Top banner image

خطبات شاھین ختم نبوت

(جلد اوّل)

حضرت مولانا اللہ وسایا صاحب

مجاہدین ختم نبوت کے سلسلہ کی ایک کڑی شاہین ختم نبوت حضرت مولانا اللہ وسایا صاحب دامت برکاتہم ہیں جنہیں اللہ رب العزت نے بے پناہ کمالات اور اعزازات سے نوازا اور کمال درجہ کی ذہانت بخشی ہے، زبان میں ایسی تاثیر کہ جو بات کرتے ہیں وہ نقش کالحجر ہوجاتی ہے اور سامعین کو مسحور کردیتی ہے،حضرت مولانا اللہ وسایا صاحب عقیدہ ختم نبوت کے تحفظ کے محاذ کے جرنیل اور قادیانیت کے خلاف درہ عمرؓ کی حیثیت رکھتے ہیں، ردقادیانیت میں آپ صرف تجربہ کار ہی نہیں بلکہ صاحب بصیرت امام مانے جاتے ہیں، حضرت مولانا نے ردقادیانیت پر بہت سی کتابیں تصنیف فرمائیں،جنہیں عام وخاص میں قبولیت حاصل ہے اور تحریرات جو کہ باریک بینی سے پڑھنے کے قابل اور دل کو چھونے والی ہوتی ہیں

 

 

 

صَلُّوا عَلَی الْحَبِیْب

 

 

 

3

بسم اللہ الرحمن الرحیم

خطبات شاہین ختم نبوت

نام کتاب خطبات شاہین ختم نبوت (جلد اوّل)
مرتب مولانا محمد بلال صاحب
اشاعت 1-1-2015
ناشر عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کراچی
4
22

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ

پیش لفظ

تمام تعریفات اس خدائے بزرگ وبرتر کے لئے ہیں جو تمام جہانوں کا پروردگار ہے۔ جس نے نسل آدم خاکی کو اپنی کتاب کے نزول سے ہدایت عطا فرمائی اور نبی آخرالزمان خاتم الانبیاءﷺ کو مبعوث فرماکر امت محمدیہ پر،آپ ﷺ کی حکمت وجوامع الکلم کے ذریعے رحمت تامہ فرمائی اور آپﷺ کے متبعین میں اہل بیتؓ و اصحابؓ رسول ﷺ کو بلند وبرتر فرمایا۔

لاکھوں درود وسلام ہوں آپﷺ پر، آپﷺ کے اہل بیتؓ پر، صحابہ کرامؓ پر اور تمام ائمہ، فقہاء، محدثین ومجتہدین رحمتہ اللہ تعالیٰ علیہم اجمعین پر اور رحمتیں نازل ہوں اکابرین علماء اہل سنت والجماعت دیوبند پر کہ جب کبھی کسی شرپسند نے دین اسلام میں نقب لگانے کی کوشش کی تو ہمارے اکابرین علماء دیوبند نے انتہائی بیدار مغزی کا ثبوت دیتے ہوئے جر أت وحکمت کے ساتھ ان کی کوشش کو ناکام بنایا۔

ان شرپسند فتنوں میں سب سے زیادہ خطرناک فتنہ، قادیانیت کا فتنہ ہے۔ قادیانیت ایک مار آستین کی مانند ہے جس کی زہر ناکیوں نے اسلام کو بے حد نقصان پہنچایا اور اسلام میں شکوک وشبہات پیدا کرنے کی ناپاک جسارت کی۔ جس وقت اس فتنہ نے سراٹھایا تو علماء کرام اس کے تعاقب کے لئے میدان میں آئے۔ کسی نے اس کا تعاقب قلمی طور پر کیا تو کسی نے خطابت کے میدان میں، کسی نے جھوٹے مدعی نبوت مرزا غلام احمد قادیانی کے اخلاق وعادات کو امت کے سامنے آشکارا کیا توکسی نے مرزا قادیانی کی ذاتی زندگی کی خامیوں اور زبان درازیوں پر اس کی اپنی تحریروں سے اس کے لئے پھندا تیار کیا۔ جس سے آج تک مرزا قادیانی کی ذریت بھی نہیں نکل سکی اور پوری دنیا میں رسوائی کے سوا کچھ حاصل نہیں ہوا۔

23

الغرض! امت مسلمہ کو اس فتنہ کے تعاقب کے لئے اور سرورکائنات رحمۃ اللہ علیہ کی ختم نبوت کے تحفظ کی خاطر اگر جان کا نذرانہ بھی پیش کرنا پڑا تو انہوں نے اس سے بھی دریغ نہیں کیا اور مشن صدیق اکبرؓ کو زندہ رکھا۔ خاتم الانبیاءﷺ کے ساتھ والہانہ عقیدت ومحبت ہی باعث فخرو باعث نجات ہے۔ امیر شریعت سید عطاء اللہ شاہ بخاری رحمۃ اللہ علیہ۱۹۵۳ء کی تحریک میں رہائی کے بعد ایک مجلس میں تشریف فرماتھے۔ ایک آدمی آیا۔ آکر شاہ جی رحمۃ اللہ علیہ سے طنزیہ طور پر کہنے لگا کہ: ’’آپ کی تحریک ختم نبوت کا کیا بنا؟۔‘‘

تو شاہ جی رحمۃ اللہ علیہ نے شیر کی طرح دیکھا اور فرمایا: ’’میاں! اگر تم ۱۹۵۳ء کی تحریک ختم نبوت کے شہداء کی بات کرتے ہو تو اس تحریک میں جتنے بھی شہید ہوئے۔ ان سب کا خون سید عطاء اللہ شاہ بخاری رحمۃ اللہ علیہ کی گردن پر ہے۔ اگر حضرت ابوبکر صدیقؓ نے امت کا سب سے قیمتی اثاثہ حضرات صحابہ کرامؓ کوختم نبوت کے مسئلہ کے لئے شہید کرایا تھا تو یہ دس ہزار آدمی بھی میں نے صدیق اکبرؓ کی سنت پر عمل کرتے ہوئے شہید کرائے ہیں۔‘‘

اکابرین کی اس جدوجہد اور محنت کے نتیجہ میں آج اس فتنہء قادیانیت کے اندر کوئی دم نہیں رہا۔ جو جدوجہد اکابرین نے قادیانیت کے تعاقب اور عقیدہ ختم نبوت کے تحفظ کے لئے شروع کی تھی۔ آج تک الحمدللہ! برابر جاری ہے۔

ان مجاہدین ختم نبوت کے سلسلہ کی ایک کڑی شاہین ختم نبوت حضرت مولانا اللہ وسایا صاحب دامت برکاتہم ہیں جنہیں اللہ رب العزت نے بے پناہ کمالات اور اعزازات سے نوازا اور کمال درجہ کی ذہانت بخشی ہے۔ زبان میں ایسی تاثیر کہ جو بات کرتے ہیں وہ ’’نقش کالحجر‘‘ ہوجاتی ہے اور سامعین کو مسحور کردیتی ہے۔

حضرت مولانا اللہ وسایا صاحب عقیدہ ختم نبوت کے تحفظ کے محاذ کے جرنیل اور قادیانیت کے خلاف درہ عمرؓ کی حیثیت رکھتے ہیں۔ ردقادیانیت میں آپ صرف تجربہ کار ہی نہیں بلکہ صاحب بصیرت امام مانے جاتے ہیں۔ حضرت مولانا نے ردقادیانیت پر بہت سی

24

کتابیں تصنیف فرمائیں۔ جنہیں عام وخاص میں قبولیت حاصل ہے اور تحریرات جو کہ باریک بینی سے پڑھنے کے قابل اور دل کو چھونے والی ہوتی ہیں۔ آپ سادہ اور درویش صفت شخصیت کے حامل ہیں۔ آپ دور حاضر کے مسائل پر اور ملکی صورت حال پر بھی احسن انداز میں گفتگو کرتے ہیں۔ آپ کی پوری زندگی مجلس تحفظ ختم نبوت کی خدمات کے لئے وقف ہے۔ حضرت مولانا بہت زیادہ انس ومحبت اور شفقت کرنے والے بزرگ ہیں۔ چھوٹوں سے شفقت ان کا خاصہ ہے۔ ہر آدمی سے آپ بڑی خندہ پیشانی سے ملتے ہیں۔ خواہ اجنبی ہو یا کوئی پہچان والا۔

بندہ کو عرصہ چھ سال سے آپ کی خدمت کی سعادت حاصل ہے۔ آپ بندہ سے بھی اپنی اولاد کی طرح الفت رکھتے ہیں۔ اسی محبت میں گرویدہ ہو کر دل میں شوق پیدا ہوا کہ شاہین ختم نبوت حضرت مولانا اللہ وسایا صاحب مدظلہ کے خطبات کو اکٹھا کیا جائے۔

جب اس بات کا تذکرہ حضرت صاحبزادہ مولانا محمدانس صاحب مدظلہ سے کیا تو انہوں نے خوب دلجوئی کی اور فرمایا کہ اگر آپ نے حضرت بابا جی مدظلہ کے خطبات کو جمع کرنے کا ارادہ کیا ہے تو یہ بہت زیادہ خوشی اورباعث اعزاز ہے۔ اس لئے کہ حضرت باباجی مدظلہ کے خطبات کو کتابی شکل میں لایاجائے تو معلومات کا بہت بڑا حصہ ہماری نسل نو کے لئے محفوظ ہوجائے گا۔

جب بیانات کو اکٹھا کرنے کے لئے کمربستہ ہوا تو بڑی دشواریاں پیش آئیں کہ جمع کس طرح کیا جائے۔ پورے پاکستان میں جماعتی ساتھیوں سے رابطے کئے تو کیسٹوں اور سی ڈیز کی شکل میں بہت سا مواد جمع ہوگیا۔ جب لکھنا شروع کیا تویہ ایک مشکل کام محسوس ہونے لگا۔ تاہم بارگاہ الٰہی میں بار بار التجاء کی اور اس طرح یہ مشکل ترین کام محض رب ذوالجلال کے کرم سے پایہ تکمیل کو پہنچا۔

اللہ رب العزت جزائے خیر دے برادر مکرم مولانا محمد وسیم اسلم کو جنہوں نے

25

ترتیب و تحسین میں ممکنہ حدتک علمی و تزئینی معاونت فرمائی، اور مدرسہ عربیہ ختم نبوت مسلم کالونی چناب نگر کے شیخ الحدیث حضرت مولانا غلام رسول دین پوری مدظلہ کو جنہوں نے تقاریر کے عنوانات قائم کئے، نوک پلک سنوارے، اور عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کراچی کے امیر، استاذ الحدیث مرشدالعلماء والصلحاء حضرت مولانا محمد اعجاز مصطفی صاحب مدظلہ کو کہ جنہوں نے نہ صرف فائنل پروف پڑھا بلکہ قرآن و حدیث اور مرزا قادیانی کی کتب کے حوالہ جات اور ان کی تخریج بھی کردی۔

آخر میں میں شکر گزار ہوں جناب عدنان منظور کا جنہوں نے اپنی گونا گوں دفتری مصروفیات کے باوجود کمپوزنگ کے مراحل بڑی سرعت کے ساتھ طے کرادئیے۔

قارئین! بندہ عاجز کو اپنی کوتاہ علمی کا بخوبی احساس ہے۔ ’’خطبات شاہین ختم نبوت‘‘ میں جو خوبیاں اور اچھائیاں ہیں وہ اللہرب العزت کا فضل وکرم، اساتذہ کرام کی محنت اور علمائے حق کے اکرام واحترام کا صلہ ہے اور جو غلطیاں ہیں وہ میری حماقت اور خطائوں کا نتیجہ۔ حتی الوسع کوشش کی کہ اغلاط باقی نہ رہیں۔ لیکن خطا اور غلطی سے پاک صرف رب کریم کی ذات ہے۔ باوجود اس کے، اگر کوئی دوست کہیں سقم پائیں تو تنقید وتنقیص کی بجائے بندہ کو مطلع فرمائیں۔ تاکہ آئندہ ایڈیشن میں اصلاح ہوسکے۔

دعاگوہوں کہ پروردگار عالم اپنے فضل وکرم سے بزرگان ملت کی خدمت کے طفیل بندہ کی اس ادنیٰ سی محنت کو قبول فرمائے اور میرے والدین، عزیز واقارب اور اساتذہ کرام کے لئے ذریعہ مغفرت وسامان آخرت بنائے ۔آمین!

حسبنا اللہ ونعم الوکیل

وصلی اللہ تعالیٰ علیٰ خیر خلقہ سیدنا محمد وعلیٰ آلہ واصحابہ اجمعین!

خاک پائے اکابردیوبند

(مولانا)محمدبلال

فاضل جامعہ اسلامیہ باب العلوم کہروڑ پکا

26

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ

صاحب خطبات کا مختصر تعارف

مخدومی المکرم شاہین ختم نبوت حضرت مولانا اللہ وسایا صاحب مدظلہ مجھ سے جماعت میں دس سال قدیم ہیں۔ راقم نے کریما، نام حق شروع کی اور مولانا جماعت میں لائل پور(فیصل آباد ) میں مبلغ کی حیثیت سے مقرر ہوئے۔ فیصل آباد میں آپ کو مجاہد تحریک ختم نبوت حضرت مولانا تاج محمود رحمۃ اللہ علیہ جیسا محسن ومربی نصیب ہوا۔ جن کی تربیت سے آپ کو مضمون نویسی اور حروف خوانی کی مہارت نصیب ہوئی۔

قادیانیت سے متعلق آپ نے مناظر اسلام حضرت مولانالال حسین اختر رحمۃ اللہ علیہ، فاتح قادیان حضرت مولانا محمدحیات رحمۃ اللہ علیہ سے تربیت حاصل کی۔ اس زمانے میں مجلس کا پورے ملک میں طوطی بولتا تھا۔ مجاہد ملت حضرت مولانا محمد علی جالندھری رحمۃ اللہ علیہ مجلس کے روح رواں اور امیر تھے۔ حضرت جالندھری رحمۃ اللہ علیہ کی رفاقت نے مولانا اللہ وسایا صاحب کو کُندن بنادیا۔ آپ نے ابتدائی تعلیم اپنے علاقہ کی عظیم شخصیت مولاناحافظ اللہ بخش گرواںؒ سے حاصل کی۔ جامعہ قاسم العلوم ملتان میں بھی پڑھا۔ دورہ حدیث شریف جامعہ مخزن العلوم خان پور سے کیا۔ جہاں حافظ الحدیث والقرآن حضرت مولانا محمد عبد اللہ درخواستی رحمۃ اللہ علیہ، حضرت مولانا واحد بخشؒ،حضرت مولانا محمدابراہیم تونسوی رحمۃ اللہ علیہ جیسی جبال العلم شخصیات سے قرآن وحدیث کے فیوض وبرکات حاصل کئے۔

قرآن وحدیث میں حضرت درخواستی رحمۃ اللہ علیہ استاد، خطابت میں حضرت مولانا جالندھری رحمۃ اللہ علیہ کی تربیت، مناظرہ میں حضرت مولانا لال حسین اختر رحمۃ اللہ علیہ اور حضرت مولانا محمد حیات رحمۃ اللہ علیہ کے تلمذ نے آپ کو ہمت، جرأت اور مقبولیت سے سرفراز فرمایا۔

ربوہ (موجودہ چناب نگر) کو جب کھلا شہر قرار دیا گیا تو ریلوے اسٹیشن پر جامع

27

مسجد محمدیہ کی تعمیر ہوئی جس میں ایک عرصہ تک حضرت مولانا خدابخشؒ خطیب رہے۔ پھر مولانا اللہ وسایا صاحب فیصل آباد سے چناب نگر(ربوہ) تبدیل کردیئے گئے۔ جس نے آپ کی شہرت کو چار چاند لگادیئے۔ حضرت مولانا محمدعلی جالندھری رحمۃ اللہ علیہ، حضرت مولانا لال حسین اختر رحمۃ اللہ علیہ، حضرت مولانا محمد حیات رحمۃ اللہ علیہ، محدث العصر حضرت مولانا سید محمد یوسف بنوری رحمۃ اللہ علیہ، خواجہ خواجگان حضرت مولانا خواجہ خان محمد v، حکیم العصر حضرت مولانا عبدالمجید لدھیانوی رحمۃ اللہ علیہ اور حضرت مولانا ڈاکٹر عبدالزاق سکندر دامت برکاتہم کی قیادت میں آپ کو نصف صدی سے ختم نبوت کی چوکیداری کی سعادت حاصل ہے۔

آپ نے تحریک ختم نبوت ۱۹۷۴ء، تحریک ختم نبوت ۱۹۸۴ء، پاسپورٹ میں مذہب کے خانے کی بحالی اور ناموس رسالت کے تحفظ کی تحریکوں میں پروانہ وار حصہ لیا اور جانبازانہ کردار ادا کیا۔

تصنیفی خدمات

آپ کی تصنیفی خدمات میں سب سے پہلی تصنیف ’’قادیانیت کے خلاف قلمی جہاد کی سرگزشت‘‘ ہے جس میں ایک ہزار کتب پر مختصر تبصرہ ہے۔ پھر آپ نے ’’تذکرہ مجاہدین ختم نبوت‘‘ کے نام سے مجاہدین تحریک ختم نبوت ومحافظین ناموس رسالت کی خدمات کا جائزہ پیش کیا ہے۔ جسے پڑھ کر رونگٹے کھڑے ہوجاتے ہیں اور ایمان کو تقویت نصیب ہوتی ہے۔ چند سال قبل انڈیا کے دورہ پر گئے۔ واپسی پر رپورٹ لکھی جس کا نام ’’ایک ہفتہ حضرت شیخ الہند رحمۃ اللہ علیہکے دیس میں‘‘ جوعوام وخواص میں مقبول ہوئی۔ ’’احتساب قادیانیت‘‘ کے نام سے سینکڑوں مصنفین کے سینکڑوں سے متجاوز رسائل کی تبتع وتلاش، تخریج وتسوید مولانا کا وہ لازوال کارنامہ ہے جو رہتی دنیا تک یاد گار رہے گا۔ مولانا انتھک، محنتی آدمی ہیں۔ پینسٹھ سال سے زائد عمر کے باوجود نوجوانوں سے زیادہ متحرک ہیں۔ جیسے مولانا خود متحرک ہیں، میرے جیسے کاہل اور سست آدمیوں سمیت سب کو متحرک دیکھنا چاہتے ہیں۔

28

اصلاحی تعلق

مولانا کا اصلاحی تعلق قطب الارشاد حضرت مولانا عبد العزیز رائپوری رحمۃ اللہ علیہ (حضرت گیارہ والے)سے رہا۔ حضرت کی وفات کے بعد حضرت سید نفیس الحسینی رحمۃ اللہ علیہ سے رہا اور خلافت سے بھی نوازے گئے۔ حضرت مولانا محمد یوسف لدھیانوی رحمۃ اللہ علیہ نے بھی آپ کو اعزازی خلافت سے نوازا ۔

بایں ہمہ آپ خانقاہی نظم کے بجائے تصنیف وتالیف، دعوت وتبلیغ اور مناظرہ کے میدان کے شہسوار ہیں۔ کئی ایک قادیانیوں کو شکست فاش سے دو چار کرچکے ہیں۔ جناب محمد متین خالد صاحب نے آپ کے مناظرے جمع کئے۔ جس کے کئی ایڈیشن شائع ہوچکے ہیں۔

بین الاقوامی مبلغ

مولانا سادہ اور پرمغز خطاب فرماتے ہیں جو ’’از دل خیز د بر دل ریزد‘‘ کا مصداق ہوتا ہے۔ آپ تقریباً ہرسال برطانیہ تشریف لے جاتے رہے ہیں اور برمنگھم میں منعقد ہونے والی عالمی ختم نبوت کانفرنس کے روح رواں ہوتے ہیں۔ نیز چناب نگر کانفرنس کے انتظام وانصرام میں آپ کا خاصا عمل دخل ہوتا ہے۔

تصنع سے مبرا

مندرجہ بالا مشائخ عظام سے روحانی تعلق نے آپ کو کئی ایک روحانی امراض سے بچایا ہوا ہے ۔ بندہ نے چالیس سالہ رفاقت میں جو کچھ محسوس کیا۔ ان میں سے ایک یہ کہ آپ کی مجالس میں غیبت نہیں ہوتی۔ نہ کسی کی غیبت کرتے ہیں اور نہ ہی سنتے ہیں۔ لہجہ میں اگر کبھی تلخی آجائے تو وہ تادیر نہیں رہتی۔ زبان کے سخت مگر دل کے نرم ہیں۔ اللہ پاک نے آپ کو بزرگان تحریک ختم نبوت کی روایات کا امین بننے کا شرف نصیب فرمایا ہے۔

29

چناب نگر مدرسہ کی تعمیرات

چناب نگر مدرسہ کی جدید تعمیرات آپ کی مرہون منت ہیں۔ مسجد ومدرسہ کی عمارت کی توسیع اور دیگر امور کی بذات خود نگرانی کرنا۔ مستری اور مزدوروں کے ساتھ مل کر کام کرنا، اس عمر میں بھی آپ پربس ہے۔

انداز گفتگو

انداز گفتگو اگرچہ شوخ نہیں لیکن موثر ہوتا ہے۔ جارحیت پر اتر آئیں تو جارحانہ گفتگو پر مہارت کا ملہ رکھتے ہیں۔ ان کی جارحیت قادیانیت اور دیگر باطل قوتوں کے خلاف ہوتی ہے۔ اگرچہ مولانا کا موضوع متعین ہے۔ لیکن دیگر دینی موضوعات پر بھی سیر حاصل گفتگو فرماتے ہیں۔ بات سے بات نکالنا اور اپنی بات منوانے کا انہیں ڈھنگ حاصل ہے۔ حضرت سید نفیس الحسینی رحمۃ اللہ علیہ سے اصلاحی تعلق کی وجہ سے اہل بیت اطہارؓ اور اصحاب رسول ﷺ کی تعریف وتوصیف پر سیر حاصل گفتگو کرتے ہیں۔ نیز یزیدیت کو آڑے ہاتھوں لیتے ہیں۔

عزیزی مولانا محمد بلال سلمہ، جو جامعہ اسلامیہ باب العلوم کہروڑ پکا کے فاضل اور مجلس کے شعبہ مالیات سے منسلک ہیں۔ انہوں نے کیسٹوں اور سی ڈیز سے آپ کے کئی ایک بیان اتارے اور کتابی شکل دے چکے ہیں۔ ان کی فرمائش پر چند ایک بے ربط باتیں تحریر کردی ہیں۔ آپ کی خطابت اور انداز بیان پر تو خطیب ہی تبصرہ کرسکتا ہے یا کوئی ادیب۔ سالہاسال کی رفاقت سے جو کچھ سمجھ میں آیا، لکھ دیا۔ اللہ پاک صاحب خطبات کے علم وعمل اور عمر میں برکت نصیب فرمائیں۔ آمین!

(مولانا) محمد اسماعیل شجاع آبادی

ناظم تبلیغ: عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت پاکستان

۱۲؍ربیع الاوّل ۱۴۳۸ھ/۱۲؍دسمبر۲۰۱۶ء

30

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ

تقریظ

حضرت اقدس مولانا صاحبزادہ خواجہ عزیز احمدصاحب مدظلہ

نائب امیر مرکزیہ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت پاکستان

الحمد ﷲ وسلام علیٰ عبادہ الذین اصطفیٰ۰ اما بعد!

اللہ رب العزت کے بعض مقبول بندوں کا وجود اس دنیا میں ایک انجمن کی حیثیت رکھتا ہے۔ وہ ہوتے تو فرد واحد ہیں لیکن رب کائنات ان سے اس دنیا میں اتنا کام لے لیتے ہیں جو بظاہر دیکھنے میں ایک انجمن یا ادارہ کا کام ہے۔

ہمارے بزرگوں میں سے حضرت مولانا محمد علی جالندھریؒ کا وجود بھی ایک انجمن کی مثال تھا۔ اللہ کریم نے اتنا ذرخیز دماغ ان کو دیا تھا کہ آج تک مجلس کا جو مضبوط ڈھانچہ موجود ہے، یہ صرف اور صرف اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم سے اور آپ کی ان تھک مخلصانہ کاوشوں کی بدولت موجود ہے۔ زمانہ قریب میں حضرت مولانا مفتی جمیل خان شہیدؒ کو لے لیجئے! جن سے اللہ رب العزت نے اقراء روضہ الاطفال کی صورت میں اتنا عظیم کام لیا ہے کہ ان کے بعد اگر کوئی چاہے بھی تو اتنا بڑا کام کرنا اس کے لئے ممکن نہیںہے۔

اسی سلسلہ ذہب کی ایک کڑی ہمارے بزرگ شاہین ختم نبوت حضرت مولانا اللہ وسایا صاحب مدظلہ ہیں۔ بزرگوں کی تربیت، مزاج شناسی اور ہمہ وقت کی محنت سے اللہ رب العزت نے آپ سے اتنا کام لیا ہے جس کے کرنے کے لئے انجمن کی ضرورت ہے۔تبلیغی پروگرام، اندرون اور بیرون ممالک کے اسفار، دن کہیں،رات کہیں، صبح کہیں اور شام کہیں۔ ان تمام تر تھکا دینے والی مصروفیات کے باوجود:

⭐ … احتساب قادیانیت کی مرتبہ ہزاروں صفحات پرمشتمل (۶۰)جلدیں۔

⭐ … وفاق المدارس کے نصاب میں شامل آئینہ قادیانیت۔

⭐ … چمنستان ختم نبوت کے گلہائے رنگا رنگ۔

⭐ … ایک ہفتہ شیخ الہندؒ کے دیس میں۔

31

⭐ … محاسبہ قادیانیت کا جاری سلسلہ۔

⭐ … قومی اسمبلی کی مصدقہ رپورٹ۔

⭐ … قادیانی شبہات کے جوابات۔

⭐ … فراق یاراں اور یاد دلبراں۔

⭐ … تحریک ختم نبوت ۱۹۵۳ء۔

⭐ … تحریک ختم نبوت ۱۹۷۴ء۔

⭐ … قومی تاریخی دستاویز۔

و دیگر کئی کتب کے علاوہ ماہنامہ لولاک کا سالہا سال سے چلنے والا دلچسپ و منفرد اداریہ اور تحفظ ختم نبوت کے لئے گرانقدر خدمات بھی موجود ہیں۔

حضرت مولانا اللہ وسایا صاحب کا تعارف ہی ختم نبوت ہے۔ آئندہ کئی صدیوں تک اس محاذ پر کام کرنے والے آپ کے کئے ہوئے کام کے محتاج رہیں گے۔ کئی نسلوں تک ان لازوال خدمات کو یاد رکھا جائے گا۔ ان شاء اللہ تعالیٰ!

آپ کی ساری زندگی چونکہ تحفظ ختم نبوت کے محاذ پر کام کرتے گزری ہے اس لئے اس بات کی اشد ضرورت تھی کہ اس تحریکی دور میں کی جانے والی آپ کی منفرد اور دل لبھانے والی علمی تقاریر کو جمع کرکے کتابی شکل میں شائع کیا جائے۔ عزیزم مولوی محمد بلال نے دو، تین سال کی لگاتار محنت سے اس اہم کام کو سرانجام دے کر اس محاذ پر کام کرنے والوں کے لئے بہت ہی بہترین تیار شدہ مواد سامنے رکھ دیا ہے۔ جس پر وہ ہم سب کی طرف سے ڈھیروں مبارک باد کے مستحق ہیں۔

بندہ نے اس کتاب کو پڑھا نہیں ہے مگر مولانا محمد اعجاز مصطفی صاحب کی رائے مبارک سے سو فی صد متفق ہے اور دعاگو ہے کہ اللہ رب العزت، صاحب خطبات اور مجلس کے تمام ساتھیوں کو بروز محشر اپنے بڑوں کے سامنے سرخرو فرمائیں۔

عزیزم حافظ محمد انس سلمہ کے شدید اصرار پر انہیں کے قلم سے یہ چند سطریں لکھوا دیں۔ اللہ رب العزت ہم سب کا حامی و ناصر ہو۔وما ذالک علی اللہ بعزیز!

عزیز احمد

خانقاہ سراجیہ کندیاں شریف میانوالی

32

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ

تقریظ

حضرت مولانا اعجاز مصطفی صاحب مدظلہ

الحمدللہ و سلام علیٰ عبادہ الذین اصطفیٰ

دین اسلام اللہ تبارک و تعالیٰ کا آخری دین، حضور اکرمa اللہ تعالیٰ کے آخری نبی اور قرآن کریم اللہ تبارک و تعالیٰ کی آخری کتاب ہے۔ اس دین کی حفاظت کا ذمہ اللہ تبارک و تعالیٰ نے خود لیا ہے۔

اس دین متین کی حفاظت کا کام اسباب کے درجہ میں اللہ تبارک وتعالیٰ نے اپنے آخری نبی کی اس آخری امت کے منتخب بندوں سے لیا ہے۔ ان منتخب اور چنیدہ بندوں اور ہستیوں میں ایک نام محترم و مکرم، بزرگوں کے صحبت یافتہ، ان کے مشن، ان کی فکر و کاز، ان کے انداز و اطوار سے متصف اور ان کے سو فیصد مزاج شناس ہمارے مخدوم حضرت مولانا اللہ وسایا صاحب دامت برکاتہم العالیہ ہیں۔ جن کی ساری زندگی حضور اکرمa کی ختم نبوت کے تحفظ اور چوکیداری میں گزری ہے۔ منکرین ختم نبوت کے مقابلہ میں تقریر کا میدان ہو یا تحریر کا، تعلیم کا میدان ہو یاتنظیم کا، مناظرہ کا میدان ہویا مباہلہ کا۔ ہر میدان میں حضرت مولانا دامت فیوضہم نے اپنے حریف اور مقابل کو نہ صرف یہ کہ شکست فاش دی بلکہ اسے چاروں شانے چت کیا ہے۔

اس کتاب میں شاہین ختم نبوت کے متنوع شعبہ ہائے علمی میں سے صرف ایک

33

شعبہ تقریر کے چند خطبات مثلاً: سیرت محمد مصطفیﷺ، کمالات اسم محمدﷺ، ختم نبوت کی اہمیت، امام الانبیاءﷺ کی فضیلتیں، مقام نبوت، تحفظ ناموس رسالت، تحفظ ختم نبوت، آیت خاتم النبیینa کی تفسیر، عظمت صحابہؓ و اہل بیتؓ، حیات عیسیٰ علیہ السلام (حصہ اول، دوم)، ظہور امام مہدی علیہ الرضوان، تحریک ختم نبوت۱۹۵۳ء، تحریک ختم نبوت ۱۹۷۴ء، امتناع قادیانیت آرڈی نینس، حقائق بولتے ہیں، مرزائیت کا تعاقب، قادیانیت کا زوال اور علمائے دیوبند کی قربانیاں کو بطور نمونہ پیش کیا جارہا ہے۔ جو منکرین ختم نبوت کے محاذ پر کام کرنے والوں کے لئے اپنی جگہ ایک مکمل دستاویز اور انسائیکلوپیڈیا ہے۔

راقم الحروف نے اس کتاب کو مکمل ازاول تا آخر پڑھا ہے۔ حضرت دامت برکاتہم نے جہاں جہاں قرآن کریم، احادیث طیبہ یا کسی کتاب کا نام لیا ہے، کتاب مع جلد اور صفحہ نمبر سب کی مکمل تخریج کی گئی ہے۔ اس اعتبار سے یہ کتاب مزید مستند اور معتمد بن گئی ہے۔

اللہ تبارک و تعالیٰ حضرت دامت برکاتہم کو صحت، عافیت اور ایمان کی سلامتی کے ساتھ لمبی زندگی عطا فرمائے اور آپ کا سایہ تادیر ہمارے سروں پر قائم و دائم رکھے۔ آمین بجاہ سید المرسلین!

وصلی اللہ تعالیٰ علیٰ خیر خلقہ سیدنا محمد و آلہ و صحبہ اجمعین۔

(مولانا) محمد اعجاز مصطفی

۷؍ رجب المرجب ۱۴۳۸ھ

34

سیرت محمد مصطفیﷺ

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ

اَلْحَمْدُللہِ وَکَفیٰ وَسَلامٌ عَلیٰ سَیِّدِ الرُّسُلِ وَخَاتَمِ الْاَنْبِیَاءِ وَعَلیٰ اٰلَہٖ وَاَصْحَابِہِ الَّذِیْنَ ھُمْ خُلاَصَۃُ الْعَرَبِ الْعَرَبَاءِ وَخَیْرُ الْخَلاَءِقِ بَعْدَ الْاَنْبِیَاءِ۔ اَمَّا بَعْدُ!

فَاَعُوْذُ بِاللہِ مِنَ الشَّیْطٰنِ الرَّجِیْمِ۔ بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ

قال اللہ تعالیٰ : وَمَا أَرْسَلْنَاکَ إِلَّا رَحْمَۃً لِّلْعَالَمِیْنَ (الانبیاء: ۱۰۷)

و قال النبیﷺ: اِنَّ اللّٰہَ بَعَثَنِیْ لِتَمَامِ مَکَارِمِ الْاَخْلَاقِ وَکَمَالِ مَحَاسِنِ الْاَفْعَالِ۔(مشکوٰۃ شریف، باب الفضائل سید المرسلین: ص۵۱۴)
اَللّٰھُمَّ صَلِّ عَلیٰ سَیِّدِنَا وَمَوْلٰنا مُحَمَّدٍ وَّعَلیٰ آلِ سَیِّدِنَا وَمَوْلٰنا مُحَمَّدٍ وَّبَارِکْ وَسَلِّمْ وَصَلِّ کَذَالِکَ عَلیٰ جَمِیْعِ الْاَنْبِیَاءِ وَالْمُرْسَلِیْنَ وَعَلیٰ الْمَلاَءِکَۃِ الْمُقَرَّبِیْنَ وَعَلیٰ عِبَادِ اللہِ الصَّالِحِیْنَ اَجْمَعِیْنَ اِلیٰ یَوْمِ الدِّیْنِ۔

تمہید

آپ حضرات نے بیانات سنے، میرے بھائی حضرت مولانا قاسم گجر صاحب تشریف لائے ہیں۔ لیکن ان کے آنے پر میں بڑی تسلی کے ساتھ براجمان ہو گیا ہوں۔ اس لئے کہ جتنا انہوں نے انتظار کروایا ہے۔ اب وہ اتنا انتظار خود کریں۔(نعرہ لگا) نعرہ تکبیر… اللہ اکبر!

میرے بھائیو! یہ ربیع الثانی کا مہینہ ہے اور ربیع الثانی میں عموماً حضور کریم ﷺ کی سیرت طیبہ کے حوالے سے گفتگو ہوتی ہے۔ میرا آپ حضرات سے وعدہ رہا بہت ہی اختصار کے ساتھ چند منٹوں میں آج کی مجلس میں صرف حضورﷺ کے رخ انور کے فضائل و برکات سے متعلق چند گزارشات عرض کروں گا:

35

سب سے بڑی نیکی حضورﷺ کا دیدار ہے

میرے بھائیو! آپ حضرات علماء کرام سے مسئلہ پوچھیں۔ دنیا میں ایمان کے بعد سب سے بڑی نیکی کون سی ہے؟

⭐ … نماز پڑھنا بہت بڑی نیکی ہے… لیکن سب سے بڑی نیکی نہیں۔

⭐ … تبلیغ کرنا بہت بڑی نیکی ہے …لیکن سب سے بڑی نیکی نہیں۔

⭐ … جہاد کرنا بہت بڑی نیکی ہے… لیکن سب سے بڑی نیکی نہیں۔

بھائیو! دنیا میں ایمان کے بعد سب سے بڑی نیکی نبوت کے چہرے کا دیدار ہوا کرتی ہے۔ یہ اتنی بڑی نیکی ہے کہ دنیا کی کوئی نیکی اس کا مقابلہ نہیں کر سکتی۔ اس وقت دنیا میں ایک ارب ستاون کروڑ مسلمان رہتے ہیں۔ ایک ارب ستاون کروڑ مسلمانوں میں آپ اور ہم سب ہیں۔ اگر اللہ ہم سب کو کروڑ سال کی زندگی دے دے اور وہ آپ کا میرا کروڑ سال بیت اللہ میں گزرے، جہاں پر ایک نیکی کے بدلے لاکھ نیکیوں کا ثواب ملتا ہے۔ ایک ارب ستاون کروڑ مسلمانوں کی کروڑ سال کی بیت اللہ کی عبادت ایک طرف اور ایک صحابی کا پلک جھپکتے حضورﷺ کو دیکھنا ایک طرف۔ پھر بھی دیدار نبویa کا ثواب زیادہ ہے۔ یہ اتنی بڑی نیکی ہے۔

حضورﷺ کے چہرے کا تذکرہ

بھائیو!حضورﷺ کے چہرئہ انور کے متعلق گفتگو کروں گا۔ میں نے آغاز کیا ہے شمائل ترمذی کی ایک روایت سے جو حضورﷺ کے متعلق حضرت ابن عباس ؓ نے بیان کی ہے:’’عَنْ اِبْنِ عَبَّاسٍ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُمَا قَالَ کَانَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ اَفْلَجَ الثَّنِیَّتَیْنِ اِذَا تَکَلَّمَ رُأِیَ کَالنُّوْرِ یَخْرُجُ مِنْ بَیْنِ ثَنَایَاہٗ‘‘ (مشکوٰۃ شریف: ۵۱۸)

حضرت ابن عباسؓ فرماتے ہیں کہ حضورﷺ کے جو دندان مبارک تھے۔ وہ نہ ایسے کہ ان میں فاصلہ ہو اور نہ ہی ایسے کہ ایک دوسرے کے اوپر چڑھے ہوئے ہوں۔ آپﷺ کے جتنے دانت مبارک تھے۔ اپنی اپنی جگہ ایسے فٹ تھے جیسے نگینہ اور موتی فٹ ہوتا ہے۔ آپس میں ایک دوسرے کے اوپر چڑھے ہوئے بھی نہیں تھے اور ان کے درمیان

36

فاصلہ بھی نہیں تھا۔ معمولی معمولی درمیان میں خلا تھا۔ سیدہ عائشہؓ فرماتی ہیں حضورﷺ اگر گفتگو کے دوران کسی بات پر مسکراتے تھے تو آپﷺ کی مسکراہٹ کی وجہ سے ان دندان مبارک سے ایسی دلفریب روشنی نکلتی تھی کہ اگر اس کا پرتو دیوار پر پڑتا تھا تو اللہ تعالیٰ دیوار کو بھی روشن کر دیتے تھے۔‘‘ سبحان اللہ!

حضرت سیدنا انسؓ سے بھی روایت ہے اور وہ بھی شمائل ترمذی میں مذکور ہے۔ فرماتے ہیں:’’فَنَظَرْتُ اِلٰی وَجْہِہٖ کَاَنَّہٗ وَرْقَۃُ مُصْحَفٍ … الخ‘‘(شمائل ترمذی، باب ما جاء فی وفاۃ رسول اa:۲۶)

فرماتے ہیں لوگو! ’’ایک دن میں نے حضورﷺ کے چہرے مبارک کی طرف دیکھا۔ مجھے بالکل ایسا لگا جیسے قرآن کا ورق کھلا ہوا ہو۔‘‘

حضورﷺ کی داڑھی مبارک میں سفید بالوں کی تحقیق

میرے بھائیو! حضورﷺ اقدس کے چہرہ انور کا تذکرہ شروع ہوا ہے تو میں ایک اوربات عرض کرتا ہوں۔ ہمارے ہاں ایک مستقل بحث ہے کہ حضورﷺ کی ڈاڑھی مبارک میں سفید بال کتنے تھے۔ مثلاً ایک روایت میں پانچ ہیں تو دوسری روایت میں دس ہیں۔ تیسری میں ہیں کہ پندرہ۔ وہ دیکھو جو حدیث کا منکر تھا، کھڑا ہوا، اس نے آنکھیں بھی نکالیں… چیخا بھی… چلایا بھی… شور بھی کرنا شروع کیا۔ حد ہو گئی کہ حضورﷺ کے چہرہ کا بیان ہے۔ صحابہ کرامؓ روایت کرنے والے ہیں۔ ایک کہتا ہے حضورﷺ کی داڑھی مبارک میں سفید بال پانچ تھے۔ ایک کہتے ہیں پندرہ تھے۔ انیس، بیس کا فرق ہوتا تو بات سمجھ میں آ سکتی تھی۔ کہاں پانچ اور کہاں پندرہ۔ یہ زمین وآسمان کے قلابے کون ملائے۔ حدیثوں کا اعتبار کوئی نہیں۔ اس منکر حدیث نے یہ اعتراض کیا۔ ہمارے محدثین حضرات میں ایک بڑ انام ہے علامہ کرمانی ؒ کا۔ وہ کھڑے ہوئے، انہوں نے کہا ٹھہر جاؤ۔ میں چیک کرتا ہوں کہ روایتوں میں کوئی کمزور تو نہیں۔ اگر کچھ کمزور ہیں تو انہیں ترک کر دیں گے۔ جو صحیح ہیں، اسے معیار بنا کر فیصلہ کریں گے کہ سفید بال کتنے تھے۔ انہوں نے احادیث مبارکہ کو چیک کیا۔ سندوں کو ناپا، تولا۔ فرمانے لگے: روایتیں تو ساری صحیح ہیں۔ پھر

37

یہ حضرت! فرق کیوں؟ انہوں نے تھوڑی دیر غور و فکر کی۔ مسکرا اٹھے۔ فرمایا: حضرت کیا ہوا؟ فرمایا: روایتیں ساری صحیح ہیں۔ ان میں کوئی اختلاف نہیں۔ حضرت! اختلاف تو ہے۔ کہاں پانچ اور کہاں پندرہ؟ فرمایا: کوئی اختلاف نہیں۔ دراصل ہوا یہ کہ ایک آدمی حضورﷺ کی خدمت میں آج آیا۔ اس نے دیکھا سفید بال پانچ ہیں۔ اس نے پانچ بیان کئے۔ ایک آیا چھ مہینے کے بعد۔ اس نے دیکھا کہ حضورﷺ کی داڑھی میں سفید بال دس ہیں۔ اس نے دس بیان کر دیئے۔ ایک آیا سال بعد، اس نے دیکھا سفید بال پندرہ ہیں، اس نے پندرہ بیان کر دیئے۔جس نے جتنے دیکھے، اتنے بیان کئے۔ تو روایات میں اختلاف نہیں۔

علامہ کرمانی ؒ نے بڑی خوبصورت بات کہی۔ لیکن پھر کھڑے ہوئے مولانا انور شاہ کشمیری رحمۃ اللہ علیہ، انہوں نے فرمایا: علامہ کرمانی ؒ سے۔ حضرت! آپ نے اپنی کہی، ذرا میری بھی سنو! مولانا آپ فرمائیں! آپ کیا کہتے ہیں؟ مولانا انور شاہ کشمیری رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا:

⭐ … آپ نے بھی روایتوں کو دیکھا۔

⭐ … روایتوں کو میں نے بھی دیکھا۔

⭐ … آپ کے نزدیک بھی روایتیں صحیح۔

⭐ … میرے نزدیک بھی روایتیں درست۔

پھر حضرت! یہ فرق کیوں؟۔ فرمایا: حضرت! فرق نہیں۔ حضرت! کیوں؟ مولانا انور کشمیری رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا: آپ فرماتے ہیں کہ فرق اس لئے نہیں کہ یہ واقعہ کا فرق نہیں، مواقع کا فرق ہے۔ آج، کل، پرسوں یہ مواقع کے فرق کی وجہ سے روایات میں اختلاف ہوا۔ واقعہ میں کوئی فرق نہیں لیکن میرے نزدیک تو ایک اور وجہ بھی ہے۔ حضرت! فرمائیں: آپ کے نزدیک کون سی وجہ ہے؟۔ مولانا انور شاہ کشمیری رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا: میرے نزدیک اس کی وجہ یہ ہے دراصل حضور اقدسa کے چہرئہ انور پر رب کریم کے انعامات کی، رب کریم کی رحمتوں کی اتنی بارش ہوتی تھی کہ کوئی آدمی نظر ٹکا کر نبوت کے چہرے کو دیکھ نہیں سکتا تھا۔ سبحان اللہ! وہ ساری اندازے کی باتیں ہیں۔ اندازہ زیادہ بھی ہو سکتا ہے، اندازہ تھوڑا بھی، گنے کسی نے نہیں تھے۔ وہ صرف اندازے کی بات ہے۔

38

میرے بھائیو! ذرا اور آگے چلتے ہیں۔ میں درخواست کرتا ہوں کہ ایک حدیث شریف کی کتاب ہے۔ اس کا نام ’’مستدرک الحاکم (ج۲، ص۵۷۱، کتاب التاریخ باب ذکر یوسفں)‘‘ ہے۔ اس کے اندر ایک روایت ہے:

’’اَنَّہٗ اُعْطِیَ نِصْفَ الْحُسْنِ وَقُسِمَ النِّصْفُ الْاٰخَرَ بَیْنَ النَّاسِ‘‘

حضورﷺ فرماتے ہیں: اللہ رب العزت نے جس وقت خوبصورتی کو پیدا کیاتو اس کے دو حصے کئے:

⭐ … ایک حصہ اللہ نے حضرت یوسف ں کو دیا۔

⭐ … ایک حصہ اللہ نے کل کائنات میں تقسیم کیا۔ (حوالہ مذکورہ بالا)

میرے بھائیو! اب اندازہ کریں سیدنا آدم ں کے زمانے سے لے کر آج تک۔ آج سے لے کر قیامت تک، جتنے بھی دنیا میں:

⭐ … چہرے ہیں۔

⭐ … پھول ہیں۔

⭐ … خوبصورتی ہے۔

یہ سارے ایک طر ف۔ مقابلے میں اکیلے سیدنا یوسف ں کی خوبصورتی ایک طرف۔ تو اندازہ خود کریں کہ حضرت سیدنا یوسف ں کتنے خوبصورت ہوں گے؟ کروڑوں رحمتیں نازل ہوںسیدہ عائشہؓ پر، انہوں نے مسئلہ اس طرح حل کیا، فرمایا: سیدنا یوسف ں بڑے حسین تھے۔ لیکن جن عورتوں نے حضرت یوسف ں کو دیکھا، انہوں نے اپنی انگلیاں کاٹیں۔ جنہوں نے محمد عربیﷺ کا حسن دیکھا انہوں نے اپنی گردنیں کٹوا دیں۔

میرے بھائیو! حضورﷺ نے فرمایا کہ: اللہ رب العزت نے جب حسن کو پیدا کیا اس کے دو حصے کئے۔ ایک حصہ اکیلے یوسف ں کو دیا۔ ایک حصہ اللہ نے کل کائنات میں تقسیم کیا۔ یہ روایت پڑھی۔

⭐ … محدثین نے تعجب سے دیکھا۔

⭐ … انہوں نے قلمیں نیچے رکھ دیں۔

39

⭐ … اپنی انگلی کو پکڑا۔

⭐ … دانتوں کے نیچے رکھ کر دبایا۔

⭐ … حیران و پریشان ہو بیٹھے۔

حضرت! کیا ہوا؟ فرمایا: یہ روایت آگے نہیں چلنے دے رہی۔ حضرت! وہ کیوں؟ اس لئے کہ پریشانی کی بات یہ ہے کہ حضورﷺ فرماتے ہیں کہ: اللہ نے ایک حصے کو کل کائنات میں تقسیم کیاتو اس کا مطلب یہ ہے کہ جتنا سب کو حسن ملا، اتنا ہی حضورﷺ کو ملا۔ روایت سمجھ میں نہیں آ رہی۔ وہ دیکھو! یہی محدث دو منٹ کے بعد کہتے ہیں: ذرا ٹھہر جاؤ۔ روایت سمجھ آ گئی۔ حضرت! وہ کیسے؟ فرمایا! میں نے روایت کو دیکھا تو مجھے یہ بات سمجھ میں آئی کہ اس روایت میں حضورﷺ نے سیدنا یوسف ں اور کائنات کا ذکر کیا ہے۔ اپنی ذات کا ذکر نہیں کیا۔ اب بھائیو! یہاں سے ایک مسئلہ سنیں۔ وہ مسئلہ یہ کہ نبی خوبصورت ہوتا ہے اپنے زمانے میں۔ جس زمانے میں نبی آئے، وہ اتنا خوبصورت ہوتا ہے کہ اس زمانے کے سارے لوگ مل کر اس نبی کی شان کا، اس نبی کے حسن کا مقابلہ نہیں کر سکتے۔

⭐ … حسب و نسب کے اعتبار سے۔

⭐ … چہرے مہرے کے اعتبار سے۔

⭐ … حسن و خوبصورتی کے اعتبار سے۔

⭐ … درجہ و امتیاز کے اعتبار سے۔

⭐ … ہر اعتبار سے نبی اعلیٰ ہوتا ہے۔

تصویر کا دوسرا رخ

بھائیو! اب مسئلے کو آگے لے چلنے سے پہلے بہت مناسب ہو گا کہ آپ آج کی مجلس میں اعلان کریں اپنے عقیدے کا اور وہ یہ کہ:

⭐ … نبی خوبصورت ہوتا ہے۔

⭐ … نبی حسین ہوتا ہے۔

کہہ دو میرے ساتھ کہ نبی؟… خوبصورت ہوتا ہے۔

40

⭐ … کوجھا ہو۔

⭐ … بدشکلا ہو۔

⭐ … منہ نہ متھا، جن پہاڑوں لتھا۔

یہ الو کا چرخہ کچھ بھی ہو سکتا ہے لیکن مل کے کہہ دو کہ اللہ کا نبی؟… نہیں ہو سکتا۔ تمہیں کیا ہو گیا ہے؟ میں کہتا ہوں زور سے بولو۔ تم آہستہ بولتے ہو۔ وہ ایک آدمی تھا اس کی خیر سے بیگم صاحبہ دریا کے اندر ڈوب گئی۔ جدھر سے پانی آ رہا تھا، ادھر کو چل پڑے۔ کسی نے کہا کیا ہوا؟ کہنے لگے میری عورت ڈوب گئی، تلاش کرنے جا رہا ہوں۔ انہوں نے کہا: رب کے ولی! جدھر کو پانی جا رہا ہے ادھر کو جائیں۔ وہ ادھر گئی ہو گی۔ انہوں نے کہا: نہیں! وہ سارے کام الٹے کرتی تھی۔ میں کہتا آج روٹی کی ضرورت نہیں، خیر سے وہ ڈھیر ساری پکا کر رکھ دیتی تھی۔ میں کہوں کہ آج بہت بھوک لگی ہے۔ وہ ایک چپاتی بھی نہیں دیتی تھی۔ وہ الٹے کام کرتی تھی۔ یہ جو ڈوبی ہے، سارے اس طرف جاتے ہیں جدھر پانی جاتا ہے۔ یہ الٹی گئی ہو گی، جدھر سے پانی آ رہا ہے۔ تم بھی ایسے بن گئے ہو۔ شریفو! کیا کرتے ہو، میں نے کہا زور سے کہو: جو بدصورت ہو، یہ کچھ بھی ہو سکتا ہے۔

⭐ … یہ اللہ کا نبی؟… نہیں ہو سکتا۔

⭐ … ذرا زور سے ؟…نہیں ہو سکتا۔

⭐ … یہ اللہ کا نبی؟… نہیں ہو سکتا۔

⭐ … یہ اللہ کا نبی؟… نہیں ہو سکتا۔

افریقہ میں ایک قادیانی نے خیر سے اپنے گھر میں ایک رسالہ منگوایا اور وہ قادیانی جماعت نے چھاپا تھا۔ اس کے اوپر مرزا غلام احمد قادیانی کا فوٹو۔ اس کی شکل بالکل سکھوں جیسی۔ اللہ معاف کرے، اس کے اوپر تصویر لگی ہوئی مرزا قادیانی کی۔ اس کا بیٹا تھا، یونیورسٹی میں سائیکالوجی نفسیات کا مضمون پڑھ رہا تھا۔ خود لڑکا پڑھنے والا۔ وہ بھی قادیانی، یونیورسٹی میں پڑھتا ہے۔ دوپہر کو یونیورسٹی سے پڑھ کر گھر آیا۔ گاڑی گیراج میں کھڑی کی۔ کتابیں اٹھا کر آیا۔ ان کو میز پر رکھا۔ کپڑے تبدیل کرنے لگا۔ اچانک اس کی میز پر نظر پڑی۔ تازہ انگریزی کا رسالہ، یوں کر کے دیکھا، باپ سے پوچھتا ہے یہ کس کا فوٹو ہے؟

41

انہوں نے کہا: تجھے معلوم نہیں۔ یہ تو ہمارے (Prophet) نبی جناب مرزا غلام احمد قادیانی کا فوٹو ہے۔ اس نے یوں کر کے دیکھا، رسالہ کو اٹھایا، یوں کر کے پھینکا، پھر باپ کو کہا: یہ کسی سکھ کا فوٹو ہو سکتا ہے۔ اللہ کے نبی کا فوٹو نہیں ہو سکتا ۔

جملہ انبیاء کرام علیہم السلام کا گلدستہ

میرے بھائیو! میں درخواست کرتا ہوں آپ دوستوں سے۔ نبی حسین ہوتا ہے۔ اب یہ دیکھو اب اللہ تعالیٰ نے حضورﷺ کو کتنی خوبصورتی دی۔ اب اس کو یوں سمجھیں۔ حضرت آدم ں سے لے کر حضرت سیدنا عیسیٰ علیہ السلام تک ایک لاکھ چوبیس ہزار کم و بیش انبیاء کرام علیہم السلام آئے۔ (مشکوٰۃ: باب الانبیاء علیہم السلام:۵۱۱)

ہر نبی کے چہرے کو حسن کا پھول سمجھیں۔ ایک لاکھ چوبیس ہزار انبیاء کرام علیہم السلام کے حسن کے ایک لاکھ چوبیس ہزار پھول اکٹھے کریں۔ ان کو اکٹھا کرکے ان کا بنائیںگلدستہ، اس گلدستے کا نام تھا ،محمدﷺ ۔

آپﷺ کا چہرہ انور چودھویں رات کے چاند سے زیادہ چمکدار

میرے بھائیو! اب میں درخواست کرتا ہوں۔ ذرا آگے چلیں، حضور سرور کائناتﷺ کے چہرہ اقدس کا بیان، وہ دیکھو!

⭐ … آ ج چودھویں کی رات۔

⭐ … شہر مدینہ طیبہ۔

⭐ … جگہ مسجد نبوی۔

⭐ … ذات محمد عربیﷺ کی۔

ایک صحابیؓ کو عشاء کی نماز کے بعد کیا خیال مبارک آیا۔ مسجد نبوی میں آپﷺ لیٹے ہوئے ہیں۔’’وَعَلَیْہِ حُلَّۃ ٌحَمَرَاءُ فَاِذَا ھُوَ اَحْسَنُ عِنْدِیْ مِنَ الْقَمَرِ‘‘

(مشکوٰۃ شریف: ۵۱۸)

حضورﷺ نے ایک یمن کی بنی ہوئی سرخ دھاریوں والی چادر پاؤں مبارک سے لے کر سینہ مبارک تک اپنے اوپر اوڑھ رکھی ہے۔ حضورﷺ چت لیٹے ہوئے ہیں۔

42

آپﷺ کا چہرہ اقدس کھلا ہے۔ وہ دیکھو ایک صحابی رسول حضرت جابرؓ چلے ہیں۔ گھر سے آئے، مسجد نبوی میں، دیکھا محمد عربیﷺ کو، ان کے دل میں معلوم نہیں کیا خیال آیا۔ آئے حضورﷺ کے قدموں میں کھڑے ہو گئے۔ اب مسئلہ یاد رکھو! نبی کی معراج یہ ہے کہ رب تعالیٰ کے حضو ر پہنچے۔ امتی کی معراج یہ ہے کہ اپنے نبی کے قدموں میں پہنچے۔ اس صحابی کے مقدر کو دیکھو حضورﷺ کے قدموں میں کھڑے ہیں۔ فرماتے ہیں: میرے دل میں خیال آیا۔ آج چودھویں رات کا چاند آسمانوں پر مسکراتا ہے۔

⭐ … محمد عربیﷺ کا چہرہ بھی میرے سامنے۔

⭐ … چودھویں رات کا چاند بھی میرے سامنے۔

مجھے فیصلہ کرنا چاہئے کہ حضورﷺ زیادہ خوبصورت ہیں یا چاند۔ وہ فرماتے ہیں: میں کبھی حضورﷺ کے چہرے کو دیکھتا، کبھی چاند کو دیکھتا تھا۔

⭐ … چاند سے نظر ہٹتی ہے، حضورﷺ کے چہرے پر پڑتی ہے۔

⭐ … حضورﷺ کے چہرے سے ہٹتی ہے، چاند پر پڑتی ہے۔

بار بار دیکھنے کے بعد میرے دل نے گواہی دی کہ خدا کے بندے کس چکر میں پڑ گئے؟ ایک چاند نہیں، کئی چاند بھی اکٹھے ہوں، توبھی آمنہ کے لالa کے چہرے کا مقابلہ نہیں کر سکتے۔

آپﷺ کا پسینہ مبارک

میرے بھائیو! میں درخواست کرتا ہوں۔ وہ دیکھو! آج رحمت عالم ﷺ: ’’اَنَّ النَّبِیَّ ﷺ کَانَ یَاْتِیْھَا فَیَقِیْلُ عِنْدَھَا فَتَبْسُطُ نَطْعاً فَیَقِیْلُ عَلَیْہٖ… الخ‘‘(مشکوٰۃ شریف، باب اسماء النبیﷺ و صفاتہ: ص ۵۱۷)

دوپہر کے وقت گھر میں لیٹے ہیں۔ گرمی کا موسم ہے۔ آپﷺ کے جبین اقدس پر، آپ کی پیشانی مبارک پر گرمی کے موسم کی وجہ سے پسینے کے قطرات ہیں۔ موتیوں کی مانند یہاں پر نمودار، ایک صحابیہ ام سلیمؓ ہیں حضورﷺ کی قریبی عزیزہ۔ یہ آئیں۔ انہوں نے دیکھا۔ حضورﷺ کی پیشانی مبارک پر پسینے کے قطرات کو۔ نامعلوم کہ ان کے دل میں

43

کیا خیال آیا۔ ادھر سے اٹھائی شیشی۔ کھولا ڈھکنا، ادھر لے لی روئی۔ آئیں، حضورﷺ کی جبین اقدس پر پھیری روئی، آپﷺ کے پیشانی مبارک پر وہ جو پسینے کے قطرات تھے۔ ان کو جذب کیا۔ روئی کو اس شیشی میں نچوڑا۔ دوبارہ روئی پھیرنے لگی ہیں آپﷺ کے جبیں اطہر پر۔ رحمت عالم ﷺ نے آپ کو دیکھا،فرمایا! اے بی بی اماں! کیا کر رہی ہو؟ انہوں نے عرض کی: یا رسول اللہ ﷺ!آپ کو معلوم ہے کہ عرب کی عورتیں اپنی بچیوں کو جہیز میں خوشبو دیتی ہیں۔ میں غریب عورت ہوں۔ بی بی! دنیا کے اعتبار سے تو غریب ہو گی۔ لیکن مقدر کی اتنی دھنی ہے کہ ساری کائنات کی ملکہ ہیں۔ تیرے مقدر پر قربان کہ آج تو یہ عمل کیا کر رہی ہے؟ تو انہوں نے عرض کی: یا رسول اللہ ﷺ! معلوم ہے آپ کو۔ عرب کی عورتیں اپنی بچیوں کے جہیز میں خوشبو دیتی ہیں۔ میرے پاس خوشبو تو ہے نہیں۔ باقی عورتیں اپنی بچیوں کے جہیز میں خوشبو دیں گی۔ میں آپ کی نبوت کا پسینہ پیش کروں گی۔

مولانا محمد ادریس کاندھلوی ؒ نے سیرت مصطفیﷺ میں زرقانی کے حوالے سے لکھا ہے کہ جس بچی کے جہیز میں حضورﷺ کا پسینہ پیش کیا گیا۔ جس بچی نے رحمت عالم ﷺ کے پسینہ مبارک کو استعمال کیا۔ اس بچی کی تین نسلوں میں حضورﷺ کے پسینے کی خوشبو آیا کرتی تھی۔

مدینہ طیبہ کا تذکرہ

میرے بھائیو! میں درخواست کرتا ہوں، حضورﷺ کے پسینہ کا تذکرہ ہوا۔ چلو حضور ﷺ کے مدینے کا تذکرہ ہو جائے۔ ذرا توجہ کرو! آج دوپہر کا وقت ہے۔ گرمی کا موسم۔ حضورﷺ مدینہ طیبہ سے باہر تشریف لائے۔ اس زمانے میں مدینہ تھا کتنا، اتنا سا تو شہرتھا۔ باہر بالکل مدینہ طیبہ کے مضافات میں وہاں پہنچے۔ ایک درخت ہے گھنا سایہ۔ نامعلوم کہ آپﷺ کے دل مبارک میں کیا خیال آیا کہ اس کے سائے میں حضورﷺ اکیلے لیٹ گئے۔ ادھر حضورﷺ لیٹے ہیں۔ ایک یہودی جس کے ہاتھ میں تلوار تھی، اس نے دیکھا کہ رحمت عالم ﷺ لیٹے ہوئے ہیں۔ اب اس نے سوچا:

⭐ … حضورﷺ سوئے ہوئے ہیں۔

44

⭐ … میں جاگ رہا ہوں۔

⭐ … حضورﷺ بے خبر ہیں۔

⭐ … میں چوکنا ہوں۔

⭐ … حضورﷺ کے ہاتھ میں کچھ نہیں۔

⭐ … میرے ہاتھ میں تو تلوار بھی ہے۔

⭐ … اس نے تلوار کو نیام سے نکالا۔

⭐ … پھر گھمایا فضا میں۔

لگائی دوڑ آ کر کھڑا ہوا محمد عربیﷺ کے سینے کے برابر۔ ادھر آنکھ کھلی حضورﷺ کی۔ کہہ دو سبحان اللہ …سبحان اللہ ۔

نبی اور امتی کی نیند میں فرق

بھائیو! اب ایک مسئلہ عرض کرتا ہوں کہ:

⭐ … نبی کی نیند میں اور امتی کی نیند میں بھی فرق ہے۔

⭐ … نبی کی موت میں اور امتی کی موت میں بھی فرق ہے۔

شریعت کہتی ہے آپ باوضو سوئیں۔ آنکھ لگ جائے تو شریعت کہتی ہے جب اٹھو دوبارہ وضو کرو۔ نیند کی وجہ سے تمہارا وضو جاتا رہا۔ تمہاری نیند ناقض وضو ہے۔ نبی وضو سے سو گئے۔ جب اٹھے شریعت کہتی ہے نبی کو وضو کرنے کی ضرورت نہیں۔یہ مسئلہ سمجھ میں نہیں آتا۔ وہ بھی سوئے، یہ بھی سوئے۔ وہ سوئے تو شریعت نے کہا وضو ٹوٹ گیا۔ یہ سوئے تو شریعت نے کہا وضو نہیں ٹوٹا۔ یہ فرق کیوں؟ شریعت نے کہا: میاں! عام آدمی جس وقت سوتا ہے۔ اس کی آنکھ بھی سوتی ہے۔ اس کا دل بھی سوتا ہے:’اِنَّ الْعَیْنَ نَاءِمَۃٌ وَ الْقَلْبُ یَقْظَانِ‘‘ (مشکوٰۃشریف، باب الاعتصام بالکتاب و السنۃ:ص۲۷)

جب رب کا نبی سوتا ہے۔ اس کی آنکھ نیند کرتی ہے۔ نبی کا دل خدا کو یاد کرتا ہے۔ عام آدمی سوئے گا، وضو چلا جائے گا۔ نبی سوئے گا، اس کے وضو پر کوئی اثر نہیں پڑے گا: ’’اِنَّ الْعَیْنَ نَاءِمَۃٌ وَ الْقَلْبُ یَقْظَانِ‘‘

45

نبی اور امتی کی موت میں فرق

اسی طرح نبی کی موت میں اور امتی کی موت میں بھی فرق ہے۔ آپ کے اور میرے پاس موت کا فرشتہ اچانک آئے گا:

⭐ … نہ آؤ پوچھے گا، نہ تاؤ۔

⭐ … یہاں گردن پر رکھا انگوٹھا۔

⭐ … گلا دبا یا۔

⭐ … نکالی روح۔

⭐ … یہ جا، وہ جا۔

اور جب نبی کے پاس آئے فرشتہ تو اچانک نہیں آتا۔ بلکہ:

⭐ … دروازہ کھٹکھٹاکے۔

⭐ … کنڈی ہلا کے۔

⭐ … گردن جھکا کے۔

⭐ … اجازت مانگ کے۔

سلام کر کے نبی کی خدمت میں فرشتہ آتا ہے۔ چلنے سے پہلے۔ انتقال سے پہلے نبی کو تسکین دی جاتی ہے۔ جیسا کہ حدیث شریف میں ہے:’’قَالَ جِبْرَءِیْلُ ھَذَا مَلَکُ الْمَوْتِ یَسْتَاْذِنُ عَلَیْکَ مَا اِسْتَاْذَنَ عَلٰی اٰدَمِیٍّ قَبْلَکَ وَلَا یَسْتَاْذِنُ عَلٰی اٰدَمِیٍّ بَعْدَکَ قَالَ اِئْذَنْ لَہٗ فَاَذِنَ لَہٗ فَسَلَّمَ عَلَیْہِ‘‘ (مشکوٰۃ، وفات النبیﷺ:ص۵۴۹)

اہل سنت کے ہاں یہ مسلم مسئلہ ہے کہ نبی سے پوچھا جاتا ہے، تم اس دنیا میں رہنا چاہتے ہو یا رب کے حضور جانا چاہتے ہو۔ آگے چلنے سے پہلے پھر ایک دفعہ مسئلہ سنو!

⭐ … نبی کے پاس فرشتہ آئے۔

⭐ … دروازہ کھٹکھٹا کے۔

⭐ … کنڈی ہلا کے۔

⭐ … گردن جھکا کے۔

46

⭐ … اجازت مانگ کے۔

سلام کر کے آتا ہے۔ اجازت نہ ملے۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں: میں اپنے قانون میں تبدیلی کر دوںگا۔ لیکن بغیر اجازت فرشتے کوبھی میرے نبی کے گھر میں قدم رکھنے کی اجازت نہیں۔

مرزا قادیانی کی موت کا واقعہ

بھائیو! پھر مسئلہ سمجھو: سچے نبی کے پاس فرشتہ آئے، اجازتیں لے کر آتا ہے۔ کنڈی کھٹکھٹا کے سلام پیش کرتا ہے۔ جھوٹے نبی کے پاس آئے فرشتہ ’’ٹٹی سے باہر نئیں نکلن دیندا‘‘ (مرزے پہ لعنت بے شمار)

قادیانی خود لکھتا ہے: مرزا قادیانی کا بیٹا اپنی ماں سے جو مرزے کی بیوی تھی، اس سے نقل کرتا ہے، بیان کرنے والی ’’نصرت جہاں‘‘ اپنے خاوند مرزا غلام احمد کے متعلق اپنے بیٹے کو بتاتی ہے کہ: ’’بیٹا! بیٹے کا نام بشیراحمد ہے، کہتی ہے بشیر احمد، جو تمہارے ڈیڈی تھے۔ کھانا کھاتے وقت اسے دست آیا۔‘‘

(سیرت المہدی، ص۱۱)

جانتے ہو دست کسے کہتے ہیں؟

⭐ … اوپر سے کھائے جا رہے ہیں۔

⭐ … نیچے سے نکالے جا رہے ہیں۔

یہ ڈبل بیرل خان۔ یہ کہو میاں! جو اس قسم کا آدمی ہو، یہ الو کا چرخہ… حرام خور… کچھ بھی ہو سکتا ہے۔ اللہ کا نبی؟ …نہیں ہو سکتا۔ ذرا زور سے بولو کہ: اللہ کا نبی؟… نہیں ہو سکتا۔

مرزائیوں کو چیلنج

اچھا بھائیو! میں درخواست کرتا ہوں آپ دوستوں کی خدمت میں۔ کئی دفعہ مرزائیوں سے ہمارے مناظرے ہوئے۔ ہم نے مناظروں میں قادیانیوں کو کہا کہ قادیانیو! ہم دعا کرتے ہیں: یا اللہ! جو تو نے ہمارے نبی کو موت دی۔

⭐ … ہمیں بھی وہی موت نصیب فرما… آمین۔

47

⭐ … ہمارے ماں باپ کو وہی موت نصیب فرما… آمین۔

⭐ … ہماری آل اولاد کو وہی موت نصیب فرما…آمین۔

⭐ … ہمارے دوستوں، بھائیوں کو وہی موت نصیب فرما… آمین۔

⭐ … ہمارے اساتذہ اور مشائخ کووہی موت نصیب فرما… آمین۔

آئیں! قادیانیوں کو کہا تم بھی دعا کرو کہ جو مرزے کو موت آئی تھی۔ تمہیں بھی خیر سے وہ نصیب ہو۔ قادیانی آئیں بائیں کر کے، ادھر ادھر کر کے ٹال جاتے ہیں۔ وہ آمین نہیں کہتے۔ انہیں بھی پتہ ہے کہ ادھر آمین کہا نہیں اور ادھر کام شروع ہوا نہیں۔

اچھا دوسرا مسئلہ سنو۔ مرزا قادیانی مرا لاہور میں۔کس جگہ؟ ٹٹی خانے میں۔ اوشریفو! مرزا قادیانی مرا لاہور میں اور دفن ہوا قادیان میں۔

نبی کی تدفین کی جگہ

حضورﷺ کا وصال ہوا تو مختلف آراء آئیں آپ کی تدفین کے بارہ میں:

⭐ … کسی نے کہا مکہ مکرمہ میں۔

⭐ … کسی نے کہا مسجد نبوی کے صحن میں۔

⭐ … کسی نے کہا فلاں جگہ۔

⭐ … کسی نے کہا فلاں جگہ۔

توتشریف لائے سیدنا صدیق اکبرؓ۔ مشکوۃ شریف کے اندر روایت ہے سیدنا صدیق اکبرؓ نے فرمایا: لوگو! میں نے حضورﷺ سے سنا، حضورﷺ فرماتے تھے۔ جہاں نبی کی وفات ہوتی ہے، وہیں پر تدفین ہوتی ہے۔ لیکن بھائیو! ایک اور روایت ہے، وہ بھی حضرت سیدنا صدیق اکبرؓ سے، وہ بھی مشکوۃ شریف کی۔ اس روایت میں تو کمال ہو گیا۔ اس کے الفاظ یہ ہیں: ’’عَنْ عَاءِشَۃؓ قَالَتْ: لَمَا قُبِضَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ اِخْتَلَفُوْا فِیْ دَفَنِہِ فَقَالَ اَبُوْبَکَرؓ: سَمِعْتُ مِنْ رَّسُوْلِ اللّٰہِa شَیْئاً قَالَ: مَا قَبَضَ اللّٰہُ نَبِیًا

48

اِلَّا فِی الْمَوْضِعِ الَّذِیْ یُحِبُّ اَنْ یُدْفَنَ فِیْہِ اَدْفِنُوْہٗ فِیْ مَوْضِعِ فِرَاشِہٖ‘‘(مشکوٰۃ شریف،وفات النبیﷺ: ص۵۴۷)

سیدنا صدیق اکبرؓ فرماتے ہیں: میں نے حضورﷺ سے سنا کہ اللہ تعالیٰ جہاں اپنے نبی کی تدفین چاہتے ہیں وہاں اپنے نبی کی موت واقع کرتے ہیں۔

میں نے قادیانیوں سے پوچھا کہ مرزا مرا لاہور میں، دفن ہوا قادیان میں۔ اگر قادیانیوں کے نزدیک مرزا سچا تھا، اسے کہاں دفن ہونا چاہئے تھا؟۔ (لیٹرین میں) تو بھائیو! میں درخواست کرتا ہوں:

⭐ … مرزا جمیا تے کانٹراں۔(یعنی پیدا ہوا تو کانا)

⭐ … مرزا جمیا تے کانٹراں۔(یعنی پیدا ہوا تو کانا)

⭐ … مریا تے ٹٹی خانہ۔

⭐ … ماں دا نام گھسیٹی۔

⭐ … فرشتے دا نام ٹیچی۔

یہ کہتے ہیںکہ نبی تھا۔یہ الو کا چرخہ کچھ بھی تھا۔ مگر مل کے کہہ دو کہ اللہ کا نبی؟… نہیں تھا۔ میں نے یہ جان بوجھ کے خوش طبعی کی باتیں آج مجلس میں کیں۔ جان بوجھ کے کہہ رہا ہوں، تاکہ آپ دوست سمجھیں کہ ہر آدمی کی رعایت ہو سکتی ہے۔ مل کے کہہ دو: اللہ کے نبی کے دشمن سے…؟ رعایت نہیں ہو سکتی۔

نبی بہادر ہوتاہے

بھائیو! مسئلہ سمجھو، جس طرح حضورﷺ سے محبت کرنا ایمان کی نشانی ہے۔ اسی طرح حضورﷺ کے دشمن کے ساتھ بغض رکھنا یہ بھی ایمان کی نشانی ہے۔

بھائیو! توجہ کرو۔ میں اپنی بات کو لمبا نہیں کروں گا۔ وعدہ کیا تھا۔ توبھائیو! اب میں عرض کرتا ہوں۔ حضورﷺ لیٹے ہیں۔ وہ دشمن اس نے لگائی چھلانگ۔ ہاتھ میں تلوار لہراتا ہوا، للکارتا ہوا آکر کھڑا ہوا حضورﷺ کے سینے کے برابر۔ ادھر کھلی نگاہ حضورﷺ کی۔ اس نے آگے سے پکارا کہ: اے محمد عربیﷺ! ذرا زور سے کہہ دو: صلی اللہ علیہ وسلم۔

⭐ … یہاں کی اینٹ۔

49

⭐ … یہاں کا ذرہ ذرہ۔

⭐ … یہاں کے بازار۔

⭐ … یہاں کے در و دیوار۔

آپ کے میرے ایمان کی گواہی دیں گے۔ کہہ دو زور سے۔ a۔ کھلی نگاہ حضورﷺ کی، دشمن نے کہا: اے محمد عربیﷺ! بتاؤ آپﷺ کو مجھ سے کون بچائے گا؟ حضورﷺ نے لیٹے لیٹے اس کی بات کو جس وقت سنا۔

⭐ … آپﷺ کی آواز میں کوئی لرزہ پیدا نہیں ہوا۔

⭐ … آپﷺ کے جسم پر کوئی گھبراہٹ کے اثرات نہیں۔

⭐ … چہرے مبارک پر کوئی پریشانی کا عالم نہیں۔

اب میں کیسے سمجھاؤں کہ نبی کتنا بہادر ہوتا ہے؟بھائیو! ذرا توجہ کرو۔ سیدنا علی المرتضیٰؓ، سیدنا خالد بن ولیدؓ جیسے بہادر، جن کے امتی تھے، اس نبی کی بہادری کا کیا عالم ہوگا؟

⭐ … کہہ دو نا کہ نبی … بہادر ہوتا ہے۔

⭐ … زور سے کہہ دو کہ نبی… بہادر ہوتا ہے۔

بھائیو! اسی پر تو میں نے مسئلہ سمجھانا ہے کہ نبی بہادر ہوتا ہے۔ زور سے کہہ دو نبی؟ … بہادر ہوتا ہے۔ اسی کے ساتھ مسئلہ یہ کہ جو بزدل ہو، یہ الو کا چرخہ کچھ بھی ہو سکتا ہے۔ مل کے کہہ دو کہ اللہ کا نبی؟ … نہیں ہو سکتا۔ قادیانیوں کی کتاب، کتاب کا نام ہے ’’تذکرہ‘‘۔ اب میں کیا کروں۔ جس وقت میں پڑھتا ہوں قادیانی ملعون کے حوالے میرے پاؤں کی زنجیر بن کے میرا سفر روک دیتے ہیں تو مرزے قادیانی کی کتاب’’ تذکرہ‘‘ اس میں کہتا ہے کہ:

’’ایک دن میں نے دیکھا میرے پاس کبوتر ہیں۔ میں نے کبوتر کو پکڑ رکھا ہے۔ آگے مجھے نظر آتی ہے بلی۔ کبوتر کو اٹھا کر کے اپنی بغل میں ڈال کے اوپر سے چادر ڈال کے بوکل بنالی کہ بلی کبوتر پر حملہ آور نہ ہو جائے۔‘‘

(تذکرہ، ص۴۸۳ طبع چہارم)

بھائیو! میں نے قادیانیوں سے کہاکہ جو بلی سے ڈرے، یہ الو کا پٹھا کچھ بھی ہو سکتا ہے۔ مل کے کہہ دوکہ اللہ کا نبی نہیں ہو سکتا۔ بولو کہ اللہ کا نبی … ؟ نہیں ہو سکتا۔ اچھا پھر اس

50

کے دجل کو دیکھو۔ اچانک وہ نظارہ بدلہ۔ کہتا ہے: میں نے خواب میں مرغی کی طرف دیکھا وہ میرے ساتھ گفتگو کرنے لگی۔ بھائی کیا گفتگو کی؟ کہتا ہے، اس مرغی نے کہا کہ:’’وان کنتم مسلمین‘‘(یعنی اگر تم مسلمان ہو)

(تذکرہ، ص۵۸۰)

میں نے کہا: ماشاء اللہ! وہ مرغی بھی کہتی تھی کہ الو کا پٹھا تو کافر ہے، مسلمان نہیں۔ خیر بھائیو! مل کے کہہ: دو نبی بہادر ہوتا ہے۔ اب اس دشمن نے اپنی تلوار کو لہرایا۔ لہرا کے حضورﷺ سے پوچھتا ہے: اے محمد عربی(ﷺ)! آپ کو مجھ سے کون بچائے گا؟۔ حضورﷺ اسی طرح لیٹے لیٹے اس کی طرف دیکھ کے مسکرائے۔ اس نے کہا کون بچائے گا؟ حضورﷺ مسکرا کے فرماتے ہیں میرا اللہ!۔ اب ذراتوجہ کرو، نام خدا کا، بول مصطفیﷺ کا۔کیا جلال کا عالم ہوگا۔بزرگوں کی مجلس میں جائیں۔ جہاں:

⭐ … ذکر و فکر کی محفلیں ہوتی ہیں۔

⭐ … مجلسیں لگتی ہیں۔

⭐ … جس وقت اللہ اللہ کی ضربیں لگتی ہیں۔

⭐ … اللہ ہو کی تسبیح چلتی ہے۔

اس طرح معلوم ہوتا ہے جس طرح درودیوار بھی ساتھ ہی ذکر اللہ میں مشغول ہوں۔ اگر آپ کے چودھویں صدی کے ایک بزرگ کی مجلس ذکر کی برکات کا یہ عالم ہے تو محمد عربیﷺ کی زبان اقدس کا کیا عالم ہو گا؟ ادھر حضورﷺ نے فرمایا: ’’اللہ‘‘۔

آپ سب میرے ساتھ مل کے کہہ دیں کہ:

⭐ … بچانے والا کون؟…اللہ۔

⭐ … زور سے بولو کون؟… اللہ۔

⭐ … رزق دینے والا کون؟… اللہ۔

⭐ … موت وحیات کا مالک کون؟… اللہ۔

⭐ … عزت و ذلت کا مالک کون؟… اللہ۔

شریفو!اللہ کے نام کو بلند کرو گے تو اللہ تمہیں دنیا و آخرت میں بلند کریں گے۔ آج نہ بولے تو پھر کب بولو گے؟ اچھا مجھ کو مسئلہ بتاؤ! کیا خیال ہے آپ دوستوں کا کہ دین

51

ختم ہو جائے گا، یا رہے گا؟ جو کہتے ہیں دین رہے گا۔ وہ مل کے بولیں کہ:

⭐ … دین؟… رہے گا۔

⭐ … زور سے بولیں دین؟…رہے گا۔

⭐ … بلند آواز سے بولیں دین؟… رہے گا۔

ہمارے ایک بزرگ تھے عارف بااللہ۔ میرے استاد بھی تھے۔ حضرت مولانا عبداللہ درخواستی رحمۃ اللہ علیہ۔ پرانے لوگوں میں سے بہت ساروں نے آپ کو دیکھا ہو گا۔ بہت مجذوب ٹائپ بزرگ تھے۔ کبھی کبھی وجد میں آ کر فرماتے تھے:

⭐ … مٹ گئے دین کو مٹانے والے۔

⭐ … مٹ جائیں گے دین کو مٹانے والے۔

⭐ … نہیں گارنٹی اس بات کی کہ آپ رہیں گے۔

⭐ … نہیں گارنٹی اس بات کی کہ علماء رہیں گے۔

⭐ … نہیں گارنٹی اس بات کی کہ میں رہوں گا ۔

⭐ … لیکن اس بات کی گارنٹی ہے کہ دین رہے گا۔

میرے بھائیو! حضورﷺ لیٹے ہیں۔ اس نے پوچھا: اے محمد عربی(ﷺ)! آپ کو مجھ سے کون بچائے گا؟ حضورﷺ بڑے اعتماد کے ساتھ۔ اعتماد بھی ایسا کہ حضورﷺ نے گویا رب کی رحمت کی ڈھیری پر ہاتھ رکھ کر فرمایا: ’’میرا اللہ‘‘۔

زور سے بولو بچانے والا کون ؟میرا اللہ۔ حضورﷺ نے جب لیا نام اللہ کا۔ اس حالت میں بھائیو! اس کے اثرات کو دیکھو، وہ جو دشمن ہے:

⭐ … بوٹی بوٹی اس کی کانپنے لگی۔

⭐ … ہڈی ہڈی درد کرنے لگی۔

⭐ … نہیں سنبھال پا رہا اپنے پاؤں کو۔

⭐ … دانت بھی ساتھ بج رہے ہیں۔

لرزے کی کیفیت ہے۔ ادھر اس کے ہاتھ سے نیچے گری تلوار۔ حضورﷺ نے لیٹے لیٹے اب تلوار کو اٹھایا۔ اپنے ہاتھ میں لیا۔ اس کی طرف متوجہ ہو کر فرمایا: ’’اب تو بتا تجھے

52

کون بچائے گا؟‘‘ بزدل تھا ’’فَرَعَدَ رَعْدًا شَدِیْدًا‘‘گھبراہٹ اس پر طاری ہوئی۔ وہ کہتا ہے یا رسول اللہ ﷺ! کوئی بھی نہیں بچا سکتا۔ حضورﷺ نے تلوار نیچے رکھ دی فرمایا: جا تجھے اللہ کے نام پر معاف کیا۔

(مشکوٰۃ، باب التوکل والصبر: ص۴۵۳)

دعاوی مرزا

میرے بھائیو!اتنا وعظ کا حصہ میں نے حضرت مولانا قاری اقبال (راوی روڈ لاہور) کے کہنے پر عرض کیا۔ اب آخری بات کہتا ہوں دو، تین منٹوں میں۔ مرزا قادیانی ملعون نے بہت سارے دعوے کئے۔

⭐ … خدا ہونے کا۔ ⭐ … نبی ہونے کا۔

⭐ … مہدی ہونے کا۔ ⭐ … کرشن ہونے کا۔

⭐ … مرد ہونے کا۔ ⭐ … عورت ہونے کا۔

اس گدھے سے کوئی پوچھے۔ میری طرف دیکھو۔

⭐ … اتنا بڑا پگڑ۔ ⭐ … اتنی بڑی داڑھی۔

اورکہتا ہے میں زنانی ہوں۔ ایسی زنانی تم نے دیکھی ہے داڑھی والی؟ نہیں۔ یہ زنانی صرف مرزا قادیانی ہے۔ او گدھے کہیں کے! نہ دین کے نہ دنیا کے: ’’خَسِرُ الدُّنْیَا وَالْاٰخِرَۃِ‘‘قادیانیوں کے مقدر کو دیکھو!چھوڑ نے پر آئے تو محمد عربیﷺ کو چھوڑا۔ ماننے پر آئے تو کس بدنصیب کے پلے پڑ گئے۔

میرے بھائیو! جس کے پاس

⭐ … نہ علم… نہ عمل۔

⭐ … نہ حیا… نہ شرم۔

⭐ … نہ عقل… نہ شکل۔

⭐ … نہ اخلاق نام کی کوئی چیز۔

⭐ … پرلے درجے کا بیہودہ۔

⭐ … انسان کہنا انسانیت کی توہین۔

53

مرزا قادیانی گستاخ اعظم

میرے بھائیو! میں درخواست کرتا ہوں آپ دوستوں کی خدمت میں۔ یہاں پر اپنے قلب و جگر سے اللہ رب العزت کو گواہ بناتا ہوں۔ جو کچھ کہہ رہا ہوں ،یہ اخلاص پر مبنی ہے۔ واقعتااس حوالے پر پہنچ کر مجھ مسکین کے دل و دماغ کی جو کیفیت ہوتی ہے، میں اس درد کو کیسے منتقل کروں، اپنے دوستوں کے قلب و جگر میں؟

میرے بھائیو! آج:

⭐ … سیدنا صدیق اکبرؓہمیں کہہ دیں: میں محمد ہوں، کیا ہم مان لیں گے؟

⭐ … سیدنا ابراہیمں ہمیں کہہ دیں: میں محمد ہوں، کیا ہم مان لیں گے؟

نہیں! ہرگز نہیں۔ اس مرزے ملعون کو دیکھو۔ اس ملعون قادیان نے یہ جو کیفیت اختیار کی۔ کہتا ہے کہ: ’’محمد عربیﷺ نے دنیا میں دو دفعہ آنا تھا‘‘

(تحفہ گولڑویہ ص۹۴، خزائن ج۱۷ ص۲۴۹)

’’اَسْتَغْفِرُاللّٰہَ، نَعُوْذُ بِاللّٰہِ مِنْ ذَلِکْ‘‘ اس کمینے سے کوئی پوچھے کہ میرے رب کے خزانے میں بھی محمد عربیﷺ صرف ایک ہیں۔ محمد عربیﷺ وہ گوہر نایاب ہیں کہ حضورﷺ کی مثال میرے رب کے خزانے میں بھی نہیں۔ حضورﷺ صرف ایک ہیں۔ یہ ملعون قادیان، مرزا کہتا ہے کہ: ’’محمد عربیﷺ نے دنیا میں دو دفعہ آنا تھا۔‘‘

پہلی دفعہ مکہ میں حضرت عبداللہ کے گھر میں محمد عربیﷺ آئے۔ دوسری دفعہ وہی محمد عربیﷺ قادیان میں غلام احمد کی شکل میں آئے ہیں۔( مرزے پہ لعنت بے شمار)

قادیانیت نام ہے محمدعربیﷺ سے بغاوت کا

بھائیو! ختم ہوا میرا وعظ۔ خدا کے لئے میں اس بنیاد پر عرض کرتا ہوں کہ قادیانیت کسی بھی مذہب کا نام نہیں۔ قادیانیت نام ہے محمد عربیﷺکی ذات اقدس سے بغاوت کا۔ اس سے بچنا اور پوری امت کو بچانا ہم سب کا فریضہ ہے۔ صرف ملعون قادیان نے یہ نہیں کہا کہ میں محمد ہوں۔ بلکہ یہ کہا کہ: ’’وہ جو حضورﷺ مکہ میں آئے تھے۔ ان کی مثال پہلی رات کے چاند کی اور یہ محمد (غلام احمد)جو قادیان میں آیا، اس کی مثال چودھویں رات

54

کے چاند کی ہے۔‘‘

(خطبہ الہامیہ ص۱۸۴، خزائن ج۱۶،ص۲۷۵)

’’استغفر اللہ‘‘ اور کہا کہ: ’’ محمد عربی کے معجزات تین ہزار تھے۔‘‘

(تحفہ گولڑویہ ص۱۰۱، خزائن ج۱۷ ص۲۶۳)

اور اپنے متعلق کہتا ہے کہ: ’’ میرے نشان دس لاکھ سے بھی زیادہ ہیں۔‘‘

(براہین احمدیہ حصہ پنجم ص۵۶، خزائن ج۲۱ ص۷۲)

بھائیو! اس ملعون قادیان نے، محمد عربیﷺ سے اپنے آپ کو افضل کہا۔ میں آپ سے پوچھتا ہوں۔ آپ میں سے کوئی میرے باپ کو گالی دے۔ اگر ہے ہمت، ہے غیرت نام کی کوئی چیز، تو میں ذبح ہو جاؤں گا، باپ کوگالی دینے والے کو برداشت نہیں کروں گا۔ آپ کے والد گرامی کو کوئی گالی دے، جذبات آپ کے بھی یہی ہوں گے۔ یہاں پر ایک سوال ہے مجھ مسکین مسافر کا۔ بھائیو! آپ کے، میرے باپ کے تو وارث موجود ہیں۔ کیا محمد عربیﷺ کا دنیا میں کوئی وارث نہیں رہا؟

عقیدہ ختم نبوت کے بغیر کوئی نیکی قبول نہیں

بھائیو! میں درخواست کرتا ہوںآپ تمام دوستوں سے

⭐ … نماز پڑھیں۔ ⭐ … روزے رکھیں۔

⭐ … حج کریں۔ ⭐ … زکوٰۃ دیں۔

⭐ … تبلیغ کریں۔ ⭐ … جہاد کریں۔

ساری دنیا کی نیکیاں ہاتھ میں ہوں۔ اس کے باوجود اگر کسی قادیانی کے ساتھ ملنا ہے تو یقین رکھیں کہ قیامت کے دن ساری نیکیوں کا گٹھڑ بنا کے منہ پر مار دیا جائے گا۔ جس کا قادیانی سے ملنا ہے، قیامت کے دن اس کی نحوست یہ پڑے گی کہ اس کی آنکھیں، محمد عربیﷺ کا دیدار نہیں کر سکیں گی۔ آپ نے آسان سمجھ لیا ہے مسلمان ہونا۔ مجھے یہ بات سمجھ نہیں آتی! نمازی، متقی، پرہیز گار، بظاہر داڑھی رکھی ہوئی لیکن قادیانیوں کے ہاں ان کا آنا جانا۔

55

بھائیو! تمہارا یہ قادیانیوں کے ساتھ تعلق رکھنا براہ راست محمد عربیﷺ کو تکلیف دینے کے مترادف ہے۔

⭐ … نمازپڑھنا ⭐ … روزہ رکھنا۔

⭐ … حج کرنا۔ ⭐ … زکوٰۃ ادا کرنا۔

⭐ … تبلیغ کرنا۔ ⭐ … جہاد کرنا۔

⭐ … مسجد بنانا۔ ⭐ … مدرسہ بنانا۔

غرض جتنے یہ نیکی کے کام ہیں یہ فرائض۔

⭐ … ان کو ماننا فرض۔

⭐ … ان پر عمل کرنا نجات۔

لیکن شریف آدمی تو بھول نہیں رہا؟ کیا ہو گیا تجھے؟ کہ یہ جتنے فرائض ہیں ان سب کا تعلق حضورﷺ کے اعمال کے ساتھ ہے۔ اور ختم نبوت کا تعلق محمد عربیﷺ کی ذات کے ساتھ ہے۔ اب نماز، روزے، حج، زکوٰۃ کی اگر کوئی تبلیغ کرتا ہے۔ یہ دین کی خدمت ہے اور اگر کوئی ختم نبوت کی تبلیغ کرتا ہے۔ یہ براہ راست محمد عربیﷺ کی خدمت ہے۔ میں کیا توقع رکھوں یہاں سے جانے کے بعد کہ آپ قادیانیوں کا بائیکاٹ کریں گے؟ جو کہتے ہیں کریں گے۔ وہ زور سے کہیں ’’کریںگے‘‘۔ اللہ آپ کو اور مجھے توفیق دے: کہہ دو ’’کریںگے‘‘۔

’’وما علینا الا البلاغ المبین‘‘

56

کمالات اسم محمدﷺ

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ

اَلْحَمْدُللہِ وَکَفیٰ وَسَلامٌ عَلیٰ سَیِّدِ الرُّسُلِ وَخَاتَمِ الْاَنْبِیَاءِ وَعَلیٰ اٰلَہٖ وَاَصْحَابِہِ الَّذِیْنَ ھُمْ خُلاَصَۃُ الْعَرَبِ الْعَرَبَاءِ وَخَیْرُ الْخَلاَءِقِ بَعْدَ الْاَنْبِیَاءِ۔اَمَّا بَعْدُ! فَاَعُوْذُ بِاللہِ مِنَ الشَّیْطٰنِ الرَّجِیْمِ۔ بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ۔

و قال اللہ تعالیٰ: مَّا کَانَ مُحَمَّدٌ أَبَا أَحَدٍ مِّن رِّجَالِکُمْ وَلَکِن رَّسُولَ اللَّہِ وَخَاتَمَ النَّبِیِّیْنَ وَکَانَ اللَّہُ بِکُلِّ شَیْْئٍ عَلِیْماً (الاحزاب: ۴۰)

وقال اللہ تعالیٰ فی مقام اٰخر: ذَلِکَ مَثَلُہُمْ فِیْ التَّوْرَاۃِ وَمَثَلُہُمْ فِیْ الْإِنجِیْلِ (الفتح: ۲۹)

’’قال النبیﷺ:اَنَا خَاتَمَ النَّبِیِّیْنَ لَا نَبِیَّ بَعْدِیْ (ترمذی:ج۲ ص۴۵)
اَللّٰھُمَّ صَلِّ عَلیٰ سَیِّدِنَا وَ مَوْلٰنا مُحَمَّدٍ وَّ عَلیٰ آلِ سَیِّدِنَا وَ مَوْلٰنا مُحَمَّدٍ وَّ بَارِکْ وَسَلِّمْ وَ صَلِّ کَذَالِکَ عَلیٰ جَمِیْعِ الْاَنْبِیَاءِ وَالْمُرْسَلِیْنَ وَعَلیٰ الْمَلاَءِکَۃِ الْمُقَرَّبِیْنَ وَعَلیٰ عِبَادِ اللہِ الصَّالِحِیْنَ اَجْمَعِیْنَ اِلیٰ یَوْمِ الدِّیْنِ۔

تمہید

خدام اہل سنت والجماعت کے زیراہتمام ہر سال یہاں پر سیرت کے عنوان سے اجتماع منعقد ہوتا ہے۔ صبح سے یہ آپ کا اجلاس شروع ہے۔ اللہ رب العزت کو منظور ہوا تو ان شاء اللہ رات گئے تک یہ جاری رہے گا۔ بہت سارے علماء کرام کے آپ حضرات نے بیانات سنے۔ بہت سارے نعت خواں حضرات کا نعتیہ کلام بھی سنا۔ تلاوتیں بھی ہوئیں۔ بہت سارے مہمانوں کے بیانات ابھی باقی ہیں۔ مجھ سے پہلے سرگودھا کے ممتاز عالم دین حضرت مولانا مفتی شاہد مسعود دامت برکاتہم بیان فرمارہے تھے۔ اب مجھے بھی آپ دوستوں کی خدمت میں کچھ باتیں عرض کرنی ہیں۔

57

نام محمد،مقام محمد، کام محمدﷺ

میرے واجب الاحترام دوستو! میں نے اس وقت جو آیت آپ حضرات کے سامنے تلاوت کی۔ دیگر خصوصیات میں سے اس آیت کی ایک خصوصیت یہ بھی ہے کہ اس آیت مبارکہ میں حضورﷺ کے نام کا بھی ذکر ہے۔ حضورﷺ کے کام کا بھی ذکر ہے۔ حضورﷺ کے مقام کا بھی ذکر ہے۔

⭐ … ’’مَاکَانَ مُحَمَّدٌ‘‘ میں حضورﷺکے نام کا ذکر ہے۔

⭐ … ’’وَلٰکِنْ رَّسُوْلَ اللّٰہِ‘‘ میں حضورﷺ کے کام کا ذکر ہے۔

⭐ … اور ’’خَاتَمَ النَّبِیِّیْنَ‘‘ میں حضورﷺ کے مقام کا ذکر ہے۔

آج کی مجلس میں مجھ مسکین کے لئے آپﷺ کے کام اور مقام کا ذکر تو ممکن نہیں۔ صرف آپﷺکے نام مبارک کے حوالے سے اپنی گفتگو کا آغاز کرتا ہوں۔

آپﷺ کی ذات، بات وجماعت کا ذکر

میرے بھائیو! توجہ فرمائیں۔ حضورﷺ کے بہت سارے صفاتی نام ہیں۔ آپﷺ کے دو ذاتی نام ہیں۔ ایک آپﷺ کا ذاتی نام محمد ہے اور دوسرا احمد۔

قرآن مجید کی دوسری آیتمُّحَمَّدٌ رَّسُولُ اللَّہِ وَالَّذِیْنَ مَعَہُ‘‘ (الفتح: ۲۹)

سابقہ آیت میں حضورﷺ کے نام کا ذکر، کام کا ذکر اور مقام کا ذکر تھا۔ اس آیت مبارکہ میں :

⭐ … حضورﷺ کی ذات کا بھی ذکر ہے۔

⭐ … حضورﷺ کی بات کا بھی ذکر ہے۔

⭐ … اور حضورﷺ کی جماعت کا بھی ذکر ہے۔

ان دونوں آیات مبارکہ میں حضورﷺ کے ذاتی اسم گرامی لفظ محمد کا تذکرہ ہے اور سورۃ الصف میں حضرت سیدنا مسیح علیہ السلام کی زبانی جو اعلان ہوا’’وَمُبَشِّراً بِرَسُولٍ یَأْتِیْ مِن بَعْدِیْ اسْمُہُ أَحْمَدُ‘‘ (الصف:۶) اس کو دیکھیں تو یہاں پر حضورﷺ کے دوسرے ذاتی اسم گرامی احمد کا ذکر ہے۔

58

میرے بھائیو! زمین پہ حضورﷺ کے نام، محمدﷺ کے تذکرے ہیں تو آسمانوں پہ نام احمد کے تذکرے ہیں۔ اللہ کی کروڑ رحمتیں حضرات مفسرین پر انہوں نے ان کی خوبصورت توجیہہ یہ کی کہ اللہ تعالیٰ نے آسمانوں کو رونق بخشی حضورﷺ کے نام احمد کے ساتھ۔ زمینوں کو رونق بخشی نام محمد کے ساتھ۔

بھائیو! قرآن مجید میں حضور سرور کائناتﷺ اور آپﷺ کے صحابہ کرامؓ کے بارے میں فرمایا گیا:’’ذَلِکَ مَثَلُہُمْ فِیْ التَّوْرَاۃِ وَمَثَلُہُمْ فِیْ الْإِنجِیْلِ‘‘ اسی طرح دوسری جگہ فرمایا گیا: ’’مَکْتُوباً عِندَہُمْ فِیْ التَّوْرَاۃِ وَالإِنْجِیْلِ‘‘ (الاعراف:۱۵۷)

برادران! تیسری آیت میں ہے کہ ’’یَعْرِفُونَہُ کَمَا یَعْرِفُونَ أَبْنَاء ہُمْ‘‘ (البقرۃ: ۱۴۶)کہ وہ لوگ یعنی مسیحی اور یہودی کرم فرما اپنی کتابوں کی بنیاد پر محمد عربی کو اس طرح پہچانتے تھے۔ جس طرح کوئی اپنے بیٹے کو پہچانتا ہے۔ ایک کروڑ کا اجتماع ہو، ایک عمر کے بچے ہوں، ان بچوںمیں کسی کے بیٹے کو کھڑا کر دو جونہی باپ کی نظر اپنے بچے پر پڑے گی، ایک سیکنڈ لگائے بغیر اپنے بیٹے کے سر پر ہاتھ رکھ دے گا کہ یہ میرا بیٹا ہے۔

بحیراء راہب اور ختم نبوت

میرے بھائیو! میں آج کی مجلس میں آپ سے درخواست کرتا ہوں کہ آپ توجہ کریں اس امر پر کہ قرآن مجید کا یہ کہنا کہ رحمت عالم ﷺ اور آپﷺ کے صحابہ کرامؓ کے تذکرے آپﷺ کے اسماء گرامی کے ساتھ پہلی آسمانی کتابوں کے اندر موجود تھے۔

بھائیو! من وجہ اس بات کا میرے موضوع کے ساتھ تعلق ہے اور من وجہ یہ بالکل جدا موضوع ہے۔ اپنی بات کو آگے چلانے کے لئے ایک بات عرض کرتا ہوں کہ ترمذی، ابواب امناقب ج۲،ص۲۰۳ پر ہے کہ حضورﷺ کا سفر ہوا جناب ابوطالب کے ساتھ۔ بحیرہ راہب نامی ایک یہود کا متبحر عالم تھا۔ اس بندہ خدا نے مکہ مکرمہ سے شام کو اور شام سے جو مکہ کا راستہ جاتا تھا اس پر ایک جھونپڑی بنا رکھی تھی۔ ادھر قافلہ پہنچا، ادھر وہ آیا۔ پورے قافلے میں اس نے نظر دوڑائی حضورﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا، ابھی حالانکہ آپﷺ کی نوعمری کا دور تھا۔

59

بھائیو! اس نے رحمت عالم ﷺ کو سر کے بالوں سے لے کر پاؤں کے ناخنوں تک اور پھر پاؤں کے ناخنوں سے لے کر سر کے بالوں تک دیکھا۔ نظروں نظروں میں جانچا، تولا، پرکھا اور پھر پوچھا: ان کے کفیل کون ہیں؟ ابوطالب نے عرض کی: میں! انہوں نے کہا: ان کا نام؟ انہوں نے نام بتایا۔ قوم؟ وہ بتائی۔ ساری تفصیلات سننے کے بعد فرمایا کہ: آپ صحیح صحیح بتائیں۔ آپ ان کے والد نہیں۔ چچا باپ کے مرتبہ میں ہوتا ہے۔ حضورﷺ اس وقت تھے ہی ان کی کفالت میں۔ اگر انہوں نے اپنا بیٹا کہہ دیا تو یہ کوئی خلاف واقعہ بات نہیں تھی۔ یہ ایک انہوں نے عرف کی بات کہہ دی۔ اب وہ راہب اصرار کرتا ہے کہ تم صحیح بتاؤ کہ تم اس کے والد ہو یانہیں؟ یہ کہتے ہیں کہ میں ان کا باپ ہوں۔ وہ کہتے ہیں بالکل آپ غلط کہہ رہے ہیں۔ آپ ان کے باپ نہیں۔ جب تکرار اور اصرار جانبین سے بڑھا تو سمجھوتا اس بات پر ہوا کہ ابوطالب بات صحیح بتادیں۔ راز میں بتا دیتا ہوں کہ میں کیوں انکار کر رہا ہوں؟ ابوطالب نے کہا کہ آپ صحیح کہتے ہیں کہ یہ میرے برادر زادہ ہیں۔ میرے بھتیجا ہیں۔ ان کے والد گرامی کا ان کی پیدائش سے پہلے ہی وصال ہوگیا تھا اور ان کا نام تھا عبداللہ۔

میرے بھائیو! برسات کی طرح اس راہب کی آنکھوں سے آنسوؤں کی جھڑی لگی۔ وہ ابوطالب کو کہتا ہے کہ اب آپ نے ٹھیک بات کہی۔ اب پوچھو: میں نے انکار کیوں کیا؟ ہماری کتابوں میں لکھا ہے کہ نبی آخرالزمان پیدا ہوں گے تو:

⭐ … زمین وآسمان میں یہ تغیر آئیں گے۔

⭐ … ماحول کے اندر یہ تغیر آئیں گے۔

میں اپنی کتابوں کو بھی پڑھتا تھا اور ماحول کو بھی دیکھتا تھا۔ آج سے سالہا سال پہلے مجھے یقین ہوا کہ نبی آخرالزمان اس علاقہ میں پیدا ہوں گے۔ ہماری کتابوں میں یہ بھی لکھا تھا کہ وہ نوعمری میں اس راستے سے سفر کریں گے۔ میں تو ان کی زیارت کے لئے یہاں پہ ڈیرا لگاکے بیٹھ گیا تھا۔ ہماری کتابوں میں لکھا ہے: جس وقت وہ پیدا ہوں گے، یتیم ہوں گے۔ آپ نے کہا کہ میں ان کا باپ ہوں۔ میں اپنی کتابوں کو بھی دیکھتا تھا اور آپ کی بات کو بھی دیکھتا تھا۔ باربار مطالعہ کے بعد میرے دل نے گواہی دی کہ ساری علامتیں پوری

60

ہوگئیں تو اس میں آپ صحیح نہیں کہہ رہے۔ ہماری کتابیں صحیح ہیں۔ تمہارا بیان صحیح نہیں۔ اس لئے میں اصرار کر رہا تھا کہ صحیح بتاؤ۔

میرے بھائیو! اس ضمن میں ایک اور ……!

(تقریر کا کچھ حصہ ریکاڈنگ خراب ہونے کی وجہ سے حذف ہوگیا ہے)

اس نے کہا سب قافلے والوں کی دعوت ہے مگر سامان کے پاس بھی تو کسی کو بٹھانا ہے۔ ورنہ کچھ بھی ہوسکتا ہے۔ قافلے میں نوعمر حضورﷺ کی ذات اقدس تھی۔ سب نے کہا: آپﷺ قافلے کے پاس بیٹھیں، سامان کی نگرانی کریں، ہم جارہے ہیں

⭐ … دسترخوان لگا

⭐ … تمام مہمان آئے

⭐ … ادھر میزبان آیا

⭐ … یوں نظر دوڑائی

پوچھا: وہ جوان کہاں ہے؟ انہوں نے کہا انہیں تو سامان کے پاس چھوڑ کرآئے ہیں۔ میزبان نے کہا: شریفو! ہر سال تمہارا ادھر سے قافلہ جاتا بھی ہے اور آتا بھی ہے۔ میں نے تم سے کبھی پانی کا بھی نہیں پوچھا۔ یہ میں نے تمہاری وجہ سے دعوت نہیں کی۔ بلکہ ان کے صدقے میں تمہاری دعوت کی ہے۔ (سبحان اللہ!)

جن کے صدقے میں تمہاری دعوت کی۔ ان کو تو تم چھوڑ آئے۔

⚛… طفیلی تو آگئے۔ ⚛… اصل نہیں آئے۔

ایسے نہیں چلے گا۔ تم میں سے کوئی آدمی سامان کی نگرانی کے لئے چلا جائے اور آپ تشریف لے آئیں۔ کھانا تب ہی لگے گا، جب چیف گیسٹ آئے گا۔

میرے بھائیو! اس موقع پرجو سردار ساتھ تھے، انہوں نے ابوطالب کو مبارک باد دی کہ ان کا بھتیجا برکتوں والا ہے کہ آج انہیںکے صدقے ہمیں روٹی مل رہی ہے۔ اس پر ابوطالب نے کہا کہ آج تم بات کرتے ہو کہ ان کے صدقے میں روٹی مل رہی ہے۔ دیکھ لینا ایک وقت آئے گا کہ خدا ان کے چہرے کے صدقے بارشیں دے گا۔ اس کو کہتے ہیں ’’یَجِدُوْنَہُ مَکْتُوباً عِندَہُمْ فِیْ التَّوْرَاۃِ وَالإِنْجِیْلِ‘‘

61

سیدناصدیق اکبرؓ کا خواب

میرے بھائیو! اب میں درخواست کرتا ہوں، ہمارے دارالعلوم دیوبند کے مہتمم بانی رہنما حضرت مولانا محمد قاسم نانوتوی رحمۃ اللہ علیہ کی ایک کتاب ہے۔ اس کا نام ہے ’’اجوبہ اربعین‘‘ اس کے صفحہ ۶۸پر ہے، حضرت فرماتے ہیں کہ حضور ﷺ کے اعلان نبوت سے پہلے بالکل قریب قریب میں سیدنا صدیق اکبرؓ نے سفر کیا۔ راستے میں ایک خواب دیکھا۔ یہودیوں کے ایک عالم دین کے پاس گئے۔ جاکر اسی شام کے سفر میں ان سے پوچھا کہ میں نے یہ خواب دیکھا۔ اس کی تعبیر۔ انصاف کا تقاضا یہ ہے کہ خواب سننے کے بعد تعبیر بتانی چاہئے تھی۔ لیکن تعبیر بتانے کی بجائے وہ لگا پوچھنے صدیق اکبرؓ سے کہ:

⚛… آپ کا نام؟… انہوں نے بتایا۔

⚛… پھر پوچھا، آپ کے والد کا نام؟…انہوں نے بتایا۔

⚛… پھر پوچھا، آپ کی قوم؟… انہوں نے بتائی۔

⚛… پھر پوچھا، کہاں سے آئے؟… انہوں نے بتایا۔

⚛… پھر پوچھا، کیوں آئے؟…انہوں نے بتایا۔

یہ سننے کے بعد راہب نے سیدنا صدیق اکبرؓ سے کہا کہ آپ ایک دفعہ کھڑے ہو جائیں۔ آپ کھڑے ہوئے۔ راہب

⚛… سر سے لے کر پاؤں تک ⚛… پاؤں سے لے کر سر تک

صدیق اکبرؓ کا بھی مطالعہ کرتا ہے اور اپنی کتاب کو بھی تلاوت کرتا ہے۔ دیکھنے کے بعد کہا، بیٹھ جائیں۔ پھر مسلسل زاروقطار رویا اور رونے کا حق ادا کیا کہ اتنا رویا کہ چیخیں نکل گئیں۔ اس کے بعد فرمایا: ابوبکرؓ! تمہارے خواب کی تعبیر یہ ہے کہ نبی آخرالزمان اب اعلان نبوت کرنے والے ہیں۔ جب وہ نبوت کا اعلان کریں گے۔ آپ سب سے پہلے ان پر ایمان لائیں گے۔ جب تک وہ زندہ رہیں گے۔ آپ ان کے وزیر ہوں گے۔ جب ان کا انتقال ہوگا آپ ان کے خلیفہ بنائے جائیں گے۔ (الریاض النضرہ: ج۱،ص۷۰ بحوالہ فضائلی) قرآن نے اس کو کہا: ’’ذَلِکَ مَثَلُہُمْ فِیْ التَّوْرَاۃِ وَمَثَلُہُمْ فِیْ الْإِنجِیْلِ‘‘

62

سیدنافاروق اعظمؓ اور رقعہ کا واقعہ

برادران اسلام! میں آپ حضرات سے درخواست کرتا ہوں۔ آج سیدنا فاروق اعظمؓ نے مسند خلافت سنبھالی، چار دن نہیں گزرے کہ ایک آدمی آیا، اس نے جیب میں ہاتھ ڈالا، رقعہ نکالا، سیدنا فاروق اعظمؓ کو پکڑایا۔ اس رقعے پہ نظر پڑی تو فاروق اعظمؓ نے اس کو پڑھنے کے ساتھ ہی رونا شروع کیا۔ جتنے موجود حاضرین تھے، سارے پریشان تھے کہ ہوا کیا؟۔ اب اس آدمی کی طرف دیکھتے ہیں۔ اسے جانتے ہیں، نہ پہچانتے ہیں۔ وہ اجنبی باہر کا آدمی مسافر، رقعے میں کیا لکھا تھا۔ فاروق اعظمؓ کیوں رورہے ہیں؟ سب ہی کے لئے معمہ۔ سیدنا فاروق اعظمؓ نے تھوڑی دیر کے بعد جب کچھ طبیعت سنبھلی تو فرمایا: میاں! حضور ﷺ کے اعلان نبوت سے پہلے میں ایک دفعہ ان کے علاقے میں سفر کے لئے گیا تھا۔ اس وقت :

⚛… نہ آپ ﷺ نے اعلان نبوت کیا تھا۔

⚛… نہ میں نے آپ ﷺ کی بیعت کی تھی۔

⚛… نہ میں نے صحابیت کا شرف پایا تھا۔

یہ اس سے پہلے کی بات ہے۔ میری جوانی کا دور تھا۔ میں ایک کلیسا کے اندر گیا۔ اس زمانے میں جتنی عبادت گاہیں ہوا کرتی تھیں، مسافروں کے وہاں رہنے کے لئے علیحدہ کمرے بنادئیے جاتے تھے۔ چھوٹی چھوٹی آبادیاں ہوا کرتی تھیں۔ لمبا سفر ہوا کرتا تھا۔ درمیان میں کوئی شہر نہیں۔ چلو یہاں رات گزاریں گے۔ وہ میزبانی بھی کرتے تھے۔ رات گزارنے کے لئے بستر بھی دیتے تھے اور سواری کو دانہ پانی بھی ڈالتے تھے۔

سیدنا فاروق اعظمؓ فرماتے ہیں کہ میں دوپہر کے وقت پہنچا۔ میں نے ایک عبادت گاہ کے متولی سے کہا کہ میں نے یہاں پر رہنا ہے۔ اس نے میری طرف دیکھا۔ ایک کدال پڑی تھی، وہ اٹھائی۔ میرے سامنے رکھی اور کہنے لگا کہ: زمین کی کھدائی کرو۔ میں واپس آتا ہوں۔ میرے واپس آنے تک جتنا ایریا کھودنے کا میں نے کہا ہے اگر اتنا ایریا آپ نے کھود کے تیار نہ کیا تو میں تمہاری گردن اڑادوں گا۔

63

سیدنا فاروق اعظمؓ فرماتے ہیں کہ وہ تالا لگا کے چلا گیا۔ خداوندا! کروں کیا؟ جانا چاہوں، راستہ کوئی نہیں۔ اس ظالم کے پاس میں آیا تھا کہ آرام کے لئے جگہ ملے گی، کھانے پینے کو سامان ملے گا۔ لیکن یہ تو مجھے قتل کی دھمکی دے کر چلا گیا۔ فرماتے ہیں کہ میں نے بھی سوچ لیا اچھا اگر اسے اپنے یہاں کا رہائشی ہونے پر ناز ہے تو میں بھی طاقت میں اس سے کم نہیں۔ میں بڑے اطمینان کے ساتھ دیوار کے ساتھ لگ کے بیٹھ گیا۔ خوب سستایا، اب وقت گزرنے پر وہ آیا، بڑے غصے سے دیکھا کہ اس بندہ خدا نے تو کدال کو ہاتھ بھی نہیں لگایا۔ جگہ کھودنے کا سوال ہی نہیں۔ اس نے تلوار نکالی۔ فرماتے ہیں: اس کے وار کرنے سے پہلے میں نے ماری تلوار، اس کا سر اتار دیا۔ اپنی سواری لی، یہ جا وہ جا۔ میں کافی سفر کر کے دور گیا۔ وہاں ایک اور عبادت گاہ تھی۔ وہاں پر میں اس کے متولی کو ملا۔ اس آدمی نے مجھے دیکھا۔ سب سے پہلے مہمان خانہ کھولا۔

⚛… میرے لئے بستر بچھایا۔

⚛… میری جوتی کو سیدھا کیا۔

⚛… میری سواری کو باندھا۔

⚛… اسے پانی پلایا۔

⚛… اسے دانا ڈالا۔

⚛… واپس آکر مجھے کھانا کھلایا۔

میں لیٹا تو وہ ساری رات میرے اوپر پنکھا کرتا رہا۔ صبح ہوئی، میں نے سفر کا ارادہ کیا۔ اس نے مجھ سے درخواست کی کہ حضرت! آپ مجھے لکھ کر دے دیں گے کہ یہ جو اس عبادت گاہ کی قرب وجوار کی زمینیں ہیں، میری اور میرے خاندان کی۔ ان سب کا ٹیکس معاف۔

بھائیو! میں آپ سے درخواست کرتا ہوں۔ سیدنا فاروق اعظمؓ فرماتے ہیں کہ میں اس وقت سمجھا کہ یہ بے چارہ بھلا آدمی ہے۔ یہ مجھے تحصیلدار سمجھتا ہے۔ میں تو ایک عام آدمی ہوں۔ میں نے کیا ٹیکس معاف کرنے ہیں۔ لیکن جب اس کا اصرار بڑھا تو میں نے رقعہ لکھ کر دے دیا تھا۔ آج وہی رقعہ یہ میرے پاس لے آیا ہے۔

64

میرے بھائیو! اس آدمی نے یہ پہچان لیا۔ حضرت عمرؓ کے چہرے مہرے سے، قد کاٹھ سے اس نے یہ اندازہ لگالیا تھا کہ یہ نبی آخرالزمان کے دوسرے خلیفہ ہیں۔ ایک وقت آئے گا کہ ان کے وقت میں یہ ہمارا علاقہ فتح ہوگا۔ ان کو اللہتعالیٰ اختیار دیں گے۔ جن کو چاہیں، معاف کریں۔ جو چاہیں، عطاء کریں۔ تو پیشگی اس نے یہ انتظام کیا۔ قرآن مجید اس کو کہتا ہے: ’’ذَلِکَ مَثَلُہُمْ فِیْ التَّوْرَاۃِ وَمَثَلُہُمْ فِیْ الْإِنجِیْلِ‘‘

دنیا میں پسندیدہ نام محمد ﷺ

میرے بھائیو! میں آپ حضرات سے درخواست کرتا ہوں آپ دوست توجہ کریں اس امر پر کہ صرف حضور ﷺ کا تذکرہ نہیں۔ بلکہ حضور ﷺکا تذکرہ، حضور ﷺ کی بات کا تذکرہ اور حضور ﷺ کی جماعت کا بھی تذکرہ اللہ نے پہلے آسمانی صحیفوں میں بھی کیا اور قرآن مجید کے اندر بھی کیا۔ اب میں درخواست کرتا ہوں کہ آپ لوگوں کے پاکستان میں آج سے دس پندرہ دن پہلے پاکستانی اخبارات میں یہ خبر چھپی ہے۔ باہر کی دنیا کا مزاج یہ ہے کہ وہ سروے کرتے رہتے ہیں کہ پوری دنیا کے اندر:

⚛… کل آبادی کتنی ہے۔ ⚛… مسلمان کتنے ہیں۔

⚛… کافر کتنے ہیں۔ ⚛… ہندو کتنے ہیں۔

⚛… یہودی کتنے ہیں۔ ⚛… ڈاکٹرز کتنے ہیں۔

⚛… انجینئرز کتنے ہیں۔ ⚛… سائنسدان کتنے ہیں۔

⚛… حفاظ کتنے ہیں۔ ⚛… نابینے کتنے ہیں۔

وہ اعداد وشمار جمع کرتے ہیں۔ اس دفعہ انہوں نے سروے کیا اس امر پہ کہ مشرق سے لے کر مغرب تک آج اس وقت روئے زمین پر سب سے زیادہ پسندیدہ نام کون سا ہے؟ جو کثرت کے ساتھ نام رکھا جاتا ہو۔ پوری دنیا کا سروے کرنے کے بعد انہوں نے کہا کہ دنیا میں نام محمد ایسا ہے جو سب سے زیادہ رکھا جاتا ہے۔ (سبحان اللہ)

محمد نام کے ائمہ حضرات

میرے بھائیو! میں درخواست کرتا ہوں، آپ دوستوں کی خدمت میں ذرا توجہ

65

کریں مجھ مسکین کی طرف، میں ان شاء اللہ! بہت ہی مختصر گفتگو کروں گا۔ آدمی دس مسئلے بیان کرے۔ واپس جائے کوئی یاد نہ ہو تو اس کی بجائے اچھا ہے کہ آدمی ایک مسئلہ بیان کرے لیکن اس تفصیل کے ساتھ کہ جب آپ جائیں تو آپ کو یاد رہے۔

بھائیو! میں یہ تو نہیں کہتا کہ آپ دوستوں کے لئے سمندر سے موتی نکال کر لاؤں گا۔ آپ کے لئے آسمانوں سے ستارے توڑ کر لاؤں گا۔ لیکن اتنی بات ضرور عرض کرتا ہوں کہ آپ دوستوں نے اگر مجھ مسکین کی باتوں پر توجہ رکھی تو جانے کے بعد میری باتیں اس حیثیت سے آپ کو یاد رہیں گی کہ اگر بھلانا بھی چاہو گے تو نہیں بھولیں گی۔

میرے بھائیو! میں درخواست کرتاہوں۔ شیعہ حضرات کے ہاں چار کتابیں ایسی ہیں جنہیں وہ صحاح اربعہ کہتے ہیں۔ اہل سنت کے ہاں چھ کتابیں ایسی ہیں جنہیں ہم صحاح ستہ کہتے ہیں۔ یہ جو ہماری صحاح ستہ ہے۔ ان میں سب سے زیادہ معتبر اَصَحُّ الْکُتُبِ بَعْدَ کِتَابِ اللّٰہِ ہے اس کو ہم بخاری شریف کہتے ہیں۔ دنیا یہ بات جانتی بھی ہے اور مانتی بھی ہے کہ بخاری کے جامع کا نام محمد تھا۔ آپ حضرات یہ بات مانتے بھی ہیں اور جانتے بھی ہیں کہ فقہ کے بہت سارے امام ہیں۔ لیکن ان میں چار بہت زیادہ مشہور ہیں۔حضرت امام ابوحنیفہ ؒ، حضرت امام شافعیؒ، حضرت امام مالکؒ اور حضرت امام احمد بن حنبلؒ۔ ان میں سب سے زیادہ جنہیں امام اعظم کا خطاب ملا۔ وہ حضرت امام ابوحنیفہ ؒ ہیں۔ حضرت امام ابوحنیفہ ؒ کے ہزاروں شاگرد تھے اور ان میں سے دو شاگرد نامور ہیں۔ ایک کا نام امام ابویوسفؒ اور دوسرے کا نام امام محمد رحمۃ اللہ علیہ تھا۔اب میں حضور ﷺ کی بات نہیں کرتا ان کے نام کی بات کررہا ہوں۔ میں حدیث کی خدمت کرنے والا دیکھوں تو اس میں بھی مجھے نام محمد نظر آتا ہے۔ میں فقہاء میں نظر دوڑاؤں تو ممتاز نام بھی مجھے محمد ہی نظر آتا ہے۔

امام محمد رحمۃ اللہ علیہ کا واقعہ

میرے بھائیو! آپ کا یہ ضلع اس کا نام چکوال ہے۔ کسی زمانے میں یہ جہلم کا حصہ تھا۔ کل کی بات ہے۔ اس جہلم کے اندر آج سے دو سو سال پہلے ایک عالم دین

66

گزرے ہیں۔ ان کا نام مولانا فقیر محمد جہلمی تھا۔ حدائق حنفیہ کے نام پر ایک کتاب لکھی۔ اس میں انہوں نے ایک ہزار حنفی علماء کرام کے حالات لکھے ہیں۔ اس میں امام محمدؒ کے انہوں نے دو واقعات لکھے ہیں۔ ایک ایک منٹ میں عرض کر دیتا ہوں۔ مولانا فقیر محمد جہلمی رحمۃ اللہ علیہ کہتے ہیں کہ امام محمدؒ نو عمری میں امام اعظمؒ کے پاس آئے کہ مجھے فقہ پڑھادیں۔ امام اعظمؒ نے فرمایا کہ پہلے قرآن مجید یاد کرکے آئیں۔ امام محمدؒ گئے۔ چند دنوں میں قرآن مجید یاد کرکے آگئے۔

دوسرا واقعہ لکھا کہ: ’’ یہ جو امام محمدؒ ہیں۔ یہ اٹھتی جوانی میں اتنے خوبصورت تھے۔ کیا تیز نقش نین، چہرہ، قد کاٹھ، ان کا وجود، رنگ، ان کی چال ڈھال اتنے خوبصورت تھے کہ جو آدمی ان کو دیکھتا، دیکھتا ہی رہ جاتا۔ ایک مستشرق نے امام محمد کو دیکھا۔ اب آپ کہیں گے کہ مستشرق کسے کہتے ہیں۔ جتنے دین کے علوم ایک عالم دین کو جاننا ضروری ہیں ایک مفتی کے لئے جتنا دین کا علم پڑھنا ضروری ہے، مغربی ممالک کے لوگ پورے دین کا مطالعہ کرتے ہیں۔ علوم حاصل کرتے ہیں۔ پورے دین کا ان کے پاس علم ہوتا ہے۔ لیکن وہ مسلمان نہیں ہوتے۔ دین کو علم سمجھ کر پڑھتے ہیں۔ دین کو دین سمجھ کر نہیں پڑھتے۔ ایسے لوگ جو دین کو تو جانتے ہوں۔ لیکن مسلمان نہ ہوں۔ ان کو مستشرق کہتے ہیں۔ ایک مستشرق نے اٹھتی جوانی میں حضرت امام محمد کو دیکھا اور اپنے ساتھی کو کہنی مار کے کہنے لگا: اس جوان کا نام کیا ہے؟۔ اس نے کہا: جی اس کا نام محمد۔ روایت کے الفاظ یہ ہیں: چلایا، سخت زور سے چلا کے کہتا ہے کہ اگر چھوٹا محمد اتنا خوبصورت ہے تو بڑامحمد کتنا خوبصورت ہوگا۔‘‘

(حدائق الحنفیہ، ص۱۵۴)

شام میں مقبرۃ المحمدیون

میرے بھائیو! شام کے اندر ایک قبرستان ہے۔ صدیوں پہلے بنا اس وقت تک موجود ہے۔ اس قبرستان کو مقبرۃ محمدیون کہتے ہیں۔ اس قبرستان کی خوبی یہ ہے کہ اس میں صرف محمد نام والے لوگ دفن ہوتے ہیں۔ ایسا آدمی جس کا نام محمد نہ ہو، وہ اس قبرستان میں دفن نہیں ہوسکتا۔ ذرا اندازہ لگائیں! دنیا کے قبرستانوں کو بھی دیکھیں۔ اس قبرستان کو بھی

67

دیکھیں کہ محمد ہی محمد اٹھیں گے۔

میرے بھائیو! ذرا توجہ کریں۔ ہمارے حضرت شاہ عبدالقادر رائے پوریؒ کے خلیفہ مجاز اور ہمارے مخدوم سید نفیس الحسینی شاہؒ تشریف لے گئے سمرقند، بخارا۔ ان کے سفر نامے کے اندر یہ بات موجود ہے۔ واپس آئے تو فرمایا کہ: وہاں پرایک قبرستان دیکھا۔ چار سو سے زیادہ اس کے اندر قبریں ہیں۔ ان قبور مبارکہ میں صرف وہ لوگ دفن ہیں جو اپنے زمانے کے محدث بھی تھے اور نام بھی محمد تھا۔ محدث ہے اور نام محمد نہیں تو دفن نہیں ہوسکتا۔ نام محمد ہے۔ لیکن محدث نہیں تو دفن نہیں ہوسکتا۔ یہاں وہ دفن ہوگا جو حضور ﷺ کے کام کا بھی پاس رکھتا ہو اور نام کا بھی پاس رکھتا ہو۔

کتب اسماء الرجال میں محمد ﷺ کا نام

میرے بھائیو! اسماء الرجال کا فن من وجہ یہ حدیث سے تعلق رکھتا ہے اور من وجہ یہ فن تاریخ سے تعلق رکھتا ہے۔ اس کے اندر رواۃ حدیث سے بحث ہوتی ہے۔ ان کے حالات لکھے جاتے ہیں۔ فلاں آدمی جس کا یہ نام تھا۔ فلاں کا بیٹا۔ فلاں سن میں اسلام قبول کیا۔ فلاں سے اس نے روایت بیان کی۔ یہ اس میں بحث ہوتی ہے۔ اسماء الرجال کی کتابیں مرتب ہوتی ہیں۔ پہلے وہ نام رکھے جاتے ہیں، جن کا نام ’’الف‘‘ سے شروع ہوتا ہے۔ پھروہ جن کا نام ’’باء‘‘ سے۔ پھر وہ جن کا نام ’’تاء‘‘ سے۔

⚛… الف کے نام پہ چالیس صفحے کام آئے۔

⚛… باء کے لئے بیس صفحے کام آئے۔

⚛… تاء کے لئے پچاس صفحے کام آئے۔

⚛… عین کے لئے سو صفحے کام آئے۔

لیکن جب یہ چلتے چلتے لفظ محمد پر پہنچتے ہیں۔ اسماء الرجال میں محمدیّون کی پٹی پر پانچ پانچ جلدیں تو میں نے صرف محمدیّون پر دیکھی ہیں۔ سبحان اللہ!

قاری محمدطیب کا لکھا ہوا واقعہ

میرے بھائیو! ہمارے شیخ الاسلام حضرت مولانا قاری محمد طیبؒ نے جو

68

دارالعلوم دیوبند کے ساٹھ سال تک مہتمم بھی رہے اور نائب مہتمم بھی۔ ان کے خطبات چھپے ہیںخطبات حکیم الاسلام کے نام سے۔ اس کی دوسری جلد کے اندر یہ واقعہ ہے کہ قاری صاحب فرماتے ہیں کہ کل قیامت کے دن میدان محشر میں سیدنا آدم سے لے کر قیامت کی صبح تک کی ساری مخلوق جمع ہوگی۔ توجہ کریں! آپ ہزار دو ہزار ساتھی یہاں جمع ہیں۔ یہاں پاؤں رکھنے کی جگہ نہیں۔ رائے ونڈ کا اجتماع ہوتا ہے دومرحلوں میں ہوتا ہے۔ ایک مرحلے میں کئی لاکھ آدمیوں کا ہجوم ہوتا ہے۔ ادھر دیکھیں انسان ہی انسان۔ خدا آپ کو حج پہ لے جائے۔ تمہاری آمین کا یہی حال رہا تو تم جہلم سے آگے نہیں جاسکتے۔ شریفو! آمین تو زور سے کہو۔

آپ کہتے ہوں گے کہ مولوی صاحبان کہتے ہیں کہ آمین آہستہ کہنی چاہئے۔ آپ کہتے ہیں کہ زور سے کہو۔ شریفو! وہ آمین جو آہستہ کہنی ہے وہ نماز کی آمین ہے۔ یہ باہر کی آمین ہے۔ اس میں گنجائش ہے۔ ہماری حنفیت اتنی کمزور نہیں کہ زور سے آمین کہیں تو حنفیت کانپنے لگ جائے۔ ہم تگڑے ہیں۔ اللہ آپ سب کو مکہ کی زیارت کرائے۔ آمین کہہ دو۔ اس کریم کے خزانے میں کیا کمی ہے۔

میرے بھائیو! میں عرض کررہا تھا کہ حج کے موقع پر پچیس تیس لاکھ آدمی جس وقت مکہ میں جمع ہوتے ہیں۔ سعودی عرب کی ہزار کوششوں اور کاوشوں کے باوجود تمام تر اس کی وسعت اور توسعات کے باوجود صرف حرم شریف کا احاطہ نہیں۔ چاروں طرف دو دو تین تین کلومیٹر تک سر ہی سر نظر آتے ہیں۔ میدان محشر میں حضرت آدم ں سے لے کر قیامت کی صبح تک کی ساری خلق خدا، گونجے گا نام مصطفیﷺ!سبحان اللہ! حضرت قاری صاحب رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: کل قیامت کے دن میدان محشر میں ساری خلق خدا جمع ہوگی۔

ادھر میرے رب کی اجازت سے فرشتہ اعلان کرے گا۔ محمد ﷺ! (سبحان اللہ) زور سے کہو: سبحان اللہ! میاں مسئلہ آگیا ہے۔ اس کے بغیر چارہ نہیں کہ دنیا میں ہر نیک کام کے متعلق دو احتمال ہیں۔ اللہ چاہے قبول کرے، اللہ چاہے رد کرے۔ میں نماز پڑھوں۔ اس کی مرضی قبول کرے یا نہ کرے۔ میں اس ذات باری تعالیٰ سے پوچھ نہیں

69

سکتا۔ صدقہ کرو، خیرات کرو، ہر نیکی کے متعلق دو احتمال ہیں۔ قبول کرے تو اس کا کرم اور اگر رد کردے تو وہ بے نیاز۔

درود شریف مقبول عمل جو ردنہیں کیا جاتا

میرے بھائیو! دنیا کے اندر ایک عمل ایسا ہے جس کے متعلق میرے رب نے وعدہ کر رکھا ہے۔ جب کبھی کوئی کائنات کے کسی حصے میں کوئی شخص کسی وقت جب بھی اس عمل کو کرے گا، اس کو قبول کروں گا۔ اس کو کبھی رد نہیں کروں گاا ور وہ کام ہے حضور ﷺ کی ذات پر درود شریف پڑھنا۔

میرے بھائیو! توجہ کرو۔ اللہ رب العزت نے فرشتوں کی ایک جماعت پیدا کی ہے۔ اللہتعالیٰ کے بے شمار فرشتے ہیں۔ اتنی مخلوق، اتنی خلق خدا۔ ستر ہزار فرشتہ حضور ﷺ کی ذات پر درود پڑھنے کے لئے صبح آتا ہے۔ ستر ہزار فرشتہ شام کو آتا ہے۔ اتنی کثیر تعداد ہے جو پہلی دفعہ آیا، پھر قیامت کی صبح تک وہ فرشتہ نہیں آے گا۔ ایک جماعت اللہ نے فرشتوں کی پیدا کی جن کا کام ہی یہ ہے کہ ساری دنیا میں پھرتے رہو۔ عاشقوں کی طرح جہاں کوئی تمہیں حضور ﷺ کے نام پہ درود پڑھنے والا ملے، وہ درود شریف لے جاکر حضرت محمد ﷺ کی خدمت میں پہنچا دو۔ بھائی محمد بلال بیٹے خادم حسین کے، بیٹھے درود شریف پڑھنے کے لئے، ارادہ ہے کہ ایک تسبیح پڑھوں گا۔ فرشتہ انتظار نہیں کرتا کہ یہ سودانے کرے۔ میں پھر جاؤں گا۔ ادھر دانا گرا، ادھر فرشتہ چلا، لائن لگ گئی ہے حضور ﷺ کے روضہ طیبہ تک اور فرشتہ جاتے جاتے اعلان کرتا ہے۔ محمد بلال جو بیٹا ہے خادم حسین کا، چکوال کی مدنی مسجد میں بیٹھ کے حضور ﷺ کی ذات پہ درود اس نے پڑھا ہے، لے کر میں جارہا ہوں۔ تم حضور ﷺ کا نام تو لو۔ اللہتمہارے نام کو دنیا میں گونجا دے۔ فرشتہ حضور ﷺ کی خدمت میں جاکر کہتا ہے: آقاﷺ! آپ کا فلاں امتی جس کا نام محمد بلال بیٹا خادم حسین کا۔

شریفو! میرے وعظ کو بھی نہ دیکھو، اپنے مزاج کو بھی نہ دیکھو، اب صرف دماغ کے اندر یہ تصور کرو کہ ایک دفعہ بھی آپ کا اور میرا نام حضور aکے سامنے ذکر کیا جائے۔ حضور ﷺ اپنے کانوں سے آپ کا میرا نام سن لیں، اس سے بڑھ کر میری اور آپ کی

70

سعادت کیا ہوسکتی ہے؟ سنو!نبی کی معراج یہ ہے کہ رب کے حضور پہنچے، امتی کی معراج یہ ہے کہ نبوت کے قدموں میں جگہ مل جائے۔

کثرت سے پڑھاجانے والادرودشریف

میرے دوستو! دنیا میں جو کثرت کے ساتھ درود پڑھا گیا، وہ یہ چھوٹا درود ’’صَلَی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمْ‘‘ ہے اور اس درود شریف کی خصوصیت یہ ہے کہ اس میں صلوٰۃ بھی ہے اور سلام بھی ہے۔ اس کے صدقے کل قیامت کے دن رب کی طرف سے نجات ملے گی اور حضور ﷺ کی طرف سے شفاعت ملے گی۔ کہہ دو ناں! بلند آواز سے ’’صَلَی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمْ‘‘

بھائیو! جتنی محبت سے حضور ﷺ کی ذات اقدس پہ درود شریف پڑھو گے۔ اتنا زیادہ قیامت کے دن حضور ﷺ کا قرب بھی نصیب ہوگا اور دیدار بھی نصیب ہوگا۔

اب کھڑی ہے ساری خلق خدا میدان محشر میں

ذرا اندازہ تو کرو، دربار خدا کا، نام مصطفی کا، فرشتہ اعلان کرے گا: محمد ﷺ! علماء مجھے معاف کریں، مجھے تو لگتا ہے یہ قیامت کا اجتماع بھی حضور ﷺ کے نام کو بلند کرنے کا بہانہ ہے۔ دیوانگی میں کہہ رہا ہوں۔ دیوانگی کی حالت میں باتیں ویسے بھی معاف ہوتی ہیں۔ فرشتہ کہے گا: محمد ﷺ! جتنے میدان محشر میں نام محمد والے ہوں گے۔ سارے کھڑے ہو جائیں گے۔ کوئی یہاں، کوئی وہاں، اس کو دیکھو، اس کو بھی دیکھو۔ بہار آئے گی نام محمد کی، میرے رب کی طرف سے اعلان ہوگا: لوگو! ہم نے تو نبی امی کو بلایا تھا۔ مکی، مدنی، مطلبی،ہاشمی، ہم نے تو آپ ﷺ کو بلایا تھا کہ حساب وکتاب شروع ہو۔

بھائیو! یہ قاری محمد طیبؒ نے لکھا ہے، فرماتے ہیں کہ: ہم نے تو ان کو بلایا تھا کہ وہ تشریف لے آئیں۔ حساب وکتاب شروع ہو۔ لیکن اعلان ہوتے ہی محمد نام کے تمام لوگ کھڑے ہوگئے۔ میرے رب کی طرف سے اعلان ہوگا کہ محمد نام کے لوگ ہماری دربار میں آئیںبھی اور کچھ دیئے بغیر خالی ان کو بٹھا دیں یہ ہماری شان رحیمی کے خلاف ہے۔ نام بھی محمد ہو، اور ملے بھی کچھ نہ۔ چلو! یوں کرتے ہیں کہ محمد نام کے جتنے لوگ ہو، تم تو جاؤ نا بغیر

71

حساب وکتاب کے جنت میں۔ باقیوں کا حساب پھر شروع کریں گے۔

بھائیو! اللہ کی کروڑہا رحمتیں نازل ہوںحضرت قاری محمد طیبؒ پر۔ جب یہاں پر پہنچے تو بے ساختہ انہوں نے ایک جملہ لکھا۔ آج میں نے ساری تقریر اس جملے کو سنانے کے لئے کی۔ وہ یہاں پر پہنچ کر فرماتے ہیں: لوگو! اگر نام محمد ﷺ کی برکات کا یہ عالم ہے تو ذات محمد ﷺ کی برکات کا کیا عالم ہوگا۔

حضور ﷺ کے امتی ہونے پر اللہ کا شکر

بھائیو! توجہ کریں۔ اللہ نے مجھے اور آپ کو دیا نبی حضرت محمد عربیﷺ جیسا، محمد عربیﷺ وہ گوہر نایاب ہیں کہ میرے رب کے خزانے میں بھی ان کی کوئی مثال نہیں۔ میرا اللہ اپنی توحید میں وحدہ لاشریک،محمد عربیﷺ اپنی نبوت میں وحدہ لاشریک۔

⚛… شریک خدا کا بھی کوئی نہیں۔

⚛… مثال مصطفیﷺ کی بھی کوئی نہیں۔

اب میں آپ سے پوچھتا ہوں کہ اللہ نے مجھے اور آپ کو حضور ﷺ جیسا نبی دیا۔ لوگو! اللہ تو اس پر بھی قادر تھا کہ مجھے اور آپ کو پیدا ہی نہ کرتا۔ اللہ اس پر بھی قادر تھا کہ انسان کی بجائے کوئی اور مخلوق بنا دیتا۔ اللہ نے پیدا کیا، پھر پیدا کر کے حضرت انسان بنایا۔ ذرا سوچیں! انسان بنانے کے بعد ایسے ہزاروں لوگ موجود ہیں کہ انسان ہیں، لیکن ایمان نہیں۔ انسان بناتا، لیکن ایمان نہ دیتا، اس پر بھی تو قادر تھا۔

⚛… اس نے پیدا بھی کیا۔

⚛… اس نے انسان بھی بنایا۔

⚛… اس نے ایمان بھی دیا۔

آپﷺ کے بعد کسی کی ضرورت نہیں

بھائیو! ذرا توجہ کریں اس امر پر کہ ایمان تو دیا لیکن تب بھی اس پر تو قادر تھا کہ آپ کو اور مجھے:

⚛… آدم ں کے زمانے میں پیدا کر دیتا۔

72

⚛… نوح ں کے زمانے میں پیدا کر دیتا۔

⚛… ابراہیم ں کے زمانے میں پیدا کر دیتا۔

⚛… داؤد ں کے زمانے میں پیدا کر دیتا۔

⚛… شیث ں کے زمانے میں پیدا کر دیتا۔

⚛… یوسف ں کے زمانے میں پیدا کر دیتا۔

اس کریم کے کرم کو دیکھیں! پیدا بھی کیا، انسان بھی بنایا، ایمان بھی دیا اور محمد عربیﷺ جیسا نبی بھی دیا۔ محمد عربیﷺ کی ذات وہ چیز ہے جو اللہ کے خزانے میں بھی ایک ہے۔ گوہر نایاب، در یکتا۔ اب میں آپ حضرات سے پوچھتا ہوں۔ اللہ جنہیں حضور ﷺ جیسا نبی دے، انہیں کسی اور نبوت کی ضرورت ہے؟ میں اب اپنے مشن پہ آیا ہوں اور تم ڈھیلے پڑگئے۔ کہتے ہیں: مزدور کو مزدوری آخر میں ملتی ہے۔ مجھے مزدوری تو دو۔

تاج وتخت ختم نبوت… زندہ باد

اللہ نے مجھے اور آپ کو امتی بنایا۔ حضور ﷺ کا، حضور ﷺ کی نبوت کے ہوتے ہوئے ہمیں کسی اور چیز کی ضرورت نہیں۔ اسی کو تو کہتے ہیں: ’’رَضِیْتُ بِاللّٰہِ رَباً وَبِالْاِسْلَامِ دِیْناً وَبِمُحَمَّدٍ نَبِیَّا‘‘

⚛… ہمیں خدا بھی کافی۔ ⚛… مصطفیﷺ بھی کافی۔

⚛… ہمیں حضور ﷺ کے ہوتے ہوئے یمامہ کے ’’مسیلمہ کذاب‘‘ ملعون کی ضرورت ہے؟… نہیں۔

⚛… ہمیں حضور ﷺ کے ہوتے ہوئے صنعا کے ’’اسود عنسی‘‘ ملعون کی ضرورت ہے؟… نہیں۔

⚛… ہمیں حضور ﷺ کی نبوت کے ہوتے ہوئے ایران کے ’’بہاء اللہ‘‘ ملعون کی ضرورت ہے؟…نہیں۔

⚛… ہمیں حضور ﷺکی نبوت کے ہوئے ہوئے قادیان کے ’’مرزا غلام قادیانی‘‘ ملعون کی نام نہاد و جعلی نبوت کی ضرورت ہے؟… نہیں۔

73

مرتے دم تک ختم نبوت کا تحفظ ہوگا

بھائیو! پوری امت کی ڈیڑھ سو سالہ جدوجہد کے بعد میں اس رب کریم کا کس زبان سے شکر ادا کروں کہ آج قادیانیوں کی گردن ہمارے پاؤں کے نیچے ہے۔

  1. میں سروقد کھڑا ہوں

    جھکنے نہیں دیتا سہارا تیرا

میرے کان میں آواز سنائی دیتی ہے اس صاحب کی جو کہتا ہے (عمران خان پی ٹی آئی والے) میں برسر اقتدار آیا تو میں فلاں قادیانی کو پاکستان کا وزیر خزانہ بناؤں گا۔ میاں! تم ذرا ہوش کرو، کیا کہہ رہے ہو۔ تمہیں غلط فہمی ہوگئی کہ تم ان قادیانیوں کو دوبارہ ہمارے سروں پر مسلط کرو۔ تم نہیں، تمہارا باپ بھی یہ نہیں کر سکتا۔ جو کہتے ہیں: نہیں ہوسکتا۔ وہ زور کے ساتھ کہیں: نہیں ہوسکتا۔ تم نے حضور ﷺ کی ختم نبوت کے مسئلے کو لاوارث سمجھ لیا۔ یہ سیدنا صدیق اکبرؓ کی جماعت موجود ہے۔ ان شاء اللہ!

نعرہ… خلافت راشدہ… حق چاریار

ایک اور بولا (پرویزمشرف) جو امریکہ گیا ہوا ہے۔ اگر میں برسراقتدار آیا تو مدارس کو ختم کردوں گا۔ تم کیا، تمہارے باپ برطانیہ اور امریکہ ختم نہیں کر سکے۔ تم کس باغ کی مولی ہو؟ مدارس کو ختم کرنے والے ختم ہو جائیں گے، مدارس ختم نہیں ہوں گے۔ ان شاء اللہ!

