Top banner image

خطبات شاھین ختم نبوت

(جلد دوم)

حضرت مولانا اللہ وسایا صاحب

مجاہدین ختم نبوت کے سلسلہ کی ایک کڑی شاہین ختم نبوت حضرت مولانا اللہ وسایا صاحب دامت برکاتہم ہیں جنہیں اللہ رب العزت نے بے پناہ کمالات اور اعزازات سے نوازا اور کمال درجہ کی ذہانت بخشی ہے، زبان میں ایسی تاثیر کہ جو بات کرتے ہیں وہ نقش کالحجر ہوجاتی ہے اور سامعین کو مسحور کردیتی ہے،حضرت مولانا اللہ وسایا صاحب عقیدہ ختم نبوت کے تحفظ کے محاذ کے جرنیل اور قادیانیت کے خلاف درہ عمرؓ کی حیثیت رکھتے ہیں، ردقادیانیت میں آپ صرف تجربہ کار ہی نہیں بلکہ صاحب بصیرت امام مانے جاتے ہیں، حضرت مولانا نے ردقادیانیت پر بہت سی کتابیں تصنیف فرمائیں،جنہیں عام وخاص میں قبولیت حاصل ہے اور تحریرات جو کہ باریک بینی سے پڑھنے کے قابل اور دل کو چھونے والی ہوتی ہیں

 

 

 

صَلُّوا عَلَی الْحَبِیْب

 

 

 

    بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ

  1. نام کتاب

    دروس و بیانات ختم نبوت

  2. مرتب

    (حضرت مولانا) محمد یوسف ماما (صاحب دامت برکاتہم)

  3. نظر ثانی

    حضرت مولانا منور حسین سورتی صاحب دامت برکاتہم

  4. اشاعت دوم

    ذوالحجہ ۱۴۳۶ھ بمطابق اکتوبر 2015

  5. صفحات

    336

  6. ناشر

    عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت حضوری باغ روڈ ملتان

2

نگاہ اوّلین!

نحمدہ ونصلی علیٰ رسولہ الکریم۰ اما بعد!

فقیر کا برطانیہ کا پہلا سفر ۱۹۸۵ء کی پہلی ختم نبوت کانفرنس ویمبلے ہال لندن میں شرکت کے لئے ہوا۔ کانفرنس سے فراغت کے بعد پوری قیادت کی حج اور پھر وہاں سے وطن واپسی ہوئی۔ فقیر کی دو ماہ مزید وہاں قیام کے لئے ڈیوٹی لگی۔ اس موقعہ پر باٹلی میں چند روز عقیدۂ ختم نبوت کی اہمیت اور قادیانی عقائد ونظریات کے حوالہ سے دروس وبیانات ہوئے جو ریکارڈ کر لئے گئے۔

اللہ رب العزت اپنی شایان شان جزائے خیر دیں۔ استاذ العلماء حضرت مولانا محمد یوسف ماما مدظلہ استاذ الحدیث باٹلی کو آپ نے ٹیپ ریکارڈ سے انہیں قلمبند کیا۔ پھر کمپوز کیا۔ یہ اتنا جانگسل مرحلہ ہوتا ہے جو حضرات اس وادی کے مسافر ہیں وہ جانتے ہیں کہ مولانا موصوف نے کتنی عرق ریزی اور سعی مشکور سے اسے سرانجام دیا۔ ان کے کمپوز شدہ مسودہ پر خطیب اسلام حضرت مولانا منور حسین سورتی مدظلہ نے نظر ثا نی فرمائی۔ عنوانات قائم کئے اور اس مسودہ کو اشاعت کے قابل کر دیا۔

مدرسہ عربیہ ختم نبوت مسلم کالونی چناب نگر کے صدر مدرس حضرت مولانا علامہ غلام رسول دین پوری مدظلہ نے آخری بار پروف پڑھا اور کتاب کا نوک پلک درست کیا۔ اللہ تعالیٰ ان تمام حضرات کو بہت ہی جزائے خیر نصیب فرمائیں کہ ان حضرات کی محبت بھری محنت سے یہ کتاب تیار ہوگئی۔

فقیر راقم بخدا تصور بھی نہیں کر سکتا تھا کہ میرے دروس یا بیانات چھپیں گے۔ ان حضرات کی اس محنت کو خالصتاً انعام الٰہی اور عطیۂ قدرت خداوندی سمجھتا ہوں۔ حضرت مولانا محمد یوسف ماما مدظلہ اس کتاب کے مرتب ہیں۔ ان کا تعارف شامل ہے۔ وہ آگے آپ ملاحظہ فرمائیں گے۔ مولانا منور حسین سورتی صاحب مدظلہ بہت ہی زیادہ شکریہ کے مستحق ہیں کہ ان کے دم قدم سے یہ کتاب اشاعت پذیر ہوئی۔ حق تعالیٰ انہیں دارین میں اس کی جزائے خیر نصیب فرمائیں۔

محتاج دعا…فقیر اللہ وسایا

مورخہ۲۶؍رمضان المبارک ۱۴۳۳ھ

3

فہرست دروس ختم نبوت

  1. عنوانات

    صفحہ نمبر

  2. قلبی تأثرات

    ۱۸

  3. تعارف مرتب (حضرت مولانا محمد یوسف ماما صاحب مدظلہم کا مختصر تذکرہ)

    ۲۰

  4. قبل ازیں گویم

    ۲۴

  5. پہلادرس: تعارف وتاریخ فتنۂ قادیانیت

    ۲۵

  6. حضرت حاجی امداد اللہؒ کا پیر مہر علی شاہؒ کو فتنۂ قادیانیت سے آگاہ کرنا

    ۲۶

  7. حضرت حاجی امداد اللہ ؒ نے مرزا کے دعویٰ نبوت کی پیشینگوئی کردی تھی

    ۲۷

  8. حضرت شاہ عبد الرحیم ؒ کا حکیم نور الدین کو متنبہ کرنا

    ۲۷

  9. قلندر ہر چہ گوید دیدہ گوید

    ۲۸

  10. برطانوی حکومت کی مسلمانوں کے دلوں سے جذبۂ جہادختم کرنے کی عیارانہ چال

    ۲۸

  11. بقول تھانوی ؒ مولوی کا کام مسئلہ بتانا ہے… الخ

    ۲۹

  12. برطانوی حکومت کو ایک جھوٹے ظلی نبی کی ضرورت تھی

    ۲۹

  13. جھوٹے نبی مرزا غلام احمد کے بے شمار استاذ تھے

    ۲۹

  14. برطانوی حکومت نے مرزا غلام احمد کو جھوٹا نبی بننے کے لئے منتخب کرلیا

    ۳۰

  15. قادیانی پہلے سے طے شدہ باتوں کو نبوت کی دلیل کے طور پر پیش کرتے ہیں

    ۳۰

  16. مرزا بشیر کا ایک پُر لُطف ڈرامہ

    ۳۱

  17. جھوٹے نبی کے منی آڈر بغیر نام کے ہوتے تھے

    ۳۱

  18. جھوٹے نبی کی ہربات میں تضاد سوائے دو باتوں کے

    ۳۱

  19. جھوٹے نبی کی نظر میں نمک حرام ہوں گے ، بد خواہ ہوں گے

    ۳۲

  20. جھوٹا نبی ابتدائً مبلغ اسلام کی حیثیت سے ظاہر ہوا تھا

    ۳۲

  21. مرزا کی پہلی کتاب ’ براہین احمدیہ‘ دیکھ کر… الخ

    ۳۲

  22. قادیانیوں کے ایک سوال کا جواب

    ۳۳

4
  1. آخر کار جھوٹے نبی نے نبوت کا دعویٰ کرہی دیا

    ۳۴

  2. مرزائیوں کے قرآن کا نام ’’ تذکرہ‘‘ ہے

    ۳۴

  3. مرزائیوں کی حدیث کی کتاب کا نام ’’ سیرۃ المہدی‘‘ ہے

    ۳۴

  4. مرزائیوں کی حدیث کی کتاب ’’ سیرۃ المہدی‘‘ غلاظتوں سے بھرپور

    ۳۵

  5. ایک مباہلہ سے مرزا کے جھوٹ کا ثبوت

    ۳۵

  6. مرزا کے آخری وقت کے احوال

    ۳۶

  7. مرزا کی احمقانہ تأویل

    ۳۶

  8. دو زرد رنگ کی چادروں سے مراد…الخ

    ۳۶

  9. جھوٹے مسیح کا منارہ اور دجال کے گدھے کا ذکر

    ۳۷

  10. جھوٹے نبی کے دجال کے گدھے پر ہی جھوٹے نبی کا آخری سفر

    ۳۷

  11. شاہ عبد الرحیمؒ کی پیشینگوئی کے مطابق مرزا کاسب سے پہلا خلیفہ حکیم نور الدین بنا

    ۳۸

  12. حکیم نور الدین کے مرنے کے بعد مرزا کے خلیفہ کے بارے میں اختلاف ہوگیا

    ۳۸

  13. مرزا کے لڑکے کی شادی کے بارے میں مرزا کی دلچسپی

    ۳۸

  14. مرزا کی پسند کی لڑکی

    ۳۸

  15. دین کے ساتھ جتنا بدترین مذاق اس جماعت نے کیا شاید ہی کسی اور نے کیا ہو

    ۳۹

  16. مولوی محمد علی لاہوری کے اختلاف کی وجہ سے قادیانی دوجماعت میں تقسیم ہوگئے

    ۳۹

  17. جس مسیح موعود کا فرشتہ منافق ہو

    ۳۹

  18. مرزا کے جھوٹے فرشتہ کا نام ’ ٹیچی ٹیچی‘ تھا

    ۴۰

  19. لاہوری قادیانی جماعت ایک دوسرے کو لعن طعن کرنے میں مصروف

    ۴۱

  20. بقول سیدعطاء اللہ شاہ بخاری ؒ خنزیر خنزیر ہی ہوتا ہے

    ۴۱

  21. مولوی محمد علی لاہور ی خلافت نہ ملنے کی وجہ سے… الخ

    ۴۲

  22. حقیقت میں لاہوری دوگنے کافر ہیں بقول مرزا

    ۴۲

  23. بقول مرزا بشیر الدین ’’قادیان دار الامان‘‘ ہے

    ۴۲

5
  1. سیالکوٹ میں قادیانیوں کی آبادی کیوں زیادہ ہے ؟

    ۴۳

  2. باطل کو جس وقت موقع ملتا ہے تو وہ اکڑتا ہے

    ۴۳

  3. بلوچستان کو ’’احمدیہ صوبہ‘‘ بنانا چاہتے ہیں

    ۴۴

  4. عقیدۂ ختم نبوت کے تحفظ کے لئے دس ہزار شہیدوں کا خون بہا

    ۴۴

  5. سید عطاء اللہ شاہ بخاری ؒ نے عدالت میں قبول کیا کہ… الخ

    ۴۴

  6. ۱۹۵۳ ء کی تحریک کے بعد اسلام و کفر ممتاز ہوگیا

    ۴۵

  7. بقول مرزا بشیر الدین مال ودولت کا لالچ دے کرانقلاب لاؤ

    ۴۵

  8. ۱۹۷۰ ء کے انتخاب میں قادیانیوں نے ایڑی چوٹی کا زور لگایا

    ۴۵

  9. مرزائیوں کا محکمہ تعلیم پر قبضہ کرنے کا خواب تھا

    ۴۶

  10. نشتر میڈیکل کالج کے طلباء کے ساتھ قادیانیوں کا ظالمانہ و درندانہ رویہ

    ۴۶

  11. بعض امور تکوینی ہوتے ہیں

    ۴۷

  12. ۱۹۷۳ ء کی تحریک چلی اور بالآخر ۱۹۷۴ء میں قادیانی غیر مسلم قرار دئیے گئے

    ۴۸

  13. مرزا ناصر احمد کی خوشیوں پر اللہ تعالیٰ نے کالک لگادی

    ۴۹

  14. ہمارے بزرگوں نے مسئلہ ختم نبوت کے لئے ایک ایک کے پاؤں پکڑے

    ۴۹

  15. مرزا بشیر الدین بڑے بڑے علماء کے بارے میںمتکبرانہ زبان استعمال کرتا تھا

    ۵۰

  16. مرزا طاہر کس قسم کا شخص تھا

    ۵۱

  17. مرزا ناصر کی شادی کا شرمناک واقعہ

    ۵۱

  18. مولانا اللہ وسایا (حفظہ اللہ)کا ایک تہلکہ خیز خطاب

    ۵۲

  19. بد بخت نے مرنا قبول کیا مگر ہمارے حوالوں کو… الخ

    ۵۲

  20. مرزا ناصر کی سب اولاد ایک دوسرے سے بڑھ چڑھ کر تھیں

    ۵۳

  21. جھوٹے نبی کے پوتے مبارک احمد نے خلافت کو مال و دولت کے بدل قربان کردیا

    ۵۳

  22. ایم ایم قادیانی بجائے صدر بننے کے ہاسپیٹل پہنچ گیا

    ۵۳

  23. کبھی کبھی کوئی شر سر اُٹھاتا ہے مگر اس میں خیر مقدر ہوتی ہے

    ۵۴

6
  1. ’’مولانا اسلم قریشی‘‘ کے اغواء سے ہمارے بہت سے مطالبے پورے ہوگئے

    ۵۴

  2. ’’عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت‘‘ کے وفدا ور علماء کی قربانی سے بہت فائدہ پہنچا

    ۵۵

  3. مولانا انور شاہ کشمیری ؒ کی بے چینی و بے قراری

    ۵۶

  4. کہاں ان کا دبدبہ اور کہاں ان کی بے کسی و بے بسی ؟

    ۵۶

  5. بہت جلد قادیانیوں کا اختتام و زوال ہوگا ان شاء اللہ

    ۵۶

  6. ہر فتنے کے چار دور ہوتے ہیں

    ۵۶

  7. قادیانیت کے فتنے سے امت کو محفوظ رکھنا ہم سب کا مشترکہ کام ہے

    ۵۷

  8. ختم نبوت کا کام بہت مقدس کام ہے

    ۵۷

  9. بقول مولانا رائپوریؒ ختم نبوت کی تبلیغ سب وظیفوں اور تسبیحات سے بڑھ کر ہے

    ۵۸

  10. بقول حضرت رائپوریؒ چوتھی پشت پر جاکر مرزائیت کا خاتمہ ہوجائے گا

    ۵۸

  11. دوسرادرس: تعارف مرزائی عقائد ونظریات

    ۵۹

  12. قادیانیوں کی طرف سے کلمۂ طیبہ کی توہین

    ۶۰

  13. ختم نبوت اور بزرگان امت

    ۶۱

  14. مرزائیوں کے عقائد

    ۶۱

  15. مرزائی یہ کہتے ہیں : ہمیں مرزائی نہ کہا جائے ‘ اس کا جواب

    ۶۲

  16. مرزائیوں کو ’’احمد ی‘‘ کہنا رسول اللہ ﷺ کی توہین ہے

    ۶۳

  17. مسلمانوں سے اختلاف

    ۶۳

  18. مسلمانوں سے ان کا ہر بات میں اختلاف ہے

    ۶۴

  19. مرزائیوں کے یہاں خدا کا تصور

    ۶۴

  20. میں عورت ہوں ، اللہ تعالیٰ نے میرے ساتھ… الخ

    ۶۴

  21. مرزائی خود اپنی ہی کتاب سے خائف ہیں

    ۶۵

  22. میں خدا ہوں (نعوذ باللہ)

    ۶۵

  23. اس زمانہ میں خدا سنتا ہے ،بولتا نہیں !

    ۶۶

7
  1. کیا کوئی مشرک بھی نبی بن سکتا ہے

    ۶۶

  2. جو حرام مال کھاتا ہے ،وعدہ خلافی کرتا ہے ،کیا وہ نبی بن سکتا ہے ؟

    ۶۶

  3. مرزائیوں کے ایک سوال کا جواب

    ۶۷

  4. خداوند تعالیٰ کو وصول کرنا ہے اور امت کو ادا کرنا ہے

    ۶۷

  5. اللہ تعالیٰ فرماتا ہے پانچ دو اور پچاس لو مرزا کہتا ہے : پچاس دو پانچ لو !

    ۶۸

  6. کیا اللہ تعالیٰ کی زبان پر مرض لاحق ہوگیا ہے ؟

    ۶۸

  7. مرزائیوں کے یہاں تصور نبوت

    ۶۸

  8. جھوٹے نبی کے دعویٰ میں تضاد دیکھئے!

    ۶۹

  9. نبوت وہبی ہے کسبی نہیں

    ۶۹

  10. چند اشکالات کے تشفی بخش جوابات

    ۶۹

  11. جو شخص مرزا غلام احمد کو نبی نہیں مانے گا وہ جہنم میں جائے گا

    ۷۰

  12. حضرت عیسیٰ علیہ السلام پرایک ہی سانس میں… الخ

    ۷۱

  13. جھوٹے نبی نے ایک ہی عبارت میں چھ جھوٹ بولے

    ۷۱

  14. حضرت عیسیٰ علیہ السلام حضور ﷺ کی شریعت کے مطابق فیصلہ کریں گے

    ۷۲

  15. قیامت کے دن حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی دو حیثیتیں ہوںگی

    ۷۲

  16. حضرت عیسیٰ علیہ السلام بیماری یا کسی پُرانی عادت کی وجہ سے شراب پیا کرتے تھے

    ۷۳

  17. مرزا خود کہتا ہے : انجیل کی رو سے شراب پینا ناجائز ہے

    ۷۳

  18. حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی تین نانیاں اور دادیاں… الخ

    ۷۴

  19. جھوٹے نبی مرزا نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے معجزات سے انکار کیا

    ۷۴

  20. مرزا کا تصور قرآن

    ۷۵

  21. ساری کائنات کی کتابیں مل کر بھی قرآن کریم کا مقابلہ نہیں کرسکتیں

    ۷۵

  22. جھوٹے نبی مرزا کی وحی، کشوف،رؤیا اور الہامات کے مجموعہ کا نام ’’ تذکرہ‘‘ ہے

    ۷۶

  23. تذکرہ ‘ قرآن مجید کا غیر معروف نام ہے

    ۷۶

8
  1. مرزائیوں کا تصور صحابہؓ

    ۷۶

  2. مرزا جھوٹے نبی کا قرآن ’’ معجون مرکب‘‘ہے

    ۷۷

  3. بے شرمی و بے حیائی کی حد کردی

    ۷۷

  4. مرزائیوں کا تصور صحابہؓ

    ۷۷

  5. حضرت حسینؓ اور اہل بیت کی توہین و تنقیص

    ۷۸

  6. حضرت علیؓ، فاطمہؓ، حسنؓ و حسینؓ کی توہین

    ۷۹

  7. اجماع امت کے متعلق مرزائی تصور

    ۷۹

  8. بزرگان امت کے متعلق مرزائی تصور

    ۷۹

  9. مرزا کی پیشینگوئیاں (یہ ایک مستقل موضوع ہے )

    ۷۹

  10. جھوٹے نبی کی ایک جھوٹی پیشینگوئی

    ۸۰

  11. یہ عجیب متشابہات !

    ۸۱

  12. اپنے جھوٹ پر کس طرح پردہ ڈالتے ہو؟

    ۸۱

  13. مرزا کا حدیث کے بارے میں تصور

    ۸۱

  14. مرزائیت امت سے ہٹ کر کوئی اور چیز ہے

    ۸۲

  15. مولانا اللہ وسایا (حفظہ اللہ تعالیٰ )کے قیام برطانیہ کا مقصد وروئیداد

    ۸۲

  16. قادیانی جعل ساز و دھوکہ باز ہیں

    ۸۳

  17. تیسرا درس:مرزا غلام قادیانی کی سیرت وکردار

    ۸۵

  18. جھوٹے نبی کی ذاتی سیرت

    ۸۶

  19. جھوٹے نبی کے دعاوی کی فہرست

    ۸۶

  20. جھوٹا نبی مرزا معجون مرکب تھا

    ۸۷

  21. مرزا کی وحی مدار نجات

    ۸۸

  22. مرزا قرآن مجید کی بے شمار آیتوں کوخود اپنی ذات پر چسپاں کرتا تھا

    ۸۸

  23. میں بھی صاحب شریعت ہوں

    ۸۹

9
  1. نجات صرف ان لوگوں کی ہوگی جو مجھ پر ایمان لائیں گے

    ۸۹

  2. دنیا کے تمام مسلمان جو مرزا کو نبی نہیں مانتے وہ سب جہنم میں جائیں گے

    ۹۰

  3. ’’مرزائی‘‘ کا لفظ ان کا پسندیدہ اور ’’احمدی‘‘ کہنے کا حق ہم ان کو نہیں دیں گے

    ۹۰

  4. جھوٹے نبی کے پہلے خلیفہ نے مرزائی کا لفظ اپنے لئے پسند کیا تھا

    ۹۱

  5. مرزا کی دو بعثتیں ہیں : ایک مکہ میں اور دوسری قادیان میں

    ۹۱

  6. ان کے گھر کا مسئلہ ہے جو فیصلہ کریں : باپ سچا یا بیٹا؟

    ۹۲

  7. مرزا غلام احمد قادیانی کے اخلاق اور کردار کے متعلق… الخ

    ۹۴

  8. جھوٹا مرید کہتا ہے : مجھے لمبے منھ والی پسند ہے

    ۹۵

  9. پورے واقعہ پر غور کرو اور خود ہی فیصلہ کرو

    ۹۵

  10. مرزا غلام احمد کے چند اشعار

    ۹۶

  11. آخر انگریز جج نے بھی کہہ دیا : یہ کوئی انسان تھا یا !

    ۹۶

  12. اُلّو کے پٹھے کے اشعار

    ۹۷

  13. مرزائی ان اشعار کی تأویل کرتے ہیں ‘ ان کا جواب

    ۹۸

  14. مرزا کبھی کبھی زنا کر لیتا تھا مگر خلیفہ… الخ

    ۹۹

  15. جھوٹا نبی شراب کا رسیہ تھا

    ۹۹

  16. جھوٹا نبی اپنے آپ کو سیدنا عیسیٰ علیہ السلام پر قیاس کرتا تھا

    ۱۰۰

  17. انسان کی شرم والی جگہ دو ہوتی ہیں

    ۱۰۰

  18. ہمیں اعتراض تو موجودہ خلیفہ پر ہے

    ۱۰۱

  19. اچھا جی ! دو تین چیزیں عرض کرنی ہیں

    ۱۰۱

  20. جھوٹے نبی کے خلیفہ نے اپنی سگی بہن کے ساتھ منھ کالا کیا

    ۱۰۲

  21. عقل کے مارے ہوئے نے اپنا گھر صاف کرنے کی خاطر

    ۱۰۲

  22. بڑے میاں تو بڑے میاں چھوٹے میاں سبحان اللہ !

    ۱۰۳

  23. کیا یہ ننگی ہیں ؟

    ۱۰۳

10
  1. ایک اور حوالہ آپ کو سناتا ہوں

    ۱۰۴

  2. حضرت ! رات یہ تماشا دیکھنے گیا تھا

    ۱۰۴

  3. مرزائیوں کا مسلمانوں پر جہنمی اور کافر ہونے کا فتویٰ

    ۱۰۵

  4. جو مسلمان مرزا قادیانی کو نبی نہیں تسلیم کرتے… الخ

    ۱۰۵

  5. جھوٹے نبی کا کہناخود اپنی ذات پر ہی ثابت ہوگیا

    ۱۰۶

  6. شیطان کی آنت کی طرح اس کی تعلیم ہے

    ۱۰۶

  7. چوتھا درس: مرزا غلام احمدقادیانی ایک جھوٹا نبی

    ۱۰۷

  8. اپنی ہی عمر کے بارے میں پیشینگوئی جھوٹ ثابت ہوئی

    ۱۰۸

  9. انبیاء (علیہم السلام )ہر اعتبار سے قدرت کے مظہر اتم ہوتے ہیں

    ۱۰۸

  10. مرزا آٹھویں جماعت میں فیل ہوگیا

    ۱۰۸

  11. مولانا عبد الرحیم سہارنپوری ؒ کی فراست ایمانی

    ۱۰۹

  12. جھوٹے نبی نے نبوت کا دعویٰ کیا نہیں بلکہ کرایا گیا

    ۱۰۹

  13. جہاد کو منسوخ کرنے کے لئے انگریز نے مرزا کو نبی بنایا

    ۱۰۹

  14. حکیم نور الدین کو کیا ابتلاء پیش آیا ؟

    ۱۱۰

  15. حضرت مولانا انور شاہ کشمیری ؒ کا دعویٰ

    ۱۱۰

  16. مرزا غلام احمد کی شکل خنزیر جیسی ہے

    ۱۱۰

  17. سچا خدا وہی خدا ہے جس نے قادیان میں اپنا رسول بھیجا

    ۱۱۱

  18. خدا کی تائید میرے ساتھ…الخ

    ۱۱۱

  19. مرزا کے خیال میں ایک فرضی مسیح کی توہین

    ۱۱۱

  20. قرآن کریم سے استدلال کرکے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی توہین

    ۱۱۲

  21. مرزا حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی وفات کا قائل تھا

    ۱۱۲

  22. رسول اللہؐ نے جس غلبۂ کاملہ دین کا وعدہ کیا وہ اس کو اپنے اوپر چسپاں کرتا ہے

    ۱۱۳

  23. مرزا کا الہام گویا قرآن کریم کے لئے ناسخ ہے

    ۱۱۳

11
  1. مسلمانوں پر کافر اور جہنمی ہونے کا فتویٰ

    ۱۱۴

  2. چند اہم سوالوں کے جوابات

    ۱۱۴

  3. دین کے کسی ایک مسئلہ کا انکار بھی کفر ہے

    ۱۱۵

  4. اور اس کی دلیل

    ۱۱۵

  5. ہمارا کلمہ اور ہے اور مرزائیوں کا کلمہ اور ہے

    ۱۱۵

  6. مرزا کا منکر کافر ہی نہیں بلکہ پکا کافر

    ۱۱۷

  7. مرزائی مسلمانوں کے پیچھے نماز نہیں پڑھتے

    ۱۱۷

  8. بقول مرزا بشیر الدین قادیانی مسلمانوں کے بچے کی جنازہ میں… الخ

    ۱۱۷

  9. مرزائیوں کی شرعی حیثیت آپ حضرات سے بیان کرنا چاہتا ہوں

    ۱۱۷

  10. زندیق کی توبہ بھی قابل قبول نہیں

    ۱۱۸

  11. مرزائیوں نے شریعت محمدیہ کی ایسی تأویلیں کیں… الخ

    ۱۱۸

  12. مرزائیوں کو غیر مسلم قرار دینے کا مطالبہ قانونی تھا ، شرعی مطالبہ نہیں تھا

    ۱۱۸

  13. اسلام کا مطالبہ وہی ہے جو سیدنا ابوبکر صدیقؓ نے مسیلمہ کذاب۔۔۔۔الخ

    ۱۱۹

  14. بین الاقوامی قانون ہے کہ باغی کی سزا موت ہے

    ۱۱۹

  15. اپنی ذات پر زد پڑتی ہے تو تنگ نظری نظر آتی ہے

    ۱۱۹

  16. مرزا غلام احمد کی قابلیت

    ۱۲۰

  17. مکہ و مدینہ کی چھاتیوں کا دودھ خشک ہوگیا ہے

    ۱۲۰

  18. ملت اسلامیہ سڑا ہوا گوشت اور دودھ ہے

    ۱۲۱

  19. علامہ اقبال کے بے شمار حوالہ جات

    ۱۲۱

  20. علامہ اقبال کے والد کو کہا گیا… الخ

    ۱۲۱

  21. جیسی روح ویسے فرشتے

    ۱۲۲

  22. میرے مرید جانوروں سے بھی بدتر ہیں

    ۱۲۳

12
  1. مرزائیوں کی بد اخلاقی کے چند نمونے

    ۱۲۳

  2. برتن سے وہی ٹپکتا ہے جو اس میں ہوتا ہے

    ۱۲۴

  3. چور جس وقت آئے گا نرمی کے ساتھ آئے گا

    ۱۲۴

  4. مرزائی جس کو اخلاق کہتے ہیں

    ۱۲۴

  5. مرزا غلام احمد کے جھوٹے ہونے کی ایک دلیل

    ۱۲۵

  6. مرزا غلام احمد کے فرشتوں کے اسماء گرامی

    ۱۲۵

  7. گندگی آپ کے دماغ کو ماؤف کرے گی… الخ

    ۱۲۵

  8. سچے و جھوٹے نبی کا فرق

    ۱۲۶

  9. بقول مولانا درخواستی ؒ خدا جب ناراض ہوتا ہے

    ۱۲۶

  10. کینسر لاعلاج مرض اسی طرح… الخ

    ۱۲۷

  11. جس نبی کا فرشتہ جھوٹا ہو وہ نبی کتنا مقدس ہوگا

    ۱۲۷

  12. خواب میں سوائے روپے پیسے کے اور کچھ نظر نہیں آیا

    ۱۲۸

  13. بقول مرزا جھوٹ بولنا گوہ کھانے کے برابر ہے

    ۱۲۸

  14. جھوٹے نبی نے بخاری کی طرف نسبت کرکے جھوٹ بولا

    ۱۲۹

  15. حضرت مسیح چودھویں صدی کے شروع میں… الخ

    ۱۲۹

  16. مرزائیوں کی چند باطل تأویلیں

    ۱۲۹

  17. جس وقت دجال آئے گا تو وہ دنیا کے تمام خزانوں پر قابض ہوگا

    ۱۳۰

  18. مرزائی معراج نبوی ﷺ کے منکر ہیں

    ۱۳۰

  19. معراج نبی اگر خواب ہوتا تو مشرکین کو سوال و اعتراض کرنے کی کیا ضرورت تھی

    ۱۳۱

  20. قادیانیوں کے بہت سارے اعتراضوں کا خوب جواب

    ۱۳۲

  21. سچا مسیح جھوٹے نبی کے منھ میں پیشاب کرتا ہے

    ۱۳۳

  22. رسول اللہ ﷺ جس گلی سے گذرتے تھے وہ گلی معطر ہوجاتی تھی

    ۱۳۳

  23. جھوٹا نبی مرزا دن میں سو سوبار پیشاب کرتا تھا

    ۱۳۴

13
  1. جھوٹا نبی جدھر سے گذرتا گیا پیشاب کرتا گیا

    ۱۳۴

  2. حضور ﷺ اصل تھے اور میں اس کا ظل ہوں

    ۱۳۴

  3. پانچواں درس: قرآن پاک کادیا ہوا نقشۂ نبوت…الخ

    ۱۳۵

  4. صرف اللہ تعالیٰ کی ذات ابتدا و انتہا سے پاک ہے

    ۱۳۶

  5. قرآن کریم کے اسلوب بیان پر غور و فکر کریں

    ۱۳۶

  6. عیسیٰ علیہ السلام کا دور آتا ہے تو قرآن کا انداز بدل جاتا ہے

    ۱۳۷

  7. عیسیٰ علیہ السلام نے فرمایا : ایک آئیں گے ، یہ ہے قرآن مجید کا انداز بیان

    ۱۳۷

  8. مسلمانوں پر لازم قرار دیا گیا کہ جو حضور ﷺ پر ایمان لائے… الخ

    ۱۳۸

  9. قرآن مجید میں نقشہ ٔ نبوت

    ۱۳۹

  10. عیسیٰ علیہ السلام کی باری آئی تو وہاں برسول ، میرے بعد صرف ایک آئے گا

    ۱۴۰

  11. قادیانی عذر لنگ پیش کرتے ہیں :اس کا جواب

    ۱۴۰

  12. حضور ﷺ کے بعد کسی کو نبوت ملنا ہوتی تو قرآن میں اس کا ذکر ہوتا

    ۱۴۱

  13. حضور ﷺ کے بعد نبوت نہیں بلکہ قیامت ہے

    ۱۴۱

  14. ماقبل انبیاء(علیہم السلام)پر ایمان لانے کا ذکرمختلف آیتوں میں

    ۱۴۲

  15. یہ تمام آیات بھی ختم نبوت کی دلیل ہیں

    ۱۴۳

  16. میرے بعد کوئی دعویٰ نبوت کرے تو وہ اسلام سے خارج ہے

    ۱۴۳

  17. مرزائیوں سے سوال کریں کہ حضور ﷺخاتم النّبیین ہے یا… الخ

    ۱۴۴

  18. مرزا غلام احمد قادیانی کہتا ہے : میں اللہ کے نوروں میں سے آخری نور ہوں

    ۱۴۴

  19. قادیانی دھوکہ دیتے ہیں :دعویٰ خاص اور دلیل عام ہوتو کوئی حجت ہوا نہیں کرتی

    ۱۴۴

  20. قادیانیوں کے نزدیک نبوت کے اقسام

    ۱۴۵

  21. اگر مرزائیوں کے اس دعوی کو تسلیم کرلیا جائے… الخ

    ۱۴۶

  22. کیا چودہ سو سال میں ایک فرد نے بھی کامل اتباع نہ کی سوائے مرزا کے

    ۱۴۶

  23. رسول اللہ ﷺ کی اُمت خیر امت ہے یا… الخ

    ۱۴۷

14
  1. ایک عاشق رسولﷺ کا قصہ

    ۱۴۷

  2. دوسرا قصہ

    ۱۴۷

  3. جہاں رسول اللہﷺ کا فرمان آجائے تو وہاں حضرت عمرؓ بھی سرنگوں ہوجاتے تھے

    ۱۴۸

  4. حضرت عمرؓ نے رسول اللہﷺ کی خوب نقل اتاری

    ۱۴۸

  5. کیا سچے عاشقوں وکامل متبعین کونبوت نہیں ملی ؟

    ۱۴۹

  6. ہمارے مطالبات کا جواب قیامت تک کوئی مرزائی پیش نہیں کرسکتا

    ۱۴۹

  7. بسا اوقات مرزائی امکان کی بحث چھیڑ دیتے ہیں

    ۱۴۹

  8. یہ ہے قادیانیوں کے نزدیک نبوت کا معیار

    ۱۵۰

  9. عصمت نبوت کی دلیل

    ۱۵۰

  10. ان وضاحتوں کے بعد قادیانیوں کے دجل و فریب کاریاں

    ۱۵۱

  11. رفاقت سے مرادقیامت کے دن کی رفاقت ہے

    ۱۵۲

  12. باقی قادیانیوں کا یہ کہنا کہ صدیقین و صالحین اور شہید کو کیوں جاری مانتے ہو ؟

    ۱۵۲

  13. جہاں درجات ملنے کا ذکر ہے وہاں نبوت کا ذکر نہیں

    ۱۵۳

  14. وہ آیات جن میں درجات ملنے کا ذکر ہے

    ۱۵۴

  15. مرزائیوں نے ہر چند رسول اللہ ﷺ کی مخالفت کی

    ۱۵۴

  16. میں خدا کے نوروں میں سے آخری نورہوں

    ۱۵۵

  17. نبوت کا دروازہ کھول دیا گیا تو ہزاروںالخ

    ۱۵۵

  18. مرزا کے بعد نبوت کا دعوی کرنے والے سب مرزائی تھے

    ۱۵۵

  19. بقول مرزا نویں صدی کے مجددحضرت امام جلال الدین سیوطیؒ تھے

    ۱۵۶

  20. چھٹا درس:خاتم النّبیین کون؟

    ۱۵۷

  21. ماقبل کے درس سے ربط

    ۱۵۸

  22. حضور ﷺ کے بعد کسی کو نبی بن کر آنا نہیں ہے

    ۱۵۹

  23. ہمارے یہاں ہر قسم کی نبوت بند ہے

    ۱۵۹

15
  1. آیت سے غلط استدلال

    ۱۶۰

  2. جھوٹا نبی مرزا کہتا ہے : پوری امت میں صرف میں ہی نبوت کے لئے۔۔۔۔الخ

    ۱۶۱

  3. بچے کو وجود کے لئے کسب ہے لیکن وہب میں قطعًا دخل نہیں

    ۱۶۱

  4. جھوٹا نبی مرزا تو پورا تابعدار بھی نہیں تھا

    ۱۶۲

  5. جھوٹا نبی مرزا، حضورﷺ کے دین کا حلیہ بگاڑنے والا تھا

    ۱۶۲

  6. ایک علمی بحث ’’مع‘‘ کے معنی کے بارے میں

    ۱۶۲

  7. مرزائیوں کا ذہنی افتراء ہے

    ۱۶۳

  8. ’’خاتم المہاجرین‘‘ سے بھی غلط استدلال

    ۱۶۳

  9. اللہ تعالیٰ کی شان شیعہ تفسیر میں بھی کوئی سند نہیں

    ۱۶۴

  10. مرزاکے نزدیک اقوال سلف و خلف کوئی مستقل حجت نہیں

    ۱۶۴

  11. پہلے اللہ رب العزت نبی بناتے تھے اب یہ محکمہ رسول اللہ کی طرف منتقل ہوگیا (نعوذ باللہ)

    ۱۶۵

  12. خاتم کے معنی آخری ‘خود مرزا نے تسلیم کیا ہے

    ۱۶۵

  13. خاتم کے معنی قرآن و حدیث اوراہل لغت سب کے نزدیک آخر کے معنی میں۔۔۔الخ

    ۱۶۶

  14. ایک سوال کا جواب

    ۱۶۷

  15. خاتم کا مفہوم

    ۱۶۷

  16. عیسائی حضرات فارقلیط کا مصداق رسول اللہ ﷺ کو نہیں مانتے

    ۱۶۸

  17. حضرت عیسیٰ علیہ السلام شریعت محمدیہ ﷺ کے پیروبن کر نزول فرمائیں گے

    ۱۶۸

  18. تمام ادیان باطلہ مِٹ جائیں گے ،صرف ایک دین اسلام باقی رہے گا

    ۱۶۸

  19. حضور اکرم ﷺ کے بعد کوئی نیا نبی پیدا نہ ہوگا

    ۱۶۹

  20. ہمارا علم محدود ہے ، اللہ تعالیٰ کا علم یقینی اور غیر محدود

    ۱۷۰

  21. جہاں حقیقی معنی مراد لینا دشوار ہو وہاں مجازی معنی مراد لیا جاتا ہے

    ۱۷۱

  22. ماضی کے احوال کی حکایات ہیں

    ۱۷۲

  23. یہ اللہ کا وعدہ تھا

    ۱۷۳

16
  1. مرزا غلام احمد قادیانی تو بنی آدم میں شامل نہیں

    ۱۷۳

  2. کرم خاکی کونسی کسر نفسی ہے

    ۱۷۴

  3. کرم خاکی کہہ کر بھی جھوٹ کا اظہار ومتکبرانہ انداز اختیار کیا

    ۱۷۴

  4. بڑے میاں تو بڑے میاں چھوٹے میاں سبحان اللہ !

    ۱۷۴

  5. جھوٹے نبی نے ہر بات میں رسول اللہ ﷺ کی مخالفت کی اور مقابلہ کیا

    ۱۷۵

  6. ایک حوالہ کا جواب

    ۱۷۶

  7. مضارع کے صیغے کا استعمال بھی غلط

    ۱۷۶

  8. یہ قول کفار اگر اللہ تعالیٰ کاقول ہوتا تو ہمارے عقیدہ کے خلاف ہوتا

    ۱۷۷

  9. آپ معمولی جد وجہد کریں گے تو کوئی قادیانی آپ کے سامنے ٹک نہیں سکتا

    ۱۷۸

  10. تشکر و امتنان

    ۱۷۸

  11. ضمیمہ : کذاب ودجال زمانہ کی مصنوعی نبوت کی تردید دلائل وواقعات کی روشنی میں

    ۱۸۱

  12. قادیانی کے بارے میں چند بزرگوں کے مکاشفات

    ۱۸۳

  13. لوح مزار کی شہادت

    ۱۸۳

  14. مرزا قادیانی کا منھ اور بھینسے کی دم

    ۱۸۳

  15. راجہ کی خدمت چھوڑ کر کذاب کے قدموں میں

    ۱۸۴

  16. مکہ مکرمہ میں بیٹھے ہوئے قادیانی کے متعلق ایک اہل اللہ کی پیشین گوئی

    ۱۸۴

  17. حضرت مولانا نانوتوی ؒکی پیشین گوئی

    ۱۸۵

  18. ایک دیوبندی عارف باللہ کا واقعہ

    ۱۸۵

  19. میری تعلیم کے پیچھے قادیانیوں نے پچاس ہزار روپئے خرچ کئے

    ۱۸۶

  20. قادیانیت سے توبہ کرنے کی وجہ

    ۱۸۶

  21. مرزا قادیانی نے کہا : میں تو یہاں برے حال میں ہوں ،تم یہاں کیوں آئے ؟

    ۱۸۷

  22. گمراہی کی رسی کٹی ،جھٹکا لگا اور ہدایت نصیب ہوئی

    ۱۸۷

  23. آخر صداقت نمایاں ہوگئی

    ۱۸۸

17

قلبی تأثرات

الحمدللہ وحدہ والصلوٰۃ والسلام علیٰ من لا نبی بعدہ۰ اما بعد!

قادیانیت کے فتنہ میں اب کوئی دم خم نہیں ہے۔ مرزاغلام احمد قادیانی نے لگ بھگ ایک صدی قبل نبوت کا دعویٰ کیا تھا۔ اس فتنہ کی ابتداء کے وقت سے آج تک خصوصی طور پر علماء دیوبند ختم نبوت کے عقیدے کی حفاظت کے لئے میدان عمل میں نظر آرہے ہیں۔ یہ ایسی تاریخی حقیقت ہے جوکسی دلیل کی محتاج نہیں۔ حقیقت میں قادیانیت، عقیدۂ ختم نبوت کے خلاف ایک بڑی سازش ہے۔ جس کا مقابلہ تمام مسلمانوں خصوصاً علماء کرام کی بنیادی ذمہ داری اور اہم مذہبی حق ہے۔ واقع میں اس ذمہ داری کا احساس اور خاتم الانبیاء حضرت محمد رسول اللہﷺ سے تعلق ونسبت کا اثر ہے۔ جس دن مرزاقادیانی نے لدھیانہ میں اپنی نبوت ومہدویت ومجددیت کا اعلان کیا اسی دن سے اس کا تعاقب شروع ہوگیا تھا۔ بفضلہ تعالیٰ آج تک جاری وساری ہے۔ مختلف علماء کرام نے مختلف اسالیب میں قادیانیت اور مرزاقادیانی کی ذاتی زندگی، عادات واخلاق پر ایک پرداد تحقیق کی، اور ایسے ایسے پہلو اجاگر کئے علماء نے مرزاقادیانی کی ہی تحریروں سے یہ ثابت کر دکھایا کہ مرزاقادیانی اپنے ہی بنے ہوئے پھندوں میں اس طرح پھنسا ہوا ہے کہ کوئی مرزائی اس کو نکال باہر کرنے کی مجال نہیں رکھتا۔ ایک جگہ کسی بات کو نہایت زوردار انداز میں قرآن وحدیث اور عقلی دلائل سے ثابت کرتا ہے تو دوسری جگہ پہلے سے بھی زیادہ زور لگا کر کچھ اس انداز سے اس کے خلاف لکھ دیتا ہے کہ اس کی پہلی ساری تحقیقات پر پانی پھیر دیتا ہے۔ اس کی باتیں مضحکہ خیز بن جاتی ہیں۔ اگر قادیانیوں کو دین کی ذرا بھی سمجھ داری ہوتی۔ قرآن مجید واحادیث نبویہ سے کچھ بھی تعلق اور آخرت کی رتی برابر بھی فکر ہوتی تو وہ اس کی کتابوں کو پڑھ کر اور مرزا کی ذاتی زندگی کی خامیوں، گندگیوں اس کے افعال وکردار اور اس کی تحریروں کی علمی بے حیثیتی، اختلافات،تضادات زبان درازی مثلاً کذبات مرزا، مغلظات مرزا، کفر یات مرزا وغیرہم کو دیکھ کر اس لمحہ اسی وقت قادیانیت سے توبہ کر لیتے۔ اسی عقیدۂ ختم نبوت پر ہمارے اسلاف واکابرین، اصاغرین حضرت مولانا حبیب الرحمن لدھیانویؒ، حضرت مولاناسید عطاء اللہشاہ بخاریؒ سے لے کر آج تک برابر کام کر رہے ہیں۔ اسی سلسلۃ الذہب کی ایک کڑی حضرت مولانا اللہ وسایا صاحب زادہ اللہ شرفا وکرامۃً بھی ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے آپ کی زبان میں ایسی تاثیر مرحمت فرمائی ہے اور تفہیم کا ایسا جوہر عطاء فرمایا ہے جو وہ باتیں بیان کرتے ہیں۔ نقش کالحجر ہو جاتی ہیں۔

مولانا موصوف عقیدۂ ختم نبوت وردقادیانیت پر ایک متبحر جہاں دیدہ شخصیت ہیں۔ جن

18

کے قلم وزبان سے بیشمار بندگان خدا کو صراط مستقیم پر چلنے کی رہنمائی ملی۔ مولانا موصوف کا برطانیہ کا پہلا سفر ۱۹۸۵ء میں ہوا۔ اس کے بعد بیشمار مواقع پر ان کے دروس وخطبات وبیانات سننے کا موقع ملا۔ نیز غالباً ۱۹۸۷ء میں لندن میں عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت سنٹر کے لئے جگہ کی تلاش کرنے کے لئے مولانا عبدالرحمان باوا صاحب مولانا اللہ وسایا صاحب کا طویل قیام بندہ کی مسجد بالہم میں رہا۔ اس وقت مولانا سے استفادہ کرنے کا موقع ملا۔ قریب سے دیکھنے کا موقع ملا۔ مولانا سے نجی مجالس میں بھی اس موضوع پر بہت کارآمد باتیں سننے کا موقع ملا۔ واقع میں مولانا موصوف ردقادیانیت کے مضامین کو نہایت بسط کے ساتھ عبرت انگیز طور پر پیش کرتے ہیں۔ لطف کی بات یہ ہے کہ مولانا، قادیانیت کی تردید بھی زیادہ تر مرزائی لٹریچر سے کرتے ہیں۔ خشک سے خشک مضمون کو ظرافت اور مزاح کے انداز میں پیش کرنے کا پورا ملکہ رکھتے ہیں۔ جیسے ان کی کتب ورسائل وخطبات سے قارئین کرام محسوس فرمائیں گے۔ مولانا کی پوری زندگی تحفظ عقیدہ ختم نبوت کے لئے وقف ہے۔ جس کی وجہ سے مولانا اس فن کے بڑے ماہر، تجربہ کار، صاحب بصیرت امام مانے جاتے ہیں۔ مولانا صاحب کا پہلا سفر برطانیہ ۱۹۸۵ء میں ہوا۔ اس وقت دن میں باٹلی میں ڈیوز بری واطراف واکناف کے بڑے بڑے علماء ومدرسین کو قادیانیت کا درس دیتے تھے اور شام عصر یا مغرب کے بعد عوام الناس میں خطابت کے فرائض انجام دیتے تھے۔ وہ سارے دروس وخطبات وبیانات ومجالس ٹیپ ریکارڈ کرلی تھیں اور ہمارے محب مکرم مخدوم المحترم مولانا محمد یوسف ماما صاحب ٹیپ سے صفحۂ قرطاس پر منتقل فرما کر بہت سے علماء کو اس کی کاپی عنایت فرماتے تھے۔ حضرت مولانا محمد یوسف ماما سے گذارش کی اگر یہ دروس کتابی شکل میں منظر عام پر آجائیں تو اس کا فائدہ متعدی ہو جائے گا۔ مولانا محمد یوسف ماما صاحب سے مسودہ لے کر پڑھا۔ اس پر جلی عنوانات لگانا تھے۔ بندہ نے یہ چھوٹے سے کام کے لئے حامی بھرلی اسے تیار کر لیا۔ اصل اس کے مرتب مولانا محمد یوسف ماما ہی ہیں۔ مرتب کے حالات سے بندہ ناواقف تھا۔ اس کے لئے مولانا مرغوب احمد لاجپوری صاحب، زید مجدہ کو مکلف بنایا۔ مولانا مرغوب احمد صاحب بہت قلیل وقت میں صاحب مرتب دروس وخطابات حضرت مولانا محمد یوسف ماما کے حالات قلمبند کر کے بندہ کو روانہ کئے۔ بندہ مولانا مرغوب کا ہی مضمون بعینہ نقل کرتا ہے۔ ملاحظہ فرمائیں۔

اللہ تعالیٰ مولانا اللہ وسایا صاحب ومرتب مولانا محمد یوسف ماما صاحب اور سب کے لئے صدقہ جاریہ بنائیں اور ان خطبات ودروس کو مقبولیت عامہ نصیب فرمائیں اور فیض رساں بنائیں۔

احقر الناس: منور حسین سورتی غفرلہ

19

تعارف مرتب

حضرت مولانا محمد یوسف ماما صاحب مدظلہم کا مختصر تذکرہ

حضرت مولانا کی پیدائش ضلع سورت کے ایک چھوٹے سے قریہ ’’کفلیتہ‘‘ میں ۶؍شعبان المعظم ۱۳۵۹ھ مطابق ۷؍ستمبر ۱۹۴۰ء میں ہوئی۔ والدہ کا انتقال بچپن میںہی ہوگیاتھا۔ اس لئے مادری شفقت سے محرومی کی پرورش اور آزمائشی دور میں طفلی زمانہ گزرا۔

ابتدائی تعلیم گاؤں میں ہوئی۔ ساتھ ہی گجراتی زبان کی تعلیم حاصل کی۔ جامعہ ڈابھیل میں تین سال رہ کر حفظ قرآن مجید کی تکمیل کی۔ حفظ کے بعد گجرات کی ایک قدیم دینی درسگاہ ’’مفتاح العلوم تراج‘‘ میں داخلہ لیا اور تین سال رہ کر عربی سوم تک کی کتابیں پڑھیں۔ یہاں آپ کو فخر گجرات حضرت مولانا محمد علی تراجوی رحمہ اللہ کی زیرنگرانی حصول تعلیم کی سعادت وصحبت غیرمترقبہ بھی نصیب ہوئی۔ موصوف نے حضرت کی صحبت سے خوب فائدہ اٹھایا۔ پھر دارالعلوم دیوبند میں داخل ہوئے اور پانچ سال کا عرصہ گزار کر شعبان ۱۳۸۵ھ مطابق دسمبر ۱۹۶۵ء میں سند فراغت حاصل کی۔ حضرت مولانا ابراہیم صاحب بلیاویؒ، حضرت مولانا فخرالدینؒ صاحب، حضرت مولانا انظر شاہ صاحب کشمیریؒ اور مولانامحمد سالم صاحب قاسمی مدظلہم جیسے اساطین علم سے اکتساب فیض کا موقع میسر ہوا۔ حضرت مولانا سعید احمد صاحب پالنپوری مدظلہم، حضرت مولانا ولی رحمانی مدظلہم جیسے اصحاب علم وفضل مولانا کے رفقاء میں شامل ہیں۔

فراغت کے بعد دو سال ’’نوساری‘‘ میں تدریسی خدمت انجام دی۔ پھر مدرسہ ’’مفتاح العلوم تراج‘‘ میں دو سال تک درس نظامی کی کتابیں پڑھائیں۔ ۱۹۷۱ء میں مولانا اہل باٹلی کی دعوت پر برطانیہ تشریف لائے اور جمعہ مسجد باٹلی میں ۷/۸سال تک امامت وتدریس کے فرائض انجام دئیے۔

ایک طویل عرصہ برطانیہ کے مشہور قصبہ ڈیوز بری تبلیغی مرکز کے ادارہ میں تدریسی خدمات بھی انجام دیں۔ ان سالوں میں شرح وقایہ، شرح تہذیب، تیسرالمنطق، مختصر المعانی، مؤطا وغیرہ کا درس دیا۔ مولانا مرکز کے ابتدائی اساتذہ میں سے تھے۔ یہ وہ وقت تھا جب سواری کے اس قدر انتظامات بھی نہیں تھے جو آج ہیں۔ اس لئے بڑی مشقت ومحنت سے بس کا سفر کر کے اور کئی

20

دفعہ دو، دو مرتبہ بس تبدیل کر کے پہنچتے۔ تدریس کے ساتھ ساتھ ناظم کتب خانہ کی حیثیت سے بھی مولانا کی خدمات ناقابل فراموش ہیں۔ سالہاسال مولانا نے اس خدمت کو بھی بحسن وخوبی نبھایا۔ پھر امتحانات کے نگران اعلیٰ کے منصب پر بھی فائز رہ کر اس مشکل ترین ذمہ داری کو جس محنت ومشقت اور اپنے اوقات کی قربانی کے ساتھ موصوف نے انجام دیا۔ اس کے مناظر راقم کی آنکھوں کے سامنے ہیں۔ مجھے مولانا کے زمانہ میں مرکز پر ایک سال طالب علمی کا زمانہ اور چھ سال مدرس کی حیثیت سے خدمت کا موقع ملا۔ راقم نے خود دیکھا کہ موصوف رات میں اپنے کام سے فارغ ہوکر مرکز تشریف لاتے اور امتحان کے پرچے، رجسٹر وغیرہ کا محنت طلب کام اپنے قیمتی اوقات میں بڑے انہماک اور ذوق شوق سے انجام دیتے۔ اللہ تعالیٰ مولانا کو ان خدمات کا دارین میں بہترین بدلہ عطاء فرمائے۔

مولانا طبعاً خوش مزاج ہیں۔ اس لئے طلبہ آپ سے خوب مانوس ہو جاتے۔ آپ کا درس خشک درس ہی نہ تھا۔ بلکہ لطائف، حکایات، نصائح اور تجربہ کے بے شمار دلچسپ واقعات سے بھرا ہوا اور معلومات افزا ہوتا تھا۔ اس وقت بھی لڑکیوں کے ایک مدرسہ میں آپ کو جلالین شریف، اور بخاری شریف کچھ حصے، وغیرہ جیسی اہم کتابوں کی تدریس کی سعادت عظمی حاصل ہے۔

راقم الحروف کو مولانا کے ساتھ ایک طویل عرصہ سے سفر وحضر میں معیت کے مواقع ملے، بہت قریب سے آپ کو دیکھنے کا موقع ملا۔ طبیعت میں انتہائی سادگی، مثالی تواضع، بڑائی کا نام ونشان نہیں، راقم نے بہت کم آپ جیسے بے ضرر انسان دیکھے۔ ہمیشہ اپنے چھوٹوں کو آگے بڑھانے کا جذبہ اپنے اندر پایا۔ جس مجلس میں آپ موجود ہوتے۔ اس کا رنگ ہی نرالا ہوتا۔ گاہے گاہے اہل مجلس کو عجیب چٹکلے سے ہنسا کر مجلس کو باغ وبہار بنادیتے۔ بکثرت مولانا کی زبان سے یہ دعا کئی مجلسوں میں سنی گئی۔ ’’اللہم انی اسئلک الخیر کلہ واعوذبک من الشر کلہ‘‘ دنیا کے حالات سے بھی مولانا برابر باخبر رہتے ہیں۔ اردو کے بہترین ادیب ہیں۔ ساتھ ہی گجراتی زبان پر بھی اتنا عبور ہے کہ گجراتی زبان کا ماہر پروفیسر بھی جب آپ سے ملتا ہے تو حیران رہ جاتا ہے۔ اردو وگجراتی تحریر پر بھی آپ کو بڑی قدرت حاصل ہے۔

مولانا کو اللہ تعالیٰ نے بڑی ذہانت سے نوازا ہے۔ محنت وتوجہ سے دور طالب علمی

21

گزارا، عمدہ استعداد کے مالک ہیں۔ کلام اللہ شریف بھی بہت پختہ یاد ہے۔ روزانہ بلاناغہ تلاوت کا معمول اب تک جاری ہے۔ مختلف زبانوں کے لغات کی تحقیق مولانا کا خاص ذوق ہے۔ کبھی کبھی اس موضوع پر بات فرماتے ہیں تو سامعین حیران ہوکر مولانا کا چہرہ تکتے رہ جاتے ہیں۔

مولانا نے بڑی محنت سے حضرت مولانا علی میاں صاحب ندویؒ کی مقبول زمانہ کتاب ’’قصص النّبیین‘‘ کے پانچوں حصوں کا اردو میں ترجمہ فرمایا۔ اس ترجمہ کی خوبی یہ ہے کہ بین القوسین ایسے الفاظ اس عمدگی سے شامل کئے گئے ہیں۔ جو مضمون کے سمجھنے میں معاون ثابت ہوتے ہیں۔ اس ترجمہ نے لفظی ومحاوری دونوں کی رعایت کی ہے۔ بہت کم ترجمے اس کے طرح کے دیکھنے کے ملے۔ جن میں دونوں وصف آگئے ہوں۔ راقم الحروف نے حضرت مولانا کے حکم پر پانچوں حصوں کے ترجمہ پر گہری نظر ڈالی اور کئی مواقع پر ترمیم واضافہ بھی کیا۔ موصوف کی وسعت ظرفی ہے کہ راقم کی ترمیمات کو بلاکسی رد وقدح کے قبول فرمایا۔ اللہ کرے کہ وہ ترجمہ جلد ازجلد شائع ہوکر امت کے ہاتھوں میں پہنچے۔ اللہ تعالیٰ سے میری دلی دعا ہے کہ وہ بے نیاز ذات اپنے خزانہ سے اس کی اشاعت کا غیبی نظام فرمادے۔

(یہاں بطور جملہ معترضہ اس بات کا اظہار بھی مناسب ہی نہیں ضروری سمجھتا ہوں کہ ہماری قوم اپنوں کے کارناموں کو اجاگر کرنے میں بخیل سے بخیل تر واقع ہوئی ہے۔ جن جگہوں پر خرچ کی نہ ضرورت اور نہ ان کو محتاجگی، ایسی جگہوں پر دل کھول کر خرچ کریں گے۔ ہمارے بعض علماء اپنی طبعی شرافت کی وجہ سے نہ اپنے کاموں کا راگ گاتے پھرتے ہیں، نہ اشتہار بازی، نہ ہر مجلس میں اپنی تعریف،نہ زبانی سوال، نہ حرص وطمع، ایسے حضرات کے بیشمار علمی کارنامے کاغذوں میں پڑے ہوئے ہیں یا دیمک کی نظر ہوچکے ہیں۔ راقم کو اس کا بڑا تجربہ ہوا اور برابر ہورہا ہے۔ کچھ تو مجھے عوام سے زیادہ اپنے علماء سے بھی اس کی شکایت کرنی ہے کہ آپ حضرات اپنے معتقدین واحباب کو بہت سی جگہوں پر خرچ کی نشاندہی کرتے ہیں۔ کیا کبھی آپ کے ذہن میں ان مخلص علماء کے کاموں کا خیال نہیں آتا، یا آتا تو ہے مگر؟)

حضرت مولانا مفتی اسماعیل صاحب کچھولوی مدظلہم کے فتاوی ’’فتاویٰ دینیہ‘‘ کے نام سے پانچ ضخیم جلدوں میں شائع ہوئے ہیں۔ اسکی ترتیب وکمپوزنگ وغیرہ کا اہم ترین اور دقت

22

طلب کام موصوف نے بڑے عمدگی سے پورا فرمایا۔ یقینا (انشاء اللہ) یہ فتاویٰ بھی مولانا کے لئے ذخیرۂ آخرت ہیں۔

مولانا موصوف نے حضرت مولانا اللہ وسایا صاحب مدظلہم کے وہ دروس وخطبات جو موصوف نے ۱۹۸۵ء برطانیہ کے سفر میں علماء کی مجلس میں دئیے تھے کو کیسٹ کے ذریعے بڑی محنت سے کاغذ پر منتقل فرمایا۔ راقم الحروف کو مولانا کے حکم سے اس مسودہ کے مطالعہ کی سعادت بھی نصیب ہوئی۔ وہ خطبات ودروس ’’ماقل ودل‘‘ کا صحیح مصداق اور علماء وطلبہ کے لئے خلاصے کی چیز ہے۔ مولانا منور حسین سورتی ان کے رفقاء ورہنماء کی طرف سے اس کی اشاعت کا انتظام ہورہا ہے۔ انشاء اللہ! یہ کتاب اپنے موضوع پر مفید اور کارآمد ثابت ہوگی۔ بڑا اچھا ہوا کہ حضرت مولانا منور حسین سورتی صاحب مدظلہم نے اس پر نظر ثانی فرماکر عنوانات سے مزین کر کے اس سے استفادے کو آسان سے آسان تر بنادیا۔ اللہ تعالیٰ ہر دو حضرات کو دارین میں بہتر سے بہتر بدلہ نصیب فرمائے۔ آمین!

رفیق محترم حضرت مولانا منور حسین صاحب سورتی مدظلہم (صاحب بزم منور) کا حکم ہوا کہ میں مختصراً ہی سہی حضرت مولانا محمد یوسف ماما صاحب مدظلہم کے کچھ حالات لکھ کر جلد از جلد ارسال کروں۔ موصوف کے حکم کی تعمیل میں مختصر حالات بعجلت لکھے گئے ہیں۔

مرغوب احمد لاجپوری، ڈیوزبری

یکم؍ شعبان المعظم ۱۴۳۳ھ، مطابق ۲۲؍جون ۲۰۱۲ء بروز جمعۃ المبارک نوٹ: بندہ تمام معاونین کاشکر گزار ہے جنہوں نے یہ علمی تحفہ منظر عام پر لانے کے لئے جس طرح بھی ساتھ دیا۔

23

قبل ازیں گویم!(کچھ باتیں کتاب سے پہلے)

طالب علمی کے زمانہ میں اساتذۂ کرام و غیرہم سے اس فتنۂ قادیانیت کے متعلق بار بار سنتے رہتے تھے مگر یہ اتنا بار آور ہوگا ایسا سمجھنے سے ہم قاصر تھے، اس لئے کہ مرزا سے پہلے بھی کافی لوگوں نے جھوٹا دعویٔ نبوت کیا تھا مگر وہ جلدی ہی ختم ہو گئے تھے۔حضرت مولانا اللہ وسایا صاحب دامت فیوضہم کا بہت ہی بڑا احسان ہے کہ انہوں نے ایک استاذ اور مربی کی طرح شفقت سے پڑھایا اور سمجھایا کہ یہ تو اتنا بڑا درخت بن گیا کہ اس کا کاٹنا بھی مشکل لگ رہا ہے۔ مگر اللہ کا فضل رہا کہ آرہ چلنا شروع ہو چکا ہے، انشا ء اللہ یہ بھی ختم ہو جائے گا،یا نیم مردہ ہو جائے گا،اس میں کوئی سکت نہیں رہے گی۔

یہاں پر مجھے مختصر سوانح اور ان کے مناظرانہ کارناموں کا ذکر کرنا تھا مگر مجھے اس وقت ان کے متعلق کوئی چیز دستیاب نہیں ہوئی،بس! مولانا اس فن کے امام ہونے کے ساتھ سادہ اتنے کہ ہمیں ان کی خدمت کرنا چاہئے تھی مگر وہ ہماری خدمت پر بضد تھے۔دوسری بات یہ کہ کھانا بھی بالکل سادہ ،یہ ہم گجراتیوں کے لئے بڑے اچھنبے اور پریشانی کی بات تھی۔کیونکہ ہمارا دستر خوان اتنا لمبا اور چوڑا ہوتا ہے کہالامان والحفیظ۔ خیر!۔

حضرت موصوف جب تشریف لائے تھے تو ایک ٹوٹی پھوٹی صندوق میں قادیانیوں کی کتابیں لے کر آئے تھے ہمارے بعض ساتھیوں نے جب نئی صندوق لا کر دی تو لینے سے انکار کردیا اور کہا :’’ ایسے صندوق میں اس مردود کی کتابیں رکھنا اپنے آپ کو ذلیل کرنا ہے۔اور اوپر سے یہ کہا ایسے صندوق میں تو حضرت اقدس تھانویؒ اور اس سلسلہ کے دیگر علماء کرام کی کتا بیں رکھنی چاہئیں۔‘‘بد بخت قادیانی کتب اور یہ صندوق ! نعوذ باللہ‘‘۔

سادگی کے باوجود حضرت کا بیان قابل ستائش و تعریف ، کلام کا انداز ایسا سادہ اور قابل رشک کہ سامع سنتا ہی رہے بلکہ سمجھانے کا کچھ ایسا طریقہ اختیار کئے ہوئے کہ خالی الذہن کو بات سمجھ میں آجائے، اور جرح ایسی کہ جیسے قینچی چل رہی ہو۔اس وقت ہمارے سامنے مولانا کی پوری سوانح اور خدمات کا تذکرہ نہیں ہے ورنہ اس کا اختصار یہاں پیش کیا جاتاتاکہ قاری و ناظر کتاب ہٰذا کو مولانا کے سوانحی خاکہ سے کچھ نہ کچھ اندازہ ہوجاتاکہ حضرت نے قادیانیت کے خلاف کیا کیا جد وجہد کی ہے ۔بس یہ چند الفاظ مولانا کے ساتھ رہنے کی بنا پر قاری کے سامنے پیش کئے ہیں۔ زہے نصیب گر قبول افتد۔

بروز جمعرات ۱۷؍صفر ۱۴۳۳ ھ مطابق ۱۲؍ جنوری ۲۰۱۲ ء

24

دروس ختم نبوت

یعنی

پہلا درس تعارف و تاریخ فتنہ قادیانیت

25

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ

الحمدللہ وکفٰی وسلام علیٰ سید الرسل وخاتم الانبیاء، وعلیٰ اٰلہ واصحابہ اللذین ہم خلاصۃ العرب العرباء وخیر الخلائق بعد الانبیاء۰ اما بعد۰فاعوذ باللہ من الشیطٰن الرجیم۰ بسم اللہ الرحمٰن الرحیم۰واتقوا فتنۃ لا تصیبن اللذین ظلموا منکم خاصۃ واعلموا ان اللہ شدید العقاب۔ قال النبیﷺ: بادروا بالاعمال فتناً کقطع اللیل المظلم یصبح الرجل مؤمنا ویمسی کافرا ویمسی مؤمنا ویصبح کافرا یبیع دینہ بعوض من الدنیا۔ اللہم صل علیٰ سیدنامحمد عبدک ورسولک وصل کذلک علیٰ جمیع الانبیاء والمرسلین وعلی الملائکۃ المقربین وعلیٰ عباد اللہ الصالحین۰ اجمعین الیٰ یوم الدین۔

میرے عزیز بھائیو! دوستو اور بزرگو! میں قطعًا اس لائق نہیں کہ آپ حضرات کوخطاب کرسکوں۔ آپ حضرات کی شفقت ومحبت اورآپ حضرات کی سرپرستی نے مجھے اتنا بے تکلف کردیاہے کہ میں آپ حضرات کے ساتھ بیٹھا ہوں ۔کل سے آپ حضرات کاغذو قلم لے کر مجلس میںشریک ہوں تاکہ مرزا غلام احمد قادیانی کے پندرہ بیس عقیدے اورقادیانیوں کے موٹے موٹے اعتر اضات مع جوابات قلم بندکرادئے جائیں تاکہ ہمیشہ کے لئے وہ محفوظ ہو جائیں اور جب کبھی قادیانیوں سے آپ کا سابقہ پڑے تو وہ آپ کے کام آسکیں۔

آج چونکہ آپ حضرات کو بھی پیشگی اطلاع نہ تھی اور میں بھی اپنی کاپی ساتھ نہیں لایا۔اس لئے آج کی مختصر مجلس میں مرزاغلام احمد قادیانی اور اس کے ابتدائی حالات وواقعات اور اس کے دعوئ نبوت کا پس منظر اور اس کے سیاسی عزائم سے لے کر آج تک کے جوحالات ہیں‘ جو لکھنے کی بجائے سننے سے متعلق ہیں۔ ان کی قدرے تفصیل آپ حضرات کی خدمت میں عرض کردیتا ہوں۔کل سے میرے اللہ کو جو منظور ہوگا وہ ہوگا۔

حضرت حاجی امداد اللہ ؒکا پیر مہر علی شاہ ؒکوفتنۂ قادیانیت سے آگاہ کرنا

ہمارے سید الطائفہ حضرت حاجی امداد اللہ مہاجر مکیؒ جو مکہ میں مقیم تھے۔ پیر مہر علی شاہ صاحبؒ پنجاب کے ایک معروف گدی نشین تھے ۔وہ جب حاجی صاحبؒ کے پاس تشریف لے گئے تو حضرت حاجی صاحبؒ نے ان کو بیعت کیا۔خلافت دی اور ساتھ ہی پیر صاحبؒ کو حضرت

26

حاجی صاحبؒ نے ارشاد فرمایا : ’’درہندوستان عنقریب یک فتنہ ظہور کند، شما ضرور درملک خود واپس بروید واگر بالفرض شمادرہند خاموش نشستہ باشید تاہم آں فتنہ ترقی نہ کند ودرملک آرام ظاہر شود۔‘‘

(ملفوظات طیبہ ص۱۲۶، تاریخ مشائخ چشت ص۷۱۳،۷۱۴)

’’آپ ہندوستان واپس تشریف لے جائیں ۔وہاں ایک فتنہ اٹھنے والا ہے۔اللہ رب العزت آپ سے اس فتنہ کے خلاف کام لیںگے۔اگر آپ کام نہ کریں گے ۔صرف خاموش بیٹھے رہیں گے تو بھی آپ کا وجود اس فتنہ کے سد باب میںمعین و مؤثر ثابت ہوگا۔‘‘

پیر صاحبؒ کہتے ہیں:’’میں حضرت حاجی صاحبؒ سے بیعت ہوکر جب واپس آیاتو قطعًا میرے وہم و گمان میں بھی نہ تھا کہ مستقبل کے کون سے فتنہ کی طرف اشارہ ہے ۔ حتیٰ کہ مرزا غلام احمد قادیانی نے نبوت کا دعویٰ کیا تو تب بھی میری توجہ اس طرف مبذول نہ ہوئی۔ یہاں تک کہ حضور(ﷺ)کی خواب میں مجھے زیارت ہوئی۔ آپ(ﷺ)نے ارشاد فرمایا :’’پیر مہر علی شاہ !

’’مرزا غلام احمد بمقراض الحاد احادیث من را پارہ پارہ می کرد و تو خاموش نشستہ ای‘‘ترجمہ:مرزا غلام احمد بے دینی کی قینچی سے میری احادیث کو ٹکڑے ٹکڑے کر رہا ہے اور تو خاموش بیٹھا ہے۔‘‘پیر صاحبؒ کہتے ہیں:’’ اس کے بعد میں نے فتنۂ قادیانی کے خلاف کام شروع کیا‘‘ ۔

حضرت حاجی امداد اللہ ؒ نے مرزا قادیانی کے دعویٔ نبوت کی پیشین گوئی کردی تھی

میرے بھائیو! میں یہ عرض کرنا چاہتا ہوں کہ حضرت حاجی صاحبؒ نے مرزا غلام احمد کے دعوائے نبوت سے پہلے ہی انہوں نے یہ پیشین گوئی کردی تھی کہ پنجاب میں ایک فتنہ اٹھنے والا ہے ۔آپ کے اور میرے مخدوم حضرت مولانا (محمد ایوب صاحب کھولوڈیا (المعروف بہ السورتی دامت برکاتھم مراد ہیں) نے ایک واقعہ سنایا :جو پہلے بھی بزرگوں سے سنا ہے۔ ’’ہمارے حضرت رائے پوریؒ کے جد اعلیٰ شاہ عبد الرحیمؒ جن سے شاہ عبد القادر رائے پوریؒ بیعت تھے۔ان کے پیرتھے وہ دوسر ے شاہ عبد الرحیم صاحب سہارنپوری ہیں )

حضرت شاہ عبد الرحیم سہارنپوری ؒکا حکیم نور الدین کو متنبہ کرنا

اوروہ یہ ہے کہ ان کی خدمت میں حکیم نور الدینجو بھیرہ ضلع سرگودھا کا رہنے والا

27

تھاایک مرتبہ حضرت کی مجلس میں گیا۔تو حضرت سہارنپوریؒ نے حکیم نور الدین کو کہا :مرزا غلام احمد نامی ایک شخص نبوت کا دعویٰ کرنے والا ہے۔

یہ حکیم نور الدین اس وقت حضرت سے ارادت وبیعت کا سلسلہ رکھتا تھا ۔ حضرت کی خدمت میں اصلاح اور مسائل پوچھنے کی غرض سے اور حضرت سے اپنی علمی پیاس بجھانے کے لئے آیا ہواتھا۔

حضرت ان سے ارشاد فرماتے ہیں: ’’نور الدین تجھے سوال پوچھنے کی عادت ہے۔مختلف مجلسوں اور محفلوں میں جاتا ہے ۔ایک شخص نبوت کا دعویٰ کرنے والا ہے ۔تو علم کی پیاس بجھانے کے لئے اس کے پاس بھی جائے گا اور وہاں تو گرفتار ہو جائے گا ۔وہ شخص جو نبوت کا دعویٰ کرے گا تو اس کا خلیفہ بنے گا‘‘ ۔ چنانچہ اسی طرح ہوا ۔

قلندر ہر چہ گوید دیدہ گوید

تو میں یہ عرض کرنا چاہتاہوں کہ فتنۂ قادیانیت کے رونما اور ظہور پذیر ہونے سے قبل ہی اس زمانہ کے اہل اللہ اور اہل باطن کی چشم بصیرت و فراست ایمانی نے اس فتنہ کی ہولناکی اور اس کے دور رس خطرناک نتائج و اثرات کو اچھی طرح محسوس کرتے ہوئے بطور پیشین گوئی اپنے مخصوص متعلقین کو آگاہ کرکے اس کی سر کوبی اور استیصال کے لئے متوجہ کردیا تھا۔ محکمہ موسمیات والے اپنے اس علم سے جو انہوں نے پڑھا ہے وہ اور ان آلات سے موسم کے تغیرات کو پہلے سے اندازہ کرکے پیشین گوئی کردیتے ہیں کہ فلاں جگہ بارش ہوگی،فلاں جگہ آندھی آئے گی اور فلاں جگہ برف باری ہوگی۔ تو اہل اللہ نے اپنی فراست ایمانی سے پہلے ہی بھانپ لیا تھاکہ ایک فتنہ اٹھنے والا ا و رونما ہونے والا ہے ۔

برطانوی حکومت کی مسلمانوں کے دلوں سے جذبۂ جہاد ختم کرنے کی عیارانہ چال

برطانوی گورنمنٹ نے (متحدہ )ہندوستان پر اپنا قبضہ مکمل کرنے کے بعد یہ سوچا کہ کوئی ایسی صورت ہو جائے یا پیدا کردی جائے جس سے مسلمانوں کے دلوں پر حکومت کی جاسکے۔ باقی دوسری قوموں پر حکومت کرنا ان کے لئے آسان تھا۔مسلمانوں پر حکومت کرنا ان کے لئے اس لئے مشکل تھا کہ ان کا خیال تھا کہ یہ جو علماء ہیں! جس وقت جہاد کا مسئلہ بتاتے ہیں تو مسلمان قوم جہاد کے جذبہ سے سرشار ہوجاتی ہے ۔پھر ان کے سامنے کوئی رکاوٹ نہیں ہوتی ۔وہ سمجھتے ہیں کہ اگر مرجائیںگے تو شہید ہوں گے ۔ماردیںگے تو غازی ہوںگے ۔ یہ جذبۂ جہاد جب ان

28

میں پیدا ہوجاتا ہے تو پھر وہ کسی غاصب حکومت کی پرواہ نہیں کرتے۔کسی طرح مسلمانوں کے دلوں سے جذبہ ٔ جہاد کوختم کیا جائے ۔

بقول حضرت تھانوی ؒ مولوی کا کام مسئلہ بتانا ہے، مسئلہ بنانا نبی کا کام ہے

حضرت اقدس تھانویؒ نے لکھاہے کہ ’’مولوی کا کام مسئلہ بتانا ہے مسئلہ بنانا نبی(ﷺ) کا کام ہے ۔‘‘نبی(ﷺ)کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ مسئلہ بنا لیں۔‘‘پہلے تین نمازیں تھیں نبی(ﷺ) نے آکر پانچ کردیں ۔خدا نہ کرے فی الواقع حقیقت میں اگر کسی نبی نے آنا ہوتو وہ پانچ کی بجائے ایک کردے تو بھی اس کو اختیار ہے اور پانچ کے بجائے دس کردے تو بھی اس کو اختیار ہے اس لئے کہ اللہ کا نبی ہے۔انہوں (انگریزگورنمنٹ ) نے ایک وفد بھیجا کہ تم جاکر سروے کرو اور واپس آکر رپورٹ دوتا کہ اس کے پیش نظر کوئی ایسی شکل اختیار کی جائے کہ جس سے مسلمانوں کے دل سے جذبۂ جہاد کو ختم کیا جاسکے۔

’’The Arrivel British Empire in India ‘‘نامی ایک رپورٹ یہاں سے چھپ چکی ہے جو برٹیش انڈیا لائبریری سے حاصل کی سکتی ہے۔ اس میں یہ تمام حالات درج ہیں ۔

برطانوی حکومت کوایک ظلی جھوٹے نبی کی ضرورت تھی

میرے عزیز بھائیو! میں آپ دوستوں کی خدمت میں اس کا ایک اقتباس پیش کرنا چاہتا ہوں۔’’برطانوی گورنمنٹ کا ایک وفد گیا۔ واپس آکر برطانوی پارلیمنٹ میںاس وفد کے سر براہ نے تقریر کرتے ہوئے کہا:’’ ہمیں ایک عدد حواری نبی کی ضرورت ہے۔ظلی نبی کی،جو بتدریج نبوت کا دعویٰ کرے ۔ نہ کہ پہلے دن سے۔ ورنہ مسلمان بدک جائیںگے ۔برطانوی گورنمنٹ اس کی پشت پر ہو۔اس کا تعاون کیا جائے۔جس وقت وہ لوگوں میں مقبول ہوجائے تو کیونکہ وہ نبوت کی بنا پرمسئلہ تبدیل کرنے کا حقدارہوگااور وہ اعلان کردے گا کہ اب جہاد کا حکم منسوخ ہوگیا ہے ۔اور اب وہ حرام اور ممنوع قرار دیدیا گیا ہے ۔ تب جا کر مسلمانوں کے دلوں پر حکومت کر نا ممکن ہوگا۔‘‘

جھوٹے نبی مرزا غلام احمد کے بے شمار استاذ تھے

جن دنوں مرزا غلام احمد قادیانی سیالکوٹ میں ایک معمولی درجہ کا DC آفس میں کلرک تھا۔گل علی نامی ایک شیعہ اس کا استاد تھا ۔یہ ان کے پاس ٹیوشن پڑھتا رہا ۔گھر پر اس نے عربی

29

فارسی کی تھوڑی بہت تعلیم حاصل کی۔بہر حال اس کے استادوں کی طویل فہرست ہے۔ (جو کتاب البریہ ص۱۴۸تا۱۵۰ حاشیہ، خزائن ج۱۳ ص۱۷۹تا۱۸۱ میں موجود ہے) حالانکہ آپ دوستوں کو معلوم ہے کہ نبی کسی کا شاگرد نہیں ہوتا۔نبی براہ راست اللہ جل شانہ سے تعلیم و تربیت حاصل کرتا ہے ۔یہ مرزا غلام احمد قادیانی جس کے بیشمار استاد تھے۔ ان کے پاس اس نے تعلیم حاصل کی۔ مختاری کا امتحان دیا۔ اتفاق سے فیل ہو گیا۔جی!ان دنوں لمبی چوڑی پڑھائی نہ ہوتی تھی اس لئے مڈل فیل کو بھی انہوں نے ملازم رکھ لیا تھا ۔جونیئر قسم کا کلرک تھا۔

برطانوی حکومت نے مرزا غلام احمد کو جھوٹا نبی بننے کے لئے منتخب کرلیا

یہاں سے ایک پادری گیا ۔اس رپورٹ کے مطابق پانچ نام منتخب کئے گئے تھے کہ ان آدمیوں سے رابطہ قائم کرکے انہیں آمادہ کیا جاسکتا ہے ۔یہ نبوت کا دعویٰ کرے۔مرزا غلام احمد کو منتخب کیا گیا۔ ان کے پاس ڈپٹی کمشنرکا نمائندہ اورایک پادری نے جا کر ملاقات کی۔ جب وہ واپس چلے گئے تو مرزا غلام احمد قادیانی ملازمت سے استعفیٰ دے کر گھر چلا آیا۔ کئی دن یہ اپنی کتابوں کے مطالعہ میں گم سم حالت میں رہتا تھا تو اس کے باپ نے اس کو کہا: ’’تو ملازمت چھوڑ کر آگیا ہے۔ ملازمت کرنی چاہئے۔وہاں تیرا دل نہیں لگتا تو کہیںاور ملازمت کرادیں؟‘‘ تو اس نے جواب دیا کہ کہیں ملازمت کرانے کی ضرورت نہیں۔میری ملازمت ہو چکی ہے ۔(یہ ان کی کتابوں میں چھپی ہوئی بات ہے کہ ’’میری ملازمت ہوچکی ہے‘‘)(سیرۃ المہدی حصہ اوّل ص۴۸)

قادیانی پہلے سے طے شدہ باتوں کو اپنے جھوٹے نبی کی

نبوت کی دلیل کے طور پر پیش کرتے ہیں

کچھ دنوں بعداس زمانہ کے سات سو روپے کی رقم کا منی آرڈر اس کے نا م آیا اور منی آرڈر کی تفصیل بھی بڑی دلچسپ ہے ۔ایک دفعہ بیٹھا بیٹھا کہتا ہے:’’ آج کیا تاریخ ہے‘‘ ؟ تو ان لوگوں نے کہا کہ’’ تیرہ‘‘ (۱۳) کہتا ہے :’’اچھا،کل چودہ ،پندرہ اور پرسوں سولہ تاریخ کو منی آرڈر آجائے گا۔‘‘ اور سولہ کو منی آرڈر آگیا ۔تو یہ بدھو اب ایسی مضحکہ خیز بات کو مرزا غلام احمد قادیانی کی نبوت کی دلیل کے طور پر پیش کرکے اپنی جماعت کا ثبوت پیش کرتے ہیں کہ:’’ اس نے چار دن پہلے پیشین گوئی کی تھی کہ فلاں تاریخ کو منی آرڈر آئے گا۔‘‘ حالانکہ معلوم ہے کہ یہ ساری باتیں پہلے سے طے شدہ تھیں۔

30

مرزا بشیر کا ایک پُر لطف ڈرامہ

ایک دفعہ ’’مرزا بشیر الدین محمود‘‘ ایک مجلس میں بیٹھا تھا اس کے پاس اس کے پندرہ بیس حواری بیٹھے تھے ۔مجلس میں بیٹھا بیٹھا کہتا ہے کہ:’’ اوہو!فلاں کنواں جو ہے۔ اس میں بچھڑا گرگیا ہے۔ اٹھو وہاں چلتے ہیں۔‘‘جس وقت یہ سارے حضرات پیدل روانہ ہوئے ۔ایک ٹیکسی ڈرائیور جو مسلمان تھا ۔اس نے ٹیکسی دوڑائی اور آگے پہنچ گیا تو ’’مرزا بشیر الدین‘‘ کے چند مرید مل کر بچھڑے کو کنویں میں گرانے کی کوشش کر رہے تھے ۔اس نے دور سے ہاتھ ہلا کر کہہ دیا کہ مت گرائو!پروگرام تبدیل ہو چکا ہے ۔

جب ’’بشیر الدین محمود‘‘ وہاں پہونچا تو وہ اپنے مریدوں کو دیکھ کر اشاروں میں کہتا ہے:’’ گرانے کو کہا تھا گرایا نہیں‘‘ تو وہ ٹیکسی ڈرائیور کی طرف دیکھ کر کہتا ہے : ’’اس نے روک دیا تھا‘‘ ۔بہر حال اس قسم کی سازش کرنے میں یہ حضرات بڑے ماہر تھے۔اور میں یہ جتنے واقعات عرض کرتا ہوں بحمدہ تعالیٰ طبع شدہ مواد ہے۔چھپی ہوئی چیز ہے ۔ ٹیکسی ڈرائیور نے مجھے خود یہ واقعہ سنایا ہے۔

جھوٹے نبی کے منی آرڈر بغیر نام کے ہوتے تھے

تو حضور والا :مرزا غلام احمد قادیانی کو منی آرڈر آنا شروع ہوگئے۔اور ا ن منی آرڈر پر بھیجنے والے کا نام نہیں ہوتا تھا۔ یہ ان کی کتابوں میں لکھا ہوا ہے ۔آپ حضرات یہ ساری کڑیاں ملا کر بہ آسانی نتیجہ اخذ کر سکتے ہیں ۔ مرزا غلام احمد قادیانی کی ۸۰ (اسی) کتابیں ہیں اور یہ ۸۰ساری کی ساری (الحمد للہ)میں نے پڑھی ہیں۔ اگر کوئی خوبی ہے تو بھی‘ اگر کوئی عیب ہے تو بھی۔ بہر حال یہ (پڑھنا) میرے کھاتے میں جاتا ہے۔ اس بد بخت کی کتابیں میں نے پڑھی ہیں۔

جھوٹے نبی کی ہر بات میں تضاد سوائے دو باتوں کے

آپ حضرات حیران ہوںگے کہ مرزا غلام احمد قادیانی کی کوئی ایک بات ایسی نہیں پیش کی جا سکتی کہ جس میں کوئی تضاد نہ ہو۔پہلے دن سے لے کر مرنے تک ۔جس طرح کہتے ہیں: ’’ دروغ گورا حافظہ نہ باشد‘‘ ۔ آج کچھ کہہ دیا کل کچھ اورکہہ دیا ۔ایک وقت کچھ دوسرے وقت کچھ، صبح کچھ شام کچھ ،ناشتہ پر کچھ روٹی پہ کچھ ۔اس کی ہر بات کا تضاد اس کی کتابوں میں طبع شدہ

31

ہے۔کوئی اس کی ایسی بات پیش نہیں کی جا سکتی جس میںتضاد نہ ہو۔اس کی ہر بات کے اندر تضاد ہے سوائے دو باتوں کے ۔اس میں کبھی تضاد واقع نہیں ہوا ۔ایک یہ کہ:’’ انگریزوں کی اطاعت فرض ہے‘‘ اور دوسری یہ کہ ’’جہاد حرام ہے۔‘‘ پہلے دن سے لے کر آخر وقت تک اپنی ان دوباتوں پر قائم رہا۔باقی اس کی ہر بات میں تضاد رہا۔اور اس نے یہ کہہ دیا:

  1. اب چھوڑ دو جہاد کا اے دوستو خیال

    دین کے لئے حرام ہے اب جنگ اور قتال

(ضمیمہ تحفہ گولڑویہ ص۴۱، خزائن ج۱۷ ص۷۷،۷۸)

جھوٹے نبی کی نظر میں ’’ نمک حرام ہوں گے و بد خواہ ہوں گے‘‘

اس نے بڑی شد و مد کے ساتھ کہا :’’ نمک حرام ہوںگے۔ بد خواہ ہوںگے۔‘‘ اور غلام احمد قادیانی نے انگریزوں سے جہاد کو فرض اور ضروری قرار دینے والوں کو اپنی تحریرات میں ’’نمک حرام ،بدخواہ وغیرہ القاب ‘‘سے نوازا ہے۔

جھوٹا نبی ابتدائً مبلغ اسلام کی حیثیت سے ظاہر ہواتھا

پتہ نہیں کیا کیا بدزبانی کی گئی ان لوگوں کے لئے جو مسلمان مجاہدین جہاد کرنا چاہتے تھے۔

میرے عزیز بھائیو! میں یہ عرض کرنا چاہتا ہوں کہ انگریز نے اپنی مصلحتوں کی خاطر اورجذبۂ جہاد کومسلمانوں کے دل سے ختم کرنے کی خاطرمرزا غلام احمدقادیانی کو جھوٹی نبوت سے نواز کر حضور(ﷺ) کی ختم نبوت سے کھیلنے کے گر سکھلائے ۔ابتدائً مبلغ اسلام کی حیثیت سے ابھرا۔ مناظرہ کے لئے لوگوں کو چیلنج دئے۔

مرزا کی پہلی کتاب ’’ براہین احمدیہ‘‘ کو دیکھ کر ’’علمائے لدھیانہ‘‘

نے کفر کا فتویٰ لگادیا تھا

اس کی پہلی کتاب جس کا نام ’’براہین احمدیہ‘‘ ہے اور آپ حضرات حیران ہوںگے کہ اس پہلی کتاب کو پڑھ کر علماء لدھیانہ نے کہہ دیا تھا کہ:’’ یہ کتاب ٹھیک نہیں۔اگر چہ یہ شخص فی الحال اسلام کا اپنے آپ کو پیرو کار کہتا ہے ۔خدمت اسلام کا اپنے اندر جذبہ رکھتا ہے اور اس کا دعویٰ بھی یہی ہے ۔لیکن اس کی تحریروں سے اس کے بلند بانگ دعووںسے یہ پتہ چلتا ہے

32

کہ یہ شخص آگے چل کر فتنہ کا باعث ثابت ہوگا ۔ اس لئے کہ مرزا غلام احمد قادیانی باربار اس کتاب میں کہتا ہے کہ مجھے یہ الہام ہوا ہے۔ مجھے یہ الہام ہوا ہے۔ وغیرہ وغیرہ!‘‘

ہمارے حضرات علماء جو تکفیر کے بارے میں بڑے محتاط واقع ہوئے ہیں۔چنانچہ حضرت امام ربانی مولانا رشید احمد صاحب گنگوہیؒ نے اچھی طرح تحقیق و تنقیح تک تکفیر کو ملتوی کردیا۔ تحقیق کے بعد تکفیر سے اتفاق کیا اور یہ علماء لدھیانہ جو تھے۔ انہوں نے پہلے دن سے ہی کہہ دیا کہ یہ مرزا غلام احمد قادیانی کافر ہے ۔پھر اس کا کفر جب زیادہ آشکارا ہوا تو ساری دنیا اس کے کفر پر مجتمع ہوگئی۔

کیونکہ قادیان سے لدھیانہ زیادہ قریب ہے۔ اس لئے یہ حضرات اس کے حالا ت سے زیادہ واقف تھے ۔

یہ اس کے حالات و واقعات ہیں ۔اس کی پیشین گوئی،اس کی زبان،اس کی گفتگو، اس کے عقائد ،اس کے عزائم ،اس کے خدائی دعوے،اس کے نبوت کے دعوے،اس کی تحریرات جو انبیاء (علیہم السلام) کی توہین کے متعلق ہیں ۔اس کا امت مسلمہ کی تکفیر کا دعویٰ کرنا اور یہ جتنے اس کے دعوے اور تحریرات ہیں انشاء اللہ! کل سے لکھنا شروع کریں گے ۔

قادیانیوں کے ایک سوال کا جواب

قادیانی اعتراض:اس نے آخری ایک تقریر کی:مرزائی ہمیشہ اکثر یہ کہا کرتے ہیں: ’’مرزا غلام احمد نے نبوت کا دعویٰ نہیں کیا اور اس کے پہلے دن سے لے کرنبوت کے دعویٰ تک تیئس (۲۳) سال زندہ رہا تو کوئی مدعی نبوت جھوٹی نبوت کا دعویٰ کرنے والا وہ تیئس سال کا عرصہ نہیں گذار سکتا اس لئے کہ قرآن مجید میں ہے کہ ولوتقول علینا بعض الاقاویل لاخذنا منہ بالیمین۰ ثم لقطعنا منہ الوتین (الحاقہ:۴۴تا۴۶) اگر کوئی نبی ہمارے اوپر افتراء کرے تو ہم اس کی شہ رگ کو کاٹ دیتے ہیں۔اوریہ تو تئیس سال سے زیادہ زندہ رہا۔‘‘

جواب… (۱)ایک تو بالکل اس کا سیدھا سادہ جواب یہ ہے کہ’’ یہ آیت حضور سرور کائنات(ﷺ) کے متعلق ہے کہ حق تعالیٰ فرماتے ہیں: ’’میرا سچا نبی ہوکر اگر مجھ پر افتراء کرے تو ہم اس کی شہ رگ کاٹ دیتے ہیں۔‘‘ تو یہ آیت جھوٹے نبی کے متعلق ہے ہی نہیں۔اس لئے کہ جھوٹے بیشمار اتنے نبوت کے دعویدار ہیں کہ جنہوں نے نبوت کا دعویٰ کیا اورصرف تیئس سال نہیں ساڑھے تین سوسال ان کی حکومت رہی۔ان کے پیرو کاروں کی،ان کے خاندان کی۔جھوٹے

33

مدعیان نبوت نے بڑی لمبی لمبی عمرپائی۔تو آیت مذکورہ جھوٹے مدعیان نبوت کے متعلق ہے ہی نہیں۔سچے نبی کے متعلق ہے کہ نبی ہوکر خدا پر افتراء کرے۔‘‘ اللہ تعالیٰ یہ فرمانا چاہتا ہے: ’’میرا سچا نبی مجھ پر افتراء نہیں کرتا ۔اگر کرے تو ہم اس کے سرکو تن سے جدا کردیں گے ۔اس طرح کاٹ دیںگے۔‘‘ قرآن کا منشاء یہ ہے ۔

جواب… (۲)لیکن جوابًا ہم مرزائیوں سے یہ عرض کرتے ہیں کہ’’ مرزا غلام احمد قادیانی پہلے دن سے لے کر آخری دن تک ہمیشہ ہی ایک دن نبوت کا دعویٰ کیا دوسرے دن انکار کیا، تیسرے دن دعویٰ کیا چوتھے دن انکار کیا۔ہمیشہ اس چور کی طرح جو اگر کھڑکھڑاہٹ ہوتی ہے تو دیکھتا ہے کہ لوگ جاگ اٹھے ہیں تو چار قدم پیچھے ہٹ جاتا ہے اور جب دیکھتا ہے کہ لوگ خراٹے لے رہے ہیں تو چار قدم آگے بڑھنے کی کوشش کرتا ہے۔اس نے چور والی پالیسی اپنا لی تھی اور اس پر عمل پیرا تھا ۔‘‘

آخر کار جھوٹے نبی نے نبوت کا دعویٰ کرہی دیا

’’۲۳؍مئی ۱۹۰۸ء کو اس نے آخری خط لکھاکہ لوگ کہتے ہیں:’’ تو نے نبوت کا دعویٰ کیا ہے یا نہیں کیا‘‘؟تو میری تحریرات کے اندر آپ حضرات کو میری مختلف باتیں ملیں گی۔ وہ میری مختلف کیفیتیں ملیں گی۔اب میں آخری بات کہتاہوں: ’’میں نے نبوت کا دعویٰ کیا ہے۔اور اپنے دعویٰ نبوت میں اس وقت تک قائم ہوں تاوقتیکہ دنیا سے رخصت نہ ہوجائوں۔‘‘

یہ ۲۳ ؍مئی۱۹۰۸ء کواس نے کہا اور ۲۶؍مئی کو ’’اخبار عام‘‘ میں یہ بیان چھپا ۔جس دن اس کا بیان اخبارمیں چھپا اسی دن اس کی موت واقع ہوگئی اور اس کی موت واقع ہونے کی تفصیلات اس کے اپنے لڑکے نے حقیقۃ النبوۃ میں لکھی ہے :

مرزائیوں کے قرآن کا نام’’ تذکرہ‘‘ ہے

تذکرہ:مرزائیوں کی ایک کتاب کا نام ہے ۔ جس میں مرزا غلام احمد قادیانی کے الہامات، کشوف اور وحی کو جمع کیا گیا ہے ۔ حالانکہ یہ بھی قرآن مجید کا ایک معروف نام ہے۔ تذکرہ! اس کے سرورق پر لکھا ہواہے’ ’ وحئ مقدس‘‘مجموعہ کشوف و الہام جناب مرزا غلام احمد قادیانی :

مرزائیوں کی حدیث کا نام’ ’ سیرۃ المہدی ‘‘ہے

اور اس کی تفصیلات ان کی ایک اور کتاب جس کا نام ’’سیرت المہدی‘‘ہے اس کے

34

اندر ہے۔مرزائیوں کا قرآن ’’تذکرہ‘‘ہے اور ان کی حدیث کی کتاب ’’سیرۃ المہدی‘‘ ہے۔ جس طرح ہم کہتے ہیں:’’ حدثنا فلان عن فلان‘‘مرزائی بھی اسی طرح کہتے ہیں :’’بسم اللہ الرحمن الرحیم‘‘ روایت کیا مجھ سے عبد اللہ سنوری نے ‘‘جس طرح ہمارے یہاں کہتے ہیں: ’’روایت کیا ابو ہریرہ نے‘‘ بس اسی طرح نقل اتارتے ہیں۔ہم روایت کرتے ہیں کہ: ’’ امہات المومنین نے یہ روایت کی ہے۔‘‘ وہ بھی اسی طرح کہتے ہیں:’’حضرت صاحب کی اہلیہ روایت کرتی ہے۔‘‘

مرزا ئیوںکی ایک کتاب ’’سیرۃ المہدی‘‘ ہے اس میں ایسی باتیں جمع کرکے مرتب کی گئی ہے ۔مرزا غلام احمد قادیانی کو جو دیکھنے والے تھے ان کو یہ صحابہ کہتے ہیں۔ ان سے روایات جمع کرکے ایک کتاب مرتب کی ہے اور اس کتاب کا نام سیرۃ المہدی ہے اس کی تین جلدیں ہیں۔

مرزائیوں کی حدیث کی کتاب’ ’سیرۃ المہدی‘‘ غلاظتوں سے بھر پور

آپ حضرات حیران ہوںگے کہ متحدہ ہندستان کے زمانے میں وہ کتاب چھپی ۔تقسیم ہند کے بعد اس کتاب کو چھاپنے کی ہمت و جرأت کبھی نہیں ہوئی۔اس لئے کہ جتنی غلاظت اس کتاب میں ہے اور مرزائیوں کی تردید کے لئے جتنی وہ ہمیںمفید ہے اس سے بڑھ کر کوئی دوسری کتاب ہمیں مفید نہیں۔

مرزائیوں کو اس کتاب کے چھاپنے کی ہمت نہ ہوئی کیونکہ یہ کتاب کہیں مخالفین کے پاس نہ چلی جائے اور اس سے فائدہ نہ اٹھائیں۔قادیانی جان چھڑانے کی کوشش کرتے رہتے ہیں۔کسی طرح ان سے گلو خلاصی ہو جائے۔اس لئے کہ وہ ان کے حلق کا کانٹا بن چکی ہے۔

اس ’’سیرۃ المہدی‘‘ میں مرزا غلام احمد قادیانی کی بیوی سے خود مرزا غلام احمدکا اپنا لڑکا اپنی والدہ سے خود روایت کرتا ہے: ’’خودمرزائی امہات المئومنین نے (معاذ اللہ) یہ صورت بیان فرمائی : ’’حضرت مسیح موعود نے وفات کی۔‘‘

ایک مباہلہ سے مرزا کے جھوٹ کا ثبوت

اس سے پہلے مرزا غلام احمد نے مولانا ثناء اللہ امرتسری ؒ سے کہا: مولانا آپ سے میرے بے شمار مناظرے ہوئے ۔ہم کسی نتیجہ پر نہیں پہنچ پائے۔ تو اب اچھی شکل یہ ہے کہ میں خدا تعالی سے دعاء کرتا ہوں کہ جو سچا ہوگا اس کی زندگی میں جھوٹا مرجائے گا۔یہ خط بھی اس نے شائع

35

کردیا تھا۔

(مجموعہ اشتہارات ج۳ ص۵۷۸،۵۷۹)

حضرت مولانا ثناء اللہ امرتسریؒ(تقسیم ہند کے بعد پاکستان کے ضلع سرگودھا میں) کی وفات ۱۹۴۹ء میں ہوئی۔اور مرزا غلام احمد ۱۹۰۸ عیسوی میں مر گیا تھا۔

خود اس نے کہا تھا :’’ جو جھوٹا ہوگا وہ سچے کی زندگی میں مرجائے گا ۔‘‘مرزا غلام احمد چونکہ اپنے دعویٰ نبوت میں جھوٹا تھا۔اس لئے وہ مولانا ثناء اللہ امرتسریؒ کی زندگی میں مر گیا ۔

مرزا کے آخری وقت کے احوال

خود مرزاقادیانی کا بیٹا سیرۃ المہدی میں لکھتا ہے۔ (دیکھئے ج۱ ص۱۱ روایت نمبر۱۲) ’’مرزا صاحب کو پہلے قے ہوئی ،پھر دست آیا،پھر قے ہوئی ،پھردست آیا ،پھر قے آئی،اس کیفیت کو چھ بار لکھا۔‘‘ اس کو ملنے کے لئے ان کا خسر میر نواب ناصر گیا (حیات ناصر‘ نامی ا ن کی ایک کتاب ہے۔جس کی اصل ہمارے پاس ہے۔ اس کتاب میں (ص۱۴ پر) وہ مرزا غلام احمد قادیانی کا آخری جملہ نقل کرتا ہے) میں مرزا غلام احمد قادیانی کے پاس گیا ۔آخری وقت تھا ۔تو مرزا صاحب نے مجھے دیکھ کر کہا : ’’میر صاحب! مجھے وبائی ہیضہ ہو گیا ہے۔‘‘ اور یہ جملہ کہنے کے بعد مجھے جہاں تک یاد پڑتا ہے کہ:’’ مرزا صاحب کو اور کوئی بات کہنے کی توفیق نہیں ہوئی ۔‘‘تو اس حالت ہیضہ میں مرزا غلام احمد کا انتقال ہوا ۔جو خود اس کے خسر نے بیان کیا ہے ۔

مرزا غلا م احمد نے چونکہ مسیح موعود ہونے کا دعویٰ کیا تھا ۔اس سے پوچھا گیا کہ:’’ دجال کون ہے؟‘‘ تو اس نے اس کی بھی تأویل کی (وہ مستقل ایک بحث ہے )

مرزا کی احمقانہ تأویل

حضور (ﷺ) نے حضرت مسیح عیسیٰ ابن مریم (علیہ السلام) کی علامتیں اور نشانیاں بیان فرمائی ہیں۔ اس کی مرزا غلام احمد قادیانی نے کافرانہ طور پر(استغفراللہ استغفراللہ )جو تاویل کی ہے۔ بلکہ تحریف کی ہے بد ترین تحریف۔مثلًا : حضور(ﷺ) نے ارشاد فرمایا:’’جب عیسیٰ (علیہ السلام) آئیں گے تو ان کے جسم پر دو زرد رنگ کی چادریں ہوںگی۔‘‘

دو زرد رنگ کی چادر سے دو بیماریاں مراد ہیں

مرزا غلام احمد کہتا ہے: ’’در اصل دو زرد رنگ کی چادر وںسے مراد دو بیماریاں ہیں : ایک جسم کے تحتانی حصہ کی اور ایک جسم کے فوقانی حصہ کی ۔اوپر کے حصہ کو مجھے مراق لگا ہوا ہے، اور

36

نیچے کو مجھے سلس البول کی بیماری ہے۔‘‘

(دیکھئے حقیقت الوحی ص۳۰۷، خزائن ج۲۲ ص۳۲۰)

تو حضور(ﷺ) نے جو فرمایا :’’ جو مسیح آئے گا ، ان کی دو زرد رنگ کی چادریں ہوںگی‘‘ ،میرا یہ پیشاب اورمراق دو زرد رنگ کی چادریںہیں ۔ اس طرح کہہ کر حضور(ﷺ) کے ساتھ اورحدیث رسول (ﷺ) کے ساتھ بدترین مذاق کیا۔ مثلًا :

جھوٹے مسیح کا منارہ اور دجال کے گدھے کا ذکر بھی ملاحظہ ہو

مرزا غلام احمد قادیانی نے کہا :’’ میں مسیح ہوں‘‘ ، لوگوں نے کہا :’’ مسیح علیہ السلام تو دمشق کی جامع مسجد کے شرقی مینارپر نازل ہوںگے اگر تو مسیح ہے تو مینارہ کہاں ہے‘‘؟۔تو اس نے کہا:’’ اچھا ! مینار نہیں ہے تو اب مینار بنالیں ،چندہ اکٹھا کرو‘‘! ۔اسے کہا گیا : تو مسیح ہے تو بتا کہ دجال بھی آئے گا ؟تو جواب دیا کہ’’ یہ پادری جو پھر رہے ہیں سب دجال ہیں‘ ‘ ۔

حضرات اندازہ لگائیے کہ حضور(ﷺ)نے تو شخص معیّن کے بارے میں فرمایا: حضور (ﷺ) نے دجال کی شکل و شباہت و علامات اور نشانیاں بیان فرمائیں ،جس وقت وہ آئے گا عراق وشام کے درمیانی راستہ سے نکلے گا ،جی ! اس کی یعنی دجال کی مستقل نشانیاں بیان فرمائی ہیں، لیکن یہ شخص کہتا ہے:’’ دجال سے مراد متعین شخص نہیں بلکہ جماعت مراد ہے۔‘‘جماعت سے مراد پادریوں کی جماعت ہے۔ ‘‘

تو لوگوں نے پوچھا کہ اچھا !’’اگر یہ دجال ہیں تو دجال کے پاس تو گدھا بھی ہوگا، تو گدھا کونسا ہے؟ کہاں ہے‘‘؟تو جواب دیا :’’یہ ریل گاڑی جو چل رہی ہے وہ دجال کا گدھا ہے۔‘‘گفتگو کے طرز کا اندازہ لگائیے ۔

دجال کے گدھے پر ہی جھوٹے نبی کا سفر آخرت

مرزا غلام احمد نے مسیح موعود ہونے کا دعویٰ کیا، اور جب مرا تو اس کی لاش کو جسے یہ دجال کا گدھا کہہ رہاتھا‘اس پر لاد کر قادیان لے گئے ۔یہ اچھا مسیح (دجال) ہے جو گدھے پر سواری کرکے آخرت کو جارہا ہے۔بہر حال وہ وہاں دفن ہوا ۔ یعنی قادیان میں حالانکہ نبی کی جہاں جس جگہ وفات ہوتی ہے۔ وہاں دفن ہوتا ہے۔ مرزاقادیانی بقول مرزائیوں کے اگر نبی تھا تو اسے وہاں دفن کرنا چاہئے تھا۔ جہاں وہ مرا ہو۔ یعنی لاہور اور قضائے حاجت کی جگہ! خیر مرزاقادیانی آنجہانی ہوگیا۔

37

شاہ عبد الرحیم سہارنپوری ؒکی پیشین گوئی کے مطابق سب سے

اوّل حکیم نور الدین مرزا قادیانی کا جانشین و خلیفہ بنا

اس کے بعد حضرت شاہ عبد الرحیمؒ کی پیشین گوئی کے مطابق حکیم نور الدین(جو بھیرے کا رہنے والا تھا ) غلام احمد قادیانی کا پہلا نام نہاد جانشین منتخب ہوا۔چونکہ مرزا کی اپنی اولا د چھوٹی تھی۔جناب والا (اللہ رب العزت آپ علماء حضرات کا سایہ تا دیر قائم رکھیں )اس حکیم نور الدین کے بعدغلام احمد کا بیٹا مرزا بشیر الدین جو سترہ اٹھارہ سال کا تھا‘جب اس کا نمبر آیا تو مرزائی جماعت میں اختلاف ہوگیا۔

حکیم نور الدین کے مرنے کے بعد مرزا کے خلیفہ بنانے میں اختلاف ہوگیا

اختلاف یہ ہوا کہ مولوی محمد علی جو مرزا غلام احمد کا مرید تھا‘ وہ ان کی جماعت کا سینئر آدمی تھا، اس کا خیال تھا کہ خلافت اب مجھے ملے گی،وہ مرزا کے خاندان سے نہیں تھا ،اور مجھے بعض باتیں بیان کرتے ہوئے شرم آتی ہے کہ کوئی شریف آدمی بیان نہیں کرسکتا ۔

مرزا کے مرید کی شادی میں مرزا کی دلچسپی

یہ مرزا کے ایک مرید میاں ظفر احمد کی شادی کا جب وقت آیا ،مرزا غلام احمد قادیانی کہتا ہے:’’ شادی کروگے؟‘‘

تو انہوں نے کہا :جی!’’ کرنی ہے‘‘ ۔تو مرزا غلام احمد نے کہا :’’ آج میرے گھر چند مریدوں کی نوجوان لڑکیاںآئی ہوئی ہیں، تو یہاں کھڑکیوں میں کھڑے ہوجائو !میں ان کو سامنے سے گذارتا ہوں ،پردہ ہٹا کر ذرا اس طرح کرکے دیکھ لینا ،جو پسند آئے اس کی کوئی نشانی یاد رکھنا ،جیسے لال دو پٹے والی ،کالے دو پٹے والی و غیرہ۔فلاں بالوں والی،تو میں تمہاری ان کے ساتھ شادی کرادوںگا۔ (سیرۃ المہدی حصہ اوّل ص۲۵۹) چنانچہ اسی طرح کیا گیا ۔

مرزا کے پسند کی لڑکی

جن مریدوں نے مرزا غلام احمد کو مسیح موعود نبی سمجھ کر تربیت دینے کے لئے ان کے گھر پر اپنی لڑکیاں بھیجی تھیں ‘یہ ان کو منڈی کا مال بناکر ان بد معاشوں کے سامنے سے گذارتا ہے اور

38

جب واپس آئے تو پوچھا:’دیکھا‘؟ کونسی پسند آئی‘؟تو مرزے کے مرید نے کہا : ’جولمبے منھ والی ہے‘۔تو کہتا ہے :’’بے وقوف ! تمہیں پتہ ہی نہیں ہے کہ لمبے منہ والی جب بیمار ہوتی ہے تو چہرہ خراب ہوجاتا ہے۔وہ جو گول منہ والی ہے وہ تمہیں رکھنی چاہئے۔‘‘ (سیرۃ المہدی)یہ مرزا کے مریدوں کی بات ہے۔

آپ حضرات اندازہ لگائیں کہ اس کردار کا یہ گروہ تھا۔یہ اس کردار کے آدمی تھے۔ایسے بداخلاق اور غلیظ انسان اور دعویٰ یہ کہ محمد رسول اللہ (ﷺ) سے بڑھا ہوا ہے۔ استغفراللہ۔

دین کے ساتھ جتنا بدترین مذاق اس جماعت نے کیا ہے شاید ہی کسی اور جماعت نے کیا ہو

میں کہتا ہوں:’’دین کے ساتھ جتنا بدترین مذاق اس گروپ،جماعت اور فتنہ نے کیا ہے‘‘ ، شاید و باید اس کائنات میں اس فتنہ سے بڑھ کر کوئی اور فتنہ نے رسول اللہ(ﷺ) کی گستاخی کی ہو۔‘‘

مولوی محمد علی لاہوری کے اختلاف کی وجہ سے قادیانی دو جماعتوں میں تقسیم ہوگئے

تو میں عرض کر رہا تھا کہ محمد علی یہ سمجھتا تھا کہ خلافت مجھے ملے گی،مرزا غلام احمد کا خاندان اور مرزا کے پنجابی مرید(اس لئے کہ اہل پنجاب کی عادت ہے کہ وہ ہمیشہ پیرپرست ہوتے ہیں) کہتے تھے: مرزا کی اولاد کا حق بننا چاہئے ،اور یہ مرزا بشیر الدین کا حق ہے ۔تو خلافت کے مسئلہ میں ان کا آپس میں جھگڑا ہوگیا ۔

دو گروپ بن گئے،ایک مولوی محمد علی لاہوری کا ،یہ حضرات لاہور آگئے ،اور لاہوری کہلائے اور دوسرا گروپ مرزا بشیر الدین کا جو قادیان پر قابض ہوئے ۔

جس مسیح موعود کا فرشتہ منافق ہو‘ اس نبی کی شان کیا ہوگی ؟

یہاں ایک دلچسپ بات بیان کرتا چلوں، اوروہ یہ ہے کہ جس وقت مرزا غلام احمد قادیانی نے کہا: ’’میں مسیح موعود ہوں۔‘‘تو لوگوں نے کہا : ’’حضور(ﷺ) نے ارشاد فرمایا ہے: ’’جس وقت حضرت مسیح (علیہ السلام)اس دنیا میں تشریف لائیں گے تو دو فرشتوں کے

39

کندھوں(پروں ) پر آپ نے ہاتھ رکھے ہوں گے تو تیرے دو فرشتے کون ہیں‘‘؟تو اس نے دو آدمیوں کے متعلق کہہ دیا کہ’’ یہ میرے دو فرشتے ہیں۔ بدھو مرید تھے کہہ دیا:’’ٹھیک ہے‘‘ ۔

جس وقت ان کا اختلاف ہوا تو مرزا غلام احمد قادیانی کا ایک وہ مرید جس کو مرزا غلام احمد نے فرشتہ کہا تھا وہ مولوی محمد علی کے ساتھ مل گیا ،مرزا بشیر الدین محمود نے کہا: ’’لاہوری گروپ کے ساتھ جو ملاہوا ہے وہ منافق اور بے ایمان ہے‘‘ ۔تو ایک مرید نے کہا : اس میں حضرت صاحب کا فرشتہ بھی ہے تو مرزا بشیر الدین نے کہا : ’’ہے تو حضرت صاحب کا فرشتہ مگر منافق ہو گیا ہے۔‘‘ تو آپ حضرات اندازہ لگائیں کہ جس نبی کا فرشتہ منافق ہو اس نبی کی شان کیا ہوگی۔

حضرت مولانا لال حسین اختر صاحب (اللہ ان کی قبرپر لاکھ لاکھ رحمتیں نازل فرمائے ) وہ ’حقیقۃ الوحی ‘ کا حوالہ دیتے تھے (حقیقۃ الوحی‘ بھی ہمارے پاس اصلی موجود ہے)آپ حضرات اصلی کتابیں دیکھنے کی زحمت گوارا فرمائیں!حضرات علماء کرام کم از کم ان (کتابوں ) کی فوٹو کاپی کرالیں۔

مرزا کے جھوٹے فرشتے کا نام ٹیچی ٹیچی تھا

تو (حقیقت الوحی ص۳۳۲، خزائن ج۲۲ ص۳۴۶) میں اس کا ایک دلچسپ حوالہ ہے، مرزا غلام احمد قادیانی کہتا ہے: ’’میرے پاس ایک فر شتہ آیا ‘،میں نے اس سے پوچھا: ’آپ کا نام کیا ہے‘؟ تو اس نے کہا: ’میرا نام کچھ نہیں‘!تو میں نے کہا :’ آخر کچھ تو ہوگا‘ ،تو اس نے کہا :’ میرا نام ٹیچی ٹیچی (ٹیچی ٹیچی)، ہے‘۔آگے خود کہتا ہے کہ ٹیچی (ٹیچی)کے معنی پنجابی زبان میں وقت مقررہ کو کہتے ہیں۔ یعنی عین ضرورت کے وقت پر آنے والا یعنی جب مجھے ضرورت ہوتی ہے ہر وقت پہنچ جاتا ہے۔ اس لئے اس کا نام ٹیچی (ٹیچی)ہے ۔‘‘مولانا لال اختر حسین اخترؒ فرمایا کرتے تھے :’جس وقت اس نے ابتداء اپنے فرشتے سے پوچھا: تیرا نام کیا ہے ؟ اس نے کہا :کچھ نہیں ،جب دوبارہ پوچھا کہا :کچھ تو ہوگا ؟ کیا ہے؟اس نے کہا :میرا نام ٹیچی (ٹیچی) ہے۔‘‘ مولانا فرماتے ہیں: ’’نام کچھ نہیں تھا تو اس نے اپنا نام ٹیچی‘ (ٹیچی)کیوں بتایا ؟ اگر نام ٹیچی (ٹیچی)، تھا تو پہلے یہ کیوں بتایا کہ میرا نام کچھ نہیں۔یا پہلے جھوٹ بولا یا بعد میں جھوٹ بولا‘،دو باتوں میں سے ایک جھوٹ ہے ، مولانا لال حسین اخترؒ فرمایا کرتے تھے:’’ اس نبی پر قربان جایئے کہ جس کے فرشے بھی جھوٹ بولا کرتے ہیں۔‘ ‘

40

لاہوری قادیانی گروپ ایک دوسرے کو گرانے میں اور لعن طعن کرنے میں مصروف

تو حضور میں یہ عرض کرنا چاہتاہوں کہ پھر ان کے دو گروپ بن گئے،ایک لاہوری اورایک قادیانی۔اللہ معاف فرمائے پھر آپس میں ایک دوسرے پر جتنے الزام لگائے ، غلیظ کردار کے اتنے غلیظ الزام ،جتنی غلاظت ان کے اندر پوشیدہ تھی وہ سب ان کے اختلاف کے باعث دنیا کے سامنے کھل کرآگئی۔

انہوں نے کہا : یہ منافق، تو انہوں نے کہا : یہ منافق،انہوں نے کہا :یہ بد دیانت !تو انہوں نے کہا: یہ مال کھانے والا !انہوں نے کہا: یہ حرام کاری کرنے والے ہیں ۔تو انہوں بھی یہ کہا: یہ بھی ایسے ہیں،اور فلاں غلطی میں مبتلا ہیں۔

میرے بھائی! میں خانہ ٔ خدا میں بیٹھاہوں ، مجھ سے عمر میں چھوٹے میرے معصوم بھائی بیٹھے ہوئے ہیں۔میں تفصیل نہیں بتاسکتا،پھر کتنے گھنائونے الزام انہوں نے آپس میں ایک دوسرے پر لگائے کہ(الامان والحفیظ)!الحمد للہ!وہ لٹریچر بھی ہمارے پاس موجود ہے۔

مرزا بشیر الدین محمود نے کہا :’’ تم کیا کرتے ہو سوائے چندہ کھانے کے؟میرے مبلغ وہ ہیں جو لندن جاکر تبلیغ کرتے ہیں۔‘‘تو جواب میں لاہوری گروپ نے کہا : ’’تمہارے مبلغ جو تبلیغ کیا کرتے ہیں وہ ہمیں پتہ ہے؟ تمہارے تین مبلغ فلاں وقت فلاں ہوٹل میں خنزیر کھارہے تھے۔‘‘خوب بہت خوب آپس میں ایک دوسرے پر کافی غلاظتیں پھینکیں۔ ان کے دو گروپ بن گئے تھے۔

بقول حضرت عطاء اللہ شاہ بخاری ؒ خنزیر خنزیر ہی ہوتا ہے

(’’سید عطاء اللہ شاہ صاحب بخاریؒ سے کسی نے پوچھا کہ حضرت! لاہوری مرزائی اور قادیانی مرزائیوں میںکیا فرق ہے ؟تو شاہ صاحب نے فرمایا : ’بھائی خنزیر خنزیر ہی ہوتا ہے چاہے وہ گورا ہو یا کالا‘‘!)

وہ جو لاہوری مرزائی ہیں: اب وہ بیچارے! بیچارے میں اس لئے کہتا ہوں: یہ اتنے محروم القسمت لوگ ہیں کہ مرزا غلام احمد کو نبی نہیں مانتے،کہتے ہیں : ’’ہم اسے مجدد مانتے ہیں۔‘‘

41

مولوی محمد علی لاہوری خلافت نہ ملنے کی وجہ سے مرزا کو مجدد مانتا ہے

حالانکہ ’’مولوی محمد علی لاہوری‘‘ اس سے پہلے اپنی تحریروں میں نبی کا لفظ لکھ چکا تھا۔جس وقت خلافت پر اختلاف ہوا تو اپنے اختلاف کو عقائد کے اختلاف کا سبب قرار دینے کے لئے اس نے کہہ دیا کہ ہم مجدد مانتے ہیں، نبی نہیں مانتے،حالانکہ وہ پہلے نبی مانتے تھے۔اصل اختلاف ان کا گدی کا تھا۔تو مولوی محمد علی وغیرہ (مرزا غلام احمد کو نبی نہیں مانتے بلکہ مجددمانتے ہیں) پھر جتنے مرزا غلام احمد کی نبوت کے دعوے ہیں ان میں تاویل کرتے ہیں۔

حقیقت میں لاہوری ڈبل (دوگنے)کافر ہیں

تو مرزاقادیانی کے نزدیک لاہوری گروپ کافر ہے، اس لئے کہ وہ غلام احمد قادیانی کی نبوت کے منکر ہیں،اور مسلمانوں کے نزدیک بھی وہ لاہوری گروپ کافر ہے اس لئے کہ وہ ایک مدعی نبوت کو کافر نہ قرار دینے کی بنا پر کافر ہیں۔ تو وہ ڈبل کافر ہیں۔یہ ہیں محروم القسمۃ لوگ!

قادیانی جماعت کوتقسیم ملک کے بعد’’ جس وقت ۵۳ ۱۹عیسوی کی تحریک چلی تھی، ’’آگے چل کر اس کی تفصیل عرض کرتا ہوں‘‘اس وقت مختصر وقت میں قادیانی جماعت کے سیاسی عزائم عرض کرنے ہیں۔

۵۳ ۱۹عیسوی کی تحریک کی انکوائری کے لئے جج مقرر کئے گئے تھے ، ایک جسٹس مسٹر کیانی ا ور ایک جسٹس مسٹر منیر ،انہوں نے اپنی رپورٹ کے اندر لکھا ہے: ’’مرزائی جماعت کے عقائد اور ان کے مسائل اور عزائم یہ بتاتے ہیں اور ان کی تحریر یہ بتاتی ہے کہ مرزائیوں کو‘‘ اس بات کایقین تھا اور توقع وابستہ تھی کہ جس وقت انگریز بر صغیر سے جائے گا تو اس وقت اقتدار ہمارے سپرد کرکے جائے گا،‘یہ حضرات اپنے آپ کو اس حد تک مستحکم کر چکے تھے۔‘‘لیکن ایسا نہ ہوا۔

بقول مرزا بشیر الدین ’’قادیان دار الامان‘‘ ہے،جو شخص یہاں سے نکلے گا وہ منافق ہوگا ،پھر خود اس نے کیا کیا تھا ؟

مرزا غلام احمد قادیانی کے لڑکے مرزا بشیر الدین محمود نے یہ کہا :’’ قادیان دار الامان ہے،اس سے جو شخص نکلے گا وہ منافق ہوگا‘‘،لیکن جسوقت حالات بدلے یہ مجبور ہوا ،سارے اس کے ماننے والے مرید قادیان میں رہ گئے ،خود رات کی تنہائی وتاریکی میں برقعہ پہن کر اپنی چند

42

خواتین کے ساتھ کار میں بیٹھ کر فرار ہوا ،اور لاہور جاکر اس نے پناہ لی۔اور بعد میں اس نے کہا:’’ میں اپنے مریدوں کو بھی کہتا ہوں : ’’یہاں پر واپس آجائو‘‘!۔چنانچہ بعد میں دھکے کھاتے کھاتے وہ بھی پاکستان پہنچے۔

سیالکوٹ میں قادیانیوں کی کیوں زیادہ آبادی ہے؟

جنرل موڈی اس وقت پاکستان میں پنجاب کا گورنرتھا،جنرل موڈی کو کہہ کر ضلع جھنگ میں سینکڑوں ایکڑ اراضی چند ٹکے فی ایکڑ کے عوض اپنی جماعت کے نام پر حاصل کی،دو پیسے فی مرلہ کے حساب سے ایک ایکڑ کے دس آنے اس زمانے میں بنتے تھے۔ اور وہاں پر (ربوہ موجودہ چناب نگر) شہر بسانا شروع کردیا ۔یہ ایم ایم قادیانی جو آج کل قادیانی جماعت کا لیڈر ہے، اور ذو الفقار علی بھٹو نے جس وقت ان کو غیرمسلم اقلیت قرار دیا تھا تو وہ وہاں سے احتجاجاً استعفیٰ دیکر آگیا تھا۔اور اب وہ عالمی بینک کے اندر ہے۔

یہ ایم ایم قادیانی غلام احمد کا پوتا اور مرزا بشیر احمد ایم اے کا لڑکا ہے ۔ یہ ایم ایم قادیانی ان دنوں سیالکوٹ میں ڈپٹی کمشنر لگا ہواتھا،جس وقت ملک تقسیم ہوا ،گورداسپور اور سیالکوٹ کی سرحدیں آپس میں ملتی ہیں،تو گورداسپورسے قادیانی منتقل ہوکر سیالکوٹ میں آکر آباد ہوگئے۔چنانچہ اس وقت پاکستان میں ربوہ (موجودہ چناب نگر) کے بعد سب سے زیادہ آبادی قادیانیوں کی سیالکوٹ میں ہے۔

اسلم قریشی کے اغواکا جو واقعہ اور سانحہ ہوا ہے۔ وہ بھی سیالکوٹ کے اندر رونما ہوا۔ان کی تفصیل بھی مختصر الفاظ میں آگے چلکر عرض کروںگا۔تو اس طرح کرکے کچھ سیالکوٹ میں آباد ہوگئے ،اور کچھ ربوہ (چناب نگر) میں اور انہوں نے پر پرزے نکالنے شروع کئے۔

باطل کوجس وقت موقع ملتا ہے تو وہ اکڑتا ہے

۱۹۵۲ عیسوی میں مرزا بشیر الدین محمود کوئٹہ میں تقریر کرنے گیا توان کی رعونت کا اندازہ لگایئے ہمیشہ باطل جس وقت ڈھیل ملتی ہے وہ اکڑتا ہے،اور جب اس کو شکنجہ میں کسنے کا وقت آتا ہے اور مصیبت کا وقت آتا ہے تو فوراً دفاعی کاروائی شروع کر دیتا ہے۔اپنی مصیبت کے ساتھ سمجھوتے پر مجبور ہوجاتا ہے،یہ ہمیشہ سے باطل کی عادت رہی ہے ۔ اکڑکر اس طرح کہا : ’’میرے

43

احمدی دوستو !۱۹۵۲عیسوی نہ گذرنے پائے اور۱۹۵۳عیسوی نہ آنے پائے کہ بلوچستان کے صوبہ کو احمدی صوبہ بنالو،میں اگلی تفصیل بعد میں عرض کرتا ہوں۔

بلوچستاں صوبہ کو احمدی صوبہ بنانا چاہتے ہیں مگر وہاں سے چُن چُن کر نکالے گئے

یہاں ایک بات اور عرض کرتا ہوں ۔ جسوقت مرزا بشیر الدین محمودنے یہ کہا کہ’’ بلوچستان کے صوبہ کو احمدی صوبہ بنالو‘‘ ۔اللہ کی شان اسی صوبہ کے شہر ژوب سے (مولانا شمس الدین شہید ہمارے بلوچستان اسمبلی کے سپیکر بھی رہے ہیں ) مرزائیوں کو ضلع بدر کیا گیا۔ پاکستان کی تاریخ میں یہ پہلاضلع ہے جہاں سے قادیانیوں کو چن چن کر نکالا گیا۔اور یہ ضلع بلوچستان میں ہے، جس بلوچستان کے متعلق مرزا بشیر الدین احمدی سٹیٹ کا خواب دیکھتا تھا ،قدرت نے اس کا جواب یہ دلوایا کہ’ جس شہر کو اورجس صوبہ کو احمدی سٹیٹ بنانا چاہتے تھے وہاں سے ان کو چن چن کر نکالا گیا ۔‘‘

عقیدۂ ختم نبوت کے لئے دس ہزار مسلمانوں کا خون بہا

جس دن مرزا بشیر الدین نے یہ تقریر کی اسی رات سرگودھا میں سید عطاء اللہ شاہ صاحب بخاریؒ کی تقریر تھی ، شاہ صاحبؒ نے کہا : ’’۱۹۵۲عیسوی تیرا ہے تو ۱۹۵۳عیسوی میرا ہے۔ پھر ۱۹۵۳ عیسوی کی تحریک چلی اس تحریک میں گورنمنٹ کے اعداد وشمار کے مطابق دس ہزار مسلمان شہید ہوئے۔

سید عطاء اللہ شاہ صاحب بخاری ؒ نے عدالت میں قبول کیا کہ دس ہزار

شہیدوں کے خون کی دنیا و آخرت میں میں ذمہ داری قبول کرتا ہوں

جسٹس منیر نے کہا: ان کے خون کی ذمہ داری شاہ صاحب! کس پر؟ تو شاہ صاحبؒ عدالت میں کھڑے ہو گئے اور کہا : ’’ان دس ہزار شہیدوں کا وارث عطاء اللہ شاہؒ ہے ۔ دنیا میں بھی جواب دہ ہوں اور آخرت میں بھی جواب دہ ہوں گا۔‘‘اور جواب بھی آخرت میں یہی ہوگا :’’ حضور سرور کائنات(ﷺ) سے عرض کروںگا کہ’’ مسیلمہ کے ساتھ جو جنگ ہوئی تھی ، جن شہیدوں نے ،جن صحابہ نے مسیلمہ کے ساتھ جنگ کی تھی اور وہ حضرات شہید ہوئے اسی صف میںان۱۹۵۳ء عیسوی کے شہیدوں کو بھی شامل کرلیا جائے، و ہ بھی آپ(ﷺ)کے ناموس پر

44

قربان ہوئے تھے اوران کو بھی آپ ﷺ کے ناموس پر قربان کرکے آیا ہو ں ۔

۱۹۵۳ کی تحریک کے بعد اسلام و کفر ممتاز ہوگیا

شاہ صاحبؒ نے عدالت میںاس کا اقرار کیا ۔بات بڑی تلخ ہے مگر حقیقت بہر حال حقیقت ہے ۔ مولانا مودودی صاحب نے اسی ۱۹۵۳ عیسوی کی تحریک میں ’’باوجودیکہ ہمارے بزرگوں کے ساتھ تھے ‘‘ عدالت میں کہہ دیاکہ’ میں شہیدوں کے خون کا وارث نہیں‘۔شاہ صاحبؒ نے بڑی بہادری کے ساتھ بھری عدالت میں کہہ دیا کہ’’ میں شہیدوں کے خون کی دنیا و آخرت میں اخلاقی طورپر ذمہ داری قبول کرتا ہوں۔‘‘

تو حضور :میں یہ عرض کرنا چاہتا ہوں کہ ۱۹۵۳ کی تحریک میں دس ہزار آدمیوں کے شہید ہونے کے باوجود ہمارے جوخصوصی ومخصوص مطالبات تھے ان میں سے ایک بھی اس وقت تسلیم نہیں کیا گیا تھا۔لیکن اس تحریک کافائدہ یہ ہوا کہ مرزائیوں کا کفر پوری دنیا پر آشکارا ہوگیا۔ وہ جاجا کر اسلام کے نام پر لوگوں کو جو دھوکہ دیتے تھے ،اب اسلام اور کفر کے درمیان تمیز کردی گئی۔اور قادیانیت کے بڑھتے ہوئے سیلاب کے آگے بند باندھ دیا گیا۔

بقول مرزا بشیر الدین نوکریوں ورشتوں اور مال و دولت کا لالچ دے کر انقلاب لاؤ!

