متعلق تحقیق کا شوق پیدا ہو۔ برنی صاحب نے کیا خوب فرمایا ہے:
خدا شرے بر انگیزد کہ خیرے مادراں باشد‘‘
(تصدیق احمدیت ص۴)
’’تصدیق احمدیت‘‘ کے شروع میں جو معذرت درج ہے، اس سے معلوم ہوا کہ ہماری کتاب ’’قادیانی مذہب‘‘ کے
دوسرے ایڈیشن کا انتظار ہورہا ہے کہ جدید ترتیب اور مزید مضامین کے ساتھ ایک بڑی کتاب کی شکل میں نمودار ہو۔
خدا کا شکر ہے کہ قادیانی صاحبان کا انتظار پورا ہوگیا اور حسب دل خواہ کتاب حاضر ہے۔ ہم نے اس سلسلہ میں
تیز مواد کا وعدہ کیا تھا، سو کچھ فی الحال پیشکش ہے، ذرا بھی حس باقی ہو تو اس قدر کافی ہے تاہم مزید آئندہ
ان شاء اللہ !
قادیانی صاحبان نے اوّل بھی ہم کو تبادلہ خیالات کی دعوت دی تھی اور ہم نے معذرت چاہی تو اپنے پہلے
رسالے میں اعلان کیا کہ:
’’ہمارے ایک نمائندے نے، جو جلسہ میلاد النبی متذکرہ میں شریک تھے، پروفیسر الیاس برنی صاحب سے اس
مسئلہ پر تبادلہ خیالات کی دعوت دی تھی لیکن صاحب موصوف نے اپنی عدیم الفرصتی کا عذر کیا اور فرمایا کہ
علمائے کرام سے رجوع کیا جائے۔ یہ جواب قابل غور ہے۔‘‘
(ختم نبوت اور جناب پروفیسر الیاس برنی ص۸)
اس اعلان کے بعد قادیانی صاحبان نے جلسے بھی کئے، جن میں ہمارا خاص ذکر مذکور رہا۔ بالآخر ہم نے
’’قادیانی مذہب‘‘ کتاب لکھ کر فرمائش کی تعمیل کر دی۔ اپنی کتاب ’’تصدیق احمدیت‘‘ میں پھر ہم کو اصرار سے
دعوت دی ہے۔ ہم اس توجہ فرمائی کا شکریہ ادا کرتے ہیں اور یقین دلاتے ہیں کہ ان شاء اللہ تکمیل فرمائش میں
کوتاہی نہ ہوگی۔ البتہ بنگلور کے جنرل سیکرٹری جماعت احمدیہ، جو اس دعوت کے خلاف رسالے نکال رہے ہیں، ان کی
تاویل وتردید حیدرآباد کے جنرل سیکرٹری صاحب کے ذمہ ہے جنہوں نے ہم کو دوبارہ دعوت دی ہے کہ:
’’کیا ہم امید کریں کہ برنی صاحب خود یا تعلیم یافتہ پبلک کے زور دینے سے اس میدان میں آئیں گے؟ اس سے
بڑھ کر ہم خرما وہم ثواب اور کیا ہو سکتا ہے۔‘‘
(تصدیق احمدیت ص۴)
قادیانی کتابوں کے معاملے میں چونکہ شکایت کی صورت پیش آئی، شکایت لکھ دی۔ اس کے بعد جو کتابیں ملیں
تو اس کی کیفیت اور شکریہ بھی قادیانی مذہب کے دوسرے ایڈیشن میں پیش کر دیا۔ ’’تصدیق احمدیت‘‘ میں جو کتابیں
عنایت کرنے کامزید اعلان کیاگیا ہے کہ:
’’آئندہ کے لئے بھی یہ صاف اعلان کیا جاتا ہے کہ وہ جب چاہیں نہ صرف قیمتاً بلکہ مفت یا مستعار بھی
کتابیں ہمارے پاس سے طلب کر سکتے ہیں۔‘‘
(تصدیق احمدیت ص۸)
اس اعلان کا بہت بہت شکریہ! ہمیں یقین ہے کہ اس کی پوری پابندی ہوگی اور ان شاء اللہ حسب سابق قیمت بھی
پیشکش ہو گی۔ بہت سی کتابیں خریدنے کے بعد بھی متعدد ضروری کتابیں ملنی باقی ہیں۔ اپنی طرف سے بھی تلاش جاری
ہے، بصورت مجبوری تکلیف دی جائے گی، اطمینان فرمائیں۔
651
قادیانی صاحبان نے اپنے دونوں رسالوں اور اپنی کتاب میں، جو عذرات اور اعتراضات پیش کئے ہیں، ان کے
متعلق وافر معلومات ’’قادیانی مذہب‘‘ اور ’’قادیانی جماعت‘‘ میں موجود ہیں۔ ان دونوں کے جدید ایڈیشن بھی
شائع ہوگئے ہیں، تاہم بعض امور جن کو حال میں قادیانی صاحبان نے پیش کیا ہے، ذیل میں واضح کرتے ہیں۔
(۲) ابتداء کی بحث
اوّل رسالہ ’’احمدی جماعت‘‘ کو لیجئے۔ قادیانی صاحبان نے کس طرح بحث پیدا کی اور ہم کو زبردستی اس میں
گھسیٹ لیا۔ حیدرآباد اس سے بخوبی واقف ہے۔ ’’قادیانی مذہب‘‘ اور ’’قادیانی جماعت‘‘ میں بھی اس کی پوری کیفیت
درج ہے۔ واقعات کا انکار تو مشکل تھا اور سچ بات ماننے سے الزام آتا تھا، اس لئے اصل واقعہ سے پیچھے ہٹ کر
جدید رسالہ ’’احمدی جماعت‘‘ میں سال بھر سوچ کر یہ شکایت نکالی گئی کہ:
’’شاہی عاشور خانہ کے جلسہ میلاد کے کارکن کئی سال سے ایک ایسی تقریر رکھا کرتے تھے کہ جس سے احمدی
جماعت کی تردید مقصود ہوتی تھی، چنانچہ اس جگہ ایک صاحب نے لعنت لعنت کر کے نعرے لگوائے۔‘‘
واقعی سچ بولنے کی حد ہوگئی اور عام وخاص سب کو کامل یقین ہوگیا کہ راست بازی قادیانی صاحبان ہی کا
حصہ ہے۔ حیدرآباد میں قادیانی صاحبان کے ساتھ جو رواداری اور حسن خلق برتا گیا، ہندوستان میں اس کی نظیر
ملنی مشکل ہے، لیکن اس کا جو ثمرہ مل رہا ہے، وہ بھی کچھ کم سبق آموز نہیں۔
(۳) سیاسی چکر
قادیانی صاحبان ہر جگہ سیاسیات میں پڑ جاتے ہیں، خوب پینگ بڑھاتے ہیں، کوئی بولے تو جھنجھلاتے ہیں،
اتہام سے دھمکاتے ہیں، حد سے گزر جاتے ہیں، پھر بعد کو پچھتاتے ہیں، تو بات بناتے ہیں۔
چنانچہ اپنے پہلے رسالے میں ہم پر بگڑے، تو افتراء کے جوش میں ایسے مدہوش ہوئے کہ آداب ومراتب کی بھی
تمیز کھو بیٹھے۔ بات کو کہیں سے کہیں پہنچا دیا۔ ملاحظہ ہو:
’’تعجب ہے کہ حکیم السیاست، سلطان دکن تو تاج برطانیہ کا وفادار کہلانا باعث فخر سمجھیں مگر برنی صاحب
اپنے رسالے کے صفحات ۶۸ اور ۱۰۳ پر اس اقتدار اعلیٰ سے وفاداری کی تعلیم کے نیچے خط کھینچ کر لوگوں میں
حقارت وبغاوت کے جذبات کی آگ مشتعل کریں۔‘‘
(الیاس برنی کا علمی محاسبہ، غلام قادر شرق قادیانی ص۳)
اپنے رسالہ ’’قادیانی جماعت‘‘ میں اس الزام کاجواب دیتے ہوئے ہم نے قادیانی صاحبان کو تنبیہ کی تھی کہ
بے سروپا اتہامات کے ضمن میں حضرت اقدس بندگان عالی متعالی مدظلہ العالی کو بحث میں لاکر اس طرح اظہار تعجب
کرنا آخر کیا معنی پیدا کرتا ہے۔ اگرچہ حرکت دانستہ ہے تو خوفناک ہے اور اگر دانستہ ہے تو شرمناک۔ تجربہ کار
مبلغین اور قادیانی عہدہ داران کو اپنی ذمہ داری معلوم ہونی چاہئے۔ رہا یہ عذر کہ دوسروں کے نام سے رسالہ
بنگلور سے چھپ کر آیا ہے۔ اس سے تو اور اشتباہ بڑھتا ہے۔ عذر گناہ بد تراز گناہ۔
بالآخر قادیانی صاحبان نے پہلو بدل دیا۔ دوسرے رسالے میں خصوصیت سے اپنی عقیدت کا اظہار کیا، امن کا
اعتراف کیا۔
چرا کارے کند عاقل کہ باز آید پشیمانی
652
قادیانی صاحبان تو اپنے آپ کو ایک مذہبی گروہ بتاتے ہیں۔ ان کو سیاسیات میں اس قدر الجھنے کی ضرورت
کیا ہے۔ برطانوی ہند میں بھی مدت سے اپنی وفاداری اور امن پسندی کے ترانے گاتے رہے اور بظاہر امن پسند بنے
رہے، لیکن خدا جانے کیا اندرونی صورتیں پیش آئیں کہ حکومت ہند جیسی بیدار اور مدبر حکومت کے متعلق مرزامحمود
خلیفہ قادیاں نے حال میں اس شکایت کا اعلان کیا کہ:
’’احمدیت (یعنی قادیانی تحریک) کے ابتداء میں انگریز مخالف نہ تھے، سوائے چند ابتدائی ایام کے جب کہ
وہ مہدی کے لفظ سے گھبراتے تھے مگر اب تو وہ بھی مخالف ہو رہے۔ بہت تھوڑے ہیں جو جماعت کی خدمات سمجھتے ہیں،
باقی تو باغیوں سے بھی زیادہ ہمیں غصہ سے دیکھتے اور اگر انگریزوں کا فطری عدل مانع نہ ہو تو شاید وہ میں
پیس ہی دیں۔ انگریز شاید خیال کرنے لگے ہیں کہ اتنی بڑی منظم جماعت مخالف ہوگئی، تو ہمارے لئے بہت پریشانیوں
کا موجب ہوگی اور وہ اتنا نہیں سوچتے کہ جماعت احمدیہ کی مذہبی تعلیم یہ ہے کہ حکومت کی فرمانبرداری کی جائے
تو پھر جماعت احمدیہ گورنمنٹ کی مخالف کس طرح ہوسکتی ہے۔ لیکن شاید وہ گربہ کشتن روز اوّل کے مطابق ہمیں دبا
دینا ضرور سمجھتے ہیں۔‘‘
(اخبار الفضل قادیان ج۲۱ نمبر۱۱۰، مؤرخہ ۱۵؍مارچ ۱۹۳۴ء، خطبات محمود ج۱۵ ص۶۹)
(۴) احتیاط کی بات
اللہ رے رعب ایمانی اور سطوت سلطانی، سید المرسلین، خاتم النّبیین ﷺ کے خادم وفدائی امیرالمؤمنین خلد
اللہ ملکہ کی بارگاہ میں نذر عقیدت پیش کرتے ہوئے قادیانی صاحبان کس احتیاط سے جناب مرزاقادیانی کا تعارف
کراتے ہیں کہ خاتم الاولیاء سے زیادہ زبان نہیں کھلتی اور فی الحقیقت دعاوی کیا ہیں، نمونتاً ملاحظہ ہوں:
’’خدا نے میرے ہزارہا نشانوں سے میری وہ تائید کی ہے کہ بہت ہی کم نبی گزرے ہیں جن کی یہ تائید کی گئی
ہے، لیکن پھر بھی جن کے دلوں پرمہریں ہیں، وہ خدا کے نشانوں سے کچھ بھی فائدہ نہیں اٹھاتے۔‘‘
(حقیقت الوحی، ص۱۴۸،۱۴۹، خزائن ج۲۲ ص۵۸۷)
’’اور خداتعالیٰ نے اس بات کے ثابت کرنے کے لئے کہ میں اس کی طرف سے ہوں، اس قدر نشان دکھلائے ہیں کہ
اگر وہ ہزار نبی پر بھی تقسیم کئے جائیں تو ان کی بھی ان سے نبوت ثابت ہوسکتی ہے۔ لیکن چونکہ یہ آخری زمانہ
تھا اور شیطان کا مع اپنی تمام ذریت کے آخری حملہ تھا، اس لئے خدا نے شیطان کو شکست دینے کے لئے ہزارہا نشان
ایک جگہ جمع کر دئیے لیکن پھر بھی جو لوگ انسانوں میں سے شیطان ہیں، وہ نہیں مانتے۔‘‘
(چشمہ معرفت ص۳۱۷، خزائن ج۲۳ ص۳۳۲)
’’اگر کوئی شخص مخلی بالطبع ہوکر اس بات پر غور کرے گا تو… توروز روشن کی طرح اس پر ظاہر ہوجائے گا کہ
مسیح موعود ضرور نبی ہے۔ کیونکہ یہ ممکن نہیں کہ ایک شخص کا نام قرآن کریم نبی رکھے،آنحضرت ﷺ نبی رکھیں،
کرشن نبی رکھے، زرتشت نبی رکھے، دانیال نبی رکھے، اور ہزاروں سالوں سے اس کے آنے کی خبریں دی جارہی ہوں،
لیکن باوجود ان سب شہادتوں کے وہ پھر بھی غیرنبی کا غیرنبی ہی رہے۔‘‘
(حقیقت النبوۃ ص۱۹۸،۱۹۹، انوارالعلوم ج۲ ص۵۱۴)
’’اے عزیزو! تم نے وہ وقت پایا ہے کہ جس کی بشارت تمام نبیوں نے دی ہے اور اس شخص (مرزاقادیانی) کو
یعنی مسیح موعود کو تم نے دیکھ لیا، جس کے دیکھنے کے لئے بہت سے پیغمبروں نے بھی خواہش کی تھی، اس لئے اب
اپنے ایمانوں کو خوب مضبوط کرو اور اپنی راہیں درست کرو۔‘‘
(اربعین نمبر۴ ص۱۳، خزائن ج۱۷ ص۴۴۲)
653
’’جو شخص تیری پیروی نہیں کرے گا اور تیری بیعت میں داخل نہیں ہوگا اور تیرامخالف رہے گا، وہ خدا اور
رسول کی نافرمانی کرنے والا اور جہنمی ہے۔‘‘
(مرزاقادیانی کا الہام ’’معیار الاخیار‘‘ مندرجہ تبلیغ رسالت ج۹ ص۲۷، مجموعہ اشتہارات ج۳ ص۲۷۵، جدید
مجموعہ اشتہارات ج۲ ص۳۹۴)
’’کل مسلمان جو حضرت مسیح موعود کی بیعت میں شامل نہیں ہوئے۔ خواہ انہوں نے حضرت مسیح موعود کا نام
بھی نہیں سنا وہ کافر اور دائرہ اسلام سے خارج ہیں۔ میں تسلیم کرتا ہوں کہ یہ میرے عقائد ہیں۔‘‘
(آئینہ صداقت ص۳۵، انوارالعلوم ج۶ ص۱۱۰)
(۵) کربلا کی مثال
قادیانی صاحبان امن وعافیت کا اعتراف کرنے کے بعد بھی اپنے حق میں کربلا کا نقشہ کھینچتے ہیں اور حسب
عادت تمثیلات کو بے ادبی تک پھیلاتے ہیں۔ مثلاً یہ کہ ’’اہل بیت (یعنی قادیانیوں) پر پانی بند کرادیا۔‘‘ ان
کو معلوم ہونا چاہئے کہ حیدرآباد فرخندہ بنیاد اہل بیت اطہار کے فدائیوں سے آباد وبامراد ہے، البتہ جناب
مرزاغلام احمد قادیانی کا خاص الہام ہے۔ ’’اخرج منہ الیزیدیون‘‘ یعنی قادیان میں
یزیدی لوگ پیدا کئے گئے ہیں، حتیٰ کہ مرزاقادیانی کی تحقیق کے بموجب چودھویں صدی کا دمشق بھی قادیان ہے،
گویا کہ اس زمانہ کے یزید کا صدر مقام ہے۔ یزید تو اس درجہ بدنام ہے لیکن اس جسارت کا کیا انجام ہے، ملاحظہ
ہو:
’’افسوس یہ لوگ نہیں سمجھتے کہ قرآن نے تو امام حسین کو رتبہ ابنیت کا بھی نہیں دیا بلکہ نام تک مذکور
نہیں، ان سے تو زید ہی اچھا رہا جس کا نام قرآن شریف میں موجود ہے۔ ان کو آنحضرت کا بیٹا کہنا قرآن شریف کے
نص صریح کے برخلاف ہے۔ جیسا کہ آیت: ’’ماکان محمد ابا احد من رجالکم‘‘ سے سمجھا
جاتا ہے اور ظاہر ہے کہ حضرت امام حسین رجال میں سے تھے عورتوں میں سے تو نہیں تھے۔ ( اللہ رے گستاخی… للمؤلف)
حق تو یہ ہے کہ اس آیت نے اس تعلق کو، جو امام حسین رضی اللہ عنہ کوآنحضرت ﷺ سے بوجہ پسر دختر ہونے کے تھا،
نہایت ہی ناچیز کردیا ہے… ہاں! یہ سچ ہے کہ وہ بھی خدا کے راست باز بندوں میں سے تھے لیکن ایسے بندے تو
کروڑہا دنیا میں گزر چکے ہیں اور خدا جانے آگے کس قدر ہوں گے… ایسا ہی خداتعالیٰ نے اور اس کے پاک رسول نے
بھی مسیح موعود کا نام نبی اور رسول رکھا ہے اور تمام خدا کے نبیوں نے اس کی تعریف کی ہے اور اس کو تمام
انبیاء کے صفات کاملہ کا مظہر ٹھہرایا ہے۔ اب سوچنے کے لائق ہے کہ امام حسین رضی اللہ عنہ کو اس سے کیا نسبت
ہے… پھر اگر درحقیقت میں ہی مسیح موعود ہوں تو خود سوچ لو کہ حسین رضی اللہ عنہ کے مقابل میں مجھے کیا درجہ
دینا چاہئے اور اگر میں وہ نہیں ہوں تو خدا نے صدہا نشان کیوں دکھلائے اور کیوں وہ ہر دم میری تائید میں
ہے۔‘‘
(نزول المسیح ص۴۵تا۵۰، خزائن ج۱۸ ص۴۲۳تا۴۲۸)
مزید برآں مرزاقادیانی کے چند اشعار مع ترجمہ مشتے نمونہ ازخروارے ملاحظہ ہوں۔ ’’قصیدہ اعجازیہ‘‘ جو
مرزاقادیانی کا خاص الہام ہے، ایسی ہی خوش عقیدگیوں کا مجموعہ ہے۔
-
وقالوا علی الحسنین فضل نفسہ
اقول نعم و اللہ ربی سیظہر
اور انہوں نے کہا کہ اس شخص نے امام حسن اور حسین سے اپنے تئیں اچھا سمجھا۔ میں کہتا ہوں کہ ہاں (اچھا
سمجھتا ہوں) اور میرا خدا عنقریب ظاہر کر دے گا۔ (کہ میں اچھا ہوں)‘‘
(اعجاز احمدی ص۵۲، خزائن ج۱۹ ص۱۶۴)
654
-
وشتان ما بیننی وبین حسینکم
فانی اؤید کل اٰن وانصر
-
واما حسین فاذکروا دشت کربلا
الی ہذہ الایام تبکون فانظروا
اور مجھ میں اور تمہارے حسین میں بہت فرق ہے۔ کیونکہ مجھے تو ہر ایک وقت خدا کی تائید اور مدد مل رہی
ہے، مگر (رہا) حسین رضی اللہ عنہ پس تم دشت کربلا کو یاد کر لو، اب تک تم روتے ہو۔‘‘
(اعجاز احمدی ص۶۹، خزائن ج۱۹ ص۱۸۱)
-
وانی قتیل الحب ولکن حسینکم
قتیل العدا فالفرق اجلی واظہر
’’اورمیں خدا کا کشتہ ہوں لیکن تمہارا حسین دشمنوں کا کشتہ ہے، پس فرق کھلا کھلا اور ظاہر ہے۔‘‘
(اعجاز احمدی ص۸۱، خزائن ج۱۹ ص۱۹۳)
خلاصہ کلام یہ ہے کہ مرزاقادیانی ہرآن کربلا کی سیر کرتے ہیں اور اپنی جیب میں سو حسین ڈالے پھرتے
ہیں۔ (استغفر اللہ )
-
کربلا است سیر ہر آنم
صد حسین است درگریبانم
(نزول المسیح ص۹۹، خزائن ج۱۸ ص۴۷۷)
(۶) کھیت کا غم
قادیانی صاحبان کے واویلا کا اصلی راز کیا ہے۔ خود ہی فرماتے ہیں: ’’ہم کو خوف ہے تو صرف یہ کہ ہمارا
کھیت تباہ نہ ہو جائے۔‘‘ اور مسلمانوں کا عام احساس ہے کہ خدا چیل سین (ناگ پھنی) سے نجات دلائے۔ قادیانی
صاحبان کے کھیت میں جو فصل کاشت ہوتی ہے، اس کی حقیقت خود ان ہی کی زبانی سنئے، کیسی زہریلی پیداوار ہے۔
خدامحفوظ رکھے۔
اوّل مرزامحمود خلیفہ قادیان کا ارشاد ملاحظہ ہو:
’’یہ وہ امور ہیں، جن پر آپ لوگوں کو غور کرنا چاہئے۔ ان میں فیصلہ اس طرح پر ہو کہ مولوی سید محمد
احسن صاحب یہاں تشریف رکھتے ہیں۔ حضرت مسیح موعود اور حضرت خلیفۃ المسیح (یعنی حکیم نورالدین خلیفہ اوّل)
بھی آپ کا اعزاز فرماتے تھے اور وہ اپنے علم وفضل اور سلسلہ کی خدمات کی وجہ سے اس قابل ہیں کہ ہم ان کی عزت
کریں اور وہ اس جلسہ شوریٰ کے پریذیڈنٹ ہوں… پھر میں کہتا ہوں کہ مولوی (سید محمد احسن) صاحب کا جو درجہ ان
کے علم اور رتبہ کے لحاظ سے ہے، وہ تم جانتے ہو، حضرت (مرزاقادیانی) بھی ان کا ادب کرتے تھے۔‘‘
(منصب خلافت ص۵۳، انوارالعلوم ج۲ ص۶۵،۶۶)
ذی میں مولوی سید محمد احسن قادیانی کا فتویٰ ملاحظہ ہو، جس کا صاحب موصوف نے لاہوری جماعت کے سلسلہ
میں اعلان کیا ہے:
’’صاحبزادہ بشیرالدین محمود احمد صاحب بوجہ اپنے عقائد فاسدہ پر مصر ہونے کے میرے نزدیک ہرگز اب اس
بات کے اہل نہیں ہیں کہ حضرت مسیح موعود مرزاصاحب کی جماعت کے خلیفہ یا امیر ہوں اور اسی لئے میں اس خلافت
سے، جو محض ارادی ہے، سیاسی نہیں، صاحبزادہ صاحب کا اپنی طرف سے عزل کر کے عند اللہ اور عند الناس اس ذمہ داری
سے بری ہوتا ہوں جو میرے سر پر تھی اور حسب ارشاد الٰہی ’’قال ومن ذریتی قال لا ینال عہدی
الظالمین‘‘ اپنی بریت کا اعلان کرتا ہوں اور جماعت احمدیہ کو اطلاع پہنچاتا ہوں کہ صاحبزادے صاحب
کے یہ عقائد: (۱)سب اہل قبلہ کلمہ گو کافر اور خارج از اسلام ہیں۔ (۲)حضرت مسیح موعود کامل
655
حقیقی نبی ہیں، جزوی نہیں یعنی محدث نہیں۔ (۳)اسمہ احمد کی پیش گوئی جناب مرزاصاحب کے لئے ہے اور
محمد رسول اللہ ﷺ کے واسطے نہیں اور اس کو ایمانیات سے قرار دینا ایسے عقائد اسلام میں موجب ایک خطرناک فتنہ
کے ہیں، جن کے دور کرنے کے لئے کھڑا ہوجانا ہر ایک احمدی کا فرض اوّلین ہے۔ یہ اختلاف عقائد معمولی اختلاف
نہیں، بلکہ اسلام کے پاک اصول پر حملہ ہے۔‘‘
(آئینہ کمالات مرزا ص۴۹،۵۰، منجانب جناب ناظم صاحب دارالاشاعت رحمانی مونگیر شریف)
اس اعلان سے بھی مرزامحمود خلیفہ قادیان نہیں پسیجے بلکہ اقرار کرلیا کہ:
’’یہ تبدیلی عقیدہ مولوی (محمد علی لاہوری قادیانی) صاحب تین امور کے متعلق بیان کرتے ہیں: اوّل! یہ
کہ میں نے مسیح موعود کے متعلق یہ خیال پھیلایا ہے کہ آپ فی الواقع نبی ہیں۔ دوم! یہ کہ آپ ہی آیت اسمہ احمد
کی پیش گوئی مذکورہ قرآن کریم کے مصداق ہیں۔ سوم! یہ کہ کل مسلمان جو حضرت مسیح موعود کی بیعت میں شامل نہیں
ہوئے، خواہ انہوں نے مسیح موعود کا نام بھی نہیں سنا، وہ کافر اور دائرہ اسلام سے خارج ہیں۔ میں تسلیم کرتا
ہوں کہ میرے یہ عقائد ہیں، لیکن اس بات کو تسلیم نہیں کرتا کہ ۱۹۱۴ء یا اس سے تین چار سال پہلے سے میں نے یہ
عقائد اختیار کئے۔‘‘
(آئینہ صداقت ص۳۵، انوارالعلوم ص۶ ص۱۱۰)
یہ ہے قادیانی کھیتی جس کو حیدرآباد میں سرسبز دیکھنا چاہتے ہیں اور جس کے تباہ ہو جانے کا انہیں ازحد
خوف ہے۔
(۷) اصلاح واتحاد
یہ بھی دعویٰ کیاگیا ہے کہ احمدی جماعت باوجود سختیوں کے اصلاح واتحاد المسلمین کی مبارک سعی کو نہ
چھوڑے گی۔ اس مبارک سعی کے اصول بھی ذیل میں ملاحظہ ہوں:
’’حضرت مسیح موعود کا حکم اور زبردست حکم ہے کہ کوئی احمدی، غیراحمدی کو اپنی لڑکی نہ دے۔ اس کی تعمیل
کرنا بھی ہرایک احمدی کا فرض ہے۔‘‘
(برکات خلافت ص۷۵، انوارالعلوم ج۲ ص۲۱۱)
’’لکھنؤ میں ہم (میاں محمود احمد خلیفہ قادیان) ایک آدمی سے ملے جو بڑا عالم ہے۔ اس نے کہا کہ آپ
لوگوں کے بڑے دشمن ہیں جو یہ مشہور کرتے پھرتے ہیں کہ آپ ہم لوگوں کو کافر کہتے ہیں۔ میں نہیں مان سکتا کہ
آپ ایسے وسیع حوصلہ رکھنے والے ایسا کہتے ہوں اس سے شیخ یعقوب علی صاحب باتیں کر رہے تھے۔ میں نے ان کو کہا
کہ آپ کہہ دیں کہ واقعہ میں ہم آپ لوگوں کو کافر کہتے ہیں۔ یہ سن کر وہ حیران سا ہوگیا۔‘‘
(انوار خلافت ص۹۲، انوارالعلوم ج۳ ص۱۴۹،۱۵۰)
’’غیراحمدی تو حضرت مسیح موعود کے منکر ہوئے، اس لئے ان کا جنازہ نہیں پڑھنا چاہئے۔ لیکن اگر کسی
غیراحمدی کا چھوٹا بچہ مر جائے تو اس کا جنازہ کیوں نہ پڑھا جائے۔ وہ تو مسیح موعود کا مکفر نہیں۔ میں یہ
سوال کرنے والے سے پوچھتا ہوں کہ اگر یہ بات درست ہے تو پھر ہندوؤں اور عیسائیوں کے بچوں کا جنازہ کیوں
نہیں پڑھا جاتا ہے اور کتنے لوگ ہیں جو ان کا جنازہ پڑھتے ہیں، اصل بات یہ ہے کہ جو ماں باپ کا مذہب ہوتا