کیوں تم اس طرح اوباشانہ باتیں کر کے اپنا منہ کالا کر رہے ہو۔ کیوں اپنی آخرت خراب کر رہے ہو۔ محمد عربیﷺ کی امت بھی زندہ ہے اور دین کے خادم بھی زندہ ہیں۔ ان شاء اللہ!جب تک جان میں جان باقی ہے، حضور ﷺ کی عزت کا تحفظ کیا جائے گا۔ جو کہتے ہیں، کیا جائے گا۔ پوری توانائی کے ساتھ ہاتھ لہرا کر کہو، کیا جائے گا۔

’’وما علینا الاالبلاغ المبین‘‘

74

ختم نبوت کی اہمیت

بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ

اَلْحَمْدُللہِ وَکَفیٰ وَسَلامٌ عَلیٰ سَیِّدِ الرُّسُلِ وَخَاتَمِ الْاَنْبِیَاءِ وَعَلیٰ اٰلَہٖ وَاَصْحَابِہِ الَّذِیْنَ ھُمْ خُلاَصَۃُ الْعَرَبِ الْعَرَبَاءِ وَخَیْرُ الْخَلاَءِقِ بَعْدَ الْاَنْبِیَاءِ۔ اَمَّا بَعْدُ! فَاَعُوْذُ بِاللہِ مِنَ الشَّیْطٰنِ الرَّجِیْمِ۔ بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ۔

و قال اللہ تعالیٰ: وَلاَ تَحْسَبَنَّ الَّذِیْنَ قُتِلُواْ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰہِ أَمْوَاتاً بَلْ أَحْیَائٌ عِندَ رَبِّہِمْ یُرْزَقُونَ (سورۃ اٰل عمران ۱۶۹)

قال النبیﷺ: اَنَا اٰخِرُ الْاَنْبِیَاءِ وَاَنْتُمْ اٰخِرُ الْاُمَمِ (ابن ماجہ:۲۹۷)
اَللّٰھُمَّ صَلِّ عَلیٰ سَیِّدِنَا وَمَوْلٰنا مُحَمَّدٍ وَّعَلیٰ آلِ سَیِّدِنَا وَمَوْلٰنا مُحَمَّدٍ وَّبَارِکْ وَسَلِّمْ وَصَلِّ کَذَالِکَ عَلیٰ جَمِیْعِ الْاَنْبِیَاءِ وَالْمُرْسَلِیْنَ وَعَلیٰ الْمَلاَءِکَۃِ الْمُقَرَّبِیْنَ وَعَلیٰ عِبَادِ اللہِ الصَّالِحِیْنَ اَجْمَعِیْنَ اِلیٰ یَوْمِ الدِّیْنِ۔

تمہید

حضرات علماء کرام و سامعین گرامی! آپ نے مجھ سے پہلے متعدد حضرات کے ایمان پرور، حقائق افروز خطابات سنے۔ ہمارے مخدوم اور مخدوم زادہ حضرت سید سلمان گیلانی کی ایمان پرور نعتیں بھی آپ حضرات نے سماعت کیں۔ میرے مخدوم، آپ کے خطیب حضرت مولانا حبیب الرحمن (گلاسگوبرطانیہ) کی جاندار آپ نے گفتگو سنی۔ کویت سے تشریف لانے والے ہمارے مہمان ڈاکٹر مولانا احمد علی صاحب کا آپ نے بیان سنا۔ ابھی ان شاء اللہ! آخری بیان ہمارے مخدوم یادگار اسلاف حضرت مولانا علامہ خالد محمود کا ہو گا۔ حضرت مولانا احمد علی سراج صاحب نے جہاں پر اپنی گفتگو کو چھوڑا، وہاں سے میں اپنی گفتگو کا آغاز کرنا چاہتا ہوں:

75

عقیدہ ختم نبوت کی اہمیت وعظمت

برادران عزیز! توجہ کریں اس امر پر کہ شریعت میں آپ ﷺ کی ختم نبوت کے مسئلہ کی اہمیت کتنی ہے۔ اللہ نے ختم نبوت کے مسئلہ کو قرآن میں۱۰۰ بار بیان کیا۔ رحمت عالم ﷺ نے ختم نبوت کے مسئلہ کو اپنی احادیث میں ۲۱۰بار بیان کیا۔ صحابہ کرامؓ میں سے نمونے کے طور پر ایک صحابی رسول کا واقعہ عرض کرتا ہوں۔ رحمت عالم ﷺ کے آخری زمانہ حیات میں ’’مسیلمہ کذاب‘‘ نے نبوت کا دعویٰ کیا جو یمامہ کا رہنے والا تھا۔ آپ ﷺ کے پاس اس بدنصیب نے خط لکھا۔ آپ ﷺ نے جو جواب دینا تھا، سو دیا۔ اس کے احوال کی تفتیش کے لئے اپنے ایک صحابیؓ جن کا نام سیدنا حبیب بن زید انصاریؓ ہے۔ ان کو بھیجا۔

یہ سیدناحبیب بن زید انصاریؓ گئے اس کے علاقے میں۔ اسے پتہ چلا، ہزاروں آدمی اس نے مرتد کر لئے تھے۔ اس خیر القرون کے زمانے میں ہزاروں آدمیوں کا مرتد ہو جانا، اس زمانے کا سب سے بڑا حادثہ تھا۔ لیکن اس کے باوجود میں آپ دوستوں سے کہتا ہوں کہ اس زمانے میں جب صحابہؓ کی تعداد ایک لاکھ چوبیس ہزار تھی۔ اس وقت مسیلمہ کذاب کے ماننے والوں کی تعداد ایک لاکھ تھی۔ گویا مسلمانوں کے برابر، صرف انیس بیس کا فرق تھا۔ لیکن آج پوری دنیا میں تلاش کرنے کے باوجود مسیلمہ کی پارٹی کا کوئی آدمی نظر نہیں آتا۔ تو آپ دیکھیں گے کہ ایک وقت آئے گاکہ مسیلمہ کذاب کی طرح مسیلمہ قادیان کی پارٹی کا بھی ان شاء اللہ! ایک آدمی نہیں رہے گا۔

جھوٹے مدعیان نبوت کی دہشت گردی

میں عرض کرتا ہوں آپ دوستوں سے کہ حضرت سیدنا حبیب بن زید انصاریؓ تشریف لے گئے۔ مسیلمہ کذاب کو پتہ چلا۔ اس نے موقع ضائع کئے بغیر ان کو گرفتار کیا۔ اپنی مجلس میں لایا۔ مجھے نہیں معلوم آپ دوستوں کا رحمت عالم ﷺ کی ختم نبوت کے مسئلے پر کیا ذوق ہے:

⚛… میں آپ کی اور اپنی بات نہیں کر رہا۔

⚛… میں نوجوانوں اور بوڑھوں کی بات نہیں کر رہا۔

76

⚛… میں امام اور مقتدی کی بات نہیں کر رہا۔

⚛… میں خطیب اور خطباء کی بات نہیں کر رہا۔

میں رحمت عالم ﷺ کے صحابہ کرام کی بات کر رہاہوں کہ ان کو مسئلہ ختم نبوت سے متعلق دلچسپی کیا تھی۔ چنانچہ سیدنا حبیب بن زیدؓ گئے۔ مسیلمہ نے ان کو گرفتار کرایا اور اپنی مجلس میں لایا۔ میں عرض کرتا ہوں دنیا میں جو سب سے زیادہ دہشت گرد طبقہ ہے تو وہ جھوٹے مدعیان نبوت کا طبقہ ہے، امت مسلمہ کے لئے۔ یہی کام مسلمانوں کو گرفتار کرنا، الٹا لٹکانا، ان کے ٹکڑے کرنا، مسیلمہ کذاب نے کیا تھا۔

بھائیو! ہم دیکھتے ہیں تاریخ اپنے آپ کو دہراتی ہے۔ یہی کرتوت قادیان میں مرزا غلام احمد قادیانی کے ماننے والوں نے کئے کہ ہمارے امرتسر کے مستری محمد امین تھے۔ ان کو بھی قادیان میں اسی طرح قتل کیا گیا اور ان کے ٹکڑے کئے گئے۔ یہ سب سے بڑا دہشت گردوں کا ٹولہ جو سرور کائنات رحمۃ اللہ علیہ کی امت کے ایمان پر ڈاکہ ڈالتے ہیں اور ان کی جان پر بھی ڈاکہ ڈالتے ہیں۔

حضرت حبیب بن زیدؓ کی شہادت

بھائیو! میں عرض کرتا ہوں آپ دوستوں سے حضرت سیدنا حبیب بن زید انصاریؓ گئے۔ مسیلمہ کذاب نے ان کو گرفتار کرایا۔ دست بستہ مسیلمہ کی مجلس میں لائے گئے۔ مسیلمہ کذاب نے ان سے سوال کیا۔ دیکھتے ہی، چھوٹتے ہی، پہلی بات یہ کہی:

’’اَتَشْھَدُ اَنَّ مُحَمَّدً رَّسُوْلُ اللّٰہِ‘‘{کیا تم اس بات پر گواہی دیتے ہو کہ محمد عربیﷺ اللہ کے رسول ہیں؟}

حضرت سیدنا حبیبؓ نے اپنے دین و یقین کی تمام صلاحیتوں کو جمع کر کے بڑے اعتماد کے ساتھ، سینہ تان کے میرے رب کی رحمت کی ڈھیری پر ہاتھ رکھ کر بلند آواز سے کہا:

’’اَشْھَدُ اَنَّ مُحَمَّدً رَّسُوْلُ اللّٰہِ‘‘{میں گواہی دیتا ہوں کہ محمد عربیﷺ اللہ کے رسول ہیں}

آپ بھی کہہ دیں کہ محمد عربیﷺ اللہ کے رسول ہیں۔ اتنا بڑا اجتماع، بولنا چاہئے

77

محمد ﷺاللہ کے رسول ہیں۔ آپ بھی کہہ دیں کہ محمد عربیﷺ اللہ کے رسول ہیں۔ میں عرض کرتا ہوں کہ حضور ﷺ کی نبوت کی گواہی ہے۔ آپ فرش پر بولیں گے، حاضری عرش پر لگے گی۔ کیا معلوم آپ کا اور میرا بولنا اس ماحول میں کل قیامت کے دن حضور ﷺ کی شفاعت کا ذریعہ بن جائے۔ مل کر کہہ دو: حضور ﷺ اللہ کے نبی ہیں۔ جب حضرت سیدنا حبیبؓ نے یہ نعرہ بلند کیا، مسیلمہ نے ان سے دوسرا سوال کیا:

’’اَتَشْھَدُ اِنِّیْ رَسُوْلُ اللّٰہِ‘‘{کیا تم اس بات کی گواہی دیتے ہو کہ میں مسیلمہ بھی اللہ کا رسول ہوں؟۔}

ممکن ہے آپ حضرات میں سے کوئی دوست میرے جیسا فقہیہ، مصلحت پسند کوئی ہوتا تو وہ:

⚛… ہاں یا ناں میں جواب دیتا۔

⚛… اپنا سر ہلا دیتا۔

⚛… فقہ کا سہارا لیتا۔

⚛… ادھر ادھر تاویل کی قینچی چلاتا۔

⚛… استعارہ کے رنگ میں خود کو بچانے کی کوشش کرتا۔

مگرسامنے تھے نا! سیدنا حبیبؓ۔ جب مسیلمہ نے کہا کہ ’’تم اس بات کی گواہی دیتے ہو کہ میں مسیلمہ بھی اللہ کا رسول ہوں؟‘‘ سیدنا حبیبؓ نے جواب میں فرمایا: ’’اَنَااَصَمُّ لَااَسْمَعُ مَا تَقُوْلُ‘‘ {میں بہرہ ہوں، مجھے نہیں پتہ تو کیا بک رہا ہے۔}

حضور ﷺ کے بعد کوئی نبی ہو سکتا ہے، یہ سننے کے لئے میرے کان آمادہ نہیں۔ آپ بھی کہہ دیں کہ حضور ﷺ کے بعد کوئی نبی ہو سکتا ہے، یہ سننے کے لئے ہم آمادہ نہیں۔ میں آپ دوستوں سے عرض کرتا ہوں کہ مسیلمہ کذاب نے غصے میں کہا:

’’اَتَسْمَعُ ہَذَا وَلَا تَسْمَعُ ہَذَا‘‘ {حضور ﷺ کی نبوت کی بات آتی ہے وہ تم سن لیتے ہو۔ میری نبوت کی بات آتی ہے تو وہ تم نہیں سن سکتے۔}

یہ کہہ کر اس نے اشارہ کیا۔ ہماری تاریخ الکامل سے لے کر تاریخ الطبری تک۔ طبری سے لے کر ابن خلدون تک۔ امہات الکتب میں سے خواہ اسماء الرجال کی ہوں یا

78

تاریخ کی۔ کوئی ایسی کتاب نہیں جس میں سیدنا حبیب بن زیدؓ کے حالات کے ضمن میں یہ واقعہ مذکور نہ ہو۔ مسیلمہ نے کہا: تم حضور ﷺ کی نبوت کی بات سن لیتے ہو۔ میری نبوت کی بات آتی ہے تو تم نہیں سن سکتے۔ یہ کہا اور اشارہ کیا جلاد کو۔ اس نے تلوار ماری۔ دہشت گردی دیکھو! اس جھوٹے مدعی نبوت کی، تلوار مار کے اس نے حضرت حبیب بن زیدؓ کے ایک بازو کو کاٹا۔ پھر یہی سوال کیا۔ نہ سوال میں ترمیم ہوئی، نہ جواب میں کمی۔ وہی الفاظ دوبارہ سیدنا حبیبؓ نے فرمائے۔ اس نے اشارہ کر کے ان کا دوسرا بازو کٹوایا۔

⚛… دونوں ہاتھ کٹ گئے۔

⚛… پاؤں کاٹے گئے۔

⚛… دونوں ٹانگیں کاٹی گئیں۔

⚛… قبلہ! جسم کٹتا رہا۔

⚛… عضو گرتے رہے۔

وہ صحابی رسول ﷺ جب تک جان میں جان باقی رہی۔ ایک ہی بات کہتے رہے کہ ’’حضور ﷺ کے بعد کوئی نبی ہو۔ یہ بات سننے کے لئے میرے کان آمادہ نہیں ہو سکتے۔‘‘ کہہ دو: کان آمادہ نہیں۔ یہ تھا صحابہ کرامؓ کا ذوق۔

(اسد الغابہ، ج۱،ص۳۶۹)

حضرت ابومسلم خولانی رحمۃ اللہ علیہ کا واقعہ

آؤ!میں آپ کو لے کر چلتا ہوں تابعین کے دروازے پر۔ یہ کون ہیں؟ یہ جلیل القدر تابعی سیدنا ابومسلم خولانی رحمۃ اللہ علیہ ہیں۔ انہوں نے نبوت کا زمانہ پایا ہے۔ لیکن حضور ﷺ کی خدمت میں حاضر نہیں ہو سکے۔ دور دراز دیہات کے رہنے والے تھے۔ ان کے علاقے میں ایک جھوٹا مدعی نبوت تھا۔ اس کا نام تھا: اسود عنسی۔ اس نے کیا جھوٹا نبوت کا دعویٰ۔ حضرت ابومسلم خولانی رحمۃ اللہ علیہ جنہیں عبداللہ الثوب بھی کہتے ہیں۔ ان کی والدہ کا نام ام عمارہ ہے۔ یہ وہاں تشریف لے گئے۔ اسود عنسی نے دیکھا کہ مسیلمہ کذاب نے صحابی رسول ﷺ کے ساتھ یہ زیادتی کی تھی۔ انہوں نے جان دے دی۔ لیکن مسیلمہ کے قابو میں نہیں آئے۔ کچھ پوچھنے کے بجائے اس نے نہ آؤ دیکھا نہ تاؤ۔ حضرت سیدنا ابو مسلم

79

خولانی رحمۃ اللہ علیہ کے لئے آگ کی بھٹی تیار کروائی۔ جب اس کا ایندھن ڈھیروں جمع ہو گیا۔ اسے آگ لگائی۔ اس کے شعلے آسمان سے باتیں کرنے لگے۔ حضرت ابو مسلم خولانی رحمۃ اللہ علیہ کو اس نے پکڑا اور پنگھوڑے میں ڈالا۔ یہ دوسرا جھوٹا مدعی نبوت تھا جس نے اتنی بڑی دہشت گردی کا مظاہرہ کیا۔ تابعی رسول کو اس نے آگ میں ڈالا ۔

برادران عزیز! میںآپ لوگوں سے عرض کرتا ہوں۔ آپ حیران ہوں گے کہ آگ نے ان پر کیا اثر کیا؟۔

⚛… جاؤ مسند احمد کو اٹھا کر دیکھو۔

⚛… کنز العمال کو اٹھا کر دیکھو۔

⚛… مولانا بدر عالم کی کتاب ترجمان السنہ کو اٹھا کر دیکھو۔

⚛… حلیۃ الاولیاء کو اٹھا کر دیکھو۔

جہاں دیکھو گے یہی واقعہ ملے گا۔ اردو پڑھنے کا شوق ہے تو ہمارے مولانا مفتی تقی عثمانی مدظلہ نے ’’جہاں دیدہ‘‘ کتاب لکھی ہے۔ اس میں بھی یہ واقعہ موجود ہے۔ جب ان کو آگ میں ڈالا گیا۔ آگ ان پر اس طرح ٹھنڈی ہو گئی جس طرح محمد عربیﷺ کے والدسیدنا ابراہیم ں پر اللہ نے آگ کو ٹھنڈا کیا تھا۔ آج آپ دوست کہیں گے، یہ باتیں سمجھ میں نہیں آتیں۔ سو میں آپ دوستوں سے درخواست کرتا ہوں۔ آپ کے علاقے میں، آپ کی حکومتیں آپ کے لئے سائنس والے جیکٹ تیار کرتے ہیں۔ بلٹ پروف ہوتی ہیں۔ اس کے اوپر گولی اثر نہیں کرتی۔ بعض جیکٹس فائر پروف ہوتی ہیں۔ ان پر آگ اثر نہیں کرتی۔ آپ حضرات کے ہاتھوں میں گھڑی ہے۔ یہ واٹر پروف ہے۔ اس پر پانی اثر نہیں کرتا۔ لیکن میں آپ حضرات کی خدمت میں عرض کرتا ہوں۔ لوگو! جہاں پر انسانی طاقت کی انتہا ہوتی ہے، وہاں سے میرے رب کی قدرت کی ابتداء ہوتی ہے۔ آپ اگر کسی چیز کو پانی سے بچا سکتے ہیں، فائر سے بچا سکتے ہیںتو میرا اللہ آگ سے بھی بچا سکتا ہے۔ مل کر بولو کہ: اللہ آگ سے بچانے کا انتظام کر سکتے ہیں۔

سیدنا ابو مسلم خولانی رحمۃ اللہ علیہ نے فاتحانہ انداز میں شاید آپ مسجد میںشانہ بہ شانہ کیا چلتے ہوں گے۔ جس طرح یہ آگ کو فتح کر کے آئے۔ دیکھنے والوں نے دیکھا۔ جاننے

80

والوں نے جانا کہ اسود عنسی سے اور تو کچھ نہ ہو سکا۔ اس نے حضرت ابومسلم خولانی رحمۃ اللہ علیہ کو ملک بدر کیا۔ بھائی کوئی اور ملک بدر ہو تو کہیں اور رخ کرے گا۔ حضور ﷺ کا غلام ملک بدر ہو تو وہ مدینے کا رخ کرے گا۔ حضرت ابو مسلم خولانی رحمۃ اللہ علیہ عبداللہ الثوب، ام عمارہ کے بیٹے یہ چلتے ہیں۔ ایک آپ ہیں۔ ایک ان کے ساتھ اہلیہ ہے۔ چھوٹے بچے ہیں۔ ایک اونٹنی چار افراد کا قافلہ مدینہ طیبہ میں پہنچے۔ رب کی شان کو دیکھو۔ صنعاء سے چلے تھے مدینہ تک۔ پہنچتے پہنچتے کئی دن گزر گئے۔ اس دوران میرے رب کے کرم کو دیکھو رحمت عالم ﷺ کا وصال بھی ہو گیا۔ اسود عنسی بھی اپنے انجام کو پہنچ گیا۔ حضرت ابومسلم خولانی رحمۃ اللہ علیہ مدینہ طیبہ پہنچتے ہیں۔ سیدنا صدیق اکبرؓ کا دور حکومت ہے۔ ظہر کا وقت ہے۔تمام صحابہ کرامؓ نماز پڑھ کر گھروں کو جا رہے ہیں۔ ذرا توجہ کریں! بہت ہی نفع ہو گا۔ میں عرض کرتا ہوں: حضرت سیدنا ابو مسلم خولانی رحمۃ اللہ علیہ وہاں پر پہنچے۔ صحابہ نماز پڑھ کر جا چکے ہیں۔ مدینہ طیبہ مسجد نبوی میں اکیلے سیدنا فاروق اعظمؓ مسجد کے اندر نماز پڑھنے کے بعد تسبیح پڑھ رہے ہیں۔ سیدنا ابو مسلم خولانی رحمۃ اللہ علیہ گئے، جا کر مسجد کے قریب کھجور کے جھنڈ کے ساتھ اپنی سواری کو باندھا۔ پندرہ بیس دن کے بعد سفر کر کے پہنچے تھے۔ مسجد نبوی میں داخل ہوئے۔ زور سے کہا: السلام علیکم! سیدنا فاروق اعظمؓ نے یوں کر کے دیکھا۔ سیدنا فاروق اعظمؓ کے جواب دینے سے پہلے ہی ابو مسلم خولانی رحمۃ اللہ علیہ جہاں کھڑے تھے ’’اللہ اکبر‘‘ کہہ کر نماز شروع کر دی۔

حدیث شریف میں آتا ہے: ’’رُبَّ اَشْعَثَ مَدْفُوْعٍ بِالْاَبْوَابِ لَوْاَقْسَمَ عَلٰی اللّٰہِ لَاَبَرَّہُ‘‘ (مشکوٰۃ، باب فضل الفقراء وما کان من عیش النبیﷺ: ۴۴۶)

بسا اوقات بکھرے ہوئے بال، پراگندہ چہرہ، پھٹے ہوئے کپڑے، گرد آلود منہ لیکن وہ اتنے قیمتی ہوتا ہے کہ اگر وہ کوئی قسم اٹھا دے تو اللہ ان کی قسم کو جھوٹا نہیں ہونے دیتا۔ ان کی اس شکل کو دیکھا سیدنا فاروق اعظمؓ نے۔ پہچان گئے کہ ہے تو کوئی موتی گودڑی میں چھپا ہوا۔ وہ آئے حضرت ابومسلم خولانی رحمۃ اللہ علیہ نماز پڑھ رہے ہیں۔ سیدنا فاروق اعظمؓ، ابو مسلم خولانی رحمۃ اللہ علیہ کے چہرے کو پڑھ رہے ہیں۔ یہ بیٹھے التحیات میں سیدنا فاروق اعظمؓ آکر بیٹھے ان کے قریب۔ انہوں نے سلام پھیرا۔ سیدنا فاروق اعظمؓ نے فرمایا: ’’میاں جوان! کہاں سے آئے ہو؟۔‘‘

81

عرض کی: حضرت!’’ صنعاء سے‘‘ وہاں صنعاء سے پہلے خبر پہنچ چکی تھی۔ فرمایا: سنا ہے، وہاں پر ایک آدمی نے جھوٹا نبوت کا دعویٰ کیا۔ کیا تم اس کو جانتے ہو؟ عرض کی حضرت! ’’جانتا ہوں۔‘‘ فرمایا: سنا ہے اس نے ہمارے ایک ساتھی کو گرفتار کیا۔ آگ میں ڈالا۔ یہ بھی تم نے سنا ہے؟۔ انہوں نے کہا: حضرت! ’’ یہ بھی سنا ہے۔‘‘ فرمایا: ہم نے سنا ہے جس ساتھی کو آگ میں ڈالا گیا۔ آگ نے اس پر اثر نہیں کیا۔ کیا یہ بھی صحیح ہے؟۔ اس نے کہا: حضرت!’’ صحیح ہے۔‘‘

برادران عزیز! ذرا میرے ساتھ تعاون کریں۔ فرمایا: کہاں سے آئے۔ جہاں اسود نے نبوت کا دعویٰ کیا؟ حضرت! ’’کیا ہے۔ ‘‘ سنا ہے اس نے ہمارے ساتھی کو گرفتار کیا؟ حضرت! ’’بالکل صحیح سنا ہے۔‘‘ اس نے ہمارے ساتھی کو آگ میں ڈالا؟۔ حضرت! ’’بالکل صحیح سنا ہے۔‘‘ سنا ہے ہمارے ساتھی پر آگ نے اثر نہیں کیا۔ حضرت! ’’بالکل صحیح سنا ہے۔‘‘ فرمایا: میاں تم نے اس جوان آدمی کو دیکھا ہے جسے آگ میں ڈالا گیااور اس کے اوپر آگ نے اثر نہیں کیا؟۔ ذرا توجہ کریں۔ اس نے کہا: حضرت دیکھا ہے۔ سیدنا فاروق اعظمؓ نے ہاتھ اٹھایا۔ اس کے کندھے پر رکھ کر فرمایا: ’’میاں مجھے تو وہ تم معلوم ہوتے ہو۔‘‘ عمرؓ غلطی تو نہیں کر رہا؟ وہ رو پڑے۔ آنکھوں سے آنسو برسنے لگے۔ سیدنا فاروق اعظمؓ خود اٹھ کھڑے ہوئے۔

⚛… ان کو بھی اٹھایا

⚛… سینے سے لگایا

⚛… آسمان کی طرف دیکھا

فرمایا: ’’اللہ تیرا لاکھ لاکھ شکر ہے کہ عمرؓ کو مرنے سے پہلے اس آدمی کی زیارت کرادی جس پر تو نے اس طرح احسان کیا ہے۔ جس طرح محمد عربیﷺ کے والد سید نا حضرت ابراہیم ں پر تو نے احسان کیا تھا۔‘‘

(حلیۃ الاولیاء لابی نعیم،ج۲ص۱۲۹)

عقیدہ ختم نبوت کی اہمیت اور قادیانی کفر کی سنگینی

بھائی! میں عرض کرتا ہوں: میرے اللہ نے ختم نبوت کے مسئلے کو قرآن میں سمجھایا

82

۱۰۰ دفعہ۔ محمد عربیﷺ نے حدیث میں بیان کیا ۲۱۰ دفعہ۔ صحابہ کرامؓ نے کرائے اس کے لئے اپنی جان کے ٹوٹے۔ تابعین نے اس مسئلے کے لئے آگ کو سلام کئے۔ اب میں آنا چاہتا ہوں حضرات ائمہ کی طرف۔ آپ بھی میرے ساتھ رہیں، ائمہ حضرات سے پوچھتے ہیں، تمہارے نزدیک مسئلے کی اہمیت کیا ہے؟ سراج الائمہ امام اعظم ابوحنیفہ ؒ نے کہا، جو کہ شرح فقہ اکبر میں موجود ہے کہ:

’’وَدَعْوٰی النَّبُوَّۃِ بَعْدَ نَبِیِّنَا ﷺ کُفْرٌ بِالْاِجْمَاعِ‘‘ (شرح فقہ اکبر:۲۰۲)

{جو حضور ﷺ کے بعد نبوت کا دعویٰ کرے وہ بالاجماع کافر ہے}

بولو! کون ہے؟ تم آہستہ بولتے ہو یا میں اونچا سنتا ہوں۔ حضور ﷺ کے بعد جو نبوت کا دعویٰ کرے، وہ کون ہے؟… کافر۔ میں آپ دوستوں سے عرض کرتا ہوں: مسائل بیان کئے جائیں تو اعتقاد بنتا ہے۔ اگر واقعات بیان کئے جائیں تو نظریہ بنتا ہے۔ ذہن سازی ہوتی ہے۔ اس وقت عقیدہ کی بات ضرور کر رہا ہوں۔ لیکن میں اس وقت آپ دوستوں کی ذہن سازی کرنا چاہتا ہوں۔ نہیں لڑائی ہماری قادیانیوں کے ساتھ۔ نہ کوئی ذاتی، نہ کوئی جائیداد کی۔ صرف اتنی بات ہے کہ ہم نے ان سے کہا: جو حضور ﷺ کا نہیں۔ وہ ہمارا نہیں۔ جو رحمت عالم ﷺ کا نہیں۔ وہ ہمارا نہیں۔

⚛… جب تم نے اپنا نبی علیحدہ بنا لیا

⚛… تم نے مذہب اپنا علیحدہ بنا لیا

⚛… تم نے صحابہ اپنے علیحدہ بنا لئے

⚛… تم نے امہات المؤمنین اپنی علیحدہ بنا لیں

بجائے سیدنا صدیق اکبرؓ کے جن کے آپ تذکرے سن رہے تھے، ان کی مسند پر ’’نور الدین‘‘ کو بٹھا دیا۔ محمد عربیﷺ کی مسند پر ’’مرزا قادیانی‘‘ کو بٹھا دیا۔ ہم کہنے میں حق بجانب ہیں کہ جو حضور ﷺ کا نہیں۔ وہ ہمارا نہیں۔ میں کہنا چاہتا ہوں قادیانیوں سے کہ تمہاری ایک تحریک ہے۔ ہم مسکینوں کی بھی ایک تحریک ہے۔ بھائی بات لڑائی کی نہیں، جھگڑے کی نہیں۔ آؤ تم ہمارے ساتھ حساب کرو۔ ۲۳ مارچ ۱۸۸۹ء کو مرزا قادیانی نے نبوت کا دعویٰ کیا تھا۔ اس وقت ایک سو سال ہوا چاہتے ہیں اس بات کو۔ آؤ! ہمارے ساتھ

83

حساب کرو۔ تم نے کیا کھویا، کیا پایا؟ مرزا غلام احمد نے قادیانی جماعت کی بنیاد رکھی۔ وہاں لدھیانہ میں تین علماء تھے۔

⚛… مولانا عبداللہ لدھیانوی ؒ

⚛… مولانا عبدالعزیز لدھیانوی ؒ

⚛… مولانا محمد لدھیانوی ؒ

یہ حضرات وہاں پر کھڑے ہوئے۔ انہوں نے کہا: جو حضور ﷺ کے بعد نبوت کا دعویٰ کرے، وہ کون ہے؟… کافر۔ مرزا قادیانی اور اس کی پارٹی نے کہا: ہم ان علماء کے فتوے کو کچھ نہیں جانتے۔ تاریخ اپنے آپ کو دہراتی ہے۔ ہم دیکھتے ہیں ایک وقت آتا ہے دارالعلوم دیوبند کے بزرگ اٹھتے ہیں۔ ان کا نام مولانا سہول خان ؒ ہے۔ وہ فتویٰ مرتب کرتے ہیں ۶۰۰ علماء اس پر دستخط کرتے ہیں۔ وہ دیکھو مولانا محمد حسین بٹالوی ؒ اٹھے ۷۰۰ علماء کے انہوں نے دستخط کرائے۔ پہلے تین نے کہا: مرزا کافر ہے۔ اب پورے ہندوستان نے کہا۔ وہ دیکھو!

⚛… دہلی سے لے کر کراچی تک

⚛… کابل سے لے کر بنگلور تک

دنیا کی عدالتوں نے قادیانیوں کے کفر کا فیصلہ دیا

پورے ملک نے کہا:مرزا قادیانی اور اس کے ماننے والے کون؟… کافر۔ میرے بھائیو! قادیانیوں نے کہا: ہم اس کو بھی نہیں مانتے۔ قادیانی گئے بہاولپور کی عدالت میں۔ افریقی عدالتوں میں۔ قادیانی قادیانیت کی مردہ لاش کو لے کر پھرتے رہے۔ کبھی ان کے در۔ کبھی ان کے در۔ کبھی دربدر۔ جس عدالت میں گئے، ان کو منہ کی کھانی پڑی۔

بھائیو! میں عرض کرنا چاہتا ہوں: بہاولپورمقدمہ کے بارے میں۔ وہاں پر مرزا غلام احمد قادیانی کا کیس پیش ہوا۔ اس زمانے میں نواب آف بہاولپور کی حکومت تھی۔ فیصلہ دینے والے جج کا نام محمد اکبر تھا۔ آپ حضرات کے برطانیہ میں اس وقت وائسرائے کی

84

میٹنگ ہوا کرتی تھی۔ ساری دنیا کے وائسرائے ادھر ادھر کے جتنے ہمارے علاقے بہاول پورکے نواب تھے، اکٹھے ہو کر آپ کے یہاں لندن کے دارالعوام میں وائسرائے کی دعوت پر سلامی کے لئے سال کے بعد آیا کرتے تھے۔ یہاں پر ان کو کہا گیا تھا: قادیانی جو ہیں ان کا کیس ہے، اس پر خیال رکھنا۔ تو نواب آف بہاولپور نے وائسرائے سے کہا: جناب وائسرائے! آپ نے ہماری جائیدادیں تو لے لیں۔ ایک ایمان رہ گیا ہے۔ محمد عربیﷺ رہ گئے ہیں۔ اس کو میں چھوڑنے کے لئے تیار نہیں۔ ہماری عدالت جو فیصلہ دے گی، ہمیں منظور ہے۔ تاریخ اپنے آپ کو دہراتی ہے۔ قادیانی قیادت بھی آئی۔ محمد عربیﷺ کے غلام بھی آئے۔ قبلہ! ان قادیانیوں کو اپنی طاقت پر ناز تھا۔ محمد عربیﷺ کے امتیوں کو محمد عربیﷺ کی غلامی پر ناز تھا۔ ادھر قادیانی قیادت آئی، ادھر اکابرین علماء کرام آئے۔ بہاولپور کی عدالت ہے۔ وہاں پر کسی کا کوئی قانون نہیں چل سکتا۔ چنانچہ برطانیہ گورنمنٹ کا زمانہ تھا۔ بہاولپور کی عدالت میں کیس کی سماعت ہوئی۔ دونوں طرف سے دلائل دیئے گئے۔ جب دلائل کو دیکھا، بہاولپور عدالت کے جج نے کہا: قبلہ! پہلے علماء نے کہا تھا، آج عدالت کے جج نے کہا: مرزا قادیانی اور اس کے ماننے والے … کافر۔

قادیانیوں سے عرض کرتا ہوں: بات جھگڑے کی نہیں ہے۔ دنیا میں فیصلہ کرنے کے لئے مختلف فورم ہوا کرتے ہیں۔ پنچایت ہے۔ تھانہ ہے۔

⚛… تم نے مقامی دوستوں کے فیصلوں کو نہ مانا

⚛… تم نے لدھیانے کی بات نہ مانی

⚛… تم نے دیوبند اور دہلی کی بات نہ مانی

⚛… تم نے علماء کی بات نہ مانی

قبلہ! اب اس کے بعد پنچایت کی بات نہ مانی۔ علماء کی تو تم نے نہ مانی۔ یہ تو جج ہے۔ جج نے کہا: مرزا قادیانی اور اس کے ماننے والے… کافر۔

بھائیو! میں عرض کرتا ہوں۔ ہم یہاں کی حکومت سے اپنا حق مانگتے ہیں۔ آج ان کا کوئی جج فیصلہ کرے۔ ہمارے جج ان کے فیصلے کا احترام کریں گے۔ کوئی یہاں فیصلہ کرے، گورنمنٹ اس کا احترام کرے گی۔ قبلہ! ہمارے بھی ججوں نے فیصلے کئے ہیں۔ ہائی

85

کورٹ کے ججوں کے فیصلے ہیں۔ سپریم کورٹ کے ججوں کے فیصلے ہیں۔ اگر تمہاری کوئی نیشنل اسمبلی فیصلہ کرے۔ وہ ملک کے لئے قانون ہوتا ہے۔ ہماری بھی تو آخر اسمبلیاں ہیں۔ انہوں نے فیصلہ کیا کہ قادیانیوں کا مسلمانوں کے ساتھ کوئی تعلق نہیں۔ بہت ہی ادب کے ساتھ کہوں گا، آپ کی گورنمنٹ سے۔ وہ بھی اس مسئلہ پر سوچیں کہ ہمارا کل بھی ایمان تھا اور آج بھی ایمان ہے۔ کل بھی ہماری درخواست تھی، آج بھی ہمارا مطالبہ ہے کہ: جو حضور ﷺ کا نہیں، وہ ہمارا نہیں۔ تمہارے یہاں پر ایک طبقہ ہے۔ یہاں کا ایک فرقہ وہ علی الاعلان اپنے آپ کو کہتا ہے کہ ہم مسیحی ہیں۔ لیکن یہاں کی مسیحی برادری کہتی ہے کہ یہ جھوٹ بولتے ہیں۔ ہمارا حصہ نہیں۔ میں اسی ضمن میں عرض کرنا چاہتا ہوں۔ آپ کے پولیس والے کی وردی ہے۔ وہ وردی کوئی غیر پولیس والا پہن کے آ جائے تو تم کہو گے: اس نے جعل سازی کی۔ قبلہ! اگر تم دنیا کے معاملے میں جعل سازی برداشت نہیں کر سکتے تو مسلمان بھی محمد عربیﷺ کی مسند پر جھوٹے مدعی نبوت مرزا غلام احمد قادیانی کو برداشت نہیں کر سکتے۔ مل کر کہو: یہ ہمارے ایمان کا حصہ ہے۔

بھائیو! میں عرض کرنا چاہتا ہوں: قادیانیوں نے اس فیصلے کو نہ مانا۔ عدالتوں میں گئے۔ ایک وقت آیا ۱۹۷۴ء کی نیشنل اسمبلی نے جناب ذوالفقار علی بھٹو کی حکومت میں، معاف رکھنا! وہ ہمارے قومی رہنما تھے۔ بڑی قدآور شخصیت تھی۔ مولویوں کی اسمبلی نہیں تھی۔

⚛… اس میں ولی خان تھا

⚛… اس میں اصغر خان تھا

⚛… خورشید محمود قصوری تھا

⚛… اس میں عبدالقیوم تھا

⚛… عبدالحفیظ پیر زادہ تھا

⚛… ان میں کوئی مولوی نہیں

بڑی بھرپور اسمبلی۔ اس زمانے کی اسمبلی نے ۱۱؍ دن اس مسئلہ پر بحث کی۔ قادیانی جماعت کا معمولی آدمی نہیں، بلکہ ان کا خلیفہ جس کا نام مرزا ناصر تھا۔ لاہوری

86

گروپ کا مرزا صدر الدین تھا۔ دونوں پیش ہوئے۔۱۱؍دن اس پر جرح ہوئی۔ میرے رب کریم! تیری عطاؤں پر قربان۔ محمد عربیﷺ تیری اداؤں پر قربان۔ وہ دیکھو نا! آج رحمت عالم ﷺ کی ختم نبوت کا مسئلہ گیا قومی اسمبلی میں، تو پوری اسمبلی بولی: مرزا قادیانی اور اس کے ماننے والے کون؟… کافر۔

بھائیو! ایک وقت آیا تو سول حکومت اس نے تو کام دکھایا۔ اب فوج والے کیوں محروم رہیں؟۔ اس کے بعد آیا وقت جناب جنرل ضیاء الحق کا۔ وہ فوجی حکمران تھا۔ اس نے ۱۹۸۴ء میں فتویٰ دیا۔دس سال کا وقفہ ہے۔ تاریخ چل رہی ہے۔ زمانے کی رفتار کو تھامنے والے توجہ کرو۔ دنیا قادیانیت کے متعلق کیا فتویٰ دے رہی ہے۔ پہلے سول نے کہا۔ اب فوج نے کہا کہ: مرزا قادیانی اور اس کے ماننے والے کون؟… کافر۔ قادیانیوں نے کہا: ہم اس کو نہیں مانتے۔

⚛… قادیانی سپریم کورٹ میں گئے

⚛… لاہور ہائی کورٹ گئے

⚛… کوئٹہ ہائی کورٹ میں گئے

⚛… پشاور ہائی کورٹ میں گئے

⚛… کراچی ہائی کورٹ میں گئے

وہاں سے بھاگے قادیانی جوہانسبرگ کی عدالت تک گئے۔ وہاں پر عیسائی جج ہے۔ قادیانیوں کا یہودی وکیل ہے۔ قادیانی خود کیس کرنے والے۔ قادیانی کفر سے سامنا ہوا۔ لیکن کہتے ہیں: حق کو اللہ کبھی سرنگوں نہیں ہونے دیتے۔ دشمن کی عدالت تھی۔ کفر سے سامنا ہو گا۔ کفر نے تثلیث کی شکل اختیار کر لی۔ قادیانی کیس کرنے والا۔ یہودی کیس لڑنے والا۔ جج عیسائیوں کا۔ اس عدالت نے بھی کہا کہ: مرزا غلام احمد قادیانی اور اس کے ماننے والے کونـ؟… کافر۔

میرے بھائیو، سنو! دنیا جہاں کا کوئی ایسا فورم نہیں، جس پر قادیانیت کا مسئلہ پیش ہوا ہو اور امت کے لوگوں نے قادیانیت کے خلاف فیصلہ نہ دیا ہو۔ آج ضرورت اس امر کی ہے۔ بہت ہی ادب کے ساتھ علماء کی موجودگی میں کاسئہ گدائی پھیلا کے رسول اللہ ﷺ کے

87

نام پر حضور ﷺ کی عظمت کے نام پر میں آپ سے خیرات مانگتا ہوں۔ امت نے محنت کر کے اس عقیدہ کو ہم تک پہنچایا۔ ہمارا فرض بنتا ہے کہ آنے والی نسلوں تک اس عقیدہ کو پہنچائیں۔ مل کر کہہ دو: مرزا قادیانی اور اس کے ماننے والے کون؟… کافر۔ اور میاں! جوبوڑھے بیٹھے ہیں میری عمر کے، جن کی قبر کی تیاری ہے۔ میں ان سے بھی عرض کرتا ہوں اپنی اولاد کو سمجھاؤ، گلی کوچہ آواز لگاؤ۔

⚛… بچیوں تک۔ ⚛… بیٹیوں تک

⚛… مردوں تک۔ ⚛… عورتوں تک

ہر ایک تک یہ آواز پہنچنی چاہئے۔ میں کس کس کے سامنے کاسہ گدائی پھیلاؤں۔ کس سے درخواست کروں کہ آج قادیانی جھوٹے نبی کی جھوٹی تبلیغ کے لئے شب و روز کوشش کرتے ہیں۔ سچے نبی کے سچے امتیو! سچ کی خاطر تم محنت نہیں کرتے۔ یہاں گلاسکو میں قادیانیوں نے اپنا مرکز قائم کیا۔ اپنی نام نہاد مسجد بنائی، عبادت گاہ بنائی۔ مسلمان نماز پڑھنے جا رہے ہیں۔ خدا کے بندو!

⚛… اگر ہندو کے پیچھے کوئی مسلمان نماز نہیں پڑھتا

⚛… اگر سکھ کے پیچھے کوئی مسلمان نماز نہیں پڑھتا

تو قادیانی، ہندو اور سکھ سے بھی بڑے کافر ہیں۔ ان کے پیچھے کیسے نماز پڑھتے ہو؟ تمہاری اولاد قرآن پڑھنے کے لئے ان کے پاس جائے۔ ایک آدمی بھی اگر قادیانی ہو گیا۔ یہاں گلاسکو میں تو پوری امت مسلمہ سے سوال کیا جائے گا۔ قیامت کے دن رحمت عالم ﷺ اللہ کے حضور ہمارے خلاف کیس دائر کریں گے کہ یا اللہ! کفر نے اس میرے امتی کے ایمان پر ڈاکہ ڈالا تھا۔ مسلمانوں نے اس کا ایمان بچانے کی فکر نہیں کی تھی۔ دنیا جہاں کا کوئی قانون نہیں جو تمہیں اس بات سے روکے کہ ہم اپنے اس عقیدے کا بھی اظہار نہ کر سکیں۔

ساری دنیا کا قانون ہمیں حق دیتا ہے کہ ہم ڈنکے کی چوٹ پر اعلان کریں گے۔ قبلہ! کل بھی مسئلہ یہ ہے آج بھی مسئلہ یہ ہے۔ قبلہ! ہم رہیں یا نہ رہیں۔ آنے والی نسلیں دیکھیں گی۔ کل بھی مسئلہ یہ تھا۔ آج بھی مسئلہ یہ ہے۔ آئندہ کل بھی مسئلہ یہ ہو گا کہ:

88

جوحضور ﷺ کے بعد نبوت کا دعویٰ کرے، وہ کافر ہے۔

⚛… وہ لاہور کا ہو یا قادیان کا

⚛… وہ ایران کا ہو یا ہندوستان کا

⚛… وہ غلام احمد قادیانی ہو یا مسیلمہ کذاب

حضور ﷺ کے بعد جو نبوت کا دعویٰ کرے، وہ کون؟… کافر۔

مرز اغلام احمد قادیانی نے اپنی کتابوں میں کہا کہ:’’ سچا خدا وہی ہے جس نے قادیان میں اپنا سچا رسول بھیجا۔‘‘

(دافع البلاء ص۱۱، خزائن ج۱۸ ص۲۳۱)

اس نے رسالت کا دعویٰ کیا۔ اس کی ایک کتاب ہے۔ کتاب کا نام حقیقت الوحی ہے۔ کہتا ہے کہ: ’’۱۴۰۰ سال میں کسی اور کو نبوت نہیں ملی۔نبوت کا نام پانے کے لئے میں ہی مخصوص کیا گیاہوں۔‘‘

(حقیقت الوحی ۳۹۱، خزائن ۲۲، ص۴۰۶)

اس کے ملفوظات میں ہے کہ: ’’ہمارا دعویٰ ہے کہ ہم نبی اور رسول ہیں۔‘‘

(ملفوظات ج۵ ص۴۴۷)

ڈنکے کی چوٹ پرقادیان کا دہقان اغیار کے کہنے پر امت مسلمہ کے سامنے ہمیں للکار کر کہتا ہے ’’میں نبی ہوں‘‘ تم جواب میں کہہ دو کہ: حضور ﷺ کے بعد جو نبوت کادعویٰ کرے، وہ کافرہے۔ پہنچاؤ اپنے پیغام کو کہ جو حضور ﷺ کا نہیں، وہ ہمارا نہیں۔

میرے ساتھ عہد کرکے جائو

دوستو! میں آپ سے عرض کرتا ہوں کہ: مرزا غلام احمد قادیانی کی بات اگر یہاں تک ہوتی تو شاید میں چپ ہو جاتا۔ لیکن کیا کروں، مرزا قادیانی نے صرف :

⚛… نبوت کا دعویٰ نہیں کیا

⚛… رسالت کا دعویٰ نہیں کیا

بلکہ اس کا کہنا یہ ہے کہ: ’’میں محمد رسول اللہ ہوں۔‘‘ لوگو! میں عرض کرنا چاہتا ہوں: آج میرے جیسا آدمی یہاں پر بیٹھ کر کہے: میرا نام حبیب الرحمن ہے۔ میں مولانا حبیب الرحمن کا ظل اور بروز ہوں۔ ان کی جگہ میں تمہارا خطیب ہوں۔ تم کہو گے: مولوی

89

صاحب! سفیدداڑھی کا احترام اپنی جگہ۔ تم ہمارے مہمان ، یہ اپنی جگہ۔ لیکن جعلسازی نہیں چلے گی۔ قبلہ! اگر ایک عالم دین کے مسئلہ پر تم جعلسازی برداشت نہیں کر سکتے۔ مجھے کہنے کی اجازت بخشو: ساری کائنات کی عظمتیں قربان محمد عربیﷺ کی نعلین مبارک پر۔ آپ اور میں امام کے مسئلہ میں،حکومتیں اپنے ملازم کے مسئلہ میں۔ سربراہ مملکت اپنی صدارتوں کے چکر میں۔ اگر جعلسازی برداشت نہیں کر سکتے۔ تو خدا کے بندو! تم بھی کہہ دو کہ: ہم بھی جعلسازی برداشت نہیں کر سکتے۔ یہ ہمارا آئینی حق ہے۔ آپ یہاں سے جائیں تو ختم نبوت کے مبلغ بن کے جائیں۔ داعی بن کے جائیں۔ دوست اور دشمن کو بتائیں بڑے آرام کے ساتھ، پیار کے ساتھ اور محبت کے ساتھ۔ ہر ایک تک گونج لگنی چاہئے۔ تم چار دن اس کی مشق کرو۔ جو مسلمان ملے، اسے کہو کہ: حضور ﷺ آخری نبی ہیں۔ جو مسلمان ملے، اسے کہو کہ: حضور ﷺ کے بعد نبوت کا دعویٰ جو کرے ، وہ کافر ہے۔ جو مسلمان ملے، اسے کہو: غلام احمد اور اس کے ماننے والے کافر ہیں۔ چار دن کی محنت کروان شاء اللہ! تمہیں قادیانیت میدان میں نظر نہیں آئے گی۔

جو دوست کہتے ہیں: یہاں سے جانے کے بعد ہم ختم نبوت کا کام کریں گے۔

⚛… در و دیوار میں۔ ⚛… کوچہ و بازار میں

محمد عربیﷺ کی محبت سے سرشار ہو کر ختم نبوت کے ترانے گائیں گے۔ جو کہتے ہیں :ختم نبوت کے کام کو، رحمت عالم ﷺ کی عزت و ناموس کے کام کو، ہم مسلمانوں تک پہنچائیں گے۔ اپنی نسلوں تک پہنچائیں گے۔ بچوں، بیٹیوں تک پہنچائیں گے۔ کیا توقع رکھوں آپ دوستوں سے کہ آپ یہ کام کریں گے، مجاہدوں کی طرح؟

بھائیو! دشمنوں کو پتا چلنا چاہئے کہ حضور ﷺ کے غلام زندہ ہیں۔ حضور ﷺ کے بعد جو نبوت کا دعویٰ کرے ،وہ کافر ہے۔ اس پیغام کو آگے پھیلاؤ۔ اس کام کو لے کر آگے چلو۔ میں تم سے عرض کرتا ہوں: خدا کے لئے کھڑے ہو کر ذرا ماحول کو تو دیکھو۔ کام کو لے کر تم آگے چلو۔ دنیا میں رب کی رحمت آپ کے ساتھ ہو گی۔ قیامت کے دن حضور ﷺ کی شفاعت آپ پر سایہ فگن ہو گی۔ مل کر کہہ دو: جو حضور ﷺ کے بعد نبوت کا دعویٰ کرے ،وہ کون ہے؟… کافر۔

’’وما علینا الا البلاغ المبین‘‘

90

امام الانبیاءﷺ کی فضیلتیں

بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ

اَلْحَمْدُللہِ وَکَفیٰ وَسَلامٌ عَلیٰ سَیِّدِ الرُّسُلِ وَخَاتَمِ الْاَنْبِیَاءِ وَعَلیٰ اٰلَہٖ وَاَصْحَابِہِ الَّذِیْنَ ھُمْ خُلاَصَۃُ الْعَرَبِ الْعَرَبَاءِ وَخَیْرُ الْخَلاَءِقِ بَعْدَ الْاَنْبِیَاءِ۔ اَمَّا بَعْدُ! فَاَعُوْذُ بِاللہِ مِنَ الشَّیْطٰنِ الرَّجِیْمِ۔ بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ۔

و قال اللہ تعالیٰ: ’’مَّا کَانَ مُحَمَّدٌ أَبَا أَحَدٍ مِّن رِّجَالِکُمْ وَلَکِن رَّسُولَ اللَّہِ وَخَاتَمَ النَّبِیِّیْنَ وَکَانَ اللَّہُ بِکُلِّ شَیْْئٍ عَلِیْماً‘‘ (الاحزاب:۴۰)

قَالَ النَّبِیُّ ﷺ: فُضِّلْتُ عَلَی الْاَنْبِیَاءِ بِسِتٍّ، اُعْطِیْتُ جَوَامِعَ الْکَلِمِ، وَنُصِرْتُ بِالرُّعْبِ، وَ اُحِلَّتْ لِیَ الْْغَنَاءِمُ، وَ جُعِلَتْ لِیَ الْاَرْضُ مَسْجِدًا وَ طَھُوْرًا، وَ اُرْسِلْتُ اِلَی الْخَلْقِ کَافَّۃً، وَ خُتِمَ بِیَ النَّبِیُّوْنَ

(مسلم ج۱، ص۱۹۹)

اَللّٰھُمَّ صَلِّ عَلیٰ سَیِّدِنَا وَ مَوْلٰنا مُحَمَّدٍ وَّعَلیٰ آلِ سَیِّدِنَا وَ مَوْلٰنا مُحَمَّدٍ وَّ بَارِکْ وَسَلِّمْ وَ صَلِّ کَذَالِکَ عَلیٰ جَمِیْعِ الْاَنْبِیَاءِ وَالْمُرْسَلِیْنَ وَعَلیٰ الْمَلاَءِکَۃِ الْمُقَرَّبِیْنَ وَعَلیٰ عِبَادِ اللہِ الصَّالِحِیْنَ اَجْمَعِیْنَ اِلیٰ یَوْمِ الدِّیْنِ۔

تمہید

پہلی دفعہ آپ حضرات کے ہاں (تتہ پانی آزادکشمیر) حاضر ہونے کا اتفاق ہوا ہے۔ اللہ رب العزت کی توفیق سے، رحمت عالم ﷺ کے گنبد خضریٰ کے صدقے، کچھ دین کی باتیں عرض کرنے کی کوشش کروں گا۔ دعا فرمائیں کہ حق تعالیٰ شانہ مجھے حق بیان کرنے کی، آپ کو سننے کی اور ہم سب کو اس پر عمل کرنے کی توفیق عطاء فرمائے:

میرے واجب الاحترام بھائیو! میں نے آج کی اس مجلس کے لئے اپنی گفتگو کے شروع میں بطور برکت قرآن مجید اور حدیث شریف کا انتخاب کیا ہے۔ حضرت قبلہ پروفیسر

91

صاحب فرما رہے تھے، یہاں تقریباً اٹھانوے فیصد عوام اہل سنت سے تعلق رکھتے ہیں۔ اہل حق کا یہ علاقہ ہے۔ حضرت پیر صاحب رحمۃ اللہ علیہ کی خدمات کے متعلق بیان کرنے کا بھی ذکر فرما رہے تھے۔

حضور ﷺ کی عظمت کا پوری کائنات مقابلہ نہیں کرسکتی

میرے واجب الاحترام دوستو،بھائیو! آپ کا، پورے عالم اسلام کا یہ متفقہ عقیدہ ہے کہ ساری کائنات مل کر حضور ﷺ کی شان کا مقابلہ نہیں کر سکتی۔سبحان اللہ!

⚛… مشرق والے۔ ⚛… مغرب والے

⚛… شمال والے۔ ⚛… جنوب والے

⚛… تحت الثریٰ والے۔ ⚛… عرش معلیٰ والے

⚛… تورات والے۔ ⚛… زبور والے

⚛… انجیل والے۔ ⚛… قرآن والے

ساری کائنات ایک طرف، آمنہ کا لعل ایک طرف۔ ساری کائنات حضور ﷺ کی شان کا مقابلہ نہیں کر سکتی۔

بھائی! ہمارا تو یہ عقیدہ ہے کہ مخلوق دو قسم کی ہے۔ ایک ہے: ذوی العقول اور دوسری ہے: غیر ذوی العقول۔ذوی العقول کی تین قسمیں ہیں:

۱… جن ۲… فرشتے ۳… انسان

ان کو عقل والی مخلوق کہتے ہیں۔ علماء اہل سنت نے بھی اس مسئلے کی اپنی کتابوں میں تصریح کی ہے کہ: اگر ساری کائنات کے جن، فرشتے اور انسان مل کر کاتب بن جائیں۔

⚛… ساری دنیا کے درختوں کو قلم کے طور پر استعمال کریں

⚛… ساری کائنات کے پانی کو سیاہی کے طور پر استعمال کریں

⚛… زمین اور آسمان کو کاغذ کے طور پر استعمال کریں

⚛… تینوں مخلوق مل کر لکھنا شروع کر دیں

⚛… لکھنے والوں کے ہاتھ تھک جائیں گے

92

⚛… قلمیں گھس جائیں گی

⚛… سیاہی ختم ہو جائے گی

⚛… زمین و آسمان کی وسعت جواب دے جائے گی

مگر حضور ﷺ کی سیرت کا ایک باب بھی مکمل نہیں ہوگا۔ اللہ رب العزت نے رحمت عالم ﷺ کو جو شان عنایت فرمائی، میں کس کس فضیلت کا ذکر کروں۔ دوپہر کا وقت ہے۔ رحمت عالم ﷺ مسجد نبوی میں تشریف فرما ہیں۔ حضرت ام سلیمؓ تشریف لائیں۔ گرمی کا موسم، عرب کی گرمی، پہاڑوں کا علاقہ، دوپہر کا وقت۔ اینٹ سرہانے رکھے شہنشاہ لولاک ﷺ آرام فرما رہے ہیں۔ یوں رحمت عالم ﷺ لیٹے ہوئے ہیں۔ آپ ﷺ کی پیشانی مبارک کے اوپر پسینے کے آثار ہیں۔ وہ مائی صاحبہ آئیں۔ ان کے پاس روئی تھی۔ اس روئی کے ساتھ حضور ﷺ کے پسینہ کو اکٹھا کرکے شیشی میں ڈالتی رہیں۔ حضور ﷺ کی آنکھ مبارک کھلی تو حضور ﷺ نے ارشاد فرمایا:

’’اماں! یہ کیا کر رہی ہو؟۔‘‘ جواب آیا: ’’آقا! عرب کی عورتوں کا رواج ہے کہ جس وقت ان کی بچیوں کی رخصتی ہوتی ہے، شادی ہوتی ہے، وہ اپنی بچیوں کے جہیز میں خوشبو پیش کرتی ہیں۔ میں غریب عورت ہوں۔ میرے پاس خوشبو نہیں ہے اور عرب کی عورتیں اپنی بچیوں کے جہیز میں خوشبو پیش کریں گی اور میں محمد عربیﷺ کی نبوت کا پسینہ پیش کروں گی۔‘‘

(مشکوٰۃ، باب اسماء النبیﷺ وصفاتہ: ص: ۵۱۷)

تاریخ گواہ ہے کہ سیرت مصطفیﷺ میں حضرت کاندھلوی ؒ نے بھی لکھا ہے کہ جس بچی کے جہیز میں نبوت کا پسینہ پیش ہوا، اس بچی کی تین نسلوں میں محمد عربیﷺ کے پسینے کی خوشبو آتی رہی۔ میں حضور ﷺ کی کس کس بات کا آپ دوستوں کے سامنے تذکرہ کروں؟۔ میں آپ کے مکہ کا تذکرہ کروں یا آپ ﷺ کے مدینہ کا تذکرہ کروں؟۔ وہ دیکھو! ایک جنگ ہے۔ ایک جنگ سے حضور ﷺ اپنے صحابہ کرامؓ کے ہمراہ واپس تشریف لا رہے ہیں۔

93

⚛… کچھ صحابہ کرامؓ پیدل ہیں

⚛… کوئی گھوڑوں پر سوار

⚛… ایک جم غفیر ہے

⚛… لشکر موجود ہے

⚛… جنگ سے واپس آ رہے ہیں

⚛… گرد وغبار اڑ رہی ہے

⚛… ہوا چل رہی ہے

کچھ صحابہ کرامؓ نے اپنے چہروں کو کپڑوں سے ڈھانپا ہوا ہے۔ حضور ﷺ کی نگاہ مبارک اٹھی۔ آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ’’صحابہ یہ کیا؟۔‘‘ عرض کی: ’’یا رسول اللہ ﷺ! مٹی سے بچنے کے لئے، یہ کہ مٹی اگر ناک میں جائے نزلہ، منہ میں جائے کھانسی۔ اس لئے منہ پر کپڑا ڈال لیا ہے، تاکہ بیماری سے بچ جائیں۔‘‘ حضور ﷺ نے مسکرا کر فرمایا: ’’صحابہ! تمہیں مسئلہ کا نہیں پتا۔ وہ دنیا کی مٹی ہے جس میں اللہ نے بیماری رکھی ہے۔ لیکن یہ مدینہ کی مٹی ہے، اس میں اللہ نے شفاء رکھی ہے۔

(بخاری، باب المدینہ طابۃ:ج۱، ص۲۵۲)

نعرہ تکبیر… اللہ اکبر۔ نعرہ رسالت… محمد رسول اللہ ﷺ

اہل سنت والجماعت کا عقیدہ ہے کہ ساری کائنات مل کر حضور ﷺ کی شان کا مقابلہ نہیں کر سکتی۔ میں نے جن احادیث مبارک کا انتخاب کیا آج کے موضوع کے لئے:

  1. چوںبشانش نگاہ موسیٰ کرد

    شدن از امتش تمنا کرد

جب موسیٰ ں نے تورات میں حضور ﷺ کی شان پڑھی۔ اللہ رب العزت سے درخواست کی: ’’یا اللہ! مجھے حضور ﷺ کا امتی بنا دے۔‘‘ انبیاء کرام علیہم السلام حضور ﷺ کے امتی بننے کی تمنا اور آرزو کیا کرتے تھے۔ کسی نے کیا خوب کہا کہ ہمارا خدا بھی کریم اور ہمارا نبی بھی کریم

بھائیو! مجھے خوشی ہے اس بات کی کہ آج آپ کے علاقے کی پوری دینی قیادت یہاں پر جمع ہے۔ میں ان حضرات کی موجودگی میں ان کے رضا کار اور ان کے

94

خادم ہونے کے ناطے میں انتہائی دیانتداری سے کہتا ہوں۔ باوضو مسجد کے اندر بیٹھا ہوں۔ میں تو ان حضرات کے علم کی جو زکوٰۃ ہے، وہ لے کر آپ حضرات کے سامنے بول رہا ہوں۔ میرے پاس کچھ نہیں، ان حضرات کی نظر کرم ہے۔ مسئلہ سمجھو! کل قیامت کے دن سے پہلے جس وقت:

⚛… حضرت مہدی علیہ الرضوان جامع مسجد دمشق کے اندر ہوں گے

⚛… حضرت عیسیٰ علیہ السلام تشریف لائیں گے

⚛… حضرت مہدی علیہ الرضوان مصلیٰ چھوڑ دیں گے

⚛… حضرت عیسیٰ علیہ السلام سے درخواست کریں گے

’’ تَعَالْ! صَلِّ بِنَا‘‘ حضرت تشریف لائیں۔ نماز پڑھائیں۔ حضرت عیسیٰں بجائے مصلیٰ پر آنے کے حضرت مہدی علیہ الرضوان کا کندھا پکڑ کر حضرت مہدی علیہ الرضوان کو مصلیٰ پر کھڑا کریں گے۔ اور فرمائیں گے ’’تَکْرِمَۃً اللّٰہِ لِھٰذِہٖ الْاُمَّۃِ‘‘(الحاوی للفتاوی۲: ۶۴) ’’وَاِمَامُکُمْ مِنْکُمْ‘‘(بخاری۱: ۴۹۰) مہدی علیہ الرضوان! آپ نماز پڑھائیں۔ میں آپ کے پیچھے نماز پڑھنا چاہتا ہوں۔ تاکہ دنیا دیکھ لے کہ حضرت عیسیٰں اپنی شریعت چلانے کے لئے نہیں آیا۔ محمد عربیﷺ کی غلامی کرنے کے لئے آیا ہے۔ ساری کائنات ایک طرف لیکن آمنہ کا لعلa ایک طرف۔ ساری کائنات مل کر حضور ﷺ کی شان کا مقابلہ نہیں کر سکتی۔ بلند آواز سے کہیں کہ حضور ﷺ کی شان کا مقابلہ…؟ نہیں کر سکتی۔بھائیو!

حضور ﷺ کی انبیاء علیہم السلام پر چھ خصوصیتیں

⚛… ایک حضور ﷺ کی تعریف وہ ہے جو خدا کرے

⚛… ایک وہ ہے جو آپ کے پیر و مرشد کریں

⚛… ایک یہ ہے کہ حضرات علماء کرام بیان کریں

مگر اس حدیث شریف میں خود حضور ﷺ نے اپنے متعلق چھ فضیلتوں کا بیان فرمایا ہے۔ حضور ﷺ نے ارشاد فرمایا:

95

’’فُضِّلْتُ عَلَی الْاَنْبِیَاءِ بِسِتٍّ‘‘ّ{اللہ نے مجھے چھ چیزوں کے ساتھ انبیاء پر فضیلت دی۔}

(مشکوٰۃ، باب فضائل سید المرسلینa: ص ۵۱۲)

جن چھ چیزوں کے ساتھ مجھ کو وہ فضیلت دی، مجھ سے پہلے کسی کو نہیں دی۔ ان میں پہلی چیزیہ دی کہ:

۱…’’اُعْطِیْتُ جَوَامِعَ الْکَلِمِ‘‘ {اللہ نے مجھے جامع کلمات دیئے}

جامع کلمات اس کو کہتے ہیں کہ بات مختصر ہو۔ الفاظ کے اعتبار سے تو مختصر ہو مگر مفہوم اور معنی کے اعتبار سے اتنی جامع ہو کہ جو لوگ سالوں میں بیان کریں، وہ نبوت منٹوں میں بیان کر دے۔ اس کو کہتے ہیں’’اُعْطِیْتُ جَوَامِعَ الْکَلِمِ‘‘میں نے اپنی ان گنہگار آنکھوں کے ساتھ کئی حدیث شریف کی کتابوں کو دیکھا کہ ایک حدیث کی تشریح پر دو سو صفحے کی کتاب لکھی گئی۔ حضور ﷺ نے جو بات دو سطروں میں بیان کی، اس کی تفسیر کرنے والوں نے دو سو صفحے لکھے۔ حق یہ ہے کہ حق پھر بھی ادا نہیں ہوا۔ حضور ﷺ فرماتے ہیں: دوسری چیز اللہ نے مجھے یہ دی کہ:

۲… ’’وَنُصِرْتُ بِالرُّعْبِ ‘‘ { اللہ نے رعب کے ساتھ میری مدد کی}

اس پر میں ایک مثال عرض کرتا ہوں۔ علماء بیٹھے ہیں۔ خیبر کے علاقہ کا ایک یہودی۔ مکہ میں ابوجہل کے ساتھ اس کا سودا ہوا۔ اس نے ابوجہل سے پیسے لینے تھے۔ تاریخ آ گئی، وعدہ آ گیا۔ وہ آدمی خیبر سے چل کر ابوجہل کے پاس آیا اورآ کر کہتا ہے: مجھے پیسے دو۔ ابوجہل نے اسے جواب میں کہا: میاں! پیسے نہیں ملتے، دوڑ جاؤخیبر۔ یہ آدمی پریشانی کے عالم میں ہے۔ مکہ میں کوئی آدمی اس کا واقف نہیں۔ ادھر دیکھ، ادھر دیکھ۔ وہ سامنے دیکھا چوک میں آگ جل رہی ہے۔ چار آدمی بیٹھے ہیں، ان کے پاس گیا۔ کہتا ہے: مہربانی کرو! میں نے ابوجہل سے پیسے لینے تھے۔ میں اس کے پاس گیاہوں۔ ابوجہل نے پیسے دینے سے انکار کر دیا ہے۔ تم مہربانی کرو! اگر تم میں سے کوئی آدمی میرے ساتھ چلے۔ میری سفارش کردے تو مجھے پیسے مل جائیں گے۔ ان آدمیوں کو مذاق سوجھی۔ انہوں نے اس کے ساتھ مذاق کیا کہ میاں! مکہ میں صرف ایک شخص ہے، جس کا ابوجہل اکرام کرتا ہے۔ وہ آدمی تمہاری بات نہیں مانے گا۔ اگر اس کو تم اپنے ساتھ لے جاؤ اور وہ تمہارے

96

ساتھ روانہ ہو پڑے تو تمہیں پیسے مل جائیں گے۔ اس نے پوچھا: وہ کون؟ انہوں نے کہا: اس کا نام ہے ’’محمد(ﷺ)‘‘۔ ان کے ابوجہل کے ساتھ بڑے اچھے تعلقات ہیں۔ اگر وہ تمہارے ساتھ چل پڑے تو تمہیں قرضہ مل جائے گا۔ یہ ضرورت مند تھا۔ ضرورت مند آدمی دیوانہ ہوتا ہے۔ اسے کیا پتا کہ یہ میرے ساتھ مذاق کر رہے ہیں۔ یہ آدمی دوڑتا ہوا حضور ﷺ کے پاس آیا۔ اس نے درخواست کی۔ آپ ﷺبات سمجھ گئے۔ کہ اس کے ساتھ مذاق کی گئی ہے۔ ورنہ ساری دنیا کو پتا ہے کہ رحمت عالم ﷺ کے ابوجہل کے ساتھ تعلقات خوشگوار نہیں تھے۔ اس نے کہانی بیان کی۔ حضور ﷺ بات کی تہہ تک پہنچ گئے۔

تتہ پانی کے دوستو! آپ سے بھی اجازت چاہتا ہوں۔ آپ کے علماء کرام سے بھی۔ مجھے اس کی یہ تعبیر کرنے کی اجازت دیں کہ کوئی حضور ﷺ کے دروازے پر آئے اور خالی واپس چلا جائے۔ یہ حضور ﷺ کے رحمتہ للعالمین ہونے کے خلاف ہے۔ حضور ﷺ کی خدمت میں عرض کی: ’’ آقا! مہربانی فرمائیں! میرے ساتھ چلیں۔‘‘

یہاں پر ایک اور بات عرض کرتا ہوں۔ یہ جو حاتم طائی تھا۔ اس نے حضور ﷺ کی نبوت کا زمانہ نہیں پایا۔ عرب کا معروف سخی تھا۔ حضور ﷺ کے مبعوث ہونے سے پہلے اس کا انتقال ہو گیا تھا۔ اس کی اولاد نے حضور ﷺ کا زمانہ پایا ہے۔ اس کی بیٹی اپنے علاقے کی فرمانروا تھی۔ فوج لے کر صحابہ کرامؓ اور حضور ﷺ سے مقابلہ کرنے کے لئے میدان جنگ میں آئی تھی۔ لڑائی ہوئی۔ جتنے اس کے فوجی تھے سارے گرفتار کئے گئے۔ مال اس کا غنیمت بنا لیا گیا۔ اور اس بچی کو بھی گرفتار کیا گیا۔ قبلہ مفتی صاحب! رحمت عالم ﷺ تشریف فرما ہیں۔ صحابہ کرامؓبھی بیٹھے ہیں۔ حضور ﷺ نے چہرہ پھیر کر دیکھا نا! یوں۔ صحابہ کرامؓ سے پوچھا ’’وہ کیا؟ ‘‘صحابہ کرامؓ نے عرض کی:

’’یا رسول اللہ ﷺ! حاتم طائی کی بیٹی ہے۔ آپ ﷺ نے اپنی چادر مبارک صحابہ کرامؓ کو دی۔ فرمایا: جاؤ اس بچی کے سر پر ڈالو۔ چادر وہ جس کی عظمت کی قسمیں خدا قرآن میں اٹھاتا ہے۔ چادر وہ جس کے متعلق مولانا سید عطاء اللہ شاہ بخاری ؒ فرماتے تھے: اگر حضور ﷺ کی چادر یوں کر کے جہنم کی طرف پھیر دی جائے۔ محمد عربیﷺ کی چادر کے صدقے خدا جہنم کو بھی ٹھنڈا کر دے گا۔ اور یہ بات مبالغہ کی نہیں۔ آج بیٹھے ہیں صحابہ

97

کرامؓ۔ کھانا کھانے کے لئے۔ قبلہ میزبان نے دستر خوان بچھایا۔ کپڑے کا دسترخوان۔ ایک ساتھی نے کہہ دیا: بے تکلفی کے عالم میں کہ میاں! تمہارا دستر خوان بھی صاف نہیں۔ اس نے کھانا اٹھا کر ایک طرف کیا اور وہ دسترخوان اٹھایا۔ انہوں نے کہا ’’یہ کیا؟۔‘‘ اس نے کہا ’’آپ نے کہا: دستر خوان صاف نہیں۔‘‘ پہلے اسے دھوئیں گے۔ پھر کھانا کھائیں گے۔ انہوں نے کہا: تیرے دسترخوان دھونے تک، اس کے خشک ہونے تک کھانا ٹھنڈا ہو جائے گا۔ اب گزارہ کرو،اس نے کہا: نہیں! آج کے جدید دور کے مطابق، اس نے کہا نئی ڈرائی مشین کا میرے گھر کے اندر انتظام ہے، ایک منٹ لگے گا کپڑا صاف نہ ہو اس کی کیا مجال ہے۔ انہوں نے دسترخوان کو اٹھایا۔ چشم فلک نے یہ بھی نظارہ دیکھا۔ وہ سامنے تندور جل رہا ہے۔ کپڑے کا دسترخوان جا کر تندور کے اندر ڈالا۔ دو منٹ کے بعد لکڑی ماری۔ کپڑا تازہ استری ہو کر باہر آ گیا۔

میل جل چکی ہے۔ کپڑا واپس لاکر دستر خوان بچھایا۔ کھانا لگایا ۔ کہا: شروع کرو۔ انہوں نے کہا: حضرت کھانا بعد میں شروع کریں گے۔ پہلے بتاؤ! کپڑا اور اس پر آگ اثر نہ کرے۔ اس میں راز کیاہے؟۔ انہوں نے کہا: راز کی کیا بات ہے؟۔ ایک دن حضور ﷺ میرے گھر تشریف لائے تھے۔ آپ ﷺ نے ہاتھ مبارک دھوئے تھے۔ یہی کپڑا ہاتھ صاف کرنے کے لئے میں نے نبوت کی خدمت میں پیش کیا تھا۔ حضور ﷺ کے اس کو ہاتھ لگ گئے۔ حضور ﷺ کے ہاتھ مبارک جس کو لگ گئے، میرا ایمان یہ ہے کہ دنیا کی آگ تو درکنار، جہنم کی آگ بھی اثر نہیں کر سکتی۔ جب میلا ہوتا ہے تو تندور میں ڈال دیتا ہوں۔ میل جل جاتی ہے۔ محمد عربیﷺ کے مبارک ہاتھوں سے لگا کپڑا میرے سپرد کر دیتی ہے۔

حضور ﷺ نے ارشاد فرمایا: ’’لے جاؤ چادر۔‘‘ صحابیؓ رسول ﷺ نے عرض کیا: یارسول اللہ ﷺ! کافر کی بیٹی ہے، کافر کی۔ حضور ﷺ نے ارشاد فرمایا: ’’بیٹی کافر کی ہے۔ لیکن دربار تو محمد عربیﷺ کا ہے۔‘‘ یہاں جو آئے گا عزت پائے گا۔ وہ بچی آئی ہے حضور ﷺ کی خدمت میں، ایک سائیڈ پر ہوکر بیٹھ گئی۔ حضور ﷺ نے اس کی طرف دیکھا نہیں۔ آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ’’بیٹی!‘‘ تیرا میرے متعلق کیا خیال ہے؟۔ اس نے درخواست کی کہ: آقا! میں سخی کی بیٹی ہوں۔ سخی کے دربار میں آئی ہوں۔ آج میں نے دیکھنا

98

یہ ہے کہ آپ ﷺ میرے ساتھ کیا سخاوت کرتے ہیں۔‘‘ آئی لڑائی لڑنے کے لئے ہے۔ لیکن مانگنے کا انداز دیکھو۔ حضور ﷺ نے ارشاد فرمایا :’’بیٹی! اگر تو میری سخاوت کا امتحان لینا چاہتی ہے تو پھر مانگ کیا مانگتی ہے؟۔‘‘ اس نے کہا: ’’آقا! میں مانگوں، آپ دیں ؟۔‘‘ یہ آپ کی سخاوت کے خلاف ہے۔ میں نے دیکھنا یہ ہے کہ آپ ﷺ مجھے بن مانگے کیا دیتے ہیں؟

ابھی حضور ﷺ جواب دینا چاہتے تھے کہ اسی اثناء میںایک صحابیؓ آگے بڑھے۔ بچی کی طرف متوجہ ہو کر کہنے لگے۔ ’’بیٹی! یہ جو تو کہتی ہے کہ میرا باپ بـڑا سخی تھا۔ بھلا بتا کتنا بڑا سخی تھا؟۔‘‘ کہا: ’’میرے باپ حاتم طائی کی بات کرتے ہو۔ اس کے خزانے کے چالیس دروازے تھے۔ ایک سائل اگر میرے باپ کے دروازے پر سوال کرتا۔ میرا باپ اس کو پیسے دیتا۔ پھر وہی سائل دوسرے، تیسرے، چوتھے، پانچویں حتیٰ کہ چالیس دروازوں کا چکر لگاتا۔ میرے باپ نے اسے اگر:

⚛… پہلی دفعہ پانچ دیئے، تو چالیس دفعہ پانچ دیتاتھا

⚛… پہلی دفعہ دس دیئے، تو چالیس دفعہ دس دیتا تھا

⚛… پہلی دفعہ بیس دئیے، تو چالیس دفعہ بیس دیتا تھا

نہ پیسوں کے اندر کمی کرتا تھا اور نہ یہ کہتا تھا کہ پہلے مانگ کر گئے ہو، پھر کیوں آ گئے ہو،اتنا بڑا سخی تھا۔

صحابی رسول ﷺ مسکرا کر کہنے لگے: ’’بیٹی! تمہارے باپ کی سخاوت سمجھ گئے کہ جو سائل ایک مرتبہ تیرے باپ کے دروازے پر آتا تھا۔اس کو

⚛… ایک کے بعد دوسرے دروازے کا منہ دیکھنا پڑتا تھا

⚛… دوسرے کے بعد تیسرے دروازے پر جانا پڑتا تھا

⚛… تیسرے کے بعد چوتھے دروازے پر جانا پڑتا تھا

⚛… چوتھے کے بعد پانچویں دروازے پر جانا پڑتا تھا

⚛… حتیٰ کہ اس کو چالیس دروازوں کا منہ دیکھنا پڑتا تھا

لیکن دربار رسالت ﷺ۔جو حضور ﷺ کے دروازے پر آ جائے، اس کو کسی

99

دوسرے دروازے پر جانے کی ضرورت نہیں پڑتی۔سبحان اللہ!

بھائیو! یہ آدمی چل کر آیا ہے کہ مہربانی کریں، میرے ساتھ چلیں۔ حضور ﷺ نے فرمایا: ’’بہت اچھا۔‘‘ آپ اس کے ساتھ چلے، ابوجہل کے دروازے پر گئے۔ دروازہ کھٹکھٹایا۔ اندر بیٹھے ہی اس نے کہا کون؟۔ دروازے پر حضور ﷺ کھڑے ہیں۔ آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ’’محمد رسول اللہ(ﷺ)!‘‘ اس نے چار پائی سے ماری چھلانگ۔ ننگے سر، ننگے پاؤں، کھولا دروازہ، حضور ﷺ کے چہرے پر نظر پڑی۔ ہاتھ باندھ کر کہتا ہے ’’آقا! حکم؟۔‘‘ حضور ﷺ نے ارشاد فرمایا: اس آدمی کو جانتے ہو؟۔ عرض کیا: جانتاہوں۔ اس کے پیسے دینے ہیں؟۔ جی دینے ہیں۔ تو کیا خیال ہے؟۔ کہنے لگا: دینے ہیں۔ حضور ﷺ نے ارشاد فرمایا: ’’ادائیگی کرو۔‘‘ گھر گیا۔ پیسے لے کر آیا۔ اس آدمی کو دے دیئے۔ وہ آدمی اپنے گھر اور حضور ﷺ بھی چلے اپنے گھر۔

میرے بھائیو! وہ جو مکہ کے چودھری تھے، وہ اکٹھے ہوئے۔ ابوجہل کے پاس آئے اورکہنے لگے۔ تیرا بیڑا غرق ہو، حضور(ﷺ) کے کہنے پر تو نے قرضہ ادا کر دیا۔ یہ آدمی اپنے علاقے میں جائے گا اورکہے گا کہ محمد عربیﷺ بہترین شخصیت ہیں۔ جوہر کسی سے نرمی کا معاملہ فرماتے ہیں۔ ابوجہل نے جواب میں کہا ’’لوگو! دل میرا بھی یہی چاہتا تھا کہ حضور(ﷺ) کے کہنے پر قرضہ واپس نہ کروں۔ لیکن کیا کروں کہ جب حضور(ﷺ) نے میرا دروازہ کھٹکھٹایا۔ میں نے پوچھا کون؟۔ حضور(ﷺ) نے ارشاد فرمایا: ’’محمد رسول اللہ(ﷺ)۔ ‘‘ تو آپ کے ان الفاظ میں اتنا رعب اور کڑک تھی کہ سنتے ہی میرے جسم پر کپکپی طاری ہو گئی۔ میں نے دروازہ کھولا۔ دیکھتا ہوں کہ آپ کے دونوں جانب دو شیر ہیں۔ شیر میری آنکھوں میں آنکھیں ملا کر کہہ رہے ہیں ’’ابوجہل! حضور ﷺ تیرے دروازے پر آئے ہیں۔ خبردار! خالی واپس نہ کرنا، ورنہ تیرا تکہ بوٹی کر دیا جائے گا۔‘‘اس کو کہتے ہیں:’’وَنُصِرْتُ بِالرُّعْبِ‘‘

حضور ﷺ فرماتے ہیں کہ ’’رب نے میری رعب کے ساتھ مدد کی۔ حضور ﷺ فرماتے ہیں: ’’میںیہاں۔ میرا دشمن ایک مہینے کی مسافت پر دور۔ میں یہاں پر فقر و فاقہ کی زندگی گزارتا ہوں۔ وہ محلات میں رہتا ہے۔ وہ اپنے علاقے کا بادشاہ، لیکن حضور ﷺ

100

فرماتے ہیں: میرے رعب کا یہ عالم ہے کہ میرا نام سن کر اسے اپنے گھر میں چین نہیں آتا۔ ہزاروں میل دور بیٹھ کر، سینکڑوں میل دور بیٹھ کر اسے نام سن کر کپکپی طاری ہے۔‘‘ اس کو کہتے ہیں:’’وَنُصِرْتُ بِالرُّعْبِ‘‘

نبی اور امتی کی نیند میں فرق

محترم دوستو! آج گرمی کا دن ہے۔ دوپہر کا وقت ہے۔ چلتے چلتے ایک درخت کا گھنا سایہ تھا حضور ﷺ اس کے نیچے لیٹ گئے۔

بھائیو! آج ایک مسئلہ آپ دوستوں کی خدمت میں عرض کرتا ہوں۔ تیری میری نیند میں اور حضور ﷺ کی نیند میں فرق ہے۔ تم اور میں سوتے ہیں تو دل بھی سوتا ہے اور آنکھیں بھی سوتی ہیں۔ لیکن نبی جب سوتا ہے تو اس کی آنکھ سوتی ہے لیکن دل خدا کو یاد کرتا ہے۔ حضور ﷺ آرام فرما رہے ہیں۔ دوپہر کاوقت، گرمی کا موسم، ایک دشمن آتا ہے۔

⚛… اس کے ہاتھ میں تلوار … حضور ﷺ لیٹے ہوئے ہیں

⚛… وہ تیاری کر کے کھڑا ہے… آپ ﷺ کا دھیان نہیں

⚛… وہ مسلح کھڑا ہے… آپ ﷺ خالی ہاتھ ہیں

⚛… اس کی نیت بد ہے … آپ ﷺ بے فکر لیٹے ہوئے ہیں

آپ ﷺ کے سینے کے برابر کھڑے ہوکر کہتا ہے: آپ کوکون بچائے گا؟۔ تلوار اس کے ہاتھ میں ہے۔ بتائیے آپ کو کون بچائے گا؟ حضور ﷺ لیٹے ہوئے مسکرا کے جواب دیتے ہیں کہ ’’میرا اللہ!‘‘’’نُصِرْتُ بِالرُّعْبِ۔‘‘ حضور ﷺ نے فرمایا: ’’اللہ‘‘۔ دشمن کے ہاتھ سے تلوار گر گئی۔ آپ ﷺ نے لیٹے لیٹے تلوار ہاتھ میں پکڑ کر فرمایا: ’’اب تو بتا تجھے کون بچائے گا؟۔‘‘

تیسری چیز جو مجھ سے پہلے اللہ نے کسی نبی کو نہیں دی وہ یہ ہے کہ:

۳…’ ’وَاُحِلَّتْ لِیَ الْغَنَاءِمُ‘‘{میرے لئے غنیمت کا مال حلال کر دیا گیا}

پہلے قومیں جنگ لڑتی تھیں کفار کے ساتھ۔ اس جنگ میں جو کافروں کا مال مل جائے، اس کو استعمال کرنے کی اجازت نہیں تھی۔

101

⚛… پڑا ہے آگ لگ جائے

⚛… بارش برسے، ضائع ہو جائے

⚛… چاہے کچھ بھی ہو جائے

لیکن استعمال نہیں کر سکتے۔ حضور ﷺ فرماتے ہیں: جس وقت میں آیا، میرے صدقے اللہ تعالیٰ نے میری امت پر یہ بھی احسان کر دیا کہ کافروں کے ساتھ اگر ہماری لڑائی ہو، جنگ ہو، ان کا ہمیں مال مل جائے تو’’وَاُحِلَّتْ لِیَ الْغَنَاءِمُ‘‘ ہمیں اس کے استعمال کی اجازت مل گئی۔

چوتھی چیزحضور ﷺ فرماتے ہیں وہ یہ ہے کہ:

۴… ’’وَجُعِلَتْ لِیَ الْاَرْضُ مَسْجِدًا وَطَھُوْرًا‘‘ {میرے لئے ساری زمین کو سجدہ گاہ بنا دیا گیا ہے۔}

پہلے نبی اور ان کی امتیں سوائے اپنی عبادت گاہ کے کسی اور جگہ ان کو عبادت کرنے کی اجازت نہیں تھی۔ آج کا یہودی بھی اگر عبادت کرنا چاہے تو وہ پابند ہے اس بات کا کہ وہ اپنے کنیسہ میں جائے۔ سوائے کنیسہ کے اس کی عبادت قبول نہیں ہو سکتی۔ اگر عیسائی نے عبادت کرنی ہے تو وہ پابند ہے کہ اپنے گرجے کے اندر جائے۔ جب تک گرجے میں جا کر عبادت نہیں کرے گا، اس کی عبادت قبول نہیں ہو سکتی۔ اگر کسی سکھ نے عبادت کرنی ہے تو وہ پابند ہے کہ وہ اپنے گرد وارے میں جائے۔ اس کے علاوہ کہیں اس کی عبادت نہیں ہو سکتی۔ ہندو نے عبادت کرنی ہے تو وہ پابند ہے کہ وہ اپنے مندر میں جائے، ورنہ اس کی عبادت نہیں ہو سکتی۔

پہلے نبی اور ان کی امتیں جہاں نماز کا وقت ہو جاتا تھا، ان کو حکم تھا، دوڑ لگاؤ، جلدی کرو، مسجدمیں پہنچو۔ باہر نماز نہیں پڑھ سکتے۔ اگر نماز پڑھنی ہے تو مسجد بناؤ تو پھر نماز پڑھو۔ اگر مسجد بنانے کی پوزیشن میں نہیں تو قضاء کر لو۔ لیکن عبادت خانے کے اندر جاکر تمہاری عبادت ہوگی۔ باہر تم عبادت نہیں کر سکتے۔ اسی لئے حضور ﷺ فرماتے ہیں کہ: جب میں آیا، میرے رب کریم نے میری امت کے لئے یہ آسانی کر دی کہ ’’وَجُعِلَتْ لِیَ الْاَرْضُ مَسْجِدًا وَطَھُوْرًا‘‘ ساری کائنات کی دھرتی کو میرے رب نے میری

102

امت کے لئے سجدہ گاہ بنا دیا۔ وقت ہو گیا نماز کا، میرا امتی مسجد میں نہیں آسکتا۔ امتی ہمت کر، میری نبوت کا نعرہ لگا، وضو کر، قبلہ رخ کھڑے ہو کر سجدہ کرنا تیرا کام ہے۔ اس جگہ کو مسجد بنا دینا، میرے خدا کا کام ہے۔

حضور ﷺنے فرمایا پانچویں چیز جو پہلے کسی نبی کو میرے رب نے نہیں دی:

۵… ’’وَاُرْسِلْتُ اِلَی الْخَلْقِ کَافَّۃً‘‘

{مجھے تمام مخلوقوں کی طرف بھیجا گیاہے۔} مجھ سے پہلے جتنے نبی تھے

⚛… کوئی ایک علاقے کا نبی

⚛… کوئی ایک خاندان کا نبی

⚛… کوئی ایک قبیلے کانبی

⚛… کوئی کشمیریوں کا نبی

⚛… کوئی پنجابیوں کا نبی

⚛… کوئی ہندیوں کا نبی

⚛… کوئی سندھیوں کا نبی

⚛… میر پور والوں کا علیحدہ نبی

⚛… سرینگر والوں کا علیحدہ نبی

⚛… ہر ایک نبی کا علاقہ مخصوص

⚛… ہر ایک نبی کی قوم مخصوص

⚛… ہر ایک کی نبوت کا پرمٹ مخصوص

لیکن حضور ﷺ فرماتے ہیں: جب میں آیا، میرے رب نے ساری کائنات کی حدوں اور سرحدوں کو ختم کر کے ساری کائنات کو میرے لئے ون یونٹ بنا دیا۔ حکم ہوا کہ محمد ﷺ!

⚛… جہاں جہاں تک خدا کی خدائی ہے

⚛… وہاں وہاں تک محمد ﷺ کی مصطفائی ہے

⚛… نہ خدا کی خدائی کی کوئی انتہاء ہے

103

⚛… نہ محمد ﷺ کی نبوت کی کوئی انتہا ہے

’’وَاُرْسِلْتُ اِلَی الْخَلْقِ کَافَّۃً‘‘ حضور ﷺ ارشاد فرماتے ہیں:

’’ لوگو! علماء کرام نے یہاں سے ایک مسئلہ لکھا ہے۔ کلمہ کے دو جز ہیں۔ ایک ہے ’’لَااِلٰہَ اِلّٰا اللّٰہُ‘‘دوسرا ہے’’مُحَمَّدٌ رَّسُوْلُ اللّٰہِ‘‘

قبلہ مفتی صاحب! پڑھنے میں ’’لَااِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ‘‘ پہلے ہے اور ماننے میں ’’مُحَمَّدٌ رَّسُوْلُ اللّٰہِ‘‘ پہلے ہے۔

⚛… خدا اپنی توحید میں’وَحْدَہٗ لَاشَرِیْکَ‘‘

⚛… میرا نبی اپنی نبوت میں ’’وَحْدَہٗ لَاشَرِیْکَ‘‘

⚛… شریک خدا کا بھی کوئی نہیں

⚛… مثال میرے محمد ﷺ کی بھی کوئی نہیں

⚛… جو خدا کا شریک بنائے، وہ بھی کافر

⚛… جو محمد عربیﷺ کا شریک بنائے، وہ بھی کافر

⚛… بولو، بولو، اونچی آواز سے وہ کون ؟…کافر

بولو تتہ پانی کے لوگو! نام تتہ پانی اور ہو تم سارے ٹھنڈے پانی کے۔ جو خدا کا شریک بنائے، وہ بھی کافر۔ بولو بولو! ذرا زور سے بولو۔ جو محمد عربیﷺ کا شریک بنائے، وہ بھی؟ …کافر۔(نعرئہ تکبیر:اللہ اکبر … نعرئہ رسالت:محمدرسول اللہ ﷺ)

حضور ﷺ فرماتے ہیں: ’’اُرْسِلْتُ اِلَی الْخَلْقِ کَافَّۃً‘‘

⚛… جہاں جہاں تک خدا کی خدائی

⚛… وہاں تک میری نبوت

⚛… نہ خدا کی خدائی میں انتہاء

⚛… نہ میری نبوت کی کوئی انتہاء

حضور ﷺ فرماتے ہیں: چھٹی چیز جو پہلے کسی نبی کو میرے رب نے نہیں دی:

۶… ’’وَخُتِمَ بِیَ النَّبِیُّوْنَ‘‘ {میرے اوپر نبیوں کا سلسلہ مکمل کیا گیا۔}

اللہ نے میرے آنے پر ساری حدیں ختم کیں۔ مجھے عالمگیر۔بلکہ معافی چاہتا

104

ہوں، یہ عالمگیر کا لفظ بھی محدود ہے۔ اور آگے چلو۔ اور آگے چلو۔ میں اس کی تعبیر نہیں کر سکتا۔ حضور ﷺ فرماتے ہیں: ایک نبی آئے۔ ان کے بعد جب دوسرے آئے تو پہلے کی بات ختم۔ شریعت بھی ختم۔ امت بھی ختم۔ اب اس کی کوئی بات نہیں۔

⚛… جب دوسرے آئے تو پہلے کی بات ختم

⚛… جب تیسرے آئے تو پہلے دو کی بات ختم

⚛… جب چوتھے آئے تو پہلے تین کی بات ختم

⚛… جب پانچویں آئے تو پہلے چار کی بات ختم

⚛… جب سو والا آیا تو ننانوے والے کی بات ختم

حضور ﷺ فرماتے ہیں: جتنے نبی آئے تو جب وہ گئے، اس کی نبوت بھی اس کے ساتھ گئی۔ حضور ﷺ فرماتے ہیں جب میں آیا ’’خُتِمَ بِیَ النَّبِیُّوْنَ‘‘ اللہ نے میرے اوپر نبوت کے سلسلے کی انتہاء کر دی۔ اس طرح مجھے خاتم النّبیین بنا کر بھیجا کہ اب قیامت کی صبح تک محمد عربیﷺ کی نبوت کا سورج چمکے گا۔ حتیٰ کہ کل قیامت کے دن جب سب نبی اٹھیں گے تو محمد عربیﷺ کی نبوت کے زیر سایہ اٹھیں گے۔

حضور ﷺ کو اپنی امت کی فکر

حضور ﷺ فرماتے ہیں ’’خُتِمَ بِیَ النَّبِیُّوْنَ‘‘ اللہ نے میرے اوپر نبیوں کا سلسلہ ختم کیا۔ تتہ پانی کے مسلمانو! میرے ماں باپ قربان امت کے مقدر پر۔ میاں مسئلہ سمجھو۔ ماں! اپنی اولاد پہ اتنی مہربان نہیں ہوتی، جتنا نبی اپنی امت پہ مہربان ہوا کرتا ہے۔ باقی نبی صرف رحمت تھے۔ محمد عربیﷺ رحمتہ للعالمین ہیں۔

بھائیو! قرآن مجید کی آیت مبارکہ ہے کہ:

’’وَلَسَوْفَ یُعْطِیْکَ رَبُّکَ فَتَرْضٰی‘‘ (الضحیٰ: ۵)جس کا معنی یہ ہے کہ محمد عربیﷺ! آپ کو آپ کا رب اتنا دے گا کہ آپ راضی ہو جائیں گے۔

⚛… ساری دنیا کے نبی

⚛… ساری دنیا کے ولی

105

⚛… ساری دنیا کے غوث

⚛… ساری دنیا کے قطب

⚛… ساری دنیا کے ابدال

⚛… ساری کائنات رب کی رضا تلاش کرے

اور خود خدا مصطفی کوراضی فرمائے۔(نعرئہ تکبیر…اللہ اکبر۔)

’’وَلَسَوْفَ یُعْطِیْکَ رَبُّکَ فَتَرْضٰی‘‘آپ کو آپ کا رب اتنا دے گا کہ آپ راضی ہوجائیں گے۔ جبرائیل نے پڑھی آیت۔ حضور ﷺ نے جبرئیل کا ہاتھ پکڑا۔ جبرئیل نے حضور ﷺ کی طرف دیکھا۔ حضور ﷺ نے فرمایا: جبرئیل! کیا میرا رب مجھے راضی کرے گا۔ فرمایا: ’’آقا!‘‘ آپ کو آپ کا رب راضی کرے گا:

’’اِنَّا سَنُرْضِیْکَ فِیْ اُمَّتِکَ وَلَا نَسُوْؤُکَ‘‘(مشکوٰۃ، باب الحوض الشفاعۃ: ۴۸۹)

حضور ﷺ نے فرمایا: ’’جبرئیل!‘‘ اگر میرے رب نے مجھے راضی کرنا ہے تو اس راضی کرنے والے رب کی قسم۔ میں اس وقت تک راضی نہیں ہوں گا جب تک میرا اللہ میری امت کے آخری گناہ گار کی بخشش کا فیصلہ نہیں کر دے گا۔

(تفسیرابن جریر:ج۱۵،ص۲۳۲)

اللہ کا فضل ہے۔ رب کا دین ہے۔ محمد عربیﷺ کے گنبد خضریٰ کے صدقے۔ مولانا شاہ احمد نورانی ہوں یا مفتی محمود۔ جناب ساجدمیر ہوں یا ساجد علی نقوی ہوں یا جناب پروفیسر طاہر القادری۔ ختم نبوت کے مسئلے میں پوری امت کا ہمیں اعتماد حاصل ہے۔ ہمیں لڑانے والو! تم مٹ جاؤ گے، محمد عربیﷺ کے غلام ختم نبوت کے مسئلے میں کبھی مصلحت کا شکار نہیں ہوں گے۔ یہ مسجدیں ہماری مسجدیں ہیں۔ میں نے تونسہ کی خانقاہ میں وعظ کیا۔ مجھے گولڑہ شریف والوں کی بھی سرپرستی حاصل ہے۔ الحمدللہ!

⚛… تو کرے میرے نبی کی بغاوت

⚛… تو کرے میرے حضور ﷺ کا مقابلہ

اور ہم کریںتیری رعایت؟ مل کر کہو: یہ نہیں ہو سکتا۔ وہ دن گئے جب خلیل خان فاختے اڑایا کرتے تھے۔ یہاں تو مرزا قادیانی کی نبوت کے جھنڈے لہرانا چاہتا ہے۔ ہم

106

مرزا قادیانی کو ان شاء اللہ! ان پہاڑوں پر گالی بنا کے چھوڑیں گے۔

قادیانیت نام ہے حضور ﷺ سے دشمنی کا

مسلمانو! مسئلہ بتاؤ مجھے۔ آپ دوستوں کا کیا خیال ہے؟۔ جتنی دیر میرا وعظ ہوا ہے۔ کیا نتیجہ نکالا ہے آپ دوستوں نے؟۔ کیا کوئی آدمی حضور ﷺ کی شان کا مقابلہ کر سکتا ہے؟۔ نہیں۔کوئی شخص حضور ﷺ کی شان کا مقابلہ نہیں کر سکتا ۔ میں آپ دوستوں سے پوچھتا ہوں۔ جو شخص یہ کہے کہ: حضور ﷺ کی شان کا مقابلہ ہو سکتا ہے، وہ کون؟… ’’کافر‘‘۔ بلند آواز سے بولو، کون؟ … کافر۔

’’نقل کفر کفر نہ باشد‘‘مرزا قادیانی کے بیٹے مرزا محمود نے کہا کہ:

’’ہر شخص ترقی کر سکتا ہے۔ بڑے سے بڑا درجہ پا سکتا ہے حتیٰ کہ محمد رسول اللہ ﷺ سے بڑھ سکتا ہے۔‘‘

(الفضل قادیان:ج ۱۰، نمبر۵، ص۵مورخہ ۱۷جولائی۹۲۲ء)

بھائیو! میں آپ دوستوں سے یہ پوچھتا ہوں جن کا یہ عقیدہ ہو، وہ کون؟… ’’کافر‘‘۔ آواز آنی چاہئے، وہ کون؟… ’’کافر‘‘۔ کوئی رعایت نہیں محمد عربیﷺ کے دشمن کے ساتھ۔ گونج کے کہو: جو محمد عربیﷺ کی توہین کرے، وہ کون؟… کافر۔

تو اگر محمد عربیﷺ کے نعلین مبارک کو میلی نگاہ سے دیکھے گا۔ خدا کی قسم! تیری آنکھیں نکالنے کا انتظام کیا جائے گا۔ میں آپ دوستوں سے مسئلہ پوچھتا ہوں اور میاں بتاؤ! مسلمانوں کا کیا عقیدہ ہے کہ حضور ﷺ جو چیزیں استعمال فرمایا کرتے تھے۔ وہ پلید ہوا کرتی تھیں یا پاک؟۔ آہستہ نہ بولو۔ زور سے بولو۔ جن لوگوں کا عقیدہ ہے کہ حضور ﷺ کی ہر چیز پاک، بلند آواز سے کہیں کہ حضور ﷺ کی ہر چیز؟… ’’پاک۔‘‘ یہاں تک آواز آنی چاہئے، ہر چیز؟ …’’پاک۔‘‘ یہ جو پہاڑ ہیں، کل قیامت کے دن ان کا ایک ایک پتھر ہمارے ایمان کی گواہی دے۔ ہمارا عقیدہ ہے کہ حضور ﷺ جو چیزیں استعمال فرمایا کرتے تھے، وہ کیا تھیں؟ … ’’پاک، پاک۔‘‘

⚛… حضور ﷺ کا اٹھنا پاک

⚛… آپ ﷺ کا بیٹھنا پاک

107

⚛… آپ ﷺ کا چلنا پاک

⚛… آپ ﷺ کا پھرنا پاک

⚛… آپ ﷺ کی شادی پاک

⚛… آپ ﷺ کے صحابہ کرامؓ پاک

⚛… آپ ﷺ کے اہل بیتؓ پاک

⚛… حضور ﷺ فرش پہ ہوں تو بھی پاک

⚛… حضور ﷺ عرش پہ جائیں تو بھی پاک

میاں! ہمارا تو عقیدہ ہے کہ مکہ کا موچی جوتی بنائے۔ حضور ﷺ کے قدموں میں آئے۔ عرش تک ساتھ جائے۔ اب میں آپ سے یہ پوچھتا ہوں، جو شخص یہ کہے کہ: حضور ﷺ ناپاک چیزیں استعمال کرتے تھے۔ تم بتاؤ وہ کون؟…’’کافر‘‘۔ آواز آنی چاہئے وہ کون؟ …’’کافر‘‘۔ نقل کفر، کفر نہ باشد۔

مرزے قادیانی بدمعاش نے لکھا ہے کہ: ’’حضور ﷺ عیسائیوں کے ہاتھ کا بنا پنیر کھا لیا کرتے تھے اور مشہور تھا کہ اس میں سور کی چربی اس میں پڑتی ہے۔ ‘‘

(الفضل قادیان: ج۱۱، نمبر۶۶ ، ص۹، ۲۲ فروری ۱۹۲۴ء)

میں آپ دوستوں سے پوچھتا ہوں، جن لوگوں کا یہ عقیدہ ہو، وہ کون؟… ’’کافر‘‘ اس کے ماننے والے کون؟ …’’کافر‘‘ ان کی رعایت کرنے والے کون؟…’’کافر‘‘ ان کے لئے اپنے دلوں میں نرم گوشہ رکھنے والے کون؟… ’’کافر‘‘ حضور ﷺ کاجو دشمن ہے، وہ کون؟…’’کافر‘‘ زور سے بولو … ’’کافر‘‘

سیدہ فاطمۃ الزہراءؓ کا مقام

بھائیو! میرے ماں، باپ حضور ﷺ پرقربان۔ میری اماں فاطمہؓ کے بارہ میں رحمت عالم ﷺ ارشاد فرماتے ہیں: ’’فاطمہ میرے جگرکا ٹکڑا ہے۔‘‘

(مشکوٰۃ، باب مناقب اہل بیت النبیﷺ: ۵۶۸)

میری اماں فاطمہؓ کے متعلق روایت میں آتا ہے کہ: جس وقت آپ کی وفات کا

108

وقت آیا۔ آپ نے حضرت علی المرتضیٰؓ کو بلایا اور وصیت کی علیؓ! میرا جنازہ رات کو اٹھایا جائے۔ حضرت علی المرتضیٰؓ شیر خدا نے ارشاد فرمایا: فاطمہؓ! حضور ﷺ ہم سے تشریف لے جا چکے ہیں۔ حضور ﷺ کے بعد آپ تمام صحابہ کرامؓ کی نگاہ میں عزت و احترام سے دیکھی جاتی تھیں۔ آپ کا جنازہ معمولی جنازہ نہیں۔

⚛… خاتون جنت کا جنازہ ہے

⚛… حسنؓ کی اماں کا جنازہ ہے

⚛… حسینؓ کی اماں کا جنازہ ہے

⚛… علیؓ کی گھر والی کا جنازہ ہے

⚛… نبیﷺ کی صاحبزادی کا جنازہ ہے

آپ کے جنازہ میں صحابہؓ آئیں گے۔ اہل بیتؓ کے لوگ آئیں گے۔ چھوٹے بڑے حضور ﷺ کی ساری امت آئے گی۔ خاتون جنت کا جنازہ ہے۔ فاطمہؓ! اگر آپ کا جنازہ رات کو اٹھایا گیا تو صحابہؓ کو تکلیف ہو گی۔ حضرت فاطمہؓ کی آنکھوں میں آنسو آ گئے۔ فرمایا: علیؓ! تجھے صحابہؓ کی فکر ہے۔ مجھے کل قیامت کے دن کی فکر ہے۔ آج تک میرے چہرے پہ خدا کی نگاہ پڑی ہے یا مصطفیﷺ کی۔ یا پھر مرتضیؓ کی۔ آج تک مجھے کسی غیر محرم نے نہیں دیکھا۔ میرا دل یہ چاہتا ہے کہ میرا جنازہ بھی رات کو اٹھایا جائے۔ تاکہ میرے جنازے پر بھی کسی غیر محرم کی نگاہ نہ پڑے۔ کون میری اماں فاطمہؓ؟… جس کے متعلق حضرت شاہ عبدالعزیز دہلوی ؒ نے لکھا ہے۔ شاہ صاحب فرماتے ہیں: لوگو!

⚛… کل قیامت کا دن ہو گا

⚛… خدا کی عدالت ہو گی

⚛… محمد مصطفیﷺ کی وکالت ہو گی

وہ دیکھو، فرشتہ کھڑے ہو کر اعلان کر رہا ہے

’’ لوگو!… نبیو!… ولیو!… غوث!… قطب!… ابدال!… جن!… فرشتے!… انسان!… چھوٹے!… بڑے! سارے پردہ کرلو۔‘‘

لوگ حیران ہوں گے۔ پردے کا کیوں حکم دیا جا رہا ہے۔اعلان ہوگا:

109

’’یَا اَہْلَ الْجَمْعِ! غُضُّوْا اَبْصَارَکُمْ عَنْ فَاطِمَۃَ بِنْتِ مُحَمَّدٍa حَتّٰی تَمُرَّ‘‘ (مستدرک حاکم: ج۳، ۱۵۳) لوگو!پل صراط سے سیدہ فاطمۃ الزہراء ؓ کی سواری گزرنے والی ہے۔ تم پردہ کرو، تاکہ کسی غیر محرم کی نظر نہ پڑ جائے۔ کون میری اماں فاطمہؓ؟

⚛… محمد عربیﷺ کی لخت جگر فاطمہ

⚛… علی المرتضیٰؓ کی گھر والی فاطمہ

⚛… حسنؓ و حسینؓ کی والدہ فاطمہ

⚛… خاتون جنت حضرت فاطمہ

سیدہ فاطمۃ الزہراءؓ کے متعلق مرزا قادیانی کی گستاخی

’’ نقل کفر کفر نہ باشد‘‘ ان کے متعلق مرزا قادیانی،بدبخت نے لکھا ہے کتاب کا نام ہے ’’آئینہ کمالات اسلام ص ۵۴۹، خزائن ج۵ ص ایضاً‘‘ پر مرزا قادیانی کہتا ہے:

’’کنت ذات یوم فرغت من فریضۃ … الخ‘‘ مرزا قادیانی کہتا ہے: ’’ایک رات عشاء کی نماز کے بعد میں گھر میں لیٹا ہوا تھا۔ نہ مجھے نیند تھی نہ اونگھ تھی۔ عین بیداری کی حالت میں ’’وما کنت من النائمین… الخ‘‘ کہتا ہے: ’’عین بیداری کی حالت میں، میں کیا دیکھتا ہوں کہ میرا کسی نے دروازہ کھٹکھٹایا ہے۔ میں نے دروازہ کھولا تو کیا دیکھتا ہوں کہ حسنؓ و حسینؓ اپنی اماں فاطمہؓ کو لے کر میرے دروازے پر قادیان آئے ہوئے ہیں۔‘‘ اس پر بس نہیں کی، آگے وہ شیطان کہتا ہے: مرزا قادیانی شیطان ابلیس بکواس کرتا ہے۔ کہتا ہے کہ: ’’علی المرتضیٰؓ اپنی گھر والی فاطمہؓ کو لے کر میرے دروازے پر قادیان آئے ہوئے ہیں۔‘‘

مسلمانو! اس پر بس نہیں، آگے بکواس کرتا ہے۔ مرزا قادیانی بدبخت کہتا ہے کہ حضور ﷺ اپنی بیٹی کو لے کر میرے دروازے پر آئے ہیں۔ مسلمانو! اس پر بس نہیں، ’’نقل کفر کفر نہ باشد۔‘‘ آگے بکواس کرتا ہے کہ: ’’ میں نے دیکھا کہ فاطمہؓ نے میرا سر پکڑ کر اپنی ران کے اوپر رکھ دیا۔‘‘

(ایک غلطی کا ازالہ ص۹، خزائن ج۱۸، ص۲۱۳)

مسلمانو! میں تمہاری دینی غیرت سے سوال کرتا ہوں کہ کوئی شخص میری بیٹی، بچی

110

کی توہین کرے، میں برداشت کروںگا؟… نہیں۔ ذرا زور سے بولو! میں برداشت کروں گا؟… نہیں۔کوئی شخص آپ کی بہو بیٹی کی توہین کرے، آپ برداشت کریں گے؟ … نہیں۔

ساری کائنات کی بچیوں، بیٹیوں کی عزتیں قربان، سیدہ فاطمہؓ کے دوپٹہ پر۔ اگر آپ اور میں اپنی بیٹی کی توہین برداشت نہیں کر سکتے۔ مسلمانو! میں تم سے پوچھتا ہوںکہ کیا کوئی مسلمان سیدہ فاطمہؓ کی توہین برداشت کر سکتا ہے؟۔ بولو، ذرا زور سے بولو۔ جو کہتا ہے کہ ہم سیدہ فاطمہؓ کی توہین برداشت نہیں کر سکتے۔ وہ زور سے بولے… توہین برداشت نہیں کر سکتے۔بھائیو! یہاںبحث

⚛… دیوبندی بریلوی کی نہیں

⚛… شیعہ سنی کی نہیں

⚛… مقلد غیر مقلد کی نہیں

یہاں تو محمد عربیﷺ کے غلاموں کی بات ہے۔ سیدہ فاطمہؓ کی عزت ناموس کی بات ہے۔ مل کر کہہ دو کہ: جو قادیانی شیطان، سیدہ فاطمہؓ کی توہین کا ارتکاب کرے۔ ہم سب کچھ برداشت کر سکتے ہیں۔ لیکن مرزے قادیانی اور اس کے ماننے والوں کو برداشت نہیں کر سکتے۔ زور سے بولو… برداشت نہیں کر سکتے

بھائیو! میں تم سے پوچھتا ہوں۔ کوئی شخص تمہارے باپ کی توہین کرے، میرے باپ کی توہین کرے۔ ہم برداشت کریں گے؟… نہیں۔ میں اپنے باپ کی توہین برداشت نہیں کر سکتا۔ آپ اپنے باپ کی توہین برداشت نہیں کر سکتے۔ تتہ پانی والو! مجھے یہ کہنے کی اجازت دو کہ آپ اپنے باپ کے مسئلہ میں اورمیں اپنے باپ کے مسئلہ میں حساس ہوں۔ توساری کائنات کے رشتے قربان محمد عربیﷺ کی جوتی مبارک پہ۔ اپنے باپ کی عزت کا لحاظ کرنے والو! تم نے محمد عربیﷺ کی عزت کا بھی لحاظ کیا ہوتا۔ جو کہتے ہیں کہ آج کے بعد قادیانیوں کا بائیکاٹ ہو گا۔ وہ بلند آواز سے بولیں۔ آج کے بعد قادیانیوں کا بائیکاٹ ہو گا۔ بلند آواز سے ہاتھ اٹھا کر بتاؤ کہ آج کے بعد کیا ہو گا؟ قادیانیوں کا بائیکاٹ ہوگا۔

111

مسلمان کبھی حضور ﷺ کے دشمن سے محبت نہیں کرسکتے

مسئلہ سمجھو! جس طرح دل کے اندر محمد عربیﷺ کی محبت رکھنا ایمان کی نشانی ہے۔ اسی طرح محمد عربیﷺ کے دشمن کے ساتھ دل میں بغض رکھنا بھی ایمان کی نشانی ہے۔ حضور ﷺ کی محبت اور حضور ﷺ کے دشمن کی محبت ایک دل میں جمع نہیں ہو سکتی۔ اگر تو محمد عربیﷺ کی محبت کا بھی دعویٰ کرتا ہے اور رسول اللہ ﷺ کے دشمنوں کے ساتھ بھی ملتا ہے۔ مسلمان! پھر تو اپنے ایمان کی فکر کر۔ پھر توتماشہ بنائے ہوئے ہے۔ تیرے اندر ایمان نہیں ہے۔ پوچھ جس مفتی صاحب سے مسئلہ پوچھنا چاہتا ہے۔ کوئی ہودنیا کا مفتی، لے جا مجھے اس کے دروازے پر۔ میں اپنی داڑھی سے اس کا دروازہ صاف کرنے کے لئے تیار ہوں۔ کوئی دنیا کا مفتی مجھے مسئلہ بتا دے کہ محمد عربیﷺ کی محبت اور حضور ﷺ کے دشمن کی محبت ایک دل میں جمع ہو سکتی ہے؟…(نہیں ہو سکتی)

⚛… کبھی حلال اور حرام جمع ہوئے ہیں؟ … نہیں

⚛… کبھی دن اور رات جمع ہوئے ہیں؟… نہیں

⚛… کبھی روشنی اور اندھیرا جمع ہوئے ہیں؟… نہیں

جب حلال اور حرام۔ دن اور رات۔ روشنی اور اندھیرا کبھی جمع نہیں ہو سکتے تو محمد عربیﷺ کے غلام مرزائیوں کا احترام نہیں کر سکتے۔ تو کرے میرے محمد ﷺ سے بغاوت۔ اور میں تمہیں کردوں معاف۔ ایسا نہیں ہو سکتا۔اس شخص کی

⚛… نہ عقل، نہ شکل۔ ⚛… نہ صورت، نہ سیرت

⚛… نہ علم، نہ عمل۔ ⚛… نہ شرم، نہ حیا

اور وہ دعویٰ کرے کہ میں محمد عربیﷺ سے افضل ہوں۔ کیا کوئی مسلمان یہ برداشت کر سکتا ہے؟… نہیں۔ معاف رکھنا!

⚛… میں کوئی منطق نہیں بیان کر رہا

⚛… میں فلسفے کے مسئلے نہیں بیان کر رہا

⚛… میں تو جیہات نہیں بیان کر رہا

112

⚛… میں کوئی تطبیقیں نہیں بیان کر رہا

ہاں میں تو دو اور دو چار کی طرح بات کرتا ہوں کہ تم بتاؤ! جو شخص محمد عربیﷺ کی توہین کا ارتکاب کرے۔ اس کے ساتھ رعایت ہو سکتی ہے؟۔بولو!تم فتویٰ دو؟… رعایت نہیں ہوسکتی۔ مسئلہ سمجھو، قبلہ! اگر حرام کا مسئلہ ہو تو مفتی صاحب سے پوچھ۔ نکاح، طلاق کی بات ہو تو قبلہ مفتی صاحب کے پاس آ۔ بیع و شراکا مسئلہ ہو تو قبلہ! خطیب کے پاس حاضر ہو۔ حلا ل اور حرام کی بات ہو تو حضرت قبلہ! مولوی کے پاس آ، اگر محمد عربیﷺ کے عشق کی بات ہے تو کسی سے مسئلہ نہ پوچھ، بلکہ اپنے دل سے پوچھ۔

غازی علم الدین رحمۃ اللہ علیہ کی آخری رات

غازی علم الدین رحمۃ اللہ علیہ تھا۔ اللہ! اس کی قبر پر کروڑوںرحمتیں نازل فرمائے۔ آمین! گرفتار ہوا۔ شاتم رسول ﷺ کو قتل کیا۔ میانوالی جیل میں گیا۔ پھانسی لگ گئی۔ مولانا قاضی احسان احمد شجاع آبادی ؒ اسی جیل میں گئے۔ اس جیل کی کوٹھڑی کے اندر تھے۔ جیل کا سپریڈنٹ ہندو تھا۔ اس نے کہا: قاضی صاحب رحمۃ اللہ علیہ سے کہ: ’’بڑے خوش نصیب ہو۔ تم سے پہلے بھی ایک شخص یہاں آیا تھا۔ بڑا عاشق رسول تھا۔ وہ تمہارے دھرم کا آدمی تھا۔‘‘ قاضی صاحب رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا: کیا نام تھا اس کا؟ اس نے کہا: ’’علم الدین‘‘ قاضی صاحب رحمۃ اللہ علیہ چونکے۔ فرمایا: اس کی کوئی بات؟ کہتا ہے کہ بات کیا بتاؤں، جب آخری رات تھی،صبح اس نے پھانسی لگنا تھا۔ رات کو میں دیکھتا کہ اس کا کمرہ روشن ہو جاتا تھا۔ میں اس کے پاس آتا۔ اسے جگاتا۔ میں اس سے پوچھتا کہ ’’تیرے پاس کوئی ٹارچ، کوئی روشنی، کوئی بجلی؟۔ یہ کیا ہو جاتا ہے؟۔ وہ مجھے کہہ دیتا کہ کچھ نہیں۔ ایک دفعہ، دو دفعہ، تین دفعہ بار بار ایسے ہوا۔ میں نے اس کا دروازہ کھولا۔ میں اس کے قدموں میں گر گیا۔ میں نے کہا: علم الدین خدا کے لئے مجھے بتا: یہ کیا ہے؟۔ اس نے کہا: میاں! تم ہندو ہو۔ تمہیں کیا پتہ۔ آپ کو پتہ ہے میں نے کل پھانسی لگنا ہے۔ یہ میری زندگی کی آخری رات ہے۔ اس نے کہا: جی! مجھے پتہ ہے۔ اس نے کہا جس وقت میری آنکھ لگتی ہے،آقاﷺ! میرے پاس تشریف لاتے ہیں۔ حضور ﷺ فرماتے ہیں کہ علم الدین!

113

⚛… پریشان نہ ہونا

⚛… روزہ رکھ کے آنا

افطاری ان شاء اللہ! حوض کوثر پر اکٹھے کریںگے

حاجی مانک ؒ کا عشق رسول

برادران! میں آپ کو مسئلہ سمجھاتا ہوں۔ میاں! ایک تھا قادیانی بدبخت۔ وہ سندھ کے علاقے میں رہتا تھا۔ اس قادیانی کا نام عبدالحق تھا۔ مولانا لال حسینc بات کر رہے تھے۔ اس نے حضور ﷺ کی توہین کا ارتکاب کیا۔ ہمارے ایک حاجی صاحب تھے۔ حاجی مانک ؒ، انہوں نے اس قادیانی کو ٹھکانے لگا دیا۔ تھانے کے اندر پیش ہو گئے۔ تھانیدار سید تھا۔ انہوں نے اقرار کر لیا کہ اس نے حضور ﷺ کی توہین کا ارتکاب کیا ہے۔ میں نے اس کو ٹھکانے لگا دیا ہے۔ حاجی صاحب کو تھانے میںبند کر دیا۔ تھانیدار بھی سید تھا اور اس کی بیوی بھی سید زادی تھی۔ رات کو اس سیدزادی کو حضور ﷺ کی زیارت ہوئی۔ حضور ﷺ فرماتے ہیں، بیٹی! تیرے گھر میں میرا مہمان آیا ہے۔ اس کا کھانا تیرے ذمہ ہے۔ وہ بے چاری پریشان ہوکر اٹھتی ہے۔ اپنے خاوند کو جگاتی ہے۔ اور معاملہ پوچھتی ہے۔

ان کا کیس چلا۔ یہ آپ کے ’’غوث علی شاہ‘‘ جو بعد میں صوبہ سندھ کے وزیر اعلیٰ بھی رہے اور نواز شریف کے زمانے میں یہ آپ کے وزیر دفاع بھی رہے ہیں۔ غوث علی شاہ یہ ہماری ختم نبوت کا وکیل تھا۔ اس نے حاجی مانک ؒ کا کیس لڑا تھا۔ راجہ ظفر الحق نے اسلم قریشی کا کیس لڑا تھا۔ تمہارے اس علاقے کے رہنے والے میجر ایوب صاحب، اس نے محمد عربیﷺ کی ختم نبوت کا مسئلہ کشمیر اسمبلی کے اندر پیش کیا تھا۔ لوگو! مولانا عبدالستار خان نیازی ؒ نے محمد عربیﷺ کی عزت کی خاطر پھانسی کے پھندے کو قبول کیا تھا۔ میں دیانتداری سے کہتا ہوں: جس آدمی نے ختم نبوت کا کام کیا۔ اللہ نے دنیا کے اندر بھی عزت دی اور آخرت میں بھی عزت دی۔ سبحان اللہ!

جس نے حضور ﷺ کے ساتھ بے وفائی کی۔ نہ دین کا رہے گا نہ دنیا کا رہے گا۔

114

(بے شک) میں آپ لوگوں سے پوچھتا ہوں: حضور ﷺ کے ساتھ وفا کرو گے؟۔ بولو! ذرا زور کے ساتھ۔ حضور ﷺ کے ساتھ وفا کاتقاضا ہے کہ حضور ﷺ کے دشمنوں کا بائیکاٹ کرو۔ قادیانی بدمعاش دندناتے پھریں یہاں۔ ان کو پوچھنے والا کوئی نہ ہو۔ ان کی گردنوں کے اندر سریا لگا ہوا ہے۔ ہو میرے حضور۔a کے بعد۔ کرے نبوت کا دعویٰ۔ آئے حضور ﷺ کے مقابلے میں۔ چلائے اپنی جعلی اور فراڈیہ نبوت کو۔ کرے حضور ﷺ کے بعد دعویٰ نبوت کا۔ پھرے بازاروں میں۔ حاجی مانک ؒ پیش ہوا عدالت میں۔ مولانا محمد علی جالندھری ؒ گئے کیس کے لئے۔ وکیل نے مولانا محمد علی جالندھری ؒ کو کہا کہ: حاجی مانک ؒ کو کہہ دو: بیان بدل دے، بچ جائے گا۔ موقع کا گواہ کوئی نہیں۔ مولانا آئے۔ کہا: حاجی صاحب! وکیلوں کی یہ رائے ہے۔ حاجی مانک ؒ کی آنکھوں میں آنسو آگئے۔ اس نے کہا مولانا کوئی اور ہوتا تو میں نہ بتاتا۔ آپ نے پوچھا: میں عرض کرتا ہوں۔

⚛… میں نے حج کئے ہیں

⚛… کئی عمرے کئے

⚛… بارہا طواف کئے

⚛… گنبد خضریٰ پر حاضری دی

⚛… وظیفے پڑھے

⚛… خیراتیں کیں

⚛… علماء کے پاس گیا

میں ایک ایک سے پوچھتا تھا خدا کے لئے مجھے کوئی ایسی چیز بتا دو جس سے مجھے خواب میں حضور ﷺ کی زیارت ہو جائے۔ آج تک مجھے حضور ﷺ کی خواب کے اندر زیارت نہیں ہوئی۔ جس دن سے میں نے اس بدبخت کو ٹھکانے لگایا ہے۔ میری کوئی رات خالی نہیں جاتی۔

پیرمہر علی شاہ رحمۃ اللہ علیہ اور مرزا قادیانی کا تعاقب

پیر مہر علی شاہ رحمۃ اللہ علیہ، یہ گئے حجاز مقدس۔ حاجی امداد اللہ مہاجرمکی ؒ سے ملاقات

115

ہوئی۔ پہلی ملاقات میں بیعت بھی کیا اور خلافت بھی دی۔ فرمایا: پیر مہر علی شاہ رحمۃ اللہ علیہ!واپس جاؤ۔ ہندوستان میں فتنہ اٹھنے والا ہے۔ خدا تم سے اس فتنے کے خلاف کام لے گا۔ پیر صاحب کہتے ہیں کہ: میں واپس آیا۔ مرزے نے نبوت کادعویٰ کیا۔ میری اس طرف توجہ نہ گئی۔ ایک رات پیر صاحب فرماتے ہیں: مجھے حضور ﷺ کی زیارت ہوئی۔ حضور ﷺ نے مجھے خواب میں فرمایا:

’’ مہر علی شاہ! مرزا قادیانی بمقراض الحاد احادیث من را پارہ پارہ مے کرد و تو خاموش نشتہ ای‘‘ { مہر علی شاہ!مرزا قادیانی بے دینی کی قینچی سے میرے دین اور احادیث کے ٹکڑے کر رہا ہے۔ تو خاموش بیٹھا ہے۔}

مرزے کو مناظرے کا چیلنج دیا۔ مناظرے کی تاریخ طے ہوگئی۔ لاہور شہر میں شاہی مسجد کا مقام طے ہوا۔ مناظرے کا چیلنج ہے مرزے کو۔ پیر صاحب کے ساتھ علماء تھے۔ مرزے قادیانی نے پیر صاحب کو خط لکھا کہ آپ کے ساتھ پٹھان آ رہے ہیں، مجھے ان سے ڈر لگتا ہے۔ میں آپ دوستوں سے پوچھتا ہوں: نبی دنیا سے ڈرنے کے لئے آتا ہے یا دنیا کو ڈرانے کے لئے آتا ہے؟ (ڈرانے کے لئے) ہو نبی، کیا وہ دنیا سے ڈرے؟ وہ پٹھان آ رہے ہیں۔ مجھے ان سے ڈر لگتا ہے۔ ظالم اتنا ڈرپوک تھا تو نبوت کا دعویٰ کیوں کیا تھا؟ نبوت ڈرا نہیں کرتی۔ بزدلی اور نبوت کا آپس میں کوئی جوڑ نہیں ہے۔ ہو اللہ کا نبی، ہو بزدل۔

سچے نبی کی اللہ خود حفاظت کرتاہے

محترم دوستو! میرے ماں باپ آپ ﷺ پر قربان۔ ایک دفعہ حضرات صحابہ کرامؓ نے حضور ﷺ کے متعلق فیصلہ کیا کہ آپ کے دشمنوں نے آپ ﷺ کو قتل کرنے کا ارادہ کیا ہے۔ حضور ﷺ کی ذات کا خیال کرو۔ رات کو پہرا دیا کرو۔ صحابہ کرامؓ نے فیصلہ کیا۔ ادھر قرآن مجیدکی آیت نازل ہوئی ’’وَاللّٰہُ یَعْصِمُکَ مِنَ النَّاسِ‘‘ (المائدہ:۶۷)

116

حضور ﷺ کی نگاہ مبارک کھلی، حضور ﷺ نے صحابہ سے پوچھا صحابہؓ! یہ کیا؟ عرض کی یا رسول اللہ ﷺ! ہم نے پہرے کا پروگرام بنایا ہے۔ حضور ﷺ نے فرمایا: صحابہؓ! سو جاؤ۔ نبوت کا اگر امت پہرا دے پھر وہ نبی کیا ہوا؟۔ تم سو جاؤ۔ تم میرا پہرا نہ دو۔ محمد عربیﷺ کا پہرہ خدا کی رحمت دیا کرتی ہے۔

(مستدرک حاکم،کتاب التفسیر:ج۲، ص۳۱۳)

پیرصاحب! مجھے ڈر لگتا ہے کہ آپ کے ساتھ پٹھان آ رہے ہیں۔ ( مرزا تھا تو سچا بے چارہ، سچا اس اعتبار سے کہ دو، تین قادیانی اکٹھے ہوئے پشاور تبلیغ کے لئے چلے گئے۔ اللہ فضل کرے پٹھان حضرات نے پکڑ کر… بس میں آگے تفسیر نہیں کرتا )

ذرا جھوٹے نبی کو دیکھیں

مرزائیو! تگڑے ہو جاؤ تگڑے! تم نے کیا ہے محمد عربیﷺ کے غلاموں کو مناظرے کا چیلنج۔ تو بھی تیاری کر۔ ہم بھی تیاری کریں گے۔ تو اپنی طاقت کو ساتھ لے کر آ۔ ہم محمد عربیﷺکی صداقت کو ساتھ لے کر آئیں گے۔

⚛… محمد عربیﷺ کے غلام آرہے ہیں

⚛… پیر مہر علی شاہ رحمۃ اللہ علیہ کے وارث آ رہے ہیں

⚛… سید عطاء اللہ شاہ بخاری ؒ کے وارث آ رہے ہیں

ان شاء اللہ! بازار کل لگے گا۔ پتہ کل چلے گا۔ سچا کون ہے، جھوٹا کون؟ مولانا پیر مہر علی شاہ رحمۃ اللہ علیہ کو کہا: پیر صاحب! مجھے ڈر لگتا ہے۔ فرمایا: ڈرو نہیں۔ میں بھی آ رہا ہوں تو بھی آ رہا ہے۔ تیری حفاظت بھی مجھ فقیر کے ذمہ، تو بس آ۔ مرزے قادیانی نے کہا یوں نہیں گھر بیٹھ جائیں۔ میں اپنی تفسیر لکھتا ہوں۔ تم اپنی تفسیر لکھو۔ کسی کو دکھائیں گے۔ جس کی تفسیر اچھی ہو، وہ سچا ۔ پیرصاحب رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا: مرزے! اچھی تفسیر لکھنے سے انسان مفسر ہو سکتا ہے ، نبی نہیں ہو سکتا۔ نبی قلم کار نہیں ہوا کرتا۔ نبی رہتا تو اس دھرتی پر ہے۔ لیکن تربیت اس کی خدا کرتا ہے۔ نبی کسی کاشاگرد نہیں ہوتا۔ مرزا قادیانی پڑھتا تھا سکول میں۔ استاد مرغا بنا کر جوتے مارتا تھا۔ تڑا،تڑا۔ یہ نبی صاحب ہیں۔ ماشاء اللہ!

117

ایک دن آیا سکول سے پڑھ کر۔ آ کر کہتا ہے: اماں!( کتاب کا نام ہے ’’سیرۃ المہدی‘‘ اس میں حوالہ لکھا ہے) کہتا ہے: اماں! اس نے کہا: ’’جی کانٹریاں‘‘ یہ حوالہ ہے، میں نہیں کہتا۔ ایک دن مرزائی اکٹھے ہوئے۔ آ کر کہتے ہیں مرزے قادیانی کو کہ: حضرت صاحب! ’’ہم نے آپ کا فوٹو لینا ہے۔ مہربانی کرنا اپنی دونوں آنکھیں کھو ل کر رکھنا۔‘‘ اگر فوٹوخراب آئی تو مولویوں کو پتہ لگ جائے گا۔ توا لگا دیں گے، آنکھیں کھول کے رکھنا۔ کہتا ہے بالکل ٹھیک ہے۔ اب مرزا قادیانی گیا گھر تیاری کرنے کے لئے۔ جوتی پہننے لگا۔’’سجا پیر کھبے وچ تے کھبا سجے وچ۔‘‘

یہ نبوت کی تیاری ہو رہی ہے۔ مرزا کی کتاب میں لکھا ہے کہ حضرت صاحب کے پاس اتنی چابیاں تھیں اور وہ اپنی شلوار کے ازاربند کے ساتھ باندھ لیتے تھے جب چلتے تھے تو چھن چھن کرتی تھیں۔

(سیرت المہدی حصہ اول:ص۵۵، روایت ۶۵)

یہ نبی آرہا ہے۔ استغفراللہ!

ظالمو! تم نے نبوت کے منصب کو بھی نہیں سمجھا ’’لَاحَوْلَ وَلَا قُوَّۃَ‘‘ حضرت صاحب کو دن میں سو، سو دفعہ پیشاب آتا تھا۔

(ضمیمہ اربعین نمبر۴:ص۴،خزائن۱۷،ص۴۷۰)

جس کو دن میں سو دفعہ پیشاب آئے۔ وہ ٹوٹا ہوا لوٹا ہے یا نبی؟استغفراللہ!

کوئی ماں کا لعل قادیانی، کرے حوالہ سے انکار۔ حوالہ نہ ہو رب محمد ﷺ کی قسم! جو چور کی سزا وہ ہماری سزا۔ اگر حوالے تمہاری کتابوں میںلکھے ہیں توچیں چیں نہ کرنا کہ مولوی صاحب آیا تھا سخت بیانی کرتا تھا۔ اوئے تو حضور ﷺ کا مقابلہ کرے۔ میں تیرے بارے میںنرم الفاظ استعمال کروں۔

⚛… تو میرے نبی کو بھونکے گا

⚛… میں تیرے دانت توڑ دوں گا

⚛… تو حضور ﷺ کے خلاف آواز اٹھائے گا

118

⚛… میں تیری آنت میں سیسہ ڈالوں گا

⚛… تو آگے بڑھنے کی کوشش کرے گا

⚛… میں تیرے رستے میں رکاوٹ کھڑی کروں گا

حضور ﷺ کے دشمن کو سرعام پھرنے کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔ مل کر کہو کہ حضور ﷺ کے دشمن کو کھلے عام پھرنے کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔ مسلمانو، سنو! مومن کے دل میں سوائے خدا کے خوف کے کسی کا خوف نہیں ہوا کرتا۔ ہم تو محمد عربیﷺ کے نام پر ایک ہو چکے۔ ہمیں ڈراتا ہے۔ مرزا قادیانی اب تیاری کر کے ’’سجا کھبے اور کھبا سجے میں‘‘ مرزے قادیانی کے متعلق لکھا ہے: حضرت صاحب کبھی قمیص کا نیچے والا بٹن اوپر والے کاج میں لگا لیا کرتے تھے۔

(سیرت المہدی حصہ دوم: ۵۸)

یہ نبی ہے۔ اوئے یہ نبی ہے یا کارٹون؟… استغفر اللہ! یہ نبوت ہے۔

مرزے قادیانی کے متعلق مرزائیو! کرو اس حوالے سے انکار، ہے ہمت کرکے دکھائیں اور نبوت تو دور کی بات ہے رب محمد ﷺ کی قسم! تو ہمارے سامنے آ کر مرزے کو شریف انسان ہی ثابت نہیں کر سکتا۔

مرزا قادیانی کے متعلق اس کی بیوی کہتی ہے۔ مرزے کی دو بیویاں تھیں۔ ایک کا نام تھا پھجے کی ماں، دوسری بیوی کا نام تھا نصرت، نصو۔مرزا کی اپنی کتاب ہے۔

حضرت قبلہ! میں مرزائیوں کی حدیث بیان کر رہا ہوں۔ ناراض کیوں ہوتے ہو؟۔ اپنی کتابوں کو آگ لگاؤ، اگر ناراضگی ہے تو۔ مرزے قادیانی کی قبر پر جوتے مارو۔ تو میرے نبی کا نام لے۔ میں تیرا منہ چومنے کے لئے تیار ہوں۔ اگر میں تیرے نبی کی حدیث پڑھتا ہوں تو تجھے تکلیف کیوں ہوتی ہے؟۔ اوئے حضرت صاحب کو دن میں سو دفعہ پیشاب آتا تھا۔

ارئے بھائی! نبی مسکرائے تو جنت میں بہار آئے۔ نبی کو غصہ آئے تو اللہ کے فرشتے تھر تھر کانپنے لگ جائیں۔ صحابہ کرامؓ فرماتے ہیں کہ: حضور ﷺ اگر ہماری مجلس سے

119

اٹھ کر کہیں تشریف لے جاتے تھے۔ کسی صحابیؓ کو بعد میں تلاش کرنے کی ضرورت پیش آتی تھی۔ صحابہ کرامؓ کو پوچھنے کی ضرورت نہیں ہوتی تھی۔ باہر جب نکلتے تھے تلاش کرنے کے لئے صحابہؓ، مکہ و مدینہ کی گلیوں کی ہوائیں، فضائیں بتا دیتی تھیں کہ یہاں یہاں سے گزر ہوا ۔ گویاحضور ﷺجہاں سے گزرے، خوشبوبول پڑی۔

اور یہ حضرت! ’’جتھوں گزرداگیا، شاں شاں۔‘‘ یہ نبی ہے بے ایمان سوراں دا سور۔ مل کر کہہ دو: رب محمد ﷺ کی قسم!

⚛… جس طرح شیطان کسی رعایت کا مستحق نہیں

⚛… جس طرح ابوجہل کسی رعایت کا مستحق نہیں

⚛… جس طرح فرعون کسی رعایت کا مستحق نہیں

⚛… اسی طرح مرزا قادیانی بھی کسی رعایت کا مستحق نہیں

میں نے جان بوجھ کر کہا۔ رب کی قدرت کو گواہ بنا کے کہتا ہوں۔ مولا! میرے پاس کوئی عمل نہیں ہے سوائے اس کے کہ محمد عربیﷺ کے دشمنوں کے سر پر ڈانگ ماروں۔ زور سے بولو! محمد عربیﷺ کے دشمن کی کوئی رعایت؟… نہیں ہو سکتی۔

’’اب مرزا سج دھج کے ان کے پاس آیا فوٹو بنوانے کے لئے۔ انہوں نے کہا: ون، ٹو، تھری تو ریڈی ہو جانا۔ اس نے کہا: ون، مرزا کہتا ہے: ون۔ اس نے کہا: ٹو، مرزا نے کہا: ٹو۔ اس نے کہا: تھری، مرزے نے کہا: تھری۔ اس نے کہا: ریڈی، حضرت نے کہا: ریڈی۔ اس نے کہا: مرزا صاحب آنکھ کھولو۔ اس نے آنکھیں پھاڑیں، اس نے مارا فلش مرزے کی آنکھ بند ہو گئی۔ فوٹو آیا تو آنکھ بند تھی۔‘‘ اوہی کانڑاں دا کانڑاں۔

(سیرت المہدی حصہ دوم:۷۷)

’’وما علینا الا البلاغ المبین‘‘

120

مقام نبوت

بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ

اَلْحَمْدُللہِ وَکَفٰی وَسَلامٌ عَلیٰ سَیِّدِ الرُّسُلِ وَخَاتَمِ الْاَنْبِیَاءِ وَعَلیٰ اٰلَہٖ وَاَصْحَابِہِ الَّذِیْنَ ھُمْ خُلاَصَۃُ الْعَرَبِ الْعَرَبَاءِ وَخَیْرُ الْخَلاَءِقِ بَعْدَ الْاَنْبِیَاءِ۔ اَمَّا بَعْدُ! فَاَعُوْذُ بِاللہِ مِنَ الشَّیْطٰنِ الرَّجِیْمِ۔ بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ۔

و قال اللہ تعالیٰ: لَعَمْرُکَ إِنَّہُمْ لَفِیْ سَکْرَتِہِمْ یَعْمَہُون (الحجر: ۷۲)

اَللّٰھُمَّ صَلِّ عَلیٰ سَیِّدِنَا وَ مَوْلٰنا مُحَمَّدٍ وَّعَلیٰ آلِ سَیِّدِنَا وَ مَوْلٰنا مُحَمَّدٍ وَّ بَارِکْ وَسَلِّمْ وَ صَلِّ کَذَالِکَ عَلیٰ جَمِیْعِ الْاَنْبِیَاءِ وَالْمُرْسَلِیْنَ وَعَلیٰ الْمَلاَءِکَۃِ الْمُقَرَّبِیْنَ وَعَلیٰ عِبَادِ اللہِ الصَّالِحِیْنَ اَجْمَعِیْنَ اِلیٰ یَوْمِ الدِّیْنِ۔

تمہید

میرے بھائیو! جو دوست بخاری شریف پڑھ چکے ہیں، انہیں معلوم ہو گا کہ جو بدری صحابہ کرامؓ ہیں۔ بدر میں بدری صحابہ کرامؓ کی جہاں تک عظمت کی بات ہے وہ تو قرآن مجید میں آج ان کے تذکرے موجود ہیں۔ بدری صحابہ کرامؓ وہ ہیں کہ صحابہ کرامؓ خود ان کی زیارت کرنے کے لئے جایا کرتے تھے۔

دنیا کے تین قبرستان

میرے بھائیو! بدری صحابہ کرامؓ کی عظمت کے حوالہ سے بخاری شریف کے علاوہ علامہ کرمانی ؒ،علامہ ابن حجر عسقلانی ؒ کی شروحات کو بھی دیکھ لیں۔ آپ دوستوں کو وہاں پر یہ بات ملے گی کہ جنگ بدر میں جو صحابہ کرامؓ شہید ہوئے، بڑی مشکل کے ساتھ ان کی تعداد۱۳ یا ۱۴ بنتی ہے لیکن ختم نبوت کی پہلی جنگ میںجو صحابہ کرامؓ شہید ہوئے۔ ان میں ۷۰ بدری صحابہ کرامؓ شامل تھے۔

121

دنیا کے اندر تین قبرستان ایسے ہیں جہاں پر سب سے زیادہ حضرات صحابہ کرامؓ مدفون ہیں۔ پہلے نمبر پر مدینہ طیبہ کا جنت البقیع کہ وہاں پر بہت سارے حضرات صحابہ کرامؓ مدفون ہیں۔ دنیا جہاں کے کسی قبرستان میں اتنے مدفون نہیں جتنے جنت البقیع میں۔ دوسرے نمبر پر مکہ المکرمہ کا قبرستان، مدینہ طیبہ کے بعد سب سے زیادہ تعداد صحابہ کرامؓ کی اس قبرستان میں ہے۔

میرے بھائیو!وہ میدان جہاں ۱۲۰۰؍صحابہ کرامؓ و تابعینc ان میں ۷۰۰ قرآن مجید کے حافظ و قاری۔ حافظ بھی وہ جنہوں نے حضور ﷺ کی خدمت میں حفظ کیا۔ یہ یمامہ کے اس میدان میں ان حضرات کی قبور مبارکہ، ان حضرات کی مزارات مبارکہ ہیں۔ رب کریم کی رحمتوں کے سایہ میں یہاں پر آرام کر رہے ہیں۔ مزارات مبارکہ یا قبور مبارکہ سمجھانے کے لئے میں نے عرض کیا، ورنہ تو وہاں پر اس وقت میدان ہے اور کچھ اس میں چند روڈ رکھے ہیں اور کچھ نہیں۔

سینکڑوں برس بعد بھی لاش تروتازہ

میرے بھائیو!ہمارے مولانا مفتی حسن صاحب، وہ فرماتے ہیں کہ میں یمامہ کے میدان میں گیا، تو دوستوں نے مجھے کہا کہ فلاں کونے سے فلاں کونے تک۔ اس کونے سے اس کونے تک۔ یہ وہ میدان ہے جہاں پر جنگ ہوئی تھی۔ وہاں پر ہم کھڑے کھڑے باتیںکر رہے تھے، اندازے اورتخمینے سے۔ دور ایک بدو جو بکریاں چرا رہا تھا، وہاں سے چلا اور دوڑا ہوا ہمارے پاس آیا۔ اس سے علیک سلیک کے بعد ہم نے اس سے پوچھا کہ: آپ اس میدان کی رہنمائی کر سکتے ہیں۔ تو اس نے کہا جی ’’سَمِعْتُ اَباً عَنْ جَدٍّ‘‘ میں نے اپنے باپ سے سنا اور انہوں نے میرے دادے سے۔ اس نے کہا یہ روایت ہمارے اباوجداد سے چلی آ رہی ہے۔ یہ کونہ، وہ کونہ، یہ جگہ، وہ جگہ، یہ میدان فلاں فلاں جگہ ہے، جہاں پر جنگ ہوئی تھی۔

مفتی صاحب فرماتے ہیں: میں نے اس سے کہا: میاں!یہاں کی بابت تو کوئی

122

انوکھی بات بھی بتا سکتے ہو اپنے تجربے کی؟۔ اس نے کہا: یہ جو سامنے کی سڑک ہے، جس سے اتر کر آپ کی گاڑی اس میدان میں آئی۔ اس سڑک کی چالیس سال پہلے تعمیر ہو رہی تھی۔ اس وقت کرینیں لگیں، جنہوں نے سڑک کے قرب وجوار سے مٹی اکٹھی کر کے یہاں پرسٹاک کرنا تھا۔ سڑک کی تعمیر کے لئے تو کرینیں ادھر ادھر سے مٹی لے کر وہاں پر جاتی تھیں۔ ایک دفعہ ایسا بھی ہوا کہ ایک کرین پر بعض لاشیں بھی اوپر آ گئیں۔ جن خوش نصیب لوگوں نے ان لاشوں کی زیارت کی۔ میں بھی ان میں شریک تھا اور میں نے اپنی آنکھوں کے ساتھ دیکھا کہ ان کے ابھی کفن بھی میلے نہیں ہوئے تھے اور ان کے چہروں کی تروتازگی میں بھی کوئی فرق نظر نہیں آیا تھا۔ بھائیو!اب اس آدمی کے اور میرے درمیان میں اس روایت کے درمیان میں صرف ایک واسطہ ہے اور وہ مفتی محمد حسن صاحب ہیں۔

مسئلہ ختم نبوت پرسمجھوتہ قبول نہیں

بھائیو! میں آپ دوستوں کی خدمت میں درخواست کرتا ہوں ، پوری امت مل کر ہم ایک صحابی رسول ﷺ کی شان کا مقابلہ نہیں کر سکتے۔ لیکن ختم نبوت کے مسئلے پر:

⚛… میرے ماں باپ قربان

⚛… میری آل اولادقربان

⚛… میرا جسم و روح قربان

پورے دین کے تحفظ اور بقاء کے لئے دورنبوت میں صحابہ کرامؓ نے اتنی قربانی نہیں دیں، جتنی قربانی سیدنا صدیق اکبرؓ نے یمامہ کے میدان میں اس کثرت کے ساتھ صحابہ کرامؓ کو شہید کرا کے امت کو پیغام دیا کہ: اے امت کے لوگو!جس وقت اس مسئلہ پر نازک وقت آ جائے۔ اس وقت سب سے قیمتی اثاثہ، گرانقدر سرمایہ امت کا وہ قربان کیا جا سکتا ہے۔ لیکن اس مسئلے پر سمجھوتہ نہیں کیا جا سکتا۔

کیا کیا جائے اس امر کا کہ آپ میں سے بعض لوگ ایسے ہیں جو بالکل میرے سامنے بیٹھے ہیں اور سو بھی رہے ہیں۔ اور کیا کیا جائے اس امر کا کہ مردوں کے لئے شریعت

123

میں سونا حرام ہے۔ میرے دل کے کسی کونے میں یہ بات نہیں کہ میں آپ کی کوئی علمی خدمت کر سکوں۔ میں تو صرف آپ دوستوں کی زیارت کے لئے جو بزرگوں سے سنا، رٹی رٹائی باتیں آپ دوستوں کی خدمت میں عرض کر دوں گا۔ میں تو اس نسبت کو قائم کرنے کے لئے آپ دوستوں کے پاس حاضر ہوا اور آپ حضرات میرے سامنے بیٹھ کر خیر سے سونا شروع کر دیں اور مجھ سے یہ توقع کریں کہ میں اس کو ٹھنڈے پیٹ ہضم کر لوں گا۔ بھائیو! یہ میرے لئے مشکل ہے۔ اب اگر کسی نے خیر سے نیند کی اور مجھے یہ نشاندہی کرنا پڑی کہ فلاں صاحب سو رہے ہیں۔ پھر یہ نہ کہنا کہ گڑ بڑ ہو گئی۔ پھر اس کی تمام تر ذمہ داری بصد آداب آپ دوستوں پر ہوگی۔

تمام فرائض پر حضور ﷺ کی عزت کا مسئلہ مقدم

میرے بھائیو! میں درخواست کرتا ہوں نماز، روزہ، زکوٰۃ، حج یہ تمام تر فرائض ہیں۔ لیکن ان تمام کا تعلق رحمت عالم ﷺ کے اعمال کے ساتھ ہے۔ یہ آپ کے لئے بھی فرض ہیںاور رحمت عالم ﷺ کی ذات کے لئے بھی۔ لیکن ان کی ادائیگی کا تعلق حضور ﷺ کے اعمال کے ساتھ ہے کہ آپ نے نماز یوں پڑھی۔ آپ ﷺ نے روزہ یوں رکھا۔ آپ ﷺ نے حج یوں ادا کیا۔ یہ ہیں تو فرائض۔ لیکن ان کا تعلق حضور ﷺ کے اعمال کے ساتھ ہے۔ نہ بھولئے اس حقیقت کو کہ اعمال کی بجا آوری کے لئے جوارح حرکت کرتے ہیں۔ جس طرح جوارح پر جان مقدم ہوتی ہے۔ اس طرح تمام فرائض پہ حضور ﷺ کی عزت کا مسئلہ مقدم ہے۔یہی معنی ہے بخاری شریف کی اس روایت:’’لَایُوْمِنُ اَحْدُکُمْ حَتّٰی اَکُوْنَ اَحَبَّ اِلَیْہِ مِنْ وَّالِدِہٖ وَوَلَدِہٖ وَالنَّاسِ اَجْمَعِیْنَ‘‘ کا۔

(مشکوٰۃ، کتاب الایمان:ص ۱۲)

ختم نبوت صرف حضور ﷺ کی خصوصیت

میرے بھائیو!آپ توجہ کریں اس امر پر۔ میں ایک بات اور عرض کرتا ہوں۔ نماز، روزہ، حج، زکوٰۃ ان تمام فرائض کا تعلق حضور ﷺ کے اعمال کے ساتھ ہے۔ ختم نبوت

124

کا تعلق رحمت عالم ﷺ کی ذات کے ساتھ ہے۔ آپ حضرات نے یہ سنا اور پڑھا ہو گا کہ خصوصیت اس کو کہتے ہیں:

’’خَاصَۃُ الشَّیْءِی یُوْجَدُ فِیْہِ وَلاَ یُوْجَدُ فِیْ غَیْرِہٖ‘‘{ خصوصیت وہ ہوتی ہے جو اسی میں پائی جائے، اس کے غیر میں نہ پائی جائے}

برادران! میری بات سمجھئے۔ خاتم النّبیین ہونا محمد عربیﷺ کی وہ خصوصیت ہے کہ میرے رب کی ساری مخلوق میں، اس خصوصیت میں محمد عربیﷺ کا کوئی شریک نہیں۔ یہ مسئلہ براہ راست محمد عربیﷺ کی ذات کے ساتھ تعلق رکھتا ہے۔ میرے خیال میں اب ہم اس مرحلے پر آگئے کہ میں اس کی ایک تعبیر یوں کروں۔ برادران!

⚛… آپ نماز کی بات کریں ، کہا جائے گا کہ دین کی خدمت ہے

⚛… آپ روزہ کی بات کریں ، کہا جائے گاکہ دین کی خدمت ہے

⚛… آپ حج کی بات کریں، کہا جائے گا کہ دین کی خدمت ہے

⚛… آپ زکوٰۃ کی بات کریں، کہا جائے گا کہ دین کی خدمت ہے

⚛… آپ تبلیغ کی بات کریں ، کہا جائے گا کہ دین کی خدمت ہے

لیکن جب آپ ختم نبوت کا کام کریں گے تو اس کی تعبیر ہو گی کہ براہ راست رحمت عالم ﷺ کی خدمت کا فریضہ سرانجام دیا جا رہا ہے۔ آپ دوست مجھ مسکین کی ان ٹوٹی پھوٹی معروضات کے بعد توجہ کریں کہ ختم نبوت کامسئلہ، یہ دین کے اندر کتنی اہمیت رکھتا ہے۔ اس وضاحت اور صراحت کے بعد اب آپ آ جائیں اس مسئلے کی طرف کہ یہی وجہ ہے کہ چودہ سو سال سے رحمت عالم ﷺ کی امت کا اس امر پر اتفاق ہے۔ جب کبھی کسی شخص نے کسی اسلامی مملکت میں نبوت کادعویٰ کیا۔ ایک منٹ ضائع کئے بغیر چودہ سو سالہ اسلام کی تاریخ گواہ ہے کہ کائنات کے کسی حصے میں جب بھی کسی شخص نے جھوٹی نبوت کا دعویٰ کیا۔ امت نے ایک منٹ ضائع کئے بغیر اس کے متعلق یہ مؤقف اختیار کیاکہ حضور ﷺ

125

کے بعد جو شخص نبوت کا دعویٰ کرے، وہ اور اس کے ماننے والے مسلمان نہیں۔اب میں امت کا ایک فرد بشر ، یعنی :

⚛… دیوبندی اور بریلوی کی

⚛… مقلد اور غیر مقلد کی

⚛… شیعہ اور سنی کی

⚛… حنفی اور شافعی کی

⚛… حنبلی اور مالکی کی

⚛… سہروردی اور چشتی کی

⚛… نقشبندی اور قادری کی

⚛… عربی اور عجمی کی

⚛… امریکی اور افریقی کی

⚛… ہندی اور سندھی کی

⚛… گورے اور کالے کی

ان تمام کی تقسیم سے بالکل بالاتر ہو کر پوری امت کا مؤقف آپ حضرات کے سامنے رکھ رہا ہوں۔ اس میں کسی کی کوئی تمیز نہیں کہ پوری امت کا اس امر پر اتفاق ہے۔ صرف اتفاق نہیں بلکہ چودہ سو سالہ تعامل بھی ہے۔ امت کا تعامل یہ مستقل ایک حیثیت رکھتا ہے۔ چودہ سو سال سے حضور ﷺ کی امت کا تعامل چلا آ رہا ہے اس بات پر کہ حضور ﷺ کے بعد جو شخص نبوت کا دعویٰ کرے، وہ اور اس کے ماننے والے مسلمان نہیں۔ آپ بھی کہہ دیں کہ: آپ ﷺ کے بعد نبوت کا دعویدار اور اس کے ماننے والے…مسلمان نہیں۔

مرزا قادیانی کا سن پیدائش

میرے بھائیو!آپ حضرات کے اس برصغیر میں اس پاک و ہند میں انگریز کے زمانہ میں ایک شخص نے جھوٹی نبوت کا دعویٰ کیا جس کا نام مرزا غلام احمد قادیانی تھا۔ غلام احمد

126

قادیانی کے باپ کا نام غلام مرتضیٰ تھا۔ یہ اس وقت ہندوستان کا ایک ضلع جس کا نام گورداسپور ہے، اس گورداس پور کی ایک تحصیل ہے بٹالہ، بٹالہ کے ایک گاؤں کا نام ہے قادیان، یہ مرزا قادیانی اسی قادیان میں حکیم غلام مرتضیٰ کے گھر میں پیدا ہوا۔ اب میں آپ دوستوں سے درخواست کرتاہوں کہ آپ سمجھیں۔ایک زمانہ میں تقسیم سے پہلے آپ حضرات کے پاکستان کی ایک تحصیل ہے، جس کا نام ہے شکرگڑھ۔ اس وقت یہ سیالکوٹ یا نارووال کی تحصیل ہے۔ تقسیم سے پہلے یہ گورداس پور کی تحصیل تھی۔ اب آپ نے جانا ہو لاہور سے انڈیا تو لاہور کے راستے میںجو پہلا بارڈر ہے اس کو کہتے ہیں واہگہ۔ ہمارے ہاں گاؤں کا نام جس کے پاس سرحد واقع ہے۔ اس کا نام ہے: واہگہ۔ یہ ہماری سرحدہے جس پر چوکی بنی ہوئی ہے اس حد کو کراس کریں گے تو آگے انڈیا کی سرحد اور چوکی بنی ہوئی ہے۔ اس کا نام ہے: اٹاری۔ یعنی ہماری سرحد کے قریب ہندوستان کا جو گاؤں لگتا ہے۔ اس کا نام ہے: اٹاری۔ ہمارے طرف سے جو گاؤں لگتا ہے اس کا نام ہے: واہگہ۔ درمیان میں صرف وہ پٹی جو سرحد کی ہے۔ ایک تو جائیں واہگہ سے اٹاری اوراٹاری سے امرتسر اور امرتسر سے دہلی جا رہے ہیں۔ اور اگر آپ دوست جائیں اٹاری سے بٹالے کی جانب تو بیس، پچیس قوس کے فاصلے پر آگے قادیان ہے۔

یہ وہ قادیان ہے جس میں مرزا پیدا ہوا، ۱۸۳۹ ء یا ۱۸۴۰ء میں۔ اب مجھے یہاں پر آپ کے پانچ، سات منٹ لینے ہیں۔ اگر آپ توجہ کریں۔میں نے ایک لفظ بولا کہ مرزا پیدا ہوا سن ۱۸۳۹ ء یا ۱۸۴۰ء میں۔

(کتاب البریہ:۱۵۹،خزائن۱۳:۷۷)

اس کا یہ معنی نہیںہے کہ پیدا ہوتے ہوتے اس نے دو سال لگا دیئے۔ ان کی کتابوں میں یہی لکھا ہے۔ ۱۸۳۹ء یا۱۸۴۰ء میں پیدا ہوا۔ میں نے ان کی عبارت نقل کی اور یہ عبارت ہے خود غلام احمد قادیانی کی۔ لیکن آج پوری دنیا کی قادیانیت نے کمر باندھ لی ہے جھوٹ پر۔ پوری قادیانیت مل کر مرزا قادیانی کے جھوٹ کو سچ ثابت کرنے کے درپے ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ: ’’مرزا قادیانی ۱۸۳۵ء میں پیدا ہواتھا۔‘‘

(سیرت المہدی حصہ سوم: ص۷۲)

127

مرزا قادیانی کہتا ہے کہ میں ۱۸۳۹ ء یا ۱۸۴۰ء میںپیدا ہوا۔ لیکن قادیانی کہتے ہیں: نہیں جی ! آپ۱۸۳۵ ء میں پیدا ہوئے۔ اب آپ دوست پوچھیں کہ قادیانیوں کو یہ ضرورت کیوں پیش آئی؟ میں ایک حساس مسئلہ کی جانب آپ کی توجہ مبذول کرارہا ہوں۔ مرزا قادیانی نے اپنی مختلف کتابوں میں کرارا، مرارا، لیلا ونہارادن رات، صبح شام بتکرار باصرار یہی کہا کہ اللہ تعالیٰ نے میرے ساتھ وعدہ کیا کہ ہم تمہیں۸۰ سال کی عمر دیں گے۔ مرزے قادیانی کی پیشینگوئیوں میں سے ایک پیشینگوئی یہ بھی تھی کہ:

’’ اللہ تعالیٰ نے میرے ساتھ وعدہ کیا ۸۰ سال عمر ہو گی۔ ۱،۲،۳،۴،۵،۶ سال زیادہ یا ۱،۲،۳،۴،۵،۶ سال کم۔‘‘

(اربعین نمبر۳،ص ۸۰، خزائن ۱۷، ص۴۲۲)

میں پوچھتا ہوں یہ پیشینگوئی ہے یا موم کا ناک کہ جتنا چاہو اسے کھینچتے چلے جاؤ۔ بھائیو! ابھی میں نے آغاز کیا ہے، قادیانیت کا کیس سمجھانے کے لئے۔ آپ دوست سمجھیں پہلے مرحلے میں قادیانیت کس عیاری کا نام ہے۔ اگر آپ دوست جاگ رہے ہیںتو میں آپ سے عرض کرتاہوں: قرآن مجید کی نص قطعی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے جس کے متعلق جو لکھ دیا، ایک لمحہ نہ زیادہ ہو سکتا ہے اور نہ کم۔ اب مرزا کہتا ہے کہ خدا نے میرے ساتھ وعدہ کیا کہ تیری عمر۸۰ سال ہو گی۔ ۵،۶ سال کم یا ۵،۶ سال زیادہ۔اب دیکھئے! حضور ﷺ کی صداقت کو۔ آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا:’’اِنَّہُ سَیَکُوْنُ فِیْ اُمَّتِیْ ثَلَاثُوْنَ کَذَّابُوْنَ وَ فِیْ رِوَایَۃٍ دَجَّالُوْنَ‘‘(ترمذی، باب ما جاء تقوم الساعۃ حتی یخرج کذابون:ج۲، ص۴۵)

{ میرے بعد جو جھوٹی نبوت کا دعویٰ کریں گے وہ دجال اور کذاب ہوں گے}

آپ جانتے ہیں اس بات کو کہ یہ ’’دجال‘‘ اور ’’کذاب‘‘ مبالغے کے صیغے ہیں۔ ان کی ہر بات کے اندر کذب اور دجل ہوگا۔ کوئی ان کی بات کذب بیانی سے، دھوکے دہی سے، دجل سے خالی نہیں ہو گی۔ کہتے ہیں کہ دریائے دجلہ کو دجلہ اس لئے کہا جاتا ہے کہ باقی دریاؤں کا پانی نتھر جاتا ہے۔ دجلہ کے پانی میں مٹی کی آمیزش ا س طرح پانی کے جزو ہو جاتی ہے کہ نتھارنا چاہو تو نتھر نہیں سکتا۔ یہ دجال اور کذاب کے صیغے اس لئے استعمال کئے گئے کہ

128

اس کی ہر بات کے اندر کذب اور دجل ہوگا۔

اب میں آپ دوستوں سے درخواست کرتا ہوں کہ میں نے اس کی پہلی عبارت آپ کے سامنے رکھی کہ میرے ساتھ خدا نے وعدہ کیا ہے کہ تیری عمر۸۰ سال یا ۵، ۶ سال زیادہ یا ۵، ۶ سال کم۔ ایک سانس میں اس نے ۱۲ سال کا فرق ڈال دیا۔ ۸۰ سے چھ سال کم کریں تو ۷۴ سال بنتے ہیں۔ ۸۰ سے ۶ سال زیادہ کریں تو ۸۶ سال بنتے ہیں۔ کیا معنی کہ ۷۴ سال سے ۸۶ سال کے عرصہ میں جب بھی مرزا قادیانی مرے تو پیشینگوئی پوری ہو جائے۔

مرزا قادیانی کو خدا نے ہربات میں جھوٹا کیا

برادران! توجہ کریں۔ میں اب یہاں ایک بات کہتا ہوں اور اپنے تجربے کی بناء پر کہتا ہوں۔ آپ میں سے جو دوست تجربہ کرنا چاہیں، ان شاء اللہ! آپ تجربہ کے بعد مجھ مسکین کا ساتھ دیں گے کہ مرزا قادیانی جس تحدی کے ساتھ دعویٰ کرتا تھا، اس سے کہیں زیادہ شدت سے میرے رب کی قدرت اس کو جھوٹا کر دیتی تھی۔

اب اس نے کرارا، مرارا، لیلاو نہارا بار بار اس بات کا اصرار کیا کہ میری عمر اتنی ہو گی۔ کریم کے کرم کو دیکھیں کہ مرزا قادیانی پیدا ہوا؍ ۳۹ء یا ۴۰ ء میں اور مرا ۲۶ ؍مئی ۱۹۰۸ء کو ۔ اب ۱۹۰۸ء میں سے نکالیں ۱۸۳۹ء کو یا ۴۰ کو بڑی مشکل کے ساتھ ۶۸ یا ۶۹ سال بنتے ہیں۔ ۷۴ سال تو درکنار ، خدا نے ۷۰ کی دہائی کو بھی نہیں پہنچنے دیا۔

میرے بھائیو!ایک بات عرض کرتا ہوں قرآن مجید کی نص قطعی تو رہی اپنی جگہ ’’عَلَی الرَّاْسِ وَالْعَیْنِ‘‘ یہ تو ایمان کا حصہ ۔لیکن میں تو اور نیچے اتر کر ایک بات اور عرض کرتا ہوں: خدا کسی کے متعلق کہے کہ یہ فلاں وقت مرے گا۔ ساری دنیا بچانے پر آئے، نہیں بچا سکتی۔ میاں دلائل کے بیان کرنے سے یقین میں اضافہ ہوتا ہے۔ واقعات کے بیان کرنے سے ذہن سازی ہوتی ہے۔ مجھے دونوں کام سرانجام دینے ہیں۔ یہاں پر ایک واقعہ عرض کرتاہوں:

129

اپنے اکابر کو بدنام نہ کریں

ہمارے حضرت مولانا مفکر اسلام مفتی محمود رحمۃ اللہ علیہ یہ جناب ذوالفقار علی بھٹو کے ساتھ ، مفتی صاحب قائد حزب اختلاف تھے اور جناب بھٹو صاحب قائد ایوان۔ وہ پرائم منسٹر اور یہ قائد حزب اختلاف۔ جناب شاہ فیصل مرحوم شہید ہوئے۔ گورنمنٹ کی جانب سے وفد جانا تھا ان کے جنازے میں۔ حضرت مفتی صاحب کو بھی بھٹو صاحب نے کہا: حضرت! آپ ساتھ چلیں۔ تاکہ اپوزیشن اور گورنمنٹ یعنی پورے پاکستان کی قوم کی نمائندگی ہو جائے۔ حضرت مفتی صاحب کے ساتھ بیٹھ گئے جناب بھٹو صاحب، اور انہوں نے مفتی صاحب سے باتوں باتوں میں کہا، مفتی صاحب!آپ نے ہٹلر کی تاریخ پڑھی ہے؟۔ اب بھٹو صاحب نے پتہ نہیں یہ سوال کیوں کیا؟ میں عرض کئے دیتا ہوں کہ برادران ہٹلر اپنے دشمنوں کو چن چن کر ہلاک کرتا تھا۔ بھٹو صاحب کی اپوزیشن مفتی صاحب۔ وہ دراصل پیغام دے رہے تھے کہ جس طرح ہٹلر اپنے دشمنوں کے ساتھ کرتا تھا۔ میرا بھی مزاج وہی ہے۔ بھٹوصاحب در اصل مفتی صاحب پر دباؤ ڈالنا چاہتے تھے۔ مرعوب کرنا چاہتے تھے۔ آگے حضرت مفتی محمود زیر لب مسکرائے اور فرمایا: بھٹو صاحب! میں نے صرف ہٹلر کی تاریخ پڑھی ہی نہیں۔ بلکہ میں نے اس کے انجام کو بھی پڑھا ہے اور پھر اس کے بعد مفتی صاحب نے اپنا ہاتھ اٹھایا اور رکھا بھٹو صاحب کی کلائی پر اور مفتی صاحب نے اپنی سیٹ پر پوزیشن سنبھالی۔ آنکھوں میں آنکھیں ملائیں۔

ارے! میاں تم جن کے وارث ہو، میں ان کی بات کر رہا ہوں۔ آج اگر آپ کے اور میرے طرز عمل میں فرق آ گیا ہے تو کوئی حق نہیں ہمیں دیوبندی کہلوانے کا۔ نہ کریں بدنام اپنے ان اکابر کو۔ حضرت مفتی صاحب نے ایک منٹ ضائع کئے بغیر جناب بھٹو جو اتنی بڑی رعونت رکھتا تھا۔ اپنے مزاج میں انٹرنیشنل فیم کاآدمی، پرائم منسٹر اور ادھر درویش منش عالم دین۔ آنکھوں میں آنکھیں ملائیں۔ بھٹو صاحب سے کہا: بھٹو صاحب! اللہ نے جو رات قبر میں لکھی ہے، ساری میری سنگت، دوست مل کر بچانا چاہیں تو وہ مجھے اس

130

سے بچا نہیں سکتے۔ وہ رات قبر میں ہی آئے گی۔ اور جو رات باہر لکھی ہے، ساری دنیا کے میرے مخالف اکٹھے ہو کر وہ رات میری قبر میں لانا چاہیںتو ایسا نہیں ہو گا۔ جو رات لکھی ہے، اسی رات جاناہے۔ نہ بچانے والے بچا سکتے ہیں اور نہ لے جانے والے اس سے پہلے لے جا سکتے ہیں۔

خدا کا حکم اور فیصلہ اٹل

میرے بھائیو!میں آپ دوستوں سے درخواست کرتا ہوں: اللہ تعالیٰ آپ میں اور مجھ میں یہی اعتماد پیدا فرما دیں، بڑی بہادری کی بات ہے۔ بڑی بہادری اور جرأت کی بات ہے۔ سیدنا علی المرتضیٰؓ سے بھی یہی قول منقول ہے کہ سیدنا علی المرتضیٰؓ نے ارشاد فرمایا کہ: انسان کی اس دھرتی پرسب سے بڑی محافظ اس کی موت ہے کہ اس نے وقت سے پہلے کبھی نہیں آنا۔خداکسی کے متعلق فرمائے کہ یہ مرے گا۔ پھر خدا یہ کہے کہ: ’’یا یہ یا یہ‘‘

خدا’’ یا یہ یا یہ‘‘ نہیں کرتا۔ جب وقت اجل آ جائے تو وہ وقت نہ پہلے ہو سکتا ہے، نہ پیچھے ہو سکتا ہے۔ اب کیا کیا جائے مرزے قادیانی کا؟ بدنصیب ملعون باتیں اپنی طرف سے کرتا ہے اور منسوب اللہ کی طرف کرتا ہے کہ خدا نے مجھے یہ کہا کہ تیری عمر۸۰ سال ہو گی یا زیادہ یا کم۔ گدھا کہیں کا۔ یہ خدائی وعدہ ہے؟۔

سچے نبی کی سچی پیشینگوئی

میرے بھائیو! میں اب مرزے کے خدائی وعدے کی بات نہیں کرتا۔ اب مصطفائی اشارے کی بات کرتا ہوں۔ آج جنگ ہو رہی ہے۔ وہی بدر کی عصر کے وقت دشمن پہلے پہنچا۔ اس نے اپنے لئے پسندیدہ جگہ کا انتخاب کر لیا۔ رحمت عالم ﷺ رفقاء سمیت پہنچے تاخیر سے۔ یہ دوسری جگہ۔ برادران! اب شام کا وقت ہوا:

⚛… کسی نے خیمے کھڑے کئے

⚛… کسی نے آگ جلائی

⚛… کسی نے روٹی پکائی

131

⚛… کوئی جانوروں کے پانی کا انتظام کر رہا ہے

⚛… کوئی جگہ بنا رہا ہے سونے کی

سارے اپنے اپنے کاموں میں لگے ہیں۔ ادھر رحمت عالم ﷺ نے سیدنا صدیق اکبرؓ اور دوسرے رفقاء سے فرمایا: مجھے وہاں لے چلو، جہاں کل جنگ ہونی ہے۔ یہ ایک، دو صحابہؓ رحمت عالم ﷺ کو لئے، رحمت عالم ﷺ چلے ہیں میدان کی جانب۔

⚛… آپ کے ہاتھ میں لکڑی

⚛… چلتے چلتے ایک جگہ رکے حضور ﷺ

⚛… اپنے اس عصاء مبارک سے نشان لگایا

⚛… کہ کل یہاں پر ابوجہل تڑپے گا

⚛… چار قدم آگے چلے ایک اور نشان لگایا

⚛… کہ کل یہاں پر عتبہ تڑپے گا

⚛… آگے چلے ایک اور نشان لگایا

⚛… کہ یہاں کل ابولہب پھڑکے گا

صحابہ کرامؓ کہتے ہیں: دوسرے دن ہوئی جنگ۔ شام کو دیکھنے والے چشم فلک نے نظارہ کیا: جہاں نبوت نے نشان لگایا تھا، وہ وہیں پر تڑپا جہاں حضور ﷺ نے فرما دیا تھا۔ ایسے ہی نہیں کہ مرے تو ہوں، مگر عتبہ کے نشان پر ابوجہل اور ابوجہل کے نشان پر ابولہب۔ ایسے بھی نہیں۔ ہر فرد وہیں گرا، جہاں حضور ﷺ نے فرمایا تھا۔ اسی نشان پر نہ آگے نہ پیچھے۔

(صحیح مسلم، باب غزوۃ بدر: ج۲، ص۱۰۲)

قبلہ! نبوت کی پیشنگوئی یوں ہوا کرتی ہے۔ نبی اس وقت تک نہیں بولتا جب تک خدا بلوائے نا! جب نبی بول پڑے۔ میرے اللہ نے ذمہ لے رکھا ہے اس بات کا کہ میں نے اپنے نبی کی بات کو جھوٹا نہیں ہونے دینا۔ مثلاً:آپ نے کہا: مغرب ہونے سے پہلے یہ کام ہو گا۔ فلاں لشکر آئے گا، فلاں قافلہ آ ئے گا۔ مکہ میں مغرب کا وقت ہوا چاہتا ہے۔

132

قافلے والوں کو کوئی رکاوٹ پڑ گئی، نہیں پہنچے۔ میرا رب کہے گا سورج کو کہ: رک جا۔ تو نہیں غروب ہو سکتا جب تک قافلہ مکہ میں نہ آ جائے۔ نبوت ہے مذاق تو نہیں۔

مرزا قادیانی کی کتابیں اس کے الہام کی طرح جھوٹی

بھائیو! کہاں یاد آئے مجھے سرسید۔ سر سید کے بھی الٹے پلٹے عقائد تھے۔ آپ دوستوں کو بھی معلوم ہے، جانتے بھی ہو اور مانتے بھی۔ لیکن سرسید سے کسی نے پوچھا کہ مرزے قادیانی کی کتابوں کے بارے میں آپ کی رائے کیا ہے؟ تو سرسید نے جواب دیا: مرزا قادیانی کی کتابیں بھی اس کے الہام کی طرح ہیں۔ نہ دین کے کام کی نہ دنیا کے کام کی۔ سرسید نے ایک اور بات بھی کہی۔ جاگ رہے ہو۔ اس نے کہا: بدنصیب مرزے قادیانی کو پتہ بھی نہیں تھا کہ نبی کیا ہوتا ہے۔ اگر نبوت کے منصب کا اس کو پتہ ہوتا یا کسی قادیانی کو نبوت کے منصب کا پتہ ہوتا تو کبھی وہ نبوت کا دعویٰ نہ کرتا۔ یا یہ بدنصیب اس کو نبی نہ مانتے۔

قبلہ! نبوت مسکرائے تو جنت میں بہار آتی ہے۔ اب میں کیا کروں کہ کثرت ہجوم کی وجہ سے انتخاب کرنا مشکل ہو رہا ہے کہ کس بات کو چھوڑوں اور کس بات کو لوں۔

خدا کہے کسی کے متعلق یہ اس وقت مرے گا اور وہ اس وقت نہ مرے۔ خدا کہے کسی کے متعلق کہ اس کی اتنی عمر ہو گی اور اس کی اتنی عمر نہ ہو۔ میں آپ سے پوچھتا ہوں: کیا یہ ممکن ہے؟۔ نہیں۔ لیکن کیا کیا جائے اس امر کا کہ پوری قادیانیت آج ایک نیا علم الکلام ہمیں دینا چاہتی ہے۔ وہ کہتی ہے کہ تسلیم کر لو اس بات کو کہ اللہ کی بات بھی غلط ہو سکتی ہے۔ میں نے جواب میں کہا: اللہ کی بات نہیں، وہ تو نبی کی بات بھی غلط نہیں ہوتی۔ تم خدا کی بات کرتے ہو۔ میںتو مصطفی کی بات کر رہا ہوں۔

بھائیو!مرزے قادیانی نے کہا: میری عمر۸۰ سال یا ۸۶ سال یا ۷۴ سال ہو گی۔ پیدا ہوا ۳۹ء میں ۴۰ء میں۔ مرا ۲۶؍مئی ۱۹۰۸ء میں۔ شاید پھر اس بات کا تذکرہ آئے یا نہ

133

آئے ابھی عرض کئے دیتا ہوں۔ مرزا قادیانی مرا کس شان سے؟ توبہ، الامان والحفیظ۔ تیری حکمتوں پر خداوند میرے ماں، باپ بھی قربان۔ اس حالت میں مرا کہ منہ سے قے اور پچھلے راستے سے غلاظت۔ اس حالت میں مرا جس کی یہ حالت ہو۔ دوستو! وہ کچھ بھی ہو سکتا ہے۔ لیکن مل کر کہہ دو: کہ وہ اللہ کانبی…؟ نہیں ہو سکتا۔

نبی کو بوقت وفات اختیار

دوستو! آپ تصور بھی کر سکتے ہیںاس بات کا کہ ایک امتی اور نبی کی موت میں کتنا فرق ہوتا ہے۔ آپ کے اور میرے جب مرنے کا وقت آئے گا تو فرشتہ آئے گا۔ یہاں رکھا انگوٹھا، نکالی جان۔ یہ جا، وہ جا۔ رہے نبی تو انتقال سے پہلے انہیں اختیار دیا جاتا ہے کہ اس دنیا میں رہنا چاہتے ہو یا رب کے حضور چلنا چاہتے ہو؟ یہ ایک اور بات ہے کہ آج تک کسی نبی نے یہ نہیں کہا کہ: مجھے یہاں رہنا ہے۔ سب نے یہی کہا: چلتے ہیں۔

میرے بھائیو! (مشکوٰۃ،باب بدالخلق و ذکر الانبیاء: ص۵۰۷پر) ایک روایت ہے کہ:

سیدنا موسیٰں کے پاس آئے ملک الموت، حضرت چلیں تیاری کر یں۔ اب وہ انسانی شکل میں۔ سیدنا موسیٰں کہتے ہیں: یہ کون ہے جو مجھے کہتے ہیں کہ: حضرت! چلیں کیا؟ ملک الموت گیا رب کے حضور۔ پوچھاکیا ہوا؟۔ فرمایا: یا اللہ! جان لینے گیا تھا، آنکھ دے کر آیا ہوں۔ میرے رب نے کمیشن نہیں بٹھایا۔ سیدنا موسیٰ ں کو شوکاز نوٹس جاری نہیں کیا۔ سیدنا موسیٰ ں پر قدغن نہیں لگایا۔ فرشتے کو کہا: میں اپنی قدرت سے تیری آنکھ ٹھیک کر دیتا ہوں۔ پر میں نے اپنے نبی سے نہیں پوچھنا کہ تو نے کیا کیا؟ پھر اس فرشتے کو کہا: پھر جاؤ۔ جب جانا، سلام کر کے جانا۔ اجازت مانگ کے جانا۔ ان سے کہنا رب پروردگار عالم فرماتے ہیں کہ اس دنیا میں رہنا چاہتے ہو یا چلنا چاہتے ہو؟ اگر آپ اس دنیا میں رہنا چاہیں تو یہی اپنا ہاتھ مبارک کسی بالوں والے جانور کی پشت کے اوپر رکھ دیں۔ جتنے بال آپ کے ہاتھ کے نیچے، اتنے سال آپ زندہ رہ سکتے ہیں۔ سیدنا موسیٰں نے فرمایا:

134

اس کے بعد؟ دو ہزار بال آگئے تو دو ہزار سال زندہ رہوں گا؟۔ پھر اس کے بعد؟۔ فرشتے نے کہا: جی آخر چلنا تو ہے۔ فرمایا: پھر ابھی چلتے ہیں۔ نبی کی موت اور عام آدمی کی موت میں فرق ہے۔ نبی کو انتقال سے پہلے تخییر دی جاتی ہے۔ لیکن یہ سچے نبی کی بات ہے۔ سچے نبی کے پاس فرشتہ آئے تو اجازتیں لے کر آتا ہے۔ جھوٹے نبی کے پاس فرشتہ آئے تو واش روم سے باہر نہیں نکلنے دیتا۔ ڈبل بیرل خان۔ اوپر سے بھی جاری پیچھے سے بھی جاری،لئے پھرتے ہیں نبوت کو۔

حضور ﷺ کا مقام

بھائیو! صحابہ کرامؓ فرماتے ہیں کہ رحمت عالم ﷺ ہمارے ہاتھ کے ساتھ مصافحہ کرتے تھے۔ پندرہ پندرہ دن تک ہمارے ہاتھوں میں نبوت کے ہاتھ کی ملائمت کے، نرمی کے اثرات باقی رہتے تھے۔ وہ کہتے ہیں: ہم حضور ﷺ سے مصافحہ کرتے تھے تو پندرہ، پندہ دن تک ہاتھوں سے خوشبو نہیں جایا کرتی تھی۔ وہ فرماتے ہیں کہ: مجلس سے اٹھ کر گئے کسی کو تلاش کرنے کی ضرورت ہوتی کہ رحمت عالم ﷺ کس طرف تشریف لے گئے، پوچھنے کی ضرورت نہیںہوتی تھی۔گلیوں کی فضائیں خود بتاتی تھیں، ادھر ادھر سے گزر کر گئے۔

ادھر اس کا یہ عالم، غلیظ کہیں کا۔ نہ دین کا نہ دنیا کا خَسِرَ الدُّنْیَا وَالْآخِرَۃُ اس نے کہا تھا کہ مجھے ۸۰ سال کی عمر ملے گی یا ۸۶ سال یا ۷۴ سال۔ دجل یہ کیا کہ اتنا فرق ڈال دو کہ اس عرصے میں جب بھی مروں پیشینگوئی پوری ہو جائے۔چلو اقل مدت تک پہنچ جاتا۔ ۷۴ سال تک ہی پہنچ جاتا سوری کا۔ اللہ پروردگار عالم نے ۶۸، ۶۹ سال میں ٹنٹنا بند کر دیا۔ چل بچو!

