(اعجاز احمدی ص۱۸، خزائن جلد۱۹ ص۱۲۷،مرزا غلام احمد قادیانی)
ج… ’’اس لئے یاد رکھو کہ پرانی خلافت کا جھگڑا چھوڑدو، اب نئی خلافت
لو۔ایک زندہ علی ‘تم میں موجود ہے اس کو چھوڑتے ہو اور مردہ علی کی
تلاش کرتے ہو‘‘
(ملفوظات احمدیہ جلد اوّل ص۴۰۰)
حضرت حسینؓ واہل بیت کی توہین و تنقیص
د… مرزا غلام احمد قادیانی نے (اعجاز احمدیص نمبر ۸۲، خزائن جلد۱۹
ص۱۹۴) پر حضرت حسینؓ کے متعلق لکھا ہے ؎
-
نسیتم جلال اللہ والمجد والعلیٰ
وماورد کم الاحسین ا تنکروا
-
فھٰذا علی الاسلام احدی المصائب
لدٰی نفحات المسک قذر مقنطر
ترجمہ:تم نے خدائے جلال اور مجھ کو بھلا دیا،تمہارا وردصرف حسین
ہے،کیا تو انکار کرتا ہے،پس یہ اسلام پر ایک مصیبت ہے،کستوری کی
خوشبو کے پاس ایک گندگی کا ڈھیر ہے۔
دیکھئے حضور!: حضرت امام حسین(علیہ السلام) کا ذکر خیر!ان کے فضائل و
برکات ہمارے ایمان کا ایک حصہ ہے۔نبی کریم ﷺ نے احادیث میں ان کے بے
شمار فضائل و برکات بیان فرمائے ہیں ۔ انہیں سیدا شباب اہل الجنۃ
فرمایا ہے۔مرزا غلام احمد قادیانی کہتا ہے: اللہ تعالیٰ کے ذکر کے
مقابلہ میں حسین(علیہ السلام)کا ذکر کرنا اس طرح ہے جس طرح کستوری کے
پاس گندگی کا ڈھیر ہو۔اللہ تعالیٰ کے ذکر کو وہ کستوری کہتا ہے،اور
حسینؓکے ذکر کووہ اس طرح تشبیہ دیتا ہے۔
آپ حضرات اندازہ لگائیں،آگے اس کا فارسی کا شعر ہے ؎
-
کربلائے است سیر ہر آنم
صد حسین است درگریبانم
جس کا ترجمہ یہ ہے کہ کہتا ہے’’ ہر وقت میری کربلا کی سیر ہے،سو حسین
جو ہے وہ میرے گریبان میں ہے۔‘‘
(نزول المسیح ص۹۹، خزائن جلد۱۸ ص۴۷۷)
اس کے علاوہ بھی اسی (اعجاز احمدی ص۸۱، خزائن جلد۱۹ ص۱۹۳) میں کہتا
ہے:’’ تم حسین کا بار بار ذکر کرتے ہو،اس بات کو یاد نہیں رکھتے کہ
حضرت حسین (علیہ السلام)دشمن کا کشتہ تھااور میں محبوب کا کشتہ
ہوں،اور تمہارا حسینؓ ہے کہ کربلا کا نام لیکر آج تک تم روتے ہو ،اس
کی کسی نے مدد نہیں کی تھی اور میں ہر گھڑی،ہرلمحہ مدد کیا جاتا
ہوں۔‘‘اس نے حضرت امام حسینؓ کی یہ تصویر کشی کی ہے۔