ہے، شریعت وہی مذہب ان کے بچہ کا قراردیتی ہے۔ پس غیراحمدی کا بچہ بھی غیراحمدی ہی ہوا، اس لئے اس کا جنازہ
بھی نہیں پڑھنا چاہئے۔‘‘
(انوار خلافت ص۹۳، انوارالعلوم ج۳ ص۱۵۰)
656
یہ ہیں وہ اصول جن کی بناء پر قادیانی صاحبان نے حیدرآباد میں اصلاح واتحاد کا بیڑا اٹھایا ہے۔
چہ دلاور است دزدے کہ بکف چراغ دارد
(۸) چندہ کا پھندا
قادیانی صاحبان نے چندہ کا بھی رونا رویا ہے بلکہ سچ پوچھئے تو یہی اصل رونا ہے۔ سو اس کی کیفیت یہ ہے
کہ قادیانی صاحبان مسلمانوں سے میل بڑھاتے ہیں، پھر ان سے چندہ اگھاتے ہیں، اپنے کام بناتے ہیں، اسلامی کام
بتاتے ہیں، جب مسلمان سمجھ جاتے ہیں تو چندہ سے پچھتاتے ہیں۔ اس پر قادیانی صاحبان جھنجھلاتے ہیں، جان کھاتے
ہیں، واویلا مچاتے ہیں۔ اگر زمانہ سازی چھوڑ کر قادیانی صاحبان اپنے مذہب کی پابندی کریں تو مرزاقادیانی کے
نزدیک مسلمانوں میں ایسے کیڑے پڑ گئے ہیں کہ ان سے الگ اور بے تعلق رہنے کی ہدایت ہے۔ پھر مسلمانوں کے رفاہی
کاموں میں شریک ہونے کی ممانعت ہے۔ پھر مسلمانوں کے مقابلہ پر تیار ہونے کی اشاعت ہے۔ چنانچہ ملاحظہ ہو:
۱… ’’یہ جو ہم نے دوسرے مدعیان اسلام سے قطع تعلق کیا ہے، اوّل تو یہ خدائے تعالیٰ کے حکم سے تھانہ
اپنی طرف سے اور دوسرے وہ لوگ ریاپرستی اور طرح طرح کی خرابیوں میں حد سے بڑھ گئے ہیں اور ان لوگوں کو ان کی
ایسی حالت کے ساتھ اپنی جماعت کے ساتھ ملانا یا ان سے تعلق رکھنا ایسا ہی ہے جیسا کہ عمدہ اور تازہ دودھ میں
بگڑا ہوا دودھ ڈال دیں جو سڑ گیا ہے اور اس میں کیڑے پڑ گئے ہیں۔‘‘
(ارشاد مرزاغلام احمد قادیانی، تشحیذ الاذہان قادیان ج۶ نمبر۸ ص۳۱۱، بابت ماہ اگست ۱۹۱۱ء)
۲… ’’کیا غیراحمدیوں کے ساتھ سیدنا حضرت مسیح موعود کا عمل درآمد کسی پر مخفی ہے۔ آپ اپنی ساری زندگی
میں نہ غیروں (مسلمانوں) کی کسی انجمن کے ممبر ہوئے اور نہ ان میں سے کسی کو کسی اپنی انجمن کا ممبر بنایا
اور نہ کبھی ان کو چندہ دیا اور نہ کبھی ان سے چندہ مانگا۔ (ابتداء میں تو مدت تک مرزاقادیانی نے اسلام کے
نام پر مسلمانوں سے خوب چندہ مانگا اور خوب وصول کیا۔ خود کتابوں میں اعتراف موجود ہے، چنانچہ اسی چندہ سے
بنیاد جمی اور آج کے دن تک مسلمانوں کو بہلا بہلا کر چندہ وصول کیا جاتا ہے۔ البتہ یہ سچ ہے کہ مسلمانوں کے
رفاہ میں مرزاقادیانی نے کبھی پیسہ بھی نہیں دیا اور آج بھی رفاہ کانام ہے۔ قادیان کا کام ہے۔ للمؤلف) حتیٰ
کہ ایک دفعہ علی گڑھ میں قرآن مجید کی اشاعت کی غرض سے ایک انجمن بنائی گئی اور وہاں کے جناب سیکرٹری صاحب
نے ایک خاص خط بھیجا کہ چونکہ آپ لوگ خادم اور ماہر قرآن مجید ہو، لہٰذا ہم چاہتے ہیں کہ ہماری اس انجمن میں
آپ صاحبان میں سے بھی کچھ شریک ہوں مگر باوجود جناب مولانا مولوی عبدالکریم صاحب کی کوشش کے، حضور
(مرزاقادیانی) نے انکار ہی فرمایا۔ پھر سرسید صاحب (مرحوم) کے چندہ مدرسہ مانگنے کا واقعہ تو مشہور ہی ہے۔
یہاں تک کہ وہ ایک روپیہ تک بھی مانگتے رہے۔ لیکن حضور (مرزاقادیانی) نے شرکت سے انکار ہی فرمایا حالانکہ
اپنا خود مدرسہ انگریزی جاری کیا ہوا تھا۔‘‘
(کشف الاختلاف ص۴۲، مصنفہ سرور شاہ قادیانی)
۳… ’’قرآن کریم سے معلوم ہوتا ہے کہ ایک عام مومن دو مخالفوں پر بھاری ہوتا ہے اور اگر اس سے ترقی کرے
تو ایک مومن دس پر بھاری ہوتا ہے اور اگر اس سے بھی ترقی کرے تو صحابہ رضی اللہ عنہم کے طرز عمل سے تو یہ معلوم ہوتا ہے
کہ ان میں سے ایک ایک نے ہزار کا مقابلہ کیا ہے۔ ہماری جماعت مردم شماری کی رو سے پنجاب میں چھپن(۵۶) ہزار
ہے۔ گو یہ بالکل غلط ہے اور صرف اسی ضلع
657
گورداسپور میں تیس ہزار احمدی ہیں مگر فرض کر لو یہ تعداد درست ہے اور فرض کر لو کہ باقی تمام
ہندوستان میں ہماری جماعت کے بیس ہزار افراد رہتے ہیں، تب بھی یہ پچھتّر چھہتر ہزار آدمی بن جاتے ہیں اور
اگر ایک احمدی سو کے مقابلہ میں رکھا جائے تو ہم پچھتّر لاکھ کا مقابلہ کر سکتے ہیں اور اگر ایک ہزار کے
مقابل پر ہمارا ایک آدمی ہو تو ہم ساڑھے سات کروڑ کا مقابلہ کر سکتے ہیں اور اتنی ہی تعداد دنیا کے تمام
مسلمانوں کی ہے۔ (کیسے صحیح اور وسیع معلومات ہیں۔ للمؤلف) پس سارے مسلمان مل کر بھی جسمانی طور پر ہمیں
نقصان نہیں پہنچا سکتے اور اللہ تعالیٰ کے فضل سے ہم ان پر بھاری ہیں۔‘‘
(اخبار الفضل قادیان ج۲۱ نمبر۱۵۲، مؤرخہ ۲۱؍جون ۱۹۳۴ء، خطبات محمود ج۱۵ ص۱۸۶)
(۹) گالیوں کی شکایت
مرزاغلام احمد قادیانی کی تحریرات دیکھئے تو خود بھی دوسروں کو گالیاں دیتے ہیں۔ دوسروں سے جو گالیاں
سنتے ہیں، ان کو اپنی تحریرات میں نقل کرتے ہیں اور لطف یہ کہ اکثر شرط لگاکر خود بھی اپنے آپ کو گالیاں دے
لیتے ہیں کہ اگر یوں ہو تو میں ایسا، یوں نہ ہو تو میں ویسا۔ ان تحریرات کے اقتباسات میں اکثر تینوں قسم کی
گالیاں آجاتی ہیں تو قادیانی صاحبان بگڑتے ہیں اور گالیوں کی فہرستیں بنا کر تہمت لگاتے ہیں کہ فلاں صاحب نے
اتنی گالیاں لکھیں اور فلاں نے اتنی۔ حالانکہ ان کا قصور نقل کے سوا کچھ بھی نہیں اور دنیا جانتی ہے کہ نقل
کفر کفر نباشد۔ وہ بھی بدرجہ مجبوری کرہاً نقل کرنا پڑتا ہے کہ اخلاق وتہذیب کا صحیح اندازہ ہوجائے۔
قادیانی صاحبان بلکہ خود جناب مرزاغلام احمد کی جوابی کتابوں سے مقابلہ کیجئے تو ’’تصدیق احمدیت‘‘
نسبتاً غنیمت ہے۔ بدزبانی معمول سے کم ہے۔ برایں ہم بدمذاقی اس جماعت کی سرشت میں داخل ہے۔ اس کے بغیر اچھے
اچھوں کا دل نہیں بھرتا۔ ملاحظہ ہو:
’’جناب برنی صاحب نے… بذریعہ ایک دوسرے رسالہ موسومہ ’’قادیانی جماعت‘‘ کے اپنے موجودہ رسالہ
’’قادیانی مذہب‘‘ سے زیادہ تیز مواد باقی رہنے کی دھمکی دی ہے۔ گویا بنگلوری ٹریکٹ نے حضرت کے لئے منضج کا
کام کیا۔ بہتر ہے، ہم بھی منتظر رہیں گے کہ برنی صاحب اپنا یہ مواد فاسد خارج کر لیں تاکہ معقول تبرید کا
انتظام کیا جائے۔‘‘
(تصدیق احمدیت ص۴)
کس مواد کے وعدہ پر قادیانی صاحبان کس مواد کے انتظار میں مبتلا ہوگئے۔
فکر ہر کس بقدر ہمت اوست
اس ضرورت کے واسطے ان کو اپنے مرکز کی طرف رجوع کرنا چاہئے۔ آئندہ اس بارے میں مفصل ہدایت درج ہے۔
واقعہ یہ ہے کہ بدزبانی اور دل آزاری قادیانی صاحبان کی طبیعت ثانی بن گئی ہے۔ دوسروں کا تو ذکر کیا، آپس
میں بھی کچھ کسر اٹھا نہیں رکھتے اور اس پر دیدہ دلیری کہ دوسروں کو الزام دیتے ہیں، دوسروں کی شکایت کرتے
ہیں۔ خود قادیانی اکابر کی تہذیب قابل ملاحظہ ہے:
’’خود جناب میاں محمود صاحب (خلیفہ قادیان) نے مسجد میں جمعہ کے روز خطبہ کے اندر ہمیں دوزخ کی چلتی
پھرتی آگ، دنیا کی بدترین قوم اور سنڈاس پر پڑے چھلکے کہا۔ یہ الفاظ اس قدر تکلیف دہ ہیں کہ ان کو سن کر ہی
سنڈاس کی بو محسوس ہونے لگتی ہے۔‘‘
(مولوی محمد علی لاہوری قادیانی امیر جماعت لاہور کا خطبہ جمعہ، پیغام صلح لاہور ج۲۲ نمبر۳۳ ص۷ کالم۲،
مؤرخہ ۳؍جون ۱۹۳۴ء، نیز دیکھئے: خطبات محمود ج۱۳ ص۱۳)
658
(۱۰) تیز مواد
رسالہ ’’احمدی جماعت‘‘ کے بعد اب ’’تصدیق احمدیت‘‘ کو لیجئے۔ شروع دیباچہ ہی میں صفحہ نمبر۴ پر
سیکرٹری صاحب فرماتے ہیں:
’’گویا بنگلوری ٹریک نے حضرت کے لئے منضج کا کام کیا۔ بہتر ہے ہم بھی منتظر رہیں گے کہ برنی صاحب اپنا
یہ مواد فاسد خارج کر لیں تاکہ معقول تبرید کا انتظام کیا جائے۔‘‘
(تصدیق احمدیت ص۴)
اگر سیکرٹری صاحب اور ان کے رفیقوں کو مرزاغلام احمد کی مصاحبت کا شرف نصیب ہوتا تو یہ اپنے اس شعبہ
کی خدمات سے بہت ثواب کماتے۔ مرزاغلام احمد کو اس شعبہ سے فطرتاً بہت سابقہ پڑتا تھا بلکہ شب وروز کا یہ خاص
مشغلہ تھا۔ چنانچہ خود فرماتے ہیں:
’’باوجودیکہ مجھے اسہال کی بیماری ہے اور ہر روز کئی کئی دست آتے ہیں، مگر جب وقت پاخانہ کی بھی حالت
ہوتی ہے تو مجھے افسوس ہی ہوتا ہے کہ ابھی کیوں حاجت ہوئی۔‘‘
(کتاب منظور الٰہی ص۳۴۸،۳۴۹)
’’میں ایک دائم المرض آدمی ہوں… وہ بیماری ذیابیطس ہے کہ ایک مدت سے دامن گیر ہے اور بسا اوقات سوسو
دفعہ رات کو یا دن کو پیشاب آتا ہے اور اس قدر کثرت پیشاب سے جس قدر عوارض ضعف وغیرہ ہوتے ہیں وہ سب میرے
شامل حال رہتے ہیں۔‘‘
(اربعین نمبر۴ ص۴، خزائن ج۱۷ ص۴۷۰،۴۷۱)
’’دوسری مرض ذیابیطس تخمیناً بیس برس سے ہے جو مجھے لاحق ہے… اور ابھی تک بیس دفعہ کے قریب ہرروز
پیشاب آتا ہے۔‘‘
(حقیقت الوحی ص۳۶۳، خزائن ج۲۲ ص۳۷۷)
اس عالم سے رخصت ہوتے وقت بھی یہ شعبہ خصوصیت سے مصروف کار تھا۔ چنانچہ مرزاغلام احمد کے انتقال کی
تفصیل میں صاحبزادہ بشیراحمد اپنی والدہ صاحبہ کا چشم دید بیان تحریر فرماتے ہیں کہ:
’’حضرت مسیح موعود کو پہلا دست کھانا کھانے کے وقت آیا تھا… لیکن کچھ دیر کے بعد آپ کو پھر حاجت محسوس
ہوئی اور غالباً ایک یا دو دفعہ رفع حاجت کے لئے آپ پاخانہ تشریف لے گئے… اتنے میں آپ کو ایک اور دست آیا
مگر اب اس قدر ضعف تھا کہ آپ پاخانہ نہ جاسکتے تھے اس لئے چارپائی کے پاس ہی بیٹھ کر فارغ ہوئے… اس کے بعد
ایک اور دست آیا اور پھر آپ کو ایک قے آئی… اور حالت دگرگوں ہوگئی۔‘‘
(سیرت الہدی حصہ اوّل ص۹، روایت نمبر۱۱، جدید ج۱ حصہ اوّل ص۱۰،۱۱، روایت نمبر۱۲)
مرزاغلام احمد کے انتقال کا جو اعلان شائع ہوا، اس میں بھی یہ اسہالی خصوصیت بطور یادگار درج کی گئی۔
چنانچہ یوں شروع ہوتا ہے:
’’برادران! جیسا کہ آپ سب صاحبان کو معلوم ہے، حضرت امامنا مولانا حضرت مسیح موعود مہدی معہود مرزا
صاحب قادیانی کو اسہال کی بیماری بہت دیر سے تھی اور جب آپ کوئی دماغی کام زور سے کرتے تھے تو بڑھ جاتی تھی۔
حضور کو یہ بیماری بہ سبب کھانا نہ ہضم ہونے کی تھی… اس دفعہ لاہور کے قیام میں بھی حضور کی دو تین دفعہ
پہلے یہ حالت ہوئی۔ لیکن ۲۵؍تاریخ مئی کی شام کو… پھر اسی بیماری کا دورہ شروع ہوگیا… اور قریباً گیارہ بجے
ایک دست آنے پر طبیعت ازحد کمزور ہوگئی… دو اور تین بجے کے درمیان ایک اور بڑا دست آگیا جس سے نبض بالکل بند
ہوگئی… ڈاکٹر مرزایعقوب بیگ صاحب کو بھی گھر سے طلب کیاگیا اور جب وہ تشریف لائے تو اپنے پاس بلا کر کہا کہ
مجھے سخت اسہال کا دورہ ہوگیا ہے، آپ کوئی دوا تجویز کریں۔ علاج شروع کیاگیا۔ چونکہ حالت نازک ہوگئی تھی، اس
لئے ہم پاس ہی ٹھہرے رہے اور علاج باقاعدہ ہوتا رہا مگر پھر نبض واپس نہ آئی۔‘‘
(الحکم قادیان مؤرخہ ۲۸؍مئی ۱۹۰۸ء، غیرمعمولی)
659
بہرحال منضج کی تو ضرورت نہ تھی، البتہ اگر سیکرٹری صاحب انجمن احمدیہ حیدرآباد دکن کچھ تبرید کا
مستقل انتظام کر دیتے تو کیسا کارثواب تھا۔ مگر یہ خدمت قسمت میں نہ تھی تو آج ادھر ادھر توقع لگاتے ہیں،
انتظار کی زحمت اٹھاتے ہیں۔
(۱۱) ذریۃ البغایا
یوں تو مرزاغلام احمد قادیانی کی تحریرات میں گالیاں کچھ کمیاب نہیں، جابجا موجود ہیں۔ لیکن اکثر
گالیاں انفرادی ہیں یا مولوی جماعت کے نام کی ہیں۔ ان کا جواب بھی مل چکا ہے۔ اس لئے قادیانی صاحبان کو ان
کی چنداں فکر نہیں بلکہ الٹا ان کی صحت اور ان کے جواز پر اصرار ہے۔ البتہ عادت کی رو سے بعض مقامات پر گالی
اس طرح بھی قلم سے نکل گئی کہ اس کی زد بالعموم تمام مسلمانوں پر پڑے۔ اس گالی کی البتہ قادیانی صاحبان کو
ازحد فکر ہے کہ کہیں مسلمانوں کے دل میں بیٹھ گئی تو بڑی مشکل ہوگی۔ اس لئے وہ بڑی کوشش میں ہیں کہ اوّل تو
یہ گالی، گالی نہ رہے حالانکہ مرزاغلام احمد کی دوسری گالیوں سے قادیانی صاحبان کو ذرا بھی انکار نہیں،
دوسرے یہ کہ اگر گالی نہ ٹل سکے تو کم ازکم مسلمان اس کے مخاطب نہ سمجھے جائیں۔ بلکہ دوسروں کو جا لگے کہ
کچھ نہ کچھ تو ذمہ داری ٹلے۔
قول بالکل صاف ہے۔ اس میں کسی موشگافی کی کیا ضرورت اور گنجائش ہے، ملاحظہ ہو:
’’تلک کتب ینظر الیہا کل مسلم بعین المحبۃ والمودۃ ینتفع من معارفہا ویقبلنی ویصدق دعوتی الّا ذریۃ
البغایا الذین ختم اللہ علی قلوبہم فہم لا یقبلون
ان کتابوں کو سب مسلمان محبت کی آنکھ سے دیکھتے ہیں اور ان کے معارف سے فائدہ اٹھاتے ہیں اور مجھے
قبول کرتے ہیں اور میری دعوت کی تصدیق کرتے ہیں مگر بدکار رنڈیوں (زناکاروں) کی اولاد جن کے دلوں پر خدا نے
مہرکردی ہے وہ مجھے قبول نہیں کرتے۔‘‘
(آئینہ کمالات اسلام ص۵۴۷،۵۴۸، خزائن ج۵ ص۵۴۷،۵۴۸)
قادیانی صاحبان نے اپنی متعدد کتب اور نیز ’’تصدیق احمدیت‘‘ ص۱۳۳تا۱۳۵ میں کھینچ تان کر کے اس کی یہ
تاویل پیش کی ہے کہ یہاں ذریۃ البغایا کے مخاطب مسلمان نہیں بلکہ ہندو اور عیسائی ہیں۔ گویا الا کہ استثناء
سے مسلمان مستثنیٰ ہیں تو پھر اس صورت میں یہ معنی ہوئے کہ گویا جس قدر مسلمان ہیں سب نے مرزاغلام احمد کو
قبول کیا اور ان کی دعوت کی تصدیق کی۔ ان کی کتابوں کو محبت کی آنکھ سے دیکھا اور ان کے معارف سے فائدہ
اٹھایا۔ گویا پکے قادیانی بن گئے۔ البتہ ہندوؤں اور عیسائیوں نے مرزاغلام احمد کو قبول نہیں کیا۔ گالی سے
بچا کر یہ تو مسلمانوں پر بڑا احسان کیا کہ بیک قلم سب کو قادیانی بنادیا۔ نعوذ باللہ ! عذر گناہ بدتر ازگناہ۔
بے بنیاد تاویلات کا یہی انجام ہوتا ہے۔ عبارت صاف ہے اور قادیانی صاحبان کی تاویل بھی موجود ہے۔ لوگ خود
فیصلہ کرسکتے ہیں کہ ذریۃ البغایا سے مرزاغلام احمد کی مراد کون ہیں۔
اب رہی دوسری بحث کہ ذریۃ البغایا کے کیا معنی ہیں۔ قادیانی صاحبان کی تحقیق ہے کہ اس کے معنی ہیں
’’ہدایت سے دور لوگ۔‘‘ تاج العروس کا حوالہ دیا ہے۔ ممکن ہے کسی عبارت کی کتربیونت سے یہ معنی پیدا کئے گئے
ہوں لیکن بغایا کے معنی اس درجہ معروف ومسلم ہیں کہ اس میں سخن سازی کے سوا اختلاف کی گنجائش نہیں۔ تاہم
قادیانی صاحبان نے من مانے معنی لکھ دئیے۔ ذیل میں بغایا کے اصلی معنی ملاحظہ ہوں۔
660
عربی لغات میں لسان العرب کا جو رتبہ ہے، اہل علم پر بخوبی روشن ہے۔ مشہور امام لغت ابوعبیدہ سے نقل
کیا ہے:
’’البغایا الا ماء لا نہن کن یفجرن‘‘ بغایا باندیوں کو کہتے ہیں کیونکہ بدچلن
ان کا شیوہ تھا۔
پھر ابن خالو یہ کا یہ قول نقل کیا ہے:
’’ثم کثرفی کلامہم حتی عموا بہ الفواجر اماء کن او حرائرا‘‘ پھر کثرت استعمال
سے بالآخر اس کا اطلاق بالعموم فاجرات یعنی بدچلن عورتوں پر ہونے لگا۔ خواہ باندیاں ہوں خواہ آزاد۔
اس سے بھی بڑھ کر علامہ راغب اصفہانی کی مشہورلغت قرآن المفردات ملاحظہ ہو:
’’بغت المراۃ بغایا اذا فجرت وذلک لتجاوزہا الی ما لیس لہا قال عزوجل ولا تکرہوا
فتیاتکم علی البغاء‘‘ بغت المراۃ،بغا اس وقت بولتے ہیں جب عورت بدچلن ہو جائے اور یہ اس لئے کہتے
ہیں کہ وہ اس حد سے، جو اس کے لئے ہے، نکل جاتی ہے۔ فرمایا اللہ تعالیٰ نے کہ باندیوں کو بدکاری پر مجبور نہ
کرو۔
اب قرآن مجیدمیں اس لفظ کے دیگر محل ملاحظہ ہوں۔ اردو میں سب سے اوّل مستند ترجمہ حضرت شاہ رفیع الدین
صاحب دہلوی رحمۃ اللہ علیہ کا ہے۔ ملاحظہ ہو:
’’قالت انی یکون لی غلام ولم یمسسنی بشرولم اک بغیا (سورۂ مریم رکوع۲) یاخت ہارون
ما کان ابوک امراء سوء وما کانت امک بغیا (سورۂ مریم رکوع۲)‘‘ {(مریم) بولی کہاں
سے ہوگا میرے لڑکا اور چھوا نہیں مجھ کو آدمی نے اور کبھی نہ تھی میں بدکار۔ اے بہن ہارون کی نہ تھا
تیرا باپ برا آدمی اور نہ تھی تیری ماں بدکار۔}
اس کے سوا ملاحظہ ہو قرآن مجید ’’مترجمہ فاضل اجل مولانا سید محمد سرور شاہ صاحب‘‘ (قادیانی) شاہ صاحب
قادیان میں مفتی اعظم بھی ہیں اور مرزاغلام احمد کے خاص صحابی بھی ہیں۔ مندرجہ بالا آیات قرآن کا ترجمہ شاہ
صاحب یون فرماتے ہیں:
آیت اوّل: ’’اس نے کہا میرے لڑکا کہاں سے ہوگا حالانکہ مجھے کسی انسان نے نہیں چھوا اور نہ میں بدکار
تھی۔‘‘
آیت دوم: ’’او ہارون کی بہن! نہ تو تیرا باپ برا مرد تھا اور نہ ہی تیری والدہ فاحشہ تھی۔‘‘
خدا کی قدرت کہ مرزاغلام احمد نے بھی حسب عادت بغیۃ کی گالی دوسرے موقع پر اپنے ایک حریف مولوی
عبدالحق صاحب غزنوی کو دی اور خود ہی اس کا ترجمہ بھی لکھ دیا۔ شاید قادیانی صاحبان کی اب تک اس پر نظر نہیں
پڑی یا اس کو مصلحتاً نظرانداز کردیا گیا کہ دوسروں کو کیا علم ہوگا۔ بہرحال مرزا غلام احمد نے ’’ذریۃ
البغایا‘‘ کا خود ترجمہ کنجری کی اولاد کیا ہے۔ تفصیل کے لئے کتاب ہذا فصل نویں، نمبر۴۸ ملاحظہ کریں۔
(۱۲) غلط حوالے
’’قادیانی صاحبان نے غلط حوالوں کی بھی بہت دھوم مچائی۔ یہ ان صاحبان کا پرانا داؤ ہے۔ چند غلطیاں
کتابت کی یا طبع زاد کتاب بھر میں سے ڈھونڈ نکالیں اور بانس پر چڑھا دیں۔ گویا ایسی چند غلطیوں سے تمام کتاب
غلط ہوگئی۔ قادیانی صاحبان کو فراغت ہوگئی
661
لیکن آج کل یہ ترکیبیں نہیں چلتیں۔ لوگ ان کی حقیقت سے بخوبی واقف ہوچکے ہیں کہ غلطیاں نکالنے میں کس
درجہ غلط بیانی شریک کی جاتی ہے۔ مثلاً چند نمونے ملاحظہ ہوں:
(۱)’’تیسرا اور چوتھا حوالہ ’’حمامۃ البشریٰ‘‘ ص۷۹ کا ہے۔ لیکن ہمیں ’’حمامۃ البشریٰ‘‘ مطبوعہ ۱۹۰۳ء
میں یہ عبارت کہیں نہیں ملی۔‘‘
(تصدیق احمدیت ص۴۶)
گویا محولہ بالا عبارت ہم نے اپنی طرف سے یونہی حوالہ دے کر شریک کر دی۔ یہ عبارت حسب حوالہ ’’حمامۃ
البشریٰ‘‘ میں پہلے ایڈیشن کے صفحہ نمبر۷۹ پر موجود ہے اور نیز اسی صفحہ۷۹ کے حوالہ سے دوسرے ایڈیشن کے
صفحہ۹۶ پر درج ہے۔ لیکن اس پر بھی قادیانی صاحبان کو نظر نہ آئے تو اس کا کیا علاج ہے۔ غلط بیانی کی بھی حد
ہونی چاہئے۔
(۲)’’حضرت اقدس مسیح موعود کی کتابوں کے حوالے سے پہلا حوالہ الوصیۃ کے ص۱۰ کا ہے۔ صفحہ کا حوالہ غلط
ہے بلکہ یہ عبارت جس کا حوالہ برنی صاحب نے دیا ہے ص۱۳ پر موجود ہے۔‘‘
(تصدیق احمدیت ص۷۸)
بہرحال مقصود یہ ہے کہ کسی نہ کسی طرح غلطی ثابت ہو اور واقعہ کیا ہے، محولہ بالا عبارت طبع اوّل کے
ص۱۱ پر درج ہے۔ البتہ کاتب نے اس کو ص۱۰ بنادیا ہے۔ چنانچہ تازہ ترین ۱۹۳۳ء کے نویں ایڈیشن میں بھی یہ عبارت
اسی صفحہ کے حوالے سے ص۹ پر درج ہے۔ لیکن قادیانی صاحبان کا اعلان ہے کہ یہ عبارت ص۱۳ پر درج ہے۔ حالانکہ
ص۱۳ پر اس کا ذکر بھی نہیں ہے۔ نہ پہلے ایڈیشن میں، نہ آخری ایڈیشن میں۔ یہ غلط بیانیاں ہیں جو قادیانی
صاحبان کا ہتھیار ہیں۔
(۳)’’یہ دونوں ایک ہی کتاب کے حوالے ہیں لیکن اس مقام پر کتاب کا نام ’’کشتی نوح‘‘ لکھا اور ص۱۲ کا
حوالہ دیا ہے اور تتمہ میں کتاب کا نام ’’تقویۃ الایمان‘‘ اور ص۱۶ کا حوالہ دیا ہے۔ ’’تقویۃ الایمان‘‘ اور