چنانچہ ’’مرزا بشیر الدین محمود‘‘ نے اعلان کردیا :’’ اب مسلمانوں کے غضب کا مقابلہ نہیں کرسکتے اس لئے اب انڈر گرائونڈ چلے جائو۔اور کوشش کرو کہ اپنی بچیوں کو غیر احمدیوں کو دو،غیر احمدیوں کو اپنے مذہب میں لائو۔ان کی شادیاں کرو ،اور ان کو نوکری کا لالچ دو، رشتوں کا لالچ دو ، پیسہ کا ان کو لالچ دو ،گورنمنٹ کے جو مختلف شعبے ہیں :فوج کا شعبہ ہے اور دوسرے جتنے اہم شعبے ہیں ان کے اندر اپنے آدمیوں کو بھرتی کرو‘‘،اس قسم کے حالات پیدا ہوجائیں تو ووٹوں کے ذریعہ ہم اقتدار میں نہیں آسکتے ،انقلاب کے ذریعہ تو آسکتے ہیں۔‘‘

۱۹۷۰ ء کے انتخاب میں قادیانیوں نے ایڑی چوٹی کا زور لگایالیکن

ان کی سازش اس طرح کامیاب ہوئی کہ ایک وقت آیا کہ پاکستان کی فوج میں جنرلوں کی ڈار کی ڈار قادیانیوں کی ہوگئی تھی۔بے شمار سیکرٹری قادیانی تھے۔وزارت تعلیم اور

45

دوسرے محکموں میںقادیانی تھوک کے حساب سے بھرے پڑے تھے۔۱۹۷۰ء کا جو انتخاب ہوا اس میں قادیانیوں نے چالیس لاکھ روپے ذو الفقار علی بھٹو کی پیپلز پارٹی کے لئے خرچ کئے۔(قادیانی جماعت کی جو نیم فوجی تنظیم ہے اس کو وہ خدام الاحمدیۃ کہتے ہیں اور جو لڑکیوں کی جوتنظیم ہے اس کو لجنۃ اماء اللہ کہتے ہیں) وہ لجنہ اور خدام والوں نے ملکر ذوالفقار علی بھٹو کے انتخاب میں حصہ لیا۔ووٹ ڈلوائے،پیسہ خرچ کیا،دن رات اس کے لئے کام کیا ،جس وقت ذوالفقار علی بھٹو بر سراقتدار آگئے تو مرزا طاہر احمد (یہ مرزا ناصر احمداور ذوالفقار علی بھٹو کے درمیان رابطہ کا کام دیتا تھا) ذوالفقار علی بھٹو کے پاس گیا اور اس نے جاکر (ان کے مقابلہ میں ہمارے علماء نے جو کوشش کی وہ یہ کہ مناظرہ مجادلہ اور مباحثہ کے میدان میں قادیانیوں کوشکست دی۔اور ہمارے بزرگوں نے اعلان کردیا کہ جس سیٹ پر مرزائی کھڑے ہوںگے ہم ان کا مقابلہ کریں گے۔ پیپلز پارٹی کے ٹکٹ کی وجہ سے صرف تین مرزائی کامیاب ہوئے۔(۱) اعظم خاں (۲) راجہ منور،چکوال کا (۳)بشیر انور ضلع شیخوپورہ کا۔یہ راجہ منور نے بعد میں توبہ کرلی تھی۔دو پکے قادیانی اسمبلی میں پہنچے)محکمہ تعلیم کی وزارت مانگی،ہم نے اتنے پیسے خرچ کئے ،یہ کیا وہ کیا؟

مرزائیوں کا محکمہ ٔ تعلیم پر قبضہ کرنے کا خواب مگر بھٹو نے پورا کرنے سے انکار کردیا

اب یہ محکمہ(وزارت) تعلیم ہمیںدے دو۔اس لئے کہ مرزائی یہ سمجھتے تھے کہ محکمہ تعلیم میں نصاب اپنی مرضی کا بناکر پوری آنے والی پاکستانی نسل کو قادیانیت کی صف میں کھڑا کردیا جائے گا۔مرزائی ذوالفقار علی بھٹو کو اپنے ہاتھ کی چھڑی ،جیب کی گھڑی،یا اپنے گھڑے کی مچھلی سمجھا کرتے تھے کہ جب چاہیں گے مسٹر بھٹو کو استعمال کرلیں گے ۔بھٹو ذہین آدمی تھا،اور وہ اپنے اقتدار کی خاطر بڑی سے بڑی دوستی کو بھی قربان کردیتا تھا ۔اور بڑے سے بڑے دشمن کے ساتھ بھی اقتدار کی خاطر سمجھوتے کرنے والا آدمی تھا ۔ جب مرزا طاہر نے کہا کہ ہم اس طرح کر رہے ہیں ،ہمیں وزارت تعلیم دے دو ۔تو مسٹربھٹو نے کہا: ’سوچیں گے ،دیکھا جائے گا‘۔

نشتر میڈیکل کالج ملتان کے طلباء کے ساتھ قادیانیوں کا ظالمانہ و درندانہ سلوک

اسی دوران نشتر میڈیکل کالج ملتان کے طلباء کاانتخاب شروع ہوا ، اس میں مرزائی طلباء بھی کھڑے ہوئے اور اس کا مقابلہ ہمارے مسلمان طلباء نے کیا،مرزائی طلباء انتخاب میں شکست کھاگئے،وہ طلباء یونین چناب ٹرین کے ذریعہ پشاور جارہے تھے،ربوہ سے اس ٹرین کو گزرنا تھا ،

46

اور ربوہ (موجودہ چناب نگر) میں مرزائیوں کی اجازت کے بغیر پتہ بھی نہیں ہل سکتا تھا اور ان کی اجازت کے بغیر ربوہ میں چڑیا پرتک نہیں ہلا سکتی تھی۔مرزائیوں نے ربوہ میں کئی قتل کئے ،ان کا مقدمہ تو اپنی جگہ گواہی دینے واالا بھی کوئی نہ تھا۔اورآج تک ان کے گوشت پوست کا ٹکڑا بھی نہ ملا کہ وہ کہاں گئے؟اس طرح کی یہ ظالمانہ سفاکانہ قادیانیوں کی تنظیم تھی۔ربوہ کا پورا ایک ماحول تھا، ربوہ پر ان کا کنٹرول تھا۔ربوہ سے جونہی ٹرین کوئی بھی گزرتی تھی مرزائی جاکر ان کو اپنا لٹریچر، اخبار ’’الفضل‘‘ وغیرہ تقسیم کرتے تھے، اور مسلمانوں کو گمراہ کرنے کی کوشش کرتے تھے۔

۲۲؍مئی ۱۹۷۴ عیسوی کو چناب ٹرین‘ جس وقت ربوہ پہونچی تو مرزائیوں نے اپنی عادت کے موافق اپنا لٹریچر مسلمانوں میں تقسیم کیا۔وہ طلباء مرزائیوں کے ذہناً خلاف تھے،اس لئے کہ ملتان میں انہوں نے ان کے خلاف انتخاب لڑا تھا تو انہوں نے مرزائیت مردہ باد کے نعرہ لگائے۔

وہ چلے گئے ،مرزائیوں نے باقاعدہ تیاری کی، اور انہوں نے معلوم کیا کہ یہ واپس کب آئیں گے،پتہ چلا کہ ۲۹؍ مئی کو واپس آئیں گے، تو سر گودھا ،شاہین آ باد سے مرزائی غنڈے سوار ہوئے، ربوہ میں پہلے سے غنڈے موجود تھے،ٹرین کو رکوالیا گیا،اسٹیشن کا سارا عملہ قادیانی تھا،اور ۲۹ ؍مئی ۱۹۷۴کو ہمارے مسلمان طلباء کو قایانیوں نے مارا پیٹا زخمی کیا ،ان کے ناک توڑے ،ان پرپیشاب کیا۔ان کی ہڈیاں تک توڑدیں،اتنا ظلم و ستم کیا ۔

بعض امور بڑے تکوینی ہوتے ہیں

ہمارے بزرگ مولانا تاج محمود فیصل آبادیؒ تھے(اللہ ان کی مغفرت کرے فوت ہوگئے ہیں)انہیں پتہ چلا ، ٹرین جسوقت فیصل آباد آرہی تھی تو اسٹیشن ماسٹر نے مولانا کو بتایا کہ اس طرح مرزائیوں نے ظلم کیا ہے، طلباء ’’چناب‘‘ پر آرہے ہیں ،بڑے زخمی ہیں ،ان کی موت واقع نہ ہوجائے، ان کے علاج کا آپ کچھ کریں،ایک گھنٹہ بعد ٹرین فیصل آباد پہنچی،(ان دنوں لائل پور اس کا نام تھا) مولانا تاج محمودؒ نے ڈی سی، ایس پی ، اور شہر کے علماء کو اور لوگوں کو رکشہ پرسپیکر باندھکر اعلان کرواکے دو ڈھائی ہزار کا مجمع ریلوے اسٹیشن پر جمع کروالیا ۔جس وقت طلباء آئے، مرہم پٹی کی گئی، اور وہاں سے تحریک کا اعلان کردیا گیا ۔

بعض امور بڑے تکوینی ہوتے ہیں،علماء کی مجلس ہے لہٰذا میں ایک بات عرض کرنا چاہتا ہوں،جماعت ختم نبوت کے پہلے امیر تھے مولانا عطاء اللہ شاہ بخاریؒ ،اس کے بعد قاضی احسان

47

احمد شجاع آبادیؒ پھر مولانا محمد علی جالندھریؒ ،ان کے بعد پھر مولانا لال حسین اختر صاحبؒ ، مولانا لال حسین اخترؒ کی وفات کے بعد امیر بنانا چاہتے تھے مولانا محمد یوسف بنوری ؒصاحب کو، حضرت مولانا محمد یوسف بنوریؒ صاحب متواتر کئی دنوں سے عذر کئے جاتے تھے کہ مجھے شرح صدر نہیں، میں صدر نہیں بنتا،مولانا قاضی عبد القادر صاحب جو جھاوریاں میں رہتے ہیں ، تبلیغی جماعت کے خاصے معروف آدمی ہیں ،آپ کے ڈیوزبری کے اجتماع میں بھی آئے تھے ،یہ واقعہ انہوں نے مجھے سنایا،وہ مولانا میاں عبد الہادی دین پوری ؒکے پاس گئے،تو مولانا میاں عبدالہادی صاحبؒ نے مجھے کہا : میں چل پھر نہیں سکتا ،آپ میرے نمائندہ بن کر مولانا محمد یوسف بنوریؒ کے پاس جائو اور ان کو کہو: ختم نبوت کی امارت قبول کر لیں،حاشا و کلا ہمیں اس بات کا قطعی علم نہیں ،مولانا قاضی عبد القادر صاحب آئے، اور انہوں نے درخواست کی کہ ختم نبوت جماعت کی امارت قبول کرلیں،تو حضرت بنوری ؒنے فرمایا :’ ابھی مجھے انشراح نہیں، مدرسہ کا ،تبلیغ وتصنیف کا اتنا کام ہے،مجھ میں ہمت نہیں‘‘ ، دوسرے دن قاضی صاحب گئے، تیسرے دن گئے، اور جا کر کہا:’’ مولانا مجھے مولانا میاں عبد الہادی صاحبؒنے بتایانہیںہے لیکن میں ان کی گفتگو کے بین السطور سے یہ سمجھا ہوں کہ’’ کوئی اہم کام ہونے والا ہے،اور اس کی خاطر وہ آپ کو کہہ رہے ہیںکہ’’ آپ جماعت کی امارت قبول فرمالیں،کوئی کام قدرت آپ سے لیگی۔‘‘حضرت بنوریؒ نے کہا : ’’اچھا بھائی شام کو دیکھیں گے۔‘‘جب شام ہوئی تو مولانا بنورؒی نے مولانا قاضی عبد القادر صاحبؒ کو بلا کر کہا : ’’مولانا مبارک ہو،آج شیخ الحدیث مولا نامحمد زکریا کاندھلوی کا خط مدینہ سے آیا ہے لکھا ہے:’’ یوسف! بات سمجھ میں آئے نہ آئے ،حکمت نہ پوچھو! اس میں کیا حکمت ہے؟ میرا یہ خط ملتے ہی ختم نبوت جماعت کی امارت قبول کرلو۔‘‘

۲۹؍ مئی ۱۹۷۳ ء کو تحریک چلی

بالآخر ۷؍ستمبر۱۹۷۴ ء کو قادیانی غیر مسلم اقلیت قرار دئے گئے

حضرت بنوریؒ وہاں سے ملتان آئے،ملتان میں جماعت کا اجلاس تھا،جماعت کے امیر بنادئے گئے، اور اس کے بعد ہی ۲۹؍مئی ۱۹۷۴ کا سانحہ رونما ہوا،اللہ کی شان! اس سے پہلے جتنے بھی انتخاب ہوئے تھے ہمارے علماء کرام کو شکست ہوتی تھی،لیکن اس انتخاب میں مولانا عبد الحق صاحبؒ ا کوڑہ خٹک والے اور حضرت مولانا مفتی محمود صاحبؒ ،دیگرعلماء کرام کی بھاری بھر کم

48

شخصیتیں ،مولانا غلام غوث ہزارویؒ اسمبلی میں موجود تھیں،ادھر باہر مولانا بنوری ؒجیسی شخصیت تھی،کتنی عظیم تحریک چلی،اس تحریک کے نتیجہ میں مرزائیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دیاگیا۔اس کو اقلیت قرار دینے سے پہلے ۲۹؍مئی۱۹۷۴ کو تحریک چلی،۷؍ستمبر ۱۹۷۴ کو یہ فیصلہ ہوا ہے۔

مرزا ناصر احمدکی خوشیوں پر اللہ تعالیٰ نے کالک لگادی

تو یہ ۲۸؍دسمبر ۱۹۷۳کی بات ہے ،مرزا ناصر احمد جلسہ گاہ میں تقریر کرنے کے لئے کھڑا ہوا،گم سم! شیطان کی طرح کھڑا ہے، تقریر شروع نہیں کرتا،لوگ حیران ہیں، پوری جلسہ گاہ اس کی طرف متوجہ ہے،اتنے میں سرگودھا ائیر بیس سے ائیر فورس کے تین جہاز آئے،انہوں نے غوطہ لگاکر مرزا کو سلامی دی۔مرزائی اتنی طاقت پکڑ چکے تھے،مرزا ناصر احمد نے خطبہ نہیں پڑھا ،خوشی میں اتنا پھول گیا کہ تقریر شروع نہیں کی۔اپنی جماعت کے لوگوں کو کہتا ہے: ’’میرے احمدی دوستو !اب جھولی پھیلا لو ،پھل پک گیا ہے۔ا ور تمہاری جھولیوں میں گرنے والا ہے۔‘‘

جنرل ظفر چودھری قادیانی تھا،جنرل عبد العلی قادیانی تھا،جنرل ملک اختر قادیانی تھا، جنرلوںمیں ڈار کی ڈار قادیانیوں کی بیٹھی ہوئی تھی،جب ان کو اقلیت قرار دیا گیا تو کئی قادیانی غصہ میں استعفاء دے کر آگئے۔چند قادیانی باقی رہ گئے تھے۔

ہمارے بزرگوں نے مسئلہ ختم نبوت کے لئے ایک ایک کے پاؤں پکڑے

اس ضمن میں آپ حضرات کو ذوالفقار علی بھٹو کا ایک واقعہ سناتا ہوں ، ہماری ختم نبوت تحریک کے ساتھیوں میں سید عطاء اللہ شاہ بخاری ؒکے ایک رضاکاراور ساتھی شورش کشمیریؒ بھی تھے،شورش کشمیریؒ ایک دن بھٹو کے پاس گئے تو بھٹو نے کہا :آکسفورڈ یونیورسٹی میں میری لڑکی اور لڑکا بھی پڑھتے ہیں،آپ اپنی لڑکی اور لڑکا بھیج دو ،حکومت وظیفہ دے گی۔شورش نے کہا:میں مشرقی طرز کا آدمی ہوں، مغربی تہذیب میں اولاد کو بھیج کر خراب کرنا نہیں چاہتا،تو ذوالفقار علی بھٹو نے کہا : شادمان کالونی ،لاہور میں دو پلاٹ پڑے ہیں، تم کم ریٹ پر حکومت سے خرید لو، اور ایک کو بیچ کر دوسرے پلاٹ پر کوٹھی بنالو۔تو شورش نے جواب دیا : سر چھپانے کے لئے جگہ موجود ہے میں کوٹھی بنانا نہیں چاہتا۔

شورش واپس آیا تو اس نے اپنے بیٹی کو یہ بات سنائی،تو اس کی بیٹی نے کہا : ’’ابو! بھٹو صاحب پلاٹ دے رہے تھے،سرکاری زمین ہے ،ہم پیسے داخل کرادیتے،بات صرف اتنی ہے کہ

49

وہ کوئی اور لے جائے گا ، ہمیں رعایت ہوجاتی،آپ نے ہمارے مستقبل کے ساتھ زیادتی کی ہے‘؟تو جواب میں شورش نے کہا:’ دنیا سب کچھ یہاں رہ جائے گی،میں بھٹو سے ایک ایسا تحفہ لیکر آیا ہوںجو قبر میں بھی مجھے ساتھ دے گا‘،ہم میں سے کسی کو بھی اس بات کا علم نہیں ہے کہ بھٹو اور شورش کی آپس میں کیا بات ہوئی ہے۔

کچھ دنوں بعد شورش بیمار ہوا ،اور انتقال کرگیا،جنازے میں مولانامفتی محمودؒ،مولانا غلام غوث ہزارویؒ،مصطفی کھر،کوثرنیازی،معراج خالد ،حفیظ پیر زادہ وغیرہ شریک ہوئے، ہزاروں کا اجتماع تھا ۔ ہماری سمجھ میں یہ بات نہ آئی کہ بھٹو اور شورش کے کافی دوستانہ تعلق تھے ،پھر بھی بھٹو جنازے میں شریک نہیں ہوا،اس کے دوسرے دن بھٹو چین کے دورے پر گیا،پانچ روزہ دورے کے بعدجب واپس آیا تو ایک رات پنڈ ی رہا،دوسرے دن لاہور آیا اور شورش کی قبر پر حاضر ہوا،فاتحہ پڑھی،اور شورش کے گھر تعزیت کے لئے گیا ۔

جہاں اس نے یہ واقعہ سنایا جو میں طویل تمہید کے بعدعرض کرنا چاہتا ہوں، بھٹو نے یہ کہا:’’ جنرل عبد العلی اور جنرل ظفر چودھری قادیانی ہیں‘‘، شورش نے میرے پاس آکر کہا:’’آپ میرے بچوں کو آکسفورڈ یونیورسٹی نہ بھیجوائیں!،شادمانی کالونی کا پلاٹ مجھے نہ دیں! بس! دو قادیانیوں کو ہٹا دیں!یہی تحفہ میں آپ کے پاس لینے آیا ہوں‘‘،تو بھٹو نے کہا کہ ’’میں ہٹا دوںگا اور میں نے یہ وعدہ کیا تھا، بغیر جنرلوں کے ہٹائے میں اگر اس کے جنازے میں آتا تو وعدہ خلافی ہوتی،میری آنکھ میں شرم تھی، میں شورش کے جنازے میں جائوں اور اس کی بات مان کے نہ جائوں۔دوسرے دن میرا چین کا سفر تھا اگر میں اس کو ہٹا کر جنازے میں آتا تو میری غیر حاضری میں اندیشہ تھا کہ اتنی بڑی تبدیلی کے بعد ملک میں کوئی گڑبڑ نہ ہو جائے تو میں اس لئے جنازہ میں نہیں آیا۔چین چلا گیا،واپس آیا ،آج ہی میں نے دونوں جنرلوں کو ہٹایا ہے،شام پانچ بجے کی خبروں میںآجائے گا،اب میں سرخ رو ہوکر آپ حضرات کے پاس آیا ہوں۔ ا س طرح کرکے ہمارے بزرگوں نے ایک ایک کے پائوں اس مسئلہ کے لئے پکڑے ہیں۔‘‘

’’مرزا بشیر الدین‘‘ بڑے علماء کے بارے میں بہت ہی متکبرانہ زبان

استعمال کیا کرتا تھا

آپ حضرات کی خدمت میں بطورخوشخبری کے کہنا چاہتا ہوں کہ الحمد ﷲ!پاکستانی فوج

50

میں قانونًا قادیانی ایک حد سے آگے نہیں جاسکتے۔جنرل تو بہت دور کی بات ہے ،وہ قادیانی جو بڑے کر و فر سے کہا کرتے تھے : ’’ہم بر سر اقتدار آئیں گے ،آج نہیں تو کل،مرزا بشیر الدین تو کہا کرتا تھا : ’’مولانا احتشام الحقؒ،مفتی محمدشفیع ؒاورعطاء اللہ شاہ بخاریؒ وغیرہ اور فلاں فلاں مولانا بدایونیؒ‘‘ میرے سامنے اس طرح پیش ہوں گے جس طرح ابو جہل فتح مکہ کے دن (حالانکہ ابوجہل تو غزوۂ بدر میں قتل ہوا تھا)حضور(ﷺ) کے پاس پیش کیا گیا تھا،اس طرح کی زبان وہ علماء کرام کے متعلق استعمال کیا کرتا تھا۔‘‘

مرزا طاہر کس قسم کا شخص تھا

تو میرے محترم دوستو ! یہ ا ن کا عروج تھا ۔’’مرزا ناصر احمد‘‘ فوت ہوا تو اس کی موت کے بعد مرزائی جماعت میں اختلاف ہوا،مرزا طاہر کے سترہ بھائی ہیں ،’’مرزا بشیر الدین‘‘ کے سترہ لڑکے تھے،اس نے کئی شادیاں کر رکھی تھیں،’’مرزا ناصر احمد اور مرزا طاہر احمد‘‘ دو بھائی تھے ، ایک ان کا بھائی ’’مبارک احمد‘‘ ہے،اور یہ لندن میں رہتا ہے،ان کا ایک اور بھائی ہے ’’رفیع احمد‘‘رفیع احمد سوتیلا بھائی ہے، اور عمر میں ان سے بڑا ہے ، اور قادیانی جماعت میں نیک مشہور ہے،اور یہ ’’مرزا طاہر احمد‘‘ غنڈہ ٹائپ آدمی ہے،خود اس ’’طاہر احمد‘‘ کی کوئی نرینہ اولاد نہیں،ایک لڑکی ہے۔ناصر احمد کی اپنی اولاد ہے،ناصر احمد کی بیوی فوت ہوگئی تھی،تو اس نے بیوی کے مرنے سے پہلے ایک ۲۲ سالہ نوجوان لڑکی کے ساتھ شادی کی تھی۔

مرزا ناصر کی شادی کا شرمناک واقعہ

’’ اس کی شادی کا بھی بڑا شرم ناک واقعہ ہے،اس لڑکی نے ایم۔بی۔بی۔ایس کیا تھا، اس کے والد نے (جن کا پچھلے دنوں انتقال ہوگیا) اور اس کے بھائی نے کوئی گیارہ بارہ آدمیوں کی فہرست بنائی ،اور لڑکی کو دی اور اس سے کہا : اس کو حضرت کے پاس لے جائو،رقعہ میں یہ لکھا کہ یہ یہ رشتے ّآئے ہیں، مہربانی کرکے آپ دعا بھی کردیں، اور کسی ایک پر نشانی لگادیں تاکہ ان کے ساتھ لڑکی کا رشتہ طے کردیا جائے۔یہ لڑکی جس وقت مرزا ناصر کے پاس خط لے کر گئی، تو ناصر احمد نے غور سے لڑکی کو دیکھا ، فہرست اٹھائی، ساری فہرست کاٹ کر سب سے اوپر اپنا نام لکھ دیا۔ یہ ان کے اخلاق اور طریقہ ہے۔‘‘

51

مولانا اللہ وسایا (حفظہ اللہ تعالیٰ) کا ایک تہلکہ خیز خطاب

آپ حضرات میری مجبوری کا بھی اندازہ لگایئے کہ مجھے کن لوگوں کے ساتھ واسطہ پڑتا ہے۔آپ حضرات تسبیحات پڑھتے ہونگے، الا اللہ کی ضربیں لگا کر دل کو پاک کرتے ہو ں گے، ہم اس بد بخت کا نام لے لے کر دل پر زنگ چڑھاتے ہیں۔اس طرز کا آدمی تھا ،پھر ہنی مون منانے اسلام آباد گیا۔

فخر نہیں کرتا !تحدیث نعمت کے طور پر کہتا ہوں:’’یہ مرزا ناصر احمد جہاں ٹھرا ہواتھا ،اس کی دوسری طرف ہماری مسجد تھی۔درمیان میں صرف ایک سڑک کا فاصلہ تھا، سید امین گیلانی کی نعت تھی۔میری اور مولانا عبد الشکور دین پوریؒ کی تقریر تھی،حضرت مولانا خواجہ خان محمد صاحبؒ کی صدارت تھی،ڈھائی ہزارکی تعدادمیں خدام الاحمدیۃ کے رضاکار’’مرزاناصر‘‘ کا پہرہ دے رہے تھے۔پولیس اورفوج نے اس کا گھیرا لگا رکھا تھا۔کہیں مسلمان جلسہ سے فارغ ہوکر ’’مرزا ناصر احمد‘‘ پر نہ چڑھ جائیں،ہمارے جلسہ کے لائوڈسپیکر کا رخ مرزاناصر کی طرف کردیا۔ اور تقریر میں میں نے کہہ دیا : آج ہماری جماعت عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے سربراہ بھی موجود ہیں، اور مرزا ناصر جو قادیانیوں کا سر براہ ہے وہ بھی موجود ہے اور وہ میری گفتگو براہ راست سن رہا ہے۔ مرزا ناصر احمد مرنے والا ہے میں ان سے کہتا ہوں: تمہارا یہ عقیدہ ہے اوروہ عقیدہ ہے۔ یہ کان کھول کر سن لو تاکہ قیامت کے دن تم یہ نہ کہہ سکو کہ حق بات کسی نے بتائی نہیں۔پندرہ بیس موٹے موٹے حوالے دئے،اس کے بعد کہا : یہ تمہارے عقیدے ہیں۔تمہارے اخلاق یہ ہیں۔یہاں عدالت عظمیٰ کا دفتر موجود ہے ۔ عدالت کے جج موجود ہیں۔دار الحکومت ہے۔میں آپ سے کہتا ہوں : ’’آپ کی سگی ہمشیرہ کے ساتھ آپ کے سگے باپ نے زنا کیا ہے‘‘ ۔اور میں نے کہا : ’’ہمارے پاس شواہد موجود ہیں ۔اگر ہمت ہے تو عدالت عالیہ میں چیلنج کرو‘‘!جس وقت میں نے شہادت پیش کی اسی وقت ہی بھگدڑ مچ گئی،کوئی ادھر کوئی ادھر گاڑی آرہی ہے جارہی ہے۔ سارے شہر میں شور بلند ہوگیا۔خیر! میں نے تقریر کی ،امین گیلانی بڑے سمجھدار آدمی تھے ،میں تقریر سے فارغ ہواتو کہتا ہے : ’’آؤ چلیں گاڑی کھڑی ہے۔ہم اپنے دفتر میں چلے گئے۔‘‘

مرنا بد بخت نے قبول کیا مگر ہمارے حوالے کو چیلنج کرنا قبول نہ کیا

ا بھی مولانا عبد الشکور صاحب دین پوریؒ تقریر کررہے تھے کہ پولیس نے آکر گھیرا

52

ڈالدیا،مولانا عبد الشکور صاحبؒ اور حضرت مولانا خواجہ خان محمد صاحبؒ گرفتار ہوگئے،ہم پریشان تھے، پتہ نہیں کیا ہوا،بعد میں ہمیں پتہ چلا کہ اس تقریر کو سننے کے بعد ’’مرزا ناصر احمد‘‘ کو ہارٹ کی تکلیف ہوگئی، اور آپ حضرات حیران ہوں گے کہ اسی ہارٹ اٹیک میں اس کی موت واقع ہوگئی۔ مرنا اس بد بخت نے قبول کیا مگر ہمارے حوالے کو چیلنج کرنا اس نے قبول نہ کیا۔یہ اس طرح کے اخلاق و کردار کے مالک تھے۔

’’مرزا ناصر‘‘ کی سب اولاد ایک دوسرے سے بڑھ چڑھ کر تھی

’’مرزا ناصر احمد‘‘ کے انتقال کے بعد ’’رفیع احمد‘‘ یہ سمجھتا تھاکہ قادیانی اقتدار مجھے ملے گا اس لئے کہ میںسینئر ہوں۔یہ تھا ان کی جماعت میں صوفی اور ناصر احمد اور ان کی ساری اولاد بد معاش تھی۔لڑکی کے لڑکے بھی بدمعاش تھے۔یہ ہے رائل (Royal)خاندان کا نوجوان خون۔’’رفیع احمد‘‘ کی اپنی اولاد نے باپ کو پکڑ کر کمرے میں بند کرکے تالا لگا دیا۔یہ سارے اور مرزا ناصر احمد کی ساری اولاد نے مل کر مرزا طاہر احمد کو خلیفہ بنادیا۔اس لئے کہ رفیع کی اور ناصر کی اولاد سمجھتی تھی کہ اگر رفیع کو خلیفہ بنایا گیا تو وہ صوفی ہے اس لئے وہ ہم پر پابندی لگادے گا۔’’مرزا طاہر‘‘ بد معاش ہے ان کے ساتھ تعاون کرو۔فائدہ کے پیش نظر انہوں نے اس کو خلیفہ بنادیا۔

جھوٹے نبی کا پوتامبارک احمدنے خلافت کو مال و دولت کے بدل میں قربان کردیا

ایم ایم قادیانی اورطاہر کا ایک بھائی مبارک احمد کا کہنا ہے کہ’ میں سینیئر ہوں میں خلافت کا حقدار تھا‘،ایم ایم احمد کا کہنا کہ’ ہمیشہ مرزا بشیر الدین کی اولاد کو ہی خلافت ملتی ہے اگر طاہر مرزا قادیانی کاپوتا ہے تو میں بھی پوتا ہوں۔مجھے کیوں خلافت نہیں ملتی‘۔مرزا طاہر نے مبارک کو اس طرح مطمئن کیا کہ یہ جتنی آمدنی ہماری فارن مشن کی ہے یہ تم لے لو!کھائو پیو!اور مزے اڑائو!تم ان کے انچارج ہو، میں حساب نہیں لوںگا،وہ مطمئن ہو گیا۔‘‘

ایم ایم قادیانی بجائے صدر بننے کے ہاسپیٹل پہنچ گیا

جن دنوں یحییٰ خان بر سر اقتدار تھے، وہ شہنشاہ ایران کی سال گرہ میں شرکت کرنے والے تھے ، تو انہوں نے ایم ایم قادیانی کو نائب صدر بنایا تھا ،جب بھی کوئی نائب صدر بنایا جاتا ہے ،اخبار میں اعلان ہوتا ہے، تقریبیںمنعقد ہوتی ہیں، مگر اس وقت ایسا نہ ہوا ،یحییٰ خان نے کوئی اعلان اخبار میں شائع نہیں کروایا ، ہم سب مولوی اپنی اپنی جگہ سوئے ہوئے تھے ، جتنے محاذ پر ہم

53

کام کرتے ہیں وہاں ہم سب مرزائیوں کو جانتے ہیں، ہمیں وہم و گمان بھی نہیں تھا کہ ایم ایم قادیانی قائم مقام صدر بن جائے گا ۔آج شام نامزدگی ہوئی ، سویرے یحییٰ خان روانہ ہوا ،اور ایم ایم قادیانی جس وقت تیاری کرکے آئےخدا رحم کرے مولانا اسلم قریشی پر ،جس حالت میں بھی ہے ، وہ ان دنوں الیکٹریشن کا کام کرتے تھے، بجلی کے سامان کی مرمت کا کام کرتے تھے ، اس نے اپنا چاقو چھپایا اور لفٹ کے اندر کھڑا ہوگیا ،جس وقت ایم ایم قادیانی لفٹ میں سوار ہوا تو اس نے اس پر چاقو سے حملہ کردیا ،پاکستان کی کرسیٔ صدرات کی بجائے ہاسپٹل پہنچ گیا ۔اگر وہ بدمعاش صدر بن جاتا تو یحییٰ خان وہاں ایران ہی میں رہ جاتااور فوج کے اندر انقلاب آجاتا اور مرزائیوں کی حکومت بن جاتی ۔ یہ صرف اسلم قریشی تھا جس نے مرزائیوں کے سارے تانے بانے کا بیڑا غرق کیا۔

کبھی کبھی کوئی شر سر اُٹھاتا ہے،اس میں خیر مقدر ہوتی ہے

’’طاہر احمد‘‘ نے بر سر اقتدار آکر یہ کام کیا کہ ایم ایم قادیانی کو خوش کرنے کی خاطر اس کی جتنی جائداد سندھ میں تھی، جماعت کے بلڈوزر لگا کر آباد کرا دیا۔آج تک اس کی زمین آباد نہیں تھی، آباد ہونے کے بعد وہ بھی خوش ہوگیا۔اور دوسرا کام یہ کیا کہ مولانا اسلم قریشی کو اغوا کرا لیا،اغوا کراکے اس نے ایم ایم قادیانی کوخوش کرنے کی کوشش کی۔کہ جناب آپ کے قاتل سے آج تک کسی جماعت نے انتقام نہیں لیاتھا یہ کام میںنے کر دکھایا۔اس نے دوہری چال چلی۔’’رفیع احمد‘‘ کو اس نے لڑکوں کے ہاتھوں پٹوایا ، مبارک احمد کو اس نے خارجی آمدنی کا سربراہ بناکر پٹوایا،ایم ایم احمد کو زمین آباد کرکے اور دشمن کو اغواکرکے اس کو مطمئن کیا ۔ فارسی کا ایک مقولہ ہے :جس کا ترجمہ یہ ہے کہ جب کبھی کوئی شر سر اٹھاتا ہے تو اس میں ہمارے لئے کوئی خیر مقدر ہوتی ہے۔

مولانا اسلم قریشی کے اغوا سے ہمارے بہت سے مطالبے پورے ہوگئے

مولانا اسلم قریشی اغوا ہوئے،اس کے بعد ۱۹۸۴ عیسوی کی تحریک چلی،ہم نے فیصل آ باد ، کراچی ، کوئٹہ ، لاہور ، سیالکوٹ وغیرہ جگہوں پر کانفرنسیں کیں،اور آخری کانفرنس کرنے کا اعلان کیا،را ولپنڈی میں ہم ۲۷؍اپریل کو آرہے ہیں،اگر گورنمنٹ نے ہمارے مطالبے نہیں مانے تو پھر یکم؍مئی کا الٹی میٹم دے دیا ، اگر مطالبات منظور نہیں کئے گئے تو ہم قادیانیوں کی عبادت گاہوں کے

54

ساتھ پورے پاکستان میں وہ حشر کریں گے جو رسول اللہ (ﷺ) نے منافقین کی عبادت گاہ مسجد ضرار کے ساتھ کیاتھا،ہم نے یہ الٹی میٹم دے دیا پورا ملک راولپنڈی کی طرف رواں دواں تھا۔

’’صدر مملکت جنرل ضیاء الحق‘‘ نے ہماری جماعت مجلس عمل کے مولانا مفتی احمد الرحمن صاحبؒ اور مولانا خواجہ خان محمد صاحبؒ اور مولانا محمد شریف جالندھریؒ اور ایک شیعہ رہنما ، ایک بریلوی رہنما اور ایک اہل حدیث عالم کو بلوایا اور مشورہ کرکے صدر مملکت نے آرڈیننس جاری کیا ان میں مرزائیوں کے متعلق لکھ دیا کہ’’ وہ اسلام کی اصطلاحات استعمال نہیں کرسکتے،اذان دینا مسلمانوں کا شعار ہے قادیانی کافر ہو کر مسلمانوں کے شعار اپنا نہیں سکتے ،مسجد مسلمانوں کی عبادت گاہوں کا نام ہے ،قادیانی اپنی عبادت گاہوںکو مسجدنہیں کہہ سکتے،قادیانی،مرزا غلام احمد قادیانی کو رسول اور نبی نہیں کہہ سکتے،مرزا کی بیوی کو امہات المؤمنین نہیں کہہ سکتے،اس کے خاندان کو اہل بیت نہیں کہہ سکتے،اپنی جماعت کے سر براہ کو امیر المؤمنین اور خلیفۃ المسلمین نہیں کہہ سکتے۔اپنے مذہب کا نام اسلام نہیں رکھ سکتے،اسلام کے نام پر تبلیغ نہیں کر سکتے وغیرہ ، یہ موٹے موٹے تیرہ مطالبات تھے،صدر مملکت نے قبول کر لئے۔‘‘

’’عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت‘‘ کے وفد وعلماء کی قربانی سے بڑا فائدہ پہنچا

اس کے نتیجہ میں ’’مرزا طاہر احمد‘‘ پاکستان سے بھاگا ہے اور آپ حضرات کے یہاں لندن آپہنچا ہے ۔ پاکستان سے ہر وقت جو بھی ہوا آ ئے گی ٹھندی ہوا آئے گی،مرزائیوں کے متعلق کوئی خوف و خطر کی بات نہیں،قادیانیوں کا پہلا مشن یہاں ۱۹۱۳ عیسوی میں آیا تھا ،اس کے بعد مولانا لال حسین اخترؒ کی سر براہی میں ۱۹۶۰ عیسوی میں ختم نبوت کا کام عمل میں آیا،اب یہ ہمارا وفد آیا ہے،دو تین سال مولانا لال حسین اخترؒ کی سر براہی میں قادیانیوں کے متعلق کام ہوا،اب الحمد للہ کام میں اضافہ ہوا۔

۱۹۱۳ عیسوی سے جتنی بھی جد و جہد قادیانیوں نے کی تھی ، علماء کرام کے ایک ہی تبلیغی دور ہ نے پورے برطانیہ کے اندر الحمد للہ مسلمانوں کے دلوں میں اتنا شعور پیدا کردیا ہے،کسی قادیانی کے لئے آسانی کے ساتھ پر پرزہ نکالنا ممکن نہیں رہا ہے۔سوائے اس کے کہ وہ کوئی سازش کرے۔اس کی سازش کیا ہوگی وہ آگے چل کر میں آپ حضرات کے سامنے عرض کروںگا ۔ انشاء اللہ!

55

مولانا انور شاہ کشمیری ؒ کی بے چینی وبے قراری

نفحۃ العنبر نامی کتاب میں مولانا محمد یوسف بنوریؒ نے حضرت سید انور شاہ صاحب کشمیری ؒ کا یہ قول نقل کیا ہے کہ’’ حضرت شاہ صاحبؒ فرماتے ہیں: ’’جس وقت مرزائیت نے ترقی کرنا شروع کی ،چھ مہینہ متواتر چین کی نیند نہیں سویا،نیند ضرور آتی تھی مگر ہر وقت کھٹکا ضرور لگا رہتا تھا،بے چینی کی نیند ،کبھی آنکھ لگ گئی سو لگ گئی۔سو گئے اور بیدار ہوگئے،ہر وقت پریشان رہتاتھا کہ یا اللہ! اگر مرزائیت اس طرح بڑھتی رہی تو امت کا کیا ہوگا۔شاہ صاحبؒ فرماتے ہیں:چھ مہینہ بعد قدرت کی طرف سے یہ القاء ہوا: ’’انور شاہ پریشان ہونے کی ضرورت نہیں،ایک وقت آئے گا، پوری دنیا میں تلاش کرنے کے باوجودقادیانیت کا ایک بیج بھی نہیں ملے گا۔‘‘

کہاں ان کا دبدبہ ؟اب کہاں ان کی بے کسی و بے بسی ؟

بردران اسلام! حضرات علماء کرام! خدا گواہ ہے ، قادیانیوں کا جس وقت کر و فر اور ناز و نخرہ دیکھتے تھے،۱۷ جنرل ان کے فوج میں تھے،اور ان کی اجازت کے بغیر ربوہ (موجودہ چناب نگر) میں چڑیا پر نہیں ہلا سکتی تھی،اب ربوہ میں انتخاب ہوئے، تو ایک مرزائی بھی منتخب نہ ہوسکا۔کہاں ان کا یہ دبدبہ اور کہاں ان کی یہ بے کسی اور بے بسی !

انشاء اللہ بہت جلد قادیانیوں کا زوال و اختتام ہوگا

کالج میں پہلے قادیانی تھے،۶۰ اساتذہ میں سے ہمارے ۴۰ اساتذہ ہیں ،مسلمان اور قادیانی طلباء برابر ہیں ، کالج کی یونین کا انتخاب ہوا ، قادیانیوں نے اپنا پینل کھڑا کیا، ہم نے اپنا ،اس نیلی چھتری والے کا کس طرح شکریہ ادا کریں ! مرزائیوں میں اختلاف ہو گیا ،ان کا ایک آدمی بھی کامیاب نہ ہوا،ہمارا پورا پینل کامیاب ہوگیا،یہ ربوہ (موجودہ چناب نگر) کے حالات و واقعات ہیں ،ہماری مسجدیں اور ہمارے مدرسے اتنے ہوگئے ہیں کہ قادیانیوں کے خاندان کے خاندان مسلمان ہو رہے ہیں۔

ہر فتنے کے چار دور ہوتے ہیں

میرے عزیز بھائیو! یاد رکھو! ہر فتنہ کے چار دور ہوتے ہیں (۱) ابتدا (۲)عروج (۳)زوال (۴) انتہا ۔

56

جو بھی بے دین فرقے آئے اپنی طبعی عمر گزار کر دنیا سے رخصت ہوئے،دلائل کی دنیا میں ممکن ہے میں آپ حضرات کو مطمئن نہ کرسکوں،لیکن میرا ایمان اور وجدان یہ کہتا ہے کہ’’ قادیانیت پر بھی ضرور ایسا وقت آئے گا، تلاش کرنے پر بھی اس کابیج بھی نہ ملے گا۔‘‘ان کی ابتداء آپ نے دیکھی ،ان کا عروج بھی،ان کا زوال بھی آپ حضرات کے سامنے ہے،اختتام کے لئے آپ حضرات کو اور مجھے کوشش کرنی چاہئے۔تاکہ یہ فتنہ عبرتناک انجام کو پہنچے، اللہ تعالی اس فتنہ سے امت کو مأمون اور محفوظ فرمائے۔

قادیانیت کے فتنہ سے امت کو محفوظ رکھنا ہم سب کا مشترکہ کام ہے

سب سے زیادہ فکر علماء کرام کو ہونی چاہئے کہ امت کو اس فتنہ سے باخبر رکھیں،آپ سب میرے مخدوم اور میرے مہربان ہیںاور قابل احترام!میں تو صرف آپ حضرات کا رضاکار ہوں۔آپ حضرات سے رسول اللہ (ﷺ) کی عزت و ناموس کے نام پر مؤدبانہ درخواست اور التماس ہے کہ اس فتنہ کے متعلق جتنی بھی معلومات حاصل کر سکتے ہیں حاصل کریں ،اس کے لئے تیاری کریں،آج مولانا (ایوب صاحب کھولوڈیا) نے بڑی اچھی بات بتائی کہ مرزائی باٹلی کو اس لئے مرکز بنانا چاہتے ہیں کہ باٹلی اور ڈیوزبری میں تبلیغی مرکز ہے ،پورے یورپ اور دنیا میں اسلام کے داعی اور مبلغ یہاں سے جاتے ہیں ، قادیانیوں نے اس لئے یہاں مرکز بنانے کی کوشش کی، یہاں سے ان کے لوگ جائیںگے ،باہر کے مسلمان پوچھیں گے کہاں سے آئے ہو ؟کہیںگے: ڈیوز بری سے۔لوگ کہیں گے تبلیغ والے ہیں اور دین کے نام پر اپنی بے دینی پھیلائیں گے،اس لئے انہوں نے مرکز بنانے کا ارادہ کیا کہ اس نام سے فائدہ اٹھا سکیں۔بھائی یہ فتنہ اگر آپ کے گلے پڑ گیا ہے تو اس کو بھگانا اور گلے سے اتارنا ہم سب کا مشترکہ کا م ہے۔

ختم نبوت کا کام بہت مقدس کام ہے

آخری بات عرض کرتا ہوں:حضرت مولانا محمد عبد اللہ درخواستیؒ جو ہمارے پاکستان کے بہت بڑے عالم دین گزرے ہیں، وہ مدینہ طیبہ ہجرت کے ارادے سے گئے تھے،رات کو حضور(ﷺ)کی زیارت ہوئی ،حضور (ﷺ)نے ارشاد فرمایا:’’میرے ملک میں دین کا کام کرنے والے کافی لوگ موجود ہیں،تم پاکستان واپس چلے جائو،اور میرے بیٹے سید عطاء اللہ شاہ بخاریؒ کو سلام کہنا اور کہنا کہ تم ختم نبوت کے لئے جو کام کررہے ہو ،میں گنبد خضراء میں تمہاری

57

کامیابی کے لئے جھولی پھیلائے دعاء مانگ رہا ہوں۔‘‘یہ ختم نبوت کا کام اتنا مقدس کام ہے بھائی مقدس !

بقول مولانا رائپوریؒ ختم نبوت کی تبلیغ سب وظیفے و تسبیحات سے بڑھ کر ہیں

مولانا لال حسین اختر ؒفرمایا کرتے تھے : حضرت مولانا شاہ عبدالقادر رائے پوری ؒ صاحب کی خدمت میں احقرحاضر ہوکربیعت سے مشرف ہوا ،پھرمیں نے حضرت سے عرض کیا کہ’ کوئی وظیفہ عطا فرمائیں‘؟ فرمایا:’’ مولوی صاحب !تمہارا سب سے بڑا وظیفہ یہ ہے کہ تم ختم نبوت کی تبلیغ کیا کرو۔سب وظیفے الا اللہ کی ضربیں،تسبیحات سے بڑھ کر تمہارا یہ ختم نبوت کا کام ہے ،تم ختم نبوت کی تبلیغ کیا کرو‘‘!۔یہ حضرت رائے پوری ؒکا ارشاد ہے۔

بقول حضرت رائپوریؒ چوتھی پشت پر جاکر مرزائیت کا خاتمہ ہوجائے گا

حضرت رائے پوریؒ کا مقولہ ان کے ایک مرید نقل کرتے ہیں :’’ چوتھی پشت پر جاکر مرزائیت ختم ہوجائے گی‘‘،اس وقت بات سمجھ میں نہیں آتی تھی کیونکہ اسوقت مرزائیوں کا دور شباب پرتھا، میرے شیخ مولانا عبد العزیز ؒ صاحب نے حضرت رائے پوریؒ کا یہ مقولہ نقل کیا تو میں نے حضرت سے عرض کیا :’’حضرت کا ارشاد سر آنکھوں پر،لیکن موجودہ حالات و واقعات بظاہر اس کے بالکل بر خلاف ہیں ، مستقبل قریب میںاس امید کے پورا ہونے کی کوئی صورت نظر نہیں آتی۔‘‘لیکن اب یہ مرزائی جماعت کا چوتھا سربراہ مرزا طاہر احمد ہے،اور اب ان کا زوال جس تیزی سے جاری ہے اس سے حضرت رائے پوریؒ کی پیشین گوئی کے حقیقت بننے ا ور واقعہ کی شکل اختیار کرنے کی پوری توقع ہے۔‘‘اللہ آپ کو اور مجھ کو اس آخری جنگ(معرکہ) میں شریک ہو کر قائدانہ کردار ادا کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔آمین

وآخر دعوانا ان الحمد للہ رب العالمین

58

دوسرا درس

(تعارف مرزائی عقائد و نظریات)

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ

الحمدللہ وکفٰی وسلام علیٰ سید الرسل وخاتم الانبیاء وعلیٰ اٰلہ واصحابہ اللذین ہم خلاصۃ العرب العرباء وخیرالخلائق بعد الانبیاء۰ اما بعد۰ فاعوذ باللہ من الشیطٰن الرجیم بسم اللہ الرحمٰن الرحیم۰ومن اظلم ممّن افتری علی اللہ کذبا اوقال اوحی الیّ ولم یوح الیہ شیٔ وقال النبیﷺ: انہ سیکون فی امتی کذابون ثلٰثون کلہم یزعم انہ نبی وانا خاتم النّبیین لا نبی بعدی۔ اللّٰہم صلّ علی سیدنا محمد عبدک ورسولک وصل کذٰلک علیٰ جمیع الانبیاء والمرسلین وعلیٰ الملائکۃ المقربین وعلیٰ عباداللہ الصالحین اجمعین الیٰ یوم الدین۔

میرے محترم بھائیو اور دوستو! کل عرض کیا تھا کہ اگلے دن انشاء اللہ مرزائی عقائد ونظریات پر مدلل اور باحوالہ گفتگو ہو گی۔ لہٰذا آج گفتگو کا آغاز یہاں سے کیا جاتا ہے۔ آپ توجہ فرمائیں۔

قادیانیوں کی طرف سے کلمہ ٔ طیبہ کی توہین

قادیانیوں کے متعلق حضرت مولانا محمد یوسف لدھیانویؒ نے ایک چھوٹا سا رسالہ تحریر کیا تھا جس میں قادیانیوں کے عقائد کے متعلق،ان کا کلمہ ٔ طیبہ کے ساتھ کیا تعلق ہے ؟اور یہ حضرات حضور (ﷺ)کے متعلق کیا عقیدہ اور نظریات رکھتے ہیں ؟یہ سب باتیں تفصیل سے اس میں لکھ دی گئی ہیں۔

اس کتاب کا نام’’ قادیانیوں کی طرف سے کلمۂ طیبہ کی توہین‘‘ہے۔ کل آپ حضرات میں سے کسی ایک بزرگ نے ارشاد فرمایا تھا:’’حال ہی میں قادیانیوں نے ایک کتاب بنام ’’ آیت خاتم النّبیین کی تشریح‘ ‘شائع کی ہے، جس میں انہوں نے ’’فتوحات مکیہ‘‘اور ’’تحذیر الناس‘‘ اور ’’ملا علی قاری‘‘ کے حوالہ جات دے کر اور ان میں قطع وبرید کرکے یہ ثابت کرنے کی کوشش کی ہے کہ نعوذ باللہ!یہ حضرات اجراء نبوت کے قائل تھے۔‘‘

تو یہ ان کا کوئی نیا حربہ نہیں!آج سے تقریباً تیس پینتیس سال پہلے یہی کتاب پاکستان میں چاروں طرف تقسیم کی گئی تھی،تو اس وقت اس کا جواب مولانا لال حسین اخترصاحب ﷺنے لکھا تھا۔اس میں انہوں نے پہلے (ابن ماجہ ص۱۰۸) کی حدیث ’لو

60

عاش ابراہیم لکان صدیقاً نبیّا ً اورموضوعات کبیر وغیرہ کے جس قدر انہوں نے حوالے لکھے ہیں ،ان سب کا جواب بہت بڑے وثوق کے ساتھ دیا ہے۔

ختم نبوت اور بزرگان امت

میرے محترم بزرگو اور دوستو! ’’فتوحات مکیہ‘‘میں حضرت عائشہ صدّیقہؓ کا یہ ا رشاد فرمانا:’’قولوا:انہ خاتم الانبیاء ولا تقولوا : لا نبی بعدہ (مجمع البحار ص۸۵، درمنثور ج۵ ص۲۰۴) ‘‘ان سب کا جواب مولانا صاحبؒ نے مرتب فرمایا ہے۔اور حضرت مولانا عبد الحئی لکھنویؒ نے حضرت ابن عباس ؓ کا قول جو نقل کیا ہے ان سے قادیانی غلط استدلال کرتے ہیں اور ملا علی قاری ؒکے ارشاد سے قادیانی جو غلط استدلال کرتے ہیں ان کے جوابات بھی حضرت نے دئے ہیں۔

غرض یہ کہ اس رسالہ میں جتنے بھی قادیانیوں کے اعتراضات تھے سب کے جوابات حضرت نے دئے ہیں۔یہ رسالہ اور اس کا جواب بھی پہلے پاکستان میں چھپا تھا۔اتفاق سے اس کی ایک کاپی مل گئی ہے، یہ آپ حضرات کے رابطہ کے دفتر میں رہ جائے گی،اگر آپ حضرات رابطہ کا پتہ عنایت فرمادیں تو سب سے پہلے پاکستان پہونچ کر بیس پچیس کاپیاں بھیج دوںگا۔(اس کتاب کانام جو مولانا لال حسین اختر صاحبؒ نے لکھی ہے’’ختم نبوت اور بزرگان امت ‘‘ہے )

مرزائیوں کے عقائد

نمبر دو :آج آپ حضرات کی خدمت میں مرزائیوں کے عقائد،خدا تعالیٰ وانبیاء علیہم الصلوٰۃ و السلام اور صحابہؓ کے متعلق ان کے کیا افکارونظریات اور عقائد ہیں ؟قرآن و حدیث اور اجماع امت اور بزرگان دین کے متعلق ان کے خیالات اور عقائد کیا ہیں؟ انتہائی اختصاراوران کی کتابوں کے حوالہ جات کے ساتھ آج کی مجلس میں کوشش کروںگا کہ وہ ختم ہو جائیں۔

ان کی اصل کتابیں میرے پاس یہاں موجود ہیں۔ ویسے تو الحمد للہ! ان قادیانیوں کے متعلق ایک ایک سطر، ایک ایک لفظ جو چھپا ہے وہ امت کے پاس محفوظ ہے۔کوشش یہ کی جائے گی کہ حوالے وہ پیش ہوں جن کی اصل اس وقت ہمارے پاس موجود ہے۔اگر آپ حضرات کے پاس نہ ہو تو کوئی بات نہیں ، رابطہ کے اخراجات پر ان تمام اصل کتابوں کی فوٹو کاپی

61

کرالی جائے جن کے حوالے میں اس وقت آپ کو لکھواؤںگاتاکہ رابطہ کے دفتر کے اندر محفوظ ہوجائے۔جب کبھی ضرورت پڑے گی ان سے استفادہ کیا جائے،یہ بہت ضروری ہے۔

مرزائی کہتے ہیں کہ ہمیں مرزائی نہ کہا جائے

نمبر تین:مرزائیوں کا یہ کہنا کہ ہمارا نام ’’ احمدی ‘‘ ہے، ہمیں مرزائی نہ کہا جائے، قرآن مجید میں ارشاد ہے ’ولا تنابزوا بالالقاب ‘ تو ہمیں’ مرزائی ‘کہنا، یہ ’’تنابز بالالقاب ‘‘ہے ۔

سب سے پہلے یہ بات یاد رکھنی ہے کہ مرزائیوں کے دو گروپ (ایک قادیانی اور دوسرا لاہوری)ہیں تو جب مرزائیوں‘ کے لفظ سے دونوں مراد ہوتے ہیں تواس وقت مرزائی‘ کا لفظ بولتے ہیں۔

جواب(الف ) یہ ہے کہ مرزائی ، مرزا غلام احمد کے ماننے والوں کے لئے عزت کا نام ہے کیونکہ مرزا کی زندگی میں ۱۹۰۷ عیسوی کے سالانہ جلسہ میں (قادیان میں ) ان کے مبلغ نے ایک قصیدہ پڑھا ،جس میں مرزا کے مبلغوں کی مبالغہ آ میز تعریف کی گئی۔محمد علی ایم۔ اے۔(جو بعد میں لاہوری جماعت کا امیر بنا ) کی شان میں ایک قصیدہ پڑھا گیا جو اخبار بدرؔ،قادیان ،۱۷ جنوری ۱۹۰۷ عیسوی میں چھپا تھا :

  1. کیا ہے راز طشت از بام جس نے عیسائیت کا

    یہی ہیں پکے مرزائی ،یہی ہیں پکے مرزائی

مرزا نے یا کسی اور مرزائی نے اس سالانہ جلسہ میں اس پر ناپسندیدگی کا اظہارنہیں کیا،اس سے ثابت ہوا کہ مرزا خود اور ااس کے مریدین اس نام کو پسند کرتے تھے۔مرزائی کا لفظ مرزا کے سامنے ان کی زندگی میں ان کی جماعت کے سالانہ جلسہ میں یہ لفظ پڑھا گیا،اور شاعر نے بھی بڑے اصرار کے ساتھ یہ کہا:’’ یہی ہیں پکے مرزائی، یہی ہیں پکے مرزائی۔‘‘مزید بر آں ،اس کی جماعت کے ترجمان میں یہ نظم شائع ہوئی ، خود انہوں نے اپنے لئے یہ نام تجویز کیا ہے اور پھر اگر ہم ان کو اس نام سے پکاریں توبرا مان کرمرزائیوں کا اس کو تنابز بالالقاب کہنا غلط ہے ؎

آئینہ ان کو دکھایا تو برا مان گئے

62

مرزائیوں کو ’’احمدی‘‘ کہنا رسول اللہ ﷺ کی توہین ہے

(ب ) احمدی،ہم ان کو اس لئے نہیں کہتے کہ یہ اسم گرامی یعنی احمد ہمارے حضور (ﷺ) کا ہے،اور حضور(ﷺ) کی نسبت سے احمدی ہم ہیں نہ کہ مرزائی۔تو مرزائیوں کو ’’احمدی‘‘ کہنا یہ حضور (ﷺ) کی توہین ہے۔اس لئے ہم ان کو نہ تو ’’احمدی‘‘کہنے کا حق دیتے ہیں اور نہ ہم ان کو ’’احمدی‘‘کہنے لئے تیار ہیں ۔مرزائی اپنے آپ کو ’’احمدی‘‘ اس لئے کہتے ہیں کہ ’’سورۂ صف‘‘ کی قرآنی آیت ’’ مبشراً برسولٍ یأتی من بعدی اسمہ احمد (صف:۶)‘‘ اس میں احمد سے مراد مرزا غلام احمد قادیانی ہے اور اپنے آپ کو مرزاغلام احمد کی طرف منسوب کر کے ’’احمدی‘‘ کہلاتے ہیں۔گستاخی کا اندازہ لگائیے۔کتنی بڑی گستاخی ہے۔ اس طرح کہ پہلے احمد سے مراد مرزاغلام احمد قادیانی کو لیا۔ پھر غلام احمد سے غلام کا لفظ ہٹایا اور اپنے آپ کو احمدی کہانعوذ باللہ من ذٰالک۔استغفر اللہ۔

اس بات پر ان قادیانیوں سے ہمارے ایک عالم دین کا مناظرہ ہوا ، وہ کہتے تھے کہ اس آیت میں احمد سے مراد غلام احمد قادیانی ہے تو ہمارے مناظر نے کہا : عیسیٰ علیہ السلام نے فرمایا کہ ’’ مبشراً برسولٍ یأتی من بعدی اسمہ احمد ‘‘یعنی جو میرے بعد آئے گا اس کا نام احمد ہوگا۔اس سے تو رسول اللہ(ﷺ) کی نبوت ثابت ہوتی ہے۔ تو مرزائی مناظر کہنے لگا : اجی حضور! ہمیں کچھ نہیں معلوم !بس اتنا معلوم ہے کہ اس سے مراد مرزا غلام احمدقادیانی ہے۔اس لئے وہ اپنے آپ کو احمدی کہتے ہیں۔(نعوذ باللہ )تو میرے بھائیو! یاد رکھو! ان کو احمدی کہنا ہمارے نزدیک رسول اللہ (ﷺ) کی توہین ہے اور یہ مسلمانوں اور اسلام کے ساتھ بد ترین زیادتی اور مذاق ہے۔مرزائی کا لفظ خود انہوں نے اپنے لئے تجویز کیا ہے لہٰذا ان کو مرزائی ہی کہنا چاہئے۔ یا پھر غلامی، اور غلام احمدی کہنا چاہئے، احمدی کہنا جائز نہیں۔

(۴ ) مسلمانوں سے اختلاف

ا لف… مرزائی جماعت کے دوسرے سر براہ ’’مرزا بشیر الدین محمود‘‘ نے اپنے خطبہ میں کہا : ’’حضرت مسیح (مرزاقادیانی) کے منھ سے نکلے ہوئے الفاط مسیح موعود سے مراد مرزا قادیانی ہے میرے کانوں میں گونج رہے ہیں۔‘‘آپ نے فرمایا :’’ یہ غلط ہے کہ دوسرے بزرگوں سے ہمارا

63

اختلاف وفات مسیح اور دوسرے چند مسائل میںہے۔‘‘ آپ (مرزاقادیانی) نے فرمایا:’’اللہ کی ذات ،رسول اکرم ﷺ کی ذات ، قرآن ، نماز، روزہ،حج ، زکوٰۃ ،غرض یہ ہے کہ آپ نے تفصیل سے بتا یا کہ ایک ایک چیز میں ہمیں ان سے اختلا ف ہے۔‘‘

(از خطبہ مرزا محمود،مندرجہ اخبار ’الفضل ‘قادیان،۳۰ جولائی ۱۹۴۰ عیسوی)

ب… خلیفہ ٔ اوّل حکیم نور الدین نے اعلان کیا تھا کہ: ’’ان (مسلمانوں ) کا اسلام اور ہے اور ہمارا اسلام اور ہے۔‘‘

(اخبار الفضل قادیان۳ دسمبر۱۹۱۴)

مسلمانوں سے ان کا ہربات میں اختلاف ہے

ملاحظہ ہو: جس طرح پہلے حوالے میں مسلمانوں کے اختلاف کے ضمن میں نوٹ کرایا ہے کہ اس میں مرزا غلام احمد قادیانی کے حوالہ سے اس کا بیٹا کہتا ہے: ’’مسلمانوں سے اختلاف بنیادی اختلاف ہے ۔ ہربات میں اختلاف ہے۔خدا تعالیٰ کی ذات میں مسلمانوں سے اختلاف ہے ،نبی کریم (ﷺ) کی ذات میں مسلمانوں سے اختلاف ہے۔مسلمانوں سے ہمیں قرآن، نماز، روزہ اور زکوٰۃ غرضیکہ ہربات میں اختلاف ہے۔‘‘یہ خود مرزا غلام احمد قادیانی کہتا ہے اور واقعہ بھی یہی ہے۔اور آج کی ہماری بحث بھی یہی ہے۔مسلمانوں کا جو تصور خدا کے متعلق ہے وہ مرزا غلام احمد قادیانی کا نہیں ہے۔اور جو امت کا تصور انبیاء علیہم الصلوٰۃ والسلام کے متعلق ہے وہ ان قادیانیوں کا نہیں ہے۔اسی طرح مابقیہ باتیںجو سابق میں پیش کی گئی ہیں ۔

(۵ ) مرزائیوں کے یہاں خدا کا تصور

(ا لف )’’ وہ خدا جو ہمارا خدا ہے ایک کھا جانے والی آگ ہے۔‘‘

(از: سراج منیر ،مصنفہ مرزاغلام احمد قادیانی ص۶۲، خزائن ج۱۲ ص۶۴)

(ب ) ’’وہ خدا جس کے قبضہ میں ذرہ ذرہ ہے، اس سے انسان کہاں کہاں بھاگ سکتا ہے ،وہ فرماتا ہے: ’’ میں چوروں کی طرح پوشیدہ آؤںگا۔‘‘

(از : تجلیات الٰٰٰہیہ،مصنفہ مرزا غلام احمد قادیانی ص ۱، خزائن ج۲۰ ص۳۹۶)

(ج) میں عورت ہوں اور اللہ تعالیٰ نے میرے ساتھ مردانہ طاقت کا استعمال کیا

مرزا قادیانی کے مرید جسے وہ صحابی کہتے ہیں، قاضی محمدیار نے اپنی کتاب’’ اسلامی

64

قربانی‘‘ ص ۱۴ پر مرزا غلام احمد کا ایک کشف نقل کیا ہے جس کی عبارت یہ ہے:’’حضرت مسیح موعود نے اپنے کشف کی یہ حالت ظاہر فرمائی کہ گویا میںعورت ہوں اور اللہ تعالیٰ نے میرے ساتھ مردانہ طاقت کا استعمال کیا۔ (سمجھنے والے کے لئے اشارہ کافی ہے)‘‘یہ اس کی عبارت ان کی کتاب میں ہے میں نے اپنی طرف سے نہیں کہا ہے۔

مرزائی خود اپنی کتاب سے ہی خائف

یہ کتاب جب چھپی ،مرزائیوں نے چند مخصوص لوگوں کو یہ کتاب پڑھنے کے لئے دی کہ اسے پڑھیں۔ پڑھتے ہی وہ چیخ اٹھے،ساری کتاب انہوں نے جلاڈالی۔اللہ تعالیٰ کی شان ملاحظہ ہو،حضرت مولانا لال حسین اختر صاحب اس وقت مرزائی جماعت میں تھے، اور مرزائی جماعت کے ایک رسالہ کے ایڈیٹر تھے ، کتاب چھپتے ہی تبصرہ کے لئے ایک نسخہ مولانا کو بھیج دیا۔وہ جب قادیانیت سے تائب ہوکر مسلمان ہوگئے تو وہ کتاب ہم مسلمانوں کے پاس آگئی۔مولانا جب لندن آئے تو کتاب بھی ساتھ لے کر آئے اور جب حج پر گئے تو وہ کتاب ’’اشرف گوندل‘‘ کے پاس چھوڑ گئے۔کیونکہ سعودی عرب کتابیں جانہیںسکتیں۔وہاں سے مولانا پاکستان آگئے، اورساری کتابیں یہاں ضائع ہو گئیں۔جس کا بڑا صدمہ ہے۔

قومی اسمبلی میں بحث کے دوران اس کتاب کی ضرورت پڑی، اور وہ بھی اصلی نسخہ کی،تو حضرت مولانا محمد یوسف بنوری ؒ نے اپنے ملنے والوں کو فون کرایا تو اس صاحب نے دوسرے دن By Air Mail بھیج دیا ۔ اتفاق سے وہ کتاب ہمیں مل گئی۔باقی یہ کتاب الحمد للہ آج تک ہمارے پاس موجود ہے۔ورنہ کسی مسلمان کے پاس یہ کتاب نہیں تھی۔اب تو تمام مناظرین کے پاس موجود ہے ۔

میں خدا ہوں ،نعوذ باللہ

اسی طرح آگے چل کر مرزا غلام احمد کے دعاوی میں یہ بات آئے گی کہ خود کہتا ہے :’’ ایک رات میں نے خواب دیکھا کہ میں خدا ہوں اور یقین کیا کہ میں وہی ہوں۔‘‘کہتا ہے: ’’زمین بھی میں نے بنائی اور آسمان بھی میں نے بنایا۔آدم کو بھی میں نے پیدا کیا‘‘ ۔(معاذ اللہ ) یہ ہے مرزا قادیانی کے متعلق قادیانیوں کا تصور۔

65

(۶) اس زمانہ میں خدا سنتا تو ہے مگر بولتا نہیں

کیا کوئی عقلمند اس بات کو قبول کر سکتا ہے کہ’’ اس زمانہ میں خدا سنتا تو ہے مگر بولتا نہیں۔پھر یہ سوا ل ہوگا کہ کیوں نہیں بولتا۔کیا زبان پر کوئی مرض لاحق ہوگیا ہے۔‘‘

(از :ضمیمہ براہین احمدیہ حصہ پنجم ص ۱۴۴، خزائن ج۲۱ ص۳۱۲۔از مرزا غلام احمد قادیانی)

کیا کوئی مشرک بھی نبی بن سکتا ہے ؟

درمیان میں ایک بات عرض کرنی ہے کہ مرزا غلام احمد قادیانی کی سب سے پہلی تصنیف یہی ’’ براہین احمد یہ‘‘ہے اور اس براہین احمدیہ میں مرزا غلام احمد قادیانی نے حیات عیسیٰ(علیہ السلام) کا اقرار کیا ہے۔ دیکھئے! (براہین احمدیہ ص۴۹۹، خزائن جلد۱ ص۵۹۳) بعد میں اس نے حیات مسیح کا عقیدہ شرک قرار دیا۔ دیکھئے! (ضمیمہ حقیقت الوحی ص۳۹، خزائن ج۲۲ ص۶۶۰) تو گویا وہ اس شرک میں مبتلا رہا اور بعد میں نبوت کا اعلان کیا ۔یہ بھی سوچنے کا مقام ہے کہ مشرک نبی کس طرح ہوسکتا ہے؟خود حیات مسیح کا قائل پھر اس کو شرک قرار دیا، اور نبوت کا دعویٰ کیا۔تو مرزا غلام احمد جتنے دن حیات مسیح کا قائل رہا تو اتنا عرصہ گویا مشرک رہا۔مشرک سے وہ نبی بن گیا۔یہ بات بھی قابل فہم ہے کہ کیا مشرک نبی بن سکتا ہے ؟

جو حرام مال کھاتا ہے ، وعدہ خلافی کرتا ہے ۔کیا وہ نبی ہوسکتا ہے ؟

دوسری درخواست یہ ہے کہ ’’براہین احمدیہ‘‘ مرزا غلام احمد قادیانی کی سب سے پہلی تصنیف ہے ۔یہ بحیثیت مبلغ اسلام اورخادم اسلام کے دین کی خدمت کے جذبہ سے اشتہار دے کر شائع کی کہ میں ایک کتاب لکھنے والا ہوں لوگ مجھے اس کی طباعت کے لئے رقم بھیجیں ، میں اس کی پچاس جلدوں میں تکمیل کروں گا۔مرزا غلام احمد نے چار جلدیں لکھیں اور اس کے بعد چپ سادھ گئے۔تو جن لوگوں نے پیسے دئے تھے انہوں نے خطوط لکھنے شروع کئے کہ صاحب بہادر تم نے پچاس جلدوں کے پیسے لئے ہیں ،اب تک چار جلدیں ہم تک پہنچی ہیں باقی جلدیں نہیں آئی ہیں ۔

تو خود کہتا ہے: یہ درمیان میں آٹھ دس سال کا عرصہ گذر گیا ۔جس وقت لوگوں نے

66

شدید مطالبہ کیا تو مرزا غلام احمد قادیانی نے براہین احمدیہ کا پانچواں حصہ لکھا ۔اس کے دیباچہ میں اس نے لکھا: میرا ارادہ پچاس کتا بیں لکھنے کا تھا مگر چونکہ پچاس اور پانچ میں صرف نقطہ کا فرق ہے ۔لہٰذا پانچ کتابیں لکھنے سے پچاس کا وعدہ پورا ہو گیا۔ دیکھئے!

(براہین احمدیہ حصہ پنجم، دیباچہ ص۷،۸، خزائن جلد۲۱ ص۹)

تو اس نے پچاس کتابوں کے پیسے لئے تھے اور پانچ جلدیں دیں۔لوگوں کا مال حرام کھایا۔پینتالیس کتابوں کے پیسے کھا گیا۔اور ظاہر ہے کہ جو حرام مال کھاتاہے وہ نبی نہیں ہو سکتا۔اور جو نبی ہوتا ہے وہ حرام خوری نہیں کرتا ۔اس نے جھوٹ بولا کہ پانچ اور پچاس میں صرف نقطہ کا فرق ہوتا ہے۔حالانکہ ۴۵ (پینتالیس ) کا فرق ہوتا ہے ۔اس نے جھوٹ بولا ،وعدہ خلافی کی،حالانکہ وعدہ خلافی کرنے والا اور جھوٹ بولنے والا نبی نہیں ہو سکتا۔

مرزائیوں کے ایک سوال کا جواب

اب مرزائی اس کا جواب یہ دیتے ہیں کہ حضور (ﷺ)اللہ کے یہاں معراج پر تشریف لے گئے تھے ، معراج کی رات میں اللہ تعالی نے فرمایا: ’’امت کے لئے پچاس نمازیں ہیں تو حضور(ﷺ)نے بار بار درخواست کی، میری امت پچاس نمازیں نہیں پڑھ سکے گی۔تو اللہ تعالی نے فرمایا: پچاس کے بجائے پانچ پڑھ لیا کریں۔یہ تو سنت اللہ ہے۔‘‘

تو اس کا جواب یہ ہے کہ ایک تو خالق کے کسی کام کو مخلوق کے کسی کام پر قیاس کرنا یا مخلوق کے کسی کام کو خالق کے کسی کام پر قیاس کرنا ‘یہ تو قیاس مع الفارق ہے۔

خداوند تعالیٰ کو وصول کرنا ہے اور امت کو ادا کرنا ہے

دوسری بات یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنی مخلوق سے پچاس نمازیں ادا کرانی تھیں، جب فرض کردی گئیں تو امت کے ذمہ فرض ہوگئیں۔خدا کووصول کرنی ہے اور امت کو ا دا کرنی ہے۔تو لینے والوں کو توحق ہے کہ میں پچاس نہیں لیتا پانچ لیتا ہوں،جس کے ذمہ ادائیگی ہے اس کو تو حق حاصل نہیں،آپ پر اور ہم پر پانچ نمازیں فرض ہیں، اب ہمیں تو حق نہیں کہ یہ کہہ دیں کہ’’ چلو اللہ کو پانچ دینی ہے پانچ کی بجائے ایک ہی دیدیں۔ہمیں تو حق نہیں۔لینے والوں کو تو حق حاصل ہے کہ وہ معاف کردیں‘‘ ۔

مرزا غلام احمد قادیانی کو پچاس کتابیں دینی تھیں ۔لوگوں کو لینی تھیں۔تو لینے والوں کو تو

67

حق حاصل ہے کہ وہ کہہ دیں کہ مرزا صاحب غریب ہو گئے ہیں اب ہم اس سے کتاب وصول نہیں کرتے۔دینے والے مرزا غلام احمد کو حق حاصل نہیں کہ وہ یہ کہہ دیں کہ میں پچاس کی بجائے پانچ دے دوں۔

اللہ تعالیٰ فرماتا ہے : پانچ دو پچاس لو ! مرزا کہتا ہے : پچاس دو اور پانچ لو !

پھر لطف یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے رسول اللہ (ﷺ) کو فرمایا : آپ کی امّت پانچ پڑھے گی تو ثواب پچاس کا دوںگا۔اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ پانچ دو پچاس لو اور مرزا غلام احمد قادیانی کہتا ہے : پچاس دو اور پانچ لو۔یہ تو الٹی گنگا ہے۔مرزائی اس کی الٹی تاویل کرتے ہیں ۔

کیا اللہ تعالیٰ کی زبان پرمرض لاحق ہوگیا ہے ؟

’’براہین احمدیہ‘‘ میں مرزا غلام احمد قادیانی لکھتا ہے:’’ اللہ تعالیٰ کیوں نہیں بولتے،کیا اس کی زبان پر کوئی مرض لاحق ہوگیا ہے؟‘‘ (ضمیمہ براہین احمدیہ حصہ پنجم ص۱۴۴، خزائن جلد۲۱ ص۳۱۲) کہنا یہ چاہتا ہے :حضور(ﷺ) کے بعد وحی کا دروازہ کیوں بند ہوگیا ؟ یعنی مجھے نبی بنانا ہے !یوں کہتے ہیں کہ وحی کا دروازہ بند ہے اور میں نبی نہیں ہوں تو بتاؤ کہ نعوذ باللہ! اللہ تعالیٰ کی زبان پر مرض لاحق ہوگیا ہے؟

(۵ ) مرزائیوں کے یہاں تصور نبوت

الف… ’’یہودیوں،عیسائیوں اور مسلمانوں پر بباعث کسی پوشیدہ گناہ کے یہ ابتلا آیا کہ وہ جن را ہوں سے اپنے موعود نبی کا انتظار کرتے رہے ان راہوں سے وہ نبی نہیں آئے بلکہ چور کی طرح اور راہوں سے وہ آگئے۔‘‘ (نزول المسیح از:مرزا غلام احمد قادیانی ص ۳۵ کا حاشیہ، خزائن جلد۱۸ ص۴۱۳)

ب… ’’میں اس بات کا خود قائل ہوں کہ دنیا میں ایسا کوئی نبی نہیں آیا جس نے کبھی اجتھاد میں غلطی نہیں کی۔‘‘ (تتمۃ حقیقۃ الوحی از:مرزا غلام احمد قادیانی ص ۱۳۵، خزائن جلد۲۲ ص۵۷۳)

ج… ’’مگر تم خود توجہ کرکے سن لو! اب اسم محمد (ﷺ) کی تجلی ظاہر کرنے کا وقت نہیں یعنی اب جلالی رنگ کی کوئی خدمت باقی نہیں ،کیونکہ مناسب حد تک وہ جلال ظاہر ہو چکا۔سورج کی کرنوں کی اب برداشت نہیں،اب چاند کی ٹھنڈی روشنی کی ضرورت ہے۔اور وہ احمد کے رنگ میں ہوکر میں ہوں‘‘(خلاصہ عبارت اربعین نمبر ۴ ص ۱۷، خزائن جلد۱۷ ص۴۴۸، از : مرزا غلام احمد قادیانی )

68

جھوٹے نبی کے دعو یٰ میںتضاد دیکھئے

حضور والا :پہلے میں نے آپ حضرات کی خدمت میں حوالہ عرض کیاکہ مرزائیوں کے نزدیک آیت ’’ مبشراً برسولٍ یاٗتی من بعدی اسمہ احمد ‘‘ کا مصداق غلام احمد قادیانی ہے۔تو اس پر ہمارا اعتراض ہے کہ عیسیٰ (علیہ السلام )نے فرمایا:’’ میرے بعد ایک رسول آئے گا ‘ ‘ نعوذ باللہ! اس خوش خبری سے مراداور اس پیشینگوئی کا مصداق مرزا غلام احمد قادیانی ہے۔ تو عیسیٰ (علیہ السلام) کے بعد جو حضور (ﷺ)آئے وہ اس کا مصداق نہیں،تو مرزائیوں کے اس قول کے مطابق حضور (ﷺ) اس کا مصداق نہیں ہوئے۔

اب خود مرزا غلام احمد قادیانی اس بات کو تسلیم کرتا ہے کہ’’ محمد(ﷺ) کا نام جلالی تھا۔جلال کی جتنی ضرورت تھی وہ ظاہر ہوچکی،اب سورج کی کرنوں کی برداشت نہیں،اب چاند کی ٹھنڈی روشنی کی ضرورت ہے۔اور وہ احمد کے رنگ میں ہوکر میں آیا ہوں۔‘‘نعوذ باللہ! حضور (ﷺ) کی ضرورت نہیں کیونکہ میں آیا ہوں۔‘‘

نبوت وہبی ہے ،کسبی نہیں

ایک قادیانی سے گفتگو کے درمیان پوچھا گیا: ’’مرزا غلام احمد کیسے نبی تھے؟تو اس نے جوابًا یہ کہا: مرزا غلام احمد قادیانی نے رسول اللہ(ﷺ) کی اطاعت کی۔اطاعت کرتے کرتے نبی بن گیا۔‘‘

یہ بات بھی محل نظر ہے کہ مرزا غلام احمد نے رسول اللہ(ﷺ) کی اطاعت کی یا نہیں۔یہ ایک مستقل موضوع ہے،اس کو نہیں چھیڑتے اور اس موضوع کو بھی نہیں چھیڑتے کہ آیا چودہ سوسال میں حضور (ﷺ) کی‘ مرزا غلام احمد قادیانی کے علاوہ کسی اور نے اطاعت کی یا نہیں؟ اس لئے کہ اگر اطاعت سے نبوت ملتی ہے تو چودہ سو سال میں حضور(ﷺ) کا کوئی امتی نہیں تھا جس نے حضور(ﷺ) کی اطاعت کی ہو؟اس بحث کو بھی نہیں چھیڑتے اطاعت سے نبوت ملتی ہے تو وہ نبوت کسبی ہوئی؟ وہبی نہیں ہوئی؟

چند اشکالات کے تشفی بخش جوابات

حالانکہ نبوت ایک وہبی چیز ہے۔ایک یہ بحث بھی ہے جسے ہم یہاں نہیں چھیڑتے کہ

69

آیا چودہ سو سال میں یعنی حضور (ﷺ)کے زمانہ سے لیکر مرزا غلام احمد قادیانی کے زمانہ تک کوئی نبی ہوا ہے ؟مرزائی کہتے ہیں: کوئی نہیں ہوا ہے اور قیامت تک نہیں ہوگا۔مرزا غلام احمد قادیانی خود کہتا ہے: میں خدا تعالیٰ کا آخری نور ہوں۔میرے بعد کوئی نبی نہیں ہوگا۔پھر مرزا ئیوں کے ساتھ کرنے والی یہ بحث بھی اپنی جگہ ہے کہ تمہارا اجراء نبوت کا عقیدہ ہے ؟ یا ختم نبوت کا عقیدہ ہے؟

وہ اس بات کے قائل ہیں کہ مرزا غلام احمد نبی ہے اور کوئی نہیں،تو پھر یہ بحث ہونی چاہئے کہ آیا خاتم النّبیین حضور(ﷺ) ہیں یا مرزا غلام احمد قادیانی؟اگر قرآن و حدیث نے خاتم النّبیین حضور (ﷺ) کو کہا ہے تو انہیں مان لینا چاہئے ،اور نعوذ باللہ! اگر اس کا مصداق مرزا غلام احمد ہے تو اس کا ثبوت مرزائیوں کو پیش کرنا چاہئے؟ان امور کو اس وقت بالائے طاق رکھ کر اس وقت صرف مرزائیوں کا یہ قول زیر بحث ہے کہ حضور(ﷺ) کی اطاعت کرنے کے بعد مرزا غلام احمد قادیانی حضور(ﷺ) کے رنگ میں اتنا رنگ گیا کہ وہ نبی بن گیا۔

تو مرزائیوں سے سوال کیا گیا کہ آپ یہ بتائیں کہ ’’: مرزا غلام احمد قادیانی کو حضور(ﷺ) کی اطاعت کرنے سے نبوت ملی ہے تو ہم میں سے کوئی آدمی حضور(ﷺ) کی اطاعت کرے اور مرزا غلام احمد کو نہ مانے ، صرف حضور(ﷺ) کی اطاعت سے ہماری نجات ہو سکتی ہے یا نہیں‘‘؟۔تو مرزائی کہنے لگا: ’’نجات ہو سکتی ہے۔‘‘تو ہم نے کہا : ’’صرف حضور(ﷺ) کی اطاعت سے نجات ہو سکتی ہے تو مرزا غلام احمد کو ماننے کی کیا ضرورت ہے‘‘؟سوچ کر کہتا ہے : ’’نہیں ہو سکتی ۔‘‘ہم نے کہا کہ’’ نہیں ہو سکتی ہے تو یہ بات نہایت قابل غور ہے کہ مرزا غلام احمد کو توحضور(ﷺ) کی اطاعت سے تو نبوت مل جائے اگر ہم حضور ﷺ کی اطاعت کریں تو ہمیں نجات ہی نہ ملے‘‘؟جی ! اس کا کسی قادیانی کے پاس رہتی دنیا تک کوئی جواب نہیں ہے! ۔

جو شخص مرزا غلام احمد کو نہیں مانے گاوہ جہنم میں جائے گا

میں آگے چل کر آپ حضرات کی خدمت میں حوالہ نوٹ کراؤںگا کہ مرزائیوں کے نزدیک اب مدار نجات مرزا غلام احمد قادیانی کی اطاعت ہے۔گویا حضور (ﷺ) کی اطاعت مدار نجات نہیں،آپ کا دین ، آپ کی شریعت ،آپ کی وحی ،آپ کا قرآن اور آپ کی حدیث اب مدار نجات نہیں۔ان مرزائیوں کا عقیدہ ہے کہ ہمارے نزدیک مدار نجات غلام احمد قادیانی ہے۔اور وہ خود اس بات کو تسلیم کرتے ہیں کہ جو شخص مرزا غلام احمد کو نہیں مانے گا وہ جہنم میں جائے

70

گا۔وہ غیر مسلم ہے۔مرزا خود کہتا ہے: اللہ تعالیٰ نے بطور وحی مجھے خوش خبری دی ہے کہ جو مسلمان تیری بیعت میں شامل نہیں ہوں گے سب جہنمی ہیں۔ دیکھئے! (اشتہار مندرجہ تبلیغ رسالت جلد۹ ص۲۷، مجموعہ اشتہارات جلد۳ ص۲۷۵) آگے چلئے حضور!

حضرت عیسیٰ علیہ السلام پرایک ہی سانس میں اور ایک ہی عبارت میں چھ الزام

چہارم :استغفر اللہ!’’یہ بات بالکل غیر معقول ہے کہ آنحضرت(ﷺ) کے بعد کوئی ایسا نبی آنے والا ہے کہ جب لوگ مساجد کی طرف دوڑیں گے تو وہ کلیسا کی طرف بھاگے گا۔اور جب لوگ قرآن شریف پڑہیں گے تو وہ انجیل کھول کر بیٹھے گا۔اور جب لوگ عبادت کے وقت بیت اللہ کی طرف منہ کریں گے تووہ بیت المقدس کی طرف متوجہ ہوگا۔اور وہ شراب پیئے گا اور سوّر کا گوشت کھائے گا۔اور اسلام کے حلال حرام کی کچھ پرواہ نہیں کرے گا۔‘‘

(حقیقۃ الوحی ص ۲۹، خزائن جلد۲۲ ص۳۱، از مرزا غلام احمد قادیانی)

حضور والا !مرزا غلام احمد قادیانی کہتا ہے :یہ بات بالکل غیر معقول ہے کہ آنحضرت(ﷺ) کے بعد کوئی ایسانبی آنے والا ہے۔مقصد کیا ہے ؟مقصد یہ ہے کہ کوئی ایسا نبی نہیں آئے گا۔یعنی عیسیٰ علیہ السلام نہیں آئیں گے۔اگر عیسیٰ علیہ السلام آئے تو یہ بات لازم ہے کہ لوگ مسجد کی طرف جائیں گے ۔ الیٰ آخرہ۔

جھوٹے نبی نے ایک ہی عبارت میں چھ جھوٹ بولے، چھ الزام و بہتان

مرزاقادیانی نے ’’حقیقت الوحی‘‘ کی مذکورہ بالا عبارت میں چھ جھوٹ بولے ہیں اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام پر الزام لگائے ہیں۔ (۱)حضور(ﷺ) کے بعد کسی نبی کا آنا غیرمعقول بات ہے۔ یعنی عقل اس کو نہیں مانتی۔ (۲)لوگ مسجدوں میں جائیں گے۔ وہ کلیسا کی طرف جائے گا۔ (۳)لوگ قرآن شریف پڑھیں گے اور وہ انجیل کھول کر بیٹھ جائے گا۔ (۴)بوقت عبادت لوگ بیت اللہ کی طرف منہ کریں گے۔ وہ بیت المقدس کی طرف منہ کرے گا۔ (۵)وہ شراب پئے گا اور سور کا گوشت کھائے گا۔ (۶)حلال وحرام کی کچھ پرواہ نہیں کرے گا۔ یہ ہیں چھ الزام!اللہ کے نبی حضرت عیسیٰ(علیہ السلام) پر ایک ہی سانس میں ایک ہی عبارت میں لگائے ہیں۔بیک وقت ایک ہی عبارت میں اس نے چھ جھوٹ بولے ہیں۔حالانکہ جس وقت حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) تشریف لائیں گے تو وہ شریعت محمدیہ کے پیرو بن کراس دنیا میں تشریف لائیں گے ۔ چنانچہ نزول

71

کے بعد سب سے پہلا کام وہ یہی کریں گے کہ حضرت مہدی علیہ السلام سے درخواست کریں گے کہ آپ نماز پڑھائیں!۔

جس وقت نازل ہوںگے تو حدیث شریف میں آتا ہے کہ صف بندی ہو چکی ہوگی، اقامت کہی جا چکی ہوگی،حضرت امام مہدی علیہ الرضوان مصلیٰ پر موجود ہوںگے،اس وقت ان کا نزول ہوگا،حضرت امام مہدی علیہ الرضوان ان کے اکرام و اعزاز میں پیچھے ہٹ جائیں گے،حضرت عیسیٰ (علیہ السلام )سے درخواست کریں گے کہ آپ نماز پڑھائیں، شریعت کا مسئلہ بھی یہی ہے کہ افضل نماز پڑھائے اور مفضول اس کے پیچھے نماز پڑھے،حضرت امام مہدی علیہ الرضوان اپنے تمام تر فضل کے باوجود حضور (ﷺ)کے امّتی ہیں۔ حضرت مسیح(علیہ السلام) اپنے وقت کے نبی ہیں اوران کا حق بنتا ہے کہ وہ نماز پڑھا ئیں ، امام مہدی ان کے اعزاز میں پیچھے ہٹ جائیں گے ۔

حضرت عیسیٰ علیہ السلام حضور اکرم ﷺ کی شریعت کے مطابق فیصلہ کریں گے

مگر وہ کہیںگے : آپ نماز پڑھائیں۔میں آپ کے پیچھے نماز پڑھنا چاہتا ہوں۔تاکہ دنیا دیکھ لے کہ میں اپنی شریعت چلانے نہیں آیا ہوں۔محمد عربی(ﷺ) کی غلامی کرنے آیا ہوں۔

اس کے متعلق حضور(ﷺ) نے فرمایا کہ: و امامکم منکم۔اس کے بعد آئندہ کی تمام نمازوں میں امامت حضرت عیسیٰ(علیہ السلام) کریں گے۔ہماری ایک کتاب ’’الملل والنحل‘‘میں اس بات کی صراحت موجود ہے کہ یحکم بشریعتنا لا بشریعتہ ۔ عیسیٰ(علیہ السلام)‘حضور(ﷺ) کی شریعت کے مطابق فیصلہ کریں گے ،نہ کہ اپنی شریعت کے مطابق۔

قیامت کے دن سیدنا عیسیٰ علیہ السلام کی دو حیثیتیں ہوںگی

شرعی مسئلہ یہ ہے اور حضرات علماء کرام پر قربان جائیے کہ انہوں نے ایک ایک بات کی بے حد تنقیح کردی ہے ۔مثلاً: ایک مسئلہ یہ ہے کہ قیامت کے دن ہر نبی کے پاس جھنڈا ہوگا ،وہ اپنی امت کو لے کر حساب وکتاب کرائیںگے،تو عیسیٰ (علیہ السلام) کے متعلق سوال پیدا ہوتا ہے کہ آیا وہ بحیثیت نبی قیامت کے دن اپنا جھنڈا لے کر اپنی اس وقت کی مسیحی امت کاحساب وکتاب کرائیںگے یا بحیثیت حضور(ﷺ) کے امتی ہونے کے آپ (ﷺ)کے جھنڈے تلے کھڑے

72

ہوںگے ، صاحب الیواقیت نے صراحت کی ہے کہ ہر آدمی کا قیامت کے دن ایک حشر ہوگا،لیکن حضرت عیسیٰ(علیہ السلام) کے لئے دو حشر ہوں گے، فلہ حشران،ان کا حشرایک دفعہ بحیثیت نبی کے اور دوسری مرتبہ بحیثیت امتی ہونے کے اپنا حساب وکتاب کرائیں گے۔تو شریعت کے اندر اتنی صاف وضاحت ہونے کے باوجود مرزا غلام احمد قادیانی کا یہ کہنا کہ وہ شراب پئے گا الیٰ آخرہ۔نعوذ باللہ۔ یہ بہت بڑے الزام اور بہت بڑے جھوٹ ہیں تو دیکھیں! ایک عبارت میں یک لخت چھ الزام،چھ جھوٹ اور بہتان لگا دئیے۔

حضرت سیدنا عیسیٰ علیہ السلام بیماری یا کسی پرانی عادت

کی وجہ سے شراب پیا کرتے تھے

پنجم :’’یورپ کے لوگوں کو جس قدر شراب نے نقصان پہنچایا ہے اس کا سبب تو یہ تھا کہ عیسیٰ (علیہ السلام) شراب پیا کرتے تھے۔شاید کسی بیماری کی وجہ سے یا کسی پرانی عادت کی وجہ سے۔‘‘ (کشتی نوح ص۶۶ حاشیہ، خزائن جلد۱۹ ص۷۱، از غلام احمد قادیانی) جس وقت ہم یہ حوالہ پیش کرتے ہیںتو فورًا مرزائی کہہ دیتے ہیں کہ حضرت عیسیٰ(علیہ السلام)کی شریعت میں شراب حلال تھی۔

الف… حالانکہ یہ بھی ان کا الزام ہے ،اس وقت جتنے بھی مسیحی علماء ہیں وہ خود تسلیم کرتے ہیں کہ ہمارے مذہب میں شراب پینا جائز نہیں ہے۔

مرزا خود کہتا ہے :انجیل کی رو سے شراب پینا ناجائز ہے

اورحضرت عیسیٰ علیہ السلام پر الزام لگاتا ہے

ب… خود مرزا غلام احمد قادیانی نے اپنی کتاب ’’دافع البلاء‘‘ میں کسی عیسائی کے جواب میں لکھا ہے کہ: انجیل کی رو سے شراب پینا ناجائز ہے۔آپ حضرات انجیل کو مانتے ہوئے کیوں شراب پیتے ہو؟خود تسلیم کرتا ہے کہ حضرت عیسیٰ(علیہ السلام) کی تعلیمات کی رو سے شراب پینا ناجائز ہے۔خود کہتا ہے : شراب پینی ناجائز ہے اور حضرت عیسیٰ(علیہ السلام) پر الزام لگاتا ہے کہ وہ شراب پیا کرتے تھے۔اس کے ساتھ بے تکے پن،جارحیت اور دلیری کے ساتھ ان کی توہین کرتا ہے۔

73

حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی تین نانیاں اور دادیاں زناکار و کسبی تھیں

خدا کی قسم !آپ حضرات اور میں صبر نہیں کر سکتے۔مثلًا :’’انجام آتھم‘‘ میں اس نے لکھا ہے کہ: ’’حضرت عیسیٰ(علیہ السلام) کی’’ تین نانیاںاور دادیاں زنا کار تھیں اور کسبی عورتیں تھیں۔‘‘ دیکھئے! (ضمیمہ انجام آتھم ص۷، خزائن جلد۱۱ ص۲۹۱) (نعوذ باللہ ) ایک طرف تو مرزاقادیانی نے الزام لگایا، دوسری طرف قرآن پاک حضرت مریم علیہا السلام کی قسمیں اٹھاتا ہے، اور عظمتیں بیان کرتا ہے، ان کے متعلق الزام لگایا کہ ان کی تین نانیاں دادیاں زنا کار پتہ نہیں کیا کیا کہہ کر (بکواس کرتا) گیا۔ایک تیر سے دو شکار کر گیا۔

دادی اس کی ہوتی ہے جس کا دادا ہو۔دادا اس کا ہوتا ہے جس کا باپ ہو،جب مرزا یہ کہتا ہے: تو اس کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) بن باپ پیدا نہیں ہوئے،تو گویا اس کے نزدیک حضرت عیسیٰ(علیہ السلام) بن باپ پیدا نہیں ہوئے۔ان کے مکتوبات کے اندر لکھا ہے کہ حضرت ’’عیسیٰ(علیہ السلام) کیا تھے؟،نہ عابد ، نہ زاہد۔نہ حق پرست ،بس کھانے پینے والے اور شرابی تھے؟‘‘ (دیکھئے! مکتوبات احمدیہ جلد۳ ص۲۳،۲۴) اتنی توہین کرتا چلا گیا۔

جھوٹے نبی مرزا ملعون نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے معجزات سے انکارکرکے ان کی توہین و تنقیص کرکے حقیقت میں قرآن کریم کا انکار کردیا

قرآن مجید میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے معجزے صراحت کے ساتھ بیان کئے گئے ہیں۔ (مثلاً:برص والے کا اچھا ہو جانا،مادر زاد اندھے کو بینائی دینا وغیرہ)مرزا غلام احمد کہتا ہے: یہ ان کا کمال نہیں تھا بلکہ اس تالاب کے پانی کا اثر اورکرشمہ تھا کہ اس کی مٹی کو برص والے لگاتے تھے تو اچھے ہوجاتے تھے،کبھی کہتا ہے : وہ جو کام کرتے تھے مسمریزم سے کیا کرتے تھے۔ (دیکھئے! ضمیمہ انجام آتھم ص۷ حاشیہ، خزائن جلد۱۱ ص۲۹۱، ازالہ اوہام ص۱۲۸ حاشیہ، خزائن جلد۳ ص۲۵۵،۲۵۶) وہ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کی توہین اور تنقیص کیا کرتا تھا ،ان کی عزت گراتا تھا تاکہ لوگ یہ نہ کہیں کہ تو مسیح ہے؟ تو اس مسیح میں تو یہ کمالات تھے ،تجھ میں کیا کمالات ہیں؟خود تو ان کمالات تک تو نہیں پہنچ سکتا تھا لہٰذا یہ تنقیص کیا کرتا تھا، جس کا دوسرا مطلب قرآن کا بھی انکار ہے کہ جو باتیں

74

قرآن مجید بیان کرتا ہے وہ اس کا انکار کرتا ہے تاکہ دونوں مسیح برابر ہوجائیں (نعوذ باللہ )

تو نتیجہ یہ نکلا کہ انبیاء (علیہم السلام) کی ادنیٰ توہین کرنا کفر ہے،اس نے خدا تعالیٰ کی توہین کی، اور ایسی توہین کرنے والا کافر ہے۔ جب اس نے خدا کی توہین کی تو اپنے مبعوث کرنے والے کی توہین کی۔اچھا نبی تھایہ۔نعوذ باللہ!

مرزا کا تصور قرآن

الف…

  1. آنچہ من بشنوم ز وحی خدا

    بخدا پاک دانمش از خطا

  2. ہم چوں قرآن منزہ اش دانم

    از خطاہا ہمیں است ایمانم

  3. بخدا ہست ایں کلام مجید

    از دہاں خدائے پاک و وحید

(نزول المسیح:مرزا غلام احمد قادیانی ص ۹۹،۱۰۰، خزائن جلد۱۸ ص۴۷۷،۴۷۸)

ترجمۂ فارسی اشعار:میں اللہ کی وحی سے جوسنتا ہوں،خدا کی قسم! اسے خطاؤں سے پاک جانتا ہوں،تمام خطاؤں سے اسے قرآن کی طرح منزہ جانتا ہوں۔یہی میرا ایمان ہے۔خدا کی قسم! یہ کلام مجید ہے جو خدائے پاک وحدہ کے منھ سے نکلا ہے۔

وہ کہتا ہے: جو کچھ اللہ کی وحی سے سنتا ہوں وہ تمام خطاؤں سے پاک ہے۔میں قرآن کی طرح اسے منزہ جانتا ہوں۔یہ میرا ایمان ہے۔جس طرح قرآن مجید خطاؤں سے پاک ہے اسی طرح میرے اوپر نازل ہونے والی وحی بھی خطاؤں سے پاک ہے۔اور جس طرح قرآن مجید اللہ کا کلام ہے اسی طرح میرے اوپر نازل ہونے والی وحی بھی اللہ پاک کا کلام ہے۔

ساری کائنات کی کتابیں مل کر بھی قرآن کریم کا مقابلہ نہیں کرسکتیں

آپ کا میرا عقیدہ یہ ہے کہ ساری کائنات کی کتابیں مل کر بھی قرآن مجید کا مقابلہ نہیں کرسکتیں۔دنیا کی کوئی کتاب ایسی نہیں جو خطاؤں سے پاک ہو سوائے قرآن مجید کے۔اوراس نے اپنی وحی کو قرآن کا درجہ دید یا۔

ب… قرآن خدا کی کتاب اور میرے منھ کی باتیں ہیں ۔(تذکرہ از مرزا ص۶۴۱)وہاں یہ کہا : میری وحی قرآن کی طرح ہے اور یہاں یہ کہا کہ قرآن میرے منھ کی باتیں ہیں۔(اندازہ لگائیے )

75

ج… ما انا الا کالقرآن : (تذکرہ ،از مرزا قادیانی ص۷۴)

جھوٹے نبی مرزا کی وحی وکشوف و رؤیاوالہامات اوربکواس کے مجموعہ کا نام ’’تذکرہ ‘‘ہے

میں نے کل ہی آپ حضرات کی خدمت میں عرض کیا تھا کہ تذکرہ ، مرزا غلام احمد قادیانی کی کوئی کتاب نہیں ہے بلکہ اس کی وحی،کشوف اور رؤیا جو کچھ تھے ان کو اکٹھا کرکے اورمرتب کرکے مرزائیوں نے چھاپ دیا ہے،اس کی وحی اورالہامات کے مجموعہ کا نام ’’تذکرہ‘‘ ہے۔

’’تذکرہ ‘‘قرآن مجید کا غیر معروف نام ہے ،چورا کر اپنی بکواس کا نام رکھ دیا

اور کل میں نے یہ بھی عرض کیا تھا کہ مرزائیوں کے نزدیک ان کی اتنی ہی عزت ہے جو ہمارے یہاں قرآن مجید کی ہے۔تذکرہ‘قرآن مجید کا غیر معروف نام ہے :ان ھذہ تذکرۃ ، انہوں نے قرآن مجید کا غیر معروف نام چرا کر اپنی کتاب کا نام رکھدیا۔

اس ضمن میں ایک لطیفہ مولانا منظور احمد چنیوٹی کا پیدا کردہ ہے۔ اللہ انہیں سلامت رکھے۔مولانا نے یہ لطیفہ بنایا: ان کا جو پہلے تذکرہ ، چھپا تھااس کے ۸۴۰ صفحات تھے،اور ورق بنتے ہیں چارسو بیس ۔ اور ۴۲۰ کہتے ہیں فراڈ کرنے والے کو۔ہم نے بارہا تلاش کیا کہ قرآن مجیدکے صفحات کوکہ کہیں سے اتنے ہی صفحات والا قرآن مجید مل جائے مگر نہیں ملا ۔مولانا جس ملک جاتے ہیں ( یہ ان کا ذوق بھی ہے ) اوروہاں کے چھپنے والے قرآن کے صفحات کودیکھتے ہیں مگر وہ اتنے نہیں ہوتے جتنے کے مرزا کے تذکرہکے صفحات ہوتے ہیں۔مرزائیوں کی جو کتاب ہے وہ ۴۲۰ پر ہی ختم ہوئی ہے۔ جی !: یہ مرزا کے تذکرہ کی باتیں ہیں۔کل اللہ کو منظور ہوگا تو مرزائیوں کے قرآن کی بھی زیارت کراؤں گا۔

مرزائیوں کا تصور صحابہ

الف… ’’بعض نادان صحابی جن کو درایت سے کوئی حصہ نہیں تھاوہ بھی اس عقیدہ سے بے خبر تھے کہ کل انبیاء فوت ہو چکے ہیں۔‘‘

(ضمیمہ براہین احمدیہ ص ۱۲۰ حصہ پنجم، خزائن جلد۲۱ ص۲۸۵، از مرزا قادیانی)

76

مرزا جھوٹے نبی کا قرآن ’’ تذکرہ‘‘ معجون مرکب ہے ،

عربی، فارسی، پنجابی اورانگریزی زبان میں بے شمار الہامات کا مجموعہ ہے

درمیان میں حضرت سے کسی نے پوچھا : جس طرح ہم قرآن مجید کی تلاوت کرتے ہیں تووہ حضرات کس کی تلاوت کرتے ہیں؟جواب میں حضرت نے فرمایا: اچھا! وہ عجیب معجون مرکب ہے،اس میں عربی، انگریزی، فارسی اور پنجابی زبان میں بے شمار اس کے الہامات ہیں۔دلچسپ مجموعہ ہے۔مثلاً: اس میں ہے کہ مرزا غلام احمد قادیانی کہتا ہے : اللہ تعالیٰ نے مجھ کو فرمایا :’’I love you‘‘عجیب قسم کا اورواہیات قسم کا مجموعہ ہے۔اس کے اندر اس نے محمدی بیگم کی پیشین گوئی کی تھی کہ وہ میرے نکاح میں آئے گی، اللہ کا کرنا ایسا ہوا کہ محمدی بیگم کا سلطان محمد پٹی والے کے ساتھ نکاح ہوگیا،تو کہتا ہے :’’ پٹی ،پٹی گئی‘‘،پٹی،سلطان کی بستی کا نام ہے۔یعنی یہ قصبہ جو پٹی کے نام کا ہے ،پٹی گئی یعنی دنیا جہاں سے یہ قصبہ ختم ہوجائے گا ۔اس طرح اس کے الہامات ہیں۔

بے شرمی اور بے حیائی کی حد کردی

میرے محترم ساتھیو ! مسجد نہ ہو،اور چھوٹے بچے نہ ہوں ،آپ حضرات تو بزرگ لوگ ہیں ۔ آپ حضرات کے سامنے اصل مرزائیت پھر پیش ہوتی تو پھر مزا ہوتا۔ اللہ تعالیٰ آپ کو، ہم سب کو محفوظ فرمائیں ۔ اس کے اندر لکھا ہے : ’’آج خواب میں نے دیکھا کہ محمدی بیگم جس کی نسبت پیش گوئی ہے کہ باہر کسی تکیہ میں معہ چند کس کے بیٹھی ہوئی ہے اور سر اس کا شاید منڈا ہوا ہے اور بدن سے ننگی ہے اور نہایت مکروہ شکل ہے۔ میں نے اس کو تین مرتبہ کہا ہے کہ تیرے سر منڈی ہونے کی یہ تعبیر ہے کہ تیرا خاوند مرجائے گا اور میں نے دونوں ہاتھ اس کے سر پر اتارے ہیں اور پھر خواب میں، میں نے یہی تعبیر کی ہے اور اسی رات والدہ محمود نے خواب میں دیکھا کہ محمدی بیگم سے میرا نکاح ہوگیا ہے۔‘‘ (تذکرہ ص۱۹۹) یہ نبوت ہے یا تماشا ہے؟ بد معاش کہیں کا!کوئی شریف آدمی اس کو پڑھ نہیں سکتا۔حوالہ مذکورہ بالا۔

مرزائیوں کا تصور صحابہؓ

ب… ’’حضرت ابو ہریرہؓ غبی تھے۔‘‘

77

(اعجاز احمدی ص۱۸، خزائن جلد۱۹ ص۱۲۷،مرزا غلام احمد قادیانی)

ج… ’’اس لئے یاد رکھو کہ پرانی خلافت کا جھگڑا چھوڑدو، اب نئی خلافت لو۔ایک زندہ علی ‘تم میں موجود ہے اس کو چھوڑتے ہو اور مردہ علی کی تلاش کرتے ہو‘‘

(ملفوظات احمدیہ جلد اوّل ص۴۰۰)

حضرت حسینؓ واہل بیت کی توہین و تنقیص

د… مرزا غلام احمد قادیانی نے (اعجاز احمدیص نمبر ۸۲، خزائن جلد۱۹ ص۱۹۴) پر حضرت حسینؓ کے متعلق لکھا ہے ؎

  1. نسیتم جلال اللہ والمجد والعلیٰ

    وماورد کم الاحسین ا تنکروا

  2. فھٰذا علی الاسلام احدی المصائب

    لدٰی نفحات المسک قذر مقنطر

ترجمہ:تم نے خدائے جلال اور مجھ کو بھلا دیا،تمہارا وردصرف حسین ہے،کیا تو انکار کرتا ہے،پس یہ اسلام پر ایک مصیبت ہے،کستوری کی خوشبو کے پاس ایک گندگی کا ڈھیر ہے۔

دیکھئے حضور!: حضرت امام حسین(علیہ السلام) کا ذکر خیر!ان کے فضائل و برکات ہمارے ایمان کا ایک حصہ ہے۔نبی کریم ﷺ نے احادیث میں ان کے بے شمار فضائل و برکات بیان فرمائے ہیں ۔ انہیں سیدا شباب اہل الجنۃ فرمایا ہے۔مرزا غلام احمد قادیانی کہتا ہے: اللہ تعالیٰ کے ذکر کے مقابلہ میں حسین(علیہ السلام)کا ذکر کرنا اس طرح ہے جس طرح کستوری کے پاس گندگی کا ڈھیر ہو۔اللہ تعالیٰ کے ذکر کو وہ کستوری کہتا ہے،اور حسینؓکے ذکر کووہ اس طرح تشبیہ دیتا ہے۔

آپ حضرات اندازہ لگائیں،آگے اس کا فارسی کا شعر ہے ؎

  1. کربلائے است سیر ہر آنم

    صد حسین است درگریبانم

جس کا ترجمہ یہ ہے کہ کہتا ہے’’ ہر وقت میری کربلا کی سیر ہے،سو حسین جو ہے وہ میرے گریبان میں ہے۔‘‘

(نزول المسیح ص۹۹، خزائن جلد۱۸ ص۴۷۷)

اس کے علاوہ بھی اسی (اعجاز احمدی ص۸۱، خزائن جلد۱۹ ص۱۹۳) میں کہتا ہے:’’ تم حسین کا بار بار ذکر کرتے ہو،اس بات کو یاد نہیں رکھتے کہ حضرت حسین (علیہ السلام)دشمن کا کشتہ تھااور میں محبوب کا کشتہ ہوں،اور تمہارا حسینؓ ہے کہ کربلا کا نام لیکر آج تک تم روتے ہو ،اس کی کسی نے مدد نہیں کی تھی اور میں ہر گھڑی،ہرلمحہ مدد کیا جاتا ہوں۔‘‘اس نے حضرت امام حسینؓ کی یہ تصویر کشی کی ہے۔

78

حضرت علیؓ ، حضرت فاطمہؓ اور حضرت حسنؓ و حسینؓ

خصوصًا رسول اللہ ﷺ کی نور نظر لخت جگر کی توہین

سیدہ فاطمہ(t )کے متعلق(آئینۂ کمالات اسلام ص نمبر۵۴۹،۵۵۰، خزائن ج۵) پر ہے۔ وہ کہتا ہے: ’’ایک رات عشاء کی نماز کے بعد میں اپنے گھر میں لیٹا ہوا تھا ،نہ مجھے نیند تھی،نہ اونگھ تھی ،عین بیداری کی حالت میں میرے دروازہ کو کھٹکھٹانے کی آواز آئی،میں نے جا کر دروازہ کھولا تو کیا دیکھتا ہوں کہ حضرت حسنؓ،حسینؓ ،حضرت علیؓ اورحضرت فاطمہؓ اور سرور کائنات (ﷺ) میرے دروازے پر کھڑے ہیں، آئے ہوئے ہیں،اور حضرت فاطمہ(رضی اللہ عنھا) نے میرا سر پکڑ کر اپنی ران پر رکھدیا۔‘‘یہ سیدہ فاطمہ(رضی اللہ عنھا)کے متعلق مرزا قادیانی ملعون کی بکواس ہے۔نعوذ باللہ من ذالک!۔ آگے چلئے حضور ۔۔۔۔!

اجماع امت کے متعلق مرزائیوں کا عقیدہ

’’امت کا اجماع یا اتفاق کیا چیز ہے‘‘؟(ازالہ اوہام ص۱۴۱، خزائن جلد۳ ص۱۷۲) دیکھئے! ہمارے نزدیک اجماع ادلہ ٔ اربعہ میں سے ہے۔وہ ملعون یہ کہتا ہے کہ’’ امت کا اجماع و اتفاق کور مغز ہے۔ ملعون کہیں کا!،امت کا اجماع کرلینا کیا حیثیت رکھتا ہے‘‘؟

بزرگان امت کے متعلق مرزا غلام احمد کا مرزائی تصور

’’ہمارے مخالف سخت شرمندہ ہوکر ،لاجواب ہوکرآخر کو یہ عذر پیش کردیتے ہیں: ہمارے بزرگ ایسے ہی کہتے چلے آئے ہیں،یہ نہیں سوچتے کہ بزرگ معصوم نہیں تھے،بلکہ یہودیوں کے بزرگوں نے جس طرح پیشین گوئی کے سمجھنے میں ٹھوکر کھائی ہے اسی طرح ان بزرگوں نے بھی ٹھوکر کھائی ہے۔‘‘

(ضمیمہ براہین احمدیہ حصہ پنجم ص نمبر ۱۲۴، خزائن جلد۲۱ ص۲۹۰،از مرزا غلام احمد قادیانی)

مرزا غلام احمد کی پیشین گوئیاں (یہ ایک مستقل موضوع ہے )

مرزا غلام احمد قادیانی جو بھی پیشین گوئی کرتا تھا اس کی وہ پیشینگوئی ہمیشہ غلط نکلتی تھی،جھوٹی ہوتی تھی،اللہ کی شان ! جو بات اس نے کہی،قدرت نے اس کے خلاف کردیا،حتی کہ

79

ایک مرتبہ مکہ اور مدینہ کے درمیان ریلوے لائن بچھانے کا سعودی حکومت کے ساتھ کسی کاٹھیکہ ہوا تھا۔ریلوے پٹری تیار کرلی گئی،سلیپر بچھائے گئے،انجن منگواکے چلانے کے لئے کھڑے کردئے گئے۔%۸۶ کام مکمل ہوگیا،مرزا غلام احمد قادیانی کو پتہ چلا کہ مکہ مدینہ کے درمیان ریلوے لائن چلائی جارہی ہے تو اس نے کہہ دیا : ’’ میرے سچے ہونے کی دلیل یہ ہے : حضور (ﷺ) کے زمانہ میں مکہ اور مدینہ کے درمیان اونٹ چلتے تھے میرے زمانہ میں مکہ اور مدینہ کے درمیان ریلوے گاڑی چلے گی۔‘‘

(دیکھئے تفصیل! تحفہ گولڑویہ ص۴۶، خزائن جلد۱۷ ص۱۹۵)

اسے پتہ تھا کہ کام ہوگیا ہے،ٹھیکہ ہوگیا،لائن بچھ گئی ہے،انجن آگیا ہے۔چودہ فیصد کام باقی ہے، ریلوے گاڑی چل پڑے گی،اس نے پیشین گوئی کردی :’’ میرے سچے ہونے کی دلیل یہ ہے کہ مکہ اور مدینہ کے درمیان تین چار سال میں ریلوے گاڑی چلے گی۔‘‘اس بد بخت نے ادھر پیشین گوئی کردی، ادھر اس کاٹھیکہ کینسل ہوگیا۔آج تک وہ ریلوے لائن نہیں چل سکی۔وہ جو پیشین گوئی کرتا تھا وہ جھوٹی نکلتی تھی۔

جھوٹے نبی کی ایک جھوٹی پیشینگوئی

مثلاً: اس کا ایک مرید منظور احمد نامی اس کے پاس آیا اور کہا : میرے گھر میں امید سے ہے۔ حضرت دعا فرمادیں کہ میرے گھر میں بچہ پیدا ہو۔کہتا ہے: سویرے آنا،وہ وقت پر سویرے آیا،مرزا نے کہا: رات کو میں نے اللہ سے بات کی ہے تو اللہ تعالیٰ نے نہ صرف یہ کہا : تیرے گھر لڑکا پیدا ہوگا بلکہ اس لڑکے کے (نو) ۹‘ نام بھی لکھوالئے۔اگر وہ لڑکا پیدا ہوجاتا تو عجوبہ زمانہ ہوتا ۔وہ نام کیا تھے؟ (۱)کلمتہ العزیز۔ (۲)کلمتہ اللہ خان۔ (۳)وارڈ۔ (۴)شادی خان۔ (۵)بشیرالدین۔ (۶)عالم کباب۔ (۷)ہذا یوم مبارک۔ (۸)ناصرالدین۔ (۹)فاتح الدین۔

(تذکرہ ص۶۲۶،۶۲۷)

اس طرح کرکے اس نے نو نام لکھوائے،تم بے فکر رہو!ان شاء اللہ لڑکا پیدا ہوگا۔اس نے جاکر اپنی بیوی محمدی بیگم (یہ دوسری محمدی بیگم ہے ) سے کہا : مبارک ہو! حضرت صاحب نے رات کو اللہ تعالیٰ سے بات کی ،لڑکے کی بات ہوچکی ہے ،اور اللہ نے اس کے نو نام رکھ دئے ہیں۔وہ بڑی خوش ہوئی۔بدھو مرید! ، بدھو مریدنی!، جس وقت مدت ختم ہوئی ، اللہ کی شان ! بچی پیدا ہوئی۔

80

یہ عجیب متشابہات

وہ واپس آیا کہتا ہے: حضرت میرے گھر بچی پیدا ہوئی ہے،یہ چالاک پیر کی طرح غصہ سے کہتا ہے: میں نے ایسا کب کہا تھا کہ اس دفعہ ہوگا ؟اب کے نہیں ہوا تو آئندہ ہوجائے گا،اگلی دفعہ نہ ہوا تو اس کے اگلی دفعہ ہو جائے گا۔اتفاق کی بات کہ تین مہینہ بعد لڑکی مرگئی،چھ مہینہ بعداس کی بیوی مرگئی،اور سال بھر کے بعد وہ خود مرگیا۔اور آج تک وہ نو نام والا لڑکا پیدانہیں ہوا۔ مرزائی اس کے جواب میں کہتے ہیں : یہ متشابہات میں سے ہے۔ جی !

اپنے جھوٹ پر کس طرح پردہ ڈالتے ہو ؟

تو عرض یہ ہے کہ غلام احمد قادیانی کی پیشین گوئی جھوٹی نکلتی تھی۔ تو ہمارے بزرگ کہتے تھے : بد بخت کی پیشین گوئی یہ بھی جھوٹی اور وہ بھی جھوٹی ہے تو بجائے اپنی پیشین گوئی کو پورا کرنے یا اس کے صداقت ہونے پر کوئی دلیل دے۔وہ جواب میں کہتا تھا : یہ حضرات بھی وہی عادتیں اور خصلتیں رکھتے ہیں جو یہودی بزرگ اور علماء رکھتے تھے کہ یہودی بزرگ بھی پیشین گوئی کے سمجھنے میں ٹھوکر کھاتے تھے اسی طرح امت محمدیہ کے یہ بزرگ بھی پیشین گوئی کے سمجھنے میں ٹھوکر کھاتے ہیں اور مشابہ میں میری پیشین گوئی کو نہیں سمجھ پارہے ہیں۔

مرزا کا حدیث کے بارے میں تصور

مرزا ملعون اپنی کتاب ’’اعجاز احمدی ‘‘میں لکھتا ہے:’’ میرے اس دعوی کی حدیث بنیاد نہیں بلکہ قرآن اور وحی ہے جو میرے اوپر نازل ہوئی،ہاں! تائیدی طور پر ہم وہ حدیثیں بھی پیش کرتے ہیں جو قرآن شریف کے مطابق اور میری وحی کے معارض نہیں،اور دوسری حدیثوں کو ہم ردی کی ٹوکری میں پھینک دیتے ہیں۔‘‘

(اعجاز احمدی ص۳۰، خزائن ج۱۹ ص۱۴۰)

آپ حضرات اس کی بیباکی کا اندازہ فرمائیںکہ جو حدیثیں میرے دعویٰ کے مطابق ہیں وہ تو ٹھیک ہیں، اور جو میرے دعویٰ کے متعلق یا میری وحی کے خلاف ہیں وہ سب ردی کی طرح ہیں۔ اس کے نزدیک اسماء الرجال،اسناد،جرح اور تعدیل کوئی معیار نہیں،موضوع سے موضوع حدیث اگر مرزا کے دعویٰ کے مطابق ہو تو فائدہ اٹھاتا ہے اور اس کے نزدیک وہ صحیح ہے۔اور جو حدیث صحیح ہو مگر مرزا کو اس سے فائدہ نہیں پہنچتا تو وہ ردی کی طرح پھینک دینے کو کہتا ہے۔یہ ہے

81

مرزا کا قرآن کے متعلق،حدیث پاک کے متعلق صحابہ اور بزرگوں کے متعلق،انبیاء اور خدا کے متعلق تصور اور عقائد ونظریات۔

مرزائیت امت سے ہٹ کر کوئی اور چیز ہے

تو جس طرح میں نے پہلا حوالہ آپ حضرات کی خدمت میں پیش کیا تھا، وہ خود کہتا ہے: ’’مسلمانوں سے ہمارا اختلاف خدا تعالیٰ کی ذات میں،نماز،روزہ،حج اور ہر چیز میں ہے۔‘‘ آپ حضرات نے واقعتادیکھ لیا کہ مرزائیوں کے جو تمام تر عقائد ہیںوہ امت کے ہر عقیدے کے خلاف ہیں۔امت مسلمہ کا اور مرزائیوں کا عقیدہ ایک نہیں،نہ قرآن کے متعلق،نہ حدیث کے متعلق،نہ تو انبیاء(علیہم السلام) اور صحابہ(رضوان اللہ علیہم اجمعین) کے متعلق اورنہ خدا کی ذات کے متعلق۔ مرزائی یکسر امت مسلمہ سے ہٹ کر کوئی اور چیز ہے!۔بس آج ہمارا مقصد یہی ہے۔اللہ کو منظور ہوا تو باقی معروضات کل عرض کروںگا۔

وآخر دعوانا ان الحمد للہ رب العالمین

مولانا اللہ وسایا کے قیام برطانیہ کا مقصد و روئیداد

بعد ازیں مولانا عبد الرشید ربانی صاحب (دامت برکاتہم )کا مختصر بیان ہوا ،جو مندرجۂ ذیل ہے:

یہ تقریب مسئلۂ ٔ ختم نبوت کے سلسلہ میں منعقد ہورہی ہے۔اس تقریب میں پاکستان کے مشہور و معروف عالم اور مجلس تحفظ ختم نبوت کے مرکزی مبلغ،فاتح ربوہ (موجودہ چناب نگر) اور جامع مسجد ختم نبوت کے خطیب حضرت مولانا اللہ وسایا صاحب دامت برکاتہم جو بزرگوں کے قافلہ کے ساتھ تشریف لائے تھے ،باقی بزرگ اس وقت واپس جا چکے ہیں۔اور حج کرکے پاکستان پہنچنے والے ہیں۔

اور ایک خوشخبری یہ ہے کہ حضرت مولانا عبد الحفیظ مکی کے ساتھ حضرت مولانا فضل الرحمن صاحب ،جو مفتی محمود صاحب ؒ کے فرزند ہیں۔اور پاکستان اور وہاں کی سیاسیات میں مشہور و معروف ہیںوہ بھی اور واعظ حرم حضرت مولانا محمد مکی صاحب مد ظلہ اور مولانا فضل الرحمن صاحب کے مدرسہ کے مہتمم اور ان کے نائب مولانا محمد یٰسین صاحب اور دوسرے حضرات کا قافلہ بارہ یا

82

پندرہ کو یہاں پہنچنے والا ہے۔ جو انشاء اللہ قادیانیت کے بارے میں مسلسل چند ہفتوں تک کام کریں گے، ترتیب بنے گی ان شاء اللہ! ۔ حضرت مولانا اللہ وسایا صاحب(مدظلہ) اسی قافلہ کے ایک فرد عظیم ہیں۔مولانا جب سے آئے ہیں، ختم نبوت کے سلسلہ میں مصروف ہیں۔

خود فرماتے ہیں : اللہ تعالیٰ نے ختم نبوت کی خدمت کے لئے مصروف کر رکھا ہے۔کہیں بیان ہوتا ہے ، کہیں تقریر ہوتی ہے، اور کہیں علماء میں خصوصی باتیں ہوتی ہیں۔علماء تمام نوٹس ،نکات اور بیانات لکھتے ہیں ۔جو اس سلسلہ میں ضروری ہیں۔پوری ترتیب کی اطلاع ’’باٹلی‘‘ کے علماء کرام کے اشتہار کے ذریعہ ہوچکی ہے۔اسی سلسلہ کی تقریب اور مجلس ہے جو کل پرسوں تک جاری رہے گی ، اس کے بعد جمعرات اور جمعہ کا جو پروگرام ہے۔ وہ ’’جمعیۃ العلماء برطانیہ‘‘ کے صوبہ ’’یورک شائر‘‘ کے صدراور جمعیۃ کے مرکزی ذمہ دار حضرت مولانا احمد پانڈور صاحب مد ظلہ جو اس وقت یہاں موجود ہیں ’’بریڈ فورڈ‘‘ کا پروگرام بتائیں گے۔ تو یہ سلسلہ ان شاء اللہ ہفتہ تک جاری رہے گا۔

قادیانی جعل ساز و دھوکہ باز ہیں

میں یہ سمجھتا ہوں کہ فتنۂ قادیانیت نے اس وقت جس قدر تیزی کے ساتھ اور جس زبردست مہم کے ساتھ اپنی مذموم کوشش کے ساتھ پورے یورپ اور برطانیہ میں تحریراً وتقریراً اور ہر فرد کے پاس جاجاکر اور اپنے تمام وسائل کو بروئے کار لا کر جال پھیلانا شروع کیا ہے۔اس کے مقابلہ میں ہماری کوشش بہت کم ہے ۔اس کو بار آور کرنے کے لئے یہ ضروری ہے کہ حضرت مولانا کے پروگرام کی زیادہ سے زیادہ تشہیر کی جائے۔اس کوکامیاب کیا جائے۔اس کے بعد باقاعدہ قادیانیت کی بیخ کنی کے لئے ایک سلسلہ وار مہم چلائی جائے اور اس کے لئے ایک کمیٹی بنائی گئی ہے اس کے ساتھ تعاون کیا جائے،تاکہ ا ن بچوں کا جو مقدمہ ۱۶ ؍تاریخ کو شروع ہونے والا ہے اس میں ہم سرخ رو ہو سکیں۔

اور اس کے علاوہ بھی قادیانیوں کے لٹریچر کے مقابلہ میں لٹریچرز اور بیانات کے مقابلہ میں بیانات اور جلسے وجلوس کے مقابلہ میں جلسے وجلوس کی ہمیں اپنے طور پر پوری تیاری کرنا چاہئے،کتابیں مہیا کی جائیں ، اور باقاعدہ مختلف موقع پر بیانات کے ذریعہ وضاحت کی جائے ۔

83

کیونکہ قادیانی جعل ساز اور دھوکہ باز ہیں۔اسلام کا لبادہ اوڑھ کر اسلام کا نام لے کر دھوکہ دیتے ہیں۔یہ کھلے کافروں سے زیادہ خطرناک کافر اور مرتد ہیں،یہ زیادہ خطرناک ہمارے لئے اور ہمارے بچوں کے لئے ہوسکتے ہیں۔اسلام کا نام لے کر اور احمدیت کا لفظ استعمال کرکے ،مسلم کا لفظ استعمال کرکے یہ آتے ہیں اور قادیانیت کی تبلیغ اور پرچار کرتے ہیں۔

اس لئے میں سمجھتا ہوں کہ نوجوان جید فاضل علماء کرام نیز عوام الناس اس کار خیر میں اپنا قیمتی وقت دے رہے ہیں،ان شاء اللہ! وقت کی یہ قربانی ان کے لئے نجات کا ذریعہ بنے گی۔ حضرت خاتم النّبیینaکی شفاعت کے مستحق بنیں گے،آمین۔ اور آخرت میں ان کے لئے یہ بڑا ذخیرہ ہوگا۔اللہ تعالیٰ ہمیں سننے اور سمجھنے کی توفیق عطا فرمائے ۔اورہر طرح قربانی دینے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین!