میرے بھائیو!پوچھتا ہوں آپ حضرات سے کہ مرزے کی پیشینگوئی سچی ثابت ہوئی یا جھوٹی؟ اب قادیانیوں نے مرزے قادیانی کے مرنے کے بعد پوری قادیانیت ’’مِنْ اَوَّلِہٖ اِلٰی آخِرِہٖ‘‘ درپے ہوئی اس امر کے۔

135

⚛… چھوٹے سے بڑے تک

⚛… صحیح سے سقیم تک

⚛… کالے سے گورے تک

⚛… ایشیاء سے یورپ تک

پورے قادیانی جمع ہوئے اس امر پر کہ کسی طرح مرزے قادیانی کو سچا ثابت کریں۔ گدھے کہیں کے۔ نبوت کے راستوں سے، نبوت کے قدموں سے امت سچائیاں تلاش کرتی ہے۔یہ امت اکٹھی ہو کر نبی کو سچا کرنے کے درپے ہے۔ پیدا ہوا ۳۹ء یا ۴۰ء میں مرا ۲۶؍مئی ۱۹۰۸ء میں، مشکل کے ساتھ اس کی عمر ہوئی ساری ۶۸، ۶۹ سال۔ پیشینگوئی پوری نہیں ہوئی۔

سارے قادیانیوں نے مل کر اب یہ فیصلہ کیا کہ مرزے قادیانی کی وفات کو تو ہم آگے لے جا سکتے نہیں کہ ۱۹۰۸ء کے بجائے ۱۹۱۲ء میں مرا تھا۔ اس طرح کرتے ہیں کہ اس کی تاریخ پیدائش کو پیچھے لے جاتے ہیں۔ اس نے کہا: میں ۳۹ء میں پیدا ہوا۔ انہوں نے کہا: نہیں جی! ۳۵ء میں پیدا ہوا۔ کیا معنی کہ ۶۸ میں ۶ شامل کر کے کسی طرح ۷۴ تک پہنچ جائے۔ تم نے ۷۴ تک کیا پہنچنا ہے کہ رب نے ۱۹۷۴ء کو ہی ان کو کافر قرار دے دیا۔ اسی پر اکتفا کرتے ہیں۔

’’وما علینا الاالبلاغ المبین‘‘

136

تحفظ ناموس رسالت ﷺ

بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ

اَلْحَمْدُللہِ وَکَفیٰ وَسَلامٌ عَلیٰ سَیِّدِ الرُّسُلِ وَخَاتَمِ الْاَنْبِیَاءِ وَعَلیٰ اٰلَہٖ وَاَصْحَابِہِ الَّذِیْنَ ھُمْ خُلاَصَۃُ الْعَرَبِ الْعَرَبَاءِ وَخَیْرُ الْخَلاَءِقِ بَعْدَ الْاَنْبِیَاءِ۔ اَمَّا بَعْدُ! فَاَعُوْذُ بِاللہِ مِنَ الشَّیْطٰنِ الرَّجِیْمِ۔ بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ۔

و قال اللہ تعالیٰ: وَالْعَصْرِ إِنَّ الْإِنسَانَ لَفِیْ خُسْرٍ إِلَّا الَّذِیْنَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ وَتَوَاصَوْا بِالْحَقِّ وَتَوَاصَوْا بِالصَّبْرِ (العصر)

قال النبیﷺ: لَایُوْمِنُ اَحْدُکُمْ حَتّٰی اَکُوْنَ اَحَبَّ اِلَیْہِ مِنْ وَّالِدِہٖ وَوَلَدِہٖ وَالنَّاسِ اَجْمَعِیْنَ۔

(مشکوٰۃ:ص۱۲)

اَللّٰھُمَّ صَلِّ عَلیٰ سَیِّدِنَا وَ مَوْلٰنا مُحَمَّدٍ وَّعَلیٰ آلِ سَیِّدِنَا وَ مَوْلٰنا مُحَمَّدٍ وَّ بَارِکْ وَسَلِّمْ وَ صَلِّ کَذَالِکَ عَلیٰ جَمِیْعِ الْاَنْبِیَاءِ وَالْمُرْسَلِیْنَ وَعَلیٰ الْمَلاَءِکَۃِ الْمُقَرَّبِیْنَ وَعَلیٰ عِبَادِ اللہِ الصَّالِحِیْنَ اَجْمَعِیْنَ اِلیٰ یَوْمِ الدِّیْنِ۔

تمہید

میرے انتہائی واجب الاحترام دوستو، بزرگو اور بھائیو! آپ حضرات کے اس قائم کردہ مرکز کے حوالے سے بارہا یہاں پر حاضری کی اللہ پاک نے توفیق عنایت فرمائی۔ البتہ گفتگو کے حوالے سے یہ پہلی مجلس ہے۔ اس مجلس میں میرے ذمہ جو عنوان لگایا گیا ہے وہ یہ ہے کہ ہمیں رحمت عالم ﷺ کی عزت وناموس کے تحفظ کے حوالے سے اپنے کام کا آغاز قرآن اور سنت کی روشنی میں کس طرح کرنا چاہئے۔ اس لئے میں نے آج کی اس مجلس کی گفتگو کے لئے اس سورئہ مبارکہ کا انتخاب کیا:

137

سورۃ کی جامعیت

برادران عزیز! عالم اسلام کے ممتاز رہنما و امام، حضرت امام شافعیؒ ارشاد فرماتے ہیں کہ: اگر پورے قرآن مجید میں کچھ اور نازل نہ ہوتا۔ صرف یہ چھوٹی سی سورۃ جو تین آیات پر مشتمل ہے، اگر یہی سورۃ نازل ہوتی تو اس ایک سورۃ میں پوری انسانیت کے لئے قیامت کی صبح تک کے لئے دستور عمل موجود ہے۔

حضرت امام شافعیؒ فرماتے ہیں کہ: یہ عمارت ہے جو آپ حضرات کو نظر آرہی ہے۔ یہ نظر آنے سے پہلے اس کا وجود تھا، جو بنانے والے کے اپنے ذہن میں تھا۔ دل میں خواہش ظاہر کی، دماغ میں اس کا خاکہ تیار کیا۔ اس خاکے کے تیار ہونے کے بعد پھر یہ بلڈنگ تیار ہوئی۔ دل خواہش کا احترام کرے اور دماغ اس کے لئے خاکہ بنائے۔ آپ اس کو ایمان کے ساتھ تعبیر کر سکتے ہیں۔ پھر عملی طور پر جس وقت وہ کوئی چیز ظاہر ہو جائے۔ آپ اس کو عمل کے ساتھ تعبیر کر سکتے ہیں۔ پھر اس عمل کو بڑھانے کے لئے مسلسل آپ نے یہ کام کیا ہے تو اس کی یہ انفرادی حیثیت سامنے آئی ہے۔ اس کو اور لوگوں کے ساتھ اٹیچ کرناچاہئے اور اس کی ایسی صورت بننی چاہئے وہ مرحلہ آئے گا۔ ’’وَتَوَاصَوْابِالْحَقِّ‘‘ یہ کام بہت مشکل ہے۔ اس کام کو کرنے کے لئے راستے میں مصائب اور تکالیف آئیں گی تو اس کے لئے ’’وَتَوَاصَوْابِالصَّبْرِ‘‘ پر عمل کرنا ہے۔

سورۃ میں بیان کردہ دفعات اربعہ

بھائیو! میں درخواست کرتا ہوںآپ حضرات سے کہ: کسی بھی کام کو کرنے کے لئے سب سے پہلے منصوبہ بندی، پھر عملی کارروائی، پھر اس کی طرف دوستوں کو متوجہ کرنا اور پھر اس کے کام کے لئے آگے بڑھنا۔ اس جمعیت کو ساتھ لے کر آگے بڑھنا اور اس راستے میں کوئی تکلیف آئے تو پھر تحمل، برداشت اور اسے جھیلنے کا ہمیں جذبہ ہونا چاہئے۔ یہ چار وہ دفعات ہیں۔ آپ دینی کام کرنا چاہیں تب۔ دنیوی کام کرنا چاہیں تب۔ یہ چار ایسی دفعات ہیں کوئی بھی کام کرنے کے لئے ان کے بغیر آپ کو چارہ نہیں۔

میرے واجب الاحترام دوستو!اس سورہ عصر کی چار دفعات کے تذکرے کے

138

بعد آج کی مجلس میں آپ کو اور مجھ کو سوچنا چاہئے اس امر پر کہ رحمت عالم ﷺ کی عزت و ناموس کے تحفظ کے حوالے سے کام کو بڑھائیں گے تو اسی نہج پر۔ لیکن اس کے کرنے کے لئے کوئی بھی آپ کام کرنا چاہیں۔ سب سے پہلے اپنے دل کو آمادہ کریں گے۔ دل اور دماغ جب اس کی اہمیت سمجھیں گے۔ تب وہ اس کی طرف متوجہ ہوں گے۔ ایک کام آپ اپنے ملازم سے بطور جبر کے تو کرا سکتے ہیں۔ وہ اس کی مجبوری ہے۔ لیکن اگر آپ چاہیں کہ وہ ملازم دل و دماغ کی تمام تر توانائی خوشی کے ساتھ صرف کرے تو پہلے اس کام کی اہمیت اس کے دل و دماغ میں بٹھانی چاہئے۔ پھر وہ بڑی خوشی کے ساتھ اپنی ساری صلاحیتیں اس کام کے لئے صرف کرے گا اور کام کو کام سمجھ کر وہ اس میں جت جائے گا۔

بعثت نبوی اللہ تعالیٰ کا بہت بڑا احسان

میرے واجب الاحترام بھائیو! مجھے آپ حضرات سے درخواست کرنا ہے کہ حضور ﷺ کی تشریف آوری کے ضمن میں اللہ تعالیٰ نے:

⚛… چاند اور ستارے بنائے

⚛… پھل اور پھول پیدا کئے

⚛… مشرق اورمغرب کی سمتیں متعین کیں

⚛… شمال اور جنوب کی سمتیں متعین کیں

⚛… ہوا ؤں اور فضائوں کو پیدا کیا

⚛… آپ کو اور مجھے پیدا کیا

⚛… ہماری آل اور اولاد کو پیدا کیا

کسی بھی بڑی سے بڑی نعمت دے کر اللہ نے اس پر احسان نہیں جتلایا۔ لیکن جس وقت محمد عربیﷺ کی باری آئی تو حق تعالیٰ نے قرآن کریم میں ارشاد فرمایا :

’’لَقَدْ مَنَّ اللّٰہُ عَلَی الْمُؤمِنِیْنَ إِذْ بَعَثَ فِیْہِمْ رَسُولاً‘‘ (ال عمران:۱۶۴)

یہ میرا تم پر احسان ہے کہ میں نے اپنے خزانۂ قدرت کی سب سے قیمتی چیز تمہیں عنایت کی۔

139

تحفظ ناموس رسالت کس قدر اہم کام

⚛… ایک کام کی اہمیت میرے نزدیک ہے

⚛… ایک کام کی اہمیت آپ کے نزدیک ہے

ہر ایک کی اپنی اپنی ترجیحات ہوتی ہیں۔حضور ﷺ کی ذات اقدس کے حوالے سے رب کا قرآن، حضور ﷺ کی عزت و ناموس کے حوالے سے کلام اللہ کا اسلوب بیان یہ بتاتا ہے کہ حق تعالیٰ کی قدرت کاملہ اس مسئلے میں کتنی حساس ہے۔ پھر ایک بات اور آپ سے عرض کرتا ہوں، وہ یہ کہ دنیا میں جو چیز جتنی زیادہ قیمتی ہو گی، اس کی اتنی زیادہ حفاظت کی ذمہ داری عائد ہوتی ہے۔

⚛… آپ کے گھر میں چینی پڑی ہے

⚛… گھر میں نمک پڑا ہے

آپ نمک کی اتنی حفاظت نہیں کریں گے، جتنی چینی کی حفاظت کریں گے۔

⚛… گھر میں ضرورت کی اشیاء موجود ہیں

⚛… گھر میں سونا، چاندی اور نقدی موجود ہے

آپ باقی اشیاء کی اتنی حفاظت نہیں کریں گے جتنی سونا، چاندی اور نقدی کی کریں گے۔اس سے آگے مثالوں کو پھیلاتے جائیں۔ جو چیز جتنی قیمتی ہو گی، وہ اتنی زیادہ قیمت والی ہو گی۔ جتنی زیادہ قیمت والی ہوگی، اتنی زیادہ ضرورت ہے۔ اس کا حق بنتا ہے کہ اس کی حفاظت کی جائے۔

⚛… آپ حضرات اپنی چیک بک کی حفاظت کرتے ہیں

⚛… جو نقدی پاس ہے، اس کی بھی حفاظت کرتے ہیں

⚛… سونا گھر میں موجود ہے، اس کی بھی حفاظت کرتے ہیں

⚛… چاندی گھر میں موجود ہے، اس کی بھی حفاظت کرتے ہیں

⚛… جواہرات گھر میں موجود ہیں، ان کی بھی حفاظت کرتے ہیں

لیکن ہر چیز کے لئے آپ کے دل و دماغ میں ترجیحات ہیں۔ جو چیزجتنی زیادہ

140

قیمتی ہو گی، وہ اتنی زیادہ حفاظت کی طالب ہو گی۔

دوستو! مال ایک قیمتی چیز ہے۔ آپ اور میں بلکہ دنیا کا ہر آدمی رزق حلال کی کوشش اور اس کی کاوش یعنی اس کو وصول کرنے کے لئے کوشش کرتا ہے۔ اور کرنی بھی چاہئے۔ کیونکہ رزق حلال عبادت ہے۔ نیکی کا کام ہے۔ کوئی عیب کی بات نہیں۔ بسااوقات اس مال کو حاصل کرنے کی خاطرپہلے اس نے محلے کے اندر دکان کھولی۔

⚛… پھر اللہ نے کرم کیا، مارکیٹ کے اندر چلا گیا

⚛… پھر اللہ نے وسعت دی تو شہر میں کافی پراپرٹیاں بن گئیں

⚛… پھر اللہ کے فضل سے اس نے فیکٹری لگائی

⚛… صوبے کی حد تک مال کی سپلائی شروع ہو گئی

⚛… اللہ نے کرم کیا، باہر کی دنیا میں برآمد و درآمد کا سلسلہ شروع ہو گیا

کیونکہ مال ایک ایسی چیز ہے کہ آدمی اس کے حصول کے لئے وقت بھی لگاتا ہے۔ اس کے حصول کے لئے اپنی جان کو بھی کھپاتا ہے۔ لیکن یہی مال کمانے والا آدمی صبح شام، دن رات ایک کر کے اس محنت پرلگا ہوا تھا، اگر اس آدمی کی جان کو کوئی تکلیف پہنچ جائے تو پھر سارا مال لگا دے گا اورکوشش کرے گا کہ کسی طرح میری جان بچ جائے۔ یہ کوئی منطق اور فلسفہ نہیں۔یہ ایک عام سی بات ہے۔

اس سے اتنی بات تو بہر حال ثابت ہو گئی کہ مال ایک قیمتی چیز ہے۔ لیکن جان اس سے بھی زیادہ قیمتی چیز ہے۔ یہی جان جو وہ بچانے کے لئے اپنا سب کچھ قربان کرنے کے لئے تیار ہے۔ اگر اس آدمی کی عزت و ناموس پر حملہ ہو جائے تو یہ آدمی پھر مال بھی حتیٰ کہ اپنی جان بھی قربان کر کے اپنی عزت کو بچائے گا۔ اس سے یہ بات ثابت ہوئی کہ مال قیمتی چیز ہے اور جان اس سے بھی زیادہ قیمتی چیز ہے۔ مگر عزت اور ناموس اس سے بھی زیادہ قیمتی چیز ہے۔

میرے واجب الاحترام دوستو! بعینہ :

⚛… اولیاء کرام رحمتہ اللہ علیہم انتہائی قیمتی چیزہیں

⚛… صحابہ کرامؓ ان سے بھی زیادہ قیمتی ہیں

141

⚛… پھر انبیاء علیہم السلام ان سے بھی زیادہ قیمتی ہیں

⚛… لیکن خاتم الانبیاءﷺ ان سب سے زیادہ قیمتی ہیں

میرے واجب الاحترام دوستو!حدیث شریف میں کہا گیا ہے’کہ :

’’لَایُوْمِنُ اَحْدُکُمْ حَتّٰی اَکُوْنَ اَحَبَّ اِلَیْہِ مِنْ وَّالِدِہٖ وَوَلَدِہٖ وَالنَّاسِ اَجْمَعِیْنَ‘‘(مشکوٰۃ:۱۲){ تم میں سے کوئی آدمی اس وقت تک مومن نہیں ہو سکتا جب تک کہ وہ میرے ساتھ، اپنے ماں باپ، آل اولاد اور تمام لوگوںسے بھی زیادہ محبت کا معاملہ نہ کرے۔}

تو حضور سرور کائنات رحمۃ اللہ علیہ کی عزت و ناموس، آپ ﷺ کے ساتھ محبت رکھنا، ماں باپ، اولاد حتیٰ کہ اپنی جان سے بھی زیادہ الفت رکھنا، اسلام اس کا ہم سے مطالبہ کرتا ہے۔ اسلام کی یہ ڈیمانڈ ہے کہ یہ چیز دو گے، تب تم اس دائرے میں داخل ہو سکو گے۔

تحفظ ناموس رسالت ﷺ اور حضرات صحابہ کرامؓ

میرے واجب الاحترام دوستو! آپ کی مجلس میں اس ساری گفتگو کو لے کر چلتے ہیں۔ صحابہ کرامؓ کے طرز عمل کی طرف جو تشریحات اور گفتگو آپ اور میں اسلام کے اس عنوان کے حوالے سے کر رہے ہیں۔ یہ بہر حال حضرات صحابہ کرامؓ کے دل و دماغ میں بھی تھیں۔ دین اسی تعامل کا نام ہے اور اسی ورثے کا نام ہے تو ہمیں سب سے پہلے انہی کے دروازے پر چلنا چاہئے، ان سے پوچھنا چاہئے کہ آپ حضرات اس مسئلے میںکیا فرماتے ہیں۔ میں درخواست کرتا ہوں آپ دوستوں سے کہ سرور کائنات رحمۃ اللہ علیہ کے وصال کے بعد صحابہ کرامؓکا سو سال سے زائد پیریڈ چلتا ہے۔ ایک سو دس ہجری تک آخری صحابی کا انتقال ہوا۔

بہر حال سو سال تک صحابہ کرامؓ پھر تابعینؒ کا دور شروع ہوتا ہے یعنی صحابہ کرامؓ کا دورختم ہوا پھر تابعینؒ کا دور شروع ہوتا ہے۔ آج کی مجلس میں معاذ اللہ! میں کوئی اپنی علمی تفوق کی وجہ سے نہیں۔بلکہ میں آپ کا خادم اور رضا کار ہوں۔ اللہ تعالیٰ محفوظ فرمائے ریا کاری سے۔ میں ریاکاری نہیں کرتا۔ میں اپنے دل میں اللہ کو گواہ بنا کر کہتا ہوں کہ میں آپ

142

دوستوں کی جوتیاں اٹھاؤں پھر بھی آپ حضرات کا حق ادا نہیں کر سکتا۔ میں اس قابل نہیں کہ میں دعویٰ کروں۔ لیکن میں آپ حضرات کو اس طرف ضرور متوجہ کروں گا کہ ایک لاکھ چوبیس ہزار صحابہ کرامؓ ہیں۔ اور یہ میرے رب کی تقسیم سمجھیں۔ میرے رب کی حکمت بالغہ سمجھیں، اس کو حسن اتفاق کہیں، کوئی بھی تعبیر کریں، وہ آپ حضرات کی مرضی کہ رب کریم کے انبیاء کی تعداد بھی ایک لاکھ چوبیس ہزار، محمد عربیﷺ کے صحابہ کرامؓ کی تعداد بھی ایک لاکھ چوبیس ہزارہے۔

ایک لاکھ چوبیس ہزار میں سے ایک مثال آپ حضرات ایسی پیش نہیں کر سکتے کہ کسی صحابیؓ کے سامنے کسی دشمن نے معمولی طور پر بھی اشارے اور کنائے سے آپ ﷺ کی توہین کی ہو اور کسی ایک صحابیؓ نے اس کو برداشت کر لیا ہو۔ پوری اسلام کی تاریخ میں اس کی ایک مثال بھی پیش نہیںکی جا سکتی۔ حتیٰ کہ اگر باپ نے کوئی توہین کا ارتکاب کیااور بیٹا صحابیؓ تھا تو وہ جس طرح ایک آدمی حقیقتاً انگاروں پر لوٹ جاتا ہے۔ اس صحابیؓ کی اسی طرح کیفیت ہو گئی۔ وہ اپنے باپ کو سبق سکھانے کے درپے ہو گیا کہ آپ کا اور میرا باپ بیٹے کا رشتہ اپنی جگہ،نبوت کے ساتھ ایک امتی کا جو رشتہ ہے، اس رشتے کے ساتھ یہ رشتہ مقابلہ نہیں کر سکتا۔اگر تم نے نبوت کے معاملے میں زبان کھولنے کی جرأت کی یا میرے کان نہیں رہیں گے یا پھر آپ کی زبان نہیں رہے گی۔ یہ حضرات صحابہ کرامؓ کا طرز عمل تھا۔اتنی گفتگو تو میں نے جنرل طور پر کی۔ اب آپ کو اور مجھے چلنا چاہئے اور سوچنا چاہئے حضور ﷺ کی عزت و ناموس کے حوالے سے، ختم نبوت کے عنوان سے۔

دور نبوت میں جھوٹے مدعیان نبوت کا وجود

میرے واجب الاحترام دوستو! حضور ﷺ کے آخری زمانہ حیات میں تین افراد نے نبوت کا دعویٰ کیا تھا۔

⚛… ان میں ایک مسیلمہ کذاب تھا

⚛… ان میں ایک اسود عنسی تھا

⚛… ان میں ایک طلیحہ اسدی تھا

143

دور خلافت صدیق اکبرؓ میں اہم امور کی سرانجامی

میرے واجب الاحترام دوستو، بزرگو اور بھائیو! حضور ﷺ کے وصال کے بعد سیدنا صدیق اکبرؓ خلیفہ بنے۔ سیدنا صدیق اکبرؓ کے سامنے خلافت کا منصب سنبھالنے کے بعد دو، تین اہم کام تھے۔ جنہیں مہمات امور میں سے کہا جاتا ہے۔

پہلا کام یہ تھا کہ رحمت عالم ﷺ نے اپنے وصال سے پہلے اپنے ایک صحابی سیدنا اسامہؓ کو ایک لشکر دے کر رومیوں کی طرف روانہ کیا تھا۔ عرب کا مزاج یہ تھا کہ جب کبھی کوئی سفر درپیش ہوتا، شہر سے نکل کر بالکل حدود عبور کرتے ہی پہلے دن وہاں پڑاؤ کرلیتے اور اس کا فائدہ یہ ہوتا تھا کہ اگر کسی ساتھی کو کوئی ضرورت ہے، کوئی کام رہ گیا، کوئی بات پوچھنی تھی۔کسی سامان کی ضرورت تھی، وہ دوڑ کر شہر سے لے آئے، تاکہ تیاری مکمل ہو جائے۔ اگلے دن صبح نماز پڑھتے ہی سفر شروع کر دیتے تھے۔ جب واپس آتے تھے تو پھر آ کر پڑاؤ کرتے تھے کہ اتنے دنوں کے بعد آئے ہیں۔

(طبقات ابن سعد:ج۲، ص۱۸۹ تا ۱۹۲)

⚛… کوئی فوت ہوا

⚛… کوئی بیمار ہے

⚛… کسی کی تعزیت کرنی ہے

⚛… کسی کا جھگڑا ہے تو صلح کرانی ہے

⚛… کوئی بچہ پیدا ہوا تو اس کو مبارکباد دینی ہے

شہر کے حالات سے باخبر ہو جائے۔ اگلے دن تازہ دم ہو کر نکلتے تھے۔ ان کا یہ مزاج تھا۔ رحمت عالم ﷺ نے سیدنا اسامہؓ کو روانہ کیا۔اس لشکر نے اپنی روٹین کے مطابق باہر جا کر پڑاؤ کیا۔ آپ ﷺ کی طبیعت مبارک ٹھیک نہیں تھی۔ چنانچہ پیغام بھیج کر پتہ کرایا گیا کہ آپ ﷺ کی طبیعت اور زیادہ خراب ہو گئی ہے۔ انہوں نے ایک دن کے لئے سفر اور ملتوی کیا۔ دوسرے دن پیغام ملا کہ آپ ﷺ کی طبیعت اور زیادہ خراب ہو گئی ہے۔ انہوں نے سفر کو روک دیا۔ حتیٰ کہ آپ ﷺ کا وصال ہوا تویہ سارا لشکر بعینہ مدینہ طیبہ واپس آ گیا۔ انہوں نے آگے سفر نہیں کیا۔

144

سیدنا صدیق اکبرؓ مسند آراء خلافت ہوئے تو سب سے پہلے یہ مسئلہ درپیش آیا کہ اس لشکر کو روانہ کیا جائے یا نہ کیا جائے۔ جب کہ حضرت سیدنا اسامہؓ کی اپنی رائے یہ تھی۔

حضرت اسامہؓ کا تعارف

اب میں آپ حضرات کو کس طرح عرض کروں کہ یہ اسامہؓ کون ہیں؟۔ حضور ﷺ کے والد گرامی سیدنا عبداللہ کی ایک باندی تھی۔ ان کا نام تھا ام ایمنؓ۔ آپ a کے والد گرامی کا وصال ہوا۔ اس کے بعد حضور ﷺ کی پیدائش ہوئی۔ یہ ام ایمنؓ خدمت کرتی تھیں حضرت سیدہ آمنہؓ کی۔ ام ایمنؓ کو یہ شرف حاصل ہے کہ جن عورتوں نے حضوررحمت عالم ﷺ کو دودھ پلایا ہے، ان میں حضرت ام ایمنؓ بھی شریک ہیں۔ یہ ام ایمنؓ وہ ہیں جو حضور ﷺ کی والدہ کے ساتھ حضور ﷺ کو مکہ مکرمہ سے مدینہ طیبہ لے کر گئی تھیں۔ یہ ام ایمنؓ وہ ہیں جس وقت واپس آئے ابواء کے مقام پر پہنچے تو آپ ﷺ کی والدہ کا وصال ہوا۔ حضور ﷺ فرماتے ہیں: میں اس وقت ۶ سال کا تھا۔ والد کا سایہ پہلے سر سے اٹھ چکا تھا۔ غریب الوطنی کی حالت میں۔

⚛… نہ ننھیال میں ہیں، نہ ددھیال میں

⚛… نہ مکہ مکرمہ میں ہیں، نہ مدینہ منورہ میں

درمیان میں ابواء کے مقام پر والدہ محترمہ کا انتقال ہوا۔ حضور ﷺ فرماتے ہیں کہ: ام ایمنؓ اور میں نے مل کر اپنی والدہ کی تکفین اور تدفین کا انتظام کیا۔ اگر اللہ نے آپ کے اور میرے سینے میں پتھر نہیں رکھے، دل رکھا ہے تو میں آج پھر آپ کے اور اپنے دل سے اپیل کروں گا کہ ذرا نبوت کے اس طرز عمل کو بھی سمجھنا چاہئے کہ آج ۶سال کی عمر میں حضور ﷺ اپنی والدہ کو حق تعالیٰ کے سپرد کرتے ہیں۔ پھر ایک وقت یہ بھی آیا کہ دس ہزار قدسیوں کو لیکر رحمت عالم ﷺ نے مکہ مکرمہ کو فتح کیا۔

(بخاری: باب غزوۃ الفتح فی رمضان:ج۲،ص۶۱۳)

لیکن نبوت کی تاریخ گواہ ہے، بڑے کھلے دل کے ساتھ سیرت کا مطالعہ کریں کہ جب کبھی اس روڈ سے حضور ﷺ کا سفر ہوا ہے، کبھی ایسا نہیں ہوا کہ والدہ کی قبر پر

145

حاضری نہ دی ہو اور کبھی ایسے نہیںہوا کہ حضور ﷺ نے حاضری دی ہو اور آپ ﷺ کی آنکھیں آنسو نہ بہا رہی ہوں۔

اس حال میں آپ ﷺ حاضری دیتے تھے کہ آنکھوںسے پانی کے چشمے جاری ہوتے تھے اور زبان پہ دعاؤں کے کلمات جاری ہوتے تھے۔ اس حالت میں آپ ﷺ اپنی والدہ محترمہ کی قبر پر حاضری دیا کرتے تھے۔ اللہ تعالیٰ آپ کو اور مجھے بھی والدین کا احترام کرنے کی توفیق فرمائے۔ یہی ام ایمن ؓہیں کہ ایک دن حضور ﷺ تشریف فرما ہیں مدینہ طیبہ میں۔ حضرت عائشہؓ بھی بیٹھی ہیں۔ اسی اثناء میں ایک مائی صاحبہ آئیں۔ حضور ﷺ نے بیٹھنے کا فرمایا۔ حضور ﷺ کے قریب پانی کا بڑا برتن تھا۔ حضور ﷺ اپنی ضرورت کے لئے اس سے پانی لینے لگے۔ وہ مائی صاحبہ وہاں بیٹھی ہیں۔ انہوں نے بھی بیٹھے بیٹھے کہہ دیا کہ فارغ ہو کر مجھے بھی پانی عنایت فرمائیں گے۔

حضرت عائشہؓ فرماتی ہیں: مجھے حیرت ہوئی، کون عورت ہے کہ جو حضور ﷺ کو حکم کرتی ہے کہ مجھے پانی پلاؤ۔ حضور ﷺ نے میری اس حیرت کو بھانپا، پانی لیااور پینے کے بعد اس مائی صاحبہ کی خدمت میں پیش کیا۔ فرمایا: عائشہؓ! اس میں حیرت کی کون سی بات ہے۔ تمہیں نہیں معلوم یہ وہ عورت ہے کہ والدہ کے انتقال کے بعد سب سے زیادہ والدہ والی محبت مجھے اس مائی صاحبہ کے گھرانے سے ملی ہے۔یہ ہیں ام ایمنؓ اور ان کا نکاح حضرت زیدؓ سے ہوا تھا۔

علماء بیٹھے ہیں، اہل علم حضرات بیٹھے ہیں۔ پورے قرآن مجید میں اگر کسی صحابیؓ کو یہ اعزاز حاصل ہے کہ ان کا بائی نیم قرآن نے تذکرہ کیا ہو تو وہ حضرت زیدؓ ہیں۔ حضرت زیدؓ وہ ہیں کہ جن کا قرآن مجید میں اللہ نے نام لیکر تذکرہ کیا۔ مائی صاحبہ یہ ہیں کہ جن کے لئے حضور سرور کائنات رحمۃ اللہ علیہ دیدئہ دل ہوتے تھے، وہ حضرت اُم ایمنؓ ہیں۔ انہی کے بطن مبارک سے حضرت اسامہؓ پیدا ہوئے ۔

حضرت اسامہؓ کو یہ اعزاز اور شرف حاصل ہے کہ نبوت کے آخری جرنیل یہ حضرت اسامہؓ ہیں۔ اس وقت بالکل روم کی یہ کیفیت تھی جو اس وقت امریکہ کی پوزیشن ہے۔ اس وقت سب سے زیادہ سپر پاور جو عیسائیوں کے نزدیک تھی، وہ روم کی تھی۔ اس کو

146

بھی للکارنے کے لئے آپ ﷺ نے اسامہؓ کو بھیجا تھا اور اگر آپ حضرات اجازت دیں تو میں یہ بھی کہہ دوں کہ تاریخ اپنے آپ کو دہراتی ہے کہ آج اگر عیسائی کے کفر کے مقابلے میں جو آدمی کھڑا ہے۔ نام اس کا بھی اسامہ ہے۔

خیر! یہ جو بات میں آپ دوستوں سے عرض کرنا چاہتا تھا۔ وہ یہ ہے کہ: سیدنا صدیق اکبرؓ مسند آراء خلافت ہوئے۔ سب سے پہلا مسئلہ یہ پیش ہوا کہ جناب اس لشکر کا کیا کرنا ہے۔ خود حضرت اسامہؓ نے آ کر سیدنا فاروق اعظمؓ سے درخواست کی کہ حضرت! حالات ٹھیک نہیں۔ ایک گھر کے بڑے آدمی کا وصال ہو جائے تو بعد میں گھر والوں کو اتنے مسائل پیش آتے ہیں کہ ان کو سنبھالتے سنبھالتے وقت درکار ہوتا ہے۔ چہ جائیکہ رحمت عالم ﷺ کا وصال مبارک ہو۔ آپ ﷺ نے مجھ پر اعتماد فرمایا تھا، شفقت کی تھی۔ وہ اور بات تھی۔ اب وہ حالات نہیں ہیں۔ صحابہ کرامؓ میں جرنیلی کے اعتبار سے سب سے زیادہ کم عمرمیں ہوں۔ نو عمر ہوں۔ پہلے تو میری درخواست یہ ہے کہ مدینہ طیبہ کے دفاع کا تقاضا یہ ہے کہ ہمیں سرے سے لشکر کو بھیجنا ہی نہیں چاہئے اور اگر سیدنا صدیق اکبرؓ لشکر کو بھیجنا ہی چاہتے ہیں تو پھر میری جگہ کسی اور آدمی کو جرنیل بنا دیا جائے۔ میں بہرحال نو عمر ہوں۔ کسی تجربہ کار کو آپ جرنیل بنا دیں۔ رضا کارانہ میں بھی اس کے ساتھ جانے کو تیار ہوں۔

چنانچہ سیدنا فاروق اعظمؓ یہ تجویز لے کر سیدنا صدیق اکبرؓ کے پاس آئے اور آ کر ان سے درخواست کی کہ حضرت! پہلے تو مدینہ کے دفاع کا تقاضا یہ ہے کہ آپ لشکر نہ بھیجیں۔ اگر لشکر بھیجنا چاہتے ہیں تو سیدنا اسامہؓ کی بجائے کسی اور کو جرنیل بنا دیں۔ سیدنا صدیق اکبرؓ نے ایک جملہ کہا۔ علماء بیٹھے ہیں، علماء اس پر توجہ کریں گے۔ پوری امت میں سے یہ جملہ سیدنا صدیق اکبرؓ ہی سیدنا فاروق اعظمؓ کو کہہ سکتے ہیں اور کسی کو کہنے کا حق حاصل نہیں۔ فرمایا:’’اَجَبَّارٌفِی الْجَاہِلِیَّۃِ وَخَوَّارٌ فِیْ لْاِسْلَامِ عُمَرَ‘‘{عمرؓ! جاہلیت میں تو تم بہادر تھے، آج مصلحت کی باتیں کرتے ہو۔}

(مشکوٰۃ:باب مناقب ابی بکر:۵۵۶)

آپ کا کیا خیال ہے کہ حضور ﷺ ایک لشکر کو روانہ کریں اور ابوبکرؓ اس لشکر کی روانگی کو موقوف کر دیں۔ حضور ﷺ ایک جرنیل کو مقرر کریں اور ابوبکرؓ اس جرنیل کو معزول کر دیں۔ جرنیل کو معزول کرنا یا لشکر کی روانگی کو موقوف کرنا تو درکنار، اگر آج آپ مجھے کہیں کہ

147

حضور ﷺ نے جو اسامہؓ کو جھنڈا دیا تھا۔ تم اس جھنڈے کو تبدیل کر دو، ابوبکر اس جھنڈے کے کپڑے کو بھی تبدیل کرنے کے لئے روادار نہیں۔

میرا صرف اس سے استدلال یہ ہے کہ رحمت عالم ﷺکے وصال کے بعد ایک قضیہ سیدنا صدیق اکبرؓ کے سامنے آیا۔ اس کے اندر امت کی دو رائے ہوئیں۔ سیدنا عمر فاروقؓ نے ایک رائے دی، سیدنا صدیق اکبرؓ نے دوسری۔ سیدنا صدیق اکبرؓ کی بات مانی گئی۔ لیکن رائے دو تھیں۔

ایک اور مرحلہ پیش آیا کہ اطلاع ملی کہ فلاں فلاں علاقے کے لوگوں نے زکوٰۃ دینے سے انکار کر دیا ہے۔ اب کیا کرنا چاہئے؟ سیدنا صدیق اکبرؓ نے فرمایا! جہاد ہو گا۔ حضرت فاروق اعظمؓ پھر آئے۔ فرمایا: حضرت!کمال کرتے ہیں، ابھی تو آپ نے ایک لشکر حضرت اسامہؓ کی سربراہی میں بھیجا ہے۔ اگر آج دوسرا لشکر بھیج دیتے ہیں تو مدینہ طیبہ خالی ہو جائے گا۔ دشمن تاک میں بیٹھا ہے۔ وہ اگر مدینہ طیبہ کی طرف چڑھ دوڑا تو پھر مدینہ کو بچانا ہمارے لئے ممکن نہیں رہے گا۔ یہ کون لوگ ہیں۔ یہ نہیں! ان کے بڑے بھی زکوٰۃ دیں گے۔آج نہیں، کل معاملہ ذرا سیٹ ہو جائے، مستحکم ہو جائے۔ ان کے خلاف بھی کام کریں گے۔ سیدنا صدیق اکبرؓ نے اس موقع پر بھی ایک جملہ فرمایا:عمرؓ!کیا کرتے ہیں؟:

’’قَدْ اِنْقَطَعَ الْوَحْیُ وَ تَمَّ الدِّیْنَ‘‘ (مشکوٰۃ، باب مناقب ابی بکرؓ:۵۵۶)

{ وحی منقطع ہو گئی اور دین مکمل ہوگیا}

جو حضور ﷺ کے جیتے جی زکوٰۃ میں اونٹنی دیتے تھے اور ساتھ میں رسی بھی دیتے تھے تو آج اگر کہیں کہ اونٹنی لے لو، رسی نہیں دیتے، رسی دینے سے انکار کر دیں تو میں اس رسی کے حصول کے لئے بھی جنگ لڑوں گا۔ اور یہ کہتے تھے کہ اگر اس زمانے میں کوئی بکری دیتا تھا اور اس کے ساتھ بکری کا بچہ بھی دیتا تھا۔ آج اگر کہے کہ بکری کا بچہ نہیں دیتا تو میں اس بچے کے حصول کے لئے بھی ان کے ساتھ جنگ لڑوں گا۔

ایک اور بات کی طرف آپ دوستوں کی توجہ دلاتا ہوں وہ یہ کہ سیدنا صدیق اکبرؓ نے آگے بڑھ کے سیدنا فاروق اعظمؓ کے سینے کے اوپر ہاتھ رکھا، سختی کے ساتھ ان کو جھٹکا دیا۔ فرمایا: عمرؓ! اگر تم بوڑھے ابوبکرؓ کا ساتھ نہیں دے سکتے تو رکاوٹ تو نہ بنو۔

148

معافی چاہتا ہوں ایک اور جملہ ہے اس کا، یہ بہتر ترجمہ ہے۔ فرمایا: ’’اگر میرے گلے کا ہار نہیں بن سکتے تو میرے پاؤں کی زنجیر تو نہ بنو۔‘‘ میرا راستہ چھوڑ دو۔ میں اکیلا ان کے ساتھ لڑوں گا۔ جس وقت یہ کیفیت ہوئی تو بعد میں سیدنا فاروق اعظمؓ فرمایا کرتے تھے لوگو! تمہیں کیا معلوم کہ اس دن سیدنا صدیق اکبرؓ نے میرے سینے پر کیا ہاتھ رکھا۔ ان کے ہاتھ رکھنے کے صدقے اللہ نے میرے سینے کو کھول دیا۔ حضرت عمر فاروقؓ فرماتے ہیں: تم کیا سمجھتے ہو کہ اس دن سیدنا صدیق اکبرؓ بول رہے تھے۔ نہیں! بلکہ زبان صدیق اکبرؓ کی بول رہی تھی اور روح محمد عربیﷺ کی کام کر رہی تھی۔

یہ صدیق اکبرؓ تھے جنہوں نے پوری امت کو ایک لائن میں لگا دیا اور ایک انچ بھی امت کو ادھر ادھر نہیں ہونے دیا۔ اگر اس دن ہم کوئی ترمیم کرتے تو پتہ نہیں دین کا کس طرح حلیہ بگاڑ دیا جاتا۔ تو میں اس حدیث سے صرف اتنا استدلال کرنا چاہتا ہوں کہ زکوٰۃ کے مسئلے پر بھی دو رائے ہوئیں۔ ایک سیدنا صدیق اکبرؓ کی اور ایک سیدنا فاروق اعظمؓ کی۔ لیکن صدیق اکبرؓ کی رائے مانی گئی۔

تیسرا مرحلہ جو پیش آیا۔ اب اطلاع ملی کہ یمامہ کے علاقے میں مسیلمہ کذاب نے نبوت کا دعویٰ کیا ہے۔ ایک لاکھ آدمی اس کی جماعت میں شریک ہو گیا ہے اور وہ تیاری کر رہاہے ہمارے ساتھ لڑنے کی۔ باقاعدہ ہمارے ساتھ لڑنے کی منصوبہ بندی کر رہا ہے۔

میرے واجب الاحترام دوستو! میں نے آپ دوستوں کا بہت وقت لیا اس مسئلہ تک پہنچنے کے لئے۔ اب میں آپ حضرات سے درخواست کرتا ہوں کہ اسلام کی پوری امہات الکتب جو ہیں تاریخ کی، وہ آپ اٹھا کر دیکھ لیں۔ ان دونوں مراحل میں اسامہؓ کی روانگی اورزکوٰۃ کے مسئلہ کی ادائیگی تاریخ میں دونوں قسم کے اختلافات موجود ہیں۔ جب مسیلمہ کذاب کا مسئلہ آیا، جس نے جھوٹا نبوت کا دعویٰ کیا تھا۔ یہی سیدنا فاروق اعظمؓ جو دونوں مسائل پر اپنا اختلافی نوٹ دے چکے تھے۔ سب سے پہلے یہ کھڑے ہوئے۔ انہوں نے کہا کہ مسیلمہ کذاب کے مقابلے میں جانا ہے۔ سب سے پہلے سیدنا فاروق اعظمؓ کھڑے ہوئے اور درخواست پیش کی کہ:

⚛… حضرت! میرا نام لکھیں

149

⚛… حضرت! میرے بیٹے کا نام لکھیں

⚛… حضرت! میرے بھائی کا نام لکھیں

اللہ کی شان کہ لشکر روانہ ہوا۔

⚛… سب سے پہلا لشکر حضرت عکرمہؓ کی سربراہی میں

⚛… دوسرا لشکر حضرت شرحبیل بن حسنہؓ کی قیادت میں روانہ ہوا

نبوت کی ۲۳سالہ تاریخ میں اسلام کی خاطر جتنی جنگیں لڑی گئیں۔ ان تمام جنگوں میں شہید ہونے والے خواہ وہ جنگ

⚛… بدر کی ہو یا احد کی

⚛… خیبر کی ہو یا حنین کی

⚛… خندق کی ہو یا تبوک کی

⚛… چھوٹی جنگیں ہوں یا بڑی

ان تمام جنگوں میں حضور ﷺ کے دور نبوت میں کل جو صحابہ کرامؓ شہید ہوئے ان کی تعداد ۲۵۹ ہے اور رحمت عالم ﷺ کے وصال کے بعد سب سے پہلی جو ختم نبوت کی خاطر جنگ لڑی گئی، اس ایک جنگ میں شہید ہونے والے صحابہ کرامؓاور تابعینؒکی تعداد۱۲۰۰ ہے۔ جن میں ۷۰۰ قرآن مجید کے حافظ و قاری تھے۔

جن میں وہ بدری صحابہ کرامؓ بھی تھے جن کی عظمت کی قسمیں قرآن کھاتا ہے۔ وہ بدری صحابہ کرامؓ جن کی زیارت کے لئے صحابہ کرامؓ جایا کرتے تھے۔ میں ایک بات اور عرض کرتا ہوں۔ بجائے دس مسائل بیان کرنے کے، میری عادت ہے کہ جس موضوع پر بات کی جائے۔ اس کا کوئی پہلو ادھورا نہ رہ جائے۔ میں نے جنگ کی تفصیلات آپ حضرات کی وجہ سے بہت ساری چھوڑ دی ہیں۔ ایک بات کہے بغیر کوئی چارہ نہیں۔ علماء سے ایک مسئلہ پوچھیں کہ دنیا میں ایمان کے بعد سب سے بڑی نیکی کون سی ہے؟

⚛… نماز پڑھنا بہت بڑی نیکی ہے، لیکن سب سے بڑی نیکی نہیں

⚛… تبلیغ کرنا بہت بڑی نیکی ہے، لیکن سب سے بڑی نیکی نہیں

⚛… والدین کی خدمت نیکی ہے، لیکن سب سے بڑی نیکی نہیں

150

⚛… شہید ہونا بہت بڑی نیکی ہے، لیکن سب سے بڑی نیکی نہیں

⚛… عالم بننا بہت بڑی نیکی ہے، لیکن سب سے بڑی نیکی نہیں

واجب الاحترام دوستو!دنیا میں ایمان کے بعد سب سے بڑی نیکی نبوت کا دیدار ہوا کرتا ہے۔ یہ اتنی بڑی نیکی ہے کہ کائنات کی کوئی بڑی سے بڑی نیکی اس کا مقابلہ نہیں کرسکتی۔

اس وقت مسلمانوں کی تعداد دنیا میں ایک ارب ستاون کروڑ ہے۔ آپ سب ایک ارب ستاون کروڑ مسلمان، سب بن جاؤ شیخ عبدالقادر جیلانی ؒ یا امام ابو حنیفہ ؒ، پھر اللہ دے تم سب کو کروڑ سال کی زندگی، وہ کرو ڑ سال بھی تمہارے گزریں بیت اللہ میں، جہاں ایک کے بدلے لاکھ ملتا ہے، ایک ارب ستاون کروڑ مسلمانوں کی کروڑوں سال کی عبادت ایک طرف، ایک صحابیؓ کا پلک جھپکتے حضور ﷺ کو دیکھنا ایک طرف۔ یہ زیادہ افضل ہے۔

قبلہ! اگر نبوت کے چہرے کو دیکھنا اتنا بڑا اعزاز ہے تو نبوت کا اپنا کیا مقام ہو گا۔ یہی تو میں نے آپ کو مسئلہ سمجھایا کہ میرے اللہ فرماتے ہیں:

’’لَقَدْ مَنَّ اللّہُ عَلَی الْمُؤمِنِیْنَ إِذْ بَعَثَ فِیْہِمْ رَسُولاً‘‘(اٰل عمران:۱۶۴)

جس کا مفہوم یہ ہے کہ میرے اللہ کے خزانے میں، خزانہ بھی وہ کہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:

⚛… مشرق سے لے کر مغرب تک

⚛… شمال سے لے کر جنوب تک

ہر آدمی کھڑا ہوکر مجھ سے مانگنا شروع کر دے۔ وہ بھی اپنی مرضی کے مطابق۔ ایک آدمی مطالبہ کرے کہ زمین آسمان کے درمیان جو خلاء ہے۔ مجھ کو وہ غلے سے بھر کر دے دیا جائے۔ دوسرا کہے کہ مجھ کو سونے سے بھر کر دے دیا جائے۔ ہر آدمی مانگتا جائے۔ میں اس کی ضرورتوں کو پورا کرتا جاؤں۔ کل کائنات کی ضرورتوں کو پورا کرنے کے باوجود مچھر کے پر کے برابر میرے خزانے میں کمی واقع نہیں ہو گی۔ یہ خزانہ میرے رب کا، اس خزانے کا حاصل، اصل الاصول، اس خزانے کا سب سے قیمتی اثاثہ، سب سے گرانقدر سرمایہ جو ہے وہ

151

حضور ﷺ کی ذات اقدس ہے۔

میرے واجب الاحترام دوستو!

⚛… میں آپ دوستوں کے ذوق کی بات نہیں کررہا

⚛… میں اپنے ذوق کی بات نہیں کر رہا

⚛… میں صحابہؓ کے ذوق کی بات کر رہاہوں

میں اس سے استدلال یہ کرنا چاہتا ہوں کہ صحابہ کرامؓ کو اس کثرت کے ساتھ پورے دین کے تحفظ اور بقاء کے لئے اتنی قربانی نہیں دینی پڑی، جتنی ختم نبوت کے مسئلہ کے لئے صحابہ کرامؓ کو قربانی دینی پڑی۔

میںایک بات اور آپ دوستوں کی خدمت میں عرض کرتا ہوں۔ توجہ فرمائیں! یہی جنگ ہے یمامہ کی۔ جس جنگ کے بعد باقاعدہ صحابہ کرامؓ کی کمیٹی بیٹھی۔

(مشکوٰۃ، کتاب فضائل القرآن:ص۱۹۳)

سیدنا صدیق اکبرؓ کے عہد خلافت میں مشورہ کیا گیا اس مسئلہ پر کہ حضرت آپ ارشاد فرمائیں کہ شب و روز اس طرح جنگیں ہوتی رہیں اور اس طرح حفاظ اور قراء شہید ہوتے رہے تو قرآن مجید کا کیا بنے گا؟۔ آج سیدنا صدیق اکبرؓ نے کمیٹی بنا کر فرمایا کہ: یہ چندآدمی اس کام کے لئے فارغ ہو جائیں۔ پورا قرآن مجید محفوظ تھا۔ اس کی جمع اور ترتیب کا کام تھا۔ فرمایا:یہ کمیٹی آج کام دے گی۔

ہمارے ہاں مشہور ہے کہ حضرت عثمانؓ نے قرآن مجید کو جمع کیا تھا، ایسے نہیں۔ قرآن مجید کو حضرت سیدنا صدیق اکبرؓ نے جمع کیا تھا۔ اس ختم نبوت کی جنگ کے بعد جمع کیا گیا۔ حضرت سیدنا عثمانؓ کے زمانے میں اس قرآن مجید کے نسخے دنیا کے اندر پھیلائے گئے۔ (مشکوٰۃ : ۱۹۳)گویا کہ:

⚛… جامع قرآن حضرت سیدنا صدیق اکبرؓ ہیں

⚛… ناشر قرآن حضرت سیدنا عثمان ذوالنورینؓ ہیں

میرے واجب الاحترام دوستو!اگر آپ حضرات مجھے اجازت دیں تو ایک بات اسی قرآن کے عنوان سے اور عرض کئے دیتا ہوں، اور وہ یہ کہ آپ حضرات کہتے ہیں کہ دنیا

152

چاند پر پہنچ گئی ہے۔ مجھے اتفاق ہے ۔اگر کہتے ہیں سورج پر پہنچ گئی ہے تو میں اسے بھی مان لوں گا کہ دنیا فلاں سیارے پر چلی گئی ہے۔ مجھے کوئی اعتراض نہیں۔ آپ حضرات چاند پر چلے جائیں۔ وہاں جا کر دنیا کی حساس ترین دوربین لے کر پوری کائنات کا الٹرا ساؤنڈ کریں تو اس کا نتیجہ مرتب کریں۔ ساری دنیا میں تلاش کرنے کے باوجود حضرت آدم ں سے لے کر حضرت عیسیٰ علیہ السلام تک کسی نبی کی کوئی وحی آپ کو محفوظ نہیں ملے گی۔ جو ملے گی وہ تغیر وتبدل کا شکار ہے۔ ایک بات اور یاد رکھیں، کوئی اللہ کا نبی ایسا نہیں جسے کوئی معجزہ نہ دیا گیا ہو۔ کوئی اللہ کا نبی ایسا نہیں کہ جسے معراج نہ ہوئی ہو۔ یہ ایک اور بات ہے کہ:

⚛… تمام انبیاء علیہم السلام کو معراج فرش پر ہوئی

⚛… اور خاتم الانبیاء a کو معراج عرش پر ہوئی

کوئی نبی ایسا نہیں ملے گا جس پر وحی نہ کی گئی ہو۔ لیکن آپ سروے کریں پوری دنیا میں۔ کسی نبی کی وحی آپ کو محفوظ نہیں ملے گی۔ پھر سر جوڑ کر بیٹھ جائیں اور اس پر نتیجہ بھی مرتب کریں۔ اگر ایکسرے کئے ہیں تو مہربانی کر کے اس کا نتیجہ بھی آپ مرتب کریں۔ پہلے انبیاء کی تعلیمات میں سے کوئی تعلیم جوں کی توں محفوظ نہیں او ر محمد عربیﷺ کی تعلیمات سب سے پہلا وہ قرآن مجید کا نسخہ جو سیدنا صدیق اکبرؓ کے زمانے میں تیارہوا۔ حضرت عثمانؓ کے زمانے میں جس کی نقلیں تیار کر کے ساری دنیا کے اندر بھیجی گئیں۔ جہاں جہاں اس وقت ممکن تھا۔ وہ پہلا نسخہ حضرت عثمانؓ کے زیرتلاوت تھا جس وقت آپؓ شہید ہوئے، وہ نسخہ آج بھی استنبول کی لائبریری میں موجود ہے۔

اللہ آپ کو توفیق بخشے، جا کر اس نسخے کا اپنے مرکز کے اس نسخے کے ساتھ موازنہ کریں، مقابلہ کریں۔ آپ کو ایک آیت کا بھی فرق نظر نہیں آئے گا۔ بڑے میاں! میں اس سے بھی آگے اور بات کرتا ہوں۔ قرآن مجید رہا اپنی جگہ میں۔ اس سے اور اگلی بات کرتا ہوں کہ اگر کسی بات کو سمجھانے کے لئے آج سے ۱۴۰۰سال پہلے رحمت عالم ﷺ نے کوئی اشارہ اور کنایہ کر دیا تھا تو میرے اللہ نے حضور ﷺ کے اشاروں اور کنایوں کو بھی شریعت کے اندر محفوظ کر دیا ہے۔ میں معافی چاہتا ہوں وقت کی قلت کی وجہ سے اس پر مثالیں اور دلائل نہیں دے سکتا۔ میں نے آگے سفر کرنا ہے اپنے موضوع کی طرف۔ کبھی آپ دوستوں

153

نے اس پربات بھی توجہ دی کہ پہلے انبیاء کرام علیہم السلام کی تعلیمات میں سے کوئی تعلیم محفوظ نہیں۔ حضور ﷺ کی تعلیمات میں سے کوئی چیز غیر محفوظ نہیں۔ آخر اس کی وجہ؟۔

بھائی! اگر آپ تھوڑی سی توجہ کریں گے تو اس نتیجہ پر پہنچیں گے کہ تمام انبیاء علیہم السلام محدود وقت اور محدود پروگرام کے لئے آئے تھے۔ جس وقت وہ گئے تو ان کی شریعت بھی ان کے ساتھ گئی۔ جب حضور ﷺ تشریف لائے تو قرآن مجید نے جہاں ربوبیت کے لئے اعلان کیا: ’’اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعَالَمِیْنَ‘‘ (الفاتحہ:۱)

وہاں حضور ﷺ کی نبوت کے لئے بھی اعلان کیا:’’وَمَا اَرْسَلْنٰکَ اِلاَّ رَحْمَۃَ لِّلْعَالَمِیْنَ‘‘ (الانبیاء: ۱۰۷)

⚛… پہلے کوئی اس علاقے کا نبی

⚛… کوئی اس علاقے کا نبی

⚛… کوئی اس خطے کا نبی

⚛… کوئی اس خطے کا نبی

جب حضور ﷺ تشریف لائے تو اللہ نے ساری حدوں اور سرحدوں کو ختم کر کے کل کائنات کو محمد عربیﷺ کے لئے ون یونٹ بنا دیا؟۔ فرما دیا گیا کہ محمد عربیﷺ! جس طرح کائنات کا کوئی چپہ رب کریم کی ربوبیت سے خالی نہیں، اسی طرح کائنات کا کوئی چپہ محمد عربیﷺ کی نبوت سے خالی نہیں۔

میرے واجب الاحترام دوستو! اگر آپ دوست اس نقطہ نظر سے سوچنے کی کوشش کریںگے تو سیدنا عثمانؓ کے اس پڑھنے والے قرآن مجید کے نسخے سے لے کر اس موجودہ قرآن مجید کے نسخے تک ہر قرآن آپ کو حضور ﷺ کی ختم نبوت کی گواہی کے طور پر ملے گا۔ پھر جب پہلے انبیاء کی تعلیمات محفوظ نہیں۔ ان کے صحائف محفوظ ہونے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ لیکن حضور ﷺ کی تعلیمات کا یہ عالم ہے کہ:

⚛… دنیا کے کسی براعظم میں چلے جائیں

⚛… کسی اسلامی ملک میں چلے جائیں

⚛… کسی اسلامی ملک کے محلے میں چلے جائیں

154

تو آپ کو قرآن مجید کے حافظ نظر آئیں گے۔ اگر اس نقطہ نظر سے دیکھیں تو وہ اصحاب صفہؓ سے لے کر آپ کے اس مرکز میں قرآن کا پڑھنے والا ہر بچہ مجھے حضور ﷺ کی ختم نبوت کی دلیل نظر آتا ہے۔ ذرا اور آگے چلیں، ہمارے قریب ترین زمانہ ہے حضرت سیدنا عیسیٰ علیہ السلام کا۔ عیسیٰ علیہ السلام کی امت کو دیکھیں:

⚛… آج وہ ایک گرجا گھر بنائیں گے

⚛… ایک عبادت گاہ بنائیں گے

⚛… چار دن عبادت کو آئیں گے

⚛… چند دن اس میں پوجا پاٹ رہے گی

⚛… اس میں صلیب لٹکی رہے گی

⚛… ہر سنڈے کو وہاں لیکچر ہو گا

لیکن چار دن کے بعد جب رونق ختم ہو گی۔ سیل پہ لگا دیں گے۔ وہاں پر کپڑے کی دکان بن جائے گی۔ وہ دکان نہیں چل سکی تو اگلے دن اسے شراب خانہ بنا دیں گے۔ دن رات کے اندر تبدیلیاں کر سکتے ہیں۔

جہاں تک مسجد کا مسئلہ ہے۔ یہ کہہ دیا گیا جہاں پر مسجد بن جائے۔ قیامت کی صبح تک اس کو کسی اور مقصد کے لئے استعمال نہیں کر سکتے۔ باقی انبیاء کی عبادت گاہوں میں تبدیلی قبول، مسجد میں نہ قبول، کیوں؟ اس لئے کہ وہ انبیاء محدود وقت کے لئے آئے تھے۔ ان کی عبادت گاہیں بھی محدود وقت کے لئے۔ محمد عربیﷺ تا ابد الآباد اور آپ کی مسجد بھی، آپ کی امت کی بنائی ہوئی مسجدیں بھی تا ابدالآباد۔ اس نقطہ نظر سے دیکھیں گے تو مسجد نبوی سے لے کر آپ حضرات کے اس محلہ کی مسجد تک، ہر مسجد خود محمد عربیﷺ کی ختم نبوت کی دلیل نظر آئے گی۔

میرے واجب الاحترام بھائیو! حضرت سیدنا صدیق اکبرؓ کے زمانہ میں یہ تو تھی اجتماعی جدوجہد۔ اب ذرا انفرادی جدوجہد کی طرف بھی چلتے ہیں۔ اسی مسیلمہ کذاب کا جس نے جھوٹا نبوت کا دعویٰ کیا تھا۔ اسی مسیلمہ کذاب کے احوال کی تصدیق کرنے کے لئے حضرت سیدنا صدیق اکبرؓ نے اپنے صحابیؓ کو بھیجا۔ اس صحابیؓ کا نام ہے حضرت سیدنا حبیب

155

ابن زید انصاریؓ۔ وہ گئے، مسیلمہ کذاب کو پتہ چلا۔ اس نے آؤ دیکھا نہ تاؤ۔ ان کو گرفتار کر کے مسیلمہ کی مجلس میں لائے۔ وہ اس مجلس کا فضل نشین ہے۔ مسیلمہ کذاب کی پارٹی ساری اس کے سامنے بیٹھی ہے۔ یہ صحابی رسول ﷺ آئے۔ ان کو کٹہرے میں کھڑا کر دیا گیا۔ مسیلمہ نے پوچھا کہ:

’’اَتَشْھَدُ اَنَّ مُحَمَّدً رَّسُوْلَ اللّٰہِ‘‘{کیا تم اس بات کی گواہی دیتے ہوکہ محمد عربیﷺ اللہ کے رسول ہیں؟}

انہوں نے دل و دماغ کی تمام تر توانائیوں کو جمع کر کے بڑے اہتمام کے ساتھ، رب کریم کی رحمت کی گٹھڑی پر بڑے اطمینان کے ساتھ ہاتھ رکھ کر ارشاد فرمایا:

’’اَشْھَدُ اَنْ لَّا اِلٰہَ اِلَّااللّٰہُ وَ اَشْھَدُ اَنَّ مُحَمَّدً رَّسُوْلُ اللّٰہِ‘‘ {میں گواہی دیتا ہوں جس طرح اللہ وحدہ لاشریک ہے۔ اسی طرح محمد عربیﷺ بھی اللہ کے رسول ہیں۔}

⚛… لوگو!شریک خدا کا کوئی نہیں

⚛… مثال حضور ﷺ کی کوئی نہیں

⚛… میرا اللہ اپنی توحید میں وحدہ لا شریک

⚛… محمد عربیﷺ اپنی نبوت میں وحدہ لا شریک

⚛… ثانی ان کا بھی کوئی نہیں

⚛… مثال ان کی بھی کوئی نہیں

⚛… جو رب کی توحید میں کسی کو شریک کرے، مسلمان یہ بھی نہیں

⚛… جو حضور ﷺ کی نبوت میں کسی کو شریک کرے، مسلمان وہ بھی نہیں

مل کر کہہ دو: مسلمان یہ بھی نہیں … مسلمان یہ بھی نہیں۔ یہ ایمان کی بات ہے۔ مسیلمہ کذاب نے حضرت حبیبؓ سے کہا:

’’اَتَشْھَدُ اِنِّی رَسُوْلُ اللّٰہِ‘‘{اس بات کی گواہی دیتے ہو کہ میں بھی اللہ کا رسول ہوں؟}

آپ لوگ پہرہ پنچایت کے لوگ ہیں۔ آپ لوگ عدالتوں اور کچہریوں میں

156

جاتے ہیں۔ ایک آدمی سے ایک بات پوچھی جاتی ہے کہ ہاں یا نہ میں جواب دے، یا گول کر جائے۔ ہاں یا ناں کے بجائے انہوں نے ایک ایسا انداز اختیار کیا کہ فرمایا:

’’اَنَا اَصَمُّ وَلَا اَسْمَعُ مَا تَقُوْلُ‘‘ اس کا عام مفہوم یہ ہے کہ مجھے پتہ نہیں کہ تم کیا بک رہے ہو۔ حضور ﷺ کے بعد کوئی نبی نہیں ہو سکتا۔ یہ بات سننے کے لئے میرے کان آمادہ نہیں۔ میں یہ نہیں سن سکتا کہ حضور ﷺ کے بعد بھی کوئی نبی ہو سکتا ہے۔ مسیلمہ کذاب غصے میں آکر کہتا ہے:

’’اَتَسْمَعُ ہٰذَا وَلَا تَسْمَعُ ہٰذَا‘‘ حضور ﷺ کی نبوت کی گواہی کی بات آتی ہے، وہ تو سن لیتے ہو۔ میری نبوت کی گواہی کی بات آتی ہے نہیں سن سکتے۔ اس نے آرڈر کیا ’’وَقُتِلَ‘‘ ٹکڑے ٹکڑے کر کے آپ کوشہید کر دیا گیا۔ (اسد الغابہ:ج۱، ۳۶۹ )

انہوں نے اپنے جسم و جان کا قیمہ کروا لیا لیکن حضور ﷺ کے بعد کوئی نبی ہو سکتا ہے۔ یہ سننے کے لئے اپنے کان آمادہ نہیں کر سکے۔ قبلہ! صحابہ کرامؓ کا تھا یہ انداز۔

⚛… میں آپ کی بات نہیں کر رہا

⚛… میں اپنی بات نہیں کررہا

⚛… میں معاشرے اور ماحول کی بات نہیں کر رہا

⚛… میں خیر القرون کی بات کر رہا ہوں

کہ حضور ﷺ کی عزت و ناموس کے تحفظ کے لئے اگر ضرورت پڑتی ہے اجتماعی قربانی کی تو حضور ﷺ کی امت کا سب سے قیمتی اثاثہ سیدنا صدیق اکبرؓاس جان فشانی کے ساتھ اس مسئلے کو حل کرتے ہیں اور اگر انفرادی طور پر ضرورت پڑتی ہے تو انفرادی طور پر صحابہ کرام ؓ کا ایک ایک جوڑ کاٹا گیا۔ ایک ایک عضو کاٹا گیا۔

⚛… ایک ہاتھ کاٹا گیا، دوسرا ہاتھ کاٹا گیا

⚛… ایک ٹانگ کاٹی گئی، دوسری ٹانگ کاٹی گئی

شہادت قبول کر لی۔ لیکن نبیﷺ کے بعد کوئی نبی ہو سکتا ہے، یہ بات سننے کے لئے اپنے کان آمادہ نہیں کر سکے۔ اور آگے چلیں، یہ تو بات ہے صحابہ کرامؓ کی۔ اب آئیے! تابعین اور ائمہ کے دروازے پر۔ ائمہ سے پوچھتے ہیں حضور ﷺ کی عزت و ناموس کے

157

حوالے سے:

⚛… قرآن مجید اتنا حساس ہے

⚛… صحابہ کرامؓ کا یہ طرز عمل ہے

⚛… تابعین کا یہ طریقہ کار ہے

تحفظ ختم نبوت اور محدثین وائمہ مجتہدین

آپ ارشاد فرمائیں کہ ائمہ آپ کا کیا خیال ہے۔ میں درخواست کرتا ہوں آپ دوستوں سے کہ بخاری شریف سے لے کر مشکوٰۃ شریف تک، وہ دیکھو!

⚛… امام ابو حنیفہؓ سے لے کر امام شافعیؒ تک

⚛… امام شافعیؒ سے لے کر امام مالکؒ تک

⚛… امام مالکؒ سے لے کر امام احمد بن حنبلؒ تک

تمام تر ائمہ حدیث کے ہوں یا فقہ کے، ان سب کا اتفاق ہے اس بات پر کہ:

’’وَدَعْوَی النَّبُوَّۃِ بَعْدَ نَبِیِّنَا ﷺ کُفْرٌ بِالْاِ جْمَاعِ‘‘ (شرح فقہ اکبر:۲۰۲)

{جو شخص حضور ﷺ کے بعد نبوت کا دعویٰ کرے، اس کا اور اس کے ماننے والوں کا اسلام اور اہل اسلام سے کوئی تعلق نہیں۔}

یہ امت کی وہ شاہراہ ہے پہلے دن سے لے کر آج تک بار بار اس کے اوپر گاڑی چلتی آ رہی ہے۔بھائیو! آپ حضرات توجہ کریں ٹھنڈے دل و دماغ کے ساتھ۔ اگر آپ مجھے یہ کہیں کہ مولوی صاحب! اس اپنی پوری گفتگو کو آپ ایک حصے میں بیان کر دیں۔ وہ جملہ میں اس طرح بیان کروں گا۔

ختم نبوت کا تحفظ کرنے والے کا مقام

ساتھیو! ہمت کرو، آگے بڑھو۔ وہ دیکھو رب کریم کی رحمت بھی آپ کاانتظار کررہی ہے۔ رحمت عالم ﷺ کی شفاعت بھی آپ کا انتظار کر رہی ہے۔ رحمت عالم ﷺ کی عزت و ناموس کا کام کرنا، دراصل اپنے آپ کو حضور ﷺ کے سکیورٹی گارڈز میں شامل کرانے کے مترادف ہے۔

158

بھائیو! میں آپ دوستوں سے درخواست کرتا ہوں۔ آج آپ پرویز مشرف سے جا کر پوچھیں کہ آپ کے نزدیک ایک فوج کا حصہ وہ ہے جو جی ایچ کیو میں بیٹھا ہے۔ ایک حصہ وہ ہے جو ورکشاپ میں کام کررہا ہے۔ ایک حصہ وہ ہے جو فلاں فیکٹری میں کام کر رہا ہے۔ ایک محاذ پر کھڑے ہیں۔ایک نقشہ تیار کر رہے ہیں مختلف سکیموں پر فلاں فلاں جگہ کام ہو رہا ہے۔ لیکن آپ ان سے پوچھیں کہ آپ کے نزدیک سب سے زیادہ قابل اعتماد دستہ کون سا ہے؟ وہ یہی کہے گا کہ میرا سکیورٹی گارڈ دستہ۔ یہ جتنے دین کے شعبے ہیں:

⚛… تبلیغ کا ہو، میں اس کی اہمیت کا انکار نہیں کرتا

⚛… تعلیم کا ہو، میں اس کی اہمیت کا انکار نہیں کرتا

⚛… جہاد کا ہو، میں اس کی اہمیت کا انکار نہیں کرتا

دین کے سارے شعبے ہیں۔ جو جہاں کام کر رہا ہے، اللہ مزید ان کو اخلاص کے ساتھ وہاں پر کام کرنے کی توفیق عطاء فرمائے۔ لیکن رحمت عالم ﷺ کی ختم نبوت کا کام کرنا،یہ حضور ﷺ کے سکیورٹی گارڈ میںاپنا نام لکھوانا ہے۔

بھائیو! عہدے کے اعتبار سے ہمارے ملک کے انتظامی امور کے حوالے سے دو بڑے عہدے ہیں: ایک وزیر اعظم کا اور دوسرا صدر کا۔ پریذیڈنٹ منصب کے اعتبار سے اور زیادہ قابل اعتبار ہوتا ہے۔ لیکن انتظامی امور کے اعتبار سے ذمہ داری سب سے زیادہ پرائم منسٹر پر ہوتی ہے۔ پریذیڈنٹ کے بعد اگر نیکسٹ ٹو پریذیڈنٹ ہیں تو وہ وزیر اعظم۔ لیکن وزیر اعظم بھی شب و روز بادشاہ کی خدمت میں اتنی ملاقات کے لئے نہیں جا سکتے جتنا کہ:

⚛… بادشاہ کوپانی پلانے والا

⚛… اس کے سامنے فائل رکھنے والا

⚛… اس کے لئے گیٹ کھولنے والا

159

⚛… اس کی گاڑی صاف کرنے والا

وہ دن میں دس مرتبہ اپنے بادشاہ کو دیکھ لیتا ہے۔ پرائم منسٹر منصب کے اعتبار سے وہ سب سے زیادہ قریب ہے پریذیڈنٹ کے۔ لیکن اس کے لئے ہفتے یا مہینے کے بعد ملاقات ہوتی ہو گی۔ یہ ہے تو اس کا نوکر اور چاکر، اس کا خادم لیکن دس دفعہ بادشاہ کی زیارت کرتا ہے۔

⚛… ولی ہو یا غوث

⚛… قطب ہو یا ابدال

ان کے جتنے منصب ہیں، میں ان کے منصب سے انکار نہیں کر رہا۔ ان سارے منصب کو ماننا میرے ایمان اور عقیدے کا حصہ ہے۔ ان کے احترام میں میری گردن جھک جاتی ہے۔ لیکن اگر سب سے زیادہ حضوری کا شرف حاصل کرنا چاہتے ہو تو حضور ﷺ کی عزت وناموس کے تحفظ کے لئے کام کرو۔ اسی صدقے میں حضوری کا مقام حاصل ہو جائے گا۔عزیز دوستو! ’’من نہ کر دم، شما حذر بکنید‘‘

⚛… جتنے زیادہ احترام کے ساتھ

⚛… جتنے زیادہ اخلاص کے ساتھ

⚛… جتنی زیادہ تڑپ کے ساتھ

جتنے زیادہ اس کام کو اپنے ایمان اور عقیدے کا حصہ سمجھ کر آگے بڑھیں گے تو جس طرح سونے کو پالش کر دیا جائے۔ جوں جوں پالش کرتے جاؤ گے، توں توں وہ چمکتا جاتا ہے۔ جس طرح اخلاص کے ساتھ اس کے لئے بڑھو گے۔ اتنا اللہ آپ کو اخلاص نصیب فرمائے گا۔ اللہ آپ کو بھی توفیق عطاء فرمائے۔ اللہ مجھے بھی توفیق عطاء فرمائے۔ اٰمین! اسی پر اکتفا کرتا ہوں:

’’وما علینا الا البلاغ المبین‘‘

160

تحفظ ختم نبوت

بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ

اَلْحَمْدُللہِ وَکَفیٰ وَسَلامٌ عَلیٰ سَیِّدِ الرُّسُلِ وَخَاتَمِ الْاَنْبِیَاءِ وَعَلیٰ اٰلَہٖ وَاَصْحَابِہِ الَّذِیْنَ ھُمْ خُلاَصَۃُ الْعَرَبِ الْعَرَبَاءِ وَخَیْرُ الْخَلاَءِقِ بَعْدَ الْاَنْبِیَاءِ۔ اَمَّا بَعْدُ! فَاَعُوْذُ بِاللہِ مِنَ الشَّیْطٰنِ الرَّجِیْمِ۔ بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ۔

و قال اللہ تعالیٰ: وَإِذْ قَالَ عِیْسَی ابْنُ مَرْیَمَ یَا بَنِیْ إِسْرَاءِیْلَ إِنِّیْ رَسُولُ اللّٰہِ إِلَیْْکُم مُّصَدِّقاً لِّمَا بَیْْنَ یَدَیَّ مِنَ التَّوْرَاۃِ وَمُبَشِّراً بِرَسُولٍ یَأْتِیْ مِن بَعْدِیْ اسْمُہُ أَحْمَدُ۔ (سورۃ الصف ۶)

قال النبیﷺ: اِنَّہُ سَیَکُوْنُ فِیْ اُمَّتِیْ کَذَّابُوْنَ ثَلَاثُوْنَ وَ فِیْ رِوَایَۃٍ دَجَّالُوْنَ(مسنداحمد) کُلُّھُمْ یَزْعَمُ اَنَّہُ نَبِیُّ وَاَنَا خَاتَمُ النَّبِیِّیْنَ لَانَبِیَّ بَعْدِیْ۔ (ترمذی)
اَللّٰھُمَّ صَلِّ عَلیٰ سَیِّدِنَا وَ مَوْلٰنا مُحَمَّدٍ وَّعَلیٰ آلِ سَیِّدِنَا وَ مَوْلٰنا مُحَمَّدٍ وَّ بَارِکْ وَسَلِّمْ وَ صَلِّ کَذَالِکَ عَلیٰ جَمِیْعِ الْاَنْبِیَاءِ وَالْمُرْسَلِیْنَ وَعَلیٰ الْمَلاَءِکَۃِ الْمُقَرَّبِیْنَ وَعَلیٰ عِبَادِ اللہِ الصَّالِحِیْنَ اَجْمَعِیْنَ اِلیٰ یَوْمِ الدِّیْنِ۔

تمہید

میرے انتہائی واجب الاحترام دوستو، بزرگو اور بھائیو! آج کی مجلس میں مسئلہ ختم نبوت سے متعلق قرآن وسنت کے حوالے سے چند باتیں آپ دوستوں کی خدمت میں عرض کرتا ہوں۔

ہرچیز کی ابتداء وانتہاء

پہلے تو آپ حضرات توجہ فرمائیں کہ دنیا کا کوئی کام ایسا نہیں، جس کام کی ابتداء ہو اور انتہا نہ ہو۔ ہر وہ کام جو شروع کیا جائے گا۔ ایک دن اختتام پذیر ہو گا۔ ابتداء اور انتہاء

161

کی قید سے صرف میرے اللہ کی ذات مستثنیٰ ہے۔ باقی ہر چیز کی ابتداء بھی ہے او ر انتہا بھی۔ آپ حضرات قرآن مجید کی تلاو ت کریں۔ الحمد اس کی ابتدا ہے اور والناس اس کی انتہا ء۔ نماز پڑھیں، تکبیر تحریمہ کہیں،یہ نماز کی ابتداء ہے۔ جب سلام پھیریں گے تو وہ اس کی انتہاء ہے۔

تین آسمانی مذاہب

میرے واجب الاحترام بھائیو! جب یہ طے ہے کہ ہر وہ چیز جس کی ابتداء ہو گی، اس کی انتہا بھی ہو گی۔ پھر ہمیں آج کی مجلس میں سوچنا چاہئے کہ آیا رب العزت نے کہیں سے نبوت کی ابتداء کی؟۔ اگر اتنی بات ثابت ہو جائے کہ اللہ نے کہیں سے نبوت کی ابتداء کی تو پھر عقل سلیم کا تقاضا ہے کہ کہیں کسی کی ذات پر اس کی انتہا بھی ہونی چاہئے۔

بھائیو! ہم دیکھتے ہیں کہ تین آسمانی مذاہب اس وقت دنیا میں چل رہے ہیں۔

۱ … یہودیت ۲ … مسیحیت ۳… اسلام

ان تینوں مذاہب کا اس بات پر اتفاق ہے کہ اللہ تعالیٰ نے نبوت کی ابتداء حضرت سیدنا آدم ں سے کی تھی۔ جب اتنی بات متعین ہے کہ اللہ نے نبوت کی ابتداء حضرت آدمں سے کی تو پھر عقل کا تقاضا یہ ہے کہ اب کہیں کسی کی ذات پر اس کی انتہاء بھی ہونی چاہئے۔ ایک بات تو یہ ہے۔

قرآن مجید کا اسلوب بیان

دوسری بات میں یہ عرض کرتا ہوں: جس وقت حضرت سیدنا آدمں اس دنیا میں تشریف لائے۔ ان کی تشریف آوری پرجو اعلان ہوا تھا، اس کا قرآن مجید نے تذکرہ کیا۔ ہمارے ہاں تفسیر کی کتابوں میں مستقل بحث ہے۔ مستقل موضوع ہے۔ جسے حکایت عن الماضی کہتے ہیں کہ ماضی کی باتیں قرآن مجید چلتے چلتے بیان کرتا ہے۔ ایک بات یہ بیان کی کہ جب حضرت آدم ں تشریف لائے تو اللہ تعالیٰ نے اعلان کیا تھا۔ قرآن میں اس کا تذکرہ ہے۔ وہ اعلان یہ ہے کہ:

’’یَا بَنِیْ آدَمَ إِمَّا یَأْتِیَنَّکُمْ رُسُلٌ مِّنکُمْ‘‘ (الاعراف: ۳۵) اے بنی آدم!

162

تمہارے پاس بہت سارے نبی آئیں گے

اللہ تعالیٰ نے فرمایا سیدنا آدمں سے کہ آپ اعلان کردیں ہماری طرف سے کہ ’’اے بنی آدم! تمہارے پاس بہت سارے نبی آئیں گے۔‘‘

⚛… کوئی قید نہیں بیان کی

⚛… کوئی تعیین نہیں کی

⚛… کوئی حد مقرر نہیں کی

بلکہ فرمایا: ’’رسل‘‘ جمع کا صیغہ لاکر فرمایا کہ بہت سارے رسل آئیں گے۔ ہم دیکھتے ہیں کہ جلیل القدر انبیاء اور رسل میں سے ایک حضرت سیدنا نوح ں ہیں۔ جنہیں ’’آدم ثانی‘‘ کہا جاتا ہے اور ایک حضرت سیدنا ابراہیمں ہیں جنہیں ’’جد الانبیاء‘‘ کہا جاتا ہے۔ ان دونوں نبیوں کی آمد پر قرآن مجید نے جو اعلان کیا تھا یا جو ضابطہ تھا، وہ قرآن نے ذکر کیا اور قرآن نے کہا کہ:’’وَلَقَدْ أَرْسَلْنَا نُوحاً وَإِبْرَاہِیْمَ وَجَعَلْنَا فِیْ ذُرِّیَّتِہِمَا النُّبُوَّۃَ‘‘ (الحدید:۲۶){ہم نے نوحں اور ابراہیم ں دونوں کی نسلوں میں نبوت کے سلسلے کو جاری رکھا}

آگے چل کر جلیل القدر پیغمبر اور رسول ہیں۔ حضرت سیدنا موسیٰ ں جب ان کا زمانہ آتا ہے تو قرآن مجید ان کی آمد کے موقع پر جو اعلان ہوا تھا، اس کا تذکرہ کر کے کہتا ہے:

’’وَلَقَدْ آتَیْْنَا مُوسَی الْکِتَابَ وَقَفَّیْْنَا مِن بَعْدِہِ بِالرُّسُلِ‘‘ (البقرہ:۸۷)

{حضرت موسیٰ ں کے بعد بھی لگاتار متواترپے در پے، یکے بعد دیگرے ہم نے رسولوں کے بھیجنے کے سلسلے کو جاری رکھا۔}

اب دوستو! ان آیات کی روشنی میں اتنی بات متعین ہوئی کہ حضرت آدمں تشریف لائے تو اللہ نے اعلان کیا کہ ان کے بعد بہت سارے رسول آئیں گے۔ سیدنا نوحں تشریف لائے تو بھی اعلان ہوا کہ ان کے بعد بہت سارے رسول آئیں گے۔ سیدنا ابراہیم ں تشریف لائے تو بھی اعلان ہوا کہ ان کے بعد بہت سارے رسول آئیں گے۔ ہم دیکھتے ہیں کہ حضرت موسیٰ ں کے بعد پھر ایک اور صاحب کتاب نبی کا دور آتا

163

ہے اور وہ دور ہے حضرت سیدنا عیسیٰ علیہ السلام کا۔ قرآن مجید ان کے دور کا ذکر کرتے ہوئے کہتا ہے کہ جس طرح ہر نبی کے زمانے میں ہم نے اعلان کیا تھا کہ ان کے بعد بہت سارے رسول آئیں گے۔ اسی طرح ہم نے عیسیٰ علیہ السلام کے زمانے میں بھی ایک اعلان کیا۔ اس کا بھی قرآن مجید کے اندر تذکرہ ہے۔ لیکن جب حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے اعلان پر قرآن مجید پہنچتا ہے تو قرآن مجید کا انداز بیان بھی بدل جاتا ہے اور اسلوب اعلان بھی بدل جاتا ہے۔جس اللہ رب العزت نے تمام نبیوں کی زبانی اعلان کرایا تھا کہ ’’اب میرے بعد بہت سارے رسول آئیں گے‘‘ وہی رب قرآن میں فرماتا ہے کہ ہم نے عیسیٰ سے کہا کہ اب آپ یہ اعلان کریں ’’مُبَشِّراً بِرَسُوْلٍ‘‘ کہ اب میرے بعد صرف ایک آئے گا۔ فقط ایک اور ان کے نام کا بھی تعین کر دیا کہ:

’’وَمُبَشِّراً بِرَسُولٍ یَأْتِیْ مِن بَعْدِیْ اسْمُہُ أَحْمَدُ‘‘ (الصف:۶)

{بشارت دینے والا ہوں ایک ایسے رسول کی جو میرے بعد آنے والے ہیں، ان کا نام احمد ہوگا۔}

میرے بھائیو! میں آپ دوستوں کی خدمت میں عرض کرتا ہوں۔ جس وقت آپ ﷺ آئے تو انہوں نے آ کر اعلان کیا:لوگو! ’’اَنَا بشَارَۃُ عِیْسٰی‘‘ (مشکوٰۃ:۵۱۳)

{میں سیدنا عیسیٰ کی بشارت بن کر آیا ہوں۔}

جب محمد عربیﷺ کی ذات گرامی تشریف لائی، تو قرآن نے یہ اعلان کیا:

’’مَّا کَانَ مُحَمَّدٌ أَبَا أَحَدٍ مِّن رِّجَالِکُمْ وَلَکِن رَّسُولَ اللّٰہِ وَخَاتَمَ النَّبِیِّیْنَ‘‘ (الاحزاب:۴۰)

{نہیں ہیں محمد(ﷺ) تمہارے مردوں میں سے کسی کے باپ لیکن اللہ کے رسول ہیں اور تمام انبیاء کے ختم کرنے والے ہیں۔ اور اللہ ہی ہر چیز کا جاننے والاہے۔}

قرآن مجید کے اس اسلوب بیان نے اتنی بات متعین کر دی کہ حق تعالیٰ نے نبوت کی ابتداء حضرت آدم سے کی تھی اور اس کی انتہاء محمد عربیﷺ کی ذات پر کی۔ یہاں پر ایک مسئلہ اور عرض کرتا ہوں۔ یہ میری جتنی گفتگو ہے:

⚛… افصح العربﷺ

164

⚛… افصح الانبیاءﷺ

⚛… خاتم الانبیاءﷺ

⚛… رحمت عالم ﷺ

نے اسے ایک جملے میں یوں مکمل فرمایا۔ آپ ﷺ نے فرمایا:لوگو!

’’اَوَّلَ الرُّسُلُ آدَمُ وَ آخِرُ ہُمْ مُحَمَّدٌ‘‘ (کنز العمال:ج۱۱،ص۴۸۰)

{سب سے پہلے رسول حضرت آدمں اور سب سے آخری نبی محمد(ﷺ) ہیں}

قرآن مجید میں آپ ﷺکے بعدکسی پر وحی کا ذکر نہیں

بھائیو! اب میں یہاں پر ایک بات آپ دوستوں کی خدمت میں اور عرض کرتا ہوں۔ الحمد سے لے کر والناس تک، آپ حضرات پورا قرآن پڑھ جائیں۔ قرآن مجید میں آپ کو یہ تو ضرور ملے گا کہ مسلمان مومن وہ ہے جو ایمان لائے اس وحی پر جو آپ ﷺ سے پہلے ہوئی اور اس پر جو وحی آپ ﷺ کی ذات اقدس پر ہوئی:

’’والَّذِیْنَ یُؤْمِنُونَ بِمَا أُنزِلَ إِلَیْْکَ وَمَا أُنزِلَ مِن قَبْلِکَ‘‘ (البقرہ:۴)

{اور وہ لوگ جو ایمان رکھتے ہیں اس کتاب پر جو آپ پر نازل ہوئی اور ان کتابوں پر جو آپ سے پہلے نازل ہو چکیں۔}

پورے قرآن مجید میں یہ صراحت ہے۔ ایک نہیں، پچیس نہیں، تیس نہیں ، اس سے بھی زیادہ آیتیں ہیں جہاں مومن کی نشانی بیان کرتے ہوئے یا وحی کا تذکرہ کرتے ہوے اللہ نے کہا: اے محمد عربیﷺ! ’’ وحی وہ ہے جو آپ سے پہلے بھیجی اور آپ ﷺ پر بھیجی۔‘‘ الحمد سے لے کر والناس تک پورے قرآن مجید میں ایک جگہ پر بھی یہ ذکر نہیں ہے کہ:

⚛… آپ ﷺ کے بعد بھی کوئی وحی آئے گی

⚛… آپ ﷺ کے بعد بھی کوئی رسول آئے گا

⚛… آپ ﷺکے بعد بھی کوئی کتاب آئے گی

الحمد سے لے کر والناس تک اس کی ایک مثال بھی نہیں ملتی۔بھائیو! اگر

165

حضور ﷺ کے بعد کسی پر وحی ہونا ہوتی، نبوت ملنا ہوتی تو پہلی وحی کی نسبت امت کو تو واسطہ پڑنا تھا آنے والی وحی کے ساتھ، اس کا تذکرہ زیادہ ضروری تھا۔ لیکن قربان جائیں اس بات پر کہ قرآن مجید نے پہلے انبیاء کا تو تذکرہ کیا، لیکن مابعد کا ذکر نہیں کیا۔ یہ بات اتنی متعین ہے کہ جتنے نبی بننے تھے، بن چکے۔ حضور ﷺ کے بعد اب کوئی اور نہیں بنے گا۔

آپﷺ کی نبوت جملہ عالم کے لئے

اسی کے ساتھ ایک او ر بات عرض کرتا ہوں: رحمت عالم ﷺ سے پہلے جتنے انبیاء تشریف لائے تو:

⚛… کوئی ایک خطے کا نبی

⚛… کوئی ایک علاقے کا نبی

⚛… کوئی ایک قوم کانبی

⚛… کوئی ایک برادری کانبی

⚛… کوئی مخصوص وقت کے لئے

⚛… کوئی مخصوص ٹائم کے لئے

⚛… کوئی مخصوص قوم کے لئے

⚛… کوئی مخصوص خطے کے لئے

آخرمیں جو نبی تشریف لائے، وہ سلسلہ موسویہ کے نبی حضرت سیدنا عیسیٰ ں ہیں۔ ان کے متعلق بھی صراحت ہے کہ:

’’وَرَسُولاً إِلَی بَنِیْ إِسْرَاءِیْلَ‘‘ (اٰل عمران: ۴۹)

{وہ صرف بنی اسرائیل کی طرف رسول تھے۔}

میرے واجب الاحترام بھائیو!میں استدعا کرتا ہوں آپ دوستوں سے، جب رحمت عالم ﷺ تشریف لائے ، اللہ تعالیٰ نے تمام حدوں اور سرحدوں کو ختم کر کے اعلان کیا محمد عربیﷺ! جہاں جہاں تک میری خدائی ہے۔ وہاں وہاں تک آپ ﷺکی نبوت۔ چنانچہ اللہ تعالیٰ نے اپنی ذات کے متعلق ارشاد فرمایا:

166

’’اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعَالَمِیْنَ‘‘ (الفاتحہ:۱){تمام تعریفیں اللہ ہی کے لئے لائق ہیں جو تمام جہانوں کا خالق ہے۔}

اور حضور ﷺ کے متعلق ارشاد فرمایا : ’’ وَمَا أَرْسَلْنَاکَ إِلَّا رَحْمَۃً لِّلْعَالَمِیْنَ‘‘ (الانبیاء:۱۰۷){اور نہیں بھیجا ہم نے آپ کو مگر تمام جہان والوں کے لئے رحمت بنا کر۔}

دوستو! جس طرح کائنات کا کوئی پتہ میرے رب کی ربوبیت سے خالی نہیں، اسی طرح کائنات کا کوئی چپہ محمد عربیﷺ کی نبوت سے خالی نہیں۔

⚛… مشرق و مغرب

⚛… تحت الثریٰ

⚛… عرش معلی

کوئی حصہ خالی نہیں۔ میں اپنی محدود معلومات کی بنیاد پر اس کی حدود بیان کررہا ہوں۔ جہاں جہاں تک خداوند کریم کی خدائی، وہاں تک محمد عربیﷺ کی نبوت۔ یہ تین اسلوب بیان کئے۔

آپﷺ کے بعد دعویٰ نبوت حماقت

اب میں ایک بات اور بھی عرض کرتا ہوں کہ قرآن مجید میں حضور ﷺ کے متعلق ایک اور بھی اعلان ہوا کہ آپ ﷺ چمکتا دمکتا سورج ہیں۔ کبھی آپ توجہ فرمائیں آپ اور میں دنیا کا ہر آدمی رات کے اندھیرے سے بچنے کے لئے روشنی کا انتظام کرتا ہے۔

⚛… کوئی چراغ جلاتا ہے

⚛… کوئی دیا سلائی جلاتا ہے

⚛… کوئی موم بتی جلاتا ہے

⚛… کوئی لیمپ جلاتا ہے

⚛… کوئی گیس جلاتا ہے

غرض اپنے اپنے طریقوں سے تمام لوگ انتظام کرتے ہیں۔ لیکن یہ سارے

167

انتظامات اس وقت تک ہیں، جب تک سورج طلوع نہ ہو۔ جب سورج طلوع ہو جائے، پھر ان روشنیوں کی ضرورت نہیں رہتی۔

دوستو! تمام روشنیوں کی انتہاء سورج پہ ہوتی ہے۔ تمام نبوتوں کی انتہاء آپ محمد ﷺ کی ذات پر ہوتی ہے۔ سورج کی روشنی میں جہاں دن دہاڑے دھوپ پڑ رہی ہے، روشنی ہے۔ اس روشنی میں، اس دھوپ میں، دن دہاڑے اگر کوئی میدان میں چراغ جلائے گا۔ دنیا اسے احمق کہے گی۔ حضور ﷺ کی نبوت کے ہوتے ہوئے اگر کوئی نبوت کا دعویٰ کرے گا تو شریعت اس کو کافرکہے گی۔

آپﷺ کی نبوت مخصوص قوم کے لئے نہیں

میرے بھائی! میں آپ دوستوں کی خدمت میں بہت ہی ادب کے ساتھ عرض کرتا ہوں کہ یہ تین چار صراحتیں ہیں اس ضمن کی۔ اگر آیات کو تلاش کرنا چاہیں گے جیسے حضور ﷺ کے متعلق فرمایا گیا کہ:

’’لِیَکُوْنَ لِلْعَالَمِیْنَ نَذِیْرَا‘‘ (الفرقان:۱){تمام جہانوں کے ڈرانے والے}

تمام انبیاء آئے۔ ہر نبی نے یہ کہا کہ: یا قوم، یا قوم، اپنی اپنی قوم کو خطاب کیا۔ لیکن جب محمد عربیﷺ آئے تو فرمایا:

’’یَا أَیُّہَا النَّاسُ إِنِّیْ رَسُولُ اللّٰہِ إِلَیْْکُمْ جَمِیْعاً‘‘(الاعراف:۱۵۸) {اے لوگو! بلاشبہ میں تم تمام لوگوں کے لئے اللہ کا رسول ہوں۔}

⚛… اس میں کالے گورے کی

⚛… اس میں سیاہ سفید کی

⚛… عربی عجمی کی

⚛… امریکی افریقی کی

⚛… ایشیائی غیر ایشیائی کی

کوئی بحث نہیں۔ کل بنی آدم کی طرف میں رسول بن کے آیا ہوں۔ یہ محمد عربیﷺ نے اعلان کیا۔ ایک اور حدیث شریف میں بھی آتا ہے۔ حضور ﷺ فرماتے ہیں:

168

’’اِنِّیْ اُرْسِلْتُ اِلَی الْخَلْقِ کَافَّۃً‘‘(مسلم:۱۹۹) {تمام مخلوق کی طرف نبی بنا کر بھیجا گیا ہوں۔}

اور آگے اس کی وضاحت فرمادی: ’’وَ خُتِمَ بِیَ النَّبِیُّوْنَ‘‘ (مشکوٰۃ:۵۱۲) { اور تمام انبیاء کا سلسلہ مجھ پر ختم کردیا گیا۔}

یہ بہت ساری تصریحات ہیں۔ ان عنوانات پر بالخصوص میرے مخدوم علماء کرام! میں ان حضرات کی خدمت میں عرض کرتا ہوں۔ اگر وہ اس حوالے سے ان آیات پر غور کریں گے۔ رحمت عالم ﷺ کی جامعیت کے حوالے سے، قوم کے حوالے سے یا انبیاء ما سبق کے حوالے سے اور بااعتبار ما بعد کے پچھلی وحی اور بعد کی وحی کا تذکرے نہ ہونے کے۔ اور اس سے متعلق تکمیل دین کے اعتبار سے۔ اگر اس پر غور کریں گے تو ایک سو(۱۰۰) آیات کریمہ ہیں، جو محمد عربیﷺ کی ختم نبوت پر دلالت کرتی ہیں۔

آپﷺ کے بعد صدیق اکبرؓ نبی نہ بنے

اب آنا چاہتے ہیں حدیث کی طرف۔ آپ دوستوں کی خدمت میں مثالوں کے ساتھ عرض کرتا ہوں۔ سمجھیں آپ دوست اس بات کو، حضور ﷺ کے بعد پوری امت میں۔ تمام انبیاء کی امتوں میں حضور ﷺ کی امت افضل۔ حضور ﷺ کی امت سے صحابہ کرامؓ افضل اور صحابہ کرامؓ میں سب سے زیادہ افضل و اعلیٰ، اللہ نے بنایا سیدنا صدیق اکبرؓ کو۔ سیدنا صدیق اکبرؓ تمام انبیاء کے بعد، میرے رب کی مخلوق میں انسانوں میں سب سے افضل و اعلیٰ ہم دیکھتے ہیں سیدنا صدیق اکبرؓ کو۔حضور ﷺ کے وصال کے بعد آپ ﷺ کے ممبر مبارک کی چار سیڑھیاں تھیں۔ سیدنا صدیق اکبرؓ اس سیڑھی پر نہیں بیٹھے جس پر حضور ﷺ بیٹھتے تھے۔ سیدنا صدیق اکبرؓ وہاں بیٹھے جہاں حضور ﷺ کے قدم لگتے تھے۔ اگر سیدنا صدیق اکبرؓ جیسا شخص رحمت عالم ﷺ کے منصب نبوت پر قدم نہیں رکھ سکتا تو یہ دلیل ہے اس بات کی کہ اب حضور ﷺ کے بعد منصب نبوت پر قدم رکھنے کی کسی کو اجازت نہیں۔میں دیکھتا ہوں کہ سیدنا فاروق اعظمؓ کو۔

ہمارے علامہ جلال الدین سیوطی ؒ یہ خوب بزرگ گزرے ہیں۔ آٹھ سو سے

169

زیادہ ان کی کتابیں ہیں اور یہ علامہ جلال الدین سیوطی ؒ ان کو ابن الکتب بھی کہا جاتا ہے۔ بعض حضرات نے کہا: کتابیں انہوں نے بہت زیادہ لکھی تھیں۔ اس لئے ان کو ابن الکتب کہا جاتا ہے۔ لیکن اللہ کے بندو! اگر کتابیں زیادہ لکھنے سے کوئی ہوتے تو ابو الکتب کہنا چاہئے تھا، ابن الکتب نہیں، لیکن ان کا نام ابن الکتب ہے۔ وجہ اس کی یہ ہے کہ علامہ جلال الدین سیوطی ؒ کے والد محترم بھی بہت بڑے عالم فاضل آدمی تھے اور بہت بڑا کتب خانہ تھا۔ دور تھا کام کرنے کا، بیٹھے ذوق و شوق سے کام کر رہے ہیں۔ علامہ جلال الدین سیوطی ؒ کی والدہ کو کہا کہ میرے کتب خانے کی فلاں الماری، فلاں سلف کی، فلاں سائیڈ پر،فلاں کتاب رکھی ہے، وہ اٹھا لاؤ۔ مائی صاحبہ ان دنوں امید سے تھیں۔ کتاب اٹھانے کے لئے گئیں۔ وہاں تکلیف ہوئی، وہیں پر لیٹیں توکتب خانے میں جلال الدین سیوطی ؒ کی پیدائش ہوئی۔ اس لئے ان کو ابن الکتب کہا جاتا ہے۔

یہ ہمارے جلال الدین سیوطی ؒ نے ایک روایت کے مطابق ۸۰۰ ، ایک کے مطابق ۵۰۰کتابیں لکھیں۔ چھوٹے رسائل کو بھی شامل کیا جائے تو پھر ۸۰۰، اگر صرف بڑی کتابوں کو لیں تو ۵۰۰ کے قریب کتابیں ہیں جو انہوں نے لکھیں اور کتابیں بھی ایسی ایسی کہ میرے خیال میں دنیا کا کوئی ایسا فن نہیں جس پر جلال الدین سیوطی ؒ نے کتاب نہ لکھی ہو۔ علامہ جلال الدین سیوطی ؒ نے اپنی تفسیر کے اندر ایک بحث اٹھائی ہے، جسے کہتے ہیں موافقات عمرؓ۔ کتنی آیات ہیں جو زمین پر سیدنا عمر فاروقؓ نے کہا اور اللہ نے سیدنا عمرؓ کی رائے کے مطابق آسمان سے قرآن بنا کر نازل کر دیا:

’’مَنْ کَانَ رَأْیُہٗ مُوَافِقًا بِالْکِتَابِ‘‘ {جو رائے قرآن کے موافق تھیں۔}

یہ وہ واحد آدمی ہیں حضرت سیدنا فاروق اعظمؓ جو کہہ دیتے تھے، اللہ ان کی بات کو قرآن بنا دیتے تھے۔

⚛… ایک نہیں، تین نہیں، چار نہیں

⚛… بعض حضرات نے اٹھارہ کہیں

⚛… بعض حضرات نے بائیس کہیں

بہر حال ان کی رائے کے مطابق اللہ تعالیٰ نے یہ آیات اتاریں۔ ان کی ہمارے

170

ہاں تفسیر کی کتابوں میں مستقل بحث ہے۔ علامہ سیوطی ؒ نے ان کو علیحدہ بھی نقل کیا ہے۔ یہ حضرت سیدنا فاروق اعظمؓ۔ ان کے متعلق رحمت عالم ﷺ ارشاد فرماتے ہیں کہ: لوگو! یہ وہ شخص ہیں:

’’لَوْکَانَ بَعْدِیْ نَبِیٌّ لَکَانَ عُمَرُ‘‘ (ترمذی،ابواب المناقب:ج۲،ص۲۰۹)

{اگر میرے بعد نبی بننا ہوتا تو عمرؓ ہوتے۔}

بھائیو، دوستو! میں درخواست کرتا ہوں آپ دوستوں سے کہ خدا کے لئے توجہ فرمائیں۔ سیدنا فاروق اعظمؓ جیسا شخص جن کے متعلق ہمارے حضرت شاہ ولی اللہ محدث دہلوی ؒ نے کہا کہ کسی نے پوچھا ان سے سیدہ خدیجہؓ اور سیدہ عائشہؓ میں کیا فرق ہے۔ فرمایا: سیدہ خدیجہؓ کا نکاح ہوا محمد بن عبداللہ سے اور سیدہ عائشہؓ کا نکاح ہوا محمد رسول اللہ ﷺ سے۔ کسی نے کہا حضرت! سیدنا عمرؓ اور سیدنا علیؓ میں کیا فرق ہے۔ حضرت شاہ ولی اللہ محدث دہلوی ؒ نے ’’ازالۃ الخفاء‘‘ کے اندر لکھا ہے۔ فرمایا: ’’سیدنا علیؓ مرید مصطفیﷺ تھے اور سیدنا عمرؓ مراد مصطفیﷺ تھے۔‘‘ سیدنا عمرؓ وہ شخصیت ہیں جن کے لئے نبوت جھولیاں پھیلا پھیلا کر رب کے حضور درخواست کرتی ہے کہ یا اللہ! اگر دین اسلام کو نصرت دینی ہے تو عمرؓ کو مسلمان فرما دے۔ سیدنا عمرؓ مراد پیغمبر ہیں۔ سیدنا فاروق اعظمؓ ان کے فضائل کو بیان کرنا یہ میرے موضوع کے متعلق نہیں۔ اہمیت دلانے کے لئے چند باتیں ضرور عرض کیں۔ حضور ﷺ فرماتے ہیں کہ:

’’میرے بعد اگر کوئی نبی ہوتے تو عمرؓ ہوتے۔‘‘

خدا کے لئے میرے بھائی! ہم مسکینوں کے اس کیس پر توجہ کرو۔ اگر رحمت عالم ﷺ کے بعدسیدنا فاروق اعظمؓ نبی نہیں ہوسکتے تو کوئی اور شخص کیسے بنی ہو سکتا ہے؟ یہ سیدنا فاروق اعظمؓ تھے جن کے متعلق حضور ﷺ خود فرماتے ہیںکہ ان میں نبوت والی استعداد موجود ہے۔

⚛… استعداد ہونے کے باوجود

⚛… سند ہونے کے باوجود

⚛… صلاحیت ہونے کے باوجود

171

چونکہ ویکنسی خالی نہیں، لہٰذا عمرؓ بھی نبی نہیں۔ اگر سیدنا فاروق اعظمؓ جیسے آدمی جن کی رائے کو آسمانوں پر پذیرائی ملی۔ اگر رحمت عالم ﷺ کے بعد وہ نبی نہیں ہو سکتے تو یہ دلیل ہے صراحت کے ساتھ اس بات کی کہ حضور ﷺ کے بعد کوئی نبی نہیں ہو سکتا۔

آپﷺ کے بعد علیؓ نبی نہیں تو مرزا قادیانی کیسے

میرے بھائی! ہم سیدنا علی المرتضیٰؓکو دیکھتے ہیں کہ رب کریم کی طرف سے ان کو اللہ تعالیٰ نے یہ موقع دیا تھا کہ جس وقت سیدنا علی المرتضیٰؓ کی پیدائش ہوئی، والدہ کے بعد سب سے پہلے ان کی نگاہ محمد عربیﷺ کے چہرے پر پڑی ۔

⚛… حضرت علی المرتضیٰؓ کا بچپن

⚛… حضرت علی المرتضیٰؓ کی جوانی

⚛… حضرت علی المرتضیٰؓ کا صحابی ہونا

⚛… حضرت علی المرتضیٰؓ کا جوان ہونا

⚛… حضرت علی المرتضیٰؓ کی شادی

آپ ﷺ کے وصال مبارک تک، سیدنا علی المرتضیٰؓ پوری امت میں سے واحد آدمی ہیں جن کے شب و روز کا ہر لمحہ نبوت کی گود میں گزرا ہے۔ ان کے متعلق ہم دیکھتے ہیں کہ غزوئہ تبوک کے موقع پر رحمت عالم ﷺ تشریف لے جا رہے ہیں تو غزوئہ تبوک میں جاتے ہوئے آپ ﷺ نے سیدنا علی المرتضیٰؓ سے فرمایا: علیؓ!میری عدم موجودگی میں مدینہ طیبہ کے آپ انچارج ہوں گے۔

حضور ﷺ کی عادت مبارک تھی جب کبھی تشریف لے جاتے تھے کسی غزوئہ کے لئے۔ اس دوران سترہ دفعہ مختلف حضرات کورحمت عالم ﷺ نے اپنا مدینہ طیبہ میں جانشین بنایا ہے۔ سیدنا عبداللہ ابن مکتومؓ جو ہیں، جن کے بارے میں سورۃ عبس نازل ہوئی۔ تین دفعہ حضور ﷺ نے ان کو مدینہ طیبہ میں اپنا جانشین مقرر کیا ہے۔ کبھی کسی کو، کبھی کسی کو ۔ آج بلایا سیدنا علیؓ کو۔ فرمایا: علیؓ! میری عدم موجودگی میں:

⚛… یہاں مسجد نبوی ہے

172

⚛… یہاں منبر و محراب ہے

⚛… یہاں مدینہ طیبہ ہے

⚛… یہاں کے درودیوار ہیں

⚛… یہاں کے کوچہ و بازار ہیں

⚛… یہاں کے معاملات

⚛… یہاں کی لڑائی جھگڑے

⚛… یہاں کی صلح صفائی

ان سارے کاموں کے آپ انچارج، ہم جنگ پہ جا رہے ہیں۔ سیدنا علی المرتضیٰؓ کے دل میں خیال آیا اور کچھ دشمنوں نے بھی اس بات کو اڑایا کہ خوب بھائی، جتنے بہادر لوگ ہیں وہ رحمت عالم ﷺ کے ساتھ ہیں۔لیکن سیدنا علیؓ شیر خدا مدینہ طیبہ میں جہاں لولے، لنگڑے، بیمار، اپاہج، بچے اور عورتیں ہیں۔ سیدنا علی المرتضیٰؓ کے دل میں خیال آیا کہ رحمت عالم ﷺ مجھے بھی ساتھ لے جاتے، میں بھی اس سعادت سے محروم نہ رہتا۔ حضور ﷺ کو خبر ہوئی، تو آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا: بھائی علیؓ! آپ یہ سوچتے ہیں کہ آپ کو بیمار، کمزوروں میں چھوڑے جا رہا ہوں۔ تم یہ خیال نہیں کرتے کہ:

’’اَنْتَ مِنِّی بِمَنْزِلَۃِ ہَارُوْنَ مِنْ مُّوْسٰی ‘‘ (مسلم: ج۲، ۲۷۸){تمہاری تو میرے ہاں وہ حیثیت ہے جو سیدنا موسیٰ ں کے ہاں ہارون ں کی تھی}

حضرت موسیٰں گئے تھے طور پر تو قوم کا جانشین اپنے بھائی ہارونں کو بنا کے گئے تھے۔ آج میںمحمد(ﷺ) اپنے بھائی علیؓ کو اپنا جانشین بنا کر جا رہا ہوں۔

’’اَنْتَ مِنِّی بِمَنْزِلَۃِ ہَارُوْنَ مِنْ مُّوْسٰی ‘‘ {تم میرے اسی طرح جانشین ہو، جس طرح موسیٰ ں کے حضرت ہارون ں تھے۔}

یہاں پر بھائی ایک سوال پیدا ہوتا تھا۔ اگر آپ توجہ کریں گے تو احسان ہو گا اور وہ یہ کہ حضور ﷺ نے اپنے آپ کو تشبیہ دی حضرت موسیٰں سے، حضرت موسیٰں بھی نبی، حضرت محمد عربیﷺ بھی نبی۔ سیدنا علی المرتضیٰؓ کو تشبیہ دی حضرت ہارونں سے۔ حضرت ہارونں بھی نبی۔ گمان ہو سکتا تھا کہ سیدنا علیؓ بھی نبی ہوں۔ لیکن میرے ماں

173

باپ قربان ہوں محمد عربیﷺ کی ختم نبوت کے مسئلہ پر۔ شبہ ہو سکتا تھا کہ شاید حضرت ہارونں کی طرح سیدنا علیؓ بھی نبی ہوں۔ فوراً حضور ﷺ نے فرمایا:

’اَنْتَ مِنِّی بِمَنْزِلَۃِ ہَارُوْنَ مِنْ مُّوْسٰی اِلَّااَنَّہُ لَانَبِیَّ بَعْدِیْ‘‘ {بھائی علیؓ! آپ میرے اسی طرح جانشین ہو، جس طرح موسیٰ ں کے جانشین حضرت ہارونں تھے۔ لیکن خیال رہے وہ نبی تھے، محمد عربیﷺ کے بعد نبی کوئی نہیں۔}

میرے واجب الاحترام بھائیو! رحمت عالم ﷺ کے بعد اگر

⚛… سیدناصدیق اکبرؓ نبی نہیں ہو سکتے

⚛… سیدنا فاروق اعظمؓ نبی نہیں ہو سکتے

⚛… سیدنا علی المرتضیٰؓ نبی نہیں ہو سکتے

حضور ﷺ کے بعدکوئی شخص کیسے نبی ہوسکتا ہے

یہاں پر ایک بات اور بھی عرض کرتا ہوں: حضرت سیدنا موسیٰ ں تشریعی نبی تھے۔ صاحب شریعت نبی تھے۔ حضرت ہارون ں تشریعی نبی نہیں تھے۔ ان کو حکم تھا کہ تم موسیٰ ں کی شریعت کی تبلیغ کرو۔ وہ غیر تشریعی نبی تھے۔ حضور ﷺ نے سیدنا علیؓ کو حضرت ہارون ں کے ساتھ تشبیہ دے کر فرمایا: میرے بعد کوئی نبی نہیں۔ میرے بعد تشریعی نبی بھی کوئی نہیں۔ میرے بعد غیر تشریعی بھی کوئی نبی نہیں۔ یہ اس لئے فرمایا، تاکہ کل کوئی کائنات کے کسی حصے سے کھڑا ہو کر یہ نہ کہہ دے کہ: حضور ﷺکے بعد شریعت والا نبی تو نہیں آ سکتا۔ لیکن بغیر شریعت والا کوئی نبی آ سکتا ہے۔ رحمت عالم ﷺ کی شفقتوں پر قربان کہ اس کا بھی دروازہ آپ ﷺ نے بند فرمادیا کہ میرے بعد تشریعی نبی بھی کوئی نہیں۔ میرے بعد غیر تشریعی نبی بھی کوئی نہیں۔

آپﷺ تورات پڑھنے پر خفا ہوئے

بھائی! حضرت موسیٰ ں کا تذکرہ آیا ہے تو ایک بات عرض کئے دیتا ہوں: وہ دیکھو! آج رحمت عالم ﷺ تشریف فرما ہیں۔ آپ ﷺ کے پہلو میں سیدنا صدیق اکبرؓ تشریف رکھتے ہیں۔ دروازہ کھلا، سامنے سے سیدنا فاروق اعظمؓ آئے:

174
’’اَتٰی رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ بِنُسْخَۃٍ مِنَ التَّوْرَاۃِ‘‘ (مشکوٰۃ: ۳۲)

{سیدنا فاروق اعظمؓ کے پاس کتاب تورات کا ایک نسخہ تھا۔}

حضور ﷺ کی خدمت میں سلام عرض کیا۔ آپ ﷺ نے جواب دیا۔ عرض کی کہ: آقاﷺ! یہ تورات کا نسخہ ہے۔ حضور ﷺ کی مرضی، منشاء اور اجازت معلوم ہونے سے پہلے خوشی خوشی سے آلتی پالتی ماری اور بیٹھ کر تلاوت شروع کر دی۔ اتنی انہماک کے ساتھ تلاوت کر رہے ہیں۔ بھائی! میں تعبیر اس کی یہ کرتا ہوں کہ سیدنا فاروق اعظمؓ تورات کی تلاوت کر رہے ہیں۔ سیدنا صدیق اکبرؓ محمد عربیﷺ کے چہرے کی تلاوت کر رہے ہیں اور حضور ﷺ کی نظر سیدنا عمرؓ کے چہرے کی طرف ہے۔

آپ حضرات سر کی ان آنکھوں سے نہیں،اپنے ایمان اور دل کی کیفیات کی نظروں کے ساتھ اس منظر کو ذرا خیال میں لائیں کہ صرف تین حضرات۔ مستدرک حاکم کی روایت ہے۔ علماء حضرات سے پوچھ سکتے ہیں کہ جس وقت رحمت عالم ﷺ مسجد نبوی میں تشریف لاتے تھے۔ تمام صحابہ کرامؓ مارے احترام کے گردنیں جھکا لیتے تھے۔ مستدرک والے نے لکھا ہے کہ صرف سیدنا ابوبکرؓ اور سیدناعمرؓ سر اٹھا کر حضور ﷺ کو دیکھ کر مسکراتے تھے اور حضور ﷺ ان کے چہروں کو پڑھ کر مسکراتے تھے۔ آج کی مجلس کا کچھ سماں یوں ہے: مطالعہ ان کا بھی جاری، مطالعہ ان کا بھی جاری۔ سیدنا صدیق اکبرؓ نے جب دیکھا کہ سیدنا فاروق اعظمؓ کا تورات کی تلاوت کرنا رحمت عالم ﷺ کو پسند نہیں تو سیدنا صدیق اکبرؓ آگے ہوئے، اس طرح کر کے ہاتھ اٹھایا اور سیدنا عمرؓ سے فرمایا :

’’مَا تَرَی مَا بِوَجْہٖ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‘‘ (مشکوٰۃ: ۳۲){کیا رسول اللہ ﷺ کے چہرے کو نہیں دیکھتے؟}

ایک روایت میں ہے ’’ثَکِلَتْکَ الثَّوَاکِلُ‘‘ (مشکوٰۃ: ۳۲) ایک روایت میں ہے ’’ویحک یاعمر‘‘ (مجمع الزوائد: جزء۹، ص۵۸۴) اور یہ جملے ایسے ہیں علماء جانتے ہیں کہ پوری امت میں صرف سیدنا صدیق اکبرؓ ہی سیدنا فاروق اعظمؓ کو کہہ سکتے ہیں اور کسی کو کہنے کی اجازت نہیں۔

فرمایا: بھائی عمرؓ! کیا کرتے ہو؟ کیا کرتے ہو؟ حضور ﷺ کے چہرے کو نہیں

175

دیکھتے؟ سیدنا فاروق اعظمؓ نے حضور ﷺ کے چہرے کو دیکھا۔ یوں کر کے کتاب کو بند کیا، ہاتھ باندھے، متوجہ ہوئے، تین جملے کہے۔

تین جملے پڑھنے پر خدا تعالیٰ کی رضا

میرے بھائیو! خدا کی قسم! بے ساختہ قربان ہونے کو دل کرتا ہے۔ فاروق اعظمؓ کے اخلاص پر، کہ نامعلوم کس اخلاص کے ساتھ وہ تین جملے کہے کہ وہ سنتے ہی فرش پر مصطفی راضی ہو گئے، عرش پر خدا راضی ہو گئے۔ سیدنا فاروق اعظمؓ نے تین جملے کہے:

’’رَضِیْتُ بِاللّٰہِ رَبًا، وَبِالْاِ سْلَامِ دِیْنًا، وَبِمُحَمَّدٍ نَبِیًّا‘‘

حضور ﷺ کی ایک حدیث شریف ہے کہ:( میں خشک ملا ہوں۔ تعویز وغیرہ مجھے نہیں آتے۔ یہ تو حضرات علماء کرام سے آپ حضرات پوچھیں گے۔ میں تسبیح و دانے کا آدمی نہیں۔ حدیث کی بات ہے، وہ ضرور عرض کئے دیتا ہوں) حضور ﷺ نے فرمایا: جو آدمی صبح کی نماز کے بعد یہ تین جملے کہہ لے اور شام تک فوت ہو جائے۔ شام کو کہے اور صبح تک فوت ہو جائے۔ مقصد یہ ہے کہ صبح و شام کہنے کی عادت ڈالو۔ جس دن مرنا ہے، اس دن بھی اگر نصیب ہو گئے تو زہے نصیب!

حضور ﷺ فرماتے ہیں کہ یہ جملے جس نے پڑھنے کی عادت ڈال لی اور پڑھ کر فوت ہوا۔ وہ اس حالت میں فوت ہو گا کہ خدا بھی راضی ہو گا: ’’رَضِیْتُ بِاللّٰہِ رَبًا، وَبِالْاِ سْلَامِ دِیْنًا، وَبِمُحَمَّدٍ نَبِیًّا‘‘ (مشکوٰۃ شریف: ۲۱۰)

(حاضرین…سبحان اللہ!) یہ جملے بھی مختصر ہیں۔

جب سیدنا فاروق اعظمؓ نے یہ جملے پڑھے تو حضور ﷺ مسکرائے۔

میرے واجب الاحترام بھائیو! اب میں کیا عرض کروں؟ آپ دوستو ں سے کہ نبوت کا مسکرانا کیا ہوتا ہے۔ نبوت مسکرائے تو جنت میں بہار آتی ہے۔ نبی کو غصہ ہو تو رب کے فرشتے بھی تھر تھر کانپنے لگ جاتے ہیں۔ سیدنا فاروق اعظمؓ کی اس بات پر حضور ں مسکرائے۔ آپ متوجہ ہوئے، فرمایا: بھائی! تم تورات کی بات کرتے ہو، تورات نہیں:

’’وَلَوْکَانَ حَیًّا وَ اَدْرَکَ نُبُوَّتِیْ لَاتَّبَعَنِیْ‘‘اور ’’وَلَوْکَانَ مُوْسٰی حَیًّا مَا
176
وَسِعَہٗ اِلَّا اِتِّبَاعِیْ‘‘(مشکوٰۃ،باب الاعتصام بالکتاب والسنۃ:۳۰)

{تم تورات کی بات کرتے ہو، تورات نہیں۔ آج صاحب تورات موسیٰ ں بھی زندہ ہوتے، ان کو بھی میری اتباع کے سوا اور کوئی چارہ کار نہ ہوتا۔}

حضور ﷺ کی نبوت کے ہوتے ہوئے کسی اور کی نبوت نہیں چل سکتی

میرے بھائی! توجہ کریں اس امر پر کہ حضور ﷺ کی نبوت کے ہوتے ہوئے سیدنا موسیٰ ں جیسے جلیل القدر اللہ کے پیغمبر اور رسول کی نبوت و رسالت نہیں چل سکتی تو کیا کسی اور کی چل سکتی ہے؟… نہیں اور ہرگز نہیں۔

⚛… وہ صنعاء کا ہو یا یمامہ کا

⚛… ایران کا ہو یا قادیان کا

حضور ﷺ کے بعد جو نبوت کا دعویٰ کرے گا۔ اگر موسیٰ ں کی نبوت نہیں چل سکتی تو کسی اور جھوٹے کی کیسے چل سکتی ہے؟ بھائی! چھوڑیے اس بات کو یہاں پر۔ میں ایک اور مسئلے کی طرف لے چلتا ہوں آپ دوستوں کو۔ وہ دیکھونا! معراج کی رات ہے۔ ایک لاکھ چوبیس ہزار انبیاء علیہم السلام کھڑے ہیں۔ محمد عربیﷺ کا انتظار ہو رہا ہے۔ رحمت عالم ﷺ تشریف لائے۔ سیدنا جبرئیل امین ں نے حضور ﷺ کو مصلیٰ پر کھڑا کیا۔ فرمایا:رحمت عالم ﷺ! آپ نماز پڑھادیں۔ ہم نے دیکھا ہے کتابوں میں لکھا ہے۔ آپ بھی جانتے ہیں۔ اب ان نظروں کے ساتھ نہیں، ان نظروں کے ساتھ ذرا دیکھو نا اس منظر کو کہ حضرت آدم ں سے لے کر حضرت عیسیٰ علیہ السلام تک جتنے نبی تھے، آج محمد عربیﷺ کے پیچھے کھڑے ہیں۔ سب معراج کی رات کھڑے ہیں۔

میرے بھائی!ہم نے مناظروں میں بارہا قادیانیوں کو کہا کہ جتنے انبیاء کرام علیہم السلام تھے۔ معراج کی رات اللہ نے سب کا اجلاس بلایا۔ محمد عربیﷺ سے صدارت کرائی۔ اس میں غلام احمد کو تم دکھا دو، ہم مان لیں گے۔ اگر وہ وہاں نہیں تو پھر یہاں کہیں بھی نہیں۔ ساری کائنات کے قادیانی مل جائیں۔ ظاہر ہے کہ اس رات کو ابھی تو قادیانی کا ساتواں، آٹھواں دادا پردادا بھی پیدا نہیں ہوا تھا۔ وہاں ہونا تو خیر کیا تھا؟

177

حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا نزول اور اس امت کا اعزاز

میرے بھائی! میں علماء کی موجودگی میں ایک استدلال کرتا ہوں کہ آج معراج کی رات ایک لاکھ چوبیس ہزار انبیاء کرام علیہم السلام نے رحمت عالم ﷺ کے پیچھے نماز پڑھ کے، آپ ﷺ کی اقتداء کر کے انبیاء علیہم السلام نے اجماع منعقد کیا اس بات پر کہ حضور ﷺ کے ہوتے ہوئے اب کسی اور کی نبوت نہیں چل سکتی ہے۔ ہم دیکھتے ہیں کہ رحمت عالم ﷺ نے قیامت کی دس علامات، بعض روایات میں پندرہ علامات بیان فرمائیں۔ کچھ علامات صغریٰ ہیں، کچھ کبریٰ ہیں۔ علامات کبریٰ پر ترمذی شریف کے اندر مستقل باب قائم کیا گیا ہے۔ ان میں سے ایک حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا نزول بھی ہے۔ اب عیسیٰ علیہ السلام آئیں گے۔ حدیث شریف میں آتا ہے حضرت سیدنا مہدی علیہ الرضوان ۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام سے کہیں گے تشریف لائیں: ’’تَعَالْ صَلِّ بِنَا‘‘ (مشکوٰۃ، باب نزول عیسیٰ علیہ السلام: ۴۸۰){آگے بڑھیں اور ہمیں نماز پڑھائیں}

حدیث شریف میں آتا ہے کہ سیدنا عیسیٰ علیہ السلام، حضرت مہدی علیہ الرضوان کے کندھوں پر ہاتھ رکھیں گے۔ مصلے پر کھڑا کریں گے۔ فرمائیں گے حضرت عیسیٰ علیہ السلام حضرت مہدی علیہ الرضوان سے کہ مہدی! یہ نماز آپ پڑھائیں۔ میں آپ کے پیچھے نماز پڑھنا چاہتا ہوں۔

حدیث شریف میں تین قسم کے الفاظ آئے ہیں :

’’تَکْرِمَۃَ اللّٰہِ لِہٰذِہٖ الْاُمَّۃِ‘‘ (مشکوٰۃ، باب نزول عیسیٰ علیہ السلام: ۴۸۰)
’’اِمَامَکُمْ مِنْکُمْ‘‘ (مشکوٰۃ، باب نزول عیسیٰ علیہ السلام: ۴۸۰)
’’فَاِنَّھَا لَکَ اُقِیْمَتْ‘‘ (ابن ماجہ،باب فتنۃ الدجال و خروج عیسیٰ علیہ السلام: ۲۹۸)

خلاصہ سب کا یہ ہے کہ: مہدی! آپ نماز پڑھائیں، میں آپ کے پیچھے نماز پڑھنا چاہتا ہوں۔ تاکہ دنیا دیکھ لے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام اپنی شریعت چلانے کے لئے نہیں آئے۔ محمد عربیﷺ کے دین کی غلامی کرنے کے لئے آئے ہیں۔

178

میرے بھائیو! سیدنا عیسیٰ علیہ السلام جیسے جلیل القدر رسول اور نبی، اللہ کے عابد و زاہد مظلوم نبی، اگر حضور ﷺ کی نبوت کے ہوتے ہوئے ان کی نبوت نہیں چل سکتی تو مسیلمہ قادیان کی کیسی چل سکتی ہے؟ـ

بھائیو! میں یہاں ایک اور بات بھی عرض کئے دیتا ہوں۔ جو فضائل کے ضمن میں ہے۔ وہ یہ کہ کل قیامت کے دن ایک لاکھ چوبیس ہزار انبیاء کرام علیہم السلام موجود ہوں گے۔ ان تمام انبیاء کرام علیہم السلام کی موجودگی میں حضور ﷺ فرماتے ہیں کہ ہر نبی کے پاس جھنڈا ہو گا۔ اس کی امت اس کے جھنڈے کے نیچے ہو گی۔ سب سے بلند و بالا جھنڈا محمد عربیﷺ کا جھنڈا ہو گا۔

یہ اتنی روایات میں نے عرض کیں میں نے آپ دوستوں کی خدمت میں حدیث کے حوالے سے، قرآن کے حوالے سے ختم نبوت کا مسئلہ بیان کیا۔

لفظ خاتم النّبیین قرآنی لغت میں

میرے بھائیو ! اب میں آنا چاہتا ہوں اس کی لغت کی طرف۔ قرآن مجید میں ایک لفظ ہے ’’خاتم النّبیین‘‘ البتہ ’’خ، ت، م‘‘ کے مادہ کا لفظ قرآن مجیدمیں سات مقامات پر استعمال ہوا ہے:

۱… ’’خَتَمَ اللّٰہُ عَلٰی قُلُوْبِھِمْ‘‘ (البقرہ:۷) {مہر کردی اللہ نے ان کے دلوں پر۔}

۲… ’’خَتَمَ عَلٰی قُلُوْبِکُمْ‘‘ (الانعام:۴۶) {مہر کر دی تمہارے دلوں پر۔}

۳… ’’خَتَمَ عَلٰی سَمْعِہٖ وَ قَلْبِہٖ‘‘ (الجاثیہ:۲۳){مہر کر دی اس کے کان پر اور اس کے دل پر۔}

۴… ’’اَلْیَوْمَ نَخْتِمُ عَلٰی اَفْوَاھِھِمْ‘‘(یٰسین:۶۵){آج ہم مہر لگا دیں گے ان کے منہ پر۔}

۵… ’’فَاِنْ یَّشَاءِ اللّٰہُ یَخْتِمْ عَلٰی قَلْبِکَ‘‘(الشوریٰ:۲۴){سو اگر اللہ چاہے مہر کر دے تیرے دل پر۔}

179

۶… ’’رَحِیْقٍ مَّخْتُوْْمٍ‘‘(المطففین:۲۵) {مہر لگی ہوئی۔}

۷… ’’خِتَامُہٗ مِسْکٌ‘‘ (المطففین:۲۶){جس کی مہر جمتی ہے مشک پر۔}

ان ساتوں مقامات کو آپ دیکھ لیں، قرآن کا اسلوب بیان یہ ہے کہ ’’ختم‘‘ کہتے ہیں کسی چیز کو ایسے طور پر بند کرنا، ایسے طور پر سربمہر کرنا، بند کرنا کہ باہر سے کوئی چیز اس میں ڈالی نہ جا سکے۔ جو کچھ اس کے اندر ہے، اسے نکالا نہ جا سکے۔ وہاں قرآن ’’ختم‘‘ کا لفظ استعمال کر رہا ہے ساتوں مقامات پر۔ یہ قدر مشترک ترجمہ ہے۔

ا ب آپ آئیں! دیکھیں نا! ’’خَتَمَ اللّٰہُ عَلٰی قُلُوْبِہِمْ‘‘ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں: ہم نے ان کے دلوںپر مہر لگا دی ہے۔ ان کے دلوں پر ہم نے بندش کر دی ہے۔ کیا معنی؟ کہ کفر، ان کے دلوں سے باہر نہیں نکل سکتا۔ باہر سے ایمان ان کے دلوں میں داخل نہیں ہو سکتا۔ وہاں پر ’’ختم‘‘ کا لفظ استعمال ہوا۔ اب آپ آئیں ’’خاتم النّبیین‘‘ کی طرف، کہ اس کا بھی یہ معنی ہو گا کہ رحمت عالم ﷺ کی تشریف آوری پر اللہ نے نبوت کے سلسلے پر ایسے طور پر بندش کر دی کہ حضور ﷺ کے بعد پہلے انبیاء علیہم السلام میں سے کسی کو سلسلہ نبوت سے نکالا نہیں جا سکتا۔ حضور ﷺ کے بعد کسی نئے آدمی کو سلسلہ نبوت میں داخل نہیں کیا جا سکتا۔ اس کو کہتے ہیں ’’خاتم النبیین‘‘۔

لفظ خاتم النّبیین حدیث کی رو سے

میرے بھائی! یہ تو تھا قرآن کے حوالے سے، حدیث نے بھی تو اس کا ترجمہ کیا ہے نا! فرمایا:

’’اَنَا خَاتَمُ النَّبِیِّیْنَ لَا نَبِیَّ بَعْدِیْ‘‘(مشکوٰۃ، کتاب الفتن: ۴۶۵)

لَا نَبِیَّ بَعْدِیْ کے ساتھ محمد عربیﷺ نے اس کی تعبیر اور تشریح کی۔

لفظ خاتم النّبیین قدیم لغت کی رو سے

میں عرض کرنا چاہتا ہوں: دیکھیں! اہل لغت ہیں۔ قدیم شراح عرب ہیں۔ دنیا جہاں کی قدیم لغت کی کتابیں موجود ہیں۔ ان سب کو دیکھیں۔ جہاں پر ’’ختم‘‘ کے معنی آئے ہیں :

180

⚛… یہ انگشتری (انگوٹھی) کے معنی میں بھی آتا ہے

⚛… انگشتری کے نگینہ کے معنی میں بھی آتا ہے

⚛… حلقے کے معنی میں بھی آتا ہے

⚛… یہ ختم کرنے کے معنی میں بھی آتا ہے

لیکن میں ساری لغت کو گواہ بنا کر کہتا ہوں اس بات پر کہ جب ’’خاتم‘‘ کا لفظ جمع کی طرف مضاف ہو گا۔ اس کا معنی سوائے آخری کے (کائنات کی کسی لغت کی کتاب میں) اور ہو ہی نہیں سکتا۔ یہ لفظ ’’خاتم النّبیین‘‘ نبیوں کا آخری، لفظ ہو خاتم کا۔ مضاف ہو جمع کی طرف۔ اس کا معنی سوائے آخری کے کائنات کی کسی لغت کی کتاب میں اور کوئی ترجمہ نہیں ہو سکتا۔

لفظ خاتم النّبیین اور مرزا قادیانی

دور کیوں جاتے ہو۔ چھوڑئیے دور کو۔ خود مرزاقادیانی کی عبارت کو میں لیتا ہوں۔ مرزا غلام احمد قادیانی کی کتاب ہے ’’ازالہ اوہام‘‘ اس میں مرزا غلام احمد قادیانی نے ’’خاتم النبیین‘‘ لکھ کر اس کا ترجمہ کیا ہے کہ:

’’ختم کرنے والا نبیوں کا۔‘‘

(ازالہ اوہام ص۳۳۱، خزائن ج۳، ص۴۳۱)

اس کے علاوہ مختلف کتابوں میں ’’خاتم‘‘کا لفظ استعمال کیا اور ہر مقام پر اس کا معنی آخری سے کرتا ہے۔ جب تک خود کو نبی بننے کا شوق نہیں تھا تو یہی ترجمہ کرتا رہا۔ جب نبی بننے کا شوق دامنگیر ہوا تو پھر تحریف کے درپے ہو گیا۔ میں اس بات کو بھی چھوڑتاہوں۔ دوسری بات عرض کرتا ہوں: وہ یہ کہ مرزا غلام احمد قادیانی ایک جگہ اپنی پیدائش کا تذکرہ کرتے ہوئے اپنی کتاب ’’تریاق القلوب‘‘ میں لکھتا ہے کہ:

’’میرے ساتھ ایک لڑکی پیدا ہوئی تھی جس کا نام جنت تھا اور پہلے وہ لڑکی پیٹ میں سے نکلی تھی اور بعد اس کے میں نکلا تھا اور میرے بعد میرے والدین کے گھر میں اور کوئی لڑکی یا لڑکا نہیں ہوا۔ میں ان کے لئے خاتم الاولاد تھا۔‘‘

(تریاق القلوب، ص۱۵۷، خزائن ج۱۵، ص۴۷۹)

181

مرزا قادیانی کی سلطان القلمی

میرے بھائی! میرے خیال میں یہ کائنات میں ایک نئے عجوبے کی دریافت ہے کہ کوئی آدمی اپنی پیدائش کے واقعہ کو لکھے کہ میں ایسے پیدا ہوا تھا۔ دنیا میں اس کی کوئی نظیر نہیں پائی جاسکتی۔ لیکن چھوڑ دیجئے اس بحث کو۔ مجھے نہیں ہے اس میں مغز خوری کرنے کی ضرورت۔ مرزا غلام احمد قادیانی کہتا ہے کہ:

’’پہلے میری ماں کے پیٹ سے جنت بی بی نکلی، پھر میں نکلا‘‘

قادیانیوں کو کل یہ پراپیگنڈا نہیں کرنا چاہئے کہ مولوی صاحب نے منافرت کی بات کی۔ یہ نہ کہیں کہ اخلاق سے گری ہوئی بات کی۔ بھائی! تم میرے نبی کا نام لو، میں تمہارا منہ چومنے کے لئے تیار۔ تم میرے نبی کی حدیث پڑھو، میں گردن جھکانے کے لئے تیار۔ یہ میں تمہارے نبی کی حدیث تلاوت کر رہا ہوں۔ کتاب کا نام ہے ’’تریاق القلوب‘‘ خود اس میں لکھتا ہے کہ ’’پہلے میری ماں کے پیٹ سے جنت بی بی نکلی، پھر میں نکلا۔‘‘

یہ ’’نکلی ، نکلا‘‘ کے الفاظ کو بھی دیکھئے اور غلام احمد قادیانی کے دعوے کو بھی دیکھئے۔ کہتا ہے کہ اللہ نے مجھے ’’سلطان القلم‘‘ بنا کر بھیجا ہے۔

(تذکرہ: ص۷۳)

اگر ’’سلطان القلم‘‘ بنا کر بھیجا ہے، اگر سلطان القلم پیدائش کے واقعہ کو ’’نکلا، نکلی‘‘ کے ساتھ تعبیر کر رہا ہے اور وہ بھی اپنی ماں کے متعلق، تو پھر ادب کو تو دنیا میں سر پیٹ کے رہ جانا چاہئے۔ خیر! یہ میرا موضوع نہیں۔ میں اشارے کر رہا ہوں۔ کہتا ہے: پہلے وہ نکلی پھر میں نکلا اور اس کے پاؤں کے ساتھ میرا سر جڑا ہوا تھا۔ مجھے اس سے بھی بحث نہیں کہ کیا کہہ رہا ہے۔ یہ اس کا اپنا قضیہ ہے۔ اس کی ’’پرائیویٹ لائف‘‘ ہے۔ مجھے اس میں دخل دینے کی ضرورت نہیں۔ آگے جو لفظ و ہ استعمال کر رہا ہے، یہ ہیں کہ ’’وہ نکلی میں نکلا‘‘ میری پیدائش ایسے طور پر ہوئی کہ میں اپنے والدین کے ہاں ’’خاتم الاولاد‘‘ ہوں۔ میری پیدائش کے بعد میرے والدین کے ہاں کوئی لڑکی یا لڑکا پیدا نہیں ہوا۔

182

بھائیو! ’’خاتم النّبیین‘‘ کے اندر ’’خاتم‘‘ کا لفظ ’’النّبیین‘‘ جمع کی طرف مضاف ہے۔ یہاں بھی’’خاتم الاولاد‘‘ میں ’’خاتم‘‘ کا لفظ ’’اولاد‘‘ جمع کی طرف مضاف ہے۔ غلام احمد قادیانی جو کہتا ہے کہ میں اپنے ماں باپ کے ہاں ’’خاتم الاولاد‘‘ تھا۔ میرے بعد:

⚛… لڑکی نہ لڑکا

⚛… تندرست نہ بیمار

⚛… چھوٹا نہ بڑا

کوئی بھی پیدا نہیں ہو ا۔ تو پھر ’’خاتم النّبیین‘‘ کا بھی یہی ترجمہ ہو گا کہ: محمد عربیﷺ کے بعد ظلی و بروزی، مستقل و غیر مستقل کوئی نبی نہیں ہو سکتا۔

عقیدہ ختم نبوت اور امت مسلمہ

میں نے قرآن کریم کے حوالے عرض کئے، حدیث کی مثال دی، لغت کو پیش کیا۔ غلام احمد قادیانی کو پیش کیا اور اب امت کے عقیدے کی بات کرتا ہوں۔ چودہ سو سال سے آپ ﷺ کی امت کا ایک فرد بشر ایسا نہیں جو یہ کہتا ہو کہ حضور ﷺ کے بعد اور کوئی شخص نبی ہے۔ قابل ذکر ایک آدمی پوری امت میں ایسا کوئی نہیں۔ پہلی صدی سے لے کر آج کی صدی تک پندرہ سو سال ہوا چاہتے ہیں(ساڑھے چودہ) آج تک امت کے اندر ایک فرد ایسا پیدا نہیں ہوا، جس نے یہ کہا ہو کہ حضور ﷺ کے بعد کوئی اور نبی ہو سکتا ہے۔ ہاں البتہ یہ تو ہوا کہ امت میں جب کبھی کسی شخص نے نبوت کا دعویٰ کیا تو امت نے اس کے مقابلے میں ایک ہی صدا لگائی کہ حضور ﷺ کے بعد جو نبوت کا دعویٰ کرے، وہ امت مسلمہ کا حصہ نہیں۔ یہ ہماری ’’شرح فقہ اکبر‘‘ کے اندر مسئلہ لکھا ہوا ہے کہ:

’’وَدَعْوَی النَّبُوَّۃِ بَعْدَ نَبِیِّنَا ﷺ کُفْرٌ بِالْاِجْمَاعِ‘‘ (شرح فقہ اکبر:۲۰۲)

{حضور ﷺ کے بعد جو شخص نبوت کا دعویٰ کرے، بالاجماع وہ کافر ہے۔}

183

قادیانیت، دنیا کی عدالت میں

اس گفتگو کے بعد مسیلمہ کذاب سے لے کر مسیلمہ قادیان تک اسلام کی چودہ سو سال کی تاریخ گواہ ہے کہ حضور ﷺ کے بعد جب کسی نے نبوت کا دعویٰ کیا، امت نے انگڑائی لی۔ اس کے مقابلے میں کھڑے ہوئے، انہوں نے کہا: ’’صاحب بہادر، تم اور تمہارے ماننے والے مسلمانوں کا حصہ نہیں اور دنیا کا کوئی قانون، دنیا کا کوئی اصول اس بات پر قدغن نہیں لگاتا‘‘ ہم علی الاعلان کہتے ہیں کہ یہ آدمی ہم میں سے نہیں ہے۔ کونساقانون ہے جو مجھے پابند کرے کہ نہیں، تم اس بات کو تسلیم کرو۔ دور کیوں جاتے ہو! وہ دیکھو نا افریقہ کی ایک عدالت ہے، وہاں پر ایک کیس پیش ہوا۔ ہمارے ایک بزرگ تھے ’’غیاث الدین‘‘ وہ ہمارے پاکستان کے ’’اٹارنی جنرل‘‘ رہے ہیں۔ وہ بھی اس میں گئے تھے۔

⚛… جناب ریاض الحسن بھی گئے

⚛… مولانا مفتی زین العابدینc بھی گئے

⚛… مولانا عبدالرحیم اشعر ؒ بھی گئے

⚛… مولانا منظور احمد ؒ بھی گئے

⚛… مولانا محمد یوسف لدھیانوی ؒ بھی گئے

⚛… مولانامفتی محمد تقی عثمانی مدظلہ بھی گئے

⚛… علامہ ڈاکٹر خالد محمود مدظلہ بھی گئے

غرض ہماری بہت ساری دینی قیادت وہاں گئی ’’جوہانسبرگ‘‘ کی عدالت میں کیس تھا، چلتا رہا۔ وہاں پر کیس کرنے والے قادیانی تھے۔ لاہوری گروپ کیس کرنے والا تھا۔ جج عیسائی اور وہ بھی عورت اور وکیل قادیانیوں کا ایک یہودی تھا۔ یہودی وکیل ہے۔ جج عیسائی، کیس کرنے والے قادیانی ہیں۔ سہ(تین) آتشہ ہو گیا کفر اسلام کے مقابلے

184

میں۔ یہودی،عیسائی، قادیانی تینوں اکٹھے ہو کر کھڑے ہیں اور اس نے کیس یہ دائر کیا کہ جناب! میں قادیانی ہوں۔ مسلمانوں کی مسجد میں جاتا ہوں نماز پڑھنے کے لئے۔ مسلمان مجھے نماز پڑھنے کی اجازت نہیں دیتے۔ میں مر گیا تو کل کو مجھے اپنے قبرستان میں دفن نہیں ہونے دیں گے۔ افریقہ کی بات کرتا ہوں تو آپ مہربانی کر کے مسلمانوں کو پابند کریں کہ وہ مجھے اپنی مسجد میں نماز پڑھنے کی بھی اجازت دیں اوراپنے قبرستان میں دفن ہونے کی بھی، تو جنوبی افریقہ کی عدالت میں کیس چلا۔ جب مقامی عدالت میں کیس چل رہا تھا تو وہاں پر ہمارے جناب ’’غیاث الدین‘‘ نے ایک حوالہ پیش کیا کہ غلام احمد قادیانی نے لکھا ہے ’’انجام آتھم‘‘ میں کہ :

’’سیدنا عیسیٰ علیہ السلام کی تین دادیاں اور تین نانیاں زناکار اور کسبی عورتیں تھیں۔‘‘

(ضمیمہ انجام آتھم ص۷، خزائن ج۱۱، ص ۲۹۱)

جب یہ حوالہ پڑھا تو عیسائی جج نے فوراً انگڑائی لی۔ ہمارے وکیل کی طرف متوجہ ہوئے اور انہوں نے ہمارے وکیل کو کہا: صاحب! آپ یہ حوالہ پیش کر کے میرے جذبات کو مشتعل کر رہے ہیں۔ آپ کو پتہ ہے کہ میں مسیحی ہوں۔ آپ میرے جذبات کو مشتعل کر کے فریق مخالف کے خلاف فیصلہ لینا چاہتے ہیں تو آپ کو حوالہ پیش کرنے اور بیان کی اجازت نہیں ہے اور یہ آپ کا دیا ہوا فوٹو اسٹیٹ میں نے واپس کر دیا کہ یہ مقدمہ کے ساتھ فائل نہیں ہوگا۔ ہمارے وکیل نے عدالت سے کہا کہ: محترمہ! میں آپ کے جذبات کو مشتعل نہیں کر رہا۔ میں ایک مسئلہ کی طرف توجہ دلانا چاہتا ہوںکہ سیدنا آدمں سے لے کر سیدنا عیسیٰں تک طریقہ یہ چلا آیا ہے کہ ہر نبی نے اپنے سے پہلے نبی کی تصدیق کی۔ بعد میں آنے والے نبی کی خوشخبری دی۔ کسی سچے نبی نے دوسرے سچے نبی کی توہین نہیں کی۔ تویہ طے شدہ ہے کہ ہمارے نزدیک سیدنا عیسیٰں اللہ کے سچے نبی تھے۔ سچے نبی سیدنا عیسیٰ علیہ السلام کے بعد غلام احمد قادیانی اگر سچا ہوتا تو سچے نبی سیدنا مسیحں کی توہین کا

185

ارتکاب نہ کرتا۔ غلام احمد قادیانی کا، مسیح علیہ السلام کی توہین کرنا یہ دلیل ہے اس بات کی کہ غلام احمد خود سچا نہیں تھا۔

اس نے کہا ہاں! میں اس کی تائید کرتی ہوں۔ آپ نے بہت اچھا پوائنٹ اٹھایا۔ اس نے حوالہ فائل کر دیا۔ اس نے فیصلہ لکھا کہ: یہ مسلمانوں کے گھر کی بات ہے کہ کون کافر ہے؟ کون مسلمان؟ یہ ان کو وہاں سے فیصلہ لینا چاہئے۔ ہم مجاز نہیں اس بات کے کہ قادیانی مسلمان ہیں یا کون ہیں؟ قادیانی جانیں، ان کا کام جانے۔ ان کو قبرستان میں جانے اور میت دفن کرنے کی اجازت! یہ فیصلہ ہمارے خلاف ہو گیا۔ اب اگلی عدالت میں چلے گئے۔ جس وقت گئے وہاں پر ہمارے وکیل پیش ہوئے۔ اب انہوں نے سابقہ سارے مواد کو دیکھنا تھا۔ دیکھ کر جوہانسبرگ کی سپریم کورٹ نے فیصلہ میں لکھا کہ ’’ہم ماتحت عدالت کی اس بات کے ساتھ اتفاق کرتے ہیں کہ غیر مسلم عدالت کو قطعاً یہ حق حاصل نہیں کہ وہ یہ فیصلہ کریں کہ کون مسلمان ،کون غیر مسلم، لیکن اگر مسلمانوں کی اکثریت یہ کہتی ہے کہ فلاں چند افراد ہمارا حصہ نہیں تو عدالت کو بھی یہ حق حاصل نہیں کہ ہم کہیں کہ ضرور تم ان کا حصہ ہو تو جب

⚛… پاکستان کے مسلمان

⚛… ہندوستان کے مسلمان

⚛… رابطہ عالم اسلامی کے مسلمان

⚛… پوری دنیا کے مسلمان

اکثریت یہ کہتی ہے کہ قادیانی ہمارا حصہ نہیں تو عدالت کو بھی یہ حق نہیں کہ ہم کہیں، نہیں! یہ تمہارا حصہ ہیں۔ ہم ان کی رائے کو احترام دیتے ہیں اور کہتے ہیں کہ قادیانی واقعتا مسلمانوں کا حصہ نہیں۔ کوئی قادیانی مسلمانوں کی مسجد میں بھی نماز نہیں پڑھ سکتا اور فوت ہو جانے کے بعد مسلمانوں کے قبرستان میں بھی دفن نہیں ہو سکتا میں آپ دوستوں کی خدمت میں عرض کرتا ہوں کہ یہ کیس ہے کہ جس پر عدالتی سطح پر بھی دنیا ہمارے ساتھ ہے کہ قادیانی

186

افراد، مسلمانوں کا حصہ نہیں۔ آپ حضرات کے ملک میں خود عیسائی حضرات کا ایک ایسا طبقہ ہے اور شاید وہ آپ حضرات کے اس ہی علاقہ کے اندر پایا جاتا ہے، وہ اپنے آپ کو مسیحی کہتے ہیں۔ دعوے کے ساتھ کہتے ہیں کہ ہم مسیحی ہیں۔ لیکن مسیحی حضرات خود کہتے ہیں کہ تم ہمارا حصہ نہیں ہو۔

اسلام کے مدمقابل فریق کا ایک خاص نشان

میرے بھائی! آج آپ حضرات دیکھیں کہ ہمارے جتنے پادری صاحبان، پوپ صاحبان ہیں۔ ان کے لئے خاص قسم کی صلیب ایک قسم کی ڈیزائن کی گئی ہے۔ وہ اپنے گلے میں لٹکاتے ہیں، کوئی غیر پادری (جو پادری نہ ہو) اگر وہ ہو بھی مسیحی۔ ایک دفعہ نہیں ۱۰۰ جان سے وہ انجیل پر فدا ہو۔ وہ سیدنا مسیح علیہ السلام کے ترانے گاتا ہو۔ پکاٹھکا سکہ بند خاندانی طور پرمسیحی ہو۔ لیکن اس کو اس ڈیزائن کی وہ صلیب استعمال کرنے کی اجازت نہیں۔ وہ شعار ہے کہ صر ف پادری کو پہنائی جائیںگی۔ صرف پوپ کو پہنائی جائیں گی۔ یہاں اگر یہ صلیب کا خاص نشان پادریوں کے لئے مخصوص ہے تو پھر ہمیں یہ کہنے کی اجازت بخشی جائے کہ کوئی غیر اس کو استعمال کرے گا تو فراڈ ہو گا۔ ہم بھی یہی کہنا چاہتے ہیں کہ محمد عربیﷺ کے بعد اگر کوئی شخص نبوت کا دعویٰ کرے گا۔ اپنے آپ کو اسلام کے طور پر پیش کرے گا تو یہ فراڈ کے ضمن میں آئے گا۔ مسلمان وہی ہوگا جو حضور ﷺ کو خاتم النّبیین مانے گا۔

قادیانی انکار ختم نبوت کی وجہ سے کافر

میرے بھائیو! اس کے ساتھ میں یہ عرض کرتا ہوں کہ ایک دفعہ قادیانیوں کے ساتھ گفتگو ہو رہی تھی۔ ایک قادیانی نے کہا: مولوی صاحب!