’’کشتی نوح‘‘ ایک ہی کتاب کے دو نام ہیں اور دونوں جگہ کے اقتباسات ایک ہی عبارت سے لئے گئے ہیں جو ص۱۶
مذکور پر حسب ذیل ہے۔‘‘
(تصدیق احمدیت ص۱۹۰)
جب قادیانی صاحبان کو تسلیم ہے کہ ایک ہی کتاب کے دو نام ہیں۔ اگر دونون نام ایک ایک حوالے میں لکھ
دئیے تو کیا برا کیا۔ اگر صرف ایک ہی نام دونوں حوالوں میں لکھ دیا جاتا تو پھر دوسرے قادیانی اعتراض کا کیا
جواب تھا کہ دوسرا نام کیوں ترک کیا گیا۔ شاید اس کا علم نہ ہوگا۔ رہا صفحہ۱۲ کا اعتراض، اگر ص۱۶ کو ص۱۲ پڑھ
لیا جائے تو اس کا کیا علاج۔ ذرا اپنے ص۱۲ سے ملادیکھیں کہ ص۱۲ چھپا ہے یا ص۱۶۔ ایسی ترکیبوں سے کیا کام بن
سکتا ہے۔
(۴)’’چوتھا حوالہ ’’سراج منیر‘‘ ص۳۵۲ کا ہے۔ مگر ’’سراج منیر‘‘ میں اتنے صفحات ہی نہیں۔ کل ۸۸صفحات پر
ہندسے ہیں اور باقی کے صفحات پر حروف ابجد از ’’ج‘‘ تا ’’ن‘‘ درج ہیں۔ اس طرح جملہ سو صفحات کی کتاب ہے۔
لیکن وہ عبارت جس کا حوالہ برنی صاحب نے دیا ہے، کتاب مذکور کے ص۳ پر ملتی ہے۔‘‘
(تصدیق احمدیت ص۶۲)
بظاہر کیسی بڑی غلطی پکڑی ہے کہ حوالے میں کئی سو صفحوں کا فرق نکل آیا۔ لیکن واقعہ کیا ہے جو اقتباس
اوّل لیاگیا وہ ’’سراج منیر‘‘ کے ص۲،۳ پر دج ہے۔ چنانچہ یہی حوالہ لکھاگیا کہ ص۲،۳ کاتب نے ’’و‘‘ کو ’’ہ‘‘
بنادیا۔ اس طرح اصلی حوالہ ص۲،۳ کتابت میں ص۳۵۲ جیسا بن گیا۔ لیکن مسودہ کی نظرثانی میں سابقہ اقتباس مختصر
کر دیا گیا۔ ص۲ کی عبارت ترک ہوگئی۔ البتہ حوالہ میں ص۲ کا اندراج سہواً رہ گیا۔ تاہم بقیہ اقتباس ص۳ پر
موجود ہے۔ خود قادیانی صاحبان کو بھی تسلیم ہے۔ کتابت کے معمولی سہو پر بات کہاں سے کہاں پہنچا دی۔
662
غرض کہ قادیانی صاحبان نے اس قسم کی چند غلطیاں جاوبیجا جواب میں دہرا کر اپنے نزدیک بڑا کام کیا۔ یہ
کتاب تو نہایت ناموافق حالات میں تیار ہوئی جو کتابیں پورے سامان واطمینان سے تیار ہوتی ہیں، ان میں بھی غلط
نامے شریک کرنے پڑتے ہیں۔ قادیانی صاحبان کو تو اپنے جوابوں کی صحت پر بڑا ناز ہے۔ ملاحظہ ہو ’’تصدیق
احمدیت‘‘ کے ص۷۸ پر کیسے دعوے سے لکھتے ہیں کہ ’’برنی صاحب نے الوصیۃ میں جس عبارت کا حوالہ ص۱۰ پر دیا ہے
وہ غلط ہے۔ بلکہ یہ عبارت ص۱۳ پر درج ہے۔‘‘ حالانکہ ص۱۳ پر اس عبارت کا پتہ بھی نہیں۔ حوالہ وہی صحیح ہے جو
ہم نے لکھا ہے۔ چنانچہ اس کی تفصیل اوپر درج ہے۔ قادیانی صاحبان کو معلوم ہونا چاہئے کہ اس قسم کے اعتراضات
اور غلط بیانات سے علمی طبقوں میں خود ان ہی کا اعتبار گھٹ رہا ہے کہ اصل مباحث کو چھوڑ کر فضولیات کو طول
دیتے ہیں، خفیف باتوں کی آڑ لیتے ہیں۔
غلط حوالوں کی طرح اور بھی ملتے جلتے اعتراض کئے ہیں۔ مثلاً ’’تصدیق احمدیت‘‘ کے ص۲۱۸ پر یہ کہ ’’اسمع
ولدی‘‘ (سن بیٹا) مرزاقادیانی کا یہ کوئی الہام نہیں ہے اور ترجمہ گویا ہم نے درج کر دیا۔ قادیانی صاحبان کے
نزدیک نہ ہوگا۔ لیکن ’’البشریٰ‘‘ جو جناب مرزاقادیانی کے الہامات کا سب سے جامع اور معتبر مجموعہ ہے، اس میں
نہ صرف یہ الہام بلکہ اس کا اردو ترجمہ بھی موجود ہے۔ چاہیں تو ملاحظہ فرمالیں۔ ’’البشریٰ ج۱ ص۴۹‘‘ اگر
ترجمہ نہ ہوتا تو بھی شک کی گنجائش تھی کہ شاید سہو کتابت ہو بلکہ جس دوسری کتاب کے حوالے سے اس الہام کو
قادیانی صاھبان نے بدل کر ’’اسمع واری‘‘ لکھا ہے، وہاں ترجمہ نہیں ہے۔ کتابت کی خامی یا سنگ سازی کی خرابی
سے ’’ولدی‘‘ کا ’’واری‘‘ بن جانا کچھ عجیب نہیں۔ ’’ولدی‘‘ میں اس لئے کلام نہیں ہوسکتا کہ اس کی تائید میں
اسی رنگ کے اور الہام بھی موجود ہیں جن سے قادیانی صاحبان بھی کسی طرح انکار نہیں کر سکتے۔ مثلاً ملاحظ ہو
’’حقیقت الوحی‘‘ ص۸۶، خزائن ج۲۲ ص۸۹ جو خود مرزاقادیانی کی خاص تصنیف ہے۔ اس میں یہ الہام مع ترجمہ درج ہے۔
’’انت منی بمنزلتہ ولدی‘‘ (تو مجھ سے بمنزلہ فرزند کے ہے) اور مرزاقادیانی کے مدارج
بہت ترقی پذیر تھے۔ ’’بمنزلۃ ولدی‘‘ سے بڑھ کر ٹھیٹھ ’’ولدی‘‘ ہوگئے تو کیا تعجب
ہے۔
ان غلطیوں سے اندازہ ہو سکے گا کہ قادیانی صاحبان، جو دوسروں کی غلطیوں کا بڑے شدومد سے اعلان کرتے
ہیں، ان میں کس قدر غلط بینی ہوتی ہے اور کس قدر غلط بیانی۔
(۱۳) کتربیونت
مرزاغلام احمد کی کتابیں علمی نظر سے دیکھئے تو مباحث میں ابہام اور التباس کی کثرت ہے۔ طول کلام
وتکرار بیان نے اور پیچیدگی بڑھادی ہے۔ نتیجہ یہ ہے کہ بحیثیت مجموعی قادیانی لٹریچر ایک بھول بھلیاں بن
گیا۔ اسی دقت کے مدنظر مرزاغلام احمد اور ان کے خلفاء اور صحابہ کی اور تابعین کی کتابوں کا بغور مطالعہ کر
کے اور ان ہی کے اقوال کو اقتباسات کی شکل میں یکجا ترتیب دے کر ان کے اعتقادات واجتہادات، ان کے اصول
ومسائل کو علمی محاسبہ کے طور پر قادیانی مذہب کے نام سے شائع کردیا۔
علمی طبقوں میں تو اس تالیف کی بہت قدر ہوئی اور ہورہی ہے۔ لیکن قادیانی صاحبان بہت بیزار ہیں۔ وجہ
ظاہر ہے لوگوں کو بطور خود قادیانی تحریک پر غوروفکر کرنے کا موقع مل گیا اور یہ طریق قادیانی صاحبان کے
اغراض کے منافی ہے۔ اصل کتابوں کا تو مطالعہ کون کرتا ہے۔ وہ چاہتے ہیں کہ مصالح وقتی کے تحت وہ جس طرح اپنے
اخبارات ورسائل اور جدید تالیفات میں مذہب پیش کریں، لوگ بلاتحقیق اس کو اسی طرح مان لیں تو اسی میں کامیابی
ہے۔
663
چنانچہ ناخوش ہوکر غلط حوالوں کی طرح کتربیونت کا بھی قادیانی صاحبان نے الزام دیا ہے۔ مدافعت اور
معذرت کا یہ بھی ایک عام طریق ہے کہ اقتباس نامکمل ہیں، ناقص ہیں۔ واقعہ یہ ہے کہ ہم نے اوّل جامع مباحث
قرار دئیے۔ ہر بحث کی ذیلی عنوانات قرار دئیے۔ ہر عنوان کے تحت متعلقہ اقتباسات درج کئے اور پھر سب کو مناسب
ترتیب دے کر یکجا پیش کیا۔ یہی تالیف کا علمی طریق ہے۔ تعلق کی حد تک پورے پورے اقتباسات پیش کئے گئے۔ کئی
کئی اقتباسات جمع کئے گئے تاکہ شک وشبہ کی گنجائش نہ رہے، بخوبی تصدیق وتوثیق ہو جائے۔ اس پر بھی قادیانی
صاحبان کتربیونت کا الزام دیتے ہیں۔ شاید وہ چاہتے ہیں کہ بلاامتیاز غیرمتعلق لمبی لمبی عبارتیں بھر دی
جاتیں۔ چنانچہ انہوں نے ’’تصدیق احمدیت‘‘ میں ایسا ہی کیا بھی ہے تاکہ غلط مبحث برقرار رہے اور کوئی صحیح
نتیجہ نہ نکلے۔
قادیانی لٹریچر بالخصوص مرزاقادیانی کی تصانیف میں چونکہ ابہام، التباس اور انتشار بہت زیادہ ہے، اس
لئے جو کوئی مضمون واراقتباسات کر کے نکالے، اس کو کتربیونت کا الزام دینا کچھ دشوار نہیں ہے۔ لیکن نظر
انصاف سے دیکھئے تو کتربیونت جس فن کا نام ہے، اس میں خود جناب مرزاقادیانی اور ان کی امت نے جس درجہ کمال
دکھایا ہے، اسلامی لٹریچر میں اس کی نظیر ملنی مشکل ہے۔ قرآن میں، حدیث میں، تفسیر میں، اکابر امت کی تصانیف
میں کس خوبی اور کس بے باکی سے کتربیونت کی گئی تب کہیں اس مذہب کی صورت پیدا ہوسکی۔ یہ ایک مستقل بحث ہے جو
ان شاء اللہ آئندہ ایک جداگانہ کتاب کی شکل میں پیش ہوگی۔ اس سے واضح ہو گا کہ قادیانی تحریک اس درجہ کتربیونت
کی رہین منت ہے کہ اگر اس کا نام ہی ’’کتربیونت‘‘ رکھ دیا جائے تو اسم بامسمی ہو جائے۔ خود قادیانی جماعت کے
دونوں فرقے، قادیانی اور لاہوری، آپس میں ایک دوسرے کو اس فن کا ماہر قرار دیتے ہیں۔
(۱۴) قادیانی غلط بیانی
خود مرزاغلام احمد قادیانی کی تصانیف سے اور خود قادیانی اکابر کی تصدیق وتوثیق سے ذیل میں چند مثالیں
مشتے نمونہ از خروارے پیش کرتے ہیں۔ ہر صاحب انصاف فیصلہ کر سکتا ہے کہ علمی معاملات میں قادیانی اخلاق کا
کیا معیار ہے۔ بڑی سے بڑی بے دیانتی اپنے حق میں جائز سمجھتے ہیں۔ رکیک سے رکیک تاویل اس کے جواز میں کافی
سمجھتے ہیں۔ بلکہ جو ان کی بے دیانتی پر گرفت کرے اس کو مورد الزام سمجھتے ہیں۔
اوّل قادیانی جماعت لاہور کے اخبار ’’پیغام صلح‘‘ کا ایک اقتباس ملاحظہ ہو کہ کس طرح مرزاغلام احمد نے
حضرت امام ربانی مجدد الف ثانی رحمۃ اللہ علیہ کے ایک مکتوب میں اس درجہ تصرف کیا کہ لفظ محدث کے بجائے اپنی
طرف سے نبی لکھ دیا۔ جب اس تحریف کا پتہ چلا اور گرفت ہوئی تو قادیانی صاحبان نے کیا خوب جواب دیا۔ وہو ہذا:
جیسا کہ مجدد صاحب سرہندی نے اپنے مکتوب میں لکھا ہے کہ: ’’اگرچہ اس امت کے بعض افراد مکالمہ ومخاطبہ
الٰہیہ سے مخصوص ہیں اور قیامت تک مخصوص رہیں گے لیکن جس شخص کو بکثرت اس مکالمہ ومخاطبہ سے مشرف کیا جائے
اور بکثرت امور غیبیہ اس پر ظاہر کئے جائیں وہ نبی کہلاتا ہے۔‘‘
(حقیقت الوحی ص۳۹۰، خزائن ج۲۲ ص۴۰۶)
چونکہ قادیانی جماعت یہ مانتی ہے کہ حضرت مسیح موعود (مرزاغلام احمد قادیانی) واقعی نبی اللہ ہیں اور اس
کے ثبوت میں وہ ’’حقیقت الوحی ص۳۹۰،۳۹۱، خزائن ج۲۲ ص۴۰۶،۴۰۷‘‘ کے صفحات کو خصوصیت سے پیش کرتے ہیں۔ اس لئے
ان سے یہ مطالبہ بارہا ہوچکا ہے کہ وہ مجدد صاحب کا حوالہ مکتوبات میں سے دکھائیں جہاں مجدد صاحب نے کثرت
مکالمہ ومخاطبہ کو جس میں پیش گوئیاں بکثرت ہوں، نبوت قرار دیا ہو، ایسے ملہم ومتکلم کونبی اللہ لکھا ہو مگر
وہ آج تک بھی مطالبہ کو پورا نہ کر سکے اور نہ کر سکتے ہیں…
664
’’میں نے مولوی غلام احمد مجاہد (قادیانی) سے بھی یہ سوال کیا تھا۔ ان کا جواب سب سے عجیب تھا اور وہ
یہ تھا کہ مجدد صاحب سرہندی نے تو محدث ہی لکھا ہے مگر حضرت مسیح موعود نے خدا سے علم پاکر محدث کے بجائے
نبی لکھ دیا ہے اور یوں مکتوبات کی غلطی کو درست کردیااور کہا کہ یہ ایسا ہی ہے کہ جیسے بعض اہل اللہ احادیث
کی بعض غلطیوں کوآنحضرت ﷺ سے علم پاکر تو اصلاح کر دی ہے۔ شاید یہود کے علماء بھی یہی کام کرتے ہوں گے مگر
قرآن مجید نے تو ان کے متعلق ’’یحرفون الکلم عن مواضعہ‘‘ کا فتویٰ ہی دیا ہے۔‘‘
(لاہوری جماعت کے مولوی عمرالدین قادیانی کا مضمون، اخبار پیغام صلح لاہور ج۲۴ نمبر۳ ص۲ کالم۱، مؤرخہ
۱۱؍جنوری ۱۹۳۶ء)
اولیاء اللہ کے کلام میں تصرف کرنا تو مرزاقادیانی کے نزدیک کوئی بڑی بات نہ تھی۔ رسول اللہ ﷺ کے کلام میں
بھی ان کا کچھ خوف وتامل نہ تھا۔ مثلاً ملاحظہ ہو:
’’حضرت مسیح موعود (مرزاقادیانی) نے شہادۃ القرآن میں صحیح بخاری کی طرف یہ حدیث منسوب کی ہے کہ امام
مہدی کے لئے آسمان سے ندا آئے گی۔ ’’ہذا خلیفۃ اللہ المہدی‘‘ اس پر ماسٹر (محمد ادریس
صاحب) مذکور لکھتے ہیں: ’’کیا کوئی قادیانی اس حدیث کو صحیح بخاری میں دکھا سکتا ہے؟‘‘ پھر لکھا ہے: ’’ہم
چیلنج کرتے ہیں کہ کوئی مرزائی قیامت تک مرزاغلام احمد کے چہرے سے اس جھوٹ کو نہیں مٹا سکتا۔ اگر ہمت ہے تو
میدان میں آئیے اور اپنے گرو کے چہرے سے اس جھوٹ کے دھبہ کو مٹائیے۔‘‘
(الفضل قادیان ج۱۹ نمبر۱۰۰، مؤرخہ ۲۱؍فروری ۱۹۳۲ء)
مرزاغلام احمد قادیانی فرماتے ہیں:
’’صحیح بخاری کی وہ حدیثیں، جن میں آخری زمانہ میں بعض خلیفوں کی نسبت خبر دی گئی ہے، خاص کر وہ خلیفہ
جس کی نسبت بخاری میں لکھا ہے کہ آسمان سے اس کے لئے آواز آئے گی کہ ہذا خلیفۃ اللہ
المہدی‘‘
(شہادۃ القرآن ص۴۱، خزائن ج۶ ص۳۳۷)
’’ہر معمولی سمجھ کا انسان اس بات کو سمجھ سکتا ہے کہ روانی قلم میں اگر کسی سے کوئی غلط حوالہ لکھا
جائے تو وہ سبقت قلم کہلائے گا نہ کہ لکھنے والے کا جھوٹ۔ لیکن مولوی صاحب ہیں کہ عناد وبیجا مخاصمت کی وجہ
سے اسے بھی جھوٹ ہی قرار دیتے ہیں… اس سے ہر منصف مزاج سمجھ سکتا ہے کہ مسیح موعود کا ’’شہادۃ القرآن‘‘ ص۴۱
پر حدیث مہدی کا حوالہ دینا آپ کا ایک محض سبقت قلم ہے جو کہ ایک کثیر التصانیف زودنویس شخص سے سرزد ہونا
بعید نہیں۔ لیکن ایک مولوی فاضل (مولوی ثناء اللہ صاحب) کا حوالہ کی غلطی کو جھوٹ قرار دینا قابل حیرت
واستعجاب ضرور ہے۔‘‘
(اخبار الفضل قادیان ج۸نمبر۸۸، مؤرخہ ۲۳؍مئی ۱۹۲۱ء)
ایک طرف تو مرزاقادیانی کا دعویٰ تھا کہ وہ نبی اور رسول ہیں (خدانخواستہ) قرآن دنیا سے اٹھ چکا تھا
اور وہ اس کو دوبارہ دنیا میں واپس لائے اور دوسری طرف کم علمی اور کم توجہی کی یہ حالت کہ جس آیت کو جس طرح
چاہا توڑ مروڑ کر لکھ دیا۔ نہ خوف نہ توجہ کہ آیات غلط نہ ہو جائیں۔ جب آیات کی عبارت تک غلط ہو تو معنی
معلوم۔ یوں تو مرزاغلام احمد نے بہت سی آیات قرآنی کی عبارت میں تصرف کیا ہے۔ بطور نمونہ ذیل میں چند آیات
مع توجیہ ملاحظ ہوں:
منجملہ ان اعتراضات کے ایک یہ اعتراض ہے جو بغرض جواب ہمارے پاس آیا ہے۔ ’’حضرت مرزاصاحب نے اپنی کتب
میں قرآن مجید کی آیات کو تغیر وتبدل کر کے غلط لکھا ہے۔‘‘ پھر حسب ذیل آیات پیش کی ہیں:
665
۱… جنگ مقدس (مصنفہ مرزاقادیانی) مطبوعہ باردوم ص۱۷۶، ’’ان یجاہدوا فی سبیل اللہ
باموالہم وانفسہم (سورۂ توبہ، رکوع۶)‘‘
۲… ازالہ اوہام (مصنفہ مرزاقادیانی) مطبوعہ باراوّل ص۳۷۷و۶۰۹، ’’ومنکم من یرد الی
ارذل العمر لیکلا یعلم بعد علم شیئا (سورۂ حج، پارہ۱۷)‘‘
۳… ازالہ اوہام مطبوعہ باراوّل ص۶۷۵ ’وجعلنا منہم القردۃ والخنازیر‘‘
(الفضل قادیان ج۱۹ نمبر۱۰۳، مؤرخہ ۲۸؍فروری ۱۹۳۲ء)
مرزاغلام احمد (قادیانی) نے آئینہ کمالات اسلام میں یہ آیت لکھی ہے:
’’یایہا الذین امنوا ان تتقوا اللہ یجعل لکم فرقانا ویجعل لکم نورا تمشون بہ‘‘
ہمیں اس قسم کی باتوں میں پڑنے کی ضرورت نہیں ہے۔ ہر ایک وہ شخص جو کتاب اور طباعت سے ذرا بھی واقفیت
رکھتا ہے،جانتا ہے کہ تحریروں میں کس طرح غلطیاں واقع ہوجاتی ہیں۔ لیکن ہمارے مخالفین جو اس قسم کی باتوں کو
لے کر ہم پر اعتراض کرتے ہیں، ان کے جواب میں ہمیں بھی بولنا پڑتا ہے تاکہ ظاہر ہو جائے کہ جس امر کو وہ
نہایت بددیانتی کے ساتھ ہمارے خلاف پیش کرتے ہیں، اس کے وہ خود بھی مرتکب ہوتے ہیں۔
(اخبار الفضل قادیان ج۸ نمبر۹۹، مؤرخہ ۳۰؍جون ۱۹۲۱ء)
’’رہا یہ سوال کہ حضرت مسیح موعود کی بعض کتب کے دو دو تین تین ایڈیشن شائع ہو چکے ہیں اور تیس چالیس
برس کا عرصہ بھی گزر چکا ہے۔ پھر اب تک کیوں ان کی تصحیح نہیں کی گئی؟ سو اس کا جواب میں یہی دوں گا کہ
اللہتعالیٰ کی حکمت نے یہی تقاضا کیا کہ یہ آیات حضور کی کتب میں اسی طرح لکھی جائیں جیسی کہ حضور کے زمانہ
میں سہوکاتب سے یا خود حضور سے بعض دیگر آیات سے تشابہ کے باعث غلط لکھی گئیں اور اس میں تین راز ہیں:
۱… تاغیراحمدی علماء کی عقول کا جائزہ لیا جائے کہ وہ سہو کاتب یا مؤلف سے جو سہواً غلطی ہو جاتی ہے،
اس کو عمداً تحریر قرار دے کر اپنے ہاتھوں تعلیم یافتہ طبقہ میں اپنی علمی پردہ دری کرتے ہیں۔
۲… یہ کہ تاغیر احمدی اچھی طرح جان لیں کہ حضرت مسیح موعود کی کتب بھی تحریف سے پاک ہیں اور ان میں
کسی قسم کا تغیروتبدل نہیں ہوا بلکہ من وعن شائع کی جاتی ہیں۔
۳… ابتداء سے خداتعالیٰ کی حکمت نے یہی چاہا کہ حضور کی کتابوں میں بعض ایسی غلطیاں رہ جائیں تاکہ
ہمیشہ کے لئے آپ کے اتباع کے پاس برہان یقینی رہے کہ آپ ایک بشر تھے اور سہوونسیان جو لازمہ بشریت ہے، آپ اس
سے خالی نہ تھے۔‘‘
(اخبار الفضل قادیان ج۱۹ نمبر۱۰۳، مؤرخہ ۲۸؍فروری ۱۹۳۲ء)
جب کہ خود مرزاغلام احمد کی تصنیفات میں ایسی تصریح تحریفات موجود ہیں اور قادیانی صاحبان ان کو
ناقابل گرفت سمجھتے ہیں تو پھر گریبان میں منہ ڈال کر سوچنا چاہئے کہ دوسروں کی کتابوں میں معمولی معمولی
غلطیاں ڈھونڈ کر الزام دینا کہاں تک درست ہے؟ مرزاغلام احمد دبی زبان سے غلطیوں کے متعلق اپنے حق میں جو
معذرت لکھ گئے ہیں، قادیانی صاحبان اس کو فراموش نہ کرتے تو بے جا الزام دے کر خفت نہ اٹھاتے۔ ملاحظ ہو:
(عاقل را اشارہ کافی است)
666
حضرت مسیح موعود خود فرماتے ہیں: ’’میری کتابوں میں سہو کتابت یا مجھ سے بحالت تغافل بعض معمولی غلطیاں ہوگئی ہیں۔‘‘
(انجام آتھم ص۲۴۱، خزائن ج۱۱ ص۲۴۱، ملخصاً الفضل قادیان ج۱۹ نمبر۱۰۳، مؤرخہ ۲۸؍فروری ۱۹۳۲ء)
(۱۵) ترتیب پر اعتراض
قادیانی صاحبان نے اپنے جوابات میں یا تو کم فہمی سے یا عمداً ایک اور غلط فہمی پیدا کرنی چاہی ہے وہ
یہ کہ ہم نے اقتباسات کی ترتیب میں کتابوں کی صفحاتی ترتیب یا کتابوں کی زمانی ترتیب کی پابندی لازم نہیں
رکھی۔ مثلاً یہ کہ بعض اقتباسات جو کتابوں کے شروع سے لئے گئے۔ وہ ہم نے اپنی تالیف میں محل مناسب کے لحاظ
سے بعد رکھے اور بعض جو کتابوں کے آخر سے لئے گئے وہ ہماری تالیف کے شروع میں اپنے محل پر درج ہوئے۔ علیٰ
ہذا جو کتابیں پہلے شائع ہوئیں ان کے بعض اقتباسات اپنے مضمون کے لحاظ سے ہماری تالیف کے آخر میں آئے۔ جو
آخر میں شائع ہوئیں ان کے بعض اقتباسات اپنی نوعیت کے سبب تالیف کے شروع میں بیٹھ گئے۔ لیکن یہ تو تالیف کی
خصوصیت اور خوبی ہے کہ جو مباحث بیسیوں کتابوں میں بلا کسی معنوی اور زمانی ترتیب کے متفرق اور منتشر تھے ان
کو مضمون وار ترتیب دے کر ایک علمی شکل میں یکجا کر دیا کہ پورا خاکہ پیش نظر ہو جائے۔ دراصل قادیانی صاحبان
کی یہی دلی خواہش ہے کہ ان کے مباحث میں اصلی ابہام والتباس اور انتشار برقرار رہے۔ اسی میں ان کی جیت ہے کہ
مذہب کی پردہ داری اور قول وفعل میں آزادی رہے۔ اس تالیف نے ترتیب کی مدد سے راہ نکال کر رازداری اور آزادی
کا خاتمہ کر دیا۔ قادیانی صاحبان اس ترتیب سے جس قدر بیزار ہوں معذور ہیں۔
(۱۶) جواب دہی کے قادیانی اصول
قادیانی صاحبان نے ہماری کتاب ’’قادیانی مذہب‘‘ کے متعلق جس حد تک جواب دہی کی ذمہ داری لی ہے اس کے
اصول قابل ملاحظہ ہیں:
۱… ’’حضرت اقدس (مرزاقادیانی) اور آپ کے خلفاء کے سوا دیگر اقوال ناقابل توجہ ہیں۔‘‘
(تصدیق احمدیت ص۷۷)
گویا مرزاغلام احمد قادیانی اور حکیم نورالدین خلیفہ اوّل ومیاں محمود احمد خلیفہ ثانی کے سوا باقی
دوسرے قادیانی صاحبان کی کتابیں ناقابل توجہ ہیں۔ ان کی سند نہیں۔ اس لئے جواب دہی کی ضرورت نہیں۔ خاص
قانونی نکتہ ہے۔ چنانچہ اس اصول کی مزید صراحت بھی کر دی گئی۔ ملاحظہ ہو:
’’لیکن یہ بھی بتلا دینا ضروری معلوم ہوتا ہے کہ ’’تتمہ کتاب‘‘ ص۷۹ پر جو مزید حوالہ جات برنی صاحب نے
دئیے ہیں وہ نہ تو حضرت مرزاصاحب کتب کے نہ آپ کے خلفاء کی کسی کتاب کے ہیں۔ اس لئے ان پر توجہ کرنے کی ہم
کو ضرورت نہیں۔ اس لئے کہ یہ بحث نہیں ہے کہ حضرت مرزاصاحب کے متبعین ان کو کیا کہتے ہیں۔ بلکہ بحث یہ ہے کہ
خود حضرت مرزاصاحب اپنے آپ کو کیا کہتے ہیں۔ اس لئے تتمہ کے حوالہ جات مطلقاً ناقابل توجہ ہیں۔‘‘
(تصدیق احمدیت ص۷۷)
اس شرح کے آخر میں ضمناً اور کنایۃً یہ دونوں خلیفہ صاحبان بھی بحث سے خارج ہوگئے۔ صرف مرزاصاحب کی حد