وآخردعوانا ان الحمد للہ رب العالمین

فللّٰہ الحمد والشکر واللہ ھو الموفق

والسلام علی من ا تبع الھدیٰ۔

84

تیسرا درس

(مرزا غلام احمد قادیانی کی سیرت و کردار)

85

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ

الحمدللہ وکفٰی وسلام علیٰ سید الرسل وخاتم الانبیاء وعلیٰ اٰلہ واصحابہ اللذین ہم خلاصۃ العرب العرباء وخیرالخلائق بعد الانبیاء۰ اما بعد۰فاعوذ باللہ من الشیطٰن الرجیم۰بسم اللہ الرحمٰن الرحیم۰فقد لبثت فیکم عمرا من قبلہ افلا تعقلون۰ قال النبیﷺ للقریش: اکنتم مصدقی قالوا نعم ماجربنا علیک الاصدقا۰اللّٰہم صل علیٰ سیدنا محمد عبدک ورسولک وصل کذلک علیٰ جمیع الانبیاء والمرسلین وعلیٰ الملائکۃ المقربین وعلیٰ عباداللہ الصالحین۰ اجمعین الیٰ یوم الدین۔

جھوٹے نبی مرزا کی ذاتی سیرت ملاحظہ ہو

میرے عزیزبھائیو! دوستو اور بزرگو! میں آج کی اس نشست میں آپ حضرات کو مرزاغلام احمد کے حالات سنانا چاہتا ہوں۔ مرزا غلام احمد قادیانی کے مرنے کاعبرتناک انجام ،اس کی موت کی باتیں،یہ مختلف عنوانات کے تحت ہوتی رہیں، اور چلتی رہیں۔اتفاق کی بات ہے کہ اس سلسلہ کا ایک لکھا لکھایا رسالہ مل گیاہے،اس میں مرزا غلام احمد قادیانی کا غیر محرم عورتوں کے ساتھ اختلاط جو ہوا کرتا تھا وغیرہ ،اس کی ساری تفصیل اس کے اندر موجود ہے۔مرزا غلام احمد کی موت کس طرح واقع ہوئی،اس کو کون کون سی بیماری تھی،مرگی تھی،مراق کا دورہ پڑتا تھا،الٹی سیدھی جوتی کا خیال نہ کرتا تھا،ذیابیطس کی بیماری تھی،سلس البول تھا،نامرد تھا،ہیضہ کی موت مرا، وغیرہ، یہ ساری تفصیلیں حوالوں کے ساتھ اس میں موجود ہیں۔بیس کاپیاں ہیں سب حضرات میں تقسیم ہو جائیں گی۔

جھوٹے نبی کے دعاوی کی فہرست

حضرات !یہ مستقل ایک بحث ہے کہ مرزا غلام احمد قادیانی نے کیا کیا دعاوی کئے،اس سلسلہ میں سب سے پہلے حضرت مولانا مفتی محمد شفیع صاحبؒ نے ایک رسالہ بنام ’’دعاوی ٔ مرزا‘‘ لکھا،انہوں نے مرزا غلام احمد قادیانی کے ۳۶ دعاوی اکٹھے کئے تھے،مرزاقادیانی نے یہ کہا، وہ کہا، میں یہ ہوں اوروہ ہوں۔

86

ایک مولانا ابو البشیر عرفانی تھے، انہوں نے مذکورہ ۳۶ دعاوی پر مزید اضافہ کرکے ۷۱ کے قریب اس کے دعاوی کتابی شکل میں جمع کئے ہیں۔وہ’ الہامی گرگٹ ‘کے نام سے چھپ گئی ہے۔مرزا غلام احمد قادیانی کی کتاب ’’تذکرہ‘‘ جس کا تذکرہ بار بار آتا رہا،اسے میں نے چارپانچ بار پڑھا ہے۔دعاوی کو نئے سرے سے مرتب کیا تو ان کا مجموعہ ۲۰۴ دعاوی بنتے ہیں۔یہ ایک مستقل علیحدہ رسالہ کی شکل میں چھپا ہے۔اب وہ نایاب ہوگیا ہے۔دو بارہ چھپ رہا ہے۔

حضرت مولانا تاج محمود صاحبؒ ہمارے ایک بزرگ رہنما ہیں،انہوں نے ایک رسالہ ’’قادیانی عزائم و عقائد‘‘کے نام سے لکھا ہے، اس کے ضمیمہ کے طور بھی مرزا غلام احمد قادیانی کے یہ ۲۰۴ دعاوی چھپ چکے ہیں۔ مثلًا:

کہیں کہتا ہے: میں عاجز ہوں،احقر ہوں،احقر العباد ہوں،بشر ہوں ،مرزا ہوں،غلام احمد ہوں،چینی الاصل ہوں،مغل برلاس،سیّد،خاک سار،ناچیز،ناکارہ،نالائق،پر خطا،کرم خاکی،محافظ، پہریدار ، کتوں کا ڈاکٹر، سوّرمار، لنگورمار، اوتار، کرشن، امین الملک، جے سنگھ، رودرگوپال، حکم، سپہ سالار، گورنر جنرل گواہ، مجسٹریٹ، ایلچی،عالی قدر، آریوں کا بادشاہ، بادشاہ سلامت، آسمانی بادشاہ، آسمانی خاوند، جوان، فارسی جوان، مرد سلامت، مرد بہادر، شیر خدا، توحید خدا، فرشتہ ٔ خدا، پسندیدہ ٔ خدا، وقار خدا، ہمراز خدا، مظہر خدا، آئینہ ٔ خدا، نور خدا، عرش خدا، خداکی بیوی، (نعوذ باللہ)نطفہ ٔ خدا، خدا کا بیٹا، خدا کا باپ، میں اعلیٰ ہوں، احمد ، محمد، محمد رسول اللہ، محمد احمد زماں ہوں۔

جھوٹا نبی مرزا معجون مرکب تھا

کہیں کہتا ہے : میں احمد مختار ہوں، خاتم الانبیاء ہوں،خاتم الخلفاء ہوں،نبی ہوں ،نبی اللہ ہوں،رسول اللہ ہوں،رسول اللہ کا بیٹا ہوں،احمد مقبول ہوں،سراج منیر ہوں،مدثر ہوں،امین ہوں،رحمۃ للعالمین ہوں،صاحب کوثر ہوں،سلطان احمد ہوں،غوث محمدہوں،محمد مصلح،یٰسین، خیر الانام، حضور ﷺ سے بھی افضل ہوں،(نعوذ باللہ!)میں مامور من اللہ ہوں،اوّل المومنین،مصلح بالہدیٰ ہوں،میں آدم ہوں ، شیث ہوں ،نوح ہوں،ابراہیم ہوں ،اسحاق ہوں،اسماعیل ہوں، یوسف ہوں،موسیٰ ہوں ،عیسیٰ ہوں۔

87

اس طرح کے اس کے سارے دعاوی اس کتاب کے ضمیمہ کے طور پر چھپے ہوئے ہیں۔ غرض اس نے جتنی بکواس کی ہے وہ سب چھپی ہوئی ہے۔مزید کوشش کی جائے تو اس کے اور دعاوی بھی مل سکتے ہیں،آخر میں اس کا دعویٰ ہے کہ میں معجون مرکب ہوں۔(یہ ایک ہی رسالہ ہے، وہاں تو کافی ہیں۔میں مولانا کو دیتا ہوں تاکہ یہاں ریکارڈ کے طور پر رہے)

کل میں نے آپ حضرات کی خدمت میں عرض کیا تھا کہ مرزائیوں کے نزدیک مدار نجات غلام احمد قادیانی ہے۔اس کا ایک حوالہ ملا ہے وہ میں آپ حضرات کو لکھوا دیتا ہوں۔

مرزا کی وحی مدار نجات

چونکہ میری تعلیم میں امر بھی ہے اور نہی بھی ہے نیز شریعت کے ضروری احکام کی تجدیدبھی ہے۔اس لئے خدا تعالیٰ نے میری تعلیم کو اور میری اس وحی کو جو میرے اوپر ہوتی ہے‘’فلک‘ یعنی کشتی کے نام سے موسوم کیا ہے۔جیساکہ ایک الہام الٰہی کی عبارت یہ ہے:واصنع الفلک با عیننا الخ، ان الذین یبایعونک انما یبایعون اللہ ،ید اللہ فوق ایدیہم۔

(اربعین نمبر۴ ص۶ حاشیہ، خزائن جلد۱۷ ص۴۳۵،مصنفہ مرزا قادیانی)

مرزا قرآن مجید کی بے شمار آیتوں کو خود اپنی ذات پر چسپاں کرتا تھا

آپ حضرات اندازہ فرمائیں کہ یہ قرآن مجید ہے جو حضور(ﷺ) کی ذات گرامی پر نازل ہوا،آپ کو یہ کہا گیا کہ آپ کے صحابہ کرام (رضوان اللہ علیہم اجمعین) جو آپ کے ہاتھ پر بیعت کررہے ہیں آپ کے ہاتھ پر بیعت نہیں کررہے ہیں بلکہ اللہ رب العزت کے ہاتھ پر بیعت کررہے ہیں۔

مرزا غلام احمد قادیانی کہتا ہے: یہ آیتیں قرآن مجید کی میرے اوپر نازل ہوئی ہیں،اور یہ میری وحی اور میرا الہام ہے۔اسی طرح قرآن مجید میں’’ محمد رسول اللہ ‘والذین معہ اشداء‘‘کے بارے میں کہتا ہے: یہ آیت میرے اوپر نازل ہوئی اور اس وحی ٔ الٰہی میں میرا نام ’محمد‘ رکھا گیا ہے اور رسول بھی۔ (دیکھئے! ایک غلطی کا ازالہ ص۳، خزائن جلد۱۸ ص۲۰۷)

اس قسم کی اس کی بیشمار بکواس ہیں۔مثلًا: یٰس والقرآن الحکیم کے متعلق اور وما ارسلنٰک الا رحمۃً للعالمین کے متعلق کہتا ہے: یہ میری وحی ہے اور مجھ پر نازل ہوئی ہے

88

(دیکھئے! تذکرہ ص۴۷۹، ۳۸۵، ۸۱) (دیکھئے! تذکرہ ص۶۷۴) اور یا ایھا المدثر (تذکرہ ص۵۱) اور اس قسم کی جتنی آیات حضور(ﷺ) کی توصیف میں قرآن مجید میں نازل ہوئی ہیں، ان آیات کو مرزا غلام احمد اپنے اوپر نازل شدہ وحی بتا تا ہے اور ان کا مصداق اپنے آپ کو قرار دیتا ہے۔ نعوذ باللہ۔’’یعنی اس تعلیم اور تجدیدکی کشتی کو ہماری آنکھوں کے سامنے ہماری وحی سے بنا ، الخ ، جو لوگ تجھ سے بیعت کرتے ہیںیہ خدا کا ہاتھ ہے جو ان کے ہاتھوں پر ہے۔(بالکل قرآن مجید کی آیات کا اپنے آپ کو مصداق قرار دے رہا ہے‘‘)

ا ب دیکھو! خدانے میری وحی اور میری تعلیم اور میری بیعت کو نوح ِ کی کشتی قرار دیا،تمام انسانوں کے لئے میری وحی کو مدارِنجات ٹھیرایا،جس کی آنکھیں ہیں وہ دیکھیں اور جس کے کان ہوں وہ سنیں ۔ (اربعین نمبر۴ ص۶ حاشیہ، خزائن جلد۱۷ ص۴۳۵، از مرزا غلام احمد قادیانی)ایک ہی عبارت میں مرزا غلام احمد قادیانی نے کئی باتیں کہی ہیں۔وہ خود کہتا ہے : کہ لوگ ہمیں کہتے ہیں: مرزا غلام احمدنے دعویٰ کیا ہے کہ وہ مجدد تھا،( اس کے ماننے والے یہی کہتے ہیں ) نبی نہیں مانتے، وہ کہتے ہیںاگر نبی تھے تو غیرتشریعی نبی تھے۔

میں بھی صاحب شریعت ہوں

مرزا غلام احمد قادیانی کہتا ہے: یہ لوگ مجھے غیر تشریعی ہونے کا طعنہ دیتے ہیں،میں ان سے پوچھنا چاہتا ہوں کہ صاحب شریعت کسے کہتے ہیں؟صاحب شریعت وہی ہوتا ہے جس کی وحی میں امر بھی ہوتا ہے اور نہی بھی۔کہتا ہے : اس تعریف کی رو سے میرے مخالف ملزم ہیں۔اس لئے کہ میری وحی میں امر بھی ہے اور نہی بھی۔یعنی میں صاحب شریعت ہوں۔اور کہتا ہے : ماسوا اس کے یہ بھی سمجھو کہ شریعت کیا چیز ہے ؟ جس نے امر و نہی کے ذریعہ چند امر بیا ن کئے، اپنی امت کے لئے قانون مقرر کیا،وہی صاحب شریعت ہو گیا،پس اس تعریف کی رو سے ہمارے مخالف ملزم ہیںکہ میری شریعت میں امر بھی ہے اور نہی بھی(حوالہ مذکورہ بالا)

نجات صرف ان لوگوں کی ہوگی جو مجھ پر ایمان لائیں گے

اس نے صرف نبوت کا نہیں صاحب شریعت ہونے کا دعویٰ کیاہے،صاحب شریعت ہونے کا دعویٰ کرکے یہ کہتا ہے: یہ میری جو وحی ہے اس کو اللہ تعالیٰ نے کشتی ٔ نوح قرار دیا ہے۔نوح(علیہ السلام) کے طوفان سے وہی لوگ بچے تھے جو کشتی میں سوار تھے۔اب بھی نجات

89

صرف ان لوگوں کی ہوگی جو مجھ پر ایمان لے آئیں گے،میں ہی مدار نجات ہوں،جو لوگ مجھ پر ایمان لائیں گے،میری تعلیمات مانیں گے ،مرزائی بنیںگے وہی نجات پائیںگے،جو لوگ حضور(ﷺ) کی شریعت پر عمل کرتے ہیں ان کی قطعًا نجات نہیں ہوگی،نجات صرف ان لوگوں کی ہوگی جو مجھ پر ایمان لائیں گے۔

دنیا کے تمام مسلمان جو مرزا غلام احمد کو نبی نہیں مانتے

وہ سب جہنم میں جائیں گے

اب آپ حضرات سوچیں کہ اگر مرزا غلام احمد قادیانی کی تعلیمات مدار ِنجات ہیںتو کیا حضور(ﷺ) کی تعلیمات منسوخ ہوگئیں؟پھر ان کی تو کوئی قدر و قیمت نہ رہی۔

(اربعین از مرزا غلام احمد قادیانی )

غلام احمد قادیانی اپنی نبوت کو مدار نجات کہتا ہے۔آپ اور میں اور دنیا کے تمام مسلمان جو مرزا غلام احمد قادیانی کو نبی نہیں مانتے وہ سب مرزا کے عقیدے کے مطابق جہنمی ہیں ،جہنم میں جائیںگے۔ (دیکھئے! مجموعہ اشتہارات جلد۳ ص۲۷۵، تذکرہ ص۶۰۷) نجات صرف ان لوگوں کی ہوگی جو صرف قادیانی ہیں۔(نعوذ باللہ )

مرزائی کا لفظ ان کا پسندیدہ محبوب اور احمدی کہنے کا حق ہم ان کو نہیں دیں گے

میںنے پرسوں کی معروضات میں عرض کیا تھاکہ مرزائیوں کو جب ہم مرزائی کہتے ہیں تو کہتے ہیں کہ یہ تنابز بالالقاب ہے،قرآن کہتا ہے کہ لا تنابزوا بالالقاب۔یہ شریعت و قرآن کی تعلیمات کے منافی ہے۔ہمارا نام ’’احمدی‘‘ ہے۔ ہمیں اس نام سے پکارا جائے۔نہ کہ مرزائی کے نام سے۔ان کے اخبار کا حوالہ میں نے آپ حضرات کی خدمت میں عرض کیا تھاکہ مرزا غلام احمد قادیانی کی موجودگی میں سنہ ۱۹۰۷ء میں ان کی جماعت کے ایک شاعر نے ’’محمد علی مرزائی‘‘ کی شان میں تعریف میں اشعار پڑھے ۔ اس میں شاعر نے کہا : ’’ یہی ہیں پکے مرزائی یہی ہیںپکے مرزائی ‘‘اس کی نظم جلسہ میں بھی پڑھی گئی،غلام احمد کے زمانہ میں پڑھی گئی،ان کی زندگی میں ان کے اخبار میں شائع ہوئی،کسی مرزائی نے کوئی نکیر نہیں کی،تو اس سے ثابت ہواکہ مرزائی کے لئے ’’ مرزائی ‘‘ کا لفظ پسندیدہ اور محبوب نام

90

ہے۔’’احمدی‘‘ کہنے کا ہم ان کو حق نہیں دیتے اس لئے کہ یہ ہمارے نبی (ﷺ) کا نام ہے۔

جھوٹے نبی کے پہلے خلیفہ نے مرزائی کا لفظ اپنے لئے استعمال کیا تھا

اس ضمن میں ایک اور حوالہ تحریر فرمائیے:(کلمۃ الفصل از مرزا بشیر احمد ص۱۵۳)مرزائی جماعت کے پہلے سربراہ حکیم نور الدین کا ۵ جولائی ۱۹۰۷ کا ایک فتویٰ چھپا ہے۔وہ کہتے ہیں: ’’میرے خیال میں میں اور اکثر عقلمند مرزائی…‘‘ ،یہ ان کا پسندیدہ لفظ ہے جو مرزا غلام احمد قادیانی کی موجودگی میں یہ لفظ کہا گیا اور ان کے اخبار میں چھپا،اور ان کی جماعت کا پہلا خلیفہ ’’حکیم نور الدین‘‘ نے بھی اسے تسلیم کیاکہ میں اور اکثر عقلمند مرزائی الخ:تو اس نے اپنی جماعت کے لئے یہ لفظ استعمال کیا تو یہ تنابز بالالقاب نہیں ہے بلکہ عین حقیقت ہے۔لہٰذا یہ مرزائی کا لفظ اس نے مرزائی جماعت کے لئے استعمال کیا ،تو ہم جب ان کو مرزا ئی کہیں گے تو یہ تنابز بالالقاب نہیں ہوگا ۔

مرزاقادیانی کی دو بعثتیں ہیں : ایک مکہ میں اور دوسری قادیان میں

حضرت مولانا محمد یوسف صاحب لدھیانویؒ کے ایک رسالہ کا حوالہ ہے کہ مرزا قادیانی کے ایک مرید نے مرزا قادیانی کے سامنے یہ شعر پڑھے:

  1. محمد پھر اتر آئے ہیں ہم میں

    اور آگے سے ہیں بڑھ کر اپنی شان میں

  2. محمد دیکھنے ہوں جس نے اکمل

    غلام احمد کو دیکھے قادیان میں

(اخبار بدر قادیان مورخہ ۲۵؍اکتوبر ۱۹۰۶ء)

مرزا قادیانی نے ان اشعار کو پسند بھی کیا اور فریم کراکے اپنے کمرے میں لٹکابھی دیا۔

مرزائیوں کے نزدیک حضور (ﷺ) کی دو بعثتیں ہیںایک مکہ کی اور دوسر ی قادیان کی۔ ایک! آمنہ کے بطن سے عبد اللہ کے گھر میں مکہ میں پیدا ہوئے،اور دوسرے! قادیان میں مرزا غلام احمد کی شکل میں پیدا ہوئے ۔ (العیاذ باللہ) مرزائیوں کے نزدیک حضور (ﷺ) کی پہلی پیدائش پہلی رات کے چاند کی مانند تھی۔اور مرزا کی شکل میں جوہے وہ چودھویں کے رات کے چاند کی مانند ہے۔(نعوذ باللہ ) مرزائیوں کے نزدیک حضور(ﷺ) کی دوسری بعثت جو مرزا کی شکل میں ہوئی یہ حضور (ﷺ) کی پہلی بعثت سے جو مکہ میں ہوئی روحانی مراتب سے اشد،اکمل اور اقویٰ ہے۔

91

ان کے گھر کا مسئلہ ہے ،وہ فیصلہ کریں کہ باپ سچا یا بیٹا سچا

حقیقت میں دونوں جھوٹے ہیں

اس کے متعلق اس کا ایک شاعر کہتا ہے ؎

  1. ایک دفعہ محمد پہلے آئے تھے

    ایک دفعہ اب آئے ہیں

  2. جو اب آئے ہیں وہ پہلے سے

    شان میں بڑھے ہوئے ہیں

جو اس پیراگراف میں مذکور و موجود ہے۔اس کا آج کل مرزائی عموماً یہ جواب دیتے ہیں۔

میرے پاس احمدیہ جماعت کی پاکٹ سائزنوٹ بک ہے،اس میں ہم جوکچھ اعتراض کرتے ہیں وہ اس کے جوابات دیتے ہیں۔پھر ان کے جوابات ہم تیار کرتے ہیں،دشمنوں سے جو مقابلہ ہوا،ان میں ان شعروں کا یہ جواب دیا گیا : احمدیہ پاکٹ میں قاضی نذیر (مرگیا مردود) یہ کہتا ہے کہ میں یہ شعر لے کر مرزائی جماعت کے دوسرے سر براہ مرزا بشیر الدین کو میں نے رقعہ لکھا کہ مسلمان ہمارے اس شعر پر اعتراض کرتے ہیںاور کہتے ہیں کہ ان اشعار میں حضور (ﷺ)کی توہین کا پہلو نکلتا ہے۔

اب آپ ارشاد فرمائیں: اس کے متعلق کیا حکم ہے؟تو وہ کہتا ہے: حضرت صاحب نے مجھے یہ تحریر لکھ کر بھیجی ،تحریر بھی نقل کی ہے،واقعۃً بادی النظر میںان اشعار سے حضور (ﷺ)کی توہین کا پہلو نکلتا ہے،ان شعروں کو ختم کردیا جائے۔ان اشعار سے ہماری جماعت کا کوئی تعلق نہیں۔مرزائی اس کا یہ جواب دیتے ہیں لیکن ان کا یہ جواب بھی بودا ہے۔کیونکہ اس کی کوئی حقیقت نہیں۔

وہ رسالہ موجود ہے،جس رسالہ میں ’’ظہور الدین‘‘ کے یہ اشعار چھپے ہیں، تو جب اس ’’ظہور الدین‘‘ کو کہا گیا کہ یہ تیرے اشعار غلط ہیں۔اس نے کہا : تم میرے اشعار کو غلط کہنے والے کون ہو؟میں نے یہ اشعار مرزا غلام احمد قادیانی کی موجودگی میں پڑھے ہیں۔مرزا غلام احمد کا شرف سماعت ان اشعار کو حاصل ہے،ان اشعار کو سن کر مرزا غلام احمد نے تحسین کی ہے۔جزاک اللہ کہاتھا۔خوش خطی کی شکل میں لکھ کر اپنے گھر لے جاکر لٹکوایا تھا۔

نبی جو کام کرے وہ بھی شریعت میں حجت ہے،نبی کے سامنے کوئی کام کیا جائے اور نبی

92

خاموش رہے وہ بھی حجت،نبی کے سامنے کوئی کام کیا جائے اور نبی اس کی تحسین کردے وہ تو بدرجہ اتم و اعلیٰ حجت ہے۔

تو مرزا غلام احمد قادیانی ان اشعارکو سن کر جزاک اللہ کہتا ہے،تحسین کرتا ہے۔آپ نے بہت اچھے اشعار کہے ہیں۔اور اس کے بر خلاف ’’مرزا بشیر الدین‘‘ کہتا ہے: یہ اشعار بالکل غلط ہیں۔ان اشعار سے رسول اللہ (ﷺ) کی توہین نکلتی ہے۔

یہ تو ان کے گھر کا مسئلہ ہے ، وہ فیصلہ کریں کہ باپ سچا تھا یا بیٹا سچا تھا۔ہمارے نزدیک تو دونوں جھوٹے تھے۔(’’مرزا غلام احمد‘‘ کہتا ہے بہت اچھا اور ’’مرزا بشیر الدین‘‘ کہتا ہے کہ بالکل غلط) مرزا غلام احمد قادیانی کی ان اشعار کی تو ثیق کے بعد مرزائیوں کا یہ کہنا کہ ان اشعارکی ہمارے یہاں کوئی قدر نہیں۔اس کی کوئی حیثیت نہیں،اس لئے کہ مرزا غلام احمد جن ان اشعار کو صحیح کہتا ہے تو مرزائی اس سے جان نہیں چھڑا سکتے۔ان اشعارسے رسول اللہ (ﷺ) کی توہین ہوتی ہے یا نہیں؟مرزا بشیر الدین کہتا ہے کہ توہین نکلتی ہے۔آپ حضرات میری معروضات سمجھ گئے ہوںگے کہ میں کیا کہنا چاہتا ہوں۔(مذکورہ مضمون ملخصاً تحریر کیا جارہا ہے )

قاضی ظہور الدین اکملــ مرزائی شاعر نے ایک نظم کہی جو مرزائی جماعت کے اخبار ’’ بدر‘‘(قادیان ، جلد نمبر ۲،شمارہ نمبر ۴۳ مطابق ۲۵ ؍اکتوبر ۱۹۰۶) میں شائع ہوئی۔جس کے شعر یہ ہیں ؎

  1. محمد پھر اتر آئے ہیں ہم میں

    اور آگے سے ہیں بڑھ کر اپنی شان میں

  2. محمد دیکھنے ہوں جس نے اکمل

    غلام احمد کو دیکھے قادیان میں

اس کے متعلق مرزائی عمومًا یہ جواب دیتے ہیں کہ اس سے ہمارا کوئی تعلق نہیں۔چنانچہ مرزا بشیر الدین محمود کی ایک تحریر (احمدیہ تعلیمی پاکٹ ص ۲۰۸ ج۲) پر چھپی ہے ،جس میں اس نے لکھا ہے: ’’ان اشعارکی نسبت اور الفاظ ناپسندیدہ اور بے ادبی کے ہیں۔‘‘’’مگر ہمارے نزدیک قادیانیوں کا یہ عذر پسندیدہ نہیںہے۔ کیونکہ روزنامہ الفضل قادیان مؤرخہ ۲۲ اگست ۱۹۴۴ کی رپورٹ کے مطابق’’ یہ نظم مسیح موعود کی موجودگی میں پڑھی گئی،اور خوش خط لکھے ہوئے قطعہ کی صورت میں پیش کی گئی ،اور حضور اپنے ساتھ اسے اندر لے گئے۔حضرت مسیح موعود کا شرف سماعت حاصل کرنے اور جزاک اللہ کا صلہ پانے اور اس قطعہ کو خود اندر لے جانے کے بعد کسی کو کیا حق پہنچتا ہے کہ اپنی کمزوری اور قلت عرفان کا ثبوت دے۔‘‘

93

دیکھا آپ حضرات نے :غلام احمد تحسین کرتا ہے،جزاک اللہ کہتا ہے،اور مرزائی کہتے ہیں: اس سے ہمارا کوئی تعلق نہیں،یہ کون ہوتے ہیں انکار کرنے والے جب کہ غلام احمد قادیانی نے خود تسلیم کیا ہے ؟ اور مرزائی جماعت کا سر براہ کہتا ہے: اس سے حضور(ﷺ) کی توہین نکلتی ہے۔سخت بے ادبی ہے ، ناپسندیدہ ہے۔جو الفاظ ناپسندیدہ اور بے ادبی کے تھے انہی الفاظ کے بارے میں مرزا غلام احمد قادیانی کہتا ہے: ’جزاک اللہ‘ ۔

مرزا غلام احمد قادیانی کے کریکٹر اور کردار کے متعلق ایک حوالہ عرض کرنا چاہتا ہوں

ان حوالوں کا لکھنے لکھانے سے ہمارا مقصد صرف یہ ہے کہ مرزا غلام احمد قادیانی اپنے عقیدے کے مطابق اپنے آپ کو حضور (ﷺ)سے(نعوذ باللہ) افضل قرار دیتا ہے،نبوت تو در کنار،شریف انسانوں کی صف میں بیٹھنے کے قابل بھی نہ تھا۔جس کا غیر محرم عورتوں کے ساتھ اختلاط ہو،مرزا غلام احمد کو کھانا کھلانے والی عورت غیر محرم ہوتی تھی۔ (دیکھئے! سیرۃ المہدی حصہ اوّل ص۲۳۴) اس کے لئے استنجاء کے لوٹے میں پانی لے جانے والی عورت غیر محرم ہوتی تھی۔ (سیرۃ المہدی حصہ سوم ص۲۴۳) اس کی خاص خدمت گزار عورتیں غیر محرم ہوتی تھیں۔ (سیرۃ المہدی حصہ سوم ص۱۲۶) غیر محرم عورت مسمّیٰ بھانو ،مرزا غلام احمد کی ٹانگیں دبایا کرتی تھی۔ (سیرۃ المہدی حصہ سوم ص۲۱۰) اسی طرح اس کی پہرے دینے والی عورت غیر محرم ہوتی تھی۔ (سیرۃ المہدی حصہ سوم ص۲۱۳)

مرزا غلام احمد قادیانی اپنا بچا ہوا قہوہ جس کو پلایا کرتا تھاوہ عورت غیر محرم تھی۔ (سیرۃ المہدی حصہ سوم ص۲۶۶) غیر محرم عورتوں سے مرزا غلام احمد قادیانی اپنی نظم کے قافیہ درست کروایا کرتا تھا (سیرۃ المہدی حصہ سوم ص۲۴۳) مسلسل تین مہینہ تک مرزا غلام احمدقادیانی کو رات کو سوتے وقت پنکھا جھلنے والی عورت غیر محرم تھی۔اس نے خود ایک کانفرنس کے موقع پر بھی یہی عرض کیا تھا: میں ساری رات لگی رہتی تھی۔عشاء کی اذان سے صبح کی اذان تک حضرت کی ساری رات خدمت کرتی رہتی تھی۔اور یہ کہتی تھی: مجھے حضرت کی خدمت کرنے کا ساری رات موقع ملا۔پھر بھی مجھے ان حالات میں نہ نیند آتی تھی ،نہ غنودگی،بلکہ سرور اور خوشی محسوس ہوتی تھی۔‘‘ (سیرۃ المہدی حصہ سوم ص۲۷۲،۲۷۳) یہ اس بدمعاش کا کیریکٹر اور کردار تھا۔

94

جھوٹا مرید کہتا ہے:مجھے لمبے منہ والی پسند ہے اور جھوٹے نبی کو گول منہ والی پسند

میں نے آپ حضرات کی خدمت میں عرض کیا تھا کہ مرزا غلام احمد قادیانی کاایک مرید جب اس کی بیوی مرگئی اور اس کو دوسری بیوی کی ضرورت تھی تو اس نے مرزا غلام احمد قادیانی سے اس سلسلہ میں گفتگو کی۔

تو مرزا غلام احمد قادیانی نے اپنے گھر میں تعلیم و تربیت کے لئے آنے والی لڑکیوں کو ان کے سامنے لے جاکر کہتا ہے : تم ان کو دیکھو اور پسند کرو،ان میں سے تم کو کونسی پسند ہے؟مرزا غلام احمد قادیانی جو نبی ہونے کا مدعی ہے غیر محرم عورتوں کو ایک اجنبی کے سامنے لاکر کہتا ہے کہ تم اس کا نظارہ کرو!

وہ مرید جو غلام احمد کا صحابی ہے ان کا نظارہ کرتا ہے، پھر نبی اور صحابی مل کر تبصرہ کرتے ہیں۔ان عورتوں کا حسن و جمال کیساتھا؟مرید کہتا ہے : مجھے لمبے منہ والی پسند ہے۔غلام احمد کایہ صحابی بکواس کرتا ہے۔نبی صاحب کہتے ہیں: لمبے منہ والی اچھی نہیں ہوتی،گول منہ والی اچھی ہوتی ہے۔ (دیکھئے! سیرۃ المہدی حصہ اوّل ص۲۵۹) اب آپ حضرات اندازہ فرمائیں کہ یہ نبوت ہے یا نبوت کے ساتھ بد ترین مذاق!

پورے واقعہ پر غور فرمائیں اور خود فیصلہ کریں

یہ حوالہ’’ مجھ سے بیان کیا عبد اللہ سنوری نے،(سنوری کیوں کہتے ہیں، جس طرح ہماری حدیث میں ہوتا ہے عن ابی ھریرؓۃ، عن ابی سعید الخدریؓ وغیرہ۔یہ اس کی نقل لگا کر کہتے ہیں: میاں عبد اللہ سنوری نے مجھ سے بیان کیا۔بعینہ نقل اتارنے کی کوشش کی ہے‘‘)

جب میاں ظفر احمد کپور تھلوی کی پہلی بیوی کا انتقال ہواتو دوسری بیوی کی تلا ش ہوئی،تو ایک دفعہ حضرت صاحب نے ان سے کہا: ہمارے گھر میں دو لڑکیاں رہتی ہیں، ان کو میں لاتا ہوں آپ ان کو دیکھ لیں،ان میں سے آپ کو جو پسند ہیں ان کے ساتھ بعد میں آپ کی شادی کرادی جائے گی۔(یہ نبی ہے یا شادی رچانے کی دوکان کھولی ہے)چنانچہ حضرت صاحب گئے،دونوں لڑکیوں کو لاکر باہر کردیا،پھر اندر آکر کہتا ہے: لڑکیاں باہر کھڑی ہیں آپ دیکھ لیں۔چنانچہ میاں ظفر نے ان کو دیکھ لیا،پھر حضرت صاحب نے ان لڑکیوں کو رخصت کردیا،اس کے بعد میاں ظفر سے کہنے لگے : تم کو کونسی لڑکی پسند ہے؟ وہ نام نہیں جانتے تھے، لھٰذا کہا کہ جس کا منھ لمبا ہے وہ اچھی ہے۔

95

حضور فرمانے لگے : میرے خیال میں دوسری لڑکی اچھی ہے جس کا منھ گول ہے ،پھر فرمایا : جس کا چہرہ لمبا ہوتا ہے وہ بیماری کے بعد عموماً بد نما ہوجاتا ہے۔لیکن گول چہرے کی خوبصورتی قائم رہتی ہے(سیرۃ المہدی حصہ اوّل ص۲۵۹)یہ نبوت ہے یا مذاق۔دنیا کا بدترین آدمی، بد اخلاق انسان،بازاری آدمی بازار کے اندر کھڑے ہوکر یہ زبان استعمال نہیں کرسکتا،جو مرزا غلام احمد کی تعلیمات میں پائی جاتی ہے۔قادیانیت کی یہ ساری کائنات اسی کا نچوڑ ہے۔

مرزا غلام احمد کے چند اشعار میں آپ کو لکھوانا چاہتا ہوں

جو ان کی حدیث کی کتاب سیرۃ المہدی، میں موجود ہیں۔آپ وہ اشعار پڑھیں اور مرزا غلام احمد قادیانی کے ذوق کا اندازہ لگائیے۔کیا وہ’’ الّو کا پٹّھا ‘‘تھا؟

آخر انگریز جج نے بھی کہہ دیا :کہ یہ کوئی انسان تھا یا اُلوّ کا پٹھا تھا ؟

ہمارے حضرت مولانا محمد علی جالندھری ؒنے ایک دفعہ تقریر کرتے ہوئے مرزا غلام احمد قادیانی کو (تقسیم سے پہلے کی یہ بات ہے )’’ الّو کا پٹھا ‘‘کہہ دیا تھا۔انسان ہزار احتیاط کرے آخر انسان ہے۔لیکن جس وقت حضور(ﷺ) کی توہین کرے تو وہ کسی سے برداشت نہیں ہوتا۔جس بات پر مولانا نے اس کو’’ الّو کاپٹھا‘‘ کہہ دیا تھا اس بات پر یعنی الّو کا پٹھا کہنے پر مقدمہ چلا،اور یہ بات ریکارڈ پر موجود ہے۔ اس وقت انگریز جج تھا ،مولانا اس کے پاس گئے،(مولانا سیّد محمد انور شاہ کے شاگرد تھے ) حضرت مولانا سید عطاء اللہ شاہ بخاریؒ کے ساتھیوں میں سے تھے اور متکلم اسلام تھے،پنجانی زبان کے بلا کے خطیب تھے،تو جج نے مولانا کو کہا : مولانا آپ کا وکیل ؟تو مولانا نے کہا : میں اپنا مقدمہ آپ لڑوںگا،جج نے کہا : مولانا اس مقدمہ کا مقابلہ آپ نہیں کرسکیں گے؟مولانا نے کہا : ڈیفنس نہیں کرسکا تو جیل چلا جاؤںگا۔جیل تو میں نے دیکھی ہے۔آپ کو اس سے کیا غرض ؟ میں خود مقدمہ لڑوں یا وکیل لڑے!۔میں وکیل نہیں لاؤںگا بلکہ اپنا مقدمہ خود لڑوں گا۔

غصہ میں آکر اس نے کہا :یہ عجیب مولوی ہے ،اپنی علمیت کا مجھ پر رعب ڈالنا چاہتا ہے،اور کہتا ہے: ’’اپنا مقدمہ آپ لڑوںگا۔‘‘غصہ میں آکر عینک چڑھا کر کہتا ہے : اپنا بیان قلم بند

96

کرائیں،مولانا نے حوالہ دینا شروع کئے : ’’مرزا غلام احمد نے خدا تعالیٰ کے متعلق یہ کہا ،رسول اللہﷺ کے متعلق یہ کہا،صحابہؓ کے متعلق یہ کہا۔یہ سارے پچیس تیس حوالے مولانا نے نوٹ کرائے، جج گھنٹہ بھر لکھتا رہا۔‘‘

لکھتے لکھتے جب وہ تھک گیا تو عینک اتار کر اس نے رکھ دی،اور آنکھوں کو یوں کرکے مولانا کی طرف گھورتے ہوئے، دیکھ کر کہتا ہے: مولانا !آپ جس آدمی کے حوالاجات نوٹ کرا رہے ہیں ، یہ کوئی انسان تھا یا’’ الّوکاپٹھا‘‘ تھا؟

مولانا نے مسکرا دیا ،اس نے خفت محسوس کی،پھر قلم اٹھا کر کہتاہے: مولانا !آپ بیان قلم بند کرائیں ، مولانا فرماتے ہیں : ’’آپ بیان کو روتے ہیں میرا تو فیصلہ بھی ہوگیا‘‘،وہ کہتا ہے :کس طرح آپ کا فیصلہ ہوگیا؟مولانا نے فرمایا : میں نے جو کہا تھا وہی آپ بھی کہہ رہے ہیں۔جو آپ نے کہا ہے وہی میں نے کہا تھا۔اگر میں مجرم ہوں تو آپ بھی یہ کرسی چھوڑ دیں؟اگر آپ مجرم نہیں تو میری بھی چھٹی کرائیں۔جج کہتا ہے:’’مولانا ! میں نے کیا کہا تھا۔‘‘ مولانا نے کہاجو میں نے کہا ہے وہی آپ نے کہا ہے۔وہ بڑا پریشان ہوا،مولانا نے دو تین دفعہ اس کو رگڑادیا،اس کی رعونت کو نکالا،پھر پریشان ہوکر کہتا ہے: ’’مولانا خدا کے لئے بات بتاؤ،کیا ہوا ‘‘؟

مولانا نے کہا : ’’جو میرے ساتھ ہوا تھا ‘‘،اس نے کہا: ’’آپ کے ساتھ کیا ہوا‘‘؟۔مولانا نے کہا : ’’جو تیرے ساتھ ہوا ہے۔‘‘جب خوب خراب کیا تو مولانا نے کہا: آپ فائیل پڑھیں۔مجھ پر الزام یہ ہے کہ میں نے غلام احمد قادیانی کو’’ الّو کا پٹھا ‘‘کہا ہے۔’’الّوکا پٹھا ‘‘آپ نے بھی کہہ دیا ہے،اگر میںمجرم ہوں تو آپ بھی میرے ساتھ اس کٹھرے میں کھڑے ہوجائیں؟۔اگر آپ مجرم نہیں تو میری بھی چھٹی کریں؟۔چنانچہ اس نے فیصلہ میں لکھا : آپ تشریف لے جائیں۔میں آپ کو باعزت بری کرتا ہوں ،’’تھا ہی الّو کا پٹھا۔‘‘بحمد ﷲ یہ سب باتیں ریکارڈ میں موجود ہیں۔

اُلّو کے پٹھے کے اشعار

اچھا جی ! اب الّو کے پٹھے کے شعر سنئے:کتاب کا نام ہے۔

(سیرۃ المہدی حصہ اوّل ص نمبر۲۳۲)

ہر روایت کو نقل کرنے سے پہلے لکھتے ہیں : بسم اللہ الرحمن الرحیم :خاکسار عرض

97

کرتا ہے : مرزا سلطان احمد صاحب سے مجھے حضرت مسیح موعود کی ایک کاپی ملی ہے۔جو بہت پرانی معلوم ہوتی ہے،غالبًا نوجوانی کا کلام ہے جو حضرت صاحب کے اپنے قلم (خط )سے ہے۔جسے میں پہچانتا ہوں،بعض بعض اشعار بطور نمونہ درجٔ ذیل ہیں ؎

  1. عشق کا روگ ہے کیا پوچھتے ہو اس کی دوا

    ایسے بیمار کا مرنا ہی دوا ہوتا ہے

  2. کچھ مزہ پایا میرے دل ابھی کچھ پاؤگے

    تم بھی کہتے تھے کہ الفت میں مزہ ہوتا ہے

  3. ہائے کیوں؟ ہجر کے الم میں پڑے

    مفت بیٹھے بٹھائے غم میں پڑے

  4. اس کے جانے سے صبر دل سے گیا

    ہوش بھی ورطۂ عدم میں پڑے

  5. سبب کوئی خداوندا بنا دے

    کسی صورت سے وہ صورت دکھادے

  6. کرم فرما کے آو میرے جانی

    بہت روئے ہیں اب ہم کو ہنسا دے

  7. کبھی نکلے گا آخر تنگ ہوکر

    دلا !ایک بار شور و غل مچادے

  8. نہ سر کی ہوش ہے تم کو نہ پا‘کی

    سمجھ ایسی ہوئی قدرت خدا کی

  9. میرے بت اب سے پردہ میں رہو تم

    کہ کافر ہوگئی خلقت خدا کی

  10. نہیں منظور تھی اگرتم کو الفت

    تویہ مجھ کو بھی جتلایا تو ہوتا

  11. میری دلسوزیوں سے تم بے خبر ہو

    میرا کچھ بھید بھی پایا تو ہوتا

  12. دل اپنا اس کو دوں یا ہوش یا جان

    کوئی ایک حکم فرمایا تو ہوتا

(سیرۃ المہدی حصہ اوّل ص۲۳۲، روایت نمبر۲۲۸)

مرزائی ان اشعار کی تأویل کرتے ہیں ،اس کا جواب

یہ مرزا غلام احمد قادیانی کی جوانی کا کلام ہے،آپ حضرات پڑھ کر اندازہ لگائیں کہ کیسا رنگین مزاج آدمی تھا۔مذکورہ اشعار ایک بار پھر پڑھو اور اندازہ لگاؤ ۔جو نہ معلوم کس کس کے لئے یہ پڑھتا تھا۔مرزائی اس کی یہ تأویل کرتے ہیں: جی ! اس نے اللہ کی تعریف کی ہے۔نعوذ باللہ۔

ہم نے ان سے کہا کہ ’’ میری دل سوزیوں سے بے خبر ہو تم،کیا اللہ تعالیٰ بے خبر ہے؟ کہتے ہیں: ہم بھول گئے اس نے رسول اللہ ﷺ کی تعریف کی ہے۔ہم نے کہا : اس میں لکھا ہے کہ ’’ اب سے پردہ میں رہو تم‘‘ یہ کس کے متعلق کہتاتھا۔

98

مرزا کبھی کبھی زنا کرلیتا تھا مگر خلیفہ ہروقت

اب میں آپ حضرات کی خدمت میں مرزائی اخبار کا حوالہ پیش کرتا ہوں:جس میں صراحۃً مرزا غلام احمد کے ایک مرید نے اخبار کو خط لکھا کہ مرزا غلام احمد ولی اللہ تھا،ولی اللہ کبھی کبھی زنا کرلیا کرتے ہیں،مرزا غلام احمد قادیانی پر کوئی الزام نہیں اس لئے کہ وہ کبھی کبھی زنا کرلیا کرتا تھا۔یہی الزام موجودہ خلیفہ مرزا بشیر الدین پر ہے جو ہر وقت زنا کیا کرتے ہیں۔ (دیکھئے! الفضل قادیان مورخہ ۳۱؍اگست ۱۹۳۸ء) یہ ان کی اپنی جماعت کا حوالہ ہے۔

مرزا کے مکتوبات میں ہے کہ وہ اپنے مرید کو خط لکھا کرتا تھا:ایک خط میں لکھا کہ میرے لئے پلو مر کی دکان سے ٹانک وائن شراب کی عمدہ بوتل بھیج دو ! (خطوط امام بنام غلام ص۵، از حکیم محمد حسین قریشی قادیانی) شراب منگوانے والا !زنا کرنے والا ! یہ آپ حضرات اندازہ لگائیں کہ یہ نبی بننے کے قابل بھی ہے؟ !

جھوٹا نبی شراب کا رسیہ تھا (نعوذ باللہ)

حضرت عطاء اللہ شاہ صاحب بخاری ؒنے قادیان میں تقریر کی ،اور کہا مرزا غلام احمد شراب کا رسیہ تھا ، شراب کی عادت تھی،شراب منگوایا کرتا تھا۔گورنمنٹ نے شاہ صاحب پر مقدمہ دائر کردیا،اللہ تعالیٰ شاہ صاحبؒ پر کروڑں رحمتیں نازل کریں،فہم و فراست کے مالک تھے،شاہ صاحبؒ عدالت میں پیش ہوئے ، عدالت نے شاہ صاحبؒ کو کہا : آپ کی صفائی کا کوئی گواہ؟شاہ صاحبؒ نے جواب دیا : میری صفائی کا گواہ ’’مرزا بشیر الدین ابن مرزا غلام احمد قادیانی‘‘ ہے۔ان کو صفائی کے گواہ میں رکھ دیا،عدالت نے جب طلب کیا تو ’’مرزا بشیر الدین‘‘ کو عدالت میں آنا پڑا۔

وہ خط شاہ صاحب نے عدالت میں رکھ دیا اور کہا : اس خط میں مرزا غلام احمد قادیانی اپنے مرید کو کہتا ہے: میرے لئے اعلیٰ شراب کی بوتلیں بھیجو۔آپ صرف اس سے یہ پوچھیں کہ یہ خط اس کے باپ کا ہے یا نہیں؟خط دیکھ کر کہتا ہے کہ یہ خط میرے باپ کا ہے،عدالت کہتی ہے : ہم آپ کو بری کرتے ہیں۔ عدالت کا یہ فیصلہ جس میں مرزا بشیر الدین نے اقرار کیا ہے کہ’’ یہ خط میرے باپ کا ہے‘‘، وہ فیصلہ چھپ چکا ہے۔ (خطوط امام بنام غلام)

99

جھوٹا نبی مرزا اپنے آپ کو سیدنا عیسیٰ علیہ السلام پر قیاس کرتا تھا (نعوذ باللہ)

اور ’’مکتوبات احمدیہ‘‘ میں حضرت عیسیٰ (علیہ السلام)کے متعلق یہ بھی لکھا ہے کہ کھاؤ، پیو، نہ عابد نہ زاہد،ایک شرابی ،نہ حق کا پرستار،متکبر خود بین اور خدائی کا دعویٰ کرنے والا۔ (مکتوبات احمدیہ جلد۳ ص۲۳،۲۴) عیسیٰ(علیہ السلام) پر الزام لگاتا ہے شرابی کا ،اور خود تو تھا ہی شرابی،یہ اس نے اس لئے کیا کہ لوگ یہ نہ کہیں کہ تو مسیح ہو کر شراب پیتا ہے، اس لئے اس نے حفظ ماتقدم کے طور حضرت عیسیٰ(علیہ السلام) پرالزام لگایا کہ میں اگر پیتا ہوں تو وہ بھی پیتے تھے۔یہ ہے علت حضرت عیسیٰ (علیہ السلام)پر تہمت لگانے کی۔

انسان کی شرم والی جگہ دو ہوتی ہیں

مرزا غلام احمد قادیانی کی ایک کتاب بنام’’ براہین احمدیہ ‘‘حصہ پنجم

خدا کی قسم :اخلاق و حیا اجازت نہیں دیتا ،لیکن مجبوری ہے اگر وضاحت کے ساتھ بیان نہ کریں تو، اس کا دجل وکفر کھل کر آپ حضرات کے سامنے نہیں آئے گا،خود تسلیم کرتا ہے اور اپنے متعلق اقرار کرتا ہے،کہتا ہے:

  1. کرم خاکی ہوں میرے پیارے نہ آدم زاد

    ہوں بشر کی جائے نفرت اور انسانوں کی عارہوں

(براہین احمدیہ حصہ پنجم ص۹۷، خزائن جلد۲۱ ص۱۲۷)

اب آپ حضرات فرمائیں ۔ میں آپ حضرات کی خدمت میں تو عرض نہیں کرسکتا، میں نے مرزائیوں سے ربوہ (موجودہ چناب نگر) میں درخواست کی کہ انسانوں کی شرم والی جگہ دو ہوتی ہیں۔مرزائی تعیین کریں کہ مرزا کونسی جگہ تھا۔میں نے پھر درخواست کی تھی کہ مرزا ناصر اپنی لڑکی کے سامنے یہ شعر پیش کرتے ہیں۔ پھر ترجمہ کرادے ہم وعدہ کرتے ہیں کہ آج کے بعد اس کتاب کا حوالہ پیش نہیں کریں گے۔لیکن کسی مرزائی کو اس کی توفیق نہیں ہوئی۔

میں ’’ہڈرسفیلڈ‘‘ میں ٹھیرا ہوا تھا،اتفاق سے میرا ایک دوست مرزا کی کتاب لے کر آیا،اور کہا : ایک قادیانی نے خریدی ہے ،مجھے بھی خرید دو،وہ کتابیں دکھانے کے لئے ،(یہاں کا ماحول ہی کچھ ایسا ہے کہ اس کی بیوی بھی ساتھ تھی )جس وقت اس نے مجھے کتاب دکھائی اس کی بیوی تک میری آواز جارہی تھی،پردے میں بیٹھی ہوئی تھی۔میں شرم کے مارے اس آدمی کو

100

دوسری طرف لے گیا۔جا کر میں نے حوالہ پڑھا۔کسی بچی، بیٹی کے سامنے حوالہ پڑھ نہیں سکتا۔جس آدمی کی زبان ،اخلاق، قلم ،حیا ، شرافت ، کردار ایسے ہوں اور اس سے یہ کہا جائے : یہ محمد رسول اللہ ﷺ سے افضل ہے ۔اس سے بڑھ کر حضور (ﷺ)کے ساتھ گستاخی، بے ادبی اور جرأت کیا ہو سکتی ہے؟

ہمیں اعتراض تو موجودہ خلیفہ پر ہے

روز نامہ الفضل(قادیان مورخہ ۳۱؍اگست ۱۹۳۸ ص ۶ کالم نمبر ۱۰) میں کسی مرزائی کا خط مرزا محمود کے نام چھپا ہے۔’’ مرزا محمود نے اس خط کو سناتے ہوئے یہ کہاکہ اس سلسلہ سے محبت کا اندازہ اسی سے ہو سکتا ہے کہ ایک خط میں جس کے متعلق اس نے تسلیم کیا ہے کہ اسی نے لکھا ہے، اس پر یہ تحریر کیا ہے ’’حضرت مسیح ولی اللہ تھے اور ولی اللہ بھی کبھی کبھی زنا کرلیا کرتے ہیں۔‘‘(ولی اللہ کی یہ اور کوئی قسم ہوگی)اور انہوں نے بھی کبھی زنا کرلیا تو اس میں حرج کیا ہوا؟پھر لکھا ہے: ہمیں مسیح موعود پر اعتراض نہیں کیونکہ وہ کبھی کبھی زنا کر لیا کرتے تھے۔ہمیں اعتراض تو موجودہ خلیفہ پر ہے ؟کیونکہ وہ ہر وقت زنا کرتا رہتا ہے۔اس اعتراض سے پتہ لگتا ہے کہ یہ شخص پیغامی طبع ہے ،کیونکہ ہمیں مسیح موعود کے متعلق یہ اعتماد ہے کہ آپ نبی اللہ تھے مگر ’’پیغامی‘‘ اس بات کو نہیں مانتے اور وہ صرف آپ کو ولی اللہ مانتے ہیں۔

اچھا جی !اس میں دو تین چیزیں عرض کرنی ہیں

پیغامی طبع کا معنی ہے ’’ مرزائی لا ہوری جماعت ‘‘ مرزائی لا ہوری جماعت ایک رسالہ نکالتے ہیں جس کا نام ہے ’’پیغام صلح ‘‘پہلے یہ اخبار’’ الفضل ‘ نکالا کرتے تھے، ’’پیغا م صلح‘ اب تک نکلتا رہا ہے ،اب صدر مملکت کے آرڈینینس کے بعد بند ہو گیا ہے۔لاہوری مرزائی مرزا غلام احمدکوخود ولی اللہ مانتے ہیں ۔ خود لکھتا ہے کہ’’ حضرت صاحب ولی اللہ تھے۔‘‘

ظاہر بات ہے کہ جو شخص مرزا غلام احمد کو ولی اللہ مانے وہ مسلمان نہیں مرزائی ہے۔اس لئے کہ ہم مرزا کو ولی اللہ تو در کنار ایک اچھا،شریف انسان بھی نہیں مانتے۔ہم تو مرزا غلام احمد قادیانی کو ولی اللہ نہیں کہتے بلکہ جو اس کو مسلمان کہے اس کو بھی کافر سمجھتے ہیں۔جس آدمی نے مرزا کو اپنے خط میں ولی اللہ لکھا ہے یہ ہمارا آدمی نہیں مرزائی ہے۔

مرزا غلام احمد قادیانی کا ماننے والا چاہے لاہوری ہو یا قادیانی؟! ہمیں اس سے بحث

101

نہیں؟!یہ مرزائیوں کا اپنے گھر کا اپنے کوکافر کرنے کا معاملہ ہے!وہ کالا سوّر تھا یا سفید سوّر تھا۔وہ لاہوری تھا یا قادیانی۔یہ فیصلہ کرنا ہمارا دردسر نہیں۔ہمیں تو صرف یہ بات ثابت کرنا مقصود ہے کہ جو آدمی مرزا کو ولی اللہ مانتا ہے بقول ’’مرزا بشیر الدین محمود‘‘ وہ پیغامی الطبع یعنی لاہوری مرزائی ہے۔اس کا اقرار پہلے بیان ہو چکا۔

اب آپ حضرات کے ذہن میں یہ سوال ابھرے گا کہ یہ خط مرزا بشیر الدین کو خفیہ آیا تھا۔تو اس الّو کے چرخے کو اس خط کے اجلاس عام میں سنانے کی کیا ضرورت پیش آئی؟اور مزید بر آں اپنے اخبار میں رپورٹنگ کرانے کی کیوں ضرورت ہوئی؟اس کے باپ کے متعلق ایک آدمی نے خط لکھاہے ،اپنی عقل کا تقا ضایہ تھا کہ اس خط کو دبا دیا جاتا۔ کھلے جلسہ میں خط میں لکھا ہوامضمون بیان کرنا،اخبار میں رپورٹینگ کرانا، یہ اس نے ایسا کیوں کیا؟ضرورت یہ پیش آئی کہ ’’مرزا بشیر الدین محمود‘‘ پر اپنے رہنے سہنے والے ،اپنے گھر والے اور اپنی جماعت کے افراد نے زنا کاری کا الزام لگایا ۔

جھوٹے نبی کے خلیفہ نے اپنی سگی بیٹی کے ساتھ منھ کالا کیا تھا

کل میں نے آپ حضرات کی خدمت میں بات عرض کی تھی کہ اس نے سگی بیٹی کے ساتھ منھ کالا کیا تھا ۔ یہ چھپی ہوئی چیزیں ہیں۔۔مرزا بشیر الدین محمود کی بیٹی نے اپنے ایک آشنا کو خط لکھا : تم کس آدمی کو حضرت صاحب بنائے پھرتے ہو؟اگر ہمارے خاوندوں کو یہ پتہ چل جائے کہ یہ ہمارے ساتھ اور اپنی بیٹیوں کے ساتھ کیا کرتا تھا۔ تو ہمارے خاوند ایک دن کے لئے بھی ہمیں اپنے گھر میں نہ رکھیں۔اس کی تو یہ عادت تھی کہ فلاں کے ساتھ یہ کرتا تھا اور فلاں کے ساتھ یہ؟۔اور میرے ساتھ اس نے یوں کیا۔اس کی اپنی بیٹی نے اپنے آدمی کو یہ خط لکھا۔ اللہ کی شان ! یہ خط ہمارے ہاتھ لگ گیا۔اور چھپ بھی گیا ہے۔کوئی قادیانی ماں باپ کا لال اس سے انکار نہیں کرسکتا۔

عقل کے مارے ہوئے نے اپنا گھر صاف کرنے کی خاطر باپ کا گھر بھی صاف کردیا

تو مرزا محمود پر زنا کاری کے الزام لگتے تھے، تو اس نے اپنی نا کردنی پر پردہ ڈالنے کے لئے خط پڑھ کر سنا یا، کوئی بات نہیں جوالزام مجھ پر لگتے ہیں وہ تو میرے باپ پر بھی لگتے تھے؟اپنا گھر صاف کرنے کی خاطر باپ کا گھر بھی صاف کردیا۔اس کی مَت اس طرح ماری گئی کہ اس نے

102

یہ خط اپنی اخبار میں شائع کرا د یا ۔ آپ حضرات اندازہ لگائیے ! مرزا غلام احمد قادیانی کے متعلق اس کے ماننے والوں کی یہ رائے ہے۔یہ حوالہ ہے ان کا،اس طرح کے اخلاق اور کردارکے مالک تھے،کہتے ہیں کہ نبی تسلیم کرلونعوذ باللہ من ذالک !۔

بڑے میاں تو بڑے میاں چھوٹے میاں سبحان اللہ !

چلئے جی حضور ! بڑے میاں یہ تھے غلام احمد قادیانی اور چھوٹے میاں سبحان اللہ ۔مرزا بشیر الدین نے عید الفطر کے خطبہ میں یہ بیان کیا کہ وہ خود کہتا ہے کہ جب میں انگلستان گیا تھا تو میں نے ننگی عورتوں کا ناچ دیکھا تھا۔خود ان کے اخبار کا یہ حوالہ ہے۔گوری عورتوں کے ننگا ناچ دیکھنے والے بد معاش کہیں کے ؟’’مرزا بشیر الدین محمود‘‘ کے متعلق کہتے ہیں: وہ ثانی عمر تھے۔جس طرح امیر المؤمنین حضرت عمرؓ مسلمانوں کے دوسرے سر براہ تھے ،قادیانی کہتے ہیں کہ ’’مرزا بشیر الدین محمود‘‘ مسلمانوں کا دوسرا سربراہ تھا۔اس لئے اس زمانہ کا ثانی عمر ہے۔مرزائی اس کو ثانی عمر کہتے ہیں ،اور اخلاق، عادات اور اطوار یہ ہیں ۔

کیا یہ ننگی ہیں ؟

جب ولایت گیا تو مجھے خصوصیت سے یہ خیال تھا کہ یورپین سوسائیٹی(سماج)کا وہ عیب دار حصہ دیکھوں! ، مگر قیام انگلستان کے دوران مجھے اس کا موقع نہیں ملا۔مگر واپسی پر جب ہم فرانس آئے تو میں نے ’’چودھری ظفر اللہ خان‘‘ سے(جو میرے ساتھ تھے )کہا :مجھے کوئی ایسی جگہ دکھائیں کہ جہاں یورپین سوسائیٹی(سماج، ماحول)عریانی سے نظر آئے۔ وہ بھی فرانس سے واقف تو نہ تھے مگر مجھے ایک اوپیرا ‘ میں لے گئے،جس کا نام تو مجھ یاد نہیںرہا۔اوپیرا ‘ سینما کو کہتے ہیں۔(درمیان میں مفتی صادق کا قصہ سنایا تھا جو اس کے بعد مذکور ہے)چودھری صاحب نے بتایا کہ یہ اعلیٰ سو سائیٹیکی جگہ ہے۔جسے دیکھ کر آپ اندازہ لگا سکتے ہیں کہ ان لوگون کی کیاحالت ہے۔میری نظر چونکہ کمزور ہے اس لئے دور کی چیز اچھی طرح نہیں دیکھ سکتا تھا۔نظر کام نہیں کرتی مگر جو شوق اندھا ہے ۔ اب آپ حضرات اندازہ لگائیں کہ جس جماعت کا سر براہ سینما جایاکرتا تھااور وہ بھی فرانس کا، ولایتی،دیسی نہیں۔اکیلا نہیں بلکہ مرید کے ساتھ ،قربان جائیے!۔یہ کتنا مقدس گروپ ہے ،بد معاشوں کا ٹولہ! تھوڑی دیر کے بعد جو میں نے دیکھا تو ایسا معلوم ہوا کہ سینکڑوں عورتیں بیٹھی ہیں ۔

103

میں نے چودھری صاحب سے کہا کہ کیا یہ ننگی ہیں؟ انہوں نے بتایا کہ یہ ننگی نہیں ہیں۔بلکہ کپڑے پہنے ہوئے ہیں۔مگر باوجود لباس کے وہ ننگی معلوم ہوتی تھیں۔تو یہ بھی اس قسم کا لباس ہے ،نام تو اس کا لباس ہے مگر اس میں سے جسم کا ہر حصہ بالکل ننگا نظر آتا ہے۔

یہاں پر مولانا موصوف نے یہ کہا کہ’ مقدر کی بات ہے ، آپ حضرات روزانہ بخاری ، مسلم پڑھتے ہیں۔ہم اس کی اس گندگی میں رہتے ہیں۔بار بار ان خبا ثتوں کو ذکر کرنے سے دل پرزنگ چڑھتا رہتاہے۔

ایک اور حوالہ آپ حضرات کو سناتا ہوں

اللہ کو منظور ہوگا تو کسی وقت لکھ بھی لیا جائے گا:

مفتی صادق نامی مرزا غلام احمد قادیانی کے ایک مرید نے ایک کتاب مرزا غلام احمد کی تعریف میں ’ ’ذکر حبیب‘‘ لکھی ہے۔

میرے عزیز بھائیو! مرزائی ایسے خبیث ہیں کہ کوئی ان کا ایسا وار نہیں جو انہوں نے خطا جانے دیا ہو،جیسا ہم کہتے ہیں :’’حبیب خدا ‘‘اسی طرح یہ ان کی کتاب کا نام ہے۔

اس کتاب میں مفتی صادق ایک واقعہ بیان کرتا ہے : ایک دفعہ مرزا غلام احمد قادیانی،میں اور تیسرا کوئی بدمعاش ساتھی فلاں جگہ گئے ،امرتسر کی ایک مسجدکے حجرہ کی چھت پر ہم لوگ لیٹے ہوئے تھے،مفتی صادق خود کہتا ہے: رات کو اٹھ کر میں چلا گیا ، جو میرے ساتھ والا تھا اس کی آنکھ کھلی تو وہ اِدھر اُدھر دیکھتا ہے کہ کدھر گئے ہیں؟۔کچھ دیر بعد واپس آیا تو اس نے مجھے کہا: کہاں گئے تھے؟میں کہا : چپ کرو ،کہیں بھی گیا تھا۔اس نے کہا: صحیح بتاؤ ،کہاں گئے تھے؟دو گھنٹہ لگ گئے ہیں ؟میں متواتر آپ کو چارپائی پر تلاش کرتا رہا،آپ موجود نہیں تھے ۔

حضرت! رات یہ تماشادیکھنے گیا تھا

میںنے کہا: نہیں بتاتا! چپ کر!۔سینما لگا ہوا تھا ،دیکھنے گیا تھا۔وہ بڑا پریشان ہوا،اکیلا ہی مزہ لوٹ کر آیا ہے۔مجھے ساتھ نہیں لے گیا ،کہتا ہے: صبح حضرت (مرزاقادیانی) سے شکایت کروںگا۔جب صبح ہوئی تو یہ حضرت صاحب سے کہتا ہے: حضرت یہ رات تماشا دیکھنے گیا تھا۔مرزا قادیانی کہتا ہے: چپ کر ! ایک دفعہ میں بھی گیا تھا۔یہ ان کی کتاب (ذکر حبیب ص۱۸) میں چھپا ہوا ہے۔ مرید جس بات کو عیب سمجھتا ہے،وہ بطور شکایت بیان کرتا ہے کہ آپ کے ایک ماننے

104

والے کے یہ کرتوت ہیں ؟۔تو جواب میں کہتا ہے : چپ کرو ! میں بھی اس کے ساتھ شریک ہوں۔اس کریکٹر اور اخلاق کے یہ آدمی تھے،اور کہتے ہیں: یہ حضور(ﷺ)کی دوسری بعثت ہے۔اور پہلی بعثت سے زیادہ اقو ٰی،اشد اور اکمل ہے۔ نعوذ باللہ من ذالک۔

مرزائیوں کا مسلمانوں پر جہنمی اور کافر ہونے کا فتویٰ

(۱) مرزا غلام احمد قادیانی نے اپنی کتاب (چشمۂ معرفت ص نمبر ۳۱۷، خزائن جلد۲۳ ص۳۳۲) پر لکھا ہے: خدا تعالیٰ نے اس بات کو ثابت کرنے کے لئے کہ میں اس کی طرف سے ہوں،اس قدر نشانیاں دکھلائی ہیں کہ اگر وہ نشانیاں ہزاروں انبیاء پر بھی تقسیم کی جائیں تو ان سے ان کی نبوت بھی ثابت ہو سکتی ہے۔لیکن چونکہ یہ آخری زمانہ ہے، اور شیطان کا مع اپنی ذریت کے آخری حملہ تھا اس لئے خدا تعالیٰ نے شیطان کو شکست دینے کے لئے ہزارہا نشانیاں ایک جگہ جمع کردی ہیں۔لیکن پھر بھی جو لوگ انسانوں میں سے شیطان ہیں وہ (مجھے نبی ) نہیں مانتے۔اور محض افتراء کے طور پر نا حق کے اعتراض کرتے ہیں۔

(۲) مرزا غلام احمد قادیانی نے لکھا ہے : ’’مجھے خدا کا الہام ہوا ہے کہ جو شخص تیری پیروی نہیں کرے گا، تیری بیعت میں داخل نہ ہوگا اور تیرا مخالف رہے گا وہ خدا اور رسول کی نافرمانی کرنے والا جہنمی ہے۔‘‘

(مجموعہ اشتہارات جلد۳ ص۲۷۵، از مرزا غلام احمد قادیانی)

جو مسلمان مرزا قادیانی کو نبی تسلیم نہیں کرتے وہ کنجریوں(طوائف)کی اولاد ہیں

(۳) مرزا غلام احمد قادیانی کی ایک کتاب ہے’’ آئینۂ کمالات اسلام‘‘(ص نمبر ۵۴۷ تا ۵۴۸، خزائن جلد۵)پر مرزا غلام احمد نے اپنی کتابوں کے متعلق تحریر کیا ہے: ’’تلک کتب ینظر الیہا کل مسلم بعین المحبۃ والمودۃ وینتفع من معارفہا ویقبلنی ویصدق دعوتی الاذریۃ البغایا‘‘ تمام مسلمان میری کتابوں کو محبت اور مودت بھری نگاہوں سے دیکھتے ہیں،پڑھتے ہیں اور میرے دعاوی کو قبول کرتے ہیں ،مجھے مانتے ہیں،مگر وہ لوگ جو کنجریوں(طوائف،ویشیا) کی اولا دہیں ،وہ مسلمان جو کنجریوں کی اولاد ہیں، مجھے نہیں مانتے۔باقی جو ہیں مجھے تسلیم کرتے ہیں،استغفر اللہ!مرزا قادیانی کے نزدیک جو مسلمان اس کو نہیں مانتے وہ کنجریوں کی اولاد ہیں۔

105

جھوٹے نبی کا فیصلہ خود اپنی ذات پر ہی ثابت ہوگیا

اتفاق کی بات ہے کہ مرزا غلام احمد قادیانی کا اپنا صاحبزادہ (فضل احمد )مرزا قادیانی کو نہیں مانتا تھا۔وہ کہتا تھا : میرا باپ بے ایمان ہوگیا ہے،میں نہیں مانتا۔مرزا کا اپنا بیٹا اس کو نہیں مانتا تھا، تو مرزا کے فتویٰ کے بموجب وہ کنجری کا بیٹا ہوا،جب کنجری کا بیٹا ہوا تو اس کی ماں کنجری ہوئی ،اور اس کی ماں غلام احمد کی بیوی تھی،کنجری غلام احمد کی بیوی تھی۔تو جس کے گھر میں کنجری وہ خود کنجر ہوتا ہے۔اور جو کنجر کو نبی مانتے ہیں وہ کیا ہوئے ؟ یہ آپ حضرات مرزا قادیانی کے فتویٰ کے مقابلہ میں فتویٰ دیں؟

شیطان کی آنت کی طرح اس کی تعلیم ہے

یہ ہے مرزا کی تعلیمات کا نچوڑ!ان کی کوئی ایک بات لے لیں،شیطان کی آنت کی طرح مجال ہے کہ کوئی ان کی بات سیدھی ہو۔اللہ رب العزت آپ کو مجھ کو اس فتنہ سے محفوظ رکھے آمین! اور اس سلسلہ میں کام کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔آمین۔

وآخر دعوانا ان الحمد للہ رب العالمین

حضرت مولانا عبد الرؤف صاحب (دامت برکاتہم) کی دعاء پر آج کی یہ مجلس ختم ہوئی۔

106

چوتھا درس

(مرزا غلام احمد قادیانی ایک جھوٹا نبی)

107

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ

الحمدللہ وکفٰی وسلام علیٰ سید الرسل وخاتم الانبیاء وعلیٰ اٰلہ واصحابہ اللذین ہم خلاصۃ العرب العرباء وخیرالخلائق بعد الانبیاء۰ اما بعد۰فقد قال النبیﷺ: انہ سیکون فی امتی کذابون ثلاثون کلہم یزعم انہ نبی وانا خاتم النّبیین لا نبی بعدی۰اللّٰہم صل علیٰ سیدنا محمد عبدک ورسولک وصل کذلک علیٰ جمیع الانبیاء والمرسلین وعلی الملائکۃ المقربین وعلیٰ عباد اللہ الصالحین۰ اجمعین الیٰ یوم الدین۔

اپنی ہی عمر کے بارے میں پیشینگوئی جھوٹ ثابت ہوئی

تیری عمر اسی(۸۰) سال ہوگی۔ (دیکھئے! مواہب الرحمن ص۲۱، خزائن جلد۱۹ ص۲۳۹) ایک اور کتا ب میں لکھا : اللہ تعالیٰ نے مجھے کہا : تیری عمر اسی (۸۰) سال یا دو تین سال کم یا زیادہ ہوگی۔ (ضمیمہ تحفہ گولڑویہ ص۵، خزائن جلد۱۷ ص۴۴) تیسری کتاب میں لکھتا ہے: اللہ تعالیٰ نے مجھے کہا : تیری عمر جو ہے وہ اسی(۸۰) سال یا دوچار کم یا چند سال زیادہ ہوگی۔ (اربعین نمبر۳ ص۳۰، خزائن جلد۱۷ ص۴۱۹) یعنی پچھتر (۷۵)سے لیکر پچاسی(۸۵) تک،یہ دس سال کا تفاوت ڈال کر کہتا ہے کہ اتنی عمر ہوگی۔جس وقت مرا اسوقت بد معاش کی عمر ۶۹ سال کی تھی۔(مرزا جس وقت مرا محمدی بیگم کی عمر ۲۶ سال تھی)

انبیاء (علیہم السلام) ہر اعتبار سے قدرت کے مظہر اتم ہوتے ہیں

انبیاء و رسل ہراعتبار سے،صورت کے اعتبار سے،اللہ تعالیٰ کی قدرت کا مظہر اتم ہوتے ہیں۔پتہ چلتا ہے کہ یہ خدا کا فرستادہ ہے۔(یہ اس کے علاوہ دیگر تھا)

مرزا آٹھویں جماعت میں فیل ہوگیا

اس نے عربی فارسی وغیرہ کی تعلیم گھر پر حاصل کی تھی،اس نے دنیوی (عصری،مڈل کی) تعلیم کا یعنی آٹھویں جماعت کا امتحان دیا تھااتفاق کہئے کہ حضرت فیل ہو گئے تھے۔اس کے استاد شیعہ تھے۔ ہندوستان میں پہلے زمانہ میں گھر پر ہی تعلیم ہوا کرتی تھی،والد صاحب

108

پڑھے ہوئے تھے، اس کو پڑھانے کے لئے کچھ ٹیوٹر بھی رکھے ہوئے تھے،اس کی جتنی کتابیں ہیں (بحمدہ تعالیٰ) اس میں کوئی کتاب ایسی نہیں ہے جو عربی صرف ونحو کی غلطیوں سے پاک ہو۔جتنی بھی ہے وہ سب نور علی نور ہے۔باوجود عربی کمزور ہونے کے اس نے یہ سب کچھ لکھا ہے۔یہ سب کارستانی اس کے خلیفہ حکیم نور الدین کی ہے کیونکہ وہ پڑھا لکھا تھا۔ سب کچھ یہ لکھتا تھا، گاڑی اس کی چلتی تھی۔

مولانا عبد الرحیم سہارنپوری ؒ کی فراست ایمانی

ہمارے بزرگ مولانا عبد الرحیم صاحب سہارنپوری ؒنے اسی حکیم نور الدین کے متعلق فرمایا تھا : ایک شخص نبوت کا دعویٰ کرے گا، یہ اس کے پاس سائل بن کر مسائل پوچھنے جائے گا اور مرتد ہوجائے گا ، اس نبی کے مرنے کے بعد یہ شخص اس نبی کا خلیفہ بنے گا، چنانچہ اسی طرح ہوا۔

جھوٹے نبی نے نبوت کا دعویٰ کیا نہیں، بلکہ کرایا گیا

دوران گفتگو حضرت مفتی محمد موسیٰ بدات صاحب دامت فیوضہم نے یہ سوال کیا کہ’ مرزا غلام احمد قادیانی کو یہ ابتلاء کیوں پیش آیا‘ ؟ دعویٰ نبوت میں کیوں پھنسا ؟ کسی گناہ کی پاداش میں یہ ابتلاء پیش آیا یا اور کوئی وجہ تھی ؟ اس سلسلہ میں کسی بزرگ کا قول یا مکاشفہ اگر ہے تو وہ عرض کریں‘‘ ؟

حضرت نے جوابًاارشاد فرمایا : ’’نہیں،بزرگوں کے مکاشفہ سے تو انکار نہیں، لیکن نبوت کا دعویٰ اس نے کیا نہیں، کرایا گیا ہے۔اور وہ انگریزوں نے کرا یا ہے۔یہ تو انگریزوں کا دلال،ایجنٹ تھا،اور انگریزوں کی ضرورت تھی’’ مسئلہ جہاد کوختم کرنا تھا۔‘‘کیونکہ انگریز جانتے تھے کہ مولوی کا کام مسئلہ بتانا ہے ۔بنانا نہیں، مسئلہ بنانے کا کام نبی کا ہوتا ہے۔ اسی لئے اس نے اس کے پاس سے دعویٰ نبوت کرایا۔‘‘

جہاد کو منسوخ کرنے کے لئے انگریز نے مرزا کو نبی بنایا

حضور اقدس ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ’’الجہاد ماض الی یوم القیامۃ‘‘یعنی جہاد قیامت تک جاری رہے گا۔‘‘اب جاری جہاد کو بند کرنا ،مولوی کے اختیار میں نہیں ہے۔اس کے لئے نبی چاہئے۔تو یہ مرزا قادیانی کو نبی اس لئے بنایا گیا کہ وہ یہ کہہ دے کہ جہاد حرام ہے تاکہ انگریز کے خلاف مسلمان کا لڑنا بند ہو جائے ۔ جذبۂ جہاد مسلمان کے دلوں سے نکل جائے۔اور ہماری حکومت ہندوستان پر مضبوط اورمستحکم رہے۔ایسا کرنا انگریزوں کی

109

ضرورت تھی۔ اسی وجہ سے مرزا قادیانی نے انگریز کی ضرورت کو پورا کرنے کے لئے کہا:

  1. اب چھوڑ دو جہاد کا اے دوستو خیال

    دین کے لئے حرام ہے اب جنگ اور قتال

(ضمیمہ تحفہ گولڑویہ ص۲۶، خزائن جلد۱۷ ص۷۷)

حضوراقدس ﷺنے فرمایا : ’’الجہاد ماض الی یوم القیامۃ‘‘اور یہ کہتا ہے: حرام ہے جنگ و قتال۔

حکیم نور الدین کو کیا ابتلا پیش آیا

محترم مولانا مفتی موسیٰ بدات نے پھر فرمایا : ’حکیم نور الدین کوکیا ابتلا پیش آیا؟کیا اسی طرح کا جس طرح کا مرزا قادیانی کو ابتلا پیش آیا؟جس کی وجہ سے اس نے نبوت کا دعویٰ کیا؟

جواب میں مولانا نے فرمایا : ہاں !’حضرت حاجی امداد اللہ مہاجر مکی ؒ نے حضرت پیر مہر علی شاہ صاحب گولڑویؒ کو ارشاد فرمایا: (ابھی مرزا غلام احمد نے نبوت کا دعویٰ بھی نہ کیا تھا )’ ایک صاحب پنجاب میں نبوت کا دعویٰ کریں گے!جھوٹی نبوت کا فتنہ اٹھنے والا ہے!اللہ تعالیٰ آپ سے ان کے خلاف کام لے گا‘۔اس سے پہلے بزرگوں نے کشف کے ذریعہ کہہ دیاتھا۔تو وہ فرمان اور ملفوظ آپ کے سامنے پہلے بھی بیان ہوچکے ہیں ۔

حضرت مولاناانور شاہ کشمیریؒ کا دعویٰ

انہوں نے یہ ارشاد فرمایا: ’حضرت مولاناسید انور شاہ کشمیری ؒ نے ۱۹۳۵ء میںایک بیان بھاولپور کی عدالت میں دیا تھا، تو بھری عدالت میں جلال الدین شمس کو کہا تھا کہ: ’’اگر تو چاہے تو عدالت میں کھڑے کھڑے دکھا سکتا ہوں کہ مرزا غلام احمد جہنم میں جل رہا ہے۔‘‘

مرزا غلام احمد کی شکل خنزیر جیسی ہے،فرشتے جکڑ کر جہنم میں ڈال رہے ہیں

ہمارے حضرت مولانا لال حسین صاحب اخترؒ پہلے قادیانی تھے لیکن مولانا کے مسلمان ہونے کا ایک سبب یہ ہے کہ انہو ںنے مرزا غلام احمد قادیانی کو خواب میں دیکھا تھا کہ وہ آگ میں جل رہا ہے۔مرزا غلام احمد کی شکل خنزیر جیسی ہے۔فرشتے جہنم میں جکڑ کر ڈال رہے ہیں۔مولانا نے صرف اس ایک خواب کی وجہ سے قادیانیت کو چھوڑاتھا ۔

110

سچا خدا وہی خدا ہے جس نے قادیان میں اپنارسول بھیجا

دافع البلاء مرزا غلام احمد قادیانی کی ایک کتاب ہے۔اس میں بے شمار حوالے ہیں۔ایک تو آج آپ حضرات کی خدمت میں عرض بھی کروں گا۔مثلاً:’ لکھتا ہے کہ (چھوٹی تختی ہے اس کا گیارہواں صفحہ اور یہ جو بڑی تختی ہے اس کا بارہواں صفحہ ) ’’سچا خدا وہی خدا ہے جس نے قادیان میں اپنا رسول بھیجا۔‘‘ (دافع البلاء ص۱۱، خزائن جلد۱۸ ص۲۳۱) اسی کے ص۲۴ پر لکھتا ہے اس کے چار شعر ہیں ،جن میں سے آخری شعر یہ ہے ؎

  1. ابن مریم کے ذکر کو چھوڑو

    اس سے بہتر غلام احمد ہے

نیچے لکھتا ہے کہ یہ باتیں شاعرانہ نہیں،بلکہ واقعی ہیں۔

(دافع البلاء ص۲۰، خزائن جلد۱۸ ص۲۴۰)

خدا کی تائید میرے ساتھ حضرت عیسیٰ سے بڑھ کر ہے

اور اگر تجربہ کی رو سے خدا کی تائید مسیح ابن مریم (علیہماالسلام)سے بڑھ کر میرے ساتھ نہ ہو تو میں جھوٹا ہوں۔یعنی ’’ایدناہ بروح القدس‘‘ :’’اللہ رب العزت کی تائید جتنی مسیح علیہ السلام کے ساتھ تھی اس سے کہیں بڑھ کر میرے ساتھ ہے۔‘‘ (حوالہ بالا)

مرزا کے خیال میں ایک فرضی مسیح کی توہین

حضرات گرامی! جس وقت قادیانیوں کو ہم یہ کہتے ہیں: ’حضرت عیسیٰ(علیہ السلام )کی مرزا نے یہ توہین کی‘، تو جواب میں قادیانی یہ کہتے ہیں: ’مرزا نے الزامی طور پر یہ لکھا ہے۔اور یہ حضرت مسیح کی توہین نہیں بلکہ ان کے خیال میں ایک فرضی مسیح تھا ،ان کی توہین کی ہے اور یہ جو کچھ مرزا غلام احمد قادیانی کہتا ہے: وہ عیسائیوں کی کتاب سے مجرم ٹھہرانے کے لئے کہتا ہے۔نہ کہ اپنی طرف سے کہتا ہے۔

تو اس کا ایک حوالہ میں آپ حضرت کو عرض کئے دیتا ہوں۔اس میں مرزا غلام احمد قادیانی قرآن مجید کی آیت سے استدلال کر کے کہتا ہے کہ’ نعوذ باللہ مسیح ابن مریم (علیہما السلام)یہ غلط کاریوں میں مبتلا تھے۔ (دافع البلائ مصنفہ مرزا غلام احمد قادیانی ص ۴، خزائن ج۱۸ ص۲۲۰)

111

قرآن کریم سے استدلال کرکے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی توہین (نعوذ باللہ)

حاشیہ : ’’مسیح کی راست بازی اپنے زمانہ میں دوسرے راست بازوں سے بڑھ کر ثابت نہیں ہوتی بلکہ یحیٰ نبی(علیہ السلام) کو اس پر ایک فضیلت ہے۔کیونکہ وہ شراب نہیں پیتا تھا اور کبھی نہیں سنا گیا کہ کسی فاحشہ عورت نے آکر اپنی کمائی کے مال سے اس کے سر پر عطر ملا تھا۔یا ہاتھوں اور اپنے سر کے بالوں سے اس کے بدن کو چھوا تھا۔یا کوئی بے تعلق جوان عورت اس کی خدمت کرتی تھی۔اسی وجہ سے خدا تعالیٰ نے قرآن مجید میں یحی ٰ کا نام حصوراً رکھا۔ مگر مسیح کا یہ نام نہ رکھا۔کیونکہ ایسے قصے اس نام رکھنے سے مانع تھے۔(انتہی ٰ کلامہ)

دیکھا حضور ! اس میں مرزا غلام احمد قادیانی کہتا ہے: ’چونکہ حضرت عیسیٰ(علیہ السلام) شراب پیتے تھے ، فاحشہ عورت آکر اپنی کمائی کے مال سے ان کے سر پر عطر ملا کرتی تھی۔ہاتھوں اور سر کے بالوں سے ان کے بدن کو چھوا کرتی تھی۔بے تعلق جوان عورت ان کی خدمت میں رہا کرتی تھی۔ایسے قصے اس نام کے رکھنے سے مانع تھے۔اللہ تعالیٰ نے عیسیٰ(علیہ السلام )کا نام اس لئے حصورًا نہیں رکھا کہ ان میں یہ حصورًا کے اوصاف نہیں پائے جاتے تھے‘۔قرآن مجید کی آیت سے استدلال کرکے مسیح ابن مریم علیہما السلام پر الزام لگاتا ہے۔

مرزائی حضرت عیسیٰ کی وفات کے قائل ہیں

اب مرزائیوں کا یہ کہنا کہ انہوں نے مسیح علیہ السلام کو ملزم ٹھہرانے کے لئے یہ بات کہی ہے۔یا انجیل کے اندر اس قسم کے واقعات لکھے ہوئے ہیں یا عیسائیوں کے اس قسم کے عقیدے ہیں۔فرضی مسیح کی بات ہے یہ سب قادیانیوں کی دجل ہے ۔ مرزا قرآن مجید سے استدلال کرکے اللہ کے ایک نبی پر الزام لگاتا ہے۔

اب حضرات ایک اور حوالہ ’’براہین احمدیہ‘‘ کاملاحظہ ہو :مرزا غلام احمد قادیانی قرآنی آیت سے استدلال کرتا ہے کہ ’’حضرت مسیح (علیہ السلام) دوسری بار دنیا میں تشریف لائیں گے۔‘‘ (براہین احمدیہ ص۴۹۹، خزائن جلد۱ ص۵۹۳) اس کا لڑکا کہتا ہے :’’ مسیح موعود جو ہے وہ عیسیٰ (علیہ السلام )کی وفات کے اس لئے قائل ہوئے کہ باربار اللہ تعالیٰ کے الہامات نے حضرت مسیح (مرزا قادیانی ) کو مجبور کردیا کہ وہ اعلان کرے کہ عیسیٰ(علیہ السلام )فوت ہوگئے۔‘‘قرآن کی آیت پڑھ کر کہتا ہے:’’ عیسیٰ(علیہ السلام) آئیں گے۔‘‘اپنے الہامات کی بنا

112

پر کہتا ہے کہ’’ عیسیٰ(علیہ السلام )فوت ہوگئے۔‘‘تو لازمی نتیجہ نکلتا ہے کہ گویا مرزا کے الہامات قرآن مجید کے لئے ناسخ ہوگئے۔ (العیاذ باللہ)

رسول اللہ ﷺنے جس غلبۂ کاملہ دین کا وعدہ کیا اس کو اپنے اوپر چسپاں کرنا

مرزاقادیانی نے ’’براہین احمدیہ‘‘ میں لکھا ہے: ’’ھو الذی ارسل رسولہ بالہدٰی و دین الحق لیظہرہ علی الدین کلہ‘‘ یہ آیت جسمانی اور سیاست ملکی کے طور پر حضرت مسیح کے حق میں پیشین گوئی ہے۔ اور جس غلبۂ کاملہ دین اسلام کا وعدہ دیا گیا ہے وہ غلبہ مسیح کے ذریعہ سے ظہور میں آئے گااور جب حضرت مسیح دوبارہ اس دنیا میں تشریف لائیں گے تو ان کے ہاتھ سے دین اسلام جمیع آفاق اور اقطار میں پھیل جائے گا۔‘‘

(براہین احمدیہہر چہار حصص طبع پنجم ص۴۹۹، خزائن جلد ۱ ص۵۹۳)

مرزا کاالہام گویا قرآن کریم کے لئے ناسخ ہے

مرزا غلام احمد قادیانی کے لڑکے ’’مرزا بشیر الدین محمود‘‘ نے مرزا کی زندگی پر ایک کتاب لکھی ہے۔ جس کانام سیرت مسیح موعود ، ہے۔اس میں ’’مرزا بشیر الدین محمود‘‘ نے لکھا ہے کہ: ’’لیکن ۱۸۹۱ء میں ایک اور تغیر عظیم ہوا یعنی حضرت مرزا صاحب کو الہام کے ذریعہ بتا یا گیا کہ حضرت مسیح ناصری جن کے دوبارہ آنے کے مسلمان اور مسیحی دونوں قائل ہیںفوت ہو چکے ہیںاور ایسے فوت ہوئے ہیں کہ پھر واپس نہیں آسکیں گے۔‘‘

(سیرت مسیح موعود ص۱۸)

آپ حضرات نے ملاحظہ فرمایا کہ پہلا حوالہ جو میں نے عرض کیا ہے اس میں مرزا غلام احمد قادیانی قرآنی آیت پڑھ کر کہتا ہے کہ:’’ اس آیت کا مصداق حضرت مسیح (علیہ السلام) ہیں‘‘ جس وقت وہ دوبارہ آئیں گے تو اس آیت کی رو سے اسلام جمیع آفاق اور اقطار میں پھیل جائے گا۔‘‘اب اپنے الہام کی بنیاد پر کہتا ہے:’’ حضرت مسیح (علیہ السلام)فوت ہو گئے۔‘‘تو اس کا الہام گویا قرآن کے لئے ناسخ ہوا۔نعوذ باللہ!۔

مسلمانوں پر کافر اور جہنمی ہونے کا فتویٰ

’’مرزا بشیر الدین محمود‘‘ نے اپنی کتاب ’’آئینۂ صداقت‘‘ میں لکھا ہے کہ: ’’کل مسلمان جو حضرت مسیح موعود کی بیعت میں شامل نہیں ہوئے ہیں خواہ انہوں نے مسیح موعود کا نام

113

بھی نہ سنا ہو، وہ کافر ہیں اور دائرۂ اسلام سے خارج ہیں۔میں تسلیم کرتا ہوں کہ یہ میرے عقائد ہیں۔‘‘

(آئینۂ صداقت ص۳۵)

چند اہم سوالوں کے جوابات

حضرات گرامی! یہ جو مرزائی ہیں، وہ عموما ً یہ سوال اٹھاتے ہیں اور ہمارے تعلیم یافتہ جو لوگ ہیں ان کو وہ بارہا تنگ کرتے ہیں کہ حضور(ﷺ )کی خدمت میں ایک صحابیؓ نے عرض کیا: یا رسول اللہ(ﷺ) : فلاں کافر تھا میں مارنے لگا تو اس نے کلمہ پڑھ لیا ،کلمہ پڑھنے کے باوجود میں نے اس کو ماردیا ،تو حضور (ﷺ) نے ارشاد فرمایا :’’اگر قیامت کے دن اس کا کلمہ قبول ہوگیا تو میں اس سے بری الذمہ ہوں۔‘‘

انہوں نے عرض کیا کہ’’ یا رسول اللہ(ﷺ) اس نے ڈر کے مارے پڑھا تھا۔تلوار جس وقت اس کے سر پر لٹک رہی تھی اس وقت اس نے پڑھا‘‘تو حضور (ﷺ) نے فرمایا :’’ تو نے اس کے قلب کو چیر کر دیکھ لیا تھا کہ وہ ڈر کے مارے پڑھ رہا ہے۔‘‘

ایک اور حدیث شریف جس میں ہے کہ’’ جو ہمارے قبلہ کی طرف رخ کرے ،ہمارے ذبیحہ کو کھائے وغیرہ ، ہم اس کے جان ومال کے ذمہ دار ہیں۔‘‘

مرزائی ان حدیثوں سے استدلال کرتے ہیں کہ’’ ہم کلمہ پڑھتے ہیں،نمازیں پڑھتے ہیں ،روزہ رکھتے ہیں ،مسجدیں بناتے ہیں وغیرہ دین کے نیک کام کرتے ہیں۔ہمارے کلمہ پڑھنے کے باوجود ہم کو کافر کیوں کہا جاتاہے‘‘؟،اس کے اور جوابات کے علاوہ ایک جواب یہ بھی ہے کہ جو آپ نے تحریر فرمایا : مرزائیوں کے نزدیک تمام مسلمان اگر چہ اس نے مرزا کا نام بھی نہ سنا ہو کافر ہیں۔آپ اور میں کلمہ پڑھتے ہیں ، کروڑہا حضور(ﷺ) کے امتی نماز پڑھنے والے،روزہ رکھنے والے،حج کرنے والے ،ان تمام مسلمانوں کو مرزائی کافر قرار دیتے ہیں ۔

تو ہم مرزائیوں کو بھی کہہ سکتے ہیں : ہم بھی کلمہ پڑھتے ہیں اور تم ہمیں کافر قرار دیتے ہو؟۔تو مرزائی جواب میں یہ کہیں گے کہ’’ تم نے اللہ کے ایک نبی کو نہیں مانا اس لئے تمہارے کلمہ کا اعتبار نہیں‘‘،تو ہم ان سے عرض کریں گے کہ تم نے ایک جھوٹے آدمی کو نبی بنا لیا اس لئے تمہارے کلمہ کا بھی اعتبار نہیں؟۔جس طرح اللہ کے نبی کو نہ ماننا کفر ہے اسی طرح جھوٹے آدمی کو نبی ماننا بھی کفر ہے؟

114

مجھے آپ حضرات کے سامنے یہ بیان کرتے ہوئے شرم آتی ہے کہ آپ حضرات علماء ہیں ،شرعی مسئلہ یہ ہے کہ اسلام میں داخل ہونے کا ایک ہی راستہ ہے اور وہ ہے کلمہ طیبہ!۔کافر ہونے کے لئے کلمہ کاانکار ضروری نہیں۔دین کے کسی ایک مسئلہ کا انکار کرے گا تو آدمی کافر ہو جائے گا۔چاہے وہ کلمہ کیوں نہ پڑھتا ہو۔مسلمان ہونے کے لئے ضروری ہے کہ انسان حضور ﷺ کے پورے دین کو مانے۔تصدیق الرسول بما جاء بہ الخ:

دین کے کسی ایک مسئلہ کا انکار بھی کفر ہے

آپ حضرات تو علماء ہیں یہ باتیں سب جانتے ہیں۔اور کافر ہونے کے لئے ضروری نہیں کہ پورے دین کا انکار کرے۔دین کے کسی ایک مسئلہ کا انکار کرے گا کافر ہو جائے گا۔مرزائیوں نے دین کے ایک مسئلہ کا نہیں بے شمار مسائل کا انکار کیا،ختم نبوت کا انکار کیا،حیات مسیح(علیہ السلام) کا انکار کیا،اللہ کی توحید کا انکار کیا۔حوالہ جات آپ حضرات لکھ چکے ہیں۔انبیاء علیہم السلام کی توہین کی۔بالخصوص حضرت مسیح(علیہ السلام) کی توہین کی۔صحابہ کرامؓ کی توہین کی۔امت کو کافر قرار دیا۔ حضور(ﷺ)کی معراج کا انکار کیا۔قیامت کا انکار کرتے ہیں۔فرشتوں اور جنات کا انکار کرتے ہیں۔ضروریات دین میں سے ایک کا نہیں اکثر کا انکار کرتے ہیں۔ اور ضروریات دین میں سے کسی ایک کا انکار کرنا ،کفر ہے۔اس لئے ان کے کلمہ پڑھنے کا کوئی اعتبار نہیں۔

دین کے کسی ایک مسئلہ کا انکار بھی کفر ہے اس کی دلیل

ہمارے پاس اس کی دلیل یہ ہے کہ حضرت صدیق اکبرؓ اور مسیلمہ کذاب کی جو جنگ ہوئی تھیمسیلمہ کذاب اپنی اذان میں اشہد ان محمداً رسول اللہ کہتا تھا،یہی کلمہ پڑھتا تھا،مسلمانوں کی طرح نماز پڑھتا تھا۔بیت اللہ کی طرف رخ کرکے نماز پڑھتا تھا۔کسی مسئلہ میں صحابہؓسے اختلاف نہیں تھا ۔ اختلاف صرف یہ تھا کہ مسیلمہ کذاب کہتا تھا کہ حضور(ﷺ) بھی نبی ہیں اور میں بھی نبی ہوں۔

ہمارا کلمہ اور ہے اور مرزائیوں کا کلمہ اور ہے

صحابہؓ کہتے تھے نا بھائی : حضور ﷺ کے بعد کوئی نبی نہیں۔بات صرف یہ ہے، اور کسی بھی چیز کا اختلاف نہ تھا۔صرف اسی ایک اختلاف کی بنا پر صحابہؓ نے اس کے کلمہ کا

115

اعتبار نہیں کیا۔نہ اس کی نماز کا اور نہ کسی اور دینی کام کا اعتبار کیا۔اس کے ساتھ جنگ ہوئی اور اس فتنہ کو فرو کیا۔اب مرزائی کچھ بھی کریں ،کہیں ان کے کہنے کا اعتبار نہیں۔وہ دائرۂ اسلام سے خارج ہیں۔

دوسری درخواست یہ ہے کہ مرزائی ہمارا والا کلمہ پڑھتے ہی نہیں۔ان کا کلمہ اور ہے اور ہمارا کلمہ اور ہے ۔ آپ حضرات سوچیں گے یہ کس طرح ؟بحث چل نکلی ہے اس لئے کتاب کا حوالہ کل بتاؤںگا،’’مرزا بشیر الدین ایم اے‘‘ نامی ’’مرزا غلام احمد قادیانی‘‘ کا ایک لڑکا ہے۔’’کلمۃ الفصل‘‘ نامی ایک کتاب اس نے لکھی ہے ۔اس میں وہ لکھتا ہے کہ ’’مسلمان ہمیں کہتے ہیں کہ جب آپ نے نبی علیحدہ بنایا ہے تو اپنا کلمہ بھی علیحدہ بنا لو۔‘‘جواب میں کہتا ہے :’’ ہمیں علیحدہ کلمہ بنانے کی ضرورت نہیں‘‘،کیوں کے جواب میں لکھتا ہے کہ’’ اللہ تعالیٰ نے مرزا غلام احمد قادیانی کو محمد رسول اللہ کہا ہے، مرزا قادیانی محمد رسول اللہ ہے۔تو جب تک مرزا صاحب نہیں آئے تھے اس وقت تک محمد رسول اللہ سے مراد حضور(ﷺ) کی ذات گرامی تھی۔جب مرزا غلام احمد قادیانی آگئے تو اس کے مفہوم میں ایک نبی کی زیادتی ہوگئی۔ (کلمتہ الفصل ص۱۵۸)

جس وقت آپ، میں اور دنیا کے باقی مسلمان کلمہ پڑھتے ہیں تو اس وقت محمد رسول اللہ (ﷺ)سے مراد صرف محمد رسول اللہ(ﷺ)ہوتے ہیں۔جس طرح ہم اللہ کی ذات کے ساتھ کسی کو شریک نہیںٹھیراتے ،وہ توحید میں وحدہ لا شریک لہ ہیں،اور نبوت میں محمد(ﷺ)وحدہ لا شریک لہ ہیں۔شریک خدا بھی کوئی نہیں اور رسول اللہ (ﷺ) کا بھی شریک کوئی نہیں۔لیکن مرزائیوں کے نزدیک محمد رسول اللہ(ﷺ) کے مفہوم میں مرزا غلام احمد قادیانی بھی شریک ہیں۔تو نتیجہ یہ نکلا کہ جس وقت مرزائی کلمہ پڑھتے ہیں تو اس وقت اس کے مفہوم میں مرزا غلام احمد قادیانی بھی شریک ہیں ۔ ہمارے نزدیک شامل تو درکنار! اس کی شمولیت کے تصور کو بھی ہم کفر قرار دیتے ہیں۔تو معلوم ہوا کہ ہمارا کلمہ اور ہے اور مرزائیوں کا کلمہ اور ہے۔اگر وہ کہیں کہ ہم بھی کلمہ پڑھتے ہیں ہمیں کافر مت کہو؟،تو ہم دو لفظی جواب دے سکتے ہیں کہ’’ ہم بھی کلمہ پڑھتے ہیں۔‘‘

مرزا بشیراحمدایم اے نے ’’کلمۃ الفصل‘‘ میں لکھا ہے کہ ’’ہر ایک شخص جو موسیٰ (علیہ السلام)کو تو مانتا ہے مگر عیسیٰ (علیہ السلام)کو نہیں مانتا یا عیسیٰ(علیہ السلام) کو مانتا ہے مگر محمد (ﷺ)کو نہیں مانتا یا محمد (ﷺ) کو تو مانتا ہے مگر مسیح موعود کو نہیں مانتا وہ نہ صرف کافر بلکہ پکا کافر اور دائرۂ اسلام سے خارج ہے۔‘‘ (کلمتہ الفصل ص۱۱۰)

116

مرزا کا منکر کافر ہی نہیں بلکہ پکا کافر اور دائرۂ اسلام سے خارج ہے

دیکھئے ! مرزائیوں کے نزدیک جس طرح حضرت موسی (علیہ السلام)کا منکر کافر ہے اور عیسیٰ (علیہ السلام) کا منکر کافر ہے اور جس طرح حضرت محمد(ﷺ) کا منکر کافر ہے اسی طرح مرزا کا منکر بھی کافر ہے۔ بلکہ پکا کافر اور دائرۂ اسلام سے خارج ہے۔(معاذ اللہ، استغفر اللہ)

مرزائی مسلمانوں کے پیچھے نماز نہیں پڑھتے

یہ بہت معروف مسئلہ ہے کہ مرزائی مسلمانوں کے پیچھے کبھی بھی نماز نہیں پڑھتے،حتی ٰ کے جس وقت بانی ٔ پاکستان ’’محمد علی جناح‘‘ فوت ہوئے،علامہ شبیر احمد عثمانی ؒنے ان کی جنازہ کی نماز پڑھائی تھی،تو ’’ظفر اللہ قادیانی‘‘ نے جنازہ کی نماز نہیں پڑھی تھی۔یہ کہہ کر نہیں پڑھی تھی کہ قائد اعظم مسلمان ہے تو میں کافر ہوں۔اگر میں مسلمان ہوں تو یہ کافر ہے ۔موجود ہونے کے باوجود ، کھڑا رہا مگر جنازہ میں شریک نہیں ہوا۔اور ان کے حوالے بھی موجود ہیں کہ غیر احمدی کے پیچھے نماز نہیں پڑھنی چاہئے۔

بقول ’’مرزا بشیر الدین‘‘ قادیانی مسلمانوں کے بچوں کے جنازہ میں شریک نہیں ہو سکتے

کسی نے پوچھا کہ یہ بڑی عمر کے مسلمان ہیں اگر یہ فوت ہو جائیں تو ہم ان کے جنازے نہ پڑھیں یہ ٹھیک ہے کہ یہ لوگ مرزا کو نہیں مانتے،مگر چھوٹے چھوٹے بچے فوت ہوجائیں تو ہم ان کے جنازہ میں شریک ہو سکتے ہیں؟ تو انہوں نے جواب دیا کہ’’ جس طرح ہم ہندؤں اور عیسائیوں کے جنازہ میں شریک نہیں ہوسکتے اسی طرح ہم مسلمانوں کے بچوں کے جنازہ میں بھی شریک نہیں ہوسکتے۔‘‘ (انوار خلافت از مرزا بشیر الدین ص ۹۳)

مرزائیوں کی شرعی حیثیت آپ حضرات سے بیان کرنا چاہتا ہوں

ان کا حکم کافروں والا ہے یا مرتدوں والا ہے یا کوئی اور؟ایک تو بڑی سادہ سی بات ہے کہ جو لوگ پہلے سے مسلمان تھے اور پھر انہوں نے مرزا غلام احمد قادیانی کو مانا ،پھر مرزائی ہوئے تو وہ مرتد ہیں۔اس میں تو کوئی کلام نہیں۔باقی جو مرزائی ہیں، آیا وہ مرتد ہیں یا کافر؟ ظاہر بات ہے

117

کہ مرتد کی جو اولاد ہوتی ہے وہ کافر ہوتی ہے لیکن یہ جتنے مرزائی ہیں یہ صرف کافر ہی نہیں بلکہ زندیق ہیں۔

زندیق کی توبہ بھی قابل قبول نہیں

’’اکفار الملحدین‘‘میںحضرت مولانا سید انور شاہ صاحب کشمیری ؒ نے بڑی صراحت کے ساتھ بہت سارے حوالجات سلف صالحین سے نقل کئے ہیںکہ جو زندیق ہوتا ہے وہ بھی مرتد کے حکم میں ہوتا ہے۔بلکہ مرتد سے بھی زیادہ سزا کے اعتبار سے سخت ہے۔اس لئے کہ مرتد کو تین دن تک مہلت دی جاتی ہے۔(بعض علماء نے لکھا ہے کہ زندیق کی توبہ بھی قبول نہیں)، مرتد کے متعلق گنجائش ہے کہ تین دن کی مہلت دی جائے،اگر وہ اپنے عقائد سے رجوع کرلے تو اس کی توبہ قبول ہوگی۔جب وہ اصرار کرے یعنی اپنے عقائد باطلہ سے رجوع نہ کرے تو اس کو قتل کردیا جائے۔لیکن زندیق کے متعلق حضرت مولانا سید انور شاہ کشمیری ؒ نے سلف صالحین کے اقوال نقل کئے ہیںکہ زندیق کی توبہ قابل قبول نہیں۔

مرزائیوں نے شریعت محمدیہ کی ایسی تأویلیں کیں جو شیطان کو بھی نہ سوجھی ہوں گی

جو شیطان کو بھی نہ سوجھی ہوںگی بعض حضرات نے لکھا ہے کہ گرفتار ہونے سے پہلے توبہ کرلیتا ہے تو قبول ہے، اگر گرفتاری کے وقت توبہ کرتا ہے تو وہ قبول نہیں کی جائے گی بلکہ اسے قتل کیا جائے گا۔بعض علماء نے صراحت کی ہے کہ زندیق کی توبہ سرے سے قبول ہی نہیں۔یہ قادیانی جتنے ہیں سب زندیق ہیںاور یہ شریعت محمدیہ کی ایسی تاویلیں کرتے ہیں کہ جو شیطان کو بھی نہ سوجھی ہوںگی۔یعنی صاحب شریعت(a )کی مراد کچھ ہوتی ہے اور یہ کچھ اور مراد لیتے ہیں، یہ ان کی کھلی بغاوت ہے۔

مرزائیوں کو غیر مسلم قرار دینے کا مطالبہ قانونی تھا ‘ شرعی مطالبہ نہ تھا

ان کو غیر مسلم قرار دینے کے لئے ہمارے پاکستان میں جتنے آرڈینینس ہوئے یہ علماء کا مطالبہ نہ تھا اور نہ یہ اسلام کا مطالبہ ہے کہ قادیانیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دیا جائے تاکہ یہ غیر مسلم ہونے کے باوجود مسلم کے حقوق پر ڈاکہ نہ ڈالیں، ان کو ہم سے علیحدہ قرار دیا جائے۔’’علامہ اقبالؒ‘‘ کا یہ ایک قانونی مطالبہ تھا شرعی مطالبہ نہ تھا۔

118

اسلام کا مطالبہ وہی ہے جو سیدنا ابو بکر صدیقؓ نے مسیلمۂ کذاب کے ساتھ کیا

چونکہ پاکستان بننے کے بعد بد نصیبی سے وہ حضرات اقتدار میں آئے جن کے ذہنوں پر انگریزوں کی چھاپ تھی،انگریزی ذہنیت کی وہ پیدا وار تھے۔اس لئے مجبوراً علماء کو ان کے سامنے وہی مطالبات رکھنا پڑے جو ’’علامہ اقبال مرحوم‘‘ نے انگریزوں کے سامنے رکھے تھے۔ورنہ یہ اسلام کا مطالبہ نہیں ہے کہ قادیانیوں کو غیرمسلم اقلیت قرار دیا جائے۔اسلام کا مطالبہ اور فیصلہ صرف اور صرف وہی ہے جو سیدنا حضرت ابو بکر صدیقؓ نے مسیلمۂ کذاب کے ساتھ کیا تھا۔

تو ہم نے قادیانیوں سے پاکستان میں یہ درخواست کی کہ یہ ’’جنرل ضیاء الحق‘‘ کا آرڈیننس ہے۔ ضیائی آرڈیننس ہے، اور یہ مان لو ورنہ مصطفائی آرڈیننس آئے گا تو یہی ہوگا کہ من بدل دینہ فاقتلوہ۔اس کے علاوہ کوئی تیسرا راستہ نہیں۔

بین الاقوامی قانون ہے کہ باغی کی سزا موت ہے

میں نے مولانا محمد علی جالندھریؒ کا تذکرہ بارہا آپ حضرات کے سامنے کیا ہے۔مولانا سے ایک انگریز نے کہا تھا کہ مرتد کی سزا قتل کیوں ہے؟تو جواب میں مولانا جالندھریؒنے فرمایا: یہ تو بین الاقوامی قانون ہے۔تو انگریز نے کہا کہ کس طرح ؟مولانا نے کہا : ساری کائنات اس قانون کو مانتی ہے۔روس،امریکہ اور چائنا سب اس کو تسلیم کرتے ہیںکہ مرتد کو قتل کردیا جائے۔ ایک آدمی تحقیق اور مطالعہ کرکے یہ نتیجہ اخذ کرتا ہے کہ وقت کی حکومت غلط ہے۔اور وہ اس کے خلاف بغاوت کردے تو آپ کے نزدیک اس کی سزا کیا ہے ؟ تو انگریز نے کہا: مولانا باغی کی سزا تو قتل ہے؟۔مولانا نے فرمایا : تمہارے نزدیک باغی کی سزا قتل ہے اسی طرح ہمارے نزدیک اسلام اور محمد مصطفی(ﷺ) کے باغی کی سزا موت ہے۔

اپنی ذات پر زد پڑتی ہے تو تنگ نظری نظر آتی ہے

ارتداد خدا اور مصطفی(ﷺ) سے بغاوت کا دوسرا نام ہے۔آج کل کا پتہ نہیں!نئے تعلیم یافتہ حضرات ہیں۔پتہ نہیں یہ اس سے کیوں چڑتے ہیںحالانکہ اس کے یہاں بھی یہی قانون مسلم ہے۔حکومت کا کوئی باغی ہو تو وہ کہیں گے کہ اس کی سزا موت ہے۔اگر کوئی خدا کا باغی ہے تو اس کے متعلق کہیںگے کہ یہ بڑی تنگ نظری ہے ۔اپنی ذات پر زد پڑتی ہے تو تنگ نظری نظر آتی ہے۔اگر دین پر زد پڑتی ہے ۔پیدا کرنے والے کے خلاف بغاوت سر اٹھاتی

119

ہے تو اس کے متعلق فیصلہ ہوتا ہے کہ یہ علماء کی بڑی تنگ نظری ہے۔نعوذ باللہ۔

نوٹ : یہ ایک مستقل بحث ہے مرزا قادیانی کی پیشین گوئیوں کے بارے میں، اس کے متعلق مستقل کتابیں لکھی گئی ہیں۔اور یہ سب پیشین گوئیاں جھوٹی نکلی ہیں۔میں تفصیلات میں جانا نہیں چاہتا وہ سب آپ حضرات کو معلوم ہیں تو وقت ضائع کئے بغیر ہم اگلی بحث شروع کرتے ہیں۔

مرزا غلام احمد کی قابلیت

آپ حضرات توجہ فرمائیں۔ مرزا قادیانی کہتا ہے:

مگر بخدا !یہ سچ اور بالکل سچ ہے اور قسم ہے مجھے اس ذات کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! ’’در حقیقت مجھ میں کوئی علمی اور عملی خوبی یا ذہانت اور دانشمندی کی لیاقت نہیں۔‘‘

(ازالہ اوہام ص۱۵، خزائن جلد۳ ص۶۳۵)

یہ قسم اٹھا کر کہتا ہے کہ مجھ میں کوئی دانشمندی عقلمندی نہیں،اور آگے کہتا ہے: در حقیقت یعنی یہ نہیںکہ میں کوئی کسر نفسی کررہا ہوں،کسر نفسی بھی نہیں کہتا۔ در حقیقت،کہتا ہے۔بخدا اس ذات کی قسم جس کے قبضہ میں میری جان ہے !مجھ میں کوئی لیاقت نہیں،جب لیاقت نہیں تو لال بجھکڑ ہوا،لال بجھکڑ بھی نبی ہو سکتا ہے؟مرزاقادیانی کی کتاب ’’حمامتہ البشریٰ‘‘ کا ایک حوالہ ملاحظہ ہو: ’’والقسم یدل علیٰ ان الخبر محمول علیٰ الظاہر‘‘ صرف ایک جملہ لکھا کہ قسم ظاہر پر دلالت کرتی ہے۔

(حمامتہ البشریٰ ص۱۴ حاشیہ، خزائن جلد۷ ص۱۹۲)

مکہ و مدینہ کی چھاتیوں کا دودھ خشک ہوگیا ہے

قادیانی جماعت کا سالانہ جلسہ ہر سال ہوا کرتا تھا، اس سالانہ جلسہ کو قادیانی حضرات ’’ظلی حج‘‘ کہتے ہیں۔ مرزا بشیر الدین کی ایک کتاب ہے۔ ’’حقیقت الرؤیا‘‘ اس کے اندر یہ لکھا ہوا ہے کہ’’ مکہ اور مدینہ کی چھاتیوں کا دودھ خشک ہوگیا ہے ،جس آدمی کو اب تازہ دودھ کی ضرورت ہے وہ قادیان کے ساتھ رابطہ رکھے۔‘‘نعوذ باللہ۔ان کے سالانہ جلسہ کی جو کیفیت ہے وہ حج جیسی ہوتی ہے،چنانچہ حاجی صاحبان ظہر و عصر کی نماز اکٹھی کرکے پڑھتے ہیں، اور مغرب اور عشاء بھی۔

قادیانی بھی اپنے سالانہ جلسہ میں اپنے گھر ہوتے ہوئے بھی اپنی عبادت گاہ میں جمع بین الصلوٰتین کرتے ہیں۔ صرف حج کی نقل اتارتے ہیں۔اور باقاعدہ ان کا ٹائم ٹیبل

120

چھپا ہواہوتا ہے۔

اور مقیم ان کا امام ہوتا ہے، ان کے گھر سے مرزائی واڑہ جو چند گز کے فاصلہ پر ہوتا ہے بد بخت نماز پڑھاتا ہے۔

ملت اسلامیہ سڑا ہوا گوشت اور دودھ ہے

مرزا محمود قادیانی کہتا ہے : ان لوگوں کو ایسے حالات کے ساتھ ملانا ،تعلق رکھنا ایساہے جیسا کہ عمدہ گوشت و دودھ میں سڑا ہوا گوشت و دودھ ڈالدیں۔اس لئے ہماری جماعت ان لوگوں کے ساتھ کسی طرح کا تعلق نہیں رکھ سکتی۔اور نہ ہمیں ایسے تعلق کی حاجت ہے۔یعنی مرزائیوں کے نزدیک ملت اسلامیہ سڑا ہوا گوشت ہے اور مرزائی جو ہیں وہ تازہ گوشت اور دودھ ہیں۔تو اس میں جو حوالہ ہے وہ میں عرض کرنا چاہتا ہوں ۔

علامہ اقبالؒ کے بے شمار حوالجات ہیں (علامہ اقبالؒ نے اتنا کام کیا کہ مرزائی چیخ اُٹھے )

اس میں ہے کہ ’’علامہ اقبالؒ‘‘ کے والد ’’شیخ نور محمد‘‘ نامی تھے، وہ مرزائی ہوگئے تھے۔بعد میں اللہ کے فضل سے ’’علامہ اقبالؒ‘‘ کے کہنے پر سمجھانے پر توبہ کرلی، اور مسلمان ہوگئے تھے اور علامہ کو بھی اس وقت مسئلہ سمجھ میں آیا جب علامہ سید انور شاہ کشمیری ؒ نے سمجھایا تھا۔پھر ’’علامہ اقبالؒ‘‘ نے اتنا کام کیا ،اتنا کام کیا کہ مرزائی چیخ اٹھے۔خود مرزائی لکھتے ہیں: پڑھے لکھے طبقہ میں جتنی نفرت پیدا کی گئی وہ سب علامہ کی پیدا کردہ ہے۔ (سیرۃ المہدی سوم ص۲۵۰) اور علامہ کشمیری ؒ کا یہ صدقہ ہے۔اللہ ان کی قبروں پر رحمت کی بارش نازل فرمائیں۔ آمین!

’’علامہ اقبالؒ‘‘ کے والد کو کہا :آپ کا نام صرف جماعت سے نہیں بلکہ اسلام سے کاٹ دیا گیا

یہ شیخ نور محمد نے جب مرزا قادیانی کو اعتدال سے خط لکھا کہ اب میں بوڑھا اور کمزور ہوگیا ہوں آپ کے ساتھ،جماعت کے ساتھ تعلق نہیں رکھ سکتا ،تو مرزا قادیانی نے یہ جواب دیا کہ (شیخ نور محمد نے لکھا تھا کہ جماعت سے میرا نام کاٹ دیا جائے ) صرف جماعت سے تیرا نام نہیں کاٹا بلکہ اسلام سے تیرا نام کاٹ دیا۔یہ جو ا ن کی عبارت ہے میں پڑھ کر سنا دیتا ہوں۔

121

’’مرزابشیراحمد ایم اے‘‘ نے سیرۃ المہدی میں تفصیل سے لکھا ہے۔ ملاحظہ فرمائیں:

جیسی روح ویسے فرشتے

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ

’’منشی محمد اسماعیل صاحب سیالکوٹی نے مجھ سے بیان کیا کہ ڈاکٹر سرمحمد اقبال جو سیالکوٹ کے رہنے والے تھے،ان کے والد کانام شیخ نور محمد تھا،جن کو عام لوگ شیخ نتھو کہہ کر پکارتے تھے۔شیخ نور محمد صاحب نے غالباً ۱۸۹۱ یا ۹۲ ۱۸عیسوی میںمولوی عبد الکریم صاحب مرحوم اور سید حامد شاہ صاحب مرحوم کی تحریک پر حضرت مسیح موعود کی بیعت کی تھی۔‘‘ (یہ مولوی عبد الکریم مرزا قادیانی کا امام الصلوٰۃ تھا۔ذکر حبیب میں اس کا حوالہ موجود ہے دیکھئے! ص۲۴،۲۵)

(ان کا حلیہ یہ لکھا گیا کہ ان کا قد چھوٹا اور بدن موٹا تھا۔کیا خوبصورت گول دیکھائی دیتا ہوگا۔ایک آنکھ سے کانے تھے اور ایک بازو نہیں تھا۔منھ کے اوپر ماتا کے داغ تھے۔پیٹ آگے کو نکلا ہواتھا۔پیٹ آگے کو نکلا ہوا ہو،منھ کے اوپر ماتا کے داغ ہوں،ایک آنکھ نہ ہو اور ایک ہاتھ بھی نہ دارد،قد چھوٹا اور جسم موٹا، آپ اندازہ لگائیں کہ چلتا پھرتا اس کائنات میں اللہ رب العزت کی طرف سے بھینسا کی کوئی قسم بنا کر پیدا کیا گیا ہوگا اور ادہر سے امام الصلٰوۃ۔وہ مثال مشہور ہے کہ جیسی روح ویسے فرشتے۔یہ جس طرح کے نبی تھے اللہ رب العزت نے امام بھی ایساہی نصیب فرمایا تھا۔نبی بھی چلتا پھرتا کارٹون تھا اور ان کا امام بھی چلتا پھرتا کارٹون۔اچھا خاصا بد معاش!)

’’ان دنوں سر محمد اقبال سکول میں پڑھتے تھے اور اپنے باپ کی بیعت کے بعداپنے آپ کو احمدیت میں شمار کرتے تھے۔اور حضرت مسیح موعود (مرزامردود) کے معتقد تھے۔اور چونکہ سر کو بچپن سے ہی شعر و شاعری کا شوق تھااس لئے ان دنوں میں انہوں نے سعد اللہ لدھیانوی کے خلاف حضرت مسیح موعود کی تائید میں ایک نظم بھی لکھی تھی۔مگر اس کے چند سال بعد جب سر اقبال کالج میں پہنچے تو ان کے خیالات میں تبدیلی آگئی۔

انہوں نے اپنے باپ کو بھی سمجھا بجھا کر احمدیت سے منحرف کردیا۔چنانچہ شیخ نور محمد صاحب نے حضرت مسیح موعود کی خدمت میں ایک خط لکھا کہ جس میں یہ تحریر کیا کہ سیالکوٹ کی جماعت چونکہ نوجوانوں کی جماعت ہے اور میں بوڑھا آدمی ان کے ساتھ چل نہیں سکتا۔لہٰذا آپ

122

میرا نام اس جماعت سے الگ رکھیں۔اس پر حضرت صاحب کا جواب میر حامد شاہ صاحب مرحوم کے نام گیا، جس میں لکھا تھا کہ شیخ نور محمد کو کہہ دیویں کہ وہ جماعت سے ہی الگ نہیں بلکہ اسلام سے بھی الگ ہیں۔‘‘

(سیرۃ المہدی حصہ سوم ص۲۴۹، روایت نمبر۸۵۸)

گویا مرزائیوں کے نزدیک جو شخص مرزائی نہیں ہے وہ مسلمان نہیں ہے۔یہ ہے بد بخت مرزا کی کہانی خود اس کی زبانی۔

میرے مرید جانوروں سے بھی بدتر ہیں

مرزا غلام احمد قادیانی اپنی جماعت کا سالانہ اجتماع کیا کرتا تھا،ایک دفعہ کسی وجہ سے یہ سالانہ اجلاس ملتوی کردیا،جلسہ ملتوی کرنے کے لئے اس نے اشتہار چھاپا،اس اشتہار کی چند سطریں میں آپ حضرات کی خدمت میں عرض کرتا ہوں۔اس سے مرزائیوں کے باقی حالات کا اندازہ لگ سکے گا۔

کہتا ہے: ’’میرے مریداتنے بد اخلاق ہوگئے ہیں کہ میں ان کو چھوڑ کرجنگل میں درندوں کے ساتھ جا کر رہوں ۔‘‘ یعنی مرتے وقت یہ بے ایمان اپنے مریدوں کو یہ سند دیکر جارہا ہے کہ یہ درندوں سے بھی بد تر ہیں۔ حضور(ﷺ) اپنے صحابہ (رضوان اللہ علیہم اجمعین) کے متعلق فرماتے تھے: اصحابی کالنجوم الخ اور یہ قادیانی کہہ رہا ہے: میرے مرید جانوروں سے بھی بدتر ہیں۔تو یہ ایساہے جیسی روح ویسے فرشتے! ۔

مرزائیوں کی بد اخلاقی کے چند نمونے خود مرزا کی زبانی

’’مگر میں دیکھتا ہوں کہ یہ ہماری جماعت کے بعض لوگوں میں ایسے بد تہذیب ہیں کہ اگر ایک بھائی ضد سے اس کی چار پائی پربیٹھتا ہے تو سختی سے وہ اسے اٹھانا چاہتا ہے۔اگر وہ نہیں اٹھتا تو وہ چار پائی کو الٹ دیتا ہے۔اور اس کو نیچے گراتا ہے۔پھر دوسرا بھی فرق نہیں کرتااور وہ اس کو گندی گالیاں دیتا ہے ۔ اور تمام بخارات نکالتا ہے۔یہ حالات ہیں جو میں اس جماعت میں مشاہدہ کررہاہوں۔دل کباب ہوتا ہے ،جلتا ہے۔اور بے اختیار دل میں یہ خواہش پیدا ہوتی ہے کہ اگر میں درندوں میں رہوں تو اس بنی آدم سے اچھا رہوں۔میں کس خوشی میں لوگوں کو جلسہ کے لئے اکٹھا کروں۔‘‘

(ازاشتہار التواء جلسہ، ۲۷؍دسمبر ۱۸۹۳ء، میلادی،ملحقہ شہادۃ القرآن ص۱۰۰،۱۰۱، خزائن جلد۶ ص۳۹۶، ۳۹۷)

123

برتن سے وہی ٹپکتا ہے جو اس میں ہوتا ہے

کہتے ہیں: ہر چیز اپنی اصل کی طرف لوٹتی ہے،تو چونکہ یہ خود درندہ صفت تھااس لئے اسے درندوں سے محبت تھی،بارہا اس کا دل بے اختیار چاہتا تھا کہ اے کاش کہ میں ان مریدوں کی بجائے خنزیروں کے پاس رہوں۔ (اشتہار التوائے جلسہ ملحقہ شہادۃ القرآن) مرزا غلام احمد کا‘اس نبی کا دل بے اختیار چاہتا تھا کہ میں خنزیروں کے پاس رہوں۔توبہ!استغفر اللہ!