⚛… میں نماز پڑھتا ہوں

⚛… میں روزہ رکھتا ہوں

⚛… میں حج کرتا ہوں

187

آپ مجھے کافر کیوں کہتے ہیں؟ میں نے کہا: بھائی! آپ کو غلط فہمی ہوئی۔ کب ہم نے کہا کہ:

⚛… نماز پڑھنے کی وجہ سے کافر ہو گئے

⚛… روزہ رکھنے کی وجہ سے تم کافر ہو گئے

نماز، روزہ کی وجہ سے تو کوئی کافر نہیں ہوتا۔ ہم تو کہتے ہیں کہ غلام احمد قادیانی کو ماننے کی وجہ سے تم کافر ہو۔ تم اس کا نام کیوں نہیں لیتے؟ حضور ﷺ کے بعد کسی شخص کو بطور نبی ماننے کی وجہ سے کافر ہو۔ میں غلام احمد قادیانی کی وجہ سے تمہیں کافر کہہ رہا ہوں۔ تم نماز، روزہ کی بحث لے آئے۔ نماز، روزہ کی تو یہاں بحث ہی نہیں۔

ٍقادیانیت کسی مذہب کا نام نہیں

میرے واجب الاحترام بھائیو! میں استدعا کرتا ہوں آپ دوستوں سے کہ قادیانیت کسی مذہب اور عقیدے کا نام نہیں۔ قادیانیت براہ راست تصادم ہے محمد عربیﷺ کی ذات اقدس کے ساتھ۔ آج غلام احمد قادیانی کو حضور سرور کائنات رحمۃ اللہ علیہ کی مسند پر بٹھایا جا رہا ہے۔

⚛… میرے ماں باپ قربان

⚛… روح و جسم قربان

⚛… آل اولاد قربان

کہ قرآن مجید نے جو اعزاز اور اکرام رحمت عالم ﷺ کے لئے مختص کئے تھے، ایک ایک کر کے قادیانی، حضور ﷺ کے اعزازات کو مرزاغلام احمد قادیانی کے لئے الاٹ کرتے جا رہے ہیں۔ آج میں نے مولانا سے درخواست کی تھی کہ ’’تذکرہ‘‘ نامی کتاب ہے قادیانیوں کی، منگوا دی جائے۔ یہاں پر نہیں مل سکی۔ مجھے ’’لندن‘‘ نہیں جانا ہوا کہ ساتھ لے آتا۔ قرآن مجید میں ہے کہ:

’’ وَمَا اَرْسَلْنٰکَ اِلَّا رَحْمَۃَ لِّلْعَالَمِیْنَ‘‘ (الانبیاء: ۱۰۷)

188

{اور نہیں بھیجا ہم نے آپ کو مگر تمام جہان والوں کے لئے رحمت بنا کر}

غلام احمد قادیانی نے کہا کہ:

’’اللہ نے مجھے کہاکہ تو رحمتہ للعالمین ہے۔‘‘

(تذکرہ: ۸۱ طبع چہارم)

قرآن مجید میں ہے ’’یٰسٓ۰ وَالْقُرْآنِ الْحَکِیْمِ‘‘ (یٰسین:۱، ۲)

مرزا قادیانی کہتا ہے کہ: یہ آیت میرے اوپر نازل ہوئی، مجھے اللہ نے کہا کہ: مرزا تو ’’یٰس۰والقرآن الحکیم‘‘ ہے ۔

(تذکرہ: ۴۷۹ طبع چہارم)

قرآن مجید میں ہے : ’’یَااَیُّھَا الْمُدَّثِّرُ‘‘ (المدثر:۱)

مرزا غلام کہتا ہے کہ یہ آیت میرے اوپر نازل ہوئی۔(تذکرہ:۵۱ )

قرآن مجید میں ہے کہ: ’’مُّحَمَّدٌ رَّسُولُ اللّٰہِ وَالَّذِیْنَ مَعَہُ أَشِدَّاء عَلَی الْکُفَّارِ‘‘ {محمد اللہ کے رسول ہیں اور جو لوگ ان کے ساتھ ہیں وہ کفار پر سخت ہیں}(الفتح:۲۹)

مرزا قادیانی کہتا ہے کہ: ’’میری نسبت یہ وحی اللہ ہے۔ اس وحی الٰہی میں میرا نام محمد رکھا گیا اور رسول بھی۔‘‘(ایک غلطی کا ازالہ،ص۱، خزائن ج۱۸، ص۲۰۷)

قادیانیت کو اسلام کے نام پر پیش کرنا غداری ہے

خدا کے بندو! اے امت محمدیہ کے افراد! برطانیہ میں رہنے والے میرے واجب الاحترام بھائیو! ہر چیز کی کوئی حد ہوا کرتی ہے۔ایک آدمی اٹھتا ہے اور وہ بے رحمانہ طریقہ سے رحمت عالم ﷺ کے تمام تر اعزازات کو، آپ ﷺ کے بیج کو، آپ ﷺ کی نشانیوں کو ایک ایک کر کے آپ ﷺ کے سینے مبارک سے اتار کر وہ اپنے سینے پر سجائے جاتا ہے اور ہم جواب میں کہتے ہیں کہ رواداری بھی کوئی چیز ہوتی ہے۔رواداری کا درس دینے والی دنیا کبھی سوچے اس بات پر کہ میرے سر کی پگڑی کوئی اٹھائے گا تو میں تڑپ جاؤں گا۔ حضور ﷺ سرور کائنات ہی ایسے لاوارث ہیں کہ جو چاہے ان کے اعزازوں کو قادیان کا دہقان، دشمن کے کہنے پر بے دریغ ان کو استعمال کرتا جائے اور کوئی اللہ کا بندہ اس پر صدا بلند کرے تو

189

جواب میں کہا جائے کہ جی! رواداری بھی کوئی چیز ہوا کرتی ہے۔

بھائی! رواداری سر آنکھوں پر، ہر مسئلہ میں رواداری ہے۔ بھلے وہ قادیانیت کو قادیانیت کے نام پر پیش کرے۔ ہمیں کوئی اعتراض نہیں۔

⚛… ساری دنیا میں پیش کرے

⚛… علی الاعلان پیش کرے

⚛… ڈنکے کی چوٹ پر پیش کرے

⚛… وہ جانے، اس کا رب جانے

⚛… وہ جانے، اس کے ماننے والے جانیں

⚛… ہمیں اس سے کوئی غرض نہیں

⚛… مریخ پر چلے جائیں، ہمیں اس پر کوئی اعتراض نہیں

ہاں! اگر

⚛… قادیانیت کو اسلام کے نام پر وہ پیش کریں گے

⚛… مرزا قادیانی کو محمد رسول اللہ ﷺ کے طور پر پیش کریں گے

⚛… مرزا کے دیکھنے والوں کو صحابہ کے حوالے سے پیش کریں گے

تو پھر یہ بات وجہ اشتعال بھی ہے اور وجہ پریشانی بھی ۔ اور اس پریشانی کا باعث قادیانی جماعت بن رہی ہے۔ نہیں کوئی بحث اس بات سے کہ کون کیا کہتا ہے؟:

آج کی مجلس میں:

⚛… قرآن کے حوالے سے

⚛… سنت رسول ﷺ کے حوالے سے

⚛… اجماع امت کے حوالے سے

⚛… تاریخ کے حوالے سے

میں نے جتنی باتیں آپ دوستوں کی خدمت میں عرض کیں، اللہ رب العزت سے دعا ہے کہ ان پر عمل کی توفیق عطاء فرمائے۔ آمین!

’’وما علینا الا البلاغ المبین‘‘

190

آیت خاتم النّبیین کی تفسیر

بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ

اَلْحَمْدُللہِ وَکَفیٰ وَسَلامٌ عَلیٰ سَیِّدِ الرُّسُلِ وَخَاتَمِ الْاَنْبِیَاءِ وَعَلیٰ اٰلَہٖ وَاَصْحَابِہِ الَّذِیْنَ ھُمْ خُلاَصَۃُ الْعَرَبِ الْعَرَبَاءِ وَخَیْرُ الْخَلاَءِقِ بَعْدَ الْاَنْبِیَاءِ۔ اَمَّا بَعْدُ! فَاَعُوْذُ بِاللہِ مِنَ الشَّیْطٰنِ الرَّجِیْمِ۔ بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ۔

و قال اللہ تعالیٰ: مَّا کَانَ مُحَمَّدٌ أَبَا أَحَدٍ مِّن رِّجَالِکُمْ وَلَکِن رَّسُولَ اللَّہِ وَخَاتَمَ النَّبِیِّیْنَ وَکَانَ اللَّہُ بِکُلِّ شَیْْء ٍ عَلِیْماً۔ ( الاحزاب: ۴۰)

قال النبیﷺ: اِنَّ الرِّسَالَۃَ وَالنُّبُوَّۃَ قَدِ انْقَطَعَتْ فَلَارَسُوْلَ بَعْدِیْ وَ لَا نَبِیَّ۔(ترمذی ج۲، ص۵۳)
اَللّٰھُمَّ صَلِّ عَلیٰ سَیِّدِنَا وَ مَوْلٰنا مُحَمَّدٍ وَّعَلیٰ آلِ سَیِّدِنَا وَ مَوْلٰنا مُحَمَّدٍ وَّ بَارِکْ وَسَلِّمْ وَ صَلِّ کَذَالِکَ عَلیٰ جَمِیْعِ الْاَنْبِیَاءِ وَالْمُرْسَلِیْنَ وَعَلیٰ الْمَلاَءِکَۃِ الْمُقَرَّبِیْنَ وَعَلیٰ عِبَادِ اللہِ الصَّالِحِیْنَ اَجْمَعِیْنَ اِلیٰ یَوْمِ الدِّیْنِ۔

تمہید

میرے واجب الاحترام بھائیو! آپ نے مختلف علماء کرام کے گرم اور نرم بیانات سنے، ابھی تھوڑی دیر بعد ہمارے ملک کے نامور عالم دین اور ہماری مذہبی اور سیاسی جماعت ’’جمعیت علماء اسلام‘‘ کے روح رواں حضرت مولانا زاہد الراشدی دامت برکاتہم بھی تشریف لا چکے ہیں۔ ان کا اور دوسرے علماء کرام کا بیان سنیں گے۔ حضرت اقدس خواجہ خان محمد صاحب بھی تشریف لا چکے ہیں۔ تھوڑی دیر کے بعد حضرت آپ کے پاس تشریف لانے والے ہیں۔ آج کی مجلس میں مسئلہ ختم نبوت کے متعلق آپ دوستوں کی خدمت میں عرض کرنا چاہتا ہوں۔ میری آپ سب دوستوں سے درخواست ہے کہ شاید جوش و جذبہ کے اعتبار سے تو میں آپ کی توقعات پر پورا نہ اتر سکوں۔ تاہم مسئلہ سمجھانے کی اپنی طرف سے

191

کوشش کروں گا۔ آپ حضرات دعا کریں، میرے ساتھ تعاون کریں اور توجہ فرمائیں۔ اللہ رب العزت مجھے مسئلہ سمجھانے کی توفیق عطاء فرمائیں۔ آمین، بلند آواز سے کہہ دیں:

قرآن مجید کا نزول۲۳سال میں

برادران عزیز! یہ جو میں نے آیت کریمہ تلات کی ہے، اس آیت میں اللہ پاک پروردگار عالم نے حضور ﷺ کی ختم نبوت کے مسئلے کو بیان کیا ہے۔ حضرات علماء کرام تشریف فرما ہیں۔ آپ علماء سے تفصیلات پوچھیں۔ میں ان کا بھی خادم ہوں۔ قرآن مجید، الحمدللہ سے لے کر والناس تک یہ جو تیس پارے ہیں۔ یہ یک بارگی، حضور ﷺ کی ذات اقدس پر نہیں اترا بلکہ جب کبھی کسی مسئلے کی ضرورت ہوتی تھی:

⚛… کوئی مسئلہ آپ ﷺ سے پوچھا جاتا… یا

⚛… کوئی واقعہ رونما ہوتا تھا… یا

⚛… کہیں پر کوئی قضیہ پیش آتا تھا… یا

⚛… کہیں کوئی کیس حضور ﷺ کی خدمت میں آیا کرتا تھا

تو اس کے متعلق جتنی ضرورت ہوتی تھی، اللہ پاک پرور دگار عالم اتنا حضور اقدسa پر قرآن مجید نازل فرماتے تھے اور یہ ۲۳ سالہ دور نبوت میں حضور ﷺ پر قرآن مجیدمکمل ہوا ہے۔

شان نزول کامطلب

باقاعدہ الحمدللہ سے لے کر والناس تک پورے قرآن مجید کی تفسیریں لکھی گئی ہیں۔ ان کے اندر ایک عنوان اور بحث موجود ہے کہ یہ آیت کیوں نازل ہوئی؟۔ اس آیت کے نازل ہونے کا سبب کیا ہے؟۔ حضرات علماء کرام کے ہاں اس کو شانِ نزول کہا جاتا ہے کہ اس آیت کریمہ کے نازل ہونے کا سبب کیا ہے۔

آیت خاتم النّبیین کا شان نزول

یہ جو میں نے آپ حضرات کے سامنے آیت تلاوت کی ہے، اس آیت کریمہ

192

کے نازل ہونے کا سبب یہ ہے کہ حضور ﷺ کے ایک صحابی تھے حضرت زیدؓ، وہ بچپن میں اپنے والدین سے جدا ہوئے، انہیں اغواء کر لیا گیا۔ فروخت کر دیا گیا۔ بکتے بکاتے مکہ کے بازار میں آئے۔ حضرت خدیجہؓ کے پاس، کبھی ادھر، کبھی ادھر۔ بالآخر وہ حضور ﷺ کے پاس ان کی خدمت کے لئے بطور غلام آئے۔ حضرت زیدؓ کے والدین ان کی تلاش میں تھے۔ عرصہ بیت گیا، نہ ملے۔ ان کے علاقے کا ایک وفد موسم حج کے موقع پر مکہ آیا۔ انہوں نے حضرت زیدؓ کو حضور ﷺ کے پاس دیکھا تو ان کے والدین کو جا کر اطلاع دی۔ آج حضرت زیدؓ کے والد ان کے ماموں اور چچا ودیگرعزیز و اقارب۔ ان کا وفد اکٹھا ہو کر حضرت زیدؓ کا قضیہ لے کر آیا۔حضور ﷺ تشریف رکھتے ہیں، حضرت زیدؓ ساتھ بیٹھے ہیں پہلو میں۔ حضرت زیدؓ کا دروازے کی طرف رخ ہے۔ وفد دروازے کی طرف سے آ رہا ہے۔ یہ ان کی طرف آنے کو دیکھ رہے ہیں۔ ان کی آنکھیں چار ہوئیں۔

⚛… حضرت زیدؓ پہلے بچے تھے،آج جوان ہو گئے

⚛… باپ تب جوان تھا، آج بوڑھا ہو گیا ہے

⚛… بھائی جو حضرت زیدؓ سے بڑے تھے،آج وہ اولاد والے ہو گئے

⚛… اتنا لمبا عرصہ بیت گیا

⚛… حضرت زیدؓ نے ان کو نہیں دیکھا

⚛… انہوں نے حضرت زیدؓ کو نہیں دیکھا

⚛… ان کو ان کا پتہ نہیں

⚛… اور ان کو ان کا پتہ نہیں

⚛… ایک دوسرے کی شکل سے آشنا نہیں

اتنے طویل عرصے کے باوجود حضرت زیدؓ فرماتے ہیں: جس وقت میرے والدصاحب اور چچا مسجد میں داخل ہوئے، ہر چند کہ طویل ترین عرصے سے :

⚛… نہ میں نے ان کو دیکھا تھا

⚛… نہ انہوں نے مجھے دیکھا تھا

لیکن جیسے ہی ان کی مجھ پر نظرپڑی، میں نے ان کو پہچان لیا اور انہوں نے بھی

193

مجھے دیکھ کر پہچان لیا۔ اس لئے کہ خون تعارف کا محتاج نہیں، اپنی پہچان خود کراتا ہے۔ حضرت زیدؓ نے ان کو دیکھا اور دیکھتے ہی رونا شروع کر دیا۔ حضرت زیدؓ کے والد آئے، انہوں نے آکر حضور ﷺ سے مصافحہ کیا۔

⚛… چچا ملے… ماموں ملے… عزیز ملے

حضرت زیدؓ کا ادب

حضور ﷺ نے حضرت زیدؓ کی طرف دیکھا تو حضرت زیدؓ رو رہے ہیں۔ جب وفد کی طرف دیکھا تو وفد بھی پورے کا پورا رو رہا ہے۔ آپ کو نہیں پتہ کہ معاملہ کیا ہے۔ فرمایا!زیدؓ خیریت تو ہے؟ عرض کی: یا رسول اللہ ﷺ!یہ میرے والد ہیں۔ آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا! اگر یہ تیرے والد ہیں تو تم اٹھ کر انہیں ملے نہیں؟ عرض کی آقا!مجھے حیاء آتی ہے کہ حضور ﷺ کی مجلس میں اٹھ کر میں کسی اور کو سلام کروں، چاہے میرا باپ ہی کیوں نہ ہو۔ مجھے اس سے حیاء آتی ہے۔ آپ ﷺ نے فرمایا! میں آپ کو حکم دیتا ہوں۔ آخر حضرت زیدؓ اٹھے ، والد کو ملے۔ دونوں طرف سے خوب روئے، جتنا درد تھا، جتنا صدمہ تھا۔ کلیجہ ٹھنڈا ہوا۔ بڑی دیر بعد صبر آیا۔حضور ﷺ کی خدمت میں بیٹھ گئے۔ اب وفد کے ارکان نے گفتگو شروع کی کہ جی یہ اس طرح بچہ تھا۔ گم ہو گیا، ہمیں اطلاع ملی، آئے ہیں۔ آپ ﷺ مہربانی فرمائیں، جتنے پیسے لینا چاہتے ہیں، لے لیں۔ حضرت زیدؓ ہمارے سپرد فرما دیں۔

متوجہ ہو میاں! جتنے پیسے لینا چاہتے ہیں لے لیں۔ منہ مانگی قیمت:

⚛… درہم… دینار… سونا… چاندی… و دیگر مال

جو فرمائیں ، لے لیں۔ تولنا چاہیں، تول لیں۔ ایک طرف حضرت زیدؓ دوسری طرف سونا، منہ مانگی قیمت دینے کے لئے تیار ہیں۔ ہماری صرف اتنی درخواست ہے کہ منہ مانگی قیمت لے لیں۔ لیکن زید کو ہمارے سپرد کر دیں۔

حضرت زیدؓ کاحضور ﷺ کووالدین پر ترجیح دینا

اسلام آباد کے ساتھیو! ساری کائنات کی سخاوتیں قربان محمد عربیﷺ کی جوتی

194

پر، ان کی اتنی بڑی پیش کش۔ حضور ﷺ نے جو جواب میں ارشاد فرمایا: وہ صرف اتنا کہ میاں زید نے میری بڑی خدمت کی ہے۔ میں اس سے راضی ہوں۔ میں پیسے لے کر اسے آپ کے سپرد کروں، یہ مناسب نہیں۔ میری طرف سے اجازت ہے کہ زید اگر تمہارے ساتھ جانا چاہے، ایک سکہ دیئے بغیر اسے اپنے ساتھ لے جا سکتے ہو۔ ہاں البتہ آپ لوگ اسلام قبول کرلیں۔ انہوں نے گردن جھکائی، قلب و جگر سے شکریہ ادا کیا۔ حضرت زیدؓ کی طرف متوجہ ہوئے۔ وفد والے ابھی کچھ کہنا چاہتے تھے۔ حضرت زیدؓ نے گفتگوشروع کر دی۔ حضرت زیدؓ نے ارشاد فرمایا: ابوجان!میں آپ کے ساتھ نہیں جاؤں گا۔ سارا وفد حیران و پریشان اس فیصلے پر۔ کچھ کہنا چاہتے ہیں، کچھ کہنے کی جرأت نہیں۔ وہ کہنے کی پوزیشن میں تھے یا نہیں، ازخود حضرت زیدؓ نے فرمایا: ابا جان! آپ مجھے یہی کہیں گے کہ:

⚛… یہ مسافری ہے، وہاں میرا وطن ہے

⚛… یہاں اکیلا رہتا ہوں، وہاں بہن، بھائی ہیں

⚛… یہاں کوئی نہیں، وہاں والدین ہوں گے

⚛… یہاں کسی کے گھر کی کھاتا ہوں، وہاں میرا اپنا گھر ہے

⚛… یہاں اکیلا رہتا ہوں، وہاں میری شادی ہو گی

⚛… یہاں مجھے مزدوری کرنی پڑتی ہے، وہاں میرا اپنا کاروبار ہو گا

⚛… یہ ٹھیک ہے کہ میں اتنے عرصے سے آیا کہ آپ بوڑھے ہو گئے

⚛… یہ ٹھیک ہے کہ میری والدہ کی آنکھوں کی بینائی ختم ہو گئی ہو گی

⚛… یہ ٹھیک ہے کہ میری چھوٹی بہنیں جوان ہو گئی ہوں گی

⚛… یہ ٹھیک ہے کہ یہاں غلام ہوں، وہاں مجھے آزادی ملے گی

میں مانتا ہوں کہ یہ ساری باتیں اپنی جگہ ٹھیک ہیں۔ لیکن:

⚛… میں والدین کو چھوڑ سکتا ہوں

⚛… کاروبار کو چھوڑ سکتا ہوں

⚛… بہن بھائیوں کو چھوڑ سکتا ہوں

⚛… اپنی آزادی کو قربان کر سکتا ہوں

195

لیکن محمد رسول اللہ ﷺ کی صحبت کو نہیں چھوڑ سکتا۔ کچھ ہو جائے، میں نبوت کی خدمت میں رہوں گا۔ مل کر کہو: کیا کروں گا؟ حضور ﷺ کی صحبت کو نہیں چھوڑوں گا۔ ذرا زور سے میاں! کیا نہیں کروں گا؟ حضور ﷺ کی خدمت کو نہیں چھوڑ وں گا۔ ساری کائنات کو چھوڑ سکتا ہوں، نبوت کی خدمت کو نہیں چھوڑ سکتا۔ اب حضرت زیدؓ کے والد آخر وہ بھی عرب کے لوگ تھے۔ انہوں نے فوراً گفتگو کا پینترا بدلا، زاویہ تبدیل کیا۔ ایک او ر نقطہ نظر سے گفتگو شروع کی اور انہوں نے حضور ﷺ کی خدمت میں یہ درخواست کی کہ آقاﷺ آپ حضرت زیدؓ کو حکم فرمائیں کہ یہ ہمارے ساتھ چلیں۔ ہمارے کہنے پر تیار نہیں۔ آپ ﷺ حکم فرمائیں کہ یہ ہمارے ساتھ چلے۔ اس پر ان کو حضور ﷺ نے جواب دیا کہ میاں !میں تم سے پیسے لے کر زیدؓ تمہارے سپرد کروں، یہ تمہارے ساتھ زیادتی ہے۔ زیدؓ تم سب کو چھوڑ کر یہ میرے ساتھ رہنا چاہے اور میں اسے کہوں: یہاں نہ رہو، چلے جاؤ تو یہ زیدؓ کے ساتھ زیادتی ہے۔ نبوت کا کام زیادتی کرنا نہیں۔ جانا چاہے، اجازت ہے۔ رہنا چاہے تو یہ اس کا گھر ہے۔ قصہ مختصر بالآخر طے ہوا کہ زید والدین کے ہاں جائیں گے، چکر لگائیں گے، واپس آئیں گے، مستقل طور پر حضور ﷺ کی خدمت میں رہیں گے۔

حضور ﷺ کا زیدؓ کو منہ بولابیٹا بنانا

اسلام آباد کے ساتھیو! میرے ماں باپ، میرا روح و جسم آپ ﷺ پر قربان۔ حضرت زیدؓ کے اس انقلابی فیصلے پر حضور ﷺ اتنے خوش ہوئے کہ آپ ﷺ نے حضرت زیدؓ کو مخاطب کر کے فرمایا: زید!آج سے پہلے تم میرے گھر میں اس طرح رہا کرتے تھے، جس طرح غلام اپنے آقا کے گھر میں رہتاہے۔ آج کے بعد تمہاری میرے گھر کے اندر وہ پوزیشن ہو گی جو بیٹے کی باپ کے گھر میں ہوا کرتی ہے۔ حضرت زیدؓ کو یہ شرف حاصل ہے کہ حضرت زیدؓ کا نام لے کر میرے رب نے عرش سے قرآن مجید کے اندر تذکرہ کیا ہے:’’فَلَمَّا قَضٰی زَیْدٌ مِّنْھَا وَطَرًا زَوَّجْنٰکَھَا‘‘ (الاحزاب: ۳۷)

حضرت زیدؓ کا نکاح

حضور ﷺ نے فرمایا: زید! تم میرے بیٹے متبنیٰ،لے پالک۔ صرف یہ نہیں بلکہ

196

حضور ﷺ کی پھوپھی زاد بہن تھی حضرت زینبؓ۔ حضور ﷺ نے حضرت زیدؓ کا نکاح اپنی پھوپھی زاد بہن سے کردیا۔ آپ بھی بچیوں، بیٹوں والے ہیں اور میں بھی۔ ہر آدمی سوچ سمجھ کر رشتہ کرتا ہے۔ لیکن یہ مقدر کی بات ہے کہ کبھی کوئی رشتہ کامیاب ہوتا ہے، کبھی ناکام ہوتا ہے۔ اللہ آپ کے میرے بچوں، بیٹیوں کو اچھے رشتے عطا کریں۔ اتفاق یہ کہ آگے چل کر حضرت زیدؓ اور حضرت زینبؓ کا آپس میں نبا ہ نہ ہو سکا اور ان کی طلاق واقع ہو گئی۔ طلاق واقع ہوئی تو حضرت زینبؓ کو صرف صدمہ تھا اس بات کا کہ نبوت نے میرا نکاح پڑھایا۔ رحمت عالم ﷺ کے ارشاد گرامی سے میری شادی ہوئی۔ میں آج اس طرح دن گزار رہی ہوں کہ مطلقہ گھر بیٹھی ہوں۔ کافی لمبا عرصہ گزرنے کے بعد حضرت زینبؓ کے رونے دھونے اور ان کی مظلومیت کو اللہ پاک پروردگار عالم نے عرش پر قبول فرمایا۔ حضرت زینبؓ کی دعا فرش پر تھی، قبول عرش پر ہوئی۔ اللہ رب العزت نے عرش سے حضرت رحمت عالم ﷺ کی ذات اقدس پر وحی کے ذریعے اطلاع دی کہ حضرت زینبؓ کا ہم نے آپ کے ساتھ نکاح کر دیا ہے۔ حضرت زینبؓ حضور ﷺ کی واحد زوجہ محترمہ ہیں۔ آپ کی اور میری ماں۔ اس اعتبار سے وہ واحد خوش نصیب ہیں کہ دنیا کے اندر ان کا نکاح نہیں پڑھایا گیا۔ چنانچہ حضرت زینبؓ، حضور ﷺ کی باقی ازواج کے ساتھ بیٹھ کر خوش طبعی کے طور پر کبھی فرمایا کرتی تھیں کہ تم میرا کس طرح مقابلہ کرتی ہو کہ:

⚛… تمہارے نکاح حضور ﷺ کے ساتھ تمہارے رشتہ داروں نے کئے

⚛… میرا نکاح حضور ﷺ کے ساتھ میرے رب کریم نے کیا ہے

⚛… تمہارے نکاح حضور ﷺ کے ساتھ فرش پر ہوئے ہیں

⚛… میر انکاح حضور ﷺ کے ساتھ عرش پر ہوا ہے

تم میرا مقابلہ کر سکتی ہو حضور ﷺ کے ساتھ نکاح کا؟۔ رحمت عالم ﷺ کے نکاح مبارک کے بعد۔ مکہ مکرمہ کے لوگوں کا رواج یہ تھا کہ جس آدمی کو وہ اپنا منہ بولا بیٹا، لے پالک بیٹا بنا لیتے تھے ، وہ اسے:

⚛… وراثت وجائیداد میں

⚛… نکاح اور طلاق میں

197

رسم جاہلیت کا ازالہ

تمام تر مسائل میں وہی احکام دیتے تھے،جو سگے بیٹے کے احکام ہوتے ہیں۔ سگا بیٹا باپ کی جائیداد میں وارث ہے۔ سگے بیٹے کی بیوی کے ساتھ مطلقہ ہو یا بیوہ، اس کے ساتھ اس کا باپ شادی نہیں کر سکتا۔ وہ اس کی بہو لگتی ہے، اس کے ساتھ نکاح نہیں کر سکتا۔ لے پالک اور متبنی بیٹے کے بھی ان کے ہاں یہی احکام تھے۔ حضور ﷺ نے حضرت زیدؓ کو اپنا بیٹا بنایا۔ پھر حضرت زیدؓ کی مطلقہ بیوی حضرت زینبؓ کے ساتھ نکاح کیا۔ نکاح ہوا تو مکہ مکرمہ میں مشرکین مکہ نے پراپیگنڈا شروع کیا کہ دیکھئے! نعوذباللہ! حضور ﷺ نے اپنے بیٹے کی بیوی کے ساتھ یعنی اپنی بہو کے ساتھ نکاح کر لیا ہے۔ یہ جب انہوں نے پراپیگنڈا شروع کیا تو ان کے اس پراپیگنڈے کا جواب اللہ رب العزت نے قرآن مجید کی اس آیت کریمہ میں دیا کہ: ’’مَاکَانَ مُحَمَّدٌ اَبَااَحَدٍ مِّنْ رِّجَالِکُمْ ‘‘ {لوگو! محمد عربیﷺ تم میں سے کسی جوان مرد کے باپ نہیں ہیں۔}

جب آپ کا جوان بیٹا کوئی نہیں تو بہو کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ یہ کتنی بیہودہ بات ہے کہ تم حضور ﷺ کی طرف ایک ایسی بات منسوب کر رہے ہو کہ اپنی بہو کے ساتھ نکاح کرلیا۔ بہو تو تب ہوتی کہ آپ ﷺ کا کوئی جوان بیٹا ہوتا۔ آپ کا تو جوان بیٹا ہی کوئی نہیں۔ قرآن مجید نے اس کی تردید کی۔ باقی رہے حضرت زیدؓ۔ ان کے متعلق دوسرا حکم ہے کہ: خبردار!

’’ اُدْعُوْھُمْ لِاٰبَاءِھِمْ ھُوَاَقْسَطُ عِنْدَاللّٰہِ‘‘ (الاحزاب:۵){ یہ جو لے پالک بیٹے ہیں (ان کو زید ابن محمد نہ کہو، زید ابن حارثہ کہو)ان کی ان کے باپ کی طرف نسبت کرو۔} یہ دو حکم قرآن مجید کے اند ر دیئے گئے ۔

ایک اشکال اور اس کا جواب

یہاںپر ایک سوال پیدا ہوتا ہے کہ حضور ﷺ کے صاحبزادے کتنے تھے؟ مختلف روایات ہیں۔ ایک روایت کے مطابق حضور ﷺ کے چار بیٹے تھے۔ آپ ﷺ کے چاروں بیٹوں کا بچپن میں انتقال ہوا۔ حضور ﷺ کے ایک بیٹے ہیں: حضرت ابراہیم باقی

198

تینوں صاحبزادے حضرت خدیجہؓ سے ہیں۔ بیٹیاں ساری حضرت خدیجہؓ سے ہیں۔ صرف ایک صاحبزادہ حضرت ماریہ قبطیہؓ سے ہوا، حضرت ابراہیم حضور ﷺ کے چھوٹے صاحبزادے ہیں۔ ان کا بھی بچپن میں انتقال ہوا۔

بخاری شریف (ج۱، ص ۱۷۴) کی روایت ہے کہ حضرت ابراہیم حضور ﷺ کی گود مبارک میں تھے۔ نزع کا عالم طاری ہوا، ان کی روح نے جسد عنصری سے پرواز کی۔ حضور ﷺ کے آنسو مبارک گرے۔ حضرت ابراہیم کے رخسار پر پڑے۔ آپ ﷺ کے آنسو مبارک گرے، ایک صحابیؓ قریب بیٹھے تھے، انہوں نے حضور ﷺ کے کندھے پر ہاتھ رکھ کر کہا: ’’اَوَاَنْتَ یَارَسُوْلَ اللّٰہِ‘‘ {آقا! آپ ﷺ بھی روتے ہیں؟}

حضور ﷺ نے بعد میں ارشاد فرمایا: ’’اِنَّا بِفَرَاقِکَ یَا اِبْرَاہِیْمُ لِمُحْزُوْنَ‘‘ {ابراہیم تیری جدائی نے آج محمد ﷺ کو بھی پریشان کر دیا ہے}

اور فرمایا: کوئی عزیز جدا ہو، دل صدمہ کرے، آنکھ آنسو بہائے، میں نے تمہیں کبھی منع نہیں کیا۔ جزع، فزع اور رونے دھونے، بین کرنے سے میں نے منع کیا ہے۔ باقی یہ آنسو بہنا، دل میں صدمہ ہونا یہ تو ایک فطری عمل ہے۔ آپ ﷺ گھر تشریف لائے۔ حضرت ماریہ قبطیہؓ رو رہی ہیں۔ آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا: صبر کرو۔ دوسرے دن تشریف لائے۔ ماریہ پھر رو رہی ہیں۔ فرمایا، ماریہ صبر کرو۔ تیسرے دن پھر تشریف لائے، ماریہ پھر رو رہی ہیں۔حضور ﷺ کی رحمت کا دریا جوش میں آیا۔ مل کر کہو کہ حضور ﷺ کی رحمت کا دریا؟… جوش میں آیا۔ ماریہ قبطیہؓ کو مخاطب کر کے فرمایا: ماریہؓ!میں نے تمہیں ایک دن کہا، دوسرے دن کہا، تیسرے دن کہا، تجھ سے صبر نہیں ہوگا۔ اگر تو اس طرح صبر نہیں کرتی تو آج میں اللہ سے دعا کروں کہ :

⚛… اللہ آسمانوں کے پردے ہٹا دے

⚛… جنت تیرے سامنے کر دی جائے

⚛… اور تو اپنی آنکھوں کے ساتھ دیکھے

⚛… تیرا بیٹا جنت میں حوروں کے پاس پرورش پا رہا ہے

کیا پھر تجھے تسلی ہو جائے گی؟ حضرت ماریہ قبطیہؓ نے دست بستہ فرمایا: یارسول

199

اللہa!میری تسلی ہو گئی۔ آئندہ بے صبری نہیں ہو گی۔ حضور ﷺ تشریف لے گئے۔ عرب کی عورتوں کو پتہ چلا ۔ماریہ قبطیہؓ کے پاس آئیں۔ آکر کہنے لگیں: ماریہؓ! تیرے مقدر کو کیا ہوا؟

⚛… حضور ﷺ کی رحمت کا دریا جوش میں تھا

⚛… آپ ﷺ اپنے رب سے دعا کرتے

⚛… آپ ﷺ کے رب فضل کرتے

⚛… آسمانوں کے پردے ہٹا دیئے جاتے

⚛… جنت تیرے سامنے کر دی جاتی

⚛… تو دنیا کے اندر واحد خوش نصیب عورت ہوتی

⚛… کہ دنیا کے اندر بیٹھ کر تو جنت کا نظارہ کرتی

حضور ﷺ کی رحمت کے دریائے رحمت سے تو نے فائدہ نہیں اٹھایا۔ جواب میں حضرت ماریہؓ نے ایمان پرور جواب دیا، فرمایا: دیکھو!اگر حضور ﷺ دعا کرتے، میں ہاں کرتی، حضور ﷺ دعا کرتے، اللہ قبول کرتے، پردے ہٹتے، جنت سامنے آتی اور میں اپنے بیٹے کو دیکھتی، تو اس کا معنی یہ تھا کہ ماریہؓ نے اپنی نگاہوں پر اعتبار کیا ہے۔ محمد عربیﷺ کی زبان پر اعتبار نہیں کیا۔ حالانکہ ماریہؓ کی نگاہ خطا کر سکتی ہے،محمد عربی a کی زبان جھوٹ نہیں بول سکتی۔ یہاں پر ایک سوا ل پیدا ہوتا ہے۔ حضرات علماء کرام بیٹھے ہیں۔ ان علماء کرام سے اس کی تفصیلات پوچھیں۔ حضرت قبلہ طوفانی صاحب! بخاری شریف کی روایت ہے حضرت امام بخاری ؒ نے تو باقاعدہ اس کے اوپر ایک باب باندھا ہے۔ سوا ل پیدا ہوتا ہے کہ حضور ﷺ کے تمام تر صاحبزادوں کا بچپن میں کیوں انتقال ہوا؟ وہ جوان کیوں نہیں ہوئے؟ اس کا حضرت امام بخاری ؒ نے بھی جواب دیا ہے۔

دیکھئے توجہ فرمائیے۔ اگر حضور ﷺ کا بیٹا ہوتا جوان۔ تو صورتیںتھیں دو کہ ان کو نبوت ملتی یا نہ ملتی۔ اگر نبوت ملتی تو حضور ﷺ آخری نبی نہ رہتے۔ اگر نبوت نہ ملتی تو سوال پیدا ہوتا کہ:

⚛… ابراہیم ں کے بیٹے اسماعیل ں نبی

200

⚛… ابراہیم ں کے بیٹے اسحاق ں نبی

⚛… اسحاق ں کے بیٹے یعقوب ں نبی

⚛… یعقوب ں کے بیٹے یوسف ں نبی

تو سوال ہوتا کہ حضور ﷺ کا بیٹا نبی کیوں نہیں؟۔ نبوت نہ ملتی تو نبوت کی ذات پر اعتراض ہوتا۔ نبوت ملتی تو ختم نبوت کے مسئلے پر اعتراض ہوتا۔ اللہ نے حضور ﷺ کے صاحبزادوں کا بچپن میں انتقال کر دیا کہ نبی کی ذات پر بھی کوئی اعتراض نہ آئے اور ختم نبوت کے مسئلے پر بھی اعتراض نہ آئے۔ یہ امام بخاری ؒ نے باقاعدہ باب باندھا ہے اور اس کے تحت یہ حدیث لائے ہیں کہ: ’’لَوْ قُضِیَ اَنْ یَّکُوْنَ بَعْدَ مُحَمَّدٍa نَبِیٌ عَاشَ اِبْنُہُ وَلٰکِنْ لَانَبِیَّ بَعْدَہُ۔‘‘ (بخاری: ج۲،ص۹۱۴)

آپﷺ کی امت آپ ﷺ کی روحانی اولاد

حضور ﷺ کے صاحبزادوں کا بچپن میں انتقال ہوا تو قرآن نے کہا کہ:

’’مَا کَانَ مُحَمَّدٌ اَبَا اَحَدٍ مِّنْ رِّجَالِکُمْ‘‘ اس پر مشرکین مکہ نے کہا کہ بہت اچھا!انسان کی نسل چلتی ہے، اس کی نرینہ اولاد سے۔ حضور ﷺ کی جب نرینہ اولاد نہیں رہی تو آپ کی نسل نہیں چلے گی۔ تو آپ کا نام کون زندہ رکھے گا؟ قرآن مجید نے ارشاد فرمایا: ’’وَلٰکِنْ رَّسُوْلُ اللّٰہِ‘‘ {محمد عربیﷺ اللہ کے رسول ہیں۔}

اور نبی اپنی امت کا روحانی باپ ہوتا ہے۔ محمد عربیﷺ کی امت آپ کی اولاد ہے۔ یہ آپ کے نام کو زندہ رکھے گی۔ نبی کی امت باقی ہے تو اس کا نام بھی باقی ہے۔ ایک نبی آئے، وہ چلے گئے۔ ان کے بعد:

⚛… جب دوسرے آئے تو پہلے کی بات ختم

⚛… جب تیسرے آئے تو دوسرے کی بات ختم

⚛… جب چوتھے آئے تو تیسرے کی بات ختم

⚛… جب پانچویں آئے تو چاروں کی بات ختم

حضور ﷺ کے بعد جو نبی آئے گا تو حضور ﷺ کی بات ختم ہو جائے گی۔ کئی نبی

201

ایسے تھے جن کا آج ہم نام نہیں جانتے۔ وقت آئے گا تو حضور ﷺ کا نام بھی کوئی نہیں جانے گا۔ مشرکین مکہ نے یہ سوچا۔ جواب میں قرآن مجید نے کہا:

’’وَلٰکِنْ رَّسُوْلَ اللّٰہِ وَخَاتَمَ النَّبِیِّیْنَ‘‘تم یہ کہتے ہو کہ آپ کے بعد جو نبی آئے گا تو حضور ﷺ کا نام نعوذباللہ! ختم ہو جائے گا۔ یہ بات ہے؟

لفظ خاتم النّبیین کا مفہوم

قرآن کا اعلان سنو! محمد عربیﷺ اللہ کے آخری رسول ہیں۔ یہ ایسے رسول ہیں کہ اب قیامت بھی حضور ﷺ کے پیریڈ نبوت کے اندر واقع ہو گی، حتیٰ کہ ایک لاکھ چوبیس ہزار نبی اور ان کی امتیں بھی قیامت کے دن حضور ﷺ کی نبوت کے سائے میں اٹھائے جائیں گے۔ آپ ﷺ کی نبوت کا دائرہ قیامت تک ’’وَلٰکِنْ رَّسُوْلَ اللّٰہِ وَخَاتَمَ النَّبِیِّیْنَ‘‘ میں نے یہ طویل ترین ساری گفتگو اس عنوان کے لئے کی تھی۔ میں اپنی بحث کو سمیٹتا ہوں۔ مقررین تشریف لائیںگے۔ اس لفظ ’’خاتم النّبیین‘‘پر ہمارا اور مرزائیوں کا اختلاف ہوا۔ انہوں نے کہا: اس کا ترجمہ یہ ہے۔ ہم نے کہا اس کا ترجمہ یہ ہے۔ مرزائیوں نے ہمارے ترجمہ کو نہ مانا۔ آج آپ دوست جو یہاں بیٹھے ہیں۔ میں آپ کی خدمت میں امت کا کیس پیش کرتا ہوں۔ میں ان کی طرف سے آپ حضرات کی خدمت میں اپنا کیس اپنی گواہی پیش کرتا ہوں۔ آپ دوست فیصلہ کرنے والے ہیں۔ ہمارے جج ہیں۔ آپ حضرات میری گفتگو سننے کے بعد جو چاہے فیصلہ کر دیں، ہمیں قبول ہو گا۔

مرزائیوں نے کہا ’’خاتم النّبیین‘ ‘ خاتم کا معنی مہر کا اور ہم نے کہا ’’خاتم النّبیین‘‘ کا معنی آخری کا۔ مرزائیوں نے کہا: آخری کے ترجمہ کو ہم ماننے کے لئے تیار نہیں۔ ہم نے مرزائیوں کو کہا کہ قرآن مجید نازل کیا ہے خدا نے۔ آپ کو اور ہمیں سب کو مل کر خدا کے دروازے پر جانا چاہئے جو خدا ’’خاتم النّبیین‘‘کا ترجمہ کر دے، وہ تم بھی مان لو، ہم بھی مان لیں گے۔ میں آپ حضرات سے پوچھتا ہوں: یہ ہمارا فیصلہ انصاف کا ہے یا بے انصافی کا؟ قرآن مجید کس نے نازل کیا؟ ذرا جلدی کرو اور ہمت کرو، کس نے نازل کیا…؟ خدا نے۔ تو اللہ سے پوچھنا چاہئے کہ اے خدا وند کریم! تو اس کتاب کو نازل کرنے والا ہے تو ہی

202

ارشاد فرما کہ اس کا معنی کیا ہے؟ جو معنی خدا کر دے، وہ ہم بھی مان لیں گے اورمرزا ئی بھی مان لیں۔ انصاف کی بات ہے یا نہیں؟ مرزائیوں کا مقدر ایسا کہ انہوں نے اعلان کر دیا کہ ہم خدا کے ترجمے کو ماننے کے لئے تیار نہیں۔ ہم نے مرزائیوں کو کہا بہت اچھا۔ اگر تم خدا کے ترجمے کو نہیں مانتے تو قرآن نازل ہوا ہے حضور ﷺ کی ذات اقدس پر۔ حضور ﷺسے اس کا ترجمہ پوچھ لیتے ہیں۔ حضور ﷺ اس کا جو ترجمہ کریں۔ وہ تم بھی مان لو، ہم بھی مان لیتے ہیں۔ مرزائیوں نے کہا: ہم حضور ﷺ کے ترجمے کو نہیں مانیں گے۔ ہم نے مرزائیوں سے کہا: سب سے پہلے اولین مخاطب تھے صحابہ کرامؓ۔ صحابہ کرامؓ سے پوچھ لیتے ہیں جو صحابہ کرامؓ ترجمہ کر دیں، وہ تم بھی مان لو: ہم بھی مان لیں گے۔مرزائی ایسے مقدروں والے ہیں کہ وہ صحابہ کرامؓ کے ترجمہ کو ماننے کے لئے بھی تیار نہیں۔ ہم نے پھر ایک آخری شکل پیش کی مرزائیوں کو، مرزا قادیانی سے اس کا ترجمہ پوچھ لیتے ہیں جو وہ ترجمہ کر دے وہ تم بھی مان لو، ہم بھی مان لیتے ہیں لیکن مرزائیوں کا مقدر ایسا ہے کہ نہ وہ خدا کو مانتے ہیں، نہ مصطفیﷺ کو، نہ صحابہ کو۔ اور حد دیکھئے! خدا اور مصطفیﷺ کو چھوڑا تھا مرزے کی خاطر، جب قابو ہونے میں آئے ہیں تو پھر مرزے کو بھی نہیں مانتے۔

اب آئیے! آپ حضرات خدا کے دروازے پر، پوچھیں کہ مولا کریم! لفظ ’’خاتم النّبیین‘‘پر ہوا اختلاف۔ مہربانی کریں! اس میں کسی کانڑیں دجال کو داخل کریں، تو قرآن نے کہا: اس کو داخل کرنا قرآن کے خلاف۔ ہم نے کہا: تم خدا کے ترجمہ کو نہیں مانتے تو حضور ﷺ کے ترجمے کو مانو۔ علماء بیٹھے ہیں۔ میں تفصیل میں نہیں جاتا۔ دو سو سے زائد احادیث ہیں۔ جن میں حضور ﷺ نے کھڑے ہو کر ایک مقام پر نہیں۔ دو سو سے زائد مقامات پر اعلان کیا کہ لوگو! میں آخری نبی و رسول ہوں۔

میرے ماں باپ قربان آپ ﷺ پر۔ کبھی مسئلہ سمجھانے کے لئے فرمایا: لوگو!

’’اَنَا آخِرُ الْاَنْبِیَاءِ وَاَنْتُمْ آخِرُ الْاُمَمِ‘‘ (ابن ماجہ،باب فتنۃ الدجال: ۲۹۷)

{میں نبیوں میں سے آخری، تم امتوں میں سے آخری۔}

کبھی سمجھانے کے لئے ارشاد فرمایا: لوگو!

’’اَنَا حَظُّکُمْ مِنَ الْاَنْبِیَاءِ وَاَنْتُمْ حَظِّیْ مِنَ الْاُمَمِ‘‘ نبیوں میں سے

203

میں محمد ﷺ تمہارے حصے میں آیا ہوں اور امتوں میں سے تم میرے حصے میں آئے ہو۔

(مجمع الزوائد: جزء۱۰، ص۵۶)

کبھی کسی انداز میں سمجھایا، کبھی کسی انداز میں۔ مرزائیوں نے کہا: ہم اس ترجمے کو بھی نہیں مانتے۔ ہم نے مرزائیوں کو کہا کہ حضرات صحابہ کرامؓ سے ترجمہ پوچھتے ہیں۔

(حضرت خواجہ صاحب رحمۃ اللہ علیہ تشریف لائے ۔ …نعرہ تکبیر… اللہ اکبر)

حضرت بھی تشریف لائے ہیں۔ جمعیت علماء اسلام کے روح رواں اور آپ کے اور میرے مخدوم حضرت مولانا زاہد الراشدی دامت برکاتھم بھی تشریف لائے ہیں۔ بیان تو انہی کا ہونا ہے۔ میں اپنی بات مختصر کرتا ہوں۔

آئیے! حضرت سیدنا صدیق اکبرؓ کے دروازے پر۔ حضور ﷺ کے آخری زمانہ نبوت میں مسیلمہ کذاب نے نبوت کا دعویٰ کر دیا تھا۔ حضرت سیدنا صدیق اکبرؓ کے زمانے میں آپ کی خلافت میں جس وقت یہ مسئلہ پیش ہوا، آپ ﷺ کی پوری امت نے بالاتفاق سب سے پہلے قرارداد پیش کی، اجماع منعقد ہوا حضور ﷺ کے صحابہ کرامؓ کا، سب سے پہلی قانون سازی اسی ختم نبوت کے مسئلے پر ہوئی۔ حضرت سیدنا صدیق اکبرؓ کے زمانے میں۔ انہوں نے ارشاد فرمایا کہ: حضور ﷺ کے بعد جو شخص نبوت کا دعویٰ کرے، وہ دائرہ اسلام سے خارج ہے۔اب میں مرزے کا ترجمہ نہیں سناتا، مرزائی اسے بھی نہیں مانتے۔

ختم نبوت کا مسئلہ سمجھو

بھائیو! چار آدمی تھے، چار، ان چار آدمیوں نے حضرت سیدنا موسیٰ ں کا زمانہ پایا۔ سیدنا موسیٰ ں کی نبوت کا اقرار کیا، یہ یہودی ہو گئے۔ ان چار میں سے تین آدمیوں نے مثال کے طور پر سیدنا عیسیٰ علیہ السلام کا زمانہ پایا۔ حضرت سیدنا عیسیٰ علیہ السلام کی نبوت پر یہ لوگ ایمان لائے۔ جونہی سیدنا عیسیٰ علیہ السلام کی نبوت اور رسالت کا ان لوگوں نے اقرار کیا یہ یہودیت سے نکل کر عیسائیت میں داخل ہو گئے۔ جب انہوں نے سیدنا عیسیٰ علیہ السلام کو مانا، سیدنا موسیٰ ں کا انکار نہیں کیا۔ لیکن سیدنا موسیٰ ں کے بعدجونہی ایک اور نئے نبی کو مانا یہ پہلے نبی کی امت میں نہ رہے، دوسرے نبی کی امت میں ہو گئے۔ ان تین میں سے دو

204

آدمیوں نے حضور ﷺ کا زمانہ پایا، یہ عیسائی تھے۔ ان عیسائیوں نے حضور ﷺ کی نبوت کا اقرار کیا، اب یہ دونوں حضور ﷺ کو مانتے ہی عیسائیت سے نکل کر کس کے اندر داخل ہو جائیں گے؟… اسلام میں۔

سیدنا عیسیٰ علیہ السلام کی نبوت کا انکار کیا ہے؟۔ انکار نہیں کیا۔ لیکن سیدنا عیسیٰ علیہ السلام کے بعد جونہی ایک اور نبی کو مانا یہ سیدنا عیسیٰ علیہ السلام کی امت میں نہیں رہے۔

میرے بھائیو! خدا نہ کرے کہ حضور ﷺ کے بعد بھی کسی شخص نے نبی بننا ہو۔ ان دو میں سے ایک آدمی حضور ﷺ کے بعد کسی اور کو نبی مان لے چاہے وہ حضور ﷺ کی نبوت کا انکار نہ کرے۔ لیکن حضور ﷺ کے بعد جب کسی اور کو نبی مانے گا یہ حضور ﷺ کی امت میں نہیں رہے گا۔ یہ اس کی امت میں چلاجائے گا۔ دیکھئے اللہ تعالیٰ آپ سب دوستوں کو جزائے خیر دے۔ آپ سب میرے ساتھ مل کر کہیں کہ آپ کا اور میرا کیا عقیدہ ہے کہ حضرت آدم ں سے لیکر حضرت عیسیٰ علیہ السلام تک جتنے نبی تھے، ان کو ماننا آپ کے اور میرے ایمان کا حصہ ہے یا نہیں؟… حصہ ہے۔

آپ سب نبیوں کو مانتے ہیں، سیدنا موسیٰ ں کو نبی مانتے ہیں؟۔جی! مانتے ہیں۔ کیا آپ یہودی ہیں؟۔ نہیں۔ حضرت موسیٰ ں کو مانتے ہیں۔ لیکن یہودی نہیں۔ عیسیٰ علیہ السلام کو نبی مانتے ہیں۔ لیکن عیسائی نہیں ہیں۔ حضور ﷺ کو مانتے ہیں۔ حضور ﷺ کی امت میں ہیں۔ موسیٰ ں کو بھی مانتے ہیں اور حضور ﷺ کی امت میں ہیں، لیکن ماننے میں فرق ہے۔ ہمارا عقیدہ ہے کہ حضرت موسیٰ ں اللہ کے نبی تھے اور حضور ﷺ اللہ کے نبی ہیں۔ سیدنا عیسیٰ علیہ السلام کو بھی مانتے ہیں ان کو ماننا بھی ہمارے ایمان کا حصہ ہے۔ کوئی آدمی اگر سیدنا عیسیٰ علیہ السلام کی نبوت کا انکار کرے گا تو کافر ہو جائے گا۔ لیکن ماننے کا معنی یہ ہے کہ ہمارا عقیدہ ہے کہ:

⚛… سیدنا موسیٰ ں اللہ کے نبی تھے

⚛… سیدنا عیسیٰ علیہ السلام اللہ کے نبی تھے

⚛… اور حضور ﷺ اللہ کے نبی ہیں

اب اگر کوئی شخص حضور ﷺ کے بعد کسی کو نبی مان لے۔تو نعوذباللہ! اس کامعنی

205

یہ ہوا کہ اس آدمی کے نزدیک اس آیت کا ترجمہ یہ ہو گاکہ حضور ﷺ نبی تھے(ماضی میںگزر گئے نعوذ باللہ)۔ یہ نبی ہیں(موجودہ حال میں نعوذ باللہ)۔ بات سمجھے ہو؟

یہی مرزائیوں کا اور ہمارا اختلاف ہے۔ مرزے کی کتاب دافع البلاء میں مرزا قادیانی نے لکھا ہے کہ: ’’ سچا خدا وہ ہے جس نے قادیان میں اپنا رسول بھیجا۔‘‘

(دافع البلاء ص۱۱، خزائن ج۱۸، ۲۳۱)

اتنا مرزائیت کے متعلق سمجھانا تھا۔ اب دو منٹ میں خطبہ آج پڑھ دیتا ہوں تقریر پھر کروں گا۔ غلام اسحاق خان کی تفصیلات حضرت قبلہ حضرت مولانا زاہد الراشدی صاحب ارشاد فرمائیں گے۔ جناب اسحاق خان سے (یہ ایک طرف سے آواز آئی ہے کہ ان کا جنازہ پڑھ دیں۔ ان کے ایمان کا تو جنازہ نکل چکا ہے۔ اپنا پتہ نہیں، اس کا کس وقت نکلے گا اور جنازہ مقدر والے کو نصیب ہوتاہے۔)

اسحاق خان صاحب سے ۱۸ فروری کو حضرت مولانا حافظ حسین احمد( جنہوں نے تشریف لانا تھا اور امریکہ چلے گئے)، راجہ ظفر الحق صاحب، جمعیت علماء اسلام اور جمعیت علماء پاکستان کے آٹھ،نو اسمبلی کے ممبران اور دوسرے علماء کرام کا ایک وفد ملا۔ ہم نے اسحاق خان سے یہ درخواست کی کہ پاسپورٹ میں مذہب کا خانہ ہے، جداگانہ انتخاب ہے سارے ملک کا۔ یہ پاکستان دو قومی نظریے کی بنیاد پر بنا۔ شناختی کارڈ کے فارم کے اندر مذہب کا خانہ موجود ہے۔ ووٹر لسٹوں کے اندر موجود ہے، ہر جگہ مذہب کا خانہ موجود ہے۔ سب سے زیادہ کار آمد چیز شناختی کارڈ ہوتی ہے اور اس میں مذہب کا خانہ موجود نہیں ہے۔

نقصان یہ ہے کہ مرزائی جس وقت سعودی عرب جانا چاہتا ہے اور وہ اپنے آپ کو پاسپورٹ پر مسلمان لکھوا لیتا ہے۔ اس لئے شناختی کارڈ کی بنیاد پر پاسپورٹ جاری ہو چکا، یہ گونگا ہے۔ وہاں مرزائی جو چاہے گا اس کی تفصیل کہہ دے گا۔ نقصان ہوتا ہے۔

قرآن کہتا ہے کہ حرم میں مرزائیوں کا داخلہ بند ہے۔ مل کر کہو کہ مرزائیوں کا حرم میں؟ …داخلہ بند ہے۔ زور سے بولو حرم میں؟… داخل نہیں ہو سکتے۔اور اسحاق خان صاحب کے متعلق مزید حضرت مولانا زاہد الراشدی دامت برکاتھم ارشاد فرمائیں گے۔

’’وما علینا الاالبلاغ المبین‘‘

206

عظمت صحابہؓ واہل بیتؓ

بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ

اَلْحَمْدُللہِ وَکَفیٰ وَسَلامٌ عَلیٰ سَیِّدِ الرُّسُلِ وَخَاتَمِ الْاَنْبِیَاءِ وَعَلیٰ اٰلَہٖ وَاَصْحَابِہِ الَّذِیْنَ ھُمْ خُلاَصَۃُ الْعَرَبِ الْعَرَبَاءِ وَخَیْرُ الْخَلاَءِقِ بَعْدَ الْاَنْبِیَاءِ۔ اَمَّا بَعْدُ! فَاَعُوْذُ بِاللہِ مِنَ الشَّیْطٰنِ الرَّجِیْمِ۔ بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ۔

و قال اللہ و تعالٰی: رَضِیَ اللّٰہُ عَنْھُمْ وَرَضُوْا عَنْہُ۔ (سورۃ البینۃ: ۸ )

قال النبیﷺ: ۔اَلْحَسَنُ وَ الْحُسَیْنُ سَیِّدُا شَبَابِ اَھْلِ الْجَنَّۃِ۔(ترمذی ج۲، ص۲۱۷)
و قال النبیﷺ: اَصَّحَابِیْ کَالْنَجُوْمِ فَبِاَیُّھُمْ اِقْتَدَیْتُمْ اِھْتَدَیْتُمْ۔(مشکوٰۃ ج۲، ص۵۵۴)
اَللّٰھُمَّ صَلِّ عَلیٰ سَیِّدِنَا وَ مَوْلٰنا مُحَمَّدٍ وَّعَلیٰ آلِ سَیِّدِنَا وَ مَوْلٰنا مُحَمَّدٍ وَّ بَارِکْ وَسَلِّمْ وَ صَلِّ کَذَالِکَ عَلیٰ جَمِیْعِ الْاَنْبِیَاءِ وَالْمُرْسَلِیْنَ وَعَلیٰ الْمَلاَءِکَۃِ الْمُقَرَّبِیْنَ وَعَلیٰ عِبَادِ اللہِ الصَّالِحِیْنَ اَجْمَعِیْنَ اِلیٰ یَوْمِ الدِّیْنِ۔

تمہید

میرے بھائیو!جیسا کہ آپ کے خطیب اور ہمارے مخدوم زادہ حضرت مولانا قاری محمد جمیل الرحمن دامت برکاتھم نے ارشاد فرمایا کہ: آپ حضرات کے آج جلسے کا عنوان ہے’’ مناقب اہل بیتؓ ‘‘ مغرب کی نماز کے بعد آپ حضرات کا اجلاس شروع ہوا۔ الحمدللہ! تلاوت بھی ہوئی۔ مجلس ذکر بھی ہوئی۔ علماء کے بیانات بھی سنے۔ نعتوں کا سلسلہ بھی جاری رہا۔ ابھی اس اجلاس کے مہمان خصوصی اور نامور شیریں بیان خطیب حضرت مولانا شبیر احمد فیصل آبادی تشریف لا چکے ہیں۔ ان کے ساتھ ہمارے قابل احترام بزرگ بھائی جناب چشتی صاحب مرحوم کے صاحبزادہ بلال چشتی صاحب بھی تشریف لا چکے ہیں۔ان حضرات

207

کی نظم ہو گی، بیان ہو گا۔ اصل بیان ان حضرات کا ہوتا ہے۔ اللہ رب العزت قاری صاحب اور ان کے رفقاء کو بہت ہی جزائے خیر دے۔ بہت خوبصورت مجلس کا انہوں نے اہتمام کیا اور اس عنوان پر آپ حضرات کو دعوت فکر دی۔ انہوں نے اپنی گفتگو کے دوران ارشاد فرمایا کہ: مناقب اہل بیتؓ کے حوالے سے جو لوگ معاذ اللہ! شبہات پیدا کرتے ہیں تو ہم نے اس کے ازالہ کے لئے اس مجلس کا اہتمام کیا:

خلافت راشدہ کے علی الترتیب حقدار

میرے واجب الاحترام دوستو! آج کی مجلس میں ان کے شبہات کا جواب ہوجائے، ازالہ ہو جائے، میرے لئے بہت ہی آسانی ہو گی۔ سامعین! وہ جو شبہات پیش کرتے ہیں، میں بھی ایک شبہ کے ازالہ کی کوشش کرتا ہوں۔

برادران!اس کا تھوڑا سا بیک گراؤنڈ ہے۔ میرا وعدہ رہا میں گفتگو لمبی نہیں کروں گا۔ حضور ﷺ نے اپنے آخری وقت تک کوئی اپنا جانشین اور خلیفہ مقرر نہیں کیا۔ ایسا نہیں ہوا کہ میرے بعد فلاں خلیفہ ہو گا، بالکل نہیں۔

⚛… نامزد کرنا… متعین کردینا… اعلان کر دینا

ایسا بالکل نہیں ہوا۔ اشارے موجود تھے اور اشارے بھی ایسے جو صراحت سے بھی زیادہ واضح تھے۔ مثلاً: ’’ایک عورت رحمت عالم ﷺ کی خدمت میں آئی۔ اس نے ایک بات دریافت کی۔ اٹھی، چلی۔ وہاں تک گئی اور پھر واپس آئی۔ اورکہنے لگی اگر مجھے دوبارہ کسی مسئلے کی ضرورت پڑے، میں حاضر ہوں، آپ موجود نہ ہوں تو میں مسئلہ کس سے پوچھوں؟۔ حضور ﷺ نے ارشاد فرمایا: سیدنا صدیق اکبرؓ سے، وہ اور آگے گئی، جا کر پھر واپس آئی اور آکر عرض کی کہ: آقاﷺ! میں آؤں، مسئلہ پوچھنے کی ضرورت ہو تو ابوبکرؓبھی نہ ہوں تو پھر میں کس سے مسئلہ پوچھوں؟ حضور ﷺ نے فرمایا: سیدنا عمرؓ سے۔‘‘

(بخاری شریف، باب فضل ابی بکر بعد النبیﷺ: ج۱، ص۵۱۶)

بھائیو!اس طرح واضح اور بھی بہت سارے اشارے موجود تھے۔ اس پر سیدنا علی المرتضیٰؓ کا فیصلہ کن ایک قول نقل کرتا ہوں کہ:

208

’’ رحمت عالم ﷺ کے وصال کے بعد جب سیدنا صدیق اکبرؓ کو خلیفہ بنا دیا گیا۔ ایک آدمی سیدنا علی المرتضیٰؓ سے ملا اورکہا:سیدنا ابوبکر صدیقؓ خلیفہ بن گئے؟۔ سیدنا علی المرتضیٰؓ زیر لب مسکرائے اور فرمایا: ہاں! اس نے پھر کہا سیدنا ابوبکرؓ خلیفہ بن گئے؟، آپؓ پھر زیر لب مسکرائے ۔فرمایا: ہاں! اس نے پھر کہا سیدنا ابوبکرؓ خلیفہ بن گئے؟۔ تیسری دفعہ اس کے سوال کرنے پر سیدنا علی المرتضیٰؓ نے اس کی جانب دیکھا اور فرمایا: کیا تو نے بار بار رٹ لگا رکھی ہے کہ سیدنا ابوبکرؓ خلیفہ بن گئے۔ حضور ﷺ نے انہیں ہمارے دین کا امام بنایا تھا۔ ہم نے ان کو دنیا کا بھی امام بنا لیا۔‘‘

’’فَرَضِیْنَا لِدُنْیَانَا مَنْ رَضِعَیْہٗ اللّٰہُ وَرَسُوْلُہٗ لِدِیْنِنَا‘‘ (اسد الغابہ: ج۳، ص۲۲۱)

میرے بھائیو!سیدنا صدیق اکبرؓنے اپنے آخری زمانہ حیات میں سیدنا فاروق اعظمؓ کو باقاعدہ نامزد کر دیا کہ میرے بعد فاروق اعظمؓ خلیفہ ہوں گے۔ اس پر سیدنا صدیق اکبرؓ مشورہ بھی کرتے رہے۔ رائے طلب کی پھر یہ فیصلہ کیا۔ فرمایا بھائی اگر میرے بعد عمرؓ خلیفہ بن جائیں تو کیا رائے ہے آپ کی؟۔ ایک صاحب نے اس پر اشکال پیش کیا۔ اس نے کہا کہ: حضرت! باقی تو سب ٹھیک ہے۔ لیکن ہیں بڑے سخت۔ سیدنا صدیق اکبرؓنے سیدنا عمرؓ کی طرف سے صفائی دی۔ فرمایا!وہ اس وقت تک سخت ہیں، جب تک ابوبکر(رضی اللہ عنہ) نرم تمہارے اندر موجود ہے۔ جب میں موجود نہیں ہوں گا تو میری نرمی والا کردار بھی انہی کو ادا کرنا پڑے گا۔

باری آئی سیدنا فاروق اعظمؓ کی، آپؓ نے اپنے وصال مبارک سے پہلے سیدنا علی المرتضیٰؓ اور سیدنا عثمانؓ اور دو، تین نام ذکر کئے۔ فرمایا: ان میں سے جس کو خلیفہ بنانا ہے بنا لو۔ ان کی تفصیلات ہیں، میں ان تفصیلات میں نہیں جاتا۔ خلاصہ یہ کہ سیدنا عثمانؓ خلیفہ بنا دیئے گئے۔ سیدنا عثمانؓ کے عہد خلافت کے آخر میں چل کر شورش کھڑی ہوئی۔ سیدنا علی المرتضیٰؓ کی وسعت نظری ( میرا جسم، میری آل اولاد آپ پر قربان) کہ:

⚛… جس اخلاص کے ساتھ سیدنا صدیق اکبرؓکا ساتھ دیا

⚛… جس اخلاص کے ساتھ سیدنا فاروق اعظمؓ کا ساتھ دیا

اس سے بھی کہیں زیادہ کی ضرورت تھی۔ اسی اخلاص کے ساتھ سیدنا عثمان ؓ کا

209

صرف دفاع ہی نہیں کیا۔ بلکہ دفاع کی ڈیوٹی پر اپنے لخت جگر حسنؓ و حسینؓ کو مقرر کیا۔

میرے بھائیو!میں درخواست کرتا ہوں کہ

⚛… کوفہ سے… شام سے… مصر سے… بغداد سے

بہت ساری جگہ سے بلوائی اکٹھے ہو کر آئے۔ اللہ معاف کرے، ادھر سیدنا عثمانؓ کی شہادت ہوئی، ادھر انہوں نے پورے مدینہ طیبہ کو گویا جیسے کوئی یرغمال بنا لیتا ہے۔ ادھر ایسی کیفیت ہوئی۔ اس وقت مدینہ طیبہ میں جتنے حضرات صحابہ کرامؓ موجود تھے۔ سب کی متفقہ رائے یہ تھی کہ اب صرف اور صرف سیدنا علیؓ کی ذات ایسی ہے جو حالات کو سنبھال سکتی ہے۔ اور وہی خلافت کے مستحق ہیں۔

خلفائے راشدینؓ کی فضیلت

ایک بات اور عرض کرتا ہوں: جس وقت سیدنا صدیق اکبرؓ خلیفہ بنے۔ روئے زمین پر ان سے بہتر کوئی آدمی موجود نہیں تھا۔ سب سے افضل اور اعلیٰ ذات سیدنا صدیق اکبرؓ کی۔ جب سیدنا صدیق اکبرؓ کے بعد سیدنافاروق اعظمؓ خلیفہ بنے، اس وقت وہ سب سے افضل و اعلیٰ تھے۔ جس وقت سیدنا عثمانؓ خلیفہ بنے، اپنی منقبت اور فضائل کے اعتبار سے وہ اس وقت سب سے زیادہ مسلمانوںکے خلیفہ بننے کے مستحق تھے۔ جس وقت سیدنا علی المرتضیٰؓ خلیفہ بنے:

⚛… مشرق سے لے کر مغرب تک

⚛… شمال سے لے کر جنوب تک

پورے روئے زمین پر ان کی ٹکر کا کوئی آدمی موجود نہیں تھا۔ اس وقت رحمت عالم ﷺ کی امت میں سب سے افضل و اعلیٰ ذات سیدنا علی المرتضیٰؓ کی تھی۔

اب جب صحابہ کرامؓ نے مدینہ طیبہ میں رہنے والے صحابہ کرامؓ کو سیدنا علی المرتضیٰؓ کی خلافت پر اکٹھا کر لیا۔ ان بلوائی لوگوں نے دیکھا کہ اب اس حالت میں اس فیصلہ کو تسلیم کئے بغیر کوئی چارہ نہیں۔ خدا نہ کرے اگر ہم ادھر، ادھر ہو گئے تو ایک ایک سے انتقام لیا جائے گا۔ یہ پورا جم غفیر اپنے آپ کو مسلمان کہلوانے والا روپ اختیار کرگیا۔

210

⚛… وہی شکل شباہت

⚛… وہی کلمہ طیبہ

⚛… وہی عیدیں

⚛… وہی نمازیں

⚛… وہی اذانین

⚛… وہی اعمال

⚛… وہی اخلاق

سیدنا امیر معاویہؓ کااشکال

یہ سارے کے سارے سیدنا علی المرتضیٰؓ کے اردگرد جمع ہوئے۔ اس پر سیدنا معاویہؓ جو شام کے گورنر تھے۔ اور فاروق اعظمؓ کے زمانے سے چلے آ رہے تھے۔ انہوں نے اشکال پیش کیا سیدنا علی المرتضیٰؓ سے کہ حضرت آپؓ کی خلافت سے بھی سو فیصد اتفاق ہے۔ آپؓ کے فضائل اور منقبت کے بھی ہم منکر نہیں۔ لیکن ہمارے لئے اشکال یہ ہے کہ سیدنا عثمانؓ کے قاتلوں سے انتقام لئے بغیر آپؓ نے اس منصب کو سنبھالا اور دوسرا یہ کہ جتنے سیدنا عثمانؓ کے قتل کے اندر بلوائی شریک تھے۔ ان سب نے آپؓ کے ارد گرد ڈیرے ڈال رکھے ہیں۔

جنگ صفین کا پس منظر

میرے بھائیو! مجھ مسکین کی باتوں کی طرف توجہ رکھیں۔ میں نے آج بالکل تیز تلوار پر چلنا شروع کیا ہے اور میں کوشش کروں گا حالات کے ترازو میں سونے کی طرح تول تول کر آپ کے ساتھ گفتگو کروں اور اس دعوے کے ساتھ کروں کہ آپ میں سے جانے کے بعد کوئی شخص پوری امت کے معتدل حضرات میں سے کسی ایک آدمی کا قول بھی میری گفتگو کے خلاف نہیں دکھا سکے گا، ان شاء اللہ! چلو پوری امت نہیں تو مولانا قاسم نانوتوی رحمۃ اللہ علیہ سے لے کر مولانا سرفراز خان صفدرc تک، اپنے بزرگوں میں سے کسی ایک کا قول بھی میری گفتگو کے خلاف نہیں دکھا سکیں گے۔ میں اس طرح سونے کی طرح

211

تول تول کے آپ سے درخواست کرنا چاہتا ہوں ۔

⚛… بھائیو! خلافت کا بھی اعتراف

⚛… فضائل و منقبت کا بھی اعتراف

لیکن بیعت کرنے میں توقف، کہ پہلے انتقام۔ ان کو اپنی صفوں سے نکالیں۔ سیدنا عثمانؓ کے قاتلوں کی موجودگی میں آپؓ کے ساتھ آکر بیٹھوں تو کیسے؟۔ اس پر سیدنا علی المرتضیٰؓ نے جواب میں ارشاد فرمایا:سیدنا عثمانؓکے سانحہ پر جتنا آپ کو صدمہ ہے، اس سے کہیں زیادہ مجھے۔ آپ تو تھے شام میں، ان پر جو قیامت گزری، وہ تو میری آنکھوں کے سامنے ہے۔ آپ صرف وہاں سے بیٹھ کر خیر خواہی ضرور کر رہے ہیں۔ ہم نے تو یہاں اپنی اولاد کو اس مرحلے پر سیدنا عثمانؓ کے سپاہیوں کی طرح کھڑا کر دیا تھا۔ باقی رہے یہ بلوائی، تو یہ اس کثرت کے ساتھ ہیں کہ ان کی موجودگی میں اگر میں اکیلا آواز بلند کرتا ہوں تو اتنی شورش بلند ہو گی کہ انہیں سنبھالنا مشکل ہو جائے گا۔ ایک، ایک ہوتا ہے۔ دو گیارہ ہوتے ہیں۔ آپ آئیں! آپ جوں جوں میرے قریب ہوتے جائیں گے یہ ازخود پیچھے ہٹتے جائیں گے۔ ان کی جگہ آپ سنبھال لیں گے تو پھر سیدنا عثمانؓ کی شہادت کا بدلہ کہ اس سے بھلا کوئی انکار کر سکتا ہے۔ پھر آپ اور میں ہوں گے اور قاتلان عثمانؓ کی گردنیں ہوںگی۔ ایک ایک کا حساب برابر کریںگے۔

سیدنا امیر معاویہؓ کی رائے ان کے نزدیک دیانتداری پر مشتمل۔ سیدنا علی المرتضیٰؓ کا مؤقف بھی ان کی دیانتداری کے مطابق کروڑ فیصد صحیح۔ مؤقف ان کا بھی یہی ہے کہ مسئلہ کا حل کریں۔ لیکن یوں نہیں، یوں۔ سیدنا علی المرتضیٰؓ فرماتے ہیں: یوں نہیں، یوں۔ حالات ایسے پیدا ہوئے کہ سیدنا امیر معاویہؓ کے حضرات کی جو یہ شرط تھی، وہ سیدنا علی المرتضیٰؓ کے لئے پوری کرنا ممکن نہ تھی۔ جو سیدنا علی المرتضیٰؓ چاہتے تھے، اس پر سیدنا معاویہؓ راضی نہیں ہو رہے تھے۔ آخر تقدیر نے بھی تو اپنا فیصلہ نافذ کرنا تھا۔

حضرت علیؓ اور حضرت امیرمعاویہؓ کی آپس میں محبت

212

میرے بھائیو!ایک جنگ ہوئی، جنگ جمل ۔اس کی تفصیلات ہیں:

⚛… ادھر سیدنا امیر معاویہ

⚛… ادھر سیدنا علی المرتضیٰ

صحابہ کرام ؓ کو پتہ چلا، تو گئے سیدنا معاویہؓ کے پاس، بندئہ خدا! ابھی تک رحمت عالم ﷺ پر مٹی ڈال کے ہم اپنے ہاتھوں سے مٹی جھاڑ کے فارغ نہیں ہوئے، آپ نے کیا سانحہ کھڑا کر دیا۔ آج ہم اپنی آنکھوں سے یہ دیکھیں گے کہ مسلمان، مسلمان کی گردن کاٹے۔ کیا کر رہے ہو؟۔ دبایا، جیسے دبانے کا حق ہوتا ہے۔ ادھر سیدنا امیر معاویہؓ نے کہا: مجھے تو آپ حضرات فرماتے ہیں، سیدناعلی المرتضیٰؓ سے کیوں نہیں فرماتے؟۔ ان کے پاس جائیں، ان پر ذرا دھیان رکھیں۔ انہوں نے کہا: سیدنا علی المرتضیٰؓ سے ہم کسی متفقہ فارمولے پر جمع ہو جائیں گے۔ کیا آپ ان کے ساتھ گفتگو کرنے کے لئے آمادہ ہو جائیں گے؟۔ سیدنا امیر معاویہؓ نے کہا: آمادہ ہونا کیا ہوتا ہے؟۔ میں تو ان کے دروازے پر بھی جانے کو تیار ہوں۔

سیدناعلی المرتضیٰؓکے پاس آئے، یہ ہم کیا دیکھ رہے ہیں؟ فرمایا! میری بات کرتے ہوئے، معاویہؓ سے کیوں نہیں کہتے؟ انہوں نے کہا: اگر وہ کسی متفقہ فارمولے پر آمادہ ہو جائیں تو آپ ان سے ملاقات کرنے کے لئے تیار ہیں؟۔ فرمایا! تیار کیا ہوتا ہے؟ ابھی تمہارے ساتھ چلتا ہوں۔

اب یہ چلے ادھر سے،انہیں پتہ چلا وہ بھی اپنے خیمہ سے دوڑے۔ دونوں لشکروں کے درمیان میں دونوں حضرات کے لئے خیمہ لگایا گیا۔ صحابہ کرامؓ بیٹھے۔ ملاقات ہوئی۔ تفصیل کے ساتھ گفتگو ہوئی۔ اللہ خیر کا معاملہ کرے۔ فارمولہ طے یہ ہوا کہ جنگ ملتوی۔ اب کوئی جنگ نہیں ہو گی۔ یہ حضرات بیٹھ کے تفصیلات طے کریں گے۔ رات اطمینان کے ساتھ گزاریں۔ اللہ کو منظور ہے تو صبح ان شاء اللہ! کسی متفقہ نتیجے پر پہنچیں گے۔

⚛… آپ بھی جائیں

213

⚛… آپ بھی جائیں

⚛… آپ اپنے ہاں آرام کریں

⚛… آپ اپنے ہاں آرام کریں

⚛… ادھر کچھ لوگ سیدنا علی المرتضیٰؓ کے ساتھ

⚛… ادھر کچھ لوگ سیدنا امیر معاویہؓ کے ساتھ

⚛… اگر سیدنا علی المرتضیٰؓ کے ساتھ دس تھے

⚛… تو سیدنا امیر معاویہؓ کے ساتھ بیس تھے

⚛… اگر سیدنا امیر معاویہؓ کے ساتھ بیس تھے

⚛… تو سیدنا علی المرتضیٰؓ کے ساتھ پچیس تھے

بلوائیوں کی سازش

وہ بلوائی ادھر بھی اور ادھر بھی۔ ایک منصوبے اور سازش کے تحت تقسیم ہوگئے کہ اگر صبح ہوگئی، مذاکرات شروع ہوئے۔ یہ دونوں آپس میں بیٹھ گئے، ہماری تو خیر نہیں۔ ان کی صبح کیا ہو گی، ہماری تو شام ہو جائے گی۔ چنانچہ رات کے وقت آدمی تیار کئے۔ پانچ، سات،دس آدمی سیدنا علی المرتضیٰؓ کے خیمے کے باہر کھڑے کئے۔ پانچ، سات، دس آدمی سیدنا امیر معاویہؓ کے خیمے کے باہر۔ ادھر والوں کو کہا کہ: تم فائر کرو۔ رات کے اندھیرے میں اب جو شور اٹھا، سیدنا علی المرتضیٰؓباہر نکلے۔ یہ بلوائی کہنے لگے کہ سیدنا امیر معاویہؓ نے ہمارے ساتھ دھوکہ کیا ہے۔ ادھر سیدنا امیر معاویہؓ جو نکلے شور سن کر وہ جو خیمے کے دروازے پر کھڑے تھے، ان لوگوں نے کہا سیدنا علیؓ نے دھوکہ کیا۔

ہائے میرے اللہ!دونوں طرف سے تاریخ کے اندر یہ واقعہ ہے کہ سیدنا علیؓ نے فرمایا: اللہ رحم کرے سیدنا معاویہؓ پر، ان سے تو یہ توقع نہیں تھی۔ سیدنا معاویہؓ کو جب کہا گیا کہ علیؓ نے دھوکہ کیا، یہ لڑائی شروع کرا دی کہ اچانک حملہ کر دیا۔ سیدنا معاویہؓ نے بھی سیدنا علیؓ کے متعلق یہی فرمایا کہ: سیدنا علی المرتضیٰؓ سے مجھے یہ توقع نہیں تھی۔

میرے بھائیو!بعد میں کمیٹیاں بنتی رہیں، مذاکرات ہوتے رہے لیکن سیدنا

214

معاویہؓ ہر چند کہ انہوں نے بیعت نہیں کی۔ یہ واقعہ ہے کہ حضرت علی المرتضیٰؓ کی بیعت نہیں کی۔ مگر اس کی بھی کوئی مثال موجود نہیں کہ حضرت معاویہؓ نے حضرت علیؓ کے مقابلہ میں ان کے زمانہ میں اپنی خلافت کا اعلان کیا ہو۔ ایسا کبھی نہیں ہوا۔ کبھی مقابلے میں خلافت کا اعلان نہیں کیا۔ انتظام علیحدہ، فوج علیحدہ۔

حضرت امیرمعاویہؓ کا عیسائی حاکم کو جواب

ہاں البتہ ایک اور موقع آیا کہ ایک عیسائی نے حضرت امیر معاویہؓ کو پیغام بھیجا ملک کے کسی فرمانروا نے، سنا ہے کہ حضرت علی المرتضیٰؓ سے آپ کی ٹھن گئی ہے اور سنا ہے کہ اکثریت ان کے ساتھ ہے۔ آپ اقلیت میں ہیں۔ ہماری ضرورت ہو تو ہم حضرت علی المرتضیٰؓ کے خلاف آپ کو مدد پہنچانے کے لئے تیار ہیں۔ اس پر سیدنا امیر معاویہؓ نے اس عیسائی کو جواب میں کہا: اے مشرک! تمہیں توقع کیسے ہوئی معاویہؓ کے ایمان پر کہ علی المرتضیٰؓ کے مقابلے میں تمہارے دروازے پر آ کر میں بھیک مانگوں گا؟۔ بالکل نہیں!تجھے جرأت ہے کہ علی المرتضیٰؓ کی طرف میلی آنکھ سے دیکھو؟۔ علیؓ کے سپاہیوں میں شامل ہوکر میں تمہارا مقابلہ کروں گا۔

میرے بھائیو!اس کی تفصیلات ہیں، سیدنا معاویہؓ کہ ان کا بالکل متبادل نظام موجود، خلافت کے تحت ہیں لیکن یہ کہ بالکل بغاوت اختیار کر لی ہو۔ ہر چند کہ انہوں نے اختلاف کیا۔ ہر چند کہ انہوں نے بیعت نہیں کی۔ لیکن یہ کہ بالکل بغاوت کے اوپر اتر آئے ہوں، بس احتیاط کا تقاضا یہ ہے کہ اس پر بالکل نہیں کہتے، بالکل ایسے نہیں۔ یہ اگر کوئی کہتا ہے تو خلاف واقعہ کہتا ہے۔

حضرت حسنؓ کی شہادت

اب ایک بات اور عرض کرتا ہوں، سیدنا علی المرتضیٰؓ کے وصال کے بعد آپ کی شہادت کے بعد سیدنا حسنؓ خلیفہ بنا دیئے گئے۔ خلیفہ بنے۔ اب پتہ نہیںکہ آپ حضرات کو یہ بات ہضم ہو یا نہ ہو۔ بہر حال خلیفہ بنا دیئے گئے۔ طے یہ ہوا کہ کچھ دیر خلافت کی۔ ایک حدیث سناتا ہوں کہ ایک دن حضور ﷺ نے حضرت حسنؓ کی طرف دیکھا:

215

⚛… سر پر ہاتھ پھیرا… پیشانی کو چوما… مسکرائے… اور فرمایا:

’’ایک وقت آئے گا کہ میری امت کے دو فریقوں کے درمیان میرا یہ بیٹا صلح کرائے گا۔‘‘

(بخاری شریف، مناقب الحسن و الحسین:ج۱،ص۵۳۰)

آج چشم فلک نے یہ نظارہ دیکھا کہ محمد عربیﷺ کا فرمان اس طرح پورا ہوا کہ حضرت سیدنا حسنؓ، حضرت امیر معاویہؓ کے حق میں دستبردار ہو گئے۔ حضرت سیدنا امیر معاویہؓ نے بھی حضرت علی المرتضیٰؓ کی شہادت کے بعد اپنی خلافت کا اعلان کر دیا تھا۔ ادھر حضرت سیدنا حسنؓ کا اعلان ہوا۔ آگے چل کر یہ ان کے حق میں دستبردار ہو گئے لیکن اس شرط پر کہ حضرت معاویہؓ جب تک زندہ ہیں، اللہ زندہ سلامت رکھے جس دن ان کا وصال ہوا، پھر خلافت حضرت حسنؓ کے سپرد، یہ سمجھوتا اور بات طے ہو گئی۔

حضرت مولانا اشرف علی تھانوی ؒ نے لکھا ہے، بہشتی زیور کا آٹھواں حصہ، اس کا ضمیمہ نمبر۲، جو حواشی والا مدلل چھپا ہے۔ اس پر حضرت تھانوی ؒ نے آٹھویں حصہ کے ضمیمہ نمبر۲کے تحت میں یہ روایت نقل کی ہے۔ علامہ عسقلانی ؒ، علامہ سیوطی ؒ بہت سارے حضرات کی کتابوں میں بھی یہ روایت موجود ہے۔

جعدہ بنت اشعب یہ سیدنا حسنؓ کی اہلیہ ہیں، حضرت تھانوی ؒ نے لکھا ہے کہ یزید نے کسی زنانہ ذرائع سے رابطہ کر کے کہا کہ وہ حضرت حسنؓ کو زہر دیں۔ ان کے انتقال کے بعد آپ کو میں ایک لاکھ درہم جو آج کے کئی لاکھ بنتے ہیں، دوں گا۔ آپ کے ساتھ شادی بھی کروں گا۔ وہ بدنصیب عورت اس کے دھوکے کے اندر آ گئی۔ اس نے زہر دے دیا۔ زہر اتنا تیز تھا کہ سیدنا حسنؓ چالیس دن ایسے بیمار رہے کہ آپؓ کی آنتیں اور جگر کٹ گئے۔ اتنے شدید بیمار رہنے کے بعد آپؓ کا وصال ہوا۔

یزید کے ہاتھ پر بیعت نہیں صرف اعتماد

اب جب وصال ہو گیا، طے تو یہ تھا کہ مسلمانوں کا اجتماعی طور پر کہ سیدنا معاویہؓ کے بعد سیدنا حسنؓ خلیفہ ہوں گے۔ لیکن اب خلیفہ کے لئے کوئی کینیڈیٹ نہیں رہا۔ اب یہ سوال پیدا ہوا کہ سیدنا معاویہؓ کے بعد امت کا خلیفہ کون ہو گا؟ اس نظم کو کون سنبھالے گا،

216

مقابلے میں کوئی کینیڈیٹ موجود نہیں۔

اس وقت سوال یہ کیا جاتا ہے کہ اتنے سو صحابہ کرامؓ نے یزید کے ہاتھ پر بیعت کی تھی۔ میںکہتا ہوں کہ: سو نہیں، ہزار ہوں۔ لیکن مجھے پہلے بیعت کے متعلق سمجھا تو دیں کہ انہوں نے سیدنا معاویہؓ سے درخواست کی کہ حضرت، آپ کے بعد انتشار کا شکار نہ ہوں۔ یزید اس وقت نوعمر تھا، ظاہر ہے کہ سیدنا امیر معاویہؓ جیسے مدبر آدمی کے جوتے کے نیچے زندگی گزار رہا تھا۔ اس کا کوئی الٹا پلٹا کوئی کرتوت کم از کم علی الاعلان اس کی کوئی شکایت اب تک نہیں آئی تھی۔ پھر بیٹا بھی ہے۔ آخر انسان ہے، سیدنا معاویہؓ سے جس وقت صحابہ کرامؓ نے درخواست کی، ان میں کوئی صحابہؓ بھی ہوں گے۔ کوئی تابعی ؒ ہوں گے۔ کہاکہ حضرت! آپ اپنے جانشین کے طور پر اس کا اعلان کر دیں۔ سیدنا امیر معاویہؓ اس پر آمادہ ہوئے اور واقعتا اس کی بیعت ہوئی۔ اس میں صحابہ کرامؓ بھی تھے۔

لیکن مجھے سمجھایا جائے یہ صحابہؓ یا وہ مسلمان جنہوں نے سیدنا معاویہؓ کے زمانے میں یزید کے ساتھ بیعت کی تھی، کیا یہ بیعت اسلام تھی؟ کہ انہوں نے ان کے ہاتھ پر اسلام قبول کیا تھا۔ وہ تو صحابیؓ ہیں۔ وہ تو تابعی ہیں۔ ظاہر ہے بیعت اسلام نہیں، پھر وہ جو بیعت کی، کیا وہ اصلاح کی بیعت تھی؟ کہ یزید کے ہاتھ پر انہوں نے گناہوں سے توبہ کر کے اسے اپنا پیر مان لیا تھا۔ یہ بیعت نہیں۔ زیادہ سے زیادہ اعتماد کا ووٹ ہے کہ یہ آدمی جانشین ہو گا۔ صرف بیعت کا یہ معنی ہے۔ اب آپ کہتے ہیں کہ اتنے سو، دو سو صحابہؓ بیان کرتے ہیں۔ میں کہتا ہوں ڈیڑھ ہزار بھی ہوں، صرف لفظ بیعت استعمال ہوا۔ لیکن وہ صرف سیدنا معاویہؓ کی زندگی میں اعتماد کا ووٹ تھا۔

صحابہ کرامؓ کی یزید کے متعلق رپورٹ

بھائیو! اب میں درخواست کرتا ہوں یزید کے جتنے کرتوت تھے یہ سارے کھل کر بعد میں ظاہر ہوئے۔ سنو!حضرت مولانامحمد قاسم نانوتوی رحمۃ اللہ علیہ کے استاد ہیں۔ مظاہر العلوم کے سرپرست ہیں۔ حضرت مولانا محمد قاسم نانوتوی رحمۃ اللہ علیہ کے بھی من وجہ وہ استاد ہیں۔ دنیا ان کو یاد کرتی ہے حضرت مولانا احمد علی محدث سہارنپوری ؒ کے نام سے۔ نامور جو شارح

217

ہیں بخاری شریف کے۔ خود انہوں نے بخاری شریف کی شرح لکھی۔ چھ پارے رہ گئے تھے تو وہ حضرت مولانا محمد قاسم نانوتوی رحمۃ اللہ علیہ کو دیئے۔ حضرت مولانا احمد علی سہارنپوری ؒ کے جو حواشی ہیںبخاری شریف پر، ان کے اندر روایت موجود ہے کہ صحابہ کرامؓ مدینہ طیبہ سے چلے، کوفہ کے اندر گئے۔ یزید کے ساتھ ملاقات کی۔ واپس آ کر انہوں نے مدینہ طیبہ میں رپورٹ کی کہ بدکاری کی بھی اس کے متعلق شکایات ہیں۔

(البدایہ و النہایہ: جزء۸، ص۲۳۲)

نماز کے اندر بھی وہ علی الاعلان کوتاہی کرتا ہے۔ وہ روایت میں نے مولانا اشرف علی تھانوی ؒ کی جو عرض کی کہ سیدنا حسنؓ کی شہادت میں، ان کو قتل کرانے میں بھی اس یزید کا ہاتھ تھا۔ اب آپ مجھے یہ کہتے ہیں کہ اتنے حضرات نے بیعت کی۔ قبلہ! یہ بھی تو صحابہ کرامؓ کی شہادت ہے اور نقل کرنے والے مولانا احمد علی سہارنپوری ؒ ہیں۔ ان کو کیوں تسلیم نہیں کرتے؟

میں کہتا ہوں: بہت بڑا نیک تھا، بڑا پرہیز گار تھا، متقی تھا، جتنا آپ کہیں اس سے بھی زیادہ میں ماننے کو تیار ہوں۔ میری اس کے ساتھ کوئی لڑائی نہیں۔ لیکن اتنی بات تو سمجھائیں کہ صحابہ کرامؓ نے جو اس کے ساتھ بیعت کی تھی، کیا انہوں نے لائسنس دے دیا تھا یزید کو اس بات کا کہ ادھر سیدنا امیر معاویہؓ کی آنکھیں بند ہوں، ادھر تلوار اٹھاؤ، محمد عربیﷺ کے پورے خاندان کی گردنیں اتار دو؟۔ کوئی ماں کا لعل ہے کہ ایک روایت پیش کرے کہ اس واقعہ یا سانحہ کربلا کے بعد ایک صحابیؓ نے کہا ہو کہ یزید نے صحیح کیا ہے؟۔ پوری امت میں سب سے زیادہ سیدنا حضرت حسینؓ کی شہادت پر اگر کسی نے آنسو بہائے ہیں تو وہ محمد عربیﷺ کے صحابہ کرامؓ کی جماعت تھی۔ آخر کیوں نہ آنسو بہاتے، انہوں نے جس گلے پر نبوت کے لب لگتے دیکھے تھے۔ اسی گلے پر جب چھریاں، تلواریں چلتی دیکھیں تو کیوں نہ آنسو بہاتے؟

میں نہیں جا رہا تفصیل میں، ختم کرتا ہوں اپنی گفتگو کو۔ لیکن آپ دوستوں کو دعوت فکر دیتا ہوں۔

⚛… یزید کو میں فاسق، فاجرنہیں کہہ رہا

218

⚛… یزید پہ میں لعنت بھی نہیں کر رہا

⚛… یزید کو کافر کہلانے کی بحث بھی نہیں کررہا

حالانکہ یہ مسائل ہماری کتابوں میں موجود ہیں۔ مولانا قاضی ثناء اللہ پانی پتی ؒ نے اپنی تفسیر میں اس کی طرف کفر کے قول کو بھی نقل کیا ہے۔ لیکن

⚛… نہ میں اس کے فسق و فجور پر بحث کر رہا ہوں

⚛… نہ میں اس کے کفر پر دلائل دے رہا ہوں

⚛… نہ میں اس کے لعنتی ہونے کا حکم لگا رہاہوں

حضرت حسینؓ سے ہمارا تعلق

لیکن اتنی بات تو مجھے کہنے کا حق بخشو کہ یزید زیادہ سے زیادہ تاریخ کا انسان ہے۔ لیکن سیدنا حسینؓ کے ساتھ ہمارا تعلق ہمارے ایمان کا تعلق ہے۔ جب آپ حضرات اس عنوان کے تحت لے آئیں گے تو پھر دیانتداری کے ساتھ عرض کرتا ہوں سیدنا حسینؓ اور یزید کا جب تقابل ہو گا پھر کروڑوں یزید اکٹھے ہوں، وہ سیدنا حسینؓ کے خاک پاء کا بھی مقابلہ نہیں کر سکتے۔ جو کہتے ہیں، نہیں کر سکتے، وہ زور سے کہہ دیں… نہیں کر سکتے۔

حضور ﷺ فرماتے ہیں: ’’حُسَیْنُ مِنِّیْ وَ اَنَا مِنْ حُسَیْنٍ‘‘

{میں حسینؓ سے ہوں اور حسینؓ مجھ سے۔} (ترمذی، باب مناقب ابی محمد الحسن بن علی و الحسین بن علی:ج۲، ص۲۱۸)

میں بھی آج رحمت عالم ﷺ کی سنت پر چلتے ہوئے علی الاعلان کہتا ہوں رب محمد ﷺ کی قسم!حسینؓ ہمارے ہیں اور ہم حسینؓ کے ہیں۔ آپ میں سے جو حسینؓ کے ساتھ ہے، وہ دوست کہہ دیں مل کے کہ ہم حسینؓ کے ساتھ ہیں۔

یزید کو امیرالمومنین کہناسازش

آج ایک سوچی سمجھی سازش کے تحت امیر المؤمنین، امیر یزید، ماشاء اللہ! کہتے ہیں کہ سیدنا حسینؓ وہاں شام کیا لینے گئے تھے؟۔ یہ میرا خطیب تقریریں کرتا ہے۔ ہائے میرے اللہ! جس محمد عربیﷺ کے کلمہ پڑھنے کے صدقے یزید کے والد گرامی کو شام کا امیر

219

بنایا تھا۔ آج اسی نبیﷺ کے نواسے حسینؓ کے متعلق پوچھا جاتا ہے کہ وہاں کیا لینے گئے تھے؟۔ کوئی کرنے کی بات تو کرو، اتنے احسان فراموش تو نہ بنو، ہم حسینؓ کے ساتھ ہیں۔ بولو،بولو، ہم…؟ حسینؓ کے ساتھ ہیں۔

ہمارا یزید کے ساتھ کوئی تعلق نہیں۔ تیرا کچھ لگتا ہو، میری بلا سے۔ تو جان، تیرا مقدر جانے۔ زیادہ شوق ہے تو پھر دعا کرتے ہیں: اللہ، تیرا یزید کے ساتھ حشر کرے، میرا حسینؓ کے ساتھ۔ جو کہتے ہیں ہم حسینی ہیں، وہ زور سے کہیں کہ ہم…؟ حسینی ہیں۔

میں دیکھتا ہوں تب میرے دماغ سے دھواں نکلتا ہے جب آج کا میرا خطیب کھڑا ہو کر یزید کی تعریف میں سیدنا حسینؓ کو مرجوح قرار دیتا ہے اور یزید کو راجح قرار دیتا ہے اور دلیل کیا؟ آخر یزید بھی کسی کا بیٹا تھا۔ پتہ ہے وہ صحابی رسول کا بیٹا تھا۔ بھائیو!

⚛… یزید اگر صحابی رسول کا بیٹا تھا

⚛… تو حسینؓ خود صحابی رسول تھا

⚛… یزید اگر صحابی رسول کا بیٹا تھا

⚛… توحسینؓ بھی صحابی رسول کا بیٹا تھا

⚛… یزید اگر سیدنا امیر معاویہؓ کا بیٹا تھا

⚛… تو حسینؓ بھی تو کسی کا نواسہ تھا

شریف آدمی! اگر کسی کے رشتے کی بنیاد پر پہچان کرنا ہے

⚛… میں یہ تو نہیں کہہ رہا کہ تم اسے گالی دو

⚛… میں یہ تو نہیں کہہ رہا کہ تم اس پرلعنت کرو

⚛… میں یہ تو نہیں کہہ رہا کہ تم اس پر کفر کی مشین چلاؤ

مگر بول تو صحیح، تول تو صحیح، ہم حسینؓ کے ساتھ ہیں۔ باقی یہ کہاں لکھا ہے کہ یزید کے متعلق کچھ کہنے سے سیدنا امیر معاویہؓ کی شان پر اثر آ جائے گا۔ اگر

⚛… سیدنا حضرت نوح ں کے بیٹے کے غلط عقائد ہوں

⚛… سیدنا ابراہیم ں کے والد کے غلط عقائد ہوں

⚛… محمد عربیﷺ کے چچا کے غلط عقائد ہوں

220

حضرت حسینؓ کے وارث ہیں ہم

ان سے حضرت نوح ں، حضرت ابراہیم ں، محمد عربیﷺ کی نبوت پر اثر نہیں پڑتا تو یزید کے غلط ہونے سے حضرت امیر معاویہؓ کی صحابیت کے اوپر بھی کوئی اثر نہیں پڑتا۔ کوئی ماننے کی بات کرو، نام لیتے ہو سیدنا امیر معاویہؓ کا، بچانا چاہتے ہو یزید کو۔ کیا کرنا چاہتے ہو حضرت حسینؓ کو، تمہیں حسینؓ کا کوئی وارث نظر نہیں آیا؟ کیا کسر رہ گئی تھی کربلا میں حضرت حسینؓ پر ظلم کی، جو تم اپنی گفتگو میں پوری کر رہے ہو؟ مسلمانو! اس گئے گزرے دور میں تحقیق کے نام پر سیدنا حسینؓ کی اہانت ہو، کوئی مسلمان سنے اور چپ رہے۔ مجھے ڈر لگ رہا ہے۔

مدینہ طیبہ میں تین دفعہ کہرام

اے کاش! ذرا تصور کرو۔ آج اگر کوئی میرے بیٹے کو گالی دے، میرے نواسے کو کوئی گالی دے، گالی نہیں گردن کاٹے، میری طبیعت پہ کیا گزرے گی؟ تمہیں پتہ بھی ہے؟ تین دفعہ مدینہ طیبہ میں شدید کہرام قائم ہوا۔

پہلا وہ دن جب رحمت عالم ﷺ کا وصال ہوا۔ صحابہ کرامؓ کہتے ہیں کہ: ’’مدینہ کے درودیوار بھی ہمیں روتے ہوئے نظر آتے تھے۔‘‘

(مشکوٰۃ، باب وفاۃ النبیﷺ:ص۵۷۴)

دوسرا وہ دن کہ سیدنا بلالؓ مدینہ طیبہ چھوڑ کر چلے گئے۔ ایک رات خواب میں رحمت عالم ﷺ کی زیارت ہوئی۔حضور ﷺ نے ارشاد فرمایا! بلال، ہمیں بھلا دیا؟ یہ مدینہ طیبہ واپس آئے۔ سارے آپس میں کہنے لگے کہ نماز کا وقت ہوا چاہتا ہے، بلال! آج ہمیں اذان سنائیں، انہوں نے کہا: تمہیں پتہ ہے جب پہلے میں اذان دیتا جب ’’اَشْھَدُ اَنَّ مُحَمَّدًا رَّسُوْلُ اللّٰہِ‘ ‘ کہتا تھا زبان کلمات ادا کرتی تھی۔ آنکھیں محمد عربیﷺ کا دیدار کیا کرتی تھیں۔ آج میں کلمات تو کہوں، پر میں دیکھوں گا کیا؟ مجھے یہ نہ کہو۔ جس نے جتنی شدت سے کہا، آپ نے اتنی شدت سے انکار کیا۔

صحابہ کرامؓ بھی مزاج شناس تھے۔ انہوں نے کہا: یہ ہماری نہیں مانیں گے۔ حضرت حسنؓ، حسینؓ کو کہو، سبحان اللہ!ان دونوں شہزادوں سے کہا گیا، آپ بلالؓ کو آمادہ

221

کریں کہ اذان سنائیں، آپ کے نانے کے زمانے والی۔ حضرت حسنؓ اور حضرت حسینؓ آئے، ایک نے ایک انگلی پکڑی، دوسرے نے دوسری، بلالؓ! آج ہمیں اسی طرح اذان سنائیں، جس طرح ہمارے نانے کو سنایا کرتے تھے۔ اب ان شہزادوں کا حکم کون ٹالے؟ آج کا خطیب مانتا نہیں، وہ صحابہ کرامؓ ٹالتے نہیں تھے۔ آئے، درخواست کی، حضرت مان گئے۔ فرمایا: بہت اچھا! انہوں نے کہا: ’’اللہ اکبر، اللہ اکبر‘‘ مدینہ طیبہ کے در و دیوار گونج اٹھے۔ محمد عربیﷺ کے زمانے کی اذان کی یادسے کہرام قائم ہوا۔ مدینہ طیبہ میں یہ کیفیت قائم ہوئی اور تمہیں معلوم ہے اذان پوری نہیں کر سکے، گر گئے۔ اس کی تفصیلات ہیں، برداشت نہیں ہو سکا۔ پورا مدینہ طیبہ رو رہا تھا۔

اور تیسرا وہ دن جب کربلا کا واقعہ ہوا، محمد عربیﷺ کا لٹا ہوا خاندان مدینہ طیبہ میں واپس آیا ہے۔ پھر جو مدینہ طیبہ کی بچیوں، بیٹوں نے آگے بڑھ کر اس قافلے کو دیکھا ہے اور جو کیفیت پیدا ہوئی ہے۔ محدثین حضرات نے لکھا ہے کہ یہ تیسری دفعہ مدینہ طیبہ میں کہرام کی کیفیت پیدا ہوئی کہ جس کی تاریخ کے اندر مثال نہیں ملتی۔

محمد عربیﷺ کے صحابہؓ، اس دور کے تابعینc، مدینہ طیبہ میں رہنے والے مذہبی لوگ سیدنا حسینؓکی شہادت پر بہت ہی افسوس کااظہار کریں، اور تو خوشی کا اظہار کرے۔ مجھے ڈر لگ رہا ہے کہ تو قیامت کے دن محمد عربیﷺ کو کیا منہ دکھائے گا؟۔

میری درخواست ہے کہ میرے ساتھیو! سارے مل کر کہو: ہم حسینؓ کے ساتھ ہیں۔ ایسے نہیں، جو جتنا ساتھ ہے، وہ اتنا زور سے کہے، ایمان کے ساتھ کہے، ہم حسینؓ کے ساتھ ہیں۔ بولو، بولو، ہم؟… حسینؓ کے ساتھ ہیں۔

⚛… در و دیوار… کوچہ و بازار… ایک ایک پتہ… ایک ایک ذرہ

میرے اور آپ کے ایمان کی گواہی دے کہ ہم…؟ حسینؓ کے ساتھ ہیں۔ ہم حسینؓ کے ساتھ ہیں۔

’’وما علینا الا البلاغ المبین‘‘

222

حیات عیسیٰ علیہ السلام… حصہ اوّل

بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ

اَلْحَمْدُللہِ وَکَفیٰ وَسَلامٌ عَلیٰ سَیِّدِ الرُّسُلِ وَخَاتَمِ الْاَنْبِیَاءِ وَعَلیٰ اٰلَہٖ وَاَصْحَابِہِ الَّذِیْنَ ھُمْ خُلاَصَۃُ الْعَرَبِ الْعَرَبَاءِ وَخَیْرُ الْخَلاَءِقِ بَعْدَ الْاَنْبِیَاءِ۔ اَمَّا بَعْدُ! فَاَعُوْذُ بِاللہِ مِنَ الشَّیْطٰنِ الرَّجِیْمِ۔ بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ۔

و قال اللہ تعالیٰ:مَّا کَانَ مُحَمَّدٌ أَبَا أَحَدٍ مِّن رِّجَالِکُمْ وَلَکِن رَّسُولَ اللّٰہِ وَخَاتَمَ النَّبِیِّیْنَ وَکَانَ اللّٰہُ بِکُلِّ شَیْْئٍ عَلِیْماً۔ (سورہ الاحزاب ۴۰)

قال النبیﷺ: کَیْفَ اَنْتُمْ اِذَا نَزَلَ اِبْنُ مَرْیَمَ فِیْکُمْ وَ اِمَامُکُمْ مِنْکُمْ۔ (بخاری: ج۱، ص۴۹۰)
اَللّٰھُمَّ صَلِّ عَلیٰ سَیِّدِنَا وَ مَوْلٰنا مُحَمَّدٍ وَّعَلیٰ آلِ سَیِّدِنَا وَ مَوْلٰنا مُحَمَّدٍ وَّ بَارِکْ وَسَلِّمْ وَ صَلِّ کَذَالِکَ عَلیٰ جَمِیْعِ الْاَنْبِیَاءِ وَالْمُرْسَلِیْنَ وَعَلیٰ الْمَلاَءِکَۃِ الْمُقَرَّبِیْنَ وَعَلیٰ عِبَادِ اللہِ الصَّالِحِیْنَ اَجْمَعِیْنَ اِلیٰ یَوْمِ الدِّیْنِ۔

تمہید

آپ سب دوستوں کے سامنے مجھے شکریہ ادا کرنا ہے اس ادارہ کے بانی اور مہتمم واجب الاحترام مناظر اسلام حضرت مولانا محمد الیاس گھمن کا اور ان کے گرامی قدر رفقاء کا کہ ان حضرات کی کرم فرمائی سے ان کے حکم کی بجا آوری کے نتیجہ میں آپ دوستوں کے ساتھ مجھ مسکین کی ملاقات ہو گئی۔ تاخیر کی معافی چاہتاہوں۔ الحمدللہ! میری عادت اور مزاج یہ ہے کہ میں کوشش کرتا ہوں قبل از وقت پہنچنے کی، آج بالکل غیر ارادی طور پر تاخیر ہو گئی۔ اللہ تعالیٰ مجھے معاف فرمائیں:

223

برادران اسلام! حضور ﷺ کی تشریف آوری سے پہلے، سیدنا آدم ں سے لے کر مسیح علیہ السلام تک جب نبوت جاری تھی، اس وقت اس کو بند ماننا کفر تھا۔ رحمت عالم ﷺ کی ذات اقدس پہ اللہ نے سلسلہ نبوت کو ختم کیا تو اب اس کو جاری ماننا کفر ہے۔

ختم نبوت اور تاریخ مذاہب ثلاثہ

برادران اسلام! مذاہب کی تاریخ کے حوالے سے تین مذاہب ہیں:

۱…یہودیت ۲… عیسائیت ۳… اسلام

تاریخی اعتبار سے قدیم ترین مذہب ہے یہودیت کا۔ پھر باری آتی ہے مسیحیت کی اور اس کے بعد پھر نمبر آتا ہے اسلام کا، اس دنیا میں نفاذ کے حوالے سے۔

میرے بھائیو! سیدنا موسیٰ ں کی امت کو، آپ کے پیروکاروں کو یہودی کہا جاتا ہے۔ یہودی حضرات کی آسمانی کتاب کا نام تورات ہے۔ حضرت موسیٰ ں کے متعلق تورات میں کہیں نہیں لکھا کہ وہ آخری نبی تھے۔

⚛… تورات نے حضرت سیدنا موسیٰ ں کو آخری نبی نہیں کہا

⚛… تورات نے یہودیت کو آخری مذہب نہیں کہا

⚛… تورات نے یہودی حضرات کو آخری امت نہیں کہا

⚛… تورات نے اپنے آپ کو آخری آسمانی کتاب نہیں کہا

ہزارہا تبدیلیوں کے باوجود ایک ایسی عبارت موجود ہے کہ حضرت سیدنا موسیٰ ں نے فرمایا کہ: ’’خدا تمہارے اندر وہ نبی برپا کرے گا جس کے ساتھ دس ہزار قدسیوں کی جماعت ہو گی۔‘‘

(توراۃ: کتاب استثناء، باب۳۳، آیۃ۲، ص۲۱۳)

تمام شارحین تورات کا اس امر پر اتفاق ہے کہ وہ نبی سے مراد محمد عربیﷺ کی ذات ہے اور دس ہزار قدسیوں سے مراد وہ صحابہؓ ہیں جو فتح مکہ کے دن حضور ﷺ کے ساتھ تھے۔ تورات باوجود اس کے کہ سیدنا موسیٰ ں کو آخری نبی قرار نہیں دیتی بلکہ تورات تو بشارتیں دے رہی ہے۔ سیدنا موسیٰ ں کی زبانی کہ محمد عربیﷺ آئیں گے۔

برادران اسلام! پھر اس کے بعد باری آتی ہے سیدنا عیسیٰ علیہ السلام کی، عیسائی

224

مذہب کی۔ عیسیٰ علیہ السلام کی امت کو نصاریٰ، مسیحی اور عیسائی کہا جاتا ہے۔ ان کی آسمانی کتاب کا نام انجیل ہے۔ میں دیکھتا ہوں کہ انجیل میں عیسیٰ علیہ السلام کو آخری نبی نہیں کہا گیا۔

⚛… انجیل نے مسیحی دین کو آخری دین نہیں کہا

⚛… انجیل نے مسیحی امت کو آخری امت نہیں کہا

⚛… انجیل نے اپنے آپ کو آخری آسمانی کتاب نہیں کہا

بلکہ ہزار تبدیلیوں کے باوجود ہم دیکھتے ہیں کہ انجیل میں بھی ایک عبارت موجود ہے اور میں جب اس عبارت کو دیکھتا ہوں ہزار تبدیلیوں کے باوجو دآج بھی اس عبارت کے ایک حصے کے اندر یہ جلالت شان موجود ہے کہ سیدنا مسیح علیہ السلام کی زبانی قرآن نے بھی کہا: ’’وَمُبَشِّراً بِرَسُولٍ یَأْتِیْ مِن بَعْدِیْ اسْمُہُ أَحْمَدُ‘‘(الصف:۶)

{بشارت دینے والا ہوں ایک ایسے رسول کی جو میرے بعد آنے والے ہیں، ان کا نام احمد ہوگا۔}

سیدنا عیسیٰ علیہ السلام محمد عربیﷺ کی منادی کرنے کے لئے تشریف لائے تھے۔ وہ آپ کے بشارت دہندہ نہیں۔ بلکہ وہ دنیا انسانیت کو بتانے کے لئے آئے تھے کہ لوگو! میرے بعد نبی آئیں گے محمد عربیﷺ۔ اور فرمایا ’’مُبَشِّراً بِرَسُولٍ‘‘ میرے بعد صرف ایک آئے گا۔ ہم دیکھتے ہیں سیدنا عیسیٰ علیہ السلام کی بشارت کو اور سیدنا محمد عربیﷺ کی ذات اقدس کے ساتھ مسیح علیہ السلام کو جو محبت تھی۔ آپ ﷺ کا جو احترام سیدنا مسیح علیہ السلام کے قلب و جگر میں موجزن تھا۔ یہ جو عبارت پیش کرنے لگا ہوں۔ اس عبارت کے الفاظ میں سیدنا مسیح علیہ السلام کے وہ دلی محبت کے جذبات بھی پگھل پگھل کے باہر آتے نظر آتے ہیں۔

چنانچہ سیدنا مسیح علیہ السلام نے اپنی قوم سے ارشاد فرمایا۔ فرمایا بھی اس وقت کہ جب یہود نے آپ کو گھیرے میں لے رکھا تھا۔ اس وقت سیدنا مسیح علیہ السلام نے اپنے ان حواریوں، انصاریوں سے ارشاد فرمایا: ’’ اے! لوگو مجھے جا لینے دو تا وہ ابن آدم تمہارے اندر آئے جس کا بولنا خدا کا بولنا ہو گا۔‘‘

(یوحنا: باب۱۶، آیت ۱۲، ۱۴)

برادران عزیز! قرآن مجید نے کہا:

’’وَمَا یَنطِقُ عَنِ الْہَوَی۰ إِنْ ھُوَ إِلَّا وَحْیٌ یُوحَی‘‘(النجم:۳، ۴)

225

انصاف فرمائیے میرا مؤقف یہ ہے کہ آج قرآن مجید کی اس عبارت کی جگہ انجیل کی عبارت رکھ دی جائے یا انجیل کی عبارت کی جگہ قرآن مجید کی اس آیت کو رکھ دیا جائے۔ مفہوم ۱۰۰ فیصد دونوں کا ایک ہے تو انجیل نے متعین کر دیا کہ مسیح علیہ السلام آخری نبی نہیں۔ اب جب:

⚛… یہودی مذہب آخری نہیں

⚛… موسیٰ ں آخری نبی نہیں

⚛… مسیحیت دین آخری نہیں

⚛… مسیح علیہ السلام آخری نبی نہیں

تو پھر ایک چانس باقی رہ جاتا ہے اور وہ اسلام اور اہل اسلام کا ہے۔ ہم غور کریں کہ آیا مسلمانوں کی جو کتاب ہے، جس کا نام قرآن مجید ہے۔ کیا قرآن مجید نے نبی کریم ﷺ کے آخری نبی ہونے کا دعویٰ کیا؟

مسئلہ ختم نبوت سمجھنے کے لئے ایک مثال

اگر یہ بات متعین ہو جائے کہ حضور سرور کائنات رحمۃ اللہ علیہ کے متعلق قرآن مجید نے آخری نبی ہونے کا دعویٰ کیا تو پھر یہاں پر مثال دیئے بغیر چارہ نہیں۔ مثال ہے، یہ واقعہ نہیں۔ میں آپ کی مسجد میں داخل ہوا۔ میں نے پوچھا حضرت گھمن صاحب؟ دوستوں نے مجھے بتایا کہ وہ نماز پڑھ رہے ہیں۔

اب لفظ تو ایک بولا کہ وہ نماز پڑھ رہے ہیں۔ لیکن اس لفظ کے بولنے سے مسائل بہت ثابت ہوتے ہیں۔

⚛… وہ نماز پڑھ رہے ہیں، اس کا معنی یہ کہ وہ وضو کے ساتھ ہیں

⚛… وہ نماز پڑھ رہے ہیں، اس کا معنی یہ کہ ان کا جسم پاک

⚛… وہ نماز پڑھ رہے ہیں، اس کا معنی یہ کہ ان کے کپڑے پاک

⚛… وہ نماز پڑھ رہے ہیں، اس کا معنی یہ کہ نماز کی جگہ پاک

⚛… وہ نماز پڑھ رہے ہیں، اس کا معنی یہ کہ ان کا منہ قبلہ کی طرف ہے

226

⚛… وہ نماز پڑھ رہے ہیں، اس کا معنی یہ کہ نماز کا وقت بھی ہے

⚛… وہ نماز پڑھ رہے ہیں، اس کا معنی یہ کہ اب وہ خاموش ہیں

⚛… وہ نماز پڑھ رہے ہیں، اس کا معنی یہ کہ وہ نارمل بھی ہیں

اس لئے کہ اگر:

⚛… وضو نہ ہو تو نماز نہیں

⚛… جسم پاک نہ ہو تو نمازنہیں

⚛… کپڑے صاف نہ ہوں تو نماز نہیں

⚛… جگہ پاک نہ ہوتو نماز نہیں

⚛… قبلہ کی طرف رخ نہ ہو تو نماز نہیں

⚛… نماز کا وقت نہ ہو تو نماز نہیں

⚛… نماز میں کلام کرے تو نماز نہیں

⚛… عقل ٹھکانے نہ ہو تو نماز نہیں

لفظ تو اس ساتھی نے ایک کہا کہ: حضرت مولانا صاحب نماز پڑھ رہے ہیں۔ لیکن ازخود اس سے کئی مسائل ثابت ہو گئے۔ اب اگر یہ بات ثابت ہو جائے کہ قرآن مجید نے محمد عربیﷺ کے آخری نبی ہونے کا اعلان کیا ہے تو ازخود اس بات سے کہ وہ نماز پڑھ رہے ہیں۔ اس سے یہ دس باتیں ثابت ہوئیں تو اتنی بات سے، کہ حضور ﷺ آخری نبی ہیں تو اس سے یہ ثابت ہو جائے گا کہ اگر:

⚛… آپ ﷺ آخری نبی ہیں تو اس کا معنی یہ کہ آپ ﷺ کا دین آخری دین ہے

⚛… آپ ﷺ آخری نبی ہیں تو اس کا معنی یہ کہ آپ ﷺ کی امت آخری امت ہے

⚛… آپ ﷺ آخری نبی ہیں تو اس کا معنی یہ کہ آپ ﷺ کی ذات پر نازل ہونے والی کتاب آخری آسمانی کتاب ہے

سمجھے بھی ہو، میں نے کیا کہا؟ میں نے درخواست کی آپ دوستوں سے کہ جو آپ ﷺ کے آخری نبی ہونے کا انکار کرتا ہے تو وہ آپ ﷺ کے آخری نبی ہونے کا

227

صرف انکار نہیں کر رہا۔ بلکہ:

⚛… اس دین کے آخری دین ہونے کا بھی انکار کر رہا ہے

⚛… شریعت محمدیہ ﷺ کے آخری شریعت ہونے کا بھی انکار کر رہا ہے

⚛… اس امت کے آخری امت ہونے کا بھی انکار کر رہا ہے

⚛… قرآن مجید کے آخری کتاب ہونے کا بھی وہ انکار کر رہا ہے

میرا مؤقف یہ ہے کہ ختم نبوت کے ماننے سے ان چیزوں کا ازخود تحفظ لازم آتا ہے اور ختم نبوت کا انکار کرنے سے ان تمام چیزوں کا ازخود انکار لازم آتا ہے۔

لفظ خاتم کا معنی اور مفہوم

برادران عزیز! میری آپ سب دوستوں سے درخواست ہے کہ آئیں! قرآن مجید کے دروازے پر چلتے ہیں۔ میں مانتا ہوں خاتم کے معنی بہت سارے ہیں۔

⚛… مہر کے معنوں کے لئے بھی استعمال ہوتا ہے

⚛… سیل کے معنوں کے لئے بھی استعمال ہوتا ہے

⚛… انگشتری کے معنوں کے لئے بھی استعمال ہوتا ہے

اور بھی کئی معنوں میں استعمال ہوتا ہے۔ لیکن تمام اہل لغت کا وہ قدیم لغت ہو یا جدید، ان سب کا اس امر پر اتفاق ہے کہ خاتم تاء کی زبر کے ساتھ ہو یا زیر کے ساتھ۔ خاتَم ہو یا خاتِم۔ جب یہ لفظ خاتَم (بفتح التاء)یا خاتِم (بکسر التاء) جمع کی طرف مضاف ہو گا اس کا معنی سوائے آخری نبی کے اور کوئی ہو ہی نہیں سکتا۔ جائیں، تشریف لے جائیں، بڑے کھلے قلب و جگر کے ساتھ، کھنگال ماریں قدیم جدید کی لغت کو۔ ان شاء اللہ! پوری لغت میں اس کے خلاف ایک مثال بھی نہیں ملے گی۔

میرے بھائیو! ہم نے آپ حضرات سے ہی یہ مسئلے سنے اور سیکھے کہ قرآن مجید کی کسی آیت کا ایسا ترجمہ، ایسی بات کہ جس میں دوسرے معنی کا احتمال ہی نہ ہو، اس کو کہتے ہیں نص قطعی کہ اس میں دوسرے معنی کا احتمال نہیں۔ یہ آیت مبارکہ نص قطعی ہے۔ اس بات پر کہ محمد عربیﷺ آخری نبی ہیں۔ آپ ﷺ کے بعد کوئی نبی نہیں۔ آپ بھی کہہ دیں کہ:

228

آپﷺ کے بعد؟… کوئی نبی نہیں۔

اب برادران عزیز! میں درخواست کرتا ہوں قرآن مجید کی تفسیر قرآن مجید سے ہی کی جائے ’’اَلْقُرْاٰنُ یُفَسِّرُ بَعْضُہٗ بَعْضًا‘‘ چلیں میں اس بات پر بھی آ جاتا ہوں۔ قرآن مجید میں سات مقامات پر لفظ ’’ختم‘‘ اس مادہ کا استعمال ہوا۔قرآن مجید میں ختم کے مادہ کا سات مقامات پر استعمال ہوا:

۱… ’’خَتَمَ اللّٰہُ عَلٰی قُلُوْبِھِمْ‘‘ (البقرہ:۷) {مہر کردی اللہ نے ان کے دلوں پر۔}

۲… ’’خَتَمَ عَلٰی قُلُوْبِکُمْ‘‘ (الانعام:۴۶) {مہر کر دی تمہارے دلوں پر۔}

۳… ’’خَتَمَ عَلٰی سَمْعِہٖ وَ قَلْبِہٖ‘‘ (الجاثیہ:۲۳){مہر کر دی اس کے کان پر اور اس کے دل پر۔}

۴… ’’اَلْیَوْمُ نَخْتِمُ عَلٰی اَفْوَاھِھِمْ‘‘(یٰسین:۶۵){آج ہم مہر لگا دیں گے ان کے منہ پر۔}

۵… ’’فَاِنْ یَّشَاءِ اللّٰہُ یَخْتِمْ عَلٰی قَلْبِکَ‘‘(الشوریٰ:۲۴) {سو اگر اللہ چاہے مہر کر دے تیرے دل پر۔}

۶… ’’رَحِیْقٍ مَّخْتُوْمٌ‘‘(المطففین:۲۵){مہر لگی ہوئی۔}

۷… ’’خِتَامَہُ مِسْکٌ‘‘ (المطففین:۲۶){جس کی مہر جمتی ہے مشک پر۔}

ان ساتوں آیتوں کو آپ ایک جگہ رکھیں۔ پھر ان کا قدر مشترک ترجمہ تلاش کریں۔ایسا ترجمہ جو ساتوں مقامات پر موتیوں کی طرح فٹ آ جائے۔ انگشتری کے دانوں کی طرح فٹ آ جائے۔ نگینے کی طرح۔ میں درخواست کرتا ہوں سات مقامات کو سامنے رکھیں تو قدر مشترک ترجمہ یہ بنتا ہے کہ: کسی چیز کو ایسے طور پر بند کرنا کہ باہر سے کوئی چیز اس میں ڈالی نہ جا سکے۔ جو کچھ اس کے اندر ہے، باہر نکالی نہ جاسکے۔ وہاں پر لفظ ’’ختم‘‘ کا استعمال ہوتا ہے۔ اب آپ حضرات ساتوں مقامات پر اس ترجمے کو فٹ کر کے دیکھ لیں۔ ان شاء اللہ! کہیں اس کے خلاف نہیں ملے گا۔ شریفو! جیسے قرآن مجید نے کہا: ’’خَتَمَ اللّٰہُ عَلٰی قُلُوْبِھِمْ‘‘ کیا معنی کہ اللہ نے فلاں فلاں لوگوں (وہ متعین افراد ہیں سات آٹھ) کے

229

دلوں پر مہر کر دی۔

کیا معنی کفر ان کے دلوں سے باہر نہیں نکل سکتا اور باہر سے ایمان ان کے دلوں میں داخل نہیں ہوسکتا۔ اب آتے ہیں ’’خاتم النّبیین‘‘ کی طرف تو اس کا معنی یہ ہو گا کہ محمد عربیﷺ کی آمد پر حق تعالیٰ شانہ نے ایسے طور پر سلسلۂ نبوت پر بندش کر دی کہ آپ ﷺ کی تشریف آوری کے بعد سلسلۂ نبوت میں کسی نئے آدمی کو شامل نہیں کیا جا سکتا اور آپ ﷺ سے پہلے جو اس کے اندر داخل تھے، ان میں سے کسی کو باہر نہیں نکالا جا سکتا۔فھو المقصود!

غرض مجھے درخواست کرنا ہے کہ اس لفظ ’’خاتم النّبیین‘‘ میں لغت کے حوالے سے دیکھا جائے یا قرآنی تفسیر کے حوالے سے دیکھا جائے۔ یہ بات متعین ہے کہ حضور ﷺ آخری نبی ہیں اور پھر میرے ماں باپ قربان! آپ ﷺ نے تو یہ بھی ارشاد فرمایا:

’’اَنَا آخِرُ الْاَنْبِیَاءِ وَاَنْتُمْ آخِرُ الْاُمَمِ‘‘ (ابن ماجہ: ص۲۹۷)کہ لوگو! {نبیوں میں سے میں آخری نبی ہوں اور امتوں میں سے تم آخری امت ہو}

میرے بعد نبی کوئی نہیں، تمہارے بعد امت کوئی نہیں۔اور معاف رکھنا تھوڑا سا۔ اور توجہ کریں خدا کی قسم! حضور ﷺ کے احترام کے مارے لوگوں کی تو گردنیں جھکتی ہوں گی، میرا تو دل بھی جھک رہا ہے کہ آپ ﷺ نے اس موقع پر ایک لفظ اور ارشاد فرمایا:

’’اَنَا حَظُّکُمْ مِنَ الْاَنْبِیَاءِ وَاَنْتُمْ حَظِّیْ مِنَ الْاُمَمِ‘‘

{ نبیوں میں سے میں محمد ﷺ تمہارے حصے میں آیا ہوں اور امتوں میں سے تم میرے حصے میں آئے ہو۔}(الدر المنثور للسیوطی بحوالہ مسند احمد:ج۲، ص۴۸)

اب آپ ذرا انصاف تو فرمائیں کہ: جنہیں محمد عربیﷺجیسا نبی مل جائے، انہیں کسی اور نبوت کی ضرورت ہے؟ نبی بھی وہ جن کے متعلق

  1. چوں بشانش نگاہ موسیٰ کرد

    شدن ازا متش تمنا کرد

حضرت موسیٰ ں نے اپنی کتاب تورات میں شان پڑھی۔ اللہ کے حضور درخواست کی کہ مجھے بھی حضور سرور کائنات رحمۃ اللہ علیہ کا امتی بنا دے۔ میرے بھائیو! حضور ﷺ

230

نے بھی یہ ارشاد فرمایا:’’لَوْکَانَ مُوْسٰی حَیًّا مَا وَسِعَہُ اِلَّا اِتِّبَاعِیْ‘‘ (مشکوٰۃ، باب الاعتصام بالکتاب والسنۃ:۳۰)

{ کہ آج اگر موسیٰ ں روئے زمین پر زندہ ہوتے، انہیں بھی سوائے میری اتباع کے کوئی چارۂ کار نہ ہوتا۔}

حضرت عیسیٰ علیہ السلام نبی اور صحابی

میں دیکھتا ہوں ایک نبی ہیں وہ نبی بھی ہیں اور صحابی بھی۔ صحابی بھی ایسے کہ ابھی تک زندہ ہیں۔ صرف میں نے نہیں کہا۔ یہ ابن حجر ؒ اتنے بڑے آدمی نے لکھا۔

برادران ! اب توجہ کریں کہ جس وقت دنیا میں آئیں گے سیدنا مسیح علیہ السلام، میں نے ان کو صحابی اس لئے کہاکہ انہوں نے اسی دنیاوی زندگی کے ساتھ معراج کی رات حضور ﷺسے ملاقات کی تھی۔ اس وقت وہ نبی بھی ہیں اور حضور ﷺ کے صحابی بھی۔ اور یاد رکھو! جس وقت وہ تشریف لائیں گے، حضور ﷺ کی امت کا وہ حصہ جو ان کی زیارت کرے گا، اس کو تابعیت کا شرف بھی نصیب ہو گا۔ اس لئے کہ انہوں نے اسی دنیاوی زندگی کے ساتھ رحمت عالم ﷺ کو دیکھا۔ اسی دنیاوی زندگی کے ساتھ دوبارہ اسی دنیا کے اندر تشریف آوری ہو گی۔ اسی دنیاوی زندگی میں جو ان کو دیکھے گا، وہ تابعی ہو گا۔ان کے تابعی ہونے میں کوئی کلام نہیں۔

دجال کا فتنہ

برادران عزیز!میں درخواست کرتا ہوں آپ دوستوں کی خدمت میں۔ جانتے بھی ہو، تابعی کون ہے؟ فرمایا: رحمت عالم ﷺ نے کہ جس وقت دجال آئے گا کھانے کی تمام چیزوں پر اس کا قبضہ ہو جائے گا۔ مسلمان جوتی کے تسمے بھون کر کھانے پر مجبور ہو جائیں گے۔ دجال یہ، یہ فتنے لے کر آئے گا اور اس پر رحمت عالم ﷺ نے فرمایا: ’’اس کے زمانے میں ایمان بچانا اس طرح مشکل ہو گا:

’’کَالْقَابِضِ عَلَی الْجَمْرِ‘‘

(مشکوٰۃ، باب تغیر الناس الفصل الثانی: ۴۵۹)

جس طرح دھکتی آگ کا انگارہ پکڑنا مشکل ہے۔ دجال کے زمانے میں ایمان

231

بچانا بھی اسی طرح مشکل ہو جائے گا۔ فرمایا رحمت عالم ﷺ نے کہ: اس زمانے میں جو لوگ ایمان اور اسلام پر پکے ہوں گے، میں (محمدa) ان بھائیوں کو سلام کہتا ہوں۔‘‘

صحابہ کرامؓ نے عرض کی: یا رسول اللہ ﷺ! کیا ہم آپ کے بھائی نہیں؟ حضور ﷺ نے فرمایا: ’’صحابہ! تم نے قرآن اترتے اپنی آنکھوں سے دیکھا۔‘‘

⚛… میں نے پانی کے پیالے میں پانچوں انگلیوں کو رکھا

⚛… اللہ نے پانچوں انگلیوں سے پانی جاری کر دیا

⚛… میں نے پانچ آدمیوں کے کھانے پر ہاتھ رکھا

⚛… پندرہ سو کو اللہ نے کھانا پورا کر دیا

⚛… کڑوے کنویں میں کلی کا پانی ڈالا

⚛… پورے کنویں کو اللہ نے میٹھا کر دیا

⚛… ٹوٹی ہوئی ہڈی والا آیا، میں نے اس پر ہاتھ پھیرا

⚛… اللہ نے اس کی ہڈی کو صحیح سلامت کر دیا

⚛… سانپ کی زہر والا آیا

⚛… ہاتھ لگا نبوت کا، اللہ نے اسے شفا دی

⚛… آنکھ کے درد والوں پر پھیری انگلی محمد عربیﷺ کی

⚛… اللہ نے آنکھ کا درد ٹھیک کر دیا

⚛… تم نے میرے یہ معجزات دیکھے

⚛… تم نے چاند کے ٹکڑے ہوتے دیکھے

⚛… اشارہ کیا تو درخت زمین چیر کے نبوت کی خدمت میں آئے

تم نے یہ سب کچھ دیکھا۔ تم مجھے نہ مانتے تو کون مانتا؟ تم میرے بھائی، میرے ساتھی۔ لیکن میرے بھائی تو وہ ہیں۔

⚛… جنہوں نے مجھے نہیں دیکھا ہو گا

⚛… جنہوں نے قرآن کو اپنی آنکھوں سے اترتے نہیں دیکھا

⚛… جنہوں نے میرے ساتھ وقت نہیں گزارا

232

⚛… جنہوں نے ان معجزات کو نہیں دیکھا

⚛… جنہوں نے نبوت کی برکات کو بچشم خود نظارہ نہیں کیا

اتنا بڑا حزب اختلاف نبوت کا دجال، کہ قدم قدم پر مسلمانوں کے لئے مشکلات کے پہاڑ کھڑے کئے ہوئے ہوں گے۔ ان حالات میں جو لوگ اپنے ایمان اور اسلام پر قائم رہیں گے، میں تو اپنے ان بھائیوں کو سلام پیش کرتا ہوں۔

نزول مسیح علیہ السلام اور ظہور امام مہدی علیہ الرضوان

اب آپ توجہ کریں قبلہ! جو میں نے آپ سے درخواست کرنی ہے۔ فرمایا: اس زمین پر موسیٰ ں زندہ ہوتے تو انہیں سوائے میری اتباع کے، کوئی چارئہ کار نہ ہوتا۔ ہم دیکھتے ہیں کہ اسی روئے زمین پر ایک نبی سیدنا مسیح ں آئیں گے۔ اسی زندگی کے ساتھ۔ تین قسم کے الفاظ آتے ہیں۔ بخاری شریف میں روایت ہے کہ:

’’کَیْفَ اَنْتُمْ اِذَا نَزَلَ اِبْنُ مَرْیَمَ فِیْکُمْ وَاِمَا مُکُمْ مِنْکُمْ‘‘ {مسیح تمہارے اندر نازل ہوں گے اور تمہارا امام تم میں سے ہو گا۔} (بخاری ج۱، ص۴۹۰)

’’وَاِمَامُکُمْ‘‘ سے مراد سیدنا امام مہدی علیہ الرضوا ن ہیں جو طبقہ یہ کہتا ہے کہ حضرت مہدی علیہ الرضوان کے متعلق روایات ضعیف ہیں یا کہتے ہیں بخاری و مسلم میں حضرت مہدی علیہ الرضوان کے متعلق روایات نہیں۔ میں ان سے کہتا ہوں غلط بیانی کرتے ہو۔ ’’وامامکم‘‘ سے کون مراد ہیں؟

برادران! تین قسم کے الفاظ ہیں ’’اِذَا نَزَلَ اِبْنُ مَرْیَمَ فِیْکُمْ‘‘ یہ ابن مریم کے متعلق ہے۔ ’’وَاِمَامُکُمْ مِنْکُمْ‘‘ سے مراد امام مہدی علیہ الرضوان ہیں اور یہ بخاری کی روایت ہے۔ تحقیق کے نام پر جھوٹ بولتا ہے وہ آدمی جو یہ کہتا ہے کہ حضرت مہدی علیہ الرضوان کا بخاری میں ذکر نہیں۔ غلط بیانی کرتا ہے وہ قادیانی جو کہتا ہے کہ سیدنا مہدی علیہ الرضوان کا مسلم میں تذکرہ نہیں۔ مسلم شریف کے الفاظ یہ ہیں کہ:

’’فَیَقُوْلُ اَمِیْرُھُمْ تَعَالْ فَصَلِّ لِنَا‘‘ (مشکوٰہ، باب نزول عیسیں: ۴۸۰)

کہ جس وقت حضرت مسیحں آئیں گے، اس وقت جو مسلمانوں کے امیر

233

ہوں گے وہ کہیں گے حضرت تشریف لائیں،نماز پڑھائیں۔

اس سے ثابت ہوا کہ حضرت امام مہدی علیہ الرضوان کا مسلم شریف کے اندر بھی تذکرہ ہے۔ ابوداؤد میں تو صراحت ہے کہ:

’’یُوَاطِیُٔ اِسْمُہٗ اِسْمِیْ وَاِسْمُ اَبِیْہٖ اِسْمُ اَبِیْ‘‘ (ابی داؤد، باب فی ذکر المہدی:۲:ص۲۳۲)

{اس کا نام میرے ہم نام اور اس کے والد کا نام میرے والد کے ہم نام ہوگا }

مشکوۃ میں ہے کہ: ’مِنْ اَوْلَادِ فَاطِمَۃٍ‘‘ (مشکوٰۃ، باب اشراط الساعۃ:۴۷۹)

{ سیدنا امام مہدی علیہ الرضوان، فاطمہؓ کی اولاد میں سے ہوں گے۔}

ابن ماجہ کے اندر تو مستقل باب ہے۔ میرا مؤقف یہ ہے کہ مشکوۃ شریف سے لے کر بخاری شریف تک کوئی حدیث کی ایسی قابل ذکر کتاب نہیں، جس میں سیدنا مہدی علیہ الرضوان کا تذکرہ نہ ہو۔ خیر مجھے جو درخواست کرنی ہے، وہ یہ کہ مہدی علیہ الرضوان مصلیٰ پر کھڑے ہیں۔ اسی حالت میں سیدنا مسیح علیہ السلام آئیں گے۔ سیدنا مہدی علیہ الرضوان مصلیٰ چھوڑ کر سیدنا مسیح علیہ السلام سے درخواست کریں گے: حضرت! تشریف لائیں، نماز پڑھائیں۔ حدیث شریف میں ہے کہ حضرت مسیح علیہ السلام آگے بڑھ کر سیدنا مہدی علیہ الرضوان کے دونوں کندھوں پر ہاتھ رکھ کر انہیں اس طرح پکڑ کر (ہاتھوں کا اشارہ کر کے فرمایا) اس طرح مصلیٰ پر کھڑا کریں گے اور ارشاد فرمائیں گے حضرت مسیح علیہ السلام مہدی علیہ الرضوان سے کہ آپ نماز پڑھائیں، میںآپ کے پیچھے نماز پڑھنا چاہتا ہوں۔ اس لئے کہ اقامت آپ کے لئے کہی گئی۔

’’یَنْزِلُ فِیْکُمْ‘‘ حضرت امام بخاری نے یہ الفاظ استعمال کئے۔ حضرت امام مسلم نے ’’تَعَالْ فَصَلِّ لِنَا‘‘ کے الفاظ استعمال کئے۔ سیدنا مسیح علیہ السلام کے متعلق یہ الفاظ آئے ’’فَاِنَّھَالَکِ اُقِیمَتْ‘‘ آپ کے لئے اقامت پڑھی گئی ہے۔ چوتھے یہ الفاظ ہیں کہ ’’تَکْرِمَۃَ اللّٰہِ لِھٰذِہٖ الْاُمَّۃِ‘‘ اس امت کے اعزاز کی خاطر۔ کیا معنی کہ مہدی علیہ الرضوان آپ نماز پڑھائیں، میں آپ کے پیچھے نماز پڑھنا چاہتا ہوں، تاکہ دنیا دیکھ لے کہ مسیح علیہ السلام اپنی شریعت چلانے کے لئے نہیں آیا۔ بلکہ محمد عربیﷺ کے دین کی غلامی کرنے کے لئے

234

آئے ہیں۔

برادران اسلام! وہاں تھا اگر موسیٰ ں اس روئے زمین پر زندہ ہوتے، انہیں سوائے میری اتباع کے کوئی چارئہ کار نہ ہوتا۔ یہ زمین پر زندہ ہوتے۔ یہ لفظ بول کر میں نے ایک اشکال کا جواب دیا ہے۔ خدا کرے وہ اشکال بھی آپ کے ذہن میں ہو۔ جس طرف میں نے اشارہ کیا۔ اس کو بھی سمجھ جائیں اور اگر نہیں سمجھے تو پھر میں نہیں، خدا سمجھائے۔

ایک اشکال اور اس کاجواب

برادران توجہ کریں! مجھے درخواست یہ کرنی ہے کہ میں اتنی لمبی گفتگو کر کے آپ کو اس نقطے پر لانا چاہتا ہوں کہ سیدنا مسیح علیہ السلام، یہ نہیں کہ وہ حضور ﷺ کے بعد آپ کی امت میںکوئی مصلح یا نبی بنے ہوں۔ بات سمجھے ہو؟ حضور سرور کائنات رحمۃ اللہ علیہ کی امت سے کوئی نبی نہیں بنا۔ ہاں! ایک نبی حضور ﷺ کی امت میں شامل ہو رہا ہے۔ ان دونوں باتوں میں زمین و آسمان کا فرق ہے۔ محمد عربیﷺ کے بعد اگر کوئی شخص سلسلۂ نبوت میں داخل کیا جاتا تو یہ خاتمیت کے منافی تھا۔ وہ تو پہلے سے شامل ہیں، جنہیں اس سے خارج نہیں کیا جا سکتا۔ اب یہاں پر اشکال باقی رہ جائے گا، حدیث شریف میں آتا ہے: فرمایا رحمت عالم ﷺ نے کہ قیامت کے دن ہر نبی کے ساتھ اس کی امت ہو گی۔ ہر نبی کے ہاتھ میں جھنڈا ہو گا، اس کی امت اس کے جھنڈے کے نیچے ہو گی۔ نبی اپنی امت کو اپنے جھنڈے کے نیچے لے جا کر حساب وکتاب پیش کریں گے۔

(ترمذی، ابواب المناقب عن رسول ﷺ:۲،ص۲۰۲)

برادران! حضور ﷺ فرماتے ہیں کل انسانیت کی اتنی صفیں ہوں گی۔ ان صفوں میں حضور ﷺ کی امت کی صفوں کی یہ تعداد ہو گی۔ حضور ﷺ فرماتے ہیں کہ: ’’ہر نبی کے پاس جھنڈا ہو گا۔ مجھے اللہ تعالیٰ لواء الحمد دیں گے۔‘‘

(مشکوٰۃ،فضائل سید المرسلینa:۵۱۳)

ہر نبی کے پاس جھنڈا ہو گا۔ تمام جھنڈوں سے بلند و بالا جھنڈا محمد عربیﷺ کا ہوگا(سبحان اللہ!)

یہاں پر ایک اشکال پیدا ہو گا اور وہ اشکال سیدنا مسیح علیہ السلام کے متعلق ہے۔ اس حدیث کی روشنی میں دیکھا جائے تو وہی دین برحق تھا اس زمانے میں۔ وہ مسیحی جو صحیح معنوں

235

میں مسیحی تھے۔ اس حدیث کی رو سے اس کا تقاضا یہ ہے کہ قیامت کے دن مسیحں کے ہاتھ میں جھنڈا ہو۔ وہ آپ ﷺ کے جھنڈے کے نیچے کھڑے ہو کر حساب وکتاب پیش کریں۔ اگر مسیح علیہ السلام کے انتقال اور وصال کو دیکھا جائے تو وہ مدینہ طیبہ میں فوت ہوںگے۔ اس حالت میں فوت ہوں گے کہ محمد عربیﷺ کے دین کے منادی اور مبلغ تھے۔ اس کا تقاضا یہ ہے کہ محمد عربیﷺ کے جھنڈے کے نیچے کھڑے ہو کر اپنا حساب وکتاب پیش کریں۔ اگر ان کی زندگی کے آخری حصے کو دیکھا جائے۔ اس حدیث کا اعتبار کیا جائے تو حضور ﷺ کے جھنڈے کے نیچے کھڑے ہوں گے۔ اگر حضور ﷺ کے جھنڈے تلے کھڑے ہوں گے تو اس زمانے کے مسیحی حضرات ان کے حساب وکتاب کا کیا بنے گا؟ ہر نبی اپنی امت کو لے کر اپنے جھنڈے کے زیر سایہ اپنی امت کا حساب و کتاب کرائے گا۔ تو ان پہلے مسیحی حضرات کا حساب کون کرائے گا؟

میرے بھائیو! ذرا توجہ کرو۔ میں عقل کے گھوڑے نہیں دوڑا رہا۔ میں منقولات کی پابندی کر رہا ہوں۔قیامت کے دن ہر آدمی کا ایک دفعہ حساب ہو گا۔ رہے مسیح علیہ السلام۔ علامہ شعرانی ؒ کی ’’الیواقیت و الجواہر‘‘ میں صراحت کے ساتھ یہ عبارت موجود ہے کہ :

’’فَلَہُ حَشْرَانِ‘‘ {ان کا دو دفعہ حساب ہو گا۔}

ایک دفعہ اپنے ہاتھوں میں جھنڈا لے کے اپنی امت کا حساب کرائیں گے۔ دوسری دفعہ حضور ﷺ کے جھنڈے کے نیچے کھڑے ہو کر اپنا حساب وکتاب پیش کریں گے۔ میں نے کتاب کا حوالہ بھی ساتھ ہی ساتھ عرض کر دیا۔

ختم نبوت کا عقیدہ اجماعی عقیدہ ہے

برادران عزیز! مجھے درخواست اب آپ دوستوں کے سامنے یہ کرنی ہے کہ قرآن مجید کی اس نص قطعی نے یہ بات متعین کر دی کہ محمد عربیﷺ اللہ کے آخری نبی و رسول ہیں۔ قبلہ ! اگر:

⚛… حضور ﷺ آخری نبی ہیں تو پھر یہ شریعت آخری شریعت ہے

⚛… حضور ﷺ آخری نبی ہیں تو پھر قرآن اللہکی آخری کتاب ہے

236

میرے بھائیو! ۱۴سو سال سے آپ ﷺ کی امت کا اجماع اس بات پر دال ہے۔ یہ میں نہیں کہتا بلکہ جس ادارے میں آپ جمع ہیں، ہمارے اس خطے میں کم از کم سب سے زیادہ اللہ نے اس ادارے کو توفیق دی، سیدنا امام ابو حنیفہ ؒ کے مقام اور آپ کے احترام کو بلند و بالا کرنے کی۔ آپ لوگ اس کے مناد ہیں۔ میں اپنی گفتگو میں بطور شہادت کے پیش کرتا ہوں حضرت امام ابو حنیفہ ؒ کے اس قول کوجو ’’شرح فقہ اکبر‘‘ کے اندر موجود ہے کہ:

’’ اِنَّ دَعْوَی النَّبُوَّۃِ بَعْدَ نَبِیِّنَا ﷺ کُفْرٌ بِالْاِجْمَاعِ‘‘{کہ حضور ﷺ کے بعد مدعی نبوت بالاجماع کافر ہے۔}

(شرح فقہ اکبر: ۲۰۲)

اور میں درخواست کرتا ہوں، مسیلمہ کذاب سے لے کر مسیلمہ قادیان تک ۱۴۰۰ سال سے اسلام کی تاریخ گواہ ہے اس بات کی کہ آج تک کبھی بھی کسی جھوٹے مدعی نبوت کے متعلق امت نے ایک منٹ ضائع نہیں کیا۔ ایک منٹ کی تاخیر کئے بغیر امت نے کہا: حضور ﷺ کے بعد جو نبوت کا دعویٰ کرے، اس کا اسلام اور اہل اسلام سے کوئی تعلق نہیں۔ یہ سیدنا صدیق اکبرؓ سے لے کر مولانا عبدالمجید لدھیانوی ؒ تک چودہ سو سال کی پوری امت کا، جس میں ایک بھی قابل ذکر آدمی کا استثناء نہیں۔ پوری امت کا یہ اجماعی عقیدہ ہے کہ آپ ﷺ کے بعد جو دعویٰ نبوت کرے، وہ مسلمان نہیں ہے۔ اس پر بھی واقعات بیان کرنے کی ضرورت نہیں کہ فلاں نے کیا، فلاں نے کیا۔ اس پر میں آپ دوستوں کا وقت نہیں لیتا، میں نے صرف اشارہ کیا ہے، اگر آپ لوگ جاگ رہے ہو تو۔

جھوٹے مدعی نبوت کے بارے میں استخارہ جائز نہیں

برادران اسلام! ’’الخیرات الحسان‘‘ جو مناقب سیدنا امام ابو حنیفہ ؒ پر لکھی گئی کتاب ہے۔ اس کے اندر ہے کہ ایک شخص نے نبوت کا دعویٰ کیا اور وہ لوگوں کو یہ کہتا تھا کہ: اگر مجھے نبی نہیں مانتے، چلو نہ مانو۔ کم از کم استخارہ تو کر لو۔

شریفو! حضور ﷺ کے بعد جو نبوت کا دعویٰ کرے، دوسرا اس کے متعلق استخارہ کرے۔ نہیں! استخارہ کا دل کے اندر نیت کا خیال لائے تو خیال لانے والا شخص بھی دائرہ

237

اسلام سے خارج ہو جائے گا۔ ارادہ کرنے والا بھی۔ آپ کہیں گے: کیوں؟ شریفو! استخارہ اس کام میں کیا جاتا ہے جس کے کرنے، نہ کرنے کے دونوں پہلو برابر ہوں۔ جو چیزیں متعین ہیں، اس میں استخارے کی گنجائش نہیں۔

⚛… ماں میرے اوپر حلال ہے یا حرام۔ کوئی کرے استخارہ تو کافر

⚛… شراب حلال ہے یا حرام کرے کوئی استخارہ کا ارادہ تو کافر

عاقل، بالغ، صحت مند آدمی مسلمان کہے: میں استخارہ کروں کہ نماز میرے اوپر فرض ہے یا نہیں؟ مسلمان رہے گا؟ کوئی استخارہ نہیں اس میں۔ استخارہ تو اس کام میں ہوتا ہے جس کے کرنے، نہ کرنے کے دونوں پہلو برابر ہوں۔ میں نے مکان بنانا ہے۔ دروازہ اس طرف رکھوں یا اس طرف۔ دونوں طرف کی اجازت ہے۔ خیر اور برکت کس میں ہو گی؟ ارادہ کر لوں دو رشتے آئے ہیں برابر۔ ادھر کرلے، تب بھی جائز۔ ادھر کرلو، تب بھی جائز۔ استخارہ کر لو کہاں کرنا چاہئے۔ لیکن ایسا امر جس کے اندر متعین ہو حرام و حلال ہونا، اس میں استخارے کی گنجائش نہیں۔ حضور سرور کائنات رحمۃ اللہ علیہ کے بعد کوئی شخص کرے نبوت کا دعویٰ اور کہے کہ نہیں مانتے نہ مانو۔ میرے متعلق استخارہ کر لو۔ تو جھوٹے مدعی نبوت کے متعلق استخارہ کا ارادہ کرنے والا بھی مسلمان نہیں رہے گا۔

جھوٹے مدعی نبوت سے دلیل کا مطالبہ بھی کفر

قبلہ! اس سے اور آگے ہے کہ::’’مَنْ طَلَبَ مِنْہُ عَلَامَۃً فَقَدْکَفَرْ‘‘

(الخیرات الحسان:ص۱۱۹، بحوالہ عقود الجمان:ص۲۷۶)

ایک شخص کرے نبوت کا دعویٰ۔ دوسرا اسے کہے: اچھا! تمہارے نبی ہونے کی دلیل کیا ہے؟ جھوٹے مدعی نبوت سے اس کے دعویٰ نبوت کی دلیل طلب کرنے والا بھی کافر ہو جائے گا۔

بہت ثقیل مثال دے رہا ہوں۔ لیکن محض سمجھانے کے لئے۔ مجھے میرے والد کے علاوہ کوئی دوسرا شخص کہے کہ: میں تمہارا والد ہوں۔ میں اس پر دلیل طلب کروں گا یا دانت اس کے کھٹے کروں گا؟ جس طرح مجھے اپنی والدہ کے متعلق ان کی پاکدامنی پر اتنا

238

اعتماد ہے کہ میں تصور ہی نہیں کر سکتا کہ والد کے علاوہ بھی کوئی اور ہو سکتا ہے۔ چانس ہی نہیں میرے نزدیک۔ تو برادران!