تک جواب دہی باقی رہ گئی۔ یہ ضمنی کنایہ آگے چل کر خود بھی ایک اصول کی صورت میں واضح ہوگیا ہے۔ فی الحال
اصول اوّل زیر بحث ہے۔ ہماری کتاب ’’قادیانی مذہب‘‘ کے تتمہ ص۷۹ پر جو مزید حوالہ جات درج ہیں اور قادیانی
صاحبان کے نزدیک مطلقاً ناقابل توجہ ہیں۔ معلوم ہے وہ
667
حوالہ کس کے ہیں؟ قادیانی صاحبان تو کیوں اس کو ظاہر کرنے لگے۔ وہ حوالے مرزاغلام احمد قادیانی کے
صاحبزادے میاں بشیراحمد ایم۔اے کے ہیں۔ مگر چونکہ وہ نہ خود مرزاغلام احمد ہیں اور نہ مرزاغلام احمد کے
خلیفہ، لہٰذا ازروئے قانون قادیان، ان کے حوالہ جات مطلقاً ناقابل توجہ ہیں۔ یہ سچ ہے کہ وہ خلیفہ نہیں اور
قادیانی ضابطہ میں ان کا قول قابل توجہ نہیں۔ لیکن انصاف بھی تو کوئی چیز ہے۔ اوّل تو صاحبزادے، دوسرے
ایم۔اے آج کل کی تعلیم کچھ ہنسی کھیل نہیں ہے۔ اس کی تصدیق تو خود خلیفہ قادیان بھی فرماسکتے ہیں۔
’’جس وقت حضرت مسیح موعود (مرزاقادیانی) کو یہ الہام ہوا اس وقت میں طالب علم تھا اور طالب علم بھی
ایسا جو ہمیشہ فیل ہوتا تھا اور میں سمجھتا ہوں کہ اس میں اللہ تعالیٰ کی کوئی حکمت ہوگی۔ وگرنہ اگر کچھ پاس کر
لیتا تو ممکن ہے مجھے خیال ہوتا کہ میں یہ ہوں، وہ ہوں… اور واقعی یہ امر واقعہ ہے ہر جماعت میں فیل ہوتا
تھا۔ میری صحت کمزور تھی اور اطباء نے کہا تھا اس کی تعلیم پر زور نہ دیا جائے وگرنہ اسے سل ہو جائے گی۔‘‘
(مرزامحمود خلیفہ قادیان کی تقریر لائل پور، اخبار الفضل قادیان ج۲۱ نمبر۱۳۸ ص۳ کالم۳،مؤرخہ ۲۰؍مئی
۱۹۳۴ء، انوارالعلوم ج۱۳ ص۴۱۷)
بہرحال مرزاغلام احمد کے ایک صاحبزادے کے اقوال کی تائید کرنا اور محض قانونی عذر پر دوسرے صاحبزادے
کے اقوال مطلقاً ناقابل توجہ قرار دینا سراسر انصاف کے خلاف ہے۔ البتہ جواب دہی نہ ہو سکے تو یہ دوسری بات
ہے۔
خیر مرزاغلام احمد کے ساتھ خلفاء کو شریک کر لیا۔ یہ بھی غنیمت تھا۔ لیکن جیسا کہ پہلے اصول کی شرح
میں ضمنی اشارہ کیا گیا تھا۔ دوسرے اصول کے تحت خلفاء کے حوالہ جات بھی ناقابل توجہ قرار دئیے گئے۔ صرف
مرزاغلام احمد کا ذمہ باقی رہ گیا۔ کیسی بااصول کتربیونت ہے۔ قانونی دماغ ان اصولوں سے خوب واقف ہیں۔ مقدمات
کی جواب دہی میں ان سے بہت پناہ ملتی ہے۔ بہرحال دوسرا اصول بھی ملاحظہ ہو:
۲… ’’جناب برنی صاحب نے اپنی کتاب کے تتمہ ص۹۰ میں اس عنوان کے تحت کلمۃ الفصل اور حقیقت النبوۃ کے
چند حوالے مزید دئیے ہیں ان میں کوئی حوالہ حضرت مرزاصاحب کی کسی کتاب کا نہیں۔ حضرت مرزاصاحب کی کتاب کے بس
یہی حوالے تھے اور ہمارے لئے ضروری نہیں کہ حضرت مرزاصاحب کی کتاب کے علاوہ بقیہ تمام احمدیہ لٹریچر کے
حوالہ جات پر کوئی بحث کریں۔‘‘
(تصدیق احمدیت ص۱۳۱)
اصول واقعی بہت خوب ہے۔ اس میں بڑی عافیت ہے۔ لیکن صاحبزادوں کا معاملہ ہے۔ دبی زبان سے اقرار کرنا
پڑا کہ کلمۃ الفصل مرزابشیراحمد ایم۔اے کے قلم سے ہے اور حقیقت النبوۃ خلیفہ المسیح ثانی کی تصنیف ہے۔
لامحالہ اصول دوم کے خلاف حقیقت النبوۃ کی برائے گفتن تائید بھی کرنی پڑی۔ مثلاً یہ کہ حقیقت النبوۃ میں جو
کچھ بیان کیا گیا ہے اس سے حضرت رسول مقبول ﷺ کی فضیلت کا اظہار مقصود ہے نہ کچھ اور… (گویا جوب ہوگیا)
لیکن سب سے بہتر تیسرا اصول ہے کہ مرزاغلام احمد کے حوالہ جات پر بھی بحث کو غیرضروری سمجھا جائے۔ خاص
کر جہاں معاملہ نازک ہو جائے اس اصول کے بعد جواب دہی بہت سہل اور معقول ہوجاتی ہے۔ چنانچہ ملاحظہ ہو، ص۱۷۴۔
۳… ’’اس کے بعد فصل چہارم میں برنی صاحب نے مرزاصاحب کے ارشادات کے اقتباسات دئیے ہیں جن پر ہم کوئی
بحث ضروری نہیں سمجھتے ہیں۔ ہم نے کافی طور پر برنی صاحب کی خیانت اور تحریف کو فصل اوّل تا سوم کی تنقید
میں ثابت کر دیا ہے۔ اب اس فصل کے ذیلی عنوانات جو کچھ زیادہ اہمیت نہیں رکھتے ان پر تنقید غیرضروری اور
موجب طوالت ہوگی۔ اس لئے ان تمام
668
حوالہ جات سے جو اس فصل کے عنوان نمبر۱ کے تحت حضرت مرزاصاحب کی کتابوں کے دئیے ہیں کوئی قابل اعتراض
بات پیدا نہیں ہوتی۔ زیادہ سے زیادہ جو کچھ ظاہر ہوتا ہے وہ یہی ہے کہ آپ اپنے تئیں رسول مقبول ﷺ کا بروز
ظاہر کرتے ہیں۔ گویا ظہور خود ذات پاک آنحضرت ﷺ ہی کا ہے۔ (اور قادیانی صاحبان کے نزدیک یہ کوئی قابل اعتراض
بات نہیں اور اس کا کوئی جواب بھی نہیں) حضرت مرزاصاحب کے متعلق ہم فصل دوم کے عنوان نمبر۵ کی تنقید میں
تفصیل سے بیان کر آئے ہیں۔ (حالانکہ فصل دوم میں نمبر۵ کا عنوان ہے۔ ’’تمام انبیاء علیہم السلام پر فضیلت‘‘
اور فصل چہارم میں نمبر۱ کا عنوان ہے۔ ’’حلول اور اتحاد کی حقیقت‘‘ ان دونوں مباحث میں کیا ربط ہوسکتا ہے۔
اس کے سوا فصل دوم کے عنوان نمبر۵ کی تنقید میں اس امر کا ذکر تک نہیں تاہم پیچھا چھڑانے کے لئے لکھ دینے
میں کیا مضائقہ ہے۔ اصل مقامات کا کون مقابلہ کرتا ہے۔ اسی طرح کام چلتا ہے)‘‘
بہرحال تینوں اصول قابل داد ہیں۔ اوّل تو یہ کہ مرزاغلام احمد اور خلفاء صاحبان کے حوالہ جات کا جواب
دیں گے۔ دیگر قادیانی تصانیف قابل توجہ نہیں۔ دوم یہ کہ صرف مرزاغلام احمد کے حوالہ جات کا جواب دیں گے۔
خلفاء کی کتابیں بھی قابل توجہ نہیں۔ سوم یہ کہ مرزاغلام احمد کے حوالہ جات کا بھی جواب ضروری نہیں۔ اس میں
بھی طوالت کا خوف ہے اور پھر ہمارے نزدیک کوئی بات قابل اعتراض نہیں جس کے جواب کی ضرورت ہو۔ دوسروں کو
اعتراض ہو تو ہوا کرے ہم پر کیا ذمہ ہے۔
یہ تین زریں اصول ہیں جن سے حسب مواقع جواب دہی میں کام لیاگیا ہے۔ قانون میں بھی امور متعلقہ اور
غیرمتعلقہ کی بحث بہت نازک مانی جاتی ہے اور ہوشیار وکلاء اس سے بہت کام نکالتے ہیں۔
ان اصولوں کے ہوتے ہوئے اگر کسی قادیانی کتاب کا باریک حوالہ پیش کیجئے تو اس کو گالی سنوائیے۔ مثلاً
ملاحظہ ہو:
’’الہامی حمل کے عنوان میں قاضی یار محمد قادیانی کے ایک رسالہ اسلامی قربانی کا حوالہ ہے جو ہم پر
قابل پابندی نہیں۔ وہ ایک مجنون شخص تھا جو چاہے لکھ دے اس کی کوئی اصلیت نہیں۔‘‘ ( اللہ رے عتاب!)
(تصدیق احمدیت ص۱۷۳)
جب اچھے اچھے قادیانی صاحبان کی کتابیں جن میں مرزاغلام احمد ہی کے مذہب کی تائید اور تشریح پیش کی
گئی ہے۔ ’’مطلقاً ناقابل توجہ‘‘ ہوں تو قدرتاً سوال پیدا ہوتا ہے کہ سید بشارت احمد کی یہ کتاب ’’تصدیق
احمدیت‘‘ کس نظر سے دیکھی جائے۔ جو حیثیت ہے ظاہر ہے۔ اگر یہ کہا جائے کہ اس کتاب کی تالیف میں چند بہتر
دماغ بھی شریک ہیں لیکن اظہار مناسب نہیں تو کم ازکم اپنے نام کے ساتھ وغیرہ لکھنا ضرور تھا کہ دیانت کا کچھ
تو حق ادا ہو جاتا اور لوگوں کو بھی اعتبار ہوتا۔
بہرحال جواب دہی کے یہ خاص اصول ہیں ان کے علاوہ جو مزید تاویلات کی جاتی ہیں اور ان کی جو نوعیت ہوتی
ہے ان کے چند نمونے خود ’’تصدیق احمدیت‘‘ میں درج ہیں۔ ناظرین خود ان کی قدروقیمت کا اندازہ کر سکتے ہیں۔
(۱۷) قادیانی تحریک کی ترکیب
مرزاغلام احمد قادیانی نے اپنے مدارج اور اپنی فضیلت کے جو دعوے کئے ہیں اور اپنی شان کو جس حد تک
بڑھایا ہے اس کے متعلق کافی اقتباسات قادیانی مذہب میں درج ہیں، یہاں ان کے اعادہ کی ضرورت نہیں۔ لیکن
مرزاغلام احمد نے ایک بڑی دور اندیشی کی۔ وہ یہ کہ نبی کریم ﷺ کی شان مبارک کو اپنی شان کے واسطے اس طرح
پردہ بنایا کہ اس کی آڑ میں جہاں تک جی چاہے بڑھیں۔ کوئی روک ٹوک نہ کر سکے بلکہ نبی کریم ﷺ کی شان مبارک کی
تعظیم میں لوگ مرزاغلام احمد کی ملحقہ شان کو بھی لامحالہ تسلیم کر لیں۔ متبعین نے بھی
669
یہی طرز اختیار کیا۔ چنانچہ کثیر مثالوں میں سے ایک تازہ مثال ملاحظہ ہو:
-
’’احمد ماشد چرا فخر الرسل
زانکہ دارد مقتدائے مصطفی
-
گشت غالب برہمہ ادیان ازاں
بود دردستش لوائے مصطفی
-
غیرت ای مردم مسیح ناصری
جانشین گردد بجائے مصطفی
-
ز ابن مریم بہ غلام احمدست
رہبر امت برائے مصطفی
(نظم قاضی محمد یوسف قادیانی پشاوری، الفضل قادیان ج۲۲ نمبر۲۰۲ ص۴ کالم۲، مؤرخہ ۲۸؍جون ۱۹۳۵ء)
اس کے سوا جداگانہ طور پر بھی نبی کریم ﷺ کے حضور، نظم اور نثر میں کافی عقیدت اور نیاز کا اظہار کر
دیا ہے۔ چنانچہ قادیانی صاحبان اس کلام سے خوب کام لیتے ہیں۔ جو ان مرزاغلام احمد کے بے جا دعوؤں پر کسی نے
گرفت کی فوراً جواب میں کوئی نعت سنادی یا کوئی عقیدت نامہ پڑھ دیا کہ جس کے دل میں رسول اللہ ﷺ کی ایسی محبت
ہو، ایسا ادب ہو، اس کے دعوؤں پر اعتراض کرنا کہاں تک قرین انصاف ہوسکتا ہے۔ واقعی کیسا معقول عذر ہے۔ کچھ
ایسا فتویٰ معلوم ہوتا ہے کہ خدانخواستہ اگر شراب میں زمزم شریف ملادیا جائے یا شراب کی بوتلوں کے ساتھ زمزم
شریف کے شیشے بھی رکھ دئیے جائیں تو پھر شراب پر کوئی اعتراض باقی نہیں رہتا۔
علیٰ ہذا اہل بیت اطہار رضوان اللہ تعالیٰ عنہم اجمعین اور بالخصوص حضرت امام حسین علیہ السلام کی شان
میں تھوڑی سی مدح اور ہمدردی لکھ دی۔ اس کے بعد جس قدر بھی گستاخی کی جائے بجا ہے۔ بے ادبی کی جائے روا ہے۔
عذر یہ کہ شیعوں کا جواب ہے۔ اسی طرح حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی نبوت کا دبی زبان میں اعتراف کر لیا۔ اس کے
بعد یہودیوں کے پردے میں جو چاہا سو کہا۔حضرت مریم علیہا السلام تک کو نہ چھوڑا۔ عذر یہ کہ پادریوں کا جواب
ہے اور نظر غور سے دیکھئے تو اپنی فضیلت کا حساب ہے اور کچھ نہیں۔
اگر مرزاغلام احمد کو حد پر روکئے اور غلطیوں پر ٹوکئے تو پھر انبیاء کی بھی خیر نہیں۔ بے دریغ سب سے
ہاتھ صاف ہوتا ہے۔ زبان بندی کی آسان ترکیب ہے۔
۱… ’’اب کس قدر تعجب کی جگہ ہے کہ میرے مخالف میرے پر وہ اعتراض کرتے ہیں جس کی رو سے ان کو اسلام سے
ہی ہاتھ دھونا پڑتا ہے۔ اگر ان کے دل میں تقویٰ ہوتی تو ایسے اعتراض کبھی نہ کرتے جن میں دوسرے نبی شریک
غالب ہیں۔‘‘
(اعجاز احمدی ص۵، خزائن ج۱۹ ص۱۱۲)
۲… ’’میں باربار کہتا ہوں کہ اگر یہ تمام مخالف مشرق اور مغرب کے جمع ہو جائیں تو میرے پر کوئی ایسا
اعتراض نہیں کر سکتے کہ جس اعتراض میں گذشتہ نبیوں میں سے کوئی نبی شریک نہ ہو۔‘‘
(تتمہ حقیقت الوحی ص۱۳۷، خزائن ج۲۲ ص۵۷۵)
سب سے بڑا دعویٰ اشاعت اسلام کا ہے۔ دین میں جو تفرقہ اور فساد پیدا کیا جا رہا ہے، ظاہر ہے۔ لیکن
شکایت کیجئے تو یہی جواب ملتا ہے کہ اشاعت اسلام کون کر رہا ہے۔ اشاعت کا ماحصل دیکھئے تو یہی کہ اسلام میں
شاید اختلاف نمودار ہو۔ مسلمانوں میں فساد پھیلے اور اس کے معاوضہ کچھ دور افتادہ نو مسلموں کی فہرستیں شائع
ہو جائیں جن کے دین وایمان سے وہ خود ہی خوب واقف ہیں۔
غرض کہ خوش عقیدگی کی رشوت دے کر یا بے ادبی کی دھمکی دے کر مسلمانوں سے یہ توقع کی جاتی ہے کہ وہ یا
تو مروتاً ہاں میں ہاں ملا دیں، یا سکوت اختیار کریں تاکہ قادیانی تحریک کی تبلیغ بلاروک ٹوک جاری رہے۔
670
(۱۸) امت محمد پر فضیلت
مرزاغلام احمد قادیانی جب قادیانی صاحبان کے نزدیک مسیح موعود اور مہدی معہود بن گئے تو گویا امت
محمدی میں سب سے افضل ہوگئے۔ کھلی منطق ہے:
’’جیسا کہ ہم اوپر ظاہر کر چکے ہیں کہ اہل سنت والجماعت کے عقائد میں ہے کہ حضرت مسیح موعود اور مہدی
معہودآنحضرت ﷺ کے بعد امت محمدیہ میں سب سے افضل ہوں گے۔ اس لئے ہم کو ان دونوں یعنی حضرت علی رضی اللہ عنہ
اور حضرت امام حسین رضوان اللہ علیہما کے مرتبہ اور ان پر مسیح موعود کی فضیلت کی نسبت لکھنے کی کوئی ضرورت
نہیں۔ حضرت صدیق رضی اللہ عنہ کی نسبت اہل سنت والجماعت کے خطبات جمعہ میں علانیہ اس عقیدہ کا اعلان کیا
جاتا ہے کہ ’’افضل البشر بعد الانبیاء بالتحقیق‘‘ تو جب مسیح موعود مہدی ابوبکر رضی
اللہ عنہ سے افضل ہوں گے تو ظاہر ہے کہ بقیہ تمامی امت سے بھی افضل ہوں گے۔ اگر حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کی
فضیلت حضرت علی رضی اللہ عنہ اور امام حسین رضی اللہ عنہ پر اہل سنت والجماعت میں متفق علیہ ہے اور اس کی
وجہ سے کوئی ہتک ان حضرات اہل بیت کی نہیں ہوتی تو مسیح موعود (مرزاقادیانی) کی فضیلت تو بدرجہ اولیٰ قابل
تسلیم ہے اور ناقابل اعتراض ہے اور جب ان تمام حضرات پر فضیلت مسیح موعود (مرزاقادیانی) کی عقیدتاً مسلم
ہوگئی تو دیگر اولیاء امت اور حضرت شیخ جیلانی رحمۃ اللہ علیہ کے ذکر کی کیا ضرورت ہے۔‘‘
(تصدیق احمدیت ص۱۴۴)
(۱۹) حضرت آدم علیہ السلام پر فضیلت
مرزاغلام احمد نے حسب عادت منجملہ دیگر انبیاء علیہم السلام کے حضرت آدم علیہ السلام پر بھی اپنی
فضیلت ظاہر کی ہے۔ غنیمت ہے کہ قادیانی صاحبان اس کو ایک سنگین الزام سمجھتے ہیں۔ مگر مرزاغلام احمد کو اس
الزام سے بری قرار دیتے ہیں ان کی تاویل ہے کہ جو اقتباس کتاب ’’قادیانی مذہب‘‘ میں درج ہے۔ اس سے مرزاغلام
احمد کی فضیلت ظاہر نہیںہوتی۔ حالانکہ اظہر ہے۔ لیکن آخر وکالت بھی تو کوئی چیز ہے۔ بہرحال مضائقہ نہیں۔
دوسرا اقتباس ملاحظہ ہو۔ شاید اس کا مطلب عقل میں آجائے۔ تاہم مرزاغلام احمد کے حق میں سنگین الزام تسلیم
کرنا قادیانی صاحبان کے واسطے دشوار ہے۔
’’آدم اور مسیح موعود میں کیا فرق ہے؟ (ترجمہ) آدم اس لئے آیا کہ نفوس کو اس دنیا کی زندگی کی طرف
بھیجے اور ان میں اختلاف اور عداوت کی آگ بھڑکائے اور مسیح امم اس لئے آیا کہ ان کو دارفنا کی طرف واپس
لوٹائے اور ان میں سے اختلاف ومخاصمت، تفرقہ اور پراگندی کو دور کرے اور انہیں اتحاد ومحویت نفی غیر اور
باہمی اخلاص کی طرف کھینچے اور مسیح اللہ کے اس اسم کا مظہر ہے جو خاتم سلسلہ مخلوقات ہے یعنی آخر جس کے بارے
میں اللہ تعالیٰ کے قول ’’ہو الآخر‘‘ میں اشارہ کیاگیا ہے۔ کیونکہ وہ کائنات کے آخر ہونے کی علامت ہے۔‘‘
(ترجمہ)
(ضمیمہ خطبہ الہامیہ ص الف، خزائن ج۱۶ ص۳۰۸)
(۲۰) بروز کی تشریح
مرزاغلام احمد نے بروز سے جو مطلب نکالا ہے، قادیانی صاحبان نے تصدیق احمدیت میں یا تو کم علمی یا
مصلحت سے اسے ٹالنے کی کوشش کی ہے۔ لیکن اس مسئلہ میں تاویل کی گنجائش نہیں۔ ہماری کتاب قادیانی مذہب میں
صاف صریح اقتباسات موجود ہیں۔ ذیل میں ہم مزید تشریح خود قادیانی صاحبان اور مرزاغلام احمد کی طرف سے پیش
کرتے ہیں:
671
’’بعض دوستوں نے بروز کے معنی صرف ادنیٰ مشابہت کے سمجھے ہیں۔ چونکہ اس خیال سے حضرت مسیح موعود کی
اصلی شان دنیا پر ظاہر نہیں ہوتی۔ حالانکہ اسی شان فہمی پر آپ کے ماننے نہ ماننے کا مسئلہ موقوف ہے۔ اس لئے
میں آپ ہی کی تحریروں سے دکھانا چاہتا ہوں کہ آپ کن معنوں میں بروز سیدنا حضرت محمد مصطفی ﷺ ہونے کے مدعی
تھے۔ اس مسئلہ کو حضور نے خطبہ الہامیہ میں خوب واضح کیا ہے۔ جو لفظ بہ لفظ یہاں نقل کیا جاتا ہے تاکہ
برادران طریقت کے اطمینان قلب کا موجب ہو اور دوسروں پر اپنے مسیح کی شان واضح کر سکیں۔ اسی طرح ہمارے نبی
کریم ﷺ کی روحانیت نے پانچویں ہزار میں اجمالی صفات کے ساتھ ظہور فرمایا اور وہ زمانہ اس روحانیت کی ترقیات
کا انتہاء نہ تھا بلکہ اس کے کمالات کے معراج کے لئے پہلا قدم تھا۔ پھر اس روحانیت نے چھٹے ہزار کے آخر میں
یعنی اس وقت پوری طرح سے تجلی فرمائی جیسا کہ آدم علیہ السلام چھٹے دن کے آخر میں احسن الخالقین خدا کے اذن
سے پیدا ہوا اور خیرالرسل کی روحانیت نے اپنے ظہور کے کمال کے لئے اور اپنے نور کے غلبہ کے لئے ایک مظہر
اختیار کیا جیسا کہ خداتعالیٰ نے کتاب مبین میں وعدہ فرمایا تھا۔ پس میں (غلام احمد قادیانی) وہی مظہر ہوں
پس ایمان لاؤ اور کافروں میں سے مت ہو… پس اگر تو عقلمند ہے تو فکر کر اور جان کہ ہمارے نبی کریم ﷺ جیسا کہ
پانچویں ہزار میں مبعوث ہوئے۔ ایسا ہی مسیح موعود کی بروزی صورت اختیار کر کے چھٹے ہزار کے آخر میں مبعوث
ہوئے… بلکہ حق یہ ہے کہ آنحضرت ﷺ کی روحانیت چھٹے ہزار کے آخر میں یعنی ان دنوں میں بہ نسبت ان سالوں کے
اقویٰ اور اکمل اور اشد ہے۔ بلکہ چودھویں رات کے چاند کی طرح ہے۔‘‘ (ترجمہ)
(خطبہ الہامیہ ص۱۷۷تا۱۸۲، خزائن ج۱۶ ص۲۶۶تا۲۷۲)
’’اس تشریح نے کاالشمس فی نصف النہار ظاہر کر دیا کہ مسیح موعود کی بعثتآنحضرت ﷺ کی بعثت ہے اور صرف
فنافی الرسول کا درجہ مراد نہیں جو اولیاء محمدیہ میں سے بہتوں کو نصیب ہوا اور نہ مثیل کا جس میں تھوڑی سی
مشابہت بھی کافی ہوتی بلکہ یہاں تو معاملہ ہی جدا ہے۔‘‘
(تشحیذ الاذہان قادیان ج۸ نمبر۱۲ ص۵۸۶، ماہ دسمبر ۱۹۱۳ء)
قادیانی صاحبان اکثر دوسروں کو یاد دلاتے ہیں۔ مرنا ہے، خدا کو منہ دکھانا ہے۔ کبھی کبھی تاویل کرتے
وقت خود بھی اگر عاقبت کو یاد کر لیں تو شاید ان کے حق میں بہتر ہو۔
(۲۱) مرزاقادیانی کی نبوت
قادیانی صاحبان نے مرزاغلام احمد کی نبوت کی جو ضرورت بیان فرمائی ہے اس کے مدنظر وہ اپنی مصلحت سے
مجبور معلوم ہوتے ہیں۔ اگر نبوت سے دست برداری دیتے ہیں تو مسیحیت بھی جاتی ہے اور بقول قادیانی صاحبان،
’’اگر ان کا یہ دعویٰ غلط قرار پائے تو سارا قصہ ہی تمام ہو جائے۔‘‘ اس لئے مسیحیت منوانے کے واسطے نبوت کا
دعویٰ لابد ہوگیا۔ چنانچہ ملاحظہ ہو:
’’ظاہر ہے کہ جو شخص مسیح موعود ہونے کا مدعی ہو اس کا نبی ہونا ضروری ہے۔ اگر حضرت مرزاصاحب کہیں یہ
کہہ دیتے کہ میں نبی نہیں ہوںتو ان کا دعویٰ مسیح موعود اس طرح باآسانی رد کیا جاسکتا تھا کہ ہم کسی ایسے
مسیح کے منتظر نہیں کئے گئے جو نبی نہ ہو۔ اس لئے اصل بحث طلب دعویٰ حضرت کا دعویٰ مسیحیت ہے۔ اگر ان کا یہ
دعویٰ غلط قرار پا جائے تو سارا قصہ ہی ختم ہو جاتا ہے۔‘‘
(تصدیق احمدیت ص۳۹)
اب نبوت کی تشریح ملاحظہ ہو:
’’اس لئے احمدیوں میں سے کوئی شخص بھی اس کا قائل نہیں ہے کہ حضرت مرزاصاحب امت محمدیہ میں سے الگ
ہوکر کوئی ایسے نبی تھے جو براہ راست خدا سے ہدایت پاکر علیحدہ مذہب اور شریعت لے کر آتا ہے۔‘‘
(تصدیق احمدیت ص۲۹)
672
’’میں حضرت مرزاصاحب کی نبوت کی نسبت لکھ آیا ہوں کہ نبوت کے حقوق کے لحاظ سے وہ ویسی ہی نبوت ہے جیسے
اور نبیوں کی صرف نبوت کے حاصل کرنے کے طریقوں میں فرق ہے۔ پہلے انبیاء نے بلاواسطہ نبوت پائی اور آپ نے
بالواسطہ۔‘‘
(القول الفصل ص۳۳، انوارالعلوم ج۲ ص۲۹۳)
’’اور ہمارے نزدیک تو کوئی دوسرا آیا ہی نہیں۔ نہ نیا نبی نہ پرانا۔ بلکہ خود محمد رسول اللہ ﷺ کی چادر
دوسرے کو پہنائی گئی ہے اور وہ خود ہی آئے ہیں۔‘‘
(ارشاد مرزاقادیانی مؤرخہ ۱۹؍نومبر ۱۹۰۱ء، ملفوظات ج۲ ص۴۰۴، جدید ملفوظات ج۱ ص۵۸۵)