۱… آج کل ہمارے پڑھے لکھے لوگ بہت کہتے ہیں: مرزائی بڑے اخلاق والے ہیں،مولوی صاحب ! قربان جائیے کہ مرزائی بڑے اخلاق والے ہیں۔مولوی بہت جلدی غصہ ہو جاتے ہیں،یہ ان کو ان کا نبی سند دے رہا ہے۔ جس کو آپ اخلاق والے کہتے ہیں۔

چور جس وقت آئے گا نرمی کے ساتھ آئے گا

۲… اگر مرزائی کسی وجہ سے مسلمانوں کے ساتھ نرمی کرتے ہیںاور ہم لوگ کسی وجہ سے گرمی کرتے ہیںتو اس کی وجہ یہ ہے کہ چور جس وقت بھی آئے گانرمی کے ساتھ آئے گا،اور جس کی چوری ہوتی ہے وہ بے چارہ چیختا چلاتا ہے ۔چونکہ مرزائی ہماری متاع عزیزایمان کو لوٹنا چاہتے ہیں جس سے ہمیں تکلیف ہوتی ہے ،ہمارا مال (ایما ن ) لوٹا جارہا ہے ہمیں چیخنا چلانا پڑتا ہے،کیونکہ وہ ڈاکو ہیں اس لئے وہ نرمی کرتے ہیں،چور کبھی نہیں اکڑتا ، بلی کی طرح ہمیشہ نرم رہے گا،اور جس کا مال ہوتا ہے اس کو صدمہ ہوتا ہے اس لئے وہ چلاتا ہے چیختا ہے۔

مرزائی جس کو اخلاق کہتے ہیںحقیقت میں وہ بے غیرتی ہے

دوسرا یہ کہنا کہ مولوی صاحب ! مرزائی اتنے اخلاق والے ہیں۔میں نے بیٹھ کر گفتگو کی۔ مرزاغلام احمد کو گالیاں نکال کر دی۔تو بھی اس کے ماتھے پر شکن نہ پڑی۔یہ جس چیز کا نام آپ اخلاق رکھتے ہیں یہ اخلاق نہیں ، اس کو بے غیرتی کہا جاتا ہے۔کسی گنہگار سے گنہگار مسلمان کے سامنے حضور (ﷺ) کی توہین ہو،خدا کی قسم مرجائے گا لیکن اپنے نبی(ﷺ) کی توہین برداشت نہیں کرے گا۔ مرزائی ان کے سامنے ان کے نبی کی توہین ہو اور ان کی پیشانی پر بل نہ پڑے ِآپ چاہیں اسے اخلاق کہیں ہمارے نزدیک بے غیرتی ہے۔غیرت کا تقاضا یہ ہے کہ انسان مرجائے لیکن اپنے نبی کی توہین برداشت نہ کرے۔

124

مرزا غلام احمد کے جھوٹے ہونے کی ایک دلیل

مرزا غلام احمد کے جھوٹے ہونے کی دلیل یہ ہے کہ اس کے ماننے والوں کے سامنے اس کی ملاحی سنائی جاتی ہے مگر ان کے چہرے پر کوئی بل نہیں پڑتا۔ورنہ سچے نبی کے ماننے والے اپنے سچے نبی کی توہین برداشت نہیں کر سکتے تھے اور نہ کر سکتے ہیں۔ نبی کا سب سے پہلا کام یہ ہوتا ہے کہ قوم کے اندر غیرت اجاگر کرتا ہے۔ چونکہ وہ بے ایمان اور بے غیرت تھا اس لئے اس کے سارے ماننے والے بے غیرت ہیں۔

مرزا غلام احمد قادیانی کے فرشتوں کے اسماء گرامی

(۱)انگریز فرشتہ۔ (تذکرہ ص۳۱، ۵۹۳) (۲)مٹھن لال فرشتہ۔ (تذکرہ ص۵۶۱) (۳)شیر علی فرشتہ۔ (تذکرہ ص۳۱) (۴)حاکم فرشتہ۔ (تذکرہ ص۱۶، ۵۱۷) (۵)غلام قادر فرشتہ۔ (تذکرہ ص۶۷۶، ۱۸۸) (۶)دس سالہ فرشتہ۔ (تذکرہ ص۱۷،۱۸ ۷۵۷) (۷)خونی فرشتہ۔ (تذکرہ ص۷۷۲) (۸)قصاب فرشتہ۔ (تذکرہ ص۱۸،۱۹) (۹)سیٹھ عبد الرحمن فرشتہ۔ (تذکرہ ص۲۸۹) (۱۰)مردمی کی دوائی دینے والا فرشتہ۔ (تذکرہ۱۲۴) (۱۱)خیراتی فرشتہ۔ (تذکرہ ص۲۹) (۱۲)ٹی چی فرشتہ ۔ (تذکرہ ص۵۲۸)

ان فرشتوں کے تذکروہ کے وقت حضرت نے حواشی کے طور پر چند باتیں بیان کی ہے وہ یہ ہیں:

۱… ویسے میں آپ حضرات سے پوچھتا ہوں : جب فرشتہ انگریز ہوگا تو آپ کیا ہوگا؟(مولانا مفتی موسیٰ بدات صاحب دامت فیوضہم نے خوب کہا : ان کا خون سفید ہوگیا ہے! )

گندگی آپ کے دماغ کو ماؤف کرے گی

لیکن قادیانیت ایمان کو فالج زدہ کردے گی

۲… آپ حضرات سوچتے ہوںگے کہ کیا یہ واقعی کارٹون تھا یا نہیں ؟ میں الزام نہیں لگاتا یہ بالکل حقیقت ہے کہ وہ کارٹون تھا۔آپ حضرات مرزائیوں کے خلاف اتنی نفرت پیدا کریں کہ مرزائی ایک گالی بن جائے۔آپ حضرات جو یہ بات کرتے ہیں کہ جانے میں کیا حرج ہے جاکر چلے آتے ہیں۔بس چیک کرنے جاتے ہیں۔کبھی کوئی گندگی کو بھی چیک کرنے کے لئے ہاتھ ڈالتا

125

ہے، چلو چیک کرلیتے ہیں آیا گندگی ہے یا اور کوئی چیز؟جس طرح گندگی انتہائی نفرت کی چیز ہے قادیانیت اس سے بڑھ کر نفرت کی چیز ہونی چاہئے۔ گندگی آپ کے دماغ کو ماؤف کرے گی لیکن قادیانیت آپ کے ایمان کو فالج زدہ کردے گی۔گندگی سے انسان کو فطری نفرت ہوتی ہے اس سے بڑھ کر ایمان کا تقاضا یہ ہے کہ اس سے زیادہ مرزائیت سے نفرت ہونی چاہئے۔اللہ محفوظ فرمائیں۔ مرزائیت کے متعلق دل میں ذرہ برابر نرم گوشہ نہیں ہونا چاہئے۔جس شخص کے دل میں مرزائیوں کے متعلق نرم گوشہ ہے وہ سمجھے کہ میرا ایمان کمزور ہے ۔

رسول اللہﷺ کی محبت کا تقاضا یہ ہے کہ آپ ﷺ کے دشمنوں کو ماں باپ کے دشمنوں سے زیادہ سمجھے۔ مولانا سید انور شاہ کشمیری ؒ بار بار فرمایا کرتے تھے : مرزائیت سے ،مرزا غلام احمد قادیانی سے جتنا بغض بڑھے گا اتنا ہی رسول اللہ ﷺ کا قرب بڑھے گا۔ جس طرح درود شریف پڑھنے سے ثواب ہوتا ہے اسی طرح مرزا قادیانی سے نفرت کرنے سے بھی ثواب ملے گا۔

سچے نبی و جھوٹے نبی کا فرق

۳… مجھے جہاں تک یاد پڑتا ہے کہ بخاری شریف کی روایت ہے : حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے پاس حضرت عزرائیل علیہ السلام آئے،تو انہوں نے تھپڑ مارا تو ان کی آنکھ کاڈورہ باہر آگیا۔فرشتہ جس وقت اللہ کے نبی کے دروازہ پر جاتا ہے دروازہ کھٹکھٹا کر جاتا ہے۔اجازت مانگ کر، سلام کہہ کر جاتا ہے۔اور اسی طرح چلا جائے تو جان کے لالے پڑ جاتے ہیں۔سچے نبی کے پاس فرشتہ جان لینے کے لئے جائے تو سلام کرکے اجازت لے کر ،سر جھکائے جاتا ہے ۔ جھوٹے نبی کے پاس جب جاتا ہے تو ٹٹی خانہ (استنجا خانہ ) سے باہر نہیں نکلنے دیتا۔ایسے ہی رگڑدیوے(اس کی موت بیت الخلاء میں ہوئی تھی) خدا کی قسم! مولانا صاحب نبوت تو بہت دور کی بات ہے اس میں شریف انسان والی بات بھی نہیں تھی!۔

بقول حضرت درخواستی ؒ خدا جب ناراض ہوتا ہے تو عقل چھین لیتا ہے

ایک دفعہ کا واقعہ ہے کہ ’’ڈاکٹر عبد السلام قادیانی‘‘ کو جب نوبل پرائز ملا تو ہمارے ایک بزرگ ساتھی دوڑے ہوئے آئے اور کہنے لگے: مولوی صاحب !یہ بات سمجھ میں نہیں آرہی کہ اتنے بڑے پڑھے ہوئے لوگ ذہین حضرات ظفر اللہ قادیانی،ایم ایم احمد کیوں مرزا قادیانی کو مانتے ہیں؟

126

میں نے کہا :حضور ! ہم سے کئی گنا ہندو پڑھے لکھے ہیں۔اپنے ہاتھ سے بت بناتے ہیں،پھر بت کی شرم گاہ کے سامنے جھکتے ہیں۔اپنے ہاتھ سے بت بناتے ہیں، پھر ان کی تعلیم کہاں جاتی ہے؟ مولانا محمد عبداللہ درخواستیؒ فرماتے ہیں: خدا جب ناراض ہوتا ہے عقل چھین لیتا ہے۔یہ علم وغیرہ کی بات نہیں۔ ابو جہل سے بڑھ کر حکمت کا بادشاہ مکہ میں کون تھا؟لیکن توفیق نصیب نہیں ہوئی!،ہدایت کا محکمہ اور خزانہ خدانے اپنے پاس رکھا ہے۔یہ علم کی،ذہانت کی،دولت کی پابند نہیں۔جو جتنا زیادہ علم والا ہوگا ،مقدر یاوری کرے گا تو ہدایت نصیب ہوگی۔ دیکھئے! حضورﷺ کے چچاابوطالب کے لئے اللہ تعالیٰ نے فرمادیا: ’’انک لا تہدی من احببت ولکن اللہ یہدی من یشاء‘‘ کہ آپ جسے چاہیں ہدایت نہیں دے سکتے اور لیکن اللہ تعالیٰ جسے چاہتے ہیں ہدایت عطاء فرماتے ہیں۔

کینسر لا علاج مرض ہے،اسی طرح رسول اللہ ﷺ کی

توہین بھی لاعلاج مرض ہے

یہ جتنے مرزائی ہیں قدرت کی طرف سے ان کی عقل پر فالج پڑا ہوا ہے۔علم کے باوجود حق و باطل کی تمیز نہیں۔مرزائیوں میں بہت کم لوگ ہیں جن کو ہدایت نصیب ہوتی ہے۔مرزائیوں میں دس پندرہ مثالیں موجود نہ ہوتیں تو ہم یہ تسلیم ہی نہ کرتے کہ مرزائیوں میں بھی کوئی مسلمان ہوتا ہے۔مرزائی مسلمان نہیں ہوتا۔ کیوں ؟یہ رسول اللہ (ﷺ) کی متوازی جماعت ہے،آپ (ﷺ) کی مخالف ہے۔جو مرزائی ہوتا ہے اس نے پہلے دن سے ہی رسول اللہ ﷺ سے بغاوت کرلی ہوتی ہے۔حضور(ﷺ) کی بغاوت کی،مخالفت کی اور آپ(ﷺ) کی توہین کی مرزائیوں پر ایسی نحوست پڑتی ہے کہ ان کو ایمان کی توفیق نصیب نہیں ہوتی۔جس طرح کینسر لا علاج مرض ہے اسی طرح رسول اللہ (ﷺ) کی توہین بھی لا علاج مرض ہے۔اس مرض میں جو مبتلا ہو جائے اس کو پھر شفاء نصیب نہیں ہوتی۔بہت کم قادیانی ہیں جن کو پھر ایمان کی دولت نصیب ہوئی ہے۔ویسے بھی علماء نے مسئلہ لکھا ہے آپ حضرات اپنے اکابر سے مزید تفصیلات پوچھ سکتے ہیں۔

جس نبی کا فرشتہ جھوٹا ہو وہ نبی کتنا مقدس ہوگا

جو آدمی حضور(ﷺ) کی توہین کا ارتکاب کرے اس کے لئے کوئی معافی نہیں۔ سوائے اس کے کہ حضور (ﷺ) کے گنبد خضراء پر جا کے معافی مانگے۔اگر اس کے لئے مقدر نہیں تو

127

اس کے لئے معافی کا کوئی چانس نہیں۔اس لئے مرزائیوں کو ایمان کی توفیق نہیں ہوتی۔

۴… اس کے ٹی چی فرشتہ کے متعلق میں پہلے عر ض کرچکا ہوں،مرزا کے فرشتہ کا کردار یہ تھا کہ یہ مرزا غلام احمد کے پاس آیا ، مرزا صاحب نے پوچھا تمہارا نام کیا ہے ؟ فرشتہ نے کہا :کچھ بھی نہیں،مرزا قادیانی نے کہا: کچھ تو ہوگا؟،تو فرشتہ نے فرمایا: میرا نام ٹی چی ہے۔اور معنی ہے ٹیچ کرکے بر وقت پہنچنے والا!

(حقیقت الوحی ص۳۳۲، خزائن جلد۲۲ ص۳۴۶)

مجھے جب روپے پیسے کی ضرورت ہوتی ہے تووہ مجھے بر وقت پیسہ دے جاتا ہے۔اس پر مولانا لا ل حسین اخترؒ پکڑ کیا کرتے تھے : اگر اس کا نام کچھ نہیں تھا تو اس نے یہ کیوں کہا کہ میرا نام ٹی چی فرشتہ ہے؟اگر اس کا نام ٹی چی تھا تو پہلی دفعہ یہ کیوں کہا کہ میرا نام کچھ نہیں؟نام تھا، تو کچھ نہیں پھر کیوں کہا؟اور نہیں تھا، تو ٹی چی کیوں بتایا؟یا تو پہلے جھوٹ بولا یا بعد میں جھوٹ بولا ؟!تو وہ نبی جس کے فرشتے جھوٹ بولتے ہیں وہ نبی کتنا مقدس ہوگا!

مرزا قادیانی کی کتاب ’’تذکرہ‘‘ میں ہے کہ کوئی شخص ہے میں اس سے کہتا ہوں کہ تم حساب کرلو،مگر وہ نہیں کرتا، اتنے میں ایک شخص آیااور اس نے مجھے مٹھی بھر روپے دئے،اس کے بعد ایک اور شخص آیا،جو الٰہی بخش کی طرح ہے۔مگر انسان نہیں، فرشتہ معلوم ہوتا ہے،اس نے دونوں ہاتھ مٹھی بھر کے میری جھولی میں ڈالدئے ۔وہ اس قدر ہوئے کہ میں اس کو گن نہیں سکتا تھا۔میں نے اس کا نام پوچھا تو اس نے کہا : میرا نام کچھ نہیں دوبارہ دریافت کرنے پر اس نے اپنا نام ٹی چی بتایا۔ (تذکرہ ص۵۲۸)

خواب میں بھی سوائے روپئے پیسے کے کچھ نظر نہیں آتا

اچھا غور کریں کہ فرشتہ کا نام ٹی چی اور ماں کا نام گھسیٹی۔آپ حضرات ویسے ہی تمسخر کرتے ہیں کہ کتنی مقدس روحانیت کا مالک ہے۔یہ خواب میں بھی دنیا دیکھتا ہے۔روپے پیسوں کے ہی اس کو خواب آتے ہیں کہ جھولی بھر جائے۔خواب میں بھی سوائے روپیہ پیسہ کے اور کچھ نظر نہیں آتا۔معاذ اللہ،استغفر اللہ!

بقول مرزا جھوٹ بولنا گوہ کھانے کے برابر ہے

مرزا قادیانی اتنی کثرت سے جھوٹ بولتا تھا

میری درخواست سن لیں کہ جھوٹ بولنا اتنی بری چیز ہے کہ حضور(ﷺ) نے اس کو

128

منافق کی نشانی میں شمار کیا ہے۔اور قرآن مجید میں جھوٹ بولنے والوں کو اللہ کی رحمت سے دور بتایا ہے۔ اور یہ اتنا برا ہے کہ کائنات میں رہنے والے جتنے انسان ہیں چاہے وہ کسی بھی مذہب و فرقہ سے تعلق رکھتے ہوں جھوٹ کو کوئی انسان اچھا نہیں سمجھتا۔خود مرزا قادیانی کہتا ہے: جھوٹ بولنا اور گوہ کھانا برابر ہے۔ (حقیقت الوحی ص۲۰۶، خزائن جلد۲۲ ص۲۱۵) اس کے باوجود خود مرزا غلام احمد قادیانی اتنے تھوک سے جھوٹ بولا کرتے تھے کہ الامان والحفیظ!

جھوٹے نبی نے بخاری کی طرف نسبت کرکے جھوٹ بولا تھا

’’شہادت القرآن ‘‘اس کی کتاب ہے، اس میں وہ لکھتا ہے : بخاری شریف جو اصح الکتب بعد کتاب اللہ ہے اس میں ہے کہ جس وقت حضرت مہدی (علیہ السلام) آئیں گے تو آسمان سے آواز آئے گی کہ ھذا خلیفۃ اللہ المہدی (شہادۃ القرآن ص۴۱، خزائن جلد۶ ص۳۳۷)دنیا جہاں میں کسی بخاری شریف میں رہتی دنیا تک کوئی مائی کا لال قادیانی یہ حدیث نہیں دکھا سکتاتو ظاہر بات ہے کہ اس نے جھوٹ بولا!۔

حضرت مسیح موعود چودھویں صدی کے

شروع میں پنجاب میں آئیں گے (جھوٹ کا پلندہ)

’’ضمیمہ براہین احمدیہ‘‘ میں ہے کہ احادیث صحیحہ میں آیا ہے کہ حضرت مسیح موعود چودھویں صدی کے شروع میں آئیں گے۔ (ضمیمہ براہین احمدیہ ص۱۸۸، خزائن جلد۲۱ ص۳۵۹) اور یہ کہ پنجاب میں آئیں گے۔کائنات کی کسی صحیح حدیث کو چھوڑ کر حدیث میں بھی نہیں ،صحیح حدیث کو چھوڑ کر کسی غیر صحیح حدیث میں بھی نہیں، جس میں یہ کہا گیا ہو کہ وہ چودھویں صدی کے شروع میں آئے گا۔اور یہ کہا گیا ہو کہ پنجاب میں آئیں گے۔رہتی دنیا تک کوئی ماں کا لال قادیانی زہر کا پیالہ پی لے گا مگر یہ حوالہ جات کسی حدیث کی کتاب میں نہیں دکھا سکتا۔مرزا غلام احمد قادیانی نے چودھویں صدی کے شروع میں آنے کا قصہ کیوں تراشا،کیونکہ خود چودھویں صدی میں ہوا ہے اور اس نے مسیح ہونے کا دعویٰ کیا،اور الزام حضور (ﷺ) کی طرف لگایا۔

مرزائیوں کی چند باطل تأویلیں

اب شرعی مسئلہ یہ ہے کہ احادیث کی رو سے جس وقت حضرت مسیح (علیہ السلام)

129

آئیں گے،حضرت مسیح (علیہ السلام )کے بعد تمام ادیان باطلہ مٹ جائیںگے الا ملۃ واحدۃ وھی الاسلام۔مرزائی یہ کہتے ہیں: جس وقت حضرت مسیح (علیہ السلام) آئیں گے تو وہ شام میں اتریںگے، اگر وہ سعودیہ جائیںگے تو کیا پاسپورٹ اور ویزا لینے کی ضرورت ہوگی؟ اور دوسرا یہ کہ کیا زر مبادلہ حاصل کریں گے؟ یہ سب ان کی باطل تاویلیں ہیں۔شریعت کے نقطۂ نظر سے اس وقت صرف اسلام کی حکومت ہوگی۔کل کائنات میں صرف اسلام کی حکومت ہوگی۔حضرت مسیح (علیہ السلام) اس حکومت کے روح رواں ہوںگے!۔ بادشاہ اپنے ملک کے کسی حصہ میں جاتا ہے تو نہ اسے پاسپورٹ کی ضرورت ہوتی ہے اور نہ اسے زر مبادلہ اور ویزا کی ضرورت ہوتی ہے!۔

کبھی مرزائی یہ کہتے ہیں: معاذ اللہ! حضرت مسیح (علیہ السلام) آسمانوں میں ہیں تو وہاں کھاتے کیا ہوں گے؟۔کیا پیتے ہوںگے؟ اور ان کی حجامت بڑی ہوگئی ہوگی تو کون بناتا ہوگا؟ حضرت مسیح(علیہ السلام)پیشاب کہاں کرتے ہوںگے؟اس قسم کی باتیں کرتے ہیں۔یہ ان کی باتیں سب کی سب غلط ہیں۔

جس وقت دجال آئے گا تو تمام دنیا کے خزانوں پر قابض ہوگا

حضور (ﷺ)کی حدیث آپ کے سامنے میں متعدد بار بیان کرچکا ہوںکہ حضور (ﷺ) سے صحابہؓ نے پوچھا تو آپ نے ارشاد فرمایا: جس وقت دجال آئے گا تو دنیا کے تمام خزانوں پر اس کا قبضہ ہوجائے گا،تو جو لوگ اللہ اللہ کرنے والے ہیں ان کو کھانے پینے کی کوئی چیز نہیں ملے گی۔ اس لئے کہ سب کچھ اس کے پاس ہوگا۔تو صحابہؓ نے عرض کیا کہ جو مسلمان ہوںگے وہ کس طرح گزارا کریں گے؟ حضور(ﷺ) نے ارشاد فرمایا: ان کو وہ غذا کفایت کرے گی جو اہل سماء کی غذا ہے۔

صحابہؓ نے عرض کیا: وہ کیا ہے؟ تو آپ ﷺ نے فرمایا : خدا کی تسبیح اور تقدیس ان کی غذا ہے۔اور یہ تسبیح اور تقدیس آسمان والوں کی غذا ہے۔ تو جب حضرت مسیح (علیہ السلام) آسمان پر ہیں ،اللہ کی حمد و ثنا بیان کرتے ہیں وہی ان کی غذا کا کام دیتی ہے۔

مرزائی معراج نبوی کے منکر ہیں

۲… حضرت مسیح علیہ السلام کے متعلق مرزائی جتنے بھی اعتراض کریں کہ وہ آسمانوں پر کس طرح گئے؟ آگے کرۂ زمہریر ہے،فلاں کرہ ہے وغیرہ۔ایک کرہ ایسا ہے کہ آدمی وہاں جاتا ہے تو

130

جل جاتا ہے،اتنے اتنے کرے ہیں ،حضرت مسیح کس طرح پہنچ گئے؟ (دیکھئے! ازالہ اوہام ص۴۷، خزائن جلد۳ ص۱۲۶) ان کو جواب میں کہا جائے: جس طرح حضور اقدس (ﷺ) پہنچ گئے تھے۔تو مرزائی جواب دیتے ہیں : حضور(ﷺ) معراج پر گئے ہی نہیں۔

مرزائی حضور(ﷺ) کی معراج کا اس لئے انکار کرتے ہیں کہ کہیں آسمانوں پر آنا جانا کسی کا ثابت نہ ہوجائے۔اگر یہ آمد و رفت ثابت ہو گئی تو ہمارے لئے مشکل ہوگا،اس لئے حضور (ﷺ) کی معراج کا انکار کردیا،مرزائی کہتے ہیں: وہ اعلیٰ درجہ کا کشف تھا ،آپ (ﷺ) کو خواب میں معلوم ہوا کہ وہ آسمانوں پر گئے ہیں۔نعوذ باللہ!

(دیکھئے! ازالہ اوہام ص۴۷ حاشیہ، خزائن جلد۳ ص۱۲۶)

معراج نبوی اگر خواب ہوتا تو مشرکین کو

سوال و اعتراض کرنے کی ضرورت کیوں پیش آتی

حالانکہ جس وقت آپ (ﷺ) واپس تشریف لائے ہیں تو مشرکین مکہ آپ (ﷺ) سے علامتیں اور نشانیاں طلب نہ کرتے۔جب آپ(ﷺ) نے فرمایا : میں بیت المقدس گیا ہوں،آسمانوں پر جا کر آیا ہوں تو مشرکین نے کہا : آسمان تو ہم نے نہیں دیکھا مگر بیت المقدس دیکھا ہوا ہے،آپ بتائیں کہ بیت المقدس کی نشانیاں کیا کیا ہیں؟آپ(ﷺ) فرماتے ہیں : میں جب گیا تو نشانیاں اور علاماتیں گننے نہیں گیا تھا ،میں اپنے کام سے گیا تھا ،کام کیا اور روانہ ہوگیا۔ مثلا ً : میں پانچ چھ روز سے آپ کی مسجد میں حاضر ہورہا ہوں،کوئی مجھ سے پوچھے کہ مسجد کی کھڑکیاں کتنی ہیں؟ مسجد کے دروازے،کھڑکیاں، صفیں اور دیگر تفصیلات پوچھیں تو مجھے کیا معلوم؟ نہ مجھے اس کا علم ہے اور نہ میں اس مقصد کے لئے آیا ہوں ۔

حضور (ﷺ) ارشاد فرماتے ہیں کہ مجھے کسی کے سوال سے اتنی تکلیف نہیں ہوئی جتنی اس سوال سے تکلیف ہوئی ،روایت میں آتا ہے کہ حضور (ﷺ) نے پیشانی پر ہاتھ رکھا،آنکھیں بند کی ،اللہ جل مجدہ نے کائنات کے سب دروازے کھول دئے،اور حضور(ﷺ) کو حکم ہوا کہ آنکھیں اٹھائیں ،نظر اٹھانا آپ(ﷺ) کا کام ہے، پردے ہٹا کر بیت المقدس آپ(ﷺ) کے سامنے کردینا ہمارا کام ہے۔حضور (ﷺ) نے دیکھا اور کہا : آپ سوال کرتے جاؤ ،میں جواب دئے جاتا ہوںاور ایسا ہی ہوا کہ مشرکین سوال کرتے گئے

131

اور آپ جواب عنایت فرماتے گئے۔

تو حضور (ﷺ) کا یہ واقعہ اگر خواب تھا تو مشرکین کو اعتراض کرنے کی کیا ضرورت تھی؟ میں آپ حضرات کے انگلینڈ میں رہتے ہوئے پاکستان کا خواب دیکھتا رہتا ہوں !،آپ یہاں رہتے ہوئے تھانہ بھون کے خواب دیکھتے ہوںگے؟،تو اگر کوئی آدمی خواب دیکھے تو خواب میں تخیل تو کسی طرح بھی ہوسکتا ہے،اس پر کوئی اعتراض نہیں کر سکتا۔

حضور (ﷺ) کا دعویٰ یہ تھا کہ مجھے جسمانی معراج ہوئی ہے، تب ہی تو دشمنوں نے اعتراض کئے۔تو مرزا غلام احمد قادیانی صرف اس لئے حضور(ﷺ) کی معراج کا انکار کرتا ہے کہ کہیں یہ ثابت نہ ہوجائے کہ حضور(ﷺ) گئے تھے ،تو جس طرح رسول اللہ(ﷺ) جاکر آئے اسی طرح مسیح علیہ السلام گئے تھے، اور واپس آئیں گے۔ اسی وجہ سے مرزا نے معراج کے واقعہ کا انکار کیا۔ان تمام اعتراضات کے جوابات کا حوالہ اور اس حوالہ کا نام ہم نے ایٹم بم رکھا ہے اور یہ سب سے پہلا الزامی جواب ہے۔

قادیانیوں کے بہت سے اعتراضوں کا خوب جواب

’’حمامتہ البشریٰ، نور الحق‘‘ مرزا غلام احمد قادیانی کی کتابیں ہیں۔ جن میں لکھا ہے کہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی حیات نص قرآن سے ثابت ہے اور وہ آسمان پر زندہ ہیں۔ (حمامتہ البشریٰ ص۵۵، خزائن جلد۷ ص۲۲۱، نورالحق ص۵۰، خزائن جلد۸ ص۶۹) تو ہمارا مرزائیوں کے لئے سب سے پہلے الزامی جواب یہ ہے کہ( میں یہ بحث نہیں کرتا کہ جس کے متعلق حضور (ﷺ)نے یہ فرمایا کہ یہ فوت ہوچکے تو وہ کہتا ہے زندہ ہے اور جس کے متعلق حضور (ﷺ) فرماتے ہیں کہ یہ زندہ ہے تو وہ کہتا ہے کہ فوت ہو چکے )

حضور (ﷺ)نے ارشاد فرمایا: اے لوگو !مجھے قسم ہے اس ذات پاک کی جس کے قبضہ ٔ قدرت میں میری جان ہے !یقینا ً تم میں مسیح ابن مریم (علیہما السلام)نازل ہوں گے۔ حضور(ﷺ) نے قسم کھا کر فرمایا: مسیح (علیہ السلام) ضرور آئیں گے۔ (دیکھئے! بخاری جلد۱ ص۴۹۰) مرزا قادیانی حضور(ﷺ) کے مقابلہ میں قسم کھا کر کہتا ہے: حق کی قسم ! مسیح ابن مریم (علیہما السلام) مرگیا۔ (ازالہ اوہام ص۷۶۴، خزائن جلد۳ ص۵۱۳) اس طرح تقابل حضور(ﷺ) کے ساتھ کرتا تھا۔

اس وقت صرف اتنا استدلال کرنا مقصود ہے مسیح آسمانوں پر کیا کھاتے ہوں گے

132

وغیرہ؟ مرزائی جو یہ اعتراض کرتے ہیں ان کا یہی جواب ہے کہ جس طرح موسیٰ (علیہ السلام)گئے مسیح (علیہ السلام)بھی گئے۔موسیٰ (علیہ السلام)جو کھاتے ہوںگے وہی عیسیٰ(علیہ السلام) کھاتے ہوںگے وغیرہ تفصیلات جیسی موسیٰ(علیہ السلام) کی اسی طرح عیسیٰ (علیہ السلام)کی بتائی جائیں۔تو جو اعتراض مرزائی ہم پر کرتے ہیں وہی اعتراض ہم ان پر موسیٰ (علیہ السلام) کے بارے میں کرتے ہیں فما جوابکم فہو جوابنا۔یہ ایک بھاری بھرکم حوالہ قادیانیوں کے بہت سارے اعتراضوں کا جواب ہے۔

سچامسیح جھوٹے نبی کے منہ میں پیشاب کرتا ہے

ویسے قادیانیوں نے مولانا ثناء اللہ امرتسری ؒ کو کہا تھا: حضرت عیسیٰ(علیہ السلام) پیشاب کہاں کرتے ہوںگے؟بیت الخلاء آسمانوں پر کہاں بنی ہے؟تو مولانا نے یہ جواب قادیانیوں کو دیا کہ اللہ تعالیٰ نے فلش سسٹم کا ایسا نظام قائم کردیا ہے کہ ہمیں نظر آئے یا نہ آئے مگر حضرت مسیح (علیہ السلام)جب پیشاب کرتے ہوںگے تو سیدھا مرزا غلام احمد قادیانی کی قبر میں جاتا ہے۔

آج کل سائنس کی دنیا اتنی ترقی کرگئی ہے کہ فضا میں طیارے کے اندر کوئی نقص واقع ہوجائے تو نیچے بیٹھے بیٹھے کمپیوٹر کے ذریعہ اس نقص کو دور کردیا جاتا ہے۔بظاہر کوئی چیز ہمیں نظر نہیں آتی۔لیکن نظام ایسا ہے کہ دونوں کے مابین رابطہ موجود ہے

جب سائنس نے اتنی ترقی کرلی تو کیا اللہ رب العزت میں اتنی قدرت نہیں ؟ مولانا کا جواب ہمیں سمجھ میں آتا ہے کہ اللہ رب العزت نے کوئی ایسا نظام قائم کیا ہے جو ہمیں نظر نہیں آتا مگر حضرت مسیح (علیہ السلام)جب بھی پیشاب کرتے ہوںگے تو وہ پیشاب سیدھا مرزا غلام احمد قادیانی کی قبر میں جاتا ہوگا تاکہ سچا مسیح (علیہ السلام)جھوٹے مسیح کے منہ میں پیشاب کرتا رہے۔

رسول اللہ ﷺ جس گلی سے گزرتے تھے وہ معطر ہوجاتی تھی

میں قربان جائوں ! حضور (ﷺ) کے متعلق صحابہؓ ارشاد فرماتے ہیں : حضور(ﷺ) جب ہماری مجلس سے اٹھ کر تشریف لے جاتے تھے اور آپ (ﷺ) کو دیر ہوجاتی تھی اور کسی صحابیؓ کو آپ (ﷺ) کو تلاش کرنا مقصود ہوتا تھا تو باہر جاکر کسی سے پوچھنے کی ضرورت نہ پڑتی تھی۔اس لئے کہ جب حضور (ﷺ) کسی گلی سے گزر جاتے تھے تو وہ گلی اتنی معطر ہو جاتی تھی

133

کہ وہاں کی ہوا فضا بتاتی تھی کہ ابھی ابھی یہاں سے محمد عربی (ﷺ )گزرے ہیں۔

جھوٹا نبی مرزا دن میں سو سو بار پیشاب کرتا تھا

مرزا غلام احمد قادیانی دن میں سو مرتبہ پیشاب کرتا تھا۔ (دیکھئے! اربعین نمبر۴ ص۴، خزائن جلد۱۷ ص۴۷۱) ہمار ے پاکستان کی حکومت چونکہ مقروض رہتی ہے ،ہفتہ بچت مناتی ہے،میں نے مشورۃً بلدیہ والوں کو کہا: یہ ٹنکی جس سے آپ چھڑکاؤ کرتے ہو ، ایک دو ہفتہ ٹنکی کھڑی کردو،پانی کی بچت ہوگی ،پیٹرول کی بچت ہوگی۔ ربوہ موجودہ چناب نگر کی سڑکوں پر سے مرزا کو گزاردو چھڑکاؤ ہو جائے گا ۔

جھوٹا نبی مرزا جدھر گزرتا گیاپیشاب کرتا گیا

حضور (ﷺ)جہاں گزر گئے،راستوں پر رنگ و خوشبو لاتے گئے، اور یہ جدھر سے گزرتا گیا پیشاب کرتا گیا، بدبو لاتا گیا۔بد معاش،نہ عقل تھی،نہ صورت تھی،نہ حیا تھی اور نہ شرم۔اس کا ئنات اور دنیا کا سب سے ذلیل ترین انسان اور دعویٰ نبوت!استغفر اللہ!۔ معاذ اللہ ! اللہ رب العزت آپ کو مجھ کو اس سے محفوظ رکھے۔آمین۔انشاء اللہ!

حضور ﷺ اصل تھے ،میں ان کا ظل ہوں (نعوذ باللہ)

اس کے علاوہ حلول و تناسخ کا عقیدہ بھی رکھتے ہیں۔ کہتے ہیں:ہمارے سامنے شیشہ ہو ہم اصل ہیں اور شیشہ کے اندر کا جو عکس ہوتا ہے وہ ظل ہوتا ہے۔مرزا غلام احمد قادیانی کہتا ہے: حضور (ﷺ) اصل تھے۔ میں ان کا ظل ہوں۔نعوذ باللہ ۔ پھر نبوت ورسالت کا دعویٰ کرتے ہوئے کہتا ہے: سچا خدا وہی خدا ہے جس نے قادیان میں اپنا رسول بھیجا ۔

(دافع البلاء ص ۱۱، خزائن جلد۱۸ ص۲۳۱، مصنفہ مرزا غلام احمد قادیانی )

وآخر دعوانا ان الحمد للہ رب العالمین والصلاۃ والسلام علی سید المرسلین وخاتم الانبیاء والمرسلین

134

پانچواں درس

(قرآن پاک کا دیا ہوا نقشہ نبوت اور مرزائیوں کے نزدیک معیار نبوت )

135

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ

الحمدللہ وکفٰی وسلام علیٰ سید الرسل وخاتم الانبیاء وعلیٰ اٰلہ واصحابہ اللذین ہم خلاصۃ العرب العرباء وخیرالخلائق بعد الانبیاء۰ اما بعد۰ فاعوذ باللہ من الشیطٰن الرجیم۰ بسم اللہ الرحمٰن الرحیم۰ ماکان محمد ابا احد من رجالکم ولکن رسول اللہ وخاتم النّبیین، وکان اللہ بکل شیٔ علیما۰ قال النبیﷺ: انہ سیکون فی امتی کذابون ثلاثون کلہم یزعم انہ نبی وانا خاتم النّبیین لا نبی بعدی۔ اللّٰہم صل علیٰ سیدنا محمد عبدک ورسولک وصل کذلک علیٰ جمیع الانبیاء والمرسلین وعلی الملائکۃ المقربین وعلیٰ عباد اللہ الصالحین۰ اجمعین الیٰ یوم الدین۔

صرف اللہ تعالیٰ کی ذات ہی ابتدا و انتہاء سے پاک ہے

میرے واجب الاحترام حضرات علماء کرام اور برادران اسلام عزیز دوستواور بزرگو! اللہ تعالیٰ نے حضرت آدم (علیہ السلام) سے انبیاء(علیہم السلام )کا سلسلہ شروع فرمایا،ہر چیز جس کی ابتداء ہوتی ہے اس کی انتہاء بھی ہوتی ہے۔صرف اللہ تعالیٰ کی ذات گرامی ابتداا ور انتہاء سے پاک ہے۔باقی ہر چیز کی ابتداء بھی ہوتی ہے اور انتہاء بھی۔اللہ تعالیٰ نے سلسلۂ انبیاء(علیہم السلام )کو حضرت آدم (علیہ السلام)سے شروع فرمایا اور اس کی انتہاء حضرت محمد(ﷺ) کی ذات گرامی پر کی ہے۔چنانچہ خود رسول اللہ (ﷺ) نے ارشاد فرمایا:’’اوّل الانبیاء آدم و آخرہم محمد ﷺ (کنزالعمال جلد۱۱ ص۴۸۰)۔‘‘جس طرح آدم (علیہ السلام)سے پہلے کوئی نبی نہیں تھا اسی طرح میرے بعد بھی کوئی نبی نہیں ہوگا۔

قرآن کریم کے اسلوب بیان پر غور و فکر کریں

قرآن مجید نے اس سلسلۂ نبوت کے متعلق جو اسلوب بیان اختیار کیا ہے وہ یہ ہے: حضرت آدم(علیہ السلام) کی ابتدائے آفرینش کے وقت اولادِ اٰدم کو جو حکم دیا گیا ہے یٰبنی آدم اما یاتینکم رسل منکم یقصون علیکم اٰیٰتی (اعراف:۳۵) وہاں یہ فرمایا گیا : تمہارے بعد رسل آئیں گے،جمع کا صیغہ،کوئی تحدید نہیں اور کوئی تعیین نہیں فرمائی۔کافی انبیاء(علیہم السلام)

136

آئیں گے۔اور یہ سلسلہ جب حضرت نوح(علیہ السلام) اورحضرت ابراہیم (علیہ السلام)پر پہنچتا ہے، تو اس کے متعلق قرآن مجید اعلان کرتا ہے : وجعلنا فی ذریتہما النبوۃ اور آگے ارشاد باری ہےثم قفینا علی آ ثارہم برسلنا (حدید:۲۶،۲۷)

ان کے بعد بھی ہم نے نوح(علیہ السلام) اور ابراہیم(علیہ السلام) کی اولاد میں نبوت کا سلسلہ جاری رکھا،اور ایک دو نہیں،پے درپے برسلنا متواتر انبیاء (علیہم السلام) آئیں گے ،کتنے ؟ کوئی تعیین نہیں، کوئی تحدید نہیں ۔آگے جس وقت موسی(علیہ السلام) کا زمانہ آتا ہے تو قرآن مجید کا ارشاد ہے :ہم نے موسیٰ علیہ السلام کے بعد بھی یہی (متواتر )سلسلہ جاری رکھا،تعیین اور تحدید نہیں کی۔

حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا دور آتا ہے تو قرآن مجید کا انداز بیان بدل جانا ہے

اورجس وقت حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کا دور آتا ہے وہاں جاکر قرآن مجید کا اندازِ بیان بدل جاتا ہے کہ آپ کے بعد رسل نہیں آئیں گے صرف ایک رسول (برسولٍ) آئیں گے۔ اور جس وقت حضور(ﷺ) تشریف لائے تو آپ(ﷺ) نے فرمایا: انا بشارۃ عیسیٰ : میرے متعلق عیسی بشارت دے کر گئے ہیں۔مبشراً برسولٍ یاتی من بعدی اسمہ احمد (صف:۶)جس ایک رسول کے متعلق حضرت عیسی(علیہ السلام) بشارت دے کر گئے ہیں وہ ایک رسول میں ہوں۔اس کا مصداق میں ہوں۔

جب حضور(ﷺ) تشریف لائے تو قرآن مجید نے بیان کردیا: ماکان محمد ابا احدٍ من رجالکم ولکن رسول اللہ و خاتم النّبیین (احزاب:۴۰)آدم(علیہ السلام) کے بعد فرمایا کافی آئیں گے۔

حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے فرمایا : ایک آئیں گے،یہ ہے قرآن مجید کا انداز بیان

نوح(علیہ السلام) اور ابراہیم (علیہ السلام) کے بعد فرمایا : کافی آئیں گے۔حضرت موسیٰ(علیہ السلام) کے بعد فرمایا: کافی آئیں گے،حضرت عیسیٰ (علیہ السلام کے) بعد فرمایا : ایک آئیں گے ۔ جب وہ ایک آگئے تو حضور(ﷺ) نے فرمایا : وہ ایک میں ہوں۔اور میرے بعد کوئی نبی نہیں،یہ قرآن مجید کا انداز ِبیان ہے۔

137

مسلمانوں پر لازم قرار دیا گیا کہ جو حضور ﷺ پر ایمان لائے وہ ان انبیاء علیہم السلام پر بھی ایمان لائے جو آپ سے پہلے آگئے ،اس میں بعد کا ذکر نہیں

قرآن مجید کی ایک دو نہیں بلکہ کافی آیتیں ہیں، جن میں اللہ رب العزت نے یہ فرمایا ہے: اے مسلمانو ! ایمان لے آؤ تم اس وحی پر جو حضور (ﷺ) کی ذات گرامی پر نازل ہوئی ہے اور جو حضور (ﷺ) سے پہلے نازل ہوئی تھی۔ہر جگہ یہی فرمایا۔ہمارے لئے جس طرح حضور(ﷺ) کو ماننا ضروری ہے اسی طرح حضور(ﷺ) سے پہلے جتنے انبیاء (علیہم السلام )تشریف لائے تھے ان سب کاماننا بھی ضروری ہے۔اتباع،پیروی اور تابعداری ہمیں حضور (ﷺ)کی شریعت کی کرنی ہے۔مگر ایمان ان انبیاء سابقین (علیہم السلام) پر لانا بھی ضروری ہے۔ہم سے پہلے جو امت تھی ان کے ذمہ یہ تھا کہ وہ اپنے نبی(علیہ السلام) کو مانتے تھے اور اپنے نبی (علیہ السلام) سے پہلے جو انبیاء (علیہم السلام) آئے ان کو بھی مانتے تھے۔اور اپنے بعد آنے والے انبیاء(علیہم السلام) کو بھی مانتے تھے۔جو پہلے تھے وہ بھی سچے ، جو اب ہے وہ بھی سچا اور جو آنے والے ہیں وہ بھی سچے۔

جس وقت حضور (ﷺ) تشریف لائے تو آپ(ﷺ) نے فرمایا: قرآن مجید یہ کہتا ہے: جو حضور (ﷺ) پر نازل ہوا اس کو بھی مانواور جو حضور(ﷺ) سے پہلے تھا اس کو بھی مانو، اوریہ قرآن مجید میں کہیں بھی نہیں کہاگیا کہ حضور(ﷺ) کے بعد جو آئے اس کو بھی مانو،حالانکہ حضور(ﷺ) کے بعد کسی اور کو آنا ہوتا تو گزشتہ جو انبیاء (علیہم السلام)ہیں ان کی بہ نسبت حضور (ﷺ)کے بعد آنے والے کی ہمیں زیادہ ضرورت تھی۔وہ تو پہلے گزر چکے۔جس کو حضور(ﷺ) کے بعد آنا ہے امت کو واسطہ اسی سے پڑنا ہے۔تو حضور(ﷺ) کی تعلیمات میں آنے والے کی زیادہ پیشین گوئی ہوتی ۔ آنے والے کے متعلق انتظار کرایا جاتا،لیکن قرآن مجید میں یہ کہیں بھی نہیں کہا گیا کہ حضور(ﷺ)کے بعد بھی انبیاء(علیہم السلام) کا سلسلہ ہوگا۔یا کوئی اور نئے نبی آئیں گے یا کسی اور کو ماننا ہوگا ۔ مسلمانوں کے لئے صرف یہ لازم قرار دیا گیا کہ حضور(ﷺ) سے جو پہلے تھے ان کو مانو اور حضور(ﷺ) کو بھی مانو۔حضور (ﷺ)کے بعد کا قرآن میں کوئی ذکر نہیں بلکہ اس کے (بعد)خاتمہ (خاتم النّبیین ) کا ذکر ہے۔اور الیوم اکملت لکم دینکم، واتممت علیکم نعمتی، ورضیت لکم الاسلام دینا (مائدہ:۳) کے ذریعہ یہ متعین فرمادیا کہ اب حضور(ﷺ) کے بعد کوئی نبی نہیں۔

138

قرآن مجید میں نقشۂ نبوت

جس وقت حضرت آدم(صفی اللہ) اس دنیا میں بود و باش کے لئے تشریف لائے تو ان کے ہبوط کا ذکر قرآن نے اس طرح کیا ہے:قلنا اہبطوا منھا جمیعاً ،فاما یاتینکم منی ھدیً فمن تبع ہدای فلا خوف علیہم ولا ہم یحزنون۔(سورہ بقرہ:۳۸) ’’ہم نے حکم دیا کہ نیچے جاؤ یہاں سے تم سب، پھر اگر تم کو پہنچے میری طرف سے کوئی ہدایت تو جو چلا میری ہدایت پر نہ خوف ہوگا ان پر اور نہ وہ غمگین ہوں گے۔‘‘

دوسری آیت میں اسی مضمون کو ذرا سی تبدیلی کے ساتھ یوں بیان کیا گیا ہے:یٰبنی آدم اما یاتینکم رسلٔ منکم یقصّون علیکم آیاتی فمن اتقیٰ واصلح فلا خوف علیہم ولا ہم یحزنون۔ (الاعراف:۳۵) ’’اے آدم کی اولاداگر آئیں تمہارے پاس رسول تم میں کے کہ سنائیں تم کو میری آیتیں تو جو کوئی ڈرے اور نیکی پکڑے تو نہ خوف ہوا ان پر اور نہ وہ غمگین ہوں گے۔‘‘

جس وقت حضرت نوح(علیہ السلام) کا زمانہ آیااور پھر حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کا زمانہ آیا تو ان کے متعلق قرآن مجید میں یوں ذکر ہے: ولقد ارسلنا نوحًا و ابراہیم و جعلنا فی ذریتہما النبوۃ والکتاب فمنھم مہتد و کثیر منھم فاسقون۔ ثم قفینا علیٰ آثارہم برسلنا (سورۂ حدید:۲۶،۲۷) ’’اور ہم نے بھیجا نوح اور ابراہیم کو اور ٹھہرا دی دونوں کی اولاد میں پیغمبری اور کتاب پھر کوئی ان میں راہ پر ہے اور بہت ان میں نافرمان ہیں۔ پھر پیچھے بھیجے ان کے مدتوں پر اپنے رسول۔‘‘

ان آیات میں بھی صاف طور حضرت نوح (علیہ السلام)اور حضرت ابراہیم (علیہ السلام)پر نبوت کا جو دروازہ ہے وہ بند نہیں کیا گیا بلکہ یہ فرمایا گیا کہ ان کے بعد بھی متواتر کافی انبیاء آئیں گے۔جس وقت موسیٰ(علیہ السلام) کا زمانہ آیا تو قرآن مجید نے اس کو یوں بیان فرمایا :ولقد آتینا موسی الکتاب وقفینا من بعدہ بالرسل(سورہ بقرہ:۸۷) ’’اور بے شک دی ہم نے موسیٰ علیہ السلام کو کتاب اور پے درپے بھیجے اس کے پیچھے رسول۔‘‘ تو معلوم ہوا کہ حضرت موسیٰ(علیہ السلام) پر بھی نبوت کا دروازہ بند نہیں ہوا۔بلکہ ان کے بعد بھی پے درپے (کوئی تحدید نہیں کوئی تعیین نہیں )انبیاء (علیہم السلام) تشریف لائیں گے۔

139

حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی باری آئی تو وہاں برسول میرے بعد صرف ایک رسول آئے گا

لیکن جب حضرت عیسیٰ(علیہ السلام) کی باری آئی تو وہاں قرآن مجید کا پہلے انبیاء(علیہم السلام) کے ذکر کا جو اسلوب ہے اس سے ہٹ کر عیسیٰ (علیہ السلام)کا ذکر کیا گیا واذ قال عیسی ابن مریم یا بنی اسرائیل انی رسول اللہ الیکم مصدقاً لما بین یدی من التوراۃ و مبشراً برسول یاتی من بعدی اسمہ احمد۔(سورۂ صف:۶)’’اور جب کہا مریم کے بیٹے عیسیٰ علیہ السلام نے اے بنی اسرائیل میں بھیجا ہوا آیا ہوں اللہ کا تمہارے پاس۔ یقین کرنے والا اس پر کہ جو مجھ سے آگے ہے تورات اور خوشخبری سنانے والا ایک رسول کی جو آئے گا میرے بعد اس کا نام ہے احمد(ﷺ)‘‘ دیکھیں! حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) نے فرمایا: میرے بعد صرف ایک رسول آئے گا۔پہلے فرمایا: کئی رسل آئیں گے،یہاں فرمایاصرف ایک آئے گا۔اور جب وہ ایک حضور (ﷺ) تشریف لائے تو حضور(ﷺ)نے فرمایا: ’’انا بشارۃ عیسیٰ‘‘ ، ’’انا محمد و احمد‘‘ اور حضور(ﷺ) کے بعد کا جو مسئلہ ہے اس کے متعلق قرآن مجید نے کہا: ماکان محمد ابا احد من رجالکم ولکن رسول اللہ و خاتم النّبیین۔(سورۂ الاحزاب:۴۰) ’’(حضرت) محمدﷺ باپ نہیں کسی کا تمہارے مردوں میں سے لیکن رسول ہے اللہ کا اور مہر سب نبیوں پر۔‘‘

قادیانی عذر لنگ پیش کرتے ہیں،اس کا جواب

یہاں پر ایک اور درخواست کرنی ہے اوروہ یہ ہے کہ مرزائی حضرات کہتے ہیں: جس وقت حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) دنیا میں دوبارہ تشریف لائیں گے تو قرآن مجید کی آیات یہ کہتی ہیں کہ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) آسمان پر گئے ہیں،قرآن مجید کی آیات یہ کہتی ہیں : حضرت عیسی (علیہ السلام)دوبارہ تشریف لائیں گے۔تو جب حضرت عیسیٰ(علیہ السلام) آجائیںگے تو پھر کیا قرآن کی آیات یہی کہیں گی : عیسیٰ (علیہ السلام) آسمان پر گئے ہوئے ہیں اور وہ پھر تشریف لائیں گے، حالانکہ عیسیٰ (علیہ السلام) تشریف لا چکے ہیں۔کیا قرآن کی ان آیات کو نکال دیا جائے گا؟

قادیانی یہ عذر لنگ پیش کرتے ہیں۔تو یہ آیات ان کے جواب میں بھی پیش کی جا سکتی

140

ہیں کہ جب حضرت عیسیٰ(علیہ السلام) آئیں گے تو وہ خود فرمائیںگے کہ جو آیات یہ کہتی ہیں : میں آسمانوں پر ہوں اور جو آیات یہ کہتی ہیں کہ مجھے یعنی عیسیٰ (علیہ السلام) کو نازل ہونا ہے ۔میں اس کا مصداق بن کے آگیا ہوں۔جس طرح یہاں ہے کہ حضرت عیسیٰ(علیہ السلام) نے فرمایا : میرے بعد ایک رسول آئے گا، وہ قرآن کا ایک حصہ ہے نکالا نہیں جا سکتا،اس کے مصداق دنیا میں آہی چکے۔تو حضرت عیسیٰ(علیہ السلام) بھی جس وقت اس کا مصداق بن کے تشریف لائیں گے تو فرمائیںگے کہ حضور (ﷺ) نے جن کے جانے اور آنے کے متعلق فرمایا تھا وہ میں آگیا ہوںاور میں ان کا مصداق ہوں۔تو ان آیات کو نکالا نہیں جاسکتا بالکل اس کا مصداق امت کے سامنے آجائے گا اور وہ آیات روزروشن کی طرح چمکنے لگیں گی اور مسلمان خوش ہو جائیں گے کہ اللہ کا حکم پورا ہوگیا ہے۔

حضور ﷺ کے بعد کسی کو نبوت ملنا ہوتی تو قرآن میں اس کا ذکر ہوتا

قرآن مجید نے جہاں اللہ کی توحید اور قیامت کا تذکرہ کرتے ہوئے ان چیزوں کو ہمارے عقائد اور ایمان کا جزء بتایا ہے وہاں انبیاء کی نبوتوں کا ماننا اور ان پر ایمان لانا بھی جزء ایمان بتایا گیا۔اوّل سے آخر تک قرآن مجید کو دیکھ لیا جائے کہیں بھی یہ نہیں کہا گیا کہ حضور(ﷺ) کے بعد بھی کسی کو نبوت حاصل ہوگی اور اس پر بھی تمہیں ایمان لانا ہوگا۔انبیاء سابقین(علیہم السلام) کا ذکر تو قرآن مجید میں موجود اور ان پر ایمان لانا بھی موجود ہے ،مگر آپ کے بعد کسی فرد بشر کو نبوت عطا کرنا اس کا نہ اشارہ اور نہ کنایہ موجود ہے۔حالانکہ انبیاء سابقین (علیہم السلام) کے بعد کسی فرد بشر کو نبوت ملنا ہوتی تو اس کا ذکر لازمی تھا،کیونکہ پہلے انبیاء (علیہم السلام)تو گزرچکے، امت مسلمہ کوتوآنے والے سے واسطہ پڑنا تھا مگر اس کا نام و نشان تک نہ ہونا بلکہ ختم نبوت کو قرآن مجید میں صاف الفاظ میں بیان کرنا یہ اس بات کی بڑی واضح دلیل ہے کہ آپ (ﷺ) کے بعد کسی کو نبوت عطا نہیں کی جائے گی۔یہ آیات اس ضمن میں واضح حکم رکھتی ہے۔

حضور ﷺ کے بعد نبوت نہیں بلکہ قیامت ہے

والذین یؤمنون بما انزل الیک وما انزل من قبلک وبالآخرۃ ھم یوقنون۔ (سورہ بقرہ:۴) ’’وہ لوگ جو ایمان لائے اس پر کہ جو کچھ نازل ہوا تیری طرف اور اس پر کہ جو کچھ نازل ہوا تجھ سے پہلے اور آخرت کو وہ یقینی جانتے ہیں۔‘‘ قرآن مجید کی اس آیت میں کہا گیا ہے:

141

یؤمنون بما انزل الیک وما انزل من قبلک۔یہ نہیں کہا گیا: وما انزل من بعدک۔اس لئے کہ من قبلک کی بھی ہمیں ضرورت ہے ۔ان کو ماننا بھی ہمارے ایمان کاحصہ ہے۔لیکن واسطہ پڑنا تھا ہمیں حضور (ﷺ) کے بعد آنے والے سے،اگر حضور (ﷺ) کے بعد کسی اور کو آنا ہوتا تو قرآن مجید میں اللہ رب العزت ہمیں رہنمائی فرماتے،رحمت ِعالم(ﷺ) ہماری ضرور رہنمائی فرماتے،تو اس وقت مؤمن وہ کہلاتا جو حضور (ﷺ) پر بھی ایمان لاتا اور حضور (ﷺ)سے پہلے انبیاء(علیہم السلام) اور بعدآنے والے انبیاء(علیہم السلام) پر ایمان لاتا۔حالانکہ قرآن مجید میں من قبلک کا ذکر تو ہے مگر من بعدک کا قطعًاذکر نہیں۔یہ اس بات کی دلیل ہے کہ من بعدک کچھ بھی نہیں۔

اور من بعدک کیا ہے ؟ اور وہ وبالآخرۃ ھم یوقنونہے۔حضور(ﷺ) کے بعد نبوت نہیں، قیامت ہے۔چنانچہ حضور(ﷺ) نے فرمایا: میں اور قیامت اس طرح جوڑے ہوئے ہیں۔یعنی میرے اور قیامت کے درمیان کوئی نبی نہیں۔ان صاف احکامات کے ہونے کے باوجود کوئی نبوت کا دروازہ کھولتا ہے تو وہ قرآن مجید کے ساتھ اور اپنے آپ کے ساتھ زیادتی کرتا ہے۔

ما قبل انبیاء(علیہم السلام) پر ایمان لانے کا ذکر مختلف آیتوں میں

(۱)قل یا اہل الکتاب ہل تنقمون منا الا ان آمنا باللہ وما انزل الینا وما انزل من قبل(سورہ ٔ مائدہ:۵۹) ’’فرمادیجئے! اے اہل کتاب کیا ضد ہے تم کو ہم سے مگر یہی کہ ہم ایمان لائے اللہ پر اور جو نازل ہوا ہم پر اور جو نازل ہوچکا پہلے۔‘‘

(۲)لکن الراسخون فی العلم منہم والمؤمنون یؤمنون بما انزل الیک وما انزل من قبلک(نساء:۱۶۲) ’’لیکن جو پختہ ہیں علم میں ان میں سے، اور ایمان والے سو مانتے ہیں اس کو جو نازل ہوا تجھ پر اور جو نازل ہوا تجھ سے پہلے۔‘‘

(۳)یا ایھا الذین آمنوا آمنوا باللہ و رسولہ والکتاب الذی نزل علی رسولہ والکتاب الذی انزل من قبل۔ (سورۂ نساء:۱۳۶) ’’اے ایمان والو! یقین لاؤ اللہ پر اور اس کے رسول پر اور اس کتاب پر جو نازل کی ہے اپنے رسول پر اور اس کتاب پر جو نازل کی گئی پہلے۔‘‘

(۴)ولقد اوحی الیک والی الذین من قبلک (سورۂ زمر:۶۵) ’’اور حکم ہو چکا ہے تجھ کو اورتجھ سے اگلوں کو۔‘‘

142

(۵)کذالک یوحی الیک والی الذین من قبلک (شوریٰ:۳)’’اسی طرح وحی بھیجتا ہے تیری طرف اور تجھ سے پہلوں کی طرف۔‘‘

آپ حضرات علماء کرام ہیں مزید آیات اکٹھی کر سکتے ہیں۔مثلًا : قولوا آمنّا باللہ وما انزل الینا وما انزل الیٰ ابراہیم…الخ دو جگہ آیا ہے۔(سورۂ بقرہ:۱۳۶ اور سورۂ آل عمران) انّااوحینا الیک کما اوحینا الیٰ نوح…الخ (سورہ نساء:۱۶۳)تو جہاں کہیں بھی ذکر آیا ہے وہاں حضور (ﷺ)کا اور اس سے پہلوں کا ذکر آیا ہے۔حضور(ﷺ) کے بعد کا ذکر کہیں نہیں آیا ہے۔من بعد کہیں نہیں کہا گیا۔

یہ تمام آیات بھی ختم نبوت کی دلیل ہیں

میں کہتا ہوں: قرآن مجید میں خاتم النّبیین والی آیت نہ بھی ہوتی ،صرف یہی آیات ہوتیں تو قرآن مجید کا اسلوب بیان ہمیں بتاتا کہ حضور(ﷺ) کے بعد کسی اور نبی کو نہیں آنا ہے۔دنیا میں جتنے نبی آئے ہر نبی پہلے نبی کا ’’مصدّق‘‘ ہوتا تھا اور آنے والے کے لئے مبشر،حضور(ﷺ) جس وقت دنیا میں تشریف لائے تو آپ(ﷺ)نے اپنی امت کو ایک لاکھ چوبیس ہزارانبیاء (علیہم السلام) (جو آپ (ﷺ)سے پہلے آئے تھے)کی تصدیق کرنے کو کہا،اللہ تعالیٰ کے جتنے نبی تھے وہ سب برحق تھے،اور سب پر ایمان لانا تم پر ضروری ہے۔پیروی میری شریعت کی کرناہوگی۔ میں تمہارے لئے نبی مبعوث ہوکر آیا ہوں۔لیکن ان انبیاء(علیہم السلام) کو ماننا ضروری جس طرح اللہ اور قیامت کوماننا ضروری ہے۔حضور(ﷺ) نے کبھی یہ نہیں کہا کہ میرے بعد کوئی نبی ہوگا،تو یہ دلیل ہے اس بات کی کہ حضور(ﷺ) کے بعد کوئی نیانبی نہیں۔

میرے بعد کوئی دعویٰ نبوت کرے تو وہ اسلام سے خارج ہے

دوسرا یہ کہ خود حضور(ﷺ)نے فرمایا :کہ میرے بعد اگر کوئی کہے کہ ’’میں نبی ہوں‘‘ تو آپ(ﷺ) نے فرمایا : انہ سیکون فی امتی ثلاثون کذابون وفی روایۃ دجالون کلہم یزعم انہ نبی وانا خاتم النّبیین لا نبی بعدی (ابوداؤد ج۲ ص۵۹۵، ترمذی ج۲ ص۴۵) میرے بعد کوئی دعویٰ نبوت کرے تو وہ اسلام سے خارج ہے۔ حضور (ﷺ)نے انا خاتم النّبیین لا نبی بعدی کے ذریعہ آیت کا معنی بھی متعین فرمادیا : حضور(ﷺ) کی ذات گرامی پر قرآن مجید نازل ہوا تھاتو حضور(ﷺ) نے لانبی بعدی کے ساتھ ترجمہ کرکے اس کے معنی بھی متعین

143

فرمادیئے۔اب مزید کسی ترجمہ کے اندر وقت ضائع کرنے کی،گنجائش نکالنے کی کسی کو اجازت نہیں ہوگی ،حق نہیں ہوگا۔

مرزائیوں سے سوال کریں آیاحضور ﷺ خاتم النّبیین ہیں یا آپ(ﷺ) کے بعد مرزا غلام احمد؟ (نعوذ باللہ)

اب اس بحث کے بعد: میںآپ حضرات کی خدمت میں عرض کرنا چاہتا ہوں :ایک تو اصولی طور پر آپ حضرات یاد رکھیں کہ: مرزائی عمومًا جس وقت بحث چھیڑتے ہیں تو یہ کہ حضور(ﷺ) کے بعد نبوت جاری ہے ۔ ہم اس بحث میں لگ جاتے ہیں: رسول اللہ (ﷺ) کے بعد نبوت جاری نہیں!وہ کہتے ہیں: جاری ہے ،ہم کہتے ہیں : جاری نہیں!۔ بلا وجہ وقت ضائع ہوتا ہے،اور یہ بحث مرزائیوں کے ساتھ سرے سے ہی غلط ہے۔اور ان کے ساتھ یہ بحث کرنی چاہیئے کہ حضور (ﷺ) خاتم النّبیین ہے یا نعوذ باللہ مرزا قادیانی خاتم النّبیینہے؟ کیوں ؟اس لئے کہ مرزائیوں کے یہاں حضور(ﷺ) سے لے کر مرزا قادیانی تک چودہ سو سال میں کوئی نبی نہیںہے۔اور مرزا قادیانی کے یہاں مرزا قادیانی کے بعد قیامت تک کوئی نبی نہیں ! ۔

مرزا قادیانی کہتا ہے کہ ’’میں اللہ کے نوروں میں سے آخری نور ہوں

اور اللہ کی راہوں میں سے آخری راہ ہوں۔‘‘ (کشتی نوح، خزائن جلد۱۹ ص۶۱) اس کی تصریحات موجود ہیں۔خود تسلیم کرتا ہے : تو بحث یہ ہونی چاہیئے کہ آیا حضور(ﷺ) خاتم النّبیین ہیں یا مرزا غلام احمد قادیانی ؟ہمارا ذمہ یہ ہوگا کہ قرآن و حدیث سے دکھائیں کہ حضور(ﷺ)خاتم النّبیین ہیں۔مرزائیوں کے ذمہ ہوگا کہ وہ دلائل کے ساتھ بتائیں کہ مرزا غلام احمد خاتم النّبیین ہے۔اگر آپ ان کو اس بحث میں جکڑ دیں گے تو کوئی ماں کا لال قیامت تک قرآن مجید کی ایک آیت یا ایک حدیث موضوع سے موضوع سہی!آپ کے سامنے نہیں پڑھ سکتاکہ جس سے ثابت ہو کہ مرزا غلام احمد قادیانی آخری نبی ہے۔یہ بد بخت کچھ کرتے ہیں اور نتیجہ کچھ اور نکالتے ہیں۔

قادیانی دھوکہ دیتے ہیں : دعویٰ خاص دلیل عام پیش کرتے ہیں

اس بحث سے ہٹ کر ہم ایک تیسرا راستہ اختیار کرتے ہیںاور وہ یہ ہے کہ مرزائیوں کے نزدیک ہر قسم کی نبوت جاری نہیں اور وہ یہ کہتے ہیں: ہمارے نزدیک ایک خاص قسم کی نبوت

144

جاری ہے۔کہتے ہیں : نبوت دو قسم کی ہوتی ہے۔ایک تشریعی اور دوسری غیرتشریعی۔جو نبوت غیر تشریعی ہے اس کی آگے دو قسم ہیں:ایک بالواسطہ اور دوسری بلا واسطہ۔وہ کہتے ہیں: نبوت تشریعی بھی بند ہے اور اور نبوت غیر تشریعی جو بلا واسطہ ہے وہ بھی بند ہے۔نبوت غیر تشریعی جو بالواسطہ ہے وہ جاری ہے۔(دیکھئے تفصیل: قول فیصل مرزابشیرالدین ص۱۴، کلمۃ الفصل ص۱۱۲، مباحثہ راولپنڈی ص۱۷۵)

جس وقت ان کا دعویٰ خاص ہوا ،نبوت کی تقسیم تین چار کرکے دو قسم کی بند ماننا ،اور ایک قسم کو جاری ماننا تو ان کا دعویٰ خاص ہوا۔اور دلیل عام ہو تو وہ کوئی حجت نہیں ہوا کرتی۔جب ان کا دعویٰ خاص ہے تو اس خاص دعویٰ کے متعلق قرآن مجید کی آیت پڑھنی چائیے۔

اگر آپ ان کے سامنے یہ موقف رکھیںگے تو کوئی قادیانی آپ کے سامنے نہیں چل سکے گاکہ قرآن مجید کی کوئی ایک آیت پڑھ دیوے جس میں یہ لکھا ہوکہ یہ غیر تشریعی اور بالواسطہ ہو۔نہ قرآن مجید کی کوئی ایک آیت یا حضور(ﷺ) کی کوئی ایک حدیث اپنے دعویٰ کے ثبوت کے لئے پیش کرسکتے ہیں۔باقی ان کا یہ دعویٰ کہاں ہے کہ نبوت کی تین قسم ہیںکما مر من قبل(دیکھئے! حوالہ جات مذکورہ بالا)

قادیانیوں کے نزدیک نبوت کی اقسام

۱… قادیانی جماعت کے سربراہ مرزا بشیر الدین محمودنے ’’قول فیصل‘‘ میں لکھا ہے: میں نبیوں کی تین اقسام مانتا ہوں۔ (۱) جو شریعت لانے والے ہیں(۲) جو شریعت تو نہیں لائے مگر ان کو نبوت بلا واسطہ ملی ہے اور کام پہلے نبی کا ہی کرتے ہیںجیسے زکریا،یحییٰ اور سلیمان علیہم السلام (۳) وہ جو نہ تو شریعت لاتے ہیں اور نہ ان کو نبوت بلا واسطہ ملتی ہے لیکن وہ پہلے نبی کی اتباع سے نبی بنتے ہیں۔

۲… مرزا غلام احمد قادیانی کا لڑکا ،مرزا بشیر ایم اے نے اپنی کتاب (کلمۃ الفصل ص۱۱۲) پر لکھا ہے: ’’اس جگہ یاد رہے کہ آج تک نبوت تین قسم پر ظاہر ہوچکی ہے،اوّل: تشریعی :اس نبوت کو حضرت مسیح نے حقیقی نبوت کے نام سے پکارا ہے۔دوم : وہ نبوت جس کے لئے حقیقی یا تشریعی ہونا ضروری نہیں۔ایسی نبوت مسیح کی اصطلاح میں مستقل نبوت ہے۔سوم : ظلی و امتی نبوت، حضور(ﷺ) کی آمد سے مستقل اور حقیقی نبوت کا دروازہ بند ہوگیا،اور ظلی نبوت کا دروازہ کھولا گیا۔‘‘

۳… حوالہ مباحثہ راولپنڈی ص نمبر ۱۷۵پر ہے کہ انبیاء (علیہم السلام )دو قسم کے ہوتے ہیں۔تشریعی اور غیر تشریعی،اورپھر غیر تشریعی دو قسم کے ہوتے ہیں۔(۱) براہ راست

145

نبوت پانے والے (۲) نبی ٔ تشریعی کی اتباع سے نبوت پانے والے۔آنحضرتﷺ سے پیشتر صرف دو قسم کے نبی آتے تھے۔

ان تین حوالہ جات میں کئی چیزیں ثابت ہوئیں:ایک تو یہ کہ مرزائی کہتے ہیں: نبوت کی تین قسم ہیں،وہ جو بلا واسطہ ملتی ہے، یہ دو قسم کی نبوت حضور(ﷺ) سے پہلے جاری تھی اور حضور(ﷺ) کی آمد سے یہ نبوت ختم ہوگئی۔ حضور(ﷺ) کے زمانہ سے پہلے غیر تشریعی بالواسطہ نبوت نہیں تھی۔حضور(ﷺ) کے آنے کے بعد اطاعت کرکے نبوت ملی۔

یہ نئی نبوت کا سلسلہ حضور(ﷺ) کے بعد جاری کیا گیا۔یہ جو قادیانیوں کا مؤقف ہے پورے قرآن مجید یا احادیث کے ذخیرے میں دکھلادیں؟ وہ بھی لکھا ہو کہ پہلی دو نبوت بند ہوگئیں یا نہ بند ہوگئیں ہوں۔ صرف اتنی بات بتا دیں کہ حضور(ﷺ) کے اتباع سے کسی کونبوت مل سکتی ہے؟

اگر مرزائیوں کے اس دعویٰ کو تسلیم کرلیا جائے تو پھر نبوت کسبی ہوگی

اگر ان کا دعویٰ تسلیم کرلیا جائے کہ نبوت حضور(ﷺ) کی اتباع سے مل سکتی ہے تو پھر نبوت کسبی ہوئی ، وہبی نہ ہوئی۔حالانکہ اکابرِعلماء نے تصریح کی ہے کہ نبوت کو کسبی ماننا کفر ہے۔اللہ اعلم حیث یجعل رسالتہ(انعام:۱۲۴)یہ محکمہ اللہ نے اپنے پاس رکھا ہے،نبوت جوہے وہبی چیز ہے، کسبی چیز نہیں۔قادیانی کہتے ہیں: نبوت کی وہ قسم جو حضور(ﷺ) کی اتباع سے حاصل ہوتی ہے وہ حضور(ﷺ) کے بعد جاری ہوئی،تو گویا ان کے نزدیک نبوت جو ہے وہ ایک کسبی چیز ہے۔ اگر نبوت کسبی چیز ہے تو پھر قادیانیوں سے یہ سوال ہوگا کہ حضور(ﷺ) کے زمانہ سے لے کر چودہ سو سال تک مرزا قادیانی تک یہ جو وقت گذرا ہے اس پورے وقت میں حضور(ﷺ) کی کسی نے کامل اتباع نہیں کی؟حضرت ابوبکرؓ،عمرؓ و عثمانؓ اور علیؓ ہیں۔میں اس بحث میں بھی نہیں پڑتا کہ مرزا قادیانی نے حضور(ﷺ) کی کامل اتباع کی ہے یا نہیں ؟اس لئے کہ اس بحث پر بھی چلیں تو ہمارے نزدیک مرزا قادیانی نے حضور(ﷺ) کی اتباع تو درکنار ساری زندگی اس نے حضورﷺ کی اتباع نہیں کی۔ مثلاً اس نے اعتکاف نہیں کا،جہاد نہیں کیا، حج نہیں کیا۔ وغیرہ !

کیا چودہ سو سال میں ایک فرد نے بھی کامل اتباع نہ کی؟

جن لوگوں نے حضور(ﷺ) کی کامل اتباع کی مثلًا : حضرات صحابہ کرام (رضی اللہ عنہم) جن کی اتباع اور اطاعت کی قرآن نے گواہی دی،صرف گواہی نہیں دیتا بلکہ آگے ان کے

146

ایمان کو مدارِ ایمان بتاتا ہے کہ اس طرح ایمان لاؤ جس طرح یہ حضرات ایمان لائے۔تو جن کے ایمان کی قرآن گواہی دیتا ہے کہ ان حضرات نے کامل اتباع کی تھی تو ان حضرات کو نبوت کیوں نہیں ملی؟اور اگر انہوں نے کامل اتباع نہیں کی تھی تو (نعوذ باللہ)یہ چودہ سو سال میں حضور(ﷺ) کی امت میں سے کوئی ایک فرد بھی ایسا نہیں تھا کہ جس نے حضور(ﷺ) کی کامل اتباع کی ہو؟

رسول اللہ ﷺ کی امت خیر امت ہے یا شر امت؟

مرزائیوں کے اس دعوی کو مان لینے کے بعد آپ حضرات اندازہ لگائیں:کتنے فسادات لازم آتے ہیں۔اگر نبوت حضور(ﷺ) کا اتباع سے ملتی ہے تو چودہ سو سال میں کسی نے حضور(ﷺ) کی کامل اتباع کی یا نہیں؟ اگر اتباع کی تو اس کو نبوت کیوں نہیں ملی؟ اور چودہ سو سال میں کسی کو نبوت نہیں ملی تو اس کا معنی یہ ہے کہ حضور(ﷺ) کی کسی نے اتباع نہیں کی؟ تو پھر حضور(ﷺ)کی امت خیرِامت ہوئی یا شر ِامت ہوئی؟ کہ ایک فرد بھی حضور(ﷺ) کے اتباع میں پورا نہیں اترا،تو ان کے ایسے فضول قسم کے دعووں کو ماننے کے بعد اس قسم کے فسادات لازم آتے ہیں۔اور پورے دین اسلام کی بنیادوں کو ہلا کر رکھ دیتے ہیں۔

ایک عاشق رسولﷺ کا قصہ

آپ دوستوں کو معلوم ہے کہ ایک دفعہ ایک صحابیؓحضور(ﷺ) کی خدمت میں گئے،گرمی کا موسم تھا،اتفاق سے حضور(ﷺ) کا گریبان مبارک کھلا تھا۔ساری زندگی انہوں نے اپنا گریبان کھلا رکھا۔بند نہیں کیا،جو ملنے والے ساتھی تھے انہوں نے کہا : تم ایک دفعہ گئے ہو،اتفاقًا گریبان کھلا تھا،حضور(ﷺ) کی عادت مبارکہ نہیں،تو انہوں نے کہا: مجھے نہیں معلوم ! حضور(ﷺ) گریبان مبارک کھلا رکھا کرتے تھے یا بند رکھا کرتے تھے۔جس دن میں نے حضور(ﷺ) کو دیکھا تھا جناب کا گریبان مبارک کھلا تھا۔جس حالت میں دیکھ کر آیا ہوں ساری زندگی اس کا اتباع کروںگا۔انہوں نے ساری زندگی گریبان کھلا رکھا،اس کو کہتے ہیں کامل اتباع!

دوسرا قصہ

ایک مرتبہ حضور(ﷺ) خطبہ دے رہے تھے، رش کی وجہ سے کوئی چل رہا ہے کوئی پھر رہا ہے اور کوئی کناروں پر کھڑے ہیں، حضور (ﷺ)نے فرمایا: جو جہاں ہے وہیں بیٹھ جائے،

147

ایک صحابی ٔ رسول(ﷺ) جو غالباً حضرت عبداللہ بن مسعودؓ ہیں وہ ابھی مسجد نبوی کی طرف آرہے تھے، ابھی راستے پر ہی تھے، جوں ہی ان کے کانوں تک حضورﷺ کی مبارک آواز پہنچی، بیٹھ جاؤ! تو وہ وہیں بیٹھ گئے،اس سے بڑھ کر حضور (ﷺ) کی اتباع کرنے والا کوئی اور ہے؟ غالبًا حضرت عمرؓ نے حضرت عباس ؓ کے گھر کے پرنالہ کے بارے میں فرمایا تھا : اسے ہٹادو!تو اسے ہٹادیا گیا۔تو جب حضرت عباس ؓ کو پتہ چلا تو انہوں نے حضرت عمرؓکو فرمایا : پرنالہ گرانے والے تم کون ہوتے ہو؟ یہ تو حضور(ﷺ) کے حکم سے میں نے لگوایا ہے۔

جہاں رسول اللہ ﷺ کا فرمان آجاتا تو وہاں حضرت عمرؓ سرنگوں ہوجاتے تھے

جن دنوں حضور(ﷺ) نے حضرت عباس ؓ کو پرنالہ لگوانے کو کہا تھا اس دن مسجد نبوی کی اتنی توسیع نہیں تھی کہ گرنے والا پانی نمازیوں پر گرے۔اب وہاں گزرگاہ ہوگئی،نمازیوں کا آنا جانا ہوا،اب پرنالہ نقصان دہ تھا ۔اب حضرت عمرؓ نیچے بیٹھ جاتے ہیں اور فرمایا: میرے کندھوں پر کھڑے ہو کر پرنالہ وہیں لگاؤ جہاں حضور(ﷺ) نے لگوایا تھا۔اس سے بڑھ کر دنیا میں کوئی اتباع ہو سکتی ہے؟یہ بات اور ہے کہ وہ پرنالہ لگوانے کے بعد حضرت عباس ؓ نے وہ مکان مسجد کو دیدیا۔کہتے تھے : میں دنیا کو اتنی بات بتانا چاہتا تھا کہ جہاں حضور(ﷺ) کا فرمان آجائے وہاں ان کے غلاموں کو سرنگوں ہوجانا چاہئے۔چاہے بڑے سے بڑا آدمی کیوں نہ ہو؟

حضرت عمرؓ نے رسول اللہ ﷺ کی خوب نقل اتاری

یہ لوگ جنہوں نے حضور (ﷺ)کی کامل اتباع کی، ایک ایک قدم پر،غالبًا سیدنا عمرفاروقؓ کا واقعہ ہے کہ آپ کے پاس ایک کرتہ آیا،جس کے آستین لمبے تھے،آپ نے چھری منگوائی،اور بیٹوں کو کہا: پکڑو!،اور آستین کو کاٹ دوً،تو انہوں نے کہا : چھری سے کپڑا ٹیڑھا کٹے گا،آپ نے کہا :تم چھری لاؤ!۔کپڑا کاٹ دیا گیا۔آستین کاٹنے کے بعد صاحبزادے نے عرض کیا : میں نے کہا تھا: کپڑا ٹیڑھا کٹے گا،کپڑا قینچی سے کاٹا جاتا ہے۔

حضرت عمرؓ نے فرمایا : مجھے بھی اس بات کا علم تھا کہ کپڑا ٹیڑھا کٹے گا،فرمایا: کہ حضور(ﷺ) کے پاس بھی ایسا ہی لمبی آستین والا کپڑا آیا تھا۔اتفاقًا اس دن آپ (ﷺ)کے پاس قینچی نہیں تھی،تو آپ (ﷺ)نے اس دن چھری سے اس کو کاٹا تھا۔آج اسی طرح کا کپڑا آگیا

148

ہے۔دل نے چاہا میں بھی اسی سنت پر عمل کرلوں۔اور میں نے ایساہی کیا،اور اس سنت پر عمل کرلیا۔

کیا سچے عاشقوں وکامل متبعین کو تونبوت نہیں ملی؟

تو جن لوگوںنے کمالِ اتباع کی،یعنی چلنے پھرنے میں،وضع قطع میں،ایک ایک بات میں ۔ حضور(ﷺ) کی اتباع کا حق ادا کردیا،اور خدا کی قسم !صحابہ(رضی اللہ عنہم) سے بڑھ کر حضورﷺ کی اطاعت کوئی نہیں کرسکتا۔وہ لوگ جنہوں نے کامل اتباع کی ان کو تو نبوت نہیں ملی۔اس غلام احمد قادیانی کو جس کی نہ عقل تھی، نہ شکل تھی، نہ سیرت تھی ،نہ صورت،نہ حیا تھی نہ شرم!اس کے متعلق کہتے ہیں : اس نے کامل اتباع کی ۔اس کو نبوت مل رہی ہے۔اگر نبوت اتباع سے ملنا ہوتی تو چودہ سو سال میں کسی کو کیوں نہیں ملی؟اور اگر یہ کہا جائے کہ چودہ سو سال میں صرف مرزا غلام احمد قادیانی نے ہی اتباع کی ،تو اس کا معنی یہ ہوا کہ چودہ سو سال میں کسی نے حضور(ﷺ) کی اتباع نہیں کی۔نہ امام ابو حنیفہؒ نے اور نہ شیخ عبدالقادر جیلانیؒ نے ،اور نہ امام مالکؒ وغیرہم نے۔(نعوذ باللہ )کسی نے حضور(ﷺ) کی کامل اتباع نہیں کی۔تو مرزائیوں کے ان فاسد عقائدکی بنیاد پر ان کے دعووں کو صحیح تسلیم کرلیا جائے تو یہ فسادات لازم آتے ہیں۔

ہمارے مطالبات کا جواب قیامت تک کوئی مرزائی پیش نہیں کرسکتا

آپ تینوں حوالہ جات کو سامنے رکھتے ہوئے مرزائی حضرات سے آپ مطالبہ کرسکتے ہیں کہ: قرآن مجید کی کسی ایک آیت سے ثابت کردیں یا احادیث ِصحیحہ میں سے ایک حدیث پڑھ دیں! جس کے اندر یہ لکھا ہوا ہو کہ نبوت غیر تشریعی بالواسطہ جاری ہے۔(تو پھر جہاد کی تنسیخ مرزا کس طرح کرتا ہے؟ جب کہ یہ خودغیر تشریعی نبوت کا دعویٰ کرتا تھا ) رہتی دنیا تک کوئی ماں کا لال ایک آیت یا حدیث پیش نہیں کر سکے گا۔دعویٰ خاص ہے دلیل عام دیتے ہیں۔ مثلًا: اما یاتینکم رسل ۔غلام احمد قادیانی نے ’’آئینۂ کمالات‘‘ میں خود لکھا ہے کہ رسول کا لفظ عام ہے۔ (آئینہ کمالات اسلام ص۳۲۲، خزائن جلد۵) اللہ نے فرمایا : میں بھیجوںگاتو اللہ بھیج رہے ہیں وہ نبوت تو وہبی ہوئی کسبی نہ ہوئی،حالانکہ تمہارے نزدیک ان باتوں سے نبوت کسبی ہوتی ہے۔

بسا اوقات مرزائی امکان کی بحث چھیڑ دیتے ہیں

چودہ سو سال میںکوئی نبی بنا یا نہ بنا،بن تو سکتا ہے۔ تو جس وقت یہ امکانی بحث چھیڑیں تو آپ حضرات یہ جواب دیں کہ مرزا غلام احمد قادیانی کی کتاب تریاق القلوب میں لکھا

149

ہوا ہے کہ ایک آدمی بھنگی جو ساری زندگی نمبرداروں کے گاؤں کی صفائی کرتا ہو،چوری کے اندر پکڑا گیا ہو،زنا کاری میں پکڑا گیا ہو،گاؤں کے لوگوں اور نمبرداروں نے اس کو جوتے بھی مارے ہوں، اس کا پورا خاندان اس کے اندر مبتلا ہو،ممکن ہے کہ خدا کی قدرت پر یقین کرتے ہوئے یہ تو کہا جاسکتا ہے کہ وہ بھی نبی بن جائے، یہ نبوت ہے یا تماشہ؟

جس وقت وہ یہ کہے کہ ممکن ہے، بن سکتا ہے تو اس کے سامنے یہ حوالہ پیش کرو، تمہارے نزدیک بھنگی،زناکار،چوری کرنے والا وغیرہ نبی بن سکتا ہے۔ویسے آپ حضرات اندازہ فرمائیں کہ اس قسم کے زانی وغیرہ نبی بن جائیں تو یہ نبوت ہے یا بازیچہ ٔ اطفال ؟ آپ حضرات قادیانیت کے لٹریچر کا مطالعہ فرمائیں۔خدا کی قسم ! ان کی ایک بات بھی نبوت تو درکنار ، شرافت کے معیار پر بھی پوری نہیں اترتی۔کسی ایک کو لے لیں۔

مرزا غلام احمد قادیانی نے اپنی کتاب تریاق القلوب میں لکھا ہے کہ جس بھنگی کا ذکر اوپر ہوا ہے اس کو ذکر کرنے کے بعد لکھتا ہے: اب خدا تعالیٰ کی قدرت پر یقین کرکے ممکن ہے کہ تائب ہو کر مسلمان ہو جائے اور پھر یہ بھی ممکن ہے کہ اللہ کا فضل ان پر ہو۔وہ رسول اللہ اور نبی اللہ بھی بن جائے۔

(تریاق القلوب ص۶۷، خزائن جلد ۱۵ ص۲۷۹، ۲۸۰)

یہ ہیں قادیانیوں کے نزدیک نبوت کا معیار

اللہ تعالیٰ انبیاء(علیہم السلام) کی پشت در پشت جن پشتوں سے چل کر آگے نبی بننا ہوتا ہے اللہ تعالیٰ ان کی پشتوں کی بھی حفاظت فرماتے ہیںغلط کاریوں سے، کہ نبی پر حرف نہ آئے۔ کسی نبی نے شرک نہیں کیا ، اور کبھی کسی اللہ کے نبی نے زنا نہیں کیا۔کبھی بھی اللہ کے نبی سے غلط کام نہیں ہوا۔

ایک مسئلہ آپ حضرات کی خدمت میں عرض کرتا ہوں: انبیاء (علیہم السلام) معصوم ہوتے ہیں۔اور صحابہ (رضی اللہ عنہم)محفوظ ہوتے ہیں۔معصوم وہ ہوتا ہے جس کے قریب گناہ نہیں جاتے،گناہ کی جرأت نہیں ہوتی۔محفوظ وہ ہوتا ہے کہ جو گناہ کے پاس نہ جائے۔صحابہ کرام (رضی اللہ عنہم ) کی اللہ تعالیٰ نے اس طرح حفاظت فرمائی کہ وہ گناہ کے پاس بھی نہ جا سکے۔

عصمت نبوت کی دلیل

باقی انبیاء (علیہم السلام) کہ ان کے پاس گناہ کو جانے کی ہمت ہی نہیں ہوتی۔ حضرت

150

یوسف(علیہ السلام) کے واقعہ کے سلسلہ میں علماء نے صراحت کی ہے کہ گناہ کی جرأت نہیں ہوتی کہ وہ نبی کے پاس جائے ۔جب زلیخا حضرت یوسف (علیہ السلام)کو اپنے بند کمرے میں لے گئی اور اس نے برائی کی ابتدائی گفتگو کی۔حضرت یوسف (علیہ السلام) نے آسمان کی طرف دیکھا، اللہ تعالیٰ نے فرمایا : کیا ہوا؟ حضرت یوسف (علیہ السلام) نے فرمایا : آج غلطی ہوگئی تو میری نبوت کی خیر نہیں !اور تیری خدائی کی بھی خیر نہیں !

لوگ یہ کہیں گے کہ یہ خدا کا نبی ہے،یہ اللہ کا فرستادہ ہے،یہ رب کا انتخاب ہے !جس کے یہ کرتوت ہیں، صرف میری نبوت پر حرف نہیں آئے گا۔تیرے انتخاب پر بھی حرف آئے گا۔تیری قدرت پر بھی حرف آئے گا!۔ یوسف (علیہ السلام) نے فرمایا: میں عزیز مصر کے محل میں بند ہوں۔بظاہر نکلنے کا کوئی راستہ نہیں ، آہنی دروازہ طاقتور تالے،فرمایا اللہ تعالیٰ نے :یوسف! تو طاقتور تالوں کو دیکھتا ہے میری قدرت کو نہیں دیکھتا!،میرا نام لے کے چلنا تیرا کام ہے !،اور تالے کو کھولنا میرا کام ہے!۔اللہ تعالیٰ نے صرف یوسف(علیہ السلام) کو نہیں بچایا ہے ،نبوت کو بھی بچایا ہے کہ نبوت پر حرف نہ آئے اور مرزا قادیانی بکواس کرتا ہے کہ جو زانی ہو وغیرہ وغیرہ اوصاف ذمیمہ کا مالک ہو وہ بھی نبی بن سکتا ہے۔

ان وضاحتوں کے بعد:قادیانیوں کی دجل و فریب کاریاں

قادیانی قرآن مجید کی ایک آیت پڑھتے ہیں جس میں ہے کہ ’’من یطع اللہ و الرسول فاولٰئک مع الذین انعم اللہ علیہم من النّبیین والصدیقین والشہداء والصالحین وحسن اولئک رفیقا (نساء:۶۹)‘‘کہتے ہیں: جو شخص اللہ اور رسول کی اطاعت کرے (تو اطاعت کسبی ہوئی )وہ نبیین ،صدیقین و صالحین اور شہداء کے ساتھ ہوگا۔ وہ کہتے ہیں: تمہارے نزدیک صدیقین،صالحین وغیرہ بن سکتے ہیں تو نبی کیوں نہیں بن سکتے ؟

اس آیت میں چار درجات کا ذکر کیا گیا ہے۔نبی،صدیق،صالح اور شہید!،تو تم تین کو جاری مانتے ہو اور ایک کو بند مانتے ہو۔یہ کیوں ؟ یہ صرف لے دے کے پورے قرآن مجید سے ایک آیت پیش کرتے ہیںلیکن وہ اس کے اندر بھی دجل کرتے ہیں۔اس آیت میں یہ کہیں نہیں ہے کہ جو اللہ اور رسول کی اطاعت کرے گا وہ نبی بن جائے گا۔صدیق ،صالح اور شہید بن جائے گا۔یہاں جنت میں معیت کا ذکر ہے کہ جو اللہ اور رسول کی اطاعت کرے گا وہ نبیوں ،صدیق اور شہید کے ساتھ ہوگا۔اور آگے قرآن مجید نے کہا ہے: و حسن اولٰئک رفیقًا۔تو یہ جو

151

ہے وہ بہت اچھی سنگت ہے۔رفاقت ہے۔اور یہ رفاقت قیامت کے دن کی مراد ہے۔

رفاقت سے قیامت کے دن کی رفاقت مراد ہے

چنانچہ علامہ سیوطیؒ نے شان نزول میں حضرت ثوبانؓ سے نقل کیا ہے: انہوں نے حضور (ﷺ)سے عرض کی اورکہا: ’’کیف نراک فی الجنۃ وانت فی الدرجات العلیٰ ونحن اسفل منک فنزل ومن یطع اللہ والرسول (جلالین ص۸۰)‘‘ کہ ہم جنت میں آپ کا دیدار کیسے کر پائیں گے۔ جب کہ آپ جنت کے بلند وبالا درجات میں ہوں گے اور ہم آپ سے نچلے درجات میں ہوں گے تو یہ آیت ’’ومن یطع اللہ والرسول‘‘ نازل ہوئی۔وہ جنت جس میں آپ کا دیدار نہ ہو اس جنت کا فائدہ کیا ؟تو اس کے جواب میں قرآن مجید کی یہ آیت کریمہ نازل ہوئی۔ تو یہ قیامت کے دن ان کے ساتھ ہونے کا ذکر ہے۔یہ نہیں کہ جو اللہ اور رسول کی اطاعت کرے گا وہ نبی بن جائے گا۔

قادیانیوں کا یہ کہنا کہ صدیقیت، صالحیت اور شہادت کو کیوں جاری مانتے ہو؟

تو وہ قرآن مجید کی دوسری آیات ہیں جن میں صدیق،صالحین اور شہید بننے کا ذکر ہے۔جن آیات میں درجات ملنے کا ذکر ہے وہاں نبوت نہیں،جہاں درجات ملنے کا ذکر ہے وہاںنبوت کاذکر نہیں۔جہاں نبوت کا ذکر ہے وہاں رفاقت کا ذکر ہے۔جہاں درجات ملنے کا ذکر ہے وہاں صدیق،صالح اور شہید کا لفظ قرآن میں ہے ۔وہاں نبوت کا لفظ موجود نہیں۔اور جہاں نبوت کا لفظ موجود ہے وہاں قرآن مجید نے پابندی لگا دی کہ خاتم النّبیین خبردار! اس کے بعد کوئی نبی نہیں!

اس آیت میں معیت ہے عینیت نہیں۔ان لوگوں کا ساتھ ہوگا (یہ معنی نہیں کہ وہ عین ہوںگے)مثلاً: قرآن مجید میں ہیں : ان اللہ مع الصابرین ’’کہ اللہ تعالیٰ صبر کرنے والوں کے ساتھ ہیں۔‘‘ یہ مطلب نہیں کہ صبر کرنے والے خدا بن جاتے ہیں اور حدیث میں ہے :المرء مع من احب، حضور (ﷺ) نے فرمایا:التاجر الصدوق الامین مع النّبیین والصدیقین والشہداء (منتخب کنزالعمال برحاشیہ مسند احمد جلد۲ ص۲۰۹) اس کا یہ معنی نہیں کہ جو سچا امانت دار تاجر ہوگا وہ نبی ہوگا۔اور یہاں رفاقت ملنے کا ذکر ہے اور یہ قیامت کے دن کا ذکر ہے۔ جو شخص جس کے ساتھ محبت کرے گا قیامت کے دن اسی کے ساتھ اٹھایا جائے گا۔ تو جس کو حضور(ﷺ) کے ساتھ محبت ہوگی وہ حضور(ﷺ) کے ساتھ ہوگا ،صدیق اورصالح کے ساتھ محبت ہوگی تو وہ اس کے ساتھ ہوگا۔اور

152

آگے فرمایا : وحسن اولئک رفیقاً۔قرآن مجید کی اس آیت سے مرزائی غلط استدلال کرتے ہیں۔

من یطع اللہ و الرسول فالٰئک مع الذین انعم اللہ علیہم من النّبیین والصدیقین والشہداء والصالحین وحسن اولئک رفیقا۔(سورۃ النساء:۶۹) آپ حضرات کے ذہنوں میں مرزائیوں کا استدلال تو ہے۔ یہاں معیت ہے عینیت نہیں،معیت فی الدنیا ہر مؤمن کو حاصل نہیں۔اس لئے اس سے مراد معیت فی الآخرۃ ہے۔چنانچہ مرزائیوں کے مصدقہ نویں صدی کے مجدد امام جلال الدین سیوطیؒ نے اس آیت کا شان نزول یہ لکھا ہے کہ جو حضرت ثوبان کی حدیث میں اوپر مذکور ہوچکا۔معلوم ہوا کہ یہاں درجات کے ملنے یا عین ہو جانے کا ذکر نہیں بلکہ رفاقت کا ذکر ہے جو قیامت کے دن ہوگی۔

عن معاذ بن انسٍ قال: قال رسول اللہ ﷺ من قرأ الف آیۃٍ فی سبیل اللہ کتب یوم القیامۃ مع النّبیین و الصدیقین والشہداء والصالحین و حسن اولٰئک رفیقاً (کنز العمال برحاشیہ، مسند احمد جلد۱ ص۳۶۳) ’’حضرت معاذ بن انسؓ روایت فرماتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا۔ جو شخص ایک ہزار آیت اللہ تعالیٰ کی رضا کے لئے پڑھے وہ قیامت کے دن نبیوں صدیقوں اور شہداء وصالحین کے ساتھ بہترین رفاقت میں ہوگا۔‘‘ اسی طرح حضور(ﷺ) نے فرمایا: التاجر الصدوق الامین مع النّبیین والصدیقین والشہداء والصالحین۔ یہ دونوں حوالے کنز العمال منتخب مسند احمد کے حاشیہ پر ہیں۔منتخب کنز العمال حاشیہ علیٰ مسند احمد ابن حنبل ؒ۔

جہاں درجات ملنے کا ذکر ہے وہاں نبوت کا ذکر نہیں

تو دیکھئے ! تلاوت کرنا،تجارت کرنا یہ دونوں کسب کی چیزیں ہیں۔تو کیا کوئی شخص اللہ کے راستہ میں ایک ہزار آیتیں پڑھ لے تو نبی بن سکتا ہے ؟اور اس گئے گزرے دور میں جو سچا تاجر اپنی امانت و دیانت کا معیار بر قرار رکھے گا،اور تجارت کو اسلام کے اصولوں پر چلائے گا،تو وہ قیامت کے دن صدیقین ، صالحین اور شہیدوں کے ساتھ ہوگا۔نہ کہ نبی بن جائے گا؟۔

اس آیت میں نبوت ،صدیقیت اور صالحیت اور شہادت کے ملنے کا ذکر نہیں۔ بلکہ ان کیمعیت فی الآخرۃ کا ذکر ہے۔باقی رہا کہ صدیقیت اور صالحیت اور شہادت کو جاری مانتے ہو تو اس کے متعلق یہ عرض ہے : قرآن و حدیث میں یہ کہیں نہیں ہے کہ یہ درجات بند ہیں اور نبوت کے متعلق توصراحت کے ساتھ لفظ خاتم النّبیین آیا ہے۔ان کے متعلق صراحت کا دکھانا

153

قادیانیوں کا کام ہے۔ان کے ذمہ ہے۔جو قیامت تک نہیں دکھا سکتے۔ ہم ان تین درجات کے ملنے کا مذکورہ آیت سے استدلال نہیں کرتے بلکہ ان درجات کے ملنے کا ذکر دوسری آیات میں ہے۔ جہاں درجات ملنے کا ذکر ہے وہاں نبوت کا ذکر نہیں اور جہاں نبوت ملنے کا ذکر ہے وہاں درجات کے ملنے کا ذکر نہیں۔

وہ آیات جن میں درجات ملنے کا ذکر ہے

۱… والذین آمنوا باللہ و رسولہ اولئک ہم الصدیقون والشہداء عند ربہم(حدید:۱۹) ’’اور جو لوگ اللہ پر اور اس کے رسول پر ایمان لائے وہی ہیں سچے اور لوگوں کے احوال بتلانے والے اپنے رب کے پاس۔‘‘ دیکھا یہاں درجات ملنے کا ذکر ہے نبوت کا نہیں۔

۲… والذین آمنوا وعملوا الصالحات لندخلنہم فی الصالحین (عنکبوت:۹) ’’اور جو لوگ یقین لائے اور بھلے کام کئے ہم ان کو داخل کریں گے نیک لوگوں میں۔‘‘ اسی طرح سورۂ حجرات کے آخر میںجو مجاہدین فی سبیل اللہ ہیں وہاں اولئک ہم الصادقون کہا گیا ہے۔اور آیت یہ ہے :انما المؤمنون الذین آمنوا باللہ ورسولہ ثم لم یرتابوا وجاہدوا باموالہم وانفسہم فی سبیل اللہ اولٰئک ہم الصادقون۔ (حجرات:۱۵) ’’ایمان والے وہ لوگ ہیں جو ایمان لائے اللہ پر اور اس کے رسول پر پھر شبہ نہ لائے اور لڑے اللہ کی راہ میں اپنے مال اور اپنی جان سے وہ لوگ جو ہیں وہی ہیں سچے۔‘‘

مرزائیوں نے ہر چند رسول اللہ ﷺ کی مخالفت کی

تو صدیق اور صالحین جو ہم کہتے ہیں کہ: بن سکتے ہیں تو ہم اس آیت سے استدلال کی وجہ سے کہتے ہیں: کہ بن سکتے ہیں۔یہ نہیں کہتے کہ: من یطع اللہ الخ والی آیت سے ان درجات کے ملنے کا ذکر ہے ۔ ان کی بنیاد پر ہم یہ کہتے ہیں : صدیق،صالح اور شہید تو بن سکتے ہیں۔

خدا نہ کرے قرآن کی یہ آیتیں بھی اگر نہ ہوتیں تو بھی ان درجات کو جاری اس لئے مانتے ہیں کہ ان کے بند ہونے کا ذکر قرآن میں نہیں۔نبوت کو بند اس لئے مانتے ہیں کہ اس کا ذکر قرآن میں ہے۔تو اگر یہ درجات بند ہیں تو مرزائی ہمیں قرآن میں دکھائیں کہ یہ درجات بھی بند ہیں۔ہم اس کو ماننے کے لیے تیار ہیں۔ رہتی دنیا تک کوئی بھی قادیانی ان درجات کے بند ہونے کا ذکر قرآن میں نہیں بتلا سکتا۔

154

اللہ کی شان ! حضور(ﷺ) نے فرمایا : نبوت بند ،یہ بدبخت کہتا ہے: نبوت جاری ہے۔حضور(ﷺ) نے فرمایا: جہاد جاری ہے،یہ کہتا ہے: بند ہے۔حضور(ﷺ) نے فرمایا : خدا کی قسم ! حضرت عیسیٰ(علیہ السلام) آسمانوں پر زندہ ہے۔یہ کہتا ہے: حق کی قسم ! ابن مریم مر گیا۔یعنی ہر بات میں حضور(ﷺ) کا الٹ۔العیاذ باللہ اور ہر بات میں حضورﷺ کا مخالف ہے جب مخالف ہے تو متبع نہ بنا اور جب متبع نہ بنا تو نبی بھی نہ ہوا۔ لہٰذا ماننا پڑے گا کہ مرزاقادیانی دعویٰ نبوت میں جھوٹا ہے۔

میں خدا کے نوروں میں سے آخری نور ہوں

اب یہی ہے کہ مرزائی جو ہیں وہ مرزا غلام احمد کے بعد کسی کو نبی نہیں مانتے۔ان کے یہاں خلافت کا نظام ہے۔نبوت کا نظام نہیں اور مرزا غلام احمد قادیانی کے مرید (برساتی مینڈک کی طرح ہیں) جس وقت مرزا غلام احمد نے نبوت کا پھاٹک کھولا تو کئی اُلّو کے پٹھے جو مرزا کے مرید تھے۔انہوں نے نبوت کا دعوی شروع کردیا،کوئی کیا ہے؟ اورکوئی کیا ہے ؟

نبوت کا دروازہ کھول دیا گیا تو ہزاروں

ایک ناک کٹا تھااس کا نام تھا نور نبی۔اس نے بھی نبوت کا دعویٰ کردیا،اس کے باپ کا نام تھا نور اللہ!

شاہ صاحبؒ نے عدالت میں مقدمہ (مقدمہ تھا شاہ صاحبؒ پر انہوں نے کہاتھا کہ مرزا شراب پیتا تھا ) کے گواہ کے طور پر مرزا بشیر الدین کو رکھا۔صفائی کا اسی نورنبی کو گواہ رکھا،یہ نور نبی آیا تو عدالت نے پوچھا: آپ کا نام ؟ اس نے جواب دیا: نوں نوں نوں۔عدالت ادھر ادھر دیکھے! لاکھ سمجھ میں نہ آئے!۔عدالت نے پھر کہا : آپ کا نام ؟ اس نے پھر کہا: نوں نوں نوں ۔

تو جج نے کہا: شاہ صاحب ! اس کو گواہ رکھنے کی کیا ضرورت تھی ؟ شاہ صاحب نے فرمایا : یہ اس لئے لایا ہوں کہ نبوت کا دروازہ اگر کھول دیا گیا تو اس طرح کے اُلو کے پٹھے بھی نبوت کا دعویٰ کریں گے۔ نبوت مذاق نہیں! کئی لوگوں نے نبوت کا دعویٰ کیا ہے۔

مرزا کے بعد نبوت کا دعویٰ کرنے والے سب مرزائی تھے

اب حال ہی کی بات ہے کہ اخبارات میںا بھی چھپا ہے کہ لاہور میں ایک آدمی نے نبوت کا دعویٰ کیا ہے۔ایک آدمی نے کہا کہ مجھے اللہ تعالیٰ نے نبی بنایا ہے ۔پہلے ’’مرزا طاہر‘‘ کی

155

میں اطاعت کرتا تھا اب ’’مرزا طاہر‘‘ میری اطاعت کرے۔اور یہ کہ مجھے لندن سے تار آیا ہے۔اللہ تعالیٰ نے مجھے نبی کنفرم کردیا ہے ۔

یہ اس بے چارے کا بھی کوئی قصور نہیں۔جتنے لوگوں نے مرزا غلام احمد قادیانی کے بعد نبوت کا دعویٰ کیا سب مرزائی تھے،اور وہ تیرہ کے قریب ہیں۔اس لئے کہ جب دماغ خراب ہوتا ہے تو تھوک کے حساب سے نبوت کا دعویٰ کرنے والے پیدا ہوجاتے ہیں، اور وہ سمجھتے تھے کہ مرزا نبی بن سکتا ہے تو ہم کیوں نہیں بن سکتے؟مرزا غلام احمد قادیانی کی زندگی میں جنہوں نے دعویٰ نبوت کیا ان سب کو مرزا نے کافر کہا۔ اگر مرزاقادیانی کے بعد کوئی نبوت کا دعویٰ کرے تو مرزا اور مرزائیوں کے نزدیک کافر ہے۔ اسی فتویٰ کی رو سے حضورﷺ کے بعد مرزاقادیانی بھی کافر ہے، دجال ہے، کذاب ہے۔ جس طرح مرزا کے بعد کوئی نبی نہیں بن سکتا تو حضور کے بعد بھی کوئی نبی نہیں بن سکتا۔ معلوم ہوا کہ مرزا کے بعد کوئی نبی نہیں بن سکتا،اگر گنجائش ہے تو ان کو بھی مانو!

بقول مرزا نویں صدی کے مجدد امام جلال الدین سیوطی ؒ تھے

مرزا غلام احمد قادیانی نے اپنی تحریرات میں ’’عبد الحکیم‘‘ کو خود لکھا کہ یہ مرتد ہو گیا ہے۔ اس نے نبوت کا دعویٰ کیا ہے۔مرزا کے بعد کوئی مرزائی کسی کو نبی نہیں مانتا۔ان کے یہاں خلافت کا نظام ہے۔وہ خود کہتے ہیں : قیامت تک کسی کو نبی نہیں بننا گویا کہ(نعوذ باللہ ) ان کے یہاں مرزا خاتم النّبیین ہے۔

ازالۂٔ اوہام میں مرزا غلام احمد قادیانی نے لکھا ہے کہ: علامہ جلال الدین سیوطی ؒ نویں صدی کے مجدد تھے۔ اس نے یہ بھی لکھا ہے اور تسلیم بھی کیا ہے کہ: ’’یہ حضرت امام جلال الدین سیوطی ؒ پچھتر دفعہ احادیث کی تصحیح کے لئے حضور (ﷺ)کی خدمت میں حالت بیداری میں پیش ہوئے۔‘‘

(دیکھئے! ازالہ اوہام ص۱۵۱، خزائن جلد۳ ص۱۷۷)

’’عسل مصفی‘‘ مرزائیوں کی کتاب ہے جسے مرزاقادیانی کے ایک مرید خدابخش نامی نے تصنیف کیا ہے اور یہ مرزاغلام احمد قادیانی کی حرف بحرف تصدیق شدہ ہے۔ اس میں تیرہ صدی کے مجددین کی فہرست شائع کی ہے۔اس میں نویں صدی کا مجدد امام جلال الدین سیوطیؒ کو لکھا ہے۔

(دیکھئے! عسل مصفّٰی ص۱۶۲تا۱۶۵)

وآخر دعوانا ان الحمد للہ رب العالمین

156

چھٹا درس

(خاتم النبیین کون)

157

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ

الحمدللہ وکفٰی وسلام علیٰ سید الرسل وخاتم الانبیاء وعلیٰ اٰلہ واصحابہ اللذین ہم خلاصۃ العرب العرباء وخیرالخلائق بعد الانبیاء۰ اما بعد۰ فاعوذ باللہ من الشیطٰن الرجیم۰ بسم اللہ الرحمٰن الرحیم۰ ماکان محمد ابا احد من رجالکم ولکن رسول اللہ وخاتم النّبیین، وکان اللہ بکل شیٔ علیما۔
قال النبیﷺ: انہ سیکون فی امتی کذابون ثلاثون کلہم یزعم انہ نبی وانا خاتم النّبیین لا نبی بعدی۔ اللّٰہم صل علیٰ سیدنا محمد عبدک ورسولک وصل کذلک علیٰ جمیع الانبیاء والمرسلین وعلی الملائکۃ المقربین وعلیٰ عباد اللہ الصالحین۰ اجمعین الیٰ یوم الدین۔

ماقبل کے درس سے ربط

میرے واجب الاحترام معزز علماء کرام! عزیز بھائیو! دوستو! اوربزرگو! گذشتہ گفتگو کا خلاصہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے سلسلہ ٔ نبوت حضرت آدم (علیہ السلام) سے شروع کیا،مسلسل ،پے درپے اور متواتر نبی آتے رہے،یہی سلسلہ جب چل کر نوح (علیہ السلام) اور ابراہیم (علیہ السلام) پر پہنچا تو اس وقت یہی اعلان دو بارہ ہوا،وجعلنا فی ذریتہما النبوۃ والکتاب’’ اور ہم نے ان دونوں کی اولاد میں نبوت اور کتاب رکھ دی۔‘‘ اور آگے ثم قفینا علی آثارہم برسلنا (حدید:۲۶،۲۷) ’’پھر ہم نے ان کے پیچھے اپنے رسول پے درپے بھیجے۔‘‘ تو معلوم ہوا کہ ان کے بعد بھی پے درپے نبی آتے رہے۔اور جس وقت یہ سلسلہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) پر پہنچتا ہے تو اس وقت بھی قرآن مجید یہی بیان کرتا ہے کہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے بعد بھی کئی رسل آئیں گے۔جب عیسی (علیہ السلام) پر یہ سلسلہ پہنچتا ہے تو قرآن مجید جمع کی بجائے واحد کا صیغہ برسولٍ استعمال کرتا ہے۔اور ان کے نام کی تعیین بھی قرآن مجید کردیتا ہے اور جب حضور(ﷺ) تشریف لائے تو آپ (ﷺ)نے فرمایا: انا بشارۃ عیسیٰ (مشکوٰۃ ص۵۱۳) انا محمد وانا احمد (مشکوٰۃ ص۵۱۵) اور ساتھ ہی اللہ تعالیٰ نے فرمایا : عیسیٰ (علیہ السلام) کے بعد جس ایک کو آنا تھا وہ ایک آگئے، اور اب نبوت ختم ہو چکی، اور فرمایا : ماکان محمد ابا احدٍ من رجالکم ولٰکن رسول اللہ و خاتم النّبیین (احزاب:۴۰)

158

اس کے علاوہ دوسری بات یہ ہے کہ قرآن مجید میں پانچ دس مقامات پر اللہ رب العزت نے حضور (ﷺ) کو یہ کہا کہ جو کچھ آپ(ﷺ) پر اترے اس پر بھی ایمان لاؤ ،اور آپ (ﷺ)سے پہلے جو کچھ نازل کیا گیا ہے اس پر بھی ایمان لاؤ۔اگر حضور(ﷺ) کے بعد کسی کو آنا تھا تو ایمان کے بارے میں’’ من بعد‘‘کا ذکر ہوتا۔قرآن مجید پورا گواہ ہے کہ کہیں بھی’’ من بعد‘‘ کا ذکر نہیں ہے۔تو معلوم ہوا کہ حضور (ﷺ)کے بعد کسی کو نبی بن کر آنا نہیںہے ۔

حضور (ﷺ)کے بعد کسی کو نبی بن کر آنا نہیں ہے

ہمارے ذمہ حضور(ﷺ) کی تابعداری،پیروی اوراطاعت کرناہے،لیکن حضور(ﷺ) سے پہلے جتنے بھی انبیاء (علیہم السلام ) آئے ہیں ان کو ماننا بھی ضروری ہے،اگر حضور(ﷺ) کے بعد کسی کو آنا ہوتا تو جس طرح پہلے انبیاء (علیہم السلام )نے اپنے بعد آنے والے نبی کی تصدیق کی اور اپنی امت کو بتایا تو حضور (ﷺ) بھی اپنے بعد آنے والے نبی کی بشارت دیتے، اور اپنی امت کو تصدیق کرنے کو کہتے، اور ایمان لانے کو بتاتے کہ اس نبی کی تصدیق کرنا اور اس پر ایمان لانا جیسے کہ حضور(ﷺ) سے پہلے آئے ہوئے انبیاء (علیہم السلام) کے متعلق بتایا گیا۔حضور(ﷺ) کا آنے والے کی خوشخبری نہ دینا، اور قرآن مجید میں اس کا ذکر نہ ہونا ہی دلیل ہے اس بات کی کہ حضور(ﷺ) پر سلسلہ ٔ نبوت ختم ہوگیا۔اور جب کہ قرآن مجید نے صراحت کے ساتھ ’’خاتم النّبیین‘‘ کا لفظ بھی ذکر کر کے اس کی مزید تاکید کردی۔

ہمارے یہاں ہر قسم کی نبوت بند ہے

حضرات گرامی ! قادیانی عموماً دھوکا یہ دیتے ہیں، اور بحث شروع کردیتے ہیں کہ نبوت جاری ہے، اور عام آیت پڑھ دیتے ہیں۔حالانکہ ان کے یہاں بھی ہر قسم کی نبوت جاری نہیں،ان کے نزدیک نبوت کی تین قسمیں ہیں (حوالہ پچھلے درس میں گذر چکا ہے وہاں ملاحظہ فرمائیں) دو قسم کی نبوت بند ہے اور ایک قسم کی نبوت جاری ہے۔نبوت کی دو قسم ،ایک تشریعی اور دوسری غیر تشریعی،جوغیر تشریعی ہے اس کی بھی دو قسم ہے۔ایک نبوت غیر تشریعی بالواسطہ اور دوسری قسم نبوت غیر تشریعی بلا واسطہ۔اور نبوت تشریعی اور نبوت غیر تشریعی بلا واسطہ بند ہے۔اور ان کے نزدیک غیر تشریعی بالواسطہ جاری ہے۔ان کے عقیدے کے مطابق غیر تشریعی بالواسطہ جاری ہے۔اوروہ یہ بھی کہتے ہیں:کہ حضور (ﷺ)سے پہلے یہ نبوت جاری نہیں تھی۔حضور(ﷺ) کے بعد یہ سلسلہ

159

جاری ہوا۔ تو سارا قرآن مجید اور احادیث کا جو ذخیرہ ہے اس میں سے اپنے دعویٰ کے متعلق ایک آیت یا ایک حدیث بھی قادیانی نہیں بتا سکتے اور نہ ہی دکھلا سکتے ہیں۔

تیسری درخواست یہ کی تھی کہ قادیانیوں کا ہمارے ساتھ یہ بحث کرنا کہ حضور کے بعد نبوت جاری ہے،یہ بحث ہی سرے سے غلط ہے۔اس لئے کہ قادیانیوں کے یہاں بھی نبوت بند ہے۔اور ہمارے یہاں بھی ہر قسم کی نبوت بند ہے۔فرق یہ ہے کہ قادیانیوں کے نزدیک ’’غلام احمد قادیانی‘‘ پر بند ہے اورہم کہتے ہیں کہ حضور خاتم النّبیین(ﷺ) پر بند ہے۔ہمارے نزدیک حضور(ﷺ) کو قرآن مجید اور احادیث پاک میں خاتم النّبیین کہا گہا ہے۔مرزائی کہتے ہیں : حضور(ﷺ) کے زمانہ سے لے کر ’’مرزا غلام احمد‘‘ تک کوئی نبی نہیں،اور ’’غلام احمد‘‘ کے بعد قیامت تک کوئی نبی نہیں ہوگا۔صرف ’’مرزا غلام احمدقادیانی‘‘ نبی ہے۔دلائل دیںگے نبوت جاری ہے اور عملاً کہتے ہیں : نبوت بند ہے۔اور یہ کہتے ہیں: صرف غلام احمد قادیانی آخری نبی ہے۔

در اصل بحث یہ ہونی چاہئے کہ مرزا غلام احمد قادیانی آخری نبی ہے یا حضور(ﷺ) آخری نبی ہیں۔تو قادیانی ’’مرزا غلام احمد قادیانی‘‘ کو آخری نبی ثابت کرنے کے لئے قرآن مجید کی ایک آیت یا احادیث پاک میں سے ایک حدیث بھی پیش نہیں کرسکتے کہ ’’مرزا غلام احمد قادیانی‘‘ آخری نبی ہے۔

اگر ان بحثوں میں ان تمام قیود کو سامنے رکھتے ہوئے مرزائیوں کے ساتھ یہ گفتگو کی جائے تو کوئی مرزائی قرآن مجید سے ایک آیت یا احادیث پاک میں سے ایک حدیث بھی پیش نہیں کرسکتا۔باقی یہ کہ ’’مرزا غلام احمد‘‘ نے یہ کہاں لکھا ہے کہ صرف میں ہی نبی ہوں،آیات و حوالہ جات سامنے ہیں؟

آیت سے غلط استدلال

نمبر(۲ ): وہ حضرات اپنے دعویٰ کی صداقت کے لئے قرآن مجید کی یہ آیت پیش کرتے ہیں کہ قرآن مجید میں ہے اللہ رب العزت نے فرمایا : من یطع اللہ والرسول فالئک مع اللذین انعم اللہ علیہم من النّبیین والصدیقین والشہداء والصالحین آگے کہتے ہیں: قرآن مجید میں ہے اھدنا الصراط المستقیم ۔نماز میں ہم دعاء مانگتے ہیں کہ اے اللہ ! ہمیں سیدھا راستہ دکھا،راستہ ان لوگوں کا جن پر تو نے انعام کیا ، پھر وہ منعمین کون ہیں ؟ وہ چار ہیں، (۱)نبی،(۲)صدیق، (۳)صالح اور (۴)شہید۔ مرزائی اس آیت سے غلط استدلال

160

کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ وہ جو اطاعت کرے گا اسی میں سے ہوگا انہی میں سے ہوگا۔تو جس طرح صدیق وغیرہ بن سکتے ہیں منعم علیہم تو چار ہیں تین بن سکتے ہیں ۔چوتھا یعنی نبی کیوں نہیں بن سکتا ؟ ۔

تو اس سلسلہ میں آپ حضرات کی خدمت میں امام جلال الدین سیوطی ؒ کے حوالہ سے اس کا شان نزول اور پوری تفصیل آگے پیش کی جا چکی ہے، اور آگے(قرینہ موجود ہے ) و حسن اولٰئک رفیقًا پر بھی گفتگو ہو چکی ہے کہ یہاں رفاقت مراد ہے معیت مراد ہے۔عینیت مراد نہیں کیونکہمع الذین کہاہے من الذین نہیں کہا ۔

جھوٹا نبی مرزا کہتا ہے : پوری امت میں میں ہی

اس کے علاوہ قادیانیوں کا یہ کہنا کہ آپ حضرات تین درجات کو جاری مانتے ہو اور ایک کو بند مانتے ہو تو اس پر بھی تفصیل سے گفتگو ہوچکی ہے،اوریہ تمام معروضات کل بروز بدھ ۴ ستمبر۱۹۸۵ء کو بیان کئے جاچکے ہیں۔

حضرات گرامی! میں یہ عرض کررہاتھا کہ مرزا غلام احمد قادیانی نے خود تسلیم کیا ہے کہ پوری امت میں سے صرف میں ہی نبوت کے لئے مخصوص کیا گیا ہوں۔(حقیقۃ الوحی ص ۳۹۱، خزائن ج۲۲ ص۴۰۶)کل ہم یہاں تک پہنچے تھے۔

تیسری بحث کو اگر ساتھ ملا کر دیکھا جائے اور مرزا کا قول :اطاعت اور پیروی سے نبوت ملتی ہے تو کیا چودہ سو سال میں کسی نے حضور (ﷺ)کی کامل پیروی کی یا نہیں؟اگر جواب ہاں، میں ہے تو وہ کیوں نبی نہیں بنایا گیا؟اگر کسی نے کامل پیروی نہیں کی تویہ امت خیر امت نہ ہوئی کہ جس میں کسی امتی نے اپنے نبی کی کامل پیروی نہیں کی؟حالانکہ صحابہ (رضوان اللہ علہم اجمعین) کے لئے خود خدا تعالیٰ نے شہادت دی ہے: یطیعون اللہ و رسولہ کہ حضرات صحابہ(رضوان اللہ علیہم اجمعین) اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کرتے ہیں۔اگر اطاعت سے نبوت ملتی ہے تو وہ نبوت کسبی ہوئی ،حالانکہ نبوت وہبی چیز ہے کما قال تعالیٰ : اللہ اعلم حیث یجعل رسالتہ (انعام:۱۲۴) ’’اللہتعالیٰ خوب جانتا ہے اس موقع کو جہاں بھیجے اپنا پیغام۔‘‘

بچے کے وجود کے لئے کسب ہے لیکن وہب میں قطعًا دخل نہیں

مرزائی یہ بھی کہتے ہیں کہ : بسا اوقات چیز وہبی ہوتی ہے مگر اس کے اندر کسب کو بھی دخل

161

ہوتا ہے،مثلاً: قرآن مجید میں ہے : یہب لمن یشاء اناثًا و یہب لمن یشاء الذکور (شوریٰ:۴۹) ’’بخشتا ہے جس کو چاہے بیٹیاں اور بخشتا ہے جس کو چاہے بیٹے۔‘‘مرزائی کہتے ہیں کہ جب تک عورت مرد کا ملاپ نہیں ہوتا بچہ پیدا نہیں ہوسکتا ،حالانکہ وہ وہبی چیز ہے۔لیکن اس میں انسان کے کسب کو بھی دخل ہے ۔

ہم نے اس کا جواب یہ دیا کہ ٹھیک ہے :اس کے اندر انسانی کسب کو دخل ہے۔لیکن وہب کرنے میں انسان کا قطعًا کوئی دخل نہیں ہے۔ہزارہا میاں بیوی کا ملاپ ہوتا رہے لیکن اولاد نہیں ہوتی،لڑکی لڑکا دینے میں قطعًا کسی کو کوئی دخل نہیں۔اس کے اندرقطعًا کسب نہیں ہے۔

جھوٹا نبی مرزا تو پورا تابعدار بھی نہیں تھا

اگر نبوت حاصل کرنے میں تابعداری شرط ہے تو بھی مرزاقادیانی نبی نہیں بن سکتا۔اس لئے کہ اس نے حضور (ﷺ)کی کامل تابعداری نہیں کی۔ہجرت نہیں کی ،جہاد بالسیف نہیں کیا۔کبھی پیٹ پر پتھر نہیں باندھا،اعتکاف نہیں کیا اور حج نہیں کیا وغیرہ وغیرہ۔

جھوٹا نبی مرزا رسول اللہ ﷺکے دین کا حلیہ بگاڑنے والا تھا

متواتر چھ سال ماہ رمضان کے اس بدبخت نے روزے نہیں رکھے،کبھی کبھار موڈ بن جاتا تو مسجد میں چلا جاتا تھا۔ورنہ اپنے گھر میں عورتوں کو کھڑا کرکے جماعت کرالیتا تھا۔اور کوئی مرد اس کے ساتھ نہیں ہوتا تھا۔پیچھے عورت کھڑی ہوجاتی۔چل بھائی! اللہ اکبر!۔جی!اس ذوق کا آدمی تھا۔میل دو میل کے سفر پر روزہ افطار کرلیتا اور نما ز میں قصر لیتا۔تو یہ من مانی کرنے اور حضور (ﷺ)کے دین کا حلیہ بگاڑنے کا انچارج تھا۔نہ کہ حضور(ﷺ)کے دین کی کامل تابعداری کرنے والا۔

ایک علمی بحث لفظ’’مع ‘‘کے معنی کے بارے میں

یہ سوچنے کی بات ہے کہ مع کا معنی کبھی بھی ’’من‘‘ کے ساتھ نہیں کریں گے۔ورنہ بڑی پریشانی ہوگی مثلاً : قرآن مجید میں ہے : ان اللہ مع الصابرین۔ دیکھئے! میرے حضور !صدیق ابو بکرb کو رسول اللہ (ﷺ) نے فرمایا : لاتحزن ان اللہ معنا (توبہ:۴۰) ’’مت غم کیجئے! یقینا اللہ تعالیٰ ہمارے ساتھ ہیں۔‘‘ تو یہاں مع، کامعنی من،سے کرناصحیح نہیں ہے۔نعوذ باللہ اگر کیا

162

جائے تو صدیق اکبرؓاور رسول اللہ(ﷺ) کو اللہ بنانا ہے۔یا صبر کرنے والے خدا بن جاتے ہیں۔یا خدا صبر کرنے والوں میں سے ہے۔ان کی یہ کوئی بات قابل فہم نہیں!۔

مرزائیوں کاذہنی افتراء ہے

مرزا غلام احمد قادیانی نے دعا کی: اے اللہ تعالیٰ تو اہل مکہ کو نصرت دے،اور ان کو نبیین، صدیقین،صالحین اور شہداء کا ساتھ نصیب کر!۔وہاں اس نے مع،کا لفظ استعمال کیا ہے۔تو کیا اس کا معنی یہ ہے کہ مرزا غلام احمد قادیانی یہ دعا کررہاتھا کہ جتنے مکہ والے ہیں سب نبی بن جائیں؟ (از حمامۃ البشریٰ ص۹۶، خزائن ج۷ ص۳۲۵)مع،کا ترجمہ من،کے ساتھ کرنا نہ تو عقل کے موافق ہے، اور نہ عربی صرف و نحو کے قواعد کے موافق ہے۔اور نہ تو ۱۴۰۰ (چودہ سو) سوسال کی تفسیر اس کا ساتھ دیتی ہے۔یہ ترجمہ صرف مرزائیوں کی ذہنی افتراء ہے۔اور دین کے اندر صرف قینچی چلانے کے لئے تأویلیں کرتے ہیں۔ورنہ خدا گواہ ہے کہ شریعت کے اندر اس کی کوئی گنجائش نہیں ہے۔

خاتم المہاجرین سے بھی غلط استدلال

مرزائی کہتے ہیں کہ ایک حدیث میں حضور(ﷺ) نے اپنے چچا حضرت عباس ؓ کو فرمایا :اطمئن یاعمّ فانک خاتم المہاجرین فی الہجرۃ کما انا خاتم النّبیین فی النبوۃ۔(ازکنز العمال جلد ۶ ص ۱۷۸)جس طرح ہزاروں لوگوں نے حضرت عباس ؓ کے بعد ہجرت کی تو معلوم ہوا کہ خاتم المہاجرین کے معنی آخری مہاجر نہیں۔اسی طرح خاتم النّبیین کا معنی آخری نبی نہیں۔تو ظاہر بات ہے کہ حضرت عباس ؓ کے بعدہجرت ختم نہیں ہوئی۔حضرت عباس ؓخاتم المہاجرینہیں،لیکن اس کے باوجود دوسرے لوگ مہاجر بن سکتے ہیں۔تو حضور(ﷺ) بھی خاتم النّبیین ہے اس کے باوجود بھی دوسرے نبی بن سکتے ہیں۔دوسرا کوئی شخص نبی بن سکتا ہے۔ یہ ہے مرزائیوں کا استدلال!۔

اس ضمن میں درخواست یہ ہے کہ حضرت عباس ؓ والی روایت مرزائی پوری نہیں پڑھتے ،در اصل روایت یہ ہے کہ حضور(ﷺ) جس دن فتح مکہ کے لئے تشریف لارہے تھے، حضرت عباس ؓ ہجرت کی نیت سے مکہ سے مدینہ کی طرف نکل چکے تھے۔ادھر سے حضور(ﷺ) تشریف لارہے تھے۔حضرت عباس ؓ نے ان کو دیکھا ،دیکھ کر ان کو پریشانی لاحق

163

ہوئی کہ مجھے ہجرت کا ثواب نہیں ملے گا اس لئے کہ میں اس سے قبل ہجرت نہ کرسکا۔تو حضور(ﷺ) نے ان کے اطمینان کے لئے ارشاد فرمایا :آپ خاتم المہاجرین ہیں۔مکہ مکرمہ سے جن کو ہجرت کرنی تھی وہ ہجرت کرچکے، آپ اس کے آخری مہاجر ہیں۔ ہجرت ہمیشہ ’’دار الکفر‘‘ سے ’’دار الاسلام‘‘ کی طرف کی جاتی ہے، اور آج میں مکہ فتح کرنے جارہا ہوں،مکہ ایسا فتح ہوگا قیامت تک ’’دار الاسلام‘‘ رہے گا۔اب مکہ سے کوئی ہجرت نہ کر سکے گا۔اس لئے کہ ہجرت اس کو کہتے ہیں : جو دار الکفر سے دار الاسلام کی طرف ہجرت ہو۔چنانچہ امام بخاری ؒ نے مستقل باب باندھا ہے لا ہجرۃ بعد الفتح (بخاری ج۱ ص۴۳۳)تو معلوم ہو اکہ فتح مکہ سے قبل مکہ معظمہ سے مدینہ منورہ کی طرف ہجرت کرنے والوں میں حضرت عباس ؓ آخری مہاجر ہیں ۔ یہ بات بالکل ٹھیک ہے۔ اس میںکوئی کلام نہیں۔

اللہ تعالی کی شان !شیعہ تفسیروں میں بھی کوئی سند نہیں

’’اور دوسرا استدلال مرزائی یہ پیش کرتے ہیں کہ حضور(ﷺ) نے حضرت علیؓ کو فرمایا : انک انت خاتم الاولیاء۔میرے بھائیو!دنیا جہان میں اس کی کوئی سند نہیں۔شیعہ کسی غیر مشہورتفسیر کا حوالہ پیش کرتے ہیں ،اللہ کی شان! :شیعہ تفسیر میں بھی اس کی کوئی سند مذکور نہیں۔جس قول کا نہ باپ ہے اور نہ ماں! :قادیانی اس مقطوع النسل ٹکڑے کو اپنے عقائد کے طور پر پیش کرنے کی کوشش کرتے ہیں ۔

مرزا کے نزدیک اقوال سلف و خلف کوئی مستقل حجت نہیں

حالانکہ اس کے مقابلہ میں حضور(ﷺ) کی واضح و صحیح حدیث موجود ہے : حضور(ﷺ) نے حضرت علیؓ کو غزوہ تبوک کے موقعہ پر ارشاد فرمایا :انت منی بمنزلۃ ہارون من موسیٰ الا انہ لا نبی بعدی (مسلم ج۲ ص۲۷۸)آپ میرے اسی طرح قائم مقام ہیں جس طرح حضرت ہارون (علیہ السلام) موسیٰ (علیہ السلام) کے قائم مقام تھے۔شبہ ہوسکتاتھا کہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اللہ کے نبی ،اور حضرت ہارون (علیہ السلام) بھی اللہ کے نبی ،حضور(ﷺ) اللہ کے نبی تو یہ ممکن ہو سکتا تھا کہ حضرت علیؓ بھی اللہ کے نبی ہوسکتے ہوں۔لیکن رسول اللہﷺنے لا نبی بعدی کہہ کر اس وہم کو دور کردیا کہ میرے بعد کوئی نبی نہیں۔تو اس صحیح حدیث کے ہوتے ہوئے قادیانی حضرت علیؓ کے متعلق قول مجہول پیش

164

کرتے ہیں اس کا کوئی اعتبار نہیں۔جس کی کوئی سند بھی نہیںہے ۔ یاد رکھیں! ہمیشہ مرزائی تنکوں کا پل بنا کر اس پر سے ہاتھی کو گزارنے کی کوشش کرتے ہیں اور ناکام ہو جاتے ہیں۔

قادیانی شیعہ راویوں کی غیر مشہور روایت پیش کرتے ہیں:ان کے جواب میں ہم مرزاقادیانی کا ایک حوالہ پیش کرتے ہیں۔مرزا قادیانی خود لکھتا ہے: ’’اقوال سلف و خلف کوئی مستقل حجت نہیں رکھتے۔‘‘ (ازالہ اوہام ص۳۸، خزائن ج۳ ص۳۸۹) یعنی کسی بزرگ کا کوئی قول و فعل جو قرآن و حدیث کے خلاف ہو،وہ شرعاً حجت نہیں۔اورجب حجت نہیں تو خلاص!(تو شیعہ روایت کی بھی چھٹی ہوگئی)

پہلے اللہ رب العزت نبی بناتے تھے اب یہ محکمہ

مرزائی یہ کہتے ہیں کہ خاتم النّبیین کا معنی سرے سے ہی آخری نبی‘کا نہیں ہے،بلکہ خاتم، کا معنی مہر اورانگوٹھی کے ہیں،تو حضور(ﷺ) سے پہلے اللہ رب العزت نبی بناتے تھے۔اب حضور(ﷺ) نبی بناتے ہیں۔اس طرح کہ حضور(ﷺ) مہر لگاتے جائیںگے نبی بنتے جائیںگے۔یعنی اب نبی بنانے کا اختیار و محکمہ اللہ تعالی ٰنے حضور (ﷺ) کے سپرد کردیا،حضور (ﷺ) اپنی مرضی سے جس کو چاہیں اسے نبی بنا کراس کی نبوت پر اپنی مہرتصدیق ثبت کردیںگے۔ قادیانی خاتم کا یہ ترجمہ پیش کرتے ہیں۔ میرے بھائیو یاد رکھو!ختم کا لفظ قرآن مجید میں چند جگہ آیا ہے اور سب جگہ قدر مشترک کے طورپر ایک ہی ترجمہ ہے اور وہ یہ ہے کہ: ’’کسی چیز کو اس طرح بند کرنا کہ کوئی چیزباہر سے اندر جا نہ سکے اور اندر سے باہر آنہ سکے۔‘‘

ختم اللہ علی قلوبہم : (بقرہ:۷)،اللہ تعالیٰ نے ان (مخصوص کافروں) کے دلوں پر اس طرح مہر لگادی کہ ان کے قلوب سے کفر نہیں نکلے گا۔اور باہر سے ایمان اندر داخل نہیں ہو سکے گا۔یہ ہے اس کا ترجمہ۔تو خاتم النّبیین کے معنی یہ ہوںگے کہ اللہ رب العزت نے نبوت کا سلسلہ اس طرح بند کردیاکہ جتنے بھی انبیاء اب تک آنے مقدر تھے وہ آگئے ان میں سے کسی کو باہر نہیں نکالا جاسکتا اور باہر سے کسی کونبوت کے اندر داخل نہیں کیا جاسکتا۔

خاتم کے معنی آخری یہ خود مرزا نے تسلیم کیا ہے

لیکن مرزائی اس ترجمہ کو نہیں مانتے۔پھر ان کی خدمت میں مرزا غلام احمد قادیانی کی کتاب’’ تریاق القلوب‘‘کا ایک حوالہ پیش کرتے ہیں :مرزا قادیانی اس میں لکھتا ہے: میں

165

اپنے والدین کے یہاں خاتم الاولاد تھا۔ (تریاق القلوب، خزائن ج۱۵ ص۴۷۹) بایں معنی کہ پہلے میری ماں کے پیٹ سے جنت بی بی نکلی اور پھر میں نکلا۔آگے لکھتا ہے: اس کی ٹانگیں تھی اور میرا سر تھا۔(آپ حضرات علماء کرام ہیں مجھے کہتے ہوئے شرم آتی ہے، اس پنجابی نبی کی عظمت پر قربان !) ہم مرزائیوں سے درخواست کرتے ہیں : وہاں ’’خاتم النّبیین‘‘ کا لفظ ہے اور یہاں’’خاتم الاولاد‘‘ کا لفظ ہے۔تو ’’خاتم النّبیین‘‘ کا جو ترجمہ تم کرتے ہو یہی ترجمہ ’’خاتم الاولاد‘‘ کا بھی کرو۔

مرزا غلام احمد قادیانی مہر لگاتا جائے گا اس کی ماں بچے جنتی جائے گی۔حالانکہ کوئی مرزائی اس ترجمہ کو تسلیم کرنے کے لئے تیار نہیں ۔سب کہتے ہیں : غلام احمد کے بعد مرزا کے والدین کے یہاں کوئی لڑکایا لڑکی پیدا نہیں ہوئی،یہ آخری لڑکا تھا۔جب ایک ہی لفظ کاترجمہ وہ یہ کرتے ہیں تو خاتم النّبیین کا ترجمہ بھی ان کو یہی کرنا چاہئے۔یعنی آخری نبی اس کے بعد کوئی نبی نہیں۔کسی قسم کی نبوت نہیں۔

خاتم کے معنی قرآن مجید، حدیث اوراہل لغت سب کے نزدیک

آخر کے ہیں

(۲)وختم علیٰ قلوبکم (الانعام:۴۶) (۳)فان یشأ اللہ یختم علیٰ قلبک (شوریٰ:۱۲۴) (۴)وختم علیٰ سمعہ الخ (جاثیہ:۲۳) (۵)الیوم نختم علیٰ افواہہم (یٰسین:۶۵) (۶)من رحیق مختوم ختٰمہ مسک (مطففین:۲۵) حضور(ﷺ) نے اس کا یہ ترجمہ فرمایا :عن ثوبانؓ قال: قال رسول اللہﷺ انہ سیکون فی امتی کذابون ثلٰثون کلہم یزعم انہ نبی و انا خاتم النّبیین لا نبی بعدی۔(ترمذی شریف جلد ۲ ص ۴۵)تو حضور(ﷺ) کے ترجمہ کے ہوتے ہوئے کسی دوسرے شخص کو اپنا من مانا ترجمہ کرنے کا کیا حق ہے۔حضور(ﷺ) کی ذات گرامی پر قرآن مجید نازل ہواتھا۔کیا رسول اللہ(ﷺ) نے غلط ترجمہ کیا ؟ اور یہ صاحب صحیح ترجمہ کررہے ہیں۔نعوذ باللہ ،استغفر اللہ !