⚛… ساری کائنات

⚛… سارے رشتے

⚛… آل اولاد

⚛… جان و مال

⚛… عزت و آبرو

سب کچھ قربان رحمت عالم ﷺ کے نعلین مبارک پر۔ اس سے کروڑ گنا زیادہ یہ امر مستحق ہے اس بات کا کہ آپ ﷺ کے بعد کوئی کرے نبوت کا دعویٰ اور دوسرا کہے: ’’چانس‘‘۔ کہو کہ کوئی چانس نہیں۔ یہ معنی ہے:’’مَنْ طَلَبَ مِنْہُ عَلَامَۃً فَقَدْکَفَرْ‘‘

ختم نبوت صرف آپ ﷺ کی خصوصیت

برادران! اس وقت تک میں آپ دوستوں کو چلا کے، آپ کی انگلی پکڑ کے یہاں تک لے آیا ہوں کہ آپ ﷺ آخری نبی ہیں۔ ہم نے اپنے حضرات سے ہی پڑھا ہے، میاں آپ دوست بھی کہتے ہیں کہ خصوصیت اس کو کہتے ہیں:

’’مَایُوْجَدُ فِیْہٖ وَلَایُوْجَدُ فِیْ غَیْرِہٖ‘‘{خصوصیت وہ کہ صرف اسی میں پائی جائے، کسی اور میں نہ پائی جائے۔}

’’خاتم النّبیین‘‘ ہونا محمد عربیﷺ کا یہ وہ اعزاز ہے، یہ وہ آپ ﷺ کی خصوصیت ہے کہ ایک لاکھ چوبیس ہزار نبیوں میں سے کوئی نبی اس خصوصیت میں محمد عربیﷺ کا شریک نہیں۔

میں ایک بات اور عرض کرتا ہوں۔ سیدنا آدم ں سے لے کر قیامت کی صبح تک پوری انسانیت میں حتیٰ کہ ذوی العقول مخلوق میں جو تین ہیں:

۱… فرشتے ۲… انسان ۳… جن

ان ذوی العقول مخلوق میں سے واحد ذات ہے محمد عربیﷺ کی، جن کے سر پر

239

اللہ نے ختم نبوت کا تاج رکھا۔ یہ وہ آپ ﷺ کا امتیازی وصف ہے کہ پوری کائنات میں آپ ﷺ کا کوئی شریک نہیں اس بات میں۔ بھائیو! مجھے اجازت دیں کہ میں اس کی تعبیر یوں کروں کہ:

⚛… میرا اللہ اپنی توحید میں وحدہ لا شریک ہے

⚛… محمد عربیﷺ اپنی نبوت میں وحدہ لا شریک ہیں

⚛… شریک خدا کا بھی کوئی نہیں

⚛… مثال حضور ﷺ کی بھی کوئی نہیں

ختم نبوت کے محافظ کا مقام ومرتبہ

اور سنو! ختم نبوت کا تحفظ کرنا براہ راست محمد عربیﷺ کی عزت و ناموس کا تحفظ کرنے کے مترادف ہے۔ یہ آپ ﷺ کا تاج، یہ آپ ﷺ کا اعزاز ہے۔جو اس کا انکار کرتا ہے ۔

⚛… وہ حضور ﷺ کی خصوصیت کو ضائع کرنا چاہتا ہے

⚛… وہ محمد عربیﷺ کی دستار فضیلت کو تار تار کرنا چاہتا ہے

جو آپ ﷺ کے بعد نبوت کا دعویٰ کرتا ہے: وہ دراصل حضور ﷺکی دستار ختم نبوت اتارنے کے چکر میں ہے اور جو ختم نبوت کا تحفظ کرتا ہے، وہ براہ راست حضور ﷺ کی عزت کا تحفظ کرتا ہے۔

خدا کرے میری یہ بات آپ دوستوں کو سمجھ آ جائے

⚛… نماز فرض ہے

⚛… روزہ فرض ہے

⚛… حج فرض ہے

⚛… زکوٰۃ فرض ہے

یہ سب فرائض ہیں۔ ان کو مانے بغیر ایمان مکمل نہیں۔ ایمان کے لئے ماننا ضروری۔ نجات کے لئے عمل ضروری۔ ہیں تو یہ سب فرائض۔ لیکن مت بھولیں اس بات کو

240

کہ ان فرائض کا تعلق حضور ﷺکے اعمال کے ساتھ ہے۔

⚛… آپ ﷺ نے نمازیوں پڑھی

⚛… آپ ﷺ نے قیام یوں کیا

⚛… آپ ﷺ نے رکوع یوں کیا

⚛… آپ ﷺ نے قومہ یوں کیا

⚛… آپ ﷺ نے سجدہ یوں کیا

⚛… آپ ﷺ نے قعدہ یوں کیا

⚛… آپ ﷺ نے سلام یوں پھیر

⚛… آپ ﷺ نے ابتداء یوں کی

⚛… آپ ﷺ نے انتہاء یوں کی

آپ نے روزہ رکھا، آپ نے جہاد کیا۔ یہ سب فرائض ہیں۔ لیکن ان کا تعلق حضور ﷺ کے اعمال کے ساتھ ہے۔ ختم نبوت وہ فریضہ ہے جس کا تعلق محمد عربیﷺ کی ذات کے ساتھ ہے۔ آپ کے اعمال کے ساتھ نہیں۔ اگر آپ کا ذھن، مجھ مسکین کی معروضات کا ساتھ دے تو پھر میں آپ کو امام بخاری ؒ کے دروازے پر لے چلتا ہوں۔ یہ معنی ہے:’’لَایُوْمِنُ اَحَدُ کُمْ حَتٰی اَکُوْنَ اَحَبَّ اِلَیْہٖ مِنْ وَّالِدِہٖ وَ وَلَدِہٖ وَالنَّاسِ اَجْمَعِیْنَ‘‘کا۔ (بخاری، باب حب الرسول ﷺ:ج۱، ص۷)

یہ آپ ﷺ کا وہ اعزاز ہے کہ اس پر کوئی سمجھوتہ نہیں۔ ادھر کسی نے نبوت کا دعویٰ کیا نہیں، ادھر امام ابوحنیفہ ؒ جیسے امام کا فتویٰ آیا نہیں۔

مقام ابی حنیفہ رحمۃ اللہ علیہ

امام ابوحنیفہ ؒ فتویٰ کے بارہ میں بہت زیادہ محتاط تھے۔ ایک آدمی نے کہا کہ:حضرت! ایک آدمی کو میں نے دیکھا، بغیر ذبح کئے گوشت کھاتا ہے۔ فرمایا: مچھلی کا گوشت کھاتا ہو گا؟ اسے ذبح کرنے کی ضرورت نہیں۔حضرت! وہ ایسا شریف آدمی ہے نماز میں رکوع اور سجدہ نہیں کرتا۔ فرمایا: تم نے جنازے میں دیکھا ہو گا، اس میں رکوع اور

241

سجدہ نہیں۔حضرت! وہ کہتا ہے یہودی بھی سچے، نصاریٰ بھی،فرمایا: وہ قرآن کی اس آیت کے تحت کہتا ہوگا کہ سچے ہیں،’’وَقَالَتِ الْیَہُودُ لَیْْسَتِ النَّصَارٰی عَلَیَ شَیْْئٍ وَقَالَتِ النَّصَارٰی لَیْْسَتِ الْیَہُودُ عَلَی شَیْْئٍ‘‘

(البقرہ: ۱۱۳)

نصاریٰ کہتے ہیں کہ یہودی غلط اور یہودی کہتے ہیں کہ نصاریٰ غلط۔وہ شخص دلائل پیش کرتا گیا کہ اس آدمی پر امام صاحب کے فتویٰ کی مہر لگے۔ امام صاحب آخری وقت تک اس کو بچاتے گئے کہ کسی طرح اس پر فتویٰ نہ لگے۔ امت سے اس کو خارج نہ کیا جائے۔

برادران اسلام! یہی امام ابو حنیفہ ؒ جب ان کے پاس حضور ﷺ کے بعد کسی مدعی نبوت کے دعویٰ نبوت کا کیس آتا ہے۔ وہ فرماتے ہیں کہ: اس کے دعویٰ نبوت کے متعلق ماننا تو درکنار، اس کے متعلق یہ ارادہ کرنا، اس سے دلیل طلب کرنا کہ تم اگر مدعی نبوت ہو تو تمہارے نبی ہونے کی دلیل کیا ہے؟ فرمایا: اس مدعی نبوت سے دعویٰ نبوت کی دلیل طلب کرنے والا بھی کافر ہو جائے گا۔

مجھے خوشی ہے کہ آج میں ’’امام ابوحنیفہ ؒ‘‘ اکیڈمی میں بیٹھے ہوئے یہ بات آپ سے عرض کر رہا ہو ں۔ مجھے خوشی ہے اس امر کی کہ میری ان تمام تر معروضات کا تعلق الحمد ﷲ! سند قوی سے ہے۔ امام ابوحنیفہ ؒ کا دامن میرے ہاتھ میں ہے۔ مجھے اجازت دو، میرے لئے دعا بھی کرو کہ حالات اجازت دیں مریخ پر کھڑے ہو کر میں چیخ چیخ کر پوری امت کو متوجہ کر سکوں ا س امر کی طرف کہ رحمت عالم ﷺ کی عزت و ناموس کے مسئلے پر، ختم نبوت کے مسئلے پر کوئی سمجھوتہ نہیں۔ آپ بھی کہہ دیں کہ کوئی سمجھوتہ نہیں۔

دورصدیق اکبرؓ میں شہداء ختم نبوت کی تعداد

شریفو! جاگتے بھی ہو؟ میں اس پر کون سا شدت کے ساتھ مؤقف اختیار کررہا ہوں؟۔ اگر ایک طرف میرا ہاتھ حضرت امام ابوحنیفہ ؒ کے قدموں پر ہے تو الحمدللہ! دوسرا میرا ہاتھ سیدنا صدیق اکبرؓ کے دامن کے ساتھ وابستہ ہے۔

آپ کے زمانہ میں جھوٹے مدعی نبوت مسیلمہ کذاب نے جھوٹی نبوت کا دعویٰ

242

کیا۔ ۲۳ سالہ دور نبوت میں اسلام کی خاطر جتنی جنگیں لڑی گئیں:

⚛… غزوہ بدر ہوا

⚛… غزوہ احد ہوا

⚛… غزوہ خیبر ہوا

⚛… غزوہ حنین ہوا

⚛… فتح مکہ ہوا

⚛… غزوہ موتہ ہوا

⚛… غزوہ احزاب ہوا

⚛… غزوہ تبوک ہوا

علامہ قاضی سلمان منصور پوری ؒ نے ’’رحمتہ اللعالمین‘‘ میں لکھا ہے کہ ۲۳ سالہ دور نبوت میں پورے اسلام کے تحفظ اور بقاء کے لئے جو جنگیں لڑی گئیں۔ ان جنگوں میں شہید ہونے والے صحابہ کرامؓ کی تعداد ۲۵۹ ہے۔

پہلی ختم نبوت کی جنگ جو صدیق اکبرؓ کے زمانے میں سیدنا شرحبیلؓ، سیدنا عکرمہؓ اور سیدنا خالد بن ولیدؓنے لڑی۔ میں نے تین جرنیلوں کا ذکر اس لئے کیا کہ یکے بعد دیگرے تین دفعہ حضرت صدیق اکبرؓ کو فوج بھیجنی پڑی، جو مسیلمہ کذاب کے مقابلے میں اتری۔ جانتے بھی ہو کئی ہزار مسلح آدمیوں کو وہ لے کر میدان میں آیا تھا۔ اس پہلی ختم نبوت کی جنگ میں جو صحابہ کرامؓاور تابعینc شہید ہوئے۔ ان کی تعداد۱۲۰۰؍ سے بھی زیادہ ہے۔ جن میں بدری صحابہؓ بھی تھے۔ جن میں ۷۰۰ حافظ و قاری بھی تھے۔ حافظ بھی وہ جنہوں نے حضور ﷺ کی خدمت میں قرآن حفظ کیا تھا۔ وہ اس امت میں سید الطائفہ کا درجہ رکھنے والے حضرات۔ ۲۳ سالہ دور نبوت میں اسلام کا تحفظ اور بقاء کے لئے جو جنگیں لڑی گئیں، ان میں ۲۵۹صحابہ کرامؓ شہید ہوئے۔ پہلی ختم نبوت کی جنگ میں ۱۲۰۰؍ صحابہ کرامؓاور تابعینc شہید ہوئے۔ جیسا کہ:

⚛… تاریخ الکامل میں صراحت ہے

⚛… تاریخ طبری میں صراحت ہے

243

⚛… تاریخ ابن جریر میں صراحت ہے

میرا مؤقف یہ ہے کہ پورے دین کے تحفظ اور بقاء کے لئے صحابہ کرامؓ کو دور نبوت میں اتنی قربانی نہیں دینی پڑی، جتنی ختم نبوت کے مسئلے کے لئے صحابہ کرامؓ نے قربانی دی۔

اب میرے خیال میں ہم اس موڑ پرپہنچے ہیں کہ حضور ﷺ آخری نبی، آپ ﷺ کے بعد جو نبوت کا دعویٰ کرے، وہ مسلمان نہیں۔ آپ ﷺ کے بعد جن لوگوں نے نبوت کا دعویٰ کیا، ان کا اسلام، اہل اسلام کے ساتھ کوئی تعلق نہیں۔ جھوٹے مدعی نبوت پر غور و فکر کرنے کے لئے کوئی چانس نہیں۔ پوری امت کا اس مسئلہ پر اجماع کہ آپ ﷺ آخری نبی ہیں۔ اس مسئلہ کی خاطر پوری امت میں صحابہ کرامؓ نے سب سے زیادہ خدمات سرانجام دی ہیں۔ سب سے زیادہ قربانی دی۔ یہ وہ مسئلہ ہے جو تمام فرائض میں سب سے زیادہ مقدم ہے۔ اس لئے کہ اس مسئلہ کا براہ راست محمد عربیﷺ کی ذات اقدس کے ساتھ تعلق ہے۔ یہ ۱۰۰ فیصد محمد عربیﷺ کا ذاتی وصف ہے۔ آپ ﷺ کا جو امتیازی وصف ہے، آپ ﷺ کی یہ خصوصیت مبارک ہے کہ براہ راست نبوت کے ساتھ یہ مسئلہ تعلق رکھتا ہے۔

قادیانیوں کے ساتھ تعلق رکھنے والا مسلمان نہیں

برادران! ایک جگہ میں بیان کرنے کے لئے گیا۔ ایک دوست مجھے ملے۔ انہوں نے کہا کہ مولانا مبارک ہو! ماشاء اللہ آپ تشریف لے آئے۔ لیکن ایک بات میرے دل کے اندر ہے۔ آپ ہمارے بہت قابل احترام ہیں۔ لیکن میں آپ سے درخواست کرتا ہوں کہ جوڑ کی بات ہونی چاہئے توڑ کی نہیں۔ میں نے اس کی طرف دیکھا اور کہا حضرت! آپ کا ایمان بھی جاتا رہا اور نکاح بھی جاتا رہا۔ کہنے لگا کیا؟ میں نے کہا’’کیا‘‘ نہیں!۔ بیگم کو کہو، وہ آ جائیں۔ ان کی موجودگی میں، میں آ پ کو کلمہ پڑھا دوں۔ نکاح بھی کر دوں۔ کہتا ہے: ’’جی کیا مطلب؟‘‘ میں نے کہا: جس آدمی نے کہا جوڑ کی بات ہونی چاہئے توڑ کی نہیں۔ جس نقطہ نظر سے انہوں نے کہا اتنی میٹھی بات کہی کہ ۱۰۰ کڑوے سمندر میں اگر اس کو ڈالہ جائے تو اتنی میٹھی بات ہے کہ کڑوے سمندر بھی میٹھے ہو جائیں لیکن جس تناظر میں تو

244

نے اس کو نقل کیا ہے کہ اتنی قبیح کہ ۲۰۰ میٹھے سمندروں کے اندر بھی اس کو ڈالا جائے تو سارے کڑوے ہو جائیں۔ تم نے کہا کہ جوڑ امت میں ہے۔

⚛… کفر اور اسلام کا آپس میں کوئی جوڑ نہیں

⚛… حرام اور حلال کا آپس میں کوئی جوڑ نہیں

⚛… خنزیر اور بکری کا آپس میں کوئی جوڑ نہیں

⚛… ابوبکر صدیقؓ اور ابوجہل کا جوڑ نہیں

وہ امت میں جوڑ کی بات کرتا ہے جو قادیانیوں کے طبقے کو سامنے رکھ کر کہتا ہے کہ جوڑ کی بات کرنی چاہئے۔ گویا وہ اگر ان کو حضور ﷺ کی امت میں شامل کرنا چاہتا ہے۔ اس نقطہ نظر سے تو:

⚛… اس کا ایمان بھی جاتا رہا

⚛… اس کا نکاح بھی جاتا رہا

آپ دوستوں کے ہاں بعض مسائل ایسے ہیں کہ چودہ سو سال کے بعد آج بھی یہ مسئلہ زیربحث ہے کہ یہ طبقہ کافر ہے یانہیں۔ تم چودہ سو سال کے بعد ان مسائل پر گفتگو کر رہے ہو۔ اگر تمہارے ننانوے فیصد مفتیان ایک طرف ہیں تو ایک فیصد کا مؤقف اس کے خلاف بھی ہے۔ قبلہ! میںتو اس اجماعی مسئلہ کی بات کر رہا ہوں کہ

⚛… صدیق اکبرؓ سے لے کر امام ابو حنیفہ ؒ تک

⚛… امام ابو حنیفہ ؒ سے لے کر شاہ ولی اللہؒ تک

⚛… شاہ ولی اللہؒ سے لے کر مولانا سرفراز خان ؒ تک

مجھے پوری امت متفق نظر آتی ہے کہ حضور ﷺ کے بعد جو نبوت کا دعویٰ کرے، وہ مسلمان نہیں۔ میں اپنے مؤقف پر کوئی لچک اختیار کروں تو مجھے امام ابوحنیفہ ؒ روکتے ہیں :’’مَنْ طَلَبَ مِنْہُ عَلَامَۃً فَقَدْکَفَرْ‘‘

(الخیرات الحسان:ص۱۱۹، بحوالہ عقود الجمان:ص۲۷۶)

خبردار! کہ جھوٹے مدعی نبوت کے متعلق سوچ لیا جائے توڑ کی بات نہ کی جائے جوڑ کی بات کی جائے۔ فرمایا: جوڑ کا سوچنے والو! ایمان جاتا رہا۔ میری درخواست سمجھ رہے

245

ہو؟ میں اللہ کی ذات کو گواہ بنا کر کہتا ہوں، میں کسی کے لئے گنجائش پیدا نہیں کر رہا۔ میں اس مسئلے کی ثقاہت آپ کے قلب و جگر میںبٹھانا چاہتا ہوں کہ جو حضور ﷺ کے بعد نبوت کا دعویٰ کرے، امت میں ان کے لئے کوئی گنجائش نہیں۔

⚛… میں قانون شکنی کی بات نہیں کر رہا

⚛… میں فتنے فساد کی بات نہیں کر رہا

⚛… میں لڑائی جھگڑے کی بات نہیں کر رہا

تم میرے بھائی ہو۔ میرے سامنے میرا چھوٹا بیٹا ہوتا جو سب سے زیادہ میری محبتوں کا مرکز ہے۔ جو مجھے گفتگو اس کے سامنے کرنی چاہئے، میں وہی آپ کے سامنے کر رہا ہوں۔ اس پر میں اللہ کی ذات کو گواہ بناتا ہوں۔ جو کچھ میری زبان پر آئے، بالکل وہی جذبات آپ دوستوں کے متعلق میرے دل کے اندر ہیں۔ حضور سرور کائنات رحمۃ اللہ علیہ کی ختم نبوت کے مسئلہ پر سمجھوتہ نہیں۔ کہو…؟ سمجھوتہ نہیں۔ خدا کی قسم! نہیں۔ بالکل نہیں۔ یہی سیدنا صدیق اکبرؓ سے لے کر اس وقت تک امت کا مؤقف ہے۔ اب آپ کہیں کہ امت نے یہ مؤقف کیوں اختیار کیا؟ میں اس مرحلے پر آپ دوستوں سے درخواست کرتا ہوں کہ ایک شخص حضور ﷺ کے بعد نبوت کا دعویٰ کرے۔ اس پر جو تم اتنی سختی اور اتنی شدت اختیار کرتے ہو:

⚛… اس پر کوئی سمجھوتہ نہیں

⚛… اس پر کوئی مصلحت نہیں

⚛… اس پر کوئی جوڑ نہیں

⚛… اس پر کوئی ایگری منٹ نہیں

⚛… کوئی چانس، کچھ نہیں

کیوں؟۔ چلیں آئیں، کیوں پر بحث کرتے ہیں۔ میں درخواست کرتا ہوں کہ حضور ﷺ کے بعد کوئی شخص نبوت کا دعویٰ کرے۔ سمجھے بھی ہو؟ میں نے پوچھا کہ مولانا گھمن صاحب کہاں ہیں؟ انہوں نے کہا: نماز پڑھ رہے ہیں۔ میں نے کہا: نماز پڑھ رہے ہیں، اس سے یہ مسئلے ثابت ہوئے۔ اب آپ پھر اسی مثال پر آ جائیں۔ ایک شخص کہے

246

حضور ﷺ کے بعد میں نبی ہوں۔ قبلہ !

⚛… اگر یہ نبی ہے تو پھر اس پر وحی بھی آنی چاہئے

⚛… اگر یہ نبی ہے تو اس کے دیکھنے والے صحابہ ہوں گے

⚛… اگر یہ شخص نبی ہے تو اس کی بیوی ام المومنین ہو گی

⚛… اگر یہ شخص نبی ہے تو اس کا خاندان اہل بیت ہو گا

⚛… اگر یہ شخص نبی ہے جو اس کو نہیں مانے گا، وہ کافر ہو جائے گا

⚛… اگر یہ شخص نبی ہے جو اس کو نہیں مانے گا، وہ جہنم میں جائے گا

⚛… اگر یہ شخص نبی ہے تو پھر اس کو معجزہ بھی ملنا چاہئے

⚛… اگر یہ شخص نبی ہے تو اسے معراج بھی ہونی چاہئے

⚛… اگر یہ شخص نبی ہے تو وحی نبوت بھی آنی چاہئے

میری بات سمجھے ہو؟ حضور ﷺ کے بعد کوئی شخص اگر نبوت کا دعویٰ کرتا ہے تو سمجھیں اس کے دعویٰ نبوت کرنے سے کتنی کتنی باتوں کو ماننا لازم آئے گا۔ جو میرے خیال میں ان مثالوں سے درگزر کرے، اس کو چھوڑ کر بالکل مجھے آ جانا چاہئے حقائق پر، مثالیں نہیں۔

⚛… تفہیم کے لئے تمثیل

⚛… تمثیل کے لئے تسہیل

قادیانیت کا کفر تمام کافروں کے کفر سے سنگین تر

اب میں ان تمام تر چیزوں کو چھوڑ کر آتا ہوں اس امر پر کہ مرزاغلام احمد قادیانی نے کیا نبوت کادعویٰ۔ اس کی صراحت کے ساتھ عبارت موجود ہے کہ:’’ سچا خدا وہ ہے جس نے قادیان میں اپنا سچا رسول بھیجا۔‘‘

(دافع البلاء ص۱۱، خزائن ۱۸، ص۲۳۱)

صراحت کے ساتھ مرزا غلام احمد قادیانی کی یہ عبارت بھی موجود ہے کہ:

’’میں رسول بھی ہوں اور نبی بھی۔‘‘

(ملفوظات ج۵، ص۴۴۷)

وہاں کہا: میں رسول ہوں اور یہاں کہا: نبی و رسول ہوں۔ نبوت اور رسالت کا

247

دعویٰ کیا۔ پھر تو اسے وحی بھی آنی چاہئے۔ مرزا نے کہا: ہاں مجھے وحی آئی۔ صرف یہ نہیں کہ وحی آئی۔ کہتا ہے کہ: ’’جاء نی اٰیل‘‘ میرے پاس آیل آیا۔

کہتا ہے کہ:’’آیل کا دوسرا معنی جبرائیل ہے۔ میرے پاس اور کوئی فرشتہ وحی لے کر نہیں آیا۔ جو فرشتہ نبیوں کے پاس وحی لے کر آتا تھا، وہی جبرائیل میرے پاس وحی لے کر آتے تھے۔‘‘

(حقیقت الوحی ص۱۰۳، خزائن ج۲۲،ص ۱۰۶)

اور میری وحی کہتا ہے ’’ہم چوں قرآں منزہ اش دانم‘‘ کہ میں اپنی وحی کو قرآن کی طرح تمام خطاؤں سے پاک وصاف سمجھتا ہوں۔

⚛… حضور ﷺ کے بعد دعویٰ نبوت کرنا یہ مستقل کفر

⚛… حضور ﷺ کے بعد وحی نبوت کو جاری سمجھنا یہ مستقل کفر

⚛… حضور ﷺ کے بعد جو یہ کہے کہ مجھے وحی ہوئی یہ مستقل کفر

⚛… پھر اپنی وحی کو قرآن کے برابر قرار دینا یہ ایک اور مستقل کفر

مجھے ترس آتا ہے ان لوگوں پر۔ میرا دل کرتا ہے ان لوگوں کے فہم پر ماتم کرنے کو، جو کہتے ہیں کہ فلاں بارہ وجہ سے کافر اور قادیانی ایک وجہ سے کافر۔ اس جاہل آدمی کو پتہ ہی نہیں قادیانیت کی ’’قاف‘‘ کا بھی۔ تم اس کو بارہ دفعہ نہیں، کروڑ دفعہ کافر کہو۔ تم جانو تمہارا کام جانے۔ لیکن وہ بارہ وجہ سے کافر۔ قادیانیت صرف ایک وجہ سے نہیں، قادیانیوں کو ایک وجہ کہہ کے تم قادیانیوں کے کفر کو کیوں ہلکا کرتے ہو؟ تم نے کب سے قادیانیت کی وکالت کا منصب سنبھال لیا؟ ایسی گفتگو کیوں کرتے ہو جس سے کفر بواح قادیانیت کو تقویت پہنچے۔ تم دیوبندیت کے نام پرایک کلنک کا ٹیکا ہو۔ کوئی دیوبندی نہیں ہو۔ دیوبندیت تو وہ سہ رخی تلوار تھی، جدھر کا رخ ہوتا ہے، ادھر کفر کٹتا ہے۔ تم اپنی گفتگو سے کفربواح قادیانیت کو تقویت دیتے ہو اور میں اس کے اوپر شدت اختیار کرتا ہوں تو مجھے دیوانہ کہتے ہیں۔ دیوانہ نہیں، مجھے قابل گردن زدنی بھی قرار دے دو۔ رب محمد کی قسم! اس مسئلے پر میں کبھی بھی مرتے دم تک کسی کے ساتھ کوئی سمجھوتہ نہیں کر سکتا اور مجھے اتنی بات کافی ہے کہ مجھے جہاں سید عطاء اللہ شاہ بخاری ؒ، شیخ بنوری رحمۃ اللہ علیہ، مفتی محمود رحمۃ اللہ علیہ، مولانا خواجہ خان محمدc کھڑا کر کے گئے

248

تھے۔ میں الحمد ﷲ! آج بھی وہیں کھڑا ہوں۔ کوئی لچک نہیں میرے مؤقف میں۔ بالکل اس مؤقف پر کھڑا ہوں کہ حضور ﷺ کے بعد جو شخص نبوت کا دعویٰ کرے، اس کے متعلق سمجھوتہ نہیں ہو سکتا۔

ایک دوست مجھے کہنے لگا: مولوی صاحب! تم اس مسئلے کے لئے فلاں طبقے کو ساتھ ملا لیتے ہو۔ اگر عظمت صحابہؓ کے لئے ہم قادیانیوں کو ساتھ ملا لیں تو گنجائش ہے۔ میں نے کہا: امت میں آج تک کسی نے ملایا ہے تو گنجائش ہے۔ اگر کسی نے نہیں ملایا تو تم ارادہ کرو گے تو بے ایمان ہو جاؤ گے۔ کوئی ہے اس کی مثال؟ آج تک امت نے کبھی قادیانیوں کو ملایا ہو؟ تمہارے اندر یہ سوچ کہاں سے پیدا ہوئی؟۔ مجھے تو رونا ہے صرف اس بات کا کہ جہاں پانی بہہ رہا ہے اس سوراخ کو بند کرو۔ یہ جو چوہے نے زمین کھود کھود کر پانی کے نکلنے کا راستہ بنا دیا ہے، اس کو بند کرو۔ ورنہ مجھے پورے اسلام کی عمارت گرتی ہوئی نظر آتی ہے۔ اس کے اندر دراڑیں پڑتی نظر آ رہی ہیں۔ تم میرے الفاظ کی تلخی کو دیکھتے ہو۔ ان مسائل نے جو نفرت کی بھٹی دل و دماغ کے اندر جلا رکھی ہے، ان کی طرف آپ کی توجہ نہیں۔ محمد عربیﷺ کے بعد کوئی نبوت کا دعویٰ کرے، سمجھوتہ نہیں۔بولو تو سہی شریفو! محمد عربیﷺ کے بعد کوئی نبوت کا دعویٰ کرے؟ … سمجھوتہ نہیں۔

رب محمد ﷺ کی قسم! یہی سیدنا صدیق اکبرؓ کا پیغام ہے اور مجھے خوشی ہے کہ میں الحمداللہ! سنت صدیقیؓ پر عمل کر رہاہوں۔ بالکل سنت صدیقیؓ پر عمل کر رہا ہوں۔ ہاں! جن کے متعلق تمہارا مؤقف ہے، وہ کافر ہیں۔ خدا کی قسم! میں نہ تمہارے فتوے کے ساتھ ہوں، نہ تمہارے مسلک کے ساتھ ہوں۔ میں تو ۱۰۰ فیصد آپ کے طرز عمل کے خلاف ہوں۔ لیکن کوئی ڈھنگ کی بات تو کہو۔ میرا تو صرف رونا یہ ہے کہ کسی کی تردید کرتے ہوئے کوئی ایسا احمقانہ جملہ نہ کہو کہ کسی کے کفر کو تقویت پہنچے۔ کیایہ بات میری ناجائز ہے، صحیح ہے؟ اگر تمہاری کھوپڑی کام نہیں کرتی تو پھر مجھے احتجاج کا حق دو۔ تمہاری کھوپڑی کام نہیں کرتی اور تم مجھے کہوکہ میں تمہارے ساتھ پاگل ہو جاؤں۔ میں تم سے معافی چاہتا ہوں۔ یہ خدمت میں نہیں سرانجام دے سکتا۔ اگر یہ اعتراض ہے تو اللہ آپ کو مبارک کرے، میں اس سے محروم ہی اچھا ہوں۔

249

مرزا قادیانی کائنات کا بہت بڑا دجال اورکذاب

او بندگان خدا!

⚛… مرزا قادیانی ملعون نے نبوت کا دعویٰ کیا

⚛… صرف نبوت کا دعویٰ نہیں بلکہ وحی نبوت کو جاری مانا

⚛… صرف وحی نبوت کادعوی نہیںبلکہ اپنی وحی کو قرآن کے برابر قرار دیا۔

مرز اغلام احمد قادیانی نے یہ کہا کہ: ’’اللہ نے مجھے اتنے معجزے دیئے ہیں کہ اگر وہ ہزار آدمی پر تقسیم کئے جائیں تو اس سے ان کی نبوت ثابت ہو سکتی ہے۔‘‘

(چشمہ معرفت ص۳۱۷، خزائن ج۲۳، ۳۳۲)

دوسری جگہ اس ملعون قادیان نے کہاکہ: ’’محمد عربیﷺ کے معجزے تین ہزار تھے۔‘‘

(تحفہ گولڑویہ ص۶۷، خزائن ج۱۷، ص۱۵۳)

مرزا قادیانی نے کہا کہ: ’’میرے معجزے دس لاکھ سے بھی زیادہ ہیں۔‘‘

(براہین حصہ پنجم ص۵۶، خزائن ج ۲۱، ص۷۲)

کہتا ہے کہ: ’’میرے دیکھنے والے صحابہ ہیں‘‘

(سیرۃ المہدی ج۳،ص۱۲۸)

مرزا قادیانی کی جماعت نے کہا کہ : ’’ابوبکرؓ و عمرؓ کیا تھے۔ وہ تو غلام احمد کی جوتی کے تسمے کھولنے کے لائق نہیں تھے۔‘‘

(المہدی نمبر۲، ۳ ص۵۷)

⚛… اس ملعون نے سیدنا حسین ؓ کوگوہ کا ڈھیر قرار دیا

(اعجاز احمدی ص۸۲، خزائن ج۱۹، ص۱۹۴)

⚛… اس ملعون نے اپنی بیوی کو خدیجۃ الکبریٰؓ کے برابر قرار دیا

(ملفوظات جدید،ج۱،ص ۵۵۵)

⚛… اس ملعون نے اپنی بیوی کو ام المؤمنین کہا

(ملفوظات جدید،ج۱،ص ۵۵۵)

⚛… اس ملعون نے خود کو زندہ علی اور سیدناعلیؓ کو مردہ علی کہا

(ملفوظات جدید،ج۱،ص ۴۰۰)

250

اس ملعون نے کہا کہ: ’’ آسمانوں سے کئی تخت اترے۔ پر میرا تخت سب سے اوپر بچھایا گیا‘‘

(تذکرہ : ص۳۳۹ طبع چہارم)

اس ملعون نے کہا کہ: میں محمد عربیﷺ سے بھی افضل واعلیٰ شخص ہوں۔جو مجھے نہیں مانتا وہ کافر۔

(الفضل قادیان ج۱۰، نمبر۵، ص مورخہ ۱۷؍ جولائی ۱۹۲۲ء)

اس ملعون نے کہا کہ: ’’جو مجھے نہیں مانتا وہ جہنم میں جائے گا۔‘‘

(تذکرہ: ص۲۸۰، طبع چہارم)

مسیلمہ کذاب سے لے کر کذاب قادیان تک تمام جھوٹے مدعیان نبوت کا کفر ایک پلڑے میں رکھا جائے، اکیلے مرزے کا کفر دوسرے پلڑے میں رکھا جائے تو اس کا کفر اتنا وزنی ہے کہ اس کا پلڑا جھک جائے گا۔ پورے جھوٹے مدعیان نبوت کے کفر کا معجون تیار کیا جائے تو ان سب کے اندر جو جوہر اعظم تھا وہ مرزا غلام احمد قادیانی کا کفر تھا۔ میں جب یہاں پہنچا ہوں، توڈھونڈتی ہے میری نظر مولانا سید انور شاہ کشمیری رحمۃ اللہ علیہ کو جنہوں نے فرمایاکہ:

’’مرزا قادیانی کا کفر فرعون اور ہامان کے کفر سے بھی بڑھا ہو ا ہے۔‘‘ ابلیس نے سیدنا آدم ں کی اتنی مخالفت نہیں کی۔ معاف کرنا ابوجہل نے حضور ﷺ کی شاید اتنی مخالفت نہیں کی ہو گی جتنی یہ ملعون قادیان محمد عربیﷺ کی مخالفت کرتا ہے۔

اب آپ حضرات ایک سوال کریں۔ آپ نے کہا ایسی گفتگو تو نہیں کرنی چاہئے جس میں کسی کفر کو فائدہ پہنچے۔ آپ جب کہتے ہیں کہ مرزے کا کفر ابلیس کے کفر سے بڑھا ہوا ہے تو آپ نے تو ابلیس کے کفر کو ہلکا کر دیا۔ آپ کہتے ہیں مرزے کا کفر ابوجہل سے بڑھا ہوا ہے تو آپ نے تو ابوجہل کے کفر کو ہلکا کر دیا۔ آپ کریں نا! میرے اوپر اعتراض کہ اس کا کفر فرعون سے بڑا تھا۔ تم نے تو فرعون کے کفر کو ہلکا کر دیا۔

⚛… آج دنیا میں کوئی فرعون کی پارٹی نہیں

⚛… آج دنیا میں فرعون کا کوئی پیروکار نہیں

⚛… آج دنیا میں فرعون کی کوئی جماعت کا نہیں

کہ میری گفتگو سے اس کے کفر کو فائدہ پہنچے۔ میں نے تو:

251

⚛… فرعون کا ذکر اس لئے کیا

⚛… شیطان کا ذکر اس لئے کیا

کہ ساری دنیا میں متفقہ طور پر فرعون اور شیطان کاکفر مسلم ہے۔ ان کے اس مسلمہ کفر کی بنیاد پر میں نے مرزے قادیانی کے کفر کو پکا کرنا چاہا ہے۔ میں نے ان کو فائدہ نہیں پہنچانا چاہا۔ سمجھے ہو؟۔ اگر آج واقعتا دنیا کے اندر:

⚛… کوئی ابوجہل کی پارٹی موجود ہوتی

⚛… کوئی فرعون کا گروہ موجود ہوتا

تو پھر مجھے یہ گفتگو کرنے کی اجازت نہیں تھی کہ میں ایسی گفتگو کروں کہ جس سے ایک کفر کو فائدہ پہنچے۔ میری بات سمجھ رہے ہو؟ میرے الفاظ کی تلخی کی طرف نہ جاؤ۔ جس نقطہ نظر سے میں آپ دوستوں کی خدمت میں عرض کرنا چاہتا ہوں، خدا کے لئے اس کی روح کو سمجھنے کی کوشش کرو۔ میری دیوانگی پر نہ جاؤ۔ میں جس درد کے ساتھ جہاں سے بول رہا ہوں، آپ اس کی طرف توجہ فرمائیں۔ آپ دوست امت کا واحد سہارا رہ گئے ہیں۔ پوری دنیا کے کفر نے آج امت مسلمہ کو ترنوالہ سمجھ کر نگلنے کا پلان کیا ہوا ہے۔ آپ واحد طبقہ ہیں جو اس امت کو کفر کی اس گرداب سے نکال سکتے ہیں۔ میں تو آپ کو امت کا ہونہار سمجھ کر آپ سے یہ گفتگو کر رہا ہوں۔ اس توقع کے ساتھ کہ خدا کرے یہ کاز بھی بچ جائے۔ دعا کرو یہ بچ جائے اور ضرور بچے گا(ان شاء اللہ) ساری دنیا بھی اس کے خلاف ہو جائے۔ میرا اللہ ان کے بدلے میں ایسے لوگوں کو لائے گا ان شاء اللہ! کہ اس مسئلے پر قیامت کی صبح تک غبار نہیں آئے گی۔ ان شاء اللہ! اس لئے کہ مجھے تو تاریخ بتاتی ہے کہ سیدنا صدیق اکبرؓ سے لے کر خواجہ خان محمدc تک امت کے سب سے بہتر طبقے اور خیارامت نے اپنے وقت کے قطب، ابدال لوگوں نے اس مسئلے کی باگ ڈور سنبھالی ہے۔ کیا اللہ تعالیٰ ان کی محنت کو ضائع کر دے گا؟ بخدا نہیں۔ کہہ دو: نہیں!

⚛… مرزے قادیانی کا نبوت کا دعویٰ

⚛… لاکھوں کی تعداد میں معجزات کا دعویٰ

⚛… اپنے نہ ماننے والوں کو کافر لکھنا

252

⚛… اپنے نہ ماننے والوں کو جہنمی کہنا

⚛… اپنے دیکھنے والوں کو صحابہ کہنا

⚛… اپنی بیوی کو ام المؤمنین کہنا

⚛… اپنی وحی کو قرآن کے برابرکہنا

⚛… اپنے معجزات کو محمد عربیﷺ کے معجزات سے زیادہ کہنا

یہ موٹے موٹے چند کفریات ہیں جو اس وقت میں نے آپ حضرات کے سامنے رکھے۔ ورنہ واقعہ یہ ہے کہ رب محمد ﷺ کی قسم! قادیانی کوئی ایسی عبارت کے چار صفحے پیش نہیں کر سکتے جو کفر سے خالی ہوں۔ اتنا بڑا ملعون، ملعون زمانہ۔

ایک قادیانی کا سوال اور اس کا جواب لاجواب

برادران! ایک قادیانی کے ساتھ میری گفتگو ہو رہی تھی۔ گفتگو کے دوران وہ شکست کھا گیا۔ شکست کھانے کے بعد ایک حربہ استعمال کیا۔

⚛… جب اس کی بولو رام ہو گئی

⚛… جب اس کی سٹی گم ہو گئی

⚛… جب اس کے چھکے چھوٹ گئے

⚛… ’’فَبُھِتَ الَّذِیْ کَفَرْ‘‘ ترجمہ پٹھانوں والا

جب وہ شکست کھا گیا، اس نے دیکھا بات نہیں بنتی۔ کہنے لگا اچھا مولوی صاحب! اور کچھ نہیں تو کم از کم اتنا تو مان لو کہ ہماری تعداد بہت ہے۔ اب میں کہوں تعداد بہت ہے۔ میں نے فریق مخالف کا مؤقف مان لیا اور فریق مخالف کا مؤقف ماننا تو مناظرے میں شکست ہوتی ہے۔ میں کہوں: نہیں، تو اس نے پروپیگنڈا کرنا ہے کہ ہم اتنے، تم مانتے نہیں ہو۔ اس نے سوال بھی ایسا کیا کہ آج تک ایسا کبھی مناظرے میں سوال ہی نہیں ہوا۔بالکل نئی بات۔ لیکن قدرت نے رہنمائی کی۔ میں نے اسے کہا: میاں! میرا مؤقف یہ ہے کہ پوری دنیا میں ایک آدمی بھی ایسا نہیں جو مرزے قادیانی کے تمام تر دعوؤں کو صحیح سمجھ کر عمل بھی کرتا ہو۔ میں تو کہتا ہوں کہ من کل الوجوہ مرزے کو ماننے والا ایک آدمی

253

بھی نہیں ہے۔ اب اس نے شور کیا۔ کہا کہ کیا کرتے ہیں؟ میں، میری ماں، میرا باپ، میری بہن اور میرا خاندان سب اسے مانتے ہیں۔ تیز تیز بولتا گیا۔ میں نے کہا: تیز بولنے سے مؤقف نہیں بدلا کرتے۔میں اپنے مؤقف پر اب بھی قائم ہوں۔ میرا دعویٰ یہ ہے کہ پوری دنیا میں ایک آدمی بھی ایسا نہیں جو مرزے کو اس کے دعوؤں میں سچا سمجھ کر اس پر عمل بھی کرتا ہو۔ اس نے کہا ’’میں ہوں۔‘‘ میں نے کہا: تم بھی نہیں۔ کہتا ہے خدا کی قسم! ہوں۔ میں نے کہا: خدا کی قسم! تم بھی نہیں۔ اب قسم کے مقابلے میں قسم۔کہا کیا کرتے ہو؟۔ میں نے کہا: تم کیا کرتے ہو؟۔ کہتا ہے: ’’میں ہوں‘‘۔ میں نے کہا: بالکل نہیں ہو سکتا۔ کہتا ہے: ’’میں ہوں‘‘۔ میں نے کہا: ٹھہر جا۔ مرزا قادیانی کے سارے دعوؤں کو مانتے ہو؟ ۔کہتا ہے: ’’جی‘‘۔ میں نے کہا: عمل بھی کرتے ہو؟ کہتا ہے :’’جی‘‘۔ میں نے کہا مرزا قادیانی کہتا ہے کہ:

’’من گفتم کہ من حجر اسودم‘‘{کہ میں حجر اسود ہوں}

(تذکرہ: ص۲۹، طبع چہارم)

کہنے لگا: مرزا حجر اسود تھا۔ میں نے کہا: کیا کہہ رہے ہو؟۔ کہتا ہے وہ حجر اسود تھا۔ میں نے کہا: تمہیں پتا ہے کہ حجر اسود کے سنٹر کو چوما جاتا ہے۔ تو کس کس نے اس پر عمل کیا؟

اب وہ کبھی ادھر کو دیکھے، کبھی ادھر کو۔ میں نے کہا اور چوما بھی سامنے سے جاتا ہے، پشت سے نہیں۔

  1. غیروں سے کہا تم نے

    غیروں سے سنا تم نے

  2. کچھ ہم سے کہا ہوتا

    کچھ ہم سے سنا ہوتا

برادران! میں درخواست کرتا ہوں کہ گرگٹ دن میں اتنے رنگ نہیں بدلتا، جتنا مرزا غلام احمد قادیانی الٹے پلٹے روزانہ دعوے کیا کرتا تھا۔

’’وما علینا الا البلاغ المبین‘‘

254

حیات مسیح علیہ السلام… حصہ دوم

بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ

اَلْحَمْدُللہِ وَکَفیٰ وَسَلامٌ عَلیٰ سَیِّدِ الرُّسُلِ وَخَاتَمِ الْاَنْبِیَاءِ وَعَلیٰ اٰلَہٖ وَاَصْحَابِہِ الَّذِیْنَ ھُمْ خُلاَصَۃُ الْعَرَبِ الْعَرَبَاءِ وَخَیْرُ الْخَلاَءِقِ بَعْدَ الْاَنْبِیَاءِ۔ اَمَّا بَعْدُ! فَاَعُوْذُ بِاللہِ مِنَ الشَّیْطٰنِ الرَّجِیْمِ۔ بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ۔

و قال اللہ تعالیٰ: إِنَّ مَثَلَ عِیْسَی عِندَ اللّٰہِ کَمَثَلِ آدَمَ خَلَقَہُ مِن تُرَابٍ ثِمَّ قَالَ لَہُ کُنْ فَیَکُونُ۔ (آل عمران: ۵۹)

قال النبیﷺ: اَنَا اَوْلٰی النَّاسِ بِعِیْسٰی ابْنِ مَرْیَمَ لِاَنَّہُ لَمْ یَکُنْ بَیْنِیْ وَبَیْنَہُ نَبِیٌّ وَاِنَّہُ نَازَلَ۔ (مسند احمد ج۲ ص ۴۳۷)
وَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ لِعَلِیٍّ اَنْتَ مِنِّیْ بِمَنْزِلَۃِ ہَارُوْنَ مِنْ مُّوْسٰی اِلَّا اَنَّہُ لَا نَبِیَّ بَعْدِیْ‘‘ (مسلم ج۲، ص۲۷۸)
اَللّٰھُمَّ صَلِّ عَلیٰ سَیِّدِنَا وَ مَوْلٰنا مُحَمَّدٍ وَّعَلیٰ آلِ سَیِّدِنَا وَ مَوْلٰنا مُحَمَّدٍ وَّ بَارِکْ وَسَلِّمْ وَ صَلِّ کَذَالِکَ عَلیٰ جَمِیْعِ الْاَنْبِیَاءِ وَالْمُرْسَلِیْنَ وَعَلیٰ الْمَلاَءِکَۃِ الْمُقَرَّبِیْنَ وَعَلیٰ عِبَادِ اللہِ الصَّالِحِیْنَ اَجْمَعِیْنَ اِلیٰ یَوْمِ الدِّیْنِ۔

تمہید

میرے واجب الاحترام دوستو! میں درخواست کرتا ہوں آپ حضرات سے کہ بہت سارے بے دین فتنے ایسے ہیں جن میں حضرت سیدنا عیسیٰ علیہ السلام کی حیات طیبہ کے مسئلے پر امت مسلمہ کے ساتھ متصادم ہیں۔ ان بے دین فتنوں میں سے یا بد دین فتنوں میں سے ایک فتنہ مثلاً سب سے پہلے یہود ہیں، جو یہ کہتے تھے کہ:

’’إِنَّا قَتَلْنَا الْمَسِیْحَ عِیْسَی ابْنَ مَرْیَمَ‘‘(النساء:۱۵۷)

{بلاشبہ ہم نے قتل کیا مسیح عیسیٰ ابن مریم کو۔}

255

امت مسلمہ کے ساتھ بے دین فتنوں کا تصادم

سب سے پہلے حضرت سیدنا مسیح علیہ السلام کی حیات کا انکار دنیا میں یہود نے کیا تھا۔ اس کے بعد پھر ملحدین اور زندیق لوگ ہمیشہ اس کا انکار کرتے رہے۔ ہمارے برصغیر پاک و ہند میں ایک غلام احمد پرویز تھا۔ اس نے بھی سیدنا عیسیٰ علیہ السلام کی حیات کا انکار کیا اور دوسرا مرزا غلام احمد قادیانی تھا۔ اس نے بھی سیدنا عیسیٰ علیہ السلام کی حیات کے مسئلے کا انکار کیا۔ اس کے بعد تو سر سید احمد اور بہت سارے لوگوں نے سیدنا عیسیٰ علیہ السلام کی حیات کا انکار کیا۔ ابھی کل کی بات ہے، کراچی میں ایک عثمانی طبقہ ہے۔ وہ حضرت سیدنا عیسیٰ علیہ السلام کی حیات کے مسئلے کو نہیں مانتے اور آپ لوگوں کے بالکل جوار میں مخدوم رشید ہے، وہاں پر ایک مولانا تھے۔ وہ حضرت مدنی ؒ کے شاگرد تھے لیکن اللہ تعالیٰ کی شان بے نیازی کہ انہوں نے بھی سیدنا عیسیٰ علیہ السلام کی حیات کے مسئلے کا انکار کیا۔ اگرچہ وہ دیوبند کے فاضل تھے۔ ابوالخیر اسدی کے طبقہ کے لوگ آج بھی یہاں قرب و جوار میں کوٹ ادو میں ہیںتو ان کی جماعت کثیر ہے۔

حیات مسیح کے انکار سے مرزا قادیانی کی غرض

غرض سیدنا عیسیٰ علیہ السلام کی حیات کا مسئلہ یہ بہت سارے لوگوں کے لئے مشکل کا باعث بنا ہوا ہے۔ باقی جو لوگ سیدنا عیسیٰ علیہ السلام کی حیات کا انکار کرتے ہیں، وہ ان کی بدنصیبی اور محروم القسمتی، قرآن مجید کی نصوص قطعیہ کے انکار کی نحوست، وہ ان کے جرم اپنی جگہ۔ لیکن اس حوالے سے کہ ان کی اس کے ساتھ کوئی ذاتی غرض وابستہ ہو، کوئی ان کی غرض وابستہ نہیں، سوائے مرزا قادیانی کے کہ عیسیٰ علیہ السلام کی حیات کے مسئلے کے انکار میں تمام منکرین حیات مسیح میں سے مرزا غلام احمد قادیانی ایک ایسا ملعون تھا کہ اس کو اس انکار کے ساتھ ایک غرض وابستہ تھی۔ ذاتی خود غرضی بھی اس کے ساتھ وابستہ تھی اور وہ ذاتی خود غرضی اس کی یہ تھی کہ یہ خود سیدنا عیسیٰ علیہ السلام کی حیات کا انکار کر کے خود مسیح ہونے کا دعویدار تھا کہ سیدنا عیسیٰ علیہ السلام نے چونکہ آنا تھا، وہ فوت ہو گئے تو ان کی جگہ میں آگیا۔ اس طرح تاویل کی قینچی چلا کر اس نے دین کے ٹکڑے کئے۔ جتنے ٹکڑے کر سکتا تھا، اس بدنصیب غلام احمد

256

قادیانی نے وہ کئے۔ دین کے ٹکڑے بھی کئے اور اس کی اپنی خود غرضی بھی وابستہ تھی کہ اس نے مسیح ہونے کا دعویٰ کیا۔ اللہ رب العزت توفیق عطاء فرمائیں۔ خدا کرے مجھے وقت مل سکے ایک آدھ اور پیریڈ پڑھانے کا تو میں آپ کی خدمت میں حاضر ہوں۔ بہت ساری جو باقی اس کی تفصیل ہے، وہ آپ حضرات کے سامنے پیش کر کے بات کو کسی نتیجہ پر پہنچائیں گے۔

بھائیو! آج کی مجلس میں خیال میرا یہ تھا ساڑھے ۳ بجے تک حاضر ہو جاؤں گا اور میں دفتر سے بھی نکلا اسی پروگرام کو سامنے رکھ کر۔ لیکن راستے میں کسی مسئلہ کی بناء پر میں تاخیر کا شکار ہوگیا۔ غرض اب بغیر کسی تمہید کے میں سیدنا عیسیٰ علیہ السلام کی حیات طیبہ اور ان کی والدہ کا تعارف کراؤں۔ جب تک یہ پوری چیزیں آپ حضرات کے ذہن میں فٹ نہیں ہوں گی، آپ کو حیات مسیح علیہ السلام سمجھنے میں دقت پیش آئے گی۔ گراؤنڈ آج تیار کر دیتا ہوں۔ اللہ تعالیٰ کو منظور ہے تو کل دیوار بھی کھڑی کر دیں گے۔ چھت آپ حضرات خود ڈال لینا۔

آدم ں ومسیح علیہ السلام کے مابین وجوہ مماثلت

میرے بھائیو! اس وضاحت اور صراحت کے بعد میری آپ حضرات سے درخواست ہے کہ پہلے تو یہ سمجھیں۔ قرآن نے کہا:

’’إِنَّ مَثَلَ عِیْسَی عِندَ اللّہِ کَمَثَلِ آدَمَ‘‘(آل عمران: ۵۹)

{ اللہ کے ہاں عیسیٰ علیہ السلام کی مثال آدم ں جیسی ہے۔}

⚛… حضرت آدم ں بھی بغیر ماں باپ کے پیدا ہوئے۔

⚛… حضرت مسیح علیہ السلام بھی بغیر باپ کے پیدا ہوئے۔

قرآن نے کہا: ’’إِنَّ مَثَلَ عِیْسَی عِندَ اللّہِ کَمَثَلِ آدَمَ‘‘

⚛… حضرت آدم ں کی پسلی سے فقط عورت، مائی حواء پیدا ہوئیں

⚛… ادھر مائی مریم سے فقط سیدنا عیسیٰ علیہ السلام پیدا ہوئے

قرآن نے کہا:’’إِنَّ مَثَلَ عِیْسَی عِندَ اللّہِ کَمَثَلِ آدَمَ‘‘

⚛… سیدنا آدم ں آسمانوں سے زمین پر تشریف لائے

257

⚛… سیدنا مسیح علیہ السلام زمین سے آسمانوں پر تشریف لے گئے

قرآن نے کہا:’’إِنَّ مَثَلَ عِیْسَی عِندَ اللّہِ کَمَثَلِ آدَمَ‘‘

میں نے آج کی مجلس میں سیدنا عیسیٰ علیہ السلام، سیدنا آدم ں کی تین وجہ تمثیل بیان کیں۔ وہ کہا نا! مثل عیسیٰ۔ تو میں نے تین چیزیں یہاں بیان کیں۔ چوتھی عرض کئے دیتا ہوں اس کی تھوڑی سی تفصیل ہے اور وہ مماثلت چوتھی۔

قرآن نے کہا:’’إِنَّ مَثَلَ عِیْسَی عِندَ اللّہِ کَمَثَلِ آدَمَ‘‘

محمدعربیﷺ دائرہ نبوت کا مرکزی نقطہ

اگر آپ میں سے کوئی دوست دائرہ بنانا چاہے تو اس کو پہلے لازم ہو گا، سب سے پہلے پرکار کے ایک حصہ کو مرکزی نقطہ پررکھیں۔ مرکزی نقطہ کا انتخاب، پرکار کو اس مرکزی نقطہ پر ٹکائیں۔ پھر اس کو گھمائیں۔ جب پورا چکر کاٹنے کے بعد دائرے کے پہلے سرے کے ساتھ دائرے کا دوسرا سرا مل جائے تو کہتے ہیں کہ دائرہ مکمل ہو گیا۔ دائرہ نبوت کا پہلا سرا حضرت سیدنا آدم ں ہیں۔ دائرے کا دوسرا سرا حضرت سیدنا مسیح علیہ السلام ہیں۔ وہ بھی ایک سرا اور یہ بھی ایک سرا۔لو یہ چوتھی وجہ مماثلت ہوئی۔ رب کریم کا یہ کہنا:

’’إِنَّ مَثَلَ عِیْسَی عِندَ اللّہِ کَمَثَلِ آدَمَ‘‘

بھائیو! وہ دائرہ کا ایک سرا تھے اور یہ دوسرا۔ اب آپ دوستوں میں سے کوئی مجھ سے یہ سوال کرے کہ دائرے کے پہلے سرے اور دوسرے سرے کے جوڑ کے لئے بھی ضروری تھا ایک دوسرے کے ساتھ مماثلت ہو۔ جہاں سے وہ شروع ہوا تھا، وہاں پر اختتام پذیر ہو۔ بھائیو! اب آپ حضرات کی خدمت میں استدعا کرتا ہوں کہ :

⚛… حضرت آدم ں بغیر باپ کے

⚛… حضرت مسیح علیہ السلام بھی بغیرباپ کے

⚛… ان کی پسلی سے فقط عورت

⚛… یہ فقط عورت سے

⚛… وہ اوپر سے نیچے

258

⚛… یہ نیچے سے اوپر

⚛… وہ دائرے کا پہلاسرا

⚛… یہ دائرے کا دوسرا سرا

یہ ساری باتیں اپنی جگہ سہی، لیکن اگر دائرہ نبوت کا پہلا سرا سیدنا آدم ں ہیں اور دوسرا سرا سیدنا مسیح علیہ السلام ہیں تو پھر سوال پیدا ہو گاکہ محمد عربیﷺ؟ اس سے پہلے میں کہتاہوں، ابتداء میں کہا کہ:

⚛… پرکار اس وقت تک چلتی نہیں

⚛… دائرہ اس وقت تک بنتا نہیں

⚛… خط اس وقت تک کھنچتا نہیں

جب تک مرکزی نقطہ نہ ہو۔ وہ مرکزی نقطہ محمد عربیﷺ کی ذات ہیں۔ممکن ہے آپ میں سے کوئی مجھ سے سوال کرے، بات تو پھر خوب کہی۔ لیکن کوئی اس کی سند ہے؟ ۔

مرکزی نقطہ پر دلائل قطعیہ

بھائیو! میں اس کی ایک کے بجائے تین روایتیں عرض کر دیتا ہوں۔ فرمایا رحمت عالم ﷺ نے: ’’ کُنْتُ نَبِیًّا وَآدَمُ بَیْنَ الرُّوْحِ وَالْجَسَدِ‘‘

(مجمع الزوائد، کتاب علامات النبوۃ:ج۸،ص۲۹۱ )

دوسری روایت میں ہے:’’ اِنِّیْ عِنْدَاللّٰہِ مَکْتُوْبٌ خَاتَمُ النَّبِیِّیْنَ وَاِنَّ آدَمَ لَمُنْجَدِلٌ فِیْ طِیْنَۃٍ‘‘(مشکوٰۃ، باب فضائل النبیﷺ: ۵۱۳ قدیمی)

اور تیسری روایت میں ہے:’’مَتَی وَجَبَتْ لَکَ النُّبُوَّۃِ قَالَ آدَمُ بَیْنَ الرُّوْحِ وَالْجَسَدِ‘‘ (جامع الترمذی: ج۲،ص۲۰۲)

حضور ﷺ فرماتے ہیں لوگو! ابھی آدم ں روح اور جسم کے مرحلوں کو طے کررہے تھے۔ ابھی ان کے جسم میں روح نہیں ڈالی گئی تھی۔ میں محمد(ﷺ) اس وقت بھی اللہ کے ہاں نبی تھا۔

یہ ہے سب سے پہلا مرکزی نقطہ۔ اگر مرکزی نقطہ نہ ہو تو میاں! اس سے آپ کو

259

کوئی اشکال پیدا نہ ہو۔ اس لئے کہ ایک ہے تقرری۔ ایک ہے چار ج لینا۔ تقرری سب سے پہلے حضور ﷺ کی ہوئی۔ چارج حضور ﷺ نے سب سے آخر میں لیا۔ جب آپ اس کی یہ توجیہ کریں گے، کوئی دنیا جہاں کا اشکال آپ پر باقی نہیں رہے گا۔ ایک بہادر شیر کی طرح بیچ میدان کے جس طرف آپ رخ کریں گے، تمام بے دینی کے چوہے، لومڑ آپ کی ایک للکار اور دھاڑ سے آپ کا راستہ چھوڑ دیں گے۔ لیکن اس کے لئے شرط یہ ہے کہ اعتماد کلی کے ساتھ آپ مؤقف وہ اختیار کریں جو امت مسلمہ کے چودہ سو سالہ تعامل کے خلاف نہ ہو۔ اگر اس میں سے کوئی آدمی پھنے خان بنے اور امت کے تعامل کو یکسر نظر انداز کر دے، بھلے وہ فضاؤں کے اندر اڑتا رہے لیکن ایک دن بھسم ہو کر نیچے آئے گا اور ایک دن ٹکرائے گا۔پتہ نہیں ’’بای واد‘‘ سب سے پہلے تقرری رحمت عالم ﷺ کی، سب سے آخر میں چارج آپ ﷺ نے لیا۔

مرکزی نقطہ کا وجود پہلے، ظہوربعد میں

بھائیو! آپ نے کبھی اس عنوان پر توجہ دی کہ مرکزی نقطہ کا انتخاب سب سے پہلے ہوتا ہے اور اس کا ظہور سب سے آخر میں ہوا کرتا ہے۔ مرکزی نقطہ کا انتخاب کرو گے، اس کے اوپرپرکار رکھو گے، تب مرکز منتخب ہوگا۔ پرکار رکھنا یہ انتخاب ہے، جب پوری پرکار کو چلایا۔ دائرہ مکمل ہو گیا۔ جس وقت آپ پرکار کواٹھائیں گے، مرکزی نقطہ کا ظہور سب سے آخر میں ہو گا۔ انتخاب محمد عربیﷺ کا سب سے پہلے اور ظہور محمد عربیﷺ کا سب سے آخر میں۔ جب آپ گفتگوکو اس طرح لیں گے، کوئی آپ کے اوپر اشکال نہیں رہے گا۔ پانی کی طرح تمام تر نصوص اور تمام ترجو صریح احادیث ہیں، وہ ساری ایک تابناک آب دار موتی کی طرح ان کی مالا تیار ہوتی جائے گی اور آپ کے گلے میں چمکتے دمکتے ہار کی طرح ایسے فٹ ہو جائیں گی۔ جو دشمن آپ کی طرف میلی نگاہ اٹھائے گا، اس کی آنکھیں تو چندھیا جائیں گی۔ لیکن اس کی یہ جو آب و تاب ہے، اس کے اندر کوئی کمی واقع نہیں ہوگی۔

میرے بھائیو! آپ نے میری گفتگو سنی۔ لیکن آپ نے کبھی اس پر توجہ دی کہ میں نے کیا کہا؟ دیکھیں اگر مرکزی نقطہ ہیں رحمت عالم ﷺ۔ اس کا معنی یہ کہ اگر حضور ﷺ

260

نہ ہوتے تو کچھ نہ ہوتا۔ مرکزی نقطہ نہ ہو تو پرکار نہیں چلا کرتی۔ مرکزی نقطہ نہ ہو، دائرہ نہیں بنا کرتا۔ مرکزی نقطہ جب قرار دیا، اس کا معنی یہ ہوا: وجہ تخلیق آدم ں وہ ذات ہے محمد عربیﷺ کی۔ اگر اس کی تعبیر یہ نہیں کرتے تو پھر میں آپ کو یہ کہنا چاہتا ہوں کہ اگر اس نقطہ نظر سے دیکھیں کہ مرکزی نقطہ ہیں محمد عربیﷺ اور پہلا سرا ہیں حضرت آدم ں، دوسرا سرا ہیں حضرت مسیح علیہ السلام۔ بھائیو! میں نے آپ سے کہا یہ کہ اس نقطہ نظر سے دیکھیں تو سیدنا آدم ں سے لیکر سیدنا مسیح علیہ السلام تک ایک لاکھ چوبیس ہزار کم و بیش انبیاء ں کی نبوت وہ حضور ﷺ کی نبوت کے اردگرد مجھے گھومتی ہوئی نظر آتی ہے۔ مرکزی نقطہ ہیں: محمد عربیﷺ کی ذات۔ اب قرآن مجید نے یہ کہا:

’’إِنَّ مَثَلَ عِیْسَی عِندَ اللّہِ کَمَثَلِ آدَمَ‘‘

تعارف حضرت مسیح علیہ السلام

عزیز بھائیو! اب آپ توجہ کریں اس امر پر کہ حضرت مسیح علیہ السلام کون ہیں؟

⚛… جن کا نام عیسیٰں بھی ہے

⚛… جنہیں مسیح علیہ السلام بھی کہتے ہیں

⚛… جنہیں ابن مریمں بھی کہتے ہیں

⚛… جنہیں کلمۃ اللہ بھی کہا گیا

⚛… جنہیں روح اللہ بھی کہا گیا

⚛… یہ حضرت عیسیٰ ابن مریمں کون ہیں؟

⚛… یہ بغیر باپ کے پیدا ہوئے

⚛… ان کی والدہ کا نام سیدہ مریمؑ ہے

⚛… سیدہ مریمؑ کے والد کا نام حضرت عمرانں تھا

⚛… سیدہ مریمؑ کی والدہ کا نام مائی حنہ تھا

⚛… یہ حضرت حنہ نانی ہے، حضرت سیدنا عیسیٰں کی

⚛… سیدنا عمران یہ نانا ہیں

261

یہ جو مریمؑ ہیں ان کے بھائی کا نام حضرت ہارون ہے۔ وہ ہارون جن کے متعلق حضرت مریمؑ کو قرآن مجید میں کہا گیا:

’’ یَا اُخْتَ ہَارُوْنَ‘‘(مریم:۲۸){اے ہارون کی بہن۔}

یہ جو مائی مریمؑ کو اخت ہارون کہا گیا، اس کے مطابق مریمؑ کے بھائی کا نام یعنی مسیحں کے ماموں کا نام ہارون تھا۔ اب آپ دیکھیں سیدنا موسیٰ ں کے والد کا نام بھی حضرت عمرانں ہے۔ اس لئے ان کو موسیٰ ابن عمرانں کہا جاتا ہے۔ حضرت سیدنا موسیٰ ں کے ایک بھائی کا نام بھی سیدنا ہارونں تھا۔ لیکن وہ سیدنا ہارونں جن کے متعلق رحمت عالم ﷺ نے فرمایا:

’’لِعَلِیٍّ اَنْتَ مِنِّیْ بِمَنْزِلَۃِ ہَارُوْنَ مِنْ مُّوْسٰی اِلَّا اَنَّہُ لَا نَبِیَّ بَعْدِیْ‘‘(مسلم ج۲، ص۲۷۸) { تمہیں مجھ سے وہی نسبت ہے جو ہارون(علیہ السلام) کو موسیٰ (علیہ السلام) سے تھی۔ مگر میرے بعد کوئی نبی نہیں ہو سکتا۔}

وہ موسیٰں جس کے بھائی کا ذکر ہے، مائی مریمؑ کا وہ بھائی نہیں۔ یہ عمران حضرت موسیٰ ں کے والد جو تھے، وہ یہاں مذکور نہیں۔ اس لئے حضرت موسیٰ ں کے والد گرامی حضرت موسیٰ ں کے بھائی محترم وہ پانچ، چھ سو سال اس سے بھی زیادہ عرصہ پہلے آئے حضرت سیدنا مسیح علیہ السلام سے۔ پانچ، چھ صدیوں کا فرق ہے حضرت موسیٰ ں اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے درمیان۔

⚛… وہ حضرت عمران اور حضرت ہارون اور تھے

⚛… یہ حضرت عمرانں اور حضرت ہارونں اور ہیں

جس طرح آج آپ اور میں اپنے سے پہلے بزرگوں کے نیک ناموں پر اپنی اولاد کے نام رکھ لیتے ہیں۔ اس زمانے میں بھی اچھے لوگوں کے ناموں پر نام رکھا جاتا تھا۔ حضرت موسیٰ ں کے والد حضرت عمران کے نام کی برکت لینے کے لئے مائی مریمؑ کے والد کا جو نام رکھا گیا، وہ بھی عمران تھا۔ شخصیتیں دونوں علیحدہ علیحدہ ہیں۔ اسی طرح حضرت ہارون ں۔اب مائی حنہ نے منت مانی کہ خداوند!

’’اِنِّیْ نَذَرْتُ لَکَ مَافِیْ بَطْنِیْ مُحَرَّرًا‘‘ آل عمران: ۳۵

262

{ جو کچھ میرے پیٹ میں ہے میں ا سے تیرے گھر کے لئے وقف کروں گی}

یہ جو کہا تیرے گھر کے لئے وقف کروں گی۔ وہ گھر کون سامراد ہے؟ بیت المقدس یا ہیکل سلیمانی؟ ان دونوں میں سے جومرضی آپ مراد لے لیں۔ کوئی اشکال نہیں۔ ہیکل سلیمانی ہو یا بیت المقدس دونوں ایک ہی مقام کے نام ہیں۔ ایک ہی چار دیواری میں پس یہ آپ حضرات کی مسجدکے سامنے کا کمرہ، بس اسی طرح سمجھ لیں حضرت سیدنا سلیمان کاہیکل ہو یا باقی انبیاء کی مسجد۔ مائی مریم کی والدہ نے منت مانی خداوند!

میری طرف توجہ رکھیں!میںیہ تو نہیں کہہ سکتا کہ آپ کے لئے آسمانوں سے ستارے توڑ لاؤں لیکن میں درخواست کرتا ہوں کہ جن چیزوں کی طرف آپ کی توجہ دلاؤں گا، یہ زیر بحث نہیں آتیں۔ یہ چیزیں آپ کو کہیں سے نہیں ملیں گی، اس لئے آپ سے استدعا کرتا ہوں مجھ مسکین کی باتوں پر توجہ رکھیں۔ آپ کا بھی فائدہ ہے اور میرا بھی۔ دین کی بات آپ دوستوں تک پہنچانا، یہ نیکی کا کام ہے۔ اس کے صدقے خدا میری نجات کر دے۔

حضرت حنہ کا نذر ماننا

میرے بھائیو! توجہ کرو اس امر پر کہ مائی مریمؑ کی والدہ نے منت مانی کہ جو کچھ میرے پیٹ میں ہے، تیرے لئے وقف کروں گی۔ جب پیدائش ہوئی، بجائے بیٹے کے بیٹی پیدا ہوئی۔ انہوں نے کہا: ’’وَلَیْسَ الذَّکَرُ کَالْاُنْثٰی‘‘ (آل عمران:۳۶)

خداوند! میں نے تو دل میں خیال کیا تھا مجھے بیٹا ہو گا۔ یہ تو بجائے بیٹے کے بیٹی پیدا ہوئی۔اب میں اسے تیرے گھر کی خدمت کے لئے کیسے وقف کروں۔ منت یہ تھی جوکچھ میرے پیٹ میں ہے ’’مَا فِیْ بَطْنِیْ مُحَرَّرًا‘‘ اسے آزاد کروں گی۔ اب مسئلہ پیدا ہوگیا کہ بیٹی کو کیسے وقف کروں۔ میرے رب کی طرف سے حکم ہوا ’’حنہ‘‘جو تمہیں حکم تھا جو تم نے منت مانی تھی، آپ اسے پورا کریں۔ پورا کرنا آپ کے ذمہ، آپ کی نذر کو قبول کرنا، اسے رنگ لگانا، چمکتے دمکتے ہدایت کا اسے سبب بنانا یہ ہمارے ذمہ ٹھہرا۔ آپ کیوں اس پر پریشان ہوتی ہیں۔میاں توجہ کرو! حکم ہوا کہ لے کر چلو نا اس اپنی بیٹی کو تم لے چلو۔ آگے ہم

263

جانیں اور ہمارا کام جانے۔ وہ دیکھو میاں! سیدہ حنہ نے ڈالا ہے اپنی بیٹی کو اپنی گود میں، اٹھائے لئے پھر رہی ہے۔ گئی ہیں نہ بیت المقدس میں۔ اس وقت بیت المقدس کے متولی، خطیب، مہتمم زمانہ جو کہہ لے۔ وہ دور تھا حضرت سیدنا زکریا ں کا اور سیدنا زکریا ں اللہ رب العزت کے نبی ہیں۔ ان کے پیچھے ظاہر ہے اگر حضرت زکریا اللہ کے نبی تو اس وقت بیت المقدس میں جتنے لوگ نمازیں پڑھتے تھے، وہ سارے سیدنا زکریا ں کے صحابہ تھے۔

حضرت مریمؑ کی کفالت کون کرے؟

میرے بھائیو! میں آپ دوستوں سے عرض کر رہا ہوں:

⚛… ماحول بیت المقدس کا

⚛… زمانہ سیدنا زکریا ں کا

⚛… نمازی تمام کے تمام صحابہ

اس ماحول میں سیدہ حنہ ،سیدہ مریمؑ کو لے کر گئی ہیں۔ اس نے وہاں جا کر اپنا مدعا بیان کیا۔ ان میں سے ہر آدمی کی خواہش ہوئی کہ اتنا بڑا ایثار کہ اپنی بیٹی کو اللہ کی راہ میں آزاد کر رہی ہیں۔ ہر آدمی کی خواہش کہ چھوٹی معصوم بچی دودھ پینے والی اس کی کفالت میرے ذمہ ٹھہرے۔ ہر آدمی کی خواہش اور جتنے سارے کے سارے مخلص اور اس کے ماننے والے۔

’’کُلُّھُمْ سَعْدَائٌ،کُلُّھُمْ عِبَادُ الرَّحْمٰنَ‘‘

میرے بھائیو! ہر ایک کے ہاں مریمؑ کو ان کی والدہ سیدہ حنہ لے کر گئیں۔ سوال پیدا ہوا، اسے قرآن بیان کرتا ہے:

’’اَیُّھُمْ یَکْفُلُ مَرْیَمَ‘‘(آل عمران:۴۴){کہ مریم کی کفالت کون کرے گا}

ہر ایک کی خواہش اور چیز بھی ایسی کہ اسے تقسیم بھی نہیں کیا جا سکتا۔’’اَیُّھُمْ یَکْفُلُ مَرْیَمَ‘‘ طے کیا ان حضرات نے کہ قرعہ اندازی کر لو۔

عزیز بھائیو! اگر آج میں نے اور آپ نے قرعہ اندازی کرنی ہو، چار نام لکھ کر

264

ڈبے میں ڈالے۔ پھر اس کو ہلایا۔ کسی کو کہا کہ تم ایک پرچی اٹھا دو۔ کہتے ہیں کہ: یہ قرعہ میں کامیاب ہو گیا۔ دس نام لکھے، اسے گھمایا، الیکٹرک کے ذریعے بٹن دبایا۔ پرچی باہر آ گئی، کہتے ہیں: یہ کامیاب ہو گیا۔ آج کل قرعہ اندازی یہ ہے۔ اس زمانے میں قرعہ اندازی کیا ہوئی: ’’اِذْ یُلْقُوْنَ اَقْلَامَھُمْ اَیُّھُمْ یَکْفُلُ مَرْیَمَ وَمَاکُنْتَ لَدَیْھِمْ اِذْ یَخْتَصِمُوْنَ‘‘(آل عمران: ۴۴)

اے محمد عربیﷺ! آپ اس وقت ان کے پاس نہیں تھے۔ جب قرعہ اندازی ہو رہی تھی۔ کس بات کی ’’اَیُّھُمْ یَکْفُلُ مَرْیَمَ‘‘ لاؤ نا اپنی اپنی قلموں کو۔ معاف رکھنا! آپ کی یہ پنسلیں نہیں، وہ اس زمانے کی کانے(سرکنڈے) کی قلم تھی۔ چاقو کے ساتھ تراشا، پھر اس کو دوات میں ڈالا، لکھ لیا۔ لکھتے کیا تھے؟۔ عزیزو! ان قلموں سے لکھتے کیا تھے، یاتورات کو یا حضرت سیدنا زکریا ں کی احادیث کو۔ ان قلموں کے ساتھ۔

⚛… ماحول بیت المقدس کا

⚛… زمانہ زکریا ں کا

⚛… جماعت ان کے صحابہ کی

کتنے نوروں کو قدرت نے اکٹھا کر دیا اور قلموں سے کیا لکھا جا رہا ہے تورات کی تفسیر۔آج آپ اور میں تفسیر پڑھنے والے محمد عربیﷺ کے امتی اور وہ سیدنا زکریاں کے صحابہ تھے۔ آپ کو پڑھانے والے استاذ محمد عربیﷺ کے خادم۔ امت کے عالم ربانی یہ قرآن کی تفسیر بیان کر رہے ہیں۔ وہ سیدنا زکریا ں تورات کی تعبیر بیان کر رہے تھے۔ یہ بھی کتاب اللہ، وہ بھی کتاب اللہ۔

حضرت زکریا ں کی قلم الٹی سمت

بھائیو! اس ماحول میں لاؤ نا اپنی اپنی قلموں کو۔ یہ بیت المقدس۔ وہ سامنے چل رہا ہے پانی کا نالہ، آؤ کھڑے ہوں اس پر۔ سارے ڈالو اپنی اپنی قلموں کو پانی میں۔ جس کی قلم پانی کے بہاؤ کے ساتھ چلی جائے، جدھر کو پانی جا رہا ہے۔ جس کی قلم اس کے ساتھ چلی جائے۔ مریم کی کفالت وہ نہیں کر سکتا۔ جس کی قلم پانی کے سینے کو چیر کر پانی کے الٹے بہاؤ،

265

جدھر سے پانی آ رہا ہے، ادھر کو جائے۔ جانا ادھرکو چاہئے تھا، عقلاً ادھر کوجانا چاہئے۔ لیکن جس کی قلم پانی کے سینے کو چیر کرالٹے بہاؤ کو جائے، وہ مریم کی کفالت کرے گا۔

عزیز بھائیو! توجہ کرو، سارے ڈالتے رہو قلموں کو۔ وہ دیکھو: جا رہی ہیں قلمیں سب کی پانی کے بہاؤ کے ساتھ۔ جدھر پانی، ادھر قلمیں بھی فراٹے بھرتی ہوئی، جھولتی جھالتی لہروں کے ساتھ کھیلتی جا رہی ہیں۔ جب ڈالانا سیدنا زکریا ں نے اپنی قلم کو۔ پتہ نہیں سیدنا زکریا ں کے قلم میں:

⚛… کون سا قدرت نے سٹیمر لگا دیا تھا

⚛… کون سی اللہ نے بیٹری فٹ کر دی تھی

⚛… کون سا قدرت نے کرنٹ دے دیا تھا

اس میں کہ جب سیدنا زکریا ں نے قلم کو ڈالا، میاں! وہ دیکھو، ان کی قلم ڈالنے کی دیر ہے۔ سب کی قلمیں یوں جا رہی تھیں، یوں جا رہی تھیں۔ مگر یہ جھولتی جھالتی جا رہی ہے۔ یہ فراٹے بھرتی جا رہی ہے۔ سینہ چیرتے ہوئے پانی کا۔ وہ جا رہی ہے سیدنا زکریا ں کی قلم ۔ قرآن میں ہے کہ نہیں ہے؟ میاں! بولو تو سہی ذرا۔ سب نے جس وقت دیکھا، طے کیا، سب نے یہی کہا: حق ہے حضرت سیدنا زکریا ں کا۔

سیدنا زکریا ں کی کامیابی

عزیز بھائیو! میں تم سے عرض کرتا ہوں، استدعا کرتا ہوں تم دوستوں سے، کہ آج اگر توجہ کرو۔ کہا یہ جا رہا ہے، لوگو! کیا دیکھتے ہو، ماحول کو۔ کیوں پریشان ہوتے ہو اس امر پر۔ آج مائی مریمؑ کی کفالت وہ کرے گا کہ دنیا کی قلم یوں چلے۔ اس کی قلم یوں چلے۔ مائی مریمؑ کی کفالت وہ کرے جس کی قلم یوں چلے۔ مائی مریم کل آپ کو بیٹا ایسا دوں گا کہ دنیا زمین پر پھرے گی اور وہ آسمانوں پہ اڑے گا۔ توجہ کریں! میں عرض کرتا ہوں، سب نے کہا، یہاں کون کریں گے کفالت۔ سارے پکار اٹھے، اس قرعہ اندازی میں کامیاب کون ہوئے؟۔ کہو نا حضرت سیدنا زکریا ں۔

266

سیدہ مریم کا نام قرآن میں

میرے بھائیو! مائی مریمؑ پر:

⚛… میری اولاد قربان

⚛… میری بیٹیاں قربان

⚛… میری بہو قربان

عزیزو! میں تم سے عرض کرتا ہوں۔ سیدہ مریمؑ کوئی معمولی خاتون نہیں۔ یہ وہ خاتون ہیں جن کا تذکرہ قرآن میں ہے۔ جن کے نام پر قرآن میں پوری سورۃ ہے۔ اور سیدہ مریمؑ وہ ہیں جن کے متعلق نص قطعی ہے قرآن کی:

’’وَاصْطَفٰکِ عَلٰی نِسَاءِ الْعَالَمِیْنَ‘‘ (آل عمران: ۴۲)

قرآن کہتا ہے کہ تمام روئے زمین کی عورتوں کی سب سے بڑی، اپنے زمانے کی سربراہ، سب سے زیادہ مقدس اور پاکباز خاتون۔

یہود اور مرزا قادیانی کی گستاخی

دوستو! میرا سینہ اس وقت چھلنی ہوتا ہے۔ جب میں دیکھتا ہوں یہود کو کہ وہ:

’’وَعَلٰی مَرْیَمَ بُھْتَانًا عَظِیْمًا‘‘(النساء: ۱۵۶)

{مائی مریمؑ پر بدکاری کے الزام لگاتے تھے۔}

⚛… میرا دل کباب ہوتا ہے

⚛… میرا دماغ کھولنے لگتا ہے

اس وقت جب میں رئیس قادیان کو دیکھتا ہوں۔ وہ قادیان کا دہقان مائی مریمؑ کے متعلق کہہ رہا ہے کہ:’’ عیسیٰ علیہ السلام کی نانیاں اور دادیاں زناکار اور کسبی عورتیں تھیں۔‘‘

(انجام آتھم ص۷، خزائن ۱۱، ص۲۹۱)

⚛… وہ بھی بکواس کرتا ہے

⚛… قادیان کا بے ایمان بھی بکواس کرتا ہے

⚛… اسرائیل کا یہودی بھی بکواس کرتا ہے

267

اور اس کی بکواس کا مرجع ہیں سیدنا زکریا ں یا سیدنا عیسیٰ علیہ السلام یا سیدہ مریمؑ۔بھائیو! مجھے ضرورت پڑتی ہے اس امر کی کہ میرا رب دے مجھے صور اسرافیل، پھو نک کر اپنی بات کھول کھول کے آپ کے قلب و جگر کی گہرائیوں میں اتار سکوں۔ اس حقیقت کو، اس صداقت کو کہ مائی مریمؑ قرآنی خاتون، اور یہ وہ خاتون ہیں، دیکھو: نظم کیا بن رہا ہے، سیدہ حنہ نے مائی مریمؑ کو ڈالا سیدنا زکریا ں کی گود میں۔ چھوٹی، دودھ پینے والی معصوم بیٹی، سیدنا زکریا ں نے ’’مَکَانًا شَرْقِیًّا‘‘(مریم: ۱۶)

اسی بیت المقدس کے ماحول میں مشرقی سائیڈ پر ایک کمرہ مختص کر دیا کہ اس میں سیدہ مریمؑ رہے گی۔سیدہ مریمؑ:

⚛… کل چھوٹی ہیں

⚛… آج بڑی ہیں

⚛… سیدنا زکریا ں جاتے ہیں

⚛… دروازہ کھولتے ہیں

⚛… کھانا پہنچاتے ہیں

⚛… واپس آ تے ہیں

⚛… واپس آ کر دروازہ بند کر تے ہیں

⚛… اور راستہ کوئی نہیں

⚛… ایک ہی راستہ

⚛… اکیلی رہ رہی ہیں

ان کا کام سوائے آرام یا اللہ کی عبادت کے اور کچھ نہیں۔ عبادت بھی بیت المقدس میں۔ راہبہ سیدہ مریمؑ۔

سیدہ مریمؑ کے ہاں بے موسم پھل

آج سیدنا زکریا ں آئے، دیکھا کہ:

’’وَجَدَ عِنْدَ ھَارِزْقًا‘‘(آل عمران:۳۷)

268

{مائی مریمؑ کے پاس دیکھا بے موسم کے پھل رکھے ہیں۔}

پکار اٹھے: مائی مریمؑ! یہ کہاں سے۔ انہوں نے کہا:’’من عنداللہ‘‘ {اللہ کی طرف سے۔}

’’اِنَّ اللّٰہَ یَرْزُقُ مَنْ یَّشَاءُ بِغَیْرِ حِسَابٍ‘‘(آل عمران: ۳۷)

{اللہ جس کو چاہتا ہے بغیر حساب کے رزق دیتا ہے۔}

صوفیو! ایک بغیر حساب کا معنی یہ ہے کہ اللہ اتنا ڈھیر سارا دیتا ہے کہ بے حدو حساب، انگنت، گنا نہیں جا سکتا۔ لیکن بغیر حساب کا معنی یہاں یہ فٹ نہیں آتا۔ اکیلا حجرہ، مائی مریم کا اس حجرے میں اکیلی جان، مائی مریمؑ کو منوں و ٹنوں رزق کی وہاں کیا ضرورت تھی؟ بغیر حساب کا ایک معنی یہ ہے کہ:

⚛… گرمیوں کا پھل، سردیوں میں

⚛… سردیوں کا پھل، گرمیوں میں

⚛… موسم گرمیوں کا، پھل سردیوں کا

⚛… پھل سردیوں کا، موسم گرمیوں کا

یہ ہے بغیر حساب کا معنی۔ آپ کے ہاں پابندی ہے کہ گرمی کا پھل گرمی میں ملے گا، سردی میں نہیں۔ سردی کا پھل سردی میں ملے گا، گرمی میں نہیں۔ بغیر حساب کا معنی یہاں یہ ہے زمانہ گرمی کا، پھل سردی کا۔ زمانہ سردی کا، پھل گرمی کا۔ یہ ہے معنی’’اِنَّ اللّٰہَ یَرْزُقُ مَنْ یَّشَاءُ بِغَیْرِ حِسَابٍ‘‘ (آل عمران: ۳۸) کا۔

سیدنا زکریا ں کا اولاد کی دعا کرنا

میری طرف دیکھو میاں! سیدنا زکریا ں نے دیکھا مائی مریمؑ کے پاس بے موسم کے پھل ہیں۔ وہیں پر قرآن کہتا ہے ’’ھُنَا لِکَ دَعَا زَکَرِیَّا‘‘(آل عمران:۳۸) ادھر پھلوں کو دیکھا، ادھر ہاتھ اٹھا کر سیدنا زکریا ں نے پروردگار عالم کے ہاں دعا کی۔ پروردگار! کرم کا معاملہ فرما۔ اگر تو مائی مریمؑ کو بے موسم کے پھل دے سکتا ہے۔

’’وَاشْتَعَلَ الرَّأْسُ شَیْبًا‘‘ (مریم: ۴)

269

⚛… میرا سر سفید ہو گیا

⚛… ہڈیاں میری دکھ گئیں

⚛… میری بیوی وہ بانجھ ہو گئی ہے

⚛… وہ بھی بوڑھی ہوگئی

⚛… میرے سر کے بال بھی سفید ہوگئے

⚛… کمر ٹیڑھی ہوگئی

لیکن خداوند! اگر تیرے ہاں گرمی سردی کا کوئی حساب نہیں تو پھر جوانی اور بوڑھاپے کا بھی کوئی حساب نہیں ہونا چاہئے۔ یہاں بے موسم کے پھل دے سکتا ہے تو خداوند! بوڑھاپے میں اگر تو مجھے اولاد دیدے تو تیرے سامنے کیا بعید ہے۔

⚛… اولاد دینے والا کون؟… بولو: اللہ

⚛… رزق دینے والا کون؟… بولو: اللہ

⚛… اولاد دینے والا کون؟ …بولو :اللہ

اجابت دعا

’’ھُنَالِکَ دَعَا زَکَرِیَّا رَبَّہُ‘‘یہاں پر کھڑے ہو کر سیدنا زکریا ں نے اٹھائے ہاتھ۔ رب کے حضور مانگی دعا۔ قرآن کیا کہتا ہے ’’فَاسْتَجَبْنَا‘‘ ہم نے ان کی دعا کو قبول کیا۔ کتنی دیر لگی؟۔ یہاں سے چلے وہ سامنے محراب میں گئے۔ وہاں پہنچے تو ہمارا فرشتہ گیا۔ کہا: زکریا(ں)! تم نے دعا کی تھی۔ اللہ کی طرف سے منظوری لے کر وہ ہمارےپاس آ گئی۔ رب فرماتے ہیں ہم نے تمہاری دعا قبول کی۔ دعا بھی ایسے قبول کی کہ ہم تمہیں بیٹا دیں گے۔ بیٹا بھی ایسا کہ باقی بیٹوں کا نام اس کے ماں باپ رکھتے ہیں۔ تیرے بیٹے کا نام رب کہتا ہے میں خود رکھوں گا۔ اور نام بھی ایسا کہ اس سے پہلے اس نام کو کسی نے نہیں رکھا۔ یحییٰ! جاگ رہے ہو؟

سیدنا یحییٰ ں کے فضائل

میں تم سے کہہ رہا ہو ں۔ یہ سیدنا زکریا ں اللہ کے نبی۔ یحییٰ بھی آگے چل کر

270

اللہ کے نبی بنے۔ جاگتے ہو……؟قرآن کہتا ہے یہ یحییٰں کون ہیں ’’سَیِّدًا وَّ حَصُوْرًا‘‘(آل عمران: ۳۹) حصور کس کو کہتے ہیں۔ میاں! حصور کہتے ہیں کہ روکے رکھے اپنے آپ کو اس بات سے کہ ساری زندگی کسی عورت کے قریب نہ جائے، شادی نہ کرے، اس کو حصور کہتے ہیں۔

خداوند! تیری حکمتوں پر قربان، سیدنا زکریا کو بیٹا وہ دیا کہ ساری زندگی ان پر کسی عورت کا سایہ نہیں پڑا۔ ادھر مائی مریمؑ، کفالت کے لئے بھی بیٹی وہ دی کہ ’’لَمْ یَمْسَسْنِیْ بَشَرٌ‘‘(آل عمران:۴۷)

⚛… سیدنا یحییٰں پر کسی عورت کا سایہ نہیں پڑا

⚛… مائی مریمؑ پر کسی مرد کا سایہ نہیں پڑا

سیدہ مریمؑ آج چھوٹی کل بڑی، ہائے میرے اللہ! ماحول کو دیکھو۔ دیکھو قرآن کو، کس طرح اپنی رحمت کی بارش برساتا ہے۔ خوب دھوؤ، اپنے دلوں کو منور کرو۔

سیدنا مسیح علیہ السلام کی ولادت باسعادت

بھائیو! میںآپ حضرات سے استدعا کرتا ہوں۔ سیدئہ مریمؑ آج بیٹھی ہیں ان کے پاس فرشتے آئے: ’’فَتَمَثَّلَ لَھَا بَشَرًا سَوِیًّا‘‘

ٹھیک ٹھاک ایک مرد کی شکل میں سیدنا جبرائیل امین آئے۔ میری طرف دیکھو ! سیدہ مریمؑ نے جب دیکھا۔تو دیکھ کر:

⚛… پکار اٹھیں

⚛… کانپ گئیں

⚛… تھر تھرا گئیں

کیا تم اللہ کے شریف آدمی ہو؟ اللہ کے بندے! میں تم سے پناہ مانگتی ہوں۔ کیسے جرأت ہوئی میرے کمرے میں آنے کی۔ دروازہ بند۔ اندرکوئی نہیں۔ آئے کیوں بغیر اجازت کے؟۔ کون ہوتے ہو تم؟اور میرے کمرے میں کیوں کر آئے؟

بھائیو! سیدنا جبرائیل نے آگے جواب میں کہا: ’’مریم ! پریشان کیوں ہوتی

271

ہے؟۔ میں اللہ کا بندہ ہوں۔ اللہ کا میں فرشتہ ہوں۔ اللہ کے حکم سے آیا ہوں۔

’’لِاَھَبَ لَکِ غُلَامًا زَکِیًّا‘‘ (مریم: ۱۹)

{کہ آپ کو ایک پاک باز بیٹے کی خوشخبری سناؤں۔}

سیدہ مریمؑ کی پاکدامنی

مریمؑ نے یہ سنا تو کہا :’’رَبِّ اَنّٰی یَکُوْنُ لِیْ وَلَدٌ وَّ لَمْ یَمْسَسْنِیْ بَشَرٌ‘‘(آل عمران:۴۷) { نہ تو میری شادی ہوئی، نہ میں بدکار عورت ہوں۔ میرے کیونکر بیٹا پیدا ہو گا بغیر باپ کے بیٹا،بغیر خاوند کے بیٹا، یہ مجھے کیوں کر ہو گا؟۔}

’’اَنَّ مَثَلَ عِیْسٰی عِنْدَاللّٰہِ کَمَثَلِ آدَمَ‘‘(آل عمران: ۵۹)

میں آپ سے عرض کرنا چاہتا ہوں، میرا بیٹا کیوں کر ہو گا؟ سیدنا جبرائیل نے کہا ’’کَذَلِکَ‘‘ ایسے ہو گا،بولو: ایسے ہو گا۔ مریمؑ یہ تو اللہ کا حکم ہے۔ یہ تو ہو گا۔ میرے بھائیو! ’’فَنَفَخْنَا‘‘ وہ مائی مریمؑ کے دامن میں سیدنا جبرائیل امین نے پھونک مار کر ’’فَنَفَخْنَا‘‘ دم کیا۔ مائی مریمؑ کی امانت ان کے بطن مبارک میں منتقل ہو گئی۔

ایک ہفتہ… دس دن… پندرہ دن… مہینہ… دو ماہ… تین ماہ… چار ماہ… پانچ ماہ… چھ ماہ… سات ماہ… آٹھ ماہ…نو ماہ۔

وقت پیدائش کا قریب ہوا۔ سیدہ مریمؑ کی پوزیشن یہ ہے کہ کیوں کر میں باور کراؤں گی اپنی قوم کو کہ بغیر خاوند کے بھی بیٹا پیدا ہو سکتا ہے؟ بیٹا بغیر باپ کے؟ کیوں کر باور کرے گی۔ یہ پیدائش کا وقت قریب آیا۔ میری قوم مجھے کیا کہے گی۔ مائی مریمؑ کو اپنی پاک دامنی پر شک نہیں تھا۔ اپنی پاک دامنی کی تو وہ سب سے بڑی گواہ خود تھیں۔ سب سے بڑی عینی گواہ موقع کی گواہ یقین کے ساتھ جس کے یقین کو قرآن نے نقل کیا ’’لَمْ یَمْسَسْنِیْ بَشَرٌ‘‘ مجھ پر کسی مرد کا سایہ نہیں پڑا۔

سیدہ مریمؑ کو قوم کی مخالفت کا خوف

میرے بھائیو! پاکدامن، پاکباز خاتون۔ لیکن یہ سوال اپنی جگہ، قوم کیا کہے گی؟ اور بیٹے کی پیدائش کا وقت بھی قریب ہے۔ قرآن کہتا ہے اس حالت میں سیدہ مریمؑ

272

نے کیا کہا: ہائے میرے اللہ، قرآن سے بڑھ کر اس حقیقت کو اور کون واشگاف الفاظ میں کہہ سکتا ہے۔ اس سے زیادہ کہنا ممکن ہی نہیں جو سیدہ مریمؑ کے پورے قلب و جگر کی ان کیفیات کا، جس طرح ایکسرے کر کے قرآن نے نقل کر دیا۔ ایک جملے میں کہا:

’’یَالَیْتَنِیْ مِتُّ قَبْلَ ہٰذَا وَکُنْتُ نَسْیًا مَّنْسِیًّا ‘‘(مریم:۲۳) {خدا وند! آج کے دن سے میں پہلے مر گئی ہوتی، میرا نام و نشان نہ ہوتا۔}

رب کریم کی طرف سے سیدہ مریمؑ کو تسلی

میرے واجب الاحترام بھائیو! یہ کیفیت ہے تو اس ماحول میں اور پیدائش کا وقت قریب ہے۔ سیدہ مریمؑ نے چھوڑا بیت المقدس کو۔ چلتی ہیں ایک اونچے ٹیلے پر

’’اٰوَیْنَاھُمَا اِلٰی رَبْوَۃٍ ذَاتِ قَرَارٍ وَّ مَعِیْنٍ‘‘(المؤمنون:۵۰)

ایک اونچی جگہ پر، وہ دیکھو وہاں پر چلتی ہیں۔ سیدہ مریمؑ۔ ذَاتِ قَرَارٍ مائی وہاں پر پہنچی ہیں، وہاں پر میرے رب نے کیا کہا: مریم!۔ میاں! جاگ رہے ہو؟ سنو! کیا کہا: مریم! پریشان کیوں ہوتی ہو؟ دیکھنا، یہ ہے سامنے کھجوروں کا تنا:

’’وَھُزِّیْ اِلَیْکِ بِجِذْعٍ النَّخْلَۃِ‘‘(مریم: ۲۵)

ہاتھ لگا کھجوروں کے ان تنوں کو یہ جو کھجور کے تنے کھڑے ہیں: آدھے ہرے اور آدھے سوکھے ہوئے۔ ان کو پکڑ کر ہلا تو۔ ہلانا تیرا کام ہے ’’تُسٰقِطْ عَلَیْکِ رُطَبًا جَنِیًّا‘‘(مریم: ۲۵)تیرے سامنے تازہ رس بھری کھجوروں کا ڈھیر لگانا ہمارے ذمہ ٹھہرا۔ انہوں نے پکڑ کر ہلایا ہے۔ کھجوروں کے ان منڈھوں کو۔ وہ سامنے دیکھو تٹرتٹر کرتی گر رہی ہیں کھجوریں۔ تازہ رس بھری موٹی۔ مائی مریمؑ ان کو دیکھتی ہیں کہ ابھی ہاتھ لگایا کھجوریں یہ کہا ں سے مریم ادھر کیا دیکھتی؟ ہو ذرا ادھر بھی تو دیکھنا ادھر دیکھا ’’وَمَعِیْنٍ ‘‘ نتھرا ہواپانی کا چشمہ، فلٹر کیا ہوا ۔ نہ اس میں کڑواہٹ ہے نہ میلا پن۔ نہ شوریلا پن نہ گدلا ہے اور فلٹر کیا ہوا پانی۔ مریم! پیاس لگے، پانی پی۔ بھوک لگے، کھجوریں کھا۔ بیٹے کو دیکھ کر آنکھوں کو ٹھنڈک پہنچا۔ اس حالت میں سیدنا عیسیٰ علیہ السلام کی پیدائش ہوئی۔ آخر کتنے دن مائی مریمں نے ٹھہرنا تھا اس اونچے ٹیلے پر۔ ایک دن، دو دن، چار دن، ہفتہ، آخر واپس آنا تھا، اکیلے پن

273

میں یہ کیوں کر زندگی گزرے گی؟ چھوٹا معصوم بچہ، اکیلی مائی صاحبہ۔ آخر قوم کی طرف جانا ہے۔

⚛… تازہ پانی کا ملنا

⚛… کھجوروں کا ملنا

⚛… وہ رزق کا ملنا

⚛… بغیر خاوند کے بیٹے کا ملنا

یہ ساری چیزیں سر آنکھوں پر لیکن یہ مسئلہ تو اپنی جگہ باقی ہے جب بیٹے کو گود میں لے کر گئیں، کنواری عورت کیسے باور کرائے گی، کیوں کر یقین کر پائے گی قوم کہ خاوند کے بغیر بھی بیٹا ہو سکتا ہے۔ یہ سوال اپنی جگہ۔ باقی کیسے مطمئن ہو گی قوم؟ کیسے ڈیل کروں گی میں اپنے کیس کو؟ کیسے فیس کروں گی ان کے اعتراضات کو، کیوں کر سنبھالوں گی کہ خاوند کے بغیر بھی بیٹا؟۔

سیدہ مریمؑ کے لئے تجویز خداوندی

میرے بھائیو! میرے رب نے کیا کہا: مریم! پریشان کیوں ہوتی ہے؟ لے اپنے بیٹے کو گود میں۔ چل نا تو میری رحمت کے سہارے میں۔ پریشان کیوں ہوتی ہے۔ بیٹا دینے والے بھی ہم، آپ کی عظمتوں کا جھنڈا گاڑھنے والے بھی ہم۔ آپ کیوں پریشان ہوتی ہیں؟ لے چل نا اپنے بیٹے کو، بس ایک کام کرنا، روزہ رکھ لینا۔ قوم پوچھے گی۔ روزہ کھانے کا بھی بولنے کا بھی، پینے کا بھی، تم جاؤ گی نہ قوم کے پاس۔ قوم کہے گی ’’اِنِّیْ لَکِ ہٰذَا‘‘ مریم! یہ کہاں سے؟ قوم یہ کہے گی تم نے جواب کے اندرکیا کہنا ہے۔

’’اِنِّیْ نَذُرْتُ لِلرَّحْمٰنِ صَوْمًا فَلَنْ اُکَلِّمَ الْیَوْمَ اِنْسِیًّا‘‘(مریم: ۲۶)

{میں نے روزہ رکھا ہوا ہے۔آج میں کسی کے ساتھ کلام نہیں کروں گی۔}

آج کے دن میں نے کسی سے بات نہیں کرنی۔ میں نے روزہ رکھا ہوا ہے چپ کا۔ بس ایک اشارہ ادھر کرنا ہے اور ایک اشارہ ادھر بھی کردینا ہے، بیٹے کی طرف۔ مریم بیٹے کی طرف اشارہ کرنا تیرا کام ہو گا۔ تیری صفائی میں وکیل کھڑا کرنا میرا کام۔ وکیل بھی

274

ایسا کھڑا کروں گا کہ دنیا نے ایسا وکیل بھی کبھی نہیں دیکھا ہو گا۔

مریم! ایسا وکیل کھڑا کروں گا، بڑے سے بڑے بیرسٹر کا بیان ہو، تو وہ عدالت کی مثلوں میں لکھا جاتا ہے۔ لیکن تیرے وکیل کے بیان کو قرآن میں لکھوں گا تو چل تو سہی میری رحمت کے سہارے۔ پریشان کیوں ہوتی ہے؟

حکم خدا وندی کی تعمیل

سیدہ مریمؑ اپنے بیٹے کو لے کر چلتی ہیں۔ قوم کے پاس گئیں۔ انہوں نے مائی مریمؑ کی گود میں بیٹا دیکھا۔ پکار اٹھی قوم۔ اے مریم! یہ کہاں سے ’’اِنِّیْ لَکِ ہٰذَا‘‘ بیٹا! یہ کہاں سے مریم ؟۔ یہ کیا کیا تو نے؟

’’مَاکَانَ اَبُوْکِ امْرَأَ سَوْئٍ وَّ مَاکَانَتْ اُمُّکِ بَغِیًّا‘‘(مریم: ۲۸)

{نہ تیرا باپ ایسا تھا۔ نہ تیری ماں ایسی تھی۔ تو نے کیا غضب کیا کہ بغیر خاوند کے بیٹا اٹھا لائی۔}

سیدہ مریمؑ نے جواب دیا کہ وہی جو رب نے سمجھایا تھا، مجھ سے کیا پوچھتے ہو، میں تو روزے کے ساتھ ہوں ’’فَلَنْ اُکَلِّمَ الْیَوْمَ اِنْسِیًّا‘‘ جب کہا نا کہ ’’میں نے کسی کے ساتھ بات نہیں کرنی‘‘ تو قوم اس پر اور بپھری… جلوس نکالے… نعرے لگائے… تڑ تڑ کرنے نکلی قوم بدمعاشوں کی۔ ٹیں ٹیں کرنے لگی۔

بند کرو مولویوں کی سندیں۔ راستہ روکو۔ ماشاء اللہ! راستہ روکو۔ دقیانوسی کا راستہ روکا۔ ملاں آنے نہ پائے۔ ان شاء اللہ! آئے گا۔ میں عرض کرنا چاہتا ہوں۔ روشن خیالی۔ ہمارے ایک مولانا ہیں عبدالغفور قاسمی سندھ کے! انہوں نے تو بلا کی بات کہی۔ انہوں نے کہا: روشن خیالی، آزاد خیالی، انہوں نے کہا: یہ ہزار ترقی کرے پھر بھی ہمارے گدھے سے زیادہ روشن خیال نہیں ہو سکتے۔ میں نے کہا حضرت کیا کہہ رہے ہیں؟ کہنے لگے ہاں میاں! ہمارا گدھا اتنا روشن خیال ہے کہ آج تک اس نے کبھی کپڑا نہیں پہنا وہ اتنا روشن خیال ہے کہ جہاں چاہتا ہے چڑھ دوڑتا ہے۔ کسی سے بھی نہیں پوچھتا، وہ اتنا روشن خیال ہے۔

275

دین کو مٹانے والے مٹ جائیں گے

میرے بھائیو!میں عرض کر رہا ہوں دین رہے گا۔ مٹ گئے دین کو مٹانے والے۔ مٹ جائیں گے دین کو مٹانے والے ۔ ہاں! تم سے ایک بات کہتا ہوں۔ خدا کے لئے تمہاری ساری خیر و برکت فلاح و بہبود اللہ نے تمہارے بزرگوں کی جو تیوں میں رکھی ہے۔ ان سے علیحدگی کا راستہ اختیار نہ کرنا۔ اگر علیحدگی کا راستہ اختیار کرو گے، بھلے فضاؤں میں اڑتے پھرو، لیکن ایک دن تم نے آنا سر کے بل نیچے ہے، گردن توڑی جائے گی۔ کمر مروڑی جائے گی اور بزرگوں کے ساتھ رہے، ان کی جوتیوں کو اٹھایا، تم جتنے جھکتے جاؤ گے، قدرت تمہیں اتنا بلند کرتی جائے گی۔ ٹھیک ہے نا میاں؟

وہ وہاں پہنچیں۔ کہا: میں نے اب بات نہیں کرنی۔ قوم اور بپھری، نعرے لگائے۔ اچھا ایک تو بغیر خاوندکے بیٹا اٹھا لائی، ہم کہتے ہیں: یہ کیا؟ تو آگے سے کہتی ہے میں نے بات ہی نہیں کرنی۔ اور غصے ہوئے۔ مائی مریمؑ نے کہا میرے اوپر کیا غصہ ہوتے ہو؟ کیابک بک لگا رکھی ہے تم نے۔ کیا پوچھنا چاہتے ہو مجھ سے؟ مجھ سے کیا پوچھتے ہوـ؟پوچھو نا اس سے ’’فاشارت الیہ‘‘ اس کی طرف اشارہ کیا۔ جب اشارہ کیا تو قوم نے اور نعرے لگائے اور بپھری قوم۔ قوم نے کہا:

’’کَیْفَ نُکَلِّمُ مَنْ کَانَ فِی الْمَھْدِ صَبِیًّا ‘‘(مریم:۲۹)

{مریم ہمیں سبق سکھاتی ہے؟ کیوں وہ بات کرے گا گود والا بچہ، دودھ پینے والا معصوم بچہ، وہ کیسے بات کرے گا۔}

سیدنا عیسیٰ علیہ السلام کا گود میں کلام کرنا

آپ ہمیں کہتی ہیں: ان سے پوچھو۔ ان سے کیا پوچھیں؟ یہ کیوں کر کلام کرے گا؟ ابھی وہ کہہ رہے تھے ’’کَیْفَ نُکَلِّمُ‘‘ سیدنا عیسیٰ علیہ السلام نے کیا کہا:

’’اِنِّیْ عَبْدُاللّٰہِ اَتَانِیَ الْکِتَابَ وَجَعَلْنِیْ نَبِیًّا‘‘(مریم: ۳۰)

276

کیا بک بک لگا رکھی ہے تم نے، تنگ کر رہے ہو میری والدہ کو۔ کیا پوچھتے ہو میرے متعلق کہ ’’اِنِّیْ لَکِ ھٰذَا‘‘ کہا ں سے ہے یہ مجھ سے پوچھو ’’اِنِّیْ عَبْدُاللّٰہِ‘‘

{میں اللہ کا بندہ ہوں۔ بندہ بھی ایسا کہ کل وقت آئے گا کہ میرے سر پر نبوت کا تاج دیکھو گے۔ میرے ہاتھ میں اللہ کی کتاب دیکھو گے۔}

سیدنا عیسیٰ علیہ السلام کے معجزات

بھائی علماء! تم سے عرض کر رہا ہوں۔ سیدنا عیسیٰ علیہ السلام:

⚛… آج چھوٹے ہیں

⚛… کل بڑے ہیں

چل رہا ہے معاملہ۔ وہ دیکھو نا آج یہ وقت آیا:

⚛… اللہ نے کتاب بھی دی

⚛… اللہ نے نبوت بھی دی

نبی بھی ایسے کیا ہو گیا ہے دنیا کو، میرا دل غم کے مارے باہر آنا چاہتا ہے سینے سے۔ کیا ہو گیا ہے دنیا کو۔ آج پوچھتی ہے کہ سیدنا عیسیٰ علیہ السلام زندہ ہیں۔ شریفو! تم ان کے متعلق سوال کرتے ہو کہ سیدنا عیسیٰ علیہ السلام کیسے زندہ؟ جو مردوں کے کنارے کھڑا ہوتا تھا۔ اللہ مردوں کو زندہ کر دیا کرتا تھا۔ تم ان کی حیات کی بحث کرتے ہو میرے ساتھ؟ وہ دیکھو سیدنا عیسیٰ علیہ السلام وہ دیکھو مردے کے کنارے کھڑے ہو کر کہہ رہے ہیں ’’قُمْ بِاِذْنِ اللّٰہ‘‘ اللہ مردوں کو کھڑا کر دیتا ہے۔

جاگ رہے ہو ؟سیدنا عیسیٰ علیہ السلام نابینا پر ہاتھ رکھتے ہیں، اس کی آنکھوں کی بینائی واپس آ جاتی ہے۔ کوڑھی آدمی پر ہاتھ پھیرتے ہیں، وہ چلنے کے قابل ہو جاتا ہے۔ میری بات سمجھ رہے ہو؟ ’’اَنِّیْ اَخْلُقُ لَکُمْ مِّنَ الطِّیْنِ‘‘(آل عمران: ۴۹)

مٹی سے۔ ربڑ کی بات نہیں کر رہا، دیکھو نا گوندھی ہوئی مٹی سیدنا عیسیٰ علیہ السلام کے

277

ہاتھ میں ہے۔ یوں کر کے سیدنا عیسیٰ علیہ السلام نے مٹھی کے اندر لے کر پرندے کی شکل بنائی۔

سیدنا عیسیٰ علیہ السلام کے رفع الی السماء کی تدبیرالٰہی

دنیا مجھے کہتی ہے کہ سیدنا مسیح علیہ السلام اڑ کر آسمانوں پر کیسے گئے؟ شریفو! اس ذات کے متعلق سوال کرتے ہو کہ وہ کیسے گئے؟ اگر تم کہتے ہو سیدنا عیسیٰ علیہ السلام اڑ کر کیسے گئے۔ میں کہتا ہوں: وہ مٹی کو ہاتھ لگاتے تھے، خدا مٹی کو اڑا دیا کرتا تھا۔ تم اس سیدنا مسیحں کے متعلق کہتے ہو کہ وہ کیسے گئے ہیں آسمانوں پر؟۔ میری بات سمجھ رہے ہو شریفو! یہ سیدنا عیسیٰں آج چھوٹے کل بڑے، وہ جو یہود کی قوم تھی، آپ کی مخالف ہوئی۔ آپ کو قتل کرنے کے درپے۔ پکڑنے کے بہانے بنانے لگی کہ پکڑیں اور سیدنا مسیح علیہ السلام کو پھانسی پر لٹکا دیں۔ توجہ کرو! قرآن کہتا ہے ’’وَ مَکَرُوْا وَ مَکَرَ اللّٰہُ‘‘(آل عمران: ۵۴) مکر کس کو کہتے ہیں؟۔خفیہ تدبیر کو۔

⚛… تدبیر اچھی بھی ہوتی ہے

⚛… تدبیر بری بھی ہوتی ہے

تدبیر اچھی ہو اسے’’ وَاللّٰہُ خَیْرُ الْمَاکِرِیْنَ‘‘ کہیں گے۔ تدبیر بری ہو تو اسے’’وَلَا یَحِیْقُ الْمَکْرُ السَّیِّءُی اِلَّا بِاَھْلِہٖ‘‘(فاطر: ۴۳) کہیں گے۔ دونوں کا تذکرہ قرآن میں ہے۔ میری طرف دیکھو! سیدنا مسیح علیہ السلام:

⚛… بیٹھے ہیں ایک مکان میں

⚛… آتی ہے یہود کی قوم

⚛… گھیرا ہے مکان کو

⚛… تیار کیا ایک آدمی کو

بعضوں نے کہا یہود اسکریوطی تھا۔ بعض نے کہافلاں تھا، میری بلا سے کوئی ہو۔ یہ قرآن کا موضوع نہیں ہے۔ یہ تاریخ بتائے وہ کون آدمی تھا۔ قرآن تو کہتا ہے ایک آدمی

278

آیا، قرآن اصولوں کو بیان کرتا ہے۔

⚛… ایک آدمی آیا

⚛… داخل ہوا مکان کے اندر

⚛… تم چلو اندر

⚛… تم وہاں چلو گے

⚛… تمہارا دروازہ کھٹکھٹانے پر وہ آواز سنیں گے

⚛… مسیح علیہ السلام دروازہ کھولیں گے

⚛… یک دم ہم اوپر سے ٹپکیں گے

⚛… اسی کو پکڑیں گے

⚛… اندر داخل ہوں گے

⚛… اور کام تمام کر یں گے

’’مکروا‘‘ یہ ان کی تدبیر تھی اور جب وہاں پر داخل ہوئے۔ ہائے میرے اللہ! میرے رب کی قدرتوں کو دیکھو، میرے بھائیو! داخل ہوئے۔ میرے رب نے ’’وَلٰکِنْ شُبِّہَ لَھُمْ‘‘(النساء: ۱۵۷) وہ آدمی جو داخل ہوا، اس کے اوپر شبیہ ڈال دی گئی سیدنا عیسیٰں کی۔ وہ قوم آئی، اب آپ سوال کریں گے کہ:

⚛… آناً فاناً آن واحد میں

⚛… پلک جھپکتے

⚛… ایک سانس میں

⚛… ایک سیکنڈ میں

ایک قادیانی شبہ اور اس کا ازالہ

ایک آدمی کی شکل دوسرے پہ ڈال دی جائے، کیسے ممکن؟ تم کہتے ہو کیسے

279

ممکن؟۔ آپ کے لئے میرے لئے تو کوئی اشکال نہیں۔ میں تم سے کہتا ہوں نص قطعی ہے قرآن مجید کی کہ سیدنا موسیٰ ں کے پاس لکڑی تھی لکڑی۔ اے موسیٰ! تیرے ہاتھ میں کیا ہے؟ فرمایا: خداوند! لکڑی۔ فرمایا: ڈال تو ایک سیکنڈ کے اندر۔ جونہی زمین پر پہنچی موسیٰں کے ہاتھ میں تھی لکڑی، زمین پر پہنچی اللہ نے اسے سانپ بنا دیا۔ جو خدا آن واحد میں لکڑی کو سانپ بنا سکتا ہے، وہ خدا آن واحد میں اگر ایک کی شکل دوسرے پر ڈال دے کیا یہ ممکن نہیں؟ بولتے نہیں ہو بولو، بولو ممکن نہیں ہے، ہے اور توجہ کرو میاں لکڑی سے جاندار سانپ بنے یہ مشکل ہے۔

⚛… ایک آدمی… دوسرابھی آدمی

⚛… اس کی بھی سانس… اس کی بھی سانس

⚛… اس کی بھی آنکھیں… اس کی بھی آنکھیں

⚛… یہ بھی وہی نوع… وہ بھی یہی نوع

ہم جنس ایک آدمی کی شکل ڈال دی۔ یہ تو بہت آسان ہے، وہ تو زیادہ مشکل تھا۔ لیکن جو خداوند وہ کر سکتا ہے ، وہ خدا یہ بھی کرسکتا ہے۔ جاگ رہے ہو ؟ قوم کے لئے پھر وہ ہی مسئلہ۔ اب اندر داخل ہوئے۔ اے میرے اللہ! تیری قدرتوں پر قربان۔مسیح علیہ السلام کو اللہ نے آسمانوں پر اٹھا لیا۔ یہ جو آدمی تھا میاں! اس کو جو پکڑنے کے لئے گیا تھا، اس پر مسیحں کی شبیہ ڈال دی گئی۔

⚛… آئی قوم

⚛… آؤ دیکھا نہ تاؤ

⚛… چلائی لاٹھی

⚛… مارے سوٹے

مار مار کے حلیہ بگاڑ رہے ہیں۔ اسی حالت میں وہ چیخ کے کہتا ہے کہ:

280

⚛… میں مسیح نہیں ہوں

⚛… میں تمہارا ساتھی ہوں

⚛… اچھا پہلے تو مسیحوں کو دھوکا دیتا تھا

⚛… اب ہمیں دھوکا دیتا ہے

نہیں چھوڑیں گے۔ تو وہی ہے۔ میرے بھائیو! مار مار کے بھرکس نکال دیا۔اس کو پکڑکر پھانسی پر بھی لے گئے، جس کے لئے قرآن کہتا ہے کہ:

’’وَمَا قَتَلُوْہُ وَمَا صَلَبُوْہُ ‘‘(النساء:۱۵۷){مسیح نہ پھانسی چڑھا نہ قتل ہوا}

جس کو لے گئے وہ کون تھا؟۔ ’’وَلٰکِنْ شُبِّہَ لَھُمْ‘‘(النساء:۱۵۷) اب جب دیکھا نا قوم نے غصہ ٹھنڈا ہوا۔ اچھا میاں! اگر یہ مسیح تھا تو ہمارا ساتھی کہاں ہے؟ چہرے کو دیکھتے ہیں مسیح کا۔ جسم کو دیکھتے ہیں تو جسم دوسرے کا تو چہرہ مسیح کیا کیوں؟ قرآن نے کہا: ’’وَلٰکِنْ شُبِّہَ لَھُمْ‘‘ میری بات سمجھ رہے ہو؟ قرآ ن کیا کہتا ہے؟ میری طرف دیکھو ’’وَمَکَرُوْا وَ مَکَرَاللّٰہُ‘‘ گھیرا ہے مسیح کے مکان کو، پکڑنا چاہتے ہیں، پکڑ کر مسیح علیہ السلام کو پھانسی لگانا چاہتے ہیں۔

قرآن نے کیا کہا ’’وَمَکَرُوْا وَ مَکَرَاللّٰہُ‘‘ اللہ نے بھی خفیہ تدبیر کی۔ ان کی تدبیرتھی مسیح علیہ السلام کو پکڑ کر پھانسی لگانے کی اور میرے رب کی تدبیر کیا ہے؟ مسیح علیہ السلام کو قبضے میں لے کر آسمان پر لے جانے کی۔ فرمایا ’’وَاللّٰہُ خَیْرُ الْمَاکِرِیْنَ‘‘ رب کی تدبیر رہی کامیاب۔ وہ دیکھو جا رہا ہے مسیح علیہ السلام آسمانوں کی طرف۔ اس کو قرآن نے بیان کیا:

’’وَمَا قَتَلُوْہُ یَقِیْنًا، بَلْ رَّفَعَہُ اللّٰہُ اِلَیْہِ، وَکَانَ اللّٰہُ عَزِیْزًا حَکِیْمًا‘‘(النساء:۱۵۷، ۱۵۸)

اور پھر اتر گئے آسمانوں پر۔ کوئی دوسرے معنی کااحتمال نہیں ہو سکتا اس میں۔ نص قطعی ہے مسیح علیہ السلام کے آسمانوں پر جانے کی۔ کوئی آدمی ٹیں ٹیں کرتا پھرے، ہر بھونک کا جواب دینا ہمارے لئے ضروری نہیں۔ لیکن جتنے حیات مسیح علیہ السلام کے منکر ہیں، لاؤ ان کو ایک ایک کر کے دلائل سے ان کے دانت توڑیں گے۔ آپ کے مقابلے میں کھڑا نہیں ہو پائے گا۔ ان شاء اللہ!

281

حیات مسیح کیوں نہیں سمجھے

بھائیو! مجھے بہت ہی تعجب ہوتا ہے کہ مولوی صاحب ہو کر عالم دین ہو کر اسے حیات مسیح علیہ السلام کا مسئلہ سمجھ نہ آئے، یہ کیوں کر ممکن ہے ؟ایک ہمارے مولوی صاحب تھے۔ لیکن سر پھوڑنے کو دل چاہتا ہے اس وقت جب میں دیکھتا اپنے ساتھیوں کی بے حسی کو۔ میرے پاس ایک مولوی صاحب آئے، خیر سے ایک مدرسہ کے پڑھے ہوئے، فارغ التحصیل عالم دین۔ اسی سال فارغ ہوئے۔ مجھے آ کر کہتے ہیں: مولوی صاحب! نزول عیسیٰ علیہ السلام کی کوئی حدیث بھی ہے؟ میرا دل کرے ماروں اس کے منہ پر تھپڑ اور بگاڑ دوں اس کے چہرے کو کہ شریف آدمی سے کوئی پوچھے کہ کوئی ہے صحاح ستہ کی یا کسی حدیث کی کتاب جس میں نزول مسیح علیہ السلام کا باب نہ ہو۔ صحاح ستہ والے نزول مسیح پر باب قائم کریں، اسی سال پڑھنے والا مولوی پوچھے کہ کوئی حدیث ہے حیات مسیح علیہ السلام کی؟یہ صرف آپ کی اور میری عدم توجہی کا مسئلہ ہے۔

محمدعربیﷺ کے دشمن کی رعایت نہیں ہوسکتی

بھائیو!آج کی مجلس میں صرف اتنا کہا،یہ سمجھانے کی گفتگو محض اس لئے شروع کی تاکہ اتنی بات آپ دوستوں کو سمجھ میں آ جائے کہ یہ مرزا قادیانی ملعون۔ اور ملعون کا لفظ جان بوجھ کر کہہ رہا ہوں، اس پر کوئی معذرت نہیں کرتا۔ یہ بات میرے ایمان اور عقیدے کا حصہ ہے کہ ہر آدمی کی رعایت ہو سکتی ہے، محمد عربیﷺ کے دشمن کی رعایت نہیں ہو سکتی۔ میاں! یہ آپ کا بلب جل رہا ہے۔ آپ کے بلب کی دو تاریں ہیں نیگٹو، پازیٹو۔ جب تک یہ دو تاریں نہ ہوں، یہ بلب نہیں جل سکتا۔ ایمان کی بتی کو بھی جلانے کے لئے دو تاروں کی ضرورت ہے۔ ایک رحمت عالم ﷺ کی ذات کے ساتھ محبت اور دوسرا حضور ﷺ کے دشمن کے ساتھ عداوت۔

’’وما علینا الا البلاغ المبین‘‘

282

ظہور امام مہدی علیہ الرضوان

بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ

اَلْحَمْدُللہِ وَکَفیٰ وَسَلامٌ عَلیٰ سَیِّدِ الرُّسُلِ وَخَاتَمِ الْاَنْبِیَاءِ وَعَلیٰ اٰلَہٖ وَاَصْحَابِہِ الَّذِیْنَ ھُمْ خُلاَصَۃُ الْعَرَبِ الْعَرَبَاءِ وَخَیْرُ الْخَلاَءِقِ بَعْدَ الْاَنْبِیَاءِ۔ اَمَّا بَعْدُ! فَاَعُوْذُ بِاللہِ مِنَ الشَّیْطٰنِ الرَّجِیْمِ۔ بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ۔

قال النبیﷺ: ’’وَالَّذِیْ نَفْسِیْ بِیَدِہٖ لَیُوْشِکَنَّ اَنْ یَّنْزِلَ فِیْکُمْ اِبْنُ مَرْیَمَ حَکَمًا عَدْلًا، فَیَکْسِرُ الصَّلِیْبَ، وَیَقْتُلُ الْخِنْزِیْرَ، وَیَضَعُ الْحَرْبَ، وَیَفِیْضُ الْمَالَ حَتّٰی لَایَقْبَلَہُ اَحَدٌ حَتّٰی تَکُوْنَ السَّجْدَۃُ الْوَاحِدَۃُ خَیْرًا مِّنَ الدُّنْیَا وَ مَا فِیْھَا ثُمَّ یَقُوْلُ اَبُوْ ھُرَیْرَۃَ وَاقْرَءُ وْا اِنْ شِئْتُمْ: وَاِنْ مِّنْ اَھْلِ الْکِتَابِ اِلَّا لَیُؤْمِنَنَّ بِہٖ قَبْلَ مَوْتِہٖ وَیَوْمَ الْقِیَامَۃِ یَکُوْنُ عَلَیْھِمْ شَھِیْدًا (بخاری ج۱، ص۴۹۰)
اَللّٰھُمَّ صَلِّ عَلیٰ سَیِّدِنَا وَ مَوْلٰنا مُحَمَّدٍ وَّعَلیٰ آلِ سَیِّدِنَا وَ مَوْلٰنا مُحَمَّدٍ وَّ بَارِکْ وَسَلِّمْ وَ صَلِّ کَذَالِکَ عَلیٰ جَمِیْعِ الْاَنْبِیَاءِ وَالْمُرْسَلِیْنَ وَعَلیٰ الْمَلاَءِکَۃِ الْمُقَرَّبِیْنَ وَعَلیٰ عِبَادِ اللہِ الصَّالِحِیْنَ اَجْمَعِیْنَ اِلیٰ یَوْمِ الدِّیْنِ۔

تمہید

میرے واجب الاحترم دوستو! میںدرخواست کرتا ہوں کہ حضرت سیدنا مہدی علیہ الرضوان مدینہ طیبہ سے مکہ مکرمہ تشریف لائیں گے اور طواف کر رہے ہوں گے۔ ان کے طواف کا آخری چکر ہو گا اور رکن یمانی اور مقام ابراہیم کے کونے تک طواف کرتے ہوئے پہنچیں گے۔تو آپ کو پہچانا جائے گا۔(مشکوٰۃ، باب اشراط الساعۃ: ۴۷۱)

حضرات صوفیاء کے مراتب

حدیث شریف میں آتا ہے کہ آپ کو پہچاننے والے شام کے ابدال ہوں گے۔

283

حضرات صوفیاء کے ہاں مراتب ہیں۔ جس طرح ایک مومن،ولی، غوث، قطب الارشاد وغیرہ کہا جاتا ہے، انہیں میں ایک درجہ روحانیت کا ہے، اسے ابدال کہتے ہیں۔ ابدال کو ابدال اس لئے کہا جاتا ہے کہ ابدال جگہ بدلنے والوں کو کہا جاتا ہے۔ دنیا میں چالیس ابدال بیک وقت رہتے ہیں۔ ایک جب ان میں سے فوت ہو جائے تو اللہ رب العزت اس کی جگہ دوسرے آدمی کو اسی مقام پرفائز کر کے ان میں شامل کر دیتے ہیں۔ قدرت اس تعداد کو پورا رکھتی ہے۔ چونکہ وہ چالیس افراد بدلتے رہتے ہیں کہ فوتگی کے بعد ان کی جگہ دوسرا شامل ہو گیا، اس وجہ سے ان کو ابدال کہا جاتا ہے۔ میں چونکہ اس وادی کا نہیں، میں تسبیح اور دانے کا آدمی نہیں ہوں، اس سلسلے پر میں آپ دوستوں کی خدمت میں زیادہ عرض نہیں کر سکتا۔

آپﷺ جامع کمالات انبیاء ہیں

بہرحال حدیث شریف کے مطابق چالیس ابدال جو شام کے اندر رہتے ہیں اور وہ شام کی خصوصیت اس لئے ہے کہ یہ شام کا علاقہ وہ ہے جسے ارض الانبیاء کہا جاتا ہے۔ نبیوں کی زمین۔ حضرت سیدنا نوح ں کوآدم ثانی کہا جاتا ہے۔ حضرت ابراہیمں، سیدنا نوح ں کے بعد اللہ رب العزت کے جلیل القدر پیغمبر اور رسول گزرے ہیں۔ حق تعالیٰ شانہ نے ان کی نسل میں خوب نبوت کے سلسلے کو چلایا، البتہ ان کے حصے دو ہو گئے۔ ایک اہلیہ سے سیدنا اسماعیل ں تھے۔ اور دوسری اہلیہ سے سیدنا اسحاق ں تھے۔

ایک سلسلہ تو چلتا ہے سیدنا اسحقں، سیدنا یعقوبں، سیدنا یعقوبں سے سیدنا یوسفں۔ اسی طرح آگے چل کر سیدنا موسیٰ ں ان کے بعد کئی سو انبیاء آئے۔ آخر میں سیدنا عیسیٰ علیہ السلام تشریف لائے۔

دوسر اسلسلہ جو سیدنا اسماعیل ں کا ہے۔ حضرت اسماعیل ں کے بعد پھر حضرت محمد ﷺ تک اس پوری نسل میں کئی ہزار سال تک کوئی نبی پیدا نہیں ہوا۔ دوست آگے مجھے یہ تعبیر کرنے کی اجازت دیں تو میں اس کی تعبیر میں یہ کہوں کہ سیدنا ابراہیمں سے لے کر وہ قیامت کی صبح تک اگلوں، پچھلوں کی جتنی صلاحیت تھی، سب کچھ جمع کر کے اللہ تعالیٰ نے محمد عربیﷺ کی ذات میں رکھ دی۔

284

میرے واجب الاحترام بھائیو! یہ جو شام کے ابدال ہیں، یہ حضرت سیدنا مہدی علیہ الرضوان کو طواف کی حالت میں پہچانیں گے۔ پہچانیں گے کیسے؟ میاں!

⚛… آپ کی چال، ڈھال

⚛… آپ کی شکل، شباہت

⚛… آپ کا قد، کاٹھ

⚛… آپ کا چہرہ، رنگت

اور آپ کی عادات کو دیکھ کر۔ چل رہا ہے ایک آدمی، ان کے قدو قامت اور ان کے چہرے کو دیکھ کر باہمی مشاورت کریں گے کہ خدا نہ بھلوائے ہمیں یہ مہدی علیہ الرضوان معلوم ہوتے ہیں اور سیدنا مہدی علیہ الرضوان کا یہ آخری چکر ہو گا۔ یہاں سے چلے وہاں حجر اسود تک پہنچے ہیں۔ طواف مکمل ہو گیا۔ حجر اسود اوربیت اللہ کے دروازے کی طر ف جائیں تو یہاں پر دو تین فٹ جگہ ہے اس کو کہتے ہیں ملتزم۔ اس کے متعلق رحمت عالم ﷺ کی احادیث کی روشنی میں جو قبولیت دعا کے مقامات ہیں ان قبولیت دعا کے مقامات میں سے ایک مقام، مقام ملتزم بھی ہے۔ آج بھی وہاں بہت سارے حاجی صاحبان سینہ اس کے ساتھ لگا کر کھڑے ہوتے ہیں تو سیدنا مہدی علیہ الرضوان بھی طواف کے بعد جا کر ملتزم پر وہاں بیت اللہ شریف کی دیواروں کو ہاتھ لگا کر، رب کریم کے حضور آہ و زاری، عجز و انکسار، خشوع و خضوع کے ساتھ دعا کر رہے ہوں گے کہ اس حالت میں وہ شام کے ابدال چلیں گے۔ ان کے پیچھے آ جائیں گے یہ جونہی دعا کر کے پیچھے ہٹیں گے تو یہ حضرات، حضرت سیدنا مہدی علیہ الرضوان سے ان کا نام، پتہ، ولدیت وغیرہ تفصیلات ان سے پوچھیں گے۔ گفتگو کو آگے چلانے سے پہلے ایک بات عرض کئے دیتا ہوں۔

امام مہدی علیہ الرضوان کے متعلق امت مسلمہ کا نظریہ

میرے عزیز بھائیو! حضرت سیدنا عیسیٰ علیہ السلام کی حیات طیبہ پر جو حدیث مبارکہ ہیں، وہ تواتر کے ساتھ وارد ہیں۔ تواتر کا منکر مسلمان نہیں۔ اس لئے جو شخص سیدنا عیسیٰں کی حیات کا انکار کرے گا، اسے ملحد اورزندیق کہیں گے۔ اسے یہ کہیں گے کہ اس

285

کا یہ عقیدہ اسلام کیخلاف عقیدہ ہے۔ مسلمانوں والا عقیدہ نہیں۔ میری بات سمجھ گئے ہو؟ البتہ حضرت سیدنا مہدی علیہ الرضوان کے متعلق جتنی احادیث ہیں، میں نے وہ ساری حضرت مولانا سید حسین احمد مدنی ؒ کی کتاب کا تذکرہ کیا تھا۔ اس میں حضرت سیدنا مہدی علیہ الرضوان کے حالات اور واقعات پر وہ کتاب لکھی ہے۔ حدیث کی کتاب ہے ۵۰ یا۱۰۰ صفحے کی، میں عرض کرنا چاہتا ہوں کہ حضرت سیدنا مہدی علیہ الرضوان کے متعلق جو خبریں ہیں، وہ تواتر معنوی کو پہنچتی ہیں۔ تواتر لفظی بایں معنی

⚛… ایک روایت ہے وہ ایک سندسے ثابت

⚛… ایک اور روایت ہے وہ دو سندوں سے ثابت

⚛… ایک اور روایت ہے وہ چار سندوں سے ثابت

⚛… ایک اور روایت ہے وہ پانچ سندوں سے ثابت

ان سب کا مفہوم ایک ہے۔ مل کر یہ تواتر معنوی کے درجے کو تو پہنچ جاتی ہیں۔ لیکن تواتر اسنادی یا آپ کہیں تواتر لفظی، یہ اس درجے کو نہیں پہنچ سکتی۔ تو اس لئے شاہ ولی اللہ محدث دہلوی ؒ نے لکھا کہ جو حضرت سیدنا مہدی علیہ الرضوان کی آمد کا قائل نہیں ہو گا تو ہم اس پر کفر کا فتویٰ نہیں لگائیں گے۔ لیکن البتہ یہ ضرور کہیں گے کہ اس کا یہ عقیدہ اہل سنت کے عقیدے کیخلاف ہے اور یہ اس کا عقیدہ خارجیوں والا عقیدہ ہے۔

امام مہدی علیہ الرضوان کے متعلق غیروں کا نظریہ

اب یہاں ایک چھوٹی سی، ایک اوربات عرض کروں اور وہ یہ کہ دیکھئے! سیدنا مسیحں شخصیت ایک ہیں، یہودی ان کو معاذ اللہ! ان کے حسب ونسب پر طعن کرتے ہیں: ’’وَقَوْلِھِمْ عَلٰی مَرْیَمَ بُہْتَانًا عَظِیْمًا‘‘ (النساء: ۱۵۶) {مریمؑ پر بڑا بہتان لگاتے ہیں۔}

یہ بدتمیزی کرتے ہیں۔ سیدنا مسیح علیہ السلام شخصیت ایک ہیں اور ان کے متعلق مسیحی حضرات تثلیث کا عقیدہ رکھتے ہیں۔ اور کئی مسیح علیہ السلام کو خدا کا بیٹا مانتے ہیں۔ شخصیت ایک ہے۔ یہودیوں کا عقیدہ کہ وہ ان کو معاذ اللہ! حلالی نہیں سمجھتے۔ مسیحوں کا عقیدہ کہ وہ مسیح علیہ السلام

286

کو خدا کا بیٹا سمجھتے ہیں۔ رہے مسلمان، ہم سیدنا عیسیٰ علیہ السلام کو اللہ رب العزت کا جلیل القدر پیغمبر اور رسول مانتے ہیں اور یہ ہے صراط مستقیم۔ یہ ہے اعتدال کی راہ۔ یہ ہے’’خَیْرُ الْاُمُوْرِاَوْسطھا‘‘ اسی طرح آپ لے لیں سیدنا مہدی علیہ الرضوان کو، خارجی معاذ اللہ! ان کی آمد کے ہی منکر ہیں۔ کہتے ہیں کوئی مہدی وغیرہ نہیں ہو گا۔ یہ خارجیوں کا عقیدہ ہے۔ رہے ہمارے شیعہ کرم فرما، وہ حضرت سیدنا مہدی علیہ الرضوان کو معاذ اللہ! انبیاء سے بھی افضل قرار دیتے ہیں۔ لیکن ہماری بلا سے خارجیوں، شیعوں ان دونوں کا عقیدہ غلط۔ جیسے یہود اور نصاریٰ کا،کہ شخصیت ایک تھی، عقیدہ دونوں کا ان کے متعلق غلط وہ بھی غلط ، یہ بھی غلط۔ یہودی بھی خارجی بھی، مسیحی بھی، شیعہ بھی، ایک شخصیت کے متعلق ایک نے تشدد کا راستہ اختیار کیا۔ ایک نے ان کی محبت کے اندر غلو کیا۔ پر دونوں غلط۔ ان کے متعلق بھی مسلمانوں کا عقیدہ صرف اتنا ہے کہ ہم سیدنا مہدی علیہ الرضوان کو اس لئے مانتے ہیں کہ ان کے متعلق محمد عربیﷺ کا فرمان ہے۔

میری طرف دیکھو! آج سیدنا فاروق اعظمؓ طواف کرتے ہوئے بیت اللہ شریف کے اس محاذ پر پہنچے، جہاں پر حجر اسود لگا ہوا تھا۔ اسے دیکھ کر فرمایا کہ نہ تو نفع دے سکتا ہے اور نہ تو نقصان دے سکتا ہے۔ اگر میں نے رحمت عالم ﷺ کو نہ دیکھا ہوتا تیرا بوسہ لیتے ہوئے تو تیرا کبھی بھی بوسہ نہ لیتا: ’’عَنْ عَابِسِ بْنِ رَبِیْعَۃَ قَالَ رَأَیْتُ عُمَرَ یُقَبِّلُ الْحَجَرَ وَ یَقُوْلُ اِنِّیْ لَاَعْلَمُ اَنَّکَ حَجَرُ مَا تَنْفَعُ وَلَا تَضُرُّ وَلَوْلَا اَنِّیْ رَأَیْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِa یُقَبِّلُکَ مَا قَبَّلْتُکَ‘‘ (مشکوٰۃ، باب ونول مکۃ والطواف، الفصل الثالث : ۲۲۸ قدیمی)

امام مہدی علیہ الرضوان کا مقام

میرے بھائیو!سیدنا مہدی علیہ الرضوان کے متعلق بھی ہمارا یہی مؤقف ہے۔ اگر رحمت عالم ﷺ کا فرمان نہ ہوتا تو ہمیں کوئی دلچسپی نہیں تھی۔ ہم محمد عربیﷺ کے نقش پاءکو تلاش کرتے پھر رہے ہیں اور یہ صرف سیدنا مہدی علیہ الرضوان کی بات نہیں۔ حضور سرور کائنات رحمۃ اللہ علیہ نے جس جس چیز کے متعلق، جو جو کہہ دیا، وہ ہمارے ایمان اور عقیدے کا حصہ ہے۔

287

بھائیو! حضرت سیدنا مہدی علیہ الرضوان ہر چند اپنے زمانے میں حضور ﷺ کی امت میں سب سے افضل ترین شخصیت ہوں گے۔ لیکن وہ اپنی تمام عظمتوں کے باوجود کسی ایک صحابی رسول ﷺ کی شان کا مقابلہ نہیں کر سکتے۔

بھائیو! ہمارے حضرت ابن سیرین ؒ نے ایک قول نقل کیا ہے کہ حضرت مہدی علیہ الرضوان کا مقام جو ہے وہ سیدنا ابوبکرؓ، سیدنا عمرؓ سے بھی افضل ہے۔یہ علامہ ابن سیرین ؒ تعبیر رویا میں خوب ہیں۔ ان کا بڑا مقام تھا۔ لیکن معاف رکھنا، عقائد کے باب میں ان کا کوئی قول ہمارے لئے کوئی حجت نہیں۔ جس طرح ابن خلدون کے متعلق ہے کہ تاریخ کے اندر ان کا بڑا مقام ہے، وہ اپنے وقت میں تاریخ کے امام تھے۔ لیکن اگر حدیث کے بارے میں کوئی رائے دیں گے تو ان کی بات حجت نہیں۔

⚛… علامہ ابن حجر ؒ کی بات کو مانا جائے گا

⚛… امام بخاری ؒ کی بات کو مانا جائے گا

⚛… علامہ انور شاہؒ کی بات کو مانا جائے گا

محدثین کی لڑی یہ ہے ’’لِکُلِّ فَنٍّ رِجَالٌ‘‘ ہر ایک فن کے، ہر میدان کے علیحدہ مرد ہوا کرتے ہیں۔ تو میں آپ حضرات کی خدمت میں عرض کرتا ہوں کہ سیدنا مہدی علیہ الرضوان اپنی تمام تر عظمتوں کے باوجود وہ کسی ایک صحابیؓ کی شان کامقابلہ نہیں کر سکتے ۔ ہاں اپنے زمانے میں پوری امت میں سب سے افضل اور اعلیٰ ہوں گے۔ دونوں باتوں کو اگر آپ دوست اعتدال کے ساتھ رکھیں گے تو ان شاء اللہ! آپ کو ترازو کے دونوں پلڑے برابر نظر آئیں گے۔ اس میں نہ افراط ہو گا، نہ اس کے اندر تفریط ہو گی۔ بالکل برابر سطح پر نظر آئیں گے۔ یہی سلامتی کی راہ ہے۔ یہی آپ حضرات کے بزرگوں کی راہ ہے۔ اللہ مجھے اور آپ کو اس پر استقامت نصیب فرمائے۔آمین!