’’اور یہ اس لئے ہے کہ اللہ تعالیٰ کا وعدہ تھا کہ وہ ایک دفعہ اور خاتم النّبیین کو دنیا میں مبعوث کرے
گا۔ جیسا کہ آیت آخرین منہم سے ظاہر ہے۔ پس مسیح موعود خود محمد رسول اللہ ہے جو اشاعت اسلام کے لئے دوبارہ
دنیا میں تشریف لائے۔‘‘
(کلمۃ الفصل مصنفہ بشیراحمد مندرجہ ریویو آف ریلیجنز قادیان ج۱۴ نمبر۴ ص۱۵۸، بابت ماہ اپریل ۱۹۱۵ء)
-
محمد پھر اتر آئے ہیں ہم میں
اور آگے سے ہیں بڑھ کر اپنی شاں میں
(البدر قادیان ج۲ نمبر۴۳ ص۱۴ کالم۱، مؤرخہ ۲۵؍اکتوبر ۱۹۰۶ء، منقول از اخبار پیغام صلح لاہور مؤرخہ
۱۴؍مارچ ۱۹۱۶ء)
(۲۲) حمل کی بحث
مرزاغلام احمد کے حمل کا ماجرا بظاہر عجیب معلوم ہوتا ہے۔ لیکن قادیانی صاحبان کا بیان ہے کہ تصوف میں
یہ بھی ایک مقام ہے۔ چنانچہ اسی رعایت سے ہم نے بھی عنوان الہامی حمل رکھا ہے۔ خالی حمل میں مغالطہ کا
اندیشہ تھا۔ بہرحال قادیانی تصوف کے نکات ملاحظہ ہوں:
’’اسی طرح میری کتاب اربعین نمبر۴ ص۱۹ میں بابو الٰہی بخش کی نسبت یہ الہام ہے… یعنی بابو الٰہی بخش
چاہتا ہے کہ تیرا حیض دیکھے یا کسی پلیدی اور ناپاکی پر اطلاع پائے۔ مگر خداتعالیٰ تجھے اپنے انعامات
دکھلائے گا جو متواتر ہوں گے۔ تجھ میں حیض نہیں بلکہ وہ بچہ ہوگیا ہے۔ ایسا بچہ جو بمنزلہ اطفال اللہ کے ہے۔‘‘
(تتمہ حقیقت الوحی ص۱۴۳، خزائن ج۲۲ ص۵۸۱)
’’حضرت مسیح موعود نے ایک موقع پر اپنی حالت یہ ظاہر فرمائی ہے کہ کشف کی حالت آپ پر اس طرح طاری ہوئی
کہ گویا آپ عورت ہیں اور اللہ تعالیٰ نے رجولیت کی قوت کا اظہار فرمایا تھا۔ سمجھنے والے کے لئے اشارہ کافی
ہے۔‘‘
(اسلامی قربانی ٹریکٹ نمبر۳۴ ص۱۲، مصنفہ قاضی یار محمد قادیانی، مطبوعہ ریاض ہند پریس امرتسر)
’’مریم کی طرح عیسیٰ کی روح مجھ میں نفخ کی گئی اور استعارہ کے رنگ میں مجھے حاملہ ٹھہرایا گیا اور
آخر کئی مہینے کے بعد جو دس مہینے سے زیادہ نہیں بذریعہ اس الہام… مجھے مریم سے عیسیٰ بنایا گیا۔ پس اس طور
پر میں ابن مریم ٹھہرا۔‘‘
(کشتی نوح ص۴۶،۴۷، خزائن ج۱۹ ص۵۰)
قادیانی صاحبان، مرزاغلام احمد کی تصدیق کرتے ہیں۔ لیکن قاضی صاحب کو مجنون بتاتے ہیں۔ نزلہ برعضو
ضعیف می ریزد۔ قادیانی صاحبان نے مرزاغلام احمد کے حمل کی ایک نظم بھی درج کی ہے اور فرمائش کی ہے کہ جس کو
ذوق تصوف ہے، سنے اور سر دھنے۔ یہ تصوف ان ہی صاحبان کو مبارک ہو۔ انہیں اختیار ہے سردھنیں یا سر پٹخیں۔
(۲۳) حضرت مسیح کی شان
مرزاغلام احمد قادیانی نے جب مسیح موعود ہونے کا دعویٰ کیا تو عیسائیوں سے بھی خوب چلی۔ مناظرے ہوئے۔
اشتہار بازی
673
ہوئی۔ گالی گلوچ تو کوئی بات ہی نہ تھی۔ فوجداری تک نوبت پہنچی۔ مقدمے چلے۔ ان تمام معرکوں میں سب سے
زیادہ مشہور عبد اللہ آتھم کا قصہ ہے کہ اوّل مرزاغلام احمد قادیانی نے اس سے مناظرہ کیا۔ پھر یہ پیش گوئی کہ
اتنے عرصہ کے اندر فلاں تاریخ تک وہ مر جائے گا۔ ضعیف اور سن رسیدہ ہونے کے باوجود وہ پیش گوئی کی تاریخ پر
نہ مرا، بلکہ کافی عرصہ تک بعد کو زندہ رہا۔ چنانچہ ایک چشم دیدہ یادگار مولوی رحیم بخش قادیانی، ایم۔اے نے
اپنے والد صاحب (مرزاغلام احمد کے ایک صحابی یعنی ماسٹر قادر بخش قادیانی) کے حالات میں لکھی ہے جو ذیل میں
پیش کرتے ہیں۔ بہت سبق آموز ہے:
’’۵؍ستمبر ۱۸۹۴ء کو جس دن عبد اللہ آتھم والی پیش گوئی کے پورا ہونے کا انتظار تھا، آپ (یعنی ماسٹر قادر
بخش) قادیان میں تھے فرمایا کرتے تھے کہ حضرت (مرزاقادیانی) صاحب اس دن یہ فرماتے تھے کہ آج سورج غروب نہیں
ہوگا کہ آتھم مرجائے گا۔ مگر جب سورج غروب ہوگیا تو لوگوں کے دل ڈولنے لگے۔ آپ(یعنی ماسٹر قادر بخش) فرماتے
تھے کہ اس وقت مجھے کوئی گھبراہٹ نہیں تھی، ہاں فکر اور حیرانی ضرور تھی۔ لیکن جس وقت حضور نے تقریر فرمائی
اور ابتلاؤں کی حقیقت بتلائی تو طبیعت بشاش اور انشراح صدر پیدا ہوگیا اور ایمان تازہ ہوگیا۔ (ماسٹر قادر
بخش) فرماتے تھے کہ میں نے امرتسر جاکر عبد اللہ آتھم کو خود دیکھا۔ عیسائی اسے گاڑی میں بٹھائے ہوئے بڑی دھوم
دھام سے بازاروں میں لئے پھرتے تھے۔ لیکن اسے دیکھ کر یہ سمجھ گیا کہ واقعہ میں یہ مر گیا ہے اور یہ صرف اس
کا جنازہ ہے جسے لئے پھرتے ہیں، آج نہیں تو کل مر جائے گا۔‘‘
(الحکم قادیان ج۲۵ نمبر۳۴، مؤرخہ ۷؍ستمبر۱۹۲۳ء)
بعد کو اس پیشین گوئی پر بڑا ہنگامہ مچا۔ لوگوں نے مرزاغلام احمد کو بہت چھیڑا اور خوب گالیاں کھائیں۔
دوسری غلط پیش گوئیوں کی طرح اس کی تاویل کو بھی بہت کچھ طول دیا گیا اور سخن پروری کا سلسلہ برابر جاری ہے۔
بہرحال ان قصوں میں لامحالہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام اورحضرت مریم علیہا السلام دونوں لپیٹ میں آگئے۔
عیسائیوں کی طرف سے دل جلا ہوا تھا۔ مرزاغلام احمد نے خوب دل کا بخار نکالا اور دل کو یوں سمجھا لیا کہ
عیسائیوں کے مسیح اور مریم کو برا کہتا ہوں اور عیسائیوں سے بدزبانی کا بدلہ لیتا ہوں۔ اس روداد کو جاننے کے
بعد سمجھ میں آسکے گا کہ یہودیوں کے پردے میں مرزاغلام احمد نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام اور ان کی والدہ
محترمہ حضرت مریم علیہا السلام کی شان میں اس درجہ گستاخی کیوں اختیار کی، مثلاً ملاحظہ ہو:
’’ایک مردہ پرست فتح مسیح نام نے فتح گڑھ تحصیل بٹالہ ضلع گورداسپور سے پھر اپنی پہلی بے حیائی کو
دکھلا کر ایک گندہ اور بدزبانی سے بھرا ہوا خط لکھا ہے۔ جس میں وہ پھر اپنی بے شرمی سے کام لے کر یہ ذکر بھی
درمیان میں لاتا ہے کہ آتھم کی نسبت پیش گوئی پوری نہیں ہوئی۔ سو ہم اس پیش گوئی کے پورا ہونے کے بارے میں
بہت کچھ ثبوت رسالہ انوار الاسلام اور رسالہ ضیاء الحق اور رسالہ انجام آتھم میں دے چکے ہیں… یسوع کی تمام
پیش گوئیوں میں سے جو عیسائیوں کا مردہ خدا ہے، اگر ایک پیش گوئی بھی اس پیش گوئی کے پلہ اور ہم وزن ثابت ہو
جائے تو ہم ہر ایک تاوان دینے کو تیار ہیں… عیسائیوں نے بہت سے آپ (حضرت عیسیٰ) کے معجزات لکھے ہیں مگر حق
بات یہ ہے کہ آپ سے کوئی معجزہ نہیں ہوا… ممکن ہے آپ نے معمولی تدبیر کے ساتھ کسی شب کور وغیرہ کو اچھا کیا
ہو یا کسی اور ایسی بیماری کا علاج کیا ہو مگر آپ کی بدقسمتی سے اسی زمانہ میں ایک تالاب بھی موجود تھا جس
سے بڑے بڑے نشان ظاہر ہوتے تھے… اسی تالاب سے آپ کے معجزات کی پوری پوری حقیقت کھلتی ہے اور اسی تالاب نے
فیصلہ کر دلیا ہے کہ اگر آپ سے کوئی معجزہ بھی ظاہر ہوا تو وہ معجزہ آپ کا نہیں بلکہ اس تالاب کا معجزہ ہے
اور آپ کے ہاتھ میں سوا مکروفریب کے اور کچھ نہیں تھا۔ پھر افسوس کہ نالائق عیسائی ایسے شخص کو خدا بنارہے
ہیں۔ آپ کا خاندان بھی نہایت پاک اور مطہر ہے۔ تین دادیاں اور نانیاں آپ کی زناکار اور کسبی عورتیں تھیں جن
کے خون سے آپ کا وجود ظہور
674
پذیر ہوا۔ مگر شاید یہ بھی خدائی کے لئے ایک شرط ہوگی۔ آپ کا کنجریوں سے میلان اور صحبت بھی شاید اسی
وجہ سے ہو کہ جدی مناسبت درمیان ہے ورنہ کوئی پرہیزگار انسان ایک جوان کنجری کو یہ موقعہ نہیں دے سکتا کہ وہ
اس کے سر پر اپنے ناپاک ہاتھ لگاوے اور زناکاری کی کمائی کا پلید عطر اس کے سر پر ملے اور اپنے بالوں کو اس
کے پیروں پر ملے۔ سمجھنے والے سمجھ لیں کہ ایسا انسان کس چلن کا آدمی ہوسکتا ہے… بالآخر ہم لکھتے ہیں کہ
ہمیں پادریوں کے یسوع اور اس کے چال چلن سے کچھ غرض نہ تھی۔ انہوں نے ناحق ہمارے نبی ﷺ کو گالیاں دے کر ہمیں
آمادہ کیا کہ ان کے یسوع کا کچھ تھوڑا سا حال ان پر ظاہر کریں۔‘‘
(ضمیمہ رسالہ انجام آتھم ص۳تا۸، خزائن ج۱۱ ص۲۸۷تا۲۹۲ حاشیہ)
اب تک تو یہ عذر تھا کہ ہم عیسائیوں کے یسوع کو برا کہتے ہیں۔ اب اسلام کے عیسیٰ پر کیا عنایت ہوتی ہے
وہ بھی ملاحظہ فرمائیے:
’’اور یہود تو حضرت عیسیٰ کے معاملے میں اور ان کی پیش گوئیوں کے بارے میں ایسے قوی اعتراض رکھتے ہیں
کہ ہم بھی ان کا جواب دینے میں حیران ہیں، بغیر اس کے کہ یہ کہہ دیں کہ ضرور عیسیٰ نبی ہے۔ کیونکہ قرآن نے
اس کو نبی قرار دیا ہے اور کوئی دلیل ان کئی نبوت پر قائم نہیں ہوسکتی، بلکہ ابطال نبوت پر کئی دلائل قائم
ہیں۔ یہ احسان قرآن کا ان پر ہے کہ ان کو بھی نبیوں کے دفتر میں لکھ دیا ہے۔
غرض قرآن شریف نے حضرت مسیح کو سچا قرار دیا ہے، لیکن افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ ان پیش گوئیوں پر یہود
کو سخت اعتراض ہیں جو ہم کسی طرح ان کو دفع نہیں کرسکتے، صرف قرآن کے سہارے سے ہم نے مان لیا ہے اور سچے دل
سے قبول کیا ہے اور بجز اس کے ان کی نبوت پر ہمارے پاس کوئی بھی دلیل نہیں۔ عیسائی تو ان کی خدائی کو روتے
ہیں۔ مگر یہاں نبوت بھی ان کی ثابت نہیں ہوسکتی۔ ہائے کس کے آگے یہ ماتم لے جائیں کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام
کی تین پیش گوئیاں صاف طور پر جھوٹی نکلیں۔‘‘
(اعجاز احمدی ضمیمہ نزول المسیح ص۱۳،۱۴، خزائن ج۱۹ ص۱۲۰)
مندرجہ بالا اقتباسات پڑھنے سے واضح ہو گا کہ درپردہ مرزاغلام احمد کو اپنی پیش گوئیوں بالخصوص آتھم
والی پیش گوئی کے غلط ہونے کی خفت ہے۔ لوگوں کے طعن وتشنیع کا ملال ہے اور وہ کس طرح باتوں باتوں میں
عیسائیوں کے دل جلانے کو حضرت عیسیٰ علیہ السلام پر اپنا غصہ نکالتے ہیں۔
مگر مرزاغلام احمد کی ستم ظریفی کا سلسلہ ابھی جاری ہے۔
’’اور مفسد اور مفتری ہے وہ شخص جو مجھے کہتا ہے کہ میں مسیح ابن مریم کی عزت نہیں کرتا۔ بلکہ مسیح تو
مسیح میں تو اس کے چاروں بھائیوں کی بھی عزت کرتا ہوں۔ کیونکہ پانچوں ایک ہی ماں کے بیٹے ہیں۔ نہ صرف اس قدر
بلکہ میں تو حضرت مسیح کی دونوں حقیقی ہمشیروں کو بھی مقدسہ سمجھتا ہوں۔ کیونکہ یہ سب بزرگ مریم بتول کے پیٹ
سے ہیں اور مریم کی وہ شان ہے جس نے ایک مدت تک اپنے تئیں نکاح سے روکا۔ پھر بزرگان قوم کے نہایت اصرار سے
بوجہ حمل کے نکاح کر لیا۔ گو لوگ اعتراض کرتے ہیں کہ برخلاف تعلیم توریت عین حمل میں کیونکر نکاح کیاگیا اور
بتول ہونے کے عہد کو کیوں ناحق توڑا گیا اور تعدد ازواج کی کیوں بنیاد ڈالی گئی۔ یعنی باوجود یوسف نجار کی
پہلی بیوی کے ہونے کے پھرمریم کیوں راضی ہوئی کہ یوسف نجار کے نکاح میں آوے۔ مگر میں کہتا ہوں کہ یہ سب
مجبوریاں تھیں جو پیش آگئیں۔ اس صورت میں وہ لوگ قابل رحم تھے نہ قابل اعتراض۔‘‘
(کشتی نوح ص۱۶، خزائن ج۱۹ ص۱۷،۱۸)
اللہ رے بیباکی، کیسے طنز آمیز کنایات ہیں کہ ایمان لرز جائے لیکن قادیانی صاحبان کے نزدیک سب بجا اور
درست ہے۔ اس میں کوئی مضائقہ کی بات نہیں۔ قادیانی اخلاق میں بہت وسعت ہے۔ لیکن مرزاغلام احمد بات کو اس حد
تک بڑھاتے ہیں ان کا دلی منشاء سمجھنے میں کسی شک کی گنجائش نہ رہے، استغفر اللہ !
675
’’پانچواں قرینہ ان کے (یعنی افغانیوں کے) وہ رسوم ہیں جو یہودیوں سے بہت ملتے ہیں۔ مثلاً ان کے بعض
قبائل ناطہ اور نکاح میں کچھ چنداں فرق نہیں سمجھتے اور عورتیں اپنے منسوب سے بلاتکلف ملتی ہیں اور باتیں
کرتی ہیں۔ حضرت مریم صدیقہ کا اپنے منسوب یوسف کے ساتھ قبل نکاح کے پھرنا اس اسرائیلی رسم پر پختہ شہادت
ہے۔‘‘
(ایام صلح ص۶۶، خزائن ج۱۴ ص۳۰۰ حاشیہ)
’’بزرگوں نے بہت اصرار کر کے بسرعت تمام مریم کا اس (یوسف نجار) سے نکاح کرادیا اور مریم کو ہیکل سے
رخصت کرادیا۔ خدا کے مقدس گھر پر نکتہ چینیاں نہ ہوں۔ کچھ تھوڑے دنوں کے بعد ہی وہ لڑکا پیدا ہوگیا جس کا
نام یسوع رکھا گیا۔‘‘
(اخبار الحکم قادیان ج۶ نمبر۲۶ ص۱۶ کالم۲، مؤرخہ ۲۴؍جولائی ۱۹۰۲ء)
’’یسوع مسیح کے چار بھائی اور دو بہنیں تھیں۔ یہ سب یسوع کے حقیقی بھائی اور حقیقی بہنیں تھیں۔ یعنی
سب یوسف اور مریم کی اولاد تھی۔‘‘
(کشتی نوح ص۱۷، خزائن ج۱۹ ص۱۸ حاشیہ)
کیا قادیانی صاحبان سے توقع ہوسکتی ہے کہ مطلب سمجھیں اور استغفار کریں؟
(۲۴) کنویں میں چنے
مرزاغلام احمد قادیانی کو پیش گوئی کا بڑا دعویٰ تھا اور اس کو اپنی نبوت کا بڑا کمال سمجھتے تھے۔
معرکہ کی پیش گوئیوں میں آتھم کی پیش گوئی بھی بہت مشہور ہے۔ چنانچہ اس کا مختصر ذکر اوپر آچکا ہے۔ اس پیش
گوئی کی خاطر مرزاغلام احمد نے کیاکیا کوششیں کیں؟ ذیل کے ایک واقعہ سے اس کا اندازہ ہوسکتا ہے اور اسی
مرزاغلام احمد کی ذہنیت کا بھی پتہ چلتا ہے۔ یوں بھی ایک لطیفہ ہے۔ چنانچہ ملاحظہ ہو:
’’بیان کیا مجھ سے میاں عبد اللہ صاحب سنوری نے کہ جب آتھم کی میعاد میں صرف ایک دن باقی رہ گیا تو حضرت
مسیح موعود نے مجھ سے اور میاں حامد علی مرحوم سے فرمایا کہ اتنے چنے (مجھے تعداد یاد نہیں رہی کہ کتنے چنے
آپ نے بتائے تھے) لے لو اور ان پر فلاں سورت کاوظیفہ اتنی تعداد میں پڑھو۔ (مجھے وظیفے کی تعداد بھی یاد
نہیں رہی) میاں عبد اللہ صاحب بیان کرتے ہیں کہ مجھے وہ سورۃ یاد نہیں رہی۔ مگر اتنا یاد ہے کہ وہ کوئی چھوٹی
سی سورت تھی جیسے ’’الم ترکیف فعل ربک باصحاب الفیل… الخ‘‘ ہے اور ہم نے یہ وظیفہ
قریباً ساری رات صرف کر کے ختم کیا تھا۔ وظیفہ ختم کرنے پر ہم وہ دانے حضرت صاحب کے پاس لے گئے کیونکہ آپ نے
ارشاد فرمایا تھا کہ وظیفہ ختم ہونے پر یہ دانے میرے پاس لے آنا۔ اس کے بعد حضرت صاحب ہم دونوں کو قادیان سے
باہر غالباً شمال کی طرف لے گئے اور فرمایا، یہ دانے کسی غیرآباد کنویں میں ڈالے جائیں گے اور فرمایا کہ جب
میں دانے کنویں میں پھینک دوں تو ہم سب کو سرعت کے ساتھ منہ پھیر کر واپس لوٹ آنا چاہئے اور مڑ کر نہیں
دیکھنا چاہئے۔ چنانچہ حضرت صاحب نے ایک غیرآباد کنویں میں ان دانوں کو پھینک دیا اور پھر جلدی سے منہ پھیر
کر سرعت کے ساتھ واپس لوٹ آئے اور ہم بھی آپ کے ساتھ جلدی جلدی واپس چلے آئے اور کسی نے منہ پھیر کر پیچھے
کی طرف نہیں دیکھا۔‘‘
(سیرت المہدی حصہ اوّل ص۱۵۹،۱۶۰، روایت نمبر۱۵۶، جدید ج۱ حصہ اوّل ص۱۶۲،۱۶۳، روایت نمبر۱۶۰)
(۲۵) حق ایجاد
مرزاغلام احمد کی زندگی کے دودور کی بحث پر قادیانی صاحبان نے ہم کو مسیحی پادریوں سے تشبیہ دی ہے۔
حالانکہ وہ واقف ہیں کہ دو دور کی بحث خود ان کے خلیفہ قادیان مرزامحمود کی ایجاد ہے۔ خلیفہ قادیان اسی
ایجاد پر مرزاغلام احمد کی نبوت کی بنیاد جماتے ہیں۔ اپنے
676
مذہب کی ساری عمارت بناتے ہیں۔ جس کو دیکھ کر غیرتو غیر خود مال اندیش قادیانی بہت واویلا مچاتے ہیں
کہ ہائے میاں صاحب کیا غضب ڈھاتے ہیں۔
بہرحال مسیحی پادریوں سے مشابہت کا جو کمال ہے وہ خود قادیانی خلیفہ کا حصہ ہے اور کوئی اس میں کیونکر
شریک ہوسکتا ہے۔ اوّل تو دودور کا حق ایجاد ان ہی کو حاصل ہے۔ دوم خود ان کے والد مسیح موعود تھے اور پہلے
مسیح سے افضل تھے۔ لہٰذا افضل مسیح کا بیٹا اور خلیفہ تو بڑے بڑے مسیح پادریوں سے بڑھ کر ہوا چہ جائیکہ
قادیانی صاحبان اپنی بے توفیقی سے ان کو مسیحی پادریوں کے برابر مشابہ ماننے میں بخل کریں۔
مرزاغلام احمد کی زندگی کے دو دور خود مرزامحمود خلیفہ قادیان کی خاص تحقیق ہے۔ اگرچہ لاہوری جماعت کو
تو اب بھی اس دو رنگی سے انکار ہے۔ ملاحظہ ہو:
’’اس سے ثابت ہوتا ہے کہ ۱۹۰۱ء میں آپ نے اپنے عقیدہ میں تبدیلی کی ہے اور ۱۹۰۰ء ایک درمیانی عرصہ ہے
جو دونوں خیالات کے درمیان برزخ کے طور پر حد فاصل ہے۔ پس… یہ ثابت ہے کہ ۱۹۰۱ء سے پہلے کے وہ حوالے جن میں
آپ (مرزاغلام احمد) نے نبی ہونے سے انکار کیا ہے، اب منسوخ ہیں اور ان سے حجت پکڑنی غلط ہے۔‘‘
(حقیقت النبوۃ حصہ اوّل ص۱۲۱، انوارالعلوم ج۲ ص۴۴۴،۴۴۵)
(۲۶) قادیانی لام
تصدیق احمدیت کے بعض حصے تو اپنی یبوست اور سخن سازی کے لحاظ سے سراسر قانونی جواب دعویٰ معلوم ہوتے
ہیں جس میں حق ناحق سے بڑھ کر مقدمہ کی ہارجیت کا جذبہ غالب ہے، وکالت میں پختہ کاری کا حق ادا کیاگیا ہے۔
باقی حصے مضمون نگاری کے ادنیٰ نمونے ہیں تاہم کہیں کہیں انشاء پردازی کی بھی کوشش نظر آتی ہے۔ چنانچہ ایک
جگہ ہم پر خوب لام باندھا ہے۔ ملاحظہ ہو:
’’یہ ہے برنی صاحب کے صرف کا حال، اس کی ایک اور مثال، ان کا باطل خیال، غریب کم علم لوگوں کے لئے جال
اور حق کو دبانے کی ایک چال، جو ان شاء اللہ ایک دن ضرور لائے گی ان پر وبال۔‘‘
(تصدیق احمدیت ص۱۳۵)
جن صاحب نے بھی ہمت کی داد کے مستحق ہیں۔ لیکن اگر محض قیاس آرائی کے بجائے واقعات پر طبع آزمائی کرتے
تو عبارت اور مضمون میں بہت اصلاح ممکن تھی۔ مثلاً:
ملتے ملتے رہ گیا مال۔ اگلی باتیں خواب وخیال روزوشب ہے یہی ملال۔ کیسا آگیا زوال۔ سنبھلنا ہوگیا
محال۔ حواس نہیں رہے بحال، کہ نظر آکیا مآل، انفعال، انفعال، انفعال، انفعال۔
(۲۷) قرآنی احکام
قادیانی صاحبان جو صاف صاف قرآن کی گرفت میں آئے تو بہت گھبرائے۔ لیکن سورۂ توبہ میں اپنا حال پڑھ کر
بھی توبہ کی توفیق نہیں ہوئی بلکہ حسب عادت گریز اختیار کیا۔ کچھ ہماری تضحیک، کچھ قرآن کریم کی تاویل۔ مگر
اس درجہ بے اختیار وبے محل کہ حرکت مذبوحی معلوم ہوتی ہے۔ آخر یہ فرار کب تک۔ آج نہیں تو کل حقیقت کھل جائے
گی۔ زبان درازی کام نہ آئے گی۔ بلکہ انجام بد دکھائے گی۔
کیفیت یہ ہے کہ قادیانی صاحبان اپنی کارگزاریاں دکھاتے ہیں۔ کارنامے سناتے ہیں۔ کاموں پر اتراتے ہیں۔
ان میں دو جماعتیں ہیں۔ لاہوری اپنے عقائد میں نسبتاً نرم ہیں اور قادیانی سخت۔ حتیٰ کہ وہ اسلام کو صرف
اپنا حق بتاتے ہیں۔ تمام مسلمانوں کو کافر
677
بناتے ہیں۔ رشتے ناتے، غمی، شادی کے تعلقات چھڑاتے ہیں۔ خوب تفرقہ پھیلاتے ہیں۔ یہ لوگ مرزاغلام احمد
قادیانی کی امت کہلاتے ہیں۔ مرزاغلام احمد اپنے کو مسیح موعود اور مہدی معہود بتاتے ہیں۔ نبوت اور رسالت تک
جاتے ہیں۔ بڑے بڑے دعویٰ زبان پر لاتے ہیں۔ جن سے ایمان لرز جاتے ہیں۔ یہ لوگ ان کے مذہب کی تبلیغ کراتے
ہیں۔ مگر ٹوکئے تو قسمیں کھاتے ہیں کہ ہم تو اسلام کی خیرمناتے ہیں۔ گویا الٹی خیرخواہی جتاتے ہیں۔
معروضہ یہ تھا کہ قادیانی دعوؤں کا قرآن شریف سے ایسا جواب ملے کہ ان کی اصل حقیقت عیاں ہوجائے۔ سو
بطفیل نبی کریم ﷺ اس بارے میں جو ایماء ہوا وہ سراسر قرآن شریف کا معجزہ ہے۔ گویا کہ قادیانی تحریک کا نقشہ
کھینچ دیا۔ اس پر بھی آنکھیں نہ کھلیں تو مایوسی ہے۔ ’’من کان فی ہذہ اعمی فہو فی الاخرۃ
اعمی واضل سبیلا (۱۵/۸) نعوذ باللہ من ذالک‘‘
قرآنی احکام ملاحظہ ہوں۔ سبحان اللہ ! کیا اعجاز ہے:
آیات:
’’وقل اعملوا فسیر اللہ عملکم ورسولہ والمؤمنون وسترودون الیٰ عالم الغیب والشہادۃ فینبکم