پھر مرزائی اعتراض کرتے ہیں اورکہتے ہیں : لفظ خاتم‘کا ترجمہ آخری نہیں ہے۔مرزائیوں کا اعتراض ہے کہ قرآن مجید میں جو خاتم النّبیین آیا ہے وہ بکسر التاء نہیں ہے۔لہٰذا اس کے معنی ختم کرنے کے نہیں ہو سکتے۔جواب :خاتم النّبیین کی دو قرأتیں

166

ہیں،حضرت حسن اور حضرت قتادہ کی قرأت بفتح التاء ہے، اور ان کے علاوہ تمام قاریوں کی قرأت بکسر التاء ہے۔ تفصیل کے لئے (درمنثور ج۵ ص۲۰۴) دیکھی جاسکتی ہے۔

(۱)اسی آیت کے ماتحت لسان العرب میں ہے کہ خاتِمُہم اور خاتَمُہم ای آخرُہم ،ان کے نزدیک بکسر التاء اور بفتح التاء کی قرأت کے ہر حال میں معنی آخری کے ہیں۔ (۲) الخاتِم الخاتَم والخاتام ای آخر القوم۔ (المنجد)(۳) الخاتِم آخر القوم کالخاتَم (قاموس )لغۃ کے دو تین حوالے آپ حضرات کو لکھوا دیئے ہیں۔لغۃ والوں نے تسلیم کیا ہے کہ خاتَم اورخاتِم(چاہے بکسر التاء ہو یا بفتح التاء) کا ترجمہ ’’آخری‘‘ہے۔ دونوں ترجموں میں کوئی فرق نہیں۔

حضور(ﷺ) کی امت میں جتنے بھی مفسرین چودہ سو سال میں گزرے ہیں، سب نے خاتم النّبیین کا یہی ترجمہ پیش کیا ہے کہ حضور (ﷺ)آخری نبی ہیں۔کسی ایک امتی کو بھی اس سلسلہ میں کوئی اختلاف نہیں ۔ کسی نے اگر دوسرے معنی کا احتمال نکالا ہے تو بھی اس نے یہی کہا : مراد یہی ہے کہ حضور(ﷺ) آخری نبی ہیں اور حضور(ﷺ) کے بعد کوئی نبی نہیں۔اس مسئلہ پر چودہ سو سال سے امت کا اجماع چلا آرہا ہے۔یہ بد بخت نیا طبقہ نکلا ہے جو دوسرا اور اپنا من پسندترجمہ کرتا ہے۔ اور آج تک امت نے کسی مدعی ٔ نبوت کو برداشت نہیں کیا۔اللہ تعالیٰ آپ حضرات کو بھی اس ملعون فتنے کامقابلہ کرنے کی توفیق عطا فرمائیں۔آمین!

ایک سوال کا جواب

درمیان میں کسی صاحب نے حضرت سے پوچھا: کیا اہل کتاب حضور (ﷺ) کو آخری نبی مانتے ہیں ؟ ایک لفظ’’ فارقلیط‘‘ان کی کتاب میں آتا ہے جس کے معنی ’’انتظار کرنے‘‘ کا ہے۔ جواب میں مولانا نے فرمایاکہ : حضور(ﷺ) کو اہل کتاب نبی مانتے تو ان کی تعلیمات پر عمل کرتے!اہل کتاب تو یوں کہتے ہیں کہ: حضرت محمد(ﷺ) مسلمانوں کے نبی ہیں۔اپنا نبی نہیں مانتے ،اگر نبی مانتے تو جھگڑا ہی ختم ہو جاتا۔یہ درمیان میںجملہ معترضہ تھا۔

خاتم کا مفہوم

میں یہ عرض کررہا تھا کہ قرآن مجید مسلمانوں کا قیمتی اثاثہ ہے۔مسلمانوں نے چودہ سو سال میں اس کا جو ترجمہ سمجھا وہ یہی ہے کہ آپ(ﷺ) آخری نبی ہیں۔اگر اہل لغت کو لیا جائے تو

167

وہ بھی یہی ترجمہ کرتے ہیں۔’’المنجد‘‘عیسائیوں کی کتاب ہے وہ الخاتِم،الخاتَمکا ترجمہ ’’آخری‘‘سے کرتے ہیں ۔غیر مسلم کو لیا جائے تب بھی وہ یہی ترجمہ کرتے ہیں کہ الخاتِم اور الخاتَم کے معنی آخری کے ہیں۔مسلمانوں کو لیا جائے تب بھی وہ یہی ترجمہ کرتے ہیں۔باقی عیسائیوں کا یہ کہناہے:’’ عیسیٰ (علیہ السلام) آخر میں ناز ل ہوںگے۔‘‘

عیسائی حضرات فارقلیط کا مصداق رسول اللہﷺ کو نہیں مانتے

حضرت عیسیٰ (علیہ السلام)نے جو پیشین گوئی کی تھی لفظ’’ فارقلیط‘‘ کہہ کر، اس کا مصداق وہ حضور(ﷺ) کو نہیں سمجھتے،ہمارے نزدیک اس سے مراد حضور(ﷺ) کی ذات گرامی ہے۔اور وہ ان کی کتابوں میں موجود ہے کہ وہ دس ہزار قدوسیوں کے ساتھ آئے گا،فتح مکہ کے دن حضور(ﷺ) کے ساتھ دس ہزار صحابہ (رضوان اللہ علیہم اجمعین)تھے۔ہم یہ مانتے ہیں کہ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام)نے جو پیشین گوئی کی تھی کہ میرے بعد ایک آئے گا اس سے مراد حضور (ﷺ) کی ذات گرامی ہے۔عیسائی بھی انتظار کرتے ہیں کہ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) دنیا میں دوبارہ تشریف لائیں گے۔ہم بھی انتظار کرتے ہیں کہ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) دوبارہ تشریف لائیں گے۔

حضرت عیسیٰ علیہ السلام شریعت محمدیہ کے پیرو بن کر نزول فرمائیں گے

اب میری درخواست ہے کہ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کی تعلیمات پر عمل کرنا اور ان کی تابعداری کرنا ہمارے لئے قطعًا ضروری نہیں ۔ہم حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے نزول کو صرف اس لئے مانتے ہیں کہ ہمارے نبی(ﷺ)نے فرمایا کہ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) دوبارہ تشریف لائیں گے۔اور اس وقت حضرت عیسی (علیہ السلام) شریعت محمدیہ کے پیرو بن کر نزول فرمائیںگے، یحکم بشریعتنا لا بشریعتہ اور یہ میں بارہا کہہ چکا ہوں۔

تمام ادیان باطلہ مٹ جائیں گے صرف ایک اسلام دین باقی رہے گا

حضرت عیسیٰ علیہ السلام نازل ہونے کے بعد سب سے پہلا کام یہ کریں گے کہ وہ حضرت امام مہدی علیہ الرضوان کے پیچھے نماز پڑھیں گے۔ حالانکہ امام مہدی علیہ الرضوان ان کو امامت کرانے کی درخواست کر چکے ہوںگے۔پھر بھی وہ حضرت امام مہدی علیہ الرضوان کے

168

پیچھے نماز پڑھیں گے۔ حالانکہ شریعت کا تقاضایہ ہے کہ افضل کو نماز پڑھانا چاہئے اور مفضول کو مقتدی بننا چاہئے۔حضرت امام مہدی علیہ الرضوان اپنی تمام تر فضلیت و عظمت کے باوجودصرف امتی ہیں۔حضرت عیسی (علیہ السلام) اپنے زمانہ کے نبی ہیں۔تو عیسیٰ (علیہ السلام) کی شان زیادہ ہے کہ وہ نماز پڑھائیں ۔ لیکن مقتدی بن کے دنیا کو یہ بتائیںگے کہ میں اپنی شریعت چلانے نہیں آیا ہوں بلکہ حضرت محمد ﷺ کی غلامی کرنے آیا ہوں۔اس کے بعدیہودیوں کے ساتھ مقابلہ ہوگا جو مان لیںگے وہ مان لیں گے اور جو بچ جائیں گے، نہ مانیں گے وہ مریںگے۔اور حضرت عیسی (علیہ السلام) حضور (ﷺ) کی تعلیمات کے نمائندہ ہوںگے۔اس کے متعلق آیا ہے کہ یہلک الملل کلہا الا ملۃ واحدۃ وہی الاسلام۔ (تفسیر کشاف ج۱ ص۵۸۹، ابوداؤد ج۲ ص۱۳۵، مسند احمد ج۲ ص۴۰۶) تمام ادیان باطلہ مٹ جائیں گے صرف ایک دین باقی رہے گا اور وہ دین اسلام ہوگا۔

حضور ﷺ کے بعد کوئی نیا نبی پیدا نہیں ہوگا

مرزائی یہ استدلال بھی کرتے ہیں: جس وقت حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) تشریف لائیں گے تو حضور (ﷺ) نے فرمایا : عیسیٰ نبی اللہ تشریف لائیں گے،مسلم شریف میں نبی اللہ کا لفظ آیا ہے۔آپ حضرات ہمیں ملزم ٹھہراتے ہو۔ حالانکہ آپ کے یہاں بھی حضور(ﷺ) کے بعد ایک نبی کا آنا ثابت ہے،تو جس وقت حضرت عیسی (علیہ السلام) آئیں گے تو حضور(ﷺ) آخری نبی نہ ر ہے۔

ہم ان کو جواب میں یہ کہتے ہیں: حضور (ﷺ)آخری نبی بایں معنی ہیں کہ حضور(ﷺ) کے بعد کسی کو نبوت نہیں ملنی اور آخری بعثت حضور (ﷺ)کی ذات گرامی کی ہے۔باقی رہا حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کا مسئلہ تو ان کے متعلق مفسرین نے کہا: وعیسیٰ علیہ السلام ممن نبیٔ قبلہ:’’وہ حضور(ﷺ) سے پہلے نبی بنائے جا چکے تھے۔‘‘ حضور(ﷺ) کے بعد ان کو نبوت نہیں ملی۔اگر نبوت ملنا تھی تو یہ خاتم النّبیین کے خلاف تھا۔ان کا تشریف لانا ختم نبوت کے منافی نہیں۔وہ اپنی نبوت سابقہ کے ساتھ شریعت محمدیہ کے تابع ہو کراتریں گے۔

مرزائی یہ بھی کہتے ہیں کہ: اہل السنت والجماعت حضرت عیسیٰ (علیہ السلام)کے آسمان سے اترنے کے قائل ہیں۔تو جب حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) دوبارہ تشریف

169

لائیں گے تو حضور(ﷺ) کس طرح آخری نبی ہوئے ؟

جواب میں یہ کہا جاتا ہے کہ کنز العمال (جلد ۶ ص ۱۱۳) پر ہے اور اسی طرح درمنثور(جلد ۵ ص ۸۴) پر ہے اورابن کثیر (جلد ۸ ص ۸۹) پر حضرت ابو ہریرہb سے روایت ہے کہ: قال النبی(ﷺ)کنت اول النّبیین فی الخلق و آخرہم فی البعث۔اس حدیث نے خاتم النّبیین کے معنی واضح کردئیے کہ حضور (ﷺ) کی بعثت سب انبیا ء (علیہم السلام)کے بعد ہوئی ۔ حضور(ﷺ) کے بعد اور کوئی نبی پیدا نہ ہوگا۔اور نہ کوئی نبی بنایا جائے گا۔باقی رہے حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) تو وہ حضور (ﷺ) سے پہلے نبوت سے سرفراز ہوچکے تھے۔

آسان بات یہ ہے کہ حضور(ﷺ) کے بعد کسی کو نبوت نہیں ملنی،یہ ہے خاتم النّبیین کا معنی،اور حضرت عیسی (علیہ السلام) کو حضور(ﷺ) کے بعد نبوت نہیں ملی،اعتراض تو جب ہو سکتا تھا کہ حضرت عیسی (علیہ السلام) کو حضور (ﷺ)کے بعد نبوت ملتی۔بلا وجہ کھینچ تان کر اعتراض بنانے کی کوشش کرتے ہیں۔لیکن حقیقت یہ ہے کہ کوئی اعتراض نہیں بلکہ یہ حقیقت ناشناسی ہے۔

ہمارا علم محدود ہے،اللہ تعالیٰ کا علم یقینی اورغیر محدود

مرزائی ایک اعتراض یہ بھی کرتے ہیں کہ آپ حضرات کسی کے متعلق یہ کہتے ہیں کہ یہ خاتم المحدثین ہے،یہ حضرت خاتم المفسرینہیں،اور یہخاتم الشعراء ہے۔اور یہ حضرت خاتم الفقہاء ہیں۔اس قسم کی اصطلاحات وغیرہ ۔ تو ان کے کہنے کا مقصد یہ ہے کہ: خاتم المفسرین ،خاتم المحدثین،خاتم الفقہاء اور خاتم الشعراء کے بعد بھی دوسرے محدثین،مفسرین،فقہاء اورشعرائہو سکتے ہیں تو خاتم النّبیین کے بعد دوسرے نبی کیوں نہیں ہوسکتے؟

تو اس کا جواب یہ ہے کہخاتم کا معنی تو واقعۃ ً آخری کا ہے، باقی ہم نے اپنے طور پر جس کو آخری سمجھا اس کو خاتمکہہ دیا۔ہمارا علم محدود ہے،اس لئے سہو ہو سکتا ہے لیکن اللہ کا علم محدود نہیں بلکہ غیرمحدود ہے۔ اس لئے اللہ نے جس کو خاتم کہہ دیا وہ واقعی خاتم آخری ہے۔اور اس معنی کے اعتبار سے یعنی اللہ کے علم کے اعتبار سے حضور (ﷺ) آخری نبی ہیں اس کے بعدقصہ ختم۔اس بحث میں بالکل نہ پڑیں کہ یہاں خاتم کا مجازی معنی مراد لیا جاتا ہے۔

170

خاتم کا حقیقی معنی یہاں آخری کا ہے۔جسے ہم آخری سمجھتے ہیں اس کو ہم آخری کہہ دیتے ہیں۔لیکن چونکہ ہمارا علم محدود ہے اس لئے ہو سکتا ہے کہ ہمارے علم کے خلاف ہو جائے۔اور اللہ تعالیٰ نے جس کو آخری کہا وہ حقیقی معنی کے اعتبار سے کہا ہے۔اللہ تعالیٰ کا علم چونکہ یقینی اور غیر محدود ہے ،اللہ تعالیٰ کے علم کا تخلف نہیں ہو سکتا۔

جہاں حقیقی معنی مراد لینا دشوار ہو وہاں مجازی معنی مراد لیا جاتا ہے

جی ہاں ! یہ بھی یاد رکھیں کہ مجازی معنی وہاں مراد لیا جاتا ہے جہاں حقیقی معنی مراد لینا دشوار ہو۔کسی ایک جگہ مجازی معنی مراد لینے سے یہ نہیں ہو سکتا کہ ہر جگہ مجازی معنی مراد لیا جائے۔مثلاً : ایک شاعر کہتا ہے اپنے محبوب کے لئے ؎

  1. صبحدم چوں رخ نمودی شد نماز من قضا ء

    سجدہ کے باشد روا چوں آفتاب آمد بروں

جس وقت میں نے اپنے محبوب کے چہرے کو دیکھا تو میری نماز قضا ہوگئی،اس لئے کہ سورج کے نکلنے کے بعد سجدہ کس طرح جائز ہے۔ شاعر نے یہاںرخ محبوب کو سورج کے ساتھ تشبیہ دی ہے۔اب کوئی بد بخت یہ کہے کہ سورج کے معنی ہی رخ محبوب ہے تو اس کی یہ لغت اور اسلوب کلام کے ساتھ زیادتی ہوگی ۔میری بات آپ حضرات سمجھ گئے ہوںگے کہ کسی ایک جگہ کسی لفظ کو مجازی معنی میں استعمال کرنا اس کا یہ مطلب نہیں کہ ہمیشہ وہ لفظ مجازی معنی ہی میں مستعمل ہو۔اور یہاں آفتاب کے معنی مجازاً رخ محبوب سے کیا گیا ہے۔

مفتی موسیٰ بدات صاحب دامت فیوضہم کا اسی قسم کا ایک شعر ہے جو مولانا نے اس مجلس میں پڑھا تھا وہ یہاں نقل کیا جارہا ہے ؎

  1. شب میں پڑھی نماز تو قبلہ کو پیٹھ تھی

    میں تھا امام، قبلہ تھا مقتدی

یہاں قبلہ سے مراد والد محترم ہے اور یہاں مجازی معنی میں استعمال ہواہے۔لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ قبلہ کا لفظ ہمیشہ والد محترم کے مجازی معنی میں مستعمل ہو۔کوئی احمق ہمیشہ قبلہ سے مراد والد لے اور اس کا طواف کرے تو کیا اس کا طواف ادا ہو جائے گا۔والد صاحب سے ہی زمزم مانگیں تو یہ اس کی زیادتی ہوگی۔

171

اس سلسلہ میں قادیانی حضرات دو تین آیات قرآن مجید سے غلط استدلال کرتے ہیں۔ایک تو وہ جو بیان کی جاچکی : من یطع االلہ والی آیت۔

ماضی کے احوال کی حکایات ہیں

دوسری آیت : یٰبنی آدم امایاتینکم رسل منکم یقصون علیکم آیاتی فمن اتقیٰ واصلح فلا خوف علیہم ولا ہم یحزنون۔ (اعراف:۳۵) ’’اے آدم کی اولاد اگر آئیں تمہارے پاس رسول تم میں کے کہ سنائیں تم کو میری آیتیں تو جو کوئی ڈرے اور نیکی پکڑے تو نہ خوف ہوگا ان پر اور نہ وہ غمگین ہوں گے۔‘‘ قادیانی اس آیت سے استدلال کرتے ہیں: یہ آیت حضور(ﷺ) پر نازل ہوئی۔لہٰذا حضور(ﷺ) کے بعد آنے والے رسولوں کا ذکر ہے،تو اس سے ثابت ہوا کہ حضورﷺ کے بعد بھی رسول اورنبی آسکتے ہیں۔

جواب :یہ ہے کہ اس آیت میں اول تو تمام اولاد آدم سے خطاب ہے نہ کہ حضور(ﷺ) کے بعد آنے والی اولاد آدم کو ۔ سیاق و سباق بھی اس بات کا قرینہ ہے تو بات واضح ہوجاتی ہے کہ یہاں احوال ماضیہ کی حکایات ہیں۔ (یعنی یہ واقعات عالم ارواح سے متعلق رکھتے ہیں جو اب قرآن پاک میں نقل کئے گئے ہیں۔)

میری ایک بات یاد رکھیئے کہ جہاں حضور(ﷺ) کی امت کو خطاب کیا گیا ہے وہاں یا ایھا الذین آمنوا‘ کہا گیا ہے۔اور جہاں امت دعو ت مراد ہوتی ہے وہاں یا ایھا الناس‘ کہا جاتا ہے۔اور یا بنی آدم‘جہاں کہیں استعمال ہوا ہے وہاں احوال ماضیہ کی حکایات مراد ہیں۔

ہاں:اگر اس کے خلاف واقعی کوئی حکم نہ ہو تو جب بھی اس کے عموم کے اندر حضور(ﷺ) کی امت داخل ہوتی ہے ،لیکن اس کے اندر کوئی رکاوٹ موجود ہے تو پھر اس کے عموم سے حضورﷺ کی امت نکل جاتی ہے۔آپ حضرات !میری بات سمجھ گئے ہوں گے۔جہاں حضور(ﷺ) کی امت کو خطاب کیا گیا وہاں یا ایھا الذین آمنوا اور یا ایھا الناسکہا گیا ہے۔اور جہاں کہیں یا بنی آدم کہا گیا ہے وہاں حضور(ﷺ) کی امت مراد نہیں ہے۔بسا اوقات اس کے عموم کی وجہ سے حضور(ﷺ) کی امت بھی شامل ہوتی ہے لیکن وہ اس وقت شامل ہوتی ہے جس وقت اس کے اندر کوئی رکاوٹ نہ ہو۔اگر کوئی رکاوٹ ہے تو پھر حضور(ﷺ) کی امت شامل نہیں ہوتی۔اس وقت

172

وہاں حکایات ماضیہ مراد ہواکرتی ہیں جو حضور(ﷺ) کی امت کے سامنے بیان کی جارہی ہیں۔

یہ اللہ کا وعدہ تھا

اس وعدہ کا ایفاء یوں ہوا،لقد ارسلنا نوحاً الی قومہ الخ، والیٰ عادٍ اخاہم ھوداً، والیٰ ثمود اخاہم صالحاً ، ولوطًا اذ قال لقومہ ، والیٰ مدین اخاہم شعیبًا، ثم بعثنا من بعدہم موسیٰ۔ یہ سب اس وعدہ کی تکمیل ہے۔جب آپ کی باری آئی تو فرمایا : الذین یتبعون الرسول النبی الامیّ الذی یجدونہ مکتوباً عندہم فی التوراۃ والانجیل، (اعراف:۵۷) ’’وہ لوگ جو پیروی کرتے ہیں اس رسول کی جو نبی امی ہے کہ جس کو پاتے ہیں لکھا ہوا اپنے پاس تورات اور انجیل میں۔‘‘ اور آپ(ﷺ) کا فرمانا : قل یا ایھا الناس انی رسول اللہ الیکم جمیعًا، (اعراف:۵۸) ’’فرمادیجئے! میں رسول ہوں اللہکا تم سب کی طرف۔‘‘ تو معلوم ہوا کہ رسولوں کے مبعوث ہونے کا جو وعدہ بنی آدم سے یا بنی آدم میں کیا گیا تھا وہ نوح علیہ السلام سے، موسیٰ علیہ السلام اور عیسیٰ علیہ السلام سے ہوتا ہوا رسول اللہ (ﷺ) پرختم کردیا گیا۔

اس آیت کے سیاق و سباق اور تفسیر القرآن بالقرآن کی رو سے پورے قرآن کو سامنے رکھ کر یہ بات بخوبی سمجھی جا سکتی ہے کہ اس خطاب کے اولین مخاطب حضورﷺ سے پہلے کے بنی آدم ہیںاوّلاًوہ مراد ہیں، آپ(ﷺ) کے بعد کے بنی آدم مراد نہیں۔

مرزا غلام احمد قادیانی تو بنی آدم میں بھی شامل نہیں

یہ تمام گفتگو میں نے ان آیات کو سامنے رکھ کر آپ حضرات کے سامنے بیان کی۔مرزائیوں کے منہ کو بند کرنے کے لئے صرف ایک ہی بات کافی ہے کہ یا بنی آدم اس میں اللہ تعالیٰ نے بنی آدم کو حکم دیا ہے۔باقی رہا مرزا قادیانی تو وہ بنی آدم میں شامل بھی نہیں،اس لئے کہ وہ خود کہتا ہے: ’’مرزا غلام احمد بندے کا پتر ہی نہیں۔‘‘وہ کہتا ہے ؎

  1. کرم خاکی ہوں میرے پیارے نہ آدم زاد

    ہوں بشر کی جائے نفرت اور انسان کی عار

(براہین احمدیہ پنجم، خزائن ج۲۱ ص۱۲۷)

مرزا غلام احمد قادیانی کے لئے یہ آیات مددگار ثابت ہی نہیں ہو سکتیں۔ پہلے اس کو آدم کی اولاد ثابت کرو، پھر یہ دیکھو کہ یہ آیات اپنے مفہوم کے اعتبار سے اس کے متعلق ہو سکتی ہیں یا کہ نہیں یہ ثابت کرو۔

173

کرم خاکی یہ کونسی کسر نفسی ہے ؟

مرزائیوں کے سامنے جب یہ شعر پڑھا جاتا ہے تو مرزائی یہ کہتے ہیں کہ اس نے یہ کسر ِنفسی کی ہے۔تو میرے بھائیو! آج تک دنیا جہان میں کسی نے ا س طرح کی کسر نفسی نہیں کی۔جو یہ کہتا ہے : ’’بندے کا پتر نہیں‘‘ !ایک آدمی یوں کہے کہ میں’’ خاکسار ہوں،عاجز ہوں ، غریب آدمی ہوں،مسکین ہوں ،گنہگار ہوں،میں کچھ نہیں ۔جی!،آپ میرے سردار ہیں،میں آپ کے پاؤں کی دھول ہوں۔‘‘ تو یہ الفاظ تو کسر نفسی ہیں۔یہ کونسی خاکساریت ہے جس میں آدمی یہ کہے: ’’میں آدم زاد نہیں‘‘یہ کوئی خاکساریت کی نئی قسم ہے ،اگر یہ خاکساریت اور کسر نفسی کی کوئی قسم ہے تو تمام مرزائیوں سے ہماری درخواست ہے کہ سب اکٹھے ہو کر اس قسم کی کسرنفسی کریں اور کہیں: ’’مرزائی آد م زاد نہیں‘‘ تاکہ بات ہی ختم ہوجائے۔

کرم خاکی کہہ کر بھی جھو ٹ کا اظہارو متکبرانہ انداز اختیار کیا

دوسرا یہ کہنا کہ مرزا غلام احمد نے کسر نفسی کی ہے یہ بھی جھوٹ ہے،وہ کیوں ؟ اس لئے کہ مرزا کی کتابوں سے جو کسر نفسی سمجھ میں آتی ہے وہ کچھ اور ہے ۔مرزا خود کہتا ہے :

  1. ابن مریم کے ذکر کو چھوڑو

    اس سے بہتر غلام احمد ہے

(دافع البلاء، خزائن ج۱۸ ص۲۴۰)

جو اپنے آپ کو مسیح علیہ السلام سے افضل قرار دے رہا ہے۔یہ کسر نفسی کرنے والا نہیں۔جو شخص یہ کہتا ہوکہ ؎

  1. کربلائے است سیرہر آنم

    صد حسین است در گریبانم

(نزول المسیح، خزائن ج۱۸ ص۴۷۷)

سو حسین میرے گریبان میں پڑے ہیں‘‘،یہ آدمی کسر نفسی کرنے والا نہیں،ایسا متکبر تو کائنات میں پیدا ہی نہیں ہوا۔

بڑے میاں تو بڑے میاں ،چھوٹے میاں سبحان اللہ !

اور آگے پڑھو، ’’بڑے میاں تو بڑے میاں چھوٹے میاں سبحان اللہ‘‘ ! مرزا بشیر الدین کہتا ہے:’’ لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ مرزا غلام احمد نے یہ کہا :’’میں سو حسین کے برابر ہوں ‘‘،حالانکہ مرزا

174

صاحب کی یہ مراد نہیں۔میرے نزدیک اس سے بڑھ کر ترجمہ یہ ہے کہ’’ مرزا غلام احمد کی ہر گھڑی سو حسین کی قربانی کے برابر تھی۔‘‘ (خطبۂ محمود مندرجہ اخبار الفضل قادیان مورخہ ۲۶؍جنوری ۱۹۲۶ء) نعوذ باللہ۔‘‘اب آپ حضرات اندازہ فرمائیں کہ یہ قوم کسر نفسی کرنے والی ہے۔

جھوٹے نبی نے رسول اللہ ﷺ کی ہر بات میں مخالفت کی اور مقابلہ کیا

  1. روضۂ آدم کہ جو تھا نامکمل اب تلک

    میرے آنے سے ہوا کامل بجملہ برگ و بار

(براہین احمدیہ پنجم، خزائن ج۲۱ ص۱۴۴)

حضورﷺ نے ارشاد فرمایا: ’’مثلی و مثل الانبیاء کمثل رجل بنی داراً فاحسنہا واجملہا واکملہا فطاف بہ النظار فیتعجبون من حسن بنیانہ الا ترک منہ موضع لبنۃ ٍفطاف بہ النظار‘‘ (ترمذی ج۲ ص۲۰۲، بخاری ج۱ ص۵۰۱، مسلم ج۲ ص۲۴۸) حضور(ﷺ) نے ارشاد فرمایا :’’مجھ سے پہلے نبی کی مثال ایسی ہے جیسے کسی نے گھر بنایا ہواور اس کو بڑا خوبصورت کر کے، بڑا شانداربنایا ہو،اور اس کی ایک اینٹ کی جگہ باقی ہو،لوگ اس مکان کو دیکھنے کے لئے آئے اور اس کی تحسین کی،ماشاء اللہ کیا خوب عمدہ بنایا ۔اور اس کی تعریف کرتے ہوئے اس کونے پر پہنچے اور دیکھا کہ ایک اینٹ نہیں لگی ہوئی ہے ،دیکھنے والے ایکدم کہہ اٹھے کہ اے کاش! یہ اینٹ بھی لگا دی جاتی تاکہ مکان مکمل ہوجاتا۔‘‘

حضور (ﷺ)فرماتے ہیں :’’ انا تلک اللبنۃ،ختم بی البنیان،و ختم بی الرسل۔‘‘ ’’لوگو ! وہ آخری اینٹ میں ہوں۔‘‘جس محل نبوت کی اینٹ اللہ رب العزت نے حضرت آدم(علیہ السلام) سے رکھی تھی اس محل نبوت کی میں آخری اینٹ ہوں۔میرے آنے سے ختم بی البنیان و ختم بی الرسل۔حضور(ﷺ) نے فرمایا:’’ اس مکان کی آخری اینٹ میں ہوں۔‘‘

مرزا بد بخت حضور(ﷺ) کے مقابلہ میں کہتا ہے ؎

  1. روضۂ آدم کہ جو تھا نا مکمل اب تلک

    میرے آنے سے ہوا کامل بجملہ برگ و بار

اس حدیث پاک کا اپنے آپ کو مصداق بنانے کی کوشش کررہا ہے۔میں پہلے بھی آپ حضرات کی خدمت میں عرض کرچکا ہوں کہ ہر بات میں اس نے حضور (ﷺ) کا مقابلہ کیا۔حضور(ﷺ) نے ارشادفرمایا: ’’نبوت بند‘‘ اس نے کہا :’’جاری‘‘حضور(ﷺ) نے

175

ارشادفرمایا:’’الجہاد ماض جار الی یوم القیامۃ‘‘ مرزاکہتا ہے : ’’جہاد آج کے بعد حرام ہے۔‘‘حضور نے ارشاد فرمایا : ’’والذی نفسی بیدہ لیوشکن ان ینزل فیکم عیسیٰ ابن مریم‘‘ (بخاری ج۱ ص۴۹۰) مرزا قادیانی کہتا ہے : ’’حق کی قسم : ابن مریم مر گیا۔‘‘ (ازالہ اوہام ص۷۶۴، خزائن ج۳ ص۵۱۳) حضور(ﷺ) کی ہر بات میں اس بدبخت وملعون نے مقابلہ کیا۔

ایک حوالہ کا جواب

حضرت مفتی موسیٰ بدات صاحب مد ظلہ نے مذکورہ حدیث کا حوالہ مانگا تو کہا گیا کہ حضرت مولانا مفتی محمد شفیع ؒ کی کتاب ختم نبوت،کا وہ حصہ جو ختم نبوت فی الحدیث ،ہے اس میں مل جائے گا(اور بخاری جلد اوّل ص۴۹۰ پر بھی مل جائے گا) اب یہ کسر نفسی ہے، میرا خیال ہے کہ اس نے اپنے ضمیر کے ساتھ بھی دھوکا کیاہے۔انسانی دنیا کا سب سے بڑا بد بخت انسان مرزاغلام احمد قادیانی تھا۔

مضارع کے صیغہ کا استعمال بھی غلط

قرآن مجید کی ایک آیت ’’ اللہ یصطفی من الملٰئکۃ رسلًاومن الناس‘‘ (حج:۷۵) اس آیت کے ایک لفظ یصطفی،کے بارے میں قادیانی کہتے ہیں کہ ’’یہ مضارع کا صیغہ ہے،اور وہ استمرار کے لئے آتا ہے،اللہ تعالیٰ فرشتے اور انسانوں سے رسول چنتے رہتے ہیں اور چنتے رہیں گے۔‘‘ حضور(ﷺ) پر یہ آیت نازل ہوئی،تو حضور کے بعد بھی اللہ تعالیٰ رسول چنیںگے،اب وہی حوالجات پیش کریں جو پہلے پیش کئے گئے ہیں کہ مرزائیوں کے نزدیک بھی سلسلۂ نبوت مرزاغلام احمد قادیانی پر ختم ہو گیا تو اس کے بعد بھی کیا وہ سلسلۂ نبوت جاری رہے گا؟ تو یہ آیت ان کے دعویٰ نبوت کے خلاف ہوئی،اوروہ یہ بھی کہتے ہیں :اطاعت کے ساتھ نبوت ملتی ہے تو یہ بھی اس آیت کے خلاف ہوا۔

دوسراقادیانی یہ کہتے ہیں کہ یہ مضارع کا صیغہ ہے۔اور ہر مضارع کا صیغہ استمرار کے لئے آتا ہے یہ بھی غلط ہے۔ اگر صحیح ہو تو پھر سب سے پہلے یہ ضابطہ اپنے اوپر استعمال کریں۔ کیونکہ مرزاقادیانی کی کتابوں میں اس کی متعدد مثالیں موجود ہیں۔مثلاً :خود مرزا غلام احمد قادیانی کہتا ہے:’’یریدون ان یروا طمثک‘‘(تتمہ حقیقت الوحی، خزائن ج۲۲ ص۵۸۱) بابو الٰہی بخش چاہتا ہے کہ تیرا حیض دیکھے،یہاں ’’یروا‘‘ مضارع کا صیغہ ہے تو اس کا یہ معنی کہاں ہوا کہ مرزا غلام احمد

176

قادیانی کو ہمیشہ حیض آتا رہے گا۔اور یابابو الٰہی بخش ہمیشہ اس کا حیض دیکھتا رہے گا ۔ قادیانی ہمت کریں یہاں یہ ترجمہ کریں۔قرآن مجید میں ہے :’’ واذ یر فع ابراہیم القواعد‘‘ اس کے یہ معنی کہاں ہیں کہ ابراہیم (علیہ السلام) ہمیشہ خانہ ٔ کعبہ بناتے رہیںگے۔یہ آیت مرزائیوں کے لئے کسی طرح بھی مفید نہیں۔ان کے پانچ سات جواب ہو گئے۔ یا بنی آدم ، کا جواب بھی ہوگیا۔

’’ انہم ظنوا کما ظننتم ان لن یبعث اللہ احداً ‘‘(جن:۷) قادیانی استدلال: وہ لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ اللہ رب العزت اس کے بعد کسی کو نبی مبعوث نہیں کریں گے،تو ختم نبوت کا جو عقیدہ ہے اس کی اس آیت سے نفی ہوگئی،اب یہ آیت آپ کے عقیدے کے بھی خلاف ہے،نبوت اللہ کی رحمت ہے اس کو جاری رہنا چاہئے۔ آپ بند کیوں کہتے ہیں؟

تو اس کا جواب یہ ہے کہ یہاں رسولوں کے مبعوث کرنے کا سرے سے ذکر نہیں،بلکہ قیامت کے دن دوسری بار پیدا ہونے اور قبروں سے اٹھنے کا ذکرہے۔منکرین بعث بعد الموت یہ کہتے ہیں کہ قیامت کے دن اللہ کسی کو پیدا نہیں کریں گے۔یہ اس آیت کا مفہوم اور مقصد ہے۔ قادیانی اس سے غلط استدلال کرتے ہیں۔ اس سے آپ قادیانیوں کا مبلغ علم معلوم کر سکتے ہیں۔

یہ قول کفارہے اگر اللہ تعالیٰ کا قول ہوتا تو ہمارے عقیدے کے خلاف ہوتا

مذکورہ آیات کے علاوہ اس آیت سے بھی قادیانی غلط استدلال کرتے ہیں جو حضرت یوسف علیہ السلام کے متعلق کفار نے کہا تھا۔’’لن یبعث اللہ من بعدہ رسولاً (مؤمن:)‘‘

قادیانی استدلال: وہ لوگ یہ سمجھتے تھے کہ حضرت یوسف (علیہ السلام) کے بعد کوئی نبی نہیں ہوگا۔قادیانی یہ کہتے ہیں: اس وقت کے بنی اسرائیل یہ سمجھتے تھے کہ حضرت یوسف (علیہ السلام)کے بعد کوئی نبی نہیں ہوگا،حالانکہ اللہ تعالیٰ نے اس کی تردید کی اور اس کے بعد بھی نبی آئے۔آپ حضرات بھی یہ کہتے ہیں کہ : حضور(ﷺ) کے بعد کوئی نبی نہیں آئے گا اور جب نبی آیا (غلام احمد قادیانی ) تو اس کی تردید ہو گئی۔اس آیت سے یہ حضرات استدلال کرتے ہیں۔

جواب یہ ہے کہ یہ قول قولِ کفار ہے ،کفار یہ کہتے تھے : اللہ تعالیٰ نے حضرت یوسف (علیہ السلام) پر نبوت ختم کردی۔اور حضرت یوسف (علیہ السلام) کے بعد کوئی نبی نہیں آئے گا۔ یہ اگر اللہ کا قول ہوتا تو ہمارے عقیدہ کے خلاف جاتا۔دوسری بات یہ ہے کے اس وقت تک نبوت بند نہیں تھی،جن لوگوں نے اس کو بند سمجھا وہ کافر تھے۔اب جبکہ نبوت بند ہے اوراب اس کو جو جاری سمجھے وہ کافر ہے۔بس اتنی بات آپ حضرات کی خدمت میں عرض کرنا مقصود تھی۔

177

آپ حضرات معمولی جد وجہد کریں گے تو کوئی قادیانی

آپ کے سامنے ٹک نہیں سکتا

ابھی حیات ِمسیح علیہ السلام کا مسئلہ باقی رہتا ہے۔حضرت مولانا محمد حیات صاحبؒ اور مولانا لال حسین اختر صاحبؒ کی اسی موضوع پر اسی نام سے مشترکہ کتاب تقریبا ً پچاس صفحہ کی ہے، جس کی تلخیص ہم لوگوں نے کی ہے۔وہ آج ہی میں مولانا کو پیش کردوںگا۔آپ حضرات اس کی نقل لے لیں،اور مطالعہ کرلیں۔آپ حضرات معمولی جد و جہد کریں گے تو کوئی قادیانی آپ کے سا منے نہیں ٹک سکے گا۔ انشا ء اللہ!

آج جتنی بات پیش کی گئی ان سب کے حوالجات کے لئے ’’حقیقۃ الوحی‘‘کو دیکھنا چاہئے۔مرزا قادیانی خود کہتا ہے:’’میں اس امت میں صرف نبی کا نام پانے کے لئے مخصوص کیا گیا ہوں۔‘‘ (حقیقت الوحی، خزائن ج۲۲ ص۴۰۶) جب ایک آدمی مخصوص کیا گیا ہے تو اجراء نبوت کی بحث بالکل نہیں ہوئی،تو بحث یہ ہونی چاہئے کہ’’ آخری نبی کون ہے آیا حضور (ﷺ) یا مرزا غلام احمد قادیانی۔‘‘ اس ایک بات کولے کر آپ حضرات بیٹھ جائیں اور ان سے دلیل کے طور پر قرآن کی ایک آیت یا حدیث طلب کریں کہ جس میں یہ لکھا ہوا ہو کہ مرزا غلام احمد قادیانی خاتم النّبیین ہے۔ تو ظاہر بات ہوگی کہ قیامت تک کوئی ماں کا لال آپ کو چیلنج نہ کر سکے گا۔اللہ تعالیٰ آپ کو مجھ کو اس کی توفیق بخشے۔ آمین یا رب العالمین۔

وآخر دعوانا ان الحمد للہ رب العالمین

نوٹ : باٹلی ،میں مولانا کا یہ آخری درس تھا، ہماری دلی خواہش تو یہ تھی کہ اسباق اور یہ سلسلہ چلتا رہے ، اور حضرت کا فیض ہم مزید حاصل کرتے رہیں ۔مگر دوسرے ٹاؤن، شہر والوں کی بھی طلب تھی کہ حضرت مولانا ہمارے یہاں بھی قدم رنجہ فرمائیں ،تو اس طلب نے ہمیں مجبور کردیا اور مولانا کا باٹلی (ٹاؤن ) میں درس کا سلسلہ یہاں بند ہوا۔اللہ تعالی ٰ جل مجدہ اس کے جملہ فوائد سے ہمیں مستفید فرمائیں ۔ آمین!

بروز بدھ ،تاریخ ۵ ،ستمبر ۱۹۸۵ء

تشکر و امتنان

مذکورہ اعلان کے مطابق حضرت والا نے یہ فرمایا : آج آخری مجلس ہے،میرا اخلاقی

178

فریضہ بنتا ہے کہ میں اللہ رب العزت کو حاضرو ناظر جان کر یہ کہتا ہوں کہ آپ حضرات نے بڑا احسان فرمایا ،دیانتداری کی بات یہ ہے کہ میرے قلب کے،جگر کے ٹکڑے کر کے بھی آپ حضرات پر نچھاور کر دئے جائیں تو بھی میں آپ حضرات کا حق ادا نہیں کرسکتا۔ایک غریب الدیار مسافر کے درد کے اندر آپ حضرات شریک ہوئے،یہ ہمارا درد نہیں‘ پوری امت کا مشترکہ درد ہے۔کسی بزرگ نے بڑی اچھی بات کہی:’’ حضرت مولانا سیدمحمد انور شاہ کشمیری ؒ کے سینہ کے اندرقادیانیت کے خلاف جو نفرت کی بھٹی جل رہی تھی حضرت مولانا سید عطاء اللہ شاہ بخاریؒ کو اللہ تعالیٰ نے اس کی عملی تفسیر بنا دیااور قادیانیت کے خلاف حضرت مولانا سید عطاء اللہ شاہ بخاریؒ کا غیظ و غضب ،اس کی عملی تفسیر تھی،قدرت آپ حضرات کو بھی اس(غیظ و غضب ) کی عملی تفسیر بنادیں۔‘‘آمین!

مولانا اللہ وسایا مد ظلہ کے اس بیان کے بعد حضرت مولانا مفتی موسیٰ بدات صاحب دامت فیوضہم نے مولانا موصوف کا شکریہ ادا کیا :اور دو لفظوں میں مفتی صاحب نے کہا: آپ محترم نے قادیانیت کے مسئلہ کے بارے میں ہماری واقعی صحیح رہنمائی فرمائی، ورنہ اس سے پہلے ہم میں سے اکثر اس فتنہ سے ناواقف ہی تھے۔ بس اتنا جانتے تھے کہ غلام احمد قادیانی نامی کسی شخص نے نبوت کا دعویٰ کیا ہے اور بس!اللہ رب العزت حضرت مولانا کو دونوں جہان میں اس کا بدلہ عنایت فرمائیں۔آمین!

تو اس کے جواب میں حضرت نے فرمایا :آپ حضرات شرمسار نہ فرمائیں،اللہ تعالیٰ آپ حضرات کو جزائے خیر دے ،میں تو آیا ہی اسی مقصد کے لئے تھا،اندھے کو کیا چاہئے؟ دوآنکھیں! میں تو خادم تھا ، میرا فرض بنتا تھا،ایثار و قربانی تو آپ حضرات کی ہے،اللہ تعالیٰ آپ حضرات کو جزائے خیر دے اور ہم سب کو اس کام کے لئے قبول فرمائے ۔ آمین!

نوٹ: جمعیۃ العلماء کے ناظم اعلیٰ مولانا عبد الرشید صاحب مد ظلہ نے دعا سے پہلے فرمایا : دعا کیجئے کہ حضرت مولانا اللہ وسایا صاحب جو شاہین اور مبلغ ختم نبوت و فاتح ربوہ، پاکستان ہیں، انہوں نے اپنے علمی اور مناظرہ کے انداز میں جو بات فرمائی اور ختم نبوت کے دلائل کتاب و سنت سے،اقوال صحابہؓ وسلف سے دیے اور مرزا قادیانی کی جھوٹی نبوت اور اس کے دجل و فریب کے سلسلہ میں اسی کی کتابوں اور رسالوں سے جو باتیں لکھوائی ہیں۔میں سمجھتا ہوں کہ یہ ایک مقدس امانت ہے ،ہم سے ہر ایک عالم یہ محنت کرے گااور امت کو ہمیشہ مرزائیوں کے دجل و فریب کو بتلاتا

179

رہے گا اور دلائل کی روشنی میں واضح کرتا رہے گا۔مرزائی کی کوئی بھی شکل ہو ، (لاہوری ہو یا قادیانی) وہ قطعًا کافر ہیں۔ان میں تردد کرنا اور کافر نہ ماننا اور کافر نہ کہنا بھی کفر ہے۔مرزا قادیانی کسی بھی لحاظ سے ایک شریف انسان نہیں تھا چہ جائیکہ اس کے اسلام کو زیر بحث لایا جائے۔ یقینًا وہ ابتداء ً دعویٰ نبوت کے ساتھ ہی اسلام سے خارج تھا اور اس کے ماننے والے چاہے کسی گروپ سے تعلق رکھتے ہو ں،وہ قطعًا مسلمان نہیں، کافر ہیں۔محمد رسول اللہﷺ کی حیات میں اور بعد از حیات جن لوگوں نے بغاوت کی ہے ،ان باغی اور طاغی فتنوں میں سب سے بڑا اور باغی فتنہ یہ قادیانیت کا فتنہ ہے۔ان باغیوں میں سب سے بڑا باغی،جسارت کرنے والا یہ مرزا غلام احمد قادیانی ہے۔

اب دعا کیجئے کہ حضرت مولانا ممدوح کو اللہ تعالیٰ لمبی عمرعطا کرے اوران کی عمر میںبرکت عطا کرے ، اوراس فتنہ کی سر کوبی کے لئے ان کے مجاہدانہ کارناموں کو اللہ رب العزت قبول فرمائے ۔ آمین ۔ تحریراً،تقریرًا،درسًا اور علماً اور عوام سے خطاب کو کامیاب فرمائے۔ آمین!

اور حضرت مولانا جس جماعت { عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت ،پاکستان} کے ساتھ منسلک ہیں اللہ تعالیٰ اس جماعت کو ہمیشہ باغ و بہار بنائے رکھے۔آمین۔اور امت مسلمہ پر اس کے انعام واکرام کو قائم و دائم رکھیں۔ آمین۔شرق و غرب،شمال وجنوب میں قادیانی جہاں بھی جائیں،اللہ تعالیٰ اس جماعت کے مبلغین و نمائندوںکو اس کی سر کوبی کے لئے پوری پوری توفیق عطا فرمائے۔ آمین!اور پورے عالم کے مسلمانوں کو اس کی توفیق عطا فرمائے کہ وہ اس جماعت کی سر پرستی کرتے رہیں۔اور اپنے ایمانیات اور عقائد کی حفاظت کے لئے خصوصاً ختم نبوت کے لئے اور {عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت پاکستان} کی سر پرستی کے لئے اور اس کی رہنمائی میں چلتے رہنے کی توفیق عطا فرمائیں۔ آمین!

والحمد للہ رب العالمین والصلوۃ والسلام علی سید المرسلین و خاتم النّبیین محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) وعلی آلہ واصحابہ واتباعہ اجمعین

( تمت در وس ختم نبوت )

180

عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت

کے سالانہ جلسہ میں تقریر

مورخہ۱۰ اگست ۱۹۹۷ عیسوی

181

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ

’’عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت‘‘ کی جانب سے سالانہ جلسۂ ختم نبوت (مورخہ ۱۰؍اگست ۱۹۹۷ء ) میں شرکت کی غرض سے خصوصی دعوت ملنے پر شیخ المشائخ عارف باللہ حضرت شاہ سیّد نفیس الحسینی صاحب لاہوری نوراللہ مرقدہ،(خلیفہ ٔ اعظم قطب عالَم حضرت مولانا شاہ عبد القادر صاحب رائپوری قدس سرہ، )بھی تشریف لائے تھے۔

حضرت شاہ صاحبؒ نے قادیانی دجل و فریب کو (اہل اللہ اور بزرگانِ دین کے مکاشفات کی روشنی میں اجاگر کرتے ہوئے) مقالہ کی شکل میں تحریر فرماکر اہلِ مجلس کی خدمت میں پیش کیا۔جسے مولانا محمد جمیل خان صاحبؒ نے کانفرنس میں پڑھ کر سنا دیا تھا۔اسے اب عوام کے استفادہ کے لئے شائع کیا جارہا ہے۔

اللہ تعالیٰ حضرت نبی(ﷺ) کے پیارے امتیوں کی اس ملعون کذاب و دجال مرزاغلام احمد قادیانی اور قادیانیوں کے دجل و فریب سے حفاظت فرماکر سب کو شفیع المذنبینa کی شفاعت کا مستحق بنائے۔آمین ثم آمین۔

الحمد للہ والصلوٰۃ والسلام علیٰ رسول اللہ(ﷺ) اعوذ باللہ من الشیطان الرجیم۔ بسم اللہ الرحمن الرحیم۔ واذ قال عیسیٰ ابن مریم یا بنی اسرائیل انّی رسول اللہ الیکم مصدقًا لما بین یدیّ من التوراۃِ و مبشرًا برسولِ یأ تی من بعدی اسمہ احمد (صف:۶)

حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے حضور (ﷺ) کی تشریف آوری کی بشارت انجیل میں دی ہے اور یہ کہا کہ: اس پر وحی آسمانی گواہ ہے۔

خلاصۂ تفسیر: اور اسی طرح وہ وقت بھی قابل تذکرہ ہے جب کہ عیسیٰ ابن مریم (علیہما السلام)نے فرمایا کہ : اے بنی اسرائیل!میں تمہارے پاس اللہ کا بھیجا ہوا آیا ہوں،مجھ سے پہلے جو تورات آچکی ہے ، اس کی تصدیق کرنے والا ہوں،اور میرے بعد جو ایک رسول آنے والے

182

ہیں جن کا نام مبارک (حضرت) ’’احمد‘‘ (ﷺ)ہوگا،میں ان کی بشارت دینے والا ہوں۔

(تفسیر بیان القرآن، پارہ:۲۸)

مرزاقادیانی کے بارے میں چند بزرگوں کے مکاشفات

۱… حضرت سیّد حسن شاہ بٹالویؒ کے ملفوظات میں لکھا ہے کہ: حضرت شاہ صاحبؒ کی خدمت میں مرزا غلام مرتضیٰ (مرزا غلام قادیانی کا باپ ) اپنے لڑکے غلام احمد کولے کر حاضر ِخدمت ہوئے ،اور حضرت ؒ سے نصیحت اور دعاء کی درخواست کی ۔حضرت ؒ نے فرمایا کہ مسلک اہل سنت والجماعت سے روابط رکھنا۔مرزا غلام مرتضیٰ کے چلے جانے کے بعد آپ نے فرمایا : یہ لڑکا (غلام احمد قادیانی ) گمراہی کا راستہ اختیار کرے گا۔

لوح مزار کی شہادت

۲… قادیان کے قریب ہی ایک گاؤں’’جسانیاں‘‘ ہے،اس میں ایک قدیم بزرگ سیّدبدر الدین گیلانی ؒ (جسانیاں) کا مزار شریف ہے۔اس مزار شریف پر ختم نبوت سے متعلق آیات واحادیث لکھی ہوئی ہیں’’’’ماکان محمد ابا احد من رجالکم و لٰکن رسول اللہ و خاتم النّبیین‘‘اور حدیث پاک’’ انا خاتم النّبیین لا نبی بعدی‘‘…’’لوکان بعدی نبی لکان عمر ابن الخطاب، وغیرہ ‘‘

اس سے محسوس ہوتا ہے کہ صاحب مزار پر مرزا قادیانی کے پیدا ہونے سے پہلے یہ بات منکشف ہو گئی تھی کہ اس علاقہ میں کوئی کذاب نبوت کا دعویٰ کرے گا۔اس بزرگ نے اسی زمانہ میں اس کا (پیشین گوئی کے طور پر ) برملا اظہار کیا۔چنانچہ اس کے ثبوت کے طور پر ان کی وفات کے بعد ان کے مزار مبارک پر ختم نبوت کے مضمون کی آیات و احادیث کندہ کردی گئی۔

مرزا قادیانی کا منہ اور بھینسے کی دم

۳… ماضی قریب میں ہندوستان کے مشہور شہر ’’سہارنپور‘‘ میں حضرت شاہ عبد الرحیم صاحب سہارنپوریؒ (متوفی۱۳۴۴ ھ) ایک صاحب کشف و کرامات بزرگ گزرے ہیں۔انہوں نے عالم

183

رؤیا میں دیکھا کہ: مرزا قادیانی ایک بھینسے پر سوار ہے جو دوڑا جا رہا ہے۔اور منھ اس کا بھینسے کی دم کی طرف ہے۔ یہ خواب ’’مولانا ابو القاسم رفیق دلاوریؒ‘‘ نے اپنی کتاب ’’رئیس قادیان ص۳۸۰‘‘میں نقل کیا ہے۔

راجہ کی خدمت چھوڑ کر کذاب کے قدموں میں

۴… حضرت مولانا سیّد ابو الحسن علی ندویؒ نے اپنی کتاب ’’سوانح حضرت شاہ عبد القادر صاحب رائے پوری قدس سرہ‘‘ (متوفی۱۹۶۲ عیسوی) میں حضرت شاہ عبد الرحیم صاحب سہارنپوریؒ کا تذکرہ کرتے ہوئے لکھا ہے کہ: ان کی خدمت میں ’’حکیم نور الدین‘‘ دعاء کے لئے حاضر ہوا۔اس زمانہ میں ’’حکیم نور الدین‘‘ ، ’’راجۂ کشمیر‘‘ کا معالج تھا۔راجہ بیمار ہوا،اور ان کی بیماری نے زیادہ شدت اختیار کی تو ’’راجہ‘‘ نے ’’حضرت شاہ عبد الرحیم سہارنپوریؒ‘‘ کی خدمت میں دعاء کرانے کے لئے ’’حکیم نور الدین‘‘ کو بھیجا۔

اس حاضری کے دوران حضرت سہارنپوریؒ نے فرمایا :’’ قادیان میں ایک شخص پیدا ہوا ہے ،جو بڑے بڑے دعوے کرے گا جو نہ اٹھائے جائیںگے اور نہ رکھے جائیں گے، تم اس کے مصاحب (خادم خاص) لکھے ہوئے ہو۔ یہ اس لئے کہ تمہیں بحثوں میں الجھنے کی عادت ہے ۔یہی عادت تمہیں وہاں لے جائے گی۔چنانچہ ویسا ہی ہوا۔

مکہ مکرمہ میں بیٹھے ہوئے ایک اہل اللہ نے مرزاقادیانی کے متعلق

پیشین گوئی فرمادی تھی

۵… شیخ العرب والعجم حضرت حاجی امداد اللہ صاحب مہاجر مکیؒ (متوفی۱۳۱۷ ہجری) کے زمانہ میں حضرت پیر مہر علی شاہ گولڑویؒ کو سلسلہ ٔ عالیہ صابریہ کی اجازت مرحمت فرمائی اورنصیحت کی کہ: ’’تم ہندوستان جاؤ وہاں ایک فتنہ نمودار ہونے والا ہے اس کے استیصال کی کوشش کرنا۔‘‘

حضرت پیر مہر علی شاہ صاحبؒ اس فتنہ کو ’’فتنۂ قادیان‘‘ سے تعبیر کیا کرتے تھے۔چنانچہ

184

پیر مہر علی شاہ صاحبؒ نے قادیانی کذاب کی تردید میں کتاب بھی لکھی ہے۔ جس کا نام ’’سیف چشتیائی‘‘ ہے۔ جو اس موضوع پر شافی کتاب ہے۔چنانچہ مرزا قادیانی نے خوف زدہ ہوکر پیر مہر علی شاہ صاحبؒ سے راہ فرارِ اختیار کی۔

حضرت مولانا محمد قاسم نانوتوی ؒ کی پیشین گوئی

۶… حضرت مولانا ابو الحسن زیدفاروقی ؒ اپنی کتاب ’’مقامات خیر‘‘میں جو انہوں نے اپنے والد مرحوم کے حالات میں لکھی ہے ،رقم طراز ہیں کہ: شاہ ابو الخیر صاحب کا بیان ہے کہ مکہ معظمہ میں میرے والد ماجد بیمار تھے ،جو بڑے برگزیدہ لوگوں میں سے تھے،حضرت مولانا محمدقاسم نانوتویؒ ان کے پاؤں دبا رہے تھے،دباتے ہوئے حضرت نانوتویؒ نے میرے والد ؒسے عرض کیا : ’’حضرت ہندوستان میں دو دجال پیدا ہونے والے ہیں،دعاء فرمائیں اللہ تعالیٰ ان کے فتنہ سے مسلمانوں کو محفوظ رکھے۔‘‘

ایک دیوبندی عارف باللہ کا واقعہ

مرزا قادیانی کے مبلغ اور وکیل ’’جلال الدین شمس‘‘ کو عدالت کے دامن میں مرزا قادیانی کو جہنم کی آگ میں جلتے ہوئے دکھانے کی پیشکش کرنے والے

۷… امام المحدثین حضرت مولانا سید محمد انور شاہ صاحب کشمیری قدس سرہ، قادیانیوں کے خلاف مشہور مقدمہ میں ’’بہاولپور‘‘ تشریف لے گئے تھے۔اور فرماتے تھے کہ: میں یہاں اپنی شفاعت کے لئے حاضر ہواہوں۔

ایک دن عدالت کا وقت ختم ہونے پر ’’مرزائی مبلغ جلال الدین شمس‘‘ باہر نکلا، اس کے پیچھے پیچھے حضرت شاہ صاحبؒ بھی نکلے،اس دن شاہ صاحبؒ ایک عجیب عالم و کیفیت میں تھے،تیز تیز قدم بڑھا کر جلال الدین شمس کے کاندھے پر ہاتھ رکھا۔اور فرمایا:شمس !اگر تم چاہو تو میں اسی وقت اسی جگہ تمہیں دکھا سکتا ہوں: مرزا قادیانی جہنم کی آگ میں جل رہا ہے۔یہ سن کر خوف زدہ ہوکر اس نے انکار کردیا اور کہا :میں اس کو آپ کا استدراج سمجھوں گا۔یہ سن کر شاہ صاحبؒ نے اپنا دست مبارک کھینچ لیا،اور آیت مبارکہ:’’ ختم اللہ علیٰ قلوبہم ‘‘پڑھ لی۔

185

میری تعلیم کے پیچھے قادیانیوں نے پچاس ہزار روپے خرچ کئے

۸… اب آخر میں مولانا لال حسین اختر صاحبؒ کی مرزائیت سے توبہ کا واقعہ سماعت فرمائیے!۔حضرت مولانا لال حسین صاحب اختر ؒنے کہا : میں ۱۹۲۴ عیسوی میں مرزائی ہوا،اور ۱۹۳۲ عیسوی میں توبہ کی اور مسلمان ہوا،آٹھ سال مرزائیت میں گزرے،تین سال تک مرزائیوں نے ہمیں تعلیم دلائی،ایک میں اور دوسرے مولوی مظفر علی تھے۔ہم دونوں کی تعلیم پر پچاس ہزار روپیہ خرچ ہوا،دو استاذ ڈیڑھ ، ڈیڑھ سو، روپیہ ماہوار ی تنخواہ پر عبرانی پڑھانے والے تھے۔ ان سے ہم نے تورات،زبور اور انجیل پڑھی۔دو استاذ ’’سنسکرت‘‘ پڑھانے والے تھے۔ان سے ہم نے ’’وید‘‘ اور ہندوؤں کی دوسری مذہبی کتابیں پڑھیں۔یہ آریوں سے مناظرہ کے لئے پڑھائی گئی تھیں۔اس کے علاوہ دو اور تھے جو حدیث پڑھاتے تھے اور ایک استاذ تفسیر پڑھانے والا تھا۔پہلے تیس طالب علم رکھے گئے تھے۔مگر سنسکرت زبان کی مشکل گردان دیکھ کر سب چھوڑ کر بھاگ گئے،ان میں صرف میں اور مولوی مظفر رہ گئے۔اس طرح ہم نے تین سال میں تعلیم مکمل کی۔اس کے بعدمسلسل آٹھ سال تک مرزائیوں کی طرف سے مناظرہ کرنے میں لاہوری پارٹی میں شامل تھا۔

قادیانیت سے توبہ کرنے کی وجہ

ایک مرتبہ حضرت اقدس شاہ عبدالقادر صاحب رائے پوریؒ نے دریافت فرمایا کہ: تم نے مرزائیوں سے توبہ کیوں کی ؟ تو مولانا لال حسین اختر صاحبؒ کہنے لگے : مجھے محض اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم سے مختلف قسم کی خوابیں آنی شروع ہوگئی،ایک ایک رات میں دو تین خواب آتے، اور بہت برے برے خواب آتے ، جسے دیکھنے کے بعد میں آیت الکرسی، معوذتین اور لا حول پڑھ کر سوتا،لیکن پھر پہلے سے زیادہ ڈراؤنے خواب آتے،میں سمجھتا یہ شیطانی خواب ہیں۔کبھی کہتا: چونکہ مسلمانوں کے ساتھ مناظرے ہوتے رہتے تھے اس لئے ویسے ہی خیالات خواب میں آتے ہیں۔لیکن یہ سلسلہ جب لگاتار شروع ہوگیا تو میں سوچنے

186

لگا کہ آخر وجہ کیا ہے؟۔اس زمانہ کے دو خواب تو بہت اچھی طرح یاد ہیں جن کو میں اکثر بیان کرتا رہتا ہوں۔

مرزا قادیانی نے کہا: میں تو یہاں برے حال میں ہوںتم یہاں کیوں آئے ہو ؟

خواب (۱) ایک دفعہ خواب آیا کہ صاف چٹیل میدان ہے اور زمین شور (کلروالی) ہے، اور وہاں ایک کمرہ ہے اس کے قریب بہت سے لوگ اکٹھے ہو رہے ہیں۔ میں نے ان لوگوں سے پوچھا:تم لوگ یہاں کیوں جمع ہوئے ہو ؟انہوں نے کہا کہ یہاں ہم مرزا غلام احمد قادیانی کو دیکھنے آئے ہیں۔میں نے کہا : پھر تم اندر کیوں نہیں جاتے ہو ؟ انہوں نے کہا کہ ہمیں اندر جانے کی اجازت نہیں۔میں کہا : مجھے اندر جانے کی اجازت ہے ،چلو میں جاتا ہوں۔

چنانچہ میں اس کمرہ میں داخل ہوگیا،وہاں دیکھا کہ ایک لمبا چوڑا پلنگ ہے جو سارے کمرہ کا احاطہ کئے ہوئے ہے۔اس پر مرزاقادیانی لیٹا ہوا ہے اور اس کے اوپر ایک سفید چادر لپٹی ہوئی ہے۔میں پلنگ کے پاس جاکر ادب سے کھڑا ہوگیا تو فوراً مرزاقادیانی نے منہ سے کپڑا ہٹادیا۔میں نے دیکھا : اس کا منہ تین بالشت لمبا ہو چکا ہے اور اس کی شکل خنزیر کی بن چکی ہے ،ایک آنکھ کانی ہے ،اور دوسری چھوٹی ہے ،مجھے کہنے لگا :’’میں تو برے حال میں ہوں تم یہاں کیوں آئے ہو‘‘ ؟ بس اتنا دیکھنے کے بعد میری آنکھ کھل گئی۔

گمراہی کی رسی کٹی،جھٹکا لگا اور ہدایت نصیب ہوئی

خواب (۲) دوسرا خواب اس طرح دیکھا کہ ایک شخص میرے آگے آگے جا رہا ہے، اس کی کمر میں ایک تانت (رسی) ہے،اُدھر اس کی کمر کے ساتھ بندھی ہوئی ہے۔اور پیچھے میری گردن کے ساتھ بندھی ہوئی ہے۔اور ہم دونوں آگے پیچھے چل رہے ہیں۔اتنے میں سامنے سے سفید ریش اور سفید لباس میں ملبوس ایک شخص نمودار ہوئے اور مجھے کہنے لگے: تم کہاں جارہے ہو ؟ میں نے کہا : اس شخص کے پیچھے پیچھے جارہا ہوں۔اس شخص نے کہا: یہ تو ’’مرزا غلام احمد قادیانی‘‘ ہے اور یہ تو دوزخ میں جارہا ہے۔تم اس کے پیچھے کیوں جارہے ہو ؟ میں نے کہا : کوئی شخص از خود

187

بھی دوزخ میں جاتا ہے ؟ اور دوسرے کو بھی لے جاتا ہے ؟ اس نے کہا : اگر تمہیں یقین نہیں تو آگے دیکھو ،جب میں نے اُدھر دیکھا تو دور سے سارا آسمان کا کنارہ سرخ آگ نما نظر آیا۔اس نے کہا : یہ جہنم کی شعائیں ہیں اور یہ قادیانی تمہیں وہیں لے جارہا ہے۔میں نے کہا: یہ مجھ سے دور ہے ،جب یہ جہنم میں گرنے لگے گا تو میں بھاگ جاؤںگا۔آخر اس بزرگ آدمی نے چھری یا چاقو کو زور سے اس تانت اور رسی پر مارا تو وہ کٹ گئی۔اس کے کٹ جانے سے میری گردن کو زور سے جھٹکا لگا۔اس جھٹکے سے میری آنکھ کھل گئی۔

آخر صداقت نمایاں ہوگئی

آخر کار ان ڈراؤنے خوابوں سے متاثر ہوکر فیصلہ کیا کہ خداوند کریم کو حاضر وناظر سمجھ کر اورمحبت اور عداوت کو چھوڑ کر مرزا قادیانی کی مشہور تصنیفات کا مطالعہ شروع کر دوں، اور خالی الذہن ہو کر جوں جوں مطالعہ کرتا گیا مرزا قادیانی کی صداقت مشتبہ ہوتی گئی، یہاں تک کہ مجھے یقین کامل ہوگیا کہ مرزا قادیانی کذاب اور جھوٹا ہے۔چنانچہ یکم؍جنوری ۱۹۳۲ء کو مرزائیت سے تائب ہو کر میں نے اسلام قبول کرنے کا اعلان کردیا۔

(منقول ازحیات طیبہ،ڈاکٹر صاحبزادہ محمد حسین انصاری ص ۳۲۶ تا ۳۲۸)

نوٹ : یہ پورا مضمون پیر و مرشد سیدنا حضرت شاہ نفیس الحسینی صاحب نوراللہ مرقدہ کا لکھا ہوا ہے مگر اس مضمون کے اوپر جو عنوانات قائم کئے گئے ہیں وہ اس ناچیز (ناچیز سے مراد ’’مولانا محمد ایوب کھلوڈیا صاحب سورتی‘‘ مدظلہ ہے۔ ناقل!) کے قائم کردہ ہیں۔

احقر :(مولانا) محمد ایوب سورتی (قاسمی ہاشمی کھولوڈیا ) صاحب مد ظلہ

باٹلی،برطانیہ … بروز جمعہ۱۵؍ جون ۲۰۱۲ میلادی

188

مولانا اللہ وسایا صاحب

کے بیانات برائے تعارف قادیانیت

جو انھوں نے بروز ہفتہ مورخہ۳۱ اگست تا ۵ ستمبر ۱۹۸۵ عیسوی کو باٹلی کی مختلف مساجد میں روزانہ بعد از نماز عصر فرمائے تھے

189

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ

عرض حال!

ایک صدی سے زائد کا عرصہ بیت رہا ہے کہ فتنۂ قادیانیت امت مسلمہ وامت محمدیہ (علیٰ صاحبھاالصلوٰۃ والسلام) کے لئے ناسور بنا ہوا ہے۔ جب سے یہ فتنہ رونما ہوا ہے تب سے امت مسلمہ کے خوش نصیب وسعادت مند افراد اس فتنہ کے خلاف برسرپیکار ہیں۔ پورے عالم میں جہاں کہیں بھی یہ فتنہ پر پرزے نکالتا ہے۔ ’’عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت‘‘ اس کی سرکوبی کے لئے ہر اول دستہ بن جاتی ہے اور یہ فتنہ لومڑی کی طرح دم دبا کر کھسک جاتا ہے۔ ’’قادیان‘‘ سے یہ فتنہ ابھرا تو امت مسلمہ کی مقتدر شخصیات نے ایسا تعاقب کیا کہ اسے اپنے مرزبوم سے جانا پڑا۔ ’’پاکستان‘‘ میں سر نکالا تو امت مسلمہ کی برگزیدہ ہستیاں یہاں پہنچیں اور اسے ناکوں چنے چبوائے اور ایسی لات اس کی کمر پر رسید کی کہ پھر یہ فتنہ سیدھا کھڑا نہ ہوسکا۔ یہاں تک کہ دبے پاؤں اپنے سفید آقاؤں کی گود میں پناہ لینے میں عافیت سمجھی۔ وہاں جاکر اپنے سفید آقاؤں کی نمک حلالی کرنی شروع کی تو عاشقان رحمۃ للعالمین، شفیع المذنبین، حضور خاتم النّبیینﷺ پابرکاب وہاں پہنچے اور شیر کی طرح ان پر تابڑ توڑ حملہ کیا۔ تاآنکہ ان کے قدم اکھاڑ کر اس جگہ کو اس فتنہ کی نحوست سے پاک کیا اور حضورﷺ کی ختم نبوت کی خدمت اور بیانات سے اس جگہ کو معطر وخوشبودار بنادیا۔ ایسا کہ کبھی اس فتنہ کی وہاں بو بھی محسوس نہ ہوئی۔

یہ ۱۹۸۵ء کی بات ہے کہ برطانیہ ویورپ کے علاقوں میں فتنۂ قادیانیت اپنے ناپاک قدم رکھنا چاہتا تھا۔ اس کا احساس ’’عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت‘‘ کے اکابرین کو ہوا تو انہوں نے علماء کرام کا منتخب گروہ اس فتنہ کے استیصال کے لئے تشکیل دیا۔ ان میں سے مناظر اسلام، شاہین ختم نبوت، حضرت مولانا اللہ وسایا صاحب مدظلہ مرکزی رہنما عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت بھی تھے۔ حضرت نے وہاں جاکر ’’باٹلی‘‘ کی مختلف مساجد میں عوام کو اور خواص علماء کرام کو اپنے ’’دروس وبیانات‘‘ سے

190

حضورﷺ کی ختم نبوت کو بیان فرمایا اور فتنۂ قادیانیت سے آگاہ فرمایا۔ ان دروس وبیانات کو حضرات علماء کرام نے کیسٹوں اور کاغذ وقلم کے ذریعہ محفوظ کیا۔ جن کا مجموعہ درج ذیل دروس وبیانات کے ساتھ آپ کے ہاتھ میں ہے۔ اس کے دو حصے ہیں۔ حصۂ اوّل: دروس میں اور حصۂ دوم بیانات میں ہے۔

۱… پہلا بیان: ’’عظمت واہمیت ختم نبوت‘‘

۲… دوسرا بیان: ’’مرزاغلام احمد قادیانی کا دجل وفریب‘‘

۳… تیسرا بیان: ’’مرزاقادیانی کی نبوت کا معیار (یعنی جھوٹ)‘‘

۴… چوتھا بیان: ’’آیت خاتم النّبیین کی تفسیر‘‘

۵… پانچواں بیان: ’’اکابر علماء دیوبند کی قربانی‘‘

۶… چھٹا بیان: ’’تحفظ ختم نبوت میں علماء دیوبند کا کردار‘‘

اور کچھ ’’دروس‘‘ ارشاد فرمائیے۔ ان دروس وبیانات کا سلسلہ ۳۱؍اگست سے ۵؍ستمبر ۱۹۸۵ء تک رہا۔ جن سے عوام وخواص کو بہت ہی فائدہ ہوا۔ سب سے آخر میں باٹلی کے علماء وخطباء نے اظہار تشکر میں ایک عظیم الشان ’’الوداعی جلسہ‘‘ منعقد کیا۔ اس جلسہ میں حضرات علماء کرام نے حضرت اقدس دامت برکاتہم العالیہ کا تہہ دل سے شکریہ ادا کیا۔ (جس کی تفصیل چھٹے بیان کے تحت آئے گی) کہ آنجناب کی تشریف آوری ہمارے ایمان کے تحفظ بالخصوص حضور اقدسa کی ختم نبوت کے تحفظ کا قوی ذریعہ بنی، اللہ تعالیٰ حضرت اقدس شاہین ختم نبوت، مناظر اسلام، حضرت مولانا اللہ وسایا صاحب دامت برکاتہم العالیہ کا یہ مبارک سفر قبول فرمائیں اور اس ’’مجموعہ دروس وبیانات‘‘ کو مسلمانوں کے لئے نافع اور بالخصوص قادیانیوں کے لئے ذریعہ ہدایت بنائیں۔ آمین!

محتاج دعا: غلام رسول دین پوری

مورخہ ۲۳؍رمضان المبارک ۱۴۳۳ھ

وصلی اللہ تعالیٰ علیٰ خیر خلقہ محمد وآلہ واصحابہ اجمعین

191

فہرست بیانات ختم نبوت

  1. عنوانات

    صفحہ نمبر

  2. پہلا بیان:عظمت واہمیت ختم نبوت

    ۲۰۵

  3. ختم نبوت کے دلائل قرآن مجیدوحدیث رسول ؐاور آثار صحابہ ؓ میں

    ۲۰۶

  4. ختم نبوت دین کا اہم وبنیادی مسئلہ ہے (اسود عنسی کا قتل)

    ۲۰۶

  5. مسیلمہ کے دوقاصد رسول اللہ (ﷺ)کی خدمت میں

    ۲۰۷

  6. ابدال، غازی وغیرہم سب مل کر بھی صحابہ کرام ؓ کے برابر نہیں ہو سکتے

    ۲۰۷

  7. عظمت ختم نبوت کے لئے بارہ سو صحابہؓ شہید ہوئے

    ۲۰۸

  8. نبی کے بدلنے سے اُمت بدل جاتی ہے

    ۲۰۸

  9. مرتد کی سزا آخر قتل کیوں ؟

    ۲۰۹

  10. باغی کی سزا موت ہے

    ۲۰۹

  11. رسول اللہ ؐ کی ناموس وعزت کے لئے کام کرنے والوں کے لئے… الخ

    ۲۱۰

  12. مرزا عبد الحق کا ایک قصہ

    ۲۱۰

  13. ختم نبوت کے تحفظ کے لئے جس نے بھی کام کیا اللہ تعالیٰ نے …الخ

    ۲۱۱

  14. جس نے بھی ختم نبوت کی مخالفت کی ‘وہ ذلیل ہوا

    ۲۱۲

  15. دین کے سب شعبے قابل احترام لیکن…!

    ۲۱۳

  16. مسلمانو ! جو لوگ رسول اللہﷺ کی ناموس کے لئے… الخ

    ۲۱۴

  17. غازی علم الدین کو رسول اللہ (ﷺ)نے خواب میں بشارت دی

    ۲۱۴

  18. رسول اللہ ؐ کے دشمن کو اپنا دشمن سمجھو

    ۲۱۵

  19. قادیانی سید الاوّلین وا لآ خرین کے دشمن ہیں

    ۲۱۵

192
  1. قادیانیت نے صرف نبوت کی توہین نہیں کی بلکہ …الخ

    ۲۱۶

  2. دوسرا بیان:مرزاغلام احمد قادیانی کا دجل وفریب

    ۲۱۷

  3. سید الاوّلین والآخرین کی ایک پیشین گوئی

    ۲۱۸

  4. مرزا کے چند دجل… الخ

    ۲۱۸

  5. امام مہدی علیہ الرضوان کی علامت

    ۲۱۹

  6. دجال کی علامتیں

    ۲۱۹

  7. سیدنا عیسیٰ (علیہ السلام) کی علامتیں و مقام نزول

    ۲۱۹

  8. مرزا غلام احمد نے مسیح و مہدی کو خلط ملط کردیا

    ۲۲۰

  9. مسیح بننے کے لئے اچھی جھوٹی کہانی گھڑی

    ۲۲۰

  10. دجال سے مراد پادریوں کی جماعت ہے

    ۲۲۱

  11. ابن صیاد کا تعاقب

    ۲۲۱

  12. دجال سے جنگ قلم سے نہیں بلکہ تلوار سے ہوگی

    ۲۲۲

  13. دجال کے قتل کا مقام

    ۲۲۲

  14. حضرت عیسیٰ ؑ اور امام مہدی کو دیکھ کر دجال اور اس کے رفقاء نمک الخ

    ۲۲۲

  15. مقام لُد پر دجال اور اس کے رفقاء کا قتل ہوگا

    ۲۲۳

  16. دجال اور اس کے رفقاء کے قتل کے بعد یہود و نصاریٰ اور امت محمدیہ الخ

    ۲۲۳

  17. دجال کی سواری گدھا ہوگی

    ۲۲۳

  18. مرزا کی موت کے بعد اس کی لاش دجال کے گدھے پر لاد کر بٹالہ لائی گئی

    ۲۲۴

  19. حضرت عیسیٰ ؑ جامع مسجد کے مینارہ پر تشریف لائیں گے مگر مرزا کا الخ

    ۲۲۴

  20. مرزا کے مینارے کی ایک لطیفہ سے تشبیہ

    ۲۲۴

  21. اللہ تعالیٰ کا فیصلہ اٹل ہوتا ہے مگر جھوٹا نبی اس میں شک پیدا کرتا ہے

    ۲۲۵

193
  1. مرزا ساری زندگی نہ مکہ جا سکا ، نہ مدینہ اور نہ تومسجد اقصیٰ

    ۲۲۵

  2. موت کا معنی فتح بھی ہے الخ

    ۲۲۵

  3. دو رنگ کی چادریں ،عجیب احمقانہ تأویل

    ۲۲۶

  4. جھوٹے نبی کی عجیب احمقانہ باتیں

    ۲۲۶

  5. قادیانی اس سوال کے جواب سے عاجز آگئے

    ۲۲۶

  6. کیا جنگ بدر سے مراد چودھویں صدی ہے ؟

    ۲۲۷

  7. سید الاولین والآخرین کئی کئی ماہ فاقہ سے رہتے تھے مگر

    ۲۲۷

  8. ایک پیٹ بھرو نبی کا لطیفہ بھی سن لیجئے

    ۲۲۷

  9. ظفر اللہ قادیانی کی موت

    ۲۲۸

  10. الحمد للہ ! علماء کی قربانیاں رنگ لائی ہیں

    ۲۲۹

  11. اپنے آپ کو اور اپنی جماعت کو فعال بناؤ

    ۲۲۹

  12. اللہ تعالیٰ ہمارے افسران کو بیدار کریں

    ۲۳۰

  13. ظفر اللہ بڑاکٹر قادیانی تھا

    ۲۳۰

  14. شاہ فیصل نے خادم ختم نبوت بن کر بہت خدمات انجام دی ہیں

    ۲۳۰

  15. مولانا یوسف بنوری ؒ کا شاہ فیصل کو متوجہ کرنا

    ۲۳۱

  16. شاہ فیصل کا دوٹوک مطالبہ

    ۲۳۱

  17. مرزا طاہر جھوٹی نبوت کا تاج اتار کر آئے تو شاہی مہمان بنائیں گے

    ۲۳۱

  18. مرزائی و قادیانی غیر مسلم اقلیت ہیں

    ۲۳۲

  19. حکومت ملائیشیا ودیگر سترہ ممالک کا فیصلہ

    ۲۳۲

  20. ظفر اللہ ملعون کی ایک شاطرانہ و کافرانہ چال

    ۲۳۲

  21. ظفر اللہ کو ہٹانے کے لئے دس ہزار دین کے عاشقوں کا خون بہانا پڑا

    ۲۳۳

194
  1. دنیا میں ظفر اللہ ملعون نے اپنے کئے ہوئے کی خوب سزا پائی

    ۲۳۳

  2. ظفر اللہ ملعون دنیا میں بھی اپنا بد انجام دیکھ کر مرا

    ۲۳۴

  3. ڈاکٹر افتخار صاحب مرحوم کی حق گوئی و بیباکی

    ۲۳۴

  4. بقول ڈاکٹر موصوف خدا کی مار کا میرے پاس کوئی علاج نہیں

    ۲۳۵

  5. سو سال سے امت قادیانی کے خلاف جنگ لڑرہی ہے

    ۲۳۶

  6. چور ڈاکو اسی گھر ڈاکہ ڈالتے ہیں الخ

    ۲۳۶

  7. رسول اللہ (ﷺ) کے دشمن سے جتنا بغض ہوگا اتناہی الخ

    ۲۳۶

  8. جو شخص رسول اللہ (ﷺ) کی سفارش چاہتا ہے اسے چاہئے الخ

    ۲۳۷

  9. جیسی صحبت ویسا اثر ہوتا ہے

    ۲۳۷

  10. دینی غیرت و حمیت کا تقاضا کیا ہے ؟

    ۲۳۷

  11. تیسرا بیان: مرزاقادیانی کی نبوت کا معیار (یعنی جھوٹ)

    ۲۳۹

  12. پاکستان میں ختم نبوت کے روح رواں امیر شریعت شاہ عطاء اللہ تھے

    ۲۴۰

  13. حضرت تھانوی ؒ کی خدمت میں امیر شریعت کا حاضر ہونا

    ۲۴۰

  14. حضرت تھانوی ؒ کا تا حیات ختم نبوت کا ممبر بننا

    ۲۴۱

  15. حضرت تھانوی ؒ کے مرزائیت پر دو رسالے

    ۲۴۱

  16. اللہ تعالیٰ کا پیغمبر کبھی جھوٹ نہیں بولتا

    ۲۴۲

  17. حضور (ﷺ)کی جملہ اولاد حضرت خدیجہ ؓ کے بطن سے تھی سوائے الخ

    ۲۴۲

  18. نرینہ اولاد کے بچپن میں فوت ہونے کی حکمت الٰہیہ

    ۲۴۲

  19. کسی عزیز یا اولاد کی موت پر آنسو بہانا صبر کے خلاف نہیں

    ۲۴۳

  20. رسول اللہ (ﷺ) کے فرمان پر جنت دکھانے کی پیشکش قبول نہ کرنا

    ۲۴۳

  21. ماریہ قبطیہ ؓ کو رسول اللہ (ﷺ) کے فرمان پر یقین و ایمان تھا مگر الخ

    ۲۴۴

195
  1. رسول اللہ (ﷺ) کی ایک پیشین گوئی

    ۲۴۴

  2. رسول اللہ (ﷺ) کو جب جلال آتا تو کوئی مائی کا لال الخ

    ۲۴۴

  3. نبی ؐ کا بے کسی و بے بسی کے عالم میں بھی اللہ تعالیٰ سبحانہ پر کتنا الخ

    ۲۴۵

  4. حضرت عمر ؓ کو رسول اللہ (ﷺ) کی پیشینگوئی پر کتنا ایمان ویقین تھا

    ۲۴۵

  5. حضرت عمر ؓ نے رسول اللہ (ﷺ) کی زبان مبارک سے نکلے ہوئے الخ

    ۲۴۷

  6. قیامت اس وقت تک قائم نہ ہوگی جب تک رسول اللہ (ﷺ) الخ

    ۲۴۷

  7. اللہ تعالیٰ کا نبی اللہ تعالیٰ کے حکم کے بغیر کچھ نہ کرتا ہے اور نہ کچھ کہتا ہے

    ۲۴۸

  8. اس معیار پر کذاب غلام احمد کو جانچنے کی کوشش کریں

    ۲۴۸

  9. مرزا غلام احمد قادیانی ہر وقت اپنی کانی آنکھ سے الخ

    ۲۴۹

  10. مرزا کی کانی آنکھ کا ایک پُر لطف لطیفہ

    ۲۴۹

  11. مرزا کی جرسی کی جیب میں تین راتوں تک اینٹ پڑی رہی الخ

    ۲۵۰

  12. مرزا دائیں بائیں پاؤںمیں نشانی لگانے کے باوجود الخ

    ۲۵۰

  13. مرزا دن میں سو سو بار پیشاب کرتا تھا

    ۲۵۰

  14. مرزا کبھی ڈھیلا منھ میں رکھتا تھاالخ

    ۲۵۱

  15. مرزا کے والد اپنے بیٹے کے بارے میں نشان دہی کرتے ہیں

    ۲۵۱

  16. مرزے جھوٹے نبی کا استاد گل علی شیعہ تھا

    ۲۵۱

  17. مرزا روٹی پر راکھ رکھ کر کھاتا تھا

    ۲۵۱

  18. جھوٹے نبی کی تصویر کشی ملاحظہ ہو

    ۲۵۲

  19. قادیانی لعنتی کا درود ہزارہ

    ۲۵۲

  20. جھوٹا نبی سور مار اور اس کا صحابی کتا مار

    ۲۵۳

  21. مرزا کااپنے آپ کو’’ سور مار‘‘ کہنا‘ اس کی وجہ

    ۲۵۳

196
  1. مرزا احمد بیگ نے خوب کھری کھری سنائی

    ۲۵۳

  2. محمدی بیگم سے میری شادی نہیں کی تو احمد بیگ مر جائے گا

    ۲۵۴

  3. محمدی بیگم سے میرا نکاح آسمانوں پر اللہ تعالیٰ نے کردیا ہے

    ۲۵۴

  4. بالآخر محمدی بیگم کا نکاح سلطان پٹی سے ہوگیا

    ۲۵۴

  5. مرزا کو الہام ہوا کہ پٹی پُٹی گئی ۔پورا گاؤں برباد ہوجائے گا

    ۲۵۵

  6. جھوٹے نبی کی ایک اور پیشینگوئی

    ۲۵۵

  7. محمدی بیگم سے نکاح کا خواب شرمندہ تعبیر نہ ہوا

    ۲۵۵

  8. جھوٹا نبی مرگیا،محمدی بیگم اس کے بعد چالیس سال زندہ رہیں

    ۲۵۵

  9. شیطان کی آنت کتنی لمبی ہے

    ۲۵۶

  10. اللہ تعالیٰ کی شان ! محمدی بیگم کی ایک بھی لڑکی نہیں

    ۲۵۶

  11. جھوٹے نبی کی پیشینگوئی پورا کرنے کے لئے طویل تأویل

    ۲۵۶

  12. ایک پُر لطف لطیفہ

    ۲۵۶

  13. محمدی بیگم سے نکاح دنیا میں تو نہیں ہوا

    ۲۵۷

  14. مرزا جھوٹا نبی اچھا ہے جو جنت سے نکل کر جہنم میں بارا ت لیکر جائے گا

    ۲۵۷

  15. ایک جھوٹی پیشینگوئی

    ۲۵۷

  16. لڑکا ہوگا ،اللہ تعالیٰ نے اس کے نو (۹) نام رکھے ہیں

    ۲۵۸

  17. مگر بجائے لڑکے کے لڑکی پیدا ہوئی

    ۲۵۸

  18. جھوٹے نبی مرزا نے کہا : بات سنی مگر سمجھی نہیں

    ۲۵۸

  19. آدمی بازاری ہے تو گفتگو بھی بازاری ہوگی

    ۲۵۸

  20. اس بد بخت کی شرم کو تو دیکھئے

    ۲۵۹

197
  1. قادیانی بات ثابت نہ کر سکے تو معراج کا انکار کردیا

    ۲۶۹

  2. معراج کی رات خود جبرئیل اور رسول اللہ (ﷺ) موجود تھے الخ

    ۲۷۰

  3. یہاں پہنچ کر قادیانیوں کے جھوٹے دعویٰ کا پول الخ

    ۲۷۰

  4. شب معراج میں حضرت عیسیٰ ؑ کا وعظ

    ۲۷۰

  5. دوسو سے زیادہ احادیث مبارکہ سے ختم نبوت واضح ہوجاتی ہے

    ۲۷۱

  6. آپ (ﷺ) کے ارشادات سے جہاں کہیں غلط فہمی ہو سکتی تھی الخ

    ۲۷۱

  7. علی ! تم اس بات کو پسند نہیں کرتے

    ۲۷۲

  8. اس میں ایک شبہ ہو سکتا تھا

    ۲۷۲

  9. اللہ تعالیٰ اور رسول اللہ (ﷺ) کاترجمہ نہیں مانتے

    ۲۷۳

  10. ختم نبوت پر امت کا اجتماع ہے

    ۲۷۳

  11. سچے نبی جھوٹے پیروں کاروں کو اسلام برداشت کرسکتا ہے الخ

    ۲۷۳

  12. مرتدین خنزیر سے بھی بدترین ہیں

    ۲۷۴

  13. مرتدین ہمارے ایمان کے دشمن ہیں

    ۲۷۴

  14. امام ابو حنیفہؒ کا فیصلہ

    ۲۷۴

  15. خاتم النّبیین حضرت محمد (ﷺ) کے بعد مدعی نبوت کے متعلق الخ

    ۲۷۵

  16. میری محبت کا دعویٰ اور دیکھتے کسی اور کی طرف ہو

    ۲۷۵

  17. خاتم النّبیین کا امتی بننے سے بڑھ کر کوئی شرف نہیں

    ۲۷۶

  18. آخر میں جھوٹے نبی کے ترجمہ کو ہی مان لو

    ۲۷۶

  19. مرزا جھوٹا نبی اتنا بیہودہ انسان تھا

    ۲۷۷

  20. زندیق کے ساتھ وہی سلوک کیا جائے الخ

    ۲۷۷

199
  1. حضرت نانوتوی کی ذہانت کے دوواقعات

    ۲۸۷

  2. تین دن روپوش رہے

    ۲۸۸

  3. حضرت گنگوہی کا بڑا ہی عجیب واقعہ

    ۲۸۸

  4. حضرت گنگوہی سے عدالت نے تین سوال کئے

    ۲۸۹

  5. کئی علماء کرام کو خنزیر کے چمڑے میں بند کرکے جلایا

    ۲۹۰

  6. اللہ تعالیٰ آپ حضرات سے دین کا کام لینا چاہتے ہیں

    ۲۹۰

  7. میرا ایک ہی پیغام ہے

    ۲۹۱

  8. ّآپ کی جدوجہد بیکار نہیں جائے گی

    ۲۹۱

  9. ختم نبوت کا دشمن تاک میں بیٹھا ہے

    ۲۹۱

  10. حضرت مولانا ایوب کھلوڈیا (سورتی) صاحب (مد ظلہ)کی کچھ قیمتی باتیں

    ۲۹۲

  11. مولانا اللہ وسایا صاحب حافظ الحدیث مولانا درخواستیؒ کے مرید باصفا ہیں

    ۲۹۳

  12. حضرت مولانا درخواستیؒ کو خواب میں رسول اللہ (ﷺ) نے فرمایا:

    ۲۹۳

  13. ردقادیانیت کا کام کرنے والے کو بشارت

    ۲۹۳

  14. الحمد للہ ! ختم نبوت کے مسئلہ پرسب نے اتفاق کرلیا

    ۲۹۴

  15. الوداعی جلسہ وتشکر وامتنان

    ۲۹۵

  16. جلسہ کی کاروائی کا آغاز

    ۲۹۶

  17. علماء و مبلغین کا پورے ملک کا دورہ

    ۲۹۷

  18. مولانا اللہ وسایا صاحب کا دورہ

    ۲۹۷

  19. مولانا کے اکرام میں الوداعی جلسہ

    ۲۹۸

  20. رسول اللہ (ﷺ) مقام ، مکان اورزمان ہر لحاظ سے ارفع !

    ۲۹۸

201
  1. قرآن مجید کی سو آیتوں میں ختم نبوت کا ذکر ہے

    ۲۹۸

  2. حضور (ﷺ) کا حجۃ الوداع خطبہ ‘ختم نبوت کی دلیل ہے

    ۲۹۹

  3. صحابہ کرام ؓ نے دین کے پہنچانے کا حق ادا کردیا

    ۲۹۹

  4. حجۃ الوداع کے موقع پر نازل شدہ آیت ’ الیوم اکملت‘‘ الخ ختم نبوت الخ

    ۳۰۰

  5. کوئی شخص یا جماعت ضد و ضلال اور پاگل پن میں نہ ہو تو الخ

    ۳۰۰

  6. جھوٹے نبی کی نبوت کے چند دلائل

    ۳۰۰

  7. جھوٹے نبی کی ہربات سے جھوٹ ٹپکتا ہے

    ۳۰۱

  8. کیا نبی ایسا بے شرم و بے حیاہوتا ہے ؟

    ۳۰۲

  9. انبیاء ؑ کے ناموں سے بھی حجت ہے

    ۳۰۲

  10. جھوٹے قرآن کا کیا سارا پروگرام چارسو بیس ہے

    ۳۰۲

  11. قصر نبوت کی تکمیل کی ایک خوبصورت مثال

    ۳۰۳

  12. دین کامل و مکمل ہوگیا، اب نئے نبی کی ضرورت نہیں

    ۳۰۳

  13. امت محمدیہ ؐ کے امام کا کتنا بڑا اعجاز ہے

    ۳۰۴

  14. نظم : غلام احمد قادیانی کے بارے میں

    ۳۰۷

  15. حضرت مولانا مفتی موسی بدات صاحب (مد ظلہ)کے تأثرات

    ۳۰۹

  16. آخر ! ختم نبوت کا مسئلہ اتنا اہم کیوں ہے ؟

    ۳۰۹

  17. دین کے شعبہ میں سب سے اہم عقائد ہیں

    ۳۱۰

  18. ہمارے عقائد کو چیلنج کیا گیا

    ۳۱۰

  19. رحمۃ للعالمین(ﷺ) نے عقائد پر کسی سے مصالحت برداشت نہیں کی

    ۳۱۱

  20. صدیق اکبر ؓ نے جب تک فتنہ ٔ مسیلمہ کذاب ختم نہیں کیا الخ

    ۳۱۱

202
  1. متحدہ ہندوستان میں وحدت ادیان کا مسئلہ اُٹھا الخ

    ۳۱۱

  2. خلق قرآن کا مسئلہ آیاتو امام احمد بن حنبل ؒ میدان میں آئے

    ۳۱۲

  3. قریب کے زمانہ میں شیعیت کافتنہ اٹھا الخ

    ۳۱۲

  4. قادیانیوں کے لئے حضرت مولانا انور شاہ کشمیری ؒ الخ

    ۳۱۲

  5. ہر فرقہ باطلہ نے اپنے مسلک کو قر آن و حدیث سے ثابت کیا ہے

    ۳۱۳

  6. جزاک اللہ !کہ چشم مارا باز کردی

    ۳۱۴

  7. قادیانیوں کا مسلمان سے اختلاف اور اسلام کا لیبل

    ۳۱۴

  8. جھوٹا نبی کبھی خود کواللہ کا بیٹا الخ

    ۳۱۵

  9. مرزا غلام احمد قادیانی صحابی ؓ کو غبی کہتا ہے

    ۳۱۵

  10. قرآن کے متعلق ان کے یہ عقائد ہیں

    ۳۱۶

  11. حدیث کے متعلق ان کے یہ عقائد ہیں

    ۳۱۶

  12. بزرگان دین کے متعلق ان کے یہ عقائد ہیں

    ۳۱۶

  13. اجماع امت کے متعلق ان کے یہ عقائد ہیں

    ۳۱۷

  14. مدار نجات کے متعلق ان کے یہ عقائد ہیں

    ۳۱۷

  15. جھوٹا نبی اپنے بلاواسطہ شاگردان سے تنگ تھے

    ۳۱۷

  16. جھوٹے نبی اور ان کے ہم مذہب کے دجل و فریب

    ۳۱۸

  17. مرزا کی قابلیت کیا تھی ؟

    ۳۱۹

  18. ہم اپنے آپ کو دو ہتھیاروں سے آراستہ کریں

    ۳۱۹

  19. شیطان ابن آدم کے غافل قلب پر ڈنگ مارتا ہے

    ۳۲۰

  20. مشورہ : مولانا عبد الرشید ربانی صاحب

    ۳۲۱

203
  1. بیان : مولانا ایوب کھلوڈیا سورتی صاحب مد ظلہ

    ۳۲۲

  2. قرآن شریف کی توہین اور اس کا انکار

    ۳۲۲

  3. حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی توہین

    ۳۲۳

  4. مرزا کا کردار

    ۳۲۳

  5. اگرختم نبوت کا کام ہم نے نہیں کیا… الخ

    ۳۲۴

  6. حاضرین و دیگر ذمہ دار لوگوں کا شکریہ !

    ۳۲۴

  7. حضرت مولانا اللہ وسایا صاحب بہت خوبی کے مالک ہیں

    ۳۲۶

  8. چھٹا بیان : تحفظ ختم نبوت میں علماء دیوبند کا اعلیٰ کردار

    ۳۲۷

  9. حضرت مولانا انور شاہ کشمیری ؒ کا مقام ارفع

    ۳۲۸

  10. الحمد للہ ! ہمارا تبلیغی سفر کامیاب رہا

    ۳۲۹

  11. مرزا طاہر کا انٹرویو

    ۳۲۹

  12. مرزا نے اپنی جماعت کو دھوکہ دیا ہے

    ۳۳۰

  13. جب کہ حقیقت حال یہ ہے

    ۳۳۰

  14. مولانا انور شاہ کشمیری ؒ کا ایمان افروز واقعہ

    ۳۳۱

  15. میری داڑھی کے بال قبول کرلئے تو زندگی بھی قبول کرلے گا

    ۳۳۳

  16. سید حسین احمد مدنی ؒ ! آج آپ نے حضرت حسین ؓ کی لاج رکھ لی

    ۳۳۳

  17. شیخ الہند ؒنے جسم کو داغدار بنایا الخ

    ۳۳۴

  18. آواز آئے گی مرزااور اس کے ماننے والے کافر ہیں

    ۳۳۴

  19. جو شخص ختم نبوت کا کام کرتا ہے الخ

    ۳۳۵

  20. بے دین فرقے عوام کو علماء سے بد ظن کرتے ہیں

    ۳۳۶

204

پہلا بیان

(عظمت و اہمیت ختم نبوت )

جو انھوں نے بروز ہفتہ مورخہ ۳۱ اگست /عیسوی کو باٹلی کی مسجد میں بعد نماز عصر فرمایا تھا

205

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ

الحمدللہ وکفٰی وسلام علیٰ سید الرسل وخاتم الانبیاء وعلیٰ اٰلہ واصحابہ اللذین ہم خلاصۃ العرب العرباء وخیر الخلائق بعد الانبیاء۰ اما بعد۰ فاعوذ باللہ من الشیطن الرجیم۰ بسم اللہ الرحمٰن الرحیم۰ ماکان محمد ابا احد من رجالکم ولکن رسول اللہ وخاتم النّبیین وکان اللہ بکل شیٔ علیما۰ قال النبی(ﷺ): ’’اوّل الانبیاء اٰدم واٰخرہم محمد‘‘(ﷺ)اللہم صل علیٰ سیدنا محمد عبدک ورسولک، وصل کذلک علیٰ جمیع الانبیاء والمرسلین، وعلیٰ الملائکۃ المقربین وعلیٰ عباد اللہ الصالحین۰ اجمعین الیٰ یوم الدین۔

ختم نبوت کے دلائل قراٰن کریم وحدیث رسول ؐو آثار صحابہ ؓ میں

میرے بھائیو اور دوستو!ابھی کچھ دیر پہلے میرے اور آپ حضرات کے مخدوم حضرت مولانا محمد ایوب صاحب( دامت برکاتہم ) ختم نبوت کی اہمیت پر بیان کررہے تھے ،میں انہی کی بات کو آگے چلانا چاہتا ہوں۔آپ حضرات ختم نبوت کی اہمیت کا اندازہ اس بات سے لگائیے کہ اس کو سمجھانے کے لئے اللہ رب العزت نے ایک سو آیات کریمہ قرآن مجید میں نازل فرمائیں۔دار العلوم کراچی کے مفتئ اعظم مولانا مفتی محمد شفیع ( رحمۃ اللہ علیہ )(جو مولانا انور شاہ صاحب رحمۃ اللہ علیہ کے شاگردوں میں سے ہیں )نے ایک کتاب لکھی ہے، اس کے تین حصے ہیں (۱) ختم نبوت فی القرآن (۲) ختم نبوت فی الحدیث (۳) ختم نبوت فی الاٰثار۔کتاب میں مولانا نے ایک سو کے قریب قرآن مجید کی آیات کریمہ جمع کردی ہیں، جوسب کی سب ختم نبوت کے متعلق ہیں۔دو سو دس احادیث انہوں نے نقل کی ہیں،جن سے حضور (ﷺ) کی ختم نبوت ثابت ہوتی ہے،اور انہوں نے کافی تعداد میں آثار صحابہؓ اور ان کے اقوال نقل کئے ہیںجن سے حضور(ﷺ) کی ختم نبوت کے مسئلہ کی اہمیت کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔

(ختم نبوت دین کا اہم وبنیادی مسئلہ ہے )اسود عنسی کا قتل

میرے قابل احترام دوستو !ختم نبوت کا مسئلہ دین کا اہم اور بنیادی مسئلہ ہے۔اس سے کبھی بھی امت نے چشم پوشی نہیں کی،خود صدّیق اکبر (رضی اللہ عنہ ) کے زمانہ میں ختم نبوت کا

206

مسئلہ پیش آیا،اور آپ حضرات کو معلوم ہوگا کہ خود رسول اللہ (ﷺ)کی حیات طیبہ میں مسیلمہ کذاب اور اسود عنسی نے نبوت کا دعویٰ کیا تھا۔

اسود عنسی کو قتل کرنے (ٹھکانے لگانے ) کے لئے رسول اللہ (ﷺ) نے حضرت فیروز دیلمی(رضی اللہ عنہ) کو روانہ فرمایا۔اللہ کی شان! حضرت فیروز(رضی اللہ عنہ)نے جاکر اسود عنسی کو قتل کردیا،اس وقت آپ مرض الوفات میں تھے ،ادھر حضرت فیروز(رضی اللہ عنہ)کی واپسی سے پہلے آپ(ﷺ) کا انتقال کرجانا ‘اللہ کے امر میں طے تھا ،لہٰذا اس کے قتل ہوتے ہی حضرت جبرئیل (علیہ السلام)کی معرفت اللہ جل مجدہ نے رسول اللہ (ﷺ) کو اطلاع فرمائی کہ فیروزؓ (رضی اللہ عنہ)اپنے مقصد میں کامیاب ہوگئے ہیں تاکہ رسول اللہ (ﷺ) کا دل مطمئن ہو جائے۔چنانچہ جس وقت رسول اللہ (ﷺ)کو اطلاع ہوئی تو رسول اللہ (ﷺ)نے صحابہ(رضوان اللہ علیہم اجمعین) کو اطلاع دی کہ جس مقصد کے پیش نظر فیروز (رضی اللہ عنہ) کوبھیجاگیا تھا اس میں وہ کامیاب ہوگیا ہے۔آپ (ﷺ)کے مقابلہ میں نبوت کا دعویٰ کرنے والا اپنے عبرتناک انجام کو پہنچ گیا۔حضرت فیروز(رضی اللہ عنہ)کے تشریف لانے سے پہلے حضور (ﷺ) کا انتقال ہوچکا تھا۔

مسیلمہ کذاب کے دوقاصد رسول اللہ (ﷺ) کی خدمت میں

مسیلمہ کذاب کی طرف سے دوقاصد رسول اللہ (ﷺ) کی خدمت میں حاضر ہوئے اور مسیلمہ کا رقعہ رسول اللہ(ﷺ) کو دیا۔ حضور (ﷺ) نے رقعہ پڑھا ،اور قاصدوں سے پوچھا ’’تم بھی مسیلمہ کو مانتے ہو‘‘؟ تو انہوں کہا : ’’جی مانتے ہیںتو حضور (ﷺ)نے فرمایا : اگربین الاقوامی طور پر سفیر کوقتل کرنا جائز ہوتا تو میں تمہیں قتل کرا دیتا!۔ اللہ کی شان! ان میں سے ایک تو مسیلمہ کے ساتھ جو جنگ صدیق اکبر(رضی اللہ عنہ)کے زمانہ میں ہوئی اس میں مارا گیااور دوسرا فاروق اعظم(رضی اللہ عنہ) کے زمانہ میں کسی کام کی وجہ سے حاضر خدمت ہوا تو حضرت فاروق (رضی اللہ عنہ)نے ارشاد فرمایا : تو اب سفیر بن کے نہیں آیا ہے لہٰذا اس کو حضرتؓ نے ٹھکانے لگوادیا۔

ابدال ،غازی،رازی، مجاہد، غوث ا ورقطب جتنے بھی ہیں

ساری کائنات میں وہ سب مل کر بھی صحابہ کرام ؓ کے برابرنہیں ہو سکتے ہیں

میں یہ عرض کرنا چاہتا ہوں کہ حضور(ﷺ) کے صحابہ کرام(رضی اللہ عنہم) دین کا قیمتی

207

سرمایہ ہیں، یہ ایک بالکل صاف و بیّن حقیقت اور دین کا سیدھا سادہ مسئلہ ہے،ہم میں سے ساری کائنات کے انسان ، ابدال، غازی ، رازی،مجاہد،غوث،قطب ،ولی اور جتنے بھی ہیں‘ جمع ہوجائیں تو سب مل کر بھی ایک صحابی ٔرسول اللہ (ﷺ)کے برابر نہیں ہو سکتے ،صحابہ( رضی اللہ عنہم) اتنے قیمتی ہیں۔ یہی صحابہ ( رضوان اللہ تعالیٰ علیہم اجمعین) رسول اللہ (ﷺ)کی ۲۳ سالہ نبوت کی زندگی میں دین کی خاطر اورتبلیغ کی خاطر شہید ہوئے جن کی تعداد ۲۶۹ ہے، انہوں نے اپنا سب کچھ دین کی خاطر قربان کیا ۔

عظمت ختم نبوت کے لئے بارہ سو صحابہ ؓ شہید ہوئے ہیں:

میرے محترم دوستو ا ور بزرگو ! ختم نبوت کی عظمت پر میرے ماں باپ قربان!جسم و جان قربان!اسلام میں رسول اللہ (ﷺ) کے بعدمسیلمہ کذاب کے ساتھ جو سب سے پہلی جنگ لڑی گئی وہ ختم نبوت کے لئے لڑی گئی، اس میں بارہ سو کے قریب صحابہ(رضی اللہ عنہم اجمعین) شہید ہوئے، جن میں سات سو سے زائد حافظ قراٰن ا ور قاری تھے۔اس میں بدری صحابہ(رضی اللہ عنہم) بھی شریک تھے۔

نبی کے بدلنے سے امت بدل جاتی ہے :

اس سے یہ بات سمجھ میں آئی کہ پورے دین کی خاطر جتنی قربانی صحابہ(رضی اللہ عنہم)نے دی اس سے زیادہ قربانی مسئلہ ختم نبوت کے لئے صحابہ (رضی اللہ عنہم)نے دی۔یہ دین کا ایک بنیادی اور اہم مسئلہ ہے، اس لئے کہ نبی کے بدلنے سے امت بدل جاتی ہے۔حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اللہ کے نبی ہیں، ان کے بعد عیسیٰ (علیہ السلام) آئے تو جن لوگوں نے عیسیٰ(علیہ السلام) کو مان لیا وہ یہودی نہ رہے۔جب رسول اللہ (ﷺ) تشریف لائے تو جن عیسائیوں نے اسلام قبول کرلیا یا اہل کتاب رسول اللہ (ﷺ) پر ایمان لے آئے تووہ مسلمان کہلائے ،حالانکہ وہ عیسی اور موسی( علیہما السلام) کا بھی انکار نہیں کرتے، اب مسیحی یا یہودی نہ رہے ،اب انہیں مسلمان کہا جائے گا۔تو حضور (ﷺ)کے بعد کسی نبی کو تسلیم کرلیا جاوے اور رسول اللہ (ﷺ)کی نبوت کا انکار نہ کیا جاوے، پھر بھی وہ آدمی جو اس دوسرے نبی پر ایمان لائے گا اس کو مسلمان نہ کہا جائے گا بلکہ کسی اور نام سے پکارا جائے گا، اور وہ مسلمان نہ رہے گا، جو اس کا کلمہ اور دین ہوگا وہی اس کا دین ہوگا۔اس نئے نبی کا اقرار اور اس پر ایمان لانے کے بعد وہ اسی کا ہو

208

جائے گا۔تو نتیجہ یہ نکلا کہ نبی کے بدلنے سے امت بدل جاتی ہے۔حالانکہ خاتم النّبیین(ﷺ) نے فرمایا: میں آخری نبی ہوں، میرے بعد کوئی اور نبی نہیں آئے گا۔تم آخری امت ہو تمہارے بعد کوئی اور امت نہیں۔

چودہ سو سالہ اسلامی تاریخ گواہ ہے کہ اسلامی حکومت نے کسی بھی مدعی ٔ نبوت کو قبول نہیں کیا،جو شخص بھی رسول اللہ (ﷺ)کے بعد ارتداد اختیار کرے، اورآپ (ﷺ) کو خاتم النّبیین نہ مانے تو اس کا ایک ہی علاج ہے کہ اس کواسلامی حکومت سزائے موت دے۔ حضور(ﷺ) کاباغی‘دشمن ہے، اس کو اس دھرتی پر رہنے کا کوئی حق نہیں۔کبھی بھی امت اور اسلامی حکومت نے اس کا وجود برداشت نہیں کیا،اسلامی حکومت میں مسیحی اور یہودی اور دوسری اقوام تو رہ سکتی ہیں کیونکہ مسیحی خود غلط ہیں لیکن ان کا نبی سچا نبی تھا، اور یہودی خود غلط ہیں لیکن ان کا نبی سچا نبی تھا۔تو سچے نبی کے جھوٹے پیرو کاروں کو تو اسلامی حکومت برداشت کرلیتی ہے لیکن جھوٹے نبی کے جھوٹے پیروکاروں کو اسلامی حکومت اسلامی شریعت برداشت نہیں کرسکتی۔

مرتد کی سزا آخر قتل کیوں؟

ہمارے ایک بزرگ گزرے ہیں مولانا محمد علی جالندھری(رحمۃ اللہ علیہ)،ان سے انگریز نے تقسیم ہند سے پہلے ایک سوال کیا تھا کہ اسلام میں جو یہ قانون ہے کہ جو شخص ارتداد اختیار کرے اس کو صفحۂ ہستی سے مٹادیا جائے،یہ تو بڑی تنگ نظری کی بات ہے؟۔ایک آدمی جان بوجھ کر،تحقیق کرکے اپنی تفتیش علم کے بعد مذہب اسلام کو غلط سمجھ کر چھوڑ دیتا ہے تو اسلام اس کوقتل کرنے کا حکم کیوں دیتا ہے؟

تو مولانا موصوف نے کہا کہ یہ اسلام کا قانون نہیں یہ تو بین الاقوامی قانون ہے۔امریکہ اور روس اس قانون کو تسلیم کرتے ہیں اور چین بھی ، یہ تو ساری دنیا کا قانون ہے۔ جسے اسلام نے اپنایا ہے۔تو وہ انگریز حیران ہوکر کہتا ہے کہ: یہ بین الاقوامی قانون کس طرح ہے؟دنیا کا کوئی قانون اس سے انکار نہیں کرتا،اس انگریز نے کہا کہ میں آپ کے سامنے کھڑا ہوں اور میں انکار کرتا ہوں کہ میں اس قانون کو نہیں مانتااور کہتا ہوں کہ یہ قانون غلط ہے؟

باغی کی سزا موت ہی ہے یہی ہے بین الاقوامی قانون :

مولانا موصوف نے فرمایا: آپ بھی مانتے ہیں، آپ کے والد صاحب بھی مانتے

209

تھے،ا ور آپ کے دادا بھی اور آپ کی ساری پشتیں بھی مانتی تھیں۔اور آنے والی ساری نسلیں بھی مانیں گی۔

وہ انگریز حیران ہو کر کہتا ہے:کس طرح؟مولانا نے فرمایا: میں آپ سے پوچھتا ہوں کہ ایک آدمی تحقیق کرکے اوراپنے مطالعہ کی وجہ سے اس نتیجہ پر پہنچتا ہے کہ وقت کی گورنمنٹ (حکومت)غلط ہے اور وقت کی گورنمنٹ کے خلاف بغاوت کرتا ہے تو آپ کے نزدیک اس کی سزا کیا ہے؟

تو اس انگریز نے جواب دیا کہ باغی کی سزا تو موت ہے۔مولانا نے فرمایا : تمہارے نزدیک باغی کی سزا قتل اورموت ہے ،ہمارے نزدیک ختم نبوت کے انکار کی سزا موت ہے۔کیونکہ ارتداد بغاوت ہے اللہ اور رسول سے، اسلام سے اور ساری دنیا میں بغاوت کی سزا موت ہے۔

رسول اللہ (ﷺ)کی ناموس وعزت کے لئے جو کام کرتے ہیں

تو رسول اللہ (ﷺ) کی دعائیں ان کے ساتھ ہیں :

تو بھائی! میںعرض کرتا ہوں کہ کبھی بھی مدعیٔ نبوت کے وجود کو کسی بھی اسلامی حکومت نے برداشت نہیں کیا۔وہی مولانا موصوف فرماتے ہیں : میرے پاس دلائل نہیں لیکن میرا وجدان یہ کہتا ہے کہ : جو لوگ رسول اللہ (ﷺ)کی ناموس اورعزت کے تحفظ کے لئے کام کرتے ہیں، حضور(ﷺ) کی دعائیں ان کی پشت پر ہوتی ہیں، ان کی نگرانی کرتی ہیں،حضور (ﷺ) کی دعاء کا سایہ ان پر ہوتا ہے۔اس سلسلہ کے دو تین واقعات آپ حضرات کی خدمت میں عرض کرتا ہوں۔

مرزا عبد الحق کے قتل کا ایک قصہ :

سندھ پاکستان کے ایک شہر میر پورخاص میں ایک مرزائی عبد الحق نامی تھا،یاد رکھیں! مرزائی سے جب کہا جائے کہ مرزا غلام احمد نے جھوٹ بولا۔ تو فورًا کہتا ہے:نعوذ باللہ۔حضور (مرزاقادیانی) نے جھوٹ بولا؟ جب اس سے کہا جاتاہے: مرزا غلام احمد قادیانی کی فلاں بات جھوٹ ہے تو فورًا کہتا ہے:کیاحضور(مرزاقادیانی)نے جھوٹ بولا تھا ۔ (نعوذ باللہ)۔اللہ تعالیٰ اس کے تصور سے بھی بچائے۔مرزائی اتنے بیباک اور بے شرم ہیں کہ مرزا غلام احمد کی صفائی دینے کی بجائے انبیاء( علیہم السلام )پر الزام لگانا شروع کردیتے ہیں،یہ اتنا بد بخت طبقہ ہے۔

تو حاجی محمد مانکؒ نے اس مرزائی عبد الحق سے کہا : آپ ہمارے ساتھ گفتگو کریں ،اس

210

نے کہا :کس بات پر گفتگو کریں؟ہم نے کہا : مرزا غلام احمد سچا تھا یا جھوٹا؟ تو اس مرزائی نے کہا : اگر اسی بات پر گفتگو کرنی ہے تو پہلے اس بات پر گفتگو ہونی چاہیئے کہ حضور(ﷺ) سچے تھے یا جھوٹے!نعوذ باللہ!۔

قادیانی کایہ کہنا تھا کہ حاجی مانک صاحبؒ نے قادیانی کا کام تمام کردیا ،اور خود ہی پولیس چوکی پرحاضر ہوگئے، اور کہا کہ فلاں قادیانی نے حضور (ﷺ) کو گالی دی ہے، میں نے اس کی آنتیں نکالدی ہیں،تھانیدار سید تھا ،اس نے حاجی صاحب کو حوالات میں بند کردیا۔تھانیدار کی بیوی سید زادی تھی، رات کو اس کے پاس خواب میں رسول اللہ(ﷺ) تشریف لاتے ہیں ،اور کہتے ہیں : بیٹی !آج تمہارے تھانے میں میرا مہمان آیا ہوا ہے، اس کا خیال رکھنا!،بیوی نے شوہر کو اٹھایا، اور کہا: آج تھانے میں کون آیا ہے؟ تو شوہر نے کہا : فلاں حاجی صاحب!تو بیوی نے کہا : آپ کے تھانے میں بے شمار مجرم آئے ہوںگے، کسی نہ کسی بڑے آدمی نے اس کی سفارش کی ہوگی، مگر اس حاجی صاحب کی سفارش کرنے کیلئے خود حضور(ﷺ) تشریف لائے ہیں۔

ختم نبوت کے تحفظ کے لئے جس نے بھی کام کیا

اللہ تعالیٰ نے اس کو عزتوں سے نوازا :

مقدمہ عدالت میں پہنچا ،حضرت مولانا مفتی محمودصاحبؒ،مولانا شمس الحق افغانی صاحبؒ،مولانا یوسف بنوری صاحبؒ ، مولانا عبد اللہ درخواستی صاحبؒ،مولانا عبد الحق صاحبؒ، مولانا محمد علی صاحبؒ جید علماء کرام عدالت میں گئے۔اس وقت ہمارا جو وکیل تھا آج وہ سندھ کا وزیر اعلیٰ ہے۔غوث علی شاہ! اس نے ختم نبوت کے مسئلہ کی خدمت کی، اللہ نے اس کو عزت دی۔میں نے مولانا اسلم قریشی کا واقعہ بیان کیا تھا ،راجہ ظفر الحق نے اس کا مقدمہ لڑاتھا،بعد میں وزیر اطلاعات بنا ،اور آج وہ مصر میں سفیر ہے۔جن لوگوں نے ختم نبوت کے سلسلہ میں کوئی خدمت انجام دی۔ اللہ نے اس کو نوازدیا ہے۔

اس وقت کشمیر اسمبلی کے اسپیکر راجہ ایوب صاحب تھے،وہ حج کرنے کے بعد مدینہ منورہ گئے تو حضور (ﷺ) کے گنبد خضراء کے پاس ان کے دل میں خیال آیا کہ میں حضور(ﷺ)کی خدمت میں آیا ہوں، اور میرے ملک میں حضور(ﷺ) کے دشمن دندناتے پھر رہے ہیں،میں کس منہ سے حضور (ﷺ)کے سامنے پیش ہوںگا؟ خیر! خوب روئے دھوئے

211

دعائیں کی کہ یا اللہ! اگر میں واپس جائوں تو مجھے مرزائیت کے خلاف کام کرنے کی توفیق عطا فرما!یہ جب حج سے واپس آیا تو سب سے پہلے کشمیر اسمبلی میں قادیانیوں کو غیرمسلم اقلیت قرار دینے کی قرارداد پیش کی اور بحمداللہ! وہ منظور ہوگئی۔

جس نے بھی ختم نبوت کی مخالفت کی وہ ذلیل ہوا:

میرے عزیز بھائیو! میری درخواست سنیں!جن لوگوں نے ختم نبوت کی مخالفت کی تھی ان کا انجام کیا ہوا؟گورنر غلام محمد نے مخالفت کی تھی ، مسلمان ہوکر مسلمان ملک میں عیسائیوں کے قبرستان میں دفن ہوا۔اس کی قبر پر آج کل کتے پاخانہ پیشاب کرتے رہتے ہیں ۔ اس نے ختم نبوت کی تحریک پر گولی چلائی، اور خوب مخالفت کی تھی۔دوسراتھا سکندر مرزا!آپ حضرات کے لندن کی کسی ہوٹل میں ملازم رہا ،اس کی بیوی ایرانی تھی، مرا تو ایران جا کر دفن ہوا۔جب خمینی کا انقلاب آیا تو اس کی لاش اور مٹی کو اکھاڑ کر سمندر میں پھینکوادیا، جن لوگوں نے مخالفت کی، اللہ کی زمین نے بھی اس کو برداشت نہیں کیا۔

میرے عزیز بھائیو! میں حاجی مانک کا واقعہ سنا رہا تھا۔ مقدمہ کے تعاقب کے لئے مولانا محمد علی صاحبؒ عدالت پہنچے،اس غوث علی شاہ نے کہا: مولانا! موقع کا گواہ کوئی نہیں !،میری عرض ہے کہ آپ حاجی صاحبؒ کو کہہ دیجئے کہ تھوڑا سا بیان بدل دیں تو آسانی کے ساتھ بری ہو سکتے ہیں؟!۔مولانا نے فرمایا: آپ کہتے ہیں: بیان بدل دیں؟ ،میرا دل یہ چاہتا ہے کہ حاجی صاحبؒ کھڑے ہو کر عدالت میں بیان دیں کہ اس قادیانی نے حضور (ﷺ) کی میرے سامنے توہین کی ،میں نے اس کو قتل کیا،پھانسی لگ جائے! سو! لگ جانے دو!،عدالت کے ریکارڈ میں یہ بات آنی چاہئے کہ مسلمان سب کچھ برداشت کرسکتا ہے مگر اپنے نبی کے منصب پر کسی اورکو برداشت نہیں کرسکتا۔

تو وکیل صاحب نے کہا: میں حاجی صاحبؒ سے بات کرلیتا ہوں، تو غوث علی شاہ نے گفتگو کی،وکیل صاحب نے کہا: حاجی صاحبؒ! آپ کی جان بہت قیمتی ہے ،حاجی صاحبؒ کی آنکھوں میں آنسو آگئے، اور کہا : جان سے زیادہ ایمان قیمتی ہے۔

حاجی مانک صاحبؒ حضرت مولانا محمد علی جالندھریؒ کی طرف متوجہ ہوکر کہنے لگے: وکیل صاحب کو یہ بات سمجھ میں نہیں آئے گی،میں آپ کی خدمت میں عرض کرنا چاہتا ہوں کہ میں

212

نے سات حج کئے ،بیشمار عمرے کئے ،ہر دفعہ رسول اللہ (ﷺ) کے گنبد خضراء پرصلوٰۃ و سلام کے لئے حاضر ہوا،میں مسجد نبوی (ﷺ)میں اعتکاف بھی بیٹھا،بہت سارے علماء کے پاس گیا کہ کوئی وظیفہ بتادیں جس سے مجھے رسول اللہ (ﷺ)کی خواب میں زیارت ہوجائے،اتنا سارا کرنے کے باوجود مجھے رسول اللہ (ﷺ) کی زیارت خواب میں نہیں ہوئی۔اللہ کا کرنا ایسا ہوا جس دن سے میں نے اس قادیانی کوتمام کیا ہے ،خاتم النّبیین (ﷺ) کے دشمن کوٹھکانے لگایا ہے،میری کوئی رات خالی نہیں جاتی !یعنی ہر رات حضور (ﷺ) کی زیارت ہوتی ہے۔

اب آپ اس واقعہ سے اندازہ لگائیے کہ ختم نبوت کے تحفظ کی رسول اللہ( ﷺ) کے یہاں کتنی اہمیت اور قدر و قیمت ہے ۔یہ بات ممکن ہے کہ علماء کرام دلیل کے طور پر روایت بیان کرنے کی اجازت نہ دیں لیکن فضائل کے درجہ میں اجازت دیدیں،حضور (ﷺ) کے بعد صدیق اکبر (رضی اللہ عنہ)نے خلافت سنبھالی تو حضرت ابوبکر(رضی اللہ عنہ) وہاں نہ بیٹھے جہاں رسول اللہ(ﷺ) تشریف رکھتے تھے ، صدیق اکبر(رضی اللہ عنہ) وہاں بیٹھے جہاں رسول اللہ (ﷺ) کے قدم مبارک رکھے جاتے تھے۔

تو حضرات گرامی! : صدیق اکبر(رضی اللہ عنہ) اپنی تمام تر عظمت کے باوجود حضور (ﷺ) کی مسند پر قدم نہ رکھ سکے، تو ہم حضور(ﷺ) کی مسند پر کس آدمی کو برداشت کر سکتے ہیں؟جو حضور (ﷺ) کے بعد دعویٔ نبوت کرنے والا در اصل حضور (ﷺ) کے مسند پر قبضہ کرنے کا متمنی ہے اور وہ قبضہ کرنا چاہتا ہے۔

دین کے سب شعبے قابل احترام لیکن رسول اللہ کی ختم نبوت کی حفاظت کے لئے کام کرنے والے سب سے اہم :

حضرات گرامی !فوج کا نام تو آپ نے سنا ہوگا،ان میں ایک وہ حصہ ہوتا ہے جو سرحد کی حفاظت کرتا ہے ،ایک وہ حصہ ہوتا ہے جو عدالت میں بیٹھتا ہے ،اس کے مختلف حصے ہوتے ہیںاور ان کی مختلف ذمہ داریاں ہوتی ہیںلیکن سربراہ مملکت کے نزدیک سب سے زیادہ قابل احترام وہ دستہ ہوتا ہے جو اس کی حفاظت پر مأمور ہوتا ہے اور یہ قابل اعتماد دستہ ہوتا ہے ۔اسی طرح دین کے سب شعبے قابل احترام صحیح، اور سب کے لئے بشارت ہی بشارت ہے لیکن جو لوگ حضور (ﷺ) کی عزت اور ناموس کی حفاظت کے لئے کام کررہے ہیں،یہ حضور (ﷺ) کی

213

سیکورٹی گارڈ ہیں اور محافظ دستے ہیں۔

مسلمانو! اب جو لوگ حضور (ﷺ) کی عزت و ناموس کے درپے ہیں ان کا حال سنو!