ایک لطیفہ

نوجوانو! آپ یہاں سے کھڑے ہوں۔ ادھر سامنے آ کے بیٹھ جائیں، آپ مجھے دیکھیں، میں آپ کو۔ ادھر ادھر نہ دیکھیں۔اس پر لطیفہ۔

288

ایک بزرگ تھے اللہ پاک نے ان کے پاس ایک دن فرشتہ بھیجا کہ جو تم عبادت کرتے ہو یہ تو صرف جنت کی خاطر کرتے ہو۔ جہنم سے بچنے کی خاطر، تو تمہاری یہ تمام تر عبادت خود غرضی کی عبادت ہے۔ اگر ہم تمہاری اس عبادت کا لوگوں کو بتا دیں تو کوئی آدمی تمہارے ساتھ مصافحہ بھی نہ کرے۔ تو جو اللہ کا مقبول بندہ تھا، انہوں نے فرشتوں کی کلائی پکڑ کرکہا: جا کر رب کریم کی خدمت میں میری طرف سے عرض کرنا کہ اگر آپ میری عبادت کی حقیقت لوگوں کو بتا دیں گے تو میرے سے کوئی مصافحہ نہیں کرے گا۔ میںنے اگر آپ کی رحمت کی وسعت کا بتا دیا تو تجھے سجدہ کوئی نہیں کرے گا۔ یہ تو ہے نفس واقعہ کسی بزرگ کا فضائل کے ضمن میں، لیکن اگلی بات وہ خطیبوں کی ہے۔

صاحبزادہ افتخار صاحب تھے، فیصل آباد کے بریلوی مکتب فکر کے، وہ کہتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: اگر میں نے تیری عبادت کا حال بتا دیا تو تجھے کوئی مصافحہ نہیں کرے گا۔ اس نے کہا: اللہ میاں سے جا کر کہو: میں نے آپ کی رحمت کی وسعت کا لوگوں کو بتا دیا تو آپ کو بھی سجدہ کوئی نہیں کرے گا۔ تو اللہ نے فرمایا فرشتے سے: جلدی جاؤ، اس بزرگ کے پاس اور ان سے جا کر کہو کہ:

’’ تو مینوں منی آ، میں تینوں منی آواں‘‘ {تو مجھے مانتا رہے، میں تجھے مانتا رہوں۔}

میں بھی اس نوجوان سے کہتا ہوں تو مجھے دیکھتا رہ اور میں تجھے دیکھتا رہوں۔

حضرت علیؓ اور امام مہدی علیہ الرضوان کی شان

بھائیو! میں عرض کرنا چاہتا ہوں بہت ہی سنجیدگی کے ساتھ کہ سیدنا مہدی علیہ الرضوان کے متعلق آپ حضرات کی خدمت میں عرض کرتا ہوں کہ شخصیت ایک ہے، گروہ تین ہو گئے۔ مسیح علیہ السلام بھی شخصیت ایک تھی، گروہ تین ہو گئے۔ آپ میں سے بھی کوئی آدمی ان کے متعلق ہلکا جملہ نہیں کہنا چاہئے۔ ان کے متعلق شیعہ کرم فرما جو یہ کہتے ہیں، معاذ اللہ! وہ آئیں گے حد جاری کریں گے۔ انبیاء سے بھی افضل ہیں اور یہ ان کے خیالات ہیں۔ یہ ان کے عقیدے ہیں۔ سیدنا مہدی علیہ الرضوان کو اگر ہم طعن و تشنیع

289

کریں تو اس کا معنی یہ ہے کہ ان کا یہ عقیدہ ہو حاشا و کلا وہ ان سے بری ہیں۔ ان کا ان عقائد کے ساتھ کوئی تعلق نہیں۔

بھائیو! جس طرح آج کا یہ کرم فرما طبقہ سیدنا علی المرتضیٰؓ کی شان میں غلو کرتا ہے۔ حضرات حسنین کریمینؓ کی شان میں غلو کرتا ہے۔ باقی کی توہین کرتا ہے۔ ہم کو قرآن کہتا ہے ’’رُحَمَآءُ بَیْنَہُمْ‘‘ (الفتح:۲۹)سیدنا علی ؓ اور سیدنا ابوبکرؓ کی آپس میں کوئی لڑائی نہیں تھی۔ یہ لڑائی ان لوگوں نے بنائی ہے۔ ان کا قصور ہے۔ سیدنا ابوبکرؓ اور سیدنا علیؓ کا کوئی قصور نہیں۔ اسی طرح سیدنا مہدی علیہ الرضوان کے متعلق میں نے دیانت داری کے ساتھ آپ دوستوں کی خدمت میں جو بات کہنی تھی، میں نے کہہ دی۔

مولانا محمد یعقوب نانوتوی رحمۃ اللہ علیہ کا واقعہ

اب اگلی بات عرض کرتاہوں۔ حضرت سیدنا مہدی علیہ الرضوان کے متعلق ہمارے بزرگوں کا تو ذوق یہ رہا ہے کہ آپ کے دارالعلوم دیوبند کے بزرگ تھے جنہیں دنیا مولانا محمد یعقوب نانوتوی رحمۃ اللہ علیہ کہتی ہے۔ مولانا محمد یعقوب نانوتوی رحمۃ اللہ علیہ بیک وقت بہت بڑے عالم دین بھی تھے اور بہت بڑے اپنے وقت کے شیخ بھی۔ مولانا محمد یعقوب نانوتوی رحمۃ اللہ علیہ کو کسی نے کہا کہ حضرت سیدنا امام مہدی علیہ الرضوان کے متعلق کیا خیال ہے؟۔ انہوں نے کھڑے کھڑے یوں آنکھیں بند کیں اور سائل کو لگے کہنے، میں تو یہاں کھڑے ہوئے حضرت امام مہدی علیہ الرضوان کی فوج کے گھوڑوں کے ٹاپوں کے چلنے کی آواز سن رہا ہوں۔ اگلی بات اور عرض کرتا ہوں: ہمارے حضرت مولانا محمد یعقوب نانوتوی رحمۃ اللہ علیہ ایک دفعہ تشریف لے گئے مکہ مکرمہ اور جا کر مکہ مکرمہ کے جوکلیدبردار ہیں بیت اللہ شریف کے، جن کے پاس چابی ہوتی ہے۔ ان سے جا کر کہا: میں سیدنا مہدی علیہ الرضوان کی فوج میں شامل ہونا چاہتا ہوں۔ میں ان کے جہادمیں حصہ دار بننا چاہتا ہوں۔ مہربانی فرما کر آپ میری معاونت کریں۔ وہ جو کلید بردار کعبہ تھا، وہ اس پر چونک اٹھا اور بہت پریشانی کے عالم میں کہا کہ حضرت!آپ نے تو عجیب میری ڈیوٹی لگا دی۔ یہ کیسے ممکن ہے۔ پتہ نہیں حضرت امام مہدی علیہ الرضوان کب آئیں گے۔ وہ تو قیامت کی نشانیوں

290

میں سے ایک نشانی ہیں۔ پتہ نہیں کب آئیں گے۔ نہ قیامت کا کسی کو پتہ نہ امام مہدی علیہ الرضوان کا کسی کو پتہ۔ تو میں آپ کی کیا مدد کر سکتا ہوں؟۔ آپ بھی اس وقت زندہ ہوں گے یا نہیں۔ میں بھی اس وقت زندہ ہوں گا یا نہیں۔ آپ عجیب بزرگ ہیں، مطالبہ وہ کر رہے ہیں کہ نہ میںپورا کرنے کی پوزیشن میں۔ یہ آپ کیا کہہ رہے ہیں؟۔ مولانا محمد یعقوب نانوتوی رحمۃ اللہ علیہ نے ارشاد فرمایا!میں ایک تجویز لے کر آیا ہوں۔ جو بیت اللہ کے کلید بردار تھے، وہ کہنے لگے: وہ کیسے؟ مولانا یعقوب نانوتوی رحمۃ اللہ علیہ نے کہا: تجویز بھی لایا ہوں اور اس پر دلیل بھی۔

چلیں بھائیو! ایک بات میں بھی اپنے ذوق کی کئے دیتا ہوں اور اس پر دلیل بھی۔ ان شاء اللہ! جو شخص قادیانیت کے فتنے کے خلاف کام کرے گا، رب کعبہ کی قسم! جہنم میں نہیں جائے گا۔ جو شخص محمد عربیﷺ کی ختم نبوت کا کام کرے گا، کبھی بھی جہنم میں نہیں جائے گا۔ میں اس پر دلیل یہ عرض کرتا ہوں۔ بھائیو!ہم نے ساری زندگی قادیانیت کے خلاف کام کیا۔ کبھی خواب میں بھی قادیانیوں کے ساتھ سمجھوتہ نہیں کیا۔ لڑائیاں ہوئیں،مقابلے ہوئے، مناظرے ہوئے، خواب میں بھی کبھی ان کے ساتھ سمجھوتہ نہیں کیا۔ خواہ میٹنگ ملکی مفاد کے لئے ہو یا امن و امان کے حوالہ سے انتظامی ہو، ڈی سی او کرے۔ انہوں نے کہا: جی شہر کی میٹنگ بلاتے ہیں امن کی۔ آپ بھی آ جائیں اور قادیانی بھی۔ آپ بھی شہر کے باسی اور وہ بھی۔ ہم نے کہا: قادیانیوں سے علیحدہ میٹنگ کر لو، ہم علیحدہ میٹنگ کریں گے۔ قادیانیوں کو اپنے ساتھ برابر کی حیثیت دے کر قادیانیوں کو اپنا حریف مان کر ان کے ساتھ بیٹھ جائیں۔ ایسا کرنے کے لئے تیار نہیں۔

ختم نبوت کا مسئلہ بہت ہی حساس

بھائیو! میری دلیل سنو، اگر آپ اور میں ختم نبوت کے مسئلے میں اتنے حساس ہیں کہ حضور ﷺ کے دشمنوں کو ایک سیکنڈ کے لئے اپنے ساتھ برداشت نہیں کرتے تو قادیانی تو جائیں گے جہنم میں۔ اللہ، ہم سے زیادہ غیرت والے ہیں۔ وہ ہمیں اور قادیانیوں کو ایک ساتھ کیسے برداشت کرے گا۔ اس لئے ختم نبوت کا کام کرنے والا کبھی بھی جہنم میں نہیں

291

جائے گا۔ البتہ قبر کا ڈر لگتا ہے۔ قبر اکیلی، اکیلی ہے۔ وہاں تو اس طرح کا سوال نہیں۔ وہاں تو ہے، یہاں نہیں۔ اس لئے مولانا محمد یعقوب نانوتوی رحمۃ اللہ علیہ بھی گئے کلید بردار کعبۃاللہ کے پاس کہ میں سیدنا مہدی علیہ الرضوان کے جہاد میں شریک ہونا چاہتا ہوں۔ آپ میرے ساتھ تعاون کریں، میں شریک ہو جاؤں گا۔ تو اس نے کہا: حضرت! وہ کیسے؟ فرمایا!میں ایک تجویز بھی لایا ہوں اور دلیل بھی۔ فرمایا!حضرت کونسی دلیل؟ مولانا نانوتوی رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا کہ وہ یاد ہے روایت آپ کو؟۔ روایت میں ہے کہ رحمت عالم ﷺ آج تشریف لائے بیت اللہ میں، نماز پڑھنے کے لئے بیت اللہ کا چابی بردار تھا اسے بلا کر فرمایا !کھول دے دروازہ، میں اندر دو نفل پڑھ لوں۔ اس نے کہا اجازت نہیں۔ پھر انقلاب آیا، محمد عربیﷺ وہ دیکھو فاتح بن کے مکہ مکرمہ میں تشریف لائے۔ چابی حضور ﷺ کے ہاتھ میں، فرمایا: بلاؤ اس آدمی کو جو بیت اللہ کا چابی بردار تھا۔ اسے بلایا گیا تو حضور ﷺ سرور کائنات نے فرمایا: میاں! یاد ہے میں نے تمہیں کہا تھا نفل پڑھنے کی اجازت دے دو۔ تم نہیں مانتے تھے۔ اس نے گردن جھکائی۔ مارے ندامت کے کہا: یا رسول اللہ ﷺ! یاد ہے۔ فرمایا: اب بتاؤ! یہ چابی کس کے پاس ہے؟ اس نے کہا جی محمد عربیﷺ کے پاس ہے۔ حضور ﷺ نے فرمایا: کسے ملے گی؟ اس نے کہا جسے آپ دیں گے۔حضور ﷺ نے فرمایا: اگر آج میں نے ہی دینی ہے، تو لو، میں تمہارے سپرد کرتا ہوں۔ وہ تمہارا طرز عمل تھا۔ یہ محمد عربیﷺ کا طرز عمل ہے۔ آج میں تمہارے سپرد کرتا ہوں اور ایسے سپرد کرتا ہوں کہ قیامت تک تم سے کوئی یہ چابی لے نہیں سکے گا۔

(تفسیر ابن کثیر سورۃ النساء، آیۃ۵۸، ص۳۰۸ مکتبہ رشیدیہ)

کلید بردار نے کہا: حضرت! یہ روایت یاد ہے۔ حضرت نانوتوی رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا: کہ اب رہی یہ بات کہ قیامت تک کوئی یہ نہیں لے سکے گا۔ اس کا معنی یہ ہے کہ اس کلید بردار کا خاندان قیامت تک زندہ رہے گا۔ یہ اس کی اولاد در اولاد، اوروں کی نسلیں تو ختم ہو جائیں گی، لیکن اس کی نسل ختم نہیں ہو گی۔ کوئی تم سے اور تمہارے خاندان سے نہیں لے سکے گا۔ تو اس نے کہا: جی! حدیث تو یاد ہے۔ حضور ﷺ نے اسی طرح فرمایا۔

حضرت نانوتوی رحمۃ اللہ علیہنے فرمایا کہ اس کا معنی یہ ہے کہ حدیث کی روشنی میں

292

حضرت مہدی علیہ الرضوان بیت اللہ میں آئیں گے اور آپ بیت اللہ کے چابی بردار ہوں گے۔ آپ نہ سہی آپ کا بیٹا،آپ کا بیٹا نہ سہی اس کا بیٹا وغیرہ وغیرہ۔ آخر جب کبھی سیدنا مہدی علیہ الرضوان قیامت سے پہلے بیت اللہ تشریف لائیں گے تو آپ کی نسل میں سے جو شیخ اس وقت بیت اللہ شریف کا چابی بردار ہو گا۔ اس کے پاس چابی ہو گی اس کی تو حضرت امام مہدی علیہ الرضوان سے ملاقات ہو جائے گی۔

بھائی دلیل کیسی؟ مل کر کہو خوب۔ خوب نہیں، بہت خوب! انہوں نے کہا ان سے ملاقات ہو جائے گی۔ جب ملاقات ہو میں دیوبند سے چلتے ہوئے ایک قرآن مجید غلاف چڑھوا کر لے آیا ہوں ساتھ اور حمائل چھوٹی سی۔ ایک تلوار خوبصورت تیار کروا کے نیام میں بند کروا کے لے آیا ہوں۔ یہ دو چیزیں آپ اپنے پاس رکھ لیں۔ آپ مریں تو بیٹے کو وصیت کر دیں۔ وہ مرے تو اپنے بیٹے کو وصیت کر دے۔ وصیت در وصیت یہ دو چیزیں منتقل ہوتی جائیں۔ جب کبھی جس وقت تمہارے خاندان کی امام مہدی علیہ الرضوان سے اس وقت ملاقات ہو جائے، یہ چیزیں ان کو دے دینی ہیں۔ اگر انہوں نے قبول کر لیں تو میں امام مہدی علیہ الرضوان کے جہاد میں شریک ہو گیا۔ بھائیو!یہ ہے ذوق اہل سنت کا سیدنا مہدی علیہ الرضوان کے متعلق۔ (تفسیر ابن کثیر، ایضاً)

موافقات عمرؓ

میرے بھائیو! امام مہدی علیہ الرضوان طواف کریں گے۔ طواف کی حالت میں ان کو پہچانا جائے گا۔ شام کے ابدال پہچانیں گے۔یہ ملتزم سے پیچھے ہٹے ہیں۔ یہ سامنے ملتزم ہے، وہاں بیت اللہ کا دروازہ ہے۔ اس ملتزم سے تھوڑا سا اس طرف آؤ یہ تقریباً زیادہ سے زیادہ دس، پندرہ قدم وہاں پر مقام ابراہیم ہے اور مقام ابراہیم وہ ہے جہاں پر سیدنا ابراہیم ں کے نقش قدم موجود ہیں۔

بھائیو! توجہ کرو اس امر پر۔ بہت ساری شخصیات ہوں گی، مجھے نہیں یاد لیکن دوکا تو آپ سے تذکرے کئے دیتا ہوں۔ دیکھو، نقش قدم لگا ہے سیدنا ابراہیم ں کا پتھر پر۔ آج بھی وہ اسی طرح موجود ہے کہ وہاں پر کھڑے ہو کر نماز پڑھنی چاہئے۔ یہ سیدنا فاروق اعظم

293

کی رائے ہے: ’’وَاتَّخَذُوْا مِنْ مَّقَامِ اِبْرَاہِیْمَ مُصَلّٰی‘‘ا ور یہ فاروق اعظمؓ وہ ہیں جن کی رائے کے مطابق اللہ نے آسمان سے قرآن بنا کر نازل کر دیا: ’’مَنْ کَانَ رَأْیُہُ مُوَافِقًا بِالْکِتَابِ‘‘ (مشکوٰۃ، باب مناقب عمرؓ: ۵۵۸){جو رائے قرآن کے موافق تھیں۔}

بھائیو! ہمارے حضرت علامہ جلال الدین سیوطی ؒ نے ایک مستقل رسالہ لکھا، اس کو کہتے ہیں موافقات عمرؓ، اس میں انہوں نے صرف بحث کی کہ وہ کون کون سی آیات ہیں قرآن میں جو حضرت سیدنا فاروق اعظمؓ کی رائے کے مطابق عرش والے نے نازل کیں۔ فرش پر تجویز پیش کی، عرش سے منظوری آ گئی۔ اللہ نے قرآن میں تذکرہ کر دیا۔ انہیں موافقات عمرؓ کہا جاتا ہے۔ خیر یہ ہے مقام ابراہیم ں۔

نورالدین زنگی رحمۃ اللہ علیہ کا واقعہ

چلئے! بات سے بات نکلتی ہے۔ دنیا میں دو شخصیتیں ایسی ہیں کہ جن کے تلوؤں کو دو شخصیتوں نے بوسے دیئے ہیں۔ محمد عربیﷺ کے تلوؤں کو دو افراد نے بوسے دیئے ہیں۔میرے بھائیو!عالم بیداری میں دیئے، ایک تو سیدنا جبرئیل امین معراج کی رات جب تشریف لائے، انہیں کہا گیا کہ محمد عربیﷺ کو یوں پکڑ کر ہلانا نہیں، یوں جگانا نہیں۔ اپنے پَر رحمت عالم ﷺ کے تلوؤں کے ساتھ لگا دیں گے، آپ کے پروں کی ٹھنڈک آپ ﷺکے پیروں کو پہنچے گی تو وہ بیدار ہوں گے تو معراج کے لئے لے آئیں۔ انہوں نے اپنے وہ پَر جس کے ساتھ سارے آسمانوں کی فضائوں میں پھرا کرتے تھے، وہ آج محمد عربیﷺ کے تلوؤں کے ساتھ لگے ہیں۔ اس کو بوسے کے ساتھ تعبیر کر رہا ہوں۔

دوسرے ہیں بزرگ جنہیں نور الدین زنگی کہا جاتا ہے۔ یہ نور الدین زنگی وہ ہیں کہ ان کو خواب میں رحمت عالم ﷺ نے فرمایا تھا کہ: ’’دو کتے ہیں، میرے اوپر حملہ کرنا چاہتے ہیں۔ نور الدین! پہنچو اور مجھے بچاؤ۔‘‘ چنانچہ یہ وہاں سے چلے ہیں، آئے ہیں مدینہ طیبہ میں، پتہ کیا کہ دو یہودی تھے۔ ایک طرف سے انہوں نے ڈیرہ ڈال رکھا تھا۔ دن رات وہ نیچے سے سرنگ کھودتے رہتے تھے۔ مٹی اکٹھی کرتے رہتے تھے۔ رات کو وہ باہر ویرانے میں لا کر ڈال دیتے تھے۔ وہ رحمت عالم ﷺ کے جسد اقدس کو اور شیخین کے جسد اقدس کو

294

زحمت دینا چاہتے تھے۔ وہاں تک پہنچنے کے درپے تھے۔

اللہ نے خواب میں نور الدین زنگی کو زیارت کرائی رحمت عالم ﷺ کی۔ رحمت عالم ﷺ نے فرمایا: پہنچو نور الدین، اگلے دن آ کر دیکھا مدینہ طیبہ میں، پتہ نہیں وہ آدمی کون ہیں؟۔ تجویز اختیار کی کہ میں بادشاہ ہوں اور اہل مدینہ کی دعوت کرنا چاہتا ہوں۔ جس کے لئے ایک بڑا پنڈال تیار کیا گیا۔ گیٹ کے اوپر خود بیٹھ گئے۔ مہمانوں کو آتے جاتے دیکھتے رہے۔مہمان آتے رہے، کھانا کھاتے رہے۔ آ رہے ہیں، جا رہے ہیں۔ یہ بیٹھے ہیں اپنے شکار کے انتظار میں۔ تب بھی وہ نظر نہیں آئے۔ پوچھا: سارا مدینہ کھا گیا؟ انہوں نے کہا: جی! سارے مدینہ نے کھانا کھا لیا۔ انہوں نے کہا: پتہ کرو کوئی رہ تو نہیں گیا۔ انہوں نے کہا: ہاں، دور ویرانے میں ایک جھونپڑی سی ہے۔ دو صوفی وہاں رہتے ہیں۔ ان کا پتہ کرو۔ انہوں نے کہا: وہ کہتے ہیں کہ بادشاہوں کے دروازوں پر ہم مسکین کیوں کر جائیں؟۔ فرمایا: وہ نہیں آتے، میں چلتا ہوں۔ وہاں گئے، جا کر جھونپڑی کو کھولا۔ ان دو آدمیوں کو دیکھا۔ نور الدین دیکھتے ہی پکار اٹھا ’’وَاللّٰہُ ھٰذَانِ کَلْبَانِ‘‘ یہ وہ دو کتے ہیں جو مجھے خواب میں دکھائے گئے تھے، ان کو گرفتار کیا گیا اور اس جھونپڑی کی تلاشی لی گئی۔ جھونپڑی میں ایک چٹائی تھی، وہ چٹائی ہٹائی گئی۔ چٹائی کے نیچے پتھر تھا، اس کو ہٹایا گیا۔ جب اس کو ہٹایا گیا تو نیچے سرنگ تھی۔ نور الدین نے اس سرنگ میں چلنا شروع کیا۔ چلتے چلتے وہ محمد عربیﷺ کے روضہ اقدس تک پہنچا۔ ایک بالشت مٹی باقی تھی، صرف ایک بالشت۔ صرف ایک بالشت مٹی باقی تھی۔ نور الدین پہنچا، میرے رب کی شان کو دیکھیں، میرے رب کے کرم کو دیکھیں، کریم کے فیصلے اپنے ہوتے ہیں:

⚛… وہ فیصلہ کرنے پر آئے، بلالؓ کو حبشہ سے بلا کر نواز دیتا ہے

⚛… وہ رد کرنے پہ آئے، تو ابوجہل کو گھر سے نکال کر مردود کر دیتا ہے

یہ اس کریم کے اپنے فیصلے ہیں میاں! یہ نور الدین وہاں پہنچے۔ مٹی ازخود ہٹی، حضور ﷺ کے قدم ظاہر ہوئے۔ اللہ نے جتنی طاقت دی ہے، سب کہہ دیں زور سے، کیا ہوا؟ مٹی ہٹی۔ جی! مٹی ہٹی، رحمت عالم ﷺ کے قدمین مبارک میرے ماں، باپ، روح اور جسم، آل اولاد قربان آپ ﷺ کے قدم مبارک ظاہر ہوئے۔ نور الدین زنگی رحمۃ اللہ علیہ نے

295

رحمت عالم ﷺ کے قدموں کے بوسے لئے۔ پھر مٹی اکٹھی کر دی گئی۔ ان دو آدمیوں کو تختہ دار پر لٹکا دیا گیا۔ ادھر بنیاد کھود کر نیچے تک سیسہ ڈال کر اسے بند کر دیا گیا، تاکہ دنیا کا کوئی بدنصیب آپ ﷺ تک نہ پہنچ سکے۔

امام مہدی علیہ الرضوان سے بیعت

بھائیو!میں عرض کرنا چاہتا ہوں مقام ابراہیم ں پر سیدنا مہدی علیہ الرضوان، میرے دوستو، توجہ کرو! میں آپ سے عقائد کی بات کر رہا ہوں۔ سیدنا مہدی علیہ الرضوان سے مقام ملتزم پر:

⚛… ان سے ملاقات ہو گی

⚛… ان سے نام پوچھیں گے

⚛… ان کی ولدیت پوچھیں گے

⚛… ان کی قومیت پوچھیں گے

⚛… ان کی عمر کو دیکھیں گے

⚛… ان سے تفصیلات پوچھیں گے

⚛… ان کے ہاتھ پر بیعت ہو گی

ایک روایت کے مطابق بیعت کرنے والے مسلمانوں کی تعداد، اس دن تین سو تیرہ ہو گی۔ ایک روایت میں ایسے آتا ہے سیدنا مہدی علیہ الرضوان، یہ جب ہم ظہور کا لفظ بولتے ہیں۔ ظہور ایک ہے شیعہ حضرات کا، ان کا یہ عقیدہ ہے کہ وہ حضرت حسن عسکری کی اولاد ہیں۔ پیدا ہو چکے ہیں اور غار میں چھپے ہوئے ہیں۔ ہمارے خیال میں یہ نظریہ بالکل غلط ہے۔ہم جب کہتے ہیں ظہور ہو گا، ظہور باایں معنی یہ قیامت کے قریب پیدا ہوں گے۔ جب چالیس سال کی عمر کو پہنچیں گے، تب پہچانے جائیں گے۔ ہم ظہور کا لفظ ان معنوں میں استعمال کرتے ہیں۔ میری بات سمجھ گئے، میں یہ اس لئے کہہ رہاہوں کہ آپ اگر لفظ ظہور کا مطلقاً انکار کر دیں گے۔ آپ کی بعض احادیث کی کتابوں میں ظہور امام مہدی علیہ الرضوان کا باقاعدہ باب موجود ہے۔ جیسے ابن ماجہ اور صحاح ستہ کی کتابیں ہیں، اس لئے بات ایسی کہو

296

کہ بات ایسی فٹ آئے کہ کوئی آدمی پھر اس میں دراڑ نہ ڈال سکے۔

بیعت کے بعد کی زندگی

بھائیو! میں عرض کرنا چاہتا ہوں وہاں پر بیعت ہو گی اور حضرت سیدنا مہدی علیہ الرضوان کی بیعت کے بعد ۹ سال تک یہ زندہ رہیں گے۔(مشکوٰۃ، باب اشراط الساعۃ: ۴۷۱ قدیمی)

کل کتنا عرصہ ہوا؍۴۹ سال، سیدنا مہدی علیہ الرضوان۔حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا جب نزول ہو گا، دو سال ان کے ساتھ رہیں گے۔ دو سال ایک ساتھ رہیں گے تو ۴۷ سال عمر ہو گی سیدنا مہدی علیہ الرضوان کی۔ جب سیدنا مسیح علیہ السلام کا نزول ہو گا۔ حضرت سیدنا مہدی علیہ الرضوان کے ظہور کو کچھ سال گزریں گے۔ اطلاع ملے گی کہ شام کے علاقے میں دجال کا خروج ہو گیا ہے۔

دجال کا فتنہ

بھائیو!توجہ رکھو، مسیح علیہ السلام کے لئے میں نے نزول کا لفظ استعمال کیا، مہدی علیہ الرضوان کے لئے ظہور کا اور دجال کے لئے خروج کا۔ اب آپ حضرات اس بات کو اتنا ضرور یاد رکھیں گے۔ نزول، ظہور اور خروج کا۔ ان شاء اللہ! بہت ساری حدیث کی کتابوں کے ترجمۃ الباب سے سمجھنے میں آپ کوآسانی ہو گی۔ سیدنا مہدی علیہ الرضوان کو اطلاع ملے گی، دجال کا خروج ہو گیا ہے۔ فرمایا محمد عربیﷺ نے: کہ دجال کا خروج شام اور عراق کے درمیانی راستے سے ہو گا۔ (مسلم ج۲، ص۴۰۱) اور فرمایا رحمت عالم ﷺ نے کہ:

⚛… کوئی کچا، پکا مکان

⚛… کوئی گھر یا بستی

⚛… کوئی دیہات یا شہر

⚛… کوئی پہاڑ یا دریا

⚛… کوئی سنگلاخ وادی

⚛… کوئی پہاڑوں کی چوٹیاں

⚛… کوئی سمندروں کی تہہ

297

پوری روئے زمین پر کوئی جگہ ایسی نہیں ہو گی، جہاں وہ یا اس کے فتنے کے اثرات نہ پہنچیں۔ نبی کریم ﷺ فرماتے ہیں کہ کوئی اللہ کا نبی ایسا نہیں گزرا جس نے اپنی قوم کو دجال کے فتنے سے نہ ڈرایا ہو۔(مسلم ج۲، ص۳۹۹)

حضور ﷺ فرماتے ہیں: اے امت محمدیہ!’’اَنَا آخِرُ الْاَنْبِیَّاءِ وَاَنْتُمْ آخِرُ الْاُمَمِ‘‘ (ابن ماجۃ: ۲۹۷) {نبیوں میں سے میں آخری اور امتوں میں سے تم آخری۔}

ایک اور بات، فرمایا محمد عربیﷺ نے:’’ اَنَا حَظُّکُمْ مِنَ الْاَنْبِیَّاءِ وَ اَنْتُمْ حَظِّیْ مَنِ الْاُمَمِ‘‘(الدر المنثور للسیوطی بحوالہ مسند احمد:ج۲، ص۴۸){ نبیوں میں سے میں محمد ﷺ تمہارے حصے میں آیا ہوں اور امتوں میں سے تم میرے حصے میں آئے ہو۔}

  1. چوں بشانش نگاہ موسیٰ کرد

    شدن از ا متش تمنا کرد

بھائیو! ذرا توجہ کرو! سیدنا موسیٰ ں جب کبھی اپنی کتاب میں رحمت عالم ﷺ کے تذکرے پڑھتے تھے، درخواست کرتے تھے اللہ کے حضورکہ: یا اللہ!مجھے بھی حضور ﷺ کا امتی بنا دے۔

دجال کی پہچان

میرے بھائیو!ذرا سوچو، اپنے مقدر کو کہ اللہ نے آپ کو اور مجھے بن مانگے محمد عربیﷺ کا امتی بنا دیا۔ سمجھ رہے ہو، میں عرض کرنا چاہتا ہوں۔ فرمایا نبیوں میں سے کوئی ایسا نبی نہیں گزرا جس نے اپنی امت کو دجال کے فتنے سے نہ ڈرایاہو۔ (مشکوٰۃ: ۴۷۶)

فرمایا: میری امت امتوں میں سے آخری اور میں نبیوں میں آخری نبی۔

(ابن ماجہ: ۲۹۷)

میں تمہیں ایسی تفصیلات بتاتا ہوں اگر تم نے وہ یاد رکھیں تمہیں کوئی فتنہ نقصان نہیں پہنچائے گا۔ فرمایا رحمت عالم ﷺ نے کہ وہ دعویٰ خدائی کا کرے گا۔(مشکوٰۃ: ۴۷۷)

اس کی آنکھوں میں نقص ہو گا۔ یہ جو ہمارے مولوی صاحبان نے یاد کر رکھا ہے کہ دجال ایک آنکھ سے کانا ہو گا، شریفو!(فِیْ عَیْنَیْہِ سُوْئٌ) اس کی دونوں آنکھوں کے اندر نقص ہو گا۔ ایک اس کی آنکھ بے نور ہو گی اور انگور کے دانے کی طرح باہر کو نکلی ہوئی اور

298

دوسری ڈم لائٹ ہو گی اندر کو بیٹھی ہوئی۔فرمایا رحمت عالم ﷺ نے، وہ دعویٰ خدائی کا کرے گا۔ اس کی آنکھوں میں نقص ہو گا۔ (مشکوٰۃ: ۴۷۶)فرمایا رحمت عالم ﷺ نے کہ دجال کی آنکھوں میں کور پن، اور اس پاؤں میں ٹیڑھا پن ہوگا۔ ماشاء اللہ! وہ (قادیانی)نبی تھے، یہ خدا (دجال)جا رہے ہیں۔

بھائیو! میں درخواست کرنا چاہتا ہوں حضور ﷺ نے ارشاد فرمایا: خدا عیبوں سے پاک۔شریفو! خدا صرف عیبوں سے پاک نہیں بلکہ دنیا کے عیبوں کو دھونے والی ذات ہے۔ اے پروردگار عالم! ہمارے عیبوں کو بھی دھو دے۔ بدل دے ہماری بدیوں کو نیکیوں کے ساتھ۔ کیا مشکل ہے تیرے سامنے خداوند! میں درخواست کر رہا تھا کہ حضور ﷺ نے ارشاد فرمایا: دعویٰ خدائی کا کرے گا۔ آنکھوں کا توازن اپنا ٹھیک نہیں ہو گا۔ حضور ﷺ نے فرمایا! امت، یاد رکھو خدا ایسے نہیں ہوتا۔ (مسلم: ج۲، ص۳۹۹)

تم بھی مل کر کہہ دو کہ خدا…؟ ایسے نہیں ہوتا۔

میاں! کائنات کا نظام غلط ہو سکتا ہے۔ اللہ کے نبی کی بات غلط نہیں ہو سکتی۔ یاد رکھو مسئلے کو میرے بھائیو! میں عرض کرنا چاہتا ہوںکہ آج تک جتنے فتنے آئے، یا قیامت تک جتنے فتنے آئیں گے۔ حضور ﷺ فرماتے ہیں ان تمام فتنوں میں سے سب سے زیادہ خطرناک فتنہ، دجال کا فتنہ ہو گا۔ (مشکوٰۃ، باب العلامات بین یدی الساعۃ وذکر الدجال: ۴۷۲)

فرمایا: اس زمانے میں مسلمانوں کے لئے ایمان بچانا اس طرح مشکل ہو جائے گا جس طرح ہاتھ کی ہتھیلی پر آگ کا انگارہ رکھنا مشکل ہے۔ (مشکوٰۃ، باب تغیر الناس: ۴۵۹)

ہاں! رحمت عالم ﷺ نے فرمایا: اس زمانے میں جو آدمی اپنے ایمان پر قائم رہے، میں محمد ﷺ اس آدمی کو سلام کہتا ہوں۔

سیدہ خدیجہؓ کی فضیلت

بھائیو! ایک موقع پر حضرت خدیجہؓ نے بھی آپ حضرات کو سلام کہا تھا۔ آج جبرئیل امین آئے نا محمد عربیﷺ کے پاس، آ کر کہنے لگے، یا رسول اللہa! اللہ تعالیٰ خدیجہؓ کو سلام پیش کرتے ہیں۔ حضور ﷺ نے حضرت خدیجہؓ کو بلایا اور بلا کے فرمایا: خدیجہ!یہ

299

جبرئیل ہیں، اللہ کا سلام لے کر آئے ہیں آپ کے پاس، اتنے میں سیدنا جبرئیل نے کہا: یا رسول اللہ ﷺ! میری طرف سے بھی خدیجہؓ کو سلام پہنچے۔ فرمایا جبرئیل بھی سلام بھیجتے ہیں۔ پھر حضور ﷺ نے فرمایا: خدیجہ!خدا کا بھی تیرے پاس سلام آیا، جبرئیل نے بھی تجھے سلام کیا۔ میں محمد عربیﷺ بھی تمہیں سلام کہتا ہوں۔

سیدہ خدیجہؓ نے اس پر جواب میں کہا تھا، ’’اِنَّ اللّٰہَ ھُوَ السَّلَامُ‘‘ اللہ تو ہیں ہی سلام، جبرئیل کو بھی میرا سلام پہنچے۔ محمد عربیﷺ! آپ کو بھی میرا سلام پہنچے۔ محمد عربیﷺ! قیامت تک آپ ﷺ کی جو اس روایت کو سنے، ان سب کو میرا سلام پہنچے۔ مل کر کہہ دو کہ اللہ! ہم سب کی طرف سے بھی حضرت سیدہ خدیجہؓ کو سلام پہنچے۔ (مستدرک حاکم: ج۲، ۱۸۶)

دجال کی شعبدہ بازیاں

میں درخواست کرنا چاہتا ہوں حضور ﷺ نے فرمایا کوئی مکان ایسا نہیں ہو گا کہ دجال یا اس کے فتنے کے اثرات نہ پہنچیں۔ عزیزو! اس کے فتنوں کا یہ عالم ہو گا کہ اگر دجال کسی مردے کو بلا کر کہے گا کہ ادھر آؤ ، وہ سامنے آئے گا، آرا رکھے گا۔

⚛… اس کے سر کو چیرے گا

⚛… اس کی ناک کو چیرے گا

⚛… اس کے ہونٹوں کو چیرے گا

⚛… اس کے جسم کو چیرے گا

حتیٰ کہ دو ٹکڑے کر دے گا۔ بھائیو! دو ٹکڑوں کو کہے گا مل جاؤ آپس میں، وہ مل جائیں گے۔ دجال ان کو پکارکر کہے گا: تمہیں میں نے ذبح کر کے جوڑ دیا ہے۔ اب تو تم مجھے مانتے ہو؟ وہ مومن کہے گا: پہلے تو مجھے شک تھا، لیکن اب تو مجھے یقین ہے کہ تیرے جیسا دجال ہی کوئی نہیں۔ دوبارہ کوشش کرے گا دجال۔ حضور ﷺ نے فرمایا: وہ دوبارہ قادر نہیں ہو گا۔

(مسلم: ج۲،ص۴۰۲)

ایک دفعہ فتح ہوا ہے افغانستان، دوبارہ نہیں۔ جو تم نے راکھ کھانی تھی کھا لی، اب حساب کا وقت ہے ان شاء اللہ

300

میں عرض کر رہا ہوں آپ دوستوں سے کہ دجال ایک مسلمان کو کہے گا میاں! تم مجھے نہیں مانتے، اپنے ماں باپ کی قبر پر لے جاؤ، تمہارے ماں باپ قبر سے نکل کر میری خدائی کا اقرار کر لیں تو مان لو گے؟ وہ ساتھ لے گئے۔ وہ کہے گا یہ:

⚛… یہ میرے باپ کی قبر ہے

⚛… یہ میری ماں کی قبر ہے

دجال اشارہ کرے گا اس کے ماں، باپ کی شکل اختیار کر کے شیطان قبر سے باہر نکل آئیں گے۔ یہ سمجھے گا میرے ماں، باپ ہیں۔ وہ ماں، باپ نہیں شیطان ہوں گے۔ (مشکوٰۃ، باب العلامات بین یدی الساعۃ وذکر الدجال: ۴۷۷)

سیدنا مسیح ابن مریم ں کا نزول

آج کل ضعیف الاعتقادی کا یہ عالم ہے کہ اگر ایک آدمی سر میں راکھ ڈال کے، کپڑے اتار کے، ننگا پھرنا شروع کر دے، بعض ضعیف الاعتقاد کہتے ہیں کہ ماشاء اللہ! حضرت پہنچی ہوئی سرکار ہیں۔ جب ضعیف الاعتقادی کا یہ عالم ہے کہ جو آدمی شریعت کی حدود کو توڑ دے، کہتے ہیں: یہ پہنچا ہوا ہے۔ اگر ان کے سامنے کوئی آدمی قبر کو پھاڑ کے لائے زندہ، کیا چودہ طبق کے ایمان خراب کرنے کے لئے یہ خبر کافی نہیں؟ اس تیزی کے ساتھ بے دینی پھیلے گی اللہ ان کی مدد کے لئے ایک فرشتے کو آسمانوں سے روانہ کریں گے۔ آدمی بائی روڈ جا رہا ہے۔ ایک آدمی بائی ائیر آ رہا ہے۔ یہ مسلمانوں کے ساتھ مسلح ہو کے جا رہا ہے اور وہ ’’وَاضِعًا کَفَّیْہِ عَلٰی اَجْنِحَۃِ مَلَکَیْنِ‘‘ (مشکوٰۃ:۴۷۳) دو فرشتوں کے پروں پر ہاتھ رکھے ہوئے آیا ہے۔ میں آپ سے پوچھنا چاہتا ہوں:

⚛… جو مکہ سے چلے، انہیں محمد (مہدی)کہتے ہیں

⚛… جو آسمانوں سے آیا، انہیں مسیح علیہ السلام کہتے ہیں

⚛… جو مکہ سے چلے، ان کے والد کا نام عبداللہ ہے

⚛… جو آسمانوں سے آئے، بغیر باپ کے پیدا ہوئے

⚛… جو مکہ سے چلے، وہ سادات سے ہے

301

⚛… جو آسمانوں سے آیا، وہ بنی اسرائیل میں سے ہے

⚛… انہیں مہدی علیہ الرضوان کہا جاتا ہے

⚛… انہیں مسیح علیہ السلام کہا جاتا ہے

بولو!آدمی ایک ہے یا دو ہیں؟ بولو: سیدنا مسیح علیہ السلام آئیں گے اور آب و تاب کے ساتھ آئیں گے۔

سیدنا مسیح ابن مریم ں کا حلیہ مبارک

فرمایا محمد عربیﷺ نے: جس وقت سیدنا مسیح علیہ السلام آئیں گے، ان کے سر کے بالوں سے پانی ٹپک رہا ہو گا جیسے ابھی غسل کر کے آئے ہیں۔ (مسلم: ج۲،ص۴۰۱)

روایتوں میں دو قسم کے الفاظ آتے ہیں۔ ہمارے محدثین حضرات نے اس کی توجیہ کی ہے۔ ایک تو یہ کہ ان کے سر کے بال اس طرح گھنگریالے ہوں گے کہ ان کو تری نہ بھی پہنچی ہوتب بھی، دور سے پتہ ایسے چلے گا جیسے موتیوں کی طرح بل کھاتے ہوئے ایک ایک دانہ موتی کی طرح چمکتا دمکتا، ایک گھونڈل نظرآئے گا۔ ایک تو یہ توجیہ کی محدثین حضرات نے۔ اور دوسری یہ کہ سیدنا مسیح علیہ السلام کو جب آسمانوں پر اٹھا لیا تھا، جب آسمانوں پرگئے تھے تو بھی سر کے بالوں سے پانی ٹپک رہا تھا۔ صدیاں گزرنے کے بعد جب واپس آئیں گے تو بھی سر کے بالوں سے پانی حقیقت میں ٹپک رہا ہو گا۔ ان دونوں میں تطبیق یہ کہ بال گھنگرالے اور موتی کی طرح ہوں گے اور واقعتا پانی ٹپک رہا ہو گا۔ دونوں میں آپس کے اندر کوئی تعارض نہیں ہے۔ ذرا توجہ کرو! جب جس حالت میں جو ان گیا تھا، اسی حالت میں واپس آ رہا ہے۔ دیکھو ذرا توجہ کرو آج آپ کی سائنس نے ترقی کی۔ تمہارے پاس کولر ہوتا ہے، تھرماس ہوتا ہے، فریج ہوتا ہے۔

⚛… کولرمیں پانی رکھ دو، بارہ گھنٹے گرم نہیں ہوتا

⚛… تھرماس میں چائے رکھو، چوبیس گھنٹے ٹھنڈی نہیں ہوتی

⚛… کسی چیز کو فریج میں رکھ دو، ہفتہ خراب نہیں ہوتی

⚛… کسی چیز کو فریزر میں رکھ دو، مہینہ خراب نہیں ہوتی

302

⚛… کولڈ سٹور میں رکھ دو چھ ماہ خراب نہیں ہو تی

بھائیو! انسان کی ایجاد کردہ چیزیں اگر مہینوں تک محفوظ رہ سکتی ہیں تو یاد رکھو! جہاں یہ تمہاری عقل کی انتہاء ہوتی ہے، وہاں سے میرے رب کی قدرت کی ابتداء ہوتی ہے۔ تم نے:

⚛… کسی چیز کو سنبھالا، ایک دن کے لئے

⚛… کسی چیز کو سنبھالا،دو دن کے لئے

⚛… کسی چیز کو سنبھالا، ایک ہفتہ کے لئے

⚛… کسی چیز کو سنبھالا، ایک مہینہ کے لئے

⚛… کسی چیز کو سنبھالا، چھے مہینے کے لئے

اس رب کی قدرت کو دیکھو، صدیاں گزرنے کے بعد جوان جب آئے گا، اس حالت میں آئے گا، جس حالت میں اٹھایا گیا تھا۔ بالوں سے پانی ٹپک رہا تھا، جب واپس آئے گا، سر کے بالوں سے پانی ٹپک رہا ہو گا۔ کیاہو گیا ہے دنیا کو؟ نص قطعی ہے قرآن مجید کی کہ تمہارے ہاں کا پچاس ہزار سال، اور اس عالم کا ایک دن،

⚛… اتنے فاصلے ہیں اس نظام کے، اور اس نظام کے

⚛… اتنے فاصلے ہیں اس دھرتی کے، اور اس فلک کے

یہ بھی بہت کم ہیں۔ اگر اس اعتبار سے دیکھا جائے تو سیدنا مسیح علیہ السلام کو ابھی گئے چند گھنٹے گزرے ہیں۔ ابھی پورا ایک دن بھی نہیں گزرا۔ ابھی ان کو گئے ہوئے ۲۰۰۶ سال گزرے ہیں۔ پچاس ہزار سال ہوں، تو وہاں کا ایک دن بنے گا اور یہ تو چند گھنٹے، جوان جس حالت میں گیا تھا، اسی حالت میں آئے گا

سیدنا مسیح ابن مریم کے کارنامے

میں کیوں نہ کہوں کہ بخاری شریف کی رویت ہے ص۴۹۱، جلد نمبر۱، باب نزول مسیح، میرے محمد عربیﷺ نے فرمایا:

’’وَالَّذِیْ نَفْسِیْ بِیَدِہٖ لَیُوْشِکَنَّ اَنْ یَّنْزِلَ فِیْکُمْ اِبْنُ مَرْیَمَ حَکَمًا عَدْلًا، فَیَکْسِرُ الصَّلِیْبَ، وَیَقْتُلُ الْخِنْزِیْرَ، وَیَضَعُ الْحَرْبَ، وَیَفِیْضُ الْمَالَ
303
حَتّٰی لَایَقْبَلَہُ اَحَدٌ حَتّٰی تَکُوْنَ السَّجْدَۃُ الْوَاحِدَۃُ خَیْرًا مِّنَ الدُّنْیَا وَ مَا فِیْھَا ثُمَّ یَقُوْلُ اَبُوْ ھُرَیْرَۃَ وَاقْرَءُ وْا اِنْ شِئْتُمْ: وَاِنْ مِّنْ اَھْلِ الْکِتَابِ اِلَّا لَیُؤْمِنَنَّ بِہٖ قَبْلَ مَوْتِہٖ وَیَوْمَ الْقِیَامَۃِ یَکُوْنُ عَلَیْھِمْ شَھِیْدًا‘‘

{قسم ہے اس ذات کی کہ جس کے قبضہ قدرت میں میری جان ہے تحقیق ضرور بالضرور عیسیٰ بیٹا مریم کا آئے گا، پوری آب و تاب کے ساتھ آئے گا کہ حکم و عدل کا پیکر ہوگا، صلیب کو توڑے گا، خنزیر کو قتل کرے گا، جنگ کا خاتمہ کرے گا، مال و دولت کی ایسی فراوانی ہوگی کہ کوئی اسے قبول نہ کرے گا، لوگوں کی نظر میں ایک سجدہ کی قدرو قیمت دنیا و ما فیھا سے زیادہ ہوگی، حضرت ابوہریرہؓ نے فرمایا کہ: اگر تم چاہو تو بطور تائید کے قرآن کی یہ آیت پڑھ لو:’’ وَاِنْ مِّنْ اَھْلِ الْکِتَابِ اِلَّا لَیُؤْمِنَنَّ بِہٖ قَبْلَ مَوْتِہٖ وَیَوْمَ الْقِیَامَۃِ یَکُوْنُ عَلَیْھِمْ شَھِیْدًا ‘‘ (النساء:۱۵۹)اہل کتاب میں کوئی ایسا نہیں ہوگا جو حضرت عیسیٰ علیہ السلام پر ان کی وفات سے پہلے ایمان نہ لے آئے اور حضرت عیسیٰں ان پر قیامت کے دن گواہ ہوں گے۔}

⚛… یہ جوان (مہدی علیہ الرضوان)مکہ سے چل اہے

⚛… وہ (عیسیٰ علیہ السلام) آسمانوں سے چلا ہے

⚛… یہ دمشق کی جامع مسجد پر پہنچا ہے

⚛… وہ بھی دمشق کی جامع مسجد پر پہنچا ہے

⚛… اذان ہو گئی ہے

⚛… صف بن گئی ہے

⚛… تکبیر بھی ہو گئی ہے

امام مہدی علیہ الرضوان کی اقتداء میں نماز

مہدی علیہ الرضوان مصلے پہ کھڑے ہیں۔ اس حالت میں سیدنا مسیح علیہ السلام کا نزول ہو گا۔ حضرت امام مہدی علیہ الرضوان مصلیٰ چھوڑ دیں گے۔ سیدنا مسیح علیہ السلام سے کہیں گے، حضرت! تشریف لائیں، نماز پڑھائیں۔ لیکن سیدنا مسیح علیہ السلام جواب میں کیا کہیں گے؟

تین قسم کے الفاظ آتے ہیں حدیث میں ۔سیدنا مسیح علیہ السلام کہیں گے: آپ نماز

304

پڑھائیں۔ ’’تَکْرِمَۃَ اللّٰہِ لِہٰذِہِ الْاُمَّۃِ‘‘ (مسلم :ج۱،ص۸۷)کہ یہ آپ ﷺ کی امت کا اعزا زہے۔ دوسرے الفاظ ہیں کہ ’’فَاِنَّھَا لَکَ اُقِیْمَتْ‘‘ (ابن ماجہ:۲۹۸)سیدنا مسیح علیہ السلام فرمائیں گے کہ آپ نماز پڑھائیں کہ اقامت آپ کے لئے کہی گئی ہے اور تیسرے الفاظ اس روایت میں ہیں کہ حضور ﷺ فرماتے ہیں: ’’کَیْفَ اَنْتُمْ اِذَانَزَلَ اِبْنُ مَرْیَمَ فِیْکُمْ وَاِمَامُکُمْ مِنْکُمْ‘‘ {تمہارا اس وقت (خوشی سے) کیا حال ہوگا جب کہ عیسیٰ ابن مریم تم میں نازل ہوں گے اور تمہارا امام خود تم (امت محمدیہ) ہی میں سے ہوگا۔}

مسیح وہ یَنْزِلُ فِیْکُمْ اور مہدی وہ اِمَامُکُمْ مِنْکُمْ ہیں۔ ایک ’’فِیْکُمْ‘‘ اور ایک ’’مِنْکُمْ‘‘ میں تم سے پوچھنا چاہتا ہوں، بتاؤ! یہ آدمی ایک ہے یا دو؟ ۔ تو یہ تین قسم کے الفاظ ہیں۔ ’’اِمَامُکُمْ مِنْکُمْ‘‘ ’’تَکْرِمَۃَ اللّٰہِ لِہٰذِہِ الْاُمَّۃِ‘‘ ’’قَدْ اُقِیْمَتْ لَکَ‘‘

سیدنا امام مہدی علیہ الرضوان کہیں گے، حضرت! تشریف لائیں، نماز پڑھا دیں۔ سیدنا مسیح علیہ السلام، مہدی علیہ الرضوان کے کندھوں پر ہاتھ رکھیں گے اور ان کو مصلیٰ پر کھڑا کریں گے اورکہیں گے: مہدی علیہ الرضوان کو کہ آپ نماز پڑھائیں، میں آپ کے پیچھے نماز پڑھنا چاہتا ہوں۔ تاکہ دنیا دیکھ لے کہ مسیح اپنی شریعت چلانے کے لئے نہیں آیا، بلکہ محمد عربیﷺ کے دین کی غلامی کرنے کے لئے آیا ہے۔ بولو! وہ آئیں گے۔ یہی تو وقت ہے تمہارے بولنے کا، آج نہ بولے پھر کب بولو گے؟ پھر بولو گے تو وہ بے وقت کی راگنی ہوگی۔ اسی کو کہتے ہیں ’’ناداں گر گئے سجدے میں، جب وقت قیام آیا‘‘ یہی تو بولنے کا وقت ہے۔ بولو! آئیں گے، آئیں گے۔ آب و تاب کے ساتھ آئیں گے۔ کیا ہو گیا ہے دنیا کو کہ سیدنا مسیح علیہ السلام کی آمد کا انکار کرتے ہیں۔ حیات کا انکار کرتے ہیں۔ کوئی ماں کا لعل کھڑا تو ہو میرے سامنے۔

⚛… چاہے وہ کیپٹن عثمانی کا ہو

⚛… چاہے وہ جماعت المسلمین کا ہو

⚛… چاہے وہ اسدی کاہو

⚛… چاہے وہ گدھی کا ہو یا گدھے کاہو

کوئی مائی کا لعل کھڑاہو، میں کہتا ہوں کہ امت مسلمہ کے نوجوانو! اے محمد

305

عربیﷺ کے جانشینو!

⚛… قرآن بھی تمہارے ساتھ ہے

⚛… حدیث بھی تمہارے ساتھ ہے

⚛… خدا بھی تمہارے ساتھ ہے

⚛… ارض بھی تمہارے ساتھ ہے

⚛… سماء بھی تمہارے ساتھ ہے

دلائل کی دنیا میں اس طرح مسلح ہو کر جاؤ کہ بہادروں کی طرح سینہ تان کر، ان کے سامنے کھڑے ہو کر کہہ سکو، پتہ چلے کہ حضور ﷺ کی امت کا وکیل بول رہاہے۔

علامہ انورشاہ کشمیری رحمۃ اللہ علیہ کا حوالہ

سید انور شاہ کشمیری رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا تھا بہاولپور کی عدالت میں۔ قادیانیوں کے ساتھ کیس چل رہا تھا۔ میں یہ ۱۹۲۶ء کی بات کر رہا ہوں۔ آج سے ۸۰ سال پہلے کی بات کر رہا ہوں۔ سید انور شاہ کشمیری رحمۃ اللہ علیہ نے دلیل دی۔ چلیں! دوستو بات آ گئی ہے، آپ کے ساتھ بخل نہیں کرتا۔ مسئلہ پیش آ گیا۔ مولانا کشمیری رحمۃ اللہ علیہ نے ایک حوالہ دیا فواتح الرحموت یہ مسلم الثبوت کی شرح ہے۔ اس زمانے میں ملا نہیں کرتی تھی، اب تو مل جاتی ہے۔مولانا نے ایک حوالہ دیا کہ جو تواتر کا منکر ہو، اس کو کافر کہتے ہیں۔ اگلے دن قادیانی وکیل آیا۔ اس نے کہا کہ یہ جو امام شافعیؒ ہیں، وہ کہتے ہیں کہ میں تواتر کو نہیں مانتا۔ مولانا نے کہا تھا کہ تواتر کا جو منکر ہے، وہ کافر ہے۔ لگاؤ امام شافعیؒ پر فتویٰ:

’’وَاللّٰہُ سَمِعْتُ بِاِذْنِیْہِ‘‘ میں نے خود اپنے گنہگار کانوں سے اس بات کو سنا، جو اس مجلس کے اندر موجود تھے۔ وہ علامہ ارشد تھے جو بہاولپور کی اسمبلی کے ممبر تھے۔ وہ پنجاب اسمبلی میں قائد حزب اختلاف رہے ہیں۔ وہ ہمارے چنیوٹ کی ختم نبوت کی کانفرنس میں آیا کرتے تھے۔

بھائیو!’’او کیہڑی گلی جتھے ستاں نئیں کھڑی‘‘ میں نے خود سنا علامہ ارشد سے، وہ کہتے ہیں کہ میں اس عدالت میں موجود تھا۔ جب مولانا نے ایک دن حوالہ دیا، دوسرے دن

306

قادیانی نے حوالہ دیا۔ پورے اجتماع پر سناٹا طاری ہو گیا۔ شاہ صاحب کہتے ہیں کہ تواتر کا منکر کافر،قادیانی کہتے ہیں کہ امام شافعیؒ کہتے ہیں کہ میں نہیں مانتا تواتر کو۔ جب یہ کیفیت پیدا ہوئی تو وہ دیکھو بوڑھا بیٹھا ہے جسے سید انور شاہ کشمیری رحمۃ اللہ علیہکہتے ہیں، اٹھے اپنی کرسی سے اور جج کو دیکھ کر کہتے ہیں(جج صاحب) میں عبارت پڑھتا ہوں، آپ صفحہ کھولیں۔ اسی قادیانی نے کتاب کو دبایا نا بغل میں تو مولانا انور شاہؒکشمیری مسکرائے، فرمایا: احمق کہیں کے، یہ جو کتاب تمہارے پاس ہے، اس پر پابندی لگالو گے۔ اللہ نے جو انور شاہؒ کے سینہ میں علم رکھ دیا ہے اس پر کیسے قفل لگاؤ گے؟ یہ کہہ کر عبارت شروع کر دی۔ بول رہا ہے دیوبند کا وارث۔ مولانا نے عبارت شروع کی۔ اب پوری عدالت میں ایک عجیب و غریب وجد کی سی کیفیت طاری ہوگئی۔

بھائیو! میں آپ دوستوں سے عرض کرتا ہوں کہ وہ قادیانی کھسیانہ ہو کے جو پہلے تو حوالہ پیش کر کے شاہ صاحب کی بات کو کاٹ رہا تھا۔ اب جب شاہ صاحب رحمۃ اللہ علیہ نے گفتگو شروع کی تو پلٹا میدان کا پانسہ، جب یہ کیفیت ہوئی تو شاہ صاحب رحمۃ اللہ علیہ آگے بڑھے، جا کر اس قادیانی کے کندھے پر ہاتھ رکھ دیا۔ فرمایا: اومیاں! اگر تم اس طرح بھی نہیں مانتے تو آنکھیں بند کرو۔ یہیں کھڑے کھڑے عدالت میں دکھا سکتا ہوں کہ مرزا قادیانی جہنم میں جل رہا ہے۔ قادیانی کی گردن جھک گئی۔ آنکھیں مارے ندامت کے پتھرا گئیں۔ دماغ اس کا کھول اٹھا۔ اس پر کپکپی طاری ہو گئی۔ وہ جا کر واپس بیٹھ گیا۔

میرے بھائیو! شاہ صاحب واپس مکان پر آگئے، کسی نے کہا: شاہ صاحب! آج آپ نے اتنی بڑی بات کہہ دی۔ اگر قادیانی کہہ دیتا کہ دکھا دو تو پھر ؟ شاہ صاحب متوجہ ہو کر فرمانے لگے: پگلے کہیں کے، تم سمجھتے تھے انور شاہ بول رہا تھا؟ اس وقت انور شاہ نہیں بول رہا تھا، محمد عربیﷺ کی ختم نبوت کا وکیل بول رہا تھا۔ اس کے مانگنے کی دیر تھی، رب کے دکھانے کی دیر نہیں تھی۔ بھائیو! ایسے سمجھ کر جاؤ کہ:

⚛… حیات مسیح علیہ السلام کا مسئلہ ہو تب

⚛… حضور ﷺ کی ختم نبوت کا مسئلہ ہو تب

⚛… کذب مرزا قادیانی کا مسئلہ ہو تب

307

ایسے تیار ہو کے جاؤ کہ پتہ چلے کہ دوست اور دشمن کو۔ دشمن کی آنکھیں پتھرا جائیں اور آسمان والی مخلوق بھی رشک کر اٹھے کہ حضور ﷺ کی امت کا وکیل بول رہا ہے۔ بھائیو!میں آپ دوستوں سے عرض کرتا ہوں کہ ایک جوان مصلے پر کھڑا ہے، ایک صف میں کھڑا ہے۔ بولو! آدمی ایک یا دو؟۔ جامع مسجد دمشق میں نماز پڑھی ہے۔ نمازپڑھ کر فارغ ہوں گے۔ پھر مشرقی مینار کی جانب ایک پہاڑ پر جائیں گے، اس سے فارغ ہوں گے، پھر بیت المقدس میں جائیں گے۔ بیت المقدس میں نمازپڑھ کر فارغ ہوں گے کہ اطلاع ملے گی کہ دجال نے وہاں بیت المقدس کو گھیر لیا ہے۔

دجال کا خروج اور یہود کا متبع ہونا

اس وقت ستر ہزار یہودی دجال کے ساتھ ہوں گے۔ ہاں، ہاں! اگر آج اس نے لبنان کو گھیرا ہے۔ تو کل دجال کی قیادت میں یہی یہودی سیدنا مسیح علیہ السلام کو گھیریں گے۔ سیدنا مسیحں نماز پڑھیں گے۔ سلام پھیریں گے۔ ان کے ہاتھ میں خنجر ہو گا دو دھارا، دجال سامنے دروازے پہ کھڑا ہوگا، سیدنا مسیح علیہ السلام خنجر کو اس کی طرف پھینکیں گے۔ وہی دجال جس کا دعویٰ خدائی کا جس کی گردن کے اندر سریا فٹ ہے۔ اس بدبخت نے ساری دنیا میں فتنہ پھیلا رکھا ہے۔ اس وقت تک جب تک سیدنا مسیحں سے اس کی آنکھیں دوچار نہیں ہوئیں۔ جب ہوں گی ’’ذَابَ کَمَایَذُوْبُ الْمِلْحَ فِی الْمَآءِ‘‘

جس طرح نمک پانی کے اندر پگھلتا ہے۔ دجال دیکھے گا، وہاں دیکھتے ہی دوڑ لگائے گا۔ سیدنا مسیح علیہ السلام جواب میں کہیں گے: اے اللہ کے دشمن! تو مجھ سے بھاگ کر کہاں جانا چاہتا ہے؟ اللہ نے تیری موت میرے ہاتھوں لکھ رکھی ہے تو کہاں جائے گا؟۔ سیدنا مسیحں اس کا تعاقب کریں گے۔ پھینکیں گے اپنے حربے کو میرے رب کے فرشتے، اس حربے کو دجال کے قلب و جگر کے اندر اتار دیں گے اور پار ہو جائے گا۔ حربہ جس وقت پار ہو جائے گا تو دجال گرے گا اور تڑپے گا۔ وہیں پر موت آ پہنچے گی۔(ابن ماجہ: ۲۹۸)

اس کے بعد ایسی کیفیت ہو گی کہ مسلمانوں کی دجال کی قوم کے ساتھ لڑائی ہو گی۔ یہود بھاگنا چاہیں گے۔ کوئی پتھر کے پیچھے چھپے گا، کوئی درخت کے پیچھے۔ اگر پتھر کے

308

پیچھے چھپے گا تو اللہ پتھروں کو زبان دیں گے۔ وہ بھی سیدنا مسیح علیہ السلام اور مہدی علیہ الرضوان کے لشکر کو پکار کے کہیں گے، او میاں مسلمان! میرے پیچھے یہودی چھپا ہے۔ اس کو قتل کرو۔(مشکوٰۃ، باب الملاحم:ص ۴۶۶) تم کہو گے: پتھر کیسے بولے گا؟ اے حضرت انسان! اگر تو تانبے کو، پلاسٹک کو اور لوہے کو ملا کر بلوا سکتا ہے، تو میر ا خدا پتھر سے بھی بلوا سکتا ہے۔

دین قیامت تک رہے گا

عزیزو! میرے محمد عربیﷺ کی کل کمائی صحابہ کرامؓ ہیں۔ فرمایا رحمت عالم ﷺ نے اپنے صحابہ کرامؓ سے: اے صحابہؓ!مجھے ان پتھروں کا معلوم ہے کہ نبوت کے زمانے سے پہلے جب میں مکے کی گلیوں سے گزرتا تھا، پتھر مجھے سلام کہتے تھے۔ میں انہیں جواب دیتا تھا۔ (ترمذی:ج۲، ص۲۰۳) میں درخواست کرنا چاہتا ہوں یہ وہ وقت ہو گا جب یہود مقابلہ کریں گے۔ مارے جائیں گے۔ جو بچیں گے، مسلمان ہو جائیں گے۔ تمام ادیان باطلہ مٹ جائیں گے۔ ’’وَیَدْعُوْ النَّاسَ اِلٰی الْاِسْلَامِ فَیَھْلِکُ اللّٰہُ فِیْ زَمَانِہِ الْمِلَلَ کُلُّھَا اِلَا الْاِسْلَامَ‘‘(التصریح بما تواتر فی نزول المسیح:۹۶)

پوری دنیا میں محمد عربیﷺ کے دین کی آواز ہو گی۔ آج دنیا مٹانے پر تلی ہے۔ ہمارا کل بھی عقیدہ تھا۔ آج بھی عقیدہ ہے کہ دنیا ہمیں مٹانا چاہے، رب محمد ﷺ کی قسم! مٹانے والے مٹ جائیں گے۔ نہ محمد عربیﷺ کا دین مٹے گا نہ حضور ﷺ کی امت مٹے گی۔ امت زندہ رہے گی۔ ساری دنیا ختم ہو جائے، یہ آخری امت ہے۔ اس نے قیامت تک رہنا ہے۔ بولو، بولو اس نے…؟ قیامت تک رہنا ہے۔ تمام ادیان باطلہ مٹیں گے۔ پوری دنیا میں محمد عربیﷺ کے دین کی شہنشاہی ہو گی۔ اس کے بعد سیدنا مہدی علیہ الرضوان کا سیدنا عیسیٰ علیہ السلام کے نزول کے دو سال بعد سیدنا مہدی علیہ الرضوان کا انتقال ہو گا۔ ایک روایت کے مطابق بیت المقدس کے صحن میں انہیں جہاں پہلے بھی قبریں ہیں، وہاں ان کو دفن کیا جائے گا۔ اس کے بعد سیدنا مسیحں پینتالیس سال دنیا میں زندہ رہیں گے۔ حضور ﷺفرماتے ہیں ’’وَیَتَزَوَّجُ وَیُوْلَدُ‘‘ ان کی شادی ہو گی۔ ان کی اولاد ہوگی۔

(مشکوٰۃ، باب نزول عیسیٰں : ۴۸۰)

309

سیدنا مسیحں کا حج وعمرہ کرنا

حضور ﷺ فرماتے ہیں دمشق سے چلیںگے،مکۃ المکرمہ اور مدینہ طیبہ کے درمیان ’’فج روحاء‘‘ وہ وادی موجود ہے جس کے متعلق حضور ﷺ نے فرمایا، میرا بھائی مسیح ’’فج روحاء‘‘ یہاں سے حج اور عمرے کا احرام باندھے گا۔ حضور ﷺ نے کھڑے ہو کر فرمایا: اس وادی سے۔

(مستدرک حاکم:ج۲، ص۵۹۵)

اب کوئی شک ہو سکتا ہے؟ آج محمد عربیﷺ چلتے ہیں مدینہ شریف سے جب ’’فج روحاء‘‘ پر پہنچے، فرمایا:یہ وہ مقام ہے، جہاں میرا بھائی مسیح ں! نزول کے بعد دوبارہ آئے گا۔ یہاں سے عمرے کا احرام باندھے گا۔ خدا کی قسم! باندھے گا۔ حضور ﷺ نے فرمایا:

⚛… حج کرے گا

⚛… عمرہ کرے گا

⚛… طواف کرے گا

⚛… یہاں سے چلے گا

⚛… میرے مدینے آئے گا

پینتالیس ۴۵ سال دنیا میں قیام کرے گا۔ (مشکوٰۃ: ۴۸۰)

شادی ہوگی، اولاد ہو گی۔ ایک روایت کے مطابق ان کے دو بیٹے ہوں گے۔ ایک کا نام موسیٰ رکھیں گے اور دوسرے کا نام محمد رکھیں گے۔ آج بھی حضور ﷺ کے روضہ اطہر کے اندر چوتھی قبر کی جگہ باقی ہے۔ وہاں پر دفن ہوں گے۔ حضور ﷺ فرماتے ہیں لوگو!قیامت کے دن میں پہلا آدمی ہوں گا اپنی قبر سے اٹھوں گا۔ (مسلم:ج۲، ص۲۴۵)

ذرا اس منظر کو دیکھو نا کہ جس وقت حضور ﷺ اپنی قبر سے اٹھیں گے۔ میرے ماں، باپ حضور ﷺ کے فرمان کی صداقت پہ قربان، جس وقت اٹھیں گے، دائیں رسول اللہ ﷺ، بائیں عیسیٰ روح اللہں۔ دو نبیوں کے درمیان سیدنا ابوبکرؓ و سیدنا عمرؓ کو اٹھایا جائے گا۔(مشکوٰۃ، باب نزول عیسیٰں : ۴۸۰) مل کر کہو اٹھیں گے… اٹھیں گے۔

’’وما علینا الاالبلاغ المبین‘‘

310

تحریک ختم نبوت ۱۹۵۳ء

بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ

اَلْحَمْدُللہِ وَکَفیٰ وَسَلامٌ عَلیٰ سَیِّدِ الرُّسُلِ وَخَاتَمِ الْاَنْبِیَاءِ وَعَلیٰ اٰلَہٖ وَاَصْحَابِہِ الَّذِیْنَ ھُمْ خُلاَصَۃُ الْعَرَبِ الْعَرَبَاءِ وَخَیْرُ الْخَلاَءِقِ بَعْدَ الْاَنْبِیَاءِ۔ اَمَّا بَعْدُ! فَاَعُوْذُ بِاللہِ مِنَ الشَّیْطٰنِ الرَّجِیْمِ۔ بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ۔

وقال اللہ تعالیٰ: ذَالِکَ مَثَلُہُمْ فِی التَّوْرَاتِ وَمَثَلُہُمْ فِی الْاِنْجِیْلِ۔(الفتح:۲۹)

قال النبیﷺ:وَآٰدَمُ بَیْنَ الرُّوْحِ وَالْجَسَدِ۔ (مشکوٰۃ: ۵۱۳)
اَللّٰھُمَّ صَلِّ عَلیٰ سَیِّدِنَا وَ مَوْلٰنا مُحَمَّدٍ وَّعَلیٰ آلِ سَیِّدِنَا وَ مَوْلٰنا مُحَمَّدٍ وَّ بَارِکْ وَسَلِّمْ وَ صَلِّ کَذَالِکَ عَلیٰ جَمِیْعِ الْاَنْبِیَاءِ وَالْمُرْسَلِیْنَ وَعَلیٰ الْمَلاَءِکَۃِ الْمُقَرَّبِیْنَ وَعَلیٰ عِبَادِ اللہِ الصَّالِحِیْنَ اَجْمَعِیْنَ اِلیٰ یَوْمِ الدِّیْنِ۔

تمہید

شیخ المشائخ حضرت دامت برکاتھم، حضرات علماء کرام، سامعین محترم! اصل بیان تو حضرت مولانا حبیب الرحمن صاحب کا ہوگا۔ میں انتہائی اختصار کے ساتھ تحریک ختم نبوت کے متعلق چند باتیں آپ حضرات کی خدمت میں عرض کرنا چاہتا ہوں۔

ختم نبوت آپ ﷺ کا خصوصی امتیاز

میرے واجب الاحترام دوستو! حضرت ابوذرہؓ سے روایت ہے: وہ فرماتے ہیں کہ میں نے آپ ﷺ سے استدعا کی: ’’متی وجبت لک النبوۃ‘‘ کہ آپ کو نبوت کب ملی تو آپ ﷺ نے جواب میں فرمایا:

’’وَآٰدَمُ بَیْنَ الرُّوْحِ وَالْجَسَدِ‘‘ (مشکوٰۃ،باب فضائل سید المرسلین: ۵۱۳)

311

{حضور ﷺ فرماتے ہیں اللہ پاک پروردگار عالم نے مجھے اس وقت نبی بنا دیا تھا کہ جس وقت حضرت آدم مٹی اور پانی کے مرحلے طے کررہے تھے}

میرے عزیز دوستو ! حضور نبی کریم ﷺ کو اللہ پاک نے ختم نبوت کے اعزاز سے سرفراز فرمایا آپ کا یہ وہ اعزاز ہے کہ سیدنا آدم ں سے لے کر سیدنا عیسی ں تک تمام انبیاء علیہم السلام جس اعزاز اور آپ کی امتیازی شان اور وصف کے متعلق برابر اعلان کرتے چلے آئے۔ خود حضور ﷺ کے آخری زمانہ حیات میں تین فراد نے نبوت کا دعوی کیا۔

⚛… ایک اسود عنسی نے دعویٰ کیا

⚛… دوسرا مسیلمہ کذاب نے دعویٰ کیا

⚛… تیسرا طلیحہ اسدی نے دعویٰ کیا

اسود عنسی کے قتل کے لئے رحمت عالم ﷺ نے اپنے صحابیؓ حضرت فیروز دیلمیؓ کو بھیجا۔ سجاح اور ایک دوسرا شخص مسلمان ہوگئے تھے۔ منصب خلافت سنبھالنے کے بعد سیدنا صدیق اکبرؓ نے سیدنا خالد بن ولیدؓ کی سربراہی میں لشکر بھیجا اور جھوٹے مدعی نبوت مسیلمہ کذاب کا یمامہ کے میدان میں استیصال کیا۔ چالیس ہزار افراد مسیلمہ کذاب کی پارٹی کے افراد اس کے ساتھ تھے اور بارہ ہزار صحابہ کرامؓ اور تابعینc نے مقابلہ کیا۔ مسیلمہ کذاب کی پارٹی کے ایک روایت کے مطابق اٹھارہ ہزار اور دوسری روایت کے مطابق اٹھائیس ہزار آدمی قتل ہوئے۔ صحابہ کرامؓ اور تابعینc میں سے بارہ سو صحابہ کرامؓ اور تابعینؒ نے جام شہادت نوش کیا۔

آپﷺ کے بعد دعویٰ نبوت بالاجماع کفر

میرے عزیز دوستو!اس کے بعد مرحلہ آجاتا ہے حضرات صحابہ کرامؓ کے بعد تابعین کا،امام ابو حنیفہ ؒ، امام شافعیؒ، امام مالکؒ، امام احمد بن حنبلؒ ان تمام ائمہ کا اتفاق ہے اس بات پر کہ:

’’اِنَّ دَعْوَی النَّبُوَّۃِ بَعْدَ نَبِیِّنَا ﷺ کُفْرٌ بِالْاِجْمَاعِ‘‘ حضور ﷺ کے

312

حضور ﷺ کے بعد جو شخص نبوت کا دعویٰ کرے بالاجماع وہ کافر ہے(شرح فقہ اکبر:۲۰۲)

میرے عزیز دوستو! میں آج حضرت دامت برکاتہم کی موجود گی میں پشاور کی تمام تردینی قیادت کی موجودگی میں یہ عرض کرنا اپنے لئے خوشی کا باعث سمجھتا ہوں کہ اسلام کی چودہ سوسالہ تاریخ گواہ ہے۔ جب کبھی کسی شخص نے نبوت کا دعویٰ کیا، اس کے ساتھ مناظرہ نہیں کیاگیا، مجادلہ نہیں کیا گیا، اس کے ساتھ گفتگو نہیں ہوئی۔ مباہلے کا اور ٹاکرانہیں ہوا۔ بلکہ جب کسی شخص نے جھوٹی نبوت کا دعویٰ کیا، اگر وہاں پر اسلام کی حکومت تھی تو اس کا صرف اور صرف ایک ہی علاج کیا گیا کہ اس کے وجود سے اللہ کی دھرتی کو پاک کردیاگیا۔یہاں تک کہ:

⚛… خوارج کے ساتھ

⚛… روافض کے ساتھ

⚛… معتزلہ کے ساتھ

و دیگر تمام بے دین فتنوں کے ساتھ مناظرے ہوئے۔ گفتگوئیں ہوئیں۔ ان کے خلاف تحریکیں چلیں۔ امت نے تیاری کی۔ بخلاف جھوٹے مدعی نبوت کے کہ اس کے متعلق تو ائمہ نے یہ کہا کہ اس کے ساتھ گفتگو کرنی تو اپنی جگہ:

’’ مَنْ طَلَبَ مِنْہُ عَلَامَۃً فَقَدْ کَفَرَ‘‘ (الخیرات الحسان:ص۱۱۹، بحوالہ عقود الجمان:۲۷۶)

{جھوٹے مدعی نبوت سے نبوت کی دلیل طلب کرنے والا بھی کافر ہوجائے گا}

کاش! برصغیر میں بھی سنت صدیق اکبرؓ زندہ کی جاتی

میرے عزیز دوستو! ہمارے یہاں برصغیر پاک وہند میں جس وقت انگریز کی حکومت تھی، مسلمان ایک محکوم قوم تھی، یہاں مسلمانوں کے پاس سوائے غلامی کے اور کوئی چیز نہیںتھی، اس وقت اس اسلامی اقدام پہ عمل کرنا ممکن نہیں تھا۔ اس امت کی روایت کو دہرانے کا ان کے پاس وقت نہیں تھا۔ مجبوراً اکابرین امت نے مناظرے کا اور ان کی تردید کا دوسرا راستہ اختیار کیا۔ پھر پاکستان بنا تو پاکستان بننے کے بعد بھی بدنصیبی سے یہاں مسلمانوں کی حکومت تو قائم ہوئی۔ جس طرح آپ حضرات کے جوار میں افغانستان میں

313

طالبان کی اسلامی حکومت قائم ہے۔ لیکن اسلام کی حکومت آج تک قائم نہیں ہوئی۔ اگر اللہ تعالیٰ اس ملک کے مقدر میں اسلام کی حکومت قائم کر دے تو ان شاء اللہ! قادیانیوں کا وہی علاج کیا جائے گا، جو سیدنا صدیق اکبرؓ نے یمامہ کے میدان میں مسیلمہ کذاب کی پارٹی کا کیا تھا۔

میرے عزیز دوستو! آج اتفاق کی بات ہے۔ بات سے بات نکلتی ہے۔ افغانستان میںخان عبد الرحمن کے زمانہ میں، امیر حبیب اللہ کے زمانہ میں، مختلف مواقع پر افغانستان کے اندر خود مرزے قادیانی کی زندگی میں بھی اور اس کے بعد ۱۹۳۴ء میں بھی تقریباً ۵؍ قادیانیوں کو افغانستان میں ارتداد کے جرم میں سنگسار کیا گیا۔ افغانستان میں یہی وجہ ہے کہ آپ حضرات وہاں چلے جائیں، دور بین لے کر پہاڑوں پہ کھڑے ہوجائیں فضائوں کے اندر سفر کریں، تلاش کرنے کے باوجود بھی تمہیں پورے افغانستان میں قادیانیت نام کی کوئی چیز نظر نہیں آئے گی۔ یہ اسی اسلامی روایت کو زندہ کرنے کا باعث تھا اور آج میں رب کریم کے حضور کس طرح شکر ادا کروں کہ آج بھی ارتداد کے جرم میں اسلام کے خلاف سازش کرنے کے جرم میں مرزاقادیانی برطانوی سامراج کا خودکاشتہ پودا تھا۔ میں آج دیکھتا ہوں اٹلی، فرانس، امریکہ اور وہاں کے بعض مرتد لوگوں کو آج بھی افغانستان کی گورنمنٹ نے پکڑا ہوا ہے۔ میرے اللہکو منظور ہوا اسلامی روایت کے مطابق اگر ان کا جرم ثابت ہو گا تو پھر آپ حضرات دیکھیں گے، یہاں اس ملک میںسیدنا صدیق اکبرؓ کی سنت ایک مرتبہ پھر لہرائے گی۔

مرزا قادیانی نے وحی کی سند مہیا کی

میرے عزیز دوستو! ان حالات اور واقعات میں عرض کرنا چاہتا ہوں کہ جس مقصد پر انگریز نے یہاں ہندوستان میں اپنی حکومت مستحکم کی تو اپنی حکومت کو اس نے وحی کی سند مہیا کی۔ کیونکہ اسے پتہ تھا کہ مولوی مسئلہ بتا سکتا ہے بنا نہیں سکتا۔

مسئلہ بنانا یہ نبی کا حق ہے۔ نبی اس دھرتی پہ رب کریم کی تقدیر کا ترجمان ہوتا ہے۔ نبی جو کہہ دے: اللہ اسے شریعت بنادیتے ہیں۔ نبی کا بولنا: منشاء خداوندی کے تحت

314

ہوتا ہے۔ اس لئے انگریز نے مسلمانوں میں تفرقہ ڈالنے کے لئے جان بوجھ کے مرزاغلام احمد قادیانی سے جھوٹی نبوت کا دعویٰ کرایا اور ایک سوچی سمجھی سازش اور سکیم کے تحت مرزاقادیانی کے ماننے والوں کو اونچی اونچی پوسٹیں دے کر، ملازمتیں دے کر مسلمانوں کی گردنوں کو ناپنے کے لئے ان کو آگے لایا گیا۔ نتیجہ میں مسلمان قوم تنزلی کا شکار ہوتی گئی۔ قادیانیت کا فتنہ آگے بڑھتا گیا۔

مرزے قادیانی کی کم وبیش ۸۰کے قریب چھوٹی چھوٹی کتابیں ہیں اور اس کی کتابیں، میں دیانتداری کے ساتھ کہتا ہوں کہ خوب کہا تھا مولانا سید عطاء اللہ شاہ بخاری ؒ نے کہ مرزاقادیانی کی کتابوں سے اگر خدا، رسول اور دینی چیزوں کا نام نکال کے باقی جو بچتا ہے، ان کے ساتھ استنجاء کرنا جائز ہے۔ واقعہ یہ ہے کہ ایک دیوانے کتے کی طرح۔ یہ لفظ میں نے جان بوجھ کر کہا ہے، میں اس پر کوئی معذرت نہیں کرتا۔ اس لئے کہ یہ بات میرے ایمان اور عقیدے کا حصہ ہے کہ ہر آدمی کی رعایت ہوسکتی ہے، لیکن حضور ﷺ کے دشمن سے رعایت نہیں ہوسکتی۔ حضور ﷺ کے دشمن کے ساتھ رعایت رکھنا، اپنے ایمان کا جنازہ نکالنے کے مترادف ہے۔ جس طرح حضور ﷺ کی ذات کے ساتھ محبت کرنا ایمان کی نشانی ہے۔ اسی طرح رحمت عالم ﷺ کے دشمن کے ساتھ بغض رکھنا یہ بھی ایمان کی نشانی ہے۔

مرزا قادیانی کا کفر فرعون وہامان سے بڑا

میرے عزیز بھائیو! میں عرض کرنا چاہتا ہوں آپ دوستوں سے کہ مرزا قادیانی نے اپنی دو چار نہیں، بلکہ متعدد کتابوں میں لکھا کہ میں گورنمنٹ برطانیہ کا خود کاشتہ پودا ہوں۔ مرزاقادیانی نے ملکہ وکٹوریہ کو خط لکھا کہ:

’’ تو زمین کا نور ہے۔ میں آسمان کا نور ہوں۔ تیرے نور کی کشش نے اوپر سے نیچے کھینچ لیا ہے۔‘‘ (سراج منیرص۲۱، خزائن ج۱۲، ص۲۳)

یہ انگریز کے سائے کو مرزاقادیانی ظل اللہ کہا کرتا تھا۔ غرض مرزاقادیانی نے جان بوجھ کے ایک سوچی سمجھی سکیم کے تحت انگریز کے ہاتھ مضبوط کرنے کے لئے محمد

315

عربیﷺ کی دستار نبوت کے ساتھ استہزاء کیا اور وہ کفر قائم کیا کہ جس کو دیکھ کر مولانا انور شاہ کشمیری رحمۃ اللہ علیہ کو بھی اعلان کرنا پڑا کہ مرزا قادیانی کا کفر فرعون اور ہامان کے کفر سے بھی بڑھا ہوا ہے۔

قادیانیت کے خلاف جماعتی سطح پر کام کا آغاز

میرے دوستو! ایک طرف کفر کی یلغار کو دیکھو، ایک طرف بے دینی کو دیکھو، اللہ رب العزت کی کروڑوں رحمتیں ہوں، آپ کے اکابر علماء دیوبند پر۔ جنہوں نے قادیانیت کے خلاف فتویٰ شائع کیا۔ علماء لدھیانہ نے فتویٰ شائع کیا۔ تمام مکاتب فکر کے علماء نے اس جنگ کو اپنی جنگ سمجھا۔ قادیانیت کے فتنے کے خلاف پوری امت متفق اور متحد ہوئی۔ لیکن یہ تمام ترکوشش اور کاوش صرف اور صرف اس کام کے لئے تھی کہ قادیانیوں کے مقابلے میں انفرادی کوشش ہورہی تھی۔ سب سے پہلے ہمارے سید انور شاہ کشمیری رحمۃ اللہ علیہجو دارالعلوم کے فرزند تھے۔ وہ دیکھو! شیرانوالہ لاہورمیں حضرت اقدس شیخ التفسیر مولانا احمد علی لاہوری ؒ کے مدرسہ میں خدام الدین کے سالانہ جلسہ کے موقع پر پانچ سو علماء کرام کے ساتھ مولانا سید انور شاہ کشمیری رحمۃ اللہ علیہ نے سید عطاء اللہ شاہ بخاری ؒ کے ہاتھ پہ بیعت کی اور ان کو امیرشریعت کا خطاب دیا۔ آج حضرت مولانا انور شاہ کشمیری رحمۃ اللہ علیہ کی اس کوشش کے بعد جماعتی سطح پہ قادیانیت کے خلاف کام کرنے کا آغاز ہوا۔

پہلے صرف ختم نبوت اور اجراء نبوت کا مسئلہ۔ حیات اور وفات مسیح کا مسئلہ زیربحث تھا۔ ساری علمی بحثیں تھیں۔ آج پیربخاری ؒ نے مولانا انور شاہ کشمیری رحمۃ اللہ علیہکی بیعت کی وجہ سے کمر سیدھی کی۔ نعرہ لگایا کہ مرزاقادیانی کوئی مذہبی تحریک نہیں۔ قادیانیت ایک انگریز کا پروردہ گروہ ہے۔ اس کا مقا بلہ جماعتی سطح پر کیا جائے گا۔ سید عطاء اللہ شاہ بخاری ؒ نے قادیانیوں کو انگریز کا جاسوس ثابت کیا۔ اس کے نتیجے میں ۱۹۳۴ء میں قادیان میں سب سے پہلی کانفرنس ہوئی۔ مولانا سید عطاء اللہ شاہ بخاری ؒ نے قادیانیوں کے گھر میں جاکر قادیانیوں کے کفر کو للکارا۔

ایک وقت آیا کہ پاکستان بنتا ہے۔ ۱۹۵۳ء کے اندر سید عطاء اللہ شاہ

316

بخاری ؒ اور ان کے رفقاء نے تحریک چلائی۔ اس تحریک کے نتیجہ میں قادیانیوں کے بڑھتے ہوئے سیلاب کے سامنے بند باندھا۔ نتیجہ میں قادیانی انڈرگراؤنڈ چلے گئے۔

تحریک ختم نبوت ۱۹۵۳ء کے اسباب

میرے واجب الاحترام دوستو! ۱۹۵۳ء کی تحریک ختم نبوت میں حکومت نے دو جج صاحبان مقرر کئے۔ دونوں ہائیکورٹ کے جج تھے۔ ایک جج کا نام مسٹر ایم۔ آر۔ کیانی تھا اور دوسرے کا نام مسٹر جسٹس منیر تھا۔ یہ منیر اور کیانی ان دونوں کے سامنے علماء کرام پیش ہوئے۔ وہ ان علماء کرام سے مختلف سوال کرتے تھے۔

⚛… دیوبندیوں سے بریلویوں کے متعلق سوال کرتے تھے

⚛… بریلویوں سے اہل حدیثوں کے متعلق سوال کرتے تھے

⚛… اہل حدیثوں سے شیعوں کے متعلق سوال کرتے تھے

⚛… شیعوں سے دیوبندیوں کے متعلق سوال کرتے تھے

پھر جسٹس منیر اپنی کتاب کے اندرلکھتا ہے کہ یہ علماء کرام دین کے ایک مسئلے کے اوپر متفق نہیں۔

⚛… یہ توحید پہ متفق نہیں

⚛… یہ رسالت پہ متفق نہیں

⚛… یہ اسلام کی تعریف کرنے میں متفق نہیں

⚛… یہ نبوت کے اوصاف بیان کرنے میں متفق نہیں

اس نے علماء کرام سے پوچھا کہ نبی کے لئے کن اوصاف کا ہونا ضروری ہے۔ حضرات علماء کرام نے اپنے اپنے مزاج کے مطابق جواب دئیے۔ لیکن سید عطاء اللہ صاحب بخاری ؒ ایک دن پیش ہوئے۔ مسٹر جسٹس منیر نے ان کو کہا۔ شاہ صاحب! نبی کے لئے کن اوصاف کا ہونا ضروری ہے۔ حضرت شاہ صاحب رحمۃ اللہ علیہ نے:

⚛… آسمان کی طرف دیکھا

⚛… گھنگریالے بال ہلائے

317

⚛… عصاء کوسیدھا کر کے زمین پر مارا

⚛… جسٹس منیر کی طرف دیکھ کر جواب دیا

قبلہ! جو آدمی نبوت کا دعویٰ کرے، اس کے لئے کم ازکم شرط یہ ہے کہ وہ شریف آدمی تو ہو۔ آپ اس کا معنی نہیں سمجھے۔ اس کا معنی یہ تھا کہ مرزاقادیانی شریف آدمی ہی نہیں ہے۔ جس وقت یہ کہا تو عدالت کے اندر نعرہ لگا

(نعرہ تکبیر … اللہ اکبر… تاج وتخت ختم نبوت … زندہ باد)

جس وقت یہ نعرہ لگا عدالت میں مسٹر جسٹس منیر کا منہ لٹک گیا۔ اس کو برداشت نہ ہو سکا۔ جسم کے اوپر کپکپی طاری ہوگئی۔ جسٹس منیر نے کہا کہ: یہ تمہارا نعرہ لگانا توہین عدالت ہے۔سید عطاء اللہ شاہ بخاری ؒ نے پھر کہا: اگر ہمارا عدالت میں نعرہ لگانا توہین عدالت ہے تو مرزے قادیانی کا دعویٰ نبوت کرنا توہین نبوت ہے۔ اگر تم توہین عدالت برداشت نہیں کر سکتے تو ہم محمد عربیﷺ کی نبوت کی بھی توہین برداشت نہیں کر سکتے۔ پھر جسٹس منیر نے گردن نیچے کی۔ عدالت کا اجلاس ملتوی ہوگیا۔

دوسرے دن شاہ صاحب رحمۃ اللہ علیہ اپنا بیان دینے کے لئے پھر کھڑے ہوئے۔ مسٹر جسٹس منیر نے پچھلی رپورٹیں منگوا کر ان کو الٹ پلٹ کر کے شاہ صاحب سے کہا کہ: شاہ صاحب! آپ نے تقریر کرتے ہوئے ایک جگہ کہا ہے کہ: مرزے قادیانی نے میری موجودگی میں دعویٰ کیا ہوتا تو میں اسے قتل کر دیتا۔ کیا تمہاری تقریر ہے؟ شاہ صاحب نے فرمایا: ہاں! میں نے تقریر کی تھی۔ اس نے کہا: آج آپ کا کیا خیال ہے۔ اگر آج کوئی نبوت کا دعویٰ کرے تو آپ اس کو قتل کر دیں گے۔ آپ نے فی البدیہہ فرمایا کہ: ہے کسی میں ہمت تو آج دعویٰ کر کے دکھائے۔

تحریک ختم نبوت ۱۹۵۳ء کے نتائج

میرے دوستو! اس ۱۹۵۳ء کی تحریک کے نتیجے میں:

⚛… تقریباً دس ہزار مسلمان شہید ہوئے

⚛… ایک لاکھ آدمی جیل کے اندر گئے

318

⚛… دس لاکھ آدمی متاثر ہوئے

میرے عزیز دوستو! ان قربانیوں کے صدقے میں قادیانیوں کے بڑھتے ہوئے سیلاب کے سامنے بند باندھا گیا۔سید عطاء اللہ شاہ صاحب بخاری ؒ جیل سے رہا ہونے کے بعد ایک دن اپنے گھر بیٹھے ہوئے تھے۔ ایک سی۔آئی۔ڈی کا آدمی آیا اور اس نے بڑی فرعونیت کے ساتھ شاہ صاحب رحمۃ اللہ علیہ کی طرف دیکھ کر کہا: شاہ صاحب رحمۃ اللہ علیہ وہ آپ کی تحریک کا کیا بنا۔ شاہ صاحب رحمۃ اللہ علیہ نے اس کی طرف یوں بپھرے ہوئے شیر کی طرح دیکھ کر کہا: میاں! ۱۹۵۳ء کی تحریک کا کہتے ہو، جتنے شہید ہوئے۔ ان سب کا خون سید عطاء اللہ شاہ بخاری ؒ کی گردن پہ ہے۔ سیدنا صدیق اکبرؓ نے امت کا سب سے قیمتی اثاثہ صحابہ کرامؓ کو اس مسئلے کے لئے شہید کرایا تھا۔ تو یہ دس ہزار آدمی بھی میں نے سیدنا صدیق اکبرؓ کی سنت پہ عمل کر کے شہید کرائے ہیں۔ جہاں تک تم بات کرتے ہو اس تحریک کی، تو اس کے نتیجہ میں، میں نے ایک ٹائم بم مسلمانوں کے دلوں کے اندر فٹ کر دیا ہے۔ ایک وقت آئے گا کہ قادیانی حماقت کریں گے اور اس حماقت کی بنیاد پر یہ بم پھٹے گا اور قادیانیوں کا کفر الم نشرح ہو جائے گا۔

میرے دوستو! سید عطاء اللہ شاہ بخاری ؒ مرد قلندر نے کہا تھا کہ ایک وقت آئے گا کہ بم پھٹے گا۔ جس وقت قادیانیوں کی بڑھتی ہوئی سرگرمیوں نے ایک انتہائی سنگین شکل اختیار کرلی تو ۱۹۷۴ء میں اسی بخاری ؒ مرد قلندر کے شہر ملتان سے طلباء کا ایک قافلہ چلتا ہے۔ ۲۲؍مئی کو ربوہ ریلوے اسٹیشن پر ان کے ساتھ قادیانی غنڈے طوفان بدتمیزی کرتے ہیں۔ طلباء کا وفد آپ کے پشاور شہر میں آتا ہے۔ سیر سپاٹا کرنے کے بعد ۲۸؍مئی کو پھر چناب ایکسپریس کے ذریعے یہ واپس ہوا۔ ۲۹؍مئی کو جس وقت ربوہ ریلوے اسٹیشن پہنچا۔ مولانا نورالحق صاحب مجھے لقمہ دے رہے ہیں کہ ربوہ نہیں چناب نگر۔ اللہ کا کرم ہے کہ آج ربوہ کا نام تبدیل کر کے چناب نگر رکھ دیا گیا ہے۔

میں آپ دوستوں سے عرض کرتا ہوں کہ آج اللہ کے کرم سے قادیانیوں کا نام مٹا ہے تو ایک وقت آئے گا کہ قادیانیوں کا نشان بھی مٹے گا۔ آج کوئی بڑی سے بڑی فرعونی طاقت قادیانیوں کو ان کے کفر سے نہیں بچا سکتی۔ یہ برابر اپنے انجام کی طرف جارہے ہیں۔

319

جب طلباء ربوہ پہنچے، میں پرانی بات عرض کر رہا ہوں۔ اس وقت اس کا نام ربوہ تھا۔ جس وقت طلباء ربوہ پہنچے۔ آج کل جو قادیانیوں کا چیف گرو ہے: مرزا طاہر۔ اس کی قیادت میں ان طلباء پر ظلم کیاگیا۔

⚛… ان کے کپڑے چاک کئے

⚛… ان کے سر پھوڑے

⚛… ان کے ہونٹ کاٹے

⚛… ان کے دانٹ توڑے

⚛… ان کی ہڈیاں توڑیں

حتیٰ کہ اگر کسی طالب علم نے زخموں سے چورچور ہوکر پانی مانگا تو قادیانیوں نے اس کے منہ کے اندر پیشاب کیا۔ ان کی بربریت کا یہ عالم اور یہ کوئی باتیں ڈھکی چھپی نہیں۔ مسٹر جسٹس صمدانی جو ریٹائر ہوگیا ہے۔ لاہور کے اندر وکالت کر رہا ہے۔ اس کی انکوائری رپورٹ کے اندر یہ ساری باتیں موجود ہیںکہ اس ربوہ اسٹیشن پر احمدیت کے مقابلے میں محمدیت مردہ باد کے نعرے لگائے گئے۔ (العیاذ باللہ!)

قادیانیوں کی غنڈہ گردی

میرے دوستو! میں اختصار کے ساتھ عرض کرتا ہوں کہ پوری امت متحد ہوئی اور قومی اسمبلی کے اندر پوری دینی قیادت موجود تھی۔ قادیانیوں کے کیس کو لڑا گیا۔ محدث العصرحضرت مولانا محمد یوسف بنوری رحمۃ اللہ علیہ کی قیادت میں قوم باہر جنگ لڑ رہی تھی۔ آخر کار ایک وقت آیا، آپ حضرات کی نیشنل اسمبلی نے بھی ۷؍ستمبر ۱۹۷۴ء کو اعلان کیا کہ مرزا قادیانی اور اس کے ماننے والے کافر ہیں۔

آج آپ کی یہ کانفرنس اسی یاد میں منعقد کی گئی ہے۔ آج پورے ملک میں یہ ۷؍ستمبر کے حوالے سے اخبارات نے ایڈیشن چھاپے۔

⚛… خبریں نے چھاپا

⚛… جنگ نے چھاپا

320

⚛… نوائے وقت نے چھاپا

جس نے نہیں چھاپا اللہ اس کو آئندہ چھاپنے کی توفیق دے۔ قادیانیوں کا لاٹ پادری مرزاطاہر نے پچھلے سال رمضان المبارک میں جان بوجھ کر ہمارے ایک نوجوان سید اطہر شاہ صاحب کو مارا پیٹا، زخمی کیا۔ اس کے سر پر کلہاڑی ماری۔ اس کے دماغ کے دو ٹکڑے کر دئیے۔ پوری اس کی کھوپڑی کھل گئی اور اس کو قادیانی اسی حالت میں اپنی عبادت گاہ میں لے گئے۔ مسلمان اکٹھے ہوئے، اس کی لاش وصول کرنے کے لئے گئے۔ ان کو پتہ نہیں تھا کہ وہ ابھی زندہ ہے۔ قادیانیوں نے اپنے باڑے کے اوپر کھڑے ہوکر ان کے اوپر فائرنگ کی۔ ان پر اینٹیں چلائیں۔ نتیجہ میں مسلمان زخمی ہوئے۔ بیس، تیس، چالیس کے قریب مسلمان زخمی ہوئے۔ جس وقت یہ صورتحال ہوئی۔ چار پانچ ہزار آدمی گاؤں کے مارنے کو اکٹھے ہوئے۔ قادیانیوں کی عبادت گاہوں کا انہوں نے محاصرہ کیا اور نتیجہ میں پانچ قادیانی موقع پر قتل کر دئیے گئے۔

شرارت قادیانی کریں، سزا علماء کو

آج این۔جی۔اوز والے بشمول ہمارے ملک کے موجودہ صدر مملکت جناب پرویز مشرف سارے پروپیگنڈا کر رہے ہیں کہ قادیانیوں کے ساتھ ظلم ہوا۔ میں ان سے کہنا چاہتا ہوں قبلہ! اگر کائنات میں انصاف نام کی کوئی چیز ہے تو انکوائری کرائی جائے اس امر کی کہ سب سے پہلے شرارت کن لوگوں نے کی؟ شرارت کس طبقے نے کی؟ اس کے نتیجے کے اندر جو ہوا، وہ تمہاری پولیس کا کام تھا۔ جو موقع پر موجود تھی، فساد نہ ہونے دیتی۔ اس کی ہمارے اوپر کوئی ذمہ داری عائد نہیں ہوتی۔

پھر اسی مہینے کی بات ہے۔ شیخوپورہ میں قادیانیوں نے اپنی عبادت گاہ پر اسپیکر لگایا۔ حالانکہ بشمول چناب نگر کے پورے ملک میں کہیں پر قادیانیوں کو اسپیکر لگانے کی بھی اجازت نہیں۔ قانوناً ان کو تبلیغ کرنے کی اجازت نہیں۔ لیکن قادیانیوں نے سید والہ میں اپنی عبادت گاہ پر اسپیکر لگایا۔ صرف اسپیکر لگایا نہیں، بلکہ فل آواز میں چلایا۔ مرزاطاہر کی تقریر کو انہوں نے پورے گاؤں کے مسلمانوں کو سنانا چاہا۔ مسلمان اکٹھے ہوئے۔ وفد بنایا۔ سب

321

سے پہلے تھانے دار کے پاس گئے۔ جاکر ان کو کہا کہ جناب قادیانی خلاف قانون حرکت کر رہے ہیں۔ آپ ان کو روکیں۔ لیکن ان کونہ روکا گیا۔ نتیجہ میں قادیانیوں کی عبادت گاہ کی اینٹ سے اینٹ بجا دی گئی۔ پورا ان کا صفایا کر دیا گیا۔ اب این۔جی۔اوز والے پروپیگنڈا کرتے ہیں کہ قادیانیوں کے ساتھ ظلم ہوا۔ میں کہتا ہوں جناب قادیانیوں کے ساتھ ظلم نہیں ہوا۔ یہ مکافات عمل ہے۔ اگر قادیانی ایسا نہ کرتے تو اس کا نتیجہ یہ نہ نکلتا۔

قادیانی پاکستان کے امن کو آگ لگانا چاہتے ہیں

قادیانیوں کا جان بوجھ کر شرارت کرنا یہ دلیل ہے اس بات کی کہ وہ ملک عزیز پاکستان کے امن کو آگ لگانا چاہتے ہیں۔ جناب پرویز مشرف صاحب! آپ نے سی۔بی۔آر کے چیئرمین جو ایک جنونی سکہ بند قادیانی ہے کو اپنی گود کے اندر بٹھا رکھا ہے اور آپ سپریم کورٹ کے فیصلے کی بنیاد پہ متفقہ آئین کے اندر ترمیم کرنا چاہتے ہو۔ اس وقت تک اخبارات کے اندر جو رپورٹیں چھپ چکی ہیں، تم قانون تحفظ ناموس رسالت کے اندر ترمیم کرنا چاہتے ہو۔ محمد عربیﷺ کی عزت وناموس کے لئے، انبیاء کرام علیہم السلام کی عزت وناموس کے تحفظ کے لئے جو قانون بنا تھا، تم اسے بے وقعت بنانا چاہتے ہو؟ یہ حالات اور تمہاری قادیانیت نوازی یہ وہ چیزیں ہیں کہ جن کے اندر اندیشہ ہوتا ہے کہ آپ پٹری سے اتر گئے ہیں۔ پورے پاکستان کی دینی قیادت کو تم فرقہ واریت کے زہر کے اندر مبتلا کرنا چاہتے ہو۔ تم جان بوجھ کر ملک کے دینی اقتدار کو نقصان پہنچانا چاہتے ہو اور اس سے بڑھ کر یہ سارے کام تم برابر کرتے چلے آئے۔

توہین رسالت برداشت نہیں

آج ہم دیکھتے ہیں کہ تمہیں اتنی جرأت ہوگئی ہے کہ تم محمد عربیﷺ کی عزت وناموس کے تحفظ کے قانون کو بھی تبدیل کرنا چاہتے ہو۔ جناب پرویز مشرف صاحب ہماری آپ سے کوئی لڑائی نہیں۔ ہماری ختم نبوت جماعت کا اس پلیٹ فارم کا ہمیشہ سے یہ مشن رہا ہے کہ ۱۹۵۳ء میں ۱۹۷۴ء میں ۱۹۸۴ء میں جو ہمارے اکابر نے ہمارے لئے لائن متعین کی تھی، آج بھی ہم اسی لائن کے اوپر کھڑے ہیں۔ فرقہ واریت کو ہم ملک عزیز کے

322

لئے زہر قاتل سمجھتے ہیں۔ لیکن فرقہ واریت کی روک تھام کے نام پر دہشت گردی کی روک تھام کے نام پر، اگر صحابہ کرامؓ کی عزت وناموس کو تم پامال کرنا چاہتے ہو اور اگر اقلیتوں کو خوش کرنے کے لئے تم اس ملک کے اندر تحفظ ناموس رسالت کے قانون کو چھیڑنا چاہتے ہو۔ رب محمد ﷺ کی قسم! جب تک ایک مسلمان زندہ ہے، صرف تم نہیں، کسی بھی ماں کے لعل کو۔ اگرچہ وہ فرعون ہی کیوں نہ ہو، ہم متوجہ کرتے ہیں کہ ہر چیز برداشت کرلی جائے گی۔ رحمت عالم ﷺ کی عزت وناموس کے قانون کو تم نے چھیڑا۔ خدا کی قسم! یہ برداشت نہیں ہوگا۔ ذرا زور سے بولویہ برداشت؟… نہیں ہوگا۔

ہم آپ کی پالیسی کو مان لیتے ہیں، تم کہہ دو کہ: سپاہ محمد نے نعرہ لگایا۔ ڈنڈا اٹھایا۔ جواب کے اندر لشکر جھنگوی آیا۔ انہوں نے ڈنڈا اٹھایا، وہ دہشت گردی ہے۔ یہ دہشت گردی بھی ہم مان لیتے ہیں۔پوری نیشنل اسمبلی کو تم تحلیل کرو اور یہ دہشت گردی کے زمرے کے اندر نہ آئے۔ چلو ہم اس کو بھی مان لیتے ہیں۔ یہ ٹھیک ہے کہ دو قوتیں آپس میں لڑیں۔ وہ تو دہشت گردی اور

⚛… ایک فرد واحد چاروں اسمبلیوں کو توڑ دے

⚛… ایک فرد واحد نیشنل اسمبلی کو توڑ دے

⚛… ایک فرد واحد سینٹ کو توڑ دے

ملک عزیز کے قانون کے اندر ترمیم کرنے کے لئے آمادہ ہو جائے۔ اپنے ایک ایک دورے پہ کروڑوں روپے خرچہ کرے، ہم تسلیم کر لیتے ہیں کہ یہ آئین انصاف کے مطابق ہے۔ ہم آپ کی اس پالیسی کو بھی مان لینے کے لئے تیار ہیں۔

لیکن قبلہ! ان سب باتوں سے قطع تعلق میں علی الاعلان کہتا ہوں! جس دن رحمت عالم ﷺ کی عزت وناموس کے قانون کو تم نے چھیڑا تو وہ دن تمہارے اقتدار کا آخری دن ہوگا۔ قبلہ!

⚛… یہ دیوبندی، بریلوی کی بات نہیں

⚛… یہ لکھنوی ، دہلوی کی بات نہیں

کروڑوں دیوبندی، کروڑوں بریلوی، کروڑوں لکھنوی اور کروڑوں دہلوی

323

قربان محمد عربیﷺ کے گنبد خضراء کی ایک ایک اینٹ مبارک پر۔ معاف رکھنا! میں فرقوں کی بات نہیں کرتا۔ میں نبوت کی بات کرتا ہوں۔ جناب مشرف صاحب! اب بھی وقت ہے کہ تم علی الاعلان کہو کہ: یہ ایسے نہیں ہوگا۔ ہمیں معلوم ہے کہ آگرہ مذاکرات ناکام ہوگئے اور آگرہ مذاکرات کے اگلے دن تم نے بھی ویزے کی پابندیاں آسان کر دیں۔ واجپائی نے بھی آسان کر دیں۔ اس نے بھی پچاس ہماری اشیاء کے درآمد پہ ڈیوٹیں اڑادیں۔ تم نے اس کے جواب کے اندر ساٹھ اشیاء پہ ٹیکس معاف کر دیا۔ یہ مذاکرات ناکام ہوئے ہیں یا اندر بیٹھ کر تم کچھ طے کر چکے ہو۔

اور اگر اسی طے کرنے کا نتیجہ ہے کہ تم نے جہادی قوتوں پر ہاتھ ڈالنا ہے۔ تم نے دینی مدارس پہ ہاتھ ڈالنا ہے اور اس سے بڑھ کر تم نے محمد عربیﷺ کے گنبد خضراء پہ ہاتھ ڈالنا ہے۔ رب محمد ﷺ کی قسم! ہم اپنی جانوں پہ کھیل جائیں گے۔ تیری گولیاں ختم ہو جائیں گی۔ محمد عربیﷺ پہ قربان ہونے والے سینے ختم نہیں ہوں گے۔ یہ دین کی بات ہے۔ غیرت کی بات ہے۔ محمد عربیﷺ کے دیوانو! آج یہ پیغام لے کر جاؤ کہ

⚛… آپ کے علاقے میں کوئی قانون شکنی نہ ہو

⚛… آپ کے علاقہ میں کسی قادیانی پہ زیادتی نہ ہو

لیکن اگر کوئی قادیانی گردن اکڑا کے قانون کی خلاف ورزی کرے۔ محمد عربیﷺ کی توہین کا ارتکاب کرے۔ پھر تم بھی اس شان کے ساتھ جیو کہ آپ کے علاقے میں کوئی قادیانی گردن اکڑا کے نہ چل سکے۔

میں کیا خیال کروں کہ تم قادیانیوں کے خلاف کام کرو گے؟۔ جو کہتے ہیں کام کریں گے۔ وہ زور سے بولیں کام؟… کر یںگے۔ اللہتعالیٰ میرے اور آپ کے حامی وناصر ہوں۔

’’وما علینا الاالبلاغ المبین‘‘

324

تحریک ختم نبوت۱۹۷۴ء

بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ

اَلْحَمْدُللہِ وَکَفیٰ وَسَلامٌ عَلیٰ سَیِّدِ الرُّسُلِ وَخَاتَمِ الْاَنْبِیَاءِ وَعَلیٰ اٰلَہٖ وَاَصْحَابِہِ الَّذِیْنَ ھُمْ خُلاَصَۃُ الْعَرَبِ الْعَرَبَاءِ وَخَیْرُ الْخَلاَءِقِ بَعْدَ الْاَنْبِیَاءِ۔ اَمَّا بَعْدُ! فَاَعُوْذُ بِاللہِ مِنَ الشَّیْطٰنِ الرَّجِیْمِ۔ بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ۔

و قال اللہ تعالیٰ:وَاتَّقُواْ فِتْنَۃً لاَّ تُصِیْبَنَّ الَّذِیْنَ ظَلَمُواْ مِنکُمْ خَآصَّۃً وَاعْلَمُواْ أَنَّ اللّہَ شَدِیْدُ الْعِقَابِ۔ (الانفال: ۲۵)

عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَؓ یُحَدِّثُ عَنِ النَّبِیِّa قَالَ: کَانَتْ بَنُوْ اِسْرَاءِیْلَ تَسُوْسُھُمُ الْاَنْبِیَّاءُ کُلَّمَا ھَلَکَ نَبِیٌّ خَلَفَہُ نَبِیٌّ وَاِنَّہُ لَانَبِیَّ بَعْدِیْ وَسَیَکُوْنُ خُلَفَاءُ فَیَکْثُرُوْنَ۔(بخاری ج۱، ص۴۹۱، و مسلم ج۲، ص۱۶۲)
اَللّٰھُمَّ صَلِّ عَلیٰ سَیِّدِنَا وَ مَوْلٰنا مُحَمَّدٍ وَّعَلیٰ آلِ سَیِّدِنَا وَ مَوْلٰنا مُحَمَّدٍ وَّ بَارِکْ وَسَلِّمْ وَ صَلِّ کَذَالِکَ عَلیٰ جَمِیْعِ الْاَنْبِیَاءِ وَالْمُرْسَلِیْنَ وَعَلیٰ الْمَلاَءِکَۃِ الْمُقَرَّبِیْنَ وَعَلیٰ عِبَادِ اللہِ الصَّالِحِیْنَ اَجْمَعِیْنَ اِلیٰ یَوْمِ الدِّیْنِ۔

تمہید

خوب یاد ہے تقریباً ایک سال پہلے آپ حضرات کے یہاں اس جگہ حاضر ہونے کا اتفاق ہوا۔ تب ہمارے مخدوم حضرت مولانا یحییٰ مدنی c نے اس اجلاس کی صدارت فرمائی تھی۔ آج ایسے موقع پر ہم جمع ہوئے ہیں کہ حضرت مرحوم ہمارے اندر موجود نہیں، وہ ایسی جگہ تشریف لے گئے جہاں ہم سب نے جانا ہے۔ اللہ پاک پرور دگار عالم ان کے اس سفر کو خوب اور بابرکت فرمائیں اور ہم سب کو اللہ تبارک وتعالیٰ اس سفر کی تیاری کرنے کی توفیق عطاء فرمائیں:

325

میرے بھائیو! آج کے اس پروگرام کے حوالہ سے اپنے واجب الاحترام بھائی حضرت مولانا قاضی احسان احمد صاحب سے میں نے پوچھا کہ آج کی مجلس میں مجھے آپ حضرات کے سامنے کیا معروضات عرض کرنا ہیں تو حضرت قاضی صاحب نے دو تین باتیں ارشاد فرما دیں کہ ۵۳ء کی تحریک کے حوالے سے، ۷۴ء کی تحریک کے حوالے سے اور یہ کہ مسئلہ کی اہمیت۔ اس طرح انہوں نے تین چار باتیں فرما دیں۔

اب قاضی صاحب نے دو تین موضوعات کو ایک ہی موضوع میں بند کرنے کا حکم فرمایا، میرے لئے یہ تو بہت ہی مشکل ہے، آپ سب حضرات کو میری اس بری یا اچھی عادت کا معلوم ہے کہ جب بھی میں گفتگو کرتا ہوں، کوشش کرتا ہوں کہ کسی ایک موضوع پر رہوں، مختلف موضوعات کو بیک وقت اگر چھیڑ لیا جائے تو میرے لئے گفتگو کو سیدھا چلانا انتہائی مشکل ہو جاتا ہے اور پھر میں پھنس جاتا ہوں۔

میرے بھائیو! میرے خیال میں آج میں صرف تحریک ختم نبوت ۱۹۷۴ء کے حوالے سے آپ دوستوں کی خدمت میں کچھ معروضات پیش کرتا ہوں۔ آپ حضرات کو یاد ہو گا کہ ابھی ۸ ؍مئی کو آپ حضرات کے ملک میں جنرل الیکشن تھے اور آج سے ٹھیک چوالیس سال قبل بھی آپ کے اس ملک میں یعنی ۱۹۷۰ء میں الیکشن ہوئے تھے، چوالیس سال پہلے کا معنی یہ ہے کہ:

⚛… اس زمانے میں جو بوڑھے تھے، وہ اللہ کے حضور چل دیئے

⚛… اس زمانے میں جو حضرات جوان تھے، آج وہ بوڑھے ہو گئے

⚛… اورجو اس زمانے میں بچے تھے، وہ آج باپ بن گئے

آپ میں بہت سارے دوست ایسے ہوں گے جو میں واقعات شروع کر رہا ہوں تقریباً ان کی پیدائش سے بھی پہلے کے ہیں یعنی آج سے چوالیس سال پہلے کے۔

ابتداء میں مجھ مسکین کی گفتگو سے آپ دوستوں کو تھوڑی سی اجنبیت ہو گی۔ لیکن وہ گفتگو کرنا اس لئے ضروری ہے کہ اگلی یعنی جو میری آخری گفتگو ہے، اس کو سمجھنا ابتدائی گفتگو پر موقوف ہے۔

326

۱۹۷۰ء کا الیکشن اور قادیانی گروہ

میرے بھائیو! اس ۱۹۷۰ء کے الیکشن میں ہمارا یہ جو پرنٹ میڈیا ہے، اس کے اندر ایک بحث چلی تھی جو اس زمانے میں اسلام کے حوالے سے متعارف تھے، یا یہ کہ اسلام کے حوالے سے اپنا تعارف پسند کرتے تھے، ان کو دایاں بازو کہا جاتا تھا اور جو اپنے آپ کو ترقی پسند کہتے تھے یا کچھ اور، ان کو بایاں بازو کہا جاتا تھا۔

میرے بھائیو! ۱۹۷۰ء کا الیکشن ہوا، اس الیکشن میں واضح طور پر پوری قوم دو حصوں کے اندر بٹی ہوئی تھی۔’’دایاں بازو اور بایاں بازو‘‘۔ آپ حضرات جانتے ہیں، الیکشن کے فوراً بعد مشرقی پاکستان کا جو رزلٹ سامنے آیا۔ مشرقی پاکستان میں جناب مجیب الرحمن نے بڑی واضح اکثریت حاصل کی اور اگر الیکشن کے ان نتائج کو تسلیم کر لیا جاتا تو پورے پاکستان پر وہ حکمرانی کے مستحق تھے۔ انہوں نے کثرت کے ساتھ الیکشن جیتا تھا اور یہاں ہمارے مغربی پاکستان میں جناب ذوالفقار علی بھٹو نے واضح اکثریت حاصل کی۔ اس زمانے میں مذہبی جماعتوں میں سے جمعیت علماء اسلام کی سب سے زیادہ سیٹیں تھیں۔ پھر جمعیت علماء پاکستان کی، اور کچھ جماعت اسلامی کی بھی۔

میرے بھائیو! اس الیکشن کے تقریباً کوئی تین سال بعد یعنی ۱۹۷۳ء میں ملتان نشتر میڈیکل کالج کے طلباء کی یونین کا الیکشن تھا۔ تب چونکہ اوپر ایک تقسیم موجود تھی۔ دائیں اور بائیں کی۔ تو وہی اثرات نچلی سطح پر بھی نمودار ہوئے۔ چونکہ اس الیکشن میں بھی طلباء کیتنظیم کے اندر واضح طور پر دو دھڑے شمار کئے گئے، ایک کو دایاں بازو کہتے تھے اور دوسرے کو بایاں۔

میرے بھائیو! دائیں بازو نے اپنا پینل کھڑا کیا اور بائیں بازو نے اپنا پینل۔ جاننے والے دوست جانتے ہیں جو بائیں بازو کا پینل تھا وہ پینل خیر سے اتنا ترقی پسند ہوا کہ انہوں نے اپنے ساتھ قادیانیوں کو بھی ملایا، صرف ملایا نہیں بلکہ قادیانیوں کو بھی اپنے پینل میں دو، تین سیٹوں پر کھڑا کر دیا۔

برادران عزیز!جس وقت طلباء کے یہ جو دایاں بازو تھا، اس کے مقابلے میں

327

بائیں بازو میں ان کے اندر قادیانی تھے، تو ان طلباء عزیز کو موقع ملا۔ انہوں نے رحمت عالم ﷺ کی ختم نبوت کے حوالے سے اپنی تقریروں کے اندر گفتگو کرنا شروع کیں۔ ختم نبوت پر ان کی ذہن سازی ہوئی، ملتان میں ہی عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کا مرکزی دفتر ہے۔ تب ہمارے حضرت مولانا عبدالرحیم اشعر ؒ موجود تھے، ان دوستوں نے مولانا کو کہا، مولانا نے آئینہ مرزائیت نامی چھوٹا سا ایک رسالہ کوئی سولہ صفحات کا مرتب کر کے ان کو دیا۔ انہوں نے خوب چھاپا اور تقسیم کیا۔ ان ساتھیوں نے دن رات اپنی گفتگو میں مرزائیت کو بھی موضوع بحث بنایا اور رحمت عالم ﷺ کی ختم نبوت کی اہمیت کے حوالے سے بھی الیکشن میں گفتگو ہوئی۔

جس وقت الیکشن ہوا اور اس کا نتیجہ سامنے آیا: وہ کہتے ہیں نا کہ ’’ہم تو ڈوبے ہیں صنم، تمہیں بھی لے ڈوبیں گے‘‘۔ وہی ہوا، قادیانیوں کی نحوست یہ پڑی کہ قادیانی بھی شکست سے دوچار ہوئے اور ان کا پورا پینل بھی شکست کھا گیا۔ یوں یہ دائیں بازو والے حضرات کا پورا پینل کامیاب ہو گیا۔ ان حضرات نے الیکشن جیتنے کے بعد اپنی کابینہ کا اعلان کیا۔ اس کے اجلاس ہوئے، الیکشن کے اندر جو وعدے کئے گئے تھے ان کو پورا کرنے کی ان حضرات نے ذمہ داری قبول کی۔ اس کی تفصیلات ہیں، میں ان میں نہیں جانا چاہتا۔ دیگر کاموں کے علاوہ ان حضرات کے یہ دو تین، چار مہینے الیکشن کی مہم پر خرچ ہوئے تھے، ان حضرات نے کہا: اب ہم آؤٹنگ کے لئے سوات وغیرہ جانا چاہتے ہیں۔ انہوں نے پاکستان ریلوے کو درخواست گزاری کی کہ ۲۲؍مئی ۱۹۷۴ء کو ہم ٹرین کے ذریعے سفر کرنا چاہتے ہیں اور خیبر میل کے ذریعے ہمیں اضافی دو بوگیاں دی جائیں۔ پاکستان ریلوے نے جواب میں یہ کہا کہ: خیبر میل پہلے اتنی لمبی ٹرین ہے کہ اس کے ساتھ مزید بوگیاں لگانا ممکن نہیں۔ یہ اتنا وزن نہیں کھینچ پائے گی اور یہ کہ جرأت کر بھی لی جائے ۲۲؍ مئی کو تو بالکل ممکن ہی نہیں کہ اس دن کراچی سے ایک شادی پارٹی پشاور جا رہی ہے اور ان کی اضافی بوگی لگنا ہے، اس لئے یا آپ ڈیٹ پوسٹ پون کریں۔ یا یہ کہ اسی تاریخ کو ہی سفر کرنا چاہتے ہیں تو بجائے خیبر میل کے کسی اور ٹرین سے سفر کر لیں۔ اگر آپ چاہیں تو ہم آپ کو چناب ایکسپریس کے ذریعے بھیج سکتے ہیں۔

328

برادران عزیز! آپ سمجھیں گے کہ میں نے کیا بحث شروع کر دی لیکن میں آپ کو درخواست یہ کرنا چاہتا ہوں کہ اگر خیبر میل کے ذریعے یہ طلباء سفر کرتے تو خیبر میل کا اس زمانے میں روٹ تھا۔

⚛… ملتان … سے … خانیوال

⚛… خانیوال … سے … چیچہ وطنی

⚛… چیچہ وطنی … سے … ساہیوال

⚛… ساہیوال … سے … اوکاڑہ

⚛… اوکاڑہ … سے …رائے ونڈ

⚛… رائے ونڈ … سے … لاہور

⚛… لاہور … سے …گوجرانوالہ

⚛… گوجرانوالہ … سے … لالہ موسیٰ

اور پھر لالہ موسیٰ سے مین ٹریک سے پشاور جاتی ہے۔ اور اگر ان کا سفر ہوتا چناب ایکسپریس سے، تو چناب ایکسپریس کا روٹ اس زمانے میں یہ تھا۔ اب تو گورنمنٹ نے بدل دیا ہے، وگرنہ اس زمانے میں یہ روٹ تھا کہ

⚛… ملتان … سے …خانیوال

⚛… خانیوال … سے …عبدالحکیم

⚛… عبدالحکیم … سے …شور کورٹ

⚛… شورکورٹ … سے …ٹوبہ، گوجرہ

⚛… ٹوبہ، گوجرہ … سے …فیصل آباد

⚛… فیصل آباد … سے …چک جھمرہ

⚛… چک جھمرہ … سے …چنیوٹ

⚛… چنیوٹ … سے …چناب نگر

⚛… چناب نگر … سے …لالیاں

⚛… لالیاں … سے …سرگودھا

329

⚛… سرگودھا … سے …ملک وال

⚛… ملک وال … سے …لالہ موسیٰ

اور پھر جا کر لالہ موسیٰ سے یہ مین ٹریک پر پشاور کے لئے چڑھ جاتی ہے

میرے بھائیو!اب جب ان طلباء کو یہ چانس دیا گیا تو ان حضرات نے کہا: ٹھیک ہے۔ ہم نے تو سفر کرنا ہے، اس روٹ سے نہ سہی دوسرے روٹ سے کر لیںگے۔ چنانچہ سفر شروع ہو گیا۔

اب میں آپ دوستوں سے درخواست کرتا ہوں کہ اس زمانے میں یعنی ۱۹۷۰ء کے الیکشن میں، اب آپ حضرات دیکھئے! بار بار مجھے دو چیزوں کو بیک وقت لانا پڑ رہا ہے۔ آگے چل کر بات بالکل سیدھی ہو جائے گی۔ اس ۱۹۷۰ء کے الیکشن میں ہمارے پاکستان کی نیشنل اسمبلی میں ایک ملک جعفر صاحب تھے۔ ان کا پورا خاندان قادیانی تھا۔ وہ بھی کامیاب ہوئے۔ اس کے متعلق بھی بعض دوستوں نے انگلی اٹھائی کہ یہ قادیانی ہے۔ ہمارے پنجاب اسمبلی میں تین قادیانی کامیاب ہوئے۔

⚛… ایک راجہ منور تھا چکوال کا

⚛… ایک اعظم گھمن سنمبھڑیال کا

⚛… اور ایک بشیر احمد ماناوالا شیخو پورہ کا

رب کریم کی شان بے نیازی یہ راجہ منور چکوال نے اور اعظم گھمن نے تو واضح طور پر ہاتھ کھڑے کر کے کہا ہمارا خاندان، عزیز و اقارب ضرور قادیانی ہیں لیکن ہم قادیانیت پر لعنت بھیجتے ہیں۔ چلو! انہوں نے موقع پر اعلان کر کے قادیانیت سے اپنی برأت کا اظہار کیا اور مسلمانوں میں اپنا نام شمار کرایا۔ رہے ملک جعفر جو نیشنل اسمبلی کے اندر تھے۔ ملک جعفر صاحب نے بھی آگے چل کر ۱۹۷۴ء میں جب ختم نبوت کی تحریک چلی تب ملک جعفر صاحب نے مرزا ناصر احمد پر سوالات کی بوچھاڑ کی۔ گورنمنٹ اور اپوزیشن نے مل کر یہ رائے پیش کی کہ قادیانیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دیا جائے۔ سب سے پہلے یہی ملک جعفر صاحب جن کے متعلق مشہور تھا کہ ان کا خاندان قادیانی ہے۔اور واقعہ میں پورا خاندان قادیانی تھا… لیکن اللہ جسے توفیق دے… قدرت نے اسے توبہ کی توفیق کیا دی کہ اس کا

330

ایمان ایسے طور پر صیقل ہوا کہ اس نے سب سے زیادہ قادیانیت کے متعلق سخت مؤقف اختیار کیا نیشنل اسمبلی میں۔ اور اس کا کہنا یہ تھا کہ ان کو غیر مسلم کے بجائے خلاف قانون قرار دیا جائے۔

قادیانی بد مست ہاتھیوں کی طرح

میرے بھائیو! اس کی تفصیلات ہیں، میں اس کا ذکر نہیں کرتا۔ اس زمانے میں ہمارے پنجاب کے گورنر تھے جناب غلام مصطفی کھر اور پنجاب کے چیف منسٹر تھے جناب حنیف رامے۔ دنیا جانتی ہے کہ یہ حنیف رامے صاحب، ان کی بیگم صاحبہ محترمہ شاہین رامے اور یہ شاہین رامے کوئٹہ کے ایک قادیانی جماعت کے امیر کی بیٹی تھی۔ دو بیٹیاں تھیں، ایک بیٹی اس نے معروف قادیانی راجہ غالب احمد جو پنجاب بورڈ کا چیئرمین بھی رہا ہے۔ اس کو دی تھی اور ایک حنیف رامے کو۔ آپس میں یہ دونوں ہم زلف تھے۔

اب قادیانی یہ سمجھتے تھے کہ ۱۹۷۰ء کے الیکشن میں ہم نے پاکستان پیپلز پارٹی کا ساتھ دیا ہے۔ ہمارے بوڑھے، مرد، جوان اور عورتوں نے ان کے الیکشن کے لئے دن رات ایک کر دیا۔ ان کے لئے استعمال ہوئے اور خوب استعمال ہوئے، ہمارا حق ہے کہ وفاق کے اندر بھی پیپلز پارٹی کی حکومت ہے، گویا ہم بھی اس کے اندر شریک ہیں، اس پارٹی کو یہاں تک پہنچانے میں پنجاب میں بھی اور سندھ میں بھی ہم ہیں۔ پتہ نہیں قادیانی کیا کیا توقعات قائم کئے بیٹھے تھے۔ یہ وہ زمانہ تھا، بدمست ہاتھی کی طرح قادیانی اپنے قریب کسی کو نہیں پھٹکنے دیتے تھے اور اس تیز رفتاری کے ساتھ سرپٹ دوڑتے کہ ان کی طرف دیکھنا بھی بہت مشکل ہو رہا تھا۔ اس طرح انہوں نے رفتار پکڑی ہوئی تھی۔

۱۹۷۴ء کی تحریک کاسبب

میرے بھائیو! میں آپ دوستوں کی خدمت میں عرض کرتا ہوں کہ یہ طلباء عزیز جس وقت سوار ہوئے، ٹرین چلی۔ یہ گئی چناب نگر اسٹیشن پر۔ اس کا نام پہلے ربوہ تھا۔ بعد میں تبدیل ہوا۔ اب اس کا نام چناب نگر ہے۔ میں نے قادیانیوں کے اسی شہر میںبیان کرتے ہوئے قادیانیوں سے ایک موقع پر کہا تھا کہ آج تمہارے شہر کا نام مٹا ہے۔ ان شاء

331

اللہ! ایک وقت آئے گا قادیانیت کا نام بھی مٹے گا۔

میرے بھائیو! اس زمانے میں قادیانیوں کی عادت یہ تھی کہ جو ٹرین ان کے ۱سٹیشن سے گزرتی تھی، اس پر یہ لٹریچر تقسیم کرتے تھے، اپنے پمفلـٹ اور ہینڈ بل اور ان کا اپنا اخبار نکلتا تھا، جسے وہ الفضل کہتے ہیں۔ اور ہم الدجل کہتے ہیں، اس کو یہ تقسیم کرتے تھے۔ قادیانیوں نے حسب عادت آج۲۲؍مئی کو جو ٹرین گئی، انہوں نے ٹرین کے مسافروں میں اپنا لٹریچر حسب عادت تقسیم کیا۔ تو مسافروں میں وہ نشتر میڈیکل کالج کے طلباء بھی تھے، ختم نبوت پر ان کا ذہن بنا ہو ا تھا۔ انہوں نے جونہی لٹریچر کو دیکھا، یہ یوں کر کے پھاڑتے چلے گئے۔ چار ٹکڑے کئے زمین پر ڈال دیا۔ زمین پرمسلا اور اس کے اوپر تھوکا۔ جہاں اور نعرے لگائے، وہاں مرزا گاماں: ٹھا،ٹھا، کے نعرے بھی لگائے۔ جس طرح اسکول کالجز اور یونیورسٹیز کے طلباء کا مزاج ہوتا ہے۔ آزادانہ انہوں نے بڑی بہادری اور جرأت کے ساتھ ٹھاٹھا کے نعرے لگائے۔ اب قادیانیوں کے تیور بدلے۔ انہوں نے بڑی ترچھی نگاہوں سے ان طلباء کی طرف دیکھا۔ لیکن اسی اثناء میں ٹرین چلی۔ ٹرین چلنے کی وجہ سے تصادم ہوتے ہوتے رہ گیا۔ لیکن جونہی ٹرین چلی گئی، قادیانیوں کے سینے کے اوپر سانپ لوٹنے لگا۔ وہ یہ سوچنے پر مجبور ہوئے کہ ہم نے پاکستان پیپلز پارٹی کا ساتھ بھی دیا۔ اس زمانے میں کئی لاکھ روپیہ ان کے الیکشن پر بھی خرچ کیا۔ دن رات ان کے لئے سرگرداں بھی رہے اور آج پوزیشن یہ ہے کہ ہمارے اسٹیشن پر ہمارے حضرت کے خلاف نعرے۔

قادیانیوں کا گرو بے یارومددگار

میرے بھائیو! اس زمانے میں قادیانی جماعت کا چیف گرو اور ان کا لاٹ پادری مرزا ناصر تھا، مرزا ناصر کے اور ذوالفقار علی بھٹو کے درمیان رابطے کا جو کام دیتا، وہ مرزا طاہر تھا، جو بعد میں مرزا ناصر کے مرنے کے بعد قادیانی جماعت کا سربراہ بھی بنا۔ مرزا ناصراحمد نے مرزا طاہر کو کہا کہ ذوالفقار علی بھٹو کے پاس جاؤ، ہمارے ساتھ زیادتی ہو گئی۔ مرزا طاہر نے پاؤں سر پر رکھے، دوڑ لگائی۔ سیدھا گیاجناب ذوالفقار علی بھٹو صاحب کے پاس اور ان کوجا کر کہا: بھٹو صاحب! ہمارے ساتھ بڑی زیادتی ہو گئی۔ اس الیکشن میں ہم نے آپ کی

332

یہ مدد کی، وہ مدد کی۔ آپ یہاں تک پہنچے ہیں، اس کے اندر ہمارا بھی حصہ ہے اور آج اس کا ہمیں صلہ یہ دیا جا رہا ہے کہ ہمارے شہر میں ہمارے حضرت کے خلاف نعرے۔

ذوالفقار علی بھٹو کی ذہانت

میرے بھائیو! کہتے ہیں: حسن وہ ہوتا ہے، جس کا سوکن کو بھی اعتراف ہو ۔ جناب بھٹو صاحب ایک محب وطن قومی رہنما تھا۔ بلا کے قد کاٹھ کا آدمی تھا۔ بہت ذہین آدمی تھا۔ بھٹو سمجھ گئے کہ قادیانیوں کو ہم نے استعمال کرنا تھا کر لیا۔ اب قادیانیوں کی وجہ سے اگر میں ان طلباء پر مقدمہ چلاتا ہوں یا گرفتار کرتا ہوں تو کراچی سے لے کر خیبر تک سارے ملک کے طلباء بھی میرے خلاف جلوس نکالیں گے۔ مسجد و مدرسہ بھی میرے خلاف ہو جائے گا۔ کوئلوں کی دلالی میں، میں نے کیا کمایا؟ بھٹو صاحب نے مرزاطاہر کو ایک ایسا چکر دیا کہ بس اس کا رخ ادھر کو موڑ دیا۔ پہلے تو و ہ مرزا طاہر احمد بات کرتا رہا کہ یہ نعرے لگے، یہ ہوا، تو وہ ہوا۔

بھٹو صاحب سنتے رہے اور اس کے بعد بھٹو صاحب نے کہا: مرزا طاہر! میں تو یہ سمجھتا تھا کہ آپ بہت بـڑے لابی ہیں۔ لیکن آج پتہ چلا کہ تم سے بڑھ کر دنیا کے اندر کوئی اور بزدل نہیں۔ تم سب سے بڑے بزدل ہو۔ چار طالب علموں نے نعرے لگائے، تم سے وہ بھی نہیں سنبھالے جاتے۔ مرزا طاہر یہ سمجھا کہ بھٹو صاحب نے ہمیں فری ہینڈ دے دیا ہے۔ اور بھٹو صاحب نے یہ کیا کہ اپنے گلے سے پھندا اتارا اور ان کے گلے کے اندر فِٹ کر دیا۔ جس ٹرین کے ساتھ یہ بوگیاں ۲۲؍ مئی کو گئی تھیں، روٹین کے مطابق اب اسی ٹرین کے ذریعے انہوں نے ۲۹؍ مئی کو یہاں پہنچنا تھا۔ ۲۸؍ مئی کو انہوں نے پشاور سے چلنا تھا تو قادیانیوں نے تیاری شروع کر دی۔

قادیانی کھسیانی بلی کھمبا نوچے کی مثل

میرے بھائیو! اب میں درخواست کرتا ہوں: فیصل آباد سے جائیں پشاور کی طرف۔ اس روٹ پر جس کا میں ذکر کر رہا ہوں تو راستے میں چک جھمرہ آتا ہے۔ اس کے بعد چنیوٹ اور اس کے بعد چناب نگر اس کے بعد لالیاں، پھر نشتر آباد، شاہین آباد، پنڈی

333

رسول ان کے بعد سرگودھا۔ تو یہ سرگودھا سے لے کر چک جھمرہ تک آٹھ اسٹیشن بنتے ہیں۔ تمام ا سٹیشنوں کے اوپر قادیانیوں کے اسٹیشن ماسٹر موجود تھے۔ قادیانیوں نے تیاری یہ کی کہ سرگودھا سے لے کر یہاں تک جتنے درمیان کے اسٹیشن آتے ہیں، جہاں جہاں ٹرین نے رکنا تھا، اپنی قادیانی جماعتوں کو ہدایت کی کہ آپ اس ٹرین پر ۲۹؍ مئی کو سفر کریں اور یہ کہ خالی ہاتھ تم میں سے کوئی نہ ہو۔ کم از کم ڈنڈے تمہارے پاس ہونے چاہئیں۔

اب قادیانی سرگودھا والے اسٹیشن ماسٹر سے پوچھتے ہیں، وہ قادیانی، انہیں پل پل کی خبر دے رہے ہیں۔ آگے وہ پنڈی رسول والے پوچھتے ہیں شاہین آباد والوں سے، شاہین آباد والے پوچھتے ہیں نشتر آباد والوں سے۔ گویا انہیں پل پل کی خبر تھی کہ ٹرین فلاں فلاں جگہ پہنچی۔ باقاعدہ ایک ایک منٹ کی خبر تھی انہیں۔ اس حد تک تفصیلات کنٹرول روم سے انہوں نے گاڑی کا ٹائم پوچھا اور معلوم کیا کہ ان طلباء کی بوگیاں کہاں ہیں انہوں نے کہا: اگر انجن کی طرف سے شمار کریں تو ساتواں، آٹھواں نمبر ہے اور اگر گارڈکے ڈبے کی طرف سے شمار کریں تو تیسرا، چوتھا ان کا نمبر بنتا ہے۔

قادیانیوں کی دہشت گردی

اب قادیانی سوار ہوتے رہے اور ان ڈبوں کو وہ فوکس کرتے رہے، ٹرین ان کی بھر گئی، وہاں اسٹیشن پرجب پہنچی۔ قادیانی جماعت کا جو بعد میں چوتھا شاہسوار بنا مرزا طاہر، اس کی قیادت میں دو ہزار چناب نگر کے قادیانی اوباش ظالم، ان لوگوں نے ہنٹر لئے ہوئے، لوہے کے۔ اور یہ کہ ہاکیاں ان کے پاس اور جونہی ٹرین رکی، یہ سارے قادیانی جو اس کے اندر سوار تھے، انہوں نے ٹرین رکنے سے پہلے ہی دروازے اندر سے توڑے، قادیانی اندر داخل ہوئے، اب کوئی طالب علم بے چارہ سیٹ پر لیٹا ہے تو کوئی اپنے دھیان بیٹھا ہے تو قادیانیوں نے کسی کو بالوں سے پکڑا تو کسی کو ہاتھوں سے:

⚛… کسی کو نیچے اتارا

⚛… کسی کو وہیں مارا

⚛… کسی کو باہر لا کر پیٹا

334

ان کا وہ حال کیا کہ الامان والحفیظ۔ حتیٰ کہ ایسے بھی ہوا کہ مارے ڈر کے اگر کسی طالب علم نے سیٹ کے نیچے چھپنے کی کوشش کی تو قادیانیوں نے اسے پاؤں سے پکڑ کر، گھسیٹ کر دروازے کے سامنے لائے اس طرح سے پکڑتے کہ اس کے ہاتھ اور پاؤں سے اسٹیشن کی طرف اچھالتے تھے، جس طرح پلے دار بوریاں اچھالتا ہے۔ آگے قادیانی کھڑے تھے جونہی ان کی طرف پھینکتے۔ وہ ان کوہاتھوں پر لیتے۔ زمین پر لٹاتے اور پٹائی شروع کر دیتے۔

⚛… کسی کے ناک کی ہڈی ٹوٹی

⚛… کسی کا سر پھٹا

⚛… کسی کے دانت ٹوٹے

⚛… کسی کی کلائی مروڑی

⚛… کسی کا گریبان پھٹا

⚛… کسی کو کہیں زخم آیا

⚛… تمام طلباء پر خوب ظلم کیا

⚛… بربریت کی انتہا کر دی

میرے خیال میں آگے چلنے سے پہلے شاید مجھے بات بھول نہ جائے۔ اس زمانے میں ہائی کورٹ کے ایڈہاک جج ہوتے تھے، مستقل وہ ابھی نہیں ہوئے تھے۔ کے۔ایم صمدانی اس ہائی کورٹ کے جو جج تھے، انہیں اس واقعہ ربوہ کی انکوائری کے لئے ہائی کورٹ کا جج مقرر کیا گیا۔ اس زمانے میں جن لوگوں نے آ کر گواہی دی۔ ایک گارڈ نے اس زمانے میں گواہی دی تھی۔ ہمارے پاس اخبار موجود ہے کہ ایک طالب علم کو اتنا مارا کہ دوسرے قادیانی نے کہا یہ تو مرا جاتا ہے۔ اسے کوئی پانی ڈالو ورنہ یہی حال رہا تواس کا قتل ہمارے سر ہوگا۔

جس وقت کہا: یہ مرا جا رہا ہے اس کو پانی دو، تو ایک قادیانی نے اپنی پینٹ اتار کر اس کے منہ کے اندر پیشاب کر دیا۔ یہ باقاعدہ ہائی کورٹ کے ریکارڈ کے اندر بات موجود ہے۔

335

میرے بھائیو! اس وقت یہ کیفیت تھی کہ قادیانیوں نے ظلم، بربریت، کمینگی اور دہشت گردی کی حد کر دی ان طلباء کے اوپر اتنا ظلم کیا اب فیصل آباد کا کنٹرول روم جو ہر ریلوے کا برابر پوچھ رہا ہے کہ ٹرین کو پندرہ منٹ ہو گئے، آدھا گھنٹہ ہو گیا، آپ روانہ نہیں کر رہے، اسٹیشن ماسٹر نے یوں کر کے فون اٹھایا اورکہتا ہے کہ بس جی وہ انجن خراب ہو گیا۔ ابھی تھوڑی سی گڑ بڑ ہے۔ اس کو دیکھ رہے ہیں اور تھوڑی سی سواریوں کی آپس میں لڑائی ہو گئی ہے، اچھا جی روانہ کرتے ہیں۔ یہ کہہ کر اس نے فون بند کر دیا۔ ایک گھنٹے تک ٹرین کو روکے رکھا اس دوران قادیانیوں نے اپنے دل کی تمام حسرتیں نکالیں۔ مار مار کے ان طلباء عزیز کو ادھ موا کر دیا۔

میرے بھائیو! اب یہ ٹرین چلی جیسے کیسے، اس زمانے میں عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے بزرگ رہنما حضرت مولانا تاج محمود رحمۃ اللہ علیہ زندہ تھے اور ریلوے کالونی کے اندر ہی ان کی جامع مسجد تھی۔ وہیں پر ان کی رہائش۔ ان کے ساتھ ہی دو تین کوارٹر چھوڑ کے ریلوے کنٹرول روم کا بہت بڑا افسر۔ یہ مئی کے زمانے کی گرمی اور وہ افسر اس گرمی میں دوڑتا ہوا مولانا تاج محمود رحمۃ اللہ علیہ کے پاس آیا۔ اس نے رپورٹ بتائی حضرت یہ معاملہ ہوگیا تو ابھی پندرہ منٹ میں ٹرین اسٹیشن پر پہنچنے والی ہے۔ چک جھمرا سے چل چکی ہے۔ ہم نے چناب نگر آخری جس وقت فون کیا کہ ٹرین چلی کیوں نہیں، اسٹیشن ماسٹر باہر تھا۔ پلیٹ فارم پر کسی پانی والے نے فون اٹھا لیا۔ اس نے کہا کہ قادیانیوں نے مسلمان طلباء کو مارا ہے۔ بس ہمیں اتنی سی بھنک پڑی ہے۔ اگر یہ واقعہ صحیح ہے تو اس گرمی کے موسم میں اگر کوئی شدید زخمی ہوا تو کوئی بھی حادثہ ہو سکتا ہے۔ آپ مہربانی کر کے اگر ان کی ٹریٹمنٹ کا کوئی انتظام کر سکتے ہیں، تو کریں۔

مظلوم طلباء سے فیصل آباد والوں کا تعاون

مولانا تاج محمود رحمۃ اللہ علیہ نے اس زمانے میں جو ڈی سی او اور ایس پی تھے، آج کل تو خیر عہدے بھی بدل گئے ہیں۔ مولانا نے ان ڈی سی او، اور ایس پی صاحب کو فون کرکے کہا کہ: آپ ڈاکٹروں کی سرکاری سطح پر ٹیم لے کر آئیں۔ ادھر مولانا تاج محمود رحمۃ اللہ علیہ نے

336

فیصل آباد میں یہ انتظام کیا کہ کچہری بازار جو آٹھ بازاروں کے بالکل وسط کے اندر اور اس کے اتنے بلند مینار کہ سارے شہر کے اندر اس کی آواز گونجتی ہے اس کے سپیکروں پر اعلان کیا کہ آج قادیانیوں نے مسلمان طلباء کو مارا ہے جو مسلمان ان طلباء عزیز کی معاونت کرنا چاہیں، وہ اسٹیشن پر پہنچیں۔ اعلان کرنا تھا کہ:

⚛… کوئی ٹھنڈا پانی لے کر پہنچا

⚛… کوئی بیکری کا سامان لے کر پہنچا

⚛… کوئی پھل فروٹ لے کر پہنچا

⚛… کوئی جوس کے ڈبے لے کر پہنچا

غرض پورا فیصل آباد ’’یدخلون فی المحطۃ‘‘ فوج در فوج اسٹیشن کی طرف فیصل آباد کی عوام نے رخ کیا۔ ٹرین پہنچی تو فیصل آباد کا اسٹیشن کھچا کھچ بھرا ہوا انسانوں سے۔ ادھر ٹرین پہنچی، باہر کے ساتھیوں نے نعرہ لگایا ختم نبوت زندہ باد۔ اچھا ہوگا، آگے چلنے سے پہلے آپ بھی نعرہ لگا دیں۔ ختم نبوت…زندہ باد۔

اب ان طلباء عزیز کے لئے سب سے پہلا کام یہ کیا کہ اکانومی میں سے ایک اے۔سی بوگی کے اندر منتقل کیا۔ کسی کو ڈرپ لگائی گئی، کسی کو مرہم پٹی کی گئی۔ اب طلباء کو تھوڑی سی جو ہوش آئی اور انہوں نے سمجھا کہ ہم لاوارث نہیں۔ بھائیو! مجھے اجازت دو میں کہوں کہ ان شاء اللہ! جو لوگ ختم نبوت کا کام کرتے ہیں، وہ لاوارث نہیں۔ یہ مسئلہ بھی لاوارث نہیں، اس پر کام کرنے والے بھی ان شاء اللہ! لاوارث نہیں۔

⚛… رب کی رحمت بھی ہمیشہ ان کے ساتھ ہے

⚛… محمد عربیﷺ کی شفاعت بھی ان کے ساتھ ہو گی

اسٹیشن پر طلباء کا احتجاجی مظاہرہ

میرے بھائیو!میں آپ سے درخواست کرتا ہوں اب طلباء کی جان میں جان آئی۔ دس طالب علم پتہ نہیں ان کی کھوپڑی کے اندر کیا آیا۔ وہ وہاں سے اٹھے اور جا کر انجن کے سامنے پٹڑی کے اوپر لیٹ گئے۔ انہوں نے کہا: صاحب! ٹرین چلا کر ہمارا قیمہ کر دو۔

337

ہمیںمنظور ہے۔ لیکن ہمارے جیتے جی مطالبات مانے بغیر ٹرین چلے ہم ایسا نہیں ہونے دیں گے۔ ہمارے ساتھ بہت بڑی زیادتی ہوئی ہے۔ ہم احتجاج کرتے ہیں کہ پاکستان کو واضح طور پر قادیانی سٹیٹ بنا دیا گیا ہے کہ قادیانیوں کو یہ جرأت ہوئی کہ وہ اپنے اسٹیشن پر اس طرح طلباء عزیز کے ساتھ زیادتی کریں۔ اب وہ ڈی سی صاحب اور ایس پی صاحب طلباء کی طبی امداد کے لئے موقع پر موجود تھے جس وقت ان طلباء عزیز نے کہا تو انہوں نے ان سے پوچھا: آپ کے مطالبات؟ انہوں نے کہا کہ: ہمارا پہلا مطالبہ یہ ہے کہ قادیانیوں کے خلاف کیس درج کیا جائے۔ ان کی گرفتاریاں کی جائیں اور یہ کہ کسی ہائی کورٹ کے جج سے اس واقعہ کی انکوائری کرائی جائے۔

اب ڈی سی صاحب اور ایس پی صاحب نے مل کر ہوم سیکرٹری کو کہا: انہوں نے چیف سیکرٹری کو، دونوں نے باہمی مشورے کے ساتھ حنیف رامے کو کہا جو چیف منسٹر تھے۔ حنیف رامے نے پہلے تو ادھر ادھر ٹالنے کی کوشش کی۔ لیکن ڈی سی صاحب نے رپورٹ یہ دی کہ اگر یہ مطالبات نہ مانے گئے تو ٹرین کا جو ہو گا سو ہو گا۔ میں کچھ نہیں کہہ سکتا لیکن مجھے اتنا معلوم ہے کہ شام ہونے سے پہلے پہلے پورے فیصل آباد میں ایک گھر بھی قادیانیوں کا سلامت نہیں رہے گا۔

مسلمان اتنے مشتعل ہیں کہ تحریک چلے گی اور اگر فیصل آباد سے یہ تحریک چلی تو صرف فیصل آباد ہی نہیں، اس نے پورے ملک عزیز کو اپنی لپیٹ میں لے لینا ہے۔ اب حنیف رامے کی مرضی کہ یہ سارے ملک کو وہ دہکتی آگ کے اندر جھونک دیں، یا یہ کہ ان کے مطالبات مان لیں۔ اللہ نے کرم کیا حنیف رامے نے کہا: لو! مقدمہ درج کرنے کا میں نے آرڈر دے دیا۔ آج کل چناب نگر کو چنیوٹ کا ضلع لگتا ہے۔ اس زمانے میں جھنگ کا ضلع لگتا تھا۔

تحریکی مہم کا آغاز

برادران عزیز! ایس پی اور ڈی سی صاحب روانہ ہوئے قادیانیوں کی گرفتاریاں شروع ہو گئیں۔ بعد میں پتہ چلا کہ اس ایک دن میں ان کے شہر سے ۲۲۰۰ قادیانی گرفتار

338

کئے گئے ۔ تب لاہور میں:

⚛… آغا شورش کاشمیری ؒ

⚛… مولانا عبدالستار خان نیازی ؒ

⚛… حضرت مولانا عبید اللہ انورc

⚛… نواب زادہ جناب نصر اللہ رحمۃ اللہ علیہ

⚛… سید مظفر علی شمسی ؒ

و دیگر حضرات نے لاہور میں مذہبی شخصیات کااجلاس طلب کیا۔ اسی طرح ادھر فیصل آبادمیں:

⚛… حضرت مولانا مفتی زین العابدینc

⚛… حضرت مولانا تاج محمود رحمۃ اللہ علیہ

⚛… مولانا حکیم عبدالرحیم اشرفc

⚛… مولانا اسحاق چیمہ رحمۃ اللہ علیہ

و دیگر حضرات نے فیصل آباد میں مذہبی شخصیات کااجلاس طلب کیا۔ اسی طرح ملتان میں حضرت مولانا محمد شریف جالندھری ؒ نے جید علماء کرام کا اجلاس بلایا۔ بس قدرت کی طرف سے وقت آ چکا تھا کہ اس وقت اتنی بڑی بھاری بھرکم دینی شخصیت صرف پاکستان نہیں پورے عالم اسلام میں، جن کی ٹکر کا کوئی آدمی نہیں تھا۔ میری مراد شیخ الاسلام حضرت مولانا سید محمد یوسف بنوری رحمۃ اللہ علیہ ہیں۔اس وقت عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے امیر مرکزیہ تھے۔ ایک یہاں جامعہ علوم الاسلامیہ علامہ بنوری ٹاؤن میں ہمارے بزرگ عالم دین رہے: مولانا فضل محمد صاحب۔ وہ پٹن کے علاقے میں حضرت شیخ بنوری رحمۃ اللہ علیہکے ساتھ گئے ہوئے تھے۔ اس زمانے میں کوئی زلزلہ آیا تھا ان کی مدد کے لئے، تو پنڈی سے قاری زرین کو جو حضرت مولانا عبدالحکیم صاحب کے داماد تھے، ان کوبھیجا گیا۔ اس زمانے میں یہ موبائل اور فون تو اتنے عام تھے نہیں۔ وہ وہاں گئے حضرت شیخ بنوری رحمۃ اللہ علیہ کو بلالائے۔ اس وقت

⚛… آپ کے پاکستان کے پرائم منسٹر جناب بھٹو صاحب تھے

339

⚛… آپ کے وزیر داخلہ جناب خان عبدالقیوم خان تھے

⚛… آپ کے وفاقی فیڈرل گورنمنٹ کے وزیرقانون عبدالحفیظ پیر زادہ تھے

⚛… آپ کے مذہبی امور کے وفاقی وزیر مولانا کوثر نیازی تھے

⚛… آپ کے وفاقی لاء سیکرٹری افضل چیمہ تھے

جو گوجرہ کے رہنے والے تھے۔ پہلے ہائی کورٹ کے جج بنے پھر انہیں لاء سیکرٹری بنایا گیا۔ مفکر اسلام حضرت مولانا مفتی محمود صاحب کو تب تمام تر حزب اختلاف کی جماعتوں نے اسمبلی میں قائد بنایا ہوا تھا۔:

⚛… قائد ایوان ذوالفقار علی بھٹوؒ

⚛… قائد حزب اختلاف حضرت مفتی محمود رحمۃ اللہ علیہ

⚛… حضرت مولانا عبدالحقؒ

⚛… حضرت مولانا غلام غوث ہزاروی ؒ

⚛… مولانا عبدالمصطفیٰ ازہری

⚛… مولانا عبدالحق بلوچستانی ؒ

اور بہت بڑی دینی قیادت۔ بہت بڑی ہماری دینی کھیپ کوئی تقریباً دس، پندرہ ممبر صاحبان کی یہ بھی اسمبلی کے اندر موجود تھے۔ آپ کے یہاں کراچی سے دو بڑی شخصیات اس زمانے میں منتخب ہوئی تھیں۔ میری مراد :

⚛… ایک حضرت مولانا ظفر احمد صاحب انصاری ؒ تھے

⚛… دوسرے جناب پروفیسر عبدالغفور صاحب ؒتھے

میرے بھائیو! اب ذوالفقار علی بھٹو صاحب نے دیکھا، ہماری بیدار مغز دینی قیادت موجود ہے:

⚛… شیخ الاسلام حضرت بنور ی ؒ

⚛… مولانا غلام اللہ رحمۃ اللہ علیہ

⚛… مولانا تاج محمود رحمۃ اللہ علیہ

⚛… مفتی زین العابدین رحمۃ اللہ علیہ

340

⚛… مولانا عبید اللہ انور رحمۃ اللہ علیہ

خدا کی قسم! اس طرح آنکھیں بند کرتا ہوں بالکل آنکھوں کے سامنے ریل (کیسٹ) سی چلنے لگ جاتی ہے کہ کس طرح شیرانوالہ باغ لاہور کے اندر اس زمانے میں اجلاس ہوا۔ اب بھی یہی کیفیت ہے کہ ہمارا شمار اس زمانے میں نہ تین میں نہ تیرہ میں، ان حضرات کی جوتیاں اٹھاتے تھے، چلو انہی جوتیاں اٹھانے کے باعث ہمیں اس منظر کو دیکھنے کی اللہ نے سعادت سے سرفراز کیا۔

حضرت بنوری رحمۃ اللہ علیہ کا تحریک کو کامیاب بنانے کا فیصلہ

میرے بھائیو! میں عرض کرتا ہوں محدث العصر حضرت مولانا سید محمد یوسف بنوری رحمۃ اللہ علیہ مجلس تحفظ ختم نبوت کے امیر تھے، انہیں آل پارٹیز مجلس عمل تحفظ ختم نبوت کا سربراہ بھی بنایا گیا

میرے بھائیو! ۲۹؍ مئی ۱۹۷۴ء کو یہ وقوعہ ہوا تھا۔ ۱۴؍جون ۱۹۷۴ء کو پورے ملک میں ہڑتال کا اعلان کیا گیا۔ آپ دوست اگر مجھے اجازت دیں تو میں اس کی تعبیر یہ کرتا ہوں کہ کراچی سے لے کر خیبر تک یہ ایسی مثالی ہڑتال ہوئی کہ فرشتے آسمانوں سے جھانک جھانک کر دیکھتے تھے کہ محمد عربیﷺ کی عزت و ناموس کے مسئلے پر مسلمان قوم کتنی حساس ہے

میرے بھائیو! ایک ایسی روحانی کیفیت ہو گئی اور پھر روحانی کیفیت کیوں نہ ہوتی کہ حضرت شیخ بنوری رحمۃ اللہ علیہ نے کراچی سے چلتے ہوئے ایک موقع پر اپنا بریف کیس اٹھایا، مفتی ولی حسن صاحب رحمۃ اللہ علیہ سے کہا: یہ میری دو سفید چادریں دیکھ لیں۔ مفتی صاحب! میں اس نقطہ نظر کے ساتھ جا رہا ہوں کہ یا تو مسئلہ حل ہو گا، فاتح بن کر واپس آئیں گے یا پھر مسئلہ حل نہ ہوا تو میری لاش واپس آئے گی، اب میں جیتے جی کراچی نہیں آؤں گا

میرے بھائیو! جس وقت قیادت کا یہ اخلاص ہو تو پھر اللہ رب العزت ضرور بہ ضرور مدد فرماتے ہیں۔آپ حضرات کی خدمت میں عرض کرتا ہوں، بڑی تفصیلات ہیں۔ میرے لئے یہ بہت مشکل ہو رہا ہے کہ میں کس بات کا انتخاب کروں اور کس بات کو

341

چھوڑدوں۔ نتیجہ کی بات عرض کرتا ہوں: جناب بھٹو صاحب یہاں بلوچستان میں آئے تھے فورٹ سنڈیمین میں۔ تب ہمارے حضرت مولانا شمس الدین شہیدc وہ بھی زندہ تھے، اس کی تفصیلات ہیں، میں اس میں جانانہیں چاہتا، بھٹو صاحب نے یہاں پر اعلان کیا کہ یہ جومسئلہ ہے، اس مسئلے کو میں قومی اسمبلی کے سپرد کرتا ہوں۔ قومی اسمبلی جو فیصلہ کرے گی بحیثیت ایک مسلمان ہونے کے میں بھی اپنا ووٹ اس کے اندر دوں گا، پارٹی کے اعتبار سے نیشنل اسمبلی میں ان کی واضح اکثریت تھی۔

انہوں نے کہا کہ میں اپنے سارے اسمبلی ممبران کو آزاد کرتا ہوں، پارٹی ڈسپلن سے وہ بالکل آزاد ہیں، آزادانہ طور پر قادیانی مسئلے پر بحث کریں، بحث میں حصہ لیں اور حصہ لینے کے بعد مسلمان ہونے کے ناطے جو چاہیں فیصلہ کریں، پارٹی کی طرف سے ان پر کسی قسم کی کوئی پابندی نہیں۔

بھٹو صاحب نے اس تحریک کے متعلق بڑے کھلے دل کے ساتھ یہ فیصلہ کیا۔ اب جس وقت جناب بھٹو صاحب نے کہا، یہ مسئلہ نیشنل اسمبلی کے سپرد۔ تب قادیانی جماعت فوراً بلوں سے باہر نکلی۔ انہوں نے ایک درخواست پرائم منسٹر کو لکھی اور ایک نیشنل اسمبلی کے سیکرٹری کو کہ جناب چونکہ یہ قادیانیت کا مسئلہ نیشنل اسمبلی کے زیر بحث آنا ہے تو نیشنل اسمبلی میں ہمیں بھی آ کر اسمبلی کے فلور پر اپنا مؤقف پیش کرنے کی اجازت چاہئے۔ آپ نے اگر ہمارے عقیدے پر بحث کرنی ہے تو ہمارا عقیدہ کیا ہے؟ ہمیں سنے بغیر فیصلہ نہ دیا جائے۔ تب جناب ذوالفقار علی بھٹو نے حضرت مولانا مفتی محمود رحمۃ اللہ علیہ کو بلایا اور بلا کر قادیانیوں کی درخواست ان کے سامنے رکھی۔ حضرت مفتی صاحب رحمۃ اللہ علیہ نے درخواست کو دیکھا۔ میں کہتا ہوں: گل گلاب کی طرح ان کا چہرہ کھِل اٹھا۔ انہوں نے کہا: جناب بھٹو صاحب! ایک منٹ ضائع کئے بغیر ان قادیانیوں کو کہیں کہ وہ فوراً اسمبلی میں آ جائیں اور آکر اسمبلی میں حصہ لیں۔ ان شاء اللہ! محمد عربیﷺ کی غلامی کا حق ادا کرنے کے لئے ہم اسمبلی میں پہلے سے موجود ہیں۔

342

مفتی محمود رحمۃ اللہ علیہ کی ذہانت

میرے بھائیو! حضرت مفتی صاحب رحمۃ اللہ علیہ نے اس موقع پر بھٹو صاحب کو یہ تو کہا کہ قادیانی کوئی ایک نہیں دس مولوی اور مناظر، مرزا ناصر اپنے ساتھ لائیں۔ وہ سب اس کے معاون اور مدد گار ہوں گے۔ لیکن سوال جواب خود مرزا ناصر احمد کی طرف سے ہوں گے۔ کیونکہ اگر مرزا ناصر اپنا کوئی نمائندہ بھیجتا ہے اور وہ شکست کھا جاتا ہے تو کل کو قادیانیوں کو راستہ مل جائے گا وہ کہیں گے کہ ہمارے مولوی شکست کھا گئے تو کیا ہوا، ہمارے حضرت ہوتے تو پتہ نہیں کون سے تارے آسمان سے اتار لاتے۔ ابھی سے ان کا مکّو باندھو اور ان کو کہو کہ مرزا ناصر احمد کو آنا چاہئے، تاکہ اس کی فتح ساری قادیانیت کی فتح اور اس کی شکست ساری قادیانیت کی شکست ہو، تاکہ قادیانی کل کو یہ نہ کہہ سکیں کہ جناب معاملہ یوں نہ ہوتا، یوں ہوتا تو پتہ نہیں کیا ہو جاتا۔

خیر! اب قادیانیوں کے لئے وہ کہتے ہیں نا کہ ’’کھسیانی بلی کھمبا نوچے‘‘ ان بیچاروں کے لئے ’’نہ جائے ماندن نہ پائے رفتن‘‘ ان کے لئے پوزیشن یہ ہو گئی کہ قادیانی جان بھی چھڑوانا چاہتے ہیں لیکن کمبل ان کی جان نہیں چھوڑتا، مرتے کیا نہ کرتے، انہیں اسمبلی کے اندر جانا پڑا۔

اب گورنمنٹ نے حضرت مفتی محمود صاحب رحمۃ اللہ علیہ سے مشورہ کیا کہ حضرت مفتی صاحب! آپ قادیانیوں کے اوپر اگر جرح کریں گے تو نتیجہ یہ ہو گا جہاں پر یہ لاجواب ہوں گے، انہوں نے فوراً بائیکاٹ کر دینا ہے اور مظلوم بن کر باہر چلے جائیںگے اور ساری گیم الٹی ہو جائے گی تواس کے بجائے ہم اٹارنی جنرل کو لاتے ہیں، وہ پاکستان گورنمنٹ کا نمائندہ ہے، سوال وہ کرے، تیاری آپ کرائیں تاکہ کل کو یہ کوئی نہ کہہ سکے مولوی صاحبان نے خراب کیا ہے اس لئے مرزا ناصر احمد دوڑ گیا تو حضرت مفتی صاحب رحمۃ اللہ علیہ نے کہا: ٹھیک ہے۔ اٹارنی جنرل کو بھجوائیے۔

اب ایک خالصتاً قانونی نقطہ کھڑا ہو گیا۔ وہ نقطہ یہ کہ قادیانی گروپ ہو یا لاہوری گروپ جنہوں نے اسمبلی کے اندر پیش ہونا ہے۔ اس میں کوئی قومی اسمبلی کا ممبر نہیں۔

343

اٹارنی جنرل جس نے اسمبلی میں پیش ہونا ہے۔ وہ خود قومی اسمبلی کا ممبر نہیں۔ فلور ہو گا قومی اسمبلی کا غیر اسمبلی کا ممبر اسمبلی کے فلور پر کیسے گفتگو کرے؟ تو اس کا حل یہ نکالا گیا کہ پوری اسمبلی کو ایک خصوصی کمیٹی میں منتقل کر دیں۔ بجائے اسمبلی کی خصوصی کمیٹی کے ’’برائے بحث قادیانی ایشو‘‘ اس عنوان پر اس کو کمیٹی بنا دیں اور جو اس کے اسپیکر ہیں، ان کو اس کمیٹی کا سربراہ بنا دیں۔ اب جب یہ خصوصی کمیٹی ہو گی تو مرزا ناصر احمد اور لاہوری گروپ اٹارنی جنرل کے نیشنل اسمبلی کا فلور استعمال کرنے کی ایک صورت پیدا ہو گئی، اب قادیانیوں کے اوپر بحث شروع ہوئی۔

کاروائی چھپانے کی مہم اور مجلس کی خدمات

میرے بھائیو! معافی چاہتا ہوں، میں نے آپ دوستوں کو بہت لمبا سفر کرایا۔ میں ۵، ۱۰ منٹ میں اپنی گفتگو کو سمیٹتا ہوں۔ اب آپ توجہ کریں آج سے تقریباً کوئی ایک سال پہلے وہ جو نیشنل اسمبلی کی کارروائی تھی، جس کے اوپر گورنمنٹ نے پابندی عائد کر رکھی تھی۔ اب ایک آدمی نے ہائی کورٹ کے اندر رٹ دائر کی کہ تیس سال سے زیادہ کسی بھی ریکارڈ کو خفیہ نہیں رکھا جا سکتا۔

اس اسمبلی کی کارروائی کو اب عام ہونا چاہئے۔اسمبلی کا سیکرٹری پیش ہوا۔ اس نے کہا کہ: اس کے اوپر بڑا خرچہ آئے گا۔ بل بنا کے دیا کہ ۴۶ لاکھ روپے خرچ آئے گا۔ ہائی کورٹ نے کہا: یہ قانون کی عمل داری کی بات ہے کہ ایک چیز ہے وہ چھپنی چاہئے۔ یہ اصولی سوال انہوں نے کھڑا کیا کہ ۴۶ لاکھ نہیں ۴۶ کروڑ بھی ہو، آپ اس کو چھاپیں۔ گورنمنٹ نے اسے چھاپا تو سہی،ہماری اطلاع کے مطابق فہمیدہ مرزا نے اس کے اوپر کئی لاکھ خرچ کئے، پتہ نہیں کتنے ہوئے، بل لاکھوں کا بنا۔

میرے بھائیو! خیر سے وہ اسمبلی کی کارروائی انہوں نے چھاپ تو دی، اب قادیانیوں کے لئے موت واقع ہو گئی کہ اگر اسمبلی کی کارروائی سامنے آتی ہے۔ یہ تو ہمارا کچا چٹھا پبلک کے سامنے آ جائے گا۔ قادیانیوں نے نہ آؤ دیکھا نہ تاؤ، باہر کی گورنمنٹ سے زور لگایا کہ کسی طرح یہ کارروائی عام نہیں ہونی چاہئے حتیٰ کہ اسمبلی کے ممبران جن کا حق بنتا ہے

344

کہ انہیں اسمبلی کی کارروائی کی کاپی دی جائے، گورنمنٹ نے ان کو بھی نہیں دی۔

مولانا فضل الرحمن صاحب کی زرداری صاحب کے ساتھ اچھی علیک سلیک ہے۔ مولانا فضل الرحمن صاحب نے زرداری سے کہاتو مولانا عبدالغفور حیدری صاحب، فہمیدہ مرزا کے پاس گئے، میرے خیال میں اتنے چکر لگائے، اتنی منت سماجت کی، اتنی آنکھیں دکھائیں لیکن گورنمنٹ نہیں مانی۔ بھائیو! ہائی کورٹ کے حکم پر کہ فلاں تاریخ تک ایک کاپی اس درخواست دینے والے کوآپ مہیا کریں۔ انہوں نے ایک کاپی دی، اس نے نیٹ پر چڑھا دی۔ اب انٹرنیٹ پرچڑھی ساری دنیا کے اندر عام ہو گئی۔

لوگوں نے اس کو اپ لوڈ کرنا شروع کیا۔ اس پوزیشن میں قادیانی بے چاروں کے لئے کوئی چارہ نہ رہا۔ سوائے اس کے کہ اپنی پوزیشن کو واضح کریں۔ چنانچہ کوئی ۴،۵ چہیتوں نے پہلے کتاب چھاپی، اس کا نام رکھا کہ ’’قومی اسمبلی کی خصوصی کمیٹی میں کیا گزری‘‘ یہ اس کا نام ہے۔ مرزا سلطان احمد اس کا لکھنے والا ہے۔ اس نے اپنی کتاب کا سٹارٹ یہاں سے لیا کہ مرزا ناصر احمد کا ایک خطبہ پیش کیا جس میں مرزا ناصر احمد کہتا ہے کہ ۱۹۷۰ء کے الیکشن میں ہم نے جماعت کا اجلاس کیا اور وسیع اجلاس کیا اور ہم کئی دن رات اس کے اوپر بحث کرتے رہے کہ ہمیں کس پارٹی کا ساتھ دینا چاہئے۔ ایک تو جماعت کی طرف سے یہ فیصلہ ہوا، دوسرا یہ کہ قدرت کی طرف سے مجھے یہ اشارہ ہوا کہ تمہیں پیپلز پارٹی کا ساتھ دیناچاہئے۔

یہاں سے اپنی کتاب کا سٹارٹ لیا۔ میں نے قادیانی جماعت سے درخواست کی یا تو قدرت نے ان کے ساتھ ہاتھ کیا یا پھر مرزا ناصر ایسا ڈفر ہے کہ یہ احمق سمجھ نہ سکا کہ اللہ میاں نے آدھی بات مرزاناصر کو بتائی تھی کہ تم پاکستان پیپلزپارٹی کا ساتھ دو، یہ نہیں بتایا تھا کہ ان کو ووٹ تم دو ، انہی کے ہاتھوں سے تمہیں کافر میں قرار دلواؤں گا۔

میرے بھائیو! قادیانی بے چارے وہ اس پوزیشن میں ہیں کہ جس طرح کسی کے پاؤں کے نیچے آگ دہکا دی جائے اور اسے کہا جائے اس دہکتی آگ کے اوپر چلو۔ اس وقت جو اس کے دل و دماغ کے اندر ہوتی ہے کہ پاؤں کے تلوے سے لے کر کھوپڑی تک پورا جسم اس کا جلن سے جل رہا ہوتا ہے۔ اب قادیانی اس اضطراب کی کیفیت کے

345

اندر مبتلا ہیں۔

بھائیو! میں آپ سے درخواست کرتا ہوں کہ قومی اسمبلی کی کارروائی ہم نے اس کو سمجھ لیا کہ قادیانی کسی قیمت پر بھی نہیں چھاپیں گے۔ ہم نے اس کو سمجھ لیا کہ گورنمنٹ بھی اس کو تقسیم نہیں کر رہی، اب ایک مرحلہ باقی رہ جاتا ہے اور وہ یہ کہ مجلس تحفظ ختم نبوت اس کو شائع کرے۔

برادران عزیز! یہ ہمارے قاضی احسان صاحب موجود ہیں، بھائی انوار صاحب، اللہ ان کو جزائے خیر دے، انہوں نے انٹرنیٹ سے ایک ایک ورق نکالا۔ ہمارے سپرد کیا، ہم نے اس کو پڑھنا شروع کیا۔ حق تعالیٰ نے کرم کیا، سال بھر ہمارا دن رات ایک ہوا۔ لیکن اللہ تعالیٰ کی عنایت کردہ توفیق کے ساتھ حق تعالیٰ نے اپنے کرم کا معاملہ کیا۔ بھائیو! اس کارروائی کو دیکھیں، میں دیانت داری سے کہتاہوں کہ جگہ جگہ مرزا ناصر معافیاں مانگتا ہوا ہاتھ جوڑتا ہوا نظر آتا ہے۔ اس کارروائی میں مرزا ناصر احمد کی پھٹی کی پھٹی آنکھیں نظر آتی ہیں۔’’فَبُھْتَ الَّذِیْ کَفَرْ‘‘ کا مصداق بنتا نظر آتا ہے۔ کہیں اس کی بولو رام ہو رہی ہے۔ کہیں اس کی بولتی بند ہو رہی ہے۔ ایسی کیفیت کہ مرزا ناصر احمد وہ بے چارہ چلنا چاہتا ہے لیکن چل نہیں سکتا۔ بار بار معذرتیں کرتا ہے کہ مجھ سے غلطی ہو گئی۔ ایک ایک سیشن میں ۲۲، ۲۲ گلاس پانی کے۔ اس طرح اس کی کیفیت ہوئی۔

قادیانیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دینے کا فیصلہ

بھائیو! میں آپ لوگوں سے درخواست کرتا ہوں کہ ۶، ۷؍ ستمبر کی درمیانی رات۔ آخری بات عرض کر رہا ہوں، ۶ ، ۷؍ ستمبر کی درمیانی رات ذوالفقار علی بھٹو صاحب نے مولانا مفتی محمود رحمۃ اللہ علیہ کو پیغام بھیجا کہ حضرت مفتی صاحب! آپ مہربانی فرمائیں تین، چار ساتھی لے کر آپ آ جائیں۔ تین چار افراد گورنمنٹ کے ہم پرائم منسٹر ہاؤس میں بیٹھ جاتے ہیں، باہمی میٹنگ کر لیتے ہیں ہم نے قوم کے ساتھ وعدہ کیا ہوا ہے کہ ہم ۷ ؍ ستمبر کو فیصلے کا اعلان کریں گے۔

کل۷؍ ستمبر ہے۔ آج آپ آ جائیں، ایسا نہ ہو کہ کل ہم قرارداد پیش کریں۔

346

آپ کہیں کہ: یہ یوں نہیں، یوں۔ یہ عبارت یوں نہیں یوں ہونی چاہئے۔ ہم کہیں کہ: یوں نہیں، یوں۔ اختلاف کا شکار ہو جائیں تو اس کے بجائے بہتر یہی ہے کہ بیٹھ کر باہمی مشاورت سے ایک متفقہ مسودے پر جمع ہو جائیں، تاکہ ادھر قومی اسمبلی میں قرارداد پیش ہو، ادھر ممبران ہاتھ کھڑا کریں، ادھر نعرہ لگے ختم نبوت کا۔ ہر کوئی اپنے اپنے گھروں کو، آپ بھی گھروں کو جانا چاہتے ہیں تونعرہ لگا دیں۔ (تاج و تخت ختم نبوت…زندہ باد)

میرے بھائیو!میں درخواست کرتا ہوں۔ ادھر سے

⚛… مولانا مفتی محمود صاحب رحمۃ اللہ علیہ

⚛… مولانا شاہ احمد نورانی ؒ

⚛… پروفیسر عبدالغفور رحمۃ اللہ علیہ

⚛… چودھری ظہور الٰہی ؒ

یہ چار حضرات گئے پرائم منسٹر ہاؤس میں اور ادھر دوسری طرف سے

⚛… جناب بھٹو صاحب

⚛… عبدالحفیظ پیرزادہ رحمۃ اللہ علیہ

⚛… مولانا کوثرنیازی ؒ

⚛… جناب افضل چیمہ رحمۃ اللہ علیہ

وہاں موجود۔ گویا چار آدمی ان کے۔ چار آدمی ہمارے۔ میں نے پہلے کہا: حسن وہ جس کا سوکن کو بھی اعتراف ہو۔بھٹو بلا کا ذہین آدمی تھا،معلوم تھا کہ گفتگو کے اوّل میں جو فریق بھاری ہو گیا، آخر تک اس کا پلہ بھاری۔ جو دب گیا، وہ آخر تک دبا رہے گا۔ اس فارمولے کو سامنے رکھ کر بھٹو صاحب نے حضرت مفتی صاحب رحمۃ اللہ علیہ پر چڑھائی شروع کی، مفتی صاحب! تین مہینے ہو گئے، وہ دیکھئے نا! ۲۹؍ مئی کا واقعہ تھا۔

⚛… جون گزر گیا

⚛… جولائی گزر گیا

⚛… اگست گزر گیا

اب ستمبر کی ۶ تاریخ۔ تین مہینے سے بھی زیادہ وقت، تین مہینے۷ دن ہو گئے تو بھٹو

347

صاحب نے کہا: مفتی صاحب! ۳ مہینے ہو گئے،

⚛… جلوس نکل رہے ہیں

⚛… کارخانے بند پڑے ہیں

⚛… فیکٹریاں بند پڑی ہیں

⚛… سکول بند پڑے ہیں

⚛… کالج بند پڑے ہیں

⚛… یونیورسٹیوں میں چھٹی ہو گئی

⚛… طلباء جلوس نکال رہے ہیں

۳ مہینے ہو گئے نیشنل اسمبلی کوئی قانون سازی نہیں کر سکی۔ مساجد و مدارس دن رات ہنگاموں کی نذر ہوگئے ہیں۔ میں آپ سے پوچھتا ہوں کہ آپ مولوی صاحبان نے قسم اٹھا رکھی ہے کہ پاکستان کی ترقی نہیں ہونے دینی؟

اب بھٹو صاحب نے خوب شعلہ جوالہ کیا، جناب آگ کے انگارے برسا رہے ہیں۔ ادھر مفتی صاحب، زیر لب مسکرا بھی رہے ہیں اور بیٹھے ہیں برف میں لگے ہوئے۔ مجال ہے کہ کوئی غصہ آئے۔ اب ان کی بات ختم ہوئی۔ مفتی صاحب رحمۃ اللہ علیہ نے مسکرا کے کہا کہ: بھٹو صاحب! گفتگوکو تو بعدمیں چلائیں گے۔ میں ایک آپ سے وضاحت چاہتا ہوں۔ اگر آپ پسند فرمائیں تو مجھے اجازت ہو۔

بھٹو صاحب نے کہا حضرت! آپ فرمائیے۔ اس میں کیا بات ہے۔ مفتی صاحب رحمۃ اللہ علیہ نے کہا: میری اطلاع یہ ہے کہ کل آپ کے ہاں آپ کے گھر حضرت مولانا غلام غوث ہزاروی آئے تھے۔ کیا یہ میری اطلاع درست ہے؟ بھٹو مرحوم نے کہا: بالکل صحیح ہے۔فرمایا مفتی محمود رحمۃ اللہ علیہ نے کہ میری اطلاع کے مطابق مولانا غلام غوث ہزاروی کی اور آپ کی اہلیہ، پاکستان کی خاتون اول محترمہ نصرت بھٹو کے ساتھ علیحدگی میں ملاقات ہوئی، کیا میری اطلاع صحیح ہے؟ بھٹو مرحوم نے کہا: بالکل صحیح ہے۔ مفتی صاحب رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا: بہت اچھا! میری اطلاع یہ ہے کہ مولانا غلام غوث ہزاروی کے پاس مرزا کی اوریجنل کتابیں تھیں۔ آپ سب حضرات جانتے ہیں کہ محترمہ نصرت بھٹو ایرانی نژاد تھیں اور یہ کہ شیعہ فیملی

348

سے تعلق رکھتی تھیں تو مولانا غلام غوث ہزاری ؒ مرزا کی کتابیں لے کر گئے کہ مرزا غلام احمد قادیانی ملعون نے :

⚛… سیدہ فاطمتہ الزہراءؓ کے متعلق یہ اہانت کی

⚛… سیدنا علی المرتضیٰؓ کے متعلق یہ اہانت کی

⚛… سیدنا حسنؓ کے متعلق یہ کہا

⚛… سیدنا حسینؓ کے متعلق یہ کہا

⚛… سیدنا خدیجہؓ کو یہ تبرے بولے

وہ کتابیں دکھائیں تو بھٹو صاحب نے کہا: آپ کی اطلاع صحیح ہے۔ مفتی صاحب رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا: بہت اچھا! اب میں وضاحت یہ چاہوں گا کہ آپ مہربانی کر کے ہمیں بتانا پسند کریں گے کہ مولانا غلام غوث ہزاروی کے آنے کے بعد نصرت بھٹو نے آپ کو آکر کیا کہا تھا؟ اب بھٹو صاحب ایک دفعہ ششدر ہوئے اور انہوں نے اس وارفتگی کی کیفیت میں ایک ایسی عجیب و غریب بات کہہ دی۔ کہنے لگے: مفتی صاحب!