بما کنتم تعملون واخرون مرجون لامر اللہ امایعذبہم واما یتوب علیہ و اللہ علیم حکیم۔ والذین اتخذوا مسجدا
ضرارا وکفرا وتفریقا بین المؤمنین وارصادا لمن حارب اللہ ورسولہ من قبل ولیحلفن ان اردنا الا الحسنی و اللہ
یشہد انہم لکذبون (سورۂ توبہ رکوع۳)‘‘ {کہہ دو کہ کا کئے جاؤ پھر آگے دیکھئے گا
اللہ تمہارے عمل کو اور اس کا رسول اور مسلمان، اور جلد لوٹائے جاؤ گے ایسے کی جانب جو چھپے اور کھلے کا
واقف ہے تو وہ تم کو جتادے گا جو تم کر رہے تھے اور کچھ وہ لوگ ہیں جن کا معاملہ ملتوی ہے اللہ کے حکم پر
یا ان کو عذاب دے یا ان کی توبہ قبول فرمائے اور اللہ جاننے والا اور حکمت والا ہے اور دوسرے وہ لوگ جنہوں
نے بنا کھڑی کی ہے ایک جدا مسجد ضرر پہنچانے اور کفر کرنے اور پھوٹ ڈالنے کو مسلمانوں میں اور پناہ دینے
کو اس شخص کو جو لڑ رہا ہے اللہ اور اس کے رسول سے پہلے سے اور اب قسم کھانے لگیں گے بجز بھلائی کے ہمیں
کچھ مقصود نہ تھا اور اللہ گواہ ہے کہ وہ بالکل کاذب اور جھوٹے ہیں۔ (۴۵/۴)
کاذبین کی حقیقت قرآن کریم سے بخوبی واقف ہوگئی۔ ’’لعنۃ اللہ علی الکاذبین‘‘ جو
قادیانی صاحبان ہمیشہ ورد کرتے ہیں، یہ تو صریح خودکشی ہے۔ اس کے بجائے توبہ اور استغفار کریں تو ممکن ہے کہ
فتنہ سے خلاصی ہوکر پھر ہدایت نصیب ہو۔ بہرحال اللہ تعالیٰ مسلمانوں کو فتنہ سے محفوظ رکھے اور صراط مستقیم پر
استقامت عطاء فرمائے۔ ’’ربنا لاتزغ قلوبنا بعد اذ ہدیتنا وہب لنا من لدنک رحمۃ انک انت
الوہاب
واخر دعوانا ان الحمد اللہ رب العلمین والصلوٰۃ والسلام علی سید المرسلین خاتم النّبیین وعلی الہ
وصحبہ اجمعین برحمتک یا ارحم الراحمین‘‘
678
بسم اللہ الرحمٰن الرحیم
ضمیمہ سوم
قادیانی کتاب
-
اس ستم گر کو ستم گر نہیں کہتے بنتا
سعی تاویل خیالات چلی جاتی ہے
(۱) تمہید
قادیانی صاحبان کی طرف سے حال میں پھر ایک کتاب ’’ہمارا مذہب‘‘ شائع ہوئی ہے۔ گویا قادیانی نقطۂ نظر
سے اس میں قادیانی مذہب کی تشریح ہے۔ اس کے مؤلف مولوی فاضل علی محمد اجمیری قادیانی ہیں۔ سرورق پر لکھا ہے
اور نیز اخبارات میں اعلان کیا ہے کہ اس میں پروفیسر الیاس برنی صاحب کے رسائل اربعہ ’’قادیانی مذہب‘‘
ایڈیشن اوّل وایڈیشن دوم ’’قادیانی جماعت‘‘ اور ’’قادیانی حساب‘‘ کا مکمل ومدلل جواب دیاگیا ہے۔
(۲) تالیفات کا سلسلہ
مذکورہ بالا کتاب میں ہماری جن تالیفات کا حوالہ دیا ہے، ان کی کیفیت یہ ہے کہ سب سے اوّل قادیانی
صاحبان نے حیدرآباد سے ایک رسالہ شائع کیا تھا۔ ’’ختم نبوت اور جناب پروفیسر الیاس برنی‘‘ اس کے بعد ہماری
پہلی مختصر کتاب ’’قادیانی مذہب‘‘ شائع ہوئی۔ پانچ فصلوں کے تحت پچاس عنوان، ہر عنوان کے ذیل میں قادیانی
کتب کے چند اقتباسات تقطیع چھوٹی، حجم صرف ایک سو بیس صفحے۔ اس کے بعد قادیانی صاحبان نے بنگلور سے دوسرا
رسالہ شائع کیا ’’الیاس برنی کا علمی محاسبہ‘‘ اس کے جواب میں ہمارا ایک رسالہ ’’قادیانی جماعت‘‘ کے عنوان
سے شائع ہوا۔ اس کے بعد قادیانی صاحبان نے تیسرا رسالہ ’’احمدی جماعت‘‘ اور ایک کتاب ’’تصدیق احمدیت‘‘
قادیان سے شائع کی، ان دونوں کے جواب میں ہم نے ایک رسالہ ’’قادیانی حساب‘‘ شائع کردیا اور اس کے ساتھ ہماری
کتاب ’’قادیانی مذہب‘‘ کا دوسرا ایڈیشن بھی نکل آیا۔ گیارہ فصلوں کے تحت تقریباً ڈھائی سو عنوانات اور ہر
عنوان کے ذیل میں قادیانی کتب کے مختصر متعدد اقتباسات۔ اس طرح یہ دوسرا ایڈیشن متوسط تقطیع کے ۳۴۲صفحات پر
شائع ہوا۔ چنانچہ جدید قادیانی کتاب (ہمارا مذہب) کے سرورق پر ہمارے جن رسائل اربعہ کا ذکر ہے، ان میں سے
ایک رسالہ گویا یہ کتاب بھی ہے۔
خدا کے فضل سے اس دوران میں دو سال کے اندر ہی ہماری کتاب ’’قادیانی مذہب‘‘ کا تیسرا ایڈیشن بھی نکل
آیا، تیرہ فصلوں کے تحت چار سو عنوانات اور ہر عنوان کے ذیل میں قادیانی کتب کے متعدد اقتباسات۔ اس طرح یہ
کتاب تقریباً ایک سو قادیانی کتب پر حاوی ہوگئی، جن میں سے نصف خود مرزاغلام احمد قادیانی کی تصنیفات ہیں
اور باقی نصف قادیانی خلفاء اور اکابر کی تالیفات اور اس کے ساتھ یہ رسالہ ’’قادیانی کتاب‘‘ بھی شائع ہوگیا۔
اس سے جدید کتاب (ہمارامذہب) کی حقیقت معلوم ہو جائے گی۔
(۳) قادیانی رنگ
قادیانی صاحبان کے جن رسائل کا اوپر ذکر ہوا، ان میں سے ہر ایک کی روش جدا تھی، سب سے پہلے رسالہ میں
تاویل اور تضحیک
679
کا پہلو اختیار کیا کہ شاید ہماری ہوا خیزی ہو جائے اور ان کی بات رہ جائے، لیکن اس میں ناکامی ہوئی،
تو دوسرے رسالہ میں ہم پر دل کھول کر سیاسی الزام لگائے کہ شاید حکومت مغالطہ میں پڑ جائے۔ ہم کو دبائے یا
نقصان پہنچائے تو ان کو امن چین ہو جائے۔ اس میں بھی مایوسی ہوئی تو تیسرے رسالہ میں ہمارے مظالم اور اپنی
مظلومیت کا فسانہ سنایا کہ شاید یہ فسوں چل جائے، لوگوں کی ہمدردی ادھر سے ادھر پھر جائے۔ غرض کہ قادیانی
قرابا دین کے سب مجرب نسخے استعمال ہوئے، لیکن ؎
الٹی پڑ گئیں سب تدبیریں کچھ نہ دوا نے کام کیا
بلکہ ؎
مرض بڑھتا گیا جوں جوں دوا کی
حقیقت بخوبی عیاں ہوچکی تھی، قادیانی صاحبان کی سعی بے جا نے اور بھی قلعی کھول دی، بالآخر نوبت پہنچی
کہ ؎
-
بس ہجوم نا امیدی خاک میں مل جائے گی
وہ جو اک لذت ہماری سعی لاحاصل ہے
(۴) قادیانی کتاب
ان تین رسالوں کے سوا چوتھے نمبر پر قادیانی صاحبان نے ایک کتاب شائع کی ’’تصدیق احمدیت‘‘ یہ گویا
ہماری کتاب ’’قادیانی مذہب‘‘ کے پہلے ایڈیشن کا جواب ہے۔ جیسا کچھ بھی جواب ہے، اس کی اصولی تنقید ہم نے
اپنے رسالہ ’’قادیانی حساب‘‘ میں وضاحت سے پیش کر دی۔ خود قادیانی صاحبان نے بھی غالباً جلد محسوس کر لیا کہ
؎
جو چال بھی چلے وہ نہایت بری چلے
بالآخر پانچویں نمبر پر موجودہ کتاب (ہمارا مذہب) قادیانی صاحبان کی طرف سے شائع ہوئی ہے۔ اس کے سرورق
پر اعلان درج ہے کہ ’’اس میں پروفیسر الیاس برنی صاحب کے رسائل اربعہ ’’قادیانی مذہب‘‘ ایڈیشن اوّل وایڈیشن
دوم، ’’قادیانی جماعت‘‘ اور ’’قادیانی حساب‘‘ کا مکمل اور مدلل جواب دیا گیا ہے۔‘‘ لیکن کتاب دیکھئے تو
اعلان سے کوئی مطابقت نہیں ؎
اے طبل بلند بانگ درباطن ہیچ
ایسے بااصل اعلان میں ؎
چراکارے کند عاقل کہ باز آید پشیمانی
اعلان جو کچھ بھی ہو، واقعہ یہ ہے کہ اس کتاب میں بھی ’’تصدیق احمدیت‘‘ کی طرح ہماری کتاب ’’قادیانی
مذہب‘‘ کے صرف پہلے ایڈیشن سے مفصل بحث کی گئی ہے۔ برائے گفتن دوسرے ایڈیشن کا بھی کہیں کہیں سرسری طور پر
ذکر آگیا ہے۔ حالانکہ دوسرے ایڈیشن کے بعد پہلے کی حیثیت ایک جزو سے زیادہ نہیں رہی اور وہ بھی اس میں ضم
ہوگیا، جدا نہیں رہا۔ ایسی صورت میں دوسرے ایڈیشن کے ہوتے ہوئے پہلے ایڈیشن کو جواب کا مدار بنانا بظاہر عبث
معلوم ہوتا ہے لیکن راز یہ ہے کہ موجودہ کتاب فی الحقیقت ’’تصدیق احمدیت‘‘ کا اصلاح شدہ ایڈیشن ہے۔ اکثر
وبیشتر وہی اعتراضات، وہی عذرات، وہی تاویلات، وہی مغالطات ہیں، البتہ زبان وبیان کی خامیاں بہت کچھ رفع کر
دی ہیں۔ تاہم کتاب کا نام بھی بدل دیا کہ شمار میں ایک جواب کا اضافہ ہو جائے اور ’’تصدیق احمدیت‘‘ سے جو
بدنمائی ہوئی تھی، اس پر بھی پردہ پڑ جائے۔ ’’بیک کرشمہ درکار‘‘
680
(۵) تنقیح
تصدیق احمدیت اور موجودہ کتاب (ہمارا مذہب) میں جو اعتراضات اور عذرات مشترکہ ہیں، ان کی تنقید ہمارے
رسالہ ’’قادیانی حساب‘‘ میں موجود ہے۔ اعادہ کی ضرورت نہیں۔ یہ رسالہ بطور ضمیمہ ’’قادیانی مذہب‘‘ کے آخر
میں شریک ہے۔ قادیانی صاحبان کن امور پر ساکت ہیں اور کن امور کی تاویلات پیش کرتے ہیں اور کس رنگ رنگ کی
تاویلات پیش کرتے ہیں، ہمیں اس بحث میں پڑنے کی ضرورت نہیں۔ قارئین اس کا خود فیصلہ فرماسکتے ہیں اور یہی
فیصلہ قابل وثوق ہوگا، علیٰ ہذا بطور جواب نبی کریم ﷺ پر الزامات لگانا قادیانی صاحبان کا قدیم مسلک ہے۔ اس
میں وہ جس درجہ بیباک ہیں، محتاج بیان نہیں۔ چنانچہ اس جدید کتاب میں بھی قادیانی صاحبان نے اپنا یہ مسلک بے
ادبی بہت واضح طور پر پیش کیا ہے۔ نبی کریم ﷺ کو درمیان میں لاکر مسلمانوں کے مقابل قادیانی صاحبان جو چالیں
چلتے ہیں، اس کی مختصر کیفیت ہمارے رسالہ ’’قادیانی حساب‘‘ میں درج ہوچکی ہے، ذیل میں ہم صرف ایک دو خاص
امور کی تشریح پیش کرتے ہیں، جو موجودہ کتاب (ہمارا مذہب) میں بطور جدید درج ہے۔
(۶) قادیانی خطاب
لوگ خیال کرتے ہیں کہ ’’قادیانی‘‘ ایک معمولی اور سرسری خطاب ہے کہ مرزاغلام احمد قادیانی قادیان میں
پیدا ہوئے، اس لئے لوگ ان کو قادیانی کہنے لگے۔ حالانکہ ’’قادیانی‘‘ مرزاغلام احمد کے نزدیک ایک الہامی
حقیقت ہے اور وہ ان کی نبوت کا ایک جزو لاینفک ہے۔ حتیٰ کہ لفظ قادیانی مرزاغلام احمد قادیانی کے نام سے
خارج کر دیجئے تو ان کی نبوت کا ایک ثبوت غائب ہو جاتا ہے۔ بالفاظ دیگر لفظ قادیانی مرزاغلام احمد کی نبوت
کا ایک الہامی ثبوت ہے۔ چنانچہ ملاحظہ ہو:
’’مجھے کشفی طور پر اس مندرجہ ذیل نام کے اعداد وحروف کی طرف دلائی گئی کہ دیکھ یہی مسیح ہے کہ جو
تیرہویں صدی کے پورے ہونے پر ظاہر ہونے والا تھا، پہلے سے یہی تاریخ ہم نے نام میں مقرر کر رکھی تھی اور وہ
یہ نام ہے ’’غلام احمد قادیانی‘‘ اس نام کے عدد پورے تیرہ سو ہیں اور اس قصبہ قادیان میں بجز اس عاجز کے اور
کسی شخص کا غلام احمد نام نہیں، بلکہ میرے دل میں ڈالا گیا کہ اس وقت بجز اس عاجز کے تمام دنیا میں ’’غلام
احمد قادیانی‘‘ کسی کا بھی نام نہیں۔‘‘
(ازالہ اوہام حصہ اوّل ص۱۸۶، خزائن ج۳ ص۱۸۹،۱۹۰)
بہرحال مرزاغلام احمد کو کشف ہوا کہ ان کے سوا تمام دنیا میں ’’غلام احمد قادیانی‘‘ کسی کا بھی نام
نہیں اور واقعہ یہ ہے کہ ضلع گورداسپور میں تین قادیان ہیں جن میں سے ایک قادیان میں مرزاغلام احمد رہتے تھے
اور ایک قادیان میں دوسرے صاحب اسی نام کے غلام احمد رہتے تھے، جو مرزاغلام احمد کے ہم عصر تھے۔ لیکن جب
غلام احمد قادیانی کے نام سے مرزاغلام احمد کے مقابل ان کو پیش کیاگیا تو قادیانی صاحبان نے لفظ ’’قادیانی‘‘
کو تمام وکمال مرزاغلام احمد کے واسطے سٹپینٹ کرالیا اور اس کو مرزاغلام احمد کے نام کا جزو لاینفک قرار
دیا، چنانچہ ملاحظ ہو:
’’پس آپ کا (یعنی مرزاقادیانی کا) منشاء اس بات کو ظاہر کرتا ہے کہ دنیا میں آپ کے (مرزاقادیانی کے)
سوا کوئی دوسرا شخص ’’غلام احمد قادیانی‘‘ کے مرکب نام سے موسوم نہیں، اس لئے اگر ضلع گورداسپور یا لدھیانہ
میں قادیان نام کے کوئی اور گاؤں بھی ہیں اور وہاں غلام احمد کے نام سے کوئی اور شخص بھی رہتا ہے تو اس سے
آپ کے دعویٰ کی تغلیط نہیں ہوتی۔ کیونکہ آپ نے نہ قادیان نام کے کسی اور
681
گاؤں کی نفی کی ہے اور نہ وہاں غلام احمد کے نام سے کسی شخص کی موجودگی کا انکار کیا ہے۔ انکار اگر
ہے تو غلام احمد قادیانی کے مرکب نام رکھنے والے شخص کا ہے۔‘‘
(آئینہ احمدیت ص۸، دوست محمد قادیانی احمدیہ انجمن اشاعت اسلام لاہور ۱۹۳۴ء)
غالباً مرزاغلام احمد نے اپنی ہی نسبت کی برکت سے بحالت کشف لفظ ’’قادیان‘‘ کو قرآن شریف میں لکھا
دیکھا۔ چنانچہ فرماتے ہیں کہ:
’’تین شہروں کا نام اعزاز کے ساتھ قرآن شریف میں درج کیاگیا ہے۔ مکہ اور مدینہ اور قادیان۔ یہ کشف تھا
جو کئی سال ہوئے کہ مجھے دکھلایا گیا تھا۔‘‘
(ازالہ اوہام حصہ اوّل ص۷۷، خزائن ج۳ ص۱۴۰،۱۴۱ حاشیہ)
مزید برآں مرزاغلام احمد فرماتے ہیں اور قادیانی صاحبان وجد کرتے ہیں کہ:
-
زمین قادیان اب محترم ہے
ہجوم خلق سے ارض حرم ہے
(درثمین اردو ص۵۲، مجموعہ کلام مرزاغلام احمد، مرتبہ محمد اسماعیل قادیانی)
غرض کہ ہر طرح لفظ ’’قادیانی‘‘ مرزاقادیانی کی خاص الخاص نشانی ہے جب کہ ہم نے مرزاغلام احمد کے مذہب
پر کتاب لکھی تو اس کا پورا نام ہوتا ’’غلام احمد قادیانی صاحب کا مذہب‘‘ لیکن طویل عنوان علمی ذوق کے منافی
تھا، اس لئے مختصر عنوان ’’قادیانی مذہب‘‘ قرار پایا اور سمجھدار لوگوں نے اس کو بہت پسند فرمایا اور اب تک
قادیانی صاحبان نے بھی اس پر کوئی اعتراض نہیں اٹھایا، لیکن حال میں جو کتاب (ہمارا مذہب) قادیانی صاحبان کی
طرف سے شائع ہوئی ہے، اس میں ’’قادیانی مذہب‘‘ کی ترکیب ومعنی پر اعتراض کیاگیا ہے، حالانکہ خود قادیانی
عنوان ’’ہمارا مذہب‘‘ بلحاظ ترکیب ’’قادیانی مذہب‘‘ کے مساوی اور بلحاظ معنی قادیانی کے مترادف ہے۔ لفظ
قادیانی مرزاغلام احمد کا اور ان کے مذہب کا اور ان کی جماعت کا سب کا حکم ہے۔ البتہ مطالعہ، مشاہدہ اور
تجربہ سے اس لفظ کا جو مفہوم ذہنوں میں پیدا ہوچکا ہے، اس کے مدنظر قادیانی صاحبان کو لفظ ’’قادیانی‘‘ سے
شرم وعار محسوس ہو، تو دوسری بات ہے۔
(۷) قادیانی مذہب
رہا یہ سوال کہ قادیانی مذہب کیا ہے؟ اس کی تفصیل ہماری کتاب ’’قادیانی مذہب‘‘ میں قابل ملاحظہ ہے۔
مختصر اور نہایت مختصر خلاصہ ذیل میں پیش کرتے ہیں:
۱… ’’مسئلہ تکفیر- قادیانی (جماعت قادیان) تمام دنیا کے کلمہ گو مسلمانوں کو جنہوں نے مرزاغلام حمد کی
بیعت نہیں کی کافر اور خارج ازدائرہ اسلام سمجھتے ہیں اور اس طرح محمد رسول اللہ ﷺ کے کلمہ کو منسوخ ٹھہراتے
ہیں، کیونکہ اس کو پڑھ کر اب کوئی اسلام میں داخل نہیں ہوتا اور چالیس کروڑ (اب ڈیڑھ ارب۔ مرتب) مسلمانوں کو
کافر اور اسلام سے خارج کر کے تیرہ سو برس کی آنحضرت ﷺ اور آپ کے صحابہ اور تمام امت کی محنت کو خاک میں
ملادیتے ہیں۔‘‘
۲… ’’مسئلہ نبوت- قادیانی (جماعت قادیان) خاتم النّبیین کے معنی نبیوں کے ختم کرنے والے نہیں کرتے
بلکہ اس سے اجرائے نبوت نکال کر مرزاغلام احمد کو زمانہ کا نبی قراردیتے ہیں اور خاتم النّبیین اور ظلی نبوت
کے الفاظ استعمال کر کے اسلامی دنیا کو مغالطہ میں ڈالنے کی کوشش کرتے ہیں۔ کیونکہ خاتم النّبیین کا مفہوم
برخلافت امت کے ان کے ہاں اپنی مہر سے نبوت کو جاری کرنے والے کے ہیں اور ظلی نبوت سے مراد اصلی نبی ہے۔ ظلی
کو لفظ فقط طریق حصول نبوت کے فرق کو ظاہر کرنے کے لئے یا
682
لوگوں کو مغالطہ میں ڈالنے کے لئے وہ استعمال کرتے ہیں، ورنہ ان کو ظلی نبی نبی ہوتا ہے، غرض کہ
مسئلہ نبوت میں نبوت کا دروازہ چوپٹ کھول کر وہ آنحضرت ﷺ کی ختم نبوت کا بیڑا غرض کر کے دم لیتے ہیں۔‘‘
۳… ’’مسئلہ خلافت- جب مرزاغلام احمد کو نبی بنایا تو ان کی خلافت بھی قادیانیوں نے چلائی اور انہیں
اصولوں پر چلائی جن پر مسیحیت کا پوپ اپنی خلافت منواتا ہے۔ خلیفہ متاع الکل ہے، وہ غلطی نہیں کر سکتا۔ اس
کا فیصلہ آخری فیصلہ ہے۔ وہ ہر ایک مرید کی جان، مال، عزت، ایمان سب کا مالک ہے۔ بہشت کی کنجیاں اس کے ہاتھ
میں ہیں۔‘‘
۴… ’’سیاسیات- قادیانی محمودی لوگ (جماعت قادیان) مذہب کے نام پر سیاست میں حصہ لینا ضروری سمجھتے
ہیں۔ وہ گورنمنٹ میں رسوخ بڑھا کر لوگوں کی توجہ کو اپنی طرف منعطف کرنا چاہتے ہیں۔ وہ جانتے ہیں کہ اس طریق
سے بہت سے دنیوی عزہ وجاہ کے طالب اور ملازمت کے خواہاں خود بخود ہماری طرف کھنچے چلے آئیں گے۔ اس طرح ہمارا
جتھا بھی زبردست ہوتا جائے گا، جس سے گورنمنٹ پر بھی مزید اثر پڑے گا اور ہماری آمدنی بھی بڑھے گی اور ریاست
کی بنیاد بھی پڑ جائے گی۔ اس لئے وہ گورنمنٹ کے مرکزی دفاتر کا طواف کرنا اور سیاسی کاموں میں ظاہر اور خفیہ
طور پر گورنمنٹ کے دست وبازو بننا اپنا شعار بناتے اور اس کے بدلے میں گورنمنٹ میں رسوخ بڑھانا اور نفع
اٹھانا ضروری سمجھتے ہیں اور اس لئے مذہب کے نام پر لاکھوں روپیہ قوم سے لے کر سیاسی خفیہ کارروائیوں میں
صرف کر دینے سے بھی دریغ نہیں کرتے۔ چونکہ ان کے عقائد ہی ایسے باطل ہیں کہ کسی عقلمند کو اپیل نہیں کرسکتے،
اس لئے سیاسی رنگ میں جتھے بندی کے سوا ان کا مقصد کسی اور طریق سے حاصل ہونا انہیں مشکل نظر آتا ہے۔ بدیں
وجہ وہ سیاسی میدان میں کارنمایاں دکھا دکھا کر اپنا جتھا بڑھانے کا کام کرتے رہتے ہیں۔‘‘
(اخبار پیغام صلح لاہور ج۲۳ نمبر۲ ص۲ کالم۱، مؤرخہ ۵؍جنوری ۱۹۳۵ء)
’’خاکسار عرض کرتا ہے کہ حضرت خلیفہ اوّل (حکیم نورالدین قادیانی) فرماتے تھے کہ جب فتح اسلام، توضیح
مرام شائع ہوئیں تو ابھی میرے پاس نہ پہنچی تھیں اور ایک مخالف شخص کے پاس پہنچ گئی تھیں۔ اس نے اپنے
ساتھیوں سے کہا کہ دیکھو، اب میں مولوی نورالدین صاحب کو مرزا (غلام احمد قادیانی) صاحب سے علیحدہ کئے دیتا
ہوں۔ چنانچہ وہ میرے پاس آیا اور کہنے لگا کہ مولوی صاحب کیا نبی کریم ﷺ کے بعد بھی کوئی نبی ہوسکتا ہے؟ میں
نے کہا، نہیں۔ اس نے کہا، اگر کوئی نبوت کا دعویٰ کرے تو پھر؟ میں نے کہا، تو پھر ہم یہ دیکھیں گے کہ کیا وہ
صادق اور راست باز ہے یا نہیں۔ اگر صادق ہے تو بہرحال اس کی بات کو قبول کریں گے۔ میرا یہ جواب سن کر وہ
بولا، واہ مولوی صاحب آپ قابو میں نہ ہی آئے۔ یہ قصہ سناکر مولوی صاحب فرمایا کرتے تھے کہ یہ تو صرف نبوت کی
بات ہے، میرا تو ایمان ہے کہ اگر حضرت مسیح موعود صاحب شریعت نبی ہونے کا دعویٰ کریں اور قرآنی شریعت کو
منسوخ قرار دیں پھر بھی مجھے انکار نہ ہو۔ کیونکہ جب ہم نے آپ کو واقعی صادق اور منجانب اللہ پایا ہے، تو اب
جو بھی آپ فرمائیں گے، وہی حق ہوگا اور ہم سمجھ لیں گے کہ آیت خاتم النّبیین کے کوئی اور معنی ہوں گے۔
خاکسار عرض کرتاہے کہ واقعی جب ایک شخص کا اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہونا یقینی دلائل کے ساتھ ثابت ہو جائے تو پھر
اس کے کسی دعویٰ میں چون وچرا کرنا باری تعالیٰ کا مقابلہ کرنا ٹھہرتا ہے۔‘‘
(سیرت المہدی حصہ اوّل ص۸۱، روایت نمبر۱۰۶، جدید ج۱ حصہ اوّل ص۸۸،۸۹، روایت نمبر۱۰۹)
قصہ مختصر مرزاغلام احمد قادیانی کی تائید میں قادیانی صاحبان کی تاویلات کی کوئی حد نہیں، عجیب
مغالطوں میں مبتلا ہیں ؎
-
اس ستم گر کو ستم گر نہیں کہتے بنتا
سعی تاویل خیالات چلی جاتی ہے
683
بسم اللہ الرحمٰن الرحیم
ضمیمہ چہارم
قادیانی فریقین
قادیانی جماعت لاہور وجماعت قادیان
۳؍نومبر ۱۹۳۶ء کو جو اخبار ’’پیغام صلح‘‘ لاہور (ج۲۴ نمبر۷۰) شائع ہوا، اس میں قادیانیوں کی لاہوری
جماعت کے امیر مولوی محمد علی قادیانی کا خطبہ جمعہ اور ان کے رفیق کار ڈاکٹر بشارت احمد قادیانی کا ایک
مضمون درج ہے۔ دونوں صاحبان نے ہماری تالیف ’’قادیانی مذہب‘‘ کا ذکر کیا ہے، جو کوئی چاہے اپنے خیال کے