تقسیم سے پہلے کی یہ بات ہے۔ راجپال نامی ایک ہندو نے رنگیلا رسول نامی ایک کتاب لکھی تھی، جس میں آپ (ﷺ) اورامہات المؤمنین کی توہین کی گئی تھی( نعوذ باللہ!) ۔

حضرت مفتی کفایت اللہ صاحب(رحمۃ اللہ علیہ) سحبان الہند مولانا سعید احمد دہلوی(رحمۃ اللہ علیہ)جیسے جید علماء کرام کو حضرت مولانا عطاء اللہ شاہ بخاری(رحمۃ اللہ علیہ) نے لاہور بلایا ،غالباً حضرت قاری محمد طیب صاحب(رحمۃ اللہ علیہ) بھی موجود تھے، اور شاہ صاحبؒ نے ان حضرات کی موجود گی میں تقریر کی،اور کہا :

اے لاہور والو!جس نے رسول اللہ (ﷺ) کے متعلق یہ کتابچہ لکھا ہے اور بد زبانی کی ہے تمہاری غیرت کا تقاضاہے کہ یا لکھنے والے کے ہاتھ نہ رہیں یا پڑھنے والی زبان نہ رہے!۔بس اور کوئی فیصلہ نہ چاہئے۔

اور بڑے دردمندانہ لہجے میں اپنے خطیبانہ انداز میں کہا :دیکھو مفتی صاحب کے دروازہ پربی بی فاطمہ(رضی اللہ عنہا) آئی ہیںاور سوال کرتی ہیں، میرے ابو کے متعلق یہ لکھا ؟آپ اٹھتے کیوں نہیں ؟ مجمع کی چیخیں نکل گئیں،علم الدینؒ نامی ایک لوہار گیاِ، اور اس نے مصنف کو ٹھکانے لگادیا۔اس پرمقدمہ ہوا اور پھانسی ہوگئی۔لاہور میں اس کا مزار ہے۔

غازی علم الدینؒ کو رسول اللہ (ﷺ)نے خواب میں بشارت دی :

قاضی احسان احمد شجاع آبادیؒ جیل میں گئے ،تو جیل کا وارڈن جو ہندو تھا، اس نے قاضی صاحب سے کہا: قاضی صاحب آپ کو مبارک ہو! آپ آج اس کمرے میں آئے ہیں جس کمرے میں علم الدینؒ رہتا تھا۔قاضی صاحب کو دلچسپی ہوئی تو اس ہندو نے بتایا: جس صبح کو غازی علم الدینؒ کو پھانسی لگنا تھی، اس آخری رات کو میں ڈیوٹی پر تھا،بجلی اور کوئی دوسرا انتظام نہ ہونے کے باوجود اس کا کمرہ روشن ہوجاتا تھا،میں نے دروازہ کھٹکھٹایا کہ اس کے پاس ماچس وغیرہ نہ ہو ،جس کی وجہ سے آگ لگاکر وہ خود کشی نہ کر لے ۔ اس کی تلاشی لینے کے باوجود کوئی اور چیز نہ ملی۔تھوڑی دیر بعد پھر ایساہی ہوا ،پھر تفتیش ہوئی، پھر ایسا ہی دوتین بار ہوا، میں نے غازی علم الدینؒ سے پوچھا؟ بھائی کیا بات ہے؟

214

تو غازی علم الدینؒ نے کہا :تم ہندو ہو، تمہیں بات سمجھ میں نہیں آئے گی،مجھے پھانسی لگنا ہے، اور اس میں مجھے ذاتی غرض توہے نہیں،میں نے حضور (ﷺ) کی عزت و ناموس کی خاطر کام کیا تھا،اس ضمن میں مجھے پھانسی لگنا ہے،آج آخری رات ہے، میں باوضو ہوں، جس وقت مجھے نیند آتی ہے تو حضور(ﷺ) کی زیارت ہوتی ہے، اور حضور (ﷺ)مجھے ارشاد فرماتے ہیں : بیٹا پریشان ہونے کی ضرورت نہیں ، سویرے روزہ رکھ کر آنا، افطاری میرے ساتھ ہوگی!،یہ ہے حضور(ﷺ)کی ناموس اورعزت کی تحفظ کرنے والوںکے لئے بشارت! ،اتنا اہم کام ،اتنی اہم ذمہ داری ،جتنا کام اہم ہے اتنی ہی نوازشات اور محبتیں بھی اتنی ہی زیادہ ہیں۔

رسول اللہ (ﷺ) کے دشمن کو اپنا دشمن سمجھو :

’’باٹلی‘‘ کے رہنے والے مسلمانو!: میں کسی سے نہیں کہتا کہ کسی غیر مسلم کو قتل کردو!،میں کسی سے نہیں کہتا کہ قانون شکنی کرو! میں قطعا ًیہ کہنے کے لئے نہیں آیا کہ یہاں کے نظام کو درہم برہم کردو!،قطعًا نہیں!۔میں حضور (ﷺ) کی ناموس کے نام پر کاسۂ گدائی لئے اتنی خیرات مانگتا ہوں کہ رسول اللہ (ﷺ)کے دشمن کو اپنا دشمن سمجھو۔اگر کوئی شخص ہمارے والد کے متعلق کوئی غلط بات کہہ دے تو پہلے ہم انتقام کی کوشش کرتے ہیں،اگر ایسانہیں ہوتا ہے تو ساری زندگی اس کے ساتھ بولیںگے نہیں ۔ اس نے میرے باپ کی توہین کی ہے۔اگر ہم اپنے والد کے دشمن کے ساتھ بولنا گوارا نہیں کرتے تو رسول اللہ (ﷺ)کے دشمنوں کے ساتھ اتنی فراخدلی کیوں؟وہ برابر رسول اللہ (ﷺ)کی توہین کرتے رہیں، اور ہم ان کے ساتھ اٹھنا بیٹھنا روا رکھیںاور مزاج وروئیے میں کوئی فرق نہ آئے؟۔

قادیانی سید الاولین والآخرین محبوب رب العالمین (ﷺ)کے دشمن ہیں :

سوچئے ! ہم نے اپنے باپ کی توہین کا اتنا خیال کیا، اور رسول اللہ (ﷺ) کی توہین کی کوئی پروا نہیں!حالانکہ ساری دنیا حضور(ﷺ)کے نقش پا پر قربان کی جاسکتی ہے،ہم میں سے کوئی آدمی اس وقت تک پکا مسلمان ہو نہیں سکتا جب تک اپنی تمام محبوب چیزوں سے زیادہ رسول اللہ(ﷺ) کی محبت ہمارے دل میں نہ ہو۔یہ حدیث شریف ’’لا یؤمن احد کم حتی اکون احب الیہ من والدہ وولدہ والناس اجمعین (مشکوٰۃ ص۱۲)‘‘ کا مفہوم ہے۔تو قادیانی براہ راست میرے اور آپ کے نبی (ﷺ)کے دشمن ہیں۔

215

قادیانیت نے فقط نبوت ہی کی توہین نہیں کی بلکہ صحابہ کرام ؓ ، اہل بیتؓ اور

ازواج مطہرات ؓکی توہین کرتے ہوئے یہانتک کہ مکہ و مدینہ اور شیخین ؓ کو بھی نہیں بخشا:

میرے عزیز بھائیو! قادیانیت نے حضور(ﷺ)کی نبوت کے مقابلہ میں مرزا غلام احمد کی نبوت کو چلایا،حضور (ﷺ) کے صحابہ (رضی اللہ عنہم)کے مقابلہ میں مرزا غلام احمد قادیانی کے دیکھنے والوں کو صحابہ قرار دیا،حضور (ﷺ) کی ازواج مطہرات (رضی اللہ عنہن)کے مقابلہ میںمرزاکی بیویوں کو امہات المئومنین کہا، مرزا غلام احمد قادیانی کے خاندان کو اہل بیت کہا،مرزا غلام احمد قادیانی کی بیٹی کو سیدۃ النساء کہا۔حضور(ﷺ) کے مکہ و مدینہ کے مقابلہ میں قادیان اور ربوہ کا تصور پیش کیا،جنت البقیع کے مقابلہ میں بہشتی مقبرہ کا تصور پیش کیا،اور یہ کہا کہ ابو بکرؓ وعمرؓ کیا تھے؟مرزا غلام احمد کے جوتے کے تسمہ کھولنے کے لائق نہ تھے۔ (ماہنامہ ’’المہدی‘‘ جنوری،فروری ۱۹۱۵ء، نمبر۲،۳ ص۵۷)(انا للہ، ونعوذ باللہ من شرور انفسنا)۔بہر حال حضور(ﷺ) کے پورے دین سے بغاوت،حضور (ﷺ) کے دین کے مقابلہ میں متوازی پروگرام ، ہر چیز کی مخالفت،ہر چیز کی نقل اتارنے کی کوشش کی ۔

(یہاں تک حضرت مولانا بیان کرنے پائے تھے کہ کسی صاحب دل شخص نے چیخ ماری! اور حضرت نے درود شریف پڑھا)

تو ان کی بد بختی کا علاج یہ ہے کہ ان کا بائیکاٹ کیا جاوے،جس طرح ہم باپ کے دشمنوں کے پاس جانا پسند نہیں کرتے، رسول اللہ خاتم النّبیین(ﷺ) کے دشمن کا بائیکاٹ ہم کریں،بات صرف اتنی عرض کرنی ہے اللہ تعالیٰ حضور(ﷺ)کے دشمن کو دشمن جاننے کی توفیق عطا فرمائیں۔آمین۔

نوٹ:اس دن چونکہ تبلیغی جماعت کے دوستوں کے گشت کا دن تھا تو حضرت موصوف نے ان کو وقت دیا کہ آپ حضرات اپنا بیان و تشکیل وغیرہ کریں ، جزاکم اللہ احسن الجزاء !

216

دوسرا بیان (مرزا غلام احمد قادیانی کا دجل و فریب)

217

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ

الحمدللہ وکفٰی وسلام علیٰ سید الرسل وخاتم الانبیاء وعلیٰ آلہ واصحابہ اللذین ہم خلاصۃ العرب العرباء وخیر الخلائق بعد الانبیاء۰ اما بعد۰ فاعوذ باللہ من الشیطٰن الرجیم۰ بسم اللہ الرحمن الرحیم۰ ومن اظلم ممن افتریٰ علی اللہ کذبا اوقال اوحی الیّ ولم یوح الیہ شیٔ۰ قال النبیﷺ: ’’انہ سیکون فی امتی کذابون‘‘ وفی روایۃ ’’دجالون‘‘ ثلٰثون کلہم یزعم انہ نبی وانا خاتم النّبیین لا نبی بعدی۰ اللہم صل علیٰ سیدنا محمد عبدک ورسولک وصل کذلک علیٰ جمیع الانبیاء والمرسلین وعلی الملائکۃ المقربین وعلیٰ عباد اللہ الصالحین اجمعین الیٰ یوم الدین

سید الاولین والآخرین محبوب رب العالمینﷺ کی ایک پیشینگوئی

حضرات گرامی!حضورخاتم النّبیین (ﷺ) کا ارشاد گرامی ہے: ’’انہ سیکون فی امتی کذابون ثلٰثون‘‘ کہ میرے بعد تیس جھوٹے مدعی ٔ نبوت پیدا ہوں گے( ہم سب مسلمانوں کا عقیدہ ہے کہ ساری کائنات کا نظام بدل سکتا ہے مگر اللہ کے نبی (ﷺ)کا فرمان نہیں بدل سکتا سب بھائی مل کر بولیں! نبی کا فرمان؟ نہیں بدل سکتا۔)تو حضور(ﷺ) نے جو اور پیشینگوئیاں فرمائیں ان میں سے ایک یہ بھی ہے کہ میرے بعد تیس جھوٹے مدعی ٔ نبوت پیدا ہوںگے،ان جھوٹے نبیوں کے لئے حضور(ﷺ) نے ایک اورحدیث شریف میں جو الفاظ ارشاد فرمائے ہیں وہ دجالون کذابون ہیں،یہ دونوں مبالغہ کے صیغے ہیں، اورصیغۂ مبالغہ کامطلب یہ ہے کہ ان کی ہربات میں دجل وفریب اورجھو ٹ ہوگا ۔

مرزا کے چند دجل و دھوکے:

میرے عزیز بھائیو! اور دوستو! میںآپ حضرات کی مجلس میں آج مرزا غلام احمد قادیانی ملعون کے چند دجل پیش کرنا چاہتا ہوں ،اگر میرے اللہ کو منظور ہوگا تو کسی اور مجلس میں ان کا جھوٹ (کذب) پیش کروں گا،اس وقت چند دجل پیش کرنا مقصود ہے۔آج ظہر کے وقت مولانا محمدایوب سورتی ہاشمی (کھلوڈیا صاحب مد ظلہ) نے اطلاع دی کہ ظفر اللہ خان قادیانی مرگیا

218

ہے لہٰذا اس کے متعلق بھی کچھ باتیں عرض کرنی ہیں

چند دجل مرزا ملعون کے سماعت فرمائیں :حضور (ﷺ) نے ارشاد فرمایا: ’’فعند ذٰلک ینزل اخی عیسیٰ ابن مریم‘‘ کہ قیامت کے قریب حضرت مسیح عیسیٰ بن مریم (علیہ السلام) نازل ہوںگے،حضرت مہدی تشریف لائیں گے،آپ (ﷺ)نے ارشاد فرمایا: دجال آئے گا، حضور اقدس (ﷺ)نے حضرت مسیح عیسیٰ ابن مریم( علیہ السلام) اور حضرت مہدی (علیہ الرضوان) کی الگ الگ نشانیاں بیان فرمائی ہیں۔

امام مہدی (علیہ الرضوان) کی علامت :

حضرت مہدی (علیہ الرضوان) کے متعلق فرمایا : ’’یواطیٔ اسمہ اسمی واسم ابیہ اسم ابی‘‘ان کا نام میرے نام کے مطابق ہوگا ، یعنی محمد! اوران کے والدکا نام میرے والد کے نام کے مطابق عبد اللہ ہوگا۔شام کے ابدالوں کی ایک جماعت رکن یمانی کے پاس ان کو پہچانے گی۔ان کی چال ڈھال اور وضع قطع سے معلوم کرلیںگے کہ یہ شخص حضرت مہدی (علیہ الرضوان) ہیں تو وہ ان کے دست مبارک پر بیعت کریں گے،اور ظہور مہدی (علیہ الرضوان) کے بعد خروج دجال ہوگا۔

دجال کی علامتیں:

اور دجال کے متعلق حضور (ﷺ) نے فرمایا:عراق اور شام کے درمیانی راستوں سے خروج کرے گا ، حضور (ﷺ) نے ارشادفرمایا : کوئی ایسی بستی اور شہر نہ ہوگا جہاں دجال کا فتنہ نہ پہنچے گاسوائے میرے مکہ اور مدینہ کے!، وہاں اللہ تعالی فرشتوں کی ایک جماعت مقرر فرمادیں گے تاکہ مکہ معظمہ اور مدینہ منورہ میںدجال کا داخلہ نہ ہو سکے ،باقی ساری دنیا میںہرجگہ اس کا فتنہ پھیلے گا، شام کے ابدال حضرت امام مہدی (علیہ الرضوان) کے دست مبارک پر بیعت جہاد کریں گے، یہ حضرات مکہ مکرمہ سے روانہ ہوں گے ۔

سیدنا عیسیٰ علیہ السلام کی علامتیں ومقام نزول:

میرے بھائیو! ذرا میری طرف توجہ فرمائیں۔ ایک طرف حضور خاتم النّبیین(ﷺ) نے امام مہدی (علیہ الرضوان) اور دجال کی علامتیں ارشاد فرمائیںاور دوسری طرف حضرت عیسیٰ( علیہ السلام) کے متعلق حضور(ﷺ) نے الگ نشانیاں اور علامات بیان فرمائی ہیں، ان میں

219

سے چند یہ ہیں: (۱)ان کا نام عیسیٰ( علیہ السلام) ،(۲)بغیر باپ کے پیدا ہوئے ،(۳)والدہ کانام مریم ،(۴)آسمانوں سے تشریف لائیں گے۔(۵)جس وقت وہ تشریف لائیں گے ان کے سر کے بالوں سے پانی ٹپک رہا ہوگا، اور آپ (ﷺ)نے ارشاد فرمایا : (۶)دو فرشتوں کے پروں پر انہوں نے ہاتھ رکھے ہوئے ہوںگے۔(۷)دمشق کی جامع مسجد کے مینارہ پرنزول فرمائیں گے ۔ (۸)حضرت مہدی (علیہ الرضوان) اس سے پہلے مصلیٰ پر کھڑے ہوچکے ہوں گے۔ اذان اور اقامت ان کی امامت کے لئے ہو چکی ہوگی۔اور نماز کی صفیں درست ہو چکی ہوںگی۔اتنے میں حضرت عیسیٰ( علیہ السلام) کا نزول ہوگا۔

حضرت مسیح (علیہ السلام) کے بارے میں حضور (ﷺ) نے ایک سو اسی(۱۸۰) علامتیں بیان فرمائی ہیں ،اللہ تعالی حضرت مولانا سید انور شاہ کشمیری(رحمۃ اللہ علیہ) اور مولانا مفتی محمد شفیع صاحب(رحمۃ اللہ علیہ)کی قبروں پر رحمت کی بارش نازل فرمائیں، انہوں نے ان علامتوں کو مرتب کردیا ہے۔

مرزا غلام احمد نے مسیح و مہدی کو خلط ملط کردیا(نعوذ باللہ):

اب مرزا غلام احمد قادیانی ملعون کو دیکھئے کہ پہلے اس نے کہا : میں مسیح ہوں ،جب اس کو کہا گیا کہ : مسیح کے زمانے میں مہدی بھی ہوںگے ،تو اس نے کہا : مسیح اور مہدی دونوں ایک ہیں، پوچھا گیا: دونوں کی جامع شخصیت کون ہیں؟تو مرزا غلام احمد نے کہا :میں ہوں،کہا گیا : آنے والے کا نام تو مسیح عیسیٰ ابن مریم (علیہما السلام) ہوگا؟ اور تیرا نام تو غلام احمد ہے؟آنے والا تو بغیر باپ کے پیدا ہواہوگا،اور تیرا تو باپ ہے چھ فٹ کا؟

اورمرزا غلام احمد خودبھی لمبا تڑنگا آدمی تھا،یہ بات ہے تو نشانی پوری نہیں ہوئی،آنے والے جو مسیح ہیں ان کی والدہ کا نام تو مریم اورتیری والدہ کا نام چراغ بی بی عرف گھسیٹی ہے،یہ پیشین گوئی تجھ پر صادق نہیں آتی۔مرزا غلام احمد نے کہا : میں مسیح ہوں ،تمہیں غلط فہمی ہوئی ہے ،پوچھا گیا وہ کس طرح ؟

مسیح بننے کے لئے اچھی جھوٹی کہانی گھڑی:

اب یہ مسیح بننے کے لئے دجل کرتا ہے ،وہ دجل یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے مجھے(غلام احمد کو) کہا کہ تو مسیح ہے۔ پوچھا گیا کہ کس طرح ؟ تو مرزا نے کہا اللہ تعالیٰ نے مجھے غلام احمد سے مریم

220

بنایا،اور پھر استعارہ کے رنگ میں اللہ تعالیٰ نے میرے پیٹ میں مسیح کی روح پھونکی، دس مہینہ تک متواتر میں حمل سے رہا،اور اس کے بعد مجھے درد زہ کی تکلیف ہوئی،اور میں ایک کھجور کے پاس گیا، اور جا کر میں نے اس کے تنہ کو پکڑ کر زور لگایا ،پیچھے پلٹ کر دیکھا تو میںخود بخود پیدا ہوگیا تھا،چنانچہ اللہ تعالیٰ نے مجھے اسی طرح مسیح ابن مریم بنا دیا، دیکھئے! مرزا کی کتاب (کشتی نوح ص۴۶،۴۷، خزائن ج۱۹ ص۵۰،۵۱) اس نے مسیح بننے کے لئے خودہی یہ کہانی گھڑی۔

دجال سے مراد پادریوں کی جماعت ہے :

اس کو کہا گیا کہ حضرت مسیح کے زمانے میں تو دجال ہوگا ،تو اس نے جواب دیا کہ دجال سے مرا د پادری صاحبان ہیں،یعنی شخص واحد نہیں بلکہ دجال سے مراد پورا ایک گروہ( جماعت ) مراد ہے۔ایک مستقل جماعت ہے، اور وہ پادریوں کی جماعت ہے۔تو اسے کہا گیا کہ یہ پادری دجال ہیں؟ تو حضرت( مسیح علیہ السلام) تو دجال کو قتل کریں گے،آپ کا فرض بنتا ہے کہ آپ ان پادریوں کے ساتھ قتال کریں، لیکن اس کے بر خلاف آپ تو برطانوی حکومت کا خودکاشتہ و پرداختہ شجرہ خبیثہ ہیں۔یہ تو اچھا مسیح ہے جو دجال کی جماعت کی پیروی کرتا ہے۔تو اس نے کہا کہ لڑائی سے مراد یہ نہیں کہ دجال کے ساتھ تلوار کی لڑائی ہوگی بلکہ اس سے مراد جہاد بالقلم تحریری مقابلہ ہے۔

ابن صیاد کا تعاقب :

حالانکہ حضور (ﷺ) کے زمانہ میں مدینہ طیبہ میںابن صیاد نامی ایک لڑکا پیدا ہوا تھا،اور یہ بات مشہور ہوئی کہ وہ الٹی سیدھی باتیں کرتا ہے،اور اس کے متعلق دجال ہونے کا شبہ ہوا۔ حضور (ﷺ) کو جب اس کی اس قسم کی باتوں کی اطلاع پہنچی تو آپ(ﷺ) ایک مرتبہ بعض صحابہ(رضی اللہ عنہم) کے ہمراہ کھجوروں کے اس باغ کی طرف روانہ ہوئے، اور کھجور کے درختوں کے تنوں میں چھپتے چھپتے چلے تاکہ ابن صیادآپ (ﷺ) کو آتا ہوا نہ دیکھ لے۔اور آپ (ﷺ) اس کی بے خبری میں چپکے سے اس کے کلام کو سننا چاہتے تھے تاکہ اس کے کلام سے اندازہ ہو سکے کہ یہ ابن صیاد کوئی ساحر ہے یا کاہن ہے،اور یہ ایک چادر اوڑھے پڑے پڑے کچھ بول رہا تھا مگر اس کی ماں نے دور سے حضور (ﷺ) کو دیکھ کر اس کو مطلع کردیاکہ یہ محمد (ﷺ) آگئے !،چنانچہ وہ اچھل کر بالکل ٹھیک ٹھاک ہوکر بیٹھ گیا،لہٰذا بات نہ ہو سکی۔

221

پھر اور کسی وقت تشریف لے گئے تو آپ(ﷺ) نے کچھ سوال کئے،علماء تفصیلات جانتے ہیں،اس نے الٹی سیدھی باتیں کیں،تو حضور (ﷺ)نے فرمایا : اس پر معاملہ خلط ملط کردیا گیا ہے،حضور(ﷺ) کی موجودگی میں حضرت عمر (رضی اللہ عنہ)نے تلوار نکال لی،اور فرمایا: مجھے اجازت دیجئے کہ میں اس کو قتل کردوں؟،تو جواب میں حضور(ﷺ) نے ارشاد فرمایاکہ اے عمر ؓ ! اگر یہ دجال ہے تو تو اس کے قتل کرنے پر قادر نہیں!،اس کو مسیح ابن مریم (علیہما السلام)ہی قتل کریں گے،اگر یہ دجال نہیں تو ناحق کسی کوقتل کرکے اپنے ہاتھ کو کیوں رنگین کرتے ہو؟

(دیکھئے! تفصیل مشکوٰۃ ص۴۷۹، باب قصۃ ابن صیاد)

دجال سے جنگ قلم سے نہیں بلکہ تلوار سے ہوگی :

تو جس وقت حضرت عمر (رضی اللہ عنہ)نے تلوار نکالی تھی اور اسے قتل کرنا چاہتے تھے تو اگر بہ قول غلام احمدتلوار کی لڑائی مراد نہ تھی ،بلکہ قلم کی لڑائی مراد تھی تو حضور (ﷺ)ارشاد فرماتے: اے عمر ؓ! دجال کو قتل کرنے کے یہ معنی نہیں کہ تلوارسے قتل کیا جائے بلکہ یہ معنی مراد ہے کہ قلم کی لڑائی مراد ہے۔حضرت عمر (رضی اللہ عنہ)کا تلوار نکالنا اور حضور (ﷺ) کا جواب میں ارشاد فرمانا: اگر یہ دجال ہے تو اس کو مسیح ابن مریم (علیہما السلام)ہی قتل کریں گے،لڑائی جو ہوگی وہ قلم کی نہ ہوگی بلکہ تلوار کی ہوگی۔

دجال کے قتل کا مقام :

میرے ماں باپ،میرا جسم و روح آپ(ﷺ) پر قربان!دجال کے قتل ہونے کی جگہ بھی حضور (ﷺ) نے مقام لُد متعین فرمادی،آج بھی مقام لُد موجود ہے، اور وہ اسرائیل کے لشکر کے ہوائی مستقر کے طور پر استعمال ہورہا ہے۔

حضرت عیسیٰ ؑ و امام مہدیؑ کو دیکھ کر دجال اور اس کے رفقاء

نمک کی طرح پگل جائیں گے :

تو حضور(ﷺ) نے ارشاد فرمایا : جس وقت حضرت مہدی (علیہ الرضوان) اور حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) نماز پڑھ کر فارغ ہوں گے تو معلوم ہوگا کہ مسجد کے دروازہ پر دجال پہنچ چکا ہے ، اور حضرت مہدی (علیہ الرضوان) کی جماعت ان کا تعاقب کرے گی،حضور (ﷺ) نے

222

ارشاد فرمایا : دجال اور اس کی جماعت حضرت مسیح (علیہ السلام) کو دیکھ کر بالخصوص دجال اس طرح پگھلنا شروع ہوگا جس طرح نمک پانی میں پگھل جاتا ہے۔

مقام لُد پر دجال اور اس کے رفقاء کا قتل ہوگا :

دجال مسیح علیہ السلام کو دیکھ کر بھاگے گا ،آپ( علیہ السلام) اس کا تعاقب کریں گے، اور مقام لد، پر اس کو جا پکڑیں گے،اور دجال حضرت مسیح (علیہ السلام) کے ہاتھوں قتل ہوگا۔آپ (ﷺ) نے جگہ بھی متعین کردی اور لڑائی کابھی ارشاد فرمایا،آپ(ﷺ)نے ارشاد فرمایا: اس جنگ میں جو مسلمان شریک ہوںگے تو پتھر اور درخت بھی مسلمان کو آواز دیں گے کہ اے مسلمان آ! یہ میرے پیچھے یہودی چھپا ہوا ہے اسے پکڑ کر قتل کردیں،تو آپ (ﷺ)نے ارشاد فرمایا : ان یہودیوں کو سر چھپانے کی جگہ نہیں ملے گی،اکثر و بیشتر ان میں سے قتل ہو جائیں گے،جو باقی بچیں گے وہ دین حق کو قبول کرلیں گے۔

دجال اور اس کے رفقاء کے قتل کے بعد یہود و نصاریٰ

اور امت محمدیہ ایک امت ہوجائیں گے:

اور اس وقت کے لئے حضور(ﷺ) نے ارشاد فرمایا: یہلک الملل کلھا:تمام ادیان باطلہ مٹ جائیںگے،الا ملۃ واحدۃ و ھی الاسلام،اور دین اسلام کا غلبہ ہوگا،ساری کائنات میں صرف محمد عربی (ﷺ) کی شریعت کاجھنڈا لہرائے گا،اور قرآن مجید نے بھی اسی طرف اشارہ کیا ہے: ہوالذی ارسل رسولہ بالہدیٰ الخ۔( اگرملعون کی بات مراد لی جائے اور جہاد قلم مراد لیا جائے تو ملعون کے جہاد قلم سے دیگر ادیان باطلہ ختم ہوجانے چاہئیں تھے،حالانکہ ملعون کے ہوتے ہوئے ایساہوا نہیں )

مرزا غلام احمد قادیانی نے کہا : دجال سے مراد پادری اور لڑائی سے مراد قلم کی لڑائی ہے۔

دجال کی سواری گدھا ہوگی:

ان کو کہا گیا : حضور (ﷺ)نے ارشاد فرمایا: جو دجال آئے گا اس کی سواری کے لئے گدھا ہوگا،تو دجال بقول شما یہ پادری ہیں تو ان کا گدھا کہاں ہے؟تو جواب میں ملعون نے کہا : دجال کے گدھے سے مراد یہ ریل گاڑی ہے۔اس سے آپ حضرات اس کے دجل کا اندازہ

223

لگائیے،یعنی سواری دجال کی ہوگی تو اس پر سواری جس کی ہوگی وہ کون ہوںگے؟

مرزا کی موت کے بعد اس کی لاش اس کے دجال کے گدھے پر لاد کر ’بٹالہ‘ لائی گئی :

اور پھر اتفاق یہ ہے کہ مرزا غلام احمد کی موت لاہور میں واقع ہوئی ،اور جس مقدس( بری ) موت سے وہ مرا ہے الامان والحفیظ۔ ( میں دعاء کرتا ہوں کہ اللہ ہر مسلمان کو وہ مقدس موت نصیب فرمائیں جو ہمارے نبی(ﷺ) کو نصیب فرمائی تھی اور ہرقادیانی کو وہ موت دے جو اس کے نبی کو آئی تھی، اللہ معاف فرمائیں،نعوذ باللہ، استغفر اللہ، اللہ دشمن کوبھی اس کے شر سے محفوظ رکھے ،آمین )

مرزا غلام احمد قادیانی جس وقت فوت ہواتو اس کی لاش نے مال گاڑی میں لاہور سے بٹالہ تک کا سفر کیا،خود مرزائیوں کو سوچنا چاہئے کہ ’’یہ اچھا مسیح ہے کہ جس کو یہ دجال کا گدھا کہہ رہا تھا خود اس پر اس کی لاش نے سفر کیا ہے۔‘‘

حضرت عیسیٰ ؑ جامع مسجد کے مینارہ پر تشریف لائیں گے

مگر مرزا کا مینارہ اس کی موت کے بعد تیار ہوا:

پھر جب کہا گیا : مرزا اگر مسیح ہے تو مسیح( علیہ السلام )تو جامع مسجد کے شرقی مینارہ پر تشریف لائیں گے،تو مرزا کو کہا گیا کہ اگر تو مسیح ہے تو مینارہ کہاں؟تو کہا کہ مینار ہونا چاہئے! مینارپر اتریں گے!، بہت اچھا! ، چندہ کرو مینارہ ابھی بنالیتے ہیں۔

چنانچہ مرزا غلام احمد قادیانی کے زمانہ میں چندہ کیا گیا اور مینارہ اس کی موت کے بعدتکمیل کو پہونچا۔ حالانکہ حضور (ﷺ)نے ارشاد فرمایا : مینار پہلے سے ہوگا مسیح (علیہ السلام) بعد میں آئیں گے،یہ شخص کہتا ہے کہ مجھے مسیح پہلے مان لو، مینار بعد میں بنالیتے ہیں۔

مرزا کے مینارہ کو ایک لطیفہ سے تشبیہ :

ہمارے حضرت قاضی احسان احمد شجاع آبادیؒ ایک مثال دیا کرتے تھے کہ ایک بھنگی تھا جب وہ بیت الخلاء جاتا تھا، اپنے ساتھ سوراخ والا لوٹا لے جاتا تھا ،جب وہ قضائے حاجت سے فارغ ہوتا اس سے پہلے لوٹے میں پانی ختم ہوجاتا تھا۔جب بارہا ایسا ہوا تو ایک دن لوٹے سے مخاطب ہوکر کہتا ہے کہ آج میں تیرا انتطام کرتا ہوں کہ میں پہلے استنجاء کرتا ہوں بعد میں پیشاب کرتا

224

ہوں،چنانچہ اس بھنگی نے ایسے ہی کیا کہ پہلے استنجاء پھر پیشاب کیا تو مرزا غلام احمد قادیانی کی جو مثال ہے وہ بھنگی والی ہے ،مسئلہ یہ کہ مینار پہلے بعد میں مسیح (علیہ السلام)، اور یہ شخص کہتا ہے: نہیں جی! پہلے میں بعد میں مینار! ۔

اللہ تعالیٰ کا فیصلہ اٹل ہوتا ہے مگر جھوٹا نبی مرزا اس میں شک پیدا کرتا ہے :

جب مرزا کو یہ کہا گیا کہ: حضرت مسیح (علیہ السلام )تو مدینہ میں فوت ہوںگے اور قبر شریف بھی مدینہ میں ہوگی،مسیح (علیہ السلام) کے دفن ہونے کے لئے حجرہ ٔ عائشہ(رضی اللہ عنہا) میں ایک جگہ باقی ہے تو مرزا غلام احمد نے کہا کہ بہت اچھا!وہ بھی بہت آسان بات ہے ،اللہ تعالیٰ نے ہمارے ساتھ وعدہ کیا ہے کہ: ’’ہم مدینہ میں مریںگے یا مکہ میں۔‘‘ (البشریٰ ج۲ ص۱۰۵، تذکرہ ص۵۹۱) اور کہتا ہے: مجھے یہ بات خدانے کہی ہے۔تو مطلب یہ ہوا کہ خدا تعالیٰ کو یا ،یا کہنے کی کیا ضرورت تھی کہ مکہ یا مدینہ میں موت ہوگی۔اللہ تعالیٰ اپنے علم سے ایک بات فرماتا ہے اس کو ۔ یا, شک کے ساتھ والی بات کہنے کی ضرورت نہیں۔

مرزا ساری زندگی نہ مکہ جا سکا نہ مدینہ اور نہ تو مسجد اقصیٰ :

مرزا جی کا مرنا تو درکنار ساری زندگی مکہ نہ جا سکا نہ مدینہ جانا ہوا۔اس وقت قادیانی جماعت نہ مکہ جاسکتی ہے نہ مدینہ، اس کا داخلہ حکمًا ممنوع ہے،مرزا غلام احمد قادیانی کا مکہ اور مدینہ نہ جانا تو ہماری سمجھ میں آسکتا ہے کہ حضور (ﷺ) کی پیشینگوئی پوری ہورہی ہے کہ حضور(ﷺ)نے ارشاد فرمایا : میرے مکہ اور مدینہ میں دجال کا داخلہ ممنوع ہے۔اچھا ہوا !مرا وہ لاہور میں، دفن ہوا وہ قادیان میں!۔

موت کا معنی فتح بھی ہے تو سارے قادیانیوں کو مرجانا چاہئے

تاکہ ان کو مکمل فتح نصیب ہو!

اس کے ماننے والوں کو جب کہا گیا کہ مرزا کی پیشین گوئی پوری نہ ہوئی ،وہ تو قادیان میں دفن ہوا،تو مرزائی کرم فرمائوں نے اس کی تأویل یہ کی کہ جناب مرنے سے مراد یہ ہے کہ مکی فتح ہوگی یا مدنی فتح ہوگی۔اب آپ حضرات ارشاد فرمائیں کہ میں نے بھی کافی ملکوں کے دورے کئے ہیں اور آپ حضرات بھی اچھی معلومات رکھتے ہیں کہ آج تک کوئی کتاب ایسی نہ لکھی گئی جس میں موت کے معنی فتح کے لکھے ہوں۔الہام تھا کہ مکہ میں مروںگا یا مدینہ میں! ترجمہ کرتے ہیں کہ مکی فتح

225

ہوگی یا مدنی فتح ہوگی۔ تو ہم نے پھرمرزائیوں سے درخواست کی کہ موت کے معنی جب فتح کے ہیں تو تم سارے مرزائی مر جائو تاکہ تم سب کی فتح ہوجائے۔

دو زرد رنگ کی چادر کی بھی عجیب احمقانہ تاویل :

مرزائیوں سے کہا گیا :حضرت مسیح (علیہ السلام) جو ہیں وہ روضۂ اطہر میں دفن ہوںگے تو مرزائیوں نے اس کا یہ جواب دیا کہ مرزا غلام احمد بھی روضۂ اطہر میں دفن ہے،ہماری حیرت کی انتہا نہ رہی ،ہم نے پوچھا کہ وہ کس طرح؟ اب آپ ان کے دجل کا اندازہ لگائیے کہ حضور (ﷺ)نے ارشاد فرمایا : حضرت مسیح (علیہ السلام) تشریف لائیں گے تو ان کے جسم پر دو زرد رنگ کی چادریں ہوگی،مرزا غلام احمد کو کہا گیا کہ وہ زرد رنگ کی چادریں کہاں ہیں ؟تو اس نے جواب دیا کہ زرد رنگ کی چادروں سے مراد یہ دو بیماریاں ہیں جو مجھے لاحق ہیں، ایک مراق اور دوسری سلس البول۔زرد رنگ کی چادروں کی میں تٔاویل نہیں کہتا بلکہ دجل کہتاہوں، یہ کہا گیا کہ زرد رنگ کی چادروں سے مراد یہ ہے کہ سلس البول اور دوسری مراق ہے،میں ان کی تفصیلات میں نہیں جاتا،(نعوذ باللہ من ذالک)بلکہ وقت ضائع کرنا ہے۔

جھوٹے نبی کی عجیب احمقانہ باتیں:

وہ کہنے لگے کہ حدیث شریف میں آتا ہے کہ گنہگار کو جس وقت قبر میں رکھا جاتاہے تو اس کی قبر تنگ ہوجاتی ہے،اور مؤمن کی لاش جس وقت قبر میں رکھی جاتی ہے تو حد نگاہ تک اس کی قبر فراخ ہو جاتی ہے،تو حضور (ﷺ) نہ صرف مؤمنوں کے بلکہ کل انبیاء (علیہم السلام) کے سردار آپ(ﷺ)کی قبر اطہر فراخ ہوتے ہوتے قادیان تک پہنچ گئی،مرزا غلام احمد قادیان میں دفن ہوا گویا روضۂ اطہر میں دفن ہوا۔ اب آپ حضرات سے انصاف کے نام پر درخواست کرتا ہوں کہ کوئی معمولی عقل والا ،سوجھ بوجھ والا آدمی اس کو سن بھی سکتا ہے یا سننے کی ہمت بھی رکھتا ہے۔

اس مخبر صادق(ﷺ)پر قربان!جنہوں نے چودہ سو سال پیشتریہ پیشین گوئی کی تھی جو دجالون اور کذابونوالی حدیث میں ہے کہ جو میرے بعد نبوت کا دعویٰ کرے گا، اس کی ہربا ت میں دجل و فریب ہوگا،بات پر پیچ ہوگی ۔

قادیانی اس سوال کے جواب سے عاجز آگئے :

ہم نے کہا : اچھا اگر اسی طرح ہے کہ حضور(ﷺ) کی قبر مبارک قادیان تک فراخ ہو گئی

226

ہے، تو مدینہ طیبہ سے چلیں تو پہلے جدہ آتاہے، اس کے بعد کراچی،حیدرآباد،سکھر،بھاولپور ،لاہور وغیرہ کے بعد قادیان آتا ہے، تو ان تما م شہر اور ان کے درمیان میں اور گائوں قریہ وغیرہ بہت سارے چھوٹے بڑے شہر ہیں ،جن میں غلام احمد قادیانی کا کوئی استثناء نہیں بلکہ اس میں تو قبر مبارک کے فراخ ہونے کی وجہ سے (نعوذ باللہ) دیگر غیر مسلم اقوام ہندو، سکھ، یہودی، عیسائی وغیرہ بھی مدفون ہیں، تو وہ بھی قبر اطہر میں مدفون ہیں۔تو اس پر وہ لوگ فبہت الذی کفرکا مصداق بنے اور پھر کوئی جواب نہیں دے سکے ! یا للعجب!۔

کیا جنگ بدر سے چودھویں مراد ہے :

مرزا غلام احمد قادیانی کا اب ایک اور دجل سنئے !اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں ارشاد فرمایا : ہم نے بدر کے دن آپ کو فتح عطا فرمائی۔اس کی پوری تفصیلات ہیں۔مرزا غلام احمد قادیانی اس کا ترجمہ کرتا ہے کہ بدر سے مراد ۱۴ ویں(چودھویں) رات کا چاند ہے۔کہتا ہے کہ یہ آیت میرے متعلق نازل ہوئی ہے،بدر سے مراد وہ مقام بدر نہیں اور ۱۴ ویں(چودھویں) رات کے چاند سے مراد چودھویں صدی ہے،تو یہ پیشین گوئی میرے متعلق ہے۔

سید الاولین والآخرین کئی کئی ماہ فاقہ سے رہتے تھے ، مگرمرزاکو نئے نئے کھانوں کے لئے نبی بنایا گیا :

اس کی ایک اور سنئے ! یہ کہتا ہے کہ میرے سچا ہونے کی دلیل یہ ہے کہ یہ جتنی کھانے پینے کی چیزیں ہیں تو جس وقت دنیا ترقی کرکے عروج پر پہنچ گئی تو ان اشیاء نے اللہ تعالیٰ سے درخواست کی کہ یا اللہ! ہم تو تیار ہیں مگر ہم کو کھانے والا تیرا کوئی نبی نہیں ہے؟۔خود یہ لکھتا ہے کہ حضور(ﷺ) کے زمانہ میںپیسٹری وغیرہ نہیں تھے، تو ان پیسٹریوںنے مل کر درخواست کی کہ ہم رنگ بہ رنگی غذائیں تو تیا رہیں مگر ہمیں کھانے والا کوئی نبی نہیں ہے؟۔تو اللہ تعالی نے مجھے کھانے کے لئے نبی بنا دیا۔تو جناب والا ان کے دجل کا اندازہ لگائیے !

ایک پیٹ بھرو نبی کا لطیفہ بھی سنئے :

ہارون رشیدؒ کے زمانہ میں ایک شخص نے نبوت کا دعویٰ کیا بادشاہ کو پتہ چلا تو بادشاہ نے اس کو بلایا ،اس کی حالت کو دیکھا، بھوکا ہے،ننگا ہے،کھانے کو کچھ نہیں ملتا ،ہارون رشیدؒ نے کہا : اس کو

227

مطبخ میں بند کردو،اس کی خوب خدمت کرو،دو چار دن رکھا اور اس کے بعد بلا کر کہا : سناؤ بھائی اور کوئی وحی آئی ہے!؟،اس نے کہا :تازہ وحی یہ آئی ہے کہ ’’یا ایھا النبی باورچی خانہ میں رہیو‘‘!۔

تو قادیانی خود یہ کہتا ہے کہ کھانے پینے کی چیزوں نے مل کر یہ درخواست کی کہ کھانے پینے کے لئے کوئی نبی بھیج دو ، کھانے پینے کے لئے میں آگیا ہوں۔ لہٰذا میں نبی ہوں۔(معاذ اللہ) اس کے دجل کا اندازہ لگایئے ۔

ایک اور تأویل کی،آپ دجل کا اندازہ لگائیے:مرزا غلام احمد کہتا ہے کہ رسول اللہ (ﷺ) کے زمانہ میں یہ ڈاک ،رسل و رسائل اور پریس وغیرہ کا انتظام نہ تھا،تو ان سب چیزوں نے مل کر دعا کی کہ ہم تو سب دین کی خدمت کے لئے تیار ہیں مگر تیرا کوئی نبی نہیں تواللہ تعالی نے درخواست کو مان کر مجھے نبی بنا دیا،میں لکھتا جاؤںگا، مطبع چھاپتا جائے گا، لہذا میں نبی ہوں۔

ظفر اللہ قادیانی کی موت:

دجل و فریب کے متعلق حضور (ﷺ) کی یہ پیشین گوئی ہے،آج کی مجلس میں مرزا غلام احمد قادیانی کے دجل و فریب کے متعلق اتنی بات عرض کرنا تھی،اگر اللہ کو منطور ہوا تو اس کی کذب بیانی کے متعلق حضور (ﷺ) کی اسی حدیث کا دوسرا لفظ ’’کذابون‘‘ہے تو اس کی تفصیل کسی اور مجلس میں ہوگی۔ ان شاء اللہ۔

آج اطلاع ملی کہ ظفر اللہ خان (قادیانی ملعون )مرگیا ، بھائی! یہ ظفر اللہ قادیانی مرزا غلا م احمد کی نبوت کی کشتی کا بہت بڑا کشتی بان تھا،۵۳ ۱۹عیسوی کی جو تحریک چلی اس میں حکومتی اعدادو شمار کے مطابق ہمارے دس ہزار مسلمان شہید ہوئے،یہ تحریک اس کے علل و بلل کی وجہ سے تھی،حکومت میں وزیر خارجہ تھا، یہ ’’روز نامہ نوائے وقت‘‘ کی رپورٹ ہے کہ باہر کی دنیا میں جتنے بھی سفارت خانے تھے اس نے ان کو قادیانیت کی تبلیغ کا مرکز بنا رکھا تھا،خواجہ ناظم الدین سے یہ کہا گیا: اس کو ہٹا دو تو اس نے ہمارے علماء کویہ جواب دیا کہ شاید میری(منیر) انکوائیری کے اندر یہ بات آگئی ہے: اگر اس کو ہٹا یاگیا تو امریکہ ہمیں گندم نہیں دے گا ! بین الاقوامی طاقتوں کا گماشتہ اور اس کا آلۂ کار تھا!۔

تحریک چلنے کا سبب یہ بنا کہ قادیانیوں نے ’’آرام باغ کراچی‘‘ میں ایک جلسہ رکھا،ان دنوں مولانا لال حسین صاحب اختر (رحمتہ اللہ علیہ) کراچی میںہماری جماعت کے مبلغ

228

تھے،مرزائیوں کو کہا گیا : جلسہ میں گڑبڑ ہوگی، ہمارے نمائندے نے حکومت سے کہا: اگر ظفر اللہ اس جلسہ میں شریک ہوا تو بہت بڑے حادثے کا خطرہ ہے ۔ حکومت کے ذمہ داروں نے ظفر اللہ کو بلا کر کہا : آپ جلسہ میں شریک نہ ہوں ورنہ بہت بڑا حادثہ ہوگا! ؟ ظفر اللہ قادیانی نے یہ جواب دیا : حکومت کی ملازمت چھوڑ سکتا ہوں مگر اپنی جماعت کا جلسہ نہیں چھوڑ سکتا۔چنانچہ وہ جلسہ میں گیا،اور جلسہ میں گڑبڑ ہوئی،پکا قادیانی تھا اس کے بعد تحریک چل پڑی۔

الحمد للہ !ہمارے علماء کی قربانیاں رنگ لائی ہیں :

میرے عزیز بھائیو! آج ایک درخواست آپ حضرات سے یہ کرنا چاہتا ہوں کہ قادیانی خدا کی قسم اپنی موت مرچکے ہیں ، ہمارے علماء کرام نے جو آواز ممبر و محراب سے شروع کی تھی، الحمد للہ! قومی اسمبلی تک سنی گئی،جو مقدمات انہوں نے مقامی عدالتوں میں شروع کئے تھے وہ سپریم کورٹ اور وفاقی شرعی عدالت تک سنے گئے۔

جو علماء کا موقف تھا عدالت نے بھی وہی فیصلہ دیا،جو کمز ورو نحیف آواز علامہ بخاری صاحب(رحمۃ اللہ علیہ) اوران کے رفقاء و علماء کرام نے اٹھائی تھی، اس وقت وہ چار دانگ عالم میں سنائی دے رہی ہے ۔ علماء جیلوں میں گئے ،ماریں کھائیں،قربانی دی، ایثار کیا،الحمد للہ! جگہ جگہ ان کا موقف سنا گیا،مرزائیت کے متعلق پوری امت بیدار ہوگئی،اگر اس وقت مرزائیت زندہ ہے تو صرف دو باتوں کی وجہ سے،ایک اپنی تنظیم کی بناء پر زندہ ہے اور دوسرے اپنے مسلمان افسروں کی بے حسی اور بے غیرتی کی بنا پر زندہ ہے۔

اپنے آپ کو اوراپنی جماعت کو فعال بناؤ:

مرزائیت کی تنظیم کا تقاضا یہ ہے کہ ان کی تنظیم کے مقابلہ میں ہماری تنظیم بھی ہونا چاہئے، حضرت مولانا ابراہیم نوسارکا صاحب، مولانا ایوب صاحب اور مولانا عبد الرشید صاحب ربانی !آپ حضرات میرے مخدوم ہیں، آپ حضرات کو ان کی تنظیم کے مقابلہ میں اپنی تنظیم بنانا چاہئے،جماعت کا مقابلہ جماعت ہی کر سکتی ہے، فرد جماعت کا مقابلہ نہیں کرسکتا ہے۔ قادیانی ایک جماعت ہے اس کے مقابلہ لئے ایک جماعت کا ہونا ضروری ہے۔پاکستان میں جگہ جگہ تنظیم ہے تو یہاں بھی اس کے مقابلہ کے لئے تنظیم ہونی چاہئے۔وہ جماعت دنیا جہان کے وسائل و سیاست سے یکسر منہ موڑ کر صرف اس مسلک کے لئے ہو، اپنے آپ کو وقف کردیں،اوڑھنا بچھونا

229

صرف یہی ایک مسئلہ ہو،اگر قادیانی حکومت کے کسی محکمہ میں ملازم ہے تو وہ اپنی جماعت کا وفادار پہلے ہوگا بعد میں وہ حکومت کا ملازم و وفادار ہے۔

اللہ تعالیٰ ہمارے افسران کو بیدار کردیں:

اور دوسرے حصے میں ہمارے جو مسلمان افسران ہیں وہ رشوت خور ،مصلحت کوسوچنے والے،سفارش کے طلب گار،ان کو قطعًا اس کا احساس نہیں کہ حضور(ﷺ) کے امتی ہونے کے ناطے ہمارا بھی کوئی فرض بنتا ہے۔اگر وہ بیدار ہوجائیں تو قادیانی چند مہینوں کے مہمان ہیں۔اللہ تعالیٰ انہیں بھی بیدار ہونے کی توفیق عطا فرمائیں ۔ آمین ۔

ظفراللہ بڑا کٹر متعصب قادیانی تھا :

میرے دوستو اور بھائیو! مرزائی اپنی جماعت کے کاز کے لئے کتنے پکے ہیں جیسا کہ ظفر اللہ خان کا واقعہ پیش کیا گیا،یہ جب باہر بھیجا گیا تو عرب ممالک نے کہا : آپ ہمارا مقدمہ اقوام متحدہ میں پیش کریں؟،اس نے کہا: میں مقدمہ تب پیش کروںگا جب آپ ہماری جماعت کے سر براہ مرزا بشیر الدین محمود کو تار دیں ، پھر وہ مجھے لکھیں! تب جاکر میں مقدمہ پیش کروںگا!،پھر جس وقت آپ کو ووٹ دوں تب بھی شکریہ کا برقیہ آپ ہمارے سربراہ کو ارسال کریں گے۔کٹر متعصب تھا،ظفر اللہ ،مرزا!۔

ملک شاہ فیصل نے خادم ختم نبوت بن کر بہت خدمت انجام دی :

مرزاغلام احمد کی متعفن لاش کوعطر لگا کراس کے جنازے کو کندھے پر ڈالے پوری دنیا میں گھومتا رہا،تعارف کراتا رہا، اتنا متعصب ترین قادیانی تھا، حضور (ﷺ) کے روضہ مبارک کی جو جالی مبارک ہے وہاں ایک پردہ لگا ہوا تھا، وہاں آیت ماکان محمد ابا احد من رجالکم ولکن رسول اللہ وخاتم النّبیین وکان اللہ بکل شیٔ علیما لکھی ہوئی ہے،ایک دوسری یاایھا الذین آمنوا لا ترفعوا اصواتکم فوق صوت النبی ولا تجہر والہ بالقول کجہر بعضکم لبعض ان تحبط اعمالکم وانتم لا تشعرون بھی لکھی ہوئی ہے ۔اس سے پہلے (بیسیوں سال پہلے کی بات ہے) وہاں ایک گول دائرہ بنا کر لکھا گیا تھا : یہ حضرت ابوبکر(رضی اللہ عنہ) کی جگہ ہے یہ حضرت عمر(رضی اللہ عنہ) کی جگہ ہے ، چوتھا گول دائرہ بنا کر اس میں لکھا ہوا تھا کہ یہ عیسیٰ (علیہ السلام) کے لئے مخصوص ہے۔اس قسم کا وہاں پردہ تھا۔

230

سعودی حکومت کا یمن کے ساتھ ایک چوکی کا جھگڑا تھا ، دونوں حکومت سرحد کے ملنے کی وجہ سے چوکی پر دعویدار تھیں،مقدمہ بین الاقوامی عدالت میں گیا ،ظفر اللہ خان اس کا جج تھا۔ اس زمانے میں ابھی سعودی حکومت کو مرزائیت کا کما حقہ تعارف نہیں ہوا تھا،شاہ فیصل پر اللہ تعالیٰ کروڑں رحمتیں نازل فرمائے، بعد میں ختم نبوت کے وکیل بن کر بہت ہی خدمت کی۔

مولانا محمد یوسف بنوری ؒ کا ’’شاہ فیصل‘‘ کو متوجہ کرنا:

۱۹۷۴؁ عیسوی میں مولانا محمد یوسف بنوری (رحمۃ اللہ علیہ)شاہ فیصل کے پاس تشریف لے گئے اور جا کر کہا : مرزائی خانہ کعبہ کی زیارت کو آجاتے ہیں، تو قرآن و حدیث کا فیصلہ ہے کہ مرزائی اپنے ناپاک قدم سے حرم شریف کو ناپاک و پامال نہیں کرسکتا، براہ کرم آپ پابندی لگادیں کہ مرزائی کوئی نہ آسکے۔

شاہ فیصل نے کہا کہ مولانا ! کسی کی پیشانی پر یہ تو لکھا ہوا نہیں ہوتا!آپ اپنی حکومت کو کہو کہ پاسپورٹ میں مذہبی خانہ بنا دو کہ اس میں لکھ دیا جائے کہ یہ مرزائی و قادیانی ہے تو پھر ہم کسی کو نہ آنے دیں گے۔

تو مولانا نے فرمایا : میں آپ کی خدمت میں حضور (ﷺ) کی عزت کا مسئلہ لے کر آیا ہوں اگر گورنمنٹ پاکستان میرا مطالبہ مان لیتی تو آپ کے دروازہ پر رسول اللہ (ﷺ) کی عزت کی خاطر خیرات مانگنے کے لئے کبھی نہ آتا!،اور آپ مجھے ان کا راستہ بتاتے ہیں یہ کہہ کر حضرت بنوری(رحمۃ اللہ علیہ) آبدیدہ ہو گئے،شاہ فیصل بھی رو پڑ ا، اور کہا: مجھے آپ کی مجبوری کا علم نہیں تھا، آج کے بعد جس آدمی کے متعلق آپ لکھ دیںگے کہ یہ مرزائی ہے تو چاہے وہ پاکستان کی حکومت کا سربراہ ہی کیوں نہ ہو، وہ حرمین شریفین نہ آسکے گا۔

شاہ فیصل کا دوٹوک مطالبہ :

جب ۷۴ ۱۹؁عیسوی کا مقدمہ چل رہا تھا، شاہ فیصل نے بھٹو سے کہا :یہ مطالبہ مان لو ورنہ ہمارے تعلقات کشیدہ ہو جائیں گے! ،ہم سب کچھ برداشت کرسکتے ہیں مگر رسول اللہ (ﷺ)کے دشمنوں کو برداشت نہیں کرسکتے!۔

مرزا طاہر جھوٹی نبوت کا تاج اتارکر آئے تو شاہی مہمان بنائیں گے ورنہ :

غالبا ’’یوگنڈا‘‘ کے قادیانیوں نے شاہ فیصل کو لکھا کہ : ہماری جماعت کے سربراہ

231

مرزاطاہر احمد‘ آپ کے یہاں حج کرنے کو آنا چاہتے ہیں۔برائے کرم !آپ ان کو دعوت دیں !جواب میں انہوں نے لکھا: مرزا طاہر احمد مرزا غلام احمد کی جھوٹی نبوت کا تاج اتار کر آجائیں تو نہ صرف ہم ان کو دعوت دیں گے بلکہ ان کا استقبال کریں گے،اور سرکاری مہمان کے طورپر ان کو جگہ دیں گے۔اور اگر یہ مرزا غلام احمد کی جھوٹی نبوت کو ساتھ لے کر آنا چاہتا ہے تو آپ کو یہ بات یاد رکھنی چاہئے کہ جب تک جان میں جان باقی ہے حرمین شریفین کواس کے ناپاک قدموں سے ناپاک نہیں ہونے دیںگے۔ یہ سب کچھ شاہ فیصل کی خدمت کا صلہ ہے۔

مرزائی و قادیانی غیر مسلم اقلیت ہیں :

ایک اور بات آپ کی خدمت میں عرض کرنا چاہتا ہوں اور وہ یہ کہ پاکستان میں قادیانی غیر مسلم ہیں، جس کے معنی یہ ہیں کہ وہ غیر مسلم بن کر پاکستان میں رہ سکتے ہیں، کئی ممالک ایسے ہیں جہاں مرزائیت خلاف قانون ہے ،وہاںقادیانی غیر مسلم بن کر بھی نہیں رہ سکتے۔

حکومت ملائشیا ودیگر سترہ ممالک کا فیصلہ ہوچکا ہے کہ قادیانی غیر مسلم اقلیت ہیں :

حتیٰ کہ ملائشیا کی حکومت نے پچھلے دنوں اعلان کیا تھا کہ ہمارے یہاں جو شخص قادیانی ہوگا اگر وہ غیر ملکی ہے تو اس کو جلا وطن کردیا جائے گا۔

اگر ہمارے ملک کا ہے تو اس کو جیل میں رہنا پڑے گا،رسول اللہ (ﷺ) کے دشمنوں کو کھلے بندوں پھرنے کی اجازت نہیں دیں گے،اسی طرح سترہ ممالک احتیاطی اندازہ کے مطابق ایسے ہیں جنہوں نے اپنے یہاں مرزائیت و قادیانیت کو خلاف قانون قرار دیا ہے،اور غیر مسلم بھی قرار دیا ہے۔اللہ تعالیٰ پوری دنیا میں قادیانیت کے دجل و فریب کو اجاگر کرنے کی ہمیں توفیق عنایت فرمائیں (حاضرین: آمین)

ظفر اللہ خان ملعون کی کافرانہ و شاطرانہ ایک چال :

اسی سعودی حکومت نے یہ کہا : فیصلہ ہمارے حق میں کردیں تو ظفر اللہ خان نے کہا: میں فیصلہ آپ کے حق میں کرنے کو تیار ہوں مگر ایک کام میرا بھی کردیں اور وہ یہ ہے کہ رسول اللہ(ﷺ) کی قبر اطہر پر جو چادر ہے اس کو ہٹا دیں ،اور وہاں دوسری چادر رکھ دیں مگر اس میں یہ نہ لکھیں کہ یہ جگہ حضرت عیسیٰ( علیہ السلام) کے لئے ہے ۔اگر ایسا لکھا ہوا ہے تو اس میں مرزا غلام

232

احمد قادیانی کی جھوٹی نبوت کا جنازہ نکلتا ہے ، چنانچہ سعودی حکومت اس وقت مرزائیت سے واقف نہ تھی اور وہ چادر ہٹا دی گئی ،اور دوسری چادر لگا دی اور آج تک وہی چادر چلی آرہی ہے ۔یہ سب ظفراللہ خان ،ملعون کے کفر کی کارستانی اور نتیجہ ہے ۔ یہ اتنا بڑا سنگین کافر تھا۔

اس کو وزارت خارجہ سے ہٹانے کے لئے ۱۹۵۳عیسوی کی تحریک چلی،اور اس تحریک میں لوگوں نے جس بہادری سے قربانی دی،اس کے لئے ایک واقعہ عرض کرتا ہوں،پاکستان کے معروف و مشہور سیاستدان ’’نوابزادہ نصر اللہ خان‘‘ ہیں،یہ مولانا عطاء اللہ شاہ بخاری ؒکے رفقاء میں سے تھے،یہ پہلے مجلس احرار میں تھے،اس شخص کے نظریات سے اختلاف ممکن ہے مگر اس کے اخلاص میں کسی کو کلام نہیں،بہت محب وطن سیاستدان ہے۔

وہ خود کہتے ہیں: ان گنہگار کانوں نے سنا اور آنکھوں نے دیکھا کہ مذکور تحریک میں جب سارا دن گولیاں چلتی رہیں اور مسلمان شہید ہوتے رہے، اور شام کو جب قافلے آنا بندہوگئے تووہ کہتے ہیں: ہم نے ایک ۸۰ سال کے خمیدہ کمر بوڑھے باپ کو دیکھا کہ وہ اپنے پانچ سالہ بچے کو کندھے پر اٹھایا اور یہ کہتا ہوا آرہا ہے’’ قلم تاریخ لکھ رہا ہے اور اس کو میں اس بات کی اجازت نہیں دیتا ہوں کہ شام کو رسول اللہ (ﷺ) کی عزت و ناموس کے لئے کوئی قافلہ نہیں نکلا تھا ، ایک بوڑھی جان ہے اور ایک بچہ ہے۔ بوڑھا باپ بچے سے کہتا ہے: میرے کندھے پر بیٹھو! اور ختم نبوت کا نعرہ لگائو!میں زندہ باد کا نعرہ لگاتا ہوں۔اور ہم قربان ہوجائیں تاکہ تاریخ کا قلم یہ لکھے کہ:’’ جب رسول اللہ (ﷺ) کی عزت و ناموس کے لئے قربانی مانگی جارہی تھی تو ایک پانچ سالہ معصوم بچے اور ایک اسی سالہ بوڑھے باپ نے بھی قربانی دی تھی‘‘۔

ظفر اللہ ملعون کو ہٹانے کے لئے دس (۱۰) ہزار دین کے عاشقوں کا خون بہانا پڑا:

چنانچہ اسی طرح ہوا۔اس تحریک میں صرف ظفر اللہ کو ہٹانے کے لئے دس ہزار مسلمان شہید ہوئے ۔اللہ تعالیٰ ہم سب کو ان کے خون کی لاج رکھنے کی توفیق عطا فرمائیں۔آمین!

دنیا میں ظفر اللہ ملعون نے اپنے کئے ہوئے کی خوب سزا پائی :

یہ ظفر اللہ قادیانی ایک مرتبہ اپنے ساتھیوں کے ساتھ کراچی سے لاہور جارہا تھا، حیدرآباد اسٹیشن کے قریب اس کی ٹرین کو حادثہ ہوگیا۔ اس کے چند ساتھی مارے گئے،اور یہ بچ گیا،کسی نے سید عطاء اللہ شاہ صاحبؒ کو آکر کہا : ظفر اللہ خان بچ گیا! تو شاہ صاحبؒ نے کہا: یہ

233

اپنا انجام دیکھ کر مرے گا۔

شاہ صاحبؒ کی عظمت پر قربان! یہ بات شاہ صاحبؒ نے آج سے سالہا سال پہلے کہی تھی، مرزا غلام احمد قادیانی کی نبوت کو اور مرزا بشیر الدین محمود کی خلافت کو متعارف کرانے کے لئے ظفر اللہ نے جس ایڑی چوٹی کا زور لگایاتھا،آج اس کی بے کسی اور بے بسی کا یہ عالم کہ اس جماعت کا سربراہ اس کے جنازہ میں شریک نہ ہو سکا۔جس مرزائیت کو ظفر اللہ قادیانی نے ساری دنیا میں متعارف کرایاتھا، اسی ظفر اللہ کے سامنے پوری مرزائیت کے کفر کا جھنڈا سارے عالم میں لہرا دیا گیا،اور پوری دنیا میں بلند کردیا گیا۔ جس مرزائیت کو متعارف کرانے کے لئے حکومت کے صیغوں میں اپنے افراد بھرتی کئے ،اسی ظفر اللہ ملعون کی موجودگی میں حکومت کا ہر محکمہ اس کا مخالف ہوا۔اور جس ملک کا وزیر خارجہ بن کر اس نے نفع اٹھایا تھا، اسی ملک نے مرزائیوں کے غیر مسلم اقلیت ہونے کا فیصلہ دیا۔

ظفر اللہ خان ملعون دنیا میں بھی اپنا بد انجام دیکھ کر مرا ہے :

ہماری جماعت ’’عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت‘‘ کے ترجمان دو رسالے نکلتے ہیں:’’ ایک ’’ماہنامہ لولاک‘‘ اور دوسرا ’’ہفت روزہ ختم نبوت‘‘۔اس دفعہ جو ختم نبوت کا رسالہ چھپا( ہماری جماعت کے مبلغ مولانا کریم بخش کا فون آیا ہے) اس نے یہ خبر شائع کی ہے کہ جس وقت ظفر اللہ قادیانی بیمار تھا ،اس کی حالت یہ تھی کہ ’’بیمار ہونے کی حالت میں یہ بستر میں پیشاب پاخانہ کرتا رہا، اور مدت تک بیہوش رہا،ہوش آتا تھا پھر بیہوش ہوجاتا تھا، اس کو گلو کوز دیتے تھے تو منہ کے راستے جھاگ نکل آتی تھی۔ موت ایسی تھی کہ جیسے کسی کو ڈوبکیاں دے کر مارا جارہا ہو‘‘۔یہ اس طرح کی بری موت مرا ہے ،اس نے امت کی مذاق اڑائی تھی ،اب وہ اپنا انجام دیکھ کر مرا ہے۔ جس طرح ’’مرزا غلام احمد قادیانی اورظفر اللہ خان‘‘ کا انجام ہمارے سامنے ہے ،دعا کرو کہ اللہ تبارک و تعالیٰ پوری مرزائیت کا انجام ہمارے( امت کے ) سامنے کردے۔ (حاضرین نے کہا: آمین)

ڈاکٹر افتخار صاحب مرحوم کی حق گوئی وبے باکی :

آخری بات کہہ کر بات ختم کرتا ہوں :’’مرزا بشیر الدین محمود‘‘ ان کی جماعت کا سر براہ تھا، پاکستان کے مشہور و معروف ’’ڈاکٹر افتحار‘‘میڈیکل پروفیسر ہیں،جو اس وقت لاہور میں رہتے تھے، ’’مرزا بشیر الدین‘‘ جس وقت بیمار ہوا تو مذکور ڈاکٹر صاحب کو فیس دیکر بلایا گیاتاکہ کوئی نسخہ تجویز کریں۔جب وہ ’’ربوہ‘‘ (موجودہ نام چناب نگر) پہنچے تو ان کو ایک ویٹینگ

234

روم(انتظار گاہ) میں بٹھایا گیااور یہ کہا گیا : حضرت صاحب مصروف ہیں!،ملاقاتی مل رہے ہیں آپ تھوڑا انتظار فرمائیں!۔

ڈاکٹر صاحب کہتے ہیں : میں آدھا گھنٹہ انتظار کرتا رہا،پھر میں نے کہا کہ ملاقات کرائیں کہ میں مریض کو دیکھوں !تو انہوں نے پھر کہا : حضرت مصروف ہیں،تھوڑا اور انتظار کرو!۔بیس منٹ گذر گئے تو میں نے گھڑی دیکھ کر کہا : آپ نے مجھ سے ایک گھنٹہ کا وقت لیا ہے ملاقات کرائیں یا پھر میں جاتا ہوں ۔ حضرت صاحب ہوںگے تو آپ کے ہوںگے!، میرے لئے تو وہ صرف ایک مریض ہیں۔مجھے ایک گھنٹہ کی فیس دی ہے، اور اب گھنٹہ پورا ہونے کو ہے ،اور اب میں چلا جائوںگا اورمیں وقت میں اضافہ بھی نہیں کرسکتا چاہے تم مجھے دوسری فیس بھی دو۔

بقول ڈاکٹر موصوف‘ خدا کی مار کا میرے پاس کوئی علاج نہیں:

میں نے وقت دوسروں کو بھی دے رکھا ہے،تو انہوں نے آپس میں مشورہ کے بعد کہا: آئو جی! حضرت صاحب فارغ ہیں،آپ ان کا معائنہ کریں!۔تو ڈاکٹر صاحب کہتے ہیں: میں جب مریض کے پاس پہنچا تو وہاں کوئی ملاقاتی نہیں تھا۔( بس ملاقاتیوں کا بہانا تھا اپنے آپ کو بڑ ا بتانے کے لئے) ڈاکٹر صاحب کہتے ہیں: میں نے معائنہ کیا اورواپس آیا تو مجھے مرزائیوں نے کہا : آپ کے پاس ان کے علاج کا کوئی نسخہ ہے ؟میں کہا : بھائی بیمار ہو تو میں اس کا کوئی نسخہ تجویز کرتا! خدا کی مار پڑی ہے اس کا میرے پاس کوئی علاج نہیں۔اللہ ڈاکٹر افتخار پر رحمت نازل کریں ۔ (حاضرین نے کہا: آمین)

ڈاکٹر صاحب جب واپس آئے تو انہوں نے ’’آغاشورش کشمیر یؒ‘‘ کو یہ بات بتا دی، شورش نے یہ بات اپنے رسالہ ’’چٹان‘‘ میں چھاپ دی تاکہ ریکارڈ کے طور پر محفوظ رہے۔اب ڈاکٹر کے موجود ہوتے ہو ئے وہ انکار بھی تو نہیں کر سکتے تھے!اگر انکار کریں تو ’’شورش‘‘ ان کو برابر کرسکتا تھاکہ یہ دیکھو! ہمارے پاس حوالہ کے طور پر موجود ہے۔

’’مرزاغلام احمد قادیانی‘‘ کا حشر جو ہوا وہ آپ کے سامنے ہے،’’مرزا محمود‘‘ بھی اسی طرح کی موت مرا اور ’’مرزا ناصر احمد‘‘ کا واقعہ میں کل بیان کرچکاہوں،یہ کم بخت کسی شریف انسان کی مجلس میں بیٹھنے کے بھی لائق نہیں چہ جائیکہ وہ نبوت کی جگہ پر بیٹھ جائے۔بلکہ سارا خاندان ایسا ہی رہا۔

235

سو(۱۰۰) سال سے امت قادیانیت کے خلاف جنگ لڑرہی ہے :

سو سال امت نے قادیانیت کے خلاف لڑائی لڑی ہے۔اللہ تعالیٰ امت کے ان افراد پر رحم فرمائیں جو سو سال تک بڑی بے جگری سے لڑتے رہے۔اور الحمد للہ! اب بھی لڑائی جاری ہے، امید ہے کہ یہ آخری معرکہ یورپ میں ہوگا۔انشاء اللہ۔قادیانی بھاگ بھاگ کر اپنے آباء و اجداد کے پاس آرہے ہیں ۔

چور ڈاکو اسی گھر پر ڈاکہ ڈالتے ہیں جو غفلت کی نیند سوتے رہتے ہیں:

بھائی !چور ڈاکو اسی گھر پر ڈاکہ ڈالتے ہیں جہاں گھر والے سوتے رہتے ہیں،اگر گھر والے جاگتے رہتے ہیں تو پھر ڈاکو چور کو یہ ہمت نہیں ہوتی۔مرزائی آپ کو سوتا ہوا سمجھ کر یہاں آئے ہیں ،آپ حضرات کا فرض بنتا ہے کہ انکے خلاف آخری معرکہ لڑنے کے لئے آپ بیدار ہوں،تیار ہوں۔ تیار ہیں؟ جی ہاں! تیار ہیں! (یہ حاضرین مجلس نے کہا)

رسول اللہ(ﷺ)کے دشمن سے جتنا بغض ہوگا

اتناہی رسول اللہ (ﷺ)سے قرب ہوگا :

یہی آپ حضرت سے گذارش ہے۔اللہ تعالیٰ جو دلوں کے راز کوجاننے والے ہیں اس میں میری کوئی ذاتی غرض نہیں!۔آپ کا اورہم سب کا نفع اسی میں ہے۔مرزائیت کے خلاف ’’حضرت مولانا انور شاہ کشمیری‘‘ (رحمۃ اللہ علیہ)کی عادت یہ تھی کہ سبق پڑھاتے ہوئے جب مرزائیت کا نام آجاتا تو دو تین بڑے سخت جملے کہتے اور نام لینے کے بعد بھی دو چار سخت جملے کہتے! لعین ابن لعین، کذاب ابن کذاب،اللہ ان کو دنیا وآخرت میں رسوا کرے!،’’حضرت جذبات میں آکر اس طرح کے بڑے سخت جملے کہتے ‘‘ ! کسی ساتھی نے عرض کی کہ حضرت آپ جیسا نفیس الطبع انسان حدیث پڑھاتے ہوئے مرزا غلام احمد کی تردید کے لئے کوئی بات آجاتی ہے تو آپ اتنا بر انگیختہ کیوں ہوتے ہیں؟ مرزا کو اتنا سخت الفاظ کیوں کہتے ہیں؟جواب ارشاد فرمایا: مرزا غلام احمد‘رسول اللہ (ﷺ) کا دشمن ہے، تو مرزا سے جتنا بغض ہوگا اتناہی رسول اللہ (ﷺ) سے قرب ہوگا۔

جو شخص رسول اللہ (ﷺ) کی سفارش چاہتا ہے اسے چاہئے کہ ختم نبوت کا کام کرے :

حضرت شاہ صاحب(رحمۃ اللہ علیہ)وفات سے پہلے اپنی چار پائی اٹھواکر دار العلوم

236

لائے( آج ہی میں نے یہ واقعہ ’’نقش دوام‘‘ میں پڑھا ہے )تمام طلباء و اساتذہ کو اکٹھا کرکے کہا : تم میں سے جو شخص رسول اللہ (ﷺ) کی سفارش چاہتاہے اسے چاہئے کہ ختم نبوت کا کام کرے۔مرزائیت براہ راست نبی(ﷺ) سے متصادم ہے۔رسول اللہ(ﷺ) کے دشمن کے سامنے سینہ سپرہونا ہر مسلمان کے ایمان کا تقاضا ہے ،اور یہ بنیادی ضرورت ہے۔

جیسی صحبت ویسا اثر ہوتا ہے :

قادیانی مجلس و محفل ہوتی ہے ،ہمارے بعض دوست جاتے ہیں اور یہ کہتے ہیں کہ : ہم عقیدے کے تو پکے ہیں،ہم وہاں اس لئے جاتے ہیں دیکھتے ہیں: وہ کیا کہتے ہیں؟ بھائی! آپ کسی عطر والے کی دکان پر جائیں ،آپ کا ارادہ عطر خریدنے کا نہیں ہے، جب بھی عطر کی خوشبو آپ کو مفت میں ملے گی،لیکن اسی طرح کسی لوہار کی دوکان پر چلے جائیں ،بیشک اس سے کوئی چیز نہ بنوائیں،جب واپس ہوگے تو لوہے کازنگ اور بدبو آپ کے ساتھ ضرور ہوگی۔

دینی غیرت و حمیت کا تقاضا کیا ہے ؟

وہ کیسی مجبوری ہے جو آپ کفر کے مکان کو دیکھنا پسند کرتے ہیں؟ اور اس کی ہمت رکھتے ہیں؟،آیا یہ خدا یا رسول اللہ (ﷺ) کی طرف سے حکم ہے؟مرزائی آپ کی مجلس و محفل میں نہیں آتا! اگر آپ مسلح نہیں ہیں تو آپ ان کی نحوست کا ضرور اثر لے کر آئیں گے!ہم سب کے دین کی غیرت کا تقاضا ہے کہ قادیانیوں کا لین دین میں ،میل ملاپ میں،علیک سلیک میں ،گفتگو میں ،شادی بیاہ میں،خوشی غمی میں ان کا بائیکاٹ (قطع تعلق)کریں!بھائی !قادیانی کا آپ جتنا بائیکاٹ کریں گے، جتنی اس فتنہ کو ضرب لگائیں گے رسول اللہ (ﷺ) کی شفاعت کے اتنے ہی مستحق ہوںگے۔اللہ تعالیٰ آپ سب حضرات کو ختم نبوت کا کام کرنے کی توفیق عطا فرمائیں۔اور قیامت کے دن آقا صلی اللہ علیہ و سلم کا سایہ آپ سب حضرات کے سر پر ہو، اللہ تعالیٰ میری ٹوٹی پھوٹی معروضات کو قبول فرمائیں۔آمین۔

وآخر دعوانا ان الحمد للہ رب العالمین اللہم ربنا تقبل منا انک انت السمیع العلیم ، و تب علینا انک انت التواب الرحیم۔ برحمتک یا ارحم الراحمین۔

نوٹ :مولانا کے اس بیان کے بعد ہمارے پیر بھائی آج جب کہ یہ لکھا جارہا ہے

237

اللہ تعالیٰ نے ان کو واقعی شرف و عزت بخشی کہ ان کو خلافت بھی ملی اور حضرت کی محبت اور خصوصیت اور مجاز حضرت مسیح الامت و مسیح البیان حضرت مولانا مسیح اللہ صاحب (دامت برکاتہم زادہ اللہ شرفا و عظما) حضرت ابراہیم بھائی پٹیل المعروف بہ تسبیح والا نے چند کلمات ارشاد فرمائے جن کو تبرکًا نقل کیا جارہا ہے۔

مسئلہ ختم نبوت کے لئے ہر طرح کی قربانی کا جذبہ ہونا چاہئے :

عزیزم نے خطبہ ٔماثورہ کے بعد ارشاد فرمایا : بھائیو! حضرت مولانا اللہ وسایا صاحب دامت برکاتہم نے جو فرمایا: قادیانیوں کے خلاف اس ملک میں ایک جماعت ہونی چاہیئے،تو کسی کام میں کمال پیدا کرنے کے لئے اس کام میں کمال مشغولی کی ضرورت رہتی ہے ،جب تک یہ چیز نہ ہوگی اس کام میں کمال پیدا نہ ہوگا،اور اس کام میں کمال کا حاصل ہونا ممکن نہیں،تو اس سے جی (دل ) بہت خوش ہوا۔مولانا موصوف نے بہت صحیح مشورہ پیش کیا،میرے جی کو بھی لگا۔ ان شاء اللہ تعالیٰ یہاں کے رہنے والے لوگ اپنی طرف سے جس قسم کی بھی مدد کر سکتے ہیں مدد کریں گے،علم کی لائن سے ،جانی مالی( تن من دھن سے )۔

بس !اس چھوٹی سی بات پر میں اپنی بات ختم کرتا ہوں۔ یہ بات ہمیں ہمارے حضرت مولانا مسیح اللہ صاحب( دامت برکاتہم) نے بتائی، اور انہوں نے یہ بھی فرمایا: یہ بات ہمیں ہمارے حضرت حضرت حکیم الامت مولانا اشرف علی صاحب تھانوی( رحمۃ اللہ علیہ رحمۃ واسعۃ)نے بتائی تھی جو ہم سب جانتے ہیں۔ ایک مرتبہ پھر دہراتا ہوں کہ اگر کوئی انسان کوئی کام میں کمال حاصل کرنا چاہتا ہے تو اس کام میں کامل مشغولی کا ہونا ضروری ہے، جس طرح ہمارے یہ بزرگ (حضرت مولانا اللہ وسایا صاحب دامت برکاتہم) پاکستان سے جو یہاں تشریف لائے ہیں ہم نے دیکھ لیا کہ وہ حضرات اس میں کامل مشغولی لئے ہوئے ہیں( اور اس کام کو انہوں نے اپنا اوڑھنا بچھونا بنایا ہوا ہے) اسی لئے اللہ تعالیٰ ایسی جماعت کو کامیاب کرتے ہیں، اللہ تعالی ہر قسم کے فتنوں سے ہماری حفاطت فرمائیں۔آمین اور درود شریف کے بعد محترم تسبیح والے صاحب نے دعا فرمائی۔

اللہم ربنا تقبل منا انک انت السمیع العلیم۔و تب علینا انک انت التواب الرحیم۔ برحمتک یا ارحم الراحمین۔

238

تیسرا بیان

مرزا قادیانی کی نبوت کا معیار (یعنی جھوٹ)

239

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ

الحمد للہ وکفٰی وسلام علیٰ سید الرسل وخاتم الانبیاء وعلیٰ اٰلہ واصحابہ اللذین ہم خلاصۃ العرب العرباء وخیر الخلائق بعد الانبیاء۰ اما بعد۰ فاعوذ باللہ من الشیطٰن الرجیم بسم اللہ الرحمن الرحیم۰ ومن اظلم ممن افتریٰ علی اللہ کذبا اوقال اوحی الیّ ولم یوح الیہ شیٔ۰ قال النبیﷺ: ’’انہ سیکون فی امتی کذابون‘‘ وفی روایۃ ’’دجالون‘‘ ثلٰثون کلہم یزعم انہ نبی وانا خاتم النّبیین لا نبی بعدی۰ اللہم صل علیٰ سیدنا محمد عبدک ورسولک وصل کذٰلک علیٰ جمیع الانبیاء والمرسلین وعلیٰ الملائکۃ المقربین وعلیٰ عباد ﷲ الصالحین۰ اجمعین الیٰ یوم الدین۔

پاکستان میں ختم نبوت کے روح رواں

امیر شریعت سید عطاء اللہ شاہ بخاری ؒ تھے

کل گذشتہ حضرت اقدس تھانوی (رحمۃ اللہ علیہ) کے ارشاد گرامی پرہماری مجلس ختم ہوئی تھی،آج بھی چاہتا ہوں کہ حضرت کے ارشاد گرامی سے اپنی بات کا آغاز کروں!پاکستان میں ختم نبوت کے روح رواں تھے امیر شریعت سید عطاء اللہ شاہ بخاری(رحمۃ اللہ علیہ) ، مولانا احمد علی لاہوری(رحمۃ اللہ علیہ) کی ایک دینی درسگاہ جس کام نام ’’خدام الدین‘‘ تھا،اس کے سالانہ جلسہ میں تقریبا پانچ سو کے قریب علماء کرام تشریف لائے ہوئے تھے، ان میں علامہ سید انور شاہ کشمیری(رحمۃ اللہ علیہ)اور مولانا شبیر احمدعثمانی(رحمۃ اللہ علیہ)اورمولانا محمد یوسف بنوری(رحمۃ اللہ علیہ) وغیرہم بھی موجود تھے،ان تمام علماء کرام نے علامہ سید انور شاہ کشمیری (رحمۃ اللہ علیہ) کے کہنے پر سید عطاء اللہ شاہ بخاری(رحمۃ اللہ علیہ) کے ہاتھ پر بیعت کی، اور انہیں امیرشریعت کا خطاب دیا۔

حضرت تھانوی ؒ کی خدمت میں امیر شریعت کا حاضر ہونا:

حضرت مولانا خیر محمد صاحب جالندھری(رحمۃ اللہ علیہ) ( ان کا ملتان میں خیر المدارس نامی بہت بڑا مدرسہ ہے) حضرت اقدس تھانوی(رحمۃ اللہ علیہ) کے مجاز صحبت اور مجاز بیعت تھے، شاہ صاحبؒ سے ان کے بہت ہی قریبی تعلقات تھے،انہوں نے شاہ صاحبؒ سے

240

کہاکہ حضرت تھانوی (رحمۃ اللہ علیہ) کے پاس چلنا چاہئے، شاہ صاحبؒ حضرت تھانوی (رحمۃ اللہ علیہ) کی خدمت میں حاضر ہونے سے بہت ڈرتے تھے۔ شاہ صاحب (رحمۃ اللہ علیہ) نے ایک ٹوکری پھلوں کی خریدی اور جس وقت حضرت کی خدمت میں پہنچے توسر پر سے کپڑا اتار لیا، اور حضرت کی خدمت میں پہنچے،مجلس میں قدم رکھا تو مولانا خیر محمد صاحب ؒنے عرض کی : شاہ صاحبؒ! آپ کی خدمت میں آنے سے بہت ڈرتے ہیں تو حضرت اقدس تھانوی صاحبؒنے کہا : انہیں تو نہیں ڈرنا چاہیے پابندی تو غیروں کے لئے ہے ان کے لئے تو کوئی پابندی نہیں،شاہ جی! آگے بڑھے مصافحہ کیا اور پھلوں کی ٹوکری خدمت میں پیش کی۔

حضرت تھانوی (رحمۃ اللہ علیہ) نے کہا : یہ کیا ہے؟ تو شاہ صاحبؒ نے کہا : ہم نے اپنے بزرگوں سے سنا ہے کہ جس وقت بزرگوں کے پاس جائو خالی ہاتھ نہ جائو؟اور سر سے ٹوپی اس لئے اتاردی کہ بزرگوں کا کہنا ہے کہ جس وقت بزرگوں کی خدمت میں جائو تو سر خالی کرکے جائو !اور جب واپس ہو تو بھر کے لے جائو! شاہ صاحبؒ نے یہ خوش طبعی کی۔حضرت اقدس تھانوی(رحمۃ اللہ علیہ) نے ان کے سر پر ہاتھ پھیرا اورگفتگو شروع ہوئی تو حضرت تھانوی (رحمۃ اللہ علیہ)نے شاہ صاحبؒ سے پوچھا : آج کل آپ مرزائیت کے متعلق کیا کام کرتے ہیں؟

حضرت تھانوی ؒ کا تاحیات ختم نبوت کا ممبر بننا:

تو شاہ صاحب(رحمۃ اللہ علیہ) نے فرمایا: ہم نے اپنی مجلس احرار کا ایک شعبہ تبلیغ کے نام کا بنایا ہے جو صرف ختم نبوت کا کام کرتا ہے اور ملکی سیاست سے ان کو کوئی تعلق نہیں۔خالصًا دینی نقطۂ نظر سے مرزائیت و قادیانیت کا تعاقب کرتا ہے، تو اس پر حضر ت تھانوی(رحمۃ اللہ علیہ) بہت خوش ہوئے ۔ حضرت تھانوی(رحمۃ اللہ علیہ) نے پوچھا : شاہ صاحبؒ آپ کی مجلس میں شریک ہونے کا کوئی طریقہ ہو تو بتائو!؟ شاہ صاحبؒ نے فرمایا : سال کا ایک روپیہ!حضرت تھانوی(رحمۃ اللہ علیہ) نے پچیس روپے نکالے اور شاہ صاحبؒ سے کہا : مجھے بھی ممبر بنایا جائے ،اور ان پچیس سال میں میرا انتقال ہوگیا تو میں ختم نبوت کے ممبر ہونے کی حیثیت سے فوت ہوںگا۔اللہ تعالیٰ کی شان! کہ انہی پچیس سال میں حضرت اقدس تھانوی(رحمۃ اللہ علیہ) کا انتقال ہوگیا۔

حضرت تھانوی ؒکے مرزائیت کے خلاف دو رسالے :

حضرت اقدس تھانوی (رحمۃ اللہ علیہ) نے مرزائیت کے خلاف دورسالے لکھے، ایک

241

کا نام ہے: ’’الخطاب الملیح فی تحقیق المہدی والمسیح‘‘ ہمارے پاس موجود ہے۔اوردوسرے رسالہ کا نام ہے’’ قائد قادیان‘‘۔حضرتؒ نے یہ دورسالے قادیانیت کے خلاف لکھے تھے۔

اللہ تعالیٰ کا پیغمبر کبھی بھی جھوٹ نہیں بولتا ہے :

آپ کے خطیب مولانا مفتی حافظ قاری استاد حدیث اور خلیفۂ مفتی محمود صاحب(رحمۃ اللہ علیہ) جناب حضرت موسیٰ بدات صاحب (دامت برکاتہم)نے یہ ارشاد فرمایا:’’ آج کی مجلس میں یہ گفتگو ہونی چاہئے کہ’’ آیا مرزا غلام احمد قادیانی نبوت کے معیار پر پورا اترتا بھی ہے یا نہیں‘‘؟ تو اس ضمن میں آج ایک ہی بات عرض کرسکوں گا اوروہ یہ ہے کہ اللہ کا پیغمبر کبھی جھوٹ نہیں بولتا ،ہمارے یہاں یہ بات مسلم ہے کہ ساری کائنات کا نظام بدل سکتا ہے،چاند ستارے بے نور ہو سکتے ہیں،آگ ٹھنڈی ہوسکتی ہے دریا خشک ہوسکتے ہیں،پہاڑ اپنی جگہ سے ہٹ سکتا ہے مگر نبی کا فرمان جھوٹا نہیں ہو سکتا! (حاضرین مجلس: بے شک!)

حضور (ﷺ) کی جملہ اولاد حضرت خدیجہ ؓ کے بطن سے تھی سوائے (حضرت)ابراہیمؓ کے :

میرے عزیزو! رحمۃ للعالمین (ﷺ) کی جتنی صاحبزادیاں(رضوان اللہ علیہن) تھیں وہ سب ام المؤمنین حضرت خدیجہ(رضی اللہ عنھا) کے بطن مبارک سے تھیں سوائے حضرت ابراہیمؓ کے جو حضرت ماریہ قبطیہ(رضی اللہ عنھا) کے بطن مبارک سے تھے۔حدیث شریف میں آتا ہے کہ’’ جس وقت حضرت ابراہیم کا انتقال ہورہا تھا ۔

نرینہ اولاد کے بچپن میں فوت ہونے کی حکمت الٰہیہ:

ایک مسئلہ عرض کئے دیتا ہوں کہ حضور(ﷺ) کی جتنی نرینہ اولاد تھی ان سب کا بچپن میں انتقال ہوگیا تھا،اور اس کی وجہ امام بخاری (رحمۃ اللہ علیہ)نے یہ لکھی ہے کہ حضور(ﷺ)کی نرینہ اولاد اگر جوان ہوتی اور انہیں نبوت ملتی تو یہ ختم نبوت کے منافی تھا،اور اگر انہیں نبوت نہ ملتی تو پھر سوال پیدا ہوتا کہ ابراہیم( علیہ السلام) کا بیٹا اسحاق (علیہ السلام) اور اسماعیل (علیہ السلام) نبی اور یعقوب( علیہ السلام) کا بیٹا یوسف نبی‘ تو محمد(ﷺ) کا بیٹا نبی کیوں نہیں؟اگر جوان ہوتے

242

نبوت ملتی تو یہ ختم نبوت کے منافی تھا۔امام بخاری (رحمۃ اللہ علیہ) فرماتے ہیں : اللہ رب العزت نے اس مسئلہ کو شروع سے ہی ختم کردیا تاکہ ختم نبوت کا مسئلہ زندہ وتابندہ رہے۔ اس کی تشریح اگر اللہ تعالیٰ کو منظور ہوئی تو کل پرسوں کی مجلس میں ہوجائے گی تو حضور (ﷺ)گھر تشریف لے گئے، اپنے بچے کو اٹھایا،گودمیں لٹایا،آخری وقت آیا ہچکی لگی،تو حضور (ﷺ) کے آنسو جاری ہوگئے،آپ(ﷺ) کے آنسو گرتے گرتے چہرہ ٔمبارک سے ہوتے ہوئے بچے کے چہرے پر گرے،ایک صحابی(رضی اللہ عنہ) پاس بیٹھے ہوئے تھے، انہوں نے حضور (ﷺ)کا کندھا ہلا کر عرض کی:آقا ! آپ بھی روتے ہیں؟

کسی عزیز یا اولاد کی موت پرآنسو بہانا صبر کے خلاف نہیں ہے :

تو حضور (ﷺ) نے جواب میں ارشاد فرمایا : کسی عزیز کی جدائی پر دل صدمہ کرے اور آنکھ آنسو بہائے، میں نے کبھی اس سے منع نہیں کیا، اس کے خلاف واویلا کرنا،سینہ زنی کرنا،قدرت کے خلاف پروپیگنڈا کرنا ، آوازیں نکالنی یہ ممنوع ہیں۔دل صدمہ کرے ،آنکھ آنسو بہائے یہ فطرت کا تقاضا ہے۔

تو ام المؤمنین حضرت ماریہ قبطیہ(رضی اللہ عنھا) اپنے بچے کے صدمے میں باربار روتی تھیں،حضور(ﷺ) ایک بار تشریف لائے اور صبر کی تلقین کی،دو بارہ فرمائی،سہ بارہ فرمائی!،مگر ماں صاحبہ!ان کوتسلی نہیں ہوتی تھی،ایک ہی بچہ تھا بچپن میں انتقال ہوگیا۔میں نے بارہا اس کو منع کیا کہ آپ اتنا نہ رویا کریں؟لیکن تمہیں صبر نہیں آتا۔اگرتو چاہے تو میں اللہ سے دعا کروںکہ اللہ تعالیٰ آسمانوں کے پردے ہٹادے، اور جنت تیرے سامنے کردی جائے، اور تو آنکھوں سے دیکھ لے کہ تیرا بیٹا جنت میں حوروں کے پاس پرورش پارہا ہے تو کیا تجھے تسلی ہو جائے گی ؟۔

رسول اللہ ﷺ کے فرمان پر جنت دیکھنے کی پیش کش قبول نہ کرنا :

حضور(ﷺ)کی پیش کش کا اندازہ فرمائیں!میں دعاء کروں !اللہ تعالیٰ پردے ہٹادے!،اور جنت تیرے سامنے کردی جائے ، اور تو آنکھوں سے دیکھ لے کہ تیرا بیٹا جنت میں حوروں کے پاس پرورش پارہا ہے تو کیا تجھے تسلی ہو جائے گی؟!حضرت ماریہ(ضی اللہ عنھا)نے عرض کیا :یا رسول اللہ (ﷺ) مجھے تسلی ہوگئی!اب دعاء کرنے اور جنت دکھانے کی ضرورت نہیں!عرب کی عورتوں نے حضرت ماریہ (رضی اللہ عنہا)سے کہا: تیرے مقدر کو کیا ہوا؟ حضور (ﷺ) کا دریائے

243

رحمت جوش میں تھا ،حضور (ﷺ) دعاء کرتے اور جنت تیرے سامنے کردی جاتی! اور تو اپنے بچے کوجنت میں حوروں کے ساتھ کھیلتا ہوا دیکھ لیتی! اور دنیا کی عورتوں میں تو واحد عورت ہوتی جس نے دنیا میں رہ کر جنت کا نظارہ کیا،حضور(ﷺ) کی اتنی بڑی پیشکش کا انکار کردیا ؟۔

ماریہ قبطیہؓ کو رسول اللہ (ﷺ) کے فرمان پر یقین وایمان ہے مگر اپنی آنکھوں پر نہیں :

حضرت ماریہ(رضی اللہ عنھا) نے جواب میں یہ کہا :کہ بی بی !تمہاری رائے اور سوچ اور سمجھ بھی صحیح ہے لیکن جو میں نے کیا وہ بھی صحیح ہے اس لئے کہ میں حضور(ﷺ) کی خدمت میں درخواست کرتی اور حضور (ﷺ) دعاء کرتے اور جنت میرے سامنے آجاتی اور میں اپنے بیٹے کو حوروں کی گود میں کھیلتا ہوا دیکھ لیتی تو اس کا معنی یہ تھا کہ مجھے اپنی آنکھ پر تو اعتبار ہے مگر حضور (ﷺ) کی بات پر اعتبار نہیں؟، حالانکہ میری نظر خطا کرسکتی ہے مگر حضور (ﷺ) کی زبان مبارک خطا نہیں کر سکتی؟

رسول اللہ (ﷺ) کی ایک پیشین گوئی :

تو بھائی :!:بات یہ ہے کہ پیغمبر جو بات کہہ دے یہ نا ممکن ہے کہ وہ بات پوری نہ ہو۔ میں اس ضمن میں رسول اللہ (ﷺ) کی ایک پیشین گوئی کا تذکرہ کرنا چاہتا ہوں،حضور(ﷺ) جس وقت مکہ مکرمہ سے مدینہ منورہ ہجرت کرکے جارہے تھے اور حضرت صدیق اکبر(رضی اللہ عنہ)آپ کے ساتھ تھے ،پیچھے ابو جہل نے اعلان کردیا کہ لوگو! تم میں سے جو شخص حضور(ﷺ) کو زندہ گرفتار کرکے لائے گا اسے اتنا اکرام و انعام دیا جائے گا۔

رسول اللہ(ﷺ) کو جب جلال آتا تو کوئی مائی کا لال آمنہ کے لال کے جلال کا مقابلہ نہیں کرسکتا تھا:

سراقہ ابن مالکؓ عرب کا ایک مشہور بہادر تھا،ابھی تک مسلمان نہیں ہوئے تھے،اللہ کی شان!: باقی لوگ رسول اللہ (ﷺ) کو تلاش کرنے میں اور راستہ پر چل دئے، اور سراقہؓ اسی راستہ پر چلا جس راستہ پر حضور(ﷺ) اور صدیق اکبر (رضی اللہ عنہ) مدینہ منورہ کاسفر کر رہے تھے تو سراقہؓ چلتے چلتے حضور(ﷺ) کے پیچھے پہنچ گیا۔( یہاں ایک بات اور عرض کرنی ہے وہ یہ کہ

244

ہمارے نبی (ﷺ)سراپا رحمت و شفقت تھے مگر جب حضور(ﷺ) کو جلال آتا تو کوئی مائی کا لال آمنہ کے لال کے جلال کا مقابلہ نہیں کرسکتا تھا) حضور(ﷺ) کی خدمت میں جب صدیق اکبر(رضی اللہ عنہ)نے عرض کی کہ:’’ یہ سراقہ آگیاہے‘‘!،تو حضور (ﷺ) نے اپنے گھوڑے کو موڑا ،سراقہؓ کی طرف رخ کیا ،بس! حضور(ﷺ)کی نظر جلال پڑنے کی دیر تھی ‘سراقہؓ کے گھوڑے کے پاؤں زمین میں دھنسنا شروع ہوگئے حالانکہ سنگریزے،پتھر اورسخت زمین تھی۔ حضور(ﷺ)نے اس حالت میں ارشاد فرمایا: سراقہؓ! تو آج ہمیں گرفتار کرنے آیا ہے حالانکہ میں دیکھ رہا ہوں کہ کل قیصر وکسریٰ کے ملک فتح ہوںگے وہاں سے سونے کے کنگن آئیں گے اور تجھے سپرد کئے جائیںگے اور تو مجھے گرفتار کرنے آیا ہے؟

نبی(ﷺ) کا بے کسی اور بے بسی کے عالم میں بھی اللہ تعالیٰ سبحانہ پرکتنا زبردست اعتماد ویقین تھا:

آپ حضرات ! حالات کو دیکھیں،حضور(ﷺ)نے بات اس وقت کہی جب حضور(ﷺ)کو مکہ سے نکالا جارہا ہے،اور مکہ کی زمین تنگ کردی گئی،جس وقت آپ مکہ مکرمہ سے یہ کہہ کر نکلے کہ مجھے تجھ سے محبت ہے ،میں یہاں پیدا ہوا ،یہاں پلا، بڑا ہوا ،آج تجھے چھوڑ کر جانے کو جی نہیں چاہتا لیکن میں کیا کروں، یہاں کے مکین ، رہنے والے مجھے رہنے نہیں دیتے!۔

حضور(ﷺ) کی پریشانی،بے کسی اور بے بسی کا عالم یہ ہے کہ مکہ مکرمہ چھوڑنے پر مجبور کردیئے گئے، مگر نبی(ﷺ) کو خدا کی ذات پر یہ اعتماد ہے کہ ان حالات میں جب آپ (ﷺ)کو اپنے ہی شہر میں رہنے نہیں دیا جاتا!آپ پیشین گوئی کررہے ہیں،سراقہؓ نے عرض کیا یا رسول اللہ (ﷺ) میری غلطی معاف فرمائیں!،میں آپ کے ساتھ وعدہ کرتا ہوں کہ آئندہ ایسی غلطی و گستاخی نہیں ہوگی،میں واپس جارہا ہوں،اگر کوئی آرہا ہے تو اسے بھی میں واپس کردوںگا،حضور(ﷺ)نے اسے امان دیدی اور وہ واپس چلا گیا۔

حضرت عمر ؓ کو رسول اللہ (ﷺ) کی پیشین گوئی پرکتنا ایمان و یقین تھا :

آپ حیران ہوںگے حضور(ﷺ) کا زمانہ گزرا ،صدیق اکبر(رضی اللہ عنہ) کا زمانہ گزرا،حضرت عمر (رضی اللہ عنہ) کا زمانہ آیا ،قیصر و کسریٰ فتح ہوئے،وہاں سے خزانہ کا مال آیا،حضرت فاروق اعظم(رضی اللہ عنہ) کی خدمت میں وہ مال ڈھیڑ کردیا گیا،آپ رضی اللہ

245

عنہنے اعلان کردیا کہ نماز کے بعد کسی کو جانا نہیں،مال غنیمت تقسیم ہوگا،نماز کے بعد فاروق اعظم (رضی اللہ عنہ) اس ڈھیڑ کی طرف گئے جس طرف سونا رکھا ہوا تھا،وہاں جاکے کسی چیزکی تلاش کررہے تھے اور وہ مل نہیں رہی تھی،واپس ممبر کے پاس آگئے اور پوچھا کہ یہ مال کون لایا ہے؟ تو دس بارہ آدمی کھڑے ہوگئے،فرمایا: مال پورا کرو مال پورا نہیں!

انہوں نے حیرت سے کہا! : یا عمر(رضی اللہ عنہ) آپ کا ہمارے متعلق یہ گمان!،نعوذ باللہ! ہم نے مال کے اندر خیانت و بد دیانتی نہیں کی،ہم وہ ہیں :جنہوں نے رسول اللہ (ﷺ) کی خدمت میں رہ کر امانت و دیانت کے اسباق پڑھے،اگر ہم مال پورا نہیں لائے تو دنیا میں کون شخص ایسا ہوگا جو دیانت کا معیار بر قرار رکھ سکے گا،یہ کہنا تھا کہ حضرت عمر(رضی اللہ عنہ) کی آنکھوں میں آنسو آگئے۔

فرمایا: ایک طرف تمہاری امانت ہے اور ایک طرف رسول اللہ (ﷺ) کا فرمان ہے،میں کیا کروں؟ ! میرے نبی(ﷺ)نے ارشاد فرمایا تھا :جس وقت قیصر و کسریٰ کے علاقے فتح ہوںگے تو اس کے خزانہ میں سونے کے کنگن بھی آئیں گے،تمام مال آگیا مگر سونے کے کنگن نہیں ہیں۔جب تک سونے کے کنگن نہیں آئیں گے اس وقت تک مال پورا نہیں ہوگا،اس لئے کہ ساری کائنات کا نظام بدل سکتا ہے مگر میرے نبی(ﷺ) کا فرمان بدل نہیں سکتا۔جھوٹا نہیں ہوسکتا۔

چنانچہ اسی اثنامیں ایک اور شخص آیا اس نے اپنی جیب سے رقعہ نکال کر فاروق اعظم(رضی اللہ عنہ) کو دیا انہوں نے پڑھا اور کہا : بھائی مال لائو!اس رقعہ میں علاقہ کے گورنر نے لکھا تھا: تمام تر مال ہم نے آپ کی خدمت میں بھیج دیا سوائے سونے کے کنگن کے،ان کے متعلق رسول اللہ (ﷺ) کی خاص پیشین گوئی ہے، لہٰذا خاص قاصد وآدمی کے ذریعہ اس کو آپ کی خدمت میں بھیجا گیا ہے۔

حضرت عمر(رضی اللہ عنہ) نے کنگن کو ہاتھ میں لئے اور کہا کہ: ’’ہل منکم سراقہ ابن مالک(رضی اللہ عنہ)‘‘ بوڑھا آدمی ،لکڑی کے سہارے کونے میں کھڑا ہوا،کہتا ہے: مجھے سراقہؓ کہتے ہیں۔فاروق اعظم (رضی اللہ عنہ)نے کہا :تمہیں یاد ہے :رسول اللہ (ﷺ) کا وعدہ یاد کرو؟ میں پورا کر دیتا ہوں۔اور فرمایا : مرد کے لئے سونا پہننا حرام ہے ،یہ کنگن ہاتھ میں لے کر ،ہوامیں لہرا دو تاکہ دنیا جہان اس بات کی گواہ ہوجائے کہ کائنات کا نظام بدل سکتا ہے مگر میرے نبی(ﷺ) کا فرمان جھوٹا نہیں ہوسکتا۔ اس ضمن میں ایک اور بات بھی ہے ۔

246

حضرت عمر ؓ نے رسول اللہ (ﷺ)کی زبان سے نکلے ہوئے

ایک ایک لفظ کا کتنا خیال رکھا :

وہی جس وقت قیصر و کسریٰ کے علاقے فتح ہوئے،وہاں سے بادشاہ کا تخت،جبہ،دستار بھی اس مال میں آیا تھا ،حضرت فاروق اعظم(رضی اللہ عنہ)نے ارشاد فرمایا : سب کے ٹکڑے کرکے مجاہدین میں تقسیم کردو،اور آخر میں ارشاد فرمایا: بادشاہ کی قالین کے بھی ٹکڑے کرکے مجاہدین میںتقسیم کردیا جائے،ایک صحابی(رضی اللہ عنہ) نے عرض کیا : دوسری چیزوں کے ٹکڑے ہوئے میں نہ بولا مگر قالین کے ٹکڑے کرنے سے اس کی افادیت ختم ہو جائے گی؟حضرت عمر(رضی اللہ عنہ) نے ارشاد فرمایا: بھائی! مجھے ٹکڑے کرانے دو اور ٹکڑے کرانے کی حکمت میں بعد میں سمجھاتا ہوں۔ میں نے یہ کیوں کیا؟،چنانچہ ٹکڑے کراکے تقسیم کئے گئے،اس کے بعد حضرت عمر (رضی اللہ عنہ) نے ارشاد فرمایا : بھائی! تمہاری نظر چیزوں پر تھی اور میری نظر رسول اللہ (ﷺ) کے فرمان پر تھی۔

بھائی! حضور (ﷺ) کا والا نامہ اس بادشاہ کے پاس گیا تھا،اس نے رسول اللہ(ﷺ) کے خط کے ٹکڑے کئے تھے،اس کی اطلاع جب حضور ﷺ کو ملی تو حضور a نے ارشاد فرمایا: اچھا اس نے آج میرے خط کے ٹکڑے کئے ہیں ایک وقت آئے گا اللہ تعالیٰ اس کے ملک کے ،بادشاہی کے ٹکڑے ٹکڑے کر دے گا۔میں نے ان چیزوں کے ٹکڑے نہیں کئے ہیں بلکہ رسول اللہ ﷺ کا فرمان پورا کیا ہے۔( ورنہ مجھے بھی اس کی افادیت کا علم تھا)

قیامت اس وقت تک قائم نہ ہوگی جب تک رسول اللہ (ﷺ)کی ایک ایک پیشین گوئی پوری نہ ہوجائے :

حضرت مولانا انور شاہ کشمیری(رحمتہ اللہ علیہ) فرماتے تھے : اس وقت تک قیامت قائم نہ ہوگی جب تک رسول اللہ (ﷺ)کا ایک ایک فرمان پورا نہ ہوجائے۔میں نے حدیث شریف خانپور کے چھوٹے سے دیہات میں حضرت مولانا محمد عبد اللہ درخواستیؒ کے ہاں پڑھی تھی۔جس زمانہ میں میں نے حدیث شریف پڑھی تھی،شباب کا عالم تھا ابھی ڈاڑھی بھی نہ آئی تھی،یہ یورپ کا ماحول سامنے نہ رکھیں بلکہ پاکستان کا ماحول اور وہ بھی ایک چھوٹے سے دیہات

247

کا وہ حدیث شریف یہ تھی کہ حضور(ﷺ)نے ارشاد فرمایا : قیامت اس وقت تک قائم نہ ہوگی کہ ایک وقت آئے گا کہ عورتوں کے سر کے بال اس طرح ہلیںگے جس طرح اونٹ کی کوہان ہلتی ہے۔خدا گواہ ہے کہ یہ بات قطعًا سمجھ میںنہیں آئی،عورت جس وقت کنگھی کرتی ہے اس کے بال سر سے چپک جاتے ہیں وہ کس طرح ہلیںگے یہ بات قطعًا سمجھ میں نہیں آتی تھی۔جس وقت ماحول نے پلٹا کھایا، اور شہر آنا ہوا تو دیکھا کہ عورتیں کیا کرتی ہیں،اور وہی بات دیکھی جس کا حدیث شریف میں ارشاد ہے۔عورتوں کے بال نہیں ہل رہے بلکہ نبی(ﷺ) کا فرمان پورا ہورہا ہے۔تو حضور(ﷺ)نے جو کچھ پیشین گوئی فرمائی ہے وہ سب قیامت تک پوری ہوکررہے گی۔

اللہ تعالیٰ کا نبی اللہ تعالیٰ کے حکم کے بغیر کچھ نہ کرتا ہے ، نہ کچھ کہتا ہے :

اور ارشاد سنیں کہ انسان ماں باپ کی خدمت نہیں کریں گے بلکہ دوستوں کی خدمت کا خیال رکھیںگے اور ماں باپ کا خیال نہیں رکھیں گے۔آپ کے یورپ کا یہی حال ہے، دوست پروری ہورہی ہے ۔ والدین جب بوڑھے ہوجاتے ہیں تو ان کو بوڑھے خانے کے اندر بھیج دیا جاتا ہے، تو میں یہ عرض کررہاتھا کہ اللہ کا نبی اللہ سے حکم پاکر{ حکم پاکر،کی قید اس لئے لگائی کہ اللہ کا نبی اللہ کے حکم کے بغیر کچھ کہتا ہی نہیں’’وما ینطق عن الہویٰ ان ھو الا وحی یوحی‘‘پھر نبی اللہ کے حکم سے جو بول دے یہ نا ممکن ہے کہ نبی کا کہا ہوا پورا نہ ہو۔ قبل از وقت کوئی بات کہے اسے شرعی اصطلاح مین پیشین گوئی کہتے ہیں۔

اس معیار پر کذاب غلام احمد قادیانی کو جانچنے کی کوشش کریں :

اب اس معیار پر آپ حضرات غلام احمد قادیانی کو پرکھنے(جانچنے) کی کوشش کریں؟،کیا ’’مرزا غلام احمد قادیانی‘‘ کی پیشین گوئی پوری ہوئی؟،لیکن میں بڑے وثوق کے ساتھ کہتا ہوں: اللہ رب العزت کے گھر میںباوضو ہو کے کہتا ہوں: میری دیانت دارانہ رائے یہ ہے کہ اس کی تمامتر کتابوں کا مطالعہ کرلیں اس کی ایک بھی پیشین گوئی ثابت نہیں کی جا سکتی کہ اس نے پیشین گوئی کی ہو اور دنیا جہان میں پوری ہوئی ہو۔ ریل گاڑی مکہ میں چلے گی! اس کا حال سن چکے ہو،اور میں مکہ میں مروںگا یا مدینہ میں! اس کا بیان بھی سن چکے ہو۔

آج کی مجلس میں صرف دو پیشین گوئیاں بیان کرنا چاہتا ہوں۔ویسے اس کی تمام

248

پیشین گوئیاں ہیں جو سب کی سب جھوٹی ثابت ہوئی ہیں اللہ کو منظور ہوگا تو کسی اور مجلس میں بیان کی جائیں گی۔ اس کو ملاحظہ فرمائیں دیکھیں کہ ’’آیا مرزا غلام احمد نبوت کے معیار پرپورا اترتا ہے یا نہیں؟‘‘ مرزا احمد بیگ نامی‘ اس کا ایک چچا زاد بھائی تھا،وہ جس وقت مرزا غلام احمد قادیانی کے پاس آیا تو اس کے ساتھ اس کی نو جوان بچی بھی (تقریبًاسترہ سال کی) تھی۔ایک بھائی دوسرے بھائی کو ملنے جارہا ہے ساتھ بچی ہے ،چلو!چچا کو ملتے چلیں!احمد بیگ نے غلام احمد قایانی کو یہ کہا:’’ایک عزیز جو مفقود الخبر ہے ،ان کے بارے میں آپ سے گذارش ہے کہ آپ ایک بیان دیدیں کہ زمین میرے نام ہوجائے‘‘ ( اس وقت مرزا کی عمر ۶۰ سال کی تھی )

مرزا غلام احمد قادیانی ہر وقت اپنی کانی آنکھ سے شیطانی مطابقت ومشابہت کرتا رہتا تھا :

غلام احمد قادیانی نے کہا : آج نہیں کل میرے پاس آئیں،میں رات اللہ تعالیٰ سے مشورہ کروںگا اور سویر ے بیان دوںگا۔اس نے کہا : بہت اچھا!،سویرے آجاؤںگا۔( چونکہ مرزا نے اس کی لڑکی کو دیکھ لیا تھا ) آج بھی میں نے علماء کرام کی مجلس میں حوالہ پیش کیا تھا کہ مرزا غلام احمد کس کردار کا آدمی تھا؟،ہر وقت کانی آنکھ سے شیطانی مطابقت و مشابہت کرتا رہتا تھا،اس کی پیروی کے اندر مشغول رہتا تھا ۔

مرزا کی کانی آنکھ کا ایک پُر لُطف لطیفہ :

اس کی کانی آنکھ کا بھی ایک شاندار لطیفہ ہے۔اس کی کتاب ’’سیرۃ المہدی‘‘ میں لکھا ہے (دیکھئے! سیرت المہدی حصہ دوم ص۷۷، روایت نمبر۴۰۴) کہ ایک مرتبہ فوٹوگرافر آئے، انہوں نے آکر کہا: ہم آپ کا فوٹو لینا چاہتے ہیں تو مہربانی کرکے آپ آنکھ کھلی رکھیں۔آنکھیں پھاڑ کے رکھیں تاکہ فوٹو صحیح آجائے۔ہم آپ کی کتابوں میں فوٹو چھاپیںگے تاکہ باہر کی دنیا والے قیافہ شناش ہوتے ہیںآپ کا فوٹو دیکھ کر رائے قائم کریں گے کہ آپ کتنی بڑی شخصیت ہیں؟۔اگر آپ کی آنکھ بند رہی یا اور کچھ دوسرے طریقے پر رہی تو آپ کے لئے اچھی رائے قائم نہیں کریں گے۔اس لئے آپ تیار ہوکر آئیں،مرزاغلام احمد گھر گیا ،اور بڑے آب و تاب کے ساتھ جوتے پہنے دایاں جوتا بائیں پاؤں میں اور بایاں جوتا دائیں پاؤں میں پہن کر تیار ہوکر آگیا۔یہ ان کی کتابوں کے اندر لکھا ہوا ہے۔

249

مرزا کی ویسکٹ کی جیب میں تین راتوں تک اینٹ پڑی رہی

اس کا اسے پتہ تک نہیں :

’’مرزاغلام احمد قادیانی‘‘ ایک رات سویا تو اس کی پسلیاں دکھتی رہیں، دوسری رات سویا تو بھی ایسے ہی پسلیاں درد کرتی رہیں، تیسری را ت کو بھی سو نہیں سکا پسلیوں کی وجہ سے،پھر کہا : بھائی!دیکھو تو سہی کیا ہے؟ دیکھا جو سہی تو جرسی کی جیب میں اینٹ پڑی ہوئی تھی ،تین راتوں تک جیب میں اینٹ پڑی رہی اور اس کو پتہ تک نہیں چلا!،کہنے لگا: فلاں دن ’’مرزا بشیر الدین محمود‘‘نے شرارت کی تھی،اینٹ میری جیب میں ڈالڈی۔یہ میری جیب میں پڑی رہی اور مجھے پتہ تک نہیںہوا، (دیکھئے! حضرت مسیح موعود کے حالات ملحقہ براہین احمدیہ ص ق)( یہ سیدھا سادہ ہے یا الّو کا پٹھا ہے جسے یہ معلوم نہیں کہ دو سیر کی اینٹ جیب میں ڈالے پھر رہا ہوں۔ کیا یہ سیدھا سادہ ہے) یہ تو میں کئی دفعہ بتا چکا ہوں کہ یہ حضرت جرسی کے بٹن اوپر نیچے لگا لیا کرتے تھے،( اگر اس طرح کیا جائے تو سنت قادیانی پر عمل ہوگا،کیاہر قادیانی کے لئے اپنے نبی غلام احمد کی سنت پر عمل کرنا ضروری ہوگا؟) آپ حضرات اندازہ لگائیں : یہ سب ان کی کتاب سیرت المہدی میں لکھاہوا ہے۔ (دیکھئے! سیرت المہدی حصہ دوم ص۱۲۶، روایت نمبر۴۴۴)یہ نبی ہے یا کارٹون!

مرزا کے دائیں بائیں پاؤں پر نشان لگانے کے باوجود غلط جوتے کا استعمال :

حضرت صاحب جوتے جو الٹا پہنتے تھے ،تو ایک دن اس کی بیوی نے کہا: میاں!آج میں تمہارے پاؤں پر نشان لگادیتی ہوں جس پر نشان ہو وہ جوتا دائیں پاؤں میں پہننا اور دوسرا بائیں پاؤں میں، حضرت نے کہا: بہت اچھا! دوسرے دن آئے تو وہی حالت۔

(سیرت المہدی حصہ اوّل ص۶۷، روایت نمبر۷۸۳)

مرزا دن میں سو سو بار پیشاب کرتا تھا :

مرزا غلام احمد قادیانی دن میں سوسوبار پیشاب کرنے کو جاتا تھا ،(ضمیمہ اربعین نمبر۴ ص۴، خزائن ج۱۷ ص۴۷۱) اندازہ کیجئے دن میں سو بار!،یہ آدمی ہے یا ٹوٹا ہوا لوٹا؟ ( جو رستا رہتا ہے) بد بختی کا اندازہ لگائیے!،میرے خیال میں کوئی خاص بیت الخلاء حضرت کے لئے ہوگا جس میں گھر کا آدمی تو جا سکتا نہیں؟! معلوم نہیں کب حضرت کی نبوت زور کرے اور استنجاء کو جانا پڑے؟!

250

مرزا کبھی ڈھیلا منہ میں رکھتا تھا اور کبھی گڑ سے استنجاء کرتا تھا :

ایک جیب میں حضرت صاحب کے ڈھیلے ہوتے تھے اور دوسری جیب میں گڑ ہوتا تھا ،کیونکہ حضرت صاحب کو گڑ کا بڑا شوق تھا،اور یہ بھی کہتے ہیں: حضرت صاحب کو مراق کا دورہ بھی کبھی کبھی پڑتا تھا،صاحب بہادر پر مراق کا دورہ پڑے تو یہ بھی ہوسکتا ہے کہ ڈھیلا منہ میں اور گڑ استنجاء میں استعمال کرنے لگے۔اندازہ لگائیے کہ یہ نبی ہے یا ؟ ( نعوذ باللہ! )

مرزا کے والد اپنے بیٹے کے بارے میں نشان دہی کرتے ہیں:

اور سنئے! : مرزا غلام احمد قادیانی کے والد کے پاس مرزا کا ایک دوست آیا اور کہنے لگا : مجھے مرزا غلام احمد قادیانی سے ملنا ہے؟کہنے لگا:تم مسجد چلے جاؤ! تمہیں وہاں مسجد میں مل جائے گا،اگر مسجد میں نہ ملے تو مسجد کے کونوں میں مسجد کی صفیں کھڑی ہوتی ہے وہاں تمہیں مل جائے گا۔اس لئے کہ وہ کسی چٹائی پر سو گیا ہوگا۔چٹائی کے بند کرنے والوں نے اس کو چٹائی کے اندر لپٹ کر بند کردیا ہوگا،اس کی صفوں کو جھاڑ نا، وہاں سے نکل آئے گا۔اگر وہاں سے نہ نکلے تو وضوء کی ٹوٹنی دیکھنا کہ ٹوٹنی کے اندر داخل ہوگیا ہوگا۔(استغفر اللہ ربی من کل ذنب واتوب الیہ ) آپ حضرات اندازہ لگائیے کہ یہ آدمی ہے یا شیطان جو وضوء کی ٹوٹنی کے اندر گھس گیا ہے۔ یہ اس کمال کا آدمی تھا۔ یہ تھے اس کے والد کے خیال اپنے لڑکے بارے میں ۔

مرزا جھوٹے نبی کا استاد گل علی شیعہ تھا :

ایک دفعہ سکول سے پڑھ کر آیا اور اپنی والدہ سے کہتا ہے:’’( شریعت کا مسئلہ تو آپ حضرات نے سن رکھا ہے کہ نبی کا کوئی استاد نہیں ہوتا نبی کا استاد براہ راست اللہ رب العزت کی ذات گرامی ہوتی ہے۔اللہ تعالیٰ ہر ہر قدم پر اپنے نبی کی رہنمائی کرتے ہیں۔مرزا غلام احمد گل علی شیعہ کے پاس پڑھتا تھا۔اس کے کئی اور استاد بھی ہیں اور خود اس نے والد صاحب سے بھی پڑھا ہے)

(دیکھئے! کتاب البریہ ص۱۴۸تا۱۵۰، خزائن ج۱۳ ص۱۷۹تا۱۸۱)

مرزا راکھ کو روٹی پر رکھ کر کھاتا تھا :

میرے عزیز بھائیو! ایک مرتبہ مرزاغلام احمد قادیانی اپنی ماں سے کہنے لگا: امی روٹی! اس نے کہا :وہاں پڑی ہوئی ہے،اٹھالو!روٹی اٹھا کر کہتا ہے : کس کے ساتھ کھاؤں؟اس نے کہا

251

:سالن سے۔اس نے کہا : میں سالن سے نہیں کھاتا۔اس نے کہا :اچھا سالن سے نہیں کھاتے تو اچار سے کھالو!اس نے کہا : میں اچار سے بھی نہیں کھاتا۔اس نے کہا: اچار سے نہیں کھاتے تو دہی لے لو،ملائی لے لو،میٹھا لے لو!۔اس نے کہا : میں کسی سے نہیں کھاتا تو ماں نے کہا: کسی چیز سے نہیں کھاتے تو چولہے کی راکھ سے کھالو۔چنانچہ مرزا غلام احمد دوڑتا ہوا گیا اور چولہے کی راکھ اٹھائی اور روٹی پر راکھ رکھ کربیٹھ گیا۔(دیکھو! سیرت المہدی حصہ اوّل ص۲۴۵، روایت نمبر۲۴۵) آپ حضرات اندازہ فرمائیں کہ یہ نبی ہے ؟ یہ نبی ہے یا کارٹون یا کہیں کا پاگل! (حاضرین نے کہا: نبی نہیں!)

جھوٹے نبی کی تصویر کشی ملاحظہ ہو :

ایک دن اس کے مریدوں نے کہا : حضرت آج آپ کی تصویر لینی ہے۔کرم فرمائیں! اور آج آپ اپنی آنکھیں کھلی رکھیں! ۔کہا: بالکل ٹھیک ہے تیار ہو کر آجائیں! ،شیروانی پہنی ، عمامہ باندھا اور حضرت صاحب تیار ہوکر تصویر کھینچوانے آگئے۔( علماء کرام نے صراحت کردی ہے کہ بغیر ضرورت کے تصویر بنانا حرام ہے،حضور (ﷺ)نے تصویر کھینچوانے والے پر اور کھینچنے والے پرلعنت فرمائی ہے) مگر اس نبی پر قربان جو اس خاص لعنت کا طوق گلے میں ڈلوانے جارہا ہے۔تو مرزا غلام احمد قادیانی تصویر کھینچوانے آیا۔آکر کھڑا ہوگیا ،فوٹو گرافر نے کہا : حضور! میں کہوں کہ ریڈی،تو آپ بالکل تیار رہیں،میں ایک دو تین کہوںگا،جس وقت تین کہوںگا تو میں بٹن دبادوںگا۔بس! ایک درخواست ہے کہ آنکھیں کھلی رکھیں تصویر آجائے گی۔مرزا نے کہا : آج تو آنکھیں ایسی کھلی رکھنی ہیں کہ مزا آجائے گا۔حضرت صاحب! کھڑے ہوگئے،فوٹو گرافر اٹھا، اس نے اپنا کیمیرہ لیا ،اس نے کہا:،حضرت ریڈی !کہا : بالکل ریڈی!۔تین کہہ کر اس نے بٹن ڈبادیا۔کیمرہ سے جو لائٹ نکلی اور اس کی آنکھوں پر پڑی،تو اس کی آنکھیں پھر بند ہوگئی، (حوالہ گذر چکا ہے)یہ صاحب بہادر تھے مرزا غلام احمد قادیانی ۔

قادیانی لعنتی کا درود ہزارہ :

’’نور الحق‘‘نامی مرزا غلام احمد قادیانی کی ایک کتاب ہے،اس کو غصہ آیا تو اس نے لعنتیں لکھنی شروع کی، اور چار صفحوں تک اس نے لعنتیں لکھی۔چار صفحات اس نے کالے کئے۔یہ نہیں کہا : فلاں پر لعنت ،فلاں پرایک ہزار لعنت!ایک سے لے کر ہزار تک ہندسے ڈال کر لعنت

252

لکھا۔ہمارے حضرت مولاناقاضی احسان احمد شجاعبادیؒ فرمایا کرتے تھے: یہ قادیانیوں کا درود ہزارہ ہے۔ ( نعوذ باللہ ) ( کیا ہر قادیانی اس کا پابندی سے وردکرتا ہے؟)

جھوٹا نبی سور ما ر اوراس جھوٹے نبی کاصحافی مرید کتا مار :

اس کے پاس اس کا ایک مریدمفتی محمدصادق آیا ،اور آتے ہی کہا : مجھے لوگوں نے کتے مار پیر کہنا شروع کردیا ‘جس سے مجھے بڑی تکلیف ہوتی ہے ۔کہتا ہے: کوئی بات نہیں؟تجھے لوگ کتّے مار کہتے ہیں مجھے اللہ نے سوّر مار کہا ہے۔اس نے یہ سوّر مار‘ لفظ کیوں کہا؟

مرزا کا اپنے آپ کو’’ سور مار‘‘ کہنے کی وجہ :

حضور(ﷺ) نے کہا: جس وقت مسیح علیہ السلام آئیں گے تو خنزیر قتل ہوںگے۔ جی!اس وقت دنیا خنزیر کی پرورش کررہی ہے ایک وقت آئے گا کہ دنیا والوں کو خنزیرخود اپنے ہاتھ سے قتل کرنا پڑیں گے ۔ مرزا غلام احمد قادیانی اس پیشین گوئی کا مصداق اپنے آپ کو بنانے کے لئے اپنے آپ کو سور مار کہتا ہے یعنی اس کا مذاق کیا جائے اورر میں کہہ سکوں کہ اس کا مصداق میں ہوں،اس میں اس کی کمینگی کار فرما ہے

مرزا احمد بیگ نے خوب کھری کھری سنائیں :

تو میرے بھائیو! میں عرض کررہا تھا کہ اس وقت تو احمد بیگ کو واپس کردیا۔ جب وہ دوبارہ آیا تو مرزاغلام احمد قادیانی ’’احمد بیگ‘‘ کو کہتا ہے: رات کو میں نے اللہ تعالیٰ سے بات کی تھی تو اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے :( پہلے وہ ٹرخاتا رہا اور آج نہیں کل پھر کل پھر تیسرے دن کو کہا) احمد بیگ کا بیان اس وقت تک نہ دینا تا وقتیکہ اس کی لڑکی کا نکاح تم سے نہ کرے۔( یہ پچاس کا بوڑھا اور وہ سترہ سال کی معصوم لڑکی) اس کے باپ کو غصہ آتا ہے تو وہ حق بجانب تھا،چنانچہ اس نے خوب کھری کھری سنائیں۔ اس نے کہا : تمہیں بات کرتے ہوئے شرم نہیں آتی،تیری وہ بچی بیٹیوں جیسی ہے،ظالم کہیں کا!،بچوں کے رشتے یوں مانگا کرتے ہیں؟، میں بچی و بھتیجی سمجھ کر تیرے پاس لایا اور تو اس کردار کا آدمی ہے۔زمین جہنم میں جائے، مرنا ہو تو مرو، مگر تم لڑکی کی بات کرتے ہوئے شرم کرو،خوب سنا کر چلا گیا۔

مرزا غلام احمد کا جب میٹر گھوم گیا تو پھر ڈباڈب وحی کی بارش ہونا شروع ہوگئی،وہ وحی یہ ہوئی کہ (استغفر اللہ ،!معاذ اللہ!)