⚛… بیوی میری، خبریں آپ کے پاس

⚛… گھر سے میں آیا، پیغامات آپ کے پاس

مفتی صاحب مسکرائے اور فرمایا: بھٹو صاحب ! اس میں تعجب کی کیا بات ہے؟ آپ ہمارے بھائی، نصرت ہماری بہن۔میں آپ سے پوچھتا ہوں، بتائیں اس نے آپ سے کیا کہا؟ اس نے کہا: کہنا کیا تھا؟ بس ادھر مولانا غلام غوث ہزاروی ؒ سے ملاقات ہوئی، واپس آئی تو وہ آدھی مولوانی بن گئی تھی۔ مفتی صاحب رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا: آدھی بنی یا پوری، یہ تو آپ کا مسئلہ ہے،۔ میرا مسئلہ نہیں، میرامسئلہ تو یہ ہے کہ یہ بتائیں اس نے آپ کو کیا کہا؟ بھٹو صاحب نے کہا: مفتی صاحب !بس مولانا کو الوداع کہا۔ گاڑی میں بٹھایا، واپس آئی، دوڑی ہوئی، زور سے میری میز پر مکا مارا۔ مکا مار کے مجھے کہا: ’’ذوالفی!‘‘ اس میں بھی کوئی تعجب کی بات نہیں۔ میاں بیوی ایک دوسرے کو کہہ دیتے ہیں۔

میرے بھائیو! آپ دوستوں کی خدمت میں عرض کرتا ہوں، بھٹو صاحب نے کہا: مفتی صاحب! وہ میرے پاس آئیں اور آ کر بڑے زور سے میز کے اوپر مکا مار کر کہا:

349

ذوالفی! میں مرزے قادیانی کی کتابوں کو دیکھ کر آئی ہوں۔ مرزا اور اس کے ماننے والے کافر ہیں۔ یہ تو سادات کی، اہل بیتؓ کی اہانت کرتے ہیں، وقت ضائع نہ کرو، قادیانیوں کو کافر قرار دو۔

میرے بھائیو! میں آپ سے بھی پوچھتا ہوں کہ ہمارے ملک کی خاتون اول نے کیا کہا: مرزا قادیانی اور اس کے ماننے والے کون؟… کافر۔ بولتے نہیں ہو شریفو! اس کے آپ کو دو فائدے ہیں، ایک تو یہ کہ آپ کو مسئلہ یاد ہو جائے گا اور ایک مجھے موقع مل جائے گا، پانی پینے کا۔

میرے بھائیو! حضرت مفتی صاحب رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا کہ: اچھا میرے ملک کی خاتون اول تو کہتی ہے کہ قادیانی کافر ہیں۔ اب میں آپ سے پوچھتا ہوں کہ میرے ملک کا وزیر اعظم کیا کہتا ہے کہ قادیانی کون ہیں؟ اب بھٹو صاحب کو ساتھ ہی مفتی صاحب نے یہ بھی کہہ دیا کہ جواب دینے سے پہلے سوچ لینا کہ میں نے باہر نکلتے ہی پریس کو اپنا سوال بتا دینا ہے اور تمہارا جواب بھی بتا دینا ہے۔ اب بھٹو صاحب کو جوش آیا۔ فرماتے ہیں مفتی صاحب! میں کوئی بزدل ہوں؟ کیا میں امت کے ساتھ نہیں ہوں؟ میں بھی قادیانیوں کو کافر کہتا ہوں۔

مفتی صاحب مسکرائے اور فرمایا: اچھا!

⚛… میرے ملک کی خاتون اول بھی کہتی ہے کہ قادیانی کافر

⚛… میرے ملک کا وزیر اعظم بھی کہتا ہے کہ قادیانی کافر

⚛… کراچی سے خیبر تک عوام بھی کہتے ہیں کہ قادیانی کافر

ایک جناب بھٹو صاحب وہ ہیں جو یہ کہہ رہے تھے کہ تین مہینے ہو گئے:

⚛… جلوس نکل رہے ہیں

⚛… کارخانے بند پڑے ہیں

⚛… فیکٹریاں بند پڑی ہیں

⚛… سکول بند پڑے ہیں

350

⚛… کالج بند پڑے ہیں

⚛… یونیورسٹیوں میں چھٹی ہو گئی

⚛… تین مہینے ہو گئے قانون سازی نہیں ہو رہی

جناب بھٹو صاحب اپنی ضد پر ہیں کہ نہ وہ عوام کی مانتے ہیں، نہ خاتون اول کی مانتے ہیں، نہ وزیر اعظم کی مانتے ہیں، کیا میں پوچھ سکتا ہوں، جناب بھٹو صاحب! کیا آپ نے قسم اٹھا رکھی ہے کہ پاکستان کی ترقی نہیں ہونے دینی؟

میرے بھائیو! اب بھٹو صاحب بے چارے سمجھے کہ مفتی صاحب رحمۃ اللہ علیہ نے تو خیر سے میری گفتگو، جو میں انگارے ابل رہا تھا، اس کا خاک اثر لیا۔ اب بھٹو صاحب نے کہا: مفتی صاحب! اب چھوڑتے ہیں اس بحث کو۔ اصل بات کی طرف آتے ہیں۔ فرمائیں: آپ کے مطالبے کیا ہیں؟ عینک لگائی، کاغذ سامنے رکھا۔ کہا: فرمائیے! آپ کے مطالبے کیا ہیں؟ نوٹ کرو۔ پیرزادہ آگے ہوئے مفتی صاحب رحمۃ اللہ علیہ سمجھ گئے کہ بھٹو صاحب کا خیال یہ ہو گا کہ مفتی صاحب رحمۃ اللہ علیہ دس مطالبے پیش کریں گے مطالبات میں تو یہی ہوتا ہے کہ کچھ لو، کچھ دو۔ چار باتیں مان لوں گا چھ منوالوں گا۔ چار مان لوں گا، چھ منوا لوں گا۔ چھ مان لوں گا، چار منوا لوں گا وہ اس چکر میں، ویسے ٹیبل ٹاپ کا بادشاہ تھا، اسے خیال تھا کہ ہیرا پھیری میں، میں ان مولوی صاحبان کو ایسا پٹڑاکروں گا۔ ایسا پینترا بدلوں گا کہ خیر سے چوکڑی بھول جائیں گے۔ وہ اس چکر میں۔ مگر آگے مفتی صاحب رحمۃ اللہ علیہ سب سمجھتے تھے۔ تو وہ مسکرائے، بھٹو صاحب نے فرمایا: یہ مسکرانا چھوڑیے۔ مطالبے کیا ہیں؟ آپ نے جواب دیا کہ کچھ بھی نہیں(کچھ بھی نہیں کا معنی یہ کہ اس کی جتنی پلاننگ تھی، اس ایک جملے میں خیر سے دور کر دی۔) اس نے کہا: جی! مطالبے فرمائیں،مفتی صاحب نے کہا: بھائی!کوئی بھی نہیں۔

اس نے نورانی صاحب کی طرف دیکھا اور فرمایا: نورانی صاحب! مفتی صاحب کو سمجھائیں کیا کہہ رہے ہیں، مفتی صاحب رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا: بھٹو صاحب! واقعہ یہ ہے کہ کوئی مطالبے نہیں ہمارے۔ ہماری تو صرف ایک درخواست ہے کہ دو سطر آئین میں لکھ دیں کہ مرزا اور اس کے ماننے والے ’’کافر‘‘۔ باقی رہ کیاگیا؟ اگر اتنی بات لکھ دی ہے کہ مرزا اور اس کے ماننے والے کافر؟

بھٹو صاحب نے کہا: تو باقی رہا کیا؟ مفتی صاحب رحمۃ اللہ علیہ کی خواہش یہ تھی کہ

351

چوہڑے، چمار، پارسی، ہندو جہاں اور اقلیتیں ہیں وہاں قادیانیوں کا نام بھی آنا چاہئے ان چوہڑوں کے ساتھ۔ جب کہ ذوالفقار علی بھٹو چاہتے تھے کہ مسئلہ کا بیان ہو مگر قادیانیوں کا نام نہ آئے، ان کی اپنی مصلحت، وہ اپنے داؤ پر اور ان کی اپنی سوچ۔ مگر

⚛… تیری پسند جدا

⚛… میری پسند جدا

اب بھٹو صاحب نے کہا: مفتی صاحب! آج مرزا نے نبوت کا دعویٰ کیا۔ آپ کہتے ہیں یہ کافر۔ ان کا نام لکھا کافروں میں۔ کل کوئی اور نبوت کا دعویٰ کرے گا، آپ کہیں گے ان کا نام لکھو۔ تو مہربانی کریں: کسی کا نام لکھنے کے بجائے مطلقاً لکھتے ہیں کہ جو ختم نبوت کا منکر ہو، وہ کافر ہے۔ مفتی صاحب رحمۃ اللہ علیہ سمجھ گئے کہ بھٹو صاحب کہاں سے بول رہے ہیں۔ مفتی صاحب رحمۃ اللہ علیہ نے جواب میں کہا: جناب بھٹو صاحب! میرے پاؤں میں کانٹا لگا ہے۔ میں کہتا ہوں: میرا کانٹا نکالو۔ آپ کہتے ہیں: لوہے کی جوتی بنوا دیتے ہیں کہ آئندہ کبھی کانٹا نہیں لگے گا۔ مجھے لوہے کی جوتی نہیں چاہئے۔ میرا کانٹا نکالو۔

جس وقت مفتی صاحب رحمۃ اللہ علیہ نے یہ کہا تو بھٹو صاحب خیر سے ڈھیر ہو گئے۔ اب بولا جو ساتھ میں بیٹھا تھا عبدالحفیظ پیرزادہ۔ انہوں نے کہا کہ: آئین میں کسی کا نام نہیں ہوا کرتا۔ مفتی صاحب نے کہا: آپ ہمارے وفاقی لاء منسٹر ہیں۔ آپ کومعلوم نہیں کہ پاکستان کے آئین میں قائداعظم کا نام موجود ہے۔ آپ کیسے کہہ سکتے ہیں کہ آئین میں کسی کا نام نہیں ہوتا۔ اب خیر سے وہ ڈھیر ہوا۔ مولانا کوثر نیازی کو موقع ملا۔ وہ ہماری برادری کا مولوی تھا۔ اتنا اس نے خطرناک وار کیا، زبان مفتی صاحب رحمۃ اللہ علیہ کی بولی، مگر تائید بھٹو صاحب کی کی۔ وہ کہتا ہے کہ: مفتی صاحب! پاکستان کے آئین میں مرزے کا نام لکھ کر آپ پاکستان کے آئین کو کیوں پلید کرنا چاہتے ہیں؟ سمجھے بھی ہو کہ قادیانیوں کا نام نہیں آنا چاہئے۔لفظ یہ بولے تاکہ مفتی صاحب رحمۃ اللہ علیہ ٹھنڈے پڑ جائیں۔ فائدہ یہ اٹھایا کہ بھٹو صاحب کی تائید کی۔ کہا آپ پاکستان کے آئین میں مرزے کا نام لکھ کر پاکستان کے آئین کو کیوں پلید کرنا چاہتے ہیں۔ حضرت مفتی صاحب رحمۃ اللہ علیہ سمجھ گئے کہ یہ بغل بچہ کہاں سے بول رہا ہے۔ مفتی صاحب رحمۃ اللہ علیہ مسکرائے اور فرمایا جناب کوثر نیازی!

352

⚛… قرآن مجید میں شیطان کا نام بھی ہے

⚛… قرآن مجید میں فرعون کا نام بھی ہے

⚛… قرآن مجید میں ہامان کا نام بھی ہے

⚛… قرآن مجید میں قارون کا نام بھی ہے

⚛… قرآن مجید میں خنزیر کا نام بھی ہے

اگر ان کا نام آنے سے قرآن مجید پلید نہیں ہوا تو مرزے کا نام آنے سے پاکستان کا آئین بھی پلید نہیں ہو گا۔ جناب کوثر نیازی خیر سے ڈھیر ہوئے۔ اس کی گردن کا جو سریا تھا،وہ بھی مڑا، اس کی گردن نیچے کو جھکی، بھٹو صاحب نے کوثر نیازی کی طرف خفت مٹاتے ہوئے کہا: کوثر نیازی! سوچ سمجھ کر گفتگو کر۔ تجھے معلوم ہے کہ تمہارے سامنے کون بیٹھا ہے۔

میرے بھائیو!اب آپ مجھے اجازت دیں کہ میں اس کی تعبیر یوں کروں کہ گورنمنٹ کے پہلوان بدل رہے ہیں۔ ہمارا شیر اکیلا میدان میں کھڑا ہے۔

⚛… بھٹو صاحب چت ہوئے

⚛… کوثر نیازی صاحب ڈھیر ہوئے

⚛… عبدالحفیظ پیرزادہ ڈھیر ہوئے

افضل چیمہ کو خیر سے موقع ہی نہیں ملا۔ یہ بالکل پہلے سے مفتی صاحب رحمۃ اللہ علیہ نے میدان مار لیا۔ اب بھٹو صاحب ایک خوب ڈرامائی انداز میں اٹھے، اچانک ۳، ۴ کاغذوں پر مشتمل ایک فائل تھی، بڑے زور کے ساتھ میز کے اوپر اسے پٹخااور مفتی صاحب رحمۃ اللہ علیہ کو کہا: مفتی صاحب! آپ جیتے، میں ہارا۔ کوئی اور مولوی صاحب ہوتے، پتا نہیں، وہ پھولے نہ سماتے۔ میرے جیسا کوئی مسکین ہوتا، پھولے نہ سماتا کہ وزیراعظم میرے سامنے شکست مان رہا ہے۔ سامنے تھے حضرت مولانا مفتی محمود صاحب رحمۃ اللہ علیہ، سراپا اخلاص و للہیت۔ وہ بھی اب بھٹو کے سامنے کھڑے ہیں۔ مفتی صاحب رحمۃ اللہ علیہ بھی جبل استقامت بنے کھڑے ہیں۔ انہوں نے بھٹو صاحب کو دیکھا اور فرمایا: بھٹو صاحب! یوں نہ کہیں کہ میں جیتا اور آپ ہارے۔ میں آپ سے عرض کرتا ہوں نہ میں جیتا ہوں اور نہ آپ ہارے ہیں۔ بلکہ کفر ہارا

353

ہے اور اسلام جیتا ہے۔

میرے بھائیو!میری معروضات ختم ہوئیں۔ میں آپ دوستوں کی خدمت میں عرض کرتا ہوں کہ یہ اسمبلی کی کارروائی کے متعلق چالیس سال سے متواتر قادیانیوں نے پروپیگنڈا کر کے ہماری کھوپڑی کھا لی۔ ہمارے دماغ کا پانی چاٹ لیا۔ قادیانی برابر شور کرتے جا رہے تھے کہ کہاں ہے وہ قومی اسمبلی کی کارروائی، سنبھالو اسے خیر سے۔

میرے بھائیو!میں آپ دوستوں کی خدمت میں درخواست کرتا ہوں کہ:

⚛… اس کا ایک ایک حرف نیشنل اسمبلی کی پراپرٹی ہے

⚛… اس کا ایک ایک لفظ قومی دستاویز ہے

⚛… اس کا ایک ایک لفظ سرکاری طور پر اتھنٹک ہے

میں کہتا ہوں ڈیڑھ ،دو سو سال سے ہمارے بزرگوں نے جو جدوجہد کی۔ سید انور شاہ کشمیری رحمۃ اللہ علیہ سے لے کر سید محمد یوسف بنوری رحمۃ اللہ علیہ تک۔ حضرت شیخ بنوری رحمۃ اللہ علیہ سے لے کر مولانا عبدالمجید لدھیانوی ؒ تک۔ پوری امت کی ڈیڑھ سو سالہ جدوجہد کے نتیجے میں اللہ تعالیٰ نے ہمیں کامیابی سے نوازا ہے۔ چالیس سال سے جو قادیانی کہہ رہے تھے کہ کہاں ہے کارروائی؟ آج اللہ نے ہمیں موقع دیا کہ ہم ڈنکے کی چوٹ پر انہیں کہہ سکیں کہ لو! ہم نے تمہارا قرض اتار دیا۔

یہ کارروائی کیا آئی ہے کہ ایک ایک لفظ اللہ کی طرف سے اتمام حجت ہے۔ ان شاء اللہ! یہ جتنی آگے پھیلے گی۔ جتنی یہ آگے چلے گی، قادیانیت ان شاء اللہ! اتنی سمٹے گی اور میں کہتا ہوں جتنی قادیانی سعید روحیں اس کتاب کو پڑھ لیں گی، وہ کبھی قادیانی نہیں رہ سکتیں۔ اس لئے میں دیکھتا ہوں کہ کوئی صفحہ ایسا نہیں جاتا کہ جہاں پر مرزا ناصر احمد کو گرگٹ کی طرح رنگ نہ بدلنا پڑے۔

  1. کل بھی حق جیتا تھا

    آج بھی حق جیتے گا

  2. کل بھی کفر ہارا تھا

    آج بھی کفر ہارا ہے

ان شاء اللہ! بس اسی پر اکتفاکرتاہوں:

’’وما علینا الا البلاغ المبین‘‘

354

امتناع قادیانیت آرڈیننس

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ

اَلْحَمْدُللہِ وَکَفیٰ وَسَلامٌ عَلیٰ سَیِّدِ الرُّسُلِ وَخَاتَمِ الْاَنْبِیَاءِ وَعَلیٰ اٰلَہٖ وَاَصْحَابِہِ الَّذِیْنَ ھُمْ خُلاَصَۃُ الْعَرَبِ الْعَرَبَاءِ وَخَیْرُ الْخَلاَءِقِ بَعْدَ الْاَنْبِیَاءِ۔ اَمَّا بَعْدُ! فَاَعُوْذُ بِاللہِ مِنَ الشَّیْطٰنِ الرَّجِیْمِ۔ بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ۔

و قال اللہ تعالیٰ: وَالضُّحٰی وَاللَّیْْلِ إِذَا سَجٰی مَا وَدَّعَکَ رَبُّکَ وَمَا قَلٰی وَلَلْآخِرَۃُ خَیْْرٌ لَّکَ مِنَ الْأُولٰی وَلَسَوْفَ یُعْطِیْکَ رَبُّکَ فَتَرْضٰی أَلَمْ یَجِدْکَ یَتِیْماً فَآوٰی (سورۃ الضحیٰ ۱ تا۶)

قال النبیﷺ:اَنَا حَظُّکُمْ مِنَ الْاَنْبِیَاءِ وَاَنْتُمْ حَظِّیْ مِنَ الْاُمَمِ۔

(الدر المنثور للسیوطی، بحوالہ مسند احمد:ج۲، ص۴۸)

اَللّٰھُمَّ صَلِّ عَلیٰ سَیِّدِنَا وَ مَوْلٰنا مُحَمَّدٍ وَّعَلیٰ آلِ سَیِّدِنَا وَ مَوْلٰنا مُحَمَّدٍ وَّ بَارِکْ وَسَلِّمْ وَ صَلِّ کَذَالِکَ عَلیٰ جَمِیْعِ الْاَنْبِیَاءِ وَالْمُرْسَلِیْنَ وَعَلیٰ الْمَلاَءِکَۃِ الْمُقَرَّبِیْنَ وَعَلیٰ عِبَادِ اللہِ الصَّالِحِیْنَ اَجْمَعِیْنَ اِلیٰ یَوْمِ الدِّیْنِ۔

تمہید

آپ دوستوں کی محبت کا شکر گزار ہوں۔ میری صحت کا تقاضا یہ ہے کہ مختصرسی گفتگو کروں اور پھر آرام کر لوں، کیونکہ لمبا سفر کرنا ہے۔مسائل پر جتنی گفتگو ضروری تھی، آج کے اجلاس میں وہ علماء کرام نے فرمادی۔ اللہ پاک ان حضرات کی باتوں پر عمل کرنے کی توفیق عطاء فرمائے۔ بھائی ساقی صاحب بہت زیادہ سخی ہیں، بالخصوص کسی کو القابات سے نوازنے میں، نوازشات کا بہت مظاہرہ فرماتے ہیں۔ میں یہ سمجھتا ہوں کہ ان کی تمام تر یہ گفتگو ہم سب کو اللہ ایسا بنا دے۔ اللہ آپ کو اور مجھ کو اپنے محبوبa کی غلامی کا شرف بخشے:

355

حضور ﷺ کی اپنی امت سے محبت

میرے واجب الاحترام دوستو! اس دنیاوی بود و باش میں سروے کریں کہ سب سے زیادہ محبت والا رشتہ کون سا ہے۔

⚛… دو دوستوں کی آپس میں محبت ہوتی ہے

⚛… استاد اور شاگر کی آپس میں محبت ہوتی ہے

⚛… ماں، باپ کی آپس میں محبت ہوتی ہے

⚛… بہن، بھائیوں کی آپس میں محبت ہوتی ہے

⚛… میاں، بیوی کی آپس میں محبت ہوتی ہے

ہمسائیگی کا تعلق ہے۔ ایک ملک کا تعلق ہے ’’وَغَیْرَ ذَالِک‘ ‘ دنیا میں بہت سارے رشتے ہیں۔ میں جو عرض کرنا چاہتا ہوں قرآن و حدیث کی روشنی میں، اس دنیاوی بود و باش میں سب سے زیادہ مہربان، قریب ترین رشتہ ہے، ماں کا اپنی اولاد کے ساتھ۔ یہ اتنا مہربان رشتہ ہے کہ کوئی رشتہ اس کی حساسیت اور مہربانی کا مقابلہ نہیں کر سکتا۔ اسی لئے حضور ﷺ نے سیدنا علی المرتضیٰؓ کو ایک دفعہ ارشاد فرمایا:تم میں سے جس آدمی نے جنت تلاش کرنی ہے، میدان میں تلوار کے سائے میں(۱) یا ماں کے قدموں میں(۲) تلاش کرے۔ (۱)…(ان ابواب الجنۃ تحت ظلال السیوف، مشکوٰۃ:۳۳۴)

(۲)…(فان الجنۃ عندرجلھا وفی حاشیۃ’’الجنۃ تحت اقدام الامھات‘‘، مشکوٰۃ:۴۲۱)

ماں کی دعا

ہمارے ایک بزرگ تھے قاضی احسان احمد شجاع آبادی ؒ، والی ٔ قلات خان احمد یار خان کے ہاں ایک دفعہ دعوت پر تشریف لے گئے۔ دعوت سے فارغ ہوئے، والی ٔ قلات نے آگے بڑھ کر قاضی صاحب کے جوتے سیدھے کئے۔ قاضی صاحب کی آنکھوں میں آنسو آ گئے۔ والی ٔ قلات نے حیران ہو کر پوچھا: قاضی صاحب کیا ہوا؟ قاضی صاحب نے ارشاد فرمایا: خان صاحب! ایک رات میری والدہ بیمار تھی۔ میں ساری رات والدہ کے قدم دباتا رہا۔ صبح ہوئی تو میری والدہ نے ارشاد فرمایا: بیٹا! تو نے میری خدمت کی ہے۔

356

ایک وقت آئے گا کہ بادشاہ تیرے جوتے سیدھے کریں گے۔

موسیٰ ں کے متعلق روایات میں آتا ہے کہ کوہ طور پر تشریف لے جاتے تھے اور ان کو یہ شرف حاصل تھا کہ وہ ڈائریکٹ پروردگار عالم سے گفتگو کیا کرتے تھے۔ ان کو کلیم اللہ ہونے کا شرف حاصل ہے۔ قرآن اس کی گواہی دیتا ہے۔ تشریف لے گئے گفتگو کے لئے، اللہ تعالیٰ کی طرف سے حکم ہوا کہ موسیٰ ں!سنبھل کر گفتگو کر۔ حیرت میں سجدہ ریز ہو کر فرماتے ہیں کہ: مولا! مجھ سے کیا غلطی ہو گئی کہ جس کی تنبیہ یہ کی جا رہی ہے؟ حکم ہوا کہ: موسیٰ! بات غلطی کی نہیں ہے۔ بات یہ ہے کہ پہلے جس وقت کوہ طور پر آپ آیا کرتے تھے تمہاری پشت پر تمہاری ماں کی دعاؤں کا سہارا ہوا کرتا تھا۔ آج تم گفتگو کرنے کے لئے آئے، پیچھے تمہاری والدہ کا انتقال ہو گیا ہے۔ اس لئے تمہاری پشت خالی ہے، آج کے بعد سنبھل کر گفتگو کرنا۔لیکن واقعہ یہ ہے کہ ساری کائنات کی مائیں ایک طرف، محمد عربیﷺ کی ذات گرامی ایک طرف۔ ساری کائنات کی ماؤں کی محبت اپنی اولاد کے ساتھ اتنی نہیں ہو گی جتنی محمد عربیﷺ کی محبت اپنی امت کے ساتھ ہے۔

حضور ﷺ کو فکرامت

ایک دفعہ حضور ﷺ کے سامنے ایک عورت کا بچہ گم ہوا۔ وہ تلاش کرنے کے لئے مارے مارے پھر رہی ہے۔ حضور ﷺ کی نگاہ اٹھی، صحابہ کرامؓ سے پوچھا وہ کیا کر رہی ہے؟ عرض کی: آقا اس کا بچہ گم ہو گیا ہے۔ یہ اس کو تلاش کر رہی ہے۔ فرمایا: یہ کتنی پریشان ہے۔

⚛… کبھی اس دروازے پر جا رہی ہے

⚛… کبھی اس دروازے پر جا رہی ہے

⚛… جگہ جگہ دستک دیتی پھر رہی ہے

⚛… واویلا کرتی پھر رہی ہے

⚛… دیوانے پن کا مظاہرہ کر رہی ہے

کیا ہوا؟ بچہ گم ہو گیا۔ آپ ﷺ نے دیکھ کر فرمایا: صحابہؓ! کیا رائے ہے۔ یہ کتنی پریشان ہو گی؟ عرض کی: یا رسول اللہ ﷺ! یہ عورت اتنی پریشان ہے کہ اس کی پریشانی کو

357

کائنات میں تقسیم کیا جائے تو کائنات پریشان ہو جائے گی۔ آقاﷺ! یہ عورت اتنی پریشان ہے کہ اس کی پریشانی کو پہاڑوں پر رکھا جائے تو وہ بھی لرز اٹھیں۔ حضور ﷺ نے ارشاد فرمایا: صحابہؓ! گواہ رہو، جس طرح یہ عورت آج اپنے بچے کی تلاش کے لئے پریشان ہے۔ گواہ رہو اس سے کہیں زیادہ مجھے قیامت کے دن اپنی امت کی فکر ہو گی۔

(مشکوٰۃ: ۲۰۷)

قیامت کے دن آپ ﷺ کو کہاں تلاش کریں

ایک حدیث شریف میں آتا ہے، آپ بھی اپنے علماء سے مسئلے پوچھتے ہیں۔ صحابہ کرامؓ کا ذوق عجیب تھا۔ ایک صحابیؓ نے رسول اللہ ﷺ سے مسئلہ پوچھا۔ آقاﷺ! اگر کل قیامت کے دن ہمیں آپ ﷺ کی ضرورت پڑ جائے، آپ ﷺ فرمائیں! کہ آپ سے ملاقات کہاں پہ ہو گی؟۔ مسلمانو! میں آپ سے پوچھتا ہوں، سوال تو صحابیؓ نے کیا تھا۔ آپ کی اور میری کتنی مشکل حل کر دی۔ اللہ! صحابہ کرامؓ کی قبروں پر اپنی رحمت نازل فرمائے۔ اللہ ان کے نقش قدم پر چلنے کی توفیق عطاء فرمائے۔ اللہ ان کی عزت و احترام کرنے کی اور عزت و احترام کرانے کی توفیق عطاء فرمائے۔آمین!

توجہ کیجئے! یا رسول اللہ ﷺ !اگر ہمیں آپ ﷺ کی ضرورت پڑ جائے، مشکل وقت ہو گا ’’یَوْمَ یَفِرُّ الْمَرْءُ مِنْ اَخِیْہِ‘‘(عبس:۳۴)

{کل قیامت کے دن کوئی کسی کا نہیں ہو گا۔}

⚛… ماں اپنی اولاد سے منہ چھپاتی پھر رہی ہو گی

⚛… اولاد، والدین سے منہ چھپاتی پھر رہی ہوگی

⚛… بھائی، بھائی سے منہ چھپاتا پھر رہا ہوگا

⚛… دوست، دوست سے منہ چھپاتا پھررہا ہوگا

کوئی کسی کے کام نہیں آئے گا۔ تمام لوگ قیامت کے دن ایک دوسرے کو پہچان کرانے سے گریز کریں گے۔ منہ چھپاتے پھر رہے ہوں گے کہ کوئی ہم سے نیکی نہ مانگ لے۔ مشکل وقت ہو گا۔ آقاﷺ اگر آپ کی ضرورت پڑ ے گی تو؟۔ میں آپ سے پوچھتا ہوں کہ مجھے اور آپ کو قیامت کے دن حضور ﷺ کی ضرورت پڑے گی کہ نہیں؟۔ پڑے

358

گی۔ تم میں سے اور ہم میں کوئی ایسا آدمی ہے کہ کہہ سکے کہ ضرورت نہیں پڑے گی؟ کل قیامت کے دن اعمال کی بات نہیں، اعمال کے سہارے مقدروں والے جائیں گے۔ کل قیامت کا دن تو اتنا سخت ہو گا کہ آدم ں جیسا آدمی اللہ کے حضور لرز رہا ہو گا۔ نفسا نفسی کی پکار ہو گی۔ قیامت کے دن صرف رب کی رحمت اورمحمد عربیﷺ کی شفاعت کام آئے گی۔آقاﷺ! اگر کل قیامت کے دن آپ ﷺ کی ضرورت پڑ جائے تو آپ ﷺ ارشاد فرمائیں! کہ آپ a سے کہاں ملاقات ہو گی؟۔ حضور ﷺ نے ارشاد فرمایا: میاں!کل قیامت کے دن تمہیں نہیں، میرے کسی امتی کو میری ضرورت پڑ جائے، میں تمہیں تین مقامات پر ملوں گا۔ آقاﷺ! کہاں پر؟ آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا: جس وقت مجھے خیال آئے گا کہ میری امت قبر سے اٹھ کے آئی ہے لمبا سفر کر کے آئی ہے، پیاس لگی ہو گی تو میں امت کی پیاس بجھانے کے لئے تمہیں حوض کوثر پر ملوں گا۔ (مجمع الزوائد : ج۹،ص۱۲۹)

اگر وہاں کھڑے کھڑے مجھے یہ خیال آیا کہ میری امت قبروں سے اٹھ کر پل صراط سے گزر کے آ رہی ہے، میرا کوئی امتی ڈگمگا نہ جائے، میں امت کا سہارا بننے کے لئے پل صراط پر چلا جاؤں گا۔ اور اگر وہاں پہنچ کر مجھے یہ خیال ہوا کہ فلاں جگہ اعمال تو لے جا رہے ہیں۔ میرے کسی امتی کی نیکیوں کا پلڑا ہلکا نہ ہو جائے۔ میں اپنے اس امتی کے اعمال کی جگہ اس کے نیک اعمال کی نگہبانی کے لئے وہاں پر چلا جاؤں گا۔ میں تین جگہ مارے مارے پھروں گا کہ کہیں کسی میرے امتی کو کوئی پریشانی لاحق نہ ہو۔

قرآن مجید میں ہے :’’وَلَسَوْفَ یُعْطِیْکَ رَبُّکَ فَتَرْضٰی‘‘ (الضحیٰ:۵)

کہ اللہ پاک آپ کو اتنا دیں گے کہ آپ راضی ہو جائیں گے۔ یہ آیت اتری، حضور ﷺ مسکرائے، صحابہ کرامؓ کی طرف دیکھ کے سینے پر ہاتھ رکھ کر فرمایا: لوگو!میرے رب کا میرے ساتھ وعدہ ہے کہ ’’وَلَسَوْفَ یُعْطِیْکَ‘‘ آپ کو آپ کا خدا اتنا دے گا کہ آپ راضی ہو جائیں گے۔ فرمایا: یہ خدا کا میرے ساتھ وعدہ ہے۔

بھائیو! محمد ﷺ کا تمہارے ساتھ وعدہ یہ ہے کہ جب تک میرے رب نے میرے آخری امتی کی بخشش کا فیصلہ نہیں کیا، محمد ﷺ خدا سے راضی نہیں ہو گا،

(تفسیر ابن جریر:ج۱۵، ص۲۳۲)

359

حضور ﷺ فرماتے ہیں میں اپنے رب سے مانگوں گا۔ حضور ﷺکیا فرماتے ہیں؟ ذرا زور سے بولو! مانگوں گا۔ حضور ﷺ فرماتے ہیں کہ:

⚛… جھولی پھیلا کے مانگوں گا

⚛… سفید بالوں کا واسطہ دے کر مانگوں گا

⚛… آنسوبہا کے مانگوں گا

⚛… سجدہ کر کے مانگوں گا

اس وقت تک میرے مانگنے میں کمی واقع نہیں ہو گی، جب تک میرا خدا میرے آخری امتی کی بخشش کا فیصلہ نہیں کر دے گا۔ تفصیل میں نہیں جاتا۔

ختم نبوت اس امت کا اعزاز

میرے ایبٹ آباد کے ساتھیو! اشارے کرتا ہوں، حضور ﷺ فرماتے ہیں:

’’اَنَا حَظُّکُمْ مِنَ الْاَنْبِیَاءِ‘‘ (الدر المنثور، بحوالہ مسند احمد:ج۲، ص۴۸)

{انبیاء میں ،میں تمہارے حصے میں آیا ہوں}

علماء بیٹھے ہیں، تفصیل ان سے پوچھئے۔کتابوں کے اندر مسئلہ لکھا ہے کہ:

  1. چوں بشانش نگاہ موسیٰ کرد

    شدن ازا متش تمنا کرد

حضرت موسیٰ ں نے اپنی کتاب تورات میں میرے محمد عربی a کی تعریف پڑھی تو پھر خدا سے دعا کی۔ میرے مولا! مجھے محمد عربیﷺ کا امتی بنا دے۔ میرے ماں باپ، میرے روح اور جسم قربان نبوت کی شفقتوں پر، ایک دن حضور ﷺ کی رحمت کا دریا جوش میں تھا۔ ارشاد فرمایا: لوگو!

’’اَنَا حَظُّکُمْ مِنَ الْاَنْبِیَاءِ وَاَنْتُمْ حَظِّیْ مِنَ الْاُمَمِ‘‘ (الدر المنثور للسیوطی، بحوالہ مسند احمد:ج۲، ص۴۸)

{میں نبیوں میں سے تمہارے حصے میں آیا ہوں، امتوں میں سے تم میرے حصے میں آئے ہو۔}

اس سے بڑھ کر حضور ﷺ کی شفقت اور کیا ہو سکتی ہے کہ حضور ﷺ میرے اور

360

آپ جیسے گنہگاروں کو اپنا حصہ قرار دیں۔ حضور ﷺ نے فرمایا: یہ میرا حصہ ہے، اس سے بڑھ کر کوئی اور سعادت؟ ایک ہے کہ:

⚛… کوئی ایم این اے، کہے کہ یہ میرا حلقہ ہے

⚛… کوئی پریذیڈنٹ کہے کہ یہ میرا حلقہ ہے

⚛… کوئی پرائم منسٹر کہے کہ یہ میرا حلقہ ہے

⚛… کوئی کہے کہ صاحب! یہ میری پارٹی ہے

⚛… کوئی کہے کہ یہ میری جماعت ہے

⚛… کوئی کہے کہ یہ میری یونین ہے

اور ایک یہ ہے کہ حضور ﷺ خود ہمیں کہہ دیں کہ میں تمہارے حصے میں ہوں اور تم میرے حصے میں۔ (سبحان اللہ!)

حضور ﷺ کا امت پر حق

مسلمانو! ایک ہے نبی کریم ﷺ کی ذات کا ہم پر حق، ایک ہے امت کا حق۔ بحیثیت امتی ہونے کے آج مجلس میں ہم نے یہ سوچنا ہے کہ حضور ﷺ کی ذات اقدس کے حوالے سے ہمارے اوپر جو فرائض عائد ہوتے ہیں، ہم وہ فرائض پورے کر رہے ہیں؟ آپ کا میرا ایمان ہے، ایمان نہیں بلکہ اصل الایمان ہے کہ حضور ﷺ وعدہ خلافی نہیں فرمائیں گے۔ مل کر کہو: حضور ﷺ وعدہ خلافی…؟ نہیں فرمائیں گے۔ ذرا زور سے، خدا کی قسم!وعدہ خلافی کا تصور کرنا بھی ایمان کا گھاٹا ہے۔ اس کا تصور بھی نہیں کیا جا سکتا۔ نبی کریم ﷺ صادق المصدوق، وہ وعدہ پورا کریں گے۔ میں آپ سے پوچھتا ہوں۔ جو ہمارے ذمہ تھا اس کو ہم نے بھی پورا کیا یا نہیں؟۔ بس اس نقطہ کی طرف آپ دوستوں کی توجہ دلانا چاہتا ہوں۔

شناختی کارڈ کا مسئلہ

شناختی کارڈ کے متعلق آپ حضرات سوچتے ہوں گے کہ یہ مولوی صاحب کو کیا ہو گیا ہر پانچ، دس سال کے بعد مرزائیت کے متعلق ایک قضیہ لے کر اٹھ کھڑے ہوتے

361

ہیں۔ ایک مسئلہ ابھی حل نہیں ہوتا، دو چار سال گزرتے ہیں پھر ایک اور مطالبہ آ جاتا ہے، وہ پورا نہیں ہوتا پھر ایک اور مطالبہ آ جاتا ہے۔ آخر مرزائی بھی اس دنیا میں رہتے ہیں۔ آخر ان کو بھی دنیا میں رہنے کا حق حاصل ہے۔ مولوی صاحبان کو ہو کیا گیا کہ ہر دس سال کے بعد ایک نیا مطالبہ لے کر کھڑے ہو جاتے ہیں۔ میاں! میں آپ دوستوں سے پوچھتا ہوں کہ اصل مطالبہ ہمارا کیا تھا کہ مرزائیوں کو اقلیت قرار دو۔ مرزائیوںکو اقلیت قرار دیا گیا۔ میں آپ سے پوچھنا چاہتا ہوں کہ آئین یہ کہتا ہے کہ مرزائی کافر ہیں لیکن مرزائی اپنے آپ کو کافر مانتے نہیں۔ کیا مرزائی اپنے آپ کو اقلیت تسلیم کرتے ہیں؟ایمانداری سے بتاؤ تسلیم کرتے ہیں یا نہیں؟ کیا گورنمنٹ ان کو مجبور کر کے قانون کے اس تقاضے کو پورا کر رہی ہے؟ اگر مرزائی بھی اس قانون کو نہیں مانتے، گورنمنٹ بھی اس پر عملدرآمد نہیں کرا رہی تو میں آپ سے پوچھتا ہوں کہ مسئلہ حل ہو گیا؟۔ ہماری بدنصیبی کو دیکھئے کہ قانون منظور کرانے کے لئے بھی گورنمنٹ کی منتیں کرنی پڑیں۔ اس کے لئے بھی زور لگانا پڑا۔ اب قانون پر عملدرآمد کروانے کے لئے بھی ہمیں زور لگانا پڑ رہا ہے۔ آپ حضرات جو ہمارے پڑھے لکھے رفقاء ہیں۔ وہ بیٹھ کر صرف تبصرے کرتے رہتے ہیں کہ مولوی صاحبان کو کیا ہو گیا کہ ہر دس سال کے بعد ایک نیا مسئلہ لے کر کھڑے ہو جاتے ہیں۔

قادیانیوں کو اقلیت قراردلوانے میں سرحدوالوں کاکردار

میری درخواست سنیں! سن ۱۹۷۴ء میں ذوالفقار علی بھٹو نے قادیانیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دیا تھا۔ سرحد کے رفقاء کا اس کے اندر بڑا حصہ ہے۔ اس وقت مسئلہ کی قیادت کی تھی اسمبلی میں مفتی محمود رحمۃ اللہ علیہ نے۔ مولاناغلام غوث ہزاروی ؒ، مولانا عبدالحقؒ اکوڑہ خٹک، مولانا عبدالحکیم رحمۃ اللہ علیہ نے اور دوسرے علماء نے۔ اسمبلی سے باہر ملک کی قیادت کی تھی شیخ الاسلام مولانا محمد یوسف بنوری رحمۃ اللہ علیہ نے اور اللہ کی شان یہ ہے کہ ان تمام تر حضرات کا تعلق صوبہ سرحد کے ساتھ تھا۔

قادیانیوں نے آئین پاکستان کو تسلیم نہیں کیا

سرحد والو!قانون آپ نے منظور کروایا تھا، آپ لوگوں کی کاوشوں میں اللہ نے

362

برکت ڈالی۔ آپ لوگوں کی قیادت کی آواز پر لبیک پورے ملک نے کہا۔ قانون آپ لوگوں نے بنوایا تھا۔ مرزائیوں کو اقلیت قرار دے دیا گیا۔ مرزائیوں نے آئین سے بغاوت کی۔

ایبٹ آباد کے ساتھیو!ایک بات میں آپ کو سمجھانا چاہتاہوں۔ گورنمنٹ شب و روز یہ کہتی ہے کہ اب یہ اقلیت بن گئے ہیں۔ اب ان کی حفاظت کرنا ہماری ذمہ داری ہے۔ میں آپ لوگوں کی خدمت میں عرض کرتا ہوں کہ جب تک مرزائی آئین کے اندر دی گئی اپنی حیثیت کو تسلیم نہیں کرتے، اس وقت تک جو اقلیتوں کو رعایتیں دی گئی ہیں، وہ کسی رعایت کے مستحق نہیں ہو سکتے۔ قادیانیوں کی جو آئین کے اندر حیثیت متعین کی گئی ہے، وہ اسے تسلیم کرنے کے لئے تیار نہیں۔ میں یہ نہیں کہتا کہ شرعی فیصلہ کیا ہے۔میں آئین کی بات کر رہا ہوں کہ آج اگر اپنی آئینی حیثیت تسلیم کر لیں، ہم مرزائیوں کو وہی درجہ دینے کے لئے تیار ہیں جو آئین میں متعین ہے۔ یہ بات اصول کی ہے یا بے اصولی کی؟۔ اصول کی۔

علماء کے خلاف قادیانیوں کا پروپیگنڈا

اے کاش!گورنمنٹ کا برسراقتدار طبقہ اور ہمارے رہنماؤں کو یہ کیس سمجھ میں آ جاتا کہ قادیانی آئین کو تسلیم نہیں کر رہے۔ آئین کے اوپر عملدرآمد کرانا یہ گورنمنٹ کی ذمہ داری ہے۔ معاف رکھنا یہ مسجد کے مولوی کی ذمہ داری نہیں۔ گورنمنٹ اپنی ذمہ داری سے پہلو تہی کر رہی ہے۔ مرزائی آئین سے سرکشی اور بغاوت کی راہ اختیار کر رہاہے۔

مولوی کے مقدر کو دیکھو! وہ مرزائیوں سے یہ کہتا ہے کہ آئین کی پابندی کرو، گورنمنٹ سے کہتا ہے کہ آئین کی بالادستی کو قائم کرو۔ مرزائی بھی مولوی کے خلاف پروپیگنڈا کرتا ہے کہ مولوی چپ نہیں رہتا اور گورنمنٹ بھی پراپیگنڈا کرتی ہے کہ مولوی چپ نہیں کرتا۔ میاں پھر:

⚛… تیری پسندجدا… میری پسند جدا

⚛… تجھے پسند خودی… مجھے پسند خدا

⚛… تم اپنا کام کرو… ہم اپنا کام کریں

363

ہمارا کل بھی یہ اعلان تھا، آج بھی ہمارا یہ اعلان ہے کہ ہر آدمی کی رعایت ہو سکتی ہے محمد عربیﷺ کے دشمن کوکوئی رعایت نہیں دی جا سکتی۔

آئین پاس ہوا۔ بھٹو صاحب کے زمانے میں۔ مرزائیوں نے آئین کو تسلیم کرنے سے انکار کر دیا۔ بھٹو مرحوم نے بجائے اس کے کہ وہ مرزائیوں کو پابند کرتا کہ آئینی حیثیت کو تسلیم کرو، بھٹو نے شناختی کارڈ کے فارم میں خانہ نمبر ۴ کے تحت مذہب کا اندراج کیا اور اس مذہب کے خانہ کے نیچے یہ لکھا کہ جو آدمی اپنے آپ کو مسلمان لکھوائے وہ حلف نامہ پر کرے گا کہ میں مرز اغلام احمد قادیانی کو کافر سمجھتا ہوں۔ لیکن مرزائی مرزا قادیانی کے کفر پہ دستخط نہیں کرے گا، اس لئے وہ اپنے آپ کو مسلمان نہیں لکھوائے گا۔ جو مسلمان مرزے کے کفر پر دستخط کرے گا، وہ اپنے آپ کو مسلمان لکھوائے گا تو انہوں نے حل یہ نکالا کہ یہ شناختی کارڈ کے اس فارم کی بنیاد پر مسلمان اور مرزائی کے درمیان تمیز ہو جائے گی۔ آج نہیں، ۱۹۷۴ء میں، میں نے نہیں:

⚛… حضرت مفتی محمود رحمۃ اللہ علیہ نے

⚛… مولانا غلام غوث رحمۃ اللہ علیہ نے

⚛… مولانا عبدالحقؒ نے

⚛… مولانا یوسف بنوری رحمۃ اللہ علیہ نے

یہ تمام حضرات تو فوت ہو گئے ہیں۔ جوحضرات ابھی زندہ ہیں:

⚛… ان میں پروفیسر غفور احمد موجود ہیں

⚛… ان میں عبدالمصطفیٰ ازہری موجود ہیں

⚛… ان میں حضرت خواجہ صاحب موجود ہیں

چودھری ظہور الٰہی فوت ہو گئے ہیں۔ ان تمام حضرات پر مشتمل اس وقت جو مجلس عمل تھی ۱۹۷۴ء میں، ان لوگوں نے یہ مطالبہ کیا تھا کہ جناب بھٹو صاحب! شناختی کارڈ کا فارم رجسٹریشن کے دفتر میں رہ جاتا ہے۔ اس کا ہمیں کوئی فائدہ نہیں۔ کوئی پتہ نہیں چلتا کہ مسلمان کون ہیں اور مرزائی کون۔ شناختی کارڈ کے اندر لکھو کہ یہ مسلمان ہے۔ یہ مرزائی ہے۔ تاکہ ہر وقت شناختی کارڈ جو کام آنے والی چیز ہے، اسے بولنا چاہئے، اسے گونگا نہیں

364

ہونا چاہئے۔ بھٹو نے عذر کیا اور میرے خیال میں انتظامیہ اگر میری معروضات سن رہی ہے اور یقینا سن رہی ہو گی۔ اگر ان تک رپورٹ جاتی ہے تو رپورٹ کے ذریعے درخواست کرتا ہوں کہ خدا کے لئے ہماری حب الوطنی کا امتحان نہ لو۔ اس سے بڑھ کر اور کوئی حب الوطنی کا میں آپ لوگوں سے سرٹیفکیٹ نہیں لیتا۔

ملک عزیز کا تحفظ ہمارے ایمان کا حصہ

الحمداللہ! ملک عزیز پاکستان کے لئے کام کرنا ہمارے ایمان کا حصہ ہے۔ ہم جس طرح مسجد کی عزت و آبرو کو اپنے ایمان کا حصہ سمجھتے ہیں، اسی طرح ملک عزیزکی سالمیت بھی ہمارے ایمان کا حصہ ہے۔ ہم تخریب کار یا سازشی نہیں ہیں۔ اس وقت جناب بھٹو نے کہا اور اس سے بڑھ کر ہماری کوئی اور حب الوطنی نہیں ہو سکتی۔

جناب بھٹو صاحب نے کہا ہمارے رفقاء اور ہمارے نوجوان ساتھیوں کو، انہیں مورد الزام نہ ٹھہرانا، ان کے متعلق یہ شبہ نہ کرنا کہ یہ ہر وقت لاء اینڈ آرڈر کا مسئلہ پیدا کرتے ہیں۔ شکر کرو یہ رسول اللہ کی ختم نبوت کا کام کر کے پوری امت کی طر ف سے فرض کفایہ ادا کر رہے ہیں۔ اگر یہ لوگ میدان میں نہ آتے تو تمہارے کرتوتوں کی وجہ سے آج عذاب نازل ہوجاتا کہ تم نے اقتدار میں رسول اللہ ﷺ کے نام پر خدا کے نام پر، ملک بنا کے تمہیں اقتدار ملا، تم خدا کو بھی بھول گئے اورمصطفیﷺ کو بھی بھول گئے۔ دعائیں دو ان عزیز ساتھیوں کو ان علماء کو جو حق کی بات کہہ کے اللہ کے آنے والے عذاب کو ٹال دیتے ہیں، تم سے۔ ورنہ میں تمہارے کرتوت گننا شروع کروں تو ختم نہ ہوں۔

ہم مخالفین کی وجہ دین کا کام نہیں چھوڑیںگے

دوستو! ایک آدمی کے متعلق نام نہیں لوں گا، ایک مبلغ اور ایک داعی ہونے کے ناطے۔ اس گورنمنٹ کے اندر ایک آدمی نے چالیس لاکھ روپے کی لاہور میں کوٹھی خرید کر ایک فلمی اداکارہ کو دی ہے۔ محض صرف راتیں گزارنے کے لئے۔ ہمیں نہیں پتہ اس وزیر کا۔ گورنمنٹ سے پوچھئے۔ جناب نوازشریف صاحب کو خدا توفیق دے، وہ مجھ سے پوچھے، میں اس کے منہ پر اس وزیر کا نام بتانے کے لئے تیار ہوں، جس نے ایک فلمی اداکارہ کو فون

365

کر کے کہا: صبح ایوارڈ تقسیم کئے جائیں گے۔ اگر ایوارڈ لینا چاہتی ہو تو رات میرے ساتھ گزارو۔ اس قسم کے کمینے لوگوں سے ہمیں واسطہ ہے اور اللہ کی شان یہ بدبخت برسراقتدار آنے کے بعد جب کرسی ملتی ہے، اقتدار کے نشہ میں اس طرح ڈینگیں مارتے ہیں۔ جس طرح نشہ آور آدمی بہکی بہکی باتیں کرتا ہے۔ ہم ان لوگوں کی باتیں سن کر خدا اور اس کے رسول ﷺ کے دین کا کام نہ کریں، آپ بتائیں کہ ان کی باتیں سن کر دین کا کام چھوڑ دیں؟۔ دوستو! یہ کبھی نہیں ہو گا۔ اگر انگریز حق بات کہنے سے نہیں روک سکا، انگریز کا پٹھو خدا کی قسم!کسی قیمت پر ان کی یہ خواہش پوری نہیں ہو گی۔ مل کر کہو: حق بیان کیا جائے گا۔ حق بیان کیا جائے گا۔ خدا کی قسم! حق بیان کیا جائے گا۔ خان صاحب آپ کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر بیان کیا جائے گا۔

⚛… تیری پیشانی پر بل آئیں تو بھی بیان کیا جائے گا

⚛… تیرے پیٹ میں مروڑ اٹھیں توبھی بیان کیا جائے گا

⚛… تو چاہے تو بھی بیان کیا جائے گا

⚛… تو نہ چاہے تو بھی بیان کیاجائے گا

مل کر کہو کہ ہمیںحق بیان کرنے سے کوئی نہیں روک سکتا۔ زیادہ سے زیادہ یہی کر لو گے کہ ہمیں جیل بھجوا دو گے، ہماری جان لے لو گے۔ اگر جان لینے کے لئے تیار ہو تو سنو! خدا کی قسم اٹھا کے کہتا ہوں اپنے ایمان اور وجدان کی بنیاد پر:

خوشا قاتل! قتل کر تو مجھ کو نام محمد ﷺ پر

قیامت کے دن نبی ﷺکے سامنے سرخرو ہو کر تو جاؤں گا

اس سے بڑھ کر میرے لئے اورکیا سعادت ہو سکتی ہے؟ میں کہنے سے پہلے اپنے ایمان کی طرف دیکھ کر کہتا ہوں کہ بات زبان سے کہہ رہا ہوں یا دل سے کہہ رہا ہوں۔ خدا کی قسم!ہم اس قربانی کے لئے تیار ہیں۔ مل کے کہو تیار ہیں۔ بلند آواز سے کہو: ان شاء اللہ! ہم اس کے لئے تیار ہیں… تیار ہیں۔

366

علماء محب وطن ہیں

جناب بھٹو صاحب کو کہا: حضور یہ چیزیں تمہارے دفاتر میں رہ جائیں گی، شناختی کارڈ کو بولنا چاہئے۔ اس میں مذہب کے خانے کا اضافہ کرو۔ اس سے بڑھ کے ہماری حب الوطنی کوئی نہیں ہو سکتی۔ کہ بھٹو صاحب نے کہا کہ: جناب پورے ملک کے شناختی کارڈ کینسل کر کے نئے سرے سے ان کو بنایا جائے تو اربوں روپے خرچ ہوں گے۔ ملک کا نقصان ہوگا۔ ساری قوم ایک امتحان میں مبتلا ہو جائے گی۔ ہم نے ان کی یہ بات سن کر اس وقت مصلحت یہی سمجھی کہ ٹھیک ہے، ان کی بات معقول ہے۔ اتنے بڑے امتحان سے پوری قوم کو گزارنا مشکل ہے۔ ہر آدمی کو شناختی کارڈ کے لئے دوبارہ دفاتر جانا پڑے گا۔ ہم نے چپ سادھ لی۔ لیکن بھٹو صاحب نے ہمارے مطالبہ کی معقولیت کو تسلیم کیا۔

مسئلہ امتناع قادیانیت آرڈیننس کا

بھٹو صاحب کے بعد تشریف لائے جناب جنرل ضیاء الحق صاحب، انہوں نے ۱۹۸۴ء میںامتناع قادیانیت آرڈیننس نافذ کیا، ہم نے جناب ضیاء الحق مرحوم سے بات کی، حضور! شناختی کارڈ کامسئلہ بھی حل کرو۔ جناب ضیاء الحق نے کہا تعلیمی اسناد کے اندر مذہب کا خانہ موجود ہے۔ یہ جو سکول کے اندر داخلہ فارم استعمال ہوتے ہیں، ان کے اندر مذہب کا خانہ موجود ہے۔ پاسپورٹ کے اندر مذہب کا خانہ موجود ہے۔

آپ حضرات حیران ہوں گے کہ ہمارا ملک کافر اور مسلم کی تمیز کے دو نظریے پہ قائم کیا گیا تھا۔ آپ حضرات حیران ہوں گے کہ تمہارے ملک میں ۱۹۷۸ء سے جداگانہ انتخاب تھے۔ یہاں پر الیکشن ہوتا ہے، کافر مسلمان کو ووٹ نہیں دے سکتا۔ کوئی عیسائی مسلمانوں کو ووٹ نہیں دے سکتا۔ جداگانہ طرز کا انتخاب ہوا۔

⚛… قادیانیوں کی علیحدہ فہرستیں شائع ہوئیں

⚛… عیسائیوں کی علیحدہ فہرستیں شائع ہوئیں

⚛… مسلمانوں کی علیحدہ فہرستیں شائع ہوئیں

⚛… ہندووں کی علیحدہ فہرستیں شائع ہوئیں

367

⚛… سکھوں کی علیحدہ فہرستیں شائع ہوئیں

⚛… پارسیوں کی علیحدہ فہرستیں شائع ہوئیں

یہ تمہارے ملک کے اندر قانون ہے۔ ہم نے ان سے درخواست کی حضور! یہ تمام تر چیزیں اپنی جگہ درست۔ لیکن ووٹ بنتا ہے شناختی کارڈ کی بنیاد پر۔ اگر شناختی کارڈ گونگا ہے۔ ایک مرزائی اگر اپنا نام مسلمان لکھوا دیتا ہے۔ ہم اس کو نہیں روک سکتے۔ اس مسئلے کو روکنے کے لئے ضروری ہے کہ شناختی کارڈ کے اندر مذہب کا خانہ ہونا چاہئے۔ میں کیس آپ دوستوں کے سامنے رکھتا ہوں۔ آپ حضرات ارشاد فرمائیں کہ ہماری ان معروضات میں معقولیت ہے یا نہیں؟ بولو؟ … ہے۔

ووٹ بنتا ہے شناختی کارڈ کی بنیاد پر۔ اگر شناختی کارڈ میں مذہب کا خانہ نہیں ہے، ایک مرزائی اپنے آپ کو مسلمان لکھوا لیتا ہے۔ کون اس کو روکے گا؟ پاسپورٹ بنتا ہے، شناختی کارڈ کی بنیاد پر۔ ایک مرزائی سعودی عرب جانا چاہتا ہے۔ پاسپورٹ پر مذہب کا خانہ موجود ہے۔ مرزائی سعودیہ جانا چاہتا ہے، شناختی کارڈ دکھا کے حلف نامہ لگائے گا کہ میں مسلمان ہوں۔ وہ مسلمانوں کا پاسپورٹ بنوا کے سعودی عرب چلا جائے گا۔ خدا اور مصطفیﷺ کہتے ہیں کہ مکہ مکرمہ میں، مدینہ منورہ میں کوئی کافر نہیں آ سکتا۔ خدا اور اس کے رسول ﷺ کے احکامات کی صریح خلاف ورزی کر رہے ہیں قادیانی۔تمہارے پاکستان کے کاغذات میں نقص کی وجہ سے۔

میرے محترم دوستو! ہم نے جنرل ضیاء الحق صاحب کو کہا: جنرل صاحب!یہ گھپلا ہو رہا ہے، مہربانی کرو۔ انہوں نے پاسپورٹ کے اندر مذہب کا خانہ رکھ دیا۔ لیکن شناختی کارڈ میں نہ رکھا۔ وہی نقص باقی رہا۔ ضیاء الحق نے ارشاد فرمایا: اب اگر کبھی کسی موقع پر پورے ملک میں ازسرنو نئے شناختی کارڈوں کا منصوبہ ہوا تو آپ کے اس مطالبہ کی معقولیت کی بنیاد پر اس کو ترجیح دی جائے گی اور مذہب کے خانے کا اضافہ کیا جائے گا۔ مل کر کہو، مذہب کے خانے کا اضافہ کیا جائے گا۔ یہ جناب نواز شریف صاحب کے روحانی والد جناب جنرل ضیاء الحق نے کہا تھا۔

میرے محترم دوستو! جناب جونیجو صاحب کا زمانہ آیا۔ جونیجو صاحب کے زمانے

368

میں ایک اعلان ہوا کہ ملک کے اندر شناختی کارڈ کمپیوٹرائزڈ سسٹم پر لائے جائیں گے۔ اس وقت ہم نے درخواست دی، اس کی نقل ہمارے پاس موجود ہے۔ ہم رجسٹریشن والوں کو جاکر ملے۔ اس رجسٹریشن کے ڈائریکٹر جنرل کا نام جو اس وقت اسلام آباد میں رہتا تھا، صدیقی صاحب اس کا نام تھا، شکار پور کے علاقے کا رہنے والا تھا۔ اس وقت ریٹائرڈ ہو گیا تھا۔ ہم ان کے پاس گئے۔ انہیں حضرت خواجہ صاحب رحمۃ اللہ علیہ کی طرف سے درخواست دی۔

(تقریر کا کچھ حصہ ریکاڈنگ خراب ہونے کی وجہ سے حذف ہوگیا ہے)

تحفظ ناموس رسالت کیلئے ہم نے دردربھیک مانگی

میرے محترم دوستو! ان کے بعد تشریف لائیں محترمہ بینظیر بھٹو صاحبہ، ان کے زمانے میں پھر اعلان ہوا کہ کمپیوٹر کی مشین منگوائی جا رہی ہے۔ تیاری ہو رہی ہے۔ ہم پھر پیپلز پارٹی کی گورنمنٹ کے پاس گئے۔ مسلمانو! خدا کی قسم اٹھا کر کہتا ہوں کہ:

⚛… دیوبندی یا بریلوی کی بات نہیں

⚛… مقلد یا غیر مقلد کی بات نہیں

⚛… سنی یا شیعہ کی بات نہیں

⚛… حنفی یا شافعی کی بات نہیں

⚛… حنبلی یا مالکی کی بات نہیں

⚛… مسلم لیگ یا پیپلز پارٹی کی بات نہیں

ہم تو ایک، ایک کے دروازے پر رسول اللہ ﷺ کی عزت و ناموس کے تحفظ کی بھیک مانگنے کے لئے گئے ہیں۔ اس وقت کی گورنمنٹ نے ہمارے ساتھ وعدہ کیا۔ بے نظیر بھٹو کے دور میں جناب فاروق لغاری صاحب کو ملے۔ وہ اس وقت ڈپٹی لیڈر ہیں حزب اختلاف کے۔ آپ حضرات کی نیشنل اسمبلی میں اب بھی موجود ہے۔ ڈیرہ غازیخان، راجن پور کے رہنے والا ہے۔ پیپلز پارٹی کا رہنما ہے۔

فاروق لغاری ، اعتزاز حسن، ان لوگوں نے بھی ہمارے ساتھ وعدہ کیا کہ جس وقت یہ مسئلہ ہماری کابینہ کے پاس منظوری کے لئے آئے گا، ہم آپ کے ساتھ وعدہ کرتے

369

ہیں کہ اس پر ہمدردانہ طور پر غور کیا جائے گا۔ ابھی ان کے ہمدردانہ دور کا وقت نہیں آیا تھا کہ محترمہ بینظیر بھی اقتدار سے چلی گئیں۔

حکومتیں تو بہت، لیکن اسلام نام کی کوئی چیز نہیں

ان کے بعد تشریف لائے جناب محترم غلام مصطفی صاحب، وہ جمعہ جمعہ آٹھ دن کی بات تھی۔ ان کے زمانہ میں کچھ نہ ہوا۔

اب جناب قبلہ وکعبہ حضرت میاں نواز شریف صاحب تشریف لائے۔ دسمبر میں چودھری شجاعت صاحب نے جو چودھری ظہور الٰہی کا بیٹا ہے چودھری شجاعت بیٹا ہے ظہور الٰہی کا۔ چودھری ظہور الٰہی وہ شخص تھا جو ۱۹۷۴ء کی تحریک ختم نبوت میں مفتی محمود رحمۃ اللہ علیہ کا دست و بازو تھا۔ واہ میرے اللہ! اس چوہدری شجاعت کی شجاعت کو دیکھ۔ خدا کی قسم! قرآن کی حقانیت پر میرا ایمان اور پختہ ہو گیا۔ قرآن کہتا ہے کہ:

’’یُخْرِجُ الْحَیَّ مِنَ الْمَیِّتِ وَ یُخْرِجُ الْمَیِّتَ مِنَ الْحَیِّ‘‘ (الروم: ۱۹) {خدا کبھی زندوں کو مردوں سے پیدا کرتا ہے، کبھی مردوں سے زندوں کو}

⚛… باپ کتنا زندہ دل آدمی تھا، یہ کتنا مردہ دل

⚛… باپ کتنا بلند و بالا آدمی تھا، یہ کتنا پست خیال

⚛… باپ حضور ﷺ کی ختم نبوت کا چوکیدار، یہ قادیانیوں کا طرفدار

دیکھو! وہ کتنا زندہ تھا، یہ کتنا مردہ ہے۔ چودھری شجاعت نے اعلان کیا، مل کر کہو کس نے اعلان کیا؟

میاں جو آدمی حضور ﷺ کی عزت و ناموس کا خیال نہیں کرتا، معاف رکھنا، اس کے منصب کا میرے دل میں کوئی مقام نہیں ہے

⚛… تو اپنا کام کر، میں اپنا کام کروں گا

⚛… تیرا اپنا ذوق ہے، ہمارا اپنا ذوق

چودھری شجاعت نے اعلان کیا کہ کمپیوٹرائزڈ سسٹم شناختی کارڈ کے لئے نئے آرہے ہیں، ہم دوڑے اسلام آباد میں ڈائریکٹر جنرل کو جا کر ملے۔ وہاں وزارت داخلہ

370

کے پاس گئے، ادھر گئے، ادھر گئے۔ مولانا عبداللہ کے پاس گئے۔ ایک ایک عالم دین کو بلایا۔ درخواست ڈیزائن ہو کے وفاقی کابینہ سے منظوری کے لئے گئی۔ واپس آئی، وہاں تک ہم لوگ پہنچے، جس وقت ہم نے دیکھا وہ نزدیک کی عینک لگا کر آخری نمبر کے شیشے اپنی آنکھوں پر چڑھا کے الفاظ کو نہیں دیکھا بلکہ کہیں نیچے کوئی چھوٹا موٹا مذہب کا خانہ لکھ دیا ہے۔ لیکن ہماری حیرت کی انتہاء نہ رہی، ہم حیران ہوئے کہ جس وقت ہم نے شناختی کارڈ کو دیکھا ہمیں یقین ہوا کہ مسلم لیگ میں اسلام نام کی کوئی چیز شامل نہیں ہے۔ ہمیں اس پر صد افسوس ہوا۔

نااہل لوگوں کی حکومت قیامت کی علامت

حضرت مولانا صاحبزادہ فضل الرحمن ہم ان کی خدمت میں گئے۔ ان سے درخواست کی کہ: مولانا! اس کے لئے کلمہ خیر کہیں۔ انہوں نے اپنی جماعت کا اجلاس بلایا۔ میں آپ کو یہ بتانا چاہتا ہوں کہ یہ صرف ہمارا مطالبہ نہیں بلکہ پوری امت کا مطالبہ ہے۔ مل کر کہو، کس کا مطالبہ ہے؟ پوری امت کا۔ میں دعویٰ کے ساتھ کہتا ہوں کہ میز پر بیٹھ کے جناب بھٹو صاحب سے لے کر اس وقت تک جتنے حکمران ہیں، خدا کی قسم!کوئی حکمران میز پر بیٹھ کر اس مطالبے کی معقولیت پر انگلی نہیں اٹھا سکا۔ سب ہی تسلیم کرتے ہیں کہ آپ کی بات جائز ہے۔ سب ہی تسلیم کرتے ہیں کہ آپ کامطالبہ معقول ہے۔ لیکن نامعلوم ان کے دل و دماغ میں کون سا سرطان ہے یا پیٹ میں کون سا کینسر ہے کہ جس کی وجہ سے ہمارے مطالبے کو ماننے کے لئے تیار نہیں ہو رہے۔ سب ہی کہتے ہیں کہ بات جائز ہے۔ لیکن مطالبے کو تسلیم نہیں کرتے۔ اس پر ہمیں دکھ ہوا۔ مولانا فضل الرحمن نے نواز شریف کو ٹیلی فون کیا۔ جناب نوا زشریف کیسے مزاج ہیں؟ فرمایا: خیریت ہے۔ میاں صاحب! آپ کی حکومت نے مذہب کا خانہ اڑا دیا۔ کہتا ہے اچھا مذہب کا خانہ اڑا دیا۔ مولانا نے فرمایا: جی، اڑا دیا۔ کہتا ہے حضرت مجھے کوئی پتہ نہیں۔

میاں صاحب! بھٹو صاحب، جنرل ضیاء الحق، جناب جونیجو صاحب، محترمہ بینظیر بھٹو کا خانہ مذہب وضع کر کے گئے تھے۔ ایک فائل تیار کی، تیرے سامنے آئی، دستخط

371

ہوئے۔ اگر تجھے پتہ نہیںتو تو نااہل ہے۔ اگر پتہ ہے اور پھر یوں کہتا ہے تو تو جھوٹ بولتا ہے۔ معاف رکھنا! جو جھوٹا ہو یا نااہل ہو، آئین کی رو سے وہ حکمران نہیں ہو سکتا۔ مولانا نے کہا: جناب نواز شریف صاحب!یہ کیا ہو گیا؟ اس نے کہا: جی ہو گیا۔ مولانا نے کہا: جی! اس کی تلافی؟ نواز شریف نے کہا، کوئی پرابلم نہیں، ابھی ہو جائے گی۔

ارباب اقتدار کو بیسیوں خطوط

میرے اللہ! تیری شان ، ایک محبتوں کا اعتبار نہیں ہوتا اور دوسرا حکومت کے وعدوں کا اعتبار نہیں ہوتا۔میاں صاحب نے کہا کہ میں ابھی چودھری شجاعت کو آپ کے پاس بھیج رہا ہوں۔ شجاعت آیا، مولانا کے پاس، دو گھنٹے بیٹھا رہا۔ اس نے کہا میں نے آپ سے وعدہ کیا، ہو جائے گا۔ ہمیں پھر بھی یقین نہ آیا۔ اس لئے کہ ہم محبتوں کے بھی مارے ہوئے ہیں اور حکومتوں کے بھی ستائے ہوئے ہیں۔ چالیس ہزار خط بھیجا۔ جناب اسحاق خان صاحب کو خط بھیجا، جناب چودھری شجاعت کو خط بھیجا۔ ہماری بے بسی اور بے کسی کو بھی دیکھو۔ ہمارے خیرات مانگنے کے انداز کو بھی دیکھو۔ برکی جو وفاقی سیکرٹری داخلہ ہے کو خط بھیجا۔ مولانا عبدالستار نیازی کو بھیجا۔ ڈائریکٹر جنرل کو بھیجا۔ چالیس ہزار خطوط بھیجے۔ پانچ ہزار کے قریب ملک بھر سے ٹیلی گرام کئے گئے۔ اشتہار چھاپے، چودہ فروری کو اٹھارہ دینی جماعتوں کا اجلاس ہوا۔

⚛… جس میں جمعیت علماء اسلام تھی

⚛… جس میں جمعیت اہلحدیث تھی

⚛… جس میں جماعت اسلامی تھی

⚛… جس میں جمعیت علماء پاکستان تھی

⚛… جس میں شیعہ وسنی تھے

⚛… جس میں تمام مذہبی جماعتیں تھیں

⚛… جس میں مجلس تحفظ ختم نبوت تھی

⚛… جس میں اشاعت التوحید والے تھے

372

⚛… جس میں تنظیم اہلسنت تھی

⚛… جس میں خدام اہل سنت تھی

⚛… جس میں منہاج القرآن والے تھے

⚛… جس میں تنظیم اسلامی والے تھے

اسی طرح کی اٹھارہ دینی جماعتیں تمام مکاتب فکر کی جمع ہوئیں۔ انہوں نے یوم احتجاج کا اعلان کیا۔ سارے ملک کے خطیبوں نے اس مسئلے پر آواز اٹھائی۔ ہمیں پھر بھی یقین نہیں تھا کہ گورنمنٹ مان جائے گی۔ اس کے بعد اٹھارہ فروری کو جناب اسحاق خان صاحب کو ملنے کے لئے گئے۔

ہزارہ کے دوستو، ایبٹ آباد کے ساتھیو! مجھے بھی جناب اسحاق خان کے صحابی ہونے کا شرف حاصل ہے۔ میں نے بھی اپنی ان گنہگار آنکھوں کے ساتھ جناب اسحاق خان کی زیارت کی ہے۔ دو سینیٹر تھے، قبلہ دو سینیٹر۔ ایک راجہ ظفر الحق ایک حافظ حسین احمد صاحب، چھ نیشنل اسمبلی کے ممبران، تین دوسرے علماء، اٹھارہ آدمی ملے جناب اسحاق خان صاحب کو۔ اٹھارہ فروری کو آپ نے ٹیلی ویژن پر دیکھا، اخبارات میں خبریں پڑھیں۔ روزنامہ جنگ نے اس پر اداریہ لکھا ۔ میں عینی گواہ ہوں۔

ارباب اقتدار کی بے حسی

خدا کی قسم! میں نے جناب نواز شریف اور جناب اسحاق خان کی بات کو اپنے ان کانوںکے ساتھ سنا کہ وہ فرما رہے تھے کہ ہماری اس ایپلی کیشن کو پڑھنے کے بعد آپ کا مطالبہ معقول ہے۔ بات آپ کی صحیح ہے۔ کفر اور اسلام کی تمیز ہونی چاہئے۔ آپ مطمئن رہیں، شناختی کارڈ میں مذہب کے خانے کا اضافہ ہو جائے گا۔ مل کر کہو، اضافہ ہو جائے گا، مل کر کہو، اضافہ ہو جائے گا۔ کس نے کہا؟ اسحاق خان صاحب نے، ملک کا سب سے بڑا آئینی سربراہ، قابل ا حترام جناب اسحاق خان نے وعدہ کیا ہمارے ساتھ، معافی چاہتا ہوں مولوی کے ساتھ نہیں قومی اسمبلی کے ممبران کے ساتھ،معاف رکھنا ایک آدمی کے ساتھ نہیں، چھ ممبران کے ساتھ، صرف قومی اسمبلی نہیں بلکہ سینیٹروں کے ساتھ، وعدہ کیا، ٹی وی پہ آیا،

373

اخبارات میں چھپا۔ ایک اخبار نے اس پر اداریہ لکھا۔ جس نے کہا شناختی کارڈ میں مذہب کے خانے کا اضافہ ہو جائے گا۔ ہم نے کہا اعتبار پھر بھی کوئی نہیں۔

رمضان المبارک کے مہینہ میں ہم نے اپنے ہفتہ وار ختم نبوت اور لولاک میں پھر تحریک چلائی۔ ہم نے کہا: وعدہ پورا کرو۔ ہم نے کیا کہا؟… وعدہ پورا کرو۔

ہم نے پھر مطالبہ کیا، جناب وعدہ پورا کرو۔ جمعیت علماء اسلام نے قرار داد پیش کی۔ جماعت اسلامی والے قاضی حسین احمد وفد لے کر صدر اسحاق خان کو ملے۔ مولانا فضل الرحمن نے نواز شریف اور چودھری شجاعت حسین کے ساتھ بات کی۔ تمام مکاتب فکر نے مل کر یوم احتجاج منایا۔ جس میں تمام علماء شریک تھے اور پھر کراچی میں حضرات علماء کرام کا اجلاس ہوا۔

⚛… مولانا عبدالقادر آزاد نے کہا

⚛… حزب اقتدار نے بھی کہا

⚛… حزب اختلاف نے بھی کہا

ہر طرف سے گورنمنٹ کو کہلوایا گیا اور سب ہی ہمیں کہتے تھے، تسلی رکھو، مطالبہ پورا ہو رہا ہے،بولو،بولو، مطالبہ پورا ہو رہاہے۔ کراچی میں ہمارا اجلاس ہوا، چھ سو علماء تھے۔ جس میں مولانا رفیع عثمانی، مولانا اسفند یار اور دوسرے کئی علماء تھے۔ چھ سو علماء نے وہاں پر قرارداد پیش کی کہ یہ مطالبہ پورا ہونا چاہئے۔

اٹھارہ برس بعد بھی مطالبہ پورا نہ ہوا

اب ہم کراچی سے فارغ ہو کرملتان پہنچے یہ غالباً۲۱ ؍اپریل کی بات ہے کہ ہمارے اسلام آباد کے مبلغ، انہوں نے ٹیلی فون کے ذریعے کہا۔ وہ گورنمنٹ کی پرنٹنگ پریس جہاں پر نوٹ چھپتے ہیں، وہاں سے شناختی کارڈ بھی کمپیوٹر کے ذریعے جاری ہوتے ہیں۔ سو، سو شناختی کارڈ کی ایک لمبی شیٹ اس کی دونوں پشت اوپر نیچے سے چھپ کر آ گئی ہے۔ ایک ایک شیٹ کے اندر سو سو فارم ہے۔ ہمارے بھی فرشتے محکموں کے اندر کام کرتے ہیں۔ ہمیں بھی الہام ہو جاتا ہے ادھر ادھر کی خبریں مل جاتی ہیں، شناختی کارڈ آ گئے ہیں۔

374

لیکن ان میں مذہب کا خانہ نہیں ہے۔ ہم بڑے حیران ہوئے کہ:

⚛… جناب میاں نواز شریف کا وعدہ

⚛… جناب شجاعت حسین کا وعدہ

⚛… جناب اسحاق خان کا وعدہ

اگر اتنے بڑے برسر اقتدار طبقہ کا اتنے صریح وعدوں کا خیال نہیں کرتا تو پھر وعدوں کا خیال کون رکھے گا؟ یہ پریشانی لاحق ہوئی۔ ہم پھر دوڑے مولانا فضل الرحمن کو دوبارہ کہا، قصہ کوتاہ، شناختی کارڈ چھپ گئے۔ مل کرکہو شناختی کارڈ؟… چھپ گئے۔

بھائیو! اب اٹھارہ سال بعد پورے ملک کے نئے سرے سے شناختی کارڈ بنانے کا مرحلہ آیا۔ وہ دیرینہ جو ۱۹۷۴ء کا ہمارا مطالبہ تھا، اس کا اب وقت آیا۔ لیکن گورنمنٹ نے ہمارے مطالبے کو نہیں مانا، مل کر کہو ، ہمارے مطالبے کو نہیں مانا۔

مولوی مشتاق کی مرزا ناصرسے ملاقات

آپ کے ۵ منٹ اور لینا چاہتا ہوں۔ جناب جنرل ضیاء الحق کے زمانہ میں مولوی مشتاق تھا۔ آپ کا چیف الیکشن کمشنر یہ جناب مولوی مشتاق ہائیکورٹ کا جج بھی تھا۔ پھر الیکشن کمشنر بنا۔ یہ مولوی مشتاق احمد بعد میں چیف جسٹس بھی بنا۔ اور چیف الیکشن کمشنر بھی رہا۔ اس مشتاق نے ہائیکورٹ کے جج ہونے کے ناطے فیصلہ لکھا جناب ذوالفقار علی بھٹو کے قتل کا۔ بھٹو صاحب کی سزاء موت اور اس کی پھانسی کا۔ اس مشتاق کو ہر وقت دل کے اندر یہ خیال لاحق ہوتا تھا کہ اگر یہاں ملک کے اندر پیپلز پارٹی برسر اقتدار آ گئی تو میرا قیمہ کر دیا جائے گا۔

ہم ذکر کر رہے تھے کہ وہ مرزا ناصر آیا لاہور میں۔ ایک کوٹھی میں اس کا قیام تھا۔ اس کے دروازے پر دسمبر کی راتوں میں ایک چوکیدار ہاتھ میں گن لے کر پہرہ دے رہا تھا۔ پوری کوٹھی میں سوائے مرزا ناصر کے کوئی آدمی نہیں تھا۔ دسمبر کی راتوں میں رات کے ایک بجے مولوی مشتاق خودگاڑی لے کر اس کے دروازے پر پہنچا۔ مرزا ناصر کے ساتھ اس کی ملاقات ہوئی۔ مرزا ناصر احمد کو اس نے کہا کہ مہربانی کر کے مجھے ڈرلگتا ہے پیپلز پارٹی والوں

375

سے۔ یہ برسر اقتدار آ گئے تو میرا کباڑہ ہو جائے گا۔ یہ ظفر اللہ قادیانی عالمی عدالت کا جج رہ چکا ہے۔ ان کا چیف جسٹس رہ چکا ہے۔ اسے کہو کہ مجھے عالمی عدالت کا جج بنوا دے، تاکہ میں ملک چھوڑ کر چلا جاؤں۔

مرزا ناصر احمد نے اس کو کہا: دیکھو میاں!میں تمہارا یہ کام کرنے کے لئے تیار ہوں۔ لیکن تم بھی ہمارا ایک کام کرو۔ صاحب بہادر! میں اس کے لئے تیار ہوں۔ انہوں نے کہا: ملک کے اندر ووٹوں کے لئے نئی لسٹیں بن رہی ہیں۔ مسلمانوں کی جوووٹر لسٹ ہے، اس کے اندر یہ لکھا ہوا ہے کہ مرزا غلام احمد قادیانی اور اس کے ماننے والے کافر ہیں۔ اگر میں مسلمانوں کے اندر ووٹ بنواتا ہوں تو پھر مجھے مرزے کے کفر پر دستخط کرنا پڑتا ہے۔ ووٹ بنوانے کی میری مجبوری یہ ہے کہ یا میں مرزے کے کفر پر دستخط کروں یا اپنے کفر پر، اس مشکل سے مجھے نکالو۔ مسلمانوں کی ووٹوں کی فہرست کے اندر تم حلف نامے کو تبدیل کردو کہ مرزائی مسلمانوں میں ووٹ بنائے، اس حلف کے اوپر دستخط کرے اور وہ حلف اتنا گول مول ہو کہ اس پر دستخط کرنے سے ہمیں کوئی فرق نہ پڑے۔

مولوی مشتاق نے وعدہ کیا۔ وعدہ کرنے کے بعد وہ آیا۔ آکر اس نے ووٹوں کی فہرست چھاپی۔ اور۹ کروڑ روپے کا تمہارے پاکستان کے خزانے کو نقصان پہنچانے کے بعد اس نے ہماری ۱۹۷۴ء کی تمام تر جدوجہد کو خاک میں ملا کر ووٹر لسٹوں کے اندر حلف نامے کو تبدیل کیا۔ اللہ تعالیٰ کی کروڑ رحمتیں ہوں حضرت مولانا تاج محمود رحمۃ اللہ علیہ کی قبر پر۔ مولانا ان دنوں زندہ تھے۔ انہوں نے لولاک کے اندر خبر لگائی کہ مرزا ناصر کو ملنے کے لئے مولوی مشتاق گیا۔ مشتاق بڑا حیران ہوا۔ اس نے کہا: ہم تین آدمی تھے: ایک ناصر، ایک گن مین اور ایک میں۔ مرزا ناصر بھی مولانا کو نہیںبتائے گا۔ میں نے بھی مولانا کو نہیں بتایا۔ گن مین بھی بڑے اعتماد والا آدمی ہے۔ یہ چوتھا آدمی کون ہے کہ اس نے جاکرمولانا کو خبر دے دی۔

لگتا ہے تم نے ہمیں پہچانا نہیں

اس نے ہائیکورٹ کے دو جج بھیجے۔ وہ دونوں مولانا تاج محمود رحمۃ اللہ علیہ کے

376

دروازے پر آئے۔ چائے پی، انہوں نے کہا: مولانا! آپ ہماری بات سنیں۔ فرمایا: حکم کرو، کہا: حضرت! آپ کے پاس بڑی امید لے کر آئے ہیں۔ فرمایا: ارشاد، حضرت آپ کے لولاک کے اند رخبر چھپی ہے کہ وہ مولوی مشتاق، مرزا ناصر کو ملنے کے لئے گیا ہے۔ آپ بتائیں کہ یہ خبر آپ کو کس نے دی؟ مولانا تاج محمود رحمۃ اللہ علیہ مسکرائے اور آسمان کی طرف دیکھا۔ چہرے پر ہاتھ پھیرا، گنبد خضریٰ کی طرف نگاہ کی۔ ان دونوں ججوں کی آنکھوں میں آنکھیں ملا کر کہا، میاں!معلوم ہوتا ہے تم نے ہمیں پہچانا نہیں ہے۔ تمہیں یاد رکھنا چاہئے میں حضرت مولانا سید عطاء اللہ شاہ بخاری ؒ کا رضا کار ہوں۔ ٹکڑے ٹکڑے ہو جاؤں گا۔پر یہ بات نہیں بتاؤں گا۔

انہوں نے کہا حضرت! مہربانی فرما کر انفارمیشن دیں۔ مولانا نے کہا: میں نے اس کا نام بتایا تو وہ قتل ہو جائے گا۔ انہوں نے کہا: مولانا! کچھ نہیں ہو گا۔ آپ بتائیں۔ مولانا نے کہا: کچھ ہو جائے گا، نہیں بتاؤں گا۔ ان کا اصرار بڑھا، مولانا کا انکار بڑھا۔ اس حد تک بات پہنچی کہ مولانا نے ان کو غصے میں کہا: مجھ سے یہاں کیوں پوچھتے ہو؟ وہ جج ہے اور ہائیکورٹ کا جج ہے۔ اس کے پاس اختیارات ہیں۔ اسے کہو عدالت میں مجھ پر کیس چلائے۔ مجھے عدالت میں طلب کرے۔ نوٹس بھی بھیج دے۔ میں عدالت میں جاؤں گا۔ میں آپ کو نہیں بتاتا، میں عدالت میں بتاؤں گا کہ یہ کس طرح پتہ چلا تھا۔ جب مولانا نے یہ بات کہی تو دونوں ججوں نے کہا کہ مولانا وہ تو خود مولوی مشتاق تسلیم کرتا ہے کہ میں مرزے ناصر کوملنے گیا ہوں۔ فرق اتنا ہے کہ آپ بتائیں کہ آپ کو کیسے پتہ چلا۔ مولانا مسکرائے، فرمانے لگے میاں! پہلے مجھے کسی اور کا نام بتانا پڑتا، اگر آپ کے بعد مجھ سے کسی نے پوچھا کہ آپ کو کس نے بتایا تھا تو میں تم دونوں ججوں کے نام دوں گا، کہ تم نے مجھے بتایا تھا۔

ووٹرلسٹیں درست کرو، قوم سے معافی میں مانگوں گا

بھائیو! اللہ کی کروڑ رحمتیں ہوں مولانا مفتی محمود رحمۃ اللہ علیہ پر۔ سردار عبدالرب نشترc کا ایک عزیز تھا جو الیکشن آفس کے اندر کام کرتا تھا۔ اس وقت وہ ریٹائرڈ ہو گیا ہے۔ اس نے مولانا محمد شریف جالندھری ؒ کو بتایا مولانا گئے حلف نامے کو لیا۔ پرانی فہرست کو

377

لیا۔ نئی فہرست کو لیا۔

⚛… حضرت خواجہ صاحب رحمۃ اللہ علیہ چلے

⚛… مولانا تاج محمود رحمۃ اللہ علیہچلے

⚛… مولانا محمد شریفc چلے

یہ تینوں بزرگ مفتی محمود رحمۃ اللہ علیہ کے پاس گئے۔ مفتی محمود رحمۃ اللہ علیہ ان دنوں ہسپتال میں تھے۔ گردے کا آپریشن تھا۔ بستر پرتھے۔ ان کے پاس گئے، ان حضرات کومفتی صاحب رحمۃ اللہ علیہ نے نواب زادے کے پاس بھیجا۔ نواب زادہ نصر اللہ خان کو کہا: آپ جنرل صاحب کے ساتھ بات کریں۔ انہوں نے جنرل صاحب سے بات کی، جنرل صاحب بھی بات کو گول کر گئے۔ کوئی جواب نہ دیا۔ یہ حضرات واپس آئے مفتی صاحب رحمۃ اللہ علیہ کی خدمت میں۔ مفتی محمود رحمۃ اللہ علیہ بستر سے اٹھے۔ زخمی حالت میں چل نہیں سکتے تھے۔ وہیل چیئر پر مفتی محمود رحمۃ اللہ علیہ بیٹھے، اس کو کونٹر پر لایا گیا۔ کونٹر پر ٹیلی فون سے فون کیا جنرل ضیاء الحق کو۔ فرمایا: جنر ل صاحب!یہ کیا ظلم ہوا ہے۔ اس نے کہا: جی غلطی ہو گئی۔ فرمایا: یہ غلطی نہیں، غلطان ہوا ہے۔ اس کی تلافی کرو۔ اس نے کہا جی ۹ کروڑ کا نقصان ہو گا۔ فرمایا ۹ کروڑ کو روتا ہے میں نے بیان کیا تو تیرے لئے جان بچانی مشکل ہو جائے گی۔ یہ ووٹر لسٹیں درست کرو۔ اس نے کہا: حضرت الیکشن ملتوی ہو جائیں گے، ایک عرصے کے لئے۔ مفتی محمود رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا: پوری قوم سے میں معافی مانگوں گا کہ میں نے تین مہینے کے لئے الیکشن ملتوی کرائے تھے۔ میں اس کی ذمہ داری قبول کرتاہوں۔ ووٹر لسٹیں تمہیں درست کرنی ہوں گی، مل کر کہو، ووٹر لسٹیں درست کرنی ہوں گی۔

⚛… مرزا ناصر لسٹیں غلط چھپوانا چاہتا تھا

⚛… مولوی مشتاق لسٹیں غلط چھاپنا چاہتا تھا

⚛… جنرل ضیاء الحق اس کو گول کرنا چاہتا تھا

لیکن مفتی محمود رحمۃ اللہ علیہ کی کوشش تھی، رب کریم کا فضل تھا، گنبد خضریٰ کا صدقہ ووٹر لسٹیں درست ہوئیں، بولو، بولو۔ لسٹیں…؟ درست ہوئیں

378

تمہیں کرسی پہ ناز، ہمیں محمد ﷺ کی غلامی پر ناز

اب جناب غلام اسحاق خان صاحب، اہل اللہکے زمانے میں غلط شناختی کارڈ چھپ گئے ہیں۔ مل کر کہو کہ شناختی کارڈ غلط چھپ گئے ہیں۔ ان سب کے وعدوں کے باوجود غلط شناختی کارڈ چھپ گئے۔ اسحاق خان!

⚛… تو ملک کا پریذیڈنٹ ہے

⚛… اور ہم مسجد کے مولوی ہیں

⚛… تو مخمل پہ چلنے کا عادی ہے

⚛… ہم روڑوں اور پتھروں پر چلنے ولے لوگ ہیں

⚛… تیرے پاس زرق وبرق لباس ہیں

⚛… ہم پھٹے پرانے پہننے والے ہیں

⚛… تجھے اقتدار کا نشہ ہے

⚛… ہمیں توروٹی بھی سوکھی ملتی ہے

⚛… میاں! اگر تجھے اپنے اقتدار پر ناز ہے

⚛… تو ہمیں محمد عربیﷺ کا غلام ہونے پر ناز ہے

( نعرہ تکبیر… اللہ اکبر… تاج و تخت ختم نبوت… زندہ باد۔ قادیانیت کا جو یار ہے… غدار ہے، غدار ہے۔ مرزائی کا جو یار ہے، غدار ہے، غدار ہے)

  1. تو یاد رکھ مخالف با وثوق

    دین حق کا چراغ جلتا رہتا ہے

  2. وزارتوں کے مقدر پہ ناچنے والو،

    وزارتوں کا مقدر بدلتا رہتا ہے

تجھے اپنی کرسی پہ ناز، مجھے محمد عربیﷺ کا غلام ہونے پر فخر۔ تو نے اپنا کام دکھایا محمد عربیﷺ کے غلاموں کے کام دیکھنے کی تو تیاری کر۔ پورے ملک میں تیرا ریکارڈ لگایا جائے گا۔ مل کے کہو کہ ریکارڈ؟… لگایا جائے گا۔

ہم ختم نبوت کے مسئلے کو سیاسی اغراض کے لئے استعمال ہونا کفر سمجھتے ہیں لیکن اس مسئلے کے لئے اگر ہمارے راستے میں تمہارا باپ بھی رکاوٹ بنے گا تو بھی ہٹانا اپنا فرض

379

سمجھتے ہیں۔بینظیر بھٹو نے تیرا اتنا ریکارڈ نہیں لگایا ان شاء اللہ جتنا ہم لگائیں گے۔ فاروق لغاری کو مزہ نہیں آیا۔ جناب نصر اللہ کی ٹوپی پوری نہیں ہلی۔ ان شاء اللہ! اب تیرا اقتدار ہلے گا۔ زور سے بولو تیری کرسی ہلے گی۔ صرف کرسی نہیں، تیرا دماغ ہلے گا۔ ان شاء اللہ! تیرا دماغ ٹھکانے آئے گا۔ یہ جو تم نے قے کی ہے۔ کہو یہ کھٹی قے تمہیں چاٹنی پڑے گی۔ اقتدار کے نشے میں آ کر میرے محمد ﷺ کے ساتھ بے وفائی ، خدا کی قسم! یہ برداشت نہیں کیا جائے گا۔ ( نعرہ… حکمرانو! اقتدار چھوڑ دو…چھوڑ دو، چھوڑ دو۔)

دوستو! ہم نے چالیس ہزار درخواستیں بھجوائیں، محمد رسول ﷺ کی عزت و ناموس کے تحفظ کے لئے۔ ظالم!

⚛… تیرے پاس درخواستیں بھجوائیں، تمہیں ان کا حیاء نہ آیا

⚛… تیرے پاس ممبر چل کے آئے، تو نے ان کا خیال نہ کیا

⚛… ہم نے تیری منت سماجت کی، تمہیں اس کا خیال نہ آیا

⚛… ہم نے احتجاج کیا، تو نے اس کا بھی لحاظ نہ رکھا

جناب اسحاق خان! سن اگر تجھے محمد رسول اللہ ﷺ کا خیال نہیں آیا، خدا کی قسم! ہمیں تیرا کوئی خیال نہیں آئے گا۔ اب اس کا توا لگایا جائے گا۔ زور سے بولو، توا…؟ لگایا جائے گا۔ (نعرہ) دم مست قلندر…دھر رگڑا۔

حضور ﷺ سے غداری برداشت نہیں

جناب چودھری! جہاں سے تو بولتا ہے، تیرا بھی پتہ ہے۔ یہ جو برکی ہے، مسٹر برکی۔ اسمبلی کے اندر بیان یہ دیا کہ ہم نے رپورٹیں منگوائی ہیں صوبائی حکومتوں سے۔ ظالم! رپورٹوں میں تو نے یہ لکھا۔ ادھر اسحاق ان کا افتتاح کر رہا ہے۔ ادھر لکھا کہ تمہاری رپورٹ آنے پر فیصلہ ہو گا۔ ادھر پھر افتتاح کرنے کا کیا مطلب ہوا؟ کہتے ہو رپورٹ آئے گی، پھر فیصلہ کریں گے۔ ابھی فیصلہ ہوا نہیں، افتتاح پہلے ہو گیا؟ کہتے کچھ ہو، کرتے کچھ ہو۔ اوئے! ہماری ذات کے ساتھ جو کچھ کرو گے، برداشت کیا جائے گا۔ تم نے رسول اللہ ﷺ کے ساتھ غداری کی، یہ برداشت نہیں کیا جائے گا۔

380

جناب نواز شریف!بول، تجھے بولنا چاہئے۔ میاں صاحب! یہ شناختی کارڈ گونگا ہے، تو گونگا نہ بن۔ تو، تو بول۔ یہ شناختی کارڈ گنڈا سنگھ کا ہو یا اسحاق خان کا، یہ نہیں بتاتا کہ مسلمان کون ہے اور کافر کون؟ یہ شناختی کارڈ بابرہ شریف کا ہے یانواز شریف کا، یہ نہیں بتاتا کہ مسلمان کون ہے۔

میاں صاحب! بات تیرے عقیدے کی نہیں، بات تیرے ایمان اور غیرت کی ہے۔ میرے محمد عربیﷺ کے ساتھ تیری یہ دشمنی برداشت نہیں کی جائے گی۔ میاں اپنے ایمان کی بنیاد پر کہو: برداشت نہیں کی جائے گی۔ ہم نے پھر سفر کیا، یہ دو دن پہلے ہمارا اسلام آباد میں اجلاس تھا۔ پھر ہم نے علماء کو بلایا، اسلام آباد میں دو کانفرنسیں کیں۔ کل ہری پور میں کانفرنس تھی۔ آج یہاں پر کانفرنس ہے۔ پھر بھی ہم مطالبہ کرتے ہیں کہ مہربانی کرو، کیا کہہ رہے ہو۔ عقل کرو، عقل۔ ملک پر رحم کرو۔ اپنے آپ پر رحم کرو۔ حیاء کرو۔ خیال کرو۔ لحاظ کرو۔ ہم مطالبہ کر رہے ہیں کہ مہربانی کرو۔ گورنمنٹ پھر بھی گونگی بنی ہوئی ہے۔ کیا بنی ہوئی ہے؟… گونگی بنی ہوئی۔

ہم نے فیصلہ کیا کہ ۲۱ مئی کو اسلام آباد میں ایک سو علماء کو بلائیں گے۔ تمام مکاتب فکر کو اکٹھا کریں گے۔ تمام دینی جماعتوں کو اکٹھا کریں گے۔ وہاں ایک

⚛… مولانا فضل الرحمن صاحب بیٹھیں گے

⚛… مولانا سمیع الحق صاحب بیٹھیں گے

⚛… قاضی عبداللطیف صاحب بیٹھیں گے

⚛… مولانا ضیاء الرحمن فاروقی بیٹھیں گے

⚛… پروفیسر ساجد میر بیٹھیں گے

⚛… حافظ حسین احمدبیٹھیں گے

⚛… قاضی حسین احمد بیٹھیں گے

⚛… جناب لیاقت بلوچ بیٹھیں گے

⚛… پارلیمنٹ کے ممبران بیٹھیں گے

381

⚛… جمعیت علماء اسلام آئے گی

⚛… جماعت اسلامی آئے گی

⚛… جمعیت علماء پاکستان والے آئیں گے

⚛… دیوبندی، بریلوی سب آئیں گے

انہوں نے ۲۱ مئی کو فیصلہ کیا کہ گورنمنٹ نے غلط فیصلہ کیا ہے، ہم اس کے لئے سڑکوں پر آنے کا اعلان کرتے ہیں۔ میں آپ سے پوچھتا ہوں ایبٹ آباد کے مسلمانو! تم ساتھ دو گے؟… ان شاء اللہ۔ بولو، بولو تم ساتھ دو گے؟… ساتھ دیں گے، ان شاء اللہ!

۱۹۷۴ء کا فیصلہ سرحد کے جیالے مسلمانو! تمہاری قیادت نے، تم نے کروایا تھا۔ ۱۹۸۴ء کا فیصلہ تم نے جس وقت یہ اعلان کیا تھا کہ ہمارے مطالبے نہ مانے گئے تو ہم پورے شاہراہ ریشم کو بند کر دیں گے۔ جناب ضیاء الحق کو کہا گیا جنرل صاحب، ادھر سڑک بند ہوگی، ادھر کچھ اور بند ہو جائے گا۔ مہربانی کرو! پھر اسے بات سمجھ میں آئی۔

ہرمسلمان کو ختم نبوت کا مبلغ ہوناچاہئے

سرحد کے دوستو!آج پھر رسول اللہ ﷺ کی عزت و ناموس کا کیس تمہاری جھولی میں آیا ہے۔( نعرہ… غلامی رسول میں…؟ موت بھی قبول ہے۔ غلامی رسول میں…؟ موت بھی قبول ہے)

ہمت کرو یہاں سے اٹھنے کے بعد تم میں سے ہر آدمی ختم نبوت کا مبلغ ہونا چاہئے۔ ان شاء اللہ! اگر ایک قادیانی اپنے جھوٹے نبی کی، جھوٹی تبلیغ کے لئے شب و روز کوشش کرتا ہے۔ تو تم حضور ﷺ کے سچے امتی ہونے کے ناطے صرف علماء نہیں، عوام نہیں، بلکہ ارباب اقتدار کا طبقہ جہاں تک میری بات پہنچ رہی ہے، جو مسلمان ہیں، مجھ سے بہتر مسلمان ہیں، میں ان سب سے درخواست کرتا ہوں کہ حضور ﷺ کے غلام ہونے کے ناطے تم پر یہ بھی فرض عائد ہوتا ہے کہ یہاں سے اٹھو، ذہن سازی کرو، گلی کوچوں میں پھیل جاؤ۔ گورنمنٹ کو یہ رپورٹ پہنچنی چاہئے کہ ایبٹ آباد کے مسلمانوں کا فیصلہ یہ ہے کہ شناختی کارڈ کے اندر مذہب کا خانہ بنے گا یا برسر اقتدار کا خانہ خراب ہو گا۔

’’وماعلینا الاالبلاغ المبین‘ ‘
382

حقائق بولتے ہیں

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ

اَلْحَمْدُللہِ وَکَفیٰ وَسَلامٌ عَلیٰ سَیِّدِ الرُّسُلِ وَخَاتَمِ الْاَنْبِیَاءِ وَعَلیٰ اٰلَہٖ وَاَصْحَابِہِ الَّذِیْنَ ھُمْ خُلاَصَۃُ الْعَرَبِ الْعَرَبَاءِ وَخَیْرُ الْخَلاَءِقِ بَعْدَ الْاَنْبِیَاءِ۔ اَمَّا بَعْدُ! فَاَعُوْذُ بِاللہِ مِنَ الشَّیْطٰنِ الرَّجِیْمِ۔ بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ۔

و قال اللہ تعالیٰ:فَإِن لَّمْ تَفْعَلُواْ وَلَن تَفْعَلُواْ فَاتَّقُواْ النَّارَ الَّتِیْ وَقُودُہَا النَّاسُ وَالْحِجَارَۃُ أُعِدَّتْ لِلْکَافِرِیْنَ۔ ( البقرۃ:۲۴)

قال النبیﷺ: أَکُنْتُمْ مُصَدِّقِیَّ قَالُوْ: نَعَمْ! مَاجَرَّبْنَاعَلَیْکَ اِلاَّ صِدْقًا۔ (مشکوٰۃ، باب المبعث وبدء الوحی: ۵۲۳)
اَللّٰھُمَّ صَلِّ عَلیٰ سَیِّدِنَا وَ مَوْلٰنا مُحَمَّدٍ وَّعَلیٰ آلِ سَیِّدِنَا وَ مَوْلٰنا مُحَمَّدٍ وَّ بَارِکْ وَسَلِّمْ وَ صَلِّ کَذَالِکَ عَلیٰ جَمِیْعِ الْاَنْبِیَاءِ وَالْمُرْسَلِیْنَ وَعَلیٰ الْمَلاَءِکَۃِ الْمُقَرَّبِیْنَ وَعَلیٰ عِبَادِ اللہِ الصَّالِحِیْنَ اَجْمَعِیْنَ اِلیٰ یَوْمِ الدِّیْنِ۔

تمہید

میرے واجب الاحترام دوستو! اتفاق کی بات یہ ہے کہ آج آپ حضرات کی اس مسجد میں جلسہ ہورہا ہے اور سڑک کے پار جناب مرزاناصر احمد صاحب تشریف فرماہیں۔ میں آج اس جذبے سے، اس خلوص سے، اس درد کے ساتھ معروضات عرض کروںگا کہ کل قیامت کے دن مرزاناصر احمد پروردگار عالم کی بارگاہ میں یہ نہ کہہ سکے کہ ہمیں مسئلہ کسی نے نہیں سمجھایا تھا۔

قادیانی کتب کی تلخی یا مٹھاس

آج کی میری ساری گفتگو میں آپ درشتگی محسوس نہیں کریںگے۔ کوئی گالی گلوچ

383

نہیں ہوگی۔ کوئی سخت بات نہیں ہوگی۔ البتہ قادیانی کتب کے حوالہ جات پیش کروں گا۔ اس کی مٹھاس یا تلخی وہ قادیانیوں کے لئے تبرک ہے۔ اس پر مجھے معذور سمجھا جائے۔ میں جناب مرزاناصر احمد سے درخواست کرتا ہوں کہ جس خلوص کے ساتھ میں معروضات عرض کررہا ہوں، وہ بھی اسی خلوص اور محبت کے ساتھ میری معروضات کو سنیں۔

قادیانیوں کے لئے لفظ مرزائی

میرے محترم دوستو! میں اپنی گفتگو میں مرزاغلام احمد اور اس کے ماننے والوں کے لئے لفظ ’’مرزائی‘‘ استعمال کروںگا۔ مرزائی دوست ہمیشہ سب سے پہلا اعتراض یہ کرتے ہیں کہ ہمیں مرزائی نہ کہو۔

قرآن مجید کا ارشاد ہے کہ ’’وَلَا تَنَابَزُوْا بِالْاَلْقَابِ‘‘ (الحجرات:۱۱) {کسی کو اس کے (برے) القاب سے مت پکارو۔}

ہمیں مرزائی کہتے ہو۔ مرزائی کا لفظ ہماری منشاء کے خلاف ہے۔ ہمیں احمدی کے لفظ سے پکارو۔ میں جناب مرزاناصر احمد صاحب کی خدمت میں عرض کروںگا کہ میں آپ کے لئے اور آپ کی جماعت کے لئے مرزائی کا لفظ استعمال کروںگا۔ اس لئے کہ آپ کے لٹریچر میں مرزا غلام احمد قادیانی کی موجودگی میں مرزا غلام احمد قادیانی کے ایک مرید مولوی محمد علی لاہوری کے متعلق ایک شاعر نے شعر کہے اور انہوں نے تین دفعہ:

⚛… یہی ہیں پکے مرزائی

⚛… یہی ہیں پکے مرزائی

⚛… یہی ہیں پکے مرزائی

کا لفظ استعمال کیا۔ مرزاغلام احمد قادیانی نے انہیں سنا۔ ان کو آج تک کسی نے نہ ٹوکا۔ معلوم ہوا کہ یہ مرزائی کا لفظ تمہارے گھر کا اختیار کردہ ہے

دوسری درخواست یہ ہے کہ مرزاناصر احمد صاحب! آپ کے چچا جن کا نام بشیر احمد ایم اے تھا۔ مرزابشیر احمد ایم اے، جو ایم ایم احمد قادیانی کے والد تھے اور مرزاناصر احمد کے چچا تھے۔ بشیر الدین محمود کے بھائی اور مرزاقادیانی کے صاحبزادے تھے۔ انہوں نے

384

ایک کتاب لکھی، جس کا نام ہے ’’کلمۃ الفصل‘‘۔ اس کتاب کلمۃ الفصل میں انہوں نے مرزائیوں کے پہلے خلیفہ حکیم نور الدین کا ایک آرٹیکل نقل کیا ہے۔ اس کے اندر وہ لکھتے ہیں۔ حکیم نور الدین جسے بشیر احمد ایم اے نے نقل کیا کہ:

’’میں اور اکثر عقل مند مرزائی یہ نہیں مانتے…‘‘(کلمۃ الفصل:۱۵۳)

تو اس سے بھی معلوم ہوا کہ یہ مرزائی کا لفظ تمہارے گھر کا اختیار کردہ ہے۔ اس لئے جب ہم تمہیں مرزائی کہتے ہیں تو تمہیں اس سے چڑنا نہیں چاہئے۔ اگر چڑنا چاہتے ہو تو پھر ہماری درخواست یہ ہے کہ پہلے اپنی کتابوں کو آگ لگادو۔ تم نے اپنے لٹریچر کے اندراپنے لئے خود (مرزائی) یہ لفظ استعمال کیا ہے۔تم ہمیں اس لفظ کے استعمال سے باز رہنے کی کیوں کوشش فرماتے ہو۔

مرزا بشیرالدین کا بیٹی سے؟

دوسری بات یہ کہ مرزائی دوستو! میں تمہارے شہر میں رہتا ہوں۔ اس کے حالات کا مجھے علم ہے۔ ربوہ کے اندرون خانہ حالات سے واقف ہوں۔ مجھے شرافت اجازت نہیں دیتی۔ لیکن دلائل کی بات ہے۔ پرنٹڈ میٹر ہے۔ مرزاناصر احمد صاحب، میرے کرم فرما، تمہیں ناراض نہیں ہونا چاہئے۔

⚛… تمہارے مریدوں نے لکھا ہے

⚛… تمہارے دوستوں نے لکھا ہے

⚛… تمہاری اپنی کتابوں میں لکھا ہے

کہ: ’’آپ کی سگی ہمشیرہ کے ساتھ آپ کے سگے والد نے منہ کالا کیا تھا۔‘‘

(شہر سدوم:۹۹، قادیانیت اس بازار میں: ۲۰۵)

آپ کا لٹریچر ہے اور آپ کی جماعت کی کتابیں ہیں۔ مجھے اگر اس پر مجرم گردانو گے تو یہ اس فقیر کے ساتھ، عاجز کے ساتھ، زیادتی ہوگی۔ آپ حضرات کی کتابوں کے اندر یہ باتیں لکھی ہوئی ہیں۔ مجھے اس بات کا بھی بخوبی علم ہے کہ آپ حضرات نے ایک طے شدہ پروگرام کے تحت صبح یہ پروپیگنڈا کرنا ہے اور سارے اسلام آباد کو سر پر اٹھا لینا ہے اور تم

385

نے یہ کہنا ہے کہ جناب مولویوں نے جلسہ کیا اور ساری رات ہمیں گالیاں دیتے رہے۔

آگ فیصلہ کرے گی

میرے محترم دوستو! میں نے ربوہ میں ایک تقریر کی۔ یہی حوالہ جو میں نے آپ حضرات کے سامنے نقل کیا۔ مرزاناصر احمد کی ہمشیرہ کے متعلق۔ میرا اللہ مجھے معاف رکھے۔ میں خود بچیوں، بیٹیوں والا ہوں۔ عزت آبرو والا ہوں۔ کسی کی بہو، بیٹی پہ تہمت لگاتے ہوئے مجھے ڈر لگتا ہے۔ میں قبرکو سامنے رکھ کر کہتا ہوں کہ یہ بات تمہارے لٹریچر کے اندر موجود ہے۔ تمہیں ناراض نہیں ہونا چاہئے

کیا مرزا ناصر حلف اٹھا سکتے ہیں

دوستو! میں نے یہ درد بھری کہانی ربوہ میں ایک دن جمعہ پہ عرض کردی۔ مرزاناصر آج میں پھر اس بات کو دہراتا ہوں اور اس جذبے سے دہراتا ہوں کہ آپ خلوص کے ساتھ میری معروضات کو سنیںگے۔ ربوہ آپ کے ہم عقیدہ لوگوں کا مرکز:

⚛… یہ شہر آپ کا

⚛… کنٹرول آپ کا

⚛… ہولڈآپ کا

⚛… سرداری آپ کی

ہم وہاں رہ رہے ہیں۔ چھ سال ہوگئے، ہمیں وہاں گئے ہوئے۔ میں مسجد میں خداوند کریم کو حاضر وناظر سمجھ کر قسم اٹھاتا ہوں۔ میرا اللہ مجھے معاف رکھے، میں حلفاً کہتا ہوں کہ مرزائی عورتیں، مرزائی بچیاں، بیٹیاں، مجھے

⚛… ان سے عقیدہ کا اختلاف

⚛… ان سے جماعت کا اختلاف

⚛… ان سے نظریات کا اختلاف

میں اپنی پاک دامنی بیان نہیں کرتا۔ حضور سرور کائنات رحمۃ اللہ علیہکی جوتیوں کے صدقے اللہ نے مجھے یہ توفیق بخشی کہ وہاں:

386

⚛… میں نے مرزائی عورتوں کو جو مجھ سے بڑی تھیں۔ان کو اس نگاہ سے دیکھا جس نگاہ سے انسان اپنی ماں کو دیکھتا ہے

⚛… میں نے اپنی ہم عمر بچیوں کو اس نگاہ سے دیکھا، جس نگاہ سے انسان اپنی ہمشیرہ کو دیکھا کرتا ہے

⚛… میں نے وہاں چھوٹی بچیوں کو اس نگاہ سے دیکھا، جس نگاہ سے انسان اپنی بیٹی کو، بچی کو، دیکھا کرتا ہے

مرزاناصر احمد! کیا آپ بھی قسم اٹھا سکتے ہیں؟۔ گو میرا اور ان کے عقیدہ کا اختلاف ہے۔ کیا آپ بھی میری طرح مسجد کے اندر قسم اٹھا کر اعلان کر سکتے ہیں کہ جناب آپ نے بھی وہاں کی رہنے والی عورتوں کے ساتھ یہی برتاؤ کیا ہو؟ اور آپ کی اولاد نے بھی ان کے ساتھ یہی برتاؤ کیا ہو؟

کیا یہ ہمارا حق نہیں؟

ناراض نہ ہوں۔ مجھے کسی کی پرسنل زندگی پر اٹیک کرنے کا قطعاً کوئی حق نہیں۔ لیکن قبلہ! ایک آدمی بازار جاتا ہے۔ چار آنے کی اس نے ہانڈی لینی ہے۔ اسے دس دفعہ ٹھوک بجا کر دیکھتا ہے کہ کہیں کھوکھلی تو نہیں۔ اس نے چار آنے خرچ کرنے ہیں، ایک مٹی کی ہانڈی پر۔ اسے دس دفعہ ٹھوک بجا کر دیکھے گا۔ مرزاغلام احمد قادیانی جن کے متعلق آپ کی جماعت کا عقیدہ ہے کہ اس کو مانو گے تو نجات ہوگی۔ اس کو نہیں مانو گے تو جہنم میں جاؤ گے۔ مرزا قادیانی نے لکھا کہ: ’’جو مجھے نہیں مانتا وہ جہنمی ہے۔‘‘ (تذکرہ: ۲۸۰ طبع چہارم)

تو جس آدمی کو ماننے سے جنت ملتی ہے۔ جس کو نہ ماننے سے جہنم ملتی ہے۔ جس پر ایمان کا دارومدار ہے۔ ذرا ہمیں ٹھوک بجاکر دیکھنے تو دو کہ وہ تھا کیا؟۔ اس لئے کہ اگر اس کی پرسنل زندگی ہوتی تو ہمیں کوئی دلچسپی نہ ہوتی۔ جب اس نے اپنے آپ کو رہبر قوم کے طور پہ پیش کیا۔

خود محمدعربیﷺ پہاڑ پر کھڑے ہوکر دشمنوں کو اکٹھا کر کے فرماتے ہیں کہ: لوگو!

’’اَکُنْتُمْ مُصَدِّقِیْ؟‘‘لوگو! میں تم میں اپنی زندگی کا اتنا عظیم حصہ گذار چکا

387

ہوں۔ تم نے مجھے سچا پایا یا جھوٹا۔

(مشکوٰۃ، باب المبعث و بدء الوحی: ۵۲۳)

آئیے! میں آج آپ کی موجودگی میں جناب مرزاغلام احمد قادیانی کو ٹھوک بجا کر دیکھنا چاہتا ہوں۔ میری دلی خواہش یہ ہے کہ دلائل کی روشنی میں بات ہو۔ ورنہ اگر بات ختم کرنے کی ہو تو میں آپ سے درخواست کروں گا۔ بڑے درد کے ساتھ کروں گا کہ اگر دلائل کی بات آپ نہیں سنتے۔ میں ملک عزیز اور بیرون ملک کام کرنے والی جماعت ختم نبوت کا نمائندہ ہوں۔ مجھے شرف حاصل ہے کہ حضرت مولانا خواجہ خان محمد صاحب دامت برکاتہم(رحمۃ اللہ علیہ) کا ہاتھ میرے سر پر ہے۔ میں آج اپنے امیر دامت برکاتہم کی موجودگی میں پوری امت کی طرف سے نمائندگی کے طور پر کہتا ہوں کہ میں مسلمانوں کا نمائندہ ہوں۔ تم اپنی جماعت کے نمائندے ہو۔ آؤ مباہلہ کرو۔ آگ کی بھٹی تیار کرتے ہیں۔ تم مرزا غلام احمد قادیانی کا نعرہ لگا کر چھلانگ لگاؤ۔ میں محمد ﷺ کی غلامی کا دم بھر کر چھلانگ لگائوں گا۔ بات جذبات کی نہیں ہے۔ آگ فیصلہ کرے گی کہ سچا کون ہے، جھوٹا کون ہے؟

(عوام نے پرجوش نعرے شروع کئے… نعرۂ تکبیر… اللہ اکبر… تاج وتخت ختم نبوت… زندہ باد… مرزائیت… مردہ باد… مولانا اللہ وسایا نے منع کرتے ہوئے کہا کہ: نہ بھائی، نعرۂ مرزائیت… مردہ باد نہیں۔ دیکھئے!میری تقریر میں آج منفی نعرہ کوئی نہ لگائے۔)

مرزا قادیانی محمد ﷺ سے بڑھ کر

کیوں تم نے دنیا کو پریشان کر رکھا ہے؟۔ کیوں لوگوں کے دلوں میں آپ حضرات نے وسوسے ڈال رکھے ہیں؟۔ آئیے دلائل کی دنیا میں گفتگو کرنی ہے تو بھی حاضر۔ جس آدمی کے متعلق آپ ارشاد فرماتے ہیں، جس کے متعلق آپ کی کتابوں کے اندر لکھا ہوا موجود ہے، نقل کفر،کفر نہ باشد!

آپ کی جماعت کے ایک شاعر نے لکھا، اس کو لکھا قاضی اکمل نے، اخبار بدر کے اندر چھپا۔ حوالہ نہ ہو تو جو چور کی سزا وہ میری سزا۔ اسلام آباد کے چوک میں مجھے گولی

388

سے اڑا دیا جائے، اگر میں حوالہ ثابت نہ کرسکوں۔ سزا بھگتنے کے لئے تیار ہوں۔ تمہاری جماعت کے اس شاعر نے لکھا ہے کہ:

  1. محمد پھر اتر آئے ہیں ہم میں

    آگے سے بڑھ کر ہیں اپنی شان میں

تشریح: کہ محمد پہلے بھی آئے تھے۔ محمد پھر بھی آیا ہے۔ یہ جو محمد دوبارہ قادیان میں آیا ہے۔ یہ پہلے محمد سے شان کے اندر بڑھا ہوا ہے۔

(مجمع سے معاذاللہ، استغفراللہ اور نعوذ باللہ کی صدائیں اٹھنے لگیں)

مولانا اللہ وسایا صاحب نے فرمایا کہ ٹھہرئیے بھائی:

  1. محمد پھر اتر آئے ہیں ہم میں

    آگے سے بڑھ کر ہیں اپنی شان میں

  2. محمد دیکھنے ہوں جس نے اکمل

    غلام احمد کو دیکھے قادیان میں

(البدر قادیان،ج۲، نمبر۴۳، ص۱۴، ۲۵؍ اکتوبر۱۹۰۶ء)

قاضی اکمل پر اعتراض ہوا کہ آپ کے یہ شعر غلط ہیں۔ مرزاناصر احمد! میرا اللہ گواہ ہے۔ میں یہ بات محض آپ کی دلچسپی کے لئے عرض کررہا ہوں۔سنئے! ضرور سنئے۔ قاضی اکمل پر اعتراض ہوا۔ آپ کی جماعت کے لوگوں نے اعتراض کیا کہ ان اشعار سے محمد عربیﷺ کی شان میں بے ادبی کا پہلو نکلتا ہے۔ قاضی اکمل کا جوابی بیان بھی آپ حضرات کے آرگن کے یومیہ پرچے کے اندر چھپا۔ قاضی اکمل نے کہا: تم کون ہو، میرے اوپر اعتراض کرنے والے؟ یہ شعر، یہ نظم، میں نے مرزاقادیانی کی موجودگی میں پڑھی تھی اور خوبصورت قطعے کی صورت میں، میں نے مرزا غلام احمد قادیانی کو پیش کی تھی، جسے وہ (مرزاقادیانی) فریم کروا کر اپنے گھر لے گئے تھے۔ اس نظم کو مرزاغلام احمد قادیانی نے جب قبول کیا تھا تو پھر باقی جماعت اور لوگ کون ہوتے ہیں جو اس پر اعتراض کرسکیں۔

389

اکمل کے اشعار گستاخی نہیں؟

لیجئے جناب! آپ ہی کی جماعت کے مناظر ہیں قاضی نذیر۔ اس قاضی نذیر نے آپ کی جماعت کی راہبری کے لئے ایک کتابچہ مرتب کیا، جس کا نام ہے ’’احمدیہ تعلیمی پاکٹ بک‘‘ اس میں انہوں نے امت کے سوالوں کا جواب دینے کی کوشش کی کہ جناب! مسلمان یہ اعتراض کرتے ہیں۔ اس اعتراض کا یہ جواب، اس کا یہ جواب۔ جس وقت اس شعر پر پہنچتے ہیں تو کہتے ہیں کہ امت کے لوگ یہ اعتراض کرتے ہیں کہ ان شعروں کے اندر حضور ﷺ کی گستاخی ہے تو قاضی نذیر احمد لکھتے ہیں کہ: یہ شعر میری سمجھ میں نہیں آتے تھے۔ میں یہ شعر مرزا بشیر الدین کی خدمت میں لے کر گیا۔ مرزا ناصر احمد! آپ کے والد کی بات ہے۔ ان کے پاس قاضی نذیر احمد گیا۔ میری گفتگو لمبی ہے۔ کہیں اس کے اندر ’’جناب‘‘ اور ’’صاحب‘‘ کا لفظ رہ جائے تو مجھے معاف رکھنا۔ قاضی نذیر احمد صاحب کہتے ہیں کہ میں یہ شعرآپ کے والد صاحب کے پاس لے کر گیا اور آپ کے والد صاحب نے جس وقت ان شعروں کو پڑھا تو انہوں نے کہا واقعتا: یہ شعر غلط ہیں اور ان شعروں سے حضور ﷺ کی توہین کا پہلو نکلتا ہے۔ ان شعروں کے ساتھ ہمارا کوئی تعلق نہیں۔

کافر کہنا گالی ہے تو؟

مرزاناصر احمد! قبر کو سامنے رکھیں کہ اب آپ عمر کے اس پیٹے میں ہیں، جہاں زندگی کا کوئی اعتبار نہیں کہ آپ پہلے جائیں یا میں پہلے جاؤں۔ آپ کے پاؤں قبر میں ہیں۔ آپ قبرکو سامنے رکھ کر کہیں کہ آپ کے دادا کہتے ہیں کہ یہ شعر صحیح ہیں۔ وہ شاعر کو انعام دیتے ہیں۔ اس خوبصورت قطعہ کو فریم کر کے گھر میں جاکر لگاتے ہیں۔ جبکہ آپ کے والد کہتے ہیں کہ: ان شعروں سے حضور ﷺ کی توہین کا پہلو نکلتا ہے۔ اب آپ ارشاد فرمائیں کہ آپ کے دادا سچے تھے یا آپ کے والد سچے ہیں؟۔ اور اگر ہم سے پوچھو تو ہم تو یہی کہیںگے کہ جناب دونوں جھوٹے ہیں۔

390

صدق اور کذب کا معیار

میری درخواست سنئے۔ ممکن ہے میں اپنی گفتگو میں آپ کے متعلق کہوں کہ آپ کافر ہیں۔

⚛… اگر کسی کو کافر کہنا گالی ہے

⚛… اگر کسی کو کافر کہنا بدزبانی ہے

تو جناب! معاف کیجئے، پھر سب سے زیادہ گالی دینے کے مرتکب آپ ہیں۔ آپ کی جماعت ہے ،آپ کے باپ، دادا تھے۔ اگر یہ بدزبانی ہے تو پھر سب سے بڑے بدزبان یہ تھے۔ معاف رکھنا!میں یہ بات سمجھانے کے لئے عرض کر رہا ہوں۔ اس لئے کہ آپ کی جماعت کا عقیدہ ہے کہ: ’’جو لوگ مرزاقادیانی کو نہیں مانتے وہ سارے کافر ہیں۔‘‘ مرزائی دن رات پروپیگنڈہ کرتے ہیں کہ: ’’جناب!

⚛… ہم کلمہ پڑھتے ہیں

⚛… ہم نمازیں پڑھتے ہیں

⚛… ہم اذان دیتے ہیں

⚛… ہم مسجدوں میں جاتے ہیں

تو پھر ہمیں کافر کیوں کہا جاتا ہے؟۔‘‘ میں تم سے پوچھنا چاہتا ہوں کہ جناب! امت بھی کلمہ پڑھتی ہے۔ سامعین آپ سارے کلمہ پڑھیں۔ ’’لَااِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ مُحَمَّدُ رَّسُوْلُ اللّٰہِ‘‘ (سب نے کلمہ پڑھا) ابھی یہ سب نماز سے فارغ ہوئے۔ دوسری نماز کی تیاری ہے۔

⚛… سارے کلمہ پڑھتے ہیں

⚛… سارے نماز پڑھتے ہیں

⚛… سارے حج پہ بھی جاتے ہیں

⚛… سارے زکوٰۃ بھی دیتے ہیں

لیکن اس کے باوجود آپ (مرزا ناصر) کے والد گرامی مرزابشیر الدین محمود نے

391

اپنی کتاب آئینہ صداقت کے صفحہ نمبر۳۵ پر لکھا۔ ہے کوئی ماں کا لعل جو انکار کرے؟ ’’فَاِنْ لَّمْ تَفْعَلُوْا وَلَنْ تَفْعَلُوْا فَاتَّقُوْا النَّارَ‘‘ قیامت تک حوالے کا انکار نہیں کر سکوگے۔ صاحب! تم سے درخواست کرنا چاہتا ہوں کہ تمہارے والد گرامی نے لکھا کہ: ’’جن لوگوں نے مرزاغلام احمد قادیانی کا نام بھی نہیں سنا، وہ نہ صرف کافر بلکہ پکے کافر اور دائرہ اسلام سے خارج ہیں۔‘‘

(آئینہ صداقت:۳۵، انوار العلوم:ج۶، ص۱۱۰)

آپ نے پوری امت کو کافر کہا۔ اگر امت آپ کو کافر کہتی ہے تو آپ کو ناراض نہیں ہونا چاہئے۔ یہ کفر کا فتویٰ اور کفر کی مشین گن سب سے پہلے آپ نے فٹ کی تھی۔ ناراض نہ ہونا۔ اگر کہیں میں اپنی تقریر میں آپ کو کافر کہہ جاؤں تو اس پہ غصے نہ ہونا۔ یہ جواب آں غزل کے طور پر ہے۔ میں نے عرض کی تھی کہ حضور سرور کائنات رحمۃ اللہ علیہ کھڑے ہوئے، دنیا کو چیلنج دیا کہ لوگو! میری زندگی کو دیکھو۔ میں نے تمہارے اندر اتنا عرصہ گذارا ہے: ’’ھَلْ وَجَدْ تُمُوْنِیْ صِادِقًا اَوْکَاذِبًا‘‘ { لوگو! تم نے مجھے سچا پایا یا جھوٹا پایا؟}

⚛… تمہارے ساتھ میرے معاملات ہوئے

⚛… تمہارے ساتھ میں نے تجارت کی

⚛… تم میں میرا رہنا سہنا ہوا

⚛… تم میں میرا بچپن گزرا

⚛… تم میں میری جوانی گزری

⚛… تم میں رہتے ہوئے میں چالیس سال کی عمر کو پہنچا

میں نے نبوت کا دعویٰ کیا ہے۔ ہے کوئی جو میری چالیس سالہ زندگی کے کسی ایک پیریڈ پر انگلی رکھ کر اعتراض کرے۔

⚛… ساری قوم آپ ﷺ کی مخالف تھی

⚛… آپﷺ کی دشمن تھی

⚛… آپﷺ کو پتھر مار رہی تھی

⚛… آپﷺ کے دانت شہید کر رہی تھی

لیکن جس وقت حضور سرور کائنات رحمۃ اللہ علیہ نے یہ چیلنج پیش کیا تو سب نے جواب

392

میں کہا: آقاﷺ! ایک دفعہ نہیں۔ ہم نے بارہا آپ ﷺ کا تجربہ کیا۔ ہم نے آپ ﷺ کو سچا ، امانت دار اور دیانت والا پایا ہے۔

مرزا قادیانی کا تعارف

آئیے! اس اعتبار سے میں مرزاغلام احمد قادیانی کو دیکھنا چاہتا ہوں کہ وہ کیا تھا؟۔ جس کو تم کہتے ہو کہ مانوگے تو جنت ملے گی۔ نہیں مانو گے تو جہنم ملے گی۔ مجھے دیکھنا ہے کہ وہ کیا تھا؟۔ قبلہ! تو جس وقت میں مرزا قادیانی کو دیکھتا ہوں، مرزاقادیانی کی اپنی کتابوں کے اندر لکھا ہے اور میرے خیال میں آپ بھی اس سے انکار نہیں کریںگے۔ مرزا قادیانی کی لکھی ہوئی ہے۔ ربوہ کی چھپی ہوئی ہے۔ کتاب کا نام ہے براہین احمدیہ۔ اس میں مرزا قادیانی لکھتا ہے کہ:

  1. کرم خاکی ہوں مرے پیارے نہ آدم زاد ہوں

    ہوں بشر کی جائے نفرت اور انسانوں کی عار

(براہین احمدیہ حصہ پنجم:۹۷، خزائن:ج۲۱، ص۱۲۷)

بشر کی جائے نفرت کا مفہوم

⚛… مجھے مسجد اجازت نہیں دیتی

⚛… مجھے شرافت اجازت نہیں دیتی

⚛… مجھے منبر ومحراب اجازت نہیں دیتے

کہ میں اس شعر کا ترجمہ کروں۔ ہاں! میں نے مرزاناصر احمد سے درخواست کی تھی اور آج پھر درخواست کرتا ہوں کہ جناب! آپ اس کی جماعت کے نمائندے ہیں۔ آپ یہی (بشر کی جائے نفرت اور انسانوں کی عار) کہ انسان کی جو سب سے زیادہ شرم والی جگہ ہوتی ہے۔ وہ میں ہوں۔ یہ مرزا قادیانی نے لکھا ہے۔ کیا آپ اپنی بیٹی کے سامنے اس شعر کو پڑھ کر اس کا ترجمہ پوچھ سکتے ہیں۔ سوچئے! مرزا قادیانی لکھتا ہے کہ:

کرم خاکی ہوں مرے پیارے نہ آدم زاد ہوں

جس کو تم نبی بناتے ہو اور ظلم کی بات یہ ہے کہ جسے تم محمد ﷺ کی مسند پہ بٹھاتے

393

ہو۔ جس (مرزا قادیانی) کے متعلق تم نے اپنی کتابوں میں لکھا ہے کہ: ’’ابوبکرؓ وعمرؓ کیا تھے۔ وہ تو حضرت غلام احمد کی جوتیوں کے تسمے کھولنے کے بھی لائق نہ تھے۔‘‘

(المہدی:۵۷، بابت جنوری، فروری ۱۹۱۵ء)

تم نے اپنی کتابوں میں یہ نہیں لکھا کہ: ’’مُّحَمَّدٌ رَّسُولُ اللَّہِ وَالَّذِیْنَ مَعَہُ أَشِدَّاء عَلَی الْکُفَّارِ رُحَمَاء بَیْْنَہُمْ‘‘ مرزاغلام احمد قادیانی اپنی کتاب ایک غلطی کے ازالہ میں لکھتا ہے کہ: ’’اس وحی الٰہی میں میرا نام محمد رکھا گیا اور رسول بھی‘‘

(ایک غلطی کا ازالہ:۳، خزائن:ج۱۸، ص۲۰۷)

سو بار سوچئے!

سوچئے! باربار سوچئے کہ جسے تم محمد ﷺ کی مسند پہ بٹھانا چاہتے ہو اور جس کے متعلق آپ کے دادا مرزا قادیانی لکھ گئے ہیں۔ خطبہ الہامیہ تمہارے گھر کی کتاب ہے۔ اس میں لکھا ہوا موجود ہے کہ ’’حضور ﷺ کے زمانے میں اسلام کی حالت پہلی رات کے چاند کی تھی اور میرے زمانہ میں اسلام کی حالت چودھویں رات کے برابر ہے۔ ‘‘

(خطبہ الہامیہ:۱۸۴، خزائن: ج۱۶،ص۲۷۵)

حضور ﷺ کے زمانے کو چاند کی پہلی رات سے تشبیہ دینے والو! اور مرزا قادیانی کے زمانے کو چودھویں رات سے تشبیہ دینے والو! میں آپ سے درخواست کرنا چاہتا ہوں کہ مجھے آپ وسعت دل کے ساتھ اجازت بخشیں کہ میں یہ کہہ سکوںکہ جس آدمی کو تم اتنی رفعتیں بخش رہے ہو، جسے اتنی بلندیوں پر فائز کرنا چاہتے ہو، اس نے تو اپنی کتابوں میں لکھا ہے کہ:

کرم خاکی ہوں مرے پیارے نہ آدم زاد ہوں

وہ تو یہ کہتا ہے کہ میں انسان کا تخم ہی نہیں۔ کہتا ہے کہ ’’نہ آدم زاد‘‘ میں بندے دا پتر وی نئیں۔ معاف کیجئے! میں نے پنجابی میں ترجمہ کیا۔ نبی بھی پنجابی، ایسا نبی؟۔ جس قوم کا نبی جو زبان جانتا تھا، اس زبان میں اسے وحی ہوئی۔ یہ قرآنی اصول ہے۔ مرزاقادیانی رہنے والا پنجاب کا تھا اور کہتا تھا کہ اللہ تعالیٰ نے مجھے وحی کی کہ:

394

{میں تم سے پیار کرتا ہوں} ’’ I Love You ‘‘

(براہین احمدیہ:۴۸، خزائن:ج۱، ص۵۷۲)

دیکھئے صاحب! تذکرہ کے اندر لکھا ہوا ہے۔ تمہارے گھر کی چھپی ہوئی کتاب ہے۔ اپنی طرف سے کبھی کوئی بات نہیں کہوںگا۔ قبر کو سامنے رکھ کر میں آج پھر آپ سے وعدہ کرتا ہوں کہ کوئی بات بغیر ذمہ داری کے عرض نہیں کروںگا۔ جس درد کے ساتھ آج میں عرض کرنے آیا ہوں، اسی درد کے ساتھ میری معروضات کو سنیں۔ مرزاغلام احمد قادیانی جسے تم اتنی عزتیں بخش رہے ہو۔ وہ خود اپنے متعلق کہتا ہے کہ:’’میں بندے دا پتر وی نئیں‘‘

ساتھیو! میں اپنی بات کی قیمت سمجھتا ہوں۔ سیدعطاء اللہ شاہ بخاری ؒ کے رضاکاروں کی بات ان شاء اللہ! کبھی رائیگاں نہیں جائے گی۔ مجھے یہ شبہ تو ہوسکتا ہے کہ آپ حضرات میری بات نہ سن رہے ہوں۔ لیکن مرزاناصر احمد آج آنکھیں بند کر کے اور کان کھول کر میری معروضات کو سن رہاہوگا اور میں ان کا شکر گزار ہوں۔

تو میرے پاس کچھ مرزائی دوست آئے۔ میں نے انہیں اپنی آنکھوں پر بٹھایا۔ ادب واحترام کے ساتھ حضور سرور کائنات رحمۃ اللہ علیہ کی سنت طیبہ کے مطابق۔ ناراض نہ ہونا۔ ایک کافر بچی حضور ﷺ کی خدمت میں آرہی ہے۔ رحمت عالم ﷺ نے اپنی چادر دے کر ارشاد فرمایا۔ یہ لے جاؤ اور اس سے اس بچی کا سر ڈھانپ دو۔ صحابہ کرامؓ نے عرض کیا۔ آقاﷺ! کافر کی بچی ہے۔ حضور سرور کائنات رحمۃ اللہ علیہ نے ارشاد فرمایا۔ بچی کافر کی ہے لیکن دربار محمد ﷺ کا ہے۔ یہاں جو آئے گا عزت پائے گا۔ نبوت کی چادر لے جاکر اس کا سرڈھانپ دو۔ جس چادر کے متعلق سید عطاء اللہ شاہ بخاری ؒ نے فرمایا۔ اگر محمد عربیﷺ کی چادر ایک دفعہ جہنم کی طرف لہرا دی جائے تو جہنم کی آگ بھی ٹھنڈی ہوجائے۔

مرزا قادیانی کا کریکٹر

جبکہ مرزا ناصر کے دادا مرزا قادیانی کا کریکٹر۔ ناراض نہ ہونا۔ تمہاری اپنی کتابوں میں لکھا ہے کہ ایک دن اپنے مرید سے کہنے لگے کہ: تم شادی کرنا چاہتے ہو؟۔ مرزا

395

قادیانی کے مرید نے کہا جی! جی! بالکل کرنا چاہتا ہوں۔ اس (مرزا قادیانی) نے کہا تو اچھا میرے گھر کے اندر کچھ مریدنیاں آئی ہوئی ہیں۔ آپ یہاں نظر ٹکاکر بیٹھ جائیں۔ میں سامنے سے ان کو گزارتا ہوں تو ان میں سے پسند کر لینا۔ (سیرت المہدی:ج۱،ص۲۵۹، روایت ۲۶۸)

حضور ناراض نہ ہونا۔ بات بہت دور چلی جائے گی۔ ذرا سوچئے! جسے تم محمد ﷺ کی مسند پر بٹھانا چاہتے ہو، وہ کاروبار کیا کیا کرتا تھا؟۔ اللہ رب العزت کروڑ رحمتیں نازل فرمائیں سید عطاء اللہ شاہ بخاری ؒ کی تربت پر۔ بخاری ؒ نے ڈی جی کھوسلہ کی عدالت میں کہا تھا اور مسٹرکھوسلہ نے اپنے فیصلے کے اندر لکھا ہے کہ: ’’مرزا قادیانی شراب منگوایا کرتے تھے۔‘‘ بھائی جو انسان شراب کے استعمال کا عادی ہو۔ جس نے لاہور اپنے مرید کو لکھا ہو کہ میرے لئے پلومر سے ٹانک وائن کی بوتلیں بھیج دی جائیں۔ انگریزی شراب بھیج دی جائے۔(خطوط امام بنام غلام:۵) معاذ اللہ!