مطابق کتاب پر رائے زنی کر سکتا ہے اور لوگ کتاب پڑھ کر تصفیہ کر سکتے ہیں کہ وہ رائے کہاں تک اصلیت پر مبنی
ہے، لیکن اس کتاب کے سلسلہ میں اس جماعت نے جس ذہنیت کا اظہار کیا ہے، وہ بہت سبق آموز ہے۔ چونکہ خود انہوں
نے کتاب کے حوالہ سے قادیانی اور لاہوری جماعت کی بحث چھیڑی ہے، مناسب بلکہ ضروری معلوم ہوتا ہے کہ اس بحث
کی حقیقت واضح کر دی جائے۔
ابتداء میں جب یہ کتاب ’’قادیانی مذہب‘‘ اور اس کے متعلقہ رسالے شائع ہوئے تو لاہوری جماعت کی طرف سے
ایک ذمہ دار رکن نے بذریعہ خط وکتابت سلسلہ جنبانی شروع کی کہ دراصل قادیانی جماعت سب خرابیوں کی ذمہ دار ہے
جس سے لاہوری جماعت بھی بیزار ہے، لہٰذا اس جماعت کی جس قدر بھی تردید کی جائے، اس میں اسلام اور مسلمانوں
کا فائدہ ہے۔ اس کارخیر میں لاہوری جماعت بھی ساتھ دینے کو تیار ہے۔ ایسی صورت میں قادیانی جماعت کو جو
مرزاغلام احمد کا پیرو اور مخلص پیرو قرار دیا گیا ہے، وہ سراسر ظلم ہے۔ البتہ مرزاغلام احمد قادیانی کی
قلمی لغزشیں قابل درگزر ہیں اور اس کے ساتھ ہی لاہوری جماعت کے کارنامہ قابل داد ہیں۔ چنانچہ اس جماعت کی
تحریک کے چند اشارے ملاحظہ ہوں۔
۱… ’’معلوم ہوا کہ جس طرح دیگر علاقہ جات میں قادیانیوں نے اپنے گمراہ کن عقائد اور مخالف اسلام سیاست
کی وجہ سے سلسلہ کو بدنام کر رکھا ہے، یہی حال آپ کے ہاں بھی ہے۔ آپ کو غالباً اچھی طرح علم ہوگا کہ ہمیں
شروع سے ہی ان کے مذہبی اور سیاسی روش سے اختلاف رہا ہے۔ ہماری جماعت نے آج تک کسی ایسی سیاسی تحریک میں
کبھی بھی حصہ نہیں لیا جو اسلام اور مسلمانوں کے مفاد کے خلاف ہو۔‘‘
(۲۸؍فروری ۱۹۳۴ء)
۲… ’’اگر قادیانی ایسے گندے عقائد نبوت اور تکفیر مسلمین کے جاری نہ کرتے تو جماعت میں تفرقہ کیوں
پیدا ہوتا۔ حضرت مرزاصاحب کے صحبت یافتہ لوگوں نے یہ پسند نہ کیا کہ حضرت مرزاصاحب کی طرف ایسے فاسد عقائد
منسوب ہوں، اس لئے قادیان چھوڑ کر لاہور چلے آئے۔ حضرت مرزاصاحب کی شخصیت کو چھوڑ کر اگر آپ قادیانیوں کی
تردید کریں تو ہم آپ کے ساتھ ہیں۔ کیونکہ ان کے عقائد اسلام کی بیخ کنی کرنے والے ہیں اور عملاً رسالت
محمدیہ کو منسوخ کرنے والے ہیں۔ قادیانیوں کا
684
سیاسیات میں ٹانگ گھسیڑنا بھی مفاد اسلام ومسلمین کے خلاف ہے۔ اس لئے ہم ان کی سیاسی چالوں سے بھی
متنفر ہیں۔‘‘
(۱۸؍مارچ ۱۹۳۴ء)
۳… ’’آپ مرزاصاحب کی مخالفت سے باز آکر قادیانیوں کے غالیانہ عقائد کی تردید کریں، جس میں اسلام اور
مسلمانوں کا فائدہ ہے۔ اگر آپ کی تردید قادیانی گروہ تک محدود رہتی تو ہم آپ کے ساتھ تھے۔‘‘
(۲۸؍فروری ۱۹۳۷ء)
۴… ’’مجھے ابھی تک آپ کے اس نظریہ کی سمجھ نہیں آئی کہ قادیانی صاحبان جناب مرزاصاحب کے مسلک سے
مجموعی طور پر قریب تر ہیں۔ حالانکہ ان لوگوں کا قول وفعل ہردو مرزاصاحب کے مخالف پڑے ہوئے ہیں۔‘‘
(۲۸؍فروری ۱۹۳۴ء)
۵… ’’آپ کا یہ کہنا کہ قادیانی حضرت مرزاصاحب سے زیادہ نزدیک ہیں، ظلم نہیں تو اور کیا ہے۔‘‘
(۲۸؍فروری ۱۹۳۴ء)
۶… ’’عربی مثل ہے کہ تیز گھوڑا کبھی نہ کبھی ٹھوکر بھی کھا جاتا ہے، اس لئے اتنا لکھنے والا آدمی اگر
کسی جگہ تحریر میں ٹھوکر کھا جائے تو قابل درگزر ہوتا ہے، ہاں جو اصولی بات ہے، اس کے خلاف ہوتو قابل گرفت
ہے۔‘‘
(۱۲؍مارچ ۱۹۳۴ء)
۷… ’’قادیانیوں کو چھوڑ کر جن کو گدی بنانے کا الزام دیا جاسکتا ہے، ہماری جماعت لاہور کی جو سب سے
پہلے اپنی جیبوں سے ہزارہا روپیہ اشاعت تبلیغ اسلام کے لئے کئی سالوں سے خرچ کر رہی ہے، کون سی ذاتی غرض
وابستہ ہے، جو لوگ ہم سے ذاتی طور پر واقف ہیں، وہ خوب جانتے ہیں کہ دنیاوی طور پر ہم نے اس راہ میں کچھ
گنوایا ہی ہے، دنیاداروں کی طرح کچھ جائیداد پیدا نہیں کی۔‘‘
(۳؍ستمبر ۱۹۳۴ء)
غرض کہ لاہوری جماعت کی طرف سے کافی تفہیم کی گئی کہ ہر طرح قادیانی جماعت ہی ذمہ دار اور قصوروار ہے۔
اس جماعت کی تردید اسلام کی بڑی خدمت ہے اور اس کام میں لاہوری جماعت بھی ہاتھ بٹانے کو آمادہ ہے۔ لیکن جب
یہ منصوبہ نہ چل سکا تو لاہوری جماعت نے سکوت اختیار کر لیا، بات ختم ہوگئی۔ اب پھر باسی کڑھی میں ابال ہے۔
اخبار میں کتاب کا ذکر نکلا اور اس سلسلہ میں قادیانی اور لاہوری جماعت کی تفریق پر زور دیاگیا تو لازم ہوا
کہ بقدر ضرورت معاملات کی صراحت کر دی جائے تاکہ بات صاف ہو جائے اور حقیقت کھل جائے۔
مولوی محمد علی لاہوری قادیانی اپنے خطبہ میں شکایت فرماتے ہیں کہ جن لوگوں نے اس کتاب (قادیانی مذہب)
کو مطالعہ کیا ہے، وہ جانتے ہیں کہ ’’اس میں کوئی ترتیب نہیں ہے، نہ کوئی لاہوری اور قادیانی کا امتیاز اور
حد بندی ہے۔‘‘
مولوی محمد علی لاہوری غالباً اس کتاب کے مطالعہ کی تاب نہ لاسکے اور نہ ایسے شخص سے رائے حاصل کر
سکے، جس نے اس کا مطالعہ کیا ہو۔ ورنہ ان کو معلوم ہوجاتا کہ ترتیب ہی اس کتاب کی بڑی خصوصیت ہے۔ اس میں
قادیانی اور لاہوری جماعت کا امتیاز کردیاگیا کہ دودھ کا دودھ، پانی کا پانی صاف نظر آجاتا ہے کہ کون سی
جماعت مرزاقادیانی کی تعلیم پر ثابت قدم ہے اور کون جماعت منافقت میں مبتلا ہے۔ یہی امتیاز اور وضاحت تو
لاہوری جماعت کے واسطے سب سے زیادہ تشویش کا باعث بنی ہوئی ہے کہ اصل حقیقت کھل گئی۔
685
ڈاکٹر بشارت احمد قادیانی لاہوری اپنے مضمون میں زیادہ کھلے ہیں۔ لکھتے ہیں کہ ’’ہم ہزاربار لکھ چکے
ہیں کہ ہم مرزاغلام احمد کی امت نہیں، ہم محمد رسول اللہ ﷺ کی امت ہیں… مرزاغلام احمد کی امت ہمیں قراردیا
جانا کہاں تک انصاف پر مبنی ہے۔ شاید یہ کہا جائے کہ ہماری مراد اس سے مرزامحمود احمد اور قادیانی جماعت ہے
تو پھر ان کا فرض تھا کہ قادیانیوں سے ہمیں الگ رکھتے۔ صاف طور پر یہ لکھتے کہ لاہوری جماعت ان لوگوں سے
علیحدہ ہے۔‘‘ مثل مشہور ہے جادو وہ جو سرپے چڑھ کر بولے۔ خود لاہوری جماعت نے دعویٰ کے طور پر تسلیم کر لیا
کہ وہ مرزاغلام احمد کی امت سے خارج ہے۔ حالانکہ مرزاغلام احمد نے اپنی جماعت کو اپنی امت سے بھی تعبیر کیا
ہے۔ چنانچہ لاہوری جماعت کو بھی اعتراف ہے کہ اگر کوئی جماعت مرزاغلام احمد کی امت مراد ہوسکتی ہے، تو وہ
بقول ان کے مرزامحمود احمد اور قادیانی جماعت ہے اور وہ قادیانی جماعت سے اس درجہ مغائر ہیں کہ چاہتے ہیں کہ
بات بات پر اعلان ہوتا رہے کہ وہ الگ ہیں، الگ ہیں، الگ ہیں۔
بایں ہمہ لاہوری جماعت کا ادّعا ہے کہ وہ مرزاغلام احمد کی سچی پیرو اور اس کا امیر مرزاغلام احمد کا
حقیقی جانشین ہے۔ نیز یہ کہ قادیانی جماعت مرزاغلام احمد کی تعلیم سے گزر کر غلط راستہ پر جارہی ہے اور اس
کا خلیفہ اس گمراہی کا علمبردار ہے۔ واقعہ یہ ہے کہ مرزاغلام احمد کے پیرو کم ازکم نوے فیصدی قادیانی جماعت
میں اور زیادہ سے زیادہ دس فیصدی لاہوری جماعت میں شریک ہیں اور لطف یہ کہ ابتداء میں جماعت بندی کے وقت
لاہوری جماعت کا غلبہ تھا، بعد کو لاہوری جماعت گھٹی تو قادیانی جماعت بڑھی۔ حتیٰ کہ آج لاہوری جماعت بھی اس
کا غلبہ کراہت کے ساتھ تسلیم کرتی ہے۔ اب اگر لاہوری جماعت کا دعویٰ درست ہے تو اس کے معنی یہ ہوئے کہ چند
ہی سال میں مرزاغلام احمد کے پیرؤوں میں کثیر جماعت نے بسرعت مرزاغلام احمد کی تعلیم فراموش کر کے گمراہی
اختیار کر لی اور قلیل جماعت ان کی تعلیم پر قائم رہ سکی، سو وہ بھی روبہ زوال ہے۔ قادیانی جماعت کے خلیفہ
مرزامحمود اس عام گمراہی کے بانی قرار دئیے جاتے ہیں۔ حالانکہ یہ مرزاغلام احمد کے فرزند دلبند ہیں، جن کے
متعلق مرزاغلام احمد نے فخریہ انداز میں بشارتیں دی ہیں۔ اس کے برعکس لاہوری جماعت کے امیر مولوی محمد علی
مرزاغلام احمد کی تعلیم کے محافظ اور معلم بتائے جاتے ہیں جن کی عقیدت مندی اور استقامت کے متعلق مرزاغلام
احمد اپنی زندگی میں شکایت کی حد تک بے اطمینانی ظاہرکر چکے ہیں۔
گرچہ لاہوری جماعت اس فیصلہ پر چراغ پاہوتی ہے لیکن حقیقت پر کہاں تک پردہ ڈال سکتی ہے کہ فی الواقعہ
قادیانی جماعت مرزاغلام احمد کی تعلیم بلاکم وکاست قبول کرتی ہے اور مرزاغلام احمد سے خاص خلوص رکھتی ہے۔ اس
کے مقابل لاہوری جماعت مرزاغلام احمد کی تعلیم میں ترمیم وتخفیف کر کے اس کو اپنی مصلحتوں کے تابع رکھنا
چاہتی ہے اور اپنی صوابدید کی حد تک مرزاغلام احمد کی بابت اظہار عقیدت کرتی ہے۔
لاہوری جماعت نے اپنی حیثیت چمگادڑ کی سی بنا رکھی ہے جو چاہتی تھی کہ پرندوں میں پرندہ شمار ہو اور
چوپایوں میں چوپایہ بنی رہے۔ ایک طرف تو اس کی یہ کوشش ہے کہ مسلمان اس کو اپنی جماعت سمجھیں اور دوسری طرف
یہ کہ قادیانی اس کواپنی جماعت مانیں، جس کا مقصد یہ ہے کہ مسلمان اس کی مالی اور اخلاقی مدد کرتے رہیں اور
وہ مصلحت آمیزی سے قادیانی تعلیم کی تبلیغ کرے۔ چنانچہ اب تک یہی ہوتا رہا ہے اور وہ چاہتی تھی کہ یہ سلسلہ
آئندہ بھی جاری رہے لیکن انجام وہی ہوا، جو منافقت کا ہوا کرتا ہے۔ مسلمان بھی بیدار وخبردار ہوگئے اور
686
قادیانی بھی بیزار نظر آتے ہیں، غدار سمجھتے ہیں۔
چرا کارے کند عاقل کہ باز آید پشیمانی
ایک زمانہ کی بات ہے کہ کسی ترنگ میں آکر مولوی محمد علی قادیانی امیر جماعت لاہور نے قادیان اور اس
کے خلیفہ مرزامحمود قادیانی کو چیلنج دیا تھا کہ:
’’میں تم کو خدا کی قسم دے کر کہتا ہوں کہ آؤ سب سے پہلے ایک بات کا فیصلہ کرلو، اور جب تک وہ فیصلہ
نہ ہو جائے دوسرے معاملات کو ملتوی رکھو۔ اصل جڑ سارے اختلاف کی صرف حضرت مسیح موعود (مرزاقادیانی) کی نبوت
کا مسئلہ ہے۔ اس مسئلہ میں ایک حد تک ہم میں اتفاق بھی ہے اور اس اتفاق کے ساتھ کچھ اختلاف بھی ہے۔ جس قدر
مسائل اختلافی ہم ہردو فریق میں ہیں، وہ اس اختلاف مسئلہ نبوت سے پیدا ہوتے ہیں۔‘‘
(ٹریکٹ نبوت کاملہ تامہ اور جزئی نبوت میں فرق ص۱، منقول اخبار الفضل قادیان ج۲۵ نمبر۱۳ ص۵ کالم۱،
مؤرخہ ۱۷؍جنوری ۱۹۳۷ء)
معلوم ہوتا ہے کہ اوّل تو فریق مخاطب خاموش رہا، لیکن ہماری کتاب ’’قادیانی مذہب‘‘ میں مرزاغلام احمد
کا ادّعا نبوت اس درجہ مفصل طور سے واضح ہو گیا کہ کسی کو اس میں شک نہیں رہا۔ چنانچہ حال میں قادیانی جماعت
کے خلیفہ مرزامحمود قادیانی نے مرزاغلام احمد کی نبوت کے مسئلہ پر تحریری اور تقریری دونوں قسم کا مناظرہ
کرنا قبول کر لیا تو مولوی محمد علی قادیانی بغلیں جھانکنے لگے۔ مسئلہ نبوت سے گریز کر کے چاہا کہ اوّل
مسئلہ تکفیر پر بحث ہو، حالانکہ نبوت اصل ہے اور تکفیر اس کی فرع لیکن انہوں نے محسوس کر لیا کہ قادیانی رہ
کر مرزاغلام احمد کی نبوت سے انکار کرنا محال ہے۔ البتہ تکفیر کی بحث اٹھا کر یہ ممکن ہے کہ خود مسلمانوں
میں کچھ خوشنودی حاصل کر لیں اور قادیانی جماعت کو مسلمانوں میں اور مطعون بنادیں، چنانچہ اس مناظرہ کے
سلسلہ میں مولوی محمد علی قادیانی لکھتے ہیں کہ:
’’اگر جناب میاں (مرزامحمود) صاحب مسلمانوں کی تکفیر کو چھوڑ دیں اور سب کلمہ گوؤں کا بروئے قرآن
وحدیث وبروئے تحریرات حضرت مسیح موعود (نہ اپنی ایجاد کردہ سیاسی تعریف کی رو سے) مسلمان ہونا تسلیم کر لیں
تو ہم مسئلہ نبوت پر ان کے ساتھ بحث کو آئندہ ترک کر دیں گے۔‘‘
(اخبار پیغام صلح لاہور ج۲۴ نمبر۸۰ ص۳ کالم۲، مؤرخہ ۱۵؍دسمبر ۱۹۳۶ء)
گویا مولوی محمد علی قادیانی کو اس کی چنداں فکر نہیں کہ مرزاغلام احمد نبی تھے یا نہ تھے۔ وہ بہرصورت
ان کے پیرو اور متبع ہیں۔ لیکن فکر ہے تو یہ کہ بربنائے نبوت مسلمانوں کی تکفیر نہ ہو اور مسلمان ان سے
کشیدہ ہوکر دست کش نہ ہو جائیں کہ سارا کھیل بگڑ جائے۔
مولوی محمد علی قادیانی جو اوّل مسئلہ تکفیر پر بحث کرنا چاہتے ہیں اور مرزامحمود قادیانی جو مسئلہ
نبوت کو مقدم قرار دیتے ہیں، اس بارہ میں مشہور مناظر مولانا ثناء اللہ صاحب امرتسریc نے بھی یہی فیصلہ فرمایا
کہ:
’’اصل بات یہی ہے کہ کفر مرتب ہے انکار نبوت پر، بس بحث کا اصل مدار نبوت پر ہونا چاہئے۔ اس لئے ہم
مناظرانہ حیثیت سے مولوی محمد علی صاحب کو مشورہ دیتے ہیں کہ وہ اس موقع کو غنیمت سمجھیں۔ وہ نبوت مرزاپر
بحث کو ٹال نہ دیں۔‘‘
(اہل حدیث امرتسر ۱۵؍جنوری ۱۹۳۷ء، منقول اخبار الفضل قادیان ج۲۵ نمبر۱۳ ص۴ کالم۲، مؤرخہ ۱۷؍جنوری
۱۹۳۷ء)
687
اگر مولوی محمد علی لاہوری قادیانی اوّل مرزاغلام احمد کی نبوت پر بحث کرنے کو آمادہ ہو جاتے تو نتیجہ
معلوم یا مرزاغلام احمد کو نبی ماننا پڑتا یا قادیانیت سے دست بردار ہونا پڑتا اور لاہوری جماعت کا مرزاغلام
احمد کے ساتھ ربط یہ ہے کہ ؎
نے تاب وصل دارم نے طاقت جدائی
قادیانی جماعت لاہور اور قادیانی مذہب
اخبار ’’پیغام صلح‘‘ لاہور بابت ۳؍نومبر ۱۹۳۶ء ج۲۴ نمبر۷۰ ص۷ میں قادیانی جماعت لاہور کے ایک سرکردہ
ڈاکٹر بشارت احمد قادیانی کا مضمون شائع ہواہے جس میں مولانا سید سلیمان ندوی صاحب کے اس تبصرہ پر واویلا
کیاگیا ہے جو سید صاحب موصوف نے تالیف ’’قادیانی مذہب‘‘ کے متعلق اکتوبر ۱۹۳۶ء کے معارف میں تحریر فرمایا
ہے۔ یہ مضمون قادیانی ذہنیت کا نمونہ ہے کہ گرفت میں آکر قادیانی صاحبان گریز کی کیا کیا تدابیر سوچتے ہیں
اورمایوسی میں جھنجھلا کر کس طرح کوستے ہیں۔ ناحق کوشی کا یہی انجام ہوتا ہے۔
اوّل حسب ضابطہ تبصرہ کے جرم میں یہ سزا تجویز کی گئی کہ دیوبند، بریلی اور جمعیۃ العلماء جو قادیان
کے قانون تعزیرات میں تحت دفعہ علمائے سوء درج ہیں۔ ندوۃ العلماء کو بھی اسی دفعہ کے تحت درج کر دیا جائے
تاکہ قادیانی عدالت میں کوئی مسلمان عالم اس دفعہ کی زد سے نہ بچنے پائے اور شاید بچ سکے تو وہی نام نہاد
عالم بچ سکے جو قادیانیوں کی ہمنوائی کر سکے، یا کم ازکم مہربلب رہ سکے۔ اظہار حق کی جرأت نہ کر سکے۔
مولانا سید سلیمان ندوی صاحب پر سب سے سنگین الزام یہ لگایا گیا ہے کہ بلاتحقیق یک طرفہ بیان پر فیصلہ
لکھ دیا۔ لیکن سچ ہے ’’جادو وہ جو سر پر چڑھ کر بولے‘‘ خود ہی اس مضمون میں لکھتے ہیں کہ ’’جب سید سلیمان
ندوی صاحب لاہور تشریف لائے تھے تو انہوں نے خود مجھ سے لاہور میں زبانی کہا تھا کہ ہم آپ کی تحریروں سے
متفق ہیں۔ گویا جب کوئی مسلمان عالم یک طرفہ معلومات کی بناء پر قادیانی صاحبان کی تحریروں سے اتفاق کرتا
رہے، وہ عادل مانا جائے اور جب اصل حقیقت سے واقف ہوکر اپنی پختہ رائے کا اظہارکرے تو وہ ظالم قرار پائے اور
علمائے سوء کے زمرہ میں شریک کر دیاجائے۔ قادیانی عدالت میں اس سے بہتر اور کیا فیصلہ ہو سکتا ہے۔
رہی خود کتاب ’’قادیانی مذہب‘‘ سو وہ ٹیڑھی کھیر تھی، نگلنی بھی مشکل اور اگلنی بھی دشوار۔ تردید تو
کیا کر سکتے مجبوراً گریز سے کام لیا۔ اوّل تو یہ عذر پیش ہوا کہ قادیانی جماعت کی کتابیں غالیوں کی کتابیں
ہیں، گویا ناقابل اعتبار ہیں۔ لہٰذا ان کے اقتباسات اور حوالے سند نہیں ہوسکتے، کیا خوب عذر ہے ؎
-
پر وہی گر پڑا کبوتر کا
جس میں نامہ بندھا تھا دلبر کا
اگر قادیانی جماعت کی کتابیں ناقابل سند اور خارج از بحث قرار دے دی جائیں تو پھر مرزاغلام احمد کی
تعلیم کا مبلغ اور مفسر کون بنے گا۔ یہی وہ جماعت ہے جو خلوص سے مرزاغلام احمد کی تعلیم کو قبول کرتی ہے۔
لاہوری جماعت کی مصلحت آمیزیاں تو اس درجہ واضح ہو چکی ہیں کہ قادیانی کے متعلق ان کی کتابیں نہ
قادیانیوں میں معتبر شمار ہوتی ہیں اور نہ مسلمانوں میں، ان کا بیشتر مصرف یہ ہے کہ لاہوری جماعت کے نفاق کا
ثبوت دیں۔ لطف یہ ہے کہ خود لاہوری جماعت کے اکابر کی قدیم تحریریں، جب کہ مصلحت آمیزی شروع نہ ہوئی تھی،
قادیانی جماعت کے موجودہ عقائد سے متفق ہیں۔ ان تحریرات کی بابت جو
688
عذرات پیش کئے جاتے ہیں، وہ بدتر از گناہ معلوم ہوتے ہیں۔ مثلاً امیر جماعت لاہوری مولوی محمد علی جب
اپنی سابقہ تحریرات کا انکار نہ کر سکے اور کوئی تاویل بھی نہ کر سکے تو ان کی زد سے بچنے کے لئے کیسے بھولے
بن گئے۔ فرماتے ہیں:
’’اگر آپ احمدیہ جماعت لاہور کے متعلق کوئی فتویٰ دینا چاہتے ہیں تو جماعت کے مطبوعہ عقائد آپ کے
سامنے ہیں۔ تیس سال قبل کی میری ذاتی تحریرات سے ان کا کوئی تعلق نہیں۔ ان عقائد کی بناء پر ان پر جو فتویٰ
دینا چاہیں، دیں۔ اگر ذاتی طور پر مجھ پر فتوے کا سوال ہے تو ایسا کفر کا فتویٰ جس کو تیس سال قبل کی
تحریروں سے سہارا دینے کی ضرورت ہو، شاید ہی مفید ثابت ہو سکے۔‘‘
(اخبار پیغام صلح لاہور ج۲۴ نمبر۸ ص۹ کالم۱، مؤرخہ ۳؍فروری ۱۹۳۶ء)
گویا کنایتہ مولوی محمد علی قادیانی تسلیم کرتے ہیں کہ تیس سال قبل خود مرزاغلام احمد قادیانی کی حیات
اور صحبت میں ان کے جو عقائد تھے اور جن کو وہ شائع بھی کرتے تھے، تکفیر کا موجب ہوسکتے ہیں۔ لیکن اس دوران
میں ان کے عقائد بالکل بدل گئے، گویا کہ وہ مسلمان ہوگئے۔ لیکن پھر بھی وہ مرزاغلام احمد کے کامل متبع رہے
اور اب بھی قادیانی جماعت لاہور کے امیر ہیں ؎
-
معشوق ما بمشرب ہر کس موافق است
باما شراب خورد و بزاہد نماز کرد
’’قادیانی مذہب‘‘ کی تالیف میں تقریباً سوا سو قادیانی کتابوں وغیرہ سے اقتباسات لئے گئے ہیں۔ ان میں
پچاس سے زیادہ تو خود مرزاغلام احمد کی اور باقی قادیانی اور لاہوری جماعت کے اکابر کی تصنیف وتالیفات ہیں۔
جماعتوں کی کتب سے تو گریز کرنے کی کوشش کی گئی لیکن مرزاغلام احمد کی کتب میں اس کی بھی گنجائش نہ تھی۔ کس
طرح انکار کر سکتے تھے۔ بالآخر وہی دو ٹکسالی اعتراض خواہ کتنے ہی بے اصل ہوں لیکن اگر اعتراض ہی کرنا تھا
تو ان کے سوا اور کیا کر سکتے تھے۔ لیکن کتابیں بھی موجود ہیں۔ اقتباسات بھی موجود ہیں، جو صاحب تحقیق کرنا
چاہیں، تحقیق کر سکتے ہیں کہ قادیانی صاحبان کا پہلا اعتراض کس درجہ حقیقت ہے۔ اقتباسات اپنی حد تک کس درجہ
واضح اور مکمل ہیں۔ رہا یک رخی کا دوسرا اعتراض سو قادیانی عقائد واعمال کے سب پہلو اس جامعیت سے یک جا پیش
کئے گئے ہیں کہ عام وخاص سب باآسانی سمجھ گئے کہ قادیانی تحریک کا کیا پیام ہے اور کیا انجام۔ البتہ قادیانی
صاحبان یہ افسوس کریں تو بجا ہے کہ ابہام والتباس کے جو پردے پڑے ہوئے تھے، تاویل وتعلی کے جو غلاف چڑھے
ہوئے تھے اور جن سے پچاس سال کا کام چلا وہ پردے اٹھ گئے، غلاف پھٹ گئے، حقیقت کھل گئی اور یہی انجام ہونا
تھا۔
لایعنی تاویل اور بے محل تمثیل یہ ہی دو خاص گر قادیانی ذہنیت کا سرمایہ ہیں اور ان ہی کے تصرفات سے
ان کا مذہب بنا۔ ان کے کرشموں کی کوئی حد نہیں معلوم ہوتی۔ مثلاً بلاتکلف دمشق قادیان بن گیا، قادیان میں