253

محمدی بیگم سے میری شادی نہیں کی تو ’’احمد بیگ‘‘ مر جائے گا:

احمد بیگ اپنی لڑکی کی شادی مجھ سے نہ کرے گا تو احمد بیگ مر جائے گا۔اگر کسی اور آدمی سے وہ شادی کرے گی تو اس کا خاوند مرجائے گا،بالآخر یہ لڑکی میرے پاس آئے گی۔باپ اس کا مرے گا تین سال میں اور خاوند مرے گا ڈھائی سال میں۔اور یہ لڑکی تمام رکاوٹیں دور ہونے کے بعد میرے پاس آئے گی۔

(دیکھئے! مجموعہ اشتہارات ج۱ ص۱۰۲ حاشیہ)

محمدی بیگم کا نکاح مجھ سے آسمانوں پر اللہ تعالیٰ نے کردیا ہے : (نعوذ باللہ )

اور یہ کہا : اللہ تعالیٰ کی میرے اوپر وحی نازل ہوئی ہے کہ ہم نے اس کا نکاح آسمانوں میں تیرے ساتھ کردیا ہے۔یہ کیوں کہا کہ آسمانوں میں تیرے ساتھ کردیا ہے؟یہ جو حضور(ﷺ) کا ارشاد گرامی ہے کہ آپ (ﷺ)نے فرمایا: اللہ تعالیٰ نے حضرت زینب بنت جحش (رضی اللہ عنہا)کا نکاح میرے ساتھ آسمانوں پر کردیا ہے۔(حضرت زینب(رضی اللہ عنھا)جب باقی امہات المؤمنین کے ساتھ بیٹھتی تھیں تو تحدیث بالنعمۃ کے طور پر کہا کرتی تھیں:’’ آپ میرا مقابلہ کس طرح کر سکتی ہو؟ میرا نکاح تو اللہ تعالیٰ نے آسمانوں پر کیا ہے اور تمہارا نکاح تمہارے رشتہ داروں نے کیا ہے‘‘)۔جب حضور (ﷺ) کو اس نکاح کی اطلاع ہوئی تو فورًا حضرت زینب کے گھر تشریف لے گئے۔مرزا غلام احمد قادیانی رسول اللہ (ﷺ) کا قول نقل کرکے کہتا ہے:’’ میرا نکاح محمدی بیگم کے ساتھ آسمانوں میں پڑھا گیا ہے‘‘۔(نعوذ باللہ)

بالآخر محمدی بیگم کا نکاح ’’سلطان محمد‘‘ پٹی سے ہوگیا :

لڑکی کے والد کو جب یہ پتہ چلا کہ مرزا جی یہ باتیں کرتے ہیںتو اس نے سلطان محمد صاحب سے جو پٹّی،کے رہنے والے تھے اس کو بلایا۔اور اس کو اپنی بیٹی کا نکاح دیدیا۔اب میں آپ حضرات سے پوچھتا ہوں کہ کسی مسجد کا مولوی اگر کسی کا نکاح پڑھادے تو اس نکاح کو کوئی عدالت بھی نہیں توڑ سکتی؟ اوراس مرزاجی کا نکاح آسمانوں پر ہوا اور نکاح پر نکاح کیا جارہا ہے کیا مرزاجی کا خدا ( نعوذ باللہ )ایسا کمزور تھا کہ نکاح تو مرزا غلا م احمد قادیانی کے ساتھ ہوا اور لے جارہا ہے سلطان محمد پٹی والا!۔ یا للعجب!۔

اچھا! مرزا کے مریدوں نے کہا : محمدی بیگم کا نکاح ہوگیا تو اس نے کہا: صبح باتیں کریں گے۔صبح ہوئی تو کہتا ہے :

254

مرزا کو الہام ہوا کہ ’’پٹی پُٹی گئی‘‘ پورا گاؤں تباہ و برباد ہوجائے گا:

رات کو مجھے الہام ہوا ہے کہ پَٹی پُٹی گئی۔پٹیؔ گاؤں کا نام ہے کہتا ہے کہ پٹی پُٹی گئی۔میری منگیتر کے ساتھ جو سلطان بیگ نے نکاح کیا ہے اس پر وبا آئے گی اور پورے گاؤں پر بھی وبا آئے گی۔سارا گائوں تباہ و برباد ہوجائے گا۔

جھوٹے نبی کی ایک اور پیشینگوئی :

اس کو کیا برباد ہونا تھا خود مرزا کا خانہ اس طرح برباد ہواکہ اس نے کہا : اللہ تعالیٰ نے مجھے کہا ہے کہ یہ تقدیر مبرم ہے ۔(انجام آتھم، خزائن ج۱۱ ص۳۱) کسی قیمت پر ٹالنے سے ٹلتی نہیں،بالآخر وقت آئے گا، ضرور آئے گا،یہ محمدی بیگم تیرے پاس ضرور آئے گی۔مرزا نے کہا: اللہ تعالیٰ نے کہا ہے کہ میں تمام رکاوٹیں دور کردوں گا۔

محمدی بیگم کا خواب شرمندہ تعبیر نہ ہوا :

’’محمدی بیگم‘‘ کا خاوند مرے گا،باپ بھی مرے گا،اور ملعون آگے کہتا ہے : ’’ہم اس کو سنیعدھا سیرتھا الا ولیٰ پر لوٹا دیںگے۔‘‘اس کی تشریح آپ حضرات کے سامنے نہیں کرسکتا، مجھے آپ حضرات کا احترام مانع ہے، اس کی کیا تشریح کی جائے۔ اس کے مقدر کا جنازہ نکلا ،اس کی عقل کا جنازہ اٹھ گیا۔مگر ’’محمدی بیگم‘‘ اس کے پاس نہ آئی۔

جھوٹا نبی مرگیا ،اس کے بعد محمدی بیگم چالیس (۴۰) سال زندہ رہی :

مرزا غلام احمد ۲۶ ؍مئی ۱۹۰۸ بروز منگل کو لاہور میں مرا ،اور محمدی بیگم کاتقسیم پاکستان کے بعد ۱۶؍اپریل ۱۹۶۶ء لاہور میںانتقال ہوا ہے۔محمدی بیگم ’’عارف والا‘‘ ایک گاؤں ہے وہاں کی رہنے والی تھی،لاہور میں اس کا انتقال ہوا،مرزا غلام احمد قادیانی عمر بھر ایڑیاں رگڑتا رہا، خواب دیکھتا رہا مگر محمدی بیگم نہ ملنا تھی نہ ملی۔

میں آپ حضرات سے پوچھتا ہوں کہ اس کی یہ پیشین گوئی سچی نکلی یا جھوٹی؟،تو ظاہر بات ہے کہ جس نبی کی پیشین گوئی جھوٹی وہ نبی جھوٹا،اور جو نبی ہوتا ہے اس کی پیشین گوئی جھوٹی نہیں ہو سکتی۔

255

شیطان کی آنت کتنی لمبی ہے :

’’محمدی بیگم‘‘ مرزا کے بعد چالیس سال زندہ رہی۔ تو مرزائیوں نے یہ تاویل کی کہ مولوی صاحب! خواہ مخواہ اعتراض کرتے رہتے ہیں ،کیا ہوا محمدی بیگم سے نکاح نہیں ہوا؟ غلام احمد قادیانی کے لڑکے کا لڑکا ،پھر اس کے لڑکے کا لڑکا ،پھر اس کے لڑ کے لڑکا، لا الیٰ نہایہ!ادھر محمدی بیگم کی لڑکی کی لڑکی ،پھر اس کی لڑکی کی لڑکی لا الیٰ نہایہ!۔آگے چلکر کسی پشت میں شادی ہوگی ،مرزا کے کسی لڑکے کے لڑکے ساتھ محمدی بیگم کی کسی لڑکی کی لڑکی کی شادی ہوگی جب ایسا ہوگا تو مرزا کی پیشین گوئی پوری ہوگی۔آپ حضرات اندازہ لگائیے کہ شیطان کی آنت کتنی لمبی ہے۔اچھا! تو ہم نے مرزائیوں سے درخواست کی کہ وعدہ ہوا مرزا غلام احمد قادیانی سے، اور فائدہ اٹھائے اس کی اولاد، یہ کہاں کا انصاف۔اس بدبخت کو کیا ملا!

اللہ تعالیٰ کی شان! محمدی بیگم کی ایک بھی لڑکی نہیں بلکہ سات لڑکے ہوئے :

میرے اللہ کی شان ملاحظہ ہو ’’سبحان اللہ و بحمدہ سبحان اللہ العظیم میں اللہ کی قدرت! اللہ کی جبرویت پر قربان ہوں!‘‘کہ محمدی بیگم کو ایک بھی لڑکی پیدا نہ ہوئی، سات لڑکے، وہ بھی کڑیل جوان، اور لڑکی ایک بھی نہ ہوئی۔

جھوٹے نبی کی پیشینگوئی کو پورا کرنے کے لئے طویل تأویل :

تو مرزائیوں سے کہا گیا: چلو اس طرح پیشین گوئی پوری نہ ہوئی تو اس طرح کرلو تم لڑکی دیدو،چلو یوں نہیں تو یو ںسہی۔جس وقت وہ فوت ہوئی اس کو ایک بھی لڑکی نہ ہوئی تو مرزائیوں نے اس کی ایک اور تاویل کی، مولوی صاحب اعتراض کرنا تمہارے مقدر میں لکھا ہے ۔ اللہ کے ایک نبی کو تم نہیں مانتے۔( ما شاء اللہ! اللہ کے نبی جی اور تم اس کو نہیں مانتے)

ایک پُر لطف لطیفہ:

کسی کا کہنا یہ ہے کہ میراثیوں نے ایک مرتبہ تماشہ کیا، اور یہ میراثی بھی بڑے حضرت ہوتے ہیں،اور تماشہ یہ تھا کہ ایک میراثی خدا بن بیٹھا اور ایک کو جبرئیل بنا دیا ،باقیوں نے حاضری میں پیشی دی،میراثی خدا نے کہا کہ جلدی جلدی میرے نبیوں کی فہرست لاؤ،اور فہرست پیش ہونا شروع ہوگئی،تو جس وقت ساری فہرست پیش کردی گئی تو ایک کالا کلوٹا آدمی آکر کہنے لگا کہ نبیوں کی فہرست میں میرانام نہیں پڑھا، رہ گیا، وہ شامل کریں۔

256

( یہ میراثیوں کی بات چل رہی ہے) میراثی خدا نے فہرست دیکھ کر کہا : اس میں تو اس کا نام نہیںہے، میز کے نیچے جو میراثی شیطان بنا بیٹھا تھا اس نے کہا : آپ نے ایک لاکھ چوبیس ہزار بھیجے !ہم نے کسی پر اعتراض نہیں کیا؟میں نے صرف ایک کو بھیجا ہے اور وہ بھی تم نہیں مانتے؟میں نے صرف ایک قادیان میں بھیجا تم اسے بھی نہیں مانتے۔

محمدی بیگم سے نکاح دنیا میں تو نہ ہوا : قیامت میں ہوگا :

تو صاحبو! مرزائیوں نے جواب میں یہ کہا: مولوی صاحب!آپ بلا وجہ غلام احمد قادیانی کی ذات میں کیڑے نکالتے ہو؟کیا ہوا حضرت کا نکاح اس دنیا میں نہیں ہوا تو قیا مت کے دن ہوجائے گا۔اندازہ لگائیے پیشی بھی ڈالی تو قیامت کی ڈالی!،اتنی لمبی پیشی کہ جب تک قیامت نہ آئے مولوی حضرات خاموش رہیں!کیا خوب جواب دیا ۔(ملاں آں باشد کہ چپ نہ باشد)

ہم نے کہا: قیامت میں جو ہونا ہے سو ہونا ہے۔ ابھی فیصلہ کئے دیتے ہیںاوروہ یہ ہے کہ مرزا غلام احمد قادیانی کے عقیدے کے مطابق ’’(آج میں نے اپنے بزرگوں کو حوالہ لکھوایا ہے کہ مرزا غلام احمد کہتا ہے کہ جو مجھے نہیں مانتا وہ جہنمی ہے ‘‘) محمدی بیگم جہنمی ہے،کیونکہ وہ غلام احمد قادیانی کو نہیں مانتی تھی۔تو مرزا کے عقیدے کے مطابق وہ جہنم میں ہوگی اور مرزا اور اس کے مرید ہوںگے جنت میں۔

مرزا جھوٹا نبی اچھا ہے جو جنت سے نکل کر جہنم میں بارات لے کر جائے گا :

تو کیا نکاح کرنے کے لئے مرزا جی جنت سے نکل کر جہنم میں جائیںگے،یہ تو اچھا نبی ہے جو جنت سے نکل کر جہنم کی طرف رخ کئے جارہا ہے۔بہت ساری جگہ یہ بھی رواج ہے کہ شادی کے بعد داماد بھی رکھ لیا کرتے ہیں جیسا کہ ہمارے پنجاب میں بھی اکثر ایسا ہوتا ہے، اور آپ کے انگلینڈ میں بھی اکثر ایسا ہی ہوتا ہے، تو کیا مرزا جی کو اگر کہا جائے داماد بن کے رہنے کو تو یہ حضرت کس کو ترجیح دیںگے؟۔بھائی! نبی صاحب پر قربان! جو جہنم میں جلنے جارہے ہیں۔اندزاہ لگائیے کہ مرزا غلام احمد قادیانی کی یہ پیشین گوئی بھی پوری نہ ہوئی۔ (سب مل کر کہو پوری نہیں ہوئی!)

ایک جھوٹی پیشینگوئی:

اب میں اس کی ایک اور پیشین گوئی عرض کرنا چاہتا ہوں ( جو میں نے مختلف مجلسوں میں کہی ہے) اور وہ یہ کہ مرزا غلام احمد قادیانی کا ایک مرید میاں منظورنامی تھا،اس کی گھر والی کا نام

257

بھی محمدی بیگم تھا ( وہ محمدی بیگم اور ہے جس کے ساتھ مرزا جی شادی کرنے والے تھے)منظور احمد مرزا کے پاس آکر کہتا ہے: میرے گھر میں امید ہے، آپ مہربانی کرکے دعاء کردیں کہ اللہ تعالیٰ مجھے لڑکا دیدیں!اس نے کہا : اچھا! جاؤ!،رات کو رابطہ قائم کروںگا،سویرے بات ہوگی۔

لڑکا ہوگا اللہ تعالیٰ نے اس کے نو (۹) نام رکھے ہیں :

یہ جب سویرے آیا تو مرزاغلام احمد کہتا ہے: مبارک ہو!،رات بات ہوگئی ہے۔اس نے کہا کہ کیا ہوا، اللہ نے کہا : نہ صرف لڑکا ہوگا بلکہ اللہ تعالی نے لڑکے کے نام بھی بتادئے ہیں،اور اللہ تعالیٰ نے اس کے نو نام رکھے ہیں،لڑکا ایک نام نو،اور وہ نام بھی کیا!؟(۱)کلمۃ العزیز۔ (۲)کلمۃ اللہ خان۔ (۳)وارڈ۔ (۴)بشیرالدین۔ (۵)شادی خان۔ (۶)عالم کباب۔ (۷)ناصر الدین۔ (۸)فاتح الدین۔ (۹)ہذا یوم مبارک۔ یہ ایک لمبا نام ہے،بچہ تو چھوٹا سا! نام اتنے لمبے۔

(دیکھئے! تذکرہ ص۶۲۶)

مگر بجائے لڑکا کے لڑکی پیدا ہوئی :

منظور بڑا خوش ہوا،گھر جاکر اپنی بیوی صاحبہ سے کہتا ہے: مبارک ہو!اس نے کہا: کیا ہوا؟تو کہا کہ لڑکا ہوگا،حضرت صاحب نے دعاء کردی ’’چٹ منگنی پٹ بیاہ‘‘کام بن گیا،لڑکا پیدا ہوگا،اور اس کے نو نام ہوںگے،وہ بھی بڑی خوش ہوئی،مدت پوری ہوئی اللہ کی شان،بجائے لڑکا کے لڑکی پیدا ہوئی۔

جھوٹے نبی مرزا نے کہا : بات سنی مگر سمجھی نہیں :

اس بیچارے کی مت ماری، دوڑکے مرزا صاحب کے پاس پہنچا،اور کہا :کہ بات سنی مگر سمجھی نہیں ،یہاں میراثیوں کا ایک مقولہ عرض کئے دیتا ہوں،آپ حضرات حیران ہوںگے کہ مولوی صاحب مسجد میں بیٹھ کر میراثیوں کے مقولے کیوں سناتے ہیں؟اس لئے کہ میں جس آدمی کی بات کرتا ہوں وہ بھی اس قبیلہ سے ملتا جلتا ہے۔( یہاں حضرت کی بات سمجھ میں نہیں آئی لہٰذا معنیً لکھ دی ہے)

آدمی بازاری ہے ‘ تو گفتگو بھی بازاری ہوگی ،اس میں ہمارا کیا قصور ؟:

بسا اوقات میں اپنی گفتگو میں وہ معیار قائم نہ رکھ سکوں جو ہونا چاہئے تو اس میں ہمارا

258

قصور کوئی نہیں، اس لئے کہ آدمی بازاری ہے لہٰذا گفتگو بھی بازاری ہوجاتی ہے۔اسی قسم کا کوئی میراثی شریف آدمی تھا اس نے تھانیدار کو دیکھا کہ گھوڑے پر سواری کرتا ہوا آرہا ہے۔تو اس نے دعاء کی کہ یا اللہ! مجھے بھی گھوڑی مل جائے!تھانیدا رنے اس کو بلاکر کہا : بات سنیں یہ ،میری گھوڑی کا بچہ ہے جو چل نہیں سکتا، اس کو اٹھاؤ اور میرے تھانے میں چھوڑ کر آجاؤ!اب وہ گھوڑی کے بچے کو سر پر اٹھاکے لے جارہا ہے،اور تھانے میں جا کر اتارا،اور آسمانوں کی طرف دیکھ کر کہتا ہے : خداوند! تو نے سنی ضرور ہے مگر سمجھی نہیں؟ میں نے کہا تھا کہ مجھے گھوڑی ملے جس پر میں سواری کروں،تونے گھوڑی تو دی لیکن وہ مجھ پر سوار ہوئی۔

میں نے لڑکا مانگا تھا اور لڑکی پیدا ہوگئی، ایک دفعہ میں نے ربوہ (چناب نگر) میں تقریر کرتے ہوے کہا کہ ہمارے پنجاب میں چارپائی بانس کی بنی ہوئی ہوتی ہے، اس کو کانو کہتے ہیں،اور کھجور کی بان (رسی)ہوتی ہے جب اس پر برسات گرتی ہے تواس کی ٹانگ( پاؤں) اوپر ہوجاتی ہے۔

اس بد بخت کی شرم کو تودیکھئے اور خود فیصلہ کیجئے :

مرزا غلام احمد کی آنکھ کانی تھی،وہ آپس میں ایک دوسرے کے ساتھ ملتی نہیں تھیں،کہتے ہیں : حضرت صاحب بڑے شرمیلے تھے،اتنے شرمیلے کہ حضرت صاحب کچھ دیکھتے ہی نہیں تھے،اور ان کے نہ دیکھنے کی حالت یہ ہے کہ حضرت صاحب ایک دن بیٹھے ہوئے کچھ کام کر رہے تھے کہ ایک عورت ان کے کمرے میں گئی، اورننگا نہانا شروع کردیا،اور حضرت کو کچھ پتہ ہی نہ لگا، (ذکر حبیب، مفتی صادق قادیانی ص۳۸)میں تمہیں خدا اور رسول کا واسطہ دیکر کہتا ہوں کہ مرزا کی موجودگی میں کوئی عورت اسی کے کمرے میں ننگے بدن غسل کرے (یہ کیا ممکن ہے) یہ نبی ہے؟ (حاضرین: نہیں یہ نبی نہیں!)اس بدبخت کی بد بختی کا اندازہ لگائیے۔

اس دفعہ نہ سہی آئندہ لڑکا ہوگا :

مرزا غلام احمد قادیانی آنکھ اٹھا کر کہتا ہے: میں نے کب کہا تھا کہ اس دفعہ پیدا ہوگا، اس دفعہ نہیں توآئندہ کسی دفعہ لڑکا پیدا ہوگا۔( یہ جملہ مولانا نے تین چار بار کہا ہے ) منظور بیچارہ بڑا پریشان ہوتا ہے،نام اس دفعہ بتا دئے، لڑکا آئندہ دفعہ پیدا ہوگا۔یہ اچھی بات ہے فیصلہ ابھی سنا دیا جرمانہ بعد میں وصول کیا جارہا ہے۔( جرمانہ پہلے وصول کرلو بعد میں فیصلہ ہوگا )

259

ایک جھوٹے پیر کی عیاری :

کہتے ہیں کہ ایک چالاک پیر تھا، اس کے پاس اس کا کوئی مرید آتا اور کہتا ہے کہ مجھے تعویذ دیدو کہ لڑکا پیدا ہوجائے،وہ لکھ دیتا تھا کہ: ’’لڑکانہ لڑکی۔‘‘ایک اور آدمی آتا ہے کہتا ہے کہ میرے پاس لڑکے بفضلہ تعالیٰ بہت ہیں، لڑکی کوئی نہیں آپ کوئی تعویذ دیدیں اللہ تعالیٰ مجھے بھی لڑکی دیدیں۔وہ بھی یہی لکھ دیتا تھا کہ: ’’لڑکا نہ لڑکی‘‘تعویذ بند کرکے وہ لے جاتا۔

ایک مرید واپس آیا اور کہتا ہے کہ میرے گھر تو لڑکا ہوا ہے لڑکی نہیں ہوئی ہے،وہ کہتا ہے کہ تعویذ لاؤ!، دیکھ کر کہتا ہے: میں نے بھی یہی لکھا تھا کہ لڑکی نہ لڑکا۔دوسرا آتا ہے کہتا ہے کہ میں نے لڑکی لئے کہا تھا وہ تو لڑکا پیدا ہوا،کہتا ہے :تعویذ لاؤ،دیکھ کر کہتا ہے کہ لڑکا ہے نہ کہ لڑکی۔تو ٹھیک ہے لڑکا ہوگیا۔اور کسی کو کچھ نہیں ہوا تو کہتا ہے کہ میں نے یہی لکھاتھا کہ نہ لڑکا نہ لڑکی،کچھ بھی نہیں۔ تو یہ چالاک پیر کی طرح کہتا ہے کہ اس دفعہ نہیں تو آئندہ دفعہ ہوجائے گا۔

تین ماہ بعد لڑکی،چھ ماہ بعد ماں اور سال کے بعد منظور خود فوت ہوگیا:

آپ حضرات حیران ہوںگے کہ تین مہینہ بعد لڑکی مرگئی، اور چھ مہینہ بعد منظور کی بیوی اللہ کو پیاری ہوگئی،اور سال بعد وہ منظور بھی فوت ہوگیا۔تو میں آپ حضرات سے پوچھتا ہوں کہ مرزا غلام احمد قادیانی کی یہ پیشین گوئی پوری ہوئی یا جھوٹی ثابت ہوئی۔تو جس کی پیشین گوئی جھوٹی ہو وہ نبی نہیں ہو سکتا،اور جو نبی ہوتا ہے اس کی پیشین گوئی جھوٹی نہیں ہوسکتی۔

مرزا غلام احمد نبی نہیں ،ایک فراڈی و مکار شخص تھا :

یہ جو نبوت کا معیار ہے ان میںسے صرف ایک آپ حضرات کی خدمت میںپیش کیاہے،نبوت کے جو اوصاف وشرائط ہیں ان پر آپ حضرات غور فرمائیں تو خدا کی قسم! مرزا غلام احمد میں ایک بھی نہیں پائی جاتی تھی۔ایک بھی نہیں۔مرزا غلام احمد نبی نہیں تھا ایک فراڈیہ تھا،مکار تھا،حضور (ﷺ) کا یہ فرمان کہ تیس جھوٹے کذاب دجال پیدا ہوںگے جو میرے بعد نبوت کا دعویٰ کریں گے یہ انہی میں سے ایک تھا۔اللہ تعالیٰ مجھے اور آپ کو اس کے فتنے سے محفوظ رکھیں۔آمین،اللہ تعالیٰ ان کے رد کرنے ، مقابلہ کرنے اور ایک ہونے اور نیک ہونے کی امت کو توفیق دے۔آمین!

وآخر دعوانا ان الحمد للہ رب العالمین

260

چوتھا بیان

(آیت خاتم النبیین کی تفسیر )

261

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ

الحمد للہ وکفٰی وسلام علیٰ سید الرسل وخاتم الانبیاء وعلیٰ اٰلہ واصحابہ الذین ہم خلاصۃ العرب العرباء وخیر الخلائق بعد الانبیاء۰ اما بعد۰ فاعوذ باللہ من الشیطٰن الرجیم بسم اللہ الرحمٰن الرحیم۰ ماکان محمد ابا احد من رجالکم ولکن رسول اللہ وخاتم النّبیین وکان اللہ بکل شیٔ علیما۰ قال النبی(ﷺ)اوّل الانبیاء اٰدم واٰخرہم محمد (ﷺ) وقال النبی(ﷺ) انا اٰخرالانبیاء وانتم اٰخر الانبیاء الامم وقال النبی(ﷺ) انا خاتم الانبیاء ومسجدی خاتم مساجد الانبیاء۰ اللہم صل علیٰ محمد عبدک ورسولک وصل کذلک علیٰ جمیع الانبیاء والمرسلین وعلیٰ الملائکۃ المقربین وعلیٰ عباداللہ الصالحین اجمعین الیٰ یوم الدین۔

ہر چیز کی ابتدا بھی ہوتی ہے اور انتہا بھی

حضرات گرامی!اس وقت آپ حضرات کے سامنے جو آیت کریمہ تلاوت کی ہے یہ وہ آیت ہے جس میں اللہ تعالیٰ نے حضرت محمد رسول اللہ (ﷺ) کی ختم نبوت کے مسئلہ کو بیان فرمایا ہے۔میرے عزیز بھائیو! ہر چیز کی ا بتدا بھی ہوتی ہے اور ہر چیز کی انتہاء بھی ہوتی ہے۔ صرف اللہ کی ذات ہے جو ابتداء و انتہاء کی قید سے پاک ہے ۔سلسلۂ نبوت اللہ رب العزت نے حضرت آدم( علیہ السلام) سے شروع فرمایا ،عقل و انصاف کا تقاضا بھی تھا کہ اس کا کہیں اختتام بھی ہو،چنانچہ اللہ رب العزت نے حضور(ﷺ) کی ذات پر اس کا اختتام فرمایا۔اور خود رسول اللہ (ﷺ) ارشاد فرماتے ہیں:’’اوّل الانبیاء آدم علیہ السلام وآخرھم محمد(ﷺ) (کنزالعمال ج۱۱ ص۴۸۰)‘‘سب سے پہلے نبی آدم (علیہ السلام) ہیں اور سب سے آخر ی نبی میں ہوں۔حضرت آدم( علیہ السلام) سے پہلے کوئی نبی نہیں اور میرے بعد بھی کوئی نبی نہیں۔

شان نزول کسے کہتے ہیں ؟

محترم دوستو! آپ کے اور میرے مخدوم حضرات علماء کرام اس آیت کریمہ کا شان نزول جانتے ہیں۔شان نزول اس کو کہتے ہیںکہ یہ آیت کیوں، کس وقت، اور کس واقعہ کے سلسلہ میں نازل ہوئی؟اول سے آخر تک پورا قرآن مجید ایک دفعہ نازل نہیں ہوا۔بلکہ جوں جوں جس

262

مسئلہ کی ضرورت پڑتی تھی اللہ رب العزت ضرورت کے مطابق قرآن مجید نازل فرماتے تھے،کسی نے حضور (ﷺ) سے کوئی مسئلہ پوچھا،اللہ رب العزت نے قرآن نازل فرماکر اس مسئلہ کو بیان فرمایا۔حضور (ﷺ) کو کوئی ضرورت ہوئی تواللہ نے اس کا جواب قرآن کی شکل میں نازل فرمایا۔وہ کونسا مسئلہ تھا؟وہ کونسی ضرورت تھی جس کی بناء پر آیت نازل ہوئی؟اور اس کے نازل ہونے کا سبب کیا تھا؟ اس کو شان نزول کہتے ہیں۔

حضرت زید ؓ کو رسول اللہ(ﷺ) سے محبت:

حضور(ﷺ) کے پاس زیدؓ نام کے ایک غلام ( خادم )تھے،اتفاق سے بچپن میں اپنے والدین و خاندان سے بچھڑ گئے تھے،کسی قافلہ والوں نے انہیں قید کر کے ’’بازار عکاظ‘‘ میں فروخت کر دیا۔ حضرت خدیجہؓ نے خرید کر کے رسول اللہﷺ کو ہبہ کر دیا تو یوں ایک دوسرے کے ہاتھ فروخت ہوتے ہوتے حضور(ﷺ) کی خدمت میں پہنچے اور ان کے والدین کو ان کی تلاش تھی، ایک وفد حضور (ﷺ) کی خدمت میں حاضر ہوا،حضرات علماء کرام نے یہ تصریح فرمائی ہے ’’مستدرک حاکم‘‘ میں موجود ہے اور سیرت کی کتابوں میں اس کی تفصیلات ہیں کہ جس وقت یہ وفد آیا،اس وفد میں حضرت زیدؓ کے والد اور دوسرے رشتہ دار شریک تھے۔اس وقت حضرت زیدؓ حضور (ﷺ) کی خدمت میں بیٹھے ہوئے تھے۔

سالہا سال گزرنے کے بعد انہوں نے اپنے والد صاحب کو دیکھا،تو پہلی ہی نظر میں حضرت زید ؓ نے اپنے والد صاحب کو پہچان لیا،اور انہوں نے بھی پہچان لیا کہ یہ میرا بیٹاہے۔دونوں نے ایک دوسرے کو دیکھ کر رونا شروع کردیالیکن حضرت زید ؓ ملنے کے لئے اٹھے نہیں۔حضور(ﷺ) نے توجہ فرمائی اور کہا : زیدؓ کیا ہوا؟ فرمایا: یہ میرے والد صاحب ہیں۔ارشادفرمایا:ملے کیوں نہیں؟حضرت زید ؓنے کہا : آپ کے ہوتے ہوئے مجھے شرم آتی ہے کہ اٹھ کر دوسروں کوسلام کرتا پھروں! یاد رکھیں اس سے بڑوں کی مجلس کا ایک ادب بھی معلوم ہوگیا کہ بڑوں کی موجودگی میں کسی اور کی طرف دھیان نہیں دینا چاہئے۔خیر! حضور (ﷺ) نے حکم فرمایا : حضرت زیدؓاپنے والدسے ملے،گفتگو شروع ہوئی ،حضرت زیدؓ کے والد صاحب نے کہا : اتنا عرصہ ہوگیا ہے حضرت زیدؓ کو بچھڑے ہوئے اور یہ اب آپ(ﷺ) کی خدمت میں ہے، آپ(ﷺ) جو معاوضہ لینا چاہیں لے لیں اورحضرت زیدؓکو ہمارے سپرد کردیں!۔

263

آپ(ﷺ) نے بڑے انصاف کی بات کہی :

حضور(ﷺ) نے ارشاد فرمایا: زیدؓ اگر بخوشی تمہارے ساتھ جانا چاہے تو میری طرف سے اجازت ہے ، کوئی انکار نہیں،لیکن اگر وہ خود نہ جانا چاہے تو میں تمہارے ساتھ جانے پر اس کو مجبورنہیں کروںگا،اوربلا معاوضہ لے جائیں،مجھے معاوضہ کی ضرورت نہیں۔ بس اتنی میری درخواست ہے۔ ’’اسئلکم ان تشہدوا ان لا الہ الا اللہ وانی خاتم انبیائہ ورسلہ وارسلہ معکم (مستدرک حاکم ج۳ ص۲۱۴)‘‘ {کہ میں تم سے صرف ایک چیز مانگتا ہوں وہ یہ کہ اس بات کی شہادت دو کہ اللہ کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں اور میں اللہ تعالیٰ کے انبیاء ورسل کا خاتم ہوں۔} (میں آپ کے اس اقرار پر) زیدؓ کو تمہارے ساتھ کر دوں گاتو وہ وفد اور وہ حضرات بھی رسول اللہ (ﷺ)کے اس ارشاد پر بڑے خوش ہوئے،اور کہا: آپ (ﷺ) نے بڑے انصاف کی بات کی ہے۔ حضور (ﷺ)کے ممنون ہوئے اور شکریہ ادا کیا۔

حضرت زید ؓ نے وطن ،آزادی،والدین، رشتہ دار اورہر چیز کو قربان کردیا:

حضرت زیدؓ کو کہا : جانے کی تیاری کریں؟جواب میں حضرت زید ؓ نے کہا : میں تو نہیں چلتا!وفد بڑا حیران و پریشان ہوا !حضرت زیدؓ نے گفتگو شروع کی اور کہا: آپ یہ فرمائیں گے : یہاں مسافری ہے ،وہاں وطن ہے،یہاں غلامی ہے وہاں آزادی ہوگی۔یہاں میں اکیلا ہوں وہاں سب رشتہ دار ہوں گے ۔ یہاں میرے پاس کچھ نہیں، وہاں کاروبار ہوگا ،تجارت ہوگی،میں والدین کو چھوڑ سکتا ہوں ،بھائی بہن کو چھوڑ سکتا ہوں،کاروبار چھوڑ سکتا ہوں،اپنا ملک چھوڑ سکتا ہوں،اپنی آزادی قربان کرسکتا ہوں مگر حضور(ﷺ) کی مجلس اور آپ کی بارگاہ کی حاضری نہیں چھوڑ سکتا۔اور آپ(ﷺ)کی جدائی مجھے گوارا نہیں۔

آج سے زید ؓ میرا بیٹا ہے،آپ(ﷺ) نے اپنی پھوپی زاد

بہن سے نکاح کردیا:

حضرت زیدؓ کے والد ین گفتگو سن کربڑے حیران ہوئے اوررسول اللہ (ﷺ) کو درخواست کی کہ آپ انہیں ارشاد فرمائیں : وہ ہمارے ساتھ چلیں۔حضور(ﷺ)نے ارشاد فرمایا : یہ جانا چاہے تو مجھے کوئی اعترا ض نہیں اور اگر یہ رہنا چاہتے ہیںتو میں یہ کیوں کہوں کہ چلے جاؤ؟ یہ

264

بڑی بے انصافی ہوگی۔اگر جانا چاہے تو اجازت ہے اور اگر رہنا چاہے تو یہ اس کا گھر ہے۔جو وفد حضرت زیدؓ کو لینے آیا تھا وہ وفد واپس چلا گیا۔

اس کے بعد :حضور(ﷺ)نے ارشاد فرمایا : اب سے زیدؓ میرا بیٹا ہے اورگھر میں اس طرح رہے گا جس طرح ایک بیٹا اپنے باپ کے گھر میں رہتا ہے۔آپ (ﷺ)نے حضرت زیدؓ کو اپنی محبت و شفقت دی اور آگے چل کر حضور(ﷺ)نے اپنی پھوپی زاد بہن حضرت زینبؓ سے حضرت زیدؓ کا نکاح کردیا۔ (اللہ کی شان!) بسااوقات بعض رشتے کامیاب نہیں ہوتے ،سالہا سال انہوں نے آپس میں زندگی گزاری مگر بالآخر ایک موڑ اور وقت ایسا آیا کہ دونوں کے مابین طلاق کے ذریعہ تفریق ہوگئی۔ کچھ ایسا ہی معاملہ حضرت زینبؓ اور حضرت زیدؓ کا بنا کہ چند دن گزرنے کے بعد حضرت زینبؓ اور حضرت زیدؓ کے مابین تفریق ہوگئی۔

حضرت زینب ؓ کا نکاح آسمانوں پراللہ تعالیٰ نے رسول اللہ(ﷺ)

کے ساتھ کردیا :

میرے بھائیو! ایک مدت وعرصہ کے بعد حضور(ﷺ)کو وحی کے ذریعہ اطلاع دی گئی کہ:’’زوجنالہا(سورہ احزاب:۳۷)‘‘ ہم نے آپ(ﷺ) کا نکاح حضرت زینبؓ سے کردیا ہے ۔ آنحضرت (ﷺ)نے حضرت زینبؓکو اطلاع کرائی اورشام کو حضرت زینبؓکے گھر تشریف لے گئے۔اور دنیا میں نکاح پڑھنے کی ضرورت پیش نہ آئی۔اسی وجہ سے حضرت زینبؓ باقی ازواج مطہرات ؓسے فخر کے طور پر فرمایا کرتی تھیں کہ میرا نکاح آسمانوں پر اللہ رب العزت نے کرایا ہے۔ (آگے کی تفصیل پہلے بیان کردی گئی ہے)

زمانہ ٔ جاہلیت کی ایک رسم کاتوڑا:

تو میں یہ عرض کرنا چاہتاہوں کہ جب حضرت زینبؓ کا نکاح ہوگیا تو مخالفین نے یہ پروپیگنڈا کرنا شروع کردیا کہ حضور(ﷺ) نے اپنے بیٹے کی بہو کے ساتھ نکاح کرلیا ( کیونکہ اس زمانہ ٔ جاہلیت میں حقیقی بیٹے کی بیوی کی طرح منہ بولے بیٹے کی بیوی کو بھی اپنے لئے حرام سمجھاجاتا تھا ) ایک طرف حضرت زیدؓ بیٹے ہیں اور دوسری طرف ان کی مطلقہ بیوی جس سے حضور(ﷺ) نے نکاح کرلیا۔(نعوذ باللہ)

265

تو اس کے جواب میں قرآن کریم کی یہ آیت کریمہ نازل ہوئی:’’ ماکان محمد ابا احد من رجالکم و لٰکن رسول اللہ و خاتم النّبیین۔محمد( a )تم میں سے کسی بالغ مرد کے باپ نہیں ،لیکن وہ اللہ کے رسول اورخاتم النّبیین ہیں۔‘‘جب آپ کا جوان بیٹا کوئی نہیں تو بہو سے نکاح کرنے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔بہو تو اس کی ہوتی ہے جس کا جوان بیٹا ہو پھر اس کا نکاح ہو اور اس کی بیوی مطلقہ ہو کر منکوحہ ہو اور بلاوجہ تمہارا یہ کہنا کہ’’ بیٹے کی بہو کے ساتھ شادی کرلی ‘‘یہ بہت بڑا الزام ہے۔قرآن کریم نے زمانہ ٔ جاہلیت کے اس غلط عقیدہ کی اصلاح کی اور اس رسم بد کومٹانے کے لئے یہ آیت کریمہ نازل فرمائی۔

خاتم النّبیین (ﷺ)کی ساری نرینہ اولاد بچپن میں فوت ہوگئی:

میرے عزیز بھائیو! یہاں ایک بات عرض کرتا چلوں:حضور(ﷺ)کی جتنی نرینہ اولاد تھی ا ن سب کا بچپن میں ہی انتقال ہوگیا،اور حضرت ابراہیمؓ کے انتقال کے سلسلے میں امام بخاریؒ کی صراحت آپ حضرات کے سامنے آچکی،اور آپ (ﷺ)کے جتنے صاحبزادے تھے سب کا بچپن میں انتقال ہوگیا۔

دو سوالوں کے مختصر جواب :

اب سوال یہ ہے کہ انسان کی جتنی نسل چلتی ہے وہ سب اس کی اولادِ نرینہ سے چلتی ہے،تو حضور(ﷺ) کا کوئی جوان بیٹا ہی نہیںجو باپ کانام روشن رکھے،تو ظاہر بات ہے کہ آپ کی نسل نہیں چلے گی۔توآپ کا نام لیوا دنیا میں کوئی نہیں ہوگا۔

دوسری بات یہ کہ باپ اپنی اولاد کے لئے رحیم ہوتا ہے، تو ظاہر بات ہے آپ(ﷺ) اس صفت سے شفقت و محبت سے بھی خالی ہیں۔تو اس کاجواب قراٰن مجید نے یہ دیا : حضور(ﷺ) کے متعلق تمہارا یہ سوچنا کہ’’ آپ(ﷺ) کی نسل نہیں چلے گی،آپ(ﷺ) کا نام لیوا کوئی نہیں ہوگا‘‘ ، تو اللہ تعالیٰ نے ’’ولاکن رسول اللہ‘‘ کہہ کر جواب دے دیا کہ: حضور(ﷺ) اللہ کے رسول ہیں،رسول اللہ (ﷺ) کی امت اپنے رسول اورنبی کی نام لیوا ہوگی اور یہ کہناکہ ’’محبت و شفقت نہیں ہوتی‘‘، حالانکہ باپ کو اپنی اولاد کے ساتھ اتنی محبت نہیں ہوتی جتنی محبت اللہ کے رسول a کواپنی امت سے ہوتی ہے۔رسول(ﷺ) اپنی امت سے بیحد محبت کرتے ہیں ، باپ میں بھی اتنی محبت نہیں ہوتی جتنا رسول اللہ(ﷺ) کو اپنی امت سے ہے اور امت کے فرمانبردار لوگ رسول

266

اللہ(ﷺ) کی اطاعت میں اپنی زندگی گزارتے ہیں۔ آپ کے دین کی اشاعت کرتے ہیں اور آپ(ﷺ) کی ختم نبوت کا تحفظ کرتے ہیں۔ لہٰذا ان تمام وجوہ کی بناء پر رسول اللہ (ﷺ) کا نام بھی قیامت تک روشن ہوگا۔ کون کہتا ہے کہ کوئی آپ(ﷺ) کا نام لیوا نہیں ہوگا۔

اب قیامت تک خاتم النّبیین حضرت محمد (ﷺ)کی شریعت کا سکہ چلے گا:

اور (نعوذ باللہ ) اللہ کے رسول میں کوئی عیب بھی نہیں،نقص کی بجائے آپ (ﷺ)میں خوبی ہی خوبی ہے ، ولٰکن رسول اللہ،یہاں ایک گنجائش تھی کہ اللہ کے رسول آئے اور چلے گئے،بات ختم ہوگئی،پھر دوسرے آئے چلے گئے بات ختم ہوگئی۔جب یہ اصول کارفرما ہے تو حضور(ﷺ) آئے اور چلے گئے تو ایک مدت بعد دوسرے نبی آسکتے ہیں؟پھر حضور(ﷺ) کی شریعت ختم ہوجائے گی،آپ (ﷺ) کا نام ختم ہوجائے گا اور نئے نبی کا سکہ چلے گا،تو قرآن مجیدنے اس غلط فہمی کے ازالہ کے لئے فرمایا : ولٰکن رسول اللہ و خاتم النّبیین، پہلے نبی،رسول آتے تھے ،چلے جاتے تھے،لیکن محمد(ﷺ) ایسے نبی ہیںکہ جن کی شریعت کا سکہ قیامت تک چلے گا،آپ کا ہی نام روشن ہوگا،آپ(ﷺ) کی شفقت و محبت سے کائنات فائدہ اٹھائے گی۔اس لئے حضور(ﷺ) کے لئے قرآن مجید نے لفظ خاتم النّبیینکا انتخاب فرمایا۔

خاتم النّبیین کا غلط ترجمہ:

(پہلے اللہ تعالیٰ منصب نبوت عطا فرماتے تھے،اب نبوت کا محکمہ حضرت محمد(ﷺ) کی طرف منتقل ہوگیا۔ نعوذاللہ!)

یہاں پر مرزائی کرم فرما لفظ خاتم النّبیین کا الٹا ترجمہ کرتے ہیں،کہتے ہیں:خاتم النّبیین کا معنی آخری نبی نہیں بلکہ اس کے معنی یہ ہیں کہ پہلے اللہ تعالیٰ نبی بناتے تھے اب حضور(ﷺ) نبی بنائیںگے۔وہ اس طرح کہ جو شخص حضور(ﷺ) کی کامل اتباع کرے گا اس کو حضور(ﷺ)اپنی مہرسے نبی بنائیں گے۔خاتم کا معنی مہر کا(مہرسے )کیا ہے۔پہلے اللہ تعالیٰ نبی بناتے تھے اب حضور(ﷺ) نبی بنائیں گے۔ یہ نبوت کا محکمہ اب اللہ تعالیٰ نے رسول اللہ (ﷺ) کی طرف منتقل کردیا۔( نعوذ باللہ!) یہ موقف قادیانیوں کا ہے۔

267

قادیانی ایسی الٹی ہڈی کے بنے ہوئے ہیں کہ خاتم کا ترجمہ نہ تو اللہ تعالیٰ کا،نہ تو رسول اللہؐ،نہ تو صحابہ کرام ؓ اور یہانتک کہ غلام احمد قادیانی کا ترجمہ بھی قبول نہیں کرتے :

میرے عزیزو! قادیانی کہتے ہیں کہ اب حضور(ﷺ)کی مہر سے نبوت کا سلسلہ چلے گا۔جس کو نبی بنانا ہے رسول اللہ (ﷺ)نے مہر لگائی نبی بن گیا۔ہم نے ان کی خدمت میںدرخواست کی کہ اللہ تعالیٰ قرآن مجید کے نازل کرنے والے ہیں ، اللہ رب العزت سے اس کا ترجمہ پوچھ لیا جائے،وہ تم بھی مان لو ہم بھی مان لیتے ہیں۔حضور(ﷺ) کی ذات گرامی پر قرآن مجید نازل ہوا۔حضور (ﷺ) سے اس کا ترجمہ پوچھ لیتے ہیں وہ جو بھی ترجمہ بتائیں وہ ہم بھی مان لیتے ہیں اور آپ بھی مان لیں۔

قرآن کریم کے اولین مخاطب صحابہ کرام (رضوان اللہ تعالیٰ علیہم اجمعین) تھے۔ وہ جو ترجمہ کریں وہ ہم بھی مان لیتے ہیں وہ تم بھی مان لو۔اگر یہ تینوں صورتیں تم کو پسند نہیں ،اللہ رب العزت کا ترجمہ تمہیں پسند نہیں!رسول اللہ (ﷺ)کا ترجمہ تمہیں پسند نہیں!صحابہؓ کا ترجمہ بھی تمہیں پسند نہیں!

چلو! مرزا غلام احمد قادیانی جو ترجمہ کردیں وہ تم مان لو!یہ ہماری عدل و انصاف کی بات ہے۔ان کے ساتھ کوئی زیادتی نہیں ہوگی۔لیکن قادیانی ایسی الٹی ہڈی کے بنے ہوئے ہیں کہ کسی طرح وہ حضرات ماننے کے لیے تیار نہیں،نہ تو وہ اللہ تعالیٰ کا ترجمہ مانتے ہیں اور نہ تو رسول اللہؐ کا ترجمہ ماننے کو تیار ہیں اور نہ تو صحابہ کرام ؓ کا ترجمہ ماننے کو تیار ہیں حتیٰ کہ غلام احمد قادیانی کا ترجمہ ماننے کو بھی تیا رنہیں ہیں۔

قرآن کریم میں سات جگہ ’’ختم‘‘ کا لفظ استعمال ہوا ہے :

میں آپ دوستوں کی خدمت میں اللہ رب العزت کا ترجمہ پیش کرنا چاہتا ہوں،قرآن مجید میں سات جگہختم کا لفظ استعمال ہوا ہے(۱) ختم اللہ علیٰ قلوبہم(البقرۃ۷) (۲) الیوم نختم علیٰ افواھھم(یٰس۶۵)(۳) یسقون من رحیق مختوم ،(۴) ختامہ مسک(المطففین۲۵،۲۶)( ۵) وا ضلّہ اللہ علیٰ علم وختم علیٰ سمعہ وقلبہ الخ(الجاثیۃ۲۳)( ۶)قل ارئیتم ان اخذ اللہ سمعکم و ابصارکم و ختم علیٰ قلوبکم

268

من الٰہ غیر اللہ یأتیکم بہ(الانعام۴۶)(۷) فان یشاِ اللہ یختم علیٰ قلبک(الشوریٰ۲۴)

یہ لفظ جہاں کہیں استعمال ہوا ہے اس کے معنی ہر جگہ قدر مشترک کے طور پر اس طرح کے ہیں کہ’’ کسی چیز کو اس طرح بند کرنا کہ کوئی دوسری چیز اندر داخل نہ ہو۔اور جو کچھ اس میں داخل ہے اس کو باہر نہ نکالا جا سکے۔‘‘مثلاً :اللہ تعالیٰ نے فرمایا : ختم اللہ علی قلوبھم، اللہ تعالیٰ نے ان مخصوص کافروں کے دلوں پر مہر لگا دی ۔کیا معنی؟ (جواب یہ کہ ) کفر ان کے دلوں سے باہر نہیں نکل سکتااور باہر سے ایمان ان کے دلوں کے اندر داخل نہیں ہو سکتا ۔

اب خاتم النّبیین کے یہ معنی ہوںگے کہ حضور(ﷺ) کے تشریف لانے سے سلسلۂ انبیاء (علیہم السلام )پر ایسی مہر لگادی گئی کہ اب آئندہ کوئی شخص نبوت میں داخل نہیں ہوسکتا اور ایک لاکھ چوبیس ہزار انبیاء(علیہم السلام)جو داخل نبوت ہیںان کو نبوت سے باہر نہیں نکالا جاسکتا۔لیکن قادیانی خداتعالیٰ کے اس بتلائے ہوئے ترجمہ کو ماننے کے لئے تیار نہیں۔

شب معراج میں تمام انبیاء (علیم السلام) نے آپ کی اقتدا میں نماز پڑھی تو کیا مرزا غلام احمد قادیانی اس میں تھا ؟

ہم نے ان کی خدمت میں درخواست کی کہ معراج کی رات میں اللہ تعالیٰ نے جن جن لوگوں کو نبی بنایا تھا اورجن جن حضرات کو اللہ تعالی نے نبوت سے سرفراز فرمایا تھا ، ان سب نے اس رات حضور(ﷺ) کی اقتداء میں نماز پڑھی۔یہاں پر آپ اپنے نمائندہ کو دکھلا دیں تو ہم بھی مان لیتے ہیں۔کل کائنات میںآدم (علیہم السلام) کی نسل میں جو نبی بن چکے تھے وہ سب موجود تھے،اگر اس میں آپ کا نمائندہ ہے تو ہم ماننے کو تیا ر ہیں،اور اگر آپ کا نمائندہ نہیں ہے تو یہ زیادتی ہوگی کہ آپ اس میں اس کو یعنی مرزا غلام احمد کو شامل کرتے ہیں۔

قادیانی یہ بات ثابت نہ کر سکے تو معراج کا انکار کردیا :

قادیانیوں نے ہم پر اعتراض کردیا اوروہ اعترا ض یہ کہ جسم خاکی آسمانوں پر کیسے جا سکتا ہے؟ جب جسم خاکی آسمانوں پر نہیں جاسکتا تو حضور(ﷺ) اس جسد خاکی کے ساتھ کیسے گئے ہیں؟ لہٰذا معلوم ہوا کہ حضور(ﷺ) کو معراج نہیں ہوئی،معراج کا انکار اس لئے کرتے ہیں کہ کہیں حضور (ﷺ) کا آسمانون پر آنا جانا ثابت ہوگیا تو یہ بھی ماننا پڑے گا کہ عیسیٰ( علیہ السلام)

269

بھی آسمانوں پر گئے،تو ہمارا سارا کارو بار ختم ،اپنے کار وبار کو بچانے کے لئے اور مرزا کی دکان چمکانے کے لئے رسول اللہ (ﷺ) کی معراج کا انکار کرتے ہیں۔(نعوذ باللہ ) وہ کہتے ہیں: حضور (ﷺ) کو خواب آیا تھا ،معراج ایک خواب تھا،اس کی لمبی تفصیل ہے ، دلائل کیا ہیں؟ اس میں میں جانا نہیں چاہتا۔ خلاصہ یہ ہے کہ وہ معراج کے واقعہ کا انکارکرتے ہیں، اور کہتے ہیں کہ دیکھو ! معراج کی رات کو اللہ تعالیٰ نے انبیاء (علیہم السلام)کی صورتوں کو مثالی اجسام عطا کئے تھے،اور وہ کل انبیاء(علیہم السلام) تھے جو فوت ہوگئے تھے،تو ظاہر بات ہے کہ اگرعیسیٰ (علیہ السلام )اس میں موجود تھے تو وہ بھی فوت ہوگئے۔

معراج کی رات خود جبرئیل ؑ اور رسول اللہ (ﷺ)بھی موجود تھے تو کیا وہ فوت ہوگئے تھے ؟

تو ان سے کوئی پوچھے کہ اس میں تو جبرئیل( علیہ السلام )بھی تھے تو کیا وہ بھی فوت ہوگئے؟اس اجتماع میں رسول اللہ (ﷺ) کی ذات گرامی بھی اپنے اصلی جسم کے ساتھ موجود تھی تو کیا وہ بھی فوت ہوگئے؟( نعوذ باللہ) جس طرح رسول اللہ(ﷺ) اس اجتماع میں تھے اسی طرح حضرت عیسیٰ (علیہ السلام ) بھی تھے۔تو عیسیٰ (علیہ السلام ) کا اس اجتماع میں ہونا کوئی اعتراض کی بات نہیں۔

یہاں پہنچ کر قادیانیوں کے جھوٹے دعویٰ کی قلعی کھل جاتی ہے :

جس روایت سے وہ استدلال کرتے ہیں اس کووہ آگے نہیں پڑھتے، اگر آگے پڑھتے تو ان کے سارے دعویٰ کی قلعی کھل جاتی۔اسی روایت کے آگے آتا ہے کہ حضور(ﷺ) ارشاد فرماتے ہیں : جس وقت میں اور انبیاء (علیہم السلام)نماز پڑھ کر فارغ ہوئے تو ہر ایک نبی کو دعوت دی گئی کہ وہ خطبہ دیں، اور اللہ کی حمدوثنا کریں تو حضرت آدم (علیہ السلام) اور ابراہیم(علیہ السلام)نے اللہ رب العزت کی تعریف کی اور ارشاد فرمایا: اس رب کا شکریہ کس طرح ادا کریں کہ جس نے محمد عربی(ﷺ) کو میری اولاد میں پیدا فرمایا،پھر اسی طرح ابراہیم (علیہ السلام ) نے بھی فرمایا الیٰ آخرہ:

شب معراج میں حضرت عیسی (علیہ السلام ) کا وعظ :

حضور(ﷺ)ارشاد فرماتے ہیں: سب سے آخر میں میرا وعظ ہوا، اور بعد میں ہم

270

انبیاء (علیہم السلام ) کے مابین قیامت کا تذکرہ چل پڑا۔تو پوچھا گیا : قیامت کب آئے گی؟تو ہر ایک نے جواب دیا کہ ہمیں اس کا علم نہیں،اللہ رب العزت ہی جانتے ہیں کہ قیامت کب آئے گی؟جس وقت حضرت عیسیٰ (علیہ السلام )کی باری آئی تو انہوں نے فرمایا: قیامت کا صحیح علم تو اللہ تعالیٰ کو ہی ہے،لیکن میں اتنا جانتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ نے مجھ سے وعدہ کیا ہے کہ قیامت اس وقت تک قائم نہ ہوگی جب تک مجھے دنیا میں دوسری بار نہ بھیجا جائے۔ ( اسی معراج شریف کی روایت کے اندر یہ بات موجود ہے جس کا قادیانی صرف ایک ٹکڑا بھولے بھالے مسلمانوں کے سامنے پیش کرتے ہیں)۔ تو قادیانیوں سے ہم نے درخواست کی کہ قرآن کے اسلوب بیان کو دیکھتے ہوئے اللہ رب العزت کا جو ترجمہ ہے وہ تو مان لو! یہ بھی تسلیم کرنے کے لئے آمادہ نہیں۔

دوسو سے زیادہ احادیث مبارکہ سے ختم نبوت واضح ہے:

ہم نے پھر درخواست کی کہ حضور(ﷺ) نے جو ترجمہ کیا ہے وہ مان لو:اچھا جی حضور(ﷺ) نے کیا ترجمہ کیا؟آپ(ﷺ) کی دوسو سے زیادہ احادیث مبارکہ ہیں جن میں ختم نبوت کے مسئلہ کو بیان کیا گیا ہے۔ مثلاً: آپ (ﷺ)نے ارشاد فرمایا : انا آخر الانبیاء و انتم آخر الامم (ابن ماجہ ص۲۹۷): لوگو! میں نبیوں میں سب سے آخری نبی ہوں اورتم سب سے آخری امت ہو۔میرے بعد کوئی نبی نہیں اور تمہارے بعد کوئی امت نہیں۔

نبی کے بدلنے سے امت بدلتی ہے اور میرے بعد کوئی نبی نہیں تو تم قیامت تک کے لئے میری امت ہو اور یہ امت قیامت تک باقی رہے گی اور رسول اللہ (ﷺ)نے فرمایا : انا خاتم الانبیاء ومسجدی خاتم مساجد الانبیاء (کنزالعمال ج۱۲ ص۲۷۰)میں آخری نبی ہوں اور میری مسجد انبیاء کی مسجد کی خاتم ہے، ہر نبی آکر مسجد بناتا ہے، میں نبیوں کا آخری ہوں۔ نبیوں نے جو مسجدیں بنائی ہیں ان میں سے میری مسجد ان مسجدوں کی خاتم ہے۔اب نیا نبی کوئی نہیں آئے گا اب کسی نبی کی مسجد نہیں بنے گی ۔ حضور(ﷺ) نے متعدد مثالیں پیش کیں۔

آپ(ﷺ) کے ارشادات سے جہاں کہیں کوئی غلط فہمی ہو سکتی تھی تو آپ(ﷺ)نے امت کو فورًا متنبہ فرمایا :

میرے عزیز بھائیو! ذرا توجہ فرمائیں! میرے ماں باپ، میری روح و جسم آنحضرت

271

(ﷺ) پر قربان!جہاں کہیں جھوٹے مدعیان نبوت سے خطرہ محسوس فرمایا اور کوئی گنجائش نکل سکتی تھی تو وہاں فورًا حضور(ﷺ) نے امّت کو اس طرف متوجہ کیا تاکہ بعد میں کوئی غلط فہمی نہ رہے۔مثلًا: حضور (ﷺ) ایک مرتبہ غزوۂ تبوک کے سفر پر تشریف لے جارہے تھے، آپ(ﷺ)نے حضرت علیؓ سے فرمایا :علی آپؓمیرے قائم مقام ہوںگے،ان کے دل میں خیال آیا کہ یہاں کمزور، بیمار اور بچے ہیں، ان کی ا مامت و انتظامات کے لئے مجھے یہاں رہنا ہے اور جو بہادر ساتھی ہیں وہ جا کر جنگ میں شریک ہوںگے۔تو حضرت علیؓکے دل میں ایسا خیال آیا کہ مجھے بھی جنگ میں جاکر شریک ہونا چاہئے تاکہ وہاں میں بہادری کے جوہر دکھاؤں اور جہاد کے ثواب سے مستفید ہوں۔

علیؓ : تم اس بات کو پسند نہیں کرتے :

تو حضور(ﷺ)نے ارشاد فرمایا : علیؓ تم اس بات کو پسند نہیں کرتے کہ آپ ؓکا میرے پاس وہی مرتبہ ہو جو ہارون(علیہ السلام ) کا حضرت موسیٰ (علیہ السلام ) کے پاس تھا ، جس وقت وہ طور پر اللہ سے ہم کلامی کے لئے تشریف لے گئے تھے تواپنے بھائی ہارون (علیہ السلام ) کو قائم مقام بنا کر گئے تھے۔آپ (ﷺ) نے ارشاد فرمایا کہ:’’انت منی بمنزلۃ ہارون من موسیٰ‘‘جس طرح حضرت موسیٰ کے بھائی ہارون(علیہ السلام )موسیٰ (علیہ السلام )کے قائم مقام ہوتے تھے اسی طرح تم میرے قائم مقام ہوگے۔

اس میں ایک شبہ ہو سکتا تھا جس کا جواب دیا گیا :

یہاں سوال یہ پیدا ہو سکتا تھاکہ حضرت موسی (علیہ السلام )بھی اللہ کے نبی اور حضرت ہارون (علیہ السلام )بھی اللہ کے نبی ہیں تو حضور(ﷺ) تو اللہ کے نبی ہیںاور شاید حضور(ﷺ) کے بعد بھی حضرت علی ؓ نبی ہوں تو حضور(ﷺ) نے فورًا تنبیہ فرمائی کہ علیؓ: ’’انت منی بمنزلۃ ہارون (علیہ السلام) من موسیٰ (علیہ السلام ) و لٰکن لا نبی بعدی‘‘ (مسلم ج۲ ص۲۷۸)لیکن میرے بعد کوئی نبی نہیں۔

تو جہاں جہاں ایسا اشکال ہو سکتا تھا رسول اللہ (ﷺ) نے فوراً’’ لانبیّ‘‘ کہہ کر تنبیہ فرمادی۔تو خود حضور (ﷺ) نے خاتم النّبیین کا لفظ بول کر لا نبیّ بعدی سے اس کی تفسیر فرمادی۔آپ (ﷺ)نے ارشاد فرمایا :انہ سیکون فی امتی ثلاثون دجّالون کذّابون

272

کلھم یزعم انہ نبی وانا خاتم النّبیین لا نبی بعدی (ابوداؤد ج۲ ص۵۹۵، ترمذی ج۲ ص۴۵) خاتم النّبیین کا ترجمہ لا نبی بعدی سے کر کے مسئلہ کو رسول اللہ (ﷺ) نے بالکل واضح فرمادیا۔

اللہ تعالیٰ اور رسول اللہ ﷺ کے ترجمہ کو نہیں مانتے تو صحابہ کرام ؓ کے ترجمہ کو مان لو :

لیکن مرزائی رسول اللہ(ﷺ) کے اس ترجمہ کو بھی ماننے کے لئے تیار نہیں،ہم نے ان سے درخواست کی،تم نے خدا کے ترجمہ کو نہیں مانا،رسول اللہ(ﷺ) کے ترجمہ کو نہیں مانا،تو سب سے پہلے حضور(ﷺ)کی ذات گرامی سے قرآن سننے والے حضرات صحابہ کرام(رضوان اللہ علیہم اجمعین) تھے،قرآن کے سب سے پہلے مخاطب بھی صحابہ(رضوان اللہ علیہم اجمعین) کی جماعت تھی۔تو صحابہ (رضوان اللہ علیہم اجمعین)جو ترجمہ کردیں وہ مان لو، اور ان کا ترجمہ بڑا واضح ہے،’’حضرت صدیق اکبر(رضی اللہ عنہ)‘‘ کے زمانہ میں جب ’’مسیلمہ کذّاب‘‘ نے نبوت کا دعویٰ کیا، تو صحابہ (رضوان اللہ علیہم اجمعین)نے جو موقف اختیار کیا وہی ہمیں اختیار کرنے کی اجازت دیدو،یا تو صحابہ(رضوان اللہ علیہم اجمعین) کے اس موقف کو تسلیم کرلو،تو قادیانی ان صحابہؓ کے موقف کو تسلیم کرنے کیلئے تیار نہیں۔

ختم نبوت پر امت کا اجماع ہے :

میرے بھائیو! ذرا میری طرف متوجہ ہوں۔ میں یہاں ایک بات عرض کرتا چلوں کہ چودہ سو سال سے حضور(ﷺ) کی امت کا اجماع ہے ،اس بات پر کسی ایک فرد نے بھی اس مسئلہ سے انکار نہیں کیا،اور اس بات پر بھی اتفاق ہے ملا علی قاریؒ نے فرمایا: ان دعویٰ النبوۃ بعد نبینا کفر بالاجماع (شرح فقہ اکبر ص۲۰۲)کہ جو شخص رسول اللہ (ﷺ) کے بعد نبوت کا دعویٰ کرے وہ بالاتفاق کافر اور دائرۂ اسلام سے خارج ہے۔حضور(ﷺ)کے بعد مسیلمہ کذاب سے جنگ کرکے صحابہ(رضوان اللہ علیہم اجمعین) نے اس مسئلہ کو خوب واضح کردیا۔

سچے نبی کے جھوٹے پیروکاروں کو اسلام برداشت کرتا ہے مگر!:

انہوں نے کہا : ہم سب کچھ برداشت کر سکتے ہیں مگر حضور(ﷺ) کے بعد کسی مدعیٔ نبوت کو برداشت نہیں کر سکتے۔اسلامی حکومت میں عیسائیت و یہودیت قابل برداشت ہے مگر جھوٹا دعویٰ نبوت اور اس کے متبعین قابل برداشت نہیں۔کیونکہ مسیحی و یہودی خود جھوٹے ہیں مگر

273

ان کے نبی سچے تھے، سچے نبی کے جھوٹے پیرو کاروں کو اسلام برداشت کرسکتا ہے مگر جھوٹے نبی اور اس کی پیروی کرنے والوں کو اسلام قطعاً برداشت نہیں کرسکتا۔ سب بولیں! اسلام! قطعاً برداشت نہیں کر سکتا۔

مرتدین خنزیر سے بھی بدتر ہیں :

میرے بھائی! توجہ فرمائیں۔ اس سے بڑھ کر اور عرض کرتا چلوں کہ اسلام کی رو سے مرتد ہوجانا بدترین چیز ہے حتیٰ کہ مرتد خنزیر سے بھی بدتر ہے، آ پ حضرات کہیں گے وہ کس طرح ؟ کوئی بھی اسلامی حکومت ہو اس کے ذمہ یہ چیز نہیں کہ وہ خنزیرکو تلاش کرے اور اس کوٹھکانے لگائے۔خنزیر پالنے کی شرعًا اجازت نہیں۔مل جائے ضرور قتل کرے مگر اس کے لئے وفد ترتیب دینے کی ضرورت نہیں۔ایک ٹیم ، محکمہ مقرر کرے اور سارے جنگلات کا سروے کرے اور خنزیر کو پکڑ پکڑ کر قتل کرے یہ اسلامی حکومت کی ذمہ داری نہیں۔بخلاف مرتد کے کہ اسلامی حکومت پر فرض ہے کہ ان کو چن چن کر خدا اور رسول اللہ (ﷺ)کے باغیوں کو قتل کرے۔تو معلوم ہوا کہ خنزیر اتنا بدتر نہیں جتنا کہ مرتد بدتر ہے۔

مرتدین ہمارے ایمان کے دشمن ہیں :

میرے عزیز بھائیو! یاد رکھو!یہ بھی اسلامی حکومت کی ذمہ داری نہیں کہ وہ سانپ بچھو کو قتل کراتی پھرے، مل جائے ضرور قتل کردے مگراس کے لئے اہتمام مطلوب نہیں۔لیکن اسلامی حکومت کا فرض بنتا ہے کہ وہ ایک ایک مرتد کو ٹھکانے لگا ئے ۔معلوم ہوا سانپ بچھو اتنے خطرناک نہیں جتنے مرتد خطرناک ہیں۔سانپ بچھو آپ کی جان کے دشمن ہیں اور مرتد آپ کے ایمان کے دشمن ہے۔تو مرتد دونوں طریقوں سے سب سے زیادہ خطرناک ہے، تو قادیانیوں سے ہم نے کہا اس مسئلہ پر امت کا اجماع چودہ سو سال سے چلا آرہا ہے کہ رسول اللہ (ﷺ)کے بعد کوئی نبی نہیں اور جو ایسا کہے کہ نبوت جاری ہے تو وہ مرتد ہے، دائرۂ اسلام سے خارج ہے، واجب القتل ہے

امام ابو حنیفہ ؒ کا فیصلہ :

حضرت امام ابو حنیفہ ؓ کے زمانہ میں ایک شخص نے نبوت کا دعویٰ کیا۔اس نے کہا : تم مجھے نبی نہیں مانتے ہو نہ مانو مگر میرے متعلق استخارہ کرلو!لوگوں نے جمع ہو کر امام صاحبؒ کی خدمت

274

میں جا کر یہ مسئلہ پوچھا : کہ کیا ہمیں استخارہ کرنے کی اجازت ہے؟امام صاحب ؓ نے ارشادد فرمایا : تم سے جو شخص مدعی ٔ نبوت کے متعلق استخارہ کی نیت کرے گا ،صرف دل کے اندرخیال لاتا ہے کہ چلو استخارہ کرلیں۔امام صاحبؒ نے فرمایا : ایسا شخص بھی دائرۂ اسلام سے خارج ہے کیونکہ استخارہ اس کام کے لئے کیا جاتا ہے جو مباح و جائز ہو اور اس کے بارے میں متردد ہو کہ یہ کروں یا یہ؟ اور ظاہر ہے کہ نبوت کا دعویٰ حرام اور نا جائز ہے،اور حرام اور ناجائز کام محل استخارہ نہیں ہوا کرتا جیسے ماں کے ساتھ نکاح حرام ہے۔ بہن کے ساتھ نکاح حرام ہے۔ لیکن کوئی آدمی استخارہ کرے کہ شاید ماں اور بہن کے ساتھ نکاح کی کوئی صورت نکل آئے یہ ارادہ کرنا بھی حرام ہے۔ استخارہ تو اپنی جگہ تو محل استخارہ امور مباح ہیں۔ جس کام کا فعل وترک دونوں جائز و مباح ہوں وہ محل استخارہ ہے۔اس میں استخارہ جائز ہے۔اور وہ چیز کہ جس میں وجوب یا حرمت کی ایک جہت متعین ہو، مثلًا :پنج وقتہ نماز کہ وہ فرض ہے ،اس کا ترک جائز نہیں،اور مثلا: زنا کہ وہ حرام ہے اس کا ارتکاب جائز نہیں،وہ محل استخارہ ہی نہیں۔

خاتم النّبیین حضرت محمد (ﷺ)کے بعد مدعی ٔ نبوت کے متعلق استخارہ کرنا یا معجزہ طلب کرنا بھی کفر ہے :

تو کوئی شخص اگر حضور(ﷺ) کے بعد مدعی ٔ نبوت کے متعلق استخارہ کا خیال دل میں لاتا ہے تو خیال لانے والا شخص دائرۂ اسلام سے خارج ہوجائے گا۔کیونکہ دل میں استخارہ کرنے کا خیال لانے کا مطلب یہ ہے کہ اس کے نزدیک رسول اللہ (ﷺ)کے بعد کسی دوسرے مدعی ٔ نبوت کا دعویٰ نبوت حق اور صحیح ہے۔ ایک اور مسئلہ سن لیجئے!حضرت امام ابوحنیفہ ؓنے یہ بھی فرمایا : مناظرہ کی غرض سے کسی مدعی ٔ نبوت سے اس کی نبوت کی دلیل طلب کرنے کی تو گنجائش ہے تاکہ اس کی دلیل کو توڑا جاسکے،لیکن اس کو شکست دینے اور مناظرہ کی نیت کے بغیر مدعی ٔ نبوت سے معجزہ کا مطالبہ کرناکہ کوئی معجزہ دکھلا، یہ موجب کفر ہے۔

میری محبت کا دعویٰ اور دیکھتے کسی اور کی طرف ہو ؟

کہتے ہیں کوئی خوبصور ت عورت سفر کررہی تھی،ایک آدمی اس کے پیچھے لگ گیا،اس آدمی نے کہا: میرا دل تجھ پر فریفتہ ہوگیا ہے اس عورت نے کہا کہ دیکھ وہ میرے پیچھے جو آرہی ہے وہ مجھ سے زیادہ خوبصورت ہے ، اور وہ میری بہن ہے، جیسے ہی اس نے پیچھے کی طرف منہ کیا اس

275

عورت نے اس مرد کو طمانچہ لگایا اور کہا،کیا تمہیں شرم نہیں آتی؟ میری محبت کا دعویٰ کرکے کسی اور کی طرف دیکھتے ہو؟تو حضور(ﷺ) کے ہوتے ہوئے کسی اور طرف دیکھنا اور نبی آخر الزماںa کے امتی بننے کے بعدکسی اور کی طرف دیکھنا ،دیکھنے کا دل کے اندر خیال لانا بھی انسان کو کفر تک پہنچادیتاہے۔

خاتم النّبیین کے امتی بننے سے بڑھ کر بھی کوئی شرف ہے ؟

مسلمانو!حضور(ﷺ) کا امتی بننے کا شرف جس کو حاصل ہوجائے اور پھر وہ کسی اور مدعی ٔ نبوت کی طرف دیکھے اس سے زیادہ کون شخص محروم القسمت ہو سکتا ہے؟۔حضور(ﷺ) کا امتی بننے کے لئے دوسرے انبیاء سابقین (علیہم السلام)بھی ترستے تھے،حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے متعلق آیا ہے جب انہوں نے نبی(ﷺ) کے فضائل و برکات اپنی کتاب میں پڑھے تو موسیٰ (علیہ السلام) نے دعاء کی : مجھے رسول اللہ (ﷺ)کا امتی بنادے۔

  1. چوں بشانش نگاہ موسیٰ کرد

    شدن از امتش تمنا کرد

انبیاء سابقین(علیہم السلام) حضور(ﷺ) کے امتی بننے کے لئے ترستے تھے، حضور(ﷺ) کے ہوتے ہوئے حضور(ﷺ) کی امت کا کوئی شخص کسی اور طرف دیکھتا ہے تو یہ اتنی بڑی محروم القسمتی ہے کہ نہ تو میں اس کو بیان کرسکتا ہوں اور نہ آپ حضرات کو اس کی تفصیل میں جانے کی ضرورت ہے۔خاتم النّبیین کا ترجمہ صحابہ(رضوان اللہ علیہم اجمعین) کی طرف سے طے شدہ ہے کہ حضور(ﷺ) آخری نبی ہیں ۔ آپ(ﷺ) کے بعد جو شخص نبوت کا دعویٰ کرے وہ دائرۂ اسلام سے خارج ہے۔ لیکن یہ مرزائی نہ تو خدا کا بتلایا ہوا ترجمہ مانتے ہیں اورنہ رسول اللہ (ﷺ) کا ، نہ صحابہ(رضوان اللہ علیہم اجمعین) کا اور نہ امت کا ترجمہ ماننے کے لئے تیار ہیں۔

آخر جھوٹے نبی مرزا غلام احمد قادیانی کے ترجمہ کو ہی مان لو !:

تو ہم نے مرزائیوں سے درخواست کی کہ تم کسی ترجمہ کو نہیں مانتے تو مرزا غلام احمد قادیانی کے ترجمہ کو مان لو!وہ یہ کہ تریاق القلوب نامی مرزا غلام احمد قادیانی کی ایک کتاب ہے، اس میں مرزا غلام احمد نے خود لکھا ہے: میری ماں کے پیٹ سے پہلے میری بہن جنت بی بی نکلی،اور پھر میں نکلا (تریاق القلوب ص۱۵۷، خزائن ج۱۵ ص۴۷۹)میں نے ہو بہو عبارت

276

نقل کی ہے اور لفظ نکلا اور نکلی ان کی کتاب میں موجود ہے اس لفط نکلا نکلی کی بحث کے لئے مجھے مسجد کا احترام،آپ حضرات علماء کرام کا ادب اور میرے معصوم چھوٹے چھوٹے بچے اور ان بزرگوں کا اکرام مانع ہے۔میں تفصیل میں جانا نہیں چاہتا۔

مرزا جھوٹا نبی اتنا بیہودہ انسان تھا جو اپنے پیدا ہونے کی حالت بیان کرتا ہے :

مرزا غلام احمد قادیانی نے کیا لفظ استعمال کیا، ماں جن کے متعلق حضور(ﷺ) نے ارشاد فرمایا : جس کو جنت کی تلا ش ہو وہ ماں کے پاؤں کے نیچے تلاش کرے یا میدان جہاد میں تلوار کے سایہ کے نیچے تلاش کرے۔یہ صاحب کہتے ہیں : میری ماں کے پیٹ سے پہلے میری بہن نکلی پھر میں نکلا،اور یہ نکلا نکلیکی گردان جو باربار کرتا ہے اس سے آپ حضرات اس کی ذہنیت و شرافت کا اندازہ لگا سکتے ہیں۔ آگے اس کی تفصیل بیان کرتا ہے: میری بہن جنت بی بی کی ٹانگیں تھیںاور میرا سر اس کے ساتھ ملا ہوا تھا۔( استغفر اللہ ، معاذ اللہ!)اتنا بیہودہ انسان (جو اپنے پیدا ہونے کی حالت )بیان کرتا ہے کہ میں اس طرح پیدا ہوا۔

اور آگے کہتا ہے: میرے پیدا ہونے کے متعلق اللہ تعالیٰ نے وحی نازل کی یا آدم اسکن انت و زوجک الجنۃ،اور زوجک الجنۃ سے مرا دوسرا جوڑا،اور جوڑے سے مرا د بہن،میری بہن کا نامجنت تھا،اللہ تعالیٰ نے مجھے آدم بنایا،اس لئے ہم، میں اور میری بہن جنت اور مرزا غلام احمد اس طرح جوڑا کرکے پیدا ہوئے۔قرآن مجید میں ہماری طرف اشارہ کرکے کہا گیا تھا۔یہ’’ زوج‘‘ کا معنی جوڑا کیا،اور جنت سے مراد جنت بی بی کو مرادلیا گیا۔آدم سے خود آپ بن گیا،آپ حضرات اندازہ لگا سکتے ہیں کہ کائنات میں اس سے بڑا زندیق کوئی اور تھا؟ (حاضرین مجلس: نہیں!)

زندیق کے ساتھ وہی سلوک کیا جائے جو مرتد کے ساتھ کیا جاتا ہے :

میںعلماء حضرات کی خدمت میں مرتد کے متعلق یہ مسئلہ عرض کر چکا ہوں :اسے اسلامی حکومت میں تین دن کی مہلت دی جا سکتی ہے اور زندیق کے لئے تین دن کی مہلت بھی نہیں۔علماء نے کہا ہے: زندیق کی تو بہ قبول نہیں،زندیق کے ساتھ وہی سلوک کیا جائے جو مرتد کے ساتھ کیا جاتا ہے۔بعض علماء نے کہا ہے: گرفتاری سے پہلے توبہ کرلے تو قبول کی جائے گی، گرفتاری کے بعد نہیں۔

277

اللہ کی دھرتی کو پاک کرو :

بہر حال مہلت دینے کے متعلق کوئی گنجائش نہیں،زندیق کا وہی حکم ہے جو مرتد کا ہے۔ اس کو پکڑو اور اللہ کی دھرتی کو اس سے پا ک کرو!۔غلام احمد قادیانی اتنا بڑا زندیق ہے ،کہتا ہے : جنت سے مراد میری بہن جنت بی بی ہے اور آدم سے میں خود مراد ہوں،اور زوجک کا معنی جوڑا یعنی ہم جوڑواں پیدا ہوئے۔ اور پیدا ہونے کی تفصیل ابھی بیان کی جا چکی۔

یہاں مرزا نے خاتم کا وہی ترجمہ کیا جو ہم کرتے ہیں :

آگے کہتا ہے : میں اپنے والدین کے یہاں’’خاتم الاولاد‘‘ تھا،میرا صرف اس لفظ ’’خاتم الاولاد‘‘سے استدلال ہے۔یعنی میرے بعد میرے والدین کے یہاں نہ کوئی لڑکا ہوا اور نہ کوئی لڑکی، میں ’’خاتم الاولاد‘‘ تھا۔

تو ہم نے مرزائیوں سے کہا کہ ’’خاتم النّبیین‘‘ کا وہ ترجمہ کرو جو ہم کرتے ہیں: حضور(ﷺ) آخری نبی ہیں ان کے بعد کوئی نبی نہیں۔تم ’’خاتم النّبیین‘‘ کا یہ ترجمہ کرتے ہو کہ حضور(ﷺ) مہر لگائیںگے اور نبی بنائیں گے۔تو پھر’’خاتم الاولاد‘‘ میں بھی تمہیں یہ ترجمہ کرنا پڑے گا۔دونوں لفظ عربی ہیں ’’خاتم الاولاد‘‘ بھی اور ’’خاتم النّبیین‘‘ بھی ۔جو ترجمہ ’’خاتم الاولاد‘‘ کا کرتے ہو وہی ترجمہ ’’خاتم النّبیین‘‘ کا کرو۔’’خاتم النّبیین‘‘ کا ترجمہ’’خاتم الاولاد‘‘ کے علاوہ کرتے ہو تو پھر ہمیں اجازت دوکہ تم جو ترجمہ ’’خاتم النّبیین‘‘کا کرتے ہو وہی ترجمہ ہم ’’خاتم الاولاد‘‘ کا کر لیں کہ مرزا غلام احمد مہر لگاتا جائے گا اور اس کی ماں بچے جنتی جائے گی۔حالانکہ کوئی مرزائی یہ ترجمہ کرنے کے لئے اور ماننے کے لئے تیار نہیں۔

مرزائیوں کی بد بختی کہ وہ کسی ترجمہ کوتسلیم کرنے کے لئے تیار نہیں :

محترم حضرات! آج کی بحث میں آپ دوستوں سے یہ درخواست کی کہ خداوند کریم کا ترجمہ، یا، رسول اللہ (ﷺ)کا ترجمہ ،یا، صحابہ(رضوان اللہ علیہم اجمعین) کا ترجمہ یا،چودہ سو سال سے وہ امت جو ترجمہ کرتی آئی ہے وہ ترجمہ یا ،خود مرزا غلام احمد قادیانی کا ترجمہ کسی بھی ترجمہ کو سامنے رکھا جائے تو یہی بات سامنے آتی ہے کہ رسول اللہ (ﷺ)اللہ کے آخری نبی ہیں۔بلکہ مرزائیوں کی بد بختی کا اندازہ لگایئے کہ وہ کسی بھی ترجمہ کو تسلیم کرنے کے لئے تیار نہیں۔ وہ ایک ایسا ترجمہ کرتے ہیں جس کی نہ تو شریعت اجازت دیتی ہے اور نہ عقل اجازت دیتی ہے۔

278

قادیانیت کا وجود امت کے لئے ایک ناسور !

قادیانیت کا وجود امت کے لئے ناسور کی حیثیت رکھتا ہے۔قادیانی جتنے بڑھتے جائیںگے امت کے لئے اتنی ہی خطرناک صورتیں اورشکلیں پیدا ہوتی جائیںگی۔حضرات گرامی! حضور(ﷺ) کی محبت کا تقاضا یہ ہے کہ حضور(ﷺ) کے بعد آپ کی مسند شریف پر جو شخص قدم رکھنے کی کوشش کرے ہم اسے ہمیشہ کے لئے نکیل ڈالیں۔ہم دنیا کی تمام مصیبتیں قبول کرلیں مگر رسول اللہ (ﷺ)کے دشمنوں کو قبول نہ کریں۔یہ وہ کوشش اور کاوش ہے جس کے لئے آپ حضرات کو باربار تکلیف دی جارہی ہے۔بار بار آپ حضرات کے سامنے بیانات ہورہے ہیں۔

باطل پر جب مصیبت آتی ہے تو وہ ہمیشہ مصیبت کے ساتھ سمجھوتہ کرلیتا ہے اور حق باطل کے سامنے ڈٹ جاتا ہے :

قادیانی یہاں انگلستان میں ایک نئے جذبہ کے ساتھ آئے ہیں اور آپ حضرات کو بے خبر پاکر پرزے نکالنا چاہتے ہیں،جس طرح آپ کے دوستوں نے ،آپ کے بھائیوں نے،آپ کے ساتھیوں نے پاکستان سے آکر یہاں تک تعاقب کیا آپ حضرات کا بھی فرض بنتا ہے کہ آپ اٹھیں! ایک ہو جائیں! اور یہ ثابت کردیں کہ امت کا ہر ہر فرد قربانی دے سکتا ہے۔ہر قسم کی مصیبت برداشت کر سکتا ہے۔مگر رسول اللہ (ﷺ)کے دشمنوں کو برداشت نہیںکر سکتا۔حضور(ﷺ)سے جو محبت ہے حضور(ﷺ) کے امتی ہونے کاجوتقاضا ہے وہ صرف ہم سے اور آپ سے قربانی مانگتا ہے۔ہم کسی بھی شکل میں ،کسی بھی قیمت پر آپ (ﷺ) کے بعد کسی بھی مدعی ٔ نبوت کو برداشت نہ کریں۔ چودہ سو سال سے امت کا یہی عمل ہے۔میرا رب مجھ کو آپ کو حضور(ﷺ) کی غلامی کا حق ادا کرنے کی توفیق عطا فرمائیں۔آمین۔

اگر آپ حضرات جاگ اٹھے،اٹھ کھڑے ہوئے تو یقینًا قادیانیوں کو ریورس گیئر لگانا پڑے گا۔ اوروہ رجعت قہقرٰی پر یعنی پیچھے کی طرف ہٹنے پر مجبور ہوجائیںگے،آگے نہ بڑھ سکیںگے،باطل پر جب مصیبت آتی ہے تو وہ ہمیشہ مصیبت کے ساتھ سمجھوتہ کرلیتا ہے۔اور حق والا جس وقت اس پرمصیبت آتی ہے وہ باطل کے سامنے ڈٹ جاتا ہے۔باطل پیچھے بھاگنے کی کوشش کرتا ہے،قادیانیوں کا اگر آپ نے تعاقب کیا تو وہ اس طرح بھاگیںگے کہ اس کی مثال آپ

279

کے سامنے کوئی پیش نہیں کرسکتا۔اس دنیا میں اگر کوئی بزدل طبقہ ہے تو وہ قادیانیوں کاہے۔

مرزا غلام احمد قادیانی سب سے زیادہ بزدل تھا :

مرزا غلام احمد قادیانی سب سے زیادہ بزدل تھا۔اسے کسی عالِم دین کے سامنے آنے کی جرأت نہیں ہوئی۔یہ طبقہ مع ان کے مریدین و تابعداروںکے بزدلوں کا طبقہ ہے۔آپ حضرات کوشش کریں اور اٹھ کھڑے ہوں تو کوئی قادیانی آپ کے سامنے آنے کی جرأت نہ کرے گا۔اس کا پتہ پانی ہو جائے گا، قادیانیوں کے اندر اتنی جرأت قطعًا نہیں کہ وہ امت مسلمہ کی جرأت کا مقابلہ کرسکیں۔ شرط یہ ہے کہ آپ حضرات جاگ اٹھیں اور ہمت سے کام لیں۔

کون ہے رسول اللہ (ﷺ)کی شفاعت کا طالب ؟

میرے عزیزو! آخری بات کہنا چاہتا ہوں! ذرا توجہ فرمائیں۔ حضرت مولانا انور شاہ کشمیری ؒ فرمایا کرتے تھے: جو لوگ حضور(ﷺ) کی شفاعت کے طالب ہوں ان کو چاہئے کہ وہ حضور(ﷺ) کی ختم نبوت کا کام کریں۔حضور(ﷺ)کی ختم نبوت کے لئے جو جتنا زیادہ کام کرے گا تو قیامت کے دن اس کو رسول اللہ(ﷺ) سے اتنا ہی قرب نصیب ہوگا۔

میرا رب مجھ کو اورآپ حضرات کو اس کی توفیق عطا فرمائے۔آمین۔میں آپ دوستوں کا شکر گذار ہوں کہ آپ نے اپنا قیمتی وقت رسول اللہ (ﷺ) کی ختم نبوت کی باتیں سننے کے لئے قربان کیا۔اور مجھ جیسے بے عمل آدمی کی معروضات کو توجہ سے سنا۔ اللہ تعالیٰ آپ کو اورمجھ کو حضور(ﷺ) کی ختم نبوت کے لئے دیوانہ وار کام کرنے کی توفیق عطا فرمائیں۔آمین۔

وآخر دعوانا ان الحمد للہ رب العالمین

280

پانچواں بیان

(اکابر علماء دیوبند کی قربانی)

281

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ

الحمد للہ وکفٰی وسلام علیٰ سید الرسل وخاتم الانبیاء وعلیٰ اٰلہ واصحابہ اللذین ہم خلاصۃ العرب العرباء وخیر الخلائق بعد الانبیاء۰ اما بعد۰ فاعوذ باللہ من الشیطٰن الرجیم بسم اللہ الرحمٰن الرحیم۰ یایہا الذین اٰمنوا من یرتدمنکم عن دینہ فسوف یاتی اللہ بقوم یحبہم ویحبونہ، اذلۃ علی المؤمنین اعزۃ علی الکفرین، یجاہدون فی سبیل اللہ ولا یخافون لومۃ لائم، ذٰلک فضل اللہ یؤتیہ من یشاء واللہ واسع علیم۰(صدق اللہ العظیم) اللہم صل علیٰ سیدنا محمد عبدک ورسولک وصل کذلک علیٰ جمیع الانبیاء والمرسلین وعلیٰ الملائکۃ المقربین وعلیٰ عباد اللہ الصالحین۰ اجمعین! الیٰ یوم الدین۔

سب حضرات مل کر محبت کے ساتھ درود شریف پڑھ لیں!

جھوٹے مدعیٔ نبوت کے دعویٰ نبوت کا پس منظر:(BACKGROUND)

حضرات گرامی!آج کی مجلس میں پنجاب کے جھوٹے مدعی نبوت کے دعویٰ نبوت کا بیک گراؤنڈ ( پس منظر ) آپ حضرات کی خدمت میں عرض کرنا چاہتا ہوں۔انگریز سامراج نے جس وقت متحدہ ہندوستان پر غاصبانہ قبضہ کیا،اس وقت کچھ ایسے لوگ بھی تھے جو آزادی کا سوچ رہے تھے،اور کچھ ایسے لوگ بھی تھے جو برطانوی سامراج کا پنجہ مضبوط کرنے کا سوچ رہے تھے۔مولانا نورمحمد جھنجھانوی (رحمۃ اللہ علیہ)،ہمارے روحانی سلسلہ کے جد اعلیٰ گزرے ہیں،ان سے حضرت حاجی امداد اللہ مہاجر مکی(رحمۃ اللہ علیہ) بیعت تھے۔

میرے عزیز بھائیو!میری یہ ابتدائی گفتگو ہے، تھوڑی سی توجہ فرمائیں گے تو بات سمجھ میں آ جائے گی۔یہ میری درخواست ہے۔جس وقت ٹرین اسٹیشن سے آگے نکل جائے گی تو بات آسانی سے سمجھ میں آجائے گی،بھر پور توجہ کرنے کی ضرورت ہے۔

حضرت میانجی ؒ نے حضرت حاجی امداد اللہؒ کی روحانی تکمیل کو

حضرت حافظ ضامن شہید ؒ کے ذمہ لگایا

میرے بھائیو! میں عرض کر رہا تھا کہ حضرت حاجی صاحبؒ کا روحانی تعلق حضرت میاں

282

جی نور محمد صاحبؒ سے تھا جب حضرت میاں صاحب(رحمۃ اللہ علیہ) کا وقت قریب آگیا، اور ابھی حاجی صاحب(رحمۃ اللہ علیہ) کی باطنی و روحانی تربیت مکمل نہ ہوئی تھی لہٰذا حضرت صاحب (رحمۃ اللہ علیہ)نے حضرت حافظ محمد ضامن صاحب (رحمۃ اللہ علیہ)کے ذمہ یہ لگایا کہ حضرت حاجی صاحب(رحمۃ اللہ علیہ) کی تکمیل کرادیں ۔

حاجی صاحب ؒ اور حافظ ضامن ؒ صاحبؒ دونوں حضرات نے ظاہری علوم کی تکمیل نہیں کی تھی :

حضرت حاجی صاحب(رحمۃ اللہ علیہ) اور حضرت حافظ صاحب(رحمۃ اللہ علیہ) دونوں میں اتفاق کی بات یہ ہے کہ انہوں نے ظاہری علوم کی تکمیل نہیں کی تھی۔اس لئے دونوں حضرات مسائل وغیرہ کے سلسلہ میں مولانا شیخ محمد تھانوی صاحب(رحمۃ اللہ علیہ)پر( وہ جو فتویٰ دیا کرتے تھے) اعتماد کیا کرتے تھے۔

بقول شیخ محمد تھانویؒ جہاد کی شرائط مفقود ہیں لہٰذا جہاد کرنا جائز نہیں :

یہ اس زمانہ کی بات ہے جب مولانا شیخ محمدتھانوی صاحب(رحمۃ اللہ علیہ) کا بڑی دیانت داری کے ساتھ یہ خیال تھا کہ انگریز کے ساتھ جہاد کرنا مناسب نہیں۔بلکہ وہ جہاد کو حرام قرار دیتے تھے۔ان کا موقف تھا کہ انگریز کے پاس اتنی طاقت ہے کہ مسلمان اس کا مقابلہ نہیں کر سکتے۔بغیر طاقت کے مسلمانوں کاانگریزوں سے جنگ و مقابلہ کرنا بہ الفاظ دیگرموت کو دعوت دینا ہے۔جب تک تیاری نہ ہو اور جہاد کی شرطیں نہ پائی جائے جہاد کرنا جائزنہیں۔

حضرت حاجی صاحب(رحمۃ اللہ علیہ)کے مریدین میں سے تھے حضرت مولانا محمد قاسم نانوتوی(رحمۃ اللہ علیہ) اور مولانا رشید احمد صاحب گنگوہی(رحمۃ اللہ علیہ)،یہ دونوں حضرات بڑی شد و مد کے ساتھ آزادی کے خواہاں تھے۔اب ان کے ما بین یہ بحث ہوتی ہے کہ جہاد کرنا درست ہے یا نہیں؟یہ دونوں حضرات سفر کرکے حضرت حاجی صاحب(رحمۃ اللہ علیہ)کی خدمت میں پہنچتے ہیں۔اور درخواست کی کہ حضور والا کا جہاد کے متعلق کیا خیال ہے؟حضرت حاجی صاحب (رحمۃ اللہ علیہ)نے فرمایا کہ مجھے نہیں معلوم!مولانا شیخ محمد تھانوی (رحمۃ اللہ علیہ)کی یہ رائے ہے تو انہیں بلا لیتے ہیں۔

283

خالی ہاتھ جہاد کی تلقین میری سمجھ میں نہیں آتی:(شیخ محمد تھانوی ؒ کا موقف )

مولانا شیخ محمد صاحب(رحمۃ اللہ علیہ) آئے تو ان سے پوچھا گیا : جہاد کے متعلق آپ کی کیا رائے ہے؟تو انہوں نے کہا : انگریز کے پاس توپیں،فوج،اسلحہ،طاقت،اس کے پاس یہ اس کے پاس وہ اور ہم مسلمان تہی دست، تہی دامن ،ہمارے پاس لڑنے کے لئے بندوق بھی نہیں،ان حالات میں ہم مسلمان ان کا مقابلہ کرتے ہیں تو گویا حرام موت مرتے ہیں۔ان حالات میں جہاد کی تلقین میری سمجھ میں نہیں آتی ۔

حضرت مولانامحمد قاسم نانوتوی (رحمۃ اللہ علیہ)نے فرمایا : مولانا کیا ہمارے پاس اتنی طاقت بھی نہیں جتنی بدر کے دن رسول اللہ (ﷺ)کے پاس تھی ؟ اور کہا:ہمارے پاس تین سو تیرہ کی تعداد بھی نہیں؟ بس! اتنا کہنے کی دیرتھی کہ حضرت حاجی صاحب(رحمۃ اللہ علیہ)نے اور کوئی بات نہیں سنی اور فرمایا :مولانا انشراح ہو گیا۔آپ جہاد کا اعلان کریں،چنانچہ سب سے پہلی کابینہ،ادارہ ، انجمن اور جماعت تحریک آزادی کی یہ ہے۔حضرت حاجی صاحبؒ کو امیر المجاہدین بنایا جاتا ہے۔کسی کو سپہ سالار بنایا جاتا ہے اور حضرت گنگوہی(رحمۃ اللہ علیہ) کو قاضی القضاۃ بنایا جاتا ہے۔کسی کو میمنہ کا اور کسی کو میسرہ کا انچارج بنایا جا تا ہے۔کابینہ بنی اور جہاد کا اعلان کردیا جاتا ہے۔

حاجی صاحب ؒ کے حلقہ سے جہاد کی آواز اُٹھی

سب مسلمان اس تحریک میں شامل ہو گئے :

حضرت حاجی صاحب(رحمۃ اللہ علیہ) کے حلقہ سے جہاد کی آواز اٹھتی ہے، اور سب مسلمان اس تحریک میں شامل ہونا شروع ہوگئے،انگریز کو خیال تھا کہ یہ تحریک اس طرح ابھرتی رہی تو کسی وقت ہمارے لئے مشکلات پیدا ہو سکتی ہیں۔انہوں نے مظفر نگر سے شاملی کے محاذکو مضبوط کرنے کے لئے ایک کمک و فوج بھیجی،( یہ کتابوں میں ہم نے پڑھا ہے) خدا کی شان !اس فوج کو تھانہ بھون سے گزرنا تھا۔ان حضرات کو یہ اطلاع ہو گئی کہ رات کو فوج تھانہ بھون سے گزرے گی۔توحضرت گنگوہی(رحمۃ اللہ علیہ) نے حضرت حاجی صاحب (رحمۃ اللہ علیہ)سے درخواست کی کہ رات فوج گزرے گی،یہ پہلا معرکہ ہے مقابلہ ہوجا ئے۔حضرت حاجی صاحب(رحمۃ اللہ علیہ) نے اجازت دیدی۔

284

سب سے پہلا معرکہ و مقابلہ:

ان کی اطلاع یہ تھی کہ رات کے بارہ اورایک کے درمیان فوج کا ایک دستہ اسلحہ سمیت سڑک سے گزرے گا،تو وہ حضرات سڑک کے قریب ایک باغ تھا اس میںجا کر بیٹھ گئے۔ان حضرات نے با ہمی مشورہ کے ساتھ یہ طے کیا کہ بھائیو! بندوق سنبھال کے رکھو،ان کے گھوڑے پر تمہارا ہا تھ ہو!دل کی رو اللہ کے ساتھ ہو!اللہ کا ذکر ہو!جس وقت فوج سامنے آئے گی، ہم نعرۂ تکبیر بلند کریں گے تو اللہ اکبر کہہ کر گولی چلانا تمہارا کام ہوگا۔کامیابی اللہ کے سپرد !چنانچہ اسی طرح ہوا کہ رات کے ایک بجے کے قریب فوج نزدیک آئی،نعرۂ تکبیر بلند ہوا،مجاہدین نے گولیاں چلادیں،انگریز کی فوج کے اکثر و بیشتر مارے گئے،باقی دم دبا کر بھاگنے میں کامیاب ہوگئے،اسلحہ و غیرہ وہیں چھوڑ گئے۔

انگریز کا توپ خانہ مسجد کے احاطہ میں کھڑا پایا :

حضرت حاجی صاحب(رحمۃ اللہ علیہ) رات کو جب تہجد پڑھنے کے لئے مسجد آئے تو انہوں نے انگریز کا توپ خانہ مسجد میں کھڑا ہوا پایا،بعد ازیں شاملی کے میدان میں آگے چل کر باقاعدہ لڑائی ہوئی۔جس میں حضرت حافظ ضامن صاحب شہید ہوگئے،(انا للہ الخ)میں ان لمبی تفصیلات میں جانا نہیں چاہتا اس کے بعد حضرت حاجی صاحب(رحمۃ اللہ علیہ)،حضرت گنگوہی(رحمۃ اللہ علیہ)اور حضرت نانوتوی(رحمۃ اللہ علیہ) کے خلاف بغاوت کا مقدمہ قائم کیا گیا ، حضرت حاجی صاحب(رحمۃ اللہ علیہ) نے ہجرت کی اور آخر وقت تک انگریز کے ہاتھ نہیں آئے۔

حاجی صاحبؒ کی ہجرت کا ایمان افروز واقعہ :

ان کی ہجرت کا واقعہ بھی بڑا ایمان افروز ہے،گھر سے نکل کر ایک گاؤں( نام پنجلاسہ) جہاں حضرت حاجی صاحب(رحمۃ اللہ علیہ) کے معتقدین میںراؤ عبد اللہ(رحمۃ اللہ علیہ) تھے، وہاں آ کر رات گزاری۔کسی مخبر نے گورنمنٹ کو اطلاع کردی کہ حضرت حاجی صاحب(رحمۃ اللہ علیہ)اس مکان میں ہیںکیونکہ بغاوت کے مقدمہ کے پیش نظر گورنمنٹ انہیں تلاش کررہی تھی۔حضرت حاجی صاحب(رحمۃ اللہ علیہ) بیٹھے تھے، اچانک یہ کہتے ہیں: نواب صاحب !یہ سامنے کے کمرہ میں کیا ہے؟اجی حضرت! اس میں گھوڑے ہیں،جانور ہیں، اور ان کے لئے چارہ کاٹنے کی مشین ہے۔اور وہاں بھوسہ وغیرہ ٹوٹی پھوٹی چیزیں ہیں۔اچھا وہاں کا

285

دروازہ کھول کر مصلیٰ پانی رکھدو۔اور بھائی جلدی کرو۔نواب صاحب نے اپنے شیخ کا حکم پا کر سب چیزیں رکھدیں۔اور نواب صاحب نے فرمایا :حضرت انتظام ہوگیا ہے۔آپ(رحمۃ اللہ علیہ) اٹھے اور جا کر کمرے میں بیٹھ گئے۔اور انہیں فرمایا : دروازہ بند کردو۔نواب عبداللہ نے حضرت حاجی صاحبؒ(رحمۃ اللہ علیہ)کو کمرے میں بند کرکے باہر سے کنڈی لگادی۔

حاجی صاحبؒ کی ایک کرامت:

بس !اسی وقت کسی نے دروازہ کھٹکھٹایا۔نواب صاحب اٹھے اور باہر گئے تو دیکھا کہ باہر پولیس کھڑی ہے ۔ کپتان نے نواب عبد اللہ کو کہا : سنا ہے کہ آپ کے یہاں عمدہ نسل کے گھوڑے ہیں،فوج کے لئے درکار ہیں ؟چل کر معائنہ کرادیجئے! ،اور دیکھ لیں کہ کیسے ہیں؟پسند آگئے تو فوج کے لئے خریدلیں گے۔

نواب عبد اللہ نے کہا: حکم سر آنکھوں پر!اچانک آجانے پر نواب عبد اللہ کو کپکپی طاری تھی،اندیشہ تھا، حضرت شیخ میرے گھر میں ہیں،خدا خیر کرے! کپتا ن اصطبل میں گھوڑے کا معائنہ کرتے ہوئے بڑھتے بڑھتے اس کمرہ کی طرف جانے لگا جہاں حضرت حاجی صاحب تھے،تو موت میرے قریب ہوتی جاتی تھی،میرے جسم پر لرزہ طاری تھا،یا اللہ! اگر حاجی صاحب گرفتار ہوتے ہیںتومیرے بچے گرفتار کرلئے جائیںگے،مجھے لٹکا دیا جائے گا،میری جائداد ضبط کرلی جائے گی۔نوابی جاتی رہے گی۔ اور سب سے بڑی مصیبت یہ ہوگی کہ میرے شیخ میرے گھر سے گرفتار ہوںگے۔وہ کمرے کے قریب گیا اور کہا : اس کمرے میں کیا ہے؟میں ابھی جواب دینا چاہ رہا تھا کہ اس نے جھٹ سے کنڈی کھول دی۔کیا دیکھا کہ مصلیٰ موجود ہے،اور پانی کا خالی لوٹا بھی پڑا ہوا موجود ہے جیسے ابھی کسی آدمی نے وضو کیا ہو، جگہ تر ہے۔لیکن آدمی کوئی نہیں۔اور کپتان آگے کہتا ہے: تم نے یہ مصلیٰ یہاں کیوں رکھا؟

کہا کہ ہم مسلمان ہیں، فرض نماز مسجد میں پڑھتے ہیں اور نفل وغیرہ گھر میں آکر پڑھتے ہیں، ادھر بچے وغیرہ تنگ کرتے ہیں، اس لئے ہم نماز یہاں پڑھتے ہیں۔کپتان نے کہا :ہم معافی چاہتے ہیں کوئی گھوڑا وغیرہ پسند نہیں آیا۔ اگر کبھی ضرورت پڑی تو پھر تکلیف دیںگے۔اجازت چاہتے ہیں۔کپتان مخبر کو باربار گھور رہاتھا کہ تم نے ہمیں غلط اطلاع دی۔

نواب عبد اللہ کہتے ہیں: میں ان کو چھوڑنے کے لئے گاؤں کے باہر تک گیا۔ان کو رخصت کر کے واپس آیا،مجھے پہلے ہی خدشہ تھا کہ اگر حضرت شیخ پکڑ لئے گئے تو کیا ہوگا؟اب

286

مجھے ڈر اس بات کا تھا کہ حضرت شیخ کو تو میں اپنے ہاتھ سے بند کرکے گیا تھا،اب مجھے بڑی تشویش ہوئی،ان کو رخصت کرکے لمبے قدم اٹھاتاہوا گھر آیا اور سیدھے اس کمرہ کی طرف گیا جہاں حضرت حاجی صاحب تھے۔آکر دیکھا:

حاجی صاحبؒ سے تین سوال :

حضرت حاجی صاحب نماز پڑھتے ہوئے تشہد کی حالت میں ہیں۔اور دوسری طرف سلام پھیرنے کی تیاری کر رہے ہیں۔ سلام سے فارغ ہوئے تو میں نے تین سوال کئے، (۱)حضرت انگریز آئے تھے؟تو کہا : آئے تھے ۔ (۲) آپ کہاں تھے؟ کہا: میں اسی جگہ پر تھا(۳)آپ نظر نہیں آئے؟تو کہا :وہ اندھے ہوجائیں تو امداد اللہ کا کیا قصور؟چنانچہ حضرت حاجی صاحب(رحمۃ اللہ علیہ) وہاں سے ساہیوال،وہاں سے پاک پٹن کے علاقے سے ہوتے ہوئے حیدرآباد اورکراچی اور وہاں سے مکہ مکرمہ چلے گئے۔آخر وقت تک انگریز ان کو گرفتا ر نہ کر سکے ۔

حضرت نانوتویؒ کی سیاست:

اب سنئے! قصہ حضرت نانوتوی(رحمۃ اللہ علیہ) کا:حضرت چھتہ کی مسجد میں کھڑے تھے کہ پولیس آگئی،آکر کہنے لگے: ہمیں مولانا قاسم نانوتوی(رحمۃ اللہ علیہ)سے ملنا ہے وہ کہاں ہیں؟مولانا جہاں کھڑے تھے،وہاں سے دو قدم پیچھے ہٹ گئے اور کہا : ابھی تھوڑی دیر پہلے تو یہیں تھے۔وہ سمجھے کہ ابھی یہیں تھے کا معنی یہ ہے کہ ابھی یہیں تھے، اب کہیں چلے گئے ہیں ۔ حضرت کی تاویل پر وہ دھوکہ کھا گئے۔

حضرت نانوتوی ؒ کی ذہانت کے دو واقعات :

میرے عزیز دوستو ! بات آگئی ہے تو مناسبت سے حضرت نانوتویؒ کے دو واقعے اور سناتا چلوں۔ پہلا واقعہ یہ ہے کہ (۱)حضرت اپنے عزیزوں کے یہاں ملنے کے لئے چلے گئے، تو وہاں پر بھی پولیس والے آگئے۔عزیز رشتہ دار بہت پریشان تھے کہ آج حضرت کی خیریت نہیں۔حضرت بڑی بہادری کے ساتھ سامنے آئے، اور کہا : تم مجھے سنبھال نہیں سکتے تو پیچھے ہٹ جاؤ!۔میں خود اس کا انتطام کرتا ہوں۔یہ کہا: اور جا کر دروازہ کھول دیا،انہوں نے کہا : ہمیں مولانا محمد قاسم(رحمۃ اللہ علیہ)سے ملنا ہے!۔فرمایا: ہم نہیں جانتے مولانا وغیرہ کو۔پولیس والوں نے کہا : سنا ہے اسی مکان میں ہے؟۔فرمایا: دیکھ لیں۔ پولیس نے کہا کہ اسی مکان میں ہیں ؟ حضرت نے

287

فرمایا: تلاشی لے لو!پولیس نے کہا: ٹھیک ہے؟ پردہ کراؤ !تلاشی لیتے ہیں۔حضرت نے پولیس والوں کے ساتھ رہ کر تلاشی کرادی۔حضرت بڑے ذہین اور بہادر تھے۔

(۲)دوسرا واقعہ یہ ہے کہ ایک دفعہ ایک سکھ ہاتھ میں تلوارلے کر سامنے آیا اور کہا: آج بچ کر نہیں جا سکوگے؟مولانا کے پاس بھی ایک چھوٹی سی تلوار تھی جو ہاتھ میں لئے علم کا پہاڑ خراماں خراماں جارہا تھا۔سنجیدگی اور متانت کے ساتھ جارہے تھے۔وہ بڑے نخرے کے ساتھ آرہا تھا۔کہتا ہے: مولوی صاحب! آج بچ کر نہیں جاؤ گے ؟ جس وقت وہ قریب آیا ،مولانا نے فرمایا : ارے پگلے!پیچھے تو دیکھ! وہ سمجھا کہ پیچھے کوئی آرہا ہے۔جو اس نے پیچھے دیکھا تو حضرت نے تلوار گردن پر ماردی اس کا کام ختم ہو گیا۔۔۔۔۔چل بھائی!

تین دن روپوش رہےآقا (ﷺ)کی ہجرت کی رات کی سنت پر عمل کیا :

حضرتؒ اس طرز کے آدمی تھے،بالا خانہ میں حضرت تین دن تک روپوش رہے۔تین دن بعد بچیوں کو آواز دی،پردہ کرو! مجھے باہر جانا ہے۔انہوں نے کہا : ہم آپ کو باہر نہیں جانے دیںگے۔باہر پولیس والے آپ کے انتظار میں ہیں۔ حضرت نے فرمایا: میں نے تین دن پولیس کے ڈرسے رو پوشی اختیار نہیں کی۔میرے آقا (ﷺ) ہجرت کے موقعہ پر صرف تین رات غار میں چھپے تو دشمن سے بچاؤ کے لئے تین دن تک چھپنا آقا کی سنت ہے۔اس لئے میں نے سنت پر عمل کیا ہے۔چوتھے دن چھپ کر رہتا ہوں تو سنت کی خلاف ورزی ہوگی۔

اب جان جوکھم میں ڈال سکتا ہوں مگررسول اللہ (ﷺ) کی سنت کی خلاف ورزی نہیں کرسکتا۔وہ مستورات اڑ گئیں اور کہا : ہم پردہ نہیں کریںگی۔تو کہا :بہت اچھا!تم پردہ نہیں کرتی تو میں کرلیتا ہوں، یہ کہہ کر حضرت نے کپڑا اپنے منہ پر کرلیا،راستہ دیکھا ہوا تھا سیڑھیوں سے اترے،نکل کر چلے گئے، آخر وقت تک اللہ نے فضل فرمایا کہ حضرت نانوتوی(رحمۃ اللہ علیہ) گرفتار نہ ہوسکے۔

حضرت گنگوہیؒ کا بڑا ہی عجیب واقعہ :

اب سنئے! قصہ حضرت گنگوہی(رحمۃ اللہ علیہ)کا!ان تینوں حضرات میں سے حضرت گنگوہی (رحمۃ اللہ علیہ)گرفتار ہوگئے، پولیس والوں کا الزام تھا کہ ان کے پاس بندوق بغیر لائیسنس کی ہے۔اور ساتھ ساتھ انہوں نے ایک کتاب کا بکس بھی اپنی تحویل میں لے لیا۔حضرت

288

جیل میں چلے گئے، ( یہ جو اہل اللہ ہیں ان کو کام کرنے لئے میدان چاہئے،چاہے باہر کا ہو چاہے اندر کا ہو،انہیں تو کام کرنا ہے،ویسے بھی کام کرنے کے لئے جتنا مفید میدان جیل کا ہے اتنا اور کوئی میدان نہیں۔ جیل کے اندر آدمی جب جاتا ہے تو وہاں کی دنیا کو بالکل نرالی دیکھتا ہے۔وہ با ہر کی دنیا سے کٹا ہوا ہوتا ہے، اور اس کا دماغ بالکل ٹھکانے آجا تا ہے،لوہا بالکل گرم ہوتا ہے اس کو ہتھوڑا مارنے کی ضرورت ہوتی ہے،اور ایسے انسان کے دل میں آسانی کے ساتھ دین کی باتیں ڈالی جا سکتی ہے۔جیل کا ماحول بالکل الگ ہوتا ہے اور اس زمانے کی جیل)۔الامان والحفیظ۔

سیّد عطاء اللہ شاہ بخاری(رحمۃ اللہ علیہ) ایک مرتبہ میانوالی، جیل میں گئے۔ گرمی کا موسم،انگریز کا زمانہ،جیل کا ماحول ، ہر روز شاہ صاحب(رحمۃ اللہ علیہ) بیس سیر دانے پیستے تھے۔جب رہا ہو کر آئے تو کسی نے پوچھا:شاہ صاحبؒ! آپ چکی چلاتے تھے؟،دانہ پیستے تھے؟آپ کو تکلیف تو ہوتی ہوگی ؟ آپ جیسا نازک جسم،ریشم جیسی ہتھیلی؟شاہ صاحبؒ آبدیدہ ہوگئے! فرمایا :سودا مہنگا نہیں،دن کو حضرت فاطمہ(رضی اللہ عنھا)کی سنت پر عمل کرتا تھا تو رات کو نانا مصطفی(ﷺ) کی زیارت سے مستفید ہوتا تھا۔

حضرت گنگوہی(رحمۃ اللہ علیہ)نے وعظ و تبلیغ شروع کی،ماحول بدلنا شروع ہو گیا،جیل کے صدر نے وزارت داخلہ کو لکھا کہ’’ مولوی صاحب آئے ہیں،اس نے یہاں بھی اپنی جماعت تیار کرلی ہے۔یا تو ان کو فورًا کسی اور جیل میں منتقل کیا جائے یا ان کے مقدمے کی سماعت جلد از جلد کی جائے۔تاکہ انہیں کوٹھی میں رکھا جائے اور کسی سے ملاقات نہ ہو سکے‘‘۔،لو جی! اللہ نے ایسا ماحول پیدا کردیا کہ صدر جیل خود سفارش کرتا ہے کہ مولانا کے مقدمے کی فورًا سماعت ہو۔اور مقدمہ شروع ہوگیا۔

حضرت گنگوہی ؒ سے عدالت نے تین سوالات کئے :

حضرت مولانا عدالت میں گئے،عدالت نے حضرت سے تین سوال کئے،(۱)سناہے کہ آپ کے پاس اسلحہ ہے؟مولانا نے جیب میں ہاتھ ڈالا اور تسبیح نکال کر فرمایا: مؤمن کا سب سے بڑا اسلحہ یہ ہوتا ہے (۲) مولانا !سنا ہے کہ آپ کے پاس بندوق ہے؟فرمایا :مجھے بندوق سے کیا غرض!(۳)انہوں نے کہا : آپ کے پاس جو یہ بکس ہے اس میں ہماری اطلاع کے مطابق بندوق ہے؟مولانا نے چابی نکال کر کہا : لو اور تلاشی لے لو!مولانا نے انکار نہیں کیا۔انکار کرتے تو جھوٹ بنتا !اس کے اندر بندوق تھی۔جج نے صندوق کھلوائی،وہاں کتابوں کی تہہ لگی ہوئی

289

تھی۔پندرہ بیس کتابیں اوپر سے نکلوائیں اور فرمایا: بھائی! بندوق ہے،کوئی سوئی وغیرہ تو نہیں؟بندوق ہے تو کتابیں خراب ہوتیں،کتابیں اندر رکھ دواور تالا لگادو! مخبر کو کہا : تم نے جھوٹ بولا ہے لہٰذا تمہیں سزا دیجاتی ہے۔اور مولانا کو بری کرتا ہوں۔

کئی علماء کرام کو خنزیر کے چمڑے میں بند کرکے جلا دیا :

جس وقت ہمارے اکابر انگریز کے خلاف بر سر پیکار تھے، آزادی کی جد و جہد میں مصروف تھے، اور اپنی جان کی بازی لگا رہے تھے۔کئی علماء کرام کو خنزیر کے چمڑے میں بند کر کے جلا دیا۔ہزارہا علماء عظام کو دہلی سے لاہور تک راستہ میں الٹا باندھ کر لٹکا دیا گیا۔ایسے ماحول میں انگریز کو ضرورت تھی ایک ایسے آدمی کی جو جھوٹی نبوت کا دعویٰ کرے،ا ور وہ جھوٹا نبی یہ کہہ دے کہ’’ جہاد حرام ہے‘‘۔چنانچہ اس کے لئے مرزا غلام احمد قادیانی کی خدمات حاصل کی گئیں۔

اللہ تعالیٰ آپ حضرات سے دین کا کام( اپنے حبیبﷺ کی عزت و مانوس کا کام) لینا چاہتے ہیں:

اب میں آپ دوستوں سے دو باتیں عرض کرنا چاہتا ہوں۔آج میں مرزا غلام احمد کے جھوٹے عقائد و عزائم اور اس کے جھوٹے ہونے پر کوئی وعظ نہیں کرتا۔بس ایک ہی درخواست آپ دوستوں سے کرنی ہے اور وہ یہ ہے کہ آپ کے اسلاف جن کے نام لیوا آپ حضرات ہیں،الحمدللہ! آپ ان کے وارث ہیں۔ اور ایک وہ ہیں جو مرزا غلام احمدکو ماننے والے مرزائی ہیں۔مرزائیوں کا یہاں آنا سمجھ میں آسکتا ہے،وہ یہاں اس لئے آئے ہیں کہ اپنے آباء و جداد کے پاس آکر وہ محفوظ ہو جائیں۔والدین کے پاس اولاد اسی لئے ہی آتی ہے۔آپ حضرات بھی آئے،میری بات نظر کے سامنے رکھ کر سن لینا،پانچ فیصد آپ حضرات میں ایسے ہوںگے جو صرف دین کے لئے آئے،باقی %۹۵ فیصد ایسے ہیں جو دین کی خاطر نہیں آئے،دنیا کی خاطر آئے،دنیا کمانا برا نہیں ہے میں بھی بچوں والا آدمی ہوں۔میں آپ حضرات پر الزام نہیں لگاتا۔ہر آدمی کو پیٹ پالنے کی خاطر دنیا کمانی ہے۔یہ کوئی معیوب بات نہیں،کوئی ملازمت کے لئے،کوئی کاروبار کے لئے اور کوئی شادی کے لئے آیا۔

آپ حضرات کے ائمہ نے آپ کو دین کے لئے بلایا۔آپ آئے تھے کسی مقصد کے لئے لیکن آپ حضرات کے سامنے ماحول ایسا پیدا ہوگیا ہے کہ خدا آپ حضرات سے اپنے دین

290

کاکام لینا چاہتا ہے۔ بزرگوں والا کا کام لینا چاہتا ہے،اپنے حبیب(ﷺ) کی عزت و ناموس کا کام آپ حضرات سے لینا چاہتا ہے۔یہ اتنا گولڈن چانس ہے کہ اگر آپ حضرات نے اسے کھو دیا تو یہ اتنے خسارے کا سودا ہوگا کہ’ الامان والحفیظ‘۔

میرا ایک ہی پیغام ہے :

میرے عزیز بھائیو اور دوستو! ہم پاکستان سے آئے اور یہی ایک پیغام آپ حضرات کی خدمت میں ہم لے کے آئے ہیں،سارے ہمارے اکابر جا چکے ہیں ۔ میں اکیلا ان حضرات کے حکم پر یہاں موجود ہوں۔باٹلی میں آج کا اور کل کا دن ہے۔دس دن دار العلوم میں رہنا ہے۔بہر حال! اب میرا رخ بھی پاکستان کی طرف ہے۔ہمیں خوشی اس بات کی ہوئی کہ قادیانی اس ملک میں ۱۹۱۳ ؁عیسوی میں آئے تھے۔اس کے بعد بیس پچیس سال پہلے مولانا لال حسین اخترصاحب(رحمۃ اللہ علیہ) تشریف لائے تھے،مولانا لال حسین اختر (رحمۃ اللہ علیہ)کے بعد یہ پہلی ٹیم ہے جو یہاں اسی مقصد کے لئے آئی ہے۔( یہ ۱۹۸۵ کی با ت ہے) ان کی اتنے سال کی کوشش اور ہماری یہ کوشش۔لیکن اس ایک دفعہ کے ٹور (سفر)نے برطانیہ کے مسلمانوں کو بیدار کردیا ہے۔یہ قادیانیوں پر بہت بڑا حملہ ہے۔مجھے اس سے اچھی تعبیر نظر نہیں آتی کہ قادیانی اس طرح بیٹھ گئے ہیں جس طرح پیشاب کی جھاگ بیٹھ جاتی ہے۔بالکل ختم ہو گئے ہیں۔

آپ کی جد وجہد بیکار نہیں جائے گی :انشاء اللہ!

’’باٹلی‘‘ کے اندر زور و آزمائش کی کوشش کی،اس کے نتیجہ سے خائف ہوکر ’’بریڈ فورڈ‘‘ میں سامنے آنے کی جرأت نہ کر سکے۔کانفرنس کے دنوں کا اعلان کیا تھا کہ ہمیں لندن میں کانفرنس کرنی ہے، ہم سمجھتے تھے کہ قادیانی بھی اجتماع کریں گے، اورپورے یورپی ’’خدام الاحمدیہ‘‘ کو بلائیں گے ،ایسا خیال تھا کہ اشتہار شائع کریں گے،پروپگنڈہ کریں گے ،ہماری کانفرنس کی طرح کانفرنس کرنے کی کوشش کریں گے ۔ لیکن وہ دن بالکل خاموشی کے ساتھ گزرگئے، لیکن اس کے دوسرے دن اخبار میں سرخی چھپی،ان کا ایک اجتماع ہوا ،یہ کل پرسوں کے اخبار میں تھا۔گویا اکٹھے ہوئے، جیسے کسی کی موت پر اکٹھے ہوتے ہیں ۔دعا کی اور چل دئے۔قادیانیوں کی اب یہ حالت ہے۔

ختم نبوت کا دشمن تاک میں بیٹھا ہے (آپ جاگتے رہیں ،ہوشیار رہیں !)

عزیز بھائیو! میری آپ حضرات سے خدا اور رسول اللہ (ﷺ) کے نام پر درخواستہے کہ آپ حضرات کوجو یہ ولولہ اور جوش ہے اس کو بر قرار رکھنا ہے،یہ اگر گرا،اور اس میں کمی آئی،

291

ختم ہو گیاتو پھر خطرہ ہے کہ دشمن کہیں آپ پر حملہ نہ کردیں۔دانا دشمن ہے اور تاک میں بیٹھا ہے،آپ خواب غفلت میںمبتلا ہوگئے یامطمئن ہوگئے تووہ حملہ کرنے کی ضرور کوشش کریں گے،اگر آپ جاگتے رہے،ہوشیار رہے تو دشمن یہ محسوس کرنے لگے گا کہ آپ کے اونگھنے کا کوئی پروگرام نہیں تو آخر وہ کب تک انتظار کرے گا۔اورایسا پسپا ہوگا کہ آئندہ کبھی سامنے آنے کی جرأت نہ کر سکے گا۔

اب ان حالات پر غور کرنا،لیٹریچر تقسیم کرنا،مسلمانوں کو قادیانیوں کی شرارت اور لائحۂ عمل سے با خبر کرنا،مسلمانوں کی مساجد میں قادیانیوں کے بارے میں جلسہ کرنا،خطاب کرنا ،ان پر کڑی نگرانی رکھنا یہ سب آپ حضرات کا کام ہے۔بھائی!یہ حضور(ﷺ)کی عزت و ناموس کا مسئلہ ہے،میں آپ حضرات کو حاشا و کلاّکسی مولوی کے متعلق،کسی مدرسہ کے متعلق نہیں کہتا۔دین کے کسی کام کے متعلق نہیں کہتا۔میں براہِ راست آپ حضرات کو رسول اللہ (ﷺ) کی سیکیوریٹی گارڈ (محافظ دستہ)میں شامل ہونے کا مشورہ دیتا ہوں۔ہمت کریں اور رسول اللہ(ﷺ) کے محافظ دستہ میں اپنا نام لکھوادیں۔اور حضور(ﷺ) کی عزت و ناموس کے تحفظ کی خاطرجو حضرات کام کر رہے ہیں ان کے ساتھ ان کی فہرست میں آپ حضرات کا نام بھی آنا چاہئے۔ہمت کریں اور رسول اللہ(ﷺ) کے غلاموں میں اپنا نام لکھوادیں۔دشمن آپ حضرات کی طرف میلی نگاہ سے نہیں دیکھے گا۔ان شاء اللہ۔آج آپ حضرات سے اتنی باتیں کہنی تھیں۔اللہ تعالیٰ آپ کو اورمجھ کو رسول اللہ (ﷺ)کی عزت و ناموس کے تحفظ کرنے کی تو فیق عطا فرمائیں۔آمین!واٰخردعوانا ان الحمد للہ رب العلمین!

نوٹ :مولاناکی طبیعت کافی خراب تھی لہٰذا مختصر بیان فرمایا،سامعین نے اصرار کیا لیکن مولانا نے عذر فرمایا۔

حضرت مولانا ایوب سورتی صاحب (دامت برکاتہم ) کی کچھ قیمتی باتیں :

اس کے بعد مولانا ایوب کھولوڈیا المعروف بہ ’سورتی‘ صاحب (دامت برکاتہم)نے مختصر بیان کیا : اور خطبہ مسنونہ کے بعد ارشاد فرمایا: مجھے تقریر نہیں کرنی، صرف ایک بات کی طرف آپ حضرات کو توجہ دلانا چاہتا ہوں،اصل مقصد تو آپ حضرات کے سامنے آگیاہے،حضرت مولانا کی تشریف آوری اسی سلسلہ کی ایک کڑی ہے۔مگر اس سلسلہ کے اندر مولانا عطاء اللہ شاہ بخاری(رحمۃ اللہ علیہ) کا واقعہ بیان کرنا چاہتا ہوں جو آپ نے ٹیلر سٹریٹ مسجد میں اور جامع مسجد میں بیان فرمایا تھا،اس سلسلہ میں میں نے جامع مسجد کے اندر چند باتیں عرض کی تھیں،

292

انہی کو پھر دہراتا ہوں۔اور آج پھر کہنا چاہتا ہوں: اصل مقصد تو اس سلسلہ میں کام کرنا ہے۔

حضرت مولانا اللہ وسایا صاحب حافظ الحدیث حضرت مولانا محمد عبداللہ درخواستی کے تلمیذ رشید ہیں

حضرت مولانا نے یہ فرمایا تھا: کہ میرے شیخ اور استاد مولانا محمد عبد اللہ درخواستی صاحبؒ جو اس وقت پورے پاکستان اور ہندوستان میں حافظ حدیث اور محدث ہیں،انہیں ہزاروں حدیثیں متن کے ساتھ اور راوی کے اسماء کے ساتھ ازبر یاد ہیں۔میں بھی حضرت درخواستی کے لئے دعاگو ہوں کہ اللہ تعالیٰ ان کو شفاء کاملہ عاجلہ نافعہ عطا فرمائیں ،عمر میں برکتیں عطا فرمائیں اور بڑی قیمتی ہستی ہیں،اللہ تعالیٰ ان کا سایہ تادیر ہم پر قائم رکھیں،آمین!