تمہاری جماعت کے ایک فرد جس نے مرزا قادیانی کو اپنے خط کے اندر مسیح موعود لکھا۔ ظاہر بات ہے جو مرزاغلام احمد قادیانی کو مسیح موعود لکھتا ہے۔ وہ ہم میں سے تو نہیں؟… نہیں۔ بھائی وہ ہم میں سے ؟… نہیں۔ بولو! زور سے بولو… نہیں۔

اس آدمی نے اپنے پرائیویٹ لیٹر میں مرزابشیر الدین محمود کو لکھا اور اس نے اپنے خط میں مرزاغلام احمد قادیانی کے متعلق مسیح موعود کے لفظ استعمال کئے۔ ولی اللہ کے لفظ استعمال کئے۔ غلام احمد کو ولی اللہ کہنے والا، مسیح موعود کہنے والا۔ وہ ہم میں سے تو نہیں۔ یقینا آپ کی جماعت کا آدمی ہوگا۔ کہتے ہیں منافق تھا۔ قبلہ ہمارے نزدیک منافق نہیں۔ ہم تو اسے کافر سمجھتے ہیں۔ اس لئے کہ امت کا کوئی بھی فرد مرزا قادیانی کو مسلمان تسلیم نہیں کرتا۔

ولی اللہ اور مسیح موعود تو دور کی بات ہے۔ آپ کی جماعت کے افراد جو مرزاقادیانی کو مسیح موعود کہتے ہیں۔ اس نے اپنے خط میں مرزا بشیر محمود کو لکھا کہ: ’’اے مرزا بشیر محمود! ہمیں غلام احمد قادیانی پہ تو کوئی اعتراض نہیں۔ وہ ولی اللہ تھے۔ ولی اللہ کبھی کبھی زنا کرلیا کرتا ہے۔ اگر مرزاقادیانی کبھی کبھی زنا کرلیاکرتے تھے توہمیں اس کے اوپر کوئی اعتراض نہیں۔ ہمیں آپ کے اوپر اعتراض ہے۔ جو ہر وقت زنا کے اندر لگے رہتے ہیں۔‘‘

(الفضل قادیان، مورخہ ۳۱؍اگست۱۹۳۸ء، ص۶)

396

آپ کی جماعت کا حوالہ، حوالہ غلط ہو جو چور کی سزا وہ میری سزا۔ قیامت تک کوئی مائی کا لعل اس حوالہ سے انکار نہیں کر سکے گا۔ تمہارے اخبار کے اندر لکھا ہوا ہے۔ مرزاغلام احمد قادیانی ’’کدے کدے ڈگ لا لیندے سن‘‘ معاف رکھئے گا۔ جو آدمی زنا کرتا ہو، شراب منگوایا کرتا ہو۔ جس نے اپنے متعلق لکھا ہو کہ ’’میں بندے دا پتر وی نئیں۔‘‘

یہ عاجزی ہے تو تمہیں مبارک ہو

میرے پاس مرزائی دوست آئے۔ آکر مجھے کہنے لگے کہ مولوی صاحب! آپ نے آج یہ حوالہ پیش کیا اور حوالے میں آپ نے کہہ دیا کہ مرزا قادیانی کہتا ہے کہ: ’’میں بندے دا پتر وی نئیں۔‘‘ تو یہ تو ایسی بات ہے کہ حضرت صاحب نے عاجزی کی تھی۔ انکساری کی تھی۔ اس وقت بھی جو مرزاناصر احمد کے پاس اس کے مرید بیٹھے ہوںگے۔ انہیں بھی یقینا مرزاناصر احمد یہی صفائی دے رہا ہوگا کہ حضرت صاحب نے تو عاجزی کی تھی۔میرے بھائی! ایک آدمی کہے، میں گناہگار ہوں۔ ایک آدمی کہے کہ: میں عاجز ہوں۔ ایک کہے کہ: میں خاکسار ہوں۔ ایک کہے کہ: میں حقیر، فقیر پر تقصیر ہوں۔ یہ بات تو سمجھ میں آسکتی ہے۔ لیکن یہ کہہ دینا کہ: ’’میں بندے دا پتر وی نئیں۔‘‘ یہ عاجزی کی کون سی قسم ہے؟

میں نے وہاں بھی عرض کیاتھا، آج بھی آپ سے مخلصانہ عرض کرتا ہوں کہ اگر یہ عاجزی ہے تو محمد عربیﷺ نے جو کچھ ارشاد فرمایا، عَلَی الرَّأْسِ وَالْعَیْنِ ہم سب اسے تسلیم کرتے ہیں۔ مرزاغلام احمد قادیانی اگر تمہارے نبی ہیں تو جو اس نے ارشاد فرمایا، وہ تم تسلیم کرو۔ میں آپ کے دروازے پہ بیٹھا ہدایت سے کیوں محروم رہوں۔ مجھے تبلیغ کرنے کے لئے آپ کیوں تشریف نہیں لاتے؟۔ میں نے تمہاری کتابیں پڑھی ہوئی ہیں۔ تمہارا لٹریچر دیکھا ہوا ہے۔ میں پڑھا پڑھایا مولوی تمہیں ملوںگا۔ مجھے کیوں نہیں تم تبلیغ کرتے۔ ہمت ہو تو آؤ؟۔ صاحب بہادر کہتے ہیںکہ عاجزی کی ہے۔ میں نے ان سے درخواست کی کہ اگر یہ عاجزی ہے۔ تم مجھے محمد عربیﷺ کافرمان سناؤ۔ میں تمہارا منہ چومنے کو تیار کہ تم مجھے محمد ﷺ کا فرمان سنارہے ہو۔ میں تمہیں مرزا قادیانی کی باتیں سناتا ہوں۔ تو تمہیں خوش ہونا چاہئے۔ ناراض نہیں ہونا چاہئے۔ اس لئے کہ تمہارے نبی کی باتیں ہیں۔ اگر یہ عاجزی ہے تو

397

میں آپ سے پھر درخواست کروںگا۔ درد دل کے ساتھ درخواست کروںگا کہ آپ سارے ملک کے قادیانی افراد کو اکٹھا کریں اور آپ سب مل کر جس طرح مرزاغلام احمد قادیانی نے عاجزی کی تھی۔ آپ بھی سارے مل کر کہہ دیں کہ: ’’اسیں بندے دے پتر نئیں‘‘

ٹھیک ہے بھئی! اگر عاجزی کی قسم ہے تو پھر اپنے نبی کی سنت پر عمل کرو۔

⚛… بات غصے کی نہیں ہے

⚛… بات ناراضگی کی نہیں ہے

⚛… بات منہ بنانے کی نہیں ہے

بات تو دلائل کی ہے۔ مجھے ایک دوست نے خط لکھا کہ: رات ایک مولوی صاحب نے اپنی تقریر کے اندر کہا کہ مرزائیوں سے قرآن واپس ہونا چاہئے کہ کافروں کو قرآن پڑھنے کا حق حاصل نہیں۔

قرآن کی توہین

میرے محترم دوستو! میں آپ سے اتنی درخواست کرنا چاہتا ہوں۔ جس میرے دوست نے خط لکھا ہے، میں ان سے بھی درخواست کرنا چاہتا ہوں کہ قبلہ آپ سب ساتھی مجھے ایمان داری کے ساتھ بتائیں کہ یہ قرآن مجید کس کے اوپر اترا تھا؟۔ سارے بولو! زور سے بولو! یہ قرآن کس پر اترا تھا۔ مجمع سے بھر پور آوازیں آنے لگیں کہ ’’محمد عربیﷺ پر۔‘‘ ہمت کے ساتھ بولو! یہ قرآن کس پر اترا تھا؟۔ ’’محمد عربیﷺ پر۔‘‘ مرزا قادیانی کہتا ہے کہ: ’’قرآن میرے منہ کی باتیں ہیں‘‘ کتاب کا نام حقیقت الوحی مصنفہ مرزاغلام احمد قادیانی، جس نے اپنی موت سے چند دن پہلے اس کتاب کو لکھا تھا۔ اس کتاب میں مرزاقادیانی کہتا ہے کہ: ’’قرآن خدا کا کلام اور میرے منہ کی باتیں ہیں۔‘‘

(تذکرہ:۹۹، طبع چہارم)

قرآن محمد عربیﷺ کے منہ کی باتیں ہیں یا مرزا قادیانی کے منہ کی باتیں؟۔ آپ ارشاد فرمائیں۔ (محمد عربیﷺ کے منہ کی باتیں۔ لوگوں نے جواب دیا۔ سارے بتاؤ۔ لوگوں نے باآواز بلند کہا ’’محمد عربیﷺ کے منہ کی باتیں‘‘)

مرزا قادیانی کہتا ہے کہ مجھے ایک رات کشف ہوا میں نے کشف کی حالت میں

398

دیکھا کہ قرآن مجید کے اندر لکھا ہوا ہے کہ: ’’انا انزلناہ قریباً من القادیان‘‘ کتاب کا نام ازالہ اوہام ہے۔ مرزا قادیانی کی لکھی ہوئی ہے۔ حوالہ نہ ہو تو جرمانہ دینے کے لئے تیار ہوں۔ میں نے کہہ دیا مرزاغلام احمد قادیانی نے لکھا ہے کہ مجھے کشف ہوا میں نے دیکھا کہ قرآن کے اندر لکھا ہوا ہے: ’’انا انزلناہ قریباً من القادیان‘‘

(ازالہ اوہام:۷۷، خزائن:۳، ص۱۴۰)

تو میرے پاس ایک مرزائی دوست آئے۔ بڑے طمطراق کے ساتھ، بڑے جوش کے ساتھ، بڑے غصے سے آتے ہیں اور اللہ کے فضل سے بالکل ٹھنڈے ہوکر جاتے ہیں۔ غبارہ کی طرح آتے ہیں، بس سوئی چبھو کر ان کی ساری ہوا نکال دی جاتی ہے۔ آکر کہنے لگے: مولوی صاحب! ’’یہ بات کشف کی ہے۔‘‘ میں نے کہا: اگر یہ بات کشف کی ہے تو مرزا قادیانی کا کشف سچا تھا یا جھوٹا؟۔ اگر سچا تھا تو قرآن مجید میں قادیان کا لفظ دکھائو۔ اگر نہیں دکھاسکتے تو تسلیم کرو کہ مرزا قادیانی کا کشف جھوٹا تھا۔ جہاں سے آئے تھے (مرکز) بس وہیں تشریف لے جاتے ہیں۔

رائل فیملی کی عیاشیاں

مرزاناصر! آپ سے درخواست کرنا چاہتا ہوں، ربوہ کے حالات میں جانتا ہوں۔ جنہیں آپ کے خاندان نے اپنی جماعت سے نکالا۔ میں ان حالات سے بھی واقف ہوں اور پرسوں کی بات ہے۔ اتوار کے دن کی کہ آپ کے فضل عمر ہسپتال میں ڈاکٹر جس کا نام فدا تھا۔ وہ ڈیرہ غازی خاں کا رہنے والا تھا۔ جس کا خاندان حسباً نسباً قادیانی چلا آرہا ہے۔ میں آپ سے پوچھنا چاہتا ہوں: وہ آپ کی جماعت کو آخر چھوڑ کر کیوں گیا؟۔ ناراض نہ ہوں۔ آپ کے گھر کی بات ہے۔ آپ نے اس کو جماعت سے کیوں نکالا۔ اور یہ پرسنل زندگی پر اٹیک ہوگا۔ اگرمیں یہ کہوں کہ آپ کے داماد نے آپ کی بیٹی کو طلاق کیوںدی؟۔ نہیں کہتا۔ مجھے شرافت اجازت نہیں دیتی۔ آپ نے ابھی نئی نویلی شادی کی۔ اس پر بھی مجھے اعتراض کرنے کا کوئی حق حاصل نہیں۔ لیکن میں آپ سے پوچھتا ہوں۔ آپ کے ڈاکٹر جو اس وقت آپ کے ساتھ ہوںگے۔ ڈاکٹر مبشر جو آپ کے بھائی کا لڑکا

399

ہے۔ آپ کا بھتیجا ہے۔ مرزا منور کا لڑکا ہے۔ اس نے ائیرکنڈیشنڈ اپنے کتے کے لئے لگوایا ہے۔ کیا ربوہ کے اندر رہنے والے تمام تر مرزائیوں کو ائیرکنڈیشنڈ کی سہولت میسر ہے؟

خلافت کا پراپیگنڈہ کرنے والو! میں آپ سے درخواست یہ کرنا چاہتا ہوں کہ ربوہ کے اندر آپ کے کتوں کے لئے ائیرکنڈیشنڈ لگا ہوا ہے۔ تو باقی وہاں کے رہنے والوں کے لئے بھی ائیرکنڈیشنڈ کا انتظام ہے؟۔ جو سارا دن دھوپ کے اندر وہاں تانگے چلاتے ہیں اور شام کو بصد مشکل ان کو روٹی ملتی ہے۔

طاہرہ یاسمین کا قتل؟

میں آپ سے درخواست کرنا چاہتا ہوں ۔ آپ ٹھنڈے دل کے ساتھ میری معروضات کو سنیں کہ آپ کے خاندان کے اندر ایک لڑکی رہتی تھی۔۲۲سال اس کی عمر تھی۔ یہ پرسنل اٹیک نہیں ہے۔ یہ قومی بات ہے۔ آپ کے ربوہ شہر کے اندر رہتی تھی۔ لڑکی کا نام طاہرہ یاسمین ہے۔ ۲۲سال کی نوجوان لڑکی۔ میں آپ سے پوچھنا چاہتا ہوں کہ اس طاہرہ یاسمین نے زہر کیوں کھایا تھا؟۔ اور رات کی تنہائیوں میں آپ کی ہدایت کے مطابق اسے مرزائی کارندوں نے رات کے ایک بجے تاریکی کے اندر کیوں قبرستان میں ڈالا؟۔ سوچئے! بار بار سوچئے! قیامت کے دن کے منظر کو سامنے رکھ کر سوچیں۔ ’’وَاِذَا الْمَوْؤٗدَۃُ سُءِلَتْ بَاَیِّ ذَنْبٍ قُتِلَتْ‘‘ اس بچی کا قصور کیا تھا؟ اس کے ساتھ کیا واردات ہوئی تھی کہ جس کے نتیجے میں وہ زہر کھانے پر مجبور ہوئی۔

مرزا ناصر کے بیٹوں نے کسی معصوم کو چھوڑا ہے

مرزا ناصر احمد! میں آپ سے درخواست کرتا ہوں۔ ہمارا عقیدہ ہے کہ:

⚛… ساری کائنات کا نظام بدل سکتا ہے

⚛… چاند ستارے بے نور ہوسکتے ہیں

⚛… آگ ٹھنڈی ہوسکتی ہے

⚛… پہاڑ اپنی جگہ سے ہل سکتے ہیں

⚛… پتھر سے آواز آسکتی ہے

400

مگر محمد ﷺ کا فرمان جھوٹا نہیں ہوسکتا۔ میرے محمد عربیﷺ کا ارشاد ہے:

’’مَنْ زَنَا زُنِیَ بِہٖ‘‘(کنزالعمال:ج۵،ص۳۱۴، رقم الحدیث:۱۲۹۹۸)

غیروں کی عزتوں کو تباہ کرنے والو۔ تمہاری عزت نہیں بچے گی۔ دنیا میں ہی حساب دے کر جاؤ گے۔ ربوہ کے اندر آپ کے صاحبزادوں نے کسی معصوم بچی کو چھوڑا ہے؟۔ میں تفصیلات میں گیاتو بڑی دردناک کہانی ہے۔ میں اپنی گورنمنٹ سے بھی درخواست کروںگا۔

⚛… ہمیں مرزا قادیانی پر کوئی اعتراض نہ ہوتا، اگر وہ اپنے آپ کو نبی کے طور پر پیش نہ کرتا

⚛… ہمیںمرزاناصر احمد پر کوئی اعتراض نہ ہوتا، اگر وہ اپنے آپ کو خلیفے کے طور پر پیش نہ کرتا

جس وقت مرزا قادیانی نے اپنے آپ کو نبی کے طور پر پیش کیا۔ ہمیں حق حاصل ہے کہ جیسے ہانڈی لینے کے لئے جاتے ہیں تو اسے ٹھوک بجا کر دیکھتے ہیں۔ ہم مرزا قادیانی کی زندگی کو

⚛… ٹھوکیں گے بھی

⚛… بجائیں گے بھی

⚛… دیکھیں گے بھی

کہ وہ اندر سے تھا کیا؟

ایک رات میں سترہ زنا

ربوہ کے اندر جو وارداتیں ہوئیں۔ تمہاری جماعت کے ایک آدمی نے لکھا، تمہارا عقیدہ ہے کہ یہ جو سالانہ حج ہے۔ آپ کے والد گرامی مرزابشیر الدین محمود نے اپنی کتاب حقیقت الرؤیا کے اندر لکھا کہ مکے اور مدینے کی چھاتیوں کا دودھ خشک ہوگیا ہے۔ اب وہاں جانے کی ضرورت نہیں ہے۔

(حقیقت الرؤیا:۴۶)

401

یہ جواب ربوہ کا سالانہ جلسہ ہے۔ یہ جو قادیان کا جلسہ ہے۔ اس جلسے کی حیثیت ظلی حج کی ہے۔

(خطبہ محمود، برکات خلافت:۵)

آپ کے اس حج کے موقع پر، ناراض نہ ہونا۔ پرنٹڈ میڑ ہے کہ ایک رات میں سترہ زنا کی وارداتیں ہوئیں۔

سوچئے! ٹھنڈے دل کے ساتھ سوچئے کہ کب تک آپ قتل کراتے رہیں گے؟۔ آپ نے وہاں ایک سبزی فروش محمد علی کو ربوہ کے اندر قتل نہیں کیا؟۔ ایک کشمیری کی لڑکی کو آپ کے صاحبزادے اغواء کر کے نہیں لے گئے تھے؟۔ بعد میں جس کے ساتھ نکاح کیا۔ آپ کے بیٹے فرید احمد نے۔ ربوہ کے لوگوں سے ویزوں کے لئے لاکھوں روپے لے کر فراڈ نہیں کیا؟

سوچئے! ان باتوں کو ٹھنڈے دل کے ساتھ سوچئے اور آج میں آپ سے کہنا چاہتا ہوں کہ آج کی ہماری اس گفتگو کو ٹھنڈے دل کے ساتھ سوچو: ’’میں قدرت کی طرف سے تمہیں وارننگ دینے کے لئے آیا ہوں۔ میں عرش الٰہی پہ لکھا ہوا دیکھ رہا ہوں کہ رب کعبہ کی قسم! اب تمہاری موت کے دن قریب آچکے ہیں۔‘‘

آخری بات

میری آخری بات یہ کہ حضرت مولانا انور شاہ کشمیری رحمۃ اللہ علیہ فرماتے تھے کہ جب قادیانیوں کا فتنہ اٹھا تو میں سوچتا تھاکہ یا اللہ! کیا ہوگا؟۔ تو خواب میں مجھے حضور سرور کائنات رحمۃ اللہ علیہ کی زیارت ہوئی۔ حضور ﷺ نے فرمایا: انور شاہ! تمہیں پریشان ہونے کی ضرورت نہیں۔ ایک وقت آئے گا کہ پوری کائنات میں تلاش کرنے کے باوجود تمہیں قادیانیوں کا بیج تک نہیں ملے گا۔ وہ وقت آگیا ہے۔ باہر کی دنیا میں تم ٹھوکریں کھارہے ہو۔ پاکستان کے اندر تمہارا نام چوہڑوں اور چماروں کے ساتھ آئینی طور پر لکھا گیا۔ تمہیں خوش نہیں ہونا چاہئے۔ وہ وقت قریب ہے جب قادیانیت کا اخیر ہونا ہے اور کل عالم میں جھنڈا حضور محمد عربیﷺ کی ختم نبوت ہی کا بلند وبالا ہونا ہے۔تاج وتخت ختم نبوت… زندہ باد

’’و ما علینا الا البلاغ المبین‘‘
402

مرزائیت کا تعاقب

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ

اَلْحَمْدُللہِ وَکَفیٰ وَسَلامٌ عَلیٰ سَیِّدِ الرُّسُلِ وَخَاتَمِ الْاَنْبِیَاءِ وَعَلیٰ اٰلَہٖ وَاَصْحَابِہِ الَّذِیْنَ ھُمْ خُلاَصَۃُ الْعَرَبِ الْعَرَبَاءِ وَخَیْرُ الْخَلاَءِقِ بَعْدَ الْاَنْبِیَاءِ۔ اَمَّا بَعْدُ! فَاَعُوْذُ بِاللہِ مِنَ الشَّیْطٰنِ الرَّجِیْمِ۔ بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ۔

و قال اللہ و تعالیٰ: یَا أَیُّہَا الَّذِیْنَ آمَنُواْ مَن یَرْتَدَّ مِنکُمْ عَن دِیْنِہِ فَسَوْفَ یَأْتِیْ اللّہُ بِقَوْمٍ یُحِبُّہُمْ وَیُحِبُّونَہُ أَذِلَّۃٍ عَلَی الْمُؤْمِنِیْنَ أَعِزَّۃٍ عَلَی الْکَافِرِیْنَ یُجَاہِدُونَ فِیْ سَبِیْلِ اللّہِ وَلاَ یَخَافُونَ لَوْمَۃَ لآءِمٍ (المائدہ:۵۴)

قال النبیﷺ: بَادِرُوْا بِالْاَعْمَالِ فِتَنًا کَقِطَعِ الْلَیْلِ الْمُظْلِمِ یُصْبِحُ الرَّجُلُ مُؤْمِنًا وَ یُمْسِیْ کَافِراً وَ یُمْسِیْ مُؤْمِنًا وَ یُصْبِحُ کَافِراً یَبِیْعُ اَحَدُھُمْ دِیْنَہٗ بِعِرَضٍ مِنَ الدُّنْیَا۔ (ترمذی ج۲ ص۴۳)
اَللّٰھُمَّ صَلِّ عَلیٰ سَیِّدِنَا وَ مَوْلٰنا مُحَمَّدٍ وَّعَلیٰ آلِ سَیِّدِنَا وَ مَوْلٰنا مُحَمَّدٍ وَّ بَارِکْ وَسَلِّمْ وَ صَلِّ کَذَالِکَ عَلیٰ جَمِیْعِ الْاَنْبِیَاءِ وَالْمُرْسَلِیْنَ وَعَلیٰ الْمَلاَءِکَۃِ الْمُقَرَّبِیْنَ وَعَلیٰ عِبَادِ اللہِ الصَّالِحِیْنَ اَجْمَعِیْنَ اِلیٰ یَوْمِ الدِّیْنِ۔

تمہید

برادران اسلام! صبح کی نشست میں ہم یہاں پر پہنچے تھے کہ مرزاقادیانی نے ایک پیشین گوئی کی اور وہ پوری نہیں ہوئی۔ مرزا قادیانی کی تاریخ پیدائش جو اس کی اپنی لکھی ہوئی ہے، اس کو دیکھو اور اس کی موت کو تو اس کی عمر کیا بنتی ہے، اب ہم اس کا جائزہ لیں گے:

مرزا قادیانی کا جھوٹ

برادران اسلام! مرزا قادیانی کی اپنی لکھی ہوئی کتابوں میں جو عمر بنتی ہے، وہ

403

۶۸، ۶۹ سال ہے۔ جب کہ مرزا قادیانی کی پیشن گوئی کا تقاضا تھا کہ اس کی عمر۷۴ سال سے ۸۶سال کے درمیان بننی چاہئے۔لیکن قادیانیوں کے لئے مرزا قادیانی کی تاریخ وفات کو آگے کرنا ممکن نہ تھا۔ چنانچہ انہوں نے تاریخ پیدائش کو بدل کر بجائے سن ۱۸۳۹ء، ۱۸۴۰ء کے اسے ۱۸۳۵ء پر لے گئے۔ آج تک قادیانیوں کو ہم نے بارہا مناظرے میں کہا۔ آپ دوستوں کے سامنے بھی اس کا تذکرہ کر دیتا ہوں کہ پوری قادیانیت مل کر مرزا قادیانی کی زندگی کی کسی کتاب میں ایک تحریر دکھا دیں، جس میں مرزا نے یا کسی نے لکھا ہو کہ مرزا قادیانی ۳۵ ۱۸ء میں پیدا ہوا۔

مرزائیوں کا جھوٹ

مرزا قادیانی خود اور اس کی ساری جماعت مرزا کی زندگی میں جب بھی مرزا قادیانی کی تاریخ پیدائش کا کسی حوالے سے ایسا ذکر کرنا ہوا، سب ہی یہی کہتے تھے کہ وہ ۱۸۳۹ء یا۴۰ء میں پیدا ہوا۔ مرنے کے بعد پوری قادیانیت نے سوچی سمجھی میٹنگ کرنے کے بعد ایک جھوٹ وضع کیا اور اس کے اوپر پوری قادیانیت نے اس جھوٹ کے اوپر اجماع کر لیا کہ مرزا قادیانی سن ۱۸۳۵ء میں پیدا ہوا تھا، تاکہ کسی طرح مرز ا قادیانی کی پیشین گوئی پوری ہو جائے۔

مرزا قادیانی کا استاد

اب میں درخواست کرتا ہوں کہ مرزا قادیانی ۱۸۳۹ء، ۴۰ء میں پیدا ہوا۔ اس کے بعد مرزا قادیانی گھر میں پڑھتا رہا۔ پھر خود مرزا قادیانی کہتا ہے کہ: گھر میں اس کے لئے ٹیچرز رکھے گئے جو آ کر گھر میں اس کو پڑھاتے تھے۔

(کتاب البریہ: ۱۴۸ تا۱۵۰، خزائن: ج۱۳، ص۱۷۹ تا۱۸۱)

مرزا قادیانی کے پڑھانے والوں میں جو اس کو آ کر پڑھاتے تھے، اس کے اندر غیر مقلد اساتذہ بھی تھے اور شیعہ بھی اور دوسرے حضرات بھی ہوں گے۔ ایک نہیں، تین چار آدمیوں کے پاس یہ پڑھتا رہا۔ اب میں درخواست کرتا ہوں کہ مرزا قادیانی نے تعلیم میں

404

معمولی شدبد حاصل کرنے کے بعد، کہ نہ پوری اسے انگریزی کی تعلیم تھی اور نہ پوری عربی کی تعلیم صحیح معنوں میں تھی۔ ’’نیم حکیم خطرہ جان…نیم ملا خطرہ ایمان ‘‘ کا وہ مصداق تھا۔

مرزا قادیانی کا دادے کی پنشن اڑانا

برادران اسلام! اس کے بعد مرزا غلام احمد قادیانی پھر مختلف مذاہب کی کتابوں کے مطالعے کی طرف متوجہ ہوا۔ عرصہ تک مرزا قادیانی اپنے باپ کی زمینوں کی بحالی کے لئے جو شرکاء تھے، ان سے کیس لڑتا رہا۔ اس دوران دادا کی پنشن لینے کے لئے وہ گیا۔ اس زمانے میں سستا زمانہ تھا، پیسے کی بڑی قدر و قیمت تھی۔ ایک آنہ میں ایک کلو بکری کا گوشت ملتا تھا۔ جو اس وقت چھ سو روپے سے بھی مہنگا ہے۔ آج کا چھ سو روپیہ اس زمانے کا ایک آنہ۔ تو مرزا قادیانی نے ۹۰۰ روپیہ اس زمانے میں اپنے دادا کی پنشن کا جو اس کو انگریز سے ملتی تھی، کہ وہ انگریز کی فوج کے اندر ملازم تھا اور یہ کہ انگریز ان کو وہ سالانہ پنشن جس طرح اپنے مراعات یافتہ طبقے کو وہ پنشن وغیرہ دیتا تھا، مرزا قادیانی کا خاندان بھی جدی پشتی انگریز کا ٹاؤٹ خاندان تھا۔ تو یہ وہ پیسے لینے کے لئے گیا تو مرزے قادیانی کا ایک چچا زاد بھائی تھا۔ مرزا امام دین اس کا نام تھا۔ وہ بھی ساتھ گیا۔ پنشن کی رقم لی اور پھر خود مرزے قادیانی کے بیٹے نے مرزے کی سیرت پر کتاب لکھی ہے۔ اس کتاب کا نام ہے ’’سیرۃ المہدی‘‘ اس کتاب کے اندر وہ تسلیم کرتا ہے کہ: ’’پنشن کی رقم لے کر امام دین مرزے قادیانی کو ساتھ لے کر ادھر ادھر پھراتا رہا اور وہ پنشن کی رقم ختم ہو گئی۔ وہ بڑا تھا اور مرزا قادیانی چھوٹا تھا۔ بڑی مشکل کے ساتھ مرزا قادیانی کی عمر ۱۸ سال تھی۔ لکھا ہے کہ ادھر ادھر پھراتا رہا اور مارے شرم کے مرزا قادیانی گھر آنے کے بجائے وہ سیالکوٹ چلا گیا۔‘‘

(سیرت المہدی حصہ اول: ص۱۸۱)

ادھر ادھر کا آپ حضرات خود شرح کر لیں۔ ادھر ادھر یعنی کبھی زیر کبھی زبر۔ ادھر ادھر اور پھر مارے شرم کے۔ بس ٹھیک ہے آگے نقطے ڈال لیں……اور خود ہی خالی جگہ خود پر کر لینا۔ مرزا قادیانی کو وہ ادھر ادھر لے کر پھراتا رہا۔

405

مرزا قادیانی کا امتحان میں فیل ہونا

پھر مرزا قادیانی نے آ کر سیالکوٹ میں ملازمت کر لی۔عرضی نویسی کے شعبے میں ڈپٹی کمشنر کے ہاں ملازم ہوا۔ انگریز کی اس نے ملازمت کی۔ اس زمانے میں باقاعدہ مرزا قادیانی انگریزی کی تعلیم حاصل کرنے کے لئے سکول بھی جاتا رہا۔ ان ملازمین کو انگریزی پڑھانے کے لئے ایک صاحب نے سکول قائم کیا تھا۔ شام کے وقت مرزا قادیانی اس کے اندر بھی پڑھتا رہا۔ صرف پڑھتا نہیں رہا بلکہ امتحان بھی دیا اور اس امتحان میں مرزا قادیانی کا ایک اور ساتھی تھا لالہ بھیم سین۔ یہ بھی گورنمنٹ کا ملازم تھا۔ اس نے بھی انگریزی کا امتحان دیا۔لالہ بھیم سین کامیاب ہو گیا اور مرزا قادیانی ناکام ہو گیا۔

(سیرت المہدی حصہ اول: ص۱۵۶، روایت ۱۵۰)

مولوی مسئلہ بتاتا ہے، بناتا نہیں

برادران عزیز!مولوی مسئلہ بتا سکتا ہے، بنا نہیں سکتا۔ مسئلہ بنانا شارع کا اختیار ہے، مولوی کا اختیار نہیں۔ اگر مولوی ایک مسئلہ بتائے گا غلط، تو دس علماء اس کی غلطی نکالنے کے لئے میدان میں آ جائیں گے۔ نماز یں جب تین تھیں، ان کو کوئی پانچ پڑھتا یا بتاتا تو کافر ہو جاتا۔ اب جب پانچ ہوئیں، اگر کوئی تین پڑھے گا یا بتائے تو مسلمان نہیں۔ جس وقت قبلہ بیت المقدس تھا، اس وقت کوئی بیت اللہ کی طرف رخ کرتا، نماز نہ ہوتی۔ اب جب قبلہ بیت اللہ ہے تو بیت المقدس کی طرف رخ کرے گا تو:

⚛… نما زبھی جاتی رہے گی

⚛… ایمان بھی جاتا رہے گا

⚛… نکاح بھی جاتا رہے گا

قبلہ! یہ نبی کا کام ہے کہ وہ اپنے رب کے حکم پر

⚛… نمازیں تین کی بجائے پانچ کر دے

⚛… قبلہ بیت المقدس کی بجائے بیت اللہ مقرر کر دے

406

مرزا قادیانی نبی کیسے بنا؟

انگریز کو ایک انگریز نے یہاں برصغیر میں اقتدار دیا تھا۔ مسلمانوں سے تو اسے سب سے زیادہ خطرہ تھا۔ انگریز اس خطرے کے پیش نظر ہر وقت یہ محسوس کرتا تھا کہ کسی طرح بھی مسلمان میرے مقابلے میں کھڑے ہو گئے تو مجھے ’’لینے کے دینے‘‘ پڑ جائیں گے۔ چنانچہ اسے ضرورت تھی ایک عدد ایسے حواری کی جو وحی کی سند کے ساتھ انگریز کی اطاعت پر انگریز کی غلامی پر نبوت کا ٹھپہ لگا دے کہ: انگریز کی اطاعت کرنا اب فرض ہے۔ یہ کام اب نبی کر سکتا تھا، کسی مولوی کے بس کی بات نہیں۔ چنانچہ انگریز کی نظر پڑی اس زمانے میں جس وقت مرزا قادیانی انگریز کے ڈپٹی کمشنر کے ہاں ملازم تھا۔ ایک نامی گرامی پادری جو سیالکوٹ کو چھوڑ کر ولایت واپس جا رہا تھا۔ وہ ڈپٹی کمشنر کے پاس آیا اور ڈپٹی کمشنر کو کہا کہ میں مرزا قادیانی سے ملاقات کرنا چاہتا ہوں۔ اس نے ملاقات کرائی۔ وہ مرزے قادیانی کو ملا۔ ادھر یہ پادری برطانیہ کو روانہ ہوا۔ ادھر مرزا قادیانی ملازمت سے استعفیٰ دے کر گھر آ گیا۔

(سیرت المہدی حصہ اول، ص۱۵۵)

اب خود مرزے قادیانی کا بیٹا کہتا ہے کہ گھر بیٹھے مرزے قادیانی کو منی آرڈر ملنے شروع ہو گئے، جس میں مرسل الیہ کا تو پتہ ہو تا مگر ارسال کنندہ کا پتہ نہیں ہوتا تھا۔بغیر اس کے کہ کس نے رقم بھیجی، منی آرڈر ملنے شروع ہو گئے۔ اب آپ حضرات ساری کڑیوں کو آپس میں ملائیں تو ساری بات بالکل واضح ہوتی چلی جائے گی۔

مرزا قادیانی انگریز کا ملازم

میرے بھائیو! ہوا یہ کہ ایک دفعہ ڈپٹی کمشنر گورداسپور کسی سرکاری معاملے کے ضمن میں بٹالہ وغیرہ کے دورے پر آیا۔ اسی دوران پھرتے پھراتے مرزے قادیانی کے والد سے اس کی ملاقات ہوئی۔ تو اس نے پوچھا کہ آپ کا بیٹا کیا کرتا ہے؟ اس نے کہا کہ کچھ اسے پڑھنے لکھنے کی شد بد تو ہے۔ لیکن ہے بیکار۔ تو اس نے کہا اچھا آپ کہیں تو ہم اسے کوئی ملازمت دے دیں گے۔ مرزا قادیانی کے والد نے مرزے کو بلا کر کہا کہ آپ

407

درخواست لکھیں، میں آپ کو سرکاری ملازم کرائے دیتا ہوں۔ تو مرزے قادیانی نے آگے سے باپ کو جواب یہ دیا کہ میں ملازم ہو گیا ہوں۔

(سیرت المہدی: ص۱۵۵)

اب یہ کہنا کہ میں ملازم ہو گیا ہوں اور بغیر بھیجنے والے کے نام اور پتہ کے منی آرڈروںکا ملنا یہ ساری تفصیلات مرزے قادیانی کی سیرۃ پر، ابتدائی حالات پر، قادیانیوں نے جو کتابیں لکھی ہیں مثلاً ’’سیرت مسیح موعود‘‘ جو مرزے قادیانی کے بیٹے مرزے محمود نے لکھی ہے۔ اسی نام پر ایک او ر کتاب لکھی گئی سیالکوٹ کا مرزے قادیانی کا ایک مریدتھا۔ اس کا نام تھا عبدالکریم ٹنڈا۔ ’’ٹنڈا‘‘ کا معنی جس کا ایک ہاتھ نہ ہو۔

⚛… اس کا ایک ہاتھ نہیں تھا

⚛… ایک پاؤں بھی خراب تھا

⚛… ایک آنکھ بھی خراب تھی

⚛… چہرہ کے اوپرداغ بھی تھے

⚛… قد بھی اس کا چھوٹا تھا

⚛… اور پیٹ بھی اس کا بڑا تھا

⚛… او رخیر سے مرزا قادیانی کا امام الصلوٰۃ بھی تھا

مرزا قادیانی اور اس کا امام الصلوٰۃ

ویسے ایک آدمی کا قد چھوٹا ہو۔ پیٹ بڑا ہو۔ ایک آنکھ بھی نہ ہو۔ ایک ہاتھ بھی نہ ہو۔ ایک پاؤں بھی نہ ہو ۔ اور وہ مرزے قادیانی کو پڑھائے نماز۔ماشاء اللہ! اس کے اندر خشوع خضوع بڑا پیدا ہوتا ہو گا۔

میرے بھائیو! اب توجہ کریں۔ مجھے بتایا گیا ہے کہ میری آواز بچیوں بیٹیوں تک بھی جا رہی ہے۔ اچھا ہوا بتا دیا گیا اس لئے میں بہت ہی محتاط رہتے ہوئے گفتگو کر رہا ہوں لیکن بعض چیزیں ایسی ضروری ہیں کہ آج تک کسی شریف آدمی نے ان کی وہ کیفیت نہیں دیکھی ہو گی جیسا کہ خود مرزے قادیانی کا ایک مرید تھا۔ مرزے نے کہا: میری محمدی بیگم سے

408

شادی ہو گی۔ شادی نہ ہوئی۔ لوگوں نے کہا کہ پیشن گوئی جھوٹی ہوئی۔ تو وہ آدمی (مرید) کھڑا ہوا اور اس نے مرزے قادیانی کو کہا کہ پیشن گوئی پوری ہو گئی ہے۔ میں محمدی بیگم ہوں اور تم میرے خاوند ہو۔ معاملہ یہاں تک ہوتا تو چلو دبے لفظوں قادیانیت شاید ہضم کر لیتی۔

کہتے ہیں: ’’رب رسے تے مت کھسے‘‘{رب جب ناراض ہوتا ہے تو عقل چھین لیتا ہے۔}

خود مرزے قادیانی کے بیٹے نے اپنی کتاب ’’سیرۃ المہدی‘‘ میں مرزے قادیانی کے جو حالات جمع کرنے چاہے اس میںبھی یہ روایت درج کر دی کہ نماز کے دوران وہ آدمی آ کر پیچھے کھڑا ہو جاتا۔ مرزا قادیانی جب سجدہ میں جاتا تو وہ صفیں پھلانگ کر مرزے کے پاس آ تا اور اس کے جسم پر نامناسب جگہ پر ہاتھ پھیرتا۔

(سیرت المہدی: ج۳، ص۲۶۸، روایت ۱۲۶۹؍ از مرزا بشیر احمد ایم اے)

ماشاء اللہ! سجدہ کی حالت میں پیچھے سے ہاتھ پھیرا جارہا ہے۔ آج تک کسی شریف آدمی کے ساتھ یہ نہیں ہوا جو مرزا قادیانی نبوت کا مدعی ہو کر جس کردار کا یہ مظاہرہ کر رہاہے۔

عزیز دوستو!

⚛… نہ حیا، نہ شرم

⚛… نہ دین کے، نہ دنیا کے

⚛… نہ عقل، نہ شکل

⚛… نہ صورت،نہ سیرت

⚛… نہ علم، نہ عمل

اور اس مرزے قادیانی کا دعویٰ یہ کہ میں محمد ﷺ سے بھی افضل ہوں۔ معاذ اللہ!اب یہ جو نامناسب طور پر ہاتھ پھیرتا رہا۔ یہ قرض رہا۔ پھر کسی مجلس میں آپ دوست مجھ سے پوچھیں گے جب خواتین کا اہتمام نہ ہو۔

409

مرزا قادیانی تصنیف کے میدان میں

میرے بھائیو! اب مرزا قادیانی نے ابتداء میں ایک کتاب لکھنے کا اعلان کیا۔ یہ میں مرزے کے حالات بتا رہا ہوں۔ یہ کوئی مسئلہ نہیں۔ اس لئے بتا رہا ہوں تاکہ قادیانیوں کو سمجھنے میں آپ حضرات کا ذوق پیدا ہو جائے۔ مرزے قادیانی نے اس مطالعے کے نتیجے میں اعلان کیا کہ میں اسلا م کی حقانیت اور قرآن کی حقانیت پر ایک کتاب لکھنا چاہتا ہوں اور اس کی پچاس جلدیں ہوں گی۔

اللہ کا نبی مصنف نہیں ہوا کرتا

میرے بھائیو! آج تک سیدنا آدم ں سے لے کر سیدنا محمد ﷺ کی ذات تک ایک نبی ایسا نہیں گزرا جو مصنف ہو۔ کسی نبی نے کوئی کتاب نہیں لکھی۔ نبی کتاب لکھا نہیں کرتا۔ نبی کو کتاب ملا کرتی ہے۔ مرزے قادیانی نے کہا کہ میں پچاس جلدیں لکھوں گا۔ تین قسم کی اس کی قیمت مقرر کی کہ غریب اتنی قیمت دے دیں اور امیر اتنی دے دیں۔ کتاب لکھی پہلی جلد، دوسری، تیسری اور چوتھی۔ وہ کتاب، مجھے کہتے ہوئے لحاظ آتا ہے کہ وہ کتاب کیا تھی کہ ایک جملہ ایک جلد میں ہے اوراسی جملے کا آدھا حصہ دوسری جلد میں ہے۔ مثال کے طور پر جملہ ہے کہ ’’میں یہ کہنا چاہتا ہوں‘‘۔ تو ’’میں یہ‘‘ پہلی جلد میں ہے اور ’’کہنا چاہتا ہوں‘‘ یہ دوسری جلد میں ہے۔ آج تک کسی بھی مصنف نے ایسا ڈرامہ نہیں رچایا ہو گا جو الو کے پٹھے مرزے قادیانی نے رچایا۔ خیر سے مرزے قادیانی کی قابلیت کا یہ عالم تھا آپ دوست سوچیں کہ مرزے قادیانی نے اپنی ایک کتاب میں لکھنا چاہا کہ ’’فلاں آدمی پر، جو ان باتوں کو نہیں مانتا اس پر ہزار لعنت‘‘ یہ اتنا خبطی آدمی تھا کہ یہ اتنا لکھ دیتا کہ اس پر ہزار لعنت بلکہ اس پراتفاق نہیں کیا۔ ہندسے بھی لکھے اور نمبر بھی ڈالے۔ لعنت نمبر۱، لعنت نمبر۲، لعنت نمبر ۳۔ لکھتے لکھتے ہزار دفعہ لفظ اور ہزار دفعہ ایک سے لے کر ہزار تک ہندسے بھی ڈالے پانچ صفحے اپنی کتاب کے صرف لعنت لکھنے پر خرچ کر دیئے۔

ہمارے بزرگ تھے مولانا قاضی احسان احمد شجاع آبادی رحمۃ اللہ علیہ، وہ فرماتے تھے

410

یہ قادیانیوں کا’’درود ہزارہ‘‘ ہے۔ ماشاء اللہ! یہ جو لعنت، لعنت کی گردان چل رہی ہے۔ اگر خرچ اتنا ہے تو آمدن کتنی ہو گی۔

تصنیف سے کوئی نبی نہیں بنتا

میرے بھائیو! میں درخواست کرتا ہوں آپ دوست سوچیں گے کہ یہ جو مرزا قادیانی کتابیں لکھتا تھا شاید کوئی بڑا عالم دین ہو گا۔ چلیں! آپ کے اس نقطے کو بھی حل کئے دیتا ہوں۔ ایک کتاب امام احمد بن حنبلؒ کی ہے۔ جس کا نام ’’مسند احمد‘‘ ہے۔ اس کی اب تخریج ہو کر آئی ہے۔ اب پچاس جلدوں سے زیادہ پر وہ مشتمل ہے۔ ایک کتاب ’’تاریخ دمشق‘‘ ابن عساکرc کی تخریج کے بعد ایک سو بیس جلدوں میں اب باہر آئی ہے۔ آپ حضرات کے اس مدرسہ کی لائبریری میں وہ تفسیر بھی غالباً موجود ہے جس کی ایک سو بیس جلدیں ہیں۔ اگر کتابیں لکھنے سے کوئی نبی بن سکتا ہے، تو میرے خیال میں ۷۰ سے زیادہ کتابیں تو میں نے بھی لکھ دی ہیں۔ یہ کیا ہوا کوئی آدمی کتابیں لکھنے سے اچھا مصنف ہو سکتا ہے۔ اگر اس کی کتابوں میں کچھ میٹر ہو، اچھا لکھنے والا ہو سکتا ہے۔ نبی نہیں ہو سکتا۔ نبوت قلم کار نہیں ہوا کرتی۔

مرزا قادیانی کی عربی دانی

بھائیو! جہاں تک مرزا قادیانی کا حال ہے آپ حضرات اہل علم ہیں۔ میں ایک بات اور عرض کرتا ہوں آپ کے ذوق کے لئے کہ مرزا قادیانی نے اپنی ایک کتاب میں بحث اٹھائی، یہ جو فاحشہ عورتیں ہیں، یہ غیر محرم مردوں کے ساتھ تعلق قائم کر کے بوس و کنار کرتی ہیں۔ یہ عربی میں اس کو لکھنا چاہتا ہے’’وبو سھن و کنارھن‘‘ اب کوئی بالکل ابتدائی درجے کا صرف و نحو پڑھا ہوا بھی جانتا ہے اس بات کو کہ یہ بوسہ عربی کا لفظ نہیں۔ لیکن مرزا قادیانی کے علم کی یہ حالت تھی اور اس کی لکھائی کی رفتار کا یہ عالم تھا پچاس جلدیں لکھنے کا وعدہ کیا۔ چار کتابیں لکھیں۔ عرصہ تک لوگوں سے پیسے لئے گئے پچاس جلدوں کے اور کتابیں دیں چار۔ چھیالیس کتابوں کے پیسے اس کے نام۔ عوام کتاب کا مطالبہ کرتے ہیں

411

اور حضرت صاحب کتاب لکھنے کا نام نہیں لیتے۔ اور کتابیں لکھتا رہا، یہ کتاب نہیں لکھی۔ لوگوں نے کہا: پیسے لئے۔ یہ کیا وعدہ خلافی ہے۔

⚛… تم بڑے حرام خور ہو

⚛… تم بڑے جھوٹے ہو

⚛… تم بڑے مکار ہو

⚛… تم بڑے وعدہ خلاف ہو

طرح طرح کی باتیں ہوئی تو مرزے قادیانی نے براہین احمدیہ کی پانچویں جلد لکھی۔ اس میں لکھا کہ:

’’میرا پچاس جلدیں لکھنے کا ارادہ تھا لیکن پچاس اور پانچ میں صرف ایک صفر کا فرق ہے۔‘‘

(براہین احمدیہ حصہ پنجم، دیباچہ: ص۷، خزائن ج۲۱، ص۹)

صفر کی کوئی قدر نہیں ہوتی۔ لہٰذا پانچ لکھنے سے پچاس کا وعدہ پورا ہو گیا۔

مرزا قادیانی کی دغابازی

اب میری بات کو سمجھیں۔ اس الو کے پٹھے کا یہ کہنا کہ صفر کی کوئی قیمت نہیں ہوتی۔ ہندسے لکھنے میں جتنی صفر کی قیمت ہے، اتنی توکسی اور ہندسے کی قیمت نہیں۔

⚛… صفر کو ایک کے ساتھ لگاؤ تو یہ اسے دس بنا دے گی

⚛… صفر کو دس کے ساتھ لگاؤ تو یہ اسے سو بنا دے گی

⚛… صفر کو سو کے ساتھ لگاؤ تو یہ اسے ہزار بنا دے گی

⚛… صفر کو ہزار کے ساتھ لگاؤ تو یہ اسے دس ہزار بنا دے گی

جبکہ مرزا قادیانی کہتا ہے کہ صفر کی قیمت کوئی نہیں ہوتی۔ بہر حال اب اس کا آسان علاج تو یہ ہے جو ہمارے بزرگوں نے کہا اور لوگوں نے تجربہ کیا۔ ایک صاحب قادیانی کی دکان پر گئے۔ اس نے پچاس روپے لئے۔ ادائیگی کی تاریخ مقررہوئی۔ اس تاریخ کو یہ گئے، انہوں نے جا کر اسے پانچ روپے دیئے۔

412

⚛… قادیانی نے کہا: جی! باقی روپے؟

⚛… اس صاحب نے کہا: وہ جی ایک صفر کی بات ہے وہ خود لگالینا

⚛… قادیانی نے کہا: یہ کیا کرتے ہو؟

⚛… اس نے کہا: یہ ہوتا ہے

⚛… قادیانی نے کہا: میاں! تم نے مجھ سے پچاس لیا تھا

پانچ دے رہے ہو، حرام کھا رہے ہو۔پنتالیس نکالو

⚛… اس نے کہا: میاں! غصے کیوں ہوتے ہو؟ یہ صرف ایک صفر کی تو بات ہے۔ گھر جا کے لگا لینا

⚛… قادیانی نے کہا: پینتالیس نکالو۔ یہ کیاہے؟

⚛… جب غصے میں آ کر قادیانی نے کہا: یہ کیا ہے؟

⚛… تو اس صاحب نے کہا: وہ کیا ہے؟

⚛… قادیانی نے کہا :وہ کیا ہوتا ہے؟

⚛… اس نے کہا: میں جو کہہ رہا ہوں، یہ مرزا قادیانی نے کہا تھا

میں اگر جھوٹا ہوںتو مرزا قایانی بھی جھوٹا ہے اور اگر مرزا سچا تھا اور پینتالیس لینے ہیں تو یہ کہہ دو کہ مرزا قادیانی نے وہ جو عبارت لکھی تھی، اس کو جھوٹا کہو، پیسے لے لو۔ اگر عبارت صحیح ہے تو پھر پینتالیس گئے۔ اب قادیانی کو بڑی مشکل پیش آئی۔ مرزا کو سچا کہے تو پینتالیس گئے۔ اور اگر پینتالیس لینے ہیں تو مرزاہاتھ سے جاتا ہے۔ اس نے کہا جی وہ جانے اور اس کا کام جانے۔ مجھے تو پینتالیس دو۔

قادیانی دجل اور اس کا جواب

میرے بھائیو! قادیانیوں کے دجل کو سمجھنے کی کوشش کریں۔ ایک دو گھنٹے میں قادیانیوں کے دجل کو آپ دوستوں پر واضح کرنا مجھ مسکین کے لئے ممکن نہیں۔ آپ دوستوں کو صرف میں روشناس کرانا چاہتا ہوں۔ آپ دوست سمجھیں مثلاً قادیانیوں کو کہا گیا

413

کہ مرزا قادیانی نے پچاس کتابوں کے پیسے لئے اور کتابیں پانچ دیں۔ پینتالیس کتابوں کے یہ پیسے کھا گیا تو یہ حرام خور تھا۔ قادیانی نے اس کا جواب دیا کہ: اللہ تعالیٰ نے حضور ﷺ پر نمازیں فرض کی تھیں پچاس۔ اللہ نے پچاس کو پانچ کر دیا۔ مرزا نے بھی پچاس کو پانچ کر دیا۔ اس نے تو سنت اللہ پر عمل کیا ہے۔

اب میں آپ دوستوں کی خدمت میں عرض کرتا ہوں کہ قادیانیوں کے صرف اسی دجل کو سمجھیں تو قادیانیت کی کمینگی آپ دوستوںپر واضح ہو جائے گی کہ ہمیشہ قیاس کرنے کے لئے مقیس اور مقیس علیہ کے لئے ہم وزن ہونا ضروری ہے۔ خالق کے کاموں کو مخلوق کے کاموں پر اور مخلوق کے کاموں کو خالق کے کاموں پر قیاس کرنا یہ قیاس مع الفارق ہے اور قیاس مع الفارق حرام ہوتا ہے۔ اب کیا کیا جائے اس امر کاایک یہ جواب ہوا۔ دوسرا یہ کہ اللہ پاک نے نمازیں لینی تھیں، امت نے دینی تھیں۔ لینے والے کو حق پہنچتا ہے کہ میں نے اپنا حق معاف کیا۔ دینے والے کو بھی حق پہنچتا ہے کہ وہ کہہ دے کہ اب میں پچاس کے بجائے پانچ دوں گا؟۔ دینے والے کو بھی کبھی حق پہنچتا ہے؟

تیسرا جواب یہ کہ اللہ پاک پروردگار عالم نے فرمایا کہ آپ کی امت نمازیں پڑھے پانچ ثواب پچاس کا دوں گا۔ یعنی اللہ فرماتے ہیں پانچ دو، پچاس لو۔ مرزا کہتا ہے پچاس دو پانچ لو۔ میں نے تین جواب دیئے۔ الحمداللہ! تینوں جوابوں کو نہ کوئی قادیانی توڑ سکا ہے اور نہ ان جوابات کو توڑ سکے گا۔

مرزا قادیانی اپنے فتویٰ کی روسے کافر

میرے بھائیو! اب آپ حضرات توجہ کریں کہ مرزا قادیانی نے اسی اپنی کتاب براہین احمدیہ میں جو اس کی پہلی کتاب تھی، قرآن مجید سے استدلال کر کے کہا کہ: ’’حضور ﷺ آخری نبی ہیں۔ حضور ﷺ کے بعد جو نبوت کا دعویٰ کرے، وہ کافر ہے۔‘‘

(مجموعہ اشتہارات: ج۱،ص ۲۳۰،۲۳۱)

اپنی اسی کتاب میں یہ کہا کہ:’’ ھُوَ الَّذِیْ أَرْسَلَ رَسُولَہُ بِالْہُدَی وَدِیْنِ

414

’’ الْحَقِّ لِیُظْہِرَہُ عَلَی الدِّیْنِ کُلِّہِ۔(الصف:۹) یہ آیت جسمانی اور سیاست ملکی کے طور پر حضرت مسیح کے حق میں پیشگوئی ہے اور جس غلبہ کاملہ دین اسلام کا وعدہ دیا گیا ہے وہ غلبہ مسیح کے ذریعہ سے ظہور میں آئے گاجب حضرت عیسیٰ علیہ السلام دوبارہ اس دنیا میں تشریف لائیں گے تو ان کے ہاتھ سے دین اسلام جمیع آفاق و اقطار میں پھیل جائے گا۔‘‘

(براہین احمدیہ: ج۱،ص۴۹۸، خزائن:ج۱،ص۵۹۳)

وہ اپنی پہلی تصنیف(براہین)میں، آسمانی قرآن مجید کی آفاقی آیات مبارکہ کے حوالے سے خود تسلیم کرتا ہے کہ حضور ﷺ آخری نبی ہیں اور یہ کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام قرآن مجید کے نقطہ نظر سے دوبارہ اس دنیا میں تشریف لائیںگے۔ جس وقت مرزا قادیانی یہ کتاب لکھ رہا تھا، اس وقت :

⚛… خود کو مامور من اللہ بھی کہتا تھا

⚛… خود کو مجدد بھی کہتا تھا

⚛… خود کو ملہم من اللہ بھی کہتا تھا

یعنی اپنے متعلق یہ کہتا تھا کہ مجھے اللہ کی طرف سے الہام ہوتے ہیں۔ اب

⚛… مأمور من اللہ ہونا

⚛… مجدد کی شان رکھنا

⚛… ملہم من اللہ ہونا

ان تمام تر دعوؤں کے باوجود مرزا قادیانی اس زمانے میں کہہ رہا تھا کہ سیدنا عیسیٰں زندہ ہیں اور حضور ﷺ بھی آخری نبی ہیں

علماء لدھیانہ کا کفر کا فتویٰ

اب میںآپ دوستوں کی خدمت میں عرض کرتا ہوں کہ جس وقت مرزا قادیانی کی یہ کتاب سامنے آئی، اس وقت ہمارے بزرگان دین، علماء لدھیانہ میں سے مولانا عبدالعزیز لدھیانوی ؒ، مولانا محمد لدھیانوی ؒ ان حضرات نے مرزا قادیانی کے یہ خود ساختہ الہام پڑھنے کے بعد کہہ دیا کہ مرزا قادیانی یہ ملحد ہے۔ یہ زنادقہ کی طرف جا رہا

415

ہے۔ اس کا راستہ نہ روکا گیا تو یہ ارتداد اختیار کر لے گا۔ چنانچہ انہوں نے ابتداء ہی میں اس کے متعلق کہہ دیا کہ یہ ملحد اور زندیق ہے۔ یہ مسلمانوں کے زمرے میں شامل نہیں۔

میرے بھائیو! ایک اور بزرگ تھے مولانا غلام دستگیرc۔ یہ قصور کے تھے۔ انہوں نے مرزا قادیانی کے ان الہامات کو پڑھنے کے بعد مرزا قادیانی کو خط لکھا کہ تم مجھے وقت دو، میں تمہارے ساتھ:

⚛… رو برو بیٹھ کر

⚛… آمنے سامنے بیٹھ کر

⚛… شانہ بشانہ بیٹھ کر

⚛… زانوبہ زانو

تمہارے الہامات پر تمہارے ساتھ گفتگو کرنا چاہتا ہوں۔ لیکن مرزا قادیانی کو سامنے آنے کی جرأت نہ ہوئی۔ تب مولانا غلام دستگیر قصوری ؒ نے فتویٰ مرتب کر کے عرب کے علماء کے پاس بھجوایا۔ وہاں سے ان لوگوں نے کہا کہ: جس آدمی کے یہ دعوے ہیں کہ مجھے یہ الہام ہوتا ہے، یہ الہام ہوتا ہے۔ یہ ہوتا ہے، یہ آدمی اہل سنت میں شامل نہیں اور یہ شخص ملحد اور زندیق ہے۔ اس سے بچنا امت کے لئے لازمی ہے۔ مولانا غلام دستگیر قصوری ؒ جس زمانے میں مرزا قادیانی کے متعلق فتوے مانگ رہے تھے۔ مولانا عبداللہ لدھیانوی ؒ، مولانا غلام دستگیر قصوری ؒ اور لدھیانہ کے علماء مرزا قادیانی کے مقابلے میں خم ٹھونک کر میدان میں آئے تھے

اس زمانے میں اہلحدیث مکتبہ فکر کے عالم دین مولانا محمد حسین بٹالوی ؒ وہ مرزا کی صفائی کے وکیل ہونے کا کردار ادا کر رہے تھے۔ مرزا قادیانی کے ان تمام تر خود ساختہ الہامات کو وہ تاویل کے چکر میں گول کر کے نکال دینا چاہتے تھے کہ کسی طرح پاس ہوجائے۔ اس زمانے میں انہوں نے براہین احمدیہ پر ایک تقریظ بھی لکھی۔ وہ تقریظ آج تک گلے کی اندر اٹکی ہوئی ہے کہ اس میں بہت ساری انہوں نے مرزا قادیانی کی تائید اور حمایت بھی کی۔ لیکن اس کریم کے کرم کے اپنے فیصلے ہوتے ہیں

416

ادھر علماء کرام کھڑے ہوئے۔ مرزا قادیانی لدھیانہ آیا تو لدھیانہ کے اندر علماء نے اسے مناظرے کا چیلنج دیا۔ ادھر رب کریم نے کرم کیا کہ مولانا غلام دستگیر قصوری کے پاس وہاں سے فتوے آ گئے۔ فتوے آنے کے بعد ان حضرات نے کمال دیانت دکھائی کہ انہوں نے فتوے کو شائع نہیں کیا۔

اس زمانے میں جو رئیس نامی گرامی تھے، ان کو انہوں نے کہا کہ: آپ مرزے قادیانی کے ساتھ رابطہ قائم کریں۔ میرے پاس فتوے بھی آ گئے ہیں، میری اپنی رائے بھی ہے۔ مرزا قادیانی کفر کے راستہ پر چل نکلا ہے۔ یہ میرے ساتھ بیٹھ کر مناظرہ کر لے۔ اگر توبہ کرتا ہے تو میں فتویٰ شائع نہیں کرتا اور اگر مرزا قادیانی توبہ نہیں کرتا تو پھر میں مجبور ہو جاؤں گا اس بات پر کہ ان تمام تر فتویٰ جات کو چھاپ دوں۔ ادھر اللہ نے کرم کا معاملہ کیا کہ محمد حسین بٹالوی پر بھی حقیقت منکشف ہوگئی۔اس نے بھی اعلان کر دیا کہ مرزا قادیانی کافر ہے۔ اب وہی جو اس کے حامی، وہ بھی اس کے مخالف قرار پائے۔ اس کی تفصیلات ہیں میں ان تفصیلات میں نہیں جا رہا۔ مجھے اور آگے بہت سارا سفر کرنا ہے۔

حاجی امداد اللہ رحمۃ اللہ علیہ کاپیرمہرعلی شاہ رحمۃ اللہ علیہ کومرزا کے تعاقب کا حکم

میرے بھائیو! اس زمانے میں جبکہ مرزا قادیانی نے ابھی جھوٹی نبوت کا دعویٰ نہیں کیا تھا۔ چھوٹے موٹے اور دعوے کر رہا تھا۔ ابھی نبوت کا دعویٰ صراحت کے ساتھ نہیں کیا تھا۔ اس زمانے میں حضرت حاجی امداد اللہ مہاجر مکی ؒ یہاں سے ہجرت کر کے حجاز مقدس تشریف لے گئے۔ حضرت مولانا پیر مہر علی شاہ گولڑوی ؒبھی یہاں سے سفر کر کے حجاز مقدس گئے۔ حضرت حاجی امداد اللہ مہاجر مکی ؒ، حجاز مقدس میں پہلے تشریف فرما تھے۔ حضرت حاجی امداد اللہ رحمۃ اللہ علیہ کی ان سے ملاقات ہوئی۔ مولانا پیر مہر علی شاہ گولڑوی ؒ کو حضرت حاجی امداداللہ صاحب رحمۃ اللہ علیہ نے پہلی مجلس میں بیعت بھی کیا۔ خلافت بھی دی۔

417

اب آپ حضرات یہ سمجھیں۔ یہ یار لوگوں نے اپنی گفتگو کی وجہ سے یہ بہت ساری خلیج حائل کر دی۔ ورنہ یہ حضرت پیر مہر علی شاہ گولڑوی ؒ اور مولانا محمد قاسم نانوتوی رحمۃ اللہ علیہ یہ دونوں ایک استاد کے شاگرد ہیں۔ اور یہ شاگرد ہیں حضرت مولانا احمد علی محدث سہارنپوری ؒ کے۔ مولانا احمد علی سہارنپوری ؒ وہ ہیں جو مظاہر العلوم سہارنپور مدرسہ کے بانی بھی تھے۔ اب میں آپ حضرات سے درخواست کرتا ہوں اور وہ آگے چل کر ان کا سلسلہ پہنچا ہے حضرت مولانا عبدالعزیز محدث دہلوی ؒ کے ساتھ۔

تحفظ ختم نبوت اور بزرگان دین

میرے بھائیو! اب آپ حضرات توجہ کریں۔ حضرت مولانا رشید احمد گنگوہی رحمۃ اللہ علیہ اور حضرت مولانا محمد قاسم نانوتوی رحمۃ اللہ علیہ یہ دونوں بھی خلیفہ ہیں حضرت حاجی امداد اللہ مہاجر مکی ؒ کے اور پیر مہر علی شاہ گولڑوی ؒ بھی خلیفہ ہیں۔ حضرت حاجی امدا د اللہ رحمۃ اللہ علیہ کے ایک۔ ہمارے پنجاب کے اندر لڑی نکلتی ہے، یہ جو تونسہ والے حضرات ہیں۔ میری مراد حضرت گولڑوی ؒ، حضرت خواجہ سلیمان تونسوی ؒ سے بیعت تھے۔ یہ آپ کے سیال شریف والے بھی ان سے بیعت تھے۔

اب میں آپ حضرات سے درخواست کرتا ہوں کہ حضرت پیر مہر علی شاہ گولڑوی ؒ کا ایک سلسلہ وہ ہے اور ایک سلسلہ یہ ہے اور رب کریم کی شان بے نیازی آپ حضرات میرے متعلق چاہیں جو رائے قائم کریں لیکن یہ حقیقت ہے کہ میرے نزدیک جس آدمی نے ساری زندگی میں مرزا قادیانی کے خلاف ایک قدم بھی اٹھایا ہے۔ میں آج بھی اسے امت کا محسن سمجھتا ہوں۔ میری یہ رائے ہے ،غلط ہو سکتی ہے۔ اختلاف کرنا آپ دوستوں کا حق ہے۔ میں دیکھتا ہوں کہ وقت آیا تو یہی اپنے تونسہ والے یہی سیال شریف والے خود حضرت پیر مہر علی شاہ صاحب رحمۃ اللہ علیہ زندگی بھر مرزا قادیانی کے مقابلے میں سینہ تان کر بہادروں کی طرح سامنے کھڑے رہے۔

418

بھائیو! میں اب عرض کرتا ہوں کہ حضرت حاجی امداد اللہ مہاجر مکی ؒ نے مولانا پیر مہر علی شاہ گولڑوی ؒ کو بیعت کیا اور خلافت دی اور ساتھ میں حاجی صاحب رحمۃ اللہ علیہ نے پیر مہر علی شاہ گولڑوی ؒ کو فرمایا کہ آپ تشریف لے جائیں ہندستان میں، وہاں ایک فتنہ سر اٹھانے والا ہے۔ حق تعالیٰ شانہ آپ سے اس فتنہ کے خلاف کام لیں گے۔ اگر آپ کام کریں گے تو اللہ آپ کو اجر دیں گے۔ خالی آپ بیٹھے بھی رہے تو آپ کا خالی بیٹھے رہنا بھی فائدہ سے خالی نہیں ہو گا۔

حضرت پیر مہر علی شاہ گولڑوی ؒ فرماتے ہیں کہ: میں واپس آیا، میری توجہ نہ گئی کہ فتنہ سے مراد کیا ہے۔ حتیٰ کہ مرزا قادیانی نے نبوت کا دعویٰ کیا تو خواب میں مجھے رحمت عالم ﷺ کی زیارت ہوئی۔ حضور ﷺ نے فرمایا:

’’مہر علی شاہ! مرزا قادیانی بمقراض الحاد احادیث من را پارہ پارہ مے کرد و تو خاموش نشستی‘‘{مہر علی شاہ! مرزا قادیانی بے دینی کی قینچی لے کر میرے دین کے ٹکڑے کر رہا ہے اور تم خاموش بیٹھے ہو۔}

میرے بھائیو! تب امت مسلمہ نے اس کے خلاف جدوجہد کی۔ جماعتی حیثیت میں آگے چل کر یہ اعزاز حاصل ہوا حضرت مولانا سید انور شاہ کشمیری رحمۃ اللہ علیہ کو۔ حضرت مولانا انور شاہ کشمیری رحمۃ اللہ علیہ نے مولانا محمد یوسف بنوری رحمۃ اللہ علیہ، مولانا بدر عالم میرٹھی ؒ، مولانا محمدادریس کاندھلوی ؒ، مولانا سید عطاء اللہ شاہ بخاری ؒ، مولانا مفتی محمد شفیعc، حضرت مولانا مرتضیٰ حسن چاند پوری ؒ، علامہ شبیر احمد عثمانی ؒ اور مولانا ثناء اللہ امرتسری ؒ جیسے عظیم مناظرین کو انہوں نے میدان میں اتارا۔

ایک تازہ دم فوج کے جرنیل، مرزا قادیانی کے مقابلے میں یہ آئے تو مرزے قادیانی کو ان سے جان چھڑانا مشکل ہو گئی۔ اس کی تفصیلات ہیں اور ان تفصیلات کو بیان کرنا اس مختصر وقت میں مجھ مسکین کے لئے ممکن نہیں۔

419

مرزا قادیانی کے کفر پر تمام مکاتب فکرکااجماع

میرے بھائیو!انفرادی طور پر فتوے آتے رہے۔ مولانا غلام دستگیر نے بھی فتویٰ جاری کیا۔ میں دیکھتا ہوں مولانا محمد حسین بٹالوی نے بھی فتویٰ دیا اور پھر میں دیکھتا ہوں کہ ایک وقت آیا کہ آپ حضرات کے دارالعلوم دیوبند سے ایک فتویٰ حضرت مولانا سہول خان صاحب نے مرتب کیا۔ وہ اتنا جامع فتویٰ ہے کہ آج ایک صدی سے زیادہ وقت گزر نے کے باوجود اس میں ایک جملہ کا بھی اضافہ کرنا یا ایک کلمہ کی کمی کرنا اب بھی ممکن نہیں۔ وہ اتنا جامع فتویٰ ہے، چھ سو کے قریب آپ حضرات کے اس برصغیر کے خطہ کے تمام اکابر علماء:

⚛… حضرت مولانا رشید احمدگنگوہی رحمۃ اللہ علیہ ہوں

⚛… حضرت شیخ الہندمحمود حسن دیوبندی ؒ ہوں

⚛… حضرت مولانا خلیل احمد سہارنپوری ؒہوں

⚛… حضرت شاہ عبدالرحیم رائے پوریؒہوں

⚛… حضرت مولانا اشرف علی تھانوی ؒہوں

⚛… حضرت مولانا سید انور شاہ کشمیری رحمۃ اللہ علیہ ہوں

⚛… حضرت مولانا پیر مہر علی شاہ گولڑوی ؒہوں

⚛… وہ چاہے رام پورکے حضرات علماء کرام ہوں

⚛… وہ چاہے کان پور کے حضرات علماء کرام ہوں

⚛… وہ چاہے دہلی کے حضرات زعماء ہوں

⚛… وہ دیکھیں مولانا ثناء اللہ امرتسری

⚛… وہ دیکھیں مولانا نذیر حسین

⚛… وہ دیکھیں مولانا محمد حسین بٹالوی

⚛… وہ دیکھیں علامہ علی الحائری

420

اس زمانے میں ان تمام حضرات علماء کرام نے دیوبندی، بریلوی، شیعہ، سنی کی تمیز کئے بغیر تمام تر مکاتب فکر جو آپ حضرات کے برصغیر میں پائے جاتے تھے، چھ سو علماء کرام نے یہ فتویٰ جاری کیا۔ کم از کم آج کی زبان میں میں یہ کہتا ہوں کہ آج اس فتوے پر برصغیر کے علماء کا اجماع منعقد ہوا اس بات پر کہ مرزا قادیانی اور اس کے ماننے والے کافر ہیں۔

مرزا قادیانی کے کفر پر عدالتوں کا فیصلہ

میرے بھائیو!اس کے بعد پھر عدالتی سطح پر جدوجہد شروع ہوئی

⚛… بھاگلپور میں ایک کیس چلا

⚛… ڈیرہ غازیخان کے اندر ایک کیس چلا

⚛… بہاولپور کے اندر ایک کیس چلا

⚛… اس میں حضرت مولانا مفتی کفایت اللہ دہلوی ؒ

⚛… حضرت مولانا ابوالوفاء شاہ جہان پوری ؒ

⚛… حضرت مولانا مفتی محمد شفیعc

⚛… خود حضرت مولانا سید انور شاہ کشمیری رحمۃ اللہ علیہ

⚛… مولانا محمد حسین کولو تارڑ وی ؒ

اور پتہ نہیں امت کے کون کون سے حضرات اس کے اندر شریک ہوئے

آپ حضرات جہاں بیٹھے ہیں اس کو ضلع لگتا ہے سرگودھا کا۔ اسی سرگودھا کے ضلع میں ایک قصبہ ہے اس کا نام ہے بھیرہ۔یہ جو مرزا قادیانی کا نام نہاد پہلا خلیفہ تھا نور الدین، وہ بھی بھیرہ کا رہنے والا تھا۔

قادیانی مبلغین کا تعاقب

برادران اسلام!اسی بھیرہ میں ایک بزرگ عالم دین تھے حضرت مولانا ظہور احمد

421

بگوی ؒ۔ قادیانیوں نے پانچ، چھ، سات، آٹھ مبلغین کی ایک ٹیم بھیجی کہ اس خطے (بھیرہ)کا تم سروے کر کے مرزا قادیانی کے متعلق جلسے کر کے تم ماحول پیدا کرو۔ علماء کو چیلنج دو۔ تمہارے مقابلے میں کوئی نہ آئے تو تم اپنی فتح کے شادیانے بجاؤ۔

مولانا ظہور احمد بگوی ؒ کو پتہ چلا، انہوں نے علماء کرام کی ایک ٹیم تیار کی جن میں حضرت مولانا لال حسین اختر رحمۃ اللہ علیہ اور مولانا ظہور احمد بگوی ؒ، مولانا عبدالرحمن میانوی ؒ، مولانا مفتی محمدشفیعc سرگودھا والے جو شاگرد تھے سید انور شاہ کشمیری رحمۃ اللہ علیہ کے۔ ایک اور بزرگ تھے اب ان کا نام یاد نہیں وہ خوشاب کے تھے۔ میں نے ان کی زیارت بھی کی ہے، شامل تھے۔جہاں قادیانی ہوتے وہاں یہ پہنچ جاتے۔ اب قادیانیوں نے مثلاًآج سفر کرنا ہے۔ ان حضرات کو پتہ نہیں، یہ کہاں جائیں گے۔

چنانچہ پہلے قادیانی اسٹیشن سے ٹکٹ لیتے۔ پھر یہ حضرات اسٹیشن پر چلے جاتے اوراسٹیشن ماسٹر کو کہتے کہ وہ جو سامنے کھڑے ہیں جہاں کا ٹکٹ انہوں نے لیا ہے وہاں کا ٹکٹ ہمیں بھی دے دو۔ اس جذبے کے تحت مقابلہ کیا۔ قادیانیوں نے دو، تین جگہ جلسہ کرنے کی کوشش کی مگر وہ سمجھتے تھے کہ علماء کرام کی ایک ٹیم آفت بن کر ان کے پیچھے پیچھے ہے۔ ان کو جان چھڑانی مشکل ہو گئی۔

وہ جہاں سٹیج لگاتے یہ مقابلے میں لگا لیتے۔ وہ ایک کہتے، یہ دس سنا دیتے۔ قادیانیوں کا ان حضرات کو چیلنج کرنا تو درکنار، جان چھڑانی بھی مشکل ہو گئی۔ قادیانیوں نے پھر چکر کیا کہ ٹکٹ لیا بھلوال کا اور اتر گئے کوٹ مومن۔ انہوں نے بھی بھلوال کا ٹکٹ لیا۔ اب یہ بھلوال جا رہے ہیں، وہ کوٹ مومن اتر گئے۔ یہ پھر بھلوال سے واپس آئے، اس کوٹ مومن اسٹیشن پر آ کر پوچھا کہ قادیانی کدھر گئے؟ انہوں نے کہا: فلاں گاؤں میں۔ وہاں کے مسلمان پریشان کہ قادیانیوں نے جلسہ قائم کر لیا۔ اب ہمارے پاس ٹیم کوئی نہیں۔ ہم ان کو جواب دیں تو کیا دیں؟۔ وہ پریشان تھے کہ ادھر دیکھا کہ بغیر کسی دعوت کے علماء کی جماعت آ رہی ہے۔

422

احتساب قادیانیت ردقادیانیت پر انسائیکلوپیڈیا

میرے بھائیو! ایسے بھی ہوا قادیانیوں نے مناظرے کے چیلنج خودکئے۔ خوشاب میں ایک جگہ ہے ’’کچا مجوکہ‘‘ وہاں پر خوشاب اور سرگودھا سے یہ حضرات مناظرے میں آئے۔ اس زمانے میں مناظرے کی کتابیں لکھی گئیں۔ آپ دوستوں کو جان کر خوشی ہو گی کہ الحمدللہ! اس ڈیڑھ سو سالہ دور میں قادیانیوں کے خلاف جو اہم ترین کتابچے لکھے گئے اور زندگی میں ایک بار شائع ہوئے پھر شائع نہیں ہوئے۔ مسکین کو اللہ نے یہ توفیق بخشی کہ ایک ایک رسالہ، ایک ایک ورق جمع کر کے چھپن جلدوں(جو کہ اب ساٹھ جلدوں) پر مشتمل احتساب قادیانیت کے نام سے ہم نے مرتب کر دی او ر ابھی تک یہ کام ( محاسبہ قادیانیت کے نام سے)جاری ہے۔

میرے بھائیو!ایک کتاب کی تلاش کے لئے ۳۱ سال تک مجھے محنت کرنا پڑی۔ ۳۱ سال آج بچہ پیدا ہونے کے بعد۳۱ سال میں جوان ہو کر شادی کر کے باپ بن جاتا ہے۔ اور میں اتنا عرصہ ایک ایک کتاب کی تلاش میں رہا۔ مرزا قادیانی نے ایک قصیدہ لکھا تھا۔ اس کے قصیدے کے جواب میں ہمارے علماء نے جو قصائد لکھے وہ پانچ، سات میرے پاس جمع تھے۔ میں ایک جلد میں شائع کرنا چاہتاتھا۔ ایک قصیدہ مولانا قاضی ظفرالدین نے لکھا۔ وہ قصیدہ مل نہیں رہا تھا، وہ کتابی شکل میں شائع نہیں ہوا۔اخبار وہ پورا نہیں ہو رہا تھا۔۳۱ سال تک آپ تصور نہیں کرسکتے جھنڈیر لائبریری سے لے کر بنارس لائبریری تک۔ ساری لائبریریاں چھانٹ ماریں۔ دیوبند والوں کو، لکھنؤ والوں کو، ندوہ والوں کو مونگیر والوں کو۔ پتہ نہیں کہاں کہاں اس کے لئے کوشش کی۔ ابھی دو ہفتے پہلے وہ قصیدہ پورا ملا۔ اب اس کا ترجمہ کرنے کے لئے ایک دوست کی ڈیوٹی لگائی۔ اب ان شاء اللہ! اللہرب العزت کو منظورہے تو مرنے سے پہلے مرزا قادیانی کے قصیدے کے جواب میں امت نے جتنے قصیدے لکھے تھے، ان پر مشتمل ایک یا دو جلدیں لکھ کر قادیانیوں کے بوتھے پر مار جائیں گے کہ یہ جواب ہے تمہارے اس چیلنج کا:

423

امت مسلمہ نے قادیانیت کے مقابلہ میں شکست نہیں کھائی

میرے بھائیو! میں عرض کرتا ہوں کہ حضرات علماء کرام نے:

⚛… فتوی کے ذریعے

⚛… مناظرہ کے ذریعے

⚛… عدالتوں کے ذریعے

⚛… جلسوں کے ذریعے

قادیانیت کا تعاقب کیا۔ آج میں علیٰ وجہ البصیرت، ڈنکے کی چوٹ پر، سینہ تان کے آپ دوستوں کے سامنے اپنے قادیانی دشمن کو یہ پیغام دے سکتا ہوں کہ رب محمد ﷺ کی قسم! کوئی ایک ایسا میدان نہیں جہاں قادیانیوں نے امت کو للکارا ہو اور امت نے قادیانیوں کے چیلنج کو قبول نہ کیا ہو۔ ایک میدان ایسا نہیں اور پھر سنیں! جس جگہ اور جہاں پر قادیانیوں نے امت کو پکارا۔ امت وہاں پر گئی، جہاں امت گئی وہاں قادیانی ذلیل ہوئے۔ اللہ نے امت کو کامیاب کیا۔ سبحان اللہ!

بھائیو! تحدیث بالنعمت کے طور پر کہتا ہوں کہ ایک میدان بھی ایسا نہیں:

⚛… نہ تحریر کا، نہ تقریر کا

⚛… نہ مناظرے کا، نہ تبلیغ کا

⚛… نہ چیلنج کا، نہ موومنٹ کا

⚛… نہ عدالت کا، نہ فتوے کا

⚛… نہ مقامی عدالتوں کا،نہ سپریم کورٹ کا

⚛… نہ منبر و محراب کا نہ نیشنل اسمبلی کا

ایک مرحلہ بھی ایسا نہیں کہ جب قادیانیوں کا اور امت مسلمہ کا مقابلہ ہوا ہو اور امت شکست سے دوچار ہوئی ہو۔ ایک بھی میدان ایسا نہیں۔ میں علیٰ وجہ البصیرت کہتا ہوں:

424

رب محمد ﷺ کی قسم! اس مسئلے کے لئے اگر تم ایک قدم آگے بڑھو گے۔ رب کی رحمت دس قدم آگے بڑھ کر آپ کا استقبال کرے گی۔

قادیانیت کا کیس سمجھیں

میرے بھائیو!آپ توجہ کریں پھر ایک وقت آیا کہ آپ حضرات کا پاکستان بنا۔ مرزا قادیانی سن ۱۹۰۸ء میں مرا۔ پاکستان بنا، مرزے قادیانی کے مرنے کے ۴۰ سال۔ بعد اب آپ دوست توجہ کریں۔ مرزے کی عادت تھی کہ الٹے پلٹے دعوے کیا کرتا تھا۔

⚛… کبھی کہتا ہے کہ میں مسیح ہوں

⚛… کبھی کہتا ہے کہ میں مہدی ہوں

⚛… کبھی کہتا ہے کہ میں کرشن ہوں

⚛… کبھی کہتا ہے کہ میں جئے سنگھ بہادر ہوں

⚛… کبھی کہتا ہے کہ میںرودرگوپال ہوں

⚛… کبھی کہتا ہے کہ میں خدا ہوں

⚛… کبھی کہتا ہے کہ میں خدا کی بیوی ہوں

مجھے کہتے ہوئے شرم آتی ہے مرزا قادیانی کی اس کفریہ عبارتوں کوبتانے کی۔

میرے بھائیو! اس وقت میں آپ کو تاریخ کے مرحلے سے گزارنا چاہتا ہوں کہ قادیانیت کے خدوخال آپ کے سامنے آ جائیں۔ ایک ہمارے بزرگ تھے، وہ جمعیت علماء اسلام کے ساتھ وابستہ تھے اور وہ حضرت مولانا شمس الحق افغانی ؒ، حضرت مولانا محمد شریف کاشمیری ؒ کے شاگرد تھے۔ بڑے متقی اور فلسفی عالم دین تھے۔ ان کا نام تھا: سائیں مولانا عبدالغفور قاسمی ؒ۔ بڑے بذلہ سنج آدمی، بہت ہی پتے کی باتیں خوش طبعی میں کہہ جاتے تھے۔ وہ لگے کہنے کہ: مرزا قادیانی کی عادت تھی کہ جس آدمی کے منصب کو خالی دیکھتا، وہ اس کے اوپر بیٹھ جاتا اورمیرے خیال میں دیکھیں اور سنیں: جس طرح رحمت

425

عالم ﷺ کی عظمت بیان کرنا دین ہے، اسی طرح حضور ﷺ کے دشمن کو ذلیل کرنا یہ بھی دین ہے۔

مرزا قادیانی کا آپ ﷺ کی اہانت کرنا

آپ دوست کم از کم میری اس عمر کا اور منصب کا اندازہ فرمائیں، میں اس سطح پر آکر قادیانیت کا کیس آپ کو اس لئے سمجھانا چاہتا ہوں کہ اس بدنصیب مرزا قادیانی نے براہ راست پیغمبر اسلامa کی اہانت کی۔ مثلاً :

⚛… وہ کہتا ہے کہ: ’’ حضور ﷺ کے معجزات تین ہزار تھے۔‘‘

(تحفہ گولڑویہ:ص۱۰۱، خزائن:ج ۱۷، ص۲۶۳ حاشیہ)

⚛… اپنے باے میں کہتا ہے کہ: ’’میرے معجزات دس لاکھ سے بھی زیادہ ہیں۔‘‘

(براہین احمدیہ حصہ پنجم: ص۵۶، خزائن: ج۲۱،ص۷۲)

⚛… وہ کہتا ہے کہ: ’’حضور ﷺ کے زمانے میں دین اسلام کی کیفیت پہلی رات کے چاند کی تھی۔ ‘‘

(خطبہ الہامیہ:ص۱۸۴، خزائن:ج۱۶، ص۲۷۵)

⚛… اپنے بارے میں کہتا ہے کہ: ’’میرے زمانے میں دین اسلام کی کیفیت وہ بدر تام کی ہے اور چودھویں کے رات کے چاند کی طرح ہے۔‘‘

(خطبہ الہامیہ:ص۱۸۴، خزائن:ج۱۶، ص۲۷۵)

⚛… وہ کہتا ہے کہ: ’’میں محمد رسول اللہ ﷺ سے بھی افضل ہوں۔‘‘

(الفضل قادیان مورخہ ۱۵؍ جولائی ۱۹۲۲ء)

اب آپ دوست سمجھیں کہ کیا توقع ہے آپ دوستوں کی کہ قادیان کا کذاب براہ راست پیغمبر اسلامa کی اہانت کرے، میں اس کی رعایت کروں۔ کہو: یہ نہیں ہو سکتا … نہیں ہوسکتا۔

حضور ﷺ کے دشمن سے بغض رکھنا ایمان ہے

بھائیو! جس طرح رحمت عالم ﷺ کی ذات اقدس کے ساتھ محبت کرنا، ایمان کی

426

نشانی ہے۔ اسی طرح حضور ﷺ کے دشمن کے ساتھ بغض رکھنا، یہ بھی ایمان کی نشانی ہے۔اب آپ توجہ کریں کہ قادیان کے اس کذاب نے بہت سارے الٹے پلٹے دعوے کئے۔ لیکن یہ اپنے انجام کو پہنچا۔ قے اور دست کرتے ہوئے اس کی موت واقع ہوئی۔ پھر مرزے کی موت کے بعد مرزا قادیانی کا

⚛… پہلا خلیفہ بنایا گیا نام نہاد نور الدین کو

⚛… اس کے بعد دوسرا خلیفہ بنایا گیا مرزا محمود کو

⚛… اس کے بعد تیسرا خلیفہ بنایا گیا مرزا ناصر کو

⚛… اس کے بعد چوتھا خلیفہ بنایا گیا مرزا طاہر کو

آج کل پانچواں ان کا سوار ہے اس کا نام ہے مرزا مسرور۔ لیکن آپ دوست توجہ کریں! اب قادیانیوں کے دو گروپ ہیں: ایک کا نام ہے: ’’لاہوری‘‘ اور دوسرے کو کہتے ہیں: ’’قادیانی‘‘۔

مولانا سید عطاء اللہ شاہ بخاری ؒ سے کسی نے پوچھا: حضرت! لاہوریوں میں اور قادیانیوں میں فرق کیا ہے؟۔ مولانا سیدعطاء اللہ شاہ بخاری ؒ نے فی البدیہہ فرمایا کہ: خنزیر، خنزیر ہوتا ہے۔ چاہے کالے رنگ کا ہو یا گورے رنگ کا۔ تمام تر مرزائیوں کاخواہ وہ لاہوری ہوں یا قادیانی، ان کا عقیدہ یہ ہے کہ مرزا قادیانی اپنے دعویٰ میں سچا تھا۔ تو اس کے علاوہ مرزا قادیانی کا ایک دعویٰ یہ تھا کہ: میں نبی ہوں۔ مثلاً:

اس نے کہا کہ: ’’سچا خدا وہ ہے جس نے قادیان میں اپنا رسول بھیجا۔‘‘

(دافع البلاء:ص۱۱، خزائن:ج۱۸، ۲۳۱)

مثلاً اس نے یہ کہا کہ: ’’میرا یہ دعویٰ ہے کہ میں نبی اور رسول ہوں۔‘‘

(ملفوظات:ج۵، ص۷۷۴، طبع جدید)

مثلاً اس نے کہا کہ: ’’ خداوند کریم نے قرآن مجید میں میرے متعلق کہا محمد رسول اللہ ﷺ اس آیت میں اللہ نے مجھے کہا ہے مرزا قادیانی محمد بھی تو ہے اور رسول اللہ بھی تو ہے۔‘‘

(ایک غلطی کا ازالہ:ص۳، خزائن:ج۱۸،ص۲۰۷)

427

اب آپ سمجھیں کہ: مرزے قادیانی کا صرف

⚛… مہدی مسیح ہونے کا دعویٰ نہیں

⚛… مجدد ہونے کا دعویٰ نہیں

⚛… نبوت اور رسالت کا دعویٰ نہیں

⚛… محمد عربیﷺ ہونے کا دعویٰ ہے

قادیانیت نام ہے محمد ﷺ سے دشمنی کا

دوستو! قادیانیت کسی مذہب اور عقیدے کا نام نہیں۔ قادیانیت نام ہے محمد عربیﷺ کی دشمنی کا۔ قادیانی ایسے کافر ہیں جن کے کفر پر پوری امت مسلمہ کا اتفاق ہے۔ امت میں ایک گروہ بھی ایسا نہیں جو قادیانیوں کو کافر نہ سمجھتا ہو۔ اب میں صرف امت اجابت کی بات نہیں کر رہا۔ دعوت کی بھی بات کر رہا ہوں۔ خود مسیحی دوست بھی قادیانیوں کو مسلمانوں کا حصہ نہیں سمجھتے۔ یہ امت کی اس جدوجہد کا نتیجہ ہے کہ امت نے:

⚛… صبح و شام

⚛… دن و رات

⚛… گرمی و سردی

⚛… اندھیرے و اجالے

کی تمیز کئے بغیر اخلاص کے ساتھ اپنی جدوجہد جاری رکھی اور حق تعالیٰ نے انہیں ہر میدان میں کامیابی اور کامرانی سے سرفراز کیا۔

اب آپ دوست اس بات کو سمجھیں: ایک ہے مومن۔ جو اندر بھی مومن، باہر بھی۔ یعنی جو دل میں ایمان، وہی زبان پر۔ یہ ہے مسلمان۔ ایک آدمی وہ ہے کہ زبان پر اسلام، اندر کفر۔ یعنی سینے میں کفر اس کو کہتے ہیں منافق۔ ایک آدمی وہ ہے جو پہلے مسلمان تھا، بعد میں اس نے ارتداد اختیار کر لیا۔ اس کو کہتے ہیں مرتد۔

428

مرتد کے احکام

بھائیو!مرتد کے احکام یہ ہیں کہ: مرتد خود اس قابل نہیں کہ اس کے ساتھ امت کسی قسم کا تعلق قائم رکھے۔ البتہ مرتد کی آگے چل کر اولاد اس حکم میں ہوتی ہے کہ وہ عام کافروں میں آ جاتی ہے۔ ان کے ساتھ کاروبار کی اجازت ہوتی ہے۔ لیکن آج کل کے جیسے قادیانی ہیں: یہ سارے مرتد نہیں۔ بڑی مشکل کے ساتھ اس وقت ایک فیصد قادیانی مرتد نہیں ہوں گے۔ اس لئے کہ یہ نسلی قادیانی ہیں اور میں نے ابھی یہ کہا کہ مرتد کی اولاد عام کافروں کے حکم میں ہوتی ہے۔ عام کافروں کے ساتھ کاروبار کرنے کی بھی اجازت ہے۔ اٹھنے، بیٹھنے کی بھی اجازت ہے، لیکن قادیانیوں کے ساتھ کاروبار کرنے کی اجازت نہیں۔

قادیانی ملحد اور زندیق

آپ کہیں گے ابھی تو کہا کہ مرتد کی اولاد عام کافروں کے حکم میں اور خود مانتے ہیں کہ یہ قادیانی سارے مرتد نہیں۔۹۹ فیصد نسلی قادیانی ہیں اور پھر خود کہتے ہیں کہ قادیانیوں کا کوئی فرد:

⚛… صحیح ہو یا سقیم

⚛… مرد ہو یا عورت

⚛… گورا ہو یا کالا

کسی کے ساتھ کاروبار کی اجازت نہیں۔ آخر یہ فرق کیوں؟۔ اب آپ دوست ذرا غور سے سمجھیں۔

ملحد وزندیق کی تعریف

میرے بھائیو! کفر کی اقسام میں سے مرتد کے علاوہ ایک اور قسم ہے جس کو ملحد اور زندیق کہتے ہیں۔ ملحد اور زندیق اس کو کہتے ہیں ’’جو اسلام کی اصطلاحات کو تو برقرار رکھے،

429

لیکن اس کے مفہوم اور معنی اور مراد کو بدل دے۔ اس کو کہتے ہیں زندیق۔‘‘ جیسے:

(شرح المقاصد: ج۲، ص۲۶۸، طبع دارالمعارف النعمانیہ)

⚛… اسلام: اس سے مراد قادیانیت

⚛… رسول: اس سے مراد مرزا قادیانی

⚛… محمد رسول اللہ: اس سے مراد مرزا قادیانی

⚛… صحابہ: اس سے مراد مرزا قادیانی کے دیکھنے والے

⚛… خلیفہ اول: اس سے مراد نور الدین

⚛… خلیفہ ثانی: اس سے مراد مرزا محمود

⚛… خلیفہ ثالث: اس سے مراد مرزا ناصر

⚛… خلیفہ رابع: اس سے مراد مرزا طاہر

⚛… خلیفہ خامس: اس سے مراد مرزا مسرور

اسلام، صحابہ، اہل بیت، نبی و رسول اور محمد رسول اللہ ﷺ۔ یہ خالصتاً مسلمانوں کی اصطلاحات تھیں جو قادیانیوں نے ان اصطلاحات کو برقرار رکھا۔ لیکن :

⚛… اس کے مفہوم کو بدل دیا

⚛… اس کے معنی کو بدل دیا

⚛… اس کی مراد کو بدل دیا

⚛… اسلام سے مراد: قادیانیت

⚛… مسلمان سے مراد: وہ جو مرزا قادیانی کو مانے

⚛… اہل بیت سے مراد: وہ جومرزا قادیانی کا خاندان

⚛… صحابہ سے مراد: وہ جو مرزا قادیانی کے خلیفے ہیں

تمام ترقادیانی جو آج قادیانی ہواہو۔ یا پانچ سو نسلوں سے قادیانی چلا آ رہا ہو۔ یہ تمام تر قادیانی یہی کام کرتے ہیں۔ اس لئے قادیانی زندیق اور ملحد ہیں۔ ایک قادیانی کا بھی اس کے اندر استثناء نہیں۔ جس طرح مرتدکے ساتھ کاروبار کی اجازت نہیں۔ فقہاء نے زندیق اور ملحد کے احکام مرتد سے بھی زیادہ سخت لکھے ہیں۔

430

بعض حضرات ائمہ کا قول یہ ہے کہ مرتد کی تو توبہ قبول ہے۔ لیکن زندیق کی توبہ بھی قبول نہیں۔ تین امام کہتے ہیں کہ: زندیق کی توبہ قبول نہیں۔ ایک امام کہتے ہیں کہ: اگر وہ گرفتاری سے پہلے توبہ کر لے تو توبہ قبول۔

(البحر الرائق:ج۵، ص۱۳۶)

گرفتاری کے بعد چاروں ائمہ کا اتفاق ہے کہ زندیق کی توبہ قبول نہیں۔

(المغنی لابن قدامہ: ج۱۰،ص۷۸، الشرح الکبیر:ج۱۰، ص۸۹)

یہ تمام تر قادیانی زندیق ہیں۔ ان کے ساتھ اٹھنا بیٹھنا، میل ملاپ یا کسی قسم کی ملاقات قادیانیوں کے ساتھ روا نہیں۔

امت مسلمہ قادیانیت کے کفرپرمتفق

میرے بھائیو! اب میں آپ دوستوں کی خدمت میں عرض کرتا ہوں: ایک وقت تھا کہ آپ کے پاکستان میں قادیانیوں کو کافر کہتے تھے تو کیس بنتے تھے۔ آج اللہ نے اتنا حالات کو بدلہ (الحمدللہ) کہ ملک کا صدر اور پرائم منسٹر صدارت اور وزارت کی کرسی پر اس وقت تک نہیں بیٹھ سکتے، جب تک کہ اپنے حلف نامہ میں حضور ﷺ کی ختم نبوت کا اقرار نہ کر لیں اور مرزا کے کفر کا اعلان نہ کریں۔ ایک وقت تھا کہ منبر پر بات کہنی مشکل تھی۔ ایک وقت آیا کہ وہی نعرہ قومی اسمبلی کے اندر لگا۔ وہی سینٹ کے اندر لگا۔ ایک وقت آیا کہ کعبہ کے دیوار کے سائے میں پوری دنیا کے مسلمانوں کی تنظیمیں جمع ہوئیں۔ انہوں نے قادیانیت کے کفر پر پورے عالم اسلام کا اجماع منعقد کیا۔

آج الحمدللہ! پوزیشن یہ ہے کہ روز بروز قادیانیت اپنی موت کی طرف بڑھ رہی ہے۔ پچھلے مہینے کی بات ہے کہ مجھے ایک دوست نے فون کیاکہ صرف آزاد کشمیر کے ایک گاؤں میں ساٹھ قادیانیوں نے قادیانیت ترک کر کے اسلام قبول کیا ہے۔ اب آپ حضرات کے ملک میں بلدیاتی الیکشن ہونے تھے۔ گورنمنٹ نے ختم نبوت کا حلف نامہ حذف کر دیا۔ حالانکہ کینیڈیٹوں میں وہ ضروری تھا۔ ہم نے وہ جدوجہد کی مولانا فضل الرحمن کی بات ہوئی شہباز شریف سے۔ مولانا فضل الرحمن نے کہا کہ: چالیس سال سے پارلیمنٹ کے فیصلے میں آج تک ۸؍ الیکشن ہوئے۔ ہر الیکشن میں یہ حلف نامہ موجود تھا۔ آپ کی

431

گورنمنٹ نے اس کو کیوں حذف کیا؟۔ تم نے خلاف قانون کام کیا۔ کوئی شخص یہ سمجھتا ہے بغیر ختم نبوت کے حلف نامے کے الیکشن ہو جائے گا۔ تو وہ یاد رکھ لے کہ ہم بغیر حلف نامہ کے الیکشن نہیں ہونے دیںگے۔شہبا زشریف نے جواب میں مولانا کو کہا: مجھے پتہ نہیں۔ جنہوں نے غلطی کی میں انکوائری کر کے ان کو بھی سزا دوں گا اور کل جب کاغذ جمع ہونے شروع ہوں گے تو صادق آباد سے لے کرمری تک ایک فارم بھی ختم نبوت کے حلف نامے کے بغیر جمع نہیں ہو گا۔

میرے بھائیو!اب آپ دوست یہ کہیں گے: ہمارا مطالبہ مان لیا گیا۔ میں کہتا ہوں، نہیں۔ اس کی تعبیر یہ ہے کہ چالیس سال کے بعد اس رب کریم نے کرم کیا کہ ایک بار پھر کفر ہارا ہے اور اسلام جیتا ہے۔

اب آپ توجہ کریں گورنمنٹ نے اعلان کیا کہ دس تعلیمی ادارے جن میں تین گوجرانوالہ کے، دو گجرات کے اور پانچ چناب نگر کے یہ تعلیمی ادارے قادیانیوں کو واپس کریں گے۔ ہم نے اس پر محنت کی۔ مولانا سمیع الحق ملنے گئے نواز شریف کو۔ نواز شریف صاحب نے کہا: مولانا! میری طرف سے اخبارات کو بیان دے دیں کہ ایسے نہیں ہو گا۔ آپ کہیں گے کہ: ہمارا مطالبہ مان لیا گیا۔ نہیں! میں کہتا ہوں: ایک دفعہ پھر کفر ہارا ہے اور اسلام جیتا ہے۔ سبحان اللہ!

برادران!آج سے دو تین ہفتے پہلے امریکہ نے اعلان کیا کہ: ہماری گورنمنٹ کے مذہبی امور کے وزیر وہ سردار یوسف صاحب مانسہرہ والے امریکہ میں گئے۔ امریکہ کے سینیٹروں نے کہا کہ: ختم نبوت کے متعلق، قادیانیوں کے متعلق جو قانون ہے، وہ ختم کرو۔ گورنمنٹ نے کہا: وہ ختم نہیں ہوگا۔ میں آپ دوستوں کے توسطسے آپ دوستوں کے ایمان کو مزید مضبوط کرنے کے لئے کہتا ہوں کہ صرف امریکہ نہیں، اس کا باپ بھی کوشش کرلے، اس قانون کو ختم کرنے والے خود ختم ہو جائیںگے مگر قانون ختم نہیں ہوگا۔ان شاء اللہ!

’’وما علینا الاالبلاغ المبین‘‘

432

قادیانیت کا زوال

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ

اَلْحَمْدُللہِ وَکَفیٰ وَسَلامٌ عَلیٰ سَیِّدِ الرُّسُلِ وَخَاتَمِ الْاَنْبِیَاءِ وَعَلیٰ اٰلَہٖ وَاَصْحَابِہِ الَّذِیْنَ ھُمْ خُلاَصَۃُ الْعَرَبِ الْعَرَبَاءِ وَخَیْرُ الْخَلاَءِقِ بَعْدَ الْاَنْبِیَاءِ۔ اَمَّا بَعْدُ! فَاَعُوْذُ بِاللہِ مِنَ الشَّیْطٰنِ الرَّجِیْمِ۔ بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ۔

و قال اللہ تعالیٰ:مَّا کَانَ مُحَمَّدٌ أَبَا أَحَدٍ مِّن رِّجَالِکُمْ وَلَکِن رَّسُولَ اللّٰہِ وَخَاتَمَ النَّبِیِّیْنَ وَکَانَ اللّٰہُ بِکُلِّ شَیْْئٍ عَلِیْماً۔ (سورۃ الاحزاب:۴۰)

قال النبیﷺ: اِنَّہُ سَیَکُوْنُ فِیْ اُمَّتِیْ کَذَّابُوْنَ ثَلَاثُوْنَ وَ فِیْ رِوَایَۃٍ دَجَّالُوْنَ (رواہ احمد و طبرانی) کُلُّھُمْ یَزْعَمُ اَنَّہُ نَبِیٌّ وَاَنَا خَاتَمَ النَّبِیِّیْنَ لَانَبِیَّ بَعْدِی۔

(ابوداؤد و ترمذی)

اَللّٰھُمَّ صَلِّ عَلیٰ سَیِّدِنَا وَ مَوْلٰنا مُحَمَّدٍ وَّعَلیٰ آلِ سَیِّدِنَا وَ مَوْلٰنا مُحَمَّدٍ وَّ بَارِکْ وَسَلِّمْ وَ صَلِّ کَذَالِکَ عَلیٰ جَمِیْعِ الْاَنْبِیَاءِ وَالْمُرْسَلِیْنَ وَعَلیٰ الْمَلاَءِکَۃِ الْمُقَرَّبِیْنَ وَعَلیٰ عِبَادِ اللہِ الصَّالِحِیْنَ اَجْمَعِیْنَ اِلیٰ یَوْمِ الدِّیْنِ۔

تمہید

واجب الاحترام دوستو، بزرگو اور بھائیو! حضرت مولانا عزیز الرحمن ثانی نے میرا اعلان کر دیا۔ سٹیج پر ہمارے اتنے مخدومان گرامی، مہمانان معظم موجود ہیں۔ ان حضرات کی موجودگی میں ہمیں بیان سے احتراز کرنا چاہئے۔ اصل بیان تو ان حضرات کے ہونے ہیں۔ میں مستقل بیان کرنے کے بجائے حضرت مولانا عبدالرؤف فاروقی کی بات پوری کرنے کی کوشش کروں گا۔ انہوں نے جہاں پر اپنی گفتگو کو چھوڑا تھا، اس کے آگے ایک دو باتیں اختصار کے ساتھ عرض کئے دیتا ہوں:

433

ہرفتنے کے چار دور ہوتے ہیں

میرے واجب الاحترام، دوستو! کسی بھی فتنے کے چار دور ہوتے ہیں:

۱… اس کاآغاز۔ ۲… اس کا عروج

۳… اس کا زوال۔ ۴… اس کا اختتام

قادیانیت کی ابتداء یہ ہے کہ اسے انگریز نے پیدا کیا۔ قادیانیت کا عروج یہ تھا کہ آپ حضرات کے اس برصغیر پاک و ہند میں قادیانی اقتدار کے خواب دیکھتے تھے۔ ۱۹۵۳ء کی تحریک ختم نبوت کے نتائج، عواقب اور اس کے عوامل پر غور کرنے کے لئے پنجاب گورنمنٹ نے ایک عدالتی کمیشن مقرر کیا تھا۔ جس میں مسٹر جسٹس منیر، مسٹر جسٹس ایم آر کیانی شامل تھے۔ ان دونوں جج صاحبان نے وہ رپورٹ لکھی۔ اس رپورٹ میں قادیانی جماعت کے اس وقت کے چیف گرو اور ان کے دھرم کے بڑے مرزا محمود کا یہ بیان موجود ہے جو اس نے عدالت میں دیا کہ ہمیں یقین ہے کہ جب برصغیر سے انگریز جائے گا تو برصغیر کا چارج ہمارے سپرد کر کے جائے گا۔

قادیانی منصوبہ

برادران اسلام! قادیانی اس خطے میں انگریز کا جانشین بننے کے خواب دیکھ رہے تھے۔ آپ حضرات کا پاکستان بنا۔ ایک زمانہ تھا کہ پاکستان میں ۱۷؍جرنیل قادیانی تھے۔ جنرل عبدالعلی قادیانی، ملک اخترقادیانی، ظفر چودھری قادیانی، جناب ایوب خان کا ملٹری سیکرٹری قادیانی، جناب موسیٰ خان کالا باغ کا ملٹری سیکرٹری قادیانی۔ اس ترتیب کے ساتھ قادیانی جرنیل بیٹھے ہوئے تھے کہ اگر ایک جائے تو اس کی جگہ جو آئے وہ قادیانی۔ وہ جائے تو اس کی جگہ جو آئے وہ قادیانی۔

برادران عزیز! قادیانیت کا یہ دوسراپیریڈ تھا۔ یہ اس حد تک عروج کو پہنچے ہوئے تھے کہ پہلے برصغیر میں، پھر آپ حضرات کے پاکستان میں اقتدار کے خواب دیکھتے تھے۔ اسی زمانے کی بات ۱۹۵۲ء میں۔ کہاں ہیں قادیانی فرماں روا؟۔ آنکھیں بند کر کے، اور کان کھول کے مجھ مسکین کی ان معروضات کو نوٹ کریں۔ انشاللہ! گھر جا کر ٹھنڈے دل و

434

دماغ کے ساتھ ان حوالہ جات پر غور کریں گے تو ان کے لئے آگے چلنے کی کئی راہیں کھلی ہوں گی۔

برادران اسلام! مرزا محمود نے یہ اعلان کیا تھا کہ بلوچستان کا صوبہ آبادی کے اعتبار سے سب سے چھوٹا ہے۔ لیکن رقبہ کے اعتبار سے سب سے بڑا ہے۔ اس نے قادیانی جماعت کو کہا کہ اے احمدیو! تم ہمت کرو کہ بلوچستان کے صوبہ کو احمدی سٹیٹ بنادو۔ تاکہ کم از کم اس ملک میں ایک صوبہ تو ایسا ہو جسے ہم اپنا صوبہ کہہ سکیں۔ لیکن انسان کی تدبیر کچھ ہوتی ہے، میرے رب کی تدبیر کچھ ہوتی ہے۔ دنیا نے یہ دیکھا کہ آج اس وقت بلوچستان کی صورتحال یہ ہے۔ وہ دیکھیں!

⚛… سبی سے لے کر فورٹ سنڈیمن تک

⚛… فورٹ سنڈیمن سے لے کر مکران کے آخری حصے تک

⚛… پورے بلوچستان میں حب سے لے کر قلات تک

پورے صوبہ میں قادیانیوں کی صرف ایک عبادت گاہ ہے اور۲۰سال سے زیادہ عرصہ ہو گا، وہ عبادت گاہ بھی ان کی سیل پڑی ہے۔ پورے بلوچستان میں اس وقت قادیانیوں کی ایک عبادت گاہ نہیں۔ یہاں یاد آئے حضرت مولانا شمس الدین شہید مرحوم، ان کے زمانے میں قادیانیوں نے فورٹ سنڈیمن میں قرآن مجید کے غلط ترجمہ کر کے تقسیم کئے۔ نتیجے میں تحریک چلی، اس زمانے میں پبلک کے درمیان گورنمنٹ کے درمیان معاہدہ ہوا کہ: ’’فورٹ سنڈیمن میں آج کے بعد کوئی قادیانی۔ حتیٰ کہ کوئی سول افسر۔ حتیٰ کہ کوئی فوج کا قادیانی آفیسر بھی بطور ملازمت کے فورٹ سنڈیمن میں داخل نہیں ہو گا۔‘‘

آج آپ حضرات کے پاکستان میں واحد صوبہ ہے بلوچستان۔ جس کے ایک ضلع میں عملی طور پر وہاں خلاف قانون ہیں، قادیانی۔ جائیں جا کر مجھ مسکین کی ان باتوں کوغور اور توجہ کے ساتھ دیکھیں۔

قادیانی قصر ذلت میں

برادران اسلام!میں عرض کرتا ہوں جیسا کہ مولانا عبدالرؤف فاروقی نے

435

ارشاد فرمایا کہ قادیانیت آج بالکل ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہے۔ آج ہے ۲۱؍اپریل ۲۰۱۲ء۔ میں۱۰؍ اپریل کو مانسہرہ گیا۔ مانسہرہ کے رفقاء کی جماعت کی میٹنگ ہوئی۔ میں نے ان دوستوں سے پوچھا: آپ حضرات کے ضلع میں قادیانیت کی کیا پوزیشن ہے؟ انہوں نے اعداد و شمار کی روشنی میں مجھے کہا: مولوی صاحب! آج سے ۱۰ یا۱۲ سال پہلے ہم نے یہاں پر اپنے کام کا آغاز کیا تھا۔ ہم نے پورے مانسہرہ ضلع کی ایک فہرست بنائی کہ قادیانی مرد عورتیں جوان بوڑھے کتنے ہیں؟ سب کی ہم نے فہرست مرتب کی۔ آج سے دس بارہ سال پہلے پورے مانسہرہ ضلع میں قادیانیوں کی تعداد ۷۸۳ تھی۔ آج انہوں نے کہا دس، بارہ سال گزرنے کے بعد ہمارے ضلع میں صرف ۹ قادیانی رہ گئے ہیں۔ ان میں سے ساڑھے چار سو سے زیادہ مسلمان ہوئے۔ کوئی مرگئے۔ کوئی ضلع چھوڑ کر چلے گئے۔ انہوں نے کہا: آج پوزیشن یہ ہے کہ وہاں پورے ضلع میں صرف۹ قادیانی ہیں۔ انہوں نے کہا: ہم ان کی طرف جرگے لے جا رہے ہیں۔ ان کو لٹریچر دے رہے ہیں۔ ہمارے ان کے ساتھ مذاکرات چل رہے ہیں۔ انہوں نے کہا: اللہ نے دو سال اور کام کرنے کی توفیق دی تو آپ دیکھیں گے کہ قادیانیت کے خلاف ایسا جھاڑو پھرے گا ایک قادیانی بھی ہمارے ضلع کے اندر نظر نہیں آئے گا۔

قادیانیت کا زوال

برادران عزیز! اسی ۱۰؍ اپریل کی شام کو مغرب کی نماز کے بعد مانسہرہ کے ضلع میں ایک گاؤں ہے ’’داتہ۔‘‘ وہاں پر میرا بیان تھا۔ وہاں پر جب ہم لوگ حاضر ہوئے یہاں ایک ’’یامین‘‘ قادیانی تھا۔ مرزا قادیانی نے اپنے زمانے میں حضرت پیر مہر علی شاہ گولڑوی ؒ کے خلاف ایک کتاب لکھی جس کا نام تھا تحفہ گولڑویہ۔ اس میں اسی یامینقادیانی کا ایک اشتہار بھی شائع کیا گیا۔ اس زمانے میں وہاںپر قادیانیت مرزا قادیانی کے زمانہ میں آئی۔ ہماری رپورٹ کے مطابق وہاں۳۲ گھرانے قادیانیوں کے تھے۔ ۱۰؍ اپریل کو مغرب کے بعد بیان تھا۔ سارا گاؤں اکٹھا تھا۔ رب کریم کے کرم کو دیکھیں یقینا آپ کو خوشی ہو گی۔ ان دوستوں نے بتایا کہ ایک زمانہ تھا کہ یہاں پر۳۲ گھرانے قادیانیوں کے تھے اور انہوں نے

436

کہا کہ اب پوزیشن یہ ہے کہ ایک بھی قادیانی نہیں رہا۔الحمدللہ!

برادران عزیز! ۱۴ جولائی ۱۹۰۳ء کو خوست کا رہنے والا عبداللطیف قادیانی جسے خان حبیب اللہ خان صاحب والی افغانستان نے باجوڑ میں بوجہ ارتداد کے ٹھکانے لگایا تھا۔ یہ ۱۹۰۳ء کی بات کر رہا ہوں۔ تب اس عبداللطیف کا خاندان وہاں سے چلا۔ یہ ٹوپی ضلع صوابی کے اندر آئے۔ وہاں سے چلے شب قدر ڈھیری، نوشہرہ کے قریب وہاں بھی رہے۔

برادران عزیز! یہ خاندان پھرتے پھراتے سرائے نورنگ کے اندر آباد ہوا۔ رب کریم کے کرم کو دیکھیں جتنا بڑا آج آپ کا اجتماع ہے، اتنا نہیں تو اس کا نصف تو ضرور ہو گا۔ وہاں سرائے نورنگ میں اتنی بڑی کانفرنس تھی۔ اس کانفرنس کے موقع پر اسی عبداللطیف قادیانی کے خاندان میں سے چھ افراد نے قادیانیت پر لعنت بھیجی اور اسلام قبول کر لیا۔ ہم لوگ ابھی ملتان نہیں پہنچے تھے، اطلاع ملی کہ مزید آٹھ قادیانی بھی مسلمان ہو گئے۔ ۱۹ ؍اپریل کی شام کو میں رائے ونڈ جا رہا تھا۔ راستے میں فون آیا۔ انہوں نے کہا: مولوی صاحب! مبارک ہو۔ یہاں پر ۳۵ قادیانی تھے۔ اللہ رب العزت نے کرم کیا۔ اب سارے قادیانی مسلمان ہوگئے ہیں۔ پورے سرائے نورنگ میں اب ایک بھی قایانی نہیں۔

برادارن عزیز! آپ مجھے کہیں گے کہ مولوی صاحب! آپ ادھر کی رپورٹ دیتے ہیں۔ صوبہ سرحد اور بلوچستان کی۔ آپ پنجاب کی بات کیوں نہیں کرتے؟

لیجئے صاحب! میں بسم اللہ کرتا ہوں۔ آپ حضرات جائیں جہلم سے راولپنڈی کی طرف۔ درمیان میں ایک قصبہ آتا ہے۔ آج کل تو وہ تحصیل ہے۔ اس کا نام ہے گجر خان۔ گجر خان سے پہاڑوں کے راستے سامنے سوہاوے کی طرف جانا ہو تو راستے میں ایک گاؤں پڑتا ہے چنگا بنگیال۔ اس کی تین آبادیاں ہیں۔ شرقی، غربی اور داخلی۔ یہ جوداخلی آبادی ہے یہاں کسی زمانے میں ایک فضل نامی قادیانی ہوتا تھا۔ مرزا قادیانی کے زمانے میں یہ ارتداد کا شکار رہا۔۱۹۱۲ء میں مرزے قادیانی کے بیٹے مرزا محمود نے ’’اخبار الفضل‘‘ شائع کیا۔ اس کا یہ ایڈیٹر بھی رہا۔ اس کا نام فضل احمد تھا۔ داخلی آبادی پچیس گھرانوں پر مشتمل تھی۔ یہ سارے کے سارے قادیانی تھے۔ رب کریم کے کرم کو دیکھیں۔ آج سے کچھ عرصہ پہلے وہاں پر مناظرہ ہوا:

437

⚛… کچھ عرصہ قبل وہاں …ایک گھرانہ مسلمان ہوا

⚛… پھر کچھ عرصہ گزرا… دوسرا گھرانہ مسلمان ہوا

⚛… پھر کچھ عرصہ گزرا… تیسرا گھرانہ مسلمان ہوا

⚛… پھر کچھ عرصہ گزرا… چوتھا گھرانہ مسلمان ہوا

⚛… پھر کچھ عرصہ گزرا… پانچواں گھرانہ مسلمان ہوا

ابھی کچھ عرصہ پہلے مجھے وہاں پر جانے کا اتفاق ہوا۔ دوستوں نے بتایا کہ ان پچیس گھرانوں میں سے ۲۲گھرانے مسلمان ہو گئے ہیں۔ صرف تین گھرانے باقی رہ گئے ہیں۔ سرکار! آج نہیں تو کل، ان شاء اللہ وہ تین گھرانے بھی آئیں گے

برادران عزیز!آپ حضرات جائیں چھوکر خورد کی طرف، وہاں پر بھی یہی پوزیشن ہے۔ وہاں پر ہمارے ایک دوست پروفیسر اشفاق صاحب گجرات کے رہنے والے۔ ان سے ہماری ملاقات ہوئی۔ ہماری پھالیہ کے اندر کانفرنس تھی۔ اس کا اجتماع بھی یقینا اس اجتماع سے کم نہیں تھا۔ دوستوں نے بتایا کہ پاکستان کی تاریخ میں پاکستان بننے کے بعد آج تک کوئی مذہبی اجتماع اتنا بڑا نہیں ہوا جتنا بڑا ختم نبوت کے نام پر اجتماع ہوا۔ اس موقع پر گجرات بھی جانا ہوا۔ جناب پروفیسر اشفاق صاحب نے بتایاکہ پورے گجرات شہر میں قادیانیوں کی ایک عبادت گاہ تھی۔ اللہ نے کرم کیا وہ بھی مسلمانوں کو مل گئی۔ انہوں نے کہا: پورے گجرات شہر میں قادیانیوں کی ایک بھی عبادت گاہ نہیں ہے۔ چوری چھپے کوئی قادیانی گھرانہ رہتا ہو توہم کچھ نہیں کہہ سکتے۔ لیکن علی الاعلان وہاں پر کوئی ایک قادیانی گھرانہ بھی پورے گجرات شہر میں نہیں ہے۔

برادران عزیز! میں درخواست کرتا ہوںآپ دوستوں کی خدمت میں۔ یہ ضلع خوشاب تحصیل نور پور تھل گاؤں کا نام ہے۔ پیلووائنس، وہاں پر پچھلے دنوں قادیانی جماعت کے امیر نے قادیانیت پر لعنت بھیج کر اسلام قبول کیا۔ قادیانیوں کا سیکرٹری جنرل جس کا نام مشتاق کھبّہ وہ پٹواری ہے۔ اس کے گھر میں قادیانی جماعت کا مبلغ رہتا تھا۔ اس نے گھر سے قادیانیت کو بھی نکالا۔ مبلغ کو بھی نکالا۔ اپنے دل و دماغ سے مرزا قادیانی ملعون کو بھی نکالا۔ اس کے نتیجے میں وہاں پر کئی گھرانے مسلمان ہوئے۔

438

ایک عجیب واقعہ

برادران عزیز! چلئے میرے ساتھ، وہ دیکھیں تونسہ ہے۔ اس تونسہ میں ایک علاقہ ہے ٹبی قیصرانی اور جگہ ہے کوٹ قیصرانی۔ قیصرانی قبیلے کا رئیس، تمندار اس کا نام میرمند تھا۔ یہ قادیانی ہوا۔ اس زمانے میں حضرت مولانا سید عطاء اللہ شاہ بخاری ؒ اور حضرت مولانا لال حسین اختر رحمۃ اللہ علیہ تھے۔ ان پر اللہ کروڑہا رحمتیں نازل فرمائے۔ وہ دیکھونا! پیراں تونسہ جناب حضرت خواجہ نظام الدین c کی سرکردگی میں وہاں پر بھرپور محنت ہوئی۔ اللہ پاک پروردگار عالم نے کرم کا معاملہ کیا۔ پہلے اس آدمی نے یہ جو میرمند اس نے قادیانی پر لعنت بھیجی۔ چار دنوں کے بعد پھر قادیانی ہو گیا۔ تب حضرت خواجہ نظام الدین تونسوی ؒ کو پتہ چلا۔ آپ نے ارشاد فرمایا کہ اس میرمند نے ہمیں نقصان دیا ہے۔ ایک وقت آئے گا اللہ کی دھرتی بھی اس کو پناہ نہیں دے گی۔ مجھے یاد ہے عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے مبلغ تھے حضرت مولانا محمد شریف بہاولپوری ؒ۔ یہ حضرت مولانا محمد شریف بہاولپوری ؒ، حضرت مولانا مفتی کفایت اللہ دہلوی ؒ کے شاگرد دارالعلوم امینیہ دہلی کے فارغ التحصیل ہیں۔ مجلس احرار میں کام کیا۔ مجلس تحفظ ختم نبوت کے یہ رئیس المبلغین تھے۔ وہاں پر تبلیغ کے لئے گئے۔ رات کو قادیانیت کے خلاف تقریر کی۔ صبح جب بس پر سوار ہونے لگے اس قادیانی میرمند نے غنڈے آدمی بھیج کر مولانا محمد شریف بہاولپوری ؒ کی پگڑی اتار لی۔ مولانا محمد شریفc ننگے سر، اسی حالت میں حضرت خواجہ سلیمان تونسوی ؒ کے جانشین حضرت خواجہ نظام الدین رحمۃ اللہ علیہ کے پاس گئے اور ان کو جا کر کہا کہ آپ کے علاقے میں میرے ساتھ قادیانیوں نے زیادتی کی۔ خواجہ نظام الدین رحمۃ اللہ علیہ اٹھ کھڑے ہوئے۔ اپنی پگڑی اتار ی اور خدا کی قسم یہ واقعہ ہے اپنی پگڑی اتاری اور مولانا محمد شریف کے سر پر رکھی۔ ان کے سامنے ہاتھ باندھ کے کہا: سید عطاء اللہ شاہ بخاری ؒ سے میری شکایت نہ کرنا۔ آپ جائیں، یہ اس میرمند کا میرے ساتھ ٹکراؤ ہوا ہے۔ یہ میرے ذمے قرض ہے۔ میں انتقام لوں گا۔ ایک موچی ان کا مرید، اس کے ذمہ ڈیوٹی لگائی کہ تم یہاں پر جوتے گانٹھتے ہو۔ تم اڈے پر اس کا انتظار کرو۔ جس دن وہ قادیانی سردار نظر آجائے، مجھے اطلاع کرنا۔

439

اس کی ٹھوکائی کریںگے اور اس کو بھی پیغام بھیج دیا کہ کل یہ نہ کہنا بغیر اطلاع کے یہ واقعہ ہو گیا۔ اب تم نے تونسہ میں آنا ہے تو سوچ سمجھ کر آنا۔

برادران عزیز! دس سال گزر گئے۔ اس مردود کو تونسہ میں آنے کی جرأت نہیں ہوئی۔ ایک دن دس سال کے بعد وہ وہاں پر آیا، اس موچی نے دوڑ کر حضرت خواجہ نظام الدین رحمۃ اللہ علیہ کو بتایا کہ حضرت! وہ آیا ہوا ہے۔ حضرت صاحب نے کہا کہ برخوردار! تمہیں آج کے دن کے لئے تو میں نے تیار کیا تھا۔ تم دیکھ کر واپس آ گئے ہو؟ تم نے اس کی پگڑی کو نہیں اتارا؟ وہ شیر کی طرح بلکہ بپھرے ہوئے شیر کی طرح واپس آیا۔ اس زمانے میں چائے گیس پر نہیں بناتے تھے۔ لکڑ ی پر بناتے تھے۔ وہ لکڑی جو چولہے کے اندر جل رہی تھی جلتے ہوئے ایک ڈنڈے کو اٹھایا۔ مارا اس کی گردن پر ۔وہ خود بھی نیچے گرا۔ اس کی پگڑی بھی نیچے گر گئی۔ وہ پگڑی لے کر حضرت خواجہ نظام الدین رحمۃ اللہ علیہ کے پاس گیا۔ اس قادیانی نے لگائی دوڑ۔ اللہ نے کرم کیا کہ پھر ساری زندگی تونسہ میں آنے کی جرأت نہیں ہوئی۔

برادران! یہ الیکشن میں کھڑا ہوتا رہا۔ آپ حضرات کی ختم نبوت کی جماعت اس کے مقابلے میں ہمیشہ وہاں پر مسلمانوں کی منت معذرت کر کے ان کو آمادہ کرتی رہی۔ آج تک وہ الیکشن میں کامیاب نہ ہوا۔ یہ مر گیا، مرنے کے بعد اس کو مسلمانوں کے قبرستان میں دفن کر دیا۔ہم نے وہاں پر تحریک چلائی۔ اس کی تفصیلات ہیں۔ اللہ نے کرم کا معاملہ کیا کہ وہی حضرت خواجہ نظام الدین رحمۃ اللہ علیہ کی بات پوری ہوئی کہ اس کو اللہ کی دھرتی جگہ نہیں دے گی۔ چنانچہ اس کو قبر سے نکالا گیا۔ آج وہ اپنے گھر کے اندر مردود موجود ہے۔ برادران! میں عرض کرتا ہوں اس کے بیٹے کا نام سیف الرحمن۔ یہ ریلوے کا افسر۔ کہاں ہیں قادیانی مرزائی نوٹ تو کریں میں نام بھی بتا رہا ہوں۔میں جگہ کے حالات بھی بتا رہا ہوں، تاکہ ہمارے جانے کے بعد قادیانی یہ نہ کہیں کہ یہ سارے مفروضے تھے۔ میں تفصیلات کے ساتھ اس لئے بتا رہا ہوں کہ قادیانی دوست سوچیں کہ کہاں سے چلے تھے اورکہاں پر پہنچے ہیں۔ ہم بھی حساب دینے کے لئے تیار ہیں کہ ہم کہاں سے چلے تھے اور کہاں پہنچے ہیں۔

بھائیو! ایک وقت تھا منبر و محراب پر ہم قادیانیوں کو کافر کہتے تھے تو کیس بنتے تھے۔ اللہ نے کرم کا معاملہ کیا۔ ہماری آواز منبر و محراب سے چلی، نیشنل اسمبلی تک پہنچی۔

440

پوری اسمبلی نے کہا، آج ذرا دیکھتے نہیں،وہ دیکھو مولانا مفتی محمود رحمۃ اللہ علیہ کے نام لیوا مولانا امجد خان صاحب موجود ہیں۔یہ دیکھو! خطیب اہل سنت مولانا قاری زوار بہادر صاحب مولانا شاہ احمد نورانی ؒ کے وارث بھی موجود ہیں۔ حضرت مولانا عبدالحق خان ؒ کی جماعت سے تعلق رکھنے والے، مولانا ثناء اللہ امرتسری ؒ کے وارث بھی ان شاء اللہ! شیرکی طرح سٹیج پر آپ کو گرجتے نظر آئیں گے۔ پوری امت نے کوشش کی، اللہ نے کرم کیا، پوری اسمبلی نے کہا:

⚛… مرزا قادیانی اور اس کے ماننے والے کون ؟… کافر کافر ،

⚛… پیچھے والے بھی بولیں، اس کے ماننے والے کون؟… کافر کافر،

⚛… آخر والے بھی بولیں، قادیانی کو ماننے والے کون؟… کافر کافر،

آپ پوری قوت کے ساتھ دوست اور دشمن پر واضح کرو، قادیانی سوچنے پر مجبور ہو جائیں۔ مرزا قادیانی کو ماننے والے کون؟ …کافر۔

برادران عزیز! لدھیانہ میں صرف تین علماء تھے۔

⚛… مولانا محمد لدھیانوی ؒ

⚛… مولانا عبدالعزیز لدھیانوی ؒ

⚛… مولانا عبداللہ لدھیانوی ؒ

بھائیو! میں دیکھتا ہوں دہلی میں اکیلے مولانا محمد حسین بٹالوی ؒ کھڑے ہیں۔ میں دیکھتا ہوں ادھر ایک شخص علی الحائری کھڑا ہے۔ میں ادھر دیکھتا ہوں قصور میں اکیلے مولانا غلام دستگیری قصوری ؒ کھڑے ہیں۔ یہ پوری امت ملی۔ اللہ نے کرم کامعاملہ کیا۔

⚛… آج آپ کے پاکستان کی اسمبلی نے

⚛… جناب زرداری صاحب کے ایک لیڈر نے

⚛… محترمہ بے نظیر بھٹو صاحبہ کے ڈیڈی نے

ان سب نے مل کر کہا مرزا قادیانی اور اس کے ماننے والے سب کون؟… کافر کافر۔ یہ دوست دشمن تک آواز جانی چاہئے کہ حضور ﷺ کے بعد جو شخص کسی اور کو بطور نبی

441

کے مانے گا۔ محمد عربیﷺ کے غلام ہونے کے ناطے ہم نے کل بھی کہا: آج بھی کہتے ہیں۔ ہمارے بزرگوں نے کہا اور آج ان کے جانشین بھی کہتے ہیں کہ مرزا قادیانی اور اس کے ماننے والے کون؟… کافر کافر۔

برادران عزیز! آئیں قادیانی ہمارے ساتھ حساب کر لیں کہ ہم منبر و محراب سے چلے تھے۔ آج اللہ نے اسمبلی پر پہنچایا ہے۔ ذرا توجہ کرو ہم کورٹ سے چلے تھے اللہ نے سپریم کورٹ تک کامیابی بخشی۔ سپریم کورٹ کی بات مجھے یاد ہے، ہم کیس لڑنے کے لئے جاتے تھے۔ ایک کیس نہیں آٹھ کیس تھے اس زمانہ میں آ پ کا سپریم کورٹ پشاور روڈ پر ہوا کرتا تھا۔ آج تو اسلام آباد شاہراہ دستور پر ہے۔ مجھے یاد ہے اور خوب یاد ہے کہ:

⚛… قادیانی پیجارو پر آتے تھے

⚛… ہم لوگ رکشوں پر جاتے تھے

⚛… ہم نے کتابیں سروں پر اٹھائی ہوتیں

⚛… قادیانیوں کی کاریں ہمارے اوپر مٹی ڈالتی ہوئی جاتیں

⚛… مگربھائیو! قادیانیوں کو اپنی طاقت پر ناز تھا

⚛… اور ہمیں محمد عربیﷺ کی غلامی پر ناز تھا

ذرا توجہ تو کریں! آپ کے سپریم کورٹ نے بھی کہا ایک جج نے نہیں، دو ججز نے نہیں، تین نے نہیں، چھ سپریم کورٹ کے جج مسٹر جسٹس شفیع الرحمن کی سربراہی میں امر الملک اور پتہ نہیں کون کون جج تھے تمام ججوں نے کہا سپریم کورٹ کے ججوں نے کہا معاف رکھنا ان میں کوئی مولوی نہیں۔ گویا سارے جج تھے۔ جج نہیں بلکہ سپریم کورٹ کے جج ۔ اتنے سینئر جج۔ ان سب نے کہا کہ:

⚛… مرزا قادیانی اور اس کے ماننے والے کون؟…کافر

⚛… اونچی آواز سے! اس کے ماننے والے کون؟… کافر

برادران عزیز! اللہ نے رحمت کا معاملہ کیا کہ پوری امت کے افراد اکٹھے ہوئے۔ رابطہ عالم اسلامی کے تحت میں مکہ مکرمہ کی سرزمین بیت اللہ کے زیرسایہ پورے ممالک نے پوری دنیا کی اسلامی تنظیمات کا اجتماع منعقد ہوا۔ ان سب نے کہا مرزا

442

قادیانی اور اس کے ماننے والے کون؟… کافر۔ بولو، بولو،مرزا قادیانی کو ماننے والے کون؟… کافر۔

بھائیو! ختم کرتا ہوں اپنی بات کو :

⚛… آپ نے یہ بتایا کہ اسمبلی نے یہ کہا

⚛… آپ نے بتایا کہ سپریم کورٹ نے یہ کہا۔

⚛… آپ نے یہ بتایا کہ رابطہ عالم اسلامی نے کہا

ذرا خدا کے بندو! تم اپنا بھی تو عقیدہ بتاؤ کہ تم مرزا قادیانی اور اس کے ماننے والوں کو کیا سمجھتے ہو؟… کافرکافر۔ پکار آنی چاہئے۔ ذرا زور سے کہو… کافرکافر۔

برادران عزیز! وہ اس میر مند کا بیٹا اس کا نام سیف الرحمن وہ ریلوے کا افسر ہوکر مرا۔ آج بھی قادیانیوں کے قبرستان چناب نگر کے اندر وہ مدفون ہے۔ اس کا بیٹا بیرسٹر بارایٹ لاء وہ لند ن کا پڑھا ہوا سردار امام بخش اس کا نام۔ وہ آیا جامعہ اسلامیہ باب العلوم کہروڑ پکا میں عالمی مجلس تحفـظ ختم نبوت کے امیر مرکزیہ مولانا عبدالمجید لدھیانوی (نور اللہ مرقدہ) کے سامنے اس نے بھی آکر یہی کہا جو آپ دوستوں نے کہا کہ مرزا قادیانی اور اس کے ماننے والے کون؟… کافر۔ بولو، بولوکون؟… کافر۔

مجھے کل ایک دوست نے فون کر کے کہا اللہ رب العزت کے کرم کو دیکھو کہ اب اسی بستی میں وہاں پر ہم نے ختم نبوت کی کانفرنس کی اللہ نے کرم کیا بستی بزدار میں کوٹ قیصرانی کے قریب ایک اورگھرانہ مسلمان ہوا ہے۔ پپلاں میں چار قادیانیوں نے قادیانیت پر لعنت بھیج کر اسلام قبول کیا۔ اب اللہ کے کرم سے چکی نے الٹا پھرنا شروع کر دیاہے۔ آج نہیں تو کل ان شاء اللہ وقت آئے گا قادیانیت کے خاتمے کا۔ پوری دنیا میں تلاش کرنے کے باوجود تمہیں ایک قادیانی نظر نہیں آئے گا۔ کہو یہ وقت آئے گا ان شاء اللہ۔ جو کہتے ہیں یہ وقت آئے گا۔ ذرا ہاتھ کھڑا کر کے کہہ دیں۔ یہ وقت آئے گا… یہ وقت آئے گا۔ انشاء اللہ۔

’’وما علینا الا البلاغ المبین‘‘

443

علمائے دیوبند کی قربانیاں

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ

اَلْحَمْدُللہِ وَکَفیٰ وَسَلامٌ عَلیٰ سَیِّدِ الرُّسُلِ وَخَاتَمِ الْاَنْبِیَاءِ وَعَلیٰ اٰلَہٖ وَاَصْحَابِہِ الَّذِیْنَ ھُمْ خُلاَصَۃُ الْعَرَبِ الْعَرَبَاءِ وَخَیْرُ الْخَلاَءِقِ بَعْدَ الْاَنْبِیَاءِ۔ اَمَّا بَعْدُ! فَاَعُوْذُ بِاللہِ مِنَ الشَّیْطٰنِ الرَّجِیْمِ۔ بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ۔

و قال اللہ تعالیٰ: یَا أَیُّہَا الَّذِیْنَ آمَنُواْ مَن یَرْتَدَّ مِنکُمْ عَن دِیْنِہِ فَسَوْفَ یَأْتِیْ اللّہُ بِقَوْمٍ یُحِبُّہُمْ وَیُحِبُّونَہُ أَذِلَّۃٍ عَلَی الْمُؤْمِنِیْنَ أَعِزَّۃٍ عَلَی الْکَافِرِیْنَ یُجَاہِدُونَ فِیْ سَبِیْلِ اللّہِ وَلاَ یَخَافُونَ لَوْمَۃَ لآءِمٍ ذَلِکَ فَضْلُ اللّہِ یُؤْتِیْہِ مَن یَشَاء ُ وَاللّہُ وَاسِعٌ عَلِیْمٌ۔ (المائدہ:۵۴)

و قال النبیﷺ:اَلْمَرْءُ مَنْ اَحَبَّ۔ (مشکوٰۃ، باب الحب فی اللہ ومن اللہ:۲۶)
اَللّٰھُمَّ صَلِّ عَلیٰ سَیِّدِنَا وَ مَوْلٰنا مُحَمَّدٍ وَّعَلیٰ آلِ سَیِّدِنَا وَ مَوْلٰنا مُحَمَّدٍ وَّ بَارِکْ وَسَلِّمْ وَ صَلِّ کَذَالِکَ عَلیٰ جَمِیْعِ الْاَنْبِیَاءِ وَالْمُرْسَلِیْنَ وَعَلیٰ الْمَلاَءِکَۃِ الْمُقَرَّبِیْنَ وَعَلیٰ عِبَادِ اللہِ الصَّالِحِیْنَ اَجْمَعِیْنَ اِلیٰ یَوْمِ الدِّیْنِ۔

جھوٹے مدعی نبوت کے دعویٰ نبوت کا پس منظر

حضرات گرامی!آج کی مجلس میں پنجاب کے جھوٹے مدعی نبوت کے دعویٰ نبوت کا بیک گراؤنڈ ( پس منظر ) آپ حضرات کی خدمت میں عرض کرنا چاہتا ہوں۔انگریز سامراج نے جس وقت متحدہ ہندوستان پر غاصبانہ قبضہ کیا،اس وقت کچھ ایسے لوگ تھے جو آزادی کا سوچ رہے تھے،اور کچھ ایسے لوگ بھی تھے جو برطانوی سامراج کا پنجہ مضبوط کرنے کا سوچ رہے تھے۔مولانا نورمحمد جھنجھانوی ؒ،ہمارے روحانی سلسلہ کے جد اعلیٰ

444

گزرے ہیں،ان سے حضرت حاجی امداد اللہ مہاجر مکی ؒ بیعت تھے۔

میرے عزیز بھائیو!میری یہ ابتدائی گفتگو ہے، تھوڑی سی توجہ فرمائیں گے تو بات سمجھ میں آ جائے گی۔یہ میری درخواست ہے۔جس وقت ٹرین اسٹیشن سے آگے نکل جائے گی تو رفتار پکڑے گی، بات آسانی سے سمجھ میں آجائے گی،بھر پور توجہ کرنے کی ضرورت ہے۔

حاجی امداد اللہ رحمۃ اللہ علیہ کی روحانی تکمیل حافظ ضامن شہید رحمۃ اللہ علیہ کے ذمہ

میرے بھائیو! میں عرض کر رہا تھا کہ حضرت حاجی صاحب رحمۃ اللہ علیہ کا روحانی تعلق حضرت میاں جی نور محمدc سے تھا جب حضرت میاں صاحب رحمۃ اللہ علیہ کا وقت قریب آگیا، اور ابھی حاجی صاحب رحمۃ اللہ علیہ کی باطنی و روحانی تربیت مکمل نہ ہوئی تھی۔ لہٰذا حضرت صاحب رحمۃ اللہ علیہ نے حضرت حافظ محمد ضامنc کے ذمہ یہ لگایا کہ حضرت حاجی صاحب رحمۃ اللہ علیہ کی تکمیل کرادیں ۔

دونوں حضرات نے ظاہری علوم کی تکمیل نہیں کی تھی

حضرت حاجی صاحب رحمۃ اللہ علیہ اور حضرت حافظ صاحب رحمۃ اللہ علیہ دونوں میں اتفاق کی بات یہ ہے کہ انہوں نے ظاہری علوم کی تکمیل نہیں کی تھی۔اس لئے دونوں حضرات مسائل وغیرہ کے سلسلہ میں مولانا شیخ محمد تھانوی ؒ پر( وہ جو فتویٰ دیا کرتے تھے) اعتماد کیا کرتے تھے۔

جہاد کی شرائط مفقود ہیں لہٰذا جہاد کرنا جائز نہیں

یہ اس زمانہ کی بات ہے جب مولانا شیخ محمدتھانوی ؒ کا بڑی دیانت داری کے ساتھ یہ خیال تھا کہ انگریز کے ساتھ جہاد کرنا مناسب نہیں۔بلکہ وہ جہاد کو حرام قرار دیتے تھے۔ان کا موقف تھا کہ انگریز کے پاس اتنی طاقت ہے کہ مسلمان اس کا مقابلہ نہیں کر

445

سکتے۔بغیر طاقت کے مسلمانوں کاانگریزوں سے جنگ و مقابلہ کرنا بہ الفاظ دیگرموت کو دعوت دینا ہے۔جب تک تیاری نہ ہو اور جہاد کی شرطیں نہ پائی جائے جہاد کرنا جائزنہیں۔

حضرت حاجی صاحب رحمۃ اللہ علیہکے مریدین میں سے تھے حضرت مولانا محمد قاسم نانوتوی رحمۃ اللہ علیہ اور مولانا رشید احمد گنگوہی رحمۃ اللہ علیہ،یہ دونوں حضرات بڑی شد و مد کے ساتھ آزادی کے خواہاں تھے۔اب ان کے ما بین یہ بحث ہوتی ہے کہ جہاد کرنا درست ہے یا نہیں؟یہ دونوں حضرات سفر کرکے حضرت حاجی صاحب رحمۃ اللہ علیہکی خدمت میں پہنچتے ہیںاور درخواست کی کہ حضور والا کا جہاد کے متعلق کیا خیال ہے؟حضرت حاجی صاحب رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا کہ مجھے نہیں معلوم! شیخ محمد تھانوی کی یہ رائے ہے تو انہیں بلا لیتے ہیں۔

خالی ہاتھ جہاد کی تلقین میری سمجھ میں نہیں آتی

مولانا شیخ محمد آئے تو ان سے پوچھا گیا کہ جہاد کے متعلق آپ کی کیا رائے ہے؟تو انہوں نے کہا : انگریز کے پاس توپیں،فوج،اسلحہ،طاقت،اس کے پاس یہ اس کے پاس وہ اور ہم مسلمان تہی دست، تہی دامن ،ہمارے پاس لڑنے کے لئے بندوق بھی نہیں،ان حالات میں ہم مسلمان مقابلہ کرتے ہیں تو گویا حرام موت مرتے ہیں۔ان حالات میں جہاد کی تلقین میری سمجھ میں نہیں آتی ۔

حضرت مولانامحمد قاسم نانوتوی رحمۃ اللہ علیہنے فرمایا:کیا ہمارے پاس اتنی طاقت بھی نہیں، جتنی جنگ بدر کے دن رسول اللہ ﷺ کے پاس تھی ؟ اور کہا: ہمارے پاس تین سو تیرہ کی تعداد بھی نہیں؟ بس! اتنا کہنے کی دیرتھی کہ حضرت حاجی صاحب رحمۃ اللہ علیہ نے اور کوئی بات نہیں سنی اور فرمایا : مولانا! انشراح ہو گیا۔ آپ جہاد کا اعلان کریں۔ چنانچہ سب سے پہلی کابینہ،ادارہ ، انجمن اور جماعت تحریک آزادی کی یہ ہے۔حضرت حاجی صاحب رحمۃ اللہ علیہ کو امیر المجاہدین بنایا جاتا ہے۔ کسی کو سپہ سالار بنایا جاتا ہے اور حضرت گنگوہی رحمۃ اللہ علیہ کو قاضی القضاۃ بنایا جاتا ہے۔ کسی کو میمنہ کا اور کسی کو میسرہ کا انچارج بنایا جا تا ہے۔ کابینہ بنی اور جہاد کا اعلان کردیا جاتا ہے۔

446

حاجی صاحب رحمۃ اللہ علیہ کے حلقہ سے جہاد کی آواز اٹھی

حضرت حاجی صاحب رحمۃ اللہ علیہ کے حلقہ سے جہاد کی آواز اٹھتی ہے، اور سب مسلمان اس تحریک میں شامل ہونا شروع ہوگئے،انگریز کو خیال تھا کہ یہ تحریک اس طرح ابھرتی رہی تو کسی وقت ہمارے لئے مشکلات پیدا ہو سکتی ہیں۔انہوں نے مظفر نگر سے شاملی کے محاذکو مضبوط کرنے کے لئے ایک کمک و فوج بھیجی۔ یہ کتابوں میں ہم نے پڑھا ہے۔ خدا کی شان !اس فوج کو تھانہ بھون سے گزرنا تھا۔ان حضرات کو یہ اطلاع ہو گئی کہ رات کو فوج تھانہ بھون سے گزرے گی۔توحضرت گنگوہی رحمۃ اللہ علیہ نے حضرت حاجی صاحب رحمۃ اللہ علیہسے درخواست کی کہ رات کو فوج گزرے گی۔یہ پہلا معرکہ ہے، مقابلہ ہوجا ئے۔حضرت حاجی صاحب رحمۃ اللہ علیہ نے اجازت دیدی۔

سب سے پہلا معرکہ و مقابلہ

ان کی اطلاع یہ تھی کہ رات کے بارہ اورایک کے درمیان فوج کا ایک دستہ اسلحہ سمیت سڑک سے گزرے گا تو وہ حضرات سڑک کے قریب ایک باغ تھا۔ اس میںجا کر بیٹھ گئے۔ان حضرات نے با ہمی مشورہ کے ساتھ یہ طے کیا کہ بھائیو! بندوق سنبھال کے رکھو،ان کے گھوڑے پر تمہارا ہا تھ ہو!دل کی رو اللہ کے ساتھ ہو!اللہ کا ذکر ہو! جس وقت فوج سامنے آئے گی، ہم نعرۂ تکبیر بلند کریں گے تو اللہ اکبر کہہ کر گولی چلانا، تمہارا کام ہوگا۔کامیابی اللہ کے سپرد !چنانچہ اسی طرح ہوا کہ رات کے ایک بجے کے قریب فوج نزدیک آئی،نعرہ تکبیر بلند ہوا،مجاہدین نے گولیاں چلادیں،انگریز کی فوج کے اکثر و بیشتر فوجی مارے گئے،باقی دم دبا کر بھاگنے میں کامیاب ہوگئے۔اسلحہ و غیرہ وہیں چھوڑ گئے۔

انگریز کا توپ خانہ مسجد کے احاطہ میں کھڑا پایا

حضرت حاجی صاحب رحمۃ اللہ علیہ رات جب تہجد پڑھنے کے لئے مسجد آئے تو انہوں نے انگریز کا توپ خانہ مسجد میں کھڑا ہوا پایا۔بعد ازیں شاملی کے میدان میں آگے چل کر

447

باقاعدہ لڑائی ہوئی۔جس میں حضرت حافظ ضامن صاحب شہید ہوگئے۔میں ان لمبی تفصیلات میں جانا نہیں چاہتا۔ اس کے بعد حضرت حاجی صاحب رحمۃ اللہ علیہ،حضرت گنگوہی رحمۃ اللہ علیہاور حضرت نانوتوی رحمۃ اللہ علیہ کے خلاف بغاوت کا مقدمہ قائم کیا گیا ، حضرت حاجی صاحب رحمۃ اللہ علیہ نے ہجرت کی اور آخر وقت تک انگریز کے ہاتھ نہیں آئے۔

حاجی صاحب رحمۃ اللہ علیہ کی ہجرت کا ایمان افروز واقعہ

ان کی ہجرت کا واقعہ بھی بڑا ایمان افروز ہے،گھر سے نکل کر ایک گاؤں (نام پنجلاسہ) جہاں حضرت حاجی صاحب رحمۃ اللہ علیہ کے معتقدین میںراؤ عبد اللہ رحمۃ اللہ علیہ تھے، وہاں آ کر رات گزاری۔کسی مخبر نے گورنمنٹ کو اطلاع کردی کہ حضرت حاجی صاحب رحمۃ اللہ علیہاس مکان میں ہیں۔کیونکہ بغاوت کے مقدمہ کے پیش نظر گورنمنٹ انہیں تلاش کررہی تھی۔حضرت حاجی صاحب رحمۃ اللہ علیہ بیٹھے تھے۔ اچانک یہ کہتے ہیں: نواب صاحب !یہ سامنے کے کمرہ میں کیا ہے؟اجی حضرت! اس میں گھوڑے ہیں،جانور ہیں، اور ان کے لئے چارہ کاٹنے کی مشین ہے اور وہاں بھوسہ وغیرہ ٹوٹی پھوٹی چیزیں ہیں۔اچھا وہاں کا دروازہ کھول کر مصلیٰ پانی رکھ دواور بھائی جلدی کرو۔نواب صاحب نے اپنے شیخ کا حکم پا کر سب چیزیں رکھ دیں اور نواب صاحب نے عرض کی کہ حضرت انتظام ہوگیا ہے۔آپ اٹھے اور جا کر کمرے میں بیٹھ گئے اور انہیں فرمایا : دروازہ بند کردو۔نواب عبداللہ نے حضرت حاجی صاحب رحمۃ اللہ علیہکو کمرے میں بند کرکے باہر سے کنڈی لگادی۔

حاجی صاحب رحمۃ اللہ علیہ کی ایک کرامت

بس !اسی وقت کسی نے دروازہ کھٹکھٹایا۔نواب اٹھے اور باہر گئے تو دیکھا کہ باہر پولیس کھڑی ہے ۔ کپتان نے نواب عبد اللہ کو کہا : سنا ہے کہ آپ کے یہاں عمدہ نسل کے گھوڑے ہیں،فوج کے لئے درکار ہیں ؟چل کر معائنہ کرادیجئے! اور دیکھ لیں کہ کیسے ہیں؟پسند آگئے تو فوج کے لئے خرید لیں گے۔

نواب عبد اللہ نے کہا: حکم سر آنکھوں پر!اچانک آجانے پر نواب عبد اللہ پر کپکپی

448

طاری تھی۔اندیشہ تھا کہ حضرت شیخ میرے گھر میں ہیں،خدا خیر کرے۔ کپتا ن اصطبل میں گھوڑے کا معائنہ کرتے ہوئے بڑھتے بڑھتے اس کمرہ کی طرف جانے لگا جہاں حضرت حاجی صاحب تھے،تو موت میرے قریب ہوتی جاتی تھی،میرے جسم پر لرزہ طاری تھا۔یا اللہ! اگر حاجی صاحب گرفتار ہوتے ہیںتومیرے بچے گرفتار کرلئے جائیںگے۔مجھے لٹکا دیا جائے گا،میری جائداد ضبط کرلی جائے گی۔نوابی جاتی رہے گی اور سب سے بڑی مصیبت یہ ہوگی کہ میرے شیخ میرے گھر سے گرفتار ہوںگے۔وہ کمرے کے قریب گیا اور کہا : اس کمرے میں کیا ہے؟میں ابھی جواب دینا چاہ رہا تھا کہ اس نے جھٹ سے کنڈی کھول دی۔کیا دیکھا کہ مصلیٰ موجود ہے،اور پانی کا خالی لوٹا بھی پڑا ہوا موجود ہے۔ جیسے ابھی کسی آدمی نے وضو کیا ہو۔ جگہ تر ہے۔لیکن آدمی کوئی نہیںاور کپتان آگے کہتا ہے: تم نے یہ مصلیٰ یہاں کیوں رکھا؟

کہا کہ ہم مسلمان ہیں، فرض نماز مسجد میں پڑھتے ہیں اور نفل وغیرہ گھر میں آکر پڑھتے ہیں، ادھر بچے وغیرہ تنگ کرتے ہیں، اس لئے ہم نماز یہاں پڑھتے ہیں۔کپتان نے کہا :ہم معافی چاہتے ہیں کوئی گھوڑا وغیرہ پسند نہیں آیا۔ اگر کبھی ضرورت پڑی تو پھر تکلیف دیںگے۔اجازت چاہتے ہیں۔کپتان مخبر کو باربار گھور رہاتھا کہ تم نے ہمیں غلط اطلاع دی۔

نواب عبد اللہ کہتے ہیں: میں ان کو چھوڑنے کے لئے گاؤں کے باہر تک گیا۔ان کو رخصت کر کے واپس آیا۔مجھے پہلے ہی خدشہ تھا کہ اگر حضرت شیخ پکڑ لئے گئے تو کیا ہوگا؟اب مجھے ڈر اس بات کا تھا کہ حضرت شیخ کو تو میں اپنے ہاتھ سے بند کرکے گیا تھا،اب مجھے بڑی تشویش ہوئی۔ان کو رخصت کرکے لمبے قدم اٹھاتاہوا گھر آیا اور سیدھے اس کمرہ کی طرف گیا جہاں حضرت حاجی صاحب تھے۔آکر دیکھا:

حاجی صاحب رحمۃ اللہ علیہ سے تین سوال

حضرت حاجی صاحب نماز پڑھتے ہوئے تشہد کی حالت میں ہیں اور دوسری

449

طرف سلام پھیرنے کی تیاری کر رہے ہیں۔ سلام سے فارغ ہوئے تو میں نے تین سوال کئے: (۱)حضرت انگریز آئے تھے؟تو کہا : آئے تھے ۔ (۲) آپ کہاں تھے؟ کہا: میں اسی جگہ پر تھا(۳)آپ نظر نہیں آئے؟تو کہا :وہ اندھے ہوجائیں تو امداد اللہ کا کیا قصور۔ چنانچہ حضرت حاجی صاحب رحمۃ اللہ علیہ وہاں سے ساہیوال،وہاں سے پاکپتن کے علاقے سے ہوتے ہوئے حیدرآباد اورکراچی اور وہاں سے مکہ مکرمہ چلے گئے۔آخر وقت تک انگریز ان کو گرفتا ر نہ کر سکے ۔

حضرت نانوتوی رحمۃ اللہ علیہ کی سیاست

اب سنئے! قصہ حضرت نانوتوی رحمۃ اللہ علیہ کا:حضرت چھتہ کی مسجد میں کھڑے تھے کہ پولیس آگئی، آکر کہنے لگے: ہمیں مولانا قاسم نانوتویسے ملنا ہے، وہ کہاں ہیں؟ مولانا جہاں کھڑے تھے،وہاں سے دو قدم پیچھے ہٹ گئے اور کہا : ابھی تھوڑی دیر پہلے تو یہیں تھے۔وہ سمجھے کہ ابھی یہیں تھے کا معنی یہ ہے کہ ابھی یہیں تھے، اب کہیں چلے گئے ہیں۔ حضرت کی تاویل پر وہ دھوکا کھا گئے۔

حضرت نانوتوی رحمۃ اللہ علیہ کی ذہانت کے دو واقعات

میرے عزیز دوستو ! بات آگئی ہے تو مناسبت سے حضرت نانوتوی رحمۃ اللہ علیہ کے دو واقعے اور سناتا چلوں۔

۱… حضرت اپنے عزیزوں کے یہاں ملنے کے لئے چلے گئے، تو وہاں پر بھی پولیس والے آگئے۔عزیز رشتہ دار بہت پریشان تھے کہ آج حضرت کی خیریت نہیں۔حضرت بڑی بہادری کے ساتھ سامنے آئے اور کہا : تم مجھے سنبھال نہیں سکتے تو پیچھے ہٹ جاؤ!۔میں خود اس کا انتظام کرتا ہوں۔یہ کہا: اور جا کر دروازہ کھول دیا، انہوں نے کہا : ہمیں مولانا محمد قاسم سے ملنا ہے!۔فرمایا: ہم نہیں جانتے مولانا وغیرہ کو۔پولیس والوں نے کہا : سنا ہے اسی مکان میں ہے؟۔فرمایا: دیکھ لیں۔ پولیس نے کہا کہ اسی مکان میں ہیں ؟ حضرت نے فرمایا: تلاشی لے لو!پولیس نے کہا: ٹھیک ہے؟ پردہ کراؤ !تلاشی لیتے ہیں۔

450

حضرت نے پولیس والوں کے ساتھ رہ کر تلاشی کرادی۔حضرت بڑے ذہین اور بہادر تھے۔

۲… دوسرا واقعہ یہ ہے کہ ایک دفعہ ایک سکھ ہاتھ میں تلوارلے کر سامنے آیا اور کہا: آج بچ کر نہیں جا سکوگے؟مولانا کے پاس بھی ایک چھوٹی سی تلوار تھی جو ہاتھ میں لئے علم کا پہاڑ خراماں خراماں جارہا تھا۔سنجیدگی اور متانت کے ساتھ جارہے تھے۔وہ بڑے نخرے کے ساتھ آرہا تھا۔کہتا ہے: مولوی صاحب! آج بچ کر نہیں جاؤ گے ؟ جس وقت وہ قریب آیا ،مولانا نے فرمایا : ارے پگلے!پیچھے تو دیکھ! وہ سمجھا کہ پیچھے کوئی آرہا ہے۔جو اس نے پیچھے دیکھا تو حضرت نے تلوار گردن پر ماردی اس کا کام ختم ہو گیا……چل بھائی!

تین دن روپوش رہے

حضرت ﷺ اس طرز کے آدمی تھے،بالا خانہ میں حضرت تین دن تک روپوش رہے۔تین دن بعد بچیوں کو آواز دی،پردہ کرو! مجھے باہر جانا ہے۔انہوں نے کہا : ہم آپ کو باہر نہیں جانے دیںگے۔باہر پولیس والے آپ کے انتظار میں ہیں۔ حضرت نے فرمایا: میں نے تین دن پولیس کے ڈرسے رو پوشی اختیار نہیں کی۔میرے آقا a ہجرت کے موقع پر صرف تین رات غار میں چھپے تو دشمن سے بچاؤ کے لئے تین دن تک چھپنا آقا کی سنت ہے۔اس لئے میں نے سنت پر عمل کیا ہے۔چوتھے دن چھپ کر رہتا ہوں تو سنت کی خلاف ورزی ہوگی۔ اب جان جوکھم میں ڈال سکتا ہوں۔ مگررسول اللہ ﷺ کی سنت کی خلاف ورزی نہیں کرسکتا۔وہ مستورات اڑ گئیں اور کہا : ہم پردہ نہیں کریںگی۔تو کہا :بہت اچھا!تم پردہ نہیں کرتی تو میں کرلیتا ہوں، یہ کہہ کر حضرت نے کپڑا اپنے منھ پر کرلیا،راستہ دیکھا ہوا تھا سیڑھیوں سے اترے،نکل کر چلے گئے۔ آخر وقت تک اللہ نے فضل فرمایا کہ حضرت نانوتوی رحمۃ اللہ علیہ گرفتار نہ ہوسکے۔

حضرت گنگوہی رحمۃ اللہ علیہ کا بڑا ہی عجیب واقعہ

اب سنئے! قصہ حضرت گنگوہی رحمۃ اللہ علیہکا!ان تینوں حضرات میں سے حضرت

451

گنگوہی رحمۃ اللہ علیہ گرفتار ہوگئے، پولیس والوں کا الزام تھا کہ ان کے پاس بندوق بغیر لائسنس کی ہے اور ساتھ ساتھ انہوں نے ایک کتاب کا بکس بھی اپنی تحویل میں لے لیا۔ حضرت جیل میں چلے گئے۔ یہ جو اہل اللہ ہیں ان کو کام کرنے لئے میدان چاہئے، چاہے باہر کا ہو چاہے اندر کا ہو،انہیں تو کام کرنا ہے،ویسے بھی کام کرنے کے لئے جتنا مفید میدان جیل کا ہے اتنا اور کوئی میدان نہیں۔ جیل کے اندر آدمی جب جاتا ہے تو وہاں کی دنیا کو بالکل نرالی دیکھتا ہے۔وہ با ہر کی دنیا سے کٹا ہوا ہوتا ہے، اور اس کا دماغ بالکل ٹھکانے آجا تا ہے،لوہا بالکل گرم ہوتا ہے اس کو ہتھوڑا مارنے کی ضرورت ہوتی ہے،اور ایسے انسان کے دل میں آسانی کے ساتھ دین کی باتیں ڈالی جا سکتی ہے۔جیل کا ماحول بالکل الگ ہوتا ہے اور اس زمانے کی جیل۔الامان والحفیظ۔

سیّد عطاء اللہ شاہ بخاری ؒ ایک مرتبہ میانوالی، جیل میں گئے۔ گرمی کا موسم،انگریز کا زمانہ،جیل کا ماحول ، ہر روز شاہ جی ؒ بیس سیر دانہ پیستے تھے۔جب رہا ہو کر آئے تو کسی نے پوچھا:شاہ جی ؒ! آپ چکی چلاتے تھے؟،دانہ پیستے تھے؟ آپ کو تکلیف تو ہوتی ہوگی؟ آپ جیسا نازک جسم،ریشم جیسی ہتھیلی؟شاہ جی ؒ آبدیدہ ہوگئے!فرمایا :سودا مہنگا نہیں،دن کو حضرت فاطمہؓکی سنت پر عمل کرتا تھا تو رات کو نانا مصطفیﷺ کی زیارت سے مستفید ہوتا تھا۔

حضرت گنگوہی رحمۃ اللہ علیہنے وعظ و تبلیغ شروع کی،ماحول بدلنا شروع ہو گیا،جیل کے صدر نے وزارت داخلہ کو لکھا کہ:’’ مولوی صاحب آئے ہیں،اس نے یہاں بھی اپنی جماعت تیار کرلی ہے۔یا تو ان کو فورًا کسی اور جیل میں منتقل کیا جائے یا ان کے مقدمے کی سماعت جلد از جلد کی جائے۔تاکہ انہیں کوٹھی میں رکھا جائے اور کسی سے ملاقات نہ ہو سکے۔‘‘

لو جی! اللہ نے ایسا ماحول پیدا کردیا کہ صدر جیل خود سفارش کرتا ہے کہ مولانا کے مقدمے کی فورًا سماعت ہواور مقدمہ شروع ہوگیا۔

452

حضرت گنگوہی رحمۃ اللہ علیہ سے عدالت نے تین سوالات کئے

حضرت مولانا عدالت میں گئے۔عدالت نے حضرت سے تین سوال کئے:

۱… سناہے کہ آپ کے پاس اسلحہ ہے؟مولانا نے جیب میں ہاتھ ڈالا اور تسبیح نکال کر فرمایا: مو من کا سب سے بڑا اسلحہ یہ ہوتا ہے۔

۲… مولانا !سنا ہے کہ آپ کے پاس بندوق ہے؟فرمایا :مجھے بندوق سے کیا غرض۔

۳… انہوں نے کہا : آپ کے پاس جو یہ بکس ہے اس میں ہماری اطلاع کے مطابق بندوق ہے؟مولانا نے چابی نکال کر کہا : لو اور تلاشی لے لو!مولانا نے انکار نہیں کیا۔ انکار کرتے تو جھوٹ بنتا۔ اس کے اندر بندوق تھی۔جج نے صندوق کھلوائی۔وہاں کتابوں کی تہہ لگی ہوئی تھی۔پندرہ بیس کتابیں اوپر سے نکلوائیں اور فرمایا: بھائی! بندوق ہے۔ کوئی سوئی وغیرہ تو نہیں؟بندوق ہے تو کتابیں خراب ہوتیں،کتابیں اندر رکھ دواور تالا لگادو! مخبر کو کہا : تم نے جھوٹ بولا ہے۔ لہٰذا تمہیں سزا دی جاتی ہے اور مولانا کو بری کرتا ہوں۔

کئی علماء کرام کو خنزیر کے چمڑے میں بند کرکے جلا دیا

جس وقت ہمارے اکابر انگریز کے خلاف بر سر پیکار تھے، آزادی کی جد و جہد میں مصروف تھے اور اپنی جان کی بازی لگا رہے تھے۔کئی علماء کرام کو خنزیر کے چمڑے میں بند کر کے جلا دیا۔ہزارہا علماء عظام کو دہلی سے لاہور تک راستہ میں الٹا باندھ کر لٹکا دیا گیا۔ایسے ماحول میں انگریز کو ضرورت تھی ایک ایسے آدمی کی جو جھوٹی نبوت کا دعویٰ کرے،ا ور وہ جھوٹا نبی یہ کہہ دے کہ:’’ جہاد حرام ہے‘‘چنانچہ اس کے لئے مرزا غلام احمد قادیانی کی خدمات حاصل کی گئیں۔

اللہ تعالیٰ آپ حضرات سے دین کا کام لینا چاہتے ہیں

اب میں آپ دوستوں سے دو باتیں عرض کرنا چاہتا ہوں۔آج میں مرزا غلام

453

احمد قادیانی کے جھوٹے عقائد و عزائم اور اس کے جھوٹے ہونے پر کوئی وعظ نہیں کرتا۔ بس ایک ہی درخواست آپ دوستوں سے کرنی ہے اور وہ یہ ہے کہ آپ کے اسلاف جن کے نام لیوا آپ حضرات ہیں۔الحمدللہ! آپ ان کے وارث ہیں اور ایک وہ ہیں جو مرزا غلام احمدکو ماننے والے مرزائی ہیں۔مرزائیوں کا یہاں آنا، سمجھ میں آسکتا ہے۔ وہ یہاں برطانیہ میں اس لئے آئے ہیں کہ اپنے آباء و جداد کے پاس آکر وہ محفوظ ہو جائیں۔ والدین کے پاس اولاد اسی لئے ہی آتی ہے۔آپ حضرات بھی آئے۔میری بات نظر کے سامنے رکھ کر سن لینا۔پانچ فیصد آپ حضرات میں ایسے ہوںگے جو صرف دین کے لئے آئے۔ باقی %۹۵ فیصد ایسے ہیں جو دین کی خاطر نہیں آئے۔دنیا کی خاطر آئے۔دنیا کمانا برا نہیں ہے۔ میں بھی بچوں والا آدمی ہوں۔میں آپ حضرات پر الزام نہیں لگاتا۔ہر آدمی کو پیٹ پالنے کی خاطر دنیا کمانی ہے۔یہ کوئی معیوب بات نہیں،کوئی ملازمت کے لئے،کوئی کاروبار کے لئے اور کوئی شادی کے لئے آیا۔آپ حضرات کے ائمہ نے آپ کو دین کے لئے بلایا۔آپ آئے تھے کسی مقصد کے لئے لیکن آپ حضرات کے سامنے ماحول ایسا پیدا ہوگیا ہے کہ خدا آپ حضرات سے اپنے دین کاکام لینا چاہتا ہے۔ بزرگوں والا کام لینا چاہتا ہے۔اپنے حبیبa کی عزت و ناموس کا کام آپ حضرات سے لینا چاہتا ہے۔یہ اتنا گولڈن چانس ہے کہ اگر آپ حضرات نے اسے کھو دیا تو یہ اتنے خسارے کا سودا ہوگا کہ:’’ الامان والحفیظ‘‘

میرا ایک ہی پیغام ہے

میرے عزیز بھائیو اور دوستو! ہم پاکستان سے آئے اور یہی ایک پیغام آپ حضرات کی خدمت میں ہم لے کے آئے ہیں کہ سارے ہمارے اکابر جا چکے ہیں ۔ میں اکیلا ان حضرات کے حکم پر یہاں موجود ہوں۔باٹلی میں آج کا اور کل کا دن ہے۔ دس دن دار العلوم میں رہنا ہے۔بہر حال! اب میرا رخ بھی پاکستان کی طرف ہے۔ ہمیں خوشی اس بات کی ہوئی کہ قادیانی اس ملک میں ۱۹۱۳ء میں آئے تھے۔اس کے بعد بیس پچیس سال

454

پہلے مولانا لال حسین اختر رحمۃ اللہ علیہ تشریف لائے تھے۔مولانا لال حسین اختر رحمۃ اللہ علیہ کے بعد یہ پہلی ٹیم ہے جو یہاں اسی مقصد کے لئے آئی ہے۔ یہ ۱۹۸۵ء کی با ت ہے۔ ان کی اتنے سال کی کوشش اور ہماری یہ کوشش۔لیکن اس ایک دفعہ کے ٹور (سفر)نے برطانیہ کے مسلمانوں کو بیدار کردیا ہے۔یہ قادیانیوں پر بہت بڑا حملہ ہے۔ مجھے اس سے اچھی تعبیر نظر نہیں آتی کہ قادیانی اس طرح بیٹھ گئے ہیں جس طرح سرف کی جھاگ بیٹھ جاتی ہے۔بالکل ختم ہو گئے ہیں۔

آپ کی جد وجہد بیکار نہیں جائے گی

باٹلی کے اندر زور و آزمائش کی کوشش کی۔اس کے نتیجہ سے خائف ہوکر بریڈ فورڈ میں سامنے آنے کی جرأت نہ کر سکے۔کانفرنس کے دنوں کا اعلان کیا تھا کہ ہمیں لندن میں کانفرنس کرنی ہے۔ ہم سمجھتے تھے کہ قادیانی بھی اجتماع کریں گے اورپورے یورپی ’’خدام الاحمدیہ‘‘ کو بلائیںگے۔ ایسا خیال تھا کہ اشتہار شائع کریں گے۔ پروپیگنڈا کریںگے۔ ہماری کانفرنس کی طرح کانفرنس کرنے کی کوشش کریں گے ۔ لیکن وہ دن بالکل خاموشی کے ساتھ گزرگئے لیکن اس کے دوسرے دن اخبار میں سرخی چھپی کہ ان کا ایک اجتماع ہوا۔ یہ کل پرسوں کے اخبار میں تھا۔گویا اکٹھے ہوئے، جیسے کسی کی موت پر اکٹھے ہوتے ہیں ۔دعا کی اور چل دیئے۔قادیانیوں کی اب یہ حالت ہے۔

ختم نبوت کا دشمن تاک میں بیٹھا ہے

عزیز بھائیو! میری آپ حضرات سے خدا اور رسول اللہ ﷺ کے نام پر درخواست ہے کہ آپ حضرات کوجو یہ ولولہ اور جوش ہے۔ اس کو بر قرار رکھنا ہے۔یہ اگر گرااور اس میں کمی آئی یا ختم ہو گیاتو پھر خطرہ ہے کہ دشمن کہیں آپ پر حملہ نہ کردیں۔ دانا دشمن ہے اور تاک میں بیٹھا ہے۔ آپ خواب غفلت میںمبتلا ہوگئے یامطمئن ہوگئے تووہ حملہ کرنے کی ضرور کوشش کریںگے۔ اگر آپ جاگتے رہے،ہوشیار رہے، تو دشمن یہ محسوس

455

کرنے لگے گا کہ آپ کے اونگھنے کا کوئی پروگرام نہیں تو آخر وہ کب تک انتظار کرے گا اورایسا پسپا ہوگا کہ آئندہ کبھی سامنے آنے کی جرأت نہ کر سکے گا۔

اب ان حالات پر غور کرنا،لیٹریچر تقسیم کرنا،مسلمانوں کو قادیانیوں کی شرارت اور لائحہ عمل سے با خبر کرنا،مسلمانوں کی مساجد میں قادیانیوں کے بارے میں جلسہ کرنا،خطاب کرنا ،ان پر کڑی نگرانی رکھنا۔ یہ سب آپ حضرات کا کام ہے۔

بھائی! یہ حضور ﷺکی عزت و ناموس کا مسئلہ ہے۔ میں آپ حضرات کو کسی مولوی کے متعلق،کسی مدرسہ کے متعلق نہیں کہتا،دین کے کسی کام کے متعلق نہیں کہتا، میں براہِ راست آپ حضرات کو رسول اللہ ﷺ کی سیکیوریٹی گارڈ (محافظ دستہ)میں شامل ہونے کا مشورہ دیتا ہوں۔ہمت کریں اور رسول اللہ ﷺ کے محافظ دستہ میں اپنا نام لکھوادیں اور حضور ﷺ کی عزت و ناموس کے تحفظ کی خاطرجو حضرات کام کر رہے ہیں۔ ان کے ساتھ ان کی فہرست میں آپ حضرات کا نام بھی آنا چاہئے۔ ہمت کریں اور رسول اللہ ﷺ کے غلاموں میں اپنا نام لکھوادیں۔دشمن آپ حضرات کی طرف میلی نگاہ سے نہیں دیکھے گا۔ان شاء اللہ! آج آپ حضرات سے اتنی باتیں کہنی تھیں۔اللہ تعالیٰ آپ کو اورمجھ کو رسول اللہ ﷺ کی عزت و ناموس کے تحفظ کرنے کی تو فیق عطا فرمائیں۔ آمین!

’’وما علینا الاالبلاغ المبین‘‘

456