مسجد اقصیٰ بن گئی، خود مرزاغلام احمد آدم بن گئے، عیسیٰ بن گئے، موسیٰ بن گئے، محمد بن گئے، احمد بن گئے،
سب نبیوں کا مجموعہ بن گئے، لگے ہاتھوں کرشن جی بھی بن گئے۔ ایمان وعقائد بھی جیسے مناسب حال معلوم ہوئے بن
گئے۔ اسی بناوٹ میں تاویل وتمثیل نے جو بے دریغ اور بے باک تصرف کئے ہیں ان کی نظیر مذہبی تاریخ میں کم نظر
آتی ہے۔ اگر قادیانی تاویلات وتمثیلات کو یک جا کر دیا جائے تو یقینا بہت سبق آموز بلکہ عبرت انگیز مجموعہ
ہوگا۔ قادیانی تاویل وتمثیل کا یوں تو دائرہ بہت وسیع ہے لیکن اس کے چند خاص رخ ہیں۔ اوّل یہ کہ انبیاء
علیہم السلام کے تمام کمالات مرزاغلام احمد میں ثابت کئے جائیں۔ دوم یہ کہ مرزاغلام احمد کے تمام نقائص
انبیاء علیہم السلام میں ثابت کئے جائیں تاکہ مرزاغلام احمد کی میزان ٹھیک بیٹھ سکے۔ علیٰ ہذا مخالفت کی
بناء پر مسلمان یہودی ثابت کئے جائیں۔ مسلمان کوئی کتاب لکھیں جس سے قادیانیوں کی حقیقت کھلے تو اس کو مخالف
اسلام کتابوں کے مماثل قرار
689
دیا جائے۔ چنانچہ تالیف ’’قادیانی مذہب‘‘ کو آریوں کی کتاب ستیارتھ پرکاش پر عیسائیوں کی کتاب
’’امہات المؤمنین‘‘ کے مماثل قرار دیا گیا ہے۔ اگر کتاب ’’قادیانی مذہب‘‘ کا ان دونوں کتابوں سے مقابلہ کیا
جائے تو قادیانی صاحبان کی حیلہ بازی خودبخود ظاہر ہو جائے گی کہ اوّل الذکر کتاب (قادیانی مذہب) میں جس
پایہ کے سندات جس تواتر اور تسلسل کے ساتھ جس کثرت سے پیش کئے گئے ہیں اور قادیانی تحریک کے سب پہلو کسی
حاشیہ آرائی کے بغیر جس وضاحت اور بداہت سے پیش کئے گئے ہیں، ان دونوں کتابوں میں اس تحقیق اور جامعیت کا
نام بھی نہیں ہے۔ خیال آرائی دوسری بات ہے، لیکن قادیانی تمثیلات میں بڑا کمال یہی ہوتا ہے کہ مماثلت کی
چنداں ضرورت نہیں ہوتی۔ لگا تو تیر، نہیں تو تکا ہی سہی۔
قادیانی نوحوں میں معمولاً جو مقطع کا بند رہتا ہے، وہی اس مضمون میں بھی درج ہے۔ یعنی ہم نے دین کی
ایسی خدمات انجام دیں اور مسلمان ہم سے مدتوں خوش اور مطمئن رہے، ہمارے ممدومعاون رہے تو پھر ہم پر کیوں
گرفت کی جاتی ہے، ہم سے کیوں بازپرس کی جاتی ہے۔ یہ سچ ہے کہ مسلمانوں نے خاص کر جدید تعلیم یافتہ طبقہ نے
قادیانیوں پر بالعموم اور لاہوری جماعت پر بالخصوص مدتوں اعتماد کیا اور ہر طرح مالی واخلاقی مدد کی۔ حسن ظن
اور وسعت اخلاق کا پورا ثبوت دیا۔ لیکن اصلیت کہاں تک چھپتی، بالآخر ثابت ہوگیا کہ دین وملت میں مسلمانوں کے
مارآستین کون ہیں اور اس نمائشی دوا فردوش کا اندرونی منشاء کیا ہے، متنبہ ہونے پر لامحالہ مسلمان محتاط
ہوگئے اور یہی حزم اور احتیاط قادیانی صاحبان کو سخت زہر معلوم ہوتی ہے اور اسی پر واویلا ہورہی ہے۔ حسن ظن
کے زمانہ میں مسلمانوں سے جو حسن خدمت کے پروانے حاصل کئے تھے وہ اب ان کے بیدار ہونے پر شکایتاً شائع کئے
جارہے ہیں۔ گویا ایک مرتبہ فریب کھا کر مسلمان کو حق نہیں کہ وہ ہوشیار ہوں اور اپنی حفاظت کریں۔
چنانچہ حسب معمول ڈاکٹر بشارت احمد قادیانی نے بھی اس مضمون میں بعض سربرآوردہ مسلمانوں کے پروانہ جات
خوشنودی پیش کئے ہیں، جو کسی زمانہ میں انہوں نے حاصل کئے تھے۔ مثلاً ان میں ایک پروانہ عالی جناب نواب صاحب
مانگرول کا بھی درج ہے، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ اگر کوئی اسلام کی خدمت کرے اور فریب نہ دے تو مسلمان کس فراخ
حوصلگی سے اس کی خدمات کا اعتراف کرنے کو تیار ہیں۔ اعتراف کے سوا عجب نہیں کہ اس زمانہ میں مانگرول سے
قادیانی صاحبان کو مالی امداد بھی ملتی ہو، لیکن جب فریب کھلا تو نواب صاحب موصوف کو کتنا افسوس ہوا ہوگا کہ
ان کا حسن ظن برباد گیا، چنانچہ اسی سال ۱۹۳۶ء نواب صاحب موصوف نے ہم کو تحریر فرمایا ہے کہ میں نے آپ کی
مرسلہ چاروں کتابیں (قادیانی مذہب) توجہ سے پڑھیں، نقش اوّل سے نقش ثانی اور ثانی سے ثالث اور ثالث سے رابع
کو بہت بہتر پایا، حقیقت میں آپ نے نہایت توجہ اور غوروخوض کے بعد اس آخری نمبر کو تیار کیا اور اس کی اشاعت
سے دین اسلام کی ایک نہایت اہم خدمت انجام دی۔ قوم مسلم کو ایک بڑے خطرہ اور فتنہ سے آگاہ کردیا۔ اللہ تعالیٰ
آپ کو ان خدمات دینی اور قومی کا اجر جمیل عطاء فرمائے۔ جزاک اللہ احسن الجزاء! نواب
صاحب موصوف کی یہ وہ رائے ہے جو سالہا سال بعد قادیانیوں کی قدر کرنے کے بعد حقیقت حال سے واقف ہوکر قائم
کرنی پڑی۔ کیا اسی کو یک طرفہ فیصلہ کہتے ہیں؟
معلوم ہوتا ہے کہ غالباً نواب صاحب مانگرول کو ایک زمانہ تک قادیانی صاحبان نے مغالطہ میں رکھا اور
خدمت اسلام کے نام سے وہاں کافی فائدہ اٹھایا۔ لیکن حقیقت حال سے واقف ہونے کے بعد نواب صاحب موصوف نے اپنی
ریاست میں بھی انسداد اور تدارک کا انتظام فرمادیا۔ چنانچہ خواجہ حسن نظامی صاحب نے اپنے روزنامچہ میں لکھا
ہے اور یہ روزنامچہ اخبار منادی میں بتاریخ ۳۰؍اکتوبر ۱۹۳۶ء
690
شائع ہو اکہ آج میں نے نواب صاحب (مانگرول) کا ایک فرمان مانگرول کے شیخ الاسلام کے پاس دیکھا جس میں
نواب صاحب نے شیخ الاسلام کو لکھا تھا کہ آپ قادیانی عقائد کی تردید میں جو کچھ کہتے اور لکھتے ہیں میں اس
کو اسلام کی بڑی خدمت تصور کرتا ہوں۔
تقریباً تمام مسلم اکابر جنہوں نے مدتوں سطحی واقفیت کی بناء پر قادیانی نمائشات کی خوب داد دی، خوب
امداد کی حقیقت کھلنے پر چونک پڑے اور اس بیداری کا قادیانیوں کو قلق ہے، پرانی عنایات یاد دلا دلا کر
قادیانی صاحبان مسلمانوں سے شکوہ کرتے ہیں۔ حالانکہ شکوہ مسلمانوں کو کرنا چاہئے کہ ان کے حسن ظن اور حسن
اخلاق سے بے جا فائدہ اٹھایا گیا، بہرحال علماء مشائخ ہی نے نہیں بلکہ جدید تعلیم یافتہ طبقہ کے سربرآوردہ
مسلمانوں نے بھی بخوبی سمجھ لیا اور اقرار کر لیا کہ قادیانیت واقعی عجب دام فریب تھا۔ نہ یوں بھانڈا پھوٹے
اور نہ یہ طلسم ٹوٹے۔ کیسے کیسے باوقار اور صاحب اقتدار مسلمان جو کل تک قادیانیوں کے مداح اور حامی کار تھے
آج قادیانیوں سے بیزار ہیں اور اپنی سابقہ معاونت سے شرمسار ہیں۔ لیکن ہم کو قادیانی صاحبان کی طرح
اشتہاربازی منظور نہیں اس کی ضرورت بھی نہیں۔ کیونکہ خود قادیانی صاحبان کو اس کا اقرار ہے۔ ملاحظہ ہو:
’’ایک وقت تھا کہ یہ سلسلہ (قادیانی) سب کو کھائے جارہا تھا۔ دنیا کی نگاہیں باربار اٹھتی تھی کہ
حقیقی کامل یہ جماعت پیدا ہوگئی ہے… اور آج یہ حالت ہے کہ اچھے اچھے لوگ بھی جن کے دل ادھر کھنچے ہوئے تھے
وہ نفرت کرنے لگ گئے۔‘‘
مثلاً خواجہ حسن نظامی صاحب حال میں مانگرول تشریف لے گئے تو ۶؍فروری ۱۹۳۷ء کی بابت روزنامچہ میں
لکھتے ہیں اور یہ روزنامچہ ۱۲؍فروری ۱۹۳۷ء کے اخبار منادی دہلی میں شائع ہوا کہ ہائینس نواب صاحب مانگرول کے
ہاںہر وقت علمی چرچے رہتے ہیں… پہلے قادیانی عقائد کا میلان تھا لیکن اب قادیانیوں کی دونوں پارٹیوں کے منکر
ہیں۔ (فالحمد للہ علیٰ ذالک للمؤلف)
قادیانی صاحبان جو مسلمانوں کے ساتھ معاملہ رکھنا چاہتے ہیں، اس کی وہی مثل ہے کہ اونٹ کے گلے میں
بلی، کسی شخص نے سربازار اپنی فیاضی کا اعلان کیا کہ وہ اونٹ اللہ واسطے مفت دینا چاہتا ہے البتہ شرط یہ ہے کہ
جو شخص اونٹ لے وہ اس بلی کو قیمتاً خریدے جو اونٹ کے گلے میں بندھی ہوئی ہے اور بلی کی اتنی قیمت رکھ دی کہ
اس میں اونٹ بھی مہنگا پڑتا تھا۔ یہی حال قادیانیوں کا ہے کہ ایک طرف ان کا ادّعا ہے کہ وہ اسلام کی بڑی
خدمت انجام دے رہے ہیں۔ دوسری طرف وہ اسلام کے ساتھ قادیانیت کی تبلیغ کو لازم اور لابد قرار دیتے ہیں کہ جس
سے خود اسلام معرض خطر میں پڑ جاتا ہے۔ اس نہج پر کاروبار چلانا چاہتے ہیں۔ قادیانی جماعت پورے منافع کی
طالب ہے اور لاہوری جماعت کمتر منافع پر راضی ہے۔ مگر کاروبار وہی ایک ہے ؎
-
بہر رنگے کہ خواہی جامہ می پوش
من انداز قدت را می شناسم
لاہوری جماعت کی دو رخی اب نہیں چل سکتی۔ اتنی مدت چلی یہ بھی تعجب ہے۔ اب اس کو اپنے مستقبل کا فیصلہ
کرنا ناگزیر ہے۔ خواہ وہ یکسوئی مسلمان ہو جائے اور تبلیغ اسلام میں لگ جائے اور خواہ وہ جی کڑا کر کے پکی
قادیانی بن جائے اور قادیانیت میں کھپ جائے۔
دو رنگی چھوڑ دے یک رنگ ہو جا
691
بسم اللہ الرحمٰن الرحیم
ضمیمہ پنجم
قادیانی کتابیں
قادیانی مذہب کا پہلا ایڈیشن تیار ہوا تو اس وقت مطلوبہ کتابیں بہت کم مل سکیں۔ فرمائشوں کا جواب تک
نہ ملا۔ چنانچہ اس بارہ میں شکایت کرنی پڑی۔ لیکن ’’قادیانی جماعت‘‘ کے نام سے جو رسالہ شائع ہوا جو ضمیمہ
اوّل میں درج ہے، تو رکاوٹ رفع ہوئی اور کتاب کی سبیل پیدا ہوگئی۔ چنانچہ مقامی کتاب گھر کی معرفت قادیان سے
کتابیں آنے لگیں اور اس کے ذریعہ بہت سی کتابیں خرید میں آگئیں۔ اسی زمانہ میں قادیان کے ایک تاجر کتب بھی
حیدرآباد آنکلے۔ ان سے بھی کچھ کتابیں مل گئیں۔ کچھ کتابیں راست قادیان سے آگئیں۔ غرض کہ خاصا ذخیرہ فراہم
ہوگیا۔ قادیانی صاحبان کا شکریہ ادا کیا گیا۔
تاہم فرمائش کی متعدد کتابیں مہیا ہونی باقی تھیں، مقامی کتاب گھر نے امروز وفردا میں بہت زمانہ گزار
دیا تو بالآخر راست قادیان فہرست بھیجنی پڑی۔ امید تھی کہ وہاں سے کتابیں آجائیں گی۔ لیکن مایوسی ہوئی۔ ان
میں سے بعض کے متعلق یہ عذر ہوا کہ وہ نایاب یا کم یاب ہیں۔ حالانکہ اپنی نوعیت کے لحاظ سے وہ کافی اہم ہیں۔
جب کہ وسیع پیمانہ پر قادیانی تبلیغی لٹریچر شائع کیا جائے تو بعض اصلی کتابوں کا اشاعت سے غائب ہو جانا بہت
عجیب اور مایوس کن ہے۔ مریدین ومعتقدین، محققین ومناظرین سب متعلقہ جماعتوں کو ان کی ضرورت ہے۔ ممکن ہے کہ
شاید کسی مصلحت سے ان کی اشاعت ختم کر دی گئی یا کچھ وقفہ کے بعد وہ حسب مصلحت ترمیم ہوکر شائع ہوں۔ چنانچہ
مصلحت آمیز ترمیم وتنسیخ کا ایک آدھ نمونہ شائع بھی ہوا ہے۔ بہرحال ہماری طرف بھی اصل کتابوں کی تلاش جاری
رہی۔ چنانچہ بڑی جستجو سے کچھ کتابیں ہاتھ لگی ہیں۔ ایک کم یاب مقالہ کلمۃ الفصل حیدرآباد کی قادیانی انجمن
کے امیر صاحب سے چند روزکے واسطے مستعار مل گیا۔ جس کا شکریہ ادا کیاگیا۔ تائید غیب ہوئی تو ’’الفضل‘‘ اخبار
کی بھی اکثر پرانی جلدیں قیمتاً مل گئیں۔ اس طرح قادیانی لٹریچر کا بہت خاصا ذخیرہ جمع ہوگیا۔ تاہم فراہمی
کا سلسلہ جاری ہے تاکہ مسلمانوں کی لاعلمی اور بے خبری رفع ہو سکے۔
یہ امر قابل ستائش ہے کہ فی الجملہ قادیانی جماعت مرزاغلام احمد کی اصلی کتابیں شائع کرنے میں زیادہ
مستعد بنی ہوئی ہے۔ وہیں سے بیشتر کتابیں دستیاب ہوتی ہیں۔ لاہوری جماعت نے بھی مرزاقادیانی کی کتابیں شائع
کی ہیں۔ لیکن کم۔ ان میں بھی خصوصیت سے عربی کتابیں شامل ہیں تاکہ عربی ممالک میں کام آئیں۔ ان کو اپنا
تبلیغی لٹریچر شائع کرنے کی زیادہ فکر معلوم ہوتی ہے۔ تحقیق کے واسطے ان کے ہاں سے اصلی مواد کم ملتا ہے۔
تاہم وہاں سے بھی کتابیں آئیں۔ کچھ معلومات حاصل ہوئیں۔ دونوں جماعتوں کا شکریہ واجب ہے۔
’’قادیانی مذہب‘‘ میں جو اقتباسات درج ہیں ان میں سب نہیں تو ننانوے فیصدی سے زیادہ اصل کتابوں سے اخذ
کئے گئے۔ شاذ اصل کتابیں نہ ملنے کی صورت میں دیگر کتب سے نقل کرنے پڑے۔ لیکن یہ کتابیں بھی بجائے خود کافی
مصروف ومروج ہیں۔ مسلم ہیں۔ صفحوں کے حوالے میں بھی کافی اہتمام کیاگیا۔ لیکن ایک پیچیدگی رہ گئی وہ یہ کہ
مختلف ایڈیشنوں کے صفحوں میں بھی اختلاف نکلا اور بعض ایڈیشنوں پر سن طباعت بھی درج نہیں ملا۔ اس لئے بعض
صورتوں میں ایک ایڈیشن کے صفحات کا حوالہ دوسرے ایڈیشن میں بعینہٖ ملنا ممکن
692
نہیں لیکن ایسی صورتیں معدودے چند ہیں زیادہ نہیں۔ حاصل کلام یہ ہے کہ جہاں تک موقع ملا، پوری چھان
بین کی گئی یوں سہواً انسانی یا کتابت کی غلطی دوسری بات ہے۔
بہرحال جن کتابوں کے اقتباسات وحوالہ جات اس ایڈیشن میں درج ہیں۔ ان کی فہرست ذیل میں پیش ہے۔ جس سے
واضح ہو گا کہ فی الجملہ تقریباً ڈیڑھ سو کتابوں سے مواد لیاگیا۔ جن میں سواسو سے زیادہ قادیانی ہیں اور
بقیہ غیرقادیانی۔ ان قادیانی کتب میں پچاس سے زیادہ خود مرزاغلام احمد کی تصانیف ہیں اور باقی قادیانی اکابر
کی کتابیں اور چند اخبار ورسائل ہیں۔ غیرقادیانی کتب میں پانچ تو فن طب سے متعلق ہیں، باقی کتب، اخبار
ورسائل ہیں جن سے یقینی واقعات نقل کئے گئے ہیں۔ چنانچہ ذیل میں مفصل فہرست درج کرتے ہیں:
(الف) مرزاغلام احمد قادیانی کی تصانیف
(۱) اربعین (۲) آریہ دھرم (۳) ازالہ اوہام (۴) استفتاء (۵) آسمانی فیصلہ (۶) اعجاز احمدی (۷) اعجاز المسیح (۸) البلاغ مسمی بہ فریاد (۹) الوصیت (۱۰) الہدیٰ والتبصرۃ لمن یری (۱۱) انجام آتھم (۱۲) انوارالاسلام (۱۳) آئینہ کمالات اسلام (۱۴) ایام الصلح (۱۵) ایک غلطی کا ازالہ (۱۶) براہین احمدیہ (۱۷) پیغام صلح (۱۸) تجلیات الٰہیہ (۱۹) تحفۃ الندوہ (۲۰) تحفہ قیصرہ (۲۱) تحفہ گولڑویہ (۲۲) تذکرۃ الشہادتین (۲۳) تریاق القلوب (۲۴) توضیح مرام (۲۵) جنگ مقدس (۲۶) چشمہ مسیحی (۲۷) چشمہ معرفت (۲۸) حجۃ اللہ (۲۹) حقیقت المہدی (۳۰) حقیقت الوحی (۳۱) حمامۃ البشریٰ (۳۲) خطبہ الہامیہ (۳۳) دافع البلاء (۳۴) درثمین (۳۵) رسالہ جہاد (۳۶) ستارہ قیصریہ (۳۷) ست بچن (۳۸) سراج منیر (۳۹) سیرۃ الابدال (۴۰) شہادۃ القرآن (۴۱) ضرورت الامام (۴۲) کتاب البریہ (۴۳) کشتی نوح (۴۴) کشف الغطاء (۴۵) گورنمنٹ کی توجہ کے لائق (رسالہ) (۴۶) لجنۃ النور (۴۷) لکچر اسلام (۴۸) لوح الہدیٰ (۴۹) نجم الہدیٰ (۵۰) نزول المسیح (۵۱) نسیم دعوت (۵۲) نشان آسمانی (۵۳) نورالحق (۵۴) انوارالقرآن (۵۵) مواہب الرحمن
693
(ب) مرزامحمود خلیفہ قادیان کی تصانیف
(۵۶) القول الفصل (۵۷) انوارخلافت (۵۸) آئینہ صداقت (۵۹) برکات خلافت (۶۰) تحفۃ الملوک (۶۱) تحفہ ارون (۶۲) تحفہ شہزادہ ویلز (۶۳) تحفہ ولنگڈن (۶۴) تقدیر الٰہی (۶۵) حق الیقین (۶۶) حقیقت الامر (۶۷) حقیقت النبوۃ (۶۸) دعوۃ الامیر (۶۹) ذکر الٰہی (۷۰) صادقوں کی روشنی (۷۱) ملائکۃ اللہ (۷۲) منہاج الطالبین (۷۳) منصب خلافت (۷۴) مسیح موعود کے کارنامے (۷۵) خطبات محمود (۷۶) انوارالعلوم
(ج) صاحبزادہ بشیراحمد قادیانی کی تصانیف
(۷۵) کلمۃ الفصل (مندرجہ رسالہ ریویو آف قادیان، ج۱۴) (۷۶) سیرت المہدی جدید وقدیم (۷۷) سلسلہ احمدیہ
(د) حکیم نورالدین قادیانی خلیفہ اوّل کی تصانیف
(۷۸) نورالدین
(ہ) مولوی محمد علی لاہوری قادیانی امیر جماعت لاہوری کی تصانیف
(۷۹) النبوۃ فی الاسلام (۸۰) بیان القرآن (۸۱) تحریک احمدیت (۸۲) حقیت اختلاف (۸۳) نکات القرآن (۸۴) ردتکفیر اہل قبلہ
(و) دیگر قادیانی صاحبان کی تصانیف
(۸۵) احمدیہ ینگ مین ایسوسی ایشن کے ہینڈ بل، نمبر۱۵،۲۱،۲۲ (۸۶) ازہاق الباطل مؤلفہ میر قاسم علی قادیانی (۸۷) اظہار حقیقت منجانب انجمن انصار اللہ قادیانی (۸۸) البشریٰ مؤلفہ محمد منظور الٰہی قادیانی لاہوری (۸۹) المہدی مؤلفہ حکیم محمد حسین قادیانی لاہوری (۹۰) آئینہ احمدیت مؤلفہ دوست محمد قادیانی لاہوری
694
(۹۱) آئینہ حق نما مؤلفہ یعقوب علی قادیانیمؤلفہ یعقوب علی قادیانی مصنفہ عبد اللہ تیماپوری قادیانی(۹۳) انوار احمدی مؤلفہ شہزادہ حاجی عبدالمجید قادیانی(۹۴) تذکرہ یعنی وحی مقدس (مجموعہ الہامات مکاشفات) مؤلفہ مرزاغلام احمد قادیانی (۹۵) تفسیر آسمانی مؤلفہ عبد اللہ تیماپوری قادیانی (۹۶) حیات احمد مؤلفہ یعقوب علی قادیانی (۹۷) حیات ناصر مرتبہ شیخ یعقوب علی عرفانی قادیانی (۹۸) خادم خاتم النّبیین مصنفہ صدیق دیندار قادیانی (۹۹) خطوط امام بنام غلام مؤلفہ محمد حسین قریشی قادیانی (۱۰۰) رسالہ تبدیلی عقائد مولوی محمد علی صاحب مؤلفہ محمد اسماعیل قادیانی (۱۰۱) رسالہ درود شریف مؤلفہ محمد اسماعیل قادیانی (۱۰۲) رسالہ مولوی محمد علی صاحب کے سابقہ عقائد پر تبصرہ مصنفہ شیر علی قادیانی (۱۰۳) رسالہ مولوی محمد علی صاحب کے اپنے سابقہ تحریرات سے متعلق جوابات پر نظر
(۱۰۴) رسالہ مؤلفہ فخرالدین ملتانی قادیانی (۱۰۵) رسالہ احمدی النبوۃ فی الالہام مؤلفہ قاضی محمد یوسف قادیانی (۱۰۶) عسل مصفّٰی مؤلفہ مرزاخدابخش قادیانی (۱۰۷) رسالہ نمبر ہشتم مصنفہ شیخ غلام محمد قادیانی (۱۰۸) فتاویٰ احمدیہ مؤلفہ محمد فضل خاں قادیانی (۱۰۹) کتاب منظور الٰہی مؤلفہ محمد منظور الٰہی قادیانی (۱۱۰) کشف الاختلاف مؤلفہ سید سرور شاہ قادیانی (۱۱۱) لکل امۃ اجل مصنفہ احمد نور کابلی قادیانی (۱۱۲) مجدد کامل مصنفہ خواجہ کمال الدین قادیانی (۱۱۳) مکاشفات مؤلفہ محمد منظور الٰہی قادیانی (۱۱۴) مکتوبات احمد مؤلفہ شیخ یعقوب علی عرفانی قادیانی (۱۱۵) ملفوظات احمدیہ منجانب احمدیہ انجمن اشاعت لاہور
695
(۱۱۶) منکرین خلافت کا انجام مصنفہ جلال الدین شمس قادیانی (۱۱۷) نہج المصلّی مؤلفہ محمد فضل خاں قادیانی (۱۱۸) ذکر حبیب مفتی محمد صادق قادیانی
(ز) قادیانی اخبار ورسائل
(۱۱۹) اخبار الحکم، قادیان (۱۲۰) اخبار الفضل، قادیان (۱۲۱) اخبار البدر، قادیان (۱۲۲) اخبار پیغام صلح، لاہور (۱۲۳) اخبار فاروق، قادیان (۱۲۴) رسالہ تشحیذ الاذہان، قادیان (۱۲۵) رسالہ ریویو آف ریلیجنز، قادیان
(ح) غیرقادیانی کتب
(۱۲۶) اکسیر اعظم (طب) مؤلفہ حکیم محمد اعظم خاں (۱۲۷) الکاویہ علی الغاویہ مصنفہ مولوی محمد عالم آسی (۱۲۸) آئینہ کمالات مرزا (تنقید) منجانب جناب ناظم صاحب دارالاشاعت رحمانی مونگیر شریف (۱۲۹) تذکرہ الزفاق فی عجال المراق (طب) مصنفہ حکیم اصغر حسین خاں فرخ آبادی (۱۳۰) خطوط سرسید مرتبہ سید راس مسعود (۱۳۱) مسیح دجال کا سربستہ راز (تنقید) ملک نظیر احسن بہاری (۱۳۲) رسالہ الذکر الحکیم مؤلفہ ڈاکٹر عبدالحکیم خاں (۱۳۳) سودائے مرزا (قادیانی) (تنقید) حکیم محمد علی امرتسر (۱۳۴) سیر المصنّفین مؤلفہ محمد یحییٰ (۱۳۵) شرح اسباب وعلامات (طب) مصنفہ علامہ برہان الدین نفیس بن عوض المتطب الکرمانی (۱۳۶) مخزن حکمت (طب) مصنفہ شمس الاطباء حکیم ڈاکٹر غلام جیلانی (۱۳۷) قادیانی جماعت مؤلفہ پروفیسر الیاس برنی (۱۳۸) قانون (طب) شیخ الرئیس بوعلی سینا
(ط) غیرقادیانی اخبار ورسائل
(۱۳۹) اخبار النجم، لکھنؤ (۱۴۰) اخبار مباہلہ، قادیان، امرتسر (۱۴۱) اخبار مدینہ، بجنور (۱۴۲) رسالہ حقیقت اسلام، لاہور (۱۴۳) رسالہ دلگداز، لکھنؤ (۱۴۴) رسالہ شمس الاسلام، بھیرہ (پنجاب)
696