(یہ ۱۹۸۵ کی بات ہو رہی ہے) انہوں نے اپنی جوانی کے اندر ( جب کے علامہ سید عطاء اللہ شاہ بخاری(رحمۃ اللہ علیہ) حیات تھے )ارادہ کیا کہ ہجرت کرکے مدینہ منورہ چلا جاؤں،وہیں بقیہ زندگی گزاردوں جیسا کہ شیخ الحدیث حضرت مولانا بدر عالم صاحب میرٹھی (رحمۃ اللہ علیہ)ہجرت کرکے مدینہ طیبہ تشریف لے گئے تھے۔چنانچہ حضرت درخواستی نے بھی ارادہ کیا اور مدینہ منورہ چلے گئے اور ارادہ یہ لے کر گئے کہ وہیں ٹوٹی پھوٹی دین کی خدمت جو ہوسکے وہ کرنی ہے۔

حضرت مولانادرخواستی ؒ کو خواب میں رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :آپ اپنے ملک میں دین کی خدمت کریں !:

مدینہ منورہ رہتے ہوئے کچھ عرصہ ہوا خواب میں رسول اللہ (ﷺ) کی زیارت ہوتی ہے۔حضور(ﷺ) ارشاد فرماتے ہیں: اے عبد اللہ! یہ مرکز نبوت ہے ،مرکز علم و عمل ہے ،یہاں دین کی خدمت کرنے والے بہت ہیں۔آپ اپنے ملک تشریف لے جائیں!،وہاں ضرورت ہے دین کی خدمت کرنے کی!۔

رد قادیانیت کے لئے کام کرنے والوں کو بشارت :

دوسری بشارت یہ فرمائی : میرے بیٹے سید عطاء اللہ شاہ بخاری(رحمۃ اللہ علیہ)( جو اس وقت رد قادیانیت پر زوروں پر تھے اور جیل کی مصیبت کا ٹ رہے تھے پورے بر صغیر کے اندر ان کے بیانات نے لوگوں کے سینہ کے اندر رد قادیانیت کی آگ لگا دی تھی، بہت زوروں پر کام کررہے تھے )کویہ کہنا : اے عطاء اللہ! میں تیرے لئے جھولی پھیلائے دعائیں مانگ رہا ہوں،تم اس کام کو کرتے رہنا ،اللہ تعالیٰ تمہاری مدد فرمائیں گے۔ (آمین) گویا ردقادیانیت کا کام کرنے

293

والے کے لئے حضور(ﷺ) کی کتنی توجہات ہیں۔جھولیاں پھیلاکر دعائیں مانگ رہے ہیں۔

آج باٹلی کے اندر ہم ایسے نازک موقع پر آچکے ہیں کہ یہ حضرات ’’باٹلی‘‘ کے اندر اپنا بین الاقوامی مرکز بنانے کا خواب دیکھ رہے ہیں۔ جس طرح کہ ’’ڈیوزبری‘‘ تبلیغ کا مرکز ہے اور اسی اسکیم کے ماتحت چرچ بھی بنا رکھا ہے۔پہلے انہوں نے سکول پر حملہ کیا مگر اس میں شاید وہ فیل ہوگئے۔سنا گیا ہے چرچ خرید لیا گیا ہے اور وہ چاہتا ہے کہ یہاں جو شہرت ہے اس سے ناجائز فائدہ اٹھا کر پوری دنیا کے اندر اس کو مرکز بنا کر کام کیا جائے۔مگر اللہ جزائے خیر دے ان لوگوں کو جو ٹاؤن ٹاؤن (شہر در شہر)جا جاکر جس طریقہ سے انہوں نے خدمت کی واقعی خدمت کی۔انہوں نے اپنی مجاہدانہ کاروائی سے ان کو ٹھنڈا کردیا ، اور ختم کردیا۔مگر چند بچوں کو پولیس نے پکڑا تھا،اور پولیس اسٹیشن لے گئے تھے ان پر مقدمات چلیں گے۔ خدا کرے وہ ناکامیاب ہوجائے!اور مقدمہ میں ہم کو کامیابی نصیب ہو۔آمین۔

الحمد للہ ! ختم نبوت کے مسئلہ پر سب نے اتفاق کرلیا :

اللہ کا فضل ہے کہ اس باب میں انڈین،پاکستانی،بریلوی اور دیوبندی سب نے مل کر ایکشن کمیٹی کے نام سے ایک کمیٹی تنظیم بنائی ہے ۔اس کمیٹی والوں نے مشورہ کرکے یہ طے کیا ہے کہ ’’باٹلی‘‘ ،’’ڈیوزبری‘‘ اور ’’ہیکمنڈ وائیک‘‘ کے اندر جتنی ہماری مساجد ہیںوہ ایکشن کمیٹی کو سو سو پاؤنڈ چندہ کرکے دیں، اس سلسلہ میں باٹلی کے اندر کچھ رقم جمع ہوچکی ہے۔اس سلسلہ میں جب پہلی میٹنگ ہوئی تو وہ حضرات جو بریلوی مسلک کے ہیں، اور وہ جیب میں سوسو پاؤنڈ کے نوٹ لے کر آئے اور کہا : ہم سے پیسہ لے لو اور وہ حضرات ہم سے پہلے پیسہ دے کر چلے گئے اور ہم لوگ اب تک پیسے جمع نہ کراسکے۔تو گذارش ہے کہ جو حضرات دوسری مساجد سے یہاں آئے ہیں ان سے گذارش ہے کہ وہ اپنی اپنی مساجد میں پیسہ جمع کرادیں۔اور جو اس علاقے کے ہیں ان سے گذارش ہے کہ وہ مشورہ کرکے رقم جمع کرادیں اس ایکشن کمیٹی کو تاکہ خادمان کے پاؤں لڑھک نہ جائیںاور رقم کے نہ ہونے کی وجہ سے وہ حضرات ہمت نہ ہار جائیں۔میں صرف اسی لئے کھڑا ہوا ہوں۔اللہ تعالیٰ اس سلسلہ میں پوری جد و جہد کرنے کی توفیق عطا کریں ۔آمین۔ اللہ تعالیٰ ہم سب کو جانی و مالی قربانی کرنے کی توفیق عطا فرمائیں۔آمین۔

وآخر دعوانا ان الحمد للہ رب العالمین

294

الوداعی جلسہ برائے تشکر و امتنان

مولانا اللہ وسایا صاحب

295

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ

جناب مولانا اللہ وسایا صاحب دامت برکاتہم کے اعزاز میں ہوا،مولانا موصوف سات دن تک قادیانیت کے عنوان پر درس دیتے رہے ،اب چونکہ حضرت موصوف اپنے مادر وطن کی طرف پا برکاب ہیں، اور اپنے وطن پاکستان جانے کی تیاری میں ہیں، لہذا یہ’’ الوداعی جلسہ‘‘ مولانا کے اعزاز اور اکرام میں کیا جارہا ہے۔

مولانا موصوف نے مکمل ایک ہفتہ مؤرخہ۳۱،اگست ۸۵ سے مؤرخہ ۷،ستمبر ۸۵ تک ’’باٹلی، ڈیوز بری‘‘ میں علماء حضرات کو درس بھی دیا اور عوام میں وعظ بھی فرمایا۔(جس کا نقشہ ساتھ میں منسلک ہے ) دوران ہفتہ ’’بریڈ فورڈ‘‘ اور قرب و جوار کے علما ء کرام اور مولانا احمد پانڈورصاحب دامت برکاتہم ( صدر جمعیۃ علماء برطانیہ ) اپنے شرکاء و رفقاء کے ساتھ تشریف لاتے رہے، دوران ہفتہ ’’بریڈ فورڈ‘‘ کے علماء کرام کے اصرار پر مولانا نے دو مرتبہ ( ایک ہی دن میں جمعہ اور عصر کے بعد) ان کو بھی وقت مرحمت فرمایا۔فجزاہم اللہ احسن الجزاء۔

دیگر علماء کرام نے بھی اس ’’الوداعی جلسہ‘‘ میں بیان فرمایا جو در اصل مولانا کے درس اور وعظ کا خلاصہ تھا۔جمعیۃ العلماء برطانیہ کے ناظم اعلیٰ جناب مولانا عبد الرشید ربانی صاحب بھی پورا ہفتہ درس و بیان کی مذکورہ بالا مجلسوں میں شریک ہوتے رہے۔( کیونکہ امامت و خطابت اور درس و تدریس بھی ان کی ذمہ داری میں شامل تھی ) عدم فرصت کے با وجود ان کا ہماری اس مجلس میں شریک ہونا ہمارے لئے باعث فخر ، مسرت اور خوشی کا باعث ہے۔فجزاہ اللہ احسن الجزاء۔

جلسہ کی کاروائی کا آغاز

قاری حافظ مولانا سلیمان مانکڈا صاحب (مدظلہ)کی افتتاحی قرآت سے ہوا۔ مولانا ہاشم راوت صاحب مد ظلہ نے سٹیج سکرٹیری کے فرائض انجام دئے۔اور مولانا عبد الرشید ربانی صاحب(مدظلہ) ، مفتی موسیٰ بدات صاحب (مدظلہ) ، مولانا ایوب سورتی کھولوڈیا(مدظلہ) اور حضرت مولانا اللہ وسایا صاحب (مد ظلہ) نے علی الترتیب اس جلسہ میں خطاب کیا۔

296

سب سے پہلے مولانا عبد الرشید صاحب تشریف لائے اور انہوں نے ارشاد فرمایا:

  1. یا رب صل و سلم دائمًا ابدًا

    علیٰ حبیبک خیر الخلق کلھم

علماء و مبلغین کا پورے ملک کا دورہ :

واجب الاحترام سامعین:آج کے اس جلسہ کا موضوع بھی (سابقہ جلسوں کی طرح ) ’’ختم نبوت‘‘ ہے ۔ آپ حضرات یہ دیکھ رہے ہیں کہ۲۰ ؍اپریل۱۹۸۵ عیسوی کوختم نبوت کے موضوع پر جو جلسہ برمنگھم میں( جمعیۃ العلماء برطانیہ کے زیر اہتمام) ہوا تھا ،اس کے بعد ۴؍ اگست ۱۹۸۵ میلادی کو ویملی ہال میں انٹرنیشنل ختم نبوت کانفرنس منعقد ہوئی،جس میں پورے عالم اسلام کے مندوبین نے شرکت فرمائی،یا اپنے پیغامات بھیجے،اس کے بعد ’’لندن‘‘ سے لیکر ’’گلاسگو‘‘ تک اور ’’مانچسٹر‘‘ سے لے کر ’’کراڈیف‘‘ تک ختم نبوت کے مبلغین و زعماء نے دورہ کرکے مسلمانوں کو اس ختم نبوت کے مسئلہ کی نزاکت و اہمیت سے آگاہ کیا۔

مولانا اللہ وسایاکا ہڈرسفیلڈؔ،بریڈفورڈؔ اور باٹلیؔ میں ورود مسعود

اسی قافلہ کے ایک محترم رفیق و مبلغ عالمی مجلس تحفظِ ختمِ نبوت پاکستان کے مرکزی رہنماحضرت مولانا اللہ وسایا صاحب(دامت برکاتہم) جو یہاں برطانیہ میں کچھ عرصہ کے لئے ٹھر گئے تھے، اور چند ایام اور ٹھیرنے والے ہیں،ان کے لئے یہ پروگرام ترتیب دیا گیا تھا کہ وہ مختلف شہروں میں رہ کرخواص و عوام کو اس موضوع کے بارے میں خصوصی طور پر آگاہ فرمائیں،اور علماء کو بھی باقاعدہ طور پر اس کے لئے تیار کریں،اور ان کو بھی اس سلسلہ کا مواد اور چیزیں مہیا فرمائیں۔تو ہڈرسفیلڈ میں بھی مولانا کا بیان ایک ہفتہ تک چلتا رہا۔اس کے بعد باٹلی کے فضلاء و علماء کی جماعت رابطہ نے اپنے زیر اہتمام پورا ہفتہ باٹلی میں حضرت مولانا کا پروگرام رکھا،جس میںہمارے فاضل علماء مولانا موصوف کا بیان وغیرہ لکھتے بھی رہے اورریکارڈینگ بھی کرتے رہے۔حضرت مولانا موصوف اپنے تجربہ اور اس فن کے ماہر ہونے کی بنا پر فضلاء کرام کو بتلاتے رہے۔یہ سلسلہ پورا ہفتہ چل کر کل ختم ہوگیا۔اور مولانا موصوف کل ’’بریڈفورڈ‘‘ بھی اسی سلسلہ کی تبلیغ کے لئے تشریف لے گئے تھے۔

297

مولانا اللہ وسایا کے اکرام میں الوداعی جلسہ :

آج کی یہ الوداعی مجلس اور یہ جلسہ باٹلی، ڈیوزبری کی حیثیت سے مولانا موصوف کے اعزاز میںگویا آخری پروگرام ہے۔ جس میں مسئلہ ختم نبوت کے نازک اور اہم پہلو پر حضرت مولانا اپنے انداز میں بیان فرمائیںگے۔اور مولانا کے بیان سے پہلے وہ فاضل علماء جنہوں نے مولانا کا درس تحریری طورپر ضبط کیا ہے وہ بھی اپنے اپنے تاٗ ثرات و قلبی احساسات نظم و نثر کی شکل میں پیش کرکے حاضرین کو محظوظ کریں گے۔ان شاء اللہ۔میں صرف ایک بات عرض کرنے کی خاطر کھڑا ہوا ہوںاور وہ یہ کہ مسئلہ ختم نبوت اسلامی عقائد کا ایک بنیادی مسئلہ ہے۔جس پر اگر آپ غور کریں تو سارے مذہب کا، سارے دین کا اور ساری شریعت کا دار و مدار ہے۔

رسول اللہ (ﷺ) مقام ، مکان اوزمان ہر لحاظ سے خاتم الانبیاء ہیں :

عقیدۂ ختم نبوت کا مفہوم یہ ہے کہ سلسلۂ انبیاء( علیھم السلام)جو حضرت آدم(علیہ السلام)شروع ہوا، اس کو حق سبحانہ و تعالیٰ نے حضرت محمد مصطفی (ﷺ)پر مکمل فرمادیا، حضرت محمد (ﷺ)مرتبہ کے لحاظ سے بھی خاتم النّبیینہیں اور مکان کے لحاظ سے بھی خاتم النّبیینہیں،زمان کے لحاظ سے بھی خاتم النّبیین ہیں۔نبوت کا کوئی مرتبہ آپ(ﷺ) کے مرتبہ سے بڑھ کر نہیں،نبوت کی کوئی شان آپ (ﷺ)کی شان سے ماوراء نہیں۔اسی طرح آپ (ﷺ)کے بعد نبوت کی کوئی ضرورت باقی نہیں رہی۔

قرآن کریم کی سوآیتوں میں ختم نبوت کا ذکر ہے :

حق تعالیٰ نے مختلف عنوانات کے ذریعہ اس کا اعلان قرآن مجید میں فرمایا۔اور سو سے اوپر آیتیں ایسی ہیں جن میں بڑی صراحت کے ساتھ یہ فرمایا گیا کہ رسول اللہ (ﷺ)آخری نبی ہیں۔اور یہ فرمایا گیا :وما ارسلناک الا رحمۃً للعالمین۔اب عالمین، میں تو سارا جہان، قیامت تک آنے والا سب کچھ شامل ہے۔اور کہیں یہ فرمایا کہ وما ارسلناک الا کافۃ للناس، اور کہیں یہ فرمایا کہ یا ایھا الناس انی رسول اللہ الیکم جمیعًا۔تو یہ عمومیت نبوت کی ،رحمت کی اور یہ عمومیت رسالت کی، کیا یہ کافی نہیں ہے کہ حضرت محمد مصطفی (ﷺ) ساری دنیا جہان کے لئے پیغمبر بن کر تشریف لائے۔بلکہ اتنی بات پر بات ختم نہیں ہوتی۔

298

حضور( a )کا حجۃ الوداع کا خطبہ ختم نبوت کی دلیل ہے :

بلکہ حضور(ﷺ)نے حجۃ الوداع کے خطبہ میں جو ارشاد فرمایا : (اور خطبہ کا انداز ایسا تھا کہ گویا کوئی آدمی کسی سے آخری ملاقات اور بات کر رہا ہو) کہ شاید میری اور تمہاری ملاقات آئندہ ہو یا نہ ہو،اور کبھی یہ ارشاد فرماتے ہیں: خدا کی طرف سے جو دین دیا گیا ہے وہ سارا میں نے پہنچا دیا ہے۔تو سب لوگوں نے گواہی دی کہ آپ (ﷺ)نے بلا کم و بیش دین پہنچادیا ہے۔بلکہ پہنچانے کا حق ادا کردیا ہے۔تو آپ (ﷺ) آسمان کی طرف اشارہ کرکے ارشاد فرماتے ہیں: اے اللہ! انہوں نے میری رسالت کی گواہی دے دی۔تو بھی گواہ ہوجا کہ میں نے تیرا دین بلا کم و بیش کامل و مکمل ان تک پہنچا دیا۔پھر آپ (ﷺ)یہ ارشاد فرماتے ہیں : لوگو: تم اس پر گواہ رہو کہ اب میں تمہیں یہ کہتا ہوں: ’’الا فلیبلغ الشاہد الغائب‘‘اور کہا : اب کوئی نیا نبی نہیں آئے گا، میرے بعد جس کا آپ کو انتظار کرنا پڑے،اب کوئی اور کتاب نہیں آئے گی،اور اب امت کوئی اور نہ ہوگی۔تم میری آخری امت ہو۔میں خدا کا آخری پیغمبر ہوں۔یہ دین خدا کا آخری اور مکمل دین ہے،اب اس دین کو پوری دنیا میں تم ہی کو پھیلا نا ہے۔

صحابہ کرام ؓ نے دین کے پہنچا نے کا حق ادا کردیا :

صحابہ کرام (رضوان اللہ علیہم اجمعین)نے بھی اس دین کے پہنچانے کا حق اس طرح ادا کیا کہ ایک لاکھ سے زائد صحابہ کرام ؓ عرب کے اس خطہ میں تھے ،لیکن آج دس ہزار کے قریب کی قبریں اس خطہ میں موجود ہیں،باقی سارے عرب سے نکل کر دنیا کے کونے کونے میں اس دین کی نشر و اشاعت کی خاطر پہنچ گئے، کیونکہ وہ اس بات کے منتظر نہ تھے کہ کوئی نیا نبی آئے گا، کوئی نئی شریعت لائے گا،نیا دین لائے گا، انہوں نے دین اور دین کی دعوت کا حق ادا کیا،مراکش اور افریقہ کے جنگلوں سے لے کر انڈونیشیا کے کناروں تک دین کوپہنچایا، اور دین کو انہوں نے، ان کے شاگردوں نے کشتیوں پر سوار ہوکر،پیدل چل کر،پہاڑوں اور جنگلوں کا راستہ قطع کرتے ہوئے ،اور گھوڑوں اور اونٹوں پر سفر کرتے ہوئے، پیٹ پر پتھر باندھتے ہوئے ،بھوکے رہ کراور پیاس کو برداشت کرتے ہوئے خدا کے دین کو دنیا کے کونے کونے میں پہنچایا۔اس لئے کہ ان کا عقیدہ تھا کہ اب ہمارے پیغمبر کے بعد کوئی پیغمبر پیدا نہ ہوگا۔

299

حجۃ الوداع کے موقع پر نازل شدہ آیت ’’ الیوم اکملت لکم دینکم الی آخرہٖ‘‘ بھی ختم نبوت کی دلیل ہے :

یہ آیت کریمہ جو میں نے آپ حضرات کے سامنے تلاوت کی ہے اس کا نزول حجۃ الوداع کے موقع پر ہوا؛اللہ تعالیٰ نے بھی اس بات پر گویا مہر لگادی جب حضرت نبی کریم(ﷺ) نے حضرات صحابہ (رضوان اللہ علیہم اجمعین) کو گواہ بنایا کہ میں نے خدا کا دین تم تک کامل و مکمل پہنچادیا،تو سب نے کہا کہ پہنچایا نہیں بلکہ پہنچانے کا حق ادا کردیا،پھر آپ(ﷺ)نے ’’اللھم اشھد‘‘تین مرتبہ فرمایا۔تو خدانے گواہ کے طور پر ،شہادت کے طور پر یہ آیت نازل فرمائیالیوم اکملت لکم دینکم الخ

کوئی شخص یا جماعت ضد و ضلال و پاگل پن میں نہ ہو تو اس کے لئے بہت واضح ہے :

دوستو! یہ تو اتنی عام بات ہے کہ معمولی پڑھا لکھا آدمی بشرطیکہ کسی ضد،کسی ضلال اور کسی گمراہی کا شکار نہ ہوگیا ہو،اور اس کا دماغ کام کررہا ہو ،پاگل نہ ہوگیا ہو، وہ بھی یہ بات سمجھ سکتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنا دین مکمل فرمادیا ہے اور یہ کامل اور مکمل کا لفظ اللہ تعالیٰ نے آدم (علیہ السلام)کے لئے نہیں فرمایا،اور نہ تو نوح (علیہ السلام)کے لئے فرمایا،اور نہ تو موسیٰ(علیہ السلام) اور داؤد(علیہ السلام) اور عیسی (علیہ السلام)کے لئے فرمایا، حالانکہ یہ سب انبیاء(علیہم السلام) آسمانی کتابیں لیکر آئے تھے،۔

جھوٹے نبی کی نبوت کے چند دلائل :

یہ جو قادیانی دجال ہے اس نے خود کتابیں لکھی ہیں، اس پر آسمانی کتابیں اتری اور اتاری نہیں گئی ہیں،سچے اورجھوٹے نبیوں کی علامتوں میں سے ایک یہ بھی ہے کہ سچے نبیوں پر کتابیں آسمانوں سے اتری ہیں،سچے نبیوں پر کتابیں آئی ہیں،وحی اتری ہیں ،ان پر صحیفے اترے ہیں،صحیفوں کی تعداد سو کے قریب علماء بتاتے ہیں،اور چار کتابیں ہیں،تورات،زبور، انجیل اور قرآن مجید۔اللہ کے جتنے سچے نبی ہیں ان پر وحی آئی ہے ان پر کتابیں ،صحیفے نازل ہوئے ہیں اگر نہیں اترے ہیں تو وحی تو اللہ کی طرف سے ضرور آئی ہے۔

300

لیکن یہ قادیانی دجال کتابیں لکھتا رہا،لیکن جتنے بھی انبیاء(علیہم السلام) آئے ہیں ان میں سے کسی ایک نے بھی کوئی کتا ب نہیں لکھی،اگر کسی کے پاس ثبوت ہو تو پیش کرے۔اور اللہ کا سچا نبی کتابوں کے لئے چندہ نہیں کرتا لیکن مرزا قادیانی نے کتابوں کے لئے چندہ کیا ہے ۔اور اللہ کا سچا نبی فراڈ نہیں کرتا، جب کہ مرزاقادیانی کہتا ہے کہ لکھوںگا پچاس اور لکھتا ہے پانچ، جب لوگوں نے مؤاخذہ کیا تو کہا کہ پانچ اور پچاس میں کیا فرق ہے،صرف نقطہ کا تو فرق ہے۔ اتنا بڑا فراڈی،مکر و فریب کرنے والا۔اس کی ایک ایک بات میں فریب،سچے اور جھوٹے نبی کا یہی واضح فرق ہے۔

جھوٹے نبی کی ہر بات سے جھوٹ ٹپکتا ہے :

سچے نبی کی ایک ایک بات سے صداقت ٹپکتی ہے۔اور جھوٹے نبی کی ہر ہر بات سے کذب ظاہر ہوتا ہے،اور کوئی صداقت نہیں ہوتی،سچا نبی معصوم ہوتا ہے،اللہ تعالیٰ کی حفاظت کا پہرا اس پر ہوتا ہے،اور اللہ تعالیٰ گناہ کو حکم دیتے ہیں کہ میرے نبی کے قریب بھی مت جانا،ابھی آپ حضرات کے سامنے ہمارے عزیز بھائی نے سورہ ٔ یوسف کی جو ابتدائی آیت تلاوت کی ہے اس میں آگے چل کر یہی بات آتی ہے کہ ’’ کذالک لنصرف عنہ السوء والفحشاء ‘‘ اللہ تعالیٰ نے یوں فرمایا کہ یہ سارا اس لئے ہوا تاکہ’’ ہم بے حیائی اور برائی کو حضرت یوسف (علیہ السلام)سے ہٹا دیں ‘‘،اللہ تعالیٰ نے یوں نہیں کہا کہ ہم یوسف(علیہ السلام) کو ہٹا دیں وہ تو وہیں پر ’’ معاذ اللہ ‘‘ کہہ کر الگ ہو گئے تھے،اللہ کے پہرے میں تھے،اللہ کی حفاظت میں تھے۔اللہ تعالیٰ برائی کو پکڑ کر کہتے ہیں کہ میرے معصوم نبی کے پا س نہ جا نا ، جب پیغمبر کو معصیت اور مصیبت کا سامنا ہوتا ہے تو ایک طرف تو پیغمبر کو یہ کہا جارہا ہے کہ تم میرے مشرب پر آجاؤ!،اور دوسری طرف مصرکے حاکم کی اہلیہ کہہ رہی ہے کہ میرے جال میں آجاؤ!۔اگر نہیں آؤگے تو کسی نہ کسی مصیبت میں مبتلا ہو جاؤگے!۔اب یوسف (علیہ السلام)کے پاس دو راستے ہیں ، ایک طرف تو اپنی مالکہ کے ساتھ برائی میں مبتلا ہونا،اور یہ اس کے گھر کے نوکر ہیں،اگر چہ بیٹے سے زیادہ عزیز ہیں،لیکن ہے تو اس گھر کی مالکہ،کوئی باہر کا آدمی نہیں، گھر کا اپنا مالک،شیطان اتنی زیادہ قوت کے ساتھ آتا ہے کہ شاید کسی اور کے پاس اتنی قوت سے نہ گیا ہوگا۔

وہ عورت اس بات کی دعوت دیتی ہے کہ میری خواہش جو ہے وہ تجھے پوری کرنا ہوگی،اگر ایسا نہیں کرے گا تو تجھے جیل جانا ہوگا،ایک طرف معصیت دوسری طرف مصیبت

301

ہے۔لیکن اللہ کا پیغمبر دوسری طرف یہ کہہ رہا ہے : کہتا ہے کہ اے اللہ ! رب السجن احب الی ممایدعوننی الیہ، مصیبت کو سہنے اور قبول کرنے کو تیار ہوں لیکن میں معصیت میں مبتلا ہونے کے لئے تیار نہیں۔اور یہ معصیت میں مبتلاء نہ ہونا پیغمبر کی معصومیت ہے۔

کیا نبی ایسا بے شرم اور بے حیا ہوتا ہے ؟

اور جھوٹے نبی کی معصیت کی یہ حالت ہے کہ غیر محرم عورتیں رات کو پہرہ دے رہی ہیں۔ اور یہی عورتیں رات کو ٹانگیںدبا رہی ہیں،اور غیر محرم عورتیں ان کے سامنے بے تحاشا آتی جاتی رہتی ہیں۔یہ جھوٹے کی علامت ہے۔سچا وہ ہے جو عظمت خداوندی کے پہرے میں ہے۔سچا وہ ہے جو خود کتابیں نہیں لکھتا،بلکہ اللہ کی طرف سے جو وحی آتی ہے اس وحی کو بلا کسی کمی و بیشی کے لوگوں تک پہنچاتا ہے۔سچا وہ ہے جو خدا کے گھر کا طواف کرتا ہے،اور جھوٹے کو کبھی بھی زندگی بھر توفیق نہیں ہوئی کہ اللہ کے گھر کی زیارت کرے۔وہ اس خطرے میں رہ گیا کہ اگر میں نکلا تو اللہ کے نبی (ﷺ) کے سچے عاشق میری تکا بوٹی کر دیںگے۔وہ نبی تھوڑا ہے۔اس نے تو نبوت پر ڈاکہ زنی کی ہے اور ختم نبوت پر بھی۔

انبیاء ؑکے ناموں سے بھی حجت ہے :

پھر اس کا نام بھی نبی جیسا نہیں،تمام انبیاء(علیہم السلام) آدم (علیہ السلام)سے لے کر حضرت محمد (ﷺ) تک جن رسولوں اور نبیوں کے نام قرآن مجید اور سنت نبویہ میں ہیں وہ سب کے سب مفرد ہیں،آدم مفرد ہے ،نوح مفرد ہے،اسی طرح دیگر انبیاء سابقین(علیہم السلام) کے اسماء مفرد ہیں۔آپ (ﷺ) کے بہت سارے نام ہیں وہ سب کے سب مفرد ہیں۔اگر کسی کا نام مرکب ہے تو وہ مرزا غلام احمد قادیانی کانام ہے،اس کا نام اس کے ماں باپ نے کیا رکھا،غلام احمد یعنی احمد کا غلام۔لیکن یہ ایسا پاپی بنا کہ غلامی سے انکار کرکے جناب محمد(ﷺ) کی نبوت کے ساتھ جاکے کھڑا ہوگیا۔اس کا نام نبیوں جیسا نہیں،اس کا کام نبیوں جیسا نہیں،اس کا پروگرام نبیوں جیسا نہیں۔

جھوٹے کا قرآن کیا سارا پروگرام چارسو بیس ہے :

یہ جسے قرآن کہتا ہے جس کا نام اس نے ’’ تذکرہ ‘‘ رکھا ہے ،آپ حضرات پہلے بھی یہ

302

لفظ علماء کرام سے سن چکے ہیںاور یہ لطیفہ بھی سن چکے ہیں کہ اس کے صفحات کتنے ہیں۔اس کے صفحات ۸۴۰ اور ورق ۴۲۰،اور چار سو بیس کا لفظ فراڈ کے لئے آتا ہے۔اب یوں یاد کرلواور بچوں کو بھی یاد کراؤ،اور دوسروں کو بھی یاد کراؤکہ قادیانی مسلک چارسو بیس اور قادیانی مذہب بھی چارسو بیس۔قادیانی قرآن چارسو بیس،قادیانی نبی چارسوبیس۔اور ان کا قبلہ اور کعبہ بھی چارسو بیس۔گویا کہ ان کا سارا پروگرام چارسو بیس۔تو قادیانی کاترجمہ چارسو بیس کرو۔جب چارسو بیس آئے گا تو ہر آدمی بچے گا۔کیونکہ یہ ایسا ناسور ہے کہ ہر آدمی اس سے بچے گا۔

قصر نبوت کی تکمیل کی ایک خوبصورت مثال :

کون ایسا آدمی ہے جو یہ نہیں سمجھ رہا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے فرمان ’’الیوم اکملت ‘‘الخ کے بعد،اور نبی(ﷺ) کی شہادت کے بعد ،اور اس کے جواب میں صحابہ کرام (رضوان اللہ علیہم) کے جواب کے بعد ،اللہ تعالیٰ گویا اس بات کی گواہی دے رہے ہیں ،اس پر مہر لگا رہے ہیں،اعلان فرمارہے ہیں: آج کے دن میں نے دین کو مکمل کردیا۔بخاری شریف میں روایت ہے کہ نبی(ﷺ) نے فرمایا : میری اور پہلے انبیاء(علیہ السلام) کی مثال ایسی ہے کہ ایک آدمی ایک بہت بڑا محل تیار کرے،اور وہ شاندار بنائے ، لوگ دیکھ کر یہ کہیں کہ یہ بہت شاندار محل ہے۔لیکن اس میں ایک اینٹ کا فرق باقی رہ گیا ہے ۔ آپ (ﷺ) فرماتے ہیں : وہ آخری اینٹ میں ہوں۔جس نے قصرِنبوت کی تکمیل کردی۔اب یہ قصر نبوت مکمل ہوگیا ہے اب اس میں کسی قسم کی اینٹ کی گنجائش نہیں۔یہ مثال دیکر قصر نبوت کی تکمیل کا اعلان کیا،اب جو کوئی اس میں داخل ہونے کی یا داخل کرنے کی کوشش کرتا ہے تو وہ تلبیس کرتا ہے یا تنقیص کرتا ہے۔وہ ڈاکہ زنی کرتا ہے اپنے لئے جگہ بنا تا ہے۔تو گویا ڈاکہ زنی کرتے ہوئے، نقب لگاتے ہوئے قصر نبوت کو داغدار کرنے کی کوشش کرتا ہے۔لیکن اسے معلوم ہونا چاہئے کہ اللہ تعالی کا وعدہ ہے کہ ہم جھوٹا الزام باندھنے والے کو ایسا ذلیل کریں گے کہ وہ دنیا میں بھی ذلیل ہوگا اور آخرت میں بھی ذلیل ہوگا۔یہی وجہ ہے کہ مدعیان نبوت اپنے اپنے زمانہ میں ذلیل ہوئے اور قادیانی بھی ذلیل ہوئے اور قیامت میں جو ہوگا سو ہوگا اور وہ اس کے علاوہ ہوگا۔

دین کامل مکمل ہوگیا ، اب نئے نبی کی ضرورت نہیں !

اور فرمایا : آج کے دن میں نے آپ (ﷺ)کے لئے دین کو مکمل فرمادیا،اپنی نعمتوں کو

303

تمام کردیا،اور تمہارے لئے دین اسلام کو پسند کیا،بس اتنی باتوں کے بعد کوئی شبہ رہ جاتا ہے کہ ہمارا دین نا مکمل تھا جس کو مکمل کرنے کے لئے کوئی نبی پیدا ہوگا یا آئے۔ہمارا دین نامکمل تھا جس کی شرح کے لئے کوئی مجدد آئے،امام مہدی آئیں گے،آسمان سے عیسیٰ(علیہ السلام) اتریں گے، لیکن عیسی(علیہ السلام) نبی تھے بنی اسرائیل کے لئے،قرآن کا ارشاد ہے ورسولاًالی بنی اسرائیل ،ہم ان کو بنی اسرائیل کا نبی مانتے ہیں،ہم ان کی نبوت کے قائل ہیں،لیکن وہ امت محمدیہ کے لئے مبعوث ہوکر نہیں آئیں گے ، یہاں آکر شریعت محمدیہ کی پیروی کر یں گے، اسی کی تقلید کریں گے۔اور اسی کو تازہ کریں گے۔ان کی مٹی ہوئی باتوں کو زندہ کریں گے۔جہاد کریں گے اور دجال اکبر کو جو شیطنیت اور گمراہی ،دجل و فریب کے لحاظ سے چوٹی کی شخصیت ہوگی۔اللہ تعالیٰ روحانیت کے لحاظ سے چوٹی کی شخصیت یعنی عیسیٰ(علیہ السلام) کو دو بارہ اتار کر اس کے ساتھ اس کا مقابلہ کرائیں گے ،عیسیٰ(علیہ السلام)دجال کو اپنے ہاتھ سے قتل کریں گے۔

امت محمدیہ کے امام کا کتنا بڑا اعزاز ہے !

اور دیکھو امام مہدی علیہ الرضوان کے پیچھے نماز پڑھیں گے۔اس امت محمدیہ کے امام کا اتنا بڑااعزازہے،کیونکہ یہ امت تمام امتوں کی امام ہے۔یہ امت وہ ہے جس میں شمولیت کے لئے دیگر انبیاء(علیہم السلام) دعا کرتے رہے کہ یا اللہ اس امت میں ہمیں پیدا فرما اور عیسی(علیہ السلام) کوئی اپنی بات جاری نہیں کریں گے جب کہ عیسی(علیہ السلام) بنی اسرائیل کے نبی تھے۔باقی کسی کو کیا حق پہنچتا ہے کہ کسی امت میں اٹھ کر اپنی بات جاری کرے،اپنی شریعت اپنا حکم جاری کرے۔وہ تو ایک خدائی مشن پر آرہے ہیں،جہاد کو زندہ کرکے دجال کو قتل کرکے وہ یہ ثابت کریں گے کہ انبیاء(علیہم السلام) کا طریقہ تو یہ ہے۔ سنت یہی ہے اس امت میں جہاد قیامت تک جاری رہے گا۔امام مہدی علیہ الرضوان ان کے ساتھ ہوںگے اور َعلم ِاسلام ان کے ساتھ ہوگا۔پھر وہ نکاح کریں گے ، وہ وفات پائیںگے ۔ رسول اللہ (ﷺ) نے فرمایا : وہ میرے پاس دفن ہوںگے۔اور روضۂ اطہر میں آج بھی جگہ باقی ہے، اس سے سچے اور جھوٹے کا پتہ چل جائے گا۔اس جعل ساز نے بیشمار جعل سازیاں کی،کبھی کہتا ہے:میں آدم ہوں، کبھی کہتا ہے : میں نوح ہوں۔کبھی ابراہیم ،کبھی مسیح موعود اپنے آپ کو کہتا ہے، کبھی مثیل مسیح

304

کا دعویٰ کرتا ہے اور کبھی کہتا ہے: میں مہدی ہوں اور کبھی کہتا ہے: میں محمد ﷺ ہوں ( نعوذ باللہ ) اور کبھی خدائی کا دعوی کرتا ہے ۔

اس کی تو کوئی نسل ہی نہیں۔ نبوت تو درکنار وہ تو شریف آدمی کے درجہ پر بھی بیٹھنے کے قابل نہیں۔تو مرزائیوں ،قادیانیوں نے پاکستان میں مار کھانے کے بعد اورہارنے و ختم ہونے کے بعد یہاں پر انہوں نے جوپروگرامز بنائے ، ان کے پروگراموں سے آگاہی کے لئے حضرات علمائے کرام تشریف لائے۔اور انہوں نے آکر پوری تفصیل کے ساتھ پورے ملک میں امت کو بیدار کیا،اور وہ باتیں جو ابھی تک قادیانیوں کی مسلمانوں کو معلوم نہیں تھیں،ان کے بارے میں تحریری طور پر اور تقریری طور یہاں کے مسلمانوں کو بھی اور علماء کرام کو بھی بتلایا۔

اور اس کے علاوہ ’’عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت‘‘ کا اعلان ہوا۔اور جس کے صدر دار العلوم’ بری‘ کے مہتمم ’’مولانا محمد یوسف متالا صاحب‘‘ ہیں۔اور آرگنائزر ’’محمد اشرف صاحب‘‘ ہیں جو لندن میں مقیم ہیں۔اور انشاء اللہ آئندہ ترتیب بنتی رہے گی۔ اور اس موضوع کے لئے آپ حضرات مولانا سے اور دیگر ذمہ داروں سے رابطہ قائم کرسکتے ہیں۔ اسی سلسلہ میں مبلغ ختم نبوت مولانا اللہ وسایاصاحب تشریف لائے تھے جیسا کہ میں پہلے عرض کر چکا ہوں۔ان کا پروگرام باٹلی میں آٹھ دن کا تھا۔جہاں علماء کے لئے خصوصی اور عوام کے لئے عمومی مجالس مختلف مسجدوں میں ہوتی رہیں۔آج اسی سلسلہ کایہ آخری پروگرام ہے۔باقی تفصیلات آپ حضرات کے سامنے آنے والی ہیں۔اس طرح ہمیں بیدار رہنے ،آگاہ رہنے ،اور اپنے دین اور ایمان کے تحفظ کے لئے جانی اور مالی قربانی کرنے کی ضرورت ہے۔ اللہ تعالی توفیق عطافرمائیں۔

وآخر دعوانا ان الحمد للہ رب العالمین

مولانا عبد الرشیدکے بیان کے بعد مولانا اسماعیل راجہ صاحب مد ظلہ ( فاضل دار العلوم بری ) نے ایک نظم سنائی جو مولانا عبد الحئی سیدات صاحب المعروف بہ مولانا نادرؔ صاحب لاجپوری مد ظلہ نے لکھی تھی۔اسباق اور درسوں کے ذریعہ حضرت مولانا جو متاثر ہوئے ہیں اور دل پر جو گہری چوٹ لگی ہے، ان کو حضرت مدظلہ نے قلم بند فرمایا ہے ۔ مولانا اسماعیل

305

راجہ صاحب( حال مقیم المدینۃ المنورۃ ) نے نظم سنانے سے پہلے فرمایا : یہ نظم جو مولانا صاحب نے قادیانیوں کی تردید میں لکھی ہے اور اس میں جو برائیاں مذکور ہیں اس کو فرضی نہ سمجھا جائے۔بلکہ یہ حقائق ہیں۔واقعۃً یہ برائیاں اس کم بخت میں موجود تھیں،اور اس کی برائیاںکرنا (جس طرح ہم بڑوں سے سنتے ہیں) جتنی بھی کی جائیں گی کم ہیں۔ جناب رسول اللہ (ﷺ) سے اتنا ہی قرب ہوگا ۔اللہ رب العزت ہم سب کو اس فتنہ سے محفوظ رکھے۔اور حضور پاک (ﷺ) کا قرب نصیب فرمائے۔آمین۔

آئندہ صفحہ پر وہ نظم پیش کی جارہی ہے۔اس پر تبصرہ کرتے ہوئے جناب مولانا عبد الرشید ربانی صاحب نے فرمایا : حضرت مولانا جو نادر کا تخلص رکھتے ہیں انہوں نے قادیانی شیطانوں کے خلاف یہ نظم تیار کی ہے۔وہ شعراء جو اسلام کی مدح میں یا دشمنان اسلام کی مذمت میں اشعار کہے ہیں ان شعراء کی نسبت اور تعلق ( ان شاء اللہ) حضرت حسان بن ثابت (رضی اللہ عنہ)سے ہو گا جن کا لقب شاعرِ رسول اللہ (ﷺ)ہے۔مشرکین مکہ حضور(ﷺ) کی ہجو میں نیز اسلام اور مسلمانوں کے خلاف جو اشعار کہتے تھے، حضرت حسان بن ثابت (رضی اللہ عنہ)مسجد نبوی میں بیٹھ کر اشعار ہی میںاس کا منہ توڑ جواب دیتے تھے۔اور رسول اللہ (ﷺ) ان کو جواب دیتے تھے۔اللھم ایدہ بروح القدس کہ اے اللہ:جبرئیل امین (علیہ السلام) کے ذریعہ حضرت حسانؓ کی مدد کر!۔اور حضرت حسان بن ثابت(رضی اللہ عنہ) عربوں کے شعراء میںمایہ ناز شاعر تھے اور انہی اشعار میں سے ان کا یہ شعر بھی ہے ۔ ؎

  1. فان ابی ووالدہ وعرضی

    لعرض محمد منکم وقاء

(بخاری ج۲ ص۵۹۴)

ہم یہ سمجھتے ہیں کہ شعراء اپنے انداز سے ، لکھنے والے اپنے انداز سے ، نثر والے اپنے انداز سے، مقررین اپنے انداز سے ، اہل قلم اپنے انداز سے اور اہل سیف اپنے انداز سے جو بھی اسلام کا دفاع کرتے ہیںتو ان کا شمار ہوتا ہے جناب رسول اللہ (ﷺ) کے عاشقین میں اور عشاق میں اور یہ حضرات عاشقین رسول اللہ (ﷺ)کی شفاعت کے مستحق ہوںگے۔

وآخر دعوانا ان الحمد للہ رب العالمین

306

نظم

  1. بیاں کرتا ہوں میں ناپاک سیرت ایک انساں کی

    حقیقت میں تو سوّر تھا لئے صورت انساں کی

  2. بڑا زندیق تھا،مردود تھا ،ملعون بھی وہ تھا

    بڑا ابلیس تھا بھاگا ہوا چوکھٹ سے یزداں کی

  3. کبھی کہتا ، خدا کا باپ بھی ہوں اور بیٹا بھی

    کبھی کہتا کہ میں بیوی ہوں خدا کی ،ہے قسم جاں کی

  4. کبھی کہتا میں نطفہ ہوں خدا کا مان لو مجھ کو

    ذرا گستاخیاں دیکھے تو کوئی اس بے ایماں کی

  5. کبھی کہتا میں جے سنگھ ہوں کبھی کہتا برہمن ہوں

    کبھی کہتا ہے کہ حیض آتا ہے مجھ کومثل نسواں کی

  6. وہ اک الہامی گرگٹ تھا،وہ اک الّو کا پٹھاتھا

    کبھی کہتا کہ جائے عار و نفرت ہوں میں انساں کی

  7. کمینہ دن میں سو سو بار وہ پیشاب کرتا تھا

    وہ چشمہ تھا یا پرنالہ یا بارش زور و طوفاں کی

  8. وہ ٹانگیں غیر محرم عورتوں سے تھا روز دبواتا

    لگی رہتی تھی ہر دم چاٹ اس کو جسم عریاں کی

  9. مَرا جسدم تھا قے آلود کرتہ اس اناڑی کا

    تو پا خانے سے لت پت تھی ایزار اس جھوٹے ناداں کی

  10. وہاں بد بو تھی ایسی پاس ٹھہرا بھی نہ جاتا تھا

    نحوست آج تک ہے چار سو اس گندے داماں کی

307
  1. گدھا دجال کا اور لاش تھی ابلیس کی اس پر

    ہنسی ہوگی یہ منظر دیکھ کر ہر چیز دوراں کی

  2. خدا ان کوہدایت دے یا ان سے پاک ہو دنیا

    کہ یہ سور پڑے پیچھے ہیں ناموس رسولاں کی

  3. یہ دھنس جائیں زمیں میں ان پہ برسیں آگ کے شعلے

    پڑ یں کیڑے زباں میں ایک اک مرزائی شیطاں کی

  4. رہے جب تک یہ زندہ ہو ذلیل وخوار دنیا میں

    جسے کتے نہ سونگھیں یہ مرے وہ موت حیواں کی

  5. غلامان محمد مصطفیa اب جاگ اٹھے ہیں

    منائیں قادیانی خیر، اپنے تخت و ایواںکی

  6. چلے ہیں باند ھ کے سر سے کفن ہاتھوں میں جاں لیکر

    خدایا لاج رکھ لے آج تو خون شہیداںکی

  7. بچھاڑا باٹلی میں قادیانی شیر کو جس دم

    دھری ہی رہ گئی اسکیم مرزائی پہلواں کی

  8. ہماری آنکھ سے آنکھیں ملا سکتا نہیں کوئی

    جسے ہمت ہو کرلے آزمائش زور ایماں کی

  9. غنیمت جان لوموقع ابھی توبہ کرو ورنہ

    سلاخیں منتظر ہیں خیر مقدم کرنے زنداں کی

  10. دعاء ہے یا الٰہی کر حفاظت سارے فتنوں سے

    خصوصًا فتنہ مرزائیت سے ہر مسلماں کی

308
  1. یہ جھوٹے نبی قادیانی کے چیلے

    ہیں برطانیہ میں نجاست کے ڈھیلے

  2. جہاں بھی ملیں ان کو مارو بھگاؤ

    کہ پھر یہ کہیں جھوٹے پاپڑ نہ بیلے

از: مولانا عبد الحئی سیدات صاحب مدظلہ المعروف بہ نادر ؔ لاجپوری

حضرت مولانا مفتی موسیٰ صاحب دامت برکاتہم کے تأثرات

حضرت مولانا مفتی موسیٰ بدات صاحب ( دامت برکاتہم ) خلیفہ حضرت مولانا مفتی محمود صاحب (رحمۃ اللہ علیہ) خطیب ٹیلر سٹریٹ مسجد ،نے حضرت مولانا اللہ وسایا صاحب مد ظلہ کے بیانات اوردرس( جو انہوں نے باٹلی میں دیا تھا ) کی تلخیص فرمائی اور سامعین کے سامنے پیش کی۔ اللہ جل جلالہ کی حمد و ثنا اور رسول اللہ (ﷺ)پر صلوٰۃ و سلام کے بعد حضرت مفتی صاحب مدظلہ نے شیخ سعدی ؒ کا یہ شعر پڑھا:

  1. خلاف پیمبر کسے راہ گزید

    ہرگز بمنزل نہ خواہد رسید

آخر ختم نبوت کا مسئلہ اتنا اہم کیوں ہے ؟

معزز علماء کرام اور بزرگان دین:بزرگوں کا ارشاد ہوا،جس کی تعمیل میں میں کھڑا ہوگیاکہ دو چار باتیں عرض کروں۔حضرت مولاناموصوف کا باٹلی میں جو قیام رہا اور اس قیام کے دوران حضرت مولانا موصوف سے استفادہ کرنے کا جو موقع ملا ،میں اس کو اجمالًابیان کروں۔حضرت مولانا موصوف کی صحبت ہمیں باٹلی میں چند روز حاصل ہوئی،اس سے اتنی معلومات حاصل ہوئیں ،اور الحمدللہ اتنی بیداری باٹلی کے علماء کے اندرپیدا ہوئی اس کو عرض کرنے سے پہلے دو تین باتیں عرض کرتاچلوںکہ ختم نبوت کا مسئلہ کتنا اہم ہے۔آخر پوری دنیا کے اندر اتنا شور کیوں ہورہا ہے؟ دوسرے فرقے بھی موجود ہیں اس کے خلاف اتنا شور کیوں نہیں ہوتا؟قادیانی فرقہ جب سے برپا ہوا اور جب سے یہ شوشہ نکلا ہے،اور یہ فتنہ جب سے شروع ہوا ہے اس وقت سے ہمارے اسلاف کی اور ہمارے اکابر کی نیند کیوں اڑ گئی؟آخر کیا

309

بات ہے ؟ اس کی اتنی بڑی اہمیت کیوں ہے؟

دین کے شعبوں میںسب سے اہم عقائد ہیں:

اصل بات یہ ہے کہ ختم نبوت کا جو مسئلہ ہے ۔ عقائد کے ساتھ اس کا تعلق ہے۔بلکہ پورے دین اسلام کے لئے اساسی حیثیت رکھتا ہے۔ دین کے مختلف شعبے ہیں،ان شعبوں کے اندر عقائد کو جو اہمیت حاصل ہے، وہ معمولی سوجھ بوجھ رکھنے والا مسلمان جانتا ہے،عقائد ہمارے دین اور اسلام کی بنیاد ہیں،گویا فاؤنڈیشن ہے۔اور اس کے بعد جو اسلام ہے یعنی اعمال ہیں، وہ دوسرے نمبر پر ہے۔تو یہ عقائد جڑ کی حیثیت رکھتے ہیں ،اور اعمال وغیرہا شاخ کی حیثیت رکھتے ہیں۔اگر کسی درخت کی جڑیں کھوکھلی کردی جائیں اور پھر آپ درخت کو پانی پہنچاتے رہیں تو بھی وہ درخت زندہ نہیں رہ سکتا۔اس لئے کہ درخت کا دار و مدار جڑوں پر ہوتا ہے۔ہاں اگر جڑیں باقی ہوں اور شاخیں کاٹ دی جائیں اور جڑوں کو پانی پہنچایا جائے تو انشاء اللہ وہ درخت پھل آور پھول آور اور تناور ہوگا۔سرسبز ہو جائے گا۔اگر کسی نے جڑیں کھوددیں ہوں اورصرف شاخیں باقی ہوں اوپر پانی ڈالتے رہیں کچھ بھی نہیں آئے گا۔اور چند دنوں میں وہ درخت ختم ہو جائے گا۔

جب بھی ہمارے عقائد کو چیلنج کیا گیا، دین کے مجاہد ین نے تن ،من اور دھن کی بازی لگا دی :

ہم سب جانتے ہیں کہ ختم نبوت کا مسئلہ عقائد کے ساتھ تعلق رکھتا ہے ،عقائد جو ہیں وہ جڑیں اور بنیاد ہیں۔چنانچہ تاریخ اسلام گواہ ہے کہ جب بھی کوئی آدمی پیدا ہوایا جب بھی کوئی فرقہ پیدا ہوا جس نے ہمارے عقائد کو چیلینج کیا، جن سے عقائد پر ضرب پڑتی تھی تو اللہ کے دین کے مجاہد اس کے مقابلہ کے لئے نکلے۔اور جان اور مال کی بازی لگادی۔نبی کریم (ﷺ) کی آخر عمر تک کفار اور مشرکوں کے ساتھ اسی وجہ سے لڑائی ہوتی رہی کہ ان کے عقائد کے ساتھ سمجھوتا نہ ہوسکااور نہ ہوا۔کفار مکہ ایک مرتبہ کہنے لگے : چند دن ہم تمہارے معبودوں کی عبادت کرلیں تو چند دن کے لئے ہمارے معبودوں کی عبادت تم بھی کرلو۔آپس میں صلح ہو جائے گی۔لڑائی ختم ہوجائے گی۔

310

رحمۃ للعالمین (ﷺ)نے عقائد پر کسی سے مصالحت برداشت نہیں کی :

حضور(ﷺ) نے اس بات کو پسند نہیں فرمایا،اور ایک مرتبہ جوش میں آکر فرمایا: یہ کفار قریش میرے ایک ہاتھ میں چاند اور دوسرے ہاتھ میں سورج کو رکھ دیں تو بھی میں اپنی تبلیغ اور مشن بند کرنے والا نہیں۔بہر حال! آخر دم تک مشرکوں اور کفار کے ساتھ لڑائی ہوتی رہی مگر ان کے ساتھ عقائد کے بارے میں صلح نہ کی۔

صدیق اکبر ؓ نے جب تک فتنہ ٔ مسیلمہ کذاب ختم نہیں کیا‘ چین نہ لیا :

آگے چلئے! حضرت صدیق اکبر ؓ کے زمانے میں مسیلمہ کذاب نے نبوت کا دعویٰ کیا ،گو دعویٰ پہلے سے کیا تھا،لیکن حضور (ﷺ) کی وفات کے بعد یہ فتنہ جب عروج پر آیا،اور اس کا شور ہوا،تو حضرت صدیق اکبر(رضی اللہ عنہ) میدان میں آئے،یعنی اس کے مقابلہ کے لئے لشکر روانہ کیا،اور جب تک اس فتنہ کو ختم نہیں کیا ،چین نہ لیا۔کتنے صحابہ کرام (رضی اللہ عنہم)نے جام شہادت نوش کیا۔اور اس فتنہ کو ختم کرکے دم لیا۔ کیونکہ ختم نبوت کے ساتھ عقائد کے مسئلہ کا تعلق تھا۔

متحدہ ہندوستان میں وحدت ادیان کا مسئلہ اُٹھا تو مجدد الف ثانی ؒنے اس کو نیست و نابود کیا :

اور آگے چلئے !مجدد الف ثانی(رحمہ اللہ علیہ) کے دور کے اندر ہمارے ہندوستان کے اندر وحدت ادیان کا مسئلہ اٹھا اور اکبر بادشاہ نے نئے دین( دین الٰہی) کی بنیاد رکھی۔اس وقت بھی ایک مرد مجاہد میدان میں آئے،اور مقابلہ کے لئے بادشاہ وقت ہے۔کسی صلح اور سمجھوتے کے لئے تیار نہیں۔اخیر دم تک بادشاہ کا مقابلہ کرتے رہے،قید کے اندر رہے۔اور وحدت ادیان کا جو فتنہ اٹھا تھا اور دین الٰہی جو وہ لایا تھا، اس کو ختم کرنے کی محنت و جد و جہد کرتے رہے۔۔قید میں بھی جانا پڑا،آخر وہ فتنہ جہانگیر کے دور میں جا کر ختم ہوا۔جب جب ایسے فتنوں نے منہ دکھلایا ہے ہمارے اکابر و اسلاف میدان میں آئے ہیں۔

چنانچہ حضرت مولانا علی میاں (رحمتہ اللہ علیہ) نے عقائد کی اہمیت پراپنی کتاب

311

’’دستور حیات ‘‘ میں اور بہت مثالیں پیش کی ہیں۔اور اسی طرح ’’ تاریخ دعوت و عزیمت‘‘ جلد چہارم کے اندر یہ لکھا ہے کہ عقائد کے بارے میں کوئی سمجھوتا نہیں کیا گیا۔

خلق قرآن کا مسئلہ آیا تو امام احمد بن حنبل ؒ میدان میں آئے :

چنانچہ امام احمد بن حنبل(رحمۃ اللہ علیہ) کے دور کے اندر جب خلق قرآن کا مسئلہ اور اس کافتنہ اٹھا، حضرت امام صاحب(رحمۃ اللہ علیہ) نے کوئی سمجھوتا نہیں کیا۔اور مامون الرشید کے ساتھ اختلاف ہوا۔بادشاہ ِوقت کے ہوتے ہوئے چونکہ مسئلہ‘ عقیدہ کا تھا اسی وجہ سے کسی بھی قربانی پر کسی سے کوئی سمجھوتا نہیں کیا ،اپنے بدن پرکوڑے کھائے ، قید کے اندر گئے۔مگر اخیر دم تک اپنی بات پر جمے رہے۔

قریب زمانہ میں شیعیت کا فتنہ اُٹھا تو مولانا محمد منظور نعمانی(رحمۃ اللہ علیہ) میدان میں آئے :

مزید آگے بڑھئے!ہمارے اس دور کے اندر شیعیت کا فتنہ اٹھا اوریہ عروج پر پہنچا اور خمینی نے اسلامی انقلاب کا دعویٰ کیا،یہ بھی ایک لمبی چوڑی کہانی ہے،اور اس کا تعلق عقائد کے ساتھ ہے،تو ہمارے علماء خاموش نہیں بیٹھے،چنانچہ مولانا محمد منظور نعمانی صاحب(رحمۃ اللہ علیہ) نے اپنی پیرانہ سالی کے باوجود جب کہ اس وقت اسّی سال کی عمر ہو چکی تھی،انہوں ایک زبر دست مدلل کتاب ’’ایرانی انقلاب اور امام خمینی‘‘ شیعیت کے مقابلہ پر لکھی۔شیعیت کے زبردست فتنہ سے امت کو آگاہ کیا۔بہر حال !جب بھی ایسے فتنوں نے سر اٹھا یا ،جس کے ذریعہ سے ہمارے عقائد پر زد پڑتی تھی تو اسلام کی غیرت جن کے دلوں میں تھی جن لوگوں کے اندر تھی وہ چین سے نہیں بیٹھے۔

قادیانیوں کے فتنہ کے لئے حضرت مولانا انور شاہ کشمیری (رحمۃ اللہ علیہ) اوران کے تلامذہ میدان میں آئے :

بارہا ہم سن چکے ہیں کہ ان قادیانیوں نے جب سر اٹھا یا تو حضرت مولانا سید انور شاہ کشمیری(رحمۃ اللہ علیہ) کی نیند اڑ گئی،گویا ان کے سینے کے اندر بھٹی جل رہی تھی اور اس کی عملی شکل

312

حضرت مولانا سید عطاء اللہ شاہ بخاری مرحوم تھے۔عقائد بہت ہی اہم ہیں ،جب ہمارے عقائد درست ہوںگے تو ہمارا دوسرا دین ( اعمال ) عند اللہ مقبول ہوگا۔ عقائد کے اندراگر کوئی نقص آگیا تو پھر ہمارا دین عند اللہ مقبول نہیں ہو سکتا۔تو معلوم ہوا کہ ختم نبوت کے مسئلہ کا تعلق عقائد کے ساتھ ہے۔یہ امت کا اجتماعی مسئلہ ہے۔’’ختمِ نبوت‘‘نامی کتاب جو حضرت مفتی محمد شفیع (رحمۃ اللہ علیہ)نے لکھی ہے ،اس کے اندر تقریبًا سو آیتیں اور دو سو دس حدیثوں سے ثابت کیا ہے کہ ختم نبوتیعنی آخری نبی حضرت محمد (ﷺ)ہیں اور اس پر پوری امت کا اجماع آج تک چلا آرہا ہے اور یہ کوئی نیا مسئلہ نہیں ہے۔ہمارے اس ملک انگلینڈ کے اندر ہم لوگ اس فتنہ سے اتنے زیادہ آگاہ نہیں تھے ،تا آنکہ یہ فتنہ عروج پر آیا،جب اس کو پاکستان سے نکالا گیا تو اس نے یہاں آکر پناہ لی ،اور اس باٹلی و ڈیوز بری،کو مرکز بنانا چاہا،اللہ تعالیٰ ان بزرگان دین کو جزائے خیر عطا فرمائے کہ انہوںنے ہماری توجہ اس کی طرف مبذول کی،ہمیں اس فتنہ سے آگاہ کیا ،اور ان کے گوشہ گوشہ سے واقف کیاکہ یہ قادیانی فتنہ کتنا خطرناک فتنہ ہے۔

ہر فرقہ ٔ باطلہ نے اپنے مسلک کو قرآن و حدیث سے ثابت کرنے کی کوشش کی :

اور یہ بھی یاد رہے کہ ہمارے محدود مطالعہ سے ہمیں اتنا اندازہ ہوا کہ جوبھی فتنہ ہو یا جو بھی باطل تحریک ہو جو اسلام کے نام پر چلتی ہو، ہر باطل تحریک اور ہر فتنہ اپنے ثبوت کے لئے اور اپنے استدلال کے لئے قرآن و حدیث کو پیش کرتا ہے۔

قرآن و حدیث ایسے جامع علوم ہیں جو بھی ان کو استعمال کرنا چاہتا ہے کر سکتا ہے،اب جو سادہ لوح انسان ہیں جن کے کانوں کے اندر ایسی باتیں پڑی ہوئی نہیں ،کیونکہ قرآن کی عظمت دل کے اندر ہے،جہاں قرآن و حدیث کا ٹائیٹل(عنوان) دیکھتے ہیں تو اس سے متأثر ہوجاتے ہیں۔تو ہوتا ہے قرآن و حدیث لیکن اس سے استدلال غلط کیا جاتا ہے۔مثلًا کوئی غلاف بہت عمدہ ہو، سونے اور چاندی کا ورق ہو،لیکن اندر نجاست بھری ہوئی ہو،تو جو آدمی اندر کی حقیقت سے واقف نہ ہوگا،تو وہ صرف ٹائٹل دیکھ کراس کا غلاف دیکھ کر اس کی طرف مائل ہوجائے گا۔دھوکہ

313

میں آجائے گااور جو لکھا پڑھا ہوگا اور جانتا ہوگا کہ اس کے اندر کیا کیا چیزی ںہیں تو وہ سمجھ جائے گا کہ اس کے اندر خطرناک چیزیں ہیں ،اس کو استعمال نہیں کرسکتے،بس اسی طرح سب باطل فرقوں نے ٹائٹل اچھا لگا رکھا ہے کہ وہ بہت عمدہ ہیں اور استدلال کے اندر قرآن و حدیث پیش کرتے ہیں۔اس سلسلہ میں کیا کیا آیتیں ہیں، کیا کیا حدیثیں ہیں ۔آج تک ہم اس سے ناواقف تھے۔

جزاک اللہ کہ چشم مارا باز کردی :

خدا تعالیٰ حضرت مولانا اللہ وسایا صاحب(مدظلہ) کو جزائے خیر عطا فرمائیں: انہوں نے سارے قادیانیوں کے فتنوں اور ان کے دجل و فریب کو ہمارے سامنے رکھا، کن کن آیتوں اور کن حدیثوں سے یہ استدلال کرتے ہیں اور ہمارے ثبوت کے لئے جو قرآن کی مسلمہ آیتیں ہیںاور حدیثیں ہیں جن کے اندر ذرہ برابر تحریف نہیں ہو سکتی ،ترمیم نہیں ہوسکتی،انہوں (قادیانیوں) نے کیا کیااور کیسی کیسی تحریفیں کر رکھی ہیں ،اس مضمون پر اور گفتگو پر چھ سات دن تک سلسلہ چلتا رہا ۔الحمد للہ بہت سی معلومات ہم کو حاصل ہوئیں۔ساری تفصیل کا بیان کرنا یہاں مقصود نہیں ہے۔

حضرت مولاناموصوف مد ظلہ کی زبان سے بھی یہ سب معلومات آپ حضرات کے سامنے آچکی ہیں ۔ موٹی موٹی باتیںاختصار کے ساتھ بیان کردیتا ہوں۔ان دنوں کے اندر حضرت مولانا موصوف کی ذات گرامی سے ہمیں استفادہ کا کیسا کیسا موقع ملا۔چنانچہ حضرت مولانا نے سب سے پہلے یہ بات بتلائی اور لکھوائی :

قادیانیوں کامسلمانوں سے اختلاف اور اسلام کا لیبل:

قادیانیوں کامسلمانوں سے اختلاف اور اسلام کا لیبل،کلمہ پڑھتے ہیں اسلام کا ۔لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ،لیکن کلمہ پڑھ کر اور ’’محمد رسول اللہ‘‘ پڑھ کر قادیانی کیا مراد لیتے ہیں،ہم لوگ محمد رسول اللہ(ﷺ) پڑھ کرحضرت محمد (ﷺ)کی ذات گرامی مراد لیتے ہیں اور کوئی دوسری شخصیت مراد نہیں ہوتی،اور دوسری شخصیت مراد لینا کفر ہے۔جیسے توحید

314

میں اللہ کی ذات وصفات میں کوئی شریک نہیں اسی طریقہ سے رسالت کے اندر یعنی ختم نبوت و رسالت کے اندر بھی آپ (ﷺ)کے ساتھ کسی دوسرے کو شریک نہیں مانتے۔

لیکن قادیانی یہی کلمہ پڑھ کر کیا مراد لیتے ہیں وہ غلام احمد قادیانی کو بھی مراد لیتے ہیں۔اور کہتے ہیں: محمد رسول اللہ (ﷺ) دوسرے جنم کے اندر ( جس طرح مشرکوں کا عقیدہ ہے ) قادیان میں آگئے ہیں۔نعوذ باللہ من ذالک۔

جھوٹا نبی کبھی خود کو اللہ کا بیٹا اور کبھی عورت کہتا تھا (نعوذ باللہ)

تو مسلمانوں سے ان کا اختلاف عقائد کے بارے میں رہا۔صرف ختم نبوت کے عقیدے کے بارے ان سے اختلاف نہیں رہا،ہم جس انداز میں اللہ کو مانتے ہیں اس انداز سے وہ اللہ کو نہیں مانتے،جیسا کہ نظم میں آپ حضرات نے ابھی سنا ہے ،کبھی وہ اپنے آپ کو اللہ کا بیٹا سمجھتا ہے ،اور کبھی’’ نعوذ باللہ‘‘ وہ اپنے آپ کو اللہ کی عورت سمجھتا ہے۔تو اللہ کے بارے میں ہمارے جوعقائد ہیں جیساکہ ہم اللہ کو واجب الوجود اور تمام عیوب سے پاک سمجھتے ہیںاس انداز اور طریقے سے وہ (قادیانی ) اللہ کو نہیں مانتے۔

آگے چلتے ہیں!،نبوت کو جس انداز سے ہم مانتے ہیں،سمجھتے ہیں،نبوت اور رسالت کے لئے ہمارا جو عقیدہ ہے ،وہ عقیدہ قادیانیوں کا نبوت کے متعلق بھی نہیں۔صحابہ کرام( رضی اللہ عنہم اجمعین )کی عقیدت و عظمت جو ہمارے دلوں میں ہے،وہ مقدس گروہ ہیں۔

مرزا غلام احمد قادیانی صحابہ ؓ کو غبی کہتا ہے :

حضرت مولانا شبیر احمدعثمانی (رحمۃ اللہ علیہ) کسی جگہ لکھتے ہیں: آسمان کی چھت نے اور ادیمِ ارض نے یعنی یہ زمین نے اجتماعی طور پر کوئی ایسی جماعت دیکھی نہ ہوگی۔انفرادی طور پر تو انبیاء(علیہم السلام) آئے،لیکن اجتماعی طور پر آسمان نے کسی مقدس جماعت کو نہیں دیکھا،اسی جماعت کے کسی ایک صحابی (رضی اللہ عنہ) کے بارے میں قادیانی کہتا ہے: وہ غبی ہے (دیکھئے! اعجاز احمدی ص۱۸، خزائن ج۱۹ ص۷۱۵) ( نعوذ باللہ)یعنی ان پڑھ ہیں،ان کے حافظہ کا ٹھکانا

315

نہیں ہے،حضرت ابو ھریرہ ؓجن سے کئی سو روایتیں مروی ہیں،یہ کہتا ہے کہ وہ غبی ہیں،تو صحابہ(رضی اللہ عنہم) کے بارے میں ان کا وہ عقیدہ ہے جو ہمارا نہیں ہے ۔

قرآن کے متعلق ان ( قادیانی )کے یہ عقائد ہیں:

قرآن کریم اللہ کی آخری کتاب ہے ،مرزا نے اپنی نام نہاد وحی کا نام ’’ تذکرہ ‘‘رکھا:

قرآن کو دیکھ لیجئے!،ہم جس قرآن کو چودہ سو سال سے مانتے آئے ہیں،جن کی ایک سو چودہ سورتیں ہیں ،تیس پارے ہیں،نبی (ﷺ)پر تیئس سال کے عرصہ میں اترا ہے۔وہ قادیانی ہمارے اس قرآن کو مانتے نہیں ہیں۔وہ دوسرا قرآن ساتھ میں ملاتے ہیں،اور کہتے ہیں میرے اس قرآن کا بھی وہی مرتبہ ہے ،مقام ہے جو قرآن نبی (ﷺ) پر نازل ہوا تھا۔( نعوذ باللہ )

(دیکھئے! حقیقت الوحی ص۲۱۱، خزائن ج۲۲ ص۲۲۰)

حدیث کے متعلق ان ( قادیانی )کے یہ عقائد ہیں:

پھر آگے چل کر حدیث کو دیکھ لیجئے!، حدیث کے بارے میں یہ کہتا ہے: وہی حدیث قابل اعتبار ہے جو میرے قرآن کے مطابق ہے،اور میری وحی سے جن کا تعارض نہیں ہوتا،یعنی اس پر جو وحی نازل ہوتی تھی اس کے خلاف جو حدیث نہ پڑے گی وہ حدیث تو معتبر ہے،اس کے علاوہ جتنی حدیثیں ہیں وہ ردی کی ٹوکری کے اندر ڈالنے کے قابل ہیں۔

(دیکھئے! اعجاز احمدی ص۳۵، خزائن ج۱۹ ص۱۴۰)

بزرگان دین کے متعلق ان ( قادیانی )کے یہ عقائد ہیں:

آگے چل کر بزرگان دین کے متعلق کہتا ہے: بزرگان دین کا مقام وہی ہے جو یہودی علماء کا ہے۔جیسے یہودی علماء کی پیشین گوئی غلط ایسے ہی تمہارے بزرگان دین کی پیشین گوئی بھی غلط۔

تو صرف ختم نبوت کے باب میں ہمارا اختلاف ان کے ساتھ نہیں ہے بلکہ ہر ہر عقیدے میں ان کے ساتھ اختلاف ہے۔ان کا اسلام ہی جدا ہے،ان کی کتابوں سے ،ان کے حوالوں سے ،جو حوالجات ہم نے نوٹ کئے،ہمارا اسلام اور ہے اور ان کا اسلام اور ہے۔پھر اپنے

316

آپ کو مسلمان کہنا اور لوگوں کو دھوکہ دینا ،یہ کتنی بڑی فریب کی باتیں ہیں۔

اجماع امت کے متعلق ان ( قادیانی )کے یہ عقائد ہیں:

پھر آگے چل کر اجماع امت ہے،ہم سب سمجھتے ہیں : قرآن و حدیث کے بعد دلیل میںتیسرے نمبر پر اجماع امت ہے۔آج تک پوری دنیا ،پوری امت اور سب مسلمان مانتے آئے ہیں ۔اور مرزا قادیانی اس کا انکار کرتا ہے،ہم نہیں جانتے، نہیں مانتے کہ اجماع امت کیا ہے؟یہ تو ہمارے عقائد کے بارے میں ان سے اختلاف تھا۔ان باتوں کو حضرت مولانا اللہ وسایا صاحب(مدظلہ) نے تفصیل سے لکھوایا ہے۔

مدار نجات کے متعلق ان ( قادیانی )کے یہ عقائد ہیں

دوسرے نمبر پر، مرزا کہتا ہے کہ مدار نجات صرف مرزا کی وحی ہے۔ہم مسلمان یہ سمجھتے ہیں کہ یہ دین ، قرآن و حدیث مدار نجات ہے۔یہ کہتے ہیں کہ مدار نجات مرزا کی وحی ہے۔گویا یہ کشتئ نوح ہے جو اس میں سوار ہوگیا وہ کامیاب ہوگیا۔اور جو اس کشتی سے باہر رہا وہ ناکام ہوگیا۔ تیسرے نمبر پر ،مرزا اور مرزائیوں کے اخلاق لکھوائے،مختلف بیانات کے اندر مرزائیوں کے اخلاق کیا تھے، سامنے آگئے،اسی طرح ان کے ماننے والے مرزائیوں کے اخلاق وہ بھی بہت گھٹیا قسم کے،سینما دیکھنے والے،ناچ دیکھنے والے،یہ سب باتیں خود ان کی کتابوں سے ثابت ہیں۔حتی کہ یہ مرزا قادیانی خود ان سے تنگ آچکا تھا۔اور ایک مرتبہ خود مرزا غلام احمد قادیانی نے اپنی قوم کی وجہ سے اپنا ایک جلسہ ملتوی کردیا تھا۔

جھوٹا اپنے بلاواسطہ شاگرد ان سے تنگ تھا :

تو آپ حضرات نبی کے اخلاق تو سنتے رہتے رہتے ہیں کہ وہ کیسے ہوتے ہیں۔اور پھر صحابہ(رضوان اللہ علیہم اجمعین) کی تعریف قرآن میں خود اللہ تعالیٰ نے کی ہے،اور ان کو ’’ رضی اللہ عنھم ‘‘سے یاد کیا گیا،خود مرزا اپنے صف اوّل کے شاگردوں سے مرزا تنگ آچکا تھا۔( ببین تفاوت رہ از کجا است تا بکجا)

317

چوتھے نمبرپر حضرت مولانا موصوف نے نقشۂ نبوت کو ترتیب وارسمجھایا،حضرت آدم (علیہ السلام) کو نبوت ملی،اس کے بعد کون نبی آئے گا،پھر اس کے بعد کون نبی آئے گا،اخیر میں حضرت عیسیٰ( علیہ السلام) کے لئے قرآن نے کیا لفظ استعمال کیا ہے۔جس میں کسی ترمیم کی گنجائش نہیں ہے،حضرت عیسیٰ(علیہ السلام) کے بعد ایک دوسرے نبی کے آنے کی ،ساری تفصیل سمجھا دی۔

جھوٹے نبی اور اس کے ہم مذہب لوگوں کے تمام دجل و فریب کو مولانا نے خوب خوب کھول کھول کر بیان کیا : جزاک اللہ :

اس کے بعد ان آیتوں پر جو اعتراضات ہوتے تھے مرزائیوں کی طرف سے وہ بھی لکھوا ئے۔اور ان کے جوابات بھی لکھوا ئے ،پھر یہ کہ مرزائیوں نے ختم نبوت کے متعلق جو آیتیںپیش کی ہیں اور انہوں نے ان آیتوں میں جو تحریف کی ہے ،اس کا جو غلط معنی بیان کیا ہے، اس معنی کو پھر اسی طرح ان اعتراضات کے جوابات لکھوائے،پھر مرزائیوں کے جو استدلال ہیں جو کہ میں نے ابھی کہا:کن قرآنی آیات سے مرزا اپنے مذہب کو ثابت کرتا ہے اور یہ کہ مرزا کن کن آیتوں سے غلط استدلال کرتاہے،اس استدلال کا جواب ہماری طرف سے کیا ہے ؟اس کو لکھوایا،مثلًا :ومن یطع اللہ والرسول فالئک مع الذین انعم اللہ علیھم من النّبیین والصدقین والشہداء والصالحین،وحسن اولئک رفیقًا۔اس سے غلط استدلال پھر اس کا جواب،اور اس کا شان نزول وغیرہ۔

پھر آیت خاتم النّبیین ،کا لغۃً ، معنی کیا ہے؟، اور احادیث کے ذریعہ اس کا کیا معنی ہوگا؟۔مرزا کا الھام ، اس کا نام کیا ہے؟ مرزا کا قرآن،اور پھر یہ کہ مرزا کے فرشتوں کے کیا نام ہیں؟وہ بھی حضرت مولانا موصوف نے لکھوائے،تقریبًا مرزا کے فرشتے دس بارہ ہیں،جن میں سب سے پہلا فرشتہ جس کا نام انگریز اور ایک فرشتہ کانام ہے ’’مسٹرٹیچی ٹیچی‘‘، ’’شیر علی‘‘، ’’مرزاغلام قادر‘‘، ’’خیراتی‘‘، ’’مٹھن لال‘‘، ’’حفیظ‘‘، ’’درشنی‘‘ وغیرہ!

318

مرزا کی قابلیت کیا تھی؟

وہ خود اپنے بارے میںکیا کہتا ہے؟ وہ کتنا قابل تھا ؟ اس میں رذالت اور کمینگی کتنی تھی؟ اور اسی طرح سے دوسرا اس کا پہلو؟،کبر و تکبر وغیرہ،الحمد للہ ساری باتیں آگئیں۔

مرزائیوں کا مسلمانوں کے بارے میں کیا فتویٰ ہے؟،وہ ہم کو کیا سمجھتے ہیں؟،یہ جتنے بھی مرزائی ہیں ،ہم سب’’ اہل السنت والجماعت‘‘ کو کافرسمجھتے ہیں۔اس پر‘ پر لطف لطیفہ بھی مولانا موصوف نے سنایا تھا : محمدی بیگم تو قادیانی عقیدہ کے مطابق جہنم میں ہوگی،اور مرزا قادیانی اپنے عقیدہ کے مطابق جنت میں ہوگا،اور مرزا قادیانی دولھا بن کرجنت سے وہ وہاں بارات لے کر جائے گا،اور پھر وہیں گھر کا داماد بن کر جہنم میں رہے گا۔یا کم از کم باراتیوں کو کھانا تو جہنم میں کھلایا جائے گا۔یہ مرزائی ہم کو کافر سمجھتے ہیں (نعوذ باللہ من ذلک )۔الحمد للہ!:بہت تھوڑے دنوں میں بہت ساری باتیں اور معلومات ہم کو حاصل ہوچکی ہے۔اللہ تعالیٰ اس کو سمجھنے اور عمل کرنے کی توفیق عطافرمائیں۔آمین۔

ہم اپنے آپ کو دو ہتھیاروں (علم و ذکر)سے آراستہ کریں :

اصل میں ہمارے پاس دو ہتھیار ہیں ،جس کی وجہ سے ہم اس فتنہ کا مقابلہ کرسکتے ہیں۔ہر مسلمان،ہر مؤمن ،جو بھی آنے والا فتنہ ہو،اپنی حیثیت کے مطابق اس کے پاس دو ہتھیار ہوںگے تو وہ انشاء اللہ اس فتنہ کا مقابلہ کرسکے گا۔وہ دو باتیںعرض کرکے میں اپنی بات ختم کرتا ہوں۔

ایک تو ہر ضروری علم،علم روشنی ہے،جب تک آدمی کے پاس روشنی نہ ہو،وہاں تک راستہ کی اتار چڑھاؤ کو،ڈھلوان کو، اور راستہ کے اندر جو نقصان دہ چیز ہے۔ا س کو نہیں سمجھ سکتا ۔تو علم کا ہونا ضروری ہے ۔ہر ایک آدمی ضروری ضروری معلومات اپنی اپنی حیثیت کے مطابق حاصل کرے۔

دوسرے نمبر پر ساتھ ساتھ کچھ ذکر اللہ بھی ہو،نرا ( صرف)علم ان فتنوں سے اپنے آپ کو بچا نہیں سکتا۔سب سے پہلے قادیانی فتنہ میں مبتلا ہونے والا عالِم ،تھا یہ سب علماء کرام جانتے ہیں۔اور اسی وجہ سے زبر دست نقصان ہوا،مرزا فارسی اور عربی کااتنا زیادہ قابل نہیں

319

تھا،لیکن پوری دنیا کو اس کے خلیفہ اوّل سے بہت نقصان پہنچا ہے۔سر ظفر اللہ خان جس کا ابھی انتقال ہوا ہے وہ بھی پڑھا لکھا آدمی تھا۔اس نے مرزا کے قرآن کا ترجمہ انگلش میں کیا ہے۔اور ہزاروں لوگ اس سے گمرا ہ ہوئے،علم بہت تھا ،تعلق مع اللہ نہیں تھا،خدا کی یاد نہیں تھی ،علم نے اس کی رہنمائی نہیں کی۔علم حجاب ِاکبر بن گیا۔

امام غزالی(رحمۃ اللہ علیہ) نے لکھا ہے : علم ، کبھی حجاب اکبر بن جاتا ہے۔اس لئے ایک طرف تو ضروری معلومات ہوں، اور دوسری طرف اللہ کا ذکر اور اس کی یاد ہو۔علم اور ذکر (دونوں) پر دین کی بنیاد ہے۔اگر دین کے ساتھ دونوں پر لگے ہوںگے انشاء اللہ آدمی ترقی کرتا چلا جائے گا۔اور کوئی فتنہ اس کا مقابلہ نہیں کرسکے گا۔ہمارے اکابرہمارے اسلاف جو اس کے مقابلہ کے لئے آئے ہیںسب کی زندگیاں اٹھاکر دیکھیں!

  1. در کف جام وحدت

    در کف باطن دولت عشق

ایک ہاتھ کے اندر جام وحدت تھا ،ظاہری علم تھا،اور دوسرے ہاتھ کے اندر باطنی دولت تھی۔ جب جاکے اس فتنہ کا مقابلہ کیا۔تو ہر آدمی اپنی شان اور حیثیت کے مطابق علم حاصل کرے اور اللہ کی یاد اور اس کا ذکر کرتے رہیں،اس کی وجہ سے نور اور روشنی پیدا ہوتی ہے اور قلب منور ہوتا ہے اور شیطان کو وساوس اور اعتراض کا موقع نہیں ملتا۔

شیطان ابن آدم کے غافل قلب پر ڈنگ مارتا ہے :

حدیث کا مفہوم ہے کہ ’’شیطان ابن آدم کے قلب کے اوپر مچھر کی طرح بیٹھا رہتا ہے،جہاں ابن آدم کے قلب کو غافل پاتا ہے تو وہیں اپنا ڈنگ لگاتا ہے۔اور جہاں اللہ کی یاد میں مشغول دیکھتا ہے وہ ہٹ جاتا ہے‘‘۔تو ضروری معلومات ہوںگی،اور اللہ کی یاد ہوگی اور پھر دعا بھی ہوگی،رسول اللہ (ﷺ) نے دعا بھی سکھائی ہے اور ہماری تعلیم کے لئے قرآن نے بھی سکھائی ہے،،’’ ربنا لا تزغ قلوبنا بعد اذ ہدیتنا وہب لنا من لدنک رحمۃ،انک انت

320

الوھاب۔ہدایت کے بعد یہ ہدایت ہم سے سلب نہ ہوجائے، اس کی دعا کرتے رہنا چاہئے۔اور جو دعا رسول اللہ (ﷺ)نے بھی سکھلائی ہے وہ یہ ہے ’’یا مقلب القلوب ثبت قلبی علیٰ دینک۔علم کے ساتھ ذکر اور ذکر کے ساتھ دعا اور فکر۔ان شاء اللہ ،یہ فتنہ ہمارے ایمان کو زد نہیں پہونچا سکے گا،اور دوسرے کے ایمان کی حفاظت کا سبب ہم بنیں گے، انشاء اللہ۔جو بات کہی گئی،اللہ تعالیٰ مجھے بھی اس پر عمل کرنے کی توفیق عطافرمائیں۔اور آپ حضرات کو بھی۔آمین۔

وآخر دعوانا ان الحمد للہ رب العالمین!

مشورہ مولانا عبدالرشیدربانی:

مولانا عبد الرشید ربانی نے حضرت مولانا مفتی موسیٰ صاحب کے بیان کے بعد مشورہ دیتے ہوئے فرمایا: میری رائے یہ ہے کہ حضرت مولانا اللہ وسایا صاحب(مدظلہ) نے جو درس دیا ہے اور علماء حضرات کو لکھوایا ہے اور تحریری طور پر علماء نے ان کو منضبط کیا ہے ۔رابطہ علماء باٹلی نے یہ مجلس قائم کرکے بہت ہی افادہ اور استفادہ کی شکل قائم کی ہے۔یہ حضرات ایساکرلیں کہ ایک تو ان کی کیسٹیں جتنی زیادہ ہو سکے تیار کرلیں،لوگ اس کو معمولی قیمت پر خرید لیں۔ یا کوئی صاحب خیر رابطہ کو پانچ چھ ہزار کیسٹیں ہدیہ کے طور پر دیدیں۔کسی اچھی ٹیپ ریکارڈرز کے ذریعہ ان کی نقل اتاریں۔ایک تو اردو میں ہو اور ایک تو انگریزی میں ہو۔انگلش جاننے والا جو اس فن سے واقف ہو، حضرت مولانا موصوف کی تقریر کا ترجمہ کریں،لیکن وہ حوالے ،لٹریچر ،وہ تمام باتیں انگلش میںآجائیں،گویا ان کیسٹوں کا ترجمہ انگریزی میں ہوجائے،تو یہ ہمارے نوجوان بچوں کے لئے بہت ہی مفید ہوگا۔جن کی مادری زبان اس وقت انگلش بن چکی ہے۔رات جو نوجوانوں کا اجتماع تھا اس سے یہ بھی اندازہ ہوا کہ بچے ہمارے پاس آتے ہیں۔پڑھتے لکھتے ہیں۔ان کی سمجھ جتنی انگلش میں ہو سکتی ہے گجراتی اور اردو میں نہیں ہو سکتی ۔ گجراتی گھر میں وہ بولتے ہیں ،اردو ہم ان کو پڑھاتے ہیں۔لیکن بہترین سمجھ ان کو انگریزی میں ہوتی ہے ۔تو ان کیسٹوں کا ترجمہ ان کی کتابوں

321

اور حوالوں کے ساتھ ہو،قرآن و حدیث کا حوالہ ہو،تو ان بچوں کو تلاش کرنا آسان ہو جائے گا۔کیونکہ اس ملک میں جو بات مانی جاتی ہے وہ حوالوں والی مانی جاتی ہے ۔ان بچوں کو کوئی قادیانی اس طرح گمراہ نہیں کرسکے گا۔یہ کیسٹیں پھیل جائیںتمام گھروں میں،تمام بچوں کے پاس ہوں،اسی طرح تمام لائبریریوں میں ہوں۔اگر کمیونٹی سنٹر میں لائبریری ہوتو وہاں رکھ دی جائیں۔ائمہ مساجد کے پاس ہوں تو کوئی حرج نہیں،چاہے مانگ کر لے جائیں یا ادھار لے جائیں۔چاہے واپس کردیں۔اگر کوئی خریدنا چاہے تو تبلیغ کے نقطہ نگاہ سے معمولی اس کا ہدیہ ہو۔رابطہ علماء اگر اس کا انتظام و اہتمام کر یں تو انشاء اللہ تعالیٰ بڑا مفید اور کار آمد ہوگا۔میں اپنی رائے کے مطابق اس کو اچھا سمجھتا ہوں۔اس تجویز کے بارے میں غور فرمائیں تو مفید ہوگا۔

وآخر دعوانا ان الحمد للہ رب العالمین!

مولانا ایوب کھلوڈیا صاحب سورتی (دامت برکاتہم )کا بیان :

مولانا عبد الرشید ربانی(مد ظلہ)کے اس مشورہ کے بعد مولانا ایوب سورتی( کھولوڈیا ) صاحب(مد ظلہ) ا سٹیج پر تشریف لاتے ہیں اور حمد و ثنا وصلوٰۃ و سلام کے بعد ارشاد فرماتے ہیں: حضرت مولانا موصوف صاحب نے جو تجویز پیش کی ہے انشاء اللہ اس پر ضرور نظر ثانی کی جائے گی، علماء کرام کی مجلس میںتجویز پیش کروںگا۔ہماری بھی یہ تمنا ہے کہ حضرت مولانا اللہ وسایا صاحب مدظلہ نے جو محنت شاقہ برداشت کی ہے اس کا فائدہ برطانیہ کی عوام کو بھی ہو۔

حضرت مفتی موسیٰ بدات صاحب نے اپنے فاضلانہ انداز میں کافی روشنی ڈالی ہے، مگر میں سطحی نظر حضرت مولانااللہ وسایا صاحب(دامت برکاتہم) نے جو درس دیا ہے ان میں سے صرف چند اقتباس جو لکھوائے ہیں وہی پیش کرتا ہوں۔

قرآن شریف کی توہین اور اس کا انکار:

قرآن شریف کے بارے میںغلام احمد قادیانی کہتا ہے: میں جو کچھ سنتا ہوں اللہ تعالیٰ

322

کی وحی سے سنتا ہوں۔خدا کی قسم! اس کو خطاؤوں سے پاک اور منزہ جانتا ہوں۔ہاں ! ،خداکی قسم! یہ کلام مجید ہے،(اپنے کلام کو کہتا ہے) خداکی قسم !یہ کلام مجید ہے،جو خدا پاک وحدہ کے منہ سے نکلا ہوا ہے،قرآن خدا کی کتاب اور میرے منہ کی باتیں ہیں۔

(حوالہ کے لئے دیکھو نزول مسیح،مصنفہ مرزا غلام احمد قادیانی ص ۹۹، خزائن ج۱۸ ص۴۷۷،تذکرہ یہ قادیانی کا قرآن ہے ص۶۴۱، طبع سوم)

حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی توہین:(نعوذ باللہ حضرت عیسیٰ ؑ شرابی تھے :)

یورپ کے لوگوں کو جس طرح شراب نے نقصان پہونچایا ہے اس کا سبب تو یہ تھا کہ عیسیٰ (علیہ السلام) (نعوذ باللہ ) شراب پیتے تھے۔یہ ان کی تحریر ہے، جو میں پیش کررہا ہوں۔یورپ کے لوگوں کو شراب نے جو نقصان پہنچایا ہے اس کا سبب تو یہ تھا کہ عیسیٰ (علیہ السلام) شراب پیا کرتے تھے۔( العیاذ باللہ ) شاید کسی بیماری کی وجہ سے یا شراب پینے کی پرانی عادت کی وجہ سے۔یعنی یہ الزام کہ عیسیٰ (علیہ السلام) کو شراب پینے کی پرانی عادت تھی۔

(دیکھو حوالہ کشتی ٔ نوح۔از مرزا غلام احمد قادیانی ص۶۶، خزائن ج۱۹ ص۷۱)

مرزا کا کردار(غلام احمد قادیانی کبھی کبھی زنا کرلیتا تھا ):

روزنامہ ڈیلی :مؤرخہ ۳۱؍ اگست ۱۹۳۸عیسوی میں کسی مرزائی کا خط،مرزا محمود کے نام کا چھپا تھا۔مرزا محمود نے جب یہ خط سنا تو کہا : قادیانی سلسلہ سے محبت کا انداز اسی سے ہو سکتا ہے کہ یہ ( جس کے متعلق اس نے تسلیم کیا ہے ) کہ اسی نے لکھا ہے۔اس میں یہ تحریر کیا ہے : حضرت مسیح موعود یعنی غلام احمد قادیانی ولی اللہ تھے،اور ولی اللہ بھی کبھی کبھی زنا کرلیتا ہے۔اپنے مضمون کے آخر میں لکھتا ہے ،’’قادیانی کا مرید‘ ‘ اس نے کبھی کبھار زنا کرلیا تو کیا ہوا۔ پھر لکھا : ہم نے مسیح موعود مرزا غلام احمد قادیانی پر اعتراض نہیں کیا کیونکہ وہ بھی کبھی کبھی زنا کرلیا کرتے تھے۔اور ہمیں اعتراض موجودہ خلیفہ مرزا بشیر الدین محمود پر ہے کیونکہ وہ ہر وقت زنا کرتارہتا ہے۔(ملاحظہ ہو ان کا اخبار روزنامہ دی ڈیلی پیپرالفضل قادیان۳۱؍ اگست ۱۹۳۸)یہ ان لوگوں کے کردار وعقائد ہیں۔اس سے آپ حضرات اندازہ لگالیں کہ یہ کیسا مذہب ہے۔اور یہ لوگ کیسے ہیں بقول حضرت مولانا : ’’اُلو کے پٹھے ہیں‘‘۔

323

اگر ختم نبوت کا کام ہم نے نہیں کیا تو گلی کا کتا بھی ہم سے اچھا ہے :

آخر میں علامہ حضرت انور شاہ کشمیری(رحمۃ اللہ علیہ) کا ایک ملفوظ نقل کرکے ختم کرتا ہوں۔جس وقت ریاست بہاو لپور میں ایک عورت غلام عائشہ بنت الٰہی بخش نے کورٹ میں دعویٰ دائر کیاکہ میرا شوہر قادیانی ہے ،کافر ہے ،اسلامی قانون کی رو سے میں شادی سے آزاد ہوچکی ہوں۔ یہ عبارت جزوی الفاظی اختلاف کے ساتھ بیس بڑے مسلمان نامی کتاب میں موجود ہے۔تذکرہ شاہ صاحب(رحمۃ اللہ علیہ) دوسری شادی کے لئے طلاق کی ضرورت نہیں ہے۔مگر اپنی صفائی کے لئے حکومت سے طلاق چاہتی ہوں۔تو اس مقدمہ کے لئے وہاں کے شیخ نے حضرت مولانا انور شاہ کشمیری(رحمۃ اللہ علیہ) کو تار دیا کہ مقدمہ کی پیروی کرنی ہے ،حدیث و قرآن کی روشنی میںثابت کرنا ہے کہ مرزا غلام احمد قادیانی کافر ہے۔

حضرت علامہ(رحمۃ اللہ علیہ) فرماتے ہیں : جامعہ اسلامیہ ڈابھیل جانے کے لئے سورت کے لئے میری ٹکٹ بن چکی تھی،اور میں روانہ ہورہا تھا کہ مجھے برقیہ اور خط ملا ۔تو فورًا ڈابھیل کے سفر کو موقوف کرتے ہوئے بھاولپور کا رخ اختیار کیا۔

وہاں جانے کے بعد بھاولپور جامع مسجد میں آپ نے فرمایا : میں جارہا تھا ،ٹیلیگرام ملا ،تو میں یہ سوچتے ہوئے کہ میرے پاس کوئی کار خیر تو نہیں ،نامۂ اعمال خالی ہے۔ میں نے سمجھا کہ محمد (ﷺ) کے دین کا جانب دار بن کر اس مقدمہ میں حاضر ہوں تو شاید آخرت کے اندر میری نجات ہوجائے۔یہ سوچتے ہوئے میں یہاں حاضر ہوا ہوں۔حضرت مرحوم نے جب یہ فرمایا :تو وہاں جو علماء کرام بیٹھے ہوئے تھے وہ رونے لگے۔یہ تھے زمانہ کے شیخ!،حضرت گنگوہی (رحمۃ اللہ علیہ)کے خلیفہ اور جس نے زندگی بھر عورتوں کا چہرہ نہیں دیکھا۔وہ جب یہ کہے : ہمارے پاس کچھ نہیں تو ہماری حالت آخرت میں کیا ہوگی؟

شاہ صاحب(رحمۃ اللہ علیہ) نے تقریر کرتے ہوئے فرمایا: اگر ختم نبوت کا ہم تحفظ و انتظام نہ کرسکے تو گلی کا کتا بھی ہم سے اچھا ہے۔اگر ہم نے سارے دنیا کے کام کاج چھوڑ کر،

324

پڑھنا پڑھانا چھوڑ کر سب سے پہلے بنیادی چیز جس کو کرناہے وہ ہے ختم نبوت کا مسئلہ!،مسلمانوں کے ایمان کا مسئلہ ہے،اگر ایمان نہ ہوگا تو مدارس کہاں سے آئیں گے؟،مدرسے کہاں سے چلیںگے،خانقاہیں کہاں سے چلیں گی،فرمایا: سب سے بنیادی چیز یہی ہے،اگر یہ نہ ہو گا تو گلی کاکتا بھی ہم سے اچھا ہوگا۔یہ فرماتے ہوئے انہوں نے اپنا بیان ختم کیا۔بہرحال ہمارے اکابر کے تعلقات مسئلہ ختم نبوت کے ساتھ اس طرح کے تھے۔

حاضرین و دیگر ذمہ دار لوگوں کا شکریہ :

اب جیسا کہ مشورہ میں طے ہوا تھا : میں تمام مساجد والوں کا،’’رابطہ علماء باٹلی‘‘ کی طرف سے شکریہ ادا کرتا ہوں ۔بہت سی مساجدمیں ظہر کی نماز کا وقت بھی ترمیم کیا گیا۔ لہٰذا تمام ذمہ دار حضرات کا شکریہ ادا کرتا ہوں۔اور عصر کی نماز میں تمام مساجد سے بڑھ چڑھ کرمصلی حضرات تشریف لاکر بیان میں شرکت کرتے رہے ۔اوراپنی اپنی مساجد میں پروگرام رکھے،ان سب کا ہم تہ دل سے شکر گذار ہیں۔خصوصًا ٹیلر سٹریٹ مسجد والوں کااور محلہ والوں کا ، اور ذمہ داروں کا بھی خصوصی طور پر شکریہ ادا کرتے ہیں ۔ انہوں نے درس کے لئے پورا ہفتہ جگہ عنایت فرمائی بیٹھنے کے لئے ۔اور آنے جانے کے لئے بھی، علماء کے ساتھ اور سامعین کے ساتھ شرکت کرنے کے لئے بھی۔لہٰذا خصوصی طور ہم ان کا شکریہ ادا کرتے ہیںاللہ تعالیٰ ان کو جزاء خیر دیں۔

اور مجلس کے بعد روزانہ جناب ’’الحاج محمد بھائی بھام صاحب (حفظہ اللہ)‘‘نے علماء کرام کی جو ناشتہ وغیرہ سے ضیافت فرمائی ،مہمان نوازی کی۔ان کا بھی ہم شکریہ ادا کرتے ہیں۔اور عزیزم محترمم جناب ابراہیم بھائی سونی صاحب! اللہ ان کو جزائے خیر عطا کریں انہوں نے ’’مولانا اللہ وسایا صاحب مدظلہ‘‘ کے استعمال کے لئے پورا ہفتہ اپنا گھردے دیا جس طرح انہوں نے شاہ صاحب کے لئے گھر دے دیا تھاتا کہ مولانا جب تک رہیں آرام سے رہیں ،جس طرح سے رہیں ،حضرت مولانا اسی مکان میں قیام فرمائیں۔اللہ تعالیٰ ان کو بھی جزاء خیر عطافرمائیں۔

325

اور ’’انڈین مسلم ویلفیر سوسائیٹی‘‘ اور ’’جمعیۃ علماء برطانیہ‘‘ کے ذمہ دار بھی ہمارے ساتھ ساتھ ہر جگہ ہر وقت رہے اور بڑھ چڑھ کر حصہ لیا اور ہمت افزائی کرتے رہے۔ان کا بھی ہم شکریہ ادا کرتے ہیںاور خصوصًا ہمارے علماء کے اندر’’مولانا ابرا ہیم نوسارکا صاحب(مدظلہ)‘‘! یہ آگے آگے نہ ہوتے تو شاید یہ بہاریں نہ ہوتیں۔( یہ سب اللہ کا ٖفضل ہے ،ہماری کیا بساط،وہ اپنے بندوں سے جس طرح چاہے کام لیتا ہے،)انہوں نے بہت جد جہد کرکے دوڑ دھوپ کرکے پروگرام بنایا۔

حضرت مولانا اللہ وسایا صاحب بہت سی خوبیوں کے مالک ہیں:

اور آخر میں حضرت مولانا موصوف جو ختم نبوت کے لا فانی و بے مثال مجاہد ہیں۔ مولانا اللہ وسایا صاحب دامت برکاتہم ان کا میں کسی اعتبار سے شکریہ ادا نہیں کرسکتا،ان کی عاجزی، انکساری اور انہوں نے اپنے آپ کو اس مسئلہ ختم نبوت کے لئے بالکل وقف کردیا ہے۔اپنائیت کو ختم کردیا،گویا عالِم کی صف میں بیٹھنے کے لئے اپنے آپ کو مناسب نہیں سمجھتے۔بالکل مظلومیت کی شکل ہے ،سیرت ہے تو بالکل سادہ اور بالکل سادہ زندگی کسی قسم کا کوئی تکلف نہیں، کوئی پہچانتا بھی نہیں کہ حضرت اتنے بڑے عالِم ہوں گے اپنی ذات میں۔گوہر و موتی چھپا ہوا ہے۔اللہ تعالیٰ نے عجیب کمالات سے نوازا ہے۔اور ہم نے آپ سے درس لیا،اس سے اندازہ ہوتا ہے آپ کا حافظہ ،آپ کی بصیرت اور آپ کی معلومات بہت ٹھوس اور بہت اونچی ہیں۔اللہ تعالیٰ آپ کی عمر میں برکت عطا فرمائیں۔ آمین۔اور زیادہ سے زیادہ پوری دنیا میں آپ کا فیض عام فرمائیں۔ آمین۔

وآخر دعوانا ان الحمد للہ رب العالمین

326

چھٹا بیان

(تحفظ ختم نبوت میں علماء دیوبند کا اعلیٰ کردار)

327

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ

الحمدللہ وکفٰی وسلام علیٰ سید الرسل وخاتم الانبیاء وعلیٰ اٰلہ واصحابہ الذین ہم خلاصۃ العرب العرباء وخیر الخلائق بعد الانبیاء۰ اما بعد۰ فاعوذ باللہ من الشیطٰن الرجیم بسم اللہ الرحمٰن الرحیم۰ لئن شکرتم لا زیدنکم ولئن کفرتم ان عذابی لشدید۰ قال النبی(ﷺ)من لم یشکر الناس لم یشکر اللہ۰ اللہم صل علی سیدنا محمد عبدک ورسولک وصل کذلک علیٰ جمیع الانبیاء والمرسلین وعلیٰ الملائکۃ المقربین وعلیٰ عباداللہ الصالحین۰ اجمعین الیٰ یوم الدین۔

حضرات گرامی!

حضرت مولانا انور شاہ کشمیری ؒ کا مقام ارفع

آج سے تقریبًاچالیس پچاس سال پہلے مصر کے علماء کا وفد دار العلوم دیوبند گیا،پہلے انہوں نے سارے ہندو ستا ن کا مطالعاتی دورہ کیا،پھر وہ حضرات دار العلوم دیوبند پہنچے،دار العلوم کے کتب خانہ کو دیکھا ،تو انہوں نے پوچھا :کہ آج تک دار العلوم کے کتب خانہ کو کسی نے پڑھا بھی ہے،تو جواب میں انہیں کہا گیا کہ ایک عالم دین ہیں جنہوں نے اس کتب خانہ کو نہ صرف پڑھا ہے بلکہ ساری کی ساری کتابیں ان کو یاد بھی ہیں۔

تو وفد نے فرمایا : وہ صاحب کون ہیں؟تو ان لوگوں کی شاہ صاحب(رحمۃ اللہ علیہ) سے ملاقات کرائی گئی۔پھر ایک تعارفی تقریب منعقد ہوئی،اس میں اس وفد کے سربراہ نے حضرت شاہ صاحبؒ کے متعلق یہ کہا کہ لولا لقیتک لرجعت من الہند حزینًا:اگر میں آپ سے نہ ملتا تو میں ہندوستان سے غمگین جاتا،بغیر کسی تمثیل کے دیانتداری سے عرض کرتا ہوں : اگر یہ لندن کی کانفرنس اور یہ آپ حضرات علماء کرام کی محبتوں اور شفقتوں کا سایہ ہمارے سروں پر نہ ہوتا تو یہ ہمارا سفر حزن و ملال کا سفر ہوتا ۔

الحمد للہ! اتنا بڑا کام ہوگیا ہے کہ اپنی زندگی میں جن کو اعمال کہہ سکتے ہیں،شاید ان کی بنیاد پر ہماری نجات ہوجائے،زندگی کے اعمال میں سے ایک عمل یہ بھی ہوگا۔آپ حضرات علماء کرام نے بڑی شفقت فرمائی اور بڑی محبت فرمائی ،اللہ رب العزت انہیں حضور سرور کائنات (ﷺ) کی عزت و ناموس کے تحفظ کے سلسلہ میں ذمہ داری پوری کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔آمین۔

328

الحمد للہ ! ہمارا تبلیغی سفر کامیاب ہوگیا :

میرے دوستو !میں نے یہ بات کسی جلسہ میں نہیں کہی تھی، بسااوقات انسان غصہ میں ہوتا ہے ،بہت کچھ کہہ دیتا ہے ۔ اور بسا اوقات اتنا خوش ہوتا ہے کہ دل کی بات چھپا نہیں سکتا۔میری بھی یہی کیفیت ہے۔ آج میں آپ حضرات کی خدمت میں عرض کرتا ہوں۔جس وقت ہم پاکستان سے روانہ ہوئے تھے ، پاکستان میں جو آخری خطبہ میں نے پڑھایا وہ فیصل آباد کی جامع مسجد (ریلوے اسٹیشن جو حضرت مولانا تاج محمود صاحب رحمۃ اللہ علیہ کی جگہ ہے، میں پڑھایا اور موصوف حضرت سید عطاء اللہ صاحب بخاری (رحمۃ اللہ علیہ) کے ساتھیوں میں سے تھے وہ ہماری تحریک کے صف اول کے رہنما تھے) میں نے جمعہ پڑھاتے ہوئے عرض کی اور دوستوں سے دعا کی درخواست کی کہ اس طرح جماعت نے وہاں جانے کا پروگرام بنایا ہے۔میرا بھی اس کے اندر نام ہے۔آپ حضرات دعا کریں کہ اللہ نے رسول اللہ (ﷺ) کے دین کاکوئی کام لینا ہے تووہاں جانے کی کوئی سبیل بن جائے،پیدا ہوجائے۔اگر وہاں جاکے کوئی کام نہ لینا ہے ،محض سیر و تفریح ہونی ہے تو پھر اللہ تعالیٰ اس کی رکاوٹیں پیدا کردیں کہ ہم وہاں جا نہ سکیں۔

اللہ نے فضل فرمایا اور ہمارا آنا اس طرح قبول فرمایا،بالخصوص یہاں باٹلی کی شب و روز کی مصروفیت ، لندن کی کانفرنس،اور یہاں باٹلی میں قادیانیوں کا فرار۔اور ان پر جو اوس پڑی ہے اس کو دیکھ کر الحمد للہ! اس بات کی خوشی ہے کہ یوں سمجھ میں آتا ہے کہ برطانیہ کے مسلمان بھی جاگ اٹھے ہیں۔اللہ تعالیٰ آپ حضرات کو مزید جاگنے کی توفیق عطافرمائیں۔ آمین۔

مرزا طاہر کا انٹرویو :

میرے عزیز بھائیو اور بزرگو! میں نے آج کی مجلس میں ’’مرزا طاہر احمد‘‘کے انٹرویو کے سلسلہ میں بات کرنی ہے ،ان کے انٹرویو کی اصل کاپی مولانا عبد الرشید ربانی ( جو آپ کے اور میرے مخدوم ہیں اور علم کی چلتی پھرتی تصویر ہیں، اللہ تعالیٰ ان کا سایہ تا دیر قائم رکھیں۔آمین!) نے دی اور جس کا ترجمہ ’’(مولانا) محمد یوسف پٹیل ماما‘‘ نے دیا ہے۔یہ خبر در ’’اصل لندن ٹائم‘‘ میں چھپی ہے۔جس میں ’’مرزا طاہر‘‘ نے یہ کہا کہ یہ جو صدر ضیاء الحق نے آرڈریننس دیا ہے تو جس وقت مارشل لاء گورنمنٹ جائے گی تو یہ آرڈنینس بھی ختم ہو جائے گا۔

329

مرزا طاہر نے اپنی جماعت کو دھوکہ دیا ہے :

محترم دوستو !جھوٹ بہر حال جھوٹ ہوا کرتا ہے۔اور پھر وہ جھوٹ جس کے اندر کسی کو دھوکہ دینا مقصود ہو تو وہ جھوٹ نیم چڑھے کریلے کی طرح اور دو آتشہ ہوجاتا ہے،مجھے حیرت ہے اس مرزائی جماعت کے لوگوں پر کہ اس کی جماعت کا سر براہ نہ صرف جھوٹ بول رہا ہے بلکہ اپنی جماعت کے لوگوں کو دھوکہ بھی دے رہا ہے۔ صدر مملکت نے ۲۶؍ اپریل ۱۹۸۴ء کو جو آرڈینینس دیا ہے ،میں اللہ رب العزت کے فضل و کرم سے یہ عرض کردینا مناسب و فرض سمجھتا ہوںکہ ساری دنیا ختم ہوجائے گی مگر یہ آرڈینینس ختم نہیں ہوگا۔

جب کہ حقیقت حال یہ ہے :

اور ہمارے جن علماء کرام نے صدر ضیاء الحق سے ملاقات کی تھی ان میں ’’حضرت مولانا خواجہ خان محمد صاحبؒ‘‘،اور ’’مولانا مفتی احمد الرحمن صاحبؒ‘‘ اور ’’مولانا محمدشریف صاحب جالندھریؒ‘‘ اور ’’مولانا محمد عبد اللہ صاحبؒ‘‘ اسلام آباد والے اسی طرح دوسرے گیارہ علماء کرام کا وفد ’’جنرل ضیاء الحق‘‘ سے ملا تھا،تو ’’ضیاء الحق صاحب‘‘ سے واضح کردیا تھا کہ آپ یہ آرڈیننس بحیثیت چیف مارشل لاء نہ نافذ کریں ،اگر آپ ایسا کرتے ہیں تو جب مارشل لاء جائے گا تو آرڈیننس بھی ختم ہو جائے گا۔یہ بحیثیت صدر مملکت کے نافذ کریں اور تعزیرات پاکستان میں ترمیم کریں ، چنانچہ انہوں نے جو حکم نامہ جاری کیا وہ بحیثیت صدر مملکت نافذ کیا ہے،اور ان کو تعزیرات پاکستان میں ترمیم کرنے کاجو اختیارہے، اسی کے مطابق کیا ہے اور تعزیرات پاکستان میں مارشل لاء ریگیولیشن نہیں ہے۔تعزیرات پاکستان کی دفعہCB-298. میں ترمیم کی گئی ہے۔ان شاء اللہ جب تک پاکستان باقی ہے یہ آرڈینینس (حکم نامہ) بھی باقی رہے گا۔

دوسری درخواست یہ ہے کہ قادیانی بیچاروں کو یہ غلط فہمی ہے کہ یہ قانون و حکم نامہ مارشل لاء کے ساتھ ختم ہو جائے گا۔یہ قانون ختم نہیں ہوسکتا،میں کہتا ہوں کہ پاکستان کے مسلمان اب جاگ اٹھے ہیں ،پاکستانی مسلمانوں کے ہوتے ہوئے کوئی قادیانی نواز افسر اس قانون و حکم نامہ کو بازیچۂ اطفال بنانے کی جرأت نہیں کرسکتا۔تو یہ حکم نامہ باقی رہے گا ،قادیانی مرزا طاہر نے جھوٹ بولا ہے۔یہ خبر آج کے اخبار( جنگ) میں آئی ہے۔

330

مولانا انور شاہ کشمیریؒ کا ایمان افروز واقعہ:

اب میں آپ دوستوں سے آخری درخواست کرنا چاہتا ہوں، وہ یہ ہے کہ حضرت مولانا ایوب سورتی صاحب ( کھولوڈیا ) دامت برکاتہم ’’حضرت مولانا انور شاہ کشمیری رحمۃ اللہ‘‘ کے بھاولپور کے سفر کا واقعہ سنا رہے تھے۔اسی سفر میں یہ ایمان افروز واقعہ بھی رونما ہوااور وہ یہ کہ جس وقت مولانا ملتان ریلوے اسٹیشن پر آئے،آپ کے ساتھ علماء کرام بھی تھے،ملتان سے مولانا کو بھاولپور کے لئے ٹرین تبدیل کرنی تھی،ملتان جس وقت ٹرین رکی ،مولانا نے شیشہ اتار کر باہر کی طرف دیکھا اور سامنے کھڑے قلی کو بلایااور کہا کہ : یہ کتابیں وغیرہ اٹھاؤ اور سامنے دوسری ٹرین میں رکھدو۔اپنا اس گاڑی کا سگنل ہوگیا ہے ، گاڑی جانے والی ہے ،گاڑی چھوٹ گئی تو ہمیں شام تک انتظار کرنا پڑے گا۔ذرا ہمت کرو،جلدی کرو،جتنے پیسے لیںگے ،مل جائیں گے۔

وہ باربار مولانا کے چہرے کو دیکھتا ہے۔مولانا نے اسے کہا کہ بھائی تم جلدی کرو!، سامان اٹھاؤ! اور پیسے کم ہیں ،پہلے لینے ہے تو لے لو!۔سامان اٹھاؤ !گاڑی نکلنے والی ہے۔اس سے نہ رہا گیا آبدیدہ ہو گیا ، اور کہا: مولانا آپ کو تو بھاولپور جاناہے مجھے پہلے مدینہ والے کاکلمہ پڑھا دو!مولانا نے اسے کلمہ پڑھایا اور اس نے اپنا سامان اٹھایا اور وہاں رکھا۔مولانا نے اسے پیسے دئے اور ہدایت کی کہ ملتان میںمولانا خدا بخش صاحبؒ رہتے ہیں۔(حضرت مدنی صاحب سے بیعت کی ہوئی تھی،خلافت بھی تھی)۔آپ ان سے رجوع کریں۔دین کی باقی باتیں وہ آپ کو بتا دیں گے۔

باقی سکھ حضرات وہاں پھر رہے تھے وہ اس بات کو نوٹ کررہے تھے کہ یہ آدمی جو مولانا کے پاس گیا ہے اتنا جلدی مولانا کے ہاتھ چوم رہا ہے۔خیریت تو ہے!،وہ واپس آیا تو انہوں نے کہا : سردار صاحب کیا ہوا !مولوی صاحب نے آپ پر کیا دم کردیا؟تو اس نے جوابًا کہا : مولوی صاحب کو مجھ پر کیا دم کرنا تھا ، مجھے جس وقت مولوی صاحب نے بلوایا ،میں نے پلیٹ فارم پر کھڑے کھڑے ان کے چہرے کو دیکھا تو میرے دل میں کشش پیدا ہوئی،اور جب میں ڈبہ کے اندر داخل ہوا تو بغور ان کے چہرے کو دیکھا تو میرے دل نے گواہی دی کہ چودھویں صدی کا مولوی اتنا خوبصورت ہے تو ان کے نبی (ﷺ) کتنے خوبصورت ہوںگے؟۔یہ تھے ہمارے حضرت مولانا انور شاہ کشمیری (رحمۃ اللہ علیہ )!

331
  1. صیاد نے تیرے اسیروں کو آخر یہ کہہ کر چھوڑدیا

    قفس میں رہ کر بھی یہ لوگ جنت کا نظارہ کرتے ہیں

میں آپ حضرات کو ان کے دروازہ پر لے چلتا ہوں:یہ کون ہے؟انہیں ’’مولانا یحییٰ علی‘‘ کہا جاتا ہے ۔ ’’حضرت مولانا یحییٰ علی‘‘ کے متعلق انگریز نے سزا تجویز کی:’’ مولانا کو پھانسی پر لٹکا دیا جائے‘‘۔جیل کا ضابطہ یہ ہے کہ’’ جس آدمی کو پھانسی لگانا ہوتو شام کو بھی اس کا وزن کرتے ہیں اور صبح کو بھی‘‘۔کہیں پھانسی کا آرڈر سن کر اس کا وزن گھٹ تو نہیں رہا۔

آج مولانا کا وزن کیا گیا ،مولانا کو صبح پھانسی لگنا ہے۔صبح جب ان کو وزن کیا گیا تو کئی پاؤنڈ اس کا وزن بڑھا ہوا تھا۔انہوں نے اپنے بڑے آفیسر کو کہا: ہمارے پاس پہلا کیس ایسا آیا ہے کہ آج تک جس قیدی کو پھانسی کی سزا کا حکم ہوتا ہے تو کسی کو ہارٹ اٹیک ہوجاتا ہے۔کسی کا وزن کم ہوجاتا ہے۔یہ پہلا آدمی ہے جس کا مقدمہ ہمارے پاس آیا ہے، یہ پھانسی کا حکم سننے کے بعد وزن کم ہونا تو درکنار، وزن زیادہ ہورہا ہے۔مولانا کو بلایا گیا اور پوچھا گیا : یہ بات ہماری سمجھ میں نہیں آتی کہ یہ کیا ہوا ؟

مولانا نے جواب میں ارشاد فرمایا: آپ لوگوں کو اس کی حقیقت کا علم نہیں،ہم مسلمان ہیں،ہمارے نزدیک جو آدمی ظلمًا ماردیا جاتا ہے تو اس کی موت موت نہیں ہوتی بلکہ شہادت ہوتی ہے۔اور شہادت ایک ایسی نعمت ہے جس پر ہزار زندگی قربان کی جاسکتی ہے۔تم مجھے شہید کرنا چاہتے ہو،آج مجھے پھانسی لگنا ہے اس لئے میں نے آج روزہ رکھا ہے، شام افطارگنبد خضراء میں حضور(ﷺ) کے ساتھ ہو گی ۔ انگریز نے کہا: یہ آپ کی پسندیدہ موت ہے؟ہم آپ کو پسندیدہ موت نہیں دینا چاہتے۔سزا تبدیل کردی۔

  1. صیاد نے تیرے اسیروں کو آخر یہ کہہ کر چھوڑ دیا

    قفس میں رہ کر بھی یہ لوگ جنت کا نظار ہ کرتے ہیں

(یہ شعر بیان کے بعد مولانا کو سنایا گیا تھا)

انگریز کا خیال تھا کہ مسلمانوں کے نزدیک سب سے زیادہ پسندیدہ حضور (ﷺ) کی سنت ہے۔چنانچہ آپ کو بھی اور مجھے بھی اللہ تعالیٰ حضور(ﷺ) کی سنت پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائیں۔ آمین!

332

میری ڈاڑھی کے بال قبول کر لئے تو زندگی بھی قبول کرلے گا :

انگریز نے مولانا کی ڈاڑھی میں شراب ڈالی،استرے سے اس کو صاف کیا،وہ کہتے تھے :ہم آپ کو اذیت دیناچاہتے ہیں۔مولانانے ڈاڑھی کے بال اپنے ہاتھ میں لئے،ان کو دیکھا اور رونے لگے۔پھر آسمان کی طرف دیکھ کر مسکرانے لگے۔وہ انگریز حیران!انہوں نے مولانا صاحبؒ سے پوچھا : مولانا آپ رو کیوں رہے ہیں؟فرمایا: میں اس لئے رو رہا تھا ،اپنے مقدر پر رو رہا تھا۔کہ اللہ تعالیٰ نے میری ڈاڑھی کے بالوں کوتو قبول کرلیا لیکن مجھے قبول نہیں کیا۔پوچھا: مسکرا کیوں رہے تھے؟۔ مولانا نے فرمایا: اللہ کی رحمت پر امید کرکے مسکرا رہا تھاکہ جس اللہ نے میری ڈاڑھی کے بالوں کو قبول کرلیا ہے وہ اللہ تعالیٰ میری زندگی کو بھی قبول کرلے گا۔

(حضرت) حسین احمد مدنی ؒ آج آپ نے (حضرت)حسین ؓ

کے خون کی لاج رکھ لی :

حضرات گرامی !مولانا سیدحسین احمد مدنی (رحمۃ اللہ علیہ) پر کراچی میں مقدمہ چلا۔آج بھی جناح روڈ پر ’’خالد دینا ہال‘‘ جوں کا توں موجود ہے۔اس ہال میں مقدمہ چلا،پیشی ہوئی،مولانا محمدعلی جوہرؒؔ ساتھ تھے،مولانا پر یہ الزام تھا کہ آپ نے انگریز کے خلاف جہادکرنے کاہندوستان میں کا فتویٰ دیا ہے،اور ان کی فوج میں بھرتی ہونے کو حرام قرار دیا ہے۔انگریز جج پوچھتا ہے: مولانا آپ نے یہ کہا ہے کہ: انگریز کے خلاف جہاد کرنا ضروری ہے؟اور ان کی فوج میں بھرتی ہونا حرام ہے؟مولانا محمد علی جوہرؒ کہتے ہیں: میرے دل میں خیال آیا کہ آج مولانا یہ الزام تسلیم کرتے ہیں تو سوائے پھانسی کے اور کوئی سزا نہیں؟اور اس بات کو تسلیم نہیں کرتے تو علماء کرام کی عزت پرایسا دھبہ لگے گا کہ قیامت تک ہم اس سے چھٹکارا حاصل نہیں کرسکتے۔دونوں طرف ہمارے لئے موت ہے۔آج دیکھئے! مولانا کیا کرتے ہیں ؟ مولانا بڑی بہادری کے ساتھ انگریز جج کی طرف متوجہ ہوئے،کہنے لگے :صاحب بہادر!میں نے یہ فتویٰ دیا تھا اور یہاں کھڑے ہو کر اس کا اقرار کرتا ہوں اور جب تک میری جان میں جان باقی ہے اس کا اقرار کرتا رہوں گا۔

مولانا محمد علی جوہرؒؔ بیساختہ حضرت مدنی رحمۃ اللہ علیہ کے قدم پر گر گئے، اٹھ کر ان کی پیشانی کو چوما۔چوم کر کہنے لگے: حسین احمد! آج آپ نے امام حسینؓ کے خون کی لاج رکھ لی

333

ہے!۔جج بر انگیختہ ہوا،مولانا مدنی سے کہتا ہے : مولوی صاحب کیا بیان دیتے ہو؟سوچ سمجھ کر بتائیں؟میں جج ہوں اور صاحب اختیار ہوں!آپ ایک باغیانہ بیان دے رہے ہیں!آپ کے اس بیان پر سزائے موت بھی ہو سکتی ہے؟

حضرت مدنی ؒ(رحمۃ اللہ علیہ)نے تھیلے سے ایک کپڑا نکالا ۔اسے لہرا کر جج کو دکھا کر کہا: ’’ظالم جس موت کے لئے تو ڈراتا ہے ۔میں دیوبند سے چلتے وقت اپناکفن ساتھ لے کرچلا ہوں‘‘۔

شیخ الہند ؒ نے اپنے جسم کو داغدار بنایا مگر محمد (ﷺ)کے دین کے لئے چشم پوشی کو گوارا نہ کیا :

حضرت شیخ الہند( رحمۃ اللہ علیہ) مالٹا جیل میںتھے۔حضرت مولانا کا جس وقت انتقال ہوتا ہے،آپ کو غسل دیا گیا،سارے ساتھی حیران و پریشان تھے کہ آپ کے جسم پر کسی کالی چیز کا داغ ہے۔کسی کو معلوم نہیں تھا کہ یہ کس چیز کے داغ ہیں۔حضرت مدنی(رحمۃ اللہ علیہ) سفر پر تھے،جنازہ میں شریک نہ ہو سکے ۔جب حضرت آئے تو علماء نے پوچھا : حضرت ہم نے حضرت کے جسم پر داغ دیکھے ہیں۔وہ داغ ہمیں سمجھ میں نہیں آرہے؟آپ ارشاد فرمائیں: یہ داغ کس چیز کے ہیں؟حضرت مدنی ؒ نے فرمایا : حضرت شیخ نے مجھے وصیت کی ہے کہ جب تک میں زندہ ہوں،میرا یہ راز کسی کو نہیں بتانا۔الحمد للہ !آج تک کسی کو نہیں بتایا۔اب حضرت کا انتقال ہوگیا ہے۔شرعاً مجھے بیان کرنے میں کوئی مضائقہ نہیں!حضرت نے جواب میں ارشاد فرمایا : جس وقت ہم مالٹا جیل میں تھے،انگریز جیلر ظالم تھا، لوہے کی سلاخیں گرم کرکے داغتا تھا۔اہل حق بزرگوں نے اپنا جسم داغدار بنانا تو منظور کیا مگر محمد (ﷺ)کے دین سے ایک منٹ کے لئے بھی چشم پوشی کرنا گوارا نہیں کیا۔رسول اللہ (ﷺ)کے دین کو نظر انداز نہیں کیا۔

آواز آئے گی کہ مرزا غلام احمد قادیانی اور اس کے ماننے والے کافر ہیں :

میرے بھائیو! ذرا توجہ فرمائیں۔ حضرت مولانا شاہ عطاء اللہ بخاری( رحمۃ اللہ علیہ )کو ایک مرتبہ جج نے پوچھا: سناہے کہ آپ مرزا غلام احمد قادیانی کو کافر کہتے ہیں۔بپھرے ہوئے شیر کی طرح جج کی طرف دیکھ کر کہا : عطاء اللہ شاہ بخاری کو چودہ سال کی جیل ہے ،بپھرے ہوئے شیر کی طرح کہنے لگے :مرزا غلام احمد کو کافر کہاتھا: عدالت میں کھڑے ہو کر آپ کے سامنے کافر کہتا

334

ہوں۔جب تک میری جان میں جان باقی ہے کافر کہتا رہوں گا ۔ اگر ’’عطاء اللہ شاہ‘‘ کی موت آجائے اور کوئی آدمی میری قبر پر آکر پوچھے : عطاء اللہ ‘مرزا کے متعلق تیرا کیا عقیدہ ہے؟ تو شاہ صاحبؒ فرماتے ہیں: میرے جذبات یہ ہیں کہ قبر کے ذرہ ذرہ سے آواز آئے گی ۔ مرزا غلام احمد اور اس کے ماننے والے کافر ہیں۔یہ وہ جذبہ تھا علماء کرام کا،یہ وہ جذبہ تھا اہل حق کا،یہ وہ جذبہ تھا اکابرین کا،یہ جذبہ تھا ان قدسی صفت انسانوں کا،اس جذبہ کی بدولت دین کی سپرٹ باقی ہے۔دین کی حرارت باقی ہے ۔دین باقی ہے ،ایمان باقی ہے ،اسلام باقی ہے۔مسلمان باقی ہے۔

یہاں کے علماء کرام سے آپ حضرات کی موجودگی میںدست بدستہ درخواست کرتا ہوں: وہ اسی جذبہ کے تحت رہیں، جن اکابر کے وہ نام لیوا ہیں،جن کے وہ شاگرد ہیں۔جن سے انہیں نسبت حاصل ہے ، اسی نسبت کا خیال کرکے ان حضرات کی امانت کو آگے بڑھائیں، رسول اللہ (ﷺ) کی ناموس و عزت کے تحفظ کے لئے اپنے آپ کو فرنٹ لائن پے لے آئیں۔انشاء اللہ! اللہ رب العزت کی رحمت اور حضور (ﷺ)کی شفاعت کا سایہ ان پر ہوگا۔

جو شخص ختم نبوت کا کام کرتا ہے تو ان کی پشت پر رسول اللہ(ﷺ)

کی دعائیں ہیں :

حضرت مولانا محمد علی جالندھری (رحمۃ اللہ علیہ) ہمارے بزرگ گزرے ہیں۔مولانا انور شاہ کشمیری(رحمۃ اللہ علیہ) کے شاگرد تھے۔مولانا محمد علی جالندھریؒ کہتے ہیں کہ شاہ صاحبؒ فرمایا کرتے تھے: دلائل کی دنیا میں ممکن ہے کہ کوئی آدمی مجھ سے پوچھے اور میں ان کو مطمئن نہ کرسکوں۔لیکن میرا وجدان یہ کہتا ہے کہ جو آدمی ختم نبوت کا کام کرتا ہے ان کی پشت پر رسول اللہ(ﷺ) کی دعائیں ہیں۔یہ اتنا مقدس کام ہے۔قادیانی اگر جھوٹے نبی کی جھوٹی تبلیغ کے لئے سر گرداں ہیں تو ہمیں سچے امتی کے سچے ناتے سے کچھ کام کرنا ہوگا۔

اللہ تعالیٰ آپ حضرات کے علماء کرام کو، آپ کے اور میرے بزرگوں کو جزائے خیرعطا فرمائے ( خدا کی قسم! میں ان حضرات کی خدمت میں رہ کر جوتیاں سیدھی کرکے یہ سمجھتا ہوں کہ جو کام قیامت کے دن کام آئیں گے انہیں کاموں میں سے ایک کام یہ بھی ہے۔آپ حضرات ان سے فائدہ اٹھائیں) میں آپ حضرات سے یہ درخواست کرتا ہوں کہ اس کام کے لئے اپنے آپ کوکماحقہ وقف کردیں۔ان حضرات کی خدمات سے فائدہ اٹھائیں۔ان کے ساتھ تعلق

335

رکھیں۔جس وقت آپ حضرات کا بزرگوں کے ساتھ تعلق ہوگا ،اہل اللہ کے ساتھ تعلق ہوگا دنیا کا کوئی فتنہ آپ کو گمراہ نہیں کرسکے گا۔

بے دین فرقے عوام کو علماء سے بد ظن کرتے ہیں :

جتنے بھی بے دین فرقے ہیں ان کی سب سے پہلی بے دینی کی بنیاد یہ ہے کہ وہ عوام کو علماء سے بد ظن کرتے ہیں۔متنفر کرتے ہیں۔اس لئے کہ جب علماء سے متنفر ہوںگے تو دین بتانے والا کوئی نہ ہو گا ۔ انسان آسانی کے ساتھ گمراہ ہوجائے گا۔تو جس طرح دین سے برگشتہ کرنے کی پہلی سیڑھی علماء سے بر گشتہ کرنا ہے۔اسی طرح دین کی پہلی سیڑھی علماء سے تعلقات ہیں۔اللہ تعالیٰ آپ کا، میرا، ان علماء کرام کے ساتھ تعلق وابستہ کردیں ۔ان سے فائدہ اٹھانے کی توفیق دیں۔ آمین۔اللہ رب العزت انہیں اپنے دین کا ان کو خادم بنائیں۔اور زیادہ سے زیادہ رسول اللہ(ﷺ)کی عزت و ناموس کے پھریرے کو دنیا کے اندر بلند کرنے کی توفیق عطا فرمائیں۔ آمین! بس! اتنی بات عرض کرنی تھی۔آخر میں پھر آپ حضرات کا دل کی گہرائی سے شکر گذار ہوں۔آپ نے ایک مسافر کی ٹوٹی پھوٹی بے تکی باتوں کو سنا۔اللہ رب العزت آپ سب حضرات کو جزائے خیر عطا فرمائیں۔ آمین۔

وآخر دعوانا ان الحمد للہ رب العالمین

نوٹ :جامع مسجد باٹلی کے خطیب و رؤوف الصفت مخدومناجناب حضرت مولانا عبد الرؤف صاحب (خلیفہ حضرت مسیح الامت مولانا مسیح اللہ صاحب نور اللہ مرقدہ )دامت فیوضہم نے آخر میں دعاء فرمائی اور جلسہ کا اختتام ہوا۔

الحمد للہ رب العالمین والصلوۃ والسلام علی سید الانبیاء والمرسلین، وخاتم النّبیین وعلی آلہ واصحابہ اجمعین، ربنا تقبل منا انک انت السمیع العلیم۔ وتب علینا انک انت التواب الرحیم۔ وصلی اللہ تعالیٰ علی خیر خلقہ سیدنا محمد وآلہ واصحابہ اجمعین۔ سبحان ربک رب العزۃ عما یصفون۔ وسلام علی المرسلین والحمد للہ رب العالمین